<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>جمہوریت کا انتقام(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-11-05/11695</link><pubDate>Thu, 05 Nov 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-11-05/11695</guid><description>امریکہ کے وسط مدتی انتخابات کے نتائج غیر متوقع نہیں۔ حکمران ریپبلکن پارٹی کو ان انتخابات میں جس صورتحال کا سامنا کرنا پڑا ہے امریکہ میں رائے عامہ کے جائزے بہت پہلے سے اس کی نشاندہی کر رہے تھے۔ وسط مدتی انتخابات میں سات ریاستیں ریپبلکن پارٹی کے ہاتھ سے نکل کر اپوزیشن‘ ڈیموکریٹ پارٹی کے پاس چلی گئی ہیں۔ ڈیمو کریٹس نے ان انتخابات میں غیرمعمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں؛ ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ میں نمایاں اکثریت حاصل کر لی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پارٹی کی شکست کا اعتراف کرتے ہوئے تسلیم کیا ہے کہ ایران جنگ اور بڑھتی مہنگائی ریپبلکن پارٹی کی شکست کا سبب بنی۔ دیکھا جائے تو مہنگائی کا معاملہ بھی امریکہ کی شروع کی ہوئی اسی محاذ آرائی کا شاخسانہ ہے لہٰذا کہا جا سکتا ہے کہ ایران جنگ وسط مدتی انتخابات میں امریکی حکمران جماعت کی شکست کا بنیادی محرک ثابت ہوئی اور امریکی عوام نے اپنے ووٹ کی طاقت سے یہ ثابت کیا ہے کہ جمہوریت بہترین انتقام ہے۔ یہ انتخابی نتائج امریکی عوام کی جانب سے واشنگٹن کے جنگجویانہ عزائم اور جارحانہ بیانیے کیخلاف ریفرنڈم ثابت ہوئے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے جس طرح دوسرے ممالک میں جارحانہ مداخلت کی‘ جنگوں کو بھڑکایا اور دفاعی بجٹ کو عوامی فلاحی منصوبوں پر ترجیح دی اس نے عام امریکی شہری کو عدم تحفظ اور معاشی دباؤ کا شکار بنایا‘ جس کی وجہ سے مڈٹرم انتخابات میں ریپبلکنز کی لٹیا ڈوب گئی۔

ان انتخابات کے غیرمعمولی نتائج کے باوجود اگرچہ امریکہ کی پالیسیوں میں کسی جوہری تبدیلی کی توقع عبث ہے تاہم اتنا ضرور ہو گا کہ ریپبلکنز کے جنگجویانہ پالیسیوں اور جارحانہ عزائم کو حکمتِ عملی بننے میں نمایاں رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ دوسری بڑی اور اہم تبدیلی یہ آ سکتی ہے کہ امریکی حکومت میں شامل وہ سمجھدار لوگ جو جنگوں کو خیرباد کہنے کی سوچ رکھتے ہیں انکی بات میں وزن پیدا ہو گا۔ نائب صدر جے ڈی وینس نے جس دوٹوک انداز سے کہا ہے کہ ’’ہماری ہار کی وجہ ایران جنگ ہے‘‘ یہ ریپبلکنز کے داخلی تاثرات کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ نتائج دنیا بھر کیلئے اس امید کا پیغام ہیں کہ دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت کے اندر اب امن پسند آوازیں فیصلہ کن کردار ادا کرنے کا عزم رکھتی ہیں۔ حالیہ کچھ عرصے میں جنگوں اور خون خرابے کیخلاف جس طرح رائے عامہ بنی اس کی مثال ماضی میں ملنا مشکل ہے۔ صرف امریکہ نہیں اسرائیل میں بھی اس تبدیلی کے اشارے ملتے ہیں جہاں نیتن یاہو کی پارٹی کو حکومت بنانے کیلئے مطلوبہ برتری حاصل نہیں ہو سکی۔ یہ صورتحال جارحانہ سوچ رکھنے والے حکمرانوں کیلئے تنبیہ ہے اور یہ شکست خود پسند رہنماؤں کو یہ سوچنے پر مجبور کرنے کو کافی ہونی چاہیے کہ جبر اور طاقت کے زور پر وہ زیادہ دیر عوامی بیداری اور اجتماعی شعور کو دبا نہیں سکتے۔ ان انتخابات کا ایک اہم پہلو امریکی مقننہ میں عبدالرحمن محمد السید کی صورت میں پہلے مسلم سینیٹر کا داخلہ اور رشیدہ طلیب‘ الہان عمر اور ڈاکٹر آدم ہماوی جیسے مسلم امیدواروں کا امریکی کانگریس کے لیے منتخب ہونا ہے۔
یہ امریکی سماج میں مسلم رہنماؤں کے بڑھتے ہوئے کردار‘ حیثیت اور اعتبار کا ثبوت ہے۔ اس سے امریکہ کی مسلم ورلڈ پالیسیوں‘ اسلامو فوبیا اور مغرب و اسلام کے درمیان موجود ثقافتی و مذہبی خلیج جیسے دیرینہ مسائل سے نمٹنے میں آسانی میسر آ سکتی ہے۔ اس انتخابی معرکے نے جمہوری فلسفے کو بھی تقویت بخشی ہے۔ ایسے وقت میں جب پوری دنیا میں آمریت‘ پاپولزم اور فاشزم کے عروج کے باعث جمہوریت کے مستقبل پر سوالیہ نشانات لگائے جا رہے تھے‘ امریکی وسط مدتی انتخابات نے یہ ثابت کیا ہے کہ عوام ہی اصل میں بااختیار ہیں اور وہی حکمرانوں کی جوابدہی کا حتمی حق رکھتے ہیں۔ ووٹ کا یہ پُرامن استعمال اس بات کی دلیل ہے کہ جمہوریت کا تسلسل ہی تمام سیاسی اور سماجی برائیوں کا علاج ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ٹیکس سے گریزاں کیوں؟(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-11-05/11694</link><pubDate>Thu, 05 Nov 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-11-05/11694</guid><description>قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ حکومت کی آسان ٹیکس سکیم کے تحت 20 فیصد دکاندار بھی رجسٹرڈ نہیں ہو ئے۔ ملک بھر میں ڈسکوز کے کمرشل بجلی میٹرز کے ڈیٹا کی بنیاد پر 35 لاکھ دکانداروں کی نشاندہی کی گئی تھی لیکن اب تک سات لاکھ سے بھی کم دکانداروں نے آسان ٹیکس سکیم میں رجسٹریشن کرائی ہے۔ پاکستان اکنامک سروے 2026ء کے مطابق ہول سیل اور ریٹیل سیکٹر کا حجم ملکی جی ڈی پی کے 17.8 فیصد کے برابرہے۔ اس کے باوجود رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں اس شعبے سے صرف 18ارب 40کروڑ روپے وِدہولڈنگ ٹیکس کی مد میں وصول ہوئے‘ جبکہ اسی عرصے میں تنخواہ دار طبقے نے 144 ارب روپے انکم ٹیکس ادا کیا۔

محدود اور مقررہ آمدن رکھنے والا تنخواہ دار طبقہ تو اپنی تنخواہ ملنے سے پہلے ہی ٹیکس ادا کر دیتا ہے لیکن کاروبار کرنے والے ایسے افراد جن کی ماہانہ آمدن لاکھوں روپے تک پہنچ جاتی ہے وہ ٹیکس ادائیگی سے گریزاں کیوں ہیں؟ حکومت نے تاجروں کے دیرینہ مطالبے پر آسان ٹیکس سکیم متعارف کرائی تاکہ چھوٹے دکانداروں کو پیچیدہ ٹیکس قوانین‘ طویل گوشواروں اور آڈٹ کے مسائل سے نجات دلا کر ٹیکس نظام کا حصہ بنایا جا سکے۔ اس کے باوجود رجسٹریشن کا انتہائی کم تناسب لمحہ فکریہ ہے۔معیشت کے مختلف شعبوں کو ان کی استعداد کے مطابق ٹیکس نظام میں شامل کیے بغیر محاصل میں پائیدار اضافہ ممکن نہیں۔حکومت کو چاہیے کہ وہ تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کیلئے عملی اقدامات تیز کرے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بجلی مزید مہنگی ؟(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-11-05/11693</link><pubDate>Thu, 05 Nov 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-11-05/11693</guid><description>نیپرا نے سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کی جانب سے 2027ء میں بجلی کے بنیادی ٹیرف میں آٹھ فیصد اضافے کی تجویز پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ سی پی پی اے نے مجوزہ اضافے کا جواز عالمی منڈی میں تیل‘ ایل این جی اور کوئلے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ‘ درآمدی ایندھن کی غیر یقینی دستیابی اور بجلی کی طلب میں اضافے کو قرار دیا ہے۔بلاشبہ علاقائی کشیدگی اور عالمی منڈی میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا لیکن ہر بیرونی مشکل کا حل عوام پر مزید مالی بوجھ ڈالنا نہیں ہے۔ آخر کب تک توانائی کے شعبے کی ناقص منصوبہ بندی‘ مہنگے پیداواری معاہدوں اور انتظامی خامیوں کی قیمت عام صارف ادا کرتا رہے گا؟ عوام پہلے ہی مہنگی پٹرولیم مصنوعات اور بھاری یوٹیلیٹی بلوں کے باعث شدید معاشی مشکلات کا شکار ہیں۔

