<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>نئے مالی سال کے اہداف(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-11/11267</link><pubDate>Thu, 11 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-11/11267</guid><description> قومی اقتصادی کونسل نے مالی سال 2026-27ء کے قومی ترقیاتی بجٹ سمیت وفاقی اور صوبائی ترقیاتی پروگراموں کی منظوری دے دی ہے۔ آئندہ مالی سال کے لیے معیشت کی شرح نمو چار فیصد‘ زراعت کی نمو کا ہدف 3.6 فیصد‘ خدمات کے لیے 4.2 فیصد اور مہنگائی بڑھنے کی شرح 8.2 فیصد تک رکھنے کی منظوری دی گئی ہے۔ اس اجلاس کا ایک اہم فیصلہ صوبوں کے ترقیاتی بجٹ میں 920 ارب روپے کی کمی پر اتفاق ہے۔ قومی اقتصادی کونسل نے فیصلہ کیا کہ آئندہ مالی سال کیلئے بلوچستان کے ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی نہیں ہو گی اور اس کا ترقیاتی بجٹ 308 ارب روپے پر برقرار رہے گا‘ البتہ پنجاب کا ترقیاتی بجٹ 1450 ارب روپے سے کم کر کے 749 ارب روپے‘ سندھ کا ترقیاتی بجٹ 816 ارب سے 706 ارب اور خیبر پختونخوا کا ترقیاتی بجٹ 564 ارب سے 455 ارب روپے کر دیا گیا۔ نیشنل اکنامک کونسل کی جانب سے صوبوں کے ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کا فیصلہ ایک طرف جہاں آئی ایم ایف کی شرائط کی تکمیل‘ مالیاتی خسارے میں کمی اور قومی سلامتی ودفاع کیلئے اضافی فنڈز کی فراہمی جیسے ناگزیر مقاصد حاصل کرنے میں مددگار ثابت ہوگا وہیں عوامی اور صوبائی سطح پر اس کے گہرے اثرات بھی ہوں گے۔

اس فیصلے کے نتیجے میں صوبائی ترقیاتی اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبے تاخیر کا شکار ہو سکتے ہیں اور تعمیرات سے متعلق صنعتیں متاثر ہونے کا بھی اندیشہ ہے۔ اگر آئندہ مالی سال کے اہداف کی بات کی جائے تو شرح نمو کا چار فیصد ہدف یہ ظاہر کرتا ہے کہ ملکی معیشت اب بھی بحالی کے لیے سرگرداں ہے۔ مالی سال 2021ء اور 22ء میں شرح نمو بالترتیب 5.77 اور 6.18 فیصد رہی مگر اگلے ہی سال یہ 0.4 فیصد کی سطح تک گر گئی۔ اگلے دوبرسوں میں یہ شرح 2.62 اور 3.12 فیصد رہی اور رواں برس 3.7 فیصد کا تخمینہ ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو چار فیصد کا ہدف حاصل کرنا مشکل نہیں ہونا چاہیے۔ اگرچہ ہر سال آبادی میں 2.55 فیصد کی شرح سے 55 لاکھ نفوس کا اضافہ اور روزگار کی مارکیٹ میں نئے داخل ہونے والے نوجوانوں کی بڑھتی تعدادکے سبب یہ شرح ہماری ملکی ضروریات کو پورا نہیں کرتی تاہم دگرگوں عالمی اقتصادی حالات کے دور میں چار فیصد شرح نمو بھی ایک چیلنج معلوم ہوتی ہے۔ اسی طرح خدمات کیلئے 4.2 فیصد کا ہدف رواں مالی سال کی حاصل کردہ 4.9 فیصد شرح سے کم ہے۔ اس ہدف میں کمی کو حکومتی سطح پر سرمایہ کاری کے سکڑنے اور صنعتی بندش کے اعتراف پر محمول کیا جا سکتا ہے۔
زراعت کیلئے بھی 3.6 فیصد کا ہدف محل نظر ہے‘ خاص طور پر ایسے وقت میں جب گزشتہ برس زراعت کی نمو 1.53 فیصد اور رواں برس 2.89 فیصد ریکارڈ کی گئی ہو۔ مالی سال 2023ء میں زراعت کی نمو 6.4 فیصد تھی یعنی صنعت‘ خدمات اور معاشی نمو سے لگ بھگ دو گنا۔ مگر حالیہ عرصے میں شعبہ زراعت کے ساتھ روا رکھے گئے حکومتی برتاؤ نے اس شعبے کی قوت نمو کو بڑی ٹھیس پہنچائی ہے۔ مہنگے ڈیزل اور بہت مہنگے زرعی مداخل کے علاوہ شدید موسمی تغیرات نے بھی زرعی شعبے کیلئے کڑے چیلنجز پیدا کئے ہیں۔ اس کا اثر زرعی پیداوار پر ہر سال بڑھتا جا رہا ہے۔ زراعت وہ شعبہ ہے جو تیزی سے نمو دکھا سکتا ہے مگر اس جانب حکومتی توجہ اسی قدر کم ہے۔ اگر اس شعبے پر توجہ دی جائے‘ کسانوں کو بدلتے موسمی حالات کے موافق فصلوں سے متعلق آگاہی دی جائے تو اس کے مثبت اثرات ہر اُس شعبے پر پڑیں گے جو دیہی آبادی کی معیشت کے ساتھ کسی بھی طرح سے منسلک ہے۔
نئے مالی سال میں حکومت کا سب سے بڑا چیلنج مہنگائی پر قابو پانا‘ اسے مناسب حد میں رکھنا اور عوام کو اس کے منفی اثرات سے بچانا ہو گا۔ جاری مالی سال میں افراطِ زر 7.5 فیصد کی بالائی سطح سے کہیں بڑھ کر 11.7فیصد کے قریب ہے‘ لہٰذا مہنگائی کی شرح کو دوبارہ ایک ہندسے میں لانا اور اس سطح پر برقرار رکھنا حکومت کیلئے بڑا امتحان ہو گا۔ </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>المناک حادثہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-11/11266</link><pubDate>Thu, 11 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-11/11266</guid><description>گزشتہ روز مظفرآباد کے قریب پاک فوج کے ایم آئی 17 ہیلی کاپٹر کا المناک حادثہ ایک ایسا قومی سانحہ ہے جس نے پورے ملک کو سوگوار کر دیا۔ اڑان بھرنے کے بعد پیش آنے والے اس افسوسناک واقعے میں وطنِ عزیز کے متعدد جری جوان اور عملے کے ارکان جامِ شہادت نوش کر گئے‘ جس پر پوری قوم رنجیدہ ہے۔ یہ حادثہ ہمیں اس تلخ حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ ہمارے فوجی جوان محض سرحدوں کی حفاظت کے دوران ہی نہیں بلکہ دفاعی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے دوران ہر لمحہ اپنی جانیں ہتھیلی پر لیے پھرتے ہیں۔ کٹھن جغرافیائی حالات اور دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں پرواز کرنا ہمیشہ سے ایک بڑا چیلنج رہا ہے لیکن آرمی ایوی ایشن کے پائلٹس اور عملہ ہمیشہ اپنی پیشہ ورانہ مہارت کے بل بوتے پر ان خطرات کا سامنا بہادری اور پیشہ ورانہ مہارت سے کرتا آیا ہے۔

ایم آئی 17 ہیلی کاپٹرز طویل عرصے سے پاک فوج کے زیر استعمال ہیں اور مختلف عسکری اور امدادی آپریشنز میں بروئے کار آئے ہیں۔ اس ناگہانی واقعے کے بعد پاک فوج کی جانب سے انکوائری بورڈ تشکیل دینے کا فیصلہ ایک ناگزیر اقدام ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس حادثے کی وجوہات سامنے آ ئیں۔ ایسے حادثات کے شفاف اور باریک بین جائزے ہی سے مستقبل میں ایسے حادثات کی روک تھام اور قیمتی انسانی جانوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ یہ وقت شہدا کی لازوال قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے اور ان کے پسماندگان کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کا ہے۔ </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>گندم خریداری(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-11/11265</link><pubDate>Thu, 11 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-11/11265</guid><description>پنجاب حکومت نے پاسکو سے 10 لاکھ ٹن گندم خریدنے کا فیصلہ کیا ہے جس کا مطلب بظاہر یہ ہے کہ حکومت کو اس سال کسانوں سے گندم کی خریداری کا مطلوبہ ہدف حاصل نہیں ہو سکا۔ گندم ہماری خوراک کا بنیادی جزو ہے مگر اس کی خریداری کے حوالے سے سرکاری پالیسیاں غیر مستحکم رہی ہیں نتیجتاً ملک میں گندم کی پیداوار بے یقینی کا شکار رہتی ہے۔ پنجاب حکومت نے اس سال محکمہ خوراک کے ذریعے کسانوں سے گندم خریدنے کے بجائے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت نجی کمپنیوں کو گندم خریدنے کیلئے نامزد کیا مگر گونا گوں مسائل کی وجہ سے یہ ماڈل کامیاب نہیں ہو سکا۔

