<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>امن مذاکرات(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-22/11126</link><pubDate>Wed, 22 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-22/11126</guid><description>امریکہ ایران مذاکرات کے دوسرے دور کیلئے اسلام آباد میں تیاریاں مکمل ہیں۔ امریکی حکام منگل کے روز نائب صدر جے ڈی وینس کی اسلام آباد روانگی کا عندیہ دے رہے تھے تاہم منگل کی شام تک ایران کی جانب سے اسلام آباد امن مذاکرات میں شرکت کیلئے وفد کی تصدیق کے بارے میں باضابطہ جواب موصول نہیں ہوا۔ پاکستان نے ایرانی قیادت کو مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت پر قائل کرنے کیلئے مخلصانہ کوششیں کی ہیں۔ اس میں دو رائے نہیں کہ امن ہی بقائے انسانی کا تقاضا ہے اور پائیدار امن کا ایک ہی طریقہ ہے کہ مذاکرات کیے جائیں۔ ایران امریکہ جنگ کے خاتمے اور فریقین کو اس صورتحال سے نکلنے میں مدد فراہم کرنے کیلئے پاکستان نے مخلصانہ تعاون کیلئے کردار ادا کیا جس کے نتیجے میں متحارب فریق دو ہفتے کی جنگ بندی پر رضامند ہوئے‘ ایران آبنائے ہرمز کو کھولنے پر آمادہ ہوا اور اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے نمائندگان میں روبرو ملاقات ممکن ہوئی۔ اس پیش رفت کو بہت بڑی کامیابی تصور کیا جا رہا تھا کہ 1979ء کے بعد دونوں ملکوں میں پہلی بار بالمشافہ مذاکرات کی نوبت آئی۔

اس مذاکراتی دور میں اگرچہ دونوں ملک کسی معاہدے تک نہ پہنچ سکے مگر دونوں جانب توقع موجود تھی اور یہی خوشگوار احساس ان مذاکرات کے اختتام پر بھی حاوی تھا۔ تاہم دوسرے دور سے قبل بعض واقعات نے بدمزگی پیدا کی ہے اور تلخیوں کو بڑھاوا دیا ہے‘ جس سے مذاکراتی عمل پر سابقہ دور کے برعکس بے یقینی کے سائے ہیں۔ مذاکراتی عمل کی کامیابی کچھ لو اور کچھ دو پر منحصر ہوتی ہے؛ چنانچہ موجودہ حالات میں مذاکرات اور امن معاہدے کیلئے ضروری تھا کہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کے ایرانی فیصلے کیساتھ امریکہ کی جانب سے بھی بدلے میں خوشگوار تاثرات کو عملی طور پر پیش کیا جاتا۔ صدر ٹرمپ نے ایران کا شکریہ تو ادا کیا مگر ایران کی بحری ناکہ بندی کا عمل بدستور برقرار رہا اور ہر دن اس میں سختی آتی چلی گئی‘ یہاں تک کہ رواں ہفتے کے پہلے روز جب امریکی وفد کو مذاکرات کیلئے پاکستان روانہ ہونا تھا امریکی بحریہ نے چین سے آنیوالے ایران کے ایک کارگو جہاز کو نشانہ بنا کر قبضے میں لے لیا۔
ایران نے اس عمل کو جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا۔ اسکے اگلے روز اسی طرح کے ایک اور واقعے میں بحر الکاہل میں ایرانی بحری جہاز کو امریکی افواج نے قبضے میں لے لیا۔ اس دوران امریکی صدر کے دھمکی آمیز بیانات اور سیز فائر‘ جس کی مدت آج ختم ہو چکی ہے‘ میں توسیع نہ کرنے کا اظہار بھی تشویش کا باعث بنا۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کے اختتام تک کوئی معاہدہ نہیں ہوتا ہے تو وہ ایران کیساتھ دوبارہ جنگ کرنے کیلئے تیار ہیں۔ یہ رویہ جنگ کا بگل بجانے کے مترادف ہے جس کے اثرات صرف ایران‘ امریکہ یا مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے‘ اس جنگ کے شدید اثرات پوری دنیا پر اثر انداز ہوئے ہیں۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ فوڈ پروگرام کے سربراہان امریکہ ایران جنگ کے عالمی معیشت پر اثرات سے خبردار کر چکے ہیں۔ آبنائے ہرمز کی توانائی کی عالمی منڈیوں کیلئے شہ رگ کی حیثیت ہے؛ چنانچہ امریکہ ایران معاملات کی اونچ نیچ کا فوری اثر توانائی کی عالمی قیمتوں پر ظاہر ہوتا ہے۔ اگلے روز جب ایران کی جانب سے اس بحری گزرگاہ کو کھولنے کا اعلان کیا گیا تو تیل کی قیمتوں میں فوری کمی آئی اور یہ ایک ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئیں۔
