<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>مفاہمت کا ناگزیر راستہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-06/11607</link><pubDate>Tue, 06 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-06/11607</guid><description>حکومت اور اپوزیشن کے مابین مذاکراتی کوششیں اور پھر ان کا اچانک ڈیڈ لاک کا شکار ہو جانا اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ سیاسی قیادت ابھی تک سیاسی بحران کی سنگینی کا ادراک کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اس وقت عالمی جغرافیائی و سیاسی حالات اور معاشی صورتحال کا یہ تقاضا ہے کہ فریقین اپنی ضد‘ انا اور ذاتی مفادات کو پسِ پشت ڈال کر مذاکرات کا سلسلہ وہیں سے دوبارہ شروع کریں جہاں سے یہ ٹوٹا تھا۔ ملک کا مفاد سڑکوں کی سیاست‘ مار دھاڑ‘ جلاؤ گھیراؤ اور دھمکی آمیز بیانات میں نہیں بلکہ بات چیت‘ مفاہمت اور تحمل و بردباری میں ہے۔ تنے ہوئے رسے پر چلتی ہماری معیشت اس وقت کسی تصادم‘ احتجاج یا جلاؤ گھیراؤ کی متحمل نہیں ہو سکتی۔پاکستان کے عوام گزشتہ کئی برس سے جس سیاسی تلخی کا خمیازہ بھگت رہے ہیں‘ اس کا سیدھا اثر ملکی معیشت اور سیاسی نظام پر پڑا ہے۔ سرمایہ کار ملک سے جا رہے ہیں‘ مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑ دی ہے اور انتظامی مسائل کا انبار ہر گزرتے دن کیساتھ بڑھتا جا رہا ہے۔ کوئی بھی غیر ملکی سرمایہ کار یا عالمی ادارہ اس ملک میں پیسہ لگانے کو تیار نہیں ہوتا جہاں ہر دوسرے مہینے شٹر ڈاؤن اور ملک بند کرنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہوں۔

یہی وجہ ہے کہ جب سے ملک میں سیاسی عدم استحکام نے مستقل ڈیرے ڈالے ہیں‘ معاشی مسائل بھی سنگین ہو گئے ہیں۔ اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ملک کے پچیس کروڑ عوام حالات سے سخت مایوس اور سیاسی قیادت سے یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ آخر کب تک ملکی مفاد کو ذاتی اناؤں پر قربان کیا جاتا رہے گا؟ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی روش کو تبدیل کریں۔ ہماری سیاسی قیادت کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سیاست میں ضد‘ اَنا اور جمود مسائل تو پیدا کر سکتے ہیں لیکن مسائل کا حل نہیں دے سکتے۔ کارِ سیاست لچک‘ تدبر‘ فہم وفراست اور دوراندیشی کا نام ہے‘ جہاں ملک و قوم کی خاطر اَنا کو تیاگنا اور ذاتی و گروہی مفادات سے بالاتر ہو کر سوچنا پڑتا ہے۔ مسائل خواہ کتنے ہی گمبھیر اور سنگین کیوں نہ ہوں ان کا پائیدار اور دیرپا حل صرف بات چیت کی میز پر ہی نکل سکتا ہے۔ اس وقت سیاسی مسائل کے حل میں سب سے بڑی رکاوٹ سیاسی قیادت کی تند و تیز بیان بازی اور انا پرستی ہے حالانکہ سیاست مفاہمت کا نام ہے۔ اس میں کچھ بھی حرفِ آخر نہیں ہوتا اور نہ ہی کوئی مخاصمت دائمی ہوتی ہے۔ حکومت ہو یا اپوزیشن‘ دونوں کو یہ سمجھنا ہو گا کہ ایک دوسرے کو دیوار سے لگانے کی پالیسی کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی لہٰذا بہتر ہو گا کہ ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کرتے ہوئے آگے بڑھا جائے۔
قبل ازیں پونے دو سال کے بعد فریقین میں مذاکرات کا آغاز ہوا تھا‘ متعدد امور پر اتفاق بھی ہو گیا تھا اور پوری قوم بریک تھرو کے حوالے سے پُرامید تھی مگر بدقسمتی سے بعض اختلافی نکات نے اس پورے عمل کو سبوتاژ کر دیا۔ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہوتا کہ آپ تمام مطالبات منوا کر ہی اٹھیں گے بلکہ اس کا مطلب کچھ لو اور کچھ دوکے اصول پر عمل کرنا ہوتا ہے۔ اگر فریقین ضد پکڑ لیں اور اپنے اپنے مؤقف پر ڈٹ جائیں تو مذاکرات کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔ اس وقت نہ صرف حکومت اور پی ٹی آئی بلکہ حکومت کی اتحادی اور اپوزیشن کی دیگر جماعتوں کو بھی آگے آنا چاہیے تاکہ ایک گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کا آغاز ہو سکے کہ یہی ملک کو مسائل کی دلدل سے نکالنے کا واحد راستہ ہے۔ دونوں فریقوں کو ایک دوسرے کے جائز تحفظات کو سننا اور ان کا احترام کرنا ہو گا۔
فریقین کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر تلخ بیانات کا تبادلہ بند کریں‘ پس پردہ رابطوں کو باقاعدہ مذاکرات کی شکل دیں اور ملک کو اس غیر یقینی صورتحال سے باہر نکالیں۔ عوام اب جلاؤ گھیراؤ سے تنگ آ چکے ہیں‘ وہ امن‘ روزگار اور استحکام چاہتے ہیں۔ امید کی جانی چاہیے کہ سیاسی قیادت بصیرت کا مظاہرہ کرے گی اور ملک کو ایک روشن اور مستحکم مستقبل کی طرف لے جانے کیلئے مذاکرات کا راستہ اپنائے گی کیونکہ اس کے علاوہ اور کوئی راستہ بھی نہیں ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مہنگائی‘ تخمینہ اور حقیقت(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-06/11606</link><pubDate>Tue, 06 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-06/11606</guid><description>وفاقی ادارۂ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق ستمبر میں سالانہ مہنگائی کی شرح 11.15 فیصد سے کم ہو کر 10.26 فیصد رہ گئی‘ مگر زمینی صورتحال مختلف تصویر پیش کرتی ہے۔ ستمبر میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوںمیں اضافے کی شرح نسبتاً کم ضرور ہوئی لیکن مذکورہ رپورٹ کے مطابق انکی قیمتوں میں ماہانہ بنیادوں پر 1.27 فیصد اضافہ بھی ہوا ہے۔ اس اضافے کی بنیادی وجہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث مال برداری اور پیداواری لاگت میں اضافہ‘ اور سب سے بڑھ کر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی آڑ میں ناجائز منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کا دھندہ ہے۔ ان حالات میں جبکہ مہنگائی میں متواتر اضافہ جاری ہے‘ ضلعی انتظامیہ‘ پرائس کنٹرول مجسٹریٹس اور دیگر متعلقہ اداروں کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔

متعلقہ ذمہ داران کو چاہیے کہ سرکاری نرخوں پر عملدرآمد یقینی بنانے کیلئے روزانہ کی بنیاد پر بازاروں کی نگرانی کریں‘ سپلائی چین کے ہر مرحلے پر قیمت اور منافع کا ریکارڈ رکھیں اور خلاف ورزی پر مؤثر قانونی کارروائی عمل میں لائیں۔ حکومت کی توجہ صرف مہنگائی کے اعدادو شمار میں ہونے والے اتار چڑھاؤ تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ اس کا اصل امتحان عام آدمی کی قوتِ خرید کو بحال کرنا ہے۔ جب تک شہری کو بازار میں سرکاری نرخ پر اشیائے ضروریہ دستیاب نہیں ہوتیں‘ روزگار اور آمدن میں حقیقی اضافہ نہیں ہوتا اور توانائی کی لاگت قابو میں نہیں آتی‘ تب تک اعدادوشمار کی بہتری کے اثرات عوام کے باورچی خانے تک نہیں پہنچ سکتے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کپاس کی پیداوار(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-06/11605</link><pubDate>Tue, 06 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-06/11605</guid><description>امریکن ڈپارٹمنٹ آف ایگریکلچر کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026-27ء میں پاکستان میں کپاس کی کل پیداوار حکومتی ہدف‘ 96لاکھ گانٹھوں کے مقابلے میں محض 49 لاکھ گانٹھوں تک محدود رہنے کا امکان ہے۔ ایک اندازے کے مطابق مقامی سپننگ انڈسٹری کو اپنی ضروریات پوری کرنے کیلئے سالانہ تقریباًایک کروڑ گانٹھوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ کپاس کی مقامی پیداوار میں کمی کے باعث اس بڑے شارٹ فال کو پورا کرنے کیلئے رواں مالی سال تقریباً 50 لاکھ سے زائد گانٹھیں درآمد کرنا پڑیں گی‘ جن کی مالیت دو ارب ڈالر سے زائد بنتی ہے‘جس سے قومی خزانے پر بڑا بوجھ پڑے گا۔

