<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>امن مذاکرات اور توقعات(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-22/11298</link><pubDate>Mon, 22 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-22/11298</guid><description>پاکستان اور قطر کی ثالثی میں اتوار کے روز سوئٹزرلینڈ میں امریکہ اور ایران کے تکنیکی مذاکرات 17 جون کو فریقین میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت‘ جسے اسلام آباد میمورنڈم کا نام دیا گیا‘ پر دستخطوں کے بعد پہلی براہ راست ملاقات تھی۔ مذاکرات کا یہ دور خوشگوار ماحول میں ہوا اور فریقین کی جانب سے پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت کے ثالثی کردار کو بھرپورخراج تحسین پیش کیا گیا۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے خوشگوار جملے تادیر یاد رکھے جائیں گے جنہوں نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اُن کی بہترین لیڈرشپ کے بغیر ہم یہاں موجود نہ ہوتے۔ امریکی نائب صدر نے ایران کے ساتھ مذاکرات کو تاریخی قرار دیا اور کہا کہ امریکہ ایران کے ساتھ بنیادی تبدیلی کیلئے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم سفارتکاری اور باہمی تعاون کے ذریعے مشرقِ وسطیٰ کو بدلنے کے مقصد کے ساتھ جمع ہوئے ہیں‘ ہم ایک ایسے مستقبل کی تصویر دیکھتے ہیں جہاں سب مل کر امن اور خوشحالی کو فروغ دے سکیں۔ ان جذبات کے ساتھ مذاکرات کے تکنیکی دور کا آغاز خوش آئند اور علاقائی اور عالمی امن کیلئے نہایت اہم ہے۔

ریب نصف صدی سے امریکہ اور ایران میں سفارتی خلیج حائل ہے اس کے اثرات دونوں جانب موجود ہیں‘ مگر ان تین ماہ سے پاکستانی کی امن اور ثالثی کی کوششوں کے نتیجے میں دونوں فریق خاصی حد تک قریب آئے ہیں۔ اسلام آباد میمورنڈم پر دستخط اور لیک لوسرن سمٹ اس اعتماد کی علامت ہیں۔ امید کی جاتی ہے کہ فریقین اس اعتماد کو فروغ دینے کیلئے سنجیدہ اقدامات جاری رکھیں گے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے الفاظ جن کا اوپر حوالہ دیا‘ ایران کی جانب امریکہ کی طرف سے زیتون کی شاخ معلوم ہوتے ہیں۔ بادی النظر میں یہ امن اور نئی شروعات کی خواہش کا اظہار ہے۔ ایسے جذبات کی قدر کی جانی چاہیے اور اس موقع کو غنیمت جاننا چاہیے کیونکہ امن کا کوئی نعم البدل نہیں۔ جنگ بھی وہیں تک جائز ہے جہاں تک کہ یہ امن کے قیام کی ضمانت بن جائے۔ اس سے آگے یہ جارحیت قرار پاتی ہے جس کا انجام کبھی اچھا نہیں ہوا۔ ماضی میں نازی جرمنی اور حال میں اسرائیل کی مثال جارحیت کے نتائج کو سمجھنے کو کافی ہونی چاہیے۔ وہ امریکہ جس نے اسرائیل کو مکمل چھوٹ دے رکھی تھی‘ اب اسرائیلی جارحیت سے اکتایا ہوا لگتا ہے۔ اگلے روز نائب صدر جے ڈی وینس نے جن الفاظ میں اسرائیلی حکومت کی خبر لی یہ اسرائیل کی جانب امریکی ذہنوں میں آنے والی معنی خیز تبدیلی کو واضح کرتی۔ ان تبدیلیوں کو سمجھنے اور ان کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کر لیں تو ایران اور امریکہ میں سفارتی فاصلے کم ہو سکتے ہیں۔
مذاکرات کے اس عمل نے دونوں ملکوں کیلئے ایسی راہِ عمل پیدا کر دی ہے جو ایران امریکہ تعلقات میں تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔ اس صورتحال میں اسرائیل کی جانب سے امن عمل کو سبوتاژ کرنے کے اندیشے بھی رد نہیں کئے جاسکتے‘ مگر یہ سمجھ کر چلنا ہوگا کہ امریکہ ایران امن مذاکرات کو پٹری سے اتارنا کسی کے حق میں نہیں سوائے اسرائیل کے۔ دونوں فریقوں کو اس اندیشے کا درست تجزیہ کرنا چاہیے تاکہ امن عمل اپنے اہداف کی جانب بڑھتا رہے اور مشرق وسطیٰ اور دنیا اس خوشگوار عالمی تبدیلی سے ہمکنار ہو۔ اسلام آباد میمورنڈم میں فریقین نے حتمی معاہدے پر بات چیت کے لیے 60 روز کی مدت مقرر کی ہے‘ مگر یہ قابلِ توسیع ہے‘ تاہم فریقین اعتماد کے ساتھ چلیں اور کوئی انہونی نہ ہو تو یہ معاہدہ اس مدت سے پہلے بھی ہو سکتا ہے۔ جیسا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اُمید ظاہر کی ہے کہ جب واپس جائیں تو ہمارے پاس دنیا میں امن لانے والے معاہدے کی دستاویز ہو۔ یہ دنیا میں امن کیلئے کوشش کرنے والوں کے جذبات ہیں‘ امریکہ اور ایران کے کیا جذبات ہیں یہ ان کے عمل اور رویے سے سامنے آئے گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بڑھتی آبادی اور خدشات(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-22/11297</link><pubDate>Mon, 22 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-22/11297</guid><description>حکومتی اہداف‘ وسائل اور مسائل کے تناظر میں ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ تیزی سے بڑھتی آبادی طویل مدتی اقتصادی ترقی کیلئے سنگین خطرہ بن چکی ہے‘ جو ملکی وسائل‘ بنیادی ڈھانچے اور عوامی سہولتوں پر مسلسل بوجھ ڈال رہی ہے۔ معاشی ترقی کی سست روی اور دستیاب وسائل کی قلت کے باعث حکومت کیلئے اتنی بڑی آبادی کو تعلیم‘ صحت اور روزگار کی بنیادی سہولتیں فراہم کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے جس کے سبب حکومت بڑھتی آبادی کو مسائل کا ذمہ دار قرار دیتی ہے۔ مگر دیکھا جائے تو یہی آبادی ملکی معیشت کیلئے ترقی کا محرک بھی ثابت ہو سکتی ہے‘ بشرطیکہ اسے درست سمت اور جدید مہارتوں سے آراستہ کیا جائے۔ اربابِ اختیار کو چاہیے بڑھتی آبادی کو مسئلہ کے بجائے ایک موقع بنانے کے اقدامات کریں۔

اس حوالے سے چین کی صورت میں ایک قابلِ تقلید مثال موجود ہے‘ جس نے اپنی بڑھتی آبادی کو معاشی بوجھ سمجھنے کے بجائے اسے منظم انسانی سرمائے میں تبدیل کرنے کی حکمت عملی اپنائی اور نتیجتاً آج چین کی ایک ارب سے زائد آبادی اس کی ترقی میں انجن کا کردار ادا کر رہی ہے۔ پاکستان کی لگ بھگ60 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے‘ اگر نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی‘ زراعت اور صنعتی شعبوں کی تکنیکی مہارتیں سکھائی جائیں تو یہ آبادی ملکی پیداوار میں اضافے اور زرمبادلہ کمانے کا سب سے بڑا ذریعہ بن سکتی ہے۔ ملک کو معاشی دلدل سے نکالنے کا یہی واحد راستہ ہے کہ افرادی قوت کو ہنرمند بنا کر آبادی کو بوجھ کے بجائے ایک قیمتی اثاثے میں بدلا جائے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ایل پی جی، منافع خوری(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-22/11296</link><pubDate>Mon, 22 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-22/11296</guid><description>پاکستان کی کاوشوں سے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے ٹھنڈے ہوتے نظر آ رہے ہیں مگر اس کشیدگی کے سبب ملک کے اندر مہنگائی اور ناجائز منافع خوری کا جو طوفان اٹھا تھا اس کی گرد تاحال بیٹھتی نظر نہیں آ رہی۔ اس کی سب سے بڑی مثال ایل پی جی کی قیمتیں ہیں‘ جن کی آڑ میں عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا جا رہا ہے۔ حکومت نے ایل پی جی کی سرکاری قیمت 308 روپے فی کلو مقرر کر رکھی ہے مگر بازار میں گیس 480 سے 500 روپے فی کلو تک فروخت کی جا رہی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے نام پر گزشتہ تین ماہ سے صارفین ناجائز منافع خوروں کے نرغے میں ہیں مگر حکومتی اور انتظامی رٹ کہیں دکھائی نہیں دے رہی۔

