<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>دراندازی اور دہشت گردی کے خطرات(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-04/11509</link><pubDate>Fri, 04 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-04/11509</guid><description>سکیورٹی فورسز نے ضلع شمالی وزیرستان کے راستے افغانستان سے پاکستان میں دراندازی کی کوشش ناکام بناتے ہوئے 15 دہشت گرد ہلاک کر دیے۔سرحدی پٹی کے قریب مسلسل چھتیس گھنٹوں تک جاری رہنے والے شدید اور اعصاب شکن آپریشن کے بعد فتنہ الخوارج کے مسلح دہشت گردوں کے ناپاک عزائم خاک میں ملا دیے گئے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گرد ملک میں امن واستحکام کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے تھے‘ کابل حکومت دہشت گردوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے‘ مؤثر سرحدی انتظام یقینی بنانے اور اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں ناکام رہی ہے۔ دشوار گزار اور حساس علاقے میں سکیورٹی فورسز کی ایک بڑی اور مربوط کارروائی اس امر کی واضح عکاس ہے کہ ملک کو درپیش دہشت گردی کے خطرات کس قدر گہرے اور سنگین ہیں۔ دہشت گرد پاکستان میں برسوں کی قربانیوں کے بعد قائم ہونیوالے امن اور معاشی و سماجی استحکام کو نقصان پہنچا کر عدم تحفظ اور انتشار کا ماحول پیدا کرنا چاہتے تھے‘ تاہم سکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی سے یہ مذموم مقصد پورا نہیں ہو سکا۔ اس واقعے سے یہ تلخ حقیقت بھی آشکار ہوتی ہے کہ مغربی سرحد اب بھی ہمارے داخلی امن کیلئے ایک مستقل اور تشویشناک چیلنج بنی ہوئی ہے‘ جس کے تانے بانے کابل کی عبوری حکومت کی پالیسیوں اور بین الاقوامی ذمہ داریوں سے انحراف سے جا ملتے ہیں۔

دراندازی کی یہ کوشش ایسے وقت پر سامنے آئی ہے جب پاکستان کے مغربی صوبوں‘ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کی لہر میں تشویشناک اضافہ ہوا ہے۔ اعداد وشمار کے مطابق رواں سال کی پہلی ششماہی میں دہشت گردی کے واقعات میں 307 اہلکار اور 404 شہری شہید ہوئے جبکہ گزشتہ سال کی اسی مدت میں یہ تعداد بالترتیب 284 اور 267 تھی۔ اس دوران سکیورٹی فورسز کے آپریشن میں بھی تیزی آئی اور گزشتہ سال کے 180 کے مقابلے میں رواں سال کی پہلی ششماہی میں 1442 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ قابلِ غور امر یہ ہے کہ دہشت گردی کے 90 فیصد سے زائد واقعات خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں پیش آئے اور ان میں فتنہ الہندوستان‘ فتنہ الخوارج اور ان کی ذیلی تنظیموں ملوث تھیں‘ جنہیں سرحد پار سے ہر طرح کی لاجسٹک سپورٹ‘ جدید ترین اسلحہ اور محفوظ پناہ گاہیں میسر ہیں۔پاکستان بارہا سفارتی سطح پر کابل کو یہ باور کراچکا ہے کہ عسکریت پسند افغان سرزمین کو پاکستان میں داخلے کیلئے لانچنگ پیڈ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں مگر افغان حکمران دہشت گردوں کے تربیتی کیمپوں اور ان کی آزادانہ نقل و حرکت سے نہ صرف چشم پوشی اختیار کیے ہوئے ہیں بلکہ بعض اوقات ان عناصر کو بالواسطہ تحفظ بھی فراہم کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے پاک افغان تعلقات میں بداعتمادی کی خلیج مسلسل وسیع ہوتی جا رہی ہے۔
افغانستان کی اس مجرمانہ غفلت اور خطے کے امن کو داؤ پر لگانے والی پالیسیوں پر پوری دنیا کی مہرِ تصدیق ثبت ہو چکی ہے جس کا واضح ثبوت گزشتہ ماہ جاری کی جانے والی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مانیٹرنگ ٹیم کی جامع رپورٹ ہے‘ جس نے نہ صرف پاکستان کے مؤقف کو بالکل درست ثابت کیا ہے بلکہ یہ بھی کہا ہے کہ افغان طالبان کی موجودہ پالیسیوں اور شدت پسندوں کو دی جانے والی کھلی چھوٹ نے پورے جنوبی ایشیا کے امن اور استحکام کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔ اسلام آباد دوٹوک انداز میں کابل پر یہ واضح کر چکا ہے کہ اگر ملکی سلامتی‘ خود مختاری اور شہریوں کے تحفظ کو کوئی خطرہ لاحق ہوا تو پاکستان سرحد پار موجود دہشت گردوں کے اڈوں کو نشانہ بنانے سے رتی برابر گریز نہیں کرے گا۔ حالیہ سرحدی آپریشن پاکستان کے اس عزم کا اعادہ ہے کہ اگر اب بھی عبوری کابل حکومت اپنی سرزمین پر موجود دہشت گردوں کے خلاف فوری اور فیصلہ کن کارروائی نہیں کرتی تو پاکستان اپنی سرحدوں کی حفاظت کیلئے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پاک کرغز معاہدے(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-04/11508</link><pubDate>Fri, 04 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-04/11508</guid><description>وزیراعظم شہباز شریف کے دورۂ کرغزستان کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کیلئے 17 معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط‘ اور دوطرفہ تجارت کو موجودہ تقریباً ایک کروڑ 60 لاکھ ڈالر سے بڑھا کر دو برس میں 20 کروڑ ڈالر سالانہ تک لیجانے پر اتفاق ایک خوش آئند پیشرفت ہے۔ کرغزستان پاکستان کیلئے وسطی اور جنوبی ایشیا کے درمیان اقتصادی و تجارتی رابطے کا ایک اہم دروازہ بن سکتا ہے۔ کرغزستان کی پاکستان کی بندرگاہوں تک رسائی میں دلچسپی اور دونوں ملکوں کے درمیان ٹرانزٹ تجارت کا معاہدہ اس امکان کو مزید تقویت دیتا ہے۔ اگر سڑک‘ ریل اور فضائی روابط اور تجارتی راہداریوں کو مؤثر بنایا جائے تو پاکستان وسطی ایشیائی منڈیوں تک اپنی رسائی بڑھا سکتا ہے۔

تاہم اصل امتحان معاہدوں پر عملدرآمد ہے۔ کرغزستان کیساتھ تجارتی حجم 20کروڑ ڈالر سالانہ تک پہنچانے کیلئے محض بیانات سے کام نہیں چلے گا بلکہ اس کیلئے حکومت کو عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ یہ پہلو اسلئے بھی اہم ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کے تقریباًڈھائی سالہ دورِ اقتدار میں 56بیرونِ ملک دوروں میں درجنوں معاہدے اور سینکڑوں ایم او یوز ہوچکے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ان میں سے کتنے منصوبے عملی صورت میں ڈھل سکے‘ ملک میں کتنی سرمایہ کاری آئی‘ برآمدات میں کتنا اضافہ ہوا اور روزگار کے کتنے مواقع پیدا ہوئے؟ اصل کامیابی تبھی حاصل ہو گی جب ان معاہدوں اور یادداشتوں کے نتائج قومی معیشت میں دکھائی دیں گے۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>تعلیمی نظام کا آئینہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-04/11507</link><pubDate>Fri, 04 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-04/11507</guid><description>پنجاب بھر کے تعلیمی بورڈز کے نویں جماعت کے سالانہ امتحانات 2026ء کے نتائج ہمارے تعلیمی نظام کی مجموعی کارکردگی پر کئی سوالات اٹھا رہے ہیں۔ ان امتحانات میں لاہور بورڈ میں ناکامی کا تناسب 53 فیصد رہا۔ دیگر بورڈز کے نتائج میں بھی کم و بیش ایسی ہی صورتحال سامنے آئی ہے۔ لاہور بورڈ میں نجی اداروں کے امیدواروں کی کامیابی کی شرح تقریباً 71 فیصد رہی جبکہ سرکاری سکولوں کے صرف 39فیصد طلبہ کامیاب ہو سکے۔ نویں جماعت بچوں کے تعلیمی سفر کا ایک اہم مرحلہ اور آگے کی تعلیم کی بنیاد ہے۔ اگر اس سطح پر ہی بچوں کی بنیاد کمزور رہ جائے تو ان کا آئندہ تعلیمی سفر متاثر ہونا فطری ہے۔

