<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>نئے ڈیموں کی تعمیر ناگزیر(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-14/11360</link><pubDate>Tue, 14 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-14/11360</guid><description>عالمی ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے جنم لینے والی آفات سے بچنے کیلئے ملک کو طویل مدتی اور جامع آبی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ ہر سال مون سون کی بارشوں اور گلیشیرز کے پگھلنے سے ہمارے انفراسٹرکچر کو خاصا نقصان پہنچتا ہے۔ سیلابی ریلوں سے نہ صرف قیمتی انسانی جانوں کا زیاں ہوتا ہے بلکہ ملکی معیشت کو بھی اربوں ڈالرز کا جھٹکا لگتا ہے۔ ان سنگین حالات میں یہ احساس شدت سے ابھرتا ہے کہ اگر ملک میں ڈیموں کی تعمیر کے منصوبے وقت پر مکمل ہوتے تو نہ صرف سیلابی ریلوں کی تباہ کاریوں سے بچا جا سکتا تھا بلکہ یہ پانی تباہی پھیلانے کے بجائے ملک کی تقدیر بدل رہا ہوتا۔ چیئرمین واپڈا کا یہ بیان کہ پاکستان کو واٹر سکیورٹی کیلئے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے‘ ایک ناگزیر قومی تقاضے کی یقین دہانی ہے۔ پاکستان کی آبی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو یہ تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ہم نے منگلا اور تربیلا جیسے بڑے ڈیموں کی تعمیر کے بعد دہائیوں تک آبی ذخائر کے شعبے میں کوئی بڑی پیشرفت نہیں کی۔ یہ دونوں ڈیم چھ دہائیوں سے پاکستان کی زراعت اور توانائی کی ریڑھ کی ہڈی رہے ہیں لیکن وقت کے ساتھ ان کی پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش کم ہوتی جا رہی ہے۔

یعنی ایک طرف ہمارے موجودہ آبی ذخائر سکڑ رہے ہیں اور دوسری جانب نئے ذخائر کی تعمیر کی طرف توجہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ اگر اردگرد کے ممالک سے موازنہ کریں تو بھارت نے پانچ ہزار سے زائد چھوٹے بڑے ڈیم تعمیر کر رکھے ہیں‘ سری لنکا جیسے چھوٹے سے ملک میں سوا چار سو سے زائد ڈیم موجود ہیں۔ چین میں چھوٹے بڑے ڈیموں کی تعداد 97 ہزار سے زائد ہے۔ اس کے مقابلے میں24 کروڑ سے زائد آبادی والے پاکستان میں بین الاقوامی معیا ر کے 73 ڈیم اور 100 کے قریب ہائیڈل منصوبے فعال ہیں جو ہماری زرعی‘ معاشی اور آبادیاتی ضروریات کے لحاظ سے اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہیں۔ اس قلیل تعداد کی وجہ ہے ماضی کی غفلت اور آبی ذخائر پر سرمایہ کاری نہ کرنے کا رجحان۔ اس کی ایک حالیہ مثال بھاشا ڈیم ہے‘ جس کیلئے واپڈا کی جانب سے 94 ارب روپے طلب کیے گئے مگر بجٹ میں اس کیلئے صرف دس ارب روپے رکھے گئے۔ اس نوعیت کی مالیاتی عدم توجہی اور فنڈز کی قلت نہ صرف منصوبوں کی تکمیل میں غیر معمولی تاخیر کا سبب بنتی ہے بلکہ لاگت میں بھی کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔ نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پروجیکٹ‘ جو سستی بجلی کا ایک بڑا ذریعہ تھا‘ ٹنلز کی خرابی اور تکنیکی نقائص کے باعث ڈھائی سال سے بند پڑا ہے اور اگلے ڈیڑھ سال تک اسے دوبارہ مکمل فعال نہیں بنایا جا سکے گا۔
اس بندش سے اب تک 99 ارب سے زائد کا خسارہ ہو چکا۔ اس قسم کی تکنیکی ناکامیاں اور انتظامی کمزوریاں ملکی معیشت پر بوجھ بڑھانے کا باعث بنتی ہیں کیونکہ متبادل کے طور پر مہنگے درآمدی ایندھن سے بجلی بنانا پڑتی ہے جبکہ پاکستان میں آج بھی سب سے سستی بجلی پن بجلی منصوبوں سے حاصل کی جا رہی ہے‘ جس کی لاگت تین سے چار روپے فی یونٹ ہے۔ بڑے ڈیموں کی افادیت صرف سستی توانائی پیدا کرنے تک محدود نہیں ہوتی بلکہ یہ کثیر المقاصد ہوتے ہیں۔ ڈیم ایک طرف سستی بجلی بناتے ہیں‘ دوسری طرف واٹر سٹوریج کی ملکی صلاحیت میں اضافہ کرتے ہیں اور سب سے بڑھ کر بپھرے ہوئے سیلابوں کو اپنے اندر سمو کر تباہی وبربادی سے بچاتے ہیں۔ یہ انتہائی افسوسناک امر ہے کہ ہم ہر سال اربوں کیوبک فٹ قیمتی اور میٹھا پانی سمندر کی نذر کر دیتے ہیں کیونکہ ہمارے پاس اسے ذخیرہ کرنے کے لیے ڈیم ہی موجود نہیں۔ 1947ء میں ملک میں فی کس 5600 مکعب میٹر پانی دستیاب تھا جو 2023ء میں 930 مکعب میٹر کی سطح تک گر چکا‘ اور اب پاکستان کو آبی بحران سے دوچار ممالک کی فہرست میں شامل کیا جاتا ہے۔ یہ سبھی پہلو ہمیں حتمی طور پر اسی نکتے پر لے آتے ہیں کہ مزید ڈیم بنائے اور آبی ذخیرے کی صلاحیت میں اضافہ کیے بغیر چارہ نہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پٹرولیم لیوی کا بوجھ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-14/11359</link><pubDate>Tue, 14 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-14/11359</guid><description> حکومت کی جانب سے صرف آٹھ روز کے دوران پٹرولیم لیوی میں تقریباً 15 روپے فی لٹر کا اضافہ عوام کے مالی بوجھ میں بڑے اضافے کا سبب بنے گا۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق چار جولائی کو پٹرولیم لیوی کو 66 روپے 64 پیسے سے بڑھا کر 70 روپے 36 پیسے فی لٹر کیا گیا اور 11 جولائی کو اس میں مزید 9 روپے 64 پیسے کا اضافہ کرکے اسے 80 روپے فی لٹر تک پہنچا دیا گیا۔ اگر یہ اضافہ نہ کیا جاتا تو آج عوام کو پٹرول تقریباً 15 روپے فی لٹر سستا مل رہا ہوتا۔ لیکن حکومت نے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں آنے والی کمی کا فائدہ صارفین تک منتقل کرنے کے بجائے اپنے محصولات بڑھانے کو ترجیح دی۔ حکومت نے رواں مالی سال کے دوران پٹرولیم لیوی کی مد میں 1676 ارب روپے وصول کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے‘ جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 178 ارب روپے زیادہ ہے۔

بلاشبہ مالی وسائل کا حصول ہر حکومت کی ضرورت ہوتا ہے تاہم اس مقصد کیلئے ایسے ذرائع اختیار کرنا جو براہِ راست عام شہری کی زندگی کو مہنگا بنا دیں‘ طویل المدت معاشی استحکام کیلئے سودمند حکمتِ عملی نہیں سمجھے جا سکتے۔ حکومت کو ایسے مالی فیصلے کرتے وقت عوامی مشکلات‘ قوتِ خرید‘ غربت اور مہنگائی کے مجموعی اثرات کو بھی پیشِ نظر رکھنا چاہیے۔ محصولات میں اضافے کا آسان راستہ اختیار کرنے کے بجائے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا‘ غیر ضروری سرکاری اخراجات میں کمی‘ مالی نظم وضبط اور جامع معاشی اصلاحات پر توجہ دی جائے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بروقت اقدامات کی ضرورت(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-14/11358</link><pubDate>Tue, 14 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-14/11358</guid><description>ملک میں قدرتی گیس کی قلت کے باعث لاکھوں گھروں‘ تجارتی مراکز اور صنعتوں کا انحصار ایل پی جی پر بڑھ چکا ہے۔ ایسے میں آل پاکستان ایل پی جی انڈسٹری کی جانب سے گیس کی درآمدی لاگت‘ فریٹ ریٹس‘ بلوچستان میں سکیورٹی مسائل‘ طویل سپلائی روٹس‘ ٹرانسپورٹرز کو درپیش مشکلات اور ضابطہ جاتی پیچیدگیوں جیسے مسائل حل نہ ہونے کی صورت میں ہڑتال کی دھمکی دی گئی ہے۔ ملک پہلے ہی توانائی کے شدید بحران سے دوچار ہے‘ ایسے میں ایل پی جی کی قلت پیدا ہوئی تو صارفین کی مشکلات میں اضافہ ہو گا۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران اس شعبے میں پیدا ہونیوالی بے یقینی اور منافع خوری نے پہلے ہی عوام کی مشکلات میں غیر معمولی اضافہ کیا ہے۔

