<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>امن اور مذاکرات ناگزیر(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-30/11319</link><pubDate>Tue, 30 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-30/11319</guid><description>گزشتہ ہفتے سوئٹزرلینڈ میں امریکہ اور ایران کے مذاکرات کے بعد فریقین میں مفاہمتی یادداشت کے نکات کے مطابق تکنیکی مذاکرات جاری رہنے کی امید کی جا رہی تھی۔ اس پیش رفت کو عالمی پذیرائی حاصل ہوئی اور معاشی اشاریوں پر اس کے مثبت اثرات سامنے آئے۔ تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئی اور یہ جنگ سے پہلے کی سطح پر پہنچ گئیں‘ مشرق وسطیٰ کے ممالک میں سفارتی رابطوں کی بحالی کے سلسلے میں بھی تیزی دیکھنے میں آئی اور تہران‘ یو اے ای میں یکم جولائی سے پروازوں کی بحالی کی خوشخبری بھی اس میں شامل تھی۔ مشرق وسطیٰ کیلئے یہ غیر معمولی اور نہایت خوشگوار تبدیلیاں امریکہ ایران جنگ بندی اور امن کی بحالی کا پہلا براہِ راست نتیجہ تھا جس پر دنیا نے سکھ کا سانس لیا۔ مگر پچھلے دو روز میں امریکہ اور ایران میں ایک بار پھر مسلح حملے اور جوابی حملے اس پُرامید صورتحال میں مایوسی کا سبب بنے اور امن کاوشوں کا مستقبل خطرے میں محسوس ہونے لگا۔ مگر خیریت گزری کہ اس پنجہ آزمائی نے زیادہ طول نہیں پکڑا اور گزشتہ روز صدر ٹرمپ کی جانب سے یہ بیان سامنے آیا کہ فریقین آج (منگل کے روز) دوحہ میں ملاقات کریں گے۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے بھی اسکی تصدیق کی گئی ہے کہ ایران کے ساتھ تکنیکی مذاکرات کیلئے سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر دوحہ جا رہے ہیں۔ یہ خوش آئند پیش رفت ہے اور امن عمل کو آگے بڑھانے کا یقینی راستہ یہی ہے کہ فریقین مذاکراتی سلسلے کو معطل نہ ہونے دیں۔ فریقین میں تین ماہ سے جاری سفارتی عمل کے باوجود بے یقینی اور بداعتمادی کا ایک کوہِ گراں ہے جسے سر کرنا ہے‘ اس صورتحال میں ملاقاتوں کا سلسلہ طرفین کو اپنے تحفظات کو پیش کرنے اور ان کا ازالہ کرنے کا بہتر موقع فراہم کر سکتا ہے؛ چنانچہ امریکہ اور ایران کو مفاہمتی یادداشت کے مطابق طے شدہ نکات پر گفت وشنید کیلئے ملاقاتوں کا سلسلہ کسی صورت معطل نہیں ہونے دینا چاہیے۔ اگرچہ فریقین کو ایک دوسرے سے کئی شکایات ہیں‘ یہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی ہیں اور لبنان میں جنگ بندی اور اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا کے حوالے سے بھی‘ تاہم فریقین کو یقینی بنانا ہوگا کہ یہ مسائل قیام امن کیلئے مہینوں کی محنت کو سبوتاژ نہ ہونے دیں۔ اس میں شک نہیں کہ اسرائیل کو یہ پیش رفت گوارا نہیں اور اس کی جانب سے بار بار ایسی حرکتیں نوٹ کی جا رہی ہیں کہ یہ امن عمل پٹری سے اتر جائے‘ کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں امن اور عرب ممالک‘ ایران اور امریکہ میں اعتماد کی صورتحال صہیونی ریاست کے گھناؤنے عزائم کیلئے رکاوٹ بن سکتی ہے ؛ چنانچہ اسرائیل ہر صورت میں چاہے گا کہ کسی نہ کسی طرح ایسے حالات پیدا ہوتے رہیں کہ ایران ‘ امریکہ اور عرب ممالک اس کشیدگی میں پھنسے رہیں۔
مگر دانشمندی اسی میں ہے کہ ان حالات میں ہر اس اقدام سے اجتناب برتا جائے جوا سرائیل کے فاسد عزائم کو پروان چڑھانے میں مدد کرے۔ امریکہ اور ایران میں کشیدگی کا پھیلاؤ بھی ان میں سے ایک ہے۔ یہ تو اس صورتحال کا علاقائی تناظر ہے‘ عالمی تناظر یہ ہے کہ دنیا کی معیشت کو مشرقِ وسطیٰ سے گہرا تعلق ہے۔ یہ خطہ توانائی کے وسائل ہی کا حامل نہیں‘ دنیا میں دولت کا بہت بڑا مرکز اور معدنی وسائل کی پیداوار کے حوالے سے بھی دنیا کا خاصا انحصار اسی خطے پر ہے۔ جنگ کی وجہ سے آبنائے ہرمز کی بندش اور خطے میں سکیورٹی کے عمومی خدشات کی وجہ سے تیل اور دیگر مصنوعات کی قیمتوں میں جو اضافہ ہوا اس نے دنیا کو اونچے درجے کی مہنگائی اور کئی طرح کی الجھنوں سے دوچار کیا۔ یہ مسائل خود امریکہ کے لیے بھی شدید تر تھے حالانکہ بقول صدر ٹرمپ اب امریکہ کو مشرقِ وسطیٰ کے تیل کی ضرورت نہیں۔ اس صورتحال میں خلیج فارس میں پائیدار امن کا قیام مزید اہم ہو جاتا ہے اور اس معاملے کو منطقی انجام کی طرف لے جانے کے لیے امریکہ اور ایران کلیدی ذمہ دار ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ کون کتنے خلوص‘ تحمل اور وسعت قلبی کا مظاہرہ کرتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پی آئی اے کی بحالی؟(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-30/11318</link><pubDate>Tue, 30 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-30/11318</guid><description>گزشتہ روز حکومت نے پی آئی اے کا انتظامی اختیار باضابطہ طور پر چھ کمپنیوں پر مشتمل کنسورشیم کے حوالے کر دیا ہے۔ حکومت کی جانب سے گزشتہ کئی برسوں سے یہ مؤقف اختیار کیا جاتا رہا کہ پی آئی اے مسلسل خسارے کا شکار ہے‘ قومی خزانے پر بوجھ بن چکی ہے اور اس کا واحد قابلِ عمل حل نجکاری ہے۔ اب جبکہ یہ مرحلہ طے پا چکا تو دیکھنا یہ ہے کہ نئی انتظامیہ اس ادارے کوکس حد تک دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کر پاتی ہے۔ پی آئی اے ماضی میں دنیا کی نمبر وَن ایئر لائن رہنے کا اعزاز حاصل کر چکی ہے اور پھر سے دنیا کی بہترین فضائی کمپنی بننے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

نئی انتظامیہ نے سرمایہ کاری‘ بیڑے کی توسیع‘ کمپنی کو جدید خطوط پر استوار کرنے‘ ڈیجیٹائزیشن اور خدمات کے معیار میں بہتری کا عزم کیا ہے‘ لیکن اعلانات ہی کافی نہیں ان وعدوں کو عملی اقدامات میں ڈھالنا بھی ہو گا۔ اگر اعلان کردہ سرمایہ کاری جہازوں کی جدت‘ نئے منافع بخش روٹس‘ ڈیجیٹل نظام‘ پابندیٔ وقت ‘ اعلیٰ معیار کی کسٹمر سروس اور میرٹ پر مبنی انتظامی اصلاحات پر صرف کی جاتی ہے تو پی آئی اے کو دوبارہ خطے کی ممتاز فضائی کمپنی بننے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ عالمی فضائی صنعت میں مقابلہ یقینا سخت ہے لیکن درست حکمتِ عملی‘ پیشہ ورانہ قیادت اور مسلسل سرمایہ کاری کے ذریعے پی آئی اے ایک مرتبہ پھر دنیا بھر میں پاکستان کی پہچان بن سکتی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>جھیلیں پھٹنے کا خطرہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-30/11317</link><pubDate>Tue, 30 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-30/11317</guid><description>این ڈی ایم اے نے تین جولائی تک ملک میں وقفے وقفے سے پری مون سون بارشوں اور شمالی علاقوں میں گلیشیرز کے تیز پگھلاؤ کے باعث گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے‘ سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے  درجہ حرارت میں اضافے کے باعث ہندوکش‘ قراقرم اور ہمالیہ کے گلیشیرز تیزی سے پگھل رہے ہیں جس کے نتیجے میں گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا میں تین ہزار سے زائد گلیشیائی جھیلیں وجود میں آ چکی ہیں۔ حکومت نے گزشتہ برس سے ان میں سے 33 جھیلوں کو انتہائی خطرناک قرار دیا تھا جوکسی بھی وقت پھٹ کر فلیش فلڈ اور لینڈ سلائیڈنگ کا سبب بن سکتی ہیں۔