حکومت کو ان مایوس کن نتائج کے بعد یہ کھوج ضرور لگانی چاہیے کہ اصل خرابی کہاں ہے۔ کیا سرکاری سکولوں کو مطلوبہ تعلیمی وسائل اور سہولتیں میسر نہیں یا اساتذہ کی تربیت اور نگرانی کا نظام مؤثر نہیں؟ ان نتائج کا سب سے افسوسناک پہلو لاہور اور ملتان میں دو طلبہ کا امتحانی نتیجہ اچھا نہ آنے پر زندگیوں کا خاتمہ کرنا ہے۔یہ واقعات ہمیں اپنے رویوں پر غور کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ والدین اور اساتذہ کو چاہیے کہ بچوں کو کم نمبروں یا ناکامی پر ڈانٹ ڈپٹ کرنے یا دوسروں سے موازنہ کرنے کے بجائے حوصلہ دیں اور انہیں سمجھائیں کہ امتحان میں ناکامی زندگی کا اختتام نہیں بلکہ اپنی غلطیوں اور کمزوریوں سے سیکھنے کا موقع ہے۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>فراڈیے بھوکے نہیں مرتے(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-09-04/52598/93973132</link><pubDate>Fri, 04 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-09-04/52598/93973132</guid><description>آج کچھ دلچسپ خبریں میرے پاس ہیں۔ خبریں کیا ہیں‘ ابھی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس سے تین گھنٹے کی کارروائی سننے کے بعد کیفے میں بیٹھا کافی پی رہا ہوں اور کوشش ہے کہ جو کچھ آج دیکھا اور سنا‘ اسے لفظوں کی شکل دے سکوں۔اگر آپ ایک جملے میں سب جاننا چاہتے ہیں کہ اس اجلاس میں ایسا کیا خاص ہوا تو اجلاس میں ایک ہی جملہ بار بار میرے ذہن میں آ رہا تھا کہ لگتا ہے آدھے ملک کے ساتھ فراڈ ہو رہا ہے اور آدھا ملک فراڈ کرنے پر لگا ہوا ہے۔ تفصیل پڑھ کر آپ کے کانوں سے دھواں نکل آئے گا کہ اس ملک میں کیسا کیسا فراڈ ہو رہا ہے اور فراڈیے کیسے کیسے نت نئے طریقے اور ہتھکنڈے ڈھونڈ چکے ہیں۔ سب سے بڑھ کر جتنے بھی آپ کے وٹس ایپ اور بینک اکاؤنٹس ہیک ہو رہے اور پیسہ نکلوایا جا رہا ہے‘ اس میں بھی زیادہ تر عوام کی مرضی اور رضا شامل ہے۔ آپ کہیں گے یہ کیسی عجیب بات ہے‘ بھلا کون اپنے ساتھ فراڈ کراتا ہے۔ کسی مشہور فراڈیے کا قول ہے کہ جب تک اس دنیا میں لالچی لوگ زندہ ہیں‘ فراڈیے بھوکے نہیں مریں گے۔ اس قول کی عملی شکل قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں دیکھی‘ جب ارکان کو این سی سی آئی اے‘ وزارتِ داخلہ‘ سٹیٹ بینک‘ ٹیلی کام کمپنیوں اور دیگر نے بریفنگ دی کہ اس ملک میں سائبر فراڈ کیسے ہو رہے ہیں اور لوگوں کے وٹس ایپ اور بینک اکاؤنٹس کیسے ہیک ہو رہے ہیں۔ اس موقع پر ارکانِ کمیٹی نے حیرت کا اظہار کیا کہ بھلا عام لوگوں کا ڈیٹا ان فراڈیوں تک کیسے پہنچ رہا ہے کہ ان کے پاس لوگوں کی سب تفصیلات موجود ہوتی ہیں۔ اور تو اور ان کا بائیومیٹرک ڈیٹا بھی موجود ہوتا ہے‘ جس کی مدد سے وہ سیلولر سم نکال کر لوگوں کو کالیں کر کے بیوقوف بناتے ہیں اور تگڑی رقومات نکلوا لیتے ہیں۔این سی سی آئی اے کے افسر کا کہنا تھا کہ انہوں نے کل ہی فیصل آباد میں ایک ایف آئی آر درج کی اور دو نوجوانوں کو 33 لاکھ روپے کے فراڈ میں گرفتار کیا۔ ان سے جو کچھ ریکور ہوا وہ سن کر آپ کے ہوش اڑ جائیں گے۔ بتانے لگے کہ انہوں نے ایک خاتون کے ساتھ سائبر فراڈ کیا اور اس کے اکاؤنٹ سے 33لاکھ روپے نکلوائے۔ خاتون نے فوراً بینک کو اطلاع دی اور مقدمہ درج ہو گیا۔ این سی سی آئی اے نے کارروائی کی اور اس فراڈیے سے 195 ایکٹو فون سمز‘ 16موبائل فونز اور مختلف بینکوں کے 81 اے ٹی ایم کارڈز برآمد کیے۔ وہ مختلف فونز میں مختلف سمیں ڈال کر لوگوں کو فون کر کے پھنساتا اور فراڈ کرتا۔ جب کمیٹی نے پوچھا کہ اس نے سولہ فون کیوں رکھے ہوئے تھے تو چیئرمین پی ٹی اے میجر جنرل (ر) حفیظ الرحمن نے انکشاف کیا کہ اگر کوئی بندہ ایک فون میں ایک مہینے میں آٹھ دفعہ مختلف سمز استعمال کرے تو پی ٹی اے اس فون کو بلاک کر دیتا ہے کہ یہ فراڈ میں استعمال ہو رہا ہے۔ اس لیے اس فراڈیے نے متعدد فون رکھے ہوئے تھے تاکہ ایک مہینے میں آٹھ سے زیادہ سمیں استعمال کر سکے۔ اس پر ایک ممبر نے کہا کہ ٹیلی کام کمپنیوں سے پوچھیں کہ ایک بندے کو کیسے 195 سمز ایشو کی گئیں۔ پتا چلا کہ کمپنیوں کے صارفین کا ڈیٹا چوری ہو رہا تھا اور اس میں کچھ کمپنیوں کا عملہ بھی ملوث تھا‘ جن کی مدد سے یہ سب کچھ ہو رہا تھا۔ جب پوچھا گیا کہ یہ ڈیٹا کہاں سے چوری ہو کر ان فراڈیوں تک پہنچتا ہے‘ جہاں ان کو بائیومیٹرک تک بھی مل جاتا ہے تو چیئرمین پی ٹی اے نے انکشاف کیا کہ نادرا‘ پولیس‘ بینک‘ ریونیو ڈپارٹمنٹ‘ ڈرائیونگ لائسنس سے لے کر جہاں جہاں آپ کا شناختی کارڈ یا بائیومیٹرک استعمال ہوتا ہے‘ وہاں کا عملہ یا سٹاف کے لوگ یہ ڈیٹا بیچتے ہیں۔ اگرچہ کچھ عرصہ پہلے چیئرمین پی ٹی اے نے ہی انکشاف کیا تھا کہ یہ سب ڈیٹا ڈارک ویب پر پڑا ہے‘ جس کا فی کس پانچ سو روپے ریٹ ہے۔ وہاں سب پاکستانیوں کا ڈیٹا مل جاتا ہے۔ اس پر این سی سی آئی اے کے افسر نے انکشاف کیا کہ انہوں نے ایک جگہ چھاپہ مارا تو وہاں سے انہیں چھ لاکھ لوگوں کا بائیومیٹرک ڈیٹا ملا‘ جو فراڈیے دو نمبر کاموں کیلئے استعمال کر رہے تھے۔اب سم لینا کوئی مسئلہ نہیں رہا کیونکہ ٹیلی کام کمپنیوں کو اس سے بزنس ملتا ہے۔ اس وقت ملک میں 21کروڑ کے قریب سمز ایکٹو ہیں اور اکثر لوگوں نے ایک سے زائد سمیں نکلوا رکھی ہیں۔ کمیٹی ممبر اظہار الحسن نے کہا کہ جیسے بینک سے کسی بھی ٹرانزیکشن پر انہیںموبائل فون پر میسج آ جاتا ہے تو ایسا ٹیلی کام کمپنیاں کیوں نہیں کرتیں کہ جب کسی صارف کے نام پر نئی سم ایشو ہو تو اسے پرانے نمبر پر میسج بھیج دیا جائے تاکہ صارف فوراً ایکشن لے سکے۔چیئرمین پی ٹی اے نے ایک اور بڑا انکشاف کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اب تک ایک کروڑ 80 لاکھ سمیں بلاک کی ہیں جو دوسروں کے ناموں پر جاری کرائی گئی تھیں اور پی ٹی اے نے ٹیلی کام کمپنیوں کو چار ارب روپے کا جرمانہ کیا۔ اس پر وہ ہم سے ناراض ہیں‘ انہوں نے جرمانہ بھی ادا نہیں کیا اور عدالتوں سے سٹے لے رکھا ہے جبکہ سمیں اب بھی جاری کی جا رہی ہیں۔ چیئرمین پی ٹی اے نے ملک میں ہونے والے فراڈوں سے متعلق ایک واقعہ یہ سنایا کہ ایک سم پشاور میں دہشت گردی میں استعمال ہوئی۔ فون نمبر کو ٹریس کیا گیا تو پتا چلا کہ وہ راجن پور کی کسی دیہاتی خاتون کے نام پر رجسٹرڈ ہے۔ ایجنسیاں اس عورت تک پہنچیں تو علم ہوا کہ اس عورت نے زندگی بھر کبھی فون استعمال نہیں کیا‘ سم نکلوانا تو دور کی بات ہے۔ اچانک اس عورت کو یاد آیا کہ کچھ عرصہ پہلے کچھ نوجوان راشن بانٹ رہے تھے اور وصولی کی رسید پر اس کا انگوٹھا لگوایا تھا۔ یقینا یہی بائیو میٹرک ڈیٹا سم نکلوانے کیلئے استعمال ہوا ہو گا۔ تاہم کچھ حکام کا یہ بھی کہنا تھا کہ لوگ خود بھی اپنے ساتھ فراڈ کراتے ہیں اور بعد میں رولا ڈال دیتے ہیں۔ انہیں کوئی بندہ فون کرے گا کہ میں کوریئر کمپنی سے بول رہا ہوں‘ اپنا ایڈریس دیں یا آپ کو کوڈ بھیجا گیا ہے وہ بتا دیں‘ یا آپ کا انعام نکلا ہے یا رقم آپ کو ٹرانسفر کرنی ہے‘ انعام یا کیش کا سن کر لوگ بغیر سوچے سمجھے ایڈریس سے لے کر خفیہ کوڈ اور اپنا بینک اکاؤنٹ تک سب کچھ شیئر کر دیتے ہیں اور فوراً سب کچھ ہیک ہو جاتا ہے۔