<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>پٹرولیم کمی کے اثرات(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-20/11291</link><pubDate>Sat, 20 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-20/11291</guid><description>پٹرول کی قیمت میں 74 روپے اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 67 روپے فی لٹر کمی کا اعلان خوش آئند ہے اور امریکہ ایران امن معاہدے کا ثمر ہے۔ ایسے وقت میں جب مہنگائی سے عام آدمی شدید مشکل میں ہے‘ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی عوام کے لیے بڑا ریلیف ثابت ہو گی۔ یہ امر اطمینان بخش ہے کہ تیل کی عالمی منڈی میں پیدا ہونے والی مثبت صورتحال کا ثمر عوام تک منتقل کیا جا گیا ہے لیکن اصل سوال یہ ہے کہ روزمرہ زندگی کی اشیا پر اس کے اثرات کس حد تک ہوں گے؟ ملک میں جب بھی پٹرول یا ڈیزل مہنگا ہوتا ہے تو ٹرانسپورٹ کے کرایے فوری بڑھا دیے جاتے ہیں لیکن جب ایندھن سستا ہو تو کرایوں میں کمی شاذونادر ہی دیکھنے میں آتی ہے۔ یہی صورتحال اشیائے خورونوش اور دیگر ضروریاتِ زندگی کی قیمتوں کے معاملے میں بھی ہے۔

حکومت کی ذمہ داری صرف پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی تک محدود نہیں ‘ اس کو یہ بھی یقینی بنانا ہو گا کہ ٹرانسپورٹ کرایوں‘ اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی دیگر اشیا کی قیمتوں میں بھی فوراً متناسب کمی آئے۔ اس مقصد کے لیے ناجائز منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف فوری مؤثر کارروائی ناگزیر ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے حقیقی فوائد اسی وقت حاصل ہوں گے جب حکومت اس ریلیف کو معیشت کے دیگر شعبوں تک منتقل کرنے کے لیے مؤثر‘ سخت اور مسلسل اقدامات کرے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>موسمیاتی بحران(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-20/11290</link><pubDate>Sat, 20 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-20/11290</guid><description>سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ماحولیاتی تبدیلی کے حالیہ اجلاس میں چیئرمین این ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ اگلا سال گزشتہ چار دہائیوں کا گرم ترین سال ثابت ہو سکتا ہے جبکہ ہیٹ ویوز میں 30سے 32فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ سپارکو کی ایک حالیہ رپورٹ اس خدشے کو مزید تقویت دیتی ہے کہ ایل نینو کے باعث پاکستان میں مون سون کی بارشوں میں کمی‘ سردیوں میں غیرمعمولی گرمی اور موسموں کے روایتی توازن میں بگاڑ پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ پاکستان کیلئے ایل نینو کے اثرات زیادہ خطرناک ہو سکتے ہیں کیونکہ اس کے اثرات صرف درجہ حرارت تک محدود نہیں بلکہ یہ بارشوں کے نظام‘ فصلوں کی پیداوار‘ پانی کے ذخائر اور شہری زندگی تک کو متاثر کرتے ہیں۔

بارشوں میں کمی کے نتیجے میں زرعی پیداوار میں کمی‘ پانی کی قلت اور غذائی تحفظ کے مسائل سنگین ہو سکتے ہیں جبکہ طویل اور شدید گرمی شہری علاقوں میں ہیٹ سٹریس اور صحت کے بحران کو جنم دے سکتی ہے۔ اس صورتحال میں فوری اور مربوط اقدامات کی ضرورت ہے۔ یہ امر خوش آئند ہے کہ وفاق اور صوبائی حکومتوں نے آئندہ بجٹ میں موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے فنڈز مختص کیے ہیں مگر یہی کافی نہیں بلکہ ایسی جامع حکمت عملی کی بھی ضرورت ہے جو موسمیاتی بحران سے نمٹنے کیلئے تحقیق‘ تیاری اور عملی اقدامات کو یکجا کرے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>معاہدے کے بعد(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-06-20/52153/51978530</link><pubDate>Sat, 20 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-06-20/52153/51978530</guid><description>معاہدہ ہو گیا۔ اب کس کی عقل کا ماتم کیا جائے اور کس کی بصیرت کو عقیدت کا خراج پیش کیا جائے؟فتح و شکست کے تعین سے پہلے بطور مقدمہ عرض ہے کہ یہ بحران ایک شخص کا پیدا کردہ تھا‘ جس کا نام ڈونلڈ ٹرمپ ہے۔ بلاسبب اس نے ایک جنگ کا آغاز کیا۔ بہت سوں کی جان لی۔ ساری دنیا کو اضطراب میں مبتلا کیا۔ امریکہ کے اربوں ڈالر برباد کیے اور اس کے بدلے میں کیا خریدا: ذلت‘ رسوائی اور جگ ہنسائی۔ یہ کام مفت میں بھی ہو سکتا تھا مگر اس تاجر نے چونکہ زندگی بھر &#39;ڈیل‘ کی ہے‘ اس لیے اُسے اطمینان اسی وقت ہوا جب یہ سب کچھ ایک ڈیل کے نتیجے میں حاصل ہوا۔ لگتا ہے کہ اس کا جی ابھی بھرا نہیں ہے۔ اس کا ارادہ یہی ہے کہ یہ سلسلہ ختم ہو نے کو نہ آئے۔ جب تک عالمی منصب سے امریکہ کی مکمل معزولی نہیں ہو جاتی ہے‘ وہ ڈیل پہ ڈیل  کرتا رہے گا۔ چونکہ ذلت کا یہ عمل ابھی مکمل نہیں ہوا اس لیے دستخطوں کے بعد بھی‘ شکوک کے بادل بدستور منڈلا رہے ہیں۔ امریکی خاکستر میں ایسی چنگاری بھی تھی‘ کس نے سوچا ہو گا۔شکست بہرحال امریکہ کے حصے میں آئی۔ تو کیا ایران کو فاتح قرار دے دیا جائے؟ اس سوال کا جواب دینے سے پہلے کچھ توقف کرنا پڑے گا‘ اگرچہ اس وقت اس کا پلڑا بھاری ہے۔ یا یوں کہیے کہ اگر صرف چند ماہ کے جنگی دورانیے کو سامنے رکھا جا ئے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ ایران نے یہ جنگ جیت لی۔ اس حوالے سے بھی اسے ایران کی جیت کہا جا سکتا ہے کہ صدر ٹرمپ نے جن مقاصد کے حصول کے لیے یہ جنگ چھیڑی تھی وہ اسے حاصل نہ ہو سکے۔ ایران میں مذہبی طبقے کا اقتدار نہ صرف قائم ہے بلکہ اقتدار پر اس کی گرفت مضبوط ہو گئی ہے۔ اس کی معاشی حالت جتنی پہلے خراب تھی‘ اب بھی اتنی ہی ہے۔ اس کا دفاعی نظام ڈرون ٹیکنالوجی پر  منحصر تھا اور اس کی یہ صلاحیت باقی ہے۔ آبنائے ہرمز پر اس کا کنٹرول اب بھی ہے۔ امریکہ اس سے یہ ہتھیار چھین نہیں سکا۔ اس  کا ایٹمی پروگرم بھی پھر زندہ ہو سکتا ہے۔ اس لیے چند ماہ کی یہ معرکہ آرائی سامنے رہے تو اسے فاتح کہا جا سکتا ہے۔وسع تر تناظر میں البتہ یہ فتح مشکوک ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ جنگ میں اب فتح و شکست کے روایتی معیارات بدل گئے ہیں۔ ایران شکست وریخت کے ایک ایسے عمل سے گزرا ہے جس نے اس کے داخلی ڈھانچے کو بے پناہ نقصان پہنچایا ہے۔ اس کے  ساتھ یہ بات متحقق ہو گئی ہے کہ اگر جنگی جہاز اس کی سرزمین کو نشانہ بنائیں تو وہ انہیں روکنے پر قادر نہیں ہے۔ وہ یہ تو کر سکتا ہے کہ اپنے میزائلوں سے مخالف کو ہدف بنائے‘ اگر وہ ان کی زد میں آ جائیں لیکن باہر سے آنے والے جہازوں کو روک سکتا ہے نہ میزائلوں کو۔ اس کے شہروں کے سر برہنہ ہیں۔ یہ بات ساری دنیا کو معلوم ہو گئی۔ دفاع کے باب میں بھرم کی اپنی اہمیت ہے‘ جسے باقی رہنا چاہیے۔