<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>بلوچستان میں امن کا راستہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-12/11354</link><pubDate>Sun, 12 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-12/11354</guid><description>پاک فوج‘ ایف سی اور پولیس کی جانب سے بلوچستان میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن شعبان کے نام سے جاری  مشترکہ کارروائیوں میں سکیورٹی فورسز کو اب تک کئی اہم اہداف حاصل ہوئے ہیں۔ان کامیاب کارروائیوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے دہشت گردوں کی بیخ کنی کو ناگزیر قرار دیا۔بلوچستان ایک عرصے سے فتنہ الہندوستان کی دہشت گردی کا سامنا کررہا ہے۔ حالیہ دنوں زیارت کے علاقے میں منگی ڈیم کی سائٹ پر دہشت گردوں کی یلغار بلوچستان میں امن و امان کی تشویشناک صورتحال کو مزید واضح کرتی ہے۔دہشت گردی کے ان واقعات کا سدباب سکیورٹی کی جامع حکمت عملی کے ساتھ ایسی طویل مدتی کوششوں سے ممکن ہے جو دہشت گردی کے اسباب اور اندیشوں سے نمٹنے کیلئے گہرائی تک جائیں اور صوبے میں پائیدار امن کو یقینی بنائیں۔ دہشت گردی اور مسلح کارروائیاں معاشرے کی ترقی‘ سرمایہ کاری اور عوامی زندگی پر منفی اثرات مرتب کرتی ہیں ۔

ایسے حالات میں سکیورٹی فورسز کی بروقت اور مؤثر کارروائیاں ضروری ہوتی ہیں تاکہ شہریوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور ریاست کی عملداری برقرار رہے۔ دہشت گردوں کے خلاف مربوط انٹیلی جنس‘ بہتر سرحدی نگرانی اور مشترکہ آپریشنز کی اہمیت اپنی جگہ موجود ہے‘ لیکن مسئلے کا ایک پہلو سماجی اور معاشی بھی ہے۔ سماج کی معاشی محرومیاں‘ غربت‘ بیروزگاری‘ ترقی کے امکانات کا فقدان اور معاصر دنیا کے مثبت اور روشن پہلوؤں سے دوری شدت پسند عناصرکا کام آسان کرتی ہے۔ بلوچستان میں یہ حالات پوری شدت سے موجود ہیں۔ غربت‘ بیروزگاری‘ صحت کی سہولیات کا فقدان اور زندگی میں آگے بڑھنے کے وسائل میں بلوچستان ملک کے باقی حصوں سے بھی پیچھے ہے۔ یہ معاشی اور سماجی عوامل بلوچستان میں لاقانونیت کیلئے معاون ثابت ہو رہے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ سکیورٹی اقدامات کے ساتھ ساتھ صوبے میں تعلیم‘ روزگار‘ صحت‘ سڑکوں اور مواصلاتی نظام کی بہتری پر بھی بھرپور توجہ دی جائے۔ مقامی آبادی کی ترقی کے عمل میں شمولیت اور ان کے مسائل اور محرومیوں کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا دیرپا امن کیلئے ناگزیر ہے۔سیاسی مکالمہ اور عوامی اعتماد بھی اس سلسلے کی اہم کڑی ہیں۔
جمہوری اداروں کو مضبوط بنانا‘ قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا اور عوام کی شکایات کے ازالے کیلئے مؤثر نظام قائم کرنا ریاست اور شہریوں کے درمیان اعتماد کو فروغ دیتا ہے۔ جب عوام کو یہ یقین ہو کہ انکے مسائل سنے اور حل کیے جا رہے ہیں تو انتہا پسندی کیلئے زمین تنگ ہوتی چلی جائے گی۔ اسی طرح نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں میں مصروف کرنا‘ معیاری تعلیم اور ہنر سیکھنے کے مواقع فراہم کرنا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔بلوچستان قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ ہے ‘ ان وسائل سے مقامی آبادی کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچانا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ اگر نوجوانوں کو روزگار اور ترقی کے بہتر مواقع میسر ہوں تو وہ شدت پسند عناصر کے پروپیگنڈے سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ بلوچستان میں امن کا قیام ایک مشترکہ قومی مقصد ہے؛چنانچہ ضروری ہے کہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائیوں‘ مضبوط انٹیلی جنس نظام‘ سرحدی انتظامات‘ سفارتی کوششوں‘ سیاسی ہم آہنگی‘ سماجی انصاف اور معاشی تر قی کے ذریعے صوبے کو دہشت گردوں کے چنگل سے آزاد کرایا جائے۔
ریاستی ادارے‘ سیاسی قیادت اورمقامی آبادی جامع حکمتِ عملی کیساتھ مل کر کام کریں تو بلوچستان کو امن‘ استحکام اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ادھورے اقدامات کے بجائے صوبے کے معاشی‘ سماجی ‘ جغرافیائی اور سیاسی حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے مربوط اقدامات کیے جائیں۔ ایسا ہر اقدام نتیجہ خیز ہو گا اور پائیدار امن ‘ ترقی اور سماجی بہتری کی ضمانت بنے گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>معاشی ترقی میں رکاوٹ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-12/11353</link><pubDate>Sun, 12 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-12/11353</guid><description>ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان میں مالی سال 2026-27ء میں معاشی شرح نمو کا تخمینہ 4.5 فیصد سے کم کر کے 3.7 فیصد جبکہ مہنگائی کی اوسط شرح کا تخمینہ 7.2 فیصد سے بڑھا کر 8.3 فیصد کر دیا ہے۔ بینک نے شرح نمو میں کمی کی بنیادی وجوہات میں توانائی کی بلند قیمتوں اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کے باعث ترسیلاتِ زر پر ممکنہ دباؤ کو قرار دیا ہے۔ مہنگی توانائی صنعت‘ زراعت‘ تجارت اور عام شہری سبھی پر بھاری پڑ رہی ہے۔ مہنگی بجلی اور گیس کے باعث صنعتی پیداوار کی لاگت میں مسلسل اضافہ ہونے سے ملکی برآمدات کی مسابقت متاثر ہو رہی ہے اور صنعتی سرگرمیوں میں مطلوبہ وسعت پیدا نہیں ہو رہی۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 13 روپے فی لٹر سے زائد کا حالیہ اضافہ ان خدشات کو تقویت دے گا۔ جب توانائی کے ذرائع مہنگے ہوں تو مہنگائی پر قابو پانا اور معاشی ترقی کی رفتار تیز کرنا انتہائی دشوار ہو جاتا ہے۔

سستی توانائی کے بغیر نہ عوام کو حقیقی ریلیف دیا جا سکتا ہے اور نہ ہی معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کیا جا سکتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ توانائی کے شعبے میں ایسی دیرپا اصلاحات متعارف کرائے جن سے بجلی‘ گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں استحکام آئے۔ اگر سستی توانائی کی فراہمی کو قومی اقتصادی حکمت عملی کا مرکزی ستون بنا لیا جائے تو نہ صرف شرح نمو میں اضافہ ممکن ہوگا بلکہ مہنگائی پر قابو پانے‘ برآمدات بڑھانے اور عوام کو حقیقی ریلیف دینے کی راہ بھی ہموار ہو سکے گی۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>حساس ڈیٹا کا تحفظ ضروری(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-12/11352</link><pubDate>Sun, 12 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-12/11352</guid><description>این سی سی آئی اے نے شہریوں کے کال ڈیٹا ریکارڈ‘ سموں کی ملکیت‘ فیملی رجسٹریشن‘ لوکیشن ڈیٹا اور دیگر حساس معلومات کی خرید و فروخت میں ملوث تین ملزموں کو گرفتار کیا ہے۔ملک عزیز میں ایسے جرائم کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جن میں شہریوں کی ڈیجیٹل معلومات کی چوری سے انہیں بلیک میل کیا جاتا ہے یا مالی نقصان پہنچایا جاتا ہے۔ایسے جرائم میں ملوث عناصر قانون کی گرفت میں آتے رہتے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ ایسا حساس ڈیٹا‘ جس تک صرف متعلقہ ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں‘ مالیاتی اداروں یا مجاز سرکاری اداروں کو رسائی ہوتی ہے‘ ان جرائم پیشہ عناصر کے ہاتھ کیسے لگتا ہے؟ این سی سی آئی اے‘ ایف آئی اے اور دیگر اداروں کو چاہیے کہ ان معاملات کی تہہ تک جاتے ہوئے ان جرائم میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے ۔

