<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>معرکہ حق، قومی وقار کا استعارہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-08/11173</link><pubDate>Fri, 08 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-08/11173</guid><description>معرکۂ حق کا ایک سال مکمل ہونے پر ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے اہم پریس کانفرنس میں عسکری کامیابیوں‘ دفاعی تیاری اور درپیش چیلنجز سے متعلق جامع بریفنگ دی۔ ترجمان پاک فوج نے پہلگام فالس فلیگ آپریشن کی حقیقت کو ایک دفعہ پھر چاک کرتے ہوئے کہا کہ ایک سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود پاکستان کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کا بھارت تاحال کوئی جواب نہیں دے سکا۔ یہ خاموشی اس بات کی غماز ہے کہ بھارت حقائق کا سامنا کرنے سے کترا رہا اور عالمی برادری کے سامنے اپنی پشیمانی چھپانے کیلئے حیلے بہانوں سے کام لے رہا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے واشگاف الفاظ میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کل بھی اپنی سرحدوں کی حفاظت کیلئے تیار تھا اور آج بھی مکمل طور پر مستعد ہے جبکہ بھارت نے معرکہ حق کے دوران پاکستان کی کُل دفاعی صلاحیت کا صرف دس فیصد حصہ دیکھا ہے۔ ایک تنبیہ بھی ہے کہ اگر دشمن نے دوبارہ کسی مہم جوئی کی کوشش کی تو اسے پہلے سے بھی زیادہ سخت اور دندان شکن جواب ملے گا۔ دہشتگردی کیخلاف جنگ ہو یا بیرونی جارحیت سے دفاع‘ افواجِ پاکستان نے دفاعِ وطن کا تقاضا ہمیشہ اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر نبھایا ہے‘ تاہم معرکہ حق نے محض ملکی دفاع کو ہی یقینی نہیں بنایا بلکہ عسکری میدان میں ایک نئی تاریخ رقم کی جس نے جدید جنگ سے متعلق رائج نظریات کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔ کم وقت اور محدود وسائل میں جس طرح دشمن کے جدید ترین جنگی اثاثوں کو خاک میں ملایا گیا‘ اس نے دنیا بھر کے دفاعی ماہرین کو ششدر کر دیا۔

اب یہ بات مسلّم ہو چکی کہ جنگیں صرف جدید اسلحے سے نہیں بلکہ بلند حوصلوں‘ وسائل کے مربوط اور درست استعمال اور بہتر حکمت عملی سے جیتی جاتی ہیں۔ معرکہ حق نے ثابت کر دیا کہ پاکستان کی فضائی وزمینی حدود کی پامالی کا خواب دیکھنے والوں کو ہمیشہ شکست اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس کامیابی کا ایک اہم پہلو پاکستان کی پولیٹیکو ملٹری ڈپلومیسی ہے جس کی آج پوری دنیا معترف نظر آتی ہے۔ معرکہ حق حقیقی معنوں میں پاکستان کیلئے ایک نیا آغاز ثابت ہواجہاں فوجی طاقت اور سفارتی بصیرت نے مل کر ملک کا مقدمہ عالمی سطح پر مضبوطی سے لڑا۔عالمی فورمز پر پاکستان کے مؤقف کو جس طرح پذیرائی ملی‘ وہ اسی مربوط سفارتکاری کا نتیجہ ہے۔ آج دنیا پاکستان کو خطے میں امن کے ضامن کے طور پر دیکھ رہی ہے اور بھارت کے جارحانہ عزائم دنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکے۔ تاہم دفاعِ وطن محض سکیورٹی اداروں کی ذمہ داری نہیں ہوتی بلکہ یہ ایک ہمہ جہت عمل ہے جس میں حکومت اور عوام کو بھی اپنے حصے کی ذمہ داری نبھانا پڑتی ہے۔ دفاعی استحکام کیلئے داخلی وحدت اور ہم آہنگی کلیدی حیثیت رکھتی ہے اور یہی وہ سبق ہے جو معرکہ حق ہمیں سکھاتا ہے۔ الحمدللہ! عسکری اعتبار سے آج ملکی سرحدیں پوری طرح محفوظ ہیں‘ البتہ ملک کو اندرونی طور پر مستحکم کرنے کیلئے معاشی اور سماجی انصاف کی فراہمی ناگزیر ہے۔ سماجی انصاف کا عام ہونا اور قانون کی بالادستی وہ بنیادی ستون ہیں جو ریاست کو اندر سے ناقابلِ تسخیر بناتے ہیں۔ جب شہریوں کو انکے حقوق ملیں گے اور معاشی مواقع یکساں میسر ہوں گے تو انتہا پسندی اور داخلی انتشار جیسے چیلنجز خود بخود دم توڑ دیں گے۔
لہٰذا معرکہ حق کی کامیابیوں کو برقرار رکھنے کیلئے ہمیں اپنی معیشت کو سہارا دینا ہوگا اور معاشرے میں عدل وانصاف کے نظام کو رائج کرنا ہوگا تاکہ ایک عام آدمی بھی ریاست کے تحفظ کا احساس کر سکے۔ معرکہ حق محض ایک فوجی آپریشن نہیں بلکہ پاکستان کی خودداری اور قومی وقار کا استعارہ ہے۔ آج جب ہم اس معرکے کی پہلی سالگرہ منا رہے ہیں تو ہمیں اس عہد کی تجدید کرنی ہے کہ دفاعِ وطن کیلئے پوری قوم یکجا رہے گی اور معاشی و سماجی استحکام کے ذریعے ملک کو ایک ایسی عظیم ریاست بنائیں گے جس کی طرف کوئی میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرأت نہ کر سکے۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ادویات کی مہنگائی(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-08/11172</link><pubDate>Fri, 08 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-08/11172</guid><description>سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کے حالیہ اجلاس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گزشتہ دو برس کے دوران مختلف ادویات کی قیمتوں میں 100فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ 2024ء میں نگران حکومت نے ادویات کی قیمتوں کے تعین سے متعلق پالیسی تبدیل کرتے ہوئے ڈی ریگولیشن کا فیصلہ کیا اور قیمتیں مقرر کرنے کا اختیار دوا ساز کمپنیوں کے سپرد کر دیا تھا۔ اس اقدام کے حق میں یہ جواز دیا گیا تھا کہ اس سے مارکیٹ میں مسابقت بڑھے گی‘ غیر ملکی سرمایہ کاری آئے گی اور دواسازی کے شعبے کی برآمدات میں اضافہ ہو گا مگر عملی طور پر نتائج اس کے برعکس نکلے ہیں۔

قیمتوں میں کمی یا استحکام کے بجائے بیشتر دوا ساز کمپنیوں نے ادویات کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافہ کر دیا جس سے عام آدمی کیلئے علاج معالجہ مزید دشوار ہو گیا۔ ملک میں پہلے ہی ہسپتالوں اور صحت کی بنیادی سہولتوں کی صورتحال تسلی بخش نہیں چنانچہ شہریوں کی بڑی تعداد نجی شعبے سے رجوع کرنے پر مجبور ہے۔ ایسے ماحول میں اگر ادویات بھی عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو جائیں تو اس کیلئے بیماری صرف جسمانی اذیت نہیں بلکہ معاشی تباہی میں بھی بدل جاتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت دواؤں کی قیمتوں میں ہونے والے اس غیر معمولی اضافے کا فوری نوٹس لے اور متعلقہ کمپنیوں سے جواب طلب کرے جنہوں نے مختصر مدت میں قیمتیں کئی گنا بڑھا دیں۔ حکومت کو ڈی ریگولیشن پالیسی پر بھی نظرثانی کرنا ہو گی تاکہ ادویات عام آدمی کی پہنچ سے باہر نہ ہوں۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بجلی پر سبسڈی ختم؟(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-08/11171</link><pubDate>Fri, 08 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-08/11171</guid><description>حکومت نے عالمی مالیاتی فنڈ کو تحریری یقین دہانی کراتے ہوئے 200 یونٹس تک بجلی استعمال کرنے والے پروٹیکٹڈ صارفین کیلئے دی جانے والی سبسڈی ختم کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ یہ سبسڈی اب بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں رجسٹرڈ صارفین تک ہی محدود ہو گی۔ اس وقت ملک میں بجلی صارفین کی مختلف کیٹیگریز موجود ہیں جنہیں ماہانہ کھپت کی بنیاد پر تقسیم کیا گیا ہے۔ 200 یونٹس تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین‘ نیپرا کے مطابق جن کی تعداد دو کروڑ سے زائد ہے‘ اور یہ کل صارفین کا تقریباً 59 فیصد بنتے ہیں‘ کو نسبتاً سستی بجلی فراہم کی جاتی ہے۔ لیکن مجوزہ پالیسی تبدیلی سے آبادی کا یہ بڑا حصہ براہِ راست متاثر ہو گا۔ بالخصوص متوسط اور کم آمدنی والے طبقے پر زیادہ بوجھ پڑنے کا خدشہ ہے۔

