<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>موسمیاتی تغیرات اور ہماری ذمہ داری(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-03/11327</link><pubDate>Fri, 03 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-03/11327</guid><description>ملک میں مون سون کا ابھی آغاز ہی ہوا ہے کہ بارشوں سے جانی و مالی نقصانات کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے۔ قدرتی آفات سے نمٹنے والے وفاقی ادارے (این ڈی ایم اے) کے مطابق گزشتہ دو دنوں کے دوران بارشوں اور متعلقہ حادثات میں 16افراد جاں بحق جبکہ 38 زخمی ہو چکے ہیں۔ یہ المیہ کوئی پہلی بار رونما نہیں ہوا بلکہ گزشتہ سال بھی مون سون کے دوران ایک ہزار سے زائد افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے اور ہزاروں زخمی ہوئے تھے۔ ہر گزرتے سال کے ساتھ نقصان کی یہ داستان طویل سے طویل تر ہوتی جا رہی ہے لیکن پیشگی انتظامی تیاریوں میں وہ سدھار نظر نہیں آ رہا جو آنا چاہیے تھا۔ این ڈی ایم اے مسلسل کئی ہفتوں سے خبردار کر رہا ہے کہ اس سیزن میں معمول سے کہیں زیادہ شدید اور غیر متوقع بارشوں کا امکان ہے مگر ان پیش گوئیوں کے باوجود ہمارے شہروں اور دیہات میں حفاظتی انتظامات ناقص اور ادھورے ہیں۔ ندی نالوں کی صفائی‘ نکاسیِ آب کے نظام کی بحالی اور خطرناک عمارتوں کی نشاندہی جیسے بنیادی کام ہمیشہ کی طرح اس بار بھی نامکمل ہیں۔ نتیجہ ہمارے سامنے ہے کہ کئی شہروں میں پہلی بارش کے ساتھ ہی سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں اور بجلی کا نظام درہم برہم ہو گیا۔ اب تک زیادہ اموات چھتیں گرنے سے ہوئی ہیں۔ دنیا بھر میں حالیہ عرصے کے دوران شدید گرمی کی لہر اور موسمیاتی تبدیلیوں کے واضح مظاہر ہمیں بہت کچھ سوچنے کی دعوت دے رہے ہیں۔ یہ بات اب وضاحت طلب نہیں رہی کہ زمین کا درجہ حرارت مسلسل بڑھ رہا ہے‘ گلیشیرز پگھل رہے ہیں اور موسموں کا پیٹرن تبدیل اور غیر متوقع ہو چکا ہے۔

شدید گرمی اور اسکے بعد طوفانی بارشیں دراصل قدرت کا ایک واضح پیغام ہیں کہ صدیوں سے انسان نے ماحول کیساتھ جو کھلواڑ کیا ہے اب اس کا خمیازہ بھگتنے کا وقت آ گیا ہے۔ پاکستان عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم کا حصہ دار ہے لیکن موسمیاتی تبدیلیوں کے نقصانات کا سامنا کرنیوالے ممالک کی فہرست میں اولین نمبروں پر ہے۔ یہ ایسی تلخ حقیقت ہے جس سے اب نظریں نہیں چرائی جا سکتیں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ عالمی سطح پر رونما ہونیوالی موسمیاتی تبدیلیاں براہِ راست ہم پر‘ ہماری معاشرت اور معیشت پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ردعمل کی روایتی نفسیات سے باہر نکلیں اور پیشگی انتظامات اور انسدادی حکمتِ عملی کو یقینی بنائیں۔ قدرتی آفات کا ترقی یافتہ ممالک کو بھی سامنا رہتا ہے مگر وہ اپنے پیشگی اقدامات کے ذریعے جانی و مالی نقصان کو صفر کے قریب لے آتے ہیں۔ جب تک ہم مون سون کے آغاز سے مہینوں قبل ہی ہنگامی منصوبے تیار نہیں کریں گے تب تک بارش سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات ہمارا مقدر بنے رہیں گے۔ یہ بات اب پتھر پر لکیر کی طرح واضح ہو چکی کہ موسم کا اب یہی پیٹرن رہے گا اور بارشوں میں اسی طرح کی شدت رہے گی بلکہ وقت کے ساتھ اس میں مزید اضافہ ہوگا۔ یہ موسمیاتی تبدیلیاں عارضی مرحلہ نہیں بلکہ یہ ایک نیا معمول ہیں۔ اس صورتحال کا مقابلہ کرنے کیلئے ہمیں نہ صرف حکومتی سطح پر بلکہ انفرادی طور پر بھی اپنا طرزِ عمل تبدیل کرنا ہوگا۔ تعمیراتی قوانین پر سختی سے عملدرآمد کرانا ہوگا تاکہ ندی نالوں پر تجاوزات کا خاتمہ ہو سکے اور پانی کے قدرتی بہاؤ میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔ شہریوں کو شجرکاری مہم کا حصہ بننا ہوگا‘ تاکہ درخت آبی ریلوں کیخلاف ایک قدرتی ڈھال کا کام کریں۔ ہمارے شہروں کا بنیادی ڈھانچہ شدید موسم کا بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں ہے‘ اس میں فوری اور انقلابی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ حکومت‘ سول سوسائٹی اور عوام کو مل کر ایک جامع اور طویل مدتی منصوبہ بندی کرنا ہو گی۔ اگر ہم نے اب بھی اپنے طرزِ عمل‘ ترجیحات اور طرزِ زندگی کو تبدیل نہ کیا، تو آنے والے سالوں میں مون سون ہمارے لیے مزید ہولناک تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پاور سیکٹر کا گردشی قرض(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-03/11326</link><pubDate>Fri, 03 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-03/11326</guid><description>مالی سال 2025-26ء کے ابتدائی دس ماہ کے دوران پاور سیکٹر کے گردشی قرضے میں 240 ارب روپے کا اضافہ ہوا‘ جس کے بعد بجلی شعبے کا مجموعی گردشی قرضہ 1854 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ حکومت نے گزشتہ برس ستمبر میں بینکوں سے قرض لے کر پاور سیکٹر کا تقریباً 780ارب گردشی قرضہ ادا کیا تھا‘ جس سے اس شعبے کا مجموعی گردشی قرض کم ہو کر 1614ارب روپے پر آ گیا مگر اب پھر اس میں اضافہ جاری ہے۔گردشی قرض دراصل اس وقت پیدا ہوتا ہے جب بجلی پیدا کرنے‘ ترسیل اور تقسیم کے پورے نظام میں مالی ادائیگیوں کا سلسلہ متاثر ہوتا ہے۔ بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں صارفین سے مکمل رقوم وصول نہیں کر پاتیں‘ بجلی چوری‘ لائن لاسز اور ناقص ریکوری کے باعث ان کے مالی خسارے بڑھتے ہیں‘جس کے نتیجے میں وہ بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کو بروقت ادائیگی نہیں کرتیں۔

یہ کمپنیاں آگے ایندھن فراہم کرنے والے اداروں کی واجبات ادا نہیں کر پاتیں اور یوں ایک ادارے سے دوسرے ادارے تک ادائیگیوں کا یہ تعطل گردشی قرض کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ حکومت کو توانائی کے شعبے میں حقیقی اور دیرپا اصلاحات پر توجہ دینی چاہیے۔ بجلی چوری کے خاتمے‘ ترسیلی نظام کی بہتری‘ بلوں کی مؤثر وصولی اور شفاف گورننس کے بغیر گردشی قرضے کے مسئلے کا مستقل حل ممکن نہیں۔ اگر بروقت اور مؤثر اصلاحات نہ کی گئیں تو گردشی قرضہ مزید بڑھتا رہے گا‘ قومی خزانے پر بوجھ میں اضافہ ہوگا اور عوام کو سستی اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی کا ہدف محض ایک دعویٰ بن کر رہ جائے گا۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ایل پی جی ریلیف؟(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-03/11325</link><pubDate>Fri, 03 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-03/11325</guid><description>اوگرا نے جولائی کیلئے ایل پی جی کی قیمت میں 68روپے فی کلو کمی کا اعلان کرتے ہوئے نئی سرکاری قیمت 241 روپے 43 پیسے فی کلو مقرر کی ہے۔ اس اقدام کا مقصد مہنگائی کے بوجھ تلے دبے عوام کو ریلیف فراہم کرنا ہے ‘ لیکن محض قیمتوں میں کمی کا نوٹیفکیشن جاری کر دینا کافی نہیں‘اصل چیلنج اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ قیمت میں کمی کے ثمرات صارفین تک بھی پہنچیں۔ اگر سرکاری نرخ صرف کاغذوں تک محدود رہیں اور بازار میں من مانی قیمتیں وصول کی جاتی رہیں تو ایسے اعلانات عوام کیلئے کسی عملی فائدے کے بجائے محض رسمی کارروائی بن کر رہ جاتے ہیں۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران ملک بھر میں ایل پی جی کی قیمتوں نے عوام کو شدید مالی مشکلات سے دوچار کیے رکھا۔ جون میں‘ جب سرکاری قیمت 308 روپے فی کلو مقرر تھی‘ مختلف شہروں میں ایل پی جی 450 سے 500 روپے فی کلو تک فروخت ہوتی رہی۔

