<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>امن عمل و سفارت کاری(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-23/11217</link><pubDate>Sat, 23 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-23/11217</guid><description>چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر گزشتہ روز اہم سرکاری دورے پر تہران پہنچے۔ فیلڈ مارشل کا یہ دورہ ثالثی کی کوششوں کا حصہ ہے جس میں خطے میں قیام امن پر بات ہو گی۔ امریکہ ایران امن معاہدے کے حوالے سے یہ دورہ غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی پہلے ہی ایران کے دورے پر ہیں جو بدھ کے روز رواں ہفتے کے دوران دوسری بار تہران پہنچے جہاں وزیر خارجہ عباس عراقچی سمیت اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ ان کی ملاقاتیں ہوئیں اور اطلاعات کے مطابق امن معاہدے کیلئے مسودوں پر تفصیلی بات چیت اور قیام امن کے طریقہ کار پر غور کیا گیا۔ پاکستان کی مسلسل سفارتی کوششوں کے نتیجے میں ایران امریکہ معاملات میں پیش رفت کے شواہد سامنے آ رہے ہیں جس کی تصدیق دونوں جانب سے اعلیٰ عہدیداروں کے بیانات سے ہوتی ہے۔ دونوں ملک پچھلے دنوں ایک بار پھر تصادم کے کنارے پر پہنچ چکے تھے‘ جنگ کی دھمکیاں شدت اختیار کر چکی تھیں اور دنیا اس صورتحال کے شدید دباؤ میں تھی۔

جنگ کا پھیلاؤ‘ معاشی اثرات‘ توانائی کی مہنگائی اور تجارتی جہاز رانی کو درپیش رکاوٹوں کے اثرات زیر بحث آنے لگے‘ تاہم پاکستان کی کوششوں سے متحارب فریقین نے امن مذاکرات کی کوششوں کو ایک اور موقع دیا‘ اور ایسا لگ رہا ہے کہ اس صورتحال میں سے وہ امکان جنم لے سکتا ہے جو امریکہ اور ایران میں کسی معاہدے پہ منتج ہو سکتا ہے۔ خلیج فارس کے خطے میں پائیدار امن صرف علاقائی ممالک کی ضرورت نہیں‘ یہ عالمی معیشت اور سلامتی کے مفادات سے جڑا ہوا معاملہ ہے؛ چنانچہ امریکہ ایران امن معاہدہ پوری دنیا کی دلچسپی کا معاملہ ہے اس سلسلے میں ہونے والی کم سے کم پیش رفت بھی غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ حالیہ دنوں کی کوششیں زیادہ امید افزا ہیں اور اعلیٰ سطحی عہدیداروں کی گفتگو میں اس حوالے سے رجائیت کا عنصر زیادہ ہے۔ جیسا کہ امریکی سیکرٹری خارجہ مارکو روبیو کے گزشتہ روز کے بیانات جن میں انہوں نے ایران کے ساتھ ڈیل کو پہلی ترجیح قرار دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ ایران سے معاہدہ طے پا جائے گا اور آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی۔ اس میں دو رائے نہیں کہ ا مریکہ ایران کشیدگی کا فی الفور اور پائیدار حل عالمی معیشت اور علاقائی سلامتی کا بنیادی تقاضا ہے۔
اس جنگ نے تین ماہ کے دوران عالمی معیشت کو جس طرح ہلا کر رکھ دیا ہے اس کی مثال پچھلی کئی دہائیوں کے کسی عالمی تنازعے میں نہیں ملتی۔ ہر ملک نے اپنے طور پر اس کشیدگی کی قیمت ادا کی ہے اور کیے چلے جاتے ہیں۔ انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے مطابق اس جنگ میںخلیجی توانائی کی اہم ترین تنصیبات میں سے کم از کم 40کو شدید یا بہت شدید نقصان پہنچا اور توانائی کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کچھ تنصیبات خاص طور پر ایل این جی کے پلانٹس کی مرمت میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔ عالمی معیشت کیلئے یہ المناک صورتحال ہے اور اس سے نکلنے کی تدبیر ناگزیر ہے۔ ان حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ فریقین جنگ کو اَنا کا مسئلہ بنانے سے گریز کریں۔ اسلام آباد میں دونوں پارٹیوں کو آمنے سامنے بٹھانے کا مقصد یہ تھا کہ فاصلے کم ہوں اور سفارتی عمل کی رفتار تیز ہو سکے‘ مگر اس کے باوجود ایران اور امریکہ میں اعتماد کا بحران اسی طرح موجود ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ اس سفارتی عمل کو نتیجہ خیز بنایا جائے۔ اس سلسلے میں بنیادی ذمہ داری امریکہ اور ایران پر عائد ہوتی ہے۔
پاکستان نے سفارتی اور ثالثی کی کوششوں سے دونوں متحارب پارٹیوں کو ایک نئے تصادم میں ملوث ہونے سے بچایا اور مذاکراتی کوششوں کا دھاگا ٹوٹنے نہیں دیا‘ تاہم کامیاب مذاکرات اور پائیدار امن کے لیے امریکہ اور ایران کو خلوص اور عزم کیساتھ سامنے آنا ہو گا۔ دونوں ملکوں کے لیے یہ لمحہ نئی شروعات کا لمحہ بھی ہو سکتا ہے‘ مگر اس کے لیے ضروری یہ ہے کہ ماضی کو بھلا کر آگے بڑھنے کا عزم اور حوصلہ پیدا کیا جائے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>قومی منصوبوں میں تاخیر(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-23/11216</link><pubDate>Sat, 23 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-23/11216</guid><description>پلاننگ کمیشن آف پاکستان کے ادارے سی ڈی ڈبلیو پی نے تربیلا ڈیم کے پانچویں توسیعی منصوبے کی لاگت میں غیرمعمولی اضافے کا انکشاف کیا ہے۔ایک حالیہ اجلاس میں بتایا گیا کہ 1530میگاواٹ کے اس منصوبے کی لاگت 82 ارب روپے سے بڑھ کر 316 ارب روپے سے تجاوز کر چکی ہے‘ یعنی منصوبہ اپنی اصل تخمینہ لاگت سے تقریباً 400 فیصد مہنگا ہو چکا ہے۔ یہ اضافہ محض ایک عددی فرق نہیں بلکہ قومی وسائل کے غیرمؤثر استعمال‘ ادارہ جاتی کمزوری اور ناقص نگرانی کا ثبوت ہے۔ اگر اس پراجیکٹ کی منصوبہ بندی حقیقت پسندانہ اور نگرانی مؤثر ہوتی تو شاید قومی خزانے کو اس قدر بھاری مالی بوجھ برداشت نہ کرنا پڑتا۔

یہ منصوبہ اگست 2024ء میں مکمل ہونا تھا مگر مختلف تکنیکی اور انتظامی رکاوٹوں کے باعث اس میں تاخیر ہوتی چلی گئی۔ بعینہٖ صورتحال دیامر بھاشا ڈیم کے معاملے میں بھی سامنے آئی ہے جہاں پی سی ون چھ برس سے تاخیر کا شکار ہے اور منصوبے کی لاگت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ تربیلا ڈیم توسیعی منصوبے اور دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر میں تاخیر اور لاگت میں اضافے کے معاملے کا فوری نوٹس لے۔ آبی ذخائر جیسے اہم منصوبوں کی تکمیل میں غیرضروری تاخیر قومی سلامتی‘ توانائی کے مستقبل اور آبی تحفظ کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ منصوبوں کی پیشہ ورانہ نگرانی‘ شفاف مالیاتی نظام‘ بروقت فنڈنگ اور مؤثر پراجیکٹ مینجمنٹ کو یقینی بنایا جائے تاکہ قومی وسائل کا ضیاع روکا جا سکے۔ </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سنگین طبی غفلت(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-23/11215</link><pubDate>Sat, 23 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-23/11215</guid><description>ملتان کے نشتر ہسپتال میں ایچ آئی وی کے متاثرہ مریض کی عام مریضوں کے ساتھ ہونے والی سرجری نے درجنوں مریضوں اور طبی عملے کی صحت کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔خبروں کے مطابق مریض کی ایچ آئی وی رپورٹ دیکھے بغیر اس کی سرجری کر دی گئی اور اگلے روز رپورٹ مثبت آ گئی۔ یہ محض ایک انتظامی کوتاہی نہیں بلکہ ایسا معاملہ ہے جو سرکاری ہسپتالوں میں علاج معالجے کے بنیادی ایس او پیز پر عملدرآمد نہ ہونے کی نشاندہی کرتا ہے۔

