<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>نئی زری پالیسی اور خدشات(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-27/11668</link><pubDate>Tue, 27 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-27/11668</guid><description>سٹیٹ بینک آف پاکستان کی زری پالیسی کمیٹی نے شرح سود میں نصف فیصد کا اضافہ کرتے ہوئے اسے 12 فیصد مقرر کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک طرف ملکی معیشت مہنگائی اور مندی کا شکار ہے تو دوسری طرف علاقائی حالات کی سنگینی سے بے یقینی بڑھ رہی ہے‘ تاہم سٹیٹ بینک کے اس فیصلے کوافراطِ زر کے بڑھتے خدشات کا سدباب کرنے کیلئے آئی ایم ایف کی جانب سے دنیا بھر کے مرکزی بینکوں کو کی گئی ہدایات کے تناظر میں بھی دیکھنا ہو گا۔ عالمی مالیاتی ادارے نے ابھرتے معاشی خدشات خاص طور پر سپلائی چین کے مسائل اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث مہنگائی کو دنیا بھر کی معیشتوں کیلئے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔ آئی ایم ایف کا مؤقف ہے کہ اگر مرکزی بینکوں نے مارکیٹ میں سرمائے کی گردش کو کم نہ کیا تو افراطِ زر قابو سے باہر ہو جائے گا جو طویل مدتی معاشی تباہی کا سبب بنے گا۔ تاہم یہاں یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ ترقی یافتہ اور مستحکم معیشتوں کے مقابلے میں ترقی پذیر اور قرضوں میں ڈوبی ہوئی معیشتوں پر یکساں فیصلوں کے نتائج مختلف اور بسا اوقات بالکل الٹ نکلتے ہیں‘ لہٰذا عالمی حالات کا مقابلہ کرنے کیساتھ ساتھ عوامی تحفظ کا تصور بھی پیشِ نظر رہنا چاہیے۔ شرح سود میں اضافے کا ایک بڑا اور فوری اثر حکومتی مالیات پر پڑتا ہے۔

مالیاتی ماہرین کے ایک محتاط اندازے کے مطابق شرح سود میں 50 بیسس پوائنٹ اضافے کا مطلب یہ ہے کہ قومی خزانے پر ڈھائی سو ارب روپے کا اضافی بوجھ منتقل ہو جائے گا۔ پاکستان کا بجٹ پہلے ہی خسارے کا شکار ہے اور ہماری آمدن کا تقریباً نصف پرانے قرضوں اور انکے سود کو چکانے میں چلا جاتا ہے۔ شرح سود میں اس تازہ اضافے سے حکومت کو مزید نئے قرضے لینے پڑسکتے ہیں اور ہم ایک لامتناہی معاشی چکر میں پھنسے رہیں گے۔ بلند شرح سود کا دوسرا بڑا اثر کاروباری طبقے اور نجی شعبے پر پڑتا ہے۔ جب بینکوں سے قرض ملنا مہنگا ہو جاتا ہے تو نجی شعبہ نئے منصوبوں میں سرمایہ کاری روکنے پر مجبور ہو جاتا ہے یا اس کو کم کر دیتا ہے۔ قرضے مہنگے ہونے کا اثر کارخانوں اور صنعتوں کی پیداواری لاگت پر بھی پڑتا ہے جسکے نتیجے میں ملکی اور عالمی سطح پر ان کی مسابقتی صلاحیت ختم ہو کر رہ جاتی ہے۔
اس کا نتیجہ صنعتی پہیے کی سست روی‘ بڑے پیمانے پر بیروزگاری اور عوام کی قوتِ خرید کے مزید کم ہونے کی صورت میں نکلتا ہے۔ جب کاروباری سرگرمیاں سکڑ جائیں تو لامحالہ محصولات کا ہدف بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا‘ جس سے مالیاتی خسارہ مزید گہرا ہو جاتا ہے۔ اگر ہم علاقائی سطح پر شرح سود اور افراطِ زر کا موازنہ کریں تو حیران کن صورتحال سامنے آتی ہے۔ بھارت نے چار سال کے بعد‘ رواں ماہ شرح سود میں 25 بیسس پوائنٹ کا اضافہ کرتے ہوئے اسے 5.50 فیصد کیا ہے۔ بنگلہ دیش میں شرح سود 9.50 فیصد اور سری لنکا میں 8.75 فیصد ہے۔ ان ممالک میں افراطِ زر کی شرح بالترتیب 5.54 فیصد‘ 8.34 فیصد اور 8 فیصد ہے۔ جبکہ پاکستان میں افراطِ زر کی شرح 10.30 فیصد ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر عالمی حالات و اثرات افراطِ زر کا موجب ہیں تو علاقائی ممالک کی نسبت پاکستان میں افراطِ زر کی شرح نمایاں طور پر زیادہ کیوں ہے؟ مطلب خرابی ہمارے داخلی نظام میں ہے۔
پالیسی سازوں کو عوامی تحفظ اور شہریوں کی فلاح وبہبود کو بھی اولین ترجیحات میں رکھنا چاہیے۔ محض مانیٹری پالیسی سے افراطِ زر کا مقابلہ نہیں ہو سکتا اس کے لیے رسد کی خرابیوں‘ ذخیرہ اندوزی اور انتظامی کمزوریوں کا بھی تدارک کرنا ہو گا ۔ گھریلو سطح پر مہنگائی سے متعلق عوام کے بڑھتے ہوئے خدشات اس بات کے متقاضی ہیں کہ مارکیٹ پر حکومتی گرفت مضبوط کی جائے۔ حکومت عوام کو عالمی حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ کر نہیں بیٹھ سکتی‘ اسے داخلی پالیسیوں کی صورت میں ایسے بفر قائم کرنا ہوں گے جو عالمی حالات کے دباؤ کا سامناکر سکیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>دہشت گردی میں کمی اور پائیدار امن(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-27/11667</link><pubDate>Tue, 27 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-27/11667</guid><description>سکیورٹی سے متعلق ایک ملکی ادارے کی رپورٹ کے مطابق سکیورٹی فورسز کی مؤثر کارروائیوں کے نتیجے میں گزشتہ پانچ ہفتوں کے دوران دہشتگردی کے واقعات میں 66 فیصد کمی آئی ۔ ہفتہ وار بنیادوں پر بھی دہشتگردی کے حملوں میں 38 فیصد کمی آئی ہے۔ یہ پیشرفت ظاہر کرتی ہے کہ انٹیلی جنس بنیادوں پر کیے جانے والے آپریشنز شدت پسندوں کے نیٹ ورکس کو توڑنے میں انتہائی کارگر ثابت ہو رہے ہیں۔ انتظامی سطح پر سخت فیصلوں اور دہشتگردی سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد دہشتگردی میں کمی یہ ظاہر کرتی ہے کہ بسا اوقات انتظامی فیصلوں میں تاخیر اور تساہل اور کوآرڈی نیشن کا فقدان بھی دہشتگردی کو بڑھاوا دینے کا سبب بن سکتا ہے۔ اب جیسے ہی اس خلا کو پُر کیا گیا‘ فورسز کے آپریشنز کے مثبت اثرات نظر آنے لگ گئے۔ تاہم اس حقیقت کو بھی ملحوظ رکھنا چاہیے کہ دہشتگردی کے نیٹ ورک کو مستقل طور پر ختم کرنے کیلئے اس کے مالیاتی ذرائع‘ سہولت کاروں اور بیانیے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہو گا۔

انٹیلی جنس آپریشنز کیساتھ ساتھ پسماندہ علاقوں کی بحالی‘ محروم طبقات کو قومی دھارے میں شامل کرنا اور نوجوانوں کیلئے روزگار کے مواقع پیدا کرنا اس عسکری کامیابی کو پائیدار بنانے کے تقاضے ہیں۔ عسکریت پسندی کی جڑوں کو کاٹنے کیلئے سیاسی‘ سماجی اور اقتصادی اصلاحات ناگزیر ہیں۔ بلاشبہ موجودہ کامیابی سکیورٹی فورسز کی قربانیوں کا ثمر ہے لیکن اسے پائیدار امن میں بدلنے کیلئے طویل مدتی اور جامع تزویراتی اقدامات کو یقینی بنانا ہوگا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بچوں کی ڈیجیٹل ہراسانی(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-27/11666</link><pubDate>Tue, 27 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-27/11666</guid><description>کراچی میں ایک 13سالہ بچی کے ڈارک ویب پر ایک خطرناک آن لائن نیٹ ورک کے ہتھے چڑھنے کا واقعہ ڈیجیٹل دنیا میں بچوں کے استحصال کی ایک چونکا دینے والی مثال ہے۔ بچوں کی زندگی میں انٹرنیٹ کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کیونکہ تعلیم اور تفریح کیلئے یہ آج کے دور کی ایک لازمی ضرورت بن چکا ہے‘لیکن اس سہولت کیساتھ ایک ایسی ذمہ داری بھی وابستہ ہے جسے نظرانداز کرنے کے نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔ ہمارے ہاں اکثر والدین بچوں کو ڈیجیٹل دنیا تک رسائی تو دے دیتے ہیں مگر انہیں اس دنیا کے خطرات سے نمٹنے کیلئے تیار کرنا بھول جاتے ہیں‘ اور انکی آن لائن سرگرمیوں پر بھی کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں رکھتے۔