حکومت کو بھی چاہیے کہ ذاتی معلومات کے تحفظ سے متعلق قوانین اور ان پر عمل درآمد کو مزید مؤثر بنائے۔چند گرفتاریاں وقتی اطمینان تو فراہم کر سکتی ہیں لیکن اس مسئلے کا دیرپا حل اسی وقت ممکن ہو گا جب حساس ڈیٹا کے غیرقانونی کاروبار کی پوری زنجیر بے نقاب ہو‘ اس کے سہولت کار قانون کے کٹہرے میں آئیں اور ایسا مضبوط نظام تشکیل دیا جائے جس میں شہریوں کی نجی معلومات واقعی محفوظ رہ سکیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ایرانی کشتی اور جذبات کا سمندر(مجیب الرحمٰن شامی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mujeeb-ur-rehman-shami/2026-07-12/52279/97868540</link><pubDate>Sun, 12 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mujeeb-ur-rehman-shami/2026-07-12/52279/97868540</guid><description>ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو شہادت کے ایک سوتیس دن بعد مشہد لے جا کر روضۂ امام رضا کے احاطے میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔ ایک سو پچاس ایکڑ کو محیط اس روضے میں تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی‘ اس کے سارے دروازے بند کر دیے گئے تھے کہ احاطہ بھر چکا تھا لیکن دروازوں کے باہر بھی سر ہی سر تھے۔ پورا شہر جنازگاہ بن گیا تھا اور اپنے رہنما کیلئے دست بدعا تھا۔ شہید کی میت شیشے کے ایک بلند تابوت میں رکھی گئی تھی‘ ان کے ساتھ ان کے داماد‘ بیٹی‘ بہو اور 14ماہ کی پوتی کے تابوت بھی دھرے تھے کہ جنہیں ان کے ساتھ ہی نشانہ بنایا گیا تھا۔ ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کی ابتدا ہی میں یہ سفاکانہ واردات کر ڈالی گئی تھی۔ حملہ آوروں کا پختہ خیال تھا کہ اس کے بعد ایران کا ریاستی ڈھانچہ تتربتر ہو جائے گا۔ لوگ اقتدار کے ایوانوں پر چڑھ دوڑیں گے ‘ ان پر قبضہ کرکے آیت اللہ حضرات کی &#39;&#39;غلامی‘‘ سے نجات کا اعلان کر دیں گے اور ایران میں کوئی کٹھ پتلی حکمران لابٹھایا جائے گا۔ مرحوم شاہِ ایران کے صاحبزادے علی رضا پہلوی اس کیلئے تیار بیٹھے تھے وہ امریکہ میں بیٹھ کر خود کو ایرانی عوام کے نجات دہندہ کے طور پر پیش کررہے تھے۔ میڈیا میں شور مچا ہوا تھا‘ان کی صدارت میں گویا ایران کے عوام کو نیا خمینی ملنے والا تھا‘ جس طرح برسوں پہلے بیرونِ ملک سے فاتحانہ شان کے ساتھ آیت اللہ خمینی واپس تہران آئے تھے اور پورے ایران نے ان کے قدموں پر اپنے آپ کو نچھاور کر دیا تھا‘ شاہِ ایران اوران کے حواریوں کیلئے زمین پر کوئی جگہ نہیں رہی تھی‘ اسی طرح شاہ کے بیٹے جو اپنی تاجپوشی آپ ہی کرکے بیٹھے ہوئے ہیں‘ واپسی کے خواب دیکھ رہے تھے۔ وہ ایرانی عوام کے &#39;&#39;نجات دہندہ‘‘ بن کر نازل ہونے کے منصوبے کی تفصیلات طے کرنے میں لگے ہوئے تھے کہ علی خامنہ ای کی شہادت نے پانسہ پلٹ دیا۔ حقائق کو طشت ازبام کر دیا۔امریکہ اور اسرائیل کی آنکھیں کھلی کی کھلی ہی نہ رہیں‘پھٹ بھی گئیں۔ وہ اپنا آپ دیکھنے پر بھی قادر نہ رہے‘ ٹامک ٹوئیاں مارنے اور اپنے آپ کو سنبھالنے لگے۔ شکست کے داغ نہ مٹائے مٹ رہے تھے‘ نہ چھپائے چھپ رہے تھے۔امریکی صدر ٹرمپ وینزویلا پر چھاپہ مار کر مسرور تھے‘ وہاں حکومت کی تبدیلی کرکے تیل کے ذخائر پر قبضہ کرنے کے دعوئوں میں جھوم رہے تھے‘ ان کا اگلا ترنوالہ ایران اور اس کی زمینوں میں چھپی تیل کی دولت تھی‘ لیکن ایران کے عوام اپنی ریاست اور حکومت کے ساتھ کھڑے نظر آئے‘ اپنے انقلاب کی حفاظت کیلئے آہنی دیوار بن گئے‘ سپریم لیڈر کی شہادت ان کے عزم اور حوصلے کو شکست نہ دے سکی‘ انہیں نئی توانائی بخش گئی۔ان کے بیٹے کو ان کی جگہ بٹھایا گیا‘ ڈھانچہ بدستور منظم رہا اور دشمنوں کی سرکوبی کیلئے سرگرم ہو گیا۔ سیاسی اور فوجی قیادت نے یک جان اور یک آواز ہو کر حملہ آوروں کو ناکوں چنے چبوا دیے۔صدر ٹرمپ دُہائی دے رہے ہیں کہ وہ ایران کی ہٹ لسٹ میں نمبرون پر ہیں۔ ایران نے ان کو ختم کرنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ دھمکیاں دے رہے ہیں کہ مجھے نشانہ بنایاگیا تو ایران پر انتہائی شدید بمباری ہوگی۔ امریکی فوجیں بے پناہ قوت سے ایران پرحملہ آور ہوں گی اور اینٹ سے اینٹ بجا دیں گی۔ وہ بھول رہے ہیں کہ قیادت کو نشانہ بنانے کی انتہائی گھٹیا اور قابلِ نفرین حرکت انہی کے زیر قیادت اور انہی کی بدولت کی گئی تھی۔کسی بھی جنگ میں اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنانے سے گریز کرنا مسلّمہ عالمی روایت ہے ۔متحارب فوجیں ایک دوسرے سے نبردآزما ہوتی ہیں لیکن فوجی اور سیاسی قیادتوں کو نشانہ بنانے سے گریز کرتی ہیں۔ عالمی جنگوں میں بھی ایسی کارروائیاں نہیں کی گئی تھیں‘ لیکن امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے سپریم لیڈر کو نشانہ بنا کر جنگی &#39;&#39;اخلاقیات‘‘ کا بھی گلا گھونٹ دیا۔ اس کے بعد اگر کسی جوابی کارروائی میں صدر ٹرمپ یا وزیراعظم نیتن یاہو کو نشانہ بنایاجائے تو اس کی مذمت ان کے ممالک کس منہ سے کریں گے؟ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ صدر ٹرمپ پر حملے کی تائید یا حوصلہ افزائی کی جائے‘ یقینا یہ ایک نامناسب کارروائی ہو گی لیکن جس بدعت کا آغاز انہوں نے کیا ہے‘ اپنے حوالے سے وہ اسے ظلمِ عظیم کیسے قرار دے سکتے ہیں؟علی خامنہ ای تو اس دنیا میں نہیں رہے لیکن جان دے کر دنیا بدل گئے۔ ایران پورے قد سے کھڑا ہے۔ کروڑوں افراد نے انہیں الوداع کہا ہے‘کئی روز تک جاری رہنے والی ان کی آخری رسومات میں شرکت کی ہے۔اسّی سے زائد ممالک کے نمائندے انہیں خراج تحسین کرنے کیلئے پہنچے ہیں۔ سینکڑوں میل لمبا جلوسِ جنازہ تاریخ میں نیا ریکارڈ قائم کر گیاہے۔ جگہ جگہ ان کی نمازِ جنازہ ادا کی جاتی رہی‘ ان کیلئے مغفرت کی دعائوں سے زمین اور آسمان بھر گئے۔ تہران سے روانہ ہو کر نجف اشرف اور کربلا سے ہوتا ہوا جسدِخاکی مشہد پہنچا اور مٹی کی چادر اوڑھ کر محوِ خواب ہو گیا۔شہادت اور تدفین کے درمیانی عرصے میں ایران اور امریکہ کے مذاکرات شروع ہوئے‘ پاکستان نے دوست ممالک کے ساتھ مل کر ثالثی کا مؤثر کردار ادا کیا۔ عارضی جنگ بندی ہوئی۔ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط ہوئے۔ دنیا بھر کے تبصرہ نگاروں نے ایران کو مبارکباد دی‘ اس نے حملہ آوروں کو ناکام بنا دیا تھا ‘وہ اس سے معاملہ فہمی پر مجبور ہوگئے تھے۔ اسرائیل میں صفِ ماتم بچھی اور امریکہ میں صہیونی لابی کو بھی لینے کے دینے پڑ گئے۔ امریکہ اور یورپ کے درمیان بداعتمادی پیدا ہوئی‘ نیتن یاہو کی شخصیت ناپسندیدہ قرار پائی۔ ایران کی ریاست محفوظ ہے‘ اس کا انقلاب محفوظ ہے‘ اس کے عوام پُرعزم ہیں۔ وہ انتقام کے نعرے لگا رہے ہیں۔ پاسدارانِ انقلاب کامیابی کے نشے میں سرشار ہیں اور بلند عزائم کا اظہار کر رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ کو للکار رہے ہیں اور آبنائے ہرمز کو قابو رکھنے کا اعلان کررہے ہیں۔ ایران اور امریکہ ایک بار پھر الجھ گئے ہیں۔ ایک دوسرے پر حملے کر رہے ہیں‘ لیکن بات چیت کا ارادہ بھی ظاہر کیاجا رہا ہے۔ ایران کے بہی خواہوں اور دعاگوئوں کی نظریں اس پر لگی ہیں۔ پاسدارانِ انقلاب کے غم و غصے سے انہیں خوف محسوس ہو رہا ہے۔ ایران کے ہمسایہ عرب ممالک سے تعلقات مخدوش ہونے کا خطرہ پھر پیدا ہو گیا ہے۔ دعا ہے کہ ایران اپنی کامیابیوں کو مستحکم کرے‘ حملہ آوروں کے عزائم کو ناکام بنا کراس نے جو کچھ حاصل کیا ہے‘ وہ ہاتھ سے نہ نکلنے پائے۔ جنگ برائے جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں۔ ایران کی سیاسی اور فوجی قیادت کو یک جان ہوکر اپنے اور اپنے خطے کے مفادات کی حفاظت کرنی ہے‘ اسے امن کا گہوارہ بنانا ہے ‘ اسرائیلی منصوبہ سازوں کو ناکام بنانا ہے۔ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے یک جان ہو کر جس طرح ایران کی حفاظت کی ہے ‘اسے توانائی بخشی ہے اسی طرح اب ایران کی سیاسی اور عسکری قیادت کو ایک دوسرے کیساتھ جڑ کر مستقبل کو گرفت میں لینا ہے۔ جذبات کے سمندر میں اپنی ہی کشتی ہچکولے کھانے لگے تو اسے طاقت کا مظاہرہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔وصی شاہ‘ واہ واہاب نئی نسل کے محبوب شاعر وصی شاہ کے چند اشعار سنتے‘ سر دھنتے اور جان و دل قربان کرتے جائیے ؎دھمکیوں سے تو محبت نہیں کروا سکتےتم ڈرا سکتے ہو عزت نہیں کروا سکتےچاند کا نام کتابوں میں اندھیرا رکھ دوپھر بھی تبدیل حقیقت نہیں کروا سکتےتم ہتھیلی پہ میرا سر تو اٹھا سکتے ہوہاں ‘مگر ہاتھ پر بیعت نہیں کروا سکتے(یہ کالم روزنامہ &#39;&#39;دنیا‘‘ اور روزنامہ &#39;&#39;پاکستان‘‘ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_37052987.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>اک آگ کا دریا ہے(ایاز امیر)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-07-12/52280/85756339</link><pubDate>Sun, 12 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-07-12/52280/85756339</guid><description>گانے میں تو یہ ہے کہ اک آگ کا دریا ہے اور ڈوبتے جانا۔ لیکن ہمارے پس منظر میں بات کچھ ایسی بنتی ہے اک آگ کا دریا ہے اور چپ سی لگی ہوئی ہے۔ پورا ایک گول دائرہ ہے نقشے پر جس میں شورش کے شعلے بھڑک رہے ہیں‘ لیکن حالت یہ کہ کچھ کہہ نہیں سکتے۔ ذرائع ابلاغ کی اپنی مجبوریاں ہیں۔ زمانہ وہ بھی تھا جب پابندیوں کے باوجود بات کر لی جاتی تھی اور کئی دفعہ تو بات بڑی کھنک سے ہوتی تھی۔ لیکن ایک وہ زمانہ کہ جب یوں جانیے کہ مغربی پاکستان کے اخبارات کی آواز کہیں کھو گئی۔ وہ پاکستان جو ہم سے چلا گیا وہاں المیے کا مقام تھا لیکن اخبارات اپنی آواز سے محروم ہوگئے اور یہاں کے بیشتر سیاست دانوں نے بھی مصلحت کا ایسا لبادہ اوڑھا کہ زبانیں گنگ ہوگئیں اور آنکھیں بینائی کھو بیٹھیں۔ کچھ سر پھرے تھے جنہوں نے کچھ کہنا چاہا لیکن سرکاری مصلحتوں کی یلغار میں اُن کی آوازیں دب گئیں۔ اور پھر مردِ میدان ذوالفقار علی بھٹو نے بھی تو یہ کہا تھا کہ کوئی یہاں سے وہاں اسمبلی کے اجلاس میں گیا تو اس کی ٹانگیں توڑ دی جائیں گی۔ شاید ایک احمد رضا قصور ی تھا پاکستان پیپلز پارٹی سے جو ڈھاکہ گیا۔ مذاکرات کے لیے بھٹو صاحب بھی گئے تھے لیکن 25مارچ کو ایکشن شروع ہوا تو کراچی واپس آکر اُنہوں نے یہ تاریخی جملہ ادا کیاکہ خدا کا شکر پاکستان بچ گیا۔ چند ماہ بعد ہی یہ بچا ہوا پاکستان دولخت ہو گیا۔ اب تو نہ کوئی ہنگامے میں بلایا جانے والا قومی اسمبلی کا اجلاس ہے اور نہ کوئی ایسی آواز کہ فلاں کرنے پر ٹانگیں توڑ دی جائیں گی۔ لیکن ایک چپ سی لگی ہوئی ہے۔ لگتا یوں ہے کہ کچھ کہنے کی عادت چلی گئی ہے۔ یہ بات خاص طور پر پانچ دریاؤں کی سرزمین پر فِٹ بیٹھتی ہے (محاورتاً پانچ دریاؤں کا ذکرہو گیا نہیں تو دو کے پانی اب کسی اور رخ بہتے ہیں)۔ پنجاب میں گمان گزرتا ہے جیسے بلوچستان‘ خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر میں کچھ ہو ہی نہیں رہا۔ سب امن اور شانتی ہے۔ بھلے ان دور دراز علاقوں میں گولیوں کی آوازیں آ رہی ہوں لیکن کیا بے نیازی ہے پنجاب کی کہ یہاں کچھ سنائی نہیں دیتا۔ یہاں کے روزمرہ معمولات دیکھے جائیں تو لگتا ہے کہ بس شادی ہال ہیں اور اُن کا دلفریب کاروبار۔ کے پی کے کی جھڑپوں میں اب ڈرون اُڑان کرنے لگے ہیں لیکن یہ دور کی آوازیں ہیں‘ پنجاب کے آرام میں خلل پیدا نہیں کرتیں۔ وہاں توپ و تفنگ کی گونج لیکن یہاں کے معمولات ہی اور ہیں کہ جہاز کون سا خریدا گیا کس شایانِ شان مقصد کے لیے خریدا گیا۔ اڈیالہ جیل میں کون ملاقاتی آ سکتے ہیں اور کون نہیں۔ پھر یہ بھی تو ہے کہ مری اور مظفرآباد تک ایک شیشے یا گلاس ٹرین کا تصور ذہنوں پر سوار ہو جاتا ہے۔ مظفر آباد اور اُن علاقوں میں صورتحال کیا ہے اور یہاں کی ترجیحا ت کیا ہیں۔ ملکِ عزیز کی کیفیت کچھ یوں لگتی ہے جیسے دو زاویوں میں بٹی ہو‘ ایک شورش زدہ علاقوں کی ایک سرکاری ایوانوں کی۔ دو بالکل مختلف حقیقتیں اور داد دینی پڑتی ہے غیورپنجابی عوام کو کہ انہیں اس کا کوئی ادراک اور احساس نہیں۔ سرکاری ہلہ شیری کا ایک اپنا ہی کمال ہوتا ہے۔ امریکہ جب ویتنام میں پھنستا جا رہا تھا تو سرکاری اعدادوشمار اور امریکی میڈیا کی رپورٹنگ سے معلوم ہوتا تھا کہ امریکہ بس جنگ جیتنے ہی والا ہے۔ زوردار پریس کانفرنسوں میں بتایا جاتا کہ ویت کانگ کے اتنے لوگ مارے گئے۔ لاف زنی کا تسلسل جاری رہا اور امریکی افواج ویتنام جنگ کی دلدل میں دھنستی گئیں۔ مزید فوجی بھیجے گئے‘ تباہ کن بمباری ہوئی اور جنگ طویل ہوتی گئی۔ محض زورِبیان سے کچھ حاصل ہونا ہوتا تو امریکہ وہ جنگ جیت چکاتھا۔ یہ تو تاریخ کا بہت دہرایا ہوا تجربہ ہے کہ طاقتور سے طاقتور قوم کہیں پھنس جائے تو ایک مرحلہ آتا ہے جب عقل اور شعور کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ لیڈر پھر اپنے ہی بنائے ہوئے تصوراتی خول میں بند ہو کر رہ جاتے ہیں۔ جتنا بھی کوئی باہر سے کہے کہ پاگل پن کے فیصلے موڑے جائیں اور دلدل سے نکلنے کی کوشش کی جائے ایسی باتیں ایسے کانوں پر پڑتی ہیں جو کچھ سننے کے قابل نہیں رہتے۔ نپولین اور ہٹلر کی یہ حالت روس کو فتح کرنے کی کوشش میں ہو گئی تھی۔ امریکہ کی یہ حالت ویتنام میں ہوگئی تھی۔ کچھ ایسی ہی کیفیت 71ء میں پائی گئی جب اُس وقت کی ریاستی قیادت مشرقی پاکستان کے حالات کو سمجھنے کے قابل نہ رہی۔ مزید اس موضوع پر کیا کہا جائے۔ ضرورت کس امر کی ہے اور زور کہاں لگ رہا ہے۔ حالات کا تقاضا کیا ہے اور توانائیاں کہاں صرف ہو رہی ہیں۔ باقی صوبوں میں شعور کا ارتقا کسی اور انداز میں ہو اہے۔ پنجاب جو ریاست کے بنیادی ستون کی حیثیت رکھتا ہے یہاں کے شعوری معاملات کچھ اور ہی ہیں۔ جس ذہنی حساسیت کی ضرورت ہے وہ تو لگتا ہے یہاں کبھی پیدا ہی نہیں ہوئی۔ بس اپنے حال میں مست ‘ یہاں کے دورے وہاں کے دورے۔ آگ کا دریا جو آبنائے ہرمز بنا ہو اہے اُس کا ادراک بہت ہے۔ ہلکا سا اشارہ ملنے پر مصالحتی کارواں تیار ہو جاتے ہیں۔ جو آگ کا دریا اپنا ہے اُس کے بارے میں جو احساس ہونا چاہیے وہ بیشتر اوقات آنکھوں سے اوجھل ہو جاتاہے۔ کوئی بڑے واقعات ہو جائیں جیسا کہ حالیہ دنوں میں ہوئے ہیں پھر کوئٹہ کا سفر طے پاتا ہے۔ لیکن اکثر ایک روز کیلئے پھر کششِ اسلام آباد واپس بلا لیتی ہے۔ حالات نے مزید کتنا سنگین ہونا ہے کہ فروعی چیزیں چھوڑ کر اس طرف توجہ دی جائے۔ مختلف حالات میں مختلف بیانیے بنتے رہتے ہیں لیکن بلوچستان کے حوالے سے جس بیانیے کا چرچا کیا جاتا ہے اُس سے ہندوستان کے ہاتھ بہت لمبے لگنے لگتے ہیں کہ دور بیٹھے افغانستان‘ ایران اور بحیرہ عرب سے ہوتے ہوئے پاکستان کیلئے اتنا فتنہ پیدا کر رہا ہے۔ مشرق میں ہمارے پانیوں پر دباؤ‘ مغرب میں اتنا بڑا فتنہ جس سے تباہی پھیل رہی ہو۔ کیاحکمت ہے اس بات میں کہ دور بیٹھے حریف کو یوں بڑھا چڑھا کر پیش کیا جائے؟ ہماری ناقص رائے میں اس پر کچھ سوچنے کی ضرورت ہے۔ البتہ یہ کہنا سراسر فضول ہے کہ داخلی سیاسی محاذ آرائی کم کی جائے۔ ایوانانِ اقتدار میں ایسی رائے کو پسندیدگی کی نظروں سے نہیں دیکھا جاتا۔ آبنائے ہرمز سے متعلقہ مصالحتی معاملات پر ضرور بات کی جائے ‘ اونچی آواز میں کی جائے‘ لیکن سیاسی معاملات پر گفتگو سے پرہیز ہی بہتر ہے‘ عوام کی صحت کیلئے اور دوسروں کے اطمینانِ قلب کیلئے۔ اس مسئلے پر یوں سمجھئے لکیر پھِر چکی ہے۔ بس پھر یہی ہے کہ تماشا دیکھتے جائیں کہ ہو کیا رہا ہے‘ حالات کیا ہیں‘ سرکاری ترجیحات کیا ہیں‘ سرکاری سوچ کے تقاضے کیا ہیں۔ بے چینی ہوگی اُن دوردراز علاقوں میں لیکن آسمانوں کی مہربانی ہے کہ پنجاب شانت ہے‘ اسلام آباد کو دیکھئے تو معلوم ہوتا ہے کہ ملک کو درپیش کچھ مسئلہ ہے ہی نہیں۔ اسی پر خوش رہتے ہیں۔ </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_80573045.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ملتانی رونا لیلیٰ‘سندھی بھٹو اور ہندوستانی سکھ(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-07-12/52281/20557202</link><pubDate>Sun, 12 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-07-12/52281/20557202</guid><description>مجھے پرانی کتابوں کی دکانوں یا آن لائن اولڈ بکس پر زیادہ اچھی کتابیں مل جاتی ہیں۔ مجھے آج بھی ہاتھ کی کتابت اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔ شاید میں ابھی تک بچپن سے جڑا ہوا ہوں۔ کمپیوٹر کی لکھی کتابیں میرے لیے وہ کشش نہیں رکھتیں جو کاتب کی لکھی کتابیں رکھتی ہیں‘ اس لیے میں ہمیشہ ان کتابوں کی تلاش میں سرگرداں رہتا ہوں جو ہاتھ سے لکھی گئی ہوں خصوصا ًقرۃ العین حیدر‘ ٹیگور‘ منٹو‘ بلونت سنگھ کے ناول اور افسانے۔ اس شوق یا جنون کا فائدہ یہ ہوا ہے کہ میرے ہاتھ نایاب کتابیں بھی لگ جاتی ہیں۔ ابھی اس کتاب کو ہی دیکھ لیں جو خوشونت سنگھ کی اپنے انگریزی اخبار؍جریدے کیلئے لکھی گئی تحریریں ہیں جو انہوں نے پروفائل شکل میں چھاپی تھیں۔ ان کا انگریزی سے اردو میں ترجمہ پاکستان میں کر کے چھاپا گیا۔ تاہم حیرانی کی بات ہے کہ اس پر اشاعت کا سال نہیں لکھا ‘اگرچہ چھپی اردو بازار لاہور سے تھی۔ جس بندے نے ان شاندار مضامین کا ترجمہ کیا تھا اس کا نام بھی اس کتاب کے ساتھ موجود نہیں ہے۔ کتاب کا نام دلچسپ رکھا گیا۔ &#39;&#39;اچھے لوگ برُے لوگ‘‘۔ شاید یہ خوشونت سنگھ کی کتاب The Good, the Bad and the Ridiculousسے اردو میں ترجمہ کیے گئے مضامین کا مجموعہ ہے۔ کسی نوجوان کو کچھ پیسے دے کر کہا گیا کہ بیٹا بس دو تین دنوں میں کر کے دو اور یہ پیسے پکڑو۔  چھاپنے کی اتنی جلدی تھی کہ اس پر نہ مترجم کا نام ہے نہ ہی اس انگریزی کتاب کا جہاں سے یہ پروفائل لے کر اردو میں ڈھالے گئے بلکہ اتنی جلدی کہ سال لکھنا بھی یاد نہ رہا۔ قیمت والا خانہ خیر سے اس صاحب نے مٹا دیا جس نے وہ پرانی کتاب بیچنے کا کاروبار شروع کیا۔ اکثر پرانی کتب والے یہ کام کرتے ہیں جس سے مجھے بہت چڑ ہے کہ بھائی سال اور قیمت نہ مٹایا کرو کہ یہی تو نشانیاں ہوتی ہیں کہ کس دور میں کس قیمت پر کتاب چھپ کر مل جاتی تھی۔ اس طرح زمانوں کی رفتار کا پتہ چلتا رہتا ہے۔ ایک دفعہ انارکلی لاہور میں یہی بات پرانے کتب فروش سے کی کہ آپ لوگ قیمت کیوں کاٹ دیتے ہو۔  کہنے لگا: اگر ہم وہ قیمت رہنے دیں جو تیس چالیس سال پہلے تھی تو گاہک اس قیمت پر لینے پر اصرار کرتا ہے۔ ہم بتاتے ہیں اب زمانے گزر گئے اور کتاب کی اہمیت بڑھ گئی ہے تو وہ نہیں لیتا۔ میں نے کہا: اگر میں آپ کی جگہ ہوں تو وہ کتاب ایسے بے ذوق بندے کو ویسے ہی نہ بیچوں جسے اتنا علم نہیں کہ ایسی پرانی کتابوں کی قیمت وقت کے ساتھ بڑھ جاتی ہے نہ کہ تیس چالیس سال پہلے والی قیمت پر آپ کو مل جائے گی۔ آپ لوگ اس کتاب کے حقدار کا انتظار کریں جو آپ کو اس کی مناسب قیمت دے گا۔ خیر اب اس کتاب کا بھی یہی مسئلہ ہے کہ اس پر قیمت‘ سال اور مترجم کا کچھ نہیں لکھا۔ اس کتاب میں مختلف اہم شخصیات پر خوشونت سنگھ نے جو کچھ لکھا اسے شامل کیا گیا ہے۔ اس میں بہت اہم لوگ شامل ہیں جن میں پاکستان سے ذوالفقار علی بھٹو بھی شامل ہیں جن کا انٹرویو انہوں نے 1976ء میں پاکستان میں کیا تھا جب وہ وزیراعظم تھے اور شملہ معاہدہ ہوچکا تھا۔ اس انٹرویو میں ایک جگہ خوشونت سنگھ بھٹو صاحب سے اندرا گاندھی کے بارے سوال کرتا ہے۔ مجھے یاد آیا اس انٹرویو سے چند سال قبل یورپین صحافی اوریانا فلاسی نے بھٹو کا انٹرویو کیا تھا۔ اس انٹرویو نے شملہ معاہدہ خطرے میں ڈال دیا تھا کیونکہ بھٹو صاحب نے جو کچھ اندرا کے بارے کہا تھا وہ بہت سخت تھا اور لفظوں کا چنائو بہتر نہیں تھا۔ اب کی دفعہ بھٹو صاحب ماضی سے سبق سیکھ چکے تھے لہٰذا انہوں نے اندر گاندھی کی تعریف کی۔ خوشونت سنگھ لکھتے ہیں: 1976ء میں قائداعظم کے ایک سو سالہ جشنِ سالگرہ پر انہیں بھی وزیراعظم بھٹو کی طرف سے دعوت دی گئی تھی۔ بھٹو صاحب سے تعارف کرایا گیا تو ان کے ہاتھ میں گرم جوشی محسوس ہوئی تو انہوں نے انٹرویو کی درخواست کر دی۔ بھٹو صاحب نے چند دن بعد کا وقت دیا۔ خوشونت سنگھ لکھتے ہیں‘ بھٹو بیک وقت تین شخصیتوں کا مالک ہے۔ وہ جاگیردارنہ مزاج کا سندھی زمیندار‘ آکسفرڈ کا تعلیم یافتہ یورپیوں کی طرح خوش اخلاق اور خوش اطواراور سیاستدانوں کی سی مکاری کا حامل سیاستدان جو موقع کے مطابق اپنی شخصیت کے سحر کو بروئے کار لاتا ہے۔ خوشونت سنگھ لکھتے ہیں، بھٹو کی راولپنڈی والی رہائش گاہ کسی خاص طرزِ تعمیر سے عاری اور ایک منزلہ ہے۔ البتہ اس کے اردگرد پنجابی اور پٹھان دراز قد فوجی سپاہیوں کا حفاظتی پہرہ ہے۔ پاکستان میں آنے والے کسی بھی شخص کو بھٹو کی غیرمعمولی ہر دلعزیزی بہت جلد معلوم ہو جاتی ہے۔ وہ پاکستان کی &#39;یک شخصی جمہوریت ‘ کا بانی اور محافظ ہے۔ اے ڈی سی خوشونت سنگھ کو اس کمرے میں لے گیا جہاں انسائکلوپیڈیا کی ضخیم جلدیں کمال احتیاط کے ساتھ قطار اندر قطار رکھی تھیں۔ دیوار پر استاد اللہ بخش کے سٹائل پر مبنی پنجابی مٹیاروں کی ایک بڑی آئل پینٹگ آویزاں تھی۔ قریب ہی نرگس کے پھولوں سے بھرا ایک گملا جس سے بھینی بھینی خوشبو آرہی ہے۔ بھٹو صاحب عین اس لمحے اندر داخل ہوتے ہیں جو ملاقات کے لیے مختص تھا۔ خوشونت کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ بہت جلدی میں ہیں لہٰذا وہ بھی فوراً سوالات کرنے شروع کر دیتے ہیں۔ تاہم خوشونت سنگھ نے جو کچھ رونا لیلیٰ کی جادوبھری آواز کے بارے میں لکھا ہے وہ اپنے اندر بہت خوبصورتی سموئے ہوئے ہے۔ لکھتے ہیں‘ ایک رات انہیں رونا لیلیٰ کو سننے کا اتفاق ہوا۔ شاید وہ فیض احمد فیض کی شاعری گا رہی تھی جس میں بادلوں اور شراب کی خواہش تھی اور پھر ہر خواہش سے بے نیازی اور دوسرا ایک بنگلہ لوک گیت تھا جس میں عاشق قسمیں کھا کر محبوبہ سے محبت کا اظہار کر رہا تھا۔ آخری گیت ملتانی گیت تھاجس کا ایک لفظ مجھے سمجھ میں نہیں آیا لیکن رونا لیلیٰ کے اس ملتانی گیت نے سب سے زیادہ لطف دیا۔ اجیت سیٹھی درست کہتا ہے کہ رونا کو کانوں کے ساتھ ساتھ آنکھوں سے بھی سننا چاہیے۔ اس کی خوبصورت آواز اور اداس چہرہ اور مترنم ادائیگی نے میری نیند خراب کر دی۔ وہ کون پاجی تھا جس نے اس کی مسکراہٹیں اداس کر دی تھیں۔ خوشونت سنگھ لکھتے ہیں کہ پردہ اٹھنے سے پہلے چند لمحے رونا لیلیٰ کی والدہ بیگم سید امداد علی سے گفتگو کرنے کے لیے مل گئے۔ ان پانچ منٹوں میں وہ بیٹی کے گائیکی میں مستقبل سے زیادہ اپنے خاندان کی عزت و توقیر کے متعلق گفتگو کرتی رہیں۔ ان کے خاوند امداد چٹاگانگ میں کسٹمز افسر تھے۔ رونا لیلیٰ تقسیم سے پہلے سلہٹ میں پیدا ہوئی تھیں۔ اس کے والد نے پاکستان جانے کا فیصلہ کیا اور پھر یہ خاندان ملتان جا کر آباد ہوا۔ وہ لکھتے ہیں کہ تمام زبانیں رونا لیلیٰ نے موسیقی کے ذریعے سیکھیں۔ وہ ایک رقاصہ بننا چاہتی تھی لیکن آل پاکستان میوزک مقابلے میں اس نے پہلا انعام جیتا تو اس کی توجہ موسیقی کی طرف ہوگئی۔ اس نے استاد کاؤبھوپالی سے تربیت حاصل کی۔ موسیقی کے مقابلوں سے پھر فلموں سے سٹیج شوز تک اس نے بنگالی‘ پنجابی‘ ملتانی‘ پشتو‘ سندھی‘ اردو اور ہندی کے تقریباً تین ہزار گانے گائے۔ اب وہ لتا ‘ آشا اور کشور کی طرح اونچا معاوضہ وصول کرتی تھی۔ بمبئی کے ایک پروگرام میں اسے چودہ ہزار پیش کیے گئے۔ سٹیج پر اس جیسی پذیرائی ہمارے اور کسی گلوکار کے نصیب میں نہیں۔ اور اس کے ہاتھ میں دوسرے گلوکاروں کی مانند کبھی کوئی نوٹ بک نہیں دیکھی گئی۔ ویسے میرے لیے یہ نئی بات تھی کہ رونا لیلیٰ کا خاندان سلہٹ سے ملتان جا بسا تھا جہاں اس نے بقول خوشونت سنگھ ملتانی ( آج کی سرائیکی) میں گیت گائے جس کے شعر خوشونت سنگھ جیسے پکے پنجابی کی سمجھ میں تو نہیں آئے لیکن وہ ملتانی گیت سُن کر اس کی راتوں کی نیند اُڑ گئی تھی۔ ملتانی مٹی سے ابھرے گیتوں کی صدیوں پرانی اداسی اور اوپر سے رونا لیلیٰ کی مترنم آواز میں لبریز اداس چہرہ خوشونت سنگھ کی یادوں سے کبھی نہ اترا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سکیورٹی ڈاکٹرائن میں سٹریٹجک تبدیلی(رشید صافی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-07-12/52282/49469515</link><pubDate>Sun, 12 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-07-12/52282/49469515</guid><description>سرحد پار مفرور عناصر کی پناہ گاہیں اور جدید اسلحے کی دستیابی‘ پاکستان میں دہشت گردی کی حالیہ لہر کی بڑی وجہ ہے۔ تاہم  ماضی کے برعکس پاکستان کی سکیورٹی ڈاکٹرائن میں سٹریٹجک تبدیلی آ چکی ہے۔ ماضی میں دہشت گردی کے واقعات پر صرف مذمتی بیانات جاری کیے جاتے تھے یا انتظامی کمیٹیاں تشکیل دے کر معاملے کو وقتی طور پر ٹال دیا جاتا تھا‘ مگر اب ریاست نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ شدت پسند عناصر اور ان کے سہولتکاروں سے کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ اب فوری جوابی کارروائی کی پالیسی اپنائی گئی ہے‘ جس کا مقصد دہشت گردوں کو ان کی کمین گاہوں سے ڈھونڈ نکالنا اور نشانِ عبرت بنانا ہے۔ بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی فوری جوابی کارروائیاں اس پالیسی کا عملی نمونہ ہیں جہاں دہشت گردوں نے بدامنی پھیلانے کے لیے ضلع زیارت کے قریب واقع سٹریٹجک اہمیت کے حامل منگی ڈیم پولیس تھانے کو نشانہ بنایا۔ یہ حملہ انتہائی منظم تھا‘ جس میں دہشت گردوں نے جدید ترین خودکار ہتھیاروں اور نائٹ ویژن آلات کا استعمال کرتے ہوئے رات کے اندھیرے میں تھانے پر دھاوا بولا۔ حملہ آوروں کا مقصد سکیورٹی فورسز کو بھاری جانی نقصان پہنچانا اور علاقے میں خوف و ہراس کی فضا قائم کرنا تھا۔ لیکن دہشت گردوں کی یہ منصوبہ بندی اس وقت ریت کی دیوار ثابت ہوئی جب وہاں تعینات سکیورٹی اہلکاروں نے جرأت اور بہادری کی اعلیٰ مثال قائم کرتے ہوئے فوری پوزیشنز سنبھالیں اور شدید جوابی فائرنگ شروع کر دی۔ سکیورٹی فورسز کی اس غیر متوقع اور فوری مزاحمت نے حملہ آوروں کے حوصلے پست کر دیے اور وہ اپنے مقاصد میں ناکام ہو کر پسپا ہونے پر مجبور ہو گئے۔ فورسز نے نہ صرف اس حملے کو ناکام بنایا بلکہ مفرور دہشت گردوں کے تعاقب کے لیے فوری طور پر علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا۔اگر پچھلے چند ہفتوں کے دوران سکیورٹی فورسز پر ہونے والی بڑی کارروائیوں اور ان کے جواب میں کیے جانے والے آپریشنز کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج نے دہشت گردوں کی بقا کو ناممکن بنا دیا ہے۔ پچھلے ایک ہفتے کے دوران سکیورٹی فورسز پر گھات لگا کر حملے کرنے اور خفیہ نصب شدہ بموں کے ذریعے نشانہ بنانے کی چند بزدلانہ کوششیں کی گئیں‘ لیکن ان تمام واقعات پر سکیورٹی فورسز کے فوری جوابی ایکشن نے دہشت گردوں کو سنبھلنے کا موقع نہ دیا۔ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے ذریعے دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو چند گھنٹوں کے اندر ہی نیست و نابود کر دیا گیا۔ دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن شعبان دہشت گردی کے خلاف اسی سخت ریاستی پالیسی کا ثبوت ہے‘ جہاں خفیہ اطلاعات ملتے ہی دہشت گردوں کی پناہ گاہوں پر زمین اور فضا سے کاری ضربیں لگائی گئیں۔ اسی طرح خیبرپختونخوا کے اضلاع کوہاٹ اور کرک میں جاری گرینڈ آپریشنز نے شدت پسند عناصر کے نیٹ ورکس کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یہ آپریشنز اس وقت ملک دشمن عناصر کے لیے خوف کی علامت بن چکے ہیں اور یہ واضح پیغام ہے کہ اب ریاست کے اندر دہشت گردوں کے لیے کوئی جائے پناہ باقی نہیں بچی۔ منگی ڈیم اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات کے بعد کوئٹہ  میں صوبائی ایپکس کمیٹی کا انتہائی اہم اور ہنگامی اجلاس منعقد ہوا‘ جس میں سول اور عسکری قیادت نے ملکی سلامتی کے لیے اہم فیصلے کیے۔ اجلاس میں سکیورٹی فورسز کو یہ واضح مینڈیٹ دیا گیا کہ صوبے میں امن و امان کی بحالی کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل کیا جائے۔ ایپکس کمیٹی کے اہم ترین فیصلوں میں انٹیلی جنس شیئرنگ کے نظام کو جدید بنانا‘ مکران اور قلات ڈویژن سمیت حساس اضلاع میں سکیورٹی گرڈ کو مضبوط کرنا اور سی پیک سمیت دیگر ترقیاتی منصوبوں پر کام کرنے والے ملکی و غیر ملکی ماہرین کی سکیورٹی کو ناقابلِ تسخیر بنانا شامل ہے۔ اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ دہشت گردوں کے مالیاتی ذرائع کو ہر صورت روکا جائے گا اور سوشل میڈیا یا دیگر ذرائع سے دہشت گردوں کے بیانیے کی تشہیر کرنے والے عناصر کے خلاف انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ملک میں دہشت گردی کی حالیہ لہر کا گہرائی سے تجزیہ کیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ان کارروائیوں کی پس پردہ ایک بڑی وجہ پاکستان میں غیرقانونی طور پر مقیم افغان باشندے ہیں۔ یہ بات سکیورٹی اداروں کی تحقیقات میں ثابت ہو چکی ہے کہ ملک میں مطلوبہ دستاویزات کے بغیر مقیم افغان باشندوں کی ایک بڑی تعداد شدت پسند عناصر کو لاجسٹک سپورٹ‘ پناہ گاہیں اور ٹرانسپورٹ جیسی سہولتیں فراہم کرتی ہے۔ کوئی بھی خود مختار ملک اپنے اندرونی امن کو اس طرح داؤ پر نہیں لگا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت نے ملکی سکیورٹی کو مقدم رکھتے ہوئے وقتاً فوقتاً غیرقانونی افغان شہریوں کی وطن واپسی کے انتظامات کیے۔ پچھلے کچھ دنوں میں دہشت گردی کے پے در پے واقعات کے بعد وفاقی حکومت نے ایک بار پھر دو ٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے بغیر ویزا اور قانونی دستاویزات کے مقیم افغان شہریوں کو پاکستان چھوڑنے کے لیے 10 جولائی 2026ء کی حتمی ڈیڈ لائن دی تھی۔ اس اہم فیصلے پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے وزارتِ داخلہ نے 28جون 2026ء کو چاروں صوبائی چیف سیکرٹریز‘ چیف سیکرٹری گلگت بلتستان‘ چیف سیکرٹری آزاد کشمیر اور چیف کمشنر اسلام آباد کو ایک تفصیلی مکتوب جاری کیا تھا۔ اس خط کے ذریعے تمام انتظامی سربراہان کو پابند کیا گیا تھا کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں غیرقانونی تارکین وطن کی میپنگ مکمل کریں اور ڈیڈ لائن گزرنے کے بعد فوری کریک ڈاؤن کا آغاز کریں۔ 10جولائی کی مقررہ تاریخ تک ہزاروں افغان باشندے رضاکارانہ طور پر سرحد پار اپنے وطن واپس لوٹ گئے جو کہ مثبت پیش رفت ہے۔ لیکن اس کے باوجود بہت بڑی تعداد اب بھی ایسی ہے جو گرفتاری اور بے دخلی سے بچنے کے لیے مختلف شہروں‘ مضافاتی بستیوں اور بلوچستان کے دور افتادہ علاقوں میں چھپ چھپا کر رہ رہی ہے۔ یہ چھپے ہوئے افراد سکیورٹی کے لیے بدستور ایک خطرہ بنے ہوئے ہیں کیونکہ دہشت گرد گروہ انہیں اپنے مذموم مقاصد کے لیے آلہ کار بناتے ہیں۔ ڈیڈ لائن گزرنے کے بعد اب ملک بھر میں غیرقانونی مقیم افغان شہریوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ‘ پولیس اور سکیورٹی ادارے مشترکہ طور پر بائیو میٹرک تصدیق اور جیو فینسنگ کی مدد سے ایسے افراد کو ڈھونڈ نکال رہے ہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ کسی بھی دباؤ میں آئے بغیر تمام غیرقانونی افغان باشندوں کو ہولڈنگ سنٹرز منتقل کیا جائے گا جہاں سے انہیں عزت و احترام کے ساتھ واپس کیا جا رہا ہے۔ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے سرحدی اضلاع میں نگرانی کے نظام کو مزید سخت کر دیا گیا ہے تاکہ مستقبل میں غیرقانونی سرحد عبور کرنے کے راستوں کو مستقل طور پر بلاک کیا جا سکے۔ ریاست نے اب یہ لکیر کھینچ دی ہے کہ قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ چیلنجز کے باوجود سکیورٹی فورسز کی مسلسل کامیابیاں اور سرحدوں پر نافذ کیے جانے والے سخت انتظامی قوانین ملکی دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنا رہے ہیں‘ جوآنے والے وقت میں پاکستان کو علاقائی تجارت اور امن کا محفوظ مرکز ثابت کریں گے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/222_48272610.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ٹک ٹک(عمران یعقوب خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-07-12/52283/30251125</link><pubDate>Sun, 12 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-07-12/52283/30251125</guid><description>بم کی ڈیفی نیشن یہ بیان کی جاتی ہے کہ یہ ایک ایسا دھماکہ خیز ہتھیار ہے جو تیز رفتار کیمیائی‘ جوہری یا دیگر ردِ عمل کے ذریعے تباہی‘ آگ اور نقصان پھیلانے کے لیے ڈیزائن کیا جاتا ہے۔ بم کیمیکل ری ایکشن کے نتیجے میں پیدا ہونے والے اندرونی دباؤ کے ریلیز ہونے کے نتیجے میں دھماکے اور شدید توانائی کے اخراج کا باعث بنتا ہے۔ جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں بم کئی طرح کے ہوتے ہیں‘ سب کے سب تباہی پھیلانے والے۔ میں جس بم کی بات کرنا چاہ رہا ہوں وہ بھی تباہی پھیلانے والا ہی ہے لیکن یہ تیز رفتار کیمیائی عمل کے نتیجے میں نہیں پھٹتا۔ یہ ہے آبادی کا بم جس کی ٹک ٹک عالمی اور ملکی سطح پر شروع ہو چکی ہے اور اس ٹک ٹک کو روکا نہ گیا تو پھر ایک بڑی تباہی نسلِ انسانی کا مقدر بن سکتی ہے۔آبادی کے حوالے سے تاریخی گراف ملاحظہ کریں تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ سولہویں صدی عیسوی کے اختتام اور سترہویں صدی کے آغاز تک آبادی کا گراف نہایت ہموار انداز میں آگے بڑھ رہا تھا‘ یعنی جتنی سال بھر میں آبادی بڑھتی اتنی ہی یا اس سے کچھ کم معدوم ہو جاتی تھی‘ اس طرح آبادی کا ایک توازن قائم رہا۔ آبادی بڑھتی تو رہی لیکن اس کے بڑھنے کی رفتار نہایت سست تھی۔ سترہویں صدی کے دوران آبادی میں غیرمعمولی اضافے کا آغاز ہوا۔ اندازہ اس بات سے لگائیں کہ 1650ء میں زمین پر انسانی آبادی 0.5 بلین تھی یعنی نصف ارب جو 1750ء یعنی ایک سو برس میں بڑھ کر 0.7 ارب یعنی کم و بیش پون ارب ہو گئی۔ 1804ء میں انسانی آبادی نے پہلی بار ایک ارب کے ہندسے کو چھوا‘ اور پھر چل سو چل والا معاملہ ہو گیا۔ 1930ء میں آبادی دو ارب ہوئی اور اگلے 30 برسوں میں اس میں ایک ارب کا اور اضافہ ہو گیا‘ یہ تین ارب ہو گئی۔ تین ارب کی آبادی کو چار ارب بننے میں محض 14 سال کا عرصہ لگا اور اگلا ایک ارب (پانچواں) محض 12سالوں میں ہی پورا ہو گیا۔ 1986ء میں آبادی پانچ ارب تھی جو 1998ء میں چھ ارب، 2010ء میں سات ارب اور 2022ء تک آٹھ ارب ہو چکی تھی۔ شماریاتی پیش گوئی یہ ہے 2029ء تک زمین پر انسانی آبادی ساڑھے آٹھ ارب ہو چکی ہو گی جبکہ 2037ء میں یہ نو ارب ہو جائے گی اور 2060ء تک یہ پورے دس ارب ہو جائے گی۔