<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>دہشت گردی کے خاتمے کا عزم(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-23/11565</link><pubDate>Wed, 23 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-23/11565</guid><description>چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مسلح افواج کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مسلح افواج قوم کی غیرمتزلزل حمایت سے دہشت گردی کو شکست دینے اور ملک بھر میں دیرپا امن اور استحکام کیلئے پُرعزم ہیں۔ پشاور کور ہیڈ کوارٹرز کے دورے کے موقع پر فیلڈ مارشل نے خیبر پختونخوا میں جاری انسدادِ دہشت گردی آپریشنز‘ سرحدی انتظامی اقدامات اور صوبے میں تعینات فارمیشنز کی آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا اور افسران اور جوانوں کے بلند حوصلے‘ تیاری اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا۔ فیلڈ مارشل کا پشاور کور ہیڈ کوارٹرز کا مذکورہ بیان جہاں ایک طرف عسکری قوت اور قومی یکجہتی کے باہمی رشتے کو اجاگر کرتا ہے وہیں اس حقیقت کو بھی اجاگر کرتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جنگ اب ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ دہشت گردی محض ایک سکیورٹی مسئلہ نہیں بلکہ یہ ایک سنگین اور ہمہ جہت قومی مسئلہ ہے جس کی جڑیں سماجی‘ نظریاتی‘ معاشی اور سیاسی ناہمواریوں میں پیوست ہیں۔ قومی سلامتی کے اس خطرے کو محض عسکری حکمتِ عملی سے ختم نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس کے خلاف ایسی ہمہ جہت اور ہمہ گیر قومی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے جس میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ ساتھ ریاست کے تمام ستون اور سماج کا ہر طبقہ بھرپور کردار ادا کرے۔

اگر ہم موجودہ ملکی صورتحال کا جائزہ لیں تو اس ضمن میں ایک واضح خلا دکھائی دیتا ہے۔ ایک طرف مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے فرنٹ لائن پر جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں‘ دن رات انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں کے ذریعے دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کے خاتمے کیلئے کوشاں ہیں‘ دوسری جانب ان عسکری کامیابیوں کو استحکام دینے کیلئے سماجی‘ سیاسی اور انتظامی سطح پر وہ کوششیں نظر نہیں آتیں جو وقت کا تقاضا ہیں۔ سکیورٹی فورسز کسی علاقے کو دہشت گردوں سے پاک تو کر سکتی ہیں لیکن وہاں انتہا پسندی اور دہشت گردی کو دوبارہ پنپنے سے روکنا‘ پسماندگی دور کرنا‘ قانون کی بالادستی قائم کرنا اور نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنا‘ یہ سب کام سول انتظامیہ اور سیاسی قیادت کی ذمہ داری ہیں۔ جب تک انتظامی اور سماجی سطح پر یکسوئی اور ہم آہنگی نہیں ہو گی عسکری کامیابیاں پائیدار ثابت نہیں ہو سکتیں۔ پاکستان اس وقت شدید سیاسی دھڑے بندی کا شکار ہے‘وفاق اور اکائیوں کے مابین بڑھتے اختلافات نے قومی سلامتی جیسے حساس معاملے کو بھی پسِ پشت ڈال دیا ہے۔
وفاق اور صوبوں کے درمیان ہم آہنگی کا فقدان دہشت گردی کی بیخ کنی کے عمل میں بڑی رکاوٹ ثابت ہو رہا ہے۔ جب سکیورٹی پالیسیوں جیسے اہم امور پر سٹیک ہولڈرز ایک پیج پر نہیں ہوں گے تو لامحالہ اس تقسیم کا فائدہ دشمنوں کو پہنچے گا۔وقت کا تقاضا ہے کہ وفاق اور تمام صوبے مل کر‘ مکمل یکجہتی کے ساتھ انسدادِ دہشت گردی کی منظم‘ جامع اور مربوط حکمت عملی طے کریں۔ اس کے لیے نیشنل ایکشن پلان کواُس کی روح کے مطابق دوبارہ فعال کرنے اور اس پر سختی سے عملدرآمد کرنے کی ضرورت ہے۔ دہشت گردی کے دیرینہ اور پیچیدہ مسئلے سے نمٹنے کے لیے عسکری کارروائیوں کے ساتھ ساتھ قومی یکجہتی‘ باہمی ہم آہنگی اور سیاسی اتفاق رائے بھی ناگزیر ہیں۔ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی قوم نے متحد ہو کر کسی چیلنج کا سامنا کیا ہے‘ کامیابی نے ہمارے قدم چومے ہیں۔ مسلح افواج دہشت گردی کے چیلنجز سے نمٹنے میں اپنا فرض نبھا رہی ہیں لیکن اس عفریت سے نمٹنے کیلئے سیاسی قیادت کو بھی اپنے اختلافات کو ختم کر کے ایک میز پر بیٹھنا ہوگا اور دشمن کو یہ واضح پیغام دینا ہوگا کہ جب بات ملکی سلامتی کی آئے گی تو پوری قوم اور اس کی قیادت سیسہ پلائی دیوار ثابت ہو گی۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>احتجاج، سیاست اور معیشت(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-23/11564</link><pubDate>Wed, 23 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-23/11564</guid><description>وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے خبردار کیا ہے کہ ملک میں مارچ‘ دھرنوں اور احتجاجوں کے باعث معیشت کو یومیہ تقریباً 120ارب روپے کا نقصان ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق معاشی سرگرمیوں میں تعطل سے سروسز سیکٹر کو روزانہ 86 ارب ‘ صنعتی شعبے کو 25 ارب اور تعمیرات‘ خام مال اور سپلائی چین سے متعلق سرگرمیوں کو تقریباً نو ارب روپے یومیہ نقصان برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔ موجودہ حالات میں‘ جبکہ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے باعث توانائی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے سے صنعتی شعبہ اور عام آدمی پہلے ہی شدید مشکلات کا شکار ہیں‘ ایسے میں اندرونِ ملک معاشی سرگرمیوں میں پیدا ہونے والا تعطل معاشی مشکلات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ احتجاج جمہوری نظام کا تسلیم شدہ حق ہے اور اپنے مطالبات کیلئے پُرامن احتجاج سیاسی عمل کا حصہ ہے‘ مگر ہمارے ہاں عمومی طور پر احتجاج کی جائز حدود کو پھلانگنے کا رواج ہے۔

اس دوران نجی و سرکاری املاک کی حفاظت کیلئے حکومت کو سڑکوں پر کنٹینر لگا کر راستے بند کرنا پڑتے ہیں۔ جس کا سب سے فوری اثر نقل و حمل اور سپلائی چین پر پڑتا ہے۔ صنعتی یونٹوں تک خام مال کی ترسیل رک جاتی ہے‘ تیار مصنوعات منڈیوں تک نہیں پہنچ پاتیں اور شہروں میں اشیائے خورونوش کی رسد متاثر ہونے سے قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوتا ہے۔ لہٰذاسیاسی اختلافات اپنی جگہ مگر سیاسی جماعتوں کو ان کا حل تصادم کے بجائے مذاکرات‘ پارلیمانی مکالمے اور آئینی و قانونی راستوں میں تلاش کیا جانا چاہیے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پولیو ٹیم پر حملہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-23/11563</link><pubDate>Wed, 23 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-23/11563</guid><description>ملک کے 115 اضلاع میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کی سات روزہ مہم کا آج تیسرا روز ہے۔ اس مہم میں پانچ سال سے کم عمر تین کروڑ دس لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ مگر گزشتہ روز بلوچستان کے ضلع نوشکی میں پولیو ٹیم کی حفاظت پر مامور دو پولیس اہلکاروں کو مسلح افراد نے فائرنگ کرکے شہید کر دیا۔ اس کارروائی کا مقصد علاقے میں خوف و ہراس پھیلا کر قوم کے بچوں کو پولیو قطروں سے محروم رکھنے کے سوا کچھ نہیں۔ رواں سال سات پولیس اہلکار پولیو ڈیوٹی کے دوران شہید ہو چکے ہیں۔ بلوچستان کے اضلاع چمن‘ نصیرآباد‘ ڈیرہ مراد جمالی‘ نوشکی جبکہ خیبرپختونخوا کے بنوں‘ باجوڑ‘ ٹانک اور لکی مروت جیسے علاقوں میں پولیو مہمات کو مسلسل سکیورٹی خطرات کا سامنا رہتا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ صوبائی حکومتیں خطرے والے علاقوں کی پیشگی نشاندہی‘ ان علاقوں میں پولیو ٹیموں کیلئے زیادہ مؤثر حفاظتی انتظامات اور ضلعی انتظامیہ و پولیس کے درمیان بہتر رابطہ یقینی بنائیں۔ پولیو کے خلاف اس جنگ میں والدین کو بھی ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہو گا۔ والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کو دہشت گردوں کے خوف سے پولیو کے قطروں سے محروم رکھ کر عمر بھر کیلئے معذور بنانے کے بجائے انہیں باقاعدگی سے پولیو کے قطرے پلائیں۔ یہی دہشت گردوں کی شکست ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کہاں ہے بلوچستان کا وہ نادرایس ایچ او(ایاز امیر)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-09-23/52712/83130456</link><pubDate>Wed, 23 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-09-23/52712/83130456</guid><description>جس کی ایک مار سے بلوچستان کے سارے مسئلے حل ہونے تھے‘ افسوسناک امر ہی اسے کہہ سکتے ہیں کہ اب تک وہ باکمال ایس ایچ او دریافت نہیں ہو سکا۔ اس اثنا میں کوئی تباہی ہے جو وہاں نہ ہو رہی ہو۔ اب تو خبریں پڑ ھ پڑھ کے تھک گئے ہیں کہ فلاں پوسٹ پر حملہ ہو گیا‘ فلاں شاہراہ بند کر دی گئی‘ فلاں افسر کو اغوا کر لیا گیا۔ کیا کہا گیا تھا بلوچستان کے بارے میں کہ ہمارے ماتھے کا جھومر ہے‘ جھومر بھی ایسا کہ وختہ ڈالا ہوا ہے۔ حالات ایسے جو قابو میں نہیں آ رہے۔ اور صرف اس لیے کہ وہ ایک ایس ایچ او جس نے جادو کی چھڑی لہرانی تھی‘ ڈھونڈے سے کہیں مل نہیں رہا۔ ہماری صرف یہ گزارش ہے کہ حضور فی الحال اور کام چھوڑیے اور اِدھر اُدھرکے دورے بھی مؤخر کیجئے جب تک وہ ایس ایچ او نہ ملے۔اس پیرائے میں جنرل مشرف بھی یاد آتے ہیں۔ نواب اکبر خان بگٹی سے گڑبڑ شروع ہوئی اور نواب صاحب نے اونٹ پر بیٹھے پہاڑوں کا رخ کیا تو جنرل مشرف نے ایک تاریخی جملہ ادا کیا کہ اُسے پتا نہیں چلے گا اُسے کس چیز نے ہِٹ کیا ہے۔ ایک غار میں پناہ لیے جب نواب بگٹی پر ہوائی حملہ ہوا تو یقینا اُنہیں پتا نہ چل سکا ہوگا کہ اُنہیں کس چیز نے ہِٹ کیا ہے۔ لیکن اس واقعہ کے بعد بلوچستان میں جو صورتحال بنی وہ بیس سال بعد اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ پور ی قوم کو سمجھ نہیں آ رہی کہ کون سی نظرِ بد بلوچستان کو لگی ہے۔ ایس ایچ او والی بڑھک اور ہِٹ کرنے والی دھمکی ایک ہی انداز کی دو کڑیاں ہیں‘ فرق صرف اتنا کہ ان میں بیس پچیس سال کا فاصلہ ہے۔ یعنی سرکاری رویے جو تب کے تھے آج بھی وہی ہیں۔ کیا ماجرا ہے کہ بلوچستان کے حوالے سے اشخاص تو آتے جاتے ہیں لیکن سوچ وہی پرانی ہے۔ کہ بس تھوڑے سے کائینیٹک (kinetic) ایکشن کی ضرورت ہے اور سب ٹھیک ہو جائے گا۔ یہ آج کل کا فیورٹ لفظ بنا ہوا ہے‘ کائینیٹک۔ حملے ایسے ہو رہے ہیں کہ ایک مقام سے دوسرے موومنٹ مشکل ہوگئی ہے۔ کتنے ہی ضلعی مقام ہیں جہاں موٹر سائیکل سوار جتھوں نے حملہ کیا اور پھر نہایت اطمینان سے واپس چلے گئے۔ اور ہم ہیں کہ کائینیٹک کا راگ الاپتے جا رہے ہیں۔ہماری بات کس نے سننی ہے لیکن جان کی امان پا کر ایک گزارش کر سکتے ہیں! حملوں کے بعد جو سرکاری ہینڈ آؤٹ جاری ہوتے ہیں اُن میں دشمن کا نام اتنا نہ لیا جائے۔ کئی ہینڈ آؤٹ تو ایسے ہوتے ہیں کہ ہر دوسری تیسری لائن میں دشمن کا ذکر ہوتا ہے۔ اتنی تو سمجھ ہونی چاہیے کہ ایسا کرنے سے دشمن کی بڑائی ہوتی ہے اور ہم چھوٹے لگتے ہیں۔ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان دونوں کے پیچھے یقینا ہندوستان کا ہاتھ ہو گا لیکن بار بار کے ذکر سے تاثر بنتا ہے کہ ہندوستان کی پہنچ کتنی دور کی ہے کہ وہاں سے پہاڑوں کے اوپر اور سمندر کے اس طرف سے جا کر ہمارا اصلی اور ازلی دشمن کے پی اور بلوچستان کے سنگلاخ پہاڑوں میں اتنی گڑبڑ پھیلا سکتا ہے۔ مؤقف ضرور بیان کیا جائے‘ احسن طریقے سے کیا جائے‘ لیکن ہندوستان کو اتنا بڑھا چڑھا کر پیش نہ کیا جائے۔ احساسِ کمتری پیدا ہونے لگتی ہے۔ یہ کوئی پالیسی یا حکمتِ عملی کی بات نہیں ڈرافٹنگ کا مسئلہ ہے۔ اسلوب کچھ بہتر ہو جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔کے پی کا مسئلہ بھی گمبھیر بنا ہوا ہے۔ جانکاری رکھنے والے لوگ جو وہاں کی صورتحال کے بارے میں بتاتے ہیں وہ یہاں درج نہیں کیا جا سکتا۔ اعتراض اُٹھے گا لہٰذا تفصیل میں جانے سے اجتناب ہی بہتر ہے۔ لیکن چیک پوسٹوں پر حملے ہو جائیں‘ قیمتی جانوں کا ضیاع ہو‘ فائرنگ کا تبادلہ گھنٹوں رہے پھر خبر چھپ تو نہیں سکتی۔ ایک روز کوہاٹ ہنگو روڈ پر واقع پولیس لائنز پر خونریز حملہ اور دوسرے روز کوہاٹ ٹَل روڈ پر فوجی کانوائے پر حملہ ہو جائے جس میں خاصا جانی نقصان ہو تو تشویش لازم ہے کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔ کتنی ہی وڈیوز نیٹ پر ملیں گی جن میں مسلح ٹی ٹی پی فائٹر سابقہ قبائلی علاقوں کے کسی بازار میں پھر رہے ہیں اور اعلانات بھی کر رہے ہیں۔مسئلہ یہ ہے کہ ہم پنجاب میں بیٹھے اس گڑبڑ اور افراتفری کا صحیح احساس نہیں کر پا رہے۔ یہاں زیادہ تر معمول کے مطابق زندگی چل رہی ہے۔ دھماکوں اور حملوں کی خبریں لوگ دیکھ اور پڑھ لیتے ہیں۔ ٹی وی میں بھی سرخیاں آ جاتی ہیں لیکن گڑبڑ کیونکہ دور ہے اُس کا صحیح اندازہ نہیں ہوتا۔ ہاں‘ شہادت کسی گاؤں یا محلے سے متعلق ہو تو پھر تھوڑا گہرا احساس ہو جاتا ہے کہ سب ٹھیک نہیں ۔ چکوال کی مثال تھوڑی الگ ہے کیونکہ فوج سے قربت کی وجہ سے پورے ضلع میں کوئی ایک قبرستان نہ ہو گا جس میں شہیدوں کی قبریں نہ ہوں۔ اور یہ 65ء اور 71ء کے شہدا کی بات نہیں بلکہ موجودہ زمانے کی بات ہے۔ لیکن مجموعی طور پر پنجاب میں رویہ یہ ہے کہ گو دور گڑبڑ ہے ہنوز دلی دور اَست۔ افغانستان جنگ جاری تھی تو امریکی صدر بگرام ایئربیس اپنے فوجیوں کو منہ دکھانے آ جاتے تھے۔ کے پی اور بلوچستان میں اموات روزانہ کی بنیاد پر ہو رہی ہیں۔ گِن کر بتا دیں صدر یا وزیراعظم نے کتنی بار اُن علاقوں کا دورہ کیا ہے؟ ہر روز دیکھو کسی بیرونی دورے پر جا رہے ہوں گے۔ صوبائی حکام ہیں تو سرکاری جہاز پکڑے نجی دوروں پر جا رہے ہوں گے۔ دیدہ دلیری دیکھئے کہ پھر یہ طعنہ بھی سننے کو ملتا ہے کہ بیرونی دہشت گردی سے زیادہ صوبائی دہشت گردی کا ڈر ہے۔ ہر موقع پر بات کرنا لازم نہیں ہوتا‘ لیکن بات کرنی ہی ہے تو کچھ سوچ سمجھ کے کی جائے۔ پنجاب میں حکمرانی کے انداز ایسے ہیں کہ قطعاً نہیں لگتا کہ ملک حالتِ جنگ میں ہے۔ لگتا ہے یہاں کوئی میلہ لگا ہوا ہے۔