<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>بحری تجارت کے تحفظ کا عزم(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-23/11387</link><pubDate>Thu, 23 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-23/11387</guid><description>عالمی جغرافیائی سیاسی منظرنامے میں بحری گزرگاہیں خاص اہمیت کی حامل ہیں۔ دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک توانائی کی ترسیل‘ اشیائے خور ونوش کی رسد اور تجارتی سامان کی نقل وحمل کا انحصار بحری گزرگاہوں ہی پر ہے۔ آج جب مشرقِ وسطیٰ اور خلیج فارس کی صورتحال غیر یقینی کا شکار ہے‘ بحری تجارت کے تقاضے بھی تبدیل ہو رہے ہیں۔ خلیج فارس میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور تناؤ کے باعث متعدد ممالک نے تجارتی بحری روٹس تبدیل کر لیے ہیں۔ پاکستان بھی اپنی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے اب خلیج فارس اور آبنائے ہرمز پر انحصار کم کرتے ہوئے بحیرہ احمر میں واقع سعودی بندرگاہ ینبع سے تیل درآمد کر رہا ہے۔ تاہم یمن کی حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی عرب کی بحری ناکہ بندی اور سعودی بندرگاہوں کا رخ کرنیوالے بحری جہازوںکو نشانہ بنانے کی دھمکیوں نے نہ صرف خطے کے امن کو داؤ پر لگا دیا بلکہ عالمی تجارت کے تسلسل کو بھی شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ یہ امر انتہائی تشویش ناک ہے کہ علاقائی تنازعات کی آگ میں تجارتی جہاز رانی کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

اقوام متحدہ کا چارٹر اور بین الاقوامی بحری قوانین اس بات کی واضح اور دوٹوک ضمانت دیتے ہیں کہ کسی بھی ملک یا گروہ کو عالمی پانیوں میں بحری تجارت کو نقصان پہنچانے‘ رکاوٹیں کھڑی کرنے یا تجارتی جہازوں کو یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ عالمی پانیوں میں امن و امان کو سبوتاژ کرنا دراصل براہِ راست عالمی امن پر حملہ ہے جس کے اثرات کسی ایک خطے تک محدود نہیں رہتے بلکہ پوری دنیا کی معیشت کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔ پاکستان کے دفتر خارجہ نے حوثی ملیشیا سمیت عالمی برادری پر دو ٹوک انداز میں واضح کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کیلئے خطرہ تصور کیا جائے گا اور پاکستان کے سمندری مفادات کیخلاف جارجانہ کارروائی ہرگز برداشت نہیں ہوگی۔ دفتر خارجہ نے سعودی عرب کی سلامتی‘ خود مختاری، علاقائی سالمیت کیلئے غیر متزلزل حمایت کا اعادہ بھی کیا۔ باب المندب اور بحیرہ احمر نہ صرف دنیا میں توانائی کی ترسیل کا اہم راستہ ہے بلکہ یہ ایشیا اور یورپ کے درمیان سب سے مختصر راستہ فراہم کرتا ہے۔
پاکستان کیلئے توانائی کی بلاتعطل فراہمی اور بحری تجارت کا تحفظ اسکی معیشت کی بقا کیلئے انتہائی ضروری ہے۔ عالمی رسد اور توانائی کی ترسیل کے راستوں کو غیر محفوظ بنانا پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کی معیشت پر براہ راست کاری ضرب لگانے کے مترادف ہے۔ حوثی ملیشیا کو یہ ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ خطے میں سمندری سکیورٹی کو یقینی بنانے اور بحری قزاقی‘ دہشتگردی اور سمگلنگ کی روک تھام کیلئے پاکستان نے ہمیشہ قائدانہ کردار ادا کیا ہے۔ اس تناظر میں برطانیہ‘ امریکہ‘ ترکیہ‘ اردن اور پاکستان سمیت 47 ملکوں کی مشترکہ بحری فورس ’’سی ٹی ایف151‘‘ کا کردار بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے‘ جو باب المندب اور بحیرہ عرب سمیت اس خطے میں سکیورٹی کی ذمہ داریاں نبھا رہی ہے۔ پاکستان متعدد بار اس کثیرالقومی میری ٹائم ٹاسک فورس کی کمانڈ کر چکا ہے‘ جو اس بات کا غماز ہے کہ خطے میں امن‘ قانون کی بالادستی اور آزادانہ بحری تجارت کے تحفظ کیلئے پاکستان ہر حد تک جانے کو پُرعزم ہے۔
اگرچہ پاکستان کا مؤقف ہمیشہ سے امن‘ اصولوں پر مبنی بین الاقوامی نظام اور سفارتکاری کے فروغ پر مبنی رہا ہے‘ تاہم عالمی پانیوں کے امن کو کسی گروہ کی من مانی یا دھونس کی نذر نہیں کیا جا سکتا۔ مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات کا حل طاقت کے اندھے استعمال یا تجارتی گزرگاہوں کو یرغمال بنانے میں نہیں بلکہ بامقصد بات چیت‘ سفارتکاری اور بین الاقوامی قوانین کے احترام میں مضمر ہے۔ طاقت کے زور پر بحری راستوں کی ناکہ بندی یا بحری جہازوں پر حملے کی روش خطے کو ایک ایسی خطرناک کھائی کی طرف دھکیل سکتی ہے جسکے نتائج پوری دنیا کیلئے تباہ کن ہوں گے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مون سون، حکومتی تیاریوں کا امتحان(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-23/11386</link><pubDate>Thu, 23 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-23/11386</guid><description>ملک بھر میں مون سون بارشوں کا سلسلہ زور و شور سے جاری ہے جو انسانی جانوں‘ املاک اور انفراسٹرکچر کیلئے تباہ کن ثابت ہو رہا ہے۔این ڈی ایم اے کے مطابق 26 جون سے 22 جولائی تک بارشوں سے متعلق مختلف حادثات میں 72افراد جاں بحق اور 187 زخمی ہو چکے ہیں۔ بدھ کے روز لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں ہونیوالی بارش 17 قیمتی جانیں نگل گئی جبکہ خیبرپختونخوا میں بھی بارشوں اور ان سے جڑے حادثات کے باعث 18افراد جان کی بازی ہار گئے۔ یہ اعداد و شمار اس حقیقت کا ثبوت ہیں کہ قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے ہماری تیاری اور شہری انتظامات اب بھی مطلوبہ معیار سے بہت دور ہیں۔ حکومت پنجاب کا دعویٰ تھا کہ مون سون سے قبل تمام پیشگی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں لیکن مون سون کی پہلی موسلا دھار بارش نے ہی ان دعوؤں کی حقیقت آشکار کر دی۔

لاہور‘ راولپنڈی‘ گوجرانوالہ‘ گجرات اور سیالکوٹ جیسے بڑے شہروں میں سیوریج کے ناقص نظام نے بارش کے پانی کو سڑکوں اور رہائشی علاقوں میں جمع کر دیا۔ گزشتہ برس بھی یہ شہر اربن فلڈنگ کا شکار ہوئے تھے مگر اسکے باوجود مستقل نوعیت کے اصلاحی اقدامات نہیں کیے گئے۔ضروری ہے کہ صوبائی حکومتیں  صرف بیانات اور دعوؤں تک محدود نہ رہیں بلکہ مؤثر اور پیشگی حکمت عملی اختیار کریں۔ آنیوالے دنوں میں اربن فلڈنگ سے بچنے کیلئے سیوریج لائنوں کی بروقت صفائی اور ہائی رِسک نشیبی علاقوں کیلئے قبل از وقت حفاظتی منصوبہ بندی یقینی بنائی جائے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-23/11385</link><pubDate>Thu, 23 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-23/11385</guid><description>عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی سٹینڈرڈ اینڈ پوورز گلوبل نے پاکستان کی طویل مدتی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ منفی بی سے بڑھا کر بی کر دی ہے‘ جو ملکی معیشت کیلئے ایک اہم پیشرفت اور عالمی مالیاتی اداروں اور سرمایہ کاروں کی جانب سے پاکستان کی معاشی سمت پر بڑھتے ہوئے اعتماد کا اظہارہے۔ایجنسی کے مطابق اس بہتری کی بنیادی وجوہات میں آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اصلاحات پر مؤثر عملدرآمد‘ مالیاتی نظم و ضبط‘ محصولات میں بہتری‘ زرِمبادلہ کے ذخائر میں نمایاں اضافہ اور بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کا مضبوط ہونا شامل ہیں۔یہ رپورٹ ملکی معیشت کیلئے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ عالمی سرمایہ کار اور مالیاتی ادارے سرمایہ کاری اور قرضوں کے فیصلوں میں ایسی ریٹنگز کو بنیادی معیار تصور کرتے ہیں؛

