<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>گڈ گورننس اور قومی استحکام(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-01/11413</link><pubDate>Sat, 01 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-01/11413</guid><description>ملکِ عزیز کو داخلی و خارجی نوعیت کے جن پیچیدہ چیلنجز کا سامنا ہے‘ ان کے حوالے سے ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کی پریس کانفرنس گہرے فکری تجزیے کی دعوت دیتی ہے۔ پریس کانفرنس کا مرکزی خیال یہ تھا کہ ملکی سلامتی کا دار ومدار صرف عسکری طاقت یا میدانِ جنگ میں دشمن کے خلاف حاصل کی جانے والی کامیابیوں پرنہیں ہوتا‘ اس کے لیے گڈ گورننس بھی ضروری ہوتی ہے۔ ترجمان پاک فوج کی جانب سے اس حقیقت کا اظہار بھی کیا گیا کہ ریاست کے بنیادی ڈھانچے اور انتظامی امور میں بہتری لائے اور عوام کو بنیادی سہولتیں مہیا کیے بغیر طویل مدتی استحکام کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔انہوں نے انتظامی بنیادوں پر صوبوں کی تقسیم کے تصور کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ 1972ء میں پاکستان کی آبادی سات ‘ آٹھ کروڑ تھی جو اَب بڑھ کر 25 کروڑ تک پہنچ چکی ہے جبکہ انتظامی ڈھانچہ اب بھی چار صوبوں پر مشتمل ہے‘ اس صورتحال میں نئے تقاضوں کے مطابق سوچنے کی ضرورت ہے۔ ملکِ عزیز میں انتظامی بنیادوں پر صوبوں کی تخلیق کا تقاضا ایسی حقیقت ہے جس کی جانب مسلسل توجہ دلائی جا رہی ہے‘ ملک میں حکمرانی کے چیلنجز پر بھی بات ہوتی رہتی ہے۔

فی الحقیقت گڈ گورننس اور نئے انتظامی یونٹس کی تشکیل لازم و ملزوم حقیقتیں ہیں؛ چنانچہ ضروری ہو چکا ہے کہ پرانے اور فرسودہ انتظامی ڈھانچے پر اصرار جاری رکھنے اور پبلک سروس کی صورتحال کو مزید بحرانوں سے دوچار کرنے کے بجائے نئے تقاضوں کو تسلیم کرنے میں مزید تاخیر نہ کی جائے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے قومی سلامتی سے متعلق امور اور دہشت گردی کے حوالے سے بھی تفصیلی گفتگو کی جس کے مطابق رواں سال اب تک دہشت گردی کے خلاف 40 ہزار 348 آپریشن کیے جا چکے ہیں جن میں 2084 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے دوران 819 اہلکار اور 322 شہری شہید ہوئے جبکہ رواں سال 28خودکش حملے ہوئے‘ جن میں زیادہ تر افغان شہری ملوث تھے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے دہشت گردی کے پیچھے بھارت اور افغانستان کے گٹھ جوڑ کو صراحت کے ساتھ واضح کیا اوربتایا کہ معرکۂ حق میں ناکامی کے بعد دشمن نے بلوچستان پر توجہ مرکوز کر لی ہے اور پاکستان میں دہشت گردی بھارت اور افغانستان کا مشترکہ ایجنڈا ہے۔ ترجمان پاک فوج نے کہاکہ دہشت گردوں سے بات چیت کی کوئی گنجائش نہیں‘ انہیں یا تو آئین اور قانون کے مطابق ہتھیار ڈالنا ہوں گے بصورتِ دیگر سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رہیں گی۔ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف جاری کارروائیاں اس ریاستی عزم کی غمازی کرتی ہیں کہ پاک سر زمین پر کسی بھی دہشت گرد گروہ کو پنپنے کی اجازت نہیں دی جائے گی‘تاہم عسکری کامیابیوں کے ثمرات کو برقرار رکھنے کیلئے ضروری ہے کہ سیاسی استحکام‘ معاشی بہتری اور سماجی انصاف کو یقینی بنایا جائے۔ جب تک عام آدمی کے بنیادی مسائل حل نہیں ہوں گے پائیدار امن ممکن نہیں ہو سکتا۔
اس وقت ملک میں جاری منفی پروپیگنڈا‘ جھوٹی خبروں اور ڈیجیٹل دہشت گردی کے ذریعے معاشرے میں جو زہر گھولنے کی کوشش کی جا رہی ہے اس کا مقابلہ کرنے کے لیے اجتماعی بیداری کی ضرورت ہے اور دشمن کی ان سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے تمام طبقات کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ملک کو درپیش مسائل کا حل الزام تراشی یا سیاسی رسہ کشی میں نہیں جامع قومی اتفاقِ رائے‘ آئین کی بالادستی‘ بہتر حکمرانی اور اداروں کی مضبوطی میں ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس میں اٹھائے گئے نکات کو ایک روڈ میپ کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے تاکہ ملک کو درپیش بحرانوں سے نکال کر ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے اور عام آدمی کے مسائل کے حل کی بنیاد رکھی جا سکے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کوئٹہ کان حادثہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-01/11412</link><pubDate>Sat, 01 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-01/11412</guid><description>کوئٹہ کے نواحی علاقے سورینج میں کوئلے کی دو کانوں میں پیش آنے والے المناک حادثے میں 34کان کنوں کی موت نے  کان مزدوروں کی زندگیوں کے تحفظ سے متعلق سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق یہ حادثہ کان میں میتھین گیس بھر نے کی وجہ پیش آیا۔بلوچستان میں کوئلے کی کانوں میں حادثات معمول بن چکے ہیں۔ گزشتہ برس ان حادثات میں 90 کان کن جان کی بازی ہار گئے۔ اس کے باوجود حالات میں کوئی بنیادی بہتری دکھائی نہیں دیتی۔ ایک رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں تقریباً 60 ہزار افراد کوئلے کی کان کنی کے شعبے سے وابستہ ہیں مگر متعدد کانوں میں حفاظتی سازوسامان اور نگرانی کے مؤثر نظام کے بجائے روایتی طریقوں پر انحصار کیا جا تا ہے۔ ہزاروں فٹ گہری کوئلہ کانوں میں کان کن جدید آلات‘ مشینری‘ سانس لینے کیلئے ماسک‘ آکسیجن سلنڈر اور گیس کی مقدار ناپنے والے آلات کے بغیر کام کرنے پر مجبور ہیں۔

اس صورتحال کی ذمہ داری صرف کان کے مالکان اور ٹھیکیداروں پر نہیں متعلقہ حکومتی اداروں پر بھی عائد ہوتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اور متعلقہ حکام کوئلہ کانوں میں بین الاقوامی معیار کے حفاظتی ضوابط پر عملدرآمد یقینی بنائیں‘ جدید ٹیکنالوجی اور گیس مانیٹرنگ نظام کی تنصیب لازمی قرار دی جائے‘ اور حفاظتی تقاضے پورے نہ کرنے والی کانوںکو بند کیا جائے۔ بصورت دیگر المناک حادثات ہوتے رہیں گے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سکول بند؟(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-01/11411</link><pubDate>Sat, 01 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-01/11411</guid><description>محکمہ سکول ایجوکیشن پنجاب نے مزید 555 سرکاری سکول بند کرکے انہیں قریبی سکولوں میں ضم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ محکمے کا مؤقف ہے کہ یہ فیصلہ ان سکولوں میں طلبہ کی کم تعداد کی وجہ سے کیا گیا ہے۔سرکاری سکولوں کی بندش کا فیصلہ اس ملک میں کیا جارہاہے جہاں‘ یونیسیف کے مطابق تقریباً دو کروڑ باسٹھ لاکھ بچے سکولوں سے باہر ہیں‘ان میں سے ایک کروڑ سے زائد پنجاب سے ہیں۔اگر ان سکولوں میں داخلوں کی تعداد کم تھی تو حکومت کو ان وجوہ کی تلاش کرنی چاہیے جو سرکاری سکولوں کی جانب رجحان میں کمی کا سبب بن رہے ہیں۔ سکولوں میں مزید سہولتیں فراہم کرنے اورانکی افادیت بڑھانے کے بجائے سکول بند کردینا تو ہر لحاظ سے غیر منطقی اقدام ہے۔

