<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>اربن فلڈنگ کا مستقل تدارک ناگزیر(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-24/11389</link><pubDate>Fri, 24 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-24/11389</guid><description>گزشتہ روز پنجاب اور خیبر پختونخوا میں ہونے والی موسلا دھار بارشوں کے سبب مختلف حادثات میں نو افراد جاں بحق اور پچاس سے زائد زخمی ہو گئے۔ لاہور سمیت پنجاب کے کئی شہروں میں اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہونے سے انفراسٹرکچر کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ محکمہ موسمیات کئی روز قبل ہی بالائی اور میدانی علاقوں میں شدید بارشوں اور اربن فلڈنگ کے حوالے سے الرٹ جاری کر چکا تھا لیکن بروقت ضروری اقدامات نہ ہونے کے باعث نہ صرف قیمتی جانی بلکہ کثیر مالی نقصان بھی بھگتنا پڑا۔ ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں بارشوں کے سبب ہونے والے حادثات میں 81افراد جاں بحق اور تقریباً 250زخمی ہو چکے ہیں۔ سب سے زیادہ‘ 47اموات خیبر پختونخوا میں ہوئی ہیں جبکہ پنجاب میں 21اموات کی تصدیق ہو چکی ہے۔ یہ امر افسوسناک ہے کہ ہر سال سینکڑوں افراد مون سون کی بَلی چڑھ جاتے ہیں جبکہ بارشوں اور طغیانی سے جو مالی نقصان بھگتنا پڑتا ہے‘ اس کا کوئی شمار ہی نہیں۔ اگرچہ حکومت کی طرف سے یہ دعویٰ کیا جا رہا کہ شدید بارشوں کے باوجود چند ہی گھنٹوں میں تمام پانی نکال دیا گیا مگر اس سے تہہ خانوں اور نشیبی علاقوں میں پانی بھر جانے اور گھروں میں پانی گھس جانے سے جو نقصان ہوا‘ اس کا ازالہ نہیں ہو سکتا۔

ابھی مون سون کا دوسرا سپیل ہے اور متعدد شہری علاقے ترائی کا مزہ چکھ چکے ہیں۔ مون سون اب ہر سال شہروں میں اربن فلڈنگ کا سبب بن رہا ہے۔ ماہرین بارہا زیر زمین آبی سرنگوں کے نظام کی افادیت اجاگر کر چکے جس سے ہائی فلڈ زونز کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔ پوری دنیا میں اربن فلڈنگ سے بچنے کیلئے یہ تکنیک استعمال کی جا رہی‘ جس سے شہری سرگرمیوں‘ ٹریفک اور دیگر کاموں میں کوئی رخنہ نہیں پڑتا مگر ہمارے اربابِ اختیار اس حوالے سے بے خبر دکھائی دیتے ہیں۔ ہر سال مون سون میں سینکڑوں جانوں اور اربوں روپے کے نقصانات برداشت کرنے کے باوجود ان مسائل کو مستقل طور پر حل کرنے پر توجہ نہیں دی جا رہی۔ متحدہ عرب امارات کی مثال یہاں برمحل ہے‘ جہاں دو سال قبل شدید بارشوں کے باعث دبئی سمیت متعدد شہروں میں سیلابی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اماراتی حکومت نے فوری طور پر 30ارب درہم کی خطیر لاگت سے ایک میگا پروجیکٹ کا آغاز کیا جو نہ صرف برساتی پانی کے اخراج کے استعداد کو 700فیصد تک بڑھائے گا بلکہ یہ آئندہ سو سالہ چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تقریباً ایک عشرے قبل تک پنجاب کے بڑے شہروں میں نکاسیِ آب کا نظام باقی علاقوں کی نسبت کافی بہتر تھا لیکن اب لاہور سمیت تمام بڑے شہروں میں نکاسی آب کا ناقص نظام انتظامیہ کی کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ دیکھا جائے تو یہ معاملہ بے ہنگم شہری پھیلاؤ سے جڑا ہے۔
اکثر شہروں میں برساتی نالوں کی زمینیں تجاوزات کی نذر ہو چکی ہیں‘ پانی کے بہاؤ کے جو قدیمی قدرتی رستے تھے‘ ان پر عمارتیں وجود میں آ چکی ہیں‘ شہروں کے فرسودہ سیوریج نظام دہائیوں سے توسیع کے منتظر ہیں مگر ایسے منصوبے حکومتی ترجیحات میں شامل نہیں۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اربن فلڈنگ ملکی معیشت کیلئے بھی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ بڑے شہروں میں بارشیں معاشی سرگرمیوں کو بھی معطل کر دیتی ہیں جس سے پورے ملک کی معاشی رفتار متاثر ہوتی ہے۔ گزشتہ برس وزارتِ پلاننگ کی جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق ملکی نصف معیشت سیلابی خطرات کی زد میں ہے۔ کراچی‘ لاہور‘ اسلام آباد‘ راولپنڈی‘ پشاور‘ ملتان اور کوئٹہ؛ یہ شہر ملکی جی ڈی پی میں نصف کے حصہ دار ہیں۔ اگر ان میں سیلابی صورتحال پیش آئے تو معیشت کو سخت ٹھیس پہنچتی ہے۔ لہٰذا اس معاملے کو وقتی کے بجائے ایک سنگین معاشی مسئلے کے طور پر دیکھنا چاہیے جس کا فوری حل ناگزیر ہو چکا ہے۔ سیوریج نظام کی توسیع‘ پانی کے قدرتی بہاؤ کی بحالی اور نکاسی آب کے نئے منصوبوں کے بغیر اربن فلڈنگ کے مسئلے کا مستقل تدارک ممکن نہیں۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>دہشت گردی کے خطرات(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-24/11388</link><pubDate>Fri, 24 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-24/11388</guid><description>بلوچستان میں دہشتگردی کے مسلسل بڑھتے ہوئے واقعات پوری قوم کیلئے سخت تشویش کا باعث ہیں۔ گزشتہ روز مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں ایک ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سمیت دو افراد شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج سمیت دو افراد زخمی ہو گئے۔ قبل ازیں بدھ کے روز ضلع مستونگ ہی میں کوئٹہ سے کراچی جانیوالی مسافر بس پر دہشت گردوں کے حملے میں تین مسافر شہید اور تین زخمی ہو گئے تھے۔ یہ واقعات اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ دہشت گرد بلوچستان میں خوف و ہراس کی فضا قائم کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ پاکستان گزشتہ دو عشروں سے دہشت گردی کے سنگین چیلنج سے نبرد آزما ہے۔ 2014ء میں نیشنل ایکشن پلان کی صورت میں اختیار کی گئی متفقہ قومی حکمت عملی کے نتیجے میں 2017-18ء تک دہشت گردی پر بڑی حد تک قابو پا لیا گیا تھا‘ تاہم 2021ء میں افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا اور وہاں عبوری طالبان حکومت کے قیام کے بعد خطے کی سکیورٹی صورتحال نے دوبارہ پیچیدہ رخ اختیار کر لیا۔ ایک سکیورٹی تھنک ٹینک کی رپورٹ کے مطابق رواں سال کی دوسری سہ ماہی میں ملک بھر میں دہشتگردی کے 267 واقعات رونما ہوئے جن میں 249 سکیورٹی اہلکار اور 436 عام شہری شہید ہوئے جبکہ 92 فیصد واقعات خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں پیش آئے‘ جس کی بڑی وجہ ہے ان صوبوں کا افغانستان سے ملحق ہونا۔

سرحد پار موجود دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیاں پاکستان کی داخلی سلامتی کیلئے بدستور ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہیں لیکن افواجِ پاکستان ان عناصر کے خلاف ہمہ وقت مصروفِ عمل ہیں۔ گزشتہ روز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچستان میں پائیدار امن کیلئے دہشتگردی کا مکمل خاتمہ ناگزیر ہے اور ملک و قوم کیلئے خطرہ بننے والے دہشتگردوں کے بنیادی ڈھانچے اور انکے سہولت کار جہاں بھی موجود ہوں‘ انہیں ختم کیا جائے گا۔ یہ بیان اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ ریاست دہشتگردی کیخلاف فیصلہ کن اور بلاامتیاز کارروائی کے عزم پر قائم ہے۔ بلوچستان میں فتنہ الہندوستان سے منسلک دہشت گرد عناصر کیخلاف جاری آپریشن شعبان کے دوران پانچ جولائی سے اب تک تقریباً 130 دہشت گرد ہلاک کیے جا چکے ہیں۔