اس وقت بھی ایل پی جی کی سرکاری قیمت تقریباً 241 روپے فی کلو مقرر ہے مگر مختلف شہروں میں یہ 350 سے 400 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہی ہے۔ ضروری ہے کہ ایل پی جی کی سپلائی چین‘ درآمدی لاگت‘ فریٹ ریٹس‘ ریگولیٹری طریقہ کار اور قیمتوں کے تعین جیسے امور پر توجہ دی جائے اور مسائل کا حل نکالا جائے۔ ایل پی جی کے ڈیلروں کی من مانی ناقابلِ قبول ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ ایل پی جی کی مقررہ قیمتوں پر عمل درآمد یقینی بنانے کے اقدامات کرے اور اس سلسلے میں جو بنیادی رکاوٹیں ان کا ازالہ بھی ہونا چاہیے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>وہ دو غیر ملکی خواتین۔ اصل کہانی(محمد اظہارالحق)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-07-14/52291/23929917</link><pubDate>Tue, 14 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-07-14/52291/23929917</guid><description>سینئر پولیس افسر نے پریس کانفرنس میں سچ بولا! مگر افسوس! سچ کا صرف تھوڑا سا حصہ بولا! شاید اس لیے کہ ملک کو نظر نہ لگ جائے۔یہ سچ شاید کبھی باہر نہ آتا۔ وہ تو یوں ہوا کہ رضا ڈار والے معاملے میں وہ جو دو عورتیں تھیں‘ نیدرلینڈز کی Stephanie Adriana اور وینزویلا کی Astrid Robinson Bracho‘ اُن دونوں نے مجھ سے رابطہ کیا۔ یورپ ہی کے کسی ملک سے بول رہی تھیں۔ بہت دیر تو مجھے ان کی بات سمجھ ہی میں نہ آئی۔ دونوں خواتین زار و قطار رو رہی تھیں۔ یہ ٹیلی فون کال نہ تھی‘ سسکیوں‘ ہچکیوں اور آہوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ تھا۔ ایک کی تو گھگی بندھ رہی تھی۔ اتنے فاصلے پر‘ ٹیلیفون پر‘ کسی روتے ہوئے کو چُپ کرانا آسان نہیں۔ ایک کو چپ کراتا تھا تو دوسری رونے لگ جاتی تھی۔ خدا خدا کر کے خاموش ہوئیں تو میں نے پوچھا کہ رونا کس بات کا ہے؟ تم تو ہمارے ملک سے خوش خوش گئی تھیں۔ ہمارے سینئر پولیس افسر نے باقاعدہ پریس کانفرنس کر کے اعلان کیا تھا کہ تم ہمارے نظام سے مطمئن تھیں‘ اور یہ کہ تم نے پاکستان کا پرچم منگوایا جسے تم ساتھ لے جانا چاہتی تھیں۔ انہوں نے جواب دیا کہ اسی بات پر تو رو رہی ہیں۔ پولیس افسر نے پوری بات نہ بتا کر ہمارے جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے۔ میں حیران ہوا کہ آخر ایسی کون سی بات تھی جو پولیس افسر نے نہیں بتائی اور اس کی وجہ سے رو رو کر ان کی حالت خراب ہو رہی ہے۔ جب ان کی سسکیاں اور ہچکیاں ختم ہوئیں اور وہ اس قابل ہوئیں کہ بات کر سکیں‘ تو انہوں نے تفصیل سے بات کی۔ یہ ایک لمبا قصہ ہے۔ بہرطور میں بے حد اختصار کے ساتھ قارئین کی خدمت میں دونوں خواتین کا مشترکہ ورژن پہنچا دیتا ہوں۔وہ پاکستان سے جانا ہی نہیں چاہتی تھیں۔ ساری دنیا گھومی ہوئی تھیں مگر پاکستان انہیں اتنا بھایا کہ وہ اس پر عاشق ہی ہو گئیں۔ جن پاکستانیوں کی بظاہر قید میں تھیں‘ دراصل وہ قید تو تھی ہی نہیں۔ انہیں اس قدر آرام اور عزت کے ساتھ رکھا گیاکہ وہ از حد متاثر ہوئیں۔ کسی نے ٹیڑھی آنکھ سے دیکھا نہ انہیں ہاتھ لگایا۔ سب مرد انتہائی احترام سے پیش آتے۔ وہ ان پاکستانی مردوں کے اخلاق سے بس گھائل ہو گئیں۔ کھانا دینے آتے تو نظریں نیچی رکھتے۔ آدھی رات کو اٹھتے‘ وضو کرتے اور صبح تک عبادت میں مصروف رہتے۔ جب پولیس والے انہیں ایئر پورٹ لے جا رہے تھے تو دونوں نے ان کی بہت منت سماجت کی کہ وہ پاکستان چھوڑ کر نہیں جانا چاہتیں۔ وہ پاکستان ہی کو اب اپنا وطن بنانا چاہتی تھیں۔ ان کا ارادہ تو یہ تھا کہ وہ اپنے اپنے اعزہ و اقارب کو بھی پاکستان میں بلا کر یہیں مستقل آباد کرتیں۔ مگر پولیس والوں نے ان کی ایک نہ سنی۔ انہیں زبردستی جہاز میں بٹھا دیا۔ یہ جو پولیس افسر نے کہا کہ وہ پاکستان کا جھنڈا ساتھ لے گئیں تو انہوں نے تو پاکستان کی مٹی بھی مانگی تھی کہ راستے میں مٹی کو آنکھوں سے لگاتی جاتیں اور چومتی جاتیں۔یہ جو پولیس افسر نے کہا تھا کہ وہ ہمارے نظام سے مطمئن ہو کر گئیں تو اس کی بھی انہوں نے وضاحت کی۔ انہیں پاکستان کا نظام انصاف‘ نظام معیشت‘ نظام تعلیم‘ الغرض تمام نظام مثالی نظر آئے۔ پاکستان کے نظام انصاف کی چمک سے تو ان کی آنکھیں چکا چوند ہو گئیں۔ سب سے نمایاں بات نظام انصاف کی انہیں یہ لگی کہ پاکستان میں امیر غریب کے ساتھ یکساں سلوک کیا جاتا ہے۔ جرم کرنے والا طاقتور سے طاقتور کیوں نہ ہو‘ سزا اسے مل کر رہتی ہے۔ کسی وزیر‘ امیر‘ سفیر کا بیٹا ہو یا نواسہ‘ اس کے ساتھ وہی سلوک ہوتا ہے جو عام مجرم کے ساتھ ہو تا ہے۔ مثلاً اگر چوری کرنے والے‘ ڈاکا ڈالنے والے یا عورت کی آبرو ریزی کرنے والے عام شہری کو کو سی سی ڈی (کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ) کیفر کردار تک پہنچاتا ہے تو یہ سی سی ڈی امیر زادے‘ وزیر زادے اور شاہ زادے کا زن بچہ بھی فوراً کولہو میں پِلوا دیتا ہے۔ شاہ اور گدا پاکستان کے نظام انصاف میں ایک جیسے سلوک کے مستحق سمجھے جاتے ہیں۔ مارنے والا وڈیرہ ہو یا بڑے سے بڑے جج کا بیٹا یا بیٹی‘ سزا ضرور پاتے ہیں۔ اس نظام کا ایک اور پہلو جسے جان کر دونوں خواتین کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں یہ ہے کہ اگر مقتول غریب ہو اور قاتل امیر ہو تو امیر قاتل کے اہلِ خانہ کو یہ اجازت ہرگز نہیں حاصل کہ وہ غریب خاندان کے پاس جا کر انہیں مقدمے سے دستبردار ہو نے کے لیے مجبور کرے‘ یا کوئی لالچ دے یا دھمکی دے۔ اگر کسی نے ایسا کیا بھی تو اعلیٰ عدلیہ ایسے افراد کو قطعاً معاف نہیں کرتی‘ اگرچہ وہ ان کی اپنی صفوں میں سے ہی کیوں نہ ہو۔ان دونوں غیر ملکی خواتین کو ہماری پولیس کا نظام بھی بہت اچھا لگا۔ پولیس کسی بھی پریس کانفرنس میں جھوٹ بالکل نہیں بولتی۔ سچ‘ کھرا اور برہنہ سچ ہماری پولیس کا طرۂ امتیاز ہے۔ یہ جو کچھ ملکوں میں پولیس ہر حکومت کی کنیز بن جاتی ہے تو پاکستانی پولیس ایسا کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی! یہ سیاسی معاملات میں ہرگز دخل نہیں دیتی۔ جب ان خواتین کو معلوم ہوا کہ پاکستانی ریاست پولیس پر بہت بھاری رقوم خرچ کرتی ہے‘ اعلیٰ ترین گاڑیاں مہیا کی جاتی ہیں‘ رہنے کے لیے بہترین گھر دیے جاتے ہیں اور ان سب کے بدلے میں پولیس ملک بھر میں ایک قتل‘ ایک چوری‘ ایک ڈاکا اور ایک اغوا بھی نہیں ہونے دیتی تو ان خواتین کے منہ سے بے اختیار آفرین آفرین کے الفاظ نکلے۔ گاڑی یا موٹر سائیکل چوری ہونے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ کراچی‘ لاہور‘ پشاور‘ ملتان‘ اسلام آباد‘ فیصل آباد میں چوری ڈاکے اور اغوا کے نام تک سے شہری ناواقف ہیں۔ تنہا عورت زیورات کی پوٹلی اٹھائے رات بھر‘ تن تنہا‘ سفر کرے تو کسی کی مجال نہیں کہ اسے چھو بھی سکے۔ پولیس تنخواہ کا ایک ایک پیسہ حلال کرتی ہے۔ دونوں خواتین پاکستان کے اہلِ اقتدار سے بھی بہت متاثر ہوئیں۔ جب انہیں معلوم ہوا کہ کسی وزیر یا امیر کا قریبی رشتہ دار جرم میں ملوث ہو تو وہ وزیر یا امیر فوراً اپنے منصب سے استعفیٰ دے دیتا ہے اور جب تک عدالت ملزم کو باعزت بری نہ کر دے‘ اقتدار سے دور رہتا ہے‘ تو حیران ہوئیں اور حد درجہ متاثر۔ ملکوں کی بین الاقوامی ریٹنگ کرنے والے عالمی اداروں سے دونوں خواتین کو شکوہ ہے۔ یہ عالمی ادارے عام طور پر آئرلینڈ‘ ناروے‘ ڈنمارک‘ فن لینڈ‘ سنگاپور‘ جاپان اور نیوزی لینڈ کو نظام کے لحاظ سے بہترین ملک قرار دیتے ہیں۔ مگر دونوں  خواتین اس سے متفق نہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اول نمبر پر پاکستان آتا ہے۔ آئرلینڈ‘ فن لینڈ وغیرہ پاکستان کے مقابلے میں ہیچ ہیں۔آپ نے دونوں خواتین کا مؤقف پڑھ لیا۔ یہ بھی بتاتا چلوں کہ دونوں خواتین نے مجھ پر بھاری ذمہ داریاں ڈال دی ہیں۔ دونوں‘ پاکستانیوں سے شادی کر کے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے پاکستان میں رہنا چاہتی ہیں۔ جب پوچھا کہ کس قسم کے مردوں کو وہ شادی کے لیے آئیڈیل گردانتی ہیں تو انہوں نے صرف دو چوائس دیے۔ وہ کسی پاکستانی پولیس افسر سے شادی کریں گی یا پاکستان کی کسی مقتدر ہستی کے پوتے یا نواسے سے! طویل گفتگو کے آخر میں‘ رخصت ہوتے وقت دونوں نے پاکستان کا قومی ترانہ مل کر گایا۔ جب اس سطر کو پہنچیں &#39;&#39;پاک سرزمین کا نظام‘‘ تو فرطِ جذبات سے ان کی آواز بھرّا گئی۔ گلا جیسے رندھ گیا۔ قارئین سے دعا کی التماس ہے کہ میں ان خواتین کو ان کی خواہش کے مطابق پاکستانی شہریت اور پاکستانی پاسپورٹ دلوا سکوں۔ اور دو دُلہے بھی ان کی شرائط کے مطابق تلاش کر سکوں! اور ہاں! ان کے مستقل قیام کے لیے لاہور سے بہتر کوئی شہر نہیں! آپ کا کیا خیال ہے؟؟</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_57182973.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ہمارا بے جا تفاخر(خالد مسعود خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-07-14/52292/73803503</link><pubDate>Tue, 14 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-07-14/52292/73803503</guid><description>ان پڑھ یا حرف و قلم سے دور لوگوں کی بات تو ایک طرف رہی‘ ہمارے بہت سے پڑھے لکھے لوگ اور بزعم خود علم کی دولت سے مالا مال اشخاص بھی پاکستانی ہونے کے حوالے سے اپنے معاشرے کو نہایت اعلیٰ و ارفع اخلاقی اقدار‘ اسلامی طریقہ زندگی‘ بہترین معاشرت اور اعلیٰ تربیت کا حامل تصور کرتے ہیں۔ میرا ان سے اختلاف استثنائی حالات میں نہیں بلکہ مجموعی اور اجتماعی رویے کے حوالے سے ہے۔ میرا یقین ہے کہ کالم پڑھنے والے لوگ اپنی سوچ کی بلوغت کے اعتبار سے اخبار کے خبروں والے صفحات کے قارئین سے کہیں زیادہ بلند درجے کے حامل ہوتے ہیں لیکن حال یہ کہ میں جب بھی کبھی پاکستان سے باہر کسی معاملے پر موازنہ کرتے ہوئے مغربی معاشرے کی اچھائیوں کا ذکر کرتا ہوں تو ثناخوانِ تقدیسِ مشرق کے علمبردار کالم کے قاری ڈنڈے لے کر اس عاجز پر چڑھ دوڑتے ہیں۔ بعض لوگ سیدھے سبھاؤ یہ الزام لگا دیتے ہیں کہ آپ مغرب سے مرعوب ہیں‘ آپ احساسِ کمتری کا شکار ہیں یا آپ اپنی مشرقی اور اسلامی اقدار پر شرمندہ ہیں۔ لیکن ایسا ہرگز نہیں۔ اب بندہ بار بار کیا یہ بتائے کہ موازنہ کرتے ہوئے ہم جن چیزوں کا رونا روتے ہیں یہ وہ چیزیں ہیں جو ہماری میراث تھیں۔ اور اپنی میراث کے کھو جانے پر رنج و غم کا اظہار کرنا‘ اپنی میراث سے محروم ہو جانے پر حسرت کرنا‘ اپنی خوبیوں کے ضائع ہو جانے پر اور اسے اغیار کے اپنا لینے پر افسوس اور ملال کا اظہار کرنا احساسِ کمتری نہیں‘ احساسِ زیاں کے زندہ رہنے کا اظہار ہے۔ جیسا کہ جنابِ اقبال نے فرمایا ہے کہ وائے ناکامی متاعِ کارواں جاتا رہاکارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہاتو یہ فقیر اس احساسِ زیاں کو زندہ رکھنے کی سعی کر رہا ہے۔ اب اگر صرف صفائی کے معاملے پر ہی اپنے ہاں کی صورتحال پر ندامت کا اظہار کیا جائے اور مغرب میں صفائی کی بہترین صورتحال کے ساتھ موازنہ کرتے ہوئے‘ تقابلی جائزہ لیتے ہوئے اپنے اداروں کو اور اس سے بڑھ کر انفرادی طور پر لوگوں کو شرم دلانے کی کوشش کی جائے تو بھلا اس میں احساسِ کمتری کہاں آ گیا؟ یہ تو رسول کریمﷺ کے صفائی کو نصف ایمان کا درجہ دینے والے فرمان کی پیروی ہے۔ صفائی پر جتنا زور اسلام دیتا ہے اتنا شاید کوئی مذہب زور نہیں دیتا۔ صفائی کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگا لیں کہ اسے ایمان کا نصف یعنی آدھا قرار دے دیا گیا۔ یعنی باقی سارے مذہب کو ایک طرف رکھا اور بقیہ آدھے کو صفائی قرار دے دیا۔ اس سے مراد یہ بھی نہیں کہ آپ صفائی اختیار کر لیں تو اس کے بعد آپ کو بقیہ آدھے ایمان کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن اس آدھے ایمان کو تازہ رکھنے کے لیے صفائی کی ضرورت ہے۔ صفائی کو نصف ایمان قرار دینے سے مراد اس کی اہمیت کو واضح کرنا تھا کہ صفائی کی کسی صالح اور مہذب معاشرے کی تشکیل میں کتنی بنیادی اہمیت اور حیثیت ہے۔ ایک بات تو طے ہے کہ ہم پاکستانی&#39;پدرم سلطان بود‘ والے جملے کی طرح خود کو ہر حوالے سے بڑا بے عیب‘ کامل‘ مثالی اور افضل سمجھتے ہیں۔ کوئی بات ہو جائے‘ ہمارا زور اس پر ہوتا ہے کہ ہم اخلاقی طور پر بہایت ہی اعلیٰ و ارفع اقدار کے حامل لوگ ہیں جبکہ یورپ سراسر بے حیائی‘ بے شرمی‘ بے ایمانی‘ گندگی اور اخلاقی گراوٹ کا شکار ہے۔ جبکہ ہم ان تمام معاملات میں ان پر بہت زیادہ فوقیت رکھتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے شاید مغرب کے معاشرے کی خرابیوں پر ہی نظر رکھی ہوئی ہے اور اس معاشرے کی وہ تمام خوبیاں جو کبھی ہمارا طرۂ امتیاز ہوا کرتی تھیں‘ ان پر غور ہی نہیں کیا۔ بحیثیت مجموعی ہمارا المیہ دہرا ہے۔ ایک یہ کہ ہم دوسروں کی صرف غلطیاں نوٹ کرتے ہیں‘ اور دوسرا یہ کہ ہم اپنی کسی کمی کوتاہی کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ہم دوسروں سے اپنا موازنہ کرتے ہوئے اپنے آباؤ اجداد کی خوبیاں پیش کرتے ہیں اور مغرب کے معاشرے کی خرابیاں بیان کر کے خود کو بلاجواز اعلیٰ و ارفع قرار دے دیتے ہیں۔ ایسی باتوں پر تنقید وہ لوگ کرتے ہیں شاید جنہوں نے مغربی معاشرے میں آ کر‘ رہ کر اور دیکھ کر کبھی اپنے خیالات کی تصحیح کرنے کی کوشش نہیں کی۔ مغربی حکومتوں کی منافقتیں‘ ذلالتیں اور رذالتیں اپنی جگہ لیکن جب معاشرے کی بات کی جائے تو یہ بات طے ہے کہ عراق پر حملہ‘ غزہ پر ظلم و ستم‘ فلسطینیوں پر ہونے والا جبرو تشدد‘ ان تمام معاملات پر مغربی معاشرے کا ردعمل اور احتجاج ہم سے کہیں زیادہ مؤثر‘ مضبوط اور بھرپور تھا۔ ہم لوگوں نے تو صرف ملین مارچ کا نام ہی سنا ہے حقیقی ملین مارچ مغربی ممالکوں میں ہی دیکھنے میں آئے۔ ہمارے یہاں کبھی کوئی بُرا یا بڑا واقعہ پیش آ جائے‘ اس پر ہمارا معاشرہ بحیثیت مجموعی کوئی مضبوط ردِ عمل نہیں دیتا۔ انفرادی طور پر ردِعمل یا احتجاج ایک الگ چیز ہے‘ ہاں البتہ این جی اوز اس سلسلے میں سڑکوں پر گنتی کے لوگوں کے ساتھ بینر اٹھا کر‘ پوسٹر لگا کر یا سوشل میڈیا میں پوسٹیں لگا کر اپنی موجودگی کا احساس دلاتی ہیں۔ لیکن یہ معاشرے کا ردِعمل نہیں بلکہ رزق روزی کا مسئلہ ہے۔ این جی اوز نے اپنے احتجاجی بینروں‘ تصویروں اور ویڈیو کلپس کے زور پر اپنے سپانسروں سے پیسے اینٹھنے ہوتے ہیں۔ سو یہ احتجاج معاشرے کی عکاسی کرنے کے بجائے روزگار کے زمرے میں آتے ہیں۔ ہمارے یہاں کوئی واقعہ ہو جائے‘ ایک دو دن شور مچتا ہے اور اس کے بعد سکوتِ مرگ طاری ہو جاتا ہے۔ میں نے اپنے گزشتہ کالم میں دو تین واقعات لکھے‘ خاتون وفاقی محتسب اعلیٰ برائے انسداد ہراسگیِ نسواں کے بیٹے نے مبینہ طور پر مانسہرہ سے نوکری کے ٹیسٹ کے لیے آنے والے چار نوجوانوں کو کچل کر مار دیا۔ اسلام آباد میں ہی حاضر سروس جج کے سولہ سالہ کم عمر بیٹے نے جس کے پاس نہ ڈرائیونگ لائسنس تھا اور نہ ہی گاڑی چلانے کا قانونی اجازت‘ دو سکوٹی سوار لڑکیوں کو اپنی گاڑی کے نیچے کچل کر مار دیا۔ انفرادی اخلاقیات کا یہ عالم ہے کہ خاتون محتسب اعلیٰ بھی ڈٹ کر اپنی سرکاری حیثیت سے لطف اندوز ہوتی رہیں اور جج صاحب بھی ۔ جنہوں نے لوگوں کو انصاف دینا تھااپنے گھر میں انصاف نہ دے سکے‘ بعد ازاں سپریم جوڈیشل کونسل نے اس سلسلے میں کی جانے والی شکایت کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا۔ جیسے انسانی جان کی کوئی قیمت ہی نہ تھی ‘جبکہ ادھر لاس اینجلس میں گزشتہ دنوں پولیس نے ایک پالتو کتے کو گولی ماری ہے تو اس پر احتجاج ہو رہا ہے۔ہمارے ہاں انسان کتوں کی موت مار دیے جاتے ہیں تو نہ حکمرانوں کے کانوں پر جوں رینگتی ہے اور نہ ہی عوام اس پر کوئی مؤثر ردِعمل دیتے ہیں۔ نہ عدل و انصاف کے دروازوں پر گھنٹی بجتی ہے اور نہ ہی آئین اپنے وعدے کے مطابق ہر شہری کو برابری کے حقوق دیتا ہے۔ ہم بھیڑوں کا ایسا گلہ ہیں جس کی نگہبانی اور حفاظت پر قصاب متعین ہیں۔ انفرادی اور اجتماعی احساسِ ذمہ داری رخصت ہو چکا ہے۔ اس قسم کے کالموں پر تنقید کرنے اسے مثبت انداز میں لینے اور اسے معاشرے کی اصلاح کے زمرے میں لینے کے بجائے مغرب سے مرعوبیت اور احساسِ کمتری کی فتوے لگاتے ہیں۔ ساتھ میں اپنی قابلِ فخر روایات‘ اعلیٰ اقدار اور شاندار اخلاقیات کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں۔ اس سلسلے میں ان سے کسی ایک مثال کا پوچھیں تو بدکلامی پر اتر آتے ہیں۔ آخر ہمارے بے جا تفاخر کا یہ معاملہ کہاں جا کر رکے گا ؟</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90500073.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پٹرولیم قیمتیں اور حکومتی منطق(ڈاکٹر حسین احمد پراچہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-07-14/52293/67345156</link><pubDate>Tue, 14 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-07-14/52293/67345156</guid><description>امنِ عامہ کی مخدوش صورتحال ہو یا تیل کی قیمتوں میں کمی کا معاملہ حکومت دلیل سے نہیں بلکہ من مانی سے کام لیتی ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کی ادنیٰ سی جنبش بھی محسوس ہو تو یہاں یہ کہہ کر قیمتوں میں اضافہ کر دیا جاتا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں مگر جب عالمی قیمتوں میں کمی ہو تو یہ بیان دے کر عوام کو کمی کے ریلیف سے محروم رکھا جاتا ہے کہ &#39;&#39;خام تیل سستا ہونے سے پٹرول سستا ہونا لازمی نہیں‘‘۔میرے عزیز دوست پرویز ملک مرحوم کے ہونہار صاحبزادے اپنی تمام تر علمیت اور ذہانت کو حکومتی فیصلوں کے دفاع کے لیے صرف کر رہے ہیں۔ وفاقی وزیر پٹرولیم نے اگلے روز پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے سے متعلق بیان دیا کہ پاکستان میں پٹرول کی قیمت سعودی خام تیل کے نرخ دیکھ کر طے نہیں کی جاتی‘ پٹرول کی قیمت طے کرنے کے لیے عالمی منڈی میں تیار پٹرول کے روزانہ نرخ دیکھے جاتے ہیں۔ کرایے‘ انشورنس اور دیگر اضافی و اتفاقی اخراجات کا تخمینہ بھی لگاتے ہیں۔ بین السطور ان کا کہنا یہ بھی ہے کہ عالمی سیاسی و موسمی حالات بھی دیکھتے ہیں‘ پٹرولیم لیوی کا حساب کتاب لگاتے اور پھر صارفین کے لیے نرخوں میں کمی کرنے کے بارے میں سوچتے ہیں۔ وزیر پٹرولیم کے فرمان کا خلاصہ یہ ہے کہ نہ نو من تیل ہو گا نہ رادھا ناچے گی۔ وزیراعظم اور وفاقی وزیر خزانہ ہمیشہ یہ کہتے رہے ہیں کہ ہم تو قوم کو تیل کی قیمتوں میں ریلیف دینا چاہتے ہیں مگر کیا کریں کہ عالمی قیمتیں کم نہیں ہوتیں مگر جب اسلام آباد ایم او یو کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی آ ئی تو حکومت کی طرف سے نئی نئی تاویلات پیش کی جاتی ر ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حکومت اپنے ٹیکسوں کا اونچا ہدف پٹرول کے مجبور صارفین سے ہی پورا کرتی ہے لہٰذا تیل کی درآمدی لاگت کے علاوہ اس میں طرح طرح کے ٹیکسوں سمیت ڈویلپمنٹ اور کلائمیٹ لیوی اور ڈیلرز کی کمیشن وغیرہ شامل کر کے صارفین سے اونچا ریٹ وصول کیا جاتا ہے۔ اگر تیل کی عالمی قیمتیں اچانک بڑھ جاتی ہیں تو پاکستان میں بڑے بڑے سٹاک ہولڈرز کے پہلے سے موجود ذخیرے کی بنا پر ان کے منافع میں بہت بڑا اضافہ ہو جاتا ہے۔ حکومت اس &#39;&#39;اضافے‘‘ کا تھوڑا بہت شیئر بھی عوام کو منتقل نہیں کرواتی اور سارا بوجھ عوام پر ڈال دیتی ہے۔ لیکن جب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم ہوتی ہیں تو یہ تاویل سننے کو ملتی ہے کہ ہم نے تو مہنگا تیل خرید رکھا ہے‘ اب اس کی قیمت میں کمی کرکے قومی خزانے کو نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن کئی ماہ سے حکومت سے تیل کی قیمتوں میں کمی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ابھی ہفتہ عشرہ قبل انہوں نے کہا تھا کہ پٹرول کی قیمت کو 225سے لے کر 250روپے فی لٹر تک واپس لایا جائے مگر حکومت نے کمی کے برعکس پٹرول کی قیمت میں ناقابلِ برداشت اضافہ کر دیا ہے۔ حافظ صاحب کا یہ مطالبہ کوئی سیاسی بیان نہیں بلکہ ان کی طرف سے یہ مطالبہ پٹرولیم سیکٹر کے ماہرین سے مشاورت کے بعد سامنے آیا تھا جس میں حکومتی اخراجات‘ ٹیکسوں اور آئل کمپنیوں کی بچت کا پورا پورا تخمینہ لگایا گیا تھا۔ اب حافظ نعیم الرحمن صاحب پٹرول کی قیمتوں میں ناروا حکومتی اضافے کا کچا چٹھا عوام کے سامنے کھولیں اور بتائیں کہ کمی کے بجائے اضافہ کتنا غلط ہے۔حکومت نے تیل کی قیمتوں کے نظام کو بھول بھلیوں میں الجھایا ہوا ہے۔ عام صارف جب ٹی وی پر برینٹ یا امریکی تیل (WTI) کی قیمتوں میں کمی کے بارے میں سنتا ہے تو دامنِ امید کو تھام لیتا ہے۔ پھر وفاقی وزیر پٹرولیم مختلف اداروں کے نرخوں کے علاوہ خام اور تیار تیل کے بارے میں عام صارف کو ناقابلِ فہم کہانی سنا دیتے ہیں اور فی لٹر کمی کے بجائے اضافے کا اعلان کر دیتے ہیں اور یوں ہر چیز مہنگی ہو جاتی ہے۔ اگرچہ گزشتہ دو تین دہائیوں سے حکومت تیل کی دریافت کیلئے کئی زمینی و سمندری سائٹس کے مختلف منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔ مگر تیل کی بڑے پیمانے پر تلاش کیلئے مختلف مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ تلاش کے اس کام کیلئے سب سے پہلے سروے‘ پھر ڈرلنگ‘ اس کے بعد تیل کی نوعیت اور مقدار کے بارے میں معلومات یکجا کرنے اور حتمی نتائج اخذ کرنے تک ایک تفصیلی منصوبہ ہے جس کے مختلف مرحلوں کیلئے بھاری سرمایہ کاری درکار ہوتی ہے۔ حکومت نے 2025-26ء میں 23 زیر سمندر سائٹس تیل کی تلاش کرنے والی کمپنیوں کو الاٹ کی ہیں۔ سندھ میں سانگھڑ‘ بدین‘ گھوٹکی اور خیرپور کے مقامات پر تیل کی تلاش کا کام جاری ہے۔ بلوچستان میں سوئی‘ کوہلو‘ بارکھان اور ژوب اور پنجاب میں پوٹھوہار‘ اٹک‘ چکوال اور جہلم اور خیبرپختونخوا میں کرک‘ خوست‘ ہنگو اور لکی مروت میں تیل اور گیس کی تلاش کا کام ہو رہا ہے۔ مگر تلاش کے یہ سارے منصوبے چھوٹے پیمانے کے ہیں‘ ان منصوبوں پر آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی‘ پاکستان پٹرولیم اور پاکستان آئل فیلڈز لمیٹڈ کام کر رہی ہیں۔ یہ سب پاکستانی کمپنیاں ہیں۔ اب امریکہ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ تیل کی کسی بہت بڑی کمپنی سے رابطہ قائم کر کے اسے پاکستانی آئل فیلڈز میں تیل کی دریافت کے منصوبوں پر کام کرنے کیلئے آمادہ کرے گا۔ ہماری حکومت کو معلوم ہونا چاہیے کہ کوئی بھی بڑی آئل ڈرلنگ کمپنی کسی علاقے میں تیل کی ممکنہ موجودگی اور ارضیاتی رپورٹوں کے بعد اس ملک میں امنِ عامہ‘ قانون کی عملداری اور سیاسی استحکام کی صورتحال کا اچھی طرح جائزہ لینے کے بعد ہی وہاں کام کرنے کا فیصلہ کرتی ہے۔ حکومت سوچے کہ موجودہ ملکی حالات میں کیونکر ایک بڑی آئل فائنڈنگ کمپنی یہاں آنے کا رِسک لے سکتی ہے۔جب عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہوتا ہے تو حکومت پلک بھی جھپکنے نہیں دیتی اور پٹرول و ڈیزل کی قیمتیں بڑھا دیتی ہے مگر جب تیل سستا ہوتا ہے تو لیت و لعل اور ٹیکسوں اور طرح طرح کی لیویز کے حساب کتاب کی پٹاری کھول کر بیٹھ جاتی ہے۔ پاکستان میں تیل کی قیمتوں کے تعین کا پورا نظام واضح اور شفاف ہونا چاہیے۔ ممتاز ماہر اقتصادیات ڈاکٹر فرخ سلیم نے معاشی و مالی دلائل اور تیل کی قیمتوں کے میکانزم کو زیر بحث لا کر حکومت کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ وہ قیمتوں کے تعین کے عمل کو شفاف بنائے‘ ٹیکس کم لگائے اور عالمی قیمتوں میں کمی کا سارا ریلیف عوام کو منتقل کرے۔ ہم بھی حکومت کو اسی طرف متوجہ کریں گے کہ وہ ٹیکس جمع کرنے میں پیش آنے والی کمی صارفین سے پوری نہ کرے۔ حکومت کو چاہیے کہ عوام سے حقائق نہ چھپائے اور انہیں بتائے کہ خطے میں ہر طرح کے سیاسی و حربی حالات کے باوجود پاکستان کو سبھی رعایت دیتے ہیں اور ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے پاکستانی پرچم بردار آئل ٹینکر کو نہیں روکتی۔ایک بار پھر امریکہ اور ایران کے درمیان گرم گفتاری دوطرفہ بمباری میں بدلتی نظر آ رہی ہے۔ اگر خدانخواستہ دوبارہ جنگ شروع ہو جاتی ہے تو اس سے صرف اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو خوش ہو گا۔ آج ساری دنیا ایران کے ساتھ کھڑی ہے۔ کل عالمی معیشت کی تباہی کے بعد دنیا ایران کے خلاف بھی کھڑی ہو سکتی ہے‘ لہٰذا برادر اسلامی ملک کو احتیاط سے کام لینے کی ضرورت ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_70033906.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پی آئی اے کی نجکاری کے اسباق(شاہد کاردار)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-kardar-/2026-07-14/52294/81444271</link><pubDate>Tue, 14 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-kardar-/2026-07-14/52294/81444271</guid><description>پاکستان کی سرکاری فضائی کمپنی پی آئی اے کا نجی ملکیت میں منتقل ہو جانا مجموعی طور پر ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔ تاہم اس بارے میں بحث مباحثہ کا زیادہ تر فوکس اس کی کارکردگی میں بہتری کے وعدے پر ہے۔ یوں زیادہ اہم بنیادی مسائل پس منظر میں چلے گئے ہیں۔اس مضمون میں ہم پی آئی اے کی نجکاری سے متعلق عمومی اخباری سرخیوں سے ہٹ کرگفتگو کریں گے اور اس نجکاری سے حاصل ہونے والے بڑے اسباق کو واضح کرنے کی کوشش کریں گے۔ اصلاحات سے متعلق چار اہم اسباق نمایاں ہیں۔ پہلا سبق یہ ہے کہ نجکاری نے پی آئی اے کی اصل قیمت وصول نہیں کی بلکہ صرف اسے نمایاں کیا۔ پی آئی اے کی فروخت کو اصلاحات کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے لیکن اس بات پر بہت کم توجہ دی گئی کہ فروخت کو ممکن بنانے کیلئے پہلے ہی ٹیکس دہندگان کتنی بڑی قیمت ادا کر چکے تھے۔ نجکاری سے پہلے ریاست نے فضائی کمپنی کے جمع شدہ قرضوں اور واجبات کو اپنے ذمے لیا۔ یہ رقم 670 ارب روپے سے زیادہ تھی یعنی تقریباً ڈھائی ارب ڈالر۔ مقصد یہ تھا کہ خریدار کو نسبتاً صاف مالی حیثیت والی کمپنی مل سکے۔پی آئی اے کوئی الگ تھلگ مثال نہیں ‘یہ اس نظام کی ناکامی کی سب سے نمایاں مثال ہے جس کے ذریعے پاکستان اپنے سرکاری کاروباری اداروں کا انتظام چلا رہا ہے۔ پی آئی اے کی نجکاری اور اس سے پہلے نجی ملکیت میں دیے گئے سرکاری بینکوں میں مشترک بات تھی ‘ بیوروکریسی اور سرپرستی کے نظام پر مبنی سرکاری کنٹرول۔ سرکاری کاروباری اداروں پر یہ کنٹرول ایسے بورڈز کے ذریعے نافذ کیا جاتا ہے جن میں بیوروکریسی کی بھرمار ہو۔ بورڈز کے یہ ارکان مرتبہ‘ عزت و وقار اور مراعات تو حاصل کرتے ہیں لیکن ادارے کی قدر و قیمت تباہ ہونے پر انہیں نہ کوئی ذاتی نقصان اٹھانا پڑتا ہے اور نہ ان کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔ نجی شعبے میں ناکامی کی صورت میں متعلقہ ڈائریکٹرز کو اپنی ساکھ اور شہرت کی صورت میں اس کی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے لیکن سرکاری شعبہ میں ادارے تباہ ہوتے ہیں تو نقصانات کا بوجھ معاشرہ اٹھاتا ہے اور ناکامی کی نگرانی کرنے والے افراد اکثر کسی دوسرے بورڈ میں ٹرانسفر کر دیے جاتے ہیں۔ ان کی جوابدہی سرے سے نہیں ہوتی۔ سرکاری اداروں میں مشکل فیصلے مؤخر کر دیے جاتے ہیں جبکہ ٹیکس دہندگان پر پڑنے والا بوجھ بڑھتا رہتا ہے۔ ریاست بروقت نجکاری نہیں کرتی بلکہ برسوں کی بدانتظامی کے بعد‘ جب بہت بڑا نقصان ہو چکا ہوتا ہے‘ اسے آخری آپشن کے طور پر اختیار کرتی ہے۔ اس کے بعد ادارے کو قابلِ فروخت بنانے کیلئے ٹیکس دہندگان ان نقصانات کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔ نجکاری ادارے کی اصل قیمت کو سامنے لاتی ہے کیونکہ چلانے والوں نے اس ادارے کو اس مقام پر پہنچا دیا تھا۔ یہ صورتحال اتفاقیہ نہیں بلکہ نظام کی ساخت کا حصہ ہے۔ لہٰذا پی آئی اے سے حاصل ہونے والا بنیادی سبق یہ ہے کہ اصل اصلاح کسی سرکاری ادارے کو فروخت کرنا نہیں بلکہ ہمیں اس طرزِ حکمرانی کی اصلاح کرنا ہے جس کی وجہ سے نقصانات بغیر کسی احتساب کے ہوتے رہتے ہیں۔ اس اقدام کے بغیر پاکستان اسی چکر کو دہراتا رہے گا: ناکامی‘ مالی امداد‘ نجکاری اور پھر بھول جانا۔دوسرا سبق یہ ہے کہ نجکاری کا مطلب ہونا چاہیے مقابلے کی فضا میں شریک ہونا۔ نجی شعبے کو حقیقی منتقلی کا مطلب یہ ہے کہ متعلقہ ادارہ کسی تحفظ‘ ترجیحی سلوک یا مسلسل مالی معاونت کے بغیر اپنی مسابقتی صلاحیت کی بنیاد پر زندہ رہے۔ اگر نجکاری کے بعد بھی ادارے کو دوسرے اداروں سے آزاد مقابلے سے بچایا جائے یا خاموشی سے اس کے نقصانات معاشرے پر منتقل کیے جاتے رہیں تو ایسی اصلاحات کھوکھلی ہوں گی۔ پی آئی اے کی نجکاری کا اصل امتحان یہ ہے اسے ایک نجی ادارے کی طرح کام کرنے کی آزادی دی جائے۔ بعض دیگر اداروں (مثلاً بجلی تقسیم کار کمپنیوں ڈسکوز) کی نجکاری میں یہ ایک حقیقی چیلنج ہو گا کہ انہیں آزادانہ مقابلے سے بچانے کیلئے کوئی تحفظ فراہم نہ کیا جائے۔تیسرا سبق یہ ہے کہ زیادہ تر سرکاری کاروباری ادارے نجکاری کے قابل ہی نہیں ہیں۔ ان کی اکثریت تجارتی لحاظ سے اس قابل نہیں کہ انہیں چلایا جائے۔ ایسے غیر قابلِ عمل اداروں (مثلاً پاکستان سٹیل ملز) کی نجکاری کی طویل کوششیں صرف نقصانات میں مزید اضافہ کرتی ہیں جن کی بھاری قیمت آخرکار ٹیکس دہندگان ہی ادا کرتے ہیں۔ ایسے اداروں کیلئے سب سے کم لاگت والا راستہ نجکاری نہیں بلکہ یہ ہے کہ انہیں بند کر دیا جائے۔ ان انتہائی خسارے والے اداروں کو بروقت بند کر دینے سے مسلسل نقصانات رک سکتے ہیں اور شہریوں‘ خصوصاً غریب طبقے پر بڑھتے ہوئے بوجھ سے بچا جا سکتا ہے کیونکہ بالآخر یہی لوگ اس کی قیمت ادا کرتے ہیں۔چوتھا سبق یہ کہ نجکاری کا مقصد لازمی طور پر بالکل واضح ہونا چاہیے۔ اگر اس عمل کو آگے بڑھانا ہے تو ریاست کو ہر نجکاری کے مقصد کے بارے میں واضح ہونا چاہیے۔ کیا ریاست کا مقصد فوری مالی آمدن ہے یعنی مارکیٹ کسی ادارے کی جتنی قیمت برداشت کر سکتی ہے اتنی وصول کرلینا؟ اگر ایسا ہے تو بعض صورتوں میں ادارے کو ایک چلتے ہوئے کاروبار کے طور پر فروخت کرنے کے بجائے اس کے اثاثے الگ الگ فروخت کرنے سے زیادہ آمدن ہو سکتی ہے۔ یا پھر حکومت کا مقصد یہ ہے کہ اس ادارے کو ایک فعال کاروباری یونٹ کے طور پر ایسے خریدار کے حوالے کردیا جائے جس کے پاس متعلقہ شعبے کا تجربہ اور قابلِ اعتماد سابقہ ریکارڈ موجود ہو؟یہ کام کرنا زیادہ مشکل ہے‘ خاص طور پر پاکستان کی ایسی سیاسی معیشت میں جس پر لوگوں کا اعتماد خاصا کم ہے۔ نجکاری کے عمل میں اپنے اس مقصد کو واضح طور پر بیان نہ کرنا کنفیوژن‘ تنازع اور بداعتمادی کو جنم دیتا ہے۔ان بنیادی مسائل کے ساتھ ساتھ پی آئی اے کی نجکاری نے طریقۂ کار کی کمزوریاں بھی بے نقاب کیں۔ پی آئی ے کی نجکاری میں عام لوگوں کو معلومات فراہم کرنے کیلئے کمیونیکیشن کی حکمتِ عملی ناقص تھی۔ عوام کیلئے معلوماتی دستاویز دستیاب نہیں تھی جس میں بولی دہندگان کیلئے اہلیت کے معیار‘ منتقل کیے گئے ہر اثاثے کی تخمینہ قدر ‘ فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کے حکومت اور کمپنی کے درمیان تقسیم ‘ 135 ارب روپے کے وعدے کی ادائیگی کے شیڈول (جس میں دو تہائی رقم پہلے اور باقی بعد میں ادا کی جانی تھی) یا فروخت کے بعد کی ذمہ داریوں اور ان کے نفاذ کے طریقہ کار کی وضاحت کی گئی ہوتی۔ غالباً یہ تمام معلومات فروخت کے معاہدے میں موجود ہوں گی۔ اگر ایسا ہے تو انہیں عوام کے سامنے نہ رکھنے کا کوئی جواز نہیں ۔ شفافیت کی کمی غیرضروری طور پر قیاس آرائیوں اور بداعتمادی کو جنم دیتی ہے۔ شفافیت کوئی دکھاوے کی چیز نہیں ہے بلکہ یہ کسی عمل پر اعتماد پیدا کرنے‘ حکومت اور نجکاری کمیشن کی ساکھ کو تحفظ اور فروغ دینے اور کیپٹل مارکیٹس کو ترقی دینے کیلئے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ اس کے بغیر نیک نیتی پر مبنی اصلاحات بھی شک و شبہ کی نظر سے دیکھی جاتی رہیں گی اور اکثر صورتوں میں یہ شک جائز بھی ہوگا۔(یہ مضمون ڈاکٹر ندیم الحق کی معاونت سے لکھا گیا)</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_78012569.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مشرقِ وسطیٰ بحران سے پاکستان کیلئے نئے مواقع(رشید صافی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-07-14/52295/78413346</link><pubDate>Tue, 14 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-07-14/52295/78413346</guid><description>جنگیں اور علاقائی تنازعات اپنے دامن میں معاشی تباہی لے کر آتے ہیں تاہم ایسے عالمی بحران بعض ریاستوں کیلئے بین الاقوامی صف بندیوں میں اپنے وقار کو بلند کرنے کے نئے دریچے بھی کھولتے ہیں۔ موجودہ منظرنامے میں جہاں ایک طرف مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے شعلے عالمی امن کو خطرے میں ڈال رہے ہیں وہیں پاکستان اپنی منفرد جیو سٹرٹیجک اور جیو اکنامک پوزیشننگ کی بدولت ان چیلنجز کو معاشی مواقع میں تبدیل کرنے کیلئے پُرعزم ہے۔ یہ علاقائی کشیدگی پاکستان کیلئے تین ایسے معاشی مواقع لائی ہے جو ملکی معیشت کی بحالی‘ برآمدات کے فروغ اور عالمی سطح پر گرین پاسپورٹ کے وقار کو بلند کرنے میں سنگِ میل ثابت ہو سکتے ہیں۔مشرقِ وسطیٰ بحران کے دوران پاکستان کیلئے پہلا اور سب سے بڑا معاشی موقع واشنگٹن میں ہونے والے حالیہ دو طرفہ اعلیٰ سطحی مذاکرات کی شکل میں سامنے آیا ہے‘ جہاں دونوں ممالک کے مابین ایک نئے اور جامع تجارتی معاہدے کی پیشرفت میں غیر معمولی کامیابی ملی ہے۔ دفترِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق پاکستان اور امریکہ کے مابین یہ مذاکرات انتہائی خوشگوار‘ تعمیری اور مفاہمانہ ماحول میں ہوئے جن کا بنیادی مقصد دیرینہ تجارتی اختلافات کو ختم کرنا اورامریکہ اور پاکستان میں طویل مدتی اور پائیدار دو طرفہ تجارتی فریم ورک قائم کرنا ہے۔ یہ سفارتی اور تجارتی پیش رفت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب 1974ء کے امریکی ٹریڈ ایکٹ کے سیکشن 122کے تحت عائد کردہ 10 فیصد عارضی امپورٹ سرچارج کی قانونی مدت رواں ماہ کے آخر میں ختم ہونے جا رہی ہے۔ امریکہ پاکستان کی برآمدات خصوصاً ٹیکسٹائل‘ سپورٹس گڈز‘ لیدر اور گارمنٹس مینوفیکچرنگ کیلئے سب سے بڑی منڈی ہے لہٰذا پاکستانی حکام امریکی مارکیٹ تک رعایتی اور کم سے کم ٹیرف کے ساتھ مستقل رسائی کے خواہاں ہیں ۔ واشنگٹن میں ہونے والی یہ پیش رفت گزشتہ ایک سال سے زائد عرصے پہ محیط ان سخت امریکی تجارتی اقدامات اور پیچیدہ قانونی چیلنجوں کے بعد ممکن ہوئی ہے جنہوں نے بار بار پاکستانی مینوفیکچررز اور برآمد کنندگان کیلئے ٹیرف کے منظرنامے کو تبدیل کر کے معاشی غیر یقینی کی صورتحال پیدا کر رکھی تھی۔ اس کا آغاز گزشتہ برس اپریل میں ہوا تھا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی تجارتی اقدامات کے وسیع پیکیج میں پاکستانی برآمدات پر 29فیصد کا بھاری ٹیرف عائد کرنے کیلئے انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ کا استعمال کیا تھا۔ اس اقدام نے پاکستانی ٹیکسٹائل انڈسٹری کو ہلا کر رکھ دیا ‘ تاہم پاکستانی حکام‘ سفارتکاروں اور امریکی حکام کے مذاکرات کے بعد اس مجوزہ ٹیرف کو کم کر کے 19فیصد پر لایا گیا تھا۔ ٹریڈ ایکٹ کا سیکشن 122 امریکی صدر کو خصوصی اختیار دیتا ہے کہ وہ بغیر کسی تحقیقات یا کانگریس کی پیشگی منظوری کے درآمدی اشیا پر زیادہ سے زیادہ 150دنوں کیلئے 15فیصد تک کا عارضی ٹیرف عائد کر سکتا ہے۔ قانون کے مطابق یہ ٹیرف کسی ایک ملک کو نشانہ نہیں بنا سکتا بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر تمام تجارتی شراکت داروں پر عائد ہو گا۔ یہی وجہ تھی کہ صدر ٹرمپ کے اس فیصلے کی زد میں چین‘ کینیڈا‘ میکسیکو‘ بھارت اور یورپی یونین جیسے بڑے تجارتی شراکت داروں کے ساتھ ساتھ پاکستان بھی آیا۔ اب جبکہ یہ عارضی سرچارج اس مہینے ختم ہو رہا ہے‘ پاکستان کے پاس یہ شاندار موقع ہے کہ مشرقِ وسطیٰ بحران میں اپنی کلیدی اہمیت کو بروئے کار لاتے ہوئے امریکہ سے طویل مدتی تجارتی فریم ورک حاصل کرے۔پاکستان کیلئے دوسرا بڑا اور انقلابی معاشی موقع بحری تجارتی راستوں کی تبدیلی اور جیو اکنامک شفٹ سے منسلک ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں سکیورٹی خدشات‘ جہازوں پر ہونے والے حملوں اور خصوصاً عالمی تجارت کی اہم گزرگاہ آبنائے ہرمز کی بار بار بندش کے باعث بین الاقوامی لاجسٹکس کمپنیوں‘ بڑے برآمد کنندگان اور بحری جہاز رانی کے اداروں میں شدید خوف وہراس پایا جاتا ہے اور وہ اپنے اربوں ڈالر کے سامان کو محفوظ رکھنے کیلئے متبادل اور پُرامن بندرگاہوں کی تلاش میں ہیں۔ یہ بحران قدرتی طور پر گہرے پانیوں پر مشتمل پاکستان کی کراچی اور گوادر پورٹ کو دنیا کے سامنے ایک محفوظ اور بہترین لاجسٹک متبادل کے طور پر پیش کرتا ہے۔ اگر ہم خطے کی بندرگاہوں کی صلاحیت کا موازنہ کریں تو متحدہ عرب امارات کی بندرگاہیں‘ جو زیادہ تر مصنوعی ہیں‘ اس وقت شدید جغرافیائی وسیاسی خطرات کی زد میں ہیں۔ یو اے ای کی بندرگاہوں پر یومیہ تقریباً 70 بڑے بحری جہاز لنگر انداز ہوتے ہیں اور یہ تعداد سالانہ بنیادوں پر 25ہزار بحری جہازوں تک پہنچ جاتی ہے۔ متحدہ عرب امارات ان بندرگاہوں کے ذریعے صرف پورٹ ہینڈلنگ‘ لاجسٹک سروسز‘ ٹرانزٹ اور کسٹمز ٹیکسوں کی مد میں سالانہ 24ارب ڈالر سے زائد کا خطیر ریونیو حاصل کرتا ہے۔ موجودہ جنگی حالات اور خطرات نے ان بندرگاہوں کے انشورنس چارجز میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے‘ جس سے وہاں سے تجارت کرنا انتہائی مہنگا اور غیر محفوظ ہو چکا ہے۔ اس کے برعکس اگر بین الاقوامی بحری نقل وحمل اور کارگو ٹریفک کا ایک چوتھائی حصہ بھی پاکستان کی طرف منتقل ہوتا ہے تو پاکستان کی معیشت کا نقشہ بدل سکتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ سی پیک کے تحت بنیادی ڈھانچہ اور سڑکوں کا نیٹ ورک پہلے ہی مکمل ہو چکا ہے‘ جس کی وجہ سے چین سے آنے والی تجارتی ٹریفک اور مشرقِ وسطیٰ کی متبادل بحری ٹریفک کا جب کراچی اور گوادر پر ملاپ ہو گا تو پاکستان انتہائی آسانی کے ساتھ سالانہ 24ارب ڈالر سے زائد کا ریونیو صرف لاجسٹکس اور پورٹ سروسز کی مد میں کما سکتا ہے۔ پاکستانی بندرگاہوں کی اسی غیر معمولی اور گیم چینجر اہمیت کو دیکھتے ہوئے دشمن قوتوں کی جانب سے کراچی اور خصوصاً گوادر کے حالات اور امن وامان کو سبوتاژ کرنے کی مسلسل اور منظم بیرونی کوششیں کی گئیں‘ تاکہ پاکستان کو اس عظیم اقتصادی فائدے سے محروم رکھا جا سکے۔ تاہم مشرقِ وسطیٰ کے موجودہ بحران نے عالمی برادری پر یہ ثابت کر دیا ہے کہ بین الاقوامی تجارت کے تسلسل کیلئے پاکستانی بندرگاہوں کی سکیورٹی اور پوزیشن ناگزیر ہے۔مشرقِ وسطیٰ بحران سے پاکستان کو حاصل ہونے والا تیسرا بڑا اور دوررس فائدہ ملک کی سافٹ پاور اور بین الاقوامی امیج میں ہونے والا اضافہ ہے۔ پاکستان کے متوازن‘ غیر جانبدارانہ اور علاقائی امن کیلئے مخلص سفارتی کردار کی بدولت دنیا کے بڑے اور بااثر ممالک اب پاکستان کو محض ایک روایتی ملک نہیں‘ بلکہ ایک ذمہ دار جوہری ریاست اور عالمی امن کے ناگزیر داعی کے طور پر تسلیم کر رہے ہیں۔ جب کسی ملک کی خارجہ پالیسی کو عالمی سطح پر سراہا جاتا ہے تو اس کا براہِ راست اثر اس ملک کے شہریوں‘ اس کی ثقافت اور سب سے بڑھ کر اس کے پاسپورٹ کی ساکھ پر پڑتا ہے۔ اس تبدیلی کا عملی مشاہدہ حال ہی میں ہم نے امریکہ اور انگلینڈ وزٹ کے دوران کیا‘ جہاں امریکی اور برطانوی ایئرپورٹس پر پاکستانی پاسپورٹ دیکھتے ہی ہمیں بہ آسانی کلیئرنس دے دی گئی۔ حالانکہ ماضی میں عالمی ہوائی اڈوں پر پاکستانی شہریوں کو طویل‘ تھکا دینے والی اور بعض اوقات تذلیل آمیز سکیورٹی سکریننگ‘ اضافی جانچ پڑتال اور طویل ترین امیگریشن کائونٹرز پر گھنٹوں انتظار کے بعد کلیئر کیا جاتا تھا۔ لیکن ہم نے بذاتِ خود اس کا مشاہدہ کیا کہ امیگریشن حکام نے گرین پاسپورٹ کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھا اور محض دو منٹ میں تمام کلیئرنس مرحلے مکمل ہو گئے۔ پاکستانی شہری ہونے کے ناتے بین الاقوامی سطح پر یہ تبدیلی ہمارے لیے انتہائی خوش آئند اور باعثِ فخر ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/222_48272610.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا(حافظ محمد ادریس)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/hafiz-muhammad-idreess/2026-07-14/52296/86702925</link><pubDate>Tue, 14 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/hafiz-muhammad-idreess/2026-07-14/52296/86702925</guid><description>بات ہو رہی تھی وی سی صاحب کی جانب سے اخبارات کو بھیجی گئی پریس ریلیز کی‘ جو ابھی شائع تو نہ ہوئی تھی مگر دوستوں کے ذریعے ہمارے علم میں آ چکی تھی۔ اس پر ہم نے وی سی صاحب کے گھر جانے کا فیصلہ کیا۔ پریس ریلیز کے مطابق وی سی صاحب نے ایک ٹربیونل مقرر کیا تھا جس کے ذمہ طلبہ یونین کے جملہ انتخابات کی تفتیش اور چھان بین تھی۔ اس وقت یونین کے انتخابات ہوئے دو دن گزر چکے تھے۔ اُس رات ہم لوگ علامہ صاحب کے ہاں پہنچے‘ ہم نے چوکیدار کے ذریعے اپنی آمد کی اطلاع بھجوائی۔ علامہ صاحب نے دروازہ کھلوایا اور ہمیں اندر بلوایا۔ ان کے صاحبزادے نعمان بھی موجود تھے۔ میں نے علامہ صاحب سے عرض کیا کہ اپنی آج کی جاری کردہ پریس ریلیز واپس لے لیں کیونکہ وہ ہمارے مطالبات کو بالکل نظر انداز کر کے یکطرفہ فیصلے پر مبنی ہے۔ میں نے یہ بھی درخواست کی کہ پروفیسر امتیاز علی شیخ صاحب کو بھی بلا لیا جائے اور ان سے بھی اس موضوع پر مشورہ کر لیا جائے۔ پروفیسر امتیاز علی کی رہائش بالکل سامنے تھی اور وہ جامعہ کے انتخابات میں چیف الیکشن کمشنر تھے۔ چنانچہ شیخ صاحب کو بھی بلوایا گیا مگر علامہ صاحب نے پریس ریلیز واپس لینے سے انکار کر دیا۔ خدا کی قدرت کہ وہ علامہ صاحب جو ڈپلومیسی کے بادشاہ تھے اور ہر کسی کو بیٹا کہا کرتے تھے‘ اس رات عجیب سخت موڈ میں تھے۔ واقعہ یہ ہے کہ تقدیر ہر چیز پر حاوی اور محیط ہے۔جب یہ نظر آنے لگا کہ علامہ صاحب کسی صورت بات ماننے کو تیار نہیں تو ایک جوشیلے نوجوان نے ڈرائنگ روم میں پڑی ہوئی تپائی اٹھا کر لکڑی کی سکرین پر دے ماری۔ یہ سکرین پارٹیشن کے طور پر ڈرائنگ روم کے درمیان رکھی ہوئی تھی۔ اخروٹ کی لکڑی سے بنی ہوئی سکرین کہیے یا کرٹن‘ نیچے گرا تو پاس پڑے ہوئے ٹی وی سیٹ سے بھی ٹکرایا۔ عین اسی لمحے دروازے کے پاس بیٹھے ایک نوجوان نے دروازے کی سیڑھیوں پر پڑا ہوا ایک گملا دوسرے گملے کے اوپر دے مارا۔ یہ سب کچھ چند لمحوں میں اس طرح ہوا کہ مجھے سمجھنے کا موقع بھی مل سکا؛ البتہ جو کچھ ہوا اس کا مجھے بہت افسوس ہوا۔ میں نے یہ ناروا حرکت کرنے والوں کو ڈانٹا اور صورتحال کو فوراً قابو میں کر لیا۔ مگر جو کچھ ہونا تھا وہ ہو چکا تھا۔مجھے اس واقعہ پر اُس وقت بھی افسوس تھا‘ اب بھی ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ میں اصل واقعات اپنی یادداشت کی حد تک بلاکم وکاست پیش کر رہا ہوں۔ مجھے ان میں سے کچھ بھی قارئین سے چھپانا نہیں۔ جو کچھ ہوا وہ میرے نزدیک میرے درخشندہ تعلیمی اور سیاسی ریکارڈ پر ایک دھبہ ہے‘ مگر جو مرچ مسالا اور حاشیہ آرائی اخباری اور زبانی بیانات میں کی گئی اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہ تھا۔ یہ نہ تو کوئی باقاعدہ سکیم تھی کہ ایسا کیا جائے گا اور نہ ہی میرے وہم وگمان میں تھا کہ میرے ساتھی جوش میں آ جائیں گے اور علامہ صاحب اس قدر سختی دکھائیں گے۔میں دوبارہ بھی اگر الیکشن لڑتا تو یقینا زیادہ ووٹ لے کر کامیاب ہوتا‘ جیسا کہ اگلے سال ہوا۔ جہانگیر بدر دوبارہ میدان میں آئے اور ہمارے نامزد کردہ نمائندے حفیظ خان کے ہاتھوں زیادہ بڑے مارجن سے شکست کھا گئے۔ موصوف کے ووٹ پہلے سال سے کافی کم ہو گئے حالانکہ جامعہ کے مجموعی ووٹ اب زیادہ ہو چکے تھے۔ میں جس وجہ سے اس فیصلے کو تبدیل کرانا چاہتا تھا وہ یہ تھی کہ میرے خیال میں وہی پرانا ڈرامہ دوبارہ سٹیج کیا جا رہا تھا۔ چند سال قبل بھی یونین کے الیکشن کو متنازع بنا کر سٹوڈنٹ یونین پر ہی پابندی لگا دی گئی تھی۔ میں چاہتا تھا کہ چند سال پہلے والا ڈرامہ اب پھر نہ دہرایا جائے مگر وہی ہوتا ہے جو منظورِ خدا ہوتا ہے۔جب وہ افسوسناک واقعہ ہو چکا تو علامہ صاحب نے کہا: اچھا میں پریس ریلیز واپس لیتا ہوں‘ اخبارات کو ٹیلی فون کرو۔ میرے مطالبے پر پروفیسر امتیاز علی شیخ بھی آ چکے تھے۔ میں نے انہیں پورا واقعہ سناتے ہوئے علامہ صاحب سے کہا: آپ نے اپنی بھی سبکی کرائی اور میرے بھی پلّے کچھ نہیں چھوڑا‘ کیا اچھا ہوتا آپ بروقت یہ عرض مان لیتے۔ ہمارے ایک ساتھی اشفاق حسین نے اخبارات کو ٹیلی فون کیے اور علامہ صاحب نے تمام اخبارات کے ذمہ داران سے خود بات کی کہ میں نے جو پریس ریلیز بھیجی تھی‘ اسے اخبار میں شائع نہ کیا جائے۔مذکورہ واقعے میں جو کچھ ہوا وہ ایک استاد کی توہین کے مترادف ہے اور اس پر کوئی مجھے جو کچھ بھی کہے‘ میں اس کے سامنے کوئی حجت پیش نہیں کروں گا لیکن خدا گواہ ہے کہ اُن اخباری اور سرکاری بیانات میں ذرہ برابر بھی سچائی نہیں جن میں یہ کہا گیا تھا کہ طلبہ نے علامہ صاحب پر ہاتھ اٹھایا‘ یا ان کی داڑھی پکڑی‘ یا گھر کے شیشے توڑ دیے‘ یا ان کی ٹیلی فون لائن کاٹ دی۔ جو کچھ ہوا وہ میں نے بلاکم وکاست اوپر بیان کر دیا۔ علامہ صاحب نے عدالت میں جو بیان دیا تھا‘ وہ بھی ریکارڈ پر موجود ہے۔ اس کو دیکھنے سے بھی حقیقت کی جھلک نظر آ سکتی ہے۔ یہ بھی عرض کر دوں کہ اگر ہماری نیت توڑ پھوڑ کی ہوتی تو میں اور تنویر عباس تابش یا ڈاکٹر محمد کمال وی سی صاحب کے گھر نہ جاتے بلکہ ایسے طلبہ کو بھیجا جاتا جن کی شناخت نہ ہو سکتی۔ پھر بعض لوگوں نے اس بات کو بھی خاصی ہوا دی کہ رات ہی کو علامہ صاحب کے گھر جانے کا فیصلہ کیوں کیا گیا۔ ایک تو میں پہلے بیان کر چکا ہوں کہ میں اس سے قبل بھی بارہا رات کو علامہ صاحب کے ہاں ملنے کے لیے جا چکا تھا۔ رات کو یہ پہلی ملاقات تھی نہ اس میں کوئی اچنبھا تھا۔ دوسرا‘ ہماری درخواست پریس ریلیز رکوانے کی تھی جو اخبارات کے دفاتر میں شام کو بھیجی جا چکی تھی اور اگر اسی وقت ہم علامہ صاحب کی خدمت میں حاضر نہ ہوتے تو وہ اخبارات میں شائع ہو جاتی۔ عام فہم بات ہے کہ کسی اعلان کے شائع ہو جانے کے بعد اسے بدلنا مشکل اور مضحکہ خیز ہوتا ہے‘ بہ نسبت اس کے کہ قبل از اشاعت اسے تبدیل کر دیا جائے۔ ایک اور بات جو قابلِ غور ہے وہ ہمارا یہ مطالبہ تھا کہ پروفیسر امتیاز علی صاحب کو بھی بلوا لیا جائے۔ اور عملاً انہیں بلوایا بھی گیا۔ صاف ظاہر ہے کہ توڑ پھوڑ کا ارادہ کر کے آنے والے اپنے خلاف اتنے اہم اور اعلیٰ منصب پر فائز گواہوں کو خود نہیں بلایا کرتے۔ پروفیسر امتیاز علی نے بھی علامہ صاحب سے عرض کیا کہ پریس ریلیز بھیجنے سے قبل الیکشن کمیشن سے مشورہ ہو جاتا تو بہتر ہوتا۔علامہ صاحب کے ہاں سے نکلنے کے بعد طلبہ اپنے اپنے ہاسٹلوں میں چلے گئے۔ جو ناخوشگوار واقعہ ہو چکا تھا اس پر میں نے باہر نکل کر اپنے دوستوں سے بھی ناراضی کا اظہار کیا۔ رات بھر اس کا اثر میرے ذہن پر رہا۔ اگلے روز میں صبح سویرے علامہ صاحب سے ملنے ان کے دفتر گیا کہ اس ناخوشگوار واقعے پر دوبارہ ان سے معذرت کر کے معافی مانگوں۔ پتا چلا کہ علامہ صاحب ایس ٹی سی (نیو کیمپس) میں پولیس افسروں کے ساتھ ملاقات میں مصروف ہیں اور تھوڑی دیر تک آنے والے ہیں۔ میں نے کافی دیر انتظار کیا۔ میرے ساتھ دو تین ساتھی اور بھی تھے۔ ہم علامہ صاحب کے اولڈ کیمپس والے دفتر کے باہر بیٹھے تھے کہ علامہ صاحب پولیس افسروں کی معیت میں تشریف لائے اور دوسرے دروازے سے اندر چلے گئے۔ پولیس کے کافی سپاہی ادھر ادھر چوکس کھڑے تھے۔ میں نے علامہ صاحب کو پی اے کے ذریعے پیغام بھجوایا کہ میں مختصر ملاقات کرنا چاہتا ہوں۔ اندر سے اطلاع آئی کہ آج وہ ازحد مصروف ہیں اور ملاقات نہیں ہو سکتی۔ اسی دوران جہانگیر بدر اور ان کے چار پانچ ساتھی وہاں آ گئے۔ حیرانی کی بات یہ تھی کہ بارک اللہ خان بھی ان کے ساتھ تھے۔ یہ سب لوگ ہمارے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ ایک دو منٹ نعرے لگانے کے بعد وہ وہاں سے چلے گئے۔ میرے ساتھ اس وقت میڈیکل کالج کے تین طلبہ ڈاکٹر محمد یونس‘ ڈاکٹر محمد رفیق خیالی اور ڈاکٹر خالد نواز تھے۔ میں نے ان سے کہا کہ ملاقات کا امکان نظر نہیں آتا‘ لہٰذا اب ہمیں بھی یہاں سے چلنا چاہیے ۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_24721193.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>