<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>تجارتی خسارہ اور معاشی بحران(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-05/11250</link><pubDate>Fri, 05 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-05/11250</guid><description>پاکستان کی معیشت اس وقت ایسے سنگین بحران کی زد میں ہے جہاں بیرونی ادائیگیوں کا بڑھتا عدم توازن معاشی استحکام کیلئے ایک بڑا خطرہ بن کر ابھرا ہے۔ تجارتی خسارے میں 17 فیصد اضافہ ناقص معاشی پالیسیوں‘ پیداواری صلاحیت میں کمی اور ڈھانچہ جاتی اصلاحات سے چشم پوشی کا منطقی نتیجہ ہے۔ رواں مالی سال کے 11 ماہ کے دوران مجموعی تجارتی خسارہ 34 ارب 75 کروڑ ڈالر کی سطح پر پہنچ چکا ہے‘ جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ ڈالر کی آمد اور اخراج کے مابین فرق اب ایک گہری خلیج کی شکل اختیار کر چکا ہے‘ جس کو موجودہ وسائل کے ساتھ پُر کرنا ممکن نظر نہیں آتا۔ بے قابو تجارتی خسارے کے بنیادی محرکات کو سمجھنے کیلئے برآمدات اور درآمدات کے تقابلی جائزے کی ضرورت ہے۔ رواں مالی سال کے ابتدائی 11 ماہ میں ملکی برآمدات 27 ارب 90 کروڑ ڈالر جبکہ درآمدات کا حجم 62 ارب 66 کروڑ ڈالر پر پہنچ گیا۔ یہ اعداد وشمار ظاہر کرتے ہیں کہ ہم جتنا کما رہے ہیں‘ اس سے دو گنا سے بھی زیادہ بیرونی ممالک کو ادا کر رہے ہیں۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں معاشی کارکردگی میں گراوٹ آئی ہے۔ گزشتہ سال کی اسی مدت میں برآمدات 29 ارب 56 کروڑ ڈالر جبکہ درآمدات 53 ارب 55 کروڑ ڈالر تھیں۔ یعنی ایک جانب برآمدات میں 5.61 فیصد کمی آئی تو دوسری جانب درآمدات میں تقریباً چھ فیصد اضافہ ہوا۔ یہ صورتحال ملکی وژن 2035ء کے بھی برعکس ہے‘ جس کے تحت برآمدات میں سالانہ پانچ ارب ڈالر اضافہ کرنا ہے۔ تجارتی توازن کا یہ بگاڑ معیشت کے رگ و پے میں سرائیت کر جانے والے اس بگاڑ کا ثبوت ہے جس میں پیداواری معیشت کے بجائے صارفیت کو فروغ مل رہا۔اگرچہ اس وقت بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی طرف سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر نے معیشت کو عارضی سہارا فراہم کر رکھا ہے اور سالانہ تیس ارب ڈالر کے لگ بھگ ترسیلات معیشت کو عارضی استحکام فراہم کیے ہوئے ہیں لیکن اس غیر پیداواری سہارے پر طویل مدت تک تکیہ کرنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ موجودہ عالمی منظرنامہ بالخصوص خلیج کی صورتحال ترسیلاتِ زر کیلئے پہلے ہی ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ اگر خلیج میں بحران سنگین ہوتا ہے تو لامحالہ اس سے وہاں مقیم لاکھوں پاکستانیوں کا روزگار بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے‘ نتیجتاً ترسیلاتِ زر میں بڑی کمی آ سکتی ہے۔ اس معاشی المیے کا ایک دردناک پہلو یہ ہے کہ پاکستان جسے قدرت نے زرخیز زمینوں سے نواز رکھا ہے‘ اپنی غذائی ضروریات پوری کرنے کیلئے اربوں ڈالر کی زرعی اجناس درآمد کرنے پر مجبور ہے۔ حالیہ درآمدات میں تیل و گیس کے بعد دوسرا بڑا حصہ غذائی اجناس پر مشتمل ہے‘ جو ہماری زرعی پالیسی پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 25 برسوں کے دوران ملکی جی ڈی پی میں زراعت کا حصہ 31 فیصد سے کم ہو کر 23 فیصد رہ گیا ہے۔ یہ تنزلی اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم اپنے سب سے اہم شعبے کو کس طرح نظرانداز کر رہے ہیں۔ زراعت کی طرح صنعتی اور پیداواری شعبہ بھی بدترین بحران سے گزر رہا ہے۔ اس معاشی دلدل سے نکلنے اور تجارتی خسارے پر قابو پانے کیلئے اب روایتی اقدامات یا وقتی قرضوں سے کام نہیں چلے گا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ صنعتی اور زرعی شعبوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کیلئے ایک جامع‘ پائیدار اور طویل مدتی قومی حکمت عملی وضع کی جائے۔ زراعت کے شعبے میں انقلابی اصلاحات لانا ہوں گی‘ کسانوں کو سستی بجلی‘ کھاد اور جدید بیجوں کی فراہمی یقینی بنانا ہوگی۔ صنعتوں کیلئے توانائی کے نرخوں اور ٹیکس ریٹ کو علاقائی ممالک کی سطح پر لانا ہوگا اور پالیسیوں میں تسلسل پیدا کرنا ہو گا۔ اگر اب بھی اپنی پیداواری صلاحیت اور برآمدات کو نہ بڑھایا گیا اور ترسیلاتِ زر کے سہارے ہی معیشت کو چلانے کی کوشش کی گئی تو خلیج کا ممکنہ بحران اور بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ ملکی معیشت کو مزید سنگین بحران کی طرف دھکیل سکتا ہے۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ماحولیات کا تحفظ، مستقبل کا تحفظ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-05/11249</link><pubDate>Fri, 05 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-05/11249</guid><description>آج دنیا بھر میں عالمی یومِ ماحولیات منایا جا رہا ہے۔ یہ دن ہمیں احساس دلاتا ہے کہ زمین ہماری ملکیت نہیں بلکہ ایک امانت ہے جس کی حفاظت ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ پاکستان کیلئے یہ دن اس لیے بھی اہم ہے کہ ہم سنگین ماحولیاتی چیلنجز سے دوچار ہیں۔ بڑھتا ہوا درجہ حرارت‘ گلیشیرز کا تیز پگھلاؤ‘ شدید اور جان لیوا ہیٹ ویوز‘ غیر متوقع بارشیں‘ تباہ کن سیلاب‘ خشک سالی اور زہریلی سموگ اب محض وقتی خدشات نہیں رہے بلکہ تلخ موسمیاتی حقیقت بن چکے ہیں۔ جنگلات کی مسلسل کٹائی ماحولیاتی توازن‘ حیاتیاتی تنوع اور موسمی نظام کیلئے سنگین خطرہ بن چکی ہے۔ حالیہ برسوں میں آنے والے تباہ کن سیلاب واضح کر چکے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی محض ایک ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ قومی سلامتی‘ معیشت اور انسانی زندگیوں کیلئے بھی بڑا خطرہ ہے۔حکومت کو ماحولیات کو ترقیاتی منصوبہ بندی کا لازمی حصہ بنانا چاہیے۔ جنگلات کے تحفظ اور توسیع‘ قابلِ تجدید توانائی کے فروغ‘ صنعتی اور فضائی آلودگی پر قابو اور ماحولیاتی قوانین پر سختی سے عملدرآمد کے بغیر حالات میں بہتری ممکن نہیں۔ تاہم حکومت اکیلے یہ جنگ نہیں جیت سکتی۔ عوام کو بھی ذمہ داری کا احساس کرنا ہو گا۔ درخت لگانا‘ پانی اور توانائی کا محتاط استعمال اور پلاسٹک کے استعمال سے گریزایسے اقدامات ہیں جو مل کر ایک بڑا فرق پیدا کر سکتے ہیں۔ اگر آج ماحول کے تحفظ کیلئے سنجیدہ اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والی نسلیں پانی‘ خوراک‘ صحت اور محفوظ زندگی جیسی بنیادی نعمتوں سے محروم ہو سکتی ہیں۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بجلی کمپنیوں کا احتساب(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-05/11248</link><pubDate>Fri, 05 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-05/11248</guid><description>حکومت نے بجلی تقسیم کار کمپنیوں میں صارفین کی شکایات کے بروقت ازالے میں ناکامی پر متعلقہ عملے اور افسران کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ پاور ڈویژن کی جانب سے اکتوبر 2025ء سے مارچ 2026ء تک کے عرصے میں بجلی کے شعبے کیلئے قائم شکایتی نظام کے اعداد و شمار کے جائزے کے بعد کیا گیا۔ جائزے سے یہ بات سامنے آئی کہ ہزاروں صارفین کی شکایات یا تو مقررہ وقت کے اندر حل نہیں کی گئیں یا انہیں مکمل طور پر نظرانداز کر دیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت نے ناقص کارکردگی دکھانے والے افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی کا اعلان کیا ہے۔ اگر اس فیصلے پر حقیقی معنوں میں عملدرآمد کیا جاتا ہے تو اس کے متعدد مثبت نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے افسران اور عملے میں جوابدہی کا احساس پیدا ہوگا اور صارفین کی شکایات کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا جاسکے گا۔ تاہم ماضی کے تجربات اس حوالے سے زیادہ حوصلہ افزا نہیں۔ اپریل 2024ء میں حکومت نے بجلی کی اوور بلنگ اور صارفین کو غلط بل بھیجنے کے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا اعلان کیا تھا مگر وہ فیصلہ عملی نتائج دینے کے بجائے اعلانات تک محدود رہا‘ نتیجتاً مسائل اب بھی جوں کے توں ہیں۔ اسلئے موجودہ فیصلے کو صرف اعلانات تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اس کے عملی نتائج بھی عوام تک پہنچنے چاہئیں۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ایک تھا ڈپٹی کمشنر(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-06-05/52063/80750061</link><pubDate>Fri, 05 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-06-05/52063/80750061</guid><description>پچھلے کالم میں بات ہو رہی تھی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی‘ جہاں میں گزشتہ 25برسوں سے مسلسل جاتا رہا ہوں۔ وہاں میں نے کتنے ہی بڑے بڑے سکینڈلز دیکھے اور کتنے ہی شریف سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کے چہروں سے نقاب اترتے دیکھے۔ ایک بات جو میں نے وہاں سے سیکھی وہ یہ کہ جب تک ملک کا کوئی چھوٹا یا بڑا بیوروکریٹ منظوری نہ دے‘ وزیراعظم بھی ایک دھیلے کی کرپشن نہیں کر سکتا۔ اگر میں یہ کہوں کہ وزیراعظم ہوں یا کابینہ کے ارکان اور وزرا‘ وہ سرکاری خزانے سے ایک کپ چائے تک نہیں پی سکتے اگر گریڈ 17کا ایک سیکشن آفیسر اس الاؤنس کی منظوری نہ دے۔ شاید آپ میں سے بہت سے لوگوں کو میری یہ بات مبالغہ یا گپ لگے لیکن یہ گپ نہیں‘ بلکہ ملک کا قانون ہے۔ کسی بھی وزارت میں خواہ مالی معاملہ ہو یا انتظامی‘ تمام حساب کتاب کا جوابدہ وزیراعظم یا وزیر نہیں بلکہ اس وزارت کا سیکرٹری ہوتا ہے جسے پرنسپل اکاؤنٹنگ آفیسر کا عہدہ حاصل ہوتا ہے۔ اچھا کرے یا برا‘ تمام ذمہ داری اسی پر عائد ہوتی ہے۔ آپ نوٹ کریں کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں کوئی وزیر اپنے دورِ اقتدار کا حساب کتاب دینے نہیں جاتا بلکہ وہاں وفاقی سیکرٹری کو طلب کیا جاتا ہے اور اسی سے سوال و جواب ہوتے ہیں۔ اسی لیے اگر کمیٹی یہ فیصلہ کرے کہ کسی وزارت میں بے ضابطگیوں کی تحقیقات ہونی چاہئیں تو ایف آئی اے یا نیب کو بھیجے جانے والے کیسز وزارت کے افسران کیخلاف ہوتے ہیںکیونکہ فائلوں پر تمام اختیارات اور فیصلوں کے نیچے انہی افسران کے دستخط ہوتے ہیں۔ اگرچہ یہ کہا جا سکتا ہے‘ اور اکثر افسران کہتے بھی ہیں کہ یہ وزیر یا وزیراعظم کا فیصلہ تھا جس پر وہ عملدرآمد کر رہے تھے‘ اس لیے وہ بے قصور ہیں لیکن قانون اس معاملے میں واضح ہے۔ وزیر یا حکومت پالیسی بنا سکتی اور فیصلے کر سکتی ہے مگر یہ طے کرنا کہ وہ پالیسی اور فیصلے قانونی ہیں یا غیر قانونی‘ یہ وزارت کے افسران کی ذمہ داری ہے۔ اگر وزیر کا فیصلہ قانون کے مطابق نہیں تو افسر اسے نافذ نہیں کرے گا۔ وہ پہلے قانون سے رہنمائی لے گا اور پھر فائل پر اپنی رائے دے گا۔ وزیر تو کچھ عرصے کیلئے آتے ہیں۔ انہیں اپنی وزارت کے قانونی پہلوؤں کا مکمل علم نہیں ہوتا۔ اسی لیے بیوروکریسی کا ادارہ تشکیل دیا گیا تھا کہ وہ نہ صرف قانون جانتی ہو بلکہ ریاست کی مستقل ملازم بھی ہو۔ اسے باقاعدہ تنخواہ ملتی ہے‘ پنشن ملتی ہے چنانچہ یہ ذمہ داری ان بیوروکریٹس پر ڈالی گئی۔ اب بہت سے لوگ کہیں گے کہ اگر کوئی وفاقی سیکرٹری یا دوسرا افسر وزیر یا وزیراعظم کا حکم نہیں مانے گا تو اسے گھر بٹھا دیا جائے گا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر ہر افسر ہی غلط کام کرنے سے انکار کر دے تو کتنے افسران کو گھر بٹھایا جائے گا ؟ایک سابق سرکاری افسر دوست نے مجھے ایک پرانا واقعہ سنایا۔ اُس کی ملاقات بھٹو دور کے ایک ڈپٹی کمشنر ملتان سے ہوئی۔ اُن دنوں نواب صادق قریشی پنجاب کے وزیراعلیٰ تھے۔ انہیں اپنی زمین سے متعلق ایک معاملے میں اُس ڈی سی سے کام تھا۔ انہوں نے کہا کہ ذرا اس معاملے کو دیکھ لیجیے۔ ڈی سی نے فائل دیکھی اور جواب دیا کہ یہ کام نہیں ہو سکتا؛ چنانچہ فیصلہ ان کے خلاف دے دیا۔ اس پر نواب صاحب نے مختلف انداز میں اپنی ناراضی کا اظہار کیا۔ ملتان ایئرپورٹ پر جب وزیراعلیٰ آتے تو تمام ضلعی افسران استقبال کیلئے موجود ہوتے۔ نواب صاحب سب سے ہاتھ ملاتے اور حال احوال پوچھتے مگر اس واقعے کے بعد وہ ڈپٹی کمشنر سے ہاتھ تو ملاتے لیکن ایک لفظ بھی نہ بولتے۔ ڈی سی صاحب کو دیگر افسران کے سامنے یہ رویہ اپنی سبکی محسوس ہوتا۔ انہیں اندازہ ہو گیا کہ وزیراعلیٰ ان سے ناراض ہیں۔ ایک ویک اینڈ پر جب نواب صادق قریشی ملتان آئے تو ایئرپورٹ پر پھر وہی صورتحال تھی۔ اس پر ڈی سی صاحب نے ان کے سٹاف آفیسر کے ذریعے شام کو ملاقات کا وقت لیا۔ ملاقات میں انہوں نے کہا: سر مجھے معلوم ہے کہ آپ مجھ سے ناراض ہیں۔ آپ چاہیں تو مجھے یہاں سے ٹرانسفر کر دیں اور کسی اور کو تعینات کر دیں۔ نواب صاحب نے پوچھا: کیا ہوا؟ ڈی سی صاحب نے جواب دیا: پہلے آپ دعا سلام کے بعد میرا حال احوال بھی پوچھتے تھے لیکن اب نہیں پوچھتے۔ اس پر نواب صادق قریشی نے کہا: وہ آپ کا اختیار تھا جس کے تحت آپ نے فیصلہ دیا۔ میں نے اس میں مداخلت نہیں کی یا یوں کہیے کہ آپ نے مجھے مداخلت نہیں کرنے دی۔ اب اگر میں آپ سے حال احوال نہیں پوچھتا اور دوسروں سے پوچھتا ہوں تو یہ میری مرضی ہے۔ جہاں تک آپ کے ٹرانسفر کا تعلق ہے تو میں وہ نہیں کروں گا۔ آپ نے وہی کیا جو آپ کو درست لگا اور میں وہ کر رہا ہوں جو مجھے درست لگ رہا ہے۔ لہٰذا آپ اپنا کام کریں‘ میں اپنا کام کر رہا ہوں۔ میرے اس دوست نے اس سابق ڈپٹی کمشنر ملتان سے پوچھا کہ آخر وزیراعلیٰ نے آپ کو ہٹایا کیوں نہیں حالانکہ معاملہ ان کے ذاتی مفاد کا تھا؟ انہوں نے جواب دیا کہ نواب صاحب کے ظرف کو ایک طرف رکھ دیا جائے تب بھی اس زمانے کی بیوروکریسی ایسی تھی کہ افسران کی سوچ اور اندازِ کار میں انیس بیس کا فرق تو ہو سکتا تھا لیکن دس بیس کا نہیں‘ جیسا کہ آج کل ہے۔ اگر انہیں ہٹا دیا جاتا تو ان کی جگہ آنے والا نیا ڈی سی بھی وہ غلط کام نہ کرتا۔ اگر کرتا تو پوری سول سروس میں اس کی بدنامی ہوتی‘ اس لیے افسران ایسا رسک نہیں لیتے تھے۔ اگر دوسرا ڈی سی آ جاتا اور وہ بھی انکار کر دیتا تو اس سے نواب صاحب کی اپنی سبکی ہوتی۔آج صورتحال اسکے بالکل برعکس ہے۔ اگر آپ کسی اچھے افسر کو انکار کی وجہ سے ہٹائیں تو ایک لائن لگی ہوتی ہے جو کہتی ہے کہ سر ہمیں حکم کریں۔ اب افسران سول سروس اکیڈمی سے نکلتے ہی ایک دن بھی ضائع نہیں کرنا چاہتے۔ وقت گزرنے کے ساتھ بیورو کریسی کا معیار مسلسل گڑتا چلا گیا ہے۔ پھر ضیا مارشل لاء کے بعد آنے والے سیاستدانوں نے بیورو کریٹس کو مختلف &#39;پیکیجز‘ دے کر اپنا ذاتی وفادار بنا لیا۔ تنخواہیں تو وہ عوام کے ٹیکسوں سے لیتے مگر سیاسی حکمرانوں کے مفادات کا خیال رکھتے جنہوں نے ان کی ٹرانسفر اور پوسٹنگ کرنا ہوتی۔ ہر سیاستدان کو ایسے ذاتی وفادار درکار تھے جو انہیں قانون اور قواعد کی بھول بھلیوں میں نہ الجھائیں اور ان کے کام کر کے دیں۔ منہ سے جو لفظ نکلے اس پر فوراً عمل ہو جائے۔ انہیں یہ نہ بتائیں کہ فلاں کام کی قانون میں اجازت نہ ہونے کے باعث و ہ نہیں ہو سکتا۔ سیاستدانوں کو ایسے افسران چاہیے ہوتے جو قانون کو ان کی خواہشات کے مطابق ڈھالیں نہ کہ رکاوٹیں کھڑی کریں۔2013ء میں وزیراعظم نواز شریف چین کے دورے پر گئے تو دنیا نیوز نے مجھے ادارے کی جانب سے اس دورے کی کوریج کیلئے بھیجا۔ نواز شریف نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ انہیں ایسے سینئر افسران نہیں چاہئیں جو ہر بات پر قانون سمجھانے بیٹھ جائیں بلکہ انہیں ایسے نوجوان افسران درکار ہیں جو Go Getters ہوں۔ میں نے پہلی بار یہ اصطلاح سنی تھی۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ جو ان کے منہ سے نکلے بس اسے ہی قانون سمجھا جائے اور بغیر کسی اگر مگر کے فوراً نافذ کر دیا جائے۔ ایسے افسران نے بعد میں بہت ترقی کی۔ ایک پنجاب میں شہباز شریف کے لاڈلے بنے تو دوسرے نواز شریف کے۔ دونوں کو Go Getter ہونے کا بھرپور انعام ملا۔ پچھلے نگران دور میں دونوں کو نگران وزیر بھی بنوایا گیا۔ اب چونکہ نواز شریف وزیراعظم نہ بن سکے اس لیے ان کا وفادار نئے سیٹ اَپ کا حصہ نہ بن سکا جبکہ شہباز شریف کے وزیراعظم بنتے ہی ان کے معتمدِ خاص نہ صرف سینیٹر بنے بلکہ گریڈ بیس سے ریٹائر ہونے کے باوجود آج بائیسویں گریڈ تک کے اپنے سینئر افسران کے بھی باس بنے ہوئے ہیں۔ اس وقت پاکستان کی نوجوان بیورو کریسی کے رول ماڈل یہی افسران ہیں۔ پیغام واضح ہے: کچھ بھی کرنا پڑے کر گزرو مگر صاحب کو &#39;&#39;ناں‘‘ نہیں کہنا۔ بس یہی کہانی ہے ہماری بیوروکریسی کی... ڈپٹی کمشنر ملتان سے لے کر ان Go Getter افسران تک۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ظلمت کا وہی ایک رنگ(رسول بخش رئیس)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-06-05/52064/29761996</link><pubDate>Fri, 05 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-06-05/52064/29761996</guid><description>تاریک ادوار کی بات آپ نے ضرور سنی ہو گی۔ زیادہ امکان تو یہ ہے کہ آپ کی زندگی کا بہت بڑا حصہ یا ہو سکتا ہے کہ ساری عمر فکری اور جمہوری آزادی کی تمنا میں گزر گئی ہو۔ دنیا کے حالات کا رُخ فسطائیت‘ جمہوریت کے لبادے میں آمریت‘ نسل پرستی اور جنگی جنون کی طرف بڑھتا دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ طاقت عوام اور معاشرے کے ہاتھوں سے نکل چکی ہے۔ ویسے تاریخ میں کبھی بھی مکمل طور پر یہ ان کے ہاتھوں میں نہیں تھی۔ صدیوں سے ایک جہدِ مسلسل رہی ہے کہ حکومتیں عوام کی رائے سے تشکیل پائیں‘ قانون اور عوام کے سامنے جوابدہ ہوں اور اپنی پالیسیوں میں ان کا مفاد سامنے رکھیں۔ یہ تحریک کب شروع ہوئی اور اس کی فلسفیانہ اور فکری اساس کیا ہے‘ اس کا مختصر مضمون میں احاطہ نہیں کیا جا سکتا۔ صرف یہ حوالہ ہی کافی ہے کہ نجانے کتنے مفکرین نے اپنے خیالات سے اس سیاسی اخلاقیات کی آبیاری کی جس سے ایک عوامی اور ذمہ دارانہ حکومت کا تصور عالمگیریت اختیار کرتا چلا گیا۔ سیاسی علم کی بنیاد ہی یہ نکتہ ہے کہ کون سی حکومت کس طریقے سے تشکیل پائے کہ شہری آزادی‘ سلامتی اور سکون کی فضا میں اپنی زندگی کے خواب پورے کر سکیں۔ یہی بات تھی جس نے کئی ہزار سال سے یونان کے عالموں کو اپنے معروضی حالات کے مطابق مناسب نظام ترتیب دینے میں مصروف رکھا۔ دنیا کی تاریخ کا کوئی بھی دور ایسا نہیں‘ بشمول موجودہ دور کے کہ جب افکار کی دنیا میں بدلتے ہوئے حالات کے مطابق مطمئن انسان‘ پُر سکون معاشرہ‘ جائز اور مستعد حکومت کے تصورات نمایاں نہ رہے ہوں۔پالیسیاں تو وقت کے ساتھ اور سائنسی اور صنعتی ترقی کے ساتھ تبدیل ہوتی رہی ہیں‘ مگر مغربی دنیا میں جدید دور کا سب سے بڑا اتفاق نمائندہ حکومت‘ آئین کی بالا دستی اور شخصی آزادیوں پر تھا۔ ان تین بنیادی اصولوں نے یورپ اور شمالی امریکہ میں فرد‘ معاشرے‘ رہن سہن‘ شہری زندگی اور معیشت کو مکمل طور پر مسلسل ترقی اور مثبت تبدیلی کی راہ پر ڈال دیا۔ اس نوعیت کے سیاسی نظام کا مادی رخ سرمایہ داری نظام اور جائیداد کی مرکزیت تھا۔ ایک دو صدیوں کے اندر صرف دو نسلوں میں ہی محیر العقول بلکہ کرشماتی تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں۔ گزشتہ صدی میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں جو کچھ ہوا وہ شاید پچھلے ایک ہزار سال میں بھی نہیں ہو سکا۔ ہماری عمر کے لوگوں نے تقریباً اس کے وسط کے قریب آنکھیں کھولیں۔ ہم سب اپنے ماحول کی پیداوار ہوتے ہیں‘ اور جو گزر چکا‘ اس کا اندازہ صرف تاریخ پڑھ کر ہی ہو سکتا ہے۔ ہم نے نسبتاً ترقی یافتہ دنیا دیکھی۔ آزادی کے اوائل کا زمانہ اور آزادی کی تحریکیں بھی اس جدیدیت کا ثمر تھیں‘ جو انیسویں صدی کی دوسری دہائی میں شروع ہوئیں۔ ہر معاشرے کے مادی اور فکری دھارے ساتھ ساتھ چلتے رہے۔ متوازی نہیں‘ باہم اکٹھے۔ ایک دوسرے کی مسلسل تشکیل کرتے رہے ہیں۔ تاریخی طور پر میں اس نظریے کا حامی ہوں جس کے مطابق جمہوریت‘ آزادیاں اور قانون کی عملداری سرمایہ داری نظام کی پیداوار ہیں۔ جدید انداز میں تو اس نظام کا تعلق صنعتی دور سے ہے مگر اس کا بنیادی ستون جسے حقِ ملکیت کہتے ہیں یا پراپرٹی‘ قدیم زمانے سے موجود تھا۔ اس لیے ہر مذہب اور ہر تہذیب میں سرمایہ داری نظام مختلف صورتوں میں موجود تھا۔ صرف جدید دور میں چونکہ نئے طبقات پیدا ہوئے‘ معاشرے کی بُنت اور ترتیب تبدیل ہوئی اور فکری آزادی کی تحریک نے زور پکڑا تو سیاسی نظام بھی نئے سانچے میں ڈھل گیا۔گزشتہ صدی کے اوائل ہی سے آزادی اور جمہوریت کی روشنی عالمگیریت کا رنگ اختیار کر چکی تھی۔ قومیت پرستی اور آزادی کی تحریکیں اس کا عکس تھیں۔ صرف ہماری نہیں بلکہ سینکڑوں بعد از نوآبادیاتی ریاستوں کے قیام کا خواب آئین اور جمہوریت کے علاوہ کچھ اور نہ تھا۔ اس کے بعد سب راوی کہتے ہیں کہ بہتر یہی ہے کہ خاموش رہو! اور اگر اشاروں کنایوں میں نوحہ خوانی کر سکتے ہو تو ضرور لکھتے رہو کہ اپنے دور کے حاکموں پر وہ جملے زیادہ بھاری نہیں گزرتے۔ یہ مسئلہ اب چند ملکوں کا نہیں بلکہ کچھ بڑے بڑے اور طاقتور ملکوں کا ہے۔ پہلے تو بات ہم سرسری طور پر امریکہ کی کر لیتے ہیں کہ وہاں اب &#39;&#39;بادشاہت نامنظور‘‘ کی تحریک دبے لفظوں میں پھیلتی مزاحمت کی صورت دیکھ رہے ہیں۔ شاید ہی ایسا پُرگھٹن ماحول گزشتہ ایک صدی میں وہاں دیکھنے میں آیا ہو۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ دائیں بازو کی فکری تحریک جو تقریباً نصف صدی پہلے جدید لبرل ازم اور فلاحی ریاست کے ردِعمل کے طور پر شروع ہوئی تھی‘ کا منطقی نتیجہ ہیں۔ کچھ نسل پرست حلقے سول رائٹس کی تحریک کی کامیابی کے خلاف تھے جس سے سیاہ فام امریکیوں کو برابری کے شہری حقوق حاصل ہوئے۔ باقی کسر فلاحی ریاست کے معاشی تقاضوں نے پوری کردی۔ ایسا تو کبھی خیال ہی نہیں آیا تھا کہ امریکی جامعات کے سربراہوں‘ حقوق کی بات کرتے اساتذہ‘ جنگوں اور قتلِ عام اور نسل کشی کے خلاف احتجاج کرتے طلبہ کو چن چن کر نشانہ بنایا جائے گا۔ اس وقت سیاسی طاقت کا توازن دائیں بازو کے رجعت پسند حلقوں اور ان کی تہہ میں نسل پرستوں کے حق میں ہے۔ لبرل ازم کی عَلم بردار ڈیموکریٹک پارٹی رہی ہے مگر وہ بھی فکری انتشار کے علاوہ بدلے ہوئے قومی ماحول کی اسیر ہے۔ دیکھیں نومبر کے مہینے میں وسط مدتی انتخابات میں وہ اپنی کھوئی ہوئی طاقت دوبارہ حاصل کرتے ہیں یا طاقت کا پینڈولم مزید دائیں بازو کی طرف چلا جاتا ہے۔پوری مغربی جمہوری دنیا کے علاوہ لاطینی امریکہ میں بھی دائیں بازو کی تحریکیں زور پکڑ رہی ہیں۔ ایشوز مختلف ہیں‘ کہیں تارکینِ وطن اور نسل پرستی نشانے پر ہیں توکہیں معاشی مساوات اور شخصی آزادی کی پالیسیاں ہدف۔ ہر نئے انتخابات میں دائیں بازو کی عددی طاقت ایوانوں میں بڑھ رہی ہے اور ساتھ ان کی آواز معاشرے میں گونج رہی ہے۔ بھارت کو ہی دیکھیں‘ جہاں کروڑوں شہریوں کی شہریت مذہبی انتہا پسندی کے تحت ختم کر دی گئی۔ اقلیتوں کے ساتھ جو وہاں سلوک ہو رہا ہے‘ وہ فسطائیت سے کم نہیں۔ چین اور روس کی ہم کیا بات کریں کہ وہاں تو مغربی جمہوریت کا اصول کبھی تسلیم ہی نہیں کیا گیا۔ آمریت پسندی پوری دنیا میں پھیلتی جارہی ہے۔ اس نوعیت کے حکمران اپنے اخلاقی جواز کیلئے تیسری دنیا کے ممالک میں بھی ایسے رویوں کو ابھرتے دیکھ کر نہ صرف خوش ہوتے ہیں بلکہ مکمل حمایت کا یقین بھی دلاتے ہیں۔ مغرب میں تو سیاستدانوں کی ایک نئی کھیپ تیار ہو چکی ہے جو آزادی‘ حقوق اور طاقت ایک مخصوص طبقے اور رجعت پسندانہ سوچ کے حامی لکھاریوں‘ صحافیوں اور دانشوروں کیلئے جائز سمجھتی ہے۔ مخالف سیاسی مفکرین اور سیاست بازوں کیلئے گنجائش محدود ہے۔ وہ سرخ لائنوں کے نشانوں کو آزادیاں محدود کرنے کیلئے آگے بڑھاتے رہتے ہیں۔اپنا حال جو ہے وہ سب کو معلوم ہے۔ شاید کچھ مبالغہ آمیزی ہو گئی کہ سب کو معلوم نہیں۔ وہ اس لیے کہ اکثریت تو مایوس ہو کر سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر چکی ہے۔ آزادیوں کی بات ان سے کریں جو کچھ لکھنے یا بولنے پر پل بھر میں زیرِ عتاب آ جاتے ہیں۔ وہ آپ کو بتائیں گے کہ جمہوریت کی روشنی پھیل رہی ہے یا کچھ لوگوں کیلئے واپڈا کی بجلی کی طرح مکمل طور پر غائب ہو گئی ہے۔ ظلمت میں کبھی بھی سب لوگ حالات سے سمجھوتا کرکے خاموش نہیں ہوتے۔ روشنی کی تمنا‘ مزاحمت اور ایک نئی سحر کی نوید میں وہ سر کھپاتے ہیں‘ مصیبتیں جھیلتے ہیں اور ان کی مزاحمت کئی رنگوں میں جاری رہتی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_33241568.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ایران امریکہ جنگ اور غیریقینی صورتحال(ڈاکٹر رشید احمد خاں)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr-rasheed-ahmad-khan/2026-06-05/52065/56658197</link><pubDate>Fri, 05 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr-rasheed-ahmad-khan/2026-06-05/52065/56658197</guid><description>پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خان کو قائداعظم محمد علی جناح نے آزادی کے فوراً بعد اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں زیرِ بحث مسئلہ فلسطین پر عربوں کے مؤقف کی حمایت کیلئے خصوصی طور پر بھیجا تھا۔ یہ پاکستان کا مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے موقف کا واضح اظہار اور ایک اٹوٹ فیصلہ تھا۔ پاکستان کا مؤقف آج بھی اس حوالے سے واضح اور غیر متزلزل ہے کہ جب تک فلسطینی ریاست کا قیام‘ جس میں القدس کا علاقہ بھی شامل ہو‘ عمل میں نہیں آتا‘ خطے میں حقیقی اور پائیدار امن قائم نہیں ہو سکتا۔ آج بھی یہ حقیقت ملاحظہ کی جا سکتی ہے کہ تین ماہ سے زائد عرصہ کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے متعدد بار جنگ کے خاتمے کے دعوؤں کے باوجود خلیج میں جنگ کسی نہ کسی شکل میں جاری ہے۔ اگرچہ آٹھ اپریل سے ایران‘ امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی قائم ہے مگر لبنان اور غزہ میں اسرائیلی حملے بدستور جاری ہیں اور اب امریکہ اور ایران میں بھی جھڑپیں دوبارہ شروع ہو چکی ہیں۔غزہ میں اکتوبر 2023ء سے اب تک 72 ہزار سے زائد فلسطینی باشندے‘ جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے‘ اسرائیلی حملوں میں شہید ہو چکے ہیں جبکہ ایک لاکھ سے زیادہ زخمی ہیں۔ تین برس کی مسلسل بمباری اور گولا باری کے نتیجے میں تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے دفن ہزاروں فلسطینیوں کی لاشیں اس کے علاوہ ہیں۔ لبنان میں بھی دو مارچ کو اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کا اعلان ہوا تھا مگر ملک کے جنوبی حصے کے علاوہ دارالحکومت بیروت پر بھی اسرائیلی حملے جاری ہیں‘ بلکہ اسرائیل کی زمینی فوج لبنان کے جنوبی حصے میں داخل ہو کر دریائے لیطانی عبور کرتے ہوئے بیروت کے قریب پہنچ چکی ہے۔ دو مارچ سے دو جون تک کے عرصے میں اسرائیل اپنے فضائی اور زمینی حملوں میں لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق 3468 لبنانی باشندوں کو شہید اور 10577 کو زخمی کر چکا ہے۔صدر ٹرمپ کہتے ہیں کہ انہوں نے ٹیلی فون پر سخت زبان استعمال کرتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم کی جنگ بندی کی متواتر خلاف ورزیوں پر سرزنش کی ہے جس کے نتیجے میں‘ ان کے مطابق‘ اسرائیل نے بیروت کی طرف اپنی فوجوں کی پیش قدمی روک دی ہے‘ مگر جنوبی لبنان میں اسرائیل کے فضائی حملے جاری ہیں۔ ان کے جواب میں حزب اللہ کی طرف سے اسرائیل کے شمالی علاقوں پر حملے کیے جارہے ہیں۔صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیل اور حزب اللہ کے مابین جنگ بندی کی کوشش کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں ان کا دعویٰ ہے کہ حزب اللہ نے اس پر اپنی آمادگی کا اظہار کر دیا ہے تاہم لبنان میں مکمل جنگ بندی کا امکان کم ہے کیونکہ حزب اللہ نے پورے لبنان میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے‘ اس پر اسرائیل راضی ہوتا نظر نہیں آتا۔لبنان پر اسرائیل کے وحشیانہ حملوں کی دنیا بھر بشمول یورپ میں بھی سخت مذمت کی جا رہی ہے۔ ایران نے سخت ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے امریکہ کے ساتھ ممکنہ معاہدے پر بات چیت اور امریکیوں کے ساتھ پیغامات کے تبادلے کو معطل کر نے کا اعلان کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ایران امریکہ ڈیل میں لبنان میں جنگ بندی بھی شامل ہے‘ لہٰذا پہلے اسے نافذ کیا جائے۔ صدر ٹرمپ نے ایران کے اس ردِعمل کے باوجود دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ بات چیت &#39;&#39;تسلی بخش طریقے سے آگے بڑھ رہی ہے‘ بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے اور آئندہ چند روز میں ڈیل کے فریم ورک (ایم او یوز) پر دستخط ہونے والے ہیں‘‘۔ قبل ازیں 27 مئی بروز جمعہ کو صدر ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ ایران کے ساتھ ڈیل ہو چکی ہے جس کے تحت امریکہ ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کر دے گا۔ انہوں نے یہاں تک کہا کہ آبنائے ہرمز اور ایران کی ناکہ بندی پر مامور امریکی بحری جہاز اب واپس اپنے اڈوں کو جانے کی تیاری شروع کر دیں کیونکہ وہ &#39;&#39;سچوایشن روم‘‘ میں حتمی اعلان کرنے والے ہیں۔اگلے دن سچوایشن روم میں ٹرمپ کا اپنے مشیروں کے ساتھ اجلاس تو ہوا مگر انہوں نے ایران کی ناکہ بندی کے خاتمے کا اعلان مؤخر کر دیا۔گزشتہ چند روز میں امریکی سینٹرل کمانڈ کی طرف سے خلیج فارس میں ایرانی بحریہ کے ٹھکانوں پر جو بمباری کی گئی ہے اور اس کے جواب میں ایران کی طرف سے کویت‘ بحرین اور متحدہ عرب امارات سمیت خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں پر جو حملے کیے گئے ہیں‘ انہوں نے ایران اور امریکہ کے مابین مکمل جنگ کے خدشات کو ایک بار پھر زندہ کر دیا ہے۔ اگرچہ سینٹرل کمانڈ کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ ان حملوں کے نتیجے میں آٹھ اپریل سے جاری جنگ بندی خطرے میں نہیں پڑے گی لیکن ایران کی جانب سے مجوزہ ڈیل کے مسودے کو قابلِ قبول قرار دینے کے بعد ٹرمپ کی جانب سے ایک مرتبہ پھر اسے غیر تسلی بخش کہہ کر واپس ایران بھیجنے پر دنیا میں دوبارہ تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے‘ اور ایک ایسی جنگ جس کے خاتمے کا خود صدر ٹرمپ اور ان کے وزیر خارجہ مارکو روبیو اعلان کر چکے تھے‘ کے خطرات دوبارہ منڈلانے لگے ہیں۔ایران کے ساتھ تنازع پر امریکی صدر ٹرمپ کی تازہ ترین پوزیشن یہ ہے کہ بات چیت جاری ہے اور تسلی بخش طریقے سے آگے بڑھ رہی ہے مگر یہ کس سمت جائے گی‘ اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔دوسری طرف سیکرٹری آف سٹیٹ مارکو روبیو نے ایوان کی فارن افیئرز کمیٹی کے سامنے دوٹوک بیان دیا ہے کہ امریکہ نے ایران کیخلاف &#39;&#39;ایپک فیوری‘‘ کے نام سے جس جنگ کا آغاز کیا تھا‘ وہ امریکہ کی فتح کیساتھ ختم ہو چکی ہے۔ اس پر کانگریس ممبر سارہ جیکبز نے سوال کیا کہ ہم آپ کی اس بات کا کیسے یقین کر لیں کہ ایران کے خلاف امریکہ کی جنگ ختم ہو گئی ہے جبکہ امریکہ کے بحری جنگی جہاز ایرانی ساحل کے قریب پوزیشن سنبھالے کھڑے ہیں اور علاقے میں امریکی اڈوں پر امریکی بمبار طیارے ایران پر بمباری کیلئے تیار بیٹھے ہیں؟ سیکرٹری روبیو کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا۔ البتہ صدر ٹرمپ نے یہ کہہ کر کہ ڈیل پر دستخط ہونے تک ایران کی بحری ناکہ بندی جاری رہے گی‘ مؤقف اختیار کیا کہ اس سے ایران کو روزانہ کئی ملین ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے اور ٹرمپ کے بقول بحری ناکہ بندی بمباری سے زیادہ مؤثر ثابت ہو رہی ہے۔اگر امریکہ کی طرف سے ایران کی بحری ناکہ بندی جاری رہتی ہے تو ایران کی طرف سے بھی مخالف ممالک کے بحری جہازوں اور ٹینکروں کے آبنائے ہرمز سے گزرنے پر پابندی برقرار رہے گی۔نتیجتاً کشیدگی صرف امریکہ اور ایران تک نہیں رہے گی بلکہ اسکا دائرہ خلیج فارس کے دیگر ممالک مثلاً یو اے ای‘ قطر اور بحرین تک بھی پھیل جائے گا۔بعض تجزیہ کاروں کی رائے میں امریکہ ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈال کر اس کی معیشت کو تباہ کرنا چاہتا ہے تاکہ تہران واشنگٹن کی ان تمام شرائط کو مان لے جو امریکہ اور اسرائیل کھلی جنگ کے ذریعے منوانے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے خلاف نئی جنگ کا آغاز نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کا خیال ہے کہ اقتصادی پابندیوں اور بحری ناکہ بندی کے ذریعے مطلوبہ مقاصد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ مزید یہ کہ صدر ٹرمپ پر امریکی کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف جنگ کی ممانعت کے حق میں قرارداد کی منظوری کے بعد ایران کے خلاف بھرپور جنگ مزید مشکل ہو گئی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو ایران کے خلاف جنگ کسی مختلف شکل میں جاری رکھیں گے کیونکہ دونوں کو معلوم ہے کہ جن مقاصد کیلئے انہوں نے جنگ شروع کی تھی وہ حاصل نہیں ہو سکے۔کچھ تجزیہ کاروں کی رائے ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی پر سمجھوتا ہو جائے تب بھی خطے میں امن قائم نہیں ہو گا اور اس کی بنیادی وجہ مسئلہ فلسطین ہے‘ جسے ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو نے ایران کے خلاف جارحیت کا ارتکاب کر کے مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90264263.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>قربانی کے بعد قربانی(اسد طاہر جپہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/asad-tahir-jappa-/2026-06-05/52066/15767563</link><pubDate>Fri, 05 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/asad-tahir-jappa-/2026-06-05/52066/15767563</guid><description>وطنِ عزیز میں مسلسل بڑھتی ہوئی مہنگائی‘ بیروزگاری اور غربت کے باعث لوگوں کی قوتِ خرید سکڑتی چلی جا رہی ہے۔ دوسری طرف رواں سال قربانی کے جانوروں کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی تھیں لہٰذا ان حالات میں ملک میں اکثریت کیلئے سنتِ ابراہیمی کی انجام دہی ممکن نہیں ہو پائی۔ کئی ایسے افراد جو ہر سال خود قربانی کرتے تھے‘ اس سال وہ بھی اپنی علیحدہ قربانی کے بجائے بڑی قربانی میں حصہ ڈالنے پر مجبور ہو گئے۔ دوسری جانب سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وائرل ہونے کیلئے صاحبانِ جاہ وحشمت کے درمیان عیدِ قربان کیلئے خریدے گئے جانوروں کی نمود ونمائش کا سلسلہ ایک غیر اعلانیہ مقابلے کی صورت جاری رہا۔ اس نے اشرافیہ اور عوام کے مابین پائی جانے والی سماجی ومعاشی خلیج کو مزید گہرا کرکے غریبوں کی بے بسی کیلئے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ سنت ابراہیمی کی ادائیگی ایک مخصوص طبقے کیلئے مذہبی فریضے سے زیادہ معاشرتی رسم بن کر رہ گئی ہے جس میں تصنع‘ ریا کاری اور دکھاوے کے عناصر واضح نظر آتے ہیں۔ قرآن کریم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: &#39;&#39;اللہ تک نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے نہ خون‘ بلکہ تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے‘‘۔ جانوروں کی گردن پر چھری چلاکر قربانی کا فریضہ تو ادا ہو جاتا ہے لیکن اگر اس فریضے کو نمود و نمائش کا ذریعہ بنا دیا جائے تو خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے والی لگ بھگ ملک کی نصف آبادی پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں‘ اس پر غور کرنا بھی ضروری ہے۔ اشرافیہ تو اپنے رنگ برنگے بیل‘ دنبے‘ چھترے‘ بکرے اور اونٹ وغیرہ کی وڈیوز اور تصویریں سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر کے اپنی ثروت ودولت کی دھاک بٹھا لیتی ہے مگر ان کا یہ عمل ملک کی نصف سے زائد آبادی کی محرومی اور بے بسی کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔ اگر اشرافیہ اور عوام کے باہم متضاد طرزِ زندگی کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ ملکی سطح پر کیے جانے والے ہر کٹھن فیصلے کے مضمرات کا سارا بوجھ عوام ہی اٹھاتے ہیں۔ پٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے لے کر بجلی کے کمر توڑ بلوں تک‘ بڑھتے ہوئے اندرونی وبیرونی قرضوں سے لے کر اشیائے خور و نوش کی قیمتوں تک اور منڈیوں میں کسانوں کی رسوائی سے لے کر غریبوں کی جگ ہنسائی تک‘ اس سب کا بوجھ بے بس عوام ہی اٹھانے پر مجبور ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعے آئے روز دل چیرنے والے اندوہناک واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں۔ کہیں غربت کے ہاتھوں مجبور ہو کر باپ اپنی بچوں کو موت کی نیند سلا کر خود سوزی کر لیتا ہے تو کہیں ماں اپنی اولاد سمیت نہر میں کود کر زندگی کا خاتمہ کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ آئے روز پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور بے سبب چالانوں کے نتیجے میں اپنے موٹر سائیکل اور رکشوں کو آگ لگا کر دہائیاں دیتے‘ سینہ کوبی کرتے افراد میڈیا کے ذریعے عوام کے سامنے آ جاتے ہیں۔ یوں بے بس اور بے کس عوام ہی دراصل قربانی کے اصل بکرے ہیں جن کی گردنوں پر سال بھر مہنگائی‘ غربت اور بھوک و افلاس کے ٹوکے چلائے جاتے ہیں جبکہ دوسری طرف اشرافیہ اور ان کی اولادوں کا لائف سٹائل غریبوں کا منہ چڑاتا رہتا ہے۔عید قربان کے گزر جانے کے بعد بھی پاکستان میں قربانی کا سیزن جاری ہے کہ بجٹ کی آمد آمد ہے۔ اشرافیہ کیلئے یہ کبھی بھی دشوار نہیں رہا کیونکہ ان کیلئے تو ہر جانب سہولتیں اور مراعات ہیں جبکہ بجٹ قربانی کا بوجھ بھی نچلے طبقے پر ہی پڑتا ہے اور مراعات کا پورا فائدہ محض اوپر کے طبقے کو پہنچتا ہے۔ پاکستان میں اشرافیہ وہ طبقہ ہے جو ریاست کے وسائل تک براہِ راست رسائی رکھتا ہے مگر قومی خزانے میں ٹیکسوں کی مد میں ان کا حصہ ان کے طرزِ زندگی سے ہرگز مطابقت نہیں رکھتا۔ ماہرینِ معاشیات کے مطابق ہماری اشرافیہ کئی قسم کی ٹیکس مراعات حاصل کرتی ہے جس میں رئیل اسٹیٹ‘ سٹاک مارکیٹ میں کیپٹل گین پر رعایتوں کے نتیجے میں ٹیکس گیپ کا حجم تقریباً تین ہزار ارب روپے کے لگ بھگ ہے۔ علاوہ ازیں دیگر مراعات میں مفت یا رعایتی پلاٹ‘ پٹرول‘ بجلی‘گیس‘ طبی اور سفری سہولتیں شامل ہیں اور ان تمام کا بوجھ براہِ راست غریب عوام پر پڑتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ چینی‘ گندم‘ کھاد‘ انرجی سیکٹر میں سبسڈی اور لائسنسنگ وغیرہ کا فائدہ بھی مخصوص طبقے کو پہنچتا ہے۔ اس کی ایک بڑی مثال نجی پاور پلانٹس ہیں جن کو کپیسٹی پیمنٹس کی مد میں سالانہ اربوں روپے ادا کیے جاتے ہیں مگر ان کی قیمت عام آدمی برداشت کرتا ہے۔ بھاری بھرکم قرضوں کی معافیاں بھی قومی خزانے پر بوجھ میں اضافے کا باعث بنتی ہیں اور قرضے معاف کرانا اشرافیہ کا روایتی طریقہ رہا ہے۔ جب تک یہ مراعات جاری رہیں گی‘ ریاست کے پاس تعلیم‘ صحت‘ انفراسٹرکچر کیلئے پیسہ نہیں ہوگا جس کے نتیجے میں عام لوگوں کی زندگی اجیرن بنتی رہے گی۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ صرف عوام ہی قربانی کیوں دیں؟ اشرافیہ کو قربانی کے استھان پر کب لایا جائے گا؟ اشرافیہ کی قربانی کا مطلب یہ ہے کہ ٹیکس سسٹم میں برابری لائی جائے۔ زرعی آمدن‘ جائیداد اور سرمایہ کاری سب پر یکساں ٹیکس کا نفاذ یقینی بنایا جائے۔ ٹیکس دینا ریاست کیلئے قربانی ہے کیونکہ یہ ذاتی دولت کو اجتماعی فلاح کیلئے دینا ہے۔ اس کے علاوہ مفت پٹرول‘ بجلی‘ طبی اور سفری مراعات کے کلچر کو ختم کرنا ضروری ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ان مراعات سے سالانہ 400 سے 500 ارب روپے بچایا جا سکتا ہے‘ جو تعلیم سے محروم بچوں کی تعلیم پر لگ سکتا ہے۔ علاوہ ازیں چینی‘ گندم اور انرجی سیکٹر میں ایسی تمام پالیسیاں ختم کرنا ضروری ہیں جو محض ایک مخصوص طبقے کو فائدہ دیتی اور مہنگائی کا سارا بوجھ عام آدمی پر ڈالتی ہیں۔ آئی ایم ایف کی پاکستان میں طرزِ حکمرانی اور بدعنوانی پر مبنی تشخیصی رپورٹ کے مطابق پاکستان ہر سال اپنی مجموعی قومی پیداوار (GDP) کا چھ فیصد اشرافیہ کی مراعات‘ ٹیکس چھوٹ اور سبسڈیز پر خرچ (ضائع) کر رہا ہے۔ آئی ایم ایف اور اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) کے مشترکہ تخمینوں کے مطابق یہ رقم سالانہ تقریباً 17.4ارب ڈالر بنتی ہے۔ ان حالات میں ریاست کا عوام سے قربانی مانگنے کا کیا جواز رہ جاتا ہے؟ ریاست تبھی عوام سے قربانی مانگ سکتی ہے جب اشرافیہ خود قربانی دیتی نظر آئے۔ پاکستان کی اشرافیہ پہلے اپنی خواہشات کی قربانی دے کر پاکستان میں صحیح معنوں میں معاشی و سماجی انصاف پر مبنی ایک مربوط اور مضبوط نظام وضع کرے جس میں غریب کا استحصال نہ ہو اور نصف سے زیادہ آبادی کیلئے زندگی وبال نہ ہو۔ یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ جب تک اوپر والا طبقہ اپنی مراعات کی قربانی پیش کرکے ملکی تعمیر و ترقی میں اپنا حصہ نہیں ڈالے گا تب تک آئی ایم ایف پروگرام‘ مہنگائی اور گردشی قرضوں کا چکر نہیں ٹوٹے گا۔ آج پاکستان کو معاشی عدل وانصاف کی ضرورت ہے۔ اگر اشرافیہ اپنی مراعات کی قربانی پیش کرے تو ریاست کے پاس وسائل آئیں گے‘ عوام کا اعتماد بحال ہو گا اور سماجی ربط ضبط مضبوط ہو گا۔ یہ عمل ایک مثبت سماجی تبدیلی کا پیغام بن جائے گا۔ لہٰذا وقت آن پہنچا ہے کہ ہر بجٹ میں عوام کو قربانی کا بکرا بنانے کے بجائے اس سال اشرافیہ اپنی مراعات‘ حرص اور لالچ کو ذبح کر کے دوسروں کیلئے قابلِ تقلید مثال بن جائے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_34710710.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>روٹی دا سوال اے(آصف عفان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/asif-afan-/2026-06-05/52067/15977932</link><pubDate>Fri, 05 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/asif-afan-/2026-06-05/52067/15977932</guid><description>گلگت بلتستان میںسیاسی سرکس آج کل کھڑکی توڑ رش لے رہا ہے۔ شعبدے بازی سمیت کیسے کیسے کرتب دکھاتے بازیگر اپنا اپنا میدان لگائے ہوئے ہیں‘ اقتدار اور وسائل کے بٹوارے میں بندھے سبھی سماج سیوک نیتا ایک دوسرے کے مدمقابل انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔ طعنوں سے لے کر للکاروں تک‘ لفظی گولہ باری سے لے کر تنقید کے نشتر چلانے تک سبھی حربے برابر آزمائے جا رہے ہیں۔ آفرین ہے عوام کے ضبط اور ظرف پر جو انہی کے گیت گائے اور لہرائے جا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر وائرل نمونے کے چند کلپ ان کی اخلاقیات اور طرزِ سیاست سے لے کر نیت اور ارادوں کے پول کھول رہے ہیں۔ ایک پارٹی کی تیسری نسل تو دوسری پارٹی کی دوسری نسل شوقِ حکمرانی سے لطف اندوز ہو رہی ہے۔ اس پر ستم ظریفی یہ کہ انتخابی بھاشن میں حالات کا رونا اس طرح رویا جا رہا ہے گویا تباہی اور بربادی کسی اور مخلوق سے منسوب ہو۔ اسی طرح چھ مرتبہ وزارتِ عظمیٰ اور نو مرتبہ وزارتِ اعلیٰ کے منصب پر فائز ہونے والی پارٹی کے سربراہ نے تو گلگت کے عوام سے برملا شکوہ بھی کر ڈالا کہ آپ لوگوں نے میری جلا وطنی کیوں ہونے دی‘ مجھے نکالا گیا‘ جیلوں میں ڈالا گیا‘ قصور آپ کا بھی ہے۔