مگر حالیہ دنوں امریکی صدر کی دھمکیوں‘ اقدامات اور ایرانی رہنماؤں کے جواب سے توانائی کی منڈیاں پہلے جیسے ہیجان میں مبتلا ہو چکی ہیں۔ دنیا کو اس صورتحال کے مضر اثرات سے بچانے کیلئے امریکہ اور ایران کو لچک دکھانا ہو گی۔ یہی ان کے اپنے عوام‘ معیشت اور معاشرت کیلئے بھی ضروری ہے۔ اس سلسلے میں سب سے اہم یہ ہے کہ اعتماد سازی کیلئے اقدامات کیے جائیں۔ جنگ بندی میں توسیع کا اقدام خطرات کے اس طوفان کو تھام سکتا ہے اور امن کی کامیابی کیلئے ایک اور موقع پیدا ہو سکتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ہوائی فائرنگ اور حادثات(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-22/11125</link><pubDate>Wed, 22 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-22/11125</guid><description>اگلے روز کراچی کے علاقے گلشنِ اقبال میں ایک ہوائی گولی نے گھر کی بالکونی میں کھڑی 19سالہ طالبہ کی جان لے لی۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں۔ انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والی ایک تنظیم کے مطابق ملک میں ہر سال 200 کے قریب افراد ہوائی فائرنگ کے باعث اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ اس صورتحال کی بنیادی وجوہات میں ملک میں اسلحے کی بھرمار  اور اس حوالے سے قانون و ضوابط کا کمزور نفاذ ہے۔ شادی بیاہ‘ سیاسی اجتماعات حتیٰ کہ معمولی تقریبات میں بھی ہوائی فائرنگ معمول کی بات بن چکی ہے‘ جو ایک انتہائی خطرناک سماجی رویہ ہے۔ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک بھر میں موجود غیرقانونی اسلحے کا مکمل خاتمہ یقینی بنائیں۔

اس کے ساتھ ساتھ اسلحہ لائسنس کے اجرا اور استعمال کے قواعد و ضوابط کو بھی مزید سخت اور شفاف بنایا جائے تاکہ اسلحہ صرف انتہائی محدود اور قانونی مقاصد کیلئے ہی دستیاب ہو سکے۔ جن ممالک میں اسلحے کے حوالے سے سخت پابندیاں عائد ہیںوہاں اسلحے کا غیر ذمہ دارانہ بلکہ مجرمانہ استعمال نہ ہونے کے برابر ہے‘ نتیجتاً وہاں امن و امان کی صورتحال بھی بہتر سمجھی جاتی ہے۔ پاکستان کو بھی اس حوالے سے سخت اقدامات کی ضرورت ہے۔ اگر ملک سے اسلحہ کلچر کو ختم نہ کیا گیا تو ایسے سانحات جاری رہیں گے جن سے معاشرتی خوف اور عدم تحفظ میں مزید اضافہ ہوگا۔ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے اس ذمہ داری کو کسی تاخیر کے بغیر پورا کرنا ہوگا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ارتھ ڈے(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-22/11124</link><pubDate>Wed, 22 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-22/11124</guid><description>22اپریل کو منائے جانیوالے ’ ارتھ ڈے‘ کا مقصد زمین کے تحفظ اور ماحولیاتی بقا کے حوالے سے اجتماعی ضمیر کو بیدار کرنا اور   یہ احساس دلانا ہے کہ قدرتی وسائل لامحدود نہیں اور اگر انکے بے دریغ استعمال کا یہی رجحان رہا تو زمین آنیوالی نسلوں کیلئے ناقابلِ رہائش ہوجائے گی۔ یہ دن پہلی بار 1970ء میں منایا گیا تھا جس کا بنیادی مقصد صنعتی آلودگی‘ جنگلات کی کٹائی اور قدرتی وسائل کے غیر ذمہ دارانہ استعمال کیخلاف شعور بیدار کرنا تھا۔ پاکستان کیلئے یہ دن اس لحاظ سے غیرمعمولی اہمیت رکھتا ہے کہ ہمارا ملک ماحولیاتی تبدیلیوں کے خطرناک اثرات سے براہِ راست متاثر ہے۔ گلیشیرز کا تیز پگھلاؤ‘ غیر متوقع بارشیں‘ تباہ کن سیلاب‘ شدید ہیٹ ویوز اور فضائی آلودگی جیسے مسائل معمول بن چکے ہیں۔

