<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>علاقائی امن کا مستقبل؟(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-28/11313</link><pubDate>Sun, 28 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-28/11313</guid><description>ایران اور امریکہ کے مابین نئی عسکری جھڑپوں نے ایک بار پھر مشرقِ وسطیٰ سمیت عالمی امن کو تشویشناک صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جب بھی خطے میں امن کے چراغ روشن ہونے لگتے ہیں‘ امن مخالف اور عدم استحکام سے مفاد کشید کرنے والے عناصر متحرک ہو جاتے ہیں۔ حالیہ کشیدگی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکہ کے مابین ورکنگ گروپ مذاکرات جاری ہیں اور دونوں ممالک دو ماہ کی قلیل مدت میں مسئلے کا پائیدار اور دو طرفہ قابلِ قبول حل نکالنے کیلئے کوشاں ہیں۔ تاہم اس بیچ ان نئی جھڑپوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ دونوں ممالک کے مابین دہائیوں پہ محیط سرد مہری اور عدم اعتماد کی فضا ہنوز موجود ہے اور یہ چند ملاقاتوں اور مذاکراتی بیٹھکوں سے پُرجوش تعلقات میں نہیں بدل سکتی۔ طویل عرصے کی تلخیوں کو دور کرنے اور اعتماد سازی کی بحالی کیلئے مسلسل‘ صبر آزما اور مربوط سفارتی عمل کی ضرورت ہوتی ہے‘ جس میں خلوصِ نیت کے ساتھ وقت بھی درکار ہوتا ہے۔ گزشتہ ہفتے پاکستان اور قطر کی ثالثی میں سوئٹزر لینڈ میں ہونے والے لیک لوسرن مذاکرات کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے مابین براہِ راست تصادم کو روکنے کیلئے ایک مضبوط اور پائیدار فریم ورک تیار کرنا تھا۔

اس امن عمل کے تحت یہ طے پایا تھا کہ دونوں طاقتیں اپنے باہمی تنازعات اور کسی بھی قسم کی غلط فہمی کو دور کرنے کیلئے ’ہاٹ لائن‘ اور ’ڈی کنفلکشن سیل‘ کو بروئے کار لائیں گی‘ لہٰذا ان روابط کو فعال و مضبوط کیا جانا چاہیے۔ تاریخ شاہد ہے کہ سرد جنگ کے دور میں امریکہ اور سوویت یونین کے مابین قائم ہاٹ لائن نے کم از کم پانچ ایسے مواقع پر دنیا کو ایٹمی جنگ سے محفوظ رکھا جہاں محض تکنیکی خرابی یا غلط فہمی کی وجہ سے دوطرفہ حملے کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔ اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ دنیا میں ایسے بہت سے امن مخالف عناصر اور گروہ سرگرم ہیں جو ایران اور امریکہ کے مابین کسی بھی قسم کے مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔ یہ عناصر خطے میں مستقل عدم استحکام کے خواہاں ہیں کیونکہ ان کے تزویراتی اور اقتصادی مفادات جنگی ماحول سے جڑے ہوئے ہیں۔ جب بھی تہران اور واشنگٹن کے مابین برف پگھلنے لگتی ہے‘ عسکری جارحیت‘ سائبر اور پراکسی حملوں میں اچانک تیزی آ جاتی ہے۔ خلیج عمان اور آبنائے ہرمز جیسی حساس تجارتی گزرگاہوں‘ جہاں سے دنیا کی کُل ضرورت کا تقریباً 20 فیصد خام تیل گزرتا ہے‘ میں معمولی سی اشتعال انگیزی بھی عالمی معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچاتی ہے۔ امن کے دشمنوں کی سازشوں کا ادراک کرتے ہوئے انہیں ناکام بنانے کیلئے دونوں ممالک کی قیادت کو گہری بصیرت اور تحمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ موجودہ نازک صورتحال میں امن کوششوں کو رائیگاں کرنے اور کشیدگی بڑھانے کیلئے فالس فلیگ کارروائی کا امکان بھی خارج از امکان نہیں ہے۔
تاریخ میں کئی جنگیں ایسے مبہم واقعات کے بعد شروع ہوئیں جن کی حقیقت بعد میں کچھ اور نکلی۔ لہٰذا جب تک ورکنگ گروپس کے مذاکرات کسی حتمی حل تک نہیں پہنچ جاتے‘ فریقین کو ازحد احتیاط کا مظاہرہ کرنا ہو گا اور ہر قدم پھونک پھونک کر اٹھانا ہو گا۔ دنیا ابھی تک تیل بحران کے اثرات سے نہیں نکلی اور سپلائی لائن پوری طرح بحال نہیں ہوئی‘ ایسے میں کسی بھی نئی کشیدگی سے عالمی سطح پر افراطِ زر میں تین سے پانچ فیصد تک فوری اضافہ ہو سکتا ہے۔ اگرچہ دہائیوں پرانی مخاصمت کو راتوں رات دوستی میں بدلنا ممکن نہیں لہٰذا گزشتہ ساڑھے چار دہائیوں سے زائد عرصے سے جاری سفارتی اور معاشی تناؤ کے بعد باہمی اعتماد کو بحال کرنے کیلئے بتدریج ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے۔ تہران اور واشنگٹن کو یہ سمجھنا ہوگا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ بذاتِ خود ایک بہت بڑا مسئلہ ہے اور خطے سمیت پوری دنیا کی بقا صرف مذاکرات‘ سفارتی پختگی اور باہمی روابط کو مضبوط بنانے ہی میں پنہاں ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ناقص منصوبہ بندی کا بوجھ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-28/11312</link><pubDate>Sun, 28 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-28/11312</guid><description>آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی حالیہ رپورٹ میں دیامر بھاشا ڈیم‘ داسو اور نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹس سے متعلق جو حقائق سامنے آئے ہیں‘ وہ قومی منصوبہ بندی کے پورے نظام پر سنجیدہ سوالات اٹھاتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مذکورہ تینوں آبی منصوبوں میں ناقص منصوبہ بندی‘ مسلسل تاخیر‘ لاگت میں غیر معمولی اضافے اور انتظامی کمزوریوں کے باعث قومی خزانے پر تقریباً 39 کھرب روپے کا اضافی بوجھ پڑنے کا خدشہ ہے‘جبکہ مالی سال 2024-25ء کے دوران یہ منصوبے 358 ارب روپے سے زائد کے براہِ راست مالی نقصانات اور غیر منظور شدہ اخراجات کا سبب بنے۔ داسو ڈیم‘ جس کے پہلے مرحلے کی ابتدائی لاگت 486 ارب روپے تھی‘ اب یہ بڑھ کر 1737 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے یعنی لاگت میں 257 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔

دیامر بھاشا ڈیم اور نیلم جہلم منصوبہ بھی اسی قسم کے مسائل کا شکار ہیں۔ ابتدائی تخمینوں میں غیر حقیقی اندازے‘ زمین کے حصول میں تاخیر‘ بار بار ڈیزائن میں تبدیلیاں‘ کمزور نگرانی‘ قواعد کی خلاف ورزیاں‘ سست فیصلہ سازی اور متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر ہم آہنگی کا فقدان وہ بنیادی عوامل ہیں جنہوں نے اہم قومی منصوبوں کو لاگت اور مدت‘ دونوں اعتبار سے بحران کا شکار کر دیا۔ یہ رپورٹ اربابِ اختیار کے لیے چشم کشا ہونی چاہیے‘ نہ صرف اس کی روشنی میں ذمہ داروں کا تعین ہونا چاہیے بلکہ منصوبہ بندی کے نظام میں اصلاحات بھی ناگزیر ہو چکی ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>انسانی اعضا کی سمگلنگ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-28/11311</link><pubDate>Sun, 28 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-28/11311</guid><description>وفاقی تحقیقاتی ایجنسی نے اسلام آباد میں ایک گھر پر چھاپے کے دوران 500کلو انسانی اعضا اور پانچ سمگلروں کو گرفتار کیا ہے۔ اگر ملک کے سب سے محفوظ اور حساس سمجھے جانے والے شہر میں اس نوعیت کی سرگرمیاں جاری رہ سکتی ہیں تو اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ دور دراز علاقوں میں صورت حال کیا ہو گی۔اگرچہ ملک میں اس گھناؤنے فعل کو روکنے کیلئے ادارے اور قوانین موجود ہیں لیکن یہ سلسلہ ختم ہونے میں نہیں آ رہا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ صرف چند جرائم پیشہ افراد کا نہیں بلکہ نگرانی‘ احتساب اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کی کمزوری کا بھی ہے۔ انسانی اعضا کی غیرقانونی تجارت ایسا جرم نہیں جو چند افراد خاموشی سے انجام دے سکیں۔ اس کیلئے طبی سہولتیں‘ متعدد دستاویزات‘ نقل و حمل‘ مالی لین دین اور بعض اوقات اندرونی سہولت کاری بھی درکار ہوتی ہے۔

اگر اس سب کے باوجود ایسے نیٹ ورک سرگرم ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ کہیں نہ کہیں سنگین خلا ادارہ جاتی نظام میں موجود ہے۔ حکومت کو اس مسئلے سے نمٹنے کیلئے وقتی چھاپوں سے آگے بڑھنا ہوگا۔ تمام سرکاری و نجی مراکز میں اعضا کی پیوند کاری کا ڈیجیٹل ریکارڈ‘ حیاتیاتی مواد کی نقل و حرکت کی مؤثر نگرانی‘ نجی ہسپتالوں اور لیبارٹریوں کا باقاعدہ آڈٹ‘ اور غیر قانونی پیوند کاری میں ملوث افراد کیساتھ ساتھ انکے سہولت کاروں کو بھی سخت سزائیں دینا ناگزیر ہے تاکہ یہ گھناؤنا دھندا یہیں رک سکے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>’’اخبار فروشی‘‘ سے ’’اخبار نویسی‘‘ تک(مجیب الرحمٰن شامی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mujeeb-ur-rehman-shami/2026-06-28/52195/18140478</link><pubDate>Sun, 28 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mujeeb-ur-rehman-shami/2026-06-28/52195/18140478</guid><description>پاکستانی صحافت کے اصلی اور وڈے بابا جناب جمیل اطہر نے اپنی خود نوشت سوانح حیات قلم بند ہی نہیں کی‘ اسے چھپوا بھی دیا ہے۔ &#39;&#39;بابائے صحافت‘‘ کی عملی زندگی اخبار فروشی سے شروع ہوتی اور اخبار نویسی تک پہنچتی ہے۔ اخبار نویس بھی ایسے کہ جنہوں نے قومی صحافت پر اپنے نقوش ثبت کیے۔ کارکن کے طور پر کام کیا‘ پھر مالکانہ لذتوں سے آشنا ہوئے۔ آج بھی ادارتی ذمہ داریاں بخیر و خوبی ادا کر رہے ہیں۔ ان کے بیٹے عرفان اور عمران دائیں اور بائیں رہتے ہیں۔ صحافت کے میدان میں قدم رکھا تو شورش پاکستانی کے نام سے جانے گئے لیکن یہ نام ترک کرنا پڑا‘ اس کی کہانی اُنہی کی زبانی سنیے: ہم نے 25دسمبر 1959ء سے ہفت روزہ &#39;وفاق‘ کے اجرا کا فیصلہ کیا۔ اس کا اشتہار روزنامہ نوائے وقت کے صفحۂ اول پر شائع ہوا۔ اشتہار میں یہ بات بھی شامل تھی کہ یہ ہفت روزہ مصطفی صادق اور شورش پاکستانی کے زیر ادارت شائع ہو گا۔ یہ اشتہار شائع ہوا ہی تھا کہ ہمیں آغا شورش کاشمیری کی برہمی اور ناراضی کی خبریں ملنے لگیں۔ آغا صاحب نے ہفت روزہ چٹان میں ایک شذرہ &#39;&#39;لائل پور میں جعلی شورش‘‘ کے نام سے لکھ مارا۔ یہ شذرہ شائع ہونے کے بعد ہمارے حلقۂ احباب میں ایک اہم موضوع بن گیا۔ مولانا عبدالرحیم اشرف کے گھر پر نمازِ عشاء کے بعد ہماری حاضری روز کا معمول تھا۔ اس شب جب چٹان میں یہ شذرہ شائع ہوا تو مولانا کے ساتھ نشست میں یہ موضوع بھی زیر بحث آیا۔ مولانا کی رائے تھی کہ مجھے اپنا نام تبدیل کر لینا چاہیے۔ میرا خیال تھا کہ اگرچہ میرے والدین نے میرا نام تاج الدین رکھا تھا‘ مگر جب 1953ء میں ٹوبہ ٹیک سنگھ ریلوے سٹیشن پر ایک اجتماع میں قادیانیوں کے خلاف ایک نظم پڑھنے پر گرفتار کیا گیا تو لوگوں نے مجھے شورش کہنا شروع کر دیا۔ میں نے پہلے تاج شورش اور پھر شورش پاکستانی کے نام سے سیاسی اور صحافتی میدان میں کام کیا۔ اس طرح 1953ء سے1959ء تک میں نے جو نام کمایا وہ ضائع ہو جائے گا اور مجھے عملی زندگی میں نئے نام سے از سرِ نو جدوجہد کا آغاز کرنا ہو گا‘ مگر آغا شورش کاشمیری کی ناراضی کے پیشِ نظر مولانا اشرف کی رائے ماننے ہی کا فیصلہ ہوا۔ اس نشست میں انہوں نے شورش پاکستانی کے بجائے جمیل اطہر کا نام تجویز کیا اور اگلے روز سیاست و صحافت کی دنیا میں چھ سال متعارف رہنے کے بعد شورش پاکستانی ہمیشہ کے لیے پس منظر میں چلا گیا اور جمیل اطہر افقِ صحافت پر نمودار ہوئے۔ یہ نام مولانا عبدالرحیم اشرف مرحوم نے عطا کیا‘ اب &#39;&#39;وفاق کی پیشانی پر ادارۂ تحریر مصطفی صادق اور جمیل اطہر کے الفاظ درج تھے‘‘۔شورش پاکستانی نے نام تبدیل کر لیا لیکن کام جاری رکھا۔ ذہانت اور استقامت کے ساتھ نام بڑھایا اور مقام بھی حاصل کر لیا۔ مصطفی صادق مرحوم کے ساتھ ان کی رفاقت مثالی تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے خلاف تحریک برپا ہوئی تو روزنامہ وفاق نے عوامی جذبات کی ترجمانی کا حق ادا کیا‘ اور لاہور سے شائع ہونے والا سب سے بڑا اخبار بن گیا۔ مصطفی صادق مرحوم بھٹو صاحب کے بہت قریب سمجھے جاتے تھے لیکن وہ اپنے ساتھی کے راستے کی دیوار نہ بنے‘ یوں &#39;شورش پاکستانی‘ نے ایک بار پھر اپنا جلوہ دکھا دیا۔جمیل اطہر سے میرا تعلق ہفت روزہ زندگی کے حوالے سے شروع ہوا اور مضبوط سے مضبوط تر ہوتا چلا گیا۔ مصطفی صادق مرحوم کے دوستانہ سائے میں ہماری رفاقت ترو تازہ رہی۔ اردو ڈائجسٹ پبلی کیشنز نے ہفت روزے کی اشاعت کا فیصلہ کیا تو ہفت روزہ &#39;زندگی‘ کا ڈیکلریشن مصطفی صادق کے نام تھا‘ وہ اسے محدود تعداد میں شائع کر رہے تھے‘ اس پر ایڈیٹر کے طور پر جمیل اطہر کا نام چھپتا تھا۔ ایوب خان کا دور اگرچہ ختم ہو چکا تھا تاہم اس کے اثرات باقی تھے۔ کسی نئے ہفت روزے کا ڈیکلریشن حاصل کرنا کارے دارد تھا۔ مصطفی صادق نے &#39;زندگی‘ کی اشاعت کے حقوق ادارۂ اردو ڈائجسٹ کو عطا کر دیے لیکن پبلشر اور ایڈیٹر کا نام فوری طور پر تبدیل نہیں ہو سکتا تھا۔ قانونی طور پر ایڈیٹر کی تبدیلی کے لیے کسی حکومتی اجازت کی ضرورت نہیں تھی‘ پھر بھی ہفت روزہ &#39;زندگی‘ کا پہلا شمارہ شائع ہوا تو اس کی پرنٹ لائن پر احتیاطاً جمیل اطہر کا نام درج تھا۔ بعدازاں پبلشر ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی بنے اور ادارت جناب الطاف حسن قریشی کی قدم بوسی کرتے ہوئے میرے ماتھے پر سج گئی۔جمیل اطہر ایک بھرپور ایڈیٹر ہیں۔ بقول استاذ الاساتذہ ڈاکٹر شفیق جالندھری ہزاروں نہیں لاکھوں صفحات لکھ چکے ہیں۔ ان کی کئی کتابیں بھی شائع ہو کر قبولِ عام حاصل کر چکی ہیں۔ حضرت مجدد الف ثانی کی زندگی اور تعلیمات پر ان کی تصنیف &#39;&#39;شیخ سرہند‘‘ کو دینی حلقوں میں خوب پذیرائی ملی تو ایک &#39;&#39;عہد کی سرگزشت‘‘ میں ان احباب کا تذکرہ تھا جن کی زندگی کے مختلف گوشوں نے انہیں متاثر کیا۔ اس میں ان کی اپنی داستان کے کچھ حصے بھی محفوظ ہو گئے۔ قادیانیت کے خلاف جدوجہد کی تاریخ بھی انہوں نے مرتب کر ڈالی ہے اور روضۂ رسولﷺ پر جا کر وہاں نذرانے کے طور پر اسے پیش بھی کر آئے ہیں۔ زیر نظر کتاب &#39;&#39;اخبار نویس سے اخبار فروش تک‘‘ ان کی زندگی کی ورق ورق کہانی ہے جس میں ہماری قومی سیاست اور صحافت بھی سمٹ آئی ہے۔ کسی واقعے کی تفہیم اور تعبیر پر تو ان سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن اجتماعی زندگی کی جو تصویر کشی انہوں نے کی ہے‘ اس کی داد دیے بغیر نہیں رہا جا سکتا۔ انہوں نے خود لکھا ہے کہ: 11مئی 2026ء کو میری عمرِ عزیز کے 84 برس بیت چکے ہوں گے‘ اس میں کم و بیش 69 سال کا عرصہ صحافت کی وادیٔ پُرخار میں گزرا۔ اخبار فروش‘ نامہ نگار اور نیوز ایجنٹ رہا۔ اخبارات میں ملازمت کی‘ بطور سب ایڈیٹر‘ نیوز ایڈیٹر‘ سٹاف رپورٹر‘ پھر 25دسمبر 1969ء کو جناب مصطفی صادق کے اشتراک سے ایک ہفت روزہ &#39;وفاق‘ لائل پور سے جاری کیا۔ جو 12فروری 1962ء کو روزنامہ وفاق لائل پور بن گیا۔ قریباً بائیس سال مصطفی صادق صاحب کی معیت میں کام کیا۔ 1974ء میں روزنامہ تجارت کا اجرا کیا۔ بعدازاں روزنامہ جرأت‘ انگریزی اخبار دی بزنس‘ ہفت روزہ اخبارِ خواتین‘ ہفت روزہ جرأت انٹرنیشنل اور روزنامہ منشور سرگودھا اس قافلے میں شامل ہوتے گئے۔ عمر بھر اخبار نویسی کے سوا کوئی ذریعہ معاش نہیں رہا‘‘۔جمیل اطہر کے زیر ادارت شائع ہونے والے اخبارات اشاعت کے لحاظ سے سرفہرست تو نہیں رہے لیکن اپنے مواد اور اعتبار کے حوالے سے نمایاں رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے دائرے میں اپنے آپ کو منوایا ہے اور اپنے کارکنان کا ہاتھ بھی تھامے رکھا ہے۔ انجمنِ مدیران جرائد کے صدر منتخب ہوئے‘ سیکرٹری جنرل بنے‘ آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی میں قائدانہ کردار ادا کیا۔ ممتاز طاہر مرحوم کے ساتھ مل کر اخباری صنعت کی سیاست میں کئی چوٹیاں سر کیں۔ انہیں میدانِ صحافت میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے‘ ان کی راہ میں آنکھیں بچھی رہتی ہیں۔ ان کا قلمی نام تو تبدیل ہو گیا لیکن تاج الدین صحافت کے سر کا تاج بن کر زندہ ہے تو اس کے اندر پرورش پانے والا شورش پاکستانی بھی ترو تازہ ہے۔ ان کی خود نوشت پڑھ کر ایسے لگا کہ شورش پاکستانی سے ملاقات ہو رہی ہے۔ شورش ایک ایسی شے ہے کہ دماغ میں سما جائے تو نکالے نہیں نکلتی۔ سو‘ اس کا پُرجوش استقبال ہونا چاہیے اور زندہ باد کا نعرہ بھی لگا دینا چاہیے۔(یہ کالم روزنامہ &#39;&#39;دنیا‘‘ اور روزنامہ &#39;&#39;پاکستان‘‘ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_37052987.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>دیکھ موسم کہاں جا رہا ہے(ایاز امیر)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-06-28/52196/59113159</link><pubDate>Sun, 28 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-06-28/52196/59113159</guid><description>مملکتِ خداداد کے اکابرینِ کرام یہ بات ذہن نشین کرنے کی کوشش کریں کہ اس وقت جب گرمی جوبن پر ہے پاکستان کا موسم برطانیہ‘ جرمنی‘ فرانس‘ اٹلی اور سپین سے بہتر ہے۔ پنجابی کے لحاظ سے یہ ہاڑ کا مہینہ ہے جو سب سے گرم مہینہ تصور کیا جاتا ہے۔ جیٹھ ہاڑ کی گرمی اور پھر ساون کی بارشیں جن سے زمین میں ٹھنڈک آتی ہے اور آگے کی فصلوں کی تیاری ہوتی ہے۔ یہ پرانا تصور تھا جب موسم جوں کا توں صدیوں تک ایک ہی انداز سے چل رہا تھا۔ یہ ہم انسانوں نے اس میں گڑبڑ کر دی جس کی وجہ سے موسمیاتی تغیر نے ہر چیز کو الٹ پلٹ کر دیا ہے۔ اس بار آپ دیکھیں کہ جون کا مہینہ بیشتر‘ اوپر کے ملک میں کتنا خوشگوار رہا ہے۔ گرمی ایک دو روز ہوتی بھی تو چند روز بعد جھکڑ اور بارش آ جاتی اور موسم بہتر ہو جاتا۔ یعنی اس دفعہ ایسا ہوا کہ جون کا مہینہ ایک لحاظ سے بے مثال رہا۔اس کے برعکس یورپ کا حال دیکھیں‘ پیرس میں ٹمپریچر 40‘ 41 ڈگری سینٹی گریڈ تک گیا ہے اور ایک مقام فرانس کے جنوب میں ایسا ہے کہ وہاں ٹمپریچر 44 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا۔ ہمارے لیے پھر بھی 40‘ 41 ڈگری کی گرمی اتنی زیادہ نہیں‘ اس کے ہم عادی ہیں۔ لیکن یورپ میں جہاں گھر سردی کے موسم کیلئے بنے ہوں نہ پنکھے نہ ایئر کنڈیشن‘ اتنی تپتی دھوپ میں کیا حال ہو گا‘ خاص طور پر اُن لوگوں کیلئے جو اس گرمی کے بالکل عادی نہیں۔ روم میں حالت یہ ہے کہ جہاں کہیں فوارہ ہو سیاح اپنے منہ پر پانی پھینکنے لگتے ہیں۔ اس سال گرمی کی وجہ سے اُن دیسوں میں سیاحت کا سارا حلیہ بدل رہا ہے اور ٹور گائیڈ جب کسی شہر میں پیدل سفر کی پلاننگ کرتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہاں چھاؤں ہے اور کہاں کسی مقام پر ایئرکنڈیشن کی سہولت مل جائے تو سیاحوں کو وہاں دھکیل دیں۔ یعنی حساب اب بالکل اُلٹ ہو گیا ہے‘ گرمی کے مارے ہم لوگ ہوا کرتے تھے اور یورپی جب اپنی برتری کے نکات پیش کرتے تھے تو اُس میں یہ نکتہ بھی ہوتا کہ یہاں کا سرد موسم ہمیں چست اور توانا رکھتا ہے۔ اب کلائمیٹ سائنس بتا رہی ہے کہ جہاں ساری دنیا کی تپش بڑھ رہی ہے سب سے زیادہ گرم ہونے والا براعظم یورپ ہے۔ ہمارے ساتھ یہ قدرت کی مہربانی ہے کہ جہاں جون کے مہینے میں موسمی حالات وہاں اتنے خراب رہے ہیں‘ ہمارے ہاں جون نسبتاً بہتر رہا ہے۔ اور یہ ایک ایسا ٹرینڈ ہے جو ریورس ہونے والا نہیں۔اس بارے ہمیں کچھ سوچنا چاہیے کہ اگر گرمی کا موسم یہاں قدرے خوشگوار ہو رہا ہے تو اپنے ملک کے حالات ایسے بنائے جائیں کہ یورپ میں گرمی سے ستائے ہوئے لوگ یہاں کا رخ کریں۔ پاؤنڈ‘ ڈالر اور یورو یہاں خرچ کریں تاکہ یہاں ایک ٹورسٹ انڈسٹری بن سکے‘ ہماری کمائی بڑھے اور جہاں کشکول لیے ہر دوسرے دروازے پر دستک دیتے ہیں‘ اس سے چھٹکارا حاصل ہو جائے۔ اس وقت روپے کی حالت یہ ہے کہ باہر کا کوئی آدمی پاکستان میں چھٹی منانے آئے تو یہ دنیا کی سستی ترین چھٹی ثابت ہو۔ پاؤنڈ اور ڈالر کی روپوں میں قیمت وہاں تک پہنچی ہوئی ہے کہ روپوں میں تبدیل کرائیں تو روپے ختم نہیں ہوتے۔ قباحت البتہ یہ ہے کہ اوپر بیٹھے ہوئے لوگوں نے تہیہ کیا ہوا ہے کہ ایئرپورٹ سے لے کر ہوٹلوں تک اور وہاں سے لے کر تمام لوازماتِ سیاحت تک‘ ہر چیز کو مشکل بنانا ہے‘ ہر آسانی کو گمبھیر کرنا ہے‘ تاکہ کوئی بھول کے آئے بھی تو کان پکڑ کر تہیہ کرے کہ میری توبہ پھر اس راہ سے نہیں گزرنا۔یہ بڑا ہی المیہ ہے۔ ہم کہتے نہیں تھکتے کہ ملک بڑا خوبصورت ہے۔ خوبصورت تو ہے لیکن جب ارادہ ہو کہ ہر خوبصورتی کو خراب کرنا ہے اور ہر آسانی کو مشکل بنانا ہے تو اس خوبصورتی کو لے کر انسان کہاں جائے۔ تھائی لینڈ جیسا ملک سیاحت سے اتنا کماتا ہے کہ صرف اس ایک مد میں اُس کی آمدنی ہماری تمام قومی آمدنی سے زیادہ ہے۔ تھائی لینڈکا موسم ہمارے قریب نہیں پھٹکتا‘ لیکن اُنہوں نے ٹورسٹ انڈسٹری کو بنایا ایسا ہے کہ دنیا کا سیاح وہاں جاتا ہے۔ گرمیوں کا پرابلم یہاں ہمیشہ رہا ہے لیکن موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے گرمیوں کی شدت میں کمی آ رہی ہو پھر تو یہ سوچ دماغوں میں بیٹھنی چاہیے کہ ہمارے ساتھ یہ ایک معجزہ ہونے والا ہے۔ لیکن کیا ہم اس کے قابل بھی ہیں؟ کچھ سمجھ بھی رکھتے ہیں کہ اس آنے والے معجزے سے ہم نے کرنا کیا ہے؟کرنا تو یہ چاہیے کہ پاکستان کے سرکاری دماغوں میں سے ناکارہ سوچ باہر نکالی جائے۔ جن نعروں اور فرسودہ خیالات نے اس ملک کو عجیب سا ملک بنایا ہوا ہے اُن کو ذہنوں سے نکالا جائے۔ پارسائی کے قوانین جن سے کوئی پارسائی آئی نہیں اُن کے بیوقوفانہ عمل کو ختم کیا جائے۔ یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں ہے۔ اس کیلئے کوئی انقلابی قدم اٹھانے کی ضرورت نہیں‘ بس تھوڑی سی عقل اور تحمل مزاجی کا سہارا لیا جائے۔ قوانین اگر ہیں بھی اور اُن میں تبدیلی لانا سیاسی طور پر اگر اتنا آسان نہ ہو پھر بھی اُن کے اطلاق میں تبدیلی لائی جائے۔ حالت یہاں یہ ہے کہ باہر کا کوئی آدمی یہاں کے کسی بڑے ہوٹل میں ٹھہرے تو اُسے گمان ہوتا ہے کہ کسی ویرانے میں آ گیا ہے۔ ایک بات یہاں بہت اچھی ہوئی ہے کہ ہمارے دیس کی جو کئی لٹھ بردار تنظیمیں ہیں‘ جنہوں نے اپنا یہ فرضِ اولیٰ سمجھا ہوا تھا کہ وقت بے وقت پارسائی کے نام پر ڈنڈا چلانا ہے اُن کی سیاسی حیثیت میں کمی آئی ہے۔ اس حقیقت کے پیشِ نظر حکومتوں کو بھی کچھ ہمت دکھانی چاہیے کہ پاکستان کا مجموعی ماحول اچھا بنے تو اس میں ملک کی بہتری ہے۔مسئلہ یہاں یہ ہے کہ جو طبقہ حکومتوں میں بیٹھتا آیا ہے ایک تو وہ اتنے ویژن کا مالک نہیں اور دوسرا جیسا کہ ہم دیکھ سکتے ہیں‘ وہ اپنے مفادات کے چکر میں زیادہ توانائیاں صرف کرتا ہے۔ اس سے زیادہ کیا کہا جائے۔ اقتدار کے ٹولے میں ایسے عناصر بھی رہے ہیں کہ نماز کا وقت آئے تو اُن سے بڑا کوئی دیندار نہیں لگتا‘ پیسے بنانے کے حوالے سے اُن کے کرتوتوں پر نظر جائے تو انسان محوِ حیرت ہو جائے۔ ایسے طبقۂ اقتدار سے کیا توقع رکھی جا سکتی ہے؟ اور یہی یہاں کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔یہ بھی ماننا پڑے گا کہ حکومتوں سے ہٹ کر اجتماعی طور پر یہاں ذوق کی خاصی کمی ہے۔ قدرتی لحاظ سے کوئی اچھا مقام ہو تو مزاج کچھ ایسا بن چکا ہے کہ چین نہیں آتا جب تک کہ اُس کے قدرتی حسن کو برباد نہ کر دیا جائے۔ مری کے ساتھ ہم نے کیا کیا؟ گلیات کا حال دیکھ لیں۔ نتھیا گلی کا حسن کیا تھا اور اب کیا ہے۔ ہم نے ناران کاغان کو نہیں بخشا۔ ناران میں ہوٹلوں کی بھرمار ہو گئی ہے‘ نہ کوئی پوچھنے والا ہے نہ کوئی صحیح راہ دکھانے والا۔ سوات کے ساتھ بھی یہی ہوا ہے۔ جہاں کسی کا دل چاہتا ہے ایک بلڈنگ کھڑی کر دی جاتی ہے۔ کتابوں میں قانون ہے‘ پابندیاں ہیں لیکن عملاً ایسی بربادی ہر جگہ دیکھی جا سکتی ہے اور یوں لگتا ہے کہ قانون اگر ہے تو صرف محدود سیاسی مقاصد کیلئے‘ کسی بڑے اجتماعی عزم کیلئے نہیں۔یہ تو پہاڑی علاقوں کا ذکر ہے لیکن ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے نام پر جو میدانوں میں تباہیاں پھیلائی گئی ہیں اور پھیلائی جا رہی ہیں وہ سب نظارے ہمارے سامنے ہیں۔ ایسا ہی ہوتا رہا تو موسم کی تبدیلی ہمارے حق میں ہو بھی تو اُس کا ہم کیا کر سکیں گے؟</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_80573045.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>عمران خان اور شہباز شریف کا سچ(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-06-28/52197/48270916</link><pubDate>Sun, 28 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-06-28/52197/48270916</guid><description>آخرکار وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی کے فلور پر اپنے حصے کا سچ بول ہی دیا۔ کہا جاتا ہے کہ ہر بندے کا اپنا سچ ہوتا ہے۔ ایک آپ کا سچ ہے‘ ایک میرا سچ ہے اور ایک حقیقی سچ ہے۔ انسانی مزاج یہی ہے کہ ہر شخص خود کو سچا سمجھتا ہے۔ اسے اپنا سچ ہی آخری سچ دکھائی دیتا ہے اور دوسرے کے سچ کی اسے زیادہ پروا نہیں ہوتی۔ اسی لیے جب وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کی جانب سے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات پر اپنا مؤقف پیش کیا تو وہ اپنا سچ بیان کر رہے تھے۔ اس سے پہلے عمران خان بھی ایوان میں اپنا سچ سنا چکے تھے۔ دونوں وزرائے اعظم کو اپنے اپنے دور میں یہی محسوس ہوا کہ انہیں دھاندلی کے ذریعے اقتدار سے محروم کیا گیا۔ دونوں کا خیال ہے کہ دھاندلی ان کے خلاف ہوئی اور جس کے حق میں ہوئی‘ وہ وزیراعظم بن گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں صرف خود کو درست سمجھتے ہیں۔ اصل اعتراض دھاندلی پر نہیں بلکہ اس بات پر ہے کہ دھاندلی ان کے مخالف کے حق میں ہوئی اور اسے اقتدار تک پہنچا دیا گیا۔ البتہ جب دھاندلی ان کے اپنے حق میں ہو رہی تھی تو وہ مطمئن بھی تھے اور خوش بھی۔ دونوں نے اپنی اپنی کامیابی کو جمہوریت کی فتح قرار دیا۔ میں نے 2002ء کے انتخابات کے بعد گزشتہ 24 برسوں سے پارلیمنٹ اور پارلیمنٹیرینز کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔ اس دوران بہت کچھ سمجھنے اور جاننے کا موقع ملا‘ بلکہ یوں کہیے کہ یہاں میرے جیسے شخص کا سیاسی آئیڈیل ازم بری طرح ٹوٹ گیا کیونکہ عملی سیاست میں وہ کردار نظر نہ آئے جنہیں ہم کتابوں میں پڑھتے اور دیکھتے ہیں۔ قصور شاید سیاستدانوں کا بھی نہیں‘ کیونکہ وہ آئیڈیل ازم کے بجائے حقیقت پسند ہوتے ہیں۔ ان کی نگاہ صرف اقتدار پر ہوتی ہے۔اسی لیے وہ اس فلمی مکالمے پر عمل کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ اقتدار کیلئے جان دی بھی جا سکتی ہے اور کسی کی جان لی بھی جا سکتی ہے۔ پاکستانی سیاست میں لیاقت علی خان‘ ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو کے قتل اس کی واضح مثالیں ہیں۔ آپ شاید ہی کوئی ایسا دور دیکھیں گے جب سیاستدان خود تشدد کا نشانہ نہ بنے ہوں یا دوسروں کو اپنے اقتدار کی خاطر نشانہ نہ بنا رہے ہوں۔آمرانہ ادوار میں یہ شدت مزید بڑھ گئی۔ ضیا الحق کے دور میں ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی‘ پرویز مشرف کے دور میں نواز شریف کو چودہ برس قید کی سزا سنانے کے بعد جلاوطن کیا گیا اور اسی دور میں بینظیر بھٹو قتل ہوئیں۔ تاہم ان سیاستدانوں کے اپنے ادوار بھی ایسی کارروائیوں سے مبرا نہیں تھے۔ 1990ء کی دہائی میں نواز شریف اور بینظیر بھٹو نے ایک دوسرے کو سیاسی طور پر فکس کرنے کا سلسلہ شروع کیا۔ برسوں کی اس سیاسی کشمکش کے بعد جب بینظیر بھٹو منظر سے ہٹیں تو عمران خان اور شریف خاندان کے مابین ایک جنگ شروع ہو گئی‘ جو اَب نہایت خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔پہلے نواز شریف نے مقتدرہ کے ساتھ مل کر آصف علی زرداری اور بینظیر بھٹو کو فکس کیا‘ پھر بینظیر بھٹو کو پرویز مشرف کے ساتھ مفاہمت کے ذریعے واپسی کا راستہ ملا لیکن وہ قتل کر دی گئیں۔ پرویز مشرف سے ڈیل بینظیر بھٹو نے کی تھی مگر اس کا بڑا فائدہ نواز شریف کو ہوا‘ جو دس سال مکمل ہونے سے پہلے ہی وطن واپس آگئے اور پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ شہباز شریف کی جھولی میں آ گری۔ پھر جب نواز شریف کو فکس کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی تو عمران خان کو آگے لایا گیا۔ یوں پاکستانی سیاستدانوں نے ایک دوسرے پر زمین اس قدر تنگ کر دی کہ اپوزیشن میں پہنچ کر انہیں اپنی بقا اسی میں دکھائی دی کہ وہ مقتدرہ کے ساتھ مل کر انتخابات جیتنے کی کوشش کریں۔نتیجہ یہ نکلا کہ عوام کا جمہوریت اور سیاست دونوں سے اعتماد اٹھتا چلا گیا۔سیاستدانوں نے اپنے سیاسی کردار اور دیانتداری پر توجہ دینے کے بجائے حکومت کو فیملی اینڈ فرینڈز پیکیج سمجھ کر چلایا۔ سب نے اپنے اپنے کاروبار چمکائے‘ دنیا بھر میں جائیدادیں بنائیں۔ اب صورتحال یہ ہو چکی ہے کہ تقریباً تمام سیاستدان ایک دوسرے یا مقتدرہ کے ہاتھوں اس قدر بے نقاب ہو چکے ہیں کہ وہ رسمی پردہ رکھنے کی بھی کوشش نہیں کرتے۔ وہ اب برطانوی وزیراعظم چرچل کے اس سیاسی مشورے کو سمجھ پائے ہیں کہ اگر سیاستدان بننا ہے تو سب سے پہلے اپنی کھال موٹی کرنا ہوگی۔ یعنی لوگوں کی باتوں‘ تنقید‘ طعنوں اور گالی گلوچ سے بے نیاز ہونا پڑے گا۔ یہ سوچ کر سیاست میں نہیں آیا جا سکتا کہ لوگ کیا کہیں گے۔ لوگوں نے تو کچھ نہ کچھ کہنا ہی ہے۔ اسی لیے شاید پہلی بار شہباز شریف نے کھل کر عمران خان سے کہا کہ اگر ہم فارم 47 والے ہیں تو آپ کون سے دودھ کے دھلے ہیں؟ 2018ء میں آر ٹی ایس بٹھا کر آپ کو جتوایا گیا تھا۔ اگر آپ 2018ء اور 2024ء کے انتخابات کا پیٹرن دیکھیں تو دونوں میں حیرت انگیز مماثلت نظر آتی ہے۔ فرق صرف چہروں کا تھا‘ طریقۂ واردات تقریباً ایک ہی تھا۔ عمران خان کو جتوانا مقصود تھا اس لیے نواز شریف کو جیل بھیجا گیا‘ انتخابات لڑنے سے نااہل قرار دیا گیا‘ مسلم لیگ (ن) کے متعدد ارکان کو آزاد حیثیت سے یا جنوبی پنجاب محاذ کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑایا گیا۔ جب ملک کا سابق وزیراعظم جیل میں ہو اور انتخابی مہم نہ چلا رہا ہو تو اس کی جماعت اور ووٹروں کو واضح پیغام مل جاتا ہے کہ اب اقتدار کسی اور کے حصے میں جا رہا ہے۔ ایسے ماحول میں پارٹی کے لوگوں کو توڑنا بھی آسان ہو جاتا ہے۔ اُس وقت عمران خان کو ان تمام غیر سیاسی ہتھکنڈوں پر کوئی اعتراض نہ تھا کیونکہ ان کی وزیراعظم بننے کی خواہش پوری ہو رہی تھی۔ وہ ہر قیمت پر وزیراعظم بننا چاہتے تھے۔ اس قیمت میں جنرل باجوہ کو مدتِ ملازمت میں توسیع دینا اور فیض حمید کو 2022ء میں آرمی چیف بنوانا بھی شامل تھا۔ یہی وہ قیمت تھی جو عمران خان نے وزیراعظم بننے کے عوض ادا کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔ انہوں نے ڈاکٹر فوسٹس کی طرح Lucifer کے ساتھ اس معاہدے پر خود دستخط کیے جس کا انجام بالآخر انہیں جیل تک لے آیا۔بعد میں شہباز شریف نے بھی تقریباً یہی راستہ اختیار کیا کیونکہ وہ بھی عمران خان کی طرح ہر قیمت پر وزیراعظم بننا چاہتے تھے۔ انہیں ماضی میں دو تین مواقع ملے تھے مگر بھائی کی محبت میں وہ ان سے فائدہ نہ اٹھا سکے۔ اب وہ مزید انتظار کیلئے تیار نہ تھے چنانچہ انہوں نے اسی نوعیت کی ڈیل منظور کر لی۔2024ء میں وہ اس حد تک بے نیاز ہو گئے کہ عمران خان اور ان کی جماعت کے ساتھ کیا سلوک کیاجا رہا ہے‘ اس سے انہیں کوئی سروکار نہیں رہا۔ وہی تاریخ دہرائی گئی۔ عمران خان جیل بھیج دیے گئے‘ نااہل قرار پائے‘ ان کی پارٹی ٹوٹ گئی‘ انتخابی نشان چھن گیا۔ پی ٹی آئی کے ہاتھ پاؤں باندھ کر اسے سیاسی سمندر میں دھکیل دیا گیا کہ اگر حکومت بنانی ہے تو اب تیر کر دوسرے کنارے تک پہنچ کر دکھاؤ‘ بالکل ویسے ہی جیسے 2018ء میں نواز شریف اور ان کی جماعت کے ساتھ کیا گیا تھا۔ یوں دونوں نے اپنا حساب برابر کر لیا مگر فتح ایک مرتبہ پھر مقتدرہ کی ہوئی۔ پہلے عمران خان کے ذریعے نواز شریف کو فکس کیا گیا اور اب شہباز شریف کے ذریعے عمران خان کو۔ سوال یہ ہے کہ جیت آخر کس کی ہوئی؟ شہباز شریف کی تقریر کا مفہوم یہی ہے کہ اگر ہم دھاندلی کے ذریعے جیتے یا جتوائے گئے تو آپ بھی دھاندلی کے ذریعے ہی جیتے یا جتوائے گئے تھے۔ پھر آپ کس اخلاقی برتری کے دعویدار ہیں؟ آج صورتحال یہ ہے کہ عمران خان اور شہباز شریف دونوں ایک دوسرے کو طعنہ نہیں دے سکتے۔ دونوں ایک دوسرے پر یہی الزام لگاتے ہیں کہ آپ دھاندلی کے ذریعے وزیراعظم بنے‘  آپ کی حکومت جعلی تھی اور دوسرا جواب دیتا ہے کہ نہیں! جعلی تو آپ کی حکومت تھی۔ میرے خیال میں ہمارے موجودہ اور سابق‘ دونوں وزرائے اعظم اپنا اپنا سچ بول رہے ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>جیو اکنامکس دور کی شروعات(رشید صافی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-06-28/52198/98262506</link><pubDate>Sun, 28 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-06-28/52198/98262506</guid><description>مشرقِ وسطیٰ جنگ کے بادل چھٹنے کے بعد خطہ ایک نئے جیو پولیٹکل اور جیو اکنامک فریم ورک میں ڈھل رہا ہے۔ دہائیوں پر محیط سٹرٹیجک عدم استحکام کے بعد اب دنیا کا یہ اہم خطہ سرمایہ کاری اور علاقائی تجارتی رابطوں (Regional Connectivity) کی طرف گامزن ہے۔ اس بدلتی صورتحال میں جو سب سے اہم اور مثبت تبدیلی رونما ہوئی ہے‘ وہ پاکستان اور ایران کے مابین ایک نئے تزویراتی اعتماد کا پیدا ہونا ہے۔ بحران جہاں چیلنجز لاتے ہیں وہیں دیرینہ غلط فہمیوں کو دور کرنے اور نئے اتحاد قائم کرنے کا موقع بھی فراہم کرتے ہیں۔ پاک ایران تعلقات میں پیش رفت اسی نظریے کی عملی تصویر ہے۔ پاک ایران تعلقات ہمیشہ سے تاریخ‘ ثقافت اور مشترکہ سرحدوں کے امین رہے ہیں لیکن گزشتہ چند عشروں میں جیو پولیٹکل مجبوریاں دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے اتنے قریب نہ لا سکیں جتنا لانا چاہیے تھا۔ افغانستان کی طرح ایران کا جھکاؤ بھی سٹرٹیجک اور اقتصادی طور پر پاکستان کی نسبت بھارت کی جانب زیادہ رہا۔ اس کی بڑی وجہ ایرانی قیادت کے ذہنوں میں قائم یہ تاثر تھا کہ پاکستان کا سٹرٹیجک جھکاؤ امریکہ کی طرف ہے اور وہ خطے میں واشنگٹن کے مفادات کو فوقیت دیتا ہے۔ حتیٰ کہ جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بھڑکے تو ان نازک لمحات میں بھی ایرانی سلامتی کے حلقے پاکستان پر مکمل اعتماد کرنے سے ہچکچا رہے تھے۔ تہران میں یہ تشویش پائی جاتی تھی کہ عالمی سفارتی دباؤ کے پیشِ نظر پاکستان ممکنہ طور پر مصلحت پسندی کا مظاہرہ کر سکتا ہے‘ جو ایران کے سکیورٹی مفادات کے منافی ہو سکتا ہے۔ تاہم حالات نے ثابت کیا کہ اسلام آباد نے اس بحران میں تہران کے ساتھ کھڑے ہو کر جیو پولیٹکل وابستگی کا عملی ثبوت دیا۔جنگ کے دوران جب ایران پر براہِ راست حملے ہو رہے تھے اور مزید مہلک حملوں کے خطرات موجود تھے‘ اور ایران سفارتی و عسکری تنہائی کا شکار تھا‘ اس وقت پاکستان نے متوازن خارجہ پالیسی کا مظاہرہ کیا۔ پاکستان نے نہ صرف ایران پر ہونے والے حملوں کی عالمی سطح پر کھل کر مذمت کی بلکہ خطے کو ایک بڑی تباہی سے بچانے کیلئے پس پردہ سفارت کاری کا آغاز کیا۔ ایران کو ایک پائیدار امن معاہدے پر قائل کرنا اور عالمی قوتوں کے ساتھ میز پر لانا کوئی آسان کام نہ تھا۔ حتمی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے پاکستان کو کن مشکلات سے گزرنا پڑا‘ یہ اب بین الاقوامی برادری کیلئے کوئی راز نہیں رہا۔ آج جب مشرقِ وسطیٰ میں امن بحال ہو رہا ہے تو تہران کی قیادت اس حقیقت کو تسلیم کر چکی ہے کہ مشکل ترین وقت میں جس ملک نے اسے دلدل سے نکالنے میں سب سے مخلصانہ کردار ادا کیا‘ وہ صرف پاکستان تھا۔ ایران نے حالیہ امن معاہدے کے ذریعے جو سٹرٹیجک اور اقتصادی فوائد حاصل کیے ہیں‘ وہ پاکستان کی غیر مشروط سفارتی حمایت کے بغیر ممکن نہ تھے۔ نتیجتاً پاک ایران تعلقات اب مستحکم اور طویل المیعاد تجارتی سٹرٹیجی کے نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں۔ اسی بدلے ہوئے سٹرٹیجک تناظر میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا اعلیٰ سطحی سیاسی و اقتصادی وفد کے ہمراہ حالیہ دورۂ پاکستان انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ دورہ محض روایتی سفارتی دورہ نہیں تھا بلکہ اس کے دو بڑے اور ٹھوس مقاصد تھے۔ پہلا مقصد ایرانی قیادت کی طرف سے پاکستان کے اس مخلصانہ کردار کا اعتراف اور شکریہ ادا کرنا تھا جس نے ایران کو جنگ کے خطرات سے نکالا۔ دوسرا مقصد نئے پیدا ہونے والے تجارتی مواقع سے دوطرفہ فائدہ اٹھانے کیلئے مشترکہ فریم ورک کی تشکیل تھا۔ ایرانی صدر کے اس دورے نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اب تہران اپنی اقتصادی ترجیحات کو تبدیل کر رہا ہے اور وہ مستقبل میں پاکستان کے ساتھ تجارت کو اپنی خارجہ پالیسی کا اہم حصہ بنانے کا خواہاں ہے۔مشرقِ وسطیٰ جنگ کے بعد پیدا ہونے والا جیو اکنامک منظر نامہ پاکستان اور ایران کو روایتی سفارت کاری سے نکال کر ایک ٹھوس اقتصادی بلاک کی طرف لے جا رہا ہے۔ جنگ اور بین الاقوامی پابندیوں کے نتیجے میں ایرانی سپلائی چین بری طرح متاثر ہوئی‘ جس کا ایک اثر یہ ہوا کہ چین اور دیگر عالمی منڈیوں سے ایران جانے والا کارگو پاکستان میں رک گیا۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق اس وقت کراچی پورٹ پر تقریباً 13 ہزار سے 18 ہزار کنٹینرز موجود ہیں۔ یہ نجی شعبے کا کارگو ہے جو تہران کیلئے ایک صنعتی اور سماجی لائف لائن کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان پھنسے ہوئے کنٹینرز میں چھوٹی اور درمیانی درجے کی صنعتوں کا خام مال‘ آٹوموٹیو پرزہ جات‘ زراعت و آبپاشی کا سامان‘ ٹائر‘ طبی و سرجیکل آلات اور اہم غذائی اجناس شامل ہیں۔ جنگ کے بعد ایرانی معیشت کو دوبارہ پٹری پر لانے اور وہاں مینوفیکچرنگ سیکٹرکو متحرک کرنے کیلئے اس کارگو کی فوری منتقلی ناگزیر ہو چکی ہے۔ اس غیرمعمولی لاجسٹک چیلنج سے نمٹنے کیلئے اب روایتی راستے کے بجائے سمارٹ اور کم خرچ راستوں پر غور کیا جا رہا ہے۔ ابتدائی طور پر اس کارگو کو کراچی سے گوادر اور پھر وہاں سے بحری راستے کے ذریعے ایران بھیجنے کی تجویز زیرِ بحث آئی لیکن لاجسٹک ماہرین نے اسے غیر منطقی قرار دیا۔ گوادر کے ذریعے منتقلی سے ڈبل ہینڈلنگ کے اخراجات اور پورٹ ڈیمرج چارجز میں اضافہ ہو گا‘ جو تاجروں کیلئے معاشی طور پر سود مند نہیں۔ اس کے برعکس سینئر ایرانی عہدیداروں کے مطابق سب سے سستا اور تیز ترین حل کراچی سے چابہار براہِ راست سمندری کوریڈور ہے۔ یہ متبادل نہ صرف وقت کی بچت کرے گا بلکہ ٹرانزٹ لاگت کو بھی کم ترین سطح پر لے آئے گا۔ صدر مسعود پزشکیان کے حالیہ دورۂ پاکستان کے بعد اس کارگو کی فوری بحری روانگی دونوں ممالک کے نئے تزویراتی اعتماد کا پہلا عملی مظاہرہ بننے جا رہی ہے۔ کنٹینرز کا یہ لاجسٹک کرائسز دراصل پاک ایران سرحد پر اکنامک انٹیگریشن کا ایک نیا گیٹ وے کھول رہا ہے۔ اس بحران کو حل کر کے دونوں ممالک طویل المیعاد تجارتی فریم ورک کی طرف بڑھ سکتے ہیں‘ جس میں تین بنیادی شعبے گیم چینجر ثابت ہوں گے۔ پہلا‘ ایران پاکستان گیس پائپ لائن اور بجلی کی فراہمی کے منصوبے‘ جو اَب جیو پولیٹکل دباؤ سے آزاد ہو کر پاکستان کی صنعتی توانائی کی ضروریات پوری کر سکتے ہیں۔ دوسرا‘ ڈالر کے متبادل کے طور پر ایک باقاعدہ کلیئرنگ ہاؤس میکانزم کے تحت بارٹر ٹریڈ کا فروغ‘ جہاں پاکستانی چاول‘ گوشت اور کینو کا ایران کے پٹرولیم فریکشنز اور کیمیکلز سے براہِ راست تبادلہ ہو سکے۔ تیسرا‘ سرحد پر منظم اکنامک زونز اور قانونی بارڈر مارکیٹس کا قیام‘ جو بلوچستان اور سیستان میں غیردستاویزی معیشت کو ختم کر کے مقامی آبادی کو سپلائی چین کا حصہ بنائیں۔ مشرقِ وسطیٰ کے نئے منظر نامے نے اسلام آباد اور تہران کو اپنی جغرافیائی قربت کو تزویراتی معاشی بلاک میں تبدیل کرنے کا بہترین موقع فراہم کیا ہے۔ بحران کے دوران پاکستان کی متوازن اور اصولی سفارتکاری نے جو سیاسی و سٹرٹیجک سرمایہ پیدا کیا تھا‘ اب اسے طویل المیعاد معاشی شراکت داری میں تبدیل کرنے کا وقت ہے۔ کراچی پورٹ پر موجود تجارتی کارگو کی سمارٹ اور محفوظ منتقلی اس جیو اکنامک سفر کا اہم ترین عملی قدم ہو گی‘ جو عالمی سطح پر پاک ایران تعلقات کو عملاً جیو اکنامکس میں منتقل کر دے گی۔ اس مشترکہ فریم ورک پر تیز رفتار اور نتیجہ خیز عملدرآمد پاک ایران سٹرٹیجک گٹھ جوڑ کو مستقبل کے بین العلاقائی تجارتی کوریڈورز کیلئے ایک ناگزیر محور بنا سکتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/222_48272610.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>چپکی ہوئی سوچ کے ہاتھوں شکست(عمران یعقوب خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-06-28/52199/96758363</link><pubDate>Sun, 28 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-06-28/52199/96758363</guid><description>کچھ معاملات‘ کچھ ایشوز‘ کچھ باتیں اور کچھ بیانات ایسے ہوتے ہیں جو کسی گوند کی طرح دماغ کے ساتھ چپک بلکہ چمٹ جاتے ہیں اور پھر وہاں سے الگ ہونے کا نام نہیں لیتے۔ لاکھ کوشش کریں کہ ان سے کسی طرح جان چھوٹ جائے اور ذہن کو دوسرے معاملات کی طرف لگایا جا سکے لیکن اس میں کامیابی نہیں ملتی۔ معمولاتِ زندگی میں کھو کر اگر ان چپکی ہوئی باتوں سے کچھ وقت کیلئے دھیان بٹ بھی جائے تو جونہی بندہ ان مصروفیات سے نکلتا ہے دماغ کے ساتھ چپکی ہوئی باتیں پھر سے آن وارد ہوتی ہیں اور کچوکے لگانا شروع کر دیتی ہیں۔ کچھ باتوں کے دل و دماغ کے ساتھ چپک اور چمٹ جانے کی واحد وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ باتیں‘ وہ ایشوز‘ وہ معاملات اور وہ بیانات معمول کے مطابق نہیں ہوتے بلکہ غیر معمولی ہوتے ہیں‘ قدرے مافوق الفطرت۔ یہ زمینی حقائق کو پیشِ نظر رکھ کر بولے گئے جملے نہیں ہوتے بلکہ جو کچھ کہا گیا ہوتا ہے اس کا حقیقت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ یہ فقط جھوٹ کو سچ کے پردے میں چھپانے اور دوسروں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش ہوتی ہے۔ دن کی روشنی کو اندھیرا ثابت کرنے اور رات کی تاریکی کو روشن صبح ظاہر کرنے کی ایک ضد‘ جسے کوئی بھی ذی شعور قبول نہیں کر سکتا۔ چند روز پہلے دیا گیا ایک بیان میرے بھی دل و دماغ کے ساتھ چمٹ چکا ہے اور ہر طرح کی کوشش کرنے کے باوجود میں اب تک اس سے اپنی جان نہیں چھڑا سکا۔ میرا ضمیر بار بار مجھے کچوکے لگا رہا ہے کہ تم جانتے ہو کہ جو کچھ کہا گیا ہے اس کا حقیقت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تو پھر تم بولتے کیوں نہیں؟ بات کیوں نہیں کرتے؟ احتجاج کیوں نہیں کرتے؟ حقائق کو اجاگر کیوں نہیں کرتے؟ میں نے بہت کوشش کی کہ اس سوچ سے کسی طرح دامن بچا کر نکل سکوں لیکن کامیاب نہیں ہو سکا‘ اس لیے آج میں نے اس چپکی ہوئی سوچ کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں اور یہ کالم لکھنے بیٹھ گیا۔وہ بیان جس کا میں ذکر کر رہا ہوں وفاقی وزیر احسن اقبال صاحب نے دیا ہے۔ فرمایا: جو شخص8401 روپے ماہانہ کماتا ہے وہ غریب نہیں ہے جبکہ صرف وہ شخص غریب ہے جو 8400 روپے ماہانہ کماتا ہے۔ اقتصادی سروے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ماہانہ 8483 روپے کمانے والا شہری غربت کی لکیر سے اوپر شمار کیا جاتا ہے‘ جو ماہانہ 30.5 امریکی ڈالر کے مساوی ہے۔ سروے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مہنگائی اور معاشی دباؤ کے باعث لاکھوں افراد دوبارہ غربت کی طرف دھکیل دیے گئے ہیں جبکہ عدم مساوات میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ پہلے میں نے سوچا کہ شاید یہ بات مذاق میں کی گئی لیکن پھر پتا چلا کہ معاملہ سنجیدہ ہے۔ کیا لوگوں کو حقائق کا علم نہیں یا پھر جان بوجھ کر ایسی باتیں کی جاتی ہیں تاکہ خود کو ٹھیک اور دوسروں کو غلط ثابت کیا جا سکے؟ حقائق کیا ہیں‘ آئیے میڈیا رپورٹس سے جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔حالیہ جاری کردہ اقتصادی سروے رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان کے شہری علاقوں میں غربت 11سے بڑھ کر 17.4اور دیہی علاقوں میں 28.2سے بڑھ کر 36.2فیصد ہو گئی ہے جبکہ ایک سال کے دوران مزید آٹھ لاکھ شہری بیرونِ ملک چلے گئے۔ یہ تو اپنے حکمرانوں کا خیال ہے۔ غربت کے خاتمے کے عالمی دن پر اقوام متحدہ ڈویلپمنٹ پروگرام اور آکسفورڈ پاورٹی اینڈ ہیومن ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو کی غربت انڈیکس رپورٹ کے مطابق دنیا میں غربت کی شرح میں خطرناک اضافہ ہوا ہے‘ دنیا میں ایک ارب دس کروڑ افراد غربت کا شکار ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 47 فیصد افراد خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں‘ اس کے بعد ایتھوپیا‘ نائیجیریا اور جمہوریہ کانگو کا نمبر آتا ہے۔ عالمی بینک نے حال ہی میں غربت کی پیمائش کے عالمی معیارات کو تبدیل کیا ہے جس کے مطابق پاکستان کی کم و بیش 44.7 فیصد آبادی‘ جو تقریباً 10کروڑ 80 لاکھ افراد بنتی ہے‘ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ گلوبل ہنگر انڈیکس 2025ء کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کا بھوک کا درجہ تشویشناک (سیریس) قرار دیا گیا ہے۔ پاکستان اس انڈیکس میں 123 ممالک میں سے 106ویں نمبر پر ہے۔ ڈبلیو ایف پی اور دیگر عالمی اداروں کی رپورٹس میں پاکستان میں غذائی عدم تحفظ کے سنگین خطرات کی نشاندہی کی گئی ہے‘ جہاں ایک بڑی آبادی اپنی بنیادی غذائی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہے۔ پاکستان میں پانچ سال سے کم عمر کے بچوں میں غذائی قلت کی شرح انتہائی تشویشناک حد تک زیادہ ہے‘ جو طویل مدتی غذائی کمی کا نتیجہ ہے۔ ورلڈ بینک کی سوچ سب سے مختلف ہے۔ اس کے مطابق پاکستان میں جو شخص مہینے میں 35 ہزار سے کم کمائی کرتا ہے وہ غریب ہے جبکہ پاکستان کے اربابِ اختیار کہتے ہیں جو شخص مہینے بھر میں 8500 روپے کماتا ہے وہ امیر ہے جبکہ 8480 روپے ماہوار سے کم کمانے والا غریب ہے۔غربت کی پیمائش کا معیار کم از کم ضروری اخراجات پورے کرنے کی صلاحیت کو قرار دیا گیا ہے۔ کیا یہ معیار غربت کو ناپنے کے لیے کافی اور مناسب ہے؟ جو لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ پاکستان میں آٹھ‘ نو ہزار روپے ماہانہ کمانے والا غریب نہیں ہے ان سے یہ عرض کی جانی چاہیے کہ وہ نو ہزار روپے میں تین یا چار افراد پر مشتمل گھرانے کا بجٹ بنا کر دکھا دیں۔ آٹھ نو ہزار روپے میں تو مہینے بھر کی کھانے پینے کی چیزیں ہی پوری نہیں ہوں گی۔ اندازہ اس بات سے لگائیں کہ پاکستان میں سادہ روٹی 20 روپے اور نان 30 روپے کا مل رہا ہے۔ ایک مزدور اگر 1200 روپے کی دیہاڑی لگاتا ہے تو وہ دوپہر کو دو نان بھی کھائے تو اسے ایک سالن کی پلیٹ کے ساتھ وہ کھانا ڈھائی سو روپے میں پڑے گا۔ باقی 900 روپے میں وہ اپنے گھر کے باقی تین افراد کے کھانے کا بندوبست کرے گا تو پہنے گا کہاں سے اور دوسری ضروریات کہاں سے پوری کرے گا۔ نو ہزار روپے ماہانہ کا مطلب ہے روزانہ 300 روپے۔ آٹا 130 روپے کلو مل رہا ہے۔ تین یا چار افراد دو وقت دو دو روٹیاں بھی کھائیں تو آٹھ روٹیاں بنتی ہیں۔ اس کے لیے کم از کم ایک کلو آٹا درکار ہو گا۔ اب یہاں پہ سستی سے سستی سبزی بھی پچاس ساٹھ روپے کلو مل رہی ہے تو ایک کلو سبزی اگر 50 روپے کی ملے تو اس کے دوسرے لوازمات پورے کرنے کے لیے کم از کم 100 روپے مزید درکار ہیں۔ یہ ڈیڑھ سو روپے ہو گئے یعنی ٹوٹل 280 روپے‘ باقی 20 روپے بچ جائیں گے تو اس سے وہ کیا خریدے گا اور کیا پہنے گا اور کیسے دوسری ضروریات پوری کرے گا؟ بیانات دینے والوں نے شاید اس بارے میں نہیں سوچا اور ان کے خیال میں بندہ بس دو وقت کی روٹی کھا لے اور زندہ رہے تو یہی اس کے لیے امیر ہونے کی سب سے بڑی نشانی ہے۔ اس طرح جو بندہ 15 ہزار روپے مہینے کا کما رہا ہے یا 20 یا 30 ہزار روپے کما رہا ہے وہ تو دنیا کے امیر ترین لوگوں میں شامل ہو جائے گا۔ میرے خیال میں یہی سوچ ہے جو حکمرانوں کو بار بار غریب عوام کے استعمال کی چیزوں اور توانائی کے ذرائع پر ٹیکس اور لیویز بڑھانے پر آمادہ کرتی ہے۔ اس سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ اس وقت عوام بہت زیادہ تکلیف میں ہیں۔ آج کے زمانے میں نو ہزار روپے تو کیا نوے ہزار روپے میں بھی گزارہ کرنا مشکل ہے۔ عوام کو طفل تسلیاں نہ دیں‘ انہیں جینے کا حق دیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_58350786.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پاکستان کی معاشی ترقی کا نیا دروازہ(محمد عبداللہ حمید گل)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-abdullah-hameed-gull/2026-06-28/52200/88660126</link><pubDate>Sun, 28 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-abdullah-hameed-gull/2026-06-28/52200/88660126</guid><description>گزشتہ کئی برسوں سے پاکستان کی معیشت ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں توانائی کا بحران‘ زرِمبادلہ کی کمی‘ بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ اور سست معاشی نمو ایک دوسرے سے منسلک مسائل بن چکے ہیں۔ تاہم پاکستان کی تزویراتی‘سفارتی وعسکری کامیابیوں اور ایران امریکہ کشیدگی کے خاتمے اور امن عمل کی کاوشوں نے اس نازک موڑ کو ترقی وخوشحالی کی جانب موڑ دیا ہے۔ امریکہ سے جنگ بندی اور ایران پر امریکی معاشی قدغنوں میں نرمی کے بعد ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا ایک روزہ دورۂ اسلام آباد نہایت اہمیت کا حامل ہے اور یہ دونوں ملکوں کے ہزاروں برس پر محیط اسلامی‘ تاریخی اور ثقافتی وتہذیبی تعلقات میں ایک نئے روشن باب کا آغاز ہے۔ پاکستان نے ایرانی صدر کے فقید المثال استقبال سے دنیا کو بتا دیا کہ پاکستان اور ایران محض ہمسایہ ممالک نہیں بلکہ اسلامی بھائی چارے کی اعلیٰ مثال اور &#39;یک جان دو قالب‘ ہیں۔ ایرانی صدر کے ایک روزہ دورے کا مقصد امریکہ ایران معاہدے اور خطے میں امن کے قیام کیلئے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کاوشوں کو خراجِ تحسین پیش کرنا اور ایرانی عوام کی جانب سے اظہارِ تشکر تھا۔ ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے اس موقع پر ایک مضبوط مسلم بلاک کے قیام پر بھی زور دیا۔ پاک ایران برادرانہ تزویراتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور علاقائی امن واستحکام کے فروغ کے علاوہ مختلف شعبوں میں دو طرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا بھی اعادہ کیا گیا جو خوش آئند ہے۔اس میں کوئی دو آرا نہیں کہ اسرائیل اور امریکہ سے جنگ کے دوران ایران کو اپنے مخلص دوستوں اور دشمنوں کا بخوبی ادراک ہو چکا ہے۔ ایرانی صدر کا دورہ محض رسمی دورہ نہیں تھا بلکہ سٹرٹیجک سلسلے کی اہم کڑی ہے۔ اگر ایران اور امریکہ کے درمیان جاری سفارتی پیشرفت مستقل شکل اختیار کرتی ہے اور ایران پر عائد امریکی معاشی پابندیوں میں مزید نرمی آتی ہے تو پاکستان کیلئے ایسا سنہری معاشی موقع جنم لے سکتا ہے جو گزشتہ کئی دہائیوں کا سب سے بڑا موقع ہو سکتا ہے۔ امریکہ کی جانب سے ایران کی تیل اور پیٹرو کیمیکل مصنوعات کی عالمی منڈی میں فروخت سے متعلق بعض پابندیوں میں وقتی نرمی اور کچھ منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی نے اس امکان کو تقویت دی ہے کہ خطے میں معاشی سرگرمیاں ایک نئی سمت اختیار کر سکتی ہیں۔ اگر یہ عمل آگے بڑھتا ہے تو پاکستان اور ایران کے مابین 900کلومیٹر طویل سرحد محض جغرافیائی حد بندی نہیں رہے گی بلکہ معاشی تقدیر بدلنے کی علاقائی شاہراہ ثابت ہو گی۔ بدقسمتی سے یہ سرحد کئی برسوں سے غیر قانونی تجارت اور سمگلنگ کا گڑھ بنی رہی ہے۔ مختلف اندازوں کے مطابق ایران سے سالانہ 1.2ارب ڈالر مالیت کا پٹرول‘ ڈیزل اور دیگر پٹرولیم مصنوعات غیر قانونی راستوں سے پاکستان پہنچتی ہیں‘ دیگر اشیا کی سمگلنگ اس کے علاوہ ہے‘ جس سے نہ صرف قومی خزانے کو تقریباً سالانہ 820 ملین ڈالر کا نقصان پہنچتا ہے بلکہ قانونی کاروبار بھی متاثر ہوتا ہے۔ اب ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی کے نتیجے میں پاک ایران سرحد پر قانونی تجارت کے امکانات روشن ہوئے ہیں‘ جس سے حکومت کو محصولات حاصل ہونے کے ساتھ ساتھ سمگلنگ اور غیر قانونی تجارت کی بھی حوصلہ شکنی ہوگی اور توانائی کی رسد زیادہ مستحکم ہو سکے گی۔ایران نہ صرف پاکستان کا برادر اسلامی ہمسایہ ملک ہے‘ بلکہ یہ تیل کے ذخائر رکھنے والے ممالک میں دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے‘ قدرتی گیس کے ذخائر میں روس کے بعد یہ دوسرے نمبر پر ہے۔ اسے وطن عزیز کی بدقسمتی ہی کہا جا سکتا ہے کہ توانائی کی اتنی بڑی دولت سرحد سے متصل ہونے کے باوجود ہم اپنی توانائی کی ضروریات کیلئے مہنگی عالمی منڈی پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر کیوں؟ اب اگر امریکی پابندیوں میں مستقل نرمی آتی ہے تو خام تیل‘ پٹرول‘ ڈیزل‘ ایل پی جی اور دیگر پیٹرو کیمیکل مصنوعات کی قانونی درآمد میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔ اس کے ساتھ پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کی تکمیل پاکستان کی توانائی کی حکمت عملی میں بنیادی تبدیلی لا سکتی ہے۔ اس منصوبے کے فعال ہونے سے مہنگی ایل این جی کی درآمد پر انحصار کم ہو گا‘ نیفتھا (Naphtha)‘ ایتھین اور دیگر پیٹرو کیمیکل کی تجارت کئی ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ صرف توانائی سے متعلق باہمی تجارت ہی سالانہ 9 سے 14 ارب ڈالر تک جا سکتی ہے۔ اس طرح بجلی کی پیداواری لاگت میں کمی آئے گی اور صنعتی شعبے کو سستی توانائی دستیاب ہو سکے گی۔ اگر ریفائنڈ فیول کی ترسیل کیلئے جدید پائپ لائنیں تعمیر کی جائیں تو نقل وحمل کے اخراجات کم ہوں گے‘ سپلائی چین بہتر ہو گی اور درآمدی نقصانات میں بھی کمی آئے گی۔ دوسری جانب گوادر بندرگاہ کو اگر ایرانی توانائی کے ذخیرہ‘ پراسیسنگ اور ٹرانزٹ مرکز کے طور پر ترقی دی جائے تو پاکستان نہ صرف اپنی جغرافیائی اہمیت سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتا ہے بلکہ چین‘ وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے مابین توانائی کی تجارت کا ایک اہم مرکز بھی بن سکتا ہے۔صرف توانائی ہی نہیں بلکہ پیٹرو کیمیکل صنعت بھی پاکستان کیلئے غیر معمولی امکانات رکھتی ہے۔ سستی ایرانی گیس اور خام مال کی بنیاد پر کھاد‘ پلاسٹک‘ پولیمر اور دیگر صنعتی مصنوعات تیار کی جا سکتی ہیں‘ جس سے درآمدات میں کمی اور برآمدات میں اضافہ ممکن ہو سکتا ہے۔ یوں پاکستان اپنی صنعتی بنیاد کو مضبوط بنا سکتا ہے۔ معاشی ماہرین کے جائزوں کے مطابق اگر یہ تمام مواقع مؤثر منصوبہ بندی کے ساتھ بروئے کار لائے جائیں تو پاکستان کو سالانہ 23سے 36ارب ڈالر تک کا مجموعی معاشی فائدہ حاصل ہو سکتا ہے۔ اگرچہ یہ اعداد وشمار مختلف مفروضوں پر مبنی ہیں‘ تاہم اس میں کوئی شبہ نہیں کہ قانونی توانائی تجارت‘ گیس درآمدات‘ ٹرانزٹ فیس اور صنعتی ترقی پاکستان کیلئے غیر معمولی معاشی امکانات پیدا کر سکتی ہیں۔ تاہم اس راستے میں چیلنجز بھی کم نہیں۔ بین الاقوامی پابندیوں کا مستقبل اب بھی غیر یقینی ہے‘ امریکی خارجہ پالیسی میں تبدیلی کسی بھی وقت صورتحال کو بدل سکتی ہے‘ جبکہ پاکستان کے اندر پالیسیوں کا عدم تسلسل‘ ادارہ جاتی پیچیدگیاں اور سرمایہ کاروں کا کمزور اعتماد بھی بڑی رکاوٹیں ہیں۔ اس لیے صرف سفارتی پیشرفت کافی نہیں بلکہ پاکستان کو داخلی سطح پر بھی تیز رفتار اور مربوط اصلاحات کرنا ہوں گی۔ حکومت کو چاہیے کہ توانائی کے منصوبوں کیلئے واضح حکومتی ضمانتیں فراہم کرے‘ سرمایہ کاروں کیلئے سنگل وِنڈو سسٹم قائم کرے‘ پائپ لائنوں‘ ریفائنریوں اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں پر پیشگی تیاری کرے اور گوادر کو ایک حقیقی علاقائی توانائی مرکز بنانے کیلئے جامع حکمت عملی اختیار کرے۔ پاکستان کا اصل مسئلہ پیسے کی کمی نہیں بلکہ ڈالر کی قلت ہے۔ اگر توانائی کی درآمدات پر ہونے والے اربوں ڈالر کے اخراجات میں نمایاں کمی آتی ہے تو اس کا براہِ راست اثر زرِمبادلہ کے ذخائر‘ روپے کے استحکام اور مجموعی معاشی صورتحال پر پڑے گا۔ آنے والے مہینے اس حوالے سے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگر ایران پر پابندیوں میں مستقل نرمی آتی ہے اور پاکستان بروقت اور دانشمندانہ فیصلے کرتا ہے تو سالانہ 23 سے 36 ارب ڈالر کا ممکنہ فائدہ‘ جو پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار کے تقریباً آٹھ فیصد کے برابر ہے‘ صرف ایک تجارتی ہندسہ نہیں بلکہ ایک معاشی انقلاب کی نوید بن سکتا ہے۔ پھر 900 کلومیٹر طویل پاک ایران سرحد محض ایک جغرافیائی لکیر نہیں رہے گی بلکہ پاکستان کی معاشی بحالی اور علاقائی اقتصادی استحکام کی بنیاد بن سکتی ہے۔ تاہم اگر اب بھی ہم تاخیر‘ غیر یقینی پالیسیوں اور انتظامی کوتاہیوں کا شکار ہوئے تو یہ سنہری موقع بھی ماضی کے کئی ضائع شدہ مواقع کی طرح ہاتھ سے نکل سکتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_62843609.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>