<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>نئے صوبوں کا جواز(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-05/11512</link><pubDate>Sat, 05 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-05/11512</guid><description>سندھ اسمبلی میں نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے پیپلز پارٹی کی تحریک التوا پر ہونے والی بحث اور نئے صوبوں کے قیام کے خلاف قرارداد ملک میں انتظامی بنیادوں پر چھوٹے صوبائی یونٹس کے جواز کو رد نہیں کر سکتی۔ ہمیں یہ مان کر چلنا ہوگا کہ ملکِ عزیز کے چاروں صوبے جس انتظامی اور جغرافیائی خدوخال میں ہمیں آج دکھائی دیتے ہیں یہ ہمیشہ سے ایسے نہیں تھے۔ ہر صوبے کا جغرافیہ حالات اور تقاضوں کے مطابق وقت کے ساتھ تبدیل ہوا۔ صوبوں کے جغرافیائی خدوخال میں خالصتاً انتظامی ضرورتوں اور عوامی فلاح کے مقاصد سے تبدیلی کو آج بھی شجر ممنوعہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ملک کا آئین بھی اس کی گنجائش فراہم کرتا ہے۔ نئے صوبوں کی تشکیل ایک قابلِ بحث اور قومی اہمیت کا موضوع ہے‘ جس میں کسی کیلئے تشویش کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔ دنیا بھر کے ممالک کی وفاقی اکائیوں میں انتظامی تقسیم معمول کا معاملہ سمجھا جاتا ہے‘ اور اسکی مثالیں ہمیں اس خطے کے کئی ممالک میں بھی مل جاتی ہیں کہ وقت کے ساتھ کس طرح صوبوں یا وفاقی اکائیوں کو تقسیم کیا گیا اور نئے صوبے تشکیل دیے گئے۔

ملکِ عزیز میں بھی اگر یہ معاملہ زیر بحث ہے تو اس پر سیاسی طوفان اٹھانے کے بجائے ضرورت اس امر کی ہے کہ ان دلائل کو سمجھنے کی کوشش کی جائے جو نئے صوبوں کی ضرورت پیدا کرتے ہیں۔ بنیادی دلیل یہ ہے کہ ہمارے چاروں صوبے اپنے آپ میں بے ڈول ہیں۔ کہیں کی آبادی دنیا کے کئی ممالک سے زیادہ ہے‘ کہیں کے مسائل بے پناہ اور لاینحل ہیں اور کہیں کی زمینی وسعتیں اس کے انتظامی مسائل کا سبب ہیں۔ ایسے میں کیوں نہ ان صوبوں کو مناسب رقبے اور علاقے کے حامل چھوٹے یونٹس میں تقسیم کردیا جائے تا کہ ان علاقوں کی حکومتیں اور انتظامی مشینری ان علاقوں کے انتظامات کو بہتر طور پر سنبھال سکیں اور عوام کیلئے ترقی کے امکانات پیدا ہوں۔ یہ کام صوبوں کی موجودہ حدود اور انتظامی ڈھانچے کیساتھ ہونا ممکن نظر نہیں آتا۔ تعلیم‘ صحت‘ معیشت‘ روزگار‘ انسانی ترقی‘ امن وامان‘ انصاف‘ شفافیت‘ غرض انسانی آبادی سے تعلق رکھنے والا ہر اشاریہ ہمارے ہاں تشویشناک صورتحال اختیار کر چکا ہے۔ سکول سے باہر بچوں کی تعداد میں ہم دنیا میں دوسرے نمبر پر ہیں‘ 40 فیصد بچے سٹنٹنگ کا شکار ہیں‘ 48 فیصد آبادی خطِ غربت سے نیچے ہے‘ ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس میں 193 ممالک میں 168ویں نمبر پر ہیں‘ گلوبل ہنگر انڈیکس میں 123 ممالک میں 106 اور قانون کی حکمرانی میں 143 ممالک میں 130ویں نمبر پر ہیں۔ 55 فیصد آبادی کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں‘ تعلیم کی حالت یہ ہے کہ پانچ سال سے سکول جانیوالے 50 فیصد بچے پڑھ نہیں سکتے‘ صحت اور انسانی ترقی کے دیگر اشاریے بھی یکساں پسماندگی ظاہر کرتے ہیں۔
اس صورتحال کیلئے کسی ایک سیاسی جماعت یا حکومت کو موردِ الزام ٹھہرانا قرینِ انصاف نہیں۔ حقیقت میں یہ ہماری اجتماعی ناکامیوں کا حاصل ہے‘ اور اسکے اسباب میں ہمارے صوبائی ڈھانچے‘ حکومتی اور انتظامی بدنظمی کا بنیادی کردار ہے۔ ان حالات میں صوبائی ڈھانچے میں مناسب تبدیلیاں ناگزیر معلوم ہوتی ہیں تاکہ رقبے اور آبادی کے لحاظ سے کئی کئی ممالک سے بڑے ان صوبوں کو کئی چھوٹے انتظامی یونٹس میں تقسیم کرکے بہتر نظام حکومت تشکیل دیا جا سکے۔ یہ کام کرنے والے ہم پہلے نہ ہوں گے۔ ہر ملک وقت کے ساتھ نئے انتظامی یونٹس قائم کرتا آیا ہے‘ ہمیں بھی اس سوال پر کسی تردد کا شکار ہونے کی ضرورت نہیں۔ سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ اس حوالے سے ہٹ دھرمی کے بجائے مکالمے کا رویہ اپنائیں‘ آزادانہ عوامی رائے کو سامنے آنے دیں اور نئے صوبوں کے مطالبے اور ضرورتوں کا بے لاگ تجزیہ کریں۔ یہی ملک وقوم کے حقیقی فائدے میں ہے‘ اور سیاسی جماعتوں کا اپنا فائدہ بھی اسی میں ہے کہ ملک و قوم کے مسائل کو درست طور پر سمجھنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کریں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>غذائی قلت کے اثرات(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-05/11511</link><pubDate>Sat, 05 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-05/11511</guid><description>بچوں اور خواتین میں غذائی قلت کے حوالے سے ایک کانفرنس میں وفاقی وزیر اطلاعات نے بتایا کہ ملک میں پانچ سال سے کم عمر کے 40 فیصد سے زائد بچے غذائی قلت کے باعث نشوونما کی کمی کا شکار ہیں جبکہ اس بحران کے نتیجے میں ملک کو سالانہ 17 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ اقوام متحدہ اور عالمی ادارۂ صحت کے مطابق ملک میں تقریباً ایک کروڑ بچے سٹنٹنگ کا شکار ہیں اور غذائی قلت کے باعث ہونیوالا سالانہ معاشی نقصان 17 ارب ڈالر تک پہنچتا ہے۔ یہ نقصان صرف ان بچوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ اسکے اثرات پوری معیشت پر مرتب ہوتے ہیں۔ غذائی قلت سے بچوں کی جسمانی اور ذہنی نشوونما متاثر ہوتی ہے‘ انکی تعلیمی استعداد کم ہوتی ہے اور مستقبل میں انکی پیداواری صلاحیت اور آمدنی کے امکانات بھی گھٹ جاتے ہیں۔ دوسری طرف بیماریوں میں اضافے سے صحت کے اخراجات بڑھتے ہیں۔

اس بحران کی بنیادی وجوہات غربت اور عوام کی کم ہوتی قوتِ خرید ہیں۔ ورلڈ بینک کے مطابق پاکستان کی 48 فیصد آبادی غربت کا شکار ہے‘ ملک میں بیروزگاری کی شرح 7.1 فیصد ہے جبکہ مہنگائی 11.1 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ ایسے میں کم آمدنی والے خاندانوں کیلئے بچوں کو متوازن اور غذائیت سے بھرپور خوراک فراہم کرنا مشکل ہونا فطری امر ہے۔ بچوں کو معیاری خوراک کی فراہمی کیلئے ضروری ہے کہ گھرانوں کی آمدنی بڑھے‘ روزگار کے مواقع پیدا ہوں‘ مہنگائی خصوصاً خوراک کی قیمتوں پر قابو پایا جائے اور عوام کی حقیقی قوتِ خرید بحال کی جائے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پیداواری لاگت اور برآمدات(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-05/11510</link><pubDate>Sat, 05 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-05/11510</guid><description>سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے اجلاس میں اس امر پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ توانائی اور درآمدی لاگت میں اضافے کے باعث پاکستانی مصنوعات عالمی منڈی میں مہنگی ہو کر اپنی مسابقتی حیثیت کھو رہی ہیں۔ مہنگی بجلی نے عام آدمی کی زندگی تو مشکل بنائی ہی ہے لیکن اسکے منفی اثرات پیداواری لاگت میں اضافے کے باعث برآمدات میں کمی کی صورت میں ملکی معیشت پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں ملکی برآمدات 30ارب 12کروڑ ڈالر تک محدود رہیں‘ جو مالی سال 2025ء کے مقابلے میں تقریباً چھ فیصد کم ہیں۔ اس صورتحال کی بنیادی وجہ مہنگی توانائی ہے۔

پاکستان میں بجلی علاقائی ممالک میں سب سے مہنگی ہے‘ چنانچہ وہ پاکستانی صنعت کار جو عالمی منڈی میں بھارت‘ بنگلہ دیش اور چین کے صنعت کاروں کا مقابلہ کرنا چاہتا ہے‘ انہیں ابتدا ہی میں لاگت کے ایک بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ برآمدات بڑھانے کیلئے محض اہداف مقرر کرنا کافی نہیں‘ اس کیلئے صنعت کو سستی توانائی کی فراہمی ناگزیر ہے۔ ضروری ہے کہ برآمدی شعبوں کیلئے بجلی اور گیس کے نرخ علاقائی مسابقت کو سامنے رکھتے ہوئے مقرر کیے جائیں‘ غیر ضروری ٹیکس کم کیے جائیں اور ریفنڈز کی ادائیگی تیز کی جائے۔ پاکستان کو اس وقت محض زیادہ پیداوار نہیں بلکہ کم لاگت اور زیادہ مسابقتی پیداوار درکار ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ایک حیران کن سروے(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-09-05/52604/53491335</link><pubDate>Sat, 05 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-09-05/52604/53491335</guid><description>کیا آپ اپنے بچوں کی تعلیم سے مطمئن ہیں؟ پاکستان کے سکولوں میں‘ کیا بچوں کو بنیادی سہولتیں میسر ہیں؟یہ سوال جب بھی اٹھا‘ اکثریت نے عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ شکایت کا پہلو غالب رہا۔ سرکاری سکولوں کے بارے میں بے  اطمینانی کا تناسب کہیں زیادہ ہے۔ گیلپ آف پاکستان کا تازہ ترین سروے‘ مگر ایک بالکل مختلف تصویر پیش کر رہا ہے۔ اس سروے کے مطابق 85 فیصد والدین نے سکولوں کے بارے میں اپنے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ سروے میں پانچ امور کے بارے میں رائے لی گئی: صفائی‘ پینے کے صاف پانی کی فراہمی‘ گرمی کی شدت سے بچنے کیلئے پنکھے‘ گراؤنڈ اور لائبریری۔ 85 والدین کا کہنا ہے کہ وہ باتھ رومز کی سہولت اور صفائی ستھرائی سے مطمئن ہیں۔ 82 فیصد کا کہنا تھا کہ کمرۂ جماعت میں پنکھے لگے ہیں۔ 78 فیصد کی رائے میں بچوں کو پینے کا صاف پانی میسر ہے۔ 75 فیصد نے بتایا کہ کھیل کے میدان بھی موجود ہیں۔ تاہم لائبریری کے بارے میں اکثریت‘ 72 فیصد نے عدم اطمینان کا اظہار کیا۔یہ نتائج میرے لیے حیران کن ہیں۔ اس سروے میں چند اور باتیں بھی چونکا دینے والی ہیں۔ مثال کے طور پر 93 فیصد والدین نے بتایا کہ ان کے بچوں نے سکول میں کسی بدسلوکی کی کبھی شکایت نہیں کی۔ اس میں اساتذہ اور ہم جماعت بچوں کے رویے‘ دونوں شامل ہیں۔ اگر کوئی شکایت سامنے آئی بھی تو شہری بچوں میں سے 38 فیصد نے اساتذہ اور دیہی علاقے کے31 فیصد بچوں نے ہم جماعتوں کے رویے کے بارے میں شکایت کی۔ 57 فیصد نے بتایا کہ گزشتہ تین ماہ میں والدین اور اساتذہ کی باقاعدہ ملاقات  ہوئی جس کا تعلق بچوں کی تعلیمی کارکردگی سے تھا۔ گیلپ کا کہنا ہے کہ انہوں نے ملک کے چاروں صوبوں سے 1415 افراد کی رائے لی۔ اس میں غلطی کا امکان دو سے تین فیصد تک ہے۔ یہ معلوم ہے کہ گیلپ آف پاکستان سروے کے جدید سائنٹیفک طریقوں کو استعمال کرتا ہے۔ایک اور دلچسپ بات بھی سامنے آئی۔ ایف اے یا اس سے زیادہ تعلیم رکھنے والے 33 فیصد والدین کی پہلی ترجیح بچے کی اعلیٰ تعلیم ہے۔ والدین میں سے 64 فیصد کا کہنا تھا کہ بچوں کا اخلاق ان کی پہلی ترجیح ہے۔ 25 فیصد والدین بچوں کو ڈاکٹر‘ 13 فیصد استاد‘ 12 فیصد تاجر بنانا چاہتے ہیں۔ 65 فیصد لوگوں کی خواہش ہے کہ ان کے بچے اعلیٰ تعلیم کیلئے ملک سے باہر جائیں۔ اس خواہش میں کم پڑھے لکھے اور ایف اے پاس میں زیادہ فرق نہیں۔ پڑھے لکھوں میں یہ تعداد چند فیصد زیادہ ہے۔ یہ سروے مارچ 2026ء میں کیا گیا۔ ایک اور سروے کے مطابق‘ گزشتہ دس برس میں نوجوانوں میں سگریٹ نوشی میں کمی آئی ہے‘ تاہم ای سگریٹ کا ستعمال بڑھا ہے۔میرے لیے یہ سروے چونکا دینے والا ہے۔ اگر پاکستان میں85 فیصد والدین سکولوں کے نظام سے مطمئن ہیں تو یہ معمولی کامیابی نہیں۔ اس سروے میں واضح نہیں کہ یہ سرکاری سکولوں سے متعلق ہے یا نجی اداروں سے۔ تاثر یہ ہے کہ دونوں شامل ہیں۔ اس میں ایک بات یہ کہی گئی ہے کہ نجی سکولوں میں فیس کے زیادہ ہونے کے بارے میں شکایت سامنے آئی ہے۔ گویا نجی سکول تو شامل ہیں ہی۔ ان کا الگ سے ذکر بتاتا ہے کہ پبلک سیکٹر کے سکولوں کو بھی اس سروے میں شامل ہونا چاہیے۔ حیرت کا سبب یہ ہے کہ سکول سرکاری ہوں یا نجی‘ عمومی رائے یہی ہے کہ اچھے نہیں ہیں۔ میرا ایسے لوگوں سے بہت کم واسطہ پڑا ہے جنہوں نے سکولوں کے بارے میں اچھی رائے دی ہو۔ کم وبیش ہر آدمی شکایت کرتا سنائی دیتا ہے۔ آخر سروے اور ہمارے مشاہدے میں اتنا بڑا تضاد کیسے ہے؟اس سوال کے دو جواب متوقع ہیں۔ ایک یہ کہ ہم سروے کے نتائج کو چیلنج کریں اور ان کے قابلِ بھروسہ ہونے پر سوال اٹھائیں۔ میرے لیے اس امکان کو قبول کرنا آسان نہیں۔ گیلپ آف پاکستان کی ایک شہرت ہے اور جو نام اس کے ساتھ وابستہ ہیں‘ میں انہیں صاحبانِ خیر اور دیانتدارسمجھتا ہوں۔ دوسرا امکان یہ ہے کہ اسے عمومی رویے کی روشنی میں سمجھا جائے‘ جس پر شکایت کا غلبہ رہتا ہے۔ ہم مثبت پہلو پر کم ہی نظر رکھتے ہیں۔ ہمارے اردگرد اچھے کام ہو رہے ہوتے ہیں مگر ہم صرف وہی دیکھتے ہیں جن میں خرابی ہے۔ میں نے ایک بار اپنے رویے کو جانچنے کے لیے ایک مشق کی۔ میں ایک ٹریفک سگنل پر رش میں پھنس گیا۔ میں نے ہم سفر سے شکایت کی کہ یہ اشارہ تو ہمیشہ بند ملتا ہے۔ اس کے بعد ٹریفک کے نظام پر بھرپور تنقیدی گفتگو کی۔ کچھ دیر بعد میں نے سوچنا شروع کیا اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ یہ سگنل مجھے کتنی بار کھلا ہوا ملا۔ معلوم ہوا کہ اکثر کھلا ملا ہے اور میں یہاں سے بارہا بآسانی گزر گیا۔ اس مشق سے مجھ پر یہ منکشف ہوا کہ اچھی باتیں ہماری نظروں سے اوجھل رہتی ہیں۔ کیا تعلیم کے بارے میں بھی ایسا ہی ہے؟اس وقت کوئی تیسرا امکان مجھے سجھائی نہیں دے رہا۔ میرے لیے دونوں میں تطبیق پیدا کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ 85 فیصد تعداد معمولی نہیں ہوتی۔ یہ بات اہم ہے کہ اس سروے میں شہری اور دیہی‘ دونوں آبادیوں کو شامل کیا گیا ہے۔ نتائج کے تناسب میں معمولی فرق ہے۔ گویا ہم یہ بھی نہیں کہہ سکتے ہیں کہ شہروں میں‘ دیہات کی نسبت بہتر حالات ہیں۔ اس کے باوصف‘ میں اپنے تجربے کی نفی کیسے کر سکتا ہوں جو اس سے بالکل مختلف ہے۔ میں طالب علموں سے ملتا ہوں‘ اساتذہ سے ملاقات رہتی ہے‘ والدین بھی اکثر اس موضوع پر بات کرتے ہیں۔ اس کا حاصل ایک عمومی عدم اطمینان ہے۔ اکثریت تعلیم کے نظام سے بالکل مطمئن نہیں۔ ایک نجی ٹی وی چینل کے مطابق‘ اس سال پنجاب میں سرکاری سکولوں کے نویں جماعت کے امتحانی نتائج مایوس کن رہے۔یہ سروے اس لیے ہوتے ہیں کہ معاشرے کو سمجھنے میں ہماری مدد کریں۔ ان کو بنیاد بنا کر‘ سماجی رجحانات کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ کاروباری ادارے ان کے نتائج پر بھروسہ کرتے ہوئے‘ اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ سماجیات کے ماہرین ایک معاشرے کے بارے میں رائے قائم کرتے ہیں۔ اہلِ سیاست مستقبل کے انتخابی نتائج کے بارے میں جانتے ہیں۔ گویا ان پر اعتمادکیا جاتا ہے اور یہ اعتماد بھی معمولی نہیں ہے۔ اگر سروے کی سائنس اتنی قابلِ بھروسہ ہے تو ہمیں اپنے تجربے پر غور کرنا ہو گا جو اپنی جگہ بھروسے کے لائق ہے۔ اس کو پرکھنے کے کئی طریقے ہو سکتے ہیں۔ اگر ہمارے بچے سکول جا رہے ہیں تو ہم دیکھیں کہ کیا ان کو یہ سہولتیں میسر ہیں؟ دوسرا یہ کہ خود کسی تعلیمی ادارے میں جائیں اور کھلی آنکھوں سے مشاہدہ کریں۔ تیسری صورت یہ ہے کہ تعلیم کے نظام سے وابستہ ایسے افراد کی رائے لیں جن کی دیانت اور بصیرت پر ہم بھروسہ کرتے ہیں۔ روایت کی صحت کیلئے دیانت کافی نہیں‘ عقل وبصیرت بھی ضروری ہیں۔ ایک کم عقل بھی دیانتدار ہو سکتا ہے مگر اس کی بصیرت قابلِ بھروسہ نہیں ہو سکتی۔اس سروے نے مجھے تو چونکا دیا ہے۔ آپ بھی اس پر غور کریں اور یہ جاننے کی کوشش کریں کہ سروے درست ہے یا ہمارا تاثر؟ پھر اپنے نتائجِ فکر کا اطلاق سیاست اور مذہب سمیت دوسرے شعبوں پر کریں۔ بعض اوقات ہم تاثر پر رائے قائم کرتے ہیں اور یوں حقائق سے دور ہو جاتے ہیں۔ سماج اور انسانی رویوں کو سمجھنا آسان نہیں۔ یہ ایک سائنس ہے‘ علم ہے۔ سماج کی تفہیم اتنا سادہ معاملہ نہیں جتنا سادہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ ایسا ہوتا تو یہ سروے مجھے حیرت میں نہ ڈالتا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>علی بابا اور چالیس چور کیوں یاد آتے ہیں ؟(خالد مسعود خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-09-05/52605/90522679</link><pubDate>Sat, 05 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-09-05/52605/90522679</guid><description>ایک بڑی پرانی کہاوت ہے کہ جنگ اور محبت میں سب کچھ جائز ہے۔ بعد میں یار لوگوں نے اس میں تھوڑی سی ترمیم کرتے ہوئے اضافہ فرما دیا کہ جنگ‘ محبت اور سیاست میں سب کچھ جائز ہے۔ اس جملے نے دنیائے سیاست کی ہر کج رخی‘ جھوٹ‘ فریب‘ وعدہ خلافی‘ اخلاقی دیوالیہ پن‘ غرض ہر چیز کو جواز فراہم کر دیا۔ اس نے ہر اخلاقی‘ قانونی‘ آئینی طور پر غلط سمجھی جانے والی حرکتوں کو ایک ایسی چھتری عطا کر دی جس کے نیچے سیاستدانوں نے پناہ لی اور سیاسی اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا۔ مورخہ 27 جولائی کو آزاد جموں کشمیر کے انتخابات کا پہلا مرحلہ میرپور کے تین اضلاع میرپور‘ کوٹلی اور بھمبر کی تیرہ نشستوں پر مشتمل پہلا مرحلہ تھا۔ ان تیرہ نشستوں میں سے نو نشستوں پر مسلم لیگ (ن) کامیاب ٹھہری جبکہ پیپلز پارٹی نے چار نشستوں پر کامیابی سمیٹی۔ اس الیکشن کے حوالے سے پیپلز پارٹی جو اپنے آپ کو فاتح سمجھ رہی تھی اپنے اندازوں کے برعکس غیر متوقع نتائج آنے پر غیظ و غضب کا شکار ہو گئی۔ اپنے تئیں اس غیر متوقع شکست کے بعد پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ(ن) کے لتے لینا شروع کیے اور باہمی معاملات کے کچے چٹھے کھول کر اپنے دل کی بھڑاس نکالنی شروع کر دی۔ اس سلسلے میں بلاول بھٹو بہت زیادہ غصے میں تھے اور انہوں نے الیکشن کے نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ &#39;&#39;مسلم لیگ( ن) نے آزاد کشمیر کے عوام کا ووٹ گولی‘ لاٹھی اور دھونس کے ذریعے چوری کیا ہے‘‘۔ اس دوران انہوں نے ہر وہ الزام‘ جو انتخابی انجینئرنگ پر لگایا جا سکتا تھا‘ لگایا اور نہ صرف یہ کہ انہوں نے آزاد جموں کشمیر کے حالیہ انتخابات کے حوالے سے مسلم لیگ(ن) کو لتاڑا بلکہ اس کی زد میں 2024ء کے پاکستان کے انتخابات بھی آ گئے۔ فارم 47 کا ذکر ہوا‘ مرکز میں مسلم لیگ(ن) کی حکومت کے اخلاقی جواز پر انگلی اٹھائی‘ اسمبلی میں موجود مسلم لیگ(ن) کی اکثریت کو جعلی قرار دیا‘ اس جعلی اکثریت کا بندوبست کرنے والوں کو ڈھکے چھپے الفاظ میں مطعون کرتے ہوئے مسلم لیگ(ن) کے مینڈیٹ کو مکمل چوری شدہ قرار دیا۔ انہوں نے آزاد جموں کشمیر کے الیکشن کے ساتھ ساتھ پاکستان کے 2024ء کے انتخابات کے نتائج کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے خلاف تقریباً اعلانِ جنگ کر دیا۔ تب لگتا تھا کہ شاید یہ لڑائی اسی اور نوے کی دہائی جیسی محاذ آرائی کی یادیں تازہ کر دے گی لیکن ابھی بیانات کی گونج بھی ماند نہیں پڑی تھی کہ ہر دو فریقین کے درمیان پیار و محبت کی پینگیں دوبارہ سے شروع ہو گئیں۔ اگر میں بلاول بھٹو کے دیے گئے ان سارے بیانات کو کسی ایک جملے میں سمیٹوں تو یوں سمجھیں کہ انہوں نے ہر دو انتخابات میں مسلم لیگ( ن) کو انتخابی سیاست اور جمہوریت کی آبرو لوٹنے والی پارٹی قرار دیا۔ کشمیر الیکشن کے اختتام تک تو نہایت گرما گرم صورتحال رہی۔ اس لڑائی میں‘ جو تقریباً یکطرفہ تھی مسلم لیگ(ن) کے کچھ وزرا نے ہلکی پھلکی جوابی کارروائی کی لیکن وہ بلاول بھٹو کی جانب سے استعمال کیے جانے والے زبانی توپخانے کے حملوں کے مقابلے میں محض چھروں والی بندوق سے جواب دینے کے مترادف تھی۔ شاہ جی سے پوچھا کہ شاہ جی! یہ کیا معاملہ آن پڑا ہے ؟ تو شاہ جی کہنے لگے کہ مفاد پرستوں کی آخری جنگ ان کی باہمی جنگ ہوتی ہے۔ جب تک مفادات میں مرضی کا حصہ ملتا رہے‘ معاملات ٹھیک رہتے ہیںتاہم جیسے ہی لوٹ مار کے مال میں تقسیم کا جھگڑا کھڑا ہو جائے اور کسی فریق کو یہ احساس ہو کہ اس کے ساتھ زیادتی کی جا رہی ہے‘ اس کو اس کا جائز حصہ نہیں دیا جا رہا تو پھر اُن میں باہمی جنگ شروع ہو جاتی ہے۔ یہ جنگ بھی اسی قسم کی ہے جو زیادہ دنوں تک چلتی دکھائی نہیں دے رہی کیونکہ پیپلز پارٹی بھی ان ساری چیزوں میں حصے دار‘ شریکِ کار اور بینی فشری ہے۔ جن انتخابی نتائج کو بنیاد بناتے ہوئے بلاول بھٹو مسلم لیگ(ن) پر اعتراضات کے گولے برسا رہے ہیں‘ اسی انتخابی دھاندلی‘ جو میں نہیں کہہ رہا‘ میں تو محض بلاول بھٹو صاحب کے الزامات دہرا رہا ہوں۔ میری کیا مجال کہ میں پاکستان کے انتخابی معاملات پر‘ دھاندلی پر‘ الیکشن کمیشن کی غلط بخشیوں پر یا عدلیہ کی آنکھ بند کرنے کی پالیسی پر کچھ اعتراض کروں۔ میں تو صرف وہ بات کہہ رہا ہوں جو بلاول بھٹو نے آزاد جموں و کشمیر کے حالیہ انتخابات کے پہلے مرحلے کے نتائج آنے کے بعد کہنا شروع کی۔ بلاول بھٹو نے ہر دو انتخابات کے نتائج کو الزامات کی باڑ پر رکھتے ہوئے سارے موجودہ حکومتی نظام کو انتخابی دھاندلی اور فارم 47کی پیداوارقرار دیا۔ انہوں نے جس قومی اسمبلی میں (ن) لیگ کی اکثریت کو‘ مینڈیٹ کو‘ نتائج کو‘ ارکان اسمبلی کی اخلاقی حیثیت کو‘ ووٹ کی عزت کو‘ غرض ہر چیز کو فراڈ اور فریب قرار دیا‘ مسلم لیگ (ن) کے بعد وہ خود اسی اسمبلی سے مستفید ہونے والے دوسرے بڑے فریق ہیں۔ میں نے بھولا بن کر شاہ جی سے پوچھا کہ پیپلز پارٹی کے پاس مرکز میں نہ وزارتیں ہیں‘ نہ مشاورتیں ہیں‘ نہ ہی پنجاب میں ان کی کوئی دال گل رہی ہے‘ آپ کے سامنے ہے کہ ملتان میں تین ایم این اے اور ایک ایم پی اے کے ساتھ یوسف رضا گیلانی کے چاروں برخوردار آدھے ملتان کو لپیٹے ہوئے ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ملتان کے کسی تھانے میں ان کی مرضی کا ایس ایچ او لگنا تو رہا ایک طرف‘ پٹواری بھی ان کی مرضی کا نہیں لگ رہا‘ اور آپ انہیں اقتدار میں حصے دار قرار دے رہے ہیں۔ شاہ جی ہنسے پھر کہنے لگے اب مجھے نہیں سمجھ آ رہی کہ تم یہ بات کھچرے پن میں کر رہے ہو یا تم واقعتاً عقل سے فارغ ہو۔ اللہ کے بندے اسی جعلی مینڈیٹ (میں پھر وضاحت کر دوں‘ یہ میں نہیں کہہ رہا‘ میں تو صرف بلاول بھٹو صاحب کے بیانات اور خیالات کو از سر نو بیان کر رہا ہوں کہ یہ جو فارم 47 کی پیداوار اسمبلی ہے) کے طفیل بلاول کے والد بزرگوار صدرِ مملکت ہیں‘ سید یوسف رضا گیلانی چیئرمین سینیٹ ہیں‘ سردار سلیم حیدر خان پنجاب کے اور فیصل کریم کنڈی خیبر پختونخوا کے گورنر ہیں۔ بلوچستان کی حکومت بھی انہی کی جانب سے عطا کردہ ہے جنہیں وہ فارم 47 کا مدارالمہام سمجھتے ہیں‘ لیکن اس کے باوجود وہ خود کو اس سارے جعلی سیٹ اَپ سے مستفید ہونے والے کے بجائے متاثرہ فریق قرار دے رہے ہیں۔ ابھی بلاول بھٹو کے بیانات کو مہینہ بھی پورا نہیں ہوا تھا کہ اس مصنوعی نظام سے بہرہ مند ہونے والوں کو اپنی باہمی لڑائی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال کا ادراک ہوا اور مفاہمت کے بادشاہ آصف علی زرداری نے اپنے برخوردار کی شعلہ فشاں پرفارمنس پر پانی ڈالتے ہوئے صلح کا جھنڈا لہرا کر &#39;سیزفائر‘ کا اعلان کر دیا۔ پیپلز پارٹی نے حلقہ این اے 168 کی اقبال چنڑ کی وفات کے باعث خالی ہونے والی قومی اسمبلی کی نشست پر ہونے والے ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کی حمایت کا اعلان کر دیا۔ سید یوسف رضا گیلانی کے فرزند ارجمند اور رکن صوبائی اسمبلی علی حیدر نے مورخہ 29 اگست کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر‘ جذبۂ خیرسگالی اور اتحادی سیاست کے تحت وہ بہاولپور کی اس نشست پر مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کی حمایت کا اعلان کر رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے کارکنوں کو کہا کہ وہ شیر کے نشان کو تیر کا نشان سمجھ کر ووٹ دیں۔ صرف چھبیس دن میں اس نظام سے مستفید ہونے والوں کو باہمی لڑائی کے عواقب کا اندازہ ہوا تو ساری اکڑ فوں رخصت ہو گئی۔ بیوقوف کارکنوں کو یہ بات کبھی سمجھ نہیں آئے گی کہ مفاد پرستوں کی لڑائی اور صلح کے درمیان کوئی اخلاقی یا اصولی حد نہیں ہوتی۔ حالانکہ اس صورتحال کا بچپن میں سنی گئی کہانی سے کوئی تعلق نہیں‘ تاہم پھر بھی اللہ جانے مجھے علی بابا اور چالیس چوروں کا خیال کیوں آ گیا ۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90500073.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>چڑھتا ہوا سیاسی پارہ(ڈاکٹر حسین احمد پراچہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-09-05/52606/74918358</link><pubDate>Sat, 05 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-09-05/52606/74918358</guid><description>ملکی سیاست میں ایک مرتبہ پھر ہلچل بلکہ زبردست ہلچل پیدا ہو چکی ہے۔ نئے صوبوں کی بحث میں شدید نوعیت کی حدت اور شدت دیکھنے میں آ رہی ہے۔ سندھ اسمبلی میں فریال تالپور اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی تقریروں کے بعد نئے صوبوں کے خلاف قرارداد منظور ہو چکی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ خبردار! قومی اسمبلی بھی سندھ کی تقسیم پر بات نہ کرے۔ گویا 28ویں ترمیم اوّل تو آنی ہی نہیں اور اگر آئی تو پیپلز پارٹی اس کی مخالفت کرے گی۔صدر آصف علی زرداری ان دنوں لندن میں قیام پذیر ہیں جہاں مبینہ طور پر انہیں صوبوں کی تشکیل کے بارے میں اہم پیغام پہنچا دیا گیا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری بھی لندن پہنچ چکے ہیں اور نئے صوبوں کی تشکیل کے مطالبات کا مقابلہ کرنے کی ٹھان چکے ہیں۔ جناب محسن نقوی بھی متعدد مصروفیات کے سلسلے میں ان دنوں لندن میں ہیں۔ وہاں انہوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کی حیثیت سے شاہ چارلس سے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ہمراہ ملاقات کی مگر اُن کے دورۂ لندن کی بریکنگ نیوز یہ ہے کہ انہوں نے ایک اہم پیغام صدر آصف علی زرداری تک پہنچایا۔ ادھر بقول مرزا غالبؔ زرداری صاحب کا جوابی پیغام پہلے ہی تیار تھا۔ شنید ہے کہ زرداری صاحب نے محسن نقوی کو بزرگانہ طریقے سے یہ سمجھا دیا ہے کہ اگر کسی معاملے میں قومی اتفاقِ رائے کے بغیر کوئی فیصلہ کر لیا جائے تو وہ دیرپا ثابت نہیں ہوتا۔اُدھر تین ستمبر کے روز سندھ اسمبلی میں صدر آصف علی زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور نے دورانِ تقریر یہ کہا کہ سندھ کی تقسیم کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔دوسری جانب سندھ اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے سندھ میں‘ بدحالی‘ ٹوٹی ہوئی سڑکوں اور گندگی کے ڈھیروں کی بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا مطالبہ سندھ کی نہیں اختیارات کی تقسیم ہے۔ دوسری طرف گزشتہ تقریباً 20روز سے جماعت اسلامی پٹرولیم لیوی اور بدترین مہنگائی کے خلاف دھرنے دیے ہوئے ہے۔ تین ستمبر کو جماعت اسلامی کی اپیل پر کئی شہروں میں شٹر ڈاؤن ہوا جس کے بعد حکومتی وفد نے منصورہ میں امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن صاحب کے ساتھ ملاقات کی۔ حکومتی وفد میں رانا ثنا اللہ‘ احسن اقبال اور سلمان رفیق شامل تھے۔ حکومت اور جماعت اسلامی نے ایک کمیٹی کی تشکیل پر اتفاق کیا ہے جو اعداد و شمار کی روشنی میں لیوی میں کمی کا جائزہ لے گی۔ اگر ممکن ہوا تو اس میں کمی کر دی جائے گی۔ مولانا فضل الرحمن بھی ان دنوں مختلف شہروں میں اپنے کارکنوں کے اجتماعات سے بڑے پُرجوش لب و لہجے میں خطاب کر رہے ہیں۔ ان خطابات میں مولانا کا مرکزی نکتہ قانون کی عملداری اور آئین کی سربلندی ہے۔ مولانا کا مؤقف یہ ہے کہ جب تک پارلیمنٹ کو سپریم مقام نہیں مانا جاتا‘ جب تک عدالتیں آزاد نہیں ہوں گی‘ جب تک تمام شعبۂ ہائے زندگی اپنے اپنے دائرے میں کام نہیں کریں گے اس وقت تک لوگوں کو ان کے حقوق نہیں ملیں گے۔ اور جب تک حکومتیں اپنے ووٹروں کو جوابدہ نہیں ہوں گی اس وقت تک ملک میں امن و امان ہوگا اور نہ ہی گڈگورننس آ سکے گی۔ مولانا اپنی تقاریر کیلئے قرآن و حدیث اور آئین سے دلائل لاتے ہیں۔ وہ پی ٹی آئی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے پارلیمانی اتحاد میں بھرپور طریقے سے شامل ہو چکے ہیں۔ اُدھر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے 27ستمبر کو اسلام آباد آ کر&#39; پُرامن ‘احتجاج کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ ان دنوں وہ سندھ کے دورے پر ہیں جہاں وہ 27ستمبر کے اسلام آباد مارچ کیلئے تعاون کی اپیل کر رہے ہیں۔ مختصر یہ کہ ایک نہیں کئی طرح کے مسائل ہیں۔ ان مسائل کا حل تو ہم کالم کے آخر میں پیش کریں گے۔ پہلے ذرا صوبوں کے بارے میں ہونے والی پیغام رسانی اور نئی صوبہ سازی کا جائزہ لے لیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا بھر میں قومی سطح پر قائم حکومتوں کا وسیع تر دائرہ ہوتا ہے۔ اُن کی زیادہ تر توجہ خارجہ امور‘ مضبوط خزانہ‘ قومی سطح کی سیاست و معیشت اور امن و امان پر ہوتی ہے جبکہ مقامی حکومتیں عوام کو درپیش روزمرہ مسائل کو مقامی سطح پر حل کرتی ہیں۔ پاکستان میں مسئلہ یہ ہے کہ صوبائی حکومتیں عوامی نوعیت کے مقامی معاملات و مسائل کو بھی اپنے ذمے لے لیتی ہیں تاکہ تمام تر فنڈز ان کے اپنے ہاتھ میں رہیں۔ وہ کسی قسم کا مقامی اختیار بھی لوگوں کو دینے پر آمادہ نہیں ہوتیں۔ اُن کے اس طرز عمل کا ہی یہ ردِعمل ہے کہ صوبوں کو چھوٹا کیا جائے تاکہ اُن کے پاس اختیارات کا ارتکاز نہ رہے اور نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔ تاہم سوچنے والی بات یہ ہے کہ اس سے عوام الناس کو کیا ملے گا؟ جب تک ملک کے حکمران اپنا رویہ نہیں بدلتے‘ جب تک وہ ماورائے آئین آل پاور فل بننے کا خبط اپنے دماغ سے نکال باہر نہیں کرتے اور جب تک قومی وسائل کو مختلف طریقوں کے ذریعے اپنی ذاتی دولت سمجھنے کا خیال اپنے دل سے نہیں نکالتے اس وقت تک چار کے بجائے دس بیس صوبے بھی کیوں نہ بن جائیں‘ ان سے کوئی بنیادی فرق ہرگز واقع نہیں ہوگا۔ دس برس تک پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کسی نہ کسی حیلے بہانے سے روکنے کے بعد اب نئی بلدیاتی قانون سازی ایسی کی گئی ہے جس کے مطابق باغباں خوش رہے راضی رہے صیّاد بھی۔حریفوں کے حلیف بن جانے میں زیادہ وقت نہیں لگتا۔ کئی دہائیوں کی سیاسی چپقلش کے بعد 14مئی 2006ء کو لندن میں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے مابین طے پانے والا معاہدہ &#39;&#39;میثاقِ جمہوریت‘‘ کے نام سے مشہور ہوا۔ اس پر دستخط کرنے والوں میں بینظیر بھٹو اور میاں نواز شریف شامل تھے۔ اس معاہدے میں جن اہم نکات پر مکمل اتفاقِ رائے کیا گیا تھا اُن میں آئین کی بالادستی اور 1973ء کے آئین کو 12اکتوبر 1999ء سے پہلے کی شکل میں بحال کرنا اور آئندہ مکمل جمہوریت کا تحفظ اور آزادانہ انتخابات کے بارے میں عہد و پیمان شامل تھا۔ اس میثاقِ جمہوریت پر اس کی روح کے مطابق عملدرآمد ہوا یا نہیں‘ اور کیا سیاست پھر اسی پرانی ڈگر پر واپس آ گئی تھی‘ اس وقت ہم اس بحث میں نہیں پڑیں گے بلکہ آگے چلیں گے۔اب تک نئے صوبوں کے بارے میں مسلم لیگ (ن) کا مؤقف نیم دروں اور نیم بروں کا تھا مگر اب وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے لندن میں بیان دیا ہے کہ جب صوبائی اسمبلیاں اور پارلیمنٹ چاہیں گی تو نئے صوبے بن جائیں وگرنہ ایسے ہی کام چلتا رہے گا۔ بعض تجزیہ کار بیس برس کے بعد ایک بار پھر کسی نئے &#39;&#39;میثاقِ لندن‘‘ کی پیش گوئی بھی کر رہے ہیں۔ ہماری سیاست کا ایک نمایاں وصف یہ بھی ہے کہ حریفوں کو حلیف بنتے دیر بھی نہیں لگتی۔ اگر سیاسی حکومتیں مقامی حکومتوں کو مکمل اختیارات دینے پر تیار ہو جائیں تو سردست نئے صوبوں کی بحث کو اگلی منتخب حکومت پر چھوڑ دیا جائے۔ اس وقت ملک میں چڑھتے ہوئے سیاسی پارے اور بعض حلقوں کی انتظامی خواہشات کے درمیان فوری طور پر مفاہمت اور سیاسی پارے کو نیچے لانے کی ضرورت ہے۔ جناب آصف علی زرداری کو مفاہمت کا بادشاہ کہا جاتا ہے‘ میاں نواز شریف سرد و گرم چشیدہ سیاستدان ہیں‘ مولانا فضل الرحمن بھی موقع آنے پر قومی مفاد کو باقی ہر شے پر فوقیت دیتے ہیں۔ جناب حافظ نعیم الرحمن بھی گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کی بات کر رہے۔ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی اور پی ٹی آئی کی قیادت بھی مذاکرات پر یقین رکھتی ہے۔ لہٰذا مقتدرہ سمیت اِن کیمرا قومی کانفرنس ہو جس میں سبھی مسائل کو افہام و تفہیم سے حل کیا جائے۔ وگرنہ عمل اور ردِعمل میں خدانخواستہ سیاست کا بڑا نقصان بھی ہو سکتا ہے۔ اللہ پاکستان کو ہر نقصان سے محفوظ رکھے‘ آمین۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_70033906.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سیاستدانوں کی منطق(افتخار احمد سندھو)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/iktakhar-ahmed-sandhu/2026-09-05/52607/46774163</link><pubDate>Sat, 05 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/iktakhar-ahmed-sandhu/2026-09-05/52607/46774163</guid><description>&#39;&#39;روڈ پر کوئی حادثہ ہو‘ ہسپتال میں کوئی حادثہ ہو یا کسی فیکٹری میں‘ اس ملک میں غریب کا بچہ ہی کیوں مرتا ہے؟‘‘ صحافی نے گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر سے یہ سوال کیا تو جواب ملا &#39;&#39;یہ تو آپ کوخدا سے ہی پوچھنا پڑے گا کہ غریب ہی کیوں مرتا ہے‘‘۔ یہ جواب سُن کر شاید چند لمحوں کیلئے خاموشی چھا گئی ہو گی مگر اس ایک جملے نے پاکستان کے سیاسی‘ انتظامی اور سماجی نظام کے بارے میں اتنے سوالات پیدا کر دیے ہیں کہ ان کا جواب ایک جملے میں ممکن نہیں۔ سوال غریب کے مرنے کا تھا لیکن جواب تقدیر کے کھاتے میں ڈال دیا گیا۔ سوال ریاستی ذمہ داری کا تھا لیکن انگلی آسمان کی طرف اٹھا دی گئی۔ سوال یہ تھا کہ سڑک پر حادثہ کیوں ہوتا ہے‘ ہسپتال میں مریض کیوں مرتا ہے اور فیکٹری میں مزدور کیوں جان سے جاتا ہے‘ ریاست اپنے شہریوں کی جان ومال کی حفاظت کیوں نہیں کرتی‘ مگر جواب یہ ملا کہ غریب ہی کیوں مرتا ہے‘ اس کے بارے خدا سے پوچھیں۔موت یقینا اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے مگر حادثات کے انسداد کے اسباب پیدا کرنا‘ ناقص سڑکوں کی تعمیر ومرمت‘ حفاظتی قوانین پر عمل درآمد‘ ہسپتالوں کی نگرانی‘ فیکٹریوں میں حفاظتی انتظامات یقینی بنانا اور شہریوں کی جان ومال کا تحفظ کرنا ریاست اور حکومت کی ذمہ داری ہے۔ تقدیر کا حوالہ دے کر انسانی ذمہ داری سے فرار اختیار نہیں کیا جا سکتا۔ یہاں اصل مسئلہ کسی سیاستدان کی ذات نہیں بلکہ اس سیاسی ذہنیت کا ہے جو ہر اس سوال سے فرار کا راستہ تلاش کرتی ہے جس کا جواب اسے اپنے عمل‘ اپنی پالیسی اور اپنی حکومت سے دینا چاہیے۔پاکستانی سیاست میں صحافیوں کے تیکھے سوالات پر سیاستدانوں کے ایسے جوابات کی ایک طویل فہرست موجود ہے جنہیں عوام نے کبھی کم علمی‘ کبھی غیر سنجیدگی اور کبھی مضحکہ خیز منطق کے طور پر لیا۔ مسئلہ یہ نہیں کہ سیاستدان سے کبھی غلط جملہ سرزد ہو گیا‘ بلکہ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ایک غیر ذمہ دارانہ جواب کسی بڑے قومی مسئلے کے مقابلے میں پیش کیا جائے۔ ایک زمانے میں بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ نواب اسلم رئیسانی کی ڈگری کے حوالے سے سوال اٹھا۔ صحافیوں کے سوال پر انہوں نے کہا &#39;&#39;ڈگری ڈگری ہوتی ہے‘ اصلی ہو یا جعلی‘‘۔ یہ جملہ اتنا مشہور ہوا کہ پاکستان کے سیاسی محاوروں کا حصہ بن گیا۔ بعد ازاں اسلم رئیسانی نے اس بیان پر معذرت بھی کی۔ اسلم رئیسانی کے سیاسی سفر میں &#39;&#39;نو کمنٹس‘‘ بھی ایک یادگار واقعہ بن گیا۔ ایک میڈیا ٹاک میں صحافیوں نے ان سے متعدد سوالات کیے‘ انہوں نے صحافیوں کو سوالات کرنے کا موقع دیا اور جب سوالات مکمل ہوئے تو مختصر سا جواب دیا &#39;&#39;نو کمنٹس‘‘ اور وہاں سے روانہ ہو گئے۔ سیاستدان اگر کسی سوال کا جواب نہیں جانتا تو یہ اعتراف قابلِ احترام ہے کہ &#39;&#39;مجھے اس کا علم نہیں‘‘ لیکن جب جواب کے بجائے مذاق‘ تاویل یا خاموشی کو ڈھال بنا لیا جائے تو سوال اپنی جگہ موجود رہتا ہے اور عوام کا اعتماد کم ہوتا جاتا ہے۔ ان جاہلانہ‘ غیر سنجیدہ اور عجیب وغریب جوابات کے لکھنے کے لیے تو شاید ایک دفتر درکار ہو۔ بقول میرؔ:ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیاآگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیااور غالبؔ نے شاید ایسے ہی مواقع کے لیے کہا تھا:حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میںمقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میںہمارے سیاسی مزاح کا ایک اور دلچسپ واقعہ لاہور کی بلدیاتی تاریخ سے منسوب ہے۔ چودھری محمد حسین نے ایک تقریب میں سپاس نامہ پڑھتے ہوئے ایسی غلطیاں کیں کہ ایک سنجیدہ سرکاری تقریب مزاحیہ منظر پیش کرنے لگی۔ &#39;&#39;ملکہ معظمہ‘‘ کو &#39;&#39;مکہ معظمہ‘‘ اور &#39;&#39;آپ کی معیت میں‘‘ کو &#39;&#39;آپ کی میت میں‘‘ پڑھنے اور &#39;&#39;دو اکتوبر‘‘ کو &#39;&#39;بارہ کبوتر‘‘ پڑھنے کا واقعہ عرصے تک سیاسی لطیفوں میں دہرایا جاتا رہا۔ یہ صرف تلفظ کی غلطی نہیں تھی اصل مزاح اس بات میں تھا کہ ایک باقاعدہ لکھی ہوئی تحریر سامنے موجود تھی اور پھر بھی الفاظ نے ایسی کروٹیں لیں۔ ہمارے سیاستدانوں اور وزیروں کا حال کبھی کبھی اس سے بھی برا دکھائی دیتا ہے۔ آئے روز کوئی نہ کوئی ایسی حرکت سرزد ہو جاتی ہے جو پہلے تو سوشل میڈیا پر قہقہے بکھیرتی ہے‘ پھر آدمی کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے کہ جن لوگوں کے ہاتھ میں ملک کے فیصلے ہیں وہ ان فیصلوں کے نتائج پر کبھی غور بھی کرتے ہیں یا نہیں۔ شہباز شریف کا ایک بیان بھی پاکستانی سیاسی گفتگو میں بہت مشہور ہوا۔ مئی 2022ء میں بشام کے ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر خیبر پختونخوا کے عوام کو سستا آٹا فراہم نہ کیا گیا تو وہ اپنے کپڑے بیچ کر سستا آٹا فراہم کریں گے۔ یہ جملہ بظاہر عوامی ہمدردی اور جذباتی وابستگی کا اظہار تھا‘ مگر سوال یہ ہے کہ ریاستی پالیسی کیا جذباتی نعروں سے بنتی ہے؟ غریب کو سستا آٹا چاہیے تو اس کے لیے ایک پائیدار معاشی نظام چاہیے‘ مؤثر نگرانی چاہیے‘ ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کا خاتمہ چاہیے اور ایسی حکمت عملی چاہیے جس سے عام آدمی کی قوتِ خرید بحال ہو۔ کپڑے بیچنے کا وعدہ سیاسی تقریر کو ضرور گرم کر سکتا ہے مگر معیشت کو نہیں۔اسی طرح &#39;منجی تھلے ڈانگ پھیرنے‘ والا جملہ بھی شہباز شریف سے منسوب ہو کر سیاسی مزاح کا حصہ رہا ہے۔ اس نوعیت کے جملے عوام کو وقتی طور پر محظوظ کرتے ہیں مگر اقتدار کی زبان اگر مسلسل محاوروں‘ نعروں اور سیاسی جگتوں میں تبدیل ہو جائے تو سنجیدہ قومی مسائل پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ پاکستانی عوام کو لطیفے نہیں جواب چاہئیں۔ بدقسمتی سے ہمارے حکمران بھی ہمیں اس طرح کے جواب اور مشورے دے کر ہمارے زخموں پر نمک چھڑکتے آئے ہیں‘ لیکن اب عوام خاموش رہنے والے نہیں‘ انہیں یہ جاننا ہے کہ سڑک پر حادثہ کیوں ہوا‘ ہسپتال میں مریض کیوں مرا‘ فیکٹری میں مزدوروں کے لیے حفاظتی انتظامات کیوں نہیں تھے‘ مہنگائی کیوں بڑھی‘ روزگار کیوں کم ہوا‘ بجلی کیوں مہنگی ہوئی اور تعلیم وصحت جیسی بنیادی سہولتیں عام آدمی کی پہنچ سے کیوں دور ہو گئی ہیں۔اگر حکومت ان سوالات کا جواب نہیں دے سکتی تو کم از کم یہ تو تسلیم کرے کہ مسائل موجود ہیں۔ غریب کا بچہ اگر ہر حادثے میں مرتا رہے اور حکمران ہر بار کہیں کہ &#39;&#39;یہ تو خدا سے پوچھنا پڑے گا‘‘ تو مسئلہ صرف حادثوں کا نہیں رہتا‘ پھر مسئلہ حکمرانوں کی جہالت‘ غیر سنجیدگی اور ذمہ داری سے فرار کا بن جاتا ہے۔ اور جب جہالت اقتدار کی کرسی پر بیٹھ جائے تو اس کی قیمت صرف ایک شخص نہیں دیتا‘بلکہ پوری قوم ادا کرتی ہے۔ عام آدمی سیاستدان کی ایک غلطی پر صرف ہنستا نہیں‘ اس کے نتائج بھی بھگتتا ہے۔ وہ غلط پالیسی کی صورت میں مہنگائی کا سیلاب دیتا ہے‘ غلط منصوبہ بندی کی صورت میں بے روزگاری کا عذاب دیتا ہے‘ ناقص انتظام کی صورت میں حادثات ہوتے ہیں۔ حکمرانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہر سوال کا جواب جگت‘ لطیفے‘ بہانے یا تقدیر کے حوالے سے نہ دیں‘ کیونکہ اقتدار صرف اختیار کا نام نہیں‘ جوابدہی کا نام بھی ہے۔ قوم جب سوال کرتی ہے تو اسے خدا سے نہیں‘ حکمرانوں سے جواب چاہیے۔ اور شاید یہی وہ بنیادی فرق ہے جو ایک ذمہ دار ریاست اور ایک بے حس نظام کے درمیان لکیر کھینچتا ہے۔اور ہمارا موجودہ ریاستی اور سیاسی نظام اس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/228_40817243.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مستقبل کے سیاسی چیلنجز اور نئی انتظامی تشکیل(کنور دلشاد)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/kunwar-mohammad-dilshad/2026-09-05/52608/22407650</link><pubDate>Sat, 05 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/kunwar-mohammad-dilshad/2026-09-05/52608/22407650</guid><description>ملکی معیشت اس وقت اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے۔ اگلے تین سال تک بیرونی قرضوں کی ادائیگی کیلئے ہر سال تقریباً 19 ارب ڈالر درکار ہیں۔ تجارتی خسارہ اس کے علاوہ ہے‘ یعنی ہر سال کم از کم 25 ارب ڈالر کی ضرورت ہو گی جو قرضوں وغیرہ سے پوری کی جائے گی۔ یہ ہے وہ ترقی جو ہمارے موجودہ اور سابقہ حکمرانوں نے گزشتہ برسوں میں کی ہے۔ دوسری جانب ذاتی استعمال کیلئے 11 ارب روپے کا پُرتعیش جہاز خریدا گیا اور بقول رانا ثناء اللہ‘ سندھ کے بجٹ کا پیسہ دبئی منتقل کر کے سندھ اور کراچی کو کھنڈرات میں بدل دیا گیا۔ بدلتے عالمی حالات کے تناظر میں غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ مستقبل کی سیاست کے تقاضے بہت حد تک تبدیل ہو جائیں گے۔ اب معیشت‘ ٹیکنالوجی‘ نوجوان نسل‘ سوشل میڈیا‘ مصنوعی ذہانت‘ موسمیاتی تبدیلیاں اور عالمی تعلقات سیاسی فیصلوں پر گہرا اثر ڈالیں گے۔ پاکستان کیلئے آنے والے برسوں میں سیاسی استحکام اور مضبوط جمہوری اداروں کی ضروریات پہلے سے زیادہ اہم ہوں گی۔ ملک میں گورننس کے حالات کو بہتر کرنے کیلئے بے رحمانہ احتساب کا امکان بھی نظر آ رہا ہے تاکہ عوام اور اشرافیہ میں جو خلیج حائل ہے وہ کم ہو‘ ریاست پر اعتماد بڑھے اور حکومتوں کی کارکردگی گڈ گورننس میں تبدیل ہو جائے۔حکومتوں کی تبدیلی‘ سیاسی کشمکش اور اداروں کے مابین اختلافات نے ہمیشہ قومی ترقی کے سفر میں رخنہ ڈالا ہے۔ اب سیاسی جماعتوں کو یہ سوچنا ہو گا کہ مسلسل محاذ آرائی کے اس گرداب میں الجھے رہنا ہے یا قومی مسائل پر اتفاقِ رائے پیدا کرنا ہے۔ ہمارے ہاں سیاسی اختلافات کو ذاتی دشمنی میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ مستقبل میں ایک اہم ضرورت اس امر کی ہو گی کہ تمام سیاسی جماعتیں آئین‘ پارلیمنٹ اور جمہوری عمل کو مضبوط بنانے کیلئے مشترکہ اصول طے کریں‘ اقتدار کی منتقلی آئینی اور پُرامن طریقے سے ہو اور سیاسی اختلافات پارلیمانی اور عدالتی فورمز پر حل ہوں۔آنے والے وقت میں انتخابی نظام میں ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھ سکتا ہے اور انتخابی فہرستوں‘ ووٹروں کی شناخت‘ نتائج کی ترسیل اور انتخابی نگرانی کے نظام کو جدید بنانے کی ضرورت ہو گی۔ الیکٹرانک ووٹنگ مشین اور ڈیجیٹل نظام مستقبل میں بحث کا اہم موضوع رہیں گے تاہم ان کے استعمال میں شفافیت‘ سکیورٹی‘ قابلِ اعتماد آڈٹ اور سیاسی اتفاقِ رائے ضروری ہو گا۔ پاکستان کی آبادی میں نوجوانوں کا تناسب زیادہ ہے اور ان کی طاقت کو اب نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ وزیر داخلہ محسن نقوی واضح کہہ چکے ہیں کہ مستقبل کی سیاست میں نوجوان فیصلہ کن کردار ادا کریں گے۔ نوجوان روایتی سیاسی نعروں کی بجائے تعلیم‘ روزگار‘ کاروباری مواقع‘ ٹیکنالوجی اور بہتر مستقبل چاہتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کو نوجوانوں کو صرف جلسوں اور انتخابی مہمات تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں فیصلہ سازی اور قیادت میں حقیقی مواقع دینا ہوں گے۔موجودہ قیادت کو یہ بھی ادراک ہونا چاہیے کہ سوشل میڈیا مستقبل کی سیاست کا ایک طاقتور ذریعہ بن سکتا ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ایک بڑا خطرہ جھوٹی خبریں‘ افواہیں‘ جعلی مواد اور سیاسی اشتعال انگیزی ہے۔ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے جعلی تصاویر‘ وڈیوز اور آوازیں بنانا مزید آسان ہو گا‘ لہٰذا سیاسی جماعتوں‘ میڈیا اور عوام کو معلومات کی تصدیق کی عادت اپنانا ہو گی۔ خطرے کی گھنٹی بج چکی ہے‘ مصنوعی ذہانت مستقبل میں حکومتی نظام کیلئے بڑا خطرہ ثابت ہو سکتی ہے۔ اس کے استعمال کو شفاف اور ذمہ دارانہ بنانے کے اقدامات ضروری ہیں۔ شہریوں کے ذاتی ڈیٹا‘ رازداری اور بنیادی حقوق کا تحفظ بھی مستقبل کی اہم سیاسی بحث کا حصہ بنتا نظر آ رہا ہے۔ اس کے علاوہ معیشت‘ مہنگائی‘ بیروزگاری‘ توانائی‘ قرضے‘ ٹیکسوں کی اصلاحات اور برآمدات میں اضافہ جیسے مسائل‘ جو براہ راست عوام کی زندگی کو متاثر کرتے ہیں‘ ان کا پائیدار اور ٹھوس حل بھی ناگزیر ہے۔ عوام اب سیاسی جماعتوں سے صرف وعدے نہیں بلکہ قابلِ عمل معاشی منصوبے مانگتے ہیں۔ جس سیاسی جماعت کے پاس روزگار پیدا کرنے‘ سرمایہ کاری بڑھانے‘ برآمدات میں اضافہ کرنے اور مہنگائی کو قابو کرنے کی قابلِ اعتماد حکمت عملی ہو گی‘ اسے ہی عوامی حمایت حاصل کرنے میں کامیابی مل سکے گی۔ عالمی حالات بھی ملکی سیاست پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کو چین‘ امریکہ‘ یورپ‘ خلیجی ممالک‘ وسطی ایشیا اور پڑوسی ممالک کے ساتھ متوازن تعلقات کی ضرورت ہے۔ خارجہ پالیسی میں سیاسی نعروں کے بجائے معاشی سفارتکاری‘ تجارت‘ سرمایہ کاری‘ علاقائی راہداریوں اور قومی سلامتی کو اہمیت دی جانی چاہیے۔ حاصلِ کلام یہ ہے کہ ملکی سیاست ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے۔ایسے میں سیاسی جماعتوں کیلئے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ عوام کا اعتماد بحال کریں‘ اداروں کو مضبوط کریں اور ذاتی و جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر قومی مسائل کا حل تلاش کریں۔ مضبوط ادارے‘ باخبر عوام‘ شفاف انتخابات‘ بہتر معیشت اور قومی مفاد کی ترجیح؛ یہی مستقبل کی کامیاب سیاست کے بنیادی ستون ہوں گے۔سیاسی نظام میں مضبوط بلدیاتی ادارے ناگزیر ہیں۔ عوام کے روزمرہ مسائل مثلاً صاف پانی‘ صفائی‘ سڑکیں‘ صحت اور تعلیم وغیرہ مقامی حکومتوں کے ذریعے زیادہ مؤثر انداز میں حل کیے جا سکتے ہیں۔ اگر اختیارات اور مالی وسائل نچلی سطح تک منتقل کیے جائیں تو عوام اور حکومتوں کے درمیان فاصلہ کم ہو سکتا ہے۔ اس سے جمہوریت بھی مضبوط ہو گی اور سیاسی شمولیت میں بھی اضافہ ہو گا۔ اس وقت ملک میں مستقبل کے انتظامی ڈھانچے پر بحث جاری ہے۔ بڑے صوبوں کے بہتر انتظام کیلئے چھوٹے صوبوں میں تقسیم کی تجاویز سامنے آ رہی ہیں۔ایسی تبدیلیاں انتظامی ضرورت‘ عوامی رائے‘ معاشی امکانات اور آئینی طریقہ کار کے مطابق ہونی چاہئیں۔اگر سیاسی تاریخ کا مطالعہ کریں تو نئے صوبوں کی تجاویز وقتاً فوقتاً سامنے آتی رہی ہیں۔ پنجاب کے جنوبی علاقوں کیلئے جنوبی پنجاب یا سرائیکی صوبہ‘ بہاولپور کی صوبائی حیثیت کی بحالی اور کے پی میں ہزارہ صوبے کا مطالبہ دہائیوں سے علاقائی سیاست کے موضوع ہیں‘ تاہم صرف لسانی یا سیاسی بنیادوں کو صوبوں کی تقسیم کا معیار نہیں بنانا چاہیے۔ بہتر طریقہ یہ ہے کہ آبادی‘ جغرافیہ‘ انتظامی سہولت‘ معاشی استعداد‘ قدرتی وسائل‘ مواصلاتی رابطوں اور عوامی خواہشات کو سامنے رکھ کر فیصلہ کیا جائے۔ ایک قابلِ غور تصور یہ ہے کہ موجودہ چار کے بجائے آٹھ یا دس بڑے انتظامی یونٹس بنادیئے جائیں اور اسلام آباد کو موجودہ آئینی حیثیت کے مطابق وفاقی دارالحکومت رکھا جائے۔ اس حوالے سے پارلیمنٹ کی نگرانی میں قومی کمیشن تشکیل دیا جا سکتا ہے۔نئے صوبوں کے قیام کا مقصد قومی یکجہتی کو کمزور کرنا نہیں بلکہ اسے مزید مضبوط بنانا ہونا چاہیے۔ پاکستان میں مختلف زبانیں‘ ثقافتیں اور علاقائی شناختیں موجود ہیں‘ لہٰذا لسانی یا نسلی کے بجائے انتظامی اور معاشی پہلو کو سامنے رکھ کر حدود کا تعین ہونا چاہیے۔ نئے صوبوں کے قیام سے قبل ہر صوبے کی اسمبلی‘ سیکرٹریٹ اور دیگر اداروں‘ ان کی مالی استعداد اور آمدنی کے ذرائع کا بھی جامع جائزہ لینا ہوگا۔ نئے صوبوں کے ساتھ وفاقی نظام کو بھی بہتر بنانے کی بھی ضرورت ہے۔ قومی مالیاتی کمیشن‘ وسائل کی تقسیم‘ پانی‘ بجلی‘ قدرتی گیس اور دیگر قومی وسائل کے معاملات میں واضح اور شفاف اصول ضروری ہیں۔ صرف صوبوں کی تعداد بڑھانے سے عوامی مسائل حل نہیں ہو سکتے‘ اختیارات کو صوبے سے ڈویژن‘ ضلع اور مقامی حکومت تک منتقل کرنا ضروری ہے۔ جدید پاکستان کیلئے مستقبل کا انتظامی ماڈل تین سطحوں پر مبنی ہو سکتا ہے؛ وفاق‘ صوبے اور مضبوط مقامی حکومتیں۔ اگر یہ اصلاحات سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر آئینی اور جمہوری طریقے سے نافذ ہو جائیں تو نئی انتظامی تقسیم گورننس‘ کارکردگی‘ معاشی ترقی اور قومی یکجہتی کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ تاہم نئے صوبوں کے حوالے سے سندھ حکومت کے مؤقف سے ملک کو ایک نئے بحران کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_15667905.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>NIEFکا قیام اور کارکردگی… (2)(مفتی منیب الرحمٰن )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-09-05/52609/30430620</link><pubDate>Sat, 05 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-09-05/52609/30430620</guid><description>ڈپٹی گورنر سٹیٹ بینک جناب سلیم اللہ نے مزید کہا: &#39;&#39;ہمیں مقاصدِ شریعہ کے مطابق انصاف پر مبنی ایک ایسا اقتصادی نظام بنانا ہے جس میں لوگوں کو حقیقی انصاف ملے اور مکمل شفافیت ہو تاکہ غیر مسلم بھی تسلیم کریں کہ یہ نظام بہتر ہے اور وہ ترجیحی طور پر اسے  اپنانے کیلئے آمادہ ہوں‘ یعنی معاملات زیادہ شفاف اور منصفانہ ہوں۔ لازم ہے کہ ہم اسلامی مالیاتی نظام کا ایسا عملی نمونہ پیش کریں کہ لوگ محض مذہبی عقیدت کی بنا پر نہیں بلکہ اُس کے معیار اور انصاف کی بنا پر اسے قبول کریں۔ اگر کوئی گاہک اچھی کارکردگی دکھا رہا ہے تو اُسے منصفانہ حصہ ملے اور اگر خدا نخواستہ کسی مرحلے پر نقصان ہو تو اس کی شراکت داری کا نظام بھی موجود ہو‘‘۔ انہوں نے  کہا: &#39;&#39;وفاقی شرعی عدالت نے 28 اپریل 2022ء کو امتناعِ ربا کے بارے میں اپنے جاری کردہ فیصلے میں ایسے چالیس قوانین کی نشاندہی کی تھی جو اسلامی مالیاتی نظام کی راہ میں رکاوٹ ہیں‘ اُن کے بارے میں سفارشات تیار کر لی گئی ہیں‘‘۔سیلانی ویلفیئر انٹرنیشنل ٹرسٹ کے چیئرمین مولانا بشیر فاروق قادری نے کہا: &#39;&#39;اس وقت سات اسلامی بینک ہیں اور سولہ سودی نظام پر مبنی روایتی بینک ہیں‘ ہم دارالعلوم میمن کے اشتراک کے ساتھ اپنے ذیلی ادارے SBIL کے ذریعے اسلامی مالیاتی نظام کے بارے میں تربیت فراہم کر رہے ہیں‘ باقاعدہ کورس کراتے ہیں‘ تربیتی ورکشاپس منعقد ہوتی ہیں اور ہم اس سلسلے میں سٹیٹ بینک آف پاکستان اور روایتی بینکوں کے عملے کو تربیتی سہولتیں فراہم کرنے کیلئے تیار ہیں کیونکہ ہمارے نزدیک یہ صدقۂ جاریہ ہے‘ سود اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ ہے اور اس کا نتیجہ ناکامی کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ آج دنیا کے 80 ملکوں میں اسلامی بینکاری  کا نظام موجود ہے‘‘۔ انہوں نے کہا: &#39;&#39;ہم بڑے پیمانے پرنوجوانوں کو کمپیوٹر اور سافٹ ویئر کی ٹریننگ دے رہے ہیں‘ ہزاروں کی تعداد میں نوجوان مہارت حاصل کر کے آن لائن آئی ٹی کے میدان میں کام کر رہے ہیں اوراپنے روزگار کے ساتھ ساتھ ملک کیلئے زرمبادلہ بھی کما رہے ہیں‘‘۔ہم نے اس موقع پر اپنی گزارشات میں کہا: &#39;&#39;اب تک حکومت اپنے جامد اثاثوں کو اجارے پر دے کر ہی مالی وسائل حاصل کر رہی ہے‘ اس سے کوئی معاشی عمل پیدا ہوتا ہے‘ نہ روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور نہ حکومت کو ٹیکس ملتا ہے۔ لازم ہے کہ حکومت‘ بینکاری اور صنعت سے وابستہ ایسے اذہان یکجا ہوں جن میں ایجاد واختراع کی صلاحیت ہو اور وہ قلیل مدتی‘ وسط مدتی اور طویل مدتی ایسے صنعتی شعبوں کی نشاندہی کریں جو نتیجہ خیزی کے حامل ہوں۔ اُن سے قدر افزودہ (Value Added) صلاحیت کی قابلِ برآمد پیداوارحاصل ہو تاکہ ملک کو زرمبادلہ ملے اور مالیاتی خسارے سے نجات ملے۔ مولانا بشیر فاروق قادری محبّ وطن اور اعلیٰ صلاحیت وقابلیت کے حامل ایسے صنعتکاروں اور کاروباری طبقات کو جمع کریں جو ایسے شعبوں کی نشاندہی کریں‘ کیونکہ مالیاتی عدمِ توازن کی وجہ سے ہی ہم بحیثیتِ قوم داخلی اور بیرونی قرضوں کے بوجھ تلے دبے جا رہے ہیں اور ہماری معیشت ہمیشہ سسکیاں لیتی دکھائی دیتی ہے۔ ہم نے مختلف اَدوار میں ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف جیسے عالمی اداروں سے ماہر بینکاروں کو بلا کر وزارتِ خزانہ کا منصِب تفویض کیا‘ مگر وہ ان اداروں کی غلامی کے سوا کوئی آبرو مندانہ اور قابلِ عمل راستہ نہ نکال سکے۔اب تو وزیر داخلہ نے سرکاری منصِب پر فائز ہوتے ہوئے کہہ دیا ہے کہ یہ نظام منہدم ہو چکا ہے‘ اس کی تشکیلِ نو کی ضرورت ہے۔ الغرض جس نئے احساس یا نئے اقتصادی نظام کی ہمیں ضرورت ہے‘ ابھی تک وہ ہمیں نصیب نہیں ہو سکا‘ ماضی ہی کے تجربات دہرائے جا رہے ہیں۔ہم نے کہا: نیتوں کا حال تو ہم نہیں جانتے‘ لیکن ظاہری عمل سے نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ ہمارے بڑے بڑے ملکی بینک اب تک یہ بھی نہیں کر سکے کہ ایم سی بی کی طرح اپنی اسلامی بینکاری کا الگ خود مختار ذیلی ادارہ (Subsidity) قائم کریں‘ بلکہ شاخیں بنانے اور ونڈوز پر ہی اکتفا کیا جا رہا ہے‘ یہ عزم کی کمزوری کی واضح دلیل ہے۔ ہم سٹیٹ بینک آف پاکستان کی ان کوششوں کی تحسین کرتے ہیں کہ فیڈرل شریعت کورٹ نے اسلامی مالیاتی نظام اور غیر سودی بینکاری کی راہ میں حائل جن چالیس قوانین کی نشاندہی کی تھی‘ اُن کی بابت سفارشات تیار کر لی گئی ہیں‘ لیکن چار سال گزرنے کے باوجود ابھی تک ان کے بارے میں قانون سازی نہیں کی گئی‘ اس سے حکومتی عزم کے بارے میں شبہات پیدا ہونا فطری بات ہے۔ہمیں یہ جان کر بھی افسوس ہوا کہ وفاقی وزارتِ خزانہ نے اکثریتی غیر ملکی حصص کے حامل بینکوں اور مالیاتی اداروں کیلئے اسلامک بینکنگ کی طرف منتقلی کو رضاکارانہ قرار دیا ہے‘ یعنی اُن کی مرضی مکمل اسلامی بینکاری کی طرف منتقل ہوں یا بعض شاخیں مخصوص کر دیں یا مکمل سودی نظام پر مبنی بینکاری جاری رکھیں اور اس سلسلے میں ویانا کنونشن کا سہارا لیا ہے‘ حالانکہ ویانا کنونشن کا بینکاری اور مالیاتی معاملات سے کوئی تعلق نہیں ہے‘ اس کا تعلق صرف سفارتی معاملات سے ہے‘ جبکہ غیر ملکی بینک بھی سٹیٹ بینک آف پاکستان کے لائسنس کے تحت قائم ہوتے ہیں اور ان کا ریگولیٹر ادارہ سٹیٹ بینک آف پاکستان ہی ہے۔ ہم سٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر اور ڈپٹی گورنر کے جذبات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں‘ لیکن نتائج تو تب برآمد ہوں گے‘ جب ان جذبات اور قول وقرار پر لفظًا و معنیً مِن وعَن عمل کیا جائے گا۔عامر پراچہ کی گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے ہم نے کہا: &#39;&#39;جہاں چالیس چالیس سال تک فیصلے نہ ہوں‘ کسی ملزَم کو سپریم کورٹ سے اُس وقت باعزت بری کیا جائے جب وہ جیل میں وفات پا چکا ہو یا 14 سال جیل میں گزار چکا ہو تو یہ نظامِ عدل نہیں‘ بلکہ نظامِ ظلم ہے۔ کسی کی زندگی کے چودہ سال برباد کرنے یا پوری زندگی برباد کرنے کا بدل کون دے گا۔ کیا ہمارے عالی مرتبت جج صاحبان کو ان حقائق کا ادراک نہیں ہے۔ سابق چیف جسٹس (ر) گلزار احمد نے اپنی اَنا کی تسکین کیلئے کراچی میں نسلہ ٹاور کو جبراً گرایا اورکئی خاندان اپنی زندگی بھر کی پونجی سے محروم ہوگئے اور عالیشان فلیٹوں سے فٹ پاتھ پر آ گئے۔ حالانکہ اسلام آباد میں بااثر لوگوں کے فلیٹس پر مشتمل عمارات کو ریگولرائز کیا گیا‘ اس میں بنی گالہ‘ کانسٹیٹیوشن ایوینیو اورسینٹورس مال وغیرہ شامل ہیں‘ اس کے برعکس بلڈرز اور فلیٹوں کے مکین فریادیں کرتے رہے کہ اصل پلاٹ قانونی طور پر الاٹ شدہ ہے اور جو اضافی زمین شامل کی گئی ہے‘ اُسے بھی مُجاز ادارے سے منظورکرا لیا گیا تھا‘ نیز اگر عدالت چاہے تو کوئی جرمانہ عائد کر سکتی ہے‘ لیکن لوگوں کو بے گھر اور دربدر نہ کیا جائے ۔ لیکن عدالت نے ان مظلوموں کی فریادوں پر بالکل کوئی توجہ نہیں دی ۔ ہم نے مولانا بشیر فاروق قادری کو تجویز دی کہ اُسی مقام پر امریکی جیوری کی طرز پر متاثرین کی ایک جیوری بنائی جائے اور ایسا فیصلہ دینے والوں کا علامتی ٹرائل کیا جائے۔ آج کراچی میں جسٹس گلزار احمد کا کوئی نام لیوا نہیں ملے گا۔ مگر جب لوگ مسندِ اقتدار پر فائز ہوتے ہیں تو بہت کچھ اُن کی انا کی بھینٹ چڑھ جاتا ہے۔ اس ملک میں عدالتی اصلاحات بااختیار اور مقتدر حلقوں کی ذاتی دلچسپی کے بغیر عملاً ممکن نہیں ہیں۔ عدالتوں کے چکر لگا تے ہوئے نسلیں گزر جاتی ہیں‘ لیکن انصاف نہیں ملتا۔ جب تک مقدمہ دائر ہونے سے لے کر فیصل ہونے تک کیلئے مدت کا تعین نہیں کیا جاتا‘ یہ سانپ سیڑھی کا کھیل ایسے ہی جاری رہے گا۔ انصاف کے منصب پہ فائز بعض شخصیات کے ٹیلی ویژن چینلوں پر ٹِکر چلیں گے‘ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ اخبارات میں مضامین لکھ کر اپنی قابلیت کے جوہر دکھائیں گے‘ لیکن یہ سب کچھ بے فیض رہے گا۔ ہمارے مقروض ترین ملک کی اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان کے مشاہرے اور مراعات بھارت سمیت پورے جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ ہیں‘ لیکن نظامِ عدل درجہ بندی میں سب سے نیچے ہے ‘‘۔ </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_61172381.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>