<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>مذاکرات ‘سفارت کاری اور امن(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-25/11662</link><pubDate>Sun, 25 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-25/11662</guid><description>پاکستان سمیت چار علاقائی اور تین یورپی ممالک کی جانب سے تنازعات کے حل کیلئے مذاکرات‘ سفارتکاری اور کشیدگی میں کمی پر زور اور امن و استحکام کے فروغ کے عزم کا اظہار مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال میں علاقائی و عالمی مشترکہ مؤقف کی ایک بڑی مثال ہے۔ استنبول میں ہونے والے R4 E3وزرائے خارجہ اجلاس میں چار علاقائی ممالک (پاکستان‘ سعودی عرب‘ ترکیہ‘ مصر) اور تین یورپی ممالک (برطانیہ‘ فرانس‘ اٹلی) نے جاری تنازعات کا مذاکرات کے ذریعے پائیدار حل تلاش کرنے پر زور دیا اور خطے میں امن و استحکام کے مقصد سے اس فارمیٹ میں بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اہم سمندری راستوں کو لاحق خطرات اس خدشے کو واضح کرتے ہیں کہ جنگ کا دائرہ پھیلنے سے پوری دنیا کا امن‘ معیشت اور تجارتی مفادات خطرے میں ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان سمیت اس خطے کے چار اہم مسلم ممالک اور تین یورپی طاقتوں کی جانب سے مذاکرات اور کشیدگی میں کمی پر زور دینے کیلئے اتفاقِ رائے خوش آئند ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی صرف علاقائی ممالک کیلئے نہیں پوری دنیا کے امن اور معاشی استحکام کیلئے خطرہ ثابت ہو رہی ہے۔

توانائی کی عالمی منڈیوں کا رجحان امریکہ ایران تنازعے کی نوعیت سے طے ہو رہا ہے۔ فریقین میں سفارتی پیش رفت توانائی کی قیمتوں میں کمی کا سبب بن رہی ہے اور کشیدگی میں اضافے کا عندیہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بن رہا ہے‘ جیسا کہ حالیہ دنوں امریکہ کی جانب سے تازہ حملوں کے خدشات کے ساتھ تیل کی عالمی منڈی ایک بار پھر بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ اس صورتحال کے جو اثرات یورپی ممالک میں ہیں ان کی سنگینی کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ حالیہ دنوں فرانس سمیت کئی یورپی ممالک میں مہنگائی کی وجہ سے عوام کے پُر تشدد مظاہروں کے محرکات مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال ہی میں ہیں ۔ خود امریکہ ان حالات سے شدید متاثر ہے جہاںتیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں مہنگائی میں غیر معمولی اضافے کا سبب بن رہی ہیں؛ چنانچہ یہ صورتحال اس وقت پوری دنیا کیلئے مشترکہ تشویش کا موجب ہے اور اس سے نکلنے کی تدابیر کیلئے اگر مشترکہ کوششیں ہوں تو یہ صائب ہے۔ R4 E3 کے مشترکہ علامیے سے یہ تاثر ملتا ہے کہ یورپ اور ایشیا کا یہ مشترکہ پلیٹ فارم اس مقصد کیلئے مزید کردار ادا کر سکتا ہے۔
یہ اجلاس ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایران امریکہ تنازعے کے خدشات ایک بار پھر بڑھتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں اور دونوں جانب سے کشیدگی کو ہوا دینے کے بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔ دوسری جانب یمن کی حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی عرب میں حملوں اور بحیرہ احمر میں تجارتی گزرگاہ میں رکاوٹ کے خدشات علاقائی اور عالمی امن کیلئے نئی تشویش کا باعث بن رہے ہیں۔ اس صورتحال کے علاقائی اور عالمی اثرات کی منفیت معمولی نہیں؛ چنانچہ ضروری ہے کہ کشیدگی کے خاتمے کیلئے مؤثر کوششیں شروع کی جائیں۔ امریکہ ایران تنازعے کے خاتمے کیلئے اسلام آباد معاہدے کی صورت میں نمایاں پیش رفت ہوئی اور امید کی جا رہی تھی کہ اس راستے سے فریقین آگے بڑھیں گے مگر یہ تنازع اب نویں مہینے میں داخل ہو چکا ہے اور ابھی تک اس میں کمی کے بجائے اضافے کے اشارے زیادہ ہیں۔
دنیا نے اس صورتحال کی جو قیمت ادا کی ہے اس سلسلے کو مزید پھیلنے سے روکنے کیلئے ضروری ہے کہ علاقائی ممالک اور اس کے ساتھ یورپ بھی سفارتی اور پُر امن حل اور کشیدگی کے خاتمے کے مؤقف کے ساتھ اکٹھے ہوں۔ آبنائے ہرمز‘ باب المندب اور بحیرہ اسود میں بحری آمدورفت کی سلامتی عالمی معیشت کیلئے بنیادی اہمیت رکھتی ہے‘ لہٰذا متعلقہ ممالک کو چاہیے کہ سمندری راستوں کی آزادی اور سلامتی کے تحفظ کیلئے مشترکہ کوششیں کریں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مہنگائی کا تازیانہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-25/11661</link><pubDate>Sun, 25 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-25/11661</guid><description>وفاقی ادارۂ شماریات کے مطابق گزشتہ ہفتے کے دوران 19 اشیائے ضروریہ مہنگی ہوئیں جبکہ مہنگائی میں اضافے کی شرح 11.85فیصد تک پہنچ گئی۔ اس عرصہ کے دوران ایل پی جی کی قیمت میں سالانہ بنیادوں پر 107فیصد‘ بجلی 59 فیصد‘ پیاز 73 فیصد‘ آٹا 37 فیصد‘پٹرول 44فیصد اور ڈیزل کی قیمت میں 41 فیصد اضافہ ہوا۔ موجودہ صورتحال میں توانائی کی عالمی قیمتیں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بن رہی ہیں تاہم ملک میں مہنگائی کے اسباب میں عوام کی کم ترین معاشی سکت‘ بیروزگاری‘ منافع خوری‘ ذخیرہ اندوزی اور ٹیکسوں کی بھرمار کا کردار بھی بہت نمایاں ہے۔ موجودہ حکومت اپنے دورِ اقتدار میں عوام کی معاشی سکت میں اضافہ تو کجا‘ منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کا خاتمہ بھی یقینی نہیں بنا سکی ہے۔

صرف ایل پی جی کی مثال لی جائے تو اسکی سرکاری قیمت 280روپے فی کلو ہے جبکہ مارکیٹ میں یہ 500سے 600روپے فی کلو تک فروخت ہو رہی ہے۔ اسی طرح رواں سال ملک میں 29ملین ٹن سے زائد گندم پیدا ہوئی جبکہ ایک ملین ٹن گندم بیرونِ ملک سے بھی درآمد کی جا رہی‘ اور یہ تمام ذخائر ملکی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے کافی ہیں اسکے باوجود عوام کو آٹا بحران کا سامنا ہے۔ بھاری پٹرولیم لیوی چارجز نے بھی مشکلات کو دوچند کیا ہے۔ یہ صورتحال فوری توجہ کی متقاضی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ عوام کی معاشی سکت میں اضافے کے ساتھ ساتھ لیوی میں کمی اور منافع خوری کا خاتمہ بھی یقینی بنائے تاکہ عوام مہنگائی کے تازیانوں سے محفوظ رہ سکیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>غریبوں کی حق تلفی(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-25/11660</link><pubDate>Sun, 25 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-25/11660</guid><description>وزارتِ تخفیفِ غربت کی جانب سے قومی اسمبلی میں پیش کردہ دستاویزات کے مطابق مالی سال 2019ء سے 2025ء تک ایک لاکھ 40 ہزار سے زائد سرکاری ملازمین اور پنشنرز نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے تقریباً 24 ارب روپے وصول کیے۔بی آئی ایس پی کا قیام اس مقصد کے تحت عمل میں لایا گیا تھا کہ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے خاندانوں کو معاشی تحفظ فراہم کیا جائے‘ مگر اس پروگرام کے حوالے سے سامنے آنے والے ہوشربا انکشافات نے اسکے انتظامی ڈھانچے‘ نگرانی کے نظام اور حکومتی احتساب کی قلعی کھول دی ہے۔ اس معاملے کا سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ 2019ء میں بے ضابطگیوں کی نشاندہی کے باوجود چھ سال تک ادائیگیوں کا سلسلہ جاری رہا۔ ان حقائق کو محض انتظامی غفلت قرار دے کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

