<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>معاشی استحکام اور عوامی بقا کا چیلنج(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-09/11616</link><pubDate>Fri, 09 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-09/11616</guid><description>آئی ایم ایف نے پاکستان کے ساتھ معاشی جائزے کے کامیاب اختتام پر سٹاف لیول معاہدے کا اعلامیہ جاری کر کے جہاں حکومت کیلئے ایک ارب 21کروڑ ڈالر کی اگلی قسط کی راہ ہموار کی ہے‘ وہاں ملکی معیشت پر عائد شرائط کو بھی مزید سخت کر دیا ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے نے ایک طرف میکرو اکنامک استحکام‘ مہنگائی کی شرح کنٹرول کرنے اور جی ڈی پی میں معمولی بہتری کی تحسین کی ہے تو دوسری طرف فیول سبسڈی کے فوری خاتمے‘ توانائی کے شعبے میں خسارہ کم کرنے اور وصولیوں کو بہتر بنانے کیلئے سخت اصلاحات کا مطالبہ بھی دہرایا ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ جولائی 2025ء تا مارچ 2026ء میں پاکستان کی معاشی ترقی چار فیصد رہی‘ مشرق وسطیٰ بحران سے شرح نمو 3.6 فیصد تک متاثر ہوئی‘ مئی 2026ء میں افراطِ زر بلند ترین سطح پر پہنچا‘ ترسیلاتِ زر نے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ قابو میں رکھا۔ یہ اعلامیہ ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں یمن کی جنگ اور باب المندب پر منڈلاتے جنگی خطرات نے عالمی معیشت اور سپلائی چین کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ان حالات میں پاکستان کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ بیرونی قرضوں کے تقاضوں‘ عالمی بحران کے اثرات اور اندرونِ ملک شدید معاشی دباؤ کے شکار عوام کی بقا کے درمیان توازن کیسے برقرار رکھا جائے۔ ایران‘ امریکہ جنگ کے بعد یمن اور باب المندب کا تنازع پاکستان جیسی درآمدات پر انحصار کرنیوالی معیشت کیلئے ایک بڑا جھٹکا ہے۔ باب المندب وہ گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا کی کل بحری تجارت کا تقریباً 12 فیصد اور خام تیل کی ترسیل کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات‘ خاص طور پر خام تیل اور ایل این جی کیلئے مذکورہ دونوں خطوں ہی پر انحصار کرتا ہے۔ اگر جنگ طول پکڑتی ہے یا باب المندب مکمل طور پر بلاک ہو جاتا ہے تو عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں تاریخی بلند سطح پر پہنچ سکتی ہیں‘ جس کا براہِ راست اثر پاکستان کے زرِمبادلہ کے ذخائر اور مقامی قیمتوں پر پڑے گا۔

اس خدشے کے تناظر میں‘ آئی ایم ایف کی جانب سے پٹرول سبسڈی کو فوراً مرحلہ وار بند کرنے کا مطالبہ عوام کیلئے سخت مشکلات کا باعث بنے گا۔ پٹرول اور ڈیزل صرف ٹرانسپورٹ ہی نہیں بلکہ پاکستان کی پوری معیشت کیلئے ایندھن کی حیثیت رکھتے ہیں۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا مطلب زراعت کی لاگت میں اضافہ‘ فیکٹریوں کے پیداواری اخراجات میں اضافہ اور ٹرانسپورٹیشن اخراجات بڑھنے سے اشیائے خور ونوش کی قیمتوں میں پے درپے اضافہ ہے۔ عوام پہلے ہی بھاری یوٹیلیٹی بلوں‘ محدود ہوتی قوتِ خرید اور گرانی کے چڑھتے گراف سے نبرد آزما ہیں۔ ایسے میں اگر حکومت پٹرول پر سے سبسڈی ختم کر کے ٹیکسوں اور لیوی کا بوجھ برقرار رکھتی ہے تو متوسط اور غریب طبقے کیلئے سانس لینا بھی محال ہو جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ پٹرول جیسی بنیادی ضرورت کی اشیا کے ذریعے بالواسطہ ٹیکس اکٹھا کرنا حکومتوں کیلئے آسان ہدف رہا ہے مگر سماج اور معیشت پر اس پالیسی کے اثرات تباہ کن ہیں۔
حکومت کو چاہیے کہ ٹیکس خسارہ پٹرول پر عائد لیوی کے بجائے ٹیکس نیٹ کو وسیع کر کے پورا کرے۔ مالیاتی خسارے کا حل بنیادی اشیائے ضروریہ پر ٹیکس لگانا نہیں بلکہ سٹرکچرل اصلاحات ہیں۔ زراعت‘ رئیل اسٹیٹ اور ریٹیل سیکٹر سمیت متعدد شعبے اپنی استعداد سے نہایت کم ٹیکس دے رہے‘ ان کو ڈیجیٹل ٹیکس نظام کے دائرے میں لا کر ٹیکس مساوات قائم کرنے سے ٹیکس خسارہ کم ہو سکتا ہے اور نچلے طبقے کو ریلیف دینے کی گنجائش بھی پیدا ہو سکتی ہے۔ عالمی ادارے کی شرائط اپنی جگہ مگر حکومت کو عوامی بقا و تحفظ کو بھی یقینی بنانا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جنگی خطرات اور آبنائے ہرمز اور باب المندب جیسے بیرونی چیلنجز کا مقابلہ داخلی استحکام کے بغیر ممکن نہیں۔ اور داخلی استحکام تب آئے گا جب عوام کو معاشی ریلیف میسر آئے گا۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بجلی کی قیمت میں مزید اضافہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-09/11615</link><pubDate>Fri, 09 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-09/11615</guid><description>نیپرا نے ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کی قیمت میں ایک روپے 11پیسے فی یونٹ کا اضافہ کر دیا ہے جس سے صارفین پر تقریباً 19ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔ رواں برس اپریل میں کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ تین برسوں کے دوران ملک میں بجلی کی قیمتوں میں 155 فیصد تک اضافہ کیا جا چکا ہے۔ یہ اضافہ کسی ایک وجہ کا نتیجہ نہیں بلکہ کئی ساختی بگاڑوں کا مجموعہ ہے۔ کیپسٹی پیمنٹس کا غیر معمولی بوجھ‘ روپے کی گراوٹ‘ درآمدی ایندھن پر حد سے زیادہ انحصار اور گردشی قرضے کا مسلسل پھیلاؤ وہ بنیادی عوامل ہیں جنہوں نے بجلی کی لاگت کو ناقابلِ برداشت سطح تک پہنچا دیا ہے۔ نتیجتاً توانائی کا پورا ڈھانچہ پیداواری کارکردگی کے بجائے مالی دباؤ کا مرکز بن چکا ہے۔ اس پالیسی ناکامی کا تمام تر بوجھ براہِ راست عوام اٹھا رہے ہیں۔

صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ اب بجلی کے بل گھریلو کرایوں سے بھی تجاوز کر گئے ہیں۔ مہنگی بجلی نے چھوٹے کاروبار‘ صنعتوں اور زرعی شعبے کی پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ کر کے انہیں تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے جس کے معیشت پر اثرات ظاہر و باہر ہیں۔ ضروری ہے کہ توانائی کے پورے ڈھانچے کو ازسرنو ترتیب دیا جائے۔ حکومت کو چاہیے کہ آئے روز بجلی کی قیمت بڑھانے کے بجائے شعبہ توانائی کے نقائص کو مستقل بنیادوں پر دور کرے۔ علاوہ ازیں عوام کو سستی بجلی کی فراہمی کیلئے قابلِ تجدید توانائی کی پیداوار میں اضافے کی طرف بھی توجہ دی جانی چاہیے۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>خوفناک فضائی آلودگی(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-09/11614</link><pubDate>Fri, 09 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-09/11614</guid><description>ملک کے میدانی علاقوں میں فضائی آلودگی ایک مستقل مسئلہ بن چکی ہے اور موسم کی تبدیلی کیساتھ یہ مسئلہ شدت اختیار کر جاتا ہے۔ پنجاب انوائرمنٹ پروٹیکشن اتھارٹی کے آفیشل ایئر کوالٹی انڈیکس ڈیش بورڈ کے مطابق آٹھ اکتوبر کی صبح لاہور کا مجموعی ایئر کوالٹی انڈیکس 201 تک پہنچ گیا‘ جو غیر صحت بخش زمرے میں آتا ہے۔ سب سے زیادہ اے کیو آئی ملتان روڈ مانیٹرنگ سٹیشن نے ریکارڈ کیا‘ جو تقریباً 500 تھا۔ صرف لاہور ہی نہیں بلکہ پنجاب کے دیگر اضلاع میں بھی حالیہ دنوں میں فضائی آلودگی میں خوفناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ اگرچہ ملک کے اکثر میدانی علاقے سردیوں کے آغاز پہ سموگ نامی آفت کا شکار ہوتے ہیں مگر لاہور‘ جو ملک کا دوسرا بڑا صنعتی و تجارتی شہر ہے‘ گزشتہ ایک دہائی سے مسلسل اس مسئلے سے دوچار ہے۔