بڑے میاں صاحب نے جہاں عوام کو قصور وار ٹھہرایا ہے وہاں اپنے اوپر ٹوٹنے والے سبھی عتابوں اور عذابوں کا نوحہ بھی خوب دہرایا ہے۔ تاہم یہ معمہ بدستور حل طلب ہے کہ نو برس گزرنے کے باوجود مجھے کیوں نکالا کا سوال جواب کیلئے کیوں بھٹکتا پھر رہا ہے۔ دومرتبہ وزارتِ اعلیٰ اور تین مرتبہ وزارتِ عظمیٰ کی کرسی پر براجمان رہنے والے جہاندیدہ کو اگر خود نہیں معلوم تو عوام کو کیا معلوم ہو گا۔ تاہم نکتے ملائیں تو نکالے جانے سمیت لوٹ آنے جیسے سوالوں کے جواب بھی بہ آسانی دریافت کیے جا سکتے ہیں لیکن سالہا سال سے زور فقط ایک سوال پر ہے &#39;&#39;مجھے کیوں نکالا؟‘‘ جبکہ لوٹ آنے کے بعد برادرِ خورد دوسری مرتبہ وزارتِ عظمیٰ اور صاحبزادی وزارتِ اعلیٰ کا قلمدان سنبھالے ہوئے ہیں۔ اس تناظر میں Come back سے جڑے سوالات نو سال پرانے سوال سے کہیں بڑے اور کڑے دکھائی دیتے ہیں۔ مملکتِ خداداد میں ایوان سے زندان اور زندان سے ایوان کا سفر کبھی معمہ نہیں رہا۔ واقفانِ حال سے لے کر سبھی خاص و عام بخوبی جانتے ہیں کہ راج نیتی کے اس کھیل میں اصول‘ نظریات اور اقدار ہمیشہ بے توقیری کا شکار ہی رہی ہیں۔ لاجواب سوال ہوں یا سوال میں چھپے مزید سوال سبھی جواب لے کر پیدا ہوتے ہیں لیکن جواب صرف ہوشمندوں کو ہی سجھائی دیتے ہیں۔ محمد خان جونیجو کی برطرفی سے جنم لینے والے سوال پر مٹھیاں بھر بھر مٹی نہ ڈالتے تو شاید مزید سوال پیدا ہی نہ ہوتے۔ محمد خان جونیجو سے لے کر نکالے جانے والے حالیہ وزیراعظم تک سبھی اپنے اپنے سوال کے کشکول میں جواب کے طالب ہی رہے۔ محمد خان جونیجو کی رخصتی کے بینی فشری کئی بار نکلتے اور لوٹ کر آتے رہے لیکن نو سال پہلے نکالے جانے کا صدمہ اور گھاؤ اس قدر گہرا ہے کہ اقتدار بھی بھرپائی نہیں کر پارہا۔ جن عوامی اجتماعات میں نکالے جانے کا سوال تواتر سے پوچھتے چلے آرہے ہیں‘ وہ آپ کو کیا بتائیں گے کیونکہ آپ کے پاس بھی تو ان کے کسی سوال کا جواب نہیں ہے۔ عوام آپ کے سوال پر لاجواب ہیں تو آپ روٹی کے سوال پر بھی لاجواب ہی پائے گئے ہیں‘ دونوں سوال بھوک کے گرد ہی گھومتے ہیں‘ کہیں پیٹ کی بھوک ہے تو کہیں اقتدار کی۔ ایک پرانی پنجابی فلم روٹی کے تھیم سانگ کا ایک شعر پیشِ خدمت ہے:روٹی دا سوال اے‘ جواب جیہدا روٹی اے وڈے سارے لوکاں لئی ایہہ گل بڑی چھوٹی اے عوام کا سوال حکمرانوں کیلئے بے معنی اور حقیر ہو تو عوام بھی حکمرانوں کو درپیش سوالات سے منہ موڑ لیتے ہیں‘ جب عوام منہ موڑ لیں تو حکمران یونہی پوچھتے پھرتے ہیں کہ مجھے کیوں نکالا؟ کیپٹن(ر) صفدر بھی گلگت بلتستان کی انتخابی مہم میں نواز شریف کے شانہ بشانہ اور پیش پیش ہیں۔ جوشِ خطابت میں موصوف نے عوام کا پیسہ کھانے والوں کیلئے دنیا و آخرت میں ذِلت کی دعا کے ساتھ ساتھ نسلوں کی تباہی کی بددعا بھی کر ڈالی۔ ان کے دعائیہ کلمات پر عوام کی طرف سے آمین کی صداؤں نے ماحول خاصا گرما ڈالا‘ سوشل میڈیا پر کیپٹن (ر) صفدر کا یہ کلپ بوجوہ مقبولیت پکڑ چکا ہے۔ دوسری طرف پی ٹی آئی رہنماؤں کی گلگت بلتستان میں موجودگی بدشگنی قرار پا چکی ہے۔ ردِّ بلا کیلئے ان کی صوبہ بدری کے انتظامات کیے گئے ہیں۔ ادھر بلاول بھٹو زرداری نے شریکِ اقتدار دوستوں کو کھلا پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ آپ یہ نہ سمجھیں کہ جیسے لاہور میں چلتا ہے ویسے یہاں بھی چلے گا‘ یعنی پیسہ پھینک تماشا دیکھ۔ پہلی مرتبہ دیکھ رہا ہوں کہ جو وفاقی حکومت میں ہیں اور ان کے اُمیدوار مایوس ہیں‘ بھلے دوست ہیں ہمارے مگر اس مرتبہ وہ ہاریں گے۔نورا کشتی کے یہ روپ بہروپ اگلے دو دن مزید جاری رہیں گے۔ انتخابی معرکہ ختم ہوتے ہی سبھی اپنے پرانے کام کی طرف لوٹ آئیں گے۔ وفاقی بجٹ اور 28ویں ترمیم جیسے کٹھن مراحل ان کے منتظر ہیں۔ زرداری صاحب کی سیاست کے داؤ پیچ 28ویں ترمیم پر کمزور اور بے بس پڑتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کی توقعات اور سبھی امیدوں پر پانی پڑتا دکھائی دے رہا ہے‘ چارو ناچار 28ویں ترمیم کی کڑوی کسیلی گولی نگلنا تو پڑے گی۔ ایسے میں 18ویں ترمیم کے سبھی ثمرات سے محرومی کا صدمہ بھی درپیش ہے جبکہ 28ویں ترمیم کے بعد غیرمتوقع منظرنامہ بھی نیندیں اُڑائے ہوئے ہے۔ دور کی کوڑی لانے والے یہ عندیہ بھی دے رہے کہ عنقریب اقتدار کی ٹرین سے کئی اہم سواریاں سٹاپ آنے پر اتار دی جائیں گی۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں بند گلی میں پہنچ چکی ہیں۔ گورننس کے حوالے سے درپیش مسائل اور کڑے سوالات گلے کا طوق اور پاؤں کی بیڑیاں بنتے جا رہے ہیں۔ کہیں جھوٹے ایمانداروں کا راج ہے تو کہیں سچے بے ایمانوں کا سکہ چل رہا ہے۔ نمائشی اقتدامات عوام کی زندگیاں روز بروز اجیرن کرنے کا باعث ہیں۔ نظامِ تعلیم سے لے کر امن و امان تک‘ صحت عامہ سے لے کر تھانے اور پٹوار تک‘ نظامِ انصاف سے لے کرعدم مساوات تک‘ سماجی بگاڑ سے لے کر معاشرتی ناہمواریوں تک‘ خورد برد سے لے کر لوٹ مار تک‘ دھونس اور دھاندلی سے لے کر سینہ زوری تک سبھی مناظر ٹھہر سے گئے ہیں گویا یہی مستقل منظر نامہ ہے۔ پہلے سے موجود سرکاری اداروں کے متوازی اور متبادل نئے محکمے آپے سے باہر ہیں۔ نت نئی فورسزنے عوام کی تذلیل اور تضحیک کو نصب العین بنا لیا ہے۔ نہ کہیں شنوائی ہے نہ دادرسی‘ پورا ملک توشہ خانہ دکھائی دیتا ہے‘ عملاً نہ کوئی نظام ہے نہ قانون اور ضابطے‘ نیتوں کا کھوٹ عوام کی قسمت کھوٹی کیے چلے جارہا ہے‘ عوام سے قربانی پر قربانی مانگی جا رہی ہے‘ جبری ٹیکسیشن کا نظام آئے روز مرگِ نو کا پیغام لاتا ہے‘ قوتِ خرید دم توڑتی چلی جا رہی ہے‘ خوشحالی اور انقلاب کی باتیں بھاشن اور تقریروں تک محدود ہیں‘ عوام کی عملی زندگیاں قابلِ رحم اور روز بروز خستہ ہوتی چلی جا رہی ہیں‘ ایسے میں نظام کی تبدیلی ہو یا چہروں کی‘ عوام کو اس سے کوئی سروکار نہیں‘ عوام کا ایک ہی مطالبہ اور ایک ہی سوال ہے: روٹی دا سوال اے‘ جواب جیہدا روٹی اے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_65560900.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بدر کا میدان اور پاکستان(امیر حمزہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ameer-hamza/2026-06-05/52068/41023140</link><pubDate>Fri, 05 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ameer-hamza/2026-06-05/52068/41023140</guid><description>اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری رسول حضور نبی کریمﷺ کی ہجرت گاہ مدینہ منورہ بنائی تو اسے طیبہ اور طابہ کا نام دیا۔ ہم نے اپنی ہجرت گاہ کا نام پاکستان رکھا اور اس پاکستان کی اساس &#39;&#39;کلمہ طیبہ‘‘ کو قرار دیا۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ وطن عزیز کا تحفظ اسی طرح ہوگا جس طرح سرکارِ مدینہﷺ کی قیادت میں ریاستِ مدینہ کا تحفظ کیا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے آخری الہامی کلام میں تحفظ کا طریق کار ملاحظہ ہو! فرمایا: (میرے حبیب!) آپ کو ایسے لوگ کہیں نہ ملیں گے کہ وہ اللہ پر ایمان رکھیں‘ قیامت کے دن کو بھی مانیں پھر ایسے لوگوں کے ساتھ محبت بھی کریں کہ جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت میں حدوں کو پار کر ڈالا۔ اگرچہ ایسے لوگ ان کے باپ ہوں‘ ان کے بیٹے ہوں‘ ان کے سگے بھائی ہوں یا رشتہ دار ہوں (یعنی جنگ کے دوران سچے مومن ایسے قریبی لوگوں کو بھی مار دینے سے نہیں ہچکچاتے) (المجادلہ:22)۔ قارئین کرام! مندرجہ بالا آیت کی شرح میں امام حسین بن مسعود بغویؒ اپنی تفسیر &#39;&#39;معالم التنزیل‘‘ میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی ایک روایت لائے ہیں۔ اندلس یعنی سپین کے شہر قرطبہ کے رہنے والے امام محمد بن احمد قرطبیؒ اپنی تفسیر میں ‘ جو تفسیرِ قرطبی کے نام سے معروف ہے‘ وہ بھی حضرت عبداللہ بن مسعودؓ ہی کی روایت لائے ہیں۔ دونوں روایتوں کو اکٹھا کروں تو بات یوں واضح ہو جاتی ہے کہ بدر کے میدان میں حضرت ابوعبیدہؓ بن عبداللہ بن جراح کا مشرک باپ عبداللہ بن جراح بار بار لڑنے کو سامنے آتا تھا۔ حضرت ابوعبیدہؓ پینترا بدل کر سائیڈ پر ہو جاتے مگر جب یہ سلسلہ جاری رہا تو آخرکار حضرت ابوعبیدہؓ نے اپنے مشرک باپ کو قتل کر دیا۔ اسی طرح حضرت ابوبکر صدیقؓ جو اللہ کے رسولﷺ کے ہمراہ عریش میں تشریف فرما تھے اور میدانِ بدر میں جنگ کے مناظر کو دیکھ رہے تھے‘ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے حضورﷺ سے اپنے بیٹے عبدالرحمن کے خلاف جنگ لڑنے کی اجازت طلب کی تو حضورﷺ نے فرمایا &#39;&#39;تم میرے پاس ہی رہو‘ تمہارا مرتبہ میرے ہاں کانوں اور آنکھوں کا ہے‘‘۔ یاد رہے! بدر کی جنگ کے دو مرحلے تھے۔ پہلے مرحلے میں اللہ کے رسولﷺ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کو اجازت نہیں دی جبکہ دوسرے مرحلے میں لڑائی کی اجازت دے دی۔ اسی طرح حضرت مصعبؓ بن عمیر نے اپنے بھائی عبید بن عمیر کو اُحد کے دن قتل کیا۔ رشتہ داروں کے معاملے میں حضرت عمر فاروقؓ نے اپنے ماموں عاص بن ہشام بن مغیرہ کو قتل کیا۔ یاد رہے! دونوں مفسرین نے قرآن مجید کی آیت کی ترتیب کو سامنے رکھا ہے۔ اس ترتیب میں باپ‘ بیٹے‘ بھائی اور رشتہ داروں کی ترتیب ہے۔ اس میں ایک زبردست نکتہ ہے جو مجھے یہاں بیان کرنا ہے کہ باپ نے بیٹے کو قتل نہیں کیا مگر حضرت ابوبکر صدیقؓ کا جذبہ اس قدر صادق ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بیٹوں کی بات کر دی یعنی حضرت ابوبکر صدیقؓ کو دوسرا مقام مل گیا کہ وہ اپنے بیٹے کو بدر کے میدان میں قتل کرنے کا سچا جذبہ رکھتے تھے۔ حضرت عمرؓ نے اپنے رشتہ دار یعنی ماموں کو قتل کیا ہے اور رشتوں کی ترتیب میں یہ چوتھا نمبر ہے۔ اسی ترتیب میں حضرت حمزہؓ، حضرت علی حیدرِ کرارؓ اور حضرت عبیدہؓ بن حارث ہیں کہ جنہوں نے اپنے قدرے دور کے رشتہ داروں عتبہ بن ربیعہ‘ شیبہ بن ربیعہ اور عتبہ کے بیٹے ولید کو قتل کیا۔ یاد رہے! جنگ کو شروع کرنے میں حضرت حمزہؓ، حضرت علیؓ اور حضرت عبیدہؓ کا پہلا نمبر ہے کیونکہ اللہ کے رسولﷺ نے مبارزت کے میدان میں تینوں کا نام لے کر انہیں بلایا اور ان تینوں شیروں نے اپنے مدمقابل دشمنوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔قرآن مجید کی آیت اور حضور کریمﷺ کے فرمان کو سامنے رکھتے ہوئے صحابہ کرامؓ کے عالیشان کردار کو ہم اہلِ پاکستان بھولنے نہ پائیں۔ بنیانٌ مرصوص کی کامرانی کو ذہن سے محو نہ ہونے دیں۔ سچے پکے پاکستانی بنیں کیونکہ پھسلنے کا ٹائم نہیں ہے۔ تفسیر قرطبی کے مفسر امام محمد بن احمد کے آبائو اجداد یثرب کے رہنے والے تھے۔ ان کا قبیلہ خزرج تھا۔ حضور کریمﷺ کے مدینہ تشریف لانے پر وہ انصاری بن گئے۔ اندلس میں مسلمانوں کی حکومت قائم ہوئی تو یہ خاندان سپین میں جاکر آباد ہوا۔ وہ اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ (جب وہ جوان تھے) تو 3 رمضان 627 ہجری کو قشتالوی صلیبیوں (Castilian Crusaders) نے قرطبہ پر اس وقت حملہ کر دیا جب ہم لوگ کھیتوں کی کٹائی میں مصروف تھے۔ اس لڑائی میں میرے والد شہید ہو گئے۔ میں نے علماء سے پوچھا کہ انہیں ان کے خون آلود کپڑوں کے ساتھ دفن کر سکتا ہوں؟ تو علماء نے کہا کہ انہیں غسل اور نیا کفن دے کر جنازہ پڑھ کر دفن کرو۔ میں نے ایسا ہی کیا۔ یہ جنگ چھ سال تک جاری رہی۔ امام قرطبی جنگی حالات میں بھی علم حاصل کرتے رہے۔ فرماتے ہیں کہ جب علم حاصل کیا تو اللہ کے رسولﷺ کی سنت کا پتا چلا (کہ شہید کو اس کے خون آلود کپڑوں میں ہی دفن کرتے) تو سوچنے لگا کہ ابا جی کو زخمی جسم کے خون آلود کپڑوں کے ساتھ ہی دفن کرتا تو کیا خوب ہوتا کہ وہ قیامت کے دن اسی طرح اٹھتے۔ بہرحال! چھ سال کی جنگوں کے بعد23 شوال 633ھ بمطابق 29 جولائی 1236ء کو اپنے شہر پر صلیبی دشمنوں کے قبضہ کے بعد میں بھاگ کھڑا ہوا۔ بھاگتا بھاگتا ایک میدان میں جا بیٹھا۔ دو صلیبی فوجی میرے پیچھے آ رہے تھے۔ میں سورۂ بنی اسرائیل کی ایک آیت کا ورد کر رہا تھا۔ اللہ تعالیٰ اپنے پیارے رسولﷺ کو بتاتے ہیں کہ &#39;&#39;جب آپ قرآن کی تلاوت کرتے ہیں تو ہم آپ کے اور ان کافروں کے درمیان جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، ایک پردہ حائل کر دیتے ہیں جو کسی کو دکھائی نہیں دیتا‘‘۔ اللہ کی قدرت کہ یہ دونوں دشمن میرے پاس سے گزر گئے جبکہ مجھے نہیں دیکھ پائے۔ پھر وہ واپسی پر بھی میرے قریب سے گزرے اور کہہ رہے تھے یہ تو &#39;&#39;دبیلہ‘‘ یعنی جن تھا۔ اس کے بعد امام قرطبی مصر چلے گئے۔ اسکندریہ میں زندگی گزاری اور پھر دریائے نیل سے ذرا فاصلے پر ایک قصبے &#39;&#39;مُنیہ‘‘ میں فوت ہوئے۔ انہوں نے اپنی تفسیر کا نام &#39;&#39;الجامع الاحکام القرآن‘‘ رکھا۔سپین یعنی اندلس کے دیگر علاقوں میں مسلمان بعد میں بھی لڑتے رہے۔ دشمنوں کے خطرات اور ان کی جنگیں بھی ان کو متحد نہ کر سکیں۔ آخرکار! یہ وہاں سے مکمل نکال دیے گئے۔ ان کی مساجد گرجا گھر بن گئیں۔ آج بھی ہم دیکھیں تو سپین میں مسلمانوں کے صرف آثار باقی ہیں۔ اسی طرح سلطنت عثمانیہ کا خاتمہ ہوا۔ مغل بادشاہت کا اختتام ہوا۔ دیکھتے ہی دیکھتے مسلمانوں کے 57 کے قریب ممالک بن گئے۔ جب مسلمان قوت پکڑنے لگے تو شام‘ لبنان‘ فلسطین‘ عراق‘ لیبیا‘ سوڈان‘ افغانستان‘ یمن‘ صومالیہ‘ اریٹیریا وغیرہ تباہ کر دیے گئے۔ اب وہ ایران پر چڑھ دوڑے۔ ایران ان کے سامنے چٹان بن کر کھڑا ہو گیا۔ پاکستان امن کے لیے کوشاں ہے۔ پاک وطن کے کردار کو دنیا سلام پیش کر رہی ہے۔ پاکستان نے عالم عرب اور ایران کے مابین بھی کمال انداز سے امن کا توازن قائم رکھا ہے۔ قطر اور عمان کا کردار بھی عالم اسلام کیلئے امن کی خوشبو کا جھونکا ہے۔ سعودی عرب کا کردار عالمی امن‘ خلیجی امن اور مسلم ورلڈ کے امن کیلئے وہی ہے جو سرزمینِ حرمین کے خدّام کا ہونا چاہیے۔ پاکستان پاسبانِ حرمین کا اعزاز سجائے ہوئے ہے۔ ہم سب کو پاکستان کے استحکام کیلئے کردار ادا کرنا ہوگا۔ حکمرانوں کو بھی پاک وطن میں عدل کا نظام لانا ہوگا اور ایسا جلد کرنا ہوگا۔ اسلامی اور عالمی سیادت کے لیے ہمارا اندرون روشن وتاباں ہونا ضروری ہے۔ آئیے! عید قربان کے بعد اب بدر کے میدان جیسے جذبوں کے ساتھ پاک وطن اور تمام انسانیت کو عظیم سے عظیم تر بنانے کی جدوجہد کریں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_68712266.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>