مالی سال 2014-15ء میں کپاس کی مقامی پیداوار ایک کروڑ 40لاکھ گانٹھوں سے زائد تھی لیکن گزشتہ ایک دہائی کے دوران اس میں تقریباً 65فیصد کمی ہوئی ہے۔ کپاس کی پیداوار میں کمی کی متعدد وجوہات ہیں لیکن سب سے اہم حکومتی عدم توجہی ہے۔ دیگر فصلوں کی طرح حکومت کپاس کی پیداوار بڑھانے کیلئے بھی کوئی سنجیدہ قدم نہیں اٹھا رہی۔ حکومت زرعی ترقی کے دعوئوں کو عملی قالب میں ڈھالنے کیلئے کسانوں کو کپاس سمیت دیگر فصلوں کے معیاری بیج‘ کھاد‘ ادویات اور جدید زرعی مشینری فراہم کرے تاکہ ملکی ضروریات مقامی پیداوار سے پوری ہو سکیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مسائل کیوں نہیں حل ہو رہے؟(محمد اظہارالحق)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-10-06/52790/45565957</link><pubDate>Tue, 06 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-10-06/52790/45565957</guid><description>مسئلہ یہ نہیں کہ کس کی حکومت ہے اور کس کی حکومت ہو گی؟ مسئلہ یہ نہیں کہ مسلم لیگ(ن) کی حکومت ہے یا پیپلز پارٹی کی یا عمران خان کی! یا کسی اور کی! مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان جن مصیبتوں میں پھنسا ہے اور جس دلدل میں گلے تک دھنس چکا ہے‘ اُن مصیبتوں سے نکالنا ان میں سے کسی کے بس کی بات نہیں! اس لیے کہ ان میں سے کسی کو اُن مصیبتوں کا ادراک ہی نہیں! ادراک کیسے ہو! ادراک اُن حکمرانوں کو ہوتا ہے جنہیں قوم کے غم میں راتوں کو نیند نہیں آتی! جو بے لوث ہوتے ہیں۔ بے غرض ہوتے ہیں۔ جو اقربا پرور نہیں ہوتے۔ جو دوست نوازی (Cronyism) سے بچتے ہیں۔ جو مہاتیر کی طرح ہوتے ہیں۔ جو سنگاپور کے لی کی طرح ہوتے ہیں‘ جن کی نگاہیں دور تک دیکھتی ہیں۔ جو پچاس‘ سو سال آگے دیکھتے ہیں۔ لیڈر شپ قربانی مانگتی ہے۔ ہمیں قربانی دینے والا لیڈر قائداعظم کے بعد کوئی نہیں ملا۔ کیا جذبہ تھا اور کیا اعصاب تھے! جان لیوا مرض کو چھپا کر رکھا اور پہاڑ جیسی ثابت قدمی سے ایک ملک بنایا۔ ایک قوم پیدا کی! تاریخ میں قائداعظم محمد علی جناح کا مقام بلند ہے۔ وہ پورے قد کے ساتھ کھڑے ہیں! رہے مخالفین! تو شورش کاشمیری نے کہا تھا:شورش ترے خلاف زمانہ ہوا تو کیاکچھ لوگ اس جہاں میں خدا کیخلاف ہیںرومی سے یہ قول منسوب ہے کہ ہم نے مغز لے لیا اور: استخواں پیشِ سگاں انداختیم۔ ہڈیاں کتوں کے آگے ڈال دیں! قائداعظم کو خلّاق ازل نے جس کام کیلئے چنا تھا وہ کر گئے اور مخالفین کو اس کام پر لگا گئے کہ کڑھتے‘ سلگتے اور تڑپتے رہیں! کلام پاک میں ہے کہ &#39;&#39; موتوا بغیظکم‘‘ اپنے غصے میں آپ ہی جل مرو۔ پاکستان مسائل میں گرفتار ہے۔ مصیبتوں میں پھنسا ہوا ہے۔ باصلاحیت لیڈر شپ دور دور تک نہیں نظر آرہی ورنہ یہ مسائل ایسے نہیں جو حل نہ ہو سکیں! سب سے بڑا مسئلہ آبادی کا بم ہے جو ہمارے سر پر کھڑا ہے۔ کسی حکومت نے بھی اس ضمن میں فیصلہ کن کردار نہیں ادا کیا۔ مشرقی پاکستان الگ ہوا تو اس کی آبادی مغربی پاکستان سے زیادہ تھی۔ آج بنگلہ دیش کی آبادی سترہ کروڑ ہے اور ہماری 25کروڑ سے زیادہ۔ بنگلہ دیش کی حکومتوں نے ایسی پالیسیاں بنائیں جنہوں نے آبادی کی شرحِ اضافہ میں کمی کی۔ ہمارے کچھ علاقوں میں آبادی میں اضافے کی شرح باقی ملک سے زیادہ ہے۔ پھر ہزار کوششوں کے باوجود افغانستان سے آنے والوں کو روکا نہیں جا سکتا۔ نادرا اور پاسپورٹ دفتروں میں کچھ کالی بھیڑوں کو حرام کا چارہ کھانے کی اتنی لت ہے کہ افغانوں کو شناختی کارڈ اور پاسپورٹ مل جاتے ہیں۔ میں کچھ عرصہ پہلے اسلام آباد کی ایک مضافاتی آبادی میں رہتا تھا۔ پانی بور کرنے کی ضرورت پیش آئی تو معلوم ہوا کہ اس کام میں افغان بھائیوں کی اجارہ داری ہے۔ ایک افغان سے معاملہ طے ہوا۔ وہ ہرروز‘ بلا مبالغہ‘ ایک نیا لڑکا ساتھ لاتا جو اس کے کام میں معاونت کرتا۔ پانچویں چھٹے دن پوچھا کہ ہر روز ایک مختلف لڑکا کہاں سے لاتے ہو۔ اس نے بتایا کہ سب اس کے اپنے بیٹے ہیں۔ اس کے سولہ بچے تھے‘ اور اس نے پاکستان میں مستقل رہنے کا انتظام بھی کر رکھا تھا۔ اسی دن شام کو ایک دوست ملنے آیا۔ صبح والا واقعہ میرے ذہن پر سوار تھا۔ دوست کے ڈرائیور سے پوچھا تو اس کے بھی چودہ پندرہ بچے تھے۔ ایک وجہ آبادی میں اضافے کی قدامت پسند سوچ بھی ہے۔ ابھی تک یہ خیال موجود ہے کہ بچوں کی تعداد کم رکھنا مذہب کے لحاظ سے قابلِ اعتراض ہے۔ ہمارے شہر پھیل پھیل کر عفریت بن چکے ہیں۔ پانی بجلی گیس پوری نہیں پڑ رہی۔ ہاؤسنگ سوسائٹیاں زرخیز زمینوں کو نگلتی جا رہی ہیں۔ حکومتوں کے پاس اس سلسلے میں کوئی منصوبہ بندی ہے نہ پروگرام! ہر روز بڑھتی آبادی اس ملک کیلئے ایسی مصیبت ہے جو کئی اور مصیبتوں کو جنم دے رہی ہے۔دوسرا سب سے بڑا مسئلہ افغان بارڈر ہے۔ بہت سے دوسرے مسئلوں کی طرح یہ مسئلہ بھی ہمارا اپنا پیدا کردہ ہے۔ ہم نے مشرقی پاکستان کو بھی اپنے کرتوتوں کی وجہ سے الگ کیا۔ دہشت گردی بھی ہماری اپنی پیداوار ہے۔ جو سانپ ہم نے دوسروں کیلئے پالے‘ آج وہ ہمیں ڈس رہے ہیں۔ یہ ہونا تھا۔ ساری دنیا کو معلوم تھا کہ یہ ہو گا۔ صرف ہم بھولے تھے یا انجان ۔ ہم ایران امریکہ میں صلح کرا رہے ہیں اور ہمارے اپنے نوجوان دن رات‘ صبح شام شہید ہو رہے ہیں۔ ہم ایک بند گلی میں ہیں۔ اس مسئلے کے مستقل حل کیلئے عسکری قیادت کے ساتھ سیاسی سیادت بھی درکار ہو گی۔ ہمیں اس خوش فہمی میں نہیں رہنا چاہیے کہ طالبان حکومت عالمی تنہائی کا شکار ہے۔ چین اور روس کے ساتھ ان کی باقاعدہ معاملہ بندی ہے۔ آنے والے کئی برسوں تک اندرونی مخالفت انہیں اقتدار سے محروم کرنے کے قابل نہیں۔ بھارت پوری قوت کے ساتھ ان کی پشت پر کھڑا ہے۔ یہ آج کی &#39;&#39;گریٹ گیم‘‘ ہے۔ اس سے نمٹنے کے لیے صرف &#39;&#39;دے مار تے ساڑھے چار‘‘ والی پالیسی نہیں چلے گی۔ بین الاقوامی طاقتوں کو درمیان میں ڈالنا ہو گا۔ہمارا تیسرا سب سے بڑا مسئلہ ہمارا مائنڈ سیٹ ہے جو شاید بھارت کے بعد دنیا کا بدترین مائنڈ سیٹ ہے۔ اس عجیب و غریب مائنڈ سیٹ نے ہمیں آگے کا چھوڑا ہے نہ پیچھے کا۔ ہم پیروں فقیروں ملنگوں‘ مجاوروں‘ بابوں‘ اتائیوں‘ تعویذفروشوں کے پنجوں میں پوری طرح جکڑے ہوئے ہیں۔ یہ پیر‘ جو فیوڈل بھی ہیں‘ ولایت جاتے ہیں تو رقص کرتے ہیں اور عرس پر دستار باندھ لیتے ہیں۔ ان کے لاکھوں مرید انہیں نذرانے بھی دیتے ہیں اور ووٹ بھی! اس کا سبب تعلیم کی کمی نہیں‘ مائنڈ سیٹ ہے جو اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں میں بھی موجود ہے۔ جب حکمران پیٹھ پر چھڑیاں کھائیں گے‘ کبھی پہاڑوں سے دور رہیں گے تو کبھی سمندر سے‘ اور آکسفورڈ سے نام نہاد تعلیم حاصل کر کے بھی چوکھٹوں پر سجدہ ریز ہوں گے تو عوام کالانعام کی کیا حیثیت ہو گی۔ شاید ایسے حکمرانوں اور ایسی رعایا کے بارے ہی میں فرمایا گیا ہے: &#39;&#39;جن کے دل ایسے ہیں جن سے نہیں سمجھتے اور جن کی آنکھیں ایسی ہیں جن سے نہیں دیکھتے اور جن کے کان ایسے ہیں جن سے نہیں سنتے۔ یہ لوگ چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ یہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں‘‘۔ پیری مریدی کا فیوڈلزم کے ساتھ پکا پکا گٹھ جوڑ ہے۔ بندہ ہاری ہو اور مرید بھی تو اندازہ لگائیے کہ وہ کیا چیز ہو گی! کروڑوں لوگ اس ملک میں ووٹ ڈالتے وقت اپنا دماغ نہیں استعمال کرتے۔ ووٹ تو دور کی بات ہے‘ بچوں کے رشتے اور شادیوں کی تاریخیں اُن چادر پوشوں سے پوچھے بغیر نہیں طے کی جاتیں جو وڈیرے بھی ہیں۔ ان گدی نشینوں اور وڈیروں کی نشستیں اسمبلیوں میں نسل در نسل چلی آرہی ہیں! یہ لوگ اس ملک کو کبھی ترقی کی راہ پر نہیں چلنے دیں گے۔ ان کی سوچ میں خود غرضی اور تکبر ہے۔ یہ اس کے علاوہ کچھ سوچ ہی نہیں سکتے کہ ان کے بعد ان کا بیٹا کیسے ممبر بنے گا اور کیسے وزارت حاصل کرے گا۔ بلوچستان کا سرداری نظام بھی اسی مائنڈ سیٹ کا شاخسانہ ہے۔ قبیلے کے لوگوں کے خانگی امور بھی سردار ہی طے کرتا ہے۔ حیرت ہوتی ہے یہ سنتے اور پڑھتے ہوئے کہ فلاں سردار کی اتنی بڑی لائبریری ہے اور وہ اتنا بڑا عالم فاضل ہے۔ وہی سردار چور پکڑنے کیلئے لوگوں کو دہکتے انگاروں پر چلاتا ہے اور اگر کوئی میٹرک کر کے اجلے کپڑے پہن لیتا ہے تو اس کے جسم پر گُڑ کا شیرہ مل کر اسے چیونٹیوں بھری غار میں پھینک دیا جاتا ہے۔ (جاری)</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_57182973.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>شہرِ بزرگ کی حالتِ زار(خالد مسعود خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-10-06/52791/41232590</link><pubDate>Tue, 06 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-10-06/52791/41232590</guid><description>ملتان شہرِ قدیم ہی نہیں‘ یہ ایک شہرِ بزرگ ہے۔ قدیم میں صرف قدامت پائی جاتی ہے‘ جبکہ بزرگی میں ایک احترام‘ محبت اور سرپرستی کا عنصر شامل ہو جاتا ہے۔ سو ملتان شہرِ بزرگ ہے۔ بزرگ سے یاد آیا‘ امرئو القیس سے کسی نے پوچھا کہ تم قبیلے کے سردار کیسے بنے؟ اس نے جواب دیا: میں قبیلے کا سردار ایسے بنا کہ مجھ سے بڑے تمام لوگ اس دنیا سے رخصت ہو گئے تھے۔ سو فقیر کا بھی یہی حال ہے۔ میں‘ جو خاندان کے چھوٹوں میں شمار ہوتا تھا‘ اب بزرگوں کی رخصتی کے بعد خود بزرگوں کے درجے پر فائز ہو گیا ہوں۔ وقت گزرنے کا پتا ہی نہیں چلتا۔ کل تک میں چھوٹا تھا‘ آج میں اپنے خاندان کے دو چار بڑوں میں شامل ہوں۔ مجھ سے پہلے والی نسل کے سب لوگ دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔ ایک تائی اماں کا دم غنیمت ہے اور ان کے طفیل ہمارے سر پر بزرگوں کا سایہ قائم ہے۔ سو ان کے پاس جا کر دعائیں لینا میں اپنی سعادت سمجھتا ہوں۔تائی اماں ابھی تک چوک سیداں کے پاس واقع ہمارے آبائی گھر میں مقیم ہیں۔ دادا مرحوم کا بنایا ہوا ہمارا یہ آبائی گھر چچا مرحوم‘ اباجی مرحوم اور تایا جی مرحوم میں تقسیم ہو گیا۔ گھر کی تقسیم کے وقت سب حصہ دار حیات تھے‘ تاہم تقسیم کے وقت صرف چچا جان اور تایا جی اس گھر میں رہائش پذیر تھے۔ ہم لوگ اس گھر سے متصل اپنے گھر میں رہتے تھے۔ بعد ازاں سب سے پہلے چچا جان اپنی ملازمت کے سلسلے میں لاہور چلے گئے‘ پھر ہم عثمان آباد چلے گئے۔ اب ایک تائی اماں ہیں جو اس گھر میں مقیم ہیں۔میں جب کبھی تائی اماں سے ملنے کیلئے چوک شہیداں روانہ ہوتا ہوں تو دو منٹ کھڑا ہو کر سوچتا ہوں کہ آج کس راستے سے جانا ہے۔ شہر میں تین مختلف راستے ہیں جن سے چوک شہیداں جایا جا سکتا ہے۔ میں ہر بار اپنے گزشتہ تجربے کو سامنے رکھتے ہوئے سوچتا ہوں کہ اس بار وہاں کس راستے سے جانا ہے۔ یہ راستے کا انتخاب عجیب مشکل کام ہے۔ اس کے بارے میں خرم آفاق کا کیا خوبصورت شعر ہے:میں تیری سمت کئی راستوں سے آیا ہوںسو جانتا ہوں زیادہ خراب کون سا ہےاس شعر کی خوبصورتی‘ لطافت اور تہہ در تہہ معنویت اپنی جگہ‘ لیکن یقین مانیں یہ شعر میرے کسی کام کا نہیں! کیونکہ بارہا مختلف راستوں سے چوک شہیداں پہنچنے کے کئی عشروں پر مشتمل تجربے کے باوجود میں آج تک یہ فیصلہ نہیں کر سکا کہ کون سا راستہ زیادہ خراب ہے اور کون سا راستہ نسبتاً کم خراب ہے۔ میں یہ تو ہرگز نہیں کہوں گا کہ اس چرخِ ناہنجار کو مجھ سے کوئی خاص دشمنی ہے کہ جس روز میں اُدھر جاتا ہوں عین اسی روز قدرت کے سارے عوامل مجھے تنگ و پریشان کرنے کیلئے میدانِ عمل میں آ جاتے ہیں۔ سڑک تنگ ہو‘ ٹریفک زیادہ ہو اور پھر اوپر سے بے ہنگم بھی ہو تو یہ مسئلہ جو مجھے پیش آتا ہے‘ ان سب لوگوں کو درپیش ہے جو اس سڑک پر سفر کرتے ہیں۔ میری تو خیر ہے‘ میں مہینوں بعد اس مشکل سے دوچار ہوتا ہوں لیکن یہ سوچ کر نہ صرف پریشان ہوتا ہوں بلکہ فکرمند بھی ہو جاتا ہوں کہ جو لوگ یہاں سے روزانہ گزرنے پر مجبور ہیں‘ وہ کیا کرتے ہوں گے؟ خاص طور پر وہ لوگ جو صبح اور شام کے اُن اوقات میں جب سکولوں‘ دفتروں اور اداروں میں آنے اور جانے والے لوگ پہلے سے ٹریفک کے بوجھ تلے دبے تنگ راستے کو ٹریفک کیلئے مزید مشکل بنا دیتے ہوں گے۔میں اپنے شہر کے اس مسئلے کو اربابِ اقتدار تک پہنچانے کی کئی بار کوشش کر چکا ہوں۔ جب شہباز شریف وزیرِاعلیٰ پنجاب تھے‘ تب اس سلسلے میں ایک دو بار کوشش کی۔ پھر اس خطے کے عظیم رہنما اور اس علاقے کے شیر شاہ سوری سردار عثمان بزدار سے ون ٹو ون ملاقات میں شہر کو درپیش اس مسئلے کے حل کیلئے درخواست کی۔ اس عاجز نے موجودہ دورِ حکومت میں بھی اس گمبھیر مسئلے کے حل کیلئے اپنی اس کوشش کو جاری رکھا‘ لیکن تاحال نتیجہ صفر ہے۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس مسئلے کے مستقل حل کی واحد صورت یہ ہے کہ اس سڑک کو کھلا کرنے کیلئے جائز اور ناجائز دکانوں کو ختم کیا جائے۔ مالکان کو ان کی جائیداد کی قیمت کی مد میں ادائیگی کرنے کیلئے کم از کم بارہ پندرہ ارب روپے درکار ہیں‘ جو اس شہر کیلئے مختص کرتے ہوئے حکمرانوں کے ہاتھ کانپنے لگ جاتے ہیں۔ بھلا ملتان جیسے شہر کے باسیوں کی سہولت کیلئے اتنی خطیر رقم کیسے خرچ کی جا سکتی ہے؟ یہ حق تو صرف لاہور جیسے شہروں کو حاصل ہے۔بارہ پندرہ ارب روپے بظاہر بہت بڑی رقم لگتی ہے لیکن یہ رقم اُس رقم سے کہیں کم ہے جو صرف لاہور میں گلبرگ مین بلیوارڈ پر سنٹر پوائنٹ سے ڈی ایچ اے فیز ون تک کے راستے میں بننے والے انڈر پاسز اور فلائی اوورز پر خرچ ہوئی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ملتان اندرونِ شہر میں رہنے والے سیاستدانوں کو اب عام لوگوں کو درپیش اس مشکل سے کوئی غرض نہیں‘ کیونکہ اس علاقے سے تعلق رکھنے والے تقریباً تمام سیاستدان یہاں سے پوش علاقوں میں منتقل ہو چکے ہیں۔گزشتہ دنوں اس دنیا سے رخصت ہونے والے سابق وزیر و ممبر صوبائی اسمبلی احسان الدین قریشی واحد سیاستدان تھے جو مرتے دم تک اندرون شہر میں واقع اپنے آبائی گھر میں رہے۔ موٹر سائیکل ہی وہ واحد سواری تھی جو ان کے گھر کے دروازے تک پہنچ سکتی تھی۔ احسان الدین کے رخصت ہونے کے بعد اب کوئی سیاستدان اندرونِ شہر رہائش پذیر نہیں ہے۔ وہ اب وہاں صرف ووٹ لینے کی غرض سے جاتے ہیں۔ اور الیکشن کمپین ان گلیوں میں ویسے بھی پیدل چل کر ہی چلائی جا سکتی ہے۔یقین کریں مجھے لاہور کی ترقی سے کوئی مسئلہ نہیں لیکن اپنے شہر کے نظر انداز ہونے کا دکھ ضرور ہے اور وہ ہونا بھی چاہیے۔ شہر کی سب سے مصروف سڑک بوسن روڈ کا بھی یہی حال ہے۔ سکولوں اور دفتروں کے کھلنے اور بند ہونے کے اوقات میں یہاں ٹریفک بری طرح جام رہتی ہے مگر اس ٹریفک کو رواں رکھنے کیلئے سڑک کو کھلا کرنا ضروری ہے اور اس کیلئے گیارہ ارب روپے درکار ہیں‘ جو سرکار کے پاس نہیں ہیں۔ ایک طرف حکومت کے پاس اس شہرِ بزرگ کے عوام کی سہولت کیلئے بیس پچیس ارب روپے کی گنجائش نہیں نکلتی‘ دوسری طرف حکومت مری میں ایک سو بیس ارب روپے کے خرچے سے گلاس ٹرین چلانے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ ایسے میں اس لکھاری کو گیارہ‘ بارہ ارب والا پنجاب حکومت کا لگژری جہاز بھلا کیوں یاد نہ آئے؟ اس کالم کے درمیان میں جہاز گھسیٹ لانے کا مقصد جہاں فردِ واحد کے موج میلے اور عوام الناس کی کسمپرسی کا موازنہ ہے‘ وہیں اضافی فائدہ یہ بھی ہے کہ اس جہاز کا ذکر کرنے سے بعض تنخواہ داروں کے پیٹ میں زوروں کا مروڑ اٹھتا ہے۔ اب بندہ مفت میں تو تنخواہ نہ لے‘ اس کے عوضانے میں کم از کم پیٹ درد تو برداشت کرے۔میری صوبائی حکومت سے درخواست ہے کہ اب وہ اپنے بیشتر فنڈز تختِ لاہور پر صرف کرنے کے بجائے لاہور کو بنچ مارک بنائے اور پنجاب کے دیگر ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کو اس کے ہم پلہ نہ سہی‘ اس کے قریب تر لانے کی کوشش کرے۔ اس کا واحد حل یہ ہے کہ اگلے پانچ سال کیلئے لاہور کے انفراسٹرکچر کی ضروری غور و پرداخت کے علاوہ ترقیاتی سکیمیں بند کر دے اور ان فنڈز کا رخ دیگر شہروں کی طرف موڑ دے۔ ہم بھی اسی صوبے کے باسی ہیں۔ یہ صرف میرے شہرِ بزرگ کا حال نہیں‘ تختِ لاہور کے علاوہ سب جگہ یہی صورتحال ہے۔ میں پھر کہوں گا‘ ملتان تو بس ایک استعارہ ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90500073.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>استادوں اور شاگردوں سے کیا سیکھا(ڈاکٹر حسین احمد پراچہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-10-06/52792/46366401</link><pubDate>Tue, 06 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-10-06/52792/46366401</guid><description>عمر بھر کوچۂ درس و تدریس کی سیاحی کے بعد اب پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو بہت سے دلچسپ مشاہدات سامنے آتے ہیں۔ والدین کے بعد اساتذہ ہی وہ قریب ترین ہستیاں ہوتی ہیں جن کیساتھ اعتماد‘ محبت اور احترام کا رشتہ استوار ہو جاتا ہے۔ ایسا صرف ہمارے ہاں ہی نہیں مشرق و مغرب میں ہر جگہ ہوتا ہے۔ مغرب میں تو اس موضوع پر کتابیں چھپتی اور فلمیں بنتی ہیں‘ جن سے معلوم ہوتا ہے کہ معاشرے میں یہ رشتہ کس قدر اہمیت کا حامل ہے۔ اسی لیے تو ہر سال ٹیچرز ڈے بڑے اہتمام سے منایا جاتا ہے۔ گزشتہ روز‘ پانچ اکتوبر کوعالمی سطح پر ٹیچرز ڈے منایا گیا۔مجھے بھی اپنے شاگردوں کی طرف سے 5 اکتوبر کو ٹیچرز ڈے کے پیغامات وصول ہوئے۔ وہ جہاں بھی ہوں شاد آباد رہیں۔تاریخی شہر بھیرہ‘ ضلع سرگودھا کے چڑی چوگ سکول کے ماسٹر نذیر صاحب اپنی شفیق و مہربان شخصیت کی بنا پر ناقابلِ فراموش شخصیت ہیں۔ وہ ہمیشہ ہماری یادوں اور دعاؤں کا حصہ رہے ہیں۔ وہ سکول کے ہیڈ ماسٹر بھی تھے اور پرائمری سکول کی سب سے بڑی پانچویں جماعت کو پڑھاتے بھی تھے۔ ان کا طریقۂ تدریس بہت ہی دلکش تھا۔ ہمارا کمرۂ جماعت ان کا دفتر بھی تھا۔ گرمیوں میں استادِ محترم نہایت اُجلا‘ بے داغ سفید لباس زیب تن کرتے۔ سردیوں میں اوپر شیروانی پہنتے۔ ہر موسم میں سر پر قراقلی ٹوپی اوڑھتے تھے۔ کئی دہائیوں پر پھیلے ہوئے تدریسی تجربے کا ایک مشاہدہ یہ ہے کہ عام استاد محض پڑھاتا ہے‘ اچھا استاد تشریح بھی کرتا ہے۔ بہترین استاد تشریح کے ساتھ ساتھ مختلف مثالوں سے اپنے لیکچر کو سہل بناتا اور طلبہ و طالبات سے سوال جواب کے ذریعے اندازہ لگاتا ہے کہ درس کس حد تک کامیاب رہا ہے۔ اور عظیم استاد اپنے سٹوڈنٹس کو شاہراہِ زندگی پر آگے بڑھنے اور نئی نئی دنیائیں دریافت کرنے کیلئے انسپائر کرتا ہے۔ یہی عظیم استاد وہ حقیقی معلم ہوتا ہے جو طلبہ کے اندر کی روشنی کو باہر لاتا ہے۔ جو بلندیوں کی راہیں دکھاتا ہے‘ جو اقبال کے الفاظ میں دلوں کو سوز و سازِ آرزو اور ذوق و شوق کی حرارت سے بھر دیتا ہے۔ جو خود کسی مقصد کا دیوانہ ہوتا ہے اور اپنے طلبہ میں بھی ایسی ہی خوبصورت دیوانگی پیدا کر دیتا ہے۔چھوٹے بچوں کا استاد ہو یا کالج و یونیورسٹی کا‘ ٹیچنگ کے قواعد و ضوابط کم و بیش یکساں رہتے ہیں۔ سب سے پہلی بات جو استاد کے پیشِ نظر رہنی چاہیے وہ یہ ہے کہ کلاس کے سامنے وہ ایک رول ماڈل ہے۔ وہ صاحبِ کردار ہی نہیں کردار ساز ہوتا ہے۔ کلاس چھوٹی ہو یا بڑی استاد کے ذہن میں ہی نہیں اس کے سامنے صفحۂ قرطاس پر درس کے اہداف لکھے ہوں۔ یہ اہداف قابلِ پیمائش ہونے چاہئیں جنہیں پس از درس ناپا بھی جا سکے۔ میں نے اپنے طلبہ سے سیکھا کہ ایک استاد کے اندر دوسری صفات کے علاوہ سب سے بڑی صفت صبر کی ہونی چاہیے۔ استاد کو طلبہ و طالبات کے سوالات سے ہرگز جھنجھلاہٹ محسوس نہیں کرنی چاہیے بلکہ ایک اچھے استاد کو درس میں طلبہ کی شرکت کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ میں نے بالعموم کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلبہ کو ہی پڑھایا ہے‘ تاہم کبھی کبھی گھر پر چھوٹے بچوں کو بھی پڑھانے کا موقع ملا۔ میں نے استادِ محترم ڈاکٹر خورشید رضوی سے سن رکھا تھا کہ وہ اور گورنمنٹ کالج لاہور کے شعبۂ عربی کے سابق چیئرمین اور ممتاز محقق پروفیسر ڈاکٹر صوفی ضیا الحق مرحوم چھوٹی سے چھوٹی کلاس کو بھی بغیر تیاری کے پڑھانا تدریسی جرم گردانتے تھے۔ میں نے بھی زندگی بھر حتی الوسع اسی معمول کو اپنانے کی کوشش کی۔ ایک استاد کو اپنے موضوع پر مکمل عبور ہونا چاہیے۔ ٹیچر کو دورانِ تدریس لائق ترین اور کمزور ترین طلبہ کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے درس کو تازہ ترین معلومات اور مثالوں سے آراستہ کرنا چاہیے۔ ایک استاد دھمکیوں اور تنقیدی نشتر سے وہ نتائج ہرگز حاصل نہیںکر سکتا جو وہ اپنی شفقت اور تدریسی مہارت سے حاصل کر لیتا ہے۔ میں نے بارہا بہت سے طلبہ کو اپنے بعض اساتذہ کے دھمکی آمیز رویے سے نالاں دیکھا۔ایک یونیورسٹی میں میری ایم فل کی ایک ہونہار طالبہ کئی روز سے کلاس میں نہیں آ رہی تھی۔ معلوم ہوا کہ کلاس کے اندر ایک محترم پروفیسر صاحب نے اس سٹوڈنٹ کا مڈٹرم پیپر سب کے سامنے ڈسکس کرتے ہوئے اس پر تندوتیز تنقید کی۔ طالبہ اس تنقید سے بہت رنجیدہ خاطر اور دل گرفتہ ہوئی اور اس نے کلاس میں ہی آنا چھوڑ دیا۔ بعض اوقات استاد کو اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ اس کا کوئی رویہ سٹوڈنٹس کی دل شکنی کا باعث بن رہا ہے۔ میں انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے طالبات کیمپس کے کسی سینئر سمسٹر کو سیاسیات کا کورس پڑھا رہا تھا۔ ایک روز مجھے ڈاک سے ٹیچرز ڈے کا کارڈ ملا اور ساتھ ہی لکھا تھا کہ مجھے کلاس کے حوالے سے آپ سے بات کرنی ہے۔ اگرچہ میری کلاس فیلوز نے منع کیا ہے کہ پروفیسر لوگ اپنے اوپر تنقید برداشت نہیں کرتے اور نمبر کاٹ لیتے ہیں۔ میں نے کلاس کی نمائندہ سے اس بچی کا نمبر لے کر اسے کال کیا تو اس نے بتایا کہ آپ کلاس میں سوالات پوچھتے ہوئے مجھے نظر انداز کرتے ہیں اور لیکچر میں شمولیت کے کم نمبر دیتے ہیں۔ مجھے بہت افسوس ہوا کہ مجھے معلوم ہی نہیں اور ایک طالبہ کی دل شکنی ہوئی۔ میں نے اسے کہا کہ اپنے والدین کیساتھ اگلے روز میرے دفتر میں ملاقات کرو۔ بچی کی اعلیٰ تعلیم یافتہ والدہ تشریف لائیں۔ انہوں نے بتایا کہ کئی روز سے وہ بہت پریشان تھی۔ میں نے وضاحت کی کہ میری طرف سے ایسا دانستہ بھی نہیں ہوا۔ بہرحال میں نے اپنے رویے کو ریویو کیا اور کلاس میں ایک ایک سٹوڈنٹ کو سوال جواب کے ذریعے شریکِ درس کیا۔ آج وہ بچی ایک مشہور وکیل ہے۔ میں نے طلبہ سے سیکھا کہ ان کی بروقت دلجوئی اور رہنمائی ان کے مستقبل پر نہایت مثبت اثرات مرتسم کرتی ہے۔ چھوٹے بچے ہوں یا بڑی عمر کے طالبعلم‘ ان کے دلوں کے آبگینے بہت نازک ہوتے ہیں۔ مدرسین و مدرسات کو کسی بھی سٹوڈنٹ کی دل شکنی سے مکمل اجتناب کرنا چاہیے۔ تدریسی تجربات کا ایک دلچسپ اور سبق آموز واقعہ یاد آیا۔ طائف کالج کے ایک بااثر پرنسپل مجھے اپنی چاہت کے مطابق شہر کے ایک دوسرے کالج سے اپنے ہاں لائے۔ دو چار روز کے بعد وہ میری کلاس میں دوران لیکچر آئے اور بہت مطمئن ہوئے۔ کئی ہفتوں کے بعد انگریزی اساتذہ کی ایک میٹنگ میں انہوں نے مجھ سے پوچھا &#39;&#39;کیف طلاب؟‘‘ (طلبہ کیسے ہیں)۔ میں نے کہا کہ سائنس سیکشن کے طلبہ تو بہترین ہیں مگر آرٹس کے طلبہ کمزور ہیں۔ اس پر وہ بہت برہم ہوئے اور کہا کہ ایک اچھے استاد کو معلوم ہونا چاہیے کہ طلبہ درس میں دلچسپی کیوں نہیں لیتے۔ مزید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں تمہیں فلاں دشوار گزار پہاڑی علاقے میں ٹرانسفر کرا دوں گا۔ &#39;&#39;فلاں‘‘ علاقے کا مطلب آپ یوں سمجھیں کہ 1980ء کی دہائی میں سرگودھا کے سر سبز و شاداب شہر سے بے آب و گیاہ بھوچال کلاں میں تبادلہ۔ طائف کالج میں ہمارے وائس پرنسپل استاد شاکر العبدی معاملہ فہمی کی شہرت رکھتے تھے۔ ان سے پرنسپل کیساتھ میٹنگ کی کتھا بیان کی۔ ان کے حکیمانہ مشورے سے آرٹس سٹوڈنٹس کی انگریزی مضمون کے بارے میں ذہنی و نفسیاتی کیفیت کا از سر نو جائزہ لیا گیا۔ اس کلاس میں عربی ٹرانسلیشن کیساتھ اپنے طریقۂ تدریس میں تبدیلی کی گئی۔ طلبہ میرے نئے طریقۂ تدریس کے گرویدہ ہو گئے۔ پرنسپل کو بتایا تو وہ بہت خوش ہوئے۔ کچھ عرصے کے بعد میں کان کی ایک تکلیف کیلئے ہسپتال میں داخل ہوا۔ دو تین دنوں کے بعد گھر آیا تو عیادت کیلئے آنے والے طلبہ میں آرٹس کے طلبہ پیش پیش تھے۔ بتانے کا مقصد یہ ہے کہ استاد کو طلبہ کی استعداد اور اپنے طریقِ تدریس کا گاہے گاہے جائزہ لیتے رہنا چاہیے۔ تدریسی سفر کے دوران ایک اہم نکتہ یہ سمجھا ہے کہ کبھی الزام طلبہ کو نہ دیں‘ خود احتسابی سے کام لیں۔سچی بات یہ ہے کہ استادوں سے ہی نہیں شاگردوں سے بھی بہت کچھ سیکھا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_70033906.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>اچھی گورننس کیلئے سول سروس اصلاحات لازم(شاہد کاردار)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-kardar-/2026-10-06/52793/16029199</link><pubDate>Tue, 06 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-kardar-/2026-10-06/52793/16029199</guid><description>آج کل ایک عام راگنی ہے کہ ہمیں حکومتی نظام اور حکومت کی ساخت میں طویل عرصہ سے زیرِ التوا اصلاحات پر فوری طور پر عمل شروع کرنے کی ضرورت ہے۔ تاہم اس ضمن میں زیادہ تر بیان کردہ تجاویز اپنے مفہوم میں خاصی حد تک عام نوعیت کی ہیں۔ مثال کے طور پر نجکاری کرنے‘ برآمدات میں اضافہ کرنے‘ مجموعی ملکی پیداوار کے مقابلہ میں ٹیکس کے تناسب کو بڑھانے جیسی سفارشات کی جاتی ہیں جبکہ بجٹ کے ذریعے کیے جانے والے بے تحاشا اخراجات پر کوئی ٹھوس تجویز پیش نہیں کی جاتی۔ یہ بھی نہیں بتایا جاتا کہ ان اہداف کو حاصل کرنے کیلئے پالیسی اقدامات اور طریقہ کار کیا ہونے چاہئیں اور ادارہ جاتی انتظامات کے حوالہ سے تفصیلات کیا ہوں۔حکمرانی کے کسی بھی نظام اور اس کے نتائج کا بہت زیادہ انحصار مندرجہ ذیل امور پر ہوتا ہے: ریاست کا ڈھانچہ کیا ہے یعنی اس کا کردار (افعال)‘ دائرہ کار اور حکومت کی سطح (وفاقی‘ صوبائی اور مقامی) کے لحاظ سے خدمات کی فراہمی اور انتظامی و مالیاتی اختیارات کی حد بندی کیا ہے۔ تاہم میری معروضات محض ایک پہلو پر بحث اور اس مسئلہ کے حل سے متعلق ہیں۔ میرے نزدیک سب سے زیادہ اہم سول سروس کی اصلاحات ہیں کیونکہ یہ حکومتی نظام میں اصلاحات کی بنیاد بنیں گی۔ مجھ سمیت کچھ تبصرہ نگاروں کا خیال ہے کہ سول سروس کی اصلاح کے بغیر بلند اور زیادہ منصفانہ معاشی ترقی کا ہدف حاصل نہیں ہو سکتا۔ ریاستی کاموں کو چلانے والے ادارے اور نظام اس حد تک ناکارہ ہو چکے ہیں کہ ان کے بنیادی ڈھانچہ کی تشکیلِ نو کے بغیر عوام کیلئے خدمات کی فراہمی کو بہتر نہیں بنایا جا سکتا۔ اور اس کیلئے سول سروس کے ڈھانچہ کو اس کی پیشہ ورانہ مہارت بڑھانے کیلئے دوبارہ تیار کرنا ہوگا۔سول سروس کا ڈھانچہ اور نظام میں اصلاحات کی کوششیں: سول سروس کا ڈھانچہ کئی کیڈرز کے گرد بنا ہوا ہے جن میں اہم پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس (پی اے ایس جسے کچھ عرصہ پہلے ڈی ایم جی اور ماضی میں سی ایس پی کہتے تھے)، آفس مینجمنٹ (او ایم جی)، پولیس، انٹرنل ریونیو سروس، فارن افیئرز، اکنامک اور کامرس گروپس ہیں۔ پی اے ایس کی سروس چوٹی پر فائز ہے جو معیشت اور انتظامیہ کے اعلیٰ ترین عہدوں کو کنٹرول کرتی ہے جبکہ وفاقی سطح پر ان عہدوں کا کچھ حصہ آفس مینجمنٹ گروپ کے پاس بھی ہے۔حکومت چلانے کا یہ ادارہ جاتی ڈھانچہ کسی منصوبہ بندی اور حکمت عملی کے ذریعے نہیں بنایا گیا اور نہ کسی سٹرٹیجک بصیرت سے اخذ کیا گیا ہے کہ جس میں یہ سوچا گیا ہو کہ حکومت کے افعال کی ترجیحات کیا ہوں۔ گورننس کا موجودہ ڈھانچہ پاکستان کی آزادی کے وقت ورثے میں ملا تھا اور بعد میں اس ڈھانچے میں متعدد بیرونی اور اندرونی عوامل کے ردعمل میں ترامیم کی جاتی رہیں۔ یہ عوامل مندرجہ ذیل ہیں: (الف) وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان موضوعات کی آئینی تقسیم اور ان دونوں کے قانون سازی کے اختیارات (ب) حکومت کی بدلتی ہوئی ترجیحات اور مخصوص مسائل کو حل کرنے کیلئے کیے گئے عارضی فیصلے (ج) بین الاقوامی معاشی، سماجی اور سیاسی حالات کیساتھ ساتھ عالمگیریت (گلوبلائزیشن)‘ جدید گورننس اور عالمی مالیاتی اداروں کے تقاضے (د) سیاسی مصلحتیں اور ملک کے اندر سماجی و سیاسی دباؤ۔گزشتہ برسوں میں انتظامی مشینری کی اصلاح کیلئے دو درجن سے زیادہ کمیشن اور کمیٹیاں قائم کی گئیں۔ انکا مینڈیٹ تھا کہ وہ سول سروس کے تنظیمی ڈھانچے، انکے افعال و اختیارات کی نوعیت اور انکے دائرہ کار کیلئے ایک حکمتِ عملی تیار کریں۔ اس مشق کا بظاہر مقصد یہ تھا کہ معاشی اور سماجی ترقی کو فروغ دینے کیلئے سرکاری اداروں کی جانب سے خدمات کی فراہمی کو بہتر بنایا جائے۔ تاہم، ان کمیشنوں اور کمیٹیوں کی توجہ خالصتاً ملازمین کی بھرتی، تربیت، کیریئر کی منصوبہ بندی، مراعات اور مراعات پر مبنی معاوضہ کے ڈھانچہ، تقرریوں اور تبادلوں اور شکایات کے ازالہ جیسے معاملات پر مرکوز رہی۔ یہ کوششیں بڑے پیمانہ پر کارکردگی کو بہتر بنانے میں ناکام رہیں حالانکہ ان کمیشنوں وغیرہ کا بیان کردہ مقصد تو یہی تھا تاکہ وراثت میں ملے ہوئے نظام کو ایک آزاد قوم کی ضروریات اور توقعات کے مطابق ڈھالا جا سکے۔ اس تجربہ سے ثابت ہوگیا کہ ہم انسانی وسائل (ہیومن ریسورس) کے معاملات تو حل کرلیتے ہیں لیکن اسکے باوجود ہمارا نظام ناکارہ ہی رہا۔ مثال کے طور پر موجودہ نظام بروقت کارروائی کو کوئی اہمیت نہیں دیتا بلکہ معاملات کو التوا میں ڈالنے اور ٹال مٹول کرنے پر کسی سرکاری ملازم کو کوئی سزا بھی نہیں دیتا۔ اس تاخیر کو نظام کا دیوالیہ پن ماننا تو دور کی بات ہے اسے نظام کی خرابی بھی تسلیم نہیں کیا جاتا۔ سرکاری اداروں میں عام ذہنیت غیر سنجیدہ اور سرسری رویہ پر مبنی ہے جیسا کہ کسی عمل کو پورا کرنے کیلئے لامحدود وقت موجود ہے۔ حکومت سے متعلق کسی بھی کام کیلئے متعدد منظوریوں، سرکاری اہلکاروں کے پاس ان گنت چکروں، پیچیدہ اور بظاہر کبھی ختم نہ ہونیوالی کاروائی اور مراحل کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کیلئے کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ جیسے دستاویزات کی درجنوں کاپیوں کی ضرورت ہوتی ہے حالانکہ بائیومیٹرک کا ایک اچھا تصدیقی نظام پہلے سے موجود ہے۔لہٰذا ہم اپنی زیادہ تر بحث اس نظام پر مرکوز کریں گے جو اختیارات کی مرکزیت پر مبنی ہے حتیٰ کہ 18 ویں ترمیم کے تحت اختیارات کی صوبوں کو منتقلی کے بعد بھی۔ ہم معاشی سرگرمیوں کو محدود کرنے والے فرسودہ قوانین اور ضوابط کے تسلسل پر بھی نظر ڈالیں گے کیونکہ لین دین ہی سے مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) تشکیل پاتی ہے اور اگر لین دین میں رکاوٹیں آجائیں تو جی ڈی پی اپنے پوٹینشل کے مطابق نہیں بڑھتا۔ ہم سرکاری افسروں کے معاوضوں پر بھی بات کریں گے جو مبہم ہیں لیکن فیاضانہ طور پر دیے جاتے ہیں۔ یاد رہے کہ پی اے ایس افسران ہی ان تمام ڈھانچوں اور نظاموں کے سربراہ ہیں۔  اس جائزہ کی اس لیے بھی فوری ضرورت ہے کہ آج حکومت جو مؤثر طریقے سے کام نہیں کر رہی تو اس میں ایک اہم رکاوٹ اسکے حد سے زیادہ پھیلا ہوا مینڈیٹ اور اس پر لگنے والا بجٹ۔ یہ حد سے بڑھا ہوا مینڈیٹ اس کے بنیادی کردار اور اس کی افرادی قوت کی صلاحیت سے ماورا ہے اور تیزی سے بدلتی ہوئی ٹیکنالوجیکل ترقی اور عالمی مارکیٹوں کیساتھ ہم آہنگ بھی نہیں۔ اس سروس میں مجموعی رجحان یہ رہا ہے کہ ڈھانچوں (محکمے، عہدے وغیرہ) کو بڑھاتے جاؤ۔ نئے محکموں، اداروں اور عملہ کے عہدوں کو بنانا یا شامل کرنا نسبتاً آسان رہا ہے۔ یہ ڈھانچے ایک بار قائم ہوجائیں تو ان کے وجود اور ان کی مسلسل دیکھ بھال کو متعلقہ فریقوں اور اس نظام سے فائدہ اٹھانے والوں کی حمایت حاصل ہوجاتی ہے۔یکے بعد دیگرے آنیوالی حکومتوں نے ایسا کردار ادا کیا ہے جیسے وہ روزگار فراہم کرنیوالے دفاتر ہوں حالانکہ ان کی توجہ روزگار پیدا کرنے پر ہونی چاہیے تھی نہ کہ روزگار فراہم کرنے پر۔ چپڑاسیوں، ڈرائیوروں، چوکیداروں اور کلرکوں کا ایک بڑا لشکر سیکرٹریٹ اور سرکاری شعبے کے اداروں کی راہداریوں میں گھومتا رہتا ہے۔ ضرورت سے زیادہ عملہ کی بھرتی کا پیمانہ ایسا ہے کہ ملازمت کے قواعد  کے تحت ایک باتھ روم کو صاف کرنے کیلئے ملازمین کی تین اقسام کی ضرورت ہوتی ہے: ایک فرش پونچھنے کیلئے، ایک واش بیسن صاف کرنے کیلئے اور ایک کھڑکی کی چوکھٹ سے دھول صاف کرنے کیلئے۔مزید برآں، ایک ایسا قانونی اور ادارہ جاتی ڈھانچہ موجود ہے جس نے ان ملازمین کو حقوق دیے ہوئے ہیں۔ یہ نام نہاد حقوق ان شہریوں کیلئے نقصان کا باعث ہیں جنہیں خدمات فراہم کرنے کیلئے مبینہ طور پر انہیں ملازم رکھا جاتا ہے کیونکہ بعض اوقات مالی وسائل ان ملازمین پر ہی صرف ہوجاتے ہیں اور اصل مقصد قربان ہو جاتا ہے۔ مقصد ہوتا ہے سکول، علاج معالجہ کی سہولیات وغیرہ لیکن ان عوامی حقوق پر متعلقہ ملازمین کے حقوق و مراعات کو ترجیح دی جاتی ہے۔ یہ سول سروس ملازمین کی، ملازمین کیلئے اور ملازمین کے ذریعے چلنے والی سروس بن چکی ہے۔ اگلے مضمون میں ہم اس گفتگو کو آگے بڑھائیں گے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_78012569.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>اعصاب شکن کھیل(رشید صافی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-10-06/52794/22482175</link><pubDate>Tue, 06 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-10-06/52794/22482175</guid><description>حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات ناکام ہونے کے بعد ملکی سیاست ایک بار پھر عدم استحکام اور غیر یقینی کی کیفیت سے دوچار ہے۔ پی ٹی آئی نے مذاکراتی عمل تعطل کا شکار ہوتے ہی خیبرپختونخوا کے شہر لکی مروت سے لانگ مارچ کا آغاز کر دیا ۔ کرک پہنچنے پر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کارکنوں سے خطاب کیا جس کے بعد مارچ کے اگلے پڑاؤ کوہاٹ اور پھر صوابی میں طے پائے ہیں۔ صوابی سے اسلام آباد کی طرف پیش قدمی اور آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جانا ہے۔ انتظامی نقطۂ نظر سے اگر لانگ مارچ کی پیش قدمی کو دیکھا جائے تو لانگ مارچ کے پہلے مرحلے میں وفاقی حکومت کو کوئی فوری انتظامی یا سکیورٹی تعیناتی کا خطرہ درپیش نہیں۔ جب تک یہ قافلہ خیبرپختونخوا کی حدود کے اندر رواں دواں رہے گا وفاقی حکومت نہ تو اسے اپنے لیے چیلنج سمجھے گی اور نہ ہی اسے روکنے کیلئے کسی قسم کی انتظامی یا قانونی تدابیر استعمال کرے گی۔ پی ٹی آئی کو خیبرپختونخوا کے اندر اپنی حکومت ہونے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ مارچ کو مکمل انتظامی تحفظ اور نقل و حرکت کی آزادی حاصل ہے۔ البتہ اس دوران پی ٹی آئی سوشل میڈیا پر ماحول بنانے میں ضرور کامیاب ہو جائے گی۔ تاہم اس لانگ مارچ کے شرکا کا امتحان اُس وقت شروع ہو گا جب یہ قافلہ خیبرپختونخوا کی حدود سے نکل کر وفاق یا پنجاب کی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کرے گا۔سیاسی کشیدگی اور محاذ آرائی کے باوجود حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان بیک ڈور چینلز مکمل طور پر بند نہیں ہوئے۔ ملک کی سیاسی تاریخ بتاتی ہے کہ بدترین سیاسی تصادم کے دور میں بھی درپردہ رابطے قائم رہتے ہیں تاکہ معاملات پوائنٹ آف نو ریٹرن تک نہ پہنچیں۔ تاہم اگر یہ رابطے بھی کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے تو پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کو زمینی سطح پر شدید انتظامی مزاحمت کا سامنا اٹک پل پر کرنا پڑسکتا ہے۔ وفاقی اور پنجاب حکومت کی سب سے پہلی اور بنیادی ترجیح یہی ہو گی کہ لانگ مارچ کو ہر قیمت پر پنجاب کی سرحد میں داخل ہونے سے پہلے‘ اٹک کے مقام پر روکا جائے۔ اگر بالفرض پی ٹی آئی کے کارکنان اپنی عددی قوت یا حکمت عملی کی بدولت اٹک پل کی رکاوٹوں کو عبور کر لیتے ہیں تو ان کیلئے اگلا مرحلہ اس سے بھی زیادہ مشکل ہو گا۔ اگلی شدید اور سخت ترین مزاحمت کٹی پہاڑی کے مقام پر ہو گی جہاں پنجاب پولیس اور اسلام آباد پولیس کے علاوہ قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کی بھاری نفری موجود ہو گی۔ اگر مارچ یہ تمام رکاوٹیں عبور کرتے ہوئے آگے بڑھتا ہے تو سنگجانی ٹول پلازہ پر روکا جائے گا یا کم از کم یہ کوشش کی جائے گی کہ کسی بھی صورت مارچ کو اسلام آباد کی شہری حدود میں داخل نہ ہونے دیا جائے۔ ان تمام جغرافیائی اور انتظامی مرحلوں‘ رکاوٹوں اور سخت اقدامات کو عبور کرنے کیلئے ضروری ہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے قافلے میں کم از کم ایک لاکھ سے زائد افراد موجود ہوں۔ اگر لانگ مارچ میں تعداد کم ہوئی تو ریاستی مشینری کی حائل کردہ انتظامی رکاوٹوں کو پار کرنا یا وفاق پر سیاسی دباؤ بڑھانا کسی بھی صورت ممکن نہیں رہے گا۔ اب یہاں نہایت اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ فرض کر لیتے ہیں کہ پی ٹی آئی کا لانگ مارچ تمام تر رکاوٹوں‘ انتظامی بندشوں اور سخت چیلنجز کو عبور کرتا ہوا اسلام آباد کے کسی طے شدہ مقام پر پڑاؤ ڈالنے میں کامیاب ہو بھی جاتا ہے تو کیا محض وہاں پہنچ جانا ہی اس تحریک کی مکمل کامیابی سمجھا جائے گا؟ کیا صرف اسلام آباد میں بیٹھ جانے سے پی ٹی آئی اپنے سیاسی مقاصد اور مطالبات حاصل کر لے گی؟ہماری دانست میں محض اسلام آباد پہنچ کر ڈیرہ ڈال لینا کافی نہیں ہو گا۔ تاریخ گواہ ہے کہ اسلام آباد میں پڑاؤ ڈالنا یا دھرنا دینا صرف طاقت کا مظاہرہ اور دباؤ بڑھانے کا ذریعہ ہو سکتا ہے لیکن حتمی نتائج‘ آئینی حل اور معاشی یا سیاسی مطالبات کی منظوری کیلئے آخر کار فریقین کو مذاکرات کی میز پر ہی بیٹھنا پڑتا ہے۔ ماضی کے متعدد دھرنے اور لانگ مارچ اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ سڑکوں پر طاقت دکھانے کے بعد بھی حتمی فیصلے بات چیت اور معاہدوں سے ہی طے پاتے ہیں۔ اگر تمام تر سختیاں جھیلنے‘ کارکنوں کی گرفتاریوں‘ شیلنگ کا سامنا کرنے اور ہزاروں افراد کو تھکا دینے کے بعد بھی آخری راستہ مذاکرات ہی کا بچتا ہے تو پھر حکومت کے ساتھ مذاکرات کو عجلت میں کیوں سبوتاژ کیا گیا؟ وہ کون سی سیاسی یا انتظامی رکاوٹیں تھیں جن کی وجہ سے سیاسی قیادتیں کسی معاہدے پر نہ پہنچ سکیں؟ دوسرا بڑا سوال یہ ہے کہ سیاستدان اہم ترین سیاسی معاملے کا کوئی سویلین‘ آئینی اور سیاسی حل کیوں نہ نکال سکے؟جب ہم مذاکرات کی ناکامی کے اسباب کا معروضی جائزہ لیتے ہیں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں ہی ایک دوسرے پر اس ناکامی کا ملبہ ڈالنے میں مصروف ہیں۔ حکومت کی جانب سے یہ مؤقف پیش کیا جاتا ہے کہ پی ٹی آئی بات چیت کے دوران کسی قسم کی سیاسی لچک دکھانے کے بجائے سخت‘ غیرمنطقی اور فوراً اپنے تمام مطالبات تسلیم کرانے کی ضد پر قائم رہی۔ اس ضمن میں مذاکراتی کمیٹی کی رکن سینیٹر شیری رحمان کا کہنا تھا کہ چار ڈرافٹس پر تمام فریقین کے ساتھ اتفاق ہو گیا تھا‘ خیبر پختونخوا حکومت کے مرکز کے ساتھ انسدادِ دہشت گردی تعاون کے طے شدہ ڈرافٹ پر دستخط سے انکار کے باعث مذاکرات ناکام ہوئے۔ دوسری طرف پی ٹی آئی کا الزام ہے کہ حکومت مذاکرات کے نام پر صرف وقت ضائع کرنے کا ڈرامہ کر رہی تھی اور ان کے بنیادی مطالبات بالخصوص بانی پی ٹی آئی کی رہائی‘ سیاسی مقدمات کے خاتمے اور شفاف انتخابات پر کوئی سنجیدہ یا عملی قدم اٹھانے کیلئے تیار نہیں تھی۔ حقیقت ان دونوں بیانیوں کے درمیان کہیں معلق ہے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی معاملات کو جس نہج پر لے آئے ہیں اگر اب وہ اپنے حامیوں اور کارکنوں کے سامنے ذرا سی لچک دکھاتے ہیں تو پارٹی میں ایک مخصوص گروہ اسے تسلیم نہیں کرے گا۔ سہیل آفریدی پر اس وقت اپنی ہی پارٹی کی اعلیٰ قیادت اور پُرجوش کارکنان کی طرف سے بانی پی ٹی آئی کی رہائی کیلئے کوئی بڑا اور فیصلہ کن قدم اٹھانے کا شدید اور غیر معمولی دباؤ ہے۔ وہ اس بات سے خوب واقف ہیں کہ اگر انہوں نے اس موقع پر جارحانہ حکمت عملی اختیار نہ کی اور اسلام آباد پر دباؤ نہ بڑھایا تو پارٹی کی اندرونی سیاست میں ان کا حال بھی اپنے پیش رو سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور سے مختلف نہیں ہو گا۔ اس لیے سہیل آفریدی کیلئے یہ لانگ مارچ ایک انتہائی حساس سیاسی امتحان اور دو دھاری تلوار کی مانند ہے۔ اگر وہ اپنے اس لانگ مارچ کو اسلام آباد پہنچانے میں ناکام رہتے ہیں یا احتجاج کے ذریعے بانی پی ٹی آئی کی رہائی اور اپنے سیاسی مطالبات کی منظوری کے حوالے سے کوئی قابلِ ذکر نتائج حاصل نہیں کر پاتے تو نہ صرف ان کی ذاتی اور سیاسی ساکھ کمزور ہو گی‘ بلکہ خیبرپختونخوا کی حکومتی باگ ڈور پر ان کا کنٹرول بھی متزلزل ہو جائے گا۔ اس ناکامی کے نتیجے میں پارٹی کے کارکنان میں شدید مایوسی پھیلے گی‘ اور پارٹی کے اندر سے ہی ان کے متبادل کی تلاش کی آوازیں بلند ہونا شروع ہو جائیں گی۔ سہیل آفریدی کا قافلہ روانہ ہو چکا ہے‘ وہ اپنا آخری کارڈ بھی ظاہر کر چکے ہیں۔ دریں حالات وزیر داخلہ محسن نقوی کا دورۂ پشاور میں آئی جی اور چیف سیکرٹری کو احکامات دینا اور گورنر سے ملاقات اہم پیش رفت ہے۔ ادھر اسلام آباد میں بھی اجلاس جاری ہے۔ اعصاب شکن کھیل میں جو فریق غلطی کرے گا وہ اہداف سے دور ہو جائے گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/222_48272610.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ایسی اٹھان، ایسا زوال(نسیم احمد باجوہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/naseem-ahmed-bajwa/2026-10-06/52795/17953634</link><pubDate>Tue, 06 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/naseem-ahmed-bajwa/2026-10-06/52795/17953634</guid><description>میں 1960ء میں خالصہ کالج لائلپور (اب میونسپل کالج فیصل آباد) میں علم سیاسیات پڑھاتا تھا۔ میں نے گورنمنٹ کالج (نزد دھوبی گھاٹ) تعلیم حاصل کرنے کے دوران لائلپور میں دو سال (1951-52ء) گزار ے تھے۔ خالصہ کالج میں پرنسپل جناب تاج محمد خیال تھے اور اساتذہ میں افتخار چشتی‘ ظہیر الدین‘ بدر الدین‘ آئی اے بٹ‘ عبدالقادر کیانی‘ منظور حسین شور اور یعقوب صاحب ۔ 1961ء میں مجھے یونیورسٹی کے ایک ہم جماعت افضل باجوہ (مرحوم) کا غیر متوقع فون آیا۔ وہ گورنمنٹ کالج لیہ میں پڑھاتا تھا۔ اُس نے بتایا کہ اُس کے کالج میں انگریزی کے ایک لیکچرر کو تخریبی سرگرمیوں کے جرم میں ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے۔ وہ بھلا آدمی ہے اور ہمارا فرض ہے کہ اُس کی ہر ممکن مدد کریں۔ (یہ تخریبی سرگرمی کسانوں کے حق میں آواز بلند کرنا تھی)۔ اگر اُسے لائلپور میں انگریزی پڑھانے کی ملازمت مل جائے تو وہ اس کیلئے بڑی پُرکشش ہوگی کہ زیر عتاب دوست کی بیوی چنیوٹ (جو لائلپور کے قریب ہے) میں لیڈی ڈاکٹر ہے۔ میں نے اپنے کالج کے پرنسپل سے بات کی‘ حسن اتفاق سے انگریزی لیکچرر کی اسامی خالی تھی۔ میونسپل کالج کو میونسپل کارپوریشن چلاتی تھی۔ تعلیمی کمیٹی کے سربراہ میرے ایک پرانے ہم جماعت تھے‘ نام تھا یٰسین۔ اُن کا گھر شہر کی دوسری جانب تھا۔ میں سائیکل چلاتے اُن کے پاس پہنچا۔ اُن کی مہربانی کہ مدد کا وعدہ کیا اور ایک دو دن کے اندر میرے اَن دیکھے دوست کی ملازمت کا حکم نامہ جاری کر دیا۔ چند دنوں بعد وہ صاحب چنیوٹ سے لائلپور آئے‘ پہلے مجھے اور پھر پرنسپل صاحب سے ملے۔ میں نے انہیں سٹاف روم لے جا کر تمام اساتذہ سے متعارف کرایا۔ اگلے دن سے انہوں نے پڑھانا شروع کر دیا۔ یہ تھے مختار رانا۔ہم دونوں کو قریبی دوست بننے میں زیادہ دیر نہ لگی۔ اکثر شام کو ہم دونوں کمپنی باغ میں اکٹھے سیر کرتے تھے۔ ہمیں ہرگز معلوم نہ تھا کہ خفیہ پولیس کی آنکھیں بھی ہمیں دیکھ رہی ہیں۔ نجانے وہ کسی درخت پر چڑھے ہوتے یا کسی گھنی جھاڑی میں مگر وہ ہمیں دیکھ سکتے تھے۔ اگر ذرا ہمت کر کے نگرانی پر مامور شخص ہمیں مل لیتا تو ہم اپنی گفتگو اُس کے سامنے کرتے اور اُسے چائے بھی پلاتے۔ یہ راز اس طرح کھلا کہ یوگو سلاویہ کے سفارتخانے نے ایک وظیفے کا اعلان کیا۔ اس کے حصول کیلئے ایک مضمون کی شرط رکھی گئی جس کا عنوان تھا &#39;&#39;زرعی نظام کو اشتراکی اصولوں پر چلانا کیوں مفید ہے‘‘۔ میں نے بھاگ دوڑ کر کے مواد اکٹھا کیا اور کئی راتیں جاگ کر مضمون لکھا اور سفارتخانے کو بھیج دیا۔ ایک دن غیر متوقع طور پر خط ملا جس میں یہ نوید سنائی گئی تھی کہ میرا مضمون بہت اچھا قرار دیا گیا لہٰذا وظیفہ مجھے دیا جائے گا بشرطیکہ حکومتِ پاکستان اس کی منظوری دیدے۔ مجھے اس میں کوئی دشواری نظر نہ آئی۔ میں نے روز وشب یوگو سلاویہ اور وہاں سے دوسرے سوشلسٹ ممالک میں سیر وسیاحت کے خواب دیکھنے شروع کر دیے۔ ایک ماہ بعد ایک اجنبی شخص مجھے ملنے آیا۔ اس نے اپنا تعارف سی آئی ڈی انسپکٹر کے طور پر کرایا۔ میں نے آمد کا مقصد پوچھا تو جواب ملا‘ چونکہ آپ کمیونسٹ ہیں‘ اس لیے آپ کو ایک کمیونسٹ ملک نے وظیفہ دیا ہے اور ہمیں یہ بھی پتا ہے کہ آپ اپنے ایک کمیونسٹ دوست (اشارہ مختار رانا کی طرف تھا) کے ساتھ اکثر شام کو کمپنی باغ کے کسی کونے میں چھپ کر ملک کے خلاف سازشیں کرتے ہیں۔ اس نے بتایا کہ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ نے ہی اپنے ہم خیال شخض کو کالج میں لگوایا ہے۔ میں آپ کو بتانے آیا ہوں کہ میں آپ کے خلاف رپورٹ متعلقہ سرکاری محکمے کو بھیجوں گا‘ اب فیصلہ وہ کریں گے کہ آپ کو وظیفہ دیے جانے کو منظوری دیں یا نہ دیں۔ بعد ازاں وہی ہوا۔ وزارتِ تعلیم اور وزارتِ داخلہ‘ دونوں نے مجھے وظیفہ دینے کو ویٹو کرتے ہوئے نامنظور کر دیا۔ یوگو سلاویہ جانے کے میرے حسین خواب دھرے کے دھرے رہ گئے اور یوگوسلاویہ دیکھنے کیلئے مجھے تیرہ برس کا انتظار کرنا پڑا اور یہ خواب تب پورا ہوا جب میں نے لندن سے لاہور تک کار چلاتے ہوئے سفر کیا اور آتے جاتے ہوئے اس ملک سے دو بار گزرا۔مختار رانا کے ساتھ لائلپور میں ایک سال گزار کر میں لاہور چلا گیا۔ جہاں میری نوبیاہتا بیوی کالج میں پڑھاتی تھیں۔ اسی دوران چودھری ظہور الٰہی نے بکمال مہربانی مجھے ملک کے سب سے بڑے اخباری ادارے میں اعلیٰ عہدے پر فائز کر دیا جہاں میں صرف ڈیڑھ برس رہ سکا۔ اس دوران رانا صاحب کا لاہور آنا جانا لگا رہتا تھا۔ وہ مجھے ملنے آتے اور اپنی مزدور دوست سرگرمیوں کی تفصیلات بھی بتاتے۔ دو تین بار ایسا بھی ہوا کہ مہینے کی پہلی تاریخوں میں آئے اور میری تنخواہ کا چیک بھی یہ کہتے ہوئے لے گئے کہ ہڑتالیوں کو مالی مدد درکار ہے۔ میں گھر جا کر اپنی بیوی کو یہ ماجرا سناتا تو وہ ہنس کر کہتیں: آپ نے اچھا کیا کہ اپنی تنخواہ انہیں دے دی‘ اب ایک ماہ گھر میں اپنی تنخواہ سے چلائوں گی۔ تنخواہ ان کی بھی بڑی قلیل تھی۔ یہ کرشمہ کس طرح ہوتا تھا‘ یہ وہ جانتی ہیں یا خداوند تعالیٰ۔ مئی 1966ء میں ہم نے لاہور میں پیپلز کنونشن کا انعقاد کیا جو بڑا کامیاب رہا۔ رانا مختار نے ہی بابائے سوشلزم شیخ محمد رشید سے تعارف کرایا۔ وہ اور کشمیر کے سردار محمد ابراہیم خان سمیت ممتاز رہنمائوں نے اس میں شرکت کی۔شیخ محمد رشید نے رانا صاحب کا پیپلز پارٹی کی قیادت سے تعارف کرایا اور اُن کو اتنی قدر و منزلت دلوائی کہ پارٹی نے اُنہیں الیکشن میں قومی اسمبلی کا ٹکٹ جاری کر دیا۔ رانا صاحب لائلپور کے ایک صنعتی تنازع‘ جس میں مزدوروں کے ہاتھوں مل مالک مارا گیا تھا‘ میں حصہ لینے اور اشتعال انگیز تقریر کرنے کے جرم میں گرفتار ہوئے اور عدالت سے قید کی سزا پائی۔ قومی اسمبلی کا الیکشن اُنہوں نے جیل سے لڑا۔ پارٹی کے کارکنوں کی زبردست مہم نے اُنہیں کامیابی دلائی۔ بعد ازاں وہ قومی اسمبلی کی رکنیت سے محروم ہوئے تو اُن کی جگہ ان کی بہن نے ضمنی انتخاب لڑا مگر وہ ہار گئیں۔ آئندہ سالوں میں جب بھی میں پاکستان گیا‘ اُنہیں ملے بغیر واپس نہ آیا۔جن دنوں بھٹو صاحب کے خلاف احتجاجی تحریک اپنے عروج پر تھی اُنہی دنوں لندن کے نواحی شہر Slough میں ہمارے گھر کے دروازے پر دستک ہوئی۔ دروازہ کھولا تو سامنے مختار راناکھڑے تھے۔ بلااطلاع اچانک آمد کا مقصد پوچھا تو جواب یہ تھا کہ پولیس نے (بھٹو صاحب کے حکم پر) زبردستی لندن جانے والے ہوائی جہاز پر بٹھا کر ملک بدر کر دیا۔ ہم نے پوچھا کہ اُنہیں برطانوی ویزا کب اور کس طرح ملا؟ معلوم ہوا کہ وہ لندن ایئرپورٹ پر پہنچ کر لینا پڑا۔ اب وہ ہمارے گھر رہنے لگے۔ چند ماہ بعد اُن کی اہلیہ کا ہمارے گھر کے نمبر پر فون آیا۔ اس وقت رانا صاحب باہر گئے ہوئے تھے۔ جب میری بیوی نے ان سے ہمدردی ظاہر کی کہ حکومت نے اُنہیں ملک بدر کر کے کتنی زیادتی کی ہے تو وہ دنگ رہ گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ رانا صاحب حکومت کے ساتھ دوستانہ معاہدہ کر کے بخوشی لندن آئے ہیں۔ اُن کو برطانوی ویزا حکومتِ پاکستان نے دلوایا ہے۔ رانا صاحب گھر واپس آئے تو ہم نے اُنہیں ان کی اہلیہ کے فون اور ان کے انکشافات کے بارے میں بتایا ۔ یہ سن کر وہ طیش میں آگئے اور بلند آواز میں کہنے لگے کہ میں آپ کا پرانا دوست ہوں یا میری بیوی؟ ہم دونوں میں سے آپ کس پر اعتبار کرتے ہیں؟ اگلے دن لندن سے الطاف گوہر صاحب کے دفتر سے فون آیا اور بتایا گیا کہ رانا صاحب کو بتا دیں کہ ہم اُنہیں ایک ہزار نہیں بلکہ صرف پانچ سو پائونڈ عطیہ دے سکتے ہیں اور اس رقم کا چیک اُنہیں کل مل جائے گا۔ یہ اُونٹ کی کمر پر آخری تنکا تھا۔ ہم نے جی کڑا کر کے اپنے مہمان کو یہ بتا دیا کہ بداعتمادی کی خلیج اتنی چوڑی ہو چکی ہے کہ اب اُن کا ہمارے پاس رہنا مشکل ہے‘ بہتر ہو گا کہ وہ کوئی متبادل انتظام کر لیں۔ اُنہوں نے نئی رہائش گاہ جا کر نہ کوئی فون کیا اور نہ رابطہ رکھا۔ یوں 1961ء میں جو دوستی کا رشتہ قائم ہوا تھا وہ 1979ء میں ٹوٹ گیا۔ </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_32258580.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>