نومبر 2024ء میں بھی اسی ہسپتال میں انفیکشن کنٹرول کیضوابط پر عمل نہ ہونے کے باعث ڈائیلسز کے دوران 30مریض ایچ آئی وی کا شکار ہو گئے تھے۔ اس واقعہ کے بعد دعویٰ کیا گیا تھا کہ آئندہ علاج معالجے کے بنیادی ایس او پیز اور انفیکشن کنٹرول نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے گا مگر چند ہی ماہ بعد ایک مرتبہ پھر اسی نوعیت کی غفلت سامنے آ جانا اس امر کا ثبوت ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں اصلاحات زیادہ تر کاغذی کارروائی تک محدود رہتی ہیں۔ یہ معاملہ پورے نظامِ صحت کیلئے لمحۂ فکریہ ہے۔حکومت اس واقعے کے ذمہ داروں کا تعین کر کے انکے خلاف سخت کارروائی کرے۔ علاوہ ازیں تمام ہسپتالوں میں انفیکشن کنٹرول آڈٹ کو لازمی بنایا جائے‘ آپریشن تھیٹرز اور ڈائیلسز یونٹس کی باقاعدہ نگرانی‘ طبی عملے کی مسلسل تربیت کی جائے اور ایس او پیز پر عملدرآمد کو بہر صورت یقینی بنایا جائے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>خاندان خطرات کی زد میں !(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-05-23/51996/95162221</link><pubDate>Sat, 23 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-05-23/51996/95162221</guid><description>اسلام آباد کی عائلی عدالتوں میں‘ ہر روز طلاق وخلع کے تین سو مقدمات درج ہو رہے ہیں۔ اس کا مطلب ہے‘ مہینے میں نو ہزار۔ایک دوست نے جب مجھ سے اس خبر کا ذکر کیا تو میں چونک اُٹھا۔ میرا پہلا تاثر تھا: یہ اعداد وشمار مبالغہ آمیز ہیں۔ میں نے اپنے دوست سے بھی یہی کہا۔ اس نے جواب میں مجھے ایک سے زیادہ ابلاغی اداروں کی خبریں دکھائیں۔ صحافت سے وابستہ ایک دوسرے باخبر دوست سے تذکرہ ہوا تو اس نے بھی تصدیق کی۔ خود کھوج لگانے کی کوشش کی تو کئی خبریں سامنے آئیں۔ ایک خبر کے مطابق: &#39;&#39;اسلام آباد کی فیملی کورٹس میں مقدمات کے انبار لگ گئے۔ عدالتی ذرائع کے مطابق ہر گھنٹے میں اوسطاً 38 خلع اور نان نفقہ کے مقدمات درج ہو رہے ہیں۔ رواں سال اب تک 45 ہزار سے زائد کیسز دائر کیے جا چکے ہیں۔ اعداد وشمار کے مطابق 2023ء میں 85 ہزار‘ 2024ء میں 91 ہزار جبکہ 2025ء میں کیسز کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی۔ ایسے واقعات بھی سامنے آئے جہاں شادی کے صرف ایک سے تین ماہ بعد خلع لے لی گئی۔ ذرائع کے مطابق زیادہ تر مقدمات پسند کی شادی کرنے والے جوڑوں کی جانب سے دائر ہو رہے ہیں‘ جبکہ وکلا کے مطابق منشیات اور بیروزگاری طلاق وخلع میں اضافے کی بڑی وجوہات بن رہی ہیں‘‘۔ انگریزی روزنامہ &#39;&#39;نیشن‘‘ کی خبر تو زیادہ چونکا دینے والی ہے۔ اس کے مطابق اسلام آباد میں‘ 2025ء میں طلاق کے چار لاکھ ننانوے ہزار مقدمات درج ہوئے (10 فروری 2026ء)۔ یہ ایک دن میں 1367 بنتے ہیں۔ یہ اعداد وشمار صرف ایک شہر‘ اسلام آباد کے ہیں۔ مزید کھنگالا تو معلوم ہوا کہ راولپنڈی میں 2025ء کے دوران میں 15ہزار198 مقدمات درج ہوئے۔ ان میں طلاق‘ خلع اور نان نفقہ سمیت خاندان سے متعلق تمام معاملات شامل ہیں۔ مسیحی عائلی قانون میں تبدیلی کے بعد‘ اب مسیحی خواتین بھی طلاق کیلئے عدالتوں کا رخ کر رہی ہیں۔یہ صرف دو شہروں کی خبریں ہیں۔ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ملک بھر میں کیا حال ہو گا۔ ممکن ہے ان خبروں میں کچھ مبالغہ ہو لیکن مشاہدہ تصدیق کرتا ہے کہ ہمارا خاندانی نظام شدید بحران کی زد میں ہے۔ ازدواجی رشتے کی ناکامی نوشتۂ دیوار ہے۔ اگر کسی نے طلاق یا خلع کا مقدمہ درج نہیں کرایا تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ ایک خوشگوار ازدواجی زندگی گزار رہا ہے۔ اسی بحران کی کو کھ سے ناجائز تعلقات بھی جنم لے رہے ہیں جو اسے سنگین تر بنا رہے ہیں۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم اس کے حقیقی اسباب کو قبول کرنے کیلئے آمادہ نہیں ہیں۔ ہم کبوتر کی طرح آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں یا پھر اس کے وہ اسباب بیان کر رہے ہیں جو حقیقی نہیں‘ ہمارے سماجی ومذہبی تصورات کی دین ہیں۔ اپنے ان تصورات کو مقدس جان کر ہم ان واقعات کے بارے میں رائے قائم کر تے ہیں اور یوں اس بحران سے نکل نہیں پاتے۔سماجیات کے ایک طالب علم کے طور پر‘ میں جب خاندان کو درپیش مسائل کو دیکھتا ہوں تو چند اسباب نمایاں دکھائی دیتے ہیں:1۔ سب سے بڑا سبب جہالت ہے۔ عوام کی اکثریت یہ جانتی ہی نہیں کہ خاندان کا ادارہ کیا ہوتا اور یہ کیوں قائم کیا گیا ہے؟ اس جہالت کے دو بڑے مظاہر ہیں: مذہب کی غلط تعبیر اور سماج کی ساخت سے عدم واقفیت۔ خاندان کے بارے میں قرآن مجید نے تفصیل کے ساتھ بتایا ہوا ہے۔ نبیﷺ نے اس ادارے کو جس حکیمانہ انداز سے دیکھا‘ اس کے بارے میں بھی حیاتِ طیبہ میں بہت سے نظائر موجود ہیں۔ ان سب کو نظر انداز کرتے ہوئے‘ یہاں اس پر مورچہ لگایا جاتا ہے کہ اسلام میں شادی کی عمر مقرر نہیں کی جا سکتی اور نو برس کی بچی بھی شادی کے قابل ہو سکتی ہے۔ اسی طرح ہمیں یہ معلوم نہیں ہے کہ خاندان کا ادارہ کن مقاصد کیلئے وجود میں آتا ہے اور شادی سے پہلے لڑکے اور لڑکی میں کن خصائص کا ہونا ضروری ہے۔ اس جہالت کا تعلق ڈگریوں سے نہیں ہے۔ اس باب میں اَن پڑھ اور ڈگری رکھنے والے ایک پیج پر ہیں۔2۔ دوسرا سبب ہمارا سماجی نظام ہے۔ یہ پدر سرانہ ہے۔ اس میں عورت مرد سے کمتر حیثیت رکھتی ہے۔ اس کی کوئی شناخت ہے نہ اس کی کوئی رائے۔ ہم نے اسے ہمیشہ بیٹی‘ بہن اور ماں کے روپ میں دیکھا ہے‘ ایک عورت یا پوری شخصیت کے طور پر نہیں۔ اس کی سماجی حیثیت کا تعین مرد کی نسبت سے کیا گیا ہے۔ وہ کسی کی بیٹی ہو گی یا بہن۔ سوال یہ ہے کہ کیا وہ خود کوئی وجود نہیں رکھتی؟ اگر رکھتی ہے تو فیصلہ سازی میں کہاں ہے؟ بیٹوں کی طرح‘ ہم نے اس کی شخصیت کی تعمیر کا کیا اہتمام کیا ہے؟ واقعہ یہ ہے کہ ہم اس کو ایک مکمل شخصیت ماننے کیلئے آمادہ نہیں۔ اس حیثیت کے ساتھ جب وہ ایک ازدواجی رشتے میں داخل ہوتی ہے تو گویا ایک قید خانے میں داخل ہو گئی۔ اب جس ادارے کا ایک فریق آزاد اور دوسرا غلام ہو‘ وہ کیسے متوازن اور کامیاب ہو سکتا ہے؟3۔ جدید پڑھے لکھے طبقے نے اس پدر سرانہ نظام پر ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔ اس ردِعمل کو ہمارے این جی او کلچر نے ایک تحریک کی صورت میں منظم کر دیا ہے جسے &#39;خواتین کے حقوق‘ کا عنوان دیا گیا ہے۔ یہ تصور مغرب سے مستعار اور لبرل ازم کی اساس پر کھڑا ہے۔ یہ بھی جدید جاہلیت کی ایک شکل ہے۔ یہاں اس بنیادی حقیقت کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے کہ رشتۂ ازدواج میں بندھ جانے کے بعد‘ مرد اور عورت کو لازماً کچھ پابندیاں قبول کرنا پڑتی ہیں۔ اپنی کچھ آزادیوں سے دستبردار ہونا پڑتا ہے۔ مطلق آزادی ایک واہمہ ہے جو دنیا میں کہیں نہیں پایا جاتا۔ اس کلچر نے خاندانی نظام کو اتنا ہی نقصان پہنچایا ہے جتنا پدر سرانہ سوچ نے۔ اسلام آباد میں ان واقعات میں غیر معمولی اضافے کا سبب یہی کلچر ہے جو شہروں میں زیادہ پھیلا ہے۔ اسباب کی اس فہرست میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ معاشی ابتری اس خاندانی نظام کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ مجھے اس سے اتفاق ہے مگر اس کا تعلق بھی ان تین اسباب ہی سے ہے جو میں نے بیان کیے ہیں۔ معیشت ملک کی ہو یا خاندان کی‘ یہ وسائل اور مسائل میں درست نسبت قائم کرنے کا نام ہے۔ اس کے لیے معیشت سے وابستہ عناصر میں اعتماد اور حکمت کا ہونا ضروری ہے۔ خاندان ہے تو اس کے متعلقہ افراد کو اس کا شعور ہو کہ ان کے وسائل کیا ہیں اور ضرویات کی تکمیل کے لیے ترجیحات کا تعین کیسے کیا جائے۔ اس کا تعلق غربت سے نہیں‘ حکمت سے ہے۔ اسی طرح ساس بہو کے جھگڑوں کا تعلق بھی پدر سرانہ نظام سے ہے۔اس بحران کاعلاج کیا ہے؟ یہ سادہ ہے‘ اگر کوئی کرنا چاہے۔ شادی کی عمر کو پہنچنے والے لڑکوں اور لڑکیوں کیلئے عائلی تعلیم پر مبنی ایک لازمی کورس اور تربیتی نظام۔ شادی کیلئے اس کورس کا سرٹیفکیٹ لازمی قرار دے دیا جائے جیسے موروثی بیماریوں سے بچنے کیلئے خون کا ٹیسٹ لازمی ہو۔ اس کورس میں خاندان اور مذہب کے بارے میں اصل ماخذ پر مبنی تعلیمات شامل ہوں جو پدر سرانہ ہیں نہ مطلق آزادی پر مبنی۔ اس کے ساتھ سماجی تناظر کا علم بھی اس کورس کا حصہ ہو کہ خاندان کا ادارہ اصل کیا ہے اور یہ کہ شادی محض جنسی خواہش کی جائز تکمیل کا نام نہیں‘ اس سے کہیں بڑھ کر ایک سماجی عمل ہے جس کے ساتھ بہت سی ذمہ داریاں وابستہ ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کس کس بات کا رونا روئیں(خالد مسعود خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-05-23/51997/37708069</link><pubDate>Sat, 23 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-05-23/51997/37708069</guid><description>میں ذاتی طور پر ہر ذمہ داری حکومت کے کندھوں پر لادنے کا قائل نہیں ہوں۔ اس ملک کی بہت سی خرابیوں میں سے ایک بڑی خرابی یہ بھی ہے کہ ہم نے اپنے آپ کو بطور شہری ہر قسم کی ذمہ داری سے آزاد سمجھ لیا ہے۔ ہم توقع کرتے ہیں کہ ہمارا ہر کام حکومت کرے۔ شکر ہے ابھی یہ مطالبہ کوئی نہیں کرتا کہ حکومت اس کے گھر کے اندر کی صفائی کا ٹھیکہ بھی اٹھائے‘ تاہم گھر کا تمام کوڑا کرکٹ دروازے کے عین سامنے پھینکنے کے بعد ہم سرکار سے گلہ کرتے ہیں کہ صفائی کا نظام ٹھیک نہیں۔ ٹھیک ہے صفائی کا انتظام بھی کچھ خاص ٹھیک نہیں‘ تاہم دوطرفہ ذمہ داریاں نبھائے بغیر اسے آئیڈیل بنانا بہرحال ممکن نہیں ہے۔ حکومتِ پنجاب کے حالیہ اقدامات سے صفائی کی صورتحال گو کہ کچھ بہتر ہوئی ہے لیکن اب بھی اس میں بہتری کی بہت زیادہ گنجائش ہے۔ اس میں بہتری کیلئے دوطرفہ تعاون اور کاوشیں درکار ہیں کیونکہ خرابیاں بھی دو طرفہ ہیں۔ پنجاب میں صفائی کا حالیہ نظام یوں ہے کہ کوڑا اٹھانے اور اسے ٹھکانے لگانے کیلئے منتخب پرائیویٹ کمپنیوں کو ٹھیکہ دیا گیا ہے جبکہ اس ٹھیکیدار کے کام کی نگرانی اور اس ادائیگی کا ذمہ سرکار نے اپنے افسروں کے سپرد کر رکھا ہے۔ سابقہ نظام میں سرکاری صفائی کا عملہ دیگر سرکاری محکموں کی طرح اپنے ذمہ لگائے گئے صفائی کے کام کے علاوہ باقی ہر کام کرتا تھا اور اس سے تنگ آکر صفائی کا سارا نظام پرائیویٹائز کر دیا گیا۔ لیکن یہ پرائیویٹ کمپنیاں کون سی جاپان سے آئی ہیں‘ لہٰذا اسی نظام میں پروان چڑھنے والے نجی سیکٹر سے منتخب کیے جانیوالے کنٹریکٹرز نے قدیمی قومی عادات و خصائل کو بروئے کار لاتے ہوئے ہر شے میں کھانچہ لگانا شروع کر دیا ہے۔ سرکار نے اس نظام میں کورا اٹھانے والی کمپنیوں کو ادائیگی کا جو میکانزم بنایا ہے اس کے تحت کوڑا اٹھانے والی کمپنی کو عوضانے میں ادا کی جانے والی رقم کو اٹھائے جانے والے کوڑے کے وزن سے منسلک کر رکھا ہے۔ یعنی ادائیگی کی رقم کوڑے کے وزن کے حساب سے کی جاتی ہے۔ بہت سے شہروں سے صرف شکایت ہی نہیں ملی بلکہ یہ بات ثابت ہوئی کہ کوڑے کی ٹرالی یا لوڈر گاڑی جب وزن کیلئے کنڈے پر پہنچی تو اس میں لدے ہوئے کوڑے کے نیچے کل کوڑے کے وزن سے بھی زیادہ مٹی تھی۔ یعنی کوڑے کے نیچے مٹی ڈال کر کوڑے کا وزن بڑھایا ہوا تھا اور حکومت سے اس کوڑے کی مٹی والے وزن کے حساب سے وصولی کی گئی۔ اٹھائے جانے والے کوڑے کی فی ٹن کے حساب سے ادائیگی کی جاتی ہے۔ کھانچہ باز کمپنیوں نے کہیں سرکاری افسروں کے تعاون سے اور کہیں خود ساختہ چالاکیوں سے سرکار کو چونا لگانا شروع کر دیا۔ جہاں جہاں یہ نظام ٹھیکیدار کمپنیوں اور ادائیگی کی نگرانی پر مامور سرکاری افسران کی ملی بھگت سے چل رہا ہے وہاں تو راوی بہرحال چین لکھتا ہے۔ ہاں البتہ جہاں ان کمپنیوں نے چالاکی دکھاتے ہوئے اوپر کی ساری فالتو والی ادائیگی اکیلے ہضم کرنے کی کوشش کی وہاں سرکاری افسروں کی ایمانداری جاگ پڑی اور اکیلے اکیلے سارا مال ہڑپ کرنے والا معاملہ چوپٹ ہو گیا۔ اس کے علاوہ بھی شکایات ہیں کہ صفائی کمپنیاں ان پوش علاقوں میں صفائی پر زیادہ توجہ دیتی ہیں جہاں متمول‘ بااثر‘ پڑھا لکھا اور باحیثیت طبقہ رہائش پذیر ہے۔ اس کے علاوہ علاقے کی مرکزی گزرگاہوں اورسڑکوں کی صفائی پر خاص توجہ دی جاتی ہے جہاں سے سرکاری افسر گزرتے ہیں تاکہ آنے جانے والے متعلقہ افسر اس صفائی ستھرائی سے مطمئن ہو جائیں۔ اس کے علاوہ باقی جگہوں پر صفائی روزانہ یا ایک دن کے وقفے کے بجائے کئی کئی دن بعد کی جاتی ہے؛ البتہ اس دوران کوئی شہری پورٹل پر شکایت کر دے تو تھوڑی پھرتی دکھائی جاتی ہے۔ وگرنہ تب تک آنکھ بند رکھی جاتی ہے جب تک کہیں سے کوئی شکایت نہ آ جائے۔ دور کیوں جائیں میں خود اس چیز کا عینی شاہد ہوں کہ ہماری گلی میں گلی کے رہائشیوں نے اپنی مدد آپ کے تحت گلی (گرین لین) کی صفائی‘ تزئین و آرائش اور سکیورٹی کا بندوبست کیا ہوا تھا۔ یہ گلی پورے زکریا ٹاؤن میں اپنی مثال آپ تھی اور لوگ اس گلی کی خوبصورتی‘ حسنِ انتظام اور صفائی پر رشک کرتے تھے۔ گرین لین کے تمام معاملات خصوصاً صفائی کا معاملہ نہایت شاندار طریقے سے چل رہا تھا‘ تاہم بعض ناگزیر وجوہات کی بنا پر کچھ عرصہ پہلے یہ بندوبست اختتام پذیر ہوا تو معلوم ہوا کہ گلی کی صفائی کا انتظام حکومتی سرکاری کارکردگی کا مرہونِ منت نہیں تھا بلکہ گلی والوں کی قائم کردہ انتظامی کمیٹی کا کارنامہ تھا۔ گلی کے باقی معاملات سے قطع نظر جب سے صفائی والا کام سرکار کے ذمے پڑا ہے تو گلی میں بچے ہوئے گنتی کے دو چار ڈسٹ بن کئی کئی دن تک خالی کرنے والوں کے منتظر رہتے ہیں۔ گلی کے مکینوں نے بھی قومی عادت سے مغلوب ہو کر گلی میں ہی ایک جگہ پر کوڑا پھینکنا شروع کر دیا ہے۔ کوڑے کے اس ڈھیر نے حکومتِ پنجاب کے قائم کردہ نئے نظام کا پردہ چاک کر دیا ہے۔ کئی کئی دن تک صفائی کمپنی کے ملازم شکل تک نہیں دکھاتے۔ تین چار بار ایسا ہوا کہ جب اس کوڑے کو اٹھانے کیلئے سات آٹھ دن تک کوئی نہ آیا تو میں نے ایک انتظامی افسر کو کوڑے کے اس ڈھیر کی گزشتہ پانچ دنوں میں روزانہ کی بنیاد پر کھینچی گئی تصویریں‘ جو اس کوڑے کے ڈھیر میں روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے اضافے کی منظر کشی کرتی تھیں‘ وَٹس ایپ کر دیں۔ اسی روز کوڑا اٹھانے والی کمپنی کی گاڑی آئی اور صفائی کر کے چلی گئی۔ تقریباً ہر مہینے ایک دو بار ایسی ہی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تین چار بار تصویریں بھیجنے اور فون کرنے کے بعد معاملات میں تھوڑی بہتری آئی لیکن اتنی ہی کہ اب صفائی کی ٹھیکیدار کمپنی کے ملازمین چار پانچ دن بعد بہرحال کوڑا اُٹھا کر لے جاتے ہیں۔ اس میں ایک قابلِ ذکر بات یہ بھی ہے کہ گلی سے محض چالیس پچاس گز کی دوری پر کوڑا ڈالنے والا کنٹینر پڑا ہوا ہے لیکن دروازے کے ساتھ لگے ڈسٹ بن میں کوڑا پھینکنے کے عادی گلی کے رہائشی اور ان کے ملازمین چالیس پچاس گز دور کوڑا پھینکنے کی مشقت کرنے کے بجائے گلی میں بنی گرین بیلٹ میں ایک جگہ پر کوڑا پھینک دیتے ہیں۔ یعنی خرابی دو طرفہ ہے مکین اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر رہے اور سرکار صفائی کے نظام کو ٹھیکیداروں کے حوالے کر کے اپنی ذمہ داریوں سے ہاتھ چھڑا چکی ہے۔ صفائی کے اس نئے نظام میں پیسہ بنانے کے بڑے مواقع پوشیدہ ہیں اور جہاں پیسے بنانے کے امکانات ہوں‘ بڑے بڑے معزز نام اس بات کی پروا کیے بغیر کہ یہ ان کا کام ہے یا نہیں‘ نہ صرف اس کام میں کود پڑتے ہیں بلکہ اسے اُچک بھی لیتے ہیں۔ کوڑا اٹھانے والے اس کام میں بھی یہی ہوا اور بڑی بڑی کمپنیاں بڑے بڑے مگر مچھ اس معاملے میں کود پڑے۔ پنجاب میں صفائی کے اس ٹھیکیداری نظام کیلئے مختص 150 ارب روپے پر مشتمل بجٹ کی رقم کا سُن کر بڑوں بڑوں کے منہ میں پانی آ سکتا ہے۔ بڑے بڑے زورآوروں نے اس کام میں ہاتھ ڈال رکھا ہے اور صفائی کے نام پر نہایت ہی صفائی سے واردات ڈال رہے ہیں۔ دیہات‘ قصبوں اور یونین کونسلوں تک پھیلے ہوئے اس نظام سے پہلے کی نسبت بہت بہتری دکھائی دے رہی ہے لیکن سرکار جتنے پیسے اس پر لگا رہی ہے اس کے نتائج اس طرح دکھائی نہیں دے رہے اور اس کی بنیادی وجہ پرائیویٹ کمپنیوں کی بد نیتی اور بے ایمانی کے ساتھ ساتھ نگرانی کرنے والے سرکاری افسروں کی پیداگیری پر مبنی پرانی عاداتِ بد ہیں۔عوامی شکایات پر بصد مشکل کئی قصبوں‘ شہروں اور تحصیلوں میں ان کنٹریکٹرز کے کنٹریکٹ منسوخ کرنے کی کارروائی کی گئی تاہم ایسی بیشتر کارروائیاں عدالتی حکم امتناع کی نذر ہو چکی ہیں۔ مجھے اس قسم کے امتناعی احکامات پر اب کوئی حیرت نہیں ہوتی‘ مملکتِ خداداد کا سارا نظام ایک عرصے سے عدالتی و غیر عدالتی حکم امتناع پر ہی چل رہا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90500073.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>جنگل کا قانون(ڈاکٹر حسین احمد پراچہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-05-23/51998/99918758</link><pubDate>Sat, 23 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-05-23/51998/99918758</guid><description>دو تین روز پہلے روسی صدر ولادیمیر پوتن اور چینی صدر شی جن پنگ نے بیجنگ میں مذاکرات کے بعد جو مشترکہ اعلامیہ جاری کیا اسے سن اور پڑھ کر ہر شخص کو یوں لگا: میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے۔ دونوں زعما نے دنیا بھر کے امن پسند لوگوں کی نہایت دو ٹوک انداز میں ترجمانی کی ہے۔ چین اور روس کے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ دنیا جنگل کے قانون کی طرف واپسی کے خطرے سے دوچار ہے۔ اگرچہ میں اپنے نہاں خانۂ دل کی یہ ترجمانی پڑھ کر خوشی سے جھوم اٹھا ہوں‘ تاہم میں ان زعما سے بصد ادب ذرا سا اختلاف کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔ بالعموم جب &#39;&#39;جنگل کا قانون‘‘ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے تو اس سے  مراد یہ ہوتی ہے کہ وہاں نہ کوئی قاعدہ‘ نہ ضابطہ اور نہ کوئی اصول نہ قانون ہوتا ہے۔دلوں کی ترجمانی کرنے والی ایک شاعرہ زہرا نگاہ نے ایک اور زاویۂ نگاہ سے جنگل پر نظر ڈالی ہے اور اپنے تاثرات ایک نظم &#39;&#39;سنا ہے‘‘ میں بیان کیے ہیں۔ چند سطریں ملاحظہ کیجئے:سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے؍ سنا ہے شیر کا جب پیٹ بھر جائے تو وہ حملہ نہیں کرتا؍ سنا ہے گھونسلے سے کوئی بچہ گر پڑے تو سارا جنگل جاگ جاتا ہے؍ کبھی طوفان آ جائے، کوئی پل ٹوٹ جائے تو؍ کسی لکڑی کے تختے پر؍ گلہری، سانپ بکری اور چیتا ساتھ ہوتے ہیں؍ سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہےمگریہاں کوئی دستور نہیں‘ شہنشاہِ عالم ایک فرمان جاری کرتے ہیں تو اقوام متحدہ کے چارٹر کی دھجیاں اڑاتے ہوئے ان کے فوجی وینزویلا کے صدر کو اپنے ملک‘ اپنے گھر سے اٹھا لیتے ہیں۔ پابہ جو لاں اسے شہنشاہ کے حضور امریکہ میں پیش کر دیتے ہیں۔ اس لیے کہ اپنے آپ کو دنیا کی سب سے بڑی قوت کہنے والا کسی دستور‘ کسی قانون‘ کسی اقوام متحدہ‘ کسی سلامتی کونسل اور کسی عالمی عدالتِ انصاف کو نہیں مانتا۔ وہ برملا کہتا ہے کہ میں وہ کروں گا جو میرا دل چاہے گا۔ دنیا کے کئی عالی دماغ سکالرز‘ بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین اور مجھ جیسے طالبعلم جدید استعماری دور کے بارے میں کچھ عرصے سے اپنی آرا پیش کرتے چلے آ رہے ہیں مگر سپر پاور اور اپنے تئیں ساری دنیا کا مالک و مختار ڈونلڈ ٹرمپ کب ایسی کسی بات کو سننے کی زحمت گوارا کرتا ہے۔ البتہ بیجنگ میں ولادیمیر پوتن اور شی جی پنگ کے دستخطوں سے جاری ہونے والے جامع مشترکہ اعلامیہ میں وہ کچھ کہا گیا ہے جو غالباً چین نے اس سے پہلے کبھی اتنے دو ٹوک اور واضح انداز میں نہیں کہا تھا۔ اس اعلامیے میں سب سے پہلے یہ کہا گیا کہ عالمی قوت امریکہ اور اسرائیل ایران پر حملہ کر کے بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں۔ کسی خود مختار ملک پر چڑھ دوڑنے کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کو ایک بار پھر جنگل کے قانون کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ چین اور روس نے علی الاعلان کہا ہے کہ ایک سپر پاور نے استعماری اور یک قطبی قوت کا رویہ اختیار کر رکھا ہے۔ ایک عالمی قوت نے بین الاقوامی تجارت کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں۔ اعلامیے میں نام تو نہیں لیا گیا لیکن واضح اشارہ امریکہ کی طرف سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کی طرف ہے۔ چین اور روس نے دیگر ملکوں سے کہا ہے کہ وہ مشترکہ طور پر ان رکاوٹوں کو دور کریں اور یکطرفہ مداخلت کا خاتمہ کریں۔ بعد ازاں کریملن سے اعلامیے کی مزید تفصیلات دنیا کو بتائی گئیں۔ ان تفصیلات کے مطابق ایک بڑی طاقت کی من مانی سے گلوبل سپلائی چین کا تسلسل بری طرح متاثر ہوا ہے۔ سمندروں میں اس یکطرفہ مداخلت سے بحری تجارت بھی شدید نوعیت کے خطرات سے دوچار ہو گئی ہے۔ ملٹری ایڈونچر ازم سے عالمی امن و استقرار تباہ اور خود مختار ملکوں کی سرحدوں کا تقدس پامال ہو رہا ہے۔ کسی ملک کے لیڈروں کا سازشوں اور مخبریوں کے ذریعے قتل نہایت قابلِ مذمت ہے۔ کسی ملک کو یہ اختیار نہیں کہ وہ کسی دوسرے ملک کے داخلی نظام پر حملہ آور ہو وہاں رجیم چینج کی کوشش کرے۔ کریملن سے جاری کی گئی وضاحت میں واضح کیا گیا کہ دوسری عالمی جنگ میں دنیا نے ناقابلِ تصور تباہی کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور کانوں سے سنا تھا۔ ایسی تباہی سے دنیا کو مستقبل میں محفوظ رکھنے کیلئے یو این او کا چارٹر بنایا گیا جس پر اتفاقِ رائے پایا جاتا ہے۔ اس چارٹر کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ کسی دوسرے ملک پر حملہ کیا جائے گا اور نہ ہی اس کی سرحدوں کے تقدس کو پامال کیا جائے گا۔ اپنے آپ کو دنیا کی سب سے بڑی طاقت سمجھنے والے ملک کا صدر جس انداز میں دوسرے ملکوں کی خود مختاری کو پامال کر رہا ہے‘ اس سے عالمی امن کیلئے قائم ہونے والے نظام کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔ امریکہ نے تخفیفِ اسلحہ کے معاہدے پر دستخط کیے مگر اس کے باوجود وہ طرح طرح کے ہولناک میزائل اور تباہ کن فضائی ہتھیار بنا رہا ہے۔ یہ امریکی کارروائی اس معاہدے کی صریح خلاف ورزی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل دنیا کے ساتھ کیے گئے کسی عہد و پیمان کی پاسداری نہیں کرتے۔ غزہ پر مسلط کی جانے والی جنگ کے دوران دنیا کے ہر چارٹر اور اخلاقی ضابطے کی دھجیاں اڑاتے ہوئے ہزاروں فلسطینی بچوں کو قتل کر دیا۔دوسری جانب امریکہ نے ایران پر حملوں کے آغاز ہی میں ایک پرائمری سکول پر حملہ کرکے 168 بچیوں کو شہید کر دیا۔ اس پر دنیا بھر میں شدید احتجاج ہوا‘ اب واشنگٹن میں بھی اس ہولناک جنگی جرم کی تحقیق ہو رہی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے ایران پر مسلط کی گئی 40 روزہ جنگ کے بعد ایران کی بہترین جنگی حکمت عملی اور اس کی طرف سے اسرائیل اور خلیج میں امریکی فوجی اڈوں پر جوابی حملوں کو دیکھ کر امریکہ ایران کے ساتھ &#39;&#39;مذاکرات‘‘ کر رہا ہے۔ اگر امریکہ کی طرف سے یہ مذاکرات نیک نیتی سے کیے جاتے تو اب تک کامیابی سے ہمکنار ہو چکے ہوتے۔ ڈونلڈ ٹرمپ ایک طرف پاکستان کی ثالثی کی تعریف کرتے ہیں اور دوسری طرف مسلسل ایران کو دھمکیاں دیے جا رہے ہیں۔ پاکستان کے وزیراعظم‘ فیلڈ مارشل‘ وزیر خارجہ اور وزیر داخلہ نے شٹل ڈپلومیسی کی تاریخ میں نئے ابواب رقم کیے ہیں۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایک مرتبہ پھر ایران کا دورہ کر رہے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ مذاکرات کے بجائے اپنا حکم چلانے اور رعب جمانے کی کوشش کرتے ہیں اسی لیے مذاکرات کامیاب نہیں ہوتے۔ اب جنگیں سائبر سپیس‘ بیلسٹک اور ہائپر سانک میزائلوں سے لڑی جا رہی ہیں۔ ایران کے پاس اتنے تباہ کن جدید ہتھیار نہیں جتنے امریکہ کے پاس ہیں مگر ایران نے اپنے محدود ذرائع اور امریکہ کی طرف سے ہزار نوعیت کی پابندیوں کے باوجود ڈرونز اور میزائل بنا ئے ہیں۔ حالیہ جنگ کے دوران امریکی و اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایران نے اسرائیل کے اندر اپنے جدید اسلحہ سے دشمن کو وہ نقصان پہنچایا جس کی کسی کو توقع نہ تھی۔ اب ایران کا کہنا ہے کہ اس نے مزید فضائی ہتھیار بنا لیے ہیں۔ امریکی صدر کے دورۂ چین کے فوری بعد روسی صدر پوتن کا بیجنگ کا دورہ عالمی منظر نامے پر دور رس نتائج کا حامل ہو گا۔ روس اور چین کے مشترکہ اعلامیے سے دنیا کو بالعموم اور ہمارے خطے کو بالخصوص ایک نیا حوصلہ ملا ہے۔ دونوں عالمی قوتوں نے دنیا کو گواہ بنا کر بتا دیا ہے کہ دوسری عالمی جنگ کی تباہی کے بعد امنِ عالم کیلئے جو بین الاقوامی فورم بنایا گیا تھا امریکہ اس کے چارٹر اور پروگرام کا احترام نہیں کر رہا۔ اگر خدانخواستہ ایک بار پھر دنیا تباہی سے دوچار ہوتی ہے تو اس کی تمام تر ذمہ داری امریکہ پر عائد ہو گی۔ چین مظلوم ملکوں کی حمایت میں عملی قدم بھی اٹھا سکتا ہے۔ امریکہ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر اس کرۂ ارضی پر کوئی دستور یا قانون ضابطہ نہیں رہنے دیا۔ اب روس اور چین دیگر ملکوں کو ساتھ ملا کر دنیا کو کوئی دستور دیں‘ بقول زہرا نگاہ: سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے۔ میرے مولا اس کرۂ ارض پر کوئی ایسا دستور نافذ کر کہ جس کے بعد کوئی طاقتور اپنی من مانی نہ کر سکے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_70033906.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>عوام ہی قربانی کا بکرا کیوں؟(افتخار احمد سندھو)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/iktakhar-ahmed-sandhu/2026-05-23/51999/99698371</link><pubDate>Sat, 23 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/iktakhar-ahmed-sandhu/2026-05-23/51999/99698371</guid><description>اس امر میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کے غریب عوام تقریباً 80سال سے قربانی کا بکرا بنے ہوئے ہیں اور حکمران عوام کی خون پسینے کی کمائی اور آئی ایم ایف کے قرضوں پر عیاشی کر رہے ہیں۔ عوام کو پھر سے قربانی کا بکرا بنانے کیلئے حکومت اور آئی ایم ایف میں آئندہ بجٹ کی اہم تجاویز پر مشاورت جاری ہے۔ حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کو یقین دلایا گیا ہے کہ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں لاگت کے مطابق اضافہ یا ایڈجسٹمنٹ کی جائے گی۔ آئی ایم ایف نے آج تک ہماری اشرافیہ میں شامل طبقات کی بھاری بھرکم تنخواہوں اور مراعات پر سوال نہیں اٹھایا۔آئی ایم ایف نے کبھی نہیں کہا کہ چیئرمین سینیٹ‘ سپیکر قومی اسمبلی‘ وزرا‘ مشیران‘ ممبرانِ پارلیمنٹ‘ سینیٹرزاوربڑے بڑے سرکاری افسروں کی تنخواہیں اور مراعات لاکھوں‘ کروڑوں میں کیوں ہیں اور ان میں مسلسل اضافہ کیوں ہورہا ہے؟حکومت کی جانب ہر دفعہ یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ آئی ایم ایف سے لیا جانے والا یہ آخری پروگرام ہو گا مگر جیسے ہی ایک پروگرام مکمل ہونے کے قریب پہنچتا ہے نئے پروگرام کیلئے مذاکرات شروع ہو جاتے ہیں۔ یوں ملک مسلسل قرضوں کے بوجھ تلے دبتا جا رہا ہے جبکہ عوام کی معاشی حالت بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ جب معاشی پالیسیاں عوامی مفادات کے تحفظ کے بجائے صرف قرضوں کی واپسی اور حکمرانوں کی موج مستی کو مدنظر رکھ کر بنائی جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام آدمی پر پڑتے ہیں کیونکہ ہمارے حکمرانوں کی طر ف سے وطنِ عزیز پر لادا گیا یہ قرض عام آدمی کو ہی ادا کرنا پڑتا ہے۔ افتخار عارف نے اس کی ترجمانی یوں کی ہے:مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نےوہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھےادھر مہنگائی نے آدمی کا جینا دوبھر کر رکھا ہے‘ ادارۂ شماریات کی حالیہ رپورٹ کے مطابق سالانہ مہنگائی کی شرح 14.52 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ پٹرول کی قیمت میں 64 فیصد‘ ڈیزل میں 61 فیصد‘ آٹے میں 57 فیصد اور بجلی کے نرخوں میں 52 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ایسے میں اگر بجٹ میں نئے ٹیکس عائد کیے گئے اور پٹرول اور گیس کی قیمتوں میں مزید اضافہ کیا گیا تو یہ عوام پر مہنگائی کا ایک اور طوفان بلکہ سونامی مسلط کرنے کے مترادف ہوگا۔ حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں محض پانچ روپے فی لٹر کمی کو ریلیف قرار دینا عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے برابر ہے۔ یہ کمی مذاق سے زیادہ کچھ نہیں۔ حکومت عوام کا صبر نہ آزمائے۔ مہنگائی کا طوفان عوام پر عرصۂ حیات تنگ کیے ہوئے ہے۔موجودہ حکومت نے اپنے دورِ اقتدار میں عوام پر بار بار پٹرولیم بم چلا کر ان کی تکالیف میں اضافہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اس پر مستزاد یہ کہ ہمارے حکمرانوں کو حکومتی پالیسیوں کے نتیجے میں بڑھنے والی مہنگائی اتنا بڑا مسئلہ ہی نظر نہیں آرہی۔ یہی وجہ ہے کہ ہر ہفتے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ حکومت اب یہ جواز بھی پیش نہیں کر سکتی کہ پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں اضافے کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ ہے کیونکہ ہمارے ہمسایہ مما لک چین‘ ایران‘ افغانستان‘ بھارت حتیٰ کہ بنگلہ دیش اور سری لنکا میں بھی تیل کی قیمتیں مستحکم ہیں۔ اگر پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کے نرخ مسلسل بڑھائے جارہے ہیں تو اس کی اصل وجہ ٹیکس کا شارٹ فال اور آئی ایم ایف کے ساتھ کیے گئے معاہدے ہیں جنہیں ہر صورت پایۂ تکمیل کو پہنچانا ہے۔ اسی طرح آئے دن بجلی کے نرخ بڑھا کر عوام کو مہنگائی کے نئے سونامیوں کی جانب دھکیلا جا رہا ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ریاست پر حکمرانی کرنے والے اہلِ اقتدار کو عوام کے گمبھیر سے گمبھیر تر مسائل کا احساس کیوں نہیں؟ اگر اب تک کی کسی بھی حکومت کو عوام کیلئے فلاحی ریاست کے آئینی تقاضے پورے کرنے کا احساس نہیں ہوا تو عوام اپنی آئینی ذمہ داریوں سے خوش اسلوبی کے ساتھ کیونکر عہدہ برآ ہو سکتے ہیں۔ یہ امر افسوسناک ہے کہ حکومتی پالیسیوں کے نتیجے میں امیر اور غریب طبقات کے مابین خلیج مزید گہری ہورہی ہے اور خطِ غربت کے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد تیزی کے ساتھ بڑھتی جا رہی ہے۔ ملک چاہے جس بھی آزمائش سے گزر رہا ہو‘ ملکی معیشت چاہے دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ جائے‘ باوسیلہ مراعات یافتہ حکمران اشرافیہ طبقات کی بودوباش میں کوئی کمی آتی ہے نہ ہی یہ طبقات ملک کی خاطر اپنی مراعات کی معمولی سی بھی قربانی دینے پر آمادہ ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس حکومتی اتھارٹی کا سارا زور بے بس و لاچار غریب عوام پر چلتا ہے جنہیں براہِ راست اور بالواسطہ انواع و اقسام کے ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبایا جاتا ہے اور پٹرولیم مصنوعات‘ بجلی‘ گیس‘ پانی اور جان بچانے والی ادویات کے نرخ بھی ان کی پہنچ سے دور کر دیے جاتے ہیں۔ مہنگائی نے عام آدمی کی کمر دہری کر رکھی ہے؛ چنانچہ آج بے وسیلہ عوام &#39;&#39;مرے کو مارے شاہ مدار‘‘ کی عملی تصویر بنے زندہ درگور ہوتے نظر آرہے ہیں‘ جن کی ریاست میں کوئی شنوائی نہیں ۔کہا جا رہا ہے کہ اگلے تین ماہ کے دوران مزید قیامت ٹوٹنے کا اندیشہ ہے کیونکہ امسال بجٹ میں آئی ایم ایف نے حکومت کو پٹرولیم لیوی کی مد میں 1727ارب روپے جمع کرنے کا ٹاسک دیا ہے۔ بجلی اور گیس پر ٹیکس ریٹ بڑھا کر تقریباً ساڑھے چار سو ارب ٹیکس اکٹھا کرنے کے ساتھ ساتھ سبسڈی ختم کرنے اور نئے ٹیکسز لگانے کا عندیہ بھی دیا جا رہا ہے۔ ٹیکس نیٹ بڑھانے کیلئے ماہانہ آمدن کی حد کم کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ بینکوں اور دیگر ٹرانزیکشنز پر ٹیکس کی شرح بڑھانے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔ زراعت انڈسٹری اور کاروباری طبقے پر بھی مزید ٹیکس لگانے پر اتفاق ہوا ہے۔ آئندہ ماہ آنے والے بجٹ سے مہنگائی کا ایسا طوفان اٹھنے کا اندیشہ ہے جس کا تصور پہلے کبھی نہ تھا۔دوسری جانب حکمران اشرافیہ خود شاہانہ زندگی گزار رہی ہے۔ صرف جہازوں پر سرکاری خرچ پر سفر کا سالانہ بل تقریباً سو ارب سے تجاوز کر جاتا ہے۔ ایم پی ایز اور ایم این ایز کی تنخواہوں اور مراعات ‘ اور وزرا اور سرکاری افسروں کی سکیورٹی کے نام پر پروٹوکول کا سالانہ خرچ اربوں روپے ہے۔ ہمارے حکمران سالانہ آٹھ ہزار ارب روپے صرف قرضوں پر سود ادا کر رہے ہیں لیکن اس سب کے باوجود عوام سیاسی جماعتوں کے دیوانے‘ مذہبی جماعتوں کے مستانے‘ (ن) لیگ کے متوالے‘ پیپلز پارٹی کے جیالے اور پی ٹی آئی کے ٹائیگر بنے ہوئے ہیں۔ گھروں میں بچوں کیلئے دو وقت کی روٹی دستیاب نہیں‘ بیماروں کو سرکاری ہسپتالوں میں علاج کیلئے سفارش ڈھونڈنا پڑتی ہے مگر لوگ یکجا ہونے کو تیار نہیں۔ ملک میں سرکاری سکول اور ہسپتال بھی ٹھیکے پر چل رہے ہیں اور ٹھیکیدار سالانہ اربوں روپے کما رہے ہیں۔ بجلی بنائے بغیر آئی پی پیز کو سالانہ اربوں روپے دے دیے جاتے ہیں۔ ان حالات میں یہ سسٹم کتنی دیر تک قائم رہ سکتا ہے‘ میرا نہیں خیال کہ اس کا اندازہ لگانا مشکل ہو۔ ہم بہت تیزی سے تباہی کی جانب لڑھک رہے ہیں۔ اب حکمرانوں کو چھوڑ کر ہمیں عوامی سطح پر منظم ہو کر مشکلات کا ادراک کرنا ہو گا‘ تب جا کر شاید کچھ بچت ہو جائے تاکہ ہم نہ سہی‘ ہماری نسلیں تو قدرے آسان زندگی گزار سکیں۔ بقول مولانا ظفر علی خان:خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلینہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/228_40817243.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بنگال میں جمہوریت کی پامالی(اُم ایمن)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/umm--aiman/2026-05-23/52000/13218960</link><pubDate>Sat, 23 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/umm--aiman/2026-05-23/52000/13218960</guid><description>جس دھرتی نے سبھاش چندر بوس کی انقلابی سوچ‘ رابندر ناتھ ٹیگور کی آفاقی فلاسفی اور قاضی نذر الاسلام کی باغیانہ شاعری کو  جنم دیا آج وہاں کی ہواؤں میں ایک عجیب سی گھٹن اور سناٹا ہے۔ 2026ء کے انتخابی نتائج محض ایک سیاسی تبدیلی نہیں بلکہ اس گنگا جمنی تہذیب کا نوحہ ہیں جس نے صدیوں سے بنگال کے ہندوؤں اور مسلمانوں کو ایک لڑی میں پروئے رکھا تھا۔ کولکتہ کے تاریخی چوراہوں پر آج فتح کے شادیانے تو بج رہے ہیں لیکن ان کی گونج میں ان 90لاکھ محرومِ تمنا لوگوں کی سسکیاں دب گئی ہیں جنہیں ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اپنی ہی مٹی میں اجنبی بنا دیا گیا ہے۔ مغربی بنگال کا یہ سقوط محض ایک ریاست کا بی جے پی کے قبضے میں جانا نہیں ہے بلکہ یہ اس آخری سیکولر قلعے کا ہتھیا لینا ہے جو ہندوتوا کی زعفرانی لہر کے سامنے ایک فکری رکاوٹ بنا ہوا تھا۔ دہائیوں تک بنگال نے اس نظریے کو مسترد کیے رکھا جو انسان کو اس کے عقیدے کی بنیاد پر تقسیم کرتا ہے لیکن آج کی نئی سیاسی بساط پر وہ تمام اصول مات کھا چکے ہیں جن پر جدید بھارت کی بنیاد رکھی گئی تھی۔بنگال کو نظریاتی طور پر تسخیر کرنے کا یہ خواب کوئی نیا نہیں ہے‘ اس کی جڑیں تاریخ کے ان تاریک گوشوں میں پیوست ہیں جہاں استعمار نے پہلی بار تقسیم کرو اور حکومت کرو کا فارمولا آزمایا تھا۔ 