<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-08/11434</link><pubDate>Sat, 08 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-08/11434</guid><description>مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ پاکستان‘ سعودی عرب اور ترکیہ کے اس عزم کا عکاس ہے کہ وہ اپنی اجتماعی سلامتی کو مزید مستحکم کریں گے اور محفوظ و خوشحال مستقبل کیلئے خطے اور اس سے باہر امن‘ سلامتی اور استحکام کو فروغ دیں گے۔ مشترکہ تزویراتی مفادات اور دفاعی تعاون پر مبنی یہ معاہدہ تینوں ملکوں کے درمیان تاریخی تعلقات‘ پائیدار برادرانہ روابط اور یکجہتی کا نتیجہ ہے۔ پاکستان‘ سعودی عرب اور ترکیہ کی اپنی اپنی دفاعی‘ علاقائی اور عالمی خصوصیات ہیں۔ پاکستان مسلم دنیا کی واحد ایٹمی طاقت ہے‘ ترکیہ دفاعی ٹیکنالوجی میں ایک ترقی یافتہ صنعت کا حامل ہے جبکہ سعودی عرب کی مالیاتی حیثیت مسلمہ ہے۔ اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ مکۃ المکرمہ کی بابرکت سر زمین پر ہونے والے اس معاہدے نے تینوں ممالک کی دفاعی طاقت‘ ٹیکنالوجی صلاحیت اور معاشی قوت کو یکجا کر دیا ہے۔ یہ پیش رفت علاقائی اور عالمی تناظر میں غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے۔ علاقائی حوالے سے دیکھا جائے تو مسلم ریاستوں کو درپیش خطرات ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ کے خطے نے حالیہ کچھ عرصے کے دوران جس قسم کے سکیورٹی چیلنجز کا سامنا کیا ہے اس صورتحال نے پائیدار امن کی یقین دہانی کیلئے طویل مدتی اور پائیدار حل کی ضرورت کو مزید واضح کر دیا۔ قوی امید ہے کہ آنے والے کچھ وقت میں خلیجی خطے کے دیگر ممالک میں سے بھی کچھ اس دفاعی معاہدے میں شامل ہونے کی ضرورت محسوس کریں کیونکہ علاقائی سطح پر سکیورٹی کے چیلنجز پچھلے کچھ عرصہ کے دوران خاصے بڑھ چکے ہیں۔ اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے نے خطے میں بیرونی مسلح مداخلت اور جارحیت کے خطرات کو مزید واضح کر دیا۔ اس صورتحال نے خلیجی ممالک کے امن کو متاثر کیا اور تجارتی گزرگاہوں کی بندش اور توانائی کے وسائل میں رکاوٹوں کے اثرات کو پوری دنیا بھگت رہی ہے۔ یہ صورتحال خطے میں دفاعی معاہدے کی ضرورت کا احساس پیدا کرنے میں سب سے زیادہ مؤثر نظر آتی ہے۔ پاکستان‘ سعودی عرب اور ترکیہ کا مشترکہ دفاعی معاہدہ تینوں ممالک کیلئے متعدد شعبوں میں مشترکہ منصوبوں کے امکانات پیدا کرتا ہے۔ اس فریم ورک کے تحت پاکستان‘ سعودی عرب اور ترکیہ کی مسلح افواج‘ دفاعی صنعتیں‘ ٹیکنالوجی کے ادارے اور معاشی صلاحیتیں مل کر مشترکہ مضبوط دفاع یقینی بنائیں گی اور معاشی ترقی کے امکانات میں اضافہ ہو گا۔
یہ زمانہ سائنس اور ٹیکنالوجی کا ہے اور یہ ایسے میدان ہیں جن میں کوئی ایک ملک اپنے لیے خود کفالت کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ علم‘ تجربے اور ترقی میں ایک دوسرے سے سیکھتے ہیں‘ یہی آگے بڑھنے کا راستہ ہے۔ مسلم ممالک میں یہ خیال دیر سے ہی سہی مگر مقام شکر ہے کہ آ تو گیا۔ مشترکہ دفاعی معاہدہ ہمارے ممالک کو فیصلہ سازی میں مزید ایک دوسرے کے قریب کرے گا اور ایک دوسرے کی صلاحیتوں کو بڑھانے میں مزید آسانی پیدا ہو گی۔ اس طرح یہ مشترکہ معاہدہ تینوں ممالک کی ترقی اور خوشحالی میں نمایاں کردار ادا کرے گا اور یہ دیگر مسلم ممالک کیلئے بھی ایک مثال ثابت ہو گا۔ مسلم ممالک آبادی‘ رقبے ‘ معیشت غرض ہر لحاظ سے دنیا میں بلند مرتبہ حیثیت کے حامل ہیں تاہم باہمی اختلافات اور سیاسی تنازعات ان ممالک کی قربت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنتے رہے ہیں۔ مگر حالات و واقعات اس امر کے شاہد ہیں کہ قدرت نے مسلم دنیا کا مقدر ایک دوسرے کیساتھ جوڑ دیا ہے۔ ہم آپس میں خواہ جیسی دوریوں پر ہوں مگر ہمارے دشمن ہمیں ایک نظر سے دیکھتے ہیں۔ یہ وقت تاریخ اور حالات کو سمجھنے اور سیکھنے کا ہے۔ مکہ دفاعی معاہدہ ایک مثال ہے اور ایک بڑی پیش رفت بھی‘ جس نے امتِ مسلمہ کے مشترکہ مفادات کیلئے اتحاد اور بھائی چارے کا سبب پیدا کر دیا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مصیبت میں پھنسے پاکستانی(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-08/11433</link><pubDate>Sat, 08 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-08/11433</guid><description>تقریباً 110روز سے صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال بنے پاکستانی عملے کے دس افراد نے گزشتہ روز ایک وڈیو پیغام میں حکومت سے اپنی رہائی کیلئے مدد کی اپیل کی ہے۔ پاکستانی عملہ 21اپریل کو ایک تجارتی جہاز پر اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں انجام دیتے ہوئے صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں اغوا ہوا تھا۔ اس طویل عرصے میں ان کی صحت بھی سنگین خطرات سے دوچار ہو چکی ہے۔ ویڈیو پیغام میں یرغمالیوں نے بتایا کہ ان کے بیشتر ساتھی بیمار پڑ چکے ہیں‘ مناسب طبی سہولتیں میسر نہیں اور مسلسل غیر یقینی صورتحال نے ان کی جسمانی و ذہنی قوت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ایسے حالات میں ہر گزرتا دن ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر رہا ہے۔ دوسری جانب ان کے اہلِ خانہ بھی شدید ذہنی اذیت اور بے یقینی کا شکار ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ بیرونِ ملک مصیبت میں پھنسے اپنے شہریوں کی حفاظت اور بحفاظت واپسی کو یقینی بنائے۔

اگر حکومت ہی مصیبت میں گھرے اپنے شہریوں کی داد رسی نہ کرے تو پھر ان کا سہارا کون بنے گا؟اگرچہ وزارتِ بحری امور اور دفترِ خارجہ کی جانب سے صومالی حکام سے رابطوں کی خبریں ہیںلیکن اب تک ان کوششوں کے خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آئے۔ اس صورتحال  میں ضروری ہے کہ حکومت سفارتی سطح پر کوششوں میں تیزی لائے‘ صومالی حکام پر دباؤ بڑھائے‘ متعلقہ بین الاقوامی اداروں اور دوست ممالک کی معاونت حاصل کرے اور ہر ممکن طریقے سے پاکستانی یرغمالیوں کی جلد اور محفوظ واپسی یقینی بنائے۔ </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مہنگائی‘مؤثر حکمتِ عملی کی ضرورت(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-08/11432</link><pubDate>Sat, 08 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-08/11432</guid><description>وفاقی ادارۂ شماریات کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق چھ اگست کو ختم ہونے والے کاروباری ہفتے کے دوران 20 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کے باعث ہفتہ وار مہنگائی کی شرح 9.29 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق مہنگی ہونے والی اشیا میں پیاز‘ دال چنا‘ سرخ مرچ‘ چائے پتی‘ آٹا اور خوردنی تیل سمیت متعدد بنیادی اشیائے ضروریہ شامل ہیں۔ مہنگائی میں اضافے کی کئی وجوہات ہیں۔ سب سے اہم وجہ توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ہیں جن کے باعث زرعی اور صنعتی شعبے کی پیداواری لاگت مسلسل بڑھ رہی ہے اور اس کا براہِ راست اثر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔ دوسری وجہ منافع خور عناصر ہیں جو صارفین سے من چاہے دام وصول کرتے ہیں۔

