<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>صنعتوں کا فروغ اور مسائل(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-04/11247</link><pubDate>Thu, 04 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-04/11247</guid><description>وزیراعظم شہباز شریف سے گزشتہ روز صنعتکاروں کے نمائندہ وفد نے ملاقات کی جس میں صنعتی معیشت کے فروغ کے عزم  کا اظہار کیا گیا تاکہ پیداوار اور برآمدات میں اضافہ ہو اور ملازمتوں کے مواقع پیدا ہو سکیں۔ بجٹ سے قبل مختلف شعبہ ہائے زندگی کے نمائندوں سے مشاورت ضروری عمل ہے۔ اس سے حکومت کو معیشت کے مختلف سٹیک ہولڈرز کی آرا کو جاننے کا موقع ملتا ہے جس سے آنے والے مالی سال کیلئے بہتر پالیسیاں تشکیل دی جاسکتی ہیں۔ حکومت یقینا معیشت و صنعت   کو درپیش بحرانوں سے ناواقف نہیں۔ سرفہرست چیلنجز توانائی کی بلند ترین قیمتیں‘ غیر متوازن اور بھاری ٹیکس اور معاشی پالیسیوں میں عدم تسلسل ہے۔ان مسائل سے نمٹ کر جب تک معیشت کو سازگار ماحول فراہم نہیں کیا جاتا صنعتی ترقی اور پائیدار نمویقینی نہیں بنایا جا سکتا۔ ملکی معیشت کے ڈھانچے اور گزشتہ چند برسوں کی کارکردگی کا جائزہ لیں تو یہ منظر تضاد سے بھرپورہے۔

مالی سال 2022ء میں پاکستان میں محصولات کا حجم 6125 ارب روپے تھا جبکہ رواں مالی سال کیلئے 13979 ارب روپے کے مقررہ ہدف میں سے 30مئی تک 11227 ارب روپے سے زائد حاصل کیے جا چکے ہیں۔ یعنی گزشتہ چار برس کے دوران حکومت کے ٹیکس ریونیو میں سو فیصد سے زائد اضافہ بظاہر ایک مثبت پیشرفت کو واضح کرتا ہے لیکن دوسری طرف ملکی برآمدات کا حجم 30ارب ڈالر کے گرد جمود کا شکار نظر آتا ہے۔اصولی طور پر اگر ملک کا ٹیکس نیٹ اور ریونیو بڑھ رہا ہے تو اس کا اثر پیداواری صلاحیت اور برآمدات میں اضافے کی صورت میں بھی سامنے آناچاہیے لیکن ملکِ عزیز میں صورتحال اس کے برعکس ہے۔ مالی سال 2022ء میں ملکی برآمدات کا حجم 31.8ارب ڈالر تھا اور گزشتہ مالی سال برآمدات 30.9ارب ڈالر تک رہیں۔یعنی وقت کیساتھ برآمدات میں بجائے اضافے کے کمی ہوئی ہے۔ مالی سال 2021ء اور 2022ء میں بڑے پیمانے کی صنعتوں نے بالترتیب 10.5 فیصد اور 10.8 فیصد ترقی کی مگر اسکے بعد ترقیٔ معکوس کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
مالی سال 2023ء میں صنعتی ترقی کی شرح منفی 5.26 فیصد رہی‘ 2024ء میں 2.2 فیصداور 2025ء میں 1.9 فیصد کی شرح سے ترقی ہوئی۔ حیران کن طور پر پیداوار میں گراوٹ کے ساتھ حکومت کے ٹیکس ریونیو میں اضافہ ہوتا گیا کیونکہ دستاویزی معیشت کو فروغ دینے یا پیداوار بڑھانے کے بجائے حکومت ٹیکسوں کا بوجھ بڑھاکر محصولات کے حجم میں اضافہ کرتی رہی۔ یوں بڑھتی ہوئی ٹیکسوں کی شرح سے ملکی مصنوعات عالمی مارکیٹ میں اپنی مسابقت کھوتی چلی گئیں اور صنعتی زوال بڑھتا گیا۔ ان حکومتی پالیسیوں کا منفی اثر سرمایہ کاروں کے اعتماد پر بھی پڑا۔ کاروباری اعتماد کی شرح‘ جو پہلے 22 فیصد تھی‘ اب مزید گر کر 13 فیصد پر آ چکی ہے۔اس مایوس کن صورتحال کی بنیادی وجوہات میں سب سے نمایاں توانائی کے بلند ترین اخراجات ہیں۔ پاکستان میں اس وقت بجلی اور گیس کے نرخ خطے میں سب سے زیادہ ہیں جس کی وجہ سے پیداواری لاگت اس حد تک بڑھ جاتی ہے کہ مقامی صنعتوں کیلئے عالمی منڈیوں میں مسابقت برقرار رکھنا ممکن ہی نہیں ہوتا۔
حکومت کو آنے والے بجٹ میں ان سبھی امور پر ہمدردانہ غور کرتے ہوئے ایسے معاشی فیصلے کرنے چاہئیں جو ملکی معیشت کی ترقی میں حقیقی کردار ادا کر سکیں۔ حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال کیلئے جی ڈی پی کی نمو کا حجم‘ جو رواں سال 3.7فیصد کے لگ بھگ متوقع ہے‘ چار فیصد مقرر کرنے کا عندیہ دیا جا رہا‘ مگر اس کا حصول اسی صورت ممکن ہے جب صنعتی پہیہ رواں دواں ہو گا اور مقامی کاروبار کو پھلنے پھولنے کے مواقع میسر آئیں۔ پاکستان کی معاشی بقا کا دارومدار بے لچک اصلاحات پر ہے اور ان اصلاحات کا راستہ صنعتوں کو تحفظ دینے اور کاروباری ماحول کو سازگار بنانے سے ہو کر گزرتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پارلیمانی اجلاس سے غیر حاضری(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-04/11246</link><pubDate>Thu, 04 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-04/11246</guid><description>فافن کی حالیہ رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی کے 27ویں اجلاس میں صرف 20فیصد ارکان تمام نو نشستوں میں شریک ہوئے۔ 33ارکان ایک بھی نشست میں حاضر نہیں ہوئے جبکہ 267ارکان‘ یعنی ایوان کے 80فیصد سے زائد‘ کم از کم ایک نشست سے غیر حاضر رہے جبکہ کابینہ میں سے صرف ایک وفاقی وزیر اور ایک وزیرِ مملکت تمام نشستوں میں شریک ہوئے۔ قومی اسمبلی وہ فورم ہے جہاں قانون سازی‘ قومی پالیسیوں پر بحث‘ عوامی مسائل کی نشاندہی اور حکومتی کارکردگی کا احتساب ہونا چاہیے۔ اگر منتخب نمائندے ایوان میں موجود ہی نہ ہوں تو ان مقاصد کا حصول کیسے ممکن ہوگا؟ عوام ووٹ کے ذریعے اپنے نمائندوں کو اسلئے منتخب کرتے ہیں کہ وہ ان کی آواز بنیں‘ مسائل اجاگر کریں‘ قانون سازی کے عمل میں حصہ لیں اور قومی وسائل کے استعمال پر نظر رکھیں۔

جب نمائندے ایوان کی کارروائی سے ہی لاتعلق رہیں تو عوامی نمائندگی کا بنیادی تصور مجروح ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہماری پارلیمنٹ میں پالیسی سازی پر سنجیدہ اور جامع بحث محدود ہو چکی‘ اکثر اہم قوانین اور پالیسی فیصلے غور و خوض‘ پارلیمانی جانچ اور تفصیلی مباحثے کے بغیر منظور ہو جاتے ہیں۔ اس صورتحال میں نہ صرف قانون سازی کا معیار متاثر ہوتا بلکہ حکومت کی جوابدہی کا نظام بھی کمزور پڑ جاتا ہے۔ اگر پارلیمنٹ کو واقعتاً قومی پالیسی سازی‘ عوامی نمائندگی‘ قانون سازی اور انتظامیہ کے احتساب کا مؤثر پلیٹ فارم بنانا ہے تو منتخب اراکین کو پارلیمانی اجلاسوں میں اپنی شرکت یقینی بنانا چاہیے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>نوجوانوں پر سرمایہ کاری کی ضرورت(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-04/11245</link><pubDate>Thu, 04 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-04/11245</guid><description>وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگ زیب نے نوجوانوں کی فنی تربیت‘ مہارتوں میں اضافے اور انہیں عالمی منڈی کی ضروریات سے ہم آہنگ بنانے کو قومی اقتصادی ایجنڈے کا مرکزی نکتہ قرار دیا ہے۔ اگر حکومت اس کہے کو کر دکھائے تو یہ بڑاخوش آئند ہو گا کیونکہ نوجوان ملکی آبادی کا تقریباً 60 فیصد ہیں اور معاشی مشکلات‘ بڑھتی ہوئی بیروزگاری‘ غربت اور سماجی مسائل کے تناظر میں نوجوانوں کی فنی و پیشہ ورانہ تربیت قومی ضرورت ہے۔ ہر سال لاکھوں نوجوان تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل ہو کر روزگار کی منڈی میں داخل ہوتے ہیں مگر بڑی تعداد کے پاس ایسی مہارتیں نہیں ہوتیں جنکی جدید معیشت اور صنعت کو ضرورت ہے۔