ایسے حالات میں ارتھ ڈے ہمارے معاشرے کیلئے  ایک انتباہ ہے کہ اگر اب بھی اجتماعی سطح پر سنجیدگی نہ دکھائی گئی تو مستقبل میں صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔ اسلئے حکومت کو ماحولیاتی تحفظ کیلئے وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ پالیسیاں بنانی چاہئیں جن میں ماحولیاتی قوانین پر سختی سے عملدرآمد‘ صنعتی آلودگی پر مؤثر کنٹرول‘شجرکاری اور قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں پر منتقلی شامل ہو۔ شہریوں کو بھی شجرکاری‘ پانی اور بجلی کے غیرضروری استعمال سے اجتناب‘ پلاسٹک کے استعمال میں کمی اور صفائی کے اصولوں کی پابندی جیسے اقدامات یقینی بنانے چاہئیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پیغام رسانی کافی نہیں(ایاز امیر)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-04-22/51810/91679250</link><pubDate>Wed, 22 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-04-22/51810/91679250</guid><description>اب تک جو پاکستان نے کیا حالات کے مطابق وہی مناسب تھا لیکن اس لمحے سے آگے پاکستان کو پیغام رسانی سے کچھ آگے جانا چاہیے۔ اِس وقت امریکہ کو صاف بتانے کی ضرورت ہے کہ جو زور زبردستی والا رویہ اُس نے اپنایا ہوا ہے اُس سے کام نہیں چلے گا۔ امریکہ عقل کی بات تو کر نہیں رہا‘ وہ ایران کو بے عزت کرنا چاہتا ہے جس کے لیے ایران تیار نہیں۔ رویے یہی رہے تو کوئی بتائے مذاکرات کیسے آگے چل سکتے ہیں‘ کجا اس کے کہ کوئی قابلِ عمل معاہدہ ہو جائے؟پاکستان کی مشہوری ہو گئی‘ قیادت کی بلّے بلّے ہو گئی‘ جیسا کہ کہا جا رہا ہے پاکستان کا پروفائل بڑھ گیا۔ سب باتیں درست ہیں لیکن امریکی ہٹ دھرمی کی وجہ سے حالات بگڑ گئے تو اس پروفائل کو ہم کیا کریں گے؟ بازار میں کتنے دام یہ پروفائل بِکے گا؟ کچھ پیسے سعودیہ سے ملے ہیں جس سے بمشکل وہ خسارہ پورا ہو گا جو یو اے ای کے پیسے واپس کرنے سے پیدا ہوا تھا۔ باقی ہمارے حالات وہی رہیں گے جو پہلے تھے‘ وہی مانگے پر گزارا‘ ادھر اُدھر سے ادھار لینا تاکہ پچھلے ادھار کی ادائیگیاں پوری ہو سکیں۔ جہاں تک ٹرمپ کی تعریف ہے وہ ہمارے کس کام کی۔ وقتی طور پر دل خوش ہو گئے‘ اپنے آپ کو ہم نے تھپکی دے دی لیکن اس سے زیادہ کیا؟ بات تو تب ہے کہ دیرپا معاہدہ طے پائے لیکن اُس کے لیے بنیادی شرط یہ ہے کہ امریکہ اپنی اکڑ‘ اپنی ہٹ دھرمی کچھ کم کرے۔ ایران نے یہ تو ثابت کر دیا ہے کہ وہ کسی بے عزتی کے لیے تیار نہیں۔ جارحیت اور زور آزمائی کے سامنے گھٹنے ٹیکنے ہوتے تو اب تک کر دیے ہوتے۔ لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ ایران نے نقصان برداشت کیا لیکن جھکنے سے انکار کیا۔اس صورتحال میں پاکستان کو امریکہ کے سامنے کچھ کھل کے کہنا چاہیے کہ ثالثی کے ضمن میں پاکستان جو کرسکتا تھا اُس نے کیا لیکن اب امریکی ایڈمنسٹریشن کچھ عقل اور شعور کا مظاہرہ کرے‘ نہیں تو معاہدہ نہیں ہوگا اور جنگ کے شعلے پھر سے بھڑک سکتے ہیں۔ امریکہ کے عجیب مطالبات ہیں کہ ایران اپنا افزودہ یورینیم امریکہ کے حوالے کر دے‘ آبنائے ہرمز کھول دے‘ صدر ٹرمپ جشنِ فتح منائے اور اس کے بدلے ایران کو اپنے ضبط شدہ اثاثے ملیں‘ دھیرے دھیرے اور قسطوں میں اور جہاں تک پابندیوں کا تعلق ہے وہ بھی ہٹیں تو آہستہ آہستہ۔ ایران گھٹنوں کے بل ہاتھ جوڑ کر بیٹھا ہوتا پھر تو ایسے مطالبات درست تھے کیونکہ فاتح پھر اپنی مرضی کرتا ہے لیکن امریکی اور اسرائیلی حملے کے نتیجے میں ایسا نہیں ہوا۔ صدر ٹرمپ بھلے کہتے رہیں کہ ہم نے ایران کی ایئر فورس نیست ونابود کر دی‘ اُن کی نیوی تباہ ہو گئی لیکن اس جنگ میں ایران کو شکست نہیں ہوئی۔ نقصانات کے باوجود قیادت اور نظام قائم دائم ہیں‘ ایرانی قوم کی ہمت بدستور دکھائی دے رہی ہے اور گو ایران جنگ نہیں چاہتا‘ اُس پر پھر سے حملے ہوئے تو جواب دینے کی صلاحیت اُس کے پاس موجود رہے گی۔ ایسے میں امریکی مطالبات بے وقوفی کا مظہر لگتے ہیں۔ پاکستان جو کر سکتا ہے کر رہا ہے، سکیورٹی کے لیے پورا اسلام آباد بند پڑا ہے۔ لیکن مذاکرات کی بات کرنا اور ساتھ ہی صبح شام ایران کو دھمکیاں دینا اور خلیج عمان میں ایرانی بحری جہاز پر قابض ہونا یہ کوئی ماحول نہیں ہے جس میں مذاکرات کسی نتیجے پر پہنچ سکیں۔صرف پاکستان ہی نہیں اب وقت آن پہنچا ہے کہ سعودی عرب‘ قطر اور ترکیہ بھی بہ آوازِ بلند کہیں کہ امریکہ کے ان رویوں سے کوئی بہتری نہیں ہو سکتی۔ ان سارے ممالک نے احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں جانے دیا لیکن صحیح بات کرنے کا بوجھ صرف پاکستان کے کندھوں پر نہ پڑے۔ مل کر پاکستان اور باقی تین ممالک کو واشنگٹن کو بتانا چاہیے کہ ایسے کام نہیں چلے گا‘ امریکہ کو کچھ عقل کی بات کرنا ہو گی۔ جب ایران اس بات پر راضی ہو گیا ہے کہ اُس کے پاس افزودہ یورینیم کمزور کر دیا جائے اور وہ اگلے پانچ سال تک افزدوگی کی طرف نہیں جائے گا تو امریکہ کو اور کیا چاہیے؟ اس ایرانی پوزیشن کو امریکہ جھٹ سے پکڑے اور امن معاہدے کی بنیاد بنائے۔ حالات کے بگاڑ کی وجہ سے خود صدر ٹرمپ کی سیاسی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔ امریکی عوام کی بھاری اکثریت اس جنگ کی حمایت میں نہیں ہے۔ آنکھیں بند کر کے صدر ٹرمپ نے یہ آتش تیار کیا لیکن اب موقع ہے کہ ان انگارو ںکو ٹھنڈا کیا جائے۔ نہ کہ ہر روز ایک نئی اشتعال کی صورت پیدا کی جائے۔ لہٰذا وقت آن پہنچا ہے کہ پاکستان ذرا کھل کر امریکہ سے بات کرے۔ اور ساتھ ہی باقی تینوں ممالک بھی امریکہ کو کچھ سمجھائیں۔شعلے پھر بھڑک اُٹھے تو اس میں نقصان سب کا ہے۔ معاشی اثرات امریکہ تک پہنچ رہے ہیں اور اگر حالات خراب ہوئے ان اثرات کی شدت میں اضافہ ہو گا۔ گلف کے عرب ممالک کا بھاری نقصان ہوا ہے‘ ایران کا کتنا ہوا ہے۔ فائدے میں ہے تو صرف اسرائیل کیونکہ اُس کی پرانی خواہش ہے کہ سارے اسلامی ممالک تباہ ہوں۔ پہلے راؤنڈ کی میزبانی پاکستان نے خوب کی اور اس کی ساری دنیا معترف ہے لیکن یہ بھی کیا ہوا کہ ایک بار پھر ہمارے لڑاکا جہاز اڑان بھریں مہمانوں کے استقبال کیلئے‘ مذاکرات کے عوامل پورے ہوں اور سب کچھ کرنے کے بعد خاطر خواہ نتیجہ کچھ نہ نکلے۔ اس بار بار کی بے سود میزبانی کے متحمل ہم نہیں ہو سکتے۔ویسے بھی امریکہ کو اس خطے سے نکلنے کی تیاری کرنی چاہیے۔ گلف ممالک نے امریکی تحفظ کے مزے چکھ لیے۔ امریکی اپنے اڈوں کا تحفظ نہ کر سکے‘ اُنہوں نے عربوں کا کیا تحفظ کرنا تھا۔ کیا کمال کے جنگی مقاصد امریکہ نے حاصل کئے ہیں کہ جس آبنائے ہرمز سے آمدورفت اس جنگ سے پہلے جاری و ساری تھی جنگ کے نتیجے میں یہ آمدورفت بند ہو گئی ہے۔ بے شعور پن کی کچھ حد ہونی چاہیے‘ لیکن صدر ٹرمپ کی صدارت میں لگتا ہے امریکہ تمام ایسی حدیں پھلانگ رہا ہے۔ اور نقصان صرف امریکہ کا نہیں ساری دنیا کا ہو رہا ہے۔مسلم ممالک نے اور کسی سے کچھ سیکھنا ہے یا نہیں کیتھولک عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو سے ہی کچھ سیکھ لیں۔ اس جنگ کا نام نہیں لیا لیکن جنگوں کے خلاف کھل کے بول رہے ہیں۔ ٹرمپ ایڈمنسٹریشن کے کچھ لوگ جو ایران جنگ کو عیسائیت کے لبادے میں ڈھانپ رہے تھے اُن کے خلاف پوپ نے تنبیہ کی ہے۔ مسلم ممالک بھی اپنا حجاب ذرا پرے کریں اور امریکہ سے کھل کر بات کریں۔ شاہ فیصل بھی ہوا کرتے تھے۔ 1973ء کی عرب اسرائیل جنگ شروع ہوئی تو مغربی ممالک کے حوالے سے تیل کی بندش کا اعلان کر دیا۔ راتوں رات تیل کی قیمتیں تین چار گنا بڑھ گئیں۔ اب بھی ایسے ہی کسی عمل کی ضرورت ہے‘ لیکن شاہ فیصل کہاں سے آئیں۔ ذوالفقار علی بھٹو تھے پاکستانی پائلٹ شام کی مدد کیلئے بھیجے ۔ آج کے سربراہانِ اُمہ احتیاط کے کچھ زیادہ ہی شیدائی نظر آتے ہیں۔ لیکن سمجھنا چاہیے کہ ایران کا نقصان اُمہ کا نقصان ہو گا۔ پچھلے بیس سالوں میں کتنے مسلم ممالک تباہ ہوئے ہیں۔ یہ سلسلہ کہیں تو رکے۔ ایرانی قوم کی ہمت ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کا سامنا کیا۔ لیکن یہ موقع ہے کہ اور کچھ نہیں تو سفارت کاری میں رعنائی آئے۔ یہ کیا بات ہوئی کہ دھمکیاں ایرانی تہذیب کو مٹانے کی ہوں اور اُمہ پر سناٹا چھایا رہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_80573045.