<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>پارلیمانی بالا دستی کا تقاضا(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-20/11469</link><pubDate>Thu, 20 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-20/11469</guid><description>پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سینیٹ اور قومی اسمبلی میں حزبِ اختلاف کے قائدین سے ملاقات اور ان سے پارلیمان میں مؤثر کردار ادا کرنے کا مطالبہ سیاسی جمود کو توڑنے کی جانب بڑی پیشرفت ہے۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین کا یہ کہنا بجا ہے کہ اگر پارلیمان کو عزت دینی ہے تو پارلیمانی قائمہ کمیٹیوں کو فعال کرنا ہوگا اور اپوزیشن کو کمیٹیوں میں بیٹھ کر اصلاحات کے عمل میں کردار ادا کرنا چاہیے۔ ایوان کا ہر رکن‘ خواہ حکومتی بینچوں پر بیٹھے یا اپوزیشن بینچوں پر‘ عوام کا چُنا ہوا نمائندہ ہوتا ہے اور پارلیمان اسی وقت مؤثر انداز میں کام کر سکتی ہے جب ہر رکن اپنی نمائندگی کا حق ادا کرتے ہوئے ایوان میں بھرپور اور فعال کردار ادا کرے۔ جمہوری نظام میں حکومت اور اپوزیشن کو گاڑی کے دو پہیوں کی مانند سمجھا جاتا ہے جن کا توازن اور ہم آہنگی نظام کی گاڑی کو آگے بڑھانے کیلئے بنیادی شرط ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں یہ دونوں پہیے متضاد سمتوں میں چلنے کی کوشش کرتے رہے ہیں جس کا نتیجہ سیاسی عدم استحکام اور سیاسی اداروں کی کمزوری کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ اس طرزِ عمل نے نہ صرف پارلیمانی بالادستی کو نقصان پہنچایا بلکہ عوام کا اس نظام پر اعتماد بھی متزلزل کیا۔

دنیا کے ترقی یافتہ جمہوری ممالک کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو وہاں حکومت کی مخالفت کے باوجود اپوزیشن کا کردار پارلیمانی عمل کو آگے بڑھانے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ برطانیہ اور کئی دیگر ممالک میں شیڈو کابینہ کی شاندار روایت موجود ہے۔ وہاں اپوزیشن ہر وزارت کے مقابلے میں اپنا ایک ماہر مقرر کرتی ہے جو حکومتی پالیسیوں پر تعمیری تنقید کرتا اور متبادل حل پیش کرتا ہے۔ اسکے برعکس پاکستان میں اپوزیشن کا تصور حکومت کو معطل کرنے اور سڑکوں کی سیاست تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ جب اپوزیشن پارلیمانی اجلاسوں‘ پارلیمانی کمیٹیوں سے اور ایوان کی کارروائیوں سے الگ تھلگ رہتی ہے تو دراصل ان عوام کے مینڈیٹ کی توہین کرتی ہے جنہوں نے منتخب کر کے انہیں قانون سازی کے عمل میں اپنی آواز بننے کیلئے بھیجا ہوتا ہے۔ اسوقت انتخابی اصلاحات‘ نئی انتظامی تقسیم اور معیشت کی نحیف صورتحال جیسے بے شمار سنگین مسائل ہیں جو حل طلب ہیں مگر پارلیمان ان امور پر بحث کرنے کے بجائے خاموش ہے۔ پارلیمان کے غیر فعال ہونے سے نہ صرف قانون سازی کا محور تبدیل ہو جاتا بلکہ اسکے معیار پر بھی فرق پڑتا ہے۔ جب بلوں پر قائمہ کمیٹیوں اور ایوان میں تفصیلی بحث نہیں ہوتی تو قانون سازی میں خامیاں رہ جاتی ہیں۔
اسکی ایک مثال قریب ڈیڑھ ماہ قبل قومی اسمبلی سے پاس ہونیوالا ٹیلی کمیونیکیشن ترمیمی بل ہے‘ جو مناسب پارلیمانی جانچ پڑتال کی عدم موجودگی کی وجہ سے کئی پیچیدگیوں اور تنازعات کا شکار ہوا۔ ہماری سیاسی تاریخ میں ایسی بے شمار مثالیں موجود ہیں کہ جب عجلت میں اور بغیر بحث کے منظور کیے گئے قوانین ملک میں شدید سیاسی بحران کا سبب بنے۔ کسی بھی جمہوری نظام میں ایک مضبوط اور فعال پارلیمان ہی وہ واحد فورم ہے جو حکومت کی کارکردگی کو مؤثر اور جوابدہ بنا سکتی ہے۔ پارلیمان کی قائمہ کمیٹیاں حکومت پر نظر رکھنے اور اس کے اخراجات و پالیسیوں کا احتساب کرنے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہوتی ہیں۔ اگر اپوزیشن ان کمیٹیوں کا حصہ نہیں بنتی تو اپنے طرزِ عمل سے وہ حکومت کو کھلی چھٹی دے دیتی ہے کہ وہ من مرضی کے فیصلے کرے۔ بلاول بھٹو زرداری کا یہ مشورہ نہ صرف وقت کی پکار بلکہ پارلیمان کی بالا دستی کا تقاضا بھی ہے۔
پارلیمان عملی معنوں میں اسی وقت بالا دست بنے گی جبکہ اراکین خود اس کے تقدس اور وقار کو ملحوظ رکھتے ہوئے اسے جمہوری نظام کا محور بنائیں گے۔ ضروری ہے کہ اپوزیشن جماعتیں اور سیاسی قیادت ذاتی اَنا اور جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر سوچے۔ اگر اب بھی جمہوری گاڑی کے دونوں پہیوں نے ایک ہی سمت میں سفر شروع نہ کیا تو پارلیمان کی افادیت بے اثر اور جمہوریت کا سفر مزید کٹھن ہونے کا خدشہ ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ڈیزل کی قیمت میں کمی(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-20/11468</link><pubDate>Thu, 20 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-20/11468</guid><description>حکومت نے آئل ریفائنریز کے ساتھ مذاکرات کے بعد ڈیزل کی قیمت میں  32 روپے فی لٹر کمی کر دی ہے۔ عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں غیرمعمولی اتار چڑھاؤ اور خطے کی کشیدہ صورتحال کے باعث ملک میں ایندھن کی بلند قیمتوں نے عوام اور معیشت دونوں پر شدید دباؤ ڈالا ہے۔ ایسے میں حکومت کی طرف سے ڈیزل کی قیمت میں نمایاں کمی  وقتی طور پر عوام کو ریلیف دینے کی ایک مثبت کوشش ہے۔ ڈیزل ملکی معاشی سرگرمی کا بنیادی جزو ہے۔ اس کا براہِ راست تعلق مال بردار ٹرانسپورٹ‘ پبلک ٹرانسپورٹ‘ زراعت اور صنعت سے ہے۔ ڈیزل کی قیمت جب بلند ہوتی ہے تو اس کا بوجھ صرف گاڑی کے مالک تک محدود نہیں رہتا بلکہ اشیائے ضروریہ کی ترسیل‘ فصلوں کی پیداوار‘ صنعتی لاگت اور بالآخر عام صارف تک منتقل ہوتا ہے۔

چنانچہ ڈیزل کی قیمت میں کمی سے ٹرانسپورٹ اور پیداواری لاگت میں کمی کی گنجائش پیدا ہو گی جو مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ تاہم اس کمی کا فائدہ عوام تک پہنچانے کیلئے حکومت کو نئی قیمت کے نفاذ کے ساتھ ہی ٹرانسپورٹ کرایوں میں کمی یقینی بنانے کیلئے بھی اقدامات کرنا ہوں گے۔ اگر ڈیزل سستا ہو مگر بس‘ ویگن‘ ٹرک اور مال برداری کے کرائے بدستور برقرار رہیں تو ریلیف کا بڑا حصہ عوام تک پہنچنے سے پہلے ہی ختم ہو جائے گا۔ حکومت کو وقتی سبسڈی اور ہنگامی اقدامات کے ساتھ ایک مستقل توانائی پالیسی بھی تشکیل دینا ہوگی۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مضرِ صحت خوراک کا دھندہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-20/11467</link><pubDate>Thu, 20 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-20/11467</guid><description> لاہور ہائیکورٹ نے مردہ مرغیوں کا گوشت فروخت کرنے کے ایک مقدمے میں گرفتارملزم کی درخواستِ ضمانت مسترد کرتے قرار دیا کہ گھناؤنے جرائم میں ملوث ملزموں کو کھلی چھوٹ نہیں دی جا سکتی۔ ملک عزیز میں مضرِ صحت خوراک کی فروخت عوامی صحت کا سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔ آئے روز مردہ گوشت‘ ناقص اور غیر معیاری اشیائے خورونوش کی فروخت اور ضبطی کی خبریں تو سامنے آتی ہیں مگر اس گھناؤنے دھندے میں ملوث عناصر نظام میں موجود خامیوں کے باعث اکثر سستے چھوٹ جاتے اور پھر سے یہ مکروہ دھندا شروع کر دیتے ہیں۔ اس صورتحال کے پیشِ نظر متعلقہ اداروں کو محض چھاپہ مارکارروائیوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ کارروائی کے بعد مقدمات کی مؤثر پیروی‘ نمونوں کی بروقت جانچ‘ شواہد کا تحفظ‘ پولیس کی فوری تفتیش اور ان مقدمات کے منطقی انجام تک پہنچنے کا مؤثر نظام بھی ناگزیر ہے۔