اس صورتحال میں وقتی اقدامات کے طور پر حساس علاقوں کی مسلسل نگرانی‘ جدید ابتدائی وارننگ سسٹم‘ انخلا کے واضح منصوبے‘ ریسکیو اداروں کی مکمل تیاری‘ سڑکوں کی بروقت بحالی کیلئے مشینری کی پیشگی دستیابی اور سیاحوں کی آمدورفت پر مؤثر نگرانی ناگزیر ہے۔ طویل مدتی بنیادوں پر حکومت کو گلیشیائی جھیلوں کی مسلسل مانیٹرنگ‘ مزید موسمیاتی نگرانی کے مراکز‘ حفاظتی انجینئرنگ ڈھانچوں‘ نکاسی آب کے نظام‘ شجرکاری اور مقامی آبادی کی استعداد کار بڑھانے پر سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے وقتی ردِعمل کے بجائے مستقل‘ سائنسی اور دور رس حکمت عملی اختیار کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بجٹ، ڈھابہ اور بچہ(محمد اظہارالحق)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-06-30/52207/59075152</link><pubDate>Tue, 30 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-06-30/52207/59075152</guid><description>اچھی کہیں یا برُی‘ اپنی ایک عادت کا اعتراف مجھے کرنا چاہیے کہ جب کسی بیانیہ کا ایک بار قائل ہو جاتا ہوں تو پھر اُس بیانیہ کو ہر پاکستانی تک پہنچانا اپنا فرض سمجھتا ہوں۔حالیہ بجٹ پر بہت غور کیا۔ چونکہ سمجھ بوجھ کی کمی ہے اس لیے عام آدمی کے لیے ریلیف نہیں نظر آیا۔ سرکاری ملازموں کی تنخواہیں بڑھیں مگر اونٹ کے منہ میں زیرے جیسی۔ ان کے مقابلے میں منتخب اداروں کے ارکان‘ وزرا اور مشیران کرام بادشاہوں جیسی زندگی گزار رہے تھے۔ سب سے بڑا بیرو میٹر یہ تھا کہ ہمارے حکومتی ارکان اور اہلِ سیاست بشمول اپوزیشن‘ کبھی کسی بازار میں سودا سلف لیتے نظر نہیں آتے۔ اس کے برعکس‘ مغربی ملکوں میں حکمران اور اپوزیشن ارکان بازاروں‘ ٹرینوں‘ بسوں‘ ریستورانوں میں عوام کے ساتھ کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ انہیں آٹے دال کا بھاؤ براہِ راست معلوم ہوتا ہے۔ بجٹ سے مایوس ہو کر ایک دوست کے پاس گیا۔ وہ انتہا درجے کا رجائیت پسند ہے۔ اس نے ایک ہی دلیل دی اور میری ساری دانشوری اور معیشت دانی ڈھیر ہو کر رہ گئی۔ اس کی دلیل یہ تھی کہ جب عمائدینِ حکومت بجٹ کی تعریف کر رہے ہیں تو بجٹ یقینا لاجواب ہو گا۔ جو معززین بڑی بڑی تنخواہیں لے رہے ہیں‘ بڑے بڑے دفتروں میں تشریف فرما ہیں‘ آئے دن بیرونی دورے کرتے ہیں‘ پٹرول‘ رہائش‘ بجلی‘ گیس سرکار سے لیتے ہیں ان سے زیادہ عوام کا ہمدرد کون ہو سکتا ہے۔ اپنے دوست کی یہ بات مجھے منطقی لگی۔ میں نے حکومت کے عمائدین کی آراء کا مطالعہ کیا۔ وزیروں اور مشیروں نے پانچواں زبردست بجٹ پیش کرنے پر وزیراعظم کو مبارکباد دی تھی اور کہا تھا کہ معاشی بہتری کے ثمرات عام آدمی تک پہنچانے کا وقت آ گیا ہے اور یہ کہ تنخواہ دار طبقے پر بوجھ کم کرنے اور صنعتی اور زرعی ترقی سے عام آدمی کے لیے اب آسانیاں ہوں گی‘ اور یہ کہ اس بے مثال فلاحی بجٹ سے ہر طبقہ معاشی ترقی میں شامل ہو گا۔ یہ بیانیہ میرے دل کو بھایا۔ جیسا کہ میں نے اوپر بتایا ہے جب کسی بیانیہ کا میں ایک بار قائل ہو جاتا ہوں تو پھر اُس بیانیہ کو ہر پاکستانی تک پہنچانا اپنا فرض سمجھتا ہوں۔ اس نیک عزم کے ساتھ میں گھر سے نکل پڑا۔اس کارِخیر کا آغاز میں نے اپنے محلّے سے کیا۔ اُس ڈھابے کا رخ کیا جہاں چائے پیتا ہوں اور کبھی کبھی کھانا کھاتا ہوں۔ بینچ پر بیٹھ کر چائے کا آرڈر دیا۔ سامنے ڈھابے کا &#39;کچن‘ نظر آ رہا تھا۔ تیرہ چودہ برس کا ایک سرخ وسفید بچہ اپنے سے بہت بڑا پتیلا مانجھ رہا تھا جسے وہ دونوں ہاتھوں سے بمشکل اٹھا سکتا تھا۔ میرے دیکھتے دیکھتے‘ ڈھابے کا مالک اس کے پاس آیا‘ اس سے کو ئی بات کی‘ پھر اچانک اس کے منہ پر طمانچہ رسید کر دیا۔ میں سوچ رہا تھا کہ اب بچہ رونا شروع کر دے گا مگر رونے کے بجائے اس نے ہاتھ تیزی سے چلانے شروع کر دیے اور برتن دھونے کے بعد بینچوں اور لکڑی کی شکستہ کرسیوں پر بیٹھے گاہکوں سے آرڈر لینے لگ گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد وہی مجھے چائے دینے آیا۔ میں نے کہا: پانچ منٹ بیٹھو ایک ضروری بات کرنی ہے۔ کہنے لگا: بیٹھا تو ڈھابے کا مالک میری چمڑی ادھیڑ دے گا‘ اس وقت ڈیوٹی پر ہوں‘ شام دس بجے فارغ ہوں گا۔ میں نے کہا: ڈیوٹی سے فارغ ہو کر تو تم گھر چلے جاؤ گے۔ اس پر وہ ایک اداس‘ دل میں نشتر چبھونے والی ہنسی ہنسا۔&#39;&#39;کون سا گھر؟ میں رات کو یہیں سوتا ہوں‘‘۔ اس نے ایک گودام نما کمرے کی طرف اشارہ کیا جو کمرہ کم اور چھپر زیادہ لگ رہا تھا۔ مجھے دھچکا سا لگا۔ پوچھا: کیا تم کمرے میں اکیلے سوتے ہو؟ کہنے لگا: نہیں! دو اور ڈشکرے بھی اسی کمرے میں سوتے ہیں۔ ایک روٹیاں پکانے والا ہے‘ دوسرا سالن اور چائے پکانے والا! بہت کچھ سوچتے ہوئے میں واپس چلا گیا۔ رات دس بجے وہ بینچ پر بیٹھا میرا منتظر تھا۔ میں نے اسے بتایا کہ وہ اس ملک کا شہری ہے اور نئے بجٹ کے بارے میں اس کی رائے جاننا میرے لیے بہت اہم ہے۔ لیکن اس سے پہلے وہ اپنے بارے میں کچھ بتائے‘ اس نے بتایا کہ اس کا گاؤں بالائی کوہستان کے ضلع میں واقع ہے۔ وہ آٹھ بھائی ہیں۔ کچھ مدرسوں میں پڑھتے ہیں اور کچھ دکانوں اور ریستورانوں میں کام کرتے ہیں۔ دو بہنیں تھیں۔ ایک کو ابا نے قتل کر دیا۔ شادی کی ایک تقریب میں وہ اپنے کزن کو دیکھ کر مسکرائی تھی‘ عین اسی لمحے ابا نے اسے دیکھ لیا تھا۔ دوسری بہن کی شادی ہو چکی ہے۔ چار بچے ہیں اس کے۔ اس کا میاں پٹن سے گلگت تک سوزوکی ڈبہ چلاتاہے۔ اس کا خاندانی پس منظر جاننے کے بعد میں نے اسے خوشخبری دی کہ موجودہ وزیراعظم کا نیا بجٹ آ گیا ہے۔ اب اس کی زندگی میں آسانیاں آ جائیں گی۔ اس نے پوچھا: بجٹ کیا ہوتا ہے؟ میں نے اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق سمجھایا کہ بجٹ ایک ایسی چیز ہوتا ہے جس کے بعد اقتصادی ترقی کے ثمرات عام آدمی تک پہنچ جاتے ہیں اور آسانیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ اس نے پوچھا: یہ بجٹ‘ جو کچھ بھی ہے‘ اسے بناتا کون ہے؟ میں نے بتایا کہ بجٹ کو بڑے بڑے بیورو کریٹ‘ بڑے بڑے ماہرینِ معیشت اور وزیر بناتے ہیں۔ اس نے پوچھا کیا یہ لوگ اسے یعنی بچے کو جانتے ہیں اور کیا کبھی اس کے گاؤں یا اس کی تحصیل یا اس کے ضلع میں آئے ہیں؟ میں نے کہا کہ کچھ کہہ نہیں سکتا لیکن غالباً کبھی نہیں آئے۔ پھر اس نے پوچھا: کیا وہ لوگ چائے پینے یا کھانا کھانے اس کے ڈھابے پر آتے ہیں؟ اس کا جواب بھی میں نے نفی میں دیا۔ پھر اس نے پوچھا: کیا بجٹ بنانے والے ان بڑے بڑے لوگوں کے بچے بھی ریستورانوں اور دکانوں میں کام کرتے ہیں اور رات دن وہیں ہوتے ہیں؟ میں نے بتایا کہ نہیں! ان حضرات کے بچے ملک سے باہر عالیشان‘ مشہور کالجوں اور یونیورسٹیوں میں پڑھتے ہیں۔ اب وہ ہنسا۔ جتنا سادہ میں اسے سمجھ رہا تھا‘ وہ اس سے بہت زیادہ تیز نکلا۔ اس کا لہجہ اچانک تبدیل ہو گیا۔ اب لہجے میں نرمی تھی نہ منمناہٹ کی جھلک!! میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس نے کہا کہ جب یہ لوگ مجھے جانتے ہیں نہ کبھی میرے علاقے میں آئے ہیں نہ انہیں ڈھابے کا پتا ہے تو یہ میرے لیے بجٹ کیسے بنا سکتے ہیں؟ یہ لوگ جن کے بچے بیرونِ ملک تعلیم حاصل کر رہے ہیں‘ کیا انہیں معلوم نہیں کہ میرے جیسے لاکھوں بچوں نے عام سرکاری سکولوں کا بھی دروازہ نہیں دیکھا۔ اس بجٹ کا فائدہ صرف انہیں ہے جنہوں نے یہ بجٹ بنایا ہے یا انہیں ہے جن کے مفادات کے وہ محافظ ہیں۔ یہ وزیر وزرا جو کہتے ہیں کہ بجٹ کے ثمرات عام آدمی تک پہنچیں گے‘ تو انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ یہ غلط کہتے ہیں۔ بجٹ کے ثمرات یقینا پہنچتے ہیں مگر انہیں جو سب آپس میں رشتہ دار ہیں‘ جو ایک ذرہ بجلی پیدا کیے بغیر اربوں روپے لے رہے ہیں‘ جو پہلے چینی برآمد کر کے اربوں کماتے ہیں‘ پھر مہنگی کر کے مزید کماتے ہیں اور پھر درآمد کر کے مزید در مزید کماتے ہیں۔ جو بات بات پر‘ افسروں اور مشیروں وزیروں کی بٹالین کے ہمراہ بیرونی دوروں پر نکل جاتے ہیں۔ ان عیاشیوں کے اخراجات ہماری ننگی پیٹھوں‘ کھردرے ہاتھوں اور زرد پچکے ہوئے گالوں سے پورے کیے جاتے ہیں۔ بجٹ میرے لیے کیا ہے؟ گندے برتنوں کا ڈھیر جو میرے جیسے لاکھوں بچے اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے دھوتے ہیں! جو قصبوں کے بازاروں میں گاہکوں کے لیے چلمیں سلگاتے ہیں۔ جو صبح سے شام تک مویشی ہانکتے اور چراتے ہیں۔ بجٹ کے ثمرات ان چند خاندانوں تک پہنچتے ہیں جو دہائیوں سے حکومت پر اور سیاسی جماعتوں پر قابض ہیں!!&#39;&#39;اوئے! تم نے سونا نہیں؟ صبح پانچ بجے اٹھنا ہے‘‘۔ چھپر نما کمرے سے ایک درشت آواز آئی اور بچہ اٹھ کر چلا گیا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_57182973.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>باقی ساری دنیا گئی بھاڑ میں(خالد مسعود خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-06-30/52208/11938164</link><pubDate>Tue, 30 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-06-30/52208/11938164</guid><description>اقوام متحدہ کے نیویارک میں صدر دفتر صدر کے علاوہ ویانا (آسٹریا)‘ جنیوا (سوئٹزرلینڈ) اور نیروبی (کینیا) میں تین ذیلی دفاتر بھی ہیں۔ اقوامِ متحدہ میں اگرچہ بے شمار ادارے اور شعبے موجود ہیں‘ اور ان کے سربراہان بھی ہیں لیکن عالمی سطح پر سیکرٹری جنرل ہی سب سے نمایاں شخص سمجھا جاتا ہے۔ پانچ سال کیلئے منتخب ہونے والا اقوام متحدہ کا یہ انتظامی سربراہ دنیا کے مختلف خطوں سے باری باری منتخب کیا جاتا ہے۔ سیکرٹری جنرل کیلئے مختلف خطوں سے باری باری انتخاب کرنے کی کوئی تحریری‘ قانونی یا لازمی پابندی نہیں تاہم یہ ایک روایت ہے جس پر کئی عشروں سے عمل ہوتا آ رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے عہدے کی مدت پانچ سال کیلئے ہوتی ہے تاہم تقریباً ہر سیکرٹری جنرل علاوہ بتروس غالی‘ دو مرتبہ منتخب ہوئے۔ ناروے سے تعلق رکھنے والے اقوام متحدہ کے پہلے سیکرٹری جنرل Trygve Lie نے قریب سات سال تک اس عہدے پر کام کرنے کے بعد استعفیٰ دیا۔ اس کے بعد سویڈن سے تعلق رکھنے والے ڈاگ ہامر شولڈ اس عہدے کیلئے دو بار منتخب ہوئے تاہم وہ اپنی دوسری مدت پوری کرنے سے قبل کانگو امن مشن کے سلسلے میں سفر کے دوران شمالی رہوڈیشیا ( موجودہ زیمبیا) میں ہوائی حادثے میں ہلاک ہو گئے۔ ان کے بعد برما سے تعلق رکھنے والے اوتھانٹ دو ٹرم کیلئے اس عہدے پر فائز رہے۔ میں نے بچپن میں جب حرف و لفظ سے آشنائی کے بعد اخبار پڑھنا شروع کیا تب اوتھانٹ کا ذکر اپنے گھر آنے والے اخبار کوہستان میں پڑھا۔ کوہستان اخبار کے ایڈیٹر تاریخی ناولوں کے حوالے سے نہایت ہی مشہور اور مقبول مصنف نسیم حجازی ہوا کرتے تھے۔ سیکرٹری جنرل کے عہدے کیلئے امیدوار کو سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کی حمایت درکار ہوتی ہے۔ امریکہ‘ چین‘ روس‘ فرانس اور برطانیہ اس کی نامزدگی کی منظوری دیتے ہیں جس کے بعد جنرل اسمبلی اس کی توثیق کرتی ہے۔ جیسا کہ پہلے ذکر ہوا‘ تقریباً ہر سیکرٹری جنرل کو دوسری مدت کیلئے بھی منتخب کیا گیا تاہم مصر سے تعلق رکھنے والے بتروس غالی کی دوسری بار کی امیدواری کو امریکہ نے ویٹو کر دیا تھا جبکہ آسٹریا سے تعلق رکھنے والے کرٹ والڈ ہائم کی تیسری مدت کی امیدواری کو چین نے ویٹو کر دیا۔ ان چند استثنائی مواقع کے علاوہ یہ معاملہ عمومی طور پر باہمی افہام و تفہیم کے ساتھ چلتا رہا ہے۔ کرٹ والڈ ہائم کی تیسری مدت پر پڑنے والے رولے کے بعد یہ ایک غیرتحریری قسم کی روایت ہے کہ سیکرٹری جنرل دس سال پر مبنی اپنی دو مدتیں گزارنے کے بعد گھر چلا جائے گا۔ اسی تناظر میں یہ طے ہے کہ موجودہ سیکرٹری جنرل‘ پرتگال کے سابق وزیراعظم اور اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے سابق سربراہ انتونیو گوتریس اپنی دوسری پانچ سالہ ٹرم مکمل کرنے کے بعد رواں سال دسمبر میں ریٹائر ہو جائیں گے۔ روایتی طور پر اب یہ عہدہ جنوبی امریکہ کے خطے سے کسی امیدوار کو ملنے کی توقع کی جا رہی ہے۔اقوام متحدہ کے نئے سربراہ کے انتخاب کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ اس دفعہ باری لاطینی امریکہ اور کیریبین خطے کی ہے۔ اس لیے اس دفعہ سامنے آنے والے چھ امیدواروں میں سے پانچ کا تعلق لاطینی امریکہ سے اور روایت کے برخلاف ایک امیدوار افریقہ سے بھی سامنے آئے ہیں جو سنیگال کے سابق صدر میکی سال ہیں۔ باقی امیدواروں میں چلی کی سابق صدر مشیل بیشلے‘ ایکواڈور کی سفارتکار ماریہ فرنینڈا اسپینوزا‘ ارجنٹائن کے سفارتکار اور آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی‘ کوسٹا ریکا کی سابقہ نائب صدر اور اقوام متحدہ کے ادارے UNCTAD کی موجودہ سیکرٹری جنرل ربیکا گرینسپین‘ اور گیانا کی سابقہ وزیر خارجہ کیرولین روڈرگز برکٹ شامل ہیں۔ رافیل گروسی بظاہر اس دوڑ میں دیگر امیدواروں سے نسبتاً آگے سمجھے جا رہے ہیں لیکن یہ مطالبہ بھی زور پکڑ رہا ہے کہ اس دفعہ کسی خاتون کو اقوام متحدہ کا سربراہ ہونا چاہیے۔اس بار اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری کے چھ امیداروں میں سے چار امیدوار خواتین ہیں۔ چاروں خواتین امیدوار خاص طور پر ربیکا گرینسپین اور میشل بیشلے یو این سسٹم میں کام کرنے کا وسیع تجربہ رکھتی ہیں۔ اگرچہ اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے عہدے کیلئے مرد یا عورت ہونے کی کوئی شرط نہیں ہے لیکن آج تک اس منصب پر کوئی خاتون منتخب نہیں ہوئی۔ اسی وجہ سے بہت سے چھوٹے ممالک یہ رائے رکھتے ہیں کہ اس بار یہ منصب کسی خاتون کو ملنا چاہیے۔دوسری جانب بعض حلقوں کا خیال ہے کہ امریکہ‘ برطانیہ اور فرانس جیسی مغربی طاقتیں رافیل گروسی کی حمایت کر سکتی ہیں۔ ان کی مغرب نواز پالیسیوں اور خصوصاً ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے ان کے مؤقف کی وجہ سے وہ مغربی ممالک اور ایران مخالف حلقوں میں خاصے مقبول سمجھے جاتے ہیں۔ حالیہ ایران امریکہ تنازع کے اختتام پر جنگ بندی شروع ہوتے ہی رافیل گروسی نے مطالبہ داغ دیا کہ ایران اپنی ایٹمی جوہری تنصیبات بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے معائنے کیلئے کھول دے۔ ایران نے 2021ء سے 2023ء کے دوران آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کے داخلے پر بتدریج پابندیاں لگائی تھیں۔ جون 2025ء میں اسرائیل نے ایران کی عسکری لیڈر شپ اور ایٹمی سائنسدانوں کو چن چن کر نشانہ بنایا۔ ان حملوں میں ایرانی پاسداران انقلاب کے سربراہ حسین سلامی‘ ایران کی مسلح افواج کے چیف آف سٹاف محمد باقری اور مرکزی کمان کے سربراہ غلام علی راشد کے علاوہ ایران کے جوہری پروگرام کے اہم ستون فریدون عباسی اور محمد مہدی تہرانچی شہید ہوئے تھے۔ ایران کے مؤقف کے مطابق جون 2025ء میں اس کے جوہری پروگرام سے وابستہ کئی نامور سائنسدانوں کو انتہائی درستی کے ساتھ نشانہ بناتے ہوئے ان کی ٹارگٹ کلنگ کی گئی اور ان کارروائیوں میں ان معلومات کا اہم کردار ہے جو اس کی جوہری تنصیبات کا معائنہ کرنے والے IAEA کے انسپکٹروں کے ذریعے حاصل کی گئی تھیں۔ گو کہ آئی اے ای اے کے حکام اس الزام کی تردید کرتے ہیں تاہم ایرانی مؤقف اس کے بالکل برعکس ہے۔ اب آئی اے ای اے کا سربراہ جو مغرب اور اسرائیل نواز ممالک کی آنکھ کا تارا ہے‘ اقوام متحدہ کے آئندہ کے جنرل سیکرٹری کا امیدوار ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اب جبکہ اقوام متحدہ ایک ایسا ہومیوپیتھک ادارہ بن چکا ہے جو بیک وقت ستو اور دھنیا پی کر سو رہا ہے تو پھر اس کے جنرل سیکرٹری کی کیا حیثیت رہتی ہے جس پر فکر مند ہوا جائے ؟ انتونیوگوتریس بھی غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی‘ قتل عام‘ محاصرے اور لبنان پر اسرائیلی حملوں کے خلاف اپنی پیشہ ورانہ مجبوریوں کے باوجود جس حد تک بول سکتا تھا بولتا رہا ہے تو اس سے کیا فرق پڑا ہے ؟ نہ تو وہ غزہ میں ہونے والی تاریخ کے بدترین نسل کشی کو روک سکا اور نہ لبنان پر اسرائیلی جارحیت کے آگے ہی بند باندھ سکا۔ یہ کرسی اب عملی طور پر بیکار ہو چکی ہے۔ بس اقوام متحدہ کا نام باقی ہے اور اس سے وابستہ ہماری احمقانہ امیدیں ہیں۔ پھر چاہے اس کا سربراہ رافیل گروسی ہو یا سنیگال کا سابق صدر میکی سال ہو کچھ فرق نہیں پڑتا۔ ایک دوست کہنے لگا: یہ آپ کی شدید غلط فہمی ہے۔ جب اقوام متحدہ مغرب اور خاص طور پر امریکی خواہشات کی تکمیل اور اس کے احکامات کی بجا آوری کے مطابق حکم صادر کرے گا تو اس کو اس عالمی ادارے کی تقدیس کی چادر پہنا کر فی الفور لاگو کر دیا جائے گا۔ افغانستان‘ ایران اور دیگر ممالک پر اسی کو بہانہ بنا کر چڑھائی کی گئی تھی۔ مغرب کے کوئی اصول نہیں‘ ان کو جو چیز وارے کھاتی ہے وہی درست ہے اور جو پسند نہیں آتی وہ سراسر غلط ہے۔ ان کے نزدیک غلط اور صحیح کا فیصلہ کرنے کا کلی اختیار صرف انہی کے پاس ہے۔ باقی ساری دنیا گئی بھاڑ میں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90500073.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>گھر کی خبر لیجئے(ڈاکٹر حسین احمد پراچہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-06-30/52209/33250785</link><pubDate>Tue, 30 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-06-30/52209/33250785</guid><description>سفارتی محاذ پر پاکستان کو بڑی پذیرائی اور سرخروئی نصیب ہوئی۔ اب ذرا ہمارے حکمران گھر کی بھی کچھ خبر لیں جہاں حالات خراب ہی نہیں بہت خراب ہیں۔ کسی بھی حکومت کا یہ اوّلین فرض ہوتا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے جان و مال کا مکمل تحفظ کرے۔ حکومت کی کامیابی یا ناکامی کا اندازہ اس کی گورننس سے لگایا جاتا ہے۔گزشتہ ہفتے کے دوران ایسے بہت سے دلخراش واقعات رونما ہوئے ہیں جن پر محض دل کی تسلی کیلئے کچھ عرض کرنا ضروری ہے۔ پاکستانی نژاد آسٹریلین بچی ہانیہ کے چکوال میں قتل پر آسٹریلین میڈیا نے کئی روز تک اس واقعے کا ذکر کیا۔ ان تجزیوں اور تبصروں کے مطابق پاکستان کا داخلی امیج یہ تھا کہ پہلے اس آسٹریلوی فیملی کو ڈاکوؤں نے گھیرا۔ اُن سے جان چھڑانے کے بعد فیملی کی گاڑی پر پولیس نے محض شبہے کی بنا پر گولیوں برسا دیں۔ مغربی میڈیا کے مطابق دنیا کا کوئی قانون پولیس کو اتنے لامحدود اختیارات نہیں دیتا کہ وہ جسے چاہے محض شبہے کی بنا پر موت کے گھاٹ اتار دے۔ &#39;&#39;سب اچھا‘‘ کی رپورٹیں اپنی جگہ مگردنیا بھر میں مقیم اوور سیز پاکستانیوں میں زبردست بے چینی پائی جاتی ہے۔ ہم خود طویل عرصے تک اوورسیز پاکستانی رہے ہیں‘ اس لیے ہمیں ان کے احساسات و جذبات کا اندازہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم اپنے بچوں کو پاکستان کے بارے میں بڑی دلکش کہانیاں سنا کر اپنے وطنِ مالوف لاتے ہیں مگر جب انہیں یہاں پر ایسے واقعات سے گزرنا پڑتا ہے تو وہ سوال کرتے ہیں یہ ہے آپ کا پاکستان؟اربابِ بست و کشاد کو یاد دلا دوں کہ جنوری 2019ء میں بھی ایسا ہی ایک واقعہ ساہیوال کے قریب پیش آیا تھا جہاں سی ٹی ڈی کے اہلکاروں نے ایک گاڑی میں سوار بے گناہ فیملی کی گاڑی کو روکنے‘ اُن سے تفتیش کرنے کے بجائے اسے گولیوں سے چھلنی کر دیا۔ اس واقعے میں میاں بیوی‘ 13سالہ بیٹی اور ڈرائیور جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے جبکہ تین بچے آنسو بہانے کیلئے پیچھے رہ گئے۔ کیا اس سے بڑی ٹریجڈی کا تصور ہو سکتا ہے۔ اس وقت بھی اسی طرح مقدمات درج ہوئے تھے اور ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کی بات ہوئی تھی مگر جیسا کہ دانا لوگوں کا خیال تھا کہ پولیس اہلکاروں کو بچا لیا جائے گا اور وہ بچا لیے گئے۔ابھی ہانیہ احمد کا زخم تازہ ہی تھا کہ سرگودھا سے دل فگار خبر آئی کہ ایک آٹھ سالہ بچی کو ایک کریانہ سٹور کی عمارت میں درندگی کا نشانہ بنانے کے بعدنہایت ہولناک طریقے سے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ بعد ازاں یہ خبر بھی آئی کہ ملزم ایک مبینہ پولیس مقابلے میں اپنے ہی ساتھیوں کی گولیوں کا نشانہ بن گیا۔ سارے شہر نے بچی کے قاتل کے ساتھ شدید نفرت کا اظہار کیا۔ ہم نے سرگودھا میں اپنے ذرائع سے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ اس وقت بھی شہر میں تین چار بچوں کے اغوا کی ایف آئی آر درج ہے اور کئی روز سے ان کے بارے میں کوئی خبر نہیں۔ اس سے قبل سرگودھا سے شاید ہی کبھی اس طرح کا کوئی لرزہ خیز واقعہ سامنے آیا ہو۔ شہر میں راتوں کو بھی پولیس جاگتی تھی تاکہ شہری سکون کی نیند سو سکیں۔ مگر اب حکمرانوں کا خیال ہے کہ میڈیا اور سوشل میڈیا پر اپنی تعریفوں کے پُل باندھنے اور پولیس کو لامحدود اختیارات دینے سے امن و قائم ہو جائے گا۔ یہ محض خام خیالی اور کوتاہ نظری کے علاوہ کچھ نہیں۔عوام ابھی سرگودھا کا دلخراش واقعہ ہی نہیں بھول پائے تھے کہ ایک ایسا ہی انتہائی ہولناک سانحہ کراچی میں پیش آیا کہ جہاں تین سالہ بچی کو ہوس کا نشانہ بنانے کے بعد بے دردی سے قتل کرکے اس کی لاش کو اس کے گھر کے باہر پھینک دیا گیا۔ یوں تو کراچی جرائم کی آماجگاہ ہے مگر اس لرزہ خیز سانحے کے بعد سارے شہر میں سوگ کی سی فضا تھی۔ بچی کا پوسٹ مارٹم کرنے والی پولیس سرجن نے کہا کہ پوسٹ مارٹم میرا کام ہے مگر بچوں کے ساتھ زیادتی کا کوئی واقعہ سامنے آتا ہے تو میری روح کانپ جاتی ہے۔ اس بچی کا کیس بحیثیت سرجن میری زندگی کا سب سے زیادہ دل دہلا دینے والا تھا۔ پولیس سرجن نے پُرنم آنکھوں کے ساتھ رپورٹروں کو بتایا کہ تین سالہ بچی کے ساتھ اس وحشیانہ واردات کے ثبوت موجود ہیں‘اوریہ کہ معصوم بچی کی مزاحمت کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔ ایسی گھناؤنی وارداتیں پنجاب اور سندھ میں بکثرت اور باقی صوبوں میں بھی ہوتی رہتی ہیں۔ پنجاب کی وزیراعلیٰ ایسی وارداتوں اور خواتین اور بچیوں کے ساتھ ہولناک اور بدسلوکی کو اپنی ریڈ لائن قرار دیتی ہیں مگر مجھے معلوم نہیں کہ انہوں نے کبھی اس طرح کی وارداتوں کے حوالے سے ضلع کی سطح پر ایسی کمیٹیاں تشکیل دی ہوں کہ جن میں پولیس کے ساتھ ساتھ بلدیاتی نمائندے‘ علماء کرام اور دیگر عمائدینِ شہر شامل ہوں۔ تبھی تو ہم بار بار بااختیار مقامی حکومتوں کے قیام کا پرچار کرتے رہتے ہیں۔ اس طرح شہر کا ایک ایک باسی اپنی اپنی گلی محلے کا محافظ بن جاتا ہے۔ محض جرم اور مجرم سے نفرت سے ایسے گھناؤنے جرائم کا قلع قمع نہیں ہو سکتا۔ حکمرانوں کی طرف سے اپنے شہریوں کی جان کے تحفظ کیلئے ان کی کارکردگی کی ایک جھلک ہم نے آپ کے سامنے رکھی ہے۔ اب ذرا اپنے شہریوں کے مال کے تحفظ کی بھی ایک جھلک دیکھ لیجئے۔آئین کسی جمہوری ملک کا ہو یا آمرانہ ملک کا‘ اس میں شہریوں کے مال و متاع اور ان کی جائیداد کے مکمل قانونی تحفظ کی شق نمایاں ترین ہوتی ہے مگر وطن عزیز میں آئین میں لکھا کچھ اور ہوتا ہے اور عمل کچھ اور ہوتا ہے۔ اب یہ راز راز نہیں رہا کہ وفاقی وزیر برائے آئی ٹی اور ٹیلی کمیونیکیشن نے ٹیلی کام کمپنیوں کو ٹاور لگانے کیلئے اپنے وطن کے پارک‘ میدان‘ کھیت اور ہاؤسنگ سوسائٹیاں ہی نہیں عوام کے گھروں کو بھی پیش کر دیا۔ اس بل کے مطابق کمپنی جہاں چاہے گی‘ جس گھر کے سامنے یا اوپر چاہے گی وہاں اپنا ٹاور نصب کر دے گی۔ اگر وہ گھر والوں کو کچھ دے گی تو وہ صبر و شکر کے ساتھ اسے قبول کریں وگرنہ انکار کی صورت میں انہیں پانچ کروڑ تک جرمانہ کیا جا سکتا ہے۔ ہماری بے خبری یا بے بسی کا حال یہ ہے کہ یہ بل کمیٹی سے پاس ہوتا ہوا کابینہ تک پہنچا اور وہاں سے بھی منظور ہو کر اسمبلی تک آ پہنچا اور وہاں سے بھی پاس ہو کر سینیٹ میں پہنچا تو وہاں پیپلز پارٹی کے رکن سینیٹ پلوشہ خان نے واردات پکڑ لی تو شور مچا تو اب شہریوں کی ذاتی پراپرٹی پر قبضہ کرنے کی شق کو ختم کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔ اگر کوئی باخبر اور باہمت کابینہ ہوتی تو مکھی پر مکھی نہ مارتی اور بغیر پڑھے منظوری دینے سے انکار کر دیتی۔ اگر کوئی جاندار پارلیمنٹ ہوتی تو یہ سوال ضرور اٹھاتی کہ عوام اپنی جائیدادیں ٹاورز لگانے کیلئے بغیر کسی معاوضے کے اپنی زمین کیوں پیش کر دیں۔ آخر میں حکومتی گورننس کی ایک اور جھلک بھی دیکھ لیجئے۔ آزاد کشمیر میں کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج کو آغاز میں ہی مفاہمت اور مذاکرات سے حل کرنے کی ضرورت تھی مگر یہاں بھی &#39;&#39;دھونس پالیسی‘‘ سے معاملات حل کرنے کی کوشش کی گئی جس سے صورتحال اور بگڑ گئی۔ قومی اسمبلی میں بھی اس معاملے پر شدید احتجاج ہوا اور بلاول بھٹو زرداری نے وفاقی وزرا کو موردِ الزام ٹھہرایا۔ اب مذہبی سیاسی جماعتوں کے قائدین حافظ نعیم الرحمن اور مولانا فضل الرحمن نے اسلام آباد میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں اعلان کیا ہے کہ آزاد کشمیر کی حساس نوعیت کے پیشِ نظر حکومت محتاط رہے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ کشمیریوں نے اپنی ہر تحریک پاکستانی پرچم تلے چلائی ہے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت آگے آئے اور کشمیریوں کے ساتھ بات چیت شروع کرے۔ آزادیٔ کشمیر کے بیس کیمپ کو کبھی بھی ناراض نہیں کر سکتے۔ حکومت ایسے سارے لوگوں کو ساتھ لے کر بات چیت کرے جو مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ حکومت گھر کی خبر لے۔ لوگوں کے جان و مال کی حفاظت‘ چادر چار دیواری کا تحفظ اور گڈ گورننس اس کا اوّلین فرض ہے۔ </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_70033906.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ایک امیر شہر کا پسماندہ نظام(شاہد کاردار)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-kardar-/2026-06-30/52210/83650122</link><pubDate>Tue, 30 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-kardar-/2026-06-30/52210/83650122</guid><description>ناقدین اکثر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ لاہور کو پنجاب حکومت کی جانب سے اس کے جائز حصے سے زیادہ وسائل ملتے ہیں اور یہ کہ یکے بعد دیگرے آنے والی صوبائی حکومتوں نے چھوٹے شہروں اور اضلاع کی قیمت پر اس شہر پر انفراسٹرکچراور دیگرسہولتوں کی بارش کی ہوئی ہے۔ تاہم حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ لاہور کو صوبائی حکومت کی ایسی نوازشات کی بالکل ضرورت نہیں۔ یہ بذات خود ایک امیر شہر ہے جس کی ترقی کی راہ میں دانستہ طور پر رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی ہیں۔ اس شہر کا واسطہ ایک ایسی صوبائی انتظامیہ سے ہے جو شہر کے اثاثوں پر کنٹرول تو رکھتی ہے لیکن شہر کو ان اثاثوں کا انتظام کرنے‘ ان سے فائدہ اٹھانے یا انہیں استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے رہی۔ اس طرح درحقیقت صوبائی انتظامیہ نے شہر کی اپنی دولت پر ایک پوشیدہ ٹیکس عائد کیا ہوا ہے۔ اگر پبلک اثاثوں کے لحاظ سے دیکھا جائے تو لاہور جنوبی ایشیا کے امیر ترین شہروں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کے باوجود ایک متحرک‘ رہنے کے قابل اور معاشی طور پر مضبوط و متحرک شہر بننے کی اس کی صلاحیت دب کر رہ گئی ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں جیسا کہ صوبائی مداخلت‘ پیچیدہ ریگولیٹری ڈھانچہ اور مسلسل سیاسی و انتظامی بدانتظامی۔ یہ صورتحال اس لیے بھی ابتر ہو جاتی ہے کہ شہر میں مختلف بکھری ہوئی ایجنسیاں ہیں جن کے ایک جیسے اختیارات ہیں اور ان کی ذمہ داریوں کے بارے میں شدید ابہام پایا جاتا ہے۔ اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ ان تمام مسائل کے باوجود آج تک کسی نے درست طور پر یہ شمار ہی نہیں کیا کہ شہر کے پاس اصل میں کیا کچھ موجود ہے‘ کون کون سے قیمتی اثاثے ہیں۔ لاہور شہر کھربوں روپے مالیت کی عوامی زمین‘ جائیداد‘ پارکوں اور تاریخی مقامات کا مالک ہے مگر ایک نہایت اہم عنصر مکمل طور پر غائب ہے اور وہ یہ کہ شہر کے پاس کوئی جامع مالی گوشوارہ موجود نہیں۔ کوئی بیلنس شیٹ نہیں۔ ایسا کوئی منظم اندراجی نظام نہیں جو ان شہری اثاثوں کی فہرست تیار کرے‘ ان کی مالیت کا تعین کرے‘ شہر کی مجموعی مالی حیثیت واضح کرے۔ اس سرمایہ کو مؤثر انداز میں استعمال کرنے اور اسے ترقی دینے کے لیے ضروری انتظامی ڈھانچہ فراہم کرے۔ دنیا کے بڑے شہروں جیسے ٹورنٹو‘ سنگاپور اور کوپن ہیگن میں پبلک اثاثوں کا فعال اور مؤثر انداز میں انتظام کیا جاتا ہے تاکہ طویل مدتی دولت پیدا کی جا سکے‘ خدمات کی فراہمی بہتر بنائی جا سکے اور پائیدار شہری ترقی کے لیے سازگار حالات مہیا کیے جا سکیں۔ یہ شہر اپنے اثاثوں کو سٹرٹیجک دولت سمجھتے ہیں نہ کہ محض انتظامی معاملہ۔ اس کے برعکس لاہور میں ہم یہ بھی شمار نہیں کرتے کہ ہمارے پاس کیا کیا ہے‘ چہ جائیکہ ہم ان وسائل کا کسی حکمت عملی کے تحت انتظام سنبھالیں۔ ایک مؤثر اثاثہ جاتی گنتی اور حساب کتاب کا نظام موجود ہو تو اس کی مدد سے فوکس شہر کے سیا سی کنٹرول کے بجائے اس کی معاشی کارکردگی کی جانب مڑ جائے گا۔ یہ نظام اثاثوں کے تجارتی استعمال‘ صارف فیس‘ نئی زون بندی‘ ازسرِنو مالیت کے تعین اور زمین و جائیداد کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے بہتر فائدہ اٹھا کر وسائل پیدا کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ یہ نظام ادارہ جاتی ذمہ داریوں کو واضح کرے گا‘ اثاثوں کے مقامات اور مالیت کو عوام کے سامنے لا کر بدعنوانی کے مواقع کم کرے گا۔ اس کی مدد سے حقیقت پسندانہ طویل مدتی منصوبہ بندی ممکن ہو جائے گی اور پائیدار مالی ذرائع‘ جیسے بلدیاتی بانڈز اور دیگر سرمایہ جاتی مارکیٹ کے طور طریقوں کے لیے راستہ کھل جائے گا۔ شہر کا ایک قابلِ اعتماد مالی خاکہ موجود ہو تو وہ نجی سرمایہ کاری کو بھی راغب کر سکتا ہے۔ یوں انفراسٹرکچر اور خدمات کی فراہمی کے لیے ایک منظم اور مربوط سرکاری اور نجی شراکت داری ممکن ہو سکتی ہے۔شہر کی مالی حالت اور پیداواری صلاحیت کے واضح ادراک کے بغیر منصوبہ بندی کرنے میں یہ نقص ہوتا ہے کہ وہ وقتی اور ہنگامی نوعیت کی ہوتی ہے۔ ایسی منصوبہ بندی ردِعمل پر مبنی اور بکھری ہوئی رہتی ہے۔ سادہ الفاظ میں یوں کہیے کہ اگر آپ کسی چیز کا حساب کتاب نہیں رکھتے تو آپ اس کا انتظام نہیں کر سکتے اور اسے ترقی بھی نہیں دے سکتے۔ نتیجتاً ہمارے سامنے ایک ایسا شہر ہے جو کھربوں روپے کے اثاثوں کا مالک ہے لیکن اس کے ساتھ ایسا برتاؤ کیا جاتا ہے اور اسے اس طرح چلایا جاتا ہے جیسے اس کے پاس کچھ بھی نہ ہو۔ لاہور کے اثاثوں کا ایک محتاط تخمینہ بھی لگایا جائے تو اس سے شہرکی غیر استعمال شدہ استعداد کا زبردست اور حیران کن حجم ہمارے سامنے آتا ہے۔ ذیل میں کچھ نکات دیکھیے:شہر میں ہزاروں ایکڑ قیمتی شہری زمین ہے جیسے پارکس‘ سرکاری دفاتر‘ رہائشی اور تربیتی ادارے‘ نجی کلب‘ اعلیٰ تعلیمی ادارے اور گالف کے میدان۔ یہ سب شہر کے سب سے زیادہ تجارتی اہمیت رکھنے والے علاقوں میں واقع ہیں لیکن یا تو بہت کم کرایہ ادا کرتے ہیں یا بالکل کچھ بھی ادانہیں کرتے جبکہ پراپرٹی ٹیکس بھی نہ ہونے کے برابر ادا کیا جاتا ہے۔ ممکنہ اور حقیقی آمدن کے درمیان فرق نہایت واضح ہے۔ پنجاب نے 2024-25ء میں پورے صوبہ سے پراپرٹی ٹیکس کی مد میں صرف آٹھ کروڑ ڈالر جمع کیے جبکہ صرف ممبئی شہر میں اس مد میں 73 کروڑ ڈالروصول کیے گئے۔ اورنج لائن میٹرو اور اس سے منسلک سٹیشنوں کی زمین ایک بڑا اثاثہ ہے لیکن اسے بہت کم استعمال کیا گیا ہے۔ مناسب منصوبہ بندی اور مؤثر نظم و نسق کے ذریعے ان سفری مراکز کو وسیع تجارتی‘ پرچون کاروبار اور مخلوط استعمال (ایک ہی علاقہ میں رہائش اور کمرشل سرگرمیاں) کو فروغ دینے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس طریقہ سے حاصل ہونے والی آمدن سے میٹرو کے اپنے آپریشنز اور توسیع کے اخراجات پورے کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس وقت پبلک سٹیڈیم‘ تقریبات کے مقامات اور تاریخی ورثے کے مقامات اتنی آمدن بھی پیدا نہیں کرتے کہ ان کی بنیادی دیکھ بھال کے اخراجات پورے ہو سکیں۔ ان کا وسیع شہری ترقی میں حصہ ڈالنا تو دور کی بات ہے۔ بہت سی کھیلوں کی سہولتیں سال کے بیشتر حصے میں غیر فعال رہتی ہیں جبکہ عوام کو ان تک محدود یا بالکل بھی رسائی حاصل نہیں ہوتی۔ یہ اس شہرکے فزیکل اور شہری سرمایہ دونوں کا ضیاع ہے۔ شہر میں منظم تفریح اور ثقافتی سرگرمیوں کی بہت کمی ہے اور اس سرمایہ کو استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ شہر کی سڑکیں روزانہ لاکھوں مسافر استعمال کرتے ہیں اور ان سڑکوں پر شہر بھر میں بے ترتیب کھڑی گاڑیاں نظر آتی ہیں۔ یہ ایک اور آمدن کے ممکنہ ذریعہ کا ضیاع ہے۔ بامعاوضہ پارکنگ نظام‘ ٹریفک کے دباؤ کے مطابق پارکنگ کے نرخوں کا تعین اور ٹول چارجز دنیا بھر کے شہروں میں آمدن پیدا کرنے کے اہم آزمودہ ذرائع ہیں۔ یہ وسائل الیکٹرک بسوں کے ایک مکمل بیڑے کے اخراجات پورے کر سکتے ہیں اور ان کی مدد سے دباؤ کے شکار ٹرانسپورٹ نظام پر بوجھ بھی کم ہو سکتا ہے۔پانی کی فراہمی‘ صفائی‘ ٹھوس کچرا اٹھانے کے انتظامات اورپبلک ٹرانسپورٹ (بس) کے نظام سے متعلق بنیادی سہولتوں کو جتنی آمدن پیدا کرنی چاہیے وہ اپنی استعداد سے کم سطح پر کام کر رہی ہیں۔ مناسب نرخ بندی‘ بہتر وصولی اور ان خدمات کے تجارتی استعمال سے مالی پائیداری اور خدمات کے معیار دونوں میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔ اگر ان اثاثوں کو محتاط اندازے کے مطابق بھی مارکیٹ کی قیمت پر جانچا جائے تو ان کی مجموعی مالیت آسانی سے کھربوں روپے تک پہنچتی ہے۔ اس سلسلہ میں کچھ نہ کرنے اور بے عملی کی قیمت بہت زیادہ ہے۔ آئندہ کالم میں ہم اس موضوع پر مزید گفتگو کریں گے۔(اس مضمون میں ڈاکٹر ندیم الحق کی معاونت شامل تھی)</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_78012569.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>افغان قیادت کا فکری جمود(رشید صافی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-06-30/52211/51854795</link><pubDate>Tue, 30 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-06-30/52211/51854795</guid><description>افغانستان اس وقت ایسے فکری جمود کا شکار ہے جس کی نظیر معاصر دنیا میں نہیں ملتی۔ افغان سرزمین پر وقت جیسے تھم چکا ہے۔ معاصر دنیا میں معاشی و سٹرٹیجک طاقت کا حصول اقتصادی راہداریوں‘ تجارتی بلاکس‘ سیمی کنڈکٹرز کی صنعت‘ مصنوعی ذہانت اور عالمی سپلائی چینز میں شراکت داری سے وابستہ ہے۔ مابعد جدیدیت کے اس دور میں تمام ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک باہمی انحصار اور اقتصادی سفارتکاری کو اپنی پہلی ترجیح بنا چکے ہیں‘ اس کے برعکس افغانستان کی عبوری انتظامیہ نے خود کو فکری طور پر ماضی میں قید کر رکھا ہے۔ افغانستان کا المیہ محض ایک جغرافیائی خطے کی پسپائی یا وہاں کے عوام کی بدحالی تک محدود نہیں بلکہ یہ قیادت کا فکری جمود ہے‘ جو وقت کی نبض شناسی اور جدید ریاستی تقاضوں کو سمجھنے سے یکسر قاصر ہے۔ موجودہ افغان قیادت نے اپنے طرزِ عمل سے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ نہ تو عالمی نظام کے سفارتی‘ قانونی اور اخلاقی اصولوں کے ساتھ موافقت پیدا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور نہ ہی اپنے عوام کی سماجی زندگی میں کسی نوعیت کی بہتری لانے کی خواہاں ہے۔ اگست 2021ء میں جب امریکی اور نیٹو افواج کے انخلا کے بعد طالبان نے کابل کے اقتدار پر دوبارہ کنٹرول حاصل کیا تو علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر یہ امیدیں وابستہ کی گئی تھیں کہ شاید طالبان ماضی کی نسبت زیادہ حقیقت پسند ثابت ہوں گے۔ عالمی برادری اس بات کیلئے تیار تھی کہ اگر کابل انتظامیہ اپنے اندر مثبت تبدیلی لائے تو اسے بین الاقوامی دھارے کا حصہ بنایا جائے۔ بین الاقوامی برادری نے افغان مقتدرہ کی سیاسی قبولیت کو چند بنیادی انسانی شرائط سے مشروط کیا تھا جن میں ایک ایسی ہمہ جہت اور وسیع البنیاد حکومت کا قیام شامل تھا جس میں تمام افغان اکائیوں کو نمائندگی حاصل ہو‘ خواتین اور بچوں کے بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ افغان سرزمین کو کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کیلئے استعمال نہ ہو۔ تاہم گزشتہ پانچ سالوں کا ٹریک ریکارڈ یہ گواہی دیتا ہے کہ افغان قیادت نے ان تمام امیدوں پر پورا اترنے اور عالمی برادری کے ساتھ پُرامن بقائے باہمی کے اصولوں پر چلنے کے بجائے روایتی ہٹ دھرمی اور فکری کج روی کا مظاہرہ کیا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس اس پر شاہد ہیں کہ کابل کے حکمرانوں نے عالمی برادری کے ساتھ بامقصد مکالمے کے تمام دروازے خود اپنے ہاتھوں سے بند کیے۔ سفارتی ناتجربہ کاری کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک آدھ کے سوا آج تک کسی ملک نے کابل انتظامیہ کو قانونی طور پر تسلیم نہیں کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی ذمہ دار ریاست کا اخلاقی و قانونی جواز اس بات سے کشید ہوتا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو تحفظ‘ سماجی انصاف اور بہتر معیارِ زندگی فراہم کرنے کی کس حد تک صلاحیت رکھتی ہے۔ موجودہ افغان انتظامیہ نے اپنے عوام کے ساتھ اس بنیادی سماجی معاہدے کو یکسر فراموش کر رکھا ہے۔ افغانستان میں داخلی تباہ حالی کا سلسلہ محض چند شعبوں تک محدود نہیں بلکہ معیشت اور صحت کے شعبوں میں بھی تباہی کے سائے گہرے ہو چکے ہیں۔ عالمی اداروں کی رپورٹس کے مطابق افغانستان کی 80 فیصد سے زائد آبادی خطِ غربت سے نیچے‘ انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ ورلڈ فوڈ پروگرام اور یونیسف کی حالیہ دستاویزات بتاتی ہیں کہ لگ بھگ دو کروڑ افغان شہری شدید غذائی قلت اور بھوک کا شکار ہیں‘ جن میں لاکھوں معصوم بچے بھی شامل ہیں جو مناسب خوراک نہ ملنے کے باعث موت کے منہ میں جا رہے ہیں۔ ہسپتالوں کی حالت یہ ہے کہ نہ تو ادویات دستیاب ہیں‘ نہ جدید آلاتِ جراحی اور نہ ہی تربیت یافتہ عملہ‘ کیونکہ ملک کا پڑھا لکھا طبقہ اور معالجین اس فکری گھٹن سے تنگ آ کر بڑے پیمانے پر ہجرت کر چکے ہیں۔افغانستان مختلف ادوار میں مشکلات کا شکار رہا ہے اور پاکستان نے ہمیشہ مخلص پڑوسی کا حق ادا کرتے ہوئے ہر مشکل گھڑی میں افغان عوام کا بڑھ چڑھ کر ساتھ دیا ہے۔ گزشتہ چار دہائیوں کے دوران پاکستان نے لاکھوں افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کی۔ ان پناہ گزینوں کو پاکستان میں کاروبار‘ تعلیم اور نقل و حرکت کی وہ تمام آزادیاں دی گئیں جو کسی دوسرے ملک میں تارکین وطن کو نہیں ملتیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان افغان پناہ گزینوں کی اکثریت آج بھی پاکستان کے اندر معاشی طور پر مستحکم ہے اور وہ سکیورٹی و معاشی تحفظ کی خاطر اپنے آبائی ملک واپس جانے پر آمادہ نہیں۔ اگست 2021ء میں جب مغربی ممالک نے افغانستان کو تنہا چھوڑ دیا اور وہاں شدید معاشی بدحالی کا خطرہ پیدا ہوا تو یہ پاکستان ہی تھا جس نے دنیا بھر کے دارالحکومتوں میں افغان عوام کا وکیل بن کر مہم چلائی‘ او آئی سی کا خصوصی اجلاس اسلام آباد میں منعقد کرایا اور انسانی امداد کی ترسیل کیلئے اپنے زمینی و فضائی راستے کھول کر کابل میں نظام حکومت کو مکمل طور پر گرنے سے بچایا۔ پاکستان کی اس انسانی ہمدردی پر مبنی پالیسی کا بنیادی مقصد صرف یہ تھا کہ افغانستان میں کوئی نیا انسانی بحران جنم نہ لے جو پورے خطے کے امن کو برباد کر دے۔ لیکن اس بے لوث تعاون‘ سفارتی پشت پناہی اور دہائیوں پر محیط حسنِ سلوک کے بدلے پاکستان کو افغان انتظامیہ کی جانب سے مسلسل سکیورٹی خطرات‘ دراندازی اور دہشت گردی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ زمینی شواہد یہ ہیں کہ پاکستان دشمن عسکریت پسند تنظیمیں بالخصوص فتنہ الخوارج (ٹی ٹی پی) اور بھارتی پراکسی &#39;جماعت الاحرار‘ افغان سرزمین پر کابل انتظامیہ کی سرپرستی میں وہاں کھلے عام اپنی نرسریاں اور تربیتی مراکز چلا رہی ہیں۔ ان پناہ گاہوں سے دہشت گرد عناصر نہ صرف جدید ترین ہتھیار حاصل کرتے ہیں بلکہ وہاں بیٹھ کر پاکستان کے سکیورٹی اداروں اور شہری مراکز پر حملوں اور تخریب کاری کی منصوبہ بندی اور نگرانی کرتے ہیں۔ کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر ہونے والے بزدلانہ دہشت گردانہ حملے نے افغان طالبان کی اس دوغلی پالیسی اور منافقت کو عالمی سطح پر پوری طرح بے نقاب کر دیا ہے۔ حملے میں ملوث گرفتار دہشت گرد کے ہوشربا اعترافات نے کابل کے جھوٹے دعوئوں کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے۔ جماعت الاحرار کے دہشت گرد نے یہ انکشاف کیا کہ وہ افغانستان کے علاقے جلال آباد میں قائم ایک عسکری کیمپ سے تربیت حاصل کر کے پاکستان میں داخل ہوا۔ اس نے اعتراف کیا کہ افغانستان کے اندر ان کے پورے نیٹ ورک کو خودکش جیکٹس تیار کرنے‘ دھماکا خیز مواد نصب کرنے اور جدید ہتھیار چلانے کی مکمل ٹریننگ دی گئی تھی۔ کراچی پہنچنے سے لے کر حملے کے حتمی مرحلے تک کے تمام لاجسٹک اور مالیاتی انتظامات افغان سرزمین سے ہی مینج اور ہینڈل کیے گئے۔ یہ ناقابلِ تردید شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ کابل انتظامیہ کی براہ راست تائید اور دانستہ چشم پوشی کے بغیر سرحد پار سے اس قدر منظم اور ہائی ٹیک دہشت گردی کا نیٹ ورک چلانا کسی بھی طور ممکن نہیں ہے۔ سفارتی کوششوں‘ مذاکرات اور صبر و تحمل کے باوجود جب کابل انتظامیہ نے پاکستان کی سلامتی کو مسلسل دائو پر لگائے رکھا تو پاکستان اپنی خود مختاری اور شہریوں کے تحفظ کیلئے جارحانہ دفاعی حکمت عملی اپنانے پر مجبور ہو گیا۔ اس سنگین صورتحال کے پیش نظر پاکستان نے بیک وقت دو بڑے محاذوں پر فیصلہ کن اقدامات کا آغاز کیا ہے۔ پہلے محاذ پر سکیورٹی فورسز نے سرحد پار افغان صوبوں پکتیا‘ پکتیکا اور کنڑ میں انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیاں کرتے ہوئے فتنہ الخوارج اور جماعت الاحرار کے سٹرٹیجک ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے اور آپریشن عزمِ استحکام کے تحت یہ واضح کر دیا ہے کہ افغان سرپرستی اور بھارتی فنڈنگ سے چلنے والی عسکریت پسندی کے مکمل خاتمے تک یہ ٹارگٹڈ آپریشنز بلاتعطل جاری رہیں گے۔ دوسرے محاذ پر داخلی امن اور ملکی معیشت کو محفوظ بنانے کیلئے وزارتِ داخلہ نے غیر قانونی مقیم افغان شہریوں کے خلاف ملک گیر سطح پر حتمی کریک ڈائون کا فیصلہ کیا ہے۔ ان اقدامات سے افغانستان کی مشکلات بڑھ جائیں گی۔ دیکھنا یہ ہے کہ افغان قیادت ملک و قوم کے مفاد کو مقدم رکھتی ہے یا اپنی روایتی سخت گیری پر قائم رہتی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/222_48272610.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>یونین الیکشن دھاندلی اور انتظامی ردعمل(حافظ محمد ادریس)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/hafiz-muhammad-idreess/2026-06-30/52212/20016989</link><pubDate>Tue, 30 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/hafiz-muhammad-idreess/2026-06-30/52212/20016989</guid><description>جنرل سیکرٹری کے الیکشن میں دھاندلی کی پیشگی اطلاعات کے باوجود کمزور انتظامی ردعمل کی شکایات کے سلسلے میں وائس چانسلر علامہ علاء الدین صدیقی (مرحوم) سے ملاقات سے ہمیں سخت مایوسی ہوئی مگر ہم کیا کر سکتے تھے۔ اس ملاقات کے اگلے روز مجھے اطلاع ملی کہ وائس چانسلر صاحب طلبہ گروپوں سے شام چار بجے مشترکہ ملاقات کریں گے۔ ایک رائے تو یہ تھی کہ اس اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا جائے مگر مشاورت کے بعد یہی فیصلہ ہوا کہ اجلاس میں جا کر اپنا مؤقف پیش کر کے اتمام حجت کرنی ضروری ہے۔ بہرحال یونیورسٹی کے طلبہ اور بہت سے اساتذہ کے نزدیک یہ عجیب بات تھی کہ ہنگامہ آرائی اور پوری جامعہ میں تخریب کاری کرنے والوں اور پُرامن رہنے والوں کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکا جائے۔ فیصلے کے مطابق ہم لوگ یونیورسٹی پہنچے تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ علامہ صاحب نے ان سارے لوگوں کو جو ایک دن قبل یونیورسٹی میں ہنگامہ آرائی میں ملوث تھے‘ طلبہ نمائندوں کے طور پر مدعو کیا ہوا تھا۔ بہرحال ہم بھی سینٹ ہال کے بغلی کمرے (غالباً کمیٹی روم) میں علامہ صاحب کے سامنے والی نشستوں پر جا کر بیٹھ گئے۔وائس چانسلر صاحب نے دونوں جانب کے طلبہ نمائندوں سے بڑے حکیمانہ انداز میں خطاب کیا اور تان اس پر توڑی کہ جامعہ پنجاب کے پورے انتخابات کا مسئلہ الیکشن ٹربیونل کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ اس پر ہم نے پُرزور احتجاج کیا۔ ہمارا مؤقف یہ تھا کہ اگر ہارا ہوا گروپ ٹربیونل یا یونیورسٹی سے باہر کسی بھی عدالت میں معاملے کو لے جانا چاہے تو اسے حق حاصل ہے مگر وائس چانسلر کی طرف سے یہ تجویز ناقابل ِفہم ہے۔ پھر دوسری بات یہ تھی کہ جن نشستوں پر الیکشن کمیشن کی طرف سے نتائج کا باقاعدہ اعلان ہو چکا ہے‘ وہ تو متنازع ہیں ہی نہیں‘ متنازع تو صرف سیکرٹری کی پوسٹ تھی‘ جس پر دو دن بعد الیکشن ہوا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ یونیورسٹی میں جو شخص یا گروپ طاقت کی زبان استعمال کرے گا‘ انتظامیہ کی طرف سے اس کو زیادہ وقعت دی جائے گی۔ یہ صورت حال بڑی افسوسناک اور اشتعال انگیز تھی۔ ہمارے بعض ساتھیوں خصوصاً افتخار فیروز نے ایک جذباتی تقریر بھی کی جس میں جذبات کے ساتھ بھرپور دلائل بھی تھے مگر نتیجہ کچھ نہ نکلا۔مخالف گروپ بہت خوش تھا کہ وائس چانسلر ان کی توقعات کے علی الرغم انہی کی ہم نوائی کر رہے تھے۔ (میں اب بھی یقین رکھتا ہوں کہ علامہ صاحب بڑے زیرک اور معاملہ فہم انسان ہونے کے باوجود اپنے گردونواح کے بعض یونیورسٹی عہدیداران کی باتوں میں آ گئے تھے) مخالف گروپ کیلئے یہ امر باعثِ مسرت تھا کہ ہار جانے اور ہڑبونگ مچانے کے باوجود وہ طلبہ کے ذی قدر نمائندے سمجھے جا رہے تھے۔ جو انتخاب غیر متنازع طور پر وہ ہار چکے تھے اب اسے بھی متنازع بنایا جا رہا تھا جس کی وجہ سے انہیں مزید خوشی حاصل ہو رہی تھی۔ ہم جب ہال میں سے نکلنے لگے تو میں نے ایک بار پھر وی سی صاحب سے عرض کیا: سر! ہم نے اپنا مؤقف آپ کے سامنے بلا ابہام بیان کر دیا ہے اب آپ جو چاہیں کریں۔ تاہم آپ جو کرنے جا رہے ہیں وہ عدل کے منافی ہے اور آپ کے شایانِ شان نہیں ہے۔معلوم نہیں انہوں نے اسے کن معنوں میں لیا‘ تاہم افتخار فیروز اور دوسرے دوستوں کا خیال تھا کہ ہمیں زیادہ سخت مؤقف اختیار کرنا چاہیے تھا۔ ان دنوں صورتحال یوں ہوا کرتی تھی کہ ہم لوگ شام بلکہ رات گئے تک اخبارات کے دفتروں کے چکر لگایا کرتے تھے اور اپنی خبریں لگوانے کے لیے اپنے واقف کار یا دوست صحافیوں سے ملاقاتیں کرتے تھے۔ وائس چانسلر کے ساتھ متذکرہ بالا نشست کے دوسرے دن ہمارے بعض دوست اخبارات کے دفتروں میں گئے تو انہیں وی سی کی طرف سے جاری کردہ ایک پریس ریلیز کا پتا چلا۔ اس کے مطابق موصوف نے ایک ٹربیونل مقرر کیا تھا جس کے ذمہ طلبہ یونین کے جملہ انتخابات کی تفتیش اور چھان بین تھی۔ یہ فیصلہ ہمارے نزدیک زیادتی پر مشتمل تھا اور ہمارے برحق مطالبات کو بغیر کسی جواز کے مسترد کر دیا گیا تھا۔ ججوں میں غالباً ایک نام غیاث الدین تھا اور دوسرا محمود‘ تیسرے جج کا نام یاد نہیں آ رہا۔ (جو نام لکھے ہیں وہ بھی یادداشت سے لکھے ہیں‘ اس دور کا تحریری ریکارڈ دستیاب نہیں ہو سکا)حقیقت یہ ہے کہ مجھے آج تک ان ججوں کے بارے میں پتا نہیں کہ وہ کون تھے اور کس قسم کے خیالات کے مالک تھے لیکن اسی رات بعض احباب نے جن کا تعلق صحافت اور قانون کے پیشے سے تھا‘ بڑے وثوق سے بتایا کہ تینوں کا تعلق اقلیتی فرقوں سے ہے۔ اللہ جانتا ہے کہ اس بات میں کس قدر سچائی تھی مگر ہم سب لوگوں کے لیے اُس وقت یہ خبر بڑے صدمے کا باعث بنی۔ جس رات کا یہ ذکر ہے اسی کی شام کو ایک اور واقعہ رونما ہوا۔ مجھے جمعیت کے دفتر میں بتایا گیا کہ بارک اللہ خاں ایک ایکشن کمیٹی کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔ مختصر سے وقت میں بے انتہا چیزیں ظہور پذیر ہو رہی تھیں۔ میں چند ساتھیوں کی معیت میں ان کے پاس پہنچا‘ چند احباب دفتر میں جمع تھے۔ خاں صاحب جوش میں تقریر فرما رہے تھے اور ان کا نشانہ ہماری یونین اور خاص طور پر میری ذات تھی۔ میں خان صاحب کی باتیں سنتا رہا‘ پھر میں نے ان سے عرض کیا: ایکشن کمیٹیاں تو ہارے ہوئے لوگ بنایا کرتے ہیں‘ آپ کو اس سب کی کیا ضرورت ہے‘ یہ آپ کی اپنی یونین ہے‘ آپ ہمارے بزرگ اور محترم بھائی ہیں۔ انہوں نے میری بات کاٹتے ہوئے کہا: نہیں مجھے معلوم ہے یہ یونین کچھ نہیں کر سکتی۔ میں نے عرض کیا: ممکن ہے آپ کی بات درست ثابت ہو مگر کچھ عرصہ تو اس یونین کو مہلت دیں‘ کم از کم حلف تو اٹھا لیا جائے۔ یہ اس طویل گفتگو کا مختصر سا حصہ ہے جو اس شام ہوئی۔ہم عجیب مخمصے میں پڑے ہوئے تھے۔ ایک طرف یونیورسٹی انتظامیہ کا طرزِ عمل باعثِ پریشانی تھا۔ دوسری طرف یہ ایکشن کمیٹی ہماری سمجھ میں نہ آ رہی تھی‘ تیسری طرف حزبِ مخالف سے مقابلہ تھا۔ نمازِ عشا کے بعد مجھے اخباری دفاتر سے آنے والے دوستوں کی زبانی وی سی کی پریس ریلیز کے بارے میں اطلاع ملی۔ سابق ناظم اعلیٰ جمعیت ڈاکٹر محمد کمال دفتر میں موجود تھے اور تقریباً سبھی ارکان بھی وہیں تھے۔ ہم نے بازار جا کر ایک دکان سے وی سی صاحب کو ٹیلی فون کیا‘ وہ گھر پر موجود نہ تھے۔ ان کے بیٹے نعمان صدیقی نے فون سنا‘ اس نے بتایا کہ علامہ صاحب کہیں دعوت پر گئے ہوئے ہیں اور دیر سے آئیں گے۔ میں نے کہا کہ جب بھی وہ آئیں ان سے عرض کریں کہ میں ان سے فوراً ملنا چاہتا ہوں۔ جس دکان سے فون کیا‘ وہ نصراللہ شیخ (سابق صدر جامعہ پنجاب) کی تھی۔ انہیں جب پریس ریلیز کا پتا چلا تو وہ بھی سٹپٹائے۔ طے ہوا کہ ان کے ساتھ ہم ایڈووکیٹ چودھری اسماعیل کے ہاں جائیں۔ انہیں یہ خبر سنائی تو وہ بھی بڑے پریشان ہوئے۔ وہ مقرر کردہ ججوں کو ذاتی طور پر جانتے تھے اور ان کی رائے وہی تھی جو ہمیں پہلے اطلاعات ملی تھیں۔ اتفاق کی بات کہ مرے کالج سیالکوٹ میں جمعیت کے امیدوار نثار میر یونین کے صدر منتخب ہوئے تھے۔ ان کی کامیابی کا کالج انتظامیہ کی طرف سے باقاعدہ اعلان بھی ہو چکا تھا۔ اس کے باوجود ہارے ہوئے گروپ نے جھگڑا کھڑا کر دیا۔ معاملہ ڈی سی تک پہنچا اور ڈی سی کو ثالث بنایا گیا۔ ڈی سی نے نثار میر کے الیکشن کو کالعدم قرار دے دیا اور یہ خبر اسی دن صبح کے اخبارات میں چھپی تھی۔ اس خبر کے حوالے سے لوگ اور بھی جذباتی ہو گئے۔ پروفیسر عثمان غنی اور بارک اللہ خاں کی جذباتیت کا منظر شام کو دیکھا تھا اور اب نصراللہ شیخ اور اسماعیل چودھری کا جوش منظر عام پر آ رہا تھا۔ اول الذکر بزرگان کے غصے کی وجہ سمجھ سے بالاتر تھی جبکہ آخر الذکر اس خبر سے پریشان تھے کہ تین افراد پر بننے والا کمیشن کسی سازش کا نتیجہ ہے‘ جس کا فوری توڑ ضروری ہے۔ </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_24721193.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>