تیسری وجہ عوام کی کمزور معاشی سکت ہے جس کے باعث قیمتوں میں معمولی اضافہ بھی لاکھوں خاندانوں کیلئے شدید معاشی مشکلات کا سبب بن جاتا ہے۔ یہ صورتحال محض نمائشی اقدامات یا وقتی ریلیف پیکیجوں سے قابو میں نہیں آئے گی۔ حکومت کو توانائی کی قیمتوں میں کمی کیلئے عملی اور دیرپا اقدامات کرنا ہوں گے۔ اسی طرح منافع خوروں کیخلاف بلاامتیاز کارروائی بھی یقینی بنائی جائے تاکہ کمزور معاشی طبقے کا استحصال روکا جا سکے۔ ساتھ ہی آمدنی میں اضافے اور سماجی تحفظ کے مؤثر پروگراموں کے ذریعے عوام کی قوتِ خرید بہتر بنانا بھی ناگزیر ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سسٹم(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-08-08/52441/16212773</link><pubDate>Sat, 08 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-08-08/52441/16212773</guid><description>سسٹم کیا چیز ہے؟ اس کو چند مشاہدات و تجربات سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔1۔ میں ڈیڑھ برس پہلے اسلام آباد کے ایک علاقے میں منتقل ہوا۔ شہر کے مرکز سے یہاں تک پہنچانے والی سڑک زیرِ تعمیر تھی۔ کئی ماہ دھول چاٹی کہ اچھے دن آنے والے ہیں۔ پھر وہ دن آ گئے۔ ایک شاہراہ اپنی تمام وسعت کے ساتھ ہمارے سامنے تھی۔ دیکھ کر خیال ہوا کہ اس پر بلامبالغہ اربوں روپے خرچ ہوئے ہوں گے۔ اس پر چل کر جی خوش ہوا۔ چند ماہ گزرے تو دیکھا کہ اس کے دونوں اطراف دیوقامت مشینیں کھڑی ہیں۔ معلوم ہوا کہ اب اس راستے پر ایک انڈر پاس بنے گا اور اس کا سبب یہ ہے کہ چند کلومیٹر کی مسافت پہ ایک نئی ہاؤسنگ کالونی بن رہی ہے۔ ایک شاندار سڑک ادھیڑ ڈالی گئی۔ بتایا گیا کہ یہ منصوبہ چھ ماہ میں مکمل ہو جائے گا۔ آج آٹھ ماہ ہو گئے ہیں اور اس خطے کے مکین مسلسل مٹی پھانک رہے ہیں۔چونکہ امید پہ دنیا قائم ہے‘ اس لیے گمان ہے کہ ایک ماہ میں سڑک کھل جائے گی؛ اگرچہ اس پروجیکٹ کو مکمل ہونے میں کم از کم آٹھ دس ماہ مزید لگیں گے۔ یہ سوچ کر قدرے سکون ملا کہ &#39;لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے‘۔ اچھے دن قریب ہیں۔ سکون کے چند سانس لیے تھے کہ دو دن پہلے اعصاب پر ایک نیا بم گرایا گیا۔ اعلان ہوا کہ اب اس راستے پر ایک اور انڈر پاس بنے گا۔ گویا چھ ماہ مزید گاڑیوں کی بربادی اور صحت کی تباہی برداشت کرنا پڑے گی۔ صرف یہی نہیں‘ شہر کی ایک اور سڑک پر چند ماہ پہلے ہی ایک انڈرپاس بنایا گیا تھا۔ اس اعلانِ عام میں بتایا گیا کہ اسی سڑک پہ اب ایک نیا انڈر پاس بنے گا۔ گویا جو لوگ اس علاقے میں رہتے تھے‘ اب ایک نئے امتحان کیلئے تیار ہو جائیں۔ ایک دریا پار کیا اور دوسرا سامنے کھڑا ہے۔ تعمیر کی خواہش اتنی غالب ہے کہ ایک تیسرا منصوبہ بھی ساتھ ہی شروع کیا جا رہاہے۔ یوں راولپنڈی؍ اسلام آباد کے مکین جس طرف سے گزریں گے‘ دھول مٹی ان کا استقبال کرے گی۔آپ سوچتے ہوں گے کیا شہروں کی تعمیر وتوسیع کیلئے کوئی باضابطہ نظام موجود نہیں؟ کیا کوئی محکمہ ایسا نہیں جہاں آنے والے دنوں کی ضروریات کو سامنے رکھ کر منصوبہ سازی ہوتی ہو؟ کیا مختلف محکموں کے مابین اشتراک کا اس سسٹم میں کوئی ذکر نہیں؟ کیا اس طرح ہم وسائل کا ضیاع نہیں کر رہے؟ اس نوعیت کے بہت سے سوالات مزید ہوں گے جو آپ کے ذہن میں اٹھ رہے ہوں گے۔ آپ ان پر سوچیے‘ میں ایک دوسری مثال کی طرف بڑھتا ہوں۔ یہ میرا مشاہدہ نہیں‘ ایک مصدقہ راوی کی روایت ہے۔2۔ میرے ایک دوست وکیل ہیں۔ ملک کی اعلیٰ ترین عدالتوں میں پیش ہوتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایسے ہی ایک مقدمے میں ساڑھے تین برس سے &#39;سٹے‘ چل رہا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ معاملہ معلق ہے۔ اس سے انصاف کا کون سا تقاضا پورا ہوتا ہے‘ میں نہیں جانتا۔ میں البتہ بتا سکتا ہوں کہ &#39;عالمِ برزخ‘ میں وقت گزارنا کتنا مشکل ہوتا ہے۔ اگر آپ کا کوئی عزیز بیماری میں‘ اس کیفیت سے گزرا ہو کہ زندگی اور موت دونوں بیک وقت اس کی دہلیز پہ کھڑے ہوں تو آپ اس کرب کو بیان نہیں کر سکتے۔ آپ کبھی مرتے ہیں اور کبھی جی اٹھتے ہیں۔ مریض اگر مر جائے تو دکھ کے ساتھ‘ صبر بھی آ جاتا ہے۔ درمیانی کیفیت مگر بہت تکلیف دہ ہو تی ہے۔ مریض کا معلوم نہیں کیا حال ہوتا ہو گا مگر عزیزو اقارب کا حال میں بیان کر سکتا ہوں کہ میں ایک سے زیادہ بار اس صورتِ حال سے گزرا ہوں۔عدالتوں میں‘ سٹے کے کتنے مقدمات ہوں گے‘ میں نہیں جانتا۔ کچھ تو تاریخی ہیں جن کا تذکرہ قومی پریس میں ہوتا رہا ہے۔ ہم سب کا مشاہدہ ہے کہ برسوں سٹے چلتے ہیں۔ یہ اس کے علاوہ ہے کہ مقدمات میں تاریخ پر تاریخ پڑتی جاتی ہے اور اس عمل میں کئی سال گزر جاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ عدالتی سسٹم کی روح کیا ہے؟ فوری انصاف کی فراہمی یا مقدمات کو لٹکانا؟ ہم جانتے ہیں کہ گناہگار کا چھوٹ جانا بہتر ہے‘ اس بات سے کہ کسی بے گناہ کو سزا دی جائے۔ اس کی مگر یہ تعبیر درست نہیں ہو گی کہ اس خوف سے عدالتیں مقدمات کے فیصلے کو مؤخر کرتی چلی جائیں۔ دنیا کی ہر عدالت موجود شہادتوں کی بنیاد پر فیصلہ کرتی ہے۔ اس میں غلطی کا اتنا ہی امکان ہے جتنا صحت کا۔ اس لیے یہ مرحلہ تو کبھی آ ہی نہیں سکتا جب اطمینانِ کامل میسر آ جائے۔ فیصلہ علمِ ظن ہی کی اساس پر ہو گا۔ اس لیے فیصلے میں تاخیر کو عدل کا انکار سمجھا جاتا ہے۔ اس اصول کی روشنی میں آپ خود فیصلہ کیجیے کہ سسٹم کیسے چلتا ہے۔3۔ ایک فائل ایک بڑے افسر کے پاس جاتی ہے۔ اس کا تعلق کسی فرد کے مستقبل کے ساتھ ہے۔ افسر بے پناہ مصروفیت رکھتا ہے۔ کوئی تساہل نہیں‘ نااہلی نہیں۔ معاملہ یہ ہے وہ اپنی مصروفیات کی وجہ سے کئی دن فائل کو دیکھ نہیں پاتا۔ اس دوران میں متعلقہ آدمی کا مسئلہ گمبھیر ہوتا چلا جاتا ہے۔ وہ بھی فضا میں معلق ہے۔ مثال کے طور پر اس کی ملک سے باہر کسی سفارتخانے میں تعیناتی ہو گئی ہے یا اسے کسی وظیفے پر اعلیٰ تعلیم کیلئے جانا ہے۔ اس کی پرواز کا دن متعین ہے۔ اسے متعلقہ یونیورسٹی میں ایک خاص تاریخ تک اطلاع کرنی ہے۔ اب افسر صاحب فائل پر منظوری دیں تو وہ اگلا قدم اٹھائے۔ افسر کو فرصت ہی نہیں کہ وہ فائل دیکھے۔ وہ اس سے کہیں زیادہ اہم قومی مسائل میں مصروف ہے۔ نوبت یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ سمیسٹر میں داخلے کا وقت گزر جاتا ہے۔ اب اس میں کس کا قصور ہے؟ افسر کو متعلقہ فرد سے کوئی عناد ہے نہ وہ بددیانت یا نااہل ہے۔ اس کے پاس بے شمار کام ہیں اور یہ فائل اس کی ترجیحات میں شامل نہ ہو سکی۔ ذمہ دار کون ہے؟ سسٹم یا فرد؟یہ واقعات آپ کیلئے نئے نہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ سسٹم اسی طرح چلتا ہے۔ بنیادی سوال ایک ہی ہے: مسئلہ سسٹم کے ساتھ ہے یا افراد کے ساتھ؟ ذمہ دار سسٹم ہے یا اس کو چلانے والے؟ اگر لوگ اچھے ہیں مگر سسٹم انہیں اجازت نہیں دیتا کہ وہ دیانت داری سے کام کریں تو پھر سسٹم کو بدلنا چاہیے۔ اس صورت میں یہ بحث اسمبلی میں ہو گی۔ اگر لوگ خراب ہیں تو پھر سسٹم کے بجائے لوگوں کی اصلاح کو ہدف ہونا چاہیے۔ میں نے جو واقعات آپ کے سامنے رکھے‘ یہ کس سمت میں راہنمائی کر رہے ہیں؟ یہ سسٹم کی خرابی بیان کر رہے ہیں یا افراد کی؟ بحث نتیجہ خیز نہیں ہو سکتی ہے‘ اگر اس سوال کا جواب تلاش نہ کر لیا جائے۔سماج کے اکثر مسائل کے لاینحل ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں مسائل کی بنیاد کا علم نہیں ہوتا اور انہیں غلط طریقے سے حل کرنا چاہتے ہیں۔ بچپن میں پڑھی وہ کہانی میں کبھی فراموش نہیں کر پایا جس میں ایک حکیم صاحب نے پیٹ کے درد کیلئے آنکھ میں ڈالنے والی دعا تجویز کی۔ مریض نے دراصل جلی ہوئی روٹی کھا لی تھی‘ جس کے سبب سے اس کے پیٹ میں درد اٹھا۔ حکیم صاحب کی تشخیص یہ تھی کہ اس کی آنکھ درست ہوتی تو اسے جلی ہوئی روٹی دکھائی دے جاتی۔ نہ وہ جلی ہوئی روٹی کھاتا‘ نہ پیٹ میں درد ہوتا۔ اس ملک کو بھی ایسے ہی حکیم کی ضرورت ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>غزہ میں امن بحال ہو گا؟(ڈاکٹر رشید احمد خاں)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr-rasheed-ahmad-khan/2026-08-08/52442/80302021</link><pubDate>Sat, 08 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr-rasheed-ahmad-khan/2026-08-08/52442/80302021</guid><description>چند روز پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ غزہ میں حماس نے اپنے آپ کو غیر مسلح کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ غزہ میں اسرائیل کے حملوں میں کم از کم 73 ہزار 341 فلسطینی شہید اور ایک لاکھ 74 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے‘ مستقل امن کے قیام میں یہ معاملہ سب سے زیادہ متنازع بنا ہوا تھا۔ ستمبر 2025ء میں صدر ٹرمپ کی طرف سے پیش کردہ 20 نکاتی امن منصوبے میں سفارش کی گئی تھی کہ حماس کو غیر مسلح ہونا پڑے گا اور اس کے بدلے اسرائیل کو نہ صرف غزہ میں اپنے حملے روکنا پڑیں گے بلکہ غزہ کے جن علاقوں پر اس نے قبضہ کر رکھا ہے انہیں بھی خالی کرنا پڑے گا اور صہیونی فوجوں کو واپس جانا پڑے گا۔ لیکن 10 اکتوبر 2025ء کی جنگ بندی کے بعد بھی اسرائیل کی طرف سے غزہ پر حملوں کا سلسلہ جاری رہا اور ٹرمپ امن منصوبے پر عمل درآمد میں کوئی پیش رفت نہ ہو سکی۔ تاہم اب حماس کی طرف سے غیر مسلح ہونے کے اعلان سے غزہ میں اسرائیلی جارحیت روکنے کی امید دوبارہ پیدا ہوئی ہے۔ صدر ٹرمپ نے اس اعلان کو تاریخی اہمیت کا حامل قرار دیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل غزہ سے اپنی افواج کو واپس بلا لے گا۔ مگر اس اعلان کے ساتھ ہی متعدد امریکی اور یورپی حلقوں کی طرف سے تحفظات کا اظہار بھی کیا گیا اور ان تحفظات میں کافی وزن ہے۔ ان کی موجودگی میں حماس کے غیر مسلح ہونے کے باوجود غزہ میں امن کا قیام مشکل نظر آتا ہے۔اسرائیل کی طرف سے ابھی تک یہ اعلان نہیں کیا گیا کہ وہ غزہ کے تمام مقبوضہ علاقوں سے اپنی فوجیں واپس بلا لے گا۔ اس وقت اسرائیل نے غزہ کے 53 فیصد علاقے پر قبضہ کر رکھا ہے اور وہ ان علاقوں میں موجود اپنی افواج کو غزہ میں گھس کر حملوں کیلئے استعمال کرتا ہے۔ اسرائیل نے یہ یقین دہانی بھی نہیں کرائی کہ غیر مسلح ہونے کے بعد حماس کی قیادت کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ نہیں بنائے گا۔ امریکہ کے 20 نکاتی امن منصوبے کے تحت غیر مسلح ہونے کی شرط قبول کرتے ہوئے حماس نے اس یقین دہانی کا مطالبہ کیا تھا کہ اسرائیل حماس کے کارکنوں اور رہنماؤں کو ہدف نہیں بنائے گا مگر اسرائیل نے اس یقین دہانی سے انکار کرتے ہوئے اس بات پر اصرار کیا کہ پہلے حماس اپنے آپ کو غیر مسلح کرے اس کے بعد اسرائیل کے فوجی انخلا پر غور کیا جا سکتا ہے۔ اسرائیل کے گزشتہ آٹھ دہائیوں کے رویے اور خصوصاً غزہ سے متعلق اس کے حالیہ طرزِ عمل نے بداعتمادی کی ایسی دبیز تہیں جما رکھی ہیں کہ کوئی معاہدہ‘ کوئی وعدہ یا کوئی اعلان فلسطینیوں کو اسرائیل پر بھروسہ کرنے پر مائل نہیں کر سکتا۔ غزہ کی موجودہ صورتحال کو دیکھ لیجیے‘ گزشتہ سال 10 اکتوبر کو امریکہ کی مداخلت سے غزہ میں جنگ بندی کا اعلان کیا گیا لیکن گزشتہ گیارہ ماہ میں شاید ہی کوئی دن ایسا گزرا ہو جب اسرائیل نے غزہ کے شہریوں کو فضائی یا زمینی حملوں کا نشانہ نہ بنایا ہو۔ جنگ بندی کے بعد سے اب تک‘ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی حملوں سے 1250فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ شہید ہونے والوں میں بڑی تعداد عورتوں اور بچوں کی ہے۔صدر ٹرمپ نے حماس کے غیر مسلح ہونے پر آمادگی کو غزہ کیلئے اپنے نام نہاد &#39;&#39;امن منصوبے‘‘ کی بڑی فتح قرار دیا ہے لیکن غزہ کو مشرقِ وسطیٰ کے دیگر حصوں میں اسرائیلی جارحیت سے الگ تھلگ نہیں کیا جا سکتا۔ اس میں دریائے اردن کے مغربی کنارے پر آباد فلسطینیوں پر یہودی آباد کاروں کے حملے‘ فلسطینیوں کے مکانات‘ جائیداوںد اور زمینوں کو ہتھیانے اور بارود سے مکان اڑانے کے واقعات خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ یوں تو 1967ء کی عرب اسرائیل جنگ میں مشرقی بیت المقدس کے ساتھ مغربی کنارے پر اسرائیلی قبضے کے بعد سے مقامی فلسطینی باشندوں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا مگر 7 اکتوبر 2023ء کے بعد مغربی کنارے پر آباد فلسطینیوں کی زندگی اجیرن کر دی گئی ہے۔ یہودی آباد کاروں کو اسرائیلی فوج کی براہ راست مدد حاصل ہوتی ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے یو این ہیومینی ٹیرین آفس (UNHO) کی رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2023ء کے بعد مغربی کنارے پر آباد فلسطینیوں پر یہودی آباد کاروں کے حملوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ روں سال کے پہلے چار ماہ کے دوران ہر ماہ تقریباً 190 حملوں کی اطلاعات ملی ہیں مگر جس رفتار سے ان کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے خدشہ ہے کہ 2026ء کے آخر تک اسرائیلی فوج کی مدد سے یہودی آبادکاروں کے فلسطینیوں پر حملوں کی تعداد دو ہزار تک ہو جائے گی۔ یاد رہے کہ 2024ء میں بین الاقوامی عدالتِ انصاف بیت المقدس کے مشرقی حصے‘ غزہ اور مغربی کنارے پر اسرائیلی قبضے اور یہاں تعمیر کی جانے والی یہودی بستیوں کو غیر قانونی‘ بین الاقوامی قانون کے منافی اور ناجائز قرار دے چکی ہے لیکن ان علاقوں میں یہودی آباد کاروں کی غیر قانونی بستیاں نہ صرف قائم ہیں بلکہ اسرائیلی حکومت ان میں متواتر اضافہ کر رہی ہے۔ اس وقت بیت المقدس کے مشرقی حصے میں فلسطینیوں کی زمینوں پر قبضہ اور ان کے مکانات کو مسمار کر کے جو یہودی بستیاں تعمیر کی گئی ہیں‘ ان میں اور دریائے اردن کے مغربی کنارے پر تعمیر ہونے والی بستیوں میں یہودی آباد کاروں کی تعداد سات لاکھ سے زائد ہے۔ واضح رہے‘ مغربی کنارے پر آباد فلسطینیوں کی تعداد تقریباً 34 لاکھ ہے۔ 