<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>مذاکرات کا تسلسل ضروری(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-23/11129</link><pubDate>Thu, 23 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-23/11129</guid><description>امریکہ اوریران تنازع اس نہج پر ہے جہاں سے واپسی کا راستہ صرف سفارت کاری اور مفاہمت ہی سے ممکن ہے۔ پاکستان کی سیاسی وعسکری قیادت کی کاوشوں سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا ہے مگر کشیدگی تاحال برقرار ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ بے یقینی اور خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر جاری بیان میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جنگ بندی میں اس وقت تک توسیع برقرار رہے گی جب تک ایران کی جانب سے تجویز پیش نہیں کی جاتی اور مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچ جاتے۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکی فوج کو ہدایت دی ہے کہ ایران کے خلاف ناکہ بندی جاری رکھی جائے اور دیگر تمام معاملات میں بھی مکمل طور پر تیار رہا جائے۔ امریکہ کی جانب سے اگرچہ جمعہ کے روز مذاکرات کے دوسرے دور کا عندیہ بھی دیا جا رہا ہے مگر ایران مذاکرات کی بحالی کو امریکہ کی ناکہ بندی کے خاتمے سے مشروط کر رہا ہے۔ الغرض صورتحال اس قدر گمبھیر ہے کہ ایک چھوٹی سی غلط فہمی بھی تباہی کا سبب بن سکتی ہے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ بالخصوص آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے سبب توانائی کی عالمی منڈی بھی لرز رہی ہے۔

بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کی وجہ سے دنیا کو اس وقت اپنی تاریخ کے سب سے بڑے توانائی کے بحران کا سامنا ہے۔ عالمی معیشت جو پہلے ہی کووڈ اور دیگر علاقائی تنازعات کے اثرات سے نبرد آزما ہے‘ اب تیل اور گیس کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کا بوجھ نہیں اٹھا سکتی۔ معاشی ماہرین کے مطابق اگر مذاکرات ناکام ہوئے اور کشیدگی مزید بڑھی تو عالمی جی ڈی پی میں براہِ راست 2.5 فیصد کمی کا اندیشہ ہے جبکہ گلوبل افراطِ زر کی شرح‘ جو اس وقت اوسطاً چھ سے آٹھ فیصد کے قریب ہے توانائی بحران کے نتیجے میں 12 فیصد تک پہنچنے کا خدشہ ہے‘ جس سے غریب ممالک کے لیے اپنی خوراک اور ایندھن کی ضروریات پوری کرنا لگ بھگ ناممکن ہو جائے گا۔ لہٰذا دنیا کا معاشی مستقبل اب براہِ راست ان مذاکرات کی کامیابی سے جڑا ہوا ہے۔ اس سنگین صورتحال میں فریقین کو اپنی اپنی انا کے خول سے نکل کر معروضی حقائق کا ادراک کرنا چاہیے۔
ایران کو یہ سمجھنا ہوگا کہ معاشی تنہائی ایرانی عوام کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہے جبکہ امریکہ کو یہ ادراک ہونا چاہیے کہ ناکہ بندی اور پابندیاں پائیدار حل فراہم کرنے کے بجائے خطے کو نئی کشیدگی میں دھکیل رہی ہیں۔ اس جنگ کی معاشی اور عسکری قیمت دونوں ممالک کے لیے ناقابلِ برداشت ہو چکی ہے لہٰذا بہتری اسی میں ہے کہ میز پر بیٹھ کر باہم اتفاقِ رائے سے یہ مسئلہ حل کیا جائے۔ اگرچہ پاکستان سفارتی طور پر مزید فعال ہو گیا ہے اور امن معاہدے کے لیے حتی المقدور کوششیں کر رہا ہے‘ تاہم ان کوششوں کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ فریقین کس حد تک لچک دکھاتے ہیں۔ اگر طرفین اپنے مؤقف میں تھوڑی نرمی دکھائیں اورکچھ لو اور کچھ دوکی بنیاد پر درمیانی راستہ نکالنے کی کوشش کریں تو ایک بڑا تصادم ٹالا جا سکتا ہے۔ دنیا اس وقت بارود کے ڈھیر پر بیٹھی ہے اور آئندہ چند روز نہایت اہم ہیں۔
اگر کوئی بریک تھرو ہوتا ہے تو یہ نہ صرف مشرق وسطیٰ میں امن کی نوید لائے گا بلکہ عالمی معیشت کو بھی اس گہرے بحران سے نکالنے میں مدد دے گا جس میں دنیا اس وقت دھنسی ہوئی ہے۔ بصورتِ دیگر نقصان اتنا شدید ہوگا کہ اسے سمیٹنے میں کئی دہائیاں لگ جائیں گی۔ وقت بہت کم ہے اور چیلنجز بہت بڑے لیکن لچک‘ مفاہمت اور مؤثر سفارتکاری کی صورت میں ایک ایسا راستہ موجود ہے جو دنیا کو ممکنہ تباہی سے بچا سکتا ہے۔ جنگ بندی میں عارضی توسیع کو پائیدارامن معاہدے میں بدلنے کے لیے مذاکراتی سلسلے کو بہرصورت بحال کرنا ہو گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>گیس بحران کا حل(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-23/11128</link><pubDate>Thu, 23 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-23/11128</guid><description>ایک خبر کے مطابق آذربائیجان نے پاکستان کو ایل این جی کی فراہمی کی پیشکش کی ہے۔ یہ پیشکش ایسے وقت میں ہوئی ہے جب قطر سے ایل این جی کی سپلائی میں خلل پید ا ہو نے کی وجہ سے ملک کو گیس کے بحران کا سامنا ہے۔اس وقت تقریباً 55 سو میگا واٹ بجلی درآمدی ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس سے حاصل کی جاتی ہے جس کی وجہ سے گیس کی دستیابی میں کمی براہِ راست بجلی کی پیداوار پر اثر انداز ہوتی ہے۔ گھریلو صارفین اور صنعتی شعبہ اس سے شدید متاثر ہو رہا ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران مقامی گیس ذخائر کی کمی کے باعث ملکی ضروریات پوری کرنے کیلئے درآمدی ایل این جی پر انحصار ہے اور قطر پاکستان کا سب سے بڑا اور مستقل سپلائر ہے لیکن موجودہ علاقائی صورتحال کے باعث یہ سپلائی معطل ہوئی۔ اس تناظر میں آذربائیجان کی پیشکش اس بحران سے نکلنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے ۔

دونوں ملکوں کے مابین گزشتہ برس ایل این جی کی درآمد کیلئے ایک بنیادی فریم ورک معاہدہ پہلے ہی طے پا چکا ہے۔ حالیہ علاقائی صورتحال نے ثابت کیا ہے کہ کسی ایک سپلائر یا خطے پر انحصار بحران کے وقت مشکلات پیدا کرتا ہے۔ اس لیے حکومت کو چاہیے کہ ملکی توانائی پالیسی میں تنوع پیدا کرے‘ طویل المدتی معاہدوں کے ساتھ ساتھ متبادل سپلائی چینز کو بھی فعال کرے اور مقامی پیداوار میں اضافہ کو ترجیح دے۔ بصورت دیگر توانائی بحران وقتی نہیں بلکہ مستقل معاشی دباؤ کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>منکی پاکس کا پھیلاؤ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-23/11127</link><pubDate>Thu, 23 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-23/11127</guid><description>ملک میں منکی پاکس کے کیسوں میں اضافہ صحت عامہ کے ایک سنگین خطرے کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ گزشتہ روز لاہور میں 18سالہ نوجوان میں منکی پاکس کی تصدیق کے بعد شہر میں رواں سال منکی پاکس کے کیسوں کی تعداد 33تک پہنچ گئی ہے۔ یہی تشویشناک رجحان سندھ میں بھی دیکھنے میں آ رہا ہے جہاں رواں برس اب تک 25 کیس جبکہ نو اموات بھی رپورٹ ہو چکی ہیں۔ اسی طرح خیبر پختونخوا سے بھی 26کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔ یہ صورتحال اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ یہ مسئلہ کسی ایک صوبے تک محدود نہیں رہا بلکہ ملک گیر شکل اختیار کر چکا ہے۔ طبی ماہرین کی جانب سے خبردار کیا جا رہا ہے کہ اگر بروقت اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے دنوں میں منکی پاکس کے بڑے پیمانے پر پھیلاؤ کا خدشہ موجود ہے۔

