<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>جنگ اور اس کے اثرات(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-20/11378</link><pubDate>Mon, 20 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-20/11378</guid><description>امریکہ اور ایران کا تصادم روز بروز خطرناک صورت اختیار کرتا جا رہا ہے اور اس کے اثرات خطے میں بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ کشیدگی کے آغاز میں متحارب فریقین ایک دوسرے کی عسکری تنصیبات کو نشانہ بنا رہے تھے مگر اب فوجی اور شہری تنصیبات کی تفریق کے بغیر حملے جاری ہیں۔ حالیہ دنوں امریکہ نے ایران میں متعدد پلوں اور ریلوے لائنوں کو نشانہ بنایا اور تازہ اطلاعات کے مطابق ایک زیر تعمیر جوہری بجلی گھر پر بھی حملہ کیا گیا ہے۔ دوسری جانب ایران نے کویت میں سمندری پانی کو صاف کرنے والے ایک پلانٹ پر دو روز میں دوسری بار حملہ کیا۔ ہفتہ کے روز امریکہ نے بھی ایران کے صوبہ ہرمزگاں میں سمندری پانی صاف کرنے والے پلانٹ کو نشانہ بنایا تھا جس سے تقریباً 10 ہزار آبادی والا علاقہ پانی کی فراہمی سے محروم ہو گیا۔ مشرق وسطیٰ کے ممالک میں صاف پانی کمیاب ہے اور پانی کی ضروریات کا بڑا حصہ ڈی سیلینیشن پلانٹس سے مہیا ہوتا ہے اس لحاظ سے یہ تنصیبات انسانی زندگی اور بقا کا اہم ذریعہ ہیں اورکسی لحاظ سے بھی ان کا عسکری اہداف سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ یہی حال پلوں‘ ریلوے لائنوں‘ ہسپتالوں اور سکولوں کا ہے۔

ایسے شہری ٹھکانے ہرگز جنگی ہدف نہیں بننے چاہئیں‘ طرفین کو اس سلسلے میں پوری ذمہ داری اور احتیاط سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ جنگیں جتنی شدید ہی کیوں نہ ہوں متحارب فریقین کو پیچھے ہٹنے کا راستہ اور بات چیت کی گنجائش رکھنی چاہیے‘ مگر عام شہریوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کا نتیجہ دشمنی اور جنگ کی شدت میں اضافے کے سوا کچھ نہیں ہو سکتا۔ امریکہ اور ایران دونوں کو چاہیے کہ فی الفور ایسے غیر عسکری اہداف پر حملے بند کریں۔ شہری آبادی‘ رہائشی علاقے اور غیر فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانا بین الاقوامی انسانی قانون اور اقوام متحدہ کے اصولوں کے بھی منافی ہے۔ جنگ یا مسلح تنازع کے دوران عام شہریوں‘ ہسپتالوں‘ سکولوں‘ عبادت گاہوں‘ بجلی گھروں اور پانی کی فراہمی جیسے بنیادی ڈھانچے کو تحفظ حاصل ہے اور ان پر حملوں سے ہر صورت گریز کیا جانا چاہیے۔ اقوام متحدہ کے چارٹر‘ 1949 کے جنیوا کنونشنز اور بین الاقوامی انسانی قانون کی رُو سے بھی متحارب فریق اس بات کے پابند ہیں کہ فوجی اور شہری اہداف میں واضح فرق کریں۔ ان اصولوں کی خلاف ورزی بین الاقوامی قوانین اور مروجہ عالمی ضوابط کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ اسی طرح تابکار مادوں کے اخراج کے تباہ کن خطرات کی وجہ سے بین الاقوامی انسانی قانون اور جنیوا کنونشنز کا آرٹیکل 56 جوہری بجلی گھروں اورجوہری تنصیبات پر حملہ ممنوع قرار دیتا ہے۔
یہ پروٹوکولز اور کنونشنز اس یقین کے ساتھ وضع کئے گئے تھے کہ دنیا کے کسی حصے میں دو ملکوں کا تصادم علاقائی اور عالمی مصیبت کا باعث نہ بنے اور تنازعات سے نکلنے اور دشمنی کو ختم کرنے کی گنجائش باقی رہے۔ ان عالمی قواعد کی خلاف ورزی نے عالمی امن کو مزید خطرات میں ڈال دیا ہے ۔ ایران اور امریکہ دونوں کو چاہیے کہ تحمل‘ بردباری اور سفارتی ذرائع کو ترجیح دیں کیونکہ مذاکرات اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری ہی دیرپا امن کی ضامن ثابت ہو سکتی ہے۔ عالمی برادری اور اقوام متحدہ کو بھی چاہیے کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرانے‘ شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے اور تمام فریقین کو بین الاقوامی قوانین کی پابندی پر آمادہ کرنے کیلئے مؤثر کردار ادا کریں۔
اسلام آباد مفاہمتی یادداشت امریکہ اور ایران کے تنازعات کے حل کی ایک مثالی کوشش تھی مگر دونوں فریقوں نے اس مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرنے کے بعد ایک دوسرے پر حملے کر کے اس یادادشت کی سنگین خلاف ورزی کی ہے۔لیکن اب بھی آگے بڑھنے کا دوسرا کوئی راستہ نہیں۔ تصادم مختصر ہو یا طویل مدتی‘ کوئی بھی ہمیشہ حالتِ جنگ میں نہیں رہ سکتا۔ امن انسانی بقا کا تقاضا ہے۔ ضروری ہے کہ اس حقیقت کو تسلیم کر لیا جائے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ماحولیاتی سرمایہ کاری(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-20/11377</link><pubDate>Mon, 20 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-20/11377</guid><description>گزشتہ مالی سال کے دوران حکومت نے کلائمیٹ لیوی کی مد میں 46 ارب روپے اکٹھے کیے جبکہ رواں ماہ کے آغاز پر ہی پٹرولیم مصنوعات پر عائد کلائمیٹ لیوی کو ڈھائی روپے سے بڑھا کر پانچ روپے فی لٹر کر دیا گیا ‘ جس سے مالی سال کے دوران کلائمیٹ لیوی کولیکشن بھی دگنا ہونے کی توقع ہے‘ مگر دوسری جانب بجٹ میں موسمیاتی تبدیلیوں کیلئے کلائمیٹ فنڈ میں 29 فیصد کمی کرتے ہوئے اس مد میں محض دو ارب 78 کروڑ روپے مختص کیے گئے۔ ایسے میں یہ سوال اٹھنا بجا ہے کہ ماحولیاتی لیوی کے نام پر جو ٹیکس لیا جا رہا ہے‘ اس کا مصرف کیا ہے؟ اگر ٹیکس ماحولیات کے تحفظ کے نام پر اکٹھا کیا جا رہا ہے تو اس رقم کو حکومتی اخراجات یا ٹیکس خسارہ پورا کرنے کے بجائے ماحولیاتی مقاصد کیلئے ہی مختص کیا جانا چاہیے۔

پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہے‘ ایسے میں ضرورت ہے کہ ماحولیات کی مد میں جمع ہونے والی رقم کو اُن علاقوں میں ماحولیاتی منصوبوں کیلئے صرف کیا جائے جو ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ ماحولیاتی منصوبوں میں زیادہ سرمایہ کاری سے نہ صرف ملک کا ماحولیاتی توازن درست ہوگا بلکہ مستقبل میں موسمیاتی آفات سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات میں بھی کمی آئے گی۔ حکومت کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ جو پیسہ ماحولیات کے نام پر لیا جا رہا ہے‘ وہ زمین کو دوبارہ سرسبز اور محفوظ بنانے پر ہی خرچ ہو۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>530 ارب کے فون(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-20/11376</link><pubDate>Mon, 20 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-20/11376</guid><description>پاکستان میں موبائل فون کی بڑھتی درآمدات ایسا معاشی چیلنج بنتی جا رہی ہیں جس پر سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق مالی سال 26ء کے دوران 530 ارب 49 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے موبائل فون درآمد کیے گئے‘ جو گزشتہ سال کے 416 ارب 94 کروڑ کے مقابلے میں 27 فیصد زائد ہیں۔ ایسے وقت میں جب تجارتی خسارے کو قابو میں رکھنے کیلئے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے‘ تقریباً ایک ارب 90 کروڑ ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ موبائل فونوں کی درآمدات پر صرف کرنا اس بات کا متقاضی ہے کہ ہم اپنی درآمدی ترجیحات پر نظرِ ثانی کریں۔ درآمدات پر انحصار کم کرنے کیلئے ٹیکس کی شرح بڑھانا یا پابندیاں لگانا ہی کافی نہیں بلکہ اس کیلئے ایک طویل مدتی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔

