<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>ناکہ بندی کے مضمرات(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-14/11102</link><pubDate>Tue, 14 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-14/11102</guid><description>اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے امریکہ ایران کشیدگی میں کمی کی مزید پیش رفت کی توقع کی جا رہی تھی تاہم صدر ٹرمپ کی جانب سے گزشتہ روز آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے فیصلے سے امن کوششوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ اس امریکی اقدام کے مضمرات نہ صرف کشیدگی کے پھیلاؤ کا سبب بنیں گے بلکہ عالمی معیشت پر بھی اس کے گہرے منفی اثرات یقینی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش سے پہلے ہی توانائی کی قیمتوں پر گہرے اثرات ہیں‘ امریکی ناکہ بندی کے نتیجے میں عالمی منڈیوں میں توانائی کی ترسیل پر مزید منفی اثرات مرتب ہونے کا اندیشہ ہے‘ نتیجتاً تیل اور گیس کی قیمتوں میں بے پناہ اضافے کے خدشات ہیں۔ حالیہ دنوں امریکہ ایران جنگ بندی کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی نظر آنا شروع ہوئی تھی اور دنیا نے سکھ کا سانس لیا تاہم امریکہ کا یہ اقدام خلیج کے پانیوں میں کشیدگی بڑھانے اور توانائی میں نئے اضافے کا نسخہ ہے۔ اس اقدام کے اثرات اور نتائج کو دیکھتے ہوئے امریکہ کے یورپی اتحادیوں میں سے کسی نے بھی اس اقدام کی حمایت نہیں کی۔ برطانیہ اور آسڑیلیا کے وزرائے اعظم نے تو واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ وہ اس اقدام کا حصہ نہیں‘ آسڑیلیوی وزیر اعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ امریک کا یکطرفہ فیصلہ ہے۔

چین‘ روس اور ترکیہ کی جانب سے بھی ناکہ بندی کے فیصلے کی مخالفت کی گئی ہے۔ اس صورتحال میں بڑی حد تک واضح ہو جاتا ہے کہ کون کہاں کھڑا ہے اور امریکہ کے روایتی‘ فطری اور اور دیرینہ اتحادی بھی امریکہ کے اکثر اقدامات کی ذمہ داری لینے سے انکاری کیوں ہیں۔ امریکہ کا یہ اقدام خلیجی خطے میں جنگ بندی کی کوششوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچائے گا۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی سپلائی میں کتنی اہم ہے یہ اب کہنے کی بات نہیں ر ہ گئی۔ دنیا پچھلے چھ ہفتوں سے اس صورتحال کو بھگت رہی ہے۔ تیل کی عالمی قیمتیں جنگ سے پہلے کے مقابلے میں 56 فیصد بڑھ چکی ہیں مگر آبنائے ہرمز کے حوالے سے نئے امریکی اقدامات عالمی انرجی سکیورٹی کیلئے سنجیدہ خطرات پیدا کرتے ہیں۔ یہ کشیدگی اگر زور پکڑ گئی اور اس کے اثرات بحیرۂ احمر پر بھی ہوئے تو یہ عالمی توانائی کیلئے تباہ کن صورتحال ہو سکتی ہے۔ جنگ بندی سے توانائی کی قیمتوں میں کمی کا رجحان سامنے آیا تو لوگوں نے سکھ کا سانس لیا مگر ناکہ بندی کے اعلان کے بعد سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ صورتحال صرف دنیا کیلئے نہیں خود امریکہ کیلئے بھی بڑا خطرہ ہے۔ توانائی کی قیمتیں پہلے ہی یورپ اور امریکہ میں بڑھتی جا رہی ہیں‘ آبنائے ہرمز سے گزرنے والی ٹریفک کو روکنے کے اقدام سے تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ امریکہ میں بھی افراطِ زر کے نئے طوفان ساتھ لائے گا۔
یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ اس موقع پر جب اسلام آباد مذاکرات کو دو دن بھی نہیں ہوئے صدر ٹرمپ کو آبنائے ہرمز کے معاملے میں اس حیران کن اور خوفناک اقدام کی کیا ضرورت پیش آ ئی اور اس سے کیا مقاصد پورے ہو سکتے ہیں۔ بادی النظر میں قیام امن اور ملکوں میں اعتماد کا کوئی مقصد اس سے پورا ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ اس امریکی اقدام سے وابستہ خطرات کو دیکھا جائے تو یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ ان سے اجتناب کیا جائے۔ آبنائے ہرمز کی عالمی ضرورت و اہمیت ظاہر و باہر ہے اور اس کی حساس پوزیشن بھی۔ یہ کوئی ایسا مقام نہیں کہ یہاں طاقت کو آزمایا جائے اور اسکے نتائج کو نظر انداز کیا جائے۔ سفارتکاری آبنائے ہرمز کو کھلوانے کا واحد قابلِ عمل اور منطقی راستہ ہے‘ دوسری صورت میں عالمی معیشت اور علاقائی امن کیلئے بے پناہ خطرات ہیں۔امریکہ کو خلیج فارس میں تحمل سے کام لینا ہو گا‘ کوئی ایک قدم امن کوششوں کے خاتمے کی دلیل بن سکتا ہے۔ خلیجی خطے کے پانیوں میں مبارزت طلبی عالمی اور علاقائی مفادات سے مطابقت نہیں رکھتا۔ امریکہ کے یورپی اتحادی یہی بات امریکہ کو باور کروانے کی کوشش کر رہے ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>فِچ ریٹنگ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-14/11101</link><pubDate>Tue, 14 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-14/11101</guid><description>عالمی ریٹنگ ایجنسی فِچ نے حالیہ آؤٹ لُک میں پاکستان کی معیشت کو مستحکم قرار دیتے ہوئے اپنی کریڈٹ ریٹنگ بی مائنس پر برقرار رکھی ہے۔ یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک کو مالیاتی دباؤ‘ بیرونی ادائیگیوں اور توانائی کے بحران جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ مذکورہ رپورٹ کے مطابق ملکی معیشت میں کچھ بنیادی استحکام ضرور آیا ہے جس میں زرِمبادلہ ذخائر کی بحالی‘ شرح سود میں کمی کے باعث کاروباری سرگرمیوں میں بہتری اور جی ڈی پی کی بتدریج نمو شامل ہیں۔ لیکن ساتھ ہی کئی سنگین خدشات بھی برقرار ہیں‘ خصوصاً توانائی کے شعبے میں بیرونی انحصار‘ عالمی تیل قیمتوں میں اضافے کا خطرہ‘ بڑھتی ہوئی بیرونی ادائیگیاں اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کی واپسی۔ مہنگائی میں ممکنہ اضافہ بھی عوامی سطح پر مشکلات کو بڑھا سکتا ہے۔

یہ صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ حکومت وقتی استحکام پر اکتفا کرنے کے بجائے دیرپا معاشی اصلاحات کی جانب سنجیدگی سے پیش قدمی کرے۔ ٹیکس نظام میں وسعت‘ توانائی کے شعبے میں خود کفالت‘ برآمدات میں اضافہ اور گورننس میں بہتری وہ بنیادی ستون ہیں جن پر مضبوط معیشت کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔ فِچ کی جانب سے مستحکم آؤٹ لک ایک حوصلہ افزا اشارہ ضرور ہے مگر اصل کامیابی اس وقت ہو گی جب حکومت اس استحکام کو پائیدار ترقی میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہو جائے۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پولیو ٹیم پر حملہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-14/11100</link><pubDate>Tue, 14 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-14/11100</guid><description>گزشتہ روز ہنگو میں انسدادِ پولیو ٹیم پر حملے میں ایک پولیس اہلکار شہید اور چار زخمی ہو گئے۔ حکومت نے گزشتہ روز ہی اس عزم کے ساتھ ملک گیر پولیو مہم کا آغاز کیا ہے کہ ملک بھر میں پانچ سال سے کم عمر ساڑھے چار کروڑ بچوں کو ہر حال میں پولیو ویکسین فراہم کی جائے گی مگر ہنگو میں پولیو ٹیم پر حملے سے ظاہر ہوتا ہے کہ گمراہ اور شدت پسند عناصر ملک سے پولیو کا خاتمہ نہیں چاہتے۔ انہی عناصر کی وجہ سے ہی پاکستان آج بھی پولیو زدہ ممالک کی فہرست میں شامل ہے۔ رواں برس فروری میں ہونے والی ملک گیر پولیو مہم کے دوران بھی شمالی وزیرستان اور چمن میں پولیو ٹیموں کی سکیورٹی پر معمور دو اہلکاروں کو قتل کیا گیا تھا جبکہ لاہور‘ بھکر اور کراچی میں پولیو ٹیموں کو ہراسانی کا سامنا بھی کرنا پڑا ۔