جب تک مضرِ صحت خوراک کے کاروبار سے وابستہ عناصر کو یہ یقین رہے گا کہ کمزور تفتیش یا قانونی سقم ان کیلئے بچ نکلنے کا راستہ فراہم کرسکتا ہے‘ یہ کاروبار جاری رہے گا۔ضروری ہے کہ مضرِ صحت خوراک کے خلاف کارروائی کو مستقل اور مربوط مہم کی شکل دی جائے‘ فوڈ سیفٹی قوانین پر بلاامتیاز عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور انسانی جانوں سے کھیلنے والوں کیلئے ایسی مؤثر سزائیں مقرر اور نافذ کی جائیں جو دوسروں کیلئے بھی عبرت بنیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ایران امریکہ تنازع اور امتِ مسلمہ(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-08-20/52514/14014187</link><pubDate>Thu, 20 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-08-20/52514/14014187</guid><description>ایران امریکہ تنازع میں سب سے زیادہ نقصان امتِ مسلمہ کو پہنچا ہے۔ یہ تصور بھی متاثر ہوا اور اس کے ساتھ مسلم ریاستوں کے مابین آویزیش میں بھی اضافہ ہوا۔ ایران اور متحدہ عرب امارات میں تناؤ اسی کا ایک اظہار ہے۔پاکستان نے مقدور بھر کوشش کی کہ غزہ اور پھر ایران پر امریکہ کے جارحانہ حملے سے جو وحدتِ فکر پیدا ہوئی‘ اسے کوئی عملی صورت دے۔ سعودی عرب‘ ترکیے اور پاکستان کا دفاعی معاہدہ اس باب میں ایک اہم پیش رفت تھی۔ پاکستان کی یہ کاوش مگر اس خلیج کو کم نہیں کر سکی جسے وقت نے پیدا کیا اور پھر مسلسل اس میں اضافہ کیا ہے۔ ایران اور عربوں کے اختلافات میں نہ صرف کمی نہیں آئی‘ بلکہ اضافہ ہوا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا انہیں ختم کرنا ممکن ہو گا؟سیاسی اختلاف جب مذہبی رنگ اختیار کر لیتا ہے تو اس کی سنگینی میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اختلاف اگر طبیعیاتی رہے تو قابلِ حل ہوتا ہے۔ جیسے ہی اس میں مابعد الطبیعیات کا تڑکا لگتا ہے‘ اسے طبعی اصولوں کے ساتھ حل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ لوگ اس باب میں یورپی ممالک کی مثال دیتے ہیں۔ جنگِ عظیم کے بعد انہوں نے اپنے اختلافات کو ختم کیا اور پھر پُرامن بقائے باہمی کے اصول کو دل و جان سے قبول کرتے ہوئے کثرتِ میں وحدت کو تلاش کر لیا۔ یہ مثال دینے والے کہتے ہیں کہ مسلم ممالک ایسا کیوں نہیں کر سکتے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مگر یہ منکشف ہوا ہے کہ ایسا ہونا آسان نہیں۔ جب سیاسی اختلاف کی جڑیں مذہب کی سرزمین میں اُتر جائیں تو پھر معاملات ایک دوسرا رخ اختیار کر لیتے ہیں۔ ایک سیکولر ذہن ہی سیاست کو سیاسی سوچ کے تحت دیکھ سکتا ہے۔ایران اور عربوں کے اختلاف بھی مذہبی ہیں۔ صدیوں پر محیط اس کی ایک تاریخ ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں آج جھگڑا تسلط کا ہے۔ اہلِ تشیع کو تاریخ میں دوسری بار یہ موقع ملا کہ وہ دنیائے اسلام پر اپنی سیاسی بالادستی قائم کر سکیں۔ فاطمی سلطنت‘ مسلم تاریخ میں ایک ایسا باب ہے جو اہلِ سنت کی اس بالا دستی کے سلسلے کو توڑتا ہے جو رسالت مآبﷺ کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد شروع ہوئی اور جس کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ اس کا آغاز سقیفہ بنی ساعدہ سے ہوا۔ ایران میں صفویوں سے لے کر رضا شاہ پہلوی تک‘ ایرانی قومیت کی عصبیت تو تھی‘ اس میں مذہب کا تڑکا نہیں لگا تھا۔ 1979ء کے بعد جو انقلاب آیا اس میں مذہبی رنگ نمایاں تھا۔ صفویوں کے ساتھ ہمیں عالم اسلام کے اہلِ تشیع اس طرح وابستہ دکھائی نہیں دیتے جیسے ایران کی موجودہ قیادت کے ساتھ وابستہ ہیں۔ اس کے ساتھ ایران کا انقلاب کو منتقل کرنے پر اصرار‘ جس کا ثبوت اس کی پراکسیز ہیں‘ صورت حال کو کشیدہ بناتا ہے۔عربوں نے 1979ء کے بعد مذہبی بنیادوں پر اس کا مقابلہ کرنا چاہا۔ ایران کے خلاف عالم اسلام میں ایک فکری تحریک برپا ہوئی‘ بہت سی تنظیمیں وجود میں آئیں اور بہت سا لٹریچر تیار ہوا۔ تاہم سعودی عرب کی موجودہ قیادت ان مباحث سے لاتعلق ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ وہ مذہب کی بنیاد پر سیاسی بالادستی کے کسی تصور کو آگے بڑھاتی نظر نہیں آتی۔ شہزادہ محمد بن سلمان ترقی کے جس ماڈل پر یقین رکھتے ہیں اس میں مذہب شامل نہیں ہے۔ وہ اس بات کا اعلانیہ اظہار کر چکے ہیں کہ سعودی عرب ایک خاص تعبیرِ دین کے فروغ کے لیے کوشاں رہا لیکن اب یہ ماضی کا قصہ ہے۔ حالیہ دور میں اس کے شواہد میسر نہیں کہ وہ دنیا میں کسی خاص مذہبی نقطۂ نظر کا فروغ چاہتا ہے۔ کیا یہ اس بات کی علامت ہو سکتی ہے کہ مسلم دنیا میں مذہبی اختلاف کم ہو؟اس کا جواب صرف اسی صورت میں اثبات میں دیا جا سکتا ہے جب ایران کی طرف سے اس کا مثبت جواب آئے۔ تاریخ میں ایک اختلاف عثمانیوں اور عربوں کا بھی رہا ہے۔ پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدے میں مگر سعودی عرب اور ترکیے دونوں شامل ہیں۔ میں اس کو قبول کرنے میں‘ تادم تحریر متردد ہوں کہ عربوں اور ترکوں میں مستقبل میں کوئی محاذ آرائی نہیں ہو گی‘ تاہم محمد بن سلمان اور طیب اردوان‘ دونوں نے اب تک صاحبانِ بصیرت ہونے کا مظاہرہ کیا ہے۔ وہ اس وقت ساتھ چلتے دکھائی دیتے ہیں۔ خیال ہوتا ہے کہ اگر ان کے مفادات براہِ راست متصادم نہ ہوئے تو یہ اتحاد باقی رہ سکتا ہے۔اصل مسئلہ ایران کا ہے کہ کیا وہ اپنے مسلکی تشخص کو پس پشت ڈالنے پر آمادہ ہے؟ اس کے لیے یہ ضروری ہو گا کہ وہ اپنی پراکسیز کو ختم کرے جنہیں مسلکی بنیادوں پر کھڑا کیا گیا ہے۔ مجھے اس کے آثار دکھائی نہیں دیتے۔ اس کا امکان اسی وقت پیدا ہو گا جب ایران میں ایسی قیادت برسر اقتدار آ جائے جو غیر مذہبی ہو۔ اس کا امکان بھی سردست موجود نہیں ہے۔ اگر تھا بھی تو امریکی جارحیت نے اسے اس وقت ناقابلِ ذکر بنا دیا ہے۔ گورننس اور معیشت کے مسائل تو موجودہ حکومت کے لیے چیلنج بن سکتے ہیں مگر اس کا کوئی امکان نہیں کہ نظریاتی سطح پر اس رجیم کو کوئی چیلنج کرے۔ گویا ایران اپنی مذہبی بنیادوں اور تشخص کے ساتھ اپنا امتیاز باقی رکھے گا۔ اس کے ہوتے ہوئے اس کا امکان کم ہو جاتا ہے کہ مسلمانوں میں وہ وحدت پیدا ہو جس کا ہم خواب دیکھتے ہیں۔