<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>مہنگائی، چیلنج برقرار(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-04/11422</link><pubDate>Tue, 04 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-04/11422</guid><description>ملک میں افراطِ زر کی سالانہ شرح گزشتہ ماہ 9.2 فیصد ریکارڈ کی گئی‘جبکہ گزشتہ سال جولائی میں مہنگائی کی شرح 4.1فیصد تھی اور اگست میں تین فیصد ۔ اس کے بعد مہنگائی کا گراف مسلسل بلند ہونا شروع ہو گیا اور سال کے آخر تک مہنگائی کی شرح چھ فیصد تک پہنچ گئی۔ تاہم رواں سال کے آغاز میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کو امریکہ ایران جنگ نے بھی بڑھاوا دیا اور مارچ میں 7.3فیصد اور اپریل میں 10.9فیصدکیساتھ مہنگائی جولائی 2024ء کے بعد دوبارہ دہرے ہندسے میں داخل ہو گئی۔ مئی میں 11.7 فیصد اور جون میں 11.1فیصد کی بلندیوں پر رہنے کے بعد اگرچہ جولائی میں مہنگائی 9.2فیصد کیساتھ دوبارہ اکہرے ہندسے میں واپس آگئی ہے لیکن اب بھی یہ بلند ترین سطح پر ہے اور پٹرولیم قیمتوں کے یومیہ تعین کی صورت میں جس طرح ہر روز قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے ‘ اس کے اثرات افراطِ زر میں اضافے کی صورت میں سامنے آئیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ عام آدمی کی معیشت مہنگائی میں کمی کے تصور سے ناآشنا ہو چکی ہے۔ معیشت کے وہ بنیادی ستون جو قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے ذمہ دار ہوتے ہیں‘ ہمارے ہاں اندرونی اور بیرونی دباؤ کے باعث شدید کھچاؤ کا شکار ہیں۔

مہنگائی کے اس نئے طوفان کا بڑا محرک پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں پے درپے اضافہ ہے۔ جب ڈیزل اور پٹرول مہنگا ہوتا ہے تو زراعت اور صنعتوں کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں اور اس کا براہِ راست اثر ہر اُس شے پر پڑتا ہے جو بندرگاہوں‘ فیکٹریوں‘ کھیتوں اور منڈیوں سے بازار تک کا سفر کرتی ہے۔ تیل درآمد کرنے والے ملک کی حیثیت سے پاکستان کی معیشت براہِ راست خلیج کے حالات اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں سے جڑی ہوئی ہے۔ جب تک تیل کی قیمتوں میں استحکام نہیں آتا‘ افراطِ زر میں پائیدار کمی بھی ممکن نہیں‘اور تیل کی قیمتوں پر حکومتی محصولات کی موجودہ شرح کے ہوتے ہوئے اس کی امید کرناخاصا مشکل ہے کہ صارفین کیلئے حقیقی معنوں میں تیل سستا ہو گا۔ لہٰذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ افراطِ زر میں کسی مہینے عارضی اور معمولی کمی معیشت میں مستحکم آسانیوں کا سبب بنتی نظر نہیں آتی بلکہ عالمی بے یقینی کی صورتحال میں مہنگائی کا گراف مزید بڑھنے کے خدشات زیادہ قوی ہیں۔ پاکستان کی معیشت کیلئے خلیج کی جنگ اور عالمی تیل کی منڈیوں کا اتار چڑھائو بلاشبہ بڑا اثر رکھتا ہے مگر مہنگائی میں اضافے کے اسباب صرف اس جنگ سے جڑے ہوئے نہیں ہیں۔
گزشتہ ماہ اشیائے خوردنی میں ٹماٹر کی قیمت میں 116.75 فیصد‘ سبزیوں کی قیمت میں 22فیصد ‘پیاز20فیصد‘ مرغی 19 فیصد‘ گندم7.4فیصداورآٹا 6.75فیصد مہنگا ہوا۔ جبکہ سالانہ بنیادوں پر ٹماٹر 174.74فیصد، گندم 77.71فیصد، پیاز 75.86فیصد، گندم کا آٹا 67.56فیصد اور گوشت 14.53فیصد مہنگا ہوا۔اشیا کی قیمتوں میں یہ اضافہ صرف تیل کی مہنگائی کا نتیجہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ اشیاکی قیمتوں کو مستحکم رکھنے اور طلب و رسد کا توازن قائم رکھنے کیلئے جو کچھ حکومتی سطح پر ہونا چاہیے وہ ہوتا نظر نہیں آتا۔علاقائی جنگ کے اثرات اپنی جگہ مگر اپنی ناکامیوں کے نتائج کو جنگ کے ذمہ نہیں لگایا جا سکتا۔ اربابِ حکومت ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کو مہنگائی کا حقیقی ذمہ دار قرار دے چکے ہیں‘ لہٰذا انکی مؤثر روک تھام سے بھی مہنگائی کو قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔تیل کی قیمتوں میں عالمی منڈیوں کے براہِ راست اثرات سے ہماری معیشت کو لگنے والے جھٹکوں کی بڑی وجہ بھی ہماری حکومتوں کی یہ ناکامی ہے کہ ملک میں تیل کے محفوظ ذخائر تعمیر نہیں کیے جاسکے اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ توانائی کی درآمد پر انحصار بڑھ گیا۔
ملکی آبادی پچیس کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے مگر حکومتی سطح پر ایسے ذخائر کی تعمیر کا کسی کو خیال نہ آنا حیران کن ہے۔ بہرکیف حال ہی میں حکومت کی جانب سے پٹرولیم پالیسی میں ترمیم اور سٹرٹیجک پٹرولیم ذخائر کی تعمیر کا فیصلہ دیر آید درست آیدکے مصداق خوش آئند ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>چینی برآمد کا مطالبہ؟(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-04/11421</link><pubDate>Tue, 04 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-04/11421</guid><description>پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے حکومت سے پانچ لاکھ 85 ہزار ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت طلب کی ہے۔ ایسوسی ایشن کا مؤقف ہے کہ ملک میں چینی کے وافر ذخائر موجود ہیں جبکہ برآمد کی اجازت نہ ملنے سے شوگر ملوں اور صنعت کو مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ بظاہر یہ دلائل قابلِ غور محسوس ہوتے ہیں لیکن ماضی کے تلخ تجربات کسی بھی فیصلے سے پہلے غیرمعمولی احتیاط کا تقاضا کرتے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ چینی برآمد کی اجازت دینے سے قبل ملک بھر میں چینی کے دستیاب ذخائر اور مقامی کھپت کا آزادانہ اور شفاف آڈٹ کرائے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ ملکی ضرورت سے زائد چینی موجود ہے یا نہیں۔ گزشتہ چند برسوں سے ایک ہی طرزِ عمل بار بار دہرایا جا رہا ہے۔ پہلے یہ مؤقف اختیار کیا جاتا ہے کہ ملک میں ضرورت سے زیادہ چینی موجود ہے جس کی بنیاد پر برآمد کی اجازت دے دی جاتی ہے‘ لیکن کچھ ہی عرصہ بعد مقامی مارکیٹ میں قلت پیدا ہو جاتی ہے‘ قیمتیں بے قابو ہو جاتی ہیں اور حکومت کو مہنگے داموں چینی درآمد کرنا پڑتی ہے۔

اس پورے عمل کا مالی بوجھ عوام اور قومی خزانے دونوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ لہٰذا حکومت کو چینی کے ذخائر کی آزادانہ مانیٹرنگ‘ شفاف ڈیٹا‘ حقیقی طلب و رسد کی بنیاد پر ہی کوئی فیصلہ کرنا چاہیے۔ اگر واقعی ملکی ضروریات سے زائد چینی موجود ہو تو برآمد کی اجازت دی جا سکتی ہے لیکن اگر اس معاملے میں معمولی سی بھی غلطی ہوئی تو اس کے نتائج ایک مرتبہ پھر عوام کو مہنگی چینی کی صورت میں بھگتنا پڑیں گے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پٹرولیم مصنوعات، ریلیف ناکافی(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-04/11420</link><pubDate>Tue, 04 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-04/11420</guid><description>حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا یومیہ بنیاد پر تعین کرنے کے فیصلے کا یہ جواز پیش کیا گیا تھا کہ عالمی منڈی میں قیمتوں میں ہونے والی کمی کا فائدہ فوری طور پر عوام تک منتقل کیا جا سکے گا۔ لیکن گزشتہ پندرہ روز کے تجربے نے اس دعوے پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اس عرصے میں ڈیزل کی قیمت میں تقریباً 70 اور پٹرول کی قیمت میں 25 روپے فی لٹر سے زائد اضافہ ہو چکا ہے جبکہ کمی کے مواقع پر صارفین کو محض دو چار روپے تک کا ناکافی ریلیف ملا۔ یعنی قیمتیں بڑھانے میں تو روزانہ کے نظام پر سختی سے عمل کیا جا رہا ہے مگر عالمی منڈی میں کمی کا فائدہ منتقل کرنے میں وہی سرعت دکھائی نہیں دیتی۔

گزشتہ روز بھی عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً پانچ فیصد کمی کے بعد 83.8 ڈالر اور ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت تقریباً چھ فیصد کمی کے بعد تقریباً 80 ڈالر فی بیرل تک آ گئی۔ عالمی منڈی میں قیمتوں میں کمی کا فوری اثر مقامی قیمتوں میں بھی نظر آنا چاہیے۔ حکومت کو چاہیے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین کے نظام کو صرف اضافے کا ذریعہ نہ بنائے بلکہ عالمی منڈی میں کمی کا فائدہ بھی فوری‘ شفاف اور مکمل طور پر صارفین تک منتقل کرے۔ اسی کیساتھ پٹرولیم لیوی‘ مارجنز اور دیگر ٹیکسوں میں مناسب کمی پر بھی سنجیدگی سے غور کیا جائے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ماچس، بزرگ اور کان(محمد اظہارالحق)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-08-04/52417/39746499</link><pubDate>Tue, 04 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-08-04/52417/39746499</guid><description>&#39;&#39;اسلام آ باد (نیو ز ر پورٹر) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ہفتہ کے روز رائیونڈ میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعظم محمد نواز شریف سے ملاقات کی‘ اس موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار بھی موجود تھے‘ چاروں شخصیات نے ملاقات میں ملک کی مجموعی اور سیاسی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا‘‘۔خبر آپ نے پڑھی۔ یقینا آپ بھی میری طرح الحمدللہ کہیں گے۔ اس لیے کہ ملک محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ چار بڑے جو ملک چلانے کے ذمہ دار ہیں‘ اپنے فرائض سے غافل نہیں۔ ہم عوام‘ گھوڑے بیچ کر سو سکتے ہیں۔ چاروں بڑوں میں مکمل اتحاد اور فکری ہم آہنگی ہے۔ اختلاف کا امکان ہے نہ گنجائش۔ یہ چاروں بڑے نہ صرف ایک ہی صوبے سے ہیں‘ نہ صرف ایک ہی شہر سے ہیں‘بلکہ ایک ہی خاندان سے ہیں۔ یہی وہ عامل ہے جو عوام کے دلوں کو تقویت پہنچاتا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جب ملک پر ایک ہی خاندان کی حکومت ہو‘ اور حکومت کی کریم باپ بیٹی پر‘ بھائی بھائی پر‘ چچا بھتیجی پر اور سمدھی سمدھی پر مشتمل ہو تو یگانگت ملک کیلئے نیک فال ہوتی ہے۔ بالکل ایسے ہی اجلاس خلجی خاندان‘ تغلق خاندان اور مغل خاندان منعقد کیا کرتے تھے۔ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ ان خاندانوں کی حکومت صدیوں رہتی تھی۔ ہمارے آج کے شاہی خاندان کی حکومت کو بھی نصف صدی ہونے کو ہے۔ اس نصف صدی کے دوران ملک کا سب سے بڑا صوبہ پنجاب تو کم و بیش سارا عرصہ ہی اس خاندان کے پاس رہا۔ ہاں وفاق پر اس خاندان نے حکومت‘ گاہے گاہے‘ ایک اور خاندان کے ساتھ مل کر کی۔ پنجابی میں محاورہ ہے: رَل کھائیے تے کھنڈ کھائیے۔ یعنی جو شے باہمی مل کر کھا ئی جاتی ہے‘ وہ کھانڈ کی طرح میٹھی ہوتی ہے۔ دونوں خاندانوں نے‘ ماشاء اللہ اس معاملے میں‘ اس محاورے پر پوری طرح عمل کیا ہے۔کچھ عرصہ پہلے یہ کالم نگار بھی نئے صوبوں کے حق میں تھا مگر دیکھ رہا ہوں کہ موجودہ پارلیمنٹ کے ارکان مراعات کے حوالے سے &#39;ھل من مزید‘ کے نعرے بلند کر رہے ہیں‘ تنخواہیں فربہ سے فربہ تر کر رہے ہیں۔ سرکاری پاسپورٹوں کا اجرا آئندہ نسلوں تک لے جانا چاہتے ہیں‘ اکثرو بیشتر عمدہ قسم کی ربڑ سٹمپ ثابت ہوتے ہیں‘ اور اجلاس اٹینڈ کرنے سے پہلو تہی کرتے ہیں۔ اس صورتحال میں نئے صوبوں کی تشکیل کا سوچ کر لرزہ سا طاری ہو جاتا ہے۔ عقل کا تقاضا یہ ہے کہ اختیارات کو نیچے لایا جائے اور تحصیل اور ضلع میں مقامی حکومتیں قائم کی جائیں۔ جنرل پرویز مشرف سے ایک یہی کام اچھا صادر ہوا کہ ضلعی حکومتوں کو قائم کیا تھا۔ (ن) لیگ اور پی پی پی نے آکر اس نوخیز پودے کو درانتی سے کاٹا اور جانوروں کے چارے کا حصہ بنا دیا۔ دونوں بڑی جماعتیں نئے صوبوں کے حق میں نہیں۔ ایک سندھ کو صوبوں میں تقسیم نہیں کرنا چاہتی۔ دوسری پنجاب میں نئے صوبوں کی تشکیل کے خلاف ہے۔ یعنی لاڈلا پن ملاحظہ ہو کہ نئے صوبے بھی نہیں منظور اور صوبے کے اندر مقامی حکومتیں بھی نہیں گوارا۔ چپڑی اور دو دو۔ صوبے کی ظاہری اور کاغذی حدود تو بھکر سے لے کر قصور تک اور رحیم یار خان سے لے کر اٹک تک چاہئیں۔ لیکن پیار محبت صرف سینٹرل پنجاب کے چار پانچ اضلاع تک!! ولی دکنی کا شعر یاد آ گیا:عدو کو بادۂ خوش رنگ دے کے کہتے ہیںولی ولی ہے‘ ولی نے پیا‘ پیا‘ نہ پیادو بڑی پارٹیاں‘ جن کے پاس ملک کو چلانے کا ٹھیکہ غیر معینہ مدت تک ہے‘ اپنی بقا اور فیس سیونگ کیلئے بہتر ہے کہ مقامی حکومتوں کا ڈول ڈال لیں اور خانہ پُری کیلئے نہیں بلکہ خلوص سے!! فنڈز اور اختیارات مقامی حکومتوں کے حوالے کریں۔ ایسا نہ ہو کہ جو ہاتھ میں ہے اس سے بھی جائیں! کہ بقول فیض:پاپوش کی کیا فکر ہے دستار سنبھالوپایاب ہے جو موج‘ گزر جائے گی سر سےنصف صدی سے حکومتوں پر قابض خاندانوں کو چاہیے کہ خطے کی ہمعصر تاریخ کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ بھارت‘ بنگلہ دیش‘ نیپال اور پاکستان کے عوام کا ذہنی اور سماجی ڈی این اے ایک ہی ہے۔ اس سے پہلے کہ یہاں بھی کاکروچ یا چیونٹیاں یا شہد کی مکھیاں حملہ کر دیں‘ آنکھیں کھولیں۔ اگر نیپال کے عوام اس لیے اٹھ سکتے ہیں کہ حکمرانوں کے بچے امیر ملکوں میں گلچھرے اڑا رہے تھے تو یہاں بھی لوگ پوچھ سکتے ہیں اور پوچھیں گے کہ پوتے اور نواسے برطانیہ میں گالف کس حساب سے کھیل رہے ہیں اور &#39;&#39;وطنِ اصلی‘‘ لندن یا دبئی میں کیوں ہے؟ یہ خاندان یاد رکھیں:یوں بھی ہوتا ہے کہ آندھی کے مقابل چڑیااپنے پر تولتی ہےاک بھڑکتے ہوئے شعلے پہ ٹپک جائے اگربوند بھی بولتی ہے!ناصر کاظمی نے صبر کی تلقین کی تھی:تیری فریاد گونجے گی دھرتی سے آکاش تککوئی دن اور سہہ لے ستم‘ صبر کر صبر کریہ محلاتِ شاہی‘ تباہی کے ہیں منتظرگرنے والے ہیں ان کے علم صبر کر صبر کرکہیں ناصر کاظمی کی بات نہ مانتے ہوئے لوگ شہزاد احمد کے بتائے ہوئے راستے پر نہ چل پڑیں جس نے کہا تھا: اپنا حق شہزادؔ ہم چھینیں گے‘ مانگیں گے نہیں!اوپر نئے صوبوں اور مقامی حکومتوں کی بات ہوئی ہے۔ اس وقت ہمارے سیاستدانوں میں جناب نواز شریف سینئر ترین سیاستدان ہیں۔ ایک بڑی پارٹی انہیں اپنا قائد کہتی ہے۔ ملک کے سب سے بڑے صوبے اور وفاق میں کئی بار حکومتوں کے سربراہ رہ چکے ہیں۔ وقت کا تقاضا تو یہ تھا کہ وہ آگے بڑھتے۔ اس تنازعے کو سلجھانے کیلئے اپنا کردار ادا کرتے اور حکمرانوں اور مقتدرہ کو ایک نکتے پر جمع کرتے مگر افسوس! وہ اُس بورڈ کے سربراہ بن گئے ہیں جو لاہور کی ثقافتی میراث کو سنبھالے گا! عمر بھر ہنگامہ پرور سیاست کرنے والے شورش کاشمیری نے جب ہفت روزہ چٹان نکالا تو کسی نے کہا تھا کہ طوفانوں سے لڑنے والا شورش ایک چٹان کا سہارا لے کر بیٹھ گیا ہے۔ میاں صاحب نے بھی یہی کیا ہے۔ کہاں وزارتِ عظمیٰ اور جلا وطنیاں اور پابندیاں! اور کہاں محض ایک شہر کی ثقافتی زندگی کی ذمہ داری!! ملک کے کچھ مسائل بظاہر لاینحل ہیں اور ملک کو اندر ہی اندر سے کھوکھلا کر رہے ہیں‘ جیسے زرعی اصلاحات جس کے حوالے سے ہم بھارت سے بہت پیچھے ہیں۔ سرداری نظام گُھن کی طرح کھا رہا ہے۔ لازم تھا کہ اس معاملے میں ایک بااختیار کمیشن بنتا اور بڑے میاں صاحب اس کے سربراہ ہوتے۔ کچھ کر کے دکھاتے! نظام تعلیم کی ابتری اور انارکی دور کرنے کیلئے بھی ایک بااختیار کمیشن بننا چاہیے۔ میاں صاحب اس کے بھی سربراہ بنیں۔ مگر مسئلہ یہ بھی ہے کہ ان مسائل کے حل کیلئے گہرائی‘ گیرائی‘ مطالعہ اور ادراک کا ہونا بھی ضروری ہے۔ ایک بزرگ تھے جن کے بارے میں مشہور تھا کہ دانا ہیں۔ ان سے ایک طالبعلم نے پوچھا کہ حضرت! زندگی اور موت کی حقیقت کیا ہے؟ بزرگ کچھ دیر مراقبے میں چلے گئے۔ واپس آئے تو حکم دیا کہ ماچس لائی جائے۔ حسبِ حکم ماچس لائی گئی۔ سب تیلیاں نکالیں۔ پھر اندر ڈالیں۔ دیکھنے والے دم بخود! پھر سوچتے رہے۔ پھر ایک تیلی نکالی۔ مسالے والا حصہ توڑ کر پھینک دیا۔ جو باقی بچی اس سے کان کھجلانے لگے اور بولے: بیٹا مجھے کیا معلوم!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_57182973.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>چھ سال پرانی ملاقات کی تازہ صورتحال…(3)(خالد مسعود خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-08-04/52418/17876696</link><pubDate>Tue, 04 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-08-04/52418/17876696</guid><description>میں جب اپنے دوست کو ملتان سے اس کا پیٹ سکین کرانے کی غرض سے شیخ زاید ہسپتال سے منسلک انمول (انسٹیٹیوٹ آف نیوکلیئر میڈیسن اینڈ اونکالوجی لاہور) میں لے کر پہنچا تو وہاں میری ملاقات ڈاکٹر نُمیر سے ہوئی۔ گو کہ یہ ہماری پہلی ملاقات تھی مگر ڈیڑھ گھنٹے کے بعد جب میں وہاں سے اٹھا تو مجھے لگتا ہی نہیں تھا کہ ان کے ساتھ یہ میری پہلی ملاقات ہے۔ اس ملاقات میں جس چیز نے مجھے متاثر کیا وہ ان کی پیشہ ورانہ مہارت سے زیادہ اپنے شعبے کے ساتھ والہانہ محبت اور بے لوث وابستگی تھی۔ ملتان آ کر بھی میں اس پورے خطے میں پیٹ سکینر جیسی اہم اور ضروری سہولت سے محرومی پر فکرمند رہا۔ تاہم کچھ ہی دنوں بعد وزیراعلیٰ سے ہونے والی ملاقات کو میں نے اللہ کی طرف سے اس سلسلے میں ایک ذریعہ سمجھتے ہوئے پیٹ سکینر کیلئے کوشش شروع کی جو سراسر مخلوقِ خدا کی آسانی اور سہولت کیلئے تھی جس میں اللہ تعالیٰ نے اس فقیر کی خاص مدد فرمائی اور معاملات آگے چل پڑے۔ اس دوران جب میں نے پیٹ سکینر کی تنصیب کیلئے مینار کے بجائے نشتر ہسپتال کا سنا تو اس پر کالم بھی لکھا اور نوٹ لکھ لکھ کر وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں موجود اپنے دوست کو بھی بھیجتا رہا۔ سچ پوچھیں تو میرا مسئلہ نہ تو نشتر ہسپتال تھا اور نہ ہی &#39;&#39;مینار‘‘ تھا۔ میں تو صرف یہ چاہتا تھا کہ یہ ڈیڑھ دو ارب روپے کا پروجیکٹ ویسے ہی برباد نہ ہو جائے جیسے ہمارے ہاں بہت سی چیزیں صرف نااہل لوگوں کے ہاتھ میں جانے کی وجہ سے کاٹھ کباڑ میں بدل جاتی ہیں۔ یہ ایسے ہی ہے کہ آپ وڈیو گیم میں نہایت مہارت سے جنگی جہاز اڑانے والے کسی ٹین ایجر کو اس کی کمپیوٹر پر جہاز اڑانے کی صلاحیت کی بنیاد پر ایف سولہ جنگی جہاز کا پائلٹ منتخب کر لیں یا اپنی مرسڈیز گاڑی کو چلانے کیلئے کسی بیروزگار لیکن سفارشی سائیکل رکشے والے کو شوفر لگا لیں۔ میرا زور تو صرف اس بات پر تھا کہ دنیا بھر میں اس مشین کو چلانے کیلئے نیوکلیئر میڈیسن فزیشن جبکہ اس کی دیکھ بھال‘ مرمت اور مینٹیننس کیلئے درکار تکنیکی عملہ نیوکلیئر انجینئرنگ اور نیوکلیئر فزکس کے ماہرین پر مشتمل ہوتا ہے۔ ایسے ماہرین نہ صرف یہ کہ نشتر ہسپتال میں میسر نہیں بلکہ &#39;&#39;مینار‘‘ میں یہ دونوں سہولتیں پہلے سے میسر ہیں۔ صورتحال یہ ہے کہ نشتر ہسپتال میں نصب پیٹ سکینر کی نسبت کہیں کم پیچیدہ اور حساس سی ٹی سکین اور ایم آر آئی کی مشینیں اگر خراب ہو جائیں تو لاہور وغیرہ سے مرمت کیلئے آنے والے تکنیکی عملے کے انتظار میں کئی کئی ہفتے بند رہتی ہیں۔ ایسی صورت میں پیٹ سکینر جیسی انتہائی مہنگی مشین کو اناڑیوں یا کم علم کے حامل عملے کے سپرد کرنا اس کو برباد کرنے کے مترادف تھا۔ لہٰذا میری تمام کوششیں صرف یہ تھیں کہ مشین درست ہاتھوں میں چلی جائے۔ملتان میں پیٹ سکینر کی تنصیب کیلئے معاملات میں پیش رفت شروع ہوئی تو حکومت پنجاب نے اس سلسلے میں ایک کمیٹی بنا دی۔ یہ محض اتفاق ہے کہ انمول میں تعینات نیوکلیئر میڈیسن فزیشن ڈاکٹر نُمیر کو بھی اس کمیٹی کا رکن بنا دیا گیا۔ اس کمیٹی کے ممبر کے طور پر ڈاکٹر نمیر نے کئی بار ملتان کا دورہ کیا‘ اپنی ذاتی گاڑی پر بغیر کسی ٹی اے‘ ڈی اے کلیم اور کسی ہوٹل میں رہائش کی فرمائش سے بالاتر ہو کر وہ صبح لاہور سے آتے‘ کھانا اپنے پلّے سے کھاتے‘ میٹنگ اٹینڈ کرتے اور رات ہونے سے پہلے واپس لاہور چلے جاتے۔ اپنے عملی تجربے کی روشنی میں وہ اس سلسلے میں جس حد تک مدد‘ مشورہ اور تکنیکی معاونت کر سکتے تھے انہوں نے کی۔ اب صورتحال یہ ہے کہ پیٹ سکینر ملتان نشتر ہسپتال میں پہنچ چکا ہے۔پیٹ سکینر کے مکمل نظام کو چلانے کیلئے اضافی سہولتیں بھی درکار ہوتی ہیں۔ سب سے اہم چیز سائیکلو ٹرون سے ریڈیو آئسوٹوپ تیار کرنا ہے۔ اس کے علاوہ ریڈیو کیمسٹری لیبارٹری درکار ہے جہاں ان آئسو ٹوپس سے FDG اور دیگر ادویات بنائی جاتی ہیں۔ اس کیلئے نیوکلیئر میڈیسن فزیشن‘ نیوکلیئر میڈیسن ٹیکنالوجسٹ‘ میڈیکل فزیسسٹ‘ ریڈیو فارماسسٹ یا ریڈیو کیمسٹ کے علاوہ تربیت یافتہ معاون عملہ‘ ریڈی ایشن سیفٹی‘ ریڈیو فارمیسی‘ کمپیوٹر سسٹم اور کوالٹی کنٹرول سسٹم کی سہولتیں درکار ہیں۔ پیٹ سکینر کو اس کے پروٹوکول کے مطابق چلانا پندرہ بیس لوگوں کی انتہائی تربیت یافتہ ٹیم کا کام ہے۔ نشتر ہسپتال میں صرف پیٹ سکینر ہی نہیں بلکہ سائیکلوٹرون بھی نصب کیا جا رہا ہے۔ پیٹ سکین کیلئے پہلے انسانی جسم میں ایک تابکار نیوکلیئر دوائی داخل کی جاتی ہے جو یہ سائیکلو ٹرون تیار کرتا ہے۔میڈیکل سائیکلو ٹرون ایک چھوٹے پیمانے کے جوہری ری ایکٹر کی مانند ہوتا ہے جو ذرات (Particles) کو تیز رفتار دیتا ہے اور پی ای ٹی (PET) امیجنگ کیلئے مختصر عمر رکھنے والی تابکار نیوکلیئر ادویات تیار کرتا ہے۔ سائیکلو ٹرون برقی بار رکھنے والے ذرات (عموماً پروٹونز) کو دائرہ نما یا سپائرل راستے میں انتہائی تیز رفتار سے گردش کراتا ہے۔ یہ ایک مخصوص قسم کے پانی کو تابکار دوا میں تبدیل کرتا ہے جو پی ای ٹی سکین میں استعمال ہوتی ہے۔ حالیہ برسوں میں پروسٹیٹ اور دیگر اقسام کے سرطان اور کئی غیر سرطانی بیماریوں کی تشخیص کیلئے بھی متعدد نئی نیوکلیئر ادویات تیار کی جا چکی ہیں۔ سائیکلو ٹرون کے مؤثر طریقے سے کام کرنے کیلئے متعدد برقی اور میکینکل پرزوں کی ضرورت ہوتی ہے‘ جبکہ تابکاری سے تحفظ (Radiation Safety) کیلئے بھی خصوصی حفاظتی اقدامات ناگزیر ہوتے ہیں۔ بعض جدید سائیکلو ٹرون بڑی مقدار میں تابکار دوا تیار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ نشتر ہسپتال میں لگنے والے سائیکلو ٹرون سے اتنی مقدار میں دوا تیار کی جا سکتی ہے کہ نشتر ہسپتال کے مریضوں کی ضروریات پوری ہونے کے ساتھ ساتھ سڑک کے ذریعے ملتان اور قریبی شہروں میں قائم دیگر پیٹ سکینرز کو بھی فراہم کی جا سکتی ہے۔ میڈیکل سائیکلو ٹرون کو چلانے کیلئے ایک مکمل ماہر ٹیم درکار ہوتی ہے‘ کیونکہ اس کے تمام امور کا ذمہ دار کوئی ایک فرد نہیں ہوتا۔ مختلف ممالک کے ضوابط اور ادارے کے حجم کے مطابق ذمہ داریاں مختلف ہو سکتی ہیں۔ اس سہولت کو کامیابی سے چلانے کیلئے سائیکلو ٹرون انجینئر‘ سائیکلو ٹرون آپریٹر‘ ریڈیو کیمسٹ‘ ریڈیو فارماسسٹ‘ میڈیکل فزیسسٹ‘ نیوکلیئر میڈیسن فزیشن‘ پی ای ٹی‘ سی ٹی میں تربیت یافتہ ریڈیولوجسٹ اور تکنیکی عملے کی ایک مکمل ٹیم ضروری ہوتی ہے۔ پاکستان نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی (PNRA) سے پی ای ٹی‘ سی ٹی اور سائیکلو ٹرون کی تنصیب اور آپریشن کیلئے باقاعدہ منظوری حاصل کرنا لازمی ہے۔ میڈیکل فزیسسٹ اور سینئر نیوکلیئر میڈیسن فزیشن کی موجودگی کے بغیر اس سہولت کی منظوری نہیں دی جا سکتی۔میڈیکل سائیکلو ٹرون چلانے والے عملے کو اس کی دیکھ بھال اور آپریشن‘ تابکاری سے تحفظ‘ گڈ مینوفیکچرنگ پریکٹس (GMP)‘ ریڈیو کیمسٹری‘ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے طریقہ کار‘ مریضوں کی مناسب دیکھ بھال‘ اور پی ای ٹی‘ سی ٹی سکین کی تشریح اور رپورٹ تیار کرنے کی مہارت کی تربیت دی جاتی ہے۔ اس نازک کام کی انجام دہی کیلئے اگر اس مہارت کا حامل عملہ متعین نہ کیا گیا تو نہ صرف دو ارب کے لگ بھگ رقم ضائع چلی جائے گی بلکہ یہ سارا خطہ اس سہولت سے فائدہ بھی نہیں اٹھا پائے گا۔ نشتر ہسپتال کے ناقابلِ اصلاح حد تک بگڑے ہوئے انتظامی مسائل کے باعث مجھے خطرہ ہے کہ دو ارب روپے مالیت کے پیٹ سکینر نامی جے ایف 17 تھنڈر کی پائلٹ سیٹ پر کوئی چنگ چی کا ڈرائیور نہ بٹھا دیا جائے۔ اس قلمکار کے پاس سوائے کالم لکھنے کے اور کوئی ذریعہ نہیں جس کے زور پر ڈرائیونگ سے قطعی لاعلم ہیلپر کلینر کو مسافر بس کی ڈرائیوری سے روک سکے۔ (ختم)</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90500073.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ورلڈ بینک کی جادوئی ’دریافت‘(شاہد کاردار)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-kardar-/2026-08-04/52419/26073497</link><pubDate>Tue, 04 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-kardar-/2026-08-04/52419/26073497</guid><description>ابھی بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی گورننس سے متعلق بے جان رپورٹ کی گرد بھی پوری طرح نہیں بیٹھی تھی کہ ورلڈ بینک نے بھی ایک بڑی &#39;&#39;دریافت‘‘ کر ڈالی۔ عالمی بینک بڑے زور و شور سے پاکستان میں مالی وفاقیت کے بارے میں ایک رپورٹ کی شکل میں اپنا تازہ نسخہ لے آیا۔ اس رپورٹ میں نہ تو کوئی خاص نئی بات ہے‘ نہ کوئی ایسی فکری جہت جو سنجیدہ غور و فکر پر آمادہ کرے۔ یہ رپورٹ حد درجہ تکنیکی نوعیت کی ایک مشق سے زیادہ کچھ نہیں۔ اس میں پاکستان میں ادارہ جاتی کمزوریوں کی فہرست مرتب کی گئی ہے اور کئی سفارشات پیش کی گئی ہیں‘ مثلاً اخراجاتی ذمہ داریوں کی زیادہ واضح تقسیم‘ صوبائی محصولات کی مضبوط تر وصولی‘ قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں اصلاحات‘ زیادہ شفاف اور قواعد پر مبنی مالی منتقلیاں‘ بین الحکومتی ہم آہنگی کو زیادہ مؤثر بنانا اور بااختیار مقامی حکومتیں۔ اصولی طور پر ان سفارشات سے بہت کم لوگ اختلاف کریں گے۔ مسئلہ یہ ہے کہ رپورٹ ان سفارشات کو ایسے مسائل کے ٹیکنیکل حل کے طور پر پیش کرتی ہے جو بنیادی طور پر سیاسی نوعیت کے ہیں جبکہ پاکستان کی پولیٹکل اکانومی‘ وفاق اور صوبوں کے تعلقات کی بنیاد بننے والے آئینی معاہدے اور اس سیاسی سودے بازی کو‘ جس نے ملک کے مالیاتی ڈھانچے کو تشکیل دیا‘ محض سطحی انداز میں سمجھا گیا ہے۔ رپورٹ میں تجزیہ کرتے ہوئے یہ مفروضہ اختیار کیا گیا ہے کہ بہتر ٹیکنیکل انتظامات بتدریج وہ سیاسی حالات پیدا کر سکتے ہیں جو ان مجوزہ اقدامات کی کامیابی کیلئے ضروری ہیں۔ حقیقت میں یہ سیاسی حالات ادارہ جاتی اصلاحات کا نتیجہ نہیں بلکہ ان اصلاحات کو لانے کیلئے پیشگی شرط ہیں۔ ادارے سیاسی محرکات کو تشکیل نہیں دیتے بلکہ سیاسی محرکات اداروں کو تشکیل دیتے ہیں۔ رپورٹ بجا طور پر اسلام آباد کی جانب سے ان شعبوں میں مسلسل فراخدلانہ اخراجات پر تنقید کرتی ہے جو آئینی طور پر صوبوں کو منتقل کیے جا چکے ہیں۔ ان اخراجات کے نتیجے میں جوابدہی میں ابہام اور مالی عدم توازن پیدا ہوا لیکن رپورٹ اس بات کا جائزہ نہیں لیتی کہ کون سے محرکات اس صوبائی دائرہ اختیار میں مداخلت کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ اس کا جواب انتظامی کنفیوژن میں نہیں بلکہ سیاسی معیشت میں پوشیدہ ہے‘ یعنی سرپرستی کے نیٹ ورک کو برقرار رکھنا‘ سرکاری اداروں کی سلطنتوں اور ملازمتوں کے راستوں کا تحفظ کرنا‘ ادائیگیوں کے توازن کی مدد کیلئے ڈونرز کے مالی تعاون سے چلنے والے منصوبوں کو وفاقی سطح پر جگہ دینا اور ان شعبوں پر اثر و رسوخ برقرار رکھنا جنہیں آئین نے صوبائی حکومت کے سپرد کیا ہے۔صوبے بھی اس معاملے میں بے قصور نہیں ہیں۔ انہوں نے مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے میں بہت کم دلچسپی دکھائی اور اپنی آمدنی کے ذرائع پر ٹیکس نافذ کرنے سے مسلسل گریز کیا ہے کیونکہ وہ سیاسی طور پر بھاری ثابت ہو سکتے تھے‘ نیز اس لیے بھی کہ ان کے سالانہ مالیاتی سرپلس وفاقی خسارہ پورا کرنے کیلئے منتقل کر دیے جاتے ہیں۔ یہ سب سیاسی محرکات ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی بگاڑ اتفاقی نہیں۔ یہ محض تکنیکی غفلت نہیں ہے۔ یہ ایسے سیاسی محرکات کی پیداوار ہے جنہیں جان بوجھ کر پیدا کیا گیا اور بڑی احتیاط سے برقرار رکھا گیا۔ اس کے باوجود ورلڈ بینک کی رپورٹ میں ان محرکات پر سرسری توجہ دی گئی کیونکہ وہ تکنیکی بیانیے میں آسانی سے فٹ نہیں بیٹھتے۔ خود ورلڈ بینک کا کئی دہائیوں تک مؤقف رہا کہ عدم مرکزیت (اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی)‘ بہتر جوابدہی‘ مضبوط صوبائی ملکیت اور بہتر عوامی خدمات کے حصول کا راستہ ہے۔ اس نے اٹھارہویں آئینی ترمیم کا خیر مقدم کیا تھا اور صوبوں کو اپنی وسیع تر ذمہ داریوں کی انجام دہی میں مدد دینے کیلئے وسائل بھی فراہم کیے تھے۔ اب جبکہ پاکستان شدید مالی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے‘ ورلڈ بینک کا بیانیہ بدل چکا ہے۔ اب عدم مرکزیت کو بڑھتی ہوئی حد تک انتشار‘ غیر ضروری تکرار اور معاشی استحکام میں خلل کا سبب قرار دیا جا رہا ہے۔ دونوں مؤقف کسی نہ کسی حد تک درست ہیں۔ لیکن رپورٹ یہ واضح نہیں کرتی کہ جس انتظام کو کبھی جمہوری اور ترقیاتی پیشرفت قرار دے کر سراہا گیا تھا وہ اچانک مالیاتی طور پر خراب کارکردگی کا بنیادی سبب کیسے بن گیا؟ کئی دہائیوں سے ورلڈ بینک پاکستان کے ترقیاتی منظرنامہ میں سب سے زیادہ سرگرم کرداروں میں شامل رہا ہے۔ اس نے نظام کی ساخت میں اصلاحات کے پروگراموں‘ سوشل ایکشن پروگرام‘ گورننس کی اصلاحات‘ عوامی اخراجات کے جائزوں‘ ٹیکس انتظامیہ کے منصوبوں‘ ادارہ جاتی مضبوطی کے اقدامات اور بے شمار تکنیکی معاونتی مشنوں کے ذریعے اربوں ڈالر خرچ کیے اور معیشت کے تقریباً ہر بڑے شعبہ میں مشورہ دیا‘ مالی معاونت فراہم کی‘ نگرانی کی اور جائزہ لیا۔ وہ کبھی بھی ایک غیر جانبدار بیرونی مبصر نہیں تھا۔ بہت کم ادارے یہ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ انہوں نے پاکستان کی عوامی پالیسی پر اس قدر گہرا اثر ڈالا ہو جتنا ورلڈ بینک نے ڈالا۔ اس طویل وابستگی کے باوجود ورلڈ بینک نے شاذو نادر ہی پاکستان کے مالیاتی ڈھانچے میں موجود آئینی تضادات اور ساختی خامیوں کی نشاندہی کی۔ یہ تضادات اور خامیاں ہی اس کی مدد سے چلنے والے پروگراموں کی کامیابی میں رکاوٹ بننے والے بنیادی عوامل تھے۔ ان کمزوریوں کو عالمی بینک اب ایک &#39;&#39;دریافت‘‘ کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ یہ کمزوریاں راتوں رات پیدا نہیں ہوئیں۔ یہ ابتدا ہی سے نظام کا حصہ تھیں۔ اب یہ رپورٹ کمزور تعلیمی نتائج‘ صحت کے ناقص اشاریوں‘ غیر مؤثر عوامی اخراجات اور خدمات کی بگڑتی ہوئی فراہمی کو اس بات کا ثبوت قرار دیتی ہے کہ مالی وفاقیت کو فوری اصلاح کی ضرورت ہے۔ ورلڈ بینک کا یہ کہنا غیر ارادی طور پر ایک ایسے ترقیاتی ماڈل پر فردِ جرم عائد کرنے کے مترادف ہے جس میں خود ورلڈ بینک ایک مرکزی شریک کار رہا ہے۔ ورلڈ بینک کے یہ انکشافات پالیسی سے متعلق بحثوں سے واقف کسی شخص کیلئے ہرگز نئے نہیں ہیں۔ ملکی ماہرین معاشیات‘ آئینی ماہرین‘ متعدد پالیسی کمیشنوں اور قومی مالیاتی کمیشن نے بارہا حکومتی اخراجات کی عدم مرکزیت اور محصولات کی مرکزیت کے درمیان کشیدگی کو نمایاں کیا ہے۔ترقی یقینا ایک دشوار عمل ہے۔ بیرونی ادارے نہ تو سیاسی مفاہمت پیدا کر سکتے ہیں اور نہ آئینی اتفاقِ رائے۔ وفاق کسی تجارتی ادارے کی طرح نہیں ہوتا جس کی کامیابی کو مالی تناسب سے ناپا جا سکے۔ پاکستان کا وفاقی ڈھانچہ ایسے سیاسی معاہدے کے نتیجے میں وجود میں آیا تھا جس کا مقصد صوبوں کی دیرینہ شکایات اور ضرورت سے زیادہ مرکزیت کے احساس کا ازالہ کرنا تھا۔ اس لیے کوئی بھی جائزہ جو انتظامی اور مالی کارکردگی پر زور دے لیکن سیاسی عوامل کو پس منظر میں دھکیل دے‘ وہ نامکمل تشخیص کرتا ہے۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ یہ بھی تسلیم کیا جائے کہ رپورٹ میں کہیں کہیں ان سیاسی پہلوؤں کا اعتراف بھی کیا گیا ہے لیکن وہ محض ضمنی حیثیت رکھتے ہیں۔ رپورٹ کے تکنیکی مشاہدات عمومی طور پر درست ہیں۔ پاکستان کو زیادہ واضح اخراجاتی ذمہ داریوں‘ صوبائی سطح پر زیادہ محصولات‘ شفاف مالی منتقلی‘ مؤثر مقامی حکومتوں اور زیادہ مربوط بین الحکومتی ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔ لیکن ان میں سے کوئی بھی اصلاح اس وقت تک قائم نہیں رہ سکتی جب تک وہ سیاسی محرکات تبدیل نہ ہو جائیں جنہوں نے ماضی کی ہر اصلاحی کوشش کو ناکام بنایا۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں رپورٹ ناکام دکھائی دیتی ہے۔ وہ اپنی تشخیص کو ایک نئی دریافت کے طور پر پیش کرتی ہے مگر کسی سنجیدہ خود احتسابی سے گریز کرتی ہے۔ حکومتوں کو کئی دہائیوں تک مشورے دینے‘ اصلاحات کی مالی معاونت کرنے‘ اداروں کا جائزہ لینے اور عوامی پالیسیوں کی تشکیل میں کردار ادا کرنے کے بعد ورلڈ بینک کو دیانتداری سے اس سوال کا سامنا کرنا چاہیے کہ وہ ملک کی ترقی میں اس قدر گہرائی سے شامل ایک ادارہ ہے تو اس نتیجے تک اتنی دیر سے کیسے پہنچا جس کی نشاندہی پاکستانی بہت پہلے کر چکے تھے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_78012569.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ڈھائی سالہ حکومتی سسٹم(رشید صافی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-08-04/52420/68427449</link><pubDate>Tue, 04 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-08-04/52420/68427449</guid><description>پاکستان میں جمہوریت اکثر و بیشتر اقتدار کی مجبوریاں سمیٹے سیاسی اتحادوں کے مرہونِ منت رہی ہے۔ معلق ایوان‘ سیاسی جوڑ توڑ اور مفادات کی بنیاد پر بننے والے یہ الحاق بظاہر تو حکومت سازی کا راستہ ہموار کر دیتے ہیں مگر ان کی بنیادیں اس قدر کمزور ہوتی ہیں کہ معمولی ارتعاش ان کے وجود کو متزلزل کر دیتا ہے۔ اتحاد کے ابتدائی دور میں تو خوش فہمیاں اور مصالحت کی فضائیں برقرار رہتی ہیں‘ مگر جوں جوں وقت گزرتا ہے اندرونی اختلاف‘ باہمی بے اعتمادی اور نادیدہ تحفظات کھل کر سامنے آنے لگتے ہیں۔ فروری 2024ء کے عام انتخابات کے بعد وفاق میں وجود میں آنے والی حکومت بھی اسی روایتی سیاسی طرزِ عمل کی ایک زندہ مثال ہے۔ اس سیٹ اَپ کا سارا بوجھ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کی شراکت داری پر ہے۔ تاہم اس بار ماضی کے مقابلے میں مختلف حکمت عملی دیکھنے کو ملی۔ پیپلز پارٹی نے حکومت کو قائم رکھنے کے لیے ووٹ تو دیا اور اسے سہارا بھی فراہم کیا مگر کابینہ اور وزارتوں کا حصہ بننے سے صریحاً گریز کیا۔ اس رویے کے پیچھے سیاسی سوچ اور معاشی بصیرت کارفرما تھی کیونکہ ملک جس معاشی بحران سے گزر رہا تھاپیپلز پارٹی اس کا بوجھ اپنے سر لینے سے بچنا چاہتی تھی تاکہ اس کی سیاسی ساکھ متاثر نہ ہو۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ موجودہ حکومتی بندوبست تین ایسے سنگین چیلنجز کی زد میں آ چکا ہے جو اس کی آئینی پائیداری کو کھوکھلا کر رہے ہیں۔ اوّل سخت معاشی فیصلوں اور دعوؤں کے باوجود معیشت میں خاطر خواہ استحکام نہیں آ سکا اور مہنگائی کی چکی میں پستا عام آدمی اب بھی ریلیف سے محروم ہے۔ حکومت کے پاس اگرچہ جواز ہے کہ مہنگائی کی بنیادی وجہ ایران امریکہ جنگ ہے تاہم عام شہری کہاں گہرائی میں جا کر معاملات کا ادارک کرتا ہے۔ دوم سیاسی محاذ پر تناؤ کم ہونے کے بجائے بڑھ چکا ہے۔پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان اسیری کے باوجود عوام کے ایک طبقے میں مقبول ہیں‘ جس نے اپوزیشن کے بیانیے کو کمزور ہونے نہیں دیا اور حکومت کے لیے  مسلسل قانونی و اخلاقی دباؤ پیدا کر رکھا ہے۔ سوم فروری 2024ء کے الیکشن کے بعد قائم ہونے والے حکومتی اتحاد میں دراڑیں محسوس کی جا رہی ہیں۔ جب اتحادی ہی ایک دوسرے کی پالیسیوں پر کھل کر تحفظات کا اظہار کرنے لگیں تو نہ صرف فیصلہ سازی کا عمل سست روی کا شکار ہوتا ہے بلکہ اقتدار کے ایوانوں میں قائم ناپائیدار استحکام بھی بکھرنے لگتا ہے۔ حکومتی اتحادیوں کے درمیان پائی جانے والی خلیج اور تناؤ کے واضح مظاہر حال ہی میں آزاد کشمیر کے الیکشن میں کھل کر سامنے آئے ‘ جہاں دونوں اتحادی جماعتیں ایک دوسرے کے مدمقابل آن کھڑی ہوئیں۔ یہاں اتحاد کی کمزوریاں اور مصلحت کے پردے چاک ہو چکے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ (ن) پر دھاندلی کے شدید الزامات عائد کیے ہیں اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے اہم اتحادی پر تنقید کے نشتر چلائے جا رہے ہیں۔ بات محض لفظی جنگ تک محدود نہیں رہی بلکہ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے الیکشن میں مبینہ دھاندلی کے اعتراضات اٹھا کر اس عمل کے بائیکاٹ کا اشارہ بھی دے دیا ہے۔ اگر پیپلز پارٹی اس اہم مرحلے پر آزاد کشمیر الیکشن کا بائیکاٹ کرتی ہے تو اس سے نتائج کی عددی ترتیب پر شاید کوئی خاص فرق نہ پڑے کیونکہ (ن) لیگ الیکشن میں پہلے ہی اکثریت حاصل کرنے کی پوزیشن میں آ چکی ہے۔ تاہم اس سے انتخابات کی شفافیت اور ساکھ پر بہت بڑا سوالیہ نشان ثبت ہو جائے گا۔ پی ٹی آئی پہلے ہی اس عمل سے باہر تھی اب اگر پیپلز پارٹی بھی کنارہ کشی اختیار کرتی ہے تو اس الیکشن کو یکطرفہ اور غیرمعتبر قرار دیا جائے گا۔جب سیاسی اتحادی ٹوٹنے لگتے ہیں تو عموماً اسی قسم کے گلے شکوے اور الزامات جنم لیتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کی جانب سے ملنے والے یہ اشارے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ حکومتی اتحاد اب اپنی مدت پوری کر چکا ہے‘ جب سیاسی اتحاد کی بنیادیں ہل جائیں تو مرکزی حکومت کا قائم رہنا مشکل ہو جاتا ہے۔ گورننس پر اچانک اٹھنے والے سوالات محض کوئی اتفاق نہیں ہیں بلکہ یہ سیاسی تبدیلی  کا پیش خیمہ معلوم ہوتے ہیں۔ دوسری جانب ملک میں اندرونی سطح پر سکیورٹی چیلنجز بدستور موجود ہیں بلکہ پچھلے کچھ عرصے سے ان میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی لہر سے نمٹنے کے لیے حکومت کا مضبوط ہونا نہایت ضروری ہے کیونکہ مضبوط حکومت اور سکیورٹی فورسز مل کر ہی ریاست مخالف عناصر کے منصوبوں کو ناکام بنا سکتے ہیں۔ مئی 2025ء کے معرکۂ حق کی شاندار کامیابی کے بعد حکومت کا جو مورال بلند ہوا تھا اس نے قوم کو ایک پیج پر جمع کر دیا تھا‘ عام شہری سے لے کر اپوزیشن جماعتوں تک سبھی ایک لڑی میں پروئے نظر آ رہے تھے مگر وقت گزرنے کے ساتھ وہ جذبہ ماند پڑ رہا ہے۔ عوام کو مطمئن کرنے کے لیے معیشت کی بحالی اور امن و امان کے لیے جن ٹھوس اور دیرپا اقدامات کی اشد ضرورت تھی‘ وہ سیاسی کشمکش اور عدم استحکام کی نذر ہو گئے۔ گڈ گورننس اور عوام کو ریلیف ہی قوم کو جوڑے رکھنے کا وہ واحد طریقہ ہے۔ہمارے جمہوری نظام کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہاں حکومتوں کو اپنی آئینی مدت پوری کرنے سے پہلے ہی رخصت کرنے کا ماحول پیدا کر دیا جاتا ہے۔ یہ ایسی روایت بن چکی ہے جس نے ہمارے جمہوری عمل کو اپاہج کر کے رکھ دیا ہے۔ قبل از وقت رخصتی کا  نقصان یہ ہوتا ہے کہ حکومت اپنے طویل مدتی منصوبے پیش کرنے اور ڈِلیور کرنے میں ناکام رہتی ہے۔ کسی بھی حکومت کے ابتدائی دو سال عالمی برادری اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ سفارت کاری‘ اعتماد سازی اور معاہدے طے کرنے میں گزرجاتے ہیں۔ دو سال کی محنت کے بعد جب معاہدوں کی عملی شکل اور نتائج سامنے آنے کا وقت ہوتا ہے تو ملک میں حکومت کی رخصتی کا سامان تیار ہو چکا ہوتا ہے نتیجتاً ملک اور عوام ان فوائد سے محروم رہ جاتے ہیں جو اِن پالیسیوں کے ثمرات کی صورت میں مل سکتے تھے۔ ہمیں بطور قوم اور ریاست اس روایت کو ختم کرنا ہو گا۔ سیاسی جماعتوں کو بھی اپنی اپروچ میں پختگی لانا ہو گی اور یہ حقیقت تسلیم کرنا ہو گی کہ اگر کوئی حکومت پانچ سال کی آئینی مدت کے لیے چنی گئی ہے تو ڈھائی سال بعد اس کے راستے میں مشکلات اور رکاوٹیں کھڑی کرنے سے حکومت کی کارکردگی اور گورننس شدید متاثر ہوتی ہے۔پاکستان میں بظاہر جمہوری نظام کا ڈھانچہ تو موجود ہے مگر ہماری سیاسی قیادت اور جماعتیں ان خامیوں کو دور کرنے سے گریزاں رہتی ہیں جو جمہوریت کی حقیقی روح اور شفافیت کے منافی ہیں۔ تاریخ گواہ ہے وہی اقوام ترقی کے اوج پر پہنچی ہیں جنہوں نے سیاسی استحکام کو اپنا شعار بنایا اور طویل المدتی منصوبوں کو تسلسل فراہم کیا۔ محض دو یا ڈھائی سال کی عارضی حکمت عملی سے نہ تو کوئی ریاست اپنی معیشت کو بہتر کر سکتی ہے اور نہ ہی چیلنجز سے نبرد آزما ہو سکتی ہے۔ اس لیے جب تک ہم اپنے سیاسی رویوں میں وژن اور آئینی و پالیسی کے تسلسل کو بنیادی شرط کے طور پر شامل نہیں کرتے‘ حکومتوں کو وقت سے پہلے رخصت کرنے کا سلسلہ جاری رہے گا۔ آئین میں منتخب حکومت کی مدت پانچ سال مقرر ہے مگر حکومت ڈھائی‘ تین سال کے بعد ہی عملی طور پر مفلوج ہو کر رہ جاتی ہے۔ اقتدار کے تمام شراکت داروں کو یہ بات ملحوظِ خاطر رکھنا ہو گی کہ حقیقی جمہوری اقدار اور پائیدار آئینی تسلسل کے بغیر نہ معیشت کو استحکام مل سکتا ہے اور نہ ہی عوام جمہوریت کے حقیقی ثمرات سے مستفید ہو سکتے ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/222_48272610.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>دہشت گردی، بلوچستان اور سیاست(ڈاکٹر رشید احمد خاں)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr-rasheed-ahmad-khan/2026-08-04/52421/25249904</link><pubDate>Tue, 04 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr-rasheed-ahmad-khan/2026-08-04/52421/25249904</guid><description>اس امر میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ دہشت گردی قومی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ گزشتہ دو‘ ڈھائی دہائیوں کے دوران ہماری مسلح افواج‘ پولیس اور دیگر اداروں کے اہلکاروں نے دہشت گردوں کے بزدلانہ حملوں کو پسپا کرنے کے لیے اپنی جانوں کی قربانی دینے سے کبھی گریز نہیں کیا‘ لیکن یہ ناسور ابھی تک جڑ سے ختم نہیں ہو سکا۔انسٹیٹیوٹ فار اکنامکس اینڈ پیس کی جانب سے جاری کردہ گلوبل ٹیررازم انڈیکس 2026ء میں پاکستان کو 2025ء میں دنیا میں دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک قرار دیا گیا۔ 2026ء کے گزشتہ سات ماہ کے دوران بھی ملک بالخصوص بلوچستان اور خیبر پختونخوا تواتر سے دہشت گردی کی زد میں رہے ہیں۔ سکیورٹی مسائل سب سے زیادہ بلوچستان میں ہیں‘ جہاں دہشت گردی سے مجموعی اموات جون میں 109 کے مقابلے میں 241 فیصد اضافے کے ساتھ جولائی میں 372 تک پہنچ گئیں۔ رقبے کے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے اور اپنے جغرافیائی محل وقوع کے اعتبار سے سب سے اہم صوبے میں دہشت گردی کے بڑھتے خطرات کے پیشِ نظر جولائی کے شروع سے سکیورٹی فورسز کی طرف سے دہشت گردوں کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز اور ٹارگٹڈ کارروائیاں جاری ہیں۔ سکیورٹی فورسز کی طرف سے یہ کارروائیاں پہلے &#39;&#39;شعبان‘‘ اور اب &#39;&#39;العزم‘‘ کے نام سے کاؤنٹر ٹیررازم آپریشنز کے تحت جاری ہیں۔ ان آپریشنز میں ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر کے مطابق پانچ جولائی سے 15 جولائی تک 129دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔ 31 جولائی کو ڈی جی آئی ایس پی آر نے جو پریس کانفرنس کی اس میں بلوچستان کے مسئلے کو تفصیلی طور پر ڈسکس کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ رواں سال اب تک بلوچستان میں 31 ہزار 80 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے گئے ہیں‘ اس کے مقابلے میں خیبر پختونخوا میں آپریشنز کی تعداد سات ہزار 177 رہی۔ ترجمان پاک فوج کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ آپریشنز اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ کر باہر نہیں پھینک دیا جاتا۔سکیورٹی امور سے متعلق ایک پاکستانی تھنک ٹینک کی رپورٹ کے مطابق جولائی کا مہینہ خاص طور پر خونریز ثابت ہوا۔ اس مہینے میں دہشت گردی کے 71واقعات ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق جولائی کے دوران ایک طرف دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا جبکہ دوسری جانب سکیورٹی فورسز نے بھی اپنی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق جولائی میں 112 سکیورٹی فورسز اہلکار شہید ہوئے۔ البتہ سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں 401 دہشت گرد مارے گئے‘ جو گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے میں کسی ایک مہینے کے دوران مارے جانے والے دہشت گردوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ 74 شہری اور امن کمیٹیوں کے 19 ارکان بھی دہشت گردی کا نشانہ بن گئے۔جولائی میں خودکش حملوں کے کم از کم آٹھ واقعات رپورٹ ہوئے اور یہ بھی گزشتہ ایک دہائی کے دوران کسی ایک مہینے میں ریکارڈ کیے گئے خودکش حملوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ اس رپورٹ میں آنے والے مہینوں میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کیونکہ دہشت گردی کے واقعات اب پھر سے ان علاقوں تک پھیلنے لگے ہیں جو اس سے پہلے پُرامن یا آپریشنز کے بعد دہشت گردوں سے پاک سمجھے جاتے تھے۔ اس قسم کا ایک افسوسناک واقعہ جمعہ‘ 24 جولائی کو خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک میں پیش آیا جس میں فوج اور پولیس کی ایک مشترکہ چیک پوسٹ پر دہشت گردوں نے بارود سے بھری گاڑی کے ساتھ حملہ کیا۔ اس حملے میں 15 اہلکارشہید ہوئے جن میں 12فوجی‘ دو پولیس اہلکار جبکہ ایک محکمہ جنگلات کا عہدیدار تھا۔29 اور 30 جولائی کی درمیانی شب ضلع ہنگو میں ایک چیک پوسٹ پر حملہ کیا گیا جس میں ایک ڈی ایس پی سمیت نو پولیس اہلکار شہید اور 26 دیگر زخمی ہو گئے۔ اس سے قبل بلوچستان میں ایک ڈی ایس پی اور ایک سیشن جج سمیت متعدد افراد شہید ہو چکے ہیں۔ملک میں دہشت گردی کی اس اٹھتی ہوئی لہر‘ خاص طور پر بلوچستان کی بگڑتی صورتحال کے پیشِ نظر حکومت نے انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں کا دائرہ کار وسیع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کے ایک بیان کے مطابق یہ فیصلہ ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت نے مشترکہ طور پر کیا ہے جس کے تحت دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں سے کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی اور آخری دہشت گرد کے ختم ہونے تک یہ مہم جاری رہے گی۔ قوم کو اپنی سکیورٹی فورسز پر پورا اعتماد ہے اور وہ ان کی قربانیوں پر خراج تحسین پیش کرتی ہے۔ اس بات پر بھی ملک میں مکمل اتفاقِ رائے پایا جاتا ہے کہ جو عناصر اپنے مذموم مقاصد کیلئے ملک میں امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنے پر تلے ہوئے ہیں‘ ان سے پوری قوت کے ساتھ نمٹنا چاہیے‘ مگر اس مقصد کیلئے عوام کا اعتماد حاصل کرنا بھی ضروری ہے کیونکہ عوام کی حمایت کے بغیر کوئی جنگ‘ خواہ وہ دہشت گردی کے خلاف ہی کیوں نہ ہو‘ نہیں جیتی جا سکتی۔ دہشت گردی کے خلاف موجودہ حکمت عملی کے حوالے سے مختلف حلقوں کی طرف سے جن تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ اس میں طاقت کے استعمال پر زیادہ زور دیا جا رہا ہے‘ جو موجودہ حالات میں اگرچہ ناگزیر ہے مگر ایک جامع اور طویل حکمتِ عملی میں طاقت کے استعمال کے ساتھ ساتھ سیاسی ذرائع کا استعمال بھی لازمی ہے ۔پاکستان‘ خاص طور پر بلوچستان میں جو نوجوان مرد اور خواتین دہشت گردی میں ملوث ہیں ان میں سے ایسے بھی ہو سکتے ہیں جو جھوٹے اور بے بنیاد پروپیگنڈے کا شکار ہو کر اس غلط راہ پر چل رہے ہوں۔ ان کے ساتھ رابطہ پیدا کر کے اور ڈائیلاگ کا طریقہ اختیار کر کے انہیں راہِ راست پر لایا جا سکتا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ مہینے کوئٹہ میں گرینڈ جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیاتھا کہ بلوچستان کے وہ نوجوان جو دہشت گردوں کے گمراہ کرنے پر اُن کی صفوں میں شامل ہو چکے ہیں‘ ان کو قومی دھارے میں لایا جائے گا۔ اس کے ساتھ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا تھا کہ بلوچستان میں تصادم کا باعث بننے والے تنازعات کو ڈائیلاگ کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔بلوچستان کے مسئلے سے جو لوگ واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہ مسئلہ بہت پرانا ہے اور اسے صرف طاقت کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا۔ پرویز مشرف کہا کرتے تھے کہ بلوچستان کا مسئلہ صرف چند سرداروں کا پیدا کردہ ہے‘ اور 2005ء میں نواب اکبر بگٹی کو ختم کر کے سمجھ بیٹھے تھے کہ بلوچستان کا مسئلہ بھی ختم ہو جائے گا۔ لیکن گزشتہ دو دہائیوں کے دوران صوبے میں صورتحال مزید پیچیدہ ہو چکی ہے۔ اب معاملہ صرف چند سرداروں تک محدود نہیں رہا بلکہ دہشت گرد یونیورسٹیوں اور کالجوں میں زیر تعلیم نوجوانوں کو بھی اپنے مذموم مقاصد کیلئے استعمال کر تے ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کی ایک پریس ریلیز میں بھی کہا گیا کہ گرفتار ہونے والے مشتبہ دہشت گردوں میں خواتین بھی شامل ہیں۔ کچھ عرصہ پیشتر کراچی میں بی ایل اے سے تعلق رکھنے اور چینیوں کو خودکش حملے سے ہلاک کرنے والی خاتون نہ صرف پڑھی لکھی تھی بلکہ ایک ماں بھی تھی۔ بی این پی (مینگل) کے سربراہ اختر مینگل کی رائے میں بلوچستان کا مسئلہ پوائنٹ آف نو ریٹرن سے گزر چکا لیکن ڈائیلاگ کے ذریعے اب بھی حل نکالاجا سکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی شخصیات ہمت کریں اور دیگر حلقوں کو بھی قائل کر یں اور بلوچستان میں اپنے امن مشن کا آغاز کریں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90264263.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ہم ہی ٹھہرے ہیں سزاوار…(حافظ محمد ادریس)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/hafiz-muhammad-idreess/2026-08-04/52422/58696692</link><pubDate>Tue, 04 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/hafiz-muhammad-idreess/2026-08-04/52422/58696692</guid><description>اجمل ملک کے بعد باری باری تمام افراد کو اندر بلایا گیا۔ پہلے جن لوگوں کو بلایا گیا‘ وہ تھے جنہیں بری کیا گیا تھا۔ فیصلہ سنانے کے بعد وہی ہوتا جو اس سے پہلے اجمل ملک کے ساتھ ہوا۔ یعنی فیصلہ سناتے ہی ایک سپاہی انہیں پکڑ کر عمارت کے مرکزی دروازے سے باہر دھکیل دیتا۔ بعد ازاں ان لوگوں کی باری آئی جنہیں سزا سنائی گئی تھی۔ عبدالرحیم‘ عبدالجبار قریشی‘ اشفاق حسین‘ بارک اللہ خان‘ تنویر عباس تابش اور یہ خاکسار؛ کل چھ ساتھی قید ہوئے‘ باقی سب رہا ہو گئے۔ جن لوگوں کو سزا ملی ان پر یہ الزام نہ تو ثابت ہوا کہ انہوں نے توڑ پھوڑ کی تھی اور نہ ہی حقیقت میں ان میں سے کسی نے توڑ پھوڑ کی تھی۔ بارک اللہ خان صاحب کو تو یونہی دھر لیا گیا تھا۔ باقی طلبہ کو محض اس بنیاد پر سزا دی گئی کہ ان سے متعلق ثابت ہو چکا تھا کہ وہ اُس رات موقع پر موجود تھے۔ ہمیں کیمپ جیل پہنچا دیا گیا۔ باقی ساتھیوں کا سامان منشی اور نمبردار قسم کے پرانے قیدیوں کے ہاتھ باہر بھجوا دیا گیا۔ہم سب نے ایک ایک سال قید کیلئے اپنے دل ودماغ کو تیار کر لیا تھا۔ ایک سال کی سزا سن کر بارک اللہ خان اپنے مخصوص لہجے میں کہنے لگے: چلو خیر ہی گزر گئی۔ ایک سال کا کیا ہے گزر ہی جائے گا۔ اس پر کسی ساتھی نے گرہ لگائی: خان صاحب کتنے دنوں میں؟ جواب دیا: چٹکی بجانے میں۔ اس پر سبھی ساتھی خوب ہنسے۔ ہم نے جیل آنے کے پہلے ہی دن سے سب ساتھیوں کی مختلف ڈیوٹیاں لگا دی تھیں۔ میرے ذمے افسران اور جیل حکام سے بات چیت کرنا‘ اپنے مطالبات ان تک پہنچانا اور انہیں منوانا وغیرہ کے کام تھے۔ بارک اللہ خان کی ذمہ داری خوراک اور طعام کی ترسیل اور انتظام پر تھی‘ جبکہ باقی ساتھیوں کا کام سیل کی صفائی‘ کھانے کی تیاری اور برتن دھونا اور نماز کیلئے صفیں بچھانا وغیرہ تھی۔سزایابی کے بعد ابھی تھوڑے ہی دن گزرے تھے کہ ہماری &#39;&#39;چالی‘‘ کا آرڈر آ گیا۔ چالی جیل کی اصطلاح ہے‘ جس کے معنی ہیں کہ قیدی کو اس جیل سے کسی دوسری جیل میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ اسے منتقلی بھی کہا جا سکتا ہے مگر جیل میں &#39;&#39;چالی‘‘ ہی کہا جاتا ہے۔ صبح ہی صبح بعض نمبرداروں اور وارڈنز کی زبانی سنا کہ ہماری چالی کے احکامات آ گئے ہیں۔ مجھے دوستوں نے ڈیوڑھی میں جا کر صحیح صورتحال معلوم کرنے کا کہا۔ میں نے پتا کیا توخبر درست تھی۔ میں نے تحریری احکام میں دیکھا کہ ہم سب کو الگ الگ‘ مختلف جیلوں میں بھیجے جانے کا فیصلہ ہوا تھا۔ میں نے واپس آکر دوستوں کو بتایا کہ ہم سب لوگ متفرق جیلوں میں جا رہے ہیں۔ بارک اللہ خان سینٹرل جیل ملتان‘ عبدالجبار قریشی بہاولپور‘ اشفاق حسین سیالکوٹ‘ عبدالرحیم میانوالی‘ تنویر تابش شاہ پور اور میں سینٹرل جیل ساہیوال میں۔ڈیوڑھی میں ایک واقف کار جیل ملازم سے میں کہہ آیا تھا کہ اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ کے لڑکے صفدر کو بلا دیں۔ وہ اسلامیہ کالج سول لائنز کا طالبعلم تھا اور جمعیت کا معتقد تھا۔ عبدالمالک شہید (ڈھاکہ) کی شہادت پر احتجاج پر گرفتار ہو کر جب میں اس جیل میں آیا تھا تو صفدر مجھ سے ملنے اکثرجیل کے اندر آ جایا کرتا تھا۔ میرا ارادہ تھا کہ اس کے ذریعے اپنے دوستوں سے رابطہ کروں اور ان سے درخواست کروں کہ ہر متعلقہ مقام پر اپنے احباب کو &#39;اصحابِ سِجن‘ کی اطلاع پہنچا کر ان کی مناسب دیکھ بھال کے بارے میں درخواست کریں۔ بارک اللہ خان مجھ سے بضد تھے کہ میں چالی رکوانے کی کوشش کروں۔ ان کا مطالبہ تھا کہ میں بھوک ہڑتال کا اعلان کر دوں۔ میں نے انہیں احترام اور نرمی سے سمجھایا کہ پہلی بات تو یہ کہ چالی کوئی نئی بات نہیں‘ یہ عام قانونی روش اور جیل قوانین کا معمول ہے۔ دوسرا‘ میں بھوک ہڑتال کو ذاتی طور پر جائز ہی نہیں سمجھتا تو پھر کیسے بھوک ہڑتال کر دوں۔ اب خان صاحب میرے خلاف احتجاج کر رہے تھے اور سمجھ رہے تھے کہ میں اپنے فرائض ادا کرنے سے یا تو پہلوتہی کر رہا ہوں یا اپنی نااہلی ثابت کر رہا ہوں۔ بہرحال ہمارا یہ گھریلو جھگڑا جاری ہی تھا کہ صفدر آ گیا۔ میں اس کے ساتھ ڈیوڑھی کی طرف چلا گیا۔ وہاں سے اس کے والد کے دفتر میں بیٹھ کر مرکز جماعت اسلامی اچھرہ میں برادرم صفدر علی چودھری کو فون کیا اور انہیں صورتحال سمجھائی۔ انہوں نے کہا کہ وہ فوراً جیل پہنچ رہے ہیں‘ چنانچہ میں ابھی ڈیوڑھی ہی میں تھا کہ وہ تشریف لے آئے۔ ان کے ساتھ صاحبزادہ ابراہیم اور مولا نا محمد سلطان صاحبان بھی تھے۔ ان سے بالمشافہ گفتگو میں سارے انتظامات طے ہو گئے اور میں اطمینان سے واپس آگیا۔ میں نے بارک اللہ خان کو تسلی دی کہ خدا تعالیٰ بہتری کرے گا۔ اس وقت تک ان کا غصہ کسی حد تک ٹھنڈا ہو چکا تھا۔کیمپ جیل میں چند ہفتوں کے قیام کے دوران قیدیوں کی اچھی خاصی تعداد ہم سے بہت مانوس ہو چکی تھی۔ وہ درسِ قرآن میں بھی آتے اور عمومی مجلسوں میں بھی شریک ہوتے۔ اب کیمپ جیل کے قیدی ہمارے گرد جمع تھے اور بڑی محبت سے ہمیں الوداع کہہ رہے تھے۔ جس جس کا جو واقف‘ دوست اور عزیز متعلقہ جیلوں میں تھا‘ اس نے فوراً اس کے نام رقعہ لکھ دیا کہ اس کا فلاں دوست اس جیل میں آ رہا ہے اس سے اچھا برادرانہ سلوک کیا جائے۔ ساہیوال جیل کے بارے میں تصور یہ تھا کہ وہ بہت بدنام اور سخت جیل ہے اور یہ بات تھی بھی درست۔ میرے قیدی دوستوں نے کئی خطوط لا کر میرے ہاتھوں میں تھما دیے۔ کوئی خط طراب شاہ (بنوں) کے نام تھا تو کسی میں نذر محمد (منڈی بہاء الدین) کو ایڈریس کیا گیا تھا۔عزیزان گرامی اشفاق‘ عبدالرحیم اور تابش ہم سے پہلے روانہ ہو گئے۔ روانگی سے قبل میں نے ان کو بہت پیار دیا اور سب کا ماتھا چوما۔ ان کی آنکھوں میں جذباتِ محبت کی وجہ سے آنسو تھے۔ ان کو رخصت کرتے وقت عجیب کیفیت تھی۔ میں‘ بارک اللہ خان اور عبدالجبار قریشی ایک ہی ٹرین سے روانہ کیے جا رہے تھے۔ لاہور ریلوے سٹیشن پر ہمارے دوستوں کا ایک بڑا مجمع ہمیں الوداع کہنے کیلئے جمع تھا۔ ہم تینوں کو ہتھکڑیاں لگائی گئی تھیں۔ اس دوران عصر کی نماز کا وقت ہوا تو میں نے اسی حالت میں نماز پڑھائی۔ اگلے دن کے اخبارات میں اس نماز کی تصاویر اور خبر شائع ہوئی۔جونہی ٹرین پلیٹ فارم پر آکر کھڑی ہوئی تو نعرے لگنے لگے۔ بارک اللہ خان اپنا ہتھکڑی والا ہاتھ لہرا لہرا کر نعرے لگوار ہے تھے۔ انہی نعروں کی گونج میں ٹرین ہمیں لے کر روانہ ہو گئی۔ کئی سٹیشنوں پر رکتے ہوئے‘ سفر جاری تھا۔ راستے میں بھی کچھ سٹیشنوں پر ہمارے استقبال کیلئے ساتھی موجود تھے۔ تین گھنٹے کے سفر کے بعد ساہیوال ریلوے سٹیشن پر گاڑی رکی تو یہاں بھی ساتھیوں کی اچھی خاصی تعداد استقبال کیلئے موجود تھی۔ میں بارک اللہ خان اور عبدالجبار قریشی سے گلے ملا۔ جدائی کے وہ چند لمحے خاصے بھاری تھے۔ انہیں خدائے قدوس کے حوالے کر کے میں پلیٹ فارم سے باہر نکل آیا۔ پولیس کے خوش اخلاق کارندے ہمارے ساتھ تھے۔ ساہیوال کے ایک ہوٹل میں دوستوں نے پُرتکلف کھانا کھلایا اور پھر رات گئے ساہیوال جیل کے مین گیٹ پر لے گئے۔ پولیس والوں نے مجھے جیل حکام کے حوالے کیا اور پھر وہ بھی‘ میرے دوستوں سمیت اپنی اپنی منزل کی طرف چلے گئے۔ساہیوال جیل میں ایک سال کا قیام بڑا یادگار تھا۔ قید تنہائی کا ابتدائی عرصہ‘ نئے نئے تجربات‘ قلبی کیفیات‘ مطالعہ‘ دوستوں سے خط وکتابت‘ قیدی ساتھیوں سے گھل مل کر رہنا‘ درس قرآن‘ رمضان میں تراویح‘ گرمیوں کی شدید گرم راتیں‘ کال کوٹھڑی میں مچھروں کی یلغار‘ ملاقات کیلئے ملک بھر سے دوستوں اور احباب کی آمد‘ غرض کیا لکھوں! یہ اور ان کے علاوہ بے شمارباتیں ذہن میں محفوظ ہیں۔ والد محترم اور دیگر بہت سے عزیز واقارب کا متعدد مرتبہ ساہیوال کا سفر اور لذت بھری ملاقاتیں۔ ان کی تفصیل کہاں لکھ سکتا ہوں! نہ ہمت ہے نہ ہی تاب! </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_24721193.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>