لیکن اب یہ سلسلہ روکنے کیلئے حکومت کو سخت اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ معصوم بچوں میں پولیو قطروں کی صورت میں زندگی بانٹنے والوں کی جان اتنی ارزاں نہیں۔ دوسری طرف پولیو ورکرز اور ان کی حفاظت پر مامور اہلکار مشکلات کے باوجود پوری جانفشانی سے اپنے فرائض کی انجام دہی میں مصروف ہیں۔ اگر پھر بھی کوئی بچہ پولیو کے قطروں سے محروم رہ جاتا ہے تو اس کے ساری ذمہ داری والدین پر عائد ہو گی۔ والدین کو چاہیے کہ وہ کسی کے بھی بہکاوے میں آ کر اپنے بچوں کو پولیو کے قطروں سے محروم نہ رکھیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بھارت کے مسلمان اور پاکستان کی ذمہ داری(محمد اظہارالحق)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-04-14/51762/65110055</link><pubDate>Tue, 14 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-04-14/51762/65110055</guid><description>&#39;&#39;صرف بی جے پی آسام کو مسلمانوں سے پاک کر سکتی ہے۔ ہر مسلم کو نشاندہی کر کے نکالا جائے گا۔ اب یو پی میں کوئی سڑکوں پر نماز نہیں پڑھ سکتا اور نہ ہی کسی عبادت گاہ سے بلند آواز کی اجازت ہو گی‘‘۔ یہ تازہ پھنکار ہے اور اُس سانپ کی ہے جو سب سے زیادہ موذی ہے۔ زہر کی اس گٹھڑی کا نام ادتیا ناتھ ہے جو یو پی کا وزیراعلیٰ ہے۔دنیا میں شاید ہی کسی کا ذہن اتنا تنگ ہو جتنا بی جے پی سے تعلق رکھنے والے بھارتیوں کا تنگ ہے۔ اتنے وسیع و عریض ملک میں انہیں مسلمانوں کا وجود کھٹکتا ہے جن کی آبادی پورے بھارت میں مشکل سے چودہ فیصد ہے۔ ان کی سوچ گائے کی تقدیس سے آگے نہیں جاتی۔ ہر ہندو کو گائے کی تقدیس کا حق ہے۔ ہم پاکستانی کسی کو اس کے مذہبی رسوم وعبادات سے نہیں روکتے۔ مگر گائے کے نام پر مسلمانوں کی زندگی جہنم بنانے کا کارنامہ صرف بی جے پی نے سرانجام دیا ہے۔ پاکستانی سیاستدانوں اور حکمرانوں نے الیکشن میں بھارت کو کبھی موضوعِ سخن نہیں بنایا۔ مگر بھارت کے سیاستدانوں اور حکمرانوں کے اعصاب پر پاکستان اس قدر چھایا ہوا ہے کہ ہر الیکشن میں پاکستان کے خلاف زہر اُگل کر ووٹ حاصل کرتے ہیں۔ اس طرح اپنے ووٹروں کے ذہنوں میں تنگ نظری کے بیج بوتے ہیں اور مسلسل بوتے ہیں۔ آسام اس لیے بی جے پی کے نشانے پر ہے کہ جموں اور کشمیر کے بعد یہاں مسلمانوں کی بڑی تعداد بس رہی ہے جو آسام کی کل آبادی کا تیس‘ اکتیس فیصد ہے۔ آسام کے مغربی اور وسطی اضلاع میں تو مسلم آبادی پچاس سے اٹھانوے فیصد تک ہے۔ یہ مسلمان صدیوں سے یہاں رہ رہے ہیں۔ مسلمانوں کی آبادی 1206ء میں آسام میں بختیار خلجی کے زمانے سے شروع ہوئی اور پھر مسلسل بڑھتی رہی۔ برصغیر پر مسلمان آٹھ‘ نو سو سال تک حکمران رہے۔ وہ چاہتے تو پورے بر صغیر کو بزور مسلمان کر سکتے تھے۔ غیر مسلمو ں کو تہِ تیغ بھی کر سکتے تھے۔ جنوب کی طرف بھی دھکیل سکتے تھے۔ مگر انہوں نے کمال رواداری اور برداشت سے کام لیا۔ ہندو اس سارے مسلم عہد میں بڑے بڑے مناصب پر فائز رہے۔ اورنگ زیب نے‘ جس پر سب سے زیادہ ہندو دشمنی کا الزام لگتا ہے‘ ہندوئوں کو ممتاز عہدں پر رکھا۔ شبلی نعمانی نے یونہی تو نہیں کہا تھاکہ:تمہیں لے دے کے ساری داستاں میں یاد ہے اتناکہ اورنگ زیب ہندو کُش تھا‘ ظالم تھا‘ ستم گر تھاراجہ جسونت سنگھ شاہجہان کے عہد میں بھی مغل فوج کا کمانڈر رہا اور اورنگ زیب کے دور میں بھی! مسلمانوں کے آٹھ سو سالہ دور کی وجہ سے آج بی جے پی کے پیروکار شدید احساسِ کمتری کا شکار ہیں۔ مسلسل آگ اگلنے والا جنرل بخشی تو کئی بار مسلمانوں کے دورِ حکومت کا انتقامی لہجے میں ذکر کر چکا ہے۔دکھ کی بات یہ ہے کہ مسلم حکومتیں‘ بھارتی مسلمانوں کی حالتِ زار سے مکمل طور پر غافل اور بے نیاز ہیں۔ خلیج کی ایک ریاست سے تعلق رکھنے والی ایک شہزادی کے احتجاج کے علاوہ اس حوالے سے کبھی کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔ شرقِ اوسط کے بادشاہوں کا ایک بیان بھی بھارتی مسلمانوں کی زندگی آسان کرنے کے لیے کافی ہے۔ بے حسی کا یہ عالم ہے کہ ان مسلم ریاستوں میں لاکھوں بھارتی ہندو ایک آرام دہ زندگی گزار رہے ہیں اور پیسہ کما کما کر بھارت بھیج رہے ہیں۔ مگر یہاں کے حکمرانوں نے بھارتی مسلمانوں پر ہونے والے ظلم و ستم کے خلاف کبھی کوئی آواز نہیں اٹھائی۔ شاید: حمیت نام ہے جس کا گئی تیمور کے گھر سے! ادتیا ناتھ کا جو بیان ہم نے اس تحریر کی ابتدا میں نقل کیا ہے‘ کم از کم پاکستانی وزارتِ خارجہ کو اس کا نوٹس ضرور لینا چاہیے تھا۔ کوئی تو بھارت سے پوچھے کہ آخر &#39;&#39;ہر مسلمان‘‘ کو نکالنے سے کیا مراد ہے۔ رہا ایران‘ تو ماضی قریب تک تو وہ خود بھارت کی زلف کا اسیر رہا ہے۔ 2025ء میں ہونے والی اسرائیل ایران جنگ سے پہلے ایران بھارت کے بہت نزدیک تھا۔ مگر جب جنگ چھڑی تو بھارت نے منہ دوسری طرف پھیر لیا۔ اس کے مقابلے میں پاکستان نے کھل کر ایران کی حمایت کی۔ حالیہ جنگ میں ایران نے بھارت کی منافقانہ ذہنیت کو اچھی طرح دیکھ لیا ہے۔ مودی نے اسرائیل جا کر نیتن یاہو پر جس طرح محبت نچھاور کی ہے‘ ایران کی آنکھیں اس سے کھل گئی ہیں۔ کاش ایران اب بھارتی مسلمانوں کی حالت کا نوٹس لے۔ آخر عالم اسلام بیس کروڑ بھارتی مسلمانوں کو کس طرح نظر انداز کر سکتا ہے؟ روس سمیت کئی ملکوں میں مسلم اقلیتیں آباد ہیں۔ جو سلوک بھارت میں مسلم اقلیت کے ساتھ روا رکھا جا رہا ہے‘ دنیا میں اس کی کوئی اور مثال نہیں ملتی۔بھارتی مسلمانوں کے مسئلے کا حل کیا ہے؟ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان پر اس ضمن میں بنیادی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ بھارت کے مسلمان ہم پاکستانی مسلمانوں کے جسم کا حصہ ہیں۔ ایک لحاظ سے وہ پاکستان کے لیے قربانی کا بکرا بنتے ہیں کیونکہ بی جے پی جیسی ذہنیت کے بھارتی پاکستان پر غضبناک ہوں تو غصہ بھارتی مسلمانوں پر نکالتے ہیں۔ بھارت میں مسلمان بیس کروڑ ہیں مگر یہ تعداد مختلف ریاستوں میں بکھری ہوئی ہے۔یہ پریشر گروپ کی صورت اختیار کرنے سے قاصر ہیں۔ بھارتی مسلمانوں کو ان کے جائز حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے۔ ملازمتوں میں ان کا حصہ برائے نام ہے۔ ان کی دکانوں پر‘ ان کے مکانوں پر‘ ان کی مسجدوں پر حملے عام ہیں۔ آپ اس ذہنیت کا اندازہ لگائیے کہ کچھ عرصہ قبل اورنگزیب عالمگیر کی قبر کو اکھاڑنے کی مذموم اور مکروہ کوشش کی گئی۔ کراچی بیکری کی برانچوں پر حملے کیے گئے حالانکہ یہ ہندوؤں کی بیکری ہے۔ یہ ہندو خاندان کراچی سے گیا تھا۔ اپنے شہر کی یاد میں انہوں نے بیکری کا نام کراچی رکھا۔ صرف اس وجہ سے کہ کراچی پاکستان کا شہر ہے‘ اس بیکری کو حکومتی ادارے بھی پریشان کرتے ہیں۔بھارتی مسلمانوں کے مسئلے کا بظاہر ایک ہی حل ہے کہ مسلم ملکوں کو‘ بالخصوص عرب ملکوں کو باور کرایا جائے کہ بھارت اسلام دشمنی کا ہدف بھارتی مسلمانوں کو بنا رہا ہے۔ پاکستانی سفارت خانوں کو اس سلسلے میں بنیادی کردار ادا کرنا ہو گا۔ لازم نہیں کہ ہمارے سفیر‘ مسلم ملکوں کی حکومتوں کو درمیان میں لائیں۔ انہیں مسلم ملکوں کے علما‘ اہلِ دانش‘ اہلِ قلم اور عوام تک یہ مسئلہ پہنچانا ہو گا۔ جب ان ملکوں کی سول سوسائٹی اس سلسلے میں بیدار ہو جائے گی تو اپنی حکومتوں سے خود بات کر لے گی۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے سفارت خانوں نے مسلم ملکوں کے میڈیا میں بھارتی مسلمانوں کا مسئلہ اٹھایا ہے؟ کیا مسلم ملکوں کے اخبارات میں اس حوالے سے مضامین لکھے گئے ہیں؟ ہمارے پریس اتاشی‘ پریس قونصلر اور پریس منسٹر کیا کر رہے ہیں؟ بیرونِ ملک تعیناتی کا مقصد صرف ڈالر کمانا اور اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلانا ہی نہیں ہے‘ کام کرنا بھی ہے! کیا حرمین شریفین کے آئمہ سے اس سلسلے میں ملاقاتیں ہوئی ہیں؟ کیا ہمارے سفیر تعلیمی اداروں میں جا کر یہ مسئلہ اٹھاتے ہیں؟ کیا شیخ الازہر سے کسی نے بات کی ہے؟ مغربی ممالک کے سفیر جو پاکستان میں تعینات ہیں‘ غیر حکومتی شخصیات سے ملاقاتیں کرتے ہیں۔ ہمارے سفیر ایسا کیوں نہیں کرتے؟ پچپن مسلم ملکوں میں سے دس ملک بھی بھارت سے بات کریں تو فرق پڑ سکتا ہے۔ عرب ممالک کا ایک اشارہ بھی بی جے پی کی حکومت کے لیے کافی ہو گا۔ لازم ہے کہ اس مسئلے کو ایک مہم کے طور پر لیا جائے۔ پاکستانی میڈیا کو بھی چاہیے کہ اس مسئلے پر سیمینار کرائے۔ علما کرام جمعہ کے خطبات میں اس موضوع پر عوام سے خطاب کریں۔ ہماری مذہبی جماعتیں کیوں سوئی ہوئی ہیں؟ یہ بھارت کا اندرونی مسئلہ نہیں ہے! یہ عالم اسلام کا مسئلہ ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_57182973.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>فتح کے ہزار دعویدار ہوتے ہیں(خالد مسعود خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-04-14/51763/41256566</link><pubDate>Tue, 14 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-04-14/51763/41256566</guid><description>شوکت گجر‘ معاف کیجیے میں بھول ہی گیا کہ شوکت اپنے لیے شوکت علی انجم لکھا اور پکارا جانا پسند کرتا ہے‘ تاہم اب صرف اس کے پسند کرنے سے کیا ہوتا ہے‘ آخر ہماری اپنی بھی تو کوئی پسند نا پسند ہے۔ بہرحال نام کو ایک طرف رکھتے ہوئے فی الوقت دراصل یہ بتانا مقصود ہے کہ اسے حالیہ ایران امریکہ جنگ رکوانے کے سلسلے میں پاکستان نے جو کردار سرانجام دیا ہے‘ فی الوقت نتیجہ خیز ثابت نہ ہونے کے باوجود اس خطے میں امن کی بحالی کیلئے اٹھایا جانے والے پہلے اور نہایت اہم قدم پر حکومت پاکستان کے کردار پر تو خوشی اور فخر ہے لیکن وہ اس بات پر مغموم اور دکھی ہے کہ اس ساری کامیابی کے پیچھے جس بندے کی منصوبہ سازی اور داؤ پیچ کا کمال تھا اس کا عالمی سطح پر کامیابی سے بھرپور اس سارے فسانے میں کوئی ذکر ہی نہیں ہے۔ شوکت کا کہنا ہے کہ یہ جنگ کے معاملات تھے اور ان کو احسن طریقے سے سنبھالنا اور حل کرنا کسی سمجھدار اور ذہین عسکری شخصیت کو درمیان میں ڈالے بغیر ناممکن تھا۔ خوش قسمتی سے ہمیں فیلڈ مارشل کی صورت میں حربی علوم و عسکری منصوبہ بندی کا ایک نابغہ دستیاب ہے لیکن یہ بات ذہن میں رہے کہ ایسے معاملات کو منطقی نتیجے تک پہنچانے کیلئے سیاسی قیادت کی شمولیت ازحد ضروری ہے اور جنگ کے سیز فائر والے مرحلے کے بعد والے معاملات کو سیاسی دور اندیشی اور مفاہمتی صلاحیتوں کے بغیر پایۂ تکمیل تک پہنچانا ناممکن ہے۔ وہ اس سارے منظر نامے میں فیلڈ مارشل کے علاوہ اگر کسی دوسری شخصیت کو کریڈٹ دیتا ہے تو وہ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف یا وزیر خارجہ کے بجائے یہ سہرا صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کے سر باندھتا ہے۔ آپ کو تو علم ہی ہو گا کہ شوکت گجر‘ میرا مطلب ہے شوکت علی انجم ایک نہایت ہی &#39;&#39;کھٹا ٹیٹ‘‘ قسم کا جیالا ہے۔ وہ بھی بہت سے پرانے اور اصلی جیالوں کی طرح بینظیر بھٹو کی آصف علی زرداری سے شادی پر افسردہ تھا اور ایک عرصے تک آصف علی زرداری کو اپنی قائد بی بی کا شوہر ہونے کے باوجود دلی طور پر تسلیم کرنے سے انکاری رہا‘ تاوقتیکہ بینظیر بھٹو کے بہیمانہ قتل کے بعد پیپلز پارٹی کی قیادت کا تاج ایک وصیت نامے کے زریعے آصف علی زرداری کے سر پر سج گیا اور شوکت گجر نے زرداری صاحب کو بی بی کا جانشین تسلیم کرتے ہوئے اپنے سارے تحفظات اور شکوک سے رجوع کرتے ہوئے اپنے بغض و عناد سے توبہ کر لی۔ شوکت (گجر یا انجم کے چکر میں پڑنے کے بجائے فی الوقت صرف شوکت سے کام چلاتے ہیں)کو اس وصیت نامے کی حقانیت پرشک تھا لیکن دل سے نہ ماننے کے باوجود نہ صرف وہ زرداری صاحب کو اپنی پارٹی کا لیڈر سمجھتا ہے بلکہ ان کی صلاحیتوںکا ممدوح و معترف بھی ہے۔ اس میں وہ سب سے بڑھ کر ان کی جس صلاحیت کے بارے میں رطب اللسان ہے وہ ان کی مفاہمت کی صلاحیت ہے۔ سیاسی معاملات میں شوکت کا مسئلہ صرف یہ نہیں کہ وہ ایک بے لوث اور مخلص جیالا ہے اور بھٹو خاندان اور ان کے نامزد کردہ قائد کا بھی دل و جان سے وفادار ہے بلکہ اس کا ایک اور مسئلہ یہ بھی ہے کہ وہ شریفین و آلِ شریفین کے سخت خلاف ہے۔ اتنا خلاف کہ صرف ان کی مخالفت میں پیپلز پارٹی کو ناکافی سمجھتے ہوئے درمیان میں اپنی پارٹی چھوڑے بغیر تحریک انصاف میں شامل ہو گیا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ کم از کم پنجاب کی حد تک پیپلز پارٹی میں اب وہ دم خم نہیں رہا کہ وہ سیاسی میدان میں نواز شریف کا راستہ روک سکے لہٰذا ان حالات میں پیپلز پارٹی سے اپنی محبت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے وہ بوجھل دل سے عمران خان کی حمایت پر مجبور ہے۔ وہ گزشتہ اور اس سے پیوستہ الیکشن میں عمران خان کی حمایت کے سلسلے میں یہ دلیل دیتا تھا کہ دشمن کا دشمن ہمارا دوست ہے۔ تحریک انصاف سے اس کی دوستی کا یہ تزویراتی سفر نو مئی کو مکمل طور پر اختتام پذیر ہوا اور وہ دوبارہ سارے کا سارا پیپلز پارٹی میں شامل ہو گیا۔ گزشتہ کئی روز سے وہ آہستہ آہستہ میرے کانوں میں یہ بات ڈال رہا تھا کہ امریکہ اور ایران کے مابین جنگ بندی کی پاکستانی کاوشوں کے پیچھے آصف علی زرداری کی شخصیت ہے اور قومی سطح پر اپنی کامیاب مفاہمتی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے بعد پاکستان کو اپنی بے پایاں صلاحیتوں کیلئے ناکافی پاتے ہوئے اب عالمی منظرنامے میں اپنا کردار سرانجام دینے کیلئے میدانِ عمل میں آ چکے ہیں اور اب وہ عالمی سطح پر اپنی دھاک بٹھانے جا رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ اگر واقعتاً اس ساری پیشرفت کے پیچھے صدر زرداری ہی ہیں تو وہ آخر منظر عام پر کیوں نہیں آ رہے؟ شوکت مسکرا کر کہنے لگا: یہ بھی ان کی مفاہمتی پالیسی کا ایک داؤ ہے کہ وہ خود پردۂ غیب میں رہتے ہوئے اپنی سیاسی بصیرت اور کامیابی کا تمام تر کریڈٹ وزیراعظم شہباز شریف اور ان کی ٹیم کو دے کر اپنے سیاسی مستقبل کو مزید محفوظ و مامون بنا رہے ہیں۔اب اسے آپ شوکت کی خوش قسمتی کہیں یا اس کے مؤقف کی سچائی سمجھیں کہ اگلے ہی روز یہی بات شیری رحمن نے کہہ دی۔ بس اب کیا تھا‘ اس کے تو پاؤں ہی زمین پر نہیں ٹِک رہے تھے۔ تاوقتیکہ اسلام آباد میں لگنے والی اس اہم بیٹھک کے شرکا فی الحال کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ہی اپنے اپنے ملک روانہ ہو گئے۔ میں شوکت کا تو مذاق نہیں اڑا سکتا تھا تاہم شیری رحمن کے بیان پر میرے مذاق اڑانے پر وہ کہنے لگا کہ اس وقت تو آپ منہ میں گھنگھنیاں ڈال کر بیٹھے تھے جب گزشتہ سال مئی میں پاکستان نے بھارت کو نہایت مختصر وقت میں شرمناک رگڑا لگایا تھا اور پنجاب کی ایک وزیر نے پاکستان کے اس جنگی کامیابی کو میاں نواز شریف کی پلاننگ اور قیادت کا پھندنا لگاتے ہوئے اس فتح کا سارا سہرا اپنے قائد کے سر باندھ دیا تھا۔ اتنی پیچیدہ اور ہائی ٹیک فضائی جنگ‘ جس کی روئے ارض پر ماضی میں کوئی مثال نہیں‘ اس کی منصوبہ بندی اور قیادت اُن کے نام کر دی گئی جو محلے کی لڑائی بھی نہیں چھرا سکتے۔ اب آپ ہی بتائیں بھلا اس قسم کی بے سروپا باتوں کا کیا جواب دیا جا سکتا ہے؟کامیابی اور فتح کے ہزار وارث ہوتے ہیں جبکہ ناکامی اور شکست سراسر لاوارث ہوتی ہے۔ جو لوگ ایک دوسرے کی شکل دیکھنے اور بات کرنے تک کے روادار نہ تھے‘ پاکستان نے ان کو ایک میز پر آمنے سامنے بٹھا دیا۔ تقریباً نصف صدی بعد امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست گفتگو کا دروازہ کھولنے پر پاکستان کی عالمی سطح پر پذیرائی اور نیک نامی میں ہزار لوگ حصہ دار بنیں گے۔ اب وہ لوگ بھی شریک کار بننے کی دوڑ میں شامل ہوں گے جو حکومت کے ہر کام میں کیڑے نکالنا اپنا فرضِ اولین سمجھتے تھے اور اپنا یہ فرض کماحقہٗ سرانجام بھی دے رہے تھے۔ میں جنگ کو گلیمرائز نہیں کر رہا کہ جنگ سوائے تباہی اور بربادی کے اپنے پیچھے کچھ چھوڑ کر نہیں جاتی مگر جب جنگ آپ پر مسلط کر دی جائے تو پھر اس کا سامنا کیے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ جب جنگ آپ کے دروازے پر دستک دے تو آپ کے سامنے تب دو راستے ہوتے ہیں ایک یہ کہ آپ پاؤں پر کھڑے ہو جائیں‘ دوسرا یہ کہ آپ پاؤں پڑ جائیں۔ اس جنگ میں ایران کو تباہی اور بربادی کا سامنا کرنا پڑا مگر اس نے پہلے راستے کا انتخاب کیا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر وہ دوسرا راستہ بھی اختیار کرتا‘ تب بھی انجام یہی ہونا تھا مگر اب وہ تمام تر تباہی کے باوجود میدان میں برابری بلکہ اس سے بھی بہتر پوزیشن میں کھڑا ہے۔ ایک عرصے کے بعد امریکہ اپنی تمام تر طاقت‘ جارحیت اور گھمنڈ کے باوجود عالمی سطح پر دفاعی صورتحال کا شکار ہے۔ تاریخ میں پہلی بار امریکہ ایک ایسی فتح کا دعویدار ہے جس کا سوائے صدر ٹرمپ کے اور کوئی دعویدار نہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90500073.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مذاکرات کا اختتام نہیں آغاز(ڈاکٹر حسین احمد پراچہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-04-14/51764/27420506</link><pubDate>Tue, 14 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-04-14/51764/27420506</guid><description> ہفتے اور اتوار کو مصر کا مشہور ٹی وی چینل &#39;&#39;شمس‘‘میرے ساتھ مسلسل رابطے میں رہا۔ ان دو دنوں میں پاکستان ہی سارے جہاں کا مرکزِ نگاہ تھا۔ اتوار کے روز چینل کی اینکر مروہ المقدادی نے مجھ سے سوال کیا: دکتور! مذاکرات کے حوالے سے کوئی اچھی خبر؟ میں نے جواب دیا کہ &#39;&#39;مزید جنگ نہیں ہو گی‘‘۔سبب اس کا یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ سمیت طرفین ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب کو ہونے والے مذاکرات کے بارے میں عمومی طور پر مثبت توقعات کا اظہار کر رہے تھے۔ لیکن تازہ ترین خبروں کے مطابق اب ٹرمپ آبنائے ہرمز بند کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ موجودہ امریکی صدر کی پل پل بدلتی طبیعت کا اندازہ لگانے کیلئے مصنوعی ذہانت بھی کوئی آلہ یا پیمانہ دریافت نہیں کر سکی۔ ٹرمپ صاحب کی طبیعت کے بارے میں استاد گرامی کا شعر پیش کیا جا سکتا ہے کہ دوستو! میری طبیعت کا بھروسہ کچھ نہیںہنستے ہنستے آنکھوں میں رنگِ ملال آ جائے گا جب اینکر نے کہا کہ بظاہر جنگ نہ ہونے کے بارے میں کوئی ڈیل تو نہیں ہوئی تو جواباً عرض کیا: اکثر معاملات پر اتفاق ہو چکا ہے۔ امریکہ نے بھی ٹھوس موضوعات پر سنجیدہ گفتگو کا اعتراف کیا ہے۔ اسی طرح ایران نے بھی یہی کہا ہے کہ اکثر موضوعات پر بات آگے بڑھی مگر دو تین نکات پر اتفاقِ رائے نہیں ہو سکا۔ گویا اتفاق زیادہ اور اختلاف کم ہے۔ ورکنگ ڈنر کے ایک مختصر وقفے کے علاوہ مسلسل 21گھنٹے امریکہ اور ایران کے وفود کے درمیان روبرو براہِ راست مذاکرات جاری رہے۔دونوں مذاکراتی ٹیموں نے مذاکرات کے نتائج کا اپنا اپنا مسودہ ایک دوسرے کے حوالے کیا۔ پاکستانی قیادت کی بھرپور کوشش تو یہ تھی کہ امریکی و ایرانی دونوں وفود مزید ایک روز کیلئے اپنا قیام بڑھائیں تاکہ کوئی ابتدائی نوعیت کی ڈیل طے پا جائے مگر امریکہ کے نائب صدر آمادہ نہ ہوئے۔ تاہم جنگ بندی قائم ہے اور فریقین کسی ڈیل پر پہنچنے کیلئے کوشاں ہیں۔ اتوار کی صبح چھ بجے امریکی نائب صدر اسلام آباد سے روانہ ہو گئے۔ وقتِ رخصت جے ڈی وینس نے پاکستان کے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی مہمان نوازی اور سہولت کاری کی بہت تعریف کی اور شکریہ ادا کیا۔ جے ڈی وینس نے بین السطور ایسے اشارے بھی دیے ہیں کہ رشتۂ امید ٹوٹا نہیں برقرار ہے اور بات بننے کی ابھی بہت توقعات ہیں۔ امریکی نائب صدر نے کہا کہ ہم ایک سادہ سی تجویز ساتھ لے کر جا رہے ہیں کہ بعض اوقات پیچیدہ کے بجائے سادہ سا فارمولا بات کو بگڑنے سے بچا لیتا ہے۔ فریقین کے ایک دوسرے کیلئے ریمارکس اور باڈی لینگوئج نہایت مثبت ہے۔ ہماری رائے میں کئی دہائیوں سے منجمد ایرانی اثاثوں کو امریکہ جاری کرنے پر آمادہ ہو گیا تھا۔ اس کے علاوہ امریکہ کی طرف سے ایران کے ساتھ تجارت پر عائد کردہ پابندیوں کو بھی کسی حد تک اٹھانے کی بات آگے بڑھی تھی مگر ہماری معلومات کے مطابق دو باتوں پر سخت اڑچن پیدا ہو گئی ۔ ایک تو ایران کی طرف سے نیوکلیئر اہلیت اختیار کرنے سے مکمل اجتناب کی گارنٹی نہ دی گئی‘ دوسری اڑچن لبنان میں اسرائیلی حملے تھے۔ امریکہ اسرائیل سے لبنان پر حملے روکنے کی دو ٹوک ضمانت لے کر نہ دے سکا۔ اسرائیل نے واشنگٹن میں لبنان سے جنگ بندی مذاکرات کا اعلان تو کیا تھا مگر اسرائیلی فوجوں نے ہفتے کے روز لبنان اور غزہ میں 19 افراد کو شہید کر کے اسلام آباد مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی۔ اسی طرح آبنائے ہرمز پر کسی بڑی پیشرفت کا نہ ہونا بھی مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانے میں یقینا ایک بہت بڑی رکاوٹ ثابت ہوا ہو گا۔ اگر کسی کا یہ خیال تھا کہ 47 برس بعد پہلی ہی ملاقات میں کوئی بڑی پیشرفت ہو جائے گی تو یہ ان کی حد سے بڑھی ہوئی خوش فہمی تھی۔ اسلام آباد میں 47 برس کے بعد روبرو متحارب فریقین کی بہت اچھے ماحول میں 21 گھنٹے طویل ملاقات کا ہو جانا ہی ایک مثبت پیشرفت ہے۔پاکستان نے جس کارِ خیر کا بیڑہ اٹھایا ہے اسے وہ خوشگوار انجام تک پہنچانے کا عزم صمیم رکھتا ہے۔ شاعر بھی سفارتکاری کے اچھے گر جانتے ہیں‘ تبھی تو داغ دہلوی نے کہا تھا کہ &#39;&#39;اور کھل جائیں گے دو چار ملاقاتوں میں‘‘۔ پاکستان کی مسلسل کوشش سے فریقین کے مابین مذاکرات کے کئی اور راؤنڈ کئی سطحوں پر ہوں گے۔ امریکی قیادت پر یہ حقیقت آشکار ہو چکی ہے کہ امریکی سیاستدان‘ ممبرانِ کانگریس اور دو چار نہیں کم و بیش 80 لاکھ امریکی عوام نے سڑکوں پر آ کر امریکی قیادت کو باور کرایا کہ یہ جنگ امریکہ کی نہیں‘ اسرائیل کی ہے۔ ان حالات میں امریکہ تین نومبر کے مڈٹرم انتخابات پر توجہ مرکز کرے گا اور ایران پر دوبارہ جنگ مسلط نہیں کرے گا۔اب تک کی جنگ سے ایران کا اگرچہ بھاری جانی و مالی نقصان ہوا ہے مگر اس کی بھرپور مزاحمت اور جواں مردی سے ساری دنیا پر ایران کی دھاک بیٹھ گئی ہے۔ اس سے بھی بہت بڑا فائدہ ایران کو یہ ہوا کہ ساری دنیا کے عوام و خواص کی مکمل ہمدردیاں ایران کے ساتھ ہیں۔ یورپ‘ آسٹریلیا اور دیگر بہت سے ممالک کی حکومتوں نے بھی امریکہ کی کوششوں کے باوجود جنگ میں اس کا ساتھ نہ دیا ۔ اس کے علاوہ عرب و عجم کو آپس میں لڑانے کے مذموم اسرائیلی ارادوں کو بدترین ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ اگرچہ ایران کا کہنا یہ تھا کہ وہ عرب دنیا پر نہیں وہاں موجود امریکی اڈوں اور تنصیبات کو نشانہ بنا رہا‘ مگر عرب بھائی ان حملوں کو اپنے خلاف جارحیت سمجھتے ہیں۔ اس جنگ کے دوران متحدہ عرب امارات اور ایک دو اور ریاستوں کو چھوڑ کر سعودی عرب اور قطر نے بالخصوص صبر و حکمت اور تدبر و دانش سے کام لیا اور ایرانی میزائلوں کا جوابی حملوں کی صورت میں جواب نہ دیا۔ اب اگر خدانخواستہ دوبارہ جنگ چھڑتی ہے تو خلیجی ممالک اور ایران کے درمیان اسرائیلی شرارت کی چنگاری شعلے بن کر پھیلتی ہے تو یہ خطے کا ہی نہیں سارے عالم اسلام کا ناقابلِ تلافی نقصان ہوگا۔ ایسی صورتحال میں اگر پاکستان بھی جنگ میں مجبوراً شامل ہو جاتا ہے تو پھر تباہی ہی تباہی ہو گی۔ اگر ڈونلڈ ٹرمپ خطے میں مستقل امن چاہتے ہیں تو انہیں نیتن یاہو کو لگام دینا ہو گی۔ امریکی صدر چونکہ مسلسل بولتے ہیں اس لیے بہت سی غیرضروری باتیں بھی کر جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر چین ایران کو ہتھیار فراہم کرتا ہے تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔ جو ملک بشمول چین ایسا کرے گا اس پر امریکہ 50 فیصد ٹیرف لگا دے گا۔ چین اس وقت دنیا کی دوسری بڑی قوت ہے۔ اس لیے اسے دھمکی دینے سے پہلے امریکی صدر کودو بار نہیں‘ سو بار سوچنا چاہیے۔ڈونلڈ ٹرمپ یقینا یہ بات سمجھ چکے ہیں کہ ایران پر مسلط کردہ بے مقصد جنگ ختم ہونی چاہیے اور ایران کے ساتھ امریکہ کے دوطرفہ معمول کے تعلقات قائم ہو جانے چاہئیں۔ یہ تعلقات ایران کیلئے بھی بہت مفید ہوں گے۔ اسے اپنے منجمد اثاثے واپس ملیں گے۔ ایران پر عائد کردہ قدغنیں اٹھا لی جائیں گی۔ ایران کے اندر مہنگائی کے طوفان میں کمی آئے گی اور وہاں جنگ کی تباہ کاریوں کے بعد تعمیرِ نو کا آغاز ہو جائے گا۔مذاکرات کے بعد فریقین کے ریمارکس کا جائزہ لیں تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ معاملہ نیوکلیئر پوائنٹ پر اٹکا ہوا ہے۔ اس کا حل یہ ہے کہ امریکہ ایران کے مؤقف کو سمجھے اور اس پر روٹین کی انسپکشن سے بڑھ کر ناروا پابندیاں عائد کرنے پر اصرار نہ کرے۔ دوسری طرف ایران بھی پہلے اپنے مؤقف کا واضح اعادہ کرے کہ وہ ایٹمی ہتھیار بنانے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ فریقین کے مابین یہی انڈر سٹینڈنگ خطے میں امن کی کلید ثابت ہو گی۔ مستقل پائیدار امن کا معاہدہ کرنے میں فریقین جس قدر تاخیر کریں گے اس سے عالمی امن اور معیشت‘ اسی قدر شدید خطرے سے دوچار ہو جائیں گے۔ اسلام آباد مذاکرات سے ملنے والے واضح اشارے یہی ہے کہ مزید جنگ نہیں ہو گی‘ اور مذاکرات کا اگلا دور عنقریب متوقع ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_70033906.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کفایت شعاری لازم ہے(شاہد کاردار)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-kardar-/2026-04-14/51765/11340243</link><pubDate>Tue, 14 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-kardar-/2026-04-14/51765/11340243</guid><description>کالم کے پہلے حصے میں ہم نے سرکاری اخرجات کے بنیادی مسائل کا جائزہ لیا۔ اب دیکھتے ہیں کہ اس صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے کیا کرنے کی ضرورت ہے۔ وفاقی حکومت کو دو بڑے مسائل درپیش ہیں۔ مثال کے طور پر ایک ہی جیسے اختیارات والے مختلف ادارے اور حکومتی نظام میں عوام کے اعتماد کی کمی۔ اس کے حل کیلئے حکومت کے کردار کی ازسرنو تشکیل اور ایک نیا وفاقی ڈھانچہ بنانا ہوگا۔ یہ مقصد حاصل کرنے کیلئے اسلام آباد میں حکومت کے حجم کو چھوٹا کرنا ہوگا۔ وفاقی حکومت کا کردار سٹرٹیجک رہنمائی‘ پالیسی سازی اور معیار کے تعین تک محدود ہونا چاہیے اور یہ کام صوبوں کی شراکت اور مشاورت سے کیا جائے۔ وفاقی حکومت کا حجم دو تہائی کم کیا جائے۔ زیادہ تر ملازمین اور اخراجات کا تعلق گریڈ ایک سے گریڈ 16 تک سے ہے۔ ان کی تعداد میں کمی کرنا ہوگی۔ اس کے ساتھ جو اقدامات کرنے ضروری ہیں ان میںتمام خالی اسامیوں کا خاتمہ‘ نئی بھرتیوں پر پابندی اور غیر ضروری اداروں کا خاتمہ قابلِ ذکر ہیں۔ حکومت کے قائم کیے ہوئے صرف چند سرکاری کاروباری ادارے نجکاری کے قابل ہیں۔ باقی سب کو تحلیل یا بند کردینا چاہیے۔ جن سرکاری ملازمین نے 30 سال سے زیادہ ملازمت مکمل کرلی ہے انہیں ریٹائر کردیا جائے اور ان کے پنشن کے حقوق محفوظ رکھے جائیں۔ اگر سیاسی طور پر یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو تو انہیں اضافی عملے کے پول میں رکھا جائے تاکہ ان پر کرائے‘ یوٹیلیٹیز اور گاڑیوں پر اٹھنے والے اخراجات کم ہوں۔ نئے ملازمین کے لیے شراکتی پنشن نظام (جس میں ملازم اور حکومت دونوں حصہ دیتے ہیں) متعارف کرایا جائے جبکہ موجودہ ملازمین کے لیے اسے مرحلہ وار نافذ کیا جائے۔ یہی عمل تمام صوبوں میں بھی کیا جائے۔ اداروں اور عملے میں کمی کے ساتھ ساتھ سرکاری نظام کو ڈیجیٹل بنانے اور گورننس کے جدید طریقے استعمال کرنے سے پالیسی پر عمل درآمد کرنے‘ کام کرنے اور لین دین کرنے کی سطحوں میں کمی آئے گی۔ اس سے وسائل کو مختص کرنے اور انتظامی کارکردگی میں بہتری ہوگی اورمینجمنٹ کے اخراجات کم ہوں گے۔ کاروباری سرگرمی کی ڈی ریگولیشن سے غیر ضروری قوانین و ضوابط اور ایسے طریق کار ختم ہوں گے جس سے سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ کوئی نیا ترقیاتی منصوبہ شروع نہ کیا جائے‘ صرف وہ منصوبے مکمل کیے جائیں جو بیرونی معاونت سے چل رہے ہوں یا تکمیل کے قریب ہوں۔ جن منصوبوں پر 20 فیصد سے کم خرچ ہوچکا ہے انہیں بند کر دیا جائے۔ روایتی افواج کے حجم میں بھی کمی کی جاسکتی ہے کیونکہ آج کل جنگیں جدید ٹیکنالوجی‘ جیسے ڈرونز‘ میزائل اور جنگی جہازوں سے لڑی جاتی ہیں؛ چنانچہ اس غرض سے اوپر سے نیچے تک اخراجات کی ترجیحات اور خریداری کے عمل پر مؤثر نگرانی قائم کی جانی چاہیے۔ جن امور پر نظر ثانی کی ضرورت ہے ان میں افسران کی بڑھتی ہوئی تعداد کے مدنظر نئی پوسٹوں کا قیام‘ سینئر افسروں کے روٹین دوروں کے اخراجات اورمیٹنگز کے لیے ٹیکنالوجی اور ٹریننگ کا استعمال شامل ہے۔ وفاقی حکومت کے پنشن بجٹ کا تین چوتھائی فوجی اہلکاروں کی پنشن پر مشتمل ہے‘ اس وقت پندرہ لاکھ فوجی پنشنرز ہیں اور ہر سال تقریباً 35 ہزاراہلکار ریٹائر ہوتے ہیں۔ سپاہی اور بعض غیرجنگی عملہ (جیسے لیب اسٹنٹس‘ ریڈیالوجسٹس وغیرہ) چالیس سال کی عمر میں ریٹائر ہوجاتے ہیں۔ بہتر صحت اور غذا کی فراہمی کی مدد سے سپاہیوں کی مدتِ ملازمت میں پانچ سے چھ سال کا اضافہ ممکن ہے جبکہ غیر جنگی عملے کے لیے ریٹائر ہونے کی عمر اس سے بھی زیادہ کی جاسکتی ہے اور اس عملہ کے لیے بھی مناسب طور پر بنائی گئی شراکتی پنشن سکیم اختیار کی جائے۔مندرجہ ذیل اقدامات حکومتی ڈھانچہ میں بڑی اصلاحات کے لیے درکار وسیع تر سیاسی حمایت پیدا کریں گے:رہائش اور گاڑیوں کی مراعات کو پانچ سال میں نقد ادائیگی میں تبدیل کردیا جائے۔ اس مدت کے دوران سرکاری گاڑیاں1800سی سی سے زیادہ پاور کی نہ ہوں۔ ایک سے زیادہ گاڑی کے استعمال پر سخت سزائیں دی جائیں۔ سرکاری رہائش صرف ان دور دراز علاقوں تک محدود ہو جو قانون کے تحت متعین ہوں اور یہ رہائش بنگلوں کی بجائے اپارٹمنٹ کی شکل میں ہو۔ حکومت کے حجم میں کمی اور سرکاری رہائش کے لیے استعمال ہونے والی قیمتی تجارتی زمین کی فروخت سے جو بچت ہوگی وہ سرکاری ملازمین کو کیش میں ادائیگی اور ان کی تنخواہوں میں اضافہ کے لیے استعمال کی جاسکے گی۔ تمام اہم عہدوں پر تقرر کی غرض سے پارلیمان سے توثیق لازمی قرار دی جائے جیسے آڈیٹر جنرل‘ اٹارنی جنرل‘ چیف الیکشن کمشنر‘ الیکشن کمیشن کے ارکان‘ قومی احتساب بیورو کے چیئرمین‘ سٹیٹ بینک کے گورنر‘ وفاقی پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین‘ ٹیکس محتسب اور اسی نوعیت کے دیگر عہدے۔ تمام کابینہ کے ارکان‘ سیکرٹریز‘ ججوں اور اعلیٰ سول و فوجی افسران اور ان کے خاندانوں کے قریبی افراد (جیسے بیوی بچوں) کیلئے لازم ہو کہ وہ اپنے آمدنی کے ٹیکس گوشوارے اور اثاثہ جات کی تفصیلات عوام کے سامنے پیش کریں۔ وزرااور اعلیٰ سرکاری افسران کے ہوائی سفر کو محدود کیا جائے۔ وہ صرف ایسا فضائی سفر کریں جس کا دورانیہ فی پرواز سات گھنٹے تک کا ہو اور صرف اکانومی کلاس میں۔ سرکاری دوروں پر عوامی خزانے سے صرف پرنسپل سیکرٹری‘ وزارتِ خارجہ امور کا ایک نمائندہ اور وہ وزیر جس کی وزارت یا محکمہ ایجنڈے میں شامل ہو‘ کے سفر‘ قیام اور طعام کے اخراجات ادا کیے جائیں۔ دیگر تمام ہمراہ افراد بشمول صدر اور وزیراعظم کی اہلیہ اپنے اخراجات خود برداشت کریں۔ وزرایا مساوی عہدوں کیلئے بلٹ پروف گاڑیوں یا طیاروں‘ ہیلی کاپٹروں کے لیے مزید فنڈز مختص نہ کیے جائیں۔ صدر‘ وزیر اعظم اور وزرائے اعلیٰ کے سرکاری خرچ پر قائم کیمپ دفاتر ختم کیے جائیں۔ سکیورٹی انتظامات اس طرح کیے جائیں جو زیادہ نمایاں نہ ہوں اور ان کی وجہ سے ٹریفک میں کم سے کم خلل ہو۔ ایک گاڑی آگے‘ ایک پیچھے اور معاونت کے لیے جیمرز۔ جو افراد خوف کی بنیاد پر اضافی سکیورٹی چاہتے ہوں انہیں عوامی عہدہ نہیں رکھنا چاہیے۔ ہوائی اڈوں پر پروٹوکول کی مراعات کو صرف صدر‘ گورنرز‘ وزرائے اعلیٰ اور چیف جسٹس تک محدود کیا جائے۔ وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ کے صوابدیدی فنڈز اور ارکانِ پارلیمان کی ترقیاتی سکیموں کے فنڈز ختم کیے جائیں۔ زمین یا رہائشی‘ تجارتی پلاٹس مفت یا رعایتی نرخوں پر دینے والی تمام سکیمیں ختم کی جائیں۔ حج‘ عمرہ یا بیرونِ ملک علاج سرکاری خرچ پر نہ کیا جائے۔مرکزی ترقیاتی ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) اور اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی)کے تمام فیصلوں کے منٹس اور دستاویزات عوام کے لیے دستیاب ہونے چاہئیں‘ انہیں ویب سائٹ پر ڈال دیا جائے۔ حکومت جو قرض لیتی ہے اس کی حد کو ٹیکس سے ہونے والی آمدن کے فیصد کے طور پر مقرر کیا جائے۔ اس حد کی کسی بھی خلاف ورزی کے لیے پارلیمان سے اجازت لینا ضروری ہو۔ جب تک حکومتی قرضوں کی صورتحال بہتر نہ ہو یعنی ان میں کمی نہ آئے‘ عالمی اداروں سے (جیسے ورلڈ بینک‘ آئی ایم ایف وغیرہ) صرف رعایتی شرائط پر قرض لیا جائے۔ قرض کی اہم شرائط کی منظوری پارلیمان سے لی جائے۔ غیر ملکی حکومتوں سے دو طرفہ رعایتی قرضوں پر انحصار خودمختاری کو متاثر کرتا ہے۔آخر میں واضح چبھتا ہوا سوال یہ ہے کہ جو لوگ ریاست پر قابض ہیں اور موجودہ نظام سے فائدہ اٹھاتے ہیں‘ وہ اچانک اپنا راستہ کیوں بدلیں گے؟</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_78012569.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>اسلام آباد مذاکرات: امید اور خدشات(رشید صافی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-04-14/51766/68151687</link><pubDate>Tue, 14 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-04-14/51766/68151687</guid><description>امریکہ اور ایران کے مابین تقریباً نصف صدی پر محیط سخت کشیدگی اور سفارتی تعطل کے بعد خوشگوار اور تعمیری ماحول میں براہِ راست مذاکرات کا انعقاد بلاشبہ اس صدی کی اہم کامیابی قرار دی جا سکتی ہے۔ اسلام آباد کی میزبانی میں ہونے والی یہ طویل مذاکراتی نشست اگرچہ کسی حتمی نتیجے یا تحریری معاہدے پر پہنچنے سے پہلے ہی اختتام پذیر ہو گئی اور فریقین اپنے اپنے ملکوں کو لوٹ گئے تاہم ان مذاکرات نے ایک ایسے پائیدار سفارتی فریم ورک کی بنیاد رکھ دی ہے جس کی مثال ماضی قریب میں نہیں ملتی۔ اسلام آباد مذاکرات کی اہمیت کا اندازہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے اُن الفاظ سے لگایا جا سکتا ہے جو انہوں نے اسلام آباد سے رخصت ہونے سے قبل میڈیا سے گفتگو میں کہے تھے۔ جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں جو بھی کمی رہی وہ پاکستانیوں کی وجہ سے نہیں۔ انہوں نے پاکستانی حکام کی کاوشوں کو شاندار قرار دیتے ہوئے تسلیم کیا کہ پاکستان نے تہران اور واشنگٹن کے مابین حائل خلیج کو کم کرنے کیلئے واقعی خلوصِ نیت سے کام کیا۔ امریکی نائب صدر کا یہ کہنا کہ ہم 21گھنٹے سے یہاں ہیں اور ایرانیوں کے ساتھ ٹھوس بات چیت ہوئی‘ اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والی گفتگو محض رسمی نہیں بلکہ نہایت سنجیدہ اور معنی خیز تھی۔جے ڈی وینس نے جہاں مذاکرات کی میز سجنے کو اچھی خبر قرار دیا‘ وہیں کسی حتمی معاہدے تک نہ پہنچ پانے کو ایک برُی خبر سے تعبیر کیا۔ ان کے بقول یہ ناکامی ایران کیلئے امریکہ سے کہیں زیادہ بری خبر ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آخر ایرانی وفد نے کس بات کو مسترد کیا تو انہوں نے جزئیات میں جانے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو ایران سے اس بات کا اٹل اور واضح عہد چاہیے کہ وہ نہ صرف ابھی بلکہ مستقبل میں بھی کبھی ایٹمی ہتھیار نہیں بنائے گا اور نہ ہی ایسی ٹیکنالوجی حاصل کرے گا جو فوری طور پر ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری میں معاون ثابت ہو۔ واشنگٹن یہ ضمانت صرف چند سال کیلئے نہیں بلکہ طویل مدت کیلئے مانگ رہا ہے۔ امریکی نائب صدر نے &#39;&#39;ابھی تک‘‘ کے الفاظ استعمال کیے۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ سفارتکاری کی بساط ابھی الٹی نہیں یعنی مستقبل قریب میں کسی نتیجے پر پہنچا جا سکتا ہے۔ امریکی نائب صدر کی گفتگو کا نہایت اہم پہلو پاکستان سے متعلق بھرپور عزت و احترام تھا۔ انہوں نے پاکستان کو شاندار میزبان قرار دے کر یہ واضح کر دیا کہ واشنگٹن پاکستان کے ثالثی کردار سے نہ صرف مطمئن ہے بلکہ اسے قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ سفارتی زبان میں یہ اس بات کا برملا اعلان ہے کہ مستقبل میں جب کبھی امریکہ کو ایران کے ساتھ کسی مکالمے کی ضرورت پڑے گی تو وہ اسلام آباد ہی کے راستے سے آئے گا۔مذاکرات کے بعد توقع ہوتی ہے کہ فریقین مشترکہ اعلامیہ جاری کریں گے یا کم از کم جن نکات پر اتفاقِ رائے ہوا ہے اس پر یکساںمؤقف کا اظہار ہو گا لیکن امریکی اور ایرانی وفود کی جو گفتگو سامنے آئی اس میں تضاد تھا جس نے مبصرین کو الجھن میں ڈال دیا۔ تاہم اب جیسے جیسے تفصیلات سامنے آ رہی ہیں تو ابہام ختم ہوتا جا رہا ہے۔ مذاکرات کے دوران صحافتی برادری اور عالمی مبصرین مسلسل بیدار رہ کر کسی بڑی خبر کی تلاش میں تھے مگر یہ قرین قیاس تھا کہ فریقین اپنے باہمی تحفظات کا اظہار پاکستان کی سرزمین پر کرنے سے گریز کریں گے تاکہ میزبان ملک کی سفارتی کوششوں کو زک نہ پہنچے۔ اب جبکہ دونوں وفود اپنے اپنے ممالک میں موجود ہیں تو مذاکراتی کمرے کے اندر ہونے والی سرگرمیوں کی کچھ تفصیلات سامنے آ رہی ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں اس تلخ حقیقت سے پردہ اٹھایا کہ وہ حتمی معاہدے سے محض چند انچ کے فاصلے پر تھے‘ مگر عین وقت پر امریکہ کی جانب سے زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کی بے تابی آڑے آ گئی۔ ایرانی مؤقف کے مطابق واشنگٹن کا غیر لچکدار اور سخت رویہ حتمی دستخطوں کی راہ میں رکاوٹ بن گیا۔ یہ دراصل مذاکرات کاروں کا اصل امتحان تھا جہاں ہر فریق کی کوشش تھی کہ وہ زیادہ سے زیادہ رعایتیں حاصل کرے تاکہ اپنے عوام کے سامنے سرخرو ہو سکے۔ یہی وہ بنیادی عامل تھا جس نے قلم کو کاغذ پر چلنے سے روکے رکھا۔امریکہ اور ایران کے مابین حتمی معاہدہ نہ ہونے کے بعد یہ امر زیر بحث ہے کہ اب کیا ہو گا؟ تقریباً 40 روز پر محیط حالیہ جنگ و جدل نے فریقین کو ایک دوسرے کی عسکری و معاشی کمزوریوں سے بخوبی آگاہ کر دیا ہے۔ اب یہ حقیقت دونوں پر واضح ہو چکی کہ جنگ کے تسلسل کی صورت میں نہ صرف وہ خود بلکہ دنیا کے اکثر ممالک متاثر ہوں گے۔ عالمی دباؤ اور خطے کی صورتحال کے پیش نظر یہ توقع کی جا رہی تھی کہ امریکہ لچک کا مظاہرہ کرے گا کیونکہ دنیا کے ایک بڑے حصے کا یہ ماننا ہے کہ خطے کو موجودہ جنگ کی ہولناکیوں میں امریکہ ہی نے جھونکا ہے۔ دوسری جانب اسرائیل کا اپنا ایجنڈا ہے‘ وہ کبھی نہیں چاہے گا کہ اس کے سر سے امریکی عسکری چھتری ہٹے یا تہران اور واشنگٹن کے تعلقات میں کوئی ایسی گرمجوشی آئے جو اس کے مفادات کے منافی ہو۔ پاکستان کیلئے خوش آئند امر یہ ہے کہ دونوں فریق ہم سے خوش ہیں۔ پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے سوشل میڈیا پر پیغام میںکہا کہ اسلام آباد مذاکرات محض ایک ایونٹ نہیں بلکہ مسلسل عمل ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جس کی تائید معروف امریکی جریدے وال سٹریٹ جرنل نے بھی کی ہے۔ جریدے کے مطابق امریکہ اور ایران کے مابین سفارتکاری کے دروازے ابھی بند نہیں ہوئے بلکہ چند ہی روز بعد بات چیت کا ایک اور دور متوقع ہے کیونکہ علاقائی ممالک دوبارہ فعال ہو چکے ہیں۔ فریقین اگرچہ کسی حتمی معاہدے پر نہیں پہنچ سکے تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ہونے والے امریکہ ایران مذاکرات کیلئے پاکستانی قیادت کی تعریف کی ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ مذاکرات وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی مؤثر قیادت کے ذریعے ممکن ہوئے۔ اس کا واضح مطلب ہے کہ ضرورت پڑنے پر امریکی صدر مذاکرات کیلئے اسلام آباد کا ہی انتخاب کریں گے۔ البتہ امریکی صدر کے حالیہ بیان کے بعد ایک بار پھر جنگ کے خطرات منڈلانے لگے ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کی مکمل ناکہ بندی کا اعلان کیا ہے۔ صدر ٹرمپ کا یہ مؤقف کہ امریکی نیوی فوری طور پر ناکہ بندی کرے گی اور جو بھی جہازوں پر فائرنگ کرے گا اسے تباہ کر دیا جائے گا‘ یہ عالمی امن کیلئے ایک نئی دھمکی ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ وہ آبنائے ہرمز میں بچھی بارودی سرنگوں کو تباہ کریں گے اور دیگر ممالک کو بھی اس ناکہ بندی میں شامل کریں گے‘ ایک انتہائی خطرناک اقدام ہے۔ اس کا براہِ راست مطلب یہ ہے کہ عارضی جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کھلنے سے عالمی منڈی کو جو ریلیف ملنا شروع ہوا تھا اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں جو معمولی کمی آئی تھی‘ وہ دوبارہ ایک بڑے اضافے میں بدل سکتی ہے۔ امریکی صدر کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا اعلان ان کے اپنے اس دیرینہ مؤقف سے انحراف ہے جس میں وہ مسلسل عالمی تجارت کے تسلسل اور اس اہم گزرگاہ کو کھلا رکھنے پر زور دیتے رہے ہیں۔ اگر اس جارحانہ بیان کو عملی جامہ پہنایا گیا تو عالمی معیشت پہلے سے کہیں زیادہ سنگین بحران کا شکار ہو جائے گی۔ ایک طرف مصالحت اور دوسری طرف عالمی تجارت کی اس شہ رگ کو مسدود کرنے کی دھمکی دینا سفارتی آداب اور منطق دونوں کے منافی ہے۔ اس سے قبل کہ جنگ کی یہ چنگاریاں پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیںعالمی قوتوں کو چاہیے کہ وہ پاکستان کی امن دشمن کوششوں کا ساتھ دیں اور اس بحران کو ٹالنے کیلئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/222_48272610.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>گاہے گاہے باز خواں!… (3)(حافظ محمد ادریس)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/hafiz-muhammad-idreess/2026-04-14/51767/33103888</link><pubDate>Tue, 14 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/hafiz-muhammad-idreess/2026-04-14/51767/33103888</guid><description>اگست 1969ء میں ڈھاکہ یونیورسٹی میں طالبعلم رہنما عبدالمالک کی شہادت پر جمعیت طلبہ نے ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے کیے اور شہید کی غائبانہ نمازِ جنازہ ملک بھر میں پڑھی گئی۔ لاہور میں 17 اگست 1969ء کو اتوار کے دن مولانا مودودیؒ کے درسِ قرآن (مبارک مسجد) کے بعد طے شدہ پروگرام کے مطابق ناصر باغ میں غائبانہ نمازِ جنازہ ادا کی گئی۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ ہماری درخواست پر میاں طفیل محمد صاحب نے نمازِ جنازہ پڑھائی تھی۔ نمازِ جنازہ کے بعد بطور ناظم لاہور جمعیت میں نے اور کئی دیگر مقررین نے عبدالمالک شہید کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ چند ایام کے بعد بوقت عصر مرکز جمعیت‘ سعید منزل کی چھت پر ایک تعزیتی جلسہ منعقد ہوا۔ اس جلسے سے راقم الحروف اور اس وقت کے ناظم مشرقی پاکستان برادرم مطیع الرحمن نظامی (شہید) نے خطاب کیا۔ یہ جلسہ 20 یا 21 اگست کو منعقد ہوا تھا۔ اس جلسے میں کی جانے والی تقریر کی بنیاد پر مجھے ستمبر کے وسط میں وولنر ہاسٹل سے عجیب ڈرامائی انداز میں گرفتار کیا گیا۔میں اُن دنوں ایم اے عربی کا امتحان دے رہا تھا اور ہمارے بزرگ ساتھی محترم (پروفیسر) نصیر الدین ہمایوں بھی ایکسٹرنل طالبعلم کے طور پر اسی سال ایم اے کا امتحان دینے پاکپتن سے لاہور آئے ہوئے تھے۔ وہ ہاسٹل میں میرے پاس رہ رہے تھے۔ میری گرفتاری کے وقت وہ میرے کمرے میں موجود تھے۔ یہ گرفتاری نہایت دلچسپ اور سنسنی خیز تھی۔ مختصراً یہ کہ ایک اجنبی شخص میرے کمرے میں آیا اور دعا سلام کے بعد کہا کہ حافظ ادریس صاحب! مجھے آپ کے پاس بابو غلام علی صاحب نے بھیجا ہے۔ میری بچی کا یونیورسٹی میں ایک مسئلہ ہے‘ وہ باہر سڑک پر کھڑی ہے۔ مسئلے کی تفصیل وہی بتا سکتی ہے۔ بابو صاحب نے کہا کہ حافظ ادریس میرا عزیز اور وہاں طلبہ کا لیڈر ہے‘ اس سے جا کر ملو۔ میں نے کہا: بچی کو ساتھ لے آئیں‘ میں بات سن لوں گا۔ اگر میرے لیے ممکن ہوا تو میں کام کرا دوں گا ورنہ آپ کو رہنمائی اور مشورہ دے دوں گا۔ وہ کہنے لگا کہ وہ دونوں ماں بیٹی پردہ دار خواتین ہیں‘ ہاسٹل میں آنا ان کے لیے ممکن نہیں۔ آپ مہربانی فرمائیں‘ میرے ساتھ چلیں اور بچی کی بات سن لیں۔بابو غلام علی صاحب جن کا حوالہ دیا گیا تھا‘ ہمارے گائوں کے بزرگ رہائشی‘ ریلوے سے ریٹائرڈ ایک سٹیشن ماسٹر تھے اور دور کے رشتے میں میرے والد صاحب کے ماموں لگتے تھے۔ میں اُس شخص کے ساتھ چل پڑا۔ جونہی ہاسٹل کے بیرونی دروازے سے باہر آیا تو سڑک پر دونوں جانب مغرب اور مشرق میں پولیس کے جوان اور افسران اپنی گاڑیوں سمیت گھیرا ڈالے ہوئے چاق وچوبند کھڑے تھے۔ میں نے اس اجنبی سے کہا: جھوٹے بدبخت! جو ڈرامہ تُو نے رچایا اس کی کیا ضرورت تھی۔ مجھے وارنٹ دکھاتے تو میں خود کو گرفتاری کیلئے بغیر کسی حیل وحجت کے پیش کر دیتا۔ اس نے آہستگی سے معذرت کرتے ہوئے کہا: جناب! برا نہ منائیں‘ میں معافی چاہتا ہوں۔ یہ میری پیشہ ورانہ ذمہ داری اور مجبوری ہے۔گرفتاری کے بعد مجھے نئی انارکلی تھانے لے جایا گیا۔ مجھے گرفتار کرنے کیلئے پتا نہیں کیوں بہت بڑی گارد اور کئی گاڑیاں آئی تھیں۔ مجھے اس گرفتاری کے وقت کسی قسم کا ڈر نہیں تھا۔ مجھے صرف اپنے امتحان کی فکر تھی جس کے دو پرچے ہو چکے تھے اور پانچ باقی تھے۔ اگلی صبح تیسرا پرچہ تھا۔ اس بات کا افسوس تھا کہ میں اپنی کتب اور کاپیاں ساتھ نہ لا سکا۔ نئی انارکلی تھانے میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس غلام محمد خان نیازی بڑی خندہ پیشانی سے ملے اور میری گرفتاری کی وجہ (تقریر) پر بڑا افسوس کرتے رہے۔ میں نے محسوس کیا کہ موصوف محکمہ پولیس کے ان چند افسران میں سے تھے جن کے اندر انسانی شرافت اور اعلیٰ اخلاقی اقدار موجود تھیں۔میری گرفتاری کے واقعہ سے چند روز قبل اسلامیہ کالج سول لائنز کے سات آٹھ طلبہ گرفتار ہوئے تھے۔ یہ بی اے کا امتحان دینے والے وہ طلبہ تھے جو ایک مشکل پرچے (غالباً معاشیات) سے واک آئوٹ کر گئے تھے اور امتحانی مرکز (بخاری آڈیٹوریم گورنمنٹ کالج لاہور) کے شیشے توڑنے کے مرتکب بھی ہوئے تھے۔ انہیں گرفتاری کے بعد جیل میں باقی ماندہ پرچے دینے کی اجازت نہیں ملی تھی حالانکہ ان کے والدین نے کافی بھاگ دوڑ کی تھی اور یہ دلیل بھی دی تھی کہ مذکورہ پرچے کے کئی سوالات آئوٹ آف کورس تھے۔ مجھے بھی یہی خدشہ لاحق تھا کہ میرے باقی ماندہ پرچے نہیں ہو سکیں گے اور میری محنت کے دو قیمتی سال ضائع ہو جائیں گے۔جنرل امیر عبداللہ خان نیازی (ڈھاکہ والے) اُس دور میں صوبہ پنجاب کے مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر تھے۔ جونہی میری گرفتاری کی خبر سینہ بہ سینہ شہر میں پھیلی‘ حوالات میں ملنے کیلئے آنے والے احباب کا تانتا بندھ گیا۔ بارک اللہ خاں بھی ملنے کیلئے تشریف لائے اور وعدہ کیا کہ امتحان کی اجازت ہر حال میں حاصل کر لیں گے۔ اورینٹل کالج کے پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر محمد باقر صاحب کا پیغام بھی ملا کہ وہ اس مسئلے پر خاصی تگ و دو کر رہے ہیں۔ پرچہ صبح آٹھ بجے سے 11 بجے تک ہوا کرتا تھا۔ اگلے روز طلبہ اور شہریوں کا ایک وفد اس موضوع پر جنرل نیازی سے ملنے ان کے دفتر گیا۔ کیس چونکہ مارشل لاء کے تحت تھا اس لیے فیصلہ بھی وہیں سے ہونا تھا۔ دس بج گئے اور کوئی امید کی کرن نظر نہ آئی۔ مجھے اس وقت ایک ایک لمحہ پہاڑ لگ رہا تھا اور میں بیم ورجا کے عالم میں تلاوتِ قرآن اور درود شریف سے دل کی اداسی دور کرنے میں مشغول تھا۔ میں چونکہ بی اے میں گولڈ میڈلسٹ تھا اس لیے نیازی صاحب سے ملنے والے وفد نے اسی پہلو پر زور دیا کہ ایک ہونہار اور گولڈ میڈلسٹ طالبعلم کے مستقبل کا مسئلہ ہے۔ جنرل نیازی نے پہلے تو اپنے مخصوص آمرانہ لہجے میں کہا &#39;&#39;امتحان اور مستقبل کو بھول جائو‘ تمہیں معلوم نہیں ہے کہ ملک میں مارشل لاء لگا ہوا ہے اور ایک طالبعلم کی کیا حیثیت ہے کہ وہ حکومت کے خلاف تقریریں کرتا پھرتا ہے‘‘۔ بارک اللہ خاں اور محمد یوسف خاں نے دانش وحکمت کے ساتھ نیازی صاحب سے مزید گفتگو کے نتیجے میں ان کو کسی حد تک نرم کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ اس پر جنرل صاحب نے کہا: مجھے زبانی اور تحریری بھی حلف دو کہ وہ گولڈ میڈلسٹ ہے اور اگر یہ ثابت ہوا کہ تمہارا دعویٰ غلط ہے تو اس کا خمیازہ کسی اور کو نہیں‘ تم دونوں کو بھگتنا پڑے گا۔ چنانچہ حلف دیا گیا اور اس کے بعد نیازی صاحب نے اپنے معاون (اے ڈی سی) سے کہا کہ وی سی پنجاب کے نام آرڈر لکھو کہ اس طالبعلم کے امتحان کا اہتمام اسیری کی حالت میں کیا جائے۔ ساڑھے دس‘ گیارہ بجے کے قریب شعبہ فارسی کے استاد پروفیسر غلام جیلانی صاحب تھانے میں تشریف لائے اور سربمہر لفافے میں سے پولیس سپرنٹنڈنٹ صاحب کی موجودگی میں امتحانی پرچہ نکالا۔ پولیس کپتان کا دفتر امتحانی سنٹر قرار پایا اور جیلانی صاحب میرے سپرنٹنڈنٹ۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا۔ اس پرچے کے بعد میرے باقی کے پرچے امتحانی شیڈول کے مطابق جیلانی صاحب نے کیمپ جیل میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل کے آفس میں لیے۔اس امتحان کا نتیجہ میری رہائی کے ڈیڑھ دو ماہ بعد آیا۔ اس میں اللہ کے فضل سے میں نے یونیورسٹی میں اول پوزیشن حاصل کی اور ایم اے میں بھی گولڈ میڈل کا مستحق ٹھہرا۔ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ پروفیسر جیلانی صاحب میری گرفتاری پر بہت افسردہ اور پریشان تھے۔ مجھ سے ملے تو یوں جیسے کوئی باپ اپنے بیٹے کی گرفتاری پر پریشان ہو مگر مجھے ہشاش بشاش دیکھ کر ان کو اطمینان ہو گیا۔ وہ ایک طویل قامت بزرگ علمی شخصیت تھے جو جناح کیپ اور شیروانی میں ملبوس ہوا کرتے تھے۔ میں نے عرض کیا: سر! اب کوئی پریشانی نہیں۔ مجھے اگر فکر تھی تو اپنے امتحان کی‘ اس کے علاوہ کوئی مسئلہ نہیں۔ اس پر پروفیسر صاحب نے خوشی کا اظہار کیا اور مجھے دعائیں بھی دیں۔ میں بھی ہمیشہ مرحوم کے درجات کی بلندی کیلئے دعاگو رہتا ہوں۔ (جاری)</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_24721193.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>