نتیجتاً سوشل میڈیا‘ آن لائن گیمز اور میسجنگ ایپس پر بعض افراد بچوں سے دوستی کرکے انکا اعتماد حاصل کرتے اور رفتہ رفتہ انکی کمزوریوں سے انہیں بلیک میل کرتے ہیں۔ یونیسیف کی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق پاکستان میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے تقریباً ہر 16 میں سے ایک بچے کو ڈیجیٹل ہراسانی یا جنسی استحصال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ والدین کو بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھنی چاہیے۔ ریاست اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو مشترکہ طور پر ایسا ماحول تشکیل دینا ہوگا جہاں خطرناک سرگرمیوں کی بروقت نشاندہی ہو‘ شکایات پر مؤثر کارروائی کی جائے اور متاثرہ بچوں کو فوری مدد میسر ہو۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>دو قومی نظریہ آج بھی بر حق ہے(محمد اظہارالحق)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-10-27/52916/85322496</link><pubDate>Tue, 27 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-10-27/52916/85322496</guid><description>زندہ قومیں جمود سے بچتی ہیں۔ اپنے آپ کو متحرک اور لچکدار رکھتی ہیں۔ حالات کے ساتھ نظریات بدل لیتی ہیں اور اگر نظریات وہی رہیں جو پہلے تھے تو کم از کم ان نظریات کے مطالب اور مفاہیم ضرور تبدیل کرتی ہیں۔ اقبال نے بھی یہی کہا تھا:آئینِ نو سے ڈرنا‘ طرزِ کہن پہ اڑنامنزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میںہم پاکستانی بھی زندہ قوم ہیں۔ ہم آئینِ نو سے ڈرتے ہیں نہ طرزِ کہن پہ اڑتے ہیں۔ ہم لحظہ لحظہ تبدیل ہو تے ہیں۔ حالات کے مطابق! دنیا کے ساتھ چلتے ہیں۔ ہر وقت &#39;&#39;اَپ ڈیٹ‘‘ رہتے ہیں۔ہم نے یہ ملک دو قومی نظریے کی بنیاد پر بنایا تھا۔ ہمارا مؤقف واضح تھا کہ ہندو اور مسلمان دو الگ الگ قومیں ہیں۔ دونوں کے  ہیرو مختلف ہیں۔ ایک کے ہیرو دوسرے کے دشمن ہیں۔ تہوار الگ ہیں۔ لباس اور کھانا پینا تو الگ ہے ہی‘ یہ تو ایک دوسرے کا پانی پیتے ہیں نہ کھانا کھاتے ہیں۔ ایک دوسرے کے ساتھ شادیاں بھی نہیں کرتے۔ ملک اس دو قومی نظریے کی بنیاد پر بن گیا۔ ملک بننے کے بعد یہ نظریہ دفن تو نہیں کیا جا سکتا تھا‘ مگر مشکل یہ تھی کہ پاکستان بننے کے بعد صرف ایک قوم باقی رہ گئی تھی۔ یعنی پاکستانی قوم! ہم نے کمال یہ کیا کہ دو قومی نظریے کو زندہ رکھنے کیلئے پاکستانی قوم کو مزید دو قوموں میں تقسیم کر دیا۔ آج پاکستان دو قوموں پر مشتمل ہے۔ ایک قوم میں وہ لوگ ہیں جو پولیس مقابلوں میں مارے جاتے ہیں۔ جیسے لائبہ کا قاتل نعمان! جیسے پندرہ سالہ یتیم بچے وسیم عباس کا قاتل توقیر نذیر۔ دوسری قوم میں وہ افراد ہیں جو ایک نہیں‘ دو انسانوں کو قتل کر دیں تب بھی کوئی پولیس‘ کوئی پولیس مقابلہ‘ ان کا بال بیکا نہیں کر سکتا۔ جیسے بہت بڑے صنعتی خاندان سے تعلق رکھنے والی خاتون‘ جس نے کراچی میں باپ بیٹی دونوں کو مار دیا۔ جیسے ظاہر جعفر جس نے نور مقدم کو بے دردی سے قتل کیا۔ جیسے سردار صاحب جنہوں نے دن دہاڑے کوئٹہ میں اُس ٹریفک اہلکار کو گاڑی کے نیچے دے کر مار دیا جو ڈیوٹی پر تھا‘ جیسے جج صاحب کا فرزند جس نے دو محنت کش لڑکیوں کو گاڑی کے نیچے دے کر مار ڈالا! جیسے شہ نواز امیر جس نے اپنی بیوی سارہ کو قتل کر دیا! جیسے وزیر صاحب کا نواسا۔یہ دو قومی تقسیم صرف پولیس مقابلے میں مارے جانے والوں اور نہ مارے جانے والوں تک محدود نہیں! یہ تقسیم آپ کو ہر جگہ‘ ہر وقت نظر آئے گی۔ ہم آپ جن بازاروں سے سودا خریدتے ہیں‘ جن سکولوں کالجوں میں ہمارے بچے پڑھتے ہیں‘ جن ہسپتالوں میں ہم اپنا اور اپنے کنبوں کا علاج کراتے ہیں‘ کیا وہاں آپ نے کبھی کسی وزیر‘ پارلیمنٹ کے کسی رکن‘ کسی حکمران‘ کسی بڑے فیوڈل‘ کسی سردار‘ کسی بڑے صنعتکار کو دیکھا ہے؟ یہ تو علاج کیلئے یہاں کے گراں ترین نجی ہسپتالوں میں جاتے ہیں یا لندن‘ دبئی‘ جرمنی اور امریکہ میں! ان کی شاپنگ بیرونِ ملک ہوتی ہے۔ مقامی بازاروں میں جائیں بھی تو ان کے کارندے جاتے ہیں۔ یہ شادیاں صرف اپنے طبقے میں کرتے ہیں۔ آپ حکمران طبقے کی‘ سیاستدانوں کی‘ وڈیروں اور صنعت کاروں کی رشتہ داریوں پر ریسرچ کیجیے۔ آپ حیرت انگیز نتائج پر پہنچیں گے۔ یہ بچوں کی شادیاں کرتے وقت صرف دو پہلو دیکھتے ہیں۔ ایک یہ کہ جائداد کم سے کم تقسیم ہو اور خاندان سے باہر تو بالکل نہ جائے۔ دوسرا‘ اقتدار زیادہ مستحکم ہو۔ جن خاندانوں سے رشتے گانٹھیں‘ وہ اقتدار کی بلندی تک پہنچنے کیلئے سیڑھی کا کام کریں! ان دو قوموں پر قانون کا اطلاق الگ الگ ہوتا ہے۔ پولیس مقابلے کے حوالے سے تو آپ نے دیکھ ہی لیا۔ دیگر پہلوئوں پر بھی غور کر لیجیے۔ ہم کسی بینک سے قرض لیں اور واپسی میں ذرا تاخیر ہو جائے تو بینک قیامت برپا کر دیتا ہے کیونکہ ہم نچلی قوم ہیں۔ اوپر والی قوم کے قرض کروڑوں اربوں کھربوں کے &#39;&#39;معاف‘‘ ہو جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ بینک مقروضوں کے نام تک نہیں بتاتے۔ ہمارے آپ کے پاس ایک پرانا‘ از کارِ رفتہ‘ پستول بھی ہو تو تھانے جا کر رپورٹ کرنا ہوتی ہے۔ مگر اعلیٰ طبقے کے ارکان اسلحہ کی خوب نمائش کریں اور درجنوں کلاشنکوف برداروں کے ساتھ چلیں پھریں‘ تب بھی کسی کی مجال نہیں کہ پوچھ گچھ کرے یا اعتراض کرے! آپ کو یاد ہو گا ایک سردار کے نجی گارڈ بھاری اسلحہ کے ساتھ‘ پولیس سے ٹکر لے کر‘ بلوچستان اسمبلی میں داخل ہوئے تھے اور معطل بھی پولیس افسر ہی کیا گیا تھا کیونکہ اس نے اسلحہ برداروں کو روکنے کی کوشش کی تھی! اس طبقے کی ٹیکس کی ادائیگیاں دیکھ لیجیے۔ ان کا پرستانی معیارِ زندگی اور بے پناہ دولت دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ ٹیکس ادا کرتے وقت یہ کتنے غریب ہو جاتے ہیں۔ ان میں سے بہت سوں کے خاندان مغربی ملکوں کی جنت میں بستے ہیں۔ یہ امرا ملک کے اندر ہوں تو اکثر کو سرکاری گارڈ ملتے ہیں۔ پروٹوکول پر ہر ماہ اربوں خرچ ہوتے ہیں۔ ہم پست ذاتوں والے لاہور یا پنڈی جانا ہو تو ہزار بار سوچتے ہیں مگر مراعات یافتہ طبقہ کے ارکان ملک کے اندر سفر کریں یا باہر‘ خصوصی جہازوں پر سفر کرنا ان کیلئے معمول کی بات ہے۔ عام آدمی ساری زندگی شدید محنت کرتا ہے تو عمر کے آخری حصے میں مکان بنا پاتا ہے۔ ایسا مکان جو مشکل سے ضروریات پوری کرتا ہے! مگر یہ جو سرمست‘ ناز پروردہ لوگ ہیں ان کے محلات نہ صرف ملک کے ہر بڑے شہر میں جلوہ افروز ہیں بلکہ برطانیہ‘ یو اے ای‘ امریکہ‘ ہسپانیہ اور سوئٹزر لینڈ میں بھی ان کی جائدادیں موجود ہیں! ان کیلئے ٹریفک کے رُوٹ لگتے ہیں۔ جب تک یہ گزر نہ جائیں‘ کوئی ذی روح پر بھی نہیں مار سکتا۔ عام شہری کو ذلت کا شدید ترین احساس اس روٹ کے دوران ہوتا ہے جب اسے بزور سڑک پر روک لیا جاتا ہے۔ اس نے بچے کو یا بوڑھے باپ کو ہسپتال لے جانا ہو‘ اس کی بیوی بچے کو جنم دینے والی ہو‘ اس نے ٹرین یا جہاز پکڑنا ہو‘ اسے کمرۂ امتحان میں پہنچنا ہو‘ اس نے جنازے میں شرکت کرنی ہو‘ اسے طاقت کے بل پر روک لیا جاتا ہے۔ وہ کچھ بھی نہیں کر سکتا۔ کچھ ہفتے پہلے میں اسلام آباد سے روات جا رہا تھا۔ راستے میں روٹ لگ گیا۔ تقریباً آدھا گھنٹہ ٹریفک کو روک کر رکھا گیا۔ گرمی سخت تھی۔ میری گاڑی کے ساتھ‘ بائیں طرف‘ ایک سوزوکی پک اَپ کھڑی تھی۔ پک اَپ والے نے پسینہ پونچھتے ہوئے مجھے کہا &#39;&#39;چاچا جی! ان ظالموں کیلئے بددعا ضرور کیجیے گا‘‘۔دنیا کے کسی مہذب جمہوری ملک میں یہ &#39;&#39;روٹ‘‘ لگنے کا تماشا نہیں لگتا۔ یہ ہے اصل ثبوت اس بات کا کہ دو قومی نظریہ آج بھی زندہ ہے۔ جب ایڈورڈ ہِیٹھ برطانیہ کے وزیراعظم تھے تو انہوں نے لندن ٹریفک پولیس کے سربراہ کو بلایا اور بتایا کہ مجھے غیر ملکی مہمانوں سے ملنے دارالعوام (برطانیہ کی قومی اسمبلی) سے اُٹھ کر دس ڈاؤننگ سٹریٹ (وزیراعظم ہاؤس) جانا ہوتا ہے تو ٹریفک کے ہنگامے کی وجہ سے پہنچنے میں دیر ہو جاتی ہے اس لیے آپ کچھ دیر ٹریفک کو روک لیا کریں۔ پولیس افسر نے معذرت کی کہ سر ایسا نہیں ہو سکتا! ہاں آپ دارالعوام سے جلدی اُٹھ جایا کیجیے۔ یہ ہوتی ہے ایک قوم! کہ قوم کے ہر فرد کیلئے ایک ہی قانون ہو گا! یہاں تو وی آئی پی کیلئے ہوائی جہاز کی روانگی مؤخر کر دی جاتی ہے! عام آدمی کیلئے قانون اندھا بھی ہے اور گلے کا پھندہ بھی! مگر خواص‘ قانون کو قالین کے طور پر فرش پر بچھاتے ہیں اور پھر جوتوں سمیت اس پر چلتے ہیں!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_57182973.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>تازہ ہوا کا جھونکا(خالد مسعود خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-10-27/52917/40977465</link><pubDate>Tue, 27 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-10-27/52917/40977465</guid><description>لائبریری کے بغیر تو کتاب کا تصور تو کیا جا سکتا ہے لیکن کتاب کے بغیر لائبریری کا تصور ناممکن سی چیز ہے۔ کتاب اور لائبریری میری بچپن کی محبت ہیں اور یہ محبت ابھی تک اسی جوش و جذبے سے چل رہی ہے۔ چلیں لائبریری سے محبت کی تو مجھے سمجھ آتی ہے کہ یہ شاید وہ محبت ہے جو مجھے ابا جی مرحوم سے ورثے میں ملی۔ گو کہ کتاب کی محبت بھی کسی حد تک اسی بات سے جڑی ہوئی ہے لیکن اپنے چاروں بہن بھائیوں میں صرف مجھے ہی کتاب سے کیوں محبت ہے؟ بلکہ اگر میں کتاب سے بھی پہلے کی بات کروں تو اپنے سب بہن بھائیوں میں آخر میرا بچپن ہی کہانی سے جڑا ہوا کیوں ہے؟ میں نے کہانی سننے کی ابتدا ماں جی سے کی اور کہانی سے اس محبت کو انتہا تک ہماری پرانی ملازمہ‘ جنہیں بعد میں گھر کے ایک بزرگ کا درجہ حاصل ہو گیا تھا‘ اماں ممتاز جی نے پہنچایا۔ ماں جی کی کہانیاں ختم ہوئیں تو کہانی سننے کی لت میں مبتلا اس بچے نے ادھر اُدھر ٹامک ٹوئیاں مارنا شروع کیں۔ اپنی عمر سے کہیں پہلے حروف سے شناسائی پیدا کی۔ بچوں کی دنیا‘ تعلیم و تربیت اور نونہال سے ہوتے ہوئے معاملہ محلے کی آنہ لائبریری تک پہنچ گیا۔ پھر اپنے محلے کی آنہ لائبریری سے ہوتے ہوئے دائرہ ارد گرد کے دو تین محلوں کی آنہ لائبریریوں تک پھیل گیا۔ ان لائبریریوں میں اپنی پسند کی کتابیں ختم کرنے کے بعد معاملہ ایمرسن کالج سے ابا جی کی لائی ہوئی کتابوں تک پھیلتا گیا۔ پھر ابن صفی کی عمران سیریز اور کرنل فریدی سیریز ہماری دسترس میں آ گئیں۔ اسکے بعد معاملہ شفیق الرحمن اور نسیم حجازی تک جا پہنچا۔ اگلا پڑاؤ افسانے اور ناول تھے۔ اس بحرِ بے کنار میں کس کس کا نام لیا جائے ؟ معاملہ اردو ادب سے باہر نکلا تو سب رنگ نے اپنا رنگ دکھایا جو آج بھی دل کی کئی پرتوں پر جما ہوا ہے۔ عالمی ادب کے تراجم سے شکیل عادل زادہ کے اس ڈائجسٹ نے تو گویا ہم پر ایک نئی دنیا کا دروازہ وا کر دیا۔ملتان اپنی ہزاروں سالہ قدامت کے باوجود پبلک لائبریریوں کے معاملے میں کچھ خاص خوش قسمت واقع نہیں ہوا۔ لے دے کر دو پبلک لائبریریاں تھیں۔ ایک قدیمی پبلک لائبریری باغ لانگے خان اور دوسری میونسپل لائبریری قلعہ کہنہ قاسم باغ تھی۔ کچھ عرصہ پہلے ایک بڑی خوبصورت اور شاندار عمارت میں گیریژن پبلک لائبریری بھی وجود میں آ چکی ہے لیکن اول الذکر دونوں پبلک لائبریریوں کا حال کچھ ٹھیک نہیں تھا۔ ان دونوں لائبریریوں میں بھی میری زیادہ دلچسپی میونسپل پبلک لائبریری قلعہ کہنہ قاسم باغ سے تھی جہاں اباجی مرحوم کے دوست چچا اشرف سیال لائبریرین تھے۔ میرا بچپن سے اس لائبریری میں آنا جانا تھا لہٰذا اس لائبریری سے میری محبت دو چند ہو گئی تھی۔ چچا اشرف سیال ریٹائر ہوئے تو لائبریری لاوارث ہو گئی۔ اچھی اچھی کتابیں افسران نے اپنے نام پر جاری کرائیں اور تبادلہ ہونے کے بعد اکثر و بیشتر افسر یہ کتابیں لائبریری کو واپس کرنے کے بجائے اپنے ساتھ لے گئے۔ پنجابی کی ایک کہاوت ہے کہ &#39;&#39;سر تے نہیں کُنڈا تے ہاتھی پھرے لُنڈا‘‘۔ سو اس لائبریری کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ عدم توجہی اور سرپرستوں کی لاپروائی کے باعث ایک نہایت شاندار لائبریری آہستہ آہستہ برباد ہوتی گئی۔ میں نے اس لائبریری کی بہتری کیلئے قلمی اور عملی طور پر اپنی استطاعت سے بڑھ کر بھاگ دوڑ کی۔ ہمارے دوست اوریا مقبول جان جب ڈائریکٹر جنرل پبلک لائبریریز تھے تو ان سے مل کر اس لائبریری کیلئے تب دس لاکھ روپے کی گرانٹ منظور کرائی۔ ڈپٹی کمشنر ملتان نے تب اس لائبریری کی بحالی کیلئے ایک کمیٹی بنائی جس میں مَیں بھی شامل تھا۔ ان دس لاکھ روپوں سے کتابوں کے علاوہ کمپیوٹر اور فوٹو کاپیئر بھی خریدا گیا۔ گورنمنٹ کے قوانین کے مطابق کتابوں کی سرکاری خریداری پر تیس فیصد سے زیادہ رعایت نہیں لی جا سکتی۔ سو ہم نے بھاگ دوڑ کر کے خریدی گئی کتابوں کو سرکاری کھاتوں میں تو تیس فیصد رعایت پر خریدا‘ لیکن برادرم شاکر حسین شاکر کی مدد سے پبلشرز سے اوپر بچ جانے والی رقم کے عوض کتابیں عطیہ کرائیں۔ لیکن ان سب کے باوجود لائبریری کی حالت بہتر نہ ہو سکی اور اس کی شاید سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ لائبریری میں کوئی تربیت یافتہ اور باقاعدہ لائبریرین نہیں تھا۔ چچا اشرف سیال کی ریٹائرمنٹ کے بعد لائبریری کلرک عبداللہ نے لائبریرین کی ذمہ داری سنبھالی اور عبداللہ کی ریٹائرمنٹ کے بعد تو لائبریری کی حالت ویسی ہو گئی جیسے ہلاکو خان کے حملے کے بعد بغداد کی لائبریریوں کی ہو گئی تھی۔ پھر یوں ہوا کہ کچھ عرصہ پہلے ملتان کے قدیمی اور تاریخی قلعے کو لاہور والڈ سٹی اتھارٹی کی تولیت میں دے دیا گیا۔ مجھے پتا چلا کہ ملتان کے تاریخی برباد شدہ قلعے کی تزئین و آرائش کیلئے حکومت پنجاب نے تین ارب روپے کی خطیر رقم منظور کی ہے۔ اسی دوران میرے کان میں یہ بات پڑی کہ اس قلعے کی تزئین و آرائش کے دوران لائبریری کو کہیں اور منتقل کیا جا رہا ہے۔ یہ سن کر میرا ماتھا ٹھنکا کیونکہ مجھے اس بات کا بخوبی اندازہ ہے کہ جب ہمارے ہاں اس قسم کی لاوارث چیزوں کو منتقل کیا جاتا ہے تو انہیں دراصل راہِ عدم کی طرف منتقل کر دیا جاتا ہے۔ جب حکومت نے ڈپٹی کمشنر کا عہدہ ختم کر کے اسے ڈسٹرکٹ کوآرڈی نیشن آفیسر میں تبدیل کیا تو محض اس تبدیلی کی آڑ لیتے ہوئے ملتان میں ڈپٹی کمشنر آفس کی قدیمی لائبریری‘ جس میں ملتان کی کئی سو سالہ تاریخ‘ قدیمی دستاویزات‘ ضلعی گزٹیئر اور نایاب کتابیں تھیں ‘اٹھا کر سول لائنز کالج کے ایک کمرے میں بند کر دی گئیں۔ بعد ازاں وہ بہاء الدین زکریا یونیورسٹی کی لائبریری کو دے دی گئیں۔ اس طرح ڈپٹی کمشنر آفس کی قدیمی لائبریری صفحہ ہستی سے غائب ہو گئی۔ اس سلسلے میں مَیں نے کمشنر ملتان سے مل کر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ چند دن بعد انہوں نے مجھے یہ بتا کر خوش کر دیا کہ یہ لائبریری نہ صرف یہیں رہے گی بلکہ اسے قلعے کی تزئین و آرائش کے سارے منصوبے میں باقاعدہ شامل کر کے بالکل نئی شکل دی جائے گی۔ گزشتہ دنوں اس لائبریری کا افتتاح ہوا۔ بدقسمتی سے یہ مسافر ملتان میں نہیں لیکن دیارِ غیر میں بھی اس سیلانی کی تاریں اس لائبریری سے جڑی ہوئی ہیں۔ملتان سے ایک دو دوستوں نے جو کتاب اور لائبریری سے میری محبت سے آگاہ ہیں‘ مجھے کچھ وڈیوز اور تصاویر بھیجی ہیں۔ یقین کریں ان کو دیکھ کر دل صرف کھل نہیں اٹھا‘ باغ باغ ہو گیا ہے۔ بالکل نئی شکل و صورت کیساتھ اس لائبریری کے پہلو میں ایک نہایت جدید‘ خوبصورت اور شاندار کافی شاپ کا اضافہ بھی کیا گیا ہے۔ قارئین! آپ کو میری کتاب اور لائبریری سے محبت کیساتھ ساتھ کافی پینے کی عادت کا بخوبی علم ہو گا۔ سو یہ مسافر واپس ملتان پہنچ کر بحالی کے بعد نئی شکل و صورت والی تبدیل شدہ لائبریری سے اپنی آنکھیں سینکے گا اور کافی سے اپنا چسکا پورا کرے گا۔انگریزی کی ایک ضرب المثل There is always room at the top کے مطابق ابھی اس لائبریری میں مزید بہتری کی نہ صرف گنجائش ہے بلکہ اشد ضرورت ہے۔ سب سے پہلی یہ کہ اس شاندار اور لگژری بس کو چلانے کیلئے ایک تربیت یافتہ ڈرائیور یعنی لائبریرین متعین کیا جائے۔ لائبریری کے ریڈنگ روم میں نئی میزیں کسی میٹنگ ہال کا منظر پیش کر رہی ہیں۔ لائبریری میں بیٹھ کر کتاب پڑھنے کیلئے جس یکسوئی‘ ارتکاز اور تفرید کی ضرورت ہے وہ اس طرز کی میزوں پر ممکن نہیں۔ اس کیلئے ورک سٹیشن ٹائپ میزیں درکار ہیں جہاں بیٹھ کر قاری اور کتاب ایک دوسرے سے محوِ گفتگو ہو سکیں اور آخری یہ کہ اس لائبریری کے اوقات رات گئے تک کیے جائیں۔ یہ نہ ہو کہ لائبریری تو چار بجے بند ہو جائے اور لائبریری کے طفیل بننے والی کافی شاپ رات گئے تک کھلی رہے۔ میرے جیسا بندہ بھلا شام ڈھلے کتاب اور کافی سے بیک وقت لطف کیسے لے گا ؟</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90500073.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بزمِ یار سے آنے والی خبریں(ڈاکٹر حسین احمد پراچہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-10-27/52918/33837113</link><pubDate>Tue, 27 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-10-27/52918/33837113</guid><description>دل تو چاہتا ہے کہ آپ کو کوئی نغمۂ جانفزا سناؤں‘ بشارتوں اور خوشخبریوں کی داستانِ جاوداں سناؤں‘ شاخساروں پر چہچہاتے‘ گنگناتے اور چہلیں کرتے پرندوں کے ہمہمے سناؤں۔ آپ کو گلستانوں اور سبزہ زاروں میں گلہائے صد رنگ کی بہاروں اور ہر طرف تاحدِ نظر فضائے سبز گوں میں‘ کھیتوں اور کھلیانوں میں فصلوں کے نظارے دکھاؤں۔ سب سے بڑھ کر اپنے ہم وطنوں کو خوشی اور خوشحالی کی نوید دوں مگر میں کیا کروں کہ بظاہر یہ نہ تھی ہماری قسمت۔وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب بزم یار سے ایک خبر لائے ہیں۔ اُن کا نیوز الرٹ یہ ہے کہ عالمی تنازعات کی وجہ سے مہنگائی مزید بڑھ سکتی ہے۔ اُن کا کہنا یہ بھی ہے کہ خام تیل کی فراہمی کے نومبر تک انتظامات موجود ہیں۔ ایل این جی کیلئے بروقت اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ گھریلو اور صنعتی صارفین کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس کے ساتھ ہی لگے ہاتھوں وزیر خزانہ نے یہ تشویشناک خبر بھی دی کہ اگر آبادی یونہی بڑھتی رہی تو 39کروڑ تک پہنچ سکتی ہے۔ تازہ ترین خبروں کے مطابق ایل پی جی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہو گیا ہے۔لاہور شہر میں بھی یہ آٹھ سو روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے۔ وزیر پٹرولیم و گیس علی پرویز ملک کی طرف سے ایل پی جی کی قیمتوں کا پٹرول کی طرح تعین کرنے کی تجویز بلکہ وارننگ آ چکی ہے۔ اس خبر کے بعد ان خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ سلنڈر کی قیمت دس ہزار سے تجاوز کر سکتی ہے۔ عزیزم علی پرویز ملک اس سے پہلے ستمبر میں پٹرول کے ایک ہزار روپے فی لٹر تک جانے کی وحشت ناک خبر بھی سنا چکے ہیں۔ جناب علی پرویز ملک اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں مگر میدانِ سیاست میں ابھی نو آموز ہیں۔لاہور سمیت پنجاب کے کچھ اضلاع میں ایل پی جی دکانوں سے غائب ہو گئی ہے‘ اُدھر پولیس نے چھاپے مارنے اور کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے جس کے جواب میں ایل پی جی ڈسٹری بیویشن تنظیم نے شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے۔ اب اس گیس کی مہنگے داموں پر بھی دستیابی نہایت دشوار ہو گئی ہے۔ اگر ایل پی جی کی قیمتیں روزانہ کی بنیاد پر طے ہوتی ہیں تو اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ برق گرتی ہے تو بیچارے صارفین پر۔ وہ روزانہ جئیں گے روزانہ مریں گے۔داخلی منظر نامے کے بعد اب ذرا یہ دیکھتے ہیں کہ بیرونی خلقِ خدا ہمارے بارے میں کیا کہتی ہے۔ چند روز قبل ورلڈ بینک کی رپورٹ آئی تھی جس کے مطابق ہمارے خطے میں سب سے زیادہ غربت پاکستان میں ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کثیر جہتی غربت کی شرح 38 فیصد ہے۔ یعنی اتنی بڑی تعداد کی یومیہ آمدنی 850 روپے سے بھی کم ہے۔ 2019ء سے 2025ء کے دوران غربت کی شرح میں 6.4 فیصد اضافہ ہوا۔ عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں شرح نمو صرف 2.2 فیصد ہے اور بے روزگاری میں بھی بہت اضافہ ہوا ہے۔ غریب عوام یا دوسرے لفظوں میں پاکستان کے 60سے 70فی صد تک غریب اور سفید پوش کلاس بُری طرح پس چکی ہے۔ اس پر وزیر خزانہ مزید مہنگائی کی نوید سنا رہے ہیں۔ قوتِ لایموت سے معاملہ تو پہلے ہی بہت آگے بڑھ چکا تھا۔ اب مزید مہنگائی کی نئی صورت میں حکومت کے بعد عوام کے ہاتھوں میں بھی کشکولِ گدائی ہوگا۔ خدا اہلِ پاکستان کو کبھی یہ دن نہ دکھائے۔ایک طرف یاس اور ناامیدی اور قیمتوں کے بڑھنے کی باتیں ہیں تو دوسری طرف وزیراعظم کے معاونِ خصوصی حذیفہ رحمن نے عوام کو یہ خوشخبری سنائی ہے کہ اگلے 48گھنٹوں میں وزیراعظم شہباز شریف عوام کو ریلیف دینے کے بارے میں کوئی بہت بڑا اعلان کرنے والے ہیں۔ وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے بھی اس خبر کی تصدیق کی ہے۔ان وزرا نے قوم کو یہ دل خوش کن خبر دی ہے کہ عین ممکن ہے یہ ریلیف پٹرولیم کی قیمتوں میں بڑی کمی کی صورت میں ہو۔ ویک اینڈ پر وزیراعظم نے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے عہدیداروں اور معروف تاجروں سے ملاقات کی۔ اس کے علاوہ تازہ ترین خبروں کے مطابق اگلے ایک دو روز میں وزیراعظم شہباز شریف امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن سے ملاقات کرنے والے ہیں۔ ان اقدامات سے یہ محسوس ہو رہا ہے کہ حکومت اپنی معاشی پالیسیوں کی ناکامی کا دل ہی دل میں اعتراف کرنے لگی ہے۔