چنانچہ بہتر ریٹنگ پاکستان کی عالمی مالیاتی ساکھ مضبوط بنانے اور مستقبل میں مزید معاشی مواقع پیدا کرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ تاہم ریٹنگ میں بہتری کیساتھ ایجنسی نے یہ تنبیہ بھی کی ہے کہ اصلاحات کا تسلسل برقرار نہ رہا‘ شرح سود میں دوبارہ غیر معمولی اضافہ ہوا یا سکیورٹی صورتحال بگڑی تو یہ پیشرفت متاثر ہو سکتی ہے۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت کو ٹیکس اورتوانائی کے شعبے کی اصلاحات کو مزید مؤثر بنانا‘سرمایہ کار دوست ماحول کو فروغ دینا اور سیاسی و پالیسی استحکام کو یقینی بنانا چاہیے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>’’مسلم لبرلزم‘ ‘کیا ہے؟(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-07-23/52345/20090189</link><pubDate>Thu, 23 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-07-23/52345/20090189</guid><description>&#39;&#39;مسلم لبرلزم‘‘ مسلم معاشروں میں اٹھنے والی ایک نسبتاً نئی تحریک ہے۔ بعض اہلِ علم اسے &#39;&#39;مسلم ماڈرنزم‘ ‘کا تسلسل قرار دیتے ہیں۔ وہ جب اس کی تاریخ بیان کرتے ہیں تو اُن سکالرز کو اس کے اکابر میں شمار کرتے ہیں جنہیں جدیدیت پسند کہا جاتا ہے۔ جیسے ڈاکٹر فضل الرحمن یا اس سے پہلے سر سیّد احمد خاں اور محمد عبدہٗ۔ میں نے اس مقدمے کو سمجھنے کی‘ بساط بھر کوشش کی ہے۔ مجھے اس سے اتفاق نہیں ہو سکا۔ یہ دو مختلف نظام ہائے فکر ہیں‘ تاہم ان میں ایک فکری تسلسل ہے۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ مسلم لبرلزم‘ مسلم ماڈرنزم کا اگلا قدم ہے۔ یہ &#39;&#39;پوسٹ مسلم ماڈرنزم ‘‘ ہے۔ مسلم جدیدیت کی جڑیں روایت میں تلاش کی جا سکتی ہیں۔ مسلم لبرلزم کی اساس مسلم روایت نہیں‘ لبرلزم ہے۔ وہی لبرلزم جس سے میں اور آپ واقف ہیں اور جس نے یورپ میں ایک فکری تحریک کے طور پر جنم لیا۔عوامی دائرے (Public Sphere) میں اس کے سب سے نمایاں علمبردار ترک سکالر مصطفی اکیول ہیں جو امریکہ میں مقیم ہیں۔ وہ اس موضوع پر کئی کتابیں لکھ چکے ہیں۔ &#39;نیویارک ٹائمز‘ میں ان کے مضامین شائع ہوتے رہے۔ ان کا دائرہ اثر جدید پڑھے لکھے لوگ ہیں۔ اس فکر کی مغرب میں پذیرائی ہے اور ان مسلم حلقوں میں بھی جنہیں انتہا پسندانہ مذہبی تعبیرات نے مذہب بیزار بنا دیا ہے۔ مصطفی اکیول کی ایک کتاب کا اردو ترجمہ کچھ دن پہلے شائع ہوا ہے۔ سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ &#39;&#39;مسلم لبرلزم‘‘ ہے کیا؟اس کا بنیادی مقدمہ وہی ہے جو لبرل ازم کا ہے۔ مقدمہ یہ ہے کہ انسان فطری طور پر آزاد ہے۔ کوئی خارجی قوت یہ حق نہیں رکھتی کہ وہ اس پر کوئی پابندی عائد کرے۔ اس کا یہ حق پیدائشی ہے کہ وہ جو مذہب چاہے اختیار کرے‘ جس طرح کی زندگی گزارنا چاہے‘ گزارے۔ اس کے فکر وعمل پر کوئی قدغن خارج سے نہیں لگائی جا سکتی۔ یہاں تک تو یہ مقدمہ قابلِ فہم ہے اور اسلام کی روایتی تعبیر کو ماننے والا بھی اس سے متفق ہے۔ اصل مسئلہ اس کے بعد پیدا ہوتا ہے۔ کیا اسلام قبول کر نے کے بعد بھی اس کی یہ فطری آزادی برقرار ہے؟ کیا کوئی نظمِ اجتماعی یہ حق رکھتا ہے کہ مذہب یا اخلاق کی بنیاد پر اسے کسی ضابطے کا پابند بنائے؟ &#39;&#39;مسلم لبرلزم‘‘ ان سوالات کے جواب نفی میں دیتا ہے۔ چند ماہ پہلے ہی مصطفی اکیول کی مرتب کردہ ایک کتاب شائع ہوئی: &#39;&#39;اسلام میں کوئی جبر نہیں‘‘۔ اس کتاب میں مختلف مصنفین نے معاصرمسلم معاشروں کے حالات بیان کیے ہیں کہ کیسے وہاں اس آیت کی عملاً خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ ایران پر ایک چشم کشا مضمون ہے جو بتاتا ہے کہ کیسے مذہبی حکومت کے جبر نے سماج میں اضطراب پیدا کیا۔اُن کی دوسری کتاب جس کا ترجمہ فدا الرحمن صاحب نے کیا ہے‘ اس سوال کا جواب فراہم کرتی ہے کہ اسلام قبول کرنے کے بعد‘ انسانی آزادی کی حدود کیا ہیں۔ مصطفی اکیول اس کتاب سمیت‘ اپنی کتابوں میں جو جواب فراہم کرتے ہیںوہ لبرلزم کے پیرا ڈائم میں طے کیے گئے ہیں اور یہی وہ مرحلہ ہے جہاں&#39;&#39; مسلم لبرلزم‘‘ کی سرحدیں مسلم جدیدیت سے قدرے مختلف ہو جاتی ہیں۔ مصطفی اکیول کا رحجان ہے کہ اسلام قبول کرنے کے بعد بھی خارج سے کوئی پابندی نہیں لگائی جا سکتی۔ اس میں دینی ماخذ اور ریاست کا نظام دونوں شامل ہیں۔&#39;&#39; مسلم لبرلزم‘‘ قرآن مجید کو راہنمائی کے بنیادی ماخذ کے طور پر قبول کرتا ہے۔ قرآن مجید کی کچھ آیات ہیں جومسلمانوں کو نظمِ حکومت یا کسی خارجی اتھارٹی کی اطاعت کا پابند بناتی ہیں۔ اسی طرح قرآن مجید کچھ جرائم کی سزا بھی تجویز کرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر کہیں مسلمانوں کا نظمِ اجتماعی قائم ہو جائے تو کیا وہ قرآن مجید کی ان آیات پر عمل نہیں کرے گا؟ مثال کے طور پر سورۃ النساء میں اللہ‘ رسول اور اولی الامر کی اطاعت کا حکم دیا گیا۔ اولی الامر سے جمہور اہلِ علم نے &#39;حکومت‘ مراد لی ہے۔ اہلِ تشیع اس سے آئمہ مراد لیتے ہیں۔ دونوں صورتوں میں ایک خارجی مرجع اطاعت پایا جاتا ہے۔ مصطفی اکیول کا کہنا ہے کہ آج &#39;اولی الامر‘ کا مصداق نہیں پایا جاتا۔ جہاں تک قرآن مجید کی سزائوں کا تعلق ہے تو انہیں بھی زمان و مکان کی قید میں لانے کی کوشش کی گئی ہے۔ان کے دلائل سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ان کا تعلق قرنِ اوّل سے ہے‘ بعد کے ادوار سے نہیں۔&#39;&#39; مسلم لبرلزم‘‘ کا سب سے بڑا مسئلہ مردو زن کے تعلقات کا تعین ہے۔ لبرلزم رضامندی سے قائم جنسی تعلق کو جرم نہیں سمجھتا۔ قرآن صراحت کے ساتھ اس کی حدود کا تعین کرتا ہے۔ &#39;&#39;مسلم لبرلزم‘‘ کے لیے چیلنج یہ ہے کہ وہ قرآن کی ان تعلیمات کی کیسے تاویل کرے کہ وہ لبرلزم سے ہم آہنگ ہو جائے؟ قرآن مجید ہماری تفہیم کے مطابق‘ اس کے لیے کوئی گنجائش پیدا نہیں کرتا۔ مصطفی اکیول یہاں بے بس دکھائی دیتے ہیں۔ اس لیے وہ صرف سوالات اٹھانے پر اکتفا کرتے ہیں۔ وہ اس باب میں کوئی حتمی بات نہیں کہتے‘ مگر بین السطور پڑھا جا سکتا ہے کہ مسلم لبرلزم کو درپیش اصل چیلنج کیا ہے۔میں نے اس کالم میںمسلم لبرلزم کے بارے میں اپنا فہم آپ کے سامنے رکھ دیا۔ تنقید‘ فہم کے بعد کا مرحلہ ہے۔ میری بات کا خلاصہ یہ ہے کہ&#39;&#39; مسلم لبرلزم‘‘ لبرل پیراڈائم کو معیار مان کر اسلام کی تفہیمِ نو ہے۔ لبرلزم انسان کی مطلق آزادی کو بنیادی قدر سمجھتا ہے۔ مصطفی اکیول کی بعض کتابیں بہت عمدہ تحقیق کی حامل ہیں‘ جیسے &#39;اسلامی مسیح‘ (The Islamic Jesus)۔ اس میں انہوں نے بتایا کہ حضرت مسیحؑ پر ابتدا میں ایمان لانے والے‘ ان کے بارے میں وہی رائے رکھتے تھے جو مسلمان رکھتے ہیں۔ یہ بہت شاندار کتاب ہے۔ اسی طرح کی ایک کتاب &#39;اسلامی موسیٰ‘ بھی ہے۔ مصطفی کو ضرور پڑھنا چاہیے۔ اس سے ہمیں یہ اندازہ ہوگا کہ مسلم معاشروں میں مذہبی تعبیرات نے کیا فکری مسائل پیدا کر دیے ہیں اور اس باب میں مسلم اہلِ علم کی ذمہ داری کیا ہے۔ یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ مسلم معاشروں میں ایک سے زیادہ نقطہ نظر ہیں۔ ہمیں سب کو ان کے فکری پیراڈائم میں رہ کر سمجھنا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>قبر کھودی گئی میری تو پتھر کی زمیں نکلی(خالد مسعود خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-07-23/52346/82005481</link><pubDate>Thu, 23 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-07-23/52346/82005481</guid><description>ہم ملتان والوں کا مقدر ہی خراب ہے۔ یقین کریں میں یہ بات کسی مبالغے کے بغیر کہہ رہا ہوں۔ اگر جنوبی پنجاب پر مشتمل علیحدہ صوبے کی بات ہو تو ہر حکمران جماعت کان لپیٹ لیتی ہے۔ جی ہاں! ہر برسراقتدار پارٹی اپنے کان لپیٹ لیتی ہے جبکہ اس مسئلے پر تب کی ہر اپوزیشن بڑا شور مچاتی ہے کہ ہم اگر برسرِ اقتدار آ گئے تو جنوبی پنجاب پر مشتمل ایک علیحدہ صوبہ بنوائیں گے۔ لیکن جب وہی پارٹی اقتدار میں آتی ہے تو وہ دیکھتی ہے کہ اس کی اقتدار کی حدود حسن ابدال کے آخری سرے پر واقع قصبے جھاری کس سے لے کر صادق آباد کے آخر میں واقع قصبے کوٹ سبزل تک ہے۔ لگ بھگ تیرہ کروڑ کی آبادی پر مشتمل یہ صوبہ آبادی کے اعتبار سے دنیا میں گیارہویں نمبر پر ہے۔ دنیا کے ممالک کی تعداد پر ابھی حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا‘ تاہم اقوام متحدہ کے ارکان 193ممالک اور پچاس کے قریب دیگر خود مختار‘ نیم خودمختار اور مختلف ممالک کے زیر انتظام ممالک کو سامنے رکھیں تو صوبہ پنجاب دنیا کے 233ممالک سے زیادہ آبادی کا حامل ہے۔ دنیا بھر میں بھارتی صوبہ اُترپردیش اور مہاراشٹر ہمارے صوبہ پنجاب سے زیادہ آبادی والے صوبے ہیں۔ اب اگر اس صوبے کو تقسیم کر دیا گیا تو اس پر حکمرانی کرنے والوں کا دائرہ اقتدار کم ہو جائے گا۔ سچی بات تو یہ ہے کہ اس ملک میں پٹواری بھی اپنا حلقۂ پٹوار کم ہونے پر مزاحمت کرتا ہے یہ تو پھر پورے صوبے کا معاملہ ہے جس سے صاحبانِ اقتدار کا سارا موج میلہ اور کروفر جڑا ہوا ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ ملتان سے تعلق رکھنے والے سید یوسف رضا گیلانی جب اس ملک کے وزیراعظم تھے تو انہوں نے اپنی وزارتِ عظمیٰ کا سارا عرصہ مزے لیتے ہوئے گزارا۔ جب وہ وزیراعظم تھے تو انہیں اپنے پورے دورِ اقتدار میں صوبہ جنوبی پنجاب بنانا یاد نہ آیا۔ ہاں! البتہ جب زرداری صاحب کے بارے سوئٹزرلینڈ کی سرکار کو خط نہ لکھنے کے معاملے پر سپریم کورٹ نے ان کے خلاف کارروائی شروع کی تو اس کے متوقع نتائج کو بھانپتے ہوئے انہیں محسوس ہوا کہ اب وہ گھر جانے والے ہیں اور معاملہ &#39;&#39;جی کا جانا ٹھہر گیا ہے صبح گیا یا شام گیا‘‘ والا ہو گیا ہے تو انہوں نے اپنی رخصتی کے قریب صوبہ جنوبی پنجاب کا شور مچانا شروع کر دیا۔ اپنے انہی دمِ رخصتی والے بیانات کو بنیاد بنا کر اقتدار سے فارغ ہونے کے بعد انہوں نے یہ مشہور کر دیا کہ ان کو صوبہ جنوبی پنجاب بنانے کی کوششوں کی پاداش میں وزارتِ عظمیٰ سے فارغ کیا گیا ہے‘ حالانکہ اس میں رتی برابر بھی سچائی یا حقیقت نہ تھی۔  ان کو جنوبی پنجاب کا کارڈ اس وقت یاد آیا جب ان کے اقتدار سے رخصتی کے دن گنے جا چکے تھے۔صوبہ جنوبی پنجاب کے سلسلے میں وسیب کے لوگوں کو دوسرا لالی پاپ عمران خان حکومت نے دیا۔ انہوں نے جنوبی پنجاب کے صوبے کے مطالبے کو ٹیکنیکل ناک آؤٹ کرنے اور اصل مسئلے کو سرد خانے میں ڈالنے کیلئے جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کا شوشہ چھوڑتے ہوئے ایک لولا لنگڑا سب سیکرٹریٹ بنا دیا۔ لاہور سے ادھر آنیوالے افسروں کی موج لگ گئی۔ انہیں جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ الاؤنس کے نام پر بنیادی تنخواہ کا 150 فیصد اضافی کے علاوہ دیگر مختلف الاؤنس اور سہولتیں فراہم کی گئیں۔ ایڈیشنل سیکرٹری ٹائپ کے لوگ یہاں پر سیکرٹری بنا کر بھیجے گئے۔ تیرہ کے لگ بھگ محکمے ادھر شفٹ کیے گئے۔ ان میں سے کچھ دفاتر بہاولپور میں اور کچھ ملتان میں قائم کیے گئے۔ جن محکموں کے دفاتر بہاولپور میں تھے ان محکموں سے متعلقہ کاموں والے ملتان کے لوگ بہاولپور جانے لگ پڑے اور جن محکموں کے ملتان میں دفتر تھے ان کیلئے بہاولپور سے لوگ ملتان آنا شروع ہو گئے۔ نہ صرف یہ کہ سفر کی چکر بازی ختم نہ ہوئی بلکہ ایک اور مسئلہ یہ بن گیا کہ ہر کام کی حتمی منظوری کا سارا اختیار لاہور میں بیٹھے ہوئے بیوروکریٹس نے اپنے پاس رکھ لیا۔ پہلے جو کام ملتان کے دفتر سے براہِ راست لاہور جاتا تھا اب اس کا روٹ یہ بن گیا کہ متعلقہ دفتر سے فائل سب سیکرٹریٹ کے ملتان یا بہاولپور والے دفتر میں گھوم پھر کر وہاں سے لاہور جانے لگ گئی۔ پہلے بندہ صرف لاہور جاکر خوار ہوتا تھا اب پہلے ملتان یا بہاولپور میں ذلیل ہونے کے بعد لاہور جا کر خوار ہونے لگ گیا۔تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ سیکرٹریٹ کی ملتان والی بلڈنگ بن چکی ہے لیکن بہت سے افسر لاہور کی اداسی میں اور باقی ماندہ جنوبی پنجاب ری ایلوکیشن الاؤنس ختم ہونے کے بعد واپس لاہور چلے گئے ہیں اور سیکرٹریٹ میں اب عملی طور پر کچھ بھی نہیں ہو رہا۔ اسی لیے تو میں کہہ رہا ہوں کہ ملتان والوں کا تو مقدر ہی خراب ہے۔ پی ٹی آئی نے جنوبی پنجاب سے واضح اکثریت لی لیکن صورتحال یہ ہوئی کہ جب پنجاب کی حکومت بنانے کیلئے گنتی کی گئی تو پتا چلا کہ بالائی اور وسطیٰ پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کو معمولی سی برتری حاصل ہے جبکہ جنوبی پنجاب نے پی ٹی آئی کو اصل واضح اکثریت دی جس سے صوبہ پنجاب کی مجموعی صورتحال پی ٹی آئی کے حق میں پلٹ گئی۔ اب اگر پی ٹی آئی جنوبی پنجاب کو صوبہ بناتی تو بزدار صاحب کو لاہور سے اٹھ کے ملتان یا بہاولپور میں بیٹھنا پڑتا جبکہ وسطی اور بالائی پنجاب پر مشتمل صوبے کا اقتدار حمزہ شریف کے پاس چلا جاتا جو پی ٹی آئی کو کسی صورت بھی قبول نہ تھا۔ مسلم لیگ (ن) تو ویسے ہی کسی صورت میں پنجاب کی انتظامی تقسیم نہیں چاہتی۔ وہ اس لیے کہ ان کا سارا ووٹ بینک اور اس کے نتیجے میں اقتدار صرف صوبہ پنجاب پر منحصر ہے۔ قارئین! یہ تو تھی جنوبی پنجاب کی سیاسی بدقسمتی کی صورتحال لیکن میرے ساتھ معاملہ تھوڑا ذاتی ہے۔ میں گزشتہ ماہ سے ادھر امریکہ آیا ہوا ہوں۔ جب میں ملتان سے ادھر امریکہ روانہ ہونے لگا تو مجھے پتا تھا کہ چار چھ دن کے بعد انور رٹول آم آنا شروع ہو جائیں گے تاہم میں نے صرف یہ سوچ کر کہ چلیں انور رٹول سے محرومی اور گرمی سے بچت کا اگر حساب کتاب کیا جائے تو باوجود اس کے کہ یہ گھاٹے کا سودا ہے لیکن اس گھاٹے میں بھی کم از کم یہ تو ہو گا کہ ملتان کی بے پناہ گرمی سے تھوڑی بچت ہو جائے۔ لیکن میرے سارے اندازے غلط ثابت ہوئے۔ ادھر امریکہ میں بھی ان دنوں ملتان جیسا ہی حال تھا۔ جس روز میں بالٹی مور پہنچا تو اس روز وہاں درجہ حرارت 38ڈگری سینٹی گریڈ تھا۔ ملتان کے موسم کا حال معلوم کیا تو پتا چلا کہ وہاں بھی درجہ حرارت 38ڈگری سینٹی گریڈ تھا۔ یعنی انور رٹول بھی گئے اور گرمی سے بھی بچت نہ ہوئی۔ ایک پنجابی محاور ہ ہے کہ &#39;&#39;تیلی وئی کیتا، تے رُکھا وی کھادا‘‘ یعنی تیلی سے شادی بھی کی لیکن اس کے باوجود روکھی روٹی نصیب ہوئی۔ اب ادھر گرمی تو ملتان جیسی ہی ہے لیکن انور رٹول نہیں ہیں۔ جب واپس آؤں گا تو پندرہ بیس دن کیلئے آنے والا یہ لاجواب آم ختم ہو چکا ہو گا۔ اب بھلا ہم ملتان والوں کی قسمت اس سے زیادہ اور کیا خراب ہو سکتی ہے؟ گرمی کی شدت تو رہی اپنی جگہ‘ پرسوں میں بچوں کے پاس ٹولیڈو آیا اور گزشتہ روز ٹولیڈو کا ایئر کوالٹی انڈیکس 529تک جا پہنچا‘ جو شہر کی تاریخ کی بدترین فضائی آلودگی تھی۔ کل ملتان کا ایئر کوالٹی انڈیکس 130تھا‘ جبکہ ٹولیڈو میں 560 تھا۔ یعنی گزشتہ روز فضائی آلودگی کے اعتبار سے ٹولیڈو کے حالات ملتان کے مقابلے میں چار گنا سے بھی زیادہ خراب تھے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس بار میں ملتان کی گرمی تو خیر سے اپنے ساتھ امریکہ لایا ہی ہوں‘ اوپر سے فضائی آلودگی نے بھی میرا پیچھا نہیں چھوڑا۔ سیاست ہو‘ صوبہ ہو‘ موسم ہو یا فضائی آلودگی‘ کچھ بھی تو ٹھیک نہیں۔ شاید ہم ملتان والوں کی قسمت ہی خراب ہے۔ بچپن میں ایک شعر سنتے تھے کہمقدر میں جو سختی تھی وہ مر کر بھی نہیں نکلیقبر کھودی گئی میری تو پتھر کی زمیں نکلیہم ملتان والوں کا حال بھی ایسا ہی سمجھیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90500073.