سرکاری ملازمین کی تنخواہوں‘ پنشن اور دیگر مالیاتی ریکارڈ تک ریاستی اداروں کی رسائی کے باوجود غیر مستحق افراد کی شناخت نہ ہونا اس پروگرام کے نگرانی کے نظام کی سنگین ناکامی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ غریبوں کی حق تلفی کر کے خورد برد کی گئی اس رقم کی واپسی اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی یقینی بنائی جائے۔قومی وسائل لوٹنے والوں کیلئے کوئی رعایت نہیں ہونی چاہیے۔ یہ ان محروم خاندانوں کی امانت ہے جنہیں دو وقت کی روٹی کیلئے بھی ریاست کی مدد درکار ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>وہ پاکستان کا ’’جرنیل سپاہی‘‘(مجیب الرحمٰن شامی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mujeeb-ur-rehman-shami/2026-10-25/52904/29356397</link><pubDate>Sun, 25 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mujeeb-ur-rehman-shami/2026-10-25/52904/29356397</guid><description>میاں فاروق الطاف لاہور کیا پاکستان کے بڑے بزنس مین تھے۔ تجارت کی اور صنعتکار بھی بنے۔ کروڑوں کیا اربوں کمائے ہوں گے بلکہ کما رہے ہوں گے۔اُنکے اکلوتے بیٹے سلمان فاروق امریکہ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے واپس آئے بلکہ لائے گئے تو انہوں نے کاروبار سنبھال لیا۔ میاں صاحب نے اپنے آپ کو پاکستان کے نظریے کی ترویج و تبلیغ کیلئے وقف کر دیا۔ انکی نگرانی میں انکے فرزند ِ ارجمند کی نظریاتی تعلیم و تربیت بھی ہوتی گئی اور اب ماشاء اللہ وہ بھی اپنے والد کے فکر و عمل کی تصویر ہیں۔ میاں صاحب تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے چیئرمین تھے اور تحریک کے کارکنان کے متعلقین اور متوسلین کی خبر گیری میں مصروف رہتے تھے۔ ادارۂ نظریہ پاکستان کی باگ ڈور بھی انہی کے ہاتھوں میں تھی۔انہی کے زیر اہتمام ایوانِ قائداعظم کی تعمیر و تزئین کا کام مکمل ہوا اور پاکستان کی فکری اور نظریاتی اساس کی ترویج و اشاعت کا سلسلہ جاری ہے۔ طلبہ و طالبات کیلئے تربیتی کورس منعقد ہوتے ہیں۔ تحریک پاکستان کے حوالے سے اجتماعات کا اہتمام ہوتا ہے‘ہزاروں نوجوان یہاں سے تربیت حاصل کر کے پاکستان کے نظریاتی استحکام میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ ادارۂ نظریہ پاکستان کے بانی چیئرمین مجید نظامی تھے‘ اسکے بعد یہ ذمہ داری سابق صدرِ پاکستان جسٹس محمد رفیق تارڑ نے اٹھائی‘ وہ بھی راہی ٔ ملک ِ عدم ہوئے تو یہ امانت جسٹس اعجاز نثار کے سپرد ہوئی۔ جسٹس صاحب کی صحت زیادہ سرگرمی کی اجازت نہیں دیتی‘ انکے سائے میں میاں فاروق الطاف نے ادارے کا نظم و نسق سنبھالے رکھا اور اسکے پُرخلوص کارکنوں کے ذریعے اسے فعال تر بنایا۔گزشتہ کچھ عرصے سے میاں صاحب گردوں کے مرض میں مبتلا تھے‘ ڈائلسیز شروع تھا‘ ان کے ہونہار بیٹے نے گھر ہی پر مشین نصب کروا لی تھی۔ میاں صاحب کمزور تو لگ رہے تھے‘ لیکن ان کا حوصلہ جوان تھا۔ یوم آزادی کی تقریب میں بھرپور شرکت کی‘ گفتگو بھی فرمائی۔اُمید تو یہی تھی کہ مرض پر قابو پائے رکھیں گے لیکن کسی وائرس کا حملہ ایسا ہوا کہ سانس کی تکلیف ہوئی‘ہسپتال پہنچے اور چند ہی روز میں اپنے بلند مرتبت رفقاسے جا ملے۔ اللہ تعالیٰ نے اُنہیں اپنے حضور طلب کر لیا تھا۔میاں فاروق نے کم و بیش نو دہائیاں اسی شہر لاہور میں گزاریں۔ یہیں آنکھ کھولی تھی‘ یہیں تعلیم حاصل کی‘ یہیں پاکستان زندہ باد کے نعروں سے آشنائی ہوئی اور یہی نعرے لگاتے لگاتے یہیں سے رخصت ہو گئے۔ وہ پاکستان کے سپاہی تھے اور عمر بھر سپاہی رہے۔جنرل بننے کا شوق کبھی نہیں پالا‘مناصب کے پیچھے بھاگے‘ نہ جاہ و جلال کی تمنا کی‘ اپنے حصے کا کام کرتے چلے گئے اور یہی کام اُنہیں ممتاز سے ممتاز تر کرتا چلا گیا۔جرنیلوں میں انہیں سپاہی سمجھا جاتا اور سپاہی انہیں جرنیل قرار دیتے۔ سپاہیوں کی تعداد بہت زیادہ تھی‘اس لیے ان کی جرنیلی کا تاثر بھی زیادہ تھا۔ اُن کی طرح کمانے والے تو کئی ہیں لیکن خرچ کرنے والے کئی نہیں ہیں۔وہ لاہور کی نواحی بستی باغبانپورہ کے آرائیں خاندان سے تعلق رکھتے تھے‘ سر محمد شفیع سے لیکر میاں افتخار الدین تک اور بیگم جہاں آراء شاہنواز سے لے کر میاں بشیر احمد تک اس خاندان کے افراد نے قومی زندگی میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ہر ایک کی اپنی کنٹری بیوشن ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہی میں میاں فاروق الطاف نمایاں ہوئے‘ان کے دادا ڈاکٹر تھے۔کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج کے اولین فارغ التحصیل نوجوانوں میں سے ایک‘لیکن جوانی ہی میں انتقال کر گئے۔ والد نے سرکاری ملازمت شروع کی‘ لیکن پھر کاشتکاری کی طرف متوجہ ہو گئے۔ میاں فاروق نے تعلیم مکمل کی‘ تو دس ہزار روپے اپنے والد سے اُدھار لے کر کاروبار کا آغاز کیا‘چھ سات عشرے پہلے یہ بہت بڑی رقم تھی۔ اس کے بعد پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ تحریک پاکستان کے دوران&#39;&#39; بچہ مسلم لیگ‘‘ میں سرگرم رہے تھے‘ قیام پاکستان کے بعد بھی مسلم لیگ سے تعلق نہیں ٹوٹا۔ میاں ممتاز محمد خان دولتانہ‘ چودھری محمد حسین چٹھہ‘ سردار سکندر حیات‘خواجہ محمد صفدر‘زاہد سرفراز اور اقبال احمد خان کے ساتھ گاڑھی چھنتی رہی۔ محترمہ فاطمہ جناح ؒ صدارتی امیدوار بنیں تو ان کی انتخابی مہم میں دل و جان سے شریک ہوئے۔سیاست کو انہوں نے اوڑھنا بچھونا نہیں بنایا‘ کاروبار کو سنبھالے رکھا اور بالآخر ادارہ نظریہ پاکستان کے ساتھ جڑ کر تعمیرِ قوم میں لگ گئے۔نوجوانوں کی نظریاتی تعلیم و تربیت ان کی زندگی کا مقصد بن گیا۔ اس دوران لاہور میں کئی بستیوں کی تعمیر میں بھی کردار ادا کیا۔ ممتاز بینکار منظور صاحب جنہیں بابائے کوآپریٹو کہا جاتا ہے‘ کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹیز کی بنیاد رکھنے میں کامیاب ہوئے تو انہوں نے میاں فاروق کو بھی شریک ِ سفر کر لیا۔بعدازاں سلمان فاروق ان کی بیٹی مریم سے بیاہے گئے۔ منظور صاحب اور فاروق صاحب سمدھی بن کر ایک دوسرے کے ساتھ جڑ گئے۔ میاں صاحب کے انتقال کی خبر سنتے ہی منظور صاحب نے سوشل میڈیا پر ان کے ساتھ تعلق کی کہانی سنا ڈالی:&#39;&#39;کنال ویو‘ ویلنشیا اور ازمیر لاہور کی قابلِ اعتماد کوآپریٹو سوسائٹیز کے میرے آخری ساتھی یعنی کو فائونڈر‘ Co-Founder آج دنیا سے رحلت کر گئے۔ میاں فاروق الطاف 1974ء سے میرے دوست تھے۔ ان دنوں میں یو بی ایل لاہور کا ایریا منیجر تھا اور میاں فاروق الطاف بینک کے وی آئی پی کلائنٹ تھے۔ مال روڈ کمرشل بلڈنگ کے اپر فلور پر میاں صاحب کا کمپنی آفس تھا۔ جب یو بی ایل کے ابتدائی سرمائے سے میں نے کنال ویو کو آپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی بنانے کا منصوبہ بنایا تو منیجنگ کمپنی میں میاں فاروق الطاف نمایاں تھے۔ کینال ویو لاہور کی پہلی منظم کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی تھی جو کسی کمرشل ڈویلپر نے ذاتی منافع کیلئے نہیں بنائی تھی۔ ماڈل ٹائون کوآپریٹو سوسائٹی لاہور برطانوی دور میں1920ء میں تعمیر ہوئی تھی۔ کنال ویو پاکستانی پنجاب میں پہلی کوآپریٹو ہائوسنگ تھی جو ہاتھوں ہاتھ فروخت ہو گئی۔1979ء میں مجھے سعودی بینک میں سینئر پوزیشن میں ملازمت مل گئی۔جدہ ہی میں1987ء میں پاکستان ایکس پیٹری ایٹس کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی کی کاغذی بنیاد پڑی۔ اتفاق سے اسی سال مجھے زیادہ بہتر پوزیشن کے ساتھ متحدہ عرب امارات کے بینک میں جاب کی آفر آ گئی۔ اس بینک کے پریذیڈنٹ سلطان محمد خان صاحب تھے جو یو بی ایل کے زمانے میں میرے باس رہے تھے۔میری کارکردگی پسند کرتے تھے۔ مشرق بینک کے چیئرمین عبداللہ الغرید تھے۔ انہیں جب سلطان صاحب نے بتایا کہ کینال ویو میں نے بنائی ہے تو عبداللہ صاحب نے مجھے پاکستان میں اعلیٰ پیمانے پر خوبصورت ہائوسنگ پروجیکٹس بنانے کیلئے کہا۔ان ہائوسنگ پروجیکٹس کیلئے سو فیصد سرمایہ الغرید فیملی کا تھا۔ یہاں دوبارہ میاں فاروق الطاف کی مشاورت میرے لیے مشعلِ راہ بنی۔ ان کی معاملہ فہمی‘ خوش اخلاقی‘ دیانتداری اور دوست نوازی کی وجہ سے ویلنشیا اور ازمیر لاہور کی مثالی کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹیاں بن سکیں۔اللہ تعالیٰ سے بہت عجز کے ساتھ میاں صاحب کی مغفرت کیلئے دعا گو ہوں‘‘۔ آیئے‘ ہم سب بھی منظور صاحب کی اس دعا میں شریک ہو جائیں۔ لاہور چھائونی میں واقع ان کی وسیع و عریض رہائش گاہ میں قرآن خوانی کے بعد جامعہ اشرفیہ کے مولانا اعظم حسین نے دعائے مغفرت کیلئے ہاتھ بلند کرتے ہوئے کہا کہ قریبی مسجد کے امام کا نام سلمان ہے اور فاروق صاحب کے بیٹے کا نام بھی سلمان۔ مرحوم امام صاحب سے بھی اتنی ہی محبت کرتے تھے جتنی محبت انہیں اپنے بیٹے سلمان کے ساتھ تھی۔ مولانا اعظم حسین نے‘ جن کا تعلق صوابی سے ہے‘اس قدر رغبت اور محبت کے ساتھ دعائے مغفرت کرائی اور حاضرین نے اس یکسوئی اور محبت سے آمین کہا کہ اللہ کی رحمت برستی محسوس ہو رہی تھی۔ میاں فاروق الطاف غریق ِ رحمت ہو چکے تھے۔(یہ کالم روزنامہ &#39;&#39;پاکستان‘‘ اور روزنامہ &#39;&#39;دنیا‘‘ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_37052987.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بھارتی سرپرستی میں اتنا کچھ(ایاز امیر)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-10-25/52905/53318332</link><pubDate>Sun, 25 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-10-25/52905/53318332</guid><description>سچ پوچھیں تو بھارت کا ذکر سن سن کر ناگواری سی ہوتی ہے۔ کیادشمن کے ہاتھ اتنے لمبے ہیں کہ ہر طرف سے ہم پر حملے کر ے ؟ ان حملوں کا سلسلہ بند نہیں ہو رہا تو یہی سمجھا جائے گا کہ ابھی تک جو کارروائیاں ہورہی ہیں ناکافی یا نامکمل ہیں۔ خیبرپختونخوا میں فتنہ الخوارج‘ بلوچستان میں فتنہ الہندوستان ‘ دونوں شورشوں کے پیچھے ہندوستان کا ہاتھ ہے۔ جیسا کہ حالیہ دنوں میں دیکھاگیا‘ آزاد کشمیر کے حالات بھی ٹھیک نہیں ہیں اور وہاں بھی اشارے کنائیوں میں یہی بات کہی جاتی ہے کہ اس شورش کے پیچھے بیرونی ہاتھ ہے۔ ظاہر ہے چین کا ہاتھ تو ہو نہیں سکتا کیونکہ ہمارا دوست ہے‘ دوستی بھی ایسی کہ پہاڑوں سے اونچی اور سمندروں سے گہری۔ پھر رہ جاتا ہے بھارت۔ یہ صورت حال تو پھر بہت پیچیدہ بنتی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں تو گڑ بڑ ہے ہی اس کے ساتھ بھارت ہمارے کشمیر میں بھی گڑبڑ کروا رہاہے۔ تو سوال پھر پیدا ہوتا ہے کہ ہم کیا کررہے ہیں؟ سرکاری بریفنگز ہوتی ہیں تو کچھ حوصلے قائم ہو تے ہیں کہ بھارتی دہشت گردی کے خلاف ہزاروں آپریشن ہورہے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود دہشت گردی کے واقعات میں کوئی بڑی کمی نہیں آ رہی۔ آئے روز کچھ نہ کچھ خیبرپختونخوا میں ہو جاتا ہے اور یہی سلسلہ بلوچستان میں بھی جاری ہے۔ دو تین روز پہلے گوادر میں جو کچھ ہوا‘ تشویش ناک صورت حال کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ یہ ہندوستان کرا رہا ہے تو اس سے اس تاثر کو تقویت ملتی ہے کہ دشمن کی ریشہ دوانیاں کتنی پھیل چکی ہیں۔خیال تھا کہ معرکۂ حق کے زخموں کو چاٹ کر بھارت کے ہوش ٹھکانے آ گئے ہوں گے لیکن دہشت گردی کی داستان سے یہی نتیجہ اخذ ہوتاہے کہ بھارت نے ابھی سبق کچھ ٹھیک نہیں سیکھا۔سوال یہ بھی ہے کہ بھارت کی ریشہ دوانیاں اگر اس حد کو پہنچ چکی ہیں تو ہم ان کا توڑ کیوں نہیں کر سکے؟ہمیں اس پر نازہے اور دنیا بھی مانتی ہے کہ ہماری دفاعی صلاحیتیں بھرپور ہیں۔ میزائل اور ڈرون ٹیکنالوجی ہمارے پاس ہے۔ہمارے میزائلوں کی پہنچ ہندوستان کے اگلے کونے تک جاتی ہے۔ معرکۂ حق میں ایئرفورس اور ہوابازوں نے ثابت کر دیا کہ ہماری فضائیں محفوظ ہیں اور ہر اعتبار سے بھارت کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ ایٹمی قوت بھی ہم ہیں اور یہ صلاحیت دنیا کے سامنے آشکار ہے کہ اگر بھارت کے پاس ایٹمی قوت ہے تو ہمارے پاس بھی ایٹمی صلاحیت اتنی ہے کہ آدھے سے زیادہ ہندوستان کو دو چار بار تباہ کر سکتے ہیں۔ جہاں اس قسم کی ڈیٹرنس (Deterrence) موجود ہو تو پھر غیر روایتی حملے کا خطرہ نہیں رہتا۔ تو پھر جہاں ہندوستان پاکستان سرحد پر ایک قسم کا توازن موجود ہے ‘ ہندوستان ایسے چانکیا (Chanakaya) کی چال چل رہا ہے کہ خیبر پختونخوا پر براستہ افغانستان حملے ہو رہے ہیں اور بلوچستان میں براستہ افغانستان یا شاید ایران بھی ‘حملے جاری ہیں اور تھمنے کا نام نہیں لے رہے۔ دہشت گردی کا کوئی واقعہ ہوتا ہے‘ ٹانک میں یا وزیرستان کے کسی مقام پر‘ یا بلوچستان کے کسی دور دراز علاقے میں تو اس میں بھارتی کردار کا ذکرآتا ہے۔مگر اس سے کیا یہ تاثر نہیں ملتا کہ ہمارا دشمن بہت کچھ کر سکتا ہے جبکہ ہماری جوابی صلاحیتیں وہ نہیں جو ہونی چاہئیں؟ یہ کوئی اچھا تاثر تو نہیں ہے جس کا پرچار کیا جائے۔ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے ضمن میں جو کچھ ہو رہا ہے اُس کے عوامل بیرونی تو یقینا ہوں گے لیکن کسی حد تک اندرونی بھی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان دونوں مغربی صوبوں کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے کہ یہاں ہو کیا رہا ہے اور اس کے پیچھے کون سے فیکٹر ہیں۔بھارت کا اتنا ذکر پاکستانی ذہنوں میں کوئی اچھا تاثر پیدا نہیں کرتا۔ ایک عام پاکستانی سے بات کی جائے تو وہ یہ ماننے کو تیار نہیں کہ پاکستان اتنا بے بس ہے کہ اُس کے اتنے وسیع علاقوں میں بھارت جو چاہے شورش برپا کر سکتاہے۔ یہ ایساہی ہے کہ بھارتی حکومت آج کہہ اُٹھے کہ دلی اور دیگر شہروں میں کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج کے پیچھے بیرونی ہاتھ ہے۔ اگرا یسا کوئی کہے تو ہندوستان میں لوگ کہیں گے کہ باہر والے اگر یہاں تک پہنچ سکتے ہیں تو آپ کیا جھک مار رہے ہیں۔ ایک طرف ہم سعودی عرب کے دفاع کے لیے تیار ہیں اور دوسری طرف ہر بات پر سرحد پار دشمن کا چرچا ۔ہو سکتا ہے کہ کوئی اس رائے سے اتفاق نہ کرے مگریہ نکتہ جس پر بات ہو رہی ہے اپنی نوعیت کا ہے۔ یعنی بھارت کا ذکر جتناہوگا بھارت والے اسے اپنی تعریف سمجھیں گے۔ یہ کہنا مقصود نہیں کہ ہندوستان معصوم ہے اور دہشت گردی کی آگ خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے حوالے سے نہیں بھڑکا رہا۔ ہمارے تعلقات کچھ ایسے رہے ہیں کہ مداخلت کے مواقع ڈھونڈے جاتے ہیں۔ لیکن ایسی بات ہرگز نہیں کہ را ہیڈکوارٹر دلی میں بیٹھے لوگ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ہر پرزے کو ہلا سکتے ہیں۔ اگر یہاں سوچ یہ ہے کہ بھارت ایسا کر سکتا ہے تو یہ خطرے کی گھنٹی ہے۔ کیا یہ تاثر ہم دینا چاہتے ہیں؟پھر ہم کیا مکہ دفاعی معاہدے کو حرکت میں لائیں گے کہ بھارت کی طرف سے یہ کچھ پاکستان کے خلاف ہو رہا ہے؟ واضح بات سامنے ہے کہ بہت سے محاذ کھلے ہوئے ہیں اور باامر مجبوری ہماری صلاحیتیں یکجا ہونے کی بجائے پھیلی ہوئی ہیں۔ دونوں مغربی صوبوں میں صورتحال سنگین ہے۔ کشمیر کے حالات خراب نہیں ہونے چاہئیں تھے۔ اندرونی سیاسی حالات بھی قابلِ رشک نہیں۔ معاشی تنگ دستی علیحدہ داستان ہے۔مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ پاکستان کمزور ریاست ہے۔ بالکل نہیں ہے۔ لیکن زیادہ محاذ کھلے ہوں تو امریکہ جیسی طاقت کے لیے بھی مشکلات پیدا ہو جاتی ہیں۔ امریکہ دنیا کی طاقتور ترین فوجی قوت ہے لیکن امریکہ نے ایران پر حملہ کرکے کہاں اپنے آپ کو پھنسا لیا ہے۔ اگر امریکہ کو سوچ بچار کی ضرورت ہے تو ایسی مجبوری ہماری بھی بنتی ہے۔ قومی سوچ میں ٹھہراؤ کی ضرورت ہے۔ بیٹھ کر ان سب معاملات پر غور کرنا چاہیے۔ نصیحت تو ہو گئی لیکن ایسا کرے گا کون؟سیاسی حکومت جس قسم کی ہے ہمارے سامنے ہے۔ سوچ کے دروازے پھر کہیں اور سے ہی کھلیں۔ یہی ایک امید ہے جو لاچار کر سکتے ہیں۔ </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_80573045.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>I was an idiot(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-10-25/52906/17735396</link><pubDate>Sun, 25 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-10-25/52906/17735396</guid><description>مجھے یاد پڑتا ہے کہ جب کالج اور یونیورسٹی پہنچے تو پہلی دفعہ یہ لفظ &#39;&#39;ویک اینڈ‘‘ سنا اور پڑھا۔ بڑا عجیب لگتا تھا کہ گوروں کے الگ ہی نخرے ہیں۔ یہ ویک اینڈ کس بلا کا نام ہے؟ یہ کیا بات ہوئی کہ دو دن کیلئے پوری دنیا سے دور‘ غائب‘ اپنی دنیا میں مگن۔ مجھے یاد ہے کہ اکثر جب کبھی ویک اینڈ کی بات ہوتی تو مذاق اڑاتے کہ بڑا آیا انگریز۔ اُس وقت صرف ایک ہی چھٹی ہوتی تھی‘ جمعہ یا اتوار۔ پھر ویک اینڈ کے بارے میں مزید جانکاری ہوئی تو اندازہ ہونے لگا کہ یہ دو دن کی بریک انسانوں کیلئے کتنی اہم ہے۔ یہ دو دن اسے اس قابل کرتے ہیں کہ وہ اگلے ہفتے پانچ دن مسلسل اور اَن تھک کام کرسکے۔ اب ان دو دنوں میں اسے کوئی بھی ڈسٹرب نہ کرے۔ یہ اس کا وقت ہے‘ اس کی فیملی کا وقت ہے۔ اب اس نے اپنی بیٹری چارج کرنی ہے۔ چاہے اس کے دفتر پر قیامت ہی کیوں نہ ٹوٹ پڑے‘ اسے ای میل تک مت کریں‘ فون تو دور کی بات ہے۔ وہ ان دو دنوں میں ای میل کھول کر یا واٹس ایپ میسج پڑھ کر تھوڑا سا بھی سٹریس لینے کو تیار نہیں ہوتے کہ سوموار کو دیکھیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی گورے‘ یورپی یا امریکی ویک اینڈ پر کام نہیں کرتے۔ ہاں اُن دنوں میں ہم جیسے ایشیائی امیگرنٹس خوش ہو کر ویک اینڈ ڈیوٹی دیتے ہیں کیونکہ پیسے زیادہ ملتے ہیں۔ گورا کہتا ہے کہ میرا جسمانی اور ذہنی سکون سب سے اہم ہے‘ پاؤنڈز‘ ڈالر یا یورو نہیں۔ ہم ایشیائی کہتے ہیں کہ بھائی ہم نے جسمانی اور ذہنی سکون کا اچار ڈالنا ہے؟ ہمیں تو پاؤنڈز‘ یورو اور ڈالرز چاہئیں۔ وہ دے دیں‘ چاہے سات دن مسلسل چوبیس گھنٹے کام کرا لیں۔ اگر جسمانی اور ذہنی عیاشی درکار تھی تو پھر اپنا گھر اور ملک چھوڑ کر‘ اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر یہاں اتنی دور کیا کرنے آئے ہیں؟ ہمیں پاؤنڈز‘ ڈالرز اور یورو ہی سکون دے سکتے ہیں۔ یوں گورا اپنی ذہنی اور جسمانی صحت کی وجہ سے نوے سال یا ایک سو سال تک صحت مند رہتا ہے جبکہ ہم ایشیائی‘ خصوصاً پاکستانی پچاس سال کے بعد شوگر‘ امراضِ قلب یا دیگر بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔خیر‘ بات ہو رہی تھی ویک اینڈ کی تو میں نے ان دو دنوں کو اس وقت سے انجوائے کرنا شروع کیا جب اسلام آباد میں دو چھٹیوں کا قانون لاگو کیا گیا۔ میرا ٹی وی شو سوموار سے جمعرات تک ہوتا ہے‘ چار دن۔ یوں کہہ لیں کہ میرا ویک اینڈ گوروں سے بھی طویل ہوتا ہے۔ ہم جو کبھی گوروں کا مذاق اڑاتے تھے اب ڈر کے مارے کسی کو نہیں بتاتے کہ ویک اینڈ کتنی بڑی نعمت ہے اور اس کی ہم انسانوں کے جسم‘ دماغ اور روح تک کو کتنی ضرورت ہوتی ہے۔ خیر‘ ویک اینڈ پر ان دنوں زیادہ تر کتابیں پڑھ لیں‘ فلمیں دیکھ لیں‘ دوستوں سے مل لیے یا پھر گاؤں کا چکر لگا لیا۔ فلموں میں مجھے ویسٹرن فلمیں بہت پسند ہیں۔ اس ہفتے ویسٹرن فلموں کے لیجنڈ اداکار ایسٹ کلنٹ وُڈ کی ایک فلم دیکھ رہا تھا‘ جس کے ایک سین نے مجھے بہت متاثر کیا اور اس نے دو تین منٹ میں پوری زندگی کی فلاسفی سمجھا دی۔ اُس سین میں وہ اپنے باس کے بیٹے کو اس کی ماں کے ہاں سے پِک کرکے‘ ایک مشکل سفر طے کرکے واپس لا رہا ہے اور راستے میں وہ دونوں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ یہ فلم 2021ء کی ہے۔ اس وقت ایسٹ کلنٹ وُڈ بہت بوڑھا ہو چکا ہوتا ہے۔ (اب بھی اس کی عمر 96 برس ہے)۔ لڑکا کہتا ہے کہ تم سخت جان ہوا کرتے تھے‘ اب تم کمزور ہو۔ تم تو سانڈوں پر سواری کرتے تھے‘ گھوڑوں پر سواری کرتے تھے۔ تم توپ چیز تھے۔ مائیک بولا: ہاں‘ یہ تو ہے۔ میں واقعی خود کو کچھ سمجھتا تھا۔ وہ لڑکا بولا: ہاں‘ تم طاقتور ہوا کرتے تھے‘ ایک مردِ میدان لیکن اب تو تم کچھ بھی نہیں ہو۔ مائیک بولا &#39;&#39;ہاں، میں پہلے واقعی بہت توپ چیز ہوا کرتا تھا لیکن اب نہیں ہوں۔ اور میں تمہیں ایک بات بتاتا ہوں کہ ہم انسان یہ مردانگی اور بہادری والی بات بہت بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔ اس کیلئے تو بہادری والی بات بالکل ٹھیک ہو سکتی ہے (لڑاکے مرغے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا) لیکن یہ بہادری بہت بڑھا چڑھا کر بیان کی جاتی ہے۔ لوگ خود کو بہادر دکھانے یا بننے کی کوشش کرتے ہیں‘ صرف یہ شو کرنے کیلئے کہ ان میں بہت ہمت ہے۔ آخر میں ان کے پاس بس یہی کچھ رہ جاتا ہے۔ اور تم دوڑتے انسانوں کی بھیڑ میں نیچے بیٹھ کر ایک خطرناک سانڈ کو اپنے اوپر سے گزرنے دیتے ہو یا ایک وحشی گھوڑے پر بیٹھ کر اسے خود کو فضا میں پچاس فٹ اوپر تک اچھالنے دیتے ہو۔ ویسے یہ کتنا بے وقوفانہ کام تھا جو میں کرتا تھا۔ صرف ایک بے وقوف ہی ایسے پیشے میں ہوگا۔ اس وقت تو ہمیں لگتا ہے کہ ہمارے پاس سارے جواب ہیں‘ لیکن پھر جیسے جیسے تم بوڑھے ہوتے ہو تو تمہیں یہ احساس ہوتا ہے کہ تمہارے پاس ان میں سے کسی ایک بات کا جواب بھی نہیں ہے۔ جب تک تمہیں یہ بات سمجھ آتی ہے‘ بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ ہم سب کو زندگی میں انتخاب کرنے پڑتے ہیں۔ بچے‘ تمہیں اپنا انتخاب کرنا ہے‘‘۔اگر آپ اس سین میں سکرپٹ رائٹر کی لکھی گئی ان لائنوں کو غور سے پڑھیں اور ان کی گہرائی میں جانے کی کوشش کریں تو آپ کو زندگی کی حقیقت سمجھ آتی ہے کہ ایک چیز جو کبھی جوانی میں آپ کو بہادر بناتی ہے‘ مردانگی کا ٹائٹل لگتی ہے‘ جس پر آپ فخر محسوس کرتے ہیں اور خود کو خطرات میں ڈال کر بہادری کا ثبوت دیتے ہیں اور دنیا سے واہ واہ اکٹھی کرتے ہیں‘ وہی عمر گزرنے کے ساتھ آپ کیلئے کشش کھو دیتی ہے۔ عمر کے ساتھ آپ کو یہ سب کچھ عجیب اور بے وقوفانہ سا عمل لگتا ہے کہ کبھی آپ کو ایسی چیزیں کرنا بھی پسند تھا‘ ان میں خوشی محسوس ہوتی تھی اور لوگ واہ واہ کرتے تھے۔ بلے بلے آپ کے کانوں کو بھلی لگتی ہے۔ آپ خود کو ایک بھگوان سمجھ لیتے ہیں اور یہی یقین دلائے رکھتے ہیں کہ آپ کا یہ پرائم ٹائم ہمیشہ چلے گا۔ آپ ہمیشہ جوان رہیں گے‘ کبھی بوڑھے نہیں ہوں گے۔ یہی بات شاید میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ بھارتی فلمی سپر سٹار راجیش کھنہ کی موت پر اس کے ایک دوست کا انٹرویو سنا تھا جس میں وہ کہہ رہا تھا کہ اپنے عروج پر کھنہ کہتا تھا کہ اسے کبھی زوال نہیں آئے گا‘ وہ ہمیشہ جوان رہے گا‘ ہمیشہ سپر سٹار رہے گا۔ فلمی ولن رضا مراد نے راجیش کھنہ کے بارے میں کہا تھا کہ ایک وہ بھی دور تھا جب مشہور محاورہ بولا جاتا تھا کہ &#39;&#39;اوپر آقا، نیچے کاکا‘‘۔ کاکا راجیش کھنہ کا نِک نیم تھا۔ اور پھر دھیرے دھیرے جب کھنہ کا عروج ختم ہونے لگا تو اسے ڈپریشن نے گھیر لیا۔ آخر وہ دور بھی آیا کہ بڑھاپے کے ساتھ تنہائی نے گھیر لیا۔میں اس مووی کلپ کی خوبصورتی میں کھویا رہا کہ کتنے لوگ ہوں گے جو اپنی جوانی گزرنے کے بعد مڑ کر دیکھتے ہوں تو وہ اس کردار کی طرح یہ کہنے کی ہمت رکھتے ہوں کہ میں ساری عمر کیا جھک مارتا رہا‘ دوسروں پر اپنی جوانی کی دھاک بٹھانے کیلئے سانڈوں سے لڑتا رہا‘ وحشی گھوڑوں کو سدھارنے کا کام کرتا رہا اور بلے بلے کماتا رہا۔ یہ بھی کوئی عقلمندی تھی کہ غصیلے سانڈوں کی دوڑ میں ان کے ساتھ دوڑتے دوڑتے اچانک نیچے بیٹھ کر انہیں اوپر سے گزرنے دینا یا پھر وحشی گھوڑے پر بیٹھ کر اسے قابو کرنے کی کوشش میں‘ چاہے وہ آپ کو پچاس فٹ اوپر فضا میں اچھال دے اور آپ زمین پر آ گریں اور آپ کی ہڈیاں پسلیاں ٹوٹ جائیں‘ صرف اس لیے تاکہ آپ دوسروں پر یہ رعب ڈال سکیں کہ آپ ایک مرد ہیں‘ آپ بہت بہادر ہیں۔ میں بہادر نہیں‘ بے وقوف تھا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>غبارِ گندم(عمران یعقوب خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-10-25/52907/98284408</link><pubDate>Sun, 25 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-10-25/52907/98284408</guid><description>وزیراعظم شہباز شریف نے 2027ء کے لیے گندم کی امدادی قیمت 4500روپے فی من مقرر کر دی ہے‘ جو گزشتہ سال کے مقابلے میں ایک ہزار روپے زیادہ ہے۔ وزیراعظم آفس کے مطابق یہ بڑا فیصلہ ملکی زرعی شعبے کے فروغ‘ کسانوں کے معاشی مفادات کے تحفظ اور آئندہ سال گندم کی پیداوار میں اضافے کے لیے کیا گیا ہے۔ توقع ظاہر کی گئی ہے کہ نئی مجوزہ قیمت سے کسانوں کو اپنی پیداواری لاگت پوری کرنے اور مناسب منافع حاصل کرنے میں مدد ملے گی کیونکہ گزشتہ برسوں کے دوران کسانوں کو مہنگائی اور زرعی اخراجات میں اضافے کے باعث مالی مشکلات کا سامنا رہا جبکہ گزشتہ دو برسوں میں گندم درآمد بھی کرنا پڑی۔گندم ملک کی غذائی معیشت میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ ملک کی بڑی آبادی اپنی روزمرہ خوراک کے لیے آٹے‘ روٹی اور گندم سے تیار ہونے والی دیگر اشیا پر انحصار کرتی ہے۔ وزیراعظم کی جانب سے اس موقع پر گندم کی نئی قیمت کا اعلان اس حوالے سے بروقت‘ مناسب اور صائب ہے کہ ملک میں وسط اکتوبر سے گندم کی کاشت کا سیزن شروع ہو چکا ہے جو وسط نومبر تک جاری رہے گا۔ ہمارے ملک میں آبادی کے بڑھنے کے ساتھ گندم کی خوراک کے طور پر ضرورت بڑھ رہی ہے۔ اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے گندم کی پیداوار میں اضافہ ناگزیر ہے۔ کچھ عالمی حالات بھی ٹھیک نہیں ہیں اس لیے گندم کی پیداوار کم ہوئی تو ہمیں عالمی منڈی سے اس جنس کے حصول کے لیے خاصی تگ و دو کرنا پڑ سکتی ہے۔ اس مسئلے کا حل یہی ہے کہ کسانوں کو زیادہ رقبے پر گندم کاشت کرنے کی ترغیب دی جائے اور ایسا گندم کی قیمت میں اضافے کے نتیجے میں ہی ممکن ہو سکتا تھا‘ جو حکومت نے کر دیا ہے۔ گندم کی پیداوار بڑھے گی تو نہ صرف پاکستان غذائی خود کفالت کی منزل کی طرف بڑھے گا بلکہ گندم کی بھاری مقدار میں درآمد پر جو وافر زرِ مبادلہ خرچ ہوتا ہے‘ اس کی بچت ملک کے معاشی استحکام کو آسان بنا دے گی۔ اگر کسانوں اور کاشت کاروں کو فصل کی مناسب قیمت نہ ملے تو آئندہ سال گندم کی کاشت میں کمی اور زرعی پیداوار میں غیریقینی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔گندم کی قیمت میں کیے گئے اضافے کے یہ محض دو پہلو ہیں جبکہ کچھ دوسرے عوامل کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ گندم کی قیمت 4500روپے فی من مقرر کرنے کے کچھ مثبت اثرات تو کسانوں اور آڑھتیوں کو ضرور حاصل ہوں گے لیکن اس کے اثرات آٹے کی قیمت‘ گھریلو بجٹ‘ غذائی تحفظ اور مجموعی مہنگائی پر بھی پڑیں گے۔ خصوصاً ایسے وقت میں یہ اثرات زیادہ شدت کے ساتھ محسوس کیے جائیں گے جب عام آدمی پہلے ہی بجلی‘ گیس‘ پٹرول‘ کرایوں اور دیگر ضروری اشیا کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے پریشان اور شدید اضطراب میں مبتلا ہے۔ گندم مہنگی ہو گی تو خوراک کے اخراجات میں مزید اضافے کا سبب بنے گی۔گندم کی قیمت میں گزشتہ سال کے مقابلے میں فی من 1000روپے کا اضافہ آٹے کی قیمت میں کتنے اضافے کا باعث بنے گا‘ ویسے تو اس کا انحصار گندم کی دستیابی‘ سرکاری خریداری‘ درآمدات‘ نقل و حمل‘ پسائی کے اخراجات اور حکومتی پالیسی پر ہو گا لیکن ماضی قریب کی مثالوں اور تجربات سے بھی کچھ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے۔ دستیاب سرکاری اور اخباری ریکارڈ کے مطابق مالی سال 2023-24ء کے لیے گندم کی سرکاری امدادی قیمت 3900روپے فی من تھی لیکن 20کلو آٹے کی اوسط قیمت 2831 روپے رہی۔ اب سیدھا 2026ء پر آتے ہیں جہاں گندم کا سرکاری ریٹ 3500روپے فی من یا فی 40کلوگرام ہے‘ لیکن آج 24اکتوبر کو صورتحال یہ ہے کہ فلور ملز ایسوسی ایشن سندھ کے مطابق اوپن مارکیٹ میں گندم 140روپے سے 141روپے فی کلو فروخت ہو رہی ہے‘ یعنی 5640روپے کی من۔ تو کہاں گیا سرکاری ریٹ۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ سرکار اگر ایک ریٹ مقرر کرتی ہے تو اس پر عملدرآمد بھی یقینی بنائے۔ یہ اعداد ظاہر کرتے ہیں کہ گندم اور آٹے کی قیمتوں پر صرف سرکاری امدادی نرخ اثر انداز نہیں ہوتے‘ طلب و رسد‘ ذخیرہ اندوزی‘ منڈیوں کے حالات اور حکومتی خریداری بھی اہم عوامل ثابت ہوتے ہیں۔ ان اعداد و شمار سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آئندہ برس آٹے کی قیمت کیا ہو گی اور روٹی یا نان کن نرخوں پر فروخت ہو رہے ہوں گے۔کسان کے ساتھ ہمدردی اچھی بات ہے۔ ہونی بھی چاہیے کیونکہ وہ سرمایہ خرچ کرتا ہے اور محنت بھی کرتا ہے‘ اس لیے اسے اس کی محنت کا پھل ملنا چاہیے لیکن یہ سوچنا کس کا کام ہے کہ عام آدمی کا کیا بنے گا جس کے لیے دو وقت کی روٹی کے اخراجات پورے کرنا اب بھی جوئے شیر لانے کے مترادف ہو چکا ہے۔ حکومت اگر کسان کو فائدہ اور زرعی سیکٹر کو فروغ دینا چاہتی ہے تو اس کے کچھ متبادل طریقے بھی ہو سکتے ہیں جیسے کسانوں کو اپنی نگرانی میں زیادہ پیداوار والے بیج فراہم کرنا۔ ملاوٹ سے پاک اور پورے تول والی کھادیں کنٹرولڈ (سبسیڈائزڈ نہیں) نرخوں پر فراہم کرنا۔ انسیکٹے سائیڈز اور پیسٹے سائیڈز کی ملاوٹ کے بغیر فراہمی۔ آبپاشی کے لیے سستی بجلی کی دستیابی‘ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کسانوں سے طے کردہ قیمت پر خریداری‘ لیکن حکومت ان تمام معاملات سے دستبردار ہو چکی ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ کسان کو نہ تو اچھے بیج ملتے ہیں اور نہ ہی خالص کھادیں‘ رہی سہی کسر مہنگی بجلی نکال دیتی ہے۔ دراصل یہی عوامل گندم کی پیداواری لاگت میں اضافے کا باعث ہیں۔ لیکن حکومت ان معاملات پر توجہ دینے کے بجائے سیدھا فصل کی قیمت میں اضافہ کر دیتی ہے جس کے نتیجے میں ہر چیز کی قیمتوں پر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔کسانوں کو مناسب معاوضہ دینا اور صارفین کو سستی خوراک فراہم کرنا ایک دوسرے کی ضد نہیں ہونا چاہیے۔ حکومت درج ذیل اقدامات کے ذریعے دونوں مقاصد میں توازن پیدا کر سکتی ہے۔ بجلی اور گیس کی طرح کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے آٹے پر سبسڈی فراہم کی جائے۔ گندم کے ذخائر‘ درآمدات اور مقامی پیداوار کی درست نگرانی کی جائے کیونکہ ایسی خبریں سننے میں آتی ہیں کہ پیدا کی گئی یا بیرونِ ملک سے درآمد کی گئی گندم کا ایک خاصا بڑا حصہ مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے ضائع ہو جاتا ہے۔ ذخیرہ اندوزی اور غیر قانونی منافع خوری کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے۔ کسانوں کو کھاد‘ معیاری بیج اور توانائی کی لاگت کم کرنے میں مدد دی جائے۔ سرکاری خریداری اور گندم کی قیمتوں کے تعین میں شفافیت برقرار رکھی جائے۔ کسانوں کو مناسب قیمت ملنا قومی غذائی تحفظ کے لیے اہم ہے‘ لیکن قیمتوں میں اضافے کا غیر ضروری بوجھ غریب اور متوسط طبقے پر ڈالنا بھی مناسب نہیں۔ حکومت کو ایسی پالیسی اختیار کرنی چاہیے جس میں کسان کو اس کی محنت کا منصفانہ معاوضہ ملے‘ آٹے کی فراہمی برقرار رہے اور کم آمدنی والے خاندان بنیادی خوراک خریدنے کی استطاعت بھی رکھتے ہوں۔ایسا جتنا جلدی ہو جائے اتنا ہی اچھا ہے ورنہ گندم کی پیداوار‘ سٹور کرنے اور مناسب طور پر استعمال میں لانے میں ناکامی کا غبار اسی طرح ہر سال اُڑ اُڑ کر ہمارے زندگیوں کو متاثر کرتا رہے گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_58350786.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے سیاسی اثرات(رشید صافی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-10-25/52908/50605904</link><pubDate>Sun, 25 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-10-25/52908/50605904</guid><description>خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ اور گورنر راج کے بعد پشاور میں منعقد ہونے والا ایپکس کمیٹی کا اجلاس انتظامی اور سیاسی اعتبار سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ صوبے میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی‘ امن و امان کی خراب صورتحال اور دہشت گردی کے خلاف پاکستان تحریک انصاف کی پالیسیوں کو وفاق کی جانب سے ایمرجنسی کے نفاذ کے لیے جواز کے طور پر پیش کیا گیا۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اس وقت خیبرپختونخوا کا سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی ہے۔ اس لیے یہ توقع کی جا رہی تھی کہ وفاقی حکومت کی جانب سے سکیورٹی اور انتظامی سطح پر فوری اقدامات دیکھنے کو ملیں گے۔ ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں صرف سکیورٹی اقدامات پر اتفاق نہیں کیا گیا بلکہ صوبے میں امن و امان کے قیام اور ترقیاتی اہداف کے لیے فنڈز کا اعلان بھی کیا گیا۔ ماضی میں صوبائی انتظامیہ کو اکثر شکوہ رہتا تھا کہ مرکز نے مالی وسائل کی تقسیم اور فنڈز کی منتقلی سے متعلق اپنے وعدے کبھی پورے نہیں کیے اور این ایف سی ایوارڈ کی رقم کی ادائیگی میں رکاوٹیں حائل رکھی گئیں۔ ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں خیبرپختونخوا میں قیامِ امن‘ بنیادی ڈھانچے کی بحالی اور تعمیرِ نو کی ترجیحات کے لیے 160 ارب روپے کا اعلان کیا گیا۔ وفاقی حکومت نے یقین دلایا کہ 160 ارب روپے جلد خیبر پختونخوا کے حوالے کر دیے جائیں گے۔ یہ رقم این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبے کو ملنے والے باقاعدہ اور سالانہ حصے کے علاوہ ہے‘ جس میں سے نصف رقم یعنی 80 ارب روپے براہِ راست ان اضلاع پر خرچ کیے جائیں گے جو دہشت گردی سے شدید ترین متاثر رہے ہیں۔