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سول سروسز اکیڈمی لاہور اور خواجہ آصف(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-04-22/51811/82399180</link><pubDate>Wed, 22 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-04-22/51811/82399180</guid><description>صحافت ایک دلچسپ اور پُرلطف پیشہ ہے‘ بشرطیکہ آپ اسے دل سے اپنائیں۔ اگر محض اس لیے اس میدان میں آنا چاہتے ہیں کہ یہاں ٹھاٹ باٹ ہے‘ شہرت ہے‘ بڑے لوگوں سے تعلقات بنتے ہیں اور تھانہ کچہری کے معاملات آسان ہو جاتے ہیں تو پھر یہ  شوق نہیں بلکہ ایک کاروبار ہے‘ جسے آپ شاید انجوائے نہیں کر سکیں گے۔ یہ بات میں اس لیے کر رہا ہوں کہ اس پیشے میں آپ کو ہر طرح کے کردار ملتے ہیں‘ اور مختلف النوع لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ ہر شخص سے کچھ نہ کچھ سیکھنے کو ملتا ہے‘ چاہے وہ اچھا ہو یا برا‘ لیکن سیکھنے کا عمل جاری رہتا ہے۔ اس پیشے میں ایک خاص طرح کا ایڈونچر بھی موجود ہے۔ آپ لوگوں کو بہت قریب سے دیکھتے ہیں اور ان سے متاثر ہوتے ہیں۔ پھر کچھ عرصے بعد یا تو وہ آپ سے آگے نکل جاتے ہیں یا آپ ان سے آگے بڑھ جاتے ہیں‘ اور یوں ان کی شخصیت یا باتوں میں وہ کشش باقی نہیں رہتی۔ مجھے یاد ہے جب میں نے پرویز مشرف کے دور میں‘ 2002ء میں پارلیمنٹ کی رپورٹنگ شروع کی تو بہت سے پارلیمنٹرینز سے متاثر ہوا۔ اپوزیشن کے دنوں میں ان کی تقاریر ہمیشہ متاثر کرتیں‘ اور یہ سلسلہ پانچ سال تک جاری رہا۔ لیکن 2008ء میں جب وہی سیاستدان اقتدار میں آئے اور اکثر وزیر بنے تو وہ لوگ ہمارے ساتھ  ٹاک شوز میں بیٹھ کر انہی پالیسیوں کا دفاع کر رہے ہوتے بلکہ بعض اوقات ہم سے الجھ بھی پڑتے تھے‘ جنہیں وہ کبھی پرویز مشرف کے وزیروں کے خلاف پارلیمنٹ میں چارج شیٹ کے طور پر پیش کیا کرتے تھے۔اس تجربے نے مجھے یہ سکھایا کہ بعض لوگ طویل عرصے تک اداکاری تو کر سکتے ہیں مگر جب وہ کسی منزل پر پہنچتے ہیں تو ان کی اصل شخصیت سامنے آ ہی جاتی ہے۔ چند واقعات ایسے ہیں جنہوں نے مجھے گہرائی تک متاثر کیا۔ ان میں ایک واقعہ یہ تھا کہ نواز  شریف کی قیادت میں اپوزیشن نے وزیراعظم بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے خلاف قومی اسمبلی میں سرے محل سکینڈل اٹھایا۔ یہ ایک برطانوی اخبار کی رپورٹ پر مبنی تھا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سرے کاؤنٹی میں ایک گھر خریدا گیا ہے۔ بینظیر بھٹو نے  فوری طور پر اس کی تردید کی اور اسے مخالفین کا پروپیگنڈا قرار دیا۔جب نواز شریف اور ان کی جماعت اس معاملے پر قومی اسمبلی میں تقاریر کر رہے تھے تو ایک دن کابینہ اجلاس میں وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر شیر افگن نے وزیراعظم سے براہِ راست سوال کیا کہ آیا یہ خبر درست ہے یا نہیں۔ بینظیر بھٹو نے پورے اعتماد سے کہا کہ یہ سب جھوٹ ہے‘ ایسا کوئی گھر نہیں خریدا گیا۔ ڈاکٹر شیر افگن نے  وزیراعظم کی بات پر یقین کیا اور ہر فورم پر اس کا دفاع کیا لیکن جب بعد میں سرے محل بیچ کر دبئی میں گھر خریدنے کی خبریں پوری دنیا میں چھپیں تو وہ افسردہ ہو گئے۔ میری ان سے روزانہ ملاقات ہوتی تھی‘انہوں نے ایک روز کہا کہ وزیراعظم کو اپنی کابینہ کے سامنے سچ بولنا چاہیے تھا۔ اگر گھر خریدا بھی تھا تو اس میں ایسا کیا جرم تھا کہ اسے چھپایا جاتا؟ ایسی باتیں کب تک چھپ سکتی ہیں؟ اب جب سب کچھ سامنے آ گیا تو افسوس کے سوا کچھ نہیں۔ڈاکٹر شیر افگن کے افسوس کو ایک طرف رکھیں اور نواز شریف اور ان کی جماعت کے کردار پر نظر ڈالیں۔ جس وقت وہ سرے محل سکینڈل کی فوٹو کاپیاں ایوان کے اندر اور باہر تقسیم کر رہے تھے اسی وقت وہ آف شور کمپنیوں کے ذریعے لندن میں فلیٹس خرید چکے تھے‘ جو برسوں بعد پاناما لیکس میں منظر عام پر آئے۔ یعنی جس عمل پر وہ دوسروں کو کرپٹ ثابت کر رہے تھے وہی کام خود بھی کر رہے تھے۔ اس طرح اگر یاد ہو تو عمران خان یوسف رضا گیلانی کے ترک ہار کی باتیں اپنے ہر جلسے جلوس اور ٹی وی انٹرویو میں سناتے تھے‘ لیکن پھر پتا چلا کہ وہ خود بھی سب سرکاری تحائف اپنے گھر لے گئے اور انہیں بیچ بھی دیا۔