گزشتہ سال (جنوری تا نومبر) ملک میں تقریباً دو کروڑ 76 لاکھ موبائل یونٹ تیار یا اسمبل کیے گئے‘ اس استعداد کو مزید بڑھانے کی ضرورت ہے۔ علاوہ ازیں ملکی سطح پر تیار ہونے والے فونز کی قیمت کم اور معیار بین الاقوامی سطح کا بنانے کیلئے سمارٹ فونز کی پروڈکشن میں جدت ناگزیر ہے۔ تکنیکی تربیت کے پروگراموں سے مقامی افرادی قوت کو اس شعبے کیلئے تیار کیا جا سکتا ہے۔ حکومت‘ نجی شعبے اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے درمیان اشتراک ہی وہ راستہ ہے جس سے ہم اس بھاری درآمدی بوجھ کو ڈیجیٹل برآمدات میں منتقل کر سکتے ہیں۔ </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>’چراغِ راہ‘ کا احیا(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-07-20/52327/29811948</link><pubDate>Mon, 20 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-07-20/52327/29811948</guid><description>رسائل کا دور ختم ہو گیا۔ یوں جانیے ایک رومان ختم ہو گیا۔بیسویں صدی کی پہلی سات دہائیوں تک‘ رسائل سنجیدہ مضامین کے ابلاغ کا سب سے مؤثر ذریعہ تھے۔ اخبار میں چھپے الفاظ کے مقدر میں طوالتِ عمر نہیں۔ &#39;اخبار‘ دراصل خبر کی اشاعت کے لیے ہے۔ &#39;خبر‘ ایک مسلسل عمل ہے۔ ہر دن نئی خبروں اور واقعات کے ساتھ طلوع ہوتا ہے۔ ہر خبر اگلے دن باسی ہو جاتی ہے۔ افکار و نظریات کا معاملہ یہ نہیں۔ ان کی ایک عمر ہوتی ہے۔ اپنی حقانیت ثابت کر دیں تو مدتوں تک دہرائے جاتے ہیں۔ بعض تو صدیوں سے زندہ ہیں۔ ان کی اشاعت کے لیے اخبار کو موزوں فورم نہیں سمجھا جاتا۔ اس مقصد کے لیے کتاب اور رسائل کی طرف رجوع کیا جاتا ہے۔ کتاب‘ کتابت سے اشاعت تک‘ زیادہ وقت لیتی ہے اور یہ اُن مقاصد کے لیے خاص رہی ہے جو دیرپا یا مستقل موضوعات شمار ہوتے۔ جیسے مذہب۔ جیسے فلسفہ۔ روزمرہ کے زندہ مسائل کا فکری تجزیہ یا زندگی پر براہِ راست اثر انداز ہو نے والے افکار کے ابلاغ کے لیے رسائل کو سب سے مؤثر ذریعہ ابلاغ سمجھا گیا ہے۔ حرفِ مطبوعہ کا دور شروع ہونے سے پہلے‘ یہ فریضہ خطابت نے سنبھال رکھا تھا۔برصغیر میں بھی زندہ فکری مباحث کو عامۃ الناس تک پہنچانے کا سہرا رسائل کے سر رہا ہے۔ مسلم تہذیب کو ان رسائل نے زندہ رکھا۔ یہ سرسیّد کا &#39;تہذیب الاخلاق‘ ہو یا ابوالکلام کا &#39;الہلال‘۔ مسلمانوں میں جو فکری تحریکیں اٹھیں‘ ان کے تعارف کا فریضہ رسائل نے سرانجام دیا۔ مذہب و الحاد کی بحثیں بھی ان رسائل کے سبب سے عوام تک پہنچیں۔ ادبی رسائل نے اس میں اہم کردار ادا کیا جو محض ادبی موضوعات تک محدود نہیں تھے۔ جیسے نیاز فتح پوری کا &#39;نگار‘۔ احمد ندیم قاسمی کا &#39;فنون‘۔ وزیر آغا کا &#39;اوراق‘۔ پاکستان بننے کے بعد‘ یہاں اسلام پسندوں اور سوشلزم کے علمبرداروں کے مابین ایک زبردست فکری معرکہ بر پا ہوا۔ &#39;نصرت‘ حنیف رامے مرحوم کی ادارت میں نکلنے والا ایک رسالہ تھا جس نے سوشلزم کے دفاع کا محاذ سنبھال رکھا تھا۔ ایک رسالہ ایسا بھی تھا جس نے اسلام کو ایک مکمل ضابطہ حیات کے طور پر پیش کیا اور سوشل ازم سمیت تمام ازموں کو مسترد کیا۔ اس نے &#39;اسلامی سوشلزم ‘ کو بھی &#39;تناقض فی الاصطلاح ‘ کا مظہر قرار دیتے ہوئے رد کر دیا۔ اس مقدمے کو اعلیٰ علمی سطح پر پیش کیا گیا۔ یہ ماہنامہ &#39;چراغِ راہ‘ تھا جس کے مدیر پروفیسر خور شید احمد مرحوم تھے۔&#39;چراغِ راہ‘ اس فکری تحریک کا نمائندہ تھا جو مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے برپا کی۔ اس کی اشاعت کا آغاز اگرچہ جولائی 1948ء میں ہوا مگر اس کا نمائندہ دور جولائی 1958ء سے1970ء تک پھیلا ہوا ہے‘ جسے دورِ ثالث کہنا چاہیے۔ اس دور میں اس کی ادارت پروفیسر خورشید احمد مرحوم کے ہاتھ میں رہی۔ یہ واقعہ ہے کہ انہوں نے اسے فکری جرائد کے لیے ایک قابلِ تقلید مثال بنا دیا۔ ایک نقطہ نظر کو کس طرح علمی وقار کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے‘ مخالف مؤقف کی تردید کا شائستہ اور تہذیبی منہج کیا ہے‘ مستقل اہمیت رکھنے والے افکار کا عصری مسائل پر اطلاق کیسے کیا جاتا ہے‘ ادب کی نظری تشکیل اور پھر اس کا ابلاغ کیسے ہونا چاہیے‘ اگر آپ ان سوالات کے مدلل اور عملی جواب ڈھونڈنے نکلے ہیں تو &#39;چراغِ راہ‘ آپ کی راہ کا چراغ ہے۔ اچھے رسائل کے &#39;خاص نمبر‘ مستقل نوعیت کی دستاویز شمار ہوتے ہیں۔ &#39;نقوش‘ کا اس باب میں بڑا نام ہے۔ &#39;چراغِ راہ‘ کا معاملہ بھی یہی ہے۔ اس کے خاص نمبر آج بھی حوالہ ہیں۔ &#39;اسلامی قانون نمبر‘، &#39;سوشلزم نمبر‘، &#39;نظریہ پاکستان نمبر‘ ہمارے دینی ادب میں ایسا اضافہ ہیں کہ ہماری ادبی روایت ان پر فخر کر سکتی ہے۔ یہ جو آج اسالیب بدل بدل کر دہرایا جاتا ہے کہ &#39;نظریہ پاکستان‘ جنرل شیر علی کی تخلیق کردہ اصطلاح ہے‘ اس مغالطے کا جواب &#39;چراغِ راہ‘ کے &#39;نظریہ پاکستان نمبر‘ میں موجود ہے جو دسمبر 1960ء میں شائع ہوا۔ یہ جنرل شیر علی کے ریاستی افق پر نمودار ہونے سے کہیں پہلے کی بات ہے۔پروفیسر خورشید احمد مرحوم کو اس کام میں علمی ذوق رکھنے والے ایسے باصلاحیت نوجوانوں کا ساتھ میسر رہا جنہوں نے اُن کی تربیت میں جو سیکھا‘ اس میں اپنی محنت شامل کر کے‘ سماج کو اس طر ح لوٹایا کہ آج خود ایک حوالہ ہیں۔ جیسے ڈاکٹر انیس احمد‘ ڈاکٹر ممتاز احمد‘ مسلم سجاد۔ ممتاز صاحب اور مسلم سجاد اپنے حصے کا کام مکمل کر کے اللہ کے حضور میں پہنچ چکے۔ انیس صاحب سے ہمارے استفادے کا سلسلہ قائم ہے اور دعا ہے کہ تادیر قائم رہے۔ مصباح الاسلام فاروقی جیسی علمی شخصیت بھی پروفیسر خورشید صاحب کی ہم سفر رہی۔ ممتاز صاحب میرے ماموں تھے۔ اس نسبت نے &#39;چراغِ راہ‘ کو میری خوشگوار علمی یادوں کا حوالہ بنا دیا ہے۔یہ طویل تمہید‘ میں نے آپ تک یہ خبر پہنچانے کے لیے باندھی ہے کہ &#39;چراغِ راہ‘ کا احیا کر دیا گیا ہے۔ اس کے چوتھے دور کا پہلا شمارہ شائع ہو گیا ہے۔ اس بار اس کے مدیر اعلیٰ ڈاکٹر ظفر حسین ظفر صاحب ہیں۔ ڈاکٹر فخر الاسلام مدیر ہیں اور ڈاکٹر انیس احمد اس کے سرپرست ہوں گے۔ دورِ جدید کا پہلا شمارہ &#39;پروفیسر خورشید احمد‘ نمبر ہے اور یہی مناسب تھا۔ اس میں پروفیسر صاحب کی زندگی اور افکار و نظریات پر بہت عمدہ مضامین شامل ہیں۔ فکری پہلوئوں پر ڈاکٹر انیس احمد صاحب‘ خالد رحمن صاحب‘ خلیل الرحمن چشتی صاحب اور ڈاکٹر شہزاد اقبال شام صاحب جیسے اہلِ علم کے مضامین ہیں۔ محترم جاوید احمد غامدی صاحب کے محبت بھرے تاثرات ہیں۔ پروفیسر صاحب کے مکتوبات‘ انٹرویو اور ایک مضمون بھی شاملِ اشاعت ہیں۔ انور عباسی صاحب سے سود کے موضوع پر علمی مکالمہ ہے جو سکھاتا ہے کہ اختلاف کیسے کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر ممتاز احمد مرحوم کا ایک دلچسپ مضمون &#39;نظریہ پاکستان اور ہمارے دانشور‘ انیس سو ساٹھ کی دہائی میں &#39;چراغِ راہ‘ میں شائع ہوا تھا‘ اسے قندِ مکرر کے طور پر اس شمارے کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔ اس کو پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ اُس دور میں ہمارے ادبی حلقے فکری اعتبار سے کتنے ثروت مند تھے۔