آج دنیا تیزی سے ڈیجیٹل معیشت کی جانب بڑھ رہی ہے۔ پاکستان کے نوجوان اگر ڈیجیٹل شعبوں میں مہارت حاصل کر لیں تو وہ نہ صرف مقامی بلکہ عالمی سطح پر بھی اپنی خدمات فراہم کر سکتے ہیں۔ ضروری ہے کہ تعلیمی نظام‘ صنعت اور روزگار کی منڈی کے درمیان مضبوط ربط پیدا کیا جائے۔ ٹیکنیکل اور ووکیشنل اداروں کو جدید سہولتوں سے آراستہ کیا جائے۔ حکومت کی جانب سے نوجوانوں کو معاشی ترقی کا محور قرار دینا درست قدم لیکن اصل امتحان پالیسیوں کا عملی نفاذ ہے۔ اگر ایسا کرنے میں کامیابی حاصل ہو گئی تو ملک کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے میں نوجوان بلاشبہ کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ہم اپنے آپ کو کھا رہے ہیں(محمد اظہارالحق)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-06-04/52057/15279719</link><pubDate>Thu, 04 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-06-04/52057/15279719</guid><description>تو کیا آپ نے اُس ظالم شخص کے بارے میں نہیں سنا جو اپنے جسم کے اعضا کھاتا تھا؟ اس نے ایک ایک کر کے اپنے بازو‘ ٹانگیں‘ پسلیاں‘ گردے اور دیگر حصے کھا لیے یہاں تک کہ صرف منہ اور معدہ رہ گیا اور آخر میں بھوک سے مر گیا۔ہم بھی اُس ظالم شخص سے کم ظالم نہیں۔ وہ فرد تھا جبکہ ہم بطور قوم ظالم ہیں۔ اب تو ہم یہ بھی بھولتے جا رہے ہیں کہ پچپن سال پہلے ہم ملک کا ایک بازو ہی کھا گئے تھے۔ بازو ہڑپ کر کے ہم نے ڈکار تک نہ لیا اور &#39;&#39;با شرمی‘‘ کی حد یہ ہے کہ ہڑپ کرنے کا الزام آج تک دوسروں پر لگا رہے ہیں۔ اب ہم اپنی زمینیں‘ اپنے کھیت‘ اپنے جنگل‘ اپنی چراگاہیں‘ اپنے درخت اور اپنے باغات کھا رہے ہیں۔ یہ بھی جسم کے اعضا کھانے ہی کا مکروہ عمل ہے۔ مستقبل بینی کی صفت سے ہم مکمل طور پر عاری ہیں۔ لاہور کے پرانے باشندے بتاتے ہیں کہ شہر کی وہ فصیل جو گارے اور پتھروں سے بنی تھی بہت پہلے ٹوٹ گئی تھی۔ مگر اس کے بعد‘ ماضی قریب تک آموں کے باغات کی فصیل شہر کی حفاظت کرتی رہی۔ ایک باخبر شخص نے بتایا کہ شالامار باغ کا علاقہ آموں کے باغات سے اَٹا رہتا تھا اور باغات کے ٹھیکے انہی خاندانوں کے پاس تھے جو مغل عہد سے یہ ٹھیکے لیتے آ رہے تھے۔ ٹھوکر سے لے کر رائیونڈ روڈ پر‘ اہم‘ کھرب پتی‘ شخصیات کے محلات تک آموں کے باغات ہی باغات تھے۔ سب جوع الارض (Land hunger) کی نذر ہو گئے۔ سیالکوٹ کے نواح میں چاول اگانے والی بہترین زرعی زمین پر طاقتوروں نے ہاؤسنگ سوسائٹی بنا لی ہے۔ جہلم میں پہاڑ کاٹ کر جدید ہاؤسنگ سوسائٹی بنائی گئی ہے۔ یوں ماحولیات کو سنگین نقصان پہنچایا گیا۔ جنوبی پنجاب اور ساہیوال کے قرب و جوار میں بہترین زرعی زمینیں فیکٹریوں میں تبدیل ہو گئیں۔ پنڈی سے گوجر خان تک‘ بلکہ اس سے آگے بھی جی ٹی روڈ کے دونوں طرف زرعی زمینیں بک چکی ہیں۔ ترنول سے فتح جنگ تک کا علاقہ جو بہترین گندم اگانے کیلئے مشہور تھا‘ کئی قسم کی تعمیرات سے بھر چکا ہے۔ اس علاقے کو مقامی آبادیاں وزیرستان کہتی ہیں۔ واہ جو کسی زمانے میں صرف اسلحہ ساز فیکٹریوں کیلئے مشہور تھا اب آبادیوں کے ہجوم میں اس طرح گم ہوا ہے کہ فیکٹریاں آٹے میں نمک کی طرح ہو گئی ہیں۔ ہر چہار طرف مکان ہی مکان ہیں۔ واہ کے جنوب میں بھی زرخیز زمینیں ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں بدل چکی ہیں۔ ایبٹ آباد کا تو ذکر ہی نہ کیجیے۔ جہاں کبھی جون جولائی میں بھی پنکھوں کا وجود نہ تھا اور جیکٹیں‘ سویٹر اور کوٹ لے کر جانا ہوتا تھا‘ وہاں اب پنکھوں کے ساتھ ساتھ اے سی بھی چل رہے ہیں۔ ایبٹ آباد تقریباً مانسہرہ تک پہنچ ہی چکا ہے۔ درخت کٹ گئے ہیں۔ ہزاروں لاکھوں گاڑیوں کے دھوئیں اور بے تحاشا بڑھتی آبادی نے اس انتہائی خوبصورت پہاڑی شہر کی شہرت کو داغدار کر کے رکھ دیا ہے!! ایبٹ آباد کے مشرق میں‘ کاکول کے جنوب کی طرف‘ بے شمار پہاڑوں کا مکمل صفایا کر دیا گیا ہے۔ راولپنڈی میں اگر آپ کچہری چوک سے جی ٹی روڈ پر روات کی طرف جائیں تو سڑک کے دونوں طرف عفریت نما پلازے کھڑے ہیں۔ یہ ہمارے سامنے کی بات ہے۔ یہاں دونوں طرف پہاڑیاں تھیں۔ ایک ایک پہاڑی کو قتل کیا گیا۔ کوئی والی وارث سامنے نہ آیا۔ شہر کی کارپوریشن‘ ضلعی انتظامیہ‘کسی کے کان پر جوں نہ رینگی۔نہ مدعی نہ شہادت‘ حساب پاک ہوا۔ یہ خونِ خاک نشیناں تھا ‘ رزقِ خاک ہوا۔ حال ہی میں درختوں کے ساتھ جو کچھ وفاقی دارالحکومت میں ہوا‘ سب کو معلوم ہے۔ہزاروں درخت کاٹ دیے گئے۔ جنگل کے جنگل صاف ہو گئے۔ابھی تو مقتولوں کا خون بھی خشک نہیں ہوا۔ میڈیا نے بہت آہ و زاری کی۔ سینے پر دو ہتڑ مارے۔مگرکون سنتا ہے فغانِ درویش!اور ملتان !! آہ ملتان!! آموں کے اس شہر میں آم کے درختوں کا وہ قتلِ عام ہوا جو چنگیز خان کے لشکریوں نے ایران اور ماورا النہر میں کیا کیا ہو گا!! عباسیوں نے اُمویوں کی لاشوں پر قالین بچھائے تھے اور قالینوں پر بیٹھ کر دعوتیں اڑائی تھیں۔ ثروت مندوں نے اور بے پناہ طاقت رکھنے والوں نے آم کے ہزاروں ( کیا عجب لاکھوں ) درختوں کو قتل کیا‘ اوپر لوہے ‘ اینٹوں ‘ سنگ مر مر اور در آمد شدہ ٹائلوں کا فرش بچھایا ‘ اس پر لاکھوں کروڑوں کا فرنیچر رکھا اور پھر دنیا کے بہترین کھانے کھائے۔ درخت جاندار مخلوق ہیں۔نبیِ رحمتﷺ نے جنگ کے دوران بھی درخت کاٹنے سے منع کیا۔ ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے لیے ملک میں ایسے بے شمار مقامات ہیں جہاں درخت اور فصلیں نہیں۔ اگر اس کاروبار کا اتنا ہی شوق ہے تو نئے شہر بساؤ۔ پرانے شہروں کے نواح میں ثمر دار باغات کا اور زیر کاشت کھیتوں کا قتلِ عام کیوں کرتے ہو ۔ شاید عابدہ حسین نے لکھا ہے کہ ایک اہم شخصیت کو وہ اپنی زمینیں دکھانے لے گئیں۔ ہری بھری فصلوں کو دیکھ کر ان کے منہ سے بے اختیار آرزو ٹپک پڑی کہ یہاں شوگر مل لگ سکتی ہے یا لگانی چاہیے۔ اس نا بینا اور چلنے سے معذور مائنڈ سیٹ کی موجودگی میں زراعت اور ماحولیات کی فکر کون کرے گا ؟ (ن) لیگ کی حکومت یوں بھی ہمیشہ تاجروں اور کارخانہ داروں کا مفاد دیکھتی ہے۔ ان حضرات کو کسانوں اور سرکاری ملازمین کی کبھی فکر نہیں رہی۔پیپلز پارٹی کی حکومتیں کم از کم سرکاری ملازموں کی خیر خواہی ضرور کرتی رہی ہیں۔ تا دمِ تحریر خبر یہی ہے کہ آنے والے بجٹ میں تنخواہیں اور پنشنیں نہیں بڑھیں گی!کیا اس ملک میں کھیتوں‘ جنگلوں‘ چراگاہوں ‘ باغوں اور پہاڑوں کی زندگیاں اسی طرح داؤ پر لگتی رہیں گی؟ کیا اس حوالے سے قانون سازی نہیں کی جا سکتی ؟ کیا انہیں‘ جو بہت زیادہ طاقتور ہیں‘ روکا نہیں جا سکتا؟؟کیا ٹائیکونوں کو ہمیشہ کھلی چھٹی دی جاتی رہے گی؟ ایک موصوف نے تو مارگلہ کی پہاڑیاں مانگ لی تھیں کہ سرنگیں بنا کر پار نکل جائیں گے۔ پہاڑیوں کی قسمت اچھی تھی۔ بچ گئیں۔ خدا کے بندو! اناج کہاں اگاؤ گے؟ پھل کہاں سے لو گے؟ کپاس کی پیداوار پندرہ ملین گانٹھوں سے کم ہو کر پانچ ملین گانٹھ تک آگئی ہے۔ ٹیکسٹائل انڈسٹری کا حصہ پاکستان کی برآمدات میں پچپن فیصد ہے جو اَب خطرے کی زد میں ہے۔کپاس اگانے والی زمینوں پر مسلسل چینی کے کارخانے لگائے جا رہے ہیں۔ شوگر مافیا ایک ایسا منہ زور بیل ہے جسے قابو کرنا ممکن نہیں اس لیے کہ شوگر فیکٹریوں کے مالکان فیصلہ ساز مسندوں پر براجمان ہیں۔دور کی نظر ہماری حکومتوں کی ہمیشہ کمزور رہی ہے۔بنگلہ دیش اور ویتنام جیسے چھوٹے ممالک کے ملبوسات اور کپاس کی مصنوعات پوری دنیا پر چھائی ہوئی ہیں۔ مگر ہمارا حال بقول شیخ سعدی اُس احمق کی طرح تھا جو اُسی شاخ کو کاٹ رہا تھا جس پر بیٹھا تھا۔ یکی بر سرِ شاخ و بُن می برید۔ لگتا ہے ملک میں کوئی قانون ہے نہ حکومت نہ کوئی روک ٹوک نہ پوچھ گچھ۔ یہی لیل نہار رہے تو نئی نسل کو کپاس‘ گندم اور دیگر پودے دکھانے لیے عجائب گھروں میں لے جانا پڑے گا۔ ہر طرف تعمیرات ہی تعمیرات ہوں گی۔ ہر طرف ہاؤسنگ سوسائٹیاں ‘ فیکٹریاں‘ امرا کے محلات ہوں گے۔ کسان‘ باغبان ‘ چرواہے ‘ بھوک سے مر کھپ چکے ہوں گے۔ جانور ملک سے یوں غائب ہو جائیں گے جیسے دنیا سے ڈائنو سار غائب ہوئے ہیں۔ گندم اور چاول کا ایک ایک دانہ باہر سے منگایا جائے گا۔ ملکی قرضے آسمان تک جا پہنچیں گے۔ گندم پیسنے کی ملیں شوگر فیکٹریوں میں تبدیل ہو جائیں گی۔ گنے کے علاوہ کچھ اور اگانے کی کسی نے کوشش بھی کی تو اسے عمر قید کی سزا ملے گی۔ہم اپنے آپ کو کھا رہے ہیں۔ رات دن کھا رہے ہیں۔ وہ دیکھیے! سامنے دیوار پر ہمارا انجام لکھا ہے!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_57182973.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>فقیر تو بہرحال صدا لگائے گا(خالد مسعود خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-06-04/52058/39385529</link><pubDate>Thu, 04 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-06-04/52058/39385529</guid><description>اعداد وشمار کے اعتبار سے مملکت خداداد پاکستان &#39;&#39;کیسی بلندی اور کیسی پستی‘‘ والی صورتحال کی عکاسی کرتی ہے۔ آبادی کے اعتبار سے ہم دنیا میں پانچویں اور جی ڈی پی کے اعتبار سے دنیا کی بیالیسویں بڑی معیشت ہیں۔ اس ملک میں صرف دو چیزوں میں مسلسل بڑھوتری ہو رہی ہے‘ ایک آبادی اور دوسری ہاؤسنگ سکیمیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جس حساب سے ملکی آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے اس نسبت سے زرعی پیداوار میں اضافہ نہیں ہو رہا۔ ہر روز بڑھتے ہوئے اس باہمی فرق کی دو بنیادی وجوہات ہیں؛ پہلی یہ کے قابلِ کاشت زمین میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو رہا اور دوسری وجہ یہ کہ ہم ابھی تک زیادہ پیداوار دینے والی فصلات کے بیج تیار نہیں کر سکے۔ ہماری بنیادی خوراک گندم ہے جبکہ ہم گندم کی فی ایکڑ پیداوار کے اعتبار سے عالمی درجہ بندی میں بہت نیچے ہیں۔ آئرلینڈ کی اوسط پیداوار سو من فی ایکڑ سے زیادہ ہے جو پاکستان سے تین گنا زیادہ ہے۔ جبکہ جرمنی اور برطانیہ کی اوسط پیداوار بھی تیس من فی ایکڑ کی اوسط پیداوار والے پاکستان سے اڑھائی گنا زیادہ ہے۔ اگر عالمی درجہ بندی میں پاکستان کو گندم کی فی ایکڑ پیداوار کے حوالے سے دیکھیں تو FAOSTAT کی درجہ بندی میں ہم دنیا بھر میں 61ویں نمبر پر ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس ملک کی مسلسل بڑھتی ہوئی آبادی کو کھلانے کے لیے زرعی درآمدات مسلسل بڑھتی جائیں گی اور زرِمبادلہ کے ذخائر جو پہلے ہی شدید دباؤ میں ہے مزید بُری صورتحال کا شکار ہو جائیں گے۔ اس وقت بھی ملکی ضرورت کا تقریباً 80 فیصد خوردنی تیل‘ چنا‘ مسور‘ مونگ اور دیگر دالوں کے علاوہ اب کپاس کی درآمد پر اربوں ڈالر خرچ کیے جا رہے ہیں۔ اب اس فہرست میں گندم بھی شامل ہو گئی ہے۔ گزشتہ سال 180ارب روپے کی تو صرف چائے درآمد کی گئی ہے۔ یہ بات ہم اپنے بچپن سے سنتے آ رہے ہیں کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور یہ ہماری ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے تاہم ہماری ریڑھ کی ہڈی اس بُری طرح نظر انداز ہوئی ہے کہ اب اس کے لیے بڑھتی ہوئی آبادی اور زوال پذیر معیشت کا بوجھ اٹھانا مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ عشروں سے سرکار ملک کی زراعت کے بارے میں زبانی جمع خرچ کے علاوہ اور کچھ نہیں کر رہی۔ نہ کسی کے پاس درست اعداد وشمار ہیں اور نہ کوئی اس بکھیڑے میں پڑنا چاہتا ہے۔ زرعی معاملات ٹیکنو کریٹس کے بجائے بابوں کے ہاتھ میں ہیں جنہیں زراعت کی الف بے کا بھی پتا نہیں ہے۔ اسمبلیوں میں وہ لوگ بیٹھے ہوئے ہیں جن کے اپنے معاملات کہیں اور جڑے ہوئے ہیں۔ شوگر ملز مالکان اپنے حساب سے پالیسیاں بنواتے ہیں‘ ٹیکسٹائل سیکٹر کی اپنی ترجیحات ہیں اور امپورٹ مافیا کے اپنے کھانچے ہیں۔ اگر اس پورے معاملے میں کسی کی کوئی شنوائی نہیں ہے تو وہ کاشتکار ہے۔یہی حال لائیو سٹاک کا ہے۔ گائیوں اور بھینسوں کی تعداد کے اعتبار سے تو ہماری عالمی رینکنگ کافی بہتر ہے۔ ہمارے پاس 5.59 کروڑ گائیں‘ 4.77 کروڑ بھینسیں‘ 9.58 کروڑ بکریاں اور 4.46 کروڑ بھیڑیں ہیں‘ تاہم دودھ کی پیداوار کے اعتبار سے ہم بہت نچلے درجے پر ہیں۔ بھینس کے دودھ کی اوسط پیداوار تو پھر بھی بہتر ہے لیکن گائے کے دودھ کی اوسط اتنی شرمناک ہے کہ رونا آتا ہے۔ ہم ابھی تک دودھ دینے والے اور گوشت کے لیے فربہ کیے جانے والے جانوروں کو علیحدہ علیحدہ کیٹیگری میں تقسیم نہیں کر سکے۔ FAO کے مطابق دنیا کے کئی ممالک جن میں امریکہ‘ ڈنمارک‘ کینیڈا اور فن لینڈ شامل ہیں‘ گائے کے دودھ کی سالانہ اوسط پیداوار دس ہزار لٹر سے زیادہ ہے جبکہ پاکستان میں گائے کی دودھ کی فی کس سالانہ اوسط ڈیڑھ ہزار لٹر سے بھی کم ہے۔ عالم یہ ہے کہ گاؤں دیہات میں دو اڑھائی لیٹر روزانہ دینے والی گائے بھی دودھ دینے والے جانوروں میں شمار کی جاتی ہے اور اس سے پیدا ہونے والی بچھڑی مستقبل میں دودھ دینے والی گائے کے طور پر پال پوس کر بڑی کی جاتی ہے۔ اڑھائی کلو روزانہ دودھ دینے والی گائے کہ اگلی نسل بمشکل دو سوا دو کلو دودھ دے گی اور یہ ہمارا لائیو سٹاک کا مستقبل ہے۔ملک کا کل رقبہ آٹھ لاکھ بیاسی ہزار مربع کلومیٹر ہے اور اس میں جنگلات کا تناسب گھسیٹ گھساٹ کر ساڑھے چار فیصد شمار کیا جاتا ہے۔ ایمانداری کی بات تو یہ ہے کہ حقیقی جنگلات کا رقبہ اس سے کہیں کم ہے۔ سرکار کے لگائے گئے جنگلات کے بارے میں سرکاری افسر اور اہلکار جھوٹ اور مبالغے سے کام لیتے ہیں۔ فائلوں میں درخت اُگنے سے زمین کی صحت پر کچھ خاص فرق نہیں پڑتا جبکہ متعلقہ محکموں کے افسر درخت اگانے کے لیے زمین کے بجائے فائل پر زیادہ محنت کرتے ہیں‘ لہٰذا فائلوں میں جنگلات کا رقبہ زمین پر موجود جنگلات سے کافی زیادہ ہے۔ پہاڑی علاقوں میں موجود جنگلات میں تو پھر بھی کام کی لکڑی والے درخت ہیں جبکہ میدانی علاقوں میں لگائے جانے والے جنگلات کا بیشتر حصہ بیکار قسم کے جلد بڑھوتری والے سفیدے ٹائپ درختوں پر مشتمل ہے۔ جنگلوں کا یہ شیدائی اس بات کا عینی شاہد ہے کہ گزشتہ چند عشروں سے مسلسل کم ہوتا ہوا شیشم کے درختوں پر مشتمل رقبہ متبادل کے طور پر سفیدے کے درختوں سے بھرا جا رہا ہے۔ پہلے سے زیر زمین پانی کی کمی کا شکار یہ ملک خدا جانے کن عقلمندوں کے ہاتھ لگا ہوا ہے کہ انہوں نے جلد کارکردگی دکھانے کے چکر میں سارا ماحول برباد کر کے رکھ دیا ہے۔ شہروں کے اردگرد پھلوں کے باغات کو ہاؤسنگ کالونیاں کھا گئی اور جنگلات کو ٹمبر مافیا ہڑپ کر گیا۔ نتیجہ ماحولیاتی تبدیلیوں کی صورت میں عفریت بن کر کھڑا ہے اور ہمیں رتی برابر فکر نہیں ہے۔ہمارا ہمسایہ ملک بھارت رقبے کے اعتبار سے پاکستان سے تقریباً 3.7 گنا بڑا جبکہ آبادی میں 5.7 گنا زیادہ ہے۔ ہماری فی مربع کلومیٹر آبادی 290 جبکہ بھارت میں یہ تعداد 445 ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ بھارت میں فی مربع کلومیٹر آبادی کا دباؤ ہم سے کہیں زیادہ ہے۔ لیکن بھارت میں بے تحاشا آبادی کے باوجود جنگلات کا رقبہ پاکستان کی نسبت پانچ گنا زیادہ ہے اور یہ حقیقی جنگلات ہیں‘ جن میں ببرشیر‘ بنگال ٹائیگر‘ چیتے‘ تیندوے‘ ریچھ‘ جنگلی بھینسے‘ ہاتھی اور ایک سینگ والے ایشیائی گینڈے تک پائے جاتے ہیں۔ جبکہ ہمارے ملک میں بچے کھچے جنگلات اور وائلڈ لائف پارکس اتنے خراب وخستہ ہیں کہ سوچ کر ہی دل بجھ جاتا ہے۔ عالمی شہرت یافتہ شکاری اور شیر کے تحفظ کے لیے بہت کام کرنے والے جم کاربٹ کے نام پر بھارت کے سب سے پرانے 1936ء میں قائم ہونے والے نیشنل پارک میں اڑھائی سو سے زائد بنگال ٹائیگر اور ایک ہزار سے زیادہ تو صرف ہاتھی پائے جاتے ہیں۔ملک میں جنگلات کی حالت پہلے ہی پتلی ہے اور ہمیں ابھی تک اس کی بہتری کا خیال تک نہیں آیا۔ ادھر ایک قاری نے مطلع کیا ہے کہ دادو کے گردو نواح میں سیتا روڈ‘ سونا بڈھی اور پھلجی میں سرکاری اراضی پر قائم صدیوں پرانے جنگلات کاٹے جا رہے ہیں اور سرکاری اہلکاروں کی ملی بھگت سے ٹمبر مافیا لکڑی بیچ رہا ہے۔ ماحولیاتی بربادی ہمارے دروازے پر صرف دستک ہی نہیں دے رہی بلکہ دہلیز پھلانگ کر گھر میں داخل ہو چکی ہے مگر ہم ہیں کہ خوابِ خرگوش میں مگن ہیں۔ مجھے بخوبی علم ہے کہ اس سلسلے میں ارباب اقتدار کو جھنجوڑنے کے لیے کالم لکھنا ایک حرفِ بیکار سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں مگر یہ فقیر دروازہ ضرور کھٹکھٹائے گا۔ فقیر کا کام صدا لگانا ہے۔ خیرات تو مقدر کی ہوتی ہے۔ سو فقیر صدا لگا رہا ہے‘ کیا خبر خیرات بھی مل جائے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90500073.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مذہب، ادب اور سوشل میڈیا(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-06-04/52059/73657447</link><pubDate>Thu, 04 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-06-04/52059/73657447</guid><description>مذہب کے جدید نمائندوں کے درمیان سوشل میڈیا پر مکالمہ جاری ہے۔ آپ جانتے ہیں اس کا انجام کیا ہوا؟ہمارے ہاں روایت پرست مذہبی حلقہ اکثر زیرِ بحث رہتا ہے۔ بالعموم وہی مذہب کا حقیقی نمائندہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کے اخلاقیات پر بات ہوتی ہے اور کم و بیش اس پر اتفاق ہے کہ مذہب اور اخلاق میں طلاق ہو چکی‘ اِلا ماشاء اللہ۔ یہ مقدمہ قائم کرنے والوں میں سیکولر طبقے کے ساتھ وہ بھی شریک ہیں جو مذہب کے &#39;جدید نمائندے‘ ہیں یا &#39;جدید مذہب‘ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اس میں وہ لوگ شامل ہیں جو جدید علوم سے واقف ہیں۔ غزالی و فارابی ہی نہیں‘ کانٹ اور ہیگل کے حوالے بھی دیتے ہیں۔ عربی ہی نہیں انگریزی بھی جانتے ہیں۔ جدید مفہوم میں پڑھے لکھے ہیں۔ مراد یہ کہ ان کے پاس یونیورسٹی کی ڈگریاں بھی ہیں۔ کوئی کسی جامعہ میں استاد بھی ہے۔ یہ ممکن ہے کہ روایتی دین کے وکیل ہوں مگر جدیدیت کو سمجھتے ہیں۔اس طبقے کے نمائندہ لوگوں میں بھی اختلاف پیدا ہو گیا۔ یہ اختلاف عرفِ عام میں علمی ہے۔ علمِ حدیث کا کوئی نکتہ زیِر بحث ہے یا علمِ کلام کی کوئی جہت۔ اس بحث کا انجام تلخی پر ہوا۔ یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ بحث میں تلخی در آئی۔ ایسی تلخی کہ روایتی اور غیر روایتی مذہبی نمائندوں میں فرق تلاش کرنا محال ہو گیا۔ اس میں سب اطراف سے کمک فراہم ہوتی رہی۔ بہت سے مجاہدین شمشیر بدست میدان میں نکل پڑے۔ ایسا گھمسان کا رن پڑا کہ الامان و الحفیظ۔ تکفیر‘ جہالت سمیت ہر الزام کو روا رکھا گیا۔ استہزا اور تذلیل تو خیر اب معمولی باتیں ہیں جن کا تذکرہ بے معنی ہے۔اب کچھ اہلِ ادب کی سنیے۔ یہاں علم یا ادب موضوع ہی نہیں۔ تمام تر گفتگوشخصیات پر ہو رہی ہے۔ فلاں چھوٹا شاعر ہے اور فلاں بڑا۔ مضامین کے سرقے کی بات ہو رہی ہے اور ادبی چوروں کی فہرست مرتب کی جا رہی ہے۔ فلاں نے اقبال کے بارے میں یہ کہہ دیا۔ اب سب فلاں کے پیچھے ہیں۔ اس نے کیا کہا اور اس کی بات کی علمی و ادبی قدرو منزلت کیا ہے‘ یہ کہیں زیرِ بحث نہیں۔ اقبال کے مداح ہیں جن کا لب و لہجہ یہ ہے کہ &#39;تم ہوتے کون ہو بات کرنے والے؟ تمہاری اوقات کیا ہے؟‘۔ دوسری طرف ناقدینِ اقبال ہیں جو اس پر ادھار کھائے بیٹھے ہیں کہ کب موقع ملے اور اقبال کو کٹہرے میں لا کھڑا کریں۔ شاعری کو نثر اور عقلیات کے پیمانے پر ناپتے ہیں۔ ان دونوں صفوں میں اقبال شناس کتنے ہیں؟ اس راز سے پردہ نہ ہی ا ٹھے تو اچھا ہے۔کچھ لوگ اس بھیڑ چال سے ہٹ کر چھوٹے چھوٹے جزیرے آباد کیے ہوئے ہیں۔ جیسے مذہب میں جاوید احمد صاحب غامدی۔ ادب میں جناب احمد جاوید۔ اکادمی ادبیات میں نجیبہ عارف صاحبہ ایسی مجالس برپا کرتی رہتی ہیں جن میں سنجیدہ مباحث اٹھائے جاتے ہیں۔ حال ہی میں اکادمی نے پوسٹ ماڈرن عہد میں قومی ادب کے سوال پر آن لائن لیکچر کا اہتمام کیا۔ مبین مرزا صاحب نے اس موضوع پر عالمانہ گفتگو کی۔ ملک کے ممتاز اہلِ ادب بحیثیت سامع موجود رہے۔ اسی طرح الحمد یونیورسٹی اسلام آباد کا شعبۂ اردو بھی ڈاکٹر شیر علی صاحب کی راہنمائی میں متحرک ہے اور زندہ مسائل کو علمی سطح پر سمجھنے کے لیے آن لائن مباحث کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان کے باوصف‘ سوشل میڈیا پر مذہب و ادب کی غالب بحثیں‘ اخلاقیات سے ماورا اپنی ڈگر پر چلی جا رہی ہیں جس پر کہیں اخلاق اور خوش ذوقی کا پڑاؤ نہیں۔مذہب اور ادب انسان کی اخلاقی حس اور جمالیاتی ذوق کی آبیاری کے لیے ہیں۔ ان دونوں کا کام معاشرے کو بہتر انسان فراہم کرنا ہے۔ ایسے انسان جو اخلاق اور فہم میں دوسروں سے ممتاز ہوں۔ اگر مذہبی مباحث میں بھی بغیر تحقیق الزامات لگائے جائیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ مذہب آپ کو چھو کر نہیں گزرا۔ اگر ادب سے تعلق کے باوجود آپ اختلاف کے آداب سے واقف نہیں تو معلوم ہوا کہ گدھے پر کتابیں لاد دی گئی ہیں۔ مذہب اور ادب کی روایت میں بڑے بڑے معرکے ہوئے ہیں۔ ادبی جرائد نے اس موضوع پر ایک سے زیادہ خصوصی نمبر شائع کیے ہیں۔ اس میں وہ بھی ہیں جو اختلاف کرتے تھے مگر مجال ہے کہیں سوقیانہ پن ہو۔ ایسی مثالیں بھی موجود ہیں کہ اختلاف نے ہر حد کو پار کر دیا۔میں ہمیشہ یہ خیال کرتا رہا اور آج بھی اس پر قائم ہوں کہ مذہب کی تعلیم اس لیے لازم ہے کہ اخلاق بہتر ہوں۔ ادب اور فنونِ لطیفہ اس لیے سکھائے جائیں کہ جمالیاتی ذوق کی تربیت ہو اور سماج میں خوبصورتی کی قدر کی جائے۔ فلسفہ اس لیے نصاب کا حصہ ہو کہ اس سے معاملات کو عقلی طور پر سمجھنے کا سلیقہ پیدا ہو۔ اگر سب کچھ پڑھ کر بھی آپ اَن پڑھوں سے مختلف دکھائی نہ دیں تو ان کا پڑھانا نہ پڑھانا یکساں ہیں۔ اگر ہمارے فیصلے غیرعقلی ہیں‘ ہمارا رویہ غیر اخلاقی ہے اور ہم لطفِ جذبات کا لحاظ نہیں رکھ سکتے تو پھر فلسفہ‘ مذہب اور ادب کا مطالعہ بے معنی ہے۔اگر مذہب‘ فلسفہ اور ادب وہ نتائج نہیں دے سکے جن کے لیے ہم ان کو سماجی علم کا حصہ بناتے ہیں تو مسئلہ کہاں ہے۔ مذہب اور فلسفے میں یا انسان اور سماج میں؟ میں نے مغربی تہذیب کے پس منظر میں یہ سوال اٹھایا تھا کہ جو آدمی انسانی جان کی حرمت کا قائل نہیں اسے انسانی حقوق کا نمائندہ کیسے قرار دیا جا سکتا ہے؟ اسی نوعیت کا سوال میں اپنے معاشرے کے بارے میں بھی اٹھا رہا ہوں کہ ہم مذہب و ادب کے نتائج سے محروم کیوں ہیں؟ ہمارا معاملہ تو معکوس ہے۔ ہم خود کو ان سانچوں میں ڈھالنے کے بجائے یہ چاہتے ہیں کہ یہ سانچے ہمارے خیالات کا روپ اپنا لیں۔ مذہب ہمارے جذبات کا ترجمان بن جائے۔ ادب ہم سے آداب سیکھے۔ فلسفہ ہمارے خیالات کا نام ہو جو لازم نہیں کہ عقلی ہو۔سیانے یہ کہتے ہیں کہ یہ سو پچاس سال کا عمل ہے جو ایک سماج کو کسی نظامِ اقدار کا نمائندہ بناتا ہے۔ یہ بھی اس صورت میں کہ اس کا ارتقا جاری رہے۔ مذہب اخلاق کا حقیقی نمائندہ بنے۔ اس کا مطلب ہے کہ مذہبی شخصیات اور ادارے علم اور اخلاق میں ایک مضبوط بندھن کو قائم رکھیں۔ فلسفے پر صرف عقل کی حکمرانی رہے۔ وہ کسی نظریے کا وکیل نہ ہو۔ ادب صرف حسن کا نمائندہ بنا رہے۔ لوگ حسن کو حسنِ بیان تک دیکھیں۔ اس کے لیے سو پچاس برس کا تسلسل ضروری ہے جو کم از کم دو نسلوں کی تربیت کرے۔ تب کہیں نتائج نکلیں گے۔ یہ ایجابی پہلو ہے۔ سلبی حوالے سے دیکھیں تو مذہب سیاسی مفادات اور مسلکی و فرقہ وارانہ تعصبات سے آزاد ہو۔ ادب پہلے ادب ہو بے ادبی نہ ہو۔ لوگ شاعروں اور ادیبوں سے بات کرنا سیکھیں۔ فلسفہ کسی نظریے کا دربان نہ ہو۔ اگر یہ نہیں ہو تو مذہب کا جدید نمائندہ ہو یا قدیم‘ شاعر بڑا ہو یا چھوٹا‘ فلسفی کتابوں کے انبار لگا دے‘ سماج میں کسی تبدیلی کا باعث  نہیں بنیں گے۔ اگرمیری بات کسی مزید وضاحت کی متقاضی ہے تو آپ سوشل میڈیا پر علمِ کلام اور تحریکِ مجاہدین کے حوالے سے جاری بحث پر ایک نظر ڈال لیں۔ علامہ اقبال پر لوگوں کے تبصرے پڑھ لیں۔ امید ہے کوئی تشنگی باقی نہیں رہے گی۔ بعض دوستوں کا خیال ہے اس میں پریشانی کی کوئی بات نہیں۔ اس تلخی کو گوارا کرنا چاہیے۔ وقت کے ساتھ ٹھیراؤ آ جائے گا۔ اس بات میں وزن ہے۔ میرا خدشہ یہ ہے کہ یہ ٹھیراؤ جس رفتار سے آتا ہے اس کے خلاف متحرک قوتیں اس کے مقابلے میں زیادہ سرعت کے ساتھ روبعمل ہوتی ہیں۔زخم کے بھرنے تلک‘ ناخن نہ بڑھ جائیں گے کیا</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کھالیں(عمران یعقوب خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-06-04/52060/16178950</link><pubDate>Thu, 04 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-06-04/52060/16178950</guid><description>عیدِ قربان گزر چکی اور اب کھالیں اکٹھی کرنے والے ادارے بیٹھے کھالیں گن رہے ہیں اور اندازہ لگا رہے ہیں کہ ان سے کتنا ریونیو جنریٹ ہو سکے گا۔ پاکستان میں امسال قربانی کے جانوروں کی 75لاکھ کھالیں جمع ہوئیں جن سے 8.7ارب روپے کی معاشی سرگرمی متوقع ہے۔ اس سال 28لاکھ گائے بیلوں‘ 43لاکھ بکروں‘ پانچ لاکھ بھیڑوں اور 30ہزار اونٹوں کی کھالیں حاصل ہوئی ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ کھالوں کے کاروبار میں فروغ سے چمڑے کی صنعت منافع بخش تیار مصنوعات کی طرف منتقل ہوئی ہے اور پاکستانی برآمدات میں چمڑے سے تیار مصنوعات کا حجم 694.20ملین ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ رپورٹس بتاتی ہیں کہ پاکستان میں ایک دہائی کے دوران قربانی کے جانوروں کی تعداد 17فیصد بڑھی ہے۔ کچھ رپورٹیں یہ بھی بتاتی ہیں کہ مہنگائی کی وجہ سے لوگوں کی قوتِ خرید میں کمی واقع ہوئی اور اس کے اثرات قربانی کے جانوروں پر بھی مرتب ہوئے۔ جانور مہنگے ہو گئے اور لوگوں کی قوتِ خرید میں نہ آنے کی وجہ سے قربان کیے جانے والے جانوروں کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے۔ واللہ اعلم!قوتِ خرید کی بات ہوئی ہے تو ایک نامور ماہرِ معاشیات کا کہنا ہے کہ پاکستان میں افراطِ زر یعنی مہنگائی اور خراب معاشی حالات کی وجہ سے عام آدمی کی قوتِ خرید میں شدید کمی واقع ہوئی ہے۔ ان کے مطابق مارچ 2022ء کے بعد سے عوام کی قوتِ خرید میں تقریباً 58 فیصد تک کمی آ چکی ہے جبکہ آمدنیوں میں اضافہ اس تناسب سے بالکل بھی نہیں ہوا۔ مثال یہ پیش کی گئی کہ اگر کسی شخص کی ماہانہ آمدنی مارچ 2022ء میں 50ہزار روپے تھی تو مہنگائی کی موجودہ لہر کے بعد اس کی قوتِ خرید  گھٹ کر صرف 20ہزار روپے تک رہ گئی ہے یعنی اس کے 50ہزار اب 50ہزار نہیں بلکہ 20 ہزار روپے ہیں۔کھالوں سے یاد آیا‘ گزشتہ روز ایک اور کھال کا بھی ذکر ہوا ہے۔ میڈیا رپورٹیں بتاتی ہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں میں اضافے پر پیر کے روز ہونے والی اپنی ٹیلی فونک گفتگو میں اسرائیلی وزیراعظم یتن یاہو پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور اسے پاگل اور ناشکرا قرار دے دیتے ہوئے کہا کہ میں تمہاری کھال بچا رہا ہوں‘ میں نہ ہوتا تو تم اب تک جیل میں ہوتے۔ پتا چلا ہے کہ ٹرمپ کے ان سخت ترین جملوں کے جواب میں نیتن یاہو صرف او کے‘ او کے کہتا رہا۔ ذرائع کے مطابق ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ انہوں نے نیتن یاہو کو جیل جانے سے بچانے میں مدد دی۔ ان کا اشارہ نیتن یاہو کے خلاف بد عنوانی کے مقدمے میں اس کی حمایت کی جانب تھا۔ اس پیش رفت کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ پیر کے روز ہی ایران نے لبنان میں اسرائیلی اقدامات کے باعث امریکہ کے ساتھ جاری مذاکرات ترک کرنے کی دھمکی دی تھی۔ اس سے یہ اندازہ بھی ہوتا ہے کہ ٹرمپ معاہدہ نہ ہونے کے نتائج سے کتنے خوف زدہ ہیں۔اس وقت نیتن یاہو کے خلاف تین مقدمات چل رہے ہیں۔ دو مقدمات میں ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اسرائیلی میڈیا اداروں سے مثبت کوریج حاصل کرنے کے لیے مبینہ طور پر سودے بازی کی جبکہ تیسرے مقدمے میں الزام ہے کہ انہوں نے ارب پتی شخصیات سے سیاسی فوائد کے بدلے دو لاکھ 60 ہزار ڈالر سے زائد مالیت کے قیمتی تحائف قبول کیے۔ چوتھا بدعنوانی کا ایک الزام خارج کیا جا چکا ہے۔ دنیا بھر کے ممالک میں یہ تاثر عام ہے کہ نیتن یاہو نے غزہ کی جنگ اس لیے بھڑکائی کہ اپنے مقدمات سے کچھ ریلیف لے سکے اور اب امریکہ کو ایران کے ساتھ جنگ کی دلالی پر تیار کرنے والا بھی نیتن یاہو ہی ہے۔لیکن بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی۔ کبھی نہ کبھی تو اسے اپنی کھال اتروانی ہی پڑے گی۔سابق امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے انکشاف کیا ہے کہ نیتن یاہو نے ایران پر حملے کا منصوبہ متعدد امریکی صدور کے سامنے پیش کیا تھا تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کے سوا سب نے اس منصوبے کو مسترد کر دیا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق جان کیری نے ایک انٹرویو میں کہا کہ سابق صدور جارج بش ‘ براک اوبامااور جو بائیڈن نے ایران کے خلاف جنگ کی تجویز کو مسترد کر دیا  کیونکہ ان کا خیال تھا کہ پہلے سفارتی اور پُرامن راستے مکمل طور پر آزمانا ضروری ہے‘ ان میں اگر کامیابی نہ ہو تو پھر جنگ کا  راستہ اختیار کیا جانا چاہیے۔ جان کیری‘ جن کا دعویٰ ہے کہ وہ خود ان مشاورتوں کا حصہ رہے‘ کے مطابق اوباما نے انکار کیا‘ بش نے انکار کیا‘ بائیڈن نے بھی انکار کیا لیکن ٹرمپ نے ہاں کر دی۔ وہ کہنا یہ چاہتے تھے کہ اس وقت مشرق وسطیٰ‘ امریکہ اور باقی دنیا کی جو صورتحال ہے اور جن مسائل کا سامنا ہے اس کی وجہ ٹرمپ کی وہ ایک ہاں ہے۔نیتن یاہو کی کھال تو ٹرمپ نے بچا لی (یہ الگ بات ہے کہ وہ ان کی کھال پوری طرح بچا پائے یا نہیں) لیکن بہت سے ان لوگوں کی کھالیں بچتی نظر نہیں آتیں جو ایران امریکہ جنگ میں اور اس سے پہلے غزہ کی جنگ میں انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیوں اور ان سے بھی زیادہ شدید جنگی جرائم کے مرتکب ہوئے۔ جان کیری کے انکشافات سے یہ واضح ہو چکا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ کی دلالی میں صرف اور صرف امریکہ اور اپنی شہرت کا منہ کالا کیا ہے اور کچھ نہیں ہوا۔ایسا نہیں کہ امریکہ اور اس کے حامی ممالک نے یہ پہلی بار کیا ہے۔ اس سے پہلے مارچ 2003ء میں اسی ایران کے پڑوس میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تیاری کا بہانہ بنا کر عراق کو تاخت و تاراج کر دیا گیا تھا۔ تیل کے ذخائر سے مالا مال اس ترقی پذیر ملک کو ایسی ضرب لگائی گئی جس کے کرب سے وہ اب تک باہر نہیں نکل سکا ہے۔ 2015ء میں امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹونی بلیئر نے تسلیم کیا تھا کہ عراق پر امریکی قیادت میں ہونے والے حملے نے شدت پسند تنظیم داعش کے قیام سمیت ان بیشتر بحرانوں کو جنم دیا جن میں مشرقِ وسطیٰ اس وقت گھرا ہوا ہے۔ (تب امریکہ ایران جنگ شروع نہیں ہوئی تھی اور مشرقِ وسطیٰ عرب بہار نامی انقلابی سلسلے کے اختتام پر حکومتوں کی تبدیلیوں کے اس سلسلے کے نتائج کا اندازہ لگانے میں مصروف تھا) انہوں نے تسلیم کیا کہ حملے کی وجہ بننے والی وہ انٹیلی جنس اطلاعات خامیوں سے پر مبنی تھیں جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ عراق بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار تیار کر رہا ہے۔کیا یہ کہہ دینا کافی ہے کہ غلط معلومات کی وجہ سے فلاں جنگ لڑی گئی۔ غلط معلومات فراہم کرنے والے کہاں ہیں۔ انہیں ابھی تک کیفر کردار تک کیوں نہیں پہنچایا گیا؟ حال ہی میں امریکی سینیٹ میں وزیر خارجہ مارکو روبیو سے سخت سوالات کیے گئے جبکہ ایران جنگ پر ٹرمپ پالیسی کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ آنے والے دنوں میں کہیں یہ سوالات مزید سخت  تو نہیں ہونے والے۔ کیا ایران کی جنگ میں ملوث افراد کے لیے اپنی اپنی کھالیں بچانے کا موسم قریب تو نہیں آ رہا؟</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_58350786.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>تُو ساتھ ہو اور دور کا درپیش سفر ہو(سعود عثمانی )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-06-04/52061/33999045</link><pubDate>Thu, 04 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-06-04/52061/33999045</guid><description>بھٹیاری جھیل پر موٹر بوٹ کی سیر مکمل ہو چکی تھی اور ہم ایک بار پھر جھیل کنارے سڑک پر کھڑے تھے۔ یہاں سے کسی اور طرف جانا تھا لیکن جھیل ہمیں رخصت کی اجازت ہی نہیں دیتی تھی۔ ذرا رخ بدلتے تو اسی کا کوئی منظر پیروں میں زنجیر ڈال دیتا تھا۔ دل مسلتی کیفیت تھی جیسے کسی محبوبہ سے ہمیشہ کے لیے بچھڑنا ہو۔ سعود میاں! یہ ہجر تم پر پہلے بھی گزر چکا ہے نا! اور وہ کسی جھیل سے جدائی نہیں تھی۔ یاد ہے اس وقت تم نے فی البدیہہ غزل کہی تھی جس میں یہ شعر بھی تھا:رخ بدلتا ہوں تو سینے سے لپٹ جاتی ہےسسکیاں لیتی ہوئی شامِ جدائی‘ کہ نہیںدو محبت کرنے والے انسانوں کی جدائی کس کس طرح بیان ہوتی چلی آئی ہے۔ کوئی سے بھی دو انسان! باپ بیٹا‘ ماں‘اولاد‘ بھائی بہن‘ جدائی ہمیشہ سینہ خراش ہوتی ہے۔ مجھے یاد آیا کہ میرے عظیم دادا مفتی اعظم پاکستان‘ مفتی محمد شفیع صاحب نے شاید اپنی تفسیر معارف القرآن میں لکھا ہے کہ جب یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے حضرت یعقوب علیہ السلام سے بہت اصرار کیا کہ وہ یوسف علیہ السلام کو ساتھ لے جانا چاہتے ہیں تو باپ نے کہا کہ مجھے یہ بات غمگین کرتی ہے کہ تم اسے میرے پاس سے لے جاؤ اور مجھے خوف ہے کہ اسے کوئی بھیڑیا نہ کھا جائے۔ (سورہ یوسف)۔ مفتی صاحب نے کہا کہ یہاں حزن اور خوف دو الگ الگ باتیں ذکر کی گئی ہیں۔ یعنی صرف یہ بات کہ تم اسے میری آنکھوں کے سامنے سے لے جاؤ‘ مجھے یہی بات غمگین کر دے گی ‘خواہ اسے کوئی خطرہ بھی نہ ہو۔ اس کے علاوہ یہ خوف الگ ہے کہ اسے کوئی بھیڑیا نہ کھا جائے۔نیلی سبز جھیل ہمارے سینے سے لپٹی ہوئی تھی۔ ہم خود بھی کب اس سے جدا ہونا چاہتے تھے لیکن جدائی کی گھڑی بالآخر آن پہنچی۔ گاڑی نے رخ موڑا اور پہاڑی راستے پر ادھر روانہ ہو گئی جدھر سے آئی تھی۔ اب ہم پہاڑی سے اُتر رہے تھے۔ آتے ہوئے ہم راستے کے دائیں طرف ایک مقام چھوڑ آئے تھے جہاں پکنک پوائنٹ اور کچھ ریسٹورنٹس بنے ہوئے تھے۔ یہ بھٹیاری پہاڑی سے غروبِ آفتاب کے نظارے کی جگہ تھی۔ ابھی سہ پہر کا آغاز تھا اس لیے غروب میں دیر تھی لیکن اس سن سیٹ پوائنٹ کی بلندی پر کھڑے ہو کر اندازہ ہو گیا کہ جب سامنے کھلے منظر میں سورج عمارتوں اور درختوں کے عقب میں غروب ہوتا ہو گا اور ترچھی نارنجی کرنیں پوری پہاڑی کو شفق رنگ بناتی ہوں گی تو کیا ٹھہر جانے والا وقت تخلیق ہوتا ہو گا۔ سورج ہر روز یہ منظر پیش کرتا تھا لیکن مسافر جو ہمیشہ تیزی کے عادی ہوتے ہیں‘ اس سے محروم رہ جاتے ہیں۔ جب یہاں سورج غروب ہو رہا ہو گا تو ہمارا جہاز اڑنے کے لیے پَر تولتا ہو گا۔ہم گاڑی میں بیٹھے اور ایک بار پھر پہاڑی راستوں پر رواں ہوئے۔ دائیں بائیں کئی سڑکیں مرکزی سڑک سے پھوٹتی تھیں۔ ہم دائیں طرف گھنے درختوں سے ڈھکی ایک خاموش سڑک پر ہو لیے۔ یہ سڑک لہراتی بل کھاتی لیے چلتی گئی۔ ہمارے سوا کوئی گاڑی نہیں تھی اور چھاؤں سے ڈھکے اس راستے پر کبھی کبھار دھوپ کی ٹکڑیاں بھی آ جاتی تھیں۔ ایسے راستے پر چلتے رہنا ہی منزل ہوتی ہے۔ شاعر کا وجدان کیسا عجیب ہوتا ہے۔ ایسے کتنے ہی ان دیکھے راستوں کے خواب دکھاتا ہے۔اکیلی جاتی ہوئی رہ گزر میں ساتھ چلیںکہیں پہنچنا نہ ہو اور سفر میں ساتھ چلیںایک موڑ کاٹ کر سڑک سیدھی ہوئی تو ذرا آگے دائیں طرف ایک چھوٹی سی خوب صورت عمارت دکھائی دی۔ اس کے سامنے پھولوں کے رنگا رنگ تختے کھلے ہوئے تھے۔ اور ایک ڈرائیو وے عمارت کے دروازے تک جاتا تھا۔ یہ بھٹیاری گالف کلب تھا اور اسی کے لیے ادھر آئے تھے۔ میں اترا تو پہلی نظر عمارت کی دائیں طرف سامنے پھلدار درختوں پر پڑی۔ بڑے بڑے سبز پپیتے لٹکتے تھے۔ ان کے پکنے میں دیر تھی لیکن وہ اس منظر کی ہریالی میں اضافہ کرتے تھے۔ قریب ہی درختوں پر سبز امرود تھے۔ ناریل کے پیڑ بے ثمر تھے لیکن شاید ان کے موسم میں ابھی دیر تھی۔ عمارت کے سامنے سڑک کی دوسری طرف پہاڑی سے کافی نیچے گالف کلب کا میدان دکھائی دے رہا تھا۔ گہرے سبز درختوں کے بیچ دھوپ بھرے اس میدان کا ہلکا سبز رنگ خوابناک لگتا تھا۔ ہم جس سڑک پر آئے تھے یہی سڑک آگے اترتی ہوئی گالف کلب تک جاتی تھی۔بھٹیاری گالف کلب بھی بنگلہ دیشی فوج کے زیر انتظام تھا۔ یہ دو منزلہ چھوٹی سی خوب صورت عمارت اس وقت خاموش تھی اور عملے اور ہم دو افراد کے علاوہ کوئی نہیں تھا۔ ہم نے اوپر کی منزل پر کونے کی میز منتخب کی کہ وہاں سے شیشوں کے پار منظر زیادہ خوبصورت تھا۔ مجھے اپنے اخبار کے لیے کالم بھیجنا تھا اور کالم ابھی لکھا بھی نہیں گیا تھا‘ اس لیے میں تو لیپ ٹاپ کھول کر اپنے کام میں لگ گیا۔ اس خاموشی میں کوئی آواز مجھ تک پہنچتی تھی تو صرف پرندوں کی چہکاریں۔ ذہن کام میں لگ جائے تو گردو پیش اور اطراف گم ہونے لگتے تھے۔ آپ کہاں بیٹھے ہیں‘ کون آپ کے قریب ہے۔ کون دور سے بولتا ہے۔ کانچ کے کن گلاسوں کے ٹکرانے سے جلترنگ سا بجتا ہے۔ سب پس منظر میں رہ جاتے ہیں‘ صرف آپ اس دنیا میں ہوتے ہیں‘ اور کوئی نہیں۔ بس اتنا احساس کہ ایک دھند کی دیوار کہیں دور کھڑی ہے اور وہیں کہیں سے سب چہرے سب آوازیں آتی ہیں۔ آپ سب کی نظروں سے غائب ہو جاتے ہیں۔ جب تک چاہیں یہ سلیمانی ٹوپی پہنے رکھیں۔ جب چاہیں اتار کر یہ دھند کی دیوار کھینچ کر قریب کر لیں‘ پردہ ہٹائیں اور ان سب چہروں سے ہم کلام ہو جائیں۔کالم ای میل کر چکا تو ذہنی بوجھ کم ہوا۔ اب تازہ پھلوں کے اس ٹھنڈے مشروب سے پورا انصاف کیا جا سکتا تھا جو کب سے میرا منتظر تھا۔ ایک گھونٹ سے ٹھنڈک اور طراوت سینے تک اترتی چلی گئی۔ پیاس میں یہ تسکین ایک نشے کی طرح خون میں گھومتی پھرتی تھی۔ کلب میں ایئر کنڈیشنرز چلتے تھے اور باہر کا منظر بھی ٹھنڈا لگتا تھا لیکن باہر اچھی خاصی گرمی تھی۔ ہم نے وہیں بیٹھے بیٹھے حساب لگایا کہ رات 8 بجے کی فلائٹ سے پہلے ہمارے پاس کتنا وقت باقی ہے۔ کئی گھنٹے مزید گھومنے کے لیے مل سکتے تھے۔ یہ اس کی برکت تھی کہ ہم علی الصبح ہوٹل سے نکل آئے تھے اور دن کا کافی حصہ برت لیا تھا۔ کچھ گرمی‘ کچھ کاہلی۔ یہاں سے اٹھنے کا جی نہیں تھا۔ مگر پلٹنا تو ہوتا ہے گھر کو شام ہوئے ۔کچھ دیر گالف کلب میں گھومنے کے بعد بالآخر بھٹیاری کو الوداع کہنے کا وقت آ گیا۔ سوچا کہ گالف کلب کی طرف اتریں لیکن پھر ارادہ بدل دیا۔ معلوم نہیں وہاں جانے دیں یا نہیں۔ ویسے بھی اصل بھٹیاری دیکھ لیا تھا۔ مجھے چٹاگانگ میں بھٹیاری اپنے سکون‘ قدرے خوشگوار موسم اور سبزے کی وجہ سے سب سے زیادہ پسند آیا تھا۔ اب ہم میدانی سڑک سے پہلے آخری پہاڑی ڈھلوانوں پر تھے۔ پتا نہیں اس کی خوشبودار سانسیں پھر کبھی نصیب ہوں یا نہ ہوں۔ میں نے کئی گہرے سانس لے کر ان کی مہک اپنے اندر بھر لی۔ دائیں طرف ایک اونچے درخت کو دیکھا جس کی شاخیں ہم پر سایہ کرتی تھیں۔ &#39;&#39;پیارے! زندگی نے اگر مہلت دی تو دوبارہ تم سے ملنے آؤں گا۔ پکا وعدہ رہا‘‘۔ بل کھاتی سڑک نے ہمیں الوداع کہا اور مجھے میرا شعر یاد دلایا:اُس خواب کی تقدیر میں تعبیر اگر ہوتو ساتھ ہو اور دور کا درپیش سفر ہو</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_81278520.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پیکرِ حیا وسخا(مفتی منیب الرحمٰن )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-06-04/52062/46947773</link><pubDate>Thu, 04 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-06-04/52062/46947773</guid><description>یوں تو تمام صحابہ کِرام رضوان اللہ علیہم اجمعین عظیم المرتبت ہیں اور پوری امت کے لیے ان کی سیرت مَشعلِ راہ ہے‘ پھر ان میں سے خلفائے راشدین اور عشرۂ مبشّرہ کا ایک ممتاز مقام ہے۔ ہر صحابی اپنی ذات میں اوصاف وکمالات کا جامع ہے‘ لیکن اُن کی شخصیات کے بعض پہلو نہایت نمایاں اور ممتاز ہیں۔ تیسرے خلیفۂ راشد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شخصیت کے نمایاں پہلو حیا‘ سخا (فیاضی)‘ غِنٰی اور حلم ہیں‘ یہ ان کی اَخلاقی ساخت‘ جِبِلّت اور فطری نہاد کے لازمی اجزا ہیں۔علامہ زمخشری لکھتے ہیں: &#39;&#39;حیا ایسے تغیّر وانکسار کو کہتے ہیں جو انسان کو ہر اُس چیز کے ارتکاب کے سبب لاحق ہوتا ہے جو معیوب ہو اور جس کی مذمت کی جائے‘‘ (تفسیر کشاف‘ ج: 1‘ ص: 110)۔ یعنی یہ ایسا نفسانی ملکہ ہے جو انسان کو برائی کے ارتکاب سے روکتا ہے۔ لیکن دنیا کی کسی زبان میں ایسا کوئی متبادل لفظ نہیں ہے جو حیا کی پوری معنویت کا جامع ہو۔ حیا سے مراد مومن کے اندر ایسے فطری‘ جبلّی اور اخلاقی وصف کا ہونا جو انسان کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول مکرمﷺ کی معصیت سے روک دے۔ حدیث پاک میں ہے: &#39;&#39;جب تم میں حیا نہ رہے تو پھر جو چاہے کرتے پھرو‘‘ (بخاری: 3484)۔ اس حدیث سے واضح ہے کہ حیا برائی کے لیے طبعی اور فطری رُکاوٹ ہے اور جب حیا نہ رہے تو سارے اَخلاقی بندھن ٹو ٹ جاتے ہیں۔ رسولﷺ نے فرمایا: &#39;&#39;بے شک اللہ تعالیٰ بہت حیا فرمانے والا ہے‘ نہایت کرم فرمانے والا ہے‘ جب بندہ اس کے سامنے دستِ سوال دراز کرے تو اُسے حیا آتی ہے کہ اس کے ہاتھوں کو خالی لوٹا دے‘‘ (ترمذی: 3627)۔ آپﷺ کی ذات سے حضرت عثمانؓ کی محبت اور حیا کا عالم یہ تھا کہ انہوں نے فرمایا: جب سے میں نے بیعت کے لیے رسول اللہﷺ کے ہاتھ میں ہاتھ دیا ہے‘ میں نے نہ کبھی گانا گایا‘ نہ جھوٹ بولا اور نہ اپنے دائیں ہاتھ سے اپنی شرم گاہ (یا کسی نا مناسب) چیز کو چھوا ہے‘‘ (ابن ماجہ: 311)۔ یعنی اُن کے دل میں رسول اللہﷺ کے دستِ مبارک کے شرفِ لَمس کا اتنا تقدّس واحترام تھا۔ اسی طرح رسول اللہﷺ بھی آپؓ کی حیا داری کا پاس فرماتے: حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: رسول اللہﷺ میرے گھر میں پہلو کے بل اس طرح (بے تکلفی کے ساتھ) لیٹے ہوئے تھے کہ آپﷺ کی دونوں پنڈلیاں کھلی ہوئی تھیں‘ حضرت ابو بکر صدیقؓ نے اجازت طلب کی‘ آپﷺ نے ان کو اجازت دے دی اور آپ اسی کیفیت میں باتیں کرتے رہے‘ پھر حضرت عمرؓ نے اجازت طلب کی‘ آپﷺ نے ان کو بھی اُسی کیفیت میں اجازت دے دی اور باتیں کرتے رہے‘ پھر حضرت عثمانؓ نے اجازت طلب کی تو آپﷺ اُٹھ کر بیٹھ گئے اور اپنے کپڑے درست کر لیے‘ پھر وہ داخل ہوئے اور باتیں کرتے رہے‘ جب وہ چلے گئے تو حضرت عائشہؓ نے پوچھا: (یا رسول اللہﷺ!) حضرت ابو بکروعمر رضی اللہ عنہما آئے تو آپ نے ایسا کوئی اہتمام نہیں کیا جب عثمانؓ آئے تو آپ بیٹھ گئے اور اپنے کپڑوں کو درست فرما لیا (یعنی اس خصوصی اہتمام کا سبب کیا ہے؟) آپﷺ نے فرمایا: میں اس شخص سے کیوں حیا نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں‘‘ (مسلم: 2401)۔ ایک اور روایت میں ہے: &#39;&#39;آپﷺ نے فرمایا: عثمان بہت حیادار ہیں اگر میں انہیں اسی حالت میں اجازت دے دیتا تو مجھے اندیشہ تھا کہ وہ اپنے طبعی حیا کی وجہ سے اپنی آمد کا مقصد بھی بیان نہ کرتے‘‘ (مسلم:2402)۔دین کی راہ میں حضرت عثمانؓ کی سخاوت اور فیاضی بھی بے مثال تھی‘ چند احادیث پیشِ خدمت ہیں:حضرت عبدالرحمنؓ بن خباب بیان کرتے ہیں: میں رسول اللہﷺ کے پاس ایسے وقت میں حاضر ہوا کہ آپﷺ صحابہ کرام کو جیشِ عُسرت (غزوۂ تبوک) کی مالی اعانت کے لیے ترغیب دے رہے تھے۔ حضرت عثمانؓ کھڑے ہوئے اور عرض کی: (یا رسول اللہﷺ!) میں اللہ کی راہ میں سازو سامان سے لدے ہوئے سو اونٹ پیش کرتا ہوں‘ رسول اللہﷺ نے صحابہ کرام کو پھر ترغیب دی توحضرت عثمانؓ نے پھرکہا: میں سازو سامان سے لدے ہوئے دو سو اونٹ پیش کرتا ہوں‘ آپﷺ نے پھر ترغیب دی تو حضرت عثمانؓ نے کہا: میں سازو سامان سے لدے ہوئے تین سو اونٹ پیش کرتا ہوں۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے دیکھا: رسول اللہﷺ منبر سے اُترتے ہوئے بار بار یہ ارشاد فرما رہے تھے: آج کے بعد اگر بالفرض عثمان کوئی بھی نیک کام نہ کریں تو اُن پر کوئی مؤاخذہ نہیں ہو گا‘‘ (ترمذی : 3700)۔ (2) حضرت عبدالرحمنؓ بن سَمرہ بیان کرتے ہیں: حضرت عثمانؓ ایک ہزار دینار لے کر حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کی گود میں ڈال دیے‘ (راوی کہتے ہیں) میں نے دیکھا: آپﷺ نے اُن اشرفیوں کو اپنی گود میں پلٹتے ہوئے فرمایا: آج کے بعد عثمان کوئی بھی نیکی نہ کرے تو اُن کے لیے کچھ نقصان دہ نہیں ہے‘ یعنی یہی ایک عظیم نیکی ان کی نجات کے لیے کافی ہے‘‘ (ترمذی: 3701)۔ رسول اللہﷺ جس کی حُسنِ عاقبت اور آخرت میں نجات کی بشارت دے دیں تو یقینی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں مکرِ شیطان‘ فریبِ نفس اور عملِ بد سے محفوظ رکھتا ہے اور نیکی کی توفیق عطا فرماتا ہے۔ رسول اللہﷺ کی یہ بشارت اُن کے بارے میں آپ کا حُسنِ ظن بھی ہے اور اُن کی صالحیت پر آپ کے یقین کی بھی مظہر ہے۔ جیشِ عُسرت نہایت تنگ دستی کے زمانے میں تھا اور ایسے مشکل وقت میں معمولی سی مالی اعانت بھی اچھے وقتوں کی بڑی سے بڑی عطا سے زیادہ قابلِ قدر ہوتی ہے۔جب باغیوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی رہائشگاہ کا محاصرہ کر لیا اور آپؓ پر پانی بند کر لیا اور مسجدِ نبوی میں نماز پڑھنے کی بھی اجازت نہ دی تو آپؓ اُن کے سامنے نمودار ہوئے اور فرمایا: میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر اور حُرمتِ اسلام کا واسطہ دے کر کہتا ہوں: تم لوگوں کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ جب رسول اللہﷺ مدینہ طیبہ تشریف لائے اور یہاں (ایک یہودی کی ملکیت) بِئرِ رومہ کے سوا پینے کے لیے میٹھا پانی دستیاب نہ تھا‘ رسول اللہﷺ نے فرمایا: کون ہے جو جنت کی نعمتوں کے بدلے میں اس کنوئیں کو خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کر دے‘ پھر میں نے اپنے ذاتی مال سے اسے خرید کر وقف کر دیا تھا‘ تو کیا آج تم مجھ ہی کو اس کا پانی پینے سے روک رہے ہو اور میں نمکین پانی پینے پر مجبور ہوں‘ انہوں نے کہا: ہاں‘ تو حضرت عثمانؓ نے کہا: میں تمہیں اللہ اور اسلام کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں: مسجدِ نبوی نمازیوں کے لیے تنگ ہو گئی تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: کون ہے جو جنت کی نعمتوں کے عوض فلاں جگہ کو خرید کر مسجد کے لیے وقف کر دے‘ پس میں نے اپنے ذاتی مال سے وہ جگہ خرید کر مسجد کے لیے وقف کر دی تھی تو کیا آج مجھ کو ہی اس مسجد میں دو رکعت نماز پڑھنے کی اجازت نہیں ہے‘ اُن (سنگ دل) لوگوں نے کہا: ہاں‘ (ترمذی: 3703)۔شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے سیرتِ عثمانؓ کا ایک ایمان افروز واقعہ لکھا ہے: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں مدینے میں قحط پڑا اور غلے کی قلت ہو گئی۔ حضرت عثمانؓ کا ایک ہزار اونٹوں پر مشتمل تجارتی قافلہ اشیائے ضرورت سے لدا ہوا مدینے پہنچا۔ تاجر دوڑ پڑے اور پچاس فیصد منافع کی پیشکش کی‘ حضرت عثمانؓ نے فرمایا: میرے پاس چودہ سو گنا منافع کی یقینی پیشکش موجود ہے اور انہوں نے وہ سارا مال رضائے الٰہی کے لیے فقرائے مدینہ پر صدقہ کر دیا۔ (ازالۃ الخفا‘ ج: 2‘ ص: 224‘ خلاصہ)</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_61172381.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>