میں آج تک یہ نہیں سمجھ سکا کہ یہ کیسی انسانی نفسیات ہے کہ جو کام آپ خود کر رہے ہوتے ہیں اور جانتے ہیں کہ وہ غلط ہے‘ وہی کام جب کوئی دوسرا کرے تو آپ اسے مجرم قرار دیتے ہیں۔ انسان خود کو کیسے قائل کر لیتا ہے کہ وہ درست ہے اور دوسرا غلط؟1997ء میں جب سوئٹزرلینڈ کے بینک میں زرداری صاحب کے ساٹھ ملین ڈالرز کا انکشاف ہوا تو اس وقت کے اٹارنی جنرل میاں فاروق ( موجودہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے والد)نے سوئس حکومت کو خط لکھا کہ یہ دولت پاکستان سے لوٹی گئی ہے اور پاکستان کے عوام کی ہے لہٰذا اسے واپس کیا جائے‘ جس پر اس رقم کو منی لانڈرنگ قرار دے دیا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بعد میں نواز شریف خاندان پر بھی پاناما لیکس میں اسی نوعیت کے الزامات لگے۔ شہباز شریف پر 16ارب روپے کی منی لانڈرنگ کا کیس بھی بنا جو عمران خان کے دورِ حکومت میں زیرِ تفتیش رہا۔ اگر وہ وزیراعظم نہ بنتے تو شاید اس کیس میں انہیں سخت سزا کا سامنا کرنا پڑتا۔ مگر وہی شہباز شریف زرداری صاحب کو لاڑکانہ کی گلیوں میں گھسیٹنے کی باتیں کرتے رہے۔ ایسی بے شمار مثالیں ہیں۔ میں درجنوں واقعات بیان کر سکتا ہوں جہاں لوگ اسمبلی میں دوسروں کی کرپشن کے قصے سناتے تھے جبکہ خود بھی کسی نہ کسی سکینڈل میں ملوث ہوتے تھے۔ ایک واقعہ لیاقت بلوچ نے سنایا تھا کہ 2002ء میں ایم ایم اے کے ارکان سائیکلوں پر پارلیمنٹ آئے لیکن 2007ء میں وہی ارکان پجارو اور پراڈو میں واپس گئے۔ہمارے ہاں یہ نعرہ بہت مقبول ہے کہ غریب کو اقتدار میں لایا جائے تو ملک کی حالت بدل جائے گی‘ مگر اپنی چوبیس سالہ پارلیمنٹ رپورٹنگ میں مَیں نے یہی دیکھا ہے کہ اگر کوئی غریب پس منظر کا آدمی پارلیمنٹ میں پہنچ بھی جائے تو دو سال بعد وہ غریب نہیں رہتا۔ ترقیاتی فنڈز میں‘ بقول سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی‘ تیس فیصد کمیشن لے کر لوگ چند سالوں میں کروڑ پتی بن جاتے ہیں۔ اگر میں نے کسی سیاستدان کو پانچ سال پہلے جیسے کپڑوں یا گاڑی میں اسمبلی آتے اور ویسے ہی واپس جاتے دیکھا تو وہ  میانوالی کے ڈاکٹر شیر افگن نیازی تھے۔ وہ ایسی وزارت قبول ہی نہیں کرتے تھے جس میں مالی فوائد کا امکان ہو۔ اسی لیے وہ زیادہ  تر وزیر پارلیمانی امور ہی رہے‘ جن کا کام صرف پارلیمانی امور دیکھنا تھا۔ ڈاکٹر شیر افگن جیسا سادہ اور اصول پسند سیاستدان میں نے کم ہی دیکھا ہے۔اب ایک اور دلچسپ مگر تلخ پہلو دیکھیں۔ ایک تصویر میں دیکھا کہ ایک سابق بیوروکریٹ لاہور کی سول سروسز اکیڈمی میں زیرِ تربیت افسران کو لیکچر دے رہے تھے۔ اس سیریز کا نام &#39;&#39;اخلاقی لیکچر سیریز‘‘ رکھا گیا ہے۔ بظاہر اس کا مقصد مستقبل کے بیوروکریٹس میں اخلاقیات کو فروغ دینا ہے‘ مگر اسی دوران خواجہ آصف نے انکشاف کیا کہ پاکستانی بیوروکریٹس پرتگال میں جائیدادیں خرید رہے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ ان کے پاس اتنا سرمایہ کہاں سے آ رہا ہے کہ بیرونِ ملک جائیدادیں خرید سکیں‘ غیر ملکی شہریت حاصل کریں اور اپنے بچوں کو باہر منتقل کریں؟ ایسے میں یہ فیصلہ کرنا مشکل نہیں کہ زیرِ تربیت افسران پر زیادہ اثر کس بات کا ہوگا‘اخلاقی لیکچرز کا یا اس تلخ حقیقت کا کہ سینئر افسران بیرونِ ملک اثاثے بنا رہے ہیں۔ نتیجتاً اکثر افسران سروس جوائن کرتے ہی اپنے &#39;&#39;کھاتے‘‘ کھول لیتے ہیں۔ سنا ہے کہ اب تو اکیڈمی سے فارغ ہوتے ہی‘ حتیٰ کہ پروبیشن پیریڈ مکمل ہونے سے پہلے ہی یہ سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ یہ اُس اکیڈمی کے تربیت یافتہ افسران کا حال ہے جہاں آج کل اخلاقیات پر لیکچر سیریز جاری ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کتابیں کیوں نہیں پڑھی جاتیں؟