ایسے حالات میں بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافہ عوام کی قوتِ خرید کو مزید محدود اور معاشی مشکلات کو سنگین بنا سکتا ہے۔نیپرا کو چاہیے کہ صارفین پر غیر ضروری مالی بوجھ منتقل ہونے سے روکے۔ حکومت کو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ بجلی مہنگی کرتے رہنے سے توانائی کے شعبے کے بنیادی مسائل حل نہیں ہوں گے۔ حکومت کو چاہیے کہ مہنگے درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرکے مقامی وسائل اور قابلِ تجدید توانائی کی پیداوار بڑھائے۔ اسی طرح آئی پی پیز کے معاہدوں پر نظرثانی کرے تاکہ بجلی کی قیمت میں کمی آ سکے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>گھومنے والی چرمی کرسی(محمد اظہارالحق)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-11-05/52970/69359191</link><pubDate>Thu, 05 Nov 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-11-05/52970/69359191</guid><description>انگریزی اخبار پڑھنے کا چسکا پڑا تو روزنامہ سول اینڈ ملٹری گزٹ اس سے پہلے وفات پا چکا تھا۔ ہم نے تو اس کی شکل ہی نہیں دیکھی۔ پاکستان کے شمالی شہروں میں اس وقت روزنامہ &#39;&#39;پاکستان ٹائمز‘‘ کا راج تھا۔ 1967ء کے اواخر میں ڈھاکہ یونیورسٹی پہنچا تو وہاں کے معروف انگریزی روزنامہ &#39;&#39;پاکستان آبزرور‘‘ کے ساتھ دل نہ لگا۔ ہاکر سے کہا کہ لاہور کا اخبار &#39;&#39;پاکستان ٹائمز‘‘ چاہیے۔ بنگالی ہاکر کہنے لگا: صاحب! اسی دن تو نہیں‘ دوسرے دن صبح دے دیا کروں گا۔ چنانچہ پاکستان ٹائمز ایک دن بعد ملنے لگا۔ میرے لیے اس میں سب سے زیادہ دلچسپ خالد حسن کا کالم Of This and That ہوتا تھا جسے میں باقاعدگی سے پڑھتا تھا۔ ان کا ایک کالم آج یاد آ رہا ہے۔ وہ ایک بیورو کریٹ سے ملنے اس کے دفتر جاتے ہیں۔ کچھ ہی دیر میں بیورو کریٹ اپنے دونوں کانوں سے آلۂ سماعت باہر نکالتا ہے۔ پھر وہ اپنا دایاں بازو جسم سے ہٹا کر میز پر رکھ دیتا ہے۔ یہ بازو مصنوعی تھا۔ پھر بایاں بازو بھی میز پر رکھ دیتا ہے۔ پھر مصنوعی پاؤں! پھر مصنوعی ٹانگیں!! خالد حسن کہنا یہ چاہتے تھے کہ کچھ افسر کرسی نہیں چھوڑ سکتے خواہ پورا جسم مصنوعی کیوں نہ لگانا پڑے۔ یہاں تک کہ کرسی پر ہی ان کا انتقال ہو جاتا ہے۔ نصف صدی پیشتر کا یہ بھولا بسرا کالم آج اس لیے یاد آیا کہ میڈیا کے مطابق سابق سیکرٹری خارجہ نے ریٹائرمنٹ کے بعد ترکیہ میں پاکستانی سفیر کی حیثیت سے نئی اننگز کا آغاز کر دیا ہے۔ وہ کیریئر ڈپلومیٹ رہیں۔ مقابلے کا امتحان دے کر فارن سروس میں شمولیت اختیار کی۔ وزارتِ خارجہ میں ڈائریکٹر اور ایڈیشنل سیکرٹری رہیں۔ کولمبو اور کوپن ہیگن میں سفارتی ذمہ داریاں انجام دیں۔ ملائیشیا‘ یورپی یونین‘ بلجیم اور لکسمبرگ میں سفیر رہیں۔ اس کے بعد وہ وہ سیکرٹری خارجہ کے بلند اور باوقار منصب پر رہیں۔ فارن سروس میں شامل ہونے والے ہر افسر کا نقطۂ معراج یہی پوسٹ ہوتی ہے۔ پوری دنیا میں تعینات پاکستان کے تمام سفیر سیکرٹری خارجہ کے ماتحت ہوتے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس بلندی پر پہنچنے کے بعد محترمہ سروس کو خیر باد کہتیں۔ گھر بیٹھ کر اپنے طویل کیریئر کے حوالے سے کتابیں تصنیف کرتیں۔ یونیورسٹیوں میں لیکچر دیتیں۔ یہی کچھ امریکی وزیر خارجہ کنڈولیزا رائس نے کیا۔ وہ وزارت سے اتریں تو سیدھا یونیورسٹی کا رخ کیا اور پروفیسر لگ گئیں۔ کئی تعلیمی اداروں سے وابستہ رہیں۔ ہنری کسنجر وزارتِ خارجہ سے فارغ ہوئے تو &#39;&#39;کسنجر ایسوسی ایٹس‘‘ کے نام سے اپنی فرم بنائی جو بین الاقوامی موضوعات پر Consultancy کا کام کرتی تھی۔ سفارتکاری اور عالمی امور پر کسنجر نے درجن سے زیادہ کتابیں لکھیں۔ آپ کا کیا خیال ہے اگر کنڈولیزا رائس اور کسنجر چاہتے تو کسی بھی ملک میں سفیر نہیں لگ سکتے تھے؟ یقینا لگ سکتے تھے۔ مگر وہ چوٹی پر پہنچنے کے بعد کسی کمتر منصب پر نہیں اترے۔ کسی حکومتی منصب کی خواہش نہیں کی۔ جنرل عبد الوحید کاکڑ کی حال ہی میں وفات ہوئی۔ انہیں توسیع پلیٹ میں رکھ کر پیش کی گئی تھی۔ مگر انہوں نے اپنی نارمل مدتِ ملازمت پوری کرنے کے بعد ایک دن بھی وردی میں نہیں گزارا۔ ان کی وفات پر انہیں شاندار خراجِ تحسین پیش کیا گیا! اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر نجیبہ عارف کا ذکر نا مناسب نہ ہو گا۔ وہ تین سال پاکستان اکادمی ادبیات کی سربراہ رہیں۔ اگر چاہتیں تو توسیع لے سکتی تھیں جس کی ایک نہیں کئی مثالیں اور نظائر موجود تھیں۔ ہماری اطلاع کے مطابق متعلقہ وزارت نے بھی انہیں پیشکش کی کہ وہ ایک میعاد مزید گزاریں مگر ڈاکٹر نجیبہ نے بہت متانت اور شائستگی سے تمام پیشکشیں رد کیں اور گھر چلی گئیں تاکہ کسی اور کو کام کرنے کا موقع ملے!ہماری بیورو کریسی کا عجیب و غریب مزاج ہے۔ ٹاپ پر پہنچ کر‘ ریٹائر ہو کر‘ مزید ملازمت چاہیے۔ اس کیلئے اپنے ہی ماتحت کے نیچے کام کرنے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں۔ محترمہ ترکیہ میں سفیر ہو کر اُس سیکرٹری خارجہ کی ماتحت ہو گئیں جس کی وہ باس تھیں۔ پاکستان کی فوج دنیا کی افواج میں ایک ممتاز اور منفرد مقام رکھتی ہے۔ اس فوج کی سربراہی سے فارغ ہو کر کسی دوسرے ملک میں جا کر‘ اس سے کم درجے کی ملازمت کرنا کتنی عجیب اور ناقابلِ یقین بات ہے‘ مگر یہ بھی ہوا ہے۔ فاعتبروا یا اولی الابصار!! عبرت پکڑو اے آنکھوں والو!! نوکر شاہی کے کچھ ارکان تو ایسے &#39;&#39;دور اندیش‘‘ ہیں کہ نوکری شروع کرتے ہی نوکری کے بعد کا بندوبست کرنے میں لگ جاتے ہیں۔ اس طریقِ واردات کی کئی صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ کسی ایک سیاستدان کو پکڑ لینا! اس کے ساتھ نتھی ہو جانا۔ اس کے ساتھ تعیناتیاں کرانا۔ اسے ہی حکومت سمجھنا! اسے ہی ریاست گرداننا! ریٹائرمنٹ کے بعد وہ ملازمت کیوں نہیں دلوائے گا؟ (ن) لیگ کی قیادت نے ایک پولیس افسر کو سینیٹ کی نشست دلوائی تھی! کیا ثواب کیلئے دلوائی تھی؟ نہیں بھائی! یہ عمر بھر کی خدمت کا صلہ تھا! کل کی نوکر شاہی آج کی کابینہ میں یوں ہی تو نہیں بیٹھی ہوئی! یہ بخشش فی سبیل اللہ تو نہیں ہوئی۔ ایک اور طریقِ واردات یہ ہے کہ کوئی انفارمیشن‘ کوئی فائل‘ کوئی سرکاری دستاویز‘ کسی ایسے بااثر شخص کو مہیا کرنی جو اس کے کام کی ہو۔ ایسی خدمت بھی ریٹائرمنٹ کے بعد کام آتی ہے۔ اس حوالے سے میرے بھی تجربات ہیں جن کے ذکر کا یہ موقع نہیں۔ (میں نے اپنی خود نوشت میں ان کا قدرے تفصیلی ذکر کیا ہے)۔ یہاں اتنا کہنا کافی ہو گا کہ جن صاحب کو میں نے خفیہ سرکاری فائل دکھانے یا دینے سے انکار کیا تھا ان کا فرمان تھا کہ &#39;&#39;کل ہم بھی آپ کے کام آئیں گے‘‘۔ اس پیشکش کا اسی وقت شکریہ ادا کر دیا تھا! فیڈرل پبلک سروس کمیشن میں ریٹائرڈ افسروں کی تعیناتیاں ذاتی تعلقات یا سفارش کی بنیاد پر ہوتی ہیں۔ اس حوالے سے اقبال کے اس مصرع پر ذرا غور سے نظر ڈالیے &#39;&#39;چلنے والے نکل گئے ہیں‘‘۔ وفاقی دارالحکومت میں تین قبرستان ہیں۔ ایک تو عام قبرستان ہے جس میں وہ لوگ دفن ہوتے ہیں جن کی روحیں ان کے جسموں سے نکل کر پرواز کر جاتی ہیں۔ دوسرے دو قبرستانوں کے نام ہیں۔ وفاقی محتسب کا دفتر اور فیڈرل پبلک سروس کمیشن کا دفتر۔ ان میں ریٹائرڈ افسروں کو ٹھکانے لگایا جاتا ہے۔ فیڈرل پبلک سروس کمیشن کی ایک ایک شاخ ایک ایک صوبے میں بھی موجود ہے۔ ایک ریٹائرڈ افسر کو توسیع دینا محض توسیع دینا نہیں ہے‘ اس سے Chain reaction پیدا ہوتا ہے۔ یعنی اس کا ایک نتیجہ نکلتا ہے۔ اس سے دوسرا نتیجہ‘ پھر دوسرے نتیجے سے تیسرا نتیجہ نکلتا ہے۔ حاضر سروس افسروں کی ترقیاں رک جاتی ہیں۔ اس سے ان میں مایوسی پیدا ہوتی ہے۔ مایوسی کا نتیجہ پیشہ ورانہ کام میں عدم دلچسپی کی صورت میں نکلتا ہے۔ یوں سرکاری مشینری کی کارکردگی‘ مجموعی طور پر متاثر ہوتی ہے۔ مگر توسیع لینے والوں کو اور توسیع دینے والوں کو ان سب نتائج کی کوئی پروا نہیں ہوتی۔ توسیع دینے والے وفاداری خریدتے ہیں۔ توسیع لینے والے کو مزید کچھ برسوں کیلئے گھومنے والی چرمی کرسی میسر آجاتی ہے۔ رہا ملک! تو وہ یوں بھی آٹو پر چل رہا ہے! ابھی ایک مولانا صاحب نے فرمایا ہے کہ ریاست نے ہمیں کیا دیا ہے؟ ایک رباعی یاد آرہی ہے جو حضرت ابو سعید ابو الخیر سے منسوب ہے:گفتی کہ فلان ز یادِ ما خاموش ست ؍ از بادۂ عشق دیگری مدہوش ستشرمت بادا ہنوز خاکِ درِ تو؍ از گرمی ٔخونِ دلِ من در جوش ستتم نے کہا ہے کہ فلاں میری یاد سے غافل ہے۔اور کسی اور کی محبت میں گرفتار ہے۔تمہیں شرم آنی چاہیے! ابھی تو تمہارے دروازے کی مٹی میرے دل کے خون کی گرمی سے جوش میں ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_57182973.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>باپ بیٹے کی لوٹ مار پر مبنی کولیکشن(خالد مسعود خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-11-05/52971/79244900</link><pubDate>Thu, 05 Nov 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-11-05/52971/79244900</guid><description>یہ مسافر اپنی آوارہ گردی کے دوران پرانی عمارتیں‘ قدیم قلعے‘ تاریخی محلات‘ عجائب گھر اور قدرتی مناظر کو دیکھ کر آنکھیں ٹھنڈی اور دل شاد کرتا ہے۔ قلعوں سے اس مسافر کو خاص دلچسپی ہے۔ اب میں اس کی کوئی منطقی وجہ تو نہیں بتا سکتا۔ ویسے بھی کسی چیز کو پسند کرنے کیلئے کسی منطقی وجہ کا ہونا ضروری نہیں‘ بس یہی کافی ہے کہ وہ آپ کو پسند ہے۔ قلعوں کی بات ہوئی تو اس مسافر کے دل میں گزشتہ کئی سال سے ویلز میں بنے ہوئے ایک قلعے کو دیکھنے کی بڑی خواہش تھی۔ کئی بار اس قلعے کو دیکھنے کا پروگرام بھی بنا لیکن پروگرام بننے اور اس کے تکمیل پذیر ہونے کے درمیان جو عوامل اور مراحل ہوتے ہیں‘ وہ آپ کے بس میں نہیں ہوتے۔ میرے ساتھ بھی یہی ہوتا رہا۔ شدید خواہش کے باوجود کہیں نہ کہیں معاملہ گڑبڑ ہو جاتا اور یہ قلعہ دیکھنے سے رہ جاتا تھا۔ یہ قلعہ ویلز کے علاقے مڈ ویلز کے قصبے ویلش پول میں واقع‘ پووس کاسل ہے۔ یہ ایک چھوٹا سا قلعہ ہے بلکہ یہ قلعہ کم اور قلعہ نما ایک شاہانہ رہائشی عمارت زیادہ ہے۔ جسے کسی برطانوی حکمران کے بجائے مقامی ویلش شہزادے Gruffudd ap Gwenwynwyn نے تعمیر کروایا۔ یہ چھوٹی سی پہاڑی کے اوپر بنا ہوا ہے اور اس کی ایک خاص بات اس کے ساتھ موجود وسیع و عریض باغات ہیں۔ قدامت‘ خوبصورتی اور مختلف اقسام کے درختوں کے مجموعے اور اس باغ کے مختلف تختے اسے دنیا کے چند قابلِ دید باغات میں سے ایک باغ بناتے ہیں۔ تاہم میری اس قلعے سے دلچسپی ان باغات کی وجہ سے بہر حال نہیں ہے۔ اس قلعے سے میری دلچسپی کی وجہ برصغیر پاک و ہند کی تاریخی اشیا کا وہ مجموعہ ہے جو اس قلعے میں ٹکٹ کے ذریعے دیدارِ عام کیلئے رکھا ہوا ہے۔ بظاہر تو ساری اشیا کلائیو کولیکشن کہلاتی ہیں‘ اورانہیں یہ نام 1765-67ء کے دوران بنگال کے گورنر رابرٹ کلائیو‘ جسے کلائیو آف انڈیا بھی کہا جاتا ہے اور پھر اسی کے بیٹے ایڈورڈ کلائیو جو 1798ء تا 1803ء تک مدراس کا گورنر رہا‘ کی جمع کردہ اشیا کے باعث دیا گیا۔ یہ ساری کولیکشن اصل میں دونوں باپ بیٹے کے لوٹ مار کردہ نوادرات پر مشتمل ہے۔ جب انگریزوں نے 23 جون 1757ء کو میر جعفر کی غداری کے باعث نواب سراج الدولہ کو جنگ پلاسی میں شکست دی اور بنگال پر قبضہ کرتے ہوئے ہندوستان میں باقاعدہ برطانوی اقتدار کی بنیاد رکھی‘ تب اس جنگ میں رابرٹ کلائیو ایسٹ انڈیا کمپنی اور برطانوی فوج کا کمانڈر انچیف تھا۔ یہ بھی محض اتفاق ہے کہ جب 3 اپریل سے 4مئی 1799ء کے دوران ٹیپو سلطان اور انگریزوں کے درمیان سرنگا پٹم کی چوتھی اور آخری فیصلہ کن جنگ لڑی گئی‘ اس وقت مدراس کا گورنر ایڈورڈ کلائیو تھا جو رابرٹ کلائیو کا سب سے بڑا بیٹا تھا۔ دونوں باپ بیٹوں نے نواب سراج الدولہ اور ٹیپو سلطان سے تعلق رکھنے والی تاریخی اور قیمتی اشیا چمپت کر لیں اور واپسی پر اپنے ساتھ برطانیہ لے آئے۔ تب برطانیہ میں ایسی لوٹی گئی اشیا کو سرکاری خزانے المعروف توشہ خانہ میں جمع کرانے کا کوئی رواج نہ تھا۔ جس نے جو شے لوٹ لی‘ وہ اسی کی ملکیت قرار پائی۔ 1200ء کے لگ بھگ سرخ پتھر سے بنا ہوا یہ قلعہ نما محل بعد ازاں 1557ء میں ہربرٹ خاندان نے خرید لیا اور اسے قلعے سے ایک پُرتعیش رہائش گاہ میں بدل دیا۔ اس قلعے کے ساتھ موجود باغات زیادہ تر ہربرٹ خاندان کے دور میں لگائے گئے اور خاص طور پر اس کے فرانسیسی اور اطالوی طرز کے سیڑھی دار تختوں پر مشتمل باغات کو حقیقی خوبصورتی چوتھے ارل آف پووس کی اہلیہ کاؤنٹس وائلٹ لین فوکس نے دی جب اس نے دنیا بھر سے خوبصورت اور نایاب پودے منگوا کر انہیں اس باغ کی زینت بنایا اور یوں اس باغ کو اس نے دنیا کے خوبصورت ترین باغات میں سے ایک بنا دیا۔ مئی 1784ء میں رابرٹ کلائیو کے سب سے بڑے بیٹے ایڈورڈ کلائیو کی شادی پہلے ارل آف پووس ہنری آرتھر ہربرٹ کی بیٹی لیڈی ہنریٹا انٹونیا ہربرٹ سے ہوئی۔ ہنری آرتھر ہربرٹ کے مرنے کے بعد اس کے بیٹے جارج ہربرٹ کو ارل آف پووس کے خطاب سے نوازا گیا۔ 1801ء میں ہربرٹ کا انتقال ہوا تو یہ خطاب معطل کر دیا گیا تاہم 1804ء میں انگریز حکومت نے اس خطاب کا دوبارہ اجرا کرتے ہوئے ایڈورڈ کلائیو کو پہلے ارل آف پووس (حقیقتاً وہ تیسرا ارل آف پووس تھا) کا خطاب عطا کر کے یہ روایت دوبارہ قائم کر دی۔ اس طرح یہ قلعہ کلائیو خاندان کے تصرف میں آ گیا۔ چوتھے ارل آف پووس جارج چارلس ہربرٹ کا بڑا بیٹا پرسی رابرٹ ہربرٹ جو فوج میں کیپٹن تھا‘ 1916ء میں پہلی جنگ عظیم کے دوران اور چھوٹا بیٹا مورین ہوراٹیو ہربرٹ جو رائل ایئرفورس میں پائلٹ تھا‘ دوسری جنگ عظیم میں جہاز کے حادثے میں مارا گیا۔ جارج ہربرٹ نے 1952ء میں مرنے سے پہلے قلعے کے مستقبل کو محفوظ بنانے کیلئے اسے نیشنل ٹرسٹ کی تحویل میں دے دیا۔