اس بے پناہ آلودگی کے کئی اسباب ہیں‘ مثلاً درختوں کی کٹائی‘ گاڑیوں کا دھواں‘ دھول مٹی اور گردو غبار۔ آبادی کے تناسب سے شہر میں درخت نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اگرچہ انتظامیہ ہر سال شہر کو سموگ زدہ قرار دے کر ہنگامی اقدامات بھی کرتی ہے مگر یہ قطعی ناکافی ثابت ہو رہے ہیں۔ اس کے لیے صنعتی یونٹس کے ساتھ دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف اقدامات بھی ضروری ہیں‘ البتہ بے ہنگم آبادی کو کنٹرول‘ ٹریفک کا نظام ٹھیک کر کے اور بہتر ٹائون پلاننگ سے ہی سموگ کا مستقل تدارک یقینی بنایا جا سکتا ہے۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ایک ہی سکرپٹ، ایک ہی کہانی(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-10-09/52808/50127641</link><pubDate>Fri, 09 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-10-09/52808/50127641</guid><description>کبھی سمجھ نہیں آتی کہ ہم انسان کیا چاہتے ہیں اور ہمارے اندر کیا بھانبڑ جل رہے ہوتے ہیں۔ اس وقت اگر دیکھا جائے تو دنیا بھر میں‘ ہر معاشرے میں آپ کو بے چینی دیکھنے کو ملے گی۔ لوگ دھیرے دھیرے حکومتوں سے تنگ آ جاتے ہیں۔ عوام ہر وقت ایک ہی چہرہ دیکھ کر بھی اکتا جاتے ہیں اور پھر وہ خوشحالی کی پروا بھی نہیں کرتے اور مرنے مارنے پر تل جاتے ہیں۔ میں پڑھ رہا تھا کہ بارسلونا میں ہزاروں مظاہرین سڑکوں پر آ گئے اور ہنگامہ ہوا۔ وہاں بھی جلاؤ گھیراؤ ہوا‘ پولیس کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں۔ وجہ ہے گھریلو کرایوں میں اضافہ۔ جب وہاں لوگوں سے گھر خالی کرانے کا سلسلہ شروع ہوا تو اس میں ایک 87 سالہ خاتون سے بھی گھر خالی کرایا گیا جس پر احتجاج شروع ہوا۔ میں پچھلے سال بارسلونا گیا تھا تو گجرات کے دوست امتیاز احمد اور جھنگ کے نواز سیال کی وجہ سے وہاں بہت سے پاکستانیوں اور دیگر لوگوں سے ملنے کا موقع ملا تھا۔ پاکستانیوں کو وہاں خاصا خوشحال اور خوش پایا۔ خود مجھے بھی بارسلونا بہت اچھا لگا۔ صاف ستھرا شہر اور لوگ بھی اچھے تھے۔ لہٰذا اس شہر میں ہنگاموں کی خبر پڑھی تو دل کچھ دکھی ہو گیا کہ جس شہر یا وہاں کے لوگوں کو آپ پسند ہوں تو وہاں پر اس طرح کے واقعات سن اور پڑھ کر آپ بھی تکلیف محسوس کرتے ہیں۔میں فرانس کبھی نہیں گیا‘ اگرچہ اس دفعہ پروگرام تھا کہ لندن سے صفدر بھائی کے ساتھ پیرس جائیں گے لیکن ابھی جانا نہیں ہوا۔ اب وہاں طالبعلموں کے پُرتشدد مظاہروں کی خبریں پڑھیں تو دل افسردہ ہو گیا کہ شاید یہ سب کچھ میری حوصلہ شکنی کرنے کیلئے ہوا ہے کہ میں پیرس نہ جاؤں۔ فرانس جانے کی بڑی وجہ فرانس کے بالزاک‘ وکٹر ہیوگو‘ الیگزینڈر ڈوما‘ موپساں‘ فلابیر جیسے بڑے ادیب اور لکھاری ہیں۔ پھر نپولین کے بارے میں اتنا کچھ پڑھ رکھا ہے اور سب سے بڑھ کر ڈوما کی The Hunchback of Notre Dame اور The Three Musketeers جیسی کہانیاں وہاں رکھی ہیں۔ اس طرح مجھے دوسرا شوق روس جانے کا ہے اور اس کی وجہ ٹالسٹائی‘ دوستوفسکی‘ پوشکن‘ چیخوف اور گورکی جیسے ادیب ہیں۔ نعیم بھائی اکثر کہتے تھے کہ کہانیاں؍ناول صرف روسی اور فرانسیسی ادیبوں نے لکھے ہیں‘ فلاسفی جرمن نے اور ڈرامہ انگریزوں نے لکھا ہے۔ میں ابھی تک روس اور فرانس نہیں جا سکا اور لگتا ہے اس سال بھی شاید نہ جا سکوں۔دوسری طرف جرمنی ہے جہاں رائٹ وِنگ تیزی سے معاشرے کو اپنی گرفت میں لے رہا ہے کہ یورپ میں تارکینِ وطن کے خلاف نفرت بہت پھیل چکی ہے۔ پچھلے دنوں جرمنی سے میرے پرانے مہربان منیر صاحب آئے ہوئے تھے۔ وہ انجینئرنگ یونیورسٹی کے گریجویٹ ہیں۔ اسلام آباد آئے تو ان سے لمبی گپ شپ ہوئی۔ جرمنی کے حالات کا پوچھا تو کہنے لگے کہ حالات تو واقعی مختلف ہیں۔ انہوں نے یہ بات بھی بتائی کہ جرمنی میں بھارتیوں کا امیج بہتر ہے۔ جرمن سرمایہ کار یا بڑے گروپ بھارت کو پاکستان پر ترجیح دیتے ہیں۔ بھارتیوں نے پاکستان کا امیج ان کی نظروں میں خراب کر رکھا ہے کہ چھوڑو‘ پاکستانیوں کی کیا بات کرتے ہو‘ ہم بہت اچھے ہیں۔ یوں وہ پروپیگنڈا یورپ میں بھی چلتا ہے کہ انڈین شریف ہیں اور پاکستانی نہیں۔ شاید یہی امیج پورے یورپ میں ہے اور شاید ایک وجہ ہے کہ نائن الیون کے بعد ہم نے افغانستان میں طالبان کو نیٹو اور عالمی فورس کے مقابلے پر اپنی پراکسی کے طور پر استعمال کیا۔ ہم سمجھتے تھے کہ یورپ‘ امریکہ بیشک ہمارے دشمن بن جائیں لیکن طالبان ہاتھ سے نہ نکلنے پائیں۔ اب نتیجہ یہ نکلا ہے کہ طالبان بھی ہاتھ سے نکل گئے اور پورے یورپ میں یہ تاثر عام ہے کہ شاید پاکستانی اچھے لوگ نہیں۔ دوسری جانب ہمارے خطے میں دہشت گردی پہلے بھی تھی‘ اب بھی ہے‘ اس معاملے میں انڈین بہتر رہے۔ نائن الیون کے بعد وہ افغانستان کی کرزئی حکومت ہو یا اشرف غنی‘ ان کے بھی پارٹنر رہے اور اب طالبان کے بھی پارٹنر ہیں۔ ہمارے ہاتھ کیا لگا کہ یورپ میں بھی امیج خراب کرا بیٹھے‘ طالبان بھی ہاتھ سے نکل گئے اور افغان بھی ناراض۔ پتا نہیں اس سارے دھندے میں ہمارے ہاتھ کیا لگا ہے۔ادھر بھارت میں طالبعلم پھر سڑکوں پر آئے ہوئے ہیں‘ لاٹھی چارج اور تشدد ہو رہا ہے۔ وہاں بھی نئی نسل باہر نکلی ہوئی ہے اور حکومت اور پولیس کے تشدد کا مقابلہ کر رہی ہے۔ جنہیں لگتا تھا کہ جمہوریت میں مظاہرے کرنا آئینی حق ہوتا ہے‘ وہ انڈیا کو دیکھ لیں‘ جو 79 برس سے جمہوری ملک ہے‘ دیکھ لیں کہ وہاں کتنا حق دیا جا رہا ہے۔ جو بدترین تشدد ہو رہا ہے‘ وہ سب کے سامنے ہے۔ راہول گاندھی اور پریانکا گاندھی کو بھی پولیس نے گرفتار کیا۔ لڑکیوں تک کو پولیس نے گھسیٹا اور مارپیٹ کی۔ پس ثابت ہوا کہ اس خطے میں چاہے بھارت کی طرح 79سالہ پرانی جمہوریت ہو یا پھر پاکستان جیسی ہائبرڈ جمہوریت‘ حالات سب جگہ ایک جیسے ہیں۔ اگر مظاہرے کرنے کی اجازت پاکستان میں نہیں ہے تو بھارت میں بھی نہیں ہے۔ اس وقت پاکستان مسلسل سیاسی انتشار کا شکار ہے بلکہ شاید جب سے ملک بنا ہے‘ اس وقت سے ہی یہ بحران چلا آ رہا ہے۔ جب میں تبصرہ کاروں کو یہ کہتے سنتا ہوں کہ پاکستان کو آج سنگین حالات کا سامنا ہے تو حیرانی ہوتی ہے۔ بھلا کون سا دور تھا جب حالات نارمل تھے۔ میں بھٹو صاحب کی بہت ساری خوبیوں کا معترف ہوں لیکن ان کی غلطیاں ان کی خوبیوں پر حاوی ہیں۔ آپ شاید یہ جان کر حیران ہوں کہ پنجاب میں صرف چار برسوں میں بھٹو صاحب کے دور میں یکے بعد دیگرے چار وزرائے اعلیٰ آئے۔ ملک معراج خالد‘ غلام مصطفی کھر‘ حنیف رامے اور نواب صادق قریشی۔ اندازہ کریں کہ چار سال میں چار وزرائے اعلیٰ۔ کیا بھٹو صاحب کو بھی کسی پر اعتماد نہ تھا کہ وہ بار بار وزیراعلیٰ بدل رہے تھے۔ انہوں نے نہ صرف پنجاب میں وزیراعلیٰ بدلے بلکہ سرحد اور بلوچستان میں مخالف وزرائے اعلیٰ کو گھر بھیج کر وہاں گورنر راج لگا یا۔ یہی وجہ تھی کہ بھٹو صاحب کے خلاف مارشل لاء لگانا آسان ہو گیا کہ ان کے سب مخالف جیل میں تھے۔ اگر وہ حکومتیں قائم رہتیں تو شاید جنرل ضیاء کیلئے آسان نہ ہوتا۔ صرف بھٹو کو گرفتار کرنا تھا اور کوئی مزاحمت نہیں ہونی تھی۔ اور وہی ہوا۔ جنرل ضیاء نے بھٹو کے سب مخالف جیل سے رہا کر دیے اور بھٹو صاحب کو جیل میں ڈال دیا۔ یہ بھٹو صاحب کی اپنی غلطی تھی کہ انہوں نے پوری اپوزیشن کو جیلوں میں ڈال کر خود کو کمزور کر لیا۔اگر دیکھا جائے تو جس جس وزیراعظم نے اپنی اپوزیشن کو کمزور کیا‘ انہیں خود بھی جیلوں میں ڈالا گیا اور انجام اچھا نہیں ہوا۔ بھٹو صاحب کو ایک طرف دیکھیں‘ یہی کام نواز شریف نے کیا اور بینظیر بھٹو کو جلاوطن ہونا پڑا۔ جس سے جنرل پرویز مشرف کا کام آسان ہوا اور انہوں نے نواز شریف کا تختہ الٹ دیا۔ بینظیر بھٹو بھی اسی کیفیت سے گزر رہی تھیں جس سے کبھی ان کے والد کی جیل میں قید مینگل اور مری گزرے تھے۔ عمران خان نے بھی وزیراعظم بن کر پوری اپوزیشن کو جیل میں ڈال کر سب کو دیوار کے ساتھ لگا دیا اور یوں انہیں ہٹانا آسان ہو گیا۔ اب بھی اگر دیکھا جائے تو اس سے ملتی جلتی ہی صورتحال ہے۔ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے‘ جہاں گورنر راج لگانے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ یہ وہی کام ہو گا جو بھٹو صاحب نے کیا تھا اور آخر پر اکیلے رہ گئے تھے۔ پاکستان جیسے ملکوں میں سیاست کے نام پر ذاتی دشمنیاں نبھائی جاتی ہیں۔ یہاں سیاست‘ سیاست سمجھ کر نہیں بلکہ ذاتی دشمنی سمجھ کر کی جاتی ہے اور انجام وہی ہوتا ہے جو ذاتی دشمنیوں میں ہوتا ہے۔ جیسے بھٹو صاحب کے ساتھ ہوا‘ نواز شریف کے ساتھ اور اب عمران خان کے ساتھ ہو رہا ہے۔ کیا شہباز شریف گردشِ ایام سے بچ پائیں گے‘ یہ وقت بتائے گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>یہاںسب چلتا ہے!(رسول بخش رئیس)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-10-09/52809/33927612</link><pubDate>Fri, 09 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-10-09/52809/33927612</guid><description>جمہوری روایات اور دنیا کا دستور کچھ بھی ہو‘ ہمارے سیاستدانوں کا طرزِ عمل اپنی نوعیت کا ہے‘ اور سب سے جدا ہے۔ اسے آپ جو بھی نام دیں‘ کچھ بھی کہہ لیں‘ جمہوری انداز سے ہرگز مطابقت نہیں رکھتا۔ سرکاری خزانے اور ہمارے ٹیکسوں‘ خاص طور پر غریب طبقے کی کھال اتار کر اخراجات کیے جاتے رہے ہیں اور اب بھی کیے جا رہے ہیں۔ اس بارے میں لکھنے اور بولنے والوں کے الفاظ اور احتجاجی آوازوں کا زور بے اثر ہو چکا ہے۔ سرکاری وسائل سیاسی سرگرمیوں اور بڑے بڑے حکومتی عہدے داروں کی ذاتی تشہیر پر خرچ کیے جاتے ہیں‘ جس میں مسکراتی ہوئی تصویریں مرکزی حیثیت سے شائع ہوتی ہیں۔ اصولی طور پر ایسی کارروائیاں مفادات کے ٹکراؤ کے زمرے میں آتی ہیں۔ شاید بات اربوں تک پہنچتی ہو‘ مگر ہم کروڑوں پر ہی اکتفا کرتے ہیں۔ کیا آپ نے کبھی کسی جمہوری ملک کے حکومتی سربراہوں‘ شہروں کے میئروں اور ریاستوں کے گورنروں کو جو وہاں براہِ راست منتخب ہو کر آتے ہیں اور حکومت کے چیف ایگزیکٹو ہوتے ہیں‘ سرکاری فنڈز سے اپنی ذاتی تشہیر کرتے دیکھا ہے؟ اس مقصد کے لیے قومی انتخابات یا پرائمری انتخابات کے دوران ان کی جماعتیں اور سیاسی جماعتوں سے وابستہ پبلک ایکشن کمیٹیاں عام لوگوں سے چندہ اکٹھا کرکے سیاسی مہم چلاتی ہیں۔ جس سرکاری عہدے کے لیے کوئی امیدوار انتخابی میدان میں اترتا ہے‘ وہ اپنے حامیوں اور عوام سے اپیل کرکے چندہ جمع کرتا ہے۔ امیر لوگوں کی کہیں بھی کمی نہیں۔ وہ اپنا سرمایہ خرچ کر تے ہیں مگر سرکاری عہدے پر فائز ہوتے ہوئے سرکاری وسائل کا استعمال کہیں بھی جائز نہیں۔ ہمارے حکمرانوں سے اس بارے میں کوئی پوچھنے والا نہیں۔ جب سبھی ایسا کرتے ہیں اور ان کی اگلی پچھلی نسلیں بھی ایسا ہی کرتی آئی ہیں تو عوام کی نظر میں بھی یہ تاثر جڑ پکڑ چکا ہے کہ اگر ان کے پاس حکومت ہے تو وہ جو مرضی کریں‘ اور جب ان کی جگہ دوسرے لوگ آئیں گے تو وہ بھی ایسا ہی کریں گے۔تعلیمی اداروں میں آپ طلبہ کو کالے بیگ پیک اٹھائے دیکھ سکتے ہیں‘ جن پر پیلے رنگ میں صوبے کے اعلیٰ ترین عہدے دار کا نام نمایاں ہوتا ہے۔ یہ وہی لیپ ٹاپ ہیں جو لاکھوں کی تعداد میں بیرونِ ملک سے خرید کر تقسیم کیے گئے۔ سائنس کی ترقی کے لیے یہ طریقۂ کار کسی ملک میں استعمال نہیں ہوتا‘ لیکن ہماری بات اور ہے۔ دیہات کے سکولوں سے لے کر کالجوں اور جامعات تک سرکاری وسائل سے کمپیوٹر مفت استعمال کے لیے موجود ہیں۔ اقتدار میں آتے ہی یہ دھندہ بار بار دوبارہ شروع ہو جاتا ہے۔ ہونہار طلبہ اور غریب بچوں کو وظائف دینے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح اگر ان کا معیاری نجی جامعات میں داخلہ ہو جائے تو ان کی فیس اور دیگر اخراجات کا بندوبست ہونا چاہیے۔ پنجاب حکومت ماضی میں ایسا کر بھی چکی ہے۔ یہ لیپ ٹاپ اور پھر اُن کے بیگوں کے ذریعے چلتی پھرتی عوامی مشہوری! اگر مقصد کمپیوٹر کی تعلیم عام کرنا ہے تو یہ جگ ہنسائی ہے۔ اربوں روپے کے اخراجات سے نہ کوئی مفید نتیجہ حاصل ہو سکا ہے اور نہ آئندہ ہو گا۔ کئی بار عرض کر چکا ہوں کہ اگر احتساب اور جواب دہی مفقود یا کمزور ہوں تو پھر جمہوریت کی بات نہ کی جائے۔ یہ محض ایک سیاسی لبادہ رہ جاتا ہے جسے حکمران مشرق سے لے کر مغرب تک کئی بار پہن چکے ہیں۔ مجھے امریکی ریاست الانائے سے ایوانِ نمائندگان کی رکنیت کے ایک امیدوار کا قصہ یاد آتا ہے۔ نام بھول چکا ہوں کہ بات پرانی ہے۔ انتخابات کے لیے عوامی ذرائع سے جو چندہ اکٹھا کیا جاتا ہے‘ امیدوار اسے صرف انتخابی مہم پر خرچ کر سکتے ہیں۔ اس رقم کا کوئی دوسرا مصرف قابلِ گرفت ہو سکتا ہے۔ اس کانگریس کے رکن نے کامیابی کے بعد انتخابی چندے سے گھریلو فرنیچر خریدا اور اسے اپنے گھر کے تہہ خانے میں رکھ دیا۔ اس پر اپنے لیے مختص انتخابی فنڈز کے ناجائز استعمال کا مقدمہ چلا‘ اسے جیل جانا پڑا اور کانگریس کی رکنیت سے بھی ہاتھ دھونے پڑے۔ جمہوریت میرے نزدیک اعلیٰ ترین نظریہ اور طرزِ حکومت ہے جس کی بنیاد اخلاقیات پر ہے۔ اگر وہ بنیاد ہی نکل جائے تو باقی سب کچھ دھاندلی زدہ رہ جاتا ہے۔آج کل ایک ڈرامہ خیبر پختونخوا میں چل رہا ہے۔ صوبے کے وزیراعلیٰ انتظامِ حکومت کو چھوڑ کر لانگ مارچ کے لیے سڑکوں پر نکلے ہوئے ہیں۔ ظاہر ہے‘ وہ اکیلے تو نہیں ہیں‘ ان کے ساتھ کچھ دیگر وزرا بھی ہیں۔ سکیورٹی کے لیے سرکاری گاڑیوں میں سوار پولیس کے دستے بھی ہیں۔ یہ سب سرکاری وسائل ہیں‘ جنہیں وہ اپنی سیاست چمکانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ عجیب تضاد ہے کہ تحریک انصاف صوبے کی سب سے بڑی اور مقبول جماعت ہے مگر لانگ مارچ کے معاملے میں دوسری بار ایسا ہو رہا ہے کہ اس کی سربراہی‘ تیاری اور پہلا قدم صوبے کا وزیراعلیٰ اٹھاتا ہے۔ دوسرے رہنماؤں کو کیا ہو گیا ہے؟ وہ لانگ مارچ کو منظم کیوں نہیں کرتے اور صوبے کا انتظام چلانے کے لیے وزیراعلیٰ کو اس جدوجہد سے مستثنیٰ کیوں نہیں کرتے؟ ایسی مفاد پرستی کی سیاست اور عہدے کے جمہوری تقاضوں میں بہت بڑا تضاد ہے۔ صوبے وفاقی اکائیاں ہیں۔ اگر صوبائی وزرائے اعلیٰ اسلام آباد پر چڑھائی کریں اور مقصد اپنی جماعت کی سیاست اور اس کے رہنماؤں کے قانونی طور پر جائز یا ناجائز مفادات کا تحفظ ہو تو ہمارے نزدیک یہ روش جمہوریت اور آئین کی روح کی پامالی ہے۔ دوسروں کا یا آپ کا نظریہ جو بھی ہو‘ اصول تو یہ ہے کہ تمام اداروں کو اپنے اپنے آئینی اور قانونی دائرہ کار میں رہ کر کام کرنا چاہیے۔ مگر کسی بھی وزیراعلیٰ کا ایسا رویہ کیا اپنے ہی قانونی دائرے میں رہنے کے تقاضوں کے مطابق ہے؟ صوبے کی انتظامی مشینری کو کسی نہ کسی صورت اپنی جماعت کے سیاسی مقاصد کے تحفظ اور حصول کے لیے استعمال کرنا صرف ہمارے ملک ہی میں ممکن ہے۔ باہر کے لوگ جب ایسے تماشے دیکھتے ہیں تو آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ان کی نظر میں ہمارے جمہوری نظام‘ طرزِ حکومت اور اسے چلانے والوں کا کتنا احترام باقی رہ جاتا ہو گا۔ سرکاری وسائل اور خزانے کے بے دریغ استعمال اور ضیاع کے ساتھ ساتھ اپنے عہدوں کو‘ جو عوامی اعتماد کا مظہر اور آئین کی طرف سے تفویض کردہ اختیارات کے لحاظ سے ایک امانت ہیں‘ ذاتی فائدے کے لیے استعمال کرنا اب اس قدر عام ہو چکا ہے کہ کسی کو کوئی پروا ہی نہیں۔ لگتا ہے کہ ہر سطح پر اخلاقیات‘ قانون اور جمہوریت کی روح اس ملک سے سرمایہ کاروں اور بین الاقوامی کمپنیوں کی طرح‘ کوچ کر چکی ہے۔ جہاں ڈرامے بازیاں ہوں‘ سستی شہرت اور ذاتی سہولت کے لیے اربوں روپے ہوا میں اڑا دیے جائیں اور ڈھائی کروڑ سے زائد بچے سکولوں سے باہر ہوں‘ وہاں کون سرمایہ کاری کرے گا؟ چلو کوئی بھٹکے سے‘ بھولے سے یہاں آ بھی جائے یا پھر خفیہ ترغیبات اور سودے بازی کے نتیجے میں کارخانے لگ بھی جائیں تو ہماری اَن پڑھ آبادی کون سا کام کر لے گی؟ سنا ہے کہ اب نظام ری سیٹ ہو گا۔ سیٹ تو عوام کو انہیں کرنا چاہیے جو نسل در نسل ہمارے حکمران بنے بیٹھے ہیں‘ مگر جمہوری انداز میں اور قانون اور آئین کے دائرے میں۔ لانگ مارچوں اور تشدد سے گریز کرنا چاہیے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_33241568.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>وسیع تصادم کا خطرہ(ڈاکٹر رشید احمد خاں)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr-rasheed-ahmad-khan/2026-10-09/52810/53769085</link><pubDate>Fri, 09 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr-rasheed-ahmad-khan/2026-10-09/52810/53769085</guid><description>مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل مزید گہرے ہوتے دکھائی دے رہے ہیں‘ اور خدشہ ہے کہ ایران پر امریکہ کے نئے حملوں سے نہ صرف خلیج فارس اور اس کے اردگرد کے خطے ایک تباہ کن جنگ کی لپیٹ میں آ جائیں گے بلکہ یمن میں حوثی جنگجوؤں کے خلاف بڑے پیمانے پر لشکر کشی اور ہوائی حملوں سے بحیرہ احمر اور باب المندب میں بھی خوفناک لڑائی چھڑ جائے گی۔ گزشتہ چند دنوں میں ان علاقوں میں امریکہ اور سعودی عرب کی جانب سے جو اقدام کیے گئے ہیں اُن سے ان خدشات کو تقویت پہنچتی ہیں۔ آبنائے ہرمز‘ بحیرہ عرب اور بحیرہ روم میں دو امریکی طیارہ بردار جہاز اپنے معاون تباہ کن جہازوں اور آبدوزوں کے ساتھ پہلے ہی سے موجود ہیں‘ اب اطلاعات آ رہی ہیں کہ امریکہ اپنا تیسرا طیارہ بردار جہاز بھی مشرقِ وسطیٰ کی طرف روانہ کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ مزید 10 ہزار میرین فوجی مشرقِ وسطیٰ میں بھیج رہا ہے۔ یاد رہے کہ مشرقِ وسطیٰ اور اس کے اردگرد اڈوں پر امریکہ کے پچاس ہزار فوجی پہلے ہی سے موجود ہیں۔ صدر ٹرمپ کی دھمکیوں سے لبریز تقریروں سے نہ صرف ایران بلکہ دنیا بھر میں اس خطے کی صورتحال پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کی رائے میں اب ایران پر کسی بھی وقت امریکی حملہ ہو سکتا ہے اور اگر امریکہ نے اب حملہ کیا تو اس دفعہ جنگ کا دائرہ وسیع ہوگا کیونکہ ایران نے اعلان کیا ہے کہ اس دفعہ وہ ایک ہزار کلومیٹر تک مار کرنے والے میزائلوں سے نہ صرف امریکی تنصیبات بلکہ جنگ میں امریکہ کی اعانت کرنے والے ممالک میں امریکی اڈوں اور آبنائے ہرمز سے دور‘ سمندروں میں موجود امریکی بحری جہازوں کو بھی نشانہ بنائے گا۔ ماہرین کی رائے میں ایران اور امریکہ کے درمیان دوبارہ جنگ کے خدشات تقویت پکڑ رہے ہیں کیونکہ صدر ٹرمپ نے ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز کو کھولنے کیلئے سات نکات پر مشتمل ایرانی تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔ دوسری طرف یمن میں سرکاری فوجیں سعودی عرب کی فضائی مدد سے حوثی جنگجوؤں پر ایک بڑے حملے میں مصروف ہیں۔ اس کا اعلان عدن کی یمن حکومت کے سربراہ صدر راشد العلیمی نے گزشتہ دنوں عوام سے اپنے خطاب کے دوران کیا۔ انہوں نے اپنے عوام کو یقین دلایا ہے کہ ستمبر میں حوثیوں نے آبنائے باب المندب اور اس کے ساتھ یمن کے جن ساحلی علاقوں پر قبضہ کیا تھا‘ انہیں جلد بازیاب کرا لیا جائے گا۔ اس کیلئے یمن اور سعودی عرب کی قیادت میں قائم ہونے والے عرب اتحاد کی ایک لاکھ فوج حوثیوں کے خلاف کارروائی کر رہی ہے۔تازہ ترین اطلاعات کے مطابق دو دن کی جنگ کے بعد یمنی فوج نے ٹینکوں‘ توپ خانے‘ ڈرون اور میزائلوں کی مدد سے حوثیوں کو بحیرہ احمر کے مقبوضہ علاقوں سے پیچھے دھکیل دیا ہے اور آبنائے باب المندب پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے مگر اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ باب المندب کا علاقہ جہاز رانی کیلئے محفوظ ہو گیا ہے۔ آبنائے باب المندب کے شمال میں واقع پہاڑی علاقے اب بھی حوثیوں کے قبضے میں ہیں اور سرکاری فوجوں کیلئے انہیں وہاں سے نکالنا آسان نہیں ہوگا۔ یمن کی سرکاری فوجوں کے حملوں اور سعودی عرب کی طرف انہیں ایئر کور مہیا کرنے کے خلاف حوثیوں نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ‘ یمن سے متصل صوبے عسیر میں ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور سعودی شہر رابغ میں تیل کے ذخیرے کو نشانہ بنایا۔ حوثیوں نے یہ دھمکی بھی دی ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ اب ان کی کھلی جنگ ہے اور وہ ڈرون اور میزائل حملوں سے سعودی عرب میں ہر قسم کے اہداف کو نشانہ بنائیں گے۔ اس کے جواب ریاض میں ہونے والے مکہ مشترکہ دفاعی اتحاد‘ جس پر پاکستان‘ سعودی عرب اور ترکیہ نے رواں سال 7 اگست کو دستخط کیے تھے‘ کی سٹرٹیجک پولیٹکل اور ڈیفنس کمیٹی کے ہنگامی اجلاس میں مشترکہ طور پر سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کی شدید مذمت کی گئی اور تینوں ملکوں نے متفقہ طور پر سعودی عرب میں مشترکہ فوجی دستے تعینات کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے علاوہ یہ بھی اعلان کیا گیا کہ سعودی عرب کو مزید کسی قسم کی امداد کی ضرورت ہوگی تو وہ مہیا کی جائے گی۔ پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف جنہوں نے ریاض میں مکہ معاہدہ کی کمیٹی میں پاکستان کی نمائندگی کی‘ نے صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ سعودی عرب کو جس قسم کی امداد کی ضرورت ہے وہ مہیا کی جا رہی ہے؛ البتہ پاکستان اور ترکیہ میں سے کسی ملک کی فوج حوثیوں کے خلاف یمنی فوج کے شانہ بشانہ نہیں لڑ رہی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مکہ معاہدہ ایک دفاعی معاہدہ ہے اور رکن ممالک صرف اس صورت میں سعودی عرب کی مدد کرنے کے پابند ہیں جب وہ بیرونی جارحیت کا شکار ہو۔ اس وقت حوثی ڈرون اور میزائلوں سے سعودی عرب پر حملہ کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کی وجہ سعودی عرب کی طرف سے 2022ء سے بحری ناکہ بندی اور اب (5اکتوبر) سے یمن کی سرکاری فوج کو ایئر کور مہیا کرنا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس وقت حوثیوں کے خلاف لڑنے والی یمن کی سرکاری فوج کو 100کے قریب سعودی جیٹ لڑاکا طیاروں کی معاونت حاصل ہے۔ امریکہ نے سعودی عرب کو جدید ترین لڑاکا طیارے فروخت کر رکھے ہیں اور صدر ٹرمپ نے سعودی ایئر فورس کو حوثیوں کے ٹھکانوں کی انٹیلی جنس مہیا کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ دیگر الفاظ میں امریکہ یمن جنگ میں براہِ راست ملوث نہیں مگر سعودی فضائیہ کو حوثیوں کے ٹھکانوں کو خفیہ اطلاعات ضرور مہیا کر رہا ہے۔ پاکستان کی طرف سے گزشتہ ماہ یمن کی حکومت کو ہلکی توپیں‘ میزائل اور ڈرونز پر مشتمل ہتھیاروں کی کھیپ بھیجنے کی اطلاعات ہیں۔ دوسری جانب مکہ معاہدے کے ہنگامی اجلاس کا اعلامیہ دیکھا جائے تو اس کیلئے چنے گئے الفاظ کے مطالعہ اور ان پر غور کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان اور ترکیہ دونوں میدانِ جنگ میں اپنی فوجیں بھیجنے پر آمادہ نہیں ہیں‘ تاہم اس کے علاوہ وہ سعودی عرب کی ہر قسم کی مدد کرنے پر تیار ہیں۔ یمن میں حوثیوں اور سرکاری فوجوں کے درمیان کھلی جنگ پر تبصرہ کرنے والوں کی رائے ہے کہ یمنی فوجیں اگر ملک کے جنوبی حصے سے حوثی جنگجوؤں کو بھگانے میں کامیاب ہو جائیں تب بھی یمن کی جنگ بند نہیں ہوگی کیونکہ حوثی جنگجو ہتھیار ڈالنے کے بجائے شمال کے پہاڑی اور دشوار گزار وادیوں پر مشتمل علاقوں میں مورچہ سنبھال لیں گے اور یمنی فوجوں کے خلاف گوریلا کارروائیاں کریں گے۔ 2014ء سے 2022ء تک سعودی عرب نے حوثی قبائل کو سرنگوں کرنے کیلئے متعدد حملے کیے‘ ان حملوں میں اسے امریکہ کی فضائی مدد بھی حاصل تھی مگر یہ حملے حوثیوں کو شکست نہیں دے سکے۔ اس دفعہ ان کی تعداد پہلے سے زیادہ ہے اور وہ پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ بہتر ہتھیاروں سے مسلح ہیں۔ چنانچہ روایتی جنگ لڑنے والی یمنی فوج حوثیوں کا قلع قمع نہیں کر سکے گی لہٰذا خدشہ ہے کہ جنگ طول پکڑے گی اور اس سے اردگرد کے ممالک بھی لپیٹ میں آ سکتے ہیں۔پاکستان کیلئے یہ ممکنہ صورتحال اس لیے زیادہ تشویش کا باعث ہے کہ وہ بحری راستے جن کے ذریعے پاکستان کی 80 فیصد درآمدات اور برآمدات گزرتی ہیں‘ اس جنگ سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ وہ خطہ ہے جہاں پاکستان اور چین کے تعاون سے تعمیر کی جانے والی راہداری‘ سی پیک کی جنوبی ٹرمینل بندرگاہ‘ گوادر واقع ہے۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے خلیج فارس اور بحیرہ احمر میں جنگ کے بجائے امن اور صلح کو اپنی پہلی ترجیح قرار دینے کا فیصلہ کیا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90264263.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ڈولی سے جنازہ، مگر کب تک ؟(اسد طاہر جپہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/asad-tahir-jappa-/2026-10-09/52811/81389111</link><pubDate>Fri, 09 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/asad-tahir-jappa-/2026-10-09/52811/81389111</guid><description>میں تھوڑی دیر قبل یونیورسٹی آف لیسٹر میں ایک مصروف دن گزار کر گھر واپس لوٹا ہوں اور چار اکتوبر کو ہونے والے گھریلو تشدد کے دو واقعات پر مشتمل ایف آئی آرز کے متن میرے سامنے ہیں۔ پہلی ایف آئی آر راولپنڈی میں تعینات ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کی مدعیت میں ان کے شوہر کے خلاف ویمن پولیس سٹیشن راولپنڈی میں درج کرائی گئی ہے۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سی ایس ایس کے امتحان میں کامیابی کے بعد پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کا حصہ بنیں اور آج کل راولپنڈی جیسے اہم ضلع میں امن و امان اور ریاستی رِٹ کی علامت ہیں‘ مگر ایک تھانے کی دہلیز پر انصاف کیلئے ہاتھ پھیلائے کھڑی ہیں۔ ان کی درخواست میں لکھا ہے کہ ان کے شوہر نے ان پر جسمانی‘ ذہنی اور نفسیاتی تشدد کیا ہے۔ پولیس نے ان کے شوہر کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا اور عدالت نے انہیں چودہ روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔ دوسری ایف آئی آر ننکانہ صاحب کی تحصیل شاہکوٹ کے تھانہ صدر میں انیس سالہ لڑکی کے چچا کی مدعیت میں درج کی گئی ہے‘ جس میں مبینہ طور پر لڑکی کے سسرال والوں نے اسے ایک کمرے میں بند کر کے پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی۔ یوں ماچس کی ایک تیلی سے اس کی زندگی‘ خواب اور وجود راکھ میں بدل گیا۔ نیم مردہ حالت میں اسے فیصل آباد کے ہسپتال لایا گیا‘ جہاں وہ چند گھنٹوں بعد زندگی کی بازی ہار گئی۔ یہ دو مناظر ایک ہی اندوہناک کہانی کے دو باب ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ایک عورت کے پاس طاقت‘ اختیار‘ تعلیم و شعور کیساتھ معاشی خود انحصاری تھی‘ اسلئے وہ اپنے اوپر ہونیوالے تشدد پر خاموش نہیں رہی جبکہ دوسری کے پاس تعلیم تھی نہ ریاستی اختیار‘ جسکے باعث وہ اپنے اوپر ہونیوالے ظلم و بربریت پر آواز بلند نہ کر سکی۔ وہ خاموش رہی اور پھر ہمیشہ کیلئے خاموش کر دی گئی۔ان دونوں واقعات میں ہمارا اصل مجرم نہ اے ڈی سی صاحبہ کا شوہر ہے اور نہ اس مقتول لڑکی کا مبینہ قاتل شوہر اور اس کا خاندان جس نے پٹرول چھڑکا‘ ہمارا اصل مجرم وہ ایک جملہ ہے جو ہمارے ہاں ہر رخصتی پر والدین بڑے فخر سے دہراتے ہیں کہ بیٹی اس گھر سے تمہاری ڈولی جا رہی ہے‘ اب تمہارا جنازہ ہی اُس گھر سے نکلے گا۔ اس ایک جملے میں ہم اپنی بیٹی اور بہن کی پوری زندگی کا فیصلہ سنا دیتے ہیں۔ ہم نے اس پر واپسی کا دروازہ ہمیشہ کیلئے بند کر دیا ہے۔ ہم نے اس کے والدین کے گھر کو اس کیلئے جہنم سے بھی بدتر بنا دیا کہ واپس آنے پر معاشرے میں ہماری ناک کٹ جائے گی۔ دوسرے لفظوں میں نکاح کے کاغذ پر دستخط کرتے وقت ایک لڑکی اپنی موت کے پروانے پر دستخط کرتی ہے اور شادی کے بعد اپنی جان اُن اجنبی لوگوں کے سپرد کر دیتی ہے جو اس کے سسرال میں شامل ہیں۔اس جملے کا نتیجہ کیا نکلتا ہے؟ جب ایک عورت کو یہ یقین ہو کہ واپسی ناممکن ہے تو وہ ہر ظلم کو اپنا مقدر سمجھ کر اپنے ہونٹ سی لیتی ہے۔ پہلے تھپڑ کو اپنی غلطی سمجھ کر خاموش رہتی ہے‘ دوسرے کو وہ شوہر کا غصہ سمجھتی ہے۔ تیسرے پر وہ بچوں کے مستقبل کا سوچتی ہے اور چوتھے پر اسے ظلم سہنے کی عادت ہو جاتی ہے۔ یہ خاموشی رضا نہیں‘ بے بسی ہے۔ یہ بے بسی ہم نے خود اس کے ذہن میں بوئی ہے۔ یہاں چند سوالات اہم ہیں۔ پہلا سوال عدالتی انصاف سے متعلق ہے۔ تشدد کرنے والے شوہر کا چودہ روزہ ریمانڈ قابلِ تحسین ہے لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ اس طرح کے کیسوں میں اس کے بعد کیا ہوتا ہے۔ خاندان کے بڑے بزرگ بیٹھتے ہیں‘ جرگہ ہوتا ہے اور مستقبل کا واسطہ دے کر عورت پر بیان واپس لینے کا دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ جب وہ دباؤ میں آ کر صلح کر لیتی ہے تو عدالت شوہرکو باعزت بری کر دیتی ہے۔ وہ شخص گھر واپس جا کر پہلے سے زیادہ طاقتور ہو جاتا ہے کیونکہ اب اسے نظامِ انصاف سے بچ نکلنے کا راستہ معلوم ہو گیا ہے۔ ہمیں گھریلو تشدد کیلئے الگ سے فاسٹ ٹریک اور خاتون ججز پر مشتمل عدالتیں قائم کرنی چاہئیں جو بہرصورت چھ ماہ میں انصاف پر مبنی فیصلے کریں۔ایسے تمام واقعات میں عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ شوہر ذہنی طور پر بیمار تھا۔ لہٰذا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسے بیمار کس نے بنایا؟ بچپن سے ایک لڑکے کو سکھایا جاتا ہے کہ تم حاکم ہو جبکہ تمہاری بہن تم سے کمتر ہے۔ تمہارا رونا کمزوری ہے‘ تمہارا مارنا طاقت ہے۔ اسے پستول اور بندوق دی جاتی ہے اور بہن کو گڑیا دے کر بہلایا جاتا ہے۔ لڑکے کو بتایا جاتا ہے کہ تم مرد ہو اور تم نے گھر چلانا ہے‘ اس لیے تمہارا حکم آخری ہوگا۔ لہٰذا شادی کے بعد وہ بیوی کو برابر کے بجائے اپنی محکوم سمجھتا‘ اور اسے قابو میں رکھنا اپنا حق سمجھتا ہے۔تیسرا اہم سوال معاشی غلامی کی زنجیریں ہیں۔ عورت کی معاشی خودمختاری آج بھی ایک خواب ہے۔ اگر ایک عورت اپنے شوہر سے الگ ہونا بھی چاہے تو وہ کہاں جائے گی؟ اس کے پاس آمدن کا کوئی متبادل ذریعہ نہیں۔ والدین کہتے ہیں کہ ہم تمہیں ساری زندگی نہیں رکھ سکتے اور معاشرہ طلاق یافتہ عورت کو اچھی نظر سے نہیں دیکھتا۔ اس معاشی اور معاشرتی بلیک میلنگ کی وجہ سے عورت روز نجانے کتنی مرتبہ مرتی ہے‘ لیکن ایک بار بھی اس دلدل سے باہر نکلنے کا فیصلہ نہیں کرتی۔ اے ڈی سی صاحبہ اس لیے بچ گئیں کیونکہ وہ معاشی طور پر خودمختار ہیں۔ ان کے پاس اپنی نوکری‘ تنخواہ اور شناخت ہے۔ لیکن اس انیس سالہ لڑکی کے پاس کیا تھا؟ اس لیے اس کا جنازہ ہی اسی گھر سے نکلا‘ جیسا کہ رخصتی کے وقت اس کے والدین نے اس کے کان میں بولا ہو گا۔سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اس کا حل کیا ہے؟ یہ کالم ماتم یا سینہ کوبی کیلئے نہیں‘ اس کا مقصد اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑنا ہے۔ سب سے پہلے اپنی فکر بدلیں۔ خدا کیلئے اپنی بیٹیوں سے ڈولی اور جنازے والا جملہ کہنا بند کریں۔ اس کی جگہ یہ کہیں کہ بیٹی یہ گھر تمہارا تھا اور ہمیشہ تمہارا رہے گا۔ اگر تمہیں کوئی تکلیف ہو تو اپنے ماں باپ کے پاس واپس آ جانا۔ تمہاری زندگی ہر چیز سے بڑھ کر ہے۔ اس ایک جملے کی تبدیلی ایک نسل کی سوچ بدل سکتی ہے۔ بیٹیوں اور بہنوں کو وراثتی جائیداد میں حصہ دیں جو انہیں شریعت نے بھی دے رکھا ہے۔ بیٹوں کی تربیت بھی اہم ہے۔ اپنے بیٹوں کو سکھائیں کہ نکاح حاکم اور محکوم کا رشتہ نہیں‘ بلکہ دو برابر انسانوں کا معاہدہ ہے۔ قانون کی عملداری یقینی بنانے کیلئے ضلع میں ویمن پروٹیکشن سنٹر فعال کریں جس میں پولیس‘ وکیل‘ ڈاکٹر اور ماہرینِ نفسیات ایک ہی چھت تلے ہوں۔ تھانوں میں خاتون تفتیشی افسران کی تعداد بڑھائی جائے۔ گھریلو تشدد کے مقدمات کو دہشت گردی کی عدالتوں کی طرح فاسٹ ٹریک پر چلایا جائے۔اے ڈی سی صاحبہ داد کی مستحق ہیں کہ انہوں نے ایف آئی آر درج کرا کے ہمارے سماج کی اَن گنت اَن دیکھی زنجیریں توڑی ہیں‘ جن کے خوفناک حصار میں جانے کتنی معصوم بیٹیاں اور بہنیں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرتے کرتے ہر روز کئی مرتبہ موت کو گلے لگاتی ہیں اور ان میں درجنوں بد نصیب کبھی چولہے کے پھٹنے کے بہانے اور کبھی پٹرول چھڑک کر سفاکیت کی بھینٹ چڑھا دی جاتی ہیں۔ انہوں نے یہ مقدمہ درج کروا کر صرف اپنے لیے نہیں‘ ان تمام لڑکیوں کیلئے بھی آواز اٹھائی ہے جو اب منوں مٹی تلے سو گئی ہیں۔ وہ دقیانوسی سماجی روایات کے فرسودہ دباؤ کو خاطر میں نہیں لائیں کہ لوگ جانے کیا کہیں گے۔ اگر گھریلو تشدد میں ایک خاتون کی جان چلی جائے تو لوگوں نے کیا کہنا یا کیا کر لینا تھا؟ صرف اس کے بچے اس کی میت پر آہ و زاریاں کرتے ہیں اور اس کے بوڑھے والدین جیتے جی مر جاتے ہیں۔ ظلم برداشت کرنے سے بہتر ہے کہ آواز بلند کریں‘ بلکہ چیخ اٹھیں۔ اس سے قبل کہ آپ کی آواز کو شاہکوٹ کی بد نصیب لڑکی کی طرح ہمیشہ کیلئے خاموش کر دیا جائے اور ڈولی کے بعد سسرال سے جنازے میں واپسی ہو۔ یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ آخر ہم کب تک اپنی بیٹیوں کی ڈولیاں سجاتے اور پھر ان کے جنازے اٹھاتے رہیں گے؟ آخر کب تک؟</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_34710710.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>نازک موڑ(جویریہ صدیق )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/javeria-siddique/2026-10-09/52812/48819705</link><pubDate>Fri, 09 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/javeria-siddique/2026-10-09/52812/48819705</guid><description>وطن عزیز کی تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو معلوم ہو گا کہ یہ ہمیشہ ایک نازک دور سے گزر رہا ہوتاہے‘ اور ہمیشہ یہ نازک دور عوام اور ملک کیلئے ہوتا ہے‘ حکمرانوں اور اشرافیہ کیلئے تو پاکستان ایک شب دیگ ہے جو پکے جا رہی ہے اور اُن میں تقسیم ہوتی جا رہی ہے۔ تاریخ نے وہ وقت بھی دیکھا ہے جب یہاں ایسے لوگوں کو بھی حکمرانی ملی جنہیں پاکستانی شناختی کارڈ‘ برسوں بعد پاکستان آنے پر ایئرپورٹ پر ہاتھ میں تھمایا گیا تھا۔ یہ سب فیصلہ سازوں کے کرشمے ہیں۔ پاکستان میں وسائل کی کمی نہیں‘ مگر کوئی اس ملک کی اونرشپ لینے کو تیار نہیں۔ باہر سے لوگ یہاں حکمرانی کیلئے آتے ہیں اور اپنی مدت ختم ہونے پر اپنے اصل ملک لوٹ جاتے ہیں‘ جہاں ان کے بچے ہیں اور جہاں ان کی جائیدادیں ہیں۔ جب یہ ملک بنایا گیا تھا تو خواب ایک اسلامی فلاحی ریاست کا تھامگر ہم اب بھی اس تعبیر سے کوسوں دور ہیں۔ عوام پہلے محنت مزدوری کر کے دو وقت کی روٹی کھا لیا کرتے تھے مگر اب بجلی‘ پٹرول اور اشیائے خورونوش کی بلند قیمتوں کی وجہ سے دن رات محنت کے باوجود ایک وقت کا کھانا بھی بمشکل کھا پاتے ہیں۔ کتنے ہی لوگ اس مہنگائی کے دور میں ملازمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ جب جوان بچوں کو ہاتھوں میں سی وی لیے نوکری کیلئے سفارش ڈھونڈتے دیکھتی ہوں تو دکھ ہوتا ہے کہ ملک میں میرٹ سسٹم موجود کیوں نہیں ہے۔ کاش کہ تعلیم کے ساتھ بچوں کو ووکیشنل اور ٹیکنیکل ٹریننگ بھی دی جاتی‘ اور پڑھائی مکمل ہوتے ہی ان کو اگر نوکری نہ بھی ملتی تو وہ کسی ہنر سے کما لیتے۔ مگر ایسا نہیں ہے! بچے دربدر ٹھوکریں کھاتے پھر رہے ہیں۔ ماں باپ اپنی جمع پونجی لگا کر ان کو باہر بھیجنا چاہتے ہیں مگر اس چکر میں کچھ نوجوان ایجنٹ نما انسانی سمگلروں کے ہاتھ چڑھ کر موت کی وادی میں اُتر جاتے ہیں‘ تو کچھ کو کاغذات مکمل ہونے کے باوجود ایئرپورٹ پر آف لوڈ کر دیا جاتا ہے۔ ملک میں اس افراتفری‘ مہنگائی‘ معاشی بدحالی‘ ناانصافی اور میرٹ کی پامالی کی ایک بڑی وجہ سیاسی عدم استحکام ہے۔ یہاں جمہوریت کو کبھی پھلنے پھولنے نہیں دیا گیا۔ طویل مارشل لاء‘ وزیراعظم کا اپنی مدت پوری نہ کرنا‘ سیاستدانوں کی آپسی چپقلش‘ اقربا پروری‘ موروثیت‘ انتخابات میں عدم تسلسل اور دھاندلی‘ ایسی بہت سی چیزیں ہیں جن کی وجہ سے ہم اب تک ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں نہیں آ سکے ہیں۔حال ہی میں مجھے پی آئی اے میں سفر کرنے کا اتفاق ہوا۔ یہ دیکھ کر افسوس ہوا کہ جہاز میں سکرینیں نہیں چل رہی تھیں‘ سیٹوں کے کور پھٹے ہوئے تھے اور انٹرنیٹ بھی نہیں تھا۔ کچھ معلوم نہیں تھا کہ ہم کہاں فلائی کر رہے ہیں اور جو حال باتھ رومز کا تھا وہ ناقابلِ بیان ہے۔ مجھے بہت رنج ہوا کہ اگر پی آئی اے کی عالمی فلائٹ کا یہ حال ہے تو لوکل پرواز کیسی ہوگی۔ خبروں کے مطابق اب پی آئی اے میں نئی بھرتیاں ہو رہی ہیں اور عملے کیلئے نیا یونیفارم بنایا جا رہا ہے ۔ کیا اس کا کوئی فائدہ ہوگا؟ جواب ہے نہیں! جب تک جہاز اَپ گریڈ نہیں ہوں گے‘ وہاں سہولتیں مہیا نہیں کی جاتیں‘ عملے کا ڈیزائنر یونیفارم کسی کام کا نہیں ہے۔ پی آئی اے کے جہاز میں آپ فون اور پاور بینک استعمال نہیں کر سکتے۔ انسان سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ اب میں کیا کروں۔ سکرین تو چل نہیں رہی‘ نیٹ ہے نہیں‘ سامنے نقشہ بھی نظر نہیں آ رہا‘ سفر کیسے کٹے گا۔ بعض لوگ خوش نصیب ہوتے ہیں جو سفر کے آغاز میں سو جاتے ہیں اور منزل پر پہنچ کر اٹھتے ہیں۔ کچھ میرے جیسے ہوتے ہیں جو اچھی نیند کی نعمت سے محروم ہیں۔ شکر ہے کہ میرے پاس کتاب تھی‘ اس کے سہارے سفر کٹ گیا۔ دیگر ممالک کی ایئرلائنز میں ہمہ وقت انٹرنیٹ‘ سکرینز اور موویز موجود ہوتی ہیں۔ انہی سکرینز کی مدد سے قبلے کا رخ بھی دیکھا جا سکتا ہے‘ دنیا بھر کے شہروں کا وقت اور تلاوت کیلئے قرآنِ پاک موجود ہوتا ہے۔ عملہ مسکرا کر چائے‘ کافی دے رہا ہوتا ہے اور تحائف اس کے علاوہ ہیں۔ کیا ہم پاکستان کی ایئرلائنز پر ان سب سہولتوں کے مستحق نہیں ہیں؟ جس ملک کے حکمران خود اربوں کے جہاز میں سفر کرتے ہوں‘ اس ملک کی کمرشل ایئرلائنز کیوں نہیں ٹھیک ہو سکتیں؟ اس سوال میں ہی جواب چھپا ہواہے۔ حکمران خود تو سرکاری طیارے استعمال کرتے ہیں۔ اپنے سفر کو آرام دہ رکھنے کیلئے جدید جہاز اور مہنگی گاڑیاں سرکاری خزانے سے خرید لیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ عوام کو کب تک نظر انداز کیا جائے گا؟ کچھ کام عوام کیلئے بھی ہو جائے‘ وہ بھی ٹیکس کے بدلے کچھ مراعات کے مستحق ہیں۔ اگر ملک میں حقیقی جمہوریت ہوتی‘ وزیراعظم کو پانچ سال مکمل کرنے دیے جاتے‘ ایک حکومت تسلسل سے عوامی منصوبوں پر کام کرتی تو آج ملک کا نقشہ کچھ اور ہوتا۔ سڑک بنانا‘ پل بنانا یا انڈر پاس تعمیر کرنا ترقی نہیں ہے۔ ترقی قانون و انصاف‘ آزادیٔ رائے‘ مساوی حقوق‘ تعلیم اور دیگر بنیادی سہولتوں کی فراہمی کا نام ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں جمہوریت ہے‘ وہاں عوام کے نمائندے عوام کے فیصلے کرتے ہیں۔ ترقی کی سب سے پہلی شرط قانون اور انصاف کی فراہمی ہے۔ قانون سب کیلئے یکساں ہو‘ ایک وزیر کیلئے بھی وہی قواعد ہوں جو ایک ریڑھی والے کیلئے ہیں۔ عدالتوں کے فیصلے اس وقت نہ آئیں جب سائل وفات پا گیا ہو۔ بروقت انصاف ملنا چاہیے۔ پولیس اور تھانے خوف کی علامت نہ ہوں‘ وہاں جا کر انسان انصاف اور تحفظ کی امید رکھے۔پھر آتی ہے جمہوریت‘ جو اصلی اور شفاف ہونی چاہیے۔ حکومتیں عوام کے ووٹوں سے بنیں‘ فارم 45 میں تبدیلی کر کے عوام کو ان کے اصل نمائندے سے محروم نہ کیا جائے۔ پارلیمان کو سپریم ہونا چاہیے۔ اسی طرح تعلیم عام اور مفت ہونی چاہیے۔ پرائمری سے بچوں کو کمپیوٹر جیسے مضامین پڑھائے جائیں۔ اس کے ساتھ علاقائی زبانیں اور مقامی ثقافت کو بھی نصاب میں شامل کیا جائے۔ ووکیشنل اور ٹیکنیکل تعلیم دی جائے۔ جاپان نے اپنی معیشت ووکیشنل اور ٹیکنیکل تعلیم سے کھڑی کی ہے۔ اسی طرح مقامی چھوٹی صنعتوں کو فروغ دیا جائے۔ لوگوں کو اس قابل بنائیں کہ وہ نوکریاں تلاش کرنے کے بجائے خود کاروبار شروع کر کے لوگوں کو نوکریاں فراہم کریں۔ ان کو آسان اقساط پر قرضے دیے جائیں۔ برآمدات پر توجہ دی جائے۔ ہم پاکستان سے بہت کچھ برآمد کر سکتے ہیں‘ جس میں چینی‘ گندم‘ کپاس‘ کپڑا اور قیمتی دھاتیں اور پتھر وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ڈاکٹرز‘ انجینئرز‘ آئی ٹی ایکسپرٹ‘ نرسز‘ ہمارا پڑھا لکھا طبقہ بھی اپنی خدمات دنیا بھر میں فراہم کر سکتا ہے۔ ملک میں سیاسی تسلسل ہونا چاہیے۔ ایک پالیسی کو کم از کم دس سال چلنے دیا جائے اور سیاسی انتقام کا خاتمہ کیا جائے۔ ایک بھی معاشی پلان اگر دس سال تک چل گیا تو اس کا معیشت کو بہت فائدہ ہوگا۔ ٹیکس کا نظام درست کرنا ہوگا‘ صرف نوکری پیشہ نہیں سبھی طبقات ٹیکس دیں‘ خصوصاً اشرافیہ اپنی آمدن کے مطابق ٹیکس دے۔ قرضوں کو ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کیا جائے‘ اس کو حکومت اپنی نمود و نمائش پر نہ خرچ کرے۔ عوام پر سے ٹیکسوں کا بوجھ کم کیا جائے۔ ہمیں اپنی نئی نسل کو اے آئی‘ کوڈنگ‘ گرافک ڈیزائننگ کی طرف لے کر جانا ہوگا۔ ہم زرعی ملک ہیں لیکن غلط فیصلوں کی وجہ سے ہر سال گندم اور چینی درآمد کرنا پڑتی ہے۔ ہمیں دوبارہ سے زراعت کو فروغ دینا ہوگا‘ اس کے ساتھ اپنے قیمتی پانی کو بھی ضائع ہونے سے بچانا ہو گا۔ اگر ہم اپنے پانی کی قدر نہیں کریں گے تو یہ سیلاب بن کر ضائع ہوتا رہے گا۔اس وقت معاشرے میں انتہاپسندی بڑھتی جا رہی ہے۔ خواتین اور بچوں پر ایسے ایسے ظلم ہو رہے ہیں کہ انسان دنگ رہ جائے۔ سڑکوں پر ڈکیت لوگوں کو لوٹ رہے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ معاشی اور سیاسی عدم استحکام ہے۔ ہمیں جرائم پر قابو پانے کیلئے انصاف کو عام کرنا ہوگا‘ معاشی حالات بہتر کرنا ہوں گے۔ جیسے ہم تمام تر مشکلات کے باوجود معرکہ حق میں سرخرو ہوئے‘ اسی طرح ہمیں معاشی میدان میں بھی کامیابی حاصل کرنا ہوگی۔ جب ہم اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کے دانت کھٹے کر سکتے ہیں تو ہم اپنے ان مسائل کا حل بھی نکال سکتے ہیں‘ بس ایک مؤثر جمہوری قیادت کی ضرورت ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_38020467.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مکی چھتری اور حوثی(امیر حمزہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ameer-hamza/2026-10-09/52813/82825314</link><pubDate>Fri, 09 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ameer-hamza/2026-10-09/52813/82825314</guid><description>الحمدللہ! اللہ تعالیٰ نے مکہ معاہدہ کو شرف وعزت سے نوازا۔ سعودی عرب‘ پاکستان اور ترکیے نے سرزمینِ حرمین شریفین کی پاسبانی کا فریضہ ادا کیا۔ تحفظِ حرمین شریفین کے حوالے سے سارا عالم اسلام اُس وقت حیران و پریشان ہوا جب حوثی تنظیم کے علاقے &#39;&#39;تعز‘‘ سے ایک آواز بلند ہوئی۔ اس علاقے کے مفتی علوی بن سہل بن عقیل نے خطاب کرتے ہوئے کہا &#39;&#39;ہم آج کے دن ایک ہدف تک پہنچیں گے‘‘۔ قارئین کرام! ان کی عربی تقریر کا اقتباس میرے سامنے ہے۔ انہوں نے &#39;&#39;الیوم‘‘ کہہ کر &#39;&#39;سوف‘‘ کا لفظ استعمال کیا۔ &#39;&#39;سوف‘‘ کا لفظ مستقبل بعید کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ وڈیو 19 ستمبر 2026ء کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج 19 ستمبر سے ہمارا ایک ہی ہدف (مقصد) ہے‘ ہم نے اس تک پہنچنا ہے‘ چاہے جتنے بھی مہینے اور سال لگ جائیں۔ اس کے بعد انہوں نے &#39;&#39;سوف‘‘ کا لفظ دوسری بار بول کر اپنے مدمقابل دشمنوں کو ہدف بنانے کی بات کی۔ تیسری بار انہوں نے پھر &#39;&#39;سوف‘‘ کا لفظ بول کر کہا&#39;&#39;نَستَھدِفُ ھٰذین الحرمین الشریفین‘‘ کہ ہم ان دونوں حرمین شریفین کو ہدف بنائیں گے۔ اگلے جملے میں ہدف بنانے کا مقصد یہ بتایا کہ ہم ان حرمین یعنی مسجد الحرام مکہ مکرمہ اور مسجد نبوی شریف مدینہ منورہ کو مسلمانوں کے لیے ایک منارہ یعنی عزت و شرف کا باعث بنا دیں گے۔ ساتھ ہی &#39;&#39;حرَّہ‘‘ کا لفظ استعمال کیا کہ یہ آزاد ہوں گے۔ مذکورہ اقتباس میں چوتھی بار ہدف کا لفظ بول کر حرمین شریفین کی اہلِ ایمان کے دلوں میں کشش کی بات کی اور پانچویں بار ہدف کا لفظ بول کر باور کرایا کہ ہمارے اقتدار میں آنے سے حرمین کی تعظیم‘ اجلال‘ اکبار اور اعظام میں اضافہ ہو گا۔قارئین کرام! میرے ساتھ ساتھ ذرا چودہ سو سال پیچھے چلیں۔ ہم سب کے حضور عالیشانﷺ حرم نبوی شریف سے باہر تشریف لاتے ہیں۔ دس ہزار کا لشکر لے کر بیت اللہ شریف میں پہنچ جاتے ہیں۔ اس گھر کی حرمت کو مقدم رکھا۔ جنگ کی نوبت نہیں آنے دی۔ مدمقابل بتوں کے پجاری تھے جو ظالم بھی تھے۔ کعبہ شریف کے اندر‘ کعبہ کی چھت پر اور مطاف کے چاروں طرف بت ہی بت تھے۔ ان کی تعداد 360 تھی۔ اللہ کے رسولﷺ نے بتوں کی آلودگی سے کعبہ شریف کو پاک صاف کرایا۔ تمام دشمنوں کے لیے عام معافی کا اعلان فرمایا اور پھر اپنی قیام گاہ یعنی خیمے میں تشریف لائے۔ اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو مخاطب کرکے فرمایا &#39;&#39;اگر تیری قوم (قریش) کا زمانہ جاہلیت سے قریب نہ ہوتا (یعنی یہ ابھی نئے نئے مسلمان ہوئے ہیں) تو میں کعبہ کو گرا دینے کا حکم دیتا (اور اسے نئے سرے سے تعمیر کرتا ) اور جو حصہ (حطیم بنا کر) اس سے نکال دیا گیا ہے‘ اسے بھی کعبہ میں شامل کر دیتا۔ یوں میں اسے ابراہیم علیہ السلام کی بنیاد پر تعمیر کرتا‘‘ (بخاری: 1586)۔ اللہ اللہ! حضور نبی رحمتﷺ نے پرانے دشمنوں سے رائے لیے بغیر ان کی متوقع تنقید کا احترام کیا۔ مکمل اقتدار اور فتح کا جھنڈا ہاتھ میں تھا مگر ان کی تنقیدی رائے کو خود ہی بیان فرما دیا کہ وہ کہیں گے کہ محمد کریمﷺ سب کچھ ہی بدل رہے ہیں۔ یوں فتنے کا اندیشہ تھا۔ اور آج...جناب والا! آپ حرمین شریفین کو مسلمانوں سے &#39;&#39;آزاد‘‘ کرانے جا رہے ہیں! تعجب ہے۔ مسلمانوں کے متعدد مسالک ہیں‘ ایک آپ کا مسلک ہے۔ اب اگر ہر مسلک کے لوگ اپنی عسکری قوت بنا کر اپنا یہ عزم بنائیں کہ ہم حرمین شریفین کی تعظیم‘ اجلال‘ اکبار اور اعظام میں اضافے کے لیے جنگ شروع کر رہے ہیں تو غور کریں کہ میزائل اور ڈرونز کے حملوں سے حرمین شریفین کی تعظیم ہو گی یا تعظیم کے پرزے اڑیں گے؟آپ کو خیال نہیں آیا حاجیوں کے ہوائی جہاز ان حملوں میں نشانہ بن سکتے ہیں۔ آپ نے سوچا نہیں کہ یہ علاقہ تو پہلے ہی میدانِ جنگ بنا ہوا ہے۔ دشمن فالس فلیگ کر سکتا ہے۔ کتنے ہی فالس فلیگ ہو بھی چکے ہیں۔ ایسے ماحول میں سرزمین حرمین کے میقاتوں کے اندر میزائلوں کا جانا کس قدر خطرناک ہے؟ یاد رہے! میقات سے دو تین سو کلو میٹر پہلے ہی ہوائی جہازوں میں اعلان ہو جاتا ہے کہ میقات آنے والا ہے‘ احرام باندھ لیں۔ اس پر حاجی لوگ واش روم جاتے ہیں‘ باری کا انتظار کرتے ہیں‘ احرام باندھتے ہیں۔ جی ہاں! احرام باندھنے والوں کی حرمت تو تمام میقاتوں سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے تو کیا آپ مذکورہ تمام حرمتوں کو پامال کرتے چلے جائیں گے؟ حاجیوں کے جہاز ساری دنیا سے سعودی سرزمین کی جانب آ رہے ہوتے ہیں۔ آپ ہر سمت کو خوفناک اور خطرناک بنا دیں گے؟ جناب مفتی صاحب! آپ کا بیان آپ کی تنظیم کے ٹی وی چینل نے نشر کیا ہے۔ اس کا نام المسیرہ ہے۔ اردو میں اس کا معنی &#39;&#39;مسافت‘‘ ہے۔ جناب والا! آپ نے جس سرزمین کو جنگ و جدل کا ہدف بنایا ہے وہ حاجیوں سے بھری سرزمین ہے۔حاجی مکہ و مدینہ شریف کے علاوہ ریاض بھی جاتے ہیں۔ وہ طائف بھی جاتے ہیں‘ وہ خمیس مشیط‘ جازان اور نجران بھی جاتے ہیں۔ وہ تبوک بھی جاتے ہیں۔ الغرض! ہمارے جان سے پیارے حضورﷺ جہاں جہاں تشریف لے گئے ہیں‘ سیرتِ مصطفیﷺ پر لکھنے والے وہاں وہاں حضورﷺ کے نقشِ قدم کو محفوظ بناتے چلے جاتے ہیں۔ اب ان سب کی زندگیاں دائو پر ہیں۔یمن کے اٹھارہ لاکھ کے قریب مسلمان سعودی عرب میں کاروبار کرتے ہیں۔ میرے پاک وطن کے کوئی 25 لاکھ کے قریب لوگ وہاں ملازمتیں اور بزنس کرتے ہیں۔ بقیہ ملکوں سے لوگ بھی وہاں زندگیاں گزارتے ہیں۔ موجودہ دور میں زندگی پٹرول سے چلتی ہے۔ عرب دنیا اور ایران کے درمیان جو سمندری خلیج ہے‘ سعودی عرب کے لیے وہاں سے تیل کی سپلائی مشکل میں پڑ گئی ہے۔ آپ لوگوں نے اب باب المندب کو بھی بند کرنے کا پروگرام بنا ڈالا اور کہا کہ سب کے جہاز گزر سکتے ہیں سعودی عرب کے نہیں۔ اللہ اللہ! اسی تیل کے پیسے سے تو حرمین شریفین میں وہ بہاریں ہیں‘ تعمیرات اور خدمتوں کے وہ سامان ہوئے ہیں کہ حرمین شریفین کی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ سعودی عرب خلیج فارس سے بحیرہ احمر پر واقع شہر ینبع تک پائپ لائن لایا تو آپ اسے بھی اڑا دیتے ہیں۔ سارا جہان پریشان ہے کہ فیکٹریاں بند‘ کھاد کی فیکٹریاں بند۔اس کا نتیجہ کیا نکلے گا؟ قحط پڑے گا‘ معاشی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔ دنیا میں غربت‘ بھوک اور افلاس کا گراف مزید اوپر جائے گا۔مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کے تینوں ملکوں سعودی عرب‘ پاکستان اور ترکیے کو مبارک کہ وہ حرمین شریفین کی حرمتوں کی خاطر اکٹھے ہوئے ہیں۔ پاک وطن کو دہری مبارک کہ اسے خادم الحرمین شریفین کی طرف سے پہلے ہی پاسبانِ حرمین شریفین بنایا جا چکا تھا۔ پاسبانی کا شرف یوں بڑھا کہ ملٹری اتحاد کی سربراہی بھی مل گئی اور پھر پاسبانی کا حق اللہ تعالیٰ نے یوں ادا کروایا کہ راستے کھل گئے۔ ان شاء اللہ یہ راستے مزید کھلیں گے۔ صرف حاجیوں کے لیے نہیں بلکہ انسانی بھلائی کے راستے کھلتے جا رہے ہیں۔ حرمین شریفین کی خدمت و پاسبانی کی چھتری اور سائبان بہت بڑا ہے۔ میری دعا یہی ہے کہ کعبہ کی جانب رخ کرکے نمازیں ادا کرنے والو! اس سائبان کے سائے میں آ جائو۔ دنیا اور آخرت کی کامرانی اسی میں ہے۔ ان شاء اللہ!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_68712266.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>