یہ کامیابیاں سکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور قربانیوں کا ثبوت ہیں‘ تاہم دہشت گرد عناصر بیرونی معاونت اور سہولت کاروں کے ذریعے اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں‘ جس سے واضح ہوتا ہے کہ اس جنگ میں مسلسل چوکس رہنے اور مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ دہشت گردی کا مستقل خاتمہ صرف عسکری کارروائیوں سے ممکن نہیں‘ ضروری ہے کہ اس حوالے سے تمام سٹیک ہولڈرز سر جوڑ کر بیٹھیں اور یکسو ہو کر کام کریں۔ جب تک مذہبی‘ سماجی‘ قبائلی‘ سیاسی اور عسکری قیادت ایک صفحے پر آکر دہشت گردی کے خلاف مشترکہ قومی بیانیے اور مؤثر حکمت عملی پر عمل درآمد نہیں کرتی‘ اس ناسور کا مکمل خاتمہ دشوار ہے۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مودی ہے تو ممکن ہے(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-07-24/52351/71389749</link><pubDate>Fri, 24 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-07-24/52351/71389749</guid><description>بھارت میں آج جو کچھ ہو رہا ہے‘ اس کا اندازہ دنیا کو چھوڑیں خود بھارت میں بھی کسی کو نہیں تھا۔ دنیا حیران ہے کہ بی جے پی‘ جو بھارت پر 2050ء تک حکمرانی کا روڈ میپ لے کر بیٹھی ہوئی ہے‘ اس وقت بدترین مظاہروں کا سامنا کر رہی ہے۔ مظاہرے کرنے والی نوجوان نسل ہے جو اتنی شدت سے حکومت سے ٹکرائی ہے کہ حکمرانوں کو اندازہ ہی نہیں ہو رہا کہ ان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ کون سوچ سکتا تھا کہ دو دن میں ہی ہزاروں طالب علم باہر نکل کر وزیراعظم مودی سے استعفیٰ مانگ لیں گے۔ جو بات وزیرِ تعلیم کے استعفے سے شروع ہوئی تھی وہ اب مودی کے استعفے تک پہنچ گئی ہے۔کیا یہ سب کچھ اچانک ہوا ہے؟ میں نے ایک کالم میں لکھا تھا‘ جس پر بڑی تنقید بھی ہوئی تھی اور مذاق بھی اڑایا گیا تھا کہ پاپولسٹ لیڈر اپنے معاشرے اور ممالک کیلئے ہمیشہ نقصان اور بربادی لاتے ہیں۔ ایسے لیڈر سب سے بڑی دشمنی جمہوریت کے ساتھ کرتے ہیں کہ پاپولزم کا سہارا لے کر وہ ایسے دیوتا بن جاتے ہیں جن پر بات کرنا بھی گستاخی قرار پاتا ہے اور ناقدین پر مقدمے تک درج ہو جاتے ہیں۔ ان کا احتساب کرنے کا آپ سوچ بھی نہیں سکتے‘ نہ ہی سوال اٹھا سکتے ہیں۔ وہ عوام کو بانس پر چڑھا دیتے ہیں اور انہیں عظمت کی ایسی فرضی کہانیاں سناتے ہیں جنہیں سن کر انہیں ایسا نشہ چڑھتا ہے جو برسوں تک نہیں اترتا۔ مگر جب یہ نشہ اترتا ہے تو وہ سب سے پہلے اسی پاپولسٹ لیڈر کے پیچھے جاتے ہیں اور اسے کرسی سے کھینچ کر اتار دیتے ہیں۔پچھلے پندرہ‘ بیس برسوں میں اگر دیکھا جائے تو دنیا میں پاپولسٹ لیڈروں کو عروج حاصل ہوا ہے‘ جنہوں نے اپنے لوگوں کو یقین دلایا کہ وہ دنیا کی بہت عظیم قوم تھے جو دنیا پر حکمرانی کرنے کیلئے پیدا ہوئے تھے لیکن موجودہ سیاستدانوں نے ان کا اور ملک کا بیڑا غرق کر دیا۔ وہ انہیں قومی عظمت کی جھوٹی سچی کہانیاں سناتے ہیں اور لوگوں کو لگتا ہے کہ جس مسیحا کا وہ برسوں سے انتظار کر رہے تھے‘ بالآخر وہ آن پہنچا ہے۔ یوں وہ اپنے اردگرد ایسا بڑا حلقہ بنا لیتے ہیں کہ لوگوں کو کوئی دیو مالائی کردار لگنے لگتے ہیں۔ ایک ایسا غیرمعمولی انسان‘ جو اُن کے دکھ درد دور کرے گا اور انہیں پھر سے عظیم بنائے گا۔پاکستان میں بھی پاپولسٹ لیڈر ابھرے‘ جنہوں نے ایسی کہانیاں سنائیں اور ملک کو عظیم بنانے کے نعرے لگائے۔ یہی کام بھارت میں مودی نے کیا اور امریکہ میں ٹرمپ نے کہ امریکہ کو دوبارہ گریٹ بناؤں گا۔ یہ پاپولسٹ لیڈرز عوام کی واہ واہ اور بلّے بلّے سے چلتے ہیں لہٰذا انہیں روزانہ کچھ نہ کچھ نیا عوام کو دینا ہوتا ہے تاکہ وہ ان کے ساتھ جڑے رہیں اور اپنے دیوتا کے چوائس پر فخر کرتے رہیں۔ اس کام کیلئے میڈیا سیل بنائے جاتے ہیں‘ فوٹو شاپ کے ذریعے لیڈر کا امیج بہت بڑا بنایا جاتا ہے‘ اس کی شخصیت کے گرد ایسی طویل دیوار تعمیر کی جاتی ہے کہ جسے دیکھنے کیلئے وہ سب آسمان کو دیکھتے رہیں۔ سوشل میڈیا پر اس سے جڑی مبالغہ آمیز کہانیاں سنائی جاتی ہیں۔ دھیرے دھیرے عوام کو ذہنی طور پر تیار کیا جاتا ہے کہ ان کا ملک اس لیڈر کے بغیر چلنا چھوڑیں‘ قائم تک نہیں رہ پائے گا۔ یوں لوگ اندر سے ڈر جاتے ہیں کہ ان کے لیڈر کو کچھ ہو گیا تو ملک نہیں رہے گا اور پھر ان کا کیا بنے گا۔ یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جب وہ لیڈر اُن کی برین واشنگ کر کے اپنے سیاسی مخالفین یا اداروں کو ملکی ترقی کا دشمن قرار دیتا ہے اور معاشرے میں نفرت اور تقسیم کا بیج بونے لگتا ہے۔ وہ اپنا الگ سے ایک کلٹ بناتا ہے جو اس کے مخالفین کا جینا حرام کر دے۔ لوگ جمہوریت بھول جاتے ہیں اور وہ معاشرہ عدم برداشت اور نفرت پر پلنا شروع ہو جاتا ہے۔ وہ جمہوریت‘ جو سیاستدانوں یا عوامی نمائندوں کی جواب طلبی کی شکل ہوتی ہے‘ الٹا عوام کے گلے کا پھندا بنا دی جاتی ہے۔ ان پر سختیاں کی جاتی ہیں‘ پولیس اور اداروں کا استعمال‘ نت نئے قوانین اور پھر ان لیڈروں کا دل گھر جانے کو نہیں کرتا۔ آہستہ آہستہ لوگوں کو‘ جنہوں نے لیڈر کو سر آنکھوں پر بٹھایا تھا‘یہ احساس ہوتا ہے کہ ان کے ساتھ دھوکا ہوا ہے۔حسینہ واجد سولہ سال بنگلہ دیش کی وزیراعظم رہیں۔ مودی بارہ سال سے بھارت کے وزیراعظم ہیں۔ آپ کہیں گے کہ برطانیہ میں بھی تو تین تین ٹرم کے وزیراعظم رہے ہیں یا دنیا کے دیگر ممالک میں بھی۔ ذہن میں رکھیں کہ یورپ میں سیاسی نظام‘ قوانین اور عوام کا شعور بہت بلند ہے۔ وہاں وزیراعظم ڈکٹیٹر نہیں بن سکتا۔ برطانیہ دیکھ لیں‘ وہاں دس برسوں میں ساتواں وزیراعظم آیا ہے کہ اگر ڈلیور نہیں کر سکتے تو گھر جائو‘ کسی اور کو موقع دو۔ اب سوال اٹھے گا کہ ٹرمپ بھی تو امریکہ میں یہی کام کر رہا ہے۔ جی بالکل! مگر امریکہ میں آپ تیسری دفعہ صدر نہیں بن سکتے۔ جارج واشنگٹن نے یہ روایت قائم کی تھی۔ دو دفعہ صدر بننے کے بعد اسے تیسری دفعہ الیکشن لڑنے کو کہا گیا تو اس نے کہا: نہیں! بس دو دفعہ کافی ہے‘ اب کوئی نیا بندہ میری جگہ لے۔ یہ روایت اس وقت سے چلی آ رہی ہے کہ جمہوریت میں ایک بندے کا طویل عرصے تک کا اقتدار میں رہنا ملک‘ معاشرے اور جمہوریت کیلئے خطرناک ہوتا ہے۔ جمہوریت تو لائی گئی تھی بادشاہوں کے خلاف‘ جو پچاس پچاس سال تک ملک پر حکمرانی کرتے‘ وہ مرتے یا بغاوت ہوتی تو ہی اقتدار بدلتا تھا اور پھر اگلا بادشاہ بھی چالیس‘ پچاس سال تک کے لیے قابض ہو جاتا۔ جمہوریت میں یہی تصور تھا کہ لوگ مسلسل حکمرانوں کو بدلتے رہیں‘ بغیر تشدد یا جنگوں کے لیکن جب لیڈر خود ڈکٹیٹر بن جائیں تو پھر بغاوتیں ہونا فطری ہے۔ اگر عرب سپرنگ دیکھیں تو اس تحریک کے پیچھے بھی یہی سوچ تھی کہ لوگ برسوں سے ایک ہی چہرہ دیکھ دیکھ کر تنگ آ چکے تھے‘ ورنہ جن ممالک میں بغاوتیں ہوئیں وہ نہ تو غریب ملک تھے اور نہ ہی وہاں روٹی پانی کا مسئلہ تھا۔