گزشتہ تین صدیوں میں آبادی میں اضافہ کیوں اتنی تیز رفتاری سے ہوا؟ اس سوال کے کئی جواب ہیں۔ کچھ لوگ اسے صنعتی ترقی کا مرہونِ منت قرار دیتے ہیں جبکہ کچھ دوسروں کے خیال میں یہ سب کچھ میڈیکل کے شعبے کی ترقی اور ادویات اور ویکسینز کے ذریعے موذی اور جان لیوا بیماریوں پر قابو پانے کا نتیجہ ہے۔ کچھ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ بہتر تعلیمی مواقع اور آگہی کا حصول خصوصاً خواتین کیلئے‘ پیدائش کی شرح میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔ معاشی آسودگی اور زندگی کی سہولیات میں اضافے (صنعتی ترقی کے نتیجے میں) نے بھی شرح پیدائش کو بڑھایا۔آبادی کے بڑھنے کی جہاں کچھ مثبت جہتیں ہیں وہاں کچھ منفی عوامل اور نتائج بھی سامنے آتے ہیں‘ جیسے ایک معینہ مدت میں (عام طور پر یہ ایک سال لیا جاتا ہے‘ دس سال کا عرصہ بھی مثال کے طور پر لیا جا سکتا ہے) آبادی میں ہونے والا اضافہ اسی مدت میں پہلے سے موجود آبادی کی جانب سے کی جانے والی ترقی کو کھا جاتا ہے اور حتمی نتیجہ ایک معاشی جمود کی شکل میں نکلتا ہے۔ جب کوئی ملک یا معاشرہ ترقی نہ کرے تو اس کے نتیجے میں بے روزگاری پیدا ہوتی ہے‘ جو بالواسطہ لوگوں کی قوتِ خرید میں کمی کا باعث بنتی اور غربت کی شرح کو مزید بڑھا دیتی ہے۔ آبادی زیادہ ہو تو کمانے والے کم اور کھانے والے زیادہ ہو جاتے ہیں اس طرح سب کو پیٹ بھر نہیں ملتا‘ اسی وجہ سے متوازن خوراک کا حصول ناممکن ہو جاتا ہے جو وسیع آبادی میں صحت کے مسائل پیدا کرنے کا باعث بنتا ہے اور صحت یابی کے لیے پھر آگے مزید پیسے خرچنا پڑتے ہیں۔ بیمار ویسے بھی معاشرے پر بوجھ بن جاتے ہیں۔ زیادہ آبادی دستیاب وسائل کی منصفانہ تقسیم کی راہ میں رکاوٹ بھی ثابت ہوتی ہے۔ تیز رفتار آبادیاتی اضافہ تعلیم‘ صحت‘ روزگار اور وسائل پر شدید دباؤ ڈال سکتا ہے جس کے نتیجے میں ان وسائل کی تقسیم منصفانہ نہیں رہتی۔مذہبی لحاظ سے ڈیموگرافی چارٹ پر نظر ڈالیں تو آبادی کے لحاظ سے دنیا میں پہلے نمبر پر مسیحی ہیں جن کی آبادی دنیا کی کل آبادی کا 31 فیصد ہے۔ ان 31فیصد میں سے بھی 50فیصد کیتھولک‘ 37 فیصد پروٹیسٹنٹ اور 12فیصد آرتھوڈاکس ہیں۔ دوسرے نمبر پر مسلمان ہیں جن کی آبادی دنیا کی کل آبادی کا 23فیصد بنتی ہے۔ ان میں سے 87فیصد سنی اور 13 فیصد شیعہ ہیں۔ بے دین لوگوں کی آبادی دنیا کی کل آبادی کا 16 فیصد ہے۔ ہندوؤں کی آبادی 15 فیصد جبکہ بدھ کل آبادی کا سات فیصد ہیں۔ ان میں سے آدھے چین میں رہتے ہیں۔ سکھ‘ جین ازم اور دوسرے چھوٹے مذاہب سے تعلق رکھنے والی آبادی دنیا کی کل آبادی کا ایک فیصد بنتی ہے۔ یہودیوں کی آبادی ایک کروڑ 38لاکھ 50ہزار ہے۔ ان میں سے 41 فیصد امریکہ میں جبکہ 41 فیصد ہی اسرائیل میں آباد ہیں۔ یہودی دنیا کی کل آبادی کا 0.2 فیصد ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب آبادی کا بم پھٹے گا تو وہ نہ مذہب دیکھے گا اور نہ علاقے کی تخصیص کرے گا۔ سب کا برابر نقصان ہو گا۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ آبادی کے بڑھنے کی رفتار کو دھیما کیا جائے۔ یہ کام بلا تفریقِ مذہب و ملت پوری دنیا پر اجتماعی سطح پر ہونا چاہیے تبھی کامیابی کے امکانات بڑھیں گے۔ وبائیں پھیلا کر بندے نہ مارے جائیں بلکہ قدرتی طور پر پیدائش کی شرح کو کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وسائل میں اضافے کی کوششیں بھی جاری رہنی چاہئیں۔2023ء کی مردم شماری کے نتائج کے مطابق پاکستان کی آبادی سالانہ 2.55فیصد کی شرح نمو سے بڑھ کر 24 کروڑ 15 لاکھ (241.49 ملین) تک پہنچ چکی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آبادی میں اضافے کا موجودہ رجحان برقرار رہا تو 2050ء تک آبادی 37 سے 40 کروڑ تک پہنچ سکتی ہے۔ موجودہ صورت حال کو سامنے رکھ کر بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ تب وسائل کی دستیابی اور وسائل کے استعمال میں کتنا گیپ پیدا ہو چکا ہو گا۔ بڑھتی ہوئی آبادی کے پیشِ نظر وفاقی حکومت نے کچھ عرصہ پہلے ایک سولہ رکنی نیشنل پاپولیشن کونسل تشکیل دی۔ سوال یہ ہے کہ کیا آبادی کے ٹک ٹک کرتے بم کو پھٹنے سے روکنے کیلئے اتنے اقدامات کافی ہیں؟ہمارے ملک کی معیشت 24 کروڑ سے زیادہ آبادی کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کیلئے بہت بڑے بڑے چیلنجوں کا سامنا کر رہی ہے۔ اس وقت ملک کی 40 فیصد آبادی خطِ افلاس سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے اور توانائی کے ذرائع پر بلاواسطہ اور بالواسطہ ٹیکسوں کی وجہ سے مسلسل بڑھنے والی مہنگائی لوگوں کی قوتِ خرید میں مزید کمی کرتی جا رہی ہے۔ ملک میں پانچ سال سے کم عمر کے 12 ملین بچے غذائی قلت کا شکار ہیں۔ تیزی سے بڑھتی آبادی مزید غریب پیدا کرنے اور غذائی قلت کو بڑھانے کا باعث بنے گی۔ آبادی بم کی ٹک ٹک جاری ہے۔ اس کے پھٹنے سے پہلے پہلے کچھ ٹھوس کیا جانا ناگزیر ہو چکا ہے۔ وسائل تیزی سے بڑھائے جائیں یا پھر آبادی کی رفتار کو کنٹرول کیا جائے۔ عالمی یومِ آبادی کا یہی پیغام ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_58350786.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>’’انڈو پیسفک‘‘ کا خاتمہ اور بھارت کی عالمی تنہائی(محمد عبداللہ حمید گل)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-abdullah-hameed-gull/2026-07-12/52284/39471507</link><pubDate>Sun, 12 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-abdullah-hameed-gull/2026-07-12/52284/39471507</guid><description>صدر ٹرمپ نے &#39;&#39;انڈو پیسفک‘‘ کا نام دوبارہ امریکی پیسفک کمانڈ رکھتے ہوئے اقوام عالم بالخصوص خطے کا چوہدری بننے کا خواب دیکھنے والے مودی کو یہ عندیہ دے دیا ہے کہ اب جنوبی ایشیا میں واشنگٹن کو بھارت کی ضرورت نہیں رہی۔ انڈو پیسفک سے &#39;&#39;انڈو‘‘ کا لفظ ہٹائے جانے کا یہ مطلب ہے کہ اب امریکہ کی حکمت عملی اور &#39;&#39;کواڈ‘‘ اتحاد کے حوالے سے ترجیحات بدل رہی ہیں‘ جس نے مودی کی عالمی تنہائی اور ناکام سفارتکاری کو بے نقاب کر دیا ہے۔ بھارتی سینئر سیاسی رہنما ششی تھرور نے حالیہ امریکی فیصلے کی اس حقیقت کو بھانپ لیا ہے تبھی انہوں نے اس کوLast nail in Quad&#39;s coffin  یعنی &#39;&#39;کواڈ‘‘ کے تابوت میں آخری کیل قرار دیا۔ دراصل بھارت کے علاقے کی سپر پاور بننے کے خواب کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی گئی ہے۔ Pacific Indoکا تصور بھارت کیلئے انتہائی اہم تھا کیونکہ اس کے ذریعے ہندوستان نے خود کو بحرہند اور بحرالکاہل ریجن میں اہم سکیورٹی شراکت دار اور ابھرتی ہوئی طاقت کے طور پیش کیا۔ یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ اور بھارت کے تعلقات حالیہ ہفتوں میں بعض معاملات پر تناؤ کا شکار رہے ہیں۔ ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں کے دوران آبنائے ہرمز میں پیش آنے والے واقعات میں تین بھارتی ملاحوں کی ہلاکت پر نئی دہلی نے سخت احتجاج کیا تھا اور امریکی سفارتکاروں کو طلب کرکے جواب طلب کیا تھا۔ فرانس میں ہونے والے جی سیون اجلاس کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی ملاقات کے فوراً بعد اس نام کی تبدیلی کے اعلان کو یوں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔امریکی پیسفک کمانڈ دوسری جنگ عظیم کے بعد 1947ء میں قائم کی گئی تھی اور 2018ء تک اسی نام سے کام کرتی رہی۔ 2018ء میں ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں ہی اس کا نام تبدیل کر کے اس کو&#39; انڈو پیسفک کمانڈ‘ کہا گیا تھا۔ واشنگٹن نے نام کی اس تبدیلی سے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ اب بحر ہند اور بحر الکاہل کو ایک مشترکہ سٹریٹجک تھیٹر کے طور پر دیکھا جائے گا۔ مزید برآں چین کے بڑھتے اثر و رسوخ کے آگے بند باندھنے کیلئے امریکہ‘ بھارت‘ جاپان اور آسٹریلیا پر مشتمل چار ملکی اتحاد کواڈ (Quad) کو بھی دوبارہ فعال کیا۔ اس مقصد کیلئے انہوں نے اس خطے میں اہم شراکت دار کے طور پر بھارت کا انتخاب کیا۔ بھارت کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے ساتھ ابھرتی ہوئی معاشی و عسکری قوت کے طور پر دیکھا گیا اور اسے چین کا حریف سمجھا گیا۔ 2018ء میں اُس وقت کے امریکی وزیر دفاع جم میٹس نے کہا تھا کہ چین کی بڑھتی ہوئی بحری سرگرمیوں‘ بحیرہ جنوبی چین سے بحر ہند تک اس کی ترقی اور بھارت کے ابھرتے علاقائی کردار کو مد نظر رکھتے ہوئے &#39;انڈو پیسیفک‘ کا تصور اپنایا گیا تھا۔ لیکن 2018ء کی نسبت 2026ء میں جنوبی ایشیا کا منظر نامہ بدل چکا ہے۔ چند سال قبل امریکی پالیسی سازوں کے نزدیک جنوبی ایشیا کو دیکھنے کا بنیادی زاویہ چین تھا۔ واشنگٹن سمجھتا تھا کہ اگر چین کے بڑھتے ہوئے اثر ورسو خ کو محدود کرنا ہے تو اس کے لیے خطے میں ایک ایسی طاقت کی ضرورت ہے جو آبادی‘ معیشت‘ جغرافیائی اور عسکری صلاحیت کے لحاظ سے بیجنگ کا مقابلہ کر سکے اس وقت بھارت اس کردار کیلئے سب سے موزوں انتخاب نظر آیا یہی وجہ ہے کہ امریکی پالیسی‘ میڈیا اور تھنک ٹینکس بھارت کو مسلسل علاقے کی بڑی پاور‘ بڑی جمہوریت گردانتے رہے۔ نئی دہلی پر نوازشات کا سلسلہ جاری رہا اور پھر مئی 2025ء آ گیا جب پاکستان نے ہندوستان کو چاروں شانے چت کردیا اور بھارت کی نام نہادعسکری طاقت کا پول کھل گیا۔سوال یہ ہے کہ امریکہ اب بھی جنوبی ایشیا میں اپنی پوری حکمت عملی کوصرف بھارت کے گرد ہی گھماتا رہے گا یا پھر خطے کے دوسرے ممالک کو بھی براہِ راست اپنی پالیسی کا حصہ بنائے گا؟ یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ گزشتہ چند برسوں کے دوران جنوبی ایشیا کی جیو پالیٹکس میں کئی ایسی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں جنہوں نے امریکی پالیسی سازوں کو اپنے پرانے اندازِ فکر پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کیا ہے۔ اگر 2018ء میں امریکہ کی ترجیح صرف چین کو روکنا تھا تو 2026ء میں صورتحال کہیں زیادہ پیچیدہ ہو چکی ہے اب صرف چین ہی واحد مسئلہ نہیں بلکہ سپلائی چین‘ توانائی‘ معدنی وسائل ‘ مصنوعی ذہانت‘سیمی کنڈکٹرز‘مشرق وسطیٰ کا عدم استحکام اور بحر ہند میں بڑھتا مقابلہ بھی امریکی خارجہ پالیسی کے اہم موضوعات بن چکے ہیں۔اسی لیے واشنگٹن اب جنوبی ایشیا کو صرف ایک ملک کی نظر سے دیکھنے کے بجائے پورے خطے کو مختلف زاویوں سے دیکھ رہا ہے۔تاہم اس تبدیلی کی ایک واضح مثال پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں آنے والی بہتری ہے۔ گزشتہ تقریباً ڈیڑھ سال کے دوران دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح کے سفارتی رابطوں میں اضافہ ہوا‘ دفاعی تعاون پر دوبارہ بات چیت شروع ہوئی‘ انسداد دہشت گردی کے شعبے میں اشتراک بڑھا جبکہ توانائی‘ سرمایہ کاری اور معدنی وسائل جیسے شعبوں میں بھی دونوں ممالک نے دلچسپی ظاہر کی۔ پھر اس کے بعد ایران امریکہ جنگ میں پاکستان کے مثبت اور غیرجانبدارانہ کردار نے نہ صرف امریکہ اور ایران کو ایک میز پر بٹھایا بلکہ عرب ممالک کا دنیا کا اعتماد بھی حاصل کیا۔امریکی پالیسی کی یہ تبدیلی کسی جذباتی فیصلے کا نتیجہ نہیں بلکہ امریکی مفادات کا تقاضا ہے۔امریکہ جانتا ہے کہ افغانستان سے انخلا کے بعد بھی خطے میں سلامتی کے کئی چیلنج ہیں۔ دہشت گرد تنظیموں کی سرگرمیاں‘ ایران اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال‘ وسطی ایشیا تک رسائی اور بحر ہند میں تجارتی راستوں کا تحفظ ایسے معاملات ہیں جہاں پاکستان کا جغرافیہ آج بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔اس کے ساتھ پاکستان کا ایک اور پہلو بھی امریکی توجہ حاصل کر رہا ہے اور وہ ہے معدنی وسائل۔دنیا اس وقت Minerals Earth Rare کے متبادل ذرائع تلاش کر رہی ہے۔ ابھی اس شعبے میں چین کو نمایاں برتری حاصل ہے جبکہ امریکہ اور اس کے اتحادی اپنی سپلائی چین کو متنوع بنانا چاہتے ہیں۔ ایسے میں پاکستان جیسے ممالک‘ جہاں معدنی وسائل کی بڑی صلاحیت موجود ہے‘ قدرتی طور پر عالمی توجہ حاصل کر رہے ہیں۔صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ امریکہ نے بنگلہ دیش کے ساتھ بھی مختلف شعبوں میں تعاون بڑھایا ہے۔ نیپال‘ سری لنکا اور مالدیپ کے ساتھ بھی واشنگٹن اپنے تعلقات کو الگ بنیادوں پر آگے بڑھا رہا ہے۔ اگر ان تمام پیش رفت کو ایک ساتھ دیکھا جائے تو ایک واضح رجحان سامنے آتا ہے کہ امریکہ اب جنوبی ایشیا کے ہر ملک کو اس کی اپنی جغرافیائی اور سٹریٹیجک اہمیت کے مطابق دیکھنا چاہتا ہے نہ کہ صرف بھارت کے ذریعے۔ یہی وہ نکتہ ہے جسے شاید نئی دہلی میں سب سے زیادہ تشویش کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے کیونکہ گزشتہ دو دہائیوں میں بھارت نے خود کو صرف ایک ملک کے طور پر نہیں بلکہ جنوبی ایشیا کے نمائندے کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی۔ یہ تاثر پیدا کیا گیا کہ اگر امریکہ کو اس خطے میں کوئی بڑا فیصلہ کرنا ہے تو اس کا سب سے قابلِ اعتماد شراکت دار بھارت ہی ہوگا۔شاید اسی لیے ششی تھرور کی مختصر سی ٹویٹ اتنی زیادہ توجہ حاصل کر گئی۔اگر واقعی امریکہ کی نئی حکمت عملی یہی ہے کہ وہ جنوبی ایشیا کے ہر ملک کے ساتھ براہِ راست تعلقات قائم کرے گا توایسی صورت میں نئی دہلی کی وہ حیثیت جس کے تحت وہ خود کو خطے کا ناگزیر شراکت دار سمجھتا تھا‘ پہلے جیسی نہیں رہے گی۔اب اصل سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ کو جنوبی ایشیا میں اپنے مفادات کیلئے صرف بھارت کافی دکھائی دیتا ہے؟اگر اس سوال کا جواب &#39;&#39;نہیں‘‘ ہے‘ تو پھرAs a middleman no more required Indiaایک جملہ نہیں بلکہ آنے والے برسوں کی امریکی حکمت عملی کا خلاصہ بھی ہو سکتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_62843609.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>