جماعت اسلامی کے پُرامن دھرنوں‘ دلیل ومنطق کے ساتھ چلائی جانے والی سوشل میڈیا مہموں کے ذریعے عوام کو احساس ہو گیا ہے کہ اُن سے پٹرول و ڈیزل کی حقیقی قیمت کے علاوہ ٹیکسوں کی بھرمار کے ذریعے بہت کچھ بٹورا جا رہا ہے۔ مگر جب اس عوامی دباؤ کے نتیجے میں حکومت نے موٹر سائیکلوں‘ رکشوں اور چھوٹی گاڑی والوں کو محدود سا ریلیف دیا تو اس کا سارا کریڈٹ خود لے لیا۔ وزیراعظم کو اعتراف کرنا چاہیے کہ اُن کی درخواست پر جماعت اسلامی نے اپنا لانگ مارچ ملتوی کیا تھا اور اب وہ ہفتوں سے شہباز شریف کے ساتھ ملاقات کا انتظار کر رہے ہیں۔ اب اگر واقعی وزیراعظم قوم کو پٹرول کی قیمتوں میں کوئی بڑا ریلیف دیں تو اس مرتبہ اس کا کریڈٹ خود لینے کے بجائے جماعت اسلامی کے اقتصادی ہوم ورک اور ان کی پُرامن احتجاجی تحریک کو دیں۔وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے ایک طرف آنے والے دنوں میں مہنگائی کے نئے طوفان کا خدشہ ظاہر کیا ہے تو دوسری طرف آبادی کے ہولناک بم سے ڈرایا ہے۔ یہ حکومت اپنی ناکام معاشی پالیسیوں کی ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے ان کا ملبہ عوام پر گرانا چاہتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حالیہ برسوں میں ملک میں نہ نئی سرمایہ کاری آئی ہے‘ نہ نئی انڈسٹری لگی ہے‘ نہ روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ بلکہ اس کے برعکس پرانی فیکٹریاں اور ملیں بند ہو رہی ہیں‘ بیروزگاری اور مہنگائی کی شرح آسمان کی بلندیوں کو چھو رہی ہے۔ اور کچھ نہیں تو حکومت خاندانی منصوبہ بندی کے پروگرام کو سنجیدگی اور دلجمعی سے چلاتی۔ اس سلسلے میں دور جانے کے بجائے بنگلہ دیش کے آبادی منصوبہ بندی کے انتہائی مؤثر اور کارگر ماڈل سے فائدہ اٹھایا جا سکتا تھا۔بنگلہ دیش میں خاندانی منصوبہ بندی کا پروگرام کئی دہائیوں سے نہایت کامیابی کے ساتھ جاری ہے۔یہ پروگرام حکومت اور مساجد کے خطبا و ائمہ کرام اور دینی سکالرز کے درمیان بہترین تعاون کا ایک شاہکار ہے۔ بنگلہ دیش کی مختلف حکومتوں نے تقریباً چالیس ہزار سے زائد علمائے کرام کے ساتھ سیمینار منعقد کیے۔ تبادلہ خیال کے ذریعے انہیں خاندانی منصوبہ بندی کے جائز اور اسلامی تعلیمات کے مطابق ہونے کے بارے میں قائل کیا۔ اس کے نتیجے میں علمائے کرام خاندانی منصوبہ بندی کے مبلغ بن گئے۔ نیز لیڈی ہیلتھ وزیٹرز نے گھر گھر دستک دے کر خواتین کو ماں اور بچے کی صحت اور تعلیم و تربیت کے بارے میں آگہی اور خاندانی منصوبہ بندی کیلئے استعمال کی جانے والی ادویات و اشیا فراہم کرتی رہیں۔ کسی زمانے میں ہر بنگالی خاندان کے اوسطاً چھ سات بچے ہوتے تھے‘ یہ شرح اب دو تین پر آ گئی ہے۔ ہماری حکومت کے ماہرین کا گزارہ ابھی سنجیدہ معاشی پروگرام لانے کے بجائے دوسروں پر تنقید اور اپنی تشہیر تک محدود ہے۔داغ دہلوی نے کہا تھا:کس کا یقین کیجیے کس کا یقیں نہ کیجیے لائے ہیں اس کی بزم سے یار خبر الگ الگہم تو وزیراعظم کے مشیر حذیفہ رحمن کی لائی ہوئی خبر کا ہی یقین کریں گے کہ اگلے 48 گھنٹے میں عوام کو کوئی بہت بڑا ریلیف ملنے والا ہے جب آپ یہ کالم ملاحظہ کریں گے اس وقت تک 48گھنٹے پورے ہو چکے ہوں گے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_70033906.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سول سروس کے معاوضہ کا اصل ڈھانچہ(شاہد کاردار)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-kardar-/2026-10-27/52919/29007752</link><pubDate>Tue, 27 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-kardar-/2026-10-27/52919/29007752</guid><description>سول سروس میں اصلاحات سے متعلق اب تک ہماری گفتگو کا لب لباب یہ ہے کہ پاکستان میں اعلیٰ سرکاری عہدوں پر پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس (پی اے ایس) سے تعلق رکھنے والے ایسے افسروں کا غلبہ ہے جو پالیسی سازی کی تخصیصی مہارت (سپیشلائزیشن)نہیں رکھتے۔ یہ افراد کسی مخصوص شعبہ کے تجربہ کے بغیر مختلف اہم محکموں میں تعینات کردیے جاتے ہیں اور بار بار تبادلوں کے باعث کسی ایک شعبہ میں گہری مہارت حاصل نہیں کر پاتے۔ ان کو پروموشن دینے کے لیے نئے عہدے بنائے جاتے ہیں اور عہدوں کو تقسیم کرنے سے ذمہ داریاں بکھر جاتی ہیں۔ افسروں کو لازمی ترقی دی جاتی ہے لیکن کارکردگی  کی بنیاد پر نہیں‘ اور جوابدہی کا فقدان ہے جس سے نظام کمزور ہوگیا ہے۔ ہم نے اس نکتہ پر بھی بات کی کہ موجودہ سرکاری ڈھانچوں‘ نظاموں اور طریقہ کار کے نتیجہ میں سرکاری شعبہ میں ضرورت سے زیادہ ملازمین بھرتی ہوگئے ہیں۔ اب حکومت اپنے بنیادی روایتی کردار سے کہیں زیادہ ذمہ داریاں انجام دے رہی ہے لیکن سول سروس کم اہلیت‘ پست حوصلہ‘ بدعنوانی اور سیاسی مداخلت جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ تیزی سے بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی‘ عالمی مارکیٹ کے تقاضوں‘ فعال میڈیا اور باخبر شہریوں کی بڑھتی ہوئی توقعات کے باوجود سرکاری انتظامیہ کے فرائض‘ قواعد اور روایات میں ضروری تبدیلیوں پر ایک سیر حاصل بحث کی ضرورت ہے۔ موجودہ سول سروس میں اصلاحات کا ایک اہم پہلو افسروں کے معاوضہ سے متعلق ہے۔ سرکاری ملازمین اکثر کام سے اپنے لگاؤ اور کارکردگی میں کمی کی وجہ معاوضہ کے ایسے ڈھانچہ کو قرار دیتے ہیں جس کا یکساں ذمہ داریوں‘ قابلیت اور تجربہ کے  حامل نجی شعبہ کے ملازمین کے معاوضہ سے موازنہ کیا جائے تو اس سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اعلیٰ سرکاری ملازمین کا کہنا ہے  کہ 25 سال کی ملازمت کے بعد ان میں کسی نئے کام کو شروع کرنے کا جذبہ اور نئے اقدامات اٹھانے کی ترغیب ختم ہونے لگتی ہے۔ بہت سے ملازمین بددل ہو جاتے ہیں۔ وہ اپنی ملازمت کے باقی سال محض کاغذی کارروائی کرنے اور کاغذات ایک میز سے دوسری میز تک پہنچانے میں گزار دیتے ہیں۔تاہم‘ سرکاری ملازمین اور نجی شعبہ میں کام کرنے والوں کا یہ موازنہ عموماً صرف نقد معاوضہ کی بنیاد پر کیا جاتا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ سرکاری ملازمت کے مجموعی پیکیج میں اشیا اور خدمات کی صورت میں مہنگی سہولتیں اور دیگر فوائد بھی شامل ہوتے ہیں جنہیں مقابلہ کرتے ہوئے نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ ان مراعات اور خصوصی سہولتوں کا عموماً کھل کر ذکر نہیں کیا جاتا۔ نہ یہ فوائد تنخواہ کی سلپ میں شفاف انداز میں ظاہر ہوتے ہیں۔ اس وجہ سے وہ حقیقی لاگت اصل سے کم دکھائی دیتی ہے جو ٹیکس دہندگان کو ان افسران کو ادا کرنا پڑتی ہے۔ یوں سول سروس میں ترغیبات کا توازن بھی بگڑ جاتا ہے۔سول سروس کے معاوضہ کے نظام کا بنیادی مسئلہ اس میں شفافیت کا فقدان ہے۔ معاوضہ کا ایک نمایاں حصہ بجٹ کی مختلف مدوں اور پہلے سے موجود سہولیات کی شکل میں چھپا ہوتا ہے۔ ان میں سے بہت سے اخراجات کی درست لاگت کا تعین  نہیں کیا جاتا۔ نتیجتاً ٹیکس دہندگان آسانی سے یہ معلوم نہیں کر سکتے کہ اعلیٰ سرکاری عہدے داروں بالخصوص گریڈ 20 اور اس سے اوپر کے افسران پر حکومت حقیقت میں کتنا خرچ کرتی ہے؛ چنانچہ تنخواہوں کے ظاہری سکیلز سے معاوضہ کے حقیقی مجموعی پیکیج کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ ظاہر ہوتا ہے۔ بظاہر یوں لگتا ہے کہ گریڈ 19 اور اس سے اوپر کے افسران کو ان پر عائد  ذمہ داریوں کے مقابلہ میں بہت کم معاوضہ ملتا ہے لیکن یہ نتیجہ اخذ کرنا گمراہ کن ہے کیونکہ نقد تنخواہ میں وہ بہت سے فوائد شامل نہیں ہوتے جنہیں ہم آگے چل کر بیان کریں گے۔اس معاملہ کا ایک پہلو یہ ہے کہ تنخواہوں کے یکساں سکیلز (یونیفائیڈ پے سکیلز) کے نظام نے سول سروس میں کشش اور ترغیبات کو نقصان پہنچایا ہے۔ اس نظام کے تحت گریڈ 20 میں کام کرنے والے ہر شخص کو ایک جتنا معاوضہ ملتا ہے خواہ اس  کا تعلق کسی محکمہ سے ہو۔ مثلاً کسی کم اہم اور کم ذمہ داری والی پوسٹ پر کام کرنے والے افسر کو بھی صوبہ کے فنانس سیکرٹری کے برابر ہی تنخواہ ملتی ہے حالانکہ فنانس سیکرٹری کا کام بہت زیادہ اور بھاری ذمہ داری کا ہے۔ تنخواہ کا یہ نظام اختیار کیے جانے سے پہلے جو نظام رائج تھا اس میں سرکاری ملازم کی تنخواہ اس کے عہدہ اور اس سے وابستہ ذمہ داری کی حساب سے مقرر ہوتی تھی۔ لیکن فرائض کی نوعیت‘ مطلوبہ پیشہ ورانہ مہارت اور ذمہ داری کی سطح سے قطع نظر یکساں تنخواہ کا نظام نافذ کر دیا گیا۔ ذمہ داریوں‘ پیشہ ورانہ تقاضوں سے قطع نظر تقریباً یکساں معاوضہ دینا نہ صرف پیداواری صلاحیت بڑھانے کی ترغیبات کو  کمزور کرتا ہے بلکہ اس کی وجہ سے حکومتوں کی یہ صلاحیت بھی متاثر ہوئی کہ وہ زیادہ اہم سرکاری شعبوں میں اعلیٰ صلاحیت کے حامل افراد کو ان کی قابلیت اور مہارت کے مطابق اضافی معاوضہ پیش کرے تاکہ وہ اس طرف راغب ہوں۔تنخواہوں کے یکساں سکیلز 1973ء میں انصاف اور شفافیت کو فروغ دینے کے لیے متعارف کرائے گئے تھے تاہم وقت گزرنے کے ساتھ یہ نظام کمزور ہوتا گیا کیونکہ مخصوص سروس گروپوں اور بعض اوقات ایک ہی گروپ کے اندر منتخب عہدوں کے لیے من مانے اور غیر مساوی انعامات دیے گئے جن میں خصوصی تنخواہ کے پیکیج‘ الاؤنسز اور مراعات شامل تھیں۔ یہ فوائد اکثر اس طرح دیے جاتے ہیں کہ اس بات کا کسی شفاف طریقہ سے تعین نہیں کیا جاتا کہ کون ان کا واقعی اہل ہے۔ پاکستان ادارہ ترقیٔ معیشت (پائیڈ) نے ایک مفید مطالعہ کیا جس کا عنوان ہے&#39;&#39;نقدی میں غریب‘ مراعات (پلاٹوں اور خصوصی سہولتوں) میں امیر! سرکاری ملازمین کا معاوضہ: ترغیبات‘ بددلی اور اخراجات‘‘۔ اس تحقیقی مطالعہ نے ڈاکٹر ندیم  الحق کی نگرانی میں اندازہ لگایا کہ گریڈ 21 کے ایک افسر پر آنے والی مجموعی لاگت کا پاکستان میں اقوام متحدہ کے نظام کے  تحت کام کرنے والے پاکستانی شہری سے مقابلہ کیا جائے تو پاکستانی افسر پر اٹھنے والے اخراجات اپنے مقابل سے 15 فیصد زیادہ تھے۔ اس مطالعہ میں متعدد ایسے مالی اور غیر مالی فوائد کی نشاندہی کی گئی جو سرکاری تنخواہوں کے اعداد و شمار میں مناسب طور پر ظاہر ہی نہیں ہوتے۔ بنیادی پے سکیل 20 اور اس سے اوپر کے افسران‘ خصوصاً پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے افسران‘ ان فوائد کے حقدار ہوتے ہیں۔ اگر صرف بنیادی تنخواہ کے پیمانہ کو بنیاد بنایا جائے تو کم ترین اور بلند ترین تنخواہ کے گریڈوں کے درمیان اجرت کا تناسب 10:1 سے بھی کم ہے۔ لیکن جب معاوضہ کے ان دونوں اجزا (کیش اور مراعات) کو ملا کر دیکھا جائے تو یہ تناسب بڑھ کر 24:1 ہو جاتا ہے۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ سول سروس کے معاوضہ کا موجودہ نظام بظاہر کم تنخواہوں پر مبنی دکھائی دیتا ہے لیکن حقیقت میں ایسا ہے نہیں۔ سرکاری ملازمین کے نقد معاوضہ کا نجی شعبے میں کام کرنے والے شخص کی تنخواہ سے موازنہ مناسب طریقہ نہیں کیونکہ پوشیدہ معاوضہ کے باعث سرکاری ملازم پر آنے والی لاگت پوری طرح واضح نہیں ہوتی۔ سرکاری افسروں کو ملنے والی مختلف مراعات اور سہولیات بجٹ کی الگ الگ مدوں میں رکھی جاتی ہیں اور ان کی مکمل مالی قدر متعین نہیں کی جاتی۔ نتیجتاً ٹیکس دہندگان یہ نہیں جان پاتے کہ حکومت کو اعلیٰ گریڈ کے سرکاری افسر پر اصل میں کتنے اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_78012569.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مشرقِ وسطیٰ کی تشکیلِ نو(رشید صافی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-10-27/52920/70786166</link><pubDate>Tue, 27 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-10-27/52920/70786166</guid><description>28 فروری 2026ء کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی صورتحال نے عالمی سیاست‘ عسکری طاقت کے روایتی تصورات اور خطے کے تزویراتی توازن کو اس انداز سے متاثر کیا ہے کہ اب دنیا کا پہلے والی حالت میں واپس جانا بظاہر ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا آغاز جن مقاصد کے تحت کیا تھا ان میں ایرانی عسکری صلاحیت کو کمزور کرنا‘ اس کے جوہری پروگرام کو محدود کرنا اور تہران کے سیاسی نظام پر فیصلہ کن دباؤ ڈالنا شامل تھا۔ لیکن تقریباً آٹھ ماہ گزرنے کے باوجود یہ جنگ اپنے بنیادی مقاصد حاصل نہیں کر سکی ہے۔ اس کے برعکس اب ایسی صورتحال پیدا ہو چکی ہے جس میں ایران کی مزاحمتی صلاحیت‘ آبنائے ہرمز کی اہمیت اور امریکی فوجی موجودگی کی حدود ایک نئی بحث کا موضوع بن گئی ہیں۔ اس کا اظہارسابق امریکی صدر براک اوباما نے اوہائیو اور مشی گن میں انتخابی مہم کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اور جنگ کے بجائے 2015ء کے جوہری معاہدے اور سفارتکاری کی حمایت کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پالیسی سے امریکی فوجیوں کی ہلاکت اور ان کے زخمی ہونے‘ امریکی اڈوں پر حملوں اور آبنائے ہرمز پر ایران کے اثر و رسوخ میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ بیانات اس لیے زیادہ اہم ہیں کیونکہ یہ تنقید کسی سیاسی مخالف کے بجائے امریکہ کے ایک سابق صدر کی جانب سے سامنے آئی ہے۔اس جنگ کا سب سے غیر معمولی پہلو آبنائے ہرمز کی حیثیت میں تبدیلی ہے۔ برسوں سے امریکہ کی بحری طاقت اور خلیجی ممالک میں اس کی فوجی موجودگی کو بین الاقوامی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے تحفظ کی ضمانت سمجھا جاتا تھا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ ایران اپنی جغرافیائی حیثیت اور میزائلز‘ ڈرونز اور بحری صلاحیتوں کے ذریعے اس اہم آبی گزرگاہ پر دباؤ ڈالنے کی قابلیت ظاہر کر چکا ہے۔ 28 فروری 2026ء کے بعد پیدا ہونے والے حالات نے امریکی فوجی اڈوں کے بارے میں قائم اس تصور کو بھی متاثر کیا ہے کہ انکی موجودگی ہی علاقائی تحفظ کی ضمانت ہے۔ ایران نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ کسی بھی بڑے حملے کی صورت میں وہ جنگ کو اپنی سرحدوں تک محدود رکھنے کے بجائے خطے میں موجود امریکی مفادات تک پھیلا سکتا ہے۔ اس حکمت عملی نے خلیجی ریاستوں کیلئے سنگین خطرات پیدا کر دیے ہیں۔ ان ممالک کی دفاعی ضروریات بڑی حد تک امریکہ سے وابستہ ہیں لیکن ان کی اقتصادی ترقی‘ توانائی کی تنصیبات‘ بندرگاہیں اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کسی وسیع علاقائی جنگ کی متحمل نہیں ہو سکتی۔امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے 20 اکتوبر کے غیر اعلانیہ دورۂ اسرائیل نے جنگ کے خدشات کو مزید تقویت دی ہے۔ ان کی اسرائیلی وزیراعظم اور وزیر دفاع سے ملاقاتیں ایسے وقت میں ہوئیں جب ایران کے خلاف مزید حملوں کی منصوبہ بندی سے متعلق خبریں گردش کر رہی ہیں۔ 21 اکتوبر کو سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق اسرائیلی قیادت اکتوبر کے آغاز میں نئے حملوں کی تیاری کر رہی تھی لیکن صدر ٹرمپ نے امریکی مڈ ٹرم الیکشن سے پہلے جنگ دوبارہ شروع کرنے کی مخالفت کی۔ یہ اطلاعات اگر واشنگٹن کی موجودہ پالیسی کی درست عکاسی کرتی ہیں تو فوری جنگ کے مقابلے میں انتخابات کے بعد کسی نئی کارروائی کا زیادہ امکان ہے۔ دوسری طرف نیتن یاہو کی سیاسی مشکلات بھی اس بحران میں اہم عنصر بن سکتی ہیں۔ اسرائیلی حکومت کیلئے ایران کے خلاف سخت مؤقف داخلی سیاسی حمایت برقرار رکھنے کا ذریعہ ہو سکتا ہے۔ اگر اسرائیلی قیادت کو محسوس ہوتا ہے کہ طویل کشیدگی اس کے سیاسی مفادات میں ہے تو محدود فوجی کارروائی کا امکان بڑھ سکتا ہے۔ ایران کی حکمت عملی کا بنیادی مقصد بظاہر یہی ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کیلئے کسی نئے حملے کے مضمرات اتنے زیادہ کر دیے جائیں کہ وہ کوئی وسیع جنگ شروع کرنے سے پہلے کئی مرتبہ سوچنے پر مجبور ہوں۔خطے میں کشیدگی کے موقع پر روس اور چین کا کردار مزید اہم ہو جاتا ہے۔ دونوں ممالک ایران کے خلاف امریکی دباؤ‘ علاقائی عدم استحکام اور توانائی کی رسد میں رکاوٹوں کے اثرات کو اپنے قومی مفادات کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ روس کیلئے ایران ایک اہم تزویراتی شراکت دار ہے جبکہ چین کیلئے خلیج میں امن اور توانائی کی مسلسل فراہمی بنیادی اقتصادی ضرورت ہے۔ پاکستان کی حیثیت اس بحران میں خاص اہمیت رکھتی ہے۔ اگرچہ جون میں پاکستانی ثالثی سے طے پانے والی جنگ بندی اور مفاہمتی یادداشت نے بڑے پیمانے کی لڑائی روکنے میں مثبت کردار ادا کیا تھا لیکن بنیادی تنازعات حل نہ ہونے کے باعث اس انتظام کی پائیداری متاثر ہوئی۔ پاکستان کیلئے اس صورتحال میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ وہ اپنی سفارتی حیثیت کو کسی نئی کشیدگی کے خاتمے کیلئے کس حد تک استعمال کر سکتا ہے۔ اسلام آباد کے بیک وقت ایران‘ سعودی عرب‘ چین اور امریکہ کے ساتھ روابط اسے ایک مؤثر رابطہ کار کی حیثیت دیتے ہیں۔ خلیجی ممالک کے سامنے شاید اس وقت سب سے مشکل انتخاب موجود ہے۔ ایک طرف امریکہ کیساتھ انکے تاریخی دفاعی معاہدے اور فوجی تعلقات ہیں جبکہ دوسری طرف ایران کی ایسی صلاحیتیں ہیں جو جنگ کی صورت میں انکی اقتصادی بنیادوں کو مزید متاثر کر سکتی ہیں۔ سعودی عرب‘ متحدہ عرب امارات‘ قطر‘ کویت اور بحرین بخوبی سمجھتے ہیں کہ آئل تنصیبات‘ تجارتی بندرگاہوں‘ ہوائی اڈوں اور مالیاتی مراکز پر حملے صرف عسکری نقصان نہیں پہنچائیں گے بلکہ یہ طویل مدتی معاشی منصوبہ بندی اور بیرونی سرمایہ کاری کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔ اس لیے ان ریاستوں کیلئے محض عسکری اتحاد پر انحصار کے بجائے علاقائی سفارتکاری اور کشیدگی میں کمی کے راستے کھلے رکھنا زیادہ سودمند ہو سکتا ہے۔اگر امریکہ اور اسرائیل ایران کے خلاف ایک اور بڑی فوجی کارروائی کرتے ہیں تو اسکے نتائج گزشتہ مراحل سے مختلف ہوں گے۔ اس ممکنہ جنگ کا سب سے خطرناک پہلو اسکے عالمی اقتصادی نتائج ہوں گے۔ اگر آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت مزید محدود ہوئی‘ خلیجی تیل اور گیس کی پیداوار متاثر ہوئی یا بڑے صنعتی و توانائی مراکز کو نقصان پہنچا تو عالمی منڈیوں میں شدید بے یقینی پیدا ہو جائے گی۔ پاکستان جیسے ممالک جو توانائی کی درآمدات اور بیرونی مالیاتی استحکام پر انحصار کرتے ہیں‘خطے میں کشیدگی بڑھنے سے سخت متاثر ہوں گے۔ اسلئے پاکستان کیلئے یہ بحران صرف خارجہ پالیسی یا علاقائی سلامتی کا مسئلہ نہیں بلکہ براہِ راست قومی معاشی تحفظ کا سوال بھی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ عسکری اعتبار سے ایران اور امریکہ میں زیادہ طاقتور کون ہے۔ امریکی فوجی صلاحیت اور عالمی عسکری وسائل کی برتری اپنی جگہ‘ لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ کیایہ برتری ایسے سیاسی نتائج حاصل کر سکتی ہے جنہیں طویل مدت تک برقرار رکھا جا سکے؟ کیا ایران کو مسلسل فوجی دباؤ کے ذریعے علاقائی حکمت عملی بدلنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے؟ اور کیا اسرائیل مزید حملوں کے ذریعے وہ سلامتی حاصل کر سکتا ہے جو اَب تک کی کارروائیوں سے حاصل نہیں ہو سکی؟ ان سوالات کے جوابات فی الحال غیریقینی ہیں۔ ایران نے بڑے نقصانات کے باوجود مزاحمت جاری رکھنے کی صلاحیت ظاہر کی ہے لیکن اسے اقتصادی ناکہ بندی‘ فوجی نقصانات اور داخلی دباؤ جیسے سنگین مسائل کا بھی سامنا ہے۔ امریکہ کے پاس فوجی طاقت موجود ہے مگر اس کے استعمال کی سیاسی اور اقتصادی قیمت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ آئندہ چند روز میں تین امکانات دکھائی دیتے ہیں۔ پہلا یہ کہ امریکہ اور اسرائیل محدود فوجی دباؤ بڑھائیں اور ایران اس کے جواب میں متناسب یا نسبتاً وسیع کارروائی کرے۔ دوسرا یہ کہ موجودہ کشیدگی بحری ناکہ بندی اور غیر اعلانیہ عسکری تصادم کا سلسلہ جاری رہے اور بڑی جنگ کا فیصلہ امریکی انتخابات کے بعد تک مؤخر ہو جائے۔ تیسرایہ کہ پاکستان یا دیگر علاقائی رابطہ کاروں کے ذریعے نئے سفارتی رابطے شروع ہوں اور فریقین کسی ایسے عارضی انتظام پر متفق ہو جائیں جو فوری جنگ کا خطرہ کم کر سکے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/222_48272610.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>غلامی کی ایک نئی شکل(جویریہ صدیق )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/javeria-siddique/2026-10-27/52921/64167855</link><pubDate>Tue, 27 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/javeria-siddique/2026-10-27/52921/64167855</guid><description>پرانے وقتوں میں انسانوں کی منڈیاں لگا کرتی تھیں‘ ان کی باقاعدہ بولیاں لگائی جاتی تھیں۔ ان منڈیوں سے غلام خرید کر ان سے ساری زندگی کام کرایا جاتا تھا‘ ان کا استحصال کیا جاتا تھا‘ اور ایک وقت آتا کہ جب کام کرتے کرتے وہ لقمۂ اجل بن جاتے تھے۔ اس غلامی کی بہت سی صورتیں تھیں۔ سب سے پہلے بازار میں بکنے والے غلام تھے‘ جو زیادہ تر اپنی غربت کی وجہ سے بکتے تھے۔ پھر جنگی قیدی تھے‘ جو جنگ ہارنے کی صورت میں فاتح قوم کے غلام بن جاتے تھے۔ ان غلاموں میں جنگوں میں حصہ لینے والے سپاہی‘ بوڑھے‘ بچے‘ جوان اور خواتین‘ سبھی شامل ہوتے تھے۔ قرض واپس نہ کرنے پر بھی غلامی میں جانا پڑتا تھا۔ غلاموں کی ایک قسم پیدائشی غلام بھی تھے‘ یہ اُن لوگوں کی اولاد ہوتے تھے جو اُن کی پیدائش سے قبل ہی غلامی میں ہوتے تھے۔ان غلاموں سے کھیتوں میں کام کرایا جاتا اور انہیں کوئی معاوضہ اور چھٹی بھی نہیں ملتی تھی۔ اسی طرح غلاموں سے جسم فروشی کروا کر بھی ان کا استحصال کیا جاتا تھا۔ کچھ لوگ غلاموں کی تجارت کرتے تھے اور جہازوں میں بھر بھر کر غلاموں کو دوسرے علاقوں میں بیچ دیتے تھے۔آہستہ آہستہ دنیا بھر میں غلامی کے خلاف تحریکیں شروع ہوئیں۔ 1787ء میں لندن میں غلاموں کی تجارت کو ختم کرنے کیلئے ایک سوسائٹی بنائی گئی۔ ولیم ولبرفورس نے 20 سال تک غلامی کے خاتمے کیلئے جدوجہد کی۔ آخر کار 1807ء میں برطانیہ نے غلاموں کی تجارت پر پابندی لگادی‘ اور پھر 1833ء میں تمام برطانوی کالونیوں میں غلامی ختم کر دی گئی۔امریکہ کی طرف دیکھیں تو ولیم لائڈ گیریسن نے 1831ء میں &#39;دی لبریٹر‘ اخبار نکالا۔ ہیریٹ ٹب نامی سابقہ غلام نے انڈرگراؤنڈ ریل روڈ کی بنیاد رکھی اور 300 غلاموں کو آزاد کرایا۔ 1863ء میں امریکی صدر ابراہم لنکن نے ایک معاہدے پر دستخط کرکے غلامی کو ختم کرنے کی طرف عملی قدم اٹھایا۔ مذہبی تحریکوں کی طرف دیکھیں تو ہمارے دینِ اسلام نے غلامی کی سخت حوصلہ شکنی کی اور مزدوروں کو ان کے حقوق دلائے۔ صحابی رسول حضرت بلال حبشیؓ پہلے ایک غلام تھے۔ جب انہوں نے اسلام قبول کیا تو ان کے مالک نے ان پر ظلم کے پہاڑ توڑ ڈالے۔ وہ سختیاں برداشت کرتے رہے اور &#39;احد، احد‘ یعنی اللہ ایک ہے‘ پکارتے رہے۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اُن کو خرید کر آزاد کیا۔ بعد ازاں آپؓ مؤذنِ رسول بنے۔ حضرت بلالؓ کی زندگی اس بات کی سب سے بڑی مثال ہے کہ اسلام میں عزت رنگ‘ نسل یا دولت سے نہیں بلکہ تقویٰ سے ہے۔ غلامی قدیم عرب معاشرت کا حصہ تھی اور اسلام نے اس کو بتدریج کم کیا۔ نبی کریم ﷺ نے غلاموں کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیتے ہوئے فرمایا کہ انہیں اپنا بھائی سمجھو‘ ان کا خیال رکھو اور انہیں وہی کھلاؤ جو خود کھاتے ہو۔ اسلام نے مزدوروں اور محنت کشوں کے حقوق کا بھی خیال رکھا۔ فرمانِ رسولﷺ ہے کہ مزدور کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے اس کی مزدوری ادا کر دو۔ خلفائے راشدین نے بھی اپنے دور میں بہت سے غلاموں کو آزاد کرکے اچھی زندگی جینے کے مواقع فراہم کیے۔اسی طرح 19ویں صدی میں سلطنتِ عثمانیہ نے 1857ء میں‘ مصر نے 1877ء میں اور سعودی عرب نے 1962ء میں باقاعدہ طور پر غلامی ختم کر دی۔ 1926ء میں لیگ آف نیشنز میں غلامی کے خلاف کنونشن کے تحت پہلا معاہدہ ہوا۔ اس کے بعد 1948ء میں انسانی حقوق کے اعلامیے کے آرٹیکل چار میں یہ لکھا گیا کہ کوئی بھی انسان غلامی میں نہیں رہے گا۔ آج تمام ممالک اقوامِ متحدہ کے چارٹر کو فالو کرتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کا ادارہ برائے لیبر جبری مشقت پر نظر رکھتا ہے۔ تاہم ہمارے ملک میں غلامی اور جبری مشقت کا رجحان اب بھی موجود ہے۔ یہاں غلام بازاروں میں تو نہیں بکتے لیکن انہیں دھمکی‘ قرض‘ تشدد اور مجبوری سے غلام بنا لیا جاتا ہے۔ اس جدید غلامی میں تنخواہ کم دی جاتی ہے اور اس کی ادائیگی میں تاخیر کی جاتی ہے۔ نئی غلامی کی اقسام میں &#39;بانڈڈ لیبر‘ غلامی کی فہرست میں پہلے نمبر پر ہے۔ اس میں لوگوں کو نسل در نسل مزدوری پر مجبور کیا جاتا ہے۔ جبری مشقت دیارِ غیر میں غلامی کی نئی  قسم ہے جس میں لوگوں کے پاسپورٹ ضبط کرکے ان سے زبردستی مزدوری کرائی جاتی ہے اور مناسب اجرت بھی نہیں دی جاتی ۔ جبری شادی‘ انسانی سمگلنگ‘ جسم فروشی اور ڈیجیٹل غلامی بھی جدید غلامی کی صورتیں ہیں۔ بچے خاص طور پر اس غلامی میں بہت زیادہ استحصال کا شکار ہوتے ہیں۔ ان سے کان کنی‘قالین بافی‘ زراعت‘ جسم فروشی‘ گداگری‘ دکانوں‘ کارخانوں اور ورکشاپس سمیت دیگر شعبوں میں زبردستی کام کرایا جاتا ہے۔ اگر 18سال سے کم عمر بچے سے تعلیم کا حق چھین کر اسے محنت مزدوری پر لگا دیا جائے تو یہ چائلڈ لیبر ہے۔ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے مطابق پاکستان میں لاکھوں بچے چائلڈ لیبر پر مجبور ہیں۔ چائلڈ لیبر اور چائلڈ ورک میں فرق ہے۔ گھر میں والدین کا ہاتھ بٹانا یا ایسا کام کرنا جو تعلیم اور صحت پر فرق نہ ڈالے‘ چائلڈ لیبر نہیں ہے لیکن ایسا کام جس میں بچوں سے مسلسل مشقت کرائی جائے‘ ان سے تعلیم‘ کھیل‘ صحت اور آرام چھین لیا جائے‘ انہیں مارا پیٹا جائے‘ یہ سب تشدد اور چائلڈ لیبر کے زمرے میں آتا ہے۔ پاکستان کا آئین کہتا ہے کہ کم عمر بچے سے خطرناک مزدوری نہیں لی جا سکتی اور ہر بچے کو تعلیم کا حق حاصل ہے۔ تاہم پھر بھی ہمارے ملک میں چائلڈ لیبر جاری ہے جس میں بچوں کا اس قدر استحصال ہوتا ہے کہ اکثر وہ جان سے چلے جاتے ہیں۔ ذاتی طور پر مجھے گھریلو ملازم بچوں کو دیکھ کر سب سے زیادہ دکھ ہوتا ہے۔ لوگ کم سن ملازمین کو سٹیٹس سمبل کے طور پر دیکھتے ہیں‘انہیں پھٹے پرانے کپڑوں میں رکھتے ہیں‘ مارتے پیٹتے ہیں‘ بھر پیٹ کھانا بھی نہیں دیتے۔ اپنے گھر کے کام اور بچے ان پر چھوڑ دیتے ہیں۔ ایک دس بارہ سال کا بچہ کیا کسی بچے یا گھر کو سنبھالے گا؟کبھی غربت سے تنگ ماں باپ بچوں کو ایسے جہنم میں دھکیل دیتے ہیں تو کبھی لاوارث یتیم بچے اس گھریلو مشقت پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ آپ سب اپنے اردگرد دیکھیں‘تقریباً ہر دوسرے گھر میں ایک کم عمر گھریلو ملازم نظر آئے گا‘ جس کی ماہانہ تنخواہ چند ہزار روپے ہو گی۔ شاپنگ مالز‘ سینما گھروں اور بازاروں میں دیکھ لیں‘ متمول فیملیاں ایک غریب ملازم بچی یا بچے کو ساتھ لیے گھوم رہی ہوں گی۔ اس کی کوئی چھٹی نہیں‘ وہ سارا دن کام کرتا ہے اور مار  کھاتا ہے۔ اپنے جانوروں تک کو امرا باقاعدہ کمرہ دیتے ہیں‘ لیکن اس غریب کو سیڑھی کے نیچے یا پورچ میں جگہ ملتی ہے۔ حالیہ دنوں ملتان میں جو ناخوشگوار واقعہ پیش آیا وہ ہمارے معاشرے کا اصل چہرہ ہے۔ ایک پندرہ سالہ یتیم بچہ شاید ملازمت نہیں کرنا چاہتا تھا‘ وہ کام چھوڑ کر چلا گیا۔ ٹھیکیدار نے اس کا پیچھا کیا اور اس کو گاڑی تلے کچل دیا۔ ایک یتیم بچے کے ساتھ اتنی سفاکی! ہم بطور معاشرہ کیوں اتنے سفاک ہو گئے ہیں؟ اس بچے کو یتیم خانے سے ہنر سیکھنے کیلئے بھیجا گیا تھا‘ وہ الیکٹریشن کا کام سیکھنا چاہتا تھا مگر ٹھیکیدار نے اس کی جان لے لی۔ کیا ہمارے ملک میں بچوں کے حقوق کی ضمانت لینے کو کوئی تیار نہیں؟ ایسے ہی شیخوپورہ میں ایک بارہ سالہ گھریلو ملازم بچی کو تشدد کر کے مار دیا گیا۔مالکان نے چوری کا الزام لگا کر بچی کو ڈنڈوں اور گرم سریے سے تشدد کا نشانہ بنایا جس سے اس کا بازو ٹوٹ گیا۔ اس کی چیخ و پکار سن کر کے ہمسایوں نے مداخلت کرکے اسے چھڑایا اور پولیس کو اطلاع دی۔ اسے ہسپتال میں داخل کرایا گیا مگر وہ جان کی بازی ہار گئی۔ کیا بچے ایسے ہی جبری مشقت کا شکار ہو کر لقمۂ اجل بنتے رہیں گے؟ آج اُن سب لوگوں کو اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنا چاہیے جنہوں نے چھوٹے بچوں کو اپنا ملازم بنا رکھا ہے اور ان سے تعلیم‘ صحت اور کھیل کے مواقع تک چھین لیے ہیں۔ ملازمت کو غلامی میں تبدیل نہ کریں۔ گھریلو ملازمت پاکستان میں غلامی کی ایک نئی شکل اختیار کر گئی ہے اور اربابِ اختیار غافل ہیں۔ دنیا میں تو شاید ظلم کرنے والے اپنی دولت اور عہدے کی طاقت سے بچ جائیں لیکن آخرت میں خدا کو کیا منہ دکھائیں گے؟</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_38020467.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>