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>جنگ میں نئی جنگ(عمران یعقوب خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-07-23/52347/50962554</link><pubDate>Thu, 23 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-07-23/52347/50962554</guid><description>ایران پر امریکی حملوں میں شدت کے بعد امن مذاکرات تعطل کا شکار ہو چکے ہیں اور ایران کی جانب سے امریکی تنصیبات کے ساتھ ساتھ خلیجی ممالک میں سمندری پانی کو میٹھا بنانے والے (Desalination) پلانٹس پر حملوں نے جنگ کے دوران ایک نئی جنگ کے خطرات میں اضافہ کر دیا ہے۔ یہ نئی جنگ ہے ڈی سیلینیشن پلانٹس کو بچانے کی جنگ۔ یاد رہے کہ ایران نے خلیجی ممالک کے ڈی سیلینیشن پلانٹ پر حملے امریکہ کی جانب سے اپنے ایسے ہی پلانٹس پر حملوں کے ردِ عمل میں کیے ہیں۔ اگر پہلے امریکہ کی جانب سے ایران کے واٹر پلانٹس پر حملے نہ کیے جاتے تو یقینا ایران کی جانب سے بھی اس پر ردِعمل ظاہر نہ کیا جاتا۔خطرہ یہ ہے کہ اگر سمندری پانی صاف کرنے والے ان پلانٹس کو زیادہ نقصان پہنچا‘ یا یہ سب تباہ کر دیے گئے تو خلیج کونسل کے چھ کے چھ ممالک کی سوا چھ کروڑ آبادی کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ پیدا ہو جائے گا کیونکہ یہ پلانٹس خلیجی ممالک کے لیے لائف لائن کی حیثیت رکھتے ہیں۔ سبھی جانتے ہیں کہ عرب کے صحرائی علاقے میں زیر زمین زیادہ تر فوسل فیولز ہیں لیکن کچھ علاقوں میں زیر زمین پانی دستیاب ہو جاتا ہے۔ زمین کے نیچے کا پانی اور سمندری پانی کو صاف کر کے پینے کے قابل بنایا جانے والا پانی‘ دونوں مل کر اس خطے کے پانی کے ذرائع کا تقریباً 90 فیصد ہیں۔ خلیجی خطے میں جاری کشیدگی کے دوران سمندری پانی کو پینے کے قابل بنانے والے پلانٹس پر ہونے والے حملوں نے پورے خطے میں ہر طرح کی حیات اور معیشت کو نئے خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ کویت نے حال ہی میں ایرانی افواج پر ملک کے ایک واٹر پلانٹ کو دوسری بار نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا ہے‘ جس کے بعد خلیجی ممالک میں پینے کے پانی کی فراہمی کے حوالے سے شدید تشویش پیدا ہو گئی ہے۔ لیکن یہ الزام محض ایران پر نہیں لگایا جا سکتا‘ ایران نے تو ردِ عمل دیا ہے‘ آغاز امریکہ کی جانب سے کیا گیا تھا۔ دنیا کے بہت سے ممالک‘ خصوصاً وہ علاقے جہاں بارش کم ہوتی ہے‘ جہاں میٹھے پانی کے قدرتی ذخائر محدود ہوتے ہیں‘ یا جہاں زیر زمین پانی کے ذخائر نایاب ہیں‘ اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے سمندری پانی کو قابلِ استعمال بنانے والی جدید ٹیکنالوجی یعنی ڈی سیلینیشن پر انحصار کرتے ہیں۔ ڈی سیلینیشن واٹر پلانٹس سمندری پانی سے نمکیات اور دیگر مضر اجزا کو الگ کر کے اسے پینے‘ زراعت‘ صنعت اور روزمرہ کے دوسرے کاموں کے لیے استعمال کے قابل بناتے ہیں۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں‘ خلیج کا موسم انتہائی گرم اور خشک ہے۔ یہاں بارشیں بھی بہت کم ہوتی ہیں جس کی وجہ سے پینے کے صاف پانی کے قدرتی ذرائع نہ ہونے کے برابر ہیں۔ خلیجی ممالک سمندروں کے کنارے واقع ہیں چنانچہ وہاں کی حکومتوں نے یہ کمی سمندری پانی صاف کر کے پینے کے قابل بنانے کے پلانٹ لگا کر پوری کی ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق متحدہ عرب امارات سے لے کر کویت تک خلیج کے ساحلوں پر 400 سے زیادہ واٹر پلانٹس موجود ہیں۔ پوری دنیا میں سمندری پانی صاف کرنے کی جتنی بھی صلاحیت موجود ہے اس کا 60فیصد صرف ان خلیجی ممالک کے پاس میں ہے اور یہ 60فیصد پلانٹس کُل صاف کیے گئے پانی کا 40 فیصد صاف کرتے ہیں۔ یہ پلانٹس خلیجی ممالک کے لیے کس قدر اہمیت کے حامل ہیں اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کویت پینے کے لیے 90فیصد‘ عمان 86فیصد‘ سعودی عرب 70فیصد اور متحدہ عرب امارات 42فیصد پانی انہی پلانٹس سے حاصل کرتے ہیں۔ ایران بھی اپنے ساحلی علاقوں جیسے جزیرہ قشم میں ایسے پلانٹ استعمال کرتا ہے لیکن اس کے پاس بہت سے دریا اور ڈیم بھی موجود ہیں اور میٹھے پانی کے قدرتی ذرائع بھی ہیں‘ اس لیے ایران کو ایسے پلانٹس کی بہت زیادہ ضرورت نہیں ہے۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا اگر یہ پلانٹس کسی بھی وجہ سے تباہ ہو جائیں تو اس کے اثرات نہ صرف مقامی آبادی بلکہ معیشت‘ ماحول‘ صحتِ عامہ اور علاقائی استحکام پر بھی مرتب ہوں گے۔ سب سے پہلا اور نمایاں نتیجہ پانی کی شدید قلت کی صورت میں سامنے آتا ہے‘ حتیٰ کہ پینے کا پانی بھی دستیاب نہیں رہتا‘ نہانے اور دوسرے مقاصد کے لیے پانی کی دستیابی تو بعد کی بات ہے۔ خلیجی ممالک صفائی کے پلانٹوں سے حاصل ہونے والا پانی زرعی مقاصد کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں تو جب پانی نہیں ملے گا تو ان ممالک کی جو بھی تھوڑی بہت زراعت ہے وہ شدید طور پر متاثر ہو گی۔ صنعتی ادارے اپنی پیداوار کے مختلف مراحل میں بڑی مقدار میں پانی استعمال کرتے ہیں۔ بجلی گھروں‘ کیمیکل فیکٹریوں‘ خوراک تیار کرنے والی صنعتوں‘ ادویات کی تیاری اور دیگر شعبوں کے لیے مسلسل پانی کی فراہمی ضروری ہوتی ہے۔ اگر ڈی سیلینیشن پلانٹس مکمل تباہ ہو گئے تو ان ممالک کی صنعتیں بھی تباہ ہو جائیں گی۔ اسلامی نقطۂ نظر سے جنگ کے دوران پانی کے حوالے سے اہم اصولوں میں دشمن پر پانی کی سپلائی بند نہ کرنا‘ عام شہریوں کی پینے کے پانی کی تنصیبات کو نقصان نہ پہنچانا اور زخمیوں کو ترجیحی بنیادوں پر پانی فراہم کرنا شامل ہیں۔ اسلامی قانونِ جنگ میں دشمن کے کنویں‘ نہریں یا پانی کے ذخائر بند کرنے یا انہیں زہر آلود کرنے کی اجازت نہیں دی گئی تاکہ انسان اور حیوانات پیاس سے ہلاک نہ ہوں۔ افواج کی پیش قدمی کے وقت فصلوں کو خراب کرنا‘ کھیتوں کو تباہ کرنا‘ بستیوں میں قتلِ عام اور آتش زنی کرنا اسلامی نقطۂ نگاہ سے ناجائز اور حرام ہے۔ پانی کے ذرائع کو بھی اسی حکم میںشامل کیا جا سکتا ہے۔ انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس کے مطابق جنیوا کنونشنز کے تحت ایسے تمام ذرائع اور اشیا کو تباہ کرنا ممنوع ہے جو عام لوگوں کی بقا کے لیے ناگزیر ہیں‘ جن میں پینے کے صاف پانی کا نظام سرِ فہرست ہے۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق جنگ کے دوران پانی کے پلانٹس‘ ڈیموں یا سپلائی لائنوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کی رو کی سنگین خلاف ورزی اور جنگی جرم ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ میں پانی کے ذرائع کو تباہ کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔ اس سلسلے میں سب سے زیادہ اور سب سے پہلی ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوتی ہے۔ اس کی ایران کے ساتھ جنگ چل رہی ہے تو دنیا کی واحد سپر پاور کا سربراہ ہونے کے ناتے صدر ٹرمپ کے لیے لازمی ہے کہ وہ جنگ کے عالمی اصولوں کو سامنے رکھ کر ایران میں پانی صاف کرنے والے پلانٹس کو نشانہ بنانا بند کریں۔ گارنٹی ہے کہ ایران کی جانب سے بھی حملے فوراً بند ہو جائیں گے۔ باقی اگر پانی کے ذرائع پر حملہ کرنا جنگی جرم ہے تو اس کے تحت سب سے پہلے صدر ٹرمپ کا مواخذہ ہونا چاہیے۔ ایران کے واٹر پلانٹس پر حملے ظاہر کرتے ہیں کہ عام زندگی ہی میں نہیں‘ ڈونلڈ ٹرمپ جنگ کے دوران بھی اخلاقی اصولوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اقوام متحدہ کا ادارہ دنیا میں پائیدار امن کا قیام یقینی بنانے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ وہ تو نہیں ہو سکا‘ اب اسے یہ تو یقینی بنانا چاہیے کہ جو جنگ ہو رہی ہے وہ تو جنگی اور اخلاقی اصولوں کے مطابق ہو۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_58350786.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>