مارکیٹ میں گندم کی قیمت بڑھ گئی اور آٹا مہنگا ہونے سے روٹی کی قیمت میں بھی اضافہ ہو گیا؛ چنانچہ غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے اب حکومت کو پاسکو سے گندم خریدنے کا فیصلہ کرنا پڑا ہے۔ ہر سال گندم کی خریداری اور قیمتوں سے متعلق پالیسیوں میں اچانک تبدیلیوں نے کسانوں کو مایوسی اور معاشی عدم استحکام کا شکار کر دیا ہے۔ اس بددلی کا خطرناک اثر یہ ہے کہ اب کاشتکار گندم کو چھوڑ کر دیگر فصلوں کی طرف راغب ہو رہے ہیں‘ جس سے ملک میں گندم بحران کے خدشات سنگین ہوتے جا رہے ہیں۔ حکومت اگر غذائی تحفظ کیلئے سنجیدہ ہے تو اسے عارضی اور ہنگامی اقدامات کے بجائے طویل مدتی اور پائیدار زرعی پالیسیاں وضع کرنا ہوں گی۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>چھولے پٹھورے اور دیگر حساس مسائل(محمد اظہارالحق)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-06-11/52099/61792842</link><pubDate>Thu, 11 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-06-11/52099/61792842</guid><description>سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ یہ کیا ہے؟یہ پراٹھا بھی نہیں تھا! سائز پوری کا تھا مگر پوری بھی نہیں تھی۔ تھا بہت مزیدار! منہ میں جا کر گُھل جاتا تھا۔ اور ساتھ جو چھولے تھے! سبحان اللہ! منفرد ذائقہ! میزبان سے پوچھا کہ یہ کیا ہے جو کھلا رہے ہو؟ کہنے لگا: سر جی کمال ہے۔ آپ کیسے پنجابی ہو جنہیں معلوم ہی نہیں کہ یہ پٹھورے ہیں! چھولے پٹھورے تو خاص پنجابی پکوان ہے! میں ٹھہرا اٹک کا! ہمارے علاقے میں گھروں میں مچھلی پکتی تھی نہ دال چاول! پٹھورے کون پکاتا۔ پھر پنڈی اسلام آباد آ گئے۔ یہاں بھی چھولے پٹھورے کا نام نہیں سنا۔میلبورن میں یہ ایک انڈین پنجابی تھا جس کے ہاں ہماری دعوت تھی۔ جب اس نے کہا کہ آپ کیسے پنجابی ہو جسے پٹھوروں کا نہیں پتا! تو شرمندگی ہوئی۔ لاہور میں تو پھر ہونے چاہئیں! مگر لاہور میں بے شمار کھانے کھائے‘ دعوتوں میں شریک ہوئے‘ فوڈ سٹریٹوں میں گئے‘ کہیں پٹھوروں کا نام نہیں سنا۔ تجسس میں آسٹریلیا ہی سے عزیز گرامی یاسر پیرزادہ کو فون کھڑکایا۔ کہنے لگے: بالکل لاہور میں ہوتے ہیں! آپ آئیں گے تو کھلائیں گے آپ کو! مگر پھر یاسر کی تعیناتی اسلام آباد ہو گئی اور اسلام آباد میں موصوف یہ کہتے پائے گئے کہ فلاں جگہ سے حلوہ پوری منگوایا‘ ٹھیک نہیں تھا جبکہ لاہور میں کہیں سے بھی منگوا لیں‘ زبردست ہو گا۔ اب اس بات کی تردید کون کرے! کھانوں میں لاہور کا مقابلہ بیچارے پنڈی اسلام آباد کیا کریں گے! جڑواں شہروں میں تو ڈھنگ کی پکی ہوئی مچھلی نہیں ملتی! پٹھوروں کے حوالے سے ریسرچ کی تو پتا چلا پنڈی کی معروف اور قدیم‘ کرتارپورہ فوڈ سٹریٹ میں ایک دکان پر ملتے ہیں اور وہ بھی روایتی پٹھورے نہیں‘ آلو بھرے پٹھورے ہوتے ہیں۔ یہ تو بدعت ہوئی! لاہور کے پٹھورے تاحال نصیب نہیں ہوئے۔ (لاہور کے احِبّا نوٹ کریں)میں پاکستان بننے کے چھ ماہ بعد آسمانوں سے اترا۔ نہیں معلوم جب ہندو سکھ مسلمان اکٹھے رہتے تھے‘ کیا صورتحال تھی۔ کیا یہ سب اکٹھے کھاتے پیتے تھے یا بیچ میں دھرم کے مسائل تھے؟ اتنا سنا ہے کہ گاؤں میں ہمارے گھر کے پڑوس میں ایک ہندو خاتون رہتی تھیں جو والد گرامی مرحوم کی ماسی (خالہ) بنی ہوئی تھیں۔ والدہ مرحومہ کی قریبی سہیلیاں بھی ہندو تھیں۔ آسٹریلیا رہ کر معلوم ہوا کہ ہندوؤں سکھوں کے ہاں سبزی کمال کی پکتی ہے۔ مسلمانوں کی غذا میں سرداری گوشت کو حاصل ہے مگر جو گوشت نہیں کھاتے‘ ان کا سٹرانگ پوائنٹ‘ ظاہر ہے سبزی ہی ہو گا اور سبزی وہ کمال کی پکاتے ہیں۔ کھانے والا انگلیاں چاٹتا رہ جاتا ہے۔ واپس آسٹریلیا چلتے ہیں۔ دعوت میں پٹھورے کھانے کے بعد تلاش ہوئی کہ کہاں کہاں‘ کس کس ریستوران میں دستیاب ہیں۔ معلوم ہوا تقریباً تمام انڈین ریستورانوں سے مل جاتے ہیں۔ میلبورن کے جن محلوں میں پاکستانی‘ انڈین‘ بنگالی اور سری لنکن کثرت سے پائے جاتے ہیں (اور جہاں سے سفید فاموں کی اکثریت ماشاء اللہ بھاگ جاتی ہے) ان میں ایک محلہ پوائنٹ کُک بھی ہے۔ (محلے کو وہاں سبرب (Suburb) کہتے ہیں)۔ پوائنٹ کُک میں ایک ریستوران کیسری نام کا ملا جس میں پٹھورے بھی مینو میں شامل تھے۔ میں اور میرا پوتا حمزہ وہاں پہنچ گئے۔ حمزہ کہنے لگا ابو! یہ پٹھورے وغیرہ آپ ہی کھائیے میں تو معمول کی روٹی اور سالن کھاؤں گا۔ ہم آرڈر دے کر بیٹھ گئے۔ تھوڑی دیر میں ایک خودکار ٹرالی‘ خود بخود چلتی ہوئی نظر آئی۔ چلتے چلتے یہ طلسمی ٹرالی ہماری میز کے پاس آکر رُک گئی۔ یہاں پٹھوروں کا سائز اصلی پنجابی تھا یعنی خاصا بڑا۔ مشکل سے ایک کھایا گیا۔ اوپر سے ہم دادا پوتے نے ایک ایک گلاس مینگو لسی کا چڑھایا! ساری تعریفیں اُس ذات کے لیے ہیں جو زمین کے دور دراز گوشوں میں بھی ہماری مرضی کا رزق فراہم کرتی ہے! ایک اور قصۂ غم یہ ہے کہ جو روایتی مٹھائیاں ہمارے ہاں عنقا ہو گئی ہیں‘ بیرونِ ملک حلوائیوں کے پاس وہ سب موجود ہیں۔ مثلاً بوندی اور بوندی والے لڈو جن کے مقابلے میں موتی چور لڈو بالکل اچھے نہیں لگتے۔ مٹھائی بنانے والے ایک کاریگر سے اپنے ہاں اس نایابی کا سبب پوچھا تو وہ معیشت دان نکلا۔ کہنے لگا: صاحب!! جس شے کی طلب نہ ہو وہ بنائی بھی نہیں جاتی‘ اب لوگ یہ آئٹم پسند نہیں کرتے! بیرونِ ملک مٹھائی کی زیادہ دکانیں انڈین ہیں۔ پاکستانی اکثر یہ کہتے پائے جاتے ہیں کہ پاکستانی مٹھائی انڈین مٹھائی کے مقابلے میں سپیریئر ہے۔ مجھے یہ دعویٰ محض حب الوطنی پر مبنی نظر آتا ہے۔ ایک مختصر سرکاری دورے میں بھارت جانا ہوا تو تین دن کے دوران مٹھائی کی کیا جانچ پڑتال ہوتی مگر مشرقی پاکستان میں تین سال رہا۔ اپنے ہاں کی مٹھائی وہاں کی مٹھائی کے مقابلے میں ایسے ہی لگتی ہے جیسے بکرے یا دیسی مرغی کے گوشت کے مقابلے میں شیور کی فارمی مرغی کا گوشت نما گتّہ! یا تاشقند کے خربوزے کے مقابلے میں ہمارا نام نہاد خربوزہ!! بنگال کی چم چم‘ رس گلا اور &#39;&#39;مِشٹی دوہی‘‘ یعنی میٹھا دہی کمال کی مٹھائیاں ہیں۔ یہاں ان کا سوچا جا سکتا ہے‘ انہیں پانا ممکن نہیں۔ شام کو وہاں چائے کے ساتھ مٹھائی کھائی جاتی ہے جسے ناشتہ کہا جاتا ہے۔ پرانے ڈھاکہ میں نواب پور روڈ پر مرن چند کی مٹھائی کی دکان تھی۔ یاد آتی ہے تو دل میں لہر اٹھتی ہے جو اصل میں ہُوک ہوتی ہے۔ ایک قریبی دوست اور بیچ میٹ بھارت میں چار سال رہے۔ میٹھا کھانے کے شوقین بھی ہیں۔ ان کا تجربہ اور رائے پوچھی۔ اپنے تجربے کی رُو سے مجھ سے سو فیصد اتفاق کرتے ہوئے بتایا کہ ہندوستانی مٹھائیوں کا جواب نہیں اور یہ کہ ہمارے ہاں تو صرف نقل ہے! اس دوست کا نام اس لیے نہیں لکھ رہا کہ ہمارے حلوائی ان کے پیچھے ہی نہ پڑ جائیں۔ یہاں تو اب کسی کے خلاف‘ کسی بھی وقت‘ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔پٹھوروں کی طرح دوسہ بھی یہاں نایاب ہے۔ یہ جنوبی ہند کا خاص کھانا ہے۔ چاول کے آٹے سے بنی ہوئی‘ کاغذ کی سی پتلی روٹی! بہت سال گزرے کراچی میں ایک ریستوران تھا جہاں جنوبی ہند کے کھانے دستیاب تھے۔ اگر میں بھول نہیں رہا تو اس کا نام پانڈی روسہ تھا۔ پھر وہ ختم ہو گیا۔ ہو سکتا ہے اب وہاں اور بھی ایسے ریستوران ہوں۔ اسلام آباد میں ایک خاتون دوسہ اور جنوبی ہند کے دیگر کھانے مہیا کرتی ہیں۔ ان کی والدہ چنئی (مدراس) سے تھیں۔ میلبورن شہر کے سینٹرل ریلوے سٹیشن کی بغل میں ایک ریستوران &#39;&#39;چِلی انڈیا‘‘ کے نام سے ہے۔ یہاں کے دوسہ اور دیگر جنوبی کھانوں کا جواب نہیں۔ یہاں بھی حمزہ میرے ساتھ ہوتا ہے اور اپنی پسند کا کھانا کھاتا ہے جو میری پسند سے یکسر مختلف ہوتا ہے۔ سفید فام بھی یہاں کی بریانی اور مینگو لسی کے رسیا ہیں۔ بریانی بمقابلہ پلاؤ کے موضوع پر ایک کالم کچھ عرصہ پہلے لکھا جا چکا۔ دیگر تہذیبی شناختوں کی طرح پلاؤ بھی رُو بہ زوال ہے۔ اب تو یہاں سرخ مرچیں پکائی جاتی ہیں جنہیں ستم ظریفی سے بریانی کا نام دیا جاتا ہے۔ کراچی اور لاہور میں نام نہاد &#39;&#39;مغلئی‘‘ کھانے بیچے جا رہے ہیں جو مرچوں سے اٹے ہوئے ہوتے ہیں۔ یہ اور بات کہ مرچیں بڑے مغلوں کے زمانے میں تھیں ہی نہیں! برصغیر میں مرچیں پرتگالی لائے جو سب سے پہلے بمبئی میں کھانوں کا حصہ بنیں۔ مرہٹے جب مار دھاڑ کرتے شمالی ہند (دہلی) پہنچے تو ساتھ مرچیں بھی لائے۔ یہ اٹھارہویں صدی کا وسط تھا۔ قرب قیامت کی علامت دیکھیے کہ اب پلاؤ میں بھی مرچیں ڈالی جاتی ہیں۔ غنیمت ہے کہ پشاور مرچوں کی یلغار سے بچا ہوا ہے۔ پشاور (یونیورسٹی روڈ) کی مٹن joints کے کیا ہی کہنے! کارخانو بازار میں بہترین کابلی پلاؤ ملتا ہے۔ گوشت کی بوٹی اس پلاؤ میں مکھن کی طرح نرم ہوتی ہے۔ آپ ان سب کھانوں سے لطف اندوز ہوں۔ مجھے بھی گھر والے کھانے کے لیے بلا رہے ہیں۔ مسور کی دال پکی ہے!!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_57182973.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>اردو کے سیرت لٹریچر میں اہم اضافہ(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-06-11/52100/81083278</link><pubDate>Thu, 11 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-06-11/52100/81083278</guid><description>نبیﷺ کی سفارت کاری کیسی تھی؟ آپﷺ کے ہدایت یافتہ خلفاء نے کیسے آپ کے نقوشِ پا کی پیروی کی؟اگر آپ کو ان سوالات سے دلچسپی ہے تو میں ایک ایسی کتاب کا تعارف آپ سے کرانا چاہوں گا جو ان سوالات کے جواب بلاواسطہ و تبصرہ آپ کو فراہم کر سکتی ہے۔ یہ اللہ کے آخری رسول سیدنا محمدﷺ اور خلفائے راشدین کے خطوط‘ معاہدوں اور وثیقہ جات کا مجموعہ ہے۔ &#39;الوثائق السیاسیہ‘ کے عنوان سے انہیں بیسویں صدی کی نادرِ روزگار شخصیت ڈاکٹر حمید اللہ مرحوم نے مرتب کیا ہے۔ یہ ابتدائی صورت میں ان کا پی ایچ ڈی کا مقالہ تھا جو فرانسیسی زبان میں ہے۔ پھر انہوں نے اس کو کتابی شکل میں عربی زبان میں شائع کرایا۔ اس کا عربی متن پہلی مرتبہ کم وبیش ستر برس پہلے شائع ہوا۔ اس کے بعد اس کے آٹھ ایڈیشن شائع ہو چکے۔ پانچویں ایڈیشن تک وہ اس میں اضافہ کر تے رہے۔ طویل عرصہ پہلے شائع ہو نے والی اس کتاب کا آج اس لیے تذکرہ کیا جا رہا ہے کہ اتنے طویل عرصہ بعد اب اس کا پہلا مستند اور مکمل اردو ترجمہ شائع ہوا ہے۔یہ سعادت ڈاکٹر سید عزیز الرحمن صاحب کے حصے میں آئی۔ اس سے پہلے 1960ء میں اس کا پہلا اردو ترجمہ شائع ہوا۔ یہ پہلے ایڈیشن کا ترجمہ تھا۔ پہلے ایڈیشن کے بعد ڈاکٹر صاحب نے اس میں جو اضافے کیے‘ اس سے اس کی ضخامت دُگنا ہو گئی۔ ڈاکٹر عزیز الرحمن صاحب کا تاثر ہے کہ اس ترجمے میں بھی کئی کمزوریاں تھیں۔ جیسے بعض عبارات کا ترجمہ ادھورا رہ گیا۔ اس لیے اردو میں ایک مکمل اور قابلِ بھروسہ ترجمے کی ضرورت موجود تھی۔ سید عزیز الرحمن صاحب نے اس ضرورت کو پورا کر دیا۔ سیرتِ پاک برسوں سے ان کی تحقیق وجستجو کا مرکز ہے اور اس حوالے سے ان کی کئی تحقیقی کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ سیرت کے باب میں ان کی یہ خدمت غیر معمولی ہے۔ڈاکٹر حمیداللہ‘ اگر میں یہ کہوں کہ دورِ جدید میں ہماری روایت میں اپنی طرز کے واحد آدمی تھے تو شاید اس میں کوئی مبالغہ نہ ہو۔ اگر کوئی یہ جاننا چاہتا ہے کہ تحقیق کس کو کہتے ہیں وہ ان کا تتبع کرے۔ وہ جامعہ عثمانیہ سے وابستہ رہے اور پھر عمر کا ایک بڑا حصہ پیرس میں گزارا۔ جہاں وہ اپنی روایت سے واقف تھے وہاں تحقیق کی مغربی روایت کو بھی جانتے تھے۔ انہوں نے ایک سے زیادہ مرتبہ مغربی جامعات سے پی ایچ ڈی کی ڈگری لی۔ اردو دان طبقے کے لیے ان کا تعارف &#39;خطباتِ بہاولپور‘ ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کا اس سے اعلیٰ علمی کام دوسری زبانوں میں ہے۔ مثال کے طور پر انہیں پہلی مرتبہ فرانسیسی میں قرآن کے ترجمے کی سعادت نصیب ہوئی۔ &#39;صحیفہ ہمام ابن منبہ‘ کی دریافت ان کی تحقیق کا ایک اور مظہر ہے جو حدیث کے اولین مجموعوں میں شمار ہوتا ہے۔ &#39;مجموعۃ الوثائق السیاسیہ‘ بھی ان کا ایسا ہی ایک علمی کارنامہ ہے۔ اس میں انہوں نے عہدِ نبوی سے عہدِ خلافتِ راشدہ کے اختتام تک‘ تمام وہ دستاویزات مرتب کر دیں جو خطوط اور معاہدوں کی صورت میں موجود تھیں۔یہ معلومات کا ایک غیر معمولی خزانہ ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے اس کے مقدمے میں بتایا ہے کہ اصلی حالت میں دو یا تین خطوط دستیاب ہیں۔ ایک رسالت مآبﷺ کا مقوقس کے نام خط۔ اسے ایک مسیحی فرانسیسی مستشرق بار تیلمی نے مصر سے دریافت کیا۔ دوسرا بھی نبیﷺ کا ایک مکتوب ہے جو منذر بن ساویٰ کو لکھا گیا۔ اس کا فوٹو جرمن مستشرق فلایشر نے شائع کیا۔ (ہماری بے توفیقی دیکھیے کہ جو کام ہمارے کرنے کا تھا‘ مستشرقین نے کیا) ڈاکٹر حمید اللہ بتاتے ہیں کہ اس طرح کے خطوط اور دستاویزات ایک صندوق میں بند حضرت عمرؓ کے پا س محفوظ تھے۔ 83 ہجری میں یہ دستاویزات خانہ جنگی کے ایک واقعہ میں نذرِ آتش ہو گئیں جو خلیفہ عبدالملک بن مروان اور ان کے ایک باغی گروہ کے درمیان پیش آیا‘ اس گروہ کی قیادت عبدالرحمن بن محمد اشعث کر رہے تھے۔ تاہم قدیم مؤرخین نے انہیں نقل کیا ہے جن کی مدد سے ڈاکٹر حمیداللہ نے ا نہیں یکجا کر دیا۔نبیﷺ اور خلفائے راشدین کی طرف ان دستاویزات کی نسبت کتنی مبنی بر صحت ہے؟ ڈاکٹر حمیداللہ نے اس سوال کو بھی مقدمے میں موضوع بنایا ہے۔ ان کی رائے کا خلاصہ یہ ہے کہ اس میں ہر طرح کی روایات شامل ہیں۔ وہ بھی جن پر اعتبار کیا جا سکتا ہے اور وہ بھی جو صحت کے مطلوبہ معیار پر پورا نہیں اترتیں۔ مثال کے طور پر ایسی دستاویزات کا سب سے بڑا ماخذ &#39;طبقات ابن سعد‘ ہے۔ اس کے مؤلف کے بارے میں ان کی رائے ہے کہ روایات جمع کرتے وقت‘ انہوں نے ان کی صحت کا زیادہ خیال نہیں رکھا۔ ڈاکٹر صاحب بعض روایات کو موضوع بھی قرار دیتے ہیں۔ ان کی رائے میں نجاشی کے نام آپﷺ سے منسوب وہ خط‘ جس میں آپﷺ کا نکاح سیدہ ام حبیبہؓ سے کروانے کی بات کی گئی ہے یا وہ مکتوب جس میں مسلمان مہاجرین کو مدینہ بھیجنے کے لیے کہا گیا‘ دونوں خود ساختہ ہیں۔