تعلیم اور صحت شہریوں کے آئینی حقوق ہیں اور انکی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے مگر ان حقوق کی فراہمی کے بجائے لیت و لعل کے حربے اپنائے جاتے ہیں۔اس صورتحال نے ملک میں طبقاتی تفریق میں اضافہ کیا ہے۔ مالی طور پر مستحکم شہری نجی اداروں سے تعلیم اور صحت کی سہولیات حاصل کر لیتے ہیں مگر غریب شہریوں کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔ یہ صورتحال ملک میں تعلیم سے محروم بچوں کی تعداد میں اضافے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ کم داخلوں کی بنا پر سکول بند کر نے کے بجائے سکولوں میں سہولیات بڑھانے پر سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مسلم لبرلزم…مصطفی اکیول کا جواب(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-08-01/52399/62177946</link><pubDate>Sat, 01 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-08-01/52399/62177946</guid><description>چند دن پہلے میں نے ممتاز دانشور مصطفی اکیول کی کتب کو بنیاد بنا کر &#39;مسلم لبرلزم‘ پر ایک کالم لکھا تھا‘ جو آج کے دور میں اس کے سب سے بڑے داعیان میں شمار ہوتے ہیں۔ تفصیلی تبصرے سے دانستہ گریز کرتے ہوئے‘ میں نے خود کو اس بات تک محدود رکھا کہ میرے نزدیک اس تصور کے خدو خیال کیا ہیں۔ اس پر برادر مصطفی نے ایک وضاحتی مضمون لکھا ہے۔ میں اسے یہاں نقل کر رہا ہوں۔ مقصود یہ ہے کہ ان کا مؤقف ان کی زبانی بیان ہو جائے۔ میں مسلم لبرلزم کے بارے میں جو رائے رکھتا ہوں‘ ان شاء اللہ کسی اگلے کالم میں بیان کر وں گا۔ یہ معاصر مسلم سماج میں اٹھنے والے مباحث کو سمجھنے کی ایک کوشش ہے جن سے ہم الگ نہیں رہ سکتے۔مصطفی لکھتے ہیں: &#39;&#39;کتاب (Why, As A Muslim, I Defend Liberty)‘‘ کے مصنف کی حیثیت سے جس کا اردو ایڈیشن حال ہی میں شائع ہوا ہے۔ مجھے &#39;روزنامہ دنیا‘ میں خورشید ندیم صاحب کا فکر انگیز تبصرہ اور تحسین آمیز کلمات پڑھ کرخوشی ہوئی تاہم ان کے تبصرے میں چند ایسے نکات سامنے آئے ہیں جن کی وضاحت سودمند ثابت ہو سکتی ہے۔ لبرل ازم ایک ایسا سیاسی نظریہ ہے جو اس امر کا مدعی ہے کہ حکومتوں کو معاشرے پر مخصوص عقائد یا طرزِ زندگی مسلط نہیں کرنے چاہئیں۔ اس کے برعکس‘ حکومتوں کو افراد کے حقوق اور آزادیوں کا تحفظ کرنا چاہیے اور افراد کو اس شرط کے ساتھ اپنی مرضی سے جینے کی آزادی ہونی چاہیے کہ وہ دوسروں کے حقوق کی پامالی نہ کریں۔ مثال کے طور پر فرانسیسی جمہوریہ کو‘ جو مذہب کے معاملے میں مغرب کی کمترین لبرل حکومتوں میں شمار ہوتی ہے‘ مسلم خواتین کے عوامی مقامات پر حجاب اوڑھنے کے حق میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔ یا بھارتی حکومت کو مسلمانوں کی جانب سے گائے کے گوشت کی پیداوار یا استعمال کرنے کو جرم قرار نہیں دینا چاہیے‘ اور نہ ہی تبدیلیٔ مذہب کے انسداد پر مبنی ایسے قوانین وضع کرنے چاہئیں جو قبولِ اسلام کو محدود کرتے ہوں۔ جب اس نوع کے غیر مسلم احکامات و قوانین کا سوال درپیش ہوتا ہے تو ہمارے مسلم بھائی اکثر یہ محسوس کرتے ہیں کہ لبرل ازم کیوں معقولیت رکھتا ہے۔ لیکن یہ ادراکِ وجدانی ایک سوال بھی اٹھاتا ہے: کیا ہم مسلمان دوسروں کو وہ تمام آزادیاں دینے کیلئے تیار ہیں جو اپنے لیے چاہتے ہیں؟ اگر نہیں‘ تو پھر ہم کس بنیاد پر اپنی آزادیوں کا دفاع کر سکتے ہیں؟ اس سوال سے نبرد آزما ہونے کا عمل‘ پہلے میرے وطنِ عزیز ترکیہ میں اور بعد ازاں عالمی سطح پر‘ مجھے اس بات پر قائل کر چکا ہے کہ ہمیں ایک حقیقی و مصدقہ مسلم لبرل ازم کی ضرورت ہے یا جیسا کہ میں اکثر تعبیر کرتا ہوں &#39;&#39;اسلامی لبرلزم‘‘ کی‘ کیونکہ میرے استدلال کا مرجع و ماخذ مصادرِ اسلام یعنی قرآن و سنت اور ساتھ ہی اسلام کی فقہی و کلامی روایت ہیں۔ تاہم اسی نکتے پر خورشید ندیم صاحب باریک بینی سے تنقید کرتے ہیں اور یہ دلیل دیتے ہیں کہ میری کاوش &#39;&#39;لبرل پیراڈائم کو معیار مان کر اسلام کی تعبیرِ نو‘‘ پیش کرتی ہے۔ اس کے جواب میں مَیں یہ عرض کروں گا کہ اگر یہ سچ ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام کی تعبیر پہلے ہی &#39;&#39;استبدادی پیراڈائم کو معیار مان کر‘‘ کی جا چکی ہے۔مثال کے طور پر قرآنی نص&#39;&#39;دین میں کوئی جبر نہیں‘‘ پر غور کیجیے‘ جو مذہبی آزادی کی ایک قابلِ قدر بنیاد ہے۔ اگر ہم اپنے کلاسیکی مفسرین کا مطالعہ کریں تو اکثر نے اس آیت کو یا تو جہاد سے متعلق آیات سے &#39;&#39;منسوخ‘‘ قرار دیا‘ یا پھر اس کے دائرہِ کار کو محض اس حد تک محدود کر دیا کہ اہلِ کتاب یعنی یہود ونصاریٰ اسلامی قلمرو کے تحت اپنے مذہب پر قائم رہ سکیں۔ اگرچہ مؤخر الذکر صورت بھی رواداری کا ایک عظیم مظاہرہ تھا‘ تاہم &#39;&#39;لا اکراہ‘‘ کا یہ اصول مسلمانوں پر اطلاق تک توسیع نہیں پا سکا۔ یہی سبب ہے کہ پاکستان کے سابق چیف جسٹس‘ ایس اے رحمان نے‘ البقرہ: 256 کو &#39;&#39;انسانیت کی مذہبی تاریخ میں آزادیٔ ضمیر کا ایک بینظیر چارٹر‘‘ قرار دیتے ہوئے‘ افسوس کا اظہار بھی کیا تھا کہ &#39;&#39;خود مسلم علما کی جانب سے اس کے وسیع انسانیت پرور مفہوم کو کمتر و محدود کرنے کی کوششیں کی گئیں‘‘۔ آج ہم اپنے کلاسیکی علما کے احترام کو ملحوظ رکھتے ہوئے‘ اس &#39;&#39;انسانیت پرور‘‘ مفہوم کا احیا کر سکتے ہیں لیکن ایک ایسے نئے زاویۂ نظر کے ساتھ جس کی اجازت ان کا عہد نہیں دیتا تھا۔ جیسا کہ میری نئی مرتب کردہ کتاب &#39;&#39;دین میں کوئی جبر نہیں‘‘ میں استدلال کیا گیا ہے۔یہ قضیہ اس سے کچھ مختلف نہیں جو ابتدائی دور کے متعدد اسلامی جدیدیت پسندوں (اور حتیٰ کہ بعد کے بعض روایتی علما) نے غلامی کے باب میں پیش کیا تھا۔ یعنی ہماری شریعت نے صدیوں تک اس کی اجازت دی‘ کیونکہ وہ ان ادوار کا معمول و رواج تھا‘ لیکن غلاموں کو آزاد کرنے کے قرآنی اخلاقی حکم (البلد: 13) کا اطلاق اب عالمگیر سطح پر آزادی کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ (تاہم اس کے باوجود‘ انیسویں صدی کے جن مسلم داعیانِ انسدادِ غلامی نے یہ استدلال پیش کیا تھا‘ ان پر &#39;&#39;یورپیوں کو خوش کرنے‘ اسلام کو نابود کرنے اور شریعت کو معطل کرنے‘‘ کی سعی کا الزام لگا کر مذمت کی گئی‘ جیسا کہ ہارون بشیر نے اپنی کتاب Slavery, Abolition, and Islam میں واضح کیا ہے)۔ ہماری صدی کا مسئلہ غلامی سے آزادی نہیں‘ بلکہ دیگر آزادیاں ہیں: آزادیٔ مذہب‘ آزادیٔ اظہار‘ سب کیلئے قانونی مساوات‘ جمہوری حاکمیت اور معاشی آزادی۔ میں ان اصولوں کا دفاع اسلئے کرتا ہوں کیونکہ میں نے بچشمِ خود دیکھا ہے کہ کس طرح ان اصولوں نے متعدد مغربی ممالک بشمول چند دیگر ممالک جیسے کہ جاپان یا جنوبی کوریا کو زیادہ پُرامن‘ خوشحال اور طاقتور بنایا۔ میں امت مسلمہ کیلئے بھی اسی کامیابی کی تمنا رکھتا ہوں۔اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ آج مغرب میں موجود ہر شے قابلِ تحسین ہے۔ وہاں متعدد مفاسد بھی ہیں مثلاً روایتی خاندانی نظام کا انحطاط‘ معنویت کا بحران اور سیاسی شدت پسندی۔ نیز بعض لوگوں کے نزدیک &#39;&#39;لبرلزم‘‘ کا مفہوم لامتناہی لذت کوشی پر مبنی ایک اباحیت پسندانہ عالمی نقطۂ نظر بن چکا ہے‘ جو اکثر بالآخر نشے کی لت‘ عدمیت (nihilism) یا انسانی فطرت کی مسخ ہونے پر منتج ہوتا ہے۔ میں ان میں سے کسی بھی شے کی وکالت نہیں کرتا اور نہ ہی میں کسی ایسی &#39;&#39;مطلق آزادی‘‘ کا حامی ہوں جو نفاذِ امن‘ شائستگی‘ ایمانیات یا اخلاقیات کے کسی بھی احساس سے عاری ہو۔ تاہم تمدنی (civic) وسائل کے ذریعے ایمان واخلاق کی پاسبانی کرنے اور ریاستی جبر کے ذریعے انہیں مسلط کرنے کے درمیان زمین و آسمان کا فرق ہے۔ مؤخر الذکر طریقہ جدید دور میں کارگر ثابت نہیں ہوتا؛ جیسا کہ مذہب اور اخلاقیات کی پاسبانی کے سلسلے میں ایران کے ناکام تجربے نے اسے نہایت واضح طور پر عیاں کر دیا ہے۔ مجھے خوشی ہوئی کہ خورشید ندیم صاحب نے اس استدلال کو ایک &#39;&#39;چشم کشا‘‘ امر کے طور پر پایا۔ جہاں خورشید ندیم صاحب میرے مؤقف کو سب سے زیادہ کمزور حتیٰ کہ انکے الفاظ میں &#39;&#39;بے بس‘‘ پاتے ہیں وہ قرآن اور جنسی اخلاقیات کا باب ہے۔ میں ان سے پُرزور گزارش کروں گا کہ وہ گناہوں اور جرائم کے درمیان قائم کردہ میرے تفریق کے نکتے پر زیادہ دقیق نظر سے غور فرمائیں۔ قرآن متعدد ذاتی گناہوں کی مذمت کرتا ہے لیکن حدود کو ان میں سے صرف چند ایک کیلئے مخصوص رکھتا ہے؛ یعنی وہ جو جان‘ مال یا خاندان کے ضرر سے متعلق ہیں۔ یہ امتیاز آج بھی مسلم معاشروں کی رہنمائی کر سکتا ہے۔ یعنی جدید بیورو کریٹک ریاست کی سرد و بے روح مشینری کے بجائے نصیحت کے دل نشیں راستے کے ذریعے اخلاقیات کا فروغ اور اسکے فقدان پر تنقید۔ مجھے امید ہے کہ یہ پیشرفت ہمارے عہد کے ان اہم موضوعات پر مزید مکالمات کا نقطۂ آغاز ثابت ہو گی۔ میں فدا الرحمن صاحب کا ممنون ہوں جنہوں نے میری کتاب کا ترجمہ کیا‘ خورشید ندیم صاحب کا کہ انہوں نے اس پر نقد ونظر فرمائی‘ اور &#39;روزنامہ دنیا‘ کا جس نے یہ پلیٹ فارم مہیا کیا‘‘۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>چھ سال پرانی ملاقات کی تازہ صورتحال …(2)(خالد مسعود خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-08-01/52400/75152273</link><pubDate>Sat, 01 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-08-01/52400/75152273</guid><description>وزیراعلیٰ بزدار کو نو نکات پر مشتمل فہرست پکڑانے کے بعد اخلاقی طور پر میں اپنی ذمہ داری پوری کر چکا تھا۔ اس سے آگے کا دائرہِ کار سرکار کے ذمہ تھا۔ تاہم میں اپنے شہر کی بہتری کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی طبیعت کے برخلاف نہ صرف عثمان بزدار سے ملاقات کی بلکہ بعد میں وزیراعلیٰ آفس میں اپنے ایک مہربان دوست کو بھی یہ کاغذ بھجوا دیا۔ عام سرکاری افسروں کے برعکس وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں اہم جگہ پہ بیٹھا یہ دوست ایسے کاموں کو دھکا لگانے اور ان کا پیچھا کرنے میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتا۔ وہ دوست مجھے ان نو معاملات کے سلسلے میں ہونے والی پیشرفت سے وقتاً فوقتاً آگاہ بھی کرتا رہا۔ کچھ معاملات میں پیشرفت صفر تھی‘ تاہم دو معاملات میں باقاعدہ پیشرفت دکھائی دینا شروع ہو گئی۔ ملتان تا ہیڈ محمدوالا روڈ‘ جو ستر‘ اسی کلومیٹر کے فاصلے کو کم کر کے محض پندرہ سولہ کلومیٹر کر دیتی تھی‘ اس پر کام شروع ہو گیا۔جب میں نے یہ فہرست عثمان بزدار کو پکڑائی تب ہنس کر وزیراعلیٰ کو کہا کہ ہیڈ محمدوالا روڈ کا پوائنٹ سب سے پہلے اس لیے لکھا ہے کہ آپ بذاتِ خود اس سڑک میں ہونے والی بہتری سے فائدہ اٹھانے والے لوگوں میں ہوں گے۔ آپ وزیراعلیٰ ہوں یا نہ ہوں‘ تونسہ سے ملتان آنے جانے کیلئے آپ بہرحال یہی راستہ استعمال کریں گے۔ تاہم آپ کے ساتھ ساتھ مخلوقِ خدا بھی اس سڑک میں ہونے والی توسیع اور بہتری سے بہرہ مند ہو گی۔ عثمان بزار میری بات سن کر مسکرائے اور کہنے لگے: بات تو آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔سب سے پہلی پیشرفت بھی اسی سلسلے میں دکھائی دی اور سڑک کی توسیع کیلئے جو ایک سرکاری طریقہ کار ہے‘ اس کے مطابق اس سڑک کی دوسری لین بنانے کا پی سی ون تیار ہوا‘ پھر ٹینڈر ہوا‘ ٹینڈر کھلا‘ پھر اس پر باقاعدہ پیشرفت ہوئی اور بالآخر کام شروع ہو گیا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اس سڑک کی چوڑائی میں اضافہ کرنے کیلئے سرکار کو اردگرد کی نجی زمین کے حصول کی ضرورت ہی پیش نہ آئی کیونکہ ابتدائی طور پر جب یہ سڑک بنی تو اس کے دونوں جانب مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے زمین پہلے سے ہی خرید لی گئی تھی۔ ہمارے ہاں سرکاری کاموں میں عموماً ایسی دور اندیشی دکھائی نہیں دیتی تاہم یہ قدم مستقبل میں سڑک کو چوڑا کرنے کے سلسلے میں بہت کارآمد ثابت ہوا۔ دیکھا یہ گیا ہے کہ عام طور پر مزید زمین کی خریداری پر ہی جا کر معاملہ اٹک جاتا ہے جیسا کہ اس وقت ملتان کے بوسن روڈ کے ساتھ ہو رہا ہے۔ شہر سے بہاء الدین زکریا یونیورسٹی کی جانب جانے والی یہ سڑک شہر کے دوسری جانب ہونے والی تمام تر توسیع کے ساتھ رابطے کی واحد سڑک ہے۔ ملتان کی اس مرکزی سڑک پر روزانہ گھنٹوں ٹریفک پھنسی رہتی ہے اور مستقبل میں اس سڑک پر ٹریفک کے دباؤ میں بے تحاشا اضافہ متوقع ہے۔ اس سڑک کو فی الوقت چوڑا کرنے کیلئے دونوں اطراف کی زمین کی خریداری کیلئے درکار گیارہ ارب روپے کی رقم کا سُن کر ہی سرکار کان لپیٹ کر بھاگ گئی ہے۔ ہاں! اگر یہ معاملہ لاہور کا ہوتا تو علیحدہ بات تھی۔ خیر بات کہیں اور چلی گئی۔ ان نو نکات میں سے کئی پر تو رتی برابر پیشرفت نہ ہوئی‘ تاہم دو نکات پر ہونے والی پیشرفت کافی حوصلہ افزا تھی۔ ایک یہی ملتان تا ہیڈ محمدوالا سڑک کو دو رویہ کرنے والا معاملہ تھا۔ تاہم صورتحال یہ ہے کہ پانچ سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا اور اس سڑک میں دو تین جگہیں نہایت ہی معمولی سے کام کی وجہ سے تکمیل میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔ امریکہ روانگی سے چند روز پہلے اس سلسلے میں کمشنر ملتان سے بات ہوئی تو انہوں نے متعلقہ محکمے کو اس سلسلے میں سختی سے ہدایت کی کہ اس مسئلے کو اب مکمل کر کے یہ باب بند کیا جائے۔ اب واپس جا کر دیکھوں گا کہ یہ سڑک سو فیصد مکمل ہو گئی یا نہیں۔ دوسرا معاملہ جس پر تب پیشرفت شروع ہوئی وہ ملتان میں پیٹ سکینر کی تنصیب تھی۔ وزیراعلیٰ نے اس سلسلے میں متعلقہ محکمے کو فیزیبلٹی بنانے اور دیگر درکار مراحل طے کرنے کا حکم دیتے ہوئے پیٹ سکینر کی خریداری اور تنصیب کے مرحلوں کو تیز کرنے کی ہدایت کی۔ اب یہاں مسئلہ یہ آن پڑا کہ ملتان میں نیوکلیئر میڈیسن کا جو ادارہ کام کر رہا تھا (مینار) اور جس کے پاس پیٹ سکینر کو چلانے کی صلاحیت موجود تھی‘ وہ وفاقی حکومت کے زیر انتظام تھا اور پنجاب حکومت اس ادارے میں اپنا پیٹ سکینر نصب نہیں کر سکتی تھی۔ حکومت پنجاب نے اس انتہائی قیمتی مشین کو نشتر ہسپتال میں نصب کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس سارے معاملے میں وزیراعلیٰ آفس میں تعینات ہمارا دوست نہ صرف یہ کہ اس سلسلے میں مجھے باخبر بھی رکھ رہا تھا‘ بلکہ وہ اس سلسلے میں درپیش سرکاری اور تکنیکی رکاوٹوں کو دور کرنے کیلئے پورا زور بھی لگا رہا تھا۔ مجھے جب علم ہوا کہ اس انتہائی حساس اور تکنیکی طور پر پیچیدہ مشین کو اس کے اصل مقام پر نصب کرنے کے بجائے محض مرکزی اور صوبائی حکومت کے زیر اہتمام اداروں کو مسئلہ بناتے ہوئے نشتر ہسپتال میں نصب کیا جا رہا ہے تو مجھے تشویش ہوئی کہ اس ڈیڑھ‘ دو ارب سے زائد مالیت کی مشینری کو اگر ناتجربہ کار ہاتھوں میں دے دیا گیا تو نہ صرف یہ کہ اس سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھایا جا سکے گا بلکہ تکنیکی ماہرین کی عدم موجودگی کے باعث اس مشین کے خراب ہونے اور اس صورت میں غیر معینہ مدت تک بند رہنے کی وجہ سے اس خطے کے عوام کا اس ساری سہولت سے جزوی طور پر محروم ہو جانے کا خدشہ ہے‘ جسے فراہم کرنے کی غرض سے حکومت اربوں روپے خرچ کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں مَیں نے اپنے دوست کے توسط سے ایک نوٹ بھیجا جس میں بتایا کہ پیٹ سکینر کو چلانا بہرحال نیوکلیئرمیڈیسن کا کام ہے نہ کہ اونکالوجی (کینسر) والوں کا۔ یہ دونوں بالکل علیحدہ علیحدہ کام ہیں اور پیٹ سکینر کو چلانے کیلئے بالکل مختلف تکنیکی مہارت درکار ہے۔ تب بھیجا گیا نوٹ من وعن درج ذیل ہے۔&#39;&#39;مینار اور انمول کے پیٹ سکینرز تو اٹامک کمیشن کے ماتحت ہیں لیکن آغا خان کا پیٹ سکینر وہاں نیوکلیئر میڈیسن کے ماتحت کام کر رہا ہے۔ جناح پوسٹ گریجوایٹ میڈیکل سنٹر میں بھی پیٹ سکینر نیوکلیئر میڈیسن اور ریڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے تحت کام کر رہا ہے۔ شوکٹ خانم لاہور جو مکمل طور پر کینسر کے علاج کا ہسپتال ہے‘ وہاں بھی یہ دو مشینیں نیوکلیئر میڈیسن اینڈ ریڈیالوجی کے ماتحت ہیں اور پشاور والی مشین بھی اسی طریقہ کار سے چل رہی ہے۔ شوکت خانم میں اس کے بیک اَپ کو نیوکلیئر انجینئرنگ اور نیوکلیئر فزکس والے دیکھتے ہیں۔ آغا خان‘ شوکت خانم اور جناح ہسپتال میں سے کہیں بھی یہ انکالوجی ڈیپارٹمنٹ کے ماتحت نہیں ہے۔ آرمی کا ایک ادارہ ہے جس کا نام آرمڈ فورسز انسٹیٹیوٹ آف ریڈیالوجی اینڈ امیجنگ (AFIRI) ہے۔ وہاں پیٹ سکینر لگا تو یہ معاملہ آن پڑا کہ یہ کس شعبہ کے ماتحت ہوگا۔ دوسال بعد ایک کافی لمبی تحقیق کے بعد یہ فیصلہ ہوا کہ اسے نیوکلیئر میڈیسن اینڈ ریڈیالوجی والے چلائیں گے۔ پیٹ سکینر وغیرہ کو دنیا بھر میں زیادہ تر نیوکلیئر میڈیسن والے اور کہیں کہیں ریڈیالوجی والے آپریٹ کرتے ہیں لیکن انکالوجی والے کہیں بھی پیٹ سکینر نہیں چلا رہے۔ یہ سراسر اور سوفیصد نیوکلیئر میڈیسن کا کام ہے اور اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ اسے نیوکلیئر فزیشن ہی چلاتے ہیں نہ کہ انکالوجی والے۔ حتیٰ کہ پاکستان میں اس کو چلانے کیلئے لائسنس بھی پاکستان نیوکلیئر ریگو لیٹری اتھارٹی (PNRA) دیتی ہے۔ شیخ زید ہسپتال کے مریض انمول کی پیٹ سکین سہولت استعمال کرتے ہیں۔ انمول اور شیخ زید ہسپتال کے درمیان طے ہونے والے ایم او یو کی طرز پر نشتر ہسپتال اور مینار کے درمیان بھی ویسا ہی معاہدہ ہو سکتا ہے‘‘۔میری تمام تر کوششوں اور دلائل کے باوجود وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مابین حائل انتظامی اور تکنیکی مسائل کے باعث پیٹ سکینر کی نشتر ہسپتال میں تنصیب شروع ہو گئی ہے۔ ان شااللہ یہ کام جلد ہی مکمل ہو جائے گا اور یہ پیٹ سکینر عنقریب کام شروع کر دے گا۔ (جاری)</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90500073.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>وفاق کے اتحادی کشمیر میں آمنے سامنے(ڈاکٹر حسین احمد پراچہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-08-01/52401/55929367</link><pubDate>Sat, 01 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-08-01/52401/55929367</guid><description>وفاق کی حلیف جماعتیں آزاد جموں و کشمیر کے پہلے مرحلے کے انتخابی نتائج کے بعد حریف بن کر آمنے سامنے کھڑی ہیں۔ ان دنوں بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز صاحبہ ایک دوسرے کے خلاف حریفانہ بیان بازی کر رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے (ن) لیگ پر انتخابی دھاندلی کے الزامات اور ان الزامات کے دفاع میں (ن) لیگ کے جوابات جہاں تلخ ہیں وہاں دلچسپ بھی ہیں۔ ان الزامات کے بعد بلاول بھٹو زرداری نے میرپور ڈویژن میں دوبارہ پولنگ کا مطالبہ کیا اور مسلم لیگ (ن) کو دھاندلی کی پیداوار قرار دیا۔ جواباً مریم نواز نے کہا کہ پیپلز پارٹی دھاندلی کی چیمپئن ہے‘ گھر کے بھیدی لنکا ڈھانے پر تلے ہوئے ہیں۔ بلاول بھٹو کا بنیادی سوال یہ ہے کہ آزاد کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے کیا یہ جمہوریت ہے؟ چیئرمین پیپلز پارٹی نے دعویٰ کیا کہ ہم عوامی مینڈیٹ کا تحفظ کریں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آزاد جموں و کشمیر میں ووٹ پر ڈاکا ڈالا گیا۔ ادھر سے محترمہ مریم نواز کا دلچسپ جواب آیا کہ الیکشن کا فیصلہ ریاست نہیں عوام کرتے ہیں۔یہ سوال و جواب اسلئے نہایت اہم ہیں کہ ان میں وہ بنیادی نکات اٹھائے گئے ہیں کہ جن کا تذکرہ عوام قیام پاکستان کے بعد پہلے &#39;&#39;جھرلو الیکشن‘‘ سے لے کر اب تک کرتے چلے آ رہے ہیں۔ پاکستان میں شاید ہی کوئی ایسا الیکشن ہو کہ جو عوام‘ اپوزیشن جماعتوں اور عالمی اداروں کے نزدیک یکساں طور پر فری اینڈ فیئر ہو۔ بلاول بھٹو نے یہ بنیادی نکتہ اٹھایا کہ میرپور ڈویژن میں ہونیوالے انتخابات کے جو نتائج سامنے آئے‘ یہ جمہوریت کیساتھ کھلا مذاق ہے۔ انہوں نے یہ سوال بھی کیا کہ ریاست اور انتخابات کا آپس میں کیا تعلق ہے۔ چلئے سات دہائیوں کے بعد ہی سہی بنیادی جمہوری و انتخابی سوالات اٹھائے تو گئے۔ بلاول بھٹو زرداری صاحب کو شاید اندازہ نہیں کہ بات نکلے گی تو پھر دور تلک جائے گی۔متحدہ پاکستان کے جو انتخابات 1970ء میں ہوئے‘ انکے بارے میں عالمی مبصرین کی بالعموم رائے تھی کہ یہ پاکستان کے پہلے نسبتاً آزاد و شفاف انتخابات تھے مگر پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو نے ان انتخابی نتائج کو تسلیم کرنے اور بھاری اکثریت سے جیتنے والے شیخ مجیب الرحمن کو بحیثیت وزیراعظم قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ بھٹو صاحب نے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ پہلی دستور ساز اسمبلی کے ڈھاکہ میں ہونیوالے افتتاحی اجلاس میں مغربی پاکستان سے جو رکن اسمبلی جائے گا اسکی ٹانگیں توڑ دیں گے۔ بھٹو صاحب کے اس انکار کا بھیانک انجام مشرقی و مغربی پاکستان کی جدائی تھی۔ بعد ازاں ذوالفقار علی بھٹو کو مغربی پاکستان کی تمام اپوزیشن پارٹیوں نے اپنا سربراہِ مملکت تسلیم کر لیا کیونکہ مغربی پاکستان کی کل سیٹوں کے اعتبار سے پاکستان پیپلز پارٹی اکثریتی جماعت تھی۔ چاہیے تو یہ تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو متفقہ اسلامی جمہوری دستور بنا کر خود بھی اسکی پاسداری کرتے‘ دوسروں سے بھی کراتے اور منتخب ایوان کو مضبوط کرتے مگر انہوں نے جمہوریت اور جمہوری اداروں کو مضبوط کرنے کے بجائے شخصی اقتدار کو دوام دیا۔ انہوں نے اپوزیشن کی صوبائی حکومتوں کو &#39;&#39;بزورِ شمشیر‘‘ توڑا پھر 1977ء کے انتخابات میں پری پول اور دورانِ پولنگ مبینہ طور پر زبردست دھاندلی کرائی۔ اس کا انتہائی ہولناک انجام ہوا۔ اپوزیشن جماعتوں نے اسی طرح انتخابی نتائج کو ماننے سے انکار کر دیا جیسے آج بلاول بھٹو زرداری آزاد میرپور ڈویژن کے نتائج کو قبول کرنے سے انکاری ہیں۔بلاول بھٹو نے انتخابی دھاندلیوں کے خلاف آزاد کشمیر کے چیف الیکشن کمشنر یا آزاد کشمیر کی عدالت عظمیٰ یا پاکستانی ایوان یا اعلیٰ عدلیہ سے اپیل کرنے کے بجائے ریاست سے اپیل کی ہے۔ اس کا جو جواب مریم نواز صاحبہ نے دیا ہے وہ بھی بہت دلچسپ ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی نتائج ریاست نہیں عوامی ووٹ مرتب کرتے ہیں۔ مریم نواز صاحبہ کے اس جواب پر فارسی زبان کا ایک مقولہ نوکِ زباں پر آ گیا ہے مگر یہ سوچ کر لب سی لینے کا فیصلہ کیا ہے کہ بقول آزاد انصاری:افسوس بے شمار سخن ہائے گفتنیخوفِ فسادِ خلق سے ناگفتہ رہ گئے1977ء کے انتخابات سے لے کر آج آزاد جموں و کشمیر کے پہلے مرحلے کے الیکشن تک‘ کوئی انتخاب ایسا نہیں کہ جسے فری اینڈ فیئر ہونے پر عالمی مانیٹرنگ اداروں‘ ملک کی سیاسی جماعتوں اور عوام الناس کی طرف سے سندِ قبولیت حاصل ہوئی ہو۔ ذوالفقار علی بھٹو کے 1977ء میں کرائے گئے انتخابات کے خلاف اپوزیشن کی تحریک کو عوامی تائید حاصل ہوئی۔ بھٹو صاحب نے پاکستان نیشنل الائنس سے مذاکرات کا آغاز کیا مگر بدقسمتی سے وہ کسی متفقہ حل پر نہ پہنچ سکے۔ اس کا نتیجہ نہایت ہولناک تھا۔ بھٹو صاحب کو ایک المناک انجام سے دوچار ہونا پڑا اور پاکستان میں جمہوریت کا بوریا بستر اگلے گیارہ برس کیلئے جنرل ضیا الحق نے مارشل لاء کے ذریعے گول کردیا۔ اسکے بعد کچھ انتخابات جزوی طور پر آزادانہ ہوئے اور پھر کبھی انتخابی نتائج مرتب کرنے والی آن لائن مشینیں خراب ہو گئیں یا فارم 47کا جنتر منتر آ گیا۔ انتخابات سے پہلے آزاد جموں و کشمیر میں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج کو روکنے کیلئے ڈائیلاگ واحد راستہ تھا۔ چند ماہ قبل حکومت نے مذاکرات کی حکیمانہ پالیسی اختیار کر کے چند مطالبات تسلیم کر لیے تھے اور کچھ کو اگلی قانون ساز اسمبلی کے حوالے کرنے پر اتفاق کر لیا مگر اس بار مذاکرات کو زیادہ اہمیت نہیں دی گئی۔ ایسے احتجاجی ماحول کا تقاضا تو یہ تھا کہ آزاد کشمیر میں صاف اور شفاف انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنایا جاتا۔آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات کو ماضی کی طرح یکبارگی کرانے کے بجائے تین مراحل میں تقسیم کرنے کی منطق بھی سمجھ سے بالا ہے۔ ایسے مرحلہ وار انتخابات کے پہلے مرحلے کے نتائج آئندہ مراحل کے انتخابات پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ جو پارٹی پہلے فیز میں فتح یاب ہوتی ہے اس کی اگلے مراحل میں کامیابی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ میرپور ڈویژن میں مسلم لیگ (ن) کی کامیابی دو اگست کو مظفر آباد اور بارہ کشمیری مہاجرین کی سیٹوں پر اثر انداز ہو گی۔ مرحلہ جاتی انتخابات کا آخری الیکشن 10اگست کو پونچھ ڈویژن میں ہو گا۔ملک کی دو بڑی سیاسی پارٹیوں کی کشاکش سے ملک کے بعض بنیادی مسائل الم نشرح ہو کر سامنے آئے ہیں۔ پاکستانی عوام کی طرف سے جن پارٹیوں کے خلاف مینڈیٹ چوری کا مقدمہ بار بار دائر کیا گیا تھا وہ خود ہی جمہوریت اور صاف شفاف انتخابات کی وکیل بن کر پاکستانی سیاست کے اکھاڑے میں ایک دوسرے کے خلاف ڈٹ گئی ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے ایک دوسرے پر مینڈیٹ چوری اور انتخابی دھاندلی کے الزامات کے بعد تین بنیادی حقائق عوام کے سامنے آئے ہیں۔ پہلا تو یہ کہ ملک میں جمہوریت نہیں‘ انتخابات فری اینڈ فیئر نہیں‘ تیسرا ریاست اور انتخابی سیاست کا آپس میں کیا تعلق ہے! بلاول بھٹو نے وہی بات کہی کہ جو اگرچہ ان کے خلاف جاتی ہے مگر انہوں نے کہا کہ بے داغ سنہری روپہلی جمہوریت ہونی چاہیے۔ ہم تو یہ کہیں گے کہ دیر آید درست آید۔ دیر سے سہی مگر یہ تو واضح ہو گیا کہ دونوں بڑی جماعتوں کی اب تک کی کامیابی میں دھاندلی کا بہت بڑا حصہ ہے۔اگر اس وقت دونوں بڑی سیاسی جماعتیں عوام الناس کے سامنے حلفاً میثاقِ فری اینڈ فیئر انتخابات کا فیصلہ کر لیں تو ہم ایک دوسرے کے آمنے سامنے آ کر ان کی باہمی کشمکش اور چپقلش کو بابرکت ہی سمجھیں گے۔ اس میثاق سے مایوس نوجوان بھی سکھ کا سانس لیں گے۔ دیکھیے یہ دونوں بڑی سیاسی پارٹیاں میثاقِ شفاف انتخابات کرتی ہیں یا نہیں!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_70033906.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>جین زی خاموش رہنے والی نہیں(کنور دلشاد)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/kunwar-mohammad-dilshad/2026-08-01/52402/24373743</link><pubDate>Sat, 01 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/kunwar-mohammad-dilshad/2026-08-01/52402/24373743</guid><description>جین زی کی جدوجہد جدید دور کی ایک ایسی شعوری تحریک ہے جو طاقتور قوت بن کر معرضِ وجود میں آئی ہے۔ پاکستان کے عوام اُس وقت کا انتظار کر رہے ہیں جب جین زی ایسے سوال‘ ایسا شعور اور ایسی جوابدہی کا ماحول پیدا کرے کہ ان فیصلہ سازوں کے آنسو نکلیں‘ جنہوں نے خود کو احتساب سے محفوظ سمجھ رکھا ہے۔ قوم کے نوجوان حلقے سیاسی جماعتوں کی قیادت سے سوال کریں گے کہ اگر اقتدار میں آ کر آپ اسی نظام کا حصہ بن جاتے ہیں اور اقتدار سے باہر آ کر اسی نظام پر تنقید کرتے ہیں تو یہ کھیل آخر کب تک؟ آخر کب تک طاقتوروں کے سویلین سہولت کار بن کر عوام کو صرف وعدے اور نعرے سناتے رہیں گے؟ نظام اداروں اور حکمرانی کی مستقل اصلاحات پر ہی منحصر ہے۔ بھارت میں جین زی کی کامیابی کے پاکستانی جین زی پر گہرے اثرات پڑ سکتے ہیں۔ خبریں یہی آ رہی ہیں کہ بعض رائے ساز حلقے نوجوان طبقے کو بنگلہ دیشی‘ سری لنکن اور نیپالی جین زی جیسی تحریک پر آمادہ کر رہے ہیں۔ پاکستان میں جین زی کی تحریک شروع ہونے سے بلوچستان اور خیبر پختونخوامیں شرپسندوں کی جارحانہ کارروائیاں دم توڑ جائیں گی۔ بلوچستان میں شرپسندوں کا مقابلہ پاک فوج کر رہی ہے‘ اگر بلوچستان میں ایس پی اور اس سے اوپر کے رینک کے افسران کا تقرر میرٹ پر کیا جائے تو پولیس آسانی سے ان شرپسندوں کی سرکوبی کر سکتی ہے۔ جین زی کے بارے میں حاصلِ کلام یہ ہے کہ بھارت میں جین زی کے احتجاج کے سامنے نریندر مودی حکومت نے گھٹنے ٹیک دیے۔ بھارتی وزیرِ تعلیم کے استعفے نے مودی کا غرور خاک میں ملا دیا۔ بین الاقوامی حالات بھی اس رخ پر جا رہے ہیں کہ جین زی خاموش رہنے والی نسل نہیں۔ یہ فرسودہ سوچ‘ بند کمروں کے فیصلوں اور فرسودہ نظام کو فکری طاقت‘ ٹیکنالوجی اور عوامی شعور سے ہلا کر رکھ دے گی۔ مستقبل ان کا نہیں جو اقتدار کے متمنی ہوں بلکہ ان کا ہے جو وقت کے ساتھ خود کو بدل لیں۔ خود کو نہیں بدلو گے تو نئی نسل بدلنا جانتی ہے۔پاکستان میں &#39;&#39;جین زی‘‘ کی ایک جھلک مارچ 2007ء میں چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی معزولی اور بعد ازاں ان کی بحالی کی تحریک میں ہمارے سامنے آ چکی ہے۔ جب 15 مارچ 2008ء کو قافلہ گوجرانوالہ ہی پہنچا تھا تو مقتدرہ کی مداخلت سے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو بحال کرنا پڑا۔ اُس وقت جین زی کا تصور تو نہیں تھا لیکن ماحول وہی تھا جو اَب جین زی کی تحریک کے مناظر میں دیکھنے کو مل رہا ہے۔ اسی طرح مارچ 1977ء کے بعد انتخابات میں دھاندلی کے خلاف تحریک شروع ہوئی تھی۔ بھارت میں جین زی کا احتجاج صرف سڑکوں پر نہیں بلکہ ڈیجیٹل سپیس میں بھی بڑھ رہا تھا۔ پہلے احتجاج کی کامیابی کا انحصار ٹیلی ویژن کیمروں پر ہوتا تھا مگر آج ہر موبائل فون ایک نیوز روم ہے۔ ہر نوجوان خود رپورٹر‘ خود کیمرہ مین‘ خود ایڈیٹر اور خود براڈ کاسٹر ہے۔ اس لیے ریاست اگر کسی آواز کو خاموش بھی کر دے تو ہزاروں نئی آوازیں بیک وقت ابھر آتی ہیں اور مزاحمت کا بیانیہ کسی مخصوص میڈیا ہاؤس تک محدود نہیں رہتا بلکہ لاکھوں افراد کے ہاتھوں میں ہوتا ہے۔ اس صورتحال میں سیاسی جماعتوں کو اپنی حکمتِ عملی پر نظرِ ثانی کرنا ہو گی ورنہ جب جین زی کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر سامنے آئے گا تو انہیں سمجھ آ جائے گی۔ وزیراعظم شہباز شریف نوجوانوں کو متحرک کرنے کے خواہشمند ہیں اور بڑی سیاسی پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے وزیراعظم ہاؤس میں اپنے لیے دفتر قائم کر لیا ہے۔ وہ وزیراعظم کے برابر والے کمرے میں براجمان ہوں گے اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے معاملات کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ کارکنوں کے مسائل بھی دیکھیں گے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے اراکینِ اسمبلی حمزہ شہباز کے ذریعے وزیراعظم سے رابطے میں رہیں گے‘ اپنے مسائل وزیراعظم تک پہنچائیں گے اور اس کے ساتھ ساتھ یوتھ پروگرام اور حکومتی گورننس پر بھی نظر رکھیں گے۔ادھرکشمیر کے پہلے مرحلے کے انتخابات بغیر کسی جوش وخروش کے مکمل ہو گئے۔ پہلے مرحلے کے نتائج کو دیکھتے ہوئے یہی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کو دیگر سیاسی جماعتوں پر مجموعی طور پر برتری حاصل رہے گی۔ مرحلہ وار انتخابات کا ایک اثر یہ ہوتا ہے کہ اس کے اثرات دیگر حلقوں پر بھی پڑتے ہیں۔ کشمیر میں جو احتجاجی تحریک چل رہی ہے اسے ذہن میں رکھتے ہوئے خیال آتا ہے کہ انتخابات میں ووٹر ٹرن آؤٹ کیا ہو گا۔ سوشل میڈیا پر اپنی اپنی سیاسی جماعتوں سے وابستگی کے حوالے سے ٹرن آؤٹ کے بارے میں متضاد خبریں مل رہی ہیں اور یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ ٹرن آؤٹ کم ہے لیکن ایسی صورتحال بھی نہیں کہ لوگوں نے بالکل ہی ووٹ نہ دیے ہوں۔ دراصل غیر جانبدار ذرائع سے جو خبریں موصول ہو رہی ہیں ان کے مطابق میرپور ڈویژن کے انتخابات میں ووٹر ٹرن آؤٹ 25 فیصد سے متجاوز رہا۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ کشمیر برادریوں اور قبیلوں میں جکڑا ہوا ہے اور جو امیدوار انتخابی میدان میں اترے ہیں‘ ان کا تعلق انہی برادریوں سے ہے۔ اس روایت کو مدنظر رکھتے ہوئے میرپور میں ووٹنگ کی شرح مناسب ہے جبکہ اردگرد کے اضلاع میں احتجاجی تحریک جاری ہے اور پولیس نے جگہ جگہ ناکے لگا رکھے ہیں۔ تقریباً 22 ہزار پولیس اہلکار اس وقت ڈیوٹی پر ہیں۔آزاد کشمیر میں اقتدار کی جنگ نے دو بڑی سیاسی جماعتوں کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) نے حکومتی کارکردگی کے حوالے سے سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے اور الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ اندرونی کیفیت یہ ظاہر کر رہی ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی ووٹ کے لیے ایک دوسرے پر الزامات کی بارش کر رہی ہیں لیکن حقیقت میں دونوں ایک ہی صف میں دکھائی دیتی ہیں۔ آزاد کشمیر انتخابات کے دوسرے اور تیسرے مرحلے میں بھی مسلم لیگ (ن) کو برتری حاصل ہوتی ہے تو بلاول بھٹوزرداری ممکن ہے‘ وفاقی اتحاد سے علیحدہ ہو جائیں۔ ایسی صورت میں وفاق میں شہباز شریف کی حکومت برقرار رہے گی کیونکہ انہیں موجودہ سیٹ اَپ میں 169 ارکانِ قومی اسمبلی کی حمایت حاصل ہے تاہم اگر پیپلز پارٹی اتحاد سے الگ ہو کر وفاقی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لاتی ہے تو حکومت کی مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس صورت میں دونوں صوبوں کی گورنرشپ اس کے ہاتھ سے نکل سکتی ہے اور صدرِ مملکت کے لیے بھی اپنے منصب پر برقرار رہنا آسان نہیں ہوگا۔ اگر اس کے بعد حکومت اپنے اتحادیوں کی مزید حمایت سے بھی محروم ہو جاتی ہے تو وفاقی حکومت مع قومی اسمبلی‘ تحلیل ہو سکتی ہے اور ملک میں نگران سیٹ اَپ کی راہ ہموار ہو جائے گی۔پاکستانی معاشرہ شاید موجودہ نظام سے اس قدر مایوس ہو چکا ہے کہ آج وہ اپنے روایتی حریف بھارت کی مثالیں دینے پر مجبور دکھائی دیتا ہے اور نوجوانوں کے احتجاج کو مؤثر حکمتِ عملی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ جب ایک قوم اپنے حریف کے مثبت پہلوؤں کو اپنے حکمرانوں کے لیے مثال بنانے لگے تو یہ صرف تقابل نہیں بلکہ ایک سنجیدہ سوال بھی ہے کہ کیا ہماری قیادت عوام کو ایسی مثالیں دینے میں ناکام ہو گئی ہے؟</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_15667905.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>قسطوں میں موت کیوں؟(افتخار احمد سندھو)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/iktakhar-ahmed-sandhu/2026-08-01/52403/93994758</link><pubDate>Sat, 01 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/iktakhar-ahmed-sandhu/2026-08-01/52403/93994758</guid><description>پہلے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک مہینے بعد رد و بدل ہوتا تھا پھر حکومت نے یہ دورانیہ پندرہ دن کردیا‘ اس کے بعد قیمتوں میں رد و بدل ہفتہ وار ہونے لگا۔ پھر بھی جب دل نہ بھرا تو حکومت نے عوام کو موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا رکھنے کیلئے روزانہ کی بنیاد پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رد و بدل کرنے کا پلان بنا لیا۔ ہمارے ایک دوست نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رد و بدل بلکہ اضافہ دن میں پانچ بار ہونا چاہیے اور یہ نیک کام مساجد کے پیش اماموں کے سپرد کردینا چاہیے کہ وہ اذان کے ساتھ مسجد کے سپیکر میں عوام کو پٹرول کی قیمت میں اضافے کی خبر بھی سنا دیا کریں۔ اس طرح کسی وزیر یا مشیر کو پریس کانفرنس کی بھی زحمت نہیں اٹھانا پڑے گی۔ ایک دوسرے دوست نے حکومت کو یہ صائب مشورہ دیا ہے کہ ہر روز تیل کی قیمتیں بڑھا کر عوام کو قسطوں میں مارنے کے بجائے ایک بار ہی ڈیزل اور پٹرول کی قیمتوں میں من چاہا اضافہ کرکے انہیں موت کے سپرد کر دینا چاہیے۔ شاکر شجاع آبادی نے تو بہت پہلے یہ مشورہ دے دیا تھا‘ پتا نہیں حکومت نے ان کا یہ مفید مشورہ ابھی تک کیوں نہیں مانا:ایویں مار نہ شاکر قسطاں وچیکمشت مکا تیڈی جان چھُٹےایک اور منچلے نے حکومت کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو عالمی جنگوں اور ان میں ہونے والے نقصانات کے ساتھ منسلک کرنے کی تجویز دیتے ہوئے دھمکی ملنے پر 10روپے‘ میزائل چلنے پر 50روپے اور جنگی جہاز تباہ ہونے پر 200روپے فی لٹر پٹرول کی قیمت بڑھانے کا مشورہ دیا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے ایک پرانا لطیفہ یاد آ گیا۔ ایک شخص ٹرین میں سفر کر رہا تھا۔ ہر سٹیشن پر اترتا‘ اگلے سٹیشن کی نئی ٹکٹ لیتا اور پھر اسی ٹرین میں بیٹھ جاتا۔ ساتھ بیٹھے مسافر نے حیران ہو کر پوچھا :بھائی جہاں جانا ہے‘ وہاں تک کی ایک ہی ٹکٹ کیوں نہیں لے لیتے؟ اس نے جواب دیا: &#39;&#39;ڈاکٹر نے لمبا سفر کرنے سے منع کیا ہے‘ اس لیے تھوڑا تھوڑا سفر کرتا ہوں‘‘۔ شاید اسی لیے ہماری حکومت نے ایک ہی بار مارنے کے بجائے عوام کو قسطوں میں مارنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ اگر ایک ہی بار میں عوام کو مار ڈالا تو بار بار بوجھ کس پر ڈالیں گے؟ملک میں ڈیزل کی قیمت صرف ایک ہفتے میں تقریباً 16 فیصد بڑھ گئی ہے۔ اسی دوران افغانستان میں ڈیزل کی قیمت میں صرف ڈیڑھ فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ بھارت‘ بنگلہ دیش‘ مالدیپ اور نیپال میں بالکل بھی اضافہ نہیں ہوا۔ سوال یہ ہے کہ جب تیل کی ایک ہی عالمی منڈی ہے تو اس کے باوجود مقامی طور پر اثرات مختلف کیوں ہیں؟ میرے ایک دوست نے اگلے روز بتایا کہ لاہور سے ملتان جاتے ہوئے جیسے ہی نواز شریف انٹرچینج ٹول پلازہ سے رنگ روڈ پر چڑھے ایم ٹیگ سے 100روپے منہا ہو گئے۔ وہ حیران رہ گئے کیونکہ ابھی چند دن پہلے ہی رنگ روڈ پر داخلے کا ٹول 70روپے تھا۔ اسی طرح موٹر وے پر سفر کرتے ہوئے جب خانیوال انٹرچینج سے ملتان روڈ پر اترے تو تقریباً 1300روپے ٹول کٹ گیا حالانکہ چند دن پہلے یہی فیس ایک ہزار روپے سے کچھ ہی زیادہ تھی۔ شاہراہوں اور موٹر ویز کے ٹول ٹیکس میں بار بار اضافہ بھی سمجھ سے بالاتر ہے۔ آخر یہ کہاں کا انصاف ہے؟ کیا موٹر ویز اور شاہراہوں پر بھی پٹرول مہنگا ہونے کے اثرات پڑتے ہیں کہ ہر چند ماہ بعد ٹول ٹیکس بڑھا دیا جائے؟ حکومت کا بنیادی فرض یہ ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو تحفظ‘ انصاف‘ تعلیم‘ صحت اور بنیادی سہولیات فراہم کرے۔ ان خدمات کی فراہمی کیلئے حکومت عوام سے ٹیکس وصول کرتی ہے جو دنیا کے ہر مہذب ملک میں ایک تسلیم شدہ اصول ہے‘ لیکن جب ٹیکسوں کی تعداد بڑھتی جائے‘ بوجھ عام آدمی پر منتقل ہوتا رہے اور اس کے بدلے عوام کو مناسب سہولتیں نہ ملیں تو سوال اٹھنا فطری ہے کہ آخر یہ رقم کہاں خرچ ہو رہی ہے؟پاکستان میں آج ایک عام شہری اپنی روزمرہ زندگی کے تقریباً ہر مرحلے پر کسی نہ کسی صورت میں ٹیکس کی ادائیگی کرتا ہے۔ وہ اشیائے ضروریہ خریدے تو سیلز ٹیکس‘ گاڑی میں سفر کرے تو پٹرول پر لیوی‘ موٹروے استعمال کرے تو ٹول ٹیکس‘ بجلی اور گیس استعمال کرے تو مختلف سرچارجز اور ٹیکس۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ نئے محصولات عائد کرنا حکومت کا آمدنی بڑھانے کا سب سے آسان ذریعہ بن گیا ہے جبکہ اخراجات میں کفایت شعاری‘ ٹیکس نیٹ کی توسیع اور مالی نظم و ضبط پر نسبتاً کم توجہ دی جاتی ہے بلکہ دی ہی نہیں جاتی۔ سوال یہ ہے کہ اتنے زیادہ ٹیکسوں کے بدلے میں حکومت عوام کو کیا سہولت دے رہی ہے؟اس بات میں کوئی شک نہیں کہ دنیا بھر میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے مگر ان مصنوعات پر پٹرولیم لیوی میں اضافے کا‘ جو براہِ راست حکومت کے خزانے میں جاتی ہے‘ بین الاقوامی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے کیا تعلق ہے؟ کوئی نہیں! عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم ہوں یا زیادہ‘ ہمارے ملک میں ہمیشہ بلند ہی رہتی ہیں کیونکہ عوام کو ملنے والے ریلیف کا بڑا حصہ مختلف لیویز اور ٹیکسوں کی نذر ہو جاتا ہے۔ اسی طرح ٹول ٹیکس بھی ایک مستقل مالی بوجھ بن چکا ہے۔ شہری سوال کرتے ہیں کہ اگر سڑکوں کی تعمیر اور مرمت کیلئے ٹیکس پہلے ہی ادا کیے جا رہے ہیں تو بار بار اضافی ادائیگی کی کیا تُک بنتی ہے‘ اور ان رقوم کے استعمال میں شفافیت کس حد تک موجود ہے؟حکومت کا مؤقف ہوتا ہے کہ یہ محصولات قومی ترقی‘ قرضوں کی ادائیگی اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کیلئے ضروری ہیں۔ یہ دلیل اپنی جگہ لیکن عوام یہ بھی چاہتے ہیں کہ وصول کیے گئے محصولات کے استعمال کی واضح تفصیلات سامنے آئیں‘ غیرضروری سرکاری اخراجات کم کیے جائیں اور ٹیکس کا بوجھ زیادہ منصفانہ انداز میں تقسیم کیا جائے۔ ایک صحتمند معیشت کی بنیاد صرف زیادہ ٹیکس وصول کرنے پر نہیں بلکہ عوام کے اعتماد پر بھی قائم ہوتی ہے۔ جب شہری محسوس کریں کہ ان کے دیے ہوئے ٹیکس کے بدلے بہتر سڑکیں‘ معیاری تعلیم‘ مؤثر صحت کی سہولتیں‘ محفوظ ماحول اور شفاف حکمرانی مل رہی ہے تو ٹیکس دینا ایک قومی ذمہ داری محسوس ہوتا ہے نہ کہ مجبوری۔ ہم دنیا کے اس ملک میں رہتے ہیں جہاں سرکاری سکول اور ہسپتال ٹھیکے پر چل رہے ہیں‘ جہاں بغیر کام کیے ٹھیکیداروں کو اور بغیر بجلی بنائے آئی پی پیز کو سالانہ اربوں روپے دے دیے جاتے ہیں۔ جہاں عوام کو مہنگی بجلی یہ کہہ کر بیچی جاتی ہے کہ بجلی کی کھپت زیادہ ہونے پر اخراجات زیادہ ہورہے ہیں‘ لیکن اگر عوام بجلی گیس کم استعمال کریں تب بھی یہ کہہ کر زیادہ بل بھیجا جاتا ہے کہ کم استعمال سے کھپت کم ہونے پر اخراجات پورے نہیں ہورہے۔ جب پٹرول کی قیمت بڑھانی ہو تو پچاس روپے تک بڑھا دی جاتی ہے اور جب کم کرنی ہو تو یہ پیسوں میں کم کی جاتی ہے۔ یعنی سرمایہ کاروں کو فائدہ فوری فراہم کیا جاتا ہے جبکہ عوام کو ریلیف دینے کیلئے انتظار کی سولی پر لٹکایا جاتا ہے۔آخرمیں میری حکومت سے اپیل ہے کہ خدارا قوم پر رحم کریں‘ یہ قوم تھک گئی ہے۔ حکومت کو یہ سمجھنا ہو گا کہ عوام کی برداشت کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ کرکے جس طرح آہستہ آہستہ عوام کا خون نچوڑ رہی ہے‘ اس کی دنیا میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔ معاشی اصلاحات کا مطلب صرف نئے محصولات عائد کرنا نہیں بلکہ سرکاری فضول خرچی کا خاتمہ‘ بدعنوانی پر قابو پانا‘ ٹیکس چوری کی روک تھام اور ریاستی وسائل کے منصفانہ استعمال کو یقینی بنانا بھی ہے۔ جب تک یہ توازن قائم نہیں ہوتا‘ ملک ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکتا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/228_40817243.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>امامِ اہلسنّت کا مثالی کارنامہ(مفتی منیب الرحمٰن )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-08-01/52404/66614747</link><pubDate>Sat, 01 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-08-01/52404/66614747</guid><description>امام احمد رضا قادری کا ایک عظیم کارنامہ &#39;&#39;کنزالایمان‘‘ کے عنوان سے ترجمۂ قرآن ہے۔ عربی میں ایک لفظ کے کئی معانی ہوتے ہیں اور ایک معنی کیلئے کئی الفاظ آتے ہیں‘ اس جامعیت میں دنیا کی کوئی زبان عربی کے ہمسر نہیں ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ اور انبیائے کرام علیہم السلام کے بارے میں آیاتِ مبارکہ نازل ہوئی ہیں۔ امامِ اہلسنّت سے پہلے اردو زبان میں کافی تراجم موجود تھے‘ لیکن آپ کا ترجمۂ قرآن انفرادیت کا حامل ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ اس کے بعد دیگر مکاتبِ فکر کے علما کے جو تراجم آئے ہیں‘ انہوں نے مخصوص مقامات کے حوالے سے اپنے اکابر کے تراجم کو ترک کرکے امامِ اہلسنت کے ترجمے یا اس کے قریب تر مفہوم پر مشتمل ترجمے کی طرف رجوع کیا۔ دراصل امامِ اہلسنت نے ترجمہ کرتے وقت ناموسِ باری تعالیٰ اور ناموسِ انبیائے کرام علیہم السلام کا پاس رکھا اور ترجمے میں ایسا اسلوب اختیار کیا کہ متنِ قرآن کے قریب رہتے ہوئے قرآن کی ترجمانی ہو جائے۔ اس کی چند مثالیں درج ذیل ہیں:(1) سورۂ یوسف: 110 کا مختلف مترجمین نے یہ ترجمہ کیا ہے (الف) &#39;&#39;یہاں تک کہ جب ناامید ہونے لگے رسول‘ اور خیال کرنے لگے کہ ان سے جھوٹ کہا گیا تھا‘ پہنچی ان کو ہماری مدد‘‘۔ (ب) &#39;&#39;یہاں تک کہ پیغمبر اس بات سے مایوس ہو گئے اور ان پیغمبروں کو گمانِ غالب ہو گیا کہ ہمارے فہم نے غلطی کی‘‘۔ (ج) &#39;&#39;یہاں تک کہ جب پیغمبر ناامید ہو گئے اور انہوں نے خیال کیا کہ (اپنی نصرت کے بارے میں) جو بات انہوں نے کہی تھی (اس میں) وہ سچے نہ نکلے تو ان کے پاس ہماری مدد آ پہنچی‘‘۔ (د) &#39;&#39;(پہلے بھی مہلتیں دی جا چکی ہیں) یہاں تک کہ پیمبر مایوس ہی ہو گئے ہیں اور گمان کرنے لگے کہ ان سے غلطی ہوئی (کہ اتنے میں) انہیں ہماری مدد آ پہنچی‘‘۔ ان تراجم میں مندرجہ ذیل باتیں شانِ رسالت کے منافی ہیں: &#39;&#39;نبی کا مطلقاً ناامید ہونا‘ ان کا یہ خیال کرنا کہ العیاذ باللہ! عذابِ الٰہی کی وعید کی بابت ان سے جھوٹ کہا گیا تھا یا نبی کا یہ گمان کرنا کہ ہمارے فہم نے غلطی کی اور اُن کا یہ گمان کرنا کہ وہ نصرتِ الٰہی کے نزول کے وعدہ کے بارے میں سچے نہیں تھے یا نبی کا یہ گمان کرنا کہ اُن سے غلطی ہوئی ہے‘‘۔ نبی تو امت کو امید دلانے کیلئے تشریف لائے‘ وہ خود کیسے اللہ کی نصرت سے ناامید ہو سکتے ہیں‘ نصرت کا وعدہ تو اللہ تعالیٰ نے کیا تھا‘ نبی کیسے یہ خیال کر سکتا ہے کہ اُن سے جھوٹ کہا گیا تھا۔ ابلاغِ دین میں نبی کا فہم‘ اُن کا نُطق اور اُن کا فعل معصوم ہوتا ہے‘ پس وہ کیسے گمان کر سکتے ہیں کہ &#39;&#39;ہمارے فہم نے غلطی کی یا اُن سے وعدۂ الٰہی کو سمجھنے میں غلطی ہوئی‘‘۔ اس نظریے کے تحت تو نبی کی عصمت اور وحی کی حقانیت مشتبہ قرار پائے گی‘ حاشا وکلّا! ایسا نہیں ہو سکتا‘ چنانچہ امامِ اہلسنت نے ترجمہ کیا: &#39;&#39;یہاں تک کہ جب رسولوں کو ظاہری اسباب کی امید نہ رہی اور لوگ سمجھے کہ رسولوں نے ان سے غلط کہا تھا‘ اس وقت ہماری مدد آئی تو جسے ہم نے چاہا بچا لیا گیا اور ہمارا عذاب مجرم لوگوں سے پھیرا نہیں جاتا‘‘۔ اس میں اللہ کی نصرت سے ناامیدی نہیں ہے بلکہ ظاہری اسباب کی بابت ناامیدی کا اظہار ہے اور اس میں کوئی شرعی خرابی لازم نہیں آتی۔ اسی طرح یہ گمان کرنا کہ اُن سے جھوٹ کہا گیا تھا‘ اس کی نسبت ان انبیائے کرام کی اُمّت یا مخاطَبین کی طرف ہے‘ نبی کی طرف نہیں ہے‘ وہ لوگ گمراہ تھے اور اپنے عقیدے میں ایسا ہی سمجھتے تھے۔ علامہ غلام رسول سعیدی نے یہ ترجمہ کیا ہے: &#39;&#39;یہاں تک کہ جب رسول لوگوں کے ایمان لانے سے مایوس ہو گئے اور لوگوں نے یہ گمان کر لیا کہ ان کو ایمان نہ لانے پر جھوٹی دھمکیاں دی گئی تھیں تو اُن رسولوں کے پاس ہماری مدد آ گئی اور جس کو ہم نے چاہا عذاب سے بچا لیا‘ کیونکہ ہمارا عذاب مجرموں سے لوٹایا نہیں جاتا‘‘۔ اس ترجمے میں بھی عیاں ہے کہ نبی اللہ کی نصرت سے مایوس نہیں ہوئے بلکہ اپنے عہد کے لوگوں کے ایمان لانے سے مایوس ہوئے اور (نصرتِ الٰہی کی وعید کی بابت) یہ گمان کہ ایمان نہ لانے پر انہیں جھوٹی دھمکیاں دی گئی تھیں۔ اس قول کی نسبت نبی کی طرف نہیں ہے‘ بلکہ اُس عہد کے بدنصیب اور شقی القلب کفارکی طرف ہے۔(2) سورۃ الانبیاء: 87 کا مختلف مترجمین نے یہ ترجمہ کیا ہے (الف) اور مچھلی والے کو جب چلا گیا غصہ ہو کر‘ پھر سمجھا کہ ہم نہ پکڑ سکیں گے اس کو۔ (ب) اور ذوالنون (کو یاد کرو) جب وہ اپنی قوم سے ناراض ہوکر غصے کی حالت میں چل دیے اور خیال کیا کہ ہم ان پر قابو نہیں پا سکیں گے۔ (ج) مچھلی والے (حضرت یونس علیہ السلام) کو یاد کرو‘ جبکہ وہ غصے سے چل دیا اور خیال کیا کہ ہم اسے نہ پکڑ سکیں گے۔ امام احمد رضا قادری: &#39;&#39;اور ذوالنون کو (یاد کرو) جب چلا غصے میں بھر ا توگمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے‘‘۔ علامہ غلام رسول سعیدی: &#39;&#39;اور ذوالنون کو (یاد کیجیے) کہ جب وہ (راہِ حق میں) غضبناک ہوکر نکلے تو انہوں نے گمان کیا کہ ہم ان پر ہرگز تنگی نہ کریں گے‘‘۔ پہلے تین تراجم سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ اُس وقت کے نبی کی رائے یہ تھی کہ اللہ اُن پر قابو نہ پا سکے گا‘ انتہائی درجے کی جسارت ہے‘ حالانکہ ایسا عام مومن کے بارے میں بھی نہیں سوچا جا سکتا‘ جیساکہ ان تراجم سے ظاہر ہے: (الف) &#39;&#39;پھر سمجھا کہ ہم نہ پکڑ سکیں گے اس کو‘‘ (ب) &#39;&#39;خیال کیا کہ ہم ان پر قابو نہیں پا سکیں‘‘ (ج) &#39;&#39;خیال کیا کہ ہم اسے نہ پکڑ سکیں گے‘‘۔ حالانکہ وہ تو &#39;&#39;عَلیٰ کُلِّ شَیْی ئٍ قَدِیْر (جو چاہے اس پر قادرہے)‘‘ اور &#39;&#39;فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْد (جو چاہے کرگزرنے والا ہے)‘‘۔ امام احمد رضا قادری اور علامہ غلام رسول سعیدی کے تراجم میں مقامِ نبوت کا کما حقہٗ پاس رکھا گیا ہے۔(3) سورۃ البقرۃ: 15 کا مختلف مترجمین نے یہ ترجمہ کیا ہے (الف) اللہ ہنسی کرتا ہے اُن سے۔ (ب) ان (منافقوں) سے خدا ہنسی کرتا ہے۔ (ج) اللہ ٹھٹھا کرتا ہے۔ (د) انہیں اللہ بنا رہا ہے۔ (ہ) اللہ ان سے مذاق کر رہا ہے۔ اردو ادب میں &#39;&#39;ہنسی کرنا‘ ٹھٹھا کرنا‘ بنانا‘ مذاق کرنا‘‘ باوقار شخصیت کے شایانِ شان نہیں ہے‘ چہ جائیکہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے بارے میں ایسے کلمات بولے جائیں۔ اس کے برعکس اہلسنّت کے اکابر علما نے یہ ترجمے کیے ہیں:  امام احمد رضا قادری: اللہ ان سے استھزا فرماتا ہے (جیسا کہ اس کی شان کے لائق ہے)۔ علامہ غلام رسول سعیدی: اللہ ان کو ان کے مذاق کی سزا دے رہا ہے اور ان کو ڈھیل دے رہا ہے۔(4) سورۃ الرحمن: 33 کا مختلف مترجمین نے یہ ترجمہ کیا ہے (الف) &#39;&#39;اے گروہ جنوں کے اور انسانوں کے! اگر تم سے ہو سکے کہ نکل بھاگو آسمانوں اور زمین کے کناروں سے تو نکل بھاگو‘ نہیں نکل سکنے کے بدون سند کے‘ (ب) اے گروہ جنّ اور انسانوں کے! اگر تم کو یہ قدرت ہے کہ آسمان اور زمین کی حدود سے کہیں باہر نکل جائو تو (ہم بھی دیکھیں) نکلو‘ مگر بدون زور کے نہیں نکل سکتے (اور زور ہے نہیں)‘‘۔ ان تراجم میں یہ کہا گیا ہے کہ زمین و آسمان کی حدوں سے نکلنے کیلئے سند چاہیے‘ زور چاہیے اور زور ہے نہیں لہٰذا نہیں نکل سکتے۔ آج انسان کے پاس یہ طاقت آ گئی ہے کہ وہ راکٹ داغ کر زمین اور دیگر سیاروں کے دائرۂ کشش سے نکل جاتا ہے اور واپس داخل بھی ہو جاتا ہے۔ حالانکہ &#39;&#39;سلطان‘‘ کے ایک معنی &#39;&#39;سلطنت‘‘ کے ہیں؛ چنانچہ علمائے اہلسنت نے یہ تراجم کیے ہیں؛ امام احمد رضا قادری: اے جنّ و انسان کے گروہ! اگر تم سے ہو سکے کہ آسمانوں اور زمین کے کناروں سے نکل جائو تو نکل جائو‘ جہاں نکل کر جائو گے‘ اُسی کی سلطنت ہے۔ علامہ غلام رسول سعیدی: اے جنّات اور انسانوں کے گروہو! اگر تم یہ طاقت رکھتے ہو کہ آسمانوں اور زمینوں کے کناروں سے نکل جائو تو نکل جائو‘ تم جہاں بھی جائو گے وہاں اسی کی سلطنت ہے۔ یہ تراجم ابدی اور دائمی ہیں۔ ان میں گویا انسانوں اور جنّات کوکہا گیا ہے کہ تم زمین اور دیگر سیاروں کی حدوں سے تو شاید نکل جائو لیکن اللہ کی سلطنت کی حدوں سے نہیں نکل سکتے‘ تم جہاں بھی نکل کر جائو گے وہاں اللہ وحدہٗ لا شریک ہی کی سلطنت ہو گی۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_61172381.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>