ایل پی جی گھریلو استعمال کے علاوہ تنوروں‘ ریستورانوں‘ چھوٹی صنعتوں اور رکشہ وغیرہ میں بھی بطور ایندھن استعمال ہوتی ہے مگر سرکار اور بازار کی قیمتوں میں اس قدر تفاوت نے صارفین کو شدید مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ سے توانائی کی سپلائی بحال ہونے کا ریلیف عوام تک پہنچانے کیلئے حکومت کو اب زیادہ قوت کے ساتھ متحرک ہونا چاہیے۔ ایل پی جی کے محض نرخ مقرر کر دینا کافی نہیں‘ بلکہ سرکاری نرخ نامے پر سختی سے عملدرآمد بھی یقینی بنانا ہو گا۔ ملک میں مہنگائی کی ایک بڑی وجہ ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری ہے‘ عوامی ریلیف کیلئے اس میں ملوث عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کی جانی چاہیے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سیاست اور صحافت(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-06-22/52165/97960009</link><pubDate>Mon, 22 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-06-22/52165/97960009</guid><description>برادرم رؤف کلاسرا کو داد دیجیے کہ انہوں نے عوامی نمائندوں کے احوال ہمارے سامنے کھول دیے۔ اقبال نے اپنے بارے میں فرمایا تھا &#39;کہ میں ہوں محرمِ رازِ دورنِ میخانہ‘۔ ایک صحافی کا معاملہ بھی یہ ہے کہ وہ سیاست کے رازوں کو جانتا ہے۔ رؤف کلاسرا صاحب نے ایسا ہی ایک راز طشت از بام کر دیا۔ اچھا ہوا کہ ان کی سنی گئی اور وزیراعظم نے تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی قائم کر دی۔کمیٹی سے ہمیں خیر کی امید ہے مگر معاملہ یہاں تک پہنچا کیسے؟ یہ سوال باعثِ تشویش ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ قومی اسمبلی جس مقصد کے لیے اصلاً قائم ہوتی ہے‘ اس کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔ یہ مقصد قانون سازی ہے۔ یہ خبر بتاتی ہے کہ قانون سازی انتہائی سہل انگاری کے ساتھ ہوتی ہے۔ ہمارے معزز اراکینِ اسمبلی قانون کا مسودہ نہیں پڑھتے۔ بحث تو اس کے بعد کا مرحلہ ہے۔ یہ رویہ اس تنقید کا دروازہ کھول دیتا ہے جو سیاستدانوں کی عمومی ساکھ کے لیے انتہائی مضر ہے۔ اسی سے غیر جمہوری قوتوں کی مداخلت کے لیے جواز پیدا ہوتا ہے اور خود جمہوریت تنقید کی زد میں رہتی ہے۔پارلیمنٹ کی ساکھ کا تمام تر انحصار سیاسی جماعتوں کی قیادت پر ہے۔ یہ قیادت ہے جو انتخاب کرتی ہے کہ اس نے کن افراد کو اپنی اور عوام کی نمائندگی کے لیے اسمبلی اور سینیٹ میں بھیجنا ہے۔ اگر سیاسی قیادت سنجیدہ ہو تو وہ ایسے لوگوں کا انتخاب کرے گی جو اسمبلی کے وقار میں اضافے کا باعث بنیں گے۔ اگر غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جائے گا تو وہی کچھ ہو گا جو ہم دیکھ رہے ہیں۔ نظام کو دیکھا جائے تو اس میں کوئی خرابی نہیں۔ جب ایک مسودۂ قانون اسمبلی کے سامنے پیش کیا جاتا ہے تو وہ کئی مراحل سے گزرتا ہے۔ ماہرین کی مدد سے اس کا ابتدائی ڈرافٹ تیار ہوتا ہے۔ پھر وہ ایک کمیٹی کے پاس جاتا ہے۔ اس کے بعد اسمبلی کے فلور تک پہنچتا ہے تاکہ اس پر بحث ہو۔ پارلیمانی جمہوریت میں یہی ہوتا ہے۔ یہ ایک اچھا نظام ہے۔ اس میں خرابی اس وقت در آتی ہے جب ان آداب کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔صحافت کو سیاست کی دائی کہا جاتا ہے۔ اچھاصحافی جانتا ہے کہ درونِ خانہ کیا ہو رہا ہے۔ اس کا کام یہ ہے کہ وہ بروقت خبردار کرے تاکہ کوئی ایسا قانون نہ بن سکے جو عوامی مفادات کے خلاف ہو۔ اسے یہ ستحقاق حاصل ہے کہ وہ خصوصی کمیٹیوں کے اجلاسوں میں شریک ہو سکتا ہے۔ رؤف کلاسرا صاحب جیسے صحافی انہی کمیٹیوں سے خبریں لاتے ہیں۔ خبر باہر آتی ہے تو اس کا فائدہ ہوتا ہے‘جیسے اب ہوا۔ حکومت کو ایک کمیٹی بنانے پر مجبور ہونا پڑا۔ بصورتِ دیگر ممکن تھا کہ سینیٹ سے بھی یہ قانون اسی طرح منظور ہو جاتا جیسے قومی اسمبلی سے ہوا۔ پلوشہ خان‘ افنان اللہ خان اور سعدیہ عباسی صاحبہ جیسے سینیٹر بھی تعریف کے حقدار ہیں جنہوں نے مسودہ قانون میں کمزوریوں کی نشا ند ہی کی۔ یقینا انہوں نے ایوانِ بالا کے وقار میں اضافہ کیا۔ہماری پارلیمنٹ میں ایسے شاندار لوگ رہے ہیں جو ہمیشہ تیاری کے ساتھ آتے تھے۔ گمان ہے کہ کچھ اب بھی ہوں گے۔ میں نے جماعت اسلامی کے نائب امیر پروفیسر خورشید احمد مرحوم کو سینیٹ سے خطاب کرتے ہوئے سنا ہے۔ سینیٹ میں ان کی تقاریر کے کئی مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ میں نے اجلاس کے دوران میں‘ ان کے معاونین کو کام کرتے ہوئے بھی دیکھا ہے۔ ان تقاریر کو پڑھ کر خیال ہوتا ہے کہ اگر اراکینِ پارلیمان اس دیانت ا ور سنجیدگی کے ساتھ اپنا کردار ادا کریں تو کسی کو جرأت نہ ہو کہ وہ پارلیمان کی صف کو لپیٹے یا اراکینِ پارلیمان کے بارے میں زبانِ طعن دراز کرے۔ اگر معاملہ یہ ہو کہ ایک بل کسی توجہ کے بغیر تمام مراحل طے کر جائے اور وہ صریحاً عوامی مفاد کے خلاف ہو تو پھر یہ ایوان تنقید کی زد میں آتے ہیں اور ان کا دفاع کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ صحافت اگر یہاں محاسبہ کرنے کے لیے موجود ہو تو وہ رکاوٹ بن سکتی ہے۔سیاسی جماعتوں کی یہ مجبوری قابلِ فہم ہے کہ ٹکٹ جاری کرتے وقت وہ جیتنے کی استعداد کو پیشِ نظر رکھتی ہیں۔ ہمارا معاملہ یہ ہے کہ ہم ووٹ دیتے وقت قبیلے برادری کو ترجیح دیتے ہیں‘ صلاحیت اور اہلیت کو نہیں۔ اگر صحافت ذمہ دار ہو تو وہ سیاسی جماعتوں کو مجبور کر سکتی ہے کہ وہ شرمندگی سے بچنے کے لیے باصلاحیت اور اہل لوگوں کا انتخاب کریں۔ سیاسی جماعتوں کے پاس توازن پیدا کرنے کا ایک موقع ہوتا ہے جب انہیں ٹیکنو کریٹس کے لیے انتخاب کرنا ہوتا ہے۔ اس کا انحصار عوامی ووٹوں پر نہیں ہوتا۔ افسوس یہ ہے کہ یہ سیٹیں بھی شخصی اور گروہی مفادات کے زیرِ اثر تقسیم ہوتی ہیں۔ اب ماہرین اور ٹیکنو کریٹس کے نام پر وہ لوگ پارلیمان میں بھیج دیے جاتے ہیں جن کا کوئی تخصص نہیں ہوتا۔ اس کے بعد وہی کچھ ہوتا ہے جو ہو رہا ہے۔ہمارے ہاں ایک ادارہ &#39;پاکستان انسٹیٹیوٹ آف پارلیمنٹری افیئرز‘ موجود ہے۔ یہ اراکینِ پارلیمان کی تربیت کے لیے قائم ہوا ہے۔ اس وقت ٹیلی کام کمپنیوں کو عوامی جائیداد پر جو حق دیا جا رہا ہے‘ اس کا مجوزہ قانون زیرِ بحث ہے۔ اس کا تعلق اہلیت کے ساتھ اخلاقیات سے بھی ہے۔ یہ بنیادی انسانی حقوق کا مسئلہ ہے۔ اس کا تمام تر فائدہ ان کمپنیوں کو ملے گا جو پہلے سے عوام سے ان گنت سکیموں کے نام پر پیسے بٹور رہی ہیں اور دکھائی یہ دیتا ہے کہ کوئی ان کا ہاتھ پکڑنے والا نہیں۔ اس قانون سے انہیں یہ حق بھی مل جائے گا کہ وہ عوامی جائیداد پر قبضہ کر لیں۔ جو لوگ عوام کے ووٹوں سے اسمبلی تک پہنچتے ہیں‘ یہ ان کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مفادات کو ترجیح دیں اور اس کے لیے وہ اپنے رب کے حضور میں بھی جواب دہ ہوں گے۔ لازم ہے کہ اس حوالے سے بھی اراکینِ اسمبلی کو متوجہ کیا جائے اور ان کے تربیتی پروگرام میں اخلاقیات کو بھی شامل کیا جائے۔سیاست ا ور صحافت کا اگر یہ رشتہ قائم رہے تو اس میں خیر ہے۔ اگر صحافت سیاست کو عوام دوست بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے تو اس سے صحافت کے وقار میں اضافہ ہو گا جو سیاست کی طرح سوالات کی زد میں رہتی ہے۔ زیرِ بحث مسودہ قانون پر بحث اور پھر وزیراعظم کا نوٹس لینا‘ ہمیں امید دلاتا ہے کہ صحافت اور سیاست سے وابستہ چند افراد بھی یہ ٹھان لیں کہ انہوں نے اس نظام کی اصلاح کو اپنا ہدف بنانا ہے تو یہ کوشش‘ ان شاء اللہ رائیگاں نہیں جائے گی۔ یہ لازم نہیں کہ ہر کوشش ثمربار ہو۔ جیسے کلاسرا صاحب نے چینی سکینڈل کو افشا کیا مگر ان کی خبر کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکی۔ جب مفادات کی بنیاد پر لوگ ماورائے جماعت جتھا بنا لیں تو اس کو شکست دینا مشکل ہوتا ہے۔ اس کا یہ فائدہ بہرحال ہوتا ہے کہ عوام ان کرداروں سے واقف ہو جاتے ہیں جو ووٹ عوام کے نام پر لیتے ہیں مگر اسمبلی میں جا کر اپنے کاروبار کی رکھوالی کرتے ہیں۔ اس سے ایسے اراکینِ پارلیمنٹ بھی سامنے آتے ہیں جو پارلیمان کی آبرو ہوتے ہیں اور جن کے دم سے سیاست کا بھرم قائم رہتا ہے۔ خیر کی بنیاد پر صحافت اور سیاست کا رشتہ جمہوریت اور ملک کے لیے نیک شگون ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>نشانِ زندگی(رسول بخش رئیس)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-06-22/52166/85669277</link><pubDate>Mon, 22 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-06-22/52166/85669277</guid><description>سیاست‘ تاریخ اور اس طرح کے دیگر علوم کو تقابلی انداز میں دیکھنے سے سب کے جوہر‘ خرابیاں‘ شخصیات‘ کردار‘ اصلی اور نقلی صورتیں ابھر کر سامنے آ جاتی ہیں۔ دنیا کے تمام سیاستدانوں‘ ان کے عروج وزوال‘ نظریاتی جھکائو‘ اندازِ سیاست اور کارناموں کا جائزہ لیتے ہوئے ہر دور کے اہلِ سیاست اور طالب علم اس سے کچھ سیکھتے اور سبق لیتے رہتے ہیں۔ ہمارے اپنوں کی داستانیں شاید ہم سے پوشیدہ رکھنے کی کوششیں ہوتی رہتی ہیں لیکن سرحدوں سے پار‘ دور کے ممالک میں کئی ذرائع سے جلد یا بدیر اُن تک رسائی ہو جاتی ہے۔ اکثر اس وقت جب مرکزی کردار رزقِ خاک ہو چکے ہوتے ہیں۔ آج کے دور میں کمزور معاشروں میں سیاست کے میدان میں اہلِ اقتدار نے بہت کاروبار چمکائے ہیں۔ اپنے ملکوں سے کہیں زیادہ دوسرے ممالک میں۔ کمزور معاشرہ اُسے کہتے ہیں جہاں لوگ آواز بلند نہ کر سکیں۔ اگر بدعنوانیوں اور کرپشن کے بارے میں شہادتوں کے انبار بھی لگا دیں تو کچھ نہیں ہوتا۔ جہاں طاقت کی بنیاد آوازِ خلق کے بجائے کچھ اور ذرائع ہوتے ہیں۔ خیر یہ بھی سیاست ہی سمجھیں کہ اس کا تعلق حصولِ اقتدار‘ اُسے قائم رکھنے اور اُسے فلاح عامہ کے بجائے فلاحِ ذات کے لیے استعمال کرنے ہی سے ہے۔ رکاوٹ معاشرے‘ قانون‘ عدالتوں اور سب سے زیادہ اقدار سے ہوتی ہے۔ اگر یہ سب کمزور پڑ جائیں تو اقتدار جن لوگوں کے ہاتھ آ جاتا ہے وہ اسے مزید کمزور کر کے اپنا دھندہ جاری رکھتے ہیں۔ اقدار جیسے انسانیت‘ ہمدردی‘ رزقِ حلال‘ ایثار‘ خدمت‘ رواداری‘ انصاف اور اپنی ذمہ داریوں کو تندہی سے نبھانا صحتمند معاشرے کی علامت ہے۔ ایسے ہی معاشروں میں زیادہ تر بڑے اہلِ علم‘ مفکر‘ مدبر‘ عبقری سیاستدان اور دیگر شعبوں کے رہنما پیدا ہوتے ہیں۔بات دراصل اقدار کی ہے کہ ذاتی حیثیت میں ہر انسان کو کہاں سے کہاں لے جاتی ہیں‘ اور قوموں کی تو بات الگ ہے۔ جدید دور کی سیاسی تاریخ میں ایک شخص کی داستانِ حیات نے دنیا بھر کو مسحور کر رکھا ہے۔ بہت سوں کا خیال ہے کہ جہاں یہ ایک فرد کی اہلیت‘ ناقابلِ شکست خود یقینی اور جہدِ مسلسل ہے‘ وہاں اس کا کریڈٹ معاشرے کو بھی جاتا ہے کہ اس نے نئی تاریخ رقم کر دی۔ جب ہم کالجوں میں تھے تو اس وقت سیاہ فام لوگوں کو امریکی جمہوریت میں برابر کے سیاسی حقوق ملنا دور کا خواب دکھائی دیتا تھا۔ سول رائٹس تحر یک کا ایک طویل تاریخی پس منظر ہے‘ جس کا یہاں احاطہ کرنا ناممکن ہے۔ آخری مرحلہ اور اُس کی کامیابی کا سہرا مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کے حصے میں آیا۔ یہ تحریک ہرگز کامیاب نہیں ہو سکتی تھی‘ اگر اس کی بنیاد عدم تشدد کے فلسفے پر نہ ہوتی اور اگر سفید فام لوگوں کی اکثریت اس کی تائید نہ کرتی۔ مساوات کی اقدار فکری صورت میں تو موجود تھیں مگر نسلی تضادات اور غلامی کی تاریخ کا اثر اتنا زیادہ تھا کہ وہ اکثریت کے سر سے یکلخت اترنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ یہ بھی تو اقدار کی بات ہے کہ صدر ابراہم لنکن اور سفید فام اکثریت نے غلامی کو ختم کرنے کے لیے تاریخ کی سب سے خوفناک جنگ لڑی‘ جس میں تقریباً ساڑھے سات لاکھ امریکی جاں بحق اور چار لاکھ 76 ہزار زخمی ہوئے۔ یہاں دو اصولوں کی بات کرتا ہوں۔ ایک یہ ہے کہ ان کا انتخابی منشور تھا کہ وہ منتخب ہو کر غلامی کو ختم کریں گے۔ دوسرا‘ اگر آپ کی ریاست یا صوبہ قومی ریاست کا جزو ہے تو آپ علیحدہ نہیں ہو سکتے۔ آج صرف امریکہ ہی نہیں بلکہ عالمی تاریخ جس محبت اور عقیدت سے ابراہم لنکن کا نام لیتی ہے‘ وہ جدید تاریخ میں کم اہلِ اقتدار کو نصیب ہوا ہے۔ وہ اپنا نشانِ زندگی ریاست کو متحد رکھنے اورغلامی کو ختم کرنے کی صورت میں چھوڑ گئے۔وہ ایک قاتل کی گولی کا نشانہ بنے‘ اس طرح مارٹن لوتھر کنگ جونیئر بھی اپنے عروج کے دنوں میں خون میں نہا کر آسودۂ خاک ہوئے۔انہی نشاناتِ زندگی کی ایک کڑی براک اوباما نظر آتے ہیں۔ گزشتہ صدی کے آخر‘ بلکہ 2008ء میں بھی ایک سیاہ فام کا ڈیمو کریٹک پارٹی کی نامزدگی جیتنا‘ جو تقریباً پورے سال کی سیاسی مشقت کا نتیجہ ہوتا ہے‘ کسی انقلاب سے کم نہ تھا۔ اور پھر اُسی سال نومبر میں وہ خواب جو نسلوں سے یہ لوگ دیکھتے چلے آئے تھے‘ واقعی ایک حقیقت کا روپ دھار گیا۔ براک اوباما کی زندگی اور دو بار امریکی صدارت‘ یہ غیر معمولی واقعات ہیں۔ اوباما کی خود نوشتDreams from My Father اگر آپ نے نہیں پڑھی اور سیاست اور تاریخ سے کچھ شغف ہے تو اس سے اپنے آپ کو محروم نہ رکھیں۔ کہاں ایک ایسا بچہ جس کا باپ اُسے اوائلِ زندگی میں چھوٹی موٹی نوکریاں کرکے پیٹ پالنے والی ماں کے حوالے کر کے کینیا چلا گیا اور کہاں اس کا امریکی صدارت کا عہدہ۔ یہ ناقابلِ یقین کہانی ہے جسے بار بار پڑھنے کے بعد بھی حیاتِ زندگی کے کرشمات کا طلسم نہیں ٹوٹتا۔ اُن تما م تعلیمی اداروں سے جہاں براک اوباما نے تعلیم حاصل کی‘ ہزاروں نکلے ہیں اور وہ اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوئے‘ مگر تقریر‘ تحریر‘ فصاحت وبلاغت‘ زبان کی سادگی اور کلام کی صداقت کا جو اثر میں نے اوباما میں دیکھا ہے‘ تاریخ میں ایسے کم ہی مدبر ہوں گے۔ ہاں‘ جدید تاریخ میں ونسٹن چرچل اور جان ایف کینیڈی کا اپنا درجہ ہے‘ ہم عصرِحاضر کی بات کر رہے ہیں۔ ہم جیسے معاشروں میں کہیں کوئی اہلِ سیاست یا اہلِ اقتدار نظر آئے تو قوم کو ضرور آگاہ کریں۔ براک اوباما ہوں یا دیگر‘ ایسی سیاسی اقدار کے حامل اکابرین پُراثر اور دیرپا تحریروں‘ تاریخ نویسی اور ادارہ سازی کی صورت اپنا نشانِ زندگی اگلی نسلوں کے لیے چھوڑ جاتے ہیں۔ابھی صدر اوباما وائٹ ہائوس میں تھے تو انہوں نے شکاگو میں‘ وہ شہر جہاں سے انہوں نے سیاسی سفر کا آغاز کیا تھا‘ ایک کثیر المقاصد سنٹر بنانے کی منصوبہ بندی کی ۔ مقصد یہ تھا کہ ایک ایسا ورثہ چھوڑ جائیں جس سے ہمیشہ کے لیے امریکہ‘ شکاگو اور دیگر ملکوں کے لوگ فیضاب ہوتے رہیں۔ آخرکار سات سال کی تعمیر کے بعد گزشتہ ہفتے اوباما کا یہ خواب پورا ہوا۔ اپنے نام پر صدر اوباما کی ایک فائونڈیشن ہے جو دنیا بھر‘ خاص طور پر افریقی ممالک میں فلاحی کام کرتی ہے۔ اس فائونڈیشن نے اوباما سنٹر پر 850 ملین ڈالر خرچ کیے ہیں۔ اسے پاکستانی روپوں میں آپ خود تبدیل کرکے دیکھ لیں۔ سترہ ایکڑ پر یہ سنٹر قائم ہے۔ سامنے وہ مشہور جھیل ہے جو شکاگو کی پہچان ہے اور ساتھ شہر کا بہت بڑا پارک‘ عجائب گھر‘ کتب خانہ‘ کمیونٹی سنٹر‘ پھلوں اور سبزیوں کا باغ‘ کھیل کے میدان‘ خصوصاً باسکٹ بال اور ٹینس کے کورٹس اور پرفارمنگ آرٹس کے لیے سہولتیں۔ افتتاح میں چار امریکی صدور‘ جرمنی کے سابق چانسلر‘ کچھ دیگر ممالک کے سابق سربراہان اور سیاست‘ فن اور علم وادب کی نامور امریکی شخصیات کو مدعو کیا گیا تھا۔کامیابیوں اور کارناموں کا جشن ہو تو ایسا۔ اور جو تقاریر ہوئیں ‘ اوباما نے بس یوں سمجھیں کہ کمال ہی کر دیا۔ سُن کر خیال آ رہا تھا کہ ہمارے وہ جو نصف صدی سے آسمانِ سیاست پر مصنوعی سیاروں کی طرح گردش کر رہے ہیں‘ ان کی یہ اُڑان بھی کسی طاقتور راکٹ کی مرہونِ منت ہے۔ بات میں سچائی‘ صداقت اور خلوص ہو تو الفاظ اپنی اہمیت خود بنا لیتے ہیں۔ بات تو انہی اقدار کی ہے کہ کوئی ایسا کام زندگی میں کر جائیں جو نشانِ زندگی ہو‘ اس کی توانائی‘ حرکت اور صداقت کا مظہر ہو۔ وہ جو تاریخ میں یا اپنی زندگیوں میں ہی نشانِ عبرت بنے ہوئے ہیں‘ ان کی طرف اشارہ ہی کافی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_33241568.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>صوبائی بجٹ کے معاشی اثرات(میاں عمران احمد)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mian-imran-ahmad/2026-06-22/52167/19696867</link><pubDate>Mon, 22 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mian-imran-ahmad/2026-06-22/52167/19696867</guid><description>حکومت نے پٹرول اور ڈیزل سستا کیا ہے۔ پٹرول پر پٹرولیم لیوی 106.74 روپے فی لیٹر سے کم کرکے 66.25 روپے فی لیٹر کر دی گئی ہے‘ یعنی 40.49 روپے فی لیٹر کی کمی کی گئی ہے مگر ڈیزل پر لیوی 53.26 روپے سے بڑھا کر 72.97 روپے فی لیٹر کر دی گئی ہے۔ یعنی 19.71 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔ یہ ردوبدل اس وقت کیا گیا جب رواں مالی سال کے لیے پٹرولیم لیوی ہدف سے زیادہ وصول کیا جا چکا ہے‘ اس لیے پٹرول پر بوجھ کم کرنے کی گنجائش پیدا ہوئی ہے۔ پٹرولیم لیوی اب وفاقی حکومت کے سب سے بڑے محصولات کے ذرائع میں شامل ہے۔ حکومت نے پٹرولیم لیوی کی مد میں پچھلے سال کی نسبت تقریباً 398 ارب روپے زیادہ وصول کیے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر پٹرول پر لیوی کم ہوئی ہے تو کیا مہنگائی بھی کم ہوگی؟حکومت پنجاب نے مالی سال 2026-27ء کے لیے 5903 ارب روپے کا بجٹ پیش کیا ہے۔ بظاہر یہ ایک بڑا بجٹ ہے اور حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ بجٹ تعلیم‘ صحت‘ روزگار‘ انفراسٹرکچر اور سماجی بہبود کے شعبوں میں ایک نئی تبدیلی لا سکتا ہے لیکن بجٹ دستاویزات اور اعداد وشمار کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو کئی اہم سوالات سامنے آتے ہیں جن کا جواب دینا حکومت کے لیے شاید مشکل ہو سکتا ہے۔ بجٹ کا حجم گزشتہ مالی سال کے 5.33 کھرب روپے کے مقابلے میں تقریباً 10.7 فیصد زیادہ ہے۔ حکومت نے اپنے محصولات کا ہدف 1.21 کھرب روپے مقرر کیا ہے جبکہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت وفاق سے 4.39 کھرب روپے ملنے کی توقع ہے۔ یعنی پنجاب اب بھی اپنی آمدنی کے لیے بڑی حد تک وفاقی وسائل پر انحصار کر رہا ہے۔ صوبے کی اپنی آمدنی کل بجٹ کا تقریباً پانچواں حصہ بنتی ہے‘ جو مالی خودمختاری کے دعوؤں پر سوالیہ نشان ہے۔ حکومت پنجاب تعلیم کے لیے 750 ارب روپے اور صحت کے لیے 500.62 ارب روپے مختص کرنے پر فخر کر رہی ہے۔ اعدادو شمار کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو تصویر اتنی روشن نظر نہیں آتی۔ تعلیم کے 750 ارب روپے میں سے تقریباً 686.8 ارب روپے غیر ترقیاتی اخراجات‘ یعنی تنخواہوں اور روزمرہ انتظامی امور پر خرچ ہوں گے‘ ترقیاتی منصوبوں کے لیے صرف 63.3 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ یعنی کل تعلیمی بجٹ کا صرف آٹھ فیصد سے کچھ زیادہ حصہ نظام میں حقیقی بہتری کے لیے مختص کیا گیا ہے۔حکومت ایک لاکھ 10 ہزار لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کے لیے 27 ارب روپے خرچ کر رہی ہے‘ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پنجاب کے سرکاری سکولوں کی سب سے بڑی ضرورت طلبہ کے لیے پاس لیپ ٹاپ ہیں یا تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولتیں؟ آج بھی صوبے کے ہزاروں سکولوں کو پینے کے پانی‘ بیت الخلا‘ چار دیواری‘ سائنس وکمپیوٹر لیب اور اساتذہ کی کمی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ انفراسٹرکچر اور تدریسی معیار کی بہتری کے بغیر صرف نمائشی منصوبوں سے تعلیمی معیار میں انقلاب برپا نہیں کیا جا سکتا۔ پنجاب کا ترقیاتی بجٹ گزشتہ سال کے تقریباً 1.25 کھرب روپے سے کم ہو کر 752 ارب روپے رہ گیا ہے۔ جب مجموعی ترقیاتی اخراجات میں اتنی بڑی کمی کی جا رہی ہو تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ نئے سکول‘ کالجز‘ ہاسٹلز‘ تحقیقی مراکز اور جدید تعلیمی سہولتیں کس رفتار سے قائم ہوں گی؟ ایک اندازے کے مطابق حکومت پنجاب کو تقریباً 150 نئے منصوبوں پر کام روکنا پڑ سکتا ہے۔صحت کے شعبے میں بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں۔ 500.62 ارب روپے کے بجٹ میں سے 424.32 ارب روپے غیر ترقیاتی اخراجات کے لیے مختص ہیں۔ صرف 76.3 ارب روپے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ ہوں گے۔ یوں صحت کے کل بجٹ کا تقریباً 15 فیصد ہی نظام میں توسیع اور بہتری کے لیے دستیاب ہو گا۔ ایک غریب شہری کے لیے لاہور کا جدید ہسپتال نہیں بلکہ اپنے گاؤں یا تحصیل کا فعال بنیادی مرکزِ صحت زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔حکومت کا ایک اور دعویٰ محصولات میں نمایاں اضافے کا ہے۔ پنجاب ریونیو اتھارٹی کے لیے 528 ارب روپے سے زائد کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 55 فیصد سے زیادہ ہے‘ جبکہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے محصولات میں 77 فیصد اضافے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اصل امتحان اگلے بارہ ماہ میں ہو گا۔ اگر یہ رقوم زمین پر نظر آنے والے نتائج میں تبدیل ہوئیں تو یہ پنجاب کی تاریخ کا اہم بجٹ ثابت ہو سکتا ہے لیکن اگر یہ اعلانات فائلوں اور تقریروں تک محدود رہے تو 5.9 کھرب روپے کا یہ بجٹ عوام کے لیے ایک اور خوبصورت وعدہ بن ثابت ہو گا۔ سندھ حکومت نے مالی سال 2026-27ء کے لیے 3.56 کھرب روپے کا بجٹ پیش کیا ہے۔ وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے مسلسل بارہویں مرتبہ بجٹ پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ بجٹ مالیاتی نظم وضبط‘ ترقیاتی سرگرمیوں کے تسلسل اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔ بظاہر بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا‘ حکومتی ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافہ کیا گیا ہے اور کم از کم اجرت 43 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے‘ لیکن جب اعدادوشمار کی تہہ میں جایا جائے تو کئی اہم سوالات جنم لیتے ہیں۔ بجٹ کے حجم کا جائزہ لیا جائے تو 3.56 کھرب روپے کے اس بجٹ میں موجودہ اخراجات تقریباً 2.56 کھرب روپے ہیں جبکہ ترقیاتی اخراجات 720 ارب روپے کے قریب رکھے گئے ہیں۔کل بجٹ کا تقریباً 72 فیصد حصہ تنخواہوں‘ پنشن‘ انتظامی اخراجات اور دیگر مدات پر خرچ ہو سکتا ہے‘ صرف 20 فیصد کے لگ بھگ ترقیاتی منصوبوں کے لیے دستیاب ہو گا۔ ترقیاتی پروگرام میں تقریباً 29 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ یہ کمی ایسے وقت میں کی جا رہی ہے جب کراچی‘ حیدرآباد‘ سکھر اور اندرون سندھ میں بنیادی انفراسٹرکچر‘ پینے کے پانی‘ نکاسی آب اور ٹرانسپورٹ کے شدید مسائل ہیں۔ تعلیم کے لیے 620 ارب روپے سے زائد اور صحت کیلئے تقریباً 393 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ بظاہر یہ اعداد وشمار متاثر کن ہیں کیونکہ دونوں شعبوں کے لیے مجموعی طور پر ایک کھرب روپے سے زیادہ رقم رکھی گئی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا مستقبل میں سندھ کے عوام کو ان اخراجات کے نتائج بھی نظر آئیں گے؟ سندھ میں آج بھی لاکھوں بچے سکولوں سے باہر ہیں‘ ہزاروں سرکاری سکول یا تو غیر فعال ہیں یا وہاں بنیادی سہولتیں موجود نہیں۔ گھوسٹ سکولوں اور گھوسٹ ملازمین کا مسئلہ دو دہائیوں سے زیر بحث ہے مگر ابھی تک مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکا۔ صحت کے شعبے میں صورتحال تشویشناک ہے۔ اگر 393 ارب روپے خرچ کرنے کے باوجود مریضوں کو علاج کے لیے کراچی یا حیدرآباد کا رخ کرنا پڑے تو پھر بجٹ کے حجم سے زیادہ اس کے نتائج پر سوال اٹھناچاہیے۔ بجٹ خسارے کا تخمینہ 36.39 ارب روپے لگایا گیا ہے۔ اگرچہ یہ مجموعی بجٹ کے مقابلے میں بہت بڑا نہیں لیکن یہ اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ صوبہ اب بھی اپنے اخراجات اور آمدنی میں توازن پیدا کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ صوبائی ٹیکس وصولیوں کا ہدف تقریباً 690 ارب روپے رکھا گیا ہے جبکہ غیر ٹیکس آمدنی 85 ارب روپے متوقع ہے۔ یوں سندھ کا انحصار صوبے کی آمدن کی بجائے بدستور این ایف سی ایوارڈ کے ذریعے وفاق سے ملنے والی رقوم پر ہے۔سندھ کا بجٹ برائے مالی سال 2026-27 ء ایسی تصویر پیش کرتا ہے کہ صوبے کے پاس وسائل تو ہیں لیکن ان وسائل کو نتائج میں تبدیل کرنے کی صلاحیت اب بھی سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/212_71532147.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>خفیہ و پیچیدہ معاہدہ(سعود عثمانی )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-06-22/52168/79353076</link><pubDate>Mon, 22 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-06-22/52168/79353076</guid><description>جب سے ایران اور امریکہ کے بیچ پاکستان نے ثالثی ابتدا کی ہے ہر روز نئے زاویے آشکار ہو رہے ہیں۔ ہر نئے دن نئی نزاکتیں سامنے آ رہی ہیں۔ ویسے تو عام لوگوں کے درمیان بھی معاملات سلجھانے کے لیے مذاکرات بہت صبر آزما ہوتے ہیں۔ محلے میں رہنے والے دو آدمیوں کی لڑائی ہو جائے تو کئی لوگ چھڑانے اور بیچ بچاؤ کرانے نکل آتے ہیں۔ ہمارے ہاں بیچ بچاؤ کرانے والوں کا کام صرف یہی ہوتا ہے کہ وہ فوری طور لڑنے والوں کو الگ الگ کر دیں۔ یہ کام کرکے وہ مطمئن ہو جاتے ہیں کہ اس سے زیادہ کچھ بس میں ہوتا ہی نہیں۔ اور جب لڑائی دو تین ملکوں کی ہو‘ جس میں کئی اور ملک بھی بالواسطہ ملوث ہوں تو آپ اس کی پیچیدگیوں کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس معاہدے میں سب سے بڑی پیچیدگی کا منبع اور مرکز صرف ایک شخص تھا۔ وہ جو اس وقت اسرائیل کا وزیراعظم ہے۔ میرا خیال ہے کہ بینجمن نیتن ہاہو کی جگہ اسرائیل کا کوئی دوسرا وزیراعظم ہوتا تو یہ معاہدہ بہت پہلے اور بہت سہولت سے ہو جاتا۔ غزہ اور لبنان میں ایسی خونریزی بھی کوئی عام وزیراعظم نہ کرتا جیسی اس سفاک شخص نے کی ہے۔ لیکن بالآخر اس کی سفاکی‘ سنگدلی‘ ضد اور بے لچک مزاج نے اسرائیل کو اتنا نقصان پہنچا دیا ہے جو شاید کوئی بیرونی دشمن نہیں پہنچا سکتا تھا۔ اس شر میں سے خیر یہ برآمد ہوا ہے کہ اسرائیل کے منصوبے اور علاقائی غنڈے کی حیثیت بہت کمزور ہو گئی۔ یہ کام اللہ نے کر دیا ورنہ یہ عربوں کے بس کا تو نہ تھا۔جب یہ سطریں لکھی جارہی ہیں ایرانی وفد سوئٹزر لینڈ پہنچ چکا۔ جے ڈی وینس بھی وہاں ہیں اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف بھی پہنچ چکے ہیں۔ یہ ملاقات پہلے سے طے شدہ تھی یا اب طے ہوئی ہے‘ کہنا مشکل ہے‘ لیکن جس طرح کی رازداری اس معاملے میں چل رہی ہے‘ بظاہر یہ طے تھا۔ درصل اس معاہدے کو سبوتاژ کئے جانے کے بہت خطرات تھے۔ ماضی میں کئی بار ایسا ہو بھی چکا۔ یہ بات بالکل واضح تھی کہ اسرائیل یہ معاہدہ نہیں چاہتا‘ خاص طور پر اس مرحلے پر جب ایران کی پوزیشن مضبوط ہے۔ نیتن یاہو ہر مرحلے پر اپنی مرضی کے فیصلے کرانا چاہتا تھا۔ یہ صرف اندازہ ہی نہیں‘ اسلام آباد مذاکرات کے دوران یہ ہوا بھی کہ امریکی نائب صدر کو مبینہ طور پر نیتن یاہو کی کال آئی اور وہ ایک گھنٹے کے اندر مذاکرات کو کسی نتیجے تک پہنچائے بغیر واپس امریکہ روانہ ہو گئے۔ اس لیے پاکستان پر یہ واضح ہو چکا تھا کہ جب تک نیتن یاہو درمیان میں موجود رہے گا تصفیہ ممکن نہیں ہو سکے گا۔ لیکن نیتن یاہو کو امریکہ اور اس کے فیصلوں سے الگ کروانا ایک ناممکن سا کام تھا۔ یہ کبھی پوری تاریخ میں نہیں ہوا کہ امریکہ اسرائیل کے مشورے بلکہ اس کے مفاد کو پس پشت ڈال کر کوئی معاہدہ کر لے۔ لیکن یہ ناممکن کام پاکستان نے ممکن بنا دیا۔ کبھی اس کی تفصیلات ضرور منظر عام پر آئیں گی کہ یہ کام ہوا کیسے۔ لیکن پاکستانی رہنماؤں کو اس سلسلے میں چار باتوں نے بہت مدد دی: ایک تو اسرائیل اور نیتن یاہو کی عالمی تنہائی اور مغربی دنیا کا اس سے الگ ہو جانا۔ دوسرے صدر ٹرمپ کا فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف پر غیر معمولی اعتماد اور ان کے مشوروں پر بھروسہ کہ وہ ایران کو بہتر سمجھتے ہیں۔ تیسرے امریکہ کی عسکری ناکامی اور چوتھے صدر ٹرمپ کی سیاسی مجبوریاں۔ یہ سب عوامل مل کر اس مرحلے تک لے آئے کہ دستخط شدہ معاہدے کے نکات پہلے سے اسرائیل کو نہ بھیجے گئے اور نہ ہی اس سے مشورہ لیا گیا۔ یہ غیر معمولی واقعہ ہے۔اس سلسلے میں غیر معمولی رازداری برتی گئی۔ یہ بہت ضروری تھی۔ پاکستان کی طرف سے مبہم اور نامکمل بیانات نے اس تمام عمل پر پردہ ڈالے رکھا۔ سیاسیات اور سفارت کاری میں یہ اصطلاح Constructive Ambiguity کہلاتی ہے‘ یعنی جان بوجھ کر مکمل معلومات نہ دینا‘ مبہم بیانات جاری کرنایا تاریخوں اور مقامات کے بارے میں محدود اطلاعات جاری کرنا تاکہ مخالف قوتیںپورے عمل کو متاثر نہ کر سکیں۔ یہ بتایا جا رہا ہے کہ تمام بات چیت کو انتہائی خفیہ رکھنے کیلئے کمپیوٹر ای میل اور الیکٹرانک ڈیوائسز کو استعمال نہیں کیا گیا۔ پاکستانی رہنما ہاتھ سے لکھے پیغامات کو خود تہران لے کر جاتے رہے اور پھر وہ کاغذ ضائع کر دیا جاتا تھا۔ رازداری اتنی کڑی تھی کہ معروف صحافی اور میڈیا گروپس بھی ٹامک ٹوئیاں مارتے اور قیاس آرائیاں کرتے رہے‘ کسی کواصل بات کی ہوا نہیں لگی۔ سوئٹزر لینڈ میں ہونے والے مذاکرات کس دن اور کن لوگوں کے بیچ ہوں گے یہ بھی بار بار تبدیل کیا جاتا رہا اور رازداری ہی کے باعث سوئس حکومت کی وزارت خارجہ نے اعلان کیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کے شرکا اور ایجنڈے کی تفصیلات ظاہر نہیں کی جائیں گی کیونکہ ان مذاکرات کی کامیابی کیلئے confidentiality ضروری ہے۔ مذاکرات کی تاریخ میں مسلسل تبدیلی کی جاتی رہی اور اصل تاریخ اور دن صرف چند لوگوں کو معلوم تھا۔ اس رازداری اور ابہام کی ضرورت ایرانی رہنماؤں کی حفاظت کیلئے بھی تھی۔ اسلام آباد مذاکرات کے دنوں میں پاکستان نے مہمانوںکے گھر کے دروازے سے لے کر واپس وہیں پہنچانے تک غیر معمولی اقدامات کیے۔ یورپ کے بارے میں عام تاثر تھا کہ ایرانی رہنما وہاں اپنی حفاظت کے حوالے سے مطمئن نہیں‘ اس لیے وہ خود وہاں نہیں جا رہے بلکہ الیکٹرانک دستخط کر دیے گئے‘ لیکن اب یکدم سب کاوہاں پہنچ جانا یہ بتاتا ہے کہ یا تو پہلے سے یہ طے شدہ تھا یا پھر سکیورٹی کی ضمانتیں لے لی گئی ہیں۔اس نازک عالمی مسئلے پر پاکستان کی ثالثی سے کتنے ناممکن کام ممکن ہو گئے۔ معاہدے پر ایران کے اندر سخت گیر اور معتدل حلقوں کا متفق ہو جانا‘ ایران امریکہ جنگ بندی ہو جانا‘ اسرائیل امریکہ کے تعلقات تاریخی نچلی ترین سطح پر آ جانا۔ پہلی بار کسی امریکی حکومت نے یہودی لابی کو نظر انداز کرکے فیصلے کیے ہیں۔ اور نیتن یا ہو کے بارے میں سخت باتیں کی ہیں۔ یہ اب ان کی مجبوری بھی بن چکی تھی۔ خود امریکہ میں نیتن یاہو کے لیے بہت ناپسندیدگی پائی جاتی ہے اور یہ کہا جا رہا ہے کہ امریکہ اپنے مفادات کے تحت فیصلے کرے‘ نہ کہ اسرائیلی مفاد کے تابع ہو جائے۔ یہ بہت بڑی تبدیلی ہے۔ وہ جے ڈی وینس جو ایک فون کال پر اسلام آباد سے واپس روانہ ہو گئے تھے‘ انہی نے معاہدے کے چند دن پہلے اپنی پریس کانفرنس اور انٹرویوز میں نیتن یاہو کو وہ جھاڑ پلائی اور ایسے سخت جملے استعمال کیے ہیں جن کی پوری امریکی‘ اسرائیلی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ہے۔ اب اس وقت اسرائیل اور نیتن یاہو سخت پیچ وتاب کھا رہے ہیں لیکن ان کے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے۔ امریکہ ان کا واحد حلیف رہ گیا تھا‘ نیتن یاہو نے وہ بھی کھو دیا اور ٹرمپ کے موجودہ دور میں شاید یہ تعلقات پرانی سطح پر بحال نہ ہو سکیں۔ جو گرہ صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کے دل میں پڑ گئی ہے اور جس میں عام امریکی بھی شریک ہیں‘ جلدی نہیں کھلے گی۔ امریکی صدر‘ نائب صدر اور دیگر سرکاری عہدیدار بچ بچا کر الفاظ استعمال کر رہے ہیں لیکن تلخی چھپائے نہیں چھپتی۔ یہی حال اسرائیل کا ہے۔ اسرائیلیوں کو اس صدمے سے نکلنے میں بہت وقت لگے گا کہ نہ صرف امریکہ نے ان کے مفادات کے خلاف فیصلہ کیا بلکہ اس سلسلے میں معاہدے کے نکات تک چھپائے گئے۔ اسرائیل میں امریکہ کے خلاف بہت آوازیں اُٹھ رہی ہیں اور امریکہ نے ان بیانات کا سخت نوٹس بھی لیا ہے۔ اس کا اثر یقینا اسرائیل میں آئندہ انتخابات پر بھی پڑے گا۔ بظاہر اسرائیل کا باشعور طبقہ جو انتہا پسند صہیونی نہیں ہے‘ نیتن یاہو سے خوش نہیں۔ اگر نیتن یاہو اقتدار سے باہر ہو جاتا ہے تو اسے اندرونی اور بیرونی کئی مقدموں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ غزہ کے شہیدوں کا خون کب رنگ لائے گا‘ ابھی وقت کو اس کا انتظار ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_81278520.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ایک تاریخی محل، ایک تاریخی معاہدہ(جویریہ صدیق )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/javeria-siddique/2026-06-22/52169/13887149</link><pubDate>Mon, 22 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/javeria-siddique/2026-06-22/52169/13887149</guid><description>فرانس ایک خوبصورت ملک ہے جو اپنے اندر تاریخ کے کئی اہم واقعات کو سموئے ہوئے ہے۔ خاص طو پر پیرس کے اطراف میں تاریخی نشانیاں جا بجا بکھری پڑی ہیں‘ جن میں شاہی تاریخ‘ جنگوں کی علامات‘ امن معاہدوں کی یادگار‘ قدیمی عمارتیں اور انقلاب کے آثارشامل ہیں۔ اچھی بات یہ ہے کہ حکومت فرانس نے اس تاریخ کو بہت احتیاط سے محفوظ کر رکھا ہے۔ تمام تاریخی مقامات اپنی پوری شان وشوکت کے ساتھ آج بھی موجود ہیں۔ کچھ عرصہ قبل فرانس کے قدیمی نوٹرے ڈیم چرچ میں آگ لگ گئی تھی جس کی وجہ سے اس تاریخی عبادتگاہ کو بہت نقصان پہنچا لیکن حکومت نے اس کو مرمت کرکے چرچ کو عبادت اور عوام کی سیاحت کیلئے دوبارہ کھول دیا۔ اب ایران اور امریکہ کے درمیان جو تاریخی معاہدہ ہوا ہے‘ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس ہی کی ایک تاریخی عمارت میں بیٹھ کر اس پر دستخط کیے۔ یہ عمارت جو کبھی بادشاہوں کا محل ہوا کرتی تھی‘ اب اس کا بیشتر حصہ سیاحت اور میوزیم کیلئے وقف ہے۔ فرانس میں جی سیون ممالک کا اجلاس ہوا۔ یہ ایک سیاسی اور اقتصادی فورم ہے‘ جس کے ممبران میں امریکہ‘ فرانس‘ جرمنی‘ اٹلی‘ کینیڈا‘ جاپان اور برطانیہ شامل ہیں۔ یورپی یونین اگرچہ اس کے عددی ممبران میں شامل نہیں‘ البتہ فیصلہ سازی میں اس سے مکمل مشاورت ہوتی ہے۔ بھارت اس کا باقاعدہ رکن نہیں لیکن اس کو متعدد بار بطور مہمان اس فورم پر مدعو کیا گیا۔ اس سال جی سیون اجلاس میں برازیل‘ کینیا‘ جنوبی کوریا اور یوکرین کو بھی مدعو کیا گیا۔ مصر‘ متحدہ عرب امارات اور قطر نے بھی اس اجلاس میں شرکت کی۔ رواں سال اس اجلاس کا مقصد تمام ممبران کے درمیان متوازن اور مشترکہ ترقی‘ نئی عالمی مصالحت‘ مزید تعاون‘ معدنی وسائل پر پارٹنرشپ اور تجارت کا فروغ تھا۔ اس کے ساتھ سمگلنگ اور کینسر کے خلاف جنگ اور بچوں کو آن لائن محفوظ رکھنا بھی جی سیون کے ایجنڈے میں شامل رہا۔ اس اجلاس میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال بھی زیر بحث آئی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جی سیون اجلاس کے دوران ہی ورسائے محل (Palace of Versailles) نامی تاریخی عمارت میں ایران‘ امریکہ معاہدے پر دستخط کیے۔ یہ محل تاریخی طور پر خاصی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ پیرس کے جنوب مغرب میں قریب 20 کلومیٹر فاصلے پر قائم ہے اور یونیسکو کے عالمی ورثے میں شامل ہے۔ ہر سال لاکھوں لوگ یہاں سیاحت کیلئے آتے ہیں۔ یہ جگہ پہلے شاہی شکارگاہ تھی‘ تاہم بادشاہ لوئی چہاردہم (Louis XIV)‘ جنہیں سَن کنگ بھی کہا جاتا تھا‘ نے اپنے والد کی شکارگاہ کو محل میں تبدیل کرکے اس کو سیاست کا گڑھ بنا دیا۔ اس کے بعد لوئی پانزدہم نے بھی یہاں قیام کیا‘ فنونِ لطیفہ پر گہری چھاپ چھوڑی اور یہاں اوپرا بنوایا۔ لوئی شانزدہم اور ملکہ میری انتھونی بھی یہاں کے مکین رہے۔ اُن کے دور میں فرانس کے حالات بہت خراب ہو گئے تھے اور عوام غربت سے بدحال تھے۔ عوامی بغاوت کے سبب بادشاہ کو ورسائے محل چھوڑنا پڑا۔ بعد میں اسے پھانسی دے دی گئی۔ ملکہ میری انتھونی‘ جو اپنے لباس‘ سٹائل‘ فیشن اور پُرتعیش زندگی کی وجہ سے مشہور تھی‘ کو بھی بغاوت کے بعد یہ محل چھوڑنا پڑا اور پھر اس کا سر قلم کر دیا گیا۔ انقلاب کے بعد کچھ عرصہ نپولین بونا پارٹ یہاں قیام پذیر رہا۔ اس کے بعد بادشاہ لوئی فلپ کے دور میں‘ 1837ء میں اسے میوزیم آف ہسٹری آف فرانس بنا دیا گیا۔ اب ورسائے محل کو ہر عام و خاص ٹکٹ خرید کر دیکھ سکتا ہے۔ اس محل میں 2300 سے زائد کمرے ہیں اور باغات 800 ایکڑ پر پھیلے ہوئے ہیں۔ اس کا مِرر ہال اس کا سب سے نمایاں حصہ ہے‘ جس پر 350 سے زائد شیشے نصب ہیں۔ اس کے 100 کمرے اب فرانس میوزیم کے زیراستعمال ہیں۔ صدر ٹرمپ نے ورسائے محل کی &#39;&#39;لوئر گیلری‘‘ میں بیٹھ کر ایران‘ امریکہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے‘ تاہم ایران اور امریکہ کے مابین ہونے والا معاہدہ یہاں ہونے والا پہلا تاریخی معاہدہ نہیں ہے۔ 1768ء میں یہاں &#39;&#39;ٹریٹی آف ورسائے‘‘ سائن ہوا۔ 1783ء میں یہاں طے پانے والے معاہدے سے فرانس‘ سپین اور برطانیہ کے درمیان اختلافات ختم ہوئے۔ 1789ء میں یہاں دو &#39;&#39;پیس آف پیرس معاہدے‘‘ ہوئے جنہوں نے امریکی انقلاب کی جنگ کو ختم کیا۔ 1919ء میں اس محل کے ہال آف مررز میں پہلی عالمی جنگ کو ختم کرنے کا معاہدہ ہوا۔ اسی معاہدے میں جرمنی کو جنگ کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے اس پر ہرجانہ بھی عائد کیا گیا۔ فرانس نے اس مقام کا انتخاب ایک خاص وجہ سے کیا تھا۔ 1871ء میں جرمنی اور فرانس کے مابین فرینکو پروشین جنگ ہوئی تھی جس میں فرانس کو شکست ہوئی تھی۔ اس وقت جرمنی نے فرانس کی تذلیل کیلئے فرانس کے ورسائے محل میں کھڑے ہو کر اپنی فتح اور نئی جرمن ایمپائر کا اعلان کیا تھا۔ اس لیے پہلی عالمی جنگ میں شکست کے بعد فرانس نے جان بوجھ کر جرمنی کویہاں مدعو کیا تاکہ پرانی خفت کا بدلہ لیا جاسکے۔ 1920ء میں یہاں &#39;ٹریانون معاہدہ‘ سائن ہوا جس کی وجہ سے ہنگری سے اس کی دو تہائی زمین اور آبادی اس سے چھین لی گئی اور وہ اپنی نئی جغرافیائی حد بندی میں چلا گیا۔ اب ایران اور امریکہ معاہدے کیلئے صدر ٹرمپ کی جانب سے اس جگہ کا انتخاب خاصی اہمیت کا حامل ہے۔ امریکہ‘ ایران معاہدے پر پاکستان نے بطور ثالث دستخط کیے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ تین فریقوں نے الگ الگ ملک سے معاہدے پر الیکٹرانک دستخط کئے۔ پاکستان کی کوششوں سے امن مذاکرات ہوئے جواَب حتمی مراحل میں پہنچ گئے ہیں۔ معاہدے کی نکات کا جائزہ لیں تو اس میں تمام محاذوں پر جنگ بندی‘ ایک دوسرے کی سالمیت اور خودمختاری کا احترام‘ اندرونی معاملات میں دخل اندازی سے اجتناب‘ 60 دن کی قابلِ توسیع مدت‘ امریکی ناکہ بندی کا خاتمہ ‘ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت کی بحالی کے نکات شامل ہیں۔ ایران کی تعمیرِ نو کیلئے 300 ارب ڈالر مختص کیے جائیں گے۔ امریکہ ایران پر سے پابندیوں کا خاتمہ کرے گا اور ایران جوہری ہتھیار نہیں حاصل کرے گا‘ اس کے جوہری پروگرام سے متعلق سٹیٹس برقرار رہے گا۔ حتمی معاہدے کی توثیق اقوام متحدہ سے حاصل کی جائے گی۔ دنیا بھر نے اس معاہدے کے بعد سکھ کا سانس لیا ہے۔ مہنگا تیل سب کی معیشت پر اثرانداز ہورہا تھا۔ اسی طرح ایئر سپیس کی بندش نے سب کو بری طرح متاثر کیا تھا۔ امید ہے کہ اب حالات بہتری کی طرف جائیں گے‘ تاہم یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ جب امریکہ اسرائیل کو علاقائی ممالک پر حملوں سے روکے۔ اسرائیل کے لبنان پر جاری حملے اس طرف نشاندہی کرتے ہیں کہ جب تک فلسطین کا مسئلہ پائیدار بنیادوں پر حل نہیں ہوتا‘ خطے میں امن مکمل طور پر بحال نہیں ہوسکتا۔ اس وقت دنیا بھر میں پاکستان کی امن کاوشوں کی تعریف ہورہی ہے۔ کیا پاکستان اس سازگار فضا کو اپنے حق میں استعمال کرپائے گا؟ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ نے نئے عالمی منظر نامے کی بنیاد رکھی ہے۔ یہ ثابت ہو چکا کہ امریکہ اور اسرائیل ایران کی طاقت سے ناواقف تھے۔ ایران کی جوابی کارروائیوں سے مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا۔ ان تنصیبات کے میزبان ممالک بھی اس صورتحال کیلئے تیار نہیں تھے اور خلیجی حکومتیں بوکھلاہٹ اور عوام خوف کا شکار ہوگئے۔ آبنائے ہرمز کی بندش نے جنگ کا پانسا ہی پلٹ دیا۔ شروع میں ایران مشکلات کا شکار تھا کہ رہبر اعلیٰ شہید ہوگئے‘ میناب میں سکول پر امریکی میزائل حملے سے سینکڑوں بچیاں شہید ہوگئیں مگر ایران کی جنگی حکمت‘ جوابی وار اور سوشل میڈیا وارفیئر کے سامنے سب بے بس نظر آئے۔ اب مشرق وسطیٰ کا مستقبل اسرائیل کے رویے پر منحصر ہے۔ اگر اسرائیل نے فلسطین‘ لبنان‘ شام‘ یمن اور ایران پر حملے کئے تو صورتحال دوبارہ جنگ کی طرف پلٹ جائے گی۔ اس لیے تمام ممالک اسرائیل پر دبائو ڈالیں۔ معاہدے کی کامیابی کیلئے سب کو متحد ہوکر امن کی بات کرنا ہوگی۔ جنگ میں کچھ نہیں رکھا اور دنیا کی معیشت کسی نئی جنگ کی متحمل نہیں ہو سکتی۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_38020467.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>اولاد کے حقوق(علامہ ابتسام الہٰی ظہیر )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-06-22/52170/92563339</link><pubDate>Mon, 22 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-06-22/52170/92563339</guid><description>اولاد اللہ تبارک وتعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے۔ جو لوگ اولاد کی نعمت سے محروم ہوتے ہیں ان کو زندگی کے مختلف ادوار میں بے قراری اور اداسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے مقابل صاحبِ اولاد لوگ نہ صرف مطمئن اور شاد ہوتے ہیں بلکہ اولاد کی کامیابی ان کی خوشیوں میں اضافے کا بڑا سبب بن جاتی ہے۔ کتاب وسنت میں جہاں والدین کے حقوق کو بکثرت بیان کیا گیا ہے وہیں اولاد کے حقوق کو بھی احسن انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ جب ہم کتاب وسنت کا بغور مطالعہ کرتے ہیں تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کے جلیل القدر انبیاء کرام نے ہمیشہ نیک اور صالح اولاد کی دعا مانگی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا اور اس کی قبولیت کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۃ الصافات کی آیات: 100 تا 101میں یوں بیان کیا ہے: &#39;&#39;اے میرے رب عطا کر تو مجھے (بیٹا) جو صالحین میں سے ہو۔ سو بشارت دی ہم نے ایک بردبار لڑکے کی‘‘۔ اللہ تعالی نے قرآن مجید میں اولادِ صالحہ کے حصول کیلئے حضرت زکریا علیہ السلام کی دعا کا بھی ذکر کیا ہے کہ وہ نیک اور پاک اولاد کیلئے دعا کرتے رہے۔ سورۃ الانبیاء کی آیت: 89 میں اس دعا کا ذکر کچھ یوں آیا: &#39;&#39;اور زکریا کو (یاد کرو) جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ اے رب مجھے اکیلا نہ چھوڑ اور تُو ہی سب سے بہتر وارث ہے‘‘۔ اولاد کی ولادت کے بعد اس کا پہلا حق یہ ہے کہ اس کا اچھا نام رکھا جائے۔ احادیث مبارکہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ عبداللہ اور عبدالرحمن بہترین نام ہیں۔ ان کے علاوہ انبیاء کرام علیہم السلام‘ صحابہ کرام‘ اہل بیت اطہار اور ازواج مطہرات رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ناموں پر اولادکے نام رکھنا بھی ایک بہترین عمل ہے۔ اولاد کی اچھی تربیت اور نان و نفقے کی ضروریات کو پورا کرنا والد کی ذمہ داری ہے اور اس حوالے سے والدین کو بھرپور انداز سے تگ ودو کرنی چاہیے۔ اولاد کے بڑا ہونے پر ان کو اچھی باتوں کی نصیحت کرنا اور اچھے امور کی تلقین کرنا بھی والدین کی ذمہ داری ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید میں حضرت لقمان علیہ السلام کی نصیحتوں کا ذکر کیا جو انہوں نے اپنے بیٹے کو کی تھیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۂ لقمان کی آیت: 13 تا 19 میں ارشاد فرمایا: &#39;&#39;اور جب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ بیٹا اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا‘ بیشک شرک کرنا بڑا بھاری ظلم ہے۔ اور ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے متعلق تاکید کی ہے‘ اس کی ماں نے ضعف پر ضعف اٹھا کر اسے پیٹ میں رکھا اور دو برس میں اس کا دودھ چھڑانا ہے تو (انسان) میری اور اپنے ماں باپ کی شکر گزاری کرے‘ (تم سب کو) میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔ اور اگر تجھ پر اس بات کا زور ڈالیں تو میرے ساتھ اس کو شریک بنائے جس کو تُو جانتا بھی نہ ہو تو ان کا کہنا نہ مان‘ اور دنیا میں ان کے ساتھ نیکی سے پیش آ‘ اور ان لوگوں کی راہ پر چل جو میری طرف رجوع ہوگئے‘ پھر تمہیں لوٹ کر میرے ہی پاس آنا ہے پھر میں تمہیں بتائوں گا کہ تم کیا کیا کرتے تھے۔ بیٹا! اگر کوئی عمل رائی کے دانہ کے برابر ہو پھر وہ کسی پتھر کے اندر ہو یا وہ آسمان کے اندر ہو یا زمین کے اندر ہو‘ تب بھی اللہ اس کو حاضر کر دے گا‘ بیشک اللہ بڑا باریک بین باخبر ہے۔ بیٹا نماز پڑھا کر اور اچھے کاموں کی نصیحت کیا کر اور برے کاموں سے منع کیا کر اور تجھ پر جو مصیبت آئے اس پر صبر کیا کر‘ بیشک یہ ہمت کے کاموں میں سے ہیں۔ اور لوگوں سے اپنا رخ نہ پھیر اور زمین پر اترا کر نہ چل‘ بیشک اللہ کسی تکبر کرنے والے‘ فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔ اور اپنے چلنے میں میانہ روی اختیار کر اور اپنی آواز پست کر‘ بیشک آوازوں میں سب سے بری آواز گدھوں کی ہے‘‘۔ اولاد کو اچھے کاموں کی نصیحت کرنے کے ساتھ انہیں اپنے ساتھ اچھے کاموں میں شریک بھی کرنا چاہیے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید میں اس بات کا ذکر کیا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے تعمیر بیت اللہ کے وقت حضرت اسماعیل علیہ السلام کو بھی اپنے ہمراہ شریک کر لیا تھا۔ اس واقعے کا ذکر اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ البقرہ کی آیت: 127 میں یوں کیا ہے : &#39;&#39;اور جب ابراہیم اور اسماعیل کعبہ کی بنیادیں اٹھا رہے تھے‘ (تو دعا کر رہے تھے) اے ہمارے رب ہم سے قبول کر‘ بیشک تو ہی سننے والا جاننے والا ہے‘‘۔اپنی اولاد کو جہاں نیکی کے کام کی تلقین کرنی چاہیے وہیں اولاد کیلئے اچھے رشتے کا بندوبست کرنے کی بھی بھرپور انداز سے کوشش کرنی چاہیے۔ حضرت ابراہیم نے حضرت اسماعیل علیہما السلام کو ناشکری بیوی سے علیحدگی اختیار کرنے اور صابرہ شاکرہ عورت سے وابستگی اور پختگی کے ساتھ جڑائو رکھنے کی تلقین کی تھی۔ انسان کو اپنی اولاد کے درمیان تحفہ وتحائف دیتے ہوئے تفریق نہیں کرنی چاہیے۔ اسے اپنی اولاد میں تحائف اور ہدیہ کو یکساں تقسیم کرنا چاہیے۔ اس حوالے سے صحیح مسلم میں حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ان کے والد انہیں لے کر رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا: میں نے اپنے اس بیٹے کو ایک غلام تحفے میں دیا ہے‘ جو میرا تھا‘ تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: کیا تم نے اپنے سب بچوں کو اس جیسا تحفہ دیا ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں! اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا: اسے واپس لو۔اولاد کی دنیاوی واخروی کامیابی کیلئے والدین کو ہر وقت دعاگو رہنا چاہیے۔ اس حوالے سے اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۂ ابراہیم میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی حضرت اسماعیل اور حضرت اسحاق علیہما السلام کیلئے کی جانے والی خوبصورت دعائوں کا ذکر کیا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۂ ابراہیم کی آیات: 35 تا 41 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;اور جس وقت ابراہیم نے کہا: اے میرے رب! اس شہر کو امن والا کر دے اور مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچا۔ اے میرے رب! انہوں نے بہت لوگوں کو گمراہ کیا ہے‘ پس جس نے میری پیروی کی وہ تو میرا ہے‘ اور جس نے نافرمانی کی پس تحقیق تُو بخشنے والا مہربان ہے۔ اے ہمارے رب! میں نے اپنی کچھ اولاد تیرے عزت والے گھر کے پاس ایسے میدان میں بسائی ہے جہاں کھیتی نہیں‘ اے ہمارے رب! تاکہ (وہ) نماز کو قائم رکھیں‘ پھر کچھ لوگوں کے دل ان کی طرف مائل کر دے اور انہیں میووں کی روزی دے تاکہ وہ شکر کریں۔ اے ہمارے رب! بیشک تو جانتا ہے جو کچھ ہم چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں‘ اور اللہ پر کوئی چیز زمین اور آسمان میں پوشیدہ نہیں۔ اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے اتنی بڑی عمر میں اسماعیل اور اسحاق بخشے‘ بیشک میرا رب دعائوں کا سننے والا ہے۔ اے رب! مجھے اور میری اولاد کو نماز قائم کرنے والا بنا دے‘ اے ہمارے رب! اور میری دعا قبول فرما۔ اے ہمارے رب! مجھے اور میرے ماں باپ کو اور ایمانداروں کو حساب قائم ہونے کے دن بخش دے‘‘۔ جب انسان اس دنیا سے رخصت ہونے لگے تو اس کو اپنی اولاد کو ہمیشہ خیر کے کاموں کی وصیت کرنی چاہیے۔ اس حوالے سے اللہ تبارک وتعالیٰ نے حضرت ابراہیم اور حضرت یعقوب علیہما السلام کی وصیت کا ذکر کیا۔ سورۃ البقرہ کی آیات: 132 تا 133 میں ارشاد فرمایا: &#39;&#39;اور اسی بات کی ابراہیم اور یعقوب نے بھی اپنے بیٹوں کو وصیت کی کہ اے میرے بیٹو! بیشک اللہ نے تمہارے لیے یہ دین چن لیا‘ سو تم ہرگز نہ مرنا مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو۔ کیا تم حاضر تھے جب یعقوب کو موت آئی تب اس نے اپنے بیٹوں سے کہا: تم میرے بعد کس کی عبادت کرو گے؟ انہوں نے کہا ہم آپ کے اور آپ کے باپ دادا ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق کے معبود کی عبادت کریں گے جو ایک معبود ہے‘ اور ہم اسی کے فرمانبردار ہیں‘‘۔دعا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں اپنی اولاد کے حقوق ادا کرنے کی توفیق دے‘ آمین!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_19740082.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>