ڈاکٹر صاحب نے محققانہ دیانت کے ساتھ‘ روایات کے باب میں اپنی رائے کا اظہار کر دیا۔ اس کمزوری کے باوصف جس سے حدیث یا تاریخ کی کوئی کتاب خالی نہیں‘ یہ عہدِ نبوی اور دورِ خلافتِ راشدہ کی تفہیم میں ایک گراں قدر اضافہ ہے۔ اس سے ایک طرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ نبیﷺ کی سفارت کاری کیسی تھی اور دوسرا یہ کہ خلفائے راشدین نے کیسے آپﷺ کی پیروی کی۔ مثال کے طور پر نجران کے مسیحیوں کے ساتھ جو معاہدہ نبیﷺ نے کیا‘ چاروں خلفاء نے اسے باقی رکھا اور اس کی تجدید کی۔ جب سیدنا عثمانؓ کی شہادت کے بعد وہ سیدنا علیؓ کے پاس آئے تو آپ نے ان کو ایک تحریر لکھ کر دی اور اس میں لکھا: &#39;&#39;تم میرے پاس اللہ کے نبیﷺ کا تحریری امان نامہ لے کر آئے۔ اس میں تمہاری جان ومال کی ذمہ داری لی گئی ہے۔ میں محمدﷺ‘ ابوبکرؓ اور عمرؓکی شرائط کا ایفا کرتا ہوں۔اس کتاب سے معلوم ہوتا ہے کہ نبیﷺ اور صحابہ کرام کا ایک مشن تھا اور وہ دینی تھا۔ نبیﷺ اپنے مخاطبین پر حجت قائم کرنے آئے تھے اور صحابہ نے بھی اسی جذبے سے سیاسی نظام کو چلایا۔ ان معاہدوں سے نبیﷺ کی وہ رحمت صاف جھلکتی دکھائی دیتی ہے جو عالمگیر ہے۔ سید نا سلمان فارسیؓ کے خاندان اور اعزہ کو جس طرح مذہبی آزادی کی ضمانت دی گئی وہ بتاتی ہے کہ مسلم تہذیب میں مذہبی آزادی کی کیا اہمیت ہے۔ ان سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ صحابہ کا اسلوبِ سیاست کیا تھا اور کیسے اللہ کی رضا اور مخلوق کے حقوق کا احترام ان کے پیشِ نظر تھا۔ اس سے یہ بھی جانا جا سکتا ہے کہ ان کے باہمی تعلقات محبت سے مملو تھے۔ بطور خلیفہ‘ عُمال کے نام سیدنا عثمانؓ کا پہلا خط آج کے ٹیکس وصول کرنے والوں کے لیے بھی نصیحت ہے۔ فرمایا: &#39;&#39;اللہ نے حکام کو حکم دیا ہے کہ وہ عوام کے محافظ بنیں‘ صرف ٹیکس وصول کرنے والے نہ بنیں۔ اس امت کے ابتدائی لوگ محافظ پیدا کیے گئے تھے نہ کہ (ٹیکس) وصول کرنے والے‘‘۔یہ کتاب اردو کے دینی ادب میں ایک گراں قدر اضافہ ہے۔ ڈاکٹر سید عزیز الرحمن نے جس احتیاط اور محبت کے ساتھ اس کا ترجمہ کیا ہے وہ اس پر تحسین کے مستحق ہیں۔ یہ اردو زبان کی بھی بڑی خدمت ہے۔ سیرت کا کوئی سنجیدہ طالب علم اس کتاب سے مستغنی نہیں ہو سکتا۔ دعا ہے کہ اللہ کے حضور میں بھی مترجم کی یہ خدمت شرفِ قبولیت سے نوازی جائے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بجٹ اور عوام(عمران یعقوب خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-06-11/52101/75186695</link><pubDate>Thu, 11 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-06-11/52101/75186695</guid><description>آج قومی بجٹ ایوان میں پیش کیا جانا تھا لیکن نہیں کیا گیا۔ جب یہ کالم چھپ کر آپ کے ہاتھوں میں ہو گا تو ممکن ہے بجٹ کے پیش کیے جانے کی حتمی تاریخ کا اعلان کیا جا چکا ہو۔ بجٹ پر تحفظات دور کرنے کے لیے آج سربراہ مملکت اور سربراہ حکومت کی ملاقات بھی ہونے والی ہے۔ جب آپ یہ کالم پڑھ رہے ہوں گے تو تحفظات دور ہونے یا نہ ہونے کی خبر بھی آپ تک پہنچ چکی ہو گی۔ حکومت میں شامل ملک کی دو بڑی پارٹیوں کے تحفظات تو کسی نہ کسی طرح دور ہو ہی جائیں گے‘ عوام کی سمجھ میں یہ بات نہیں آ رہی کہ ان کے تحفظات کب دور ہوں گے اور کون دور کرے گا۔ماضی میں جب بجٹ پیش کیا جاتا تھا تو لوگ خوش ہوتے تھے کہ سال بھر کے اعداد وشمار پیش کیے جا رہے ہیں تو ان کے ریلیف کے لیے بھی حکومت کچھ نہ کچھ ضرور کرے گی۔ عوام کو ریلیف مل بھی جاتا تھا۔ کسی ایک چیز کی قیمت اگر بڑھائی جاتی تو کسی دوسری چیز کے نرخ کم بھی کر دیے جاتے تھے۔ یوں ایک بیلنس رہتا تھا اور لوگوں کا گزارہ ہو جاتا تھا۔ یہ تب کی بات ہے جب آئی پی پیز موجود نہیں تھیں‘ اس کے باوجود پورا سال بلاتعطل بجلی ملتی تھی۔ تب بجلی کے بلوں میں متعدد ٹیکسز شامل نہیں کیے گئے تھے اس لیے لوگ اسی بجلی کی بل ادا کرتے تھے جو وہ استعمال کرتے‘ لائن لاسز اور صرف کی جا چکی بجلی کی قیمت موصول نہ ہونے کا بوجھ عوام پر ڈالنے کا رواج بھی ابھی شروع نہیں ہوا تھا۔ تب پٹرول کی قیمت کا اگر بجٹ میں اعلان کر دیا جاتا تھا تو سارا سال پھر وہی قیمت رہتی تھی۔ پتا نہیں وہ کون سا جغادری تھا جس نے پٹرول کی قیمتیں ہر ماہ تبدیل کرنے کا مشورہ دے کر عوام کو ایک نہ ختم ہونے والے عذاب میں مبتلا کر دیا۔ (اب تو ہر ہفتے نئی قیمت کا تعین کیا جاتا ہے) تب پٹرولیم پر لیوی بھی سینکڑوں کے حساب سے نہیں لی جاتی تھی‘ عوام کی قوتِ خرید کا خیال رکھا جاتا تھا۔ تب پیسے کی اتنی تیز دوڑ شروع نہیں ہوئی تھی‘ متوسط طبقہ بہت بڑا تھا؛ چنانچہ سارے ایک ہی رو میں چلتے چلے جا رہے تھے۔ سٹیٹس میں فرق کی وجہ سے سماج میں اتنی زیادہ بے چینی نہیں پھیلی تھی جتنی اب پھیل چکی ہے۔ مالی مسائل اور سماجی بے چینی کے درمیان گہرا تعلق ہے۔ معاشی دباؤ براہ راست ذہنی صحت پر اثر انداز ہوتا ہے‘ جس سے بے چینی‘ چڑچڑا پن اور ڈپریشن جیسی کیفیات جنم لیتی ہیں۔ یہ مجموعی صورتحال معاشرے میں عدم تحفظ اور تناؤ کو بڑھاتی ہے۔ اگر صرف اسلام آباد میں روزانہ تین سو تک خلع اور طلاق کے کیسز درج ہو رہے ہیں تو یہ Phenomenon بلاسبب نہیں ہے۔کہا جاتا ہے کہ بجٹ اعداد وشمار کا گورکھ دھندا ہوتا ہے جس کو سمجھنا عام آدمی کے لیے مشکل ہی ناممکن بھی ہے۔ اور عام آدمی شاید اس سارے عمل کو سمجھنے میں کوئی خاص دلچسپی بھی نہیں رکھتا کہ اس کے سوچنے کے معیارات اور محور کچھ اور ہیں۔ عام آدمی یہ نہیں دیکھتا کہ حکومت نے بجٹ میں اہداف کیا مقرر کیے ہیں‘ وہ یہ دیکھتا ہے کہ کھانے پینے کی چیزوں کی قیمتوں میں کتنی کمی کی گئی‘ اس کی تنخواہ میں کتنا اضافہ ہوا اور اس اضافے سے وہ سال بھر بڑھنے والی مہنگائی کے اثرات کا سامنا کر سکے گا یا نہیں؟ اس کے بچوں کی سکول اور کالج کی فیسیں پوری ہو سکیں گی یا نہیں‘ اسے مالی لحاظ سے مسائل کا سامنا تو نہیں کرنا پڑے گا؟ بجٹ میں عام آدمی کی اولین ترجیح مہنگائی میں کمی‘ بنیادی اشیائے ضروریہ (آٹا‘ دالیں‘چینی‘ گھی‘ سبزیاں‘ پھل) پر سبسڈی‘ اور تنخواہوں میں قابلِ قدر اضافے کا حصول ہوتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ آٹا‘ دالیں‘ چاول اور سبزیوں جیسی روزمرہ کی خوراک کی قیمتوں کو کنٹرول کیا جائے‘ بجلی‘ گیس اور پٹرول کی قیمتوں میں استحکام لایا جائے تاکہ ٹرانسپورٹ کے اخراجات اور کارخانوں اور فیکٹریوں نیز زرعی شعبے میں پیداواری لاگت کم ہو۔ عام آدمی کی خواہش ہوتی ہے کہ بجٹ میں سرکاری اور نجی ملازمین کی تنخواہوں کو موجودہ مہنگائی کی شرح سے ہم آہنگ کیا جائے‘ کم آمدنی والے طبقے کو انکم ٹیکس کی حد سے استثنا دیا جائے اور بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ کم کیا جائے‘ نوجوانوں کے لیے روزگار کی فراہمی‘ غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافے اور کاروبار کے فروغ کے لیے آسان قرضوں کی فراہمی یقینی بنائی جائے‘ سرکاری ہسپتالوں اور سکولوں کے لیے بجٹ مختص کیا جائے تاکہ عام آدمی کو مہنگے علاج اور نجی تعلیمی اداروں کی بھاری فیسوں سے چھٹکارا مل سکے۔