مسلم سیاسی فکر کے ایک طالب علم کے طورپر میرا تاثر ہے کہ جماعت اسلامی اور ایرانی فکری قیادت کا قرب یہ بتاتا ہے کہ دین اسلام کی جس تعبیر کو ہم &#39;&#39;سیاسی اسلام‘‘ کہتے ہیں وہ سنی شیعہ سیاسی اتحاد کا باعث بن سکتا ہے۔ مسئلہ مگر یہ ہے کہ محمد بن سلمان اب اس کے بھی حامی نہیں رہے۔ اخوان المسلمون کے بارے میں سعودی سیاسی قیادت کا نقطۂ نظر اب وہ نہیں رہا جو پہلے کبھی تھا۔ طیب اردوان کے لیے بھی یہ قابلِ قبول ہو سکتا ہے۔ اگرچہ ان کے ہاں ترک عصبیت اسی طرح توانا ہے جس طرح ایرانیوں میں ایرانی عصبیت۔ تاہم یہ ممکن ہے کہ &#39;&#39;اسلامی ریاست‘‘ کے تصور کی سطح پر وہ ایرانیوں سے قریب ہو جائیں۔ اس وقت مذہب اور سیاست کو ہم رکاب رکھنے کے لیے دونوں کی سوچ ایک ہی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ جماعت اسلامی نے ایرانی انقلاب کا خیر مقدم کیا تھا اور ایرانی قیادت بھی علامہ اقبال اور مولانا مودودی کے بارے میں عقیدت اور محبت کے جذبات رکھتی ہے۔امریکہ نے ایران پر حملہ کرکے دراصل مسلمانوں کے پرانے اختلافات کو زندہ کر دیا ہے۔ اس تنازع کا ہمیں سب سے زیادہ نقصان ہوا ہے۔ امریکہ تو تیلی لگانے کے بعد رخصت ہو جائے گا‘ جیسے افغانستان سے نکل گیا تھا۔ یہاں اس کے نتیجے میں پاکستان اور افغانستان متصادم ہو گئے اور مشرقِ وسطیٰ میں لگتا ہے کہ ایران اور عرب بھی اسی جگہ کھڑے ہوئے ہیں۔ کیا مسلمانوں کی فکری اور سیاسی قیادت یہ نہیں جان سکتی کہ اسے ان حالات کا کیسے سامنا کرنا ہے؟ جو بات میری سمجھ میں آرہی ہے کیا ان کو نہیں سمجھ آ رہی؟ میرے پاس اس سوال کا ایک ہی جواب ہے: طاقت کی جبلت ہر جگہ ایک ہی طرح سے نمودار ہوتی ہے۔ مذہب سمیت ہر عصبیت اس کے لیے محض ایک ہتھیار ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سُکے تے مل ماہیا(خالد مسعود خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-08-20/52515/11508195</link><pubDate>Thu, 20 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-08-20/52515/11508195</guid><description>اگر یہ کہا جائے کہ فی الوقت ساری دنیا کے معاملات کی خرابی میں امریکی داداگیری‘ غنڈہ گری اور جارحیت بنیادی کردار سرانجام دے رہی ہے تو یہ بات غلط نہ ہو گی۔ تاہم یہ بات ذہن میں رہے کہ امریکی صدور اور فیصلہ ساز ادارے امریکی مفادات‘ خارجہ معاملات اور قومی سلامتی کی حرکیات کو باقی دنیا کی آنکھ سے نہیں بلکہ امریکی آنکھ (جس میں اسرائیلی مفادات کا تحفظ بدرجہ اتم موجود ہے) سے دیکھتے ہیں۔ ادھر ہم ہیں جو دنیا کے ہر معاملے کو ہر بار نئی آنکھ سے دیکھنے کے عادی ہیں اور ابھی تک اس حقیقت کو قبول نہیں کر سکے کہ دنیا میں روایتی دوستی اور دشمنی کا کوئی وجود نہیں۔ باہمی تعلقات کا دارومدار مفادات‘ معاشی معاملات اور نفع نقصان کی بنیاد پر ہے۔ دوسرے لفظوں میں اب باہمی تعلقات دراصل ایک کاروبار ہے جس میں ضرورت کے مطابق نئے شراکت دار آتے رہتے ہیں اور پرانے طاقِ نسیاں کے حوالے ہوتے رہتے ہیں۔ امریکہ ہمارا دوست نہیں بلکہ ایسا کاروباری پارٹنر ہے جو ہر کام کے عوض ادائیگی کرتا ہے۔ اب یہ ادائیگی نقد ہو‘ ادھار کی صورت ہو‘ پابندیاں نرم کرنے یا اٹھانے کے حوالے سے ہو‘ تجارتی سہولتوں کی شکل میں ہو‘ عالمی معاشی اداروں کو سفارش کی صورت میں ہو یازبانی تعریف پر مشتمل ہو۔ امریکہ بہادر ہمارے ہر کام کے عوض کسی نہ کسی صورت میں معاوضہ دیتا ہے ۔وہ اس قسم کی ادائیگی کے بعد بالکل اسی طرح بری الذمہ ہو جاتا ہے جس طرح کسی کو ادائیگی کے بعد ہم اس کی دیگر ذمہ داریوں سے مبرا سمجھنے میں حق بجانب سمجھتے ہیں۔ امریکہ بھی اسی طرح ہر کام کے عوض کچھ نہ کچھ دے دیتا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ مزدوری کیا طے کی گئی۔ جیسا کہ میں نے پہلے لکھا ہے کہ ہم مزدور جیسے سٹیٹس کے حامل ہیں۔ ہم نے چیزوں کو دیرپا بنیادوں پر استوار کرنے کے بجائے ہر کام کے لیے الگ الگ معاملات طے کیے‘ بلکہ اکثر اوقات تو یہ ہوا کہ معاوضہ طے کیے بغیر نہ صرف کام پکڑ لیا گیا بلکہ سرانجام بھی دے ڈالا۔ ظاہر ہے جب آپ بغیر معاوضہ طے کیے کوئی کام شروع کر دیتے ہیں تو اس کے اختتام پر اب یہ آجر کی مرضی کہ وہ آپ کو کیا دیتا ہے۔ اس ساری صورتحال میں حماقت تو اس اجیر کی ہے جس نے معاملات کو دو طرفہ طے کرنے کے بجائے مطالبات کو پوری طرح سنے بغیر انہیں مان لیا اور شتابی سے پورا بھی کر دیا۔ اختتام پر جا کر اجرت مانگی تو پھر دینے والے کی مرضی کہ وہ کیا دیتا ہے۔دراصل ہم نے معاہدہ نامی چیز‘ جس میں دو طرفہ مفادات کو سامنے رکھا جاتا ہے‘ نہ کبھی کیا ہے اور نہ ہمیں کرنا آتا ہے۔ مجھے اچھی طرح یاد نہیں‘ پندرہ بیس سال پہلے پڑھی چیز کو اس عمر میں اب من و عن یاد رکھنا ممکن نہیں‘ تاہم اگر میری یادداشت مجھے دھوکا نہیں دے رہی تو مختار مسعود نے شاید اپنی کتاب لوحِ ایام میں یہ واقعہ درج کیا کہ کوئی یورپی یا امریکی وفد تجارت کا منصوبہ لے کر اسلام آباد آیا جس میں نفع انہوں نے کمانا تھا نہ کہ ہم نے۔ تو ہم لوگوں نے اس وفد کو ہاتھ سے بنے ہوئے قالین اور اس قسم کے دیگر تحائف دیے۔ یعنی جو بزنس کرنے آ رہا ہے بجائے یہ کہ وہ ہمیں ممنونِ احسان کرے ہم نے اسے ممنونِ احسان کرنے کیلئے اس کو تحفے تحائف دیے۔ آپ جس معاہدے کو چاہیں اٹھا کے دیکھ لیں آپ کو وہ یکطرفہ دکھائی دے گا۔ سیندک کی معدنیات والے معاہدے کو دیکھ لیں۔ اس معاہدے کے تحت برسوں سے وہاں کھدائی ہو رہی ہے۔ سونا‘ چاندی اور تانبا نکالا جا رہا ہے۔ کئی لوگوں سے اس کے متعلق پوچھا کہ اس پورے معاہدے میں پاکستان کو کیا بچا ہے؟ تو واقفانِ حال کا کہنا تھا کہ پاکستان کو ہمالیہ سے اونچی دوستی اور کچھ رقم منافع میں بچی ہے۔ ہمارے سرکاری بابوؤں کے آئی پی پیز کے ساتھ کیا جانے والا بجلی کی خرید کا معاملہ آپ کے سامنے ہے۔ ان معاہدوں کو پڑھیں تو لگتا ہے کہ یہ معاہدے دوطرفہ نہیں بلکہ یکطرفہ ہیں جس میں ہر شق آئی پی پیز کے فائدے کی دکھائی دیتی ہے۔ انہی معاہدوں کے طفیل آج ہم سرکلر ڈیٹ اور خطے کی سب سے مہنگی بجلی کو بھگت رہے ہیں۔ کپیسٹی چارجز اور ڈالروں میں ادائیگی ان معاہدوں کی ایسی شق ہے جس نے پوری قوم کی معیشت کو آئی پی پیز کے ہاتھوں گروی رکھ دیا ہے۔ غرض آپ جس معاہدے کو دیکھ لیں اس میں اگر ایک فریق پاکستان ہے تو یہی فریق نقصان میں ہوگا۔ عالمی سطح کے معاہدے تو بہت بڑی بات ہیں‘ ہم نے آج تک جو تجارتی معاہدے کیے‘ جو نجی کمپنیوں سے معاہدے کیے‘ ہر معاہدہ ایسا ہے جس میں نقصان ہمارے ذمے آیا اور فائدہ فریقِ ثانی کے حصے میں۔جب افغانستان میں روس آیا تب امریکہ میں صدر جمی کارٹر تھے۔ انہوں نے جب پاکستان کو اس معاملے میں فرنٹ لائن سٹیٹ بنانے کا فیصلہ کیا تو پاکستان کو دیے جائے والے معاوضے اور سہولتوں کو سن کر صدر ضیاالحق نے امریکی صدر جمی کارٹر کے مونگ پھلیوں سے وابستہ کاروبار کے حوالے سے اس امریکی امداد کو &#39;&#39;پی نٹ‘‘ یعنی مونگ پھلی سے تشبیہ دی کہ یہ امریکی امداد مونگ پھلی کے دانے کے برابر ہے۔ اُس وقت پاکستان نے افغانستان میں داخل ہونے والے سوویت روس کے خلاف امریکی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے فرنٹ لائن سٹیٹ کا کردار ادا کرنے کے عوض مالی اور دفاعی امداد کے علاوہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو چلانے کیلئے امریکہ کی طرف سے عائد پابندیوں کو ختم کرایا اور ایٹمی پروگرام کو آگے بڑھانے کیلئے امریکہ کی جانب سے آنکھیں بھی بند کرائے رکھیں۔ تاہم اتنے بڑے کام کے عوض وہ اور بھی بہت کچھ حاصل کر سکتے تھے‘ لیکن اب یہ قصۂ ماضی ہے۔یہ معاملہ تو بہت پہلے شروع ہو گیا تھا۔ ایوب خان کے زمانے میں پشاور کے ہوائی اڈے پر امریکی جہازوں کو دی جانے والی سہولتیں اور بڈھ بیر کے اڈے کا قیام۔ ہمارے ایک نہایت باعلم دوست کے مطابق روس میں گرایا جانے والا امریکی جہاز U-2 پشاور سے نہیں بلکہ کسی اور ہوائی اڈے سے اڑا تھا‘ جس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ کی جانب سے کی جانے روس کی جاسوسی کا مرکز صرف پشاور نہیں تھا اس کے علاوہ بھی ہوائی اڈے امریکہ کے زیر تصرف تھے۔ ہم بھولے لوگ ہیں‘ معاوضے پہ کام کرنے کے بعد اسے دوستی تصور کرتے ہوئے امریکہ سے امیدیں وابستہ کرنے کے عادی ۔ بھلا وہ ہمارے لیے کسی پھڈے میں کیوں کودے گا‘ سو ہم 1971ء میں امریکی ساتویں بحری بیڑے کا انتظار کرتے رہے جو آج تک مدد کے لیے نہیں پہنچا۔ نائن الیون کے بعد رچرڈ آرمٹیج کے مطالبات اور پاکستانی حکمرانوں کا تابعداری سے ان مطالبات کو ماننا‘ یہ تو حال ہی کی بات ہے۔ تاہم سب سے مزیدار صورتحال آج کل چل رہی ہے۔ تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ ہمیں کسی نقصان دہ قسم کے معاہدے کا سامنا نہیں۔ ایک طرف امریکی صدر زبانی کلامی ہمیں خوش کر رہا ہے اور جواباً ہم اس کا نام امن کے نوبیل انعام کیلئے پیش کر کے نمبر بنا رہے ہیں۔ ہمیں بیشک اس میں کچھ بھی نہیں بچ رہا لیکن تاریخ میں پہلی بار ہمارے پلّے سے بھی کچھ نہیں جا رہا۔ اسے پنجابی میں &#39;&#39;سُکے تے مل ماہیا‘‘ کہا جاتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90500073.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>جرائم پیشہ گروہوں سے مافیاز تک(عمران یعقوب خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-08-20/52516/40053787</link><pubDate>Thu, 20 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-08-20/52516/40053787</guid><description>حال ہی میں ایک خبر یہ سامنے آئی کہ کراچی کے ایک پوش علاقے میں تالا توڑ گروپ نے ایک دکان سے ڈیڑھ کروڑ روپے کے رِم اور ٹائر چوری کر لیے۔ اس حوالے سے پولیس نے بتایا کہ چوری کے سامان سے بھری گاڑی شاہ لطیف ٹاؤن سے برآمد کر لی گئی ہے۔ (سامان سے بھری گاڑی اتنی جلدی کیسے برآمد کر لی گئی؟ کیا تالا توڑ گروہ نے ابھی تک سامان آف لوڈ نہیں کیا تھا اور کیا ابھی تک ٹھکانے بھی نہیں لگایا تھا؟) پولیس حکام کے مطابق کارروائی میں ایک ملزم کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے اور اس حوالے سے مزید تفتیش جاری ہے۔ یہ محض ایک واردات کی خبر ہے ورنہ صورتِ حال یہ ہے کہ ہمارے ملک میں جرائم پیشہ گروہ اور کرمنل مافیاز چھائے ہوئے ہیں۔ خاص طور پر سندھ اور پنجاب کے کچے کے علاقوں میں ایسے گروہ اغوا برائے تاوان‘ بھتہ خوری‘ قتل اور سمگلنگ جیسی مختلف مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہیں‘ اور حقیقت یہ ہے کہ شہری علاقے بھی ان سے محفوظ نہیں ہیں۔ اندازہ ایک اخبار کی اس رپورٹ سے لگائیے جس میں بتایا گیا ہے کہ 18 ملین (ایک کروڑ 80 لاکھ) آبادی کا شہر کراچی مسلح گروہوں کے ہاتھوں یرغمال بن چکا ہے اور 2008ء سے لے کر اب تک سیاسی جماعتوں‘ فرقہ وارانہ تنظیموں اور کرمنل مافیا کا تسلط قائم کرنے کے لیے ہونے والی کشمکش کے دوران تشدد میں سات ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں‘ جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ایک زمانے میں ہمارے ملک میں ہتھوڑا گروپ کا بڑا شہرہ تھا‘ جو راتوں کو سڑکوں پر سوئے ہوئے افراد کے سروں کو  ہتھوڑے مار کر کچل دیتا تھا۔ اس سے لوگوں میں بڑا خوف و ہراس پھیلا تھا۔ اب تالا توڑ گروپ متحرک ہے‘ اور یہ اپنی طرز اور نوعیت کا پہلا تالا توڑ گروپ نہیں ہے‘ ایسے کئی گروپ ہمیں زندگی کے ہر گام پر تالے توڑتے نظر آتے ہیں۔ یہ تالے عوام کے ہیں۔ عوام کے دیے گئے ٹیکسوں سے اکٹھے ہونے والے ریونیو کے ہیں۔ یہ قومی وسائل کے تالے ہیں۔ یہ عوامی بہبود اور ترقی کے تالے ہیں جو ایک ایک کر کے ٹوٹتے چلے جا رہے ہیں اور عوام اپنے حال اور مستقبل کے تحفظ سے محروم ہوتے چلے جا رہے ہیں۔کراچی کے تالا توڑ گروپ کے جرائم سے بھی بڑی اور تہلکہ خیز خبر اسلام آباد سے آئی ہے جہاں ایک پوش علاقے میں واقع ایک کال سنٹر پر کارروائی کے دوران غیر قانونی اور مالی فراڈ کی سرگرمیوں میں ملوث 284 غیر ملکی باشندوں کو گرفتار کر کے ان کے ویزے منسوخ کیے گئے ہیں۔ ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل کے مطابق تحقیقات کے دوران یہ تشویشناک انکشاف ہوا کہ ملزمان لڑکیوں کی جعلی شناخت کے ذریعے پاکستانی شہریوں سے رابطے کرتے تھے اور مختلف موبائل ایپلی کیشنز پر آن لائن سرمایہ کاری کے نام پر لوگوں کو مالی فراڈ کا نشانہ بناتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ملزمان کے مقامی سہولت کاروں اور ہینڈلرز کا سراغ بھی لگا لیا گیا ہے‘ جبکہ ذرائع کے مطابق واقعے میں بعض سرکاری اہلکاروں کی ممکنہ ملی بھگت اور معاونت کے پہلو پر بھی باریک بینی سے تفتیش جاری ہے۔ ذرا سوچیے کہ ہینڈلرز نے اس گروہ کے ذریعے کتنے شریف آدمیوں کی زندگی بھر کی جمع پونجیوں میں سرمایہ کاری کے نام پر نقب لگائی ہو گی۔ذرا ذہن پر زور دے کر بتائیے کہ کیا اس تھیوری کو درست مانا جا سکتا ہے کہ پاکستان بننے کے بعد گورننس کمزور ہونے کی وجہ سے ہر جگہ مفاد پرستوں کے ٹولے معرضِ وجود میں آتے گئے۔ تب ذہنی طور پر کرپٹ‘ چالاک اور ہوشیار‘ لالچی بے ضمیر افراد نے ذاتی مفادات کے حصول کے لیے سیاسی‘ لسانی‘ مذہبی‘ تجارتی اور معاشی لحاظ سے مختلف نوعیت کے گروہ تشکیل دیے جن میں ان افراد کو کلیدی حیثیت ملی جو چاپلوسی اور دروغ گوئی میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔ یہ لوگ سادہ لوح عوام کو ورغلانے اور لبھانے کا فن جانتے تھے۔ پھر ان کے فن کو دیکھتے ہوئے ان کے لیے عوام کا استحصال کرنے کے سب دروازے کھلتے چلے گئے۔ یہی گروہ اب مافیاز اور پریشر گروپس کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ ذاتی مفادات کی بنا پر ابتدا میں ان سے اغماض برتا جاتا رہا اور اب یہ گروہ خود اغماض برتنے والوں کے لیے چیلنج بن چکے ہیں۔مافیا سے مراد ایسے منظم گروہ یا نیٹ ورک ہیں جو غیر قانونی ذرائع سے مالی یا سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ملک میں مختلف نوعیت کے جرائم سے وابستہ گروہوں کو عام طور پر مافیا کہا جاتا ہے۔ پراپرٹی مافیا غیر قانونی قبضوں‘ جعلی دستاویزات اور جائیداد کے فراڈوں میں ملوث ہوتا ہے۔ منشیات مافیا منشیات کی تیاری‘ ترسیل اور فروخت کے ذریعے نوجوانوں اور معاشرے کو تباہی و بربادی کے دہانے پر لا کھڑا کرتا ہے۔ سمگلنگ مافیا اشیا‘ منشیات یا دیگر ممنوعہ سامان کو غیر قانونی طور پر سرحدوں کے پار منتقل کرتا ہے۔ بھتہ مافیا دھمکی یا دباؤ کے ذریعے تاجروں اور شہریوں سے رقمیں وصول کرتا ہے۔ قبضہ مافیا سرکاری یا نجی زمین پر غیر قانونی قبضے کے لیے اپنی طاقت یا اثر و رسوخ استعمال کرتا ہے۔ کھانے پینے کی اشیا کی ذخیرہ اندوزی سے وابستہ غیر قانونی نیٹ ورک یا مافیا مارکیٹ میں کسی چیز کی مصنوعی قلت پیدا کر کے اور من مانے ریٹ وصول کر کے عوامی مشکلات میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔میرا ایک اور سوال بھی ہے۔ کیا کسی بھی ملک کے معاشرتی نظام میں موجود پریشر گروپس کو مافیا قرار دیا جا سکتا ہے؟ یہ تو سبھی جانتے ہیں کہ پریشر گروپس ایسے منظم گروہ ہوتے ہیں جو براہِ راست انتخابات میں حصہ لیے بغیر پالیسیوں اور فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ جمہوری معاشرے میں پریشر گروپس عوامی مطالبات حکومت تک پہنچانے کا ایک جائز ذریعہ بھی بن سکتے ہیں تاہم وطنِ عزیز میں بعض طاقتور مفاداتی گروہ اپنے معاشی یا سیاسی مفادات کے لیے حکومتی فیصلوں پر غیر معمولی اثر ڈالتے ہیں۔ملک کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ جائز اجتماعی آوازوں کو تحفظ دیا جائے اور غیر قانونی مافیا نیٹ ورکس کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے۔ مافیا کے خاتمے کے لیے مناسب قانون سازی‘ قانون پر مؤثر عمل درآمد‘ شفاف نظام‘ مضبوط ادارے اور عوامی آگاہی ضروری ہے۔ معاشرے کے ہر فرد کو قانون کی پابندی اور جرائم کی حوصلہ شکنی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ کسی معاشرے میں گروہ اگر مافیاز کی شکل اختیار کر لیں تو اس کا ایک ہی مطلب ہوتا ہے کہ موجود قوانین پر ان کی روح کے مطابق عمل درآمد نہیں ہو رہا ہے اور جب قوانین پر عمل درآمد نہ ہو رہا ہو تو عوام کے حقوق متاثر ہو رہے ہوتے ہیں‘ ان کے تالے ٹوٹ رہے ہوتے ہیں‘ وہ سرمایہ کاری کے نام پر زندگی بھر کی جمع پونجیوں سے محروم ہو رہے ہوتے ہیں۔ نظام یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کوئی چیز اگر چوری کر لی گئی ہے یا ڈاکے کے ذریعے ہتھیا لی گئی ہے تو اس کی ایک دو دن میں بازیابی ہو جائے۔ قانون کی حکمرانی یہ ہوتی ہے کہ کوئی تالا توڑنے اور ڈاکا ڈالنے کے بارے میں سوچنے کی ہمت بھی نہ کر پائے۔ ملک عزیز کو پریشر گروپوں‘ جرائم پیشہ گروہوں اور مافیاز سے نجات دلانے کے لیے قانون کی ایسی ہی حکمرانی کی اشد ضرورت ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_58350786.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>تمغوں کی دوڑ(جویریہ صدیق )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/javeria-siddique/2026-08-20/52517/90527691</link><pubDate>Thu, 20 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/javeria-siddique/2026-08-20/52517/90527691</guid><description>جب میں چھوٹی تھی تو اپنے والدین سے فرمائش کیا کرتی تھی کہ مجھے یومِ جمہوریہ کی پریڈ میں بھی جانا ہے اور ایئر شو بھی دیکھنا ہے۔ عام طور پر یومِ جمہوریہ کی پریڈ میں بچوں کو شرکت کی اجازت نہیں ہوتی تھی‘ تاہم سب بچے پابندی کے باوجود ریہرسل دیکھنے کیلئے بلیو ایریا چلے جاتے تھے۔ اُس وقت ڈی چوک پریڈ گراؤنڈ ہوتا تھا۔ وہاں بنی سیڑھیوں پر بیٹھ کر آرام سے پریڈ دیکھتے تھے۔ کوئی روک ٹوک‘ پروٹوکول‘ ٹریفک جام اور عوام و اشرافیہ کی تفریق نہیں ہوتی تھی۔ پریڈ کی ریہرسل دیکھ کر بہت خوشی ہوتی تھی۔ پھر علاقائی رقص‘ موسیقی اور ملی نغموں سے پیدا ہونے والا جوش و جذبہ دیدنی تھا۔ صوبوں اور مختلف سرکاری اداروں کے فلوٹس (Floats) آتے تھے۔ سپارکو اور اٹامک انرجی کا فلوٹ ہم سب کا پسندیدہ ہوتا تھا۔ 23مارچ اور14 اگست کو ہم سب کزنز سارا وقت ٹی وی کے سامنے بیٹھے رہتے کہ کوئی منظر مِس نہ ہو جائے۔ پریڈ‘ پرچم کشائی اور اس کے بعد تمغوں کی تقریب نشر ہوتی تھی۔ بڑے بڑے کارنامے انجام دینے والے افراد کو قومی اعزازات دیے جاتے تھے۔ اس وقت دل کرتا تھا کہ بڑے ہو کر ضرور کچھ ایسا کام کرنا ہے کہ ہم بھی قومی تمغے کے حقدار ٹھہریں۔ میں چھوٹی تھی لیکن ایسی چیزوں پر بہت غور کرتی تھی۔ جب کسی کو بعد از مرگ تمغہ دیا جاتا تو مجھے افسوس ہوتا تھا کہ اس کو زندگی میں یہ اعزاز کیوں نہیں دیا گیا۔ مرنے والے کو کیا معلوم کہ اس کی خدمات کو سراہا گیا یا نہیں‘ لیکن مرحوم کے لواحقین اور اس شعبے سے وابستہ لوگوں کیلئے یہ اعزاز اہم ہوتا ہے۔جب بھی قومی اعزازات کی تقریب ہوتی تو میں جس شخص کو تمغہ دیا جا رہا ہوتا تھا‘ اس کے حالاتِ زندگی کو بھی بغور سنتی کہ کن خدمات کے عوض اسے یہ تمغہ تفویض کیا جا رہا ہے۔ اس وقت یہ تمغے بڑی بڑی شخصیات کی زینت بنا کرتے تھے۔ خوشی ہوتی تھی کہ لوگوں کو ان کی محنت کا صلہ ان کی زندگی میں ہی مل گیا۔مطالعہ پاکستان میرا پسندیدہ مضمون تھا اور میں اپنے زمانہ طالبعلمی میں ایک فلاحی ریاست کے خواب دیکھا کرتی تھی۔ لیکن جب عملی زندگی میں قدم رکھا تو احساس ہوا کہ وطنِ عزیز بہت سی مشکلات میں گھرا ہوا ہے۔ یہاں پر محنت کرنے والے لوگ پیچھے رہ جاتے ہیں اور اقرباپروری‘ موروثیت سے لوگ بہت سارے آگے نکل جاتے ہیں۔ اگر آپ کے نام کے ساتھ کسی امیر گھرانے کا نام جڑا ہے تو قابلیت نہ بھی ہو‘ آپ بڑے سے بڑے عہدے پر پہنچ سکتے ہیں۔ پہلے اشرافیہ صرف عہدے‘ طاقت اور دولت کے پیچھے دوڑتی تھی لیکن اب انہیں قومی اعزازات بھی چاہئیں۔ اب ہمارے ملک میں تمغوں کے حصول کی بھی ایک دوڑ شروع ہو گئی ہے۔ جو لوگ ساری زندگی محنت کرتے ہیں‘ ملک کی خدمت کرتے ہیں اور ان تمغوں کے حقیقی حقدار ہوتے ہیں وہ اکثر ان تمغوں سے محروم رہ جاتے ہیں‘ اورکسی امیر کا بیٹا یا بیٹی‘یا کسی سیاسی جماعت کیلئے خدمات انجام دینے والے اس کے اہل ٹھہرتے ہیں‘ ایسا کیوں ہے؟ صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے یومِ آزادی کے موقع پر 355 ملکی اور غیر ملکی شخصیات کے لیے سول اعزازات کی منظوری دی ہے‘ جن کی تقسیم کی باقاعدہ تقریب 23 مارچ 2027ء کو منعقد ہوگی۔