بھارت میں مودی اور ان کی پارٹی نے جو کلچر روشناس کرایا‘ اس کا نتیجہ ایک دن یہی نکلنا تھا جو اب نکل رہا ہے۔ عظمت کی کہانیاں سب کو اچھی لگتی ہیں لیکن جب پوری نسل کو لگے کہ ہر سال مقابلے کے امتحان کے پیپر لیک ہو کر چند طاقتور طبقات کے بچوں کو میسر ہو جاتے ہیں اور وہ سرکاری نوکریاں لے رہے یا بڑے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں داخل ہو رہے ہیں اور عام لوگ پیچھے رہ گئے ہیں تو پھر وہ آپ کا تختہ الٹ دیتے ہیں۔ پھر &#39;&#39;مودی ہے تو ممکن ہے‘‘ کا نعرہ انہیں فراڈ لگتا ہے۔ اسی مودی کے دور میں بھارت کی تاریخ کا اتنا بڑا مظاہرہ ممکن ہوا ہے۔ بھارت میں سکول‘ کالج اور یونیورسٹی تک کے بچے مظاہروں میں شریک ہیں‘ جنہوں نے حیرت انگیز طور پر اتنا بڑا مظاہرہ کر لیا جس پر دنیا دنگ ہے۔ رہی سہی کسر دہلی پولیس کے تشدد نے پوری کر دی۔ بنگلہ دیش میں بھی بات نوجوانوں کے جاب کوٹہ سے شروع ہوئی تھی جو انقلاب تک پہنچی۔ اب انڈیا میں معاملہ وزیر تعلیم کے استعفے سے وزیراعظم مودی کے استعفے تک جا پہنچا ہے۔ اگر پیپر لیک سکینڈل پر بھارتی حکومت خود کو جوابدہ نہیں سمجھتی اور وزیر تعلیم کو برطرف کرنے کے بجائے الٹا ہزاروں طالب علموں پر تشدد کراتی ہے تو وہ جمہوریت کے اصول کی نفی کرتی ہے‘ جہاں آپ اپنے ووٹرز کو جوابدہ ہوتے ہیں۔وزیراعظم مودی کے اندر یہ تکبر پایا جاتا ہے کہ وہ جو چاہیں کر گزریں کیونکہ وہ تو وزیراعظم نہرو سے بھی زیادہ مدت کیلئے وزیراعظم بن چکے ہیں‘ انہیں کون ہلا سکتا ہے۔ اب وہی بچے جو ان کے گن گاتے تھے‘ انہیں ولن سمجھ رہے ہیں۔ وہی نوجوان جو مودی میں اپنا مستقبل دیکھتے تھے‘ اب مودی کو کھل کر برا بھلا کہہ رہے ہیں۔ یہ طالبعلم تحریک پورے بھارت میں پھیل رہی ہے۔ مزے کی بات ہے کہ جو بھارتی پاکستان کو طعنے دیتے تھے کہ اس کا خزانہ خالی ہے‘ وہی آج کہہ رہے ہیں کہ اس تحریک کے پیچھے پاکستان کی فنڈنگ ہے۔ مطلب جس ملک کا خزانہ خالی ہے وہ اُس بھارت میں فنڈنگ کر رہا ہے جس کے خزانے میں سات سو ارب ڈالر رکھے ہیں؟ کمال کرتے ہو پانڈے جی!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>وہ چڑیاں کہاں گئیں!(رسول بخش رئیس)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-07-24/52352/44963849</link><pubDate>Fri, 24 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-07-24/52352/44963849</guid><description>اب نہ وہ گھر رہے اور نہ مکین‘ صر ف خوشبودار یادیں بچی ہیں جن کے سہارے ہم زندہ ہیں۔ آج کل کے زمانے میں چھوٹے قصبوں سے لے کر بڑے شہروں تک جہاں ہم نے اپنی زندگیاں کھپا دی ہیں‘ وہ فطری ماحول دکھائی نہیں دیتا جہاں ہم نے بچپن اور جوانی کا ایک حصہ گزارا تھا۔ آج صبح کی سیر کے ایک دوست‘ جن سے روزانہ ملاقات ہوتی ہے‘ نے شکایت کی کہ چڑیاں نجانے کہاں غائب ہو گئی ہیں‘ اب کہیں نظر نہیں آتیں۔ نجانے انہیں طلوعِ آفتاب کے وقت چڑیوں کی یاد کیوں آ گئی؟ لیکن مجھے اندازہ ہے کہ ہماری عمر کے لوگوں میں لاشعوری طور پر اُس زمانے کی یادیں عود آتی ہیں جب ہر گھر میں چڑیوں نے گھونسلے بنائے ہوتے تھے۔ ہمارے گھروں کی چھتیں اور اندرونی دیواریں پکی نہیں ہوتی تھیں۔ گھروں کے اندر‘ برآمدوں اور درختوں میں صبح شام اور پورا دن چڑیوں کی چہچہاہٹ سنائی دیتی تھی۔ ہماری بڑی امیاں ان کی لڑائیوں سے اکثر تنگ آ جاتیں تو ڈنڈا اٹھا کر ان کے پیچھے پڑ جاتیں۔ کچھ دیر خاموشی ہو جاتی‘ مگر دس پندرہ منٹ بعد پھر ان کا شور و غل‘ جس سے ہم مانوس تھے‘ ماحول میں پھیل جاتا۔ دوست کو مشورہ دیا کہ چڑیوں کو واپس لانا اب کوئی مشکل کام نہیں۔ اپنے فلیٹ کی بالکونی میں ایک برتن میں باجرہ اور دوسرے میں پانی رکھو‘ چند دنوں میں چڑیاں‘ فاختائیں اور بلبلیں آپ کو میزبانی کا شرف بخشیں گی۔ آپ اکیلے رہتے ہیں‘ یہ پرندے نہ صرف آپ کے گھر کی رونق دوبالا کریں گے بلکہ ایک طرح کی رفا قت کا سامان بھی کر دیں گے۔ میں سمجھتا ہوں کہ پرندوں‘ تتلیوں‘ شہد کی مکھیوں اور دیگر جنہیں ہم بھڑیں کہتے ہیں‘ سے بہتر کوئی دوست نہیں۔ چند دن پہلے ایک درخت کی رکھوالی کرتے وقت میرے ہاتھ پر ایسا ڈنک لگا کہ ابھی تک سوجن نہیں گئی۔ خیر محبت میں بہت کچھ برداشت کرنا پڑتا ہے۔ میرے دوست کا جواب وہی تھا جو آج کل آپ ہر گھر میں سنتے ہیں۔ بالکل نہیں! پرندے اتنا گند ڈالیں گے کہ صفائی مشکل ہو جائے گی۔ لاکھ سمجھایا کہ یہ سب بالکونی میں ہو گا‘ اور ہر ہفتے جھاڑو لگا دینا۔ ہمارا یہ قیمتی مشورہ انہوں نے دیگر ایسے مشوروں کی طرح ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا۔ سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ صاحب سے پرانی یاد اللہ ہے۔ ایک ہی جامعہ میں پڑھایا کرتے تھے۔ انہوں نے اپنے دفتر کی کھڑکی کے باہر مٹی کی دو پلیٹیں رکھی ہوتی تھیں‘ ایک میں دانہ‘ دوسرے میں پانی۔ روزانہ وہ پرندوں کا دانہ پانی تبدیل کرتے۔ میں تو وہاں یہ نہ کر سکا مگر بات دل کو لگی کہ کبھی میں خود بھی پرندوں کیلئے ایسا انتظام کروں گا۔ اپنے جنگل میں پرندوں کیلئے سب کچھ ہے۔ کئی دہائیو ں سے جہاں ان کی نسلیں پلی ہیں اور ان سے ہماری دور دور کی دوستی آج تک قائم ہے۔ دور کہیں ہلکی پھلکی کرسی ڈال کر بیٹھ جاتے ہیں اور ہر نوع کا پرندہ کبھی اڑ کر ایک درخت سے دوسرے پر‘ کبھی لان میں تو کبھی آواز کا جادو جگا کر ہماری درویشانہ محفل میں حاضری کا اعلان کرتا ہے۔ مجھے خود اپنی حاضری کو غیرمحسوس رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے کہ کوئی بھی جنگل ہو اور جہاں بھی ہو‘ اصل اور حقیقی ملکیت پرندوں کی ہوتی ہے۔ وہ ہماری موجودگی کو ہرگز پسند نہیں کرتے۔ ان سے جتنے ہم دور رہیں اور ان کی روز مرہ کی زندگی اور فطری ماحول میں مداخلت نہ کریں تو وہ اتنے ہی خوش رہتے ہیں۔ اپنے اسلام آباد والے گھر میں بھی ہم نے چڑیوں کیلئے لکڑی کا تختہ کاٹ کر چھوٹا سا گھونسلا اپنے بیڈروم کی کھڑکی کے ساتھ فکس کر دیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے چڑیوں نے وہاں ٹھکانہ بنا لیا اور سالہا سال بچے دیے۔ بچوں کی چوں چوں ہمیں مسحور کرتی‘ اور پھر مامتا کی پھرتیاں‘ انہیں کچھ کھلا کر خاموش رکھنے کی جستجو میں ہمارے لیے زندگی کا سبق چھوڑ جاتیں۔ پھر ایک دور آیا کہ وہ سب غائب ہوگئیں اور ہم دو دہائیوں کیلئے لاہور کے تواتر سے مسافر ہوئے‘ اور پھر وہیں کے ہو لیے۔ ایک دن اچانک سامنے کے گھروں میں سے ایک کی دیوار پر چڑیوں کے جھنڈ لہراتے‘ چہچہاتے دیکھے۔ ذرا غور کیا تو وہا ں پر ساتھ پہرہ دیتے چوکیدار نے ان کے دانہ پانی کا انتظام کیا ہوا تھا۔ ایک دوسرے گھر کے سامنے بھی کسی نے ایسا ہی بندوبست کر رکھا تھا۔ یقین جانیں میں اس چوکیدار کی پرندہ نوازی سے اتنا متاثر ہوا کہ اب روزانہ سویرے سیر پر نکلنے سے پہلے دیوار پر رکھی پلیٹ میں باجرہ ڈالتا ہوں۔ سارا دن شام تک ہر نوع کے پرندے آ کر اپنا حصہ وصول کرتے رہتے ہیں۔ ہمارا پرانا کٹا ہوا رشتہ‘ خصوصاً چڑیوں اور بلبلوں سے بحال ہو چکا ہے۔ اب ہمیں دوسرے انسانی رشتوں سے کہیں زیادہ فطرت کے رشتوں میں سکون اور فرحت محسوس ہوتی ہے۔ وہ اس لیے کہ انسانی رشتوں میں فطری عنصر معدوم اور بناوٹ اور ریاکاری کہیں زیادہ شامل ہو چکی ہے۔ جہاں وہ فطری رویے اور محبتیں اب بھی باقی ہیں‘ ہمارے دل میں ان کی بہت قدر ہے۔ وہ ایسا سرمایہ ہے کہ جس پر جتنا بھی فخر کیا جائے کم ہے۔ ہمارے دیہات اور شہروں کا اب فطری ماحول وہ نہیں رہا کہ جہاں انسان اور پرندے ہم آہنگی کے ساتھ رہ سکیں۔ ہم نے گھر ہی ایسے بنا لیے ہیں جہاں پرندوں کیلئے ہمسائیگی میں رہنا ممکن نہ ہو۔ پکی‘ پتھریلی دیواروں اور ہماری کھڑکیوں کے بڑے بڑے شیشوں کے ساتھ وہ اپنا سر پھوڑتے رہتے ہیں۔ ایسے تجربات کے بعد وہ ہمارے گھروں کا رخ کیوں کریں گے۔ ماحول اب بھی پیدا کیا جا سکتا ہے۔ ہر گھر میں‘ چھوٹا ہو یا بڑا‘ درخت لگائے جا سکتے ہیں۔ کچھ اور نہیں تو دیواروں پر بوگن ویلیا کی بیلیں چڑھا دیں‘ وہ بھی پرندوں کیلئے کیڑے مکوڑے کھانے کا بندوبست کر دیں گی۔ اصل بات تو ویسے کچھ اور ہے۔ نہ صرف ہماری زندگیوں کا رخ آسائش اور مادیت پرستی کی طرف ہو چکا ہے بلکہ خواہ مخواہ کی مصروفیت میں اپنی ذات کے ساتھ بھی کسی غیر محسوس مکالمے کی گنجائش نہیں رہی۔ آج کے انسان کو خصوصاً اپنے آج کے معاشرے میں خود کی تلاش مجھے نظر نہیں آتی۔ وہ تو حرص و ہوس‘ لذت پرستی اور بناوٹی پھولوں کی نمائش میں کھویا ہوا ہے۔ اسے اپنے آباؤ اجداد کے زمانوں کے عام پھلدار درختوں‘ پرندوں اور سادہ فطری ماحول کا کیونکر خیال آئے گا۔ہم مادہ پرستی کا طعنہ مغربی معاشروں کو دیتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ اپنی آسودگی کیلئے بہت محنت کرتے ہیں مگر ایک توازن بھی ہے۔ ان کے دیہات‘ قصبے اور یہاں تک کے بڑے شہر تک باغات معلوم ہوتے ہیں۔ ہر گھر ایک باغ یا پارک کا حصہ ہے۔ بڑی عمارتوں کی اونچی منزلوں سے نیچے اتریں تو ساتھ ہی کہیں گھنے جنگل میں گھرا کوئی پارک ہو گا۔ لاہور‘ پشاور اور کسی زمانے کا اسلام آباد بھی باغوں کے شہر تھے۔ ملتان جو کبھی آموں کے باغات کا شہر تھا‘ اب اس کی کیا بات کریں‘ اور کئی دیگر شہروں کی بھی۔ کوئی زیادہ بات کرنے کو جی نہیں چاہتا کہ مارگلہ کے بارے میں ایک عدالتی فیصلے کے بعد دل بہت بوجھل ہے۔ ہم کب تک چھوٹے چھوٹے ذاتی جنگل آباد کرکے فطری ماحول بحال کریں گے۔ فقط کچھ نہ ہونے سے کچھ خود کرنا بہتر ہے۔ ہماری شہریت اور اس کا شعورِ فطرت شناسی اتنا کمزور ہے کہ اجتماعی ایکشن مشکل نظر آتا ہے۔ چلو کچھ اپنے حصے کا کام ہی کر جائیں ۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_33241568.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>باب المندب کی بندش زیادہ خطرناک(ڈاکٹر رشید احمد خاں)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr-rasheed-ahmad-khan/2026-07-24/52353/89182059</link><pubDate>Fri, 24 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr-rasheed-ahmad-khan/2026-07-24/52353/89182059</guid><description>یمن کی حوثی ملیشیا کی طرف سے بحر احمر کو بحر ہند سے ملانے والی تنگ آبی گزرگاہ &#39;&#39;باب المندب‘‘ کو جہازوں کی آمد و رفت کیلئے بند کرنے کے اعلان سے ایران اور امریکہ کے مابین جاری جنگ نے ایک نیا اور پہلے سے کہیں زیادہ خطرناک رخ اختیار کر لیا ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش سے دنیا کی تیل اور گیس کی (20 سے25 فیصد) ضروریات متاثر ہو رہی ہیں‘ جبکہ آبنائے باب المندب کو بلاک کرنے سے نہ صرف دنیا کی 12 فیصد تجارت‘ جس میں سات فیصد خام تیل بھی شامل ہے‘ متاثر ہوگی بلکہ اس اقدام سے یورپ کا جنوبی و جنوب مشرقی ایشیا اور مشرقِ بعید کے ساتھ براہِ راست اور سب سے کم فاصلے والا راستہ بھی بند ہو جائے گا۔ یہ راستہ نومبر 1869ء میں بحیرہ عرب اور بحیرہ احمر کو ملانے والی نہر سویز کے کھلنے سے قائم ہوا تھا۔ اس سے قبل یورپی بندرگاہوں سے روانہ ہونے والے جہازوں کو پورے براعظم افریقہ کا چکر لگا کر راسِ امید کے راستے بحر ہند اور جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک تک آنا پڑتا تھا۔ نہر سویز کی تعمیر اور اس کے جہاز رانی کیلئے کھلنے سے ایشیا اور یورپ کے درمیان چلنے والے جہازوں کو 7000 سے 9000 کلو میٹر کے فاصلے اور 10 سے 15 دنوں کی بچت ہونے لگی تھی۔ اس لیے آبنائے باب المندب کی حفاظت کیلئے اس وقت خطے کی سب سے طاقتور نوآبادیاتی طاقت‘ برطانیہ نے عدن کے مقام پر ایک وسیع فوجی اڈا قائم کر رکھا تھا۔ یمن کی آزادی سے برطانیہ کو عدن میں اپنا فوجی اڈا ختم کرنا پڑا تھا۔ اس کے بدلے برطانیہ نے بحر ہند کے تقریباً وسط میں واقع مجمع الجزائر ڈیاگو گارشیا کو ماریشس سے لیز پر لیا مگر یہاں اپنا فوجی اڈا تعمیر کرنے کے بجائے اسے امریکہ کے حوالے کر دیا۔ امریکہ نے یہاں ایک وسیع بحری اور فضائی اڈہ تعمیر کر رکھا ہے۔ ایران پر بمباری کرنے والے اکثر لڑاکا طیارے یہیں سے پرواز کرتے ہیں۔یمن کے حوثیوں کی جانب سے اس اہم آبی راستے کو بند کرنے سے سب سے زیادہ سعودی عرب متاثر ہونے کا خدشہ ہے‘ کیونکہ آبنائے ہرمز کے بند ہونے کے بعد سے سعودی عرب کے خام تیل کی 70فیصد برآمدات بحر احمر کے ساحل پر واقع اس کی بندرگاہوں سے آبنائے باب المندب کے راستے جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا کو بھیجی جا رہی تھیں۔ اس کی بندش سے پاکستان کے علاوہ چین‘ جاپان‘ جنوبی کوریا اور بھارت بھی توانائی کے بحران کا شکار ہو سکتے ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش سے یہ ممالک پہلے ہی تیل کے بحران سے دوچار ہیں۔ اب آبنائے باب المندب کے بند ہونے سے جس صورتحال کے پیدا ہونے کا خدشہ ہے اس کی وجہ سے ایران‘ امریکہ جنگ کا ایک نیا محاذ کھل جائے گا۔پاکستان‘ جس نے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاع کے معاہدے پر دستخط کر رکھے ہیں‘ نے حوثی ملیشیا کو خبردار کیا ہے کہ آبنائے باب المندب کی ناکہ بندی (جو دراصل سعودی عرب کی ناکہ بندی ہے) کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ پاکستانی دفتر خارجہ نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ اگر ان جہازوں کو‘ جن پر پاکستانی پرچم لہرا رہا ہو‘ اگر حوثیوں کی طرف سے نشانہ بنایا گیا تو پاکستان اپنے دفاع میں طاقت کے استعمال سمیت تمام ضروری اقدام کرنے میں حق بجانب ہوگا۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق جمعرات کو حوثی قبائل نے سعودی عرب کے دو آئل ٹینکروں کو بحیرہ احمر میں‘ سعودی عرب کے ساحل الشقیق سے 70 ناٹیکل میل دور حملوں کا نشانہ بنایا۔ آبنائے ہرمز کے بند ہونے کے بعد پاکستان بھی تیل اور گیس کی درآمدات باب المندب کے راستے حاصل کر رہا ہے۔ اب پاکستان کی اکثر تیل درآمدات بحیرہ احمر پہ واقع سعودی بندرگارہ ینبع سے آ رہی ہیں۔ حوثیوں نے اعلان کر رکھا ہے کہ سعودی عرب کا رخ کرنے والے تمام جہازوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔ اگر یمن کے باغی حوثیوں نے پاکستانی جہازوں کو نشانہ بنایا تو اسلام آباد کی طرف سے جوابی ردعمل ناگزیر ہو جائے گا۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ نہ صرف پاکستان نے حوثیوں کی جانب سے سعودی جہازوں پر حملوں کی مذمت کی ہے بلکہ سعودی عرب کو دی جانے والی دھمکیوں کی بھی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اگر سعودی عرب اور حوثیوں کے مابین کشیدگی تصادم کی شکل اختیار کرتی ہے تو پاکستان کیلئے اس معاملے سے الگ تھلگ رہنا ناممکن ہو جائے گا۔ اس سے ایران‘ امریکہ جنگ کا دائرہ مزید وسیع ہونے کا خدشہ پیدا ہو جائے گا۔امریکی سینٹرل کمانڈ 8 جولائی سے ایران میں نہ صرف فوجی بلکہ شہری تنصیبات اور انفراسٹرکچر کو بھی اپنے حملوں کا نشانہ بنا رہی ہے۔ ان حملوں میں لڑاکا و بمبار طیاروں اور بحری جہازوں کے علاوہ میزائل اور ڈرون بھی استعمال کیے جا رہے ہیں۔ پہلے یہ حملے ایران کے جنوبی حصے اور آبنائے ہرمز کے ساتھ ایرانی ساحل پر واقع شہروں اور تنصیبات پر کیے جا رہے تھے مگر اب ان کا دائرہ وسیع کیا جا رہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے جہازوں پر حملہ ہوا تو امریکہ ہر حملے کے بدلے ایران کے پلوں اور بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس کو نشانہ بنائے گا۔ اس تناظر میں آنے والے دنوں میں جنگ کی شدت میں اضافہ ہوتا نظر آ رہا ہے۔آبنائے باب المندب کا اگرچہ آبنائے ہرمز سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ آبنائے ہرمز کے راستے خلیج فارس اور مشرق وسطیٰ سے دنیا کے تیل کی کُل ضروریات کا 20 سے 25 فیصد گزرتا ہے اور اس کے بند ہونے سے تیل کی درآمد پر انحصار کرنے والے ممالک توانائی کے سخت بحران میں مبتلا ہیں۔ اس کے مقابلے میں باب المندب سے گزشتہ ماہ ہر روز تقریباً 62 لاکھ بیرل تیل بیرونی دنیا کو روانہ کیا گیا۔ اگر آبنائے ہرمز کے بعد آبنائے باب المندب سے گزرنے والا تیل بھی عالمی مارکیٹ میں نہ پہنچ سکا تو درآمدی تیل پر انحصار کرنے والے ممالک کی معیشتیں انتہائی سخت صورتحال سے دوچار ہو جائیں گی۔ اس کے علاوہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرنے کیلئے جو دو آئل پائپ لائنیں تعمیر کر رکھی ہیں‘ وہ عملاً بیکار ہو جائیں گی‘ کیونکہ بحر احمر سے تیل باب المندب کے راستے برآمد کرنے میں رکاوٹ ہوگی۔یورپ کی منڈیوں میں بھی آبنائے باب المندب کی بندش پر خاص تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے‘ کیونکہ وہ اپنی ضروریات کا ڈیزل سپر ٹینکروں میں آبنائے باب المندب کے ذریعے ہی منگواتے ہیں کیونکہ یہ سپر ٹینکر نہر سویز سے نہیں گزر سکتے۔ ماہرین کے نزدیک باب المندب کے بند ہونے سے جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک کو یورپی منڈیوں میں اپنے تجارتی مال بھیجنے پر اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑیں گے اور ترسیل میں تاخیر کا بھی سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ باب المندب کی بندش سے وہ نہر سویز کا راستہ اختیار نہیں کر سکیں گے۔ حوثی ملیشیا نے یہ دھمکی بھی دی ہے کہ اگر سعودی عرب نے اُن پر حملہ کیا تو وہ اس کی تیل تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرون سے تباہ کر دیں گے۔ ایسی صورت میں پاکستان بھی جنگ میں براہِ راست شامل ہو سکتا ہے اور یہ جنگ خلیج فارس اور مشرق وسطیٰ سے باہر کے خطوں تک پھیل جائے گی۔ لہٰذا آبنائے باب المندب کی بندش ایک وسیع اور زیادہ تباہ کن جنگ کا سبب بن سکتی ہے۔ اس میں خلیجی اور مشرقِ وسطیٰ کے علاوہ دیگر خطوں سے تعلق رکھنے والے ممالک بھی ملوث ہو سکتے ہیں‘ کیونکہ ان کے مفادات براہِ راست متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ اب یہ ایران اور امریکہ پر منحصر ہے کہ وہ 8 جولائی سے شروع ہونے والی کشیدگی کو روک کر اس جنگ کو مزید پھیلنے سے روکیں گے یا دوسرے ممالک کو اپنے قومی و معاشی مفادات کے تحفظ کیلئے اس جنگ میں کودنے پر مجبور کرتے ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90264263.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>نیا برطانوی وزیراعظم اور جمہوری نظام(اسد طاہر جپہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/asad-tahir-jappa-/2026-07-24/52354/64851429</link><pubDate>Fri, 24 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/asad-tahir-jappa-/2026-07-24/52354/64851429</guid><description>برطانیہ کی سیاست‘ معیشت اور معاشرت پر بریگزٹ‘ کورونا وائرس اور روس یوکرین جنگ نے بہت گہرے اثرات مرتب کیے ہیں‘ جن کے باعث برطانوی حکومت کی کشتی ایسے بھنور میں پھنس چکی ہے جس سے نکلنا مشکل نظر آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پچھلے دس برسوں میں ان تینوں بڑے عوامل نے سات وزیراعظم تبدیل کر دیے ہیں اور روایتی طور پر ایک مضبوط اور مستحکم معیشت کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ برطانوی ایوانِ اقتدار میں پہلا بھونچال اس وقت آیا جب 2016ء میں برطانوی عوام کی اکثریت نے ریفرنڈم میں بریگزٹ کے حق میں ووٹ دیا اور برطانیہ یورپی یونین سے الگ ہو گیا۔ یورپی ممالک سے آزاد تجارت کا دور ختم ہوا تو یورپ کے ساتھ تجارت میں رکاوٹیں کھڑی ہو گئیں۔ کسٹم ڈیوٹی کے نفاذ سے برآمدات اور درآمدات‘ دونوں مہنگی اور سست ہو گئیں جس سے زرعی اور صنعتی شعبوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا۔ تجارتی حجم سکڑنے لگا تو برطانیہ میں سرمایہ کاری کی رفتار اور شرح‘ دونوں میں کمی نظر آئی۔ بڑی کمپنیوں نے لندن کے بجائے ڈبلن اور ایمسٹرڈیم میں دفاتر کھولنا شروع کر دیے۔ مشرقی یورپ سے سستی لیبر آنا بند ہوئی تو ہسپتال‘ فارم اور لاری ڈرائیوروں کا بحران سر اٹھانے لگا۔ برسرِ اقتدار کنزرویٹو پارٹی بریگزٹ پر اندرونی سطح پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئی تو ڈیوڈ کیمرون‘ تھریسا مے‘ بورس جانسن اور لزٹرس سب اسی کی بھینٹ چڑھ گئے۔ یہی تقسیم عوام میں بھی نظر آئی‘ وہ دو حصوں میں بٹ گئے اور یہ تقسیم آج بھی اپنی جگہ موجود ہے۔2019-20ء میں کورونا وائرس نے جہاں پوری دنیا کو اپنے خونیں حصار میں جکڑے رکھا وہاں برطانوی معیشت میں اس کے باعث گزشتہ سو برسوں میں سب سے بڑی مندی کا رجحان دیکھنے کو ملا۔ معاشی گراوٹ پر قابو پانے کیلئے حکومت نے کھربوں پاؤنڈ خرچ کیے تو قرضہ آسمان پر جا پہنچا اور قومی قرضہ مجموعی قومی پیداوار کے سو فیصد سے بھی اوپر چلا گیا۔ علاوہ ازیں سپلائی چین کا تسلسل ٹوٹا‘ دکانیں اور فیکٹریاں بند ہوئیں تو مہنگائی زور پکڑنے لگی۔ اُنہی دنوں بورس جانسن کی حکومت پارٹی گیٹ سکینڈل میں پھنس گئی۔ یہ سکینڈل تھا لاک ڈاؤن میں عوام پر سختی اور خود پارٹی کرنے کا۔ اس سے ان کی مقبولیت میں خاطر خواہ کمی آئی اور یوں عوام اور حکومت کے مابین خلیج گہری ہوتی گئی۔ رہی سہی کسر 2022ء میں روس یوکرین جنگ نے نکال دی۔ روس سے سستی گیس کی فراہمی بند ہوئی تو برطانیہ میں انرجی بحران کے باعث مہنگائی کا زور دار دھماکا ہوا جس کی بازگشت آج بھی گھر گھر سنائی دیتی ہے۔ بجلی اور گیس کے بلوں میں تین گنا تک جبکہ اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں بھی ہوشربا اضافہ ہو گیا۔ گندم‘ تیل اور کھاد کی قیمت بڑھی تو برطانوی معیشت زبردست دباؤ کا شکار ہوئی۔ بینک آف انگلینڈ نے مہنگائی روکنے کیلئے شرحِ سود میں اضافہ کیا تو گھروں کا قرضہ اور کرایہ دونوں بڑھنے لگے۔ وزیراعظم لز ٹرس کا منی بجٹ اسی مہنگائی کے دور میں آیا جس میں ٹیکس کم کر کے خرچ بڑھانے کی کوشش کی گئی مگر مارکیٹ اچانک گر گئی اور وہ محض 49 دن تک وزیراعظم بن پائیں۔ اس کے بعد رشی سوناک کا دور آیا‘ جن کا سب سے بڑا وعدہ تھا کہ وہ بجلی اور گیس کے بل کم کریں گے مگر وہ نہ کر سکے۔ برسرِ اقتدار جماعت کو 2024ء کے عام انتخابات میں سخت عوامی ردِعمل کا سامنا کرنا پڑا اور کنزرویٹو پارٹی کو الیکشن میں شکست ہوئی۔ چودہ سال بعد لیبر پارٹی برسرِ اقتدار آئی۔ سر کیئر سٹارمر مسلسل انہی عوامل کے دباؤ میں رہے اور مہنگائی پر قابو پانے میں کامیاب نہ ہو سکے تو شدید عوامی ردِعمل کے نتیجے میں چند روز قبل پارٹی قیادت مانچسٹر سے نو منتخب رکنِ پارلیمنٹ اینڈی برنہم کے حوالے کر کے وزیراعظم ہاؤس سے رخصت ہو گئے۔ لہٰذا ان تینوں بڑے عوامل نے برطانوی سیاست‘ معیشت اور معاشرت پر بہت گہرے اثرات چھوڑے ہیں۔ مجموعی طور پر ایک طرف برطانوی معیشت سست روی کا شکار ہے تو دوسری طرف مہنگائی مسلسل اونچی اڑان بھر رہی ہے۔ عوام میں مقبولیت کھو جانے کے باعث گزشتہ دس برسوں میں سات جبکہ پانچ برسوں میں چار وزیراعظم تبدیل ہو چکے ہیں۔ اب عوامی سطح پر معاشی استحکام سب سے بڑا مطالبہ بن گیا ہے کیونکہ لوگ بڑے وعدوں سے تھک چکے ہیں۔ بریگزٹ نے برطانیہ کا ڈھانچہ کمزور کیا‘ کورونا نے اس کے جسم پر زخم لگائے اور روس یوکرین جنگ نے بلوں میں اضافہ کر کے ان زخموں پر نمک چھڑک دیا۔ اسی لیے اب اینڈی برنہم کی دو کلیدی ترجیحات ہیں۔ اوّل: استحکام یقینی بنانا اور دوم: مہنگائی کا خاتمہ کرنا۔مگر اس سارے قضیے کا سب خوبصورت اور دلچسپ پہلو یہ ہے کہ گزشتہ دس برسوں میں سات وزیراعظم بدلنے کے باوجود برطانیہ میں جمہوریت کو کوئی خطرہ لاحق نہیں۔ نہ کسی جانے والے وزیراعظم کی طرف سے دھرنا دیا گیا اور نہ ہی عوامی سطح پر اعتماد کھونے والی اور الیکشن میں شکست کھانے والی پارٹی نے دھاندلی کا شور مچایا۔ وزیراعظم آتے اور جاتے رہے مگر نظام قائم رہا اور تمام ادارے اپنی اپنی جگہ پر کام میں مگن رہے۔ اس کی چار بڑی وجوہات ہیں۔ سب سے بڑی وجہ مضبوط پارلیمانی نظام ہے جس میں عہدہ شخصیت سے بڑا ہے۔ برطانوی وزیراعظم پارلیمنٹ کا رکن ہوتا ہے جو اکثریتی پارٹی کا لیڈر بن جاتا ہے۔ جب وزیراعظم بدلتا ہے تو پارلیمنٹ‘ عدلیہ‘ سول سروس اور بادشاہت جیسے ادارے وہیں رہتے ہیں۔ حکومت کا انجن نہیں‘ صرف ڈرائیور بدلتا ہے۔ اسی لیے چار وزرائے اعظم بغیر عام انتخابات کے آئے کیونکہ پارٹی لیڈر بدلنے سے خود بخود وزیراعظم بھی بدل جاتا ہے۔ یہی خوبصورت روایت برطانوی پارلیمان کی مضبوطی اور جمہوری نظام کے استحکام کی ضامن ہے۔ دوم طاقت کا واضح بٹوارہ ہے۔ وزیر اعظم پارلیمنٹ کو جوابدہ ہے اور پارلیمان جب چاہے اس سے سوال کر سکتی ہے۔ ہر ہفتے وزیراعظم کو جواب دینا پڑتا ہے۔ علاوہ ازیں عدالتیں حکومت کے فیصلوں کو کالعدم کر سکتی ہیں۔ بریگزٹ کے دوران سپریم کورٹ نے ہی حکومت کو روکا تھا۔ بادشاہ یا ملکہ علامتی سربراہ ہیں اور وہ غیر سیاسی رہ کر حکومتی نظام کو استحکام دیتے ہیں۔ میڈیا آزاد ہے اور بیورو کریسی حکومت کی نہیں‘ ریاست کی وفادار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم بدلنے سے سرکاری کام نہیں رکتا۔ تیسری بڑی وجہ مضبوط ادارے اور تاریخی روایات ہیں۔ اگرچہ برطانیہ کا آئین تحریری نہیں لیکن 300سال پرانی روایات آئین سے زیادہ طاقتور ہیں۔ ہار مان کر استعفیٰ دینا ایک مروجہ روایت ہے۔ ڈیوڈ کیمرون‘ تھریسا مے‘ بورس جانسن‘ لز ٹرس‘ رشی سوناک‘ سر کیئر سٹار مر سب نے خود استعفیٰ دیا۔ ان میں سے کوئی بھی کرسی سے نہیں چپکا۔ الیکشن کمیشن‘ بینک آف انگلینڈ‘ بی بی سی جیسے ادارے آزاد اور خودمختار ہیں۔ اس لیے ان بحرانوں کی موجودگی میں بھی مارکیٹ اور عوام کا اعتماد نہیں ٹوٹا۔ چوتھی بڑی وجہ عوام کا جمہوریت پر یقین کی حد تک اعتماد ہے۔ ہر بحران کے بعد عوام نے ووٹ کے ذریعے فیصلہ کیا۔ 2019ء میں بورس جانسن کو اکثریت دی‘ 2024ء میں کنزرویٹو پارٹی کو تاریخی شکست دے کر لیبر پارٹی کو لایا گیا۔ عوام‘ فوج اور پولیس سب پارلیمنٹ کے تابع ہیں‘ کسی شخص کے نہیں۔ اس لیے بدترین سیاسی بحران میں بھی سڑکوں پر بغاوت یا کسی فرد اور ادارے کی طرف سے مداخلت کا سوال پیدا نہیں ہوا۔ برطانیہ میں جمہوریت افراد پر نہیں بلکہ مضبوط اداروں‘ قانون کی عملداری اور روایات کی پاسداری پر کھڑی ہے۔ جب تک پارلیمنٹ چل رہی ہے‘ انتخابات ہو رہے ہیں‘ میڈیا آزاد ہے اور عدلیہ خود مختار ہے تو وزیراعظم کے دس بار بدلنے سے بھی نظامِ مملکت پر کوئی فرق پڑتا ہے نہ جمہوریت کی ٹرین پٹری سے اترتی ہے۔ یہی حقیقی جمہوریت ہے‘ جس میں طاقت کا اصل سر چشمہ عوام ہیں جو اپنے ووٹ سے حکومت بنا بھی سکتے ہیں اور گرا بھی سکتے ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_34710710.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>لے او یار حوالے رب دے(آصف عفان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/asif-afan-/2026-07-24/52355/85258235</link><pubDate>Fri, 24 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/asif-afan-/2026-07-24/52355/85258235</guid><description>قیصر شریف کی سسکیوں بھری فون کال سماعت اور اعصاب کے لیے کسی دھماکے سے ہرگز کم نہ تھی۔ &#39;&#39;امیر العظیم بھائی نہیں رہے‘‘۔ یوں محسوس ہوا کہ آج پھر تھوڑا سا مر گیا ہوں میں! کسی اپنے اور پیارے کی موت جہاں دل کا کام تمام کرنے کے لیے کافی ہوتی ہے وہاں اس کی تلخی اپنے اندر بھی سرایت کر جاتی ہے‘ ہم اپنے مرنے تک ایسے ہی نجانے کتنی بار مرتے رہیں گے۔ یہ خیال ہی کس قدر جان لیوا ہے کہ اب برادرم امیر العظیم کا مسکراتا چہرہ‘ دھیما اور مخصوص لب و لہجہ کہیں ڈھونڈے سے بھی نہ ملے گا۔ دہائیوں پر مشتمل رفاقت کے درمیان موت یوں آن کھڑی ہو گی سوچا بھی نہ تھا۔ موذی بیماری ان کے حوصلے اور برداشت کے آگے اکثر کمزور پڑتی دکھائی دیتی تھی۔ کینسر سے جنگ کے دوران اپنی تکلیف چھپا کر دوستوں کے لیے حاضر اور پیش پیش رہتے تھے۔ چند ماہ قبل حسن نثار صاحب نے اپنی بیٹی کے نکاح کی ذمہ داری مجھے سونپتے ہوئے کہا کہ نکاح کے گواہان افضل غوری اور آپ ہیں جبکہ نکاح خواں کے انتخاب کی ذمہ داری بھی جناب پر ہے۔ کئی نام ذہن میں آتے جاتے رہے لیکن کوئی نام اس اہم فریضے کے لیے فٹ نہیں بیٹھ رہا تھا۔ پھر ایک خیال نے یہ اُلجھن یوں سلجھائی کہ برادرم امیر العظیم کا نمبر ڈائل کر ڈالا۔ ابتدائی سلام دعا کے بعد مدعا یوں بیان کیا کہ حسن نثار صاحب کی بیٹی کی پیدائش پر مرحوم و مغفور قاضی حسین احمد نے کان میں اذان دی تھی اور انہیں ہسپتال لانے کی ڈیوٹی میں نے ہی سرانجام دی تھی۔ قاضی صاحب تو دنیا میں رہے نہیں! گہری رفاقت کا تقاضا یہ ہے کہ نکاح کی ذمہ داری آپ جناب قبول فرمائیں۔ یعنی پیدائش پر اذان ہو یا ازدواجی زندگی کا آغاز‘ دونوں کا قرعہ جماعت اسلامی کے نام۔ میری غیر متوقع فرمائش سن کر کچھ تذبذب کا شکار ہوئے اور بولے: میں یہ کام کرتا نہیں لیکن آپ کی بات میں وزن ہے‘ کچھ کرتے ہیں۔ تھوڑی دیر بعد جوابی کال آئی: میں نے آپ کی آدھی بات مان لی ہے اور بقیہ آدھی کے لیے معذرت قبول فرمائیں۔ میں نے وضاحت چاہی تو فرمایا: امیر جماعت اسلامی نے اذان دی تھی تو امیر جماعت اسلامی ہی نکاح پڑھائیں گے‘ گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہنے لگے: میں نے امیر جماعت حافظ نعیم الرحمن سے گزارش کی ہے‘ اور وہ مان گئے ہیں۔ لہٰذا میں وقتِ مقررہ پر ان کے ساتھ حاضر ہو جاؤں گا۔ میں نے یہ سبھی کارروائی حسن صاحب کے گوش گزار کی تو وہ بولے: اس سے بہتر انتظام کیا ہو سکتا ہے۔ خیر امیر العظیم وقتِ مقررہ پر تقریبِ نکاح میں حافظ نعیم الرحمن صاحب کے ساتھ پہنچے تو ان کے چہرے پر روایتی مسکراہٹ میں بے چینی اور تکلیف کے آثار بھی نمایاں تھے۔ خیریت پوچھی تو ٹال گئے! نکاح کا خطبہ اور دیگر امور بخوبی انجام دینے کے بعد مل بیٹھے تو گردن ایک طرف ڈالے مجلس میں اپنی موجودگی کا بھرپور احساس دلانے کا ہنر خوب نبھاتے رہے۔ گپ شب اور طعام کے بعد رخصت کی اجازت طلب کرتے ہوئے بولے کہ نکاح کی وجہ سے میں نے حافظ نعیم صاحب کو عید پر کراچی نہیں جانے دیا اور اب کچھ دیر بعد ان کی فلائٹ ہے۔ اگلے روز میں نے فون پر معذرت اور گلہ دونوں ہی کر ڈالے کہ بھائی اگر آپ کی طبیعت ناساز تھی تو آپ نے زحمت کیوں کی؟ ہمارا تعلق تکلّفات اور دنیا داری سے مبرا ہے‘ جواباً بولے: آصف بھائی حکم آپ کا تھا اور حسن نثار صاحب کی صاحبزادی کا نکاح‘ ایسے میں انکار کی گنجائش کہاں تھی؟ کینسر جیسے مرض کی تکلیف کے باوجود اس قدر خوش اسلوبی سے تعلق نبھانے کا &#39;نیوندرا‘ صرف امیر العظیم ہی ڈال سکتے تھے۔ کئی دہائیوں پر محیط یہ تعلق ہمیشہ تروتازہ ہی رہا۔ ہر ملاقات قربت و رفاقت کا ایک نیا باب رقم کرتی رہی۔ کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ وہ اس طرح چلے جائیں گے۔ یقین مانو! یقیں نہیں آتا۔ طلبہ سیاست سے قومی سیاست تک‘ ایڈورٹائزنگ کی دنیا سے دنیائے صحافت تک &#39;جہاں بھی گئے داستاں چھوڑ آئے‘ کے مصداق امیر العظیم ہر جگہ منفرد اور ممتاز ہی رہے۔ جماعت اسلامی کے ناقدین اور بدترین مخالف بھی امیر العظیم کے مداح ہی دیکھے گئے۔ ان کی طبیعت کی سادگی‘ کھرا پن‘ ہمدردی اور اخلاص حلقۂ احباب اور دوستوں کو ہمیشہ میسر رہا۔ ان کی شخصیت میں نہ کوئی بیریئر تھا اور نہ ہی کسی کے لیے بغض وکینہ‘ غمی اور خوشی میں امیرالعظیم برابر دکھائی دیتے اور پیش پیش نظر آتے۔ میری اپنی بیٹی ضحی کی شادی کا دعوت نامہ بروقت پہنچانے میں نجانے کیسے کوتاہی ہو گئی تو بذریعہ وٹس ایپ کارڈ بھیج کر فون کرنے ہی لگا تھا کہ ان کی کال آگئی۔ بولے: بھائی میں ضرور حاضر ہو جائوں گا‘ کوئی حکم یا ڈیوٹی ہو تو بتائیے۔ میں نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ کارڈ لے کر خود حاضر ہونا تھا لیکن تاخیر اور کوتاہی ہوگئی‘ لہٰذا بذریعہ وٹس ایپ دعوت قبول فرمائیے۔ اُلٹا شکوہ کر ڈالا اور کہنے لگے: آپ مجھے بھائی بھی کہتے ہیں اور تکلف بھی برتتے ہیں‘ اس رویے پر آپ کو جرمانہ ہو سکتا ہے۔ عرض کیا: سرِ تسلیم خم ہے‘ آپ کا جرمانہ اور ہرجانہ دونوں سرآنکھوں پر۔ جواباً بولے: آئندہ یہ حرکت نہیں ہونی چاہیے۔ بس یہی جرمانہ ہے۔ ان کی کس کس بات کو یاد کروں‘ کون کون سی ملاقات کے ورق الٹاؤں۔ حسن نثار صاحب کے گھر جمنے والی طویل محفلوں میں امیر العظیم کی منطق اور دلائل سے بھرپور گفتگو کی بازگشت آج بھی کانوں میں گونج رہی ہے۔ ان سے میل ملاقات اور نشست و برخاست سے لے کر محبتوں کا سفر چشم تصور میں فلم کی طرح چل رہا ہے۔ مخصوص لب و لہجہ‘ دانائی اور تدبر ان کی گفتگو کا ہمیشہ خاصہ رہا ہے۔ جماعت اسلامی میں مختلف ذمہ داریاں نبھانے کے علاوہ بھی وہ رابطوں اور تعلق کا استعارہ تھے۔ ان کی یہ سبھی خصوصیات انہیں جماعت اسلامی میں بھی ممتاز رکھتی تھیں۔ یہ بات کہنے میں ہرگز کوئی عار نہیں کہ جماعتِ اسلامی کی چلتی پھرتی پی آر کمپنی بند ہو چکی ہے۔ وہ جماعت اسلامی کے ایسے بوجھ ازخود اٹھائے پھرتے تھے جن کا احساس جماعت کو گزرتے وقت کے ساتھ شدت سے ہو گا اور وقتاً فوقتاً‘ لمحہ بہ لمحہ‘ روز بروز یہ خلا بڑھتا چلا جائے گا۔ کچھ ہی دیر پہلے جکارتہ سے برادرم طاہر چودھری کی کال آئی۔ رندھی ہوئی آواز سے بولے: وہ تو میرا جیل کا یار تھا‘ جیل کی یاری سب پہ بھاری۔ ایک ہی سیل میں اسیر رہے‘ ان کے ساتھ گزرے شب و روز کے اَنمٹ نقوش آج بھی میری یادوں میں تازہ اور طبیعت میں برابر پائے جاتے ہیں۔ علی الصبح نماز کے لیے اٹھانا اور پھر میری ٹال مٹول اور بہانوں کو ناکام بنانے کا سارا کریڈٹ انہی کو جاتا ہے۔ تادیر ان کی باتیں چلتی رہیں اور یادوں کے دریچے کھلتے چلے گئے۔ کالم کے دوران ہی حسن نثار صاحب کی فون کال آئی کہ جنازے پر اکٹھے چلیں گے‘ گھر سے منصورہ تک کا سفر اکیلے طے نہیں ہو گا۔ امیرالعظیم بائے ڈیزائن جماعت اسلامی کے لیے ہی بنے تھے‘ وہ امیر بھی تھے اور عظیم بھی۔ مروجہ سیاسی جماعتوں میں ان کی شخصیت کے مذکورہ اوصاف ہی ان کی ڈِس کوالیفکیشن کے لیے کافی تھے۔ آج جماعت اسلامی کا ایک اہم اور فعال عضو جھڑ چکا۔ لے او یار حوالے رب دے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_65560900.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>امریکہ میں سپین کا فٹ بالر اور غزہ(امیر حمزہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ameer-hamza/2026-07-24/52356/88079744</link><pubDate>Fri, 24 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ameer-hamza/2026-07-24/52356/88079744</guid><description>اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب قرآن مجید باخبر فرماتی ہے‘ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہونے والی کتاب تورات بھی آگاہ کرتی ہے کہ مصر میں بنو اسرائیل کو غلام بنا لیا گیا تھا۔ فرعون اس ڈر سے بچوں کو قتل کروا دیتا تھا کہ بنو اسرائیل اس کی حکمرانی کیلئے خطرے کا باعث بن رہے ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام ایسے حالات میں پیدا ہوئے تو ان کی والدہ محترمہ نے خطرہ محسوس کیا اور پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے دل میں یہ پیغام وصول کیا کہ بچے کو دریائے نیل کی لہروں کے سپرد کر دو؛ چنانچہ ماں نے بچے کو صندوق میں ڈال کر دریا میں بہا دیا۔ بہن دیکھتی چلی گئی کہ صندوق کدھر کو جاتا ہے۔ یہ صندوق فرعون کے محل کے سامنے ایک جھاڑی کے ساتھ اٹک گیا۔ محل کے ملازموں نے صندوق کو اٹھایا اور ملکہ کے سامنے لے جا کر رکھ دیا۔ ملکہ نے کھولا تو اندر ایک انتہائی خوبصورت بچہ سکون سے لیٹا ہوا تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام پھر یہیں پلے بڑھے۔ آج بنو اسرائیل کے اکثر افراد اسرائیل نامی ریاست میں آباد ہیں۔ اس صہیونی ریاست کے قیام کو 80 سال ہونے کو ہیں‘ مگر وہ روزِ اوّل سے فلسطینی بچوں کو اس خوف سے مارتے چلے آ رہے ہیں کہ یہ بڑے ہو کر ہماری حکمرانی کیلئے چیلنج بن جائیں گے۔ فلسطینیوں کی آبادی جو اسرائیلی علاقوں میں ہے‘ مغربی کنارے میں ہے‘ غلامی کی زندگی بسر کر رہی ہے۔ اکتوبر 2023ء سے اکتوبر 2024ء تک تقریباً 40 ہزار بچے اور ان کی مائیں شہید کی گئیں۔چند روز قبل فٹ بال کا ورلڈ کپ ہوا۔ فٹ بال کی عالمی تنظیم کا نام فیفا ہے۔ 2026ء کا ٹورنامنٹ تین ملکوں میں ہونے کے بعد فائنل میچ امریکہ کے شہر نیویارک میں ہوا۔ فائنل میں سپین اور ارجنٹائن برسرپیکار تھے۔ سپین یورپی یونین اور نیٹو کا ممبر ہے۔ اس کے باوجود یہ دنیا کا ایسا ملک ہے جس نے غزہ پر ظلم کے خلاف زور دار آواز بلند کی۔ غزہ پر اسرائیلی حملوں کے بعد‘ مئی 2024ء میں اس نے فلسطین کی آزاد ریاست کو تسلیم کر لیا تھا۔ اس کے برعکس ارجنٹائن وہ ملک ہے کہ اس کا صدر جاویر مِیلی اسرائیلی وزیراعظم کا دوست ہے۔ اس نے اپنے بارے میں خود کہا تھا کہ میں دنیا میں صہیونیت کا سب سے بڑا علمبردار صدر ہوں۔ اسی لیے فٹ بال ورلڈ کپ کے دوران نیتن یاہو نے کہا کہ میں ارجنٹائن کو فیفا ورلڈ کپ کا چیمپئن دیکھ رہا ہوں‘ یہ ہمارا سب سے بڑا دوست ملک ہے۔اللہ تعالیٰ کی لکھی ہوئی تقدیر اس طرح سامنے آتی ہے کہ ایک طرف فلسطین اور غزہ کا دوست ملک سپین فائنل میں پہنچ جاتا ہے جبکہ دوسری طرف اسرائیل کا دوست ملک ارجنٹائن فائنل میں اس کے مدمقابل آ جاتا ہے۔ ارجنٹائن کی ٹیم کا کپتان لیونل میسی ہے۔ یہ فٹ بال کی دنیا کا معروف ہیرو ہے۔ یہ دیوارِ گریہ کے سامنے تورات پڑھتا بھی دکھائی دیتا ہے۔ دوسری جانب سپین کی ٹیم کا ایک اہم کھلاڑی&#39;&#39;لامین یامال‘‘ ہے۔ یہ ایک مسلمان کھلاڑی ہے‘ قرآن مجید کی تلاوت کرنے والا ہے۔ یہ سپین کے شہر بارسلونا کے ایک انتہائی غریب علاقے کے ایک ایسے خاندان میں پیدا ہوا جو ایک ڈیڑھ مرلے کے گھر میں رہائش پذیر تھا اور وہ گھر بھی کرائے پر تھا۔ یہ بچہ چھ ماہ کا ہوا تو اس کے شہر میں ایک عالمی ادارے نے بچوں کی بہبود کیلئے فنڈ اکٹھا کرنے کا پروگرام بنایا۔ اس ادارے کو &#39;&#39;یونیسیف‘‘ کہا جاتا ہے‘ جو اقوام متحدہ کا ذیلی ادارہ ہے۔ عالمی فٹ بالر میسی کو یہاں مدعو کیا جاتا ہے۔ پروگرام یہ تھا کہ ایک چھوٹے بچے کے ساتھ ان کا فوٹو شوٹ کیا جائے۔ اس کیلئے چھ ماہ کے لامین یامال کو منتخب کر لیا جاتا ہے۔ صندوق نما پلاسٹک کے ٹب میں میسی نے اس بچے کو نہلایا‘ پھر تولیے میں لپیٹ کر اس کو گود میں اٹھایا۔ یہ دو تصاویر سارے جہان میں مشہور ہو گئیں۔ یہ بچہ اب 19سال کی عمر میں سپین کا ایک اہم کھلاڑی بن کر میسی کے مدمقابل تھا۔ میسی اگر اسرائیل کا حامی ہے تو لامین اہلِ غزہ کی مظلومیت کا نمائندہ ہے۔ لامین کا باپ قتل ہو گیا تھا۔ اس کی ماں پہلے ہی علیحدگی اختیار کر چکی تھی۔ یوں وہ ماں باپ سے محروم ایسا بچہ تھا جو غزہ کے بچوں کے درد کو سمجھتا تھا‘ جن کے سامنے ان کے ماں باپ قتل کر دیے گئے۔ چنانچہ سپین میں اہلِ غزہ کے حق میں مظاہرے ہوتے تو لامین بھی فلسطینی رومال (کوفیہ) اوڑھے دکھائی دیتا۔ ٹرک پر فلسطینی پرچم بلند کیے ہوئے نظر آتا۔ نیتن یاہو نے اس پر سپین کے وزیراعظم پیڈریو سانچیز سے احتجاج کیا تو وزیراعظم نے جواب دیا &#39;&#39;یامال نے وہی کیا جو اسے کرنا چاہیے تھا۔ لامین یامال ایک ایسا انسان ہے جو سپین کے دوسرے شہریوں کی طرح غزہ کے مظلوموں کا درد محسوس کرتا ہے‘‘۔امریکہ کا نیویارک شہر‘ وہاں بنو اسرائیل بڑی تعداد میں آباد ہیں مگر میئر زہران ممدانی حضرت محمد کریمﷺ کا کلمہ پڑھنے والا ہے۔ وہاں کے میدان میں آخری معرکے میں چند دن باقی تھے۔ اسرائیلی وزیراعظم نے اعلان کیا کہ میں نیویارک جا کر میچ دیکھوں گا۔ ممدانی نے اعلان کیا کہ اگر نیتن یاہو نیویارک آیا تو پولیس اسے گرفتار کرنے کا سوچ رہی ہے کیونکہ غزہ میں جنگی جرائم کے مرتکب مجرم کے وارنٹ گرفتاری عالمی عدالت انصاف نے جاری کر رکھے ہیں۔ نیتن یاہو غیر حاضر ہو گیا۔ جی ہاں! 19جولائی 2026ء کو &#39;&#39;میٹ لائف سٹیڈیم‘‘ میں میدان سج گیا۔ دنیا بھر سے 80 ہزار شائقین یہاں موجود تھے۔ صدر ٹرمپ بھی موجود تھے۔ وزیراعظم سپین بھی موجود تھے۔ دنیا بھر کے کوئی تین ارب لوگ سکرینوں پر نگاہیں ٹکائے بیٹھے تھے۔ دونوں ٹیمیں میدان میں اترتی ہیں۔ لامین یامال اپنی نگاہیں گرائونڈ کی طرف اور ہاتھ آسمان کی جانب اٹھاتا ہے۔ اپنے رب کریم سے کامرانی کی دعا مانگتا ہے‘ پھر رکوع کی حالت میں جاتا ہے اور دوڑتا ہوا اپنی ٹیم میں شامل ہو کر مقابلہ کرتا ہے۔ میسی کی ٹیم کے لوگ دورانِ مقابلہ سپین کے کھلاڑیوں سے الجھ پڑتے ہیں۔ کوئی گلے سے پکڑ کر دھکا دیتا ہے‘ کوئی بدزبانی کرتا ہے۔ یوں وہ آئوٹ ہوتے چلے جاتے ہیں۔ میچ کے اختتام پر لامین یامال کی ٹیم کی فتح کا اعلان ہوتا ہے۔ یامال سجدے میں گر جاتا ہے۔ سپین کے بادشاہ شاہ فلپ بھی صدر ٹرمپ کے ساتھ تشریف فرما ہیں۔ وہ یہ مناظر دیکھ کر خوش ہوتے ہیں۔اگلا منظر یہ ہے کہ ٹورنامنٹ کی اختتامی تقریب میں سٹیج کی ایک سائیڈ پر فیفا کے صدر جناب جیانی انفینٹینو کھڑے ہیں‘ ان کے ساتھ صدر ٹرمپ اور دیگر عمائدین کھڑے ہیں۔ لامین یامال آتا ہے۔ فیفا کے صدر جیانی سے بغلگیر ہوتا ہے۔ پھر صدر ٹرمپ کے سامنے آتا ہے تو ٹرمپ مصافحے کیلئے ہاتھ بڑھاتے ہیں۔ یامال لمحہ بھر رکتا ہے۔ صدر ٹرمپ کا ہاتھ فضا میں منتظر ہے۔ یامال ہاتھ ملاتا ہے اور بغلگیر ہوئے بغیر آگے بڑھ جاتا ہے۔ الجزیرہ‘ گارڈین‘ رائٹرز‘ واشنگٹن پوسٹ‘ نیویارک ٹائمز غرض دنیا بھر کا میڈیا اس منظر کو رپورٹ کرتا ہے۔ اب دنیا اگلا منظر دیکھتی ہے۔ دونوں ٹیمیں اپنی اپنی ٹرافی کے ساتھ کھڑی ہو گئی ہیں۔ ٹرمپ کی خواہش ہے کہ جیتنے والی ٹیم کے وسط میں کھڑے ہوں مگر جیانی انفینٹینو ان کا بازو تھام کر سمجھاتے ہیں کہ آپ جا سکتے ہیں‘ یہاں آپ کی ضرورت نہیں۔ سپین کی ٹیم کا اپنے ملک میں لاکھوں لوگ استقبال کرتے ہیں۔ فری فلسطین کے نعرے لگتے ہیں۔ ادھر غزہ کی تباہ حال عمارتوں پر  سپین کے پرچم لہرائے جاتے اور فلسطینی سڑکوں پر جشن مناتے ہیں۔ یامال اہلِ غزہ کے مظلومین کیلئے عالمی چیمپئن شپ کا اعزاز لایا ہے۔ سپین وہ ملک ہے جس نے امریکہ کو اپنے اڈے استعمال کرنے سے منع کر دیا تھا۔ قارئین کرام! میرا تصور یہ ہے کہ میرے اللہ نے اپنے بندوں محمد علی جناحؒ اور محمد اقبالؒ کو یہ منظر دکھایا ہوگا کہ مصر میں بچوں کا قاتل فرعون ہارا تھا تو آج امریکہ میں بھی بچوں کا قاتل ہارا ہے۔ مظلومو! ذرا صبر کہ جبر کے دن جانے والے ہیں۔ قائداعظم زندہ باد کہ جنہوں نے قراردادِ پاکستان کے جلسے میں بھی فلسطین کے حق میں قرارداد منظور کی اور فلسطین کا مقدمہ بھرپور انداز میں لڑا۔ علامہ اقبال زندہ باد کہ قرطبہ میں بہائے گئے ان کے آنسو آج عجب بہار دے رہے ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_68712266.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>