1905ء میں جب لارڈ کرزن نے انتظامی سہولت کا لبادہ اوڑھ کر بنگال کی وحدت پر وار کیا تھا تو اس کا اصل مقصد بھی یہی تھا کہ مسلمان اکثریتی مشرقی حصے کو ہندو اکثریتی مغربی حصے سے جدا کر کے بنگالی قومیت کے اتحاد کو پارہ پارہ کر دیا جائے۔ اگرچہ اُس وقت کی عوامی بیداری اور شدید مزاحمت نے انگریز کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا اور 1911ء میں یہ تقسیم منسوخ ہوئی لیکن تفرقے کے جو بیج اُس وقت بوئے گئے تھے انہیں ایک سو بیس سال بعد آج ہندوتوا کی سیاسی مشینری نے بڑی مہارت سے تناور اور زہریلے درختوں میں بدل دیا ہے۔ 1947ء کی تقسیم نے مغربی بنگال کو ایک ہندو اکثریتی صوبے کے طور پر بھارت کا حصہ بنایا لیکن وہاں کے عوام کی اکثریت نے طویل عرصے تک اس فرقہ وارانہ جنونیت کو اپنے معاشرے میں جگہ نہیں دی جو بھارت کے دیگر حصوں کو اپنی لپیٹ میں لے چکی تھی۔ مگر افسوس کہ آج کے نئے بھارت نے وہ کر دکھایا جو برطانوی سامراج بھی نہ کر سکا تھا۔اس انتخابی معرکے میں جو سب سے بڑا اور ہولناک ہتھیار استعمال کیا گیا وہ سپیشل انٹینسو ریویژن (SIR) کے نام پر کی گئی وہ &#39;کلینکل سرجری‘ تھی جس نے جمہوری عمل کی روح کو ہی قبض کر لیا۔ تقریباً 90لاکھ ووٹرز جن کی بھاری اکثریت مسلمان طبقے سے تعلق رکھتی تھی‘ کو ایک ہی جنبشِ قلم سے انتخابی فہرستوں سے نکال باہر کیا گیا۔ یہ کل ووٹرز کا تقریباً 10فیصد بنتا ہے‘ اور یہ کوئی معمولی اعداد و شمار نہیں ہیں۔ مرشد آباد‘ مالدہ اور شمالی دیناج پور جیسے اضلاع میں‘ جہاں ہار جیت کا فیصلہ چند ہزار ووٹوں پر ہوتا تھا‘ وہاں لاکھوں ووٹرز کا اخراج محض انتظامی غلطی نہیں بلکہ ایک &#39;سائنسی انجینئرنگ‘ تھی۔ اسے اگر خاموش سیاسی نسل کشی کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کیونکہ جب آپ کسی آبادی کے ایک بڑے حصے کو ووٹ کے حق سے محروم کر دیتے ہیں تو آپ دراصل انہیں سیاسی طور پر زندہ درگور کر دیتے ہیں۔ یہ وہ ہولناک بلیو پرنٹ ہے جس کے ذریعے عوامی رائے کو دبایا نہیں گیا بلکہ اسے پاک (Purify) کر دیا گیا ہے تاکہ زعفرانی پرچم کی برتری کو کوئی چیلنج نہ کر سکے۔تاریخ گواہ ہے کہ بنگال کے مسلمانوں نے ہمیشہ اپنی حب الوطنی کا ثبوت اپنی جانیں دے کر دیا لیکن بدقسمتی سے تقسیم کے بعد سے انہیں ہمیشہ ایک ایسے امتحان سے گزارا گیا جس کا کوئی اختتام نہیں۔ آج بی جے پی نے اسی تاریخی عدم تحفظ کو اپنا  سب سے بڑا اثاثہ بنا لیا ہے۔ بنگالی مسلمانوں کو &#39;&#39;گھس بیٹھیا‘‘ اور &#39;&#39;دیمک‘‘ قرار دے کر ایک ایسا ماحول تیار کیا گیا جہاں اکثریت کو یہ یقین دلا دیا گیا کہ ان کی تمام معاشی اور سماجی مشکلات کا واحد سبب یہ اقلیت ہے۔ یہ وہی زہریلا بیانیہ ہے جو  کسی بھی فاشسٹ نظام کی بنیاد ہوتا ہے جہاں ایک اندرونی دشمن تخلیق کیا جاتا ہے تاکہ عوامی غیظ و غضب کا رخ موڑا جا سکے۔ جب ریاست کا نو منتخب وزیراعلیٰ سویندو ادھیکاری سرعام یہ کہتا ہے کہ اسے جیتنے کے لیے مسلم ووٹوں کی ضرورت نہیں تو وہ دراصل اس جمہوری معاہدے کو پامال کر رہا ہوتا ہے جو ہر شہری کو ریاست کا برابر کا حصہ دار بناتا ہے۔انتخابات کے فوری بعد کے مناظر کسی بھی مہذب معاشرے کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہیں۔ مغربی بنگال‘ جو اپنی رواداری اور کثیر جہتی ثقافت کے لیے مشہور تھا‘ آج وہاں انتقام کی آگ بھڑک رہی ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کی رپورٹیں بتا رہی ہیں کہ مسلمانوں کی بستیوں کا گھیراؤ کیا جا رہا ہے‘ ان کے معاشی ذرائع کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور خوف کی وہ فضا قائم کر دی گئی ہے جہاں عام آدمی اپنے ہی گھر میں خود کو قیدی محسوس کرتا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ نئی قیادت کا لہجہ کسی جمہوری حکومت کا نہیں بلکہ ایک قابض فوج جیسا ہے۔ جب ایک ذمہ دار عہدے پر بیٹھا شخص اپنے ہی شہریوں کو غزہ کے محصورین سے تشبیہ دے اور انہیں &#39;سبق سکھانے‘ کی دھمکیاں دے تو سمجھ لیں کہ آئین اور قانون کا دم نکل چکا ہے۔ بنگال کو ایک ایسی تجربہ گاہ میں بدل دیا گیا ہے جہاں شہریت کا معیار اب مٹی سے وفاداری نہیں بلکہ حکمران جماعت کے نظریے سے وابستگی محسوس بن چکا ہے۔ممتا بینر جی کا سقوط‘ خاص طور پر ان کے اپنے گڑھ بھوانی پور سے‘ کئی ایسے سوالات کو جنم دیتا ہے جن کا جواب اب شاید ہی کبھی مل سکے۔ ایک ایسی لیڈر جو برسوں سے عوامی مقبولیت کے پہاڑ پر بیٹھی تھی‘ وہ اچانک 15ہزار ووٹوں کے مشکوک مارجن سے کیسے ہار گئی؟ ترنمول کانگریس کے الزامات کہ الیکشن کمیشن نے ایک منظم دھاندلی کی‘ اب محض ہارے ہوئے سیاستدان کی فریاد نہیں لگتے۔ بھارت کے وہ تمام ادارے جو کبھی جمہوریت کے ستون ہوا کرتے تھے آج وہ جس تیزی سے ایک مخصوص نظریے کے تابع ہوئے ہیں اس نے انتخابی شفافیت کے پورے تصور کو ہی مشکوک بنا دیا ہے۔ اگر ووٹنگ کے عمل کو ہی مخصوص نظریات کے حامل افراد کے لیے مخصوص کر دیا جائے تو پھر بھارت کو &#39;&#39;دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت‘‘ کہنا محض ایک تاریخی مذاق بن کر رہ جائے گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/234_40342136.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>حاجی کیلئے عرفہ کے دن روزہ رکھنے کا حکم(مفتی منیب الرحمٰن )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-05-23/52001/94703776</link><pubDate>Sat, 23 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-05-23/52001/94703776</guid><description>یومِ عرفہ سال کا سب سے افضل اور بابرکت دن ہے‘ اس روز اللہ تعالیٰ میدانِ عرفات میں موجود حجاج کے گناہوں کو معاف فرما کر ان پر فرشتوں کے سامنے فخر فرماتا ہے۔ حج کا سب سے بڑا رکن وقوفِ عرفہ اسی دن ادا کیا جاتا ہے۔ نبیﷺ نے فرمایا: &#39;&#39;اللہ تعالیٰ یومِ عرفہ سے زیادہ کسی دن بندوں کو جہنم سے آزاد نہیں فرماتا‘‘ (مسلم: 1348)۔ غیر حاجیوں کیلئے اس دن کا روزہ رکھنا مستحب ہے۔ رسولﷺ کا ارشاد ہے: &#39;&#39;یومِ عرفہ کے روزے کے بارے میں مجھے اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ وہ اس کے ذریعے پچھلے سال اور اگلے سال کے گناہوں کو معاف فرما دے گا‘‘ (مسلم: 1162)۔اس کی وجہ یہ ہے کہ حج انتہائی دشوار اور مشقت بھری عبادت ہے‘ جس میں مناسکِ حج کی ادائیگی کیلئے حاجی کو بہت زیادہ پیدل چلنا پڑتا ہے اور مختلف قسم کی مشقتیں برداشت کرنا پڑتی ہیں‘ جبکہ وقوفِ عرفہ میں حاجی کی اصل عبادت یہ ہے کہ وہ اس وقت ذکر واذکار‘ استغفار‘ گریہ وزاری اور دعائوں میں گزارے‘ پس اگر حاجی روزہ رکھے گا تو وہ کمزوری اور تھکن کی وجہ سے ان عبادات کو پوری توجہ اور نشاط کے ساتھ ادا نہیں کر سکے گا اور وقوفِ عرفہ اور حج کے اصل مقصد میں کوتاہی اور نقص آ جائے گا‘ اسی بنا پر حاجی کیلئے روزہ نہ رکھنے کو افضل اور مستحب قرار دیا گیا ہے اور اسی حکمت کے پیشِ نظرخود نبیﷺ نے امت پر بھی رحمت ورَأفَت کے پیشِ نظر روزہ نہیں رکھا‘ بلکہ روزہ رکھنے سے منع فرمایا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: &#39;&#39;رسول اللہﷺ نے عرفات میں عرفہ کے دن روزے سے منع فرمایا ہے‘‘ (ابودائود: 2440) (2) حضرت ام فضلؓ بنت حارث بیان کرتی ہیں: انہوں نے میدانِ عرفات میں (شام کے وقت) نبی کریمﷺ کیلئے دودھ کا پیالہ بھیجا‘ آپﷺ اپنی سواری پر وقوف کی حالت میں تھے‘ آپﷺ نے اپنے ہاتھ میں وہ پیالہ لیا اور اُسے پی لیا‘‘ (صحیح بخاری: 5618)۔ تمام لوگوں کے سامنے آپﷺ نے دودھ نوش فرما کر بتا دیا کہ یہاں اس مقام پر حاجی کیلئے روزہ رکھنا مناسب نہیں۔ چونکہ خلفائے راشدینؓ بھی اُمت کے رہبر اور پیشوا تھے اور لوگ اُن کا اتباع اور اقتدا کرتے تھے‘ لہٰذا اُنہوں نے بھی اسی مصلحت کے پیشِ نظر اُس دن روزہ رکھنے سے گریز کیا کہ لوگ انہیں دیکھ کر روزہ رکھنا شروع کر دیں گے اور اپنے آپ کو مشقت اور دشواری میں ڈالیں گے۔ البتہ اگر کوئی حاجی جسمانی اعتبار سے صحتمند اور طاقتور ہو اور روزے کی وجہ سے اُسے کمزوری محسوس نہ ہوتی ہو اور حج کی عبادات کی بجا آوری میں نقص اور کوتاہی کا بھی کوئی اندیشہ نہ ہو‘ تو اُس کیلئے روزہ رکھنے میں کوئی حرج نہیں‘ بلکہ روزہ رکھنا افضل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اَسلاف سے اس دن روزہ رکھنے کی روایات منقول ہیں؛ چنانچہ حافظ ابن حجر فرماتے ہیں:&#39;&#39;حضرت عبداللہ بن زبیر‘ حضرت اُسامہ بن زید اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہم عرفہ کے دن عرفات میں روزے کی حالت میں ہوتے تھے اور حضرت حسنِ بصری اسے اچھا سمجھتے تھے اور وہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت عثمانؓ بھی اسے پسند کرتے تھے‘‘ (فتح الباری‘ ج: 4‘ ص: 238)۔ بعض اہلِ علم نے عرفہ کے دن حاجی کیلئے روزے کی کراہت کی ایک وجہ یہ بیان فرمائی ہے کہ یہ اُن کیلئے عید کا دن ہے اور عید کے دن روزہ رکھنا ممنوع ہے؛ چنانچہ حضرت عقبہؓ بن عامر بیان کرتے ہیں: نبیﷺ نے فرمایا: &#39;&#39;یومِ عرفہ‘ یوم النحر اور ایامِ تشریق ہم اہلِ اسلام کی عید اور کھانے پینے کے دن ہیں‘‘ (ترمذی: 773)۔ بہرحال عرفہ کے دن روزے کی فضیلت یہ ہے کہ اس سے اللہ تعالیٰ اگلے‘ پچھلے دو سالوں کے گناہ معاف فرما دیتا ہے اورحضرت عبداللہؓ بن عمر بیان کرتے ہیں: &#39;&#39;ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ یہ روزہ رکھتے تھے اور نبیﷺ اور ہم اسے ایک سال کے روزوں برابر سمجھتے تھے‘‘ (شرح معانی الآثار: 3269)۔ اہلِ سنت کے نزدیک یومِ عرفہ کے روزے اور اس کے علاوہ فضائلِ اعمال سے تعلق رکھنے والے دیگر اعمال کی برکت سے صغیرہ گناہ معاف ہوتے ہیں اور کبیرہ گناہ توبہ کے بغیر معاف نہیں ہوتے‘ اگر کسی کے صغیرہ گناہ نہ ہوں تو اس کے کبیرہ گناہوں میں تخفیف ہو جاتی ہے اور اگرکبیرہ گناہ بھی نہ ہوں تو اس کے درجات میں اضافہ ہو جاتا ہے اور اللہ کسی کو نوازنا چاہے تو: رحمتِ حق بہا نمی جوید۔ یہاں ایک اشکال پیدا ہوتا ہے کہ گزشتہ سال کے گناہوں کا معاف ہونا تو سمجھ میں آتا ہے‘ لیکن اگلے سال کے گناہ تو ابھی سرزد ہوئے ہی نہیں تو ان کی معافی کا کیا مطلب ہے‘ کیونکہ معافی کا موقع گناہ کے ارتکاب کے بعد آتا ہے۔ اس اشکال کا جواب یہ ہے: اگلے سال کے گناہوں کے معاف ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اُسے اگلے سال گناہوں سے محفوظ فرماتا ہے‘ اس سے ہر حاجی اندازہ لگا سکتا ہے کہ آیا اس کا حج عنداللہ مقبول ہوا یا نہیں‘ یعنی حج کی قبولیت کا اثر آئندہ زندگی میں گناہوں سے اجتناب کی صورت میں ظاہر ہونا چاہیے۔ نماز کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: &#39;&#39;اے نبی! آپ کی طرف جو کتاب وحی کی گئی ہے اس کی تلاوت کیجیے اور نماز قائم کیجیے‘ بے شک نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے‘‘ (العنکبوت: 43)۔ اس کی تفسیر میں علامہ طبرسی نے حضرت امام جعفر صادق ؒکا یہ قول نقل کیا ہے: &#39;&#39;جو شخص یہ جاننا چاہے کہ آیا اس کی نماز بارگاہِ الٰہی میں مقبول ہوئی ہے یا نہیں‘ تو وہ اپنا جائزہ لے کہ کیا اس کی نماز نے اسے بے حیائی اور برائی سے روکا ہے‘ سو جس قدر اس کی نماز نے اسے برائی سے روکا ہے‘ اسی قدر اُس کی نماز قبول ہوئی ہے‘‘ (مجمع البیان‘ ج: 7‘ ص: 447)۔ یا اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اُسے اس قدر اجر وثواب عطا فرماتا ہے جو گزشتہ اور آنے والے سال کے گناہوں کے کفارے کیلئے کفایت کرتا ہے۔ اس دن خوب دعائوں اور توبہ واستغفار کا اہتمام کرنا چاہیے۔ حدیث پاک میں ہے: &#39;&#39;حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں: نبی کریمﷺ نے فرمایا: سب سے بہتر دعا عرفہ کے دن کی دعا ہے اور بہترین بات وہ ہے جو میں نے اور مجھ سے پہلے انبیائے کرام نے کہی (اور وہ یہ ہے:) لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ‘ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ‘‘ (ترمذی: 3585)۔دنیا بھر میں طلوع اور غروب کے اوقات مختلف علاقوں کے اعتبار سے مختلف ہوتے ہیں‘ اسی حساب سے سحر وافطار کے اوقات کا فرق ہوتا ہے‘ اسی طرح سے ہر مقام کے اعتبار سے نمازوں کے اوقات کا تعیّن ہوتا ہے اور مختلف خطوں کے اعتبار سے قمری مہینوں کا آغاز ہوتا ہے‘ ہر شخص اپنے علاقے کے اوقات کے مطابق نماز پڑھتا ہے‘ رمضان کا آغاز اور اختتام کرتا ہے‘ شبِ قدر میں عبادت کرتا ہے‘ اسی طرح تمام عبادات کا حکم ہے۔ جس طرح پوری دنیا میں جمعہ ایک وقت میں نہیں ہوتا اور نہ ہی قدرت کے بنائے ہوئے نظامِ گردشِ لیل ونہار کی وجہ سے ایسا ہو سکتا ہے‘ مثلاً: پاکستان میں جب جمعہ کا دن ہوتا ہے تو امریکہ میں رات ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے کسی کو بھی محروم نہیں فرماتا‘ ہر ایک کے لیے جہاں اُن کے اپنے وقت اور تاریخ کے مطابق وہ ساعت آئے گی اُس وقت وہاں پر اللہ کے جو بندے مصروفِ دعا ہوں گے‘ اللہ تعالیٰ کی عطا سے انہیں قبولیت نصیب ہو گی۔ جو لوگ حج پر گئے ہوئے ہیں‘ ان کے لیے یومِ عرفہ وہاں کے مطابق ہوگا اور جو دور دراز ممالک میں مقیم ہیں‘ اُن کے لیے یومِ عرفہ ان کے اپنے جاری کیلنڈر کے مطابق ہو گا۔ مکہ والے وہاں کے مطابق عرفہ کا روزہ رکھیں گے اور دوسرے ممالک والے اپنے اپنے نظام الاوقات کے مطابق رکھیں گے اور اللہ تعالیٰ شبِ قدر اور جمعۃ المبارک کی ساعتِ قبولیت کی طرح ہر عبادت گزار اور سائل کو نوازے گا۔ یہ وضاحت ہم نے اس لیے کی کہ بعض لوگ اس کے بارے میں وقتاً فوقتاً سوال کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی عطا‘ اس کے کرم اور رحمت کو زمان ومکان میں محدود نہیں سمجھنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے: &#39;&#39;اور میری رحمت ہر چیز پر وسیع ہے‘‘ (الاعراف: 156) (2) &#39;&#39;سنو! اس کی قدرت ہر چیز پر محیط ہے‘‘ (فصلت: 54)۔ اور کوئی چاہے تو نو ذوالحجہ کے ساتھ سات اور آٹھ ذوالحجہ کے روزے بھی رکھ سکتا ہے۔ </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_61172381.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>