1993ء میں معاہدۂ اوسلو کے تحت مغربی کنارے‘ غزہ اور مشرقی بیت المقدس پر مشتمل ایک علیحدہ اور خودمختار فلسطینی ریاست قائم کرنے پر اتفاق ہوا تھا مگر اسرائیل کی نیتن یاہو حکومت نہ صرف اس دو ریاستی فارمولے کے مسترد کرنے بلکہ ان علاقوں کو اسرائیل میں ضم کرنے کا ارادہ بھی ظاہر کر چکی ہے۔ مغربی کنارے میں آباد فلسطینیوں پر یہودی آباد کاروں کے بڑھتے ہوئے حملوں‘ ان کے مکانوں اور زمینوں سے بے دخل کرنے کے واقعات اور انہیں ہر قسم کی شہری سہولتوں سے محروم رکھنے کی اسرائیلی کوششوں کا واحد مقصد دو ریاستی حل کو ناکام بنانا اور مقبوضہ علاقوں کو اسرائیل میں ضم کرنا ہے تاکہ گریٹر اسرائیل کے مذموم منصوبے کو مکمل کیا جا سکے۔ لبنان کے جنوبی حصے میں اسرائیلی فوج کی مداخلت اور وہاں پر آباد لوگوں کو اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور کرنے کی اسرائیلی پالیسی کا بھی یہی مقصد ہے۔ غزہ کی طرح لبنان میں بھی اسرائیل جنگ بندی کے معاہدوں کی کھلی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ اس سال دو مارچ سے اب تک اسرائیل کے فضائی حملوں میں ہزاروں لبنانی شہید ہو چکے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اسرائیل کے حملوں اور جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔غزہ‘ مغربی کنارے اور لبنان کی صورتحال کو سامنے رکھیں تو حماس کے غیر مسلح ہونے سے بھی فلسطین میں امن قائم ہوتا دکھائی نہیں دیتا کیونکہ اسرائیل غزہ میں فلسطینی آبادی پر بمباری جاری رکھے ہوئے ہے‘ مغربی کنارے پر آباد فلسطینیوں پر حملوں اور ان کے مکانوںکی تباہی کے واقعات میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ اسرائیل امریکہ کے دباؤ کے ذریعے حماس کو غیر مسلح کرنے کا مقصد تو حاصل کر لے گا مگر غزہ سے اپنی فوجوں کو واپس نہیں بلائے گا کیونکہ نیتن یاہو کابینہ میں شامل انتہا پسند صہیونی اس کی سخت مخالفت کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ اسرائیل واضح کر چکا ہے کہ جنوبی لبنان کی طرح وہ مصر کے ساتھ غزہ کی سرحد پر بھی سکیورٹی زون قائم کرے گا اور حماس کے غیر مسلح ہونے کے بعد ان سکیورٹی زونز میں اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھے گا۔ اس لیے جو بات زیادہ قرین قیاس ہے وہ یہ کہ حماس کے غیر مسلح ہونے کے باوجود فلسطین میں جنگ جاری رہے گی۔ حماس کی جانب سے اس رعایت کے باوجود مشرق وسطیٰ میں امن قائم نہیں ہوگا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90264263.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>نظام کی خرابیوں کا علاج(ڈاکٹر حسین احمد پراچہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-08-08/52443/39196192</link><pubDate>Sat, 08 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-08-08/52443/39196192</guid><description>خاکسار گزشتہ ہفتے لاہور سے باہر اور انٹرنیٹ سے دور تھا۔دور دراز پہاڑی جھونپڑے میں کہیں نہ کہیں سے کانوں میں محسن نقوی صاحب کی موجودہ نظام کے خلاف جاری کردہ چارج شیٹ کی بازگشت سنائی دی۔ واپس لاہور پہنچ کر ان کے گزشتہ جمعرات کو اسلام آباد کی اکنامک سمٹ میں کیے گئے خطاب کو زیادہ تفصیل سے پڑھنے اور سننے کا موقع ملا۔ وفاقی وزیر داخلہ نے کسی لگی لپٹی کے بغیر ببانگِ دہل کہا کہ ہمارا سسٹم گر چکا‘ نئے انتظامی یونٹس بنانا پڑیں گے۔ انہوں نے یہ نشاندہی کی کہ ایک چیز ستر‘ اسّی سال سے نہیں چل رہی‘ اس کے پیچھے کوئی وجہ تو ہوگی۔ وزیراعظم بارہ چودہ گھنٹے کام کر رہے ہیں‘وہ 18گھنٹے بھی کام کریں تو اس سے کوئی فائدہ نہیں۔ لیپ ٹاپ دینے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ نوجوان کہیں یا کاکروچ‘ یہ اکٹھے ہو گئے تو پورا سسٹم اُلٹ دیں گے۔ نقوی صاحب کے بقول سیاستدان مل بیٹھیں۔ یہ بحث ابھی تک جاری تھی کہ پانچ اگست بدھ کے روز وزیر داخلہ نے کہا کہ موجودہ حکومت آئینی مدت پوری کرے گی۔وفاقی وزیر داخلہ کے بیانات بلند آہنگ ضرور ہیں مگر ان میں خاصا ابہام بھی ہے۔ انہوں نے بیماری کی علامات دیکھ کر اپنے تاثرات کا تذکرہ کیا ہے مگر نہ بیماری کی درست تشخیص کی ہے اور نہ ہی علاج کی مرحلہ وار ترتیب بیان کی ہے۔ انہوں نے نئے صوبوں کے قیام کی تجویز کا تذکرہ کیا ہے ‘لیکن جب تک ہماری سوچ اور اپروچ کا زاویہ نہیں بدلتا اور ہمارے سیاستدانوں کا طرزِ عمل تبدیل نہیں ہوتا اس وقت تک حالات میں خاطر خواہ بہتری نہیں آئے گی۔ ہماری تاریخ بتاتی ہے کہ ہم دستوری خطِ مستقیم پر چلنے کے بجائے بار بار راستے سے بھٹک جاتے یا بھٹکا دیے جاتے ہیں۔ منیر نیازی نے کہا تھا: منیر اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے؍ کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ۔جس ملک میں دستور کے بنیادی تقاضے کے مطابق بلدیاتی اداروں کے انتخابات نہ کرائے جائیں اور نہ ہی انہیںکام کرنے کا موقع دیا جائے‘ جہاں کے سیاستدان یہ کہیں کہ انہیں اقتدار تو ملا ہے مگر اختیار نہیں‘ جہاں کے ووٹرز یہ کہیں کہ انہوں نے ووٹ ضرور دیے ہیں مگر نتیجہ اُن کے ووٹوں کے مطابق نہیں نکلا‘ وہاں سیاست اور گورننس کے بنیادی ڈھانچے میں تبدیلی کے بغیر بہتری کی کوئی توقع نہیں کی جا سکتی۔ تقسیم برصغیر کے بعد بھارت نے پہلے تین برسوں میں اپنے قد آور سیاسی قائدین کی موجودگی میں اپنا دستور بنا لیا‘ جاگیرداری نظام کو زرعی زمینوں کی حد بندی کے ذریعے درست کر لیا اور اپنے پارلیمانی و انتظامی سسٹم کو بھی مضبوط بنیادوں پر کھڑا کر لیا۔ ادھر ہم نے ہزاروں جتن کے ذریعے 1956ء میں متفقہ اسلامی و جمہوری دستور بنایا جس کے تحت 1959ء میں عام انتخابات ہونے تھے لیکن ان انتخابات کے انعقاد سے پہلے ہی جنرل ایوب خان نے 1958ء میں مارشل لاء لگا کر جمہوریت کی بساط لپیٹ دی۔ پھر یہ سلسلہ وقفے وقفے سے چلتا رہا۔ جنرل ضیا الحق 1977ء میں برسراقتدار آئے اور انہوں نے 1985ء میں پہلے غیر جماعتی انتخابات کرائے۔1999ء میں جنرل پرویز مشرف کی آمد ہوئی۔ باقی ساری تاریخ ہم سب کے سامنے ہے۔ اگر نئے صوبے بنا دیے جائیں لیکن ملک کا سیاسی کلچر ویسے کا ویسا رہے‘ یعنی بدستور بلدیاتی انتخابات نہ کرائے جائیں اور عوام کو ان کا حقِ حکمرانی نہ لوٹایا جائے تو اس صورتحال میں عوام بڑے صوبوں کی غلامی سے نکل کر چھوٹے صوبوں کی محکومی میں آ جائیں گے۔ واقعی عام آدمی کو سہولتیں اور حکومت کے ساتھ رابطہ چاہیے‘ اسے پُرتعیش زندگی نہیں دو وقت کی روکھی سوکھی روٹی اور اپنے بچوں کیلئے تعلیم ہی تو چاہیے۔ اسی طرح سرکاری ہسپتالوں میں علاج معالجے کی سہولتیں ناپید ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ہمارا موجودہ نظامِ انصاف داد رسی اور حقدار کو فوری طور پر اس کا حق دلانے کی استعداد سے تقریباً محروم ہو چکا ہے۔ جب لوگ اپنے سیاسی نظام سے بیزار اور نظامِ انصاف سے مایوس ہو جائیں تو پھر اُن کی آس امید دم توڑ جاتی اور ریاست کے ساتھ ان کا رابطہ کمزور پڑ جاتا ہے۔وزیر داخلہ کے بیانات سے ایک اچھا پہلو یہ نکلتا ہے کہ اوپر کی سطح پر عوام کے دکھوں کے بارے میں بے خبری نہیں۔ اس وقت آسمان کو چھوتی مہنگائی‘ ٹیکسوں کی بھرمار اور بدامنی سے عوام بہت پریشان ہیں۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی نئی لہر سر اٹھا رہی ہے۔ ہماری مشرقی و مغربی سرحدیں پُرامن نہیں‘ ہر لمحے وہاں سے مداخلت اور دراندازی کا خطرہ رہتا ہے۔ وزیر داخلہ صاحب نے یہ بھی کہا کہ ہمیں موجودہ نظام تبدیل کرنا ہوگا ورنہ مزید دس سال بعد بھی وہی مسائل ہوں گے۔ &#39;&#39; نظام‘‘ سے ان کی کیا مراد ہے؟ اگر &#39;&#39;سیاسی نظام‘‘ سے مراد ہمارے بار بار برسراقتدار آنے والے سیاستدانوںکا اندازِ حکمرانی ہے تو یقینا اس کلچر کو فی الفور تبدیل ہونا چاہیے۔انہوں نے سیاستدانوں کے مل بیٹھنے کی بھی بات کی ہے۔تحریک انصاف بھی گرینڈ ڈائیلاگ پر زور دے رہی ہے‘ مولانا فضل الرحمن نے بھی کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ محمود خان اچکزئی علاقائی یا قومیت کی بنیاد پر نہیں ملکی سطح پر مشترکہ اپوزیشن اجلاس بلائیں۔ اگر وہ اس پر آمادہ نہیں ہوتے تو جمعیت علمائے اسلام آل پارٹیز کانفرنس بلائے گی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ سیاستدانوں کے مشترکہ اجلاس کی ضرورت ریاستی ادارے ہی نہیں‘ سیاسی جماعتیں بھی محسوس کر رہی ہیں۔ قومی سطح پر تمام سٹیک ہولڈرز ماضی قریب اور ماضی بعید کا جائزہ لیں اور وسیع تر خود احتسابی کے بعد آپس میں طے کریں کہ آئندہ 1973ء کے آئین پر اس کی حقیقی روح کے مطابق عمل کیا جائے گا۔دوسری اہم بات یہ کہ عوام کو اُن کا حقِ حکمرانی لوٹایا جائے۔ قومی حکومت کے قیام کے بعد سب سے پہلے ہر سطح پر بااختیار بلدیاتی اداروں یا شہری حکومتوں کے فری اینڈ فیئر انتخابات کرائے جائیں۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی طے ہونا چاہیے کہ آئندہ پاکستان میں جس سطح کا جو بھی الیکشن ہو گا‘ وہ صاف اور شفاف ہو گا۔ میں نے امریکہ کی شہری حکومتوں کی خدمات اور اختیارات کو بچشم خود دیکھا ہے۔ وہاں ضلعی انتظامیہ اور پولیس بھی سٹی کونسل یا بلدیہ کے چیئرمین کو جوابدہ ہوتی ہے۔ وہاں سٹیٹ یا صوبے شاہراہوں‘ بڑے ہسپتالوں‘ اعلیٰ عدالتوں کے ذریعے انصاف کو گھر گھر پہنچانے اور ہائر ایجوکیشن کے اداروں وغیرہ کا انتظام و انصرام سنبھالتے ہیں۔مشترکہ اجلاس میں اپنی اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کرنے پر باہمی اتفاق ہونا چاہیے۔ اسی اجلاس میں &#39;&#39;کاکروچوں‘‘ کی تربیت گاہوں یعنی سٹوڈنٹس یونینز کی واپسی کا بھی فیصلہ ہو جانا چاہیے۔ ایک اور اہم بات یہ ہے کہ خبروں کو کنٹرول کرنے کے بجائے گڈ گورننس کا زیادہ سے زیادہ اہتمام کیا جانا چاہیے۔ ہم نے عرب دنیا میں وہاں کی حکومتوں کی میڈیا کنٹرول پالیسیوں کو بہت قریب سے دیکھا ہے‘ مجھے خدشہ تھا کہ کہیں ہمارے حکمران بھی میڈیا کے بارے میں اس راستے پر نہ چل پڑیں۔ اس سے مکمل اجتناب کیا جانا چاہیے۔ حال ہی میں حکومت پاکستان نے فارن پریس کے رپورٹروں پر این او سی لینے کی پابندی لگائی ہے۔ اس سے بیرونی اشاعتی و نشریاتی اداروں میں پاکستان کے مثبت امیج ابھرنے کی رفتار مدہم پڑ جائے گی۔مشترکہ خود احتسابی کے قومی اجلاس کیلئے پیش کردہ اقدامات کے بعد وفاقی وزیر داخلہ بسم اللہ کریں اور نئے صوبوں کا تجویز کردہ علاج بروئے کار لائیں۔ البتہ نئے صوبے آئین میں دیے گئے طریق کار کے مطابق صوبائی اسمبلیوں کی دوتہائی اکثریت سے تشکیل پانے چاہئیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_70033906.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>دیر آید درست آید(افتخار احمد سندھو)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/iktakhar-ahmed-sandhu/2026-08-08/52444/31631518</link><pubDate>Sat, 08 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/iktakhar-ahmed-sandhu/2026-08-08/52444/31631518</guid><description>پاکستان کے موجودہ نظامِ حکمرانی کی ناکامی اور نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے بیان نے انتہائی اہم بحث کو پھر سے جنم دیا ہے۔ نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے بحث پہلے بھی ہوتی رہی ہے کہ نئے صوبے انتظامی بنیادوں پر قائم کیے جانے چاہئیں۔ یہ صائب تجویز دنیا میڈیا گروپ کے سربراہ میاں عامر محمود نے بہت پہلے دی تھی‘ جب وہ لاہور کے ضلعی ناظم تھے۔ وہ بیس پچیس سال سے اس تحریک کیلئے محنت اور کوشش کر رہے ہیں۔ امسال میاں عامر محمود صاحب نئے صوبوں کی یہ تحریک لے کر شہر شہر گئے‘ مختلف فورمز اور سیمینارز سے خطاب کیا اور اس کے حل کیلئے صائب تجاویز بھی پیش کیں اور ایک مفصل کتابچہ بھی تحریر کیا۔اس کاوش کے حوالے سے راقم الحروف نے بھی کئی ایک کالم لکھے۔دیر آید درست آیدکے مصداق وزیر داخلہ محسن نقوی نے ملک میں انتظامی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ پاکستان کے موجودہ نظام میں بنیادی تبدیلیاں ناگزیر ہو چکی ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم جس سسٹم میں رہ رہے ہیں وہ مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔ انتظامی یونٹ کہیں یا صوبے‘ اب ہمیں ان کی طرف جانا ہو گا۔ اس لیے عوامی مسائل کے حل کیلئے نئے صوبوں کے قیام پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے حکومت کو خبردارکیا ہے کہ &#39;&#39;کاکروچوں‘‘ کے اکٹھے ہونے سے پہلے نظام درست کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی دہائیوں سے ایک ہی طرزِ حکمرانی جاری ہے مگر اس کے مطلوبہ نتائج سامنے نہیں آئے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ نظام میں اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔ محسن نقوی نے کہا کہ وہ جمہوریت کے حامی ہیں‘ تاہم جمہوری نظام کے اندر بھی مختلف ماڈلز موجود ہیں‘ وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کے لیے زیادہ مؤثر اور عوام دوست انتظامی ڈھانچے پر غور کیا جائے۔دوسری طرف پنجاب اور وفاق میں برسر اقتدار جماعت مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے بھی حکمران اشرافیہ کو خبردار کیا ہے کہ اس وقت سے بچنا چاہیے جب پنجاب میں بھی جنتر منتر شروع ہو جائے۔ تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق کچی بستیوں سے لڑکے ڈنڈے لے کر نکلیںگے اور جوسامنے آئے گا اس کو کچل دیںگے کیونکہ بھوک‘ افلاس اور غربت نے لوگوں کی بس کرا دی ہے جبکہ حکمرانوں کی عیاشیاں بدستور جاری ہیں اور کوئی ان کو پوچھنے والا نہیں ہے۔ دس ہزار کنال پر صرف بیس لوگ قابض ہیں۔ صرف وزیراعظم ہاؤس کا روزانہ کا خرچہ دس کروڑ روپے ہے۔ ایوان صدر کا خرچہ بھی اس سے کچھ کم نہیں ہوگا۔ چار گورنر ہاؤسز اور چار وزرائے اعلیٰ ہاؤسز کا حال بھی یہی ہے۔ ایک آدمی کیلئے ایک ایک ہزار سے زائد سرکاری ملازمین خدمت پر مقرر ہیں۔ ایسی صورتحال میں یہ ملک کبھی ترقی نہیں کر سکے گا۔ دوسری بات یہ کہ یہ ملک اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک میاں نواز شریف‘ آصف علی زرادری اور عمران خان سمیت اس ملک کے تمام سیاسی اور عسکری سٹیک ہولڈرز مل کر نہیں بیٹھیں گے۔ میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی تجویز سے مکمل اتفاق کرتا ہوں۔ بلاشبہ محسن نقوی کا بیان اہم معاملہ ہے‘ اس پر سنجیدہ بحث ہونی چاہیے۔ پاک فوج کے ترجمان نے اگرچہ وفاقی وزیر داخلہ کے بیان کو اُن کی ذاتی رائے قرار دیا ہے لیکن انہوں نے اس امر کا اعتراف کیا ہے کہ پاکستان کی سلامتی کیلئے گڈ گورننس بہت ضروری ہے‘ گڈ گورننس کے بغیر معاملات حل نہیں ہو سکتے‘ اس لیے گڈ گورننس کیلئے کچھ نہ کچھ کرنا پڑے گا کیونکہ سکیورٹی اور سیفٹی کا دارو مدار گڈ گورننس پر ہے۔ ریاست ہو گی تو سیاست‘ شناخت اور تمام ادارے قائم رہیں گے۔اس امر میں بھی کوئی شک نہیں کہ پاکستان کی ترقی‘ استحکام اور خوشحالی کا انحصارصرف ایسے نظام پر ہے جو ہر شہری کو بلا امتیاز برابر کا شہری سمجھے اور قانون کی نظر میں سب کیلئے یکساں انصاف فراہم کرے۔ ایک مضبوط اور مؤثر نظام وہی ہوتا ہے جس میں انصاف بروقت ملے‘ جان ومال کا تحفظ یقینی ہو‘ بنیادی انسانی حقوق کا احترام کیا جائے‘ میرٹ کو فروغ دیا جائے اور ہر فرد کو تعلیم‘ صحت‘ روزگار اور عزتِ نفس کے مساوی مواقع حاصل ہوں۔ اگر ریاستی نظام وقت کے تقاضوں کے مطابق مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے تو ایسی اصلاحات پورے معاشرے کے مفاد میں ہوں گی۔ جمہوری نظام کوئی برا نہیں ہوتا‘ اسے چلانے والے برے ہوتے ہیں اور پاکستان میں تو جمہوری نظام کو چلنے ہی نہیں دیا گیا۔ آزادی کے بعد 35 برس تو براہ راست آمر اقتدار پر قابض رہے۔ جمہوری حکومتوں کے دوران بھی عسکری حلقوں کا کبھی پس پردہ رہ کر اور کبھی کھل کر اقتدار میں دخل رہا ہے۔ بلاشبہ ایک ایسا نظام جس میں تمام شہری خود کو محفوظ‘ بااختیار اور برابر محسوس کریں وہی حقیقی معنوں میں مضبوط‘ مستحکم اور ترقی یافتہ پاکستان کی بنیاد بن سکتا ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ نے جب &#39;&#39;سسٹم کی تبدیلی‘‘ کی بات کی تو اُن کا اشارہ محض کسی ایک ادارے یا ایک حکومت کی تبدیلی کی طرف نہیں بلکہ مجموعی گورننس‘ انتظامی ڈھانچے‘ اختیارات کی تقسیم‘ میرٹ‘ احتساب اور عوامی خدمت کے نظام میں بنیادی اصلاحات کی ضرورت کی طرف تھا۔ ان کے مطابق اگر یہی نظام برقرار رہا تو دس سال بعد بھی ملک انہی مسائل پر بحث کرتا رہے گا‘ اس لیے ضروری ہے کہ اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کیا جائے‘ انتظامی ڈھانچے کو زیادہ مؤثر بنایا جائے اور اس کیلئے جتنی جلدی ممکن ہو سکے نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کے قیام پر بھی قومی اتفاقِ رائے پیدا کیا جائے۔حقیقی معنوں میں کسی بھی سسٹم کی تبدیلی کا آغاز سب سے پہلے حکمران طبقے‘ سیاسی قیادت‘ بیورو کریسی‘ ریاستی اداروں اور قانون نافذ کرنے والے محکموں سے ہوتا ہے اور ہونا بھی چاہیے کیونکہ جب تک فیصلے میرٹ‘ شفافیت‘ جوابدہی اور قانون کی یکساں عملداری کی بنیاد پر نہیں ہوں گے‘ صرف نعرے یا اعلانات عوام کی زندگی میں تبدیلی نہیں لا سکتے۔ اس عمل میں سب سے بڑی قربانی ذاتی مفادات‘ سیاسی مصلحتوں‘ اقربا پروری‘ بدعنوانی‘ غیر ضروری سرکاری مراعات اور اختیارات کا ناجائز استعمال ترک کرنا ہوگا۔ اگر ایسی اصلاحات عملی طور پر نافذ ہو جائیں تو عام شہری کو بہتر طرزِ حکمرانی‘ تیز رفتار سرکاری خدمات‘ روزگار کے بہتر مواقع‘ انصاف تک آسان رسائی‘ ترقیاتی منصوبوں کی مؤثر تکمیل اور مجموعی طور پر ریاست پر اعتماد میں اضافہ جیسے فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔ تاہم یہ تمام فوائد اسی وقت ممکن ہیں جب اصلاحات پر مسلسل اور غیر جانبدارانہ عملدرآمد کیا جائے۔ تبھی جاکر ہم پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کی حقیقی منزل کو پا سکیں گے۔ جمہوریت ایک سیاسی نظام ہے جس میں اقتدار کی تمام راہیں عوام سے ہو کر گزرتی ہیں اور عوام ہی طاقت کا بنیادی مرکز ہوتے ہیں۔ اقتدار کا یہ نظام باقی تمام نظاموں سے اپنی بہت سی خصوصیات کی بنا پر اچھا ہے اور زیادہ کامیاب بھی‘ لیکن اس کی بہت سی کمزوریاں بھی ہیں۔ اس میں قابلیت کی نہیں صرف تعداد کی اہمیت ہوتی ہے‘ اسی لیے سیاسی و سماجی سطح پر بہت سی منفی صورتیں جنم لیتی ہیں۔ بقول ڈاکٹر اعظم:یہی جمہوریت کا نقص ہے جو تختِ شاہی پرکبھی مکار بیٹھے ہیں‘ کبھی غدار بیٹھے ہیںحبیب جالب نے بھی اسی حسرت کا اظہارکیا تھا:کبھی جمہوریت یہاں آئےیہی جالب ہماری حسرت ہےاور بقول مرتضیٰ برلاس:نام اس کا آمریت ہو کہ ہو جمہوریتمنسلک فرعونیت مسند سے تب تھی اب بھی ہےاظہر شمس جمہوری نظام کی رسوائی پہ اس طرح رقم طراز ہیں:دہائی دے کے وہ جمہوریت کی ؍ نظام خوابِ رسوا کر رہا ہے</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/228_40817243.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بڑے آرام سے ہیں اہلِ جفا میرے بعد(نسیم احمد باجوہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/naseem-ahmed-bajwa/2026-08-08/52445/27717806</link><pubDate>Sat, 08 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/naseem-ahmed-bajwa/2026-08-08/52445/27717806</guid><description>لاہور کے ایک ممتاز اشاعتی ادارے نے 1965ء میں دیوانِ غالب کا (حنیف رامے کی تصاویر سے مزین) نہایت خوبصورت ایڈیشن شائع کیا۔ اس کے صفحات 48اور 49 پر غالب کی وہ کمال کی غزل شامل ہے جس کے نو کے نو اشعار اُن لوگوں کی داستان ہیں جنہوں نے ساری عمر ٹمٹماتا چراغ لے کر تیز ہوا کے سامنے بہادری‘ بے خوفی‘ عزم اور استقامت کے ساتھ سفر کیا۔ غالب کی اسی غزل کے پہلے شعر کا دوسرا مصرع اس مضمون کا عنوان بنا۔ یہ غزل صرف نوحہ نہیں‘ ایک رجز بھی ہے‘ احمد فراز کی نظم &#39;&#39;محاصرہ‘‘ کی طرح۔ میں اقبال احمد پر مضمون لکھنے بیٹھا تو 70ء کی دہائی کے آخری برسوں میں ہونے والی اپنی دو ملاقاتیں یاد آئیں؛ ایک لندن میں عبداللہ حسین (مرحوم) کے گھر اور دوسری فہمیدہ ریاض (مرحومہ) کے گھر۔ انہی دونوں کی مہربانی سے مجھے اقبال احمد سے طویل نشستوں کا موقع ملا۔ میرا کام مختصر سوال کرنا تھا اور وہ ایک شفیق استاد کی طرح اپنے مخصوص دھیمے انداز میں تحمل سے جواب دیتے‘ میری معلومات اور فہم میں اضافہ کرتے‘ بغیر کسی بے صبری یا اکتاہٹ کے۔ پاکستان کے ترقی پسند‘ عوام دوست اور اشتراکی فکر رکھنے والے دانشور برطانیہ میں حمزہ علوی اور طارق علی‘ امریکہ میں اقبال احمد‘ صغیر احمد اور فیروز احمد‘ بھارت میں ارون دھتی رائے اور پنکج مشرا‘ پاکستان میں سبط حسن‘ متحدہ ہندوستان میں رجنی پام دت اور باری علیگ کے احسان مند ہیں۔ ان اہلِ فکر نے برصغیر میں بے شمار نیم خواندہ افراد کو شعور اور مطالعے کی دولت سے آشنا کیا۔ اقبال احمد 1933ء میں صوبہ بہار کے ضلع گیا (Gaya) کے قریب واقع گاؤں ارکی (Irki) میں پیدا ہوئے اور 11مئی 1999ء کو اسلام آباد کے ایک ہسپتال میں 66 برس کی عمر میں وفات پا گئے۔ بچپن میں زمین کے تنازع پر اُن کے والد قتل کر دیے گئے۔ بعد ازاں وہ اپنے بھائی صغیر احمد کے ساتھ ہجرت کرکے پاکستان آئے اور بہار سے مشرقی پاکستان تک کا طویل سفر پیدل طے کیا۔ ایف سی کالج لاہور سے معاشیات کی تعلیم حاصل کی‘ کچھ عرصہ افواج پاکستان میں خدمات انجام دیں‘ کشمیر کی جنگ میں زخمی ہوئے پھر فوج چھوڑ کر اعلیٰ تعلیم کیلئے امریکہ چلے گئے۔ فوج چھوڑنے اور امریکہ جانے کے درمیانی عرصے کی تفصیلات معلوم نہیں۔ تاہم 1957ء میں انہیں روٹری فیلو کی حیثیت سے کیلیفورنیا کے آکسیڈینٹل کالج میں داخلہ ملا۔ اگلے برس وہ پرنسٹن یونیورسٹی میں سیاسیات اور مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ کے طالب علم بنے اور سات برس کی تحقیق کے بعد پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ اسی دوران تیونس اور الجزائر میں تحقیق کے ساتھ الجزائر کی تحریکِ آزادی میں بھی سرگرم رہے‘ یہاں تک کہ فرانس میں گرفتار بھی ہوئے۔ امریکہ واپسی پر انہوں نے Illinoisیونیورسٹی اور Cornelیونیورسٹی میں تدریس کی مگر فلسطینی جدوجہدِ آزادی کی پُرجوش حمایت کے باعث وہاں زیادہ عرصہ نہ رہ سکے۔ 1968ء سے 1972ء تک شکاگو یونیورسٹی سے بطور فیلو وابستہ رہے۔ ویتنام جنگ کی شدید مخالفت اور امریکہ میں ملک گیر جنگ مخالف تحریک میں نمایاں کردار کے باعث 1971ء میں ان پر ہنری کسنجر کے اغوا کی مبینہ سازش میں ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا مگر 1972ء میں جیوری نے تمام ملزمان کو عدمِ ثبوت پر بری کر دیا۔1973ء میں وہ ہالینڈ گئے جہاں سامراج مخالف تحقیقی ادارہ ٹرانس نیشنل انسٹیٹیوٹ کے قیام اور استحکام میں دو برس صرف کیے۔ 1982ء میں دوبارہ امریکہ واپس آ کر ہیمپشائر کالج میں تیرہ برس تدریس کی اور بعد ازاں Emeritusپروفیسر رہے۔ 1990ء کے بعد وہ باقاعدگی سے پاکستان آنے لگے اور انگریزی جریدے میں اپنے عالمانہ کالم لکھے جنہیں بعد میں کتابی صورت میں بھی شائع کیا گیا۔ انہوں نے ابنِ خلدون کے نام پر پاکستان میں سماجی علوم کی اعلیٰ درسگاہ خلدونیہ کے قیام کی بھرپور کوشش کی مگر بینظیر بھٹو اپنا وعدہ پورا نہ کر سکیں اور یہ خواب شرمندۂ تعبیر نہ ہو سکا۔اقبال احمد کی علمیت اور مارکسی نقطہ نظر سے حالاتِ حاضرہ کا تجزیہ کرنے کی صلاحیت امریکہ‘ شمالی افریقہ‘ یورپ اور پاکستان میں یکساں طور پر تسلیم کی گئی۔ پاکستان میں ڈاکٹر پرویز ہود بھائی‘ امریکہ میں پروفیسر نوم چومسکی اور پروفیسر ایڈورڈ سعید‘ اور برطانیہ میں طارق علی جیسے اہلِ علم ان کے معترف تھے۔ الجزائر کی تحریکِ آزادی کے دوران وہ نیشنل لبریشن فرنٹ اور اس کے ممتاز نظریہ ساز Frantz Fanon (Les Damnés de la Terreþکے مصنف ‘ جس کا ترجمہ &#39;&#39;افتادگانِ خاک‘‘ کے نام سے کیا گیا) کے قریبی رفقا میں شامل رہے۔ الجزائر کی آزادی کے بعد نئی انقلابی حکومت نے انہیں سرکاری عہدہ پیش کیا مگر انہوں نے قبول نہ کیا۔ تقریباً تین دہائیوں تک امریکہ‘ یورپ‘ افریقہ اور ایشیا میں انہیں جو علمی مقام حاصل رہا برصغیر کے کسی دوسرے دانشور کو نصیب نہ ہو سکا۔ صرف 66 برس کی عمر میں ان کی وفات پر چاروں براعظموں کے ترقی پسند علمی حلقوں میں گہرے رنج کا اظہار کیا گیا۔ ان کے مضامین اور روزنامہ ڈان میں شائع ہونے والے کالموں کو ان کے مداحوں نے کتابی صورت میں مرتب کیا جس کا پیش لفظ ڈاکٹر پرویز ہود بھائی نے لکھا اور اسے کراچی سے شائع کیا گیا۔ ہیمپشائر کالج نے ان کی یاد میں سالانہ خطبات کا سلسلہ شروع کیا جس کی پہلی تقریب میں کوفی عنان‘ ایڈورڈ سعید‘ نوم چومسکی اور ارون دھتی رائے نے شرکت کی۔اقبال احمد اُن اولین دانشوروں میں تھے جنہوں نے افغانستان میں امریکہ کی جانب سے نام نہاد مجاہدین کی مالی اور عسکری سرپرستی کی مخالفت کی اور پیش گوئی کی کہ ایک وقت آئے گا جب یہی شدت پسند عناصر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف مسلح جدوجہد کریں گے۔ وہ خود کو Harshly Secular اور &#39;&#39;بین الاقوامی‘‘ شخصیت قرار دیتے تھے لیکن اسلام میں صوفیانہ روایات کے مداح تھے اور اسے محروم طبقات کے انصاف اور مساوات کی جدوجہد کا ایک طاقتور سرچشمہ سمجھتے تھے۔ پاکستانی ہونے پر انہیں ہمیشہ فخر رہا‘ جسے کوئی مایوسی متزلزل نہ کر سکی۔ 2006ء اور 2015ء میں کولمبیا یونیورسٹی پریس نے ان پر دو اہم کتابیں شائع کیں جن میں سے ایک امریکہ کی ممتاز جامعات کے تین پروفیسروں نے ان کے مضامین کا انتخاب کرکے مرتب کی۔ 14 مئی1999ء کودی گارجین نے ان پہ ایک تعزیتی مضمون شائع کیا جو ایڈورڈ سعید نے لکھا اور اپنے رفیقِ کار کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ اقبال احمد کو اردو‘ انگریزی‘ فرانسیسی‘ عربی اور فارسی ادب پر یکساں عبور حاصل تھا۔ ان کے پسماندگان میں اہلیہ جُولی اور ایک بیٹی زہرا تھیں‘ مگر ان کے مداح چاروں براعظموں میں پھیلے ہوئے تھے۔1971ء میں پاکستان اپنی تاریخ کے سب سے بڑے بحران سے دوچار ہوا‘ جب عوامی لیگ کے چھ نکات تسلیم کرنے کے بجائے مشرقی پاکستان میں فوجی کارروائی کی گئی اور نتیجتاً دس ماہ کے اندر ملک دو حصوں میں تقسیم ہوگیا۔ اس وقت اقبال احمد اور ان کے بھائی پورے امریکہ میں صرف دو ایسے پاکستانی تلاش کر سکے جونیو یارک ٹائمز میں مشرقی پاکستان کے عوام کے جائز سیاسی مطالبات کی حمایت میں خط لکھنے پر آمادہ ہوئے جبکہ برطانیہ میں بھی ان کے ہم خیال صرف چار افراد تھے۔ یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ اقبال احمد خود ایک بہاری تھے اور مشرقی پاکستان کی بہاری کمیونٹی ہی عوامی لیگ کے شدید مظالم کا سب سے زیادہ نشانہ بنی۔غالب کی مذکورہ غزل کے پہلے شعر کا دوسرا مصرع اس مضمون کا عنوان ہے اور اس کا اختتام بھی غزل کے آخری شعر کے دوسرے مصرع پر ہوتا ہے: کس کے گھر جائے گا سیلابِ بلا مرے بعد۔ یہ وہ صدا ہے جو ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ جیسے اقبال احمد آج بھی اگلے جہان سے ہمیں پکار رہے ہوں‘ اور آنے والے زمانوں تک پکارتے رہیں گے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_32258580.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>منشورِامام احمد رضا قادری… (1)(مفتی منیب الرحمٰن )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-08-08/52446/31395456</link><pubDate>Sat, 08 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-08-08/52446/31395456</guid><description>25 صفر المظفر امام احمد رضا قادری رحمہ اللہ تعالیٰ کا یومِ وصال ہے۔ اس کی مناسبت سے منشورِ امام احمد رضا کے چند گوشے قارئین کے پیشِ خدمت ہیں۔ بدقسمتی سے اہل سنت نے چند شعائر اور ظاہری علامات کو عملاً واجب کا درجہ دے رکھا ہے‘ فرائض و واجبات اور سُنن کو حسبِ مراتب اہمیت نہیں دی جا رہی‘ اس کے نتیجے میں بے عملی فروغ پار ہی ہے‘ مسلک کو روحانی حَظّ وسرور کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے‘ نعت خواں اور قوال مذہب کے سٹار سمجھے جاتے ہیں‘ اس کے سبب دین کی ترجیحات پسِ منظر میں چلی گئی ہیں۔ پاکستان سے لے کر یورپ‘ کینیڈا اور امریکہ تک ان مجالس کیلئے پروموٹر افراد اور ادارے وجود میں آ گئے ہیں۔ برطانیہ میں آرٹ اینڈ کلچر سوسائٹی کے لائسنس یافتہ لوگ نعت خوانوں کو بھی سپانسر کرتے ہیں‘ گویا یہ دین کا نہیں بلکہ آرٹ کا شعبہ بن گیا ہے۔ کاش! ان لوگوں نے فتاویٰ رضویہ کا مطالعہ کیا ہوتا تو انہیں دین کی ترجیحات کا علم ہوتا۔ آج سے کم وبیش ایک صدی قبل امام احمد رضا اہلسنت کی بے حسی اور دینی ترجیحات کی معکوس ترتیب کو دیکھ کر تڑپ اٹھے اور لکھا:مرا سوزیست اند ردل، اگر گویم زباں سوزدوگر دَم دَر کَشم، تَرسم کہ مغزِ اُستُخواں سوزدمفہومی ترجمہ: &#39;&#39;دین ومسلک کے بارے میں اپنے لوگوں کے طرزِ عمل کو دیکھتا ہوں تو دل میں جذبات کا ایسا شعلہ اٹھتا ہے کہ اگر انہیں زبان پر لاؤں تو زبان جل جائے اور اگر ضبط کر کے سانس روکے رکھوں تو اندیشہ ہے کہ ان جذبات کی تپش سے ہڈیوں کا گودا تک جل جائے گا‘‘۔ اردو شاعر نے اسی مفہوم کو اس شعر میں بیان کیا ہے:جو سچ کہتا ہوں مزہ الفت کا جاتا ہے جو چُپ رہتا ہوں کلیجہ منہ کو آتا ہےاہلسنت کی بے عملی کو دیکھتے ہوئے امام احمد رضا قادری نے اسلام کی نشاۃِ ثانیہ کے لیے ایک منشور دیا‘ لکھتے ہیں:&#39;&#39;ایک علماء کا اتفاق جو آج کل مفقود ہے‘ دوسرا یہ کہ ہر مسلمان اپنی طاقت کے مطابق دین کی راہ میں مشکلات کو برداشت کرنا سیکھے‘ جبکہ مسلمان سہل پسند ہو چکے ہیں۔ تیسرا یہ کہ جن خوش نصیب افراد کو اللہ تعالیٰ نے نعمتِ مال سے نوازا ہے‘ وہ ہر طرح کی نمود اور ریاکاری سے بے نیاز ہو کر صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے اُس کے عطا کیے ہوئے مال میں سے اُس کی راہ میں اس انداز سے خرچ کریں کہ حدیث پاک کے مطابق &#39;&#39;بائیں ہاتھ کو پتا نہ چلے کہ دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا‘‘۔ پھر لکھتے ہیں: &#39;&#39;یہ تمام چیزیں یہاں مفقود ہیں‘ کیونکہ لوگوں کو نمود اور شہرت مطلوب ہے‘‘۔ یہ تو اُن کے دور کا عالم تھا‘ آج اخلاص سے محرومی اور ریاکاری کی یہ بیماری اور زیادہ پھیل چکی ہے۔ ہمارے ہاں بہت سے مالی وسائل سوم‘ جمعرات‘ دسویں بیسویں‘ چہلم اور اَعراس کی تقریبات پر خرچ ہو جاتے ہیں۔ یہ ایصالِ ثواب کے مختلف عنوانات ہیں‘ ان کا جواز واستحباب مسلّم‘ مگر رسول اللہﷺ نے ایصالِ ثواب اور انفاق فی سبیل اللہ کیلئے صدقاتِ جاریہ کو ترجیح دی ہے۔ صدقاتِ جاریہ سے مراد ایسے شعبوں اور ایسی مدّات پر اپنے لیے اور اپنے فوت شدہ اقارب کے ایصالِ ثواب کیلئے مال خرچ کرنا ہے‘ جن کا فیض موت کے بعد بھی جاری رہے۔ حدیثِ پاک میںہے: &#39;&#39;جب انسان وفات پا جاتا ہے تو تین قسم کے اعمال کے سوا اُس کے اعمالِ (صالحہ) کا سلسلہ منقطع ہوجاتا ہے: (1) صدقۂ جاریہ‘ (2) علمِ نافع‘ (3) نیک اولاد جو اُس کیلئے دعائے خیر کرے‘‘ (ترمذی: 1376)۔ حدیث پاک میں ہے: رسول اللہﷺ نے فرمایا: جنت میں نیک بندے کا درجہ بلند کر دیا جاتا ہے تو وہ کہتا ہے: پروردگار! مجھ پر یہ کرم کیسے ہوا‘ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: یہ تمہاری اولاد کے تمہارے لیے استغفار کے سبب ہے‘‘ (مسند احمد: 10610)۔ صدقاتِ جاریہ میں مدارس ومساجد کی تعمیر اور مصارف میں حصہ لینا‘ رفاہِ عامّہ کے کام کرنا‘ علمِ نافع دینا جس کا فیض تصنیف وتالیف‘ وعظ وتذکیر اور اُن سے فیض پانے والے علماء کے ذریعے جاری رہتا ہے‘ نیز نیک اولاد بھی صدقۂ جاریہ ہے۔ امام احمد رضا قادری سے سوال ہوا: &#39;&#39;ایک خاتون ہر سال گیارہویں شریف کی فاتحہ کرتی ہیں‘ ڈیڑھ من چاول پکا کر غوث الاعظم کے ایصالِ ثواب کیلئے تقسیم کرتی ہیں‘ فلاں جگہ ایک دینی مدرسے میں مستحق طلبہ ہیں‘ اگر یہ اُن پر خرچ کر دیے جائیں توکیا گیارہویں شریف کی فاتحہ ہو جائے گی؟‘‘ آپ نے جواب دیا: تم گیارہویںشریف کی بات کرتے ہو‘ گیارہویں بھی ہو جائے گی اور چودہ سو گنا زیادہ اجر ملے گا‘ کیونکہ یہ صدقۂ جاریہ ہو گا۔ انہوں نے لکھا: (1) عظیم الشان مدارس قائم کیے جائیں‘ جن میں باقاعدہ تعلیمی نظام ہو‘ (2) انتہائی ذہین اور قابل طلبہ جو غربت کے سبب تعلیم کو ترک کرے محنت مزدوری کرنے پر مجبور ہو جائیں‘ اُن کو تعلیم کی طرف مائل کرنے کیلئے وظائف دیے جائیں‘ (3) مدرّسین کو اعلیٰ معیار پر بیش بہا تنخواہیں دی جائیں تاکہ وہ فکرِ معاش سے بے نیاز ہو جائیں اور دین کا پیغام پہنچانے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہ کریں اور باطل کے خلاف مصروفِ عمل ہوں‘ (4) طلبہ کے ذہنی رجحان کو دیکھ کر انہیں اُن کے پسندیدہ علمی شعبے کا متخصِّص بنایا جائے۔(5) جن کے اندر تحقیق اور تصنیف وتالیف کا جوہر ہے‘ اُن کی قابلیت کے مطابق مشاہرے دے کر اس شعبے میں اُن کی خدمات حاصل کی جائیں‘ (6) دینی رسائل وجرائد اور اخبارات جاری ہوں‘ (7) سودی شکنجے سے نجات کیلئے مسلمانوں کے اپنے مالیاتی ادارے ہوں جو دیانت کا اعلیٰ معیار قائم کرتے ہوئے شراکت ومضاربت کے اسلامی اصولوں پر لوگوں کو خدمات فراہم کریں اور انتہائی ضرورت مندوں کو بلاسود قرضے دیں‘ (8) مسلمانوں کے باہمی تنازعات کو طے کرنے کیلئے مصالحتی کونسلیں بنائی جائیں تاکہ برسوں عدالتوں میں رُلنے اور وکلا کی بڑی بڑی فیسیں دینے سے بچ سکیں‘ اس کی ضرورت آج بھی ہر شخص محسوس کر سکتا ہے‘ کیونکہ ہمارے ہاں انصاف انتہائی گراں قدر جنس بن چکا ہے اور وکلا کی فیسیں لاکھوں کروڑوں میں ہیں۔ قرآنِ کریم نے بھی زوجین کا تنازعہ طے کرنے کیلئے ایک &#39;&#39;مجلسِ تحکیم‘‘ تشکیل دینے کاحکم فرمایا ہے: &#39;&#39;(مسلمانو!) اگر تمہیں میاں بیوی کے درمیان جھگڑے کا اندیشہ ہو تو ایک ثالث مرد کے خاندان کی طرف سے اور ایک ثالث عورت کے خاندان کی طرف سے مقرر کرو‘ اگر یہ دونوں صلح کرانا چاہیں گے تو اللہ اُن دونوں کے درمیان موافقت پیدا فرما دے گا‘‘ (النسآء: 35)۔ نوٹ: یہ برطانوی سامراج کا دور تھا‘ امام اہلسنّت کا انتقال 1340 ہجری میں ہوا۔لوگوں نے غلط طور پر یہ تاثر دیا ہے کہ اُن کا من پسند مشغلہ کفر کے فتوے جاری کرنا تھا‘ یہ اُن کی فکر کی سو فیصد غلط تعبیر ہے۔ آپ لکھتے ہیں: &#39;&#39; فرضِ قطعی ہے کہ اہلِ کلمہ کے ہر قول و فعل کو حتی الامکان کفر سے بچائیں‘ اگر چہ بظاہر کیسا ہی خراب سے خراب تر ہو۔ اگر ضعیف سے ضعیف تاویل بھی کی جا سکتی ہو‘ جس کی رو سے حکمِ اسلام کی گنجائش نکلتی ہو‘ تو اس کی طرف جائیں اور اس کے سِوا ہزار احتمال اگر کفر کی جانب جاتے ہوں‘ انہیںخیال میں نہ لائیں‘‘ (فتاویٰ رضویہ، ج: 12، ص: 317)۔ آپ حدیث بیان کرتے ہیں: &#39;&#39;لا الٰہ الا اللہ (یعنی کلمۂ طیبہ) کہنے والوں سے زبان روکو‘ انہیں کسی گناہ پر کافر نہ کہو‘ کلمۂ طیبہ پر اعتقاد رکھنے والوں اور اس کا اقرار کرنے والوں کو جو کافر کہے‘ وہ کفر سے نزدیک تر ہے‘‘ (معجم الکبیر، ج: 12، ص: 272)۔ آپ لکھتے ہیں: &#39;&#39;امام اعظم و دیگر ائمہ فرماتے ہیں: &#39;&#39;جو کسی مسلمان کی نسبت یہ چاہے کہ اُس سے کفر صادر ہو‘ وہ کفر کرے یا نہ کرے‘ یہ (خواہش رکھنے والا) ابھی کافر ہو گیا کہ مسلمان کا کافر ہونا چاہا‘‘ (فتاویٰ رضویہ، ج: 12، ص: 403)۔ (جاری)</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_61172381.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>