اجلاس میں بتایا گیا کہ وٹس ایپ بھی آپ کی اپنی مدد کے بغیر ہیک نہیں ہو سکتا۔ جس شخص کا وٹس ایپ ہیک ہوتا ہے‘ متاثرہ شخص اس کی سب تفصیلات خود فراڈیوں کو فراہم کرتا ہے۔ سب سے زیادہ تکلیف دہ فراڈ وہ ہے جس میں متاثرہ شخص کسی کی کہانی میں پھنس کر ساری رقم خود ٹرانسفر کرتا ہے اور جب تک اسے احساس ہوتا ہے فراڈ ہو چکا ہوتا ہے۔ پھر وہ حکومت اور بینکوں کو الزام دیتا ہے۔ وہ خود کو کبھی اپنی حماقت کا ذمہ دار نہیں ٹھہراتا۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے یہ کہہ کر اجلاس میں بم پھوڑا کہ پاکستان میں تو رینٹ اے اکاؤنٹ بینک کھلے ہوئے ہیں۔ جس بندے کے نام پر اکاؤنٹ کھلتا ہے یا پہلے سے بینک اکاؤنٹ ہوتا ہے‘اس کے ساتھ باقاعدہ ڈیل ہوتی ہے۔ اس اکائونٹ میں فراڈ کی رقومات ٹرانسفر ہوتی ہیں۔ بندے کو پتا ہوتا ہے کہ پکڑے گئے تو جیل بھی جانا پڑ سکتا ہے۔ وہ اس کا الگ سے پیسہ چارج کرتا ہے۔ اس فراڈ میں شریک سب افراد اپنا اپنا حصہ وصول کرتے ہیں اور پکڑے جائیں تو چند ماہ جیل میں گزار لیتے ہیں۔ وہی بات کہ آدھی قوم فراڈ پر لگی ہوئی ہے اور آدھی کیساتھ فراڈ ہو رہا ہے۔ ہر وقت کچھ نہ کچھ &#39;&#39;معاشی سرگرمی‘‘ ہو رہی ہے۔ آپ لُٹ رہے ہیں یا کسی کو لوٹ رہے ہیں! بھلا معاشی ترقی اور کسے کہتے ہیں کہ کچھ افراد کما رہے ہیں تو کچھ ان سے اپنا حصہ وصول کر رہے ہیں۔ سرمایہ ہاتھ بدلتا رہتا ہے‘ ایک جیب سے دوسری جیب! ہمارا یہی معاشی ماڈل ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بہاولپور کا مقدمہ(رسول بخش رئیس)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-09-04/52599/70660373</link><pubDate>Fri, 04 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-09-04/52599/70660373</guid><description>نئے صوبوں یا انتظامی اکائیوں کی بات ایک عرصے سے کی جا رہی ہے‘ کبھی محدود حلقوں میں تو کبھی سرِ بازار جلسوں میں‘ اور اب زیادہ تر میڈیا میں۔ جب بھارت میں دہائیوں پہلے موجودہ صوبوں‘ جنہیں وہاں ریاست کہا جاتا ہے‘ کو تقسیم کرکے نئی ریاستیں تشکیل دینے کا عمل شد و مد سے جاری تھا‘ ہمارا راوی مکمل طور پر چین‘ سکون اور آرام لکھ رہا تھا۔ بعد از نوآبادیات‘ ریاستوں نے اپنی تشکیلِ نو کی ہے کیونکہ سامراجی طاقتوں کی انتظامی اور سیاسی ضرورتیں مختلف نوعیت کی تھیں۔ آزادی کے چند سال بعد بھارت میں ریاستی تنظیمِ نو کیلئے کمیشن بنایا گیا تو سب سے پہلے نئے صوبوں کی آواز بھارتی پنجاب میں اٹھی۔ اصول یہ طے پایا کہ ریاستوں کی زبان کی بنیاد پر نئی حد بندی کرکے نئی ریاستیں بنائی جائیں۔ پہلی طاقتور آواز واہگہ کے اُس پار مشرقی پنجاب سے اٹھی‘ جو ہمارے پنجاب سے الگ ہو کر وہاں ریاست بنا تھا۔ اس کے پیچھے وہی ماسٹر تارا سنگھ تھے جنہوں نے تقسیم سے پہلے متحدہ پنجاب میں فساد برپا کیا تھا۔ دوسرا بڑا نام سنت فتح سنگھ کا تھا۔ یہ سکھ اکالی پارٹی کے کلیدی رہنما تھے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ پنجابی زبان بولنے والوں کی علیحدہ ریاست بنائی جائے۔ 1966ء کے ریاستی تنظیمِ نو ایکٹ کے تحت مشرقی پنجاب میں سے تین ریاستیں بنائی گئیں: پنجاب‘ ہریانہ اور ہماچل پردیش۔ ریاست بن جانے کے بعد ہمارے سکھ بھائیوں کی شکایتیں اب یہ تھیں کہ پنجابی ہندوؤں نے مردم شماری میں اپنی زبان پنجابی لکھنے کے بجائے ہندی لکھی‘ اور اس طرح کئی پنجابی علاقے ہریانہ میں چلے گئے۔ بہرحال وہ خوش ہیں کہ ان کا پنجاب ہے اور پنجابی زبان‘ جسے وہ مقدس سمجھتے ہیں‘ محفوظ ہے اور ترقی کر رہی ہے۔ یہ تعارف اس لیے ضروری ہے کہ ہمارے ہاں اس کے برعکس زور اس بات پر ہے کہ ہمارے صوبے تاریخی اہمیت اور شناخت رکھتے ہیں۔ ہمارے حکمران طبقات مشرقی پاکستان میں کئی برس تک چلنے والی لسانی تحریک کو سوچ کر اس پریشانی میں مبتلا تھے کہ اگر زبانوں کی بنیاد پر موجودہ صوبوں کی تنظیمِ نو کی گئی تو نئے مسائل کھڑے ہو جائیں گے۔ مسائل تو ہر صورت میں کھڑے منہ چڑا رہے ہوتے ہیں‘ لیکن سیاسی قیادت اگر واقعی قیادت ہے تو انہیں حل کرتی ہے۔ ہم نے گزشتہ 80 برسوں سے صوبوں کے مسئلے کو مختلف گروہوں اور سیاسی خاندانوں کے مفادات کے تابع کیا رکھا ہوا ہے۔ اس مرتبہ نئے صوبوں کی بات عوامی دباؤ سے نہیں‘ اوپر سے شروع ہوئی ہے۔ پہلی آواز تو میاں عامر محمود صاحب نے اٹھائی‘ جو ایک وقت میں لاہور کے میئر بھی رہ چکے ہیں اور مقامی حکومتوں کا بھی تجربہ اور ادراک رکھتے ہیں۔ اگر آپ اسے ریاستی تنظیمِ نو کی تحریک کہیں تو شروع اسے میاں عامر محمود صاحب نے ہی کیا ہے۔ آگے دیکھیں اس کا کیا ہوتا ہے۔ اب وہ اکیلے نہیں‘ کئی سیاستدان بھی ایسا ہی مطالبہ کر رہے ہیں۔ کئی دانشور اور ماہرین‘ جو ریاستوں اور حکومتوں کے انتظامی معاملات کے بارے میں صاحبِ رائے ہیں‘ ان کا بھی یہی خیال ہے کہ نئے صوبوں کے بغیر ہم بحیثیت ملک آگے نہیں بڑھ سکتے۔ صرف وہ ترقی اور خوشحالی کی منازل طے کرتے رہیں گے جن کے موجودہ نظام میں وارے نیارے ہیں۔ میرا خیال ذرا مختلف ہے۔ صوبے نئے بنیں‘ جتنی بھی تعداد ہو‘ یا صرف چار پر ہی گزارا کریں‘ مقامی حکومتوں کے بغیر کوئی حکومت کام نہیں کر سکتی۔ کام تو وہی ہو گا جو آپ ایک عرصہ سے دیکھ رہے ہیں: طاقت‘ دولت اور ہر چیز کا ارتکاز چار بڑے شہروں اور حکومتوں کے سربراہوں کے ہاتھ میں ہے۔ جو باتیں ہم اِدھر اُدھر سے سنتے ہیں‘ ان کے مطابق تو کوئی فیصلہ ہو چکا ہے۔ جہاں بھی ہوا اور جس نے بھی کیا‘ صرف عملی جامہ پہنانا ہے۔ یہ پتا نہیں کہ اس کی سعادت کسے نصیب ہو گی۔ مرکز میں اقتدار والی جماعت یا گھرانہ ابھی تک خاموش ہے‘ مگر قیاس آرائی ہے کہ وہ کڑوی گولی نگل لے کہ اب اس جماعت کی عوامی پذیرائی کی صورتحال یہ ہے کہ اب یہ ہم جیسے بابوں کی طرح طاقت کی گولیوں پر ہی گزارہ کرتی ہے۔ البتہ سندھ کا سیاسی گھرانہ بڑی کشمکش کا شکار ہے کہ ایک طرف سندھی قوم پرستوں‘ اور دوسری طرف اپنی جماعت کے ورکروں کا دباؤ ہے کہ سائیں‘ سندھ میں نئے صوبے بنے تو پھر آپ نوابشاہ کے بادشاہ رہ جائیں گے۔ شاید لاڑکانہ بھی ہاتھ سے نکل جائے۔ دوسری طرف انکار کی صورت فائلیں بھی موجود ہیں جن پر سرخ رِبن چڑھا ہوا ہے‘ اور ماضی کے کئی بھوت دانت نکالے سامنے آ سکتے ہیں۔ خطرہ یہ بھی ہے کہ اگر اقتدار کی چڑیا اُڑ کر کسی اور درخت پر بیٹھ گئی یا بٹھا دی گئی تو اس کی واپسی کا پھر شاید کوئی امکان نہ رہے۔ عوامی سیاست کو بچانے کیلئے ابھی تو وہ عوامی بات کر رہے ہیں کہ آپ دیگر صوبوں کو تقسیم کریں‘ ہمیں کیا اعتراض‘ مگر سندھ کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھیں۔بات تو میں بیچارے بہاولپور کی کرنا چاہتا ہوں‘ مگر سب صوبوں کی ایک واضح نئی حقیقت کی طرف فقط یہ اشارہ کافی ہے کہ سماجی اور لسانی طور پر ایک اکثریتی اور کئی اقلیتی گروہ شامل ہیں۔ منطقی طور پر اگر کوئی صوبہ اپنے آپ کو لسانی شناخت کے اعتبار سے منفرد سمجھتا ہے تو پھر وہ اپنے اندر کے دیگر لسانی گروہوں کی شناخت کو مٹانے یاان کی طرف سے صوبے کے مطالبے کو آنکھیں بند کر کے رد کرنے کے جواز سے محروم ہو جائے گا۔ بہاولپور واحد ریاست ہے جہاں صوبے کی بحالی کی تحریک چلی ہے۔ جب ون یونٹ کو 1969ء میں ختم کیا گیا تو اس ریاست کو دیگر شاہی ریاستوں کی طرح ہمسایہ صوبے میں ضم کر دیا گیا۔ بہاولپور کا دیگر ریاستوں کے ساتھ ایک نمایاں فرق ہے کہ یہ آزادی کے بعد پاکستان کے ساتھ الحاق کرنے والی سب سے بڑی اور سب سے ترقی یافتہ ریاست تھی۔ ملک بنتے ہی کچھ دیر سابقہ شاہی ریاستوں نے اپنے آئین بنائے‘ مقننہ بھی جلدی میں تشکیل دی‘ وزیراعظم اور کابینہ بھی مقرر ہوئے مگر طاقت کا سرچشمہ نواب صاحب کی ذات ہی تھی۔ صوبے کی بحالی کی تحریک صرف بہاولپور میں چلی اور متحدہ بہاولپور محاذ نے 1970ء کے انتخابات میں پچاس فیصد سے زیادہ پنجاب اور قومی اسمبلی کی نشستیں حاصل کیں۔ اس میں قومی جذبہ اور تحرک تھا کہ وہ لوگ منتخب ہوئے جو بہاولپور صوبے کے منشور کے حامی تھے۔ چند دن پہلے سابق ریاست بہاولپور کے ولی عہد شہزادہ بہاول عباس عباسی صاحب نے ایک خط صاحبانِ اقتدار کی نظر سے گزارنے کی کوشش کی کہ ہمارا صوبہ بحال کرو۔ اگر نہیں کرو گے تو ہم اس کے حق میں ایک عوامی تحریک چلانے کیلئے تیار ہیں۔ بہاولپور کی اپنی تاریخی حیثیت ہے جو صدیوں سے ریاست کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ ہمارے آبائی گھر اور بہاولپور ریاست کے درمیان صرف دریائے سندھ اورمشرقی کنارے پر چند کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔ جونہی ہم دریا اور کچا عبور کرتے تو وہاں کے لوگوں کو ریاستی کہتے‘ جو آج بھی &#39;&#39;ریاستی‘‘ کہلوانے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ وہ سب ہماری نسبت زیادہ خوشحال تھے۔ زمین زرخیز‘ کاروبار اور تعلیمی معیار دہائیوں سے ہمارے علاقوں سے بہتر تھا‘ اور اب بھی ایسا ہی ہے۔ بہاولپور صوبے کے خلاف ہمارے سرائیکی دانشور کہتے ہیں کہ چونکہ ملتان‘ بہاولپور اور دیگر کئی علاقوں کی زبان ایک ہے‘ جسے اب سب سرائیکی تسلیم کرتے ہیں‘ اسلئے جنوبی پنجاب نہیں سرائیکی صوبہ بننا چاہیے۔ سرائیکی شناخت کی تاریخ کچھ زیادہ نہیں‘ اس سے پہلے علاقائی شناختیں تھیں۔ ملتانی‘ بہاولپوری‘ ڈیروی‘ جھنگووی اور مختلف دیگر لہجوں کے بھی نام تھے۔ بہاولپور میں اب پرانے ریاستی ہیں جو سرائیکی زبان بولتے ہیں‘ اسکے شمال میں اب اکثریت کی زبان پنجابی ہے اور دیگر علاقوں میں بھی لوگوں نے نقل مکانی کی ہے۔ لیکن بہاولپور سب کی شناخت ہے‘ یہاں تک کہ وہ ہندو جو بہاولپور سے بیکانیر میں جا کر آباد ہوئے‘ وہ آج بھی بہاولپوری مشہور ہیں۔ دیکھیں‘ ولی عہد صاحب کیا کرتے ہیں۔ </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_33241568.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ایران‘ امریکہ معاشی جنگ کا مستقبل(ڈاکٹر رشید احمد خاں)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr-rasheed-ahmad-khan/2026-09-04/52600/88900057</link><pubDate>Fri, 04 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr-rasheed-ahmad-khan/2026-09-04/52600/88900057</guid><description>امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست حملوں کا سلسلہ ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے۔ یکم ستمبر کو امریکی افواج نے ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں میں ریڈار‘ فضائی دفاعی نظام‘ میزائل تنصیبات‘ آبنائے ہرمز کے قریب عسکری و بحری اہداف‘ اور دو ایرانی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا‘ جبکہ امریکی حکام کے مطابق تقریباً 100 اہداف پر حملے کیے گئے۔ اس کے جواب میں ایران نے بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے خطے میں امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ ان تازہ جھڑپوں کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کرنے کا اعلان کیا ہے‘ جس سے خلیجی ممالک کی تیل برآمدات‘ ایشیا کو توانائی کی فراہمی اور عالمی بحری تجارت متاثر ہو گی جبکہ انشورنس اور مال برداری کے اخراجات میں بھی اضافہ ہوگا۔ اگر یہ صورتحال طول پکڑتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ‘ سپلائی چین میں خلل اور خطے کی معیشتوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ ان حملوں سے قبل صدر ٹرمپ نے ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کیلئے تجارتی اور اقتصادی پابندیوں اور بحری ناکہ بندی کا راستہ اختیار کیا تھا۔ صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ یہ اقدام زیادہ مؤثر ثابت ہو گا کیونکہ آبنائے ہرمز کے راستے امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں سے تیل اور گیس باہر لیجانے اور باہر سے ایران میںسامان لانے پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ امریکہ کے سیکرٹری خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے ایران کے خلاف اس اقتصادی جنگ کا اعلان کرتے ہوئے نہ صرف ایران کی معیشت کو تباہ کرنے کے کا اعلان کیا بلکہ خبردار کیا کہ جو ملک ایران کے خلاف امریکہ کی ان معاشی اور تجارتی پابندیوں کی مخالفت کرے گا‘ امریکہ اسے بھی سخت تادیبی کارروائیوں کا نشانہ بنائے گا۔امریکہ کے اس اعلان سے اُن ممالک میں تشویش کی سخت لہر دوڑ گئی جو دہائیوں سے ایران کے ساتھ تجارت کرتے چلے آ رہے ہیں۔ ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک میں چین خاص طور پر قابلِ ذکر ہے‘ جو ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے اور اگر امریکی اعلانات کے بعد چین کو ایرانی تیل کی سپلائی میں رکاوٹ آئی تو چین کی صنعت کو سخت نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ چین نے اس بارے میں امریکہ کو اپنی تشویش سے آگاہ بھی کر دیا۔ چین کی وزارتِ خارجہ کی ترجمان نے اپنے ایک بیان میں امریکہ کے اس اقدام کو غیر قانونی قرار دیا۔ چین کے اس ردِعمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین‘ جس نے چند برس قبل ایران سے تیل کی خریداری اور ایران کی توانائی کے شعبے میں بھاری سرمایہ کاری کا ایک طویل المیعاد معاہدہ کیا تھا‘ ایران سے تیل کی سپلائی کو کسی نہ کسی طرح جاری رکھنے کی کوشش کرے گا۔ ماضی میں بھی چین بین الاقوامی منڈی میں ایرانی تیل کی فروخت پر پابندی کو بائی پاس کر کے نجی چینی کمپنیوں کے ذریعے ایران کا خام تیل حاصل کرتا رہا ہے‘ مگر امریکہ کی طرف سے ان کمپنیوں کو ٹارگٹ کرنے کے بعد چین کیلئے یہ آپشن اب دستیاب نہیں رہا۔ آبنائے ہرمز کی بندش کی صورت میں چین کیلئے واحد راستہ خشکی کا ہے اور وہ پاکستان کی صورت میں دستیاب ہے کیونکہ پاکستان اور ایران کی 900 کلو میٹر طویل سرحد پر ایران اور پاکستان کے درمیان تجارت کیلئے چھ کوریڈور موجود ہیں۔ 17جون کو سوئٹزرلینڈ میں اسلام آباد ایم او یو پر دستخط ہونے کے بعد پاکستان نے اپنی بندرگاہوں پر موجود ایرانی کنٹینرز کو  کلیئرنس کے بعد انہی ٹریڈ کوریڈور سے سامان لے جانے کی اجازت دی تھی۔ ایران کے خلاف امریکہ کی معاشی جنگ اور اقتصادی پابندیوں کے علاوہ بحری ناکہ بندی کے بعد ایران نہ صرف ان تجارتی کوریڈورز کے ذریعے اپنی ضروریات کا سامان درآمد کرنے کی خواہش کرے گا بلکہ چین بھی سی پیک کے راستے ایران سے تیل حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔ 2015ء میں پاکستان اور چین کے درمیان چینی صوبے سنکیانگ کے شہر کاشغر اور آبنائے ہرمز کے دہانے پر واقع بحیرہ عرب کے ساتھ بلوچستان کے ساحل پر گہرے پانی کی قدرتی بندرگاہ‘ گوادر کو ملانے والے سی پیک کی تعمیر کے پیچھے سب سے اہم محرک بحر ہند کی آبنائے ملاکا پر چینی انحصار کا خاتمہ تھا‘ کیونکہ اسے کسی وقت بھی بند کیا جا سکتا تھا۔ 2020ء میں جب ہمالیائی سرحد پر چین اور بھارت کے درمیان مسلح تصادم ہوا تھا تو بھارتی فوج کے سربراہ نے دھمکی دی تھی کہ اگر آئندہ چین اور بھارت میں جنگ ہوئی تو یہ ہمالیائی علاقے تک محدود نہیں رہے گی بلکہ خطے کے دوسرے حصوں تک پھیل جائے گی۔ تب انہوں نے آبنائے ملاکا کو بند کرنے کی طرف ہی اشارہ کیا تھا۔ اب جبکہ امریکہ نے آبنائے ہرمز کے راستے ایرانی تیل کی برآمد پر سخت پابندی لگا دی ہے تو چین کیلئے ایرانی تیل حاصل کرنے کیلئے سوائے سی پیک کے اور کوئی راستہ نہیں بچتا۔امریکہ کی طرف سے ایران کی معاشی ناکہ بندی سے صرف ایران کو ہی نقصان نہیں ہو گا بلکہ اس کی وجہ سے امریکہ کے چین اور پاکستان کے ساتھ تعلقات بھی متاثر ہو سکتے ہیں‘ کیونکہ امریکی سیکرٹری خزانہ نے واضح کیا ہے کہ ناکہ بندی میں ایران کی سہولت کاری کے مرتکب ممالک کے خلاف بھی امریکہ سخت اقدامات کرے گا۔ چین کے بعد ایران کے جن ممالک کے ساتھ بھاری تجارتی تعلقات قائم ہیں‘ وہ متحدہ عرب امارات اور ترکیہ ہیں۔ متحدہ عرب امارات پہلے ہی ایران کے ساتھ ہر قسم کے تجارتی اور کاروباری تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کر چکا ہے۔ دوسی جانب چین نے ایران کے خلاف امریکہ کی اقتصادی پابندی اور بحری ناکہ بندی کو بین الاقوامی قانون کے خلاف قرار دیا ہے۔ صاف نظر آ رہا ہے کہ چین ایران کے خلاف امریکی تجارتی پابندیوں اور ناکہ بندی کو قبول نہیں کرے گا۔ چین کے علاوہ دیگر کئی ملکوں نے بھی ایران کے خلاف امریکی معاشی پابندیوں کی مخالفت کی ہے‘ جن میں قطر بھی شامل ہے۔ قطر نے ایران اور عمان کے درمیان حال ہی میں آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد و رفت کو ریگولیٹ کرنے کے ایک سمجھوتے کی حمایت کی ہے اور جنگ کے بجائے سفارت کاری کے ذریعے مسئلے کے حل پر زور دیا ہے۔ادھر جی20 کے رکن ممالک کے وزرائے خزانے کے اجلاس میں بھی امریکی وفد کو یورپی ممالک کی ناراضی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ خاص طور پر جرمنی کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ ان کا نمائندہ اجلاس میں امریکہ پر زور دے سکتا ہے کہ جنگ کے بجائے سفارتی ذرائع سے مسئلے کا حل تلاش کیا جائے۔ کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں شریک روس کے صدر ولادیمیر پوتن‘ چینی صدر شی اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے خلیج فارس میں دوبارہ جنگ اور ایران پر حملوں کی مذمت کی۔ اس موقع پر روس اور چین نے نہ صرف ایران کی حمایت کی بلکہ دفاع کے شعبے میں تعاون جاری رکھنے کا اعلان بھی کیا۔ اگرچہ امریکی صدر اور وزیر خزانہ ایران پر اقتصادی پابندیوں کا گھیرا تنگ کر کے اس کی معیشت کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں مگر بین الاقوامی سطح پر امریکہ کو اس مشن میں کہیں سے بھی حمایت حاصل نہیں ہو رہی بلکہ 17 جون کو جس دستاویز پر ایرانی صدر اور پاکستانی وزیراعظم کے ہمراہ خود صدر ٹرمپ نے دستخط کیے تھے‘ اس کی طرف دوبارہ رجوع کرنے کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اپنے ایک حالیہ بیان میں اسلام آباد ایم او یو پر عمل درآمد کیلئے ایران اور امریکہ کے درمیان بات چیت پر زور دیا ہے۔ پاکستان‘ جس نے ایران اور امریکہ کے درمیان ایم او یو پر اتفاق پیدا کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا‘ کی طرف سے بھی اس دستاویز کو ایران امریکہ جنگ کے مستقل اختتام کا واحد ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح دیکھا جائے تو صدر ٹرمپ ہتھیاروں کیساتھ لڑی جانے والی جنگ کے پہلے رائونڈ کی طرح ایران کیخلاف معاشی جنگ بھی ہار چکے ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90264263.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کبھی آئیں لندن!(اسد طاہر جپہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/asad-tahir-jappa-/2026-09-04/52601/77292774</link><pubDate>Fri, 04 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/asad-tahir-jappa-/2026-09-04/52601/77292774</guid><description>اگر آپ وطن عزیز میں کسی سرکاری ادارے سے وابستہ ہیں تو بیرونِ ممالک بسنے والے آپ کے زمانہ طالب علمی کے دوست احباب اور رشتہ داروں کا مسلسل یہ اصرار ہوتا ہے کہ آپ اپنی مصروفیات سے وقت نکال کر ان کے پاس نیویارک‘ اوسلو‘ میلان‘ پیرس یا لندن کا چکر لگائیں۔ سب کے سب دیارِ غیر میں اپنے وسیع کاروبار اور معاشی خوشحالی کے دعوے کرتے ہیں اور اکثر اس حوالے سے تصاویر اور وڈیوز بھی بھیجتے رہتے ہیں تاکہ آپ کو یقین ہو جائے کہ آپ کا دوست بیرونِ ملک ایک کامیاب آدمی بن چکا ہے۔ آئے روز دوستوں کے لندن‘ پیرس یا نیویارک سے فون بھی آتے ہیں۔ سلام دعا کے بعد دوسری طرف سے مخاطب دوست یہی کہتا ہے کہ کب آ رہے ہو؟ پلیز اس بار ضرور آئیں۔ یہاں آپ کا اپنا گھر ہے‘ جب دل کرے آ جائیں۔ برطانیہ میں مقیم دوست یہی کہتے ہیں کہ کبھی آئیں لندن! یہ سب کچھ سن کر آپ کا دل خوش ہو جاتا ہے اور محسوس ہوتا ہے کہ سمندر پار بھی دوست احباب کا ایک وسیع حلقہ موجود ہے۔ یہ الگ بات کہ اس رسمی دعوت کے بعد وہ صاحب اپنے یا کسی عزیز کے ضروری کام کی پوری تفصیل بیان کرکے اس میں معاونت کی تاکید کرنے لگے گا‘ جو اس فون کال کا اصل مقصد ہو گا۔ یہ عمل نجانے کتنی مرتبہ دہرایا جاتا ہے۔ اگر آپ نے ہمت باندھ کر ویزہ حاصل کر لیا اور بیرونِ ملک جانے کا پروگرام بنا لیا تو سامان کے ساتھ امیدوں اور خواہشات کا ایک بڑا بیگ بھی تیار ہوتا ہے۔ ویزہ حاصل کرنے کے بعد جب دوستوں کو اپنی آمد کی تاریخ سے آگاہ کیا جائے تو دس میں سے پانچ متعلقہ دنوں میں اپنی ذاتی یا کاروباری مصروفیات کا بہانہ پیش کرکے پتلی گلی سے نکل جائیں گے۔ البتہ کچھ سچے اور کھرے دوست آپ کو ایئرپورٹ ریسیو کرنے آئیں گے اور بڑی عزت سے اپنے پاس ٹھہرائیں گے۔ پہلے تین چار دن تو بڑے چاؤ سے گزرتے ہیں۔مگر چند روز کے بعد میزبان کی بس ہو جاتی ہے اور وہ باتوں باتوں میں پوچھنا شروع کر دیتا ہے کہ واپسی کب ہے۔ اگر آپ تعلیم یا ملازمت کے سلسلے میں لمبے عرصے کیلئے جائیں تو معاملہ یکسر مختلف ہوتا ہے۔ جب چند روز کیلئے آئیں تو آپ مہمان ہیں۔ مہمان کو ہمارے مذہب اور کلچر‘ دونوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ایسی صورت میں ہر دوسرا دوست فون کر کے یہی کہتا ہے کہ آج رات کا کھانا میری طرف ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ اتوار کو فلاں جگہ سیر کرنے چلتے ہیں‘ کھانے کے بعد شاپنگ بھی ہو جائے گی۔ تقریباً ہر کھانے کے بعد چند تصویریں بنتی ہیں اور سوشل میڈیا پر لگائی جاتی ہیں جبکہ وڈیو کلپس ٹک ٹاک کی زینت بنتے ہیں۔ ایک آدھ کھانے یا سیر وغیرہ پر پچاس سے سو پاؤنڈ کا خرچ آتا ہے۔ ویسے بھی آپ نے آٹھ دس دن بعد واپس چلے جانا ہوتا ہے‘ لہٰذا دوست یہ سب کچھ برداشت کر لیتے ہیں۔ اس کے برعکس جب آپ لمبے عرصے کیلئے جائیں تو رویہ 180 ڈگری گھوم جاتا ہے۔ تب وہی دوست بہانے بناتا ہے کہ میں بہت مصروف ہوں۔ کچھ ملے جلے بہانے تراشے جاتے ہیں‘ مثلاً اگلے مہینے ملتے ہیں‘ گھر چھوٹا ہے ورنہ میں آپ کو ضرور بلاتا۔ کئی تو ایسے غائب ہوں گے جیسے وہ کبھی دنیا میں ہی نہیں آئے تھے۔ اچانک اتنی بے رخی کیوں؟ اس کی پانچ ممکنہ بڑی وجوہات ہیں۔سب سے بڑی وجہ مالی بوجھ کا خوف ہے۔ برطانیہ میں زندگی مہنگی ہے۔ کرایہ‘ بل‘ بینک کی قسط‘ بچوں کی فیس سب کچھ مل کر ایک بڑا معاشی بوجھ ہے جو ہر کوئی اٹھائے پھرتا ہے۔ ہر شخص مہینے کے آخر میں جمع تفریق اور حساب لگا رہا ہوتا ہے۔ جب آپ پاکستان سے مہمان بن کر آتے ہیں تو آپ چھٹیاں منانے آتے ہیں۔ اس مختصر دورانیہ کا زیادہ معاشی بوجھ نہیں ہوتا کیونکہ گنتی کے یہ چند دن دوستوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں۔ لیکن جب آپ مستقل رہنے آتے ہیں تو لاشعوری طور پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ ہم سے مدد مانگے گا؟ مثلاً کچھ رقم بطور قرض مانگ سکتا ہے‘ نوکری کی توقع ہو سکتی ہے‘ یا کچھ عرصہ گھر میں قیام کا کہا جا سکتا ہے۔ دوسری طرف وطن عزیز سے جانے والے شخص کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہوتی ہے کہ وہ نیا ہونے کے باعث سسٹم سے واقف نہیں ہوتا۔ اس لیے پرانے دوست آپ کے بوجھ بننے سے پہلے ہی فاصلہ اختیار کر لیتے ہیں۔ دوم‘ پاکستان میں فون پر آپ کو بتایا جاتا ہے کہ میرا تین چار بیڈ روم کا بڑا گھر ہے‘ دو گاڑیاں ہیں‘ بزنس ہے۔ آپ یہ سب سنتے اور دل میں سوچتے ہیں کہ واہ! کیا بات ہے‘ میرا دوست کامیاب ہو چکا ہے۔ مگر جب آپ اس کا دو بیڈ والا فلیٹ‘ 15 سال پرانی گاڑی اور 12 گھنٹے کی ڈیوٹی والی جاب دیکھتے ہیں تو تصور اور حقیقت کا فرق سامنے آ جاتا ہے۔ اس دوست کو بھی ڈر لگتا ہے کہ آپ واپس جا کر سب کو بتائیں گے کہ فلاں کی اصل اوقات کیا ہے۔ اس لیے واضح اکثریت تو سرے سے جھلک ہی نہیں دکھاتی اور اکثر مختصر ملاقات میں ہی عافیت سمجھتے ہیں۔ سوم‘ پاکستان کے طرزِ زندگی کے برعکس یورپ میں وقت کی کمی اور زندگی روبوٹک ہے۔ صبح سات بجے کام یا تعلیم کیلئے گھر سے نکلے تو پھر شام کو واپسی۔ پھر بچے‘ ان کا سکول۔ اتوار کو گروسری سٹور سے خریداری۔ بیس بیس سال سے یہاں رہنے والوں کا سارا سوشل سرکل اب یہیں کے لوگوں پر مشتمل ہے‘ جن میں بچوں کے کلاس فیلوز کے والدین‘ کولیگز اور مسجد کے ساتھی شامل ہوتے ہیں۔ آپ اچانک آ کر ان کے 20 سال کے بنے ہوئے سوشل نیٹ ورک میں خلل ڈالتے ہیں۔ اس لیے ان کے پاس آپ کیلئے اضافی وقت نہیں ہوتا۔ چوتھی وجہ حسد اور شرمندگی ہے۔ یہ ایک کڑوا سچ ہے۔ کئی بار پاکستان سے آنے والا تازہ دم ہوتا ہے‘ اس کے پاس نئی کہانیاں اور نئی توانائی ہوتی ہے جبکہ وہاں رہنے والا 15 سال سے ایک ہی جگہ گھس رہا ہوتا ہے۔ لاشعوری طور پر اسے لگتا ہے کہ یہ تو دو ہفتے میں واپس جا کر پھر راج کرے گا اور میں یہیں پستا رہوں گا۔ وہ اس حسد کو مصروفیت کے پردے میں چھپا لیتا ہے۔ پانچویں بڑی وجہ ثقافتی خلیج ہے۔ جو شخص 20 سال سے یورپ‘ امریکہ میں آباد ہے اس کی سوچ‘ بول چال اور ترجیحات بدل چکی ہیں۔ اس کے بچے اردو نہیں بول سکتے۔ جو ابھی پاکستان سے آیا ہے وہ وہیں کی باتیں کرتا ہے۔ دو چار دن تک یہ فرق اچھا لگتا ہے مگر پھر یہ سماجی تفاوت اجنبیت بن جاتا ہے۔ اس طرح دو مختلف معاشرتی روایات کے حامل دوستوں میں بات کرنے کو موضوع نہیں رہتے۔لہٰذا اگر آپ لمبے عرصے کیلئے برطانیہ یا کسی دوسرے ملک میں شفٹ ہو رہے ہیں تو دل چھوٹا نہ کریں‘ بس اپنی تو قعات بدل لیں اور خواہشات محدود کر لیں۔ اس ضمن میں چند رہنما اصول یاد رکھیں۔ اول: کبھی مہمان بن کر نہ جائیں بلکہ خودمختار بن کر جائیں۔ جہاز سے اترتے ہی کسی دوست کے گھر رہنے کا پلان نہ بنائیں بلکہ مناسب رہائش کرایہ پر حاصل کریں۔ جب آپ بوجھ نہیں بنیں گے تو لوگ خود بخود عزت دیں گے۔ دوم: تو قعات انتہائی کم رکھیں۔ جو دوست آپ کو ہمیشہ اپنے گھر آنے کی دعوت دیتا تھا اس سے یہ امید نہ رکھیں کہ وہ یہاں آپکو ہر روز کھانا کھلائے گا کیونکہ یہاں وہ خود مزدور ہے۔ سوم: اپنا سوشل سرکل خود بنائیں۔ مسجد جائیں‘ کمیونٹی سنٹر جائیں‘ کالج یا یونیورسٹی جوائن کریں۔ محض پرانے دوستوں تک محدود نہ رہیں۔ مغرب میں کامیاب وہی ہیں جنہوں نے خود اپنا نیٹ ورک بنایا ہے۔ &#39;&#39;کبھی آئیں لندن‘‘ یہ جملہ جھوٹ نہیں‘ یہ دل سے بولا جاتا ہے۔ لیکن سچ یہ ہے کہ پردیس میں دل اور جیب دونوں کا حساب لگانا پڑتا ہے۔ اس لیے گلہ نہ کریں۔ نہ وہ برے ہیں نہ آپ۔ حالات اور وقت نے سبھی کو اپنے پنجوں میں جکڑ رکھا ہے۔ اگر آپ دیارِ غیر جا رہے ہیں تو یہ نیت کر کے جائیں کہ میں کسی پر بوجھ نہیں بنوں گا۔ اگر آپ مغرب میں مقیم ہیں تو ایک بار اپنے اُس دوست کو کال کر لیں جو مہینوں سے آپ کے شہر میں ہے اور آپ نے آج تک اس کا حال نہیں پوچھا۔ آخر میں پیسہ نہیں‘ رشتے ہیں جو کام آتے ہیں اور رشتے کبھی جھوٹی دعوت اور شان و شوکت سے نہیں بلکہ میل ملاپ سے زندہ رہتے ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_34710710.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>اعلانِ انہدامِ نظام(آصف عفان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/asif-afan-/2026-09-04/52602/97941899</link><pubDate>Fri, 04 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/asif-afan-/2026-09-04/52602/97941899</guid><description>ستمبر ستمگر بننے جا رہا ہے‘ بدلتے تیور کے ساتھ ساتھ ہواؤں کا رُخ بدلنے کے واضح اشارے بھی برابر مل رہے ہیں۔ دور کی کوڑی لانے والے دور دراز سے نت نئی کوڑیاں لا رہے ہیں جبکہ سیاسی پنڈت بھی حکمرانوں کے مستقبل کو لے کر صبح شام مہورت پر مہورت نکالے چلے جا رہے ہیں۔ دانشوری بگھارنے والے کہیں نقطے ملاتے نظر آرہے ہیں تو کہیں خاکے بناتے۔ ممکنات سے لے کر غیرمتوقع اور بعید از قیاس تک سبھی کے جواز اور توجیہات تراشنے کے علاوہ جہاں اُوٹ پٹانگ بونگیاں دیکھنے اور سننے کو مل رہی ہیں‘ وہاں اس قدر پکے منہ سے آنے والے دنوں کے منظر نامے اور نقشے کھینچے جا رہے ہیں جیسے ماسٹر پلان انہی کی مشاورت اور شراکت کے گرد گھومتا ہو۔ اس اُدھم میں یہ توقع بھی بجا طور پر کی جا سکتی ہے کہ گول مول تجزیے کرنے والے نئے صوبوں کے نام اور ان کی حد بندی کا پرچہ آؤٹ نہ کر دیں۔ ریٹنگ اور پوائنٹ سکورنگ اس قدر اہم ہدف بن چکا ہے کہ خبر کی صحت اور صداقت روز بروز ثانوی اور بے معنی ہوتی چلی جارہی ہے۔ صدر آصف علی زرداری لندن کیوں گئے؟ محسن نقوی ان کے تعاقب میں کیوں ہیں؟ زرداری کو وزیر باتدبیر نے کیا اہم پیغام پہنچایا ہے؟ ہنرمندانِ ریاست و سیاست نے محسن نقوی کو کیا ٹاسک دے کر بھیجا ہے؟ اس میں لچک اور نافرمانی کی گنجائش کا تناسب کیا ہے؟ جواب اور ردعمل کیا آیا ہے؟ کوئی زرداری صاحب کی لندن روانگی کو ٹوکنِ جلاوطنی قرار دے رہا ہے تو کوئی حکمتِ عملی‘ اسی طرح کوئی نیا لندن پلان قرار دے رہا ہے تو کوئی بڑی بیٹھک۔ کوئی محسن نقوی کی نظام سے متعلق تقریر سے تانے بانے جوڑ رہا ہے تو کوئی اس تقریر کا باقاعدہ تسلسل قرار دے رہا ہے۔ برادرم سہیل وڑائچ ونڈر بوائے کی آمد کا اشارہ دینے کے بعد بیشتر کالم اشاروں کنایوں اور استعاروں کی بیساکھیوں سے لکھے چلے جا رہے ہیں۔ ان کالموں سے زور اور تقویت پکڑنے والے دانشور بلٹ پوائنٹس کی صورت اسباب اور امکانات کا تڑکا لگا کر باقاعدہ پیش گوئی کرتے نظر آتے ہیں۔ مرحوم و مغفور بزرگوار عبدالقادر حسن کے کالموں میں بھولے کے کردار سے سبھی بخوبی واقف ہیں۔ دور کی کوڑیوں اور ممکنہ خطرات و اندیشوں سمیت ممکنات کے علاوہ ہونی اور اَنہونی کو باور کرانے کا ہنر وہ بھولے کے سہارے بخوبی آزماتے رہے۔ اسی طرح آج کل وڑائچ صاحب کے استعاروں کا چرچا ہے‘ حالیہ کالموں میں کہیں کٹا کھول ڈالا ہے تو کہیں کٹے کے سرِ بازار دیدار کی خبر دے رہے ہیں‘ کیڑیوں کو رنگ و نسل میں تقسیم کر کے ایسی گردان کی ہے کہ سبھی پارٹیاں اپنے اپنے اہداف کے گرد رینگتی نظر آرہی ہیں۔ دیکھیے آنے والے دنوں میں کن کن کیڑیوں کے پر نکلتے ہیں۔ ویسے کیڑیوں کے قبیلے میں پر نکلنا کوئی اچھا شگون نہیں ہے جبکہ سیاسی قبیلے میں پروں کے بغیر پرواز ممکن ہی نہیں۔ ان حوالوں اور استعاروں کا مقصد محض تمہید ہرگز نہیں! دراصل راج نیتی کے نبض شناس دانشوروں اور سیاسی پنڈتوں کی آرا اور مہورت شیئر کرنا اس لیے مقصود تھا تاکہ آنے والے دنوں میں طے کیا جا سکے کہ کس کا کہا کتنا مستند قرار پایا ہے۔ وَنڈر بوائے کی تھیوری کے نقطے اعلانِ انہدامِ نظام سے ملائے جائیں تو بننے والے خاکے مستقبل کے منظرنامے کا استعارہ لگتے ہیں جبکہ ان فرضی یا متوقع خاکوں میں بڑی مہارت سے رنگ بھرنے کا ہنر بھی بخوبی آزمایا جا رہا ہے۔ زمینی حقائق میں خواہشات کی پیوندکاری ہو یا راج نیتی سے جڑے رہنے کی کیمیا گری‘ دونوں کے جواز اور اسباب کی برانڈنگ اور مارکیٹنگ کے روپ بہروپ آئے روز آشکار ہو رہے ہیں۔ کون کہاں جھوم رہا ہے اور کون کہاں گھوم رہا ہے‘ یہ سبھی پرچے بھی برابر آؤٹ ہو رہے ہیں۔ آؤٹ ہوتے ان پرچوں میں اِن آؤٹ کا گیم پلان بھی کسی کونے سے جھانک رہا ہے۔ سندھ میں نہری منصوبوں پر دوٹوک اور اَٹل فیصلہ لینے والے آصف علی زرداری نئے صوبوں پر کیونکر مانیں گے اس پر جمع تفریق کریں تو مزاحمت در مزاحمت ہی نکلتی ہے جبکہ مسلم لیگ(ن) بظاہر تو تیل اور تیل کی دھار دیکھ رہی ہے لیکن تیل کی اسی دھار میں پھسلنے کا خطرہ بھی بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ پیپلز پارٹی کی طرف سے واضح جواب آنے کے بعد کہانی کے نئے اور اَن دیکھے موڑ بھی سامنے آنا شروع ہو جائیں گے۔ اس موقع پر مرزا غالبؔ کا ایک شعر بے اختیار یاد آرہا ہے جو حالات کی وضاحت میں مددگار ہو سکتا ہے: قاصد کے آتے آتے خط اک اور لکھ رکھوںمیں جانتا ہوں جو وہ لکھیں گے جواب میںایسے میں پیغام رساں کو مزید پیغام رسانی کیلئے بھی تیار رہنا چاہیے کیونکہ ہنرمندانِ ریاست سمیت سبھی واقفانِ حال بخوبی جانتے ہیں کہ صدر آصف علی زرداری کیا کہیں گے جواب میں۔ ٹیکنالوجی کا دور ہے‘ ممکن ہے ملنے والے جواب کے جواب الجواب میں کوئی نیا سوال بھی انہیں موصول ہو گیا ہو۔ نئے صوبوں کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے اس کا فیصلہ زیادہ دور نہیں۔ تختِ سندھ پر 2008ء سے نان سٹاپ شوقِ حکمرانی پورے کرنے والے کس دل سے اپنی حکمرانی کے حصوں بخروں پر راضی ہوں گے؟ لندن میں یکسوئی اور سکون کے ساتھ جو غور و خوض ہو سکتا ہے وہ ایوانِ صدر میں کیونکر نصیب ہو سکتا تھا۔ ایک بار زمانۂ اپوزیشن میں بھی اینٹ سے اینٹ بجانے کا بیان دے کر سمندر پار جا بیٹھے تھے۔ واقفانِ حال کے مطابق اس بار بھی قیام مختصر دکھائی نہیں دیتا۔ جب تک صوبوں کا اونٹ کھڑا ہے‘ صدر زرداری بھی بیرونی دورے پر ہی نظر آرہے ہیں؛ البتہ اونٹ کے بیٹھتے ہی واپسی کے امکانات دکھائی دے رہے ہیں جبکہ اونٹ کے لیٹنے کی صورت میں فیصلہ حالات اور نئی ترجیحات کے مطابق ہوگا۔ مسلم لیگ(ن) مزاحمت اور اختلاف کی پوزیشن سے کوسوں دور ہے‘ اچھے بچوں کی طرح سبھی فیصلوں پر سر تسلیم خم ہوگا۔ اوّل آخر ترجیحات میں فقط اقتدار پیشِ نظر ہو تو صوبے بھلے ڈویژن کی سطح پر بنیں یا ضلع کی‘ تکرار یا انکار کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ سیاست میں کوئی بات حتمی اور حرفِ آخر نہیں ہوتی‘ نئے صوبوں کے منصوبے پر من و عن عملدرآمد کے امکانات جہاں قوی دکھائی دے رہے ہیں وہاں کمزوری اور لچک کے امکانات کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایسے میں طرزِ حکمرانی کی رِی ماڈلنگ کے آپشنز بھی پیشِ نظر ہیں۔ نئے صوبوں کے قیام پر پیپلز پارٹی کا ڈیڈ لاک شدت اختیار کر گیا تو منصوبے پر نظرِثانی کیلئے متوازی یا متبادل پلان بھی کارگر ہو سکتا ہے۔ زیر غور سبھی آپشنز کے تانے بانے ملائیں تو نئے صوبے دکھا کر بااختیار بلدیاتی نظام پر اتفاقِ رائے بھی ممکن ہے۔ مزاحمت پر آمادہ اور نئے صوبوں سے خائف ضلعی گورنمنٹ سسٹم کے قیام کو عافیت مان سکتے ہیں۔ یاد رہے! اب کے ضلعی سطح پر قائم ہونے ادارے مالی اور انتظامی طور پر نہ صرف بااختیار ہوں گے بلکہ صوبائی حکومتوں کے اثر اور مداخلت سے بھی محفوظ ہوں گے جبکہ ان کے کنٹرول اور جوابدہی کا میکانزم بھی مختلف اور کہیں اور ہو گا۔ ایسی صورت میں صوبائی حکومتوں کے ارکان اور وزیروں کو ترقیاتی اور بلدیاتی فنڈز سے دور رکھنے کا بندوبست بھی موجود ہو گا جبکہ بااختیار ضلعی نظام کو براہِ راست وفاق کے زیرانتظام کرنے کا آپشن بھی اٹھارہویں ترمیم کے خاتمے کا بہترین ثمر بن سکتا ہے۔ ان حالات میں اٹھائیسویں ترمیم میں حائل رکاوٹیں جہاں دور ہوتی نظر آرہی ہیں وہاں نہری منصوبے پر مزاحمت بھی مجبوری اور مصلحت کی نذر ہوتی نظر آرہی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_65560900.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>گڈ گورننس‘ رحمتیں اور درود شریف(امیر حمزہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ameer-hamza/2026-09-04/52603/52476460</link><pubDate>Fri, 04 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ameer-hamza/2026-09-04/52603/52476460</guid><description>اللہ تعالیٰ نے مشرکینِ مکہ کی اتحادی فورسز کو شکست سے دوچار فرمایا۔ عرب کی یہ متحدہ قوت دس ہزار افراد پر مشتمل تھی‘ جس کو صرف ایک ہزار نبوی فوج نے 25روزہ محاصرے کے بعد بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ 10ہزار کے لشکر کو خیبر کے یہود کی بھی حمایت حاصل تھی۔ مدینہ منورہ کے اندر آباد یہود کے قبیلے بنو قریظہ کی بھی معاونت حاصل تھی۔ منافقین بھی ان کے ساتھ ملے ہوئے تھے۔ عبداللہ بن ابی ان کا سردار تھا۔ مدینہ منورہ کے ارد گرد مسلمانوں نے خندق کھود رکھی تھی۔ اس کے اردگرد دس ہزار کا محاصرہ تھا۔ اندرونی حالات بھی انتہائی خطرناک تھے۔ اس جنگ میں معرکہ صرف ایک ہی ہوا۔ یہ حضرت علی حیدر کرار رضی اللہ عنہ اور عمرو بن عبدوُد کے درمیان تھا جس میں عرب کا بڑا سورما عمرو بن عبد وُد مارا گیا۔ اللہ کے رسولﷺ کی سیاسی اور عسکری تدبیروں سے مسلمانوں کو فتح ملی۔ فتح کے بعد اللہ کے رسولﷺ نے اندرونی دشمنوں سے نمٹنا شروع کیا۔ جنہوں نے دفاعی معاہدے کو توڑا‘ ان سے آہنی ہاتھوں نبٹنے کا فیصلہ ہوا۔ جنہوں نے منافقانہ سیاست کے دائو پیچ کھیلے ان کے ساتھ اچھی سیاست کے رویے اختیار کرکے راہِ راست پر لانے کا رویہ اختیار فرمایا۔ مدینہ منورہ کی اندرونی صورتحال کو معمول پر لانے کے بعد اللہ کے رسولﷺ نے ایک اور اہم فیصلہ فرمایا۔آپﷺ نے مکہ کی اتحادی فورسز پر فتح پانے پر خدا کا شکر بجا لانے کیلئے عمرہ کا سفر اختیار فرمایا۔ مکہ والوں کو اپنی ہزیمت کی شرمندگی تھی‘ لہٰذا عمرہ کرنے سے روک دیا۔ حدیبیہ کے مقام پر صلح کا ایک معاہدہ ہوا کہ آپ لوگ آئندہ سال عمرہ کو آ جانا۔ الغرض! صلح حدیبیہ کی صورت میں پہلی بار مکہ کے سرداروں نے مدینہ کی ریاست کو تسلیم کر لیا۔ یہ ایک اہم ٹرننگ پوائنٹ تھا۔ واپس مدینہ منورہ لوٹنے پر اللہ کے رسولﷺ نے اس دور کی دو سپر پاورز‘ فارس اور روم کے حکمرانوں کو دعوتی خطوط لکھے۔ عرب حکمرانوں کو بھی خطوط لکھے۔ ساتھ ہی مدینہ منورہ کے شمال کی جانب خیبر کو فتح کرکے اہلِ عرب کو مضبوط ترین پیغام دیا کہ جو لوگ ریاست مدینہ کی سالمیت کیلئے خطرہ بننے والوں کا ساتھ دیں گے ان کے ساتھ ایسے ہی نمٹا جائے گا۔ ساتھ ہی ساتھ اللہ کے رسولﷺ نے مدینہ منورہ کی سیاسی‘ سماجی اور اخلاقی حالت کی طرف توجہ مبذول فرمائی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے رہنمائی کیلئے سورۃ الاحزاب نازل فرمائی۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے امہات المومنینؓ یعنی ازواجِ رسول کو ان کا بلند اور ارفع مقام یاد دلایا۔ اہلِ بیت اطہارؓ کی تطہیر کا اعلان فرمایا۔ مومن مردوں اور مومن عورتوں کا دینی اور اخلاقی معیار کیا ہونا چاہیے‘ شرم و حیا کے تقاضے کیا ہیں‘ سب اللہ نے بیان فرما دیا۔ اپنے آخری رسولﷺ کی ختم نبوت کا ذکر فرمایا۔ آپﷺ کا مقام بیان فرمایا کہ محمدﷺ اہلِ ایمان کیلئے ان کے مال و جان‘ سب سے بڑھ کر ہیں۔ یہ سارا کچھ اس لیے تھا کہ مدنی معاشرے کو ایک صالح معاشرہ بنایا جائے۔ اس سے اندرونی استحکام آئے گا۔ یہ نہ ہوا تو استحکام نہیں آئے گا۔مندرجہ بالا وجوہات اور حضور کریمﷺ کے اقدامات کو بنیاد بناتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے واضح کیا کہ &#39;&#39;اللہ اور اس کے فرشتے نبی (کریمﷺ) پر صلوٰۃ (درود) بھیجتے ہیں‘‘۔ یعنی زمین پر اللہ کے رسولﷺ کی جو گورننس ہے وہ اس قد عالیشان اور عدل پر مبنی ہے کہ اللہ تعالیٰ پُررحمت اور محبت بھری نگاہیں ہمہ وقت اپنے حبیبﷺ پر اتکاز کیے ہوئے ہے۔ یاد رہے &#39;&#39;یصلون‘‘ کا لفظ &#39;مضارع‘ ہے جس میں زمانہ حال اور مستقبل ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا نزول متواتر‘ مسلسل اور پیہم ہو رہا ہے۔ کوانٹم لیول پر جائیں تو ایٹم کے ذرات سے آگے کوارکس آتے ہیں‘ وہ لہروں کی صورت میں ہیں۔ یعنی ایسی Waves ہیں جو Vibrative حالت میں ہیں۔ ان میں فوٹون کا حسن الگ ہو گا‘ ہر عنصر کا حسن الگ ہو گا۔ یہ تو ہے ہماری مادی دنیا۔ اللہ اللہ! اپنے حبیبﷺ کے چہرۂ انور پر اللہ تعالیٰ کی صلوات کا کیسا حسن وجمال ہو گا‘ ہمارے تصور میں بھی نہیں آ سکتا۔ پھر فرشتے جو خود نور سے بنی ہوئی مخلوق ہیں اور ان پر ایمان لانا ضروری ہے‘ چونکہ درود شریف بھیجنے میں تمام فرشتے بھی شامل ہیں تو وہ آٹھ فرشتے جو عرش اٹھائے ہوئے ہیں‘ حضورﷺ نے فرمایا کہ ایک فرشتے کے کان کی لُو سے گردن تک کا فاصلہ سات سو سال کی مسافت ہے۔ ہماری روشنی کی رفتار تین لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ ہے‘ جبکہ فرشتے کی رفتار ساتویں آسمان سے زمین تک ایک سیکنڈ کے کھربویں حصے میں ہو سکتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ عرش اٹھانے والے فرشتے کے کان کی لُو سے گردن تک کی جگہ میں نہ جانے کتنی کائناتیں سما جائیں۔ پھر عرش کے گرد گھومنے والے فرشتے‘ بیت المعمور والے‘ ساتوں آسمانوں کی فیبرک چھتوں پر سجدے میں پڑے ہوئے‘ سب کے سب حضور نبی کریمﷺ پر درود شریف بھیج رہے ہیں۔امام جلال الدین سیوطی کی شہرہ آفاق کتاب &#39;&#39;الاتقان فی علوم القرآن‘‘ کا مطالعہ کیا‘ دیگر علماء کی تحقیق اور اہلِ لغت کو دیکھا۔ مطلب یہ ہے کہ یہاں قرآن کی عربی کا اصول جسے &#39;&#39; احتباک‘‘ کہا جاتا ہے‘ وہ لاگو ہو گا۔ اس کے مطابق یصلون کے بعد &#39;&#39;یسلمون‘‘ کا لفظ مانا جائے گا کہ اللہ اور اس کے فرشتے درود اور سلام نچھاور کرتے ہیں۔ اسے محقق علماء اُس کپڑے کی صنعت کا جمال کہتے ہیں جسے بُنتے ہوئے خوبصورت اور رنگدار سنہرا بارڈر بنا دیا جائے۔ جی ہاں! درود شریف میں سلام یوں فٹ ہوتا ہے۔ یہ منظر جلالی‘ جمالی‘ نورانی اور تجلیاتی ہے۔ یہ بیان و تصور سے ماورا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے آخری رسولﷺ پر ایسا درود و سلام بھیج رہے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی عظمت و قدرت کے مطابق اور اس کی جلالت کے لائق ہے جبکہ تمام فرشتوں کے لاتعداد گروہ اور جماعتیں اپنے اپنے مقام کے مطابق درود و سلام کا ہدیہ اللہ تعالیٰ کی بار گاہ میں پیش کرتے ہیں اور پھر وہاں سے وہ نجانے کس کس جمال و جلال اور حسن و خوبی کے ساتھ حضور عالیشانﷺ تک پہنچتا ہے۔ یہ تو ہو گئے آسمانوں والے جبکہ ہم جو اہلِ زمین ہیں‘ ہم تشہد میں بیٹھتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کی حمد کے تین کلمات ادا کرتے ہیں اور پھر حضور کریمﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے درود و سلام پیش کرتے ہیں۔ حضورﷺ کے ساتھ جیسی والہانہ اور گہری محبت ہو گی‘ درود و سلام کا معیار بھی وہی ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی ڈیوٹی لگائی ہوئی ہے کہ وہ اس درود و سلام کو جمع کرتے ہیں‘ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کرتے ہیں اور پھر یہاں سے قبولیت کی سند پا کر درود شریف حضور کریمﷺ کی بارگاہ میں پہنچ جاتا ہے۔ یوں اہلِ زمین بھی اس میں شامل ہو جاتے ہیں۔اے حکمرانو اور تمام لوگو! ہمارے حضورﷺ کی مبارک‘ مقدس اور پاکیزہ زندگی کے بہت سارے پہلو ہیں۔ ہر پہلو کو لاتعداد درود و سلام کا خراجِ تحسین ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ نے توفیق دی تو اس پر پوری کتاب لکھ دوں گا‘ ان شاء اللہ! آج تو صرف سورۃ الاحزاب کو سامنے رکھتے ہوئے حضورﷺ کی حکمرانی کے لاتعداد موتیوں میں سے صرف ایک موتی سامنے رکھا ہے۔ اس کا بھی حق کہاں ادا ہو سکتا ہے؟ حضورﷺ نے اپنی حکمرانی کو حکمرانی کی معراج بنایا۔ اقربا پروری اور وراثتی نظام کو مدینے کی پاک سرزمین سے باہر پھینک دیا۔ میرے پاک وطن میں بھی نظام کی ناکامی اور نئے نظام کی باتیں ہو رہی ہیں مگر سیاسی جماعتوں کا نظام اقربا پروری اور وراثتی سسٹم پر کھڑا ہے۔ یہ بھلا کب بااختیار بلدیاتی نظام چاہیں گے؟ کیونکر زیادہ صوبے بنانا پسند کریں گے؟ ان جماعتوں کے اندر جو میرٹ کی بات کرے گا وہ راندۂ درگاہ اور عبرت کا نشان بن جائے گا۔ یہ نام نہاد قائدین کیا جانیں حضورﷺ کی حکمرانی کا انداز۔ یہ کیا پہچانیں گے اقتدار و اختیار کی ذمہ داریاں۔لاکھوں کروڑوں درود و سلام خاتم النبیینﷺ پر۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_68712266.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>