دیگر باتیں رہنے دیجئے اس بات کا خیال رہے کہ یہ ایران والا معاملہ جلد ختم ہونے والا نہیں۔ باخبر تجزیہ کار تو یہ کہتے ہیں کہ تسکینِ قلب کیلئے امریکہ نے پھر کوئی جھَک مارنی ہے۔ ابھی تو صدر ٹرمپ کے سر پر مڈٹرم الیکشن ہیں لیکن جونہی ختم ہوتے ہیں تو دوبارہ سے حملوں کا منظر سامنے آ سکتا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو پھر بات کہاں تک جاتی ہے اس کا صحیح اندازہ لگانا مشکل ہے۔ آج سے ایک ماہ پہلے کسی کو خیال تھا کہ یہ حوثیوں والا معاملہ اُٹھے گا؟ کسی نے سوچا تھا کہ سعودی تیل تنصیبات پر حملے ہو جائیں گے اور ریاض ایئرپورٹ حوثی میزائلوں کی زد میں آئے گا؟ ابھی تو حوثیوں والا معاملہ بھڑک رہا ہے اور کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ کہاں جا کر دم لے گا۔ ممکنہ خطرات میں کویت کا ذکر آتا ہے‘ بحرین کے استحکام کی بات ہوتی ہے۔ ہماری صورتحال ویسے ہی خاصی نازک ہے۔ وہاں حالات مزید بگڑے اور تیل کی قیمتوں کے ایک دو اور جھٹکے لگے تو ہم کہاں جائیں گے۔ کس سے مدد مانگیں گے؟ اب تو سعودیہ بھی مشکل میں ہے فوجی اور معاشی‘ دونوں اعتبار سے۔ سفارت کاری میں پاکستان اپنا حصہ ڈال رہا ہے لیکن وہاں کے حالات ہمارے کنٹرول میں تو نہیں۔ اب تو کسی کے کنٹرول میں نہیں۔ اس لیے زیادہ وجہ بنتی ہے کہ اندرونی حالات کی طرف دیکھا جائے۔ کچھ تو سوچ بچار ہو کہ یہ جو محاذگرم ہیں ان کے بارے میں کیا کیا جائے۔ کون سی حکمت عملی اپنائی جائے۔ کہاں گُم ہے ایسی سوچ اور کاوش؟</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_80573045.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بلٹ ٹرین سے بلٹ پروف مرسیڈیز تک(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-09-23/52713/23448577</link><pubDate>Wed, 23 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-09-23/52713/23448577</guid><description>آپ کو کیسا لگے گا کہ آپ اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں بیٹھے کراچی سے پشاور تک 1726کلومیٹر طویل نئی ریلوے لائن بچھانے کے منصوبے پر بریفنگ سُن رہے ہوں اور بڑے فخر سے بتایا جارہا ہو کہ اس سے ریل گاڑیوں کی رفتار 120کلومیٹر فی گھنٹہ ہو جائے گی۔ ہو سکتا ہے آپ کو لگے کہ واہ واہ کیا بات ہے‘ یہ 75 کلومیٹر فی گھنٹہ سے تو بہتر رفتار ہے‘ کچھ تو سفر کی اذیت کم ہو گی۔ لیکن اگر اس اجلاس میں موجود ایم این اے مرزا اختیار بیگ حیرانی سے کہہ اٹھیں کہ وہ ابھی مراکو سے واپس آئے ہیں‘ وہاں تو ٹرین 360 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتی ہیں اور آپ اب بھی 120 کی سپیڈ تک پہنچے ہیں جس پر چھ ارب ڈالر خرچ کیا جا رہا ہے؟ آپ ابھی مرزا اختیار بیگ کی بات کو ہضم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ خود آپ کو یاد آتا ہے کہ 2013ء میں چین گئے تھے تو بیجنگ سے شنگھائی جس بُلٹ ٹرین پر گئے تھے اس کی رفتار 302 کلومیٹر فی گھنٹہ تھی۔ کہیں سے نہ لگتا تھا کہ ٹرین اتنی سپیڈ سے چل رہی ہے۔ سب دوست جو اس ٹرین میں سوار تھے حیرانی سے قریب سے گزرتے مناظر کو دیکھ رہے تھے۔ اب وہی ٹرین تیرہ برس کے بعد 302 سے 350 کلو میٹر فی گھنٹہ تک پہنچ چکی ہے۔ اب آپ کو اس اجلاس میں ریلوے حکام بڑے فخر کیساتھ بتا رہے ہوں کہ اس منصوبے کے مکمل ہونے سے ٹرین کی رفتار 120 تک جا سکے گی۔ کراچی کے ایم این اے جاوید حنیف خان اوپر سے یہ کہہ کر آپ کے منہ کا ذائقہ خراب کر دیں کہ پہلے بھی ہماری ٹرین 120 تک چلتی ہے تو پھر اس میں نیا کیا ہو رہا ہے؟ پتا چلا کہ کراچی سے پشاور تک لائن بچھائی جا رہی تھی‘ اس پر کُل لاگت نو ارب ڈالر آنی تھی جس پر ٹرین کی رفتار 160کلومیٹر فی گھنٹہ تک جا سکتی تھی۔ تاہم بارہ سال کے بعد اب چین جو اسے سی پیک کا حصہ سمجھ کر فنانس کرنے کو تیار تھا‘ پیچھے ہٹ گیا ہے تو اس کی لاگت چھ ارب ڈالرز کر دی گئی ہے۔ اس منصوبے میں تبدیلیاں کرنی پڑی ہیں تاکہ لاگت کم ہو۔ اب بہت سے پل اور فلائی اوور اس منصوبے سے نکال دیے گئے ہیں تاکہ لاگت تین ارب ڈالرز کم کی جا سکے۔ لیکن اب اس سے رفتار 160 نہیں ملے گی بلکہ 120 ہو گی۔ اس پر کمیٹی ممبران خصوصاً حنیف جاوید خان اور مرزا اختیار بیگ حیران تھے کہ پھر کیا فائدہ ہوا۔ دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے اور ہم چھ ارب ڈالرز کا قرضہ لے کر بھی 120کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار والی پٹری بچھا رہے ہیں۔ مرزا اختیار بیگ اور حنیف جاوید خان بہت تیاری کے ساتھ ہر اجلاس میں شریک ہوتے ہیں اور ان کی باتوں سے ان کی قابلیت‘ ریسرچ اور محنت کا اندازہ ہوتا رہتا ہے۔ ان کے سامنے ا کثر سرکاری افسران کو لاجواب اور بے بس ہوتے دیکھا ہے۔ ان کے چبھتے ہوئے سوالات کا انداز اپنی جگہ شاندار ہوتا ہے۔ خیر کمیٹی اراکین کی حیرانی قابلِ دید تھی جب اکنامک افیئر ڈویژن اور ریلوے حکام نے بریفنگ دینی شروع کی کہ کراچی سے پشاور تک جو نئی پٹری بچھانی تھی وہ منصوبہ کہاں تک پہنچا۔ یہ منصوبہ 2014ء میں نواز شریف کے تیسرے دور میں سوچا گیا کہ 1700کلومیٹر نیا ریلوے ٹریک بنا کر پاکستان میں سفری سہولتوں کو تیز اور جدید کیا جائے۔ اس کام کیلئے چین سے بہتر اور کونسا ملک اور کونسی ٹیکنالوجی ہو سکتی تھی۔ چین سے بات چیت شروع ہوئی اور اس منصوبے کی فزیبلٹی رپورٹ‘ ڈیزائن اور دیگر ضروریات پر کام شروع ہوا تو ساڑھے نو ارب ڈالرز تک کی لاگت کا اندازہ لگایا گیا۔ چین اس منصوبے کو سی پیک میں شامل کرنے پر تیار تھا اور اس حوالے سے ان کے انجینئر ز اور دیگر کمپنیاں بھی تیار تھیں۔ اس دوران خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں منصوبوں پر حملے شروع ہوئے اور درجنوں چینی ورکرز اور انجینئر مارے گئے۔ پاکستان نے ان کی فیملیز کو لاکھوں ڈالرز ہرجانہ بھی ادا کیا۔ تاہم چینیوں کا اس وقت صبر جواب دے گیا جب کچھ عرصہ پہلے کراچی میں چین سے آنے والے انجینئرز کو اس وقت خودکش حملے میں نشانہ بنایا گیا جب وہ کراچی ایئرپورٹ سے نکل کر شہر کی طرف جا رہے تھے۔ چینی حکام نے پہلے بھی شکایتیں کی تھیں کہ انہیں کراچی میں سکیورٹی گاڑیاں مانگنے کیلئے اہلکاروں کو پیسے دینا پڑتے ہیں۔ یوں چین نے کراچی سے پشاور پروجیکٹ پر اپنے انجینئرز بھیجنے سے انکار کر دیا جنہوں نے اس منصوبے کے زمینی ڈیزائن اور دیگر سروے کرنا تھے۔ اب کی دفعہ انہوں نے چین سے زوم پر ہی پاکستانی حکام سے بات چیت شروع کر دی۔ یہ معاملہ دو ڈھائی سال چلا اور پھر خاموشی چھا گئی۔ میں ریلوے کی ایسی کئی بریفنگز میں شریک رہا ہوں جہاں چین کے ساتھ چلنے والے ان ایشوز کو زیر بحث لایا گیا اور حکام بار بار کہتے تھے کہ چین اس منصوبے کو مکمل کرے گا۔ اب اچانک سوموار کے اجلاس میں چین کا ذکر غائب ہو گیا اور حکام نے نئی بریفنگ دینا شروع کر دی کہ اب وہ اس منصوبے کو نو ارب ڈالرز سے چھ ارب ڈالرز تک لے آئے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے انہیں کہا ہے کہ وہ اب کسی اور بینک اور قرضہ دینے والے ادارے سے قرضہ لیں اور منصوبے پر کام شروع کریں۔ اس وقت تک ایشین ڈوپلمنٹ بینک‘ ورلڈ بینک اور دیگر سے بات چیت چل رہی ہے اور وہ تین ارب ڈالرز تک قرضہ دینے کو تیار ہیں کہ کراچی سے روہڑی تک ریلوے لائن بچھانے میں مددگار ہوگا۔ آگے ملتان سے لاہور اور پشاور تک کے لیے کسی اور پارٹی سے قرض لیں گے۔ تاہم مجھے کچھ حیرانی ہوئی کہ اراکین نے ریلوے اور اکنامک افیئرز ڈویژن حکام سے یہ نہیں پوچھا کہ چین کے ساتھ بارہ سال تک بات چیت کے بعد معاملہ کیوں ختم ہوا۔ اس پر کسی نے نہ سوال کیا نہ بریف کیا گیا۔ بس حکام نے بتا دیا کہ وزیراعظم نے کہہ دیا ہے کسی اور سے قرض کی بات کریں۔ اب یہ بحث الگ ہے کہ آپ چھ ارب ڈالرز لگا کر بھی 120 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ٹرینیں چلائیں گے تو اس سے کیا بڑا فرق پڑے گا؟ آپ ان عالمی بینکوں سے پانچ سے چھ فیصد سود پر قرض لے رہے ہیں جو بہت زیادہ ہے۔ اگر آپ نے ریلوے لائن کو اَپ گریڈ کرنا ہے تو پھر پورا کریں کہ دنیا 400 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے آگے نکل گئی ہے اور ہم ابھی 120 کلومیٹر فی گھنٹہ سپیڈ والا  ٹریک بنا کر خوش ہو رہے ہیں۔ ہم جب تک 400 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچیں گے دنیا ایک ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ چکی ہو گی۔ سیکرٹری اکنامک افیئرز ڈویژن نے حیران کن انکشاف کیا کہ انگریزوں نے یہ طویل ٹریک بنایا تھا اور اب ایک سو سال کے بعد یہ نیا ٹریک پہلی دفعہ بنایا جا رہا ہے وہ منصوبہ بھی ابھی کاغذوں میں ہے۔ ابھی اس کی گراؤنڈ بریکنگ کا کام شاید اگلے سال جنوری میں شروع ہو۔ اس ملک میں میرے نزدیک دو بڑے اہم عوامی منصوبے تھے جنہیں سب سے پہلے مکمل کیا جانا چاہیے تھا۔ ایک تو بجلی کا ٹرانسمیشن سسٹم جو بہت پرانا ہے اور 30 سے40 فیصد لائن لاسز کا ذمہ دار ہے‘ اسے بدلا جاتا تاکہ بجلی کا بوجھ صارف پر کم پڑتا۔ اور دوسرا‘ کراچی سے پشاور تک نئی ریلوے لائن بچھائی جاتی۔ مزے کی بات ہے کہ دونوں منصوبوں پر چین مالی اور ٹیکنکل مدد دینے کو تیار تھا مگر دونوں منصوبے کھوہ کھاتے گئے۔ ہاں اس دوران ہم نے اپنے لیے جہاز اور بارہ ارب روپے کی بلٹ پروف مرسیڈیز گاڑیاں خرید لیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>راولپنڈی کا ریلوے سٹیشن: ایک قدیم رومانس …(2)(شاہد صدیقی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-siddiqui/2026-09-23/52714/21175881</link><pubDate>Wed, 23 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-siddiqui/2026-09-23/52714/21175881</guid><description>اب راولپنڈی ریلوے سٹیشن کی عمارت میرے سامنے تھی۔ پھاٹک پر رک کر ہم نے کار کا ٹوکن لیا اور سٹیشن کے سامنے کھلے احاطے میں آ گئے۔ مجھے خیال آیا کہ جن دنوں میں گورڈن کالج میں پڑھتا تھا اور ہم دوست ریلوے سٹیشن چائے کے سٹالز پر چائے پینے آیا کرتے تھے تب یہ پھاٹک نہیں ہوتا تھا اور ہم بغیر روک ٹوک یہاں آیا جایا کرتے تھے۔ پھر میری نظر ایک ریلوے انجن پر پڑی‘ جسے نمائش کیلئے ریلوے سٹیشن کے احاطے میں رکھا گیا تھا۔ اس کے اردگرد ایک خوبصورت زنجیر تھی۔ سٹیشن پر آنے جانے والے لوگ اشتیاق سے اس انجن کو دیکھتے‘ اس کے پاس کھڑے ہو کر تصویریں بناتے اور اس کے قریب آویزاں بورڈ پر انجن کی کہانی پڑھتے۔ میں بھی دوسرے لوگوں کے ساتھ بورڈ پر انجن کی کہانی پڑھنے لگا۔ کہانی کے مطابق اس انجن کا نمبر 203 تھا اور اسے 1932ء میں جرمنی میں تیار کیا گیا تھا۔ تب اس کی تیاری پر تقریباً 42 ہزار روپے خرچ ہوئے تھے جو اُس زمانے میں ایک خطیر رقم تھی۔ جرمنی سے یہ انجن برصغیر پہنچا اور کئی برس تک کوہاٹ ٹل‘ ماڑی انڈس اور بنو ں کی ریلوے لائنوں پر چلتا رہا۔ وقت کے ساتھ اس کے کل پرزے سست پڑتے گئے اور پھر ایک دن اس کی سانسیں بھی ٹوٹ گئیں اور یہ بے حس و حرکت ہو گیا۔ ایک طویل اور شاندار سفر اپنے اختتام کو پہنچا۔ لیکن یہ کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی کیونکہ دوسرے ناکارہ انجنوں کی طرح یہ کباڑ خانے کے اندھیروں میں گُم نہیں ہوا۔ اس کے برعکس 2000ء میں اسے پوری شان و شوکت اور عزت و احترام کے ساتھ راولپنڈی سٹیشن کے باہر اس احاطے میں نمائش کے لیے رکھ دیا گیا جہاں اب یہ خاص و عام کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔میں انجن کی دلفریب کہانی میں گم تھا کہ اچانک بادل گرجنے کی آواز آئی۔ میں نے نظر اٹھا کر آسمان کو دیکھا جہاں یکلخت گھپ اندھیرا چھا گیا تھا۔ میں نے سوچا کہ راولپنڈی کا موسم ایسا ہی ہے۔ تین دن گرمی پڑے تو چوتھے دن بارش کے آثار بن جاتے ہیں۔ ٹھنڈی ہوائیں چلنا شروع ہو گئی تھیں۔ یہ بارش کی آمد کا سندیسہ تھا۔ میں انجن نمبر 203 سے رخصت لے کر ریلوے سٹیشن کے وسیع برآمدے میں داخل ہوتا ہوں۔ چوڑ ے پتھروں سے بنی اس عمارت کا اپنا حسن ہے۔ ایک جمال کی کیفیت ہے‘ اس کے برعکس لاہور کے ریلوے سٹیشن کا بیرونی منظر ایک قلعے کا سا ہے۔ برآمدے میں جائیں تو سٹیشن کے اندر داخل ہونے کیلئے تین کشاد ہ راستے ہیں۔ ہر راستے پر سیڑھیاں بنی ہوئی ہیں۔ برآمدے میں ٹکٹ خریدنے اور معلومات کیلئے کھڑکیاں ہیں۔ ایک راستہ عام مسافروں کا ہے‘ دوسرا ایڈمنسٹریشن کیلئے اور تیسرا راستہ سامان لے جانے کیلئے ہے۔ میں نے سٹیشن پر داخل ہونے کیلئے پلیٹ فارم ٹکٹ خریدا اور پلیٹ فارم پر پہنچنے کیلئے سیڑھیاں چڑھنے لگا۔ جونہی میں آخری سیڑھی پر پہنچا تو یوں لگا کہ اسی کھوئی ہوئی مانوس دنیا میں آگیا ہوں۔ وہی آوازیں‘ وہی مسافروں کی چہل پہل‘ وہی ریل کی پٹری‘ وہی اونچے لمبے ستون‘ وہی چائے کے ڈھابے اور وہی لکڑی کے بینچ۔ میں ایک ستون کے قریب لکڑی کے بینچ پر بیٹھ گیا۔ ایک قلی نے پوچھنے پر بتایا کہ اگلی ٹرین پانچ منٹ میں پہنچ رہی ہے۔ بینچ پر بیٹھے بیٹھے مجھے وہ دن یاد آگیا جب میں اسی ریلوے سٹیشن سے بذریعہ ٹرین منڈی بہاء الدین جا رہا تھا‘ جہاں گورنمنٹ ڈگری کالج میں میری انگلش کے لیکچرر کے طور پر تقرری ہوئی تھی۔ مجھے یاد ہے اس دن مجھے رخصت کرنے کیلئے میرے بھائی آئے تھے۔ یہ لالہ موسیٰ جانے والی ٹرین تھی جو منڈی بہاء الدین سٹیشن پر کچھ دیر کیلئے رکتی تھی۔ اُن دنوں ہر ہفتے میں راولپنڈی اپنے گھر آتا اور اتوار کی شام کو ٹرین پر واپس منڈی بہاء الدین چلاجاتا۔ اس کالج میں میرا قیام چند ماہ کا تھا۔ اس دوران میں نے متعدد بار ٹرین میں سفر کیا۔ سوچتا ہوں کہ وقت کیسے دبے پائوں گزر جاتا ہے۔ اس بات کو کئی دہائیاں گزر گئی ہیں‘ اس دوران بہت کچھ بدل گیا ہے۔میں ماضی کے تصور میں نجانے کب تک کھویا رہتا کہ شور مچاتی ٹرین مجھے حقیقت کی دنیا میں لے آئی۔ قلی اپنے سروں پر سرخ کپڑے کی تہہ جماتے ہوئے ٹرین کی طرف لپکے۔ ٹرین کے اندر بیٹھے مسافروں کی نظریں ہجوم میں اپنے پیاروں کو تلاش کر رہی تھیں جو ان کے استقبال کیلئے آئے ہوئے تھے۔ کچھ ہی دیر میں مسافر اترنے لگے۔ قلی مسافروں کا سامان اٹھانے کیلئے ڈبوں کی طرف بھاگ رہے تھے۔ ٹرین سے اترنے والے اپنے پیاروں سے مل رہے تھے۔ میں انہماک سے یہ منظر دیکھ رہا تھا۔ دیکھتے دیکھتے گاڑی کے ڈبے خالی ہو گئے اور پلیٹ فارم پھر سے خالی خالی نظر آنے لگا۔ میں بینچ سے اٹھ کھڑا ہوا‘ تب میری نگاہ اپنے بائیں طرف گئی جہاں &#39;ویٹنگ روم‘ لکھا تھا۔ اس سے ذرا آگے وی آئی پی لائونج تھا۔ یہ ایک نیا اضافہ تھا۔ میں نے لائونج کے اندر داخل ہو کر دیکھا‘ یہ ایک مکمل ایئرکنڈیشنڈ لائونج تھا جہاں خوبصورت صوفے اور میزیں تھیں۔ سامنے دیوار پر ایک بڑے سائز کی ایل سی ڈی لگی تھی۔ دروازے سے داخل ہوتے ہی دائیں ہاتھ پہ ریسیپشن ٹیبل تھا‘ جہاں یونیفارم میں ملبوس ایک لڑکی کھڑی تھی۔ میں نے اس سے پوچھا کیا میں کچھ دیر کیلئے لائونج میں بیٹھ سکتا ہوں۔ اس نے میکانکی انداز میں پوچھا: آپ کس گاڑی سے جا رہے ہیں؟ میں نے ہنستے ہوئے کہا: مجھے کہیں نہیں جانا‘ صرف کچھ دیر یہاں گزارنا چاہتا ہوں۔ اس نے حیرت سے مجھے دیکھا اور کہا: لائو نج استعمال کرنے کی فیس تین سو روپے ہے۔ میں نے رضامندی میں سر ہلایا اور دیوار کے قریب ایک صوفے پر بیٹھ گیا۔ کچھ ہی دیر میں فضائی میزبان کی طرح یونیفارم میں ملبوس ایک لڑکی ٹرے میں چائے لے آئی۔ چائے کے ساتھ بسکٹ اور سینڈوچ تھے۔ تین سو روپے میں یہ سب کچھ‘ مجھے خوشگوار حیرت ہوئی۔ میں نے چائے کا ایک گھونٹ لیا ہی تھا کہ لائونج کا دروازہ کھلا اور ایک مسافر اندر داخل ہوا۔ اس کے کپڑے بھیگے ہوئے تھے۔ اس نے ریسیپشن ڈیسک پر بیٹھی لڑکی کو بتایا کہ باہر زوروں کی بارش ہو رہی ہے۔میں نے چائے کا ایک گرم گھونٹ لیا اور مجھے گلزار کی فلم &#39;&#39;اجازت‘‘ یاد آ گئی۔ وہی گلزار جو جہلم کے قریب دینہ کے قصبے میں پیدا ہوا‘ تقسیم کے بعد ممبئی پہنچا اور بالی وُڈ میں اپنی گیتوں اور منفرد فلموں سے جلد ہی دھوم مچا دی۔ کیسی کیسی فلمیں تھیں: موسم‘ آندھی‘ نمکین‘ ماچس۔ ایک سے بڑھ کر ایک فلم! لیکن آج اجازت فلم یاد آنے کی خاص وجہ فلم کا آغاز تھا۔ فلم ایک ریلوے سٹیشن کے ویٹنگ روم سے شروع ہوتی ہے‘ جہاں باہر موسلا دھار بارش ہو رہی ہے۔ یہ نصیر الدین شاہ اور ریکھا کی ایک یادگار فلم تھی۔ اس فلم کی خاص بات یہ تھی کہ یہ فلم ریلوے سٹیشن کے ویٹنگ روم سے شروع ہوتی ہے اور وہیں اختتام کو پہنچتی ہے۔پھر مجھے کمال امروہی کی فلم پاکیزہ یاد آ گئی‘ جس کا آغاز ٹرین کے سفر سے ہوتا ہے۔ یوں تو اس فلم کے سارے گیت مشہور ہوئے لیکن آج ایک گیت &#39;&#39;چلتے چلتے‘‘ مجھے خاص طور پر یا د آ رہا ہے‘ جس میں ریل کی سیٹی کی آواز کو شامل کیا گیا تھا۔ یہ سیٹی کیا ہے‘ یوں لگتا ہے جیسے اپنے ڈار سے بچھڑی کسی کُونج کی چیخ ہے۔ گیت میں ریل کی سیٹی کی یہ آواز سائونڈ ریکارڈر منگیش ڈیسائی نے شامل کی تھی‘ جبکہ موسیقار نوشاد اس کے حق میں نہیں تھے۔ لیکن وقت نے ثابت کیا کہ ریل کی سیٹی شامل کرنے کا فیصلہ درست تھا۔ ریل کی سیٹی کی اس آواز نے گیت کو زیادہ بامعنی اور اس کے تاثر کو دو آتشہ کر دیا۔ (جاری)</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_21538475.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>دہشت گردی اور افغان انتظامیہ کی غیر سنجیدگی(سلمان غنی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/salman-ghani/2026-09-23/52715/16069232</link><pubDate>Wed, 23 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/salman-ghani/2026-09-23/52715/16069232</guid><description>افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت قائم ہونے کے بعد سے افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ایک بڑا ایشو بنا ہوا ہے۔ پاکستان کی جانب سے اس مسئلے کے حل کے لیے پُرامن کوششوں اور دوست ممالک کے کردار کے باوجود یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکا‘ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو افغانستان میں دہشت گردوں کے اُن مراکز پر براہِ راست کارروائیاں کرنا پڑیں جہاں سے پاکستان کے مختلف علاقوں خصوصاً خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں منظم دہشت گردی کے واقعات پلان ہوتے ہیں۔ پاکستان نے افغان سرزمین پر دہشت گردی کے خاتمے کے حوالے سے طالبان انتظامیہ سے جو توقعات قائم کی تھیں وہ دم توڑ چکی ہیں۔ پاکستان کی جانب سے افغان عبوری حکومت کی توجہ بار بار وہاں سے ہونے والی دہشت گردی کی طرف مبذول کرانے کے باوجود افغان طالبان کی جانب سے کوئی سنجیدگی ظاہر نہیں کی گئی۔ بلکہ ایسی رپورٹس سامنے آ رہی ہیں کہ افغان انتظامیہ نہ صرف دہشت گردوں کے خلاف کارروائی سے گریزاں ہے بلکہ دہشت گرد گروپوں خصوصاً کالعدم ٹی ٹی پی کو ہر طرح کی سپورٹ اور مدد بھی فراہم کر رہی ہے۔جمعہ کے روز کوہاٹ میں پرانی پولیس لائن میں مسجد پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے میں سکیورٹی فورسز کے جوانوں اور عام شہریوں سمیت 25افراد کی شہادت سے ملک بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ اس حملے میں بھی افغان شہری کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے جس کے بعد سکیورٹی فورسز نے افغان سرحد سے متصل علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کی ہیں۔ سکیورٹی فورسز نے کالعدم ٹی ٹی پی اور اس سے وابستہ گروہوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال اور پاکستان کی سکیورٹی فورسز کو ٹارگٹ کرنے سے جہاں پاک افغان تعلقات متاثر ہو ر ہے ہیں وہیں خطے کی مجموعی صورتحال بھی کشیدگی اور عدم استحکام سے دوچار ہے۔ افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے مسلسل استعمال اور ان معاملات میں طالبان حکومت کا عدم تعاون بہت سے سوالات کو جنم دیتا ہے۔ پاکستان نے افغانستان کی عبوری حکومت کو بارہا دوحہ معاہدے پر عملدرآمد کی جانب متوجہ کیا‘ جس میں افغانستان نے اپنی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دینے کا وعدہ کیا تھا‘ لیکن افغان عبوری حکومت نے ہر بار یہ کہہ کر اپنی ذمہ داریوں سے جان چھڑانے کی کوشش کی کہ یہ عمل پاکستان کی سرزمین پر ہو رہا ہے‘ لہٰذا پاکستان خود یہ ذمہ داری پوری کرے۔سعودی عرب‘ چین‘ قطر اور ترکیہ سمیت مختلف ممالک نے افغانستان پر یہ معاملات سفارتی سطح پر حل کرنے کے لیے دباؤ ڈالا لیکن ان کوششوں کے بھی اب تک کوئی بہتر نتائج نہیں مل سکے۔ عالمی و علاقائی سطح پر پاکستان کی سفارتی کوششوں کے باوجود افغان طالبان نے تحریری طور پر اس بات کی ضمانت دینے سے گریز کیا کہ ان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہو گی۔ افغان عبوری حکومت کی اس ہٹ دھرمی کی وجہ سے دونوں ممالک کے تعلقات کشیدہ ہو گئے ۔ جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ افغان طالبان ذمہ داری کا احساس کیوں نہیں کر رہے تو اس کی وجہ ان کے نظریاتی‘ قبائلی‘ سیاسی اور مالی مفادات ہیں۔ عالمی میڈیا میں شائع ہونے والی بعض رپورٹس میں اس کی بڑی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ افغان طالبان اور کالعدم ٹی ٹی پی کی جڑیں ایک خاص فکر سے نکلتی ہیں‘ دونوں گروہ افغانستان میں امریکیوں کے خلاف مشترکہ کارروائیوں میں یکساں شریک رہے‘ اس لیے افغان طالبان کالعدم ٹی ٹی پی کے خلاف کسی بھی کارروائی سے گریزاں نظر آتے ہیں۔ طالبان حکومت کے بعض رہنما ٹی ٹی پی کیلئے خاص جھکاؤ رکھتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اس کے مکمل خاتمے سے طالبان کے پاس پاکستان پر دباؤ کا ہتھیار ختم ہو جائے گا اس لیے وہ ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے خلاف آپریشن سے گریزاں ہیں۔ وہ عالمی سطح پر یہ یقین دہانی تو کراتے ہیں کہ اپنے ملک میں دہشت گردی کا سدباب کریں گے لیکن ہمسایہ ممالک بالخصوص پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی میں افغان سرزمین کے استعمال کو تسلیم نہیں کرتے۔ انہیں معلوم ہے کہ اگر وہ اس حقیقت کو تسلیم کر لیں گے تو انہیں دہشت گردوں کے خلاف عملی کارروائیاں کرنا پڑیں گی جس سے وہ گریزاں ہیں۔ وہ داعش خراسان کے خلاف تو کارروائیاں کرتے ہیں تاہم ٹی ٹی پی کے معاملے میں خاموش تماشائی بنے نظر آتے ہیں۔ جہاں تک دہشت گردی کے خاتمے کے حوالے سے پاکستان کے کردار کی بات ہے تو پاکستان نے اپنے طور پر دہشت گردی کے سدباب کے لیے ہمیشہ کوششیں کی ہیں اور کر رہا ہے‘ لیکن مشکل یہ ہے کہ اس دہشت گردی کے تانے بانے افغان سرزمین سے ملتے ہیں اور شواہد ہونے کے باوجود طالبان انتظامیہ اس ضمن میں کوئی کردار ادا کرنے کو تیار نہیں۔ لیکن اب پاکستان افغانستان سے پھوٹنے والے دہشت گردی کے سوتے بند کرنے کا عزم کر چکا ہے کیونکہ جب تک افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں اور تربیتی مراکز کا سدباب نہیں ہوگا علاقے میں امن نہیں آئے گا۔ پاکستان نے اپنی صبر و تحمل کی پالیسی کو اب جارحانہ دفاع کی حکمت عملی میں بدل دیا ہے۔ اس پالیسی کے تحت افغان سرزمین پر ٹی ٹی پی کے مضبوط ٹھکانوں‘ تربیتی کیمپوں اور سہولت کاروں کے خلاف خودمختار اور ہدفی فضائی و زمینی کارروائیاں جاری ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا تھا کہ پاکستان کا افغانستان سے بنیادی مطالبہ یہی ہے کہ وہ اپنی سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے اور اگر وہ یہ ذمہ داری ادا کرنے کو تیار نہیں تو پھر پاکستان کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ یہ بیان ایک واضح پیغام ہے کہ ہم نے اپنے ہاؤس کو اِن آرڈر کرنا ہے اور اگر افغان سرزمین سے ہمارے ہاں دہشت گردی ہوئی تو ہم دہشت گردوں کو بھی کچلیں گے اور ان کے سہولت کاروں کا بھی پیچھا کریں گے۔ یہ دہشت گرد صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ افغانستان کے بھی دشمن ہیں۔ یہ دہشت گردی ہی ہے جو افغانستان کو امن و استحکام سے ہمکنار نہیں ہونے دے رہی۔پاکستان نے اس ضمن میں افغان عبوری حکومت سے مذاکرات کا آپشن بھی استعمال کیا لیکن اس کا فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہوا‘ اس لیے کہ طالبان حکومت دہشت گردی کے مسئلے کے پُرامن حل کو پاکستان کی کمزوری سمجھتی رہی۔ یہی وجہ ہے کہ اب طالبان عبوری حکومت کے ساتھ مذاکراتی عمل خارج از امکان نظر آتا ہے۔ ریاستی سطح پر یہ سوچ موجود ہے کہ ایسے گروہ جو پُرامن شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں انسانیت کے دشمن ہیں اور ان سے نرمی برتنے‘ یا مذاکراتی عمل سے ریاستی رِٹ متاثر ہوتی ہے۔ ریاست کی قوت اس وقت مؤثر قرار پاتی ہے جب اس کے پاس طاقت کے ساتھ قانون و انصاف‘ ترقی اور سیاسی تدبر بھی ہو‘ لہٰذا ریاست کی جانب سے دہشت گردی کے سدباب کے لیے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو‘ خواہ وہ مغربی سرحد کے کسی بھی جانب ہوں‘ ٹارگٹ کرنے کا عمل وقت کی بڑی ضرورت ہے۔پاکستان کی سکیورٹی فورسز کی جانب سے دہشت گردی کے خاتمے کے عمل کو ہر سطح پر سراہا جا رہا ہے ۔ سکیورٹی فورسز کا بڑا کریڈٹ یہ ہے کہ انہوں نے پہلے بھی دہشت گردی کی جنگ میں اس کے سدباب میں بنیادی کردار ادا کیا اور اب اپنی مغربی سرحد پر دہشت گردی کے قلع قمع کے لیے سرگرمِ عمل ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/230_37874475.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>نیا بندوبست!(محمد حسن رضا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-hasan-raza/2026-09-23/52716/29437274</link><pubDate>Wed, 23 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-hasan-raza/2026-09-23/52716/29437274</guid><description>پاکستان کا مستقبل کسی آئینے میں دکھائی نہیں دیتا‘ اس پر سیاست‘ معیشت‘ احتجاج‘ اشرافیہ‘ احتساب اور اقتدار کی دھند جمی ہے۔ ایک طرف مہنگائی سے بلکتا شہری ہے‘ دوسری طرف مراعات یافتہ طبقے کیلئے کھلتے خزانے‘ تیسری جانب سیاسی تصادم اور چوتھی سمت ریاستی رِٹ کا سوال۔ ملک میں کئی محاذ بیک وقت کھلے ہیں اور ہر محاذ پر نقشہ بدلنے کی کوشش ہے۔ سوال ہے کہ یہ نقشہ استحکام دے گا یا نیا تجربہ؟ اس ہنگامے کے درمیان سب سے بڑی کہانی نئے صوبوں کی ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی ایک سے زیادہ مرتبہ یہ واضح اعلان کرچکے ہیں کہ نئے انتظامی یونٹس کا معاملہ محض گفتگو نہیں اس پر ہماری سوچ سے کہیں زیادہ تیزی سے کام جاری ہے اور صوبے بنیں گے۔ انکا اعتماد بتاتا ہے کہ پردے کے پیچھے فائلیں بہت تیزی سے چل رہی ہیں‘ نقشے بھی دیکھے جارہے ہیں اور سیاسی ردعمل بھی ناپا جارہا ہے۔ محسن نقوی کا دوٹوک مؤقف نئے انتظامی مستقبل کا اعلان ہے۔ صوبے ہر صورت بنیں گے اور بننے بھی چاہئیں۔ آئینی مراحل طے کرکے اس قومی ضرورت کو حقیقت بنانا ریاست کی ذمہ داری ہے کیونکہ نئے صوبے مضبوط اور عوام دوست پاکستان کی بنیاد بنیں گے۔تاہم نئے صوبوں کا نام آتے ہی کئی بڑے سیاسی گھرانوں کی نیند کیوں اڑ جاتی ہے؟ وجہ عوامی خدمت سے زیادہ اقتدار ہے۔ صوبہ تقسیم ہوگا تو حلقے بدلیں گے‘ اسمبلیاں بڑھیں گی‘ وزارت اعلیٰ کے نئے امیدوار پیدا ہوں گے‘ وسائل کی تقسیم کا فارمولا بدلے گا اور کئی دہائیوں سے قائم سیاسی جاگیریں چھوٹی ہوجائیں گی۔ اسی لیے پاکستانی نئے صوبے چاہتے ہیں کہ دارالحکومت‘ اختیار اور خزانہ انکی دہلیز کے قریب رہے۔ میں گزشتہ کالم میں اشارہ کرچکا ہوں کہ ایک سیاسی جماعت کے سینئر ترین بزرگ سیاستدان نے مخالفت کا ارادہ ظاہر کیا تو انکے اپنوں نے ہی واضح کردیا کہ ملکی فیصلے کن بنیادوں پر ہورہے ہیں اور نئے صوبوں کی گاڑی واپسی کیلئے نہیں نکلی۔ ممکن ہے ان صاحب کو صوبوں سے زیادہ اب آئندہ انتخابات کی تاریخ کی فکر ہو۔ اسلام آباد اور لندن کے حلقوں میں یہ سرگوشیاں بھی سنائی دیتی ہیں کہ دو بڑی سیاسی جماعتوں کی دو اہم شخصیات نے کسی بااثر شخصیت سے ملاقات کرکے یہ مؤقف پیش کیا کہ وہ نئے صوبوں کی حمایت کیلئے تیار ہیں مگر انتخابات کی واضح تاریخ بھی دی جائے۔ ممکن ہے انکی خواہش ہو کہ عام انتخابات 2027 ء میں کرادیے جائیں تاکہ انکی اگلی نسل یا انکی جماعت سیاسی میدان میں فعال رہے۔ اس ملاقات کی تصدیق تو فی الحال نہیں ہوئی اس لیے اسے اقتدار کی راہداریوں میں گردش کرتی افواہ سمجھنا چاہیے۔ موجودہ اسمبلی مدت پوری کرے تو انتخاب 2029ء میں بنتا ہے‘ 2027ء کا راستہ قبل از وقت اسمبلی تحلیل کرنے یا کسی بڑے سیاسی سمجھوتے ہی سے نکل سکتا ہے۔ ایک فارمولا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ انہی جماعتوں کو نئے صوبے بنانے کے عمل میں شریک کیا جائے اور بدلے میں بتایا جائے کہ 2027 ء میں عام انتخابات کے ساتھ بلدیاتی انتخابات بھی ہوں گے جبکہ نئی اکائیوں میں انہیں آزادانہ میدان ملے گا۔ مگر یہاں ایک دوسرا زاویہ بھی موجود ہے وہ یہ کہ انتخابات ہوجائیں لیکن کسی پرانی جماعت کو واضح برتری نہ ملے اور نئے چہرے سامنے آئیں۔ میرے ذرائع ایک نئی (ق) لیگ جیسے بندوبست کی تیاری کا ذکر کرتے ہیں‘ جس میں پرانی (ق) لیگ کے منجھے ہوئے سیاستدان‘ ٹیکنوکریٹ‘ الیکٹ ایبلز اور مسلم لیگ (ن)‘ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف سے آنے والے شامل کیے جاسکتے ہیں۔ یوں نئے صوبوں کے ساتھ ایک نیا سیاسی نقشہ بھی ابھر سکتا ہے۔ اس امکان کو موجودہ جماعتوں کی اندرونی کیفیت سے الگ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا۔ مسلم لیگ (ن) دو طاقتور حصوں میں تقسیم دکھائی دیتی ہے ‘ ایک طرف اہم ترین عہدیدار اور چیف آرگنائزر اور پنجاب کا حکومتی مرکز ہے‘ دوسری طرف سابق وزیراعلیٰ پنجاب ہیں جو وفاق میں بیٹھ کر پنجاب کے سیاستدانوں سے رابطے میں ہیں۔ ان کے سامنے ناانصافیوں کے انبار لگائے جارہے ہیں۔ سندھ میں پیپلز پارٹی میں بھی دو گروپ سرگرم ہیں‘ ممکن ہے ایم کیو ایم کو مزید فعال کردار ملے اور بعض حلقوں میں جمعیت علمائے اسلام کیلئے جگہ بنائی جائے تاکہ تحریک انصاف کی مقبولیت تقسیم ہو۔ یہی چہرے اپنے بیانیے کو ری سیٹ کرکے عوام کے سامنے نئے سیاسی بندوبست کی صورت میں پیش کرسکتے ہیں۔ نئے چہرے پہلے نیا بیانیہ لاسکتے ہیں لیکن اسکی کامیابی کا پیمانہ یہ نہیں ہوگا کہ کونسی جماعت اقتدار میں آئی اور کونسی منظر سے ہٹ گئی۔ اصل سوال ہوگا کہ تبدیلی سے عام شہری کو کیا ملا؟ نئے صوبوں کی بحث کا مرکز سیاسی خاندان نہیں بلکہ وہ شہری ہونا چاہیے جو سرکاری کام‘ علاج‘ تعلیم‘ روزگار اور انصاف کیلئے سینکڑوں کلو میٹر سفر کرنے پر مجبور ہے۔ نیا صوبہ اس شہری کیلئے نقشے پر کھنچی لکیر نہیں ہوگا بلکہ حکومت کو اسکے دروازے تک لانے کا راستہ ہوگا۔ یہی دلیل نئے صوبوں کے قیام کو بالآخر ناگزیر بناتی ہے۔نئے صوبے نئے انتظامی مراکز‘ نئی اسمبلیاں اور نئی قیادت ہی پیدا نہیں کریں گے بلکہ وسائل‘ ملازمتوں اور ترقی کے مواقع کو چند بڑے شہروں کی گرفت سے آزاد کریں گے‘ اختیارات ضلع‘ تحصیل اور یونین کونسل تک جائیں گے‘ مالی وسائل منصفانہ تقسیم ہوں گے اور شہریوں کو روزگار کیلئے لاہور‘ کراچی‘ پشاور یا کوئٹہ حاضری نہیں دینا پڑے گی۔ اس پورے بندوبست میں آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کو لاعلم سمجھنا سیاسی سادگی ہو گی۔ دونوں نے اقتدار بنتے‘ ٹوٹتے اور دوبارہ بنتے دیکھا ہے۔ انہیں اندازہ ہوگا کہ  احتساب کی سوئی ہمیشہ ایک ہی مقام پر نہیں رکتی۔ پی ٹی آئی کے بعد اگلی باری مسلم لیگ (ن)‘ پی پی یا خود کو ناقابلِ تسخیر سمجھنے والے سیاستدانوں کی بھی آسکتی ہے۔ سیاسی حلقوں میں یکم اکتوبر کے بعد نیب اور اینٹی کرپشن کی بڑی فعالیت کی بات ہورہی ہے۔ اسکی بھی سرکاری تصدیق موجود نہیں مگر کارروائی ہوئی تو اصل امتحان یہ ہوگا کہ کیا بڑے نام قانون کی گرفت میں آتے ہیں یا ہمیشہ کی طرح چند پٹواری‘ کلرک اور نچلے ملازمین کامیابی کی فہرست بن جائیں گے؟ احتساب اگر نقشہ بدلنے‘ وفاداریاں تبدیل کرانے یا نئی جماعت کیلئے امیدوار فراہم کرنے کا اوزار بنا تو اس سے اصلاح نہیں ایک اور سیاسی انجینئرنگ جنم لے گی۔ پاکستان کا المیہ کرپشن سے زیادہ من پسند احتساب ہے‘ یہاں فائل جرم کے وقت نہیں سیاسی ضرورت کے وقت کھلتی ہے۔ اکتوبر واقعی اہم پیشرفت کا مہینہ بنتا ہے تو نئے صوبوں کا آئینی سفر کسی شخصیت یا جماعت کی خواہش کے تابع نہیں رہنا چاہیے۔ یہ اب قومی ضرورت ہے اور پارلیمان کو عوامی مفاد میں اسے بلا تاخیر حقیقت بنانا ہوگا۔ مستقبل کے آئینے میں تین تصویریں ابھرتی ہیں‘ نئے صوبے‘ پرانی جماعتوں کی اندرونی تقسیم اور نئے سیاسی بندوبست کی طرف پیشرفت۔ ممکن ہے انتخابات جلد کرانے کی یقین دہانی پر آئینی تبدیلی کا راستہ مزید ہموار ہوجائے۔ ممکن ہے نئی جماعت بنے اور پرانے چہرے نئی ٹوپیاں پہن کر قومی مفاہمت کا دعویٰ کریں۔ سیاسی مزاحمت اس سفر کی رفتار کچھ کم کرسکتی ہے مگر اسے روک نہیں سکتی۔ محسن نقوی کا اعلان اسی حقیقت کی گواہی ہے کہ صوبے اب بنیں گے۔ پاکستان اپنے فرسودہ انتظامی سانچے میں قید نہیں رہ سکتا؛ نئی اکائیاں قومی وحدت کو کمزور نہیں بلکہ مضبوط کریں گی۔ میری اطلاعات کے مطابق اکتوبر میں نئے صوبوں کے باب میں بڑی پیشرفت متوقع ہے۔ یہ پیشرفت ملک کو زیادہ متوازن‘ مضبوط اور قابلِ انتظام وفاق بنانے کی ابتدا ہوسکتی ہے۔ حکومت کو نقشے‘ مالی تخمینے‘ دارالحکومت‘ پانی‘ ملازمتوں‘ قرضوں‘ اثاثوں‘ نئی اسمبلیوں اور مقامی حکومتوں کا مکمل خاکہ عوام کے سامنے رکھنا چاہیے تاکہ مخالفین ابہام کی آڑ نہ لے سکیں۔ اپوزیشن کو بھی سیاسی جاگیریں بچانے کے بجائے اس قومی ضرورت کا ساتھ دینا ہوگا۔ محسن نقوی نے درست کہا کہ صوبے ہر صورت بنیں گے؛ اب یہ وعدہ آئینی اقدام میں ڈھلنا چاہیے۔ نئے صوبے کوئی سیاسی تجربہ نہیں‘ کروڑوں محروم شہریوں کا حق اور پاکستان کے روشن مستقبل کی ناگزیر ضمانت ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/229_33941343.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>استغفار کے فوائد(علامہ ابتسام الہٰی ظہیر )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-09-23/52717/36715557</link><pubDate>Wed, 23 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-09-23/52717/36715557</guid><description>استغفار کا مطلب اللہ تبارک وتعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگنا‘ بخشش طلب کرنا اور مغفرت کی دعا کرنا ہے۔ استغفار کا مادہ &#39;&#39;غ ف ر‘‘ ہے جس کے معنی ہیں: گناہوں پر پردہ ڈالنا اور ان کے شر سے اپنے آپ کو بچانا۔ جب بندہ استغفار کرتا ہے تو وہ اللہ تبارک وتعالیٰ سے التجا کرتا ہے کہ وہ دنیا میں اس کے گناہوں کو چھپا لے‘ ان کے نتائج سے بچا لے اور آخرت میں اسے ذلت اور ناکامی سے محفوظ کر لے۔ استغفار میں صرف زبان سے الفاظ ادا کرنا کافی نہیں بلکہ دل کی گہرائیوں سے اپنے گناہ کا اعتراف‘ اس گناہ پر ندامت اور آئندہ کے لیے اس گناہ سے بچنے کا پختہ ارادہ کرنا بھی شامل ہے۔ بہت سے لوگ زبان سے تو استغفراللہ کہہ دیتے ہیں لیکن نہ تو دل سے ان گناہوں پر نادم ہوتے ہیں اور نہ ہی گناہوں سے بچنے کیلئے پختہ عزم کرتے ہیں۔ ایسا استغفار مطلوبہ نتائج کو حاصل نہیں کر سکتا۔ جب انسان زبان کے ساتھ ساتھ دل اور عمل سے بھی معافی کا طلبگار ہو تب اس کو بہت سے مثبت نتائج حاصل ہوتے ہیں جن میں سے چند اہم درج ذیل ہیں: 1: گناہوں کی مغفرت: جب انسان زبان کے ساتھ ساتھ سچے دل سے استغفار کرتا ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ اس کے گناہوں کو معاف فرما دیتے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ النساء کی آیت: 110 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;اور جو شخص کوئی برائی کرے یا اپنی جان پر ظلم کرے‘ پھر اللہ سے بخشش مانگے تو وہ اللہ کو بہت بخشنے والا‘ نہایت رحم کرنے والا پائے گا‘‘۔ اس آیت مبارکہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ گناہ کرنے کے بعد انسان کو مایوس ہونے کے بجائے استغفار کرنا چاہیے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ بخشنے اور رحم کرنے والے ہیں اور اپنے بندے کے گناہوں کو مغفرت طلب کرنے پر معاف کر دیتے ہیں۔2: رحمت کا حصول: جب انسان خلوصِ دل سے استغفار کرتا ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ اس پر رحمتوں کا نزول فرماتے ہیں۔ سورۃ النمل کی آیت: 46 میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے حضرت صالح علیہ السلام کی اس بات کو بیان فرمایا کہ &#39;&#39;تم اللہ سے بخشش کیوں نہیں مانگتے تاکہ تم پر رحم کیا جائے‘‘۔3: بارانِ رحمت اور نعمتوں کا حصول: جب انسان صحیح نیت سے اللہ تبارک وتعالیٰ سے استغفار کرتا ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ اس پر بارانِ رحمت اور بہت سی نعمتوں کا نزول فرماتے ہیں۔ سورۂ نوح کی آیات: 10 تا 12 میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کی اس بات کو نقل کیا جو انہوں نے اپنی قوم کو مخاطب ہو کر کہی تھی: &#39;&#39;پس میں نے کہا: اپنے رب سے بخشش مانگو‘ بیشک وہ بہت بخشنے والا ہے۔ وہ تم پر آسمان سے خوب بارش برسائے گا‘ اور تمہیں مال اور بیٹوں سے مدد دے گا‘ اور تمہارے لیے باغات بنائے گا اور تمہارے لیے نہریں جاری کر دے گا‘‘۔ ان آیاتِ مبارکہ میں استغفار کے نتیجے میں بارش‘ مال‘ بیٹوں‘ باغات اور نہروں کا ذکر آیا ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ہمارے گناہ بہت سی نعمتوں کے حصول کے راستے میں حائل ہو جاتے ہیں اور جب انسان اللہ تبارک وتعالیٰ کی بارگاہ میں آکر استغفار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو بہت سی نعمتوں سے نوازتے ہیں۔4: قوت میں اضافہ: جب انسان اللہ تبارک وتعالیٰ سے سچے دل سے استغفار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی قوت میں اضافہ فرما دیتے ہیں۔ سورۂ ہود کی آیت: 52 میں اللہ تبارک وتعالیٰ حضرت ہود علیہ السلام کے اس قول کو بیان فرماتے ہیں: &#39;&#39;اور اے میری قوم! اپنے رب سے بخشش مانگو‘ پھر اس کی طرف توبہ کرو‘ وہ تم پر خوب بارش برسائے گا اور تمہاری قوت میں مزید اضافہ کرے گا‘‘۔ اس آیت مبارکہ میں استغفار کے ساتھ توبہ کا بھی ذکر ہے اور یہ آیت واضح کرتی ہے کہ گناہوں سے معافی قوت میں اضافے کا سبب ہے۔5: اچھی زندگی: جب انسان اللہ تبارک وتعالیٰ کی بارگاہ میں آ کر استغفار کرتا ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ اس کو اچھی زندگی عطا فرما دیتے ہیں۔ سورۂ ہود کی آیت: 3 میں اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;اور یہ کہ اپنے رب سے بخشش مانگو‘ پھر اس کی طرف توبہ کرو‘ وہ تمہیں ایک مقررہ مدت تک اچھا سامانِ زندگی عطا کرے گا‘‘۔ اس آیت مبارکہ میں بھی استغفار اور توبہ دونوں کو ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔ استغفار اور توبہ کا اکٹھے ذکر کرکے اس بات کو واضح کر دیا گیا ہے کہ جب انسان گناہوں کو ترک کرکے مغفرت کا طلبگار بن جاتا ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ اس کو اچھی زندگی عطا فرما دیتے ہیں۔6: عذاب سے بچائو: جب انسان اللہ تبارک وتعالیٰ سے استغفار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو عذاب سے بچا لیتے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الانفال کی آیت: 33 میں ارشاد فرماتے ہیں &#39;&#39;اور اللہ انہیں عذاب دینے والا نہیں جبکہ وہ استغفار کر رہے ہوں‘‘۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کو ان کے ایمان اور ندامت کی وجہ سے عذاب سے محفوظ کر لیا تھا۔ آج بھی اگر ہم اللہ کی پکڑ سے بچتے ہوئے اپنے معاملات کو بہتر بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں استغفار کرتے رہنا چاہیے۔ جہاں قرآن مجید میں استغفار کے بہت سے فوائد بیان کیے گئے وہیں احادیث مبارکہ میں بھی استغفار کی فضیلت کو اجاگر کیا گیا ہے‘ بالخصوص سید الاستغفار کا بہت زیادہ فائدہ بیان کیا گیا ہے۔ جو شخص صبح اور شام کو سید الاستغفار پڑھتا ہے‘ اللہ تبارک وتعالیٰ موت کے بعد اس کو جنت میں داخل فرما دیتے ہیں۔ صحیح بخاری میں حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان سے رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ سید الاستغفار (مغفرت مانگنے کے سب کلمات کا سردار) یہ ہے کہ یوں کہو: &#39;&#39;اے اللہ! تُو میرا رب ہے‘ تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ تُو نے ہی مجھے پیدا کیا اور میں تیرا ہی بندہ ہوں۔ میں اپنی طاقت کے مطابق تجھ سے کیے ہوئے عہد اور وعدے پر قائم ہوں۔ ان بری حرکتوں کے عذاب سے جو میں نے کی ہیں تیری پناہ مانگتا ہوں۔ مجھ پر نعمتیں تیری ہیں اس کا اقرار کرتا ہوں۔ میری مغفرت فرما دے کہ تیرے سوا اور کوئی بھی گناہ نہیں معاف کرتا‘‘۔ آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ &#39;&#39;جس نے اس دعا کے الفاظ پر یقین رکھتے ہوئے دل سے ان کو کہہ لیا اور اسی دن شام ہونے سے پہلے اس کا انتقال ہو گیا تو وہ جنتی ہے اور جس نے اس دعا کے الفاظ پر یقین رکھتے ہوئے رات میں ان کو پڑھ لیا اور پھر اس کا صبح ہونے سے پہلے انتقال ہو گیا تو وہ جنتی ہے‘‘۔استغفار نبی کریمﷺ کی سنت ہے۔ احادیث مبارکہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ نبی کریمﷺ ہر روز اللہ تبارک وتعالیٰ کی بارگاہ میں استغفار کیا کرتے تھے۔ اس حوالے سے صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں ایک دن میں ستر مرتبہ سے زیادہ اللہ سے استغفار اور توبہ کرتا ہوں‘‘۔ صحیح مسلم کی روایت میں ایک دن میں 100 مرتبہ استغفار کرنے کا بھی ذکر ہے۔مذکورہ بالا آیاتِ قرآنی اور احادیث طیبہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ دنیا و آخرت میں سربلندی حاصل کرنے کے لیے انسان کو کثرت کے ساتھ اللہ تبارک وتعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ و استغفار کرنا چاہیے۔ استغفار کرنا انبیاء کرام علیہم السلام اور نبی کریمﷺکی سنت مطہرہ بھی ہے۔ جو شخص استغفار کو پکڑ لیتا ہے‘ اللہ تبارک وتعالیٰ اس کو مادی نعمتوں سے بھی نواز دیتے ہیں اور آخرت میں بھی اس کے لیے جنت کے داخلے کو آسان بنا دیتے ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کو گناہوں سے بچتے ہوئے استغفار کرنے کی توفیق دے‘ آمین!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_19740082.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>