<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>سندھ طاس معاہدہ اور آبی بقا کا چیلنج(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-01/11321</link><pubDate>Wed, 01 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-01/11321</guid><description>اسلام آباد میں سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے انٹرنیشنل سیمینار کا انعقاد پانی کے سنگین مسئلے‘ بھارت کی آبی جارحیت اور پاکستان کے جائز آبی حقوق کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی اچھی کاوش ہے۔ سیمینار میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ بھارت کو کروڑوں پاکستانیوں کا پانی روکنے کی قطعاً اجازت نہیں دی جا سکتی اور یہ کہ پاکستان کے پانی کا تحفظ ہرصورت ممکن بنایا جائے گا۔ پانی نہ صرف زندگی کی بنیادی ضرورت ہے بلکہ یہ قومی سلامتی‘ بقا اور خود مختاری کا تقاضا بھی ہے۔ پاکستان طویل عرصے سے بھارت کی آبی جارحیت کا شکار ہے اور اس کے ماحولیاتی اور سماجی اثرات خاصے ہولناک ثابت ہوئے ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اب تک پاکستان میں بھارتی آبی جارحیت بالخصوص اچانک چھوڑے جانے والے سیلابی ریلوں اور پانی کی بندش کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال کی وجہ سے لگ بھگ چھ ہزار افراد جاں بحق اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں۔ انسانی جانوں کا یہ ضیاع پاک بھارت جنگوں میں ہونے والے جانی نقصان سے بھی زیادہ ہے‘ جو اس امر کی دلیل ہے کہ بھارت پانی کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے‘ جو انتہائی خطرناک رجحان ہے۔ 1960ء میں پاکستان اور بھارت کے مابین ورلڈ بینک کی ثالثی میں طے پانے والے سندھ طاس معاہدے میں نہ صرف دونوں ممالک کے مابین آبی مسائل کا عالمی قوانین کے تناظر میں حل نکالا گیا بلکہ یہ ایسا جامع معاہدہ تھا جو چھ دہائیوں سے زائد عرصہ سے دونوں ممالک میں نافذ العمل ہے اور باہمی جنگوں کے دوران بھی معطل نہیں ہوا۔

تاہم گزشتہ برس اپریل میں پہلگام فالس فلیگ واردات کے بعد بھارت نے یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کا اعلان کر دیا اور بعد ازاں مغربی دریائوں میں پانی چھوڑنے کی اطلاعات بھی روایتی فورمز کے ذریعے نہیں دی گئیں جس کے سبب پاکستان کو سیلابی ریلوں سے نمٹنے میں اضافی مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ عالمی ثالثی عدالت اور معاہدے کا ضامن ورلڈ بینک متعدد بار یہ حقیقت واضح کر چکے کہ بھارت کو یکطرفہ طور پر اس معاہدے کو معطل‘ منسوخ یا اس میں من مانی تبدیلیاں کرنے کا اختیار نہیں ۔ ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا رواں سال اپریل میں یہ واضح کر چکے ہیں کہ سندھ طاس معاہدے میں اسے یکطرفہ معطل یا ختم کرنے کی کوئی شق نہیں‘ معاہدے میں تبدیلی یا اسے ختم کرنے کیلئے پاکستان اور بھارت‘ دونوں کا متفق ہونا ضروری ہے۔ پاکستان بھی بارہا بھارت پر واضح کر چکا کہ معاہدے میں کسی بھی قسم کے تغیر وتبدل یا تنازع کی صورت میں ایک واضح اور قانونی طریقہ کار پہلے سے موجود ہے‘ لہٰذا اگر بھارت کو تحفظات ہیں تو اسے متعلقہ فورم سے رجوع کرنا چاہیے‘ مگر بھارت اس عالمی معاہدے پر عملدرآمد سے انکار کر کے ایسی روایت کی بنیاد رکھ رہا ہے جو دنیا میں فقط تباہی کا پیغام لائے گی۔ دنیا بھر میں اس وقت سو سے زائد ممالک ایسے ہیں جو دریاؤں کے پانی کی تقسیم اور آبی مسائل کا شکار ہیں۔
دنیا کی 40 فیصد سے زائد آبادی ان دریاؤں کے بیسن پر آباد ہے جو ایک سے زائد ممالک سے گزرتے ہیں لہٰذا بین الاقوامی برادری کو یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ اگر آج بھارت کو سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرنے کی کھلی چھوٹ دی گئی تو دنیا بھر میں انتہائی منفی اور ایک خطرناک مثال قائم ہو جائے گی اور حتمی نتیجے میں پانی کے تنازعات سنگین جنگوں کی شکل بھی اختیار کر سکتے ہیں‘ جس سے پوری دنیا کا امن واستحکام تباہ ہو جائے گا۔ تمام تر آبی مسائل اور تنازعات کا پائیدار حل صرف اور صرف عالمی معاہدوں کی پاسداری اور بین الاقوامی قوانین کے احترام میں پنہاں ہے۔ عالمی برادری ‘ اقوام متحدہ اور سندھ طاس معاہدے کے ضامن ورلڈ بینک کو چاہیے کہ وہ بھارت کو بین الاقوامی قوانین اور سندھ طاس معاہدے کی پاسداری کا پابند بنائیں تاکہ جنوبی ایشیا کو ایک بڑے انسانی اور ماحولیاتی بحران سے بچایا جا سکے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کاہنہ کا اندوہناک سانحہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-01/11320</link><pubDate>Wed, 01 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-01/11320</guid><description>لاہور کے علاقے کاہنہ میں ایک ٹیوشن سنٹر کی چھت گرنے سے 14بچوں کے جاں بحق ہونے کا واقعہ انتہائی افسوسناک ہے۔ یہ ننھے بچے علم حاصل کرنے کیلئے گھروں سے نکلے تھے مگر ٹیوشن سنٹر کی انتظامیہ کی غفلت اور بے احتیاطی نے ان بچوں کی زندگیوں کے چراغ گل کر دیے۔ ٹیوشن سنٹر ایک خستہ حال رہائشی عمارت میں قائم تھا جس کی چھت مضبوط نہیں تھی۔ ریسکیو حکام کے مطابق چھت پر تعمیراتی کام کے دوران مٹی اور ٹائلوں کے اضافی بوجھ کی وجہ سے پوری چھت ٹوٹ کر نیچے آ گری۔ یعنی یہ حادثہ کسی قدرتی آفت کا نہیں بلکہ انسانی غفلت کا نتیجہ ہے۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں۔ رواں برس مئی میں ڈیرہ غازی خان میں ایک نجی سکول کی چھت گرنے سے چار بچے جاں بحق ہوئے جبکہ گزشتہ برس ستمبر میں پنجاب ہی کے ایک قصبے سکھیکی میں ایک سکول کی چھت گرنے سے چھ بچے اور ایک استاد زندگی کی بازی ہار گئے۔ ان تمام واقعات میں قدرِ مشترک یہ ہے کہ تینوں عمارتوں کی چھتیں ٹی آر کی بنی تھیں اور بروقت مرمت نہ ہونے کے باعث موت کا پھندا بن گئیں۔

یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ سکولوں‘ تعلیمی اداروں‘ اور اکیڈمیوں کی عمارتوں کا معائنہ کس کی ذمہ داری ہے؟ اس سے بھی زیادہ تشویشناک پہلو گلی محلوں میں قائم ہزاروں غیر رجسٹرڈ ٹیوشن سنٹرز اور اکیڈمیوں کا ہے۔ ان مراکز کیلئے کوئی واضح قانونی فریم ورک موجود نہیں۔ نہ ان کی رجسٹریشن کرائی جاتی ہے اور نہ ہی عمارتوں کا حفاظتی آڈٹ ہوتا ہے‘ حالانکہ روزانہ لاکھوں بچے ان مقامات پر کئی گھنٹے گزارتے ہیں۔ لیکن یہ مسئلہ صرف سکولوں اور ٹیوشن سنٹروں تک محدود نہیں بلکہ پورے ملک میں خستہ حال عمارتیں سنگین نوعیت کے خطرات کی نشاندہی کرتی ہیں۔ رواں برس جنوری میں والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ میں جمع کرائی گئی ایک رپورٹ کے مطابق صرف اندرون شہر لاہور میں 346خستہ حال اور انتہائی خطرناک عمارتیں موجود ہیں‘ جن میں سے 254اب بھی رہائش‘ تجارت یا دیگر سرگرمیوں کیلئے استعمال ہو رہی ہیں۔ اسی طرح سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے مطابق کراچی میں 588مخدوش عمارتیں موجود ہیں جن میں تقریباً 50انتہائی خطرناک قرار دی جا چکی ہیں اور وہ کسی بھی وقت ایک بڑے انسانی سانحے کا سبب بن سکتی ہیں۔
دیگر بڑے شہروں میں بھی کمی و بیش ایسی ہی صورتحال ہے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کا ثبوت ہیں کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو کاہنہ جیسے مزید سانحات وقوع پذیر ہو سکتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت محض حادثات کے بعد ردِعمل دینے کے بجائے مستقل اور مؤثر اصلاحات کی طرف بڑھے۔ سانحہ کاہنہ کو قدرت کی آخری تنبیہ سمجھا جائے اور فوری طور پر نہ صرف تمام صنعتی اور کمرشل عمارتوں میں حفاظتی آڈٹ قانونی طور پر لازمی قرار دیا جائے بلکہ بلڈنگ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی بھی عمل میں لائی جائے۔ کاہنہ کے 14 معصوم بچوں کی جانیں واپس نہیں آ سکتیں لیکن اگر ان کی قربانی بھی ہمارے نظام کو نہ جگا سکی تو یہ ہماری اجتماعی بے حسی کا ثبوت ہو گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>زبردستی کا عشق(ایاز امیر)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-07-01/52213/27211333</link><pubDate>Wed, 01 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-07-01/52213/27211333</guid><description>چار سے زیادہ سال ہو گئے ہیں اس نظام کو جو پاکستانی عوام کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ رجیم چینج بھی اسے کہا گیا‘ ہائبرڈ کا لفظ بھی استعمال ہوتا ہے جب اس نظام کی نزاکتیں بیان کرنا مقصود ہو۔ بنیادی نکتہ اس نظام کا یہ ہے کہ عوام کا لینا دینا اس سے کچھ نہیں۔ جب یہ ساری کارروائیاں شروع ہوئیں اور جب بعد میں الیکشن کے نام پر وہ سب کچھ رچایا گیا جو اس قوم نے پہلے نہیں دیکھا تھا تو سب کچھ اوپر سے ہی ہوا۔ عوام سے پوچھا گیا نہ رائے لی گئی۔ جو کچھ ایوانانِ اعلیٰ میں ترتیب دیا گیا عوام کے سروں پر ڈال دیا گیا۔ عوام کی داد بنتی ہے کہ کمال ہمت سے سب کچھ برداشت کر رہے ہیں۔ زور زبردستی کے سودے‘ معاشی بدحالی‘ کمر توڑ مہنگائی اور اوپر سے وعظ و نصیحت کہ حالت تمہاری بہتر ہو رہی ہے۔ ایسے میں عوام جائیں تو جائیں کہاں۔پچھلے سال ہندوستان نے اس بندوبست کے ساتھ مہربانی کی کہ بغیر سوچے سمجھے چھیڑ خانی کر دی۔ اس پر جو جھڑپیں ہوئیں ہمارا پلڑا بھاری رہا اور ان کے کئی جہاز مار گرائے گئے۔ جس سے ہماری بڑی بلّے بلّے ہوئی اورلوگوں نے کہنا شروع کر دیا کہ اقوامِ عالم میں پاکستان کی قدر ومنزلت بڑھ گئی ہے۔ اس بات سے انکار بھی ممکن نہیں تھا کیونکہ ہندوستان کے جہاز تو گرے تھے اور چار روزہ جھڑپ میں ہماری دفاعی کارکردگی بہتر رہی۔ یہ دنیا نے بھی دیکھا اور اس کا اقرار کیا۔ پھر اس سال فروری کے آخری دن یہ ایران والی جنگ شروع ہو گئی اور ہمارے اہلِ اقتدار کی طرف سے ثالثی اور امن بحال کرنے کی کوششیں شروع ہوئیں۔ جب امریکی نائب صدر اور ایران کی طرف سے سپیکر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی اسلام آباد آئے اور اسلام آباد کے سرینا ہوٹل میں مذاکرات کا طویل دور چلا تو یہاں کے مقتدر حلقوں کی بلّے بلّے بہت ہوئی اور پاکستان کی ہر طرف سے تعریف ہوئی۔ ہر طرف سے اعتراف ہوا کہ پاکستان کا گراف بڑھ گیا ہے اور ہمیں عزت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ لیکن جوں جوں ایران اور امریکہ کی کشیدگی ایک دائمی شکل اختیار کر رہی ہے تو یہاں سے کی جانے والی کوششوں کو ایک نارمل انداز سے لیا جانے لگا ہے۔ تالیاں بجائی بھی جائیں تو کتنی بجائی جا سکتی ہیں۔ پھر یہ بھی ہے کہ عام لوگوں کی دلچسپی اپنے حالات میں زیادہ ہوتی ہے اور خارجی امور یا دور کے ڈھولوں میں ذرا کم ہوتی ہے۔ یہ گرمی کا موسم اور اوپر سے مہنگائی اور معاشی بدحالی تو خارجہ امور کے معرکوں کو انسان کتنا سراہے۔ خیال یہ بھی آتا ہے کہ اوروں کے معاملات درست کرنا بہت اچھی بات ہے لیکن ساتھ ہی اپنے مسائل پر بھی کچھ توجہ ہو جائے تو کتنا ہی بہتر ہو۔جہاں تک اپنے مسائل کا تعلق ہے پاکستانی معیشت کو تو خدا جانے کون سی دیمک لگی ہوئی ہے کہ آگے چلنے کا نام نہیں لیتی۔ دو اڑھائی سال سے یہ سُن سُن کر کان پک چکے ہیں کہ معیشت میں استحکام آ گیا ہے۔ استحکام کاغذی اعداد وشمار تک محدود ہے‘ اس کا کوئی اثر ایسا نہیں کہ عام آدمی محسوس کر سکے اور بھنگڑا ڈالنے لگے کہ لو جی اس معاشی استحکام سے ہمارا چولہا زیادہ اچھا جلنے لگا ہے۔ استحکام کے کرشمات وزیر خزانہ اور وزیراعظم کی تقریروں تک محدود ہیں۔ معیشت کا یہ حال ہے تو سیاست کا اس سے زیادہ بہتر نہیں۔ سیاسی محاذ پر تو ہر چیز جام ہے۔ اسمبلیاں بیٹھتی ہیں اور تنخواہیں لیتی ہیں لیکن ہر کوئی جانتا ہے کہ اقتدار کا اصل منبع کہاں ہے اور کیسے چل رہا ہے۔ وہ جو ڈرامہ ہوتا ہے کہ پتلیاں ناچ رہی ہوتی ہیں اور ان کے دھاگے پیچھے سے کھینچے جاتے ہیں۔ چار سال سے کچھ اس قسم کا ناٹک یہاں چل رہا ہے۔ معاشی خوشحالی ہو جاتی‘ مہنگائی کے گھوڑوں کو کچھ لگام دی جاتی‘ بازار‘ منڈیوں اور فیکٹریوں میں نوکریاں ملنے لگتیں تو جمہوریت کے کھلواڑ پر کس نے رونا تھا۔ لیکن جہاں معاشی تنگدستی کے ساتھ زبردستی کی زبان بندی معمول بن جائے تو عوام پھر سوچتے تو ہیں کہ ان کے ساتھ ہو کیا رہا ہے۔ سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ ایسا کتنی دیر چلایا جا سکتا ہے۔ چار سال تو ہو گئے اور جو کرشمے اس نظام نے جنم دیے ہیں وہ اس قوم کے سامنے ہیں۔ نارمل سوال ہے کہ حضور جو کچھ آپ نے کیا ٹھیک کیا لیکن آگے کیا کرنا ہے؟ امریکہ کی وہ بات نہیں رہی جو ایران جنگ سے پہلے تھی۔ اسرائیل کی امریکی سیاست میں وہ حیثیت نہیں رہی جو اس جنگ سے پہلے تھی۔ نیویارک کی سیاست میں دیکھا نہیں کہ کیا ہوا ہے؟ ڈیموکریٹک پارٹی کے پرائمری الیکشن میں تین ایسے نمائندے چنے گئے ہیں جو واضح طور پر اسرائیل مخالف ہیں۔ یہ اس شہر میں ہوا جہاں اسرائیل کی حیثیت اب تک مسلمہ سمجھی جاتی تھی۔ ان تینوں نمائندوں کے پیچھے میئر زہران ممدانی کا ہاتھ ہے۔ اسرائیل کے خلاف تو امریکی سیاست میں بات ہو نہیں سکتی تھی اور اب یہ صورتحال کہ اسرائیل کے کھلے مخالف سامنے آ رہے ہیں۔ عرض کرنے کا مطلب یہ کہ جہاں اتنی تبدیلیاں ہو رہی ہیں کیا پاکستان میں ایسا ہی چلتا رہے گا؟ یہ جو یکطرفہ عشق یہاں کا حکومتی بندوبست پاکستانی عوام کے ساتھ چلا رہا ہے یہ ایسا ہی رہے گا؟ حالات اتنے ہی کنٹرول میں ہوں تو یہ روز کی خبریں نہ آئیں کہ خیبر پختونخوا میں فلاں مقام پر فلاں واقعہ ہو گیا‘ بلوچستان میں فلاں واقعہ ہو گیا۔ چار سال کوئی کم عرصہ نہیں‘ یہ تو پہلی جنگ عظیم کا دورانیہ ہے۔ دونوں مغربی محاذوں پر کچھ تو بہتری آئے‘ خبروں کا رخ بدلے۔ امن قائم ہو وہاں کے مکینوں کا اعتماد بحال ہو۔ حالات جتنے بھی خراب ہوں عوام کا حوصلہ قائم رہتا ہے جب احساس اور یقین ہو کہ اقتدار چلانے والوں کی سمت درست ہے لیکن حالات ایسے ہی چل رہے ہوں کہ &#39;نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں‘ تو پھر بے یقینی پھیلتی ہے۔ عوامی اعتماد متزلزل ہونے لگتا ہے اور پھر یہ کہنا کافی نہیں رہتا کہ پاکستان کا گراف بڑھ گیا ہے۔پر کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ اگر میدانِِ سیاست منجمد ہے تو یہ بھی عیاں ہے کہ کسی اعتبار سے کوئی نئی سوچ پیدا نہیں ہو رہی۔ وہ جو فیصلے چار سال پہلے کیے گئے تھے اُنہی پر اکابرینِ ملت کاربند نظر آتے ہیں کہ بس چلائے جاؤ ایسے اور پھر دیکھا جائے گا۔ یہاں کے حالات کا تعین تو اپنے لوگوں نے ہی کرنا ہے۔ جے ڈی وینس یا عباس عراقچی نے یہاں کے حالات درست نہیں کرنے۔ فارم 47 کوئی اتنا بڑا سیاسی نسخہ ہوتا تو اب تک دودھ اور شہد کی نہریں دریافت ہو چکی ہوتیں۔ اور یہاں کے لوگ ماضی کی سیاسی وابستگیاں بھول چکے ہوتے۔بہرحال آزاد کشمیر کے حوالے سے ایک بات سمجھ نہیں آئی کہ ان بارہ مہاجرین کی نشستوں پر اتنی ضد کیوں دکھائی جا رہی ہے۔ کہا تو یہ جاتا ہے کہ ان بارہ نشستوں کے بل بوتے پر حکومتیں بنانے کے وقت گڑبڑ ہوتی ہے۔ ایسا کون سا مسئلہ ہے کہ اتنی سختی دکھائی جائے۔ جہاں سوئٹزرلینڈ کے اس خوبصورت شہر میں ایران اور امریکہ کے مذاکرات ہو سکتے ہیں اور اس سارے عمل میں ہمارا اہم کردار ہوتا ہے تو یہی فلسفہ اپنے معاملات میں نہیں کارفرما ہو سکتا؟ لیکن زیادہ سوال کیا پوچھے جائیں‘ مزاج خراب کرنے کی بات ہے۔ بلوچستان میں سزائیں بھی سنائی گئیں ۔ان کے بارے میں اب کیا تبصرہ کیا جائے ۔بس یہی کہاجا سکتا ہے کہ امید پر دنیا قائم ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_80573045.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ہاں خریدا ہے جہاز(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-07-01/52214/67046691</link><pubDate>Wed, 01 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-07-01/52214/67046691</guid><description>پنجاب میں نئے خریدے گئے جہاز پر تنازع اب بھی جاری ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ آنے والے برسوں میں بھی یہ معاملہ اسی طرح زیرِ بحث رہے گا۔ کہیں نہ کہیں‘ کوئی نہ کوئی اس پر سوال اٹھائے گا اور حکمران جماعت کا کوئی رہنما یا وزیر اس کا جواب دے گا اور یوں یہ معاملہ زندہ رہے گا۔ اگر سوال کے جواب میں خاموشی اختیار کر لی جائے تو یہ تاثر پیدا ہو گا کہ گویا جرم تسلیم کر لیا گیا‘ اور اگر وضاحت دی جائے تو بھی چند روز تک معاملہ ٹی وی سکرینوں اور سوشل میڈیا کی زینت بنا رہے گا‘ اور یہی اپوزیشن اور میڈیا کی منشا ہوتی ہے۔ ایسے معاملات دو دھاری تلوار کی مانند ہوتے ہیں جو کسی بھی سمت سے وار کر سکتی ہے۔ جس لہجے میں مریم اورنگزیب صاحبہ نے پنجاب اسمبلی میں کہا کہ ہاں‘ جہاز خریدا ہے‘ ہو سکتا ہے بہت سے دوست کہیں کہ اس میں چھپانے والی کون سی بات ہے؟ اب تو پورے جہان کو علم ہے‘ اگر انہوں نے صرف تصدیق کر دی ہے تو اس میں ایسا کیا برا ہے؟ تصدیق تک تو بات ٹھیک تھی لیکن اصل بات لہجے کی ہے۔ یقینا وزیراعلیٰ کے کیمپ میں داد دی گئی ہو گی کہ دیکھا! مریم اورنگزیب نے کیسا منہ توڑ جواب دیا ہے کہ جاؤ‘ جو کرنا ہے کر لو۔ مگر یہ جمہوری جواب نہیں ہے۔ یہ اتھارٹی کے زعم کا اظہار ہے۔ مریم اورنگزیب کبھی بینظیر بھٹو‘ نصرت بھٹو‘ سیدہ عابدہ حسین‘ حنا ربانی کھر اور مریم نواز کی طرح براہِ راست الیکشن لڑ کر پارلیمنٹ میں نہیں آئیں لہٰذا ان پر عوامی نمائندگی کا وہ بوجھ نہیں ہے جو براہِ راست الیکشن جیت کر پارلیمنٹ میں آنے والی خواتین پارلیمنٹیرینز محسوس کرتی تھیں یا آج بھی کرتی ہیں۔میں آصفہ بھٹو زرداری کو بھی اس فہرست میں شامل کرتا لیکن پیپلز پارٹی کے دوستوں سے معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ انہیں پہلا الیکشن ہی بلامقابلہ جتوا کر ان کے ساتھ بھلائی نہیں کی گئی۔ آصفہ بھٹو نے جیت تو ویسے بھی جانا تھا۔ اگر سیاست کے اس خطرناک کھیل میں انہیں انٹری دلوانا مقصود تھی تو بلاول کی طرح باقاعدہ الیکشن لڑنے دیتے۔ انہیں اپنے مقابلے کے امیدوار کا سامنا کرنے دیتے۔ بینظیر بھٹو اور نصرت بھٹو بھی تو مشکل ترین حالات میں برسوں تک یہی کرتی آئی تھیں۔ آصفہ بھی عوام میں جاتیں‘ جمہوریت کے بنیادی اسباق اور اس کی اہمیت وہ والدین کی وراثت سے نہیں بلکہ اپنے ذاتی تجربات سے سیکھتیں تو سیاسی طور پر زیادہ میچور ہو کر پارلیمنٹ میں اپنا کردار ادا کرتیں۔ صدر زرداری کے ترجمان مرتضیٰ سولنگی سے ایوانِ صدر میں بات ہو رہی تھی تو وہ کہنے لگے کہ آصفہ بہت سمجھدار اور میچور ہیں۔ مرتضیٰ سولنگی کی رائے یقینا اہمیت رکھتی ہے لیکن میں نے ان سے بھی یہی کہا کہ آصفہ کو بلامقابلہ منتخب کرا کے ان کے ساتھ کوئی بھلائی نہیں کی گئی۔پیپلز پارٹی کو چاہیے تھا کہ وہ بھٹو صاحب کے 1977ء والے فیصلے سے سبق سیکھتی‘ جب انہوں نے پہلے خود کو بلامقابلہ منتخب کرایا اور پھر ان کی دیکھا دیکھی چاروں وزرائے اعلیٰ نے بھی یہی کام کیا‘ اور ساتھ ہی بڑے بڑے وزیروں نے بھی خود کو بلامقابلہ منتخب کرا لیا‘ حالانکہ ان سب نے جیت جانا تھا۔ یوں بھٹو صاحب نے اپوزیشن کو خود ہی میدان فراہم کر دیا کہ وہ ان کے خلاف دھاندلی کی تحریک چلائیں۔ نتیجہ ہم سب جانتے ہیں کہ بھٹو صاحب کے ساتھ اس ایک فیصلے کی وجہ سے کیا ہوا۔ اسی لیے جو لوگ عوام کے براہِ راست ووٹ لے کر آتے ہیں ان کا جمہوری رویہ کچھ مختلف ہوتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ میرے مرحوم دوست ڈاکٹر ظفر الطاف اکثر کہا کرتے تھے کہ بینظیر بھٹو ایک ٹف وزیراعظم تھیں جو کابینہ کے اجلاسوں میں اپنے ساتھ اخبارات کے تراشوں کی پوری فائل لے کر آتی تھیں اور پھر متعلقہ وزیروں اور سیکرٹریوں کی خوب دھلائی ہوتی تھی۔ ڈاکٹر صاحب زراعت کے وفاقی سیکرٹری تھے‘ اس لیے بینظیر بھٹو ان سے زیادہ بحث کرتی تھیں کیونکہ ڈاکٹر صاحب آگے سے جواب دیتے تھے جبکہ دیگر افسران &#39;&#39;جی میڈم پرائم منسٹر‘‘ کہہ کر خاموش ہو جاتے تھے۔ ڈاکٹر صاحب بتایا کرتے تھے کہ بینظیر بھٹو کو اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھنے پر بہت غصہ آتا تھا کیونکہ ان کا ووٹر غریب مزدور تھا اور انہیں عوام کی فکر رہتی تھی۔ اسی لیے آپ کے پاس کتنا ہی سرپلس بجٹ یا پیسہ کیوں نہ ہو‘بعض اوقات آپ کو سادگی سے زندگی گزارنا ہوتی ہے تاکہ آپ کے ووٹر یا عوام کو یہ احساس نہ ہو کہ ان کا حکمران ان سے ٹیکس لے کر اپنی ذاتی عیاشیوں میں مصروف ہے۔ ایک طرف لوگوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہو‘ ان کا جینا دشوار ہو اور دوسری طرف حکمران اپنے لیے ہوائی جہاز خرید رہے ہوں تو عوام میں غصہ پیدا ہونا فطری ہے۔ ایک لیڈر کا طرزِ زندگی عوامی ہونا چاہیے۔ اگر جہاز پر سوال اٹھا تو اس کا جواب وہ نہیں بنتا جو مریم اورنگزیب صاحبہ نے اسمبلی میں دیا کہ &#39;&#39;ہاں خریدا ہے جہاز ‘‘۔ گویا &#39;کر لو جو کرنا ہے‘۔ اگر آپ خود کو جمہوری کہتے ہیں اور عوام کی نمائندگی کرتے ہیں تو یہ جواب مناسب نہیں تھا۔ اس سے بہتر تھا کہ آپ خاموش رہتے یا یہ بتاتے کہ جہاز کیوں خریدا گیا۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ عوام کے پیسوں سے کوئی چیز خرید کر کہا جائے کہ ہاں خریدا ہے‘ جاؤ جو کچھ کرنا ہے کر لو۔مریم نواز کی پرفارمنس بہت سے معاملات میں اچھی رہی ہے‘ اور ان کے ناقدین بھی بعض اقدامات کی تعریف کرنے پر مجبور ہیں۔ جب ناقدین بھی آپ کے اقدامات کی تعریف کر رہے ہوں تو اس وقت آپ کو زیادہ سمجھداری سے کام لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسے موقع پر اپنے پاؤں مضبوطی سے زمین پر رکھنے چاہئیں نہ کہ جوشِ جذبات میں ایسے فیصلے کرنے چاہئیں جو بعد میں سیاسی مسئلہ بن جائیں۔ جہاز خریدنے کا فیصلہ بھی انہی میں سے ایک ہے۔ بیٹھے بٹھائے ایسا فیصلہ کیا گیا جو اپوزیشن کوایک اہم ایشو دے گیا‘ اور یہ حکومت کو مسلسل تنگ کرتا رہے گا۔ عوام بھی اس پر ناراض ہیں‘ اور ان کی ناراضی بجا ہے۔ اب اگر حکومت جہاز خریدنے کا مناسب جواب نہ دے سکے اور تکبر سے بھرپور جواب دے تو اس سے عوام میں مزید غصہ پیدا ہو گا‘ اور یہی اپوزیشن کا مقصد تھا۔مریم نواز اگرچہ ایک سیاسی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں‘ اور انہیں شاید اپنے ارد گرد کسی ایسے سیانے فرد کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی جو انہیں مشورہ دے‘ لیکن پھر بھی اعلیٰ عہدے پر بیٹھے فرد کو اپنے اردگرد سیاسی طور سمجھدار چند لوگوں کو ضرور رکھنا چاہیے‘ جو وقتاً فوقتاً سیاسی مشورے دیتے رہیں تاکہ وہ جذبات اور تکبر کا شکار نہ ہوں۔ مریم نواز نے چند اچھے‘ غیرمقبول مگر ضروری فیصلے بھی کیے جن کی سب نے داد دی‘ جیسے لاہور شہر میں تقسیم سے پہلے کے ناموں کی بحالی۔ میرے خیال میں ایسے اچھے فیصلوں کے پیچھے ہمارے دوست سینیٹر پرویز رشید جیسے ماڈریٹ اور پروگریسو لوگوں کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔ پرویز رشید یقینا اپنا اثر و رسوخ ایسے مثبت فیصلوں کیلئے استعمال کرتے ہوں گے کیونکہ مجھے لندن کے دنوں سے ذاتی طور پرمعلوم ہے کہ نواز شریف‘ شہباز شریف اور مریم نواز سب ان کی عزت کرتے اور ان کے مشوروں کو اہمیت دیتے ہیں۔ یقینا جہاز خریدنے والا مشورہ پرویز رشید کا نہیں ہو گا۔ لیکن باقی جو ہجوم اس وقت مریم صاحبہ کے گرد اکٹھا ہے‘ یا انہوں نے خود اکٹھا کر رکھا ہے ان میں شاید کسی میں یہ جرأت نہیں کہ وہ انہیں ان کے مزاج کے برعکس کوئی مشورہ دے سکے۔ کسی حکمران کو اس کے مزاج کے خلاف مشورہ دینے کیلئے بڑے سیاسی قد اور مضبوط ذاتی کردار کی ضرورت ہوتی ہے‘ تبھی حاکم بات سنتا ہے۔اب نہ مریم نواز صاحبہ اکبر بادشاہ ہیں اور نہ ہی ان کے گرد نورتنوں جیسے ذہین فطین لوگ ہیں۔ لہٰذا پھر یہی جواب سامنے آئے گا جو مریم اورنگزیب صاحبہ نے دیا: ہاں خریدا ہے جہاز... جو کرنا ہے کر لو!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>تعلیم پر اخراجات: زوال کا سفر جاری ہے(شاہد صدیقی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-siddiqui/2026-07-01/52215/68942735</link><pubDate>Wed, 01 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-siddiqui/2026-07-01/52215/68942735</guid><description> اکنامک سروے 2025-26ء میں تعلیم کے حوالے سے اعداد وشمار کو سرسری نظر سے دیکھیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ملک کا تعلیمی شعبہ غیر معمولی ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور تقریباً ہر میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر چکا ہے۔ لیکن جیسے ہی اعداد و شمار کی تہہ میں اتریں تو بالکل مختلف صورتِ حال دکھائی دیتی ہے اور خوش نما اعداد و شمار کے پس منظر میں کئی ایسے حقائق سامنے آتے ہیں جو حکومتی دعوئوں پر ایک بڑا سوالیہ نشان لگا دیتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ اصل تصویر کو اعداد و شمار کی دبیز تہہ میں چھپا دیا گیا ہے۔ ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ اعدادو شمار کی اس دھند کو ہٹا کر پاکستان میں شعبہ تعلیم کی حقیقی صورتِ حال کو سمجھا جائے۔کسی بھی ملک میں تعلیم کی اہمیت کا سب سے بڑا پیمانہ اس شعبے پر ہونے والا سرکاری خرچ ہوتا ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں ہماری حکومت تعلیم کے شعبے پر کتنا خرچ کر رہی ہے۔ اکنامک سروے کے مطابق جولائی 24ء تا مارچ 25ء کے دوران تعلیم پر 962.029 ارب روپے خرچ کیے گئے تھے جبکہ 2025-26ء کے اسی عرصے میں یہ رقم گھٹ کر 356.499 ارب روپے رہ گئی۔ یعنی ایک ہی سال میں تعلیم پر اخراجات میں 605.530 ارب روپے سے زیادہ (تقریباً 62 فیصد سے زائد) کمی واقع ہوئی۔ یہ محض ایک عددی فرق نہیں بلکہ حکومتی ترجیحات میں ایک بنیادی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ کمی کوئی اچانک پیش آنے والا واقعہ نہیں بلکہ کئی برسوں سے جاری ایک مسلسل رجحان کا حصہ ہے۔ اگر مجموعی قومی پیداوار (GDP) کے تناسب سے تعلیم پر خرچ ہونے والی رقم کو دیکھا جائے تو صورتحال مزید مایوس کن نظر آتی ہے۔ 2018-19ء میں تعلیم پر اخراجات جی ڈی پی کا تقریباً دو فیصد تھے اور پھر یہ شرح سال بہ سال گرتے ہوئے 2024-25ء میں محض 0.8 فیصد تک محدود ہو گئی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ حالیہ اکنامک سروے نے 2025-26ء کیلئے یہ تناسب فراہم ہی نہیں کیا۔ تاہم دستیاب اعداد وشمار کی بنیاد پر حساب لگایا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ تعلیم پر اخراجات جی ڈی پی کے تناسب سے مزید کم ہو کر شاید ملکی تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ یہ صورتحال اس لیے بھی تشویشناک ہے کہ کئی دہائیوں سے حکومتیں تعلیم پر جی ڈی پی کا کم ازکم چار فیصد خرچ کرنے کے وعدے کرتی آ رہی ہیں۔ یہ وہ کم از کم حد ہے جس کی سفارش بین الاقوامی ادارے کرتے ہیں۔ لیکن عملی طور پر ہر حکومت نے ان وعدوں کو محض تقریروں اور پالیسی دستاویزات تک محدود رکھا ہے۔تعلیم پر کم سرمایہ کاری کے اثرات ملک کے تعلیمی اشاریوں میں صاف دکھائی دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر سکول سے باہر بچوں کے مسئلے کو ہی دیکھ لیجیے۔ اکنامک سروے میں دعویٰ کیا گیا کہ سکول سے باہر بچوں کی شرح 38فیصد سے کم ہو کر 28فیصد رہ گئی ہے۔ بظاہر یہ ایک خوش آئند خبر ہے لیکن حیرت انگیز طور پر سروے میں ان بچوں کی اصل تعداد نہیں دی گئی۔ جب تک مطلق تعداد سامنے نہ آئے‘ فیصد کے ذریعے مکمل حقیقت کو سمجھنا ممکن نہیں ہوتا‘ خاص طور پر ایسے ملک میں جہاں آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہو۔ ابتدائی یعنی پری پرائمری سطح کی صورتحال مزید تشویشناک ہے۔ 2022-23ء میں اس سطح پر داخل بچوں کی تعداد تقریباً ایک کروڑ اٹھارہ لاکھ تھی۔ اگلے سال یہ کم ہو کر ایک کروڑ چھ لاکھ ہو گئی۔ اندازہ ہے کہ 2024-25ء میں یہ مزید کم ہو کر تقریباً ایک کروڑ چار لاکھ رہ گئی ہے۔ گویا صرف دو برسوں میں پاکستان ابتدائی تعلیم میں دس لاکھ سے زیادہ بچے کھو چکا ہے۔ اگر یہی رجحان برقرار رہا تو اس کے اثرات آنے والے کئی عشروں تک محسوس کیے جائیں گے۔سروے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ملک کی شرح خواندگی 60.6 فیصد سے بڑھ کر 63 فیصد ہو گئی ہے۔ یقینا شرح خواندگی میں اضافہ خوش آئند ہونا چاہیے لیکن یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا یہ واقعی تعلیمی بہتری کا اظہار ہے یا اعداد وشمار جمع کرنے کے طریقہ کار یا آبادی کے تخمینوں میں تبدیلی کا نتیجہ؟ شرح خواندگی جیسے اشاریے عام طور پر آہستہ آہستہ تبدیل ہوتے ہیں‘ خاص طور پر ایسے ممالک میں جہاں آبادی میں تیز رفتار اضافہ اور ڈراپ آئوٹ کی شرح بلند ہو۔ حیرت انگیز طور پر اکنامک سروے اس اضافے کی کوئی وضاحت فراہم نہیں کرتا۔ داخلوں کے اعداد وشمار بھی کئی سوالات پیدا کرتے ہیں۔ اگرچہ سروے کے مطابق مڈل‘ سیکنڈری اور ہائر سیکنڈری سطح پر داخلوں میں اضافہ ہوا ہے لیکن جب نیٹ انرولمنٹ ریٹ (NER) دیکھا جائے تو بالکل مختلف تصویر سامنے آتی ہے۔ پرائمری سطح پر NER 54 فیصد‘ مڈل میں 23 فیصد اور میٹرک میں محض 16 فیصد ہے۔ گزشتہ سال یہی شرحیں بالترتیب 64‘ 37 اور 27 فیصد تھیں۔ یہ واضح اشارہ ہے کہ بڑی تعداد میں بچے یا تو مناسب عمر میں سکول میں داخل نہیں ہوتے یا مختلف جماعتوں میں رک جاتے ہیں‘ یا پھر تعلیم مکمل کیے بغیر نظام سے باہر ہو جاتے ہیں۔ صرف داخلوں میں اضافہ تعلیمی کامیابی نہیں کہلا سکتا جب تک کہ بچے سکول میں متعین مدت پوری نہ کریں۔ملک کے مختلف حصوں میں تعلیمی تفاوت بھی نہایت واضح ہے۔ پنجاب میں شرح خواندگی 68فیصد ہے جبکہ سندھ اور خیبر پختونخوا‘ دونوں 58فیصد پر ہیں۔ بلوچستان سب سے نیچے ہے جہاں شرح خواندگی محض 49فیصد ہے۔ یہ تفاوت صرف اعداد وشمار کا فرق نہیں بلکہ اس حقیقت کا اظہار ہے کہ پاکستان میں تعلیم تک رسائی آج بھی جغرافیے کی مرہونِ منت ہے۔ ایسے حالات میں نہ سماجی انصاف ممکن ہے اور نہ ہی قومی یکجہتی۔ صنفی تفاوت بھی برقرار ہے۔ مردوں میں شرح خواندگی 73فیصد جبکہ خواتین میں محض 54فیصد ہے۔ دیہی علاقوں میں خواتین کی شرح خواندگی مزید کم ہو کر 44فیصد رہ جاتی ہے۔ یہ اعداد وشمار اس حقیقت کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ عشروں پر محیط پالیسی اعلانات اور منصوبوں کے باوجود تعلیمی صنفی مساوات اب بھی ایک ادھورا خواب ہے۔سرکاری سکولوں میں بنیادی سہولتوں کی صورتحال بھی انتہائی افسوسناک ہے۔ ملک کے 35فیصد سکول بجلی‘ 24فیصد پینے کے صاف پانی‘ 23فیصد بیت الخلا اور 25فیصد چار دیواری جیسی بنیادی ضرورتوں سے محروم ہیں۔ بلوچستان کی صورتحال تو مزید تشویشناک ہے جہاں سرکاری سکولوں میں بیت الخلا کی دستیابی صرف 0.3فیصد بتائی گئی ہے۔ اکیسویں صدی میں بھی اگر بچوں کو بجلی‘ پانی‘ بیت الخلا اور محفوظ عمارت جیسی بنیادی سہولتیں فراہم نہیں کی جا سکیں تو اس سے ریاستی ترجیحات کا پتا چلتا ہے۔ پاکستان کی مجموعی تعلیمی صورت حال کا اندازہ انسانی ترقی کے اشاریے (HDI) سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔ سروے کے مطابق پاکستان میں متوقع تعلیمی مدت صرف 7.9 سال ہے‘ جو جنوبی ایشیائی خطے میں سب سے کم ہے جبکہ اوسط تعلیمی مدت محض 4.3 سال ہے۔ یہ اعداد وشمار اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ ہمارا تعلیمی بحران صرف وسائل کی کمی کا مسئلہ نہیں بلکہ پالیسی کے عدم تسلسل‘ کمزور عملدرآمد اور سیاسی ترجیحات کا بھی نتیجہ ہے۔اکنامک سروے 2025-26ء کئی سوالات کھڑے کرتا ہے لیکن ان سوالوں کے تسلی بخش جوابات فراہم نہیں کرتا۔ اگر ہم واقعی ایک باصلاحیت‘ باشعور اور ترقی یافتہ معاشرہ تشکیل دینا چاہتے ہیں تو ہمیں نمائشی کامیابیوں پر اکتفا کرنے کے بجائے ان بنیادی سوالات کا سامنا کرنا ہوگا کہ آخر کیوں پاکستان آج بھی تعلیم کے بنیادی اشاریوں میں اپنے ہمسایہ ممالک سے پیچھے ہے؟ جب تک تعلیم کو قومی ترجیح نہیں بنایا جاتا اور اس پر سنجیدہ سرمایہ کاری نہیں کی جاتی‘ ترقی کے تمام خوش نما دعوے محض صحرا میں چمکتے سراب ثابت ہوں گے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_21538475.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>افغانستان سے دہشت گردی، پاکستان کیلئے بڑا چیلنج(سلمان غنی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/salman-ghani/2026-07-01/52216/33246539</link><pubDate>Wed, 01 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/salman-ghani/2026-07-01/52216/33246539</guid><description>افغانستان سے پاکستان میں دراندازی اور سرحدی علاقوں کے ساتھ دہشت گردوں کی نقل و حرکت پاکستان کیلئے ایک بڑا سکیورٹی چیلنج ہے۔ پاکستان نے بارہا افغان انتظامیہ کو اس کی ذمہ داریوں کا احساس دلایا اور انہیں شواہد فراہم کرکے دہشت گردوں کے مراکز اور ان کی سرگرمیوں کے خلاف مؤثر اقدامات پر زور دیا لیکن ہر مرتبہ طالبان کی جانب سے یقین دہانیوں کے باوجود دہشت گردی کا سلسلہ جاری رہا۔ پاکستان نے اس ضمن میں دوست ممالک خصوصاً قطر اور ترکیہ کو بھی اس مسئلے سے آگاہ کیا اور اپیل کی کہ وہ افغان طالبان پر اپنی سرزمین کو دہشت گردی سے پاک کرنے کیلئے دباؤ ڈالیں مگر ان ممالک کی جانب سے طالبان انتظامیہ کو اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی پر زور دینے کے باوجود خاطر خواہ نتائج سامنے نہ آ سکے۔اگلے روز کراچی میں رینجرز کیمپ پر دہشت گردانہ حملے میں رینجرز کے تین جوانوں کی شہادت نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ پاکستان کے سکیورٹی ادارے دہشت گردوں کے خصوصی نشانے پر ہیں۔ سکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کو ٹارگٹ کرنے کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں کہ دہشت گرد سمجھتے ہیں کہ سکیورٹی اداروں کو ٹارگٹ کرکے پاکستان کو اندرونی طور پر غیر مستحکم کیا جا سکتا ہے تاہم یہ سکیورٹی اداروں کا بڑا کریڈٹ ہے کہ انہوں نے وطنِ عزیز کے تحفظ اور دہشت گردی کے خاتمے کیلئے قربانیاں دے کر ایک روشن تاریخ رقم کی ہے اور آج بھی وہ اپنے اسی عزم پر کاربند نظر آتے ہیں۔ کراچی میں رینجرز کیمپ پر حملے کی ذمہ داری قبول کرنے والی دہشت گرد تنظیم جماعت الاحرار کے افغانستان میں نیٹ ورک اور پاکستان میں دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث ہونے کے شواہد ماضی میں بھی سامنے آتے رہے ہیں۔کراچی ملک کا معاشی حب ہے اور یہاں امن و امان کی صورتحال براہِ راست ملکی معیشت سے جڑی ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دشمن سمجھتا ہے کہ پاکستان کی معیشت کو نقصان پہنچانے کیلئے کراچی کو غیر مستحکم کیا جائے۔ سکیورٹی فورسز نے کراچی میں ہونے والی دہشت گردی پر فوری ردِعمل دیا اورتین دہشت گردوں کو موقع پر ہلاک جبکہ ایک کو گرفتار کرکے یہ ثابت کیا کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی کے حوالے سے ہر وقت الرٹ ہیں۔ گرفتار ہونے والے دہشت گرد‘ جس کا نام عثمان علی ہے‘ کی شناخت ایک افغان شہری کے طور پر ہوئی ہے۔ گرفتار دہشت گرد نے اس مذموم کارروائی کی تفصیلات بھی حساس اداروں کو فراہم کیں اور بتایا کہ اس کا تعلق جماعت الاحرار سے ہے۔ اسے افغانستان میں باقاعدہ تربیت دی گئی اور وہ خودکش جیکٹس تیار کرنے کی مہارت رکھتا ہے۔ اس نے مزید بتایا کہ کراچی پہنچنے سے پہلے ہی افغانستان میں تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے تھے۔ اس دہشت گرد کے بیان اور جائے وقوعہ سے ملنے والے شواہد نے یہ بات واضح کی ہے کہ افغان سرزمین کا استعمال پاکستان میں دہشت گردی کیلئے ہو رہا ہے اور اس کا مقصد پاکستان کو غیر مستحکم کرنا ہے۔ افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد امیدیں اور توقعات یہ تھیں کہ افغان طالبان برسراقتدار آنے کے بعد نہ صرف افغانستان کے اندر اپنی انتظامی رِٹ قائم کریں گے بلکہ ہمسایہ ممالک خصوصاً پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے حوالے سے کی جانے والی شکایات کا بھی ازالہ کریں گے‘ لیکن ہوا اس کے بالکل برعکس۔ جب سے طالبان برسراقتدار آئے ہیں افغان سرزمین پر دہشت گردی کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے اور خصوصاً بلوچستان‘ خیبر پختونخوا اور اس سے ملحقہ علاقے ان کا ہدف بنے ہوئے ہیں۔پاکستان نے بارہا افغان انتظامیہ کو دہشت گرد تنظیموں اور ایسی سرگرمیوں میں ملوث گروہوں کے حوالے سے شواہد فراہم کیے۔ ہر بار انہوں نے اپنی ذمہ داریوں سے صرفِ نظر برتا۔ طالبان انتظامیہ کے دور میں ہونے والی دہشت گردی ماضی میں اشرف غنی اور حامد کرزئی کے ادوار کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ رہی ہے۔ اس ضمن میں شائع ہونے والی مختلف رپورٹس میں بھی واضح طور پر کہا گیا ہے کہ افغان طالبان اپنی سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کے سدباب کے حوالے سے سنجیدہ نہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ٹی ٹی پی‘ جماعت الاحرار‘ داعش خراسان اور دیگر کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی ان کی اپنی حکومت کی بقا کیلئے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ لہٰذا وہ دہشت گردی کے سدباب کیلئے مؤثر اقدامات کرنے کے بجائے الٹا پاکستان اور دیگر متاثرہ ممالک کو یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ چونکہ یہ واقعات ان ممالک میں رونما ہوتے ہیں اس لیے ان کے خلاف کارروائی بھی انہی کی ذمہ داری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بارہا سفارتی کوششوں کے باوجود پاکستان نے دیکھا کہ طالبان اس حوالے سے کوئی مؤثر کردار ادا کرنے کیلئے تیار نہیں اور اس ضمن میں مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کر رہے ہیں تو پاکستان کی فورسز نے سرحد کے ساتھ دہشت گردوں کے تربیتی مراکز کو نشانہ بنانا شروع کیا جس کے خاطر خواہ نتائج بھی سامنے آئے۔بھارت بھی پاکستان کو اندرونی طور پر غیر مستحکم کرنے کیلئے افغان سرزمین کا کھلے عام استعمال کر رہا ہے۔ وہ افغانستان میں موجود دہشت گرد تنظیموں اور مختلف گروہوں کو فنڈنگ اور اسلحہ فراہم کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک مرتبہ پھر پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ کراچی میں رینجرز کیمپ پر حملے کے حوالے سے انٹیلی جنس اداروں کی رپورٹس اور اس واقعے میں گرفتار ہونے والے افغان شہری کے اعترافی بیان نے بھی اس حقیقت کی تصدیق کر دی ہے۔ کراچی دھماکے کے بعد افواجِ پاکستان کی طرف سے پاک افغان سرحد پر دہشت گردوں کے خلاف جو انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا گیا‘ افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اس کی مذمت تو کر دی لیکن وہ ہمیشہ کی طرح یہ بتانے سے قاصر رہے کہ آخر ان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی سرگرمیاں کیوں جاری ہیں۔ دوحہ معاہدے میں افغان طالبان نے یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ اپنی سرزمین کو ہمسایہ ممالک کے خلاف دہشت گردی کیلئے استعمال نہیں ہونے دیں گے اور دہشت گردی کے سدباب میں اپنا مؤثر کردار ادا کریں گے لیکن عملی طور پر دیکھا جائے تو افغان طالبان نے دوحہ معاہدے کی صریح خلاف ورزی کی اور اپنی سرزمین پر موجود دہشت گردوں کے مراکز اور پناہ گاہوں سے مسلسل صرفِ نظر کرتے رہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان سمیت خطے کے وہ تمام ممالک‘ جو یہ سمجھتے تھے کہ افغانستان میں سیاسی تبدیلی کے ذریعے امن و امان کو یقینی بنایا جا سکے گا‘ شدید مایوسی کا شکار ہوئے۔ آج صورتحال یہ ہے کہ روس‘ جس نے افغان طالبان کی حکومت کو تسلیم کیا ہے‘ وہ بھی افغانستان میں ہزاروں دہشت گردوں کی موجودگی کی تصدیق کرتے ہوئے انہیں خطے کے امن کیلئے خطرناک قرار دے رہا ہے۔ پاکستان نے اسی لیے سفارتی کوششوں کے بعد دہشتگردوں کے خلاف ازخود کارروائی کا فیصلہ کیا ہے جس کی تائید عالمی قوانین بھی کرتے ہیں۔ لہٰذا پاکستان کی جانب سے دہشت گردوں کے مراکز کو نشانہ بنانے کا جواز موجود ہے اور اس کے خاطر خواہ نتائج بھی سامنے آئے ہیں۔ نئی صورتحال میں جب دشمن یہ دیکھ رہا ہے کہ بھارت کو جنگی محاذ پر پسپا کرنے کے بعد اب سفارتی محاذ پر امریکہ ایران جنگ بندی اور ان کے مابین مذاکراتی عمل کو ممکن بنانے پر دنیا بھر میں پاکستان کا ڈنکا بج رہا ہے تو اس نے دہشت گردی کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔ کراچی حملہ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی جوابی کارروائی سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان اب دہشت گردی کے خلاف زیروٹالرنس پالیسی پر گامزن ہے۔ دہشت گردی کا ہر ایک واقعہ قومی سلامتی‘ معیشت اور عوامی اعتماد پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ملک میں یہ سوچ و اپروچ بھی نمایاں ہو کر سامنے آئی ہے کہ داخلی سلامتی کے معاملات پر تمام سیاسی قوتوں‘ ریاستی اداروں‘ میڈیا اور سول سوسائٹی کو ایک پیچ پر آنا ہوگا۔ اس لیے کہ قومی یکجہتی ہی ان کے عزائم ناکام بنانے کا مؤثر ذریعہ بن سکتی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/230_37874475.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>جنگ اور امن میں معلق مشرقِ و سطیٰ(جاوید حفیظ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/javed-hafiz/2026-07-01/52217/96047308</link><pubDate>Wed, 01 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/javed-hafiz/2026-07-01/52217/96047308</guid><description>ابھی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخطوں کی سیاہی بھی خشک نہیں ہوئی تھی کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جھڑپیں پھر سے شروع ہو گئیں۔ امریکہ اور ایران کی مخاصمت اتنی گہری ہو چکی ہے کہ یہ دوچار ماہ کی مصالحتی کوششوں سے کسی قدر ہی کم ہوئی ہے مگر وہ کوششیں جو پاکستان نے کیں وہ قابلِ تحسین ہیں ‘ جنگ ختم ہو یا نہ ہو۔تکنیکی مذاکرات کی ایک باضابطہ نشست کے بعد خطے میں حالات معمول کی جانب جانا شروع ہوئے تھے کہ امریکہ نے ہرمز کے قریب ایران کے ریڈار سٹیشن پر حملہ کر دیا اور قشم کے جزیرہ پر بھی بمباری کی۔ جواب میں ایران نے بحرین اور کویت میں امریکی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ مشرقِ وسطیٰ میں باہمی دشمنیاں بیرونی مداخلت کا سبب بنتی رہی ہیں۔ مغرب کا لگایا ہوا اسرائیلی پودا اب تنا ور درخت بن چکا ہے۔ اسرائیل کی آمد کے بعد خطے میں آنے والا تنائو آج تک موجود ہے۔ فلسطینیوں پر اندھے جرائم کا مرتکب اسرائیل اب مزید توسیع کے خواب دیکھ رہا ہے لہٰذا میرا تجزیہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کا خطہ جنگ اور امن کے درمیان ایک عرصے تک معلق رہے گا۔ذکر اس بات کا ہو رہا تھا کہ خطے کے ممالک کے مابین مخاصمت بیرونی مداخلت کا سبب بنتی رہی ہے۔ ان میں ایک تو عرب اسرائیل دشمنی ہے جو 1948ء سے چلی آ رہی ہے۔ میں1970ء کی دہائی میں دمشق میں تھا تو حافظ الاسد اور صدام حسین میں چپقلش رہتی تھی۔1990ء میں صدام نے کویت پر چڑھائی کی تو شامی حکومت کویت کے حامی ممالک کے ساتھ کھڑی تھی۔ بڑی تعداد میں امریکی فوجی سعودی عرب آئے اور کویت کو عراقی قبضے سے نجات دلائی۔ اس کے بعد خلیجی ممالک میں امریکہ کے عسکری اڈے قائم ہو گئے۔ عرب عجم مخاصمت کی جڑیں بھی خاصی پرانی ہیں‘ تاہم ایران میں انقلاب سے پہلے ایران اور سعودی عرب کے تعلقات شاندار تھے۔ معاملات میں خرابی تب آئی جب ایران کی نئی حکومت نے انقلاب کی منتقلی کو اپنا نصب العین بنایا۔ خلیجی ممالک میں چونکہ موروثی حکومتیں ہیں لہٰذا انہیں نئے ایران سے خطرہ محسوس ہوا۔ ایران عراق جنگ شروع ہوئی تو خلیجی ممالک دل و جان اور مال و متاع کے ساتھ صدام حسین کے ساتھ کھڑے تھے۔ پھر اُسی صدام حسین نے ایک پُرامن خلیجی ملک پر چڑھائی کردی۔ صدام حسین کا خطرہ کم ہوا تو خلیجی ممالک کو باور کرایا گیا کہ اب آپ کو ایران سے خطرہ ہے۔ یمن میں جنگ شروع ہوئی تو خلیجی ممالک صنعا کی حکومت کے ساتھ تھے جبکہ ایران حوثیوں کی مدد کر رہا تھا۔ خلیجی ممالک کیلئے ایرانی خطرہ اب حقیقت کا روپ دھار چکا تھا۔ مغربی ممالک نے اس صورتحال کا خوب فائدہ اٹھایا اور آج بھی خلیجی ریاستیں مغربی ممالک کے ہتھیاروں کی اہم خریدار ہیں۔ اہلِ مغرب خوب جانتے ہیں کہ ایران کا ہوّا دکھا کر خلیجی ممالک کو ہتھیار بیچے جا سکتے ہیں۔ میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ مغربی ممالک ایران کو ضرورت سے زیادہ کمزور کبھی نہیں کریں گے۔ صدر ٹرمپ کی ایران کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کی باتیں خاصی کھوکھلی ہیں‘اور صرف وقتی افادیت رکھتی ہیں۔اب آتے ہیں موجودہ صورتحال کی جانب۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جنگ کے بعد کا ایران بھاری نقصانات کے باوجود زیادہ پُراعتماد نظر آتا ہے۔ سید علی خامنہ ای کی شہادت نے ایرانی قوم کو پھر سے متحد کر دیا ہے۔ جون 2025ء کے حملوں کے بعد ایران نے بہت جلدی اور اعلیٰ ذہانت کے ساتھ حکمت عملی کو تبدیل کیا اور اس کے ثمرات اسے ملے ہیں۔ سب سے مؤثر کارڈ جو ایران نے اس جنگ میں دریافت کیا وہ آبنائے ہرمز کا ہے‘ بقول وزیر خارجہ عباس عراقچی یہ تلوار اب ایران کے ہاتھ میں رہے گی۔ اس جنگ نے ایران کو نئی اور زیادہ پُرعزم قیادت دی ہے۔ اب امریکہ یا اسرائیل اگر یہ دعویٰ کریں کہ ہم نے حکومت بدل دی تو یہ ان کی خام خیالی ہو گی۔ نئی حکومت میں ایرانی نیشنلزم بھرپور انداز میں نظر آتا ہے۔ جون 2025ء کے بارہ روزہ تابڑ توڑ حملوں کے بعد ایرانی قیادت نے فیصلہ کیا کہ پاور کی مرکزیت کو کم کرکے علاقائی کمانڈروں کو زیادہ بااختیار بنایا جائے۔ ایران لمبی گوریلا جنگ کی تیاری کر رہا تھا۔ حکمت عملی یہ تھی کہ کسی ایک حصے پر امریکی برّی فوج قبضہ کر بھی لے تو باقی صوبوں کے کمانڈر پوری قوت سے مقابلہ جاری رکھیں۔ایران یہ بھی جانتا تھا کہ عراق اور افغانستان کی جنگوں کے بعد اب امریکہ میں لمبی زمینی جنگ لڑنے کا دم خم نہیں اور یہ بات بھی عیاں تھی کہ امریکہ کے اندر بھی اس جنگ کی مخالفت پائی جاتی ہے۔ ایران صلح کے موڈ میں بھی ہے اور لمبی جنگ کیلئے بھی تیار ہے۔میرا تجزیہ ہے کہ یہ خطہ کافی عرصے تک جنگ اور امن کے درمیان معلق رہے گا۔ اس کی بڑی وجہ خطے کا سب سے بڑا تخریب کار اسرائیل ہے۔ فلسطین کا مسئلہ جوں کا توں ہے بلکہ غزہ میں قتلِ عام کے بعد اور گمبھیر ہو گیا ہے۔ مغربی کنارے اور القدس میں اسرائیلی مظالم عروج پر ہیں۔ چند سال پہلے تک بعض عرب ممالک کا خیال تھا کہ فلسطین کا مسئلہ قصۂ پارینہ ہو چکا لہٰذا اسرائیل سے صلح کر لینی چاہیے۔ اسرائیل سے تجارت ہو گی‘ سرمایہ کاری آئے گی‘ سیاح آئیں گے لیکن اکتوبر 2023ء میں مسئلہ فلسطین پھر سے پوری قوت کے ساتھ دنیا کے سامنے آ گیا۔ اب عرب ممالک اس سے صرفِ نظر نہیں کر سکتے کیونکہ عرب عوام میں اب بہت غم و غصہ ہے۔حال ہی میں اسرائیلی اور لبنانی حکومتوں کے مابین جنوبی لبنان کے حوالے سے جو معاہدہ ہوا اس کے خلاف اسرائیل اور لبنان دونوں جگہ آوازیں اٹھی ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو خود بھی خاصے انتہا پسند ہیں۔ فلسطینی خون بہانا ان کا مشغلہ ہے‘ توسیع پسندی کے عزائم اور صہیونی بالادستی کے خواب بھی اپنی جگہ قائم ہیں لیکن ان کی کابینہ میں اتمار بن گویر جیسے شدت پسند بھی موجود ہیں جو صلح اور امن کے نام سے ہی نفرت کرتے ہیں۔ اسرائیل میں الیکشن بھی قریب ہیں اور وہاں عرب مخالف نعرے ووٹروں کیلئے پُرکشش ہیں‘ بالکل ایسے ہی جیسے انڈیا میں پاکستان مخالف نعرے بی جے پی کے ووٹ بینک میں اضافہ کرتے ہیں۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ واشنگٹن معاہدے کی سخت مخالف ہے۔ حزب اللہ کمزور ضرور ہوئی ہے لیکن اب بھی ایران کی آنکھوں کا تارا ہے۔ دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ لبنان حکومت نے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا ہے اور حزب اللہ لبنانی حکومت میں بھی شامل ہے۔ یہ خطہ دلچسپ تضادات کا حامل ہے۔ مستقبل قریب یعنی اگلے دو چار سال تک نہ حزب اللہ غیر مسلح ہو گی اور نہ اسرائیل جنوبی لبنان سے نکلے گا۔مارچ میں پاکستانی حکومت نے امریکہ اور ایران کے مابین صلح کا بیڑہ اٹھایا۔ یہ بڑی بات تھی کہ پاکستان دونوں متحارب ملکوں کیلئے قابلِ قبول تھا لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کے پاس وہ سیاسی اور اقتصادی قوت اور اثر رسوخ کم تھا جو صلح کنندہ کے پاس ہونا چاہیے البتہ عسکری قوت اور خلوصِ نیت ہمارے پاس وافر تھے لیکن سیاسی قوت کی کمی کو ہم نے کسی حد تک چین اور قطر کی مدد سے پورا کیا۔ اپریل کے آغاز سے اب تک عربی چینلز پر میرے درجنوں انٹرویو ہو چکے ہیں۔ عرب اینکرز کی باتوں سے لگتا تھا کہ عرب دنیا پاکستان کی شکرگزارضرور ہے لیکن پاکستان کے مشکل امن مشن کی کامیابی کے بارے سوالات بھی اٹھتے رہے۔ میرا یہی جواب ہوتا کہ ہمیں اس پُرخار راستے کا بخوبی علم ہے‘ ہم نیک عزم کے ساتھ اس مشن پر نکلے ہیں‘ امن کا فائدہ پاکستان کو تو ہوگا ہی لیکن ہمارے علاوہ پوری دنیا کو بھی ہوگا اور اس اچھے اقدام سے پورے عالم میں ہماری قدرو منزلت میں اضافہ ہوا ہے۔ایران اور خلیجی ممالک میں باہمی اعتماد سازی بھی بہت بڑا چیلنج ہے‘ جو شاید پاکستان اکیلا پورا نہ کر سکے اس کیلئے ہمیں ترکیہ اور مصر کی مدد درکار ہو گی۔ پاکستان اور علاقائی مسلم ممالک کا اقتصادی اور عسکری تعاون ہی اسرائیل کی توسیع پسندی کو روک سکتا اور دیر پا امن کا ضامن ہو سکتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_85338835.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>شہریوں کے حقوق و فرائض(علامہ ابتسام الہٰی ظہیر )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-07-01/52218/63471065</link><pubDate>Wed, 01 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-07-01/52218/63471065</guid><description>موجودہ دور میں دنیا بھر میں قومی ریاستیں قائم ہیں۔ ایک مثالی ریاست کیلئے ضروری ہے کہ اس میں بسنے والے شہریوں کے حقوق کا مکمل تحفظ ہو اور جو ذمہ داریاں ان پر عائد ہوتی ہیں وہ ان کو پوری تندہی اور دل سے ادا کریں۔ اسلام نے شہریوں اور ریاست کے حقوق و فرائض کو متوازن انداز میں بیان کیا ہے۔ ایک اسلامی معاشرے میں ہر فرد کو کئی بنیادی حقوق حاصل ہوتے ہیں‘ اسی طرح اس پر بہت سی ذمہ داریاں بھی عائد ہوتی ہیں۔ کتاب وسنت کے مطالعہ کے بعد شہریوں کے حقوق کے حوالے سے جو اہم نکات سامنے آتے ہیں وہ درج ذیل ہیں:1۔ جان و مال اور عزت کا تحفظ: ایک مثالی اسلامی ریاست میں شہریوں کے جان ومال اور عزت کے تحفظ کو یقینی بنایا جاتا ہے۔ اس حوالے سے صحیح بخاری میں حضرت عبداللہؓ بن عباس سے روایت ہے کہ دس ذوالحجہ کو رسول کریمﷺ نے منیٰ میں خطبہ دیا اور پوچھا: لوگو! آج کون سا دن ہے؟ لوگ بولے: یہ حرمت کا دن ہے۔ آپﷺ نے پھر پوچھا: یہ شہر کون سا ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ (مکہ) حرمت کا شہر ہے۔ آپﷺ نے پوچھا: یہ مہینہ کون سا ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ حرمت کا مہینہ ہے۔ پھر آپﷺ نے فرمایا: پس تمہارا خون‘ تمہارے مال اور تمہاری عزت ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہے جیسے اس دن کی حرمت‘ اس شہر اور اس مہینہ کی حرمت ہے۔ ان کلمات کو آپﷺ نے کئی بار دہرایا اور پھر آسمان کی طرف سر اٹھا کر فرمایا: اے اللہ! کیا میں نے (تیرا پیغام) پہنچا دیا۔ اے اللہ! کیا میں نے پہنچا دیا۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے کہا کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! آنحضرتﷺ کی یہ وصیت اپنی تمام امت کیلئے ہے کہ حاضر (اور جاننے والے) غائب (اور ناواقف لوگوں کو اللہ کا پیغام) پہنچا دیں۔ آپﷺ نے پھر فرمایا: دیکھو میرے بعد ایک دوسرے کی گردن مار کر کافر نہ بن جانا‘‘۔ 2۔ عدل وانصاف کا حق: ریاست کے ہر شہری کو عدل وانصاف کی یکساں فراہمی ہونی چاہیے اور اس حوالے سے کسی قسم کی زیادتی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ایک ریاست تبھی مثالی قرار پا سکتی ہے جب اس میں عدل وانصاف کے حوالے سے کسی قسم کی کوتاہی نہ کی جائے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ النحل کی آیت: 90 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;بیشک اللہ انصاف اور احسان کا حکم دیتا ہے‘‘۔ 3۔ مذہبی آزادی: ایک مثالی ریاست میں بسنے والے ہر شخص کو اپنے مذہب پر عمل پیرا ہونے کا پورا پورا حق حاصل ہوتا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ البقرہ کی آیت: 256 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;دین میں کوئی جبر نہیں‘‘۔ ریاست کسی بھی شہری کو مذہب تبدیل کرنے پر مجبور نہیں کر سکتی اور نہ ہی کسی کو اس کے مذہب پر عمل پیرا ہونے سے روک سکتی ہے۔ 4۔ شہریوں کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنا: کسی بھی ریاست کیلئے یہ بات ضروری ہے کہ روٹی‘ کپڑا‘ رہائش اور علاج ومعالجہ کی سہولتیں تمام شہریوں کو فراہم کی جائیں اور اس حوالے سے کسی قسم کی کوتاہی کا مظاہرہ نہ کیا جائے۔ حضرت عمر فاروقؓ نے اپنے دورِ حکومت میں رعایا کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے بھرپور جستجو کی‘ جس کی وجہ سے آج بھی سماجی تحفظ سے متعلق بہت سے قوانین کو حضرت عمرؓ کی ذات کے ساتھ منسوب کیا جاتا ہے۔ 5۔ ظلم سے تحفظ: حکمرانوں کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ سیاسی اور نظریاتی اختلافات کی وجہ سے رعایا کے ساتھ ظلم کا ارتکاب نہ کریں اور سیاسی اختلاف کے باوجود ان کو برداشت کریں۔ اس حوالے سے چند احادیث درج ذیل ہیں: صحیح مسلم میں حضرت سعیدؓ بن زید سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا &#39;&#39;جس کسی نے زمین کی ایک بالشت (بھی) ظلم کرتے ہوئے کاٹ لی‘ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے سات زمینوں کا طوق (بنا کر) پہنائے گا‘‘۔ صحیح مسلم میں حضرت جریرؓ بن عبداللہ سے روایت ہے: کچھ بدوی لوگ رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے: کچھ زکوٰۃ وصول کرنے والے لوگ ہمارے پاس آتے ہیں اور ہم پر ظلم کرتے ہیں۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا &#39;&#39;اپنے زکوٰۃ وصول کرنے والوں کو راضی کیا کرو‘‘۔ حضرت جریرؓ نے کہا : جب سے میں نے رسول اللہﷺ سے یہ حدیث سنی ہے تو میرے پاس سے جو کوئی زکوٰۃ وصول کرنے والا گیا‘ راضی گیا۔ صحیح مسلم میں حضرت جابرؓ بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: &#39;&#39;ظلم سے بچو کیونکہ ظلم قیامت کے دن (دلوں پر چھانے والے) اندھیرے ہوں گے‘‘۔جس طرح شہریوں کے حقوق متعین ہیں اسی طرح ان پر کچھ فرائض بھی عائد ہوتے ہیں۔ اس حوالے سے بعض اہم نکات درج ذیل ہیں:1۔ اللہ‘ رسولﷺ اور حکمرانوں کی اطاعت: شہریوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت کرنے کے ساتھ ساتھ حاکم وقت کی بھی اطاعت کریں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ النساء کی آیت: 59 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو‘ رسول کی اطاعت کرو اور اپنے میں سے صاحبانِ امر کی بھی‘‘۔ اس آیت مبارکہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اسلامی ریاست میں اللہ اور رسولﷺ کی اطاعت کے بعد معروف اور جائز کاموں میں حکمرانوں کی بھی اطاعت کرنی چاہیے۔ 2۔ شرعی اور ملکی قوانین کی پابندی اور غیر شرعی قوانین سے اجتناب: شہریوں کی ذمہ داری ہے کہ شرعی اور ملکی قوانین کی پابندی کریں اور غیر شرعی امور سے اجتناب کریں۔ اس حوالے سے صحیح بخاری میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ایک لشکر بھیجا اور اس کا امیر عبداللہ بن حذافہ سہمی کو بنایا۔ پھر (اس نے کیا کیا کہ) آگ جلوائی اور (لشکریوں سے) کہا کہ اس میں داخل ہو جائو۔ اس پر بعض لوگوں نے داخل ہونا چاہا لیکن کچھ لوگوں نے کہا کہ ہم آگ (جہنم) ہی سے بھاگ کر آئے ہیں۔ پھر اس کا ذکر آنحضرتﷺ سے کیا تو آپ نے فرمایا: جنہوں نے آگ میں داخل ہونے کا ارادہ کیا تھا کہ اگر وہ اس میں داخل ہو جاتے تو اس میں قیامت تک رہتے۔ اور دوسرے لوگوں سے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت جائز نہیں ہے‘ اطاعت صرف نیک کاموں میں ہے۔ 3۔ امانت داری: شہریوں پر یہ بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ریاست اور دوسرے شہریوں کے متعلقہ جو حقوق ان پر عائد ہوتے ہیں‘ ان کے حوالے سے امانت داری کا مظاہرہ کریں اور اس سلسلے میں جانبداری‘ پارٹی بازی اور اقربا پروری وغیرہ سے گریز کریں۔ اس حوالے سے سورۃ النساء کی آیت: 58 میں ارشاد ہوا: &#39;&#39;بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے حق داروں تک پہنچائو‘‘۔ 4۔ امر بالمعروف ونہی عن المنکر: شہریوں کی ذمہ داری ہے کہ ریاست میں کسی مثبت کام کو دیکھ کر اس کی تائید اورکسی منفی کام کو دیکھ کر اس کی تردید کریں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے حوالے سے سورۂ آل عمران کی آیات: 104 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;تم میں ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جو بھلائی کی دعوت دے‘ نیکی کا حکم کرے اور برائی سے روکے‘‘۔ 5۔ امن کے قیام کیلئے ذمہ داری کا مظاہرہ: شہریوں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ قیام امن کیلئے بھرپور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ اس حوالے سے صحیح بخاری میں حضرت عبداللہؓ بن عمرو سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا &#39;&#39;مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے (دیگر) مسلمان بچے رہیں‘‘۔ 6۔ مالیاتی ذمہ داریوں کی ادائیگی: حکومت کی طرف سے عائد جائز مالیاتی ذمہ داریوں کو ادا کرنا مسلمانوں کی دینی ذمہ داری ہے اور اس حوالے سے حکومت یا بیت المال کو نقصان پہنچانا کسی بھی طور پر جائز اور درست عمل نہیں ہے۔اگر شہری اپنے حقوق اور فرائض کو احسن طریقے سے ادا کریں تو ایک مثالی معاشرہ وجود میں آ سکتا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ شہریوں کو اپنے حقوق اور واجبات کو درست طریقے سے ادا کرنے کی توفیق دے اور پاکستان کو ایک مثالی فلاحی ریاست بنا دے‘ آمین!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_19740082.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>