<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>معاشی استحکام، غذائی تحفظ اور سیاسی مفاہمت(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-16/11635</link><pubDate>Fri, 16 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-16/11635</guid><description>آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے بنکاک میں وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب سے ملاقات میں پاکستان میں معاشی استحکام اور اقتصادی جائزہ مکمل ہونے کے بعد سٹاف لیول معاہدے کو خوش آئند قرار دیا ہے اور پائیدار ترقی کی رفتار برقرار رکھنے کیلئے قرض پروگرام کی شرائط پر عملدرآمد اور بجٹ میں مقرر کردہ محصولات کے اہداف حاصل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے کی جانب یہ ہدایات ایسے موقع پر سامنے آئی ہیں جب سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر حملوں اور مشرقِ وسطیٰ کی بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مالیاتی ادارہ گلوبل معیشت اور توانائی کی سپلائی لائن متاثر ہونے کا سنگین خدشہ ظاہر کر رہا ہے۔ ایک طرف ملکی معیشت کو بیرونی محاذ پر منڈلاتے خطرات کا سامنا ہے اور دوسری طرف اندرونی ساختی مسائل ہیں‘ جن کے حل اوراصلاحات میں اب کسی سستی‘ تاخیر یا کوتاہی کی کوئی گنجائش باقی نہیں بچی۔اس وقت ایک بڑا معاشی چیلنج ملک کے ٹیکس نظام کی اصلاح اور مقررہ اہداف کا حصول ہے۔ رواں مالی سال کیلئے 15ہزار 264 ارب روپے کا تاریخی ٹیکس ہدف مقرر کیا گیا ہے‘ جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً ساڑھے سترہ فیصد زیادہ ہے۔ یہ ایک بدیہی حقیقت ہے کہ ہمیں اپنے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کی ضرورت ہے۔ ملکی معیشت کا المیہ یہ رہا ہے کہ ہمیشہ رجسٹرڈ مینوفیکچرنگ اور تنخواہ دار طبقے پر ٹیکسوں کا بوجھ ڈالا جاتا رہا جبکہ ریٹیل‘ ہول سیل‘ زراعت اور رئیل اسٹیٹ جیسے بڑے شعبے غیر دستاویزی اور ٹیکس نیٹ سے باہر رہے۔ ایسے میں محصولات کے ہدف کے حصول کیلئے حکومتوں کا زور بالواسطہ ٹیکسوں کی پالیسی پر رہا ہے جس کا سب سے ہولناک اثر عام آدمی کی زندگی پر پڑ رہا ہے‘ جس کی تصدیق ورلڈ بینک اور یو این ڈی پی کے بعد اب حالیہ گلوبل ہنگر انڈیکس رپورٹ سے بھی ہوتی ہے‘ جس کے مطابق پاکستان میں بھوک اور غذائی عدم تحفظ کی صورتحال انتہائی سنگین ہو چکی ہے۔ اس تازہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کا ہنگر انڈیکس سکور 25.5 ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ عالمی سکور 18.1 فیصد اور جنوبی ایشیا کا علاقائی سکور 23.5 فیصد ہے۔ 122 ممالک میں پاکستان 106ویں نمبر پر ہے اور خطے کے دیگر ممالک بھارت‘ بنگلہ دیش اور ایران سے بہت پیچھے ہے۔ مسلسل معاشی عدم استحکام‘ ریکارڈ مہنگائی اور موسمیاتی تبدیلیوں نے ملک کی بڑی آبادی کو بنیادی غذائی ضروریات سے محروم کر دیا ہے‘ خاص طور پر پانچ سال سے کم عمر بچوں میں غذائی قلت اور سٹنٹنگ کے بڑھتے ہوئے اعداد و شمار ملک کے مستقبل پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہیں۔ حالات کا تقاضا ہے کہ اب محض خوش کن اعداد وشمار کے گورکھ دھندے سے باہر نکل کر ٹھوس فیصلے کیے جائیں۔ آئی ایم ایف کے اہداف کا حصول اور ٹیکس نیٹ میں وسعت ناگزیر سہی مگر بڑھتی ہوئے غربت کے سنگین اشاریوں کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ عوام پر معاشی اصلاحات کا بوجھ اس حد تک نہیں بڑھنا چاہیے کہ وہ متوسط اور نچلے طبقے کو بھوک اور پسماندگی کی دلدل میں دھکیل دیں۔ ورلڈ بینک ایک حالیہ رپورٹ میں پاکستان میں 39.6 فیصد کثیر جہتی غربت کے علاوہ تقریباً 13 فیصد ایسے افراد کی بھی نشاندہی کر چکا ہے جو بمشکل اپنا سفید پوشی کا بھرم قائم رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی وقت غربت کی لکیر سے نیچے جا سکتے ہیں۔ لہٰذا اس مشکل وقت میں عوام کا معاشی تحفظ از حد ضروری ہے۔ ساتھ ہی اس بات پر بھی توجہ دینی چاہیے کہ پاکستان میں معاشی بحران کا معاملہ بہت حد تک سیاسی عدم استحکام کیساتھ بھی جڑا ہوا ہے۔ اس مسئلے کو حل کیے بغیر پائیدار معاشی استحکام ممکن نہیں ہے۔ گزشتہ چار پانچ برس کے تجزیے سے یہ بات بہ آسانی ثابت کی جا سکتی کہ جب بھی سیاسی عدم استحکام کا معاملہ سنگین ہوا‘ معیشت بھی لرزنے لگی۔ لہٰذا اب حکمت عملی میں سدھار لانے کی ضرورت ہے۔ معاشی استحکام کے تقاضے کے طور پر ہی سہی‘ سیاسی مفاہمت پر بھی توجہ دینی چاہیے۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پشاور سکول سانحہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-16/11634</link><pubDate>Fri, 16 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-16/11634</guid><description>پشاور میں ایک نجی سکول کی چھت گرنے سے 33معصوم طلبہ اور دو اساتذہ کے جاں بحق ہونے کے دلخراش سانحے نے پوری قوم کو سوگوار کر دیا ہے۔ اس سانحے کا سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے۔ گزشتہ چھ برسوں کے دوران ملک میں تعلیمی اداروں کی چھتیں اور دیواریں گرنے کے کم از کم 19 حادثات پیش آ چکے ہیں جن میں سے 12حادثات پنجاب‘ چار سندھ اور تین خیبر پختونخوا میں پیش آئے۔ مجموعی طور پر ان حادثات میں 77 افراد جاں بحق ہوئے‘ جن میں اکثریت چھوٹے بچوں کی ہے۔ ان مسلسل حادثات کے باوجود اگر تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی حفاظت کیلئے کوئی مؤثر‘ مستقل اور ملک گیر نظام قائم نہیں ہو سکا تو یہ محض انتظامی کوتاہی نہیں بلکہ حکومتی ترجیحات‘ ناقص منصوبہ بندی اور نگرانی کے نظام کی سنگین ناکامی ہے۔ جون میں لاہور میں کاہنہ میں ٹیوشن سنٹر کی چھت گرنے کے بعد خستہ حال عمارتوں میں قائم سکولوں اور ٹیوشن سنٹروں کے خلاف ملک گیر سطح پر کارروائی کی ضرورت محسوس کی گئی لیکن پشاور میں پیش آنے والا یہ حادثہ ظاہر کرتا ہے کہ دوسرے صوبوں نے کاہنہ سانحہ سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ ہماری حکومتیں ایسے افسوسناک سانحات رونما ہونے کے بعد ہی کیوں متحرک ہوتی ہیں۔ سکول کی عمارت کی حفاظت محض مالک کی ذمہ داری نہیں بلکہ ریاست کی نگرانی اور ضابطہ کاری سے بھی براہِ راست تعلق رکھتی ہے۔ متعلقہ اداروں کو نجی سکولوں کو این او سی جاری کرنے سے پہلے عمارت کی بنیادوں‘ ستونوں‘ چھتوں‘ دیواروں‘ تعمیراتی مواد اور مجموعی ساخت کی جانچ پڑتال مستند سول انجینئرز سے کرانی چاہیے۔ صرف کاغذی کارروائی یا رسمی معائنے کی بنیاد پر کسی عمارت کو تدریسی سرگرمیوں کیلئے محفوظ قرار دینا بچوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ اسی طرح نئے سکولوں کے علاوہ پہلے سے قائم شدہ تعلیمی اداروں کی بھی مرحلہ وار جانچ ضروری ہے‘ خصوصاً ان عمارتوں کی جو پرانی‘ خستہ حال یا غیر منظور شدہ اضافی تعمیرات کی حامل ہوں۔ مستقبل میں ایسے سانحات کیلئے تدارک کیلئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو مشترکہ حکمتِ عملی کے تحت تمام سرکاری و نجی سکولوں‘ مدارس اور ٹیوشن سنٹروں کا جامع سروے کرانا چاہیے۔ ہر ضلع میں مستقل انسپکشن ٹیمیں تشکیل دی جائیں‘ جو مقررہ مدت میں عمارتوں کا معائنہ کریں اور اپنی رپورٹ متعلقہ تعلیمی و تعمیراتی حکام کو جمع کرائیں۔ اگر ایسا کوئی نظام پہلے سے موجود ہے تو اسے فعال کرنے کی ضرورت ہے۔ پشاور سانحے کی تحقیقات کیلئے کمیٹیاں ضرور تشکیل دی جائیں مگر اصل امتحان یہ ہے کہ اس کے نتائج کی بنیاد پر ملک بھر میں حفاظتی نظام کی اصلاح کی جاتی ہے یا یہ معاملہ بھی چند روزہ خبروں اور سرکاری بیانات کے بعد فراموش کر دیا جاتا ہے۔ بچوں کی جان کسی بھی انتظامی غفلت‘ مالی مفاد یا ادارہ جاتی بے حسی سے زیادہ قیمتی ہے۔ وفاق اور صوبائی حکومتوں کو اب یہ ثابت کرنا ہو گا کہ وہ سانحات پر محض افسوس کا اظہار کرنے کے بجائے ان کی روک تھام کا عزم اور  صلاحیت بھی رکھتی ہیں۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مزاروں میں قید بلاول بھٹو اور اعجاز الحق(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-10-16/52850/72346945</link><pubDate>Fri, 16 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-10-16/52850/72346945</guid><description>پارلیمنٹ میں جنرل ضیا الحق کے برخوردار‘ اعجاز الحق اور بینظیر بھٹو کے بیٹے بلاول بھٹو زرداری کے درمیان بدھ کے روز جو تلخی ہوئی‘ اس سے ایک بات ثابت ہوتی ہے کہ نئی نسلوں کو اپنی پرانی نسلوں کے فیصلوں کی قیمت چکانا پڑتی ہے‘ چاہے اس میں ان کا کچھ کردار نہ ہو۔ تاریخ کا بوجھ انہیں اپنے کندھوں پر اٹھا کر جینا پڑتا ہے اور اس بوجھ سے وہ چاہیں بھی تو چھٹکارا نہیں پا سکتے۔ آپ چاہیں تو اعجاز الحق کے ساتھ ہمدردی کر سکتے ہیں جنہیں اپنے والد کے گیارہ سالہ دورِ حکمرانی کا جواب دینا پڑتا ہے۔ جب جنرل ضیا مارشل لاء لگانے کا فیصلہ کر رہے تھے‘ بھٹو کو پھانسی دینے کا فیصلہ ہو رہا تھا یا بعد میں سیاست اور سیاسی کارکنوں کے ساتھ جو کچھ ہوتا رہا‘ اعجاز الحق تو شاید اس وقت پاکستان میں بھی نہیں تھے لیکن ان گیارہ برسوں کا بوجھ اب وہی اپنے کندھوں پر اٹھائے پھرتے ہیں۔دوسری طرف بلاول بھٹو زرداری جنرل ضیا کی جانب سے اپنے خاندان پر لگائے گئے زخموں سے چور ہیں‘ اور ان کیلئے بھی یہ آسان نہیں کہ وہ اپنے نانا کی پھانسی اور اپنی ماں کے قتل کو محض اس لیے بھول جائیں کہ اعجاز الحق اس وقت ایوان کے رکن ہیں اور انہیں تکلیف ہو گی۔ پیپلز پارٹی اس لیے بھی زیادہ دلگرفتہ محسوس کرتی ہے کہ جو آخری دو مارشل لاء لگے ان دونوں میں اس کی قیادت ماری گئی۔ ضیا دور میں بھٹو کو پھانسی دی گئی اور پرویز مشرف دور میں بینظیر بھٹو قتل ہوئیں۔ لہٰذا مارشل لاء میں بھٹو خاندان نے جانی نقصان اٹھایا۔ اگرچہ بھٹو صاحب نے اپنے دورِ حکومت میں ایسے فیصلے کیے جو اُن کے زوال کا سبب بنے‘ خصوصاً انہوں نے جو اپوزیشن کے ساتھ ناروا سلوک روا رکھا‘ اس کا نتیجہ ملک کیلئے برا نکلا سو نکلا‘ خود انہیں بھی پھانسی پر لٹکنا پڑا۔گزشتہ روز اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ بھٹو ایک سال قید رہے اور بارہ سو بندے بھی اکٹھے نہیں ہوئے جو اُن کی قید کے خلاف مظاہرہ کرتے۔ انہیں پھانسی دی گئی تو بھٹو قوم کے قلندر بن گئے۔ وہ پوچھ رہے تھے کہ کیا وہ عمران خان کو بھی دوسرا قلندر بنانا چاہتے ہیں؟ لیکن کیا کریں! جب بھٹو وزیراعظم تھے تو انہیں کبھی یہ نہیں لگا کہ ایک دن ان سے کرسی چھن جائے گی۔ نہ ہی وزیراعظم عمران خان کو کبھی یہ لگا کہ وہ 2028ء سے پہلے ہٹا دیے جائیں گے۔ ان کے وزرا چینلز پر کھلے عام کہتے تھے کہ وہ یہاں اگلے دس برس کے لیے حکومت کرنے آئے ہیں۔ یہ عجیب دنیا ہے کہ جو ایک دفعہ وزیراعظم بن گیا‘ اب وہ ساری عمر وزیراعظم رہنا چاہتا ہے‘ چاہے اس کی بقیہ عمر جیل میں ہی کیوں نہ گزرے۔اعجاز الحق اور بلاول بھٹو کے درمیان اسمبلی میں زبانی جھڑپ کو دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ جہاں آپ کو اپنے والدین کی جائیداد اور دیگر وراثت ملتی ہے‘ وہیں ان کی دشمنیاں اور دوستیاں بھی وراثت میں ملتی ہیں اور آپ کو نہ چاہتے ہوئے بھی انہیں نبھانا پڑتا ہے۔ بزرگوں کی دوستیاں نبھانا آپ کا اپنا انتخاب ہوتا ہے لیکن خاندانی دشمنیاں آپ چاہ کر بھی نہیں چھوڑ سکتے اور آپ کو ہر دفعہ ان کا دفاع کرنا پڑتا ہے‘ چاہے آپ کو کتنا بھی یقین ہو کہ آپ کے بزرگ غلط تھے۔ اگر آپ اسے ماضی کا قصہ سمجھ کر بھولنے کی کوشش کرتے ہیں تو بھی ایسا نہیں کر سکتے‘ کیونکہ پھر سب کہتے ہیں کہ دیکھا! والد کی جائیداد تو لے لی لیکن اس کی باقی وراثت اچھی نہیں لگتی۔ لہٰذا آپ کو ہر فورم پر کھڑے ہو کر بزرگوں کا‘ اپنے والد کا دفاع کرنا پڑتا ہے جیسے اعجاز الحق کرتے آئے ہیں۔ اس سے پہلے یحییٰ خان کا بیٹا علی یحییٰ بھی اپنے والد کا دفاع کرتا تھا اور لڑنے پر تل جاتا تھا۔ اس کے نزدیک اس کا باپ ہیرو تھا‘ چاہے قوم اس کے بارے میں کوئی بھی رائے رکھتی ہو۔ وہ چینلز پر جا کر بحث کرتا کہ اس کے باپ کا کوئی قصور نہ تھا۔ اخبارات میں اس کے باپ کے خلاف کچھ چھپتا تو ضرور اپنا جواب بھیج کر اپنے باپ کا دفاع کرتا۔ اندازہ کریں کہ اکیلا بیٹا پوری قوم کے خلاف کھڑا ہو کر اپنے باپ کی عزت کے نام پر برسوں تک لڑتا رہا۔ ایک بیٹے سے یہی توقع کی جا سکتی ہے جو علی یحییٰ نے کیا۔ایک دفعہ ایک چینل پر علی یحییٰ کو اپنے مرحوم باپ‘ جنرل یحییٰ خان کا دفاع کرتے دیکھ کر میرے اندر ایک عجیب سی تکلیف ابھری۔ خیال آیا کہ کیا ایک باپ کو اپنے بچے کیلئے ایسی وراثت چھوڑ کر جانا چاہیے؟ ہم یحییٰ خان کو لاکھ برا کہیں لیکن اس کے بیٹے کیلئے وہ ہیرو تھا‘ جس کی عزت اور ساکھ پر وہ کوئی داغ برداشت نہیں کر سکتا تھا۔ میں نے سوچا کہ میں کم از کم اپنے بچوں کو کہہ کر جاؤں گا کہ میرے مرنے کے بعد انہیں کسی فورم پر میرا دفاع کرنے کی ضرورت نہیں۔ میں بھی چھوٹی موٹی سہی مگر پبلک لائف گزارتا ہوں۔ میرے بھی دوست اور دشمن ہوں گے۔ کچھ کو میں اچھا تو شاید ہزاروں کو برا لگتا ہوں گا۔ وہ سب میرے بارے میں اچھی بری رائے رکھتے ہوں گے۔ آپ کہاں کہاں اور کس کس سے بحث کرتے پھریں گے کہ نہیں! ہمارا باپ فرشتہ تھا۔ ہو سکتا ہے میں اپنے بچوں کیلئے فرشتہ ہوں لیکن باقی دنیا مجھے شیطان سمجھتی ہو۔ ہر بیٹے کی فلم میں اس کا باپ اس کا ہیرو ہوتا ہے جبکہ دوسرے کی فلموں میں وہ وِلن ہوتا ہے۔ میرے بچے یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ ہمارا باپ بہت اچھا تھا لیکن وہ اس بات کو ہر جگہ لاگو نہیں کر سکتے کیونکہ ہر ایک کے ساتھ میرا تعلق مختلف رہا ہے۔ اس سے بڑھ کر‘ میں نے زندگی بھر جو بھی فیصلے کیے‘ رپورٹنگ کی‘ کالم لکھے یا پروگرام کیے وہ اپنے بچوں کے مشورے سے نہیں کیے۔ جب وہ میرے مشوروں اور فیصلوں میں شریک ہی نہیں تو پھر میرے طرزِ عمل کا دفاع کیوں کریں؟ وہ اپنی آزاد زندگی گزاریں‘ ماضی سے جان چھڑا کر۔ باپ کی منفی وراثت کا بوجھ لے کر زندگی مت گزاریں۔ یہ ان کی زندگی ہے اور اس پر ان کا حق ہے۔ جیسے میرا اپنی زندگی پر حق تھا اور میں نے ان سے پوچھے بغیر سب کچھ کیا۔ لیکن یہ بات شاید بلاول بھٹو اور اعجاز الحق نہیں کہہ سکتے‘ یا شاید وہ ماضی کو دفن کر کے آگے نہیں بڑھ سکتے۔ ان دونوں کی سیاسی وراثت کا تقاضا ہی یہ ہے کہ وہ اسمبلی کے فلور پر ایک دوسرے سے ٹکراتے رہیں کیونکہ وہ اپنے اپنے بزرگوں کو اپنی اپنی جگہ درست سمجھتے ہیں۔ وہ خود کو مظلوم اور دوسرے کو ظالم سمجھتے ہیں۔ شاید بلاول بھٹو اور اعجاز الحق‘ دونوں اپنی اپنی جگہ ٹھیک ہیں۔ دونوں ماضی کے ان مزاروں میں قید ہیں جن میں سے ایک کی دیواریں بلاول کی پیدائش سے پہلے تعمیر کی گئی تھیں جبکہ دوسرے کے وقت‘ جب ضیا الحق نے بھٹو کا تختہ الٹ کر انہیں پھانسی دینے کا فیصلہ کیا‘ اس وقت اعجاز الحق شاید پاکستان میں بھی نہیں تھے۔ اعجاز الحق شاید وہ سب نہیں کر سکیں گے جو خواجہ آصف نے کیا تھا۔ مشرف دور میں ایک دن وہ اسمبلی میں کھڑے دھواں دھار تقریر کر رہے تھے کہ کسی نے طعنہ مارا کہ آپ فوجی آمریت کے خلاف کیا بات کرتے ہیں‘ آپ کے تو اپنے والد خواجہ صفدر جنرل ضیا کی شوریٰ کے رکن اور سپیکر قومی اسمبلی تھے۔ اس پر خواجہ آصف نے فوراً اپنی تقریر میں ہاتھ جوڑ کر کہا کہ میں قوم سے اپنے باپ کی طرف سے معافی مانگتا ہوں کہ انہوں نے ایک فوجی آمر کا ساتھ دیا۔ میرے لیے یہ پہلا منظر تھا کہ ایک بیٹے نے اپنے مرحوم باپ کی غلطی مان کر سرعام معافی مانگی۔ اعجاز الحق یقینا خواجہ آصف والا راستہ نہیں اپنا سکیں گے کہ وہ اپنے باپ کے اقدامات سے اعلانِ لاتعلقی کر کے معافی مانگیں۔ نہ ہی بلاول بھٹو سے توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ اعجاز الحق کی موجودگی میں ایسی بات نہ کہیں جس سے ایک بیٹے کو تکلیف ہو‘ جیسے علی یحییٰ کو ہوتی تھی۔ اعجاز الحق اور بلاول بھٹو‘ دونوں ماضی کے اُن مزاروں میں قید ہیں جہاں سے رہائی ممکن نہیں۔ آپ ان دونوں سے ہمدردی تو کر سکتے ہیں لیکن اس تاریخی بوجھ سے انہیں آزادی نہیں دلا سکتے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>افسانوی دنیا کا انجام(رسول بخش رئیس)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-10-16/52851/14471334</link><pubDate>Fri, 16 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-10-16/52851/14471334</guid><description>برسوں سے دل کی گہرائیوں میں پالے افسانوی خیالوں اور زمینی حقیقتوں میں مطابقت تو دور کی بات‘ کوئی توازن بھی نہ رہے تو میرے جیسا بندہ اپنے آبائی علاقے میں بھی اپنے آپ کو اجنبی محسوس کرتا ہے۔ جہاں پیدا ہوئے‘ بچپن گزارا اور پھر وہاں سے اُڑ کر تعلیم‘ روزگار اور نئی دنیاؤں کی تلاش میں دور نکل گئے تو گاؤں اور دیہات کا وہی پرانا نقشہ ذہن میں بسا رہا۔ جہاں بھی گئے اسے اپنی باقی قیمتی چیزوں‘ اگر کوئی تھی تو اس کے ساتھ چمٹائے رکھا۔ ہم خود تبدیل ہوتے رہے‘ دنیا بھی گھوم پھر کر دیکھی اور بڑے شہروں میں بسیرا رہا‘ مگر جب بھی واپس آبائی علاقے کی طرف جانا ہوا‘ ایسے پرانے خیالوں کی گٹھڑی سر پر رکھ کر جاتے اور اسے اپنے سامنے کھول کر چند دن گزارنے کے بعد واپس آ جاتے۔ اب یہ فیصلہ کرنا میرے لیے مشکل ہے کہ وہاں تبدیلیاں تیزی سے آئیں یا میں وقت کے ساتھ ان کا ادراک نہ کر سکا۔ یا پھر میں ہی 70‘ 80 سال پرانی خیالی دنیا سے نہ نکل سکا۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ہمارے دیہات دنیا کے دیگر دیہات کی طرح صاف ستھرے‘ ہرے بھرے اور نرم مزاج تو تھے ہی‘ قدرتی جنگلوں اور کھیتوں میں گھرے ہوئے بھی تھے۔ میری بچپن کی دنیا میں گھر اور جنگل کا قریبی رشتہ تھا۔ راستے بھی جنگلوں میں سے گزرتے تھے۔ جہاں جنگل ختم ہوتا‘ وہاں کھیت شروع ہو جاتے۔ گاؤں اور بستیاں چند گھروں سے لے کر 15‘ 20گھروں تک محدود تھیں۔ اکثر لوگ پیدل چل کر قریبی چھوٹے چھوٹے قصبہ نما گاؤں میں خرید و فروخت کیلئے جاتے۔ سائیکل بھی بہت کم تھے۔ بڑے زمیندار گھوڑوں پر سوار ہوکر شادی بیاہ اور دیگر تقریبات میں شرکت کے علاوہ دور دراز کا سفر بھی کرتے۔ ایک چھوٹا سا قصبہ تھا جہاں تیسری جماعت میں داخلہ اور وہاں مستقل رہائش کا بندوبست ہوا۔ کبھی گھروں کے باہر پانی نکلتے دیکھا اور نہ کاغذ کا کوئی پرزہ ہوا میں اُڑتے دیکھا۔اب چند ماہ کے بعد جانا ہوتا ہے تو ایسا لگتا ہے کہ اپنے اسی گھر میں بہت عرصے بعد مہمان کی صورت‘ کسی اور دنیا میں آ گیا ہوں۔ باہر نکلتے ہی ہر طرف موٹر سائیکلوں کی بے ہنگم دوڑ‘ شور‘ دھواں اور تنگ گلیوں میں غلاظت کے درمیان چھوٹے معصوم بچوں کو کھیلتے دیکھتا ہوں۔ شکر ہے‘ اب وہاں سیوریج اور صاف پانی کی سپلائی کے بعد گندے پانی کی بدبو تو بند ہوئی مگر ان تنگ گلیوں میں گھروں سے تقریباً پانچ سات بچوں کے نکل کر باہر کھیلنے کا کیا کریں‘ کہ اس تنگ گلی کے علاوہ کوئی جگہ ان کیلئے بچی ہی نہیں! پوری زندگی بار بار لکھ کر‘ اور جہاں جہاں کوئی موقع ملا‘ بات کر کے حکمرانوں اور عام آدمیوں کو یاد دلاتے رہے کہ آبادی کا پھیلاؤ سب کچھ نگل جائے گا‘ کچھ بھی نہیں بچے گا۔ انہی دیہات میں‘ جہاں جنگلوں سے گزر کر جایا کرتے تھے‘ اب کوئی درخت دکھائی نہیں دیتے۔ ہر طرف چند گھروں پر مشتمل بستیاں پھیلتی جا رہی ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ چھوٹا سا گاؤں دیکھتے ہی دیکھتے ایک بڑے قصبے میں تبدیل ہو گیا ہے۔ جب ہم نے گھر بنایا تھا‘ اس وقت وہاں زمین خریدنے کا کوئی سوال ہی نہیں تھا۔ ایک تو جن لوگوں کی جو حویلیاں تھیں‘ وہ ان کیلئے کافی تھیں۔ دوسرے‘ اس زمانے میں آبادی کا پھیلاؤ اس قدر نہ تھا۔ زمین خالی پڑی تھی۔ اکثر لوگ کسی سے اجازت نہیں لیتے تھے‘ مگر ہم نے زمین کے مالکان سے اجازت لے کر ایک چھوٹا سا مکان تعمیر کیا تھا۔ انہوں نے کوئی معاوضہ نہیں لیا۔ یہ ایک نہیں‘ کم از کم پنجاب کی حد تک‘ ہزاروں دیہات کی کہانی ہے۔ بازاروں‘ دکانوں اور نت نئے کاروباروں کو دیکھ کر یہ احساس گہرا ہوتا ہے کہ یہ وہ آبائی علاقہ نہیں رہا۔ نئی نسل کے دل میں ایسا کوئی خیال آ ہی نہیں سکتا کہ یہاں پہلے کیا تھا اور کیا نہیں تھا۔ دکھ کی بات تو یہ ہے کہ میری عمر کے بہت کم لوگ رہ گئے ہیں۔ ان زمانوں کے دوستوں اور لوگوں سے وابستہ مختلف کہانیوں کی بات کروں تو کس سے کروں؟ اکثر خاموش رہتا ہوں۔ ساتھ بیٹھے لوگوں سے اپنے ساتھیوں کے بارے میں کچھ پوچھتا ہوں تو اکثر جواب ملتا ہے کہ وہ اللہ کو پیارا ہو گیا ہے۔اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ ایک ہی زندگی میں کئی زندگیاں گزارنے کا موقع نصیب ہوا ہے‘ مگر جس انداز میں ہمارے آبائی دیہات تبدیل ہوئے ہیں‘ اس پر دل رنجیدہ ہے کہ اب وہ ہمارے بچپن کی فطری حقیقت کھو چکے ہیں۔ ان کی وہ شکل‘ ماحول اور شگفتگی اب افسانوی خیال بن کر رہ گئے ہیں۔ موٹر سائیکلوں‘ پھٹا رکشوں اور ٹریکٹر ٹرالیوں سے بچتے بچاتے‘ دھوئیں اور گرد و غبار کے درمیان نکلتے وقت میرے ماضی سے وابستہ افسانوی خیال آج کی حقیقت سے یوں ٹکراتے ہیں جیسے پہاڑوں میں بہت بڑا زلزلہ آ گیا ہو۔ دیہات اب غلیظ کچی بستیوں کی شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ بنیادی مسئلہ آبادی ہے‘ اور ابھی تک جنوبی پنجاب میں‘ یا کم از کم اُن علاقوں میں جہاں سے اب دو ہفتوں سے زیادہ عرصے کے دوران گزرا ہوں‘ یہی معلوم ہوتا ہے کہ &#39;&#39;دو بچے خوشحال گھرانہ‘‘ کا پیغام لوگوں نے ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیا۔ ہو سکتا ہے کہ یہ کبھی سنا ہی نہ ہو۔ اب لوگوں سے پوچھنا معیوب سا محسوس ہوتا ہے کہ ماشاء اللہ‘ آپ کے کتنے بچے ہیں؟ جواب دیتے ہوئے تمام بچوں کو گنتے ہی نہیں‘ صرف لڑکوں کی تعداد ہی بچوں میں شمار کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ پڑھے لکھے لوگوں سے بھی ابھی تک چھ سے کم کا جواب موصول نہیں ہوا۔ اب فیصلہ کر لیا ہے کہ آئندہ یہ سوال نہیں پوچھوں گا۔ آبادی کا جن بوتل سے نکل کر ہر طرف پھیل چکا ہے۔ دیہات کی عام دکانوں میں صاف پانی کا بندوبست ہو یا نہ ہو‘ آپ کو پلاسٹک کی بوتلوں میں رنگ برنگے مشروبات ضرور مل جائیں گے۔ صبح سویرے ایک کلو میٹر دور نکل کر کھیتوں کے درمیان پرانی دنیا تلاش کرتے ہوئے جو چیز روزانہ میری آنکھوں کو کھٹکتی ہے وہ کولڈ ڈرنک کی بوتلیں اور خوش نما پیکٹوں میں بچوں کو فروخت کی گئی مضر صحت بیکری کی اشیا ہوتی ہیں ۔ کسی بھی گاؤں میں چلے جائیں‘ آپ کو ان کے انبار ملیں گے۔ ایک روز بازار سے گرم دودھ خرید کر لانے کی درخواست کی۔ دنیا کے چار کونوں میں گھومنے‘ کھانے پینے کا موقع ملا ہے مگر ایسے دودھ کا ذائقہ پہلی بار چکھا۔ پانی تو ملاہی ہو گا‘ اس کے ساتھ اور کیا ملاوٹ ہو سکتی ہے‘ اس کا مجھے کوئی اندازہ نہیں۔ اخلاقیات‘ ایمان داری اور حلال کمائی بھی ہمارے پرانے دیہات کے ساتھ زمین کے اندر دفن ہو چکی۔ پاکستان کے ہر گاؤں میں آپ کو اڈا بازار ضرور ملے گا۔ اگر وہ آپ کے گاؤں میں نہیں تو شاید وہاں اڈا نہیں‘ اور اڈے کا نہ ہونا اب ممکن ہی نہیں کہ وہاں سے لوگوں کا شہروں کی طرف آنا جانا ہوتا ہے۔ ہر دکان کے سامنے ریہڑھیاں‘ ان کے آگے موٹر سائیکلوں کی قطاریں اور ایک فرلانگ سے بھی کم راستے پر ہر قسم کی گاڑیوں کا ایسا رش کہ سب نے ایک دوسرے کا راستہ بند کیا ہوتا ہے۔ آپ نے یہ منظر نہیں دیکھا تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کبھی دیہات میں گئے ہی نہیں۔ چلیں کوئی بات نہیں‘ ملتان‘ لاہور‘ راولپنڈی اور اسلام آباد کے مضافاتی علاقوں میں چلے جائیں‘ آپ کے شہروں کے بارے میں بھی افسانوی خیالات کی حدیں ختم ہو جائیں گی۔ دنیا بھی بدلی ہے‘ مگر اس نے خود کو ہر لحاظ سے بہتر بنایا ہے۔ ہم بدلے ہیں تو ہر طرف تباہی جلوہ گر ہے۔ اصل مسئلہ تو آبادی ہے‘ ہم صرف اس کے اثرات سے نمٹنے کی کوشش میں ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_33241568.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>گورنر راج اور دہشت گردی کا چیلنج(ڈاکٹر رشید احمد خاں)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr-rasheed-ahmad-khan/2026-10-16/52852/70429247</link><pubDate>Fri, 16 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr-rasheed-ahmad-khan/2026-10-16/52852/70429247</guid><description>11 اکتوبر بروز اتوار کو صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے وزیراعظم شہباز شریف کی ایڈوائس پر خیبر پختونخوا میں آئینِ پاکستان کی دفعہ 232 کے تحت ایمرجنسی اور دفعہ 234 کے تحت گورنر راج نافذ کر دیا۔ اس اقدام کے بعد خیبر پختونخوا میں سہیل آفریدی کی حکومت ختم ہو گئی‘ اور ان کی حکومت کے تمام اختیارات گورنر فیصل کریم کنڈی کو منتقل ہو چکے ہیں۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں آئین میں دیے گئے اختیارات کے تحت صوبائی حکومتوں کی برطرفی کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے قبل بھی خیبر پختونخوا‘ سندھ‘ بلوچستان‘ پنجاب اور مشرقی پاکستان میں اس نوع کے اقدامات کیے جا چکے ہیں۔ آئینی نقطۂ نظر سے یہ سب اقدامات جائز ہیں لیکن سیاسی لحاظ سے ان کے مضمرات کافی سنگین ثابت ہوئے۔ اس اقدام سے براہِ راست متاثر ہونے والی جماعت پی ٹی آئی کے علاوہ دیگر سیاسی جماعتوں‘ جن میں متحدہ اپوزیشن میں شامل جماعتیں‘ عوامی نیشنل پارٹی‘ سندھ کی قوم پرست جماعتیں اور ملک کی تقریباً تمام بار کونسلز شامل ہیں‘ نے اس اقدام کو ہدفِ تنقید بنایا اور اس کی واپسی اور حکومت کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے لیکن وفاقی حکومت نے اس اقدام کے حق میں جو دلائل دیے ہیں انہیں بھی آسانی سے رد نہیں کیا جا سکتا۔وفاقی حکومت کے مؤقف کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ نومبر 2022ء میں کالعدم ٹی ٹی پی کی طرف سے حکومتِ پاکستان کے ساتھ کیے گئے جنگ بندی کے معاہدے کو ختم کرنے کے اعلان کے بعد صوبے میں دہشت گردی کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے اور خاص طور پر گزشتہ دو برسوں میں ان واقعات میں تقریباً 800فیصد اضافے کے ساتھ یہ ملک کی سلامتی کے لیے ایک ہولناک خطرے کی صورت اختیار کر چکی تھی۔ وفاقی حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس کی بڑی وجہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کی طرف سے دہشت گردوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کے ساتھ عدم تعاون کی پالیسی تھی اور اس حقیقت کے پیشِ نظر کہ کے پی ایک فرنٹ لائن صوبہ ہے اور کالعدم ٹی ٹی پی نے اپنا تمام تر فوکس اسی صوبے پر جما رکھا ہے‘ وفاقی حکومت ایسی صوبائی حکومت کو کسی طور بھی برداشت نہیں کر سکتی جو اس کی کاؤنٹر ٹیررازم مہم میں تعاون کرنے پر آمادہ نہ ہو۔ یہ حقیقت بھی عیاں ہے کہ صوبائی حکومت کے تعاون کے بغیر دہشت گردی کے خلاف جنگ نہیں جیتی جا سکتی‘ اس لیے وفاقی حکومت نے صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی تمام تر ذمہ داری معزول وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پر ڈال دی ہے‘ کیونکہ انہوں نے متعدد درخواستوں کے باوجود وفاقی حکومت کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کندھے سے کندھا ملانے سے انکار کیا۔ لیکن تحریک انصاف نے ان الزامات کو رد کرتے ہوئے جوابی الزام عائد کیا ہے کہ وفاقی حکومت نے سیاسی اختلافات کی بنا پر پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کو انتقام کا نشانہ بنایا ہے۔اس بحث میں الجھے بغیر کہ کون کس حد تک درست ہے‘ اس حقیقت کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ دہشت گردی خصوصاً ٹی ٹی پی کے مسئلے پر پی ٹی آئی اور وفاقی حکومت کے مؤقف ایک دوسرے سے اتنے مختلف ہیں کہ دونوں کا ایک ساتھ چلنا تقریباً ناممکن تھا اور 11اکتوبر کو جو فیصلہ ہوا ‘ اس کی پیش گوئی ایک عرصے سے کی جا رہی تھی اور دہشت گردی کی کارروائیوں میں تیزی نے اسے ناگزیر بنا دیا تھا۔ اگرچہ گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد حکومت اور پی ٹی آئی میں ایک دفعہ پھر مذاکرات کی باتیں ہو رہی ہیں۔ مگر ان مذاکرات یا ان کی کامیابی کا امکان بہت کم ہے۔ کیونکہ اگر فریقین مذاکرات پر راضی ہو جاتے ہیں تب بھی ان کے ایجنڈے میں باقی سب کچھ تو شامل ہو سکتا ہے‘ لیکن گورنر راج کی واپسی یا صوبائی حکومت کی بحالی مکمل طور پر خارج از امکان ہے۔ اس لیے خیبر پختونخوا میں اب وفاقی حکومت کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کا تمام تر بوجھ اپنے کاندھوں پر اٹھانا ہوگا اور اس مقصد میں کامیابی کیلئے ایک نئی‘ بہتر‘ جامع اور ہمہ گیر حکمتِ عملی اختیار کرنا ہو گی کیونکہ صوبے میں دہشت گردی میں تیزی سے اضافہ بتاتا ہے کہ اب تک جس حکمتِ عملی کے تحت اس چیلنج کا سامنا کیا گیا ہے‘ وہ کامیاب ثابت نہیں ہوئی۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے عوام کے دل و دماغ جیتنا زیادہ اہم‘ بلکہ اس جنگ میں کامیابی کے لیے اوّلین شرط ہے۔ دہشت گردوں کی طرف سے اب مہلک ہتھیار بے دریغ استعمال ہو رہے ہیں‘ جس کی وجہ سے بھاری جانی و مالی نقصان ہو رہا ہے۔ اب تو دہشت گرد اپنی مذموم کارروائیوں میں ڈرون‘ کوآڈ کاپٹر اور مارٹر فائر کا استعمال بھی کر رہے ہیں۔ اس سے عام شہریوں‘ جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں‘ کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات ہیں۔اس حقیقت کے باوجود کہ دہشت گردوں کے خلاف جنگ کے لیے عوام قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ہیں‘ لیکن بڑے اور وسیع آپریشنز کے حوالے سے ان میں ہچکچاہٹ پائی جاتی ہے۔ اس لیے دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے سیاسی اتفاقِ رائے حاصل کرنے اور عوام‘ قبائلی عمائدین اور دیگر مقامی طبقات کو بھی ساتھ لے کر چلنے کی ضرورت ہے۔گزشتہ دو دہائیوں سے بھی زیادہ عرصے کے دوران پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت کچھ سیکھا ہے اور اس کے مطابق اپنی حکمت عملی اور لڑائی کے طریقۂ کار میں مناسب اور ضروری تبدیلیاں بھی کی ہیں مگر دہشت گردی کا ناسور ختم ہونے کے بجائے مسلسل بڑھ رہا ہے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جسے پوری طرح سمجھنے کے لیے حکام کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ اس سلسلے میں عوام اور مقامی سطح پر بااثر افراد‘ بالخصوص قبائلی عمائدین اہم اور مددگار کردار ادا کر سکتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی کے لیے سیاسی اِن پُٹ اشد ضروری ہے۔ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے ایسی صوبائی حکومت کا تعاون کلیدی اہمیت رکھتا ہے جس پر عوام کا اعتماد ہو‘ یعنی ایسی حکومت جسے عوام کے مسائل کے حل میں دلچسپی ہو‘ اور اپنی تمام تر توانائیاں اس مقصد کے لیے صرف کی ہوں۔دنیا میں فنِ حرب کے ماہرین کی عمومی رائے ہے کہ سیاسی قیادت کے تعاون اور مدد کے بغیر محض ہتھیاروں اور طاقت کے زور پر اپنے مقاصد کے حصول میں کامیاب نہیں ہو سکتی کیونکہ کوئی بھی جنگ‘ خواہ وہ دہشت گردی کے خلاف ہی کیوں نہ ہو‘ بنیادی طور پر ایک سیاسی عمل بھی ہوتی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس میں بیلٹ کے بجائے بُلٹ سے کام لیا جاتا ہے۔ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کا مسئلہ ایسا ہے جس کی جڑیں گہری ہیں اور اس کے کئی پہلو ہیں۔ اسے مکمل طور پر جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے ان تمام عوامل اور اسباب کا ادراک ضروری ہے جو اس آفت کا سبب بنے۔ ان میں انتہا پسندی بھی ایک اہم سبب ہے۔ دہشت گردی کو انتہا پسندی سے الگ نہیں کیا جا سکتا؛ دونوں کے خلاف بیک وقت جنگ کرنا ہوگی۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ سکیورٹی فورسز میدانِ جنگ میں اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر دہشت گردوں کا مقابلہ کریں اور انتہا پسندوں کو دہشت گردوں کے بیانیے کو فروغ دینے کے لیے کھلا چھوڑ دیا جائے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90264263.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>خواہشوں کے مدار(اسد طاہر جپہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/asad-tahir-jappa-/2026-10-16/52853/63544370</link><pubDate>Fri, 16 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/asad-tahir-jappa-/2026-10-16/52853/63544370</guid><description>جس طرح کائنات میں ہر شے ایک مدار میں قید ہے‘ اسی طرح انسان بھی اپنی خواہشوں کے ایک غیر مرئی مدار میں زندگی بھر گردش کرتا رہتا ہے۔ زمین سورج کے گرد چکر لگاتی ہے‘ ستارے چاند کے گرد جھرمٹ بنائے رکھتے ہیں‘ اور کہکشائیں اپنے مرکز کے گرد رقص کرتی ہیں۔ کائنات کا یہ سارا حسن و جمال ایک توازن اور ایک مدار کا پابند ہے۔ اگر کوئی ستارہ اپنے مدار سے ذرا سا بھی ہٹ جائے تو سارا نظام درہم برہم ہو جائے۔ بالکل اسی طرح انسانی زندگی بھی خواہشوں کے مدار کی پابند ہے‘ فرق صرف اتنا ہے کہ فلکیاتی مدار فطرت نے متعین کیے ہیں اور انسانی خواہشوں کے مدار انسان خود بناتا ہے اور خود ہی ان کا قیدی بن کر رہ جاتا ہے۔انسانی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ انسان کبھی بھی حالتِ سکون میں نہیں رہا۔ وہ ہمیشہ حالتِ سفر میں رہا ہے۔ کبھی صحراؤں میں پانی کی تلاش میں‘ کبھی پہاڑوں میں سکون کی تلاش میں تو کبھی سمندروں کے پار نئی دنیا کی تلاش میں۔ لیکن اصل سفر اس کے باہر کا نہیں‘ اس کے اندر کا ہے۔ باہر کا سفر تو ختم ہو جاتا ہے‘ ایک منزل آ جاتی ہے‘ ایک ساحل مل جاتا ہے لیکن اندر کا سفر‘ خواہشوں کا سفر دائروں کا سفر ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔ انسان ایک خواہش کے پیچھے بھاگتا ہے‘ اسے حاصل کر لیتا ہے‘ تو چند لمحوں کیلئے اسے لگتا ہے جیسے منزل مل گئی‘ سکون مل گیا‘ مگر جلد ہی اس منزل سے اکتاہٹ پیدا ہونے لگتی ہے اور ایک نئی خواہش جنم لیتی ہے۔ یوں وہ پھر سے مسافر بن جاتا ہے۔ ماہرینِ نفسیات کا خیال ہے کہ انسانی خواہشات لا محدود ہیں۔ معاشیات کا تو سارا ڈھانچہ ہی اسی ایک اصول پر کھڑا ہے کہ وسائل محدود ہیں اور خواہشات لا محدود۔ ایک بچہ پہلے پہل کھلونا مانگتا ہے‘ جوانی میں یہی بچہ ڈگری چاہتا ہے‘ پھر نوکری‘ گاڑی‘ گھر اور پھر شہرت۔ ہر خواہش ایک نئی خواہش کو جنم دیتی ہے۔ بڑھاپے میں بھی یہ سلسلہ ختم نہیں ہوتا۔ ہاں مگر تب خواہشات کی نوعیت بدل جاتی ہے۔ اب وہ صحت چاہتا ہے‘ اپنے بچوں کی کامیابی چاہتا ہے‘ لوگوں کی توجہ چاہتا ہے۔خواہشوں کے اس مدار کی سب سے بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ کبھی یکساں نہیں رہتا بلکہ آئے روز بدلتا رہتا ہے۔ آج جو چیز زندگی اور موت کا مسئلہ لگتی ہے‘ کل وہ بے معنی ہو جاتی ہے۔ آج ہم جس انسان کے بغیر جینے کا تصور بھی نہیں کر سکتے‘ کل اسی کے بغیر جینا سیکھ لیتے ہیں۔ آج جس عہدے کیلئے ہم راتوں کی نیند حرام کر دیتے ہیں‘ کل اسی عہدے پر بیٹھ کر ہم کسی اور مقام و مرتبہ کے خواب دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ یہی تغیر پذیری اس مدار کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے۔ فلکیاتی مدار تو صدیوں تک ویسے کے ویسے رہتے ہیں‘ لیکن انسانی خواہشوں کے مدار ہر صبح نئے ہوتے ہیں۔ اس کی ایک بنیادی وجہ انسانی فطرت میں پوشیدہ ہے۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے اشرف المخلوقات بنایا اور اس کے اندر تجسس اور تشنگی کا ایک ایسا مادہ رکھ دیا جو کبھی سیر نہیں ہوتا۔ اگر انسان کی ہر خواہش پوری ہو جائے اور اسے مزید کچھ نہ چاہیے ہو تو اس کی زندگی میں جمود آ جائے گا اور ترقی کا پہیہ جام ہو جائے گا۔ یوں تہذیبیں ختم ہو جائیں گی۔ اس لحاظ سے خواہشات کا ہونا بذاتِ خود برا نہیں ہے۔ مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب خواہش ضرورت سے بڑھ کر ہوس بن جائے۔ خواہش اور ہوس میں ایک باریک سا فرق ہے۔ خواہش وہ ہے جو آپ کو بہتر بنائے‘ آپ کو حرکت دے۔ جبکہ ہوس وہ ہے جو آپ کو گھیر لے‘ آپ کو اپنا اسیر بنا ڈالے۔ خواہش کے مدار میں انسان مرکز میں ہوتا ہے اور خواہش اس کے گرد گھومتی ہے‘ وہ اسے کنٹرول کرتا ہے۔ ہوس کے مدار میں ہوس مرکز میں ہوتی ہے اور انسان اس کے گرد دیوانہ وار گھومتا رہتا ہے۔ ہمارے آج کے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ ہم خواہشوں کے مدار سے نکل کر ہوس کے بھنور میں پھنس چکے ہیں۔سوشل میڈیا نے اس مدار کو بھنور بنانے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ پہلے انسان کی خواہشات اس کے اپنے ماحول‘ اس کے گاؤں‘ اس کے شہر تک محدود ہوتی تھیں۔ اب ایک کلک پر وہ دنیا بھر کی آسائشیں دیکھتا ہے۔ کسی کی گاڑی‘ کسی کا گھر‘ کسی کا لباس‘ کسی کی مسکراہٹ۔ ہر تصویر ایک نئی خواہش کو جنم دیتی ہے۔ ہم دوسروں کی زندگیوں کو دیکھ کر اپنی زندگی سے مایوس ہوتے ہیں۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ جو تصویر ہم دیکھ رہے ہیں‘ وہ کسی کی پوری زندگی نہیں صرف ایک لمحہ ہے۔ اس دوڑ میں ہم اپنے اصل مرکز سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ صوفیاء کرام نے خواہشوں کے اس مدار کو بہت خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔ مولانا روم فرماتے ہیں کہ انسان کی روح ایک پرندے کی مانند ہے جو پنجرے میں قید ہے اور یہ خواہشات اس پنجرے کی سلاخیں ہیں۔ جب تک انسان ان خواہشات سے نجات حاصل نہیں کرے گا‘ وہ حقیقی پرواز نہیں کر سکتا۔ لیکن نجات کا مطلب خواہشات کو مارنا نہیں بلکہ انہیں سمجھنا ہے۔ خواہش کو مارنا ممکن ہی نہیں کیونکہ یہ زندگی کی علامت ہے۔ اصل کمال اسے سمت دینا ہے۔ تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس مدار سے نکلنے کا راستہ کیا ہے؟ کیا ہم اس مدار سے نکل سکتے ہیں؟ میرا جواب یہ ہے کہ مکمل طور پر نکلنا نہ تو ممکن ہے اور نہ ہی ضروری۔ جس طرح زمین سورج کے مدار سے نکل جائے تو فنا ہو جائے گی‘ اسی طرح انسان اگر خواہش سے یکسر بے نیاز ہو جائے تو وہ زندہ لاش بن جائے گا۔ اصل حکمت اس مدار کو پہچاننے ‘ اسے وسیع کرنے اور اس کے مرکز کو درست کرنے میں ہے۔ہمارے مدار کا مرکز کیا ہے؟ سب سے اہم سوال یہی ہے۔ اگر ہمارے مدار کا مرکز صرف مادی خواہشات‘ دولت‘ شہرت اور طاقت ہیں تو پھر یہ مدار بہت تنگ اور گھٹن زدہ ہوگا۔ اس میں گھومتے گھومتے ہم تھک جائیں گے کیونکہ مادی چیزوں میں سکون نہیں ہے۔ ایک گاڑی کے بعد دوسری گاڑی‘ ایک گھر کے بعد دوسرا گھر۔ یہ ایک نہ ختم ہونے والی بھوک ہے۔ لیکن اگر ہمارے مدار کا مرکز کوئی اعلیٰ مقصد ہو جیسے علم‘ خدمت‘ محبت‘ خالق سے قربت تو پھر یہی مدار عبادت بن جاتا ہے۔ تب ہر گردش میں ایک معنی پیدا ہوتا ہے۔ لہٰذا ہمیں اپنی خواہشات کی درجہ بندی کرنا ہو گی۔ کون سی خواہش ضرورت ہے‘ کون سی آسائش ہے‘ اور کون سی محض دکھاوا ہے۔ ضرورت کو پورا کرنا فرض ہے۔ آسائش کیلئے کوشش کرنا جائز ہے‘ لیکن دکھاوے کی خواہش وہ زہر ہے جو ہمارے سکون کو کھا جاتا ہے۔ ہم میں سے اکثر لوگ ایسی چیزوں کیلئے پریشان ہیں جن کی انہیں ضرورت ہی نہیں‘ پریشانی کا سبب یہ ہے کہ وہ دوسروں کے پاس ہیں۔ خواہشوں کے مدار کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ یہ انسان کو حال سے غافل کر دیتا ہے۔ ہم ہمیشہ مستقبل میں جیتے ہیں۔ جب نوکری ملے گی تو خوش ہوں گے‘ جب شادی ہو گی تو خوش ہوں گے‘ جب بچے بڑے ہوں گے تو خوش ہوں گے۔ اس &#39;جب‘ کے چکر میں ہم &#39;اب‘ کو کھو دیتے ہیں۔ حال وہ واحد حقیقت ہے جو ہمارے پاس ہے۔ مستقبل ایک وہم ہے اور ماضی محض ایک یاد۔ جو شخص حال میں جینا سیکھ لے‘ وہی اس مدار کی تھکن سے بچ سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ مستقبل کی منصوبہ بندی نہ کی جائے بلکہ مطلب یہ ہے کہ مستقبل کے انتظار میں حال کو قربان نہ کیا جائے۔خواہشوں کے مدار کو اگر ہم ایک جملے میں سمیٹنا چاہیں تو یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہی مدار ہماری آزمائش بھی ہے اور ہماری پہچان بھی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ہم نے انسان کو آزمائش کے لیے پیدا کیا ہے۔ یہ آزمائش اور کچھ نہیں‘ انہی خواہشوں کے مدار میں اپنے مرکز کو درست رکھنے کا نام ہے۔ جس نے اپنے مدار کا مرکز درست کر لیا‘ اس نے اپنی زندگی کو معنی دے دیا۔ جس کا مرکز بگڑ گیا‘ وہ ساری زندگی گردش میں تو رہا مگر کسی طے شدہ منزل پر نہیں پہنچ سکا۔ تو آئیے‘ ذرا رک کر اپنی خواہشوں کے مدار پر غور کریں کہ ہم کس کے گرد گھوم رہے ہیں؟ ہماری خواہشیں ہمیں کہاں لے جا رہی ہیں؟ کیا ہم مسافر ہیں یا محض بھٹکے ہوئے راہی؟ یہ سوال ہی اس مدار سے نکلنے کی پہلی سیڑھی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_34710710.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>دلدل کا سفر(آصف عفان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/asif-afan-/2026-10-16/52854/81893490</link><pubDate>Fri, 16 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/asif-afan-/2026-10-16/52854/81893490</guid><description>ملک بھر میں جاری سیاسی سرکس کا اچھوتا آئٹم دلچسپ ہونے سے کہیں زیادہ تشویشناک ہو چلا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ بازیگروں کے درمیان تُوڑی کے ڈھیر پر سگریٹ نوشی کا کڑا مقابلہ زوروں پر ہے‘ لمبے لمبے کش لگانے والے سبھی احتیاطوں سے بے نیاز ایک دوسرے پر دھواں نکال رہے ہیں۔ خدا خیر کرے میرے آشیانے کی! ایک معمولی سی چنگاری بھی تُوڑی کے ڈھیر کو راکھ میں بدل سکتی ہے۔ نتائج کی سنگینی سے بے پروا بازیگر ایک دوسرے پر بازی لے جانے کی دھن میں معاملات اُس نہج پر لے جا چکے ہیں جہاں سے واپسی روزبروز‘ لمحہ بہ لمحہ کہیں مشکل بلکہ ناممکن دکھائی دیتی ہے۔ لانگ مارچ کی ضد کو سیاسی خودکشی قرار دینے والے اپنے جواز پیش کر رہے ہیں تو دوسری طرف سیاسی شہادت کی توجیہات بھی خوب گھڑی جا رہی ہیں۔ فیصل واوڈا کی دھماکے دار انٹری کے بعد ماضی بعید و قریب سے جڑے بیانات کے تانے بانے ملائیں تو گورنر راج طے شدہ آپشن اور سکرپٹڈ ہی دکھائی دیتا ہے۔ تاہم سیاسی بصیرت اور معاملہ فہمی سے کوسوں دور سہیل آفریدی کی اُچھل کود سے عوام کے جم غفیر کے ساتھ لانگ مارچ کا دعویٰ تو پورا نہیں ہو سکا لیکن وفاقی حکومت محفوظ آپشن سے استفادہ کر چکی ہے۔ پیپلز پارٹی کے کریڈٹ پر چھٹا گورنر راج جاری ہے‘ زرداری صاحب کی بھی ہیٹ ٹرک ہو چکی۔ یہ راج کتنے دن چلتا ہے اس کا فیصلہ تو تُوڑی کا ڈھیر ہی کرے گا‘ یعنی کسی کو خاک بنا دے تو کسی کو زر کر دے۔خیبرپختونخوا میں صدارتی فرمان سے گورنر راج کے نفاذ کے بعد پیپلز پارٹی کے صوبائی راج واڑوں کی تعداد تین ہو چکی ہے۔ لانگ مارچ کی کال سے لے کر گورنر راج تک نقطے ملائیں تو قیادت کے فقدان سے لے کر فیصلہ سازی اور حکمتِ عملی سمیت سبھی محاذوں پر جہاں پی ٹی آئی کو کڑے سوالات کا سامنا ہے وہاں یہ عقدے برابر کھلتے دکھائی دیتے ہیں کہ گورنر راج کی راہ ہموار کرنے کیلئے کھیرکی پکوائی میں کس کا کتنا حصہ ہے؟ لانگ مارچ کے حوالے سے سبھی مان اور گمان سے لے کر شہرِ اقتدار پر فیصلہ کن چڑھائی کے بلند بانگ دعوے سہیل آفریدی کے قد سے کہیں بڑے نکلے۔ گورنر راج کے نفاذ کے بعد بھی علامتی احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ تو جاری ہے لیکن گنجائش سے زیادہ ہوا بھرنے والے شاید یہ بھول گئے کہ ہوا زیادہ بھرنے سے بڑے حجم کے ساتھ پھٹنے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ خاطر جمع رکھیے! خطرات تو کم و بیش سبھی کے لیے بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ ایک دوسرے کو تسلیم نہ کرنے کی بدعت میں روز بروز شدت کا سارا بوجھ جہاں سرکار کے کاندھوں پر آ گیا ہے وہاں دلدل کا سفر بھی شروع ہو چکا ہے۔ پی ٹی آئی کو دلدل میں دھنسے رہنا شاید راس آجائے لیکن حکومت کے لیے یہ سفر آئے روز نئی افتاد اور نئے چیلنجز کا باعث ہو گا۔ وفاقی حکومت دلدل سے نکلنے کی کوشش کرے گی اور پی ٹی آئی اس سفر کو طویل بنانے کی‘ ویسے بھی دلدل سے باہر نکلنے کی کوششیں اُلٹی ہی پڑتی ہیں‘ باہر نکلنے کی کوشش مزید دھنسنے کا باعث ثابت ہوتی ہے۔ دلدلی اکھاڑہ حکومت کی اپنی چوائس ہے‘ فیصل کریم کنڈی اس دلدل میں اتر چکے ہیں‘ شاہ کا مصاحب ہونے کا زعم اور یہ عاشقی عزتِ سادات کو دائو پر لگائے ہوئے ہیں۔ گورنر ہاؤس کے مکین کی تبدیلی کی افواہیں بھی برابر چل رہی ہیں۔دوسری طرف فیصل واوڈا رِی بُوٹ کے سلوگن کے ساتھ ایک بار پھر کھڑکی توڑ رش لے رہے ہیں۔ مستقبل کے منظرناموں سمیت نظام کی آئندہ شکل پر خبر سازی کا سلسلہ زوروں پر ہے۔ گورنر راج کی 10ماہ پرانی پیش گوئی پوری ہونے کے بعد اب وہ فُل فارم میں دکھائی دیتے ہیں۔ اس اُدھم میں حکومت وقت کے عرصۂ اقتدار کی جمع تفریق کریں تو پی ٹی آئی کے ہوّے کے سوا کچھ نہیں نکلتا۔ جتنی محنت اور کوششیں پی ٹی آئی کو مٹانے کے لیے کی گئی ہیں اس سے کہیں کم توجہ گورننس اور ڈلیوری پر دے لیتے تو پی ٹی آئی کا بھوت آج ان کے سروں پر نہ ناچ رہا ہوتا‘ حواسوں پہ سوار اس بھوت نے کہیں کا نہ چھوڑا۔ عوام کے حالاتِ پریشاں دن بدن نت نئے عذابوں سے دوچار ہیں‘ کہیں دو وقت کی روٹی کے لالے ہیں تو کہیں ننھے منے ہاتھوں میں اوزار پکڑے چھوٹے بچے گھر کا بڑا بننے کے لیے زمانے کی ٹھوکروں پر ہیں‘ کسی کو دن میں رسوائی کا سامنا ہے تو کسی کو رات میں بے چینی کا۔ بھلے چنگے اور کھاتے پیتے بھی گورننس کے روپ بہروپ اور پالیسیوں کے سبب متفکر اور پریشان ہیں۔ بے روزگاری کی دیمک پڑھے لکھے اور ہنرمندوں کو بری طرح چاٹ رہی ہے۔ وزرا کی کارکردگی کا رونا ایک طرف نامعلوم اہلیت اور کارکردگی کے حامل مشیران بھی سرکاری وسائل پر دورے کرتے اور فوٹو سیشن کرواتے نہیں تھکتے۔ کچھ سر چڑھے سرکاری بابو بیوروکریٹک مارشل لاء کا سماں باندھے ہوئے ہیں۔ عوام کے مسائل تو درکنار وزرا ترلوں پر مجبور ہیں۔ انتظامی مشینری میں لابنگ اور دھڑے میرٹ بن چکے ہیں‘ بڑے منصب پر چھوٹے گریڈ والے اترائے پھرتے ہیں۔ تھانہ‘ پٹوار اور ہسپتال میں دھتکار اور پھٹکار کے مناظر ناقابلِ بیان ہیں۔ ریفارمز کے نام پر ڈیفارمز کے ڈھیر لگانے والوں نے نمائشی اقدامات اور اعداد و شمار کے گورکھ دھندے کو طرزِ حکمرانی بنا ڈالا ہے۔ ابھی حالات کا ماتم جاری تھا کہ ایک اور ماتمی خبر نے دل کا کام تمام کرنے کے ساتھ ساتھ کالم کا دھارا ہی موڑ ڈالا۔ دھن راج اور گورنر راج سمیت راج واڑوں کے موضوع پر جاری کالم کا بقیہ کسی اگلے کالم پر اُدھار رکھتے ہیں‘ ابھی تو ہمیں اُن پھول جیسے معصوم بچوں کا نوحہ لکھنا ہے جو گھر سے پڑھنے کے لیے سکول گئے تھے۔ ماؤں نے کس چاؤ سے اپنے جگر گوشوں کو اُجلا یونیفارم پہنا کر سکول روانہ کیا ہو گا۔ اس باپ پر کیا گزری ہو گی جس نے اپنے بچے کا ملبے میں کچلا لاشہ اٹھایا ہو گا؟ اُف خدایا! پشاور میں سکول کی چھت نہیں گری اس نظام کی چھت گری ہے۔ یہ چھت متاثرہ خاندانوں کے بختوں پہ گری ہے۔ یہ کیسے سکول ہیں؟ یہ کیسی درسگاہیں ہیں؟ کبھی آوارہ کتے سکول میں گھس کر معصوم بچوں کو بھنبھوڑ ڈالتے ہیں‘ کہیں دیوار گر جاتی ہے تو کہیں چھت۔ کسے معلوم تھا کہ اسمبلی کے بعد لگنے والی کلاس یکایک اجتماعی قبر بن جائے گی؟ معصوم بچوں پر گرنے والی چھت کا ملبہ بھی رو پڑا ہو گا‘ وہ اینٹیں‘ سیمنٹ اور سریے بھی دہائی دیتے ہوں گے۔ یہ چھتیں مخصوص طبقے کے بچوں پر ہی کیوں گرتی ہیں؟ ریگولیٹر‘ انتظامیہ‘ مانیٹرنگ وغیرہ وغیرہ سمیت یہ سارے ڈھونگ کس کنوئیں میں ڈوب گئے ہیں؟ ماؤں نے اپنے اپنے لعل کا لاشہ کس طرح وصول کیا ہو گا؟ درد ناک موت سے دوچار ہونے والے معصوموں کی روحیں یقینا عرشِ معلی پر بارگاہِ الٰہی میں سراپا احتجاج ہوں گی کہ اے پروردگار! ربّ زدنی علما کی طلب میں ہم تو گھر سے سکول گئے تھے۔ ہمارا گود سے گور کا سفر اتنا مختصر کیوں؟ ابھی تو ہم نے تعلیم حاصل کر کے اپنے والدین کا سہارا بننا تھا۔ ہمارے ماں باپ کو عمر بھر کا روگ کیوں؟ کبھی بچوں سے بھری وین سرپٹ دوڑتی ٹرین تلے کچلی جاتی ہے تو کبھی رکشہ ڈمپر تلے دب جاتا ہے۔ جب تک یہ سانحات‘ المیے اور حادثات یونہی ہوتے رہیں گے‘ قدرت کی مدعیت میں ان کے مقدمات آسمانوں پر درج ہوتے رہیں گے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_65560900.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>حرمین شریفین اور تلبیہ کی سائنس(امیر حمزہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ameer-hamza/2026-10-16/52855/46629748</link><pubDate>Fri, 16 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ameer-hamza/2026-10-16/52855/46629748</guid><description>اللہ کے آخری رسول حضور کریمﷺ مدینہ منورہ کے میقات &#39;&#39;ذوالحلیفہ‘‘ میں پہنچے۔ حضورﷺ کا یہ آخری حج ہے‘ جسے &#39;&#39;وداعی حج‘‘ کہا جاتا ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں مدینہ منورہ اور مضافات سے لوگ نکلے۔ حضورﷺ کے سنگ حاجیوں کی چاروں جانب موجودگی نے اس وقت اک عجب سماں باندھا جب حضورﷺ کے &#39;&#39;لبیک‘‘ کہنے کے ساتھ ہی فضائوں میں &#39;&#39;لبیک اللھم لبیک‘‘ کی صدائیں بلند ہونے لگیں۔ مدینہ منورہ سے لیکر مکہ مکرمہ تک یہ صدائیں متواتر اور مسلسل بلند ہوتی رہیں۔ یاد رہے! حرمین شریفین کا باہمی رشتہ جو ختم المرسلینﷺ کے مبارک اسفار سے قائم ہوا اس میں پہلا سفر ہجرت کا سفر ہے۔ دوسرا سفر عمرہ کا ہے۔ ایک سفر فتح مکہ کا ہے۔ آخری سفر حج کا سفر ہے۔ آج سعودی عرب کی حکمرانی کے پاس خدمتِ حرمین کا شرف ہے تو انہوں نے پاسبانی کا شرف پاکستان کے حوالے کیا ہے۔ یہ وہ شرف ہے جو 25 کروڑ پاکستانیوں کا شرف ہے۔ حضورﷺ کے مبارک قدموں سے جو رشتہ قائم ہوا اس میں کوئی رخنہ نہ پڑے۔ جی ہاں! رخنہ اندازی کو روکنے کا نام پاسبانی ہے اور اس پاسبانی کا سہرا مکہ معاہدہ ہے۔ حرمین شریفین کی پاک سرزمین کی فضائوں میں‘ زمین پر اور پانیوں پر افواجِ پاکستان کے جوان‘ محبانِ حرمین اپنا فریضہ ادا کر رہے ہیں‘ الحمدللہ!لوگو! حضورﷺ کے حج مبارک کا قافلہ چل پڑا تو ایک موقع آیا کہ لبیک کی پکار قدرے آہستہ ہو گئی‘ دھیمی پڑ گئی۔ حضورﷺ نے حجاج کرام کو آگاہ فرمایا کہ میرے پاس جناب جبرائیل علیہ السلام آئے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ اپنے حاجی صحابہ کو حکم دیجئے کہ لبیک کی آوازوں کو بلند کریں۔ (بحوالہ ابن ماجہ، سندہٗ صحیح) ساتھ ہی فرمایا: جو شخص بھی تلبیہ یعنی لبیک اللھم لبیک کہتا ہے اس کے دائیں بائیں کے تمام درخت اور پتھر بھی لبیک کہنے والے کے ساتھ لبیک کہتے ہیں۔ یہاں تک کہ دائیں بائیں سے زمین ختم ہو جاتی ہے۔ (ابن خزیمہ‘ ابن ماجہ‘ سنداً صحیح)۔ ابن ماجہ کی دوسری روایت میں &#39;&#39;مدرٌ‘‘ کے لفظ کا اضافہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اینٹ کچی ہو یا پکی یا پتھر کی‘ وہ بھی لبیک کہتی ہے۔ درختوں‘ نباتات کی بات کریں تو سائنس کہتی ہے کہ نباتاتی خلیات آپس میں باتیں کرتے ہیں۔ اگر کوئی درخت کسی انسان کے ہاتھوں کٹتا ہے تو وہ اپنے اردگرد کے پڑوسی درختوں کو اطلاع کرتا ہے کہ اسے کاٹا جا رہا ہے۔ کوانٹم سائنس واضح کرتی ہے کہ جب بھی ذرات آپس میں &#39;&#39;انٹرایکٹ‘‘ کرتے ہیں‘ یعنی باہم بات چیت کرتے ہیں تو یہ الفاظ کے بجائے فوٹون کے ذریعے باہمی گفتگو اور معلومات کا تبادلہ کرتے ہیں۔ فوٹون روشنی کا وہ ذرہ یا لہر ہے جو لاتعداد ہوتی ہیں۔ یہ سورج اور دیگر ستاروں سے آتی ہیں۔ یہ لہریں یا ذرات معلومات کے ذرائع ہوتے ہیں۔ اللہ اللہ! وہ ذرات کس قدر مبارک ہوں گے‘ فضائوں کے ذرات‘ پانیوں کے ذرات (مالیکیولز)‘ زمینی ذرات‘ پہاڑوں اور پتھروں کے ذرات کہ جنہوں نے اللہ کے آخری رسولﷺ کے لبیک‘ اہل بیت کے لبیک‘ صحابہ کرام کے لبیک‘ عظیم ہستیوں کے لبیک پر لبیک کہا اور اس لبیک کو آگے پہنچایا۔اللہ اللہ! حضور ختم المرسلینﷺ سے لے کر آج تک فضا میں لبیک کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں۔ ان مبارک صدائوں اور حمد کے ترانوں کے درمیان ڈرونز اور ہلاکت خیز میزائل گریں تو بتائیں اور ذرا سوچیں کہ کیا ہو گا؟ یمن کی طرف سے آنے والے حاجیوں کا میقات &#39;&#39;یَلَمْلَم‘‘ ہے۔ پاکستان‘ بنگلہ دیش‘ بھارت اور مشرقِ بعید کے لوگ اسی راستے سے آتے ہیں۔ ان کے راستے رک گئے۔ ان کا سفر غیر محفوظ ہو گیا۔ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض سے آنے والوں کا میقات &#39;&#39;قرن المنازل‘‘ ہے۔ اب ریاض میں میزائل گر رہے ہیں‘ لوگ شہید ہو رہے ہیں۔ مغرب یعنی شام‘ مصر اور یورپ وغیرہ سے آنے والے &#39;&#39;جحفہ‘‘ سے آتے ہیں۔ عراق اور ایران کی سمتوں سے آنے والے &#39;&#39;ذات العِرق‘‘ کے میقات سے آتے ہیں۔ یہ سب میقات آج غیر محفوظ ہو چکے ہیں بلکہ فلائٹس بند ہو چکی ہیں۔ بیت اللہ یعنی کعبہ شریف کے چار کونے ہیں۔ ایک کونہ رکن اسود ہے جہاں &#39; حجرِ اسود‘ نصب ہے۔ اس کا بوسہ لیا جاتا ہے۔ یہ محبت اور پیار کا مقام ہے۔ ایک کونہ &#39;&#39;رکن شامی‘‘ ہے۔ تیسرا &#39;&#39;رکن عراقی‘‘ ہے۔ چوتھا &#39;&#39;رکن یمانی‘‘ ہے۔ اس رکن کو اللہ کے رسولﷺ نے اپنے ہاتھ مبارک سے مَس کیا ہے۔ ہر حاجی رکن یمانی کو چھوتا ہے۔ اہلِ یمن کے لیے لازم ہے کہ اپنے دیس یمن سے نسبت رکھنے والے کعبہ کے رکن کی عظمت کا خیال کریں۔ سب اپنی اپنی ذمہ داری کا خیال کریں۔ مکہ معاہدہ کے تینوں ارکان سعودی عرب‘ پاکستان اور ترکیہ یقینا یمن کو صلح و امن کی طرف لانے کے لیے کوشاں ہیں۔ ان کوششوں کو تیز ہونا چاہیے تاکہ غیروں کو رخنہ اندازی اور فالس فلیگ کا موقع نہ مل سکے۔ میرے پاک وطن کی قیادت تو ایران‘ امریکہ اور عرب دنیا کے درمیان امن کا لاجواب کردار ادا کر چکی ہے۔ موجودہ جنگ جو سعودیہ اور یمن کے درمیان ہے اس کیلئے وہ دہری ذمہ داری ادا کر رہی ہے۔ سرزمین حرمین کا تحفظ بھی کر رہی ہے۔ جنگ بھڑکانے والی قوتوں کی آگ پر پانی بھی ڈال رہی ہے اور امن کے لیے بھی سر توڑ کوششیں کر رہی ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام وہ جلیل القدر اور اولوالعزم نبی ہیں کہ جن کو اللہ تعالیٰ نے تورات عطا فرمائی۔ بنو اسرائیل کے تمام رسول اور نبی اپنے اپنے صحیفوں کے باوجود اسی تورات کے پابند تھے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی تورات میں نازل شدہ شریعت کے پابند تھے۔ اللہ کے آخری رسول حضرت محمد کریمﷺ جب اپنے الوداعی حج کا سفر جاری رکھے ہوئے تھے تو (صحیح مسلم اور حدیث کی دیگر کتب کی ایک روایت کے مطابق) راستے میں ایک وادی کے بارے صحابہ کرام سے پوچھا کہ یہ کون سی وادی ہے؟ صحابہ کرام نے جواب دیا: یہ ازرق ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا &#39;&#39;مجھے لگ رہا ہے کہ میں موسیٰ علیہ السلام کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ ایک ٹیلے سے اتر رہے ہیں اور اپنی دونوں انگلیاں اپنے کانوں میں دیے ہوئے ہیں۔ وہ تلبیہ (لبیک اللھم لبیک) کہتے ہوئے کعبۃ اللہ کی طرف جا رہے ہیں اور اس وادی (ازرق) سے گزرتے جا رہے ہیں‘‘۔ قارئین کرام! بہت سارے نبی اور رسول کعبہ اللہ کی زیارت اور حج و عمرے کے لیے آئے ہیں۔ اللہ نے اپنے آخری رسولﷺ کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے حج کا منظر دکھلا کر بنو اسرائیل اور مسیحی برادری کو پیغام دیا ہے کہ تم لوگ مشرق وسطیٰ میں جنگ کی آگ بھڑکائو گے‘ فالس فلیگ جیسے ناپسندیدہ کام کرکے جلتی آگ پر پٹرول ڈالو گے‘ اپنے گھٹیا مقاصد کے لیے سرزمین حرمین‘ کہ جس کی پاک راہوں سے حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی گزرے‘ ان راہوں کو مسدود کرنے کے پروگرام بنائو گے تو اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے بچ نہ سکو گے۔اہلِ وطن سے گزارش ہے کہ پاک وطن کی قیادت حرمین شریفین کی مطہر و پاکیزہ زمین کے تحفظ کیلئے سہ جہتی کردار ادا کر رہی ہے‘ یہ پاک وطن کی تاریخ کا مشکل ترین مگر پاکیزہ ترین فریضہ ہے۔ ایسے نازک ترین موقع پر ہم اپنے اور حرمین کے پاسبانوں کے پشتیبان بن جائیں اور اپنی سیاست کو سڑکوں سے ہٹا لیں۔ اسے مثبت بنا لیں۔ مسلمانوں پر گزرتے ہوئے مشکل حالات کو فرقہ پرستی کے کڑوے کسیلے جملوں سے محفوظ رکھیں۔ آزمائشوں کے اس دور میں صبر‘ برداشت اور حوصلے کے دامن کو نہ چھوڑیں۔ پاکستان زندہ باد‘ پاسبانِ حرمین شریفین پائندہ باد۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_68712266.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>