منکی پاکس بنیادی طور پر قریبی جسمانی رابطے‘ جسمانی رطوبتوں اور آلودہ اشیا کے ذریعے پھیلتا ہے۔ اس لیے متاثرہ افراد کی بروقت شناخت‘ ان کو فوری طور پر قرنطینہ میں منتقل کیا جانا اور ان سے رابطہ رکھنے والے افراد کی نگرانی نہایت ضروری ہے۔ صوبائی حکومتوں اور محکمہ صحت کو اس مرض کے حوالے سے عوام میں آگاہی پھیلانی چاہیے۔ اس کیساتھ ساتھ سرکاری ہسپتالوں میں قرنطینہ وارڈز کا قیام‘ منکی پاکس کے تشخیصی نظام کو تیز اور مؤثر بنانا‘ سیمپل کی ترسیل کے بہتر انتظامات اور کانٹیکٹ ٹریسنگ کے مربوط نظام کو فعال کرنا ہو گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کاروکاری ’’ناقابلِ قبول‘‘ ہے!!(محمد اظہارالحق)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-04-23/51816/80616556</link><pubDate>Thu, 23 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-04-23/51816/80616556</guid><description>&#39;&#39;صوبے میں کاروکاری کے واقعات قابلِ قبول نہیں۔ سندھ امن وسلامتی کی دھرتی ہے۔ کسی بھی بیٹی کو کاروکاری میں مارنا ناقابلِ قبول ہے۔ واقعے میں ملوث تمام افراد کو سزائیں دی جائیں گی۔ کسی کو بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے خلاف جرگے نہیں کرنے دیں گے۔ اس قسم کے واقعات کسی طور بھی قابلِ قبول نہیں‘‘۔یہ بے ضرر اور معصوم بیان سندھ کے ایک وزیر صاحب کا ہے۔ سر دھننے کو جی چاہتا ہے۔ &#39;&#39;کسی طور قابلِ قبول نہیں‘‘ سب سے زیادہ پامال شدہ‘ مضحکہ خیز‘ مہمل اور لاحاصل الفاظ ہیں‘ جن کی قدر وقیمت صفر سے بھی کم ہے۔ دہشت گردی کا واقعہ پیش آئے تو کہا جاتا ہے &#39;&#39;یہ ناقابلِ قبول ہے‘‘۔ اغوا کا جرم سرزد ہو تو وہ ناقابلِ قبول قرار دیا جاتا ہے۔ ان صاحبان سے کوئی پوچھے کہ اس ناقابلِ قبول ہونے کا مطلب کیا ہے؟ کیا جرم کرنے والے نے آپ سے استفسار فرمایا ہے کہ حضور! میں جرم کرنے لگا ہوں‘ فرمائیے کیا آپ کو قبول ہے؟ اگر ایسا ہے تو آپ مجرم کو بتائیے کہ یہ ناقابلِ قبول ہے۔ مگر مجرم تو آپ سے نہ صرف پوچھتا نہیں بلکہ آپ کو پرِکاہ اہمیت بھی نہیں دیتا۔ پھر یہ رٹے رٹائے‘ فضول الفاظ ادا کر کے آپ لوگوں کو ہنسنے کا موقع کیوں دیتے ہیں؟ سوال یہ ہے کہ کیا آپ نے کاروکاری کے خلاف کوئی قانون سازی کی ہے؟ کیا آپ نے جرگے بٹھانے کے خلاف قانون سازی کی ہے؟ آپ فرماتے ہیں کہ تمام ملوث افراد کو سزائیں دی جائیں گی۔ کیا آپ کوئی ایک مثال بھی ایسی دے سکتے ہیں کہ کاروکاری میں ملوث افراد کو عبرتناک سزا دی گئی ہو؟ سچ یہ ہے کہ اس قسم کے بیانات کی کوئی وقعت نہیں۔ یہ ایک ڈرل ہے جو ایسے مواقع پر میڈیا کا پیٹ بھرنے کیلئے کی جاتی ہے۔ خود بیانات داغنے والے حکمرانوں‘ سیاستدانوں اور افسروں کو اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ وہ محض کارروائی ڈال رہے ہیں!!ہم نے ایٹم بم بنا لیا۔ بھارت کو نیچا دکھا دیا۔ بین الاقوامی سفارتکاری میں دھوم مچا دی! مگر ملک میں بنتِ حوّا کی مظلومیت کا کوئی علاج نہیں کیا۔ یہ ایک انتہائی سنجیدہ مسئلہ ہے۔ یہاں &#39;&#39;میرا جسم میری مرضی‘‘ قسم کے غیر سنجیدہ اقوال کی بات نہیں ہو رہی۔ یہاں اُن نام نہاد ڈرامہ نگاروں اور اُتھلے اور سطحی &#39;&#39;دانشوروں‘‘ کی بات بھی نہیں ہو رہی جو میڈیا میں اِن رہنے کی خاطر عورتوں کی ہتک کرتے ہیں اور مذاق اڑا کر اپنی ہی صورت کو بگاڑ لیتے ہیں۔ یہاں اُن حقیقی مسائل کی بات ہو رہی ہے جو مملکتِ خداداد میں خواتین کو درپیش ہیں! پہلا اور سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ خواتین جو لڑکیوں کو جنم دیتی ہیں‘ بدسلوکی کا شکار ہیں۔ معاف کیجیے یہ لعنت صرف اَن پڑھ خاندانوں ہی میں نہیں پائی جاتی‘ بلکہ اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد بھی اس ذہنی کینسر کا شکار ہیں۔ ایسی بیسیوں مثالیں موجود ہیں جن میں تعلیم یافتہ شہریوں نے بچی پیدا ہونے پر بچی کی ماں کو طعنے دیے‘ بدسلوکی کی یہاں تک کہ طلاق کی نوبت آ گئی۔ وزیر صاحب کی خدمت میں بصد احترام عرض ہے کہ اگر واقعی آپ اس ضمن میں کچھ کرنا چاہتے ہیں تو ایسی قانون سازی کیجیے کہ بچی کی پیدائش پر ماں کو طعنہ دینا‘ ذہنی اذیت پہنچانا‘ زد وکوب کرنا اور طلاق دینا یا طلاق کی دھمکی دینا سنگین جرم قرار دیا جائے اور ایسا کرنے والے کو عبرت ناک سزا دی جائے۔ یہ مائیں بھی ہیں جو بیٹوں کی پسلیوں میں مسلسل کچوکے دیتی ہیں کہ تمہاری بیوی لڑکیاں جنم دے رہی ہے‘ اسے طلاق دو اور کسی دوسری عورت سے شادی کرو۔ ایسی احمق عورتوں سے کوئی جج‘ کوئی مجسٹریٹ پوچھے کہ تم خود عورت ہو‘ اگر عورت ہونا اتنا ہی شرمناک ہے تو پہلے تم خود اپنے مرنے کا بند و بست کرو‘ اور یہ کہ تمہاری ماں نے تمہیں جنم ہی کیوں دیا تھا۔ اس سے یہ ضمانت بھی لی جائے کہ دوسری شادی سے یقینا لڑکا پیدا ہو گا ورنہ اسے جیل کی سزا ہو گی۔ بظاہر یہ باتیں عجیب لگیں گی مگر ان خواتین سے پوچھئے جنہیں لڑکی پیدا کرنے پر ذہنی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ان مظلوم خواتین کے ماں باپ جس اذیت سے گزرتے ہیں‘ وہ ناقابلِ بیان ہے۔دوسرا مسئلہ ہے لڑکیوں اور خواتین کی شادی ان کی مرضی کے بغیر کرنا۔ اس مسئلے کے دو حصے ہیں۔ پہلا حصہ جو زیادہ مکروہ اور گھناؤنا ہے‘ پنچایتوں اور جرگوں کے جاہلانہ فیصلے ہیں۔ باپ یا بھائی کے جرم کی سزا کم سن بچی کو دی جاتی ہے اور اس کا نکاح زبردستی کسی بُڈھے سے کر دیا جاتا ہے۔ ہمارے ناقص علم کی رو سے ان پنچایتوں اور جرگوں کو تاحال غیر قانونی قرار نہیں دیا گیا نہ نکاح خوان کی سزا مقرر ہے نہ شادی کا حکم دینے والے جہلا کی!! آخر یہ متوازی عدالتیں کیوں چل رہی ہیں؟ یہ صرف سندھ کا مسئلہ نہیں‘ پورے پاکستان کا مسئلہ ہے۔ اعلیٰ عدلیہ اس صورتحال کو جڑ سے کیوں نہیں اکھاڑ پھینک رہی؟ اس مسئلے کا دوسرا حصہ عمومی ہے؛ یعنی لڑکیوں کی شادی اکثر وبیشتر ان کی مرضی کے بغیر کر دی جاتی ہے۔ اس سلسلے میں بھی قانون سازی ہونی چاہیے۔ کچھ اَن پڑھ‘ اجڈ ماں باپ اور کچھ پڑھے لکھے جاہل ماں باپ بیٹی کو زبردستی کسی ایسے مرد کے ساتھ باندھ دیتے ہیں جسے وہ بالکل نہیں پسند کرتی۔ اس کا نتیجہ خوفناک ہوتا ہے۔ یا تو وہ گھل گھل کر‘ بیمار ہو کر مر جاتی ہے یا کوئی انتہاپسندانہ قدم اٹھا لیتی ہے۔ آخر ایک بیٹی سے یہ پوچھنے میں کیا حرج ہے کہ &#39;&#39;بیٹی! کیا تمہاری کوئی پسند ہے؟؟‘‘ مذہب نے بھی تو اسے یہ حق دیا ہوا ہے۔ اگر اس کی پسند ماں باپ کو بھی راس آتی ہے تو یہ بہترین صورتحال ہے۔ اگر ماں باپ سمجھتے ہیں کہ بیٹی کی پسند مناسب نہیں تو اس سے مکالمہ کریں۔ اسے نرمی سے‘ دوستانہ انداز میں سمجھائیں‘ اس کا مؤقف سنیں اور اسےFuturistic نقطۂ نظر سے قائل کریں۔ ڈنڈا‘ گالی‘ دھمکی‘ تشدد‘ کسی مسئلے کا حل نہیں۔تیسرا مسئلہ نام نہاد غیرت ہے جس نے کتنے ہی نوجوان جوڑوں کی زندگیاں ختم کر دی ہیں۔ کاروکاری اسی مسئلے کا شاخسانہ ہے۔ دمِ تحریر یاد نہیں آ رہا کہ اس ضمن میں قانون سازی ہوئی ہے یا نہیں‘ بہر طور یہ طے ہے کہ اس سلسلے میں کسی مجرم کو آج تک عبرتناک سزا نہیں دی گئی۔ چوتھا مسئلہ بیٹیوں اور بہنوں کی جائداد سے محرومی ہے۔ بظاہر لگتا ہے کہ یہ جرم صرف زمینداروں اور وڈیروں کی دنیا میں سرزد ہوتا ہے مگر شہروں میں بھی یہ برائی بدرجہ اتم پائی جاتی ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ کیا قبائیں اور عمامے اور کیا تھری پیس سوٹ‘ سب اس گناہ میں ملوث ہیں۔ خود مائیں‘ بیٹیوں کو جائداد سے محروم کرنے میں مردوں سے آگے ہیں۔ جائداد میں اپنا حصہ مانگنے والی بیٹی یا بہن کو ڈائن کا خطاب دیا جاتا ہے۔ یہ لولی لنگڑی دلیل بھی دی جاتی ہے کہ بیٹی کو جہیز جو دے دیا تھا اور اس کی شادی پر جو اتنا روپیہ لگا دیا تھا۔ کوئی پوچھے کہ بَری پر کچھ نہیں خرچ ہوا تھا؟ اور ولیمہ کیا مفت میں ہو گیا تھا؟ آپ نہ دیتے جہیز! قانون نے جو حصہ بیٹی یا بہن کا مقرر کیا ہے وہ نہ دینا جرم ہے اور اس جرم کی سزا عبرتناک ہونی چاہیے۔ ہماری حکومتیں اپنی پبلسٹی پر اربوں روپے خرچ کرتی ہیں۔ میڈیا پر یہ کیوں نہیں بتایا جاتا اور تسلسل کے ساتھ کیوں نہیں تشہیر کی جاتی کہ جائداد میں عورت کو حصہ دو۔ اس کی مرضی کے خلاف اس کی شادی نہ کرو اور بیٹی کی پیدائش پر دورِ جاہلیت کا رویہ روا نہ رکھو۔ حالی نے کہا تھا &#39;&#39;اے ماؤ! بہنوں! بیٹیو! دنیا کی عزت تم سے ہے!‘‘۔ سوال یہ کہ ماؤں‘ بہنوں‘ بیٹیوں کی اپنی عزت کہاں ہے؟؟؟</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_57182973.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>لیکن اب ہمیں ہنسی نہیں‘ رونا آتا ہے(خالد مسعود خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-04-23/51817/41280244</link><pubDate>Thu, 23 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-04-23/51817/41280244</guid><description>مجھے پنجاب کے دیگر شہروں کے بارے میں تو پکا پتا نہیں لیکن ملتان کی حد تک میں اپنے بہترین علم کے مطابق پورے تیقّن سے کہہ سکتا ہوں کہ مدینۃ الاولیاء میں غائبانہ افتتاحوں کا جمعہ بازار لگا ہوا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب ایسے ایسے پروجیکٹس کا افتتاح کر رہی ہیں جن کو دیکھنا تو کجا ان کے بارے میں شاید ان کو یہ بھی علم نہیں کہ ان پر ان کے نام کی افتتاح بدست مبارک والی تختی لگ چکی ہے بلکہ وہ اس شہرِ ناپرساں میں ایک ایسے فلائی اوور کا سنگ بنیاد بھی رکھ چکی ہیں جو تب بننا بھی شروع نہیں ہوا تھا۔ یعنی ابھی تعمیر شروع ہونا خود اس فلائی اوور کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ اس پر Ground Breaking بدست مریم نواز شریف کی تختی لگ چکی تھی۔ اس کے علاوہ اور بہت سے مقامات ایسی ہی افتتاحی تختیوں کیلئے قطار بنائے پذیرائی کے منتظر ہیں۔ اس سے مجھے ن م راشد کی شہرہ آفاق نظم &#39;&#39;گماں کا ممکن‘‘ کی آخری چند سطریں یاد آ گئیں۔گماں کا ممکنتمام کندے (تو جانتی ہے) ؍ جو سطح دریا پہ ساتھ دریا کے تیرتے ہیں یہ جانتے ہیں یہ حادثے ؍ کہ جس سے ان کو؍ (کسی کو) کوئی مفر نہیں!تمام کندے جو سطح دریا پہ تیرتے ہیں ؍ نہنگ بننا یہ ان کی تقدیر میں نہیں ہے (نہنگ کی ابتدا میں ہے اک نہنگ شامل ؍ نہنگ کا دل نہنگ کا دل!) نہ ان کی تقدیر میں ہے پھر سے درخت بننا (درخت کی ابتدا میں ہے اک درخت شامل ؍ درخت کا دل درخت کا دل!) تمام کندوں کے سامنے بند واپسی کی ؍ تمام راہیں وہ سطح دریا پہ جبر دریا سے تیرتے ہیں اب ان کا انجام گھاٹ ہیں جو ؍ سدا سے آغوش وا کیے ہیں اب ان کا انجام وہ سفینے ؍ ابھی نہیں جو سفینہ گر کے قیاس میں بھی اب ان کا انجام ؍ ایسے اوراق جن پہ حرف سیہ چھپے گا اب ان کا انجام وہ کتابیں ؍ کہ جن کے قاری نہیں‘ نہ ہوں گے اب ان کا انجام ایسے صورت گروں کے پردے ابھی نہیں جن کے کوئی چہرے ؍ کہ ان پہ آنسو کے رنگ اتریں‘ اور ان میں آئندہ ؍ ان کے رویا کے نقش بھر دے غریب کندوں کے سامنے بند واپسی کی ؍ تمام راہیں بقائے موہوم کے جو رستے کھلے ہیں اب تک ہے ان کے آگے گماں کا ممکن ؍ گماں کا ممکن جو تُو ہے میں ہوں! جو تُو ہے میں ہوں اس شانداراور عہد سازنظم کی یاد نے اس فقیر کے دل سے کلفت کے کئی پرت اتار پھینکے ہیں۔ بات غائبانہ جعلی افتتاحی پھَٹیوں سے ن م راشد کی طرف چلی گئی۔ اس بے جوڑ بات سے بات نکل آنے پر میں قارئین سے معذرت خواہ ہوں۔ملتان شہر سے انڈسٹریل اسٹیٹ میں داخل ہونے کیلئے ایک عدد ریلوے کراسنگ بذریعہ پھاٹک عبور کرنا پڑتی تھی۔ ٹرین کی متوقع آمد سے کافی دیر پہلے پھاٹک بند کر دیے جانے والے معمول کے باعث ٹریفک کافی کافی دیر تک پھنسی رہتی تھی۔ چار عشرے قبل‘ اسّی کی دہائی میں بننے والی جنوبی پنجاب کی اولین انڈسٹریل اسٹیٹ میں قائم فیکٹریوں کے مالکان‘ ملازمین اور ان سے منسلک دیگر کاروباری افراد اس پھاٹک پر دیر تک پھنسے رہتے۔ ملتان کے صنعتکاروں اور عوامی نمائندوں کی بھرپور تگ و دو اور منت ترلوں کے بعد لاہور میں بیٹھے ہوئے فیصلہ سازوں نے چالیس سال بعد بالآخر اس دیرینہ مطالبے کے پیشِ نظر ایک عدد فلائی اوور کی منظوری دے دی۔ 10 فروری 2022ء کو سابقہ حکومت کے دور میں اس کی تعمیر کا آغاز ہو گیا۔ لاہور والے جب دل کرتا تھا پیسے بھیج دیتے تھے اور جب جی چاہتا روک لیتے۔ پیسے ملنے اور روکنے کی اس کشمکش میں ملتان سے بلوچستان اور سندھ کیلئے براستہ مظفرگڑھ‘ ڈیرہ غازی خان یہ قومی شاہراہ تقریباً اڑھائی سال بند رہی۔ عام مسافر اور اہلِ ملتان عمومی طور پر اور انڈسٹریل اسٹیٹ آنے جانے والے خصوصی طور پر اس سارے عرصے میں ذلیل وخوار ہوتے رہے۔ بہر حال یہ فلائی اوور بمشکل 29 جولائی 2024ء کو کھل گیا۔ اس کے کھلنے کا قصہ بھی خاصا دلچسپ ہے۔ فلائی اوور تو دراصل جون 2024ء میں مکمل ہو گیا تھا مگر افتتاحی پھٹی کا رولا پڑ گیا۔ پنجاب حکومت اس فلائی اوور کا افتتاح اپنی محبوب وزیراعلیٰ سے کرانا چاہتی تھی جبکہ دوسری طرف سید یوسف رضا گیلانی اینڈ کمپنی اس فلائی اوور کا افتتاح کرنے کی طلبگار تھی۔ ان کی یہ خواہش اس لیے کافی شدید تھی کہ یہ پروجیکٹ گیلانی فیملی کے حلقۂ انتخاب میں تھا اور وہ اس پر اپنے نام کی تختی لگوانا چاہتے تھے۔ادھر عالم یہ ہے کہ پنجاب حکومت ملتان کے کسی تھانے میں سید یوسف رضا گیلانی وبرخورداران کی مرضی کا ایس ایچ او نہیں لگاتی کجا کہ ان کے نام کی تختی لگنے دیتی‘ جو سالہا سال ان کے اس ترقیاتی کام کا اشتہار بنی رہتی۔ ویسے بھی اس پروجیکٹ میں حقیقی طور پر گیلانیوں کا رتی برابر حصہ یا کاوش شامل نہیں تھی۔ اسی کشمکش میں دو ماہ گزر گئے اور &#39;&#39;پَھٹی‘‘ کے رولے میں تیار شدہ فلائی اوور کو  عوام کیلئے شجرِ ممنوعہ بناتے ہوئے بند رکھا گیا۔ اس دوران ایک بار اس کے افتتاح کیلئے وزیراعلیٰ پنجاب کے آنے کی تاریخ بھی طے ہو گئی اور وہ ملتان آئیں بھی لیکن اس فلائی اوور کے بجائے کوئی اور افتتاح کر کے واپس چلی گئیں‘ تاہم اس فلائی اوور پر اُن کے دست مبارک سے افتتاح کی تختی نصب کر دی گئی جو آج بھی جگمگا رہی ہے۔ملتان کے مصروف ترین چوک‘ جو کسی زمانے میں یہاں پر قائم چونگی کے نام پر نو نمبر چونگی چوک کہلاتا ہے‘ کی افتتاحی تختی پر بدست وزیراعلی مریم نواز شریف کا نام نامی کندہ ہے جبکہ وہ اس چوک پر کبھی تشریف ہی نہیں لائیں۔ ان تختیوں کی بنیاد پر آج سے تیس چالیس سال بعد والی جنریشن یہ سمجھنے میں حق بجانب ہو گی کہ کم از کم نصف ملتان تو مریم نواز شریف نے بنایا ہے۔ تاریخ اسی قسم کی غلط معلومات سے بھری پڑی ہے۔ان تختیوں پر مجھے بیسیوں سال بعد پھپھی بصری یاد آ گئیں۔ اللہ بخشے پھپھی بصری میرے بہشتی دادا کی بہن بنی ہوئی تھیں۔ دادا جی کی ساری اولاد یعنی میرے تایا‘ چچا‘ ساری پھوپھیاں اور ابا جی انہیں پھپھی کہہ کہ پکارتے تھے اور ان کی بے انتہا عزت واحترام کرتے تھے۔ ہم سب بہن بھائی اور کزن بھی ان کو پھپھی کہہ کر مخاطب کرتے تھے۔ عید قربان پر وہ چھری پر ہاتھ پھیرنے کے بعد اپنے بیٹے غلام محمد عرف چاچا گاماں کو دے دیتیں۔ وہ قربانی کا بکرا یا دنبہ جو بھی ہوتا‘ ذبح کر دیتے۔ بعد میں پھپھی بصری سب کو فخر سے بتاتیں کہ انہوں نے اپنی قربانی خود اپنے ہاتھ سے کی ہے۔ تب ہم سب بچے اس بات پر بہت ہنستے تھے۔ اب سوچتا ہوں ممکن ہے پھپھی بصری کی طرح سنگِ بنیاد پر لگنے والی پتھر کی تختی کو نصب ہونے سے پہلے لاہور منگوا کر اس پر ہاتھ پھیر دیا جاتا ہو۔ اس خیال سے آج پچاس‘ پچپن سال بعد پھپھی بصری یاد آ گئیں‘ لیکن اب ہمیں ایسی باتوں پر ہنسی نہیں‘ رونا آتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90500073.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مذاکرات میں تعطل کیوں پیدا ہوا؟(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-04-23/51818/50529865</link><pubDate>Thu, 23 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-04-23/51818/50529865</guid><description>مذاکرات میں تاخیر کا حقیقی سبب کیا ہے؟ ایران کے باب میں امریکہ سے اصلاً کس غلطی کا صدور ہوا؟ایران کے ساتھ تعلقات‘ امریکہ کی خارجہ پالیسی کے لیے مدت سے ایک لاینحل مسئلہ ہے۔ امریکہ کو کچھ سجھائی نہیں دے رہا تھا۔ ایران نے اسے زچ کر رکھا تھا۔ ہر آنے والا دن اس کے اضطراب میں اضافہ کر ر ہا تھا۔ حماس کی عملی نصرت اور اسرئیل پر حملہ‘ اونٹ کی پیٹھ پر آخری تنکا ثابت ہوا۔ صدر ٹرمپ وہ کر گزرے‘ جو ہر امریکی صدر نے کرنا چاہا۔ وہ اب ان نتائج کو بھگت رہے ہیں‘ سابقہ صدور نے جن کے خوف سے یہ اقدام نہیں کیا۔سیاسیات کے ماہرین نے اس امریکی مخمصے کو اپنی تحقیق کا موضوع بنایا ہے۔ حالیہ دنوں میں مَیں نے بعض ایسی کتابوں کو ایک بار پھر سے دیکھا جو گزشتہ چار عشروں میں لکھی گئیں۔ یہ لٹریچر اتنا زیادہ ہے کہ اس سے ایک لائبریری وجود میں آ جائے۔ میں چند کتب ہی دیکھ سکا جو اس وقت میرے پاس مو جود تھیں۔ مثال کے طور پر مصر کے عالمی شہرت رکھنے والے صحافی محمد حسین ہیکل کی &#39;آیت اللہ کی واپسی‘۔ یہ انقلابِ ایران سے متصل تاریخ کے پس منظر میں ایک باخبر صحافی کا تجزیہ ہے جس نے  شہنشاہِ ایران اور روح اللہ خمینی مرحوم سمیت اس انقلاب کے مرکزی کرداروں سے کئی ملاقاتیں کیں۔ پھر فواز جرجس کی &#39;امریکہ اور سیاسی اسلام‘ ہے۔ فواز آکسفورڈ یونیورسٹی اور لندن سکول آف اکنامکس کے فارغ التحصیل سکالر ہیں۔ مشرقِ  وسطیٰ کی سیاست اور بڑی طاقتوں کی خارجہ پالیسی ان کی تحقیق کا خصوصی میدان ہے۔ اسی طرح ولی رضا نصر کی &#39;احیائے تشیع‘۔ ان کتابوں کے مطالعہ سے اس بنیادی سوال کا جواب مل جاتا ہے جو اِس کالم کے آغاز میں اٹھایا گیا ہے۔تعلقات میں اس کشیدگی کا آغاز انقلابِ ایران سے ہوا جو دشمنی میں بدل گئی۔ امریکی سفارت خانے پر انقلابی نوجوانوں کے قبضے نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ سب کا ا تفاق ہے کہ ایران کے باب میں امریکہ کی خارجہ پالیسی درست نہیں تھی۔ امریکی قیادت اگر حکمت کا مظاہرہ کرتی اور معاملات کو طاقت کے بجائے مذاکرات اور سفارت کاری سے سلجھانے کی سعی کرتی تو تلخی میں کمی آ سکتی تھی۔ ایک عالمی قوت کا تکبر مانع ہوا اور امریکہ نے ان مواقع کو گنوا دیا جب ایران کی طرف سے خیر سگالی کا پیغام دیا گیا۔ اس سے ایران پر شدت پسند مذہبی گروہ کا تسلط مضبوط ہوا اوراصلاح پسندوں کے لیے آگے آنے کا راستہ مسدود ہو گیا۔ اس سے امریکہ کے مفادات کو بھی بے پناہ نقصان پہنچا۔ یہی امریکہ کی اصل غلطی ہے۔ کہاں وہ ایران ہے جو خلیج میں امریکہ کا داروغہ تھا اور کہاں یہ ایران جس کا مشن &#39;مرگ بر امریکہ‘ ہے۔فواز نے مشرقِ وسطیٰ پر کئی کتابیں لکھیں۔ 2024ء میں ان کی کتاب&#39;&#39;What Really Went Wrong‘‘ شائع ہوئی۔ اس میں انہوں نے اس خطے میں جمہویت کی ناکامی پر لکھا۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ اگر دوسری جنگِ عظیم کے بعد امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں بادشاہتوں اور آمروں کے بجائے عوام اور آزاد راہنماؤں کی حمایت کرتا تو اس خطے کی تاریخ مختلف ہوتی۔ &#39;امریکہ اور سیاسی اسلام‘ 1999ء میں سامنے آئی۔ یہ صدر بل کلنٹن کا دور ہے۔ فواز نے ان کی پالیسی کا بالخصوص جائزہ لیا ہے۔ اسے پڑھیے تو تب اور آج کے حالات میں حیرت انگیز مماثلت دکھائی دیتی ہے۔ ایک یہ کہ امریکی پالیسی میں حکمت کے بجائے غصہ غالب ہے۔ 1997ء میں محمد خاتمی ایران کے صدر بنے۔ یہ سخت گیر مذہبی قیادت کی جگہ ایک معتدل آواز کا ابھرنا تھا جو ایک بڑی تبدیلی تھی۔ امریکی قیادت اس میں چھپے امکانات کا ادراک نہ کر سکی۔ صدر خاتمی نے پہلی پریس کانفرنس میں اس پر افسوس کا اظہار کیا کہ طرفین نے مفاہمت کی طرف پیش قدمی نہیں کی۔ &#39;منافقا نہ کلام کے بجائے ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے مابین بامعنی مکالمہ ہو‘۔ خاتمی نے یہی نہیں کیا بلکہ انہوں نے یورپ اور مسلم دنیا بالخصوص سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کی۔ ان کے دور میں ایران میں اسلامی سربراہ کانفرنس کا انعقاد ہوا۔ یہی نہیں‘ ایٹمی پروگرام کے بارے میں بھی انہوں نے اشارہ دیا کہ اس پر بات ہو سکتی ہے۔ انہوں نے اس پروگرام کے ڈائریکٹر کو بدل ڈالا جو اس کے لیے شب و روز محنت کر رہے تھے۔ اس کی جگہ انہوں نے یہ ذمہ داری اپنے ایک حامی کو سونپ دی۔ یہ ایک اشارہ تھا جسے نہیں سمجھا گیا۔ فواز کا کہنا ہے کہ نیوکلیئر پروگرام اور شدت پسند تنظیموں کے معاونت کے باب میں مبالغہ کیا گیا۔ صورتحال ایسی سنگین نہیں تھی جیسی بیان کی گئی۔ وہ &#39;اکانومسٹ‘ (16مئی 1995ء) کے ایک مضمون کا حوالہ دیتے ہیں جس میں کہا گیا کہ اس بات کے شواہد موجود نہیں ہیں کہ ایران کو حزب اللہ کے علاوہ کسی مسلح تنظیم پر کوئی اختیار حاصل ہے۔ سابق ایرانی صدر علی اکبر رفسنجانی نے بھی اعلان کیا تھا کہ اگر اسرائیل اور شام کے مابین امن معاہدہ ہوتا ہے تو وہ اس کا احترام کریں گے۔فواز کا تجزیہ ہے کہ امریکہ اگر ایران کے ایٹمی پروگرام کو روکنا چاہتا ہے تو اس کا طریقہ یہ نہیں کہ وہ اسے پتھر کے دور میں لے جانے کی دھمکی دے۔ درست طریقہ یہ ہے کہ اس کو عالمی برادری میں شامل کیا جائے۔ وہ ایران کی سکیورٹی پالیسی کے ایک ماہر شہرام کوبن کا حوالہ دہتے ہیں جنہوں نے لکھا: &#39;&#39;ایرانی حکمران جتنا زیادہ تنہائی کا شکار ہوں گے‘ اتنا ہی ان کا یہ عزم مستحکم ہو گا کہ وہ ایٹمی ہتھیاروں کے مالک بنیں‘‘۔ فواز کا کہنا ہے: &#39;&#39;ایران کو ایٹمی قوت بننے سے روکنے کے لیے لازم ہے کہ امریکہ اسے عالمی برادری کا حصہ بنائے نہ کہ تنہائی میں دھکیلے۔ ایران کے نیوکلیئر پروگرام کو سلامتی یا سٹرٹیجک مسئلہ بنانے کے بجائے‘ اسے ایک سیاسی معاملہ سمجھنا چاہیے‘‘۔ (صفحہ 138) سخت گیر ا مریکی پالیسی کے ساتھ حالات میں دوسری مماثلت یورپ کا رویہ ہے۔ کلنٹن انتظامیہ نے جب ایران پر پابندیاں عائد کیں تو یہ چاہا کہ یورپ بھی یہی کرے مگر آج کی طرح‘ اس وقت بھی یورپ ایران کے معاملے میں امریکہ کے ساتھ کھڑا ہونے پر آمادہ نہیں ہوا۔ ایوانِ نمائندگان نے اگست 1996ء میں ان کمپنیوں پر پابندی کا قانون پاس کیا جنہوں نے ایران میں تیل کی صنعت میں چالیس ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کر رکھی تھی۔ اس پر یورپ سے سخت ردعمل آیا۔ فرانس کے وزیراعظم  کا کہنا تھا کہ امریکہ ساری دنیا پر اپنے قوانین نافذ نہیں کر سکتا۔ فرانس کی تیل کی کمپنی &#39;ٹوٹل‘ نے 1997ء میں ایران سے دو ارب ڈالر کا معاہدہ کیا۔ برطانیہ ا ور جرمنی نے بھی تنقید کی اور ان پابندیوں کو مسترد کر دیا۔آج بھی یہی صورتحال ہے۔ امریکہ نے ایران کے بارے میں سخت مؤقف اختیار کیا اور یورپ سے مطالبہ کیا کہ وہ اس کے ساتھ کھڑا ہو۔ بیس برس پہلے یہ حکمتِ عملی پوری طرح ناکام رہی اور آج بھی ناکام ہے۔ اُس وقت ایرا ن میں سخت ردِ عمل پیدا ہوا اور آج بھی یہی ہے۔ اُس وقت یورپ نے امریکہ کا ساتھ دینے سے انکار کیا اور آج بھی اس پر قائم رہا۔ 1999ء میں فواز جیسے ماہرین کا تجزیہ تھا کہ ایران کے ساتھ دشمنی کی پالیسی ایران میں شدت پسندوں کو مضبوط کرے گی جو امریکہ کو شیطانِ کبیر کہتے ہیں اور اصلاح پسند کمزور ہوں گے۔ اس وقت اصلاح پسند کمزور ہوئے اور آج بھی یہی ہوا۔امریکہ کی اصل غلطی یہ ہے کہ اس نے ماضی سے سبق نہیں سیکھا۔ اس کی حکمتِ عملی نے شدت پسندوں کو مضبوط کیا اور سماجی تبدیلی کے فطری عمل کو روک دیا۔ طارق علی کے الفاظ مستعار لیے جائیں تو یہ جنگ اب &#39;بنیاد پرستوں کا تصادم‘ (Clash of Fundamentalism) بنتی جا رہی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>جنگ کا اُلجھا ہوا ریشم(عمران یعقوب خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-04-23/51819/83187929</link><pubDate>Thu, 23 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-04-23/51819/83187929</guid><description>جنگ کے مکمل خاتمے اور کسی قابلِ عمل معاہدے تک پہنچنے کے لیے ایران امریکہ مذاکرات صرف ایک نکتے پر تعطل کا شکار ہیں اور وہ نکتہ ہے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو تیل بردار بحری جہازوں کے لیے کھولنے کے باوجود امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی۔ اس حوالے سے تازہ خبر یہ ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کوششوں سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جنگ بندی میں توسیع پر رضا مند ہو گئے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے اس سلسلے میں کہا ہے کہ جنگ بندی میں توسیع اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک ایران کی جانب سے کوئی تجویز پیش نہیں کی جاتی اور مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچ جاتے۔ انہوں نے کہا: امریکی فوج کو ہدایت دی ہے کہ ایران کے خلاف ناکہ بندی جاری رکھی جائے اور دیگر تمام معاملات میں مکمل طور پر تیار رہا جائے۔ ٹرمپ کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہم نے آبنائے ہرمز خود کھولی تو پھر  ایران سے امریکہ کبھی ڈیل نہیں کر سکے گا‘ ڈیل نہیں ہو سکے گی تاوقتیکہ ہم بقیہ ایران کو بھی تباہ کر دیں‘ بشمول اس کے رہنماؤں کے۔آج کا سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ یہ جمود کی سی کیفیت کب تک قائم رہ سکتی ہے؟ پاکستان بارِ دگر ان مذاکرات کی میزبانی کرنے کے لیے تیار ہے لیکن مذاکرات والی کوئی صورت پیدا ہو نہیں رہی۔ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس میں ایران امریکہ جنگ بندی میں توسیع کے بعد کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں مذاکرات کے دوسرے دور کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان کی جانب سے سفارتی کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔ اس حوالے سے پاکستانی قیادت ایرانی قیادت کے ساتھ رابطے کر رہی ہے۔ اجلاس میں پاکستان نے امریکی صدر کی طرف سے جنگ بندی میں توسیع کے اعلان کا خیر مقدم کیا۔ یہ اس امر کا ثبوت ہے کہ مختلف وجوہ کی بنا پر پیدا ہونے والے جمود کی کیفیت میں بھی پاکستان اپنا سفارت کاری کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے جس کے مثبت نتائج سامنے آنے کی قوی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔جب دو ٹیمیں کھیل کے میدان میں اترتی ہیں تو صرف اور صرف دو طرح کے نتائج نکلتے ہیں اور یہ نتائج دونوں ٹیموں کے لیے مختلف ہوتے ہیں۔ ایک ٹیم ہار جاتی ہے اور دوسری جیت جاتی ہے‘ لیکن جب دو افراد یا دو وفود مذاکرات کے لیے میز پر بیٹھتے ہیں تو بات چیت کے ذریعے ایسے راستے بھی تلاش کر لیے جاتے ہیں جو بین بین ہوں‘ جو سب فریقوں کے لیے قابلِ قبول ہوں۔ ناکہ بندی کر کے مذاکرات کی دعوت دینا دوسرے کی کنپٹی پر پستول رکھ کر اپنی بات منوانے کے مترادف ہے اور امریکہ اس وقت یہی کچھ کرنا چاہ رہا ہے۔ جنگ بندی صرف ایران کی نہیں امریکہ کی بھی خواہش ہونی چاہیے‘ جس طرح باقی ساری دنیا کی خواہش ہے کہ جنگ بند ہو‘ دنیا میں امن قائم ہو اور جنگ کی وجہ سے انسان اور انسانیت کو جو خوفناک خطرات لاحق ہیں‘ ان سے مستقل نجات مل جائے۔ دستیاب وسائل کو جنگوں میں جھونکنے کے بجائے انسانوں کی بہبود پر خرچ کیا جا سکے۔ نسلِ انسانی کا مستقبل روشن اور تابناک بنایا جا سکے۔ ایوب خاور نے کہا تھا:زلف سے‘ چشم و لب و رخ سے کہ تیرے غم سےبات یہ ہے کہ دل و جاں کو رہا کس سے کریںہاتھ اُلجھے ہوئے ریشم میں پھنسا بیٹھے ہیںاب بتا کون سے دھاگے کو جدا کس سے کریںیہاں مشرقِ وسطیٰ اور خلیج فارس کے آبنائے ہرمز میں بھی صورتحال ایسی ہی نظر آتی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے اکسانے پر ایران کے ساتھ جنگ کو اُلجھے ہوئے ریشم میں ڈال بیٹھے ہیں اور اب انہیں سمجھ نہیں آ رہی کہ کون سے دھاگے کو کس سے جدا کریں تو انہیں فیس سیونگ مل سکے۔ مذاکرات پر تیار ہونا فیس سیونگ کی خاطر تھا۔ جنگ بندی بھی فیس سیونگ کے لیے ہی تھی۔ جنگ بندی میں توسیع‘ چاہے یہ پاکستان کی درخواست پر کی گئی ہے‘ بھی فیس سیونگ کے لیے ہے اور یہ فیس سیونگ ایران نہیں‘ امریکہ چاہتا ہے۔ڈونلڈٹرمپ فیس سیونگ کیوں چاہتے ہیں‘ اس سوال کے جواب میں کئی جواب پیش کیے جا سکتے ہیں۔ امریکہ میں داخلی سطح پر ڈونلڈ ٹرمپ کی مخالفت بڑھ رہی ہے۔ لاکھوں افراد اس وقت ٹرمپ کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کناں ہیں۔ سابق امریکی نائب صدر کملا ہیرس نے ایک تقریب کے دوران ٹرمپ انتظامیہ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہم امریکہ کی تاریخ کی سب سے کرپٹ‘ بے حس اور نااہل صدارتی انتظامیہ سے نمٹ رہے ہیں۔ ایران سے جنگ کے درمیان امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے خلاف ایوانِ نمائندگان میں مواخذہ کی تحریک پیش کی گئی ہے۔ اپوزیشن ڈیموکریٹس کے اراکین نے بدھ کو پیٹ ہیگستھ کے خلاف تحریک مواخذہ لانے کا اعلان کیا تھا۔ یہ مواخذہ نائب صدر سے ہوتا ہوا صدر ٹرمپ تک بھی پہنچ سکتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے امسال چھ جنوری کو ریپبلکن ارکان کو خبردار کیا تھا کہ اگر 2026ء کے مڈٹرم انتخابات میں ان کی پارٹی کامیاب نہ ہوئی تو ڈیموکریٹس ان کے خلاف مواخذے کی کارروائی کر سکتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ مڈٹرم انتخابات ان کی حکومت اور پالیسیوں کے لیے فیصلہ کن ہوں گے‘ اس لیے ری پبلکنز کو متحد ہو کر انتخابی میدان میں اترنا ہو گا۔ جنوری میں ڈونلڈٹرمپ کے خوف کا یہ عالم تھا تو اب جبکہ امریکہ ایران کی جنگ میں وہ نتائج حاصل نہیں کر سکا جو سوچ کر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس جنگ میں چھلانگ لگائی تھی۔ یہ بدلے ہوئے حالات امریکی صدر کو مجبور کر رہے ہیں کہ وہ فیس سیونگ کا کوئی طریقہ ڈھونڈیں۔ مسئلہ یہ ہے کہڈونلڈ ٹرمپ یہ فیس سیونگ بھی اپنی شرائط پر حاصل کرنا چاہتے ہیں جس کے لیے ایران تیار نہیں ہے۔ آپ نے ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف کا وہ بیان تو پڑھا ہی ہو گا جس میں انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وہ مذاکرات کو &#39;&#39;سرنڈر کی میز بنانے یا نئی جنگی مہم جوئی کو جواز دینے‘‘ کی کوشش کر رہے ہیں۔ایک پاکستان ہے جو ٹرمپ کو بار بار یہ بتا رہا ہے کہ ہاتھ اُلجھے ہوئے ریشم سے کیسے نکالے جاتے ہیں‘ ٹرمپ یہ بات سمجھتے بھی ہیں لیکن ان کو لاحق خوف اور درآمدہ خدشات انہیں اس بات پر اکساتے ہیں کہ وہ ہاری ہوئی بازی کو بھی فتح کے جشن کے ساتھ ختم کریں۔ کیا ایسا ہو پائے گا؟ مذاکرات کا عمل کب دوبارہ شروع ہو سکے گا؟ یہ مذاکرات کامیاب ہو جائیں گے؟ یہ اور اس سے جڑے دوسرے کئی سوالات کا جواب ملنے میں اب کچھ دن مزید لگ سکتے ہیں۔ اب معاملات آگے بڑھیں گے لیکن کچھ دھیرے دھیرے۔ جس طرح باقی ساری دنیا مذاکرات کی طرف دیکھ رہی ہے‘ آپ بھی دیکھیے لیکن ایسا کرتے ہوئے میری وہ بات ہمیشہ ذہن میں رکھیے کہ یہ کمبل اب ٹرمپ کو جلد چھوڑنے والا نہیں ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_58350786.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>قربانت شوم آغا!(سعود عثمانی )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-04-23/51820/54168860</link><pubDate>Thu, 23 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-04-23/51820/54168860</guid><description>آغا!بس جانے دیں۔ غصہ تھوک دیں۔ بس کردیں۔ آپ اپنی دانست میں حق بجانب سہی لیکن دل سے فیصلے نہ کریں۔ یہ دماغ سے فیصلے کرنے کا وقت ہے۔ اس وقت آپ کا خون گرم ہے‘ لیکن ذرا ٹھنڈا پانی پئیں۔ کھڑے ہیں تو بیٹھ جائیں۔ بیٹھے ہیں تو ذرا دیر لیٹ جائیں۔ آپ کے ساتھ زیادتیاں بھی ہوئی ہوں گی اور ہوئی ہیں لیکن اس وقت کی نزاکت سمجھیں۔ اس وقت اصل مسئلہ سمجھیں۔ مسئلہ یہ نہیں کہ دنیا کس طرح ان زیادتیوں کا برملا اعتراف کرے۔ مسئلہ یہ بھی نہیں کہ اس وقت لازماً امریکہ کی ناک رگڑ کر ہی جنگ سے نکلنا ہے۔ مسئلہ یہ بھی نہیں کہ کسی فیصلے سے ایرانی سیاسی حکومت یا کسی عہدیدار کو اس کا کیا سیاسی نقصان اٹھانا پڑے گا۔ وہ بعد میں کتنا مقبول یا کتنا غیر مقبول رہے گا۔ مسئلہ یہ بھی نہیں کہ پاکستان کی بھاگ دوڑ اور کوششیں آخر میں معاہدے تک پہنچیں گی یا نہیں۔ مسئلہ ایک ہے اور صرف ایک۔ اسی کی بنیاد پر فیصلے کیجئے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ایران اور ایرانیوں کے بہتر مستقبل اور ترقی کیلئے کیا کرنا چاہیے۔ جنگ جاری رکھنی چاہیے یا ایرانیوں کی جانیں بچانی چاہئیں؟ یہ وہ بنیاد ہے جس پر ٹھنڈے دماغ سے فیصلے کرنے ہیں اور فیصلے بھی فوری۔آغا!بہت سے راستے شمشیر سے نہیں تدبیر سے کھولے جاتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ دور اندیشی اور مصلحت کو پیشِ نظر رکھ کر بہت سے فیصلے کیے گئے اور وہ درست ثابت ہوئے۔ معاہدے کمزوری کی علامت نہیں ہوتے‘ دانش مندی اور تدبر کی علامت ہوتے ہیں۔ یاد کیجئے کہ صلح حدیبیہ کے وقت مسلمانوں نے عمرے کی نیت سے احرام باندھے ہوئے تھے۔ وہ لڑنے نہیں عبادت کرنے آئے تھے‘ لیکن انہیں عمرے سے روک دیا گیا۔ یہ واضح زیادتی تھی۔ یہ بھی تو ممکن تھا کہ مسلمان جو حق پر تھے‘ مشتعل ہوکر ہر صلح‘ ہر مذاکرات سے انکار کر دیتے اور ایک نئی جنگ کا آغاز ہو جاتا لیکن ایسا ہوا نہیں۔ اور اس لیے نہیں ہوا کہ نبی اکرمﷺ کی دور اندیش نگاہیں اس صلح سے حاصل ہونے والے فوائد کو دیکھ رہی تھیں۔ یہ وقتی صلح لوگوں کیلئے بآسانی اسلام میں داخل ہونے کا راستہ کھول رہی تھی۔ یہ بالآخر فتح مکہ کا راستہ کھول رہی تھی‘ حالانکہ یہ وہ معاہدہ تھا جس میں قریش کی کئی شرطوں کو مان لیا گیا تھا حتیٰ کہ نبی اکرمﷺ نے اپنے نام کے ساتھ رسول اللہ کے الفاظ قریش کے اعتراض پر مٹا دیے تھے۔ کئی اور شقیں بھی بظاہر مسلمانوں کے دب کر صلح کرنے کا تاثر دیتی تھیں لیکن ایک بڑے اور ارفع مقصد کیلئے انہیں گوارا کر لیا گیا تھا۔آغا!یاد کیجئے کہ خود مسلمانوں میں یہ تاثر پایا جارہا تھا کہ ہم نے حق پر ہونے کے باوجود دب کر صلح کی ہے۔ عمرے کے بغیر احرام کھول دینا اور مکہ داخل ہوئے بغیر واپس چلے جانا انہیں گوارا نہیں ہو رہا تھا۔ یہ صلح بظاہر ایک غیرمقبول فیصلہ تھا‘ لیکن یہ سب سے بڑی شخصیت کا فیصلہ تھا اور معاہدہ درست لگے یا نہ لگے‘ اپنے نبیﷺ پر سب کا اعتماد تھا۔ دل بے قرار اور بے چین تھے۔ اضطراب کی لہر دوڑتی پھرتی تھی لیکن معاہدہ کر لیا گیا۔ اس کا مقبول یا غیرمقبول ہونا نہیں دیکھا گیا۔ آپ کو علم ہے کہ اس فیصلے کو قرآن نے کھلی فتح سے  تعبیر کیا۔ یاد کیجے کہ اس طرح کے الفاظ کسی اور معاہدے کیلئے نہیں بیان ہوئے۔ معاہدے انا اور ناک کے مسئلوں پر طے کیے جاتے تو صلح حدیبیہ نہیں ہو سکتی تھی۔ یہ معاہدہ خود اس بات کی دلیل ہے کہ قوموں کے معاہدات اور مذاکرات ذاتی اور اجتماعی انا اور ناک کے مسئلے الگ رکھ کر کرنے چاہئیں۔ انا اور ناک بہت چھوٹی چیزیں ہیں‘ مقاصد اور منزل کیلئے ان کی کوئی اہمیت نہیں۔جانے دیجیے‘ انا کا مسئلہ نہ بنائیے۔ یہ امریکہ کیلئے انا کا مسئلہ ہو سکتا ہے تو ہونے دیجیے۔ آخر انا کے پجاری منہ کے بل زمین بوس ہوا کرتے ہیں۔ امریکہ جس تیزی سے زوال پذیر ہے‘ جیسی عالمگیر سبکی اس کی ہوئی ہے‘ جیسا اس کی طاقت کا بھرم ٹوٹا ہے اس کے  پیشِ نظر اسے تو بچی کھچی ناک ہر حال میں بچانی ہے۔ آپ نے تو اسے دھول چٹائی ہے‘ آپ نے تو اس کا گھمنڈ توڑا ہے۔آپ اسے پندار اور انا کا مسئلہ کیوں بناتے ہیں۔ ذرا ارد گرد کی دنیا پر نظر ڈالیں۔ اس خطے کے کتنے ملک ہیں جو کسی قابل ہوں اور آپ کے ساتھ کھڑے ہوں؟ جو مالی یا عسکری نہ سہی اخلاقی مدد بھی کر سکتے ہوں۔ کیا خلیجی ممالک؟ کیا ترکیہ؟ وسط ایشیا کے ممالک؟ آذربائیجان؟ کوئی نہیں۔ کوئی ایک بھی نہیں! سب آپ کے خلاف ہیں۔ صرف پاکستان ہے جوماضی کی تلخیوں کو بھول کر‘ کھل کر آپ پر ہوئے حملوں کی مذمت کرتا ہے‘ آپ کیلئے بانہیں کشادہ کرتا اور آپ کے سر پر لٹکتی تلوار کو اپنے ہاتھ سے دور کرتا ہے۔ تنہا ایک ملک جو آپ کا خیرخواہ ہے۔ آپ کی وجہ سے اس نے یو اے ای کی ناراضی بھی مول لی اور دیگر نقصانات بھی اٹھائے لیکن وہ غیرجانبدار رہا۔ وہ غیرجانبداری جو در حقیقت آپ کا ساتھ دینے سے ہرگز کم نہیں۔اب ذرا فاصلوں پر دنیا کے ممالک کو دیکھیں۔ چین اور روس آپ کیلئے ہرگز کسی جنگ میں نہیں الجھیں گے۔ اپنا نقصان ہرگز نہیں کریں گے ۔ وہ امریکہ کو نیچا دکھانے کیلئے آپ کی مدد ضرور کر سکتے ہیں لیکن اس وقت اور اس حد تک جب تک ان کے اپنے مفاد خطرے میں نہ پڑ جائیں۔ کیا یورپ آپ کے ساتھ کھڑا ہے یا کھڑا ہوگا؟ یورپ کی ٹرمپ‘ نیتن یاہو مخالفت یا ناپسندیدگی اور چیز ہے لیکن آپ کی مالی‘ عسکری اور اخلاقی مدد بالکل اور بات۔ یورپ کیا دنیا کا کوئی ملک یہ نہیں کرے گا۔ ٹرمپ نیتن یاہو پسندیدہ نہ سہی لیکن پسندیدہ آپ بھی نہیں۔ یہ خوش فہمی بھی نکال دیجیے کہ آپ اصولوں پر کھڑے ہیں تو دنیا میں کچھ لوگ آپ کا ساتھ دیں گے۔ ایسا نہیں ہونے والا اور آج کی دنیا میں ایسا نہیں ہو گا۔ یہ طاقت اور دولت کو ماننے والی دنیا ہے اور آپ کے پاس دونوں ہی نہیں۔ یہ کمزوریاں اور بڑھانی ہیں یا ان کا مداوا کرنا ہے؟ ملکوں کی مزید دشمنیاں مول لینی ہیں یا دنیا میں کچھ دوست بھی رکھنے ہیں؟ آپ ایٹمی طاقت بننا چاہتے ہیں‘ ضرور بنئے لیکن جو چھوٹے ملک یہ طاقت بنے ہیں‘ انہوں نے تدبیر سے یہ صلاحیت حاصل کی تھی۔ پاکستان بے شمار جنگیں لڑا ہے لیکن جوہری طاقت اس نے جنگ لڑ کر حاصل نہیں کی۔ یہ قوت اسے شمشیر نے نہیں تدبیر نے بخشی ہے۔ آپ ایک اثاثے کیلئے کیوں اپنا ہر اثاثہ برباد کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ یہ دانشمندی نہیں‘ یہ حکمت نہیں۔ حکمت یہ ہے کہ آپ موزوں وقت اور حالات کا انتظار کریں اور اپنے باقی اثاثے بچا کر رکھیں۔ میرا خطاب کسی ایک سے نہیں‘ ایران سے ہے اور ایران آپ سب ہیں۔ ہم آپ کے فیصلوں پر مسلط نہیں ہو سکتے۔ ہم خیر خواہی کر سکتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ ثالثی کر سکتے ہیں۔ آپ کے گھر جاکر ہمارے سپہ سالار تین دن تک آپ کے اختلاف دور کرانے اور سمجھانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ یہ سب تو ہم کر چکے اور بعض آوازیں یہ بھی سن چکے کہ پاکستان امریکہ کیلئے یہ جنگ بندی اور مذاکرات کروا رہا ہے۔ آپ میں سے بیشتر نے پاکستانی کوششوں کا اعتراف کیا لیکن خیر خواہی اور مہمان نوازی کرنے پر وہ آوازیں جو منفی جملے کہتی ہیں‘ ان کا دکھ بھی بہت ہوتا ہے۔اگر یہ جنگ جاری رہی‘ آپ کے ڈالر منجمد رہے‘ آپ پر پابندیاں بدستور رہیں‘ آپ کی ناکہ بندی جاری رہی‘ آپ پر بم برستے رہے تو بے شک آپ اسرائیل اور امریکی اڈوں کو تہس نہس کر دیں‘ آبنائے ہرمز بند رکھیں‘ پھر بھی اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کی صلاحیت نہیں ہے آپ کے پاس۔ آپ کا نقصان بڑا ہے اور زیادہ اثرات والا ہے۔ نہ کریں! بس کردیں۔ انا کا مسئلہ امریکہ کیلئے چھوڑ دیں۔ یہ راستہ کعبہ کو نہیں‘ ترکستان کو جاتا ہے۔ من فدائے تو شوم۔ قربانت شوم آغا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_81278520.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>اصل خطرہ!(مفتی منیب الرحمٰن )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-04-23/51821/37966406</link><pubDate>Thu, 23 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-04-23/51821/37966406</guid><description>موجودہ عالمی نظام اور امنِ عالم کو اصل خطرہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ہے۔ مُتلوّن مزاج اور سیماب طبیعت کے حامل! اور اس عہد کی بدقسمتی کہ وہ ہٹلر اور مسولینی کی طرح جمہوری عمل سے سپر پاور کے تختِ اقتدار پر متمکن ہوگیا اور کانگریس سمیت امریکی مقتدرہ بھی اس کے سامنے بے بس ہے۔ عالمی قوتوں پر لازم ہے کہ دنیا کو اس شخص کے شر سے نجات کیلئے اجتماعی طور پر کوئی تدبیر کریں۔ ٹرمپ کی شخصیت تضادات کا مجموعہ ہے‘ مثلاً ایک لمحے میں وہ کہتا ہے: &#39;&#39;ایران کی نیوی ختم ہو چکی ہے‘ ایئر فورس تباہ ہو چکی ہے‘‘ لیکن دوسرے لمحے کہتا ہے: &#39;&#39;ایران اب بھی امریکہ کی فورسز پر حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے‘‘۔ (2) وہ کہتا ہے: &#39;&#39;امریکہ نے اہم تزویراتی مقاصد حاصل کر لیے ہیں‘‘ لیکن دوسرے سانس میں وہ کہتا ہے: &#39;&#39;ہمارا مشن مکمل ہونے کے قریب ہے‘‘۔ (3) &#39;&#39;جنگ کے اختتام کی بابت اُس نے کہا: &#39;&#39;ہمارا مشن تکمیل کے قریب ہے‘‘ لیکن پھر دوسری سانس میں کہتا ہے: &#39;&#39;اگلے دو تین ہفتوں میں ہمارا مشن مکمل ہو جائے گا‘‘۔ (4) وہ کہتا ہے: &#39;&#39;اگلے دو تین ہفتوں میں ایران پر شدید ترین حملے جاری رہیں گے اور ہم توانائی کی تنصیبات (بجلی کی پیداوار اور تقسیم کا نظام) کو تباہ کرد یں گے اور ایران کو پتھر کے دور میں لے جائیں گے‘‘ پھر وہ کہتا ہے: &#39;&#39;چار پانچ ہفتوں میں یہ کام ہو جائے گا اور کبھی کہتا ہے : جب تک ضروری ہے‘ حملے جاری رہیں گے‘‘۔ (5) جنگ بندی اور مذاکرات کے بارے میں ایک دن کہا: &#39;&#39;ایران نے یورینیم ہمارے حوالے کرنے سمیت سب باتیں مان لی ہیں‘‘ مگر پھر دوسرے ہی سانس میں وہ کہتا ہے: &#39;&#39;اگر ایران نے سب باتیں نہ مانیں اور ڈیل نہ ہوئی تو ہم تمام پاور پلانٹس اور پُل تباہ کر دیں گے‘‘۔ (6) سیز فائر کے بارے میں کہا: &#39;&#39;انتہائی ناپسندیدہ چیز ہے‘ لیکن ایران کی نئی حکومت ڈیل کی شدت سے خواہش مند ہے‘‘ اس کے برعکس ایران نے اسے جھوٹ اور بے بنیاد قرار دیا۔ (7) ایران کی نیوکلیئر اور میزائل صلاحیت کے بارے میں جون 2025ء کے حملوں کے بعد دعویٰ کیا &#39;&#39;اسے مکمل تباہ کر دیا گیا ہے‘‘ لیکن بعد میں کہا: &#39;&#39;ایران ایٹم بم بنانے سے چند قدم کے فاصلے پر تھا اوردور تک اپنے ہدف کو نشانہ بنانے والے میزائل تیار کر رہا ہے‘ یہ امریکہ کو بھی ہدف بناسکتے ہیں‘‘۔ (8) ایک طرف کہا: &#39;&#39;امریکہ کو دوسروں کی مدد کی ضرورت نہیں‘‘ دوسری جانب وہ یورپی ممالک‘ جاپان اور جنوبی کوریا کو کوس رہے ہیں اور ملامت کر رہے ہیں کہ وہ مدد کو نہیں آئے‘ کبھی اُنہیں کاغذی شیر قرار دیتا ہے‘‘۔ (9) آبنائے ہرمز کھولنے کے بارے میں پہلے کئی ڈیڈ لائنیں مقرر کیں‘ 48 گھنٹے کے اندر کھول دیا جائے‘ پھر اس مدت کو پانچ دن بڑھایا اور پھر دس دن کی توسیع کی‘ پھر کہا: امریکہ پر آبنائے ہرمز کی بندش کا کوئی اثر نہیں پڑتا‘‘۔ یہ سارے متضاد بیانات سماجی رابطے کی ویب سائٹ یا مختلف مواقع پر ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے جاری کیے۔ ہمارے حکمرانوں کی طرح ٹرمپ بھی میڈیا سے سخت نالاں ہیں اور اسے جھوٹ کا پرچارک قرار دیتے ہیں‘ نیز اپنی حریف جماعت ڈیمو کریٹک پارٹی کو بھی جھوٹ کا پرچار ک اور غدار قرار دیتے ہیں۔ہم اپنی طالب علمی کے زمانے میں کبھی مداری کے کرتب دیکھا کرتے تھے‘ وہ اپنے چیلے سے کہتا: &#39;&#39;بچہ جمورے! میں کون؟‘‘ وہ جواب دیتا: &#39;&#39;عامل‘‘۔پھر پوچھتا: &#39;&#39;تُو کون؟‘‘ وہ جواب دیتا: &#39;&#39;معمول‘‘ پھر وہ کہتا: &#39;&#39;جو پوچھوں گا بتائے گا‘‘ وہ کہتا: &#39;&#39;ہاں! حکم میرے آقا‘‘۔ اسی طرح نیتن یاہو مداری کے کرتب والا &#39;&#39;عامل‘‘ ہے اور ٹرمپ اس کا &#39;&#39;معمول اور بچہ جمورا‘‘ ہے‘ مداری کے چیلے کی طرح اس کا ہر حکم بجا لاتا ہے‘ لہٰذا امریکہ کا اصل دارالحکومت تل ابیب کو قرار دینا چاہیے۔ ان دونوں عامل اور معمول کی ڈکشنری میں رحم‘ ترس‘ بخشش اور نرمی جیسے الفاظ نہیں ہیں‘ صرف ظلم ہے‘ عدوان ہے‘ انتقام ہے‘ گرفت ہے اور اپنے ہر مخالف کو صفحۂ ہستی سے مٹانے اور نیست ونابود کرنے کی نہ ختم ہونیوالی خواہش ہے۔ بعض ذرائع ابلاغ بتاتے ہیں کہ امریکی صدور کی تاریخ میں ٹرمپ امریکی عوام میں اپنی نامقبولیت کے کم ترین ترجے پر ہے‘ مگر ٹرمپ کو اس کی قطعاً پروا نہیں ہے‘ اُس نے اپنے رائے دہندگان کو عصبیت کی عینک پہنا دی ہے اور انہیں ٹرمپ ہی سچا نظر آتا ہے۔امریکی دستور کے مطابق ایٹم بم کی کلید یعنی دنیا کو تباہ وبرباد کرنے کی کنجیاں صدارتی منصب کے سبب ٹرمپ کے پاس ہیں اور ایسا ناقابلِ اعتبار اور مغلوب الغضب شخص کسی وقت کچھ بھی کر سکتا ہے۔ ہم نے اپنی شعوری زندگی میں امریکی کانگریس اور مقتدرہ کو اتنا بے بس نہیں دیکھا کہ وہ ٹرمپ جیسے شخص کو ممنوعہ حدود عبور کرنے پرروک ٹوک عائد کر سکیں۔ پس اس کا وجود دنیا کیلئے خطرے کی علامت ہے۔ بی بی سی نے رپورٹ کیا ہے: بعض مواقع پر ٹرمپ انتہائی حساس بیان دیتا ہے اور پھر اگلے دن اسکے برعکس بیان جاری کرتا ہے‘ اس کے نتیجے میں نیویارک سٹاک ایکسچینج میں ٹرمپ سے قریبی تعلق رکھنے والے بعض دلالوں نے ایک دن میں کروڑوں ڈالر کمالیے۔ چونکہ ٹرمپ کاروباری آدمی ہے‘ اس لیے اس کو ڈِیل کا لفظ بہت پسند ہے۔اسی طرح برطانیہ‘ فرانس اور ہالینڈ وغیرہ کبھی نوآبادیاتی عالمی طاقتیں تھیں‘ ٹرمپ نے انہیں بھی بے توقیر کر دیا ہے‘ وہ انہیں کچوکے لگاتا ہے‘ یعنی جھٹکے پہ جھٹکے دے رہا ہے‘ کبھی انہیں کاغذی شیر کہتا ہے۔ پس اُس نیٹو اتحادیوں کوسمجھ نہیں آرہی کہ ٹرمپ کی ملامت اور بے توقیری سے کیسے اپنا دامن بچائیں۔ فرانسیسی صدر ایمانول میکرون کی برسرِ عام بے عزتی کی اور کہا: &#39;&#39;یہ اسی قابل ہے‘ اسی وجہ سے اس کی بیوی نے اسے تھپڑ مارا ہے‘‘۔ فتح کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ دشمن شکست تسلیم کرلے‘ہتھیار ڈال دے اور گھٹنے ٹیک دے۔اس معنی میں تو امریکہ اور اسرائیل کوایران کے خلاف فتح نصیب نہیں ہو سکی‘ البتہ غزہ اور ایران میں انہوں نے تباہی اور بربادی کی انتہا کر دی ہے ۔لیکن مِن حیث القوم ایران کی مشکلات کو سہارنے اور برداشت کرنے کی قوت انتہا درجے کی ہے کہ ظالم مار مار کر تھک جائے‘ مگر مظلوم ہمت نہ ہارے۔ اس سے ہٹ کر فتح یا شکست اضافی اصطلاح ہے‘ لہٰذا ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی مسلّط کردہ جنگ ایک ایسا عجوبہ ہے کہ جس میں دونوں فریق فاتح ہیں‘ شکست خوردہ کوئی بھی نہیں ہے۔ اسی لیے مذاکرات کی میز پر بیٹھنا یاازخود مسلّط کردہ اس ابتلا سے نکلنے کیلئے راستہ تلاش کرنا فریقین کیلئے دشوار ہو رہا ہے۔ اسی لیے بعض تجزیہ کار کہتے ہیں: جنگ بندی کا کوئی ایسا معاہدہ ترتیب دیا جائے جو قابلِ عمل بھی ہو‘ جس میں تحدید وتوازن کا نظام بھی ہو اور دونوں کیلئے اشک شوئی (Face Saving) کا سامان بھی ہو‘ یعنی آبرومندانہ شرائط ہوں‘ جس میں دونوں وِن وِن کی پوزیشن میں ہوں‘ یعنی ہر ایک اپنے آپ کو فاتح قرار دے سکے اور اپنے عوام کو مطمئن کرکے اس ابتلا سے نکل سکے‘ کیونکہ امریکہ کے وسط مدتی انتخابات نومبر کے اوائل میں متوقع ہیں اور ناکامی کی صورت میں ٹرمپ کو آئندہ کانگریس کے دونوں ایوانوں (سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان) کے جزوی انتخابات میں شدید دھچکا لگ سکتا ہے‘ اسی موقع پر بعض ریاستوں کے گورنروں کے انتخابات بھی منعقد ہوں گے اور نتائج خلافِ توقع آنے کی صورت میں ٹرمپ کیلئے بقیہ مدتِ صدارت چلانا دشوار ہو جائے گا۔ کہا جاتا ہے کہ مجموعی طور پر ایران کے سو ارب ڈالر مالیت کے مختلف اثاثے امریکہ اور یورپی ممالک کے بینکوں میں منجمد ہیں‘ اگر وہ واگزار ہو جائیں تو ایران کے تباہ شدہ شہری ڈھانچے کی تعمیرِ نو میں مدد مل سکتی ہے اور تجارت پر پابندیاں اٹھنے کی صورت میں اسکے مالی وسائل میں بے پناہ اضافہ ہو سکتا ہے۔ اگر وہ اپنا ایٹمی پروگرام مؤخر بھی کر دے تو اس کیلئے چنداں نقصان دہ نہیں ہے ۔ایران کا سب سے اہم مطالبہ یہ ہے کہ جنگ بندی دیرپا یا دائمی ہو کیونکہ اسکے نزدیک امریکہ اور اسرائیل جھوٹے ہیں‘ ناقابلِ اعتبار ہیں‘ لہٰذا انہیں جنگ بندی کے معاہدے پر ان کو قائم رکھنے کیلئے مضبوط ضمانت چاہیے‘ جو موجودہ حالات میں کسی حد تک چین اور روس دے سکتے ہیں‘ سو فیصد کی ضمانت تو کسی کے پاس نہیں ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_61172381.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>