اب جبکہ اوگرا نے قیمت میں بڑی کمی کر دی ہے‘ اس وقت بھی بیشتر علاقوں میں صارفین کو ایل پی جی 380 سے 400 روپے فی کلو تک فروخت کی جا رہی ہے۔ حکومت کو یقینی بنانا ہوگا کہ سرکاری نرخ بازار میں بھی نافذ العمل ہوں۔اس ضمن میں سپلائی چین کے ہر مرحلے کی نگرانی‘ پلانٹس‘ ڈسٹری بیوٹرز اور ریٹیلرز کا جامع آڈٹ‘ قیمتوں کی مانیٹرنگ اور خلاف ورزی کرنیوالوں پر بھاری جرمانے اور لائسنس معطل کرنے جیسے اقدامات ناگزیر ہیں۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>خسارہ 800 ارب ہونے تک کا انتظار(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-07-03/52225/11126008</link><pubDate>Fri, 03 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-07-03/52225/11126008</guid><description>بعض دفعہ کوئی ایک فیصلہ سینکڑوں ارب روپے کا نقصان کرا سکتا ہے‘ جس کی قیمت پوری قوم قسطوں میں‘ سود کے ساتھ برسوں تک ادا کرتی رہتی ہے۔ یہی کچھ اس قوم کے ساتھ ہوا ہے۔ پی آئی اے کی نجکاری کے پیچھے ایک ہوشربا کہانی ہے۔ رواں ہفتے کے شروع میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے اجلاس میں وزیر دفاع خواجہ آصف اور سیکرٹری دفاع پی آئی اے کی حالیہ فروخت کے بارے میں کمیٹی کے ممبران کو بریف کر رہے تھے۔ اجلاس کی صدارت سینیٹر طلحہ محمود کر رہے تھے۔ اگرچہ ایجنڈے پر دیگر اہم ایشوز بھی تھے لیکن پی آئی اے پر بھی بات ہو رہی تھی۔ جو انکشافات خواجہ آصف نے کیے وہ سن کر میں انہیں ہضم کرنے کی کوششوں میں مصروف تھا کہ معلوم ہوا پی آئی اے اس سے پہلے اس لیے نہ بک سکی کہ اس بات پر لڑائی ہو گئی کہ اس کا نیا ہیڈکوارٹر کس شہر میں ہوگا‘ لاہور میں یا کراچی میں۔میری بات نواز شریف دور کے وزیر نجکاری محمد زبیر سے ہوئی تو ان کی گفتگو نے کانوں سے دھواں نکال دیا۔ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کس کی بات پر یقین کروں کیونکہ خواجہ آصف اور محمد زبیر دونوں نواز شریف کابینہ میں وزیر اور آپس میں کولیگ رہے ہیں اور اب پی آئی اے کے بارے میں دونوں مختلف باتیں بتا رہے تھے۔ محمد زبیر کا کہنا تھا کہ لاہور اور کراچی کا کبھی مسئلہ نہیں رہا‘ پتا نہیں خواجہ صاحب کے ذہن میں یہ بات کہاں سے آئی۔ 2015-16ء میں پی آئی اے کی فروخت کا معاملہ شروع ہوا۔ نواز شریف ذاتی دلچسپی لے رہے تھے تاکہ اس کا جو خسارہ اُس وقت دو سو ارب روپے تک پہنچ چکا تھا‘ اس سے جان چھڑائی جائے۔ خواجہ آصف اور محمد زبیر کی گفتگو کہیں یا انکشافات‘ نے مجھے اس لیے بھی ڈسٹرب کیا کہ دونوں ماضی میں وزیر نجکاری رہ چکے ہیں۔ خواجہ آصف 1997ء کی نواز شریف کابینہ میں وزیر نجکاری تھے اور حکومتی کی جبری رخصتی کے بعد نیب کی قید میں بھی رہے۔ بعد میں جب میں نیب کے چیئرمین جنرل (ر) محمد امجد سے ملا تھا تو انہوں نے تسلیم کیا کہ خواجہ آصف کو غلط گرفتار کیا گیا تھا‘ ان پر کوئی الزامات نہیں تھے بلکہ نیب نے اس زیادتی پر خواجہ صاحب سے معذرت بھی کی تھی۔ بہرحال خواجہ صاحب نے کمیٹی اجلاس میں انکشاف کیا کہ پی آئی اے کا نقصان 800 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے‘ جو 2016ء میں 200 ارب روپے تھا۔ تب پی آئی اے اپنے نقصان سمیت بیچی جا رہی تھی لیکن اچانک یہ مسئلہ پیدا ہو گیا کہ پی آئی اے کا ہیڈ آفس کراچی میں ہوگا یا لاہور میں۔ خواجہ آصف نے بتایا تو نہیں کہ ایئرلائن کس پارٹی نے خریدنی تھی جو اسے لاہور شفٹ کرنا چاہتی تھی‘ جس پر اعتراض ہوا اور اتنا سخت اعتراض ہوا کہ ڈیل پوری ہی نہ ہو سکی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ آج دس سال بعد جب پی آئی اے کو بیچا گیا ہے تو اس کا نقصان دو سو ارب روپے سے بڑھ کر 800 ارب روپے ہو چکا ہے۔ مطلب لاہور یا کراچی میں دفتر کے ایشو پر قوم کو چھ سو ارب روپے کا اضافی نقصان ہوا‘ اور اب قوم کوہر سال اس پر ستر سے اسی ارب روپے سود بینکوں کو ادا کرتے رہنا ہے کیونکہ نئی انتظامیہ یہ بوجھ نہیں اٹھائے گی۔یہ کافی حیرت انگیزبات تھی جو خواجہ صاحب نے بتائی‘ کہ محض کراچی‘ لاہور کے ایشو پر چھ سو ارب روپے کا مزید نقصان ہو گیا۔ شاید کراچی کے دوست اس بات پر اَپ سیٹ ہوں گے کہ پہلے دارالحکومت اسلام آباد لے گئے‘ پھر دیگر اہم محکموں کے ہیڈکوارٹر کراچی سے کیپٹل سٹی شفٹ ہو گئے‘ جس سے یقینا وہاں مقامی افراد کو نوکریوں کا مسئلہ ہوا۔ اب اگر پی آئی اے کا ہیڈ آفس بھی کراچی سے لاہور منتقل ہو جاتا تو بہت سارے لوگ نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے۔ کراچی میں اس معاملے میں کافی حساسیت پائی جاتی ہے۔ خیر‘ بقول خواجہ صاحب اس جھگڑے کی وجہ سے نجکاری بیچ میں ہی رہ گئی۔ جو خسارہ دو سو ارب روپے تھا‘ اب آٹھ سو ارب روپے تک پہنچ گیا۔ نوٹ کریں کہ دو سو ارب روپے ہوں یا آٹھ سو ارب روپے‘ یوں لگتا ہے کہ جیسے فیصلہ سازوں کے نزدیک یہ دو ہزار روپے یا آٹھ ہزار روپے تھے کہ خیر ہے‘ یہ کون سی اتنی بڑی رقم ہے۔ یہ الگ بات کہ بینکوں سے مسلسل قرضے لے کر تنخواہیں دینے والے ملک نے بجٹ ڈاکیومنٹ کے مطابق اس سال آٹھ ہزار ارب روپے قرضوں پر سود ادا کرنا ہے۔ حکومت کیلئے بینکوں سے قرضہ لینا تو کوئی مسئلہ نہیں۔ بینکوں کو اب عام لوگوں کو قرض دینے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی کیونکہ ان کا کلائنٹ عام آدمی نہیں‘ حکومت ہے‘ جو ہر روز قرض لیتی ہے‘ وہ بھی بھاری سود کے ساتھ۔آپ نے نوٹ کیا ہو گا کہ وزارتِ خزانہ کو اب ماہرِ معیشت کے بجائے زیادہ تر بینکرز چلاتے ہیں۔ سب حیران ہوتے ہیں کہ ایک بینکر کا بھلا وزارتِ خزانہ سے کیا کام؟ ان کا کام ایک ہی ہے کہ وہ بینکوں سے اپنے تعلقات استعمال کر کے فوراً قرضوں کا بندوبست کرتے رہیں۔ شوکت عزیز سے شوکت ترین اور اب محمد اورنگزیب تک‘ سب بینکرز ہیں۔ وزیر خزانہ روز نئے قرضوں کی دستاویزات پر دستخط کر رہے ہوتے ہیں اور ان قرضوں پر بھاری سود دینے کیلئے ایف بی آر روزانہ ٹیکس لگا رہا ہوتا ہے۔ یہ وہ دائرے کا سفر ہے جو آپ برسوں سے دیکھتے آ رہے ہیں۔ اس لیے حکمرانوں کے نزدیک چھ سو ارب روپے کا نقصان کوئی نقصان ہی نہیں۔ سابق وزیر نجکاری محمد زبیر‘ جو اُس وقت پی آئی اے کی ڈیل فائنل کررہے تھے‘ کا کہنا ہے کہ نواز شریف چاہتے تھے کہ پی آئی اے بک جائے لیکن پھر اچانک اسحاق ڈار نے فیصلہ سنایا کہ نہیں! ابھی نہیں بیچتے۔ ان کی ملاقات اس وقت کی اپوزیشن سے ہوئی تھی۔ ڈار صاحب نے ان سے پوچھا کہ آپ بتائیں کہ پی آئی اے کو بیچیں یا نہ بیچیں؟ ان سب نے کہا کہ ابھی نہ بیچیں۔ ڈار صاحب نے مان لیا کہ ابھی نہیں بیچتے۔ محمد زبیر کا کہنا ہے کہ وہ اُس اجلاس میں موجود تھے جو اسحاق ڈار نے اپوزیشن ممبران کے ساتھ کیا تھا اور یہ سن کر ان کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا تھا کیونکہ اس وقت پی آئی اے کی نجکاری کا عمل تقریباً مکمل ہو چکا تھا۔ کنسلٹنٹس کو کروڑوں ڈالرز کی فیس ادا کی جا چکی تھی۔ خریدار پارٹی یہاں تک تیار تھی کہ وہ ایئرلائن کا دو سو ارب روپے کا خسارہ بھی خود پوراکرے گی۔ حکومت کا اس قرض سے کچھ لینا دینا نہیں ہوگا۔ لیکن ڈار صاحب نے اپوزیشن کے کہنے پر سب کچھ رول بیک کر دیا۔اب دس سال بعد پی آئی اے بک گئی ہے۔ نقصان دو سو ارب روپے سے بڑھ کر آٹھ سو ارب روپے ہے۔ اور یہ آٹھ سو ارب روپے حکومتِ پاکستان یعنی پاکستانی عوام ادا کریں گے۔ زبیر صاحب کے مطابق اس خسارے پر ہر سال اوسطاً ستر سے اسی ارب روپے سود بھی ادا کیا جائے گا۔ پی آئی اے کا یہ سارا خسارہ عوام کی جیب سے جائے گا‘ ان کی جیب سے نہیں جو اُس وقت وزیر خزانہ تھے جب پی آئی اے خسارے کے ساتھ بک رہی تھی مگر انہوں نے اسے بکنے نہ دیا۔ آج جب وہ نائب وزیراعظم ہیں تو اب آٹھ سو ارب روپے سے زائد کا قرض عوام پر لاد دیا گیا ہے جو وہ سود سمیت ادا کرتے رہیں گے۔ نہ اس وقت کوئی پوچھ گچھ ہوئی کہ وہ غلط فیصلہ کر رہے ہیں‘ اور نہ آج ہوگی‘ جب ان کے ایک فیصلے کا خمیازہ چھ سو ارب روپے اضافی نقصان اور اس پر سالانہ ستر‘ اسی ارب روپے سود کی صورت میں بھگتنا پڑے گا۔ یہ ہیں ملک کے دردِ دل رکھنے والے حکمران‘ جنہوں نے دو سو ارب روپے کے خسارے پر پی آئی اے نہ بیچی‘ پورے دس سال انتظار کیا‘ اور اب پورے آٹھ سو ارب روپے کے خسارے پر بیچ دی تاکہ بینکوں کو ستر‘ اسی ارب روپے سالانہ سود ملتا رہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>اس بیماری کو کیا کہیں(رسول بخش رئیس)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-07-03/52226/35958069</link><pubDate>Fri, 03 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-07-03/52226/35958069</guid><description>بہر طور لوگ اسے نئی بیماری خیال کرتے ہیں‘ نہ روگ اور نہ وبا۔ وہ تو اپنے اپنے فونوں کی سکرینوں پر نظریں گاڑے‘ کبھی سنجیدہ اور خاموش‘ کبھی متفکر اور کبھی مسکراتے اور کبھی زور زور سے ہنستے بھی دکھائی دیتے ہیں۔ یہ وہ بات ہے جو سکرینوں پر ابھرتے نقش ان کے ذہنوں میں متحرک کرتے ہیں۔ اگر وہ زمانہ ہوتا جب یہ ایجاد بازار میں نمودار نہیں ہوئی تھی اور کوئی خواہ مخواہ اکیلا بیٹھا ہنس رہا ہوتا تو پاس سے گزرنے والا یہی سوچتا کہ یہ پاگل ہے۔ میرے نزدیک تو اب بھی پاگل پن کی بات ہے‘ مگر اب نہ صرف تنہائی میں بلکہ دوستوں اور کسی انتظار گاہ میں بیٹھے بیٹھے بھی لوگ فون پر کچھ دیکھ کر ہنس رہے ہوتے ہیں۔ اگر اعتدال ہو‘ جو ہمارے معاشرے میں اوپر سے لے کر نچلی سطح تک بہت کم دکھائی دیتا ہے‘ تو ہر چیز نعمت ہے۔ اور اگر آدم بیزاری اور فون دوستی کا رشتہ ایسا قائم ہو جائے جو پھر نہ ٹوٹے تو میری رائے میں یہ بیماری ہے۔ آپ اپنی فون دوستی کا رشتہ نبھاتے ہوئے نہ صرف اختلاف کر سکتے ہیں بلکہ برا بھلا بھی کہیں تو میری طرف سے کوئی جواب نہیں آئے گا۔ ویسے بھی سیانوں کی بات مجھے پسند ہے‘ مگر یہ حکمت زندگی کا بہت بڑا حصہ گزارنے کے بعد دل کے نہاں خانے میں رکھ ڈالی کہ کسی کی بدخواہی‘ تضحیک‘ حسد اور تذلیل کا سامنا بھی ہو تو خاموشی اور صبر سے برداشت کریں۔ خیر‘ یہ بات تو ایسے ہی آ گئی۔ ہاں‘ نیند تک کی بات ہو رہی تھی کہ کچھ لوگ فون کو ہاتھ میں لیے یا اپنے ساتھ رکھے استراحت فرماتے‘ سو بھی جاتے ہیں۔ جاگتے ہی اور آنکھیں ملتے ہی ان کی پہلی نظر فون پر پڑتی ہے۔ ہمارے ایک دوست ہیں جو ساری رات جاگتے ہیں اور صبح کو سوتے ہیں‘ اور پھر وہ منظر دوراں پر دوپہر کے وقت ظاہر ہوتے ہیں۔ ان سے پوچھا کہ رات بھر آپ کیا کرتے ہیں؟ کہا: فون۔ آپ کو پتا نہیں دنیا بھر کے بارے میں اور زندگی کے ہر شعبے سے متعلق علم کے خزانے اب آپ کی انگلی کے اشاروں پر ہیں۔ جان کی امان پاتے ہوئے درخواست کی کہ آپ کوئی کتاب کیوں نہیں پڑھتے؟ فرمایا: چھوڑو یہ گھسی پٹی نصیحتیں‘ زمانہ بدل گیا ہے‘ اب فون کا زمانہ ہے‘ کتاب کا نہیں۔اگر آپ یہ محسوس کر رہے ہیں کہ عام لوگوں اور اپنے کچھ دوستوں کی فون کی علت یا عادت کے بارے میں کوئی فکر مندی ہے یا کوئی اعتراض‘ تو ایسا ہرگز نہیں۔ لوگ اپنے آپ کو جیسے بھی خوش رکھنا چاہتے ہیں یہ ان کا حق ہے۔ ہم کسی کی آزادی‘ آزاد روی اور عادت کے بارے میں سوال اٹھانے کا حق نہیں رکھتے۔ ایک مسئلہ ضرور ہے جسے سماجیات کے میدان کے لوگ خیال کرتے ہیں۔ فون دوستی سے انسان دوستی بے حد متاثر ہو رہی ہے‘ برے طریقے سے۔ لوگ اب دور دراز کے ملکوں میں بیٹھے ہوئے بھی اپنے مخالفوں کی‘ جو سیاسی‘ نظریاتی یا ذاتی ہو سکتے ہیں‘ دل آزاری اور اذیت کیلئے من پسند پیغامات بھیجتے رہتے ہیں۔ دوسرے بھی ایسی محبت کا جواب اس سے بڑھ کر دیتے ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب لوگوں کو یہ سہولت میسر نہیں تھی تو زبانی لڑائی جھگڑوں کیلئے بہت کم مواقع میسر ہوتے تھے۔ اب تو دل کا غبار نکالنے کیلئے فون اٹھاؤ اور شروع ہو جاؤ۔ کبھی دو لڑتے جھگڑتے افرادکیلئے گھروں کی دیواریں حائل ہوا کرتی تھیں۔ اب سینکڑوں میل دور سے زبانی آتش بازی اور زہریلے لفظوں کے تیر پھینکے جا سکتے ہیں۔ ظاہر ہے سب تو ایسا نہیں کرتے۔ ہمارے کئی دوست ہیں جو ہر صبح دعائیں‘ سلام اور نعمت و نصیحت بھرے پیغامات ارسال کرتے ہیں۔ ان کی بھی کمی نہیں جو کتابوں اور علمی مضامین کی صورت علم کے ذخیرے ہمارے کھاتے میں روزانہ ڈالتے ہیں۔ خدا بھلا کرے ملک محمد اسلم صاحب کا کہ گزشتہ کئی ماہ میں انہوں نے اردو اور انگریزی کا قیمتی ادب پی ڈی ایف کی صورت میں عنایت کیا اور ان کی یہ نوازش روزانہ کی بنیاد پر جاری ہے۔ ہاں‘ ان میں کچھ کتابیں تو ان سے درخواست کر کے حاصل کیں اور کچھ مشہور انگریزی رسائل کو بھی ہم نے فون کے بجائے آئی پیڈ کے &#39;بادل‘ میں محفوظ کر لیا۔ ہم بھی اب اس سکرین کے عادی ہو چکے ہیں۔ آسانی یہ ہے کہ کتابوں کے لفظوں کو چھوٹا بڑا کر کے بھی آپ پڑھ سکتے ہیں۔ اب کوئی کہے کہ ساتھ چلتے پھرتے جدید ترین فون کو صندوقچے میں بند کر کے پرانے طرز کی زندگی کی طرف لوٹ جائیں تو اسے سوچ کر بھی لوگوں کو غش پڑنا شروع ہو جائیں گے۔ پہلے ہم بجلی غائب ہو جانے اور دیر تک واپس نہ آنے کی فکر میں مبتلا ہوتے تھے۔ اب وائی فائی اور موبائل سگنل ہماری ضرورت سے کہیں زیادہ کمزور پڑ جائیں یا محل وقوع کے اعتبار سے ناپید ہو جائیں تو ایک بڑی کمی کا احساس ہوتا ہے۔ کچھ دوستوں کو دیکھا ہے کہ ایسے میں ان کے منہ کی رونق‘ زندگی کی چمک دمک اور طبیعت کی روانی گدھے کے سر سے سینگوں کی طرح غائب ہو جاتی ہے۔ اچانک ان پر چڑچڑے پن کا شدید حملہ ہوتا ہے جو ساتھ بیٹھے لوگوں کو بھی پریشانی میں مبتلا کر دیتا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک سیل فون‘ جسے عام زبان میں ٹچ فون کہا جاتا ہے‘ عام نہیں تھا تو روایتی لوگوں کو‘ خاص طور پر دیہات میں‘ احساسِ کمتری کا شکار دیکھا جاتا تھا۔ کچھ تو دوسروں سے ٹچ فون اپنے ہاتھ میں لے کر اس کا معائنہ کرتے اور ایک خوابیدہ آہ کے ساتھ اس عزم کا اظہار کرتے کہ پیسے جوڑے جا رہے ہیں‘ پورے ہونے پر پہلا کام ٹچ فون خریدنا ہی ہوگا۔ کبھی لوگوں سے پوچھتا ہوں کہ آپ دیہات میں ہیں اور ظاہر ہے آپ اَن پڑھ بھی ہیں‘ یہ ٹچ فون آپ کیلئے کیوں ضروری ہے؟ سوال‘ سوال کی صورت میں لوٹاتے ہیں کہ تمہارے پاس کیوں ہے؟ کیا دیکھتے ہیں‘ دیکھنا چاہتے ہیں‘ یہ قابلِ تحقیق بات ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور اب مصنوعی ذہانت‘ اور بدلتے ہوئے طرزِ زندگی کے سوال پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اور لکھا جا رہا ہے۔ مسئلہ صرف اڈکشن یا نشے کی طرح کی عادت کا ہے۔ اگر آدمی میں شعوری پختگی نہ ہو‘ اخلاقی پہلو کمزور ہوں اور کام میں دلچسپی مفقود ہو تو یہ عادت سرکاری اور نجی اداروں کی استعداد اور پیداواری صلاحیت کو مزید کمزور کرے گی‘ جو پہلے بھی شاید نہ ہونے کے زمرے میں آتی ہے۔ صنعتی ممالک میں تو اس بیماری کا علاج کارکنوں کو فون سے دور رکھ کر کیا جا رہا ہے‘ مگر ہمارے ہاں ظاہر ہے ہم آزاد لوگ ہیں‘ ابھی کوئی ایسی پابندی نہیں لگائی گئی۔ لوگوں کے عام رویے‘ ان کی گہری فون دوستی کی وجہ سے عجیب و غریب معلوم ہوتے ہیں۔ آپ کا کوئی دوست ملنے آئے یا آپ اسے ملنے جائیں‘ اور وہ ابتدائی حال احوال کے بعد نظریں فون پر جما لے تو آپ کو اپنی عزت اور اہمیت کا اندازہ ہو جائے گا۔ سماجی اخلاقیات اگر کہیں رہ گئی ہے اور اس کی پائیداری اب بھی ہے تو اس کا تقاضا ہے کہ فون کو خاموشی کے ساتھ ایک طرف رکھ کر اس سے وقتی علیحدگی کا اعلان کر دیا جائے۔ ہمارے بگڑے ہوئے فونی کلچر نے شخصی گرم جوشی‘ مہمان نوازی اور ہیلو‘ انٹریکشن کو گہری ضرب لگائی ہے۔ مجھے تو یہ ہرگز پسند نہیں کہ کسی کے ساتھ بیٹھے ہوں اور آنکھوں میں آنکھیں ملا کر بات کرنے کے بجائے فون پر آنکھیں جمائے رکھو۔ دکھ کی بات ہے کہ لوگوں کی توجہ‘ دھیان اور گیان کہیں مرکوز نہیں رہا۔ اس کا شیرازہ بکھر چکا ہے اور ان کی شخصیت بھی بکھری نظر آتی ہے۔ فون کی دورِ حاضر میں اہمیت اپنی جگہ‘ مگر انسانوں سے محبت اور حقیقی رفاقت کا رشتہ کمزور پڑ جائے تو سمجھیں اس کی بیماری لاحق ہو چکی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_33241568.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ایران کیلئے آبنائے ہرمز اہم کیوں ہے؟(ڈاکٹر رشید احمد خاں)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr-rasheed-ahmad-khan/2026-07-03/52227/55196542</link><pubDate>Fri, 03 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr-rasheed-ahmad-khan/2026-07-03/52227/55196542</guid><description>ایران اور امریکہ کے مابین جنگ کے خاتمے اور مستقل بنیادوں پر امن کے قیام کیلئے پاکستان اور قطر کی ثالثی میں 18 جون کو 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت (ایم اویو) پر ڈیجیٹل دستخط ہوئے تھے۔ اس کے بعد 21 جون سوئٹزرلینڈ میں دونوں ممالک کے وفود کے درمیان ہونے والی ملاقات میں یہ طے پایا تھا کہ ایم او یو میں جن مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے ان پر ٹیکنیکل کمیٹیوں کی سطح پر تفصیلی بحث کی جائے گی۔ اسی عمل کو نتیجہ خیز بنانے اور دونوں ممالک کے درمیان ایک جامع اور مستقل معاہدہ طے کرنے کیلئے 60 دن کی مدت مقرر کی گئی تھی۔ اس روڈ میپ کے طے پانے کے بعد امید کی جا رہی تھی کہ خلیج فارس اور مشرقِ وسطیٰ کے امن و استحکام کو ایران امریکہ تصادم سے جو شدید خطرات لاحق ہو گئے تھے‘ انہیں دور کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات کا سلسلہ شروع ہو جائے گا لیکن بدقسمتی سے حالات اس کے برعکس رخ اختیار کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اس کا واضح ثبوت آبنائے ہرمز کے مسئلے پر ایران اور امریکہ کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے ایک بیان کے مطابق امریکی طیاروں نے آبنائے ہرمز کے اطراف ایرانی ساحلی علاقوں میں واقع دفاعی تنصیبات پر حملے کیے اور انہیں تباہ کر دیا۔ جواباً ایران نے بحرین اور کویت میں قائم امریکی بحری اور فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ اس دوران ایران اور امریکہ دونوں ایک دوسرے پر 18 جون کو طے پانیوالے ایم او یو کی خلاف ورزی کا الزام عائد کر رہے تھے۔ امریکہ کا مؤقف تھا کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنیوالے بحری جہازوں‘ جن میں آئل ٹینکرز اور کارگو جہاز شامل ہیں‘ کی آزادانہ آمدورفت میں رکاوٹ ڈال دی ہے۔ دوسری جانب ایران نے امریکہ پر الزام عائد کیا کہ اس کے جنوبی ساحلی علاقوں پر کیے جانے والے امریکی فضائی حملے ایم او یو کی صریح خلاف ورزی ہیں جنہیں ایران کسی صورت برداشت نہیں کرے گا۔ ہوا یوں کہ امریکہ نے آبنائے ہرمز کے ایرانی حصے کے متبادل کے طور پر سلطنتِ عمان کے علاقائی سمندر سے گزرنے والی ایک نئی بحری گزرگاہ استعمال کرتے ہوئے کمرشل جہازوں کو وہاں سے گزارنے کی کوشش کی۔ اس پر ایران نے اس متبادل راستے کو استعمال کرنے والی تمام بحری کمپنیوں کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایم او یو میں آبنائے ہرمز سے کمرشل جہازوں کی آمدورفت کو ریگولیٹ کرنے کیلئے طے شدہ قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کر رہی ہیں اور اگر انہوں نے اپنی روش تبدیل نہ کی تو اپنے ہر قسم کے نقصان کی خود ذمہ دار ہوں گی۔ اسی دوران پاناما کے پرچم بردار ایک کمرشل جہاز نے ایرانی وارننگ کو نظرانداز کرتے ہوئے متبادل راستے سے گزرنے کی کوشش کی۔ اس پر آبنائے ہرمز میں سکیورٹی پر مامور ایرانی گارڈز نے اس پر فائرنگ کر دی جس سے جہاز کو نقصان تو پہنچا‘ تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور وہ جہاز اپنی منزل کی جانب گامزن رہا۔ اسکے بعد اسی نوعیت کی کوشش کرنیوالے دیگر جہازوں پر بھی‘ امریکہ کے بقول‘ ایران نے ڈرون حملے کیے جن میں سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق تین ڈرون مار گرائے گئے جبکہ ایک ڈرون ایک جہاز کے ڈیک کے اوپری حصے سے ٹکرا گیا جس سے جہاز کو معمولی نقصان پہنچا۔ اس واقعے کے بعد امریکی سینٹرل کمانڈ کے طیاروں نے ایران کے جنوبی ساحل پر واقع بندر عباس اور جزیرہ قشم میں موجود ایرانی دفاعی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا۔ ان حملوں کے نتیجے میں ایسی صورتحال پیدا ہوئی کہ ایران نے تکنیکی مذاکرات میں شرکت سے انکار کر دیا اور مطالبہ کیا کہ اگر امریکہ طے شدہ روڈ میپ کے مطابق مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنا چاہتا ہے تو اسے سب سے پہلے ایم او یو میں درج شرائط پر مکمل عمل کرنا ہوگا۔ ان شرائط میں سب سے اہم شرط یہ ہے کہ امریکہ آبنائے ہرمز پر ایران کے خودمختار حقوق کو تسلیم کرے۔ایرانی حکام‘ جن میں صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی شامل ہیں‘ متعدد مواقع پر اپنے بیانات میں واضح کر چکے کہ آبنائے ہرمز ایران کا اٹوٹ حصہ ہے اور وہ اس پر اپنے خودمختار حقوق سے کبھی دستبردار نہیں ہوگا۔ دوسری جانب امریکہ اور اس کے اتحادی آبنائے ہرمز کو ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ قرار دیتے ہیں‘ جہاں بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے تحت منظور شدہ متعدد کنونشنز اور قراردادوں کے مطابق ہر تجارتی اور بحری جہاز کو بلا روک ٹوک اور کسی بھی قسم کا محصول ادا کیے بغیر گزرنے کا حق حاصل ہے۔ آخر ایران آبنائے ہرمز پر اپنی حاکمیت قائم کرنے اور وہاں سے گزرنے والی بحری ٹریفک کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لینے پر کیوں مُصر ہے؟ اس سوال کا جواب نہایت واضح اور سادہ ہے۔ آبنائے ہرمز ایران کیلئے کسی بھی بیرونی جارحیت کا مقابلہ کرنے کا سب سے مؤثر اور طاقتور تزویراتی ہتھیار ہے۔ 28 فروری سے امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ اور تباہ کن حملوں کے سلسلے کو ناکام بنانے میں جس ہتھیار نے سب سے اہم کردار ادا کیا‘ وہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش تھی۔ اس اقدام کے نتیجے میں بین الاقوامی آئل مارکیٹ میں تیل کی رسد میں 20 سے 25 فیصد تک کمی واقع ہو گئی۔ عالمی منڈی اس شدید جھٹکے کیلئے بالکل تیار نہیں تھی۔ بالخصوص چین‘ جاپان‘ بھارت اور جنوبی کوریا جیسے ممالک‘ جن کی معیشتوں کا انحصار بڑی حد تک مشرقِ وسطیٰ سے درآمد ہونے والے تیل اور گیس پر ہے‘ ان کیلئے توانائی کی سپلائی کا اچانک متاثر ہونا ناقابلِ برداشت صورتحال اختیار کر گیا۔ اسی دباؤ کے نتیجے میں امریکہ‘ جسکے بارے میں صدر ٹرمپ بارہا یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ دنیا کا کوئی ملک جنگ کے میدان میں اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا‘ جنگ بندی پر آمادہ ہوا۔ اس کے علاوہ قطر‘ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب بھی اپنی توانائی کی برآمدات کیلئے بڑی حد تک آبنائے ہرمز پر انحصار کرتے ہیں۔آبنائے ہرمز کی بندش کو 1973-74ء کے آئل ایمبارگو سے تشبیہ دی جا سکتی ہے‘ جس نے نہ صرف پورے یورپ بلکہ امریکہ کو بھی تیل برآمد کرنے والے عرب ممالک کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا تھا۔ بہت سے ماہرین اور بین الاقوامی امور کے مبصرین کی رائے ہے کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنی حاکمیت اور کنٹرول سے ہرگز دستبردار نہیں ہوگا‘ کیونکہ اس کے نزدیک خطے میں جنگ دوبارہ کسی بھی وقت بھڑک سکتی ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ لبنان کی صورتحال ہے جہاں جنگ بندی کو ایم او یو کے تحت ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والی جنگ بندی سے منسلک کر دیا گیا تھا لیکن اس کے باوجود اسرائیل نہ صرف جنوبی لبنان میں اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے بلکہ حال ہی میں واشنگٹن میں امریکہ‘ لبنان اور اسرائیل کے درمیان طے پانے والے سہ فریقی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جنوبی لبنان سے اپنی فوجیں واپس بلانے سے بھی انکار کر چکا ہے۔لبنان ایک ایسا حساس معاملہ ہے جو کسی بھی وقت ایران اور اسرائیل کے درمیان ایک نئی جنگ کا پیش خیمہ بن سکتا ہے کیونکہ ایران پہلے ہی واضح کر چکا کہ لبنان پر اسرائیل کے مسلسل حملوں کو مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔ دوسری جانب اگرچہ ایم او یو پر دستخط ہو چکے اور ایران و امریکہ کے درمیان ٹیکنیکل کمیٹیوں کی سطح پر مذاکرات شروع کرنے پر بھی اتفاق کیا جا چکا‘ اس کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان عدم اعتماد کی خلیج بدستور بہت گہری ہے۔ صدر ٹرمپ کی لمحہ بہ لمحہ تبدیل ہوتی ہوئی پالیسی‘ غزہ اور دریائے اردن کے مغربی کنارے میں فلسطینیوں پر اسرائیلی فوج اور یہودی آباد کاروں کے مسلسل حملے‘ نیز پورے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی ایسے عوامل ہیں جو کسی نئی جنگ کے خدشے کو مکمل طور پر رد نہیں کرتے۔ ان تمام حالات کے پیش نظر ایران اس بات پر آمادہ نظر نہیں آتا کہ وہ امریکہ یا اسرائیل کی جانب سے کسی ممکنہ نئے حملے کا مقابلہ کرنے کیلئے اپنے سب سے مؤثر تزویراتی ہتھیار‘ یعنی آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے آپشن‘ سے دستبردار ہو جائے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90264263.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>چاچا صدیق کے جرائم(اسد طاہر جپہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/asad-tahir-jappa-/2026-07-03/52228/14758312</link><pubDate>Fri, 03 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/asad-tahir-jappa-/2026-07-03/52228/14758312</guid><description>شیخوپورہ کی تحصیل شرقپور سے تعلق رکھنے والے چاچا صدیق کے سنگین جرائم کی فہرست کافی طویل ہے۔ اس کا سب سے پہلا اور بڑا جرم یہ ہے کہ وہ خاندانی غریب ہے اور نسل در نسل غریب سے غریب تر ہونے والے کروڑوں افراد میں سے ایک ہے۔ ہمارے معاشرے میں غربت سے بڑا کوئی روگ ہے اور نہ اس سے بڑا کوئی عذاب۔ اس کا دوسرا بڑا جرم یہ ہے کہ اس کا ایک بازو کٹ چکا ہے اور وہ معذور ہے۔ ہمارے ہاں جسمانی طور پر معذور افراد پر صرف ترس کھایا جاتا ہے اور انہیں خاندان اور قومی معیشت پر بوجھ سمجھا جاتا ہے۔ اس کا تیسرا ناقابلِ معافی جرم یہ ہے کہ اس نے غربت اور معذوری کے خوفناک امتزاج کے سامنے بے بس ہو کر بھیک مانگنے کے بجائے خوداری اور خود انحصاری کا انتخاب کیا اور کسبِ حلال کا راستہ اپنایا۔ اس کا چوتھا قابلِ تعزیر جرم یہ ہے کہ وہ ریڑھی پر پھل بیچ کر اپنے بیوی بچوں کیلئے رزقِ حلال کمانے کی نیت سے صبح کاذب گھر سے نکل جاتا‘ منڈی سے پھل خرید لاتا اور ریڑھی پر رکھ کر سخت گرمی کے موسم میں سڑک کنارے کھڑا ہو کر آوازیں لگاتا اور گاہکوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا۔ اس کا اگلا نمایاں جرم یہ ہے کہ جب تجاوزات کے خلاف کارروائی میں اس کی ریڑھی اور اس پر موجود لگ بھگ چالیس ہزار کی لیچی ضبط کر لی گئی تو وہ سراپا احتجاج بن کر متعلقہ حکام کے پاس جا پہنچا اور اپنے ضبط شدہ سامان بالخصوص لیچی کی واپسی کا مطالبہ کر بیٹھا کیونکہ اس پھل کی خریداری پر خرچ کی گئی رقم اس کی کل سرمایہ کاری تھی اور واحد ذریعۂ معاش بھی۔ اس نے پانچواں جرم یہ سرزد کیا کہ ضبط کی گئی اشیا کی واپسی پر مایوس ہونے کے بجائے وہ شکایت لے کر مقامی انتظامیہ کے پاس جا پہنچا اور جہاں پناہ کے حضور پیش ہوکر تمام عاجزانہ آداب بجا لاتے ہوئے اپنی عرضی پیش کی مگر جہاں پناہ مبینہ طور پر اس کی یہ گستاخانہ حرکت دیکھ کر جلال میں آ گئے اور اس کی درخواست پھاڑ کر ردی کی ٹوکری میں پھینک دی۔ اس نے اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے چھٹا جرم یہ کیا کہ اپنی داستانِ غم ایک مقامی صحافی کو سنا ڈالی جس نے اسے کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کر کے سوشل میڈیا پر شیئر کردیا۔ اب چاچا صدیق کے جرائم تھے کہ رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے لہٰذا ان کی بیخ کنی لازم تھی۔ یکے بعد دیگرے ان چھ ناقابلِ معافی جرائم کے بعد چاچا صدیق کو سبق سکھانے کا پروگرام بنا لیا گیا اور متعلقہ اداروں کے کچھ حکام نے مقامی پولیس کی خدمات حاصل کیں اور چاچا صدیق پر کارِ سرکار میں مداخلت کے الزام میں مقدمہ درج کروا دیا۔ قانون فوری طور پر حرکت میں آیا اور چاچا صدیق پسِ دیوارِ زنداں ڈال دیا گیا۔ مگر اس دوران چاچا صدیق سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکا تھا اور اس کی سٹوری ٹاپ ٹرینڈ بن گئی تھی۔ شرقپور کی مقامی صحافی برادری اور وکلا اس کی آواز بن چکے تھے اور اس کی رہائی کیلئے منظم ہو کر متحرک ہو گئے۔ اگلے روز اس کے اکلوتے ہاتھ پر ہتھکڑی کا زیور پہنا کر اسے عدالت لایا گیا جہاں وکلا کی بڑی تعداد نے اس کا مقدمہ لڑا۔ عدالت نے سماعت کے بعد اس پر درج کیا گیا مقدمہ خارج کر کے چاچا صدیق کو رہا کر دیا۔ اس کی رہائی پر وکلا اور صحافیوں نے اسے پھولوں کے ہار پہنائے اور مقامی شہری بھی اسے مبارکباد پیش کرنے پہنچے۔ کویت میں مقیم ایک پاکستانی نے اس کی ضبط کی گئی لیچی کے ازالے کیلئے رقم بھی بھجوا دی۔ اس کی مدد میں سرگرم عمل یہ تمام لوگ قابلِ تحسین ہیں مگر یہاں پر کئی سوالات جنم لیتے ہیں۔ پہلا سوال یہ ہے کہ اگر چاچا صدیق کی کہانی سوشل میڈیا پر وائرل نہ ہوتی تو کیا اس قدر جلد اس کی رہائی ممکن ہو پاتی؟ کیا چاچا صدیق کے گھر والوں کے پاس وکیل کی خدمات حاصل کرنے کیلئے مطلوبہ وسائل کا انتظام موجود تھا؟ اگر عدالت میں پیشی کے وقت مقامی صحافی اور وکلا کی بڑی تعداد وہاں موجود نہ ہوتی تو کیا چاچا صدیق رہا ہو پاتا؟ اگر چاچا صدیق کی کہانی سوشل میڈیا کی زینت نہ بنتی تو کیا مقامی بااثر لوگ اس کی رہائی کیلئے اس قدر منظم اور متحرک ہونے میں کامیاب ہو جاتے؟اسی دوران بابا بلھے شاہ کے شہر قصور سے بھی ایک ایسا ہی دلخراش منظر سوشل میڈیا پر وائرل ہوا۔ اس وڈیو میں ایک پھل فروش سرکاری گاڑی کے سامنے لیٹ کر اپنا احتجاج ریکارڈ کراتا نظر آتا ہے اور نہایت کرب کے عالم میں اپنی بے بسی بیان کرتا دکھائی دیتا ہے۔ وہ کچھ سرکاری ملازمین پر رشوت خوری کے سنگین الزامات عائد کرتا ہے۔ اس کے ساتھ کھڑے کئی دیگر ریڑھی بان بھی اپنی اپنی زبان میں ملتے جلتے الزامات لگاتے نظر آتے ہیں جن کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرانا نہایت ضروری ہے۔ یہ بھی واضح رہے کہ متعلقہ مخالف فریق کو سنے بغیر حتمی رائے قائم کرنا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔ تاہم گزشتہ چند ہفتوں میں ایسے الزامات پر مبنی واقعات ایک تسلسل کے ساتھ سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہے ہیں۔ پنجاب کے مختلف اضلاع میں پیش آنے والے ان تمام واقعات کو سنجیدگی سے لیا جانا ضروری ہے‘ ورنہ قانون نافذ کرنے والے اداروں میں موجود یہ مبینہ کالی بھیڑیں اپنے اداروں کے ساتھ حکومت وقت کیلئے بھی شرمندگی اور جگ ہنسائی کا باعث بنیں گی۔ دوسری طرف وطن عزیز کی 45 فیصد سے زائد آبادی غربت‘ مہنگائی اور بے روزگاری کے جان لیوا گٹھ جوڑ سے خطِ افلاس سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ آئے روز خود کشی کے دلسوز واقعات دیکھنے اور سننے کو ملتے ہیں۔ اگر ریڑھی بانوں‘ خوانچہ فروشوں اور پھیری والوں پر حاشیۂ حیات تنگ کر دیا جائے تو ان کے سامنے دو ہی راستے بچتے ہیں یا وہ اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیں یا اس نظام سے بدلہ لینے کیلئے قانون ہاتھ میں لے لیں اور مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہو جائیں۔میں بیٹھا یہ بھی سوچ رہا ہوں کہ ایک چاچا صدیق تو وکلا اور صحافیوں کی بروقت اور مؤثر مداخلت سے رہائی پانے میں کامیاب ہو چکا مگر اس جیسے جانے کتنے ہزار غربت‘ بے بسی اور لاچارگی کے ہاتھوں مجبور ہوکر اپنے ناکردہ جرائم کی سزا کاٹ رہے ہوں گے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ان کی دکھ بھری داستانیں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وائرل نہیں ہوئیں اور وہ وقت کے سرد خانوں میں بے سدھ‘ کہیں کسی جیل کی سلاخوں کے پیچھے زندگی کی باقی ماندہ سانسیں گن رہیں ہوں گے۔ ہاں مگر ایک باعثِ اطمینان امر ان کے لیے یہ ضرور ہو گا کہ معمول کی زندگی میں وہ آئے روز فاقہ کشی کا شکار ہو کر بھوک کی کڑی آزمائش میں مبتلا ہوتے ہوں گے مگر اب انہیں کم از کم جیل میں دو وقت کا کھانا باقاعدگی سے ملتا ہو گا اور یوں ان کی فاقوں سے جان چھوٹ چکی ہو گی۔ یہاں پر ایک اور پہلو قابلِ غور ہے۔ اگر کسی غریب‘ بے کس اور کمزور شہری کو انصاف کے حصول کیلئے قانون یا عدالت کے بجائے عوامی دباؤ کا سہارا لینا پڑے تو قانون و انصاف کے نظام پر سوال اٹھتے ہیں۔ یہ امر روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ ریاست کی طاقت کا اصل حسن اس کے نچلے طبقے اور کمزور افراد کے تحفظ میں پنہاں ہوتا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ اختیارات کا منصفانہ‘ غیر جانبدارانہ اور ذمہ دارانہ استعمال یقینی بنائیں۔ قانون نافذ کرنے والا ہر ادارہ اور اس سے وابستہ ہر فرد عوام کے تحفظ‘ آسانی اور انصاف کی فراہمی کیلئے جواب دہ ہے‘ لیکن جب کچھ غیر ذمہ دار افراد کے طرزِ عمل پر سوالات اٹھنے لگیں تو صرف متعلقہ افراد ہی نہیں‘ پورا نظام عوامی عدالت کے کٹہرے میں اسی طرح آ کھڑا ہوتا ہے جس طرح چاچا صدیق کے ناکردہ جرائم نے اسے حوالات اور عدالت کے کٹہرے میں کھڑا ہونے پر مجبور کر دیا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_34710710.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>متنازع کلکتہ ایکٹ(آصف عفان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/asif-afan-/2026-07-03/52229/29907177</link><pubDate>Fri, 03 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/asif-afan-/2026-07-03/52229/29907177</guid><description>مملکت خداداد میں بسنے والے عوام نما رعایا ایک بار پھر طرزِ حکمرانی کا شکار ہیں۔ ملک کے طول و عرض سے لے کرایوانِ اقتدار تک ادھم کا سماں ہے۔ جابجا ہرسُو منہ چڑاتے سوالیہ نشان مزید کڑے ہوتے چلے جا رہے ہیں لیکن جوابدہی سے گریزاں سبھی ذمہ دار انجان بنے اور اترائے پھرتے ہیں۔ عوام کی حالتِ زار اس طرح تار تار ہے کہ مرزا غالبؔ کا یہ شعر حسبِ حال لگتا ہے: چپک رہا ہے بدن پر لہو سے پیراہن ہماری جیب کو اب حاجتِ رفو کیا ہے ذلت‘ دھتکار اور پھٹکار کے چلتے پھرتے سبھی مناظر عوام کا مستقل نصیب بنانے کے لیے مسودہ منظوری کے مراحل میں ہے۔ رائج قوانین اور ضابطے عوام کو تحفظ اور امان دینے سے پہلے ہی قاصر اور گریزاں تھے‘ جبر کے نئے شکنجے رہی سہی کسر نکال کر گورننس کو مزید چار چاند لگا دیں گے۔ جس طرح احساسِ عوام کے تحت قانون سازی اور دیگر اقدامات پر زور ہے یوں لگتا ہے کہ بات چار پانچ سو چاند چڑھانے تک ضرور جا پہنچے گی۔ جہاں ہر روز ایک نیا چاند چڑھایا جاتا ہو وہاں گرہن کی پروا کس کو ہو؟ ملک کے دور دراز اور افتادہ علاقے تو درکنار‘ صوبائی دارالحکومت سمیت سبھی چھوٹے بڑے شہروں میں اندھیر نگری اور چوپٹ راج کا سماں ہے۔ کہیں معصوم بچیاں حیوانیت کی بھینٹ چڑھ رہی ہیں تو کہیں سرکاری اہلکاروں کی دہشت جینے کا حق چھینے ہوئے ہے۔ پہلے سے موجود قوانین اور ضابطوں کی کتابوں کو دفترِ خاموش بنا کر نئے ادارے اور فورسز بنانے کا تجربہ روزبروز اُلٹا پڑتا چلا جا رہا ہے۔ تحقیرِ انسانیت سے لے کر غریب ماری کے بڑھتے ہوئے دلخراش واقعات گورننس کے ماتھے پر نت نئے جھومر سجارہے ہیں‘ سبھی آپے سے باہر اور اختیارات کی مستی میں بدمست ہیں۔ حرماں نصیبی کا عالم یہ ہے کہ راہ چلتے حادثات عوام کا نصیب بنتے چلے جا رہے ہیں۔ کہیں آوارہ کتے معصوم بچوں اور راہگیروں کو بھنبھوڑ ڈالتے ہیں تو کہیں کم مایہ بستی کے خستہ حال گھر میں قائم ٹیوشن سنٹر کا کمرہ چھت گرنے سے معصوم بچوں کی اجتماعی قبر بن جاتا ہے۔ قصور کی معصوم زینب سے پہلے بھی معصوم بچے بچیاں درندگی کے بعد قتل کا شکار تھے اور سرگودھا کی منتہیٰ کے بعد بھی یہ سلسلہ بدستور جاری ہے۔ حکومتی رِٹ اور ریاست کا خوف نہ کل کسی کو تھا اور نہ آج دکھائی دیتا ہے۔ معاملہ ہاتھ سے نکل جائے تو سرکاری پھرتیاں اور آنیاں جانیاں دیکھنے والی ہوتی ہیں۔ سانحہ پر وقت کی گرد پڑتے ہی چل سو چل تے بَلّے بَلّے۔ ریفارمز کے نام پر ڈیفارمزکے ڈھیر روزبروز بڑھتے چلے جارہے ہیں۔ درجن بھر سرکاری بابو ایسے من موجی ہیں کہ حکومت بھی انہیں کنٹرول کرنے سے قاصر دکھائی دیتی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے سرکاری ہسپتالوں کی صفائی رپورٹ تو روزانہ طلب کر رکھی ہے لیکن ہاتھ کی صفائی کی سبھی رپورٹیں نیت اور ارادوں کا پول برابر کھول رہی ہیں۔ متنازع ٹیلی کام بل پر حکومتی سقراطوں‘ بقراطوں کو ڈھونڈے سے بھی جھانکنے کو کونے نہیں مل رہے تھے‘ اب بغلیں بجاتے پنجاب اسمبلی میں بھی ایسا مسودہ کمال مہارت سے منظور کرانے لے آئے جس کی بابت سپیکر پنجاب اسمبلی کو بھی لاعلم رکھا گیا اور بل پاس کرانے کے لیے قانون سازی کی تگ و دو جاری ہے۔ اس کا نام تو کافی لمبا چوڑا ہے لیکن ہنرمندانِ حکومت نے فرسودہ اور غلامانہ قدیمی قوانین کو بڑے سلیقے سے انگریزی کے چند الفاظ کا لبادہ اس لیے اوڑھایا ہے کہ کہیں اس میں پوشیدہ ارادے آشکار نہ ہو جائیں یعنی کڑوے باداموں پر گڑچڑھا کر کھلانے کی کوشش تو خوب کی گئی لیکن ارکانِ اسمبلی کے شدید ردعمل نے نیا پنڈورا باکس کھول ڈالاجبکہ وزیروں‘ مشیروں اور ترجمانوں کے دفاعی بیانیے اس قدر کھوکھلے اور بے سروپا ہیں کہ ان پر تبصرہ بھی الفاظ کا ضیاع نظرآتا ہے۔ پیش کاروں کی اس کاریگری کا پرچہ آؤٹ ہونے پر سپیکر پنجاب اسمبلی کی اپنے سٹاف پر برہمی اور خفگی کے مناظر سوشل میڈیا پر وائرل اور زبان زدِ عام ہیں۔بنیادی انسانی حقوق سے متصادم اس مجوزہ قانون کے مسودے کے نقطے ملائیں تو بننے والے خاکے ایسٹ انڈیا کمپنی کے ظالمانہ راج کو بھی مات دیتے نظر آتے ہیں۔ اس قانون کو دورِ جدید سے منسوب کرنے والے حکومتی ترجمان ہوں یا تخلیق کار‘ ان سبھی کے علم میں اضافے کے لیے کلکتہ غنڈہ ایکٹ 1923ء کی تشریح بزبان اے آئی پیشِ خدمت ہے‘ سرکار اس غنڈہ ایکٹ کا اپنے مسودے سے موازنہ کرنے کا رِسک لے تو یہ عقدہ بھی بہ آسانی کھل جائے گا کہ ہم آج بھی ایک صدی سے زائد فرسودہ نظام کے پیروکار ہیں۔&#39;&#39;کلکتہ غنڈہ ایکٹ 1923ء ایک متنازع نوآبادیاتی قانون تھا جس نے پولیس کو یہ اختیار دیا کہ وہ کسی بھی شخص کو ماورائے عدالت صوبہ بدر کر سکے۔ بنیادی طور پر یہ ایکٹ جرائم اور عوامی خلفشار کو روکنے کے لیے بنایا گیا تھا جبکہ غنڈے کی اصطلاح ایک معمہ اور وضاحت طلب تھی‘ یعنی پولیس کمشنر کو ملنے والے وسیع تر اختیارات جسے چاہیں غنڈہ قرار دے ڈالیں۔ یہ غنڈہ ایکٹ کلکتہ میں بڑھتے ہوئے منظم جرائم کو روکنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا جس کی آڑ میں فرمانبردار اشرافیہ کو تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ مزاحمتی تحریکوں کو کچلنے کے لیے اس ایکٹ کو بطور ہتھیار بھی استعمال کیا جاتا رہا۔ جس کے نتیجے میں مہاجر‘ محنت کش اور حکومت کے ساتھ تعاون سے انکاری عناصر کو ریاستی جبر سے دیس نکالا جیسی ظالمانہ سزاؤں کا بھی سامنا رہا‘‘۔ نوآبادیاتی اور فرسودہ قوانین میں جدت کا تڑکا لگانے کے لیے نئے مجوزہ ایکٹ میں ڈیجیٹل کڑا پہنانے کا بھی اہتمام کر رکھا ہے‘ جبکہ سفری دستاویزات سے لے کر بینک اکاؤنٹس‘ سوشل میڈیا اکاؤنٹس سمیت نجی زندگی سے منسوب امور بھی قابلِ دست اندازی پولیس تجویز کیے گئے ہیں۔ ایسے قوانین ہر دور میں حکومتیں کبھی طولِ اقتدار کے لیے تو کبھی استحکامِ اقتدار کے لیے بناتی چلی آئی ہیں۔ دورِ ایوبی میں ایبڈو قوانین سے لے کر پنجاب اسمبلی میں تازہ ترین &#39;&#39;Punjab Control of Habitual Offenders and Anti-Social Behaviour Bill, 2026‘‘تک سبھی حجتیں ایک ہی مائنڈ سیٹ کی پیداوار ہیں۔ دورانِ اسیری نوازشریف کئی بار اس پچھتاوے کا اظہار کر چکے ہیں کہ کاش! وہ آرٹیکل 62‘63ختم کرنے کے لیے پیپلز پارٹی کی پیشکش مسترد نہ کرتے۔ نیب بنانے والوں کو کیا معلوم کہ سیاسی مخالفین کو سرنگوں اور زیر عتاب رکھنے کا یہ ادارہ اُلٹا انہی کے گلے پڑے گا۔ مسلم لیگ (ن) نے اپنے ہی بنائے ہوئے احتسابی ادارے میں مکافاتِ عمل کی چکی دیگر اَسیروں اور جماعتوں سے زیادہ پیسی ہے۔ اس تناظر میں یہ متنازع بل بھی آنے والے دنوں میں گلے کا طوق اور پاؤں کی بیڑی بن سکتا ہے۔ جس طرح آرٹیکل 62‘ 63 کا گڑھا آصف زرداری اور ان کے حواریوں کے لیے کھودا گیا تھا لیکن اسی گڑھے میں خود جناب اوندھے منہ جاگرے۔ ہر گزرتا لمحہ نیت اور ارادوں کے بھید بھاؤ سمیت ایسے ایسے عقدے کھول رہا ہے کہ سبھی کچھ عیاں ہوتا چلا جا رہا ہے۔ خوش کن اعدادوشمار ہوں یا دلفریب وعدے‘ خوشحالی کے جھانسے ہوں یا معاشی استحکام کے دلاسے‘ سب زبانی جمع خرچ ثابت ہوتا چلا جا رہا ہے۔ معیشت کا پیندہ چاٹ کھانے والے اصلاحات اور اقدامات کے سمندر اُنڈیل دیں تو بھی ایک قطرہ نہیں ٹھہرنے والا۔ ہر طرف جھانسا ہی جھانسا ہے‘ کئی دہائیوں سے باریاں لگا کر شوقِ حکمرانی پورے کرنے والے اپنی خواہشات اور ضروریات کے اسیر ہیں اور انہیں عوام بھی ایسے ہی چاہئیں‘ سسکتے اور بلکتے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_65560900.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پاک وطن، سائنس اور حسد(امیر حمزہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ameer-hamza/2026-07-03/52230/92140565</link><pubDate>Fri, 03 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ameer-hamza/2026-07-03/52230/92140565</guid><description>اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ پاک وطن کو بعض طاقتوروں نے کمزور سمجھ لیا تھا۔ وہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہو گئے تھے کہ یہ دیس اڑھائی ہزار کلومیٹر سے زائد ایک ایسے ہمسایے کے ساتھ متصل ہے جو اس کے وجود کا منکر ہے۔ وہ اس سے چھ‘ سات گنا بڑا ہے۔ آرٹی فیشل انٹیلی جنس میں اس کو دنیا کی بڑی طاقتوں نے مضبوط بنا دیا ہے۔ معاشی میدان میں وہ G-20 کا ممبر بنا دیا گیا ہے۔ پاک وطن کا جو دوسرا ہمسایہ ہے اس کی ہمسائیگی بھی اڑھائی ہزار کلومیٹر کے لگ بھگ ہے۔ دونوں باہم دوست بنا دیے گئے تاکہ پاکستان کو باور کرایا جائے کہ وہ عالمی ہاتھیوں کے درمیان بہت کمزور حیثیت رکھتا ہے۔ پانچ ہزار کلومیٹر کے گھیرے میں وہ گِھر چکا ہے۔ ایسا سوچنے والے &#39;&#39; زوالوجی‘‘ کی سائنسی دنیا میں یہ حقیقت بھول گئے تھے کہ دنیا میں بظاہر کمزور نظر آنے والے جاندار حقیقت میں طاقتوروں سے کئی گنا زیادہ طاقت رکھتے ہیں۔ مثلاً چیونٹی کو دنیا کا ایک طاقتور ترین جاندار گردانا جاتا ہے۔ وہ اپنے وزن سے دس گنا سے پچاس گنا زیادہ تک وزن اٹھانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس کا موازنہ اس طرح کیا جا سکتا ہے کہ اگر ایک ستر سالہ شخص چیونٹی جتنا طاقتور ہو تو وہ ایک گاڑی کو آرام سے ہاتھوں پر اٹھا لے یا پھر ایک چھوٹے ہاتھی کو دونوں ہاتھوں سے اٹھا لے۔ اسی لیے تو اللہ تعالیٰ نے اپنی آخری کتاب قرآن مجید میں چیونٹی کے نام سے &#39;&#39;سورۃ النمل‘‘ نازل فرما دی تاکہ &#39;&#39;النمل‘‘ کی تلاوت کرنے والوں پر جب گھیرا تنگ کیا جانے لگے تو وہ اپنی کل طاقت سے دس سے پچاس گنا بڑھ کر ایسی قوت کا اظہار کر دیں کہ ہمسایے بے بس ہو جائیں اور اہلِ عالم دنگ رہ جائیں۔ &#39;&#39;بنیانٌ مرصوص‘‘ کی چھائوں تلے‘ جب اللہ کے شیروں کی جدید ٹیکنالوجی کی حامل دھاڑیں کانوں کے پردے پھاڑنے لگیں تو دہشت پھیلانے والوں نے کانوں پر ہاتھ رکھ دیے۔پاکستان فاختہ کی طرح پُرامن ملک ہے۔ پرندے جب اڑان بھرتے ہیں تو زمین کی کشش سے بالا ہو کر تین چار چکر لگاتے ہیں۔ اب وہ زمین کے دونوں کناروں سے سگنل لے رہے ہوتے ہیں۔ وہ شمالی اور جنوبی کناروں سے نکلنے والی ویوز کو وصول کرکے اپنی پرواز کی سَمت کا تعین کرتے ہیں۔ بعض پرندے جو بلندی پر جاتے ہیں وہ اپنی پرواز میں سورج سے آنے والی &#39;&#39;ویوز‘‘ کو بھی استعمال کرتے ہیں۔ بعض ایسے پرندے ہیں جو آسمان میں موجود دیگر ستاروں سے سگنل  لے کر پرواز اور شکار کرتے ہیں۔ پرندوں کی آنکھوں میں ان ویوز کو وصولی کا ایک باقاعدہ نظام موجود ہوتا ہے‘ یہ نظام پرندے کے سر میں موجود دماغی &#39;&#39;نیورونز‘‘ سے جڑا ہوتا ہے۔ اس سے سمتیں معلوم ہوتی ہیں۔زمین کے گرد جو مصنوعی سیارے ہیں‘ ان کی کئی اقسام ہیں جنہیں زمین والے مختلف کاموں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ غورکریں! ہمارے &#39;&#39; ملکی وے کہکشاں‘‘ میں موجود کھربوں سٹارز کی ویوز کہاں کہاں استعمال ہوتی ہوں گی؟ اللہ تعالیٰ نے پرندوں کے پروں پر بھی غور وفکر کی دعوت دی ہے کہ وہ پروں کو پھیلاتے اور سکیڑتے ہیں۔ جب وہ پروں کو سکیڑتے ہیں تو اپنے ہدف کی جانب بلندی سے جھپٹا مارتے ہیں۔ جب پر پھیلاتے ہیں تو اوپر کی جانب بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ بعض پرندوں کے پر اپنے آخری سرے پر ہلکے سے مڑے ہوتے ہیں۔ یہ کم قوت استعمال کرکے زیادہ تیزی سے اوپر جا سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی فطرت کو ملاحظہ کرکے پاک فضائیہ روز بروز آگے بڑھتی چلی جاتی ہے۔ بنیانٌ مرصوص کے دنوں میں اس کی فطری صلاحیتوں کو دنیا نے مانا۔ اس کے شاہ باز اور شاہین جس تھنڈر کا دماغ بن کر اپنی راہیں تعین کرتے ہیں وہ راہ بقول علامہ اقبالؒ &#39;ستاروں پر کمند‘ ڈالنے والی ہے ان شاء اللہ۔ علامہ اقبال کے سائنسی وژن کو سلام کہ &#39;کمندان‘ یعنی کمانڈر بن کر کمانڈمنٹ کی معراج پر وہی فائز ہوگا جو ستاروں سے آنے والی ویوز کے سمجھنے اور انہیں اپنے استعمال میں لانے کے قابل ہو گا۔سمندروں میں مچھلیوں کی اقسام دسیوں ہزاروں میں ہیں۔ سب سے بڑی مچھلی کو &#39;&#39;وہیل‘‘ کہا جاتا ہے۔ &#39;&#39;زوالوجی‘‘ کی سائنسی دنیا میں یہ ممالیہ جانور ہے‘ یعنی یہ بچے دیتی ہے اور ان کو دودھ پلاتی ہے۔ اس کا وزن ایک سو اسی ٹن تک ہوتا ہے۔ اس وزن کو کلوگرام میں تبدیل کریں تو ایک لاکھ اسی ہزار کلوگرام وزن بنتا ہے۔ مزید سادہ الفاظ میں 25 کے قریب بڑے افریقی ہاتھیوں کے برابر اس کا وزن ہوتا ہے۔ ایک دن میں اس کے دودھ کی پیداوار 220 لٹر تک ہے۔ کچھ 500 لیٹر تک دودھ پیدا کرتی ہیں۔ اس کا دودھ ٹوتھ پیسٹ جیسا گاڑھا ہوتا ہے۔ اس کے تھن سے جب دودھ نکلتا ہے تو اس کی دھار دو انچ تک موٹی ہوتی ہے۔ رب العالمین کی ربوبیت کا نظارہ یہاں پر انتہائی ایمان افروز ہے۔ وہیل مچھلی کا بچہ جب دودھ پینے کے لیے اپنی ماں کے قریب آتا ہے تو ایسا نہیں کہ وہ بھیڑ بکری یا گائے بھینس کے بچے کی طرح دودھ پیتا ہے بلکہ وہ پانی کے اندر ہی تھن سے چند فٹ کے فاصلے پر آ جاتا ہے۔ اب اس بچے کی مامتا دودھ کی دھار مارتی ہے اور یہ دھار سمندری پانی کو چیرتے ہوئے سیدھا بچے کے منہ میں چلی جاتی ہے۔ انتہائی گاڑھا ہونے کی وجہ سے یہ دودھ پانی میں گھلتا نہیں ہے۔ بچہ منہ کھولتا ہے تو اس کے منہ کی بناوت ایسی ہے کہ سمندری پانی کی ملاوت سے پاک دھار منہ میں چلی جاتی ہے۔ جو پانی منہ کھلتے وقت تھوڑا سا منہ میں جاتا ہے وہ بھی دائیں بائیں سے باہر نکل جاتا ہے۔ یوں خالص دودھ‘ جو انتہائی گاڑھا ہوتا ہے‘ وہیل کے بچے کے معدے میں جاتا ہے۔ صدقے قربان ایسے &#39;احسن الخالقین‘ پالنہار پر‘ سبحان اللہ!دنیا بھر کی بحری فورسز سمندری مخلوقات کو سامنے رکھ کر کشتیاں‘ آبدوزیں اور بحری لڑاکا جہاز بناتی ہیں۔ وہیل کے اندر دودھ پھینکنے کا جو قدرتی نظام ہے‘ سمندر کے اندر دور تک میزائل پھینکنے کے نظام کیلئے وہیل کے اس سسٹم سے مدد لی جا سکتی ہے۔ جی ہاں! پاک بحریہ میسر وسائل کے اندر رہتے ہوئے جدید دفاعی نظام سے آراستہ و پیراستہ دکھائی دیتی ہے۔اللہ تعالیٰ کی توفیق اور مدد کے ساتھ پاکستان نے مندرجہ بالا فورسز کے بل بوتے پر علاقے میں اپنی قوت کی دھاک بٹھائی تو عالمی سطح پر امن و استحکام کے قیام میں اہم ترین کردار ادا کیا۔ اس کردار نے جہاں پاک وطن اور اس کی عسکری وسیاسی قیادت کو نیک نامی دی ہے‘ 25 کروڑ عوام کو عزت دی ہے وہیں اس عزت کے ساتھ حسد بھی بہت بڑھ گیا ہے۔ اللہ کے رسولﷺ کے فرمان کو ہمیں اپنے سامنے رکھنا ہوگا کہ &#39;&#39;ہر صاحبِ نعمت کے ساتھ حسد کیا جاتا ہے‘‘۔ حسد ایک آگ ہے جو حاسد کے سینے میں موجود کینہ پرور دل سے اٹھتی ہے۔ یہ مختلف شکلیں اختیار کرتی ہے۔ سوشل میڈیا پر گالم گلوچ اور بے بنیاد پروپیگنڈے سے لے کر ایسی دہشت گردی تک‘ جس میں دفاعی فورسز کے جوانوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ یہ وہ پاک خون ہے جو پاکستان اور اس کے 25 کروڑ عوام اور ان کی معیشت کے تحفظ کا ضامن ہے۔ یاد رہے! دفاعی قوت اور مضبوط معیشت لازم ملزوم ہیں۔ اللہ کے رسولﷺ دونوں کے لیے فکرمند رہتے۔ دونوں میں ترجیح دفاعی قوت کو حاصل تھی۔ بدر اور احد وغیرہ کی جنگوں کے بعد خیبر کی فتح نے مدینے کی ریاست کو معاشی طور پر مضبوط کیا تھا۔ پاک وطن اس نبوی منہج پر تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ پیارے ہم وطنو! ایک میزان کو کبھی نہ بھولنا کہ جب روایتی دشمنوں کی بولیاں اور اندر گھسے لوگوں کی بولیاں باہم ایک ہو جائیں تو ایسی بولی کا دلائل کے ساتھ سر کچلنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ پاک وطن زندہ باد!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_68712266.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>