گزشتہ تین چار سال سے میں جب بھی برمنگھم گلاب خان کے پاس گیا‘ بھاگ دوڑ میں ہی گیا۔ ہم ہر بار پووس کاسل جانے کا ارادہ بناتے مگر میری طرف سے ہی کوئی ایسی اڑ چن آن پڑتی کہ بس یہی کام رہ جاتا۔ اس بار میں نے برمنگھم جانے سے قبل ہی گلاب خان سے پووس کاسل جانے کا پروگرام بنا لیا۔ جس روز برمنگھم پہنچا‘ سردی اور بارش بھی میرے ہمراہ اسی روز وہاں پہنچیں۔ ٹرین سے اترا تو بارش شروع ہو گئی۔ دو دن بعد برمنگھم نے مجھے اور بارش کو ایک ساتھ الوداع کہا۔ مجھے کبھی سمجھ نہیں آئی کہ میں گلاب خان سے اپنے تعلق اور رشتے کو کیا نام دوں‘ میری دوستی گلاب خان کے والد حاجی فضل خان چانڈیہ سے ہے۔ فضل خان عرصۂ دراز سے ملتان میں چشموں کا کاروبار کرتے ہیں۔ اس عاجز کو بہت چھوٹی عمر میں عینک کی ضرورت پڑ گئی تھی سو مختلف چشمہ سازوں سے ہوتے ہوئے میں بالآخر حاجی فضل صاحب کے پاس پہنچ گیا۔ پھر ہمارے درمیان سے عینکیں اور چشمے نکل گئے اور دوستی کا ایسا تعلق بنا کہ چشمہ تو اب سالوں بدلوانے کی نوبت نہیں آتی۔ حاجی فضل کی دکان کے اوپر ان کا ریٹائرنگ روم کبھی ملتان میں دوستوں کی منڈلی جمانے کے کام آتا تھا‘ اب حاجی صاحب زیادہ تر گھر رہتے ہیں اور کاروبار کو تقریباً تقریباً خیرباد کہہ چکے ہیں۔ دکانوں کو ان کے عزیز سنبھالے ہوئے ہیں۔ جب ہمیں اپنے دوست حاجی فضل خان کے بیٹے ہونے کے حیثیت سے گلاب خان جہیز میں ملا تو صرف ہمارا بھتیجا تھا‘ پھر اس کی محبت نے کئی درجے طے کرتے ہوئے دوستی کی شکل اختیار کر لی‘ تاہم کبھی وہ چھوٹے بھائیوں جیسا لگتا ہے اور اس کی بیگم ہمیں اپنی بہو لگتی ہے۔ میرے بچوں کو تو پہلے سمجھ نہیں آتی تھی کہ وہ اپنے والد کے دوست کو کیا کہیں۔ تاہم اب انہوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ گلاب خان ان کا بھائی ہے اور اس کی بیگم ان کی باجی ہیں۔ بچوں کے رشتوں کا تعین ہو چکا ہے لیکن یہ عاجز ابھی تک دوست‘ برادرِ خورد اور بھتیجے کے درمیان میں کوئی ایک پکا رشتہ طے نہیں کر پایا۔ برطانیہ جاؤں اور گلاب خان کے پاس نہ جاؤں یہ بھلا کیسے ممکن ہے۔ میرے جانے پر گلاب خان اپنے سارے کام چھوڑ کر صرف اور صرف میرے طے کردہ شیڈول کی تکمیل میں لگ جاتا ہے۔ موسم اگلے دو دن بارش دکھا رہا تھا اور میرے پاس یہی دو دن تھے۔ اگلی صبح جب میں اور گلاب خان دو گھنٹے کے فاصلے پر واقع پووس کاسل کی جانب روانہ ہوئے تو برطانیہ کی مخصوص بارش اپنا رنگ دکھا رہی تھی۔ یہ مخصوص بارش ہم جیسوں کیلئے بڑی بیزار کن ہے۔ نہ رکتی ہے اور نہ کھل کر برستی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90500073.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سید مودودی کا فکری وارث کون؟(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-11-05/52972/30483284</link><pubDate>Thu, 05 Nov 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-11-05/52972/30483284</guid><description>برادرِعزیز حسن الیاس سید مودودی کے مرقد تک پہنچے تو ان کی آنکھیں چھلک اٹھیں۔ اُن کی تصویر ہوا کے دوش پر سوار کہیں سے کہیں جا پہنچی۔ سید کے کچھ عقیدت مندوں نے اسے دیکھا تو انہیں جذبات کا یہ بے ساختہ پن پسند نہیں آیا۔ اُن کے ردِعمل سے معلوم ہوا کہ مولانا کے ساتھ اظہارِ محبت کے حقوق محفوظ ہیں۔ ہما شما کیلئے یہ دروازہ بند ہے۔ اس کا ایک سبب اور بھی ہے اور وہی میرا موضوع ہے۔حسن الیاس‘ جاوید احمد صاحب غامدی کے شاگرد‘ ان کی فکر کے شارح اور خوشہ چین ہیں۔ وہ ان کے داماد بھی ہیں۔ جاوید صاحب مولانا مودودی کی تعبیرِ دین کو اساسی طور پر درست نہیں سمجھتے۔ مولانا کے ان عقیدت مندوں کا خیال ہے کہ جو اُن کی فکر سے اس نوعیت کا اختلاف رکھتا ہو‘ اس کا مولانا سے کوئی فکری تعلق نہیں ہو سکتا۔ وہ اگر خود کو ان کے فکری وارثین میں شمار کرتا یا اپنے کام کو ان کے فکری تسلسل میں دیکھتا ہے تو اس کا یہ دعویٰ سچا نہیں۔ وہ اگر اظہارِ محبت کرتا ہے تو یہ بھی کوئی چال ہے۔ وہ دراصل مولانا کی وراثت پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ اُن کی قبر پر بہنے والے ایسے آنسوئوں کو حقیقی سمجھ کر‘ مولانا کے اصل وارثوں کو دھوکا نہیں کھانا چاہیے۔ وہ خبردار رہیں اور ان بہروپیوں سے اپنی وراثت کو بچائیں۔ مولانا کے حقیقی وارث وہی ہوں گے جو اُن کی فکر کو بنیادی طور پر درست سمجھتے ہوں۔یہ مقدمہ ایک گمان پر مشتمل ہے اور ایک نقطہ نظر پر۔ گمان کا معاملہ اللہ تعالیٰ اور مولانا کے ان عقیدت مندوں پر چھوڑتے ہوئے‘ مجھے اس نقطہ نظر کے بارے میں کچھ عرض کرنا ہے۔ فکرِ مودودی پر غامدی صاحب کا تنقیدی کام چند صفحوں کا ایک مضمون ہے جو &#39;تاویل کی غلطی‘ کے عنوان سے ان کی کتاب &#39;برہان‘ میں شامل ہے۔ اگر یہ تعبیر درست نہیں تو اُن کے خیال میں صحیح تعبیر کیا ہے؟ جاوید صاحب کا بیشتر کام اس سوال کا جواب ہے۔ یہ کام اپنے جوہر میں تنقیدی نہیں۔ فکرِ مودودی کو انہوں نے کبھی اپنا ہدف بنایا نہ اس کے خلاف کوئی مہم اٹھائی۔ اپنی کتاب &#39;میزان‘ پڑھاتے ہوئے‘ محض تعلیمی ضرورت سے یا کسی استفسار کے جواب میں‘ انہوں نے تنقید کی۔ کم وبیش نصف صدی پر محیط اُن کی علمی زندگی ہمارے سامنے ہے۔ کوئی ایک مثال ایسی نہیں کہ انہوں نے جماعت اسلامی کے لوگوں کو بطورِ خاص اپنا &#39;ربط‘ بنایا ہو۔ انہیں اس کی ضرورت بھی نہیں تھی۔ انہیں کوئی جماعت کھڑی کرنا تھی نہ اقتدار کی جنگ کا حصہ بننا تھا۔ دعوتی مقاصد کیلئے انہوں نے ایک بار تنظیم کی ضرورت محسوس کی تو &#39;الانصار المسلمون‘ قائم کی۔ جلد ہی اندازہ ہوا کہ جماعت سازی دعوتِ دین کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ جو عصبیت دین کیلئے خاص ہونی چاہیے‘ وقت کے ساتھ ساتھ وہ جماعت کو منتقل ہو جاتی ہے۔ پھر دین کا دفاع اور جماعت کا دفاع ہم معنی ہو جاتے ہیں۔ اس لیے انہوں نے یہ باب ہی بند کر دیا۔ گزشتہ بیس پچیس برس سے‘ ان کی تمام تر سرگرمی دعوتی وتعلیمی ہے۔ اُن کی مخاطب تمام بنی نوع انسان ہے۔ اپنے پرانے تعلق کی وجہ سے‘ وہ جماعت اسلامی کو اپنی برادری سمجھتے ہیں۔ اب جماعت ان کو کیا سمجھتی ہے‘ یہ میرا مسئلہ نہیں۔اس پس منظر کو ذہن میں رکھتے ہوئے‘ اب آئیے اصل قضیے کی طرف۔ فکری تسلسل کیلئے‘ یہ لازم نہیں کہ غور وفکر کا منہج یا نتیجہ فکر بھی ایک ہو۔ بعض اوقات جزوی اتفاق بھی اہلِ علم کو ایک لڑی میں پرو دیتا ہے۔ تسلسل کیلئے یہی کافی ہے کہ آپ ایک بڑے دائرے میں رہتے ہوئے‘ آزادانہ غور وفکر کے قائل ہوں۔ دینی علم کے باب میں یہ دائرہ قرآن وسنت ہے۔ مولانا مودودی اس علمی وفکری روایت کے امین ہیں‘ جو امام غزالی‘ ابنِ تیمیہ‘ شیخ احمد سرہندی‘ شاہ ولی اللہ‘ شبلی‘ ابوالکلام آزاد اور علامہ اقبال کو ایک لڑی میں پروتی ہے۔ اس فہرست میں شامل کئی شخصیات کا تعلق تصوف کی روایت سے ہے۔ مولانا مودودی اس کے ناقد تھے۔ اس روایت سے ان کا اختلاف اساسی تھا۔ اس کے باوصف‘ مولانا مودودی کا ذکر ان کے تسلسل میں کیا جاتا ہے۔ مولانا خود غزالی اور ابن تیمیہ کو تجدید و احیائے دین کی روایت کے استمرار میں دیکھتے ہیں۔ وہ یہ ربط کیسے قائم کرتے ہیں‘ ملاحظہ کیجیے: &#39;&#39;امام غزالی کے تجدیدی کام میں علمی وفکری حیثیت سے چند نقائص بھی تھے اور وہ تین عنوانات پر تقسیم کیے جا سکتے ہیں۔ ایک قسم ان نقائص کی جو حدیث کے علم میں کمزور ہونے کی وجہ سے اُن کے کام میں پیدا ہوئے۔ دوسری قسم اُن نقائص کی جو اُن کے ذہن پر عقلیات کے غلبے کی وجہ سے تھے۔ اور تیسری قسم ان نقائص کی جو تصوف کی طرف ضرورت سے زیادہ مائل ہونے کی وجہ سے تھے۔ ان کمزوریوں سے بچ کر امامِ موصوف کے اصل کام یعنی اسلام کی ذہنی واخلاقی روح کو زندہ کرنے اور بدعت وضلالت کی آلائشوں کو نظامِ فکر ونظامِ تمدن سے چھانٹ چھانٹ کر نکالنے کے کام کو جس شخص نے آگے بڑھایا‘ وہ ابن تیمیہ تھے‘‘۔مولانا مودودی کو مولانا آزاد کا نقشِ ثانی سمجھا جاتا ہے‘ لیکن مولانا آزاد کے بارے میں ان کا کہنا تھا: &#39;&#39;مولانا کے ہاں بہت سے خلا ہیں اور بہت سی چیزیں اسلامی نظریے کے ساتھ گڈمڈ ہو گئی ہیں‘‘ (شخصیات‘ صفحہ 232)۔ مولانا ابو الحسن علی ندوی کی بھی سنیے‘ جو ایک وقت میں جماعت اسلامی کا حصہ رہے۔ مولانا کی فکر پر ان کی تنقید وہی ہے‘ جو جاوید غامدی صاحب کی ہے۔ وہ بھی مگر‘ اسی سلسلۃ الذہب کی ایک کڑی ہیں۔ اب اگر غزالی و ابن تیمیہ‘ آزاد و مودودی اور مودودی و علی میاں تجدید و احیائے دین کی روایت کا تسلسل ہو سکتے ہیں تو مودودی و غامدی کیوں نہیں؟مولانا مودودی اور جاوید غامدی صاحب میں فکری مماثلتیں بھی بہت ہیں۔ مثال کے طور پر‘ حدیث و سنت کے باب میں دونوں کا نقطۂ نظر ایک ہے۔ میں اس کی بہت سے مثالیں دے سکتا ہوں۔ واقعہ یہ ہے کہ عقیدت مندوں نے نہ تو مولانا مودودی کو طالب علمانہ انداز میں پڑھا ہے اور نہ غامدی صاحب کو۔ انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ انہوں نے آج جن الزامات کے ساتھ جاوید غامدی صاحب کو کٹہرے میں کھڑا کر رکھا ہے‘ کل مولانا مودودی بھی انہی الزامات کے ساتھ کٹہرے میں کھڑے تھے اور اُس وقت مدعی ہمارا روایتی مذہبی طبقہ تھا۔ واقعہ یہ ہے کہ وہ تمام لوگ‘ جنہوں نے روایت میں رہتے ہوئے قرآن و سنت پر آزادانہ غور کا راستہ اختیار کیا‘ وہ باہمی اختلاف کے باوجود ایک ہی لڑی میں پروئے ہوئے ہیں۔ ائمہ اربعہ اگر حلال و حرام میں اختلاف رکھتے ہوئے‘ ایک ہی روایت کے امین ہو سکتے ہیں۔ اقبال و مودودی‘ دو مختلف مذہبی دھاروں سے تعلق رکھتے ہوئے‘ جزوی اتفاق کی وجہ سے ایک لڑی میں پروئے جا سکتے ہیں تو مولانا مودودی اور جاوید غامدی کیوں نہیں؟جماعت اسلامی کی قیادت‘ میرے علم کی حد تک‘ کبھی کسی تشویش یا خوف میں مبتلا نہیں ہوئی۔ اُسے علم ہے کہ غامدی صاحب اُن کے حریف نہیں۔ دونوں کی دنیائیں الگ ہیں۔ عقیدت مندوں کو بھی پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ جو آنسو بے اختیار اقبال کی قبر پر بہہ نکلیں یا سید مودودی کے مرقد پر‘ مولانا امین احسن اصلاحی کی لحد پر یا شاہ اسماعیل شہید کے مزار پر‘ ان کی حقیقی ہونے میں مجھے کبھی شبہ نہیں ہوا۔ میں اقبال اور شاہ اسماعیل کی قبروں پر ایک جیسی کیفیت سے دوچار ہوا ہوں۔ آنسو دماغ کی نہیں‘ دل کی سنتے ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>گدگدی(عمران یعقوب خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-11-05/52973/99613905</link><pubDate>Thu, 05 Nov 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-11-05/52973/99613905</guid><description>مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ انہوں نے خواجہ آصف کے بارے میں جن خیالات کا اظہار کیا وہ محض انہوں نے خواجہ صاحب کو گدگدی کی تھی۔ سوچتا ہوں اگر یہ گدگدی تھی تو پھر نشتر زنی کیسی ہوتی ہو گی؟پاکستانی سیاست بھی عجیب رنگوں کی مصوری ہے۔ یہاں کبھی کوئی کسی کو للکارتا ہے‘ کبھی کوئی کسی کو آئینہ دکھاتا ہے‘ کبھی کوئی کسی کی تاریخ کھنگالتا ہے اور کبھی کوئی کسی کے صبر کا امتحان لیتا ہے‘ لیکن سیاست کے اس سنجیدہ اور خشک ماحول میں مولانا فضل الرحمن نے ایک ایسا لفظ اچھال دیا ہے جس نے سیاسی ایوانوں میں تفننِ طبع کی ایک نئی لہر پیدا کر دی ہے۔ ہماری سیاست میں عموماً لوگ ایک دوسرے کو چوٹ پہنچاتے ہیں اور پھر مرہم رکھنے کے بجائے نمک چھڑکتے ہیں تاکہ مخالف کو زیادہ سے زیادہ اذیت سے دوچار کیا جا سکے‘ مگر مولانا نے کمال کر دیا۔ پہلے نشتر زنی کو گدگدی قرار دیا‘ پھر وضاحت فرمائی کہ یہ تو محبت کا ایک معمولی سا اظہار تھا۔ اگر محبت کا معمولی سا اظہار اتنا شدید تھا تو شدید تر محبت کا شدید ترین اظہار کیسا ہوتا ہو گا؟ اب فریقِ مخالف اگر اس محبت یا گدگدی کو سیاسی حملہ سمجھ بیٹھے تو اس میں گدگدی کرنے والے کا کیا قصور؟ عام زندگی میں گدگدی کے بعد آدمی ہنستا ہے‘ مگر سیاست میں بعض گدگدیاں ایسی ہوتی ہیں کہ آدمی ہنسنے کے بجائے تقریر کرنے لگتا ہے‘ اذیت میں مبتلا ہو جاتا ہے اور اتنا کرب محسوس کرتا ہے کہ ردِ عمل دینے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ایسی گدگدی کا ایک فائدہ ضرور ہوتا ہے کہ بہت سی ایسی باتیں اور راز منکشف ہو جاتے ہیں جو قوم کے یہ کرم فرما شاید ایسے ہی مواقع کیلئے دل میں چھپا کر رکھتے ہیں۔ ساتھ ہی یہ سوال بھی ذہن میں ابھرتا ہے کہ یہ انکشافات وقت پر کیوں نہیں کیے جاتے کہ ان حالات و واقعات کا سد باب کیا جا سکے‘ یا کم از کم ان کا رخ موڑا جا سکے جو غلط فیصلوں اور اقدامات کے نتیجے میں رونما ہوتے ہیں اور ملکی تاریخ کا رخ موڑ کر رکھ دیتے ہیں۔ ایسے انکشافات صرف اسی وقت کیوں کیے جاتے ہیں جب سیاسی اختلافات سر ابھارتے ہیں؟ ہونا تو یہ چاہیے کہ کسی کام کو اسی وقت ٹھیک کیا جائے جب یہ غلط ہونا شروع ہوتا ہے۔ کیا ہمارے قابلِ قدر سیاسی لیڈر اس بات کا ادراک رکھتے ہیں کہ ان کی اس وقت کی خاموشی کیسے کیسے مسائل اور کیسے کیسے بحرانوں کا باعث بنتی رہی ہے؟اس سارے قصے کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ عوام کی طرح مذکورہ دونوں رہنما بھی ایک دوسرے کے سیاسی مزاج سے بخوبی واقف ہیں۔ خواجہ آصف کی زبان میں برجستگی اور طنز کا اپنا رنگ ہے۔ اپنے بیانات کے ذریعے فریقِ مخالف پر ایسا یکبارگی حملہ کرتے ہیں کہ فریقِ مخالف سنبھل نہیں پاتا‘ بڑی دیر بعد اس کے حواس بحال ہوتے ہیں جبکہ مولانا فضل الرحمن کے پاس الفاظ کا ایسا ذخیرہ ہے جس میں مذہبی استعارے بھی ہیں‘ سیاسی لطافت بھی اور موقع محل کے مطابق طنز کے تیر بھی۔ مولانا صاحب کی خاص بات یہ ہے کہ وہ بعض اوقات ایک فقرے میں وہ بات کہہ جاتے ہیں جس کیلئے دوسروں کو پوری پریس کانفرنس کرنا پڑتی ہے۔ بیان‘ تقریر یا خطاب کیلئے نستعلیق الفاظ اور فقروں کا استعمال بھی مولانا صاحب بخوبی جانتے ہیں۔ روزمرہ باتوں اور سیاسی تقریروں کے دوران خوبصورت تشبیہات اور استعاروں کا استعمال ان پر ختم ہے۔سوال یہ ہے کہ ہمارے ہاں سیاسی اختلافِ رائے کو اتنا ذاتی کیوں بنا دیا جاتا ہے؟ ایک سیاسی رہنما دوسرے کی بات سے اختلاف کرے تو جواب دلیل سے آنا چاہیے‘ نہ کہ نسب نامے‘ آبائی وفاداریوں اور ملک چھوڑنے کے مشوروں سے۔ سیاست کا حسن یہی ہے کہ مخالف کو مخالف سمجھا جائے‘ دشمن نہیں ورنہ گدگدی اور مکے کا یہ سلسلہ چلتا رہے گا اور عوام تماشائی بن کر کبھی ہنسیں گے‘ کبھی پریشان ہوں گے کہ ہمارے ملک میں آخر یہ ہو کیا رہا ہے؟ سیاست حقیقت میں ذاتی دشمنی یا تعصب کا نام نہیں بلکہ یہ اختلافِ رائے‘ نظریے‘ منطق اور دلائل کا تلازمہ ہے۔ سیاست میں مختلف خیالات اور نظریات کا ہونا فطری ہے لیکن یہ اختلاف ذاتی عداوت یا دشمنی میں نہیں بدلنا چاہیے۔ اصل سیاست اصولوں‘ فکری مباحث‘ منطق اور عوام کی بہتری کیلئے لائحہ عمل پیش کرنے کا نام ہے‘ نہ کہ کردار کشی کا۔ جو لوگ سیاسی اختلاف کو ذاتی دشمنی تک لے جاتے ہیں‘ وہ جمہوریت کی روح کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ سیاسی نظام کا اصل مقصد معاشرے کی اصلاح‘ عدل و انصاف کا قیام اور عوام کے مسائل کا حل ہوتا ہے‘ اور ہونا چاہیے۔سیاست کے اس سارے کھیل میں عوام کا حال بھی قابلِ دید ہے۔ انہیں مہنگائی گدگدی بلکہ نشتر زنی کرتی ہے تو وہ ہنس نہیں پاتے‘ بجلی اور گیس کے بل مُکا بن کر آتے ہیں تو ان کا چہرہ پہلے ہی سرخ ہوتا ہے۔ گاڑیوں میں پٹرول ڈلوانا پڑ جائے تو بندہ سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ پٹرول ڈلوائے یا گھر والوں کیلئے آٹا خریدے؟ سیاستدان ایک دوسرے کی گدگدی اور مکوں پر بحث کرتے رہتے ہیں لیکن عوام کی سوچ ایک ہی مسئلے تک محدود رہتی ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی میں گھر کے اخراجات کیسے پورے ہوں؟ عوام سوچتے ہیں‘ قومی رہنماؤں میں کاش کوئی ایسا بھی ہو جو اُن کے مسائل کو سنجیدگی سے لے اور ان کی زندگی میں خوشی کی کوئی حقیقی گدگدی کرے۔ نشتر زنی نہیں‘ خوشگوار گدگدی۔سائنسدانوں نے گدگدی کو بنیادی طور پر دو اقسام میں تقسیم کیا ہے۔ گارگالیسس (Gargalesis) وہ گدگدی ہے جو کوئی دوسرا شخص کرے تو اس پر زوردار ہنسی آتی ہے اور بعض اوقات اس ہنسی کو روکنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ نزمیسس (Knismesis) ہلکی سی سرسراہٹ یا کھجلی جیسے احساس کو کہتے ہیں جو پروں یا انگلیوں کو ہلکے سے پھیرنے سے ہوتا ہے اور اس پر ہنسی نہیں آتی‘ لیکن جسے گدگدی کی جاتی ہے وہ حظ ضرور اٹھاتا ہے۔ ہمارے مولانا نے گدگدی کی تیسری قسم متعارف کرا دی ہے‘ جس میں جسے گدگدی کی جائے وہ دوسرے کی باتوں کی تپش پوری طرح محسوس کرتا ہے اور ردِعمل ظاہر کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔بہرحال مولانا صاحب کا یہ فقرہ کہ خواجہ آصف بڑے بھائی ہیں‘ میں نے تو انہیں ہلکی سی گدگدی کی ہے‘ ہماری سیاسی لغت میں ایک نئے محاورے کا اضافہ ضرور کر گیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ خواجہ آصف اس گدگدی کو محض ایک دوستانہ شرارت سمجھتے ہیں یا اس کا جواب دینے کیلئے کوئی نئی سیاسی اصطلاح ایجاد کرتے ہیں۔ ہماری دعا ہے کہ دونوں بزرگ سیاستدانوں کے مابین یہ معاملہ گدگدی تک ہی محدود رہے‘ مکوں تک نہ پہنچے کیونکہ ملک پہلے ہی بہت سے مسائل کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے‘ اس میں مزید سیاسی مکے برداشت کرنے کی سکت نہیں ہے۔ گزارش صرف یہ ہے کہ آپ ایک دوسرے کو ضرور گدگدی کرتے رہیے‘ مگر خدارا عوام کا بھی کچھ خیال کریں کہ وہ مہنگائی کی گدگدیوں یعنی نشتر زنیوں کی وجہ سے بے حال ہوتے جا رہے ہیں۔مولانا فضل الرحمن اور خواجہ آصف کا معاملہ ابھی طے نہیں ہوا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور وفاقی وزیر چودھری سالک حسین کے مابین بیانات کی جنگ شروع ہو گئی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے صوبائی حکومت پر کرپشن کے الزامات عائد کرنے پر چودھری سالک حسین کو پانچ ارب روپے ہرجانے کا قانونی نوٹس ارسال کردیا ہے جبکہ وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ پنجاب میں کرپشن سے متعلق اپنے بیان پر قائم ہوں۔ اب اس نئی جنگ کو گدگدی قرار دیا جا سکتا ہے یا نہیں‘ اس کا فیصلہ قارئین خود کر لیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_58350786.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>قلعہ بالا حصار اور جرنیلی سڑک(سعود عثمانی )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-11-05/52974/31977850</link><pubDate>Thu, 05 Nov 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-11-05/52974/31977850</guid><description>پشاور کا قدیم قلعہ بالا حصار خاموش تھا۔ بالا حصار اور سامنے بچھی ہوئی رواں دواں جرنیلی سڑک ایک دوسرے کو تکتے تھے۔ قلعہ بالا حصار نے حیرانی اور خاموشی سے یہ منظر دیکھے کہ پشاور میں حکومت بدل گئی‘ نئے حکمران آ گئے اور پرانے حکمران اسیر ہو گئے۔ نہ انکی کوئی خبر آتی ہے‘ نہ بیان۔ پرانے کوتوال‘ داروغہ اور عمال معزول کر دیے گئے۔ نئے لوگوں نے مسندیں سنبھال لیں۔ سب کچھ ہوگیا لیکن ایسے جیسے کچھ نہیں ہوا۔ قصہ خوانی اور نمک منڈی میں چپل کباب اور نمکین گوشت کی مہک اسی طرح‘ اور ارغوانی قہوے کی محفلیں اسی طرح سج رہی ہیں۔ ایسی تبدیلی قلعہ بالا حصار نے پہلے کب دیکھی تھی۔بالا حصار کو 1826ء کا زمانہ یاد آنے لگا۔ قلعہ لاہور کے عجائب گھر میں ایک حنوط شدہ گھوڑی کھڑی یاد آئی۔ گھوڑی کا نام لیلیٰ تھا اور اس لیلیٰ کے ایک نہیں کئی مجنوں تھے۔ ایک سے ایک بڑا عاشق اور ایک سے ایک بڑا حکمران۔ لیلیٰ پشاور کے حکمران یار محمد خان کی ملکیت تھی۔ یار محمد خان کا بھائی اسی دور میں کابل کا حکمران تھا۔ لیلیٰ کی خوبصورتی اور خصوصیات کی شہرت دور دور تک پہنچی ہوئی تھی اور بڑے بڑے حکمران‘ جن میں شاہِ روم بھی شامل تھا‘ اس کیلئے خطیر رقم کی پیشکش یار محمد خان کو کر چکے تھے لیکن اسے اس گھوڑی سے عشق تھا اور وہ کسی قیمت پر اسے جدا کرنے کو تیار نہیں تھا۔ تختِ لاہور کے سردار رنجیت سنگھ تک لیلیٰ کی خوبصورتی اور خصوصیات کی تفصیلات پہنچیں تو اعلیٰ گھوڑوں کا یہ شائق بے قرار ہو گیا۔ وہ ہر قیمت پر یہ گھوڑی حاصل کرنا چاہتا تھا‘ چاہے اس کیلئے کتنی ہی مائوں کے جوان بیٹے اور کتنی ہی عورتوں کے سہاگ قربان ہو جائیں۔ سکھا شاہی کا دبدبہ پشاور کے حکمران کو لرزاتا تھا لیکن اس نے رنجیت سنگھ کا ہر مطالبہ ٹھکرا دیا۔ اس کا ایک پہلو یہ بھی تھا کہ کسی حکمران کی طرف سے مطالبے پر گھوڑے کا دیا جانا ایک طرح سے سر اطاعت خم کرنے کے مترادف سمجھا جاتا تھا۔ سکھ فوجیں پشاور پہنچنے لگیں تو وہ لیلیٰ کو لے کر پہاڑوں کی طرف فرار ہو گیا۔ ایک بار نہیں‘ بار بار کی جنگوں اور سفارتوں کی جزئیات قلعہ بالا حصار کے سینے میں دفن ہیں۔ لیلیٰ کو تو بالآخر بہت سی جنگوں کے بعد رنجیت سنگھ نے حاصل کر لیا لیکن ٹرائے کے ٹروجن ہارس کے بعد یہ پہلی گھوڑی تھی‘ جس کے سبب پشاور کی وادیاں بار بار لالہ رنگ ہوئیں۔قلعہ بالا حصار 2026ء میں بھی اپنی بلند فصیلوں کے ساتھ جرنیلی سڑک پر کھڑا ہے۔ اب ان خونیں معرکوں کو 200 سال بیت چکے ہیں۔ کچھ ہی دن پہلے کی بات ہے‘ قلعے کے اطراف نعروں اور للکاروں سے گونجتے تھے۔ لگتا تھا حکومت گرائی جائے گی تو اس بار زیادہ خون بہے گا۔ لیکن قلعے کو حیرت ہے کہ اس بار معرکے میں نہ کوئی جانی نقصان ہوا اور نہ ہی کوئی زخمی ہوا ۔ نہ توپیں گرجیں اور نہ کوئی سپاہی فصیل پر کمند ڈال کر چڑھا۔ سب کچھ اس طرح خاموشی سے بدل گیا جیسے دن رات میں اور رات دن میں بدلتے ہیں۔ بالا حصار ان نعرے بازوں اور للکارنے والوں کو تلاش کرتا ہے جو کچھ دن پہلے یہیں تھے اور اب کہیں نظر نہیں آتے۔ قلعے کو یاد ہے کہ 200 سال پہلے کے حکمران کو بھی سمجھایا گیا تھا کہ ایک گھوڑی کیلئے ہزاروں نوجوانوں کو مروا دینا کوئی دانشمندی نہیں لیکن اس نے ایک نہیں سنی۔ وہ اپنی جذباتیت‘ اپنے گھمنڈ اور اپنے عشق میں وہ سب کچھ پڑھنے سے قاصر تھا جو قلعے کی دیواروں پر لکھا نظر آ رہا تھا۔ 200 سال بعد 2026ء کے معزول حکمران کو بھی دانشمندوں اور خیر خواہوں نے بہت سمجھایا کہ یہ آخری قلعہ اپنی جذباتیت اور غیر دانشمندی کی نذر نہ کریں۔ معاملات تدبر اور حکمت سے سلجھانے چاہئیں۔ اپنے اسیروں کو رہا کرانے اور قلعے کو محفوظ رکھنے کا یہی راستہ ہے۔ یہ دیواروں پر لکھا ہوا سب کو نظر آ رہا تھا لیکن جذباتیت اور گرم خون ہر بار عقل کا راستہ روک لیتے ہیں۔بالا حصار کو حیرانی ہے کہ زمین کے طول و عرض میں لوگ حکومت کی تبدیلی پر احتجاج کیلئے نہیں نکلے۔ یہ کیا ہوا اور کیسے ہوا۔ یہ گھرانہ تو لاکھوں لوگوں کو سڑکوں پر لایا کرتا تھا‘ اس کی عوامی طاقت تھی۔ وہ سب کہاں گئے! جو ہو چکا اس سے زیادہ کیا ہو سکتا تھا! لیکن سکوت نہیں ٹوٹا۔ کہیں اگر بحث ہو رہی ہے تو پشاوری حکومت کی معزولی پر نہیں بلکہ ایک الگ معاملے پر۔ سکوت اگر کہیں ٹوٹا تو صرف دارالحکومت کے ایوانوں میں جہاں کرسیوں پر بیٹھے وزیروں‘ ایک سابقہ اور ممکنہ طور پر نئے خواہشمند حکمران کے درمیان زبانی جھڑپیں ہوئیں۔ یہ زبانی تلواریں پشاوری حکومت کی معزولی سے متعلق اتنی نہیں تھیں جتنی باتیں ایک دوسرے کے کردار سے متعلق کی گئیں۔ معتوب‘ معزول گروہ کا ان زبانی جھڑپوں میں حصہ بس اتنا تھا کہ انہوں نے وزیروں کی مذمت کی اور ان کے مخالف کا ساتھ دیا۔ یہی کچھ ہے ساقی متاعِ فقیر۔بالا حصار میں اگر قوتِ گویائی ہوتی تو وہ چند دن پہلے کے تخت نشین اور اب اسیر حاکم کو سمجھاتا کہ حکومتیں صرف طاقت سے نہیں چلا کرتیں۔ توپیں اور بندوقیں حفاظت کیلئے ہمیشہ ناکافی ہوتی ہیں۔ بڑی توپوں اور زیادہ بندوقوں والے فصیلیں مسمار کرکے محل سرا میں داخل ہو جایا کرتے ہیں۔ ہر طاقتور سے اوپر کوئی طاقتور ہوا کرتا ہے۔ قلعہ اپنے حاکم کو بتاتاکہ حکومت صرف جذبات کو کرسی پر بٹھا دینے کا نام نہیں۔ یہ صرف للکارنے اور نعرے بلند کرنے کا نام نہیں۔ حکومت اور حکمت ایک ساتھ مسند نشین ہونی ضروری ہیں۔ حکومتیں تدبر‘ لچک اور استقامت کے بہترین امتزاج سے باقی رہتی ہیں۔ ہر دلعزیزی بھی ایک حد تک ہی کام دیتی ہے۔ اس کے ساتھ کارکردگی نہ ہو‘ رعایا کی فلاح کے کام نہ ہوں‘ وزارتیں معطل پڑی رہیں‘ وزیروں کو جلسوں ہی سے فرصت نہ ہو‘ محکمے کام ٹھپ کر کے بیٹھ جائیں کہ تمام عملے کو جلسوں اور جلوسوں میں شامل کرنے کے احکام ہوں‘ پوری سلطنت میں ہر روز کبھی سرحدوں پر‘ کبھی شہروں میں خون بہہ رہا ہو تو محض ہر دلعزیزی سے کب تک کام چلایا جا سکتا ہے؟بالاحصار کو 2013ء یاد آنے لگا۔ جب پہلی بار ایک مقبول اور ہر دلعزیز گھرانہ اس کے محلات میں صوبیداروں کے طور پر داخل ہوا۔ کیسی خوشی کی لہر پورے ملک میں دوڑی ہوئی تھی۔ صرف اس صوبے میں نہیں‘ ملحقہ صوبوں میں بھی اس کی طاقت سب پر عیاں تھی۔ سب سے بڑی بات کہ دارالحکومت میں بھی اس کی طاقت جانی مانی تھی۔ کیسی کیسی توقعات‘ کیسی کیسی امیدیں اس گھرانے سے لگائی جا رہی تھیں۔ صوبیداروں اور گھرانے کے سربراہ کے تحریری‘ تصویری وعدے موجود تھے کہ ہم 90 دن کے اندر کایا پلٹ کر دیں گے۔ امن وامان اور انصاف ہر ایک کا مقدر ہوگا۔ گروہی لڑائیاں اور اقتدار کی چھینا جھپٹی اپنے اختتام تک پہنچے گی۔ لیکن جب پشاور کے صوبیدار کا اعلان ہوا۔ خٹک سردار صوبیدار بنا اور یکے بعد دیگرے صوبیدار آتے اور جاتے گئے تو اندازہ ہونے لگا کہ طریقِ کوہکن میں بھی وہی حیلے ہیں پرویزی۔ وہی محلاتی جوڑ توڑ‘ وہی غلام گردشوں میں سجے سجائے غلام اور وہی لوگوں کی بے لباسی۔ صوبیداروں کو اتنی فرصت ہی نہ تھی کہ وہ لوگوں کے مسائل حل کریں۔ وہ لوگوں سے صرف جلسوں اور جلوسوں میں ملتے تھے۔ صرف دارالحکومت پر چڑھائی کیلئے انہیں بلاتے تھے۔ لوگ صرف زخمی ہونے‘ قید ہونے یا مرنے کیلئے تھے۔ اس سے زیادہ ان کا نئے انتظام میں کوئی عمل دخل نہیں تھا۔ 156 مہینے 13 سالوں میں تبدیل ہو گئے لیکن بدلا کچھ نہیں۔ تبدیلی آئی بھی نہیں اور تبدیلی آ بھی نہیں رہی تھی۔جرنیلی سڑک نے قلعہ بالا حصار کی طرف دیکھا۔ دونوں قدیم ساتھی ایک دوسرے کے دکھ پہچانتے تھے۔ سڑک نے قلعے سے کہا: تمہیں پتا ہے ہمارے المیے کیا ہیں؟ ہم ان صوبیداروں سے زیادہ تاریخ جانتے ہیں‘ ان حکمرانوں سے زیادہ دانشمند ہیں‘ ان عُمال سے زیادہ عوام کا مزاج جانتے ہیں۔ یہی ہمارا پہلا المیہ اور پہلا دکھ ہے۔ پھر یہ کہ ہماری بات کوئی سنتا نہیں‘ سنتا ہے تو سمجھتا نہیں۔ یہ دوسرا بڑا المیہ‘ دوسرا دکھ ہے۔ بالا حصار خاموشی سے کھڑا رہا۔ آج اس میں جرنیلی سڑک سے بات کرنے کی ہمت بھی نہیں تھی۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_81278520.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>امتِ وسَط کی وحدت: شرعی مسلَّمات سے میثاقِ وحدت تک (1)(مفتی منیب الرحمٰن )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-11-05/52975/84536097</link><pubDate>Thu, 05 Nov 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-11-05/52975/84536097</guid><description>دنیا کے موجودہ حالات میں امتِ مسلمہ کو جن گونا گوں مسائل‘ فکری انتشار‘ سیاسی کشمکش اور باہمی اختلافات کا سامنا ہے‘ ان میں سب سے اہم اور بنیادی مسئلہ امت کا افتراق و انتشار اور وحدت و اجتماعیت کا فقدان ہے۔ ایک طرف مسلم دنیا مختلف سیاسی‘ دفاعی‘ معاشی اور معاشرتی بحرانوں سے دوچار ہے تو دوسری طرف باہمی اختلافات‘ گروہی تعصبات اور باہمی عدمِ اعتماد نے امت کی اجتماعی قوت کو کمزور کر رکھا ہے۔ ایسے حالات میں امت کے اہلِ علم‘ اربابِ فکر ودانش‘ دینی و سیاسی قائدین اور مختلف اسلامی اداروں کے ذمہ داران کا ایک جگہ جمع ہونا اور امت کے مستقبل کے حوالے سے سنجیدہ مشاورت کرنا یقینا ایک اہم اور قابلِ قدر پیش رفت ہے۔اسی پس منظر میں عالمی اتحاد برائے علمائے مسلمین &#39;&#39;الاتحاد العالمی لعلماء المسلمین‘‘ کے زیرِ اہتمام ترکیہ کے شہر استنبول میں 28 تا 30 اکتوبر 2026ء ایک اہم بین الاقوامی کانفرنس منعقد ہوئی۔ اسکا عنوان &#39;&#39;وحدۃ الامۃ الوسط من الثوابت الی میثاق الوحدۃ‘‘ تھا‘ یعنی &#39;&#39;امتِ وسط کی وحدت: ابدی‘ شرعی مسلّمات سے میثاقِ وحدت تک‘‘۔ اس کانفرنس میں ستر ممالک سے تقریباً تین سو سرکردہ علماء‘ مفکرین‘ سیاسی و مذہبی قائدین‘ مختلف اسلامی اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اس حوالے سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ محض ایک علمی کانفرنس نہیں تھی‘ بلکہ اسکے پس منظر میں امت کے منتشر شیرازے کو سمیٹنے‘ باہمی اختلافات کے باوجود مشترکہ مقاصد پر جمع ہونے اور وحدتِ امت کے تصور کو عملی شکل دینے کی ایک سنجیدہ کوشش کارفرما تھی۔ اس اہتمام اور کامیاب اجتماع پر &#39;&#39;عالمی اتحاد برائے علمائے مسلمین‘‘ کے صدر پروفیسر ڈاکٹر علی محی الدین قرہ داغی صاحب اور انکے جملہ رفقا اور معاونین تبریک اور تشکر کے مستحق ہیں۔اس کانفرنس کے انعقاد کیلئے استنبول شہر سے دور‘ سمندر میں ایک جزیرے کو منتخب کیا گیا تھا تاکہ شرکا یکسوئی اور اطمینان کے ساتھ علمی و فکری مباحث اور باہمی مشاورت میں حصہ لے سکیں۔ یہ جزیرہ یاشوادا (Yassiada) یعنی جزیرۂ جمہوریہ وحریّت کہلاتا ہے‘ اس جزیرے کی اپنی ایک تاریخی داستان ہے۔ ترکی کی سیاسی تاریخ میں 1960ء کی فوجی بغاوت ایک نہایت اہم اور المناک واقعے کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس فوجی انقلاب کے بعد اس جزیرے پر سابق وزیراعظم عدنان میندریس‘ صدر جلال بایار اور ڈیمو کریٹک پارٹی کے دیگر رہنمائوں کے خلاف مقدمات چلائے گئے۔ ان مقدمات کے نتیجے میں سابق وزیراعظم عدنان میندریس‘ ان کے دو ساتھیوں وزیر خارجہ فطین رشدی زورلو اور حسن پولاتقان کو 17 ستمبر 1961ء کو پھانسی دی گئی تھی۔ یوں یہ جزیرہ ترکی کی سیاسی تاریخ میں جمہوریت کی جدوجہد‘ سیاسی آزمائشوں اور قربانیوں کی علامت بن گیا۔ بعد ازاں اس جزیرے کا نام تبدیل کرکے &#39;&#39;جزیرۂ حریت و جمہوریت‘‘ رکھا گیا اور 2020ء میں اسے ایک نئی صورت میں کھولا گیا۔ ایک ایسا مقام جہاں کبھی سیاسی اختلافات اور اقتدار کی کشمکش کے نتیجے میں انسانی تاریخ کا ایک المناک باب رقم ہوا تھا‘ وہاں آج امتِ مسلمہ کے اتحاد‘ باہمی مشاورت اور اجتماعی مستقبل کیلئے دنیا بھر کے علما اور قائدینِ امت کا جمع ہونا بھی ایک خاص معنویت کاحامل ہے۔کانفرنس کی صدارت &#39;&#39;عالمی اتحاد برائے علمائے مسلمین‘‘ کے صدر پروفیسر ڈاکٹر علی محی الدین قرہ داغی صاحب فرما رہے تھے‘ انہوں نے اس عالمی اجتماع کے انعقاد اور اس کے مقاصد کو آگے بڑھانے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ کانفرنس کے بنیادی مقاصد میں امتِ مسلمہ کے مشترکہ دینی وفکری اصولوں کو واضح کرنا‘ شرعی مسلّمات اور اجتہادی متغیرات کے درمیان فرق کو سمجھنا‘ اختلافات کے باوجود باہمی تعاون کے امکانات تلاش کرنا اور وحدتِ امت کیلئے ایک قابلِ عمل لائحہ عمل تیار کرنا شامل تھا۔ اس اجتماع کی ایک نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ اس میں وحدتِ امت کو محض ایک جذباتی نعرے یا خطیبانہ موضوع کے طور پر پیش نہیں کیا گیا‘ بلکہ اس بات پر زور دیا گیا کہ اتحاد کیلئے علمی بنیادیں‘ ادارہ جاتی تعاون‘ سیاسی ہم آہنگی اور عملی منصوبہ بندی ناگزیر ہیں۔کانفرنس میں دو خصوصی ورکشاپس کا اہتمام کیا گیا تھا‘ جن کا مقصد وحدتِ امت کے تصور کو عملی منصوبوں میں تبدیل کرنا تھا۔ پہلی ورکشاپ سیاسی شخصیات اور قائدین کیلئے مختص تھی جس میں مختلف ممالک سے تشریف لانے والے مذہبی وسیاسی قائدین‘ علماء اور عمائدینِ امت نے عربی زبان میں &#39;منصوبۂ وحدت‘ کے عنوان سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ مختلف خطابات میں اُمتِ مسلمہ کی موجودہ صورتحال‘ باہمی اختلافات کے اسباب‘ مشترکہ دینی اقدار‘ فلسطین‘ یمن‘ روہنگیا‘ کشمیر سمیت مظلوم مسلمانوں کے مسائل‘ باہمی تعاون کے اصول‘ مشترکہ مفادات کے میدان‘ رابطے کے مستقل ذرائع اور امت کے اجتماعی مسائل کے حل کیلئے قابلِ عمل تجاویز پر گفتگو ہوئی۔ دوسری ورکشاپ اسلامی علمی و دینی اداروں کیلئے منعقد کی گئی جس میں علمی‘ تحقیقی‘ دعوتی اور فکری اداروں کے درمیان تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر مشترکہ علمی تحقیقات‘ انسائیکلوپیڈیاز کی تیاری‘ تعلیمی و تربیتی پروگراموں‘ علمی نیٹ ورک کے قیام اور مختلف ممالک کے دینی اداروں کے درمیان مستقل رابطوں کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ ان ورکشاپس کی اہمیت اس اعتبار سے بھی نمایاں تھی کہ امت کے مسائل کا حل صرف انفرادی کوششوں سے ممکن نہیں‘ بلکہ اس کیلئے اداروں‘ تنظیموں‘ علمی مراکز اور سیاسی قیادت کے درمیان مربوط تعاون ضروری ہے۔اس موقع پر ہمیں بھی اپنا مقالہ پیش کرنے اور خطاب کی دعوت دی گئی۔ ہم نے کانفرنس کے مرکزی موضوع سے متعلق اپنے خطاب میں امتِ وسط کے تصور‘ وحدتِ امت کے شرعی و فکری تقاضوں‘ مسلّمات و متغیرات کے فرق اور اختلافِ رائے کے شرعی آداب پر گفتگو کی۔ اس بات کو نمایاں کیا کہ امت کی وحدت کا مطلب علمی و فقہی تنوع کو ختم کرنا نہیں بلکہ اختلاف کے باوجود مشترکہ اصولوں اور بنیادی مقاصد پر جمع ہونا ہے‘ ہمارے خطاب کے چیدہ چیدہ نکات حسبِ ذیل ہیں: (1) اتحاد تمام انبیاء کے دین کی بنیاد ہے‘ قرآنِ کریم میں تعلیماتِ انبیاء کے حوالے سے ہے: &#39;&#39;اس نے تمہارے لیے دین کا وہی راستہ مقرر کیا ہے جس کی وصیت اس نے نوح کو کی تھی اور جس کی وحی ہم نے آپ کی طرف کی اور جسکی وصیت ہم نے ابراہیم‘ موسیٰ اور عیسیٰ کو کی تھی کہ دین کو قائم رکھو اور اس میں تفرقہ نہ ڈالو‘ مشرکین پر وہ چیز بہت بھاری ہے جس کی طرف آپ انہیں بلاتے ہیں‘‘ (الشوریٰ: 13)۔ اس مقام پر تمام انبیائے کرام کی تعلیمات کا محور و مرکز دو امور کو قرار دیا گیا ہے: (1) اقامتِ دین‘ (2) تفریق وتشتُّت سے اجتناب۔ پس اتحادِ اُمت کوئی ثانوی یا اختیاری معاملہ نہیں‘ بلکہ انبیائے کرام کی متفقہ دعوت اور دین کے بنیادی تقاضوں میں سے ہے۔ اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں سے نبی کریمﷺ کی جانب سے برأت وبیزاری کا اعلان فرمایا جنہوں نے اپنے دین کو تفرقے سے دوچار کر دیا اور گروہوں میں تقسیم ہو گئے۔ ارشاد فرمایا: &#39;&#39;بیشک جن لوگوں نے اپنے دین کو تفرقے سے دوچار کر دیا اور گروہوں میں بٹ گئے‘ آپکا ان سے کوئی تعلق نہیں‘ ان کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے‘ پھر وہ انہیں بتائے گا کہ وہ کیا کرتے رہے تھے‘‘ (الانعام: 159)۔ باہمی نزاع اور تفرقہ کو مسلمانوں کی قوت اور اجتماعی شوکت ودبدبے کے خاتمے کا سبب قرار دیتے ہوئے فرمایا: &#39;&#39;اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت کرو اور آپس میں جھگڑا نہ کرو ورنہ ہمت ہار بیٹھو گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی‘‘ (الانفال: 46)۔ نبیﷺ نے بھی مسلمانوں کو باہم بغض وحسد‘ شخصی عداوت اور جماعتی تعصب سے خبردار کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ ایسامرض ہے جو دینی اخوت اور اجتماعی وحدت کوکھوکھلا کر دیتا ہے اور مسلمانوں کی صفوں میں پھوٹ اور انتشار پیدا کر کے دین کو تباہ وبرباد کر دیتا ہے۔ آپؐ نے اسے &#39;&#39;حالقہ‘‘ یعنی مونڈ دینے والی چیز سے تعبیر فرمایا اور واضح کیا کہ مسلمانوں میں تشتُّت وافتراق اور تعصب سر کے بالوں کو مونڈنا نہیں‘ بلکہ دین کو جڑ سے اکھیڑ دینا ہے۔ (جاری)</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_61172381.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>