<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>نئے صوبے، عوامی مطالبہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-12/11533</link><pubDate>Sat, 12 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-12/11533</guid><description>ملک میں بہتر گورننس اور شہری مسائل کے حل کے لیے نئے صوبوں کا قیام عوام کی نظر میں ناگزیر تقاضا ہے۔ حال ہی میں ایک سروے کے نتائج نئے صوبوں کے لیے عوامی حمایت کو واضح طور پر پیش کرتے ہیں‘ جن کے مطابق 75.5 فیصد رائے دہندگان نے نئے صوبوں کے قیام کی حمایت کی جبکہ 72 فیصد سے زائد رائے دہندگان کا کہنا تھا کہ نئے صوبے عوامی مسائل کے حل کا بنیادی ذریعہ ہیں۔ رائے عامہ کا یہ جائزہ نئے صوبوں کی اہمیت کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ اگرچہ یہ تاثر پہلے سے موجود تھا کہ عوام نئے صوبے چاہتے ہیں‘ اور اس کے حق میں مؤثر دلائل موجود تھے۔ ماضی میں پنجاب اور خیبر پختونخوا کے بعض حصوں میں یہ مطالبہ سامنے آتا رہا ہے‘ تاہم ماضی کے مقابلے میں آج عوامی رائے میں جو بڑی تبدیلی نظر آتی ہے وہ لسانی یا نسلی بنیاد پر الگ صوبے کے مطالبے کے بجائے انتظامی اور عوامی مسائل کے حل اور بہتر حکمرانی کی غرض سے نئے صوبوں کی تشکیل کا مطالبہ ہے۔ عوامی سطح پر یہ آرا سیاسی جماعتوں کے لیے غور طلب ہونی چاہئیں۔ ملک کی بڑی سیاسی جماعتیں نئے انتظامی یونٹس کی تشکیل کے معاملے پر گومگو کی کیفیت میں نظر آتی ہیں۔

اس کے باوجود کہ متعدد سیاسی رہنما نئے صوبوں کی حمایت میں بیانات دے چکے ہیں مگر جماعتوں کی سطح پر اس معاملے میں خاموشی ہے جبکہ سندھ میں پیپلز پارٹی اس مطالبے کے خلاف خم ٹھونک کر کھڑی ہے۔ انتظامی بنیادوں پر چھوٹے صوبائی یونٹس کے معاملے میں سیاسی حلقوں کی ہچکچاہٹ کی کوئی معقول وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔ اس معاملے میں عوامی منشا کو دیکھا جائے تو سیاسی جماعتوں کے لیے مناسب یہ ہے کہ نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی حمایت کر کے عوام کے دلوں میں اپنے لیے جگہ بنائیں اور صحیح معنوں میں عوامی جمہوری سیاست کا ثبوت دیں۔ سیاسی جماعتیں اگر واقعتاً جمہوری سوچ کی حامل ہوں تو عوامی مطالبات کو وزن دیتی ہیں اور اس طرح عوامی حمایت کی حقدار ٹھہرتی ہیں۔ یہی تعلق سیاسی جماعتوں کا سب سے اہم اثاثہ ثابت ہوتا ہے۔ نئے صوبوں کا مطالبہ ملکِ عزیز میں سیاسی جماعتوں کے لیے نادر موقع ہے خود کو عوامی جمہوری روایتوں کا پاسدار ثابت کرنے کا۔ اس حال میں جبکہ عوام کی بھاری اکثریت انتظا می بنیادوں پر صوبوں کے حق میں کھڑی ہے‘ سیاسی جماعتیں جرأت مندانہ قدم اٹھا کر عوام کے ساتھ کھڑی نہ ہوں گی تو اندیشہ ہے کہ اپنے لیے حمایت اور تعلق کا ایک بڑا موقع کھو بیٹھیں گی۔ سیاسی جماعتوں کو یہ مان کر چلنا ہو گا کہ آج کا نوجوان جسے عرفِ عام میں جین زی کہتے ہیں‘ اپنے سے پہلے والی نسلوں سے ذہنی اور نفسیاتی طور پر بہت مختلف ہے۔ ان نوجوانوں نے آئی ٹی اور ذرائع ابلاغ کے جدید وسائل کے ساتھ دنیا دیکھی ہے‘ ان کی اپنی محرومیاں انہیں تلخ بناتی ہیں اور ہدفِ تنقید سیاسی طبقات ہیں۔
نوجوانوں کی یہ نسل‘ اس سے قطع نظر کہ وہ شہروں میں ہے یا دیہات میں‘ تعلیم یافتہ ہے یا نیم خواندہ‘ اپنے مسائل کی تشریح کم و بیش ایک ہی طرح کرتی ہے۔ یہ نوجوان ملکی آبادی کا سب سے بڑا حصہ ہیں اور اس لحاظ سے بہت بڑا ووٹ بینک۔ مگر سیاسی جماعتوں کے لیے ان کی حمایت حاصل کرنا محض نعروں‘ تقریروں‘ وعدوں اور ماضی کے حکمرانوں پر تنقید سے ممکن نہیں۔ نوجوانوں کے ساتھ سیاسی جماعتوں کی قربت کا سیدھا راستہ یہ ہے کہ ان کے حقیقی مسائل کو حل کرنے میں مزید تاخیر نہ کی جائے‘ انہیں قومی معاملات اور فیصلوں میں اہمیت دی جائے اور سیاسی قیادت میں ان کی شمولیت یقینی بنائی جائے۔ سیاسی جماعتوں نے ماضی میں بنیادی حکومتی نظام کو اہمیت نہ دے کر ایک غلطی کی‘ اب نئے  صوبوں کے قیام کی راہ میں رکاوٹیں ڈال کر دوسری غلطی کا ارتکاب نہ کریں۔ نئے صوبے صرف نعرہ نہیں حقیقی عوامی مطالبہ بن چکے ہیں‘ اس معاملے کو اسی طرح سمجھنا ہو گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مہنگائی اور حکومتی ذمہ داری(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-12/11532</link><pubDate>Sat, 12 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-12/11532</guid><description>وفاقی ادارۂ شماریات کی رپورٹ کے مطابق 10 ستمبر کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران 14 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جبکہ ہفتہ وار مہنگائی کی شرح 8.62 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سالانہ بنیادوں پر ایل پی جی کی قیمت میں 55 فیصد‘ ڈیزل 45 فیصد‘ پٹرول 40 فیصد‘ بجلی 25 فیصد‘ پیاز 125 فیصد اور آٹے کی قیمت میں 30 فیصد اضافہ ہوا۔ یہ اعداد و شمار عام آدمی کی مسلسل سکڑتی ہوئی معاشی سکت کی عکاسی کرتے ہیں۔ بالخصوص رواں ہفتے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں پے درپے اضافے نے مہنگائی کے دباؤ کو مزید بڑھا دیا ہے۔ مہنگائی میں مسلسل اضافے اور عوام کی سکڑتی قوتِ خرید کے پیشِ نظر خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے والی آبادی بطور خاص مشکل میں ہے۔

عالمی قیمتوں کا دباؤ اپنی جگہ‘ مقامی سطح پر غیر ضروری منافع خوری اور بے تحاشا ٹیکس عوام کی مشکلات کو کئی گنا بڑھا رہے ہیں۔ مہنگائی کا مستقل حل طویل مدتی بنیادوں پر عوام کی آمدن اور معاشی سکت میں اضافہ‘ روزگار کے مواقع پیدا کرنا‘ پیداواری لاگت کم کرنا اور بالخصوص غیر ضروری ٹیکسوں کا بوجھ گھٹانا ہے۔ حکومت کو ایسی معاشی پالیسی درکار ہے جس میں مالیاتی استحکام کے ساتھ عوام کی قوتِ خرید کا تحفظ بھی بنیادی ترجیح ہو۔ معاشی حالات کا سارا بوجھ صارف پر منتقل کرنے اور عوام کی برداشت کی آخری حد آنے سے پیشتر حکومت کو اپنی ذمہ داری کا ادراک کرنا اور اس بوجھ کا مناسب حصہ خود بھی اٹھانا چاہیے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ٹیکسوں کا غیر منصفانہ بوجھ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-12/11531</link><pubDate>Sat, 12 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-12/11531</guid><description>ملک عزیز کے ٹیکس نظام کی سب سے بڑی کمزوری کم ٹیکس وصولی نہیں بلکہ اس کا غیر متوازن بوجھ ہے۔ ایف بی آر کے حالیہ اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی دو مہینوں میں تنخواہ دار طبقے سے 91 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا گیا‘ جبکہ اسی مدت میں رئیل اسٹیٹ سیکٹر نے 28 ارب جبکہ ریٹیلرز اور ہول سیلرز نے مجموعی طور پر محض 12 ارب روپے انکم ٹیکس جمع کرایا۔ یہ محض اعداد و شمار کا فرق نہیں بلکہ ہمارے ٹیکس نظام کے غیر منصفانہ ہونے کا بین ثبوت ہے۔ تنخواہ دار طبقے کی آمدن دستاویزی ہونے کے باعث اس پر ٹیکس عائد کرنا نسبتاً آسان ہے جبکہ معیشت کے کئی دوسرے بڑے شعبے اب بھی اپنی حقیقی آمدن کے مقابلے میں محدود ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔

نتیجہ یہ ہے کہ جو طبقہ پہلے ہی مہنگائی‘ بجلی‘ ایندھن اور روزمرہ اخراجات کے دباؤ میں ہے‘ وہ قومی محصولات کا غیر معمولی بوجھ اٹھا رہا ہے۔ حکومت کی ٹیکس اصلاحات کا مقصد پہلے سے ٹیکس دینے والے طبقات سے مزید ٹیکس وصول کرنا نہیں بلکہ ٹیکس بیس کو وسیع کرنا ہونا چاہیے۔ حکومت کو تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے کے ساتھ ساتھ رئیل اسٹیٹ‘ ریٹیل اور ہول سیل سمیت ان تمام شعبوں کو مؤثر طریقے سے ٹیکس نیٹ میں لانا ہو گا جہاں آمدن اور ٹیکس ادائیگی کے درمیان واضح خلا موجود ہے۔ ڈیجیٹل لین دین‘ دستاویزی معیشت اور مؤثر نگرانی اس عمل کو سہل بنا سکتی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>اصلاحی کوششیں بے نتیجہ کیوں؟(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-09-12/52646/93009281</link><pubDate>Sat, 12 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-09-12/52646/93009281</guid><description>ایک معروف مذہبی جماعت کے راہنما تشریف لائے۔ انہوں نے اپنی سرگرمیوں کی تفصیل بتائی تو میں ان کی وسعت کو دیکھ کر حیران رہ گیا۔دعوت‘ تعلیم‘ تحقیق‘ ابلاغ‘ رفاہِ عامہ‘ کون سا کام ہے جو اُن کی تنظیم نہیں کر رہی۔ دعوت کی ایک عالمگیر تحریک ہے جو نجانے کتنے ممالک تک پھیلی ہوئی ہے۔ سکولوں کا ایک سلسلہ ہے‘ جس کا دائرہ پورے ملک کو محیط ہے۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے یونیورسٹی بھی ہے۔ اپنا ٹی وی چینل ہے جو 24 گھنٹے لوگوں کو دین کی باتیں سکھاتا ہے۔ ان کے پاس ابلاغ کا جدید ترین اور مہنگا ترین نظام ہے۔ اس جماعت سے جو ملازمین وابستہ ہیں‘ ان کی سالانہ تنخواہ چوبیس ارب روپے سے زیادہ ہے۔ فلاح و بہبود کے کئی منصوبے جاری ہیں۔ یتیم بچوں کی کفالت بھی اس کا حصہ ہے۔یہ صرف ایک ادارہ یاجماعت نہیں جو معاشرے میں دین کا کام کر رہی ہے۔ اَن گنت ہیں‘ مقامی بھی اور قومی بھی۔ اس کے ساتھ بین الااقوامی بھی۔ ان کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ ان کے بیان کے لیے کتابوں کی ضخامت چاہیے۔ مساجد اور مدارس کو بھی اس فہرست میں شامل کر لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ سماج میں ہر طرف دین کے خدام پھیلے ہوئے ہیں۔ دینی حمیت کا یہ عالم ہے کہ لوگ مذہبی مسائل پر گفتگو کرنے سے ڈرتے ہیں۔ ماضی میں ہمارے دینی لٹریچر میں جو بات بلا تکّلف لکھی جاتی تھی‘ اب توہین کے زمرے میں آتی ہے۔ میں جب بھی کوئی پرانی کتاب پڑھتا ہوں تو خیال ہوتا ہے کہ آج کے دور میں لکھی جاتی تو مصنف صاحب اس وقت عالمِ برزخ میں خدا کے آخری فیصلے کا انتظار کر رہے ہوتے۔یہ تو سماجی کوششیں ہیں۔ ریاست کو مسلمان بنانے کے لیے ہم نے کیا نہیں کیا۔ پارلیمنٹ نے جب کوشش کی کہ شادی کی عمر طے کر دے تو اسمبلی کا ایوان نعرہ ہائے بغاوت سے گونج اٹھا۔ مشرف جیسا حکمران بھی اس کی جسارت نہ کر سکا کہ خواتین کے حوالے سے اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کو قانون بنائے۔ یہ ہماری مذہبی سیاسی جماعتوں کی قوت ہے۔ اسمبلی میں ان کی تعداد ممکن ہے قابلِ ذکر نہ ہو لیکن ان کی سماجی قوت اتنی ہے کہ پارلیمنٹ کی اکثریت اس کے سامنے بے بس ہو جاتی ہے۔ گویا کیا سماج اور کیا ریاست‘ جو قوت سب سے زیادہ دکھائی دیتی ہے اور اپنے وجود کا احساس دلاتی ہے‘ وہ مذہبی جماعتوں اور تنظیموں کی قوت ہے۔ان کاوشوں کی وسعت اور ان جماعتوں کو متحرک دیکھ کر خیال یہ ہوتا ہے کہ سماج کی سب سے مؤثر قوت مذہب کے پاس ہے۔ ہمارا مشاہدہ اور تجربہ مگر اس کے برعکس ہے۔ ہماری معاشرتی زندگی میں بہت کم مذہب کے اثرات دکھائی دیتے ہیں۔ ایک دیانتدار کارکن ڈھونڈ نے سے نہیں ملتا۔ ایک مزدور سے لے کر ٹھیکے دار تک‘ چھوٹے دکاندار سے لے کر بڑے صنعتکار تک‘ دیانت کا شاید ہی کہیں گزر ہوتا ہو۔ ایک کلو خالص دودھ نہیں ملتا۔ کسی منصب پر بیٹھنے والا اپنی ذمہ داریوں کو آئین اور قانون کے مطابق ادا کرنے پر آمادہ نہیں۔ اس میں پڑھے لکھے اور اَن پڑھ‘ امیر اور غریب‘ دیہاتی اور شہری میں کوئی امتیاز نہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہر کوئی معاشرے میں پھیلتی کرپشن کا گلہ کرے گا۔ اس میں جو بات نظر انداز ہوئی‘ وہ اس کا اپنا وجود ہے۔ اس کرپشن میں اس کا حصہ کتنا ہے‘ اس کا کہیں ذکر نہیں ہوتا۔خاندان کا نظام بکھر رہا ہے۔ طلاق کی شرح میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ روایت باقی نہیں۔ گھر میں لوگ ایک دوسرے پر اعتماد نہیں کرتے۔ جائیداد اور روپے پیسے کو رشتوں پر ترجیح دی جاتی ہے۔ صلہ رحمی نام کی کوئی قدر باقی نہیں ہے‘ الا ماشاء اللہ۔ کچہری میں جائیں تو سگے رشتوں کے درمیان زمینوں کے جھگڑے‘ سب مقدمات پر بھاری ہیں۔ اس سلسلے کو دراز کرتے جائیں‘ معاشرہ دینی قدروں کا نمائندہ نہیں دکھائی دیتا۔ جہاں دین کے فروغ کی اتنی کوششیں ہو رہی ہوں‘ جہاں صبح و شام مذہب کا غلغلہ ہو وہاں تو پورے معاشرے پر دینی رنگ غالب نظر آنا چاہیے۔ یہ محنت رائیگاں کیوں ہے؟یہ بات بھی شاید پوری طرح درست نہ ہو کہ یہ مسلکی گروہ ہیں اور مسلک کی ترویج میں لگے ہیں۔ یقینا ایسے لوگ بھی بہت ہیں‘ لیکن میں ان گروہوں اور جماعتوں کا ذکر کر رہا ہوں جن کا دعویٰ ہے کہ وہ ان اختلافات سے بلند تر ہیں۔ وہ تو لوگوں کے اخلاق کو موضوع بناتے ہیں۔ وہ بچوں اور معاشرے میں حیا سمیت وہ تمام قدریں پھیلانا چاہتے ہیں جن کا تعلق انسانی رویے کے ساتھ ہے۔ وہ تو محبت‘ ایثار اور برداشت کی بات کرتے ہیں۔ تبلیغی جماعت ہو یا دعوتِ اسلامی‘ ان کا جھکاؤ کسی خاص مسلک کی طرف ہو سکتا ہے مگر مسلک کی تعلیم ان کے پیشِ نظر نہیں۔ وہ تعلق باللہ اور اخلاق و کردار کی بہتری کی بات کرتے ہیں۔ سوال یہی ہے کہ ان کی کوششوں کا کوئی نتیجہ کیوں دکھائی نہیں دیتا؟اس پر کم و بیش اتفاق ہے کہ مغرب کا معاشرہ‘ سماجی اخلاقیات کے اعتبار سے ہمارے معاشرے سے کہیں بہتر ہے۔ مثال کے طور پر وہاں سماجی تفاوت ختم ہو چکا ہے۔ وہاں کسی کو &#39;&#39;کمی‘‘ قرار دے کر اس کے سماجی معیار کا تعین نہیں کیا جاتا۔ ایک حجام بھی اسی عزت کا مستحق ہے جس کا کوئی نواب۔ وہاں بنیادی انسانی حقوق کے معاملے میں کوئی تفریق نہیں۔ اس طرح کی بہت سی مثالیں ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ جہاں مذہب کا بہت شور ہے وہاں لوگوں کی اخلاقی حالت دوسروں سے ممتاز ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مذہب نام ہی اخلاق کے تزکیے کا ہے۔ میرا کہنا یہ ہے کہ متکبرین کی جتنی تعداد ہمارے معاشرے میں پائی جاتی ہے شاید ہی کہیں ہو۔ دولت کا تکبر‘ شہرت کا تکبر‘ علم کا تکبر‘ دیانت کا تکبر‘ اقتدار کا تکبر‘ حسب و نسب کا تکبر‘ عبادت کا تکبر۔ تکبر کی شاید ہی کوئی صورت ہے جو یہاں نہ پائی جاتی ہو۔ ہمارے دین میں شرک اور تکبر کی شناخت میں بہت کم فرق ہے۔ اونٹ سوئی کے ناکے سے گزر سکتا ہے مگر متکبر جنت میں نہیں جا سکتا۔یہ سب کیا ہے؟ مذہب کے نام پر ہونے والی لا تعداد سر گرمیاں بے نتیجہ کیوں ہیں؟ میرے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں۔ میں آئے دن مذہبی سر گرمیوں میں شریک ہوتا ہوں۔ ہر بار یہی سوال زندہ ہوتا ہے مگر اس کا کوئی جواب نہیں ملتا۔ پہلے میں یہ خیال کرتا تھا کہ مذہبی جماعتیں اخلاق اور انسان دوستی پر توجہ نہیں دیتیں۔ اب میں دیکھتا ہوں کہ ایسا نہیں ہے۔ اخلاقی اصلاح کے لیے ٹی وی چینل وقف ہیں‘ کتابیں شائع ہو رہی ہیں‘ تربیتی نشستیں ہیں۔ ان سب کے ہوتے ہوئے سماج بدل نہیں رہا۔ یہ جواب بھی قابلِ اطمینان نہیں ہے کہ حکمران اچھے ہوں تو سماج اچھا ہوتا ہے۔ یورپ میں تو ایسا نہیں ہوا۔ وہاں تو سماجی اصلاح کی تحریکیں پہلے اٹھیں اور سیاسی قیادت بعد میں تبدیل ہوئی۔ اس سوال کا جواب ایسا ہونا چاہیے جو دل اور دماغ دونوں کو متاثر کرے۔ اس کالم کے پڑھنے والوں میں سے کسی کے پاس اس سوال کا جواب ہو تو مجھے ضرور بتائے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>نئے صوبے اور ٹائمنگ(خالد مسعود خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-09-12/52647/98041769</link><pubDate>Sat, 12 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-09-12/52647/98041769</guid><description>آج کل ملک بھر میں جس مسئلے پر سب سے زیادہ سیاسی دھماچوکڑی مچی ہوئی ہے وہ نئے صوبوں کی تشکیل یا موجودہ صوبوں کو چھوٹے صوبوں میں تقسیم کرنے سے متعلق ہے۔ یہ محض اتفاق ہے کہ آج ستمبر 2026ء میں جس معاملے پر زور وشور سے بحث مباحثہ بلکہ کھینچا تانی شروع ہو رہی ہے‘ اسی مسئلے پر میں نے آج سے چودہ سال قبل‘ روزنامہ دنیا کی اشاعت کے پہلے روز‘ مورخہ 3 ستمبر 2012ء کو جو پہلا کالم لکھا تھا‘ اس کا عنوان تھا &#39;&#39;صوبوں کی تشکیلِ نو کا معاملہ‘‘۔گزشتہ کچھ دنوں سے برادرِ بزرگ فون پر ایک بات ضرور پوچھتے ہیں کہ جب اس موضوع پر کم ہی لوگ بات کرتے تھے تب تم اس موضوع پر مسلسل لکھنے والے شاید واحد شخص تھے اور اب جبکہ ہر طرف اس معاملے پر ڈھول پیٹا جا رہا ہے‘ تم کان لپیٹے ایک طرف بیٹھے ہوئے ہو۔ تو میں کیا سمجھوں کہ تم نے اپنے سابقہ مؤقف سے رجوع کر لیا ہے؟ میں نے کہا کہ ایسی بات نہیں‘ میں کل بھی اس مؤقف کا حامی تھا اور آج بھی اپنے مؤقف پر قائم ہوں کہ اس ملک میں صوبوں کی تشکیلِ نو ضروری ہے اور میں یہ بات کسی لسانی‘ گروہی یا نسلی بنیادوں پر نہیں بلکہ سراسر انتظامی بنیادوں کی وجہ سے کہہ رہا ہوں۔ میں اس میں ہمیشہ مثال کے طور پر صوبہ پنجاب کو لیتا تھا‘ لگ بھگ تیرہ کروڑ آبادی کے ساتھ دنیا میں آبادی کے لحاظ سے پہلے گیارہ ممالک کے بعد اس کا نمبر آتا ہے۔ اسی طرح اگر اقوام متحدہ کے رکن ممالک کی فہرست کو معیار بنایا جائے تو ہمارا صوبہ پنجاب دنیا کے 182 ممالک سے زیادہ آبادی کا حامل ہے۔ لیکن یہ کام آئین کے موجودہ آرٹیکل (4)239 کے تحت ہونا بہت مشکل ہے‘ جس میں کسی صوبے کو تقسیم کرنے کیلئے صوبائی اسمبلی سے اس قرارداد کا دو تہائی اکثریت سے پاس ہونا اور پھر اس قرارداد کا قومی اسمبلی سے بھی اسی اکثریت سے پاس ہونا ضروری ہے۔ پاکستان کے آئین میں نئے صوبوں کی تشکیل یا کسی موجودہ صوبے کی حدود میں تبدیلی کیلئے بنیادی طور پر آرٹیکل 239 (خصوصاً اس کی شق 4) اور آرٹیکل 1 سے رجوع کیا جاتا ہے۔ میرے خیال میں اس کام میں عملی مشکلات حائل ہیں۔ آئین کے موجودہ طریقہ کار کو سامنے رکھیں تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ سندھ اسمبلی کسی بھی صورت میں ایسی کسی قرارداد کو دوتہائی اکثریت سے منظور نہیں کرے گی۔ نئے صوبوں کے قیام کیلئے آئین میں باقاعدہ ترمیم کرنا پڑے گی جو آرٹیکل 238 اور 239 کے تحت عمل میں لائی جائے گی۔ آئین کا یہ آرٹیکل کہتا ہے کہ آئین میں ترمیم کا ایسا کوئی بھی بل جس کے نتیجے میں کسی صوبے کی حدود (limits) میں تبدیلی واقع ہوتی ہو‘ صدرِ پاکستان کو توثیق کیلئے اس وقت تک پیش نہیں کیا جائے گا جب تک کہ وہ متعلقہ صوبائی اسمبلی کی کُل رکنیت کے کم از کم دو تہائی اکثریت کے ووٹوں سے منظور نہ ہو جائے۔ اس کے ساتھ ہی آئین کا آرٹیکل 1‘ جو ملک کے نام اور اس کی علاقائی حدود (territories) کی وضاحت کرتا ہے‘ میں موجودہ چاروں صوبوں کے نام درج ہیں۔ جب بھی کوئی نیا صوبہ بنایا جائے گا تو آرٹیکل 1 کی شق (2) میں بھی ترمیم کرنا لازمی ہو گی تاکہ نئے صوبے کا نام وفاق کے تحت شامل کیا جا سکے۔ آئین کے آرٹیکل 1 اور آرٹیکل (4)239 کے تحت جس صوبے میں بھی نیا صوبہ بنانا مقصود ہو وہاں کی صوبائی اسمبلی اور پھر قومی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت سے اس کی توثیق اور قومی اسمبلی سے آئین کے آرٹیکل 1 میں موجود چار صوبوں کے علاوہ جتنے بھی صوبے مزید بنتے ہیں ان کے نام کا آئین میں اندراج بذاتِ خود آئین میں ترمیم سے مشروط ہے۔ یہ وہ طریقہ کار ہے جو آئین کے تحت نئے صوبوں کی تشکیل کیلئے لازمی ہے۔ ہم نے آئین کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے یہ کام کرنا ہے تو سب سے پہلے آئین کے مندرجہ بالا دونوں آرٹیکلز میں ترمیم کرنا ہو گی۔ تاہم میرے خیال میں (جو خیالِ خام بھی ہو سکتا ہے) اس کا نسبتاً بہتر اور مستقل حل یہ ہے کہ اس سلسلے میں آئینی ترمیم کے ذریعے ایک کمیشن قائم کر دیا جائے۔ اگست 1953ء میں بھارت میں صوبوں کی تشکیلِ نو کیلئے قائم کیے جانے والے کمیشن کی طرح‘ جس کا سربراہ جسٹس فضل علی کو بنایا گیا۔ اس کمیشن نے نہ صرف پورے بھارت کا اندرونی نقشہ تبدیل کرکے رکھ دیا بلکہ مستقبل میں صوبوں کی تشکیلِ نو کا مسئلہ بھی حل ہو گیا۔کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہکوئی چاہے یا نہ چاہے صوبے تو بنیں گے۔ آئین سے بالاتر اقدامات نے ماضی میں بھی اس ملک کو نقصان پہنچایا اورآئین سے روگردانی مستقبل میں بھی سود مند ثابت نہیں ہو سکتی۔ ایوب خان سے لے کر پرویز مشرف تک ہمارا سیاسی اور انتظامی سفر بنیادی جمہوریت سے لے کر ضلعی حکومتوں کی چک پھیریوں میں گزر گیا ہے لیکن کوئی بھی ماڈل نہ تو کامیاب ہوا اور نہ ہی چل سکا ہے۔ جب معاملات خلوص کے بجائے ذاتی اقتدار کو طول دینے کی بنیاد پر طے کیے جائیں تو نتیجہ وہی نکلتا ہے جو ہمارے ہاں دکھائی دیتا ہے۔بات ہو رہی تھی برادرِ بزرگ سے گفتگو کی‘ تو برادرِ بزرگ نے جب مجھے یہ کہا کہ میں اس وقت اس سارے ہنگامہ ہاؤ ہو میں خاموش بیٹھا ہوں تو میں نے کہا: برادرِ بزرگ میں اب بھی اس ملک کے موجودہ صوبوں کو انتظامی حوالوں سے چھوٹا کرنے کا حامی ہوں‘ میں صوبوں کی تشکیلِ نو کو اس ملک کے مستقبل کی بہتری کے حوالے سے ضروری سمجھتا ہوں۔ لیکن اس معاملے میں بہتر طریقہ کار استعمال ہونا چاہیے جو آئین کی حدود میں رہتے ہوئے صوبوں کی تشکیلِ نو کا طریقہ کار طے کرے۔ غیر جمہوری اور غیر آئینی طریقہ کار کبھی کسی بھی ملک کے لیے بہتر ثابت نہیں ہوتے۔