ان 355 شخصیات کی فہرست جاری ہونے کے بعد سے سوشل میڈیا پر تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔ بہت سے لوگ اس کو میرٹ کے منافی قرار دے رہے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ 2019ء میں جب پاکستان اور انڈیا کے مابین کشیدگی کا ماحول تھا تو میں نے اپنے لاکھوں فالوورز والے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر ملک کا دفاع کیا تھا۔ میرے ملک کو جب بھی میری ضرورت ہوگی میں ایسے ہی ملک کا دفاع کروں گی۔ آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کے دوران کیے گئے میرے ٹویٹس انڈیا میں مراسلوں اور مضامین کا حصہ بنے۔ انڈین میڈیا نے میرے خلاف باقاعدہ مہم چلا ئی۔ انڈین حکومت نے میرے ٹویٹر اکاؤنٹ کوبند کرانے کی کوشش کی لیکن میں ڈٹی رہی۔ اسی طرح معرکۂ حق کے دوران جب میرا ٹویٹر (ایکس) اکاؤنٹ اور یوٹیوب چینل انڈیا میں بین کر دیا گیا تو میں نے اپنے فیس بک اور انسٹاگرام اکاؤنٹس کو مادرِ وطن کے دفاع کیلئے استعمال کیا۔ اس بات پر مجھے فخر ہے تاہم میں ان خدمات کو کسی تمغے کا اہل نہیں سمجھتی۔ میرے نزدیک وہ مدیر یا رپورٹر اس کا زیادہ اہل ہے جو تین چار دہائیوں سے کام کر رہا ہے‘ جس کے پاس کوئی بنگلہ‘ کوئی گاڑی نہیں‘ اس کی زندگی آزادیٔ صحافت کیلئے وقف ہے۔ وہ پاکستان کے نظریات کی حفاظت اور کرپشن کا پردہ چاک کر رہا ہے۔ لیکن شاید وہ طاقتور اشرافیہ سے دور ہے لہٰذا اس کا کام ان کی نظروں سے اوجھل ہے۔ یا پھر اس کی سچائی اور بے باکی مقتدر اشرافیہ کو پسند نہیں۔ملکِ عزیز کے اہم سول اعزازات میں نشانِ پاکستان‘ نشانِ امتیاز‘ ہلالِ پاکستان‘ ہلالِ امتیاز‘ ستارۂ پاکستان‘ ستارۂ امتیاز‘ تمغۂ امتیاز اور صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی شامل ہیں۔ اگر ہم اس کی ترتیب دیکھیں تو پہلے نشان آتا ہے پھر ہلال‘ پھر ستارہ اور پھر تمغہ۔ ناقدین یہ کہہ رہے ہیں کہ حکومت اگر اپنے وزرا اور اتحادیوں کو ان کی اعلیٰ خدمات پر تمغے دے رہی ہے تو پھر نظام کیوں تباہ ہو رہا ہے؟ اگر ان کی کارکردگی اتنی ہی اچھی ہے تو عوام تک اس کے ثمرات کیوں نہیں پہنچ رہے۔ عوام مہنگائی کے بوجھ تلے کیوں دبے ہوئے ہیں۔سوشل میڈیا پر یہ بحث بھی جاری ہے کہ جن کو پہلے تمغہ مل چکا ہے‘ ان کو دوبارہ کیوں دیا جا رہا ہے؟ اس سے وہ لوگ حق سے محروم ہو رہے ہیں جو اس تمغے کے اصل حقدار ہیں۔اب بات کرتے ہیں کہ تمغوں کا میرٹ کیا ہے؟ کیا صرف حکمرانوں کے قریبی یا ان کی صفوں میں شامل افراد ہی تمغوں کے حقدار ہیں؟ سول اعزازات ضرور دیے جانے چاہئیں لیکن صرف ان شہریوں کو جنہوں نے اپنے اپنے شعبوں میں گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ جنہوں نے ملک کے دفاع کیلئے اپنی جان دینے سے گریز نہیں کیا۔ وہ سکیورٹی اہلکار جو دہشت گرد حملوں کو ناکام بناتے ہیں‘ وہ اساتذہ جو ٹاٹ پر بیٹھ کر طالبعلموں کو تعلیم دے رہے ہیں‘ وہ لوگ جو خواتین کی حفاظت کیلئے خود تیزاب میں جھلس جاتے ہیں‘ وہ افراد جو سیاحوں کو دریا کے بے رحم موجوں سے زندہ کھینچ لاتے ہیں‘ ایسے لوگ جو اپنی مدد آپ کے تحت جنگل اگا رہے ہیں اور ایسے افراد جو نہ صرف شہریوں کو بارشی پانی ذخیرہ کرنے کی ترغیب دے رہے ہیں بلکہ بڑے پیمانے پر یہ کام عملاً کر رہے ہیں۔ ایسے افراد تمغوں کے حقدار کیوں نہیں ہیں؟ میں زرعی ترقیاتی یونیورسٹی کے ایک ایسے ڈین کو جانتی ہوں جن کی محنت کی وجہ سے مورنگا اور کینوا دنیا بھر میں استعمال ہونا شروع ہوئے‘لیکن انہیں کوئی ایوارڈ نہیں ملا۔ کیا یہ اقتدار کی راہداریوں سے دور ہیں اس لیے کمیٹی تک ان کے نام نہیں پہنچ پاتے؟ اب تو سوشل میڈیا کا زمانہ ہے‘ اگر کوئی شخص عوام یا ملک کی خدمت کرتا ہے تو وہ نظروں سے اوجھل نہیں رہتا۔سول ایوارڈز کیلئے نام تجویز کرنے کیلئے ایسی کمیٹی بنانے کی ضرورت ہے جو مکمل تحقیق‘ مکمل ہوم ورک اور میرٹ کے بعد صرف حقداروں کے نام ہی تجویز کرے۔ مختلف شعبوں‘ اداروں اور سول سوسائٹی سے لوگ اس کمیٹی میں شامل ہوں اور اس میں سے سیاسی اجارہ داری ختم کی جائے۔ بالفرض اگر صحافیوں کو ایوارڈ دینے ہیں تو میڈیا گروپس‘ صحافتی یونیز اور پریس کلبوں کی مشاورت سے لوگوں کو منتخب کیا جائے۔ ایسے افراد کو منتخب کیا جائے جنہوں نے واقعی عوام کیلئے کچھ کام کیا ہو۔ ہر صوبے کا کوٹہ ہو‘ صرف ایک شہر‘ ایک جماعت کی جھولی میں سارے تمغے نہ ڈال دیے جائیں۔ اس سے مایوسی اور بددلی پھیلتی ہے۔ ان تمام تمغوں پر محنتی لوگوں اور تمام صوبوں کا برابر حق ہے۔ موجودہ نظام میں تمغوں کی دوڑ میں لگی ہوئی ہے۔ جب تک یہ نظام اپنا وقت مکمل کرے گا‘ غالب گمان ہے کہ حکومت کے من پسند افراد کے پاس فی کس آدھا درجن تمغے تو جمع ہو چکے ہوں گے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_38020467.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>حق اور حق دار(سعود عثمانی )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-08-20/52518/43030147</link><pubDate>Thu, 20 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-08-20/52518/43030147</guid><description> حکومت کی شفافیت‘ میرٹ کو ترجیح دینے اور حقدار کو اس کا حق سونپنے کے معاملات دیکھنے ہوں تو ہر وزارت اور ہر ادارے کی جانچ پڑتا ل کی ہرگز ضرورت نہیں صرف ایک کاغذ پڑھ لیجیے‘ تمام شفافیت‘ تمام کارکردگی سورج کی روشنی کی طرح سامنے آ جائے گی۔ یہ کاغذ ہر سال یومِ آزادی کے موقع پر جاری کیا جاتا ہے اور اس میں ان تمام لوگوں کے نام لکھے ہوتے ہیں جنہیں حکومت نے تمغوں اور اعزازات کا حقدار قرار دیا۔ &#39;&#39;حق دار‘‘ کے لفظ پر غور کیجیے۔ لغت میں اس کے معنی ہیں جو کسی چیز کا حق رکھتا ہو۔ اس سال 14 اگست پر بھی حقداروں کی یہ فہرست سامنے آئی‘ جنہیں آئندہ برس 23 مارچ کو تمغوں اور اعزازات سے نوازا جائے گا۔ اس فہرست میں شامل نام پڑھتے جائیے اور موجودہ حکومت کے میرٹ‘ کارکردگی اور شفافیت کے بارے میں جانتے جائیے۔یومِ آزادی پر خوشی اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب غیر معمولی خدمت انجام دینے والوں کی فہرست میں کوئی ایسا نام دکھائی دیتا ہے جسے ہم برسوں سے خاموشی‘ محنت اور غیر معمولی صلاحیت کے ساتھ ملک کی خدمت کرتے دیکھتے آئے ہوں۔ ایسا نام اعزاز پاتا ہے تو لگتا ہے کہ ریاست نے دیر سے سہی‘ اپنے محسن کو پہچان لیا۔ لیکن اسی فہرست میں جب کوئی ایسا نام دکھائی دیتا ہے جس کی نالائقی پر بہترین دماغ متفق ہوں تو فطری طور پر اس شعبے کے لوگوں میں گھٹن اور مایوسی پیدا ہوتی ہے۔ حکومت کی بدترین ناکامی یہ ہے کہ اس کے فیصلے عوام میں تمسخر کے طور پر ذکر کیے جانے لگیں۔ کسی تمغے یا اعزاز پانے والے کی عزت یہ نہیں کہ اس کے کتنے دوست کیک لے کر اس کے گھر پہنچے‘ اصل توقیر یہ ہے کہ لوگ یہ کہیں کہ &#39;&#39;حق بہ حقدار رسید‘‘۔ حقدار کو اس کا حق مل گیا۔ عزت یہ کہا جانا ہے کہ ہاں! اس شخص نے واقعی کام کیا تھا اور اسے بہت پہلے یہ اعزاز مل جانا چاہیے تھا۔ اس کسوٹی پر جانچیں توفہرست میں گنے چنے چند ناموں کے بارے میں ہی یہ بات کہی جا سکتی ہے۔ شعبے بہت سے ہیں اور ہر ایک کے بارے میں اس سے متعلق لوگ ہی بہتر بتا سکتے ہیں‘ اگر میں صرف ادب تک محدود رہوں تو اسد محمد خان‘ شکیل عادل زادہ‘ خورشید رضوی جیسے قد آور نام موجود ہیں جن کے معیار اور مقدار کی عزت اور دل سے قدر کی جاتی ہے۔ ان پرکوئی سوالیہ نہیں اٹھتا۔ یقینا دوسرے شعبوں میں بھی ایسے غیر متنازع نام موجود ہوں گے لیکن ہر سال کی طرح اس سال بھی یہی کیا گیا کہ چند اہم اور بڑے ناموں کی پذیرائی کی آڑ میں ان لوگوں کو بھی نواز دیا جائے جن کا نہ کوئی قد ہے‘ نہ کوئی معیار۔ اس سال بھی ایسے بہت سے نام شامل تھے لیکن ان سب کا انجام یہ ہے کہ تمغہ یا اعزاز ملنے سے ان کا قد مزید چھوٹا ہو گیا۔ ان کی توقیر مزید کم ہو گئی۔ کسی حقدار کو حق نہ ملنا ایک بڑا المیہ ہے لیکن یہ المیہ کسی نالائق کو نوازے جانے سے پھر بھی کم ہے۔ یہ دکھ زیادہ بڑا ہے۔سرکاری اعزازات کا بنیادی مقصد قوم کے سامنے ان لوگوں کو مثال بنانا ہوتا ہے جن کی خدمات دوسروں کیلئے مشعلِ راہ ہوں۔ لیکن بڑا سوال یہ ہے کہ کسی فرد کو مشعلِ راہ قرار دینے کا معیار ہے کیا؟ یہ سوال پورے نظام کے بارے میں ہے جس کے تحت ایک ریاست اپنے بہترین لوگوں کو تلاش کرتی ہے۔ کیونکہ اعزاز صرف ایک تمغہ نہیں ہوتا‘ اعزاز ریاست کا خراجِ تحسین ہوتا ہے کہ اے قوم! اس شخص کو دیکھو! اس نے ایسا کام کیا ہے جسے تمہیں قابلِ تقلید سمجھنا چاہیے۔ اگر یہ خراج غلط شخص کو پیش کیا جائے تو نقصان صرف اس فرد کا نہیں ہوتا‘ نقصان اعزاز کی عزت کا ہوتا ہے‘ اور جب اعزاز کی عزت کم ہوتی ہے تو حقیقی اعزاز یافتہ بھی کم معتبر دکھائی دینے لگتے ہیں۔ جتنی بڑی تعداد میں سرکاری افسران اس بار حقدار قرار دیے گئے وہ اس نظام کے منہ پر بڑا طمانچہ ہے۔ زیادہ پیچھے نہ جائیں تو غالباً 2012ء میں پہلی بار ایک وزیر‘ یعنی وزیر داخلہ رحمان ملک کو پیپلز پارٹی حکومت نے اعلیٰ ترین سول اعزاز سے نوازا تھا۔ ورنہ عام طور پر یہ روایت نہیں تھی کہ وزرا کو تمغے دیے جائیں۔ مسلم لیگ (ن) کو خیال آیا کہ اس نے اس بہتی گنگا میں ہاتھ نہیں دھوئے؛ چنانچہ وہ اس دوڑ میں سب سے آگے نکل گئی اور پانچ کابینہ ممبران کو سول اعزازات کا حقدار قرار دے دیا۔ مختلف شعبوں میں اس سال اعزاز یافتگان کی بڑی تعداد ان سرکاری افسران کی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ستارۂ امتیاز پانے والوں میں 28 سرکاری افسران شامل ہیں۔پاکستان میں ایک عجیب ذہنی رویہ پیدا ہو چکا ہے۔ ہم عہدے کو کارنامہ سمجھنے لگتے ہیں۔ وزیر ہے‘ اس لیے بڑا آدمی ہے۔ سیکرٹری ہے‘ اس لیے بڑا آدمی ہے۔ مشہور ہے‘ اس لیے قابلِ اعزاز ہے۔ ٹی وی پر آتا ہے‘ اس لیے قومی شخصیت ہے۔ حالانکہ ریاستی اعزاز کا فلسفہ اس کے بالکل برعکس ہونا چاہیے۔ ریاست کو کہنا چاہیے: تم نے ایسا کام کیا ہے جس کی وجہ سے تمہارا عہدہ نہیں‘ تمہاری خدمت تمہیں بڑا بناتی ہے۔ دنیا بھر کے سنجیدہ اعزازات اسی تصور کے گرد گھومتے ہیں۔ وہاں کسی شخص کی شہرت اور اس کے قومی یا انسانی کارنامے میں فرق رکھا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں یہ فرق ہے ہی نہیں۔ یقین نہ ہو تو اسی سال کی فہرست آپ کو یقین دلا دے گی۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جس شخص نے چالیس سال کسی دور افتادہ علاقے کے سکول میں بچوں کو پڑھایا‘ جس ڈاکٹر نے تمام عمر غریبوں کا علاج کیا‘ جس سائنسدان نے خاموشی سے تحقیق کی‘ جس شاعر و ادیب نے پوری زندگی ادب کی خدمت کی‘ جو صحافی خطرات مول لے کر سچ سامنے لایا‘ جس سماجی کارکن نے اپنی زندگی لوگوں کیلئے وقف کردی وہ شامل ہی نہیں ہو سکتے‘ اور سامنے وہ لوگ آ جاتے ہیں جنہیں ہم پہلے ہی اقتدار‘ شہرت اور وسائل کی وجہ سے جانتے ہیں۔ ایسے میں وہ قابل انسان کیا کریں جنہیں حکومتی دفتر معلوم ہی نہیں؟ اصل مستحق کہاں ہیں؟ دور دور کہیں بھی نہیں۔سب سے زیادہ دکھ مجھے سرکاری تنخواہوں پر لوگوں کی جیب کاٹنے والوں کا ہے۔ وہ عزت اپنے کام کو نہیں‘ اپنے معیار کو نہیں‘ اپنے سرکاری تمغے کو سمجھتے ہیں۔ اس حمام میں سب ننگے ہیں۔ انہیں کیسے بتایا جائے کہ باکمال شاعر حفیظ ہوشیارپوری جب تک ریڈیو پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل رہے‘ کوئی گلوکار اور گلوکارہ ان کی غزلیں نہیں گا سکا کہ ا ن کی طرف سے اجازت ہی نہیں تھی۔ یہ ہوتی ہیں اخلاقی اقدار۔ آج کا کوئی شاعر اگر اس عہدے پر آ جائے تو وہ ملک کا کوئی گلوکار نہ چھوڑے جسے اپنا کلام گانے کی عظیم خدمت پر مامور نہ کر دے۔ سو‘ اے عہدیدارو! کچھ توقیر تو رہنے دو کسی عہدے کی‘ منصب والو! کوئی عزت تو چھوڑ دو کسی منصب کی! فیصلہ سازو! کوئی معیار تو رہنے دو کسی فیصلے کا! کوئی مثبت روایت‘ کوئی قابلِ تقلید مثال! سب کچھ ملیا میٹ نہ کر ڈالو۔ یہا ں مسئلہ عزت یا وقار کا نہیں‘ کرسی کا ہے۔ کرسی گئی تو سارے مواقع بھی گئے۔ کیا ہوا اگر لوگ برا کہہ لیں گے‘ نفرت سے دیکھیں گے۔ پھر کیا ہوا؟ عزت تو آنی جانی چیز ہے۔ ریٹائر ہو کر ماتم شروع کر دینا نظام کی خرابی کا۔ چیخ پکار کرناکہ نظام کرپٹ ہے‘ ملک ڈھلان پر لڑھک رہا ہے۔ لوگوں کا حافظہ کمزور ہوتا ہے‘ وہ سب بھول جائیں گے اور یہ شور سن کے انہیں لگے گا کہ تم نے سروس کا زمانہ بڑا باعزت اور شفاف گزارا تھا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_81278520.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>خصائصِ نبوت …(1)(مفتی منیب الرحمٰن )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-08-20/52519/59413954</link><pubDate>Thu, 20 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-08-20/52519/59413954</guid><description>امام رازی لکھتے ہیں: &#39;&#39;علامہ حلیمی نے &#39;&#39;المنہاج‘‘ میں ذکر کیا ہے: انبیائے کرام کا عام انسانوں سے جسمانی اور روحانی قوتوں میں ممتازہونا ضروری ہے۔ قوتِ جسمانیہ دو ہیں: قوت مدرکہ اور قوتِ محرکہ‘ پھرقوتِ مدرکہ کی دو قسمیں ہیں: ایک وہ جس کا تعلق ظاہری حواسِ خمسہ باصرہ‘ سامعہ‘ لامسہ‘ ذائقہ اور شامّہ کے ساتھ ہے اور دوسری وہ جو باطنی حواس سے تعلق رکھتی ہے۔ انبیائے کرام ان تمام قوتوں میں باقی تمام انسانوں سے ممتاز ہوتے ہیں‘‘ (تفسیر کبیر‘ ج: 8‘ ص: 199)۔ امام رازی کی اس عبارت کو شیخ بدر عالم میرٹھی نے بھی نقل کیا ہے (ترجمان السنۃ‘ ج: 3‘ ص: 242)۔ انبیائے کرام کی قوتِ باصرہ کا امتیاز یہ ہے کہ عالَم اعلیٰ واسفل اور مشارق ومغارب اُن کی نگاہوں کے سامنے ہوتے ہیں۔ حافظ ابن حجر لکھتے ہیں: &#39;&#39;نبی کی بصارت اتنی روشن اور قوی ہوتی ہے کہ وہ زمین کے ایک حصے سے دوسرے حصے کی چیزوں کو دیکھتا ہے‘‘ (فتح الباری‘ ج: 12‘ ص: 366)۔ قرآن میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متعلق فرمایا: &#39;&#39;اور اسی طرح ہم ابراہیم کو آسمانوں اور زمینوں کی بادشاہت (کے اسرار و رموز) دکھاتے تھے تاکہ وہ کامل یقین والوں میں سے ہو جائیں‘‘ (الانعام: 75)۔ اس کے تحت مفسرین نے لکھا ہے: اللہ تعالیٰ نے حضرت ابرہیم علیہ السلام کی بصارت کو اتنا قوی فرما دیا تھا کہ اُنہوں نے عُلویہ وسِفلیہ تمام جہانوں کی نشانیاں دیکھ لیں۔نبی کریمﷺ نے فرمایا: &#39;&#39;اللہ تعالیٰ نے میرے لیے تمام روئے زمین کو سمیٹ دیا‘ پس میں نے اُس کے مشارق ومغارب کو دیکھ لیا‘‘ (مسلم: 2889)۔ نیز آپﷺ نے فرمایا: &#39;&#39;میں نے ان تمام چیزوں کو جان لیا جو آسمانوں اور زمینوں میں ہیں‘‘ (ترمذی: 3233)۔ نبی کریمﷺ اپنی پیٹھ پیچھے سے بھی اسی طرح دیکھتے تھے جس طرح اپنے سامنے دیکھتے تھے۔ آپ ﷺنے فرمایا: &#39;&#39;اللہ کی قسم! میں اپنی پیٹھ کے پیچھے بھی اسی طرح دیکھتا ہوں جس طرح میں اپنے سامنے دیکھتا ہوں‘‘ (مسلم: 426)۔ نبی کریمﷺ اپنے پیچھے کھڑے نمازیوں کے ظاہری احوال اور قلبی کیفیات کو بھی جانتے تھے۔ آپﷺ نے فرمایا: &#39;&#39;اللہ کی قسم! مجھ پر تمہارا خشوع پوشیدہ ہے اور نہ تمہارا رکوع‘ بیشک میں تمہیں اپنے پیٹھ پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں‘‘ (بخاری: 418)۔ یعنی تمہارا ظاہر و باطن میرے سامنے عیاں ہے۔شیخ بدر عالم میرٹھی لکھتے ہیں: &#39;&#39;اپنے سامنے کی چیز دیکھ لینا تو ہر انسان کا خاصہ ہے‘ لیکن رسول وہ ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ سامنے اور پیچھے دیکھنے کی یکساں طاقت عنایت فرما دیتا ہے۔ اگر آنکھ میں اپنے سامنے دیکھنے کی طاقت عام طور پر نہ ہوتی تو کیا کوئی انسان صرف عقلِ سلیم سے یہ حکم لگا سکتا تھا کہ اس عضو میں دیکھنے کی طاقت ہونی چاہیے تھی۔ پس جس نے آنکھ میں صرف سامنے کی سَمت دیکھنے کی طاقت عام طور پر رکھ دی ہے‘ کیا اس کو قدرت نہیں کہ وہ کسی کے لیے مخالف سَمت میں بھی دیکھنے کی طاقت بھی پیدا فرما دے۔ قرآن کریم میں قیامت کے دن انسانی اعضا کا بولنا ثابت ہے‘ پس جب انسان اپنے خلاف ان کی شہادت کو سن کر تعجب سے کہے گا: تم نے ہمارے خلاف گواہی کیوں دی‘ تو وہ جواب میں کہیں گے: ہمیں اُسی اللہ نے گویائی عطا کی ہے‘ جس نے ہر چیز کو بولنا سکھایا۔ صحابہ کرامؓ کا بیان ہے: ہم اپنے سامنے رکھے ہوئے کھانے کی تسبیح خود سنتے تھے اور رسول اللہﷺ نے اپنے کھانے میں سے بکری کی دستی اُٹھا کر یہود سے فرمایا تھا: مجھے کھانے میں زہر ملانے کی خبر اس نے دی ہے‘ جب ان اعضا میں گویائی کی طاقت پیدا کرنا ممکن ہے تو آنکھ میں بینائی کی طاقت کا مزید ترقی کر جانا ناممکن کیوں سمجھا جائے‘‘ (ترجمان السنہ‘ ج: 3‘ ص: 246)۔قوتِ سامعہ میں انبیائے کرام کے امتیازکے حوالے سے حافظ ابن حجر لکھتے ہیں: &#39;&#39;نبی کی سماعت اتنی تیز ہوتی ہے کہ وہ زمین کے ایک حصے سے دوسرے حصے کی چیزوں کو سنتا ہے‘ جسے دوسرے لوگ نہیں سنتے‘‘ (فتح الباری‘ ج: 12‘ ص: 366)۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے یہ قوت عطا فرمائی تھی کہ وہ پرندوں کی بولیاں سمجھتے تھے اور کئی میل سے اُنہوں نے چیونٹی کی آواز سنی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: &#39;&#39;حتیٰ کہ جب وہ چونٹیوں کی وادی میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا: اے چیونٹیو! اپنے بِلوں میں داخل ہو جائو‘ ایسا نہ ہو کہ سلیمان اور ان کا لشکر بے شعوری میں تمہیں روند ڈالے‘ سلیمان اُس کی یہ بات سن کر مسکرائے‘‘ (النمل: 18)۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا: &#39;&#39;میں وہ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے اور میں وہ سنتا ہوں جو تم نہیں سنتے۔ آسمان چرچرا رہا ہے اور اسے حق ہے کہ چرچرائے‘ آسمانوں میں ایک قدم کی جگہ بھی نہیں ہے مگر اس میں کوئی نہ کوئی فرشتہ اللہ کے حضور سجدہ ریز ہے‘‘ (ترمذی: 2312)۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آپﷺ آسمانوں کے چرچرانے کی آواز سنتے تھے اور آسمانوں میں فرشتوں کوسجدے کی حالت میں دیکھتے تھے۔ نبی کریمﷺ کو اللہ تعالیٰ نے اُونٹ‘ بھیڑیے‘ ہرن‘ گوہ اور دیگرحیوانات کے کلام کو سننے اور سمجھنے کی قدرت عطا فرمائی اور آپﷺ نے اُن سے کلام فرمایا‘‘ (معجم الاوسط: 5547‘ 5996۔ معجم الصغیر: 948)۔ شیخ بدر عالم میرٹھی لکھتے ہیں: &#39;&#39;بیمار اور غم رسیدہ انسانوں کی آہ وبکا تو ہر بشر سنتا ہے لیکن رسول وہ ہوتے ہیں جو مردہ انسانوں کے نالہ وفریاد کو بھی سُن لیتے ہیں‘ ان کا یقین اس درجے کا ہوتا ہے کہ عقیدہ اور چشم دید حالت کے درمیان کوئی فرق نہیں ہوتا۔ اس لیے جو باتیں وہ جانتے ہیں اس کو دیکھنے کی طاقت بھی رکھتے ہیں۔ عام انسانوں میں یہ بات نہیں ہوتی‘ حتیٰ کہ بعض شنیدہ واقعات کے دیکھنے کی بھی ان میں طاقت نہیں ہوتی‘‘ (ترجمان السنۃ‘ ج: 3‘ ص: 246)۔نبی کی قوتِ لامسہ کے ممتاز ہونے کی دلیل یہ ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا تو وہ آگ ان کیلئے ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو گئی۔ (الانبیاء: 69)۔ نبی کریمﷺ کے صحابی حضرت ابومسلم الخولانیؓ کو اسود عنسی نے دہکتی ہوئی آگ میں ڈالا‘ لیکن اُن کے جسم کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ اُنہیں دیکھتے اور اُن پر رشک کرتے ہوئے فرماتے کہ اللہ تعالیٰ نے اُمت محمدیہ میں ایسے لوگوں کو بھی پیدا کیا ہے جنہیں حضرت ابراہیم علیہ السلام جیسا کمال عطا کیا گیا ہے (الخصائص الکبریٰ‘ ج: 2‘ ص: 134)۔ جنگِ بدر میں حضرت عکاشہؓ اور جنگ اُحد میں حضرت عبداللہؓ بن جحش کی تلوار ٹوٹ گئی‘ وہ نبی کریمﷺکی خدمت میں حاضر ہوئے‘ آپﷺ نے اُنہیں کھجور کی ٹہنی دی جو اُن کے ہاتھ میں تلوار بن گئی۔ پس نبی کریمﷺ کے لَمس کی برکت سے لکڑی کی حقیقت تبدیل ہو گئی اور وہ لوہا بن گئی (دلائل النبوۃ‘ ج: 1‘ ص: 610)۔ آپﷺ نے حضرت جابرؓ کی لاغر اُوٹنی پر اپنا ہاتھ پھیرا تو اُس میں اتنی طاقت اور تیز رفتاری آ گئی کہ اُس نے تمام اُونٹیوں کو پیچھے چھوڑ دیا (بخاری: 2967)۔ نبیﷺ نے حضرات اُمِّ معبد‘ معاویہ بن ثور اور انس کی بکریوں کے خشک تھنوں پر ہاتھ پھیرا تو اُن میں دودھ اُتر آیا (الشفاء‘ ج: 1‘ ص: 333)۔ عمیرؓ بن سعد کے سر پر آپﷺ نے اپنا ہاتھ پھیرا اور اُن کے لیے برکت کی دعافرمائی؛ چنانچہ اُن کی عمر اَسی برس ہونے کے باوجود اُن کے سر میں ایک بال بھی سفید نہیں تھا۔ سائبؓ بن یزید کے سر پر آپﷺ نے ہاتھ پھیرا تو پوری زندگی اُن کے بال سیاہ رہے (الشفاء‘ ج: 1‘ ص: 334)۔ حنظلہؓ بن حذیم کے سر پر آپﷺ نے اپنا ہاتھ مبارک رکھا اور اُن کے لیے برکت کی دعا کی‘ اس کا اثر یہ ہوا کہ جس شخص کے جسم میں ورم ہو جاتا یا جس بکری کے تھنوں میں ورم آ جاتا تو اُس حصے کو نبی کریمﷺکی ہتھیلی کی جگہ رکھا جاتا تو وہ ورم ختم ہو جاتا (مسند احمد: 20665)۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_61172381.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>