ملک کے توانائی بحران کے اصل اسباب درآمدی تیل اور گیس پر انحصار‘ بلند کپیسٹی چارجز‘ گردشی قرضوں‘ لائن لاسز اور بجلی چوری جیسے عوامل ہیں۔ جب تک ان بنیادی مسائل کو حل نہیں کیا جاتا صرف سبسڈی کا بوجھ کم کرنے سے بحران کا حل ممکن نہیں۔ ریاست کی ذمہ داری صرف مالی اہداف پورے کرنا نہیں بلکہ سماجی انصاف کو بھی یقینی بنانا ہے۔ ضروری ہے کہ کسی بھی فیصلے سے پہلے اس کے عوامی اثرات کا مکمل ادراک کیا جائے۔ بصورت دیگر توانائی اصلاحات عوامی ریلیف کے بجائے ایک اور معاشی دباؤ میں تبدیل ہو سکتی ہیں۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بلاول بھٹو وزیراعظم کیوں بننا چاہتے ہیں؟(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-05-08/51906/97342529</link><pubDate>Fri, 08 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-05-08/51906/97342529</guid><description>میں 1998ء میں اسلام آباد آیا تھا۔ اس وقت سے اب تک درجن بھر افراد کو وزیراعظم بنتے‘ سزائیں پاتے‘ جیلوں میں جاتے‘ جلاوطنی اختیار کرتے یا خاموشی سے گھروں کو لوٹتے دیکھا ہے اور کوئی بھی خوشی خوشی یا اپنی مدت پوری کر کے رخصت نہیں ہوا۔جب وزیراعظم بنایا جا رہا ہوتا تو ان کا پروٹوکول آسمان کو چھو رہا ہوتا تھا‘ اور جب نکالا جاتا تو منظر یکسر بدل جاتا تھا۔ وزارتِ عظمیٰ سے فارغ ہونے کے بعد پنڈی ریلوے سٹیشن پر میر ظفراللہ جمالی کو اپنے آبائی گھر روانہ ہوتے وقت میں نے ایک عجیب منظر دیکھا۔ ان کی ساٹھ رکنی کابینہ میں سے صرف ایک وزیر انہیں الوداع کہنے آیا تھا‘ اور وہ تھے وزیر مملکت رضا حیات ہراج۔ ان میں ابھی دیہاتی پن‘ مروت اور ظرف باقی تھا۔ وہ فخر امام جیسے بڑے سیاستدان کو شکست دے کر پہلی بار اسمبلی میں آئے تھے اس لیے ان کے اندر دیہات کا وہ معصوم انسان ابھی زندہ تھا جو سمجھتا تھا کہ اپنے سابق وزیراعظم کو کم از کم الوداع ضرور کہنا چاہیے۔ یہی وزیراعظم جمالی جب بیرونِ ملک دورے پر جاتے یا واپس آتے تھے تو وزیروں اور بڑے بڑے بیورو کریٹس کی ایک فوج استقبال کیلئے موجود ہوتی تھی‘ مگر پنڈی ریلوے سٹیشن پر وہ اکیلے کھڑے ادھر ادھر دیکھ رہے تھے کہ شاید ان کے اردگرد رہنے والوں میں سے کوئی آیا ہو لیکن کوئی نہیں آیا۔ جس وقت ظفر اللہ جمالی ریلوے سٹیشن پر یہ منظر دیکھ رہے تھے کہ ان کے اقتدار کا سورج ڈوب گیا ہے‘ ایف ایٹ سیکٹر میں اسی وقت چودھری شجاعت حسین کا سورج طلوع ہو رہا تھا۔ ان کے بڑے سے گھر کے ڈرائنگ روم میں پاؤں رکھنے کی جگہ نہیں تھی۔ اب چودھری شجاعت حسین وزیراعظم بن چکے تھے۔ ہر وزیر اور ہر ایم این اے وہاں موجود تھا کہ اگلی کابینہ میں میرا نام بھی شامل ہو۔اُن دنوں جتنی طاقت میں نے چودھری شجاعت حسین کو انجوائے کرتے دیکھا‘ شاید ہی کسی اور کو کرتے دیکھا ہو‘ چاہے بعد میں صدر زرداری ہوں یا نواز شریف۔ ان پانچ برسوں میں چودھری شجاعت حسین حقیقی کنگ میکرتھے۔ انہوں نے سینکڑوں لوگوں کی سیاسی زندگیاں بدل کے رکھ دیں اور درجنوں کی تباہ بھی کر دیں۔ ان کی آنکھ کے ایک اشارے پر قسمتیں بنتی اور بگڑتی تھیں۔ میں نے اپنی آنکھوں سے کئی سیاستدانوں کو جگہ نہ ملنے پر انکے گھر فرش پر بیٹھے دیکھا۔ یہ الگ بات ہے کہ چودھری شجاعت حسین ایک ظرف اور مروت والے انسان ہیں۔ ان میں کبھی غرور‘ تکبر یا گردن میں سریا نہیں دیکھا‘ جو معذرت کے ساتھ‘ چودھری پرویز الٰہی میں نمایاں نظر آتا تھا۔ ان پانچ برسوں میں مجھے تین چار مرتبہ چودھری شجاعت حسین کے گھر جانے کا موقع ملا‘ وہاں تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی تھی‘ مگر پھر وہ بھی آیا جب اقتدار سے نکلنے کے چند روز بعد انہوں نے مجھے کھانے پر بلایا تو وہ بالکل اکیلے تھے۔ پورا گھر ویران تھا۔ مجھے شدید حیرت ہوئی کہ انسان کتنی جلدی بدل جاتے ہیں۔ کل تک وہاں بیٹھنے کی جگہ نہیں ملتی تھی‘ باہر گلیوں میں دور دور تک قیمتی گاڑیوں کی قطاریں لگی ہوتی تھیں اور اب ہر طرف سناٹا تھا۔ اس دن احساس ہوا کہ یہ طاقت‘ طاقتور ہونے اور &#39;&#39;اُپن ہی بھگوان ہے‘‘ کا احساس‘ سب وقتی ہوتا ہے۔ جب چودھری پرویز الٰہی پیپلز پارٹی حکومت میں ڈپٹی وزیراعظم بنائے گئے تو وہ گھر دوبارہ بھرنے لگا۔یہی کچھ شوکت عزیز کیساتھ بھی ہوتے دیکھا۔ نومبر 2007ء میں جب میں نے خبر بریک کی کہ وہ چند دنوں بعد مستقل طور پر پاکستان چھوڑ جائیں گے اور دوبارہ واپس نہیں آئیں گے‘ بلکہ اپنے ساتھ 26کروڑ مالیت کے 1126 تحائف بھی لے جائیں گے‘ جو انہیں آٹھ برسوں میں بطور وزیر خزانہ اور پھر بطور وزیراعظم غیر ملکی دوروں کے دوران ملے‘ تو شوکت عزیز نے فون کر کے میرے اخبار کے ایڈیٹر سے شکایت کی کہ یہ سب جھوٹ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان میں ہی رہیں گے اور اپنی سیاست جاری رکھیں گے۔ غالباً اگلے دن اخبار میں وضاحت بھی چھپی مگر چوتھے ہی دن لندن سے خبر آئی کہ وہ خاموشی سے وہاں لینڈ کر چکے ہیں۔ آج 20 برس ہونے کو آئے ہیں‘ وہ واپس نہیں آئے۔ البتہ جاتے جاتے ایڈیٹر سے مجھے جھاڑ ضرور پڑوا گئے کہ میں نے غلط خبر دی۔ میں نے لندن جانے کی خبر سننے کے بعد اُن ایڈیٹر صاحب کو فون کیا تو انہوں نے شوکت عزیز کے بارے میں جو کچھ فرمایا وہ قابلِ اشاعت نہیں۔ البتہ میرا دل رکھنے کیلئے درست خبر دینے پر مجھے داد ضرور دی۔نواز شریف صاحب جب سپریم کورٹ کے حکم پر برطرف ہوئے تو وہ بھی پوچھتے پھرتے تھے کہ &#39;&#39;مجھے کیوں نکالا؟‘‘۔ البتہ یوسف رضا گیلانی کو علم تھا کہ انہیں سپریم کورٹ نے کیوں نکالا‘ اس لیے وہ اس تکلف میں نہیں پڑے کہ مجھے کیوں نکالا؟ مزے کی بات یہ ہے کہ گیلانی صاحب کو سپریم کورٹ کے ذریعے نکلوانے والوں میں نواز شریف اور شہباز شریف بطور پٹیشنر شامل تھے‘ اور پھر جب وہ خود سپریم کورٹ سے نکالے گئے تو پوچھنے لگے &#39;&#39;مجھے کیوں نکالا؟‘‘۔ گیلانی صاحب شاید &#39;کرما‘ پر یقین رکھتے ہیں کہ اگر کوئی آپ کے ساتھ زیادتی کرے تو بدلہ لینے کی ضرورت نہیں‘ ایک دن وہ اپنا کرما خود بھگتے گا۔ کم از کم میں نے یہ نواز شریف کے ساتھ یہی ہوتے دیکھا کہ ان کی پٹیشن پر گیلانی صاحب کو نکالا گیا اور کچھ عرصے بعد خود نواز شریف بھی عمران خان کی پٹیشن پر وزیراعظم ہاؤس سے نکال دیے گئے۔ گیلانی صاحب خاموشی سے خود پر عائد پانچ سالہ پابندی ختم ہونے کا انتظار کرتے رہے۔ آج وہ چیئرمین سینیٹ ہیں اور قائم مقام صدر کا کردار بھی ادا کر چکے ہیں۔عمران خان نے نواز شریف کو پاناما سکینڈل میں جیل بھجوایا اور آج وہ خود جیل میں ہیں۔ مجھے کبھی سمجھ نہیں آئی کہ یہ سارا سلسلہ کیا ہے۔ اکثر دوست شکایت کرتے ہیں کہ عمران خان کو ناجائز جیل میں رکھا گیا ہے۔ میں پوچھتا ہوں کہ آج تک کس نے تسلیم کیا ہے کہ اسے جائز جیل میں رکھا گیا تھا؟ کیا عمران خان کو سیاست میں آنے سے پہلے معلوم نہیں تھا کہ پہلے وزیراعظم لیاقت علی خاں قتل ہوئے‘ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی‘ وزیراعظم بینظیر بھٹو کو دن دہاڑے قتل کر دیا گیا‘ نواز شریف کو جیل اور جلاوطنی کی سزا ملی‘یوسف رضا گیلانی‘ شہباز شریف اور راجہ پرویز اشرف سمیت کون سا سیاستدان ہے جو جیل نہ گیا ہو؟ عمران خان کے اپنے دور میں آصف زرداری‘ نواز شریف‘ مریم نواز‘ شہباز شریف اور درجن بھر لیگی وزرا جیلوں میں تھے۔ خان خود کہا کرتے تھے کہ انہیں چین جیسی طاقت چاہیے جہاں وزیروں کو پھانسی دے دی جاتی ہے۔ خان صاحب کو چھوڑیں‘ صدر زرداری کے بارے میں کیا کہیں‘ جن کے متعلق یہ تاثر ہے کہ وہ 28ویں ترمیم میں ووٹ کے بدلے بلاول بھٹو کو وزیراعظم بنانا چاہتے ہیں۔ بلاول بھٹو یقینا ایک قابل نوجوان ہیں اور بطور وزیر خارجہ ان کی کارکردگی بھی اچھی رہی۔ موجودہ حکومت بنتے وقت میں نے ایک ٹی وی شو میں کہا تھا کہ بلاول بھٹو کو دوبارہ وزیر خارجہ بنانا چاہیے تاکہ وہ مزید تجربہ حاصل کریں لیکن زرداری صاحب کو شاید یہ لگا کہ جیسے نواز شریف نے اپنی زندگی میں مریم نواز کو وزیراعلیٰ بنوا کر اپنی سیاسی وراثت انہیں منتقل کر دی ہے‘ ویسے ہی وہ بھی اپنے سامنے بلاول بھٹو کو وزیراعظم بنوا کر بینظیر بھٹو کی سیاسی وراثت اگلی نسل کو منتقل کر دیں‘ ورنہ انکے بعد بلاول اکیلے وہ خطرناک کھیل نہیں کھیل سکیں گے جس کا راستہ وزیراعظم ہاؤس کی طرف جاتا ہے۔باپ کی محبت اور خواہش اپنی جگہ‘ مگر کیا بلاول بھٹو کو معلوم نہیں کہ ان سے پہلے ان کے نانا ذوالفقار علی بھٹو‘ والدہ بینظیر بھٹو اور والد آصف زرداری کے ساتھ اقتدار کی اسی کشمکش میں کیا کچھ ہو چکا ہے؟ نانا کو پھانسی دی گئی‘ ماں کو قتل کر دیا گیا‘ اور باپ گیارہ‘ بارہ برس جیل میں رہا۔ یہ سب کچھ جاننے کے باوجود بھی بلاول بھٹو وزیراعظم بننے کے خواہشمند ہیں؟</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>غلط فہمی دور ہو گئی(رسول بخش رئیس)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-05-08/51907/69489972</link><pubDate>Fri, 08 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-05-08/51907/69489972</guid><description>یہ کوئی معمولی غلط فہمی نہیں‘ اور سوچیں اس کی مرتکب اس وقت دنیا کی واحد سپر پاور ہے جہاں سینکڑوں ایسے ادارے اور ہزاروں محقق ہیں جو دنیا کے تمام ملکوں کے اندرونی حالات کے بارے میں کھوج لگاتے رہتے ہیں۔ امریکہ کی کئی انٹیلی جنس ایجنسیاں ہیں جن کا کام قومی سلامتی کو محفوظ رکھنے کے لیے اطلاعات جمع کرنا ہے۔ جنگی مشقیں ہوتی ہیں اور دشمن کے سیاسی حالات اور عسکری کوائف کا جائزہ لیا جاتا ہے اور ان کی روشنی میں تزویراتی حکمت عملی بنتی ہے۔ ہمارے خطے کا تو چلن ہی ایسا ہے کہ تمام طاقتوروں کو سب سے زیادہ دانشمند سمجھا جاتا ہے۔ یہ ابھی معلوم نہیں کہ ان کے سلامتی کے اداروں اور ایجنسیوں نے صدر کو کیا رائے دی ہو گی۔ مگر جو فیصلے انہوں نے ایران کے بارے میں اپنے پہلے دور میں کیے اور دوسری مرتبہ اقتدار سنبھال کر ایک تسلسل بخشا‘ ان سے ایک منفرد ذہنی افتاد کی ترجمانی ہوتی ہے۔ صدرِ امریکہ کے آئینی اختیارات اور سیاسی طاقت ایسی ہے کہ اگر اس کا کسی ایک ایشو کی طرف میلان اور گہری دلچسپی ہے تو وہ کر گزرتا ہے۔ پرانی تاریخ کو نہیں دہراتے‘ گزشتہ دوتین دہائیوں میں کچھ ایسے صدارتی فیصلوں کو ہم دیکھ سکتے ہیں۔ عراق کے خلاف بلاجواز جنگ شروع کرنے کے لیے کیا کیا ثبوت فراہم کیے گئے اور بعد میں کچھ بھی نہ نکلا۔ اسی طرح لیبیا پر حملہ اور وہاں پر بھی رجیم چینج کیا گیا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے بارے میں پالیسی میں سیاسی اور قومی اتفاق سے کہیں زیادہ بطور صدر ان کی افتادِ طبع یا زاویہ نگاہ کار فرما نظر آتے ہیں۔ کئی برسوں کی طویل گفت وشنید کے بعد صدر براک اوباما کی انتظامیہ نے ایران کے ساتھ جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے لیے 2015ء میں معاہدہ کیا تھا۔ یہ معاہدہ صرف ایران اور امریکہ کے مابین نہیں تھا بلکہ چین‘ روس‘ جرمنی‘ برطانیہ اور فرانس بھی اس میں شامل تھے۔ اس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں مگر ایران کے لیے ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کی گنجائش نہ ہونے کے برابر کر دی گئی تھی۔صدر ٹرمپ نے اس معاہدے سے یکطرفہ طور پر دستبرداری کا اعلان کیا اور ایران پر پابندیاں دوبارہ عائد کر دیں۔ معاہدہ توڑنے پر زور دینے میں اسرائیل‘ دائیں بازو کے طاقتور حلقے اور خطے کے کچھ مسلم ممالک بھی شامل تھے۔ گزشتہ سال دوبارہ اقتدار سنبھالا تو جون میں اسرائیل سے مل کر ایران کی جوہری تنصیبات پر بھرپور حملے کیے۔ سائنسدانوں اور عسکری قیادت کو بھی موقع ملنے پر نشانہ بنایا اور اس کی تیل کی برآمدات اور دیگر اقتصادی پابندیوں میں تواتر سے اضافہ کرتے رہے۔ اندر سے بھی ان دونوں ملکوں کی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے رجیم کے مخالفین کو اکسانے اور ان کی ہر ممکن طریقے سے اعانت کی حکمت عملی جاری رکھی۔ مفروضہ یہ تھا کہ ایران اپنے جوہری اثاثے ترک کر دے اور اٹھتی ہوئی مخالفت اور معاشی بحران سے تنگ آ کر امریکہ کی مرضی کے مطابق ایک نیا جوہری معاہدہ کرنے پر مجبور ہو جائے۔ ایران نے اندرونی خلفشار میں بھی صورتحال کو کنٹرول میں رکھا اور وسائل کی تنگی کے باوجود اپنی عسکری طاقت کو برقرار رکھا۔ مزید پابندیوں اور جنگ کی دھمکیوں کے باوجود ایران کی مزاحمت میں جب کوئی کمی نہ آئی تو اسرائیل اور امریکہ نے فروری کے آخر میں بھرپور جنگ شروع کر دی۔ جی تو چاہتا ہے کہ وہ سب دعوے اور اعلانات جو انہوں نے ہزاروں بم برسانے کے ساتھ کیے‘ ان کی تفصیل یہاں دہرائی جائے لیکن ان کا ذکر کئی مضامین میں پہلے بھی ہو چکا ہے۔ کہا گیا کہ ایرانیوں اب اٹھو! اور اقتدار اپنے ہاتھ میں لے لو‘ تمہاری آزادی کا وقت آگیا ہے اور رجیم کو نیست ونابود کر دیا جائے گا۔ چالیس روزہ جنگ کے بعد بھی ایران اپنے پیروں پر کھڑا رہا۔ امریکیوں کی توقعات کے برعکس وہاں اس تباہ کن جنگ کے خلاف قومی ہم آہنگی دیکھنے میں آئی اور رجیم ٹوٹنے کے بجائے آج زیادہ مضبوط نظر آتا ہے۔جنگ بندی اور امریکہ کو مذاکرات کی میز پر لانا میرے نزدیک ایران کی بہت بڑی کامیابی تھی۔ جہاں ان کے گھٹنے ٹیکنے کی باتیں ہو رہی تھیں وہاں ہم نے دیکھا کہ ایران کی حکمت عملی نے جنگ کو امریکہ کے علاقائی حلیفوں تک پھیلا دیا جن کی مشہوری دنیا میں سلامتی کے حصاروں کی رہی تھی۔ پہلی مرتبہ انہیں معلوم ہوا ہو گا کہ بیرونی طاقتوں کو ہمسایوں کے خلاف فوجی اڈوں کی فراہمی اور سہولت کاری کی کیا قیمت چکانا پڑتی ہے۔ نتیجہ جو بھی نکلے‘ اس جنگ کے علاقائی معیشت‘ سمندری راہداری کی اہمیت اور مستقبل کی عسکری صف بندی پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ قیاس یہی ہے اور مستقبل بھی کہ اسرائیل اور امریکہ جو بھی کر لیں حالات شاید ان کے حق میں نہ رہیں۔ ناکہ بندی کے ردعمل میں آبنائے ہرمز کو غیر محفوظ کر کے ایران نے ترپ کا پتا کھیلا ہے۔ یہ ایسی چال ہے جس نے عالمی معیشت کی شہ رگ پر خنجر رکھا ہوا ہے۔ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی اس جنگ کا آخری مرحلہ معلوم ہوتا ہے۔ اس کے بعد بھی مفروضہ وہی ہے جو ایک سال پہلے جون کی جنگ شروع کرنے میں تھا کہ معاشی حالات کے جبر میں ایران ہتھیار پھینک کر سب امریکی شرائط کو تسلیم کرے گا۔ ابھی تک ایسا ہوا ہے اور نہ ہو گا۔ الٹا ہرمز کو بند کر کے عالمی معاشی مسئلہ کھڑا کر دینے میں وہ کامیاب رہا ہے۔ ہم جیسے ملک اور عام لوگ دنیا میں سوچنے پر مجبور ہیں کہ آخر یہ جنگ کس نے شروع کی اور اس کے ایران کے خلاف عزائم کیا ہیں۔سب سے بڑھ کر غلط فہمی یہ رہی ہے کہ ایران کو طاقت کے زور پر سرنڈر کرنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ ذہن میں رہے کہ ایران پر اقتصادی اور دیگر پابندیوں گزشتہ 47 سالوں سے چلی آ رہی ہیں۔ وقت کے ساتھ اور تعلقات میں مزید بگاڑ کے موجب ان میں زیادہ شدت دیکھنے میں آئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی زیادہ سے زیادہ اذیتناک معاشی حالات سے دوچار کرنے اور بے پناہ بم برسانے کے بعد اپنی پسند کا امن معاہدہ حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ الٹا ایران نے توانائی کا بہت بڑا بلکہ تاریخی عالمی بحران پیدا کر کے رائے عامہ کو امریکہ اور اس کے صدر کی جارحیت پسندی کے خلاف کر دیا ہے۔ اگر آج ہم مذاکرات میں پیش رفت کے اشارے دیکھ رہے ہیں تو اس کی دو بنیادی وجوہات ہیں۔ ایک انرجی کا بحران جس سے جدید دور کی صنعتی مشینری ہر شعبے میں اور ہر ملک میں متاثر نظر آتی ہے۔ تمام افراد بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بیروزگاری کا ذمہ دار امریکہ اور اسرائیل کو ٹھہرا رہے ہیں۔ دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ امریکہ طاقت کے تمام وسائل استعمال کرنے کے باوجود اپنے اعلان کردہ مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ جنگوں میں جب جمود کی کیفیت پیدا ہو جائے اور فتح حاصل کرنا دشوار اور بے یقینی کا شکار ہو تو مذاکرات ہی واحد راستہ رہ جاتے ہیں۔ ہماری عسکری اور سیاسی قیادت نے اپنی کامیاب سفارت کاری سے دونوں فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لانے‘ جنگ بندی کرانے اور ایک جامع امن معاہدہ کرانے میں تاریخی کردار ادا کیا ہے۔ دونوں جانب سے مثبت اشارے مل رہے ہیں کہ 14 نکات پر مشتمل مفاہمت کی یادداشت پر اتفاق ہو چکا ہے۔ ایران کے لیے یہ بہت بڑی فتح ہوگی کہ نہ صرف امریکہ آئندہ جنگ نہیں کرے گا بلکہ اس پر تقریباً نصف صدی سے عائد پابندیاں ختم ہوں گی‘ اثاثے بازیاب ہوں گے اور ایران کی ترقی کے تمام بند راستے کھول دیے جائیں گے۔ نیا تزویراتی نقشہ بھی مختلف ہو گا اور علاقے میں امریکی طاقت کا گھمنڈ بھی شاید وہ نہ رہے جو کبھی دیکھا جاتا تھا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_33241568.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>راتیِں پورا پنڈ نئیں سُتا(بابر اعوان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/babar-awan/2026-05-08/51908/49611639</link><pubDate>Fri, 08 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/babar-awan/2026-05-08/51908/49611639</guid><description>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ کو چھوڑ کر امریکیوں کی اکثریت برملا کہہ رہی ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف جنگ ہارا ہے جیتا نہیں۔ پاکستان میں مغربی سفارتخانوں کے دستر خوان کے ٹکڑے سمیٹنے والے اس کھلی شکست کو امریکہ کی سٹرٹیجک فتح قرار دیتے ہوئے شرماتے بھی نہیں۔ 24گھنٹے پہلے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو جنگ کے معاملات جلد نمٹانے کا عندیہ دیا۔ ساتھ ہی یہ دھمکی بھی کہ اگر ایران نے جنگ ختم نہ کی تو ایران کی سرزمین پر امریکی بمباری پہلے سے زیادہ خوفناک ہو گی۔ عین اسی وقت جب صدر ٹرمپ کا یہ بیان آیا ساتھ ہی عسکری ذرائع نے یہ خبر بریک کی کہ امریکہ جنگ ختم کرنے کے لیے &#39;&#39;Closing in memo‘‘ کو فائنل کر رہا ہے۔ اس سے دو دن پہلے امریکی بحری بیڑے کے ایک وار شپ نے ہرمز میں حرکت شروع کی تو ایران نے اعلانیہ اس پر دو میزائل سٹرائیک مارنے کی خبر پبلک کر دی۔ دسترخوانی قلمکار اور فنکار ٹرمپ کی فتح کا دَف بجاتے ہیں اور اس کی وجہ امریکی ہی بتاتے ہیں کہ There is no free cup of tea۔ یہ حقیقت کون نہیں جانتا کہ مغربی نشریاتی ادارے ابھرتے ہوئے مشرق اور اسلامی ممالک کے خلاف ہتک آمیز تعصّب کا اظہار کرتے کبھی نہیں ہچکچاتے۔ اس کے باوجود بھی امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے امریکی جنگ کے ڈھول کا کچھ کچھ پول کھول چھوڑا ہے۔ تین دن پہلے ان کے مین بلیٹن میں ایک تہلکہ خیز ڈاکیومنٹڈ کمنٹری نشر کی گئی‘ جس کی بنا پر باشعور امریکی شہری اپنے ہی صدر ٹرمپ کی ایران جنگ میں شکست پر یقین کر چکے ہیں۔ تصدیق شدہ معلومات اور وڈیوز پر مشتمل سی این این کی تحقیقات میں ایران کی جانب سے پرشیئن اور عریبیئن گلف میں امریکی فوجی اڈوں کی بڑے پیمانے پر غیرمعمولی تباہی رپورٹ کی گئی ہے۔ اس رپورٹ کے کچھ حصے ان لوگوں کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی سے زیادہ ثابت ہوئے جو ایران کو ڈراتے تھے اور کہتے تھے کہ اگرایران نے امریکی اڈے پر ایک بھی میزائل یا ڈرون مارا تو امریکی اسرائیلی مشترکہ بمباری ایران کو غزہ ٹُو بنا دے گی۔مذکورہ بالا ایسی تحقیقاتی صحافتی رپورٹ ہے جس کے آغاز میں کویت میں واقع کیمپ &#39;&#39;Buehring‘‘ (بیورنگ) میں ناچتے گاتے امریکی فوجی دکھائے گئے ہیں۔ یہ کیمپ خلیج میں سب سے بڑا امریکی فوجی طاقت کا مرکز مانا جاتا ہے۔ اس کیمپ کا نام ایک امریکی آرمی افسر پال ایف بیورنگ کے نام پر رکھا گیا جس نے عربستان کے ریگستان میں پہلے امریکی مائیکرو سٹی کی بنیاد رکھی۔ یہ کیمپ ایرانی میزائل اور ڈرونز کے ایک ہفتے کے مسلسل طویل حملوں کے بعد تقریباً خالی پڑا دکھایا گیا ہے جس کی تنصیبات کے ہر حصے پر ایرانی بمباری نے تباہی مچا دی۔ بیورنگ اڈے سے امریکہ اسرائیل نے ایران کے بڑے ہتھیاروں کو سورس پر نشانہ بنایا تھا۔ اس رپورٹ کی روشنی میں اب چلئے مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے 70دن کی طرف‘ اس عرصے میں ایران کے مسلسل حملوں نے امریکہ کے لینڈ مارک فوجی اڈوں کو کس طرح غیر مؤثر اور برباد کر کے رکھ دیا۔ایران کا تیز رفتار ایکشن: امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے جو واقعاتی شہادتوں سے بھرپور ڈاکیومنٹڈ تجزیہ نشر کیا ہے‘ اس تجزیے سے وہ وجوہات سامنے آ گئیں جن کی بنا پر باشعور امریکی شہری ایران کے خلاف ٹرمپ وار اور اسرائیل وار دونوں کو غیر ضروری اور ناپسندیدہ قرار دے چکے ہیں۔ یہ رپورٹ کہتی ہے کہ ایران نے جنگ شروع ہوتے ہی آٹھ عرب ممالک میں کم از کم 16 امریکی تنصیبات پر ایسی تباہی مچائی جس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ زمینی صورتحال سے واقف ایک امریکی ذریعے نے سی این این کو بتایا کہ امریکی فوجی پوزیشنوں کی اکثریت اب جدید جنگی ٹیکنالوجی کا استعمال کرنے کے قابل نہیں رہی۔ایران نے کون سے جنگی اہداف حاصل کیے: ایران نے شہروں اور سویلین آبادی کو بچا کر قیمتی ترین امریکی سامانِ حرب و ضرب کو نشانہ بنایا۔ اس کامیابی کا اندازہ بوئنگ  E3سینٹری طیارے کو دو ٹکڑے کرکے تباہ کرنے سے لگایا جا سکتا ہے جو سعودی صحرا میں ایک ایئر بیس پر کھڑا تھا۔ اس طیارے کو پورے خلیجِ عرب میں بہت زیادہ مؤثر معلومات فراہم کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ سمجھا جاتا تھا۔ اب یہ طیارہ آؤٹ آف پروڈکشن ہے۔ اس بوئنگ E3 کی قیمت نصف بلین ڈالر سے زیادہ ہے۔ سی این این کی تحقیقاتی رپورٹ کہتی ہے کہ ایران نے اسرائیل اور امریکہ کے بڑے نشانے چن چن کر ہر طرح کی ایئر کنٹرول ٹیکنالوجی کو شکست دے کر کامیابی سے تباہ کیا۔دیوہیکل گالف گیندوں کی تباہی: مڈل ایسٹ اور ایشیا میں سیٹیلائٹ ڈشز کی حفاظت کرنے والے اور تمام ڈیٹا کی ترسیل کے لیے گالف کے کھیل میں استعمال ہونے والی گیند کی شکل پر جو چھ مراکز بنائے انہیں Redoms کے نام سے جانا جاتا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل‘ ایران پر جس ہوائی برتری پر ناز کرتے تھے وہ انہی Redoms کی مرہونِ منت تھی۔ سی این این کی رپورٹ کے مطابق ایران نے جنگ میں ایک ماہ سے بھی کم عرصے کے اندر ایک کے علاوہ باقی تمام ریڈومز کو پوری طرح تباہ کر دیا۔ اس حوالے سے اہم ترین بات یہ ہے کہ ریڈار سسٹم کو گائیڈ کرنے والا یہ نظام انتہائی پیچیدہ اور بہت مہنگا ہے‘ اور اس کو بدلنا بہت مشکل ہے اور یہ فضائی دفاع کے لیے دوسرا بڑا ذریعہ تھا۔ ایک کانگریسی معاون نے سی این این کو بتایا کہ ان اہداف کے نقصان کی لاگت سب سے زیادہ ہے۔اسی دوران ایک طبقاتی جنگ ہمارے شہرِ اقتدار میں برپا ہوئی جو لوکیشن کے حساب سے ریڈ زون کے جنوب اور شمال دو کنارے ہیں۔ 1970ء میں اسلام آباد میں ایک سیکٹر بری امام کالونی کے نام سے تعمیر ہوا جسے سرکار نے روڈ‘ بجلی‘ گیس‘ ہسپتال‘ ٹیلی فون کنکشن‘ پولیس سٹیشن سمیت ساری سہولتیں فراہم کیں۔ وہاں دن دہاڑے ہزاروں مکینوں کے سینکڑوں گھر ہیوی مشینری کے ذریعے زمیں بوس کر دیے گئے۔ یہ کالونی صدر ہاؤس اور وزیراعظم ہاؤس کی مشرقی باؤنڈری والی سڑک کے عین دوسری جانب ہے۔ اس پہ ہائبرڈ نظام نے نوٹس لیا نہ اس بستی کی خواتین اور بچوں کی چیخیں صدر ہاؤس اور وزیراعظم ہاؤس کی اونچی دیواریں پھلانگ سکیں۔ نہ ہی ان کے ساتھ جڑے انصاف کے سب سے بڑے مندر میں زنجیرِ عدل ہل سکی۔ بری امام کالونی خدا کی بستی تھی جس میں خدا کے غریب‘ لاچار اور مزدور کار بندے عشروں سے بس رہے تھے۔ پچھلے ہفتے آدھی رات کے وقت شہری انتظامیہ نے &#39;&#39;گرینڈ ہائٹ‘‘ ہوٹل کے 14 ایکڑ پلاٹ پر بننے والا اپارٹمنٹ ٹاور وَن کانسٹیٹیوشن واگزار کروانے پہنچ گئی۔ نصف شب کے بعد بڑوں کا سکون برباد کرنے والے اہلکاروں کے خلاف بڑی ٹلّیاں کھڑکیں۔ چیف ایگزیکٹو نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے پر وزارتی کمیٹی بٹھا دی اور بے دخلی ایکشن روک دیا۔ میں ہمیشہ طبقاتی تقسیم پر بولتا اور لکھتا آیا ہوں مگر اتنا مؤثر نہیں جتنا ان دو واقعات پر پنجابی زبان کے شاعر نے دو مصرے موزوں کر دیے۔لِسّے دی مر گئی ماں کوئی نئیں لیندا ناںڈاڈھے دا مر گیا کتا‘ راتِیں پورا پنڈ نئیں سُتا</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_42786259.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سی ایس ایس کا امرت دھارا(اسد طاہر جپہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/asad-tahir-jappa-/2026-05-08/51909/35482267</link><pubDate>Fri, 08 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/asad-tahir-jappa-/2026-05-08/51909/35482267</guid><description>جس معاشرے میں ہر طرف ناکامیوں کا راج ہو وہاں کامیابی کا اعلان جرم بن جاتا ہے۔ جہاں غم و آلام عام ہوں اور مایوسیوں کے بسیرے ہوں وہاں خوشی کے شادیانے بجانے والے کہاں اچھے لگتے ہیں۔ جہاں غربت و افلاس اور معاشی بدحالی کے ڈیرے ہوں وہاں خوشحالی اور معاشی آسودگی کسے برداشت ہو گی۔ جہاں ہر وقت لوگوں کو پیچھے دھکیلنے اور ان کے خوابوں سے کھیلنے کا رواج عام ہو وہاں اپنے میرٹ پر آگے بڑھنے والے بھلا کس کو اچھے لگتے ہیں۔ جہاں دوسروں کی ناکامیاں‘ محرومیاں اور پریشانیاں لوگوں کی تسکین کا باعث بنتی ہوں وہاں اپنی قوتِ بازو اور شبانہ روز انتھک کوششوں سے کامیاب ہو جانے والے کہاں بھلے لگتے ہیں۔ جہاں سوشل میڈیا پر وویوز کے چکر میں سارا دن لوگوں کے مسائل کا مذاق اڑایا جاتا ہے‘ ان کی ذاتی زندگی کے مخفی گوشوں کو کریدنے اور انہیں آشکار کرکے ان پر دھمال ڈالنے پر واہ واہ کی جاتی ہے۔ ہر دوسرا شخص صحافی‘ مبصر‘ مدبر‘ دانشور اور سینئر تجزیہ کار بنا بیٹھا ہے اور یہ تمام خدائی خدمت گار سارا دن دوسروں کو ٹھیک کرنے اور نظام درست کرنے کے راگ الاپنے پر مامور بھی ہیں اور مجبور بھی۔ اپنی ذات اور اپنے معاملات کی نگرانی اور درستی اور اپنے گریبان میں جھانکنے کی کوشش تک بھی ناپید ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر ایک ایسا موضوع درکار ہوتا ہے جس کی لاش پر سارا دن بھنگڑا ڈال کر دل کی بھڑاس نکالی جا سکے اور پھر اگلے روز نئے جوش و جذبے کیساتھ کسی کی پگڑی اچھالنے کا بلامعاوضہ فریضہ انجام دینے کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔گزشتہ دنوں سی ایس ایس کے حتمی نتائج کا اعلان کیا گیا جس میں حسبِ سابق کامیاب ہونیوالے خوش نصیبوں کی تعداد بہت کم تھی۔ اب سارے خود ساختہ دانشور اور تجزیہ کار سی ایس ایس کے ذریعے منتخب ہونے والوں پر چڑھ دوڑے ہیں اور سب سے زیادہ تنقید کا نشانہ اس کٹھن ترین امتحان میں ٹاپ پوزیشن حاصل کرنیوالے ایک امیدوار کو بنایا گیا ہے جس کا تعلق ٹوبہ ٹیک سنگھ کے ایک دور افتادہ گاؤں سے ہے اور وہ سکول ٹیچر کا بیٹا ہے۔ سی ایس ایس کے امتحان میں ہر سال پچیس سے تیس ہزار امیدواران اپلائی کرتے آرہے تھے جن کی تعداد اب ایک سکریننگ ٹیسٹ کے بعد تقریباً آدھی رہ گئی ہے کیونکہ اتنی بڑی تعداد میں امتحان کو منعقد کرنا اور پیپر چیکنگ کے دشوار گزار عمل میں فیڈرل پبلک سروس کمیشن کا بہت سارا وقت اور وسائل صرف ہوتے تھے۔ لہٰذا اب تمام اہل امیدواروں کو سکریننگ ٹیسٹ میں سے گزارا جاتا ہے تاکہ ایک خاص قابلیت کے حامل افراد ہی تحریری امتحان کے مرحلے تک پہنچ پائیں۔ گزشتہ سال سی ایس ایس کے تحریری امتحان میں 12792 امیدوار شامل ہوئے جن میں صرف 355 پاس ہوئے جو بعد میں نفسیاتی ٹیسٹ‘ انٹرویو اور طبی معائنہ کے مراحل سے گزرے۔ چند روز قبل ان تمام مراحل کے بعد حتمی نتائج کا اعلان کیا گیا جس میں کل 342امیدوار کامیاب قرار پائے مگر محدود سیٹوں پر مختلف محکموں میں منتخب ہونیوالوں کی تعداد محض 170ہے جبکہ باقی ماندہ 172 افراد پاس ہونے کے باوجود میرٹ پر پورا اترنے میں ناکام رہے۔ یوں تقریباً تیرہ ہزار امیدواران میں سے صرف 170خوش نصیب مختلف محکموں میں منتخب ہونے میں کامیاب رہے۔ ان اعداد و شمار میں سے سب سے زیادہ خوشگوار پہلو مردوں کے مقابلے میں خواتین کی بڑھتی ہوئی تعداد ہے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ آج سے کم و بیش 24سال قبل جب ہم 29ویں کامن میں منتخب ہو کر سول سروسز اکیڈمی لاہور پہنچے تو ہمارے ساتھ خواتین کی تعداد لگ بھگ دس فیصد تھی جو بعد میں بتدریج بڑھنا شروع ہوئی اور اس سال حتمی نتائج کے مطابق 170میں سے 84مردوں کے مقابلے میں 86خواتین کامیاب قرار پائی ہیں۔ یہ بھی یاد رہے کہ تحریری امتحان میں شامل کل 12792 امیدواران میں سے مردوں کی تعداد 7026 جبکہ خواتین کی تعداد 5766 تھی مگر پاس ہونے والے 355 میں سے 178 مردوں کے مقابلے میں خواتین کی تعداد 177 رہی اور حتمی نتائج کے بعد کل 170 میں سے 84 مردوں کے مقابلے میں خواتین کی تعداد 86 ہے۔ ان اعداد و شمار میں جہاں ہمارے لڑکوں کے مستقبل کیلئے ایک خطرے کی گھنٹی ہے وہاں ہمارے ملک و قوم کے روشن مستقبل کی نوید بھی ہے کیونکہ پڑھی لکھی باروزگار خواتین اپنے مثبت اور تعمیری کردار سے ہمارے ملک و معاشرے کی تعمیر و ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کرکے وطنِ عزیز پاکستان کے تابناک مستقبل کی بنیاد رکھ سکتی ہیں۔ان نتائج کے اعلان کیساتھ ہی ایک طرف کامیاب امیدواروں اور ان کے اہلِ خانہ نے خوشیاں منائیں تو دوسری طرف سوشل میڈیا کے مفکرین نے ان کامیاب ہونے والوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے مختلف حوالوں سے ہدفِ تنقید بنایا۔ کئی مبصرین نے انہیں سول سروسز اکیڈمی میں تربیت حاصل کرنے سے پہلے ہی ممکنہ کرپشن کے الزامات کے تاج پہنائے تو کئی تجزیہ کاروں نے ان خوش قسمت افراد کی محنت‘ ذہانت اور قابلیت کو رگڑا لگانے میں پورا زور لگایا کیونکہ انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ ہمارے معاشرے میں تنقید کا چورن آسانی سے بکتا ہے اور اگر تنقید کیساتھ تضحیک کی آمیزش کر لی جائے تو یہ سونے پر سہاگا کا کام دیتی ہے اور لوگ اَش اَش کر اٹھتے ہیں‘ لہٰذا آج کل یہ خوش نصیب کامیاب ہو کر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اپنی کامیابی پر سینہ کوبی کرنیوالے نقادوں کی گولہ باری کی زد میں ہیں کہ گویا اس ملک کے مشکل ترین امتحان میں کامیاب ہو کر ان 170نوجوانوں نے کوئی گناہِ عظیم سر زد کر دیا ہے۔ سب سے زیادہ تنقید کا نشانہ اس امتحان میں ٹاپ پوزیشن حاصل کرنیوالا امیدوار ہے۔ اس تنقید کی وجہ سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی اسکی مارکس شیٹ ہے جس کے مطابق اس نے انگریزی زبان اور انگلش مضمون والے پرچوں میں کم نمبر حاصل کیے جبکہ اختیاری مضامین میں کہیں زیادہ نمبر حاصل کیے اور اسی طرح وہ اپنے تحریری امتحان میں حاصل کردہ نمبروں کی نسبت انٹرویو میں زیادہ نمبر لینے میں کامیاب ہوا۔ تمام نقادوں کی خدمت میں عرض ہے کہ بارہ سو نمبروں پر مشتمل تحریری امتحان کا مرحلہ الگ ہے جبکہ تین سو نمبروں پر مبنی انٹرویو کا ایک الگ معاملہ ہے۔ دونوں مرحلوں کے تقاضے الگ ہیں۔ بہت سارے امیدواران تحریری امتحان میں اچھے نمبر حاصل کرنے کے باوجود انٹرویو میں بہتر کارکردگی نہیں دکھا سکتے کیونکہ ان میں خود اعتمادی اور کمیونیکیشن سکلز کا فقدان ہوتا ہے جس کے نتیجے میں وہ سوالات کے مؤثر جواب نہیں دے پاتے اور یوں تحریری امتحان میں بہتر کارکردگی کے باوجود انٹرویو میں اچھی پوزیشن حاصل کرنے میں ناکام ہو جاتے ہیں۔ اس کے بر عکس کچھ امیدواران بے پناہ خود اعتمادی‘ متاثر کن لب و لہجے اور قوتِ اظہار و گفتار پر ملکہ رکھنے کے سبب تحریری امتحان میں مناسب نمبروں کے باوجود انٹرویو میں شاندار کارکردگی دکھا کر دوسروں کے مقابلے میں زیادہ نمبر حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ یہ ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے اور اس بار بھی کچھ نیا نہیں ہوا۔ پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے امیدوار نے یقینی طور پر انٹرویو میں بہترین کارکردگی دکھائی ہو گی جس کی وجہ سے وہ 300 میں سے 225 نمبر حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔اس سارے قضیے کا سب سے دلچسپ پہلو اسلام آباد اور لاہور میں واقع سی ایس ایس کی تیاری کروانے والی اکیڈمیاں ہیں جو کامیاب ہونے والے 170امیدواروں کی کامیابی کا تمام تر کریڈٹ لینے کی دوڑ میں شامل ہیں اور اس قدر متضاد بیانات اور مضحکہ خیز دعوے کر رہی ہیں کہ اگر ان تمام دعوؤں کو سچ مان لیا جائے تو کامیاب امیدواروں کی مجموعی تعداد ایک ہزار سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ مگر وہ بھی کیا کریں کیونکہ یہ سب اکیڈمیاں بھاری بھرکم فیسوں کے عوض طاقت‘ عزت‘ شہرت اور اختیارات کی آمیزش سے تیار کردہ سی ایس ایس کا امرت دھارا بیچتی ہیں جس کیلئے انہیں کامیابی حاصل کرنے والے خوش نصیبوں کو اپنے ساتھ منسلک کرنا پڑتا ہے۔ کہتے ہیں کہ کامیابی کے سو وارث ہوتے ہیں جبکہ ناکامی یتیم ہوتی ہے تو اس میں عجیب کیا ہے؟</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_34710710.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ہم ان کی قید سے چھوٹیں تو کس طرح چھوٹیں؟(آصف عفان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/asif-afan-/2026-05-08/51910/31039039</link><pubDate>Fri, 08 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/asif-afan-/2026-05-08/51910/31039039</guid><description>ایک طرف مسائل اور مصائب کے پہاڑ ہی پہاڑ ہیں‘ دوسری طرف موضوعات کی قلت بھی درپیش ہے۔ اس گمبھیر صورتحال کے نقطے ملائیں تو بننے والے سبھی خاکے ہوشربا اضافوں کے ساتھ حالاتِ بد کا تسلسل اور چلتے پھرتے استعارے ہیں۔ روزِ اوّل سے لمحۂ موجود تک عوام کی حالتِ زار کی جمع تفریق کریں تو حاصل ہونے والے اعداد و شمار اور داستانِ غم اس قدر طویل اور بھیانک ہے کہ کہیں الفاظ اظہار سے قاصر ہیں تو کہیں ترجمانی سے گریزاں۔ کیسے کیسے روپ بہروپ اور بھید بھاؤ کھلتے چلے جا رہے ہیں‘ کوئی سات پردوں میں بھی بے پردہ ہے تو کوئی نقاب اترنے کے باوجود ڈھٹائی پر آمادہ اور نازاں دکھائی دیتا ہے۔ مملکتِ خداداد میں بسنے والوں کا سب سے بڑا مسئلہ وہ طرزِ حکمرانی ہے جو انہیں نسل در نسل زندہ درگور کیے ہوئے ہے۔ باپ کے بعد بیٹا اور دادا کے بعد پوتا شوقِ حکمرانی میں عوام کو بنیادی حقوق سے لے کر باعزت گزر بسر سمیت ان سبھی ضروریات سے محروم کرنے کا باعث ہیں جو کسی بھی مہذب معاشرے میں بسنے والوں کا حق ہوتا ہے۔ باریاں لگا کر حکمرانی کرنے والے ہوں یا ان باریوں میں اپنی باری کی نقب لگا کر حکمرانی کرنے والے سبھی ایک دوسرے کے ریکارڈز ریکارڈ مدت میں توڑتے چلے آئے ہیں۔ پچاس سال پرانا اخبار اٹھا کر دیکھ لیں حالاتِ حاضرہ کی من و عن عکاسی کرتا نظر آتا ہے۔ یعنی: عذاب یہ بھی کسی اور پر نہیں آیااک عمر چلے گھر نہیں آیاگھر کی تلاش میں کتنی نسلیں رزقِ خاک بن چکی ہیں لیکن منزل ملی نہ نشانِ منزل۔ جھانسوں اور دھوکوں کے مارے عوام کو شاید اب ان دھوکوں کی لت پڑ چکی ہے تبھی ہر دور میں جانتے بوجھتے فریب کھا کر بھی ہر بار لٹنے کو تیار رہتے ہیں۔ زمینی حقائق اور درپیش کڑے چیلنجز سے بے نیاز نمائشی اقدامات اور اعداد و شمار کے گورکھ دھندے کو گورننس ثابت کرنے کے لیے سرکاری وسائل کے بے دریغ استعمال کے باوجود حالات جوں کے توں بلکہ بد سے بدتر ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت میں بنی گالا کی رہائش گاہ پر اٹھنے والے اعتراضات کو معمولی جرمانے سے ختم کروا کر تجاوزات کے نام پر سینکڑوں بستیاں نہ صرف اجاڑی گئیں بلکہ بے سروسامانی کے پروانے بھی نیاز کی طرح بانٹے گئے۔ گزشتہ دنوں اسلام آباد کی کئی بستیوں پر وہ قیامت ڈھائی گئی کہ گویا کسی دشمن نے حملہ کر دیا ہو لیکن اسلام آباد میں اشرافیہ کے متنازع ٹاور کے خلاف کارروائی کے بجائے کمیٹی پر اکتفا کیا گیا ہے جبکہ وزیر باتدبیر اور وزیراعظم اپنے اپنے پیج پر قائم ہیں‘ دیکھتے ہیں کون کس کے پیج پر آتا ہے۔ ٹوئن ٹاورز کی تعمیر سے لے کر الاٹمنٹ سمیت ریگولیٹری کے دیگر سبھی امور میں معاون اور مددگار بننے والے آج قانون اور ضوابط کا جھنڈا اٹھائے چڑھ دوڑے ہیں۔ آنے والے دنوں میں حکومت کے لیے یہ معاملہ ٹیسٹ کیس بننے جا رہا ہے لیکن حکومتیں ایسے ٹیسٹ میں ہمیشہ فاتح اور کامیاب ہی ٹھہرتی ہیں کیونکہ ہارنے کے لیے ماڑے اور بے وسیلہ عوام جو موجود ہیں۔ اس صورتحال پر ایک صاحب نے آڑے ہاتھ لیتے ہوئے ماضی کے چند اوراق پلٹے تو ہیں لیکن ہمارے ہاں ماضی سیکھنے کے بجائے پیٹنے کے زیادہ کام آتا ہے۔ اگر چند اوراق اور پلٹ جاتے تو عوام مزید ناموں اور ان کے کارناموں سے ضرور آشنا ہو جاتے۔ خیر! اس کنٹرولڈ لفظی گولہ باری نے ہلچل تو ضرور مچائی لیکن یہ ہلچل اس طوفان کے آگے بے معانی ہے جو وزیر موصوف اٹھانے کے درپے ہیں۔ آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا؟اسی طرح مہنگائی اور گرانی کے کئی زمانوں پہ بھاری نئے ریکارڈز بنائے جا رہے ہیں جن کے آگے مہنگائی جیسے الفاظ بے معانی دکھائی دیتے ہیں‘ مہنگائی کے جن کی دھمال جابجا ہر سُو جاری ہے۔ پٹرول اور یوٹیلیٹی بلوں سمیت اشیائے ضروریہ قوتِ خرید سے کوسوں دور نکل چکی ہیں جن کی واپسی کا امکان اور گمان ہی محال ہے۔ بات انرجی کی چل نکلی ہے تو انرجی سیکٹر میں کئی دہائیوں سے جاری گورکھ دھندے کا کچھ احوال بھی شیئر کرتے چلیں۔ بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں بھی آئی پی پیز کی پیروکار نکلیں۔ آئی پی پیز کو قومی خزانے سے بجلی نہ بنانے کی بھاری ادائیگیاں کی جاتی ہیں اور تقسیم کار کمپنیاں متواتر بجلی نہ دینے کی بھاری قیمت عوام کا خون چوس کر وصول کر رہی ہیں یعنی ایک طرف آئی پی پیز کو اس سروس کی قیمت ادا کی جارہی ہے جو وہ فراہم ہی نہیں کر رہی جبکہ دوسری طرف تقسیم کار کمپنیاں طویل لوڈ شیڈنگ کی ناقابلِ برداشت قیمت بلز کی صورت میں وصول کر رہی ہیں۔ 15غیر ملکی آئی پی پیز کا ماتم کرنے کے بجائے ان 76 کمپنیوں کی بھی کچھ خبر لیں جن میں اکثریت کا تعلق ہماری راج نیتی سے جڑی اشرافیہ سے ہے جبکہ سات کمپنیوں پر مشتمل ننھی منی اقلیت بھی بالواسطہ کہیں نہ کہیں راج نیتی کا طواف کرتی نظر آتی ہے۔ حکمرانوں کے بجلی بنانے کے یہ کارخانے عوام کی حالت خراب کرنے میں پیش پیش ہیں اور گزشتہ 10 برسوں کے دوران 8344 ارب روپے صرف کپیسٹی چارجز کی مد میں ان کمپنیوں کو ادا کیے گئے ہیں‘ یعنی بجلی نہ بنانے کی قیمت ملک و قوم کے پیسے سے ادا کی گئی۔ آفرین ہے ان سبھی کی عقل و دانش کے میناروں کو جنہوں نے یہ جان لیوا معاہدے کر کے قوم کو مستقل مرگ سے دوچار کر ڈالا۔ جب ضرورت فرض پر غالب آجائے تو حکمران ایسے ہی فیصلے کرتے ہیں۔ گورننس اکانومی بن جائے تو میرٹ اور احساس کا جنازہ اسی دھوم سے نکلتا ہے۔ انرجی سیکٹر میں ناقابلِ فہم معاہدوں اور بھاری ادائیگیوں کی وارداتوں کی مزید وضاحت سے اختصار اور احتیاط سے کام لیتے ہوئے زہرا نگار کی ایک نظم کے چنیدہ اشعار پیشِ خدمت ہیں:روایتوں کا تقدس عقیدتوں کا بوجھپھر اپنی راہ کی پہچان‘ اپنے گھر کی تلاش ہم ان کی قید سے چھوٹیں تو کس طرح چھوٹیں بجائے اس کے کہ ہم ان سے سرخرو ہوتےانہوں نے زخم دیے ایسے بھر نہیں پائے وہ ایک خواب جسے سیت کر رکھا برسوں اسے خود اپنی ہی نیندوں سے چاک کر ڈالا وہ خاک جس سے کہ پھولوں کو رنگ ملتے ہیں وہ خاک اپنے ہی چہروں پہ مل کے لوٹ آئےخارجی محاذ پر تاریخ ساز کامیابیوں کا جشن بجا‘ خطے میں جنگ بندی کے لیے مصالحانہ کوشش پر ستائش بھی ضروری‘ لیکن بدحالی‘ بدامنی اور بھوک کے مارے چلتے پھرتے ان غریبوں کا بھی خیال رہے جن کی میعادِ برداشت ختم ہوئے مدت بیت چکی ہے۔ سکولوں سے باہر ان کروڑ ہا بچوں کا بھی خیال کریں جو کتابوں کے بجائے ننھے منے ہاتھوں میں اوزار اور وائپر تھامنے پر مجبور ہیں جبکہ ہاتھوں میں ڈگریوں کے پلندے اٹھائے بیروزگاروں کی بڑی کھیپ بھی ہر سال تیار ہو رہی ہے۔ تھانہ‘ ہسپتال اور پٹوار میں ذلت دھتکار اور پھٹکار کے مناظر ہی معاشرے کا اصل چہرہ ہیں۔ تنگ آمد بجنگ آمد کا مقام آن پہنچا ہے۔ یاد رہے کہ وقت کا ہونا مہلت کی ضمانت ہرگز نہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_65560900.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بنیانٌ مرصوص اور امن کا گلدستہ(امیر حمزہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ameer-hamza/2026-05-08/51911/62226344</link><pubDate>Fri, 08 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ameer-hamza/2026-05-08/51911/62226344</guid><description>اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے بارہ مہینوں میں سے ایک مہینہ پاکستان کیلئے ٹرننگ پوائنٹ کی حیثیت کا حامل ہے۔ یہ پاکستان ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ مئی کا مہینہ ہے۔ آج آٹھ مئی ہے۔ مئی کے پہلے دس دن ہم اہلِ پاکستان کیلئے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے دن ہیں۔ یہ دو مئی 2026ء کے روز‘ فجر کا وقت تھا‘ خواب دیکھتا ہوں کہ آسمان کے وسط میں ایک سفید بادل ہے‘ اس بادل کو سورج کی شعائیں کہیں کہیں سے سنہری رنگ دیے ہوئے ہیں۔ میں نے قرآن مجید کی &#39;&#39;سورۃ النور‘‘ کو کھولا کہ جہاں بادلوں کا ذکر ہے۔ آیت: 40 میں انتہائی گہرے سمندر کی بات ہے۔ گہرے اندھیرے ہیں‘ موج پر موج ہے۔ پھر ان پر بادلوں کی موجودگی کا تذکرہ ہے۔ اب میں سوچوں میں پڑ گیا کہ اللہ تعالیٰ اپنی آخری کتاب کے قاری کو سمندر کی گہرائیوں سے اٹھا کر بلند وبالا بادلوں تک لے گئے ہیں تو پیغام یہ ہے کہ سمندر کی سطح سے بادل تک موجوں کا وجود ہے۔ خواب میں بھی اشارہ اسی جانب ہے۔ لہٰذا ان موجوں کی تلاش ضروری تھی۔ اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ ہر صاحبِ علم اور صاحبِ عقل کو مخاطب کرکے پوچھتے ہیں: کیا تم لوگ دیکھتے نہیں ہو کہ آسمانوں اور زمین میں موجود مخلوق اللہ ہی کی تسبیح (سبحان اللہ کا ورد) کرتی ہے اور پَر پھیلائے ہوئے طائر (پرندے) بھی تسبیح کر رہے ہیں‘‘۔قارئین کرام! مندرجہ بالا آیت میں &#39;&#39;طیر‘‘ کا لفظ آیا ہے‘ اس کا معنی اڑنے والا یعنی پرندہ ہے۔ عربی زبان میں واحد بول کر جمع بھی مراد لیا جاتا ہے؛ چنانچہ اس کا معنی پرندے بھی کیا گیا ہے۔ ان پرندوں کی صفت کا لفظ &#39;&#39;صافات‘‘ آیا ہے‘ یعنی وہ پَر پھیلائے ہوئے‘ صفیں بنائے ہوئے ہیں۔ یہ سب درست ہے مگر مجھ جیسا طالبعلم یہ تحقیق کرنے بیٹھ گیا کہ اس آیت میں &#39;&#39;والطیر صٰٓفّٰتٍ‘‘ سے مراد کون سا پرندہ ہے جو مندرجہ بالا آیت پر سو فیصد پورا اترتا ہو۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ پرندہ Fregata minor ہے‘ یعنی &#39;چھوٹا سا بحری جنگی جہاز‘۔ یہ اپنی زندگی سمندر کی لہروں اور آسمان کے بادلوں میں گزارتا ہے۔ اس کے دونوں پَر ڈھائی میٹر تک لمبے ہوتے ہیں‘ یعنی تقریباً آٹھ فٹ لمبائی کے حامل ہیں۔ جسم کے مقابلے میں اس کے پروں کا یہ پھیلاؤ بہت زیادہ ہے۔ اس کا وزن ڈیڑھ کلوگرام کے لگ بھگ ہوتا ہے۔ اس کی ہڈیوں کا ڈھانچہ وزن کے مقابلے میں صرف پانچ فیصد ہے۔ یہ ہفتوں تک سمندر کی لہروں پر محو پرواز رہتا ہے۔ بعض اوقات کئی مہینے بغیر رکے پرواز کرتا ہے۔ یہ ہوا ہی میں سٹاپ کر کے اپنی انرجی پوری کر لیتا ہے۔ اس کے دماغ کے دو حصے ہوتے ہیں۔ ایک حصہ سوتا ہے تو دوسرا جاگتا ہے۔ سوئے ہوئے دماغ کی جانب والی آنکھ بند ہوتی ہے تو جاگنے والے دماغ کی آنکھ کھلی ہوتی ہے مگر 24 گھنٹوں میں یہ صرف 42 منٹ ہی سوتا ہے۔ قارئین کرام! جب یہ پرندہ آسمان کی جانب سفر کرتا ہے تو اُس نم دار ہوا کے ساتھ سفر کرتا ہے جو سورج کی تپش سے اوپر اٹھتی ہے۔ یوں سمجھیے کہ کثافت میں سے لطافت اوپر کو اٹھتی ہے تو یہ پرندہ لطیف ہوا کے دوش پر اوپر کو جاتا ہے۔ یہ ہوا جو قدرے گرم ہوتی ہے‘ شفاف اور میٹھے پانی کی ننھی بوندوں کو اٹھائے ہوتی ہے۔ لہروں کے ستون بنائے ہوئے جب یہ بلندی پر پہنچتی ہے تو یہاں یہ ہوا کی لہریں ٹھنڈی ہو کر بادلوں کی شکل اختیار کرنا شروع کر دیتی ہیں۔ یہ انتہائی تیز اور طوفانی سفر طے کرکے یہاں پہنچی ہیں۔ 3000 ہزار میٹر سے 4000 میٹر تک۔ اب ایسے بادلوں کا جہان ہے جو سفید ہے‘ شفاف ہے۔ یہ باہم ملے ہوئے‘ پھول گوبھی کی شکل اختیار کئے ہوتے ہیں۔ سورج کی روشنی جب انکے اندر گھستی ہے تو یہ سرخ اور گلابی رنگ بنا لیتے ہیں۔ ساتھ ساتھ سفید رنگ بھی چلتا ہے۔ یوں ایک رنگوں بھرا ملائم‘ نرم اور آلودگیوں سے پاک جہان ہے جس میں یہ سمندری پرندہ گول دائرے میں پرواز کرتا رہتا ہے۔Frigatebirds are the only birds known to intentionally enter and fly inside clouds.جی ہاں! یہ واحد پرندہ ہے جو قصداً بادلوں میں گھستا ہے اور پھر ان کے اندر دائرے میں پرواز شروع کر دیتا ہے۔ یہ بادل اس کے بعد چھ ہزار اور پھر سات ہزار میٹر بلندی پر چلے جاتے ہیں اور مزید شفاف ہوتے چلے جاتے ہیں۔ لوگو! اب آیت: 41 کا آخری حصہ ملاحظہ کریں‘ ترجمہ ہے کہ &#39;&#39;ہر ایک نے اپنی نماز اور اپنی تسبیح (سبحان اللہ کہنے کا طریقہ) معلوم کر لیا ہے‘‘۔ آیت: 42 میں فرمایا &#39;&#39;آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اللہ ہی کے لیے ہے۔ اللہ ہی کی جانب واپسی ہو کر رہے گی‘‘۔ جی ہاں! واپسی کا روٹ تو یہی ہے جبکہ جو قبضہ مافیا‘ کرپٹ اور حقوقِ انسانی کو ہڑپ کرنے والا ہے‘ ایسا کثیف اور آلودہ انسان بھلا اس روٹ پر کیسے چل پائے گا؟ کون اسے یہاں سے گزرنے دے گا؟ کعبہ کو جانے کا مال اگر حرام ہے تو عمرہ اور حج کی قبولیت تو در کنار‘ یہ سب کچھ وبالِ جان بن جائے گا۔ سمندری پرندہ نورانی بادلوں میں چکر لگا رہا ہے تو گویا وہ طواف کر رہا ہے‘ وہ اللہ کی عبادت کر رہا ہے۔ آیت: 43 میں اللہ تعالیٰ انہی بادلوں کا تذکرہ فرماتے ہیں۔ یہ ہے &#39;&#39;سورۂ نور‘‘ کی روشنی۔ کاش! ہم سب کو میسر ہو جائے۔صحابیِ رسول حضرت حنظلہؓ اُحد کی جنگ میں شہید ہوئے۔ ان پر غسل واجب تھا تو اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا: انہیں بادلوں میں فرشتوں نے غسل دیا ہے جی ہاں! حضرت حنظلہؓ کو اللہ کے فرشتے انہی بادلوں میں لے کر گئے تھے جہاں سنہرے رنگ بنتے ہیں۔ ہمارے لیے نمونہ وہی ہیں جو ہمارے حضورﷺ کے جانباز اور اطاعت گزار تھے۔آج کا دور ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ اس دور کا آغاز 1945ء میں دوسری عالمی جنگ کے خاتمے سے ہوا تھا۔ انسانیت کی بربادی سے ہوا تھا۔ ہیروشیما اور ناگا ساکی پر ایٹم بم گرانے سے ہوا تھا۔ ٹھیک 80 سال بعد پاکستان پر بھارت نے رات کے اندھیرے میں حملہ کیا تو پاکستان نے جارحیت کے جواب میں ایٹم کی طاقت کو زبان تو درکنار‘ دماغ کی سوچ میں بھی نہیں آنے دیا۔ پاکستان نے جدید ترین الیکٹرانک صلاحیت کو استعمال کیا۔ انڈیا کی فضائوں پر قبضہ کر لیا۔ ان کا بارڈر کراس کیے بغیر ان کے ہوائی جہازوں کو انہی کی زمین پر لاک کیا اور اسی طرح لاک کیا جس طرح شاہین اپنے شکار کو لاک کرتا اور پھر اس پر جھپٹتا ہے تو اسے دبوچ لیتا ہے۔ الیکٹرانک شاہینوں نے میزائل داغا تو اپنی زمین سے داغا۔ انڈیا کے آٹھ جہاز گرا دیے۔ ان کی اہم تنصیبات تباہ کر دیں۔ اب ان کی فضائیہ ڈھیر ہو چکی تھی۔ صدر ٹرمپ کو اس جنگ کا علم تھا۔ طے یہ ہوا تھا کہ انڈیا جب پاکستان کو دبوچ لے گا تو امریکہ صلح صفائی کروا کر انڈیا کو تھانیدار بنا دے گا کیونکہ چین کے خلاف امریکہ اور یورپ اسے کھڑا کر رہے تھے مگر وہ تو امن کی بھیک مانگ رہا تھا۔جی ہاں! پاکستان کے شیر اپنے سامنے شہادت کا وہ روٹ رکھتے ہیں جو حضرت حنظلہؓ کا روٹ تھا۔ حضرت حنظلہؓ کی پاک روح فردوس میں تھی‘ ان کی اہلیہ نے بتا دیا تھا کہ جب حنظلہؓ میرے پاس سے اٹھ کر میدانِ جہاد میں گئے تو میں نے خواب میں دیکھا تھا کہ بادلوں سے پار آسمان کا دروازہ کھلا اور جونہی حنظلہؓ اس میں داخل ہوئے تو دروازہ بند ہو گیا۔ میں سمجھ گئی کہ ان کی شہادت پکی ہے۔ جسم بادلوں میں دُھل کر آیا‘ وہ آج طیبہ کی منور سرزمین میں مہک رہا ہے۔ لوگو! پاکستان چاہتا تو بھارت کو کئی گنا زیادہ نقصان پہنچا سکتا تھا مگر ایٹمی پاکستان نے ایٹمی انڈیا کو امن کا موقع دیا۔ ایٹمی دور میں پاکستان نے کمال کردار ادا کیا۔ اسی کردار کی وجہ سے صلح کے فیصلے اسلام آباد کی سرزمین کا مقدر بنے ہیں۔ پاکستان کا بحری جہاز جس کا نام پی ایم ایس اے کشمیر ہے‘ اس نے بحیرہ عرب میں بھارت کے ایک بحری جہاز کو ریسکیو کیا ہے۔ میرے پاک وطن کا پیغام یہی ہے کہ عالمی امن بنیانٌ مرصوص کی سرزمین اسلام آباد کے ساتھ وابستہ ہے۔ فیلڈ مارشل صاحب کے ساتھ وابستہ ہے جس میں سب کی بھلائی کا دانشمندانہ گلدستہ ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_68712266.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>