اس میں شبہ نہیں کہ پروفیسر خورشید احمد اور &#39;چراغِ راہ‘ کی روایت کو سمجھنے کے لیے‘ آج اس سے بہتر دستاویز میسر نہیں ہے۔ اگر آپ اس رسالے کی تاریخ سے واقف ہیں تو یہ احساس ہی آپ کو اس کی طرف فوراً متوجہ کرتا ہے۔ اگر نہیں تو بھی اس کے دلچسپ اور عمدہ مضامین اور پھر اسے جس حسنِ ذوق کے ساتھ مرتب کیا گیا‘ آپ کو اپنی طرف کھینچیں گے۔ اس پرچے پر مدیران نے جو محنت کی ہے‘ وہ ایک ایک صفحے سے نمایاں ہے۔ چا سو صفحات پر پھیلے بے شمار مضامین کا تعارف نہ ممکن ہے اور نہ مقصود۔ صرف اپنی اس خوشی میں آپ کو شریک کرنا مقصد ہے کہ رسائل میں ایک اچھے رسالے کا اضافہ ایک سماج میں موجود زندگی کی دلیل ہے۔ میں جانتا ہوں کہ رسائل کا دور اب گزر چکا۔ اس کے باوصف‘ میرا یہ کہنا ہے کہ اس روایت کو زندہ رکھنا ہماری تہذیبی ذمہ داری ہے۔ دنیا بھر میں اچھے رسائل آج بھی شائع ہو رہے ہیں‘ اس حقیقت کے باوجود کہ ان کا حلقہ قارئین سمٹ گیا ہے۔ جو لوگ اپنی تہذیب اور روایت کے بارے میں حساس ہو تے ہیں‘ وہ نامساعد حالات میں بھی ان کاموں کو جاری رکھتے ہیں جن کا تعلق روایت سے ہوتا ہے۔ &#39;چراغِ راہ‘ اب ماہنامہ نہیں ہو گا‘ &#39;سلسلہ نمبر‘ کے ساتھ شائع ہو گا۔ اس کا دوسرا شمارہ خطوط نمبر ہو گا۔&#39;چراغِ راہ‘ کے صفحات کھنگال چکا تو مجھے مجید امجد کی نظم &#39;گلی کا چراغ ‘ یاد آئی۔ ذہن کے ایک گوشے سے اس کا پہلا شعر ابھرا:تری جلن ہے مرے سوزِ دل کے کتنی قریبخدا رکھے تجھے روشن‘ چراغِ کوئے حبیب</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>گھٹن، اضطراب اور خوف(رسول بخش رئیس)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-07-20/52328/31770485</link><pubDate>Mon, 20 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-07-20/52328/31770485</guid><description>ماحول کچھ ایسا ہی ہے۔ کون اس کا ذمہ دار ہے‘ کون سے ہاتھ ہیں جنہوں نے یہ کام کر دکھایا ہے اور کیوں ہم محسوس کرتے ہیں کہ ماحول میں خوف کی فضا بہت گہری ہو چکی ہے‘ یہ ایسے سوالات ہیں جن کے جواب میرے پاس نہیں۔ اگر ہوں بھی تو خوف کی وجہ سے ‘ جو بھاری پتھر کی طرح سینے پر بیٹھ سا گیا ہے‘ کچھ کہنے اور حل لکھنے کو جی نہیں چاہتا۔ اب تو میل ملاقاتیں صرف ذاتی تعلقات تک محدود ہیں‘ اور اپنے چند دوستوں کے درمیان بھی احتیاط کا دامن تھامے رکھتے ہیں۔ ہم نے دیکھا ہے کہ خوف سے وجود میں آنے والی فکرمندی نے ہمارے دوستوں کو فتوے صادر کرنے کی عادت میں مبتلا کر دیا ہے۔ ہم کوئی سیاسی اور سماجی بات کرنے سے بھی گریز کرتے ہیں کہ کہیں کسی کو ناراض نہ کر بیٹھیں اور کوئی خواہ مخواہ ہمارے اوپر چڑھائی نہ کر دے۔ ہم اب لوگوں کی لفظی جنگوں‘ تیز وتند کاٹ دار لفظو ں اور زبان کی تلخی کو برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔ ایسا لگتا ہے کہ کوئی بات کریں یا نہ کریں‘ آگے سے وہ جلے بھنے بیٹھے ہیں۔ زبان کی تلوار ہمہ وقت بے نیام رہتی ہے۔ سماجی سطح پر فکرمندی حد درجہ بڑھ جائے تو لوگ نفسیاتی طور پر زود رنج ہو جاتے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ اپنے اُن دوستوں‘ جو کالج اور جامعہ پنجاب کے زمانے میں قریب ترین تھے‘ اُن سے بھی کھل کر بات نہیں کر سکتے۔ کسی سے ملیں تو کوشش ہوتی ہے کہ سیاست پر بات بالکل نہ کی جائے۔ مذہب‘ عقائد اور یہاں تک کہ مذہبی رہنمائوں سے متعلق تو ہم نے نصف صدی سے زیادہ عرصہ سے چپ سادھ رکھی ہے۔ عقل مندی کی بات یہ ہے کہ ہر کوئی کسی بھی سطح اور جذباتی معاملات میں اپنا پہلو ہر مجلس میں بچا کر رکھے۔ نجانے کون کیا فتویٰ‘ سخت گیری کا کوئی صفحہ الٹ کر کیسا الزام دھر دے کہ بچنا مشکل ہو جائے۔ ہمیں کوئی اس طرف گھسیٹنے کی کوشش کرے تو معذرت کر لیتے ہیں۔ سب کو ایسا ہی کرنا چاہیے۔ ہر آدمی اپنا راستہ خود چنتا ہے‘ اور اسے اس کا پورا حق حاصل ہے۔ ہمیں اس سے کوئی سروکار نہیں۔حال ہی میں ہمارے کالج کے زمانے کے ایک دیرینہ دوست کو خیر وعافیت معلوم کرنے کے لیے فون کیا۔ ملاقاتیں تو سالوں نہیں ہوتیں۔ ایک ایسے دوست کے بارے میں معلومات درکار تھیں جو کبھی اُن سے اور مجھ سے رابطے میں رہتا تھا۔ انہوں نے فوراً کہا کہ افسوس ہے کہ ابھی تک اُن کے نزدیک وہ صحیح العقیدہ نہیں ہو سکا۔ گزارش کی کہ یہ آپ کا کام نہیں‘ آپ صرف اپنی فکر کریں۔ کہنے لگے کہ اسے جہنم کی آگ سے نہ بچا سکا تو یہ میری ناکامی ہو گی۔ زیادہ حیرت تو نہ ہوئی‘ مگر دکھ ضرور ہوا کہ ہمارے معاشرے میں کوئی بھی کسی کے گناہ گار ہونے کا اعلان کرکے اُس کے پیچھے پڑ سکتا ہے۔ دیہات میں تو چائے خانوں پر مذہب‘ فرقہ واریت اور سیاسی وابستگی پر تبصرے نہیں‘ مقابلے ہوتے ہیں۔ آخر میں سب دکھی‘ تھک ہار کر ایک دوسرے پر غضبناک نظریں ڈال کر رخصت ہوتے ہیں۔ یہ ہے ہماری سماجی محفلوں اور مجلسوں کی عدم برداشت کی فضا۔ میرا سوال ہے کہ آخر ان متنازع امور جنہیں صدیوں سے کوئی حل نہیں کر سکا‘ کو چھیڑنے کی ضرورت کیا ہے۔ اس کا اگر جواب دینے کی جسارت کر پائوں تو وجہ فکر مندی‘ جنونیت اور نفسیاتی الجھائو ہے۔ زعم ہے کہ‘ میرے دوست کی طرح‘ سچائی صرف اس کے پاس ہے‘ باقی سب کہیں دور اندھیروں میں بھٹک رہے ہیں۔ کسی کے سماجی رجحان‘ عقائد اور سیاسی یا نظریاتی وابستگی کی جانچ کرکے کوئی فیصلہ صادر کرنا ایک طرح کے نفسیاتی تشدد کے زمرے میں آتا ہے۔ اس کے زخم ہم نے بہت کھائے ہیں‘ اس لیے آپ کو محتاط رہنے کا مشورہ دے رہا ہوں۔ اصل بات تو یہ ہے کہ لوگوں کے پاس کہنے کے لیے کچھ اور نہیں‘ سوائے غیبت اور دوسرے کے نجی معاملات پر بے مقصد لیکن بلاتکان بحث کرنے کے۔ایک زمانہ تھا کہ ہم لوگو ں سے ملتے تو علمی باتیں ہوتیں۔ کوئی کتاب‘ کوئی فلسفی‘ ادیب‘ دانشور یا تاریخی واقعات زیرِ بحث آتے۔ کچھ کہہ کر اور دوسروں کو سن کر دل میں سرور پیدا ہوتا۔ طبیعت ہشاش بشاش ہو جاتی اور ذہن کی تھکاوٹ اور بوجھل پن دور ہو جاتا۔ آج کل وہ لوگ عمر کے آخری حصے میں خود اختیاری گوشہ نشینی کر چکے ہیں۔ انہوں نے دنیا سے تنگ آ کر تنہائی اور خلوت کی طرف رجوع کر لیا ہے۔ پروفیسر معین الدین نظامی صاحب کی ایک پوسٹ پڑھی تو محسوس ہوا کہ وہ تو میرے دل کی بات کر رہے ہیں۔ ہمیں بھی کئی دن‘ بلکہ ہفتے گزر جاتے ہیں کہ باہر جا کر کسی سے ملیں۔ جنگل کے کونے میں اور زیرِ زمین بیسمنٹ میں کتابوں کی الماریوں کے درمیان وقت گزارنے میں اب زیادہ فرحت محسوس ہوتی ہے۔ زمانے کے زخم کھا کھا کر طبیعت نڈھال ہو چکی ہے۔ اب معاملہ یہ بھی نہیں کہ ہم کوئی بات چھیڑیں‘ کسی کو اکسائیں‘ ارادتاً اشتعال دلائیں‘ ویسے ہی لوگ اپنے اندر کی آگ کو آپ پر برسا کر ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ نظامی صاحب نے درست کہا کہ اب روحانی اور نفسیاتی اذیت برداشت نہیں ہوتی۔ لوگوں کے بدلے ہوئے سماجی رویوں کے پس منظر میں ان کی محرومیاں‘ شخصی عدم اعتدال‘ کہیں دل کے نہاں خانوں میں چھپا احساسِ ناکامی یا پھر لفظی تشدد میں تسکینِ ذات کی ناکام کوششیں کارفرما ہو سکتی ہیں۔ میرا شعبہ سماجی نفسیات ہرگز نہیں اور اگر یہ باتیں اپ کو سطحی اور بے سود لگیں تو معافی کا خواستگار ہوں لیکن یہ بات زیرِ بحث لانے کی ضرورت ہے کہ خوش دلی‘ بلاروک فطری قہقہے اور ایک دوسرے سے دل لگی میں ہلکی پھلکی چھیڑ خانیاں آخرکہاں غائب ہو گئیں؟ اس کی ذمہ دار گزشتہ نصف صدی کی وہ سیاست اور انتظامِ ریاست اور اس کی سمت ہے جن سے بحران در بحران کی کیفیت میں اب تیسری نسل پل رہی ہے۔ اس پر انتہا پسندی کے کئی رنگ غالب آ چکے ہیں‘ جن میں صرف سیاست اور مذہب ہی نہیں لسانیت ہے‘ جھوٹے بیانیے ہیں‘ حقیقی اور فرضی شکایتوں کے وہ دفتر ہیں جو ہر وقت لوگ ہمارے اوپر توپ کے دہانے کی طرح کھولنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔ یہ فکرمندی اور اضطراب کی کیفیت کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ آج کل کے مضطرب دور میں لوگ نہ صرف مالی آسودگی کے باوجود ناخوش ہیں بلکہ اپنے معاشرے‘ ریاست اور کچھ اپنی تاریخ کے بارے میں جو کچھ کہہ ڈالتے ہیں وہ ناقابلِ بیان ہے۔ ان میں زیادہ تر اعلیٰ طبقات اور متوسط طبقے کے لوگ ہیں جن کے نزدیک آزادیاں‘ پُرسکون ماحول اور معاشی ترقی گزشتہ نصف صدی کی موروثی سیاست اور اس کی سرپرستی نے تباہ کر ڈالی ہے۔ جس طرح ہمارے جغرافیائی کونوں پر فساد برپا ہے اور روزانہ کی بنیاد پر ہمارے سلامتی کے اداروں کے جوان اور عام شہری اس کا نشانہ بن رہے ہیں‘ ان سے عمومی فکرمندی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ معاشرہ ایک سمندر کے اندر ایک ایسے جہاز کی مانند ہے جس کا نہ کوئی پتوار ہے‘ نہ بادبان۔ گھٹن بدعنوانی‘ عدم اعتمادی اور ہر نوع کی انتہا پسندی کو جنم دیتی ہے۔ دیکھیں ہمارے جہاز کو نکالنے کے لیے کب کوئی پتوار سنبھالتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_33241568.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>آڈٹ پورٹ لمحہ فکریہ(کنور دلشاد)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/kunwar-mohammad-dilshad/2026-07-20/52329/30959391</link><pubDate>Mon, 20 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/kunwar-mohammad-dilshad/2026-07-20/52329/30959391</guid><description>آزاد جموں کشمیرعام انتخابات ہفتہ بھر کی دوری پر ہیں‘مگرجمہوریت محض انتخابات کرا دینے کا نام نہیں‘ جمہوری عمل کی ساکھ آزادانہ شرکت‘ تمام جماعتوں کیلئے مساوی مواقع اور عوامی اعتماد پہ مبنی ہوتی۔ آزادکشمیرکے عوام کو اس حوالے سے کئی تحفظات ہیں ۔لوگوں کا ماننا ہے کہ موجودہ انتخابی نظام شفاف اور مسادی مواقع مہیا نہیں کرتا ۔ خدشہ ہے کہ ایسے تحفظات آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں اعتماد کے بحران کا سبب بن سکتے ہیں اور نئے وزیر اعظم کے مینڈیٹ پر شبہات پیدا کرسکتے ہیں۔آزاد کشمیر میں سیاسی انجینئرنگ کے تحت جس قسم کے چہرے آگے آ رہے ہیں ان کی عوام میں پذیرائی نہیں اور ان کا ماضی مشکوک ہے ‘ یہ صورتحال انتخابات کی ساکھ کو مجروح کر سکتی ہے۔آزاد کشمیر کو محض انتظامی کنٹرول یا طاقت کے زور سے نہیں چلایا جا سکتا اور کشمیری عوام کے سیاسی شعور‘تاریخی حساسیت اوراجتماعی عزت نفس کو نظر انداز کر کے خطے میں دیر پا استحکام قائم نہیں کیا جا سکتا۔ اب کچھ ذکر آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی مالی سال 2024-25ء کی اس رپورٹ کا جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ نیلم جہلم ہائیڈرو پروجیکٹ کو مذکورہ مالی سال میں 128 ارب روپے سے زائد کا نقصان ہوا ہے۔ یہ نقصان کسی ایک حادثے یا ایک فیصلے کا نتیجہ نہیں بلکہ طویل عرصے سے جاری انتظامی غفلت‘ تکنیکی کمزوریوں اور مؤثر نگرانی کے فقدان کا مجموعی عکس ہے جس کے اثرات قومی معیشت پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق منصوبے کو 29 ارب 41 کروڑ روپے کا خالص مالی خسارہ ہوا جبکہ ہیڈریس ٹنل کے انہدام کے باعث بجلی گھر کی بندش سے 99 ارب 18 کروڑ روپے کے کاروباری نقصانات ہوئے۔ یکم مئی 2024ء سے پاور ہاؤس بند ہے۔ رپورٹ کے مطابق بجلی گھر اپنی تکمیل کے بعد کسی ایک سال بھی تخمینہ شدہ 5150 گیگاواٹ آور سالانہ پیداوار کا ہدف حاصل نہیں کر سکا۔ جولائی 2022ء میں ٹیل ریس ٹنل منہدم ہوئی اور مئی 2024ء میں ہیڈریس ٹنل کے گرنے سے صورتحال مزید سنگین ہو گئی۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف بجلی کی پیداوار متاثر ہوئی بلکہ منصوبے کی مجموعی کارکردگی‘ مالی استحکام اور مستقبل کی آپریشنل صلاحیتوں پر بھی سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ۔ آڈٹ رپورٹ میں ایک انکشاف یہ بھی ہے کہ نیپرا کی جانب سے منصوبے کا مستقل ریفرنس ٹیرف آج تک منظور نہیں ہو سکا اس کے نتیجے میں یہ منصوبہ کم عبوری ٹیرف پر چلتا رہا اور اندازاً 77 ارب 35 کروڑ روپے کی ممکنہ آمدنی سے محروم رہا۔ یہ صورتحال اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ بڑے قومی منصوبوں میں بروقت ریگولیٹری فیصلوں اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کی عدم موجودگی کس طرح مالی نقصانات میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔آڈٹ رپورٹ کے مطابق 30 جون 2025ء تک منصوبے کے موجودہ واجبات‘ موجودہ اثاثوں سے 307 ارب 89 کروڑ روپے زیادہ ہو چکے ہیں۔ قرضوں کی عدم ادائیگی کے باعث طویل مدتی قرضوں کو موجودہ واجبات میں منتقل کرنا پڑا جبکہ آپریٹنگ مارجن‘ قبل از ٹیکس اور بعد از ٹیکس منافع‘ سب منفی ہو چکے ہیں۔ یہ مالیاتی اشاریے اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ منصوبہ اپنی موجودہ حالت میں نہ صرف مالی دباؤ کا شکار ہے بلکہ اس کی پائیدار اقتصادی حیثیت بھی شدید خطر ے میں ہے۔ اتنے بڑے قومی نقصان کے باوجود ذمہ داروں کا تعین نہ ہونا ریاستی نگرانی کے نظام پر سوالیہ نشان ہے۔ قومی اہمیت کے حامل منصوبوں میں حادثات کی غیر جانبدار‘ بروقت اور جامع تحقیقات صرف ذمہ داروں کے تعین کیلئے ہی ضروری نہیں ہوتیں بلکہ آئندہ ایسے نقصانات سے بچنے کیلئے بھی بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔انتظامی غفلت کا یہ معاملہ صرف نیلم جہلم پروجیکٹ تک محدود نہیں۔ آڈیٹر جنرل کی حالیہ رپورٹس میں دیامر بھاشا ڈیم سمیت دیگر بڑے آبی منصوبوں میں بھی منصوبہ بندی کی خامیوں‘ لاگت میں غیر معمولی اضافے‘ تعمیراتی تاخیر اور انتظامی کمزوریوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔یہ مشاہدات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اگر بڑے قومی منصوبوں کیلئے نگرانی‘ منصوبہ بندی اور عمل درآمد کے نظام میں بنیادی اصلاحات نہ کی گئیں تو مختلف منصوبوں میں ایسے مسائل بار بار سامنے آ سکتے ہیں۔ دیامر بھاشا ڈیم انتہائی اہم منصوبہ ہے جس سے 4500 میگاواٹ بجلی‘ آٹھ ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت اور آبپاشی‘ سیلابی تحفظ اور قومی آبی سلامتی میں نمایاں بہتری متوقع ہے۔ تاہم نیلم جہلم کے تجربے نے واضح کر دیا ہے کہ اگر شفاف نگرانی‘ بروقت فیصلے‘ انجینئرنگ معیار‘ مالی نظم و نسق اور مؤثر احتساب کو یقینی نہ بنایا گیا تو نہ صرف یہ بلکہ دیگر ایسے منصوبے بھی سنگین خطرات سے دوچار ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے ضروری ہے کہ نیلم جہلم پروجیکٹ کی خامیوں کو آئندہ تمام قومی منصوبوں کیلئے ایک عملی سبق بنایا جائے تاکہ مستقبل میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری کو بہتر انداز میں محفوظ رکھا جا سکے۔ اتنے بڑے قومی نقصان کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی‘ قومی اسمبلی کی متعلقہ قائمہ کمیٹیاں‘ وزارتِ آبی وسائل‘ وزارتِ توانائی‘ واپڈا اور دیگر متعلقہ ادارے اس رپورٹ کا تفصیل سے جائزہ لیں گے‘ ذمہ داریوں کا تعین کریں گے اور جہاں غفلت‘ بدانتظامی یا دیگر بے ضابطگیوں کے شواہد موجود ہوں‘ وہاں مناسب انتظامی‘ مالی یا قانونی کارروائی کی سفارش کریں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ ضروری ہے کہ ان سفارشات پر عمل درآمد کی رفتار اور پیش رفت بھی عوام اور پارلیمنٹ کے سامنے شفاف انداز میں رکھی جائے تاکہ احتساب کا عمل صرف رپورٹوں تک محدود نہ رہے بلکہ اس کے عملی نتائج بھی سامنے آئیں۔ نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پروجیکٹ صرف ایک منصوبہ نہیں بلکہ پاکستان کے عوام کے اربوں روپے کی سرمایہ کاری ہے۔ اس منصوبے کی ناکامی‘ مسلسل مالی خسارے‘ انتظامی کمزوریوں اور غیر حل شدہ تکنیکی مسائل نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ قومی وسائل کی حفاظت صرف منصوبے بنانے سے نہیں بلکہ شفاف حکمرانی‘ بروقت نگرانی‘ادارہ جاتی ہم آہنگی‘ مؤثر انتظام‘ پیشہ ورانہ انجینئرنگ اور بلاامتیاز احتساب سے ممکن ہے۔ بڑے قومی منصوبوں کی کامیابی کا انحصار صرف ان کی تعمیر پر نہیں بلکہ ان کی مستقل نگرانی‘ بروقت مرمت‘ شفاف مالی نظم و نسق اور واضح جوابدہی کے نظام پر بھی ہوتا ہے۔ جب یہ عوامل کمزور پڑ جائیں تو بہترین منصوبے بھی مطلوبہ نتائج دینے سے قاصر رہتے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ منصوبے کی تکنیکی‘ مالی اور انتظامی خامیوں کا جامع جائزہ لے کر ایک قابلِ عمل روڈ میپ تیار کیا جائے تاکہ آئندہ فیصلے وقتی انتظام کے بجائے طویل مدتی قومی مفاد کو سامنے رکھ کر کیے جائیں۔پاکستان کو اس وقت جو بڑے چیلنجز درپیش ہیں‘ ان میں سے ایک معیاری قیادت اور وسائل کا فقدان ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ 24 کروڑ آبادی اور نوجوانوں کی اکثریت رکھنے کے باوجود ملکی معیشت دباؤ کا شکار ہے اور ملک کے عظیم منصوبے کرپشن کی زد میں ہیں۔ اگر قومی وسائل کے استعمال میں شفافیت‘ میرٹ اور پیشہ ورانہ صلاحیت کو اولین ترجیح نہ دی گئی تو ترقیاتی منصوبوں پر ہونے والی بھاری سرمایہ کاری مطلوبہ نتائج نہیں دے سکے گی۔ 1964ء میں منگلا ڈیم تقریباً چالیس کروڑ ڈالر کی لاگت سے تعمیر ہوا تھا۔ اس کا کریڈٹ اس وقت کے صدرِ مملکت ایوب خان اور ان کی معاشی ٹیم کو جاتا ہے۔ ملک کے پلاننگ کمیشن‘ واپڈا اور وزارتِ خزانہ کو اس وقت کے وزیر خزانہ محمد شعیب کی منصوبہ بندی کے بلیو پرنٹ کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ماضی کے کامیاب منصوبوں کے تجربات سے رہنمائی حاصل کرنا کسی بھی ملک کی منصوبہ بندی کا اہم اصول سمجھا جاتا ہے۔ اگر کامیاب ماڈلز کے مثبت پہلوؤں کو موجودہ تقاضوں کے مطابق اختیار کیا جائے تو مستقبل کے قومی منصوبوں کی کارکردگی اور شفافیت دونوں میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_15667905.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے(نسیم احمد باجوہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/naseem-ahmed-bajwa/2026-07-20/52330/39833729</link><pubDate>Mon, 20 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/naseem-ahmed-bajwa/2026-07-20/52330/39833729</guid><description>علامہ اقبال نے یہ اُمید اپنے ہم عصروں سے باندھی تھی کہ وہ اپنے دور کا ابراہیم (جو بُت شکنی‘ آتشِ نمرود میں بے خطر کود جانے اور پرانے صنم کدوں کو گرا کر نیا شوالہ بنانے کی علامت ہیں) تلاش کریں گے۔ یہ امید روس‘ چین اور ویتنام سے لے کر ایران اور کیوبا تک میں آنے والے انقلابات کی صورت میں تو کسی قدر پوری ہو گئی مگر باقی دنیا بدستور سرمایہ داری (پاکستان میں جاگیرداری بھی) کے گرداب میں پھنسی ہوئی ہے۔ اقبال آسمان کی طرف دیکھتے اور سوال کرتے:کب ڈوبے گا سرمایہ پرستی کا سفینہجواب ملتا ہے کہ روزِ مکافات کا انتظار کرو۔ وہ مبارک دن ضرور آئے گا جب محنت کو سرمایہ پر ترجیح دی جائے گی۔ وہ روشن دن (جلد یا بدیر) تم ضرور دیکھو گے۔ اور بقول فیض: لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے۔ریاست کشمیر کے ضلع پونچھ کے دور دراز گائوں (کوٹ مٹے خان) کے سدہن گھرانے میں اپریل 1915ء میں ایک بچہ پیدا ہوا تو والدین نے اس کا نام ابراہیم رکھا۔ اہلِ خاندان اور اہلِ قبیلہ کو اس ابراہیم سے جو توقعات تھیں‘ اس نے بڑے ہو کر وہ سب پوری کر دیں۔ پرائمری تک تعلیم گائوں کے سکول میں حاصل کی۔ اسلامیہ کالج لاہور سے بی اے کا امتحان پاس کیا۔ 1938ء میں اعلیٰ تعلیم کے لیے برطانیہ چلے گئے۔ یہ روایت ثقہ سمجھی جاتی ہے کہ جب سدہن قبیلہ اور پڑوس کی دیہاتی خواتین روٹی پکانے کیلئے آٹا گوندھنے لگتیں تو وہ ایک مٹھی آٹا علیحدہ نکال کر رکھ دیتی تھیں کہ یہ ابراہیم کے تعلیمی اخراجات ادا کرنے کے کام آئے گا۔ 1941ء میں ابراہیم نے لندن یونیورسٹی سے لاء کی ڈگری حاصل کی اور اگلے برس بیرسٹر بن گئے۔ وطن واپس آئے اور سرینگر میں وکالت شروع کر دی۔ 1947ء میں ہزاروں مسلم سپاہیوں اور افسروں نے ڈوگرہ راج کے خلاف علم بغاوت بلند کیا تو ابراہیم‘ یعنی سردار ابراہیم خان نے اس کی قیادت کی۔ پاک بھارت جنگ بندی کے بعد کشمیر کا کچھ حصہ بھارتی تسلط سے آزاد ہو گیا‘ جو آزاد جموں و کشمیر کہلایا۔ سردار ابراہیم اس کے پہلے صدر بنے۔ حکومت پاکستان آزاد روش کے حامل سردار ابراہیم کو زیادہ دیر تک برداشت نہ کر سکی اور انہیں 1950ء میں برطرف کر دیا گیا۔ وہ اس کے بعد مزید تین بار آزاد کشمیر کے پھر صدر بنے اور ان کا آخری عہدِ صدارت 2000ء میں ختم ہوا۔1946ء میں وہ مسلم کانفرنس کے ٹکٹ پر جموں و کشمیر اسمبلی کے رکن چنے گئے۔ 19 جون 1947ء کو اُنہوں نے پونچھ میں ایک بڑے اجتماع کے انعقاد کا اہتمام کیا جس میں مہاراجہ سے آزادی حاصل کر کے پاکستان میں شمولیت کی قراردادا متفقہ طور پر منظور کی گئی۔ 24 اکتوبر 1947ء کو پونچھ کی عوامی فوج نے مہاراجہ کی فوج کو شکست دی تو نئی آزاد حکومت معرضِ وجود میں آئی۔ کشمیر میں بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ اور جھڑپیں تقریباً پندرہ ماہ تک جاری رہیں اور پھر اقوام متحدہ نے جنگ بندی کرا دی۔ سردار صاحب نے The Kashmir Saga جیسی ایک اچھی کتاب لکھ کر جدوجہدِ آزادی کو جامع انداز میں بیان کیا ہے۔ سردار صاحب نے 86 برس کی عمر میں سیاست سے ریٹائرمنٹ لی اور 31 جولائی 2003ء کو 88 برس کی عمر میں اس جہانِ فانی سے رخصت ہو گئے۔ انہوں نے اسلام آباد کے اُسی گھر میں وفات پائی جہاں میں پانچ چھ بار اُن کا اور اُن کے جانشین بیٹے خالد ابراہیم خان (مرحوم) کا مہمان بنا تھا۔ ایک بار انہوں نے مجھ سے یہ گلہ بھی کیا کہ آپ میرے دوست ہیں مگر آتے ہیں تو خالد سے مل کر چلے جاتے ہیں‘ ایسا کیوں؟ عرض کی کہ اب آپ پہلے کی طرح سرگرم نہیں۔ میں خالد کے اشتراکِ عمل کا خواہاں ہوں مگر وہ وقت آنے والا ہے جب خالد کو بھی ملے بغیر چلا جایا کروں گا اور اُس کے بیٹے حسن کو اپنا نیا سیاسی ساتھی بنائوں گا۔ یہ بات تو مذاق میں کہی گئی تھی مگر خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ 2018ء میں سردار خالد ابراہیم 69 برس کی عمر میں فوت ہوئے تو حسن ابراہیم کو ان کا جانشین بنا دیا گیا اور اب مجھے آزاد کشمیر میں کام کے لیے حسن ہی سے رجوع کرنا پڑتا ہے۔ میرا سردار ابراہیم سے تعارف کب اور کس طرح ہوا‘ یہ دلچسپ کہانی ہے۔ 1965-66ء کا عرصہ میرے لیے معاشی طور پر بہت کٹھن تھا۔ میں فیملی کے ساتھ گلبرگ (لاہور) میں رہتا تھا۔ کسی مشترکہ دوست نے میری یہ مدد کی کہ میں سردار صاحب کے (ایک یا دو) بچوں کو ہر روز دو گھنٹے انگریزی‘ اُردو اور سماجی علوم پڑھانے لگ گیا۔ یہ سلسلہ تین ماہ یا چھ ماہ جاری رہا۔ اس دور میں سردار صاحب سے اکثر ملاقات رہتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ جب میں نے بابائے سوشلزم شیخ رشید اور دوسرے ہم خیال ساتھیوں کے ساتھ مل کر مئی 1966ء میں پیپلز کنونشن کے انعقاد کی تیاری شروع کی تو سردار ابراہیم میرے سب سے بڑے مددگار بنے۔ میرے برطانیہ چلے جانے کی وجہ سے ان ملاقاتوں میں پھر لمبا وقفہ آ گیا۔  Lord Avebury میرے مہمان بن کر جب پاکستان آئے تو اسلام آباد میں سردار ابراہیم خان ہی ہمارے میزبان تھے۔ ایک بار وہ ہم دونوں کو بذریعہ ہوائی جہاز راولا کوٹ (جو اُن کا نیا مسکن تھا) بھی لے کر گئے۔ سردار صاحب عمر میں مجھ سے 21 برس بڑے تھے مگر دوستی نے عمر کا یہ فرق مٹا دیا تھا۔ اچھی بات یہ ہے کہ اُنہوں نے بے داغ سیاست کی جو روایت ڈالی‘ خالد ابراہیم نے اسے تمام عمر نبھایا (اور یہی اُمید مجھے اب خالد کے بیٹے سے ہے)۔ سردار خالد عمر میں مجھ سے بارہ برس چھوٹے تھے مگر میں نے اُنہیں ہمیشہ ایک ہم عمر دوست اور چھوٹا بھائی سمجھا۔ وہ 2018ء میں ہم سے جدا ہوئے مگر ابھی تک مجھے اس المناک خبر پر اعتبار نہیں آتا۔ آنکھیں بند کر کے چیڑ کے درختوں کے جھنڈ کے پاس بنے ان کے گھر کے لان میں گزارے خوشگوار لمحات کو یاد کروں تو باپ بیٹے کا مسکراتا چہرہ نظر آتا اور ان کی شریفانہ‘ مہذب اور مدہم آواز سنائی دیتی ہے۔ سردار ابراہیم نے اپنی سوانح حیات &#39;&#39;متاعِ زندگی‘‘ کے نام سے لکھی۔ سردار صاحب نے کشمیر پر اپنی انگریزی کتاب پر نظرثانی کی تو یہ حل تجویز کیا کہ دونوں اطراف سے کشمیری علاقوں کو ایک ایسی آزاد مملکت بن جانے کی اجازت دی جائے جو اسی طرح غیر جانبدار ہو جیسے یورپ میں سوئٹزر لینڈ۔ سردارصاحب نے امریکہ کے اپنے دوروں اور اقوام متحدہ کے اجلاسوں میں شرکت کی تفصیلات بھی بیان کی ہیں۔ ایوب مارشل لاء میں سردار صاحب کو ایک جھوٹے الزام پر گرفتار کیا مگر ایک ہفتہ بعد ہی جب غلطی پکڑ لی گئی تو سردار صاحب کو رہائی مل گئی۔ حکومت کیلئے سردار صاحب جب بھی سردردی کا باعث بنتے تو انہیں مسئلہ کشمیر کو اُجاگر کرنے کے نام پر جبراً بیرونِ ملک بھجوا دیا جاتا۔ وہ کئی بار برخاست یا مستعفی ہونے پر مجبور کیے گئے مگر رزم ہو یا بزم‘ سردار صاحب نے کشمیری عوام کی ترجمانی کا حق ادا کر دیا۔ سردار صاحب کی سوانح کے صفحہ 188پر درج چند سطور یہاں نقل کر کے میں اُن پر لکھے اس مضمون کو ختم کرتا ہوں۔ &#39;&#39;اس عرصہ میں شیخ عبداللہ نے نہرو کے خلاف کشمیر میں بغاوت کر دی۔ اس وقت پاکستان کے وزیراعظم (مشرقی پاکستان سے تعلق رکھنے والے اور امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر) محمد علی بوگرا بڑی اُمیدیں لے کر نہرو کے پاس مصالحت کیلئے گئے تھے لیکن مصالحت کے بجائے نہرو نے شیخ عبداللہ کو راتوں رات گرفتار کر کے جیل پہنچا دیا۔ سرینگر میں بھارتی فوجوں نے (احتجاج کرنے والے) کشمیریوں کے سینے چھلنی کر دیے۔ بوگرا صاحب کو پنڈت نہرو نے حبہ خاتون کی لمبی لمبی ایسی کہانیاں سنائیں کہ بوگرا صاحب واپس آکر دورانِ ملاقات مجھ سے دریافت کرنے لگے کہ یہ حبہ خاتون کون ہے۔ مجھے جو اُن کی کہانی معلوم تھی وہ انہیں بتا دی۔ مجھے علم ہوگیا کہ پنڈت نہرو نے ہمارے وزیراعظم کو کس طرح کہانیاں سنا کر ٹالا ہے‘‘۔ </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_32258580.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>نئے زمانے کے ٹھگ… (2)(سعود عثمانی )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-07-20/52331/82380237</link><pubDate>Mon, 20 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-07-20/52331/82380237</guid><description>شہد کا جال‘ شہد کی دلدل کہہ لیں یا ہنی ٹریپ کہہ لیں‘ یہ لوگوں کو قابوکرنے کا کوئی نیا طریقہ نہیں لیکن اب جو نئے راستے اس نے ڈھونڈے ہیں وہ پہلے کبھی نہیں تھے۔ اس وقت پوری دنیا میں کروڑوں &#39;ٹھگنیاں‘ اور &#39;اُچکیاں‘ میدان میں ہیں کہ کسی طرح آپ کو شیشے میں اتار کر جیب خالی کر دیں۔ مظلومیت‘ مجبوری‘ بڑے منافع سے لے کر محبت کے جھانسے تک ہر قسم کی کہانیاں۔ ہنی ٹریپ اس وقت سب سے کامیاب اور مؤثر جال ہے۔ پیسہ اور حسن‘ دونوں کا لالچ برا ہے۔ سونا اور سہاگہ اکٹھے ہوں تو عقل ایک طرف دھری رہ جاتی ہے‘ فیصلے تو پھر دل ہی کرتا ہے۔لگ بھگ پندرہ سال پہلے پاکستان میں ایک نئی قسم کی واردات شروع ہوئی تھی۔ ایک دن مجھے کسی خاتون کا فون آیا۔ انگلش میں بات کرتی تھیں اور لہجہ غیر ملکی تھا۔ میٹھی اور ہنستی مسکراتی آواز۔ اپنا نام شاید ایلس بتایا۔ بولیں کہ وہ ایک بین الاقوامی کمپنی سے ہیں‘ پاکستان میں اپنا دفتر کھولا ہے اور مجھ سے ملاقات کرنی ہے۔ پوچھا: آپ کی کمپنی کیا کاروبار کرتی ہے‘ بولیں: ہر طرح کے کاروباری مواقع خاص طور پر جائیداد کی خرید وفرخت۔ آپ فلاں دن شام کے وقت ہمارے دفتر میں کافی ہمارے ساتھ پیجئے۔ یقین تھا کہ کچھ گڑبڑ ہے‘ ویسے بھی جائیداد کی خرید وفروخت سے دلچسپی نہیں تھی لہٰذا میں نہیں گیا۔ لیکن آفرین اس بی بی پر کہ وہ بار بار فون کرتی رہیں۔ حتیٰ کہ چند ہفتے بعد میں گلبرگ لاہور میں اس جگہ چلا گیا جہاں بلایا گیا تھا۔ دیکھا کہ ایک بڑا سا ہال ہے‘ میزیں لگی ہوئی ہیں۔ میری طرح کم وبیش پچاس مدعوئین‘ مرد و خواتین‘ موجود تھے۔ کئی غیر ملکی خواتین ان پر اپنی مسکراہٹیں نچھاور کر رہی تھیں۔ کافی پلائی گئی‘ تحائف پیش کیے گئے۔ پھر ایک خاتون نمودار ہوئیں۔ انہوں نے ایک پریزنٹیشن دی اور بتایا کہ کینیا میں ایک خوبصورت ساحلی ریزارٹ ہے‘ بہت ہی سستا۔ اس میں آپ بھی اپنا ہٹ یا گھر خرید سکتے ہیں۔ لیکن آج ہی اور ابھی فیصلہ کرکے ادائیگی کرنا ہوگی جس پر مزید دس فیصد رعایت مل جائے گی۔ مزید یہ کہ ابھی ادائیگی کی صورت میں ایک ہفتے کیلئے ریزارٹ میں مفت قیام۔ میں نے کافی پی اور گنگا میں ہاتھ دھوئے بغیر واپس آ گیا۔ معلوم نہیں کتنے لوگ اس میں نہائے۔ بہرحال یہ کام پاکستان کے سب بڑے شہروں میں ہو رہا تھا‘ پھر اچانک سب غائب ہوگیا۔سوشل میڈیا کی فرینڈز لسٹ میں بہت سے ایسے لوگ ہوتے ہیں جنہیں آپ نہیں جانتے۔ اگر آپ کاروبار کرتے ہیں‘ سیاح ہیں‘ مختلف ملکوں میں جاتے رہتے ہیں‘ ادیب‘ شاعر اور کالم نگار بھی ہیں تو ہر طرح کے لوگوں سے رابطہ رہتا ہے۔ انہی میں وہ ٹھگنیاں بھی شامل ہوتی ہیں جو کسی بھی طرح آپ کو زیر دام لانے میں ماہر ہیں۔ گزشتہ پانچ برس میں کم وبیش دس مرتبہ ایسی عورتوں نے شرفِ گفتگو بخشا‘ راتوں رات امیر ہونے کی سکیمیں سجھائیں اور سکرین شاٹس بھیجے کہ کس طرح چند گھنٹوں میں انہیں دس ہزار ڈالر کا منافع ملا۔ حسین خاتون ہو‘ میٹھی باتیں کرتی ہو‘ بیٹھے بٹھائے ہزاروں ڈالر کا منافع نظر آتا ہو تو دماغ کہیں ایک طرف بیٹھا رہ جاتا ہے۔ اگر ان کی سب کوششیں بے سود رہیں تو اسے میری پارسائی نہیں‘ بڑھاپے کا نتیجہ سمجھیں۔ ہنی ٹریپ اس وقت ٹھگی کا آسان ترین طریقہ ہے۔ ہر کچھ دن بعد ایسا کوئی واقعہ پیش آ جاتا ہے۔ ایسی عورتیں عام طور پر پاکستان سے باہر ہوتی ہیں؛ یورپ‘ امریکہ وغیرہ۔ یہ اپنے فون نمبرز‘ شہر وغیرہ کی تفصیلات سے گریز کرتی ہیں۔ اپنی اصل تصویر اور وڈیوز نہیں لگاتیں۔ وڈیو کال پر بات نہیں کرتیں وغیرہ۔ خود کو چھپانے کی یہ کوشش بھی ان کے دھوکے باز ہونے کی بڑی پہچان ہے۔ لیکن پچھلے سال میرے ساتھ ایک منفرد واقعہ ہوا جو ابھی تک مجھے حیران رکھتا ہے۔ایک ملکی مگر اجنبی خاتون نے ایک پیغام کے ساتھ فرینڈ ریکویسٹ بھیجی۔ پیغام پاکستان سے کچھ چیزوں کی ایکسپورٹ سے متعلق تھا۔ میں نے پروفائل دیکھی تو اس کے مطابق چوبیس یا پچیس سال کی نوجوان لڑکی‘ کراچی کی رہائشی۔ پروفائل میں کئی تصویریں موجود تھیں ۔میسنجر چیٹ میں اس کی باتیں ایکسپورٹ سے متعلق تھیں۔ وہ چاہتی تھی کہ ہم پاکستان سے کچھ چیزیں ایکسپورٹ کریں۔ آرڈر اس کے ذریعے آئے گا اور اس پر اس کا کمیشن ہو گا‘ باقی کام ہمیں کرنا ہوگا۔ بینک کے محفوظ لیٹر آف کریڈٹ کے ذریعے پارٹی سے رقم بھی براہ راست ہمیں ملے گی۔ بہت سے لوگ اس طرح کمیشن ایجنٹس کے ذریعے کاروبار کرتے ہیں‘ یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں تھی۔ لیکن کئی سوال اور شکوک بہرحال تھے۔ ایک تو یہ کہ اس نے مجھے کیوں منتخب کیا؟ اس کے مجھ پر اعتماد کی وجہ کیا ہے؟ وغیرہ۔ لیکن وہ پڑھی لکھی لڑکی تھی اور جس اعتماد سے بات کرتی تھی اس سے یہ گمان بھی ہوتا کہ شاید یہ فراڈ نہیں۔ اس نے کراچی کی مشہور چندریگر روڈ پر اپنا دفتر اور ڈیفنس میں اپنی رہائش بتائی۔ وہ کرید کر میرے کاروبار کی تفصیلات پوچھتی رہی‘ سو ضروری باتیں بتا دی گئیں۔ چند دن بعد اس نے میرا موبائل نمبر مانگا اور اپنا نمبر دیا۔ کچھ دیر بعد مجھے اس کی وڈیو کال آئی۔ یہ میرے لیے حیرت انگیز بات تھی کیونکہ دھوکے باز لوگ فون نمبر نہیں دیتے اور وڈیو کالزبھی نہیں کرتے۔ مزید حیرت یہ کہ وڈیو میں وہی لڑکی بات کرتی تھی جس کی تصویریں پروفائل پر تھیں۔ یعنی وہ تصویریں جعلی نہیں تھیں۔ عموماً ایسا نہیں ہوتا‘ اس لیے میں تذبذب میں پڑگیا لیکن محتاط رہا۔ دیکھنا چاہتا تھا کہ اگر یہ فراڈ ہے تو کس طریقے کی واردات ہے۔اس نے بتایا کہ اس کے والدکی جبل علی فری زون (دبئی) میں فلاں نام کی فیکٹری ہے۔ اتفاق سے میں جبل علی فری زون اور دبئی انڈسٹریل ایریا سے بہت واقف ہوں۔ 2000ء سے 2016ء تک کاروباری سلسلے میں بہت بار جانا ہوتا رہا اور وہاں کے رہائشی علاقے جبل علی ویلیج میں بھی کافی مدت رہا تھا۔ میں نے وہ نام تلاش کیا لیکن اس نام سے جبل علی میں کوئی فیکٹری نہیں تھی۔ میرا شک مزید بڑھ گیا لیکن میں نے اس سے ذکر نہیں کیا۔ اس دوران اس نے ایک دو پارٹیوں کے آرڈرز بھی بھیج دیے لیکن جو ریٹ بتائے‘ وہ ممکن ہی نہیں تھے۔ ان دنوں وہ دن رات میں کئی بار چیٹ پر بات کرتی تھی اور کئی بار غیر متوقع وڈیو کالز بھی۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ وڈیو کال پر کوئی اور ہو‘ ہمیشہ وہ خود بات کرتی تھی۔ میں نے محسوس کیا کہ وہ میرے کاروبار کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جاننے کی کوشش کرتی ہے اور اسے باقی چیزوں سے کوئی دلچسپی نہیں ۔ کبھی وہ اپنی قیمتی گھڑی کی تصویریں دکھاتی‘ کبھی مہنگے زیورات کی۔ اپنی تصویریں اور وڈیو کلپس بھی بھیجتی رہتی تھی۔ مقصد یہ بتانا تھا کہ یہ کوئی فرضی آئی ڈی نہیں۔ ساتھ ہی ساتھ کچھ آرڈرز بھی بھیجتی تھی‘ جن میں کوئی ایک بھی قابلِ عمل نہیں تھا۔ سچ یہ ہے کہ کئی بار میں سخت تذبذب میں مبتلا ہو گیا کہ میں غلط شبہ تو نہیں کر رہا۔ اب تک اس نے نہ سرمایہ کاری کا لالچ دیا تھا نہ پیسے مانگے تھے۔ میں نے سوچا کہ اگر یہ دھوکے باز ہے تو بہت باصبر دھوکے باز ہے۔ اب ہم دونوں منتظر تھے کہ کس دن اصل کہانی شروع ہو گی۔کئی ماہ کے بعد وہ دن آ ہی گیا۔ ایک رات اس نے مجھے سکرین شاٹ بھیجے جو ہزاروں ڈالر فائدہ دکھاتے تھے۔ اس نے بتایا کہ امریکہ میں اس کے انکل اسے سرمایہ لگانے کی ٹپ دیتے ہیں اور اسے بہت فائدہ ہو رہا ہے۔ اس نے کہا کہ آ پ بھی میرے ذریعے یہ کمائی کر سکتے ہیں۔ یہ وہ بات تھی جس کا میں اتنے دن سے انتظار کر رہا تھا۔ میں دل میں مسکرایا۔ اب میرے کھیلنے کا وقت تھا۔ میں نے دلچسپی ظاہر کی اور مزید معلومات بھیجنے کو کہا۔ اب میں سمجھ چکا تھا اور پُرسکون تھا۔ قصہ مختصر اس نے مجھے دو ماہ مزید معلومات بھیجیں‘ اور بار بار اپنے ذریعے سرمایہ لگانے کی ترغیب دی۔ بہت بار بات ہوئی۔لیکن میں نے کبھی اس کی بات پر عمل نہیں کیا۔ اب میں اس بات پر حیران بیٹھا ہوں کہ مزید دو تین ماہ بعد اچانک اس نے مجھ سے رابطہ کیوں ختم کر دیا۔ مجھے معلوم نہیں‘ کیا آپ بتا سکتے ہیں؟</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_81278520.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>حسنِ معاشرت(علامہ ابتسام الہٰی ظہیر )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-07-20/52332/21330594</link><pubDate>Mon, 20 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-07-20/52332/21330594</guid><description>اللہ تبارک وتعالیٰ کے فضل و کرم سے مجھے متعدد مرتبہ زیارتِ حرمین شریفین کی سعادت حاصل ہوئی ہے۔ ماہِ رواں میں ایک مرتبہ پھر حرمین شریفین کی زیارت کا موقع ملا۔ مکہ مکرمہ میں عمرہ کی ادائیگی اور تین دن قیام کے بعد مدینہ طیبہ اور مسجد نبوی کی زیارت کا شرف حاصل ہوا اور یہیں پر جمعہ کا خطبہ سننے کی سعادت بھی ملی۔ مسجد نبوی شریف میں جمعہ کی ادائیگی کے لیے عوام کی بڑی تعداد موجود تھی۔ اس موقع پر ڈاکٹر حسین بن عبدالعزیز آل الشیخ نے ایک انتہائی اہم موضوع پر خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا جس پر توجہ دینا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے۔آج کی دنیا میں ہم اس بات کا مشاہدہ کر سکتے ہیں کہ خاندانی نظام کمزور ہو چکا ہے۔ حالانکہ خاندان کا استحکام اور باہمی پیار و محبت انتہائی ضروری اور مفید ہے لیکن بدقسمتی سے لوگوں کی بڑی تعداد گھریلو معاملات میں عجلت اور بے صبری کا مظاہرہ کرتی اور معمولی تنازعات پرلوگ طلاق اور خلع کے راستے پر چل نکلتے ہیں۔ کتاب و سنت میں مرد و زن کو ایک دوسرے کے ساتھ اچھے طریقے سے زندگی گزارنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ النساء کی آیت: 19 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;ان عورتوں سے اچھے طریقے سے بودوباش رکھو‘ گو تم انہیں ناپسند کرو لیکن بہت ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو بُرا جانو‘ اور اللہ اس میں بہت ہی بھلائی کر دے‘‘۔ اسی طرح اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ البقرہ کی آیت: 226 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;اور عورتوں کے بھی ویسے ہی حقوق ہیں جیسے ان پر مردوں کے ہیں، اچھائی کے ساتھ ہاں مردوں کو عورتوں پر فضیلت ہے اور اللہ غالب ہے حکمت والا ہے‘‘۔ جس طرح قرآن مجید نے مرد و زن کے حقوق کو واضح کیا ہے اسی طرح حدیث طیبہ میں بھی مردوں کو بیویوں کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا گیا ہے اور اس شخص کو بہترین شخص قرار دیا گیا جو اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ بہتر سلوک کرتا ہے۔ نبی کریمﷺ نے اس بات کو بھی واضح فرمایا کہ آپﷺ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ بہترین سلوک کرنے والے ہیں۔ایک مثالی اور کامیاب خاندان وہ ہوتا ہے جس میں تحمل‘ صبر‘ بردباری‘ نرمی اور عفو و درگزر سے کام لیا جائے لیکن بہت سے گھرانوں میں ان اعلیٰ اوصاف کے بجائے غصہ‘ انانیت اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے والا طرزِ عمل اختیار کیا جاتا ہے۔ معاشرے میں طلاق کی دھمکی کو انانیت کے اظہار کے لیے استعمال کیا جاتا اور اسی طرح مرد کو نیچا دکھانے کے لیے خلع کا مطالبہ کیا جاتا جبکہ یہ دونوں باتیں کسی بھی طور پر درست نہیں ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۃ البقرہ میں مرد و زن کو ایک دوسرے کا لباس قرار دیا ہے۔ اسی طرح اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الروم کی آیت: 21 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ تمہاری ہی جنس سے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان سے آرام پائو اس نے تمہارے درمیان محبت اور ہمدردی قائم کر دی یقینا غور و فکر کرنے والوں کے لیے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں‘‘۔معاشی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کی ذمہ داری مرد کے کندھوں پر عائد ہوتی ہے جبکہ گھر کے انتظام و انصرام کی ذمہ داری عورت پر عائد ہوتی ہے۔ زندگی کی یہ گاڑی تبھی اچھے انداز میں چل سکتی ہے جب فریقین ایک دوسرے کے بارے میں محبت‘ احترام اور ایثار والا رویہ رکھیں۔ عصری معاشروں میں اس بات کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے کہ لوگ چھوٹی چھوٹی بات پر طلاق دینے پر آمادہ و تیار ہو جاتے ہیں جبکہ اہلِ اسلام کو اس بات کو مدنظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ اسلام ایک ایسا دین ہے جس نے انسانی معاشرے کی بنیادوں کو مضبوط کرنے پر خصوصی توجہ دی ہے۔ معاشرے کی سب سے بنیادی اکائی &#39;&#39;خاندان‘‘ ہے۔ اسلام نے میاں بیوی کے رشتے کو الفت‘ محبت اور سکون کا ذریعہ بنایا ہے۔ شریعتِ اسلامیہ کا مقصد اس خاندانی نظام کو ٹوٹنے سے بچانا ہے لیکن گھریلو زندگی میں بعض اوقات ایسے حالات پیدا ہو جاتے ہیں جہاں میاں بیوی کے درمیان اختلافات اس حد تک بڑھ جاتے ہیں کہ ان کا ایک ساتھ رہنا محال ہو جاتا ہے۔ انہی ناگزیر حالات کے پیشِ نظر اسلام نے طلاق کو جائز قرار دیا ہے۔ مگر یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ طلاق کوئی کھیل یا مذاق نہیں ہے بلکہ یہ وہ آخری حل ہے جو اُس وقت اپنایا جاتا ہے جب اصلاح کی تمام کوششیں مکمل طور پر ناکام ہو جائیں۔ شریعت نے اسے جلد بازی میں رشتہ ختم کرنے کے لیے نہیں بلکہ ہم آہنگی کے خاتمے کی صورت میں مصلحت کے تحت ایک آخری راستے کے طور پر رکھا ہے۔طلاق کا ایک بڑا سبب یہ ہے کہ مرد و زن ایک دوسرے کے بارے میں کدورت اور کراہت محسوس کرتے ہیں۔ اس کراہت اور کدورت سے بچنے کے لیے نبی کریمﷺ نے انسان کو دوسرے کے اچھے خصائل پر توجہ دینے کا حکم دیا ہے۔ اس حوالے سے صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: &#39;&#39;کوئی مومن مرد کسی مومن عورت (یعنی اپنی بیوی) سے نفرت نہ کرے۔ اگر اسے اس کی کوئی ایک عادت ناپسند ہو تو اس کی کوئی دوسری عادت اسے پسند بھی ہو گی‘‘۔ راوی کہتے ہیں: یا آپﷺ نے فرمایا: &#39;&#39;اس کے علاوہ کوئی اور (اچھی) خصلت ہو گی‘‘۔ کئی مرتبہ بہ امر مجبوری مرد اور عورت کے مابین ناراضی‘ کشیدگی اور دوری اس حد تک بڑھ جاتی ہے کہ طلاق کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا لیکن بلاضرورت طلاق کا مطالبہ کرنے کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ اس حوالے سے جامع ترمذی میں حضرت ثوبانؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: &#39;&#39;جس عورت نے بغیر کسی بات کے اپنے شوہر سے طلاق طلب کی تو اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے‘‘۔ امام مسجد نبوی نے اس موقع پر یہ بات بھی بتلائی کہ بہت سے لوگ طلاق کے آداب سے مکمل طور پر ناواقف ہیں۔ یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز کرتے ہوئے ایک ہی مجلس میں یا ایک ہی لفظ کے ساتھ تین طلاقیں دینا سخت ممنوع ہے۔ اسی طرح عورت کو حالتِ حیض میں طلاق دینا یا ایسے طہر (پاکیزگی کے ایام) میں طلاق دینا جس میں میاں بیوی کے مابین ازدواجی تعلق قائم ہوا ہو‘ شریعت کی رو سے ناجائز اور صریح خلاف ورزی ہے۔ یہ اللہ کی مقرر کردہ حدود ہیں۔ سورۃ البقرہ کی آیت: 229 میں فرمانِ الٰہی ہے: &#39;&#39;یہ اللہ کی حدود ہیں، ان سے آگے نہ بڑھو اور جو لوگ اللہ کی حدوں سے آگے بڑھ جائیں وہ ظالم ہیں‘‘۔امام صاحب نے یہ بھی بتایا کہ آج ایک اور خطرناک رجحان جو ہمارے معاشرے میں عام ہوچکا ہے‘ وہ بات چیت کے دوران طلاق کے الفاظ کو بطورِ قسم‘ دھمکی یا چیلنج استعمال کرنا ہے۔ لوگ معمولی باتوں پر کہہ دیتے ہیں: &#39;&#39;مجھ پر طلاق ہے اگر میں نے یہ کام نہ کیا‘‘ یا &#39;&#39;اگر تم وہاں گئیں تو تمہیں طلاق ہے‘‘۔ بعض لوگ تو مہمان نوازی اور اصرار کے لیے بھی کہہ دیتے ہیں: مجھ پر طلاق ہے اگر تم ہمارے ہاں کھانا نہ کھائو۔ یاد رکھیے! طلاق کے الفاظ کو مذاق‘ قسم یا دھمکی کا ذریعہ بنانا اللہ کے احکامات کے ساتھ تمسخر ہے۔ زبان سے نکلے ہوئے ان الفاظ کے سنگین شرعی اور معاشرتی اثرات ہوتے ہیں جن سے پورا خاندان تباہ ہو جاتا ہے۔ طلاق اللہ تعالیٰ کی وہ حد ہے جس کی تعظیم اور حرمت کا پاس رکھنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ جہاں بعض لوگ طلاق کے لفظ کو مذاق کا ذریعہ بنا لیتے وہیں بعض لوگ شدید غصے کی حالت میں اس بات کو فراموش کر دیتے ہیں اور غصہ ٹھنڈا ہو جانے کے بعد ان کو اس لفظ کی ادائیگی کی وجہ سے شدید پچھتاوے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اس بلیغ خطبے کے بعد امام صاحب نے مسلم خاندانوں کے لیے دعائے خیر کرتے ہوئے فرمایا: اللہ تبارک وتعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے مسلم خاندانوں کی حفاظت فرمائے‘ ہمارے دلوں میں الفت و محبت پیدا کرے‘ ہماری زبانوں کو حدود اللہ کی پامالی سے محفوظ رکھے اور ہمیں دین کی صحیح سمجھ اور اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائے‘ آمین!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_19740082.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>