تیسرا یہ کہ ایران کو اپنی تعمیرِ نو کے لیے اربوں ڈالر اور برسہا برس درکار ہیں۔ معاہدے کے باوصف‘ امریکہ اس کا بآسانی پیچھا نہیں چھوڑے گا۔ اسے تین سو بلین ڈالر کی جو امید دلائی جا رہی ہے‘ اس کے ساتھ کچھ ایسی شرائط منسلک ہوں گی جنہیں پورا کرنا ایران کے لیے آسان نہیں ہو گا۔ یوں یہ معاملہ لٹکتا جائے گا۔ اس جنگ نے ایران کے مسائل میں اضافہ کر دیا ہے۔ معاشی حالات نے جنگ سے پہلے جس داخلی خلفشار کو جنم دیا تھا وہ پھر سے سر اٹھا سکتا ہے۔ ایرانی حکومت نے طاقت سے اس کو روک لیا تھا اور پھر جنگ نے بھی احتجاجی لہر کو کمزور کرنے میں ایک کردار ادا کیا۔ یہ لہر پھر اٹھ سکتی ہے۔ اس کا کوئی امکان نہیں کہ ایران اپنی پراکسیز بند کر دے‘ بالخصوص لبنان میں۔ یہ عمل وسائل طلب ہے۔ اس لیے معاشی مسائل کم نہیں ہوں گے اور نتیجے میں عوامی اضطراب بھی۔ اس کو سامنے رکھیں تو فتح کا وہ احساس گہنا جاتا ہے جس سے ایران اور اس کے دوست سرشار ہیں۔ ایرانی قیادت کے بیانات میں جارحیت کا عنصر بھی نیک شگون نہیں۔جو لوگ بغیر وجہ کے اس جنگ سے متاثر ہوئے‘ وہ عرب ممالک ہیں۔ انہوں نے امریکہ کو اڈے بنانے کے لیے جگہ دی تاکہ وہ مخالفین سے ان کی حفاظت کرے۔ نہ صرف یہ کہ امریکہ ان کی حفاظت نہیں کر سکا‘ انہیں ان اڈوں کی قیمت ان حملوں کا سامنا کر کے ادا کرنا پڑی جو ایران کی طرف سے ہوئے۔ متحدہ عرب امارات کا نقصان دو طرفہ ہے کہ دبئی کا معاشی مستقبل شکوک وشبہات  کی زد میں ہے۔ خطے میں ایک بڑی سیاسی وجغرافیائی تبدیلی کا امکان پیدا ہو گیا ہے جو عرب امارات کے لیے نیک شگون نہیں۔ اب یہ کہا جا رہا ہے کہ ایران کی تعمیرِ نو کے لیے تین سو بلین ڈالر بھی یہی دیں گے۔ مجھے شبہ ہے کہ وہ اس پر آمادہ ہوں گے۔ معاہدے میں چونکہ اس کے لیے کوئی حکمتِ عملی طے نہیں کی گئی‘ اس لیے گمان ہے کہ یہ مشروط ہو گا۔ شرط یہ ہو گی کہ ایران مشرقِ وسطیٰ میں اپنی پراکسیز ختم کرے۔ اگر ایسا نہیں ہو گا تو ایک مضبوط ایران عرب ممالک کے لیے پہلے کی طرح خطرے کی علامت بنا رہے گا۔  سوال یہ ہے کہ کیا عرب اتنے سادہ لوح ہیں کہ ا یران کو پھر سے مضبوط بنانے کے لیے اتنے وسائل فراہم کر دیں گے؟سب سے زیادہ نقصان مسلمانوں کو پہنچا ہے۔ میرا احساس ہے کہ شیعہ سنی تقسیم پھر سے زندہ ہو گئی ہے۔ اس جنگ کا ابتدائی تناظر ایک تھا۔ یہ ایران بمقابلہ امریکہ تھا۔ اس موقع پر سب مسلمانوں کی ہمدردی‘ الّا ماشاء اللہ‘ ایران کے ساتھ تھی۔ بعد میں اس کے تناظرات میں اضافہ ہوتا گیا۔ بعض عاقبت نااندیشوں نے اسے گروہی مفادات کے لیے استعمال کرنا چاہا اور ایرانی انقلاب کی طرح اسے &#39;شیعہ احیا‘ کا وسیلہ بنانے کی کوشش کی۔ ایسی سرگرمیوں میں اضافہ کر دیا گیا جو مسلکی شناخت کے اظہار کے لیے ہیں۔ اس کا ردعمل بھی ہوا‘ ویسے ہی جیسے انقلاب کے وقت ہوا تھا‘ جب اس کو پھیلانے کی بات کی گئی تھی۔ مجھے خدشہ ہے کہ مسلم ملکوں میں معاشی مسائل کے ساتھ سماجی اضطراب میں بھی ا ضافہ ہو گا۔ پاکستان نے ایران کے لیے ایک باعزت راستہ تلاش کرنے میں جو کردار ادا کیا‘ ایک گروہ کو اس کا ادراک نہیں جو مسلک کی عینک پہنے ہوئے ہے۔ وہ سیاسی و عسکری قیادت پر سوالات اٹھا رہا ہے۔ یہ اس جنگ کا وہ نتیجہ ہے جو مسلمانوں کے لیے باعثِ تشویش ہے۔پس ثابت ہوا کہ اس جنگ کاحقیقی معنوں میں کوئی فاتح نہیں۔ سب متاثرین ہیں۔ کوئی کم‘ کوئی زیادہ۔ ایک شخص کی حماقت نے عالمِ انسانیت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔ اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ کسی کو ایسے منصب پر بٹھاتے وقت سو بار سوچنا چاہیے‘ جس کا تعلق لوگوں کی زندگی اور جان ومال سے ہے۔ ٹرمپ نے امریکی ذلت ہی کا سامان نہیں کیا ساری دنیا کے مسائل میں اضافہ کر دیا ہے۔ جب تک امریکہ عالمی طاقت ہے‘ ضرورت ہے کہ اس کے صدر کا انتخاب کرنے والوں کی تربیت کی جائے۔ امریکہ ساری دنیا میں جمہوریت کے فروغ کے لیے وسائل فراہم کرتا ہے۔ ضرورت ہے کہ ان وسائل کو اپنے عوام کے سیاسی شعور کی بہتری پر  صرف کرے۔ انہیں اس کی اشد ضرورت ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>حیرانی اور پریشانی کے درمیان(خالد مسعود خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-06-20/52154/47734799</link><pubDate>Sat, 20 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-06-20/52154/47734799</guid><description>میں جب نیو یارک کے جان ایف کینیڈی ایئرپورٹ سے باہر آیا تو ہمدمِ دیرینہ جمع برادرِ خورد ندیم سعید میرا منتظر تھا۔ ڈیرہ غازی خان سے تعلق رکھنے والے ندیم سعید نے اپنی صحافتی زندگی کا آغاز ایک انگریزی اخبار سے کیا۔ اس کی پہلی جاب ملتان میں تھی۔ چند سال اس انگریزی اخبار کے ساتھ گزارنے کے بعد وہ بی بی سی کو پیارا ہوگیا اور لندن جا پہنچا۔ بی بی سی سے اپنے بین الاقوامی صحافتی کیریئر کا آغاز کرنے والا ندیم سعید بعد ازاں دنیا کے دیگر دوتین مشہور صحافتی اداروں سے منسلک رہا اور آج کل نیویارک میں اقوام متحدہ میں اردو سیکشن کے خبرنامے کا مدار المہام ہے ۔اقوام متحدہ کے میڈیا سیکشن کے زیر انتظام دس زبانوں پر مشتمل خبرناموں کا اجرا کیا جاتا ہے ان دس میں سے چھ بڑی زبانوں کو بطور آفیشل لینگویجز تصور کیا جاتا ہے۔ بڑی زبانوں میں ان کو بولنے اور سمجھنے والوں کی تعداد کے ساتھ ساتھ ان کی جغرافیائی وسعت کو بھی زیر نظر رکھا گیا ہے۔ ان چھ زبانوں میں انگریزی‘ ہسپانوی‘ فرانسیسی‘ چینی‘ روسی اور عربی شامل ہیں۔ ان چھ میں سے روسی زبان کو تو سوویت یونین کی اُس وقت کی طاقتور حیثیت کی وجہ سے یہ درجہ حاصل ہوا تھا جبکہ عربی کو ایک وسیع جغرافیائی خطے کی زبان کے طور پر جس میں سارا مشرقِ وسطیٰ اور پورا شمالی افریقہ شامل ہے‘ کی وجہ سے یہ مقام ملا۔ چینی (مینڈرین) زبان بلا شبہ اس وقت روئے ارض پر سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہے۔ انگریزی نوآبادیاتی ماضی کے سبب اب دنیا بھر میں باہمی رابطے کی سب سے مقبول اور مستعمل زبان ہے۔ فرانسیسی اور ہسپانوی زبان بھی اپنے استعماری پس منظر کے باعث دنیا کے بہت سے خطوں میں نہ صرف بولی اور سمجھی جاتی ہیں بلکہ دوردراز کے بہت سے ممالک کی سرکاری زبانیں بھی ہیں۔ دیگر چار جزوی زبانوں میں اردو‘ ہندی‘ پرتگیزی اور سواحلی ( افریقن ) زبانیں شامل ہیں۔ ندیم سعید گزشتہ تین چار سال سے اقوام متحدہ کے اردو خبرنامے اور اس سے وابستہ معاملات کا سربراہ ہے۔ اُن سے جب بھی ملاقات ہوتی ہے کبھی احساس نہیں ہوتا کہ ہم کافی عرصے کے بعد ملے ہیں۔ گفتگو کا آغاز اس صورت سے پرانی یادوں سے جڑ کر نئی صورتحال پر آتا ہے کہ لمحوں میں درمیانی وقفہ گویا غائب سا ہو جاتا ہے۔ امریکہ جانے کا پروگرام بنا تو کومل نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کہاں اُتریں گے ؟ میں نے کہا :نیو یارک۔ وہ کہنے لگی کہ نیو یارک کیوں؟ میں نے کہا :ندیم سعید کو ملنا ہے۔ وہ کہنے لگی: اب یہ امریکہ میں آپ کا کون سا نیا دوست آگیا ہے ؟ اُس کا خیال ہوتا ہے کہ اگر میں امریکہ آیا ہوں تو مجھے سب سے پہلے اسی کے پاس آنا چاہیے‘ اس کا یہ خیال منطقی طور پر بالکل درست ہے۔ شروع میں اس نے میرے امریکہ پہنچ کر اس سے پہلے دوستوں کے ہاں جانے پر احتجاج کیا تو میں نے کہا:باپ اور بیٹی کی محبت کسی شک و شبہ سے بالاتر ہے لیکن میں تمہارے امریکہ آنے سے پہلے اپنے انہی دوستوں کے ساتھ وقت گزارا کرتا تھا اور اب میرے لیے یہ ممکن نہیں کہ میں انہیں یہ کہوں کہ میں آپ کے پاس اس لیے نہیں آ سکتا کہ اب میری بیٹی امریکہ آ گئی ہے۔ کومل کو یہ بات سمجھ آ گئی تاہم اُس نے مجھے کہا کہ آپ مجھے بتا دیں کہ آپ کے کتنے دوست ہیں جو اس ترجیحی فہرست میں شامل ہیں‘ میں نے کہا: یہ کل چار دوست ہیں۔ ایک لاس اینجلس میں مقیم شفیق ہے‘ ایمرسن کالج سے لے کر بہاء الدین زکریا یونیورسٹی تک ہم ایک ساتھ رہے ہیں۔ دوسرے نمبر پہ میاں چنوں والا برادرِ خورد خالد منیر‘ تیسرے پہ ہمارے ملتان کے برادرِ بزرگ اعجاز احمد اور چوتھے پر نیو یارک میں مقیم نہایت عمدہ شاعر اور بہت ہی شاندار دوست شوکت فہمی ہے۔ پھر یوں ہوا کہ شوکت فہمی مستقل پاکستان شفٹ ہو گیا اور چار کی فہرست سکڑ کر تین پر چلی گئی۔ ندیم سعید کچھ عرصہ پہلے لندن چھوڑ کر نیویارک آ گیا۔ کومل کو اس نئی انٹری کا علم نہیں تھا ‘اس نے پوچھا کہ یہ ندیم سعید اب درمیان میں کہاں سے آ گئے؟ تو میں نے اسے یاد دلایا کہ قرب اڑھائی عشرے قبل تم نے اور تمہاری دونوں بہنوں نے سندباد ہوٹل ملتان میں ایک سرامکس کی ورکشاپ کی تھی۔ ماضی میں جھانک کرکومل کی آواز ایک دم خوشی سی جھلکی۔ اُس نے کہا ہاں ہم تینوں نے وہ ورکشاپ کی تھی۔ وہ بڑی زبردست اور مزیدار ورکشاپ تھی۔ میں نے کہا: اس ورکشاپ میں جو آپ کی ٹیچر تھیں وہ آپ کو یاد ہیں‘ اُس نے کہا :بالکل یاد ہیں بہت اچھی طرح یاد ہیں۔ میں نے کہا :وہ ندیم سعید کی مسز ہیں‘ تو اسے سب کچھ یاد آیا۔ پوچھنے لگی کہ انکل تو لندن میں تھے یہاں کب آئے ہیں ؟ میں نے کہا: انکل کو یہاں آئے ہوئے تین سال سے زیادہ ہو گئے ہیں لیکن میں اس دوران اپنی سستی اور کاہلی کی وجہ سے نیویارک نہ جا سکا تاہم میں نے اس بار پروگرام بناتے ہوئے طے کر لیا تھا کہ میں پہلے نیویارک اتروں گا۔ سو میں ندیم سعید کے پاس تھا۔ ہم دونوں عموماً پاکستان کی سیاست کے بارے میں گفتگو نہیں کرتے۔ وہ اس لیے کہ پاکستانی سیاست کو ندیم بھی اچھی طرح جانتا ہے اور میں بھی۔ ہم جانتے ہیں کہ پاکستانی سیاست پر گفتگو ایک لاحاصل بحث اور فضول تجزیہ ہے جو ہم دانشور بننے کے زعم میں بیٹھ کر ایک دوسرے سے کرتے ہیں۔ پاکستانی سیاست کسی قاعدے‘ ضابطے‘ اصول‘ آئین‘ اقدار اور اخلاق کسی چیز کی نہ تو پابند ہے اور نہ ان حوالوں سے چلتی ہے۔ تو اس پر اندازے لگانا‘ بحث کرنا‘ تجزیے کرنا‘ نتائج نکالنا اور دانشوری بگھارناسب کچھ کارِ لاحاصل اور وقت ضائع کرنے کے علاوہ کچھ نہیں۔ اس دوران میں ندیم سے ان چیزوں کے بارے میں سنتا ہوں جسے ہم بین الاقوامی سیاسی منظرنامہ کہہ سکتے ہیں ۔ندیم عالمی حالات سے آگاہ رہتا ہے اور یہ اس کی بین الاقوامی سطح کی صحافتی پیشہ ورانہ ذمہ داری اور ضرورت بھی ہے۔ اس دوران میں نے سب سے پہلے اس کے دفتری معاملات اور اس کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے اس سے پوچھا کہ اردو سیکشن میں کتنے افراد کام کر رہے ہیں؟ اس نے بتایا کہ ایک وہ ہے اور اس کے ساتھ دو معاونین ہیں‘ تاہم بنیادی طور پر جسے آفیسر کی نشست کہا جا سکتا ہے‘ وہ صرف ایک ہی ہے۔بعد ازاں جب دیگر زبانوں کے سیکشنز کا ذکر ہوا تو ندیم سعید نے بتایا کہ ہندی سیکشن میں کافی زیادہ لوگ کام کرتے ہیں اور اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہندوستانی حکومت اقوامِ متحدہ میں ہندی زبان کے سیکشن کو خصوصی توجہ دیتے ہوئے نہ صرف اس کی سرپرستی کرتی ہے بلکہ ہندی سیکشن کے ملازمین کی تنخواہوں اور بعض دیگر مالی معاملات میں معاونت بھی فراہم کرتی ہے۔ اس نے مزید بتایا کہ اس نے اردو سیکشن کی تعداد میں اضافے کیلئے ایک تجویز پیش کی تو اسے جواب دیا گیا کہ اگر پاکستان کی حکومت اردو سیکشن کیلئے ایک بندہ سپانسر کرے تو اقوامِ متحدہ بھی اپنے وسائل سے ایک اضافی فرد فراہم کر دے گی ‘اس طرح یہ مجموعی تعداد تین ہو سکتی ہے۔ اس نے بتایا کہ اس سلسلے میں پاکستان کے قونصل خانے سے بات ہوئی تو وہاں سے جواب ملا کہ یہ معاملہ ان کے دائرہ اختیار میں نہیں بلکہ وزارتِ اطلاعات سے متعلق ہے۔ یوں یہ معاملہ آگے نہ بڑھ سکا۔المیہ یہ کہ ہماری حکومتی ترجیحات ریاست کے بجائے ذاتیات کو سامنے رکھ کر طے کی جاتی ہیں۔ ہم ایسی ایسی فضول جگہ پر سرکاری پیسہ لٹاتے ہیں کہ سوچ کر پریشانی ہوتی ہے اور ایسی ایسی اہم جگہوں پر بچت کرتے ہیں کہ سوچ کر حیرانی ہوتی ہے۔ ہم ایک عرصے سے اسی حیرانی اور پریشانی کے درمیان پھنسے ہوئے ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90500073.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بالآخر دستخط ہو گئے!(ڈاکٹر حسین احمد پراچہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-06-20/52155/18803887</link><pubDate>Sat, 20 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-06-20/52155/18803887</guid><description>ماننا پڑے گا‘ اوپر سایۂ خدائے وذوالجلال تھا اور نیچے پاکستان کی ڈپلومیسی تھی۔ جو کام یو این او نہ کر سکا‘ او آئی سی جس کا تصور تک نہ کر سکی‘ یورپی یونین کوئی کردار ادا نہ کر سکی‘ وہ کام اللہ کے فضل و کرم سے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف‘ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر‘ وزیر خارجہ اسحق ڈار اور وزیر داخلہ محسن نقوی کی انتھک اور مخلصانہ محنت نے کر دکھایا۔ گزشتہ دو ماہ کے دوران معاہدے کا کپ بارہا لب تک آیا مگر کوئی نہ کوئی سِپ راستے میں حائل ہو گیا۔ بالآخر جمعرات کے روز پیرس میں جی سیون کے ڈنر کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے۔ تہران میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے الیکٹرانک دستخط کیے اور بطور ثالث وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں دستخط ثبت کیے۔ بلاشبہ چودہ نکاتی یادداشت ایک تاریخی معاہدۂ امن کی طرف پیش قدمی کا سندیسہ ہے۔ روس‘ چین‘ جی سیون اور خلیجی ممالک نے معاہدے کا خیر مقدم کیا ہے۔ دنیا کے ہر ملک نے امن و استحکام کیلئے پاکستان کی کوششوں کو سراہا ہے۔ صرف اسرائیل کی صہیونی قیادت کے سینے پرسانپ لوٹ رہے ہیں۔28 فروری کو اسرائیل نے امریکہ کو ساتھ ملا کر ایران پر حملہ کیا تو اس کا خیال تھا گریٹر اسرائیل کا خواب بس شرمندۂ تعبیر ہونے کو ہے۔ اسرائیل کی سوچ یہ تھی کہ ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایرانی حکومت بکھر جائے گی۔ غاصب صہیونی ریاست کا ظالم وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو سمجھتا تھا کہ عرب ماضی کی طرح کسی سنہری جال میں گرفتار ہو جائیں گے اور &#39;&#39;عجم‘‘ کو ختم کرنے کیلئے وہ دامے‘ درمے‘ قدمے‘ سخنے ایران کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے مگر اسرائیل کو اندازہ نہ تھا کہ 1980ء کی دہائی کے بجائے اکیسویں صدی کی عرب قیادت کہیں زیادہ سمجھدار ہے‘ لہٰذا وہ کسی پھندے میں نہیں پھنسے۔ اس بار یورپ کیا‘ امریکہ کیا‘ ایشیا اور افریقہ ہر جگہ اسرائیلی و امریکی حملے کی پُرزور مذمت کی گئی۔ علاوہ ازیں ایران نے ایسی حکمت عملی اختیار کی کہ خود صیّاد داد دینے پر مجبور ہو گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بارہا کہا کہ ایران کی موجودہ قیادت بہت سمارٹ ہے۔دورانِ جنگ ایران نے اسرائیل کے اندر اور خلیج کی ریاستوں میں موجود امریکی اڈوں پر میزائل گرا کر دنیا کو حیران کر دیا۔ ایران نے متحدہ عرب امارات‘ کویت‘ بحرین‘ قطر‘ عمان اور شام و عراق میں بھی موجود امریکی عسکری ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ اسرائیل سمجھتا تھا کہ ایران میں بڑی شہادتوں کے بعد وہاں کی حکومت بوکھلا جائے گی اور رجیم چینج ہو جائے گا۔ وہ ایران کے ٹکڑے کرنے اور گویا بلوچستان میں پاکستان کی شہ رگ پر آ کر قابض ہونے اور پاکستان کو ٹف ٹائم دینے کے خواب دیکھ رہا تھا۔ مگر ہوتا وہی ہے جو منظورِ خدا ہوتا ہے۔ سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایرانی حکومت کی پالیسی سے اختلاف رکھنے والے بھی اپنی حکومت کے ساتھ مل کر سو جان یک قالب ہوئے۔ ان کا اعلان تھا کہ ہمارے داخلی اختلافات اپنی جگہ مگر ہم بیرونی جارحیت کے مقابلے میں ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح دشمن کے خلاف کھڑے ہیں۔ بلاشبہ سہ فریقی جنگ میں ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کو بڑی شہرت اور کامیابی ملی مگر ایران نے جس مہارت‘ جرأت اور چابکدستی کے ساتھ آبنائے ہرمز کی بندش کا ہتھیار استعمال کیا اس سے دنیا دنگ رہ گئی۔جنگ کے پہلے روز ہی‘ 28 فروری کو ایک امریکی میزائل نے میناب شہر میں ایک پرائمری سکول میں بچیوں کو نشانہ بنایا۔ اس بہیمانہ حملے میں 168 پھول سی بچیاں خاک و خون میں نہا گئیں۔ نیتن یاہو تو پہلے ہی قاتلِ غزہ کی شہرت رکھتا تھا مگر بچیوں کی شہادت نے امریکہ کی اخلاقی ساکھ کو بھی بری طرح مجروح کر دیا۔ امریکہ کی داخلی تحقیق کے مطابق اس کی ذمہ داری امریکی وزارتِ دفاع پر عائد ہوتی ہے۔ جنگ کے ابتدائی دنوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی قیادت کو دھمکیوں اور بڑھکوں سے جھکانا چاہا مگر جلدی اسے اندازہ ہو گیا کہ ایرانی حکمران لوہے کے چنے ہیں جنہیں چبانا اُن کے بس میں نہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کو ابتدا میں ہی یہ بھی محسوس ہو گیا تھا کہ امریکہ نے ایران کے خلاف جو جنگ چھیڑی ہے وہ بالکل بلاجواز ہے۔ ایسی بلاجواز جنگ کی امریکی کانگریس حمایت کر رہی تھی نہ امریکی عوام۔ یورپ کے لوگ ہی نہیں وہاں کی حکومتیں بھی اس کے خلاف تھیں۔ ہرمز کی بندش کے بعد خلیج سے تیل کی ترسیل کا نظام بھی تقریباً معطل ہو گیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی عالمی کساد بازاری کا شدید خطرہ لاحق ہو گیا۔ان حالات میں ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے ذریعے ایران کے ساتھ پہلے سیز فائر کیا اور پھر مستقل اور پائیدار امن کیلئے مذاکرات شروع کر دیے۔ دو اڑھائی ماہ کے اس عرصے میں ڈونلڈ ٹرمپ ایک ہی سانس میں صلح کے معاہدے کی بات کرتے‘ پھر جنگ کی دھمکی دیتے‘ پھر ایران کی اینٹ سے اینٹ بجانے کے ہولناک مناظر دکھاتے مگر بین الکلام یا بین السطور صاف دکھائی اور سنائی دیتا کہ ٹرمپ ایران پر کیے گئے بلا ضرورت حملے کے بعد مکمل سیز فائر کرنا چاہتے ہیں۔ G7ممالک کے اجلاس کے بعد پیرس میں ایک پریس کانفرنس کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 14نکاتی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت برائے ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور اسلامی جمہوریہ ایران کی تشریح اور دفاع کیا۔ اس پریس کانفرنس کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کا دھیما مفاہمتی لب و لہجہ ان کے گزشتہ چند ماہ کے گرجتے چمکتے لب و لہجے سے یکسر مختلف تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر وہ ایران پر حملے جاری رکھتے تو عالمی معیشت شدید نوعیت کی کساد بازاری کا شکار ہو جاتی۔ دنیا تیل کی بوند بوند کو ترس جاتی اور ٹرانسپورٹ ہی نہیں انڈسٹری کا پہیہ بھی جام ہو کر رہ جاتا۔ اس مفاہمتی یادداشت میں کہا گیا ہے کہ دو ماہ کی طے شدہ مدت برائے امن معاہدہ کے دوران ایران کو اس کے پڑوسی تین سو ارب ڈالر برائے تعمیر ِنو‘ سرمایہ کاری کے طور پر دیں گے۔ اس دوران آبنائے ہرمز کسی ٹول ٹیکس کے بغیر کھلی رہے گی۔ یادداشت میں تسلیم کیا گیا ہے کہ حتمی مذاکرات کے دوران تمام محاذوں پر بشمول لبنان میں جنگ بند کی جائے گی۔ معاہدے کی توثیق سلامتی کونسل سے کرائی جائے گی۔ ایران پر بلاجواز مسلط کی گئی جنگ میں اسرائیل کو بدترین قسم کی جنگی و اخلاقی ہزیمت اٹھانا پڑی۔ پہلے غزہ اور اب ایران جنگ کے بعد اسرائیل کو شکست کے علاوہ معاشی بدحالی کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔ اکتوبر 2026ء میں اسرائیل میں انتخابات ہونے والے ہیں۔ اس ناکامی کے بعد اور کرپشن کے الزامات سے داغدار نیتن یاہو انتخابی اکھاڑے میں اترے گا تو یقینا اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا‘ جبکہ اس کی مقبولیت کا گراف پہلے ہی بہت نیچے گر چکا ہے۔ یہ سوال بھی بار بار پوچھا جا رہا ہے کہ کیا باہمی یادداشت ایک پائیدار امن کے معاہدے میں ڈھل سکے گی؟ یقینا اجمال کی تفصیل لکھتے ہوئے کچھ بحث و تمحیص تو ضرور ہوگی البتہ امریکہ اور ایران نے اس چودہ نکاتی یادداشت کو اپنے اپنے ملک کیلئے بہترین قرار دیا ہے۔ اس لیے دونوں کی کوشش ہوگی کہ یہ بیل منڈھے چڑھے۔ البتہ نیتن یاہو کی طرف سے رکاوٹیں ڈالنے اور معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی کوششیں تو ہوں گی مگر ٹرمپ نے نیتن یاہو کو سخت لہجے میں کہا ہے کہ اسرائیل کا وجود امریکہ کے بغیر چند گھنٹے بھی قائم نہیں رہ سکتا ‘ اپنی حرکتوں سے باز آ جاؤ اور لبنان پر حملے نہ کرو۔ مگر جمعرات کے روز اسرائیل نے لبنان پر پھر حملہ کر کے تین لبنانی شہریوں کو شہید کر دیا۔ اسرائیل کو روکنا امریکہ کی ذمہ داری ہے۔ اسی طرح نائب امریکی صدر نے بھی اسرائیل کے لوگوں کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں تمہارا واحد ہمدرد امریکہ ہے ۔ اس لیے اپنی قیادت کو عقل کے ناخن لینے کا سبق دو۔ مفاہمتی میدان میں اپنا صلاحیتوں کا لوہا منوانے والی پاکستانی قیادت کو ملک کے اندر بھی صلح کرنے میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_70033906.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ایران امریکہ ڈیل کے اثرات(ڈاکٹر رشید احمد خاں)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr-rasheed-ahmad-khan/2026-06-20/52156/33468183</link><pubDate>Sat, 20 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr-rasheed-ahmad-khan/2026-06-20/52156/33468183</guid><description> ایران اور امریکہ کے درمیان حتمی معاہدۂ امن کیلئے &#39;&#39;اسلام آباد میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ‘‘ پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے الیکٹرانک دستخط ہو جانے کے بعد دونوں ملکوں میں گزشتہ ساڑھے تین ماہ سے زائد عرصے سے جاری جنگ باضابطہ طور پر ختم ہو گئی ہے۔ دونوں ملکوں نے 8 اپریل کو عارضی جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا مگر امریکی افواج کی طرف سے آبنائے ہرمز کے گرد و نواح میں ایرانی دفاعی تنصیبات پر حملوں اور جواب میں ایران کی جانب سے بعض خلیجی ممالک پر ڈرون اور میزائل حملوں کی صورت میں اس عارضی جنگ بندی کی متواتر اور تشویشناک خلاف ورزیاں جاری تھیں۔ اب ایم او یو پر دستخط ہونے سے نہ صرف ان خلاف ورزیوں کا سلسلہ رک گیا ہے اور جن اقدامات پر اتفاق کیا گیا ہے ان پر عمل درآمد بھی شروع ہو گیا ہے۔ مثلاً ایران نے تیل اور گیس کے ٹینکروں اور دیگر کارگو جہازوں پر آبنائے ہرمز سے گزرنے پر عائد پابندیاں ختم کر دی ہیں۔ اس کے جواب میں امریکہ نے ایران کی بحری ناکہ بندی پر مامور جہازوں کو پیچھے ہٹا لیا ہے۔ اب ایران کے تیل بردار ٹینکر اور کارگو جہاز آبنائے ہرمز سے گزر کر اپنی منزلوں کی جانب رواں دواں ہیں۔ اسی طرح بیرونِ ملک سے آنے والے بحری جہاز ایران کی بندرگاہوں پر بلا روک ٹوک آ سکتے ہیں۔ایم او یو کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس پر ایرانی اور امریکی صدور کے علاوہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کے بھی دستخط ثبت ہیں‘ جو اس پورے عمل میں ثالث کی حیثیت سے پاکستان کے مرکزی کردار کا اعتراف ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ اس اہم دستاویز پر دستخط کیلئے کوئی رسمی تقریب منعقد نہیں کی گئی بلکہ صدر مسعود پزشکیان‘ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیراعظم شہباز شریف نے بالترتیب تہران‘جی سیون سربراہی کانفرنس کے دوران فرانس میں اور اسلام آباد میں اس دستاویز پر الیکٹرانک دستخط کیے۔ قبل ازیں 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں ایم او یو پر دستخط کی رسمی تقریب کے انعقاد کا پروگرام بنایا گیا تھا جس میں ایران اور امریکہ کے اعلیٰ حکام کے علاوہ پاکستانی وزیراعظم کی شرکت بھی متوقع تھی مگر 18 جون کو تینوں رہنماؤں کے الیکٹرانک دستخط ہو جانے کے بعد سوئٹرزلینڈ کے شہر برگن سٹاک میں طے شدہ رسمی تقریب کے انعقاد کی ضرورت باقی نہیں رہی۔&#39;اسلام آباد میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ‘ کے نام سے جس دستاویز پر دستخط کیے گئے ہیں‘ وہ 14 نکات پر مشتمل صرف ڈیڑھ صفحے کی ایک مختصر مگر انتہائی اہم دستاویز ہے کیونکہ اس میں فریقین (ایران اور امریکہ) نے ایک حتمی معاہدے تک پہنچنے کیلئے بعض امور پر اتفاق کیا ہے۔ ان امور کو 14نکات کی صورت میں بیان کیا گیا ہے۔ اس لحاظ سے یہ دستاویز ایک فریم ورک ہے‘ جس کے اندر رہتے ہوئے ایران اور امریکہ 19جون سے مذاکرات کے سلسلے کا آغاز کریں گے اور اگلے 60 دنوں میں مسائل کے متفقہ حل تک پہنچنے کی کوشش کریں گے۔ یہاں سوال یہ ہے کہ کیا مذاکرات کار 14نکات کی صورت میں بیان کردہ مسائل 60دنوں میں حل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے؟ اس ضمن میں ماہرین اور تجزیہ کاروں میں جو متفقہ رائے پائی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ اس کا تمام تر انحصار اسرائیل کی انتہا پسند حکومت اور وزیراعظم نیتن یاہو کے رویے پر ہے۔ اسرائیل نے ایران امریکہ 14نکاتی ڈیل کو مسترد کیا ہے اور جنگ بندی معاہدے اور صدر ٹرمپ کے مطالبے کے باوجود جنوبی لبنان پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔ نیتن یاہو حکومت نے صاف کہا ہے کہ وہ اپنے تحفظ کیلئے حزب اللہ کے ٹھکانوں پر حملے جاری رکھیں گے۔ حالانکہ معاہدے میں جس سیز فائر کا ذکر کیا گیا تھا‘ اس میں لبنان بھی شامل ہے۔ ایران نے واضح طور پر اعلان کر رکھا ہے کہ &#39;معاہدے‘ پر اسرائیل سے عمل کروانے کی ذمہ داری امریکہ کی ہے اور لبنان میں اسرائیلی حملوں کو معاہدے کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا۔ اگر امریکہ ایران کے ساتھ طے شدہ ڈیل کی کامیابی کا خواہشمند ہے تو اسے لبنان میں حملے بند کرانے کیلئے اسرائیل پر دباؤ ڈالنا پڑے گا۔ اسرائیل کی جانب سے درپیش چیلنج کے علاوہ ماہرین اس خدشے کا اظہار بھی کر رہے ہیں کہ ماضی کے تلخ تجربات اور فریقین کے مابین عدم اعتماد کی وسیع خلیج کی وجہ سے دونوں ممالک کے مابین مذاکرات آسان نہیں ہوں گے کیونکہ آبنائے ہرمز کے کھلنے اور امریکہ کی جانب سے بحری ناکہ بندی ختم کرنے کے علاوہ باقی تمام مسائل جوں کے توں موجود ہیںاوریہ انتہائی اہم مسائل ہیں جن پر شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔ ان اختلافات کو دور کرنے کیلئے 60 دن کی مہلت کافی نہیں‘ اس لیے عام رائے ہے کہ اس مدت میں توسیع ہو سکتی ہے۔2015ء کے معاہدے کیلئے اوباما دور میں فریقین کے مابین تقریباً ایک سال مذاکرات جاری رہے تھے‘ اس لیے موجودہ ڈیل کے مطابق حتمی معاہدے کے حصول کیلئے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات اگر سال بھر نہیں تو کئی ماہ تو ضرور جاری رہ سکتے ہیں۔ مثلاً ایران کی طرف سے مطالبہ کیا جائے گا کہ ڈیل کے مطابق اس پرعائد معاشی پابندیاں فوراً اٹھائی جائیں اور امریکہ نے اس کے جو اثاثے منجمد کر رکھے ہیںانہیں ریلیز کیا جائے۔ امریکی صدر ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس کا اصرار ہے کہ یہ اقدام ایران کی جانب سے معاہدے پر عملدرآمد کی رفتار اور سمت کو دیکھتے ہوئے کیا جائے گا۔ اسی طرح 3.67فیصد سے زیادہ افزودہ یورینیم کو ڈیل کے مطابق ٹھکانے لگانے کیلئے بھی خاصے وسائل درکار ہوں گے کیونکہ یہ مواد ان پہاڑوں کے نیچے محفوظ ہے جن پر صدر ٹرمپ کے حکم سے گزشتہ سال جون میں B2طیاروں کے ذریعے بمباری کی گئی تھی۔ ڈیل کے مندرجات کی تشریح اور اس میں طے شدہ اقدامات پر عملدرآمد کے دوران پیش آنے والی مشکلات کے باوجود غالب امکان یہی ہے کہ قلیل اور درمیانی مدت کے دوران خطے میں دوبارہ جنگ نہیں چھڑے گی۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ایران اور امریکہ دونوں اس ڈیل کو کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں کیونکہ دونوں ملکوں کو امن کی ضرورت ہے۔ ساڑھے تین ماہ کی جنگ میں ایران کو بہت نقصان پہنچا ہے۔ اسے اپنی معیشت اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیرِ نو کیلئے پابندیوں کے خاتمے اور منجمد اثاثوں کی واپسی کی اشد ضرورت ہے‘ جو صرف ڈیل پر پوری دیانتداری اور تیزی کے ساتھ عملدرآمد ہی سے ممکن ہے۔ اسی لیے امریکی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ ایران نے خلیج فارس سے غیر ملکی ٹینکروں اور کارگو جہازوں کے گزرنے پر عائد پابندیاں اٹھا لی ہیں اور امریکہ نے بھی ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کر دی ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش سے بین الاقوامی تیل اور گیس کی منڈیاں بری طرح متاثر ہو رہی تھیں اور صدر ٹرمپ پر اس حوالے سے دباؤ مسلسل بڑھ رہا تھا۔ ایران اور امریکہ کی اس جنگ نے آبنائے ہرمز کی مرکزی حیثیت اور اہمیت کو پوری طرح اجاگر کر دیا ہے کیونکہ اس راستے سے گزرنے والی تیل اور گیس کی ترسیل رکنے سے نہ صرف بین الاقوامی توانائی کی منڈی میں بحران پیدا ہو گیا بلکہ مصنوعی کھاد اور دیگر اشیا کی سپلائی بھی متاثر ہوئی جس کے باعث دنیا میں توانائی کے علاوہ خوراک کی قلت کا اندیشہ بھی بڑھ گیا تھا۔ یہ جنگ امریکہ میں بھی غیر مقبول ہوتی جا رہی تھی اور اس کے سبب صدر ٹرمپ کو سیاسی نقصان پہنچ رہا تھا۔ امریکہ کے یورپی اتحادیوں کی طرف سے جنگ سے لاتعلقی کے اعلان اور خلیج فارس کی عرب ریاستوں کی جانب سے شدید دباؤ کے باعث صدر ٹرمپ کو بالآخر اسرائیل کی خواہشات کے برعکس ایران کے ساتھ ایک ایسی ڈیل پر متفق ہونا پڑا جسے اسرائیل اور امریکی کانگریس میں اسکی حامی لابی ایران کے آگے ہتھیار ڈالنے کے مترادف قرار دے رہی ہے۔ لیکن کیا یہ ڈیل امریکہ کی &#39;&#39;شکست‘‘ اور ایران کی &#39;&#39;فتح‘‘ ہے؟ اور کیا یہ اقدام مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار اور مستقل امن کا ضامن بن سکتا ہے؟ اس پر اگلے کالم میں بات کی جائے گی۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90264263.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>آئیں حقیقی بجٹ بنائیں(افتخار احمد سندھو)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/iktakhar-ahmed-sandhu/2026-06-20/52157/62573966</link><pubDate>Sat, 20 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/iktakhar-ahmed-sandhu/2026-06-20/52157/62573966</guid><description>حکومت کی طرف سے آئندہ مالی سال کیلئے 18 ہزار 771 ارب روپے کا مجموعی وفاقی بجٹ پیش کیا جا چکا ہے‘ جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اقتصادی ترقی‘ ٹیکس ریلیف‘ کم آمدنی والے طبقات‘ مہنگائی پر قابو پانے‘ ہائوسنگ وتعمیرات‘ زراعت وصنعت سمیت مختلف شعبہ جات کیلئے مراعات پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی ہے اور بڑے تنخواہ داروں کو ریلیف ملا ہے۔ لیکن بجٹ کا سرسری جائزہ لیں تو پتا چلتا ہے کہ اس بجٹ کو کسی بھی طرح عوامی بجٹ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ اس بجٹ میں عام آدمی کو ریلیف دینے اور صحت وتعلیم کے حوالے سے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ اسی طرح کم از کم اجرت کا تعین اب صرف محکمہ محنت کا داخلی معاملہ نہیں رہا بلکہ یہ فیصلہ ملکی معیشت کے وسیع تر پہلوؤں پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ اس میں شہریوں کی قوتِ خرید‘ غربت کی شرح‘ غیر رسمی روزگار اور مقامی طلب جیسے اہم عوامل شامل ہیں۔ ایک مزدور کی کم از کم ماہانہ اجرت میں 10فیصد اضافہ کیا گیا ہے جو 37 ہزار سے بڑھ کر 40 ہزار 700 روپے ہو جائے گی۔ صوبوں میں البتہ کم از کم تنخواہ کا معاملہ مختلف ہے۔ جب کم از کم اجرت 37 ہزار روپے تھی تو میں اپنے ادارے کے ملازمین کو40 ہزار روپے اور جب 40 ہزارروپے ہوئی تب 45 ہزار روپے دے رہا تھا۔ امسال میرے ادارے کے ایک ملازم نے مجھے چار افراد پر مشتمل اپنے گھر کا بجٹ بنا کر دیا اور یہ دعویٰ کیا کہ آپ 44‘ 45 ہزار روپے کو چھوڑیں‘ 50 ہزار روپے ماہانہ میں صرف چار افراد کے کنبے پر مشتمل ایک عام آدمی کے گھر کا بجٹ بنا کر دکھائیں تو میں آپ کو مان جاؤںگا۔ ملازم کے پیش کردہ بجٹ میں صرف ضروریات کا ذکر ہے‘ کسی سہولت کا تذکرہ یا خرچہ شامل نہیں۔ اس کے گھر میں مائیکرو ویو اوون‘ فریج یا واشنگ مشین نہیں‘ اس کی بیگم &#39;تھاپے‘ سے کپڑے دھوتی ہے۔ سخت گرمی میں گھر میں صرف ایک پنکھا چلتا ہے اور دو سے تین انرجی سیور ہیں۔ روم کولر کا تو سوچا بھی نہیں جا سکتا۔ پھر بھی 4500 سے پانچ ہزار روپے تک بجلی کا بل آتا ہے۔ گیس اور پانی نہ ملنے کے باوجود بل چار سے پا نچ ہزار روپے ضرور آتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے غریب آدمی پیدا ہی یہ بل اداکرنے کیلئے ہوا ہے۔ چار افراد کیلئے دال روٹی اور سبزی پر مشتمل تین وقت کا کھانا کم از کم ایک ہزار روپے میں تیار ہوتا ہے‘ اس میں کوئی مرغی یا گوشت شامل نہیں‘ وہ تو صرف قربانی پر نصیب ہوتا ہے۔ اس طرح 30 ہزار روپے کھانے پینے پر خرچ ہو جاتے ہیں۔ دس ہزار روپے دفتر آنے جانے کیلئے موٹر سائیکل کے پٹرول پرصرف ہو جاتے ہیں۔ اس طرح 50 ہزار کا بجٹ پورا ہو جاتا ہے۔ بچے سرکاری سکول میں پڑھتے ہیں‘ اس لیے وہاں پڑھائی ہے نہ کوئی خرچہ۔ بچے بھاری بھرکم سکول بیگ نازک کمر پر لاد کر پیدل سکول جاتے ہیں۔ آئے روز ایک کے بعد دوسرا بچہ گرمی یا سردی سے بیمار ہو جاتا ہے اور دوائی کیلئے پیسے نہیںہوتے۔ گھر تین مرلے کا اپنا ہے‘ خدا نخواستہ اگر کرایے کا ہوتا تو اس غریب آدمی کا دیوالیہ نکل جاتا۔ مکان کا کرایہ غریب آدمی کی کم توڑ کر رکھ دیتا ہے۔ میں نے اس کا بجٹ دیکھا تو دم بخود رہ گیا۔ اس کے دعوے کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ آدمی جب صبح بیدار ہوتا ہے تو اس کوسب سے پہلے ٹوتھ برش اور پیسٹ چاہیے ہوتا ہے‘ پھر اس کو نہانے کیلئے پانی درکار ہوتا ہے‘ پانی حاصل کرنے کیلئے بجلی کی ضرورت پڑتی ہے‘ اس کے بعد اسے اپنے کپڑوں کیلئے استری اور بجلی چاہیے ہوتی ہے۔ اس کے بعد اس کو ناشتہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک فیملی کے چار لوگ اپنے لیے آدھے آدھے انڈے کا آملیٹ بھی بنائیں تو آپ اندازہ لگا لیں کہ اس پر کتنا خرچ آئے گا۔ اس کے بعد اس نے دفتر جانا ہے اور کھانا اپنا ساتھ لے کر جانا ہے‘ بائیک پر روزانہ کا چار سو روپے کا پٹرول صرف ہوتا ہے۔ اس طرح دس سے بارہ ہزار روپے تو اس کے دفتر آنے جانے کیلئے پٹرول وغیرہ پر خرچ ہو جاتے ہیں اور 40 سے45 ہزار والی تنخواہ کی کمر ٹوٹ جاتی ہے۔ بائیک کی مرمت کا معاملہ الگ ہے۔ پھر اس کے دوپہر کے کھانے کا معاملہ آتا ہے۔ سستی سے سستی ہانڈی بھی چار سے پانچ سو میں تیار ہو گی۔ اس کے بچوں کو فروٹ بھی میسر نہیں‘ دودھ بھی نہیں کیونکہ وہ افورڈ نہیں کر سکتا۔ جس بچے کو دودھ‘ فروٹ اور گوشت نہیں ملے گا وہ کیا خاک بڑھے گا؟ لہٰذا وہ ایک نوکری سے گزارہ کر ہی نہیں سکتا‘ اس کی بیوی بھی نوکری کرے گی تو کام چلے گا کیونکہ ایک آدمی کی کمائی سے اس کا گھر چل ہی نہیں سکتا۔بجٹ کے حوالے سے بہت سے لطیفے بھی دیکھنے اور سننے کو ملے۔ آئیے سنیے اور سر دھنیے۔ بجٹ میں ہر بچے کی تعلیم کیلئے سالانہ 136 روپے ہیں جس سے نو پنسلیں‘ جبکہ ہر شہری کی صحت کیلئے سالانہ 92 روپے ہیں جن سے پیناڈول کی چھ گولیاں خریدی جا سکتی ہیں۔ پاکستان کی 65 فیصد آبادی کا انحصار زراعت پر ہے لیکن یہ ملکی تاریخ کا واحد بجٹ ہے جس میں زراعت کیلئے بھی خاطر خواہ بجٹ مختص نہیں کیا گیا۔ بجٹ میں کسانوں کیلئے پانچ ارب جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کیلئے 850 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ یعنی محنت کشوں کیلئے پانچ ارب اور قوم کو بدستور بھکاری بنانے کیلئے850 ارب روپے۔ کیا یہ قوم کے ساتھ مذاق نہیں؟بات یہ ہے کہ جب تک آپ محنت کرنے والے لوگوں کو پیسے نہیں دیں گے‘ مزدور اور کسان کی زندگی آسان نہیں کریںگے تب تک آپ کا ملک چل نہیں سکتا۔ اس لیے ایک بات یاد رکھنے کی ہے کہ دنیا کے کسی بھی ملک کو مڈل کلاس چلاتی ہے۔ سپریم کورٹ کے ججز کی تعداد 18 ہے اور اس کیلئے مختص بجٹ تقریباً ساڑھے سات ارب روپے ہے جبکہ آئینی عدالت کے ججز کی تعداد سات ہے اور مختص بجٹ چھ ارب روپے۔ آئینی عدالت کی اپنی عمارت نہیں ہے لیکن سوا ارب روپے اس کی مرمت اور دیکھ بھال کیلئے رکھے گئے ہیں۔ مانع حمل ادویات پر ٹیکس کے خاتمے کی تجویز ہے۔ اسی طرح امید ہے کہ غریب کم پیدا ہوں گے جس سے غربت میں اضافے کو بطریق احسن روکا جا سکے گا۔ ملک سے غربت ہر حال میں ختم کرنا ضروری ہے‘ غریب پیدا ہونے سے روک کر یا پھر غریب کو غربت اور مہنگائی کے ہاتھوں زندہ درگو کر کے۔ اسی طرح تاحیات مراعات لینے والوں نے ایک بیوہ کی پنشن دس سال تک محدود کر دی ہے۔ ہماری اشرافیہ میں شامل ملک کے مقتدر طبقوں نے بجٹ میں اپنے اور ایک دوسرے کے مالی مفادات کا بدرجہ اتم خیال رکھا ہے تاکہ وہ کرپشن کے ذریعے اپنے لیے مختص بھاری بھرکم بجٹ پر دونوں ہاتھ صاف کرتے رہیں۔ میں چار سال سے ایک بات کہہ رہا ہوں کہ پوری قوم صرف ایک کروڑ لوگوں کی غلام بنی ہوئی ہے۔یہ جو ساڑھے آٹھ سو ارب روپے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے نام پرلوگوں کو دیتے ہیں اور اس کے بدلے میں یہ لوگوں سے ووٹ لیتے ہیں‘ یعنی یہ لوگوں سے ووٹ لینے کا ایک طریقہ ہے۔ ہرعام شہری مختلف چیزوں کو خریدنے کیلئے روزانہ اوسطاً سات سو روپے حکومت کو ٹیکس دیتا ہے یعنی ماہانہ تقریباً 20 ہزار‘ اور یہ اس کو دس ہزار روپے واپس کر دیتے ہیں اور پھر اس کو کہتے ہیں کہ ہمیں ووٹ بھی دیں۔ لوگوں کو بھکاری بنانے کیلئے تو پیسے دیے جا رہے ہیں لیکن کام کرنے کیلئے لوگوں کو پیسے نہیں دیے جاتے۔ لوگوں کو ہنر سکھانے کیلئے پیسے نہیں دیے جاتے‘ نئی فیکٹریاں نہیں لگائی جاتیں جس سے لوگوں کو روزگار ملے حالانکہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ بیروزگاری اور مہنگائی ہے۔ یہ بجٹ بھی مہنگائی میں کمی کے بجائے اضافہ ہی کرے گا۔ حکمرانوں کو اپنے اللوں تللوں کیلئے مختص بجٹ کو کم کرنا ہو گا۔ یہ بجٹ لوگوں کی صحت اور تعلیم پر خرچ کرنا ہوگا تب جا کر ملک و قوم کے حالات بدلیں گے۔ بقول مولانا ظفر علی خان: خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلینہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/228_40817243.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>آئینہ … (2)(مفتی منیب الرحمٰن )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-06-20/52158/64066845</link><pubDate>Sat, 20 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-06-20/52158/64066845</guid><description>گزشتہ کالم میں ہم نے قومی بجٹ کے تناظر میں معیشت کی عمومی تصویر پیش کی کہ حکومت کے متوقع مجموعی محاصل کا 43فیصد قرضوں کی اقساط اور سود میں چلاجائے گا اور ساڑھے ستاون فیصد (8848 ارب روپے) صوبوں کو ان کے حصۂ رسدی کے مطابق منتقل ہو گا‘ اس میں سے صوبے مجموعی طور پر وفاق کو اعانت کے طور پر 1035ارب روپے لوٹائیں گے۔ حکومت نے بجٹ میں نان ٹیکس محاصل کا تخمینہ 5336ارب بتایا ہے۔ آمدنی کے شعبے میں باقی داخلی اور بیرونی متوقع قرض ہیں‘ ان میں عوام کو جاری کردہ نیشنل سیونگ سرٹیفکیٹ ہیں‘ جو حکومت کے ذمے قرض ہوتے ہیں اور اس پر حکومت سود بھی ادا کرتی ہے‘ اسی طرح سٹیٹ بینک آف پاکستان کے نیلام کردہ ٹریژری بل ہوتے ہیں‘ یہ بھی حکومت کے قلیل مدتی قرض ہوتے ہیں جو وہ بینکوں سے پیشگی طور پر حاصل کرتی ہے اور اصل مع سود واپس کرتی ہے‘ اس کے علاوہ پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز ہیں جو بعض اوقات عالمی مارکیٹ میں بھی فروخت کیے جاتے ہیں۔ اسی طرح روشن ڈیجیٹل اکائونٹ میں بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی رقوم بھی جمع ہوتی ہیں‘ ان پر سود بھی ادا کیا جاتا ہے اور اصل زر بھی واپس کرنا ہوتا ہے۔ حکومت اپنی مالی ضروریات پوری کرنے کیلئے منجمد اثاثوں کے عوض صکوک جاری کرتی ہے اور اس کا اجارہ حاملینِ صکوک کو ادا کیا جاتا ہے‘ یہ بھی قرض کی صورت ہے‘ کیونکہ ان صکوک سے کوئی معاشی سرگرمی پیدا ہوتی ہے‘ نہ روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور نہ قومی معیشت میں کوئی حقیقی اضافہ ہوتا ہے‘ یہ دراصل قرض حاصل کرنے کی ایک بالواسطہ صورت ہے۔پس ہماری قومی معیشت کی صورتحال دلکش ودلربا نہیں ہے‘ بلکہ دیدۂ بینا رکھنے والوں کیلئے اس میں بہت کچھ ہے۔ ہم قومی معاشی بحران سے تب نکل پائیں گے جب اپنے سالانہ مجموعی اخراجات سے زیادہ آمدنی کے ذرائع پیدا کریں اور اس اضافی آمدنی سے بتدریج قومی قرضوں کے بوجھ کو کم کریں۔ لیکن سردست ہر سال ہمارے مجموعی قومی قرضوں کی مالیت میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس میں کسی ایک حکومت کو مطعون کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا‘ بلکہ ہمیں آئندہ دس بیس سال کیلئے ایک حقیقت پر مبنی میثاقِ معیشت کی ضرورت ہے کہ کوئی بھی حکومت آئے‘ وہ اس پر مِن وعن عمل کرنے کی پابند ہو‘ اس پر متاثرہ اور مراعات یافتہ طبقات کی جانب سے جو دبائو آئے‘ اُسے سب جماعتیں مل کر برداشت کریں‘ یہ نہیں ہو سکتا کہ اپوزیشن والے ہیرو بنیں اور مسندِ حکومت پر بیٹھنے والے زیرو بنیں۔ غالب نے کہا تھا: &#39;&#39;قرض کی پیتے تھے مَے‘ لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں؍ رنگ لاوے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن‘‘۔پس قرض کی مے تو اپنی اپنی باری پر سب پیتے رہے ہیں‘ اب وقت آگیا ہے کہ اس کے نتیجے میں رونما ہونے والی فاقہ مستی کا بھی سب مل کر سامنا کریں۔ یہ تب ہو سکتا ہے کہ ہم ایک متحد اور منظم قوم بن جائیں‘ حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف میں منقسم ہونے کے بجائے سب حزبِ احتساب بنیں اور اپنا بے لاگ احتساب کریں‘ ذمہ داریوں کو قبول کریں‘ گریز کی راہ اختیار نہ کریں‘ بلکہ مشکلات کا سامنا کریں۔ ہمیں حیرت ہوتی ہے جب پارلیمنٹ میں موجود اور پارلیمنٹ سے باہرکی سیاسی جماعتیں بڑھ چڑھ کر مطالبات کرتی ہیں‘ حالانکہ بجٹ کے آئینے میں سب کچھ ان کے سامنے ہوتا ہے اور کوئی چیز مخفی نہیں ہوتی۔ لیکن عوام میں مقبولیت حاصل کرنے کیلئے ہم نوشتۂ دیوار کو بھی پڑھنے کا حوصلہ نہیں رکھتے اور آفتابِ نصف النہار کی طرح سامنے نظر آنے والے حقائق سے بھی آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔ مثلاً: کم از کم مشاہرہ لگ بھگ چالیس ہزار روپے مقرر کیا گیا ہے اور کوئی پارلیمنٹ کے اندر یا باہر اپوزیشن میں بیٹھ کر کہے گا: چالیس ہزار میں تو گزارہ نہیں ہوتا‘ کم ازکم مشاہرہ ایک لاکھ روپیہ ہونا چاہیے‘ حالانکہ زمینی حقیقت یہ ہے کہ چالیس ہزار روپے بھی لوگوں کو دستیاب نہیں ہیں۔ عربی زبان کا محاورہ ہے: &#39;&#39;حق کا ذائقہ اگرچہ کڑوا ہوتا ہے لیکن اپنی حقیقت میں وہ ہیرا ہوتا ہے‘‘۔ پس جب تک سب حقیقت پسند نہ بنیں‘ سچ کو تسلیم نہ کریں اور سچ کا سامنا کرنے کا حوصلہ نہ کریں‘ ملک ابتلا سے نہیں نکل سکتا‘ بلکہ یہ مشکلات کی دلدل میں دھنستا چلا جائے گا‘ اِلّا یہ کہ کوئی قدرت کی مدد آ جائے‘ پٹرول‘ گیس یا معدنیات کے غیر معمولی ذخائر نکل آئیں‘ لیکن ابھی تک اس کے بھی کوئی آثار نہیں ہیں۔ البتہ چین‘ جاپان‘ تائیوان‘ سنگاپور‘ کوریا اور ویتنام وغیرہ صنعتی ترقی کے ذریعے دنیا کی مستحکم معیشتوں میں شامل ہیں۔ ہماری حکومت بیرونی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتی رہتی ہے‘ حالانکہ سرمایہ دار اڑتا ہوا پنچھی ہے‘ وہ اس درخت پرآشیانہ بناتا ہے جہاں اسے جان‘ مال اور آبرو کے تحفظ کی مضبوط ضمانتیں ملیں‘ امن ہو‘ بے امنی اور فساد نہ ہو‘ آئین وقانون کی حکمرانی ہو‘ تجارت وصنعت کیلئے مطلوبہ ضروریات دستیاب ہوں‘ جیسے خام مال‘ سستی بجلی‘ گیس اور پانی وغیرہ۔ لازم ہے کہ وہ ایسی صنعتوں میں سرمایہ کاری کریں جن کی مصنوعات برآمد کی جائیں‘ بین الاقوامی مارکیٹ میں ان کی طلب ہو‘ مسابقت کی صلاحیت رکھتی ہوں اور ہماری بین الاقوامی ساکھ ایسی ہو کہ پابندیوں کا شکار نہ ہوں‘ کیونکہ بیرونی سرمایہ کار اپنا اصل سرمایہ معِ منافع زرِ مبادلہ کی صورت میں لے کر جائے گا اور یہ تبھی ہو سکتا ہے کہ اُن مصنوعات کی برآمدات سے اتنا زرِ مبادلہ کمایا جائے کہ سرمایہ کار اپنا اصل مع منافع بھی لے جائے اور پاکستان کو کچھ اضافی بچت مل جائے‘ نیز روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں۔حالیہ برسوں میں سفارتی میدان میں بلاشبہ پاکستان نے قابلِ افتخار کامیابیاں حاصل کی ہیں‘ بھارت اور اسرائیل کے سوا پوری دنیا اس کی معترف ہے اور اس کیلئے ہماری مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف تعریف وتحسین کے مستحق ہیں۔ امریکہ اور ایران کو ایک 14نکاتی مفاہمتی دستاویز پر متفق کرنا غیر معمولی سفارتی کارنامہ ہے‘ اللہ کرے کہ پاکستان کا یہ وقار و افتخار قائم ودائم رہے‘ اقوامِ عالَم ہم پر اعتماد کریں اور ہم ان کے اعتماد پر پورا اتریں۔ اس مفاہمتی محضرنامہ کے نتیجے میں اگر دو ماہ کے عرصے میں اصل معاہدہ پایۂ تکمیل تک پہنچ جاتا ہے تو قوی امید ہے کہ ایران سمیت مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کیلئے نئے امکانات پیدا ہوں گے‘ نیز پہلے کی طرح متحدہ عرب امارات کے ساتھ بھی ہمارے روابط بحال ہو جائیں گے‘ کیونکہ خلیجی ممالک کو اندازہ ہو گیا ہے کہ مشکل وقت میں امریکہ کماحقہٗ ان کا دفاع نہیں کر سکا۔ لہٰذا انہیں اپنی سلامتی کے امکانات خطے کے ممالک کے ساتھ پُرامن بقائے باہمی کی صورت میں تلاش کرنا ہوں گے اور ایران کو بھی خطے کی ایک برتر قوت کے طور پر انہیں تسلیم کرنا ہو گا۔ امریکہ ایران مفاہمتی دستاویز پر الیکٹرانک دستخط ہو چکے ہیں۔ پاکستانی ثالثی خدمات کے اعتراف میں اسے بجا طور پر &#39;&#39;اسلام آباد مفاہمتی دستاویز‘‘کا نام دیا گیا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خلیجی ممالک نے ایران کی تعمیرِ نو کیلئے تین سو ارب ڈالر بطورِ تاوانِ جنگ یا سرمایہ کاری کا وعدہ کیا ہے اور مفاہمتی یادداشت میں اس کا ذکر موجود ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے پیرس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسے تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے: &#39;&#39;ہم کچھ نہیں دیں گے‘ کوئی اور بھی حصہ لینا چاہے تو لے سکتا ہے‘‘۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکمت وتدبر کے ساتھ افغانستان کے ساتھ بھی دہشت گردی کے مسئلے کا مستقل اور دیرپا حل تلاش کیا جائے‘ آتشیں بیانات جاری کرنے کے بجائے پسِ پردہ اس کیلئے سلسلۂ جنبانی شروع کیا جائے‘ اسے بیک ڈور ڈپلومیسی کہا جاتا ہے۔ پاکستان اور چین کو وسطی ایشیائی ممالک اور وہاں سے یورپ تک افغانستان کے راستے ایک محفوظ راہداری چاہیے‘ اس میں پاکستان کے علاوہ خود افغانستان کا بھی اتنا ہی فائدہ ہے۔ جتنی محنت ایران پر کی گئی ہے‘ اسی طرح کی ذہنی‘ فکری اورعملی مشقت افغانستان کے حوالے سے بھی کرنے کی شدید ضرورت ہے‘ دعا ہے: اللہ تعالیٰ غیب سے خیر کی کوئی صورت مقدر فرمائے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_61172381.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>