اس وقت پاکستان جغرافیائی حوالے سے کسی اچھی صورتحال سے نہیں گزر رہا۔ ایک طرف ازلی دشمن بھارت ہے‘ دوسری طرف بھارت کی پراکسی افغانستان ہے‘ تیسری سمت امریکی غنڈہ گردی اور عالمی دادا گیری کا شکار غیر مستحکم ایران ہے۔ بحیرہ عرب کی دو حساس گزرگاہیں باب المندب اور آبنائے ہرمز عالمی توسیع پسندی کا شکار ہیں۔ اندرون ملک دو صوبے شدید دہشت گردی کی زد میں ہیں‘ ملک کی معاشی صورتحال حکمرانوں کے بیانات سے قطع نظر کسی صورت بہتر دکھائی نہیں دے رہی۔ سیاسی بے چینی اپنے عروج پر ہے‘ باہمی ہم آہنگی بدترین ابتری کا شکار ہے۔ حکمرانوں کے بارے میں افواہوں کا سمندر موجزن ہے‘ ایسے میں ہمارے تمام مسائل کی جڑ صوبوں کے جغرافیے کو قرار دینا انصاف نہیں ہو گا۔ یہ بات ٹھیک کہ ہمارے موجودہ انتظامی مسائل میں ایک فیکٹر بڑے صوبے ہیں جن کا انتظامی کنٹرول موجودہ چار صوبائی دارالحکومتوں سے کرنا مشکل تر ہوتا جا رہا ہے لیکن ملک کو درپیش حقیقی مسائل میں دیگر بے تحاشا عوامل بھی شاملِ حال ہیں۔ ان مسائل کو حل کیے بغیر محض صوبوں کو چھوٹا کر دینے سے حالات ٹھیک نہیں ہوسکتے۔برادرِ من! یہ فقیر اس مسئلے پر آج کل اسی لیے خاموش ہے کہ وہ صوبوں کی تشکیلِ نو کے معاملے میں ملک کے اندرونی اور اس خطے کو لاحق حالیہ عدم استحکام کے باعث اس کو مناسب وقت نہیں سمجھتا۔ اگر ان مجوزہ صوبوں کو اسی ماڈل پر چلانا ہے جن پر موجودہ صوبے چلائے جا رہے ہیں تو پھر یوں سمجھیں کہ یہ سمٹی ہوئی خرابیوں کو مزید بکھیرنے کے مترادف ہو گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90500073.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>اک ستم اور مری جاں…(ڈاکٹر حسین احمد پراچہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-09-12/52648/28338601</link><pubDate>Sat, 12 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-09-12/52648/28338601</guid><description>حکومت عوام پر ستم پر ستم ڈھائے جا رہی ہے۔ حکمران عوام پر مہنگائی کے ناقابلِ برداشت تازیانے برساتے چلے جا رہے ہیں۔ حکومت کو عوام کا ڈر ہے نہ خواص کا۔ نصف سے زیادہ عوام کو حکومت نے دو وقت کی روٹی‘ بجلی کے بھاری بلوں کی ادائیگی‘ پٹرول و ڈیزل کے بھاری نرخوں کے گرداب میں ایسا پھنسایا ہے کہ انہیں سر اٹھا کر دیکھنے اور اپنے حقوق کیلئے آواز بلند کرنے کی طاقت ہی نہیں۔ جماعت اسلامی 25روز سے ملک کے 32شہروں میں پُرامن احتجاج کر رہی ہے۔ جماعت اسلامی کے پُرجوش اور اَنتھک امیر حافظ نعیم الرحمن حکمرانوں کو متوجہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنا رویہ بدلیں‘ اپنے محلات سے باہر جھانک کر دیکھیں کہ عام آدمی کس بدحالی کا شکار ہے۔ جماعتی ذرائع کے مطابق حکومتی وزرا کے ساتھ مذاکرات کے دو باقاعدہ ادوار کے دوران جماعت اسلامی کی مذاکراتی ٹیم نے محض جذباتی شعلہ بیانی سے نہیں بلکہ دلائل و شواہد اور اعداد و شمار سے ثابت کیا کہ پٹرولیم لیوی ختم ہو سکتی ہے مگر مذاکراتی ٹیم کے صاحبِ علم وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال اور سیاست کے اتار چڑھاؤ اور پیچ و خم سے بخوبی آگاہ رانا ثنا اللہ کے پاس کوئی دلیل یا منطقی جواب نہ تھا‘ بس &#39;&#39;مجبوریوں‘‘ کی ایک طویل فہرست ضرور تھی۔ ان وزرا کا مؤقف تھا کہ ہم حکومت کو حاصل ہونے والے سرمایہ پر لگنے والے سود میں کمی نہیں کروا سکتے کیونکہ یہ ریٹ سٹیٹ بینک آف پاکستان کا مقرر کردہ ہے۔ اگر حکومت اتنی بے بس ہے کہ اس کے پاس اپنے ریاستی بینک کو ہدایات دینے کا بھی اختیار نہیں تو ایسی بے اختیار حکومت کو حکمرانی کا حق نہیں ہونا چاہیے۔ ہم اگلی سطور میں وہ عملی‘ حقیقی اور تحقیقی حقائق پیش کریں گے کہ جن کی بنیاد پر حکومت پٹرولیم لیوی میں خاطر خواہ کمی کر سکتی ہے‘ پہلے یہ دیکھ لیجئے کہ موجودہ صورت میں حکومت ایک لٹر پٹرول خریدتی کتنے کا ہے اور اس پر طرح طرح کے ٹیکس لگا کر عوام کا خون کیسے نچوڑ رہی ہے۔حکومت پٹرول اصل قیمت سے 133روپے اور ڈیزل اصل قیمت سے 122روپے زیادہ پر عوام کو فروخت کر رہی ہے۔ 133روپے فی لٹر محصولات میں 80روپے لیوی‘ 21روپے 15پیسے کسٹمز ڈیوٹی‘ 5روپے کلائمیٹ سپورٹ لیوی‘ 7روپے 60پیسے اِن لینڈ بار برداری جبکہ فی لٹر آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا مارجن تقریباً 8روپے اور حال ہی میں بڑھایا گیا ڈیلر مارجن فی لٹر دس روپے شامل ہے۔ یہ سارے ٹیکسز اُس مزدور سے جبراً وصول کیے جاتے ہیں جو زیادہ سے زیادہ ایک ہزار کی دہاڑی لگانے کیلئے 371 روپے کا ایک لٹر پٹرول استعمال کرتا ہے‘ اور ایک سفید پوش جو بمشکل ڈیڑھ پونے دو ہزار یومیہ معاوضہ حاصل کرنے کیلئے تقریباً پونے آٹھ سو روپے کا پٹرول پھونکتا ہے۔ حکومت نے جماعت اسلامی کے پُرامن دھرنوں کو نظر انداز کر کے صرف چار دنوں میں پٹرول کی قیمت میں فی لٹر 26روپے سے زائد کا اضافہ کر دیا ہے۔ اس قہر و جبر پر حکومت نے عوام سے کوئی معافی مانگی نہ معذرت کی اور نہ ہی جان لیوا تازیانوں کا کوئی سبب بتایا ہے۔ 11ستمبر 2026ء کے روز سے پٹرول کی فی لٹر قیمت 371روپے اور ڈیزل کی قیمت 393 روپے فی لٹر کر دی گئی۔ ماہرین معیشت کے نزدیک تیسری دنیا کے پاکستان جیسے ملکوں میں تیل کی قیمتوں میں کمی بیشی سے ہر شے کی قیمت پر مثبت منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس لیے اشیائے ضرورت اتنی مہنگی ہو چکی ہیں کہ ان کے ریٹس بتاتے سنتے دل ڈوبنے لگتا ہے۔ حکومت اپنے سارے اخراجات ارب پتی بزنس مینوں‘ لاکھوں روپے مشاہرہ لینے والے ملازموں‘ صنعتکاروں اور بڑے بڑے زمینداروں سے وصول کرنے کے بجائے عوام الناس کی چمڑی ادھیڑ کر خزانے میںجمع کر رہی ہے۔ وفاقی حکومت نے رواں مالی سال کے بجٹ میں پٹرولیم لیوی کا ہدف 1677 ارب روپے مقرر کر رکھا ہے۔جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے مستند اعداد و شمار کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ حکومت پٹرولیم لیوی اور پٹرولیم ٹیکسوں میں کمی کر کے عوام الناس کو اچھا بھلا ریلیف دے سکتی ہے۔ پٹرولیم لیوی کے علاوہ درجنوں طریقے ایسے ہیں جو تیل اور دوسری اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی لا کر عوام کیلئے &#39;&#39;اذیت کدہ‘‘ کو راحت کدہ میں بدل سکتے ہیں مگر عوام کی اذیت اور ان کے ناقابلِ برداشت مصائب سے نجات کوئی ترجیح ہی نہیں۔ اسلامی تاریخ ایسی تابناک مثالوں سے بھی جگمگا رہی ہے کہ جب قاضیوں نے ایسے جرأتمندانہ فیصلے دیے کہ جب تک بادشاہ اپنے اور اپنے اعزہ و اقارب اور وزرا کے اثاثے ہنگامی یا جنگی ضروریات کیلئے بیت المال میں جمع نہیں کراتاتھا اس وقت تک اسے عوام پر عشر و زکوٰۃ کے علاوہ کوئی اضافی ٹیکس لگانے کا ہرگز اختیار نہیں ہوتا تھا۔ وطن عزیز میں بادشاہت تو نہیں مگر ہماری حکمران اور ایلیٹ کلاس کا رہن سہن بادشاہوں سے بڑھ کر ہے‘ یہاں حکومتی طیارے حکمرانوں کے ذاتی اڑن کھٹولے ہیں۔ وزیراعظم ہی نہیں ایک وزیراعلیٰ کا بھی اپنا طیارہ ہے جس میں وہ اندرون و بیرون ملک سفر کرتی ہیں۔