عام طور پر عام آدمی کی انہی بنیادی ضروریات کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ ایک صرف مہنگائی کنٹرول کر کے عام آدمی کا دل اور دماغ‘ دونوں جیتے جا سکتے ہیں۔ رمضان المبارک میں دکانوں پر جا کر‘ فروخت کے لیے رکھی گئی چیزوں کے نرخ خفیہ طور پر معلوم کر کے فوری کارروائیاں کی جاتی رہیں۔ ناجائز منافع خوری میں ملوث افراد کے خلاف ترنت اسی وقت اقدامات کیے گئے۔ ہمارے جیسے معاشرے کو راہ راست پر رکھنے کے لیے اسی طرح کی کڑی نگرانی کی پورا سال ضرورت ہے۔ حکومت اگر یہ اقدامات کر لے تو عوام کو خوش کرنا چنداں مشکل نہیں رہے گا۔ پنجاب حکومت کی جانب سے پھل فروشوں کے پھل مہنگا بیچنے کے قلع قمع کے لیے جو پورٹل متعارف کرایا گیا ہے اس کے مثبت اثرات سامنے آ رہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے سخت کارروائی کے خو ف سے وہ اب طے کردہ ریٹ سے زیادہ مانگنے سے احتراز برتتے ہیں۔ اب جبکہ بجٹ پیش کیے جانے کے لیے تیارہے تو سارے عوام دم سادھے بیٹھے ہیں کہ پتا نہیں ان کی بجٹ سے وابستہ توقعات پوری ہوتی ہیں یا نہیں۔افسوسناک بات یہ ہے کہ ہم نے قرضے اتنے اٹھا لیے ہیں کہ اب ہمارے بس میں کچھ رہا نہیں۔ اتنی بے بسی ہے کہ ہمیں بار بار مالی معاونت کے لیے آئی ایم ایف سے رجوع کرنا پڑتا ہے۔ آج ہی کی خبر ہے کہ وفاقی حکومت کے قرضوں کے سارے ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں اور ایک سال میں وفاقی حکومت کے قرضوں میں 6 ہزار 994 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ وفاقی حکومت کے قرضے اب 81 ہزار 930 ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں۔ جب آئی ایم ایف سے رجوع کیا جاتا ہے تو ادھر سے ہدایات ملتی ہیں کہ فلاں فلاں ٹیکس بڑھاؤ اور فلاں نیا ٹیکس لگاؤ۔ ان ساری ہدایات کا بوجھ عوام کو برداشت کرنا پڑتا ہے کہ آ جا کے بات انہی پر ختم ہوتی ہے۔ بجلی کی قیمت آج سے چار سال پہلے کتنی تھی اور اب کتنی زیادہ ہے۔ باقی اشیا کے نرخ بھی اتنی ہی تیزی سے بڑھے ہیں۔ نہیں بڑھے تو عام آدمی کے حالات اور مالی وسائل۔ خبروں میں ایک خبر یہ بھی ہے کہ امسال جولائی سے شروع ہونے والے اگلے مالی سال کے دوران ان ڈائریکٹ ٹیکسوں پر انحصار مزید بڑھنے کا اندیشہ ہے۔ نئے مالی سال کے لیے ان ڈائریکٹ ٹیکسوں کا ہدف9837 ارب روپے مقرر کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے‘ جو 30 جون کو ختم ہونے والے رواں مالی سال کے تخمینے کے مقابلے میں 957 ارب روپے زیادہ ہے۔ ایک بدحال معیشت میں یہ اہداف پورے کرنا ممکن ہو سکتا ہے؟ یہی آج کا سب سے بڑا سوال ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_58350786.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>تیزاب گردی کا شکار خواتین(جویریہ صدیق )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/javeria-siddique/2026-06-11/52102/22700007</link><pubDate>Thu, 11 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/javeria-siddique/2026-06-11/52102/22700007</guid><description>پاکستان‘ بھارت اور بنگلہ دیش میں اکثر ایسے واقعات ہوتے ہیں جن میں خواتین کو دشمنی‘ رشتے سے انکار‘ محبت میں ناکامی‘ جلن‘ حسد‘ انتقام‘ ذاتی انا یا محض ان کی خوبصورتی کی وجہ سے تیزاب گردی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ایسے واقعات کے پیچھے یہ تنگ نظر سوچ کارفرما ہوتی ہے کہ یہ عورت قابل کیوں ہے اور یہ عورت ہو کر اس مقام تک کیسے پہنچ گئی۔ عورت کی قابلیت اور ترقی ہی بعض اوقات اس کی دشمن بن جاتی ہے۔ دوسری جانب جنوبی ایشیا میں تیزاب کھلے عام فروخت ہوتا ہے جسے واش روم اور گٹر وغیرہ صاف کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب کمپنیاں ہلکے تیزابی فارمولے والے پراڈکٹس بنا رہی ہیں تو پھر تیزاب کھلے عام کیوں فروخت ہو رہا ہے؟ کیا تیزاب بیچنے والے دکاندار حکومت کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں؟ کیا مالکان فروخت ہونے والی بوتلوں کی تعداد حکومت کو بتاتے ہیں؟ کیا تیزاب خریدنے والے کے شناختی کارڈ کی کاپی جمع کی جاتی ہے؟ یہاں ایسا کچھ نہیں ہو رہا۔ سب سے پہلے تو تیزاب کی آزادانہ فروخت پر پابندی عائد کی جانی چاہیے کیونکہ گٹر‘ باتھ روم اور صفائی کیلئے مارکیٹ میں بیشمار ایسے پراڈکٹس دستیاب ہیں جو زیادہ زہریلے اور جھلسا دینے والے نہیں ہوتے اور ان سے صفائی بھی مؤثر طریقے سے ہو جاتی ہے۔ تیزاب کے فوائد کم اور نقصانات زیادہ ہیں۔ یہ اتنا تیز ہوتا ہے کہ انسان بری طرح جل سکتا ہے جبکہ اس سے اٹھنے والا دھواں دم گھٹنے کا باعث بن سکتا ہے۔ اس لیے صفائی ستھرائی کیلئے عام پراڈکٹس کا استعمال کیا جانا چاہیے۔ شاید صنعتوں میں تیزاب کا استعمال ضروری ہو لیکن روزمرہ زندگی میں اس کا کوئی خاص استعمال نہیں۔ فاخرہ یونس کو کون بھول سکتا ہے‘ جنہیں 2012ء میں سپردِ خاک کیا گیا۔ 2000ء میں ان پر تیزاب پھینکا گیا تھا۔ انہوں نے انصاف کیلئے بہت دہائیاں دیں لیکن کچھ نہ ہوا۔ اس سانحے کی وجہ سے ان کا چہرہ مکمل طور پر جھلس گیا تھا۔ وہ بہت حسین تھیں لیکن اس حملے کے بعد ان کا اپنا بیٹا بھی انہیں پہچاننے سے قاصر تھا۔ قانون سے مایوس ہو کر انہوں نے اٹلی میں چھٹی منزل سے کود کر خودکشی کر لی تھی۔ فاخرہ کو سماجی تنظیموں نے اٹلی بھجوا دیا تھا‘ دس سال کے دوران بے شمار سرجریوں کے باوجود ان کا چہرہ بحال نہیں ہو سکا اور نہ ہی انہیں انصاف ملا۔ جب ان کے ساتھ یہ ظلم ہوا اس وقت ان کی عمر محض بیس سال تھی۔ برسوں انصاف کی دہائی دیتے دیتے وہ مایوس ہو گئیں اور بالآخر اپنی جان دے دی۔ یہ سلسلہ رکا نہیں اور آج بھی جاری ہے۔ بھارت میں لکشمی اگروال کا کیس کافی مشہور ہوا‘ جسے شادی سے انکار پر تیزاب گردی کا نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے سے لکشمی کا چہرہ‘ بال اور جسم بری طرح جھلس گئے۔ اس نے ہمت نہیں ہاری اور ایک طویل قانونی جنگ کے بعد عدالت سے یہ فیصلہ کرایا کہ بھارت میں کھلے عام تیزاب فروخت نہیں ہوگا اور کسی ضرورت کے تحت تیزاب خریدنے والے کو شناختی کارڈ جمع کرانا ہوگا۔ اس کے ساتھ عدالت نے موجودہ اور سابقہ متاثرین کیلئے معاوضے کا حکم بھی دیا۔ اِس وقت لکشمی تیزاب گردی سے متاثرہ خواتین کیلئے کام کر رہی ہیں اور ایک ٹی وی ہوسٹ ہیں۔ ان کی زندگی پر ایک فلم بھی بنائی گئی۔تیزاب نہ صرف چہرے کی جلد کو بگاڑ دیتا ہے بلکہ جسم کے مختلف اعضا کو بھی شدید متاثر کرتا ہے۔اس سے بینائی‘ سماعت اور قوتِ گویائی بھی متاثر یا مکمل ضائع ہو سکتی ہے۔ بہت سے کیسز میں متاثرہ افراد جھلسنے کی پیچیدگیوں کے باعث دم توڑ گئے۔ جو بچ جاتے ہیں‘ وہ سرجریوں کے طویل عمل سے گزرتے ہیں۔ 2010ء کے عشرے کے اوائل میں پاکستان میں چودہ سالہ نائلہ کو تیزاب گردی کا نشانہ بنایا گیا۔ اس پر حملہ کرنے والا اس کا سکول ٹیچر تھا۔ حملے میں نائلہ کا چہرہ‘ آنکھ‘ گردن اور بال مکمل طور پر جھلس گئے۔ نائلہ نے ہمت نہیں ہاری۔ اپنے علاج کے ساتھ ساتھ آج وہ خواتین کے حقوق کی علمبردار ہے۔ خواتین کو اپنی خوبصورتی‘ بال اور آنکھیں بہت عزیز ہوتی ہیں۔ یہ انسان کے اعتماد میں اضافہ کرتی ہیں۔ جب کوئی جنونی کسی عورت سے بدلہ لیتا ہے تو وہ اسے جسمانی اور نفسیاتی طور پر توڑنے کے ساتھ اس کی خوبصورتی پر بھی وار کرتا ہے۔ بہت سی خواتین ان حملوں کو برداشت نہیں کر پاتیں۔ بعد ازاں سماجی رویے اور تنہائی بھی عورت کو توڑ دیتے ہیں۔ آئینہ رونے پر مجبور کر دیتا ہے اور اگر مجرم کو سزا نہ ملے تو ناانصافی مزید توڑ دیتی ہے۔ تاہم بہت سی خواتین ایسے حالات میں بھی ہمت نہیں ہارتیں اور اپنی زندگی کو جدوجہد اور کامیابی کی مثال بنا دیتی ہیں۔ ہمیں اپنے نوجوانوں کو یہ بات سمجھانا ہوگی کہ &#39;&#39;ناں‘‘ کا مطلب &#39;&#39;ناں‘‘ ہوتا ہے۔ اگر کوئی خاتون اپنی تعلیم‘ محنت اور قابلیت کی وجہ سے کسی بڑے عہدے تک پہنچ گئی ہے تو اس سے حسد نہیں کرنی چاہیے۔ہمارے معاشرے میں تیزاب سے بچائو کے حوالے سے آگہی نہ ہونے کے برابر ہے۔ اگر کسی پر تیزاب پھینکا جائے تو اس کا جسم جھلسنے لگتا ہے۔ ایسی صورت میں جتنا ممکن ہو متاثرہ شخص پر پانی بہایا جائے اور سب سے پہلے اس کے کپڑے اتار کر اس سے علیحدہ کیے جائیں اور کوئی چادر یا بڑا کپڑا اس پر ڈال دیا جائے تاکہ اس کی بے حرمتی نہ ہو۔ فوری طور پر اسے ہسپتال منتقل کیا جائے۔ متاثرہ شخص کی تصاویر یا وقوعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج سوشل میڈیا پر اَپ لوڈ نہیں کی جانی چاہیے۔ اعلیٰ شخصیات کو بھی چاہیے کہ متاثرہ فرد سے ملنے جائیں تو منہ پر ماسک اور ہاتھوں میں دستانے پہنیں اور وہاں فوٹو شوٹ نہ کرائیں۔ جھلسنے والے مریض کی جلد حساس ہو جاتی ہے اور اسے انفیکشن کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے اس لیے مریض کی صحت اور پرائیویسی کا خاص خیال رکھا جائے۔حال ہی میں پاکستان میں ایک ہی دن میں دو خواتین کو تیزاب گردی کا نشانہ بنایا گیا جس سے ملک بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ گھوٹکی میں ایک خاتون کو اس کے گھر میں اس کے کزن نے جبکہ دوسری خاتون‘ جو ایک ڈاکٹر ہیں‘ کوئٹہ میں دورانِ ڈیوٹی تیزاب گردی کا نشانہ بنایا گیا۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہسپتال کی سکیورٹی کہاں تھی؟ ایک شخص تیزاب لے کر ہسپتال کیسے پہنچ گیا؟ وہ کس کا آلہ کار تھا؟ کیا کوئی ذاتی رنجش تھی یا وہ اجرتی قاتل تھا؟بجائے اس کے کہ پولیس مجرم کو زندہ گرفتار کرتی‘ اسے پولیس مقابلے میں مار دیا گیا۔ یہ عمل بہت سے سوالات کو جنم دیتا ہے۔ اس سے قبل کوہاٹ میں ایک لیڈی ڈاکٹر کو محض اس لیے قتل کر دیا گیا تھا کہ اس نے مریض کے لواحقین کو معائنے کے کمرے سے باہر جانے کو کہا تھا۔ کیا یہاں انسانی جان کی کوئی وقعت نہیں؟ کوئٹہ کی لیڈی ڈاکٹر کو علاج کیلئے کراچی منتقل کیا گیا ہے۔ ان کی آنکھ‘ چہرہ‘ گردن اور جسم تیزاب سے متاثر ہوا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ انہیں جلد اور مکمل صحت عطا فرمائے۔ اس واقعے کے بعد لیڈی ڈاکٹر کی مدد کرنے والا شخص بھی زخمی ہوا‘ اور سب اسے قومی ہیرو قرار دے رہے ہیں۔تیزاب گردی ناقابلِ ضمانت اور ناقابلِ راضی نامہ جرم ہے۔ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 336 اور 336B کے تحت یہ ایک سنگین جرم ہے جس کی سزا 14 سال قید سے لے کر عمر قید تک ہو سکتی ہے‘ پھر بھی نجانے کیوں لوگ اس جرم کا ارتکاب کرتے ہیں۔ اکثر دیکھا گیا کہ ایسے واقعات کے بعد متاثرہ خواتین کی کردار کشی شروع کر دی جاتی ہے‘ ہمیں اس سلسلے کو روکنا ہوگا۔ لوگوں کو متاثرہ افراد سے نفرت اور حقارت سے باز رکھنا ہوگا۔ متاثرہ شخص صرف ہمدردی‘ محبت اور زندگی کی طرف دوبارہ لوٹنے کے موقع کا مستحق ہوتا ہے۔ ایسے مریضوں کا علاج کافی طویل ہوتا ہے جس میں متعدد سرجریاں شامل ہوتی ہیں۔ اس کے ساتھ نفسیاتی تھراپی بھی ضروری ہوتی ہے۔ متاثرین کی بھرپور مدد کی جانی چاہیے اور انہیں دوبارہ زندگی کی طرف لانے کیلئے سکالرشپس اور ملازمتوں کے مواقع فراہم کیے جانے چاہئیں۔خواتین کو تحفظ دیں‘ ڈاکٹروں کو تحفظ دیں۔ تیزاب اور دیگر خطرناک ایسڈز کی خرید و فروخت پر مؤثر پابندی عائد کی جائے۔ اس وقت متاثرہ خواتین کی پرائیویسی کا احترام کیا جائے اور ان کی تصاویر یا نجی معلومات ہرگز پبلک نہ کی جائیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_38020467.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مٹھی سے پھسلتی ریت(سعود عثمانی )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-06-11/52103/22040630</link><pubDate>Thu, 11 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-06-11/52103/22040630</guid><description>عمر کے لگ بھگ ساڑھے چھ عشرے گزار چکنے کے بعد اچانک ایک غیر متوقع سوال سامنے آ کھڑاہوا ہے۔ گزاری ہوئی عمر ایک پوری عمر ہے۔ بہت سے لوگوں کو اتنی عمر نہیں ملتی۔ بڑا کرم اس رب کا جس نے یہ عمر عطا کی اور سہولتوں کے ساتھ گزارا۔ اصولاً اس مرحلے پر یہ سوال پیدا ہونا ہی نہیں چاہیے کہ زندگی کیسے گزاری جائے کیونکہ اکثر گزر چکی! لیکن یقین کریں یہی سوال سامنے کھڑا ہے کہ کیسے جیا جائے؟ کون سا ڈھنگ؟ کون سا طریقہ؟ کون سا راستہ؟مجھے لگتا ہے کہ میں ایک پہاڑی موڑ پر کھڑا ہوں جہاں سے ایک راستہ نیچے اترتا ہے۔ یہ سہولت والا راستہ ہے۔ بس ذرا سنبھل کر اترنا ہے۔ دوسرا بل کھاتا راستہ اوپر کی طرف جاتا ہے۔ چڑھائی والا‘ پُرمشقت اور تھکا دینے والا۔ اس اَن دیکھے راستے کی کشش بھی کھینچتی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ان دونوں میں سے کون سا راستہ اختیار کیا جائے؟ فیصلہ مجھے جلد‘ بہت جلد کرنا ہے۔ جیا کیسے جائے؟ میرے والد‘ دادا‘ پردادا اور سارے بزرگوں کو یہ سوال کبھی پیش نہیں آیا تھا لیکن یہ سوال میری طرف ٹکٹکی باندھ کر دیکھ رہا ہے۔یہ مسئلہ صرف میرا نہیں‘ ہماری اور ہم سے اوپر کی نسل میں سب کا ہے بلکہ کم عمروں کا بھی۔ میری طرح کے لوگوں نے ایک خاص رفتار سے زندگی گزاری ہے۔ نہ بہت سست نہ بہت تیز۔ ہم سے پہلے لوگ ہم سے کم رفتار زندگی جیے تھے۔ ہم نے شعور کی دہلیز پر قدم رکھا تو بتدریج زندگی کی رفتار تیز ہونے لگی تھی۔ ہمارے بچپن نے لکڑی کی تختیوں پر گاچنی ملی‘ مسطر کھینچے اور قلم کے قط بنائے تھے۔ لڑکپن نے آنہ لائبریری سے ناول لے کر پڑھے اور ٹی وی کے سامنے رابن ہڈ‘ الف نون اور لاکھوں میں تین کی نئی قسطوں کا بے صبری سے انتظار کیا تھا۔ ہم نے کرائے پر لے کر سائیکل چلانا سیکھا جو بڑی عیاشی تھی۔ اس سے بڑی عیاشی موٹر سائیکل تھی۔ گاڑی کی بس دعا کی جا سکتی تھی لیکن خریدنا بس سے باہر تھا۔ ہمارے کالج نے تختہ سیاہ اور چاک سے ہمیں علم سکھایا تھا۔ ہماری یونیورسٹی نے پرانے ٹائپ رائٹرز پر لکھنا سکھایا تھا۔ پوری یونیورسٹی میں کہیں کمپیوٹر نہیں تھا۔ انٹرنیٹ اور موبائل کا تصور ہی ناپید تھا۔ ہماری شادیاں اس لاہور میں ہوئیں جو میرج ہالز کے تصور سے ابھی کافی دور تھا۔ اور یہ تو میں اپنی بات کر رہا ہوں‘ جس نے لاہور جیسے بڑے شہر میں زندگی گزاری۔ چھوٹے شہروں اور دیہات کا تصور آپ خود کر لیجیے۔زندگی تیز رفتار ہوتی گئی۔ بالآخر ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر میز پر آکر بیٹھ گیا اور آنکھوں سے آنکھیں لڑانے لگا۔ انٹرنیٹ پہلے زندگی میں داخل ہوا اور پھر پوری زندگی بن کر رہ گیا۔ چِٹھیاں متروک ہوئیں‘ ای میل اور میسجز زقند بھر کر مکتوب الیہ تک ایک لمحے میں پہنچنے لگے۔ موبائل کی پہلی نسل نے پہلے صرف آواز پہنچائی‘ پھر دوسری نسل نمبر بھی پہچاننے لگی۔ پھرلیپ ٹاپ نے ڈیسک ٹاپ کمپیوٹرز کو ردی بنایا‘ پھر اینڈرائڈ کی نئی رنگا رنگ نسل پیدا ہوئی اور پھر چل سو چل۔ سوشل میڈیا نے جنم لیا اور ایک نئی طلسماتی دنیا میں داخل ہو گئے۔ ہم نے یہ سب تبدیلیاں دیکھیں اور انہی کے ساتھ ساتھ خود کو تبدیل کرتے رہے۔ ہم توانائیوں بھرے تھے‘ کامیابی کی شدید خواہش تھی اور نئے تقاضوں سے قدم ملا کر چلنا چاہتے تھے کہ یہی زندگی کے لیے ضروری تھا۔ جنگ میں شامل رہنے کے لیے ضروری تھا کہ ہم سب ہتھیاروں سے لیس ہوں۔ سو ہم نئے نئے ہتھیار خریدتے گئے۔لیکن آپ کا کیا خیال ہے‘ یہ سب بہت آسان رہا ہوگا؟ خود کو تبدیل کرنا اور وہ بھی زمانے کے حکم پر‘ بہت مشکل کام ہے۔یہاں مجبوری میں خریدا گیا ہر نیا موبائل ایک نیا مسئلہ تھا۔ اسے سمجھنے اور استعمال کی عادت بنانے میں مہینوں لگ جاتے تھے۔ ہر نیا لیپ ٹاپ مہینوں تک پہلے ہمارا امتحان لیتا تھا‘ تب کہیں دوستی کا ہاتھ بڑھاتا تھا۔ ایک ایپلی کیشن سمجھ نہیں پاتے تھے کہ اس سے بہتر دوسری کا شور اٹھ کھڑا ہوتا تھا۔ بہت سے دوست اس دوڑ سے باہر نکل گئے کہ یہ تیز رفتار زندگی ان کے بس سے باہر ہونے لگی تھی۔ انہوں نے وہی دائرہ اختیار کر لیا جس میں وہ خوش تھے‘ خواہ زمانہ ان سے آگے نظر آتا ہو۔ لیکن ہم نے یہی سمجھا کہ قدیم اور جدید کی سنگم یہ دنیا ہمیشہ ہماری کامیابیوں کی ضامن رہے گی۔ لیکن ہم بھول گئے کہ دنیا کسی کی ضمانت نہیں دیا کرتی۔ شاید ہم سے پہلی نسلوں نے بھی یہ سوچا ہو گا کہ دنیا ہمیشہ ایسی ہی رہے گی لیکن دنیا کا ارادہ مختلف تھا۔اب ہم عمر کے ساڑھے چھ عشرے گزار کر تذبذب میں ایک دوراہے پر کھڑے ہیں۔ ایک مسلسل تبدیل ہوتے رہنے کا راستہ ہے اور زمانے کی زبان میں یہی کامیابی کا رستہ ہے۔ دل کا ایک حصہ مسلسل اس پر اکساتا رہتا ہے۔ اب مصنوعی ذہانت کے اوزار خرید کر سیکھنے ہیں۔ کاروبار میں انسانوں کو رخصت دے کر مشینوں کو ان کی کرسیوں پر بٹھانا ہے۔ کم سے کم خرچ میں زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کے گُر معلوم کرنے ہیں۔ دنیا اب کیسے کما رہی ہے اور اس نئی کاروباری دنیا میں کون سے نئے کاروبار وجود میں آ چکے ہیں‘ ان سے کیسے فائدے اٹھائے جا سکتے ہیں‘ الگورتھم کے اصول کیا ہیں زیادہ سے زیادہ لائکس اور کمنٹس سمیٹنے کے ہتھکنڈے کون سے ہیں۔ اب خود کو سمجھانا ہے کہ بدنامی اور شہرت دراصل ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ تم جو ساری عمر انہیں کھوٹے اور کھرے سمجھتے رہے ہو‘ وہ غلط تھا۔ اب سوال یہ نہیں کہ یہ تھیلی حاصل کرنی ہے یا نہیں‘ سوال اب یہ ہے کہ کیسے حاصل کرنی ہے؟ یہ سب باتیں میں سنتا رہتا ہوں۔ یہ سب چیلنج میرے سامنے ہیں۔ یہ چڑھائی کا‘ مشقت کا‘ محنت کا راستہ ہے۔ اور مجھے معلوم ہے کہ جب میں اپنے بدن کو تحلیل کرکے یہ ریاضتیں کر چکوں گا تو سامنے ایک اور چوٹی‘ ایک اور بلندی کی طرف جاتا راستہ میرا منتظر ہوگا۔ یہ آخری مشقت نہیں ہوگی۔ دوسرا راستہ سہل اور ہموار ہے۔ دل کے دوسرے حصے میں کوئی سرگوشی کرتا ہے کہ جو کچھ سیکھ لیا‘ جو کچھ اختیار کر لیا اس پر قناعت کرو اور زندگی کے باقی حصے کو مزے سے گزارو‘ خواہ یہ خیال دل کو ڈستا رہے کہ زمانہ آگے نکل گیا اور تم پچھڑ گئے۔ جو کچھ مل گیا وہ بھی کم نہیں۔ ایک گرم جلیبی تمہارے ہاتھ میں ہے تو اسے کھاکر اس کا لطف اٹھائو نہ کہ اسے ہاتھ میں پکڑے پکڑے ایک اور کی کوشش میں جت جائو اور یہ جلیبی بھی اپنا مزہ کھو بیٹھے۔ میاں! جو کچھ ہنرجو کچھ اظہار مل چکا ہے اور دنیا میں بہت سے لوگ اس کے معترف بھی ہیں‘ انہی کے ذریعے آخری سانس تک اپنا بیان جاری رکھو۔ مزید ہنر‘ مزید فنون کے حصول اور انہیں بارور کرنے کے لیے مزید وقت بھی چاہیے اور اس عمر میں وقت باقی ہی کتنا رہ جاتا ہے۔تو یہ ناگزیر‘ فوری فیصلہ سامنے دوراہے پر کھڑا ہاتھ باندھے مجھے ٹکٹکی باندھ کر دیکھتا ہے۔ دل کے کئی گوشوں میں کئی مشیر بیٹھے ہیں۔ میں ان میں ایک سے پوچھتا ہوں کہ کیا کروں اور وہ مجھ سے پوچھتا ہے کہ یہ بتائو تم خوش کس میں رہو گے؟ میں نے مشورہ مانگا تھا‘ ایک اور سوال پلے پڑ گیا۔ میں خوش کس میں رہوں گا؟ کیسے بھولے بادشاہ ہیں میرے مشیر بھی۔ انہیں یہ بھی نہیں پتا کہ انسان کسی حال میں خوش نہیں رہتا اور اسی میں خوش ہے۔ جسے جو مل گیا اس پرکوئی خوش نہیں‘ جو ابھی دسترس میں نہیں وہی اصل خوشی لگتی ہے۔ تو سنو میاں! میں دوپہر میں دور دور تک ہرے کھیتوں کے بیچ مینڈھ پر بکائن کی گھنی چھائوں میں بان کی چارپائی ڈالے بیٹھا ہوں‘ جس میں ہوا سرسراتی ہو اور فصلوں کی مہک میرے نتھنوں تک پہنچتی ہو۔ دیسی گھی کے تڑکے والی دال اور تنوری روٹی میرے سامنے ہو جس پر مکھن کا ڈلا تیرتا ہو۔ چاٹی کی نمکین لسی کی مٹکی ساتھ دھری ہو اور تانبے کے گلاس میں لسی پر نقرئی برف تیرتی ہو۔ لیپ ٹاپ‘ سوشل میڈیا‘ مصنوعی ذہانت اور الگورتھم کے اصول صدیوں پیچھے ہوں۔ میری خوشی تو وقت کا یہ ٹکڑا ہے۔ دل کاکیا ہے‘ دل تو بچہ ہے جی!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_81278520.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>عصبیتِ جاہلیہ …(2)(مفتی منیب الرحمٰن )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-06-11/52104/19525634</link><pubDate>Thu, 11 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-06-11/52104/19525634</guid><description>پاکستان کے پاس ایٹمی قوت کی حامل ایک مضبوط فوج ہے‘ جدید حربی صلاحیت میں پاکستان نے بھارت کے مقابلے میں اپنا لوہا منوایا ہے‘ ترکیہ کی افواج بھی جدید صلاحیتوں کی حامل ہیں اور عالَمِ عرب میں مصر فوجی لحاظ سے مضبوط ہے۔ اگر عرب سرمائے اور ان تین ممالک کی حربی صلاحیت کو یکجا کر دیا جائے تو مسلم ممالک اسرائیل کا مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں آ سکتے ہیں۔ لیکن یہ سب کچھ تب ممکن ہے کہ فرمانِ رسولﷺ کے مطابق ملت اسلامیہ تعصبات کے حصار سے نکل کر جسدِ واحد کی تصویر بنے۔ علامہ اقبال نے کہا:بتان رنگ و خوں کو توڑ کر ملت میں گم ہو جانہ تورانی رہے باقی نہ ایرانی نہ افغانییعنی رنگ ونسل اور مختلف قومیتوں کے بتوں کو پاش پاش کر کے سب اپنے آپ کو ایک ملتِ اسلامیہ میں ضم کر دو اور قرآنی تعلیمات کے مطابق ان امتیازات کو صرف تعارف کے لیے رکھو‘ تفاخر کے لیے نہیں۔ لیکن امت ہنوز علامہ کے اس خواب کے شرمندۂ تعبیر ہونے کی منتظر ہے۔ تعصب بلاشبہ قابلِ مذمت ہے‘ لیکن دین پر تصلُّب یعنی مضبوطی کے ساتھ قائم رہنا ایک قابلِ تحسین وصف ہے اور دونوں میں فرق کو ہر صورت ملحوظ رکھنا چاہیے‘ یعنی ایک ہی لاٹھی سے سب کو ہانکنا درست نہیں ہے۔ قرآنِ مجیدکی روسے جس شجرِ ممنوعہ کے پاس حضرت آدم وحوا علیہما السلام کو جانے سے منع کیا گیا تھا علامہ اقبال نے اس شجر کو بھی فرقہ واریت سے تعبیر کرتے ہوئے کہا: شجر ہے فرقہ واریت‘ تعصّب ہے ثمر اس کایہ وہ پھل ہے کہ جنت سے نکلواتا ہے آدم کومفہومی ترجمہ: &#39;&#39;یعنی جس شجر کے قریب جانے سے حضرت آدم وحوا علیہما السلام کو منع کیا گیا تھا‘ وہ فرقہ واریت ہے اور اس کا لازمی نتیجہ تعصب ہے اور یہ نفسیاتی عارضہ انسان کو جنت یعنی اللہ کی نعمتوں سے محروم کر دیتا ہے‘‘۔ اگرچہ علامہ اقبال کی یہ تفسیر وتعبیر قرآن کی نصِ صریح اور امت کے اجماعی مؤقف سے مطابقت نہیں رکھتی۔ہمارے ملک میں جب بھی دہشت گردی کا کوئی واقعہ ہوتا ہے تو اس کا رُخ فرقہ واریت کی طرف موڑ دیا جاتاہے اور میڈیا میں اس پر مکالمہ شروع کر دیا جاتا ہے۔ میں ان مکالموں میں شریک ہوتا رہا ہوں اور ہر بار دو ٹوک شرعی مؤقف بیان کیا مگر اس کے باوجود ہر بار علماء سے رجوع کرنے کا ایک معنی یہ بھی نکلتا ہے کہ فرقہ واریت کے فروغ میں شاید علماء کا بھی حصہ ہے۔ اسی لیے میں اب اس طرح کے مکالموں اور مذاکروں سے اجتناب کرتا ہوں۔ ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ سب کا دامن پاک ہے تو پھر ذمہ دارکون ہے۔ مزید یہ کہ عصبیت کی مذمت کا دائرہ مذہب تک محدود نہیں رکھنا چاہیے‘ کیا یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح نہیں ہے کہ ہمارے ہاں سیاسی عصبیت کے سبب نفرتیں انتہا پر ہیں‘ ہر جماعت (خواہ وہ اقتدار میں ہو یا حزب اختلاف میں) کے منتخب اراکین اور منتخب ممبران کی حیثیت سیاسی مزارعین کی سی ہے‘ وہ آنکھیں بند کرکے حق اور ناحق کی تمیز سے بے نیاز ہو کر اپنی قیادت کی حمایت پر کمربستہ ہو جاتے ہیں‘ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں حق اور ناحق کے اپنے اپنے معیارات اورتعریفات ہیں‘ سب اپنے اپنے شعبوں میں اپنی اپنی عصبیتوں‘ پسند وناپسند اور ترجیحات کے اسیر ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ اپنے گریبان میں جھانکنا مشکل اور دوسرے کو ہدف بنانا آسان ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: &#39;&#39;بلکہ انسان اپنے آپ پر خوب آگاہ ہے‘ خواہ وہ کتنے ہی عذر تراشتا رہے‘‘ (القیامہ: 14 تا 15)۔ حضرت عمر فاروقؓ نے فرمایا: &#39;&#39;خود اپنا احتساب کرو قبل اس کے کہ تمہارا احتساب کیا جائے‘ اپنے خیر وشر کے میزان کو خود جانچو‘ قبل اس کے کہ تمہارے خیر وشر کو میزانِ عمل میں تولا جائے اور جس دن تمہیں حساب کے لیے طلب کیا جائے گا‘ اُس مشکل پیشی کے لیے اپنے آپ کو خوب تیار کرو‘ تم سے اپنی کوئی خوبی یا عیب پوشیدہ نہیں ہے‘‘ (مصنف ابن ابی شیبہ: 34469)۔پس حق یہ ہے کہ ہر مذہبی‘ لسانی‘ قبائلی‘ علاقائی یا سیاسی گروہ کے لیے اپنے اپنے انتہا پسندوں کی تعیین کے ساتھ مذمت انتہائی دشوار ہے‘ اس لیے ہمارے خطابات بھی تاثیر سے عاری اور ہماری مذمتیں بھی ہوا میں تیر چلانے کے مترادف ہوتی ہیں‘ جن کا کوئی ہدف نہیں ہوتا کہ &#39;سانپ بھی مرجائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے‘ کے مصداق سب اپنی ذمہ داری سے عہدہ برا ہو جاتے ہیں۔ اسلام آباد میں ایک این جی او نے آئینی و قانونی حکومت کے خلاف خروج یا بغاوت کے موضوع پر کئی سیمینار منعقد کیے‘ تمام مکاتبِ فکر کے علماء اور دانشوروں کو بلایا‘ پھر سب کی منتخب نگارشاتِ قلم کو ایک کتابی شکل میں مدون کیا۔ میں نے اُن سے گزارش کی کہ یہ مجرد اور غیر اطلاقی حکم اور مؤقف تو آپ نے بیان کر دیا اور آپ کی یہ علمی و فکری کاوش قابلِ تحسین ہے‘ اب ذرا ایک نشست میں ان سب کو بلا کر ہماری یہ بھی رہنمائی فرمادیں کہ ہمارے ملک کے تناظر میں جو صورتِ حال درپیش ہے‘ حکومت سے برسرپیکاراور خروج و بغاوت پر آمادہ عناصر کا حکم کیا ہے۔ صرف اسی صورت میں اس ساری علمی اور فکری کاوش کا کوئی عملی نتیجہ برآمد ہو سکتاہے‘ ورنہ جو کچھ اس کتاب میں بیان کیا گیا ہے وہ ہمارے دینی اور علمی ذخیرے میں نہایت بسط وتفصیل کے ساتھ پہلے سے موجود ہے‘ پس مصداق کے تعیّن کے بغیر خطاب یا تحریر تو آسان ہے‘ لیکن اپنے گردوپیش پر تطبیق دشوار امر ہے۔آج دینی‘ ملّی اور ملکی امور کے بارے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ قوم یکسو ہو‘ مذہبی خلافیات کو تو سب ہی کوستے رہتے اور ہدفِ ملامت بناتے ہیں‘ لیکن ہمارا مجموعی ملکی‘ ملّی اور قومی منظرنامہ بھی یہی ہے‘ ہمارا کوئی متفقہ ترجیحی قومی ایجنڈا نہیں ہے۔ عرب اپنے آبائو اجداد کے کارناموں پر فخر کرتے تھے اور اپنے آپ کو دوسروں سے برتر سمجھتے تھے‘ وہ نسلی طور پر خود کو دوسروں پر فوقیت دیتے تھے‘ یہاں تک کہ حج کی ادائیگی کے دوران بھی دوسرے لوگوں کے ساتھ مل کر عبادت کرنے کو اپنی شان کے خلاف سمجھتے تھے۔ رسول اللہﷺ نے فتحِ مکہ کے دن ان کے اس نسلی احساس برتری اور زعم باطل کا رد کرتے ہوئے فرمایا: &#39;&#39;لوگو! بیشک اللہ تعالیٰ نے تم سے زمانہ جاہلیت کی نسلی برتری اور اپنے باپ دادا پر فخر کرنے کو دور کر دیا ہے‘ لوگوں کی دو قسمیں ہیں: ایک مومن متقی کریم اور دوسرے فاجر درشت خو ذلیل‘ سب لوگ آدم کی اولاد ہیں اور آدم کو اللہ تعالیٰ نے مٹی سے پیدا کیا ہے‘‘۔ پھر فرمایا: &#39;&#39;لوگو! بیشک ہم نے تمہیں ایک مرد اورایک عورت سے پیدا کیا ہے اورہم نے تم کو قومیں اور قبیلے بنا دیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو‘ بیشک تم میں اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ عزت والا وہی ہے‘ جو سب سے زیادہ متقی ہے‘‘ (ترمذی: 3270)۔ &#39;&#39;حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہﷺ نے فرمایا: جو شخص علم حاصل کرنے کے لیے چل پڑا تو اللہ اس کے لیے جنت کے راستے کو آسان فرما دے گا اورجس کا عمل اسے پیچھے چھوڑ دے اس کا نسب اُسے آگے نہیں کر سکتا‘‘ (ابودائود: 3643)۔ اسلام عمل کا دین ہے اور صرف حسب و نسب کی وجہ سے کسی کی کمتری یا برتری کا حکم نہیں دیتا‘ بلکہ عمل کی بنیاد پر فضیلت کا مدار ہے۔ دورِ جاہلیت میں تمام لوگ کسی نہ کسی احساسِ برتری میں مبتلا تھے‘ کسی کو قبائلی برتری کا اور کسی کو رنگ ونسل کی برتری کا احساس تھا۔ یہ سب تعصب کی مختلف صورتیں ہیں۔ قریش بیت اللہ کا متولی ہونے کی وجہ سے اپنے آپ کو دیگر عرب قبائل سے برتر سمجھتے ہوئے حج کے لیے مزدلفہ میں قیام کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: &#39;&#39;پھر تم بھی وہیں (عرفات) سے لوٹو جہاں سے سب لوگ لوٹتے ہیں اور اللہ سے بخشش مانگو‘ بیشک اللہ بہت بخشنے والا مہربان ہے‘ پھر جب تم ارکانِ حج ادا کر چکو تو جس طرح تم (زمانۂ جاہلیت میں) اپنے باپ دادا کی شانیں بیان کیا کرتے تھے‘ اس سے زیادہ شدت کے ساتھ اللہ کی شان بیان کرو‘‘ (البقرۃ: 199 تا 200)۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_61172381.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>