(شاہد صدیقی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-siddiqui/2026-04-22/51812/72935584</link><pubDate>Wed, 22 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-siddiqui/2026-04-22/51812/72935584</guid><description>تعلیم کے موضو ع پر ہونے والی کانفرنسوں میں اکثر یہ بحث کی جاتی ہے کہ ہمارے معاشرے میں کتب بینی کی روایت زوال پذیر ہے۔ حال ہی میں Learning Poverty کے حوالے سے ورلڈ بینک کی ایک ہوشربا رپورٹ سامنے آئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ زوال اچانک رونما نہیں ہوا بلکہ یہ دہائیوں سے ہمارے معاشرے میں ترجیحات اور سماجی اقدار میں آنے والی بتدریج تبدیلیوں کا نتیجہ ہے۔ وہ جو کہتے ہیں:وقت کرتا ہے پرورش برسوں ؍ حادثہ ایک دم نہیں ہوتاکتاب بینی جو کبھی فکری نشوونما کا لازمی جز وسمجھی جاتی تھی‘ اب ایک غیر اہم سرگرمی بن کر رہ گئی ہے۔ طلبہ کی مطالعہ کی عادت میں  کمی کیوں آئی ہے؟ اس زوال کے اسباب کیا ہیں؟ اس زوال کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ اس صورتحال میں بہتری کیسے لائی جا سکتی ہے؟ یہ وہ بنیادی سوالات ہیں جن کے جوابات ہمارے لیے اہم ہیں۔ آئیے ان سوالات کے جوابات تلاش کرتے ہیں۔ سب سے پہلے طالب علموں میں کتب بینی کا جائزہ لیا جائے تو پتا چلتا ہے کہ اکثر طلبہ نصاب کے علاوہ بہت کم کتابیں پڑھتے ہیں۔ ان کی تمام تعلیمی زندگی امتحانات‘ نمبروں اور گریڈز کے گرد گھومتی ہے۔ ایسے میں نصاب سے باہر کتابوں کا مطالعہ ایک ثانوی حیثیت اختیار کر جاتا ہے کیونکہ طلبہ کا واحد مقصد امتحان میں نمبر حاصل کرنا ہوتا ہے۔ جب کامیابی کا معیار صرف اچھے گریڈز تک محدود ہو جائے تو طلبہ اپنے مطالعے میں بھی شارٹ کٹ کو ترجیح دیتے ہیں۔ وہ نصاب کی کتابوں کو پڑھنے کے بجائے خلاصوں‘ گائیڈز اور مختصر نوٹس سے مدد لیتے ہیں۔ لیکن اس صورتحال کی ساری ذمہ داری محض طلبہ پر عائد نہیں ہوتی کیونکہ وہ جس معاشرے میں سانس لے رہے ہیں‘ وہی معاشرہ ان کی ترجیحات کا تعین کرتا ہے۔کیا کتب بینی کے زوال میں اساتذہ کا کردار ہے؟ اساتذہ کی ایک اہم ذمہ داری طلبہ میں کتابوں کی محبت پیدا کرنا بھی ہے۔ مگر جو استاد خود مطالعہ نہیں کرتے وہ مطالعہ کے کلچر کو کیسے فروغ دے سکتے ہیں۔ بہت سے تعلیمی اداروں میں تدریس محض نصابی مواد تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ یہ تدریس اکثر امتحانی نظام کے تقاضوں کے تابع ہوتی ہے۔ اساتذہ کی پیشہ ورانہ ترقی کیلئے مطالعہ کا مرکزی کردار ہوتا ہے لیکن اساتذہ میں بھی مطالعے کی روایت ماند پڑ گئی ہے۔ اکثر اساتذہ خود کو صرف نصابی کتابوں تک محدود رکھتے ہیں۔ یوں طلبہ کو اپنے اساتذہ سے ایک غیر محسوس پیغام ملتا ہے کہ نصاب سے باہر مطالعہ غیر ضروری ہے۔ اس طرح اساتذہ کی مطالعہ سے دوری طلبہ میں کتب بینی کے زوال کی ایک بڑی وجہ بنتی ہے۔کتب بینی کے زوال میں کچھ حصہ پبلشرز اور کتب فروشوں کا بھی ہے۔ آج کل معیاری کتابیں یا تو مہنگی ہیں یا آسانی سے دستیاب نہیں۔ کتابوں کی قیمتیں زیادہ ہونے سے وہ محدود طبقے تک محدود رہتی ہیں۔ بہت سے پبلشرز نے خود کو صرف درسی کتب کی اشاعت تک محدود کر دیا ہے کیونکہ اس میں پیسہ زیادہ ہے۔ یہ پبلشرز مارکیٹ کی طلب کے مطابق کام کرتے ہیں‘ حالانکہ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ وہ قارئین کی طلب کو تشکیل دینے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔کتب بینی کی روایت کے زوال میں ریاست کے کردار کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ تعلیمی پالیسیاں عموماً بامعنی تعلیم کے بجائے Measureable ٹا رگٹس کو ترجیح دیتی ہیں۔ یوں امتحانات اور سلیبس کی پابندیوں میں نصاب سے باہر کی کتب کے مطالعہ کی ضرورت اور گنجائش کم رہ جاتی ہے۔ کسی زمانے میں ملک میں پبلک لائبریریوں کا رواج تھا۔ یہ لائبریریاں رفتہ رفتہ معدوم ہو گئی ہیں۔ جو اکا دکا لائبریریاں موجود ہیں وہ وسائل کی کمی کا شکار ہیں۔ ان لائبریریوں کا خاتمہ ہمارا مشترکہ ثقافتی نقصان ہے۔ یوں جب مطالعہ کیلئے مناسب جگہیں میسر نہ ہوں تو اس کا منفی اثر مطالعہ کی روایت پر پڑتا ہے۔ کسی گھر میں کتابوں کی موجودگی بچوں پر مثبت اثر ڈالتی ہے۔ عام مشاہدہ ہے کہ جن طلبہ کے گھروں میں کتابیں موجود ہوتی ہیں ان میں مطالعے کی عادت مضبوط بنیادوں پر استوار ہوتی ہے۔ اساتذہ‘ پبلشرز‘ والدین اور ریاست کے علاوہ ہمارا معاشرہ بھی کتب بینی کے زوال کے عمل میں شریک ہے۔ ہم ایک ایسے دور میں سانس لے رہے ہیں جہاں زندگی کی رفتار بہت تیز ہو گئی ہے۔ ڈیجیٹل میڈیا اور مصنوعی ذہانت نے معلومات کے حصول کے طریقے بدل دیے ہیں۔ یوں معلومات تک ہماری رسائی آسان تو ہو گئی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی ہمارے طالب علموں میں توجہ کا دورانیہ بہت کم ہو گیا ہے اور بامعنی مطالعے کیلئے جس توجہ اور انہماک کی ضرورت ہے وہ ناپید ہے۔ سوشل میڈیا نے نوجونوں کو جس سہولت اور تن آسانی کا عادی بنا دیا ہے‘ اب انہیں سنجیدہ مطالعہ ایک محنت طلب اور مشکل کام محسوس ہوتا ہے۔ بہت سے گھروں میں مطالعہ  کی روایت دم توڑ رہی ہے اور اس کی جگہ موبائل فون اور سکرین نے لے لی ہے۔ جب بچے روزمرہ زندگی میں اپنے گھروں میں کتابوں کو نہیں دیکھتے تو کتاب سے ان کا تعلق مضبوط نہیں ہو پاتا۔ یوں مطالعہ کی عادت میں کمی کا ذمہ دار کوئی ایک طبقہ نہیں بلکہ اس میں بہت سے تعلیمی‘ سماجی اور معاشی عوامل کا ہاتھ ہے۔ کتب بینی کے زوال کے اسباب کا ذکر کرنے کے بعد آئیے دیکھتے ہیں کتب بینی کے احیا اور فروغ کیلئے کیا اقدامت کرنے چاہئیں۔1: تعلیمی اداروں میں مطالعہ کیلئے باقاعدہ وقت مختص کرنا چاہیے جس میں طلبہ اپنی پسند کی کتابیں پڑھیں۔ یوں تعلیمی ادارے طلبہ میں مطالعے کی عادت کو فروغ دے سکتے ہیں۔ اس کیلئے تعلیمی اداروں کو زیادہ وسائل کی ضرورت نہیں‘ صرف ترجیحات میں تبدیلی درکار ہے۔ 2: اساتذ ہ بھی اس سلسلے میں اہم کردار اداکر سکتے ہیں۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ تربیتِ اساتذہ کے پروگراموں میں مطالعہ کو مرکزی حیثیت دی جائے۔ مطالعاتی حلقے‘ ورکشاپس اور پیشہ ورانہ سیکھنے کی کمیونٹیز اساتذہ کو دوبارہ کتابوں سے جوڑ سکتی ہیں۔ جب اساتذہ خود مطالعے کے عادی ہوں تو وہ طلبہ کے سامنے عملی نمونہ پیش کر سکتے ہیں۔ 3: تعلیمی ادارے بہت کم اخراجات سے مطالعے کے فروغ کیلئے اقدامات کر سکتے ہیں۔ سکولوں میں کلاس روم لائبریریاں بنائی جا سکتی ہیں‘ جو ایک شیلف بھی ہو سکتی ہے۔ سکول میں کتابی مباحثے‘ رِیڈنگ کلب اور مصنفین سے ملاقاتیں بھی کتابوں میں دلچسپی پیدا کر سکتی ہیں۔ 4: خاندان بھی کتب بینی کے عمل کا اہم حصہ ہیں۔ گھروں میں مطالعہ کی حوصلہ افزائی کیلئے بڑے وسائل کی ضرورت نہیں۔ روزانہ کچھ وقت مطالعہ کیلئے مختص کرنا‘ کتابوں پر گفتگو کرنا یا بچوں کو بلند آواز سے کتاب پڑھ کر سنانا دیرپا اثر ڈال سکتا ہے۔ 5: پبلشرز اور کتب فروش کتابوں کے سستے ایڈیشن‘ مقامی زبانوں میں تراجم شائع کر کے مطالعہ کے دائرے کو وسیع کر سکتے ہیں۔ 6: ریاست کی سطع پر بھی کتب بینی کے فروغ کے ٹھوس اقدامات کیے جانے چاہئیں۔ ان اقدامات میں پبلک لائبریریوں کی بحالی‘ کتابوں پر سبسڈی اور مطالے کو تعلیمی نظام کا لازمی حصہ بنانا شامل ہیں۔ تعلیمی پالیسیوں کا محور صرف امتحانات میں کامیابی نہ ہو بلکہ ان کا ایک اہم مقصد طلبہ میں تنقیدی سوچ اور مطالعہ کا فروغ ہو۔کتب بینی کا احیاء اور فروغ ایک بڑی معاشرتی تبدیلی کا تقاضا کرتا ہے۔ اس تبدیلی کی ذمہ داری کسی ایک فریق پر عائد نہیں جا سکتی۔ قومی سطح پر یہ تبدیلی تمام فریقوں کی مشترکہ کوششوں ہی سے ممکن ہے۔ آج کے دور میں جہاں مصنوعی ذہانت کی بدولت معلومات کی فراوانی ہے‘ تنقیدی سوچ اور سنجیدہ فکری مکالمے کی صلاحیت پہلے سے کہیں زیادہ کم ہو گئی ہے‘ ایسے میں کتب بینی کی روایت کا احیا اور فروغ ہماری اہم سماجی ضرورت ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_21538475.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>