10ستمبر کو اسلام آباد میں جماعت اسلامی کے ساتھ حکومتی مذاکرات کے دوسرے دور سے بڑی امیدیں وابستہ کی گئی تھیں مگر یہ دن بھی کٹ گیا اور کوئی امید بر نہ آئی۔ حکومت نے تو کئی دن مانگے مگر جماعت اسلامی کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ جناب لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ صبر کا پیمانہ اب لبریز ہو چکا ہے اس لیے ہم حکومت کو صرف مزید ایک روز کی مہلت دے رہے ہیں۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ وہ جمعۃ المبارک کے روز اسلام آباد کی طرف مارچ کی کال دے سکتے ہیں۔اس دوران جماعت اسلامی کی دھرنا حکمت عملی لانگ مارچ میں لیوی کے خاتمے سے حکومتی خاتمے کی طرف جاتی ہوئی محسوس ہو رہی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے لانگ مارچ کے حوالے سے مولانا فضل الرحمن‘ وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی اور اپوزیشن سے بھی حمایت مانگ لی ہے۔ اس سے پہلے حافظ صاحب ایمل ولی خان سے حمایت حاصل کر چکے ہیں۔ اگلے روز سابق وفاقی وزیر فواد چودھری نے ایک بیان میں درست کہا کہ حکمران عوام کو ایسے لوٹ رہے ہیں جیسے منگولوں نے بغداد کو لوٹا تھا۔ تازہ ترین خبروں اور رپورٹوں پر ایک نظر ڈالنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ عوام کو لوٹنے والا تاثر بالکل درست ہے۔ ان خبروں کے مطابق مہنگا پٹرول عوام کیلئے زحمت اور حکومت کیلئے رحمت بن چکا ہے۔ حکومت عوام کا استحصال کرکے پٹرولیم مصنوعات کے ذریعے زیادہ سے زیادہ محصولات اکٹھے کر رہی ہے۔ گزشتہ مالی سال میں وفاقی حکومت نے 1567ارب روپے لیوی کی مد میں جمع کیے جو مالی سال 2025ء سے 29فیصد زیادہ ہیں۔ جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہو چکا کہ آئی ایم ایف نے رواں سال کا لیوی ٹارگٹ 1677ارب روپے مقرر کیا ہے۔ عوام حیرت زدہ ہو کر پوچھتے ہیں کہ آئی ایم ایف والوں کی نظر مقروض ملک کے حکمرانوں کے شاہانہ ٹھاٹ باٹ اور تیس تیس گاڑیوں والے پروٹوکول اور دیگر اللوں تللوں پر کیوں نہیں پڑتی۔ حکمران کئی دوسرے شعبوں سے رقم لے کر اپنے اخراجات کم کر کے اور آئی پی پیز کے منافع کو پٹرولیم میں لگا کر عوام کو ریلیف دے سکتے ہیں۔ حکومت کو شاید اندازہ نہیں کہ حوالے مختلف ہو سکتے ہیں مگر سب راستے اسلام آباد کی طرف جاتے ہوئے محسوس ہو رہے ہیں۔ حکومت نیک نیتی اور صدق دل کے ساتھ گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کرے اور مذاکرات کے ذریعے پُرامن طور پر معاملات حل کرے۔ سیاسی استحکام کے بغیر اقتصادی استحکام ممکن نہیں۔ ایٹمی قوت کیلئے اقتصادی خود انحصاری اتنی ہی ضروری ہے جتنی انسانی زندگی کیلئے آکسیجن۔ یہ غالباً کسی گیت کا مصرع ہے کہ: اک ستم اور مری جاں‘ ابھی جاں باقی ہےاگر عوام اب بھی اپنے حقوق کیلئے پُرامن احتجاج کیلئے نہ اٹھے تو حکمران یونہی اُن کے دم توڑتے لاشوں پر تازیانے برساتے رہیں گے۔ فیصلہ عوام کے ہاتھ میں ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_70033906.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>عوامی مسائل سے بے خبرحکمران(افتخار احمد سندھو)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/iktakhar-ahmed-sandhu/2026-09-12/52649/97366911</link><pubDate>Sat, 12 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/iktakhar-ahmed-sandhu/2026-09-12/52649/97366911</guid><description>حکومت بلا ناغہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھارہی ہے۔بجلی کے بلوں اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے جو صورتِ حال پیدا ہورہی ہے وہ بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ پٹرولیم مصنوعات کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں نے عوام کا جینا محال کردیا ہے‘ بالخصوص غریب اور پسے ہوئے طبقات مہنگائی سے سب سے زیادہ متاثر ہورہے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ عوام پیدا ہی پٹرول اوربجلی کے اخراجات ادا کرنے کیلئے ہوئے ہیں اور اس پر عوام کی جانب سے جو ردِعمل سامنے آرہا ہے وہ ہر گزرتے دن کے ساتھ اس بات کو واضح تر کرتا جارہا ہے کہ اگر حکومت نے عام آدمی کو ریلیف نہ دیا تو حالات اس حد تک بگڑ جائیں گے کہ پھر حکومت کے لیے انہیں سنبھالنا ممکن نہیں ہوگا۔کھل جائیں گے اک روز زبانوں پہ پڑے قفلخاموشی ہے طوفاں کی علامت اُسے کہناعوام کو طفل تسلیاں دینے کے لیے حکومت مختلف حربے آزما رہی ہے۔ وزیراعظم نے اسی سلسلے میں بجلی کے بلوں سے متعلق یکے بعد دیگرے اجلاس بلا کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ وہ عوام کی پریشانیوں کا حل نکالنا چاہ رہے ہیں ‘لیکن ان کی طرف سے جو بیانات دیے گئے ان سے پوری طرح واضح ہوگیا کہ وہ عوامی مسائل سے واقف ہی نہیں ہیں۔ وہ آٹے دال کا بھاؤ نہیں جانتے اور نہ ہی انہیں ایسی اشیاخریدنے کے لیے کسی تگ و دو کی ضرورت پیش آتی ہے۔ بجلی کے بھاری بلوں اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کی وجہ سے عوام میں سخت بے چینی ہے‘ لوگ خود کشیاں کر رہے ہیں۔ مہنگائی کا یہ حال ہے کہ غریب روٹی کا جو نوالہ کھاتے تھے وہ نوالہ بھی چھین لیا گیا ہے۔ جس کی تنخواہ 40ہزار اور بجلی کابل50 ہزار ہو‘ بتایا جائے کہ وہ بل کہاں سے ادا کرے؟ ملک میں بڑھتی ہوئی سیاسی‘ معاشی اور معاشرتی ابتری اور حکمرانوں کی ناکام پالیسیوں کے باعث مہنگائی‘ بیروز گاری‘ بدانتظامی‘ بدعنوانی اور بدامنی میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے جس کے سبب عام آدمی کی زندگی اجیرن ہوچکی ہے۔حکمرانوں کی بے حسی اس وقت عروج پر پہنچ جاتی ہے جب انہیں نہ عوام کا خوف ہو اور نہ احتساب کی فکر۔ایک طرف مہنگائی کا بوجھ اٹھاتے عوام ہیں اور دوسری طرف سرکاری وسائل پر پلتی شاہانہ زندگیاں ہیں۔عوامی مسائل کا حل سیاستدانوں کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں۔بلکہ حکمران روز صبح یہ دیکھنے باہر نکلتے ہیں کہ عوام کو کہاں اور کیوں ریلیف مل رہا ہے۔آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی طرف سے ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ کر کے عوام کی پریشانی مزید بڑھا دی گئی ہے۔ اسی طرح عوامی ٹرانسپورٹ کے کرایے بھی بڑھ رہے ہیں۔ انٹرسٹی کرایوں میں کم از کم 200روپے تک اضافہ کر دیا گیا ہے۔ شہر میں چلنے والے رکشوں اور ویگنوں کے کرائے بھی بڑھا دیے گئے ہیں۔ہو سکتا ہے وزیراعظم اس بات سے واقف ہی نہ ہوں کہ قیمتیں بڑھنے سے عام آدمی کیسے متاثر ہوتا ہے اور اس کی پریشانیاں ملک میں انتشار پھیلانے کا باعث بن سکتی ہیں۔ انہیں چاہیے کہ کچھ زیرک مشیروں سے مشورہ کر کے یہ جاننے کی کوشش کریں کہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ عوام کے مسائل کو کیسے بڑھارہا ہے۔ ساتھ ہی انہیں یہ بھی جاننے کی کوشش کرنی چاہیے کہ اگر عوام مسلسل پریشانیوں کا شکار ہوتے رہیں تو ان کا ردعمل ریاست کے لیے کن مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔ ان کا یہ جاننااس لیے ضروری ہے کیونکہ وہ اپنے بیانات وغیرہ سے ایسی صورتحال پیدا کررہے ہیں جس سے عوام کے غم و غصے میں اضافہ ہورہا ہے۔ ملک کو انتشار سے بچانے کے لیے صرف ایک ہی راستہ بچا ہے اور وہ یہ کہ عوام کو فوری طور پر ریلیف دیا جائے۔موجودہ حکومت نے اپنے اقتدار کے دوران عوام پر پٹرولیم بم چلا کر انہیں قبرستان کی جانب دھکیلنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اس پر مستزاد یہ کہ وزیراعظم کو حکومتی پالیسیوں کے نتیجہ میں بڑھنے والی مہنگائی اتنا بڑا مسئلہ ہی نظر نہیںآرہی۔ انہوں نے باور کرایا ہے کہ بجلی کا بل تو دینا ہی پڑے گاکیونکہ ہم نے آئی ایم ایف کے ساتھ کیے گئے معاہدے پورے کرنے ہیں۔ پٹرولیم مصنوعات پرآئی ایم ایف کی شرط کے مطابق عائد کردہ لیوی کی شرح بڑھادی گئی ہے۔ بجلی کے ہوشربا بلوں سے عوام میں اشتعال پیدا ہونا بھی فطری امر ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اہلِ اقتدار کو عوام کے روٹی‘ روزگار اور غربت‘ مہنگائی کے مسائل کا کیوں احساس نہیں؟ اگر ہماری اب تک کی کسی بھی حکومت کو عوام کیلئے فلاحی ریاست کے آئینی تقاضے پورے کرنے کا احساس نہیں ہوا اور انہیں مسائل کی دلدل کی جانب ہی دھکیلا جاتا رہا ہے تو عوام اپنی آئینی ذمہ داریوں سے بھی خوش اسلوبی کے ساتھ عہدہ برا نہیں ہو سکتے۔ افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ حکومتی پالیسیوں کے نتیجہ میں امیر اور غریب طبقات کے مابین خلیج مزید وسیع ہو رہی ہے اور خطِ غربت کے نیچے کی آبادی سرعت کے ساتھ بڑھ رہی ہے۔ ملک چاہے جس آزمائش سے بھی گزر رہا ہو‘ ملک کی معیشت چاہے دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ جائے‘ باوسیلہ مراعات یافتہ حکمران اشرافیہ کے طبقات کی بودوباش میں کوئی کمی نہیں آتی‘ نہ یہ طبقات ملک کی خاطر اپنی مراعات کی معمولی سی بھی قربانی دینے پرتیار ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس حکومتی انتظامی اتھارٹی کا سارا زور بے بس اور لاچار عوام پر ہی چلتا ہے جنہیں براہِ راست اور بالواسطہ انواع و اقسام کے ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبایا جاتا ہے اور پٹرولیم مصنوعات‘ بجلی‘ گیس‘ پانی اور جان بچانے والی ادویات تک کے نرخ ان کی پہنچ سے دور کر دیے جاتے ہیں۔ ڈالر کے نرخ بڑھنے سے اٹھنے والے مہنگائی کے طوفان بھی عام آدمی کی کمر ہی دہری کرتے ہیں؛ چنانچہ بے وسیلہ عوام مرے کو مارے شاہ مدار کی عملی تصویر بنے زندہ درگور ہوتے نظرآرہے ہیں‘ جن کی کہیں کوئی شنوائی نہیں ہو تی۔ ان سے روزگار چھین کر انہیں بے روزگار کیا جارہا ہے‘ان کے کاروبار کو بند کیا جارہا ہے‘مزدور اور ریڑھیوں والے سب سے ز یادہ پریشان ہیں۔بد قسمتی سے ملک پر مخصوص طبقات کا قبضہ ہے جو قومی فیصلوں پر اثرانداز ہوتے ہیں اور انہیں مختلف سطحوں پر مراعات اور فوائد حاصل ہیں۔جب ملک کے حکمران عوام کے روزمرہ کے مسائل سے بے نیاز ہو جائیں اور انہیں انتہادرجے کی غربت سے دوچار کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑیں اور پھر ان کی غربت کا مذاق اڑتے نظرآئیں تو ان کے پاس مزاحمت کرنے یا خود کو موت کی وادی کی جانب لے جانے کے سوا اور کیا راستہ بچے گا؟ ایسے بے انتہا دکھوں اور لاچاری میں گھرے خاندانوں کے خاندان آج سوگ میں ڈوبے نظر آتے ہیں۔ جہاں بھوک اور فاقہ کشی کا راج ہوگا تو وہ اپنی اور اپنے بچوں کی بھوک مٹانے کیلئے بالآخر چھینا جھپٹی تک ہی آپہنچیں گے۔آج ملک میں جس تیزی کے ساتھ سماجی برائیاں اور جرائم بڑھتے جارہے ہیں‘ عوام کے بڑھتے اقتصادی مسائل اس کی ایک بنیادی وجہ ہے۔ حکمرانوں کو عوامی مایوسیوں اور محرومیوں کو اس نہج تک نہیں لے جانا چاہیے کہ وہ تنگ آمد بجنگ آمد پر اترآئیں۔ حکومتی پالیسیوں کے نتیجہ میں ملک کو خانہ جنگی کی جانب ہی دھکیلا جارہا ہے جس کے انجام سے بالخصوص حکمران اشرافیہ میں شامل طبقات کوآگاہ ہونا چاہیے۔حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کا بہترین طریقہ اگلے کالم میں ان شاء اللہ۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/228_40817243.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>اسلام آباد صوبہ اور آئینی تقاضے(کنور دلشاد)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/kunwar-mohammad-dilshad/2026-09-12/52650/14980482</link><pubDate>Sat, 12 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/kunwar-mohammad-dilshad/2026-09-12/52650/14980482</guid><description>گزشتہ دنوں اعلیٰ سطح کی ایک خصوصی کمیٹی نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے مستقبل کے انتظامی ڈھانچے سے متعلق مجوزہ ڈرافٹ وزیراعظم کو پیش کیا جس میں اسلام آباد کو صوبائی طرز کی انتظامی اور مالی خودمختاری ‘ منتخب اسمبلی اور اپنے چیف ایگزیکٹو کے انتخاب کی سفارش کی گئی ہے۔ مذکورہ ڈرافٹ کے مطابق اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری میں 27 رکنی اسمبلی قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اسلام آباد کو صوبائی طرز کا خودمختار انتظامی ماڈل بنانا پاکستان میں انتظامی ڈھانچے کی ممکنہ ری سٹرکچرنگ کا پہلا عملی تجربہ ہو سکتا ہے۔ اپنے سیکرٹریٹ اور 27 انتظامی محکموں کے ذریعے اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے کا مقصد شہری حکمرانی کو سیاسی نعروں کے بجائے سروس ڈیلیوری‘ جوابدہی اور انتظامی کارکردگی سے جوڑنا ہے۔ اگر اسلام آباد انتظامی ماڈل کامیاب رہتا ہے تو یہ تجربہ مستقبل میں بڑے شہری مراکز اور نئے انتظامی یونٹس کے لیے ایک قابلِ عمل مثال ہو گا جس میں منتخب اسمبلی اور اس کے وزیراعلیٰ یا لارڈ میئر کا تقرر ہو سکتا ہے۔اسلام آباد کی مجوزہ 27رکنی اسمبلی میں سے 21 ارکان براہِ راست منتخب ہوں گے۔ یہ محض بلدیاتی ادارہ نہیں بلکہ ایک قانون ساز اسمبلی ہو گی جو لوکل باڈیز ایکٹ بھی منظور کر سکے گی۔ احسن اقبال کی زیر صدارت کمیٹی نے لندن‘ واشنگٹن اور نئی دہلی کے ماڈل پر غور کیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ نیویارک کے مضبوط نظام کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے۔ بعض وزرا کے بیانات سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام آباد میں قومی اسمبلی کی نشستوں کو تین سے بڑھا کر سات کرنے پر بھی غور ہو رہا ہے۔ اگر اسلام آباد کو صوبائی درجہ دینا ہے تو آئین میں تبدیلی ناگزیر ہے۔ سب سے پہلے آئین کے آرٹیکل 1 میں تبدیلی کرتے ہوئے پانچویں صوبے کا ذکر کیا جائے گا۔ اس وقت آرٹیکل ایک میں چار صوبوں کا ذکر ہے۔اسلام آباد کو صوبائی درجہ دینے کی تجویز دینے والی کمیٹی کا خیال ہے کہ اسلام آباد کو صوبہ بنانے کے لیے آئین میں ترمیم کی ضرورت پیش نہیں آئے گی اور نہ ہی یہ تجویز دو تہائی اکثریت کی مرہونِ منت ہے، حالانکہ اس کے لیے آئین کے آرٹیکل 2‘ 3‘ 4 اور 9 کو مدنظر رکھتے ہوئے آئینی ترامیم کرنا پڑیں گی۔ اسی طرح اگر اسلام آباد میں قومی اسمبلی کی نشستوں میں اضافہ کرنا مقصود ہے تو آئین کے آرٹیکل 51 اور 106میں ترامیم کرنا ہوں گی۔ اگر خواتین کی مخصوص نشستیں شامل کی جاتی ہیں تو آئین کے آرٹیکل 224 میں ترمیم لازمی ہو گی۔ گویا اسلام آباد کو صوبہ بنانے کے لیے آئین کے بنیادی ڈھانچے میں متعدد ترامیم کرنا پڑیں گی۔ آئینی ماہرین کے مطابق آئین کے آرٹیکل 1 سے آرٹیکل 28 تک کو آئین کا بنیادی ڈھانچہ قرار دیا گیا ہے‘ ان میں ترامیم کرنے سے آئین کا بنیادی ڈھانچہ متاثر ہو جائے گا۔ وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری کا کہنا ہے کہ اگر نئے صوبے بنانے میں آئینی ترمیم کی رکاوٹ پیش آئی تو دوسرے مرحلے پر ریفرنڈم پر غور کیا جائے گا مگر یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ ہمارے ملک میں ریفرنڈم تب ہوئے جب ملک مارشل لاء کی زد میں تھا اور آئین معطل کر دیا گیا تھا۔ پہلا ریفرنڈم دسمبر 1984ء اور دوسرا اپریل 2002ء میں کرایا گیا تھا۔ موجودہ حالات میں پارلیمنٹ موجود ہے‘ سویلین صدر اور وزیراعظم ہیں اور آئین برقرار ہے۔ اس سیٹ اَپ میں ریفرنڈم کی ضرورت پیش آنے کو پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں پر عدم اعتماد تصور کیا جائے گا۔ جو حکومتی دانشور ریفرنڈم کی تجویز دے رہے ہیں انہوں نے شاید آئین کے آرٹیکل 47 کو نہیں پڑھا۔ اگر ان حالات میں ریفرنڈم کرایا جاتا ہے تو عوام کے سامنے ون پوائنٹ ایجنڈا کیا ہو گا؟ ویسے بھی ریفرنڈم کرانے کے بعد بھی پارلیمنٹ سے دو تہائی اکثریت سے توثیق ضروری ہو گی‘ جس طرح جنرل ضیاء الحق نے اپنے ریفرنڈم کی توثیق 1985ء کی غیر جماعتی پارلیمنٹ اور جنرل پرویز مشرف نے اپنے ریفرنڈم کی منظوری نومبر 2002ء میں پارلیمنٹ سے سترہویں آئینی ترمیم کی صورت میں لی تھی۔ آئین کے آخری باب میں اس کا مکمل حوالہ دیا گیا ہے اور نظریۂ ضرورت کے تحت مذکورہ دونوں ریفرنڈمز کو آئینی تحفظ دیا گیا۔ گزارش صرف اتنی ہے کہ اس میں عجلت سے کام نہ لیا جائے بلکہ آئینی راستہ اختیار کرتے ہوئے پارلیمانی کمیٹی مقرر کر کے اس کی رائے پر حکمت عملی بنائی جائے۔روایتی سیاستدانوں کی تقریریں عموماً اقتدار‘ سیاسی مخالفین اور وسائل کی تقسیم کے گرد گھومتی ہیں‘ یعنی کون حکومت کرے گا اور اختیار کس کے پاس ہو گا تاہم وزیر داخلہ محسن نقوی کے حالیہ بیانات کا فکری زاویہ اس سے مختلف ہے۔ وہ بحث کو شخصیات اور حکومتوں سے بالاتر ہو کر ریاست کے انتظامی ڈیزائن‘ ادارہ جاتی استعداد‘ اختیارات کی تقسیم اور عوامی خدمات کی مؤثر فراہمی تک لے جاتے ہیں۔ بنیادی سوال یہ نہیں کہ کون حکمران ہو گا بلکہ یہ ہے کہ موجودہ ریاستی ڈھانچہ بڑھتی ہوئی اور پیچیدہ ہوتی ہوئی ضروریات کو مؤثر طور پر نبھانے کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں۔اس تناظر میں انتظامی یونٹس اور اختیارات کی نچلی سطحی تک منتقلی کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں بلکہ ریاستی صلاحیت‘ جوابدہی اور گورننس کو بہتر بنانے کی طرف اقدام ہے۔ یعنی یہ بیانیہ اقتدار کی سیاست سے نکل کر ریاست کی کارکردگی کی طرف منتقل ہوتا ہے۔ عہدہ عارضی جبکہ اصلاح مستقل ہوتی ہے‘ اسے سیاسی مصلحت کی خاطر روکا نہیں جا سکتا۔دوسری جانب سندھ اسمبلی میں فریال تالپور اور مراد علی شاہ کی تقاریر حقائق کے برعکس ہیں۔ موجودہ صوبہ سندھ کی حدود پاکستان کے قیام سے 11 سال قبل کچھ اور تھیں۔ 1839ء سے 1936ء تک سندھ اور گجرات‘ بمبئی پریذیڈنسی کی حدود میں تھے۔ تقریباً سو سال تک برطانوی دور میں سندھ دھرتی کسی کو یاد نہیں آئی۔ اس سے پہلے بلوچ تالپوروں کے دور میں 1783ء میں‘ ڈیرہ غازی خان سے سندھ آئے تھے۔ تالپور بلوچ غیر سندھی ہوتے ہوئے سندھ کے حکمران رہے۔ میمن بھی زیادہ تر گجرات سے آئے۔ جب انگریزوں نے کراچی کو تعمیر کیا تو سب اس میں گھل مل گئے۔ تاریخ کا سبق یہ ہے کہ قوم کا حصہ وہ بنتا ہے جو اس میں ضم ہو جاتا ہے‘ اس کے لیے اپنی ثقافت چھوڑنا ضروری نہیں ہوتا۔اُدھر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے دہشت گردی کے حوالے سے ریاستی بیانیہ کے برعکس یہ کہہ کر سب کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا کہ دہشت گردی کا خطرہ پڑوسی ملک سے کم اور پڑوسی صوبوں سے زیادہ ہے۔ وفاقی حکومت اور مقتدر حلقے اس حوالے سے واضح ہیں کہ ملک میں دہشت گردی کے پیچھے فتنہ الہندوستان ہے۔ بین السطور میں مریم نواز بھارت کے بجائے پنجاب کے ساتھ ملحق صوبوں یعنی سندھ‘ بلوچستان اور خیبر پختونخوا سے خطرہ محسوس کر رہی ہیں۔ بھارتی میڈیا نے اس بیان کو اپنے رنگ میں ڈھال کریہ تاثرات دینے کی کوشش کی کہ وزیر اعلیٰ نے پاکستان کا قومی بیانیہ زمین بوس کر دیا ہے اور فتنہ الہندوستان کا رخ اب اپنے ہی تین صوبوں کی طرف موڑ دیا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_15667905.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>دستور کی تشکیلِ نو(مفتی منیب الرحمٰن )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-09-12/52651/19539115</link><pubDate>Sat, 12 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-09-12/52651/19539115</guid><description>پاکستان کی دستوری تاریخ کچھ زیادہ تابناک نہیں ہے۔ 14 اگست 1947ء کے بعد معمولی ترمیمات کیساتھ پاکستان کوگورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935ء کے مطابق چلایا جاتا رہا اور بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح پاکستان کے پہلے گورنر جنرل مقرر ہوئے۔ پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کے انتخابات جولائی 1947ء میں منعقد ہوئے تھے۔ یہ نمائندے براہِ راست منتخب شدہ نہیں تھے‘ بلکہ مشرقی بنگال‘ مغربی پنجاب‘ سندھ‘ سرحد اور بلوچستان کے ارکانِ اسمبلی نے بالواسطہ طور پر 69 افراد کو منتخب کیا تھا۔ پہلی دستور ساز اسمبلی کا افتتاحی اجلاس قائداعظم محمد علی جناح کے زیرِ صدارت 10 اگست 1947ء کو کراچی میں سندھ اسمبلی کی عمارت میں منعقد ہوا۔ یہ اسمبلی 1947ء سے 1954ء تک کام کرتی رہی۔ تین سو ارکان پر مشتمل دوسری دستور ساز اسمبلی کے انتخابات 21 جون 1955ء کو منعقد ہوئے اور اس اسمبلی میں مغربی اور مشرقی پاکستان کے درمیان مساوی نمائندگی کے اصول پر مبنی دستور 29 فروری 1956ء کو منظور ہوا۔ اس میں مغربی پاکستان کو ون یونٹ بنا کر صوبے کا درجہ دے دیا گیا‘ مگر اس دستور کے تحت انتخابات منعقد نہ ہو سکے حتیٰ کہ 7 اکتوبر 1958ء کو فوج کے کمانڈر انچیف جنرل محمد ایوب خان مارشل لاء نافذ کر کے صدراور چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بن کر ملک پر مسلّط ہو گئے۔پھر 14 فروری 1960ء کو فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے ریفرنڈم کے ذریعے اپنی صدارت کی توثیق کرا لی۔ اُس کے بعد یکم مارچ 1962ء کو بنیادی جمہوریتوں کے نظام پر مبنی دستور منظور ہوا اور 8 جون کو مارشل لاء ختم کرکے اس دستور کو مکمل طور پر نافذ کر دیا گیا‘ یہ دستور صدارتی نظام پر مبنی تھا۔ 1962ء کے دستور کے تحت دوسرا انتخاب 2 جنوری1965ء کو ہوا اور مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کو شکست دے کر فیلڈ مارشل محمد ایوب خان صدرِ پاکستان منتخب ہو گئے۔ مگر 25 مارچ 1969ء کو صدر ایوب خان نے اپنے ہی دستور کی نفی کرکے اقتدار قومی اسمبلی کے سپیکر کے سپرد کرنے کے بجائے کمانڈر انچیف جنرل آغا محمد یحییٰ خان کے سپرد کر دیا اور وہ صدرِ پاکستان اور چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بن کر اقتدار پر قابض ہو گئے۔ پھر جنرل یحییٰ خان نے ایک فرد ایک ووٹ کے اصول پر 30 مارچ 1970ء کو قانونی ڈھانچے کا اعلان کیا اور 313 ارکان پر مشتمل دستور ساز اسمبلی کے انتخابات کا پروگرام بنایا۔ اس میں مشرقی اور مغربی پاکستان کیلئے بالترتیب 169 اور 144 نشستیں مختص کیں اور جون 1970ء میں انتخابات کا اعلان ہوا‘ مگر مشرقی پاکستان میں سیلاب کے سبب ان انتخابات کو مؤخر کردیا گیا۔ پھر 7 دسمبر1970ء کو قومی اسمبلی اور 17 دسمبر کو صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات منعقد ہوئے۔ شیخ مجیب الرحمن کی عوامی لیگ نے مشرقی پاکستان کی 169 میں سے 167 نشستیں حاصل کیں۔ عوامی لیگ کے علاوہ پی ڈی پی کے ٹکٹ پر صرف نورالامین اور آزاد امیدوار راجا تری دیو رائے ہی منتخب ہو سکے‘ جبکہ مغربی پاکستان میں سندھ اور پنجاب میں پیپلز پارٹی کو بھاری اکثریت ملی اورخواتین کی نشستوں کو ملا کر اُن کے اراکین کی تعداد تقریباً 85 تھی۔جنرل یحییٰ خاں نے جمہوری روایات کے برعکس اقتدار شیخ مجیب الرحمن کو منتقل نہ کیا‘ پھر وہاں بغاوت شروع ہو گئی اور آخر کار 16 دسمبر 1971ء کو سقوطِ ڈھاکہ ہوا اور اس کے نتیجے میں بنگلہ دیش وجود میں آیا۔ پھرجنرل یحییٰ خان نے بامرِ مجبوری جناب ذوالفقار علی بھٹو کو اقتدار منتقل کیا اور وہ پہلے سویلین چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر اور صدر بن گئے۔ بعد ازاں17 اپریل 1972ء کو ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے عبوری آئین نافذ کیا اور مارشل لاء کو ختم کر کے خود صدرِ پاکستان کے منصب پر فائز ہو گئے۔ اس کے بعد 10 اپریل 1973ء کو پارلیمانی نظام پر مبنی متفقہ دستور منظور ہوا۔ اس دستور پر بلوچستان سے نواب خیر بخش مری اور ڈاکٹر عبدالحی بلوچ اور پنجاب سے نظام الدین حیدر اور نور محمد ہاشمی کے علاوہ قومی اسمبلی کے تمام ارکان کے توثیقی دستخط ثبت ہیں۔ اس کے بعد سے اب تک 53 برسوں میں اس آئین میں 27 ترمیمات ہو چکی ہیں‘ حالانکہ امریکی آئین میںڈھائی سو سال کے عرصے میں صرف 27 ترمیمات ہوئی ہیں۔ مقتدر ہ سے قربت رکھنے والے حلقے وقتاً فوقتاً یہ بشارت دیتے رہتے ہیں کہ پسِ پردہ آئین میں اٹھائیسویں ترمیم کی تیاریاں شروع ہیں اور اس کے مِن جُملہ مقاصد میں سے ایک مقصد یہ بھی ہے کہ این ایف سی ایوارڈ میں ردّو بدل کر کے اُسے متوازن بنایا جائے اور محاصل کے مرکزی پول سے صوبوں کا حصہ کم کر کے وفاق کے حصے کو بڑھایا جائے تاکہ وفاق کی مالی پوزیشن قدرے بہتر ہو‘ کیونکہ اُس کی مالی ذمہ داریوں میں دفاع‘ اندرونی اور بیرونی قرضوں کی اقساط مع سود‘ داخلی سلامتی کا تحفظ‘ نیز علیحدگی پسندی اور دہشت گردی کی کارروائیوں سے نمٹنا بھی ہے اور موجودہ صورتحال میں اس پر بھاری اخراجات آ رہے ہیں۔ الغرض دلائل کے اعتبار سے وفاق کا مؤقف مضبوط ہے‘ لیکن یہاں مفادات کا مسئلہ ہے۔اٹھارہویں ترمیم مقتدرہ کو ناپسند ہے‘ کیونکہ اس کے تحت کُل وفاقی محاصل کا ساڑھے ستاون فیصد صوبوں کو چلا جاتا ہے اور وفاق کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ سود سمیت داخلی اور بیرونی قرضوںکی اقساط اور دفاع کے علاوہ وفاقی ڈھانچے کو چلانا مزید در مزید قرضوں کے بغیر عملاً ناممکن ہے‘ کیونکہ گلگت بلتستان‘ آزاد کشمیر اور خیبر پختونخوا میں ضم قبائلی اضلاع کیلئے بھی وفاق ہی کو دینا پڑتا ہے۔ پس مجوّزہ اٹھائیسویں ترمیم کے ذریعے این ایف سی ایوارڈ کی تشکیلِ نو مطلوب ہے۔ یہ بھی خواہش ہے کہ نئی انتظامی اکائیوں کو وفاق سے رقوم براہِ راست منتقل ہوں تاکہ صوبوں کی اجارہ داری ختم ہو جائے۔ الغرض سیاسی وانتظامی قوت‘ مالیاتی وسائل اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی یعنی طاقت کا عدمِ ارتکاز مطلوب ہے۔ منصوبہ سازوں کے خیال میں اس سے وفاق مضبوط ہوگا اور نچلی سطح تک عوام کو قابلِ رسائی حکمرانی ملے گی۔ یہ پنڈورا باکس کھل چکا ہے‘ یقینا پسِ پردہ اس کی تیاری ایک عرصے سے ہو رہی ہو گی‘ مقدمہ مضبوط کرنے کیلئے اعداد وشمار بھی مرتب کر لیے گئے ہیں اور ان کی پہلی جھلک دکھا بھی دی گئی ہے۔دستور کسی قوم کے متحد رہنے کیلئے حقوق وفرائض کا ایک ڈھانچہ فراہم کرتا ہے‘ یہ آئین وقانون کے دائرے میں کسی قوم کے متحد رہنے کیلئے ایک میثاق ہوتا ہے‘ آج کل اسے Social Contract سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ ملک کے مختلف صوبوں‘ قومیتوں اور طبقات کو ایک میثاق پر جمع کرنا نہایت مشکل ہوتا ہے‘ لہٰذا حساس‘ ذی شعور اور پابندِ آئین وقانون افراد کے نزدیک دستور کی حفاظت لازم ہے‘ کیونکہ آئے دن اسکی قطع وبرید اور اس میں حذف و اضافہ دشواریوں کا باعث بنتا ہے اور پھر ایک وقت آتا ہے کہ دستور بازیچۂ اطفال بن جاتا ہے۔ ہماری تاریخ میں دستور بارہا منسوخ ومعطّل ہوا: پہلی بار 1958ء‘ دوسری بار 1969ء‘ تیسری بار 1977ء اور چوتھی بار 1999ء میں معطل ہوا۔ اس میں عدلیہ کی معاونت بھی شامل رہی ‘ اسے نظریۂ ضرورت کا نام دیا گیا۔ جنرل یحییٰ خاں کے غیر آئینی اقدامات کو 1973ء کے آئین میں تحفظ دیا گیا۔ جنرل محمد ضیاء الحق کو اُس وقت کے چیف جسٹس انوار الحق کی سربراہی میں سپریم کورٹ نے آئین میں ترمیم کا اختیار دیا اور اُس اختیار کو استعمال کرتے ہوئے انہوں نے آئین میں ترمیمات کیں اور پھر 1985ء میں منتخب ہونے والی غیر جماعتی قومی اسمبلی نے آٹھویں آئینی ترمیم کے ذریعے ان کے غیر آئینی اقدامات کی توثیق کی۔ اسی طرح جنرل پرویز مشرف چیف ایگزیکٹو بن کر اقتدار پر قابض ہو گئے۔ انہیں جسٹس ارشاد حسن خان کی سربراہی میں سپریم کورٹ نے تین سال تک حکمران رہنے اور آئین میں ترمیم کا اختیار دیا اور اُن کے تمام غیر آئینی اقدامات کو ایک بار پھر 2002ء کی منتخب پارلیمنٹ نے سترہویں آئینی ترمیم کے ذریعے تحفظ دیا‘ یعنی Validate کیا۔ ایسے ہی قانونی مسوّدوں کو Indemnity Bill سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ پس ہر غیر آئینی اقدام کو ہر آنے والی اسمبلی یا پارلیمنٹ کو بامرِ مجبوری تحفظ دینا پڑا‘ کیونکہ اُن کی اپنی بقا بھی اس سے وابستہ تھی۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_61172381.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>