<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات اور اقدامات(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-06/11253</link><pubDate>Sat, 06 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-06/11253</guid><description>عالمی یوم ماحولیات پر وزیراعظم شہباز شریف کے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان ان ممالک میں سرفہرست ہے جن کا عالمی سطح پر ماحولیاتی مضر اثرات میں نہایت کم حصہ ہے لیکن موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ پاکستان ماحولیاتی تنزلی کی غیر معمولی انسانی اور معاشی قیمت ادا کر رہا ہے اور یہ چیلنجز تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ گزشتہ چند برس کے دوران بے موسمی بارشوں کی وجہ سے ملک میں خوراک کی پیداوار کے شعبے پر اس کے شدید اثرات سامنے آئے۔ شدید بارشوں اور سیلابوں نے لاکھوں ایکڑ زرعی اراضی کو تباہ کر دیا‘ چاول‘ گنے اور کپاس کی پیداوار میں نمایاں کمی ہوئی۔ موسمیاتی تبدیلی کے باعث بے موسمی بارشوں اور سیلاب‘ خشک سالی کے طویل دورانیے‘ پانی کی قلت‘ درجہ حرارت میں اضافہ اور دیگرمسائل کے قومی معیشت پر شدید اثر ات ہیں۔ صرف یہی دیکھ لینا کافی ہوگا کہ 2022ء اور 2025ء کے سیلابوں سے ہونے والے مالی نقصان کا تخمینہ تقریباً 33 ارب ڈالر ہے۔

یہ صرف موسمیاتی تبدیلیوں کی ایک صورت سے ہونیوالا نقصان ہے۔ اس دوران درجہ حرارت میں اضافے اور گلیشیرز کے غیر معمولی پگھلاؤ سے ملک کے ماحول کو جو دیرپا نقصان ہوا‘ نیز خشک سالی کے جو اثرات ہیں ان کا تخمینہ کیونکر لگایا جا سکتا؟ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں سے ہونے والا نقصان کسی حدوحساب سے باہر ہے۔ اور یہ سب کچھ اس ملک کے ساتھ ہو رہا ہے جس کا عالمی موسمیاتی تبدیلیوں میں اپنا حصہ‘ بصورت کاربن اخراج‘ نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس طرح پاکستان ان ترقی یافتہ ممالک کی ترقی کی قیمت موسمیاتی المیوں کی صورت میں برداشت کر رہا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے جس پر حالیہ کچھ برسوں سے‘ بڑھتے ہوئے موسمیاتی نقصانات کے بعد زیادہ زور دیا جا رہا ہے اور ترقی یافتہ ممالک سے یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ ان نقصانات کی تلافی کریں‘ مگر ابھی تک اس حوالے سے کوئی بڑی پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔ بااثر اور ترقی یافتہ عالمی معیشتیں اگرچہ اس حقیقت کو مانتی ہیں کہ اُن کی ترقی کی قیمت ترقی پذیر اور کمزور معیشت والے ممالک برداشت کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی موسمیاتی تبدیلی کی سالانہ کانفرنسوں میں بھی اس پر زور دیا جاتا ہے مگر ابھی تک انصاف کے تقاضے پورے ہوتے نظر نہیں آئے۔ ترقی یافتہ ممالک کے کاربن اخراج کے اثرات اور ان کے مقابلے میں ان کے موسمیاتی تحفظ کے اقدامات اور اخراجات میں بہت بڑا فرق ہے۔
پاکستان کی جانب سے عالمی فورمز پر اس مقدمے کو مزید شدت سے اٹھانے کی ضرورت ہے کیونکہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات کی کلاسیک مثال بن چکا ہے۔ تاہم ملکی سطح پر بھی ہمیں ناگزیر اقدامات میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ ہو سکتا ہے چند برس پہلے کی حکومتوں کو یہ خطرہ دور دکھائی دیتا ہو اور انہوں نے اس سے نمٹنے کے اقدامات کو پہلی ترجیح نہ بنایا مگر آج یہ خطرات سر پر منڈلا رہے ہیں اور سال بھر ان کا سامنا رہتا ہے؛ لہٰذا اب موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات سے بچاؤ کے اقدامات میں تاخیر کی کوئی گنجائش نہیں۔ ہمیں بیک وقت کئی محاذوں پر کام کرنا ہو گا‘ انفراسٹرکچر کو بے موسمی بارشوں اور سیلابوں کے بڑھتے ہوئے خطرات کے تناظر میں تعمیر کرنا‘ خوراک کی پیداوار پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے فوڈ سکیورٹی کیلئے  اقدامات‘ درجہ حرارت میں اضافے کے منفی اثرات سے بچاؤ کے اقدامات تاکہ ہمارے شہر آنے والے وقتوں میں رہائشی چیلنجز سے نمٹنے کے قابل ہوں۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات ایسی حقیقت ہیں جن کی شدت محض یہ کہنے سے کم نہیں ہو سکتی کہ اس میں ہمارا کوئی کردار نہیں‘ نہ ہی اس مسئلے پر زوردار بیانات سے مسئلہ حل ہو گا۔ موسمیاتی تبدیلیوں کا مسئلہ حقیقی ہے اور یہ حقیقی اور عملی اقدامات کا تقاضا کرتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بھارتی آبی جارحیت(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-06/11252</link><pubDate>Sat, 06 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-06/11252</guid><description>وزارتِ خارجہ کی جانب سے خبر دار کیا گیا ہے کہ بھارت نے دریائے چناب پر اپنے متنازع آبی منصوبوں کو آگے بڑھایا تو پاکستان اس کا مناسب جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ بھارت نے حال ہی میں چناب کے 19لاکھ ایکڑ فٹ پانی کو ایک سرنگ کے ذریعے دریائے بیاس میں منتقل کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سالال ڈیم میں سلٹ فلشنگ جیسے اقدامات بھی زیر غور ہیں۔ یہ منصوبے سندھ طاس معاہدے کی روح اور متن دونوں سے متصادم ہیں۔ ورلڈ بینک اور ہیگ کی عالمی ثالثی عدالت بھی سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے پاکستان کے مؤقف کو جائز قرار دے چکی ہے۔ اس کے باوجود نئی دہلی کی ہٹ دھرمی اور عالمی معاہدے کی خلاف ورزی جاری ہے۔ دریائے چناب سمیت پاکستان کے حصے میں آنے والے دیگر دریاؤں کے پانی سے چھیڑ چھاڑ سے پاکستان کی زرعی پیداوار پر براہِ راست منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

پہلے ہی ملک میں بارشوں کے نظام میں تبدیلی کے باعث زرعی شعبہ زبوں حالی کا شکار ہے۔ اس لیے اس تنازعے کے اثرات صرف پانی کی تقسیم تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اس سے غذائی تحفظ کے خطرات بھی جنم لیں گے۔لہٰذاورلڈ بینک‘ عالمی ثالثی عدالت اور دیگر بااثر عالمی طاقتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ بھارت کو آبی جارحیت سے باز رکھنے کیلئے عملی کردار ادا کریں۔ اگر بھارت اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہا تو یہ خطہ ایک نئی کشیدگی کی طرف بڑھ سکتا ہے جس کا متحمل جنوبی ایشیا ہرگز نہیں ہو سکتا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مہنگائی کا طوفان(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-06/11251</link><pubDate>Sat, 06 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-06/11251</guid><description>وفاقی ادارۂ شماریات کے مطابق ہفتہ وار مہنگائی 14.75 فیصد تک پہنچ گئی جبکہ گزشتہ ہفتے کے دوران 22 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پیاز کی قیمت میں سالانہ بنیادوں پر 100فیصد‘ آٹا 60 فیصد‘ بجلی 60فیصد‘ ایل پی جی 57فیصداور پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 50فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا ہے۔ مہنگائی میں اس اضافے کو محض جنوبی ایشیا میں جاری کشیدگی کا نتیجہ قرار دینا حقائق سے صرفِ نظر کے مترادف ہو گا۔ حقیقت یہ ہے کہ ٹیکسوں کا بڑھتا ہوا بوجھ‘ معاشی سرگرمیوں میں سست روی‘ ذخیرہ اندوزی‘ ناجائز منافع خوری اور کمزور انتظامی نگرانی ایسے عناصر ہیں جنہوں نے مہنگائی کو دوچند کیا ہے۔

متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کو اپنی محدود آمدن میں یہ فیصلہ کرنا دشوار محسوس ہوتا ہے کہ بجلی کا بل ادا کریں‘ بچوں کی فیس دیں یا گھر کیلئے راشن خریدیں۔ ایسے میں حکومت کی جانب سے سٹیشنری آئٹمز پر 18فیصد جنرل سیلز ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ تعلیمی اخراجات کو مزید بڑھائے گا۔ حکومت کو چاہیے کہ عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ کم کرنے‘ ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری کیخلاف مؤثر کارروائی کرنے‘ اشیائے خورونوش کی سرکاری نرخوں پر دستیابی یقینی بنانے‘ روزگار کے مواقع پیدا کرنے‘ چھوٹے کاروبار کو سہولتیں دینے‘ زرعی شعبے کی پیداوار بڑھانے اور عوام کی معاشی قوت بہتر بنانے کیلئے جامع حکمت عملی اختیار کی جائے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ہمارا قومی بیانیہ کیا ہے؟(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-06-06/52069/69050064</link><pubDate>Sat, 06 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-06-06/52069/69050064</guid><description>کیا آج ہمارے پاس کوئی ایسا بیانیہ موجود ہے جسے ہم &#39;قومی‘ قرار دے سکیں؟ قومی بیانیے سے میری مراد وہ بیانیہ ہے جس پر پوری قوم کا اتفاق ہو۔صرف اختلاف ہی سماجی عمل کا حصہ نہیں ہے‘ اتفاق بھی ایک سماجی حقیقت ہے۔ یہ مذہب ہو یا سیاست‘ ہم پر اختلاف کا اتنا غلبہ ہے کہ ہم اسی کو موضوع بنائے رہتے ہیں۔ اپنا مؤقف مثبت طور پر پیش کر نے کے بجائے ہمارا زیادہ اصرار تنقید پر ہوتا ہے۔ ہم زیادہ توانائیاں اس پر خرچ کرتے ہیں کہ اپنا امتیاز ثابت کر سکیں۔ جب یہ رویہ تنقید کی زد میں آتا ہے تو ہم اختلاف کے حق میں دلائل تلاش کرتے رہتے ہیں۔ اسے ایک فطری عمل قرار دیتے ہیں۔ یہ بات درست ہے مگر کیا اتفاق بھی ایک فطری عمل نہیں ہے؟ کیا ہم اس کو بھی اسی شدت اور اصرار کے ساتھ موضوع بناتے ہیں؟استاد جاوید احمد غامدی صاحب سے کسی نے پوچھا: آپ کے ڈاکٹر اسرار احمد صاحب سے کیا اختلافات ہیں؟ ان کا جواب تھا: آپ مجھ سے یہ سوال بھی کر سکتے تھے کہ میرے ان کے ساتھ اتفاقات کیا ہیں؟ اختلافات کی فہرست شاید بہت محدود اور اتفاقات کی طویل ہو۔ کیا ہم نے کبھی غور کیا کہ سیاسی و مسلکی اور مذہبی و ثقافتی اختلافات کے باوجود ہمارے مابین اتفاقات کیا کیا ہیں اور کیا ہم ان کی بنیاد پر مل کر کوئی قومی بیانیہ بنا سکتے ہیں؟ ایسا بیانیہ جس پر سب متفق ہوں؟ یہ کام ابتدائی مرحلے میں اہلِ دانش اور سول سوسائٹی کی سطح پر ہوتا ہے۔ دوسرے مرحلے میں تمام سماج اور پھر ریاست اسے قبول کر لیتے ہیں۔ یورپ میں ایسا ہی ہوا تھا۔ سماجی سطح پر اہلِ علم و دانش نے ایک تحریکِ تنویر اٹھائی اور پھر اس کی روشنی میں سارا یورپ نہا گیا۔ اعیان‘ اہلِ مذہب‘ بادشاہ‘ اہلِ سیاست کوئی گروہ ایسا نہ رہا جس نے خود کو اس تحریک کے مقاصد سے ہم آہنگ نہ بنایا ہو۔ تحریکِ پاکستان نے بھی ایسا ہی ایک بیانیہ دیا جسے مسلمانوں کی اکثریت نے قبول کر لیا۔ اسی طرح کا قومی بیانیہ انڈونیشیا میں بھی ہے &#39;پنج شیلا‘ کے عنوان سے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اختلاف ختم ہو گیا۔ وہ باقی رہا مگر اتفاق نے ایک قومی بیانیے کی صورت اختیار کر لی۔معلوم ہوا کہ اختلاف کے باوصف لوگ اجتماعی نفع اور مفاد کے لیے جمع ہو سکتے ہیں‘ اگر کوئی اس کی کوشش کرے۔ یہ پاکستان ہو یا بھارت‘ ایران ہو یا امریکہ۔ انسانی فطرت ایک جیسی ہے اور سماجی حرکیات بھی ایک جیسی۔ اگر ان فطری مطالبات کو سامنے رکھا جائے تو عالمِ انسانیت کے لیے ایک بیانیہ تجویز کیا جا سکتا ہے۔ علم کی دنیا میں اس کے شواہد موجود ہیں۔ نبی کریمﷺ نے خطبہ حجۃ الوداع اور اس سے پہلے میثاقِ مدینہ میں جو آدابِ زندگی سکھائے‘ بیسویں صدی میں ترتیب پانے والا انسانی حقوق کا چارٹر اسی کی صدائے بازگشت ہے۔ ہمارے اسلاف نے جو مقاصدِ شریعت بیان کیے ہیں دورِ جدید میں وہی قومی ریاست کے مقاصد ہیں۔ یہ انسانی تعصبات اور مفادات ہیں جو ہمیں امتیازات کی طرف دھکیلتے ہیں۔ اگر انسان ان دونوں سے آزاد ہو سکے تو عالمِ انسانیت کو جمع کیا جا سکتا ہے‘ امتیازات کو برقرار رکھتے ہوئے بھی۔آج پاکستان میں سڑکیں بن رہی ہیں مگر ٹریفک کا رش کم ہونے کو نہیں آ رہا۔ کوئی میچ ہو‘ تقریب ہو‘ کسی مہمان کی آمد ہو‘ ہزاروں لوگ اس سے بے پناہ نقصان اٹھاتے ہیں اور شدید اذیت سے گزرتے ہیں۔ کیا سب شہری یہ نہیں چاہتے کہ اس تکلیف سے نجات ملے؟ زرعی زمینوں پر ریت ا ور سیمنٹ کے پہاڑ کھڑے کیے جا رہے ہیں۔ اس کا ناگزیر نتیجہ اناج اور پانی کے ذخائر میں کمی ہے۔ کیا ہم سب یہ نہیں چاہتے کہ ہماری یہ زمین باقی ر ہے؟ پاکستان میں مسلمانوں کے کئی مسالک ہیں۔ اس کے ساتھ غیر مسلم بھی آباد ہیں۔ کیا ہماری یہ خواہش نہیں ہے کہ ملک میں مذہبی ہم آہنگی ہو۔ سب کو اپنے اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزارنے کی آزادی ہو؟ اڑھائی کروڑ بچے اس وقت تعلیم کی سہولت سے محروم ہیں۔ ہسپتال مریضوں کے تعداد کے سامنے سکڑ چکے۔ کیا ہم یہ خواہش نہیں کرتے کہ پاکستان میں ہر بچے کو مفت تعلیم اور ہر شہری کو صحت کی سہولت ملے؟ ہم چاہیں تو اس فہرست کو طویل کر سکتے ہیں۔ اس طرح ہم ان امور کی آسانی کے ساتھ نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی بنیاد پر قومی بیانیہ تشکیل دیا جا سکتا ہے۔بعض معاملات ایسے ہیں جنہیں لازماً قومی بیانیے کا حصہ ہونا چاہیے لیکن ہم جانتے ہیں کہ سرِ دست‘ بوجوہ ہم ان پر اصرار نہیں کر سکتے۔ جیسے ریاست کے معاملات عوام کے منتخب نمائندوں کے پاس ہوں۔ انتخابات آزادانہ اور شفاف ہوں۔ قانون سازی کا مرکز پارلیمان ہو۔ ان امور کو شامل کیے بغیر کوئی قومی بیانیہ نہیں بن سکتا۔ اس اعتراف کے ساتھ کیا یہ قابلِ فہم ہے کہ ہم ان پر مورچہ لگا لیں اور ان باتوں کو نظر انداز کر دیں جن پر آج پیش رفت ہو سکتی ہے؟ کیا یہ ممکن نہیں کہ یہ باتیں قومی بیانیے کا &#39;خاموش‘ یا بین السطور حصہ ہوں اور ہم ان امور پر توجہ مرکوز کریں جن پر اختلاف نہیں ہے؟ ہم جانتے ہیں کہ اس وقت ان کی خواہش تو کی جا سکتی ہے‘ انہیں حقیقت کا لباس نہیں پہنایا جا سکتا۔ کیا ہم اتفاقات سے بات شروع نہیں کر سکتے؟ کیا بہتری کی طرف مراجعت ممکن نہیں؟مشترکہ امور پر مشتمل ایک قومی بیانیہ ہماری ضرورت ہے۔ ان میں سے بعض کام وہ ہیں جو سماجی سطح پر ہونے ہیں اور بعض ریاستی سطح پر۔ پہلے مرحلے میں لازم ہے کہ ان پر قومی اتفاق ہو۔ میں ایسے چند نکات کی نشاندہی کر سکتا ہوں جیسے: آبادی میں اضافہ اَن گنت سماجی و معاشی مسائل کو جنم دے رہا ہے۔ اس کو قابو میں لانا ہماری قومی ضرورت ہے۔ تعلیم اور صحت ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ ٹیکسوں کا موجودہ نظام انتہائی ظالمانہ ہے۔ لازماً ایک ایسا متبادل نظام وضع کیا جائے جس کے نتیجے میں کھانے پینے اور عام استعمال کی اشیا سستی اور اس شہری کی پہنچ میں ہوں جس کی کم ازکم تنخواہ 37ہزار روپے ہے۔ عدالتوں کو پابند بنایا جائے کہ مقدمات کا فیصلہ ایک مخصوص مدت کے دوران میں ہو جائے۔ مذہبی آزادی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ تمام مذہبی عبادات عبادتگاہوں تک محدود ہوں۔ زرعی زمین جو بچ گئی ہے اس کی حفاظت قومی ضرورت ہے۔ اسی طرح درختوں کو قومی ملکیت قرار دیا جائے جنہیں عدالت کی اجازت کے بغیر نہیں کاٹا جا سکتا۔ کسی مذہبی یا قومی تقریب کے نام پر‘ سیاسی آزادی یا کھیل تماشے کے نام پر راستے اور سڑکیں بند نہیں کی جا سکتیں۔ ہر شہر میں ایک مقام سیاسی اور ثقافتی و سماجی سرگرمیوں کے لیے مختص ہو۔ قومی مسائل کو پارلیمان میں حل کیا جائے اور آزادانہ و شفاف انتخابات کو یقینی بنایا جائے۔ آزادیٔ رائے میسر ہو۔ ذرائع ابلاغ آزاد ہوں لیکن دوسروں کی پگڑی اچھالنے کی کسی صورت اجازت نہ ہو۔یہ کوئی حتمی فہرست نہیں ہے۔ ان نکات میں کمی بیشی اور تقدم و تاخیر ہو سکتی ہے۔ اہلِ دانش عوامی سطح پر ان نکات پر اتفاقِ رائے پیدا کریں۔ سیاسی جماعتوں کو مجبور کیا جائے کہ یہ ان کے انتخابی منشور کا حصہ بنیں۔ ان میں کوئی بات ایسی نہیں جس سے کسی شیعہ یا سنی‘ مسلم یا غیر مسلم‘ انصافی یا (ن) لیگی کو اختلاف ہو۔ یہ ممکن ہے کہ بعض باتوں میں جزوی اختلاف ہو لیکن ریاست اگر حسبِ خواہش علما اور سیاستدانوں کو جمع کر سکتی ہے تو ایسے قومی ایجنڈے پر کیوں نہیں۔ تاہم میرے نزدیک پہلے مرحلے میں سماجی اور عوامی سطح پر اتفاقِ رائے پیدا کرنا ضروری ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>نہ ہوسی ڈھولا‘ نہ پوسی رولا(خالد مسعود خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-06-06/52070/31764268</link><pubDate>Sat, 06 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-06-06/52070/31764268</guid><description>مسئلہ حکومت پر تنقید کا نہیں‘ مسئلہ عوام کی حالتِ زار کا ہے۔ دنیا میں ریاستیں عوام کے تحفظ‘ بنیادی حقوق کی فراہمی اور عدل و انصاف کو یقینی بنانے کی بنیاد پر وجود میں آئیں۔ حکومت ریاست کا انتظامی شعبہ ہوتا ہے اور اس پر ریاست کے آئین میں عوام کو دی گئی ضمانتوں پر عملدرآمد کرانے‘ وعدہ کردہ سہولتیں بہم پہنچانے اور ان کے حقوق کے تحفظ کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اور یہی اس کا بنیادی کام ہے۔ حکومتیں اچھا کام بھی کرتی ہیں اور کچھ ناپسندیدہ فیصلے بھی ان سے وابستہ ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے ہر طبقے کو خوش رکھنا ناممکنات میں شامل ہے۔ دنیا بھر میں چلن ہے کہ حکومت کی برُی کارکردگی سے یا اس کی ذمہ داریوں سے پہلو تہی کے نتیجے میں جب عام آدمی متاثر ہوتا ہے تو وہ احتجاج کرتا ہے‘ حکومت کو برا بھلا کہتا ہے‘ کوسنے دیتا ہے اور کچھ بھی نہ کرے تو دل سے ضرور برُا سمجھتا ہے لیکن ہمارے ہاں عوام حکومتی کارکردگی کا جائزہ غلط یا صحیح کی بنیاد پر نہیں سیاسی وابستگی کی بنیاد پر لیتے ہیں۔ اپوزیشن کو حکومت کے ہر اچھے کام میں بھی برائی دکھائی دیتی ہے‘ اگر برائی دکھائی نہ دے تو نیت کی خرابی موضوعِ بحث بن جاتی ہے۔ اسی طرح حکومت کی وہ خرابیاں‘ جو اظہر من الشمس ہیں‘ حکومت کے حامیوں کو اوّل تو وہ دکھائی ہی نہیں دیتیں اور اگر انہیں دکھائی جائیں تو وہ اپنا منہ دوسری طرف پھیر کر ماضی کی حکومتوں پر ملبہ ڈالنا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ قصہ آج کا نہیں عشروں سے یہی ہو رہا ہے۔ وہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت ہو‘ پیپلز پارٹی کی سرکار ہو یا عمران خان کا دورِ حکومت ہو‘ حامیوں اور مخالفوں کا رویہ یکساں طور پر بے ایمانی اور خیانت کے سر پر چل رہا ہے۔صحت‘ تعلیم‘ امن و امان‘ عدل و انصاف اور شرفِ انسانی سے وابستہ حقوق کا حصول جہاں ہر شہری کا حق ہے وہیں ان کی فراہمی ہر حکومت کا فرض بھی ہوتا ہے۔ عدل و انصاف‘ امن و امان‘ صحت اور تعلیم کی فراہمی کی صورتحال سب کے سامنے ہے۔ ملک بھر میں دو کروڑ 63لاکھ کے لگ بھگ سکول جانے کی عمر کے بچے تعلیم سے محروم ہیں۔ اس میں دیگر کئی عوامل بھی ہوں گے تاہم اس کی سب سے بڑی وجہ غربت اور اس کے مقابلے میں مہنگی تعلیم ہے۔ سکول جانے کی عمر کے بچے ورکشاپوں‘ ریستورانوں‘ منڈیوں اور دکانوں میں &#39;&#39;چھوٹے‘‘ کے فرائض سر انجام دینے پر مجبور ہیں۔ اَن گنت بچے سڑکوں پر بھیک مانگنے یا گلیوں میں آوارہ گردی میں مصروف ہیں۔ ہمہ وقت اگلے وقت کی روٹی کیلئے تگ و دو میں جتے ہوئے والدین اپنے بچوں کو سکول بھیجنے کے بجائے چھوٹی عمر میں کمانے کیلئے بھیج دیتے ہیں۔ تعلیم مفت اور لازمی ہوتی تو اڑھائی کروڑ سے زیادہ بچے‘ جو کُل ملکی آبادی کے دس فیصد سے بھی زائد ہیں‘ اس طرح گلیوں‘ ورکشاپوں‘ ہوٹلوں اور دکانوں میں اپنا مستقبل برباد نہ کر رہے ہوتے۔ جیسا کہ میں نے پہلے کہا ہے کہ حکومت ریاست کا انتظامی عضو ہے اس کا کام ادارے بنانا ہی نہیں بلکہ ادارے چلانا بھی ہے۔ معاملات کو سیدھا رکھنا‘ خرابیوں کو درست کرنا‘ نظام میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا اور نظم و نسق کو برقرار رکھنا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اگر حکومت یہ سب کچھ کرنے کی پوزیشن میں نہیں یا ناکام ہے تو اسے حکومت میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔مگر حکومتوں نے ہر خرابی کا حل یہ نکالا ہے کہ خرابی کو دور کرنے کے بجائے سرے سے سارا معاملہ ہی صاف کر دیا جائے۔ خراب اداروں یا شعبوں کو ٹھیک کرنے کے بجائے بند کر دیا جائے یا نجی شعبے کے حوالے کر دیا جائے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ سب کچھ نجی شعبے میں بھیجنے کے باوجود سرکار کے افسروں کی تعداد اور بیوروکریسی کا سائز مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ہسپتالوں میں انتظامی معاملات قابو سے باہر ہو گئے تو انہیں کنٹرول کرنے اور درست سمت میں لانے کے بجائے نجی شعبے کے حوالے کر کے جان چھڑانے کا عمل شروع کر دیا گیا۔ صحت کو عوام کی بنیادی ضرورت سمجھ کر اپنی ذمہ داری نبھانے کے بجائے سرکار نے اسے بتدریج نجی شعبے کے سپرد کرنا شروع کر دیا۔ حکومت خوش ہے کہ اس کی ایک ذمہ داری سے جان چھوٹ گئی اب عوام جانیں اور ہسپتال چلانے والے جانیں۔ اسی طرح حکومت آہستہ آہستہ سکولوں اور کالجوں سے اپنی جان چھڑا رہی ہے۔ تعلیم نہ صرف مہنگی ہو گئی ہے بلکہ اس کا معیار بھی آسمان سے گر کر پاتال میں پہنچ چکا ہے۔ اللہ بخشے ماسٹر اقبال کو‘ وہ میونسپل پرائمری سکول کڑی جمنداں میں استاد تھے۔ انہوں نے میٹرک کرنے کے بعد پرائمری سکول میں پڑھانے کی اہلیت کیلئے درکار لازمی تربیتی کورس پی ٹی سی کیا ہوا تھا۔ یہی کچھ میرے میونسپل پرائمری سکول چوک شہیداں میں پانچویں جماعت کے استاد ماسٹر غلام حسن نے کیا ہوا تھا۔ دونوں استاد‘ اللہ انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے‘ ایسے شاندار معلم تھے کہ آج بھی سوچوں تو دل سے دعا نکلتی ہے۔ پڑھانے کے فن میں طاق اور اپنے شعبے میں انتہائی قابلِ احترام سمجھے جاتے تھے۔ اب یہ عالم ہے کہ میونسپلٹی کے خاکروب اور مالی ساٹھ ہزار روپے تنخواہ لے رہے ہیں جبکہ نجی مالکان کے زیر انتظام چلنے والے سکولوں میں انڈر میٹرک استاد چھ سات ہزار تنخواہ پر نالائقی تقسیم کر رہے ہیں۔ ایک طرف حکومت کا مالی بوجھ کم ہو رہا ہے تو دوسری طرف ملک کے مستقبل پر نالائقوں کا بوجھ بڑھتا جا رہا ہے۔حکومت پنجاب نے دو مرحلوں میں تقریباً 10 ہزار سکول پرائیویٹ پبلک پارٹنرشپ ماڈل کے تحت آؤٹ سورس کر دیے‘ تیسرے مرحلے میں مزید 2700سکول اور اب چوتھے مرحلے میں 5860پرائمری اور ایلیمنٹری سکولوں کو شارٹ لسٹ کیا گیا ہے۔ سروے کے مطابق شارٹ لسٹ کیے گئے ان سکولوں میں سے 567 سکول ایسے ہیں جہاں سرے سے کوئی استاد ہی موجود نہیں۔ یعنی یہ سکول اس لیے نجی شعبے میں دیے جا رہے ہیں کہ یہاں کوئی استاد موجود نہیں اور یہ اس علاقے کے بچوں کا‘ ان کے والدین کا اور اس علاقے کے رہائشیوں کا قصور ہے کہ ان سکولوں میں استاد نہیں ‘ لہٰذا اس نااہلی اور بدانتظامی کے باعث حکومت نے سزا کے طور پر یہ سکول نجی شعبے میں دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان 5860 سکولوں میں سے 2555 سکولوں میں صرف ایک استاد تعینات ہے۔ 2741 سکولوں میں 50 طلبہ کیلئے صرف دو اساتذہ موجود ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ نجی شعبے کے تعاون سے ان سکولوں کا تعلیمی معیار بہتر ہو گا۔ سکول سے باہر بچوں کو تعلیمی نظام میں لایا جا سکے گا اور سرکاری وسائل پر بوجھ بھی کم ہوگا۔ جس صوبے میں حکمرانوں کی سفری آسائش کی خاطر اربوں روپے کا جہاز خریدا جاسکتا ہے وہاں تعلیم فراہم کرنے کو سرکاری وسائل پر بوجھ سمجھنا بے حسی کی آخری انتہا ہے۔سکولوں کا دھڑن تختہ کرنے کی کامیاب کاوش کے بعد پنجاب حکومت نے دن رات کی محنتِ شاقہ سے اب صوبہ بھر میں موجود 76 کامرس کالجوں کو ٹھکانے لگانے کا منصوبہ بھی مکمل کر لیا ہے۔ ابتدائی مرحلے میں ان 76 میں سے 27کالجوں کو پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کے حوالے کر کے ان کے کیمپس بنائے جائیں گے۔ 25 کالجوں کو نجی شعبے کے سپرد کر دیا جائے گا اور باقی ماندہ 24 کالجوں کو دیگر اداروں میں ضم یا بند کر کے ان میں زیر تعلیم 19 ہزار طلبہ کو دوسرے قریبی کالجوں میں منتقل کر دیا جائے گا۔ اللہ اللہ خیر سلا۔ سرائیکی میں کہتے ہیں &#39;&#39;نہ ہوسی ڈھولا نہ پوسی رولا‘‘۔ یعنی نہ محبوب ہوگا اور نہ اس سے متعلق کوئی جھگڑا ہو گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90500073.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بجٹ کا ایک بار پھر تماشا(ڈاکٹر حسین احمد پراچہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-06-06/52071/94560290</link><pubDate>Sat, 06 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-06-06/52071/94560290</guid><description>اسداللہ خان غالب نے کہا تھا ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگےیہاں پاکستان میں ہر سال ایک بار قومی اسمبلی میں بجٹ کا تماشا ہوتا ہے اور پھر سارا سال بیچارے عوام تماشا بنے رہتے ہیں۔ وطنِ عزیز میں بجٹ نہ لفظوں کی ساحری ہے نہ حسین خوابوں کی جادو گری‘ بلکہ یہ اعداد وشمار کی ہیرا پھیری ہے۔ خلاصۂ کلام یہ ہے کہ اس سال بھی وہی کچھ ہو رہا ہے جو گزشتہ کئی دہائیوں سے ہر سال ہوتا چلا آیا ہے۔ یعنی ملک کی محدود تعداد امیر تر بلکہ امیر ترین ہوتی جاتی ہے اور باقی سب غریب ترین ہو رہے۔ پنجابی میں مثل مشہور ہے جس کی تان اس &#39;&#39;مکدی گل‘‘ پر آ کر ٹوٹتی ہے کہ جس کا قرض دینا ہو اس کی ہر بات ماننا پڑتی ہے۔ اس وقت حکومت کا مخمصہ یہ ہے کہ اگر وہ آئی ایم ایف کی ہدایات کو مان لیتی ہے تو عوام ناراض ہو جاتے ہیں اور اگر عوام کو خوش کرنے کیلئے اُن کی گردنوں کے گرد کَسے ہوئے شکنجے کو ذرا سا ڈھیلا کرتی ہے تو آئی ایم ایف ناراض ہو جاتا ہے۔ حکومت کا وتیرہ یہی ہے کہ عوام مرتے یا سسکتے ہیں اس کی اسے پروا نہیں۔ حکمرانوں کو ہر قیمت پر آئی ایم ایف کی خوشنودی درکار ہے۔ بنیادی حقیقت یہ ہے کہ حکمران ہر سال بیرونِ ملک سے سرمایہ کاری لانے کے سپنے دکھاتے ہیں‘ ملک میں انڈسٹری لگانے‘ زراعت کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور روزگار اور کاروبار کے نئے مواقع پیدا کرنے کی نوید سناتے ہیں مگر ہر مالی سال کے اختتام پر نتیجہ یہ سامنے آتا ہے کہ قرض پہلے سے کہیں بڑھ چکا ہوتا ہے‘ بڑے عالمی اداروں کے علاوہ غیر ملکی وملکی بینکوں سے کڑی سودی شرائط پر قرض کے پہاڑ عوام کے سروں پر لاد دیے جاتے ہیں۔ سرمایہ کاری نہیں ہوتی‘ برآمدات بڑھنے کے بجائے کم ہو جاتی ہیں‘ شرح نمو نیچے آ جاتی ہے اور مہنگائی کا گراف اوپر سے اوپر چلا جاتا ہے۔ طرح طرح کے من لبھانے والے نمائشی نعرے لگائے جاتے ہیں۔ اڑان پلان کے تحت برآمدات کا ہدف 60 ارب ڈالر کا طے ہوا مگر پہلے سال ہی پانچ فیصد سے زیادہ گراوٹ ہو گئی۔ تجارتی خسارہ گیارہ ماہ میں 17 فیصد بڑھ کر 34 ارب ڈالر سے بھی اوپر جا پہنچا۔ معیشت اور گورننس کا سارا کچا چٹھا کھولنے کے بعد آج کالم میں اہلِ پاکستان کو بتایا جائے گا کہ وہ آسیب کا سایہ کیا ہے کہ جس کی بنا پر ہر سال ملک ترقی کے بجائے تنزلی کی اتھاہ گہرائیوں کی طرف لڑھکتا جا رہا ہے۔مالی سال 2025ء میں ایف بی آر کو تقریباً 13 ہزار ارب روپے کے ٹیکس کا ٹارگٹ دیا گیا جو عملاً 11700 ارب روپے کے قریب اکٹھا ہو سکا۔ ذرا یہ تلخ حقائق بھی سامنے رہنے چاہئیں کہ 25 کروڑ کی آبادی میں سے صرف 70 لاکھ افراد براہِ راست ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ ان میں سے بھی اکثر قابلِ ٹیکس آمدنی کو گھٹا کر دکھاتے ہیں۔ باقی ساری آبادی کو بالواسطہ ٹیکس‘ سیلز ٹیکس اور پٹرول پر عائد بھاری لیوی کے طور پر بہ جبر و اکراہ ادا کرنا پڑتے ہیں۔ تقریباً دو سال پہلے پاکستان پر بیرونی قرضہ 131 ارب ڈالر تھا جو اَب بڑھ کر 138 ارب ڈالر ہو چکا ہے۔ پاکستان کی کُل آبادی میں سے 45 فیصد خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اُن کی تقریباً دو ڈالر یومیہ آمدنی کی قوتِ خرید بے پناہ مہنگائی کی بنا پر اور بھی کم ہوتی جاتی ہے۔ گزشتہ کئی برس سے پاکستان میں کوئی بڑی سرمایہ کاری نہیں آئی۔ براہ راست ٹیکس ادائیگی کا ہم اوپر ذکر کر چکے‘ اب جو جنرل سیلز ٹیکس پاکستان کے کم آمدنی والے حتیٰ کہ خطِ غربت سے نیچے 45 فیصد عوام بھی دینے پر مجبور ہیں‘ اس کی شرح اس وقت 18 فیصد ہے۔ یہ ٹیکس تمام تر اشیا اور خدمات جیسے بجلی وگیس کا بل‘ ٹرانسپورٹ کے ٹکٹ وغیرہ پر ادا کرنا پڑتا ہے۔ جو بینظیر انکم سپورٹ کا مستحق ہے وہ ماچس کی ڈبیہ پر بھی جی ایس ٹی ادا کر کے اسے خریدے گا۔ اب شنید ہے کہ نئے بجٹ میں یہ ٹیکس 19 فیصد کر دیا جائے گا اور مزید کئی ٹیکس عائد کیے جائیں گے۔ جنرل سیلز ٹیکس کے علاوہ پٹرول پر 117.41 روپے فی لیٹر لیوی اس لیے ادا کرنا ہوتی ہے تاکہ حکومت کے پاس مزید پٹرول خریدنے کیلئے وافر رقم موجود ہو۔ اس کے علاوہ کلائمیٹ سپورٹ لیوی 2.50 روپے فی لیٹر لی جاتی ہے۔ ایک محنت کش کو ایک لیٹر میں پٹرول کی قیمت کے علاوہ کئی قسم کے ٹیکسز ادا کرنا ہوتے ہیں۔ اسی پر بس نہیں بلکہ پٹرول اور ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی بنا پر ہر چیز کی قیمتیں جب مزید بڑھتی ہیں تو اس چکی میں پاکستان کی تقریباً 70 فیصد آبادی پس جاتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ 1998ء میں ہم ایٹمی قوت بنے اور اب 2026ء میں ربِ ذوالجلال کے فضل وکرم سے ثالثی کی بنا پر عالمی سطح پر ہماری ملکی ساکھ بہت بلند ہوئی ہے مگر جب دنیا کی نظر ہماری پسماندہ معیشت اور ہماری کرپشن زدہ بیڈ گورننس پر پڑتی ہے تو وہ اس تضاد پر بہت حیران ہوتی ہے۔ اگر ہماری سیاسی قیادت نے اپنی مفاد پرستی میں کمی نہ کی تو ہم اس مالی بھنور اور معاشی گرداب سے کبھی نہیں نکل پائیں گے۔ یہی وہ آسیب کا سایہ ہے جو ہمیں آگے نہیں بڑھنے دیتا۔ اس وقت ہماری معیشت کا انحصار صرف دو طرح کی آمدنیوں پر ہے۔ ایک تو سمندر پار پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر اور دوسری زراعت۔ زیادہ تر ترسیلاتِ زر سعودی عرب‘ متحدہ عرب امارات اور قطر وغیرہ سے وصول ہوتی ہیں۔ 2025ء میں یہ ترسیلاتِ زر 38.5 بلین ڈالر تھیں۔ 45 درجے سینٹی گریڈ کی شدید گرمی میں کام کرنے والے ہمارے لاکھوں مزدور ان رقوم سے اپنا اور پاکستان دونوں کا کچن چلا رہے ہیں۔ مگر ہم نے وطن واپس آنے کے بعد ان کی مستقل آمدنی اور ان کیلئے کوئی اولڈ ایج سکیم تک نہیں دی۔ حالات کے اتار چڑھاؤ جیسا کہ آج کل جنگی حالات ہیں‘ میں یہ ترسیلات گھٹتی بڑھتی رہتی ہیں۔ لہٰذا ہماری غذائی ضروریات اور برآمدات کا مرکزی انحصار زراعت پر ہے‘ جو ہمارا دوسرا بڑا ذریعۂ آمدنی ہے۔ حکومتوں کی ناقص پالیسیوں نے زراعت کو بھی تباہی و بربادی سے دوچار کر دیا ہے۔ بھارتی پنجاب اور پاکستانی پنجاب کی زرعی زمین کی خاصیت اور موسمی حالات یکساں ہیں مگر انڈیا میں کسان کو بے پناہ سہولتیں حاصل ہیں۔ کسان بورڈ کے صدر نے بتایا کہ انڈیا میں یوریا کی ایک بوری پاکستانی کرنسی کے مطابق 900 روپے کی ہے جبکہ پاکستان میں تقریباً پانچ ہزار روپے کی۔ اسی طرح ڈی اے پی فرٹیلائزر کی بوری بھارت میں چار ہزار روپے جبکہ یہاں اس کی کم از کم قیمت پندرہ سے سولہ ہزار روپے ہے۔ انڈیا میں حکومت کسان کو مفت بجلی فراہم کرتی ہے اور یہاں بجلی کے ریٹس ناقابلِ برداشت ہیں۔ جنوبی پنجاب میں حکمران اشرافیہ نے اپنے منافع کی خاطر وائٹ گولڈ یعنی کپاس کو تباہ کر کے اور قانون کو پاؤں تلے روند کر وہاں شوگر ملیں لگا لیں اور گنا اُگا لیا‘ جس سے زیر زمین پانی کی سطح بہت نیچے چلی گئی۔ اربوں ڈالر کی کاٹن برآمدات ختم ہو چکی ہیں۔ حکمران 10 جون کو بجٹ پیش کرنے سے پہلے عوام کو بتائیں کہ پنجاب اور سندھ میں کس کس کی شوگر ملیں اور کس کس کے آئی پی پیز ہیں۔لاہور میں ہمارے پڑوسی وہاڑی میں درمیانی درجے کے زمیندار ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے آلوؤں کی فصل رُل گئی ہے۔ اب کسان آلوؤں کی بوریوں کو کولڈ سٹوریجز میں ڈال جاتا ہے کیونکہ اُن کی کوئی ڈیمانڈ نہیں۔ جب تک ہمارے حکمران اپنی مفاد پرستی‘ عوامی بستیوں سے دور کئی کئی ایکڑوں پر مشتمل شاہانہ رہائشگاہوں اور درجنوں گاڑیوں والے پروٹوکول کو نہیں چھوڑیں گے اس وقت تک ہمارے سروں سے آسیب کا سایہ ہٹنے والا نہیں۔ جب تک عوام کا دکھ درد محسوس کرنے والے عوامی نمائندے منتخب نہیں ہوتے اس وقت تک معاملہ یونہی لشتم پشتم چلتا رہے گا اور کسی بجٹ کے آنے جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_70033906.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ہم کس طرف جارہے ہیں(افتخار احمد سندھو)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/iktakhar-ahmed-sandhu/2026-06-06/52072/35309795</link><pubDate>Sat, 06 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/iktakhar-ahmed-sandhu/2026-06-06/52072/35309795</guid><description>میں اپنے کالموں میں ملکی اشرافیہ میں شامل طبقات کی بات کرتا رہتا ہوں کہ یہ کس طرح عوام کا استحصال کر تے ہیں۔ ان  طبقات میں مذہبی قیادت بھی شامل ہے۔ گزشتہ دنوں بچوں سے ملنے امریکہ اورکینیڈا گیا ہوا تھا۔ یہاں بھی اس طبقے کے کارناموں کے چرچے سننے کو ملے۔ ان ترقی یافتہ‘ عوامی اور فلاحی ریاستوں میں ہمارے قابل اور ٹیلنٹڈ بچے بچیوں کیلئے اعلیٰ تعلیم کے بعد بہتر روزگار کا دروازہ کھلا ہوا ہے لیکن نام نہاد واعظوں نے وہاں بھی اپنی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجدیں بنا کر اور اختلافات کو ہوا دے کردین کے تشخص کو مسخ کیا ہے اور پاکستانیوں کے راستے میں کانٹے بکھیرنے کے علاوہ تعلیم کے ساتھ روزگار کے دروازے بھی ان کیلئے مسدود کر دیے۔ نہ صرف یہ بلکہ وہاں پر دہائیوں سے مقیم تارکین وطن کیلئے کئی طرح کی مشکلات بھی پیدا کی ہیں۔ ابھی یورپ میں ایک گینگ پکڑا گیا ہے جو انگریز بچیوں سے زیادتی کے جرائم میں ملوث تھا۔ ان افراد کو پینسٹھ سال کے قریب سزا ہوئی ہے۔ امریکہ اور کینیڈا میں میرے اعزاز میں منعقدہ تقریبات میں بہت سے صحافی‘ کالم نگار‘ شاعر اور دانشور دوستوں نے اسی بات کا رونا رویا کہ ہمارے رہنما معاشرے کو کس طرف لے جا رہے ہیں۔ اللہ بھلا کرے جاوید احمد غامدی صاحب کا جو وہاں پر اسلام کا روشن چہرہ پیش کر رہے ہیں‘ ورنہ ہمارے ایک معروف عالم کے بارے کہا جاتا ہے کہ کئی سال کینیڈا میں رہنے کے بعد پاکستان واپس آتے ہوئے وہاں پر اوور سیز پاکستانیوں کے چندے سے خریدی گئی مسجد اور اسلامک سنٹر کی زمین بھی لگے ہاتھوں فروخت کر آئے۔ اللہ پاک ان کے حال پر رحم کرے‘ لیکن انہوں نے اپنے تئیں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ یہ تو صرف ایک جھلک ہے‘ اس طرح کے درجنوں بلکہ سینکڑوں واقعات ریکارڈ پر ہیں۔ یہودونصاریٰ تو ترقی کیلئے جدوجہد کی فکر اور تدابیر کر رہے ہیں جبکہ ہمارے لوگوں کا سارا زور باہمی اختلافات کو ہوا دینے اور ایک دوسرے کے خلاف فتویٰ بازی پر ہے۔ شاعر مشرق علامہ اقبال نے تو بہت پہلے یہ بات کہہ دی تھی کہمکتب و مُلا و اسرارِ کتاب؍ کورِ مادر زاد و نورِ آفتابدینِ کافر فکر و تدبیرِ جہاد؍ دینِ ملّا فی سبیل اللہ فسادایسی شکایات بھی سننے میں آئی ہیں کہ بعض عاقبت نااندیش لوگ من گھڑت تراجم اور مسائل بیان کر کے لوگوں کے ایمان پر ڈاکا ڈالتے ہیں‘ واللہ اعلم بالصواب۔ تمام شعبہ ہائے زندگی کو اپنی سوچ‘ فکراور نظریے کے مطابق بنانا ان کا ایجنڈا ہے۔ ہمارے اپنے ہاں اکثر واعظین کا حال یہ ہے کہ اونچے سے اونچا وعظ‘ اعلیٰ سے اعلیٰ بات کہیں گے لیکن ان کے اپنے کردار کو اُس بات سے کوئی مناسبت نہیں ہوتی جس کی وہ لوگوں توقع رکھتے ہیں۔حالانکہ سورۃ البقرہ کی آیت: 44 میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: &#39;&#39;کیا لوگوں کو تم نیکی کا حکم کرتے ہو اور اپنے آپ کو بھول جاتے ہو، حالانکہ تم کتاب پڑھتے ہو، پھر کیوں نہیں سمجھتے‘‘۔ ایک مسلمان کیلئے قرآن مجید کتابِ ہدایت ونصیحت اور ذریعۂ حکمت ہے۔ یہ ایک لائحہ عمل ہے‘ منشور ودستورِ زندگی ہے۔ قرآن مجید میں ارشادِ ربانی ہے کہ &#39;&#39;اور ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لیے آسان کر دیا ہے، پھر ہے کوئی سمجھنے والا‘‘۔(سورۃ القمر: 32)۔ یہ واعظین ٹیلی ویژن پروگراموں اور بحثوں میں ایک دلیل ٹھونک بجا کر دیتے ہیں اور وہ یہ کہ حضرت عمرؓ نے چوری کی سزا میں ہاتھ کاٹنے کا صریح حکم قحط کے زمانے میں معطل کر دیا تھا‘ مگر خود اس دلیل سے نصیحت نہیں پکڑتے۔ خود کو بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں ہوئے کس درجہ فقیہانِ حرم بے توفیققرآن مجید میں احکامات دو طرح کے ہیں۔ ایک محکمات اور دوسرے متشابہات۔ کسی بھی حکم الٰہی کے بارے میں جاننے کیلئے لازم ہے کہ متشابہات کو محکمات کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے۔ اس تصور کو ایک آیت کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں‘جو محکمات میں سے ہے: واَن لیس للانسان الا ما سعٰی (النجم: 39)۔ اس کا مطلب ہے کہ &#39;&#39;انسان کو وہی کچھ ملتا ہے جس کیلئے وہ کوشش کرے‘‘ لیکن ہم نے واعظین سے یہی سنا کہ اللہ توفیق دے تو ہی ہم سے کوئی نیکی ہو سکتی ہے۔ یقینا! مگر ساتھ ہی یہ اصول بھی بیان ہونا چاہیے کہ &#39;&#39;اور جو اس (اللہ) کی طرف رجوع کرتا ہے اسے (ہی وہ سیدھی) راہ دکھاتا ہے‘‘ (الشوریٰ: 13)۔ اسی طرح سورۂ رعد کی آیت: 11 میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: &#39;&#39;بیشک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک کہ وہ خود اسے نہ بدلیں جو ان کے دلوں میں ہے‘‘۔ مولانا ظفر علی خان نے اس شعر میں اسی جانب اشارہ کیا ہے:خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کادراصل دینِ اسلام اس تصورِ دین سے بالکل مختلف ہے جو ہم آج تک نام نہاد علما سے سنتے آئے ہیں۔ سورۃ البقرہ کی آیت: 170 میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: &#39;&#39;اور جب اُن سے کہا جائے اللہ کے اتارے (ہوئے راستے) پر چلو تو کہیں گے: ہم تو اس پر چلیں گے جس پر اپنے باپ دادا کو پایا‘ چاہے اُن کے باپ دادا کچھ عقل رکھتے ہوں نہ ہی ہدایت‘‘۔ دراصل قرآن پاک اللہ نے میرے اور آپ کیلئے ہی اتارا ہے لیکن پتا نہیں ہم اسے خود پڑھتے اور سمجھتے کیوں نہیں؟ حالانکہ قرآن عین انسانی عقل کے مطابق بات کرتا ہے لیکن ہمیں تو آج تک یہی بتایا گیا کہ ایمان اور استدلال (دلیل) دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ دراصل یہ ہماری اپنی کم علمی اور تنگ نظری ہے۔ سورۂ انفال کی آیت: 22 میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: &#39;&#39;اللہ کی نظر میں وہ جانوروں سے بھی بدتر ہیں جو گونگے بہرے (بنے رہتے) ہیں اور عقل سے کام نہیں لیتے‘‘۔ بات یہ ہے کہ قرآن پاک کی ہر آیت اپنے پڑھنے والے سے مکالمہ کرتی ہے۔ معلوم نہیں لوگ کیسے قرآن مجید جیسا خزانہ چھوڑ کر روایات کی تلاش میں دہائیوں تک بھٹکتے پھرے۔ آج ایسے مسلمانوں کی ضرورت ہے جن کا دین صرف اسلام ہو‘ جو قرآن و سنت سے استدلال کریں۔ سورۂ یونس کی آیت: 100 ہے: &#39;&#39;کوئی متنفس اللہ کے اذن کے بغیر ایمان نہیں لا سکتا اور اللہ کا طریقہ یہ ہے کہ جو لوگ عقل سے کام نہیں لیتے وہ ان پر گندگی ڈال دیتا ہے‘‘۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عقل کا استعمال اور استدلال ایمان کی بنیادی شرط ہے۔ اب میں فرقوں میں بٹے‘ اپنی اپنی انا میں مدہوش مسلمانوں کو دیکھ کر سوچتا ہوں کہ کیا یہ دنیا بھر میں اپنی بے مائیگی کو نہیں دیکھتے۔ کیا یہ اب بھی نہیں جان پائے کہ اللہ کی رسی چھوڑ کر یہ ٹکڑوں میں بٹ چکے ہیں۔ شاید دل مردہ ہونے سے اپنی ذلت کا احساس ہی نہ ہوتا ہو۔ سورۂ حج کی آیت: 46 میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: &#39;&#39;پس کیا وہ زمین میں نہیں پھرے تاکہ انہیں وہ دل حاصل ہوتے جو انہیں سمجھ دے سکتے، یا ایسے کان حاصل ہوتے جن سے وہ سن سکتے۔ پس آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ وہ دل اندھے ہوتے ہیں جو سینوں میں ہیں‘‘۔ آج قرآن پاک کی تعلیمات سے دوری مسلم امت کے زوال کا سبب بن رہی ہے۔ عزت اسی میں ہے کہ امتِ مسلمہ قرآن مجید کی تعلیمات کی طرف لوٹ آئے‘ بصورت دیگر ہم دنیا بھر میں ذلیل وخوار ہوتے رہیں گے۔ بقول اقبال:وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہو کر اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/228_40817243.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>جین زی کی سیاسی جماعت(جویریہ صدیق )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/javeria-siddique/2026-06-06/52073/76693409</link><pubDate>Sat, 06 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/javeria-siddique/2026-06-06/52073/76693409</guid><description>یہ &#39;&#39;جین زی ‘‘ کا زمانہ ہے۔ یہ نسل اگر ایک ساتھ اُٹھ کھڑی ہو جائے تو انقلاب برپا کر دیتی ہے۔ یہ ہم Millennials کی طرح خاموش طبع اور سمجھوتا کرنے والی نسل نہیں ہے۔ یہ اپنا مؤقف برملا بیان کرتی ہے اور شعلہ بیان بھی ہے۔جین زی (Gen Z) وہ نوجوان ہیں جو ڈیجیٹل دور میں پیدا ہوئے اور اسی ماحول میں پروان چڑھے۔ موبائل فون‘ لیپ ٹاپ‘ سوشل میڈیا‘ انٹرنیٹ اور مصنوعی ذہانت ان کی زندگی کا لازمی حصہ ہیں۔ انٹرنیٹ کے بغیر ان کیلئے زندگی کا تصور مشکل ہے۔ اس نسل کی ایک نمایاں خاصیت یہ ہے کہ یہ ہر موضوع پر کھل کر بات کرتی ہے‘ اپنے مؤقف پر ڈٹ جاتی ہے‘ خوف کا شکار نہیں ہوتی اور مصلحت پسندی کو اپنے اوپر غالب نہیں آنے دیتی۔ ہم Millennials آج بھی اپنا مؤقف بیان کرتے وقت کئی پہلوؤں پر غور کرتے ہیں لیکن جین زی جو سوچتی ہے وہی کر گزرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ نسل سماجی مسائل پر سب سے زیادہ آواز اٹھاتی ہے اور طاقتور حلقوں پر تنقید کرنے سے بھی نہیں گھبراتی۔حالیہ برسوں میں دنیا بھر میں جتنی بھی تحریکوں کے نتیجے میں سیاسی تبدیلیاں رونما ہوئیں‘ ان میں جین زی کا کردار نمایاں رہا۔ ہمارے سامنے بنگلہ دیش کی مثال موجود ہے جہاں نوجوانوں نے حسینہ واجد کے طویل اقتدار کا تختہ الٹ دیا۔ آج بنگلہ دیش کی نئی حکومت میں نوجوانوں کا بڑا حصہ شامل ہے۔ یہی نوجوان سفارتکاری اور خارجہ پالیسی پر بھی اثرانداز ہوئے جس کے نتیجے میں بنگلہ دیش نہ صرف بھارتی اثر سے نکلا بلکہ اس کے پاکستان کے ساتھ تعلقات میں بھی بہتری آئی ہے۔ بظاہر جین زی نوجوان اپنی ذاتی دنیا میں مگن دکھائی دیتے ہیں۔ موبائل فون پر گیمز کھیلنا‘ ریلز اور سنیپ چیٹ میں مصروف رہنا یا کھیلوں میں وقت گزارنا ان کی روزمرہ سرگرمیوں کا حصہ ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ آج کا نوجوان انتہائی حساس ہے اور معاشرے کیلئے درد بھی رکھتا ہے۔ وہ سوشل میڈیا پر اپنے خیالات کا برملا اظہار کرتا ہے۔ اگر یہ نوجوان کسی ایک مسئلے پر متفق ہو جائیں تو ایک تحریک جنم لے لیتی ہے۔ اگر ہم اپنے ملک کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو تحریکِ پاکستان میں نوجوان ہراول دستے کا کردار ادا کر رہے تھے۔ نوجوانوں نے قیامِ پاکستان کی جدوجہد میں کلیدی کردار ادا کیا۔ بدقسمتی سے آج پاکستان کی بیشتر سیاسی جماعتوں میں نوجوانوں کی حقیقی نمائندگی موجود نہیں۔ اکثر جماعتوں میں بزرگ قیادت ہی اہم عہدوں پر براجمان ہے۔ میرے نزدیک بزرگوں کا تجربہ زندگی اور سیاست دونوں کیلئے ناگزیر ہے لیکن نئی نسل کی شمولیت کسی بھی جماعت یا تحریک کا نقشہ بدل سکتی ہے۔اسی طرح انقلابِ فرانس‘ انقلابِ ایران اور عرب سپرنگ جیسی تحریکوں میں بھی نوجوانوں کا کردار فیصلہ کن رہا۔ نیپال‘ بنگلہ دیش اور سری لنکا میں بھی نوجوان تبدیلی کے محرک بنے۔ اب تبدیلی کی باری بھارت کی ہے‘ جہاں ایک دہائی سے زائد عرصہ سے قوم پرست بی جے پی کی حکومت ہے۔ مودی سرکار کی مسلم دشمن پالیسیوں نے پورے خطے میں کشیدگی کو بڑھایا ہے۔ پاکستان کے بروقت اور مؤثر جواب کے بعد حالات میں تبدیلی آئی‘ تاہم مودی حکومت اپنے ملک کی اقلیتوں کیلئے بھی مشکلات پیدا کرنے کے الزامات کا سامنا کر رہی ہے۔ عام شہری مہنگائی‘ کرپشن اور ناانصافی جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ حال ہی میں بھارت کے چیف جسٹس نے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران اپنے ملک کے نوجوانوں کو کاکروچ سے تشبیہ دی‘ جس پر شدید ردِعمل سامنے آیا۔ خاص طور پر جین زی نوجوانوں نے اس بیان کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور سوشل میڈیا پر بھرپور احتجاج کیا۔ اسی تنقید اور ردِعمل کے ماحول میں امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے والے ایک ہندوستانی نوجوان‘ ابھیجیت دیپکے نے آن لائن &#39;&#39;کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ کی بنیاد رکھی جسے نوجوان نسل میں چند ہی دنوں کے اندر غیرمعمولی مقبولیت حاصل ہو گئی۔ جس حقارت سے نوجوانوں کو &#39;&#39;کاکروچ‘‘ سے تشبیہ دی گئی تھی‘ جین زی نے اسی لفظ کو اپنی طاقت اور شناخت میں تبدیل کر دیا۔ ابھیجیت کمیونیکیشن سٹرٹیجیسٹ ہیں اور انہوں نے اس جماعت کی بنیاد سوشل میڈیا پر رکھی ہے۔ اس جماعت کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو لاکھوں افراد فالو کر چکے ہیں۔ اس سیاسی تحریک کو ابھی باقاعدہ رجسٹر نہیں کرایا گیا‘ تاہم اس نے نوجوانوں میں غیرمعمولی پذیرائی حاصل کر لی ہے۔ بھارتی نوجوانوں کا مؤقف ہے کہ اگر ریاست کے اعلیٰ ترین منصب پر بیٹھا شخص نوجوانوں کو نظام پر بوجھ اور کیڑے مکوڑوں سے تشبیہ دے تو یہ اشرافیہ کے غرور اور عوام سے دوری کی عکاسی کرتا ہے۔ اس تحریک کے لاکھوں فالوورز بھارت میں بڑھتی ہوئی بیروزگاری‘ کرپشن‘ عدالتی نظام کی سست روی اور ناانصافی کے خلاف مختلف نوعیت کی مہمات اور احتجاجی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ اس جماعت نے اپنی رکنیت کیلئے بھی دلچسپ شرائط رکھی ہیں۔ ان کے مطابق رکن ایسا نوجوان ہونا چاہیے جو بیروزگار ہو‘ سوشل میڈیا استعمال کرتا ہو اور ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانے کی ہمت رکھتا ہو۔ اس جماعت کے منشور کے بنیادی نکات میں بولنے اور لکھنے کی آزادی‘ خواتین کی عملی سیاست میں پچاس فیصد شمولیت‘ شفاف انتخابات‘ آزاد ذرائع ابلاغ‘ فلور کراسنگ پر بیس سال کی پابندی‘ سرکاری بالخصوص عدالتی افسران کے ریٹائرمنٹ کے بعد اسمبلی رکنیت پر پابندی اور قانونِ حقِ معلومات کے تحت فوری جوابدہی جیسے مطالبات شامل ہیں۔کاکروچ جنتا پارٹی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی خاصی پریشان دکھائی دیتی ہے اور اسے محض ایک &#39;&#39;ڈیجیٹل ڈرامہ‘‘ قرار دے رہی ہے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ اس تحریک کا اثر اتنا بڑھ چکا ہے کہ بی جے پی اس سے خوفزدہ ہو کر اس جماعت کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو بھارت میں بند کروا رہی ہے۔ البتہ سنجیدہ مبصرین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا صرف اکاؤنٹ بند کر دینے سے جین زی رک جائے گی؟ کیا یہ پابندی آنے والے دنوں میں سڑکوں پر ایک نئی تحریک کو جنم نہیں دے گی؟ اس تحریک نے ایک اکائونٹ بند ہونے کے فوری بعد نیا اکاؤنٹ بنا لیا جسے &#39;&#39;کاکروچ از بیک‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر اس تحریک کے حامی کروڑوں میں پہنچ چکے ہیں جبکہ رجسٹرڈ ارکان کی تعداد بھی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ابھیجیت اس وقت امریکہ میں ہیں تاہم وہ آئندہ چند دنوں میں بھارت جا کر اس تحریک کو عملی طور پر منظم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس وقت بھارت میں موجود ان کے اہلِ خانہ کو ہراساں کیا جا رہا ہے‘ جسے ناقدین بی جے پی کی بوکھلاہٹ قرار دے رہے ہیں۔ دوسری جانب بھارت کے چیف جسٹس نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد نوجوانوں کی تضحیک کرنا نہیں تھا بلکہ وہ صرف ایسے افراد پر تنقید کر رہے تھے جو مبینہ طور پر جعلی اسناد کے ذریعے ملازمتیں حاصل کرتے ہیں۔ تاہم اس وضاحت کے باوجود نوجوانوں کا غصہ کم ہوتا دکھائی نہیں دیتا اور اس تحریک کی مقبولیت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ بھارت ہو‘ بنگلہ دیش‘ نیپال یا سری لنکا‘ نوجوان اپنے حقوق کیلئے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ اسی لیے نوجوانوں کو کبھی نظرانداز نہیں کرنا چاہیے‘ انہیں حقیر نہیں سمجھنا چاہیے اور نہ انکے مؤقف کو یکسر مسترد کرنا چاہیے۔پاکستان میں بھی کروڑوں کی تعداد میں جین زی موجود ہے۔ ہمیں ان کی بات سننا ہوگی اور انہیں مساوی مواقع فراہم کرنا ہوں گے۔ اگر نوجوانوں کو نظرانداز کیا گیا تو مایوسی میں اضافہ ہو گا جبکہ شمولیت اور اعتماد انہیں مثبت قومی کردار ادا کرنے کی طرف لے جا سکتے ہیں۔ ہمارے ملک کا نوجوان اس وقت مہنگائی‘ انصاف کی عدم فراہمی‘ مہنگی تعلیم اور بیروزگاری جیسے مسائل کا شکار ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کو اعتماد دیں اور انہیں وہ تمام سہولتیں فراہم کریں جو ان کا بنیادی حق ہیں۔ انہیں مایوسی کے اندھیروں سے نکال کر امید اور مواقع کی روشنی میں لانا ہوگا۔ جب تک عوام بالخصوص نوجوانوں کو بہتر تعلیم‘ روزگار‘ انصاف اور ترقی کے مواقع فراہم نہیں کیے جائیں گے اس وقت تک پائیدار ترقی کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_38020467.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>عصبیتِ جاہلیہ …(1)(مفتی منیب الرحمٰن )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-06-06/52074/37261085</link><pubDate>Sat, 06 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-06-06/52074/37261085</guid><description>عربی زبان میں &#39;&#39;عصب‘‘ کے معنی ہیں: مضبوطی سے باندھنا۔ عُصبَہ اور عِصابہ ایک مضبوط جماعت کو کہتے ہیں‘ جیسا کہ برادرانِ یوسف نے کہا تھا: &#39;&#39;یوسف اور اس کا بھائی ہمارے باپ کے نزدیک ہم سے زیادہ محبوب ہیں‘ حالانکہ ہم پوری جماعت (عُصْبَہ) ہیں‘‘ (یوسف: 8)۔ علامہ ابن منظور افریقی لکھتے ہیں: &#39;&#39;عصبیت یہ ہے کہ ایک شخص کو اپنی قوم (یا گروہ) کی مدد کیلئے بلایا جائے تاکہ وہ ان کے ساتھ مل کر ان کے مخالف کے مقابل صف آرا ہو‘ اس بات سے قطعِ نظر کہ مخالف ظالم ہے یا مظلوم‘‘ (لسان العرب‘ ج: 10‘ ص: 167)۔ یعنی حق اور ناحق سے آنکھیں بند کرکے اپنی قوم یا گروہ کی حمایت کیلئے بلایا جائے۔ باپ کی طرف سے اَقارب کو بھی &#39;&#39;عَصَبَہ‘‘ کہتے ہیں کیونکہ وہ مشکل میں مددگار بنتے ہیں۔ تعصب درحقیقت ایک فطری جذبہ اور اپنے گروہ سے وابستگی کا نام ہے‘ خواہ یہ گروہ مذہبی‘ قومی‘ لسانی یا سیاسی ہو‘ اسی بنیاد پر انسان سماجی مخلوق بنتا ہے اور اسی کی وجہ سے اجتماعی زندگی میں حُسن پیدا ہوتا ہے۔ ابنِ خَلَّدون کے نزدیک قوموں کے عروج و زوال کے پس منظرمیں بھی نظریۂ عصبیت کی کارفرمائی نظرآتی ہے۔ اُن کے مطابق جذبۂ عصبیت مشکلات کے وقت لوگوں کیلئے ایک ڈھال کی سی حیثیت اختیار کر لیتا ہے۔ اس نظریے کی رو سے ایک فرد چاہے اُس کا تعلق کسی بھی گروہ‘ خاندان یا قبیلے سے ہو‘ وہ تعلق کی بنیاد پر اپنے گروہ‘ خاندان یا قبیلے کو دوسروں سے برتر خیال کرتا ہے۔ اس کا یہ تصوّر عصبیت ہے اور یہ ایک فطری عمل ہے‘‘۔ مگر جب تعصّب اور وابستگی حق وباطل‘ صحیح وغلط اور خیر وشر کی تمیز سے بالاتر ہو جائے اور اپنے گروہ اور رہنماکی اندھی عقیدت میں بدل جائے تو یہ دینی اعتبار سے مذموم ہے اور انسان کو بہت سے اخلاقی جرائم میں مبتلا کر دیتا ہے۔ حضرت سراقہؓ بن مالک بن جعشم المدلجی بیان کرتے ہیں: آپﷺ نے ایک خطبے میں فرمایا: &#39;&#39;تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو اپنے قبیلے کا دفاع کرے‘ بشرطیکہ یہ حمایت گناہ کا سبب نہ ہو‘‘ (ابوداؤد: 5120)۔تاریخ پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جتنی بھی قوموں نے عروج پایا ہے‘ ان میں عصبیت کے جذبے نے بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ عصبیت کو اگر ایک نیک اور اعلیٰ مقصد کے حصول کیلئے استعمال کیا جائے تو اس میں مضائقہ نہیں‘ لیکن اگر اس کو دوسری قوموں سے نفرت اور انسانوں کے درمیان امتیازی سلوک کیلئے استعمال کیا جائے تو یقینا یہ مذموم ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہﷺ کے زمانے میں مہاجرین اور انصار کے دو غلام آپس میں لڑ پڑے‘ مہاجر غلام نے مہاجرین کو مدد کیلئے پکارا اور انصاری غلام نے انصار کو مدد کیلئے بلایا‘ نبی کریمﷺ ان کی یہ پکار سن کر اپنے حجرے سے باہر تشریف لائے اور ناراض ہو کر فرمایا: تم یہ کیا جاہلیت کی طرف بلا رہے ہو‘ انہوں نے عرض کی: نہیں‘ یا رسول اللہﷺ! بس یہ دو لڑکے آپس میں لڑ پڑے ہیں اور ایک نے دوسرے کی سرین پر ضرب لگائی ہے۔ آپﷺ نے فرمایا: کوئی (بڑی) بات نہیں اور ہر انسان کو اپنے بھائی کی‘ خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم‘ مدد کرنی چاہیے‘ اگر اس کا بھائی ظالم ہو تو اسے (ظلم سے) روکے‘ یہی اس کی مدد ہے اور اگر مظلوم ہو تو اس کی مدد کرے‘‘ (مسلم: 2584)۔ حضرت واثلہ بن الاسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسولﷺ سے پوچھا گیا: &#39;&#39;ایک شخص اپنی قوم سے محبت کرتا ہے‘ کیا یہ عصبیت ہے‘ آپﷺ نے فرمایا: نہیں! بلکہ عصبیت یہ ہے کہ ایک شخص ظلم میں اپنی قوم کا مددگار بنے‘‘ (ابن ماجہ: 3949)۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اپنی قوم اور برادری سے محبت کرنا اور ان سے ظلم کی مدافعت کرنا اور ان کیلئے ترقی کے مواقع تلاش کرنا اور اقوام عالم میں ان کو اعلیٰ مقام دلانا مذموم نہیں ہے‘ تعصب وہی مذموم ہے جس میں انسان ظلم میں اپنی قوم کا مددگار بن جائے اور حق کی مخالفت کرے اور حق وباطل کی تمیز کرنا بھول جائے۔ احادیثِ مبارَکہ میں عصبیت کی حقیقت کو بالکل واضح کر دیا گیا ہے: حضرت جبیرؓ بن مطعم بیان کرتے ہیں: رسول اللہﷺ نے فرمایا: &#39;&#39;جس نے عصبیتِ (جاہلیہ) کی طرف بلایا‘ وہ ہم میں سے نہیں اور جو شخص عصبیتِ (جاہلیہ) کی خاطر لڑا وہ ہم میں سے نہیں اور جو شخص عصبیتِ (جاہلیہ) پر مرا‘ وہ ہم میں سے نہیں‘‘ (ابوداؤد: 5121)۔ حضرت عبداللہؓ بن مسعود بیان کرتے ہیں: آپﷺ نے فرمایا: &#39;&#39;جو شخص ناحق بات میں اپنی قوم کی مدد کرے تو اس کی مثال اُس اونٹ کی سی ہے جو گہرے گڑھے میں گِر چکا ہے اور اسے اُس کی دم پکڑ کا نکالا جا رہا ہے‘‘ (ابوداؤد: 5117)۔ ان احادیثِ مبارکہ سے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ ناحق اور ظلم پر اپنی قوم‘ قبیلے یاگروہ کی حمایت عصبیتِ جاہلیہ ہے اور یہی وہ خصلت ہے جو انسان کو ظلم پر آمادہ کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی قوم یا گروہ کی اس حدتک بے جا حمایت سے منع فرمایا کہ جس کے نتیجے میں ظلم کو روا سمجھا جائے۔ قرآن مجید میں فرمایا: &#39;&#39;اور کسی قوم کی عداوت تمہیں ناانصافی پر نہ ابھارے‘ عدل کرو‘ یہی تقویٰ کے قریب ترین ہے‘‘ (المائدہ: 8)۔ اور فرمایا: &#39;&#39;اور کسی کے ساتھ عداوت تمہیں اس پر نہ اکسائے کہ (اپنے غلبے کے زمانے میں) اُنہوں نے تمہیں مسجد حرام میں آنے سے روک دیا تھا کہ (اب ان پر غلبہ پانے کے بعد) تم بھی ان کے ساتھ زیادتی کرو‘ تم نیکی اور تقویٰ پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور ظلم میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو‘ بیشک اللہ سخت سزا دینے والا ہے‘‘ (المائدہ: 2)۔ ان آیات واحادیث مبارَکہ میں جہاں ظلم پر اپنی قوم‘ قبیلے یا گروہ کی حمایت کو &#39;&#39;عصبیتِ جاہلیہ‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے اور اس کی مذمّت فرمائی گئی ہے‘ وہیں خیر اور نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد اور ظلم وعدوان کے خلاف صف آرا ہونے کی ترغیب بھی دی گئی ہے اور اس کی تحسین بھی فرمائی گئی ہے۔اگر چہ اس وقت قومی ریاستوں کا دور دورہ ہے اور ملت اسلامیہ قومی ریاستوں میں بٹی ہوئی ہے اور قومی عصبیت کے بغیر کسی ریاست کا وجود ممکن ہی نہیں ہے‘ لیکن اگر اس میں ملّی اور دینی مفادات کا خیال نہ رکھا جائے تو ملت اسلامیہ کے وجود کیلئے انتہائی نقصان دہ ہے۔ عصبیت کی بنیاد پر وجود میں آئی ہوئی قومی ریاستوں کا نقصان مسلمانوں کو خلافت کے خاتمے کی صورت میں ہوا‘ خلافت مسلمانوں کی شان وشوکت اور عزت ووقار کی علامت تھی‘ نیل کے ساحل سے لے کر تا بخاک کاشغر مسلمانوں کے دبدبے کی علامت تھی‘ جس کے خاتمے سے مسلمانوں کا عروج زوال میں بدل گیا‘ عزت کی جگہ ذلت نے لی اور شان وشوکت کی جگہ خستہ حالی نے لی؛ اگرچہ وقتاً فوقتاً مصلحین امت نے مسلمانوں کے دوبارہ اتحاد کی کوششیں کیں لیکن مسلمانوں کے دوبارہ اتحاد کی راہ میں بھی یہی رکاوٹ ہے۔ اسلامی ممالک عرب وعجم‘ ایرانی‘ تورانی‘ ترکی اور افغانی میں بٹے ہوئے ہیں اور جسد واحد کا تصور ناپید ہے‘ حالانکہ رسول اللہﷺ نے مسلمانوں کو جسد واحد قرار دیا ہے: حضرت نعمانؓ بن بشیر بیان کرتے ہیں: رسول اللہﷺ نے فرمایا: تم مومنوں کو آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ رحمت ومحبت کا معاملہ کرنے اور ایک دوسرے کے ساتھ شفقت ونرم خوئی میں ایک جسم کی مانند پائو گے‘ جب اس جسم کا کوئی حصہ بھی تکلیف میں ہوتا ہے تو سارا جسم تکلیف میں ہوتا ہے اور اس کی ساری رات بیداری اور بخار میں گزرتی ہے‘‘ (بخاری: 6011)۔ آج پورے عالم میں مسلمان زندگی کے ہر میدان میں ابتلا وآزمائش کا شکار ہیں‘ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ مسلمان آپس کے تعصبات سے بالاتر ہو کر جسد واحد کے مصداق بن جاتے‘ لیکن عملاً مسلمان ستاون مختلف دنیائوں سے تعلق رکھتے ہیں‘ جن کی ترجیحات میں کوئی مطابقت نہیں‘ بلکہ بعض کو تو ایک دوسرے کا وجود بھی برداشت نہیں ہے اور ان کا ماٹو بقول ایک پاکستانی بزرگ سیاستدان یہ ہے کہ اتفاق اس بات پر ہے کہ اتفاق نہیں کریں گے اور اس کی سب سے بڑی وجہ آپس کے تعصبات اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے اختلافات ہیں‘ ورنہ مسلمانوں کے پاس مالی وسائل یا عسکری اور حربی آلات‘ کسی بھی چیز کی کمی نہیں ہے۔ (جاری)</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_61172381.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>