ایمرجنسی اور گورنر راج کے بعد اس وقت سیاسی حلقوں میں سب سے زیادہ پوچھا جانے والا سوال یہ ہے کہ وفاق آخر کتنے عرصے تک صوبے کی باگ ڈور اور انتظامی کنٹرول اپنے پاس رکھے گا؟ وفاقی وزرا کے بیانات اور حکمت عملی سے اشارے ملتے ہیں کہ فی الوقت تمام تر انتظامی روڈ میپ اور منصوبہ بندی چھ ماہ کی ابتدائی مدت کو مدنظر رکھ کر ترتیب دی جا رہی ہے۔ اس چھ ماہ کے مقررہ فریم ورک کے دوران خیبر پختونخوا کے 12حساس ترین اضلاع سے دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔ حکمت عملی کے مطابق ان علاقوں کو عسکریت پسندوں اور ان کے نیٹ ورک سے کلئیر کرایا جائے گا‘ تمام آپریشنز انٹیلی جنس بیسڈ ہوں گے۔ ماضی کے ملٹری آپریشنز کے برعکس اس بار مقامی آبادی کی نقل مکانی یا بے دخلی ان اقدامات کا حصہ نہیں ہو گی اور آپریشنل مرحلہ مکمل ہوتے ہی ان علاقوں کا نظم و نسق سول انتظامیہ کے سپرد کر دیا جائے گا۔ اس ضمن میں وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ کہتے ہیں کہ خیبر پختونخوا میں موجودہ وفاقی سیٹ اَپ کی پہلی اور بنیادی ترجیح بلا تاخیر دہشت گردی کا خاتمہ کرنا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ صوبے میں دہشت گرد عناصر کے خلاف حتمی کارروائی مکمل کرنے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا اور یہ ہدف چند ہفتوں میں حاصل کر لیا جائے گا۔ رانا ثنااللہ کے اس اشارے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جیسے ہی سکیورٹی کی صورتحال قابو میں آئے گی اور ٹارگٹڈ آپریشنز منطقی انجام کو پہنچیں گے صوبے کے انتظامی و سیاسی حالات کو دوبارہ معمول پر لا کر جمہوری اور آئینی عمل کی طرف پیش قدمی ممکن بنا دی جائے گی۔وفاق خیبر پختونخوا کے متاثرہ اور پسماندہ اضلاع کو براہِ راست اپنے کنٹرول میں لے کر ایک نیا تجربہ کرنے جا رہا ہے۔ طے شدہ منصوبے کے تحت ان اضلاع کا انتظامی ڈھانچہ باقی صوبے سے الگ رکھا جائے گا اور اس انتظامی یونٹ کا سربراہ ایک ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہو گا جو براہِ راست وفاقی دارالحکومت میں وزیراعظم کو جواب دہ ہو گا۔ سرسری نظر سے دیکھا جائے تو برسوں سے عدم توجہی اور دہشت گردی کے شکار خیبر پختونخوا کے انتہائی پسماندہ اضلاع کے دیرینہ مسائل وفاق کی ترجیحات میں شامل ہو گئے ہیں۔ اب مالی وسائل کی فراہمی میں کسی رکاوٹ کے نہ ہونے کے باعث اس بات کی قوی امید کی جا رہی ہے کہ نہ صرف صوبے سے عسکریت پسندی کا صفایا ہو گا بلکہ ان علاقوں کے عوام میں دہائیوں سے پایا جانے والا احساسِ محرومی کا تاثر بھی ختم ہو گا۔ تاہم اس تجربے کے متوازی سیاسی رِسک بھی موجود ہے۔ اگر وفاق کی براہِ راست سرپرستی اور گورنر راج کے سائے تلے یہ سکیورٹی اور ترقیاتی اہداف بروقت اور شفاف انداز میں پورے نہ ہو سکے تو نتائج برعکس نکلیں گے۔ ایسی صورت میں مرکز کے ان غیر معمولی اقدامات پر سوالات اٹھنے لگیں گے اور اس سے جڑا سیاسی نقصان بالواسطہ اور بلاواسطہ طور پر وفاق میں شامل سیاسی جماعتوں کو برداشت کرنا پڑے گا۔ سیاسی جماعتوں کیلئے عوامی تائید کھونا اور سیاسی گراف کا گرنا سب سے بڑا اور ناقابلِ تلافی نقصان ہوتا ہے جس کا خمیازہ انہیں انتخابات میں بھگتنا پڑ سکتا ہے۔سیاسی نقصان کی نوعیت کو سمجھنے کیلئے 2022ء کے اوائل میں تحریک عدم اعتماد کو بطور مثال پیش کیا جا سکتا ہے جب عمران خان کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک منظور کی گئی۔ آئینی و قانونی تناظر میں عدم اعتماد کی تحریک پیش کرنا اور حکومت تبدیل کرنا آئینی طریقہ کار تھا تاہم سیاسی حلقوں میں یہ بحث شدت کے ساتھ ابھری کہ اگر ان کے خلاف عدم اعتماد لانے کے بجائے انہیں اپنے پانچ سال پورے کرنے دیے جاتے اور وہ اپنی کارکردگی کے وزن سے خود گرتے تو اپوزیشن کیلئے سیاسی لحاظ سے زیادہ سود مند ہوتا۔ اگرچہ پی ٹی آئی کی اس وقت کی حکومت معاشی و انتظامی سطح پر ڈیلیور کرنے میں ناکام نظر آ رہی تھی لیکن جیسے ہی انہیں اقتدار سے الگ کیا گیا تو عوامی سطح پر ان کیلئے ہمدردی کی لہر پیدا ہو گئی۔ بالکل ایسی ہی صورتحال اس وقت خیبر پختونخوا میں بھی بنتی دکھائی دے رہی ہے۔ اگرچہ گزشتہ بارہ‘ تیرہ سالہ مسلسل دورِ اقتدار کے دوران پی ٹی آئی نے خیبر پختونخوا میں جو ڈیلیور کیا اور خدمات کے معیار کی اصل حقیقت کیا رہی‘ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں لیکن اگر وفاقی حکومت ایمرجنسی اور گورنر راج کے اگلے چند ماہ کے دوران صوبے کے سکیورٹی اور معاشی زخموں پر مرہم رکھنے میں ناکام رہتی ہے تو ماضی کی تمام تر حکومتی خامیوں اور انتظامی نااہلیوں کے باوجود خیبر پختونخوا کے عوام پی ٹی آئی کے دور کو بہتر سمجھنے لگیں گے۔ وفاق کا یہ اقدام بظاہر صوبے سے دہشت گردی کے خاتمے کی سنجیدہ کوشش ہے جو خیبر پختونخوا کے عوام کے لیے امید کی کرن ہے مگر ساتھ ہی یہ وفاقی حکومت میں شامل جماعتوں کے لیے سیاسی امتحان بھی ہے جہاں مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہونے کی صورت میں ان کا اپنا سیاسی مستقبل بھی داؤپر لگا ہوا ہے۔ </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/222_48272610.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پاکستان کیلئے نیا نظام کیوں ضروری؟؟(محمد عبداللہ حمید گل)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-abdullah-hameed-gull/2026-10-25/52909/24134835</link><pubDate>Sun, 25 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-abdullah-hameed-gull/2026-10-25/52909/24134835</guid><description> بحیثیتِ قوم ہم تاریخ کے بدترین المیے کا شکار ہیں کہ مملکتِ خداداد گزشتہ 79 برسوں سے اپنی منزل کے حصول کیلئے سرگرداں ہے۔ ہم نے ہمیشہ لا الٰہ الا اللہ کا نعرہ تو لگایا لیکن کلمۂ شہادت اور اس کے تمام تقاضوں کی عملی تفسیر نہ کر سکے اور نظامِ مصطفی کے نفاذ سے محروم رہے۔ علامہ اقبال کا خواب اور قائداعظم کا تصورِ پاکستان ایک ایسی آزاد مملکت کا قیام تھا جہاں جمہوریت کا بول بالا ہو اور حکومت عوام کو جوابدہ ہو‘ جہاں انسانی حقوق کے تحفظ کے ساتھ ساتھ آزادی و خودمختاری اور عدل و انصاف کا دور دورہ ہو۔ سوال یہ ہے کہ قائداعظم نے جس فلاحی جمہوری نظام کا ذکر کیا تھا‘ وہ کہاں چلا گیا؟ملک میں نظام کی تبدیلی کی بازگشت تو کافی عرصے سے سنائی دیتی رہی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں قانونی و انتظامی ادارے بری طرح ناکامی سے دوچار ہیں۔ ملکی تاریخ گواہ ہے کہ عوام ہر عہدِ حکمرانی میں اپنے حقوق کیلئے جہدِ مسلسل کرتے آئے ہیں۔ وہ اپنی کم مائیگی و بے بسی کا ماتم کرتے رہے مگر راوی چین اور امن ہی لکھتا آیا۔ ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے نام پر انہیں ناقابلِ برداشت مہنگائی‘ پٹرول اور گیس کی بڑھتی قیمتوں‘ٹیکسوں کی بھرمار سمیت ناانصافی کے عفریت کا سامنا ہے کیونکہ معاشرہ کفر پر تو قائم رہ سکتا ہے مگر ناانصافی پر نہیں۔ کیا یہ آخری معرکہ نہیں؟ کیا اب اس فرسودہ نظام کو اکھاڑ کر پھینکنے کا وقت آ گیا ہے؟ اگر آپ کہیں کہ جمہوری نظام سے بہتر کوئی نظام نہیں تو جمہوریتیں پوری دنیا میں ناکام ہو چکی ہیں۔ بقول شاعرِ مشرق علامہ اقبال:دیو ِاستبداد جمہوری قبا میں پائے کوبتو سمجھتا ہے یہ آزادی کی ہے نیلم پریعلامہ اقبال نے مغربی جمہوری نظام کا سنجیدہ اور گہرا مطالعہ کرنے کے بعد اسے دیو ِاستبداد قرار دیا تھا جبکہ موجودہ جمہوریت دو تعریفوں پر پوری اتر رہی ہے: (1): Democracy is government of elite, for the elite, and by the elite.(2): Democracy is government of the thieves, for the thieves , and by the thieves. عوام کی حاکمیت کا نعرہ درحقیقت ایک بہت بڑا دھوکا ہے۔ اس کے ذریعے عوام کو خوش کر دیا گیا ہے کہ تم حاکم بن گئے لیکن ہوتا یہ ہے کہ حکومت میں عوام کی شرکت محض ایک تخیلاتی اور تصوراتی حیثیت رکھتی ہے۔ عملاً اکثر جگہوں پر عوام کو پتا ہی نہیں ہوتا کہ حکومت کیا کر رہی ہے جبکہ عوامی حقوق اور آزادیوں کو کچلنے والی حکومت جمہوری نہیں کہلا سکتی۔ قائداعظم نے جس نظام کا ذکر کیا تھا وہ کہاں چلا گیا؟ اگر ایسٹ انڈیا کا باقیاتی نظام ہی لاگو کرنا تھا تو پھر مغربی جمہوریت بہتر نہیں تھی؟ پھر کیوں کہا گیا کہ پاکستان اس لیے بنایا جا رہا ہے کہ اسکے اندر قرآن و سنت کی بالادستی ہوگی؟ آج ہم اپنی منزل ہی نہیں راہ بھی کھو چکے ہیں۔ افسوس‘ دوسری قوموں نے اپنی سمت مقرر کر لی ہے اور ہم ابھی تک گومگو کی صورتحال سے دوچار ہیں۔ کیا یہ نظام یونہی چل پائے گا؟ حالات واضح عندیہ دے رہے ہیں کہ نظام اپنی مدت پوری کر چکا ہے۔ نظامِ انصاف میں اصلاحات کیساتھ شعبہ تعلیم و صحت میں انقلابی تبدیلیاں لائی جائیں۔ عدالت‘ کفالت اور حفاظت کو بہتر بنایا جائے‘ یہ وقت کا تقاضا ہے۔بانیٔ پاکستان سے کسی نے پوچھا کہ آپ پاکستان کس کیلئے بنا رہے ہیں؟ قائداعظم نے جواب دیا کہ میں غریبوں کیلئے یہ ملک بنا رہا ہوں۔ ان شاء اللہ‘ یہاں امیر و غریب میں کوئی فرق نہیں ہوگا‘ سب برابر ہوں گے۔ آپ کا نصب العین ایک ایسی آزاد مسلم ریاست کا قیام تھا جس میں مسلمانوں سمیت یہاں بسنے والی اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ ہو‘ جہاں وہ اپنے مذہب کے احکامات کے مطابق آزادانہ زندگی بسر کر سکیں۔ لمحۂ فکریہ تو یہ ہے کہ ہر ادارے‘ عدلیہ سے لے کر انتظامیہ و مقننہ تک‘ میں ان کے ویژن کا فقدان پایا جاتا ہے۔ یہ عام آدمی کا نہیں‘ اسے اشرافیہ کا ملک بنا دیا گیا ہے۔ بلاشبہ جو نظام اس وقت چل رہا ہے وہ فرسودگی‘ کرپشن‘ بدعنوانی و لوٹ مار کا خاصہ ہے۔ اس ملک کو حقیقی معنوں میں قائد کا پاکستان بنانے کیلئے سیاسی عدم استحکام کا خاتمہ‘ معاشی چیلنجز سے نمٹنا اور عام انتخابات کے پیشِ نظر مکمل شفافیت و انصاف کو یقینی بنانا ناگزیر ہو چکا ہے۔ اس لیے ٹیکسوں کے بوجھ میں کمی کیلئے زکوٰۃ و عشر کا ایسا نظام لایا جائے جو شفافیت پر مبنی ہو۔کیا یہ بات حقیقت نہیں کہ نوجوانوں کی امنگیں دم توڑتی جا رہی ہیں؟ ایسی صورتحال میں ایک نئے نظام کی خواہش جنم لے رہی ہے۔ تحریک جوانانِ پاکستان ملک کی پہلی پارٹی ہے جس نے نوجوان طبقے کو ایک سیاسی پلیٹ فارم دیا ہے۔ میں بطور سربراہ تحریک جوانانِ پاکستان یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہوں کہ میرے پاک وطن کے نوجوان کا ایمان و یقین متزلزل کیوں ہے؟ نوجوان یہاں کے عدالتی‘ سیاسی‘ قانونی و ریاستی نظام سے نالاں ہیں۔ ہر سال لاکھوں نوجوان ملک سے باہر جا رہے ہیں۔ ملک کا مستقبل یہاں سے فرار ہو رہا ہے۔ نوجوان ڈنکی لگا کر سمندر میں غرقاب ہو رہے ہیں۔ یہ موجودہ نظام پر نئی نسل کے عدم اعتماد کی ایک بڑی مثال ہے۔ کیا ہمارے ہاں بہترین محلِ وقوع نہیں‘ معدنی ذخائر نہیں؟ دنیا کے فیصلے پاکستان کر رہا ہے لیکن ملک کا اندرونی گھسا پٹا نظام میرے ملک کے نوجوانوں کو قیمتی اثاثہ بنانے کے بجائے مایوسی کے دلدل میں دھکیل رہا ہے۔ سری لنکا‘ بنگلہ دیش اور بھارت کی جین زی نے حکومتی ایوانوں کو ہلا دیا۔ فرانس‘ اٹلی اور البانیہ میں کیا ہو رہا ہے؟ اگر اس نظام کو نہ بدلا گیا تو یہ لاوا کبھی بھی پھٹ سکتا ہے‘پھر یہ انقلاب شاید رک نہ پائے۔ مغربی جمہوریت آج اپنی موت مر رہی ہے جس کا عملی ثبوت وہاں کی سڑکوں پر جین زی کا احتجاج ہے کیونکہ وہ بھی نئے نظام کے متلاشی ہیں۔انتخابات کے موقع پر امیدوار اور ان کے حامی کامیابی حاصل کرنے کیلئے لاکھوں روپے خرچ کرتے ہیں۔ دولت مند طبقے کے لوگ خفیہ طور پر ووٹ خریدتے ہیں اور روپے کے زور پر اقتدار پر قابض ہو جاتے ہیں۔ جمہوریت کے علمبردار امریکہ میں بھی ایک الیکشن پر اربوں ڈالر خرچ ہوتے ہیں۔ہمارے ہاں ایک عام آدمی کا سیاست میں آنا ناممکن بنا دیا گیا ہے۔ یہاں امیر کیلئے الگ قانون ہے اور غریب کیلئے الگ۔ اس لیے ملک میں ایک ایسے نظام کی ضرورت ہے جو حقیقی معنوں میں انسانیت کی خوشحالی اور امن کیلئے ہو۔ یعنی موجودہ دقیانوسی نظام اپنی مدت پوری کر چکا ہے‘ اب اس میں تبدیلی ناگزیر ہو چکی ہے۔ میں نے اپنے دورۂ یورپ کے دوران مغربی نظام کا جائزہ لیا۔ سوئٹزرلینڈ کی مثال ہی لے لیں‘ وہاں ایک چھوٹی سی سڑک کی تعمیر کیلئے بھی رائے عامہ اہم ہوتی ہے۔ ہمارا اُن سے موازنہ کریں تو فرق صاف ظاہر ہے۔ یہاں پانچ سال میں ایک بار ٹھپہ لگانے کا موقع ملتا ہے‘ اب تو نتائج بھی پہلے سے طے شدہ ہوتے ہیں۔ ہم نے ہائبرڈ نظام‘ جمہوریتوں‘ آمریتوں اور ایبڈولاء کا تجربہ بھی کیا۔ مغربی طرزِ حکومت‘ پارلیمانی و صدارتی نظام کے چکر میں پھنسا دیا گیا۔ یہاں شخصیات مضبوط ہوئیں‘ نظام نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شخصیات کے جانے سے نظام بھی دھڑام سے زمین بوس ہو جاتا ہے۔فسطائی قوتوں کا واویلا ہے کہ پاکستان ایک ناکام ریاست ہے‘ ہرگز نہیں! ہمارے ہاں نئے نظام کے نفاذ میں بڑی رکاوٹ بھی یہی طاغوتی قوتیں ہیں جو روزِ اول سے مسلط ہیں اور چاہتی ہیں کہ ہم بھٹکتے رہیں۔ اس استعماری ایجنڈے سے بچنے کا حل یہی ہے کہ قرآن و سنت کی بالادستی کا قیام عمل میں لایا جائے۔ خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کا نفاذ وقت کی ضرورت ہے مگر اس سے فرسودہ نظام کی کوتاہیاں اور نقائص دور نہیں کیے جا سکتے۔ بلوچستان کی صورتحال سب کے سامنے ہے۔ وہاں بھی دہشت گردی پر تاحال قابو نہیں پایا جا سکا۔ صرف نئے صوبوں کا قیام تمام مسائل کا حل نہیں۔ صرف چہرے نہیں‘ نظام بدلو۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_62843609.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>