<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>تاریخ یہاں کون سی پڑھائی جاتی ہے(ایاز امیر)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-06-24/52177/18388327</link><pubDate>Wed, 24 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-06-24/52177/18388327</guid><description>اس تاریخ میں اتنا تو لکھنا چاہیے کہ پہلی جنگ عظیم میں ہندوستان سے تقریباً ساڑھے چھ لاکھ فوجی برطانوی سامراج کے جھنڈے تلے برطانوی فوج میں بھرتی ہوئے تھے۔ اس تعداد میں سے بھاری اکثریت پنجاب سے تھی‘ ہندو‘ سکھ‘ ڈوگرے اور مسلمان۔ سبھی نے برطانوی وردی پہنی۔ کسی ہندوستانی لیڈر نے نہیں کہا کہ یہ تمہاری جنگ نہیں‘ تمہارا اس میں چلے جانا بنتا نہیں۔ کہتے بھی کیا جب تب کے لیڈروں میں بھاری اکثریت انگریز حاکمیت کی وفادار تھی۔ آزادی کی بات چلنے لگی تھی‘ پر بڑے دھیمے انداز میں۔ انگریز کے خلاف عَلم بغاوت کسی نے نہیں اٹھایا۔حیرانی اس بات پر بھی ہوتی ہے کہ پہلی جنگِ عظیم ہو گئی‘ ہندوستانیوں کی قربانیوں کو انگریز بھول گئے‘ جلیانوالہ باغ امرتسر میں نہتے ہندوستانیوں پر گولی چلتی ہے‘ سینکڑوں لوگ مارے جاتے ہیں اور پھر بھی انگریز سامراج کے خلاف جو وحدت پیدا ہونی چاہیے تھی وہ نہ ہو سکی۔ بادشاہی مسجد لاہور میں ایک احتجاجی اجتماع ہوا جس میں تمام مذاہب کے لوگ شامل تھے لیکن وہ یگانگت کی روح زیادہ دیر زندہ نہ رہ سکی اور آزادی کی موومنٹ جلد ہی ہندو مسلم تفرقے کا شکار ہو گئی۔ دنیا کی تاریخ میں تمام بڑے انقلاب بزورِ شمشیر اپنی منزل کو پہنچے۔ انگریز ہندوستان پر حکومت بزورِ شمشیر کر رہا تھا اور گاندھی جی کا پرچار تھا کہ جدوجہد پُرامن رہے اور تشدد کی طرف کبھی نہ جائے۔ یعنی انگریز جو تشدد کر رہا ہے وہ کرتا رہے اُس کے خلاف کوئی پتھر نہیں اٹھانا۔ یہی وجہ ہے کہ بھگت سنگھ جیسے چند دیوانے جو انقلابی جدوجہد کی بات کرتے تھے‘ کسی بڑے نیتا نے اُن کے فلسفے کی تائید نہ کی۔ اتنا بڑا ملک اتنی بڑی آبادی اور انقلاب کی چنگاری یہاں دہک نہ سکی۔دہکتی بھی کیسے جب تاریخ اس سرزمین کی یہ تھی کہ چند ہزار برطانوی فوجی آئے اور وہ بھی ایک تاجر کمپنی‘ ایسٹ انڈیا کمپنی کے جھنڈے لہراتے اور آہستہ آہستہ وہ اتنے بڑے ملک پر قابض ہو جاتے ہیں۔ شروع دن سے انگریزوں کو اپنی ماتحتی اور نوکری کیلئے یہاں سے لوگ میسر ہوئے۔ کیا حال یہاں کا ہو گا‘ کیا ذہنی کیفیت ہو گی کہ چند روپوں پر ایسٹ انڈیا کمپنی کی ملازمت اختیار کرنے کیلئے یہاں کے لوگ تیار ہو جاتے تھے۔ نچلے درجے کے لوگ سپاہی ہو جاتے تھے اور اونچے درجے کے لوگ انگریزوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کرتے۔ اُس وقت کی پوری تاریخ میں چند ہی نام نظر آتے ہیں جو انگریزوں کے خلاف کھڑے ہوئے۔ حیدر علی اور اُن کا بیٹا ٹیپو سلطان۔ یہ دونوں پہلے اور آخری ہندوستانی ہیں جو میدانِ جنگ میں انگریزوں کو شکست دینے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ ٹیپو سلطان آخر میں ہارتے ہیں تو صرف انگریز قوت کے سامنے نہیں بلکہ انگریزوں کو نظام دکن اور مرہٹوں کی حمایت حاصل ہوتی ہے۔ ایک بڑے مقصد کیلئے آپس میں اتحاد کرنا‘ یہاں کے باسی اور یہاں کے راجے مہاراجے یہ چیز کبھی نہ پا سکے۔ اور بتدریج پھر انگریز وسیع سرزمین کے بلاشرکتِ غیرے حکمران بن جاتے ہیں۔ ایسی شروعات ہوں تو کوئی عجوبہ نہیں کہ یہاں کے لاکھوں سپاہی پہلی جنگ عظیم میں انگریز سامراج کیلئے لڑے اور مرے۔ یہاں کی سوچ یوں دیکھئے کہ اب بھی بڑے فخر سے کہا جاتا ہے کہ فلاں صوبیدار کو اعزاز حاصل ہے کہ وہ پہلا مسلمان تھا جس نے وکٹوریہ کراس حاصل کیا۔ ہمیں یہ بات عجیب لگتی ہی نہیں کہ کسی اور بادشاہ کے نام پر یہ اعزاز ملا۔یہ بات بھی عجیب نہیں لگتی کہ گیلی پولی کمپین میں جب انگریز فوج ترکوں کے خلاف لڑنے گئی تو انگریز فوج کا ایک بہت بڑا حصہ ہندوستانیوں پر مشتمل تھا۔ ہندو اور سکھ تو کہہ سکتے ہیں کہ ترکوں کے ساتھ ہمارا کون سا بھائی چارہ تھا لیکن برطانوی فوج کے جو مسلمان سپاہی تھے ان کے ذہنوں میں یہ سوال نہ اٹھا کہ سامنے چوٹیوں پر ترک فوج مورچہ زن ہے اور ہم سنگینیں لگا کر پہاڑیوں پر چڑھ رہے ہیں؟ یہ بھی یاد رہے کہ اُس کمپین میں ترک فوج کی ایک ڈویژن کے کمانڈر مصطفی کمال تھے جنہوں نے بعد میں لقب اتا ترک کا پایا۔ میاں نواز شریف جب تیسری بار وزیراعظم تھے تو گیلی پولی کمپین کی ایک تقریب ہوئی جس میں حضور بھی شمولیت کیلئے پہنچ گئے‘ یہ سمجھے بغیر کہ وہاں اُن کی حاضری بنتی بھی ہے یا نہیں۔ کیا ہماری تاریخ کی کتابوں میں گیلی پولی کمپین کے بارے میں پڑھایا جاتا ہے؟ ہمارے سکول اور کالجوں میں اتا ترک کے بارے میں کتنا بتایا جاتا ہے؟ بہت سے لوگ ہمارے ہاں اتا ترک پہ لعن طعن کرتے ہیں کہ وہ لادین یا اسلام مخالف تھا۔ یہ تو اتا ترک کا اعزاز ہے کہ میدانِ جنگ میں سرخرو رہا انگریزوں کے خلاف اور پھر پہلی جنگ عظیم کے اختتام پر یونانیوں کے خلاف۔ نہیں تو پتا نہیں اُس کا حشر کیا ہوتا۔بھگت سنگھ شہید کے بارے میں ہمارے ہاں اتنی ہچکچاہٹ کیوں ہے؟ چند ہی لوگ ہیں جو ان کا نام لیتے ہیں اور اُن کی یاد میں سال میں ایک دو بار کوئی چھوٹی موٹی تقریب کر لیتے ہیں۔ لیکن جس قسم کی جانکاری ہماری قوم میں بھگت سنگھ اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں ہونی چاہیے وہ نہیں ہے۔ کیمپ جیل لاہور میں بھگت سنگھ اور اُن کے ساتھیوں کو پھانسی لگی تھی۔ کیمپ جیل کے پاس ہی شادمان چوک ہے۔ کبھی کبھار کوئی آواز اٹھتی ہے کہ اِس چوک کو بھگت سنگھ کے نام سے منسوب کیا جائے لیکن فوراً ہی مخالف آوازیں اٹھتی ہیں کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ کاش وہ دن آئے کہ اس چوک کو بھگت سنگھ شہید کے نام سے جانا جائے اور اس بات پر ہمارے لوگ فخر محسوس کریں۔یہاں کی کتابوں میں اتنا تو بتایا جائے کہ جاپانی حملے کے سامنے بغیر کسی خاطر خواہ مزاحمت کے انگریزوں نے سنگاپور میں ہتھیار ڈال دیے۔ عددی تعداد انگریزوں کی زیادہ تھی جاپانیوں کی کم۔ ان محاذوں پر لڑائی کے دوران بہت سے ہندوستانی فوجی جاپانی قید میںگئے اور انہی ہندوستانی قیدیوں میں سے سبھاش چندر بوس کی انڈین نیشنل آرمی بنی۔ یعنی یہ ہندوستانی قیدی انگریز سامراج کے خلاف لڑنے کیلئے تیار ہو گئے۔ انڈین نیشنل آرمی کا نام آج بھی ہندوستان میں عزت سے لیا جاتا ہے۔ لیکن ہماری کتابوں میں کم ہی اس کا ذکر ملے گا‘ حالانکہ انڈین نیشنل آرمی میں بہت سے مسلمان افسر بھی تھے۔ انہی عوامل سے ذہن میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ یہاں کے لوگوں کی پتا نہیں کون سی رجعت پسندانہ سوچ اور ذہنیت تھی۔کچھ نہ کچھ ایسی سوچ ہو گی کہ پاکستان بننے کے چند ہی سال بعد کوئی امریکہ نواز ملٹری اتحاد نہیں بنا جس میں پاکستان شامل نہیں تھا۔ بغداد پیکٹ کے ہم ممبر‘ سینٹو کے ممبر‘ سیٹو کے ممبر۔ کچھ فوجی سازو سامان ملا‘ کھاریاں جیسی چھاؤنی بنی اور یہاں کے حکمران فخر کرتے رہے۔ اوّل مقابلہ تو غربت اور جہالت سے ہونا چاہیے تھا لیکن نئی اسلامی ریاست کا اوّل مقابلہ ہندوستان سے بنا۔شاید اس دشمنی کی ضرورت بھی تھی کیونکہ یہی جواز تھا امریکی کیمپ میں جانے کا۔ امریکی کیمپ میں ہم اس لیے گئے کہ ہندوستان کے خلاف ہمیں اسلحے کی ضرورت ہے۔ اس قسم کی ذہنی کھچڑی یہاں شروع دن سے پکتی آئی ہے۔چین سے ہماری دوستی پہاڑوں سے اونچی اور سمندروں سے گہری ہے لیکن چینی انقلاب کے بارے میں ہم کتنا جانتے ہیں‘ کتنا کچھ اس انقلاب کے بارے میں ہماری درسگاہوں میں پڑھایا جاتا ہے؟ چینی انقلاب سے یہاں بس اتنی ہی واقفیت ہے کہ دس یا بیس کلومیٹر کا سیاسی سفر طے کرنا ہو تو اُسے لانگ مارچ کا نام دے دیا جاتا ہے۔ کچھ نصاب کو وسعت ملے کچھ ذہنی وسعتوں پر بھی اللہ کی مہربانی ہو۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_80573045.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>وزارتِ قانون اور صحافیوں کا شوشہ(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-06-24/52178/12498250</link><pubDate>Wed, 24 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-06-24/52178/12498250</guid><description>وزارتِ قانون کو اہم وزارتوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سیاسی جماعت کے وہ سینیٹرز یا ارکانِ اسمبلی جو وکالت کے شعبے سے تعلق رکھتے ہیں‘ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ وزیر قانون بنیں یا پھر اٹارنی جنرل کے منصب تک پہنچ جائیں۔ ہر جماعت میں بڑے بڑے وکلا موجود ہیں جنہوں نے اپنی جماعت کی حکومت آنے پر عموماً یہی عہدے حاصل کئے۔ ان کے درمیان ایک دوسرے سے مقابلہ بھی چلتا رہا اور گروہ بندیاں بھی ہوتی رہیں۔ میں کئی مثالیں دے سکتا ہوں جب ان حضرات نے یہ عہدے حاصل کرنے کیلئے باقاعدہ لڑائیاں لڑیں۔ اب ہوتا یہ ہے کہ اگر آپ بڑے وکیل ہیں اور آپ کا مخالف کسی ایک سیاسی جماعت میں شامل ہو گیا ہے تو آپ ا س کی مخالف جماعت میں جگہ تلاش کریں گے۔عام خیال یہ ہے کہ اکثر وکلا حضرات کا اپنی جماعت کے سیاسی نظریات سے تعلق نہیں ہوتا۔ ہاں‘ وقت کے ساتھ جماعت کے لیے کچھ ہمدردی یا کسی لیڈر سے ذاتی تعلق پیدا ہو جائے اور  اسے نظریاتی وابستگی کا نام دے دیا جائے تو الگ بات ہے‘ ورنہ اکثریت کیلئے یہ ایک پیشہ ورانہ معاملہ ہوتا ہے اور وہ اسے اسی انداز میں لیا جاتا ہے۔یہ ایک پرانی کہانی ہے جب سیاستدانوں پر مقدمات کی بھرمار ہوئی تو انہیں احساس ہوا کہ اعلیٰ درجے کے وکلا کی فیسیں بہت زیادہ ہیں۔ اب جبکہ مقدمات کی تعداد درجنوں میں تھی‘ اگر وہ ہر مقدمے میں کسی مضبوط وکیل کو بھاری فیس ادا کرتے رہتے تو کنگال ہو جاتے کیونکہ اقتدار اور مقدمات تو ساتھ ساتھ چلتے رہتے ہیں‘ چند سال اقتدار اور پھر چند سال جیل؛ چنانچہ وکلا مستقل ضرورت بن گئے۔ یوں سیاستدانوں نے سمجھداری کا فیصلہ کیا کہ کیوں نہ بڑے بڑے وکیلوں کو اپنی جماعتوں میں ہی شامل کر لیا جائے۔ اس طرح ان کے مقدمات مفت لڑے جائیںگے‘ سیاسی اور عدالتی محاذ بھی سنبھال لیا جائے گا۔بار اور بینچ کی سیاست کو بھی کنٹرول کیا جاسکے گا۔پھر ہر جماعت نے اپنے حامی وکلا کو پوسٹیں دیں یا وزارتِ قانون میں ایڈجسٹ کیا۔ وہ سرکاری محکموں کے مقدمات بھی لڑتے رہے۔ جو زیادہ بڑے اور اثر و رسوخ والے تھے انہیں ایڈووکیٹ جنرل سے لے کر اٹارنی جنرل تک کے عہدے ملے اور  پھر وہ آگے اپنے دوستوں کو بھی مختلف جگہوں پر ایڈجسٹ کرتے رہے۔ یوں یہ سلسلہ طویل عرصے تک چلتا رہا۔یاد پڑتا ہے کہ ایک بڑے ہوٹل چین کے مالک نے ایک دفعہ بڑے فخر سے بتایا کہ انہیں ایک بڑے سیاسی لیڈر نے سینیٹ کا ٹکٹ آفر کیا تھا لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔ میں نے کہا کہ یہ فخر کی نہیں شکر کی بات ہے۔ آپ بچ گئے اور پورے کاروباری ثابت ہوئے۔ انہوں نے آپ سے سیاست نہیں بلکہ کاروبار کرنا تھا۔ سینیٹ کی ایک سیٹ دے کر وہ پورے ملک میں پھیلے آپ کے ہوٹلوں کی ایک طرح سے ملکیت حاصل کر لیتے۔ انہیں مفت کے ہوٹل کمرے‘ قیام اور پارٹی فنکشنز کیلئے مستقل سہولتیں مل جاتیں۔ میرا جواب سن کر اُن کا چہرہ دیکھنے والا تھا۔ میں نے جن وزرائے قانون کو بہت قریب سے دیکھا ہے ان میں ڈاکٹر بابر اعوان سرفہرست ہیں۔ میں انہیں ایک ذہین انسان مانتا ہوں‘ چاہے میں اور آپ ان کے خیالات سے متفق نہ ہوں۔ بہت سے وزرائے قانون آئے لیکن ان جیسا شاید ہی کوئی ہو۔ وہ ایک طاقتور وزیر تھے۔ بہت مشکل ہوتا ہے کہ کوئی شخص بیک وقت ذہین بھی ہو اور بہادر بھی‘ لیکن ان میں یہ دونوں خوبیاں موجود تھیں۔ یقینا ہر انسان کی طرح ان میں خامیاں بھی ہوں گی۔ ان کا دور بڑا مشکل تھا‘ جب چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اور صدر آصف علی زرداری کے مابین براہِ راست محاذ آرائی چل رہی تھی اور اس جنگ میں ہراول دستے کا کردار بابر اعوان ادا کر رہے تھے۔ میں نے چیف جسٹس اور بابر اعوان کی اس لڑائی کو بہت قریب سے دیکھا۔ شاید ہی کسی اور وزیر قانون نے کسی چیف جسٹس کو اس جرأت اور ثابت قدمی کے ساتھ ٹف ٹائم دیا ہو‘ جیسے انہوں نے دیا۔ اس کا نتیجہ انہیں توہینِ عدالت کی کارروائی اور وکالت کا لائسنس معطل ہونے کی صورت میں بھگتنا پڑا‘ لیکن وہ پیچھے نہیں ہٹے۔یہ سب باتیں مجھے اس لیے یاد آ رہی ہیں کہ آج کل ٹیلی کام بل پر تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔ اس معاملے میں یقینا وزارتِ قانون کا کردار بہت اہم ہے۔ بابر اعوان کی اپنی وزارت کی ایک ایک چیز اور ایک ایک شخص پر نظر ہوتی تھی کہ کون کیا اور کیوں کر رہا ہے‘ اور کہیں کوئی اپنا الگ کھیل تو نہیں کھیل رہا۔ اب سینیٹ میں ٹیلی کام بل پر شور مچنے کے بعد وزیراعظم نے گیارہ رکنی کمیٹی بنا دی ہے‘ لیکن اس کے ممبر وہی وزرا اور سیکرٹریز ہیں جنہوں نے یہ بل تیار کیا اور اسمبلی سے منظور بھی کرایا۔ مطلب جن کے خلاف انکوائری ہونی چاہیے وہی اپنے اوپر جج بھی بنا دیے گئے ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو اس پورے معاملے میں بہت بڑی ذمہ داری وزارتِ قانون کی تھی۔ ہر وزارت کے پاس ایسے قابل لوگ نہیں ہوتے کہ وہ کوئی بل تیار کر سکیں۔ یہ کام وزارتِ قانون کے ڈرافٹس مین کرتے ہیں۔ اس بل نے بہت سے سوالات اٹھائے ہیں۔ کیا وزارتِ قانون کے پاس اتنے اہل لوگ موجود ہیں کہ وہ کسی بھی بل کی زبان مناسب انداز میں لکھ سکیں؟ یا پھر کسی وزارت کی وارداتوں کو عوامی مفاد میں پکڑ سکیں؟ وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ کا کہنا ہے کہ بل کی زبان مناسب نہیں اور اسے درست کرنے کی ضرورت ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس کی زبان کس نے لکھی اور اسے درست کرنا کس کی ذمہ داری تھی؟ کیونکہ پہلے اسے وزارتِ آئی ٹی نے تیار کرایا‘ پھر وزارتِ قانون نے اسے قانونی زبان دے کر سمری تیار کی‘ پھر کابینہ سے منظوری لی گئی‘ پھر اسے اسمبلی میں پیش کیا گیا۔ وہاں آئی ٹی کی قائمہ کمیٹی نے اسے منظور کیا‘ پھر اسمبلی نے بھی منظور کر دیا اور جب یہ سینیٹ میں پہنچا تو پتا چلا کہ کتنی بڑی واردات ہونے جا رہی ہے۔ اس سارے عمل کے دوران وزارتِ قانون کے افسران اور ڈرافٹس مین کو اس بل کی زبان اور اس کے پیچھے چھپے ارادوں کا اندازہ نہیں ہوا؟ حالانکہ انہیں لاکھوں روپے تنخواہ ملتی ہے اور وہ پچیس کروڑ لوگوں کی جائیدادیں ایک شعبے کی صوابدید پر چھوڑنے جا رہے تھے۔اب وزیر قانون صحافیوں کو کہتے ہیں کہ یہ کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں‘ بس چند سینئر صحافیوں نے اسے ایشو بنا دیا۔ اندازہ کیجیے کہ ان کے نزدیک یہ کوئی بڑا مسئلہ ہی نہیں۔ اگر ایسا ہی تھا تو پھر بل کو سینیٹ میں کیوں روکا گیا؟ وزیراعظم نے گیارہ رکنی کمیٹی کیوں تشکیل دی؟ پورا ملک اس بل پر ششدر اور خوفزدہ ہے اور وزیر قانون فرما رہے ہیں کہ یہ سب چند سینئر صحافیوں کا پیدا کردہ معاملہ ہے‘ جن کے پاس شاید اور کوئی خبر نہیں تھی۔ ہمارے قابلِ احترام دوست ہارون الرشید اکثر لکھا کرتے تھے کہ قومیں غلطیوں سے نہیں غلطیوں پر اصرار اور ضدسے تباہ ہوتی ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کتابِ زندگی کا ایک ورق(شاہد صدیقی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-siddiqui/2026-06-24/52179/11347131</link><pubDate>Wed, 24 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-siddiqui/2026-06-24/52179/11347131</guid><description>گورڈن کالج راولپنڈی سے ایم اے انگلش کرنے کے بعد ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن کی طرف سے بطور لیکچرر میری پہلی تقرری گورنمنٹ ڈگری کالج منڈی بہاء الدین میں ہوئی۔ یہاں کے پرنسپل چودھری ولی محمد تھے۔ منڈی بہاء الدین اُس زمانے میں ایک خاموش سا قصبہ تھا جہاں کالج کے اوقات کے بعد شام ڈھلے ہم حکیم افتخار فخر صاحب کے مطب پر جمع ہوتے۔ حکیم صاحب شاعر بھی تھے۔ یوں ہر شام ان کے مطب پر شعر و ادب کی محفل جمتی۔ اس محفل میں اردو کے معروف نقاد پروفیسر ڈاکٹر نوازش علی بھی شریک ہوتے تھے جو اُس وقت تک ڈاکٹر نہیں بنے تھے اور منڈی بہاء الدین کے کامرس کالج میں اردو کے لیکچرر تھے۔ کالج میں مجھے انٹرمیڈیٹ اور بی اے کی دو کلاسز دی گئیں۔ یہ میری تدریس کے سفر کا آغاز تھا۔ اسی دوران پبلک سروس کمیشن میں میرا انٹرویو ہوا اور میں نتیجے کا انتظار کرنے لگا۔ اب مجھے منڈی بہاء الدین کالج میں کام کرتے ہوئے تین چار ماہ ہو چکے تھے۔ ایک روز کالج کے پرنسپل ولی محمد صاحب نے مجھے اپنے دفتر بلایا۔ میں ان کے آفس میں داخل ہوا تو انہوں نے کھڑے ہوکر مجھے گلے سے لگا لیا‘ کہنے لگے‘ بہت عرصے بعد کالج کے طلبہ کو انگریزی کی کلاس میں ذو ق و شوق سے جاتے دیکھا ہے۔ اس کے بعد ان کے چہرے پر اداسی کی لہر آئی اور گزر گئی‘ پھر ہونٹوں پر تبسم لا کر کہنے لگے‘ آپ کو مبارک ہو آپ کا پبلک سروس کمیشن کے ذریعے لیکچرر شپ کیلئے انتخاب ہو گیا ہے اور آپ کی اپائنٹمنٹ آپ کے اپنے شہر راولپنڈی کے ایک کالج میں ہوئی ہے۔ الوداعی دعوت میں ولی محمد صاحب اور میرے دوستوں نے میرے لیے محبت بھرے الفاظ کہے۔ مجھے الوداع کہنے کیلئے کچھ اساتذہ اور طلبہ ریلوے سٹیشن تک آئے ۔ ٹرین ذرا دیر کو رکی تو میں سب کو خدا حافظ کہہ کر ٹرین پر سوار ہو گیا۔ اب ٹرین تیزی سے آگے بڑھ رہی تھی۔ میں نے کھڑکی سے باہر دیکھا تو مجھے یوں لگا کہ دور فضاؤں میں میرے زمانۂ طالبعلمی کے اساتذہ کی مہربان آنکھیں مجھے دیکھ رہی ہیں۔ ان آنکھوں میں مسرت کی چمک بھی ہے اور طمانیت کی روشنی بھی۔منڈی بہاء الدین میں میرا قیام اگرچہ چند ماہ کا تھا لیکن یہ ایک یادگار وقت تھا۔ اب پبلک سروس کمیشن کی طرف سے میری تقرری راولپنڈی کے حشمت علی اسلامیہ کالج میں ہوئی تھی جو ایک انٹر میڈیٹ کالج تھا۔ میرے لیے اہم بات یہ تھی کہ میں واپس اپنے شہر راولپنڈی آ گیا تھا۔ واپس اسی گھر میں جہاں میرے ماں باپ اور بہن بھائی رہتے تھے۔ اصولی طور پر مجھے مطمئن ہو جانا چاہیے تھا۔ میری تقرری میرے شہر میں تھی اور ورک لوڈ بہت کم تھا۔ یہاں مجھے صرف دو کلاسوں کو پڑھانا ہوتا۔ بظاہر زندگی بہت آسان تھی۔ حشمت علی اسلامیہ کالج دراصل ایک نجی انٹر میڈیٹ کالج تھا جو بھٹو کے زمانے میں نیشنلائزیشن کے بعد گورنمنٹ کالج بن گیا تھا۔ کالج میں ہر سیکشن میں طلبہ کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ کالج کی عمارت بھی دراصل ایک نجی کوٹھی تھی جس میں کالج کا آغاز کیا گیا تھا۔ کالج کے پرنسپل محمود قریشی تھے‘ ان کے بھائی زبیر قریشی بھی وہیں پڑھاتے تھے۔ حشمت علی اسلامیہ کالج کا آغاز ڈی ایوی کالج روڈ سے 60ء کے عشرہ میں ایک نجی کالج کے طور پر ہوا تھا جہاں پہلے آرٹس‘ کامرس اور پھر سائنس کی کلاسز شروع ہوئیں۔ نیشنلائزیشن کے بعد 75ء یا 76ء میں کالج وہاں سے ٹی بی سنٹر اصغر مال سکیم کے پاس ایک سرکاری عمارت میں منتقل ہوا۔ کچھ دنوں میں مجھے پتا چلا کہ کالج ایک نئی جگہ پر منتقل ہو رہا ہے اور یہ جگہ ڈھوک کشمیریاں میں ہے۔ نئی عمارت ابھی زیرِ تعمیر ہی تھی کہ ہماری کلاسز وہاں شفٹ ہو گئیں۔ وہاں تک رسائی اتنی آسان نہ تھی۔ مین روڈ سے کالج تک پہنچنے میں کچھ راستہ کچا بھی تھا۔ بارش کے دنوں میں یہ علاقہ ایک تالاب بن جاتا۔ اسی کالج میں میری پروفیسر مسعود سے ملاقات ہوئی جو یہاں بیالوجی کے پروفیسر تھے۔ کیا باغ و بہار شخصیت تھی۔ دلچسپ بات یہ کہ جب میں گورڈن کالج میں ایم اے انگلش کا طالب علم تھا ان دنوں پروفیسر مسعود وہاں پڑھا رہے تھے۔ حشمت علی اسلامیہ کالج میں پروفیسر مسعود کا دم غنیمت تھا۔ ہماری پہلی ملاقات جلد ہی گہری دوستی میں بدل گئی۔ انہوں نے شادی نہیں کی تھی اور بیچلر زندگی گزار رہے تھے۔ ان کے ہمراہ ان کی بہن رہتی تھی۔ پروفیسر مسعود کا گھر سیٹلائٹ ٹاؤن کی کمرشل مارکیٹ کے قریب تھا۔ میں کئی بار اس گھر میں ان سے ملنے گیا۔ ان کے گھر کے سامنے ہر وقت ان کی کار کھڑی رہتی تھی۔ لیکن وہ کار استعمال کرنے کے بجائے آنے جانے کیلئے بس اور ویگن کا استعمال کرتے۔ ہم دوست ان کا مذاق اڑاتے کہ یہ دولت کس کام آ ئے گی۔ پھر میں حشمت علی اسلامیہ کالج سے ایک اور کالج چلا گیا۔ اب مسعود صاحب سے خال خال ملاقات ہوتی تھی۔ کبھی کبھار میں ان کے گھر چلا جاتا اور کبھی وہ ملنے چلے آتے۔ ایک روز پتا چلا کہ مسعود صاحب نے شادی کر لی ہے۔ مجھے یقین نہ آیا لیکن خبر درست تھی۔ ہمیں خوشی ہوئی کہ دیر سے سہی مسعود صاحب کو آخر کار اپنا شریکِ سفر مل گیا مگر یہ شادی زیادہ دیر چل نہ سکی۔ پھر ایک روز خبر ملی کہ مسعود صاحب ہمیں ہمیشہ کیلئے چھوڑ گئے ہیں۔ مجھے یقین نہ آیا کہ ایسا ہنستا کھیلتا شخص کیسے اچانک ازل کی وادی میں اُتر گیا۔ حشمت علی اسلامیہ کالج میں کوئی زیادہ کام نہ تھا۔ صرف دو کلاسیں پڑھانا ہوتیں۔ زندگی یوں تو بہت آسان تھی لیکن دل مطمئن نہ تھا کیونکہ میرے سیکھنے کا عمل رک گیا تھا۔ کوئی چیلنج نہ تھا جس کے زیر اثر میں محنت کرتا۔ آخر چند ماہ میں ہی میں اس یکسانیت سے اُکتا گیا۔انہی دنوں کی بات ہے کہ پروفیسر بشیر قریشی مرحوم جو گورنمنٹ کالج اصغر مال میں انگریزی کے شعبے سے وابستہ تھے‘ کا پیغام ملا کہ انگریزی کے شعبے میں ایک اسامی ہے‘ اگر چاہو تو شعبے کے سربراہ سے ملاقات کر لو۔ قریشی صاحب کا پیغام سن کر مجھے یوں لگا جیسے میں اسی کا منتظر تھا۔ گورنمنٹ کالج اصغر مال راولپنڈی کا ایک قدیم اور تاریخی کالج تھا جہاں کئی مضامین میں ایم اے کی کلاسز ہوتی تھیں۔ اُس زمانے میں اصغر مال کالج میں شعبۂ انگریزی کے سربراہ محترم سعیدالحسن صاحب تھے۔ وہ علی گڑھ سے فارغ التحصیل تھے۔ نستعلیق شخصیت کے مالک تھے۔ اونچا لمبا قد‘ سر کے بال سفید‘ ہونٹوں پر پان کی سرخی اور دبی دبی مسکراہٹ۔ میں ملاقات کا وقت لے کر ان کے آفس پہنچ گیا۔ سعیدالحسن صاحب نے چائے منگوائی اور عام گفتگو کرنے لگے۔ میرا خیال تھا یہ ایک روایتی انٹرویو ہوگا۔ جب چائے پی چکے اور تقریباً آدھا گھنٹہ گزر گیا تو سعید صاحب رکے اور کہنے لگے‘ آپ سے مل کر مجھے خوشی ہوئی لیکن ایک مسئلہ ہے۔ مجھے لگا میرے اندر کوئی دیوار گِر گئی ہے۔ ڈرتے ڈرتے پوچھا‘سرکیا مسئلہ ہے؟ اس پر سعید صاحب کہنے لگے‘ پہلے بھی دو امیدوار آئے تھے‘ لیکن جب انہیں بتایا کہ ایم اے کی کلاسز کو بھی پڑھانا ہو گا تو وہ واپس نہیں آئے۔ میں ان کا جواب سن کر ہنس پڑا اور کہا‘ ایم اے انگلش پڑھانے کی ذمہ داری میری خوش بختی ہو گی۔ سعید صاحب کے چہرے پر اطمینان کی لہر آئی اور وہ کہنے لگے‘ ہماری طرف سے ایک سرکاری خط ڈائریکٹوریٹ چلا جائے گا جس میں آپ کی سروسز گورنمنٹ کالج اصغر مال کو دینے کی درخواست ہو گی۔ یہ مرحلہ بھی طے ہو گیا اور پھر وہ دن آ گیا جب میں راولپنڈی کے ایک تاریخی کالج سے بطور لیکچرر وابستہ ہو رہا تھا جہاں پوسٹ گریجویٹ کلاسز پڑھانے کے میرے دیرینہ خواب کی تکمیل ہونے جا رہی تھی۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_21538475.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>برگن سٹاک مذاکرات کی نتیجہ خیزی(سلمان غنی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/salman-ghani/2026-06-24/52180/54958831</link><pubDate>Wed, 24 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/salman-ghani/2026-06-24/52180/54958831</guid><description>امریکہ ایران مذاکراتی عمل عالمی محاذ پر غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ ان مذاکرات کے نتیجے میں صرف فریقین کے درمیان ہی امن معاہدے کا امکان نہیں بلکہ دنیا کے لیے بھی اس میں بڑا پیغام یہ ہے کہ مذاکرات اور ڈائیلاگ کی بنیاد پر بڑے سے بڑے مسائل کا حل نکالا جا سکتا ہے۔ سوئٹزر لینڈ میں مذاکراتی عمل کے دوران جہاں امریکہ اور ایران باہمی تنازعات کے حوالے سے سر جوڑے نظر آئے تو وہاں دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے روایتی انداز میں دھمکیوں نے ایک دفعہ پھر نازک صورتحال پیدا کر دی۔ ایرانی سپیکر باقر قالیباف نے صدر ٹرمپ کے اُس بیان کے حوالے سے کہا کہ اگر ان کی دھمکیوں کا کوئی اثر ہوتا تو آج وہ مایوسی کے اس مقام پر نہ پہنچتے۔ مذاکراتی عمل کے دوران کئی اتار چڑھائو آئے‘ ایک دوسرے کے حوالے سے تحفظات کا اظہار بھی کیا گیا لیکن ڈائیلاگ کے عمل کا یہی فائدہ ہوتا ہے کہ جہاں تحفظات ظاہر کیے جاتے ہیں وہاں ان کا ازالہ بھی ممکن ہو جاتا ہے۔ بہرحال مذاکراتی عمل میں سامنے آنے والے تحفظات سے درست راستہ نکل آیا اور فریقین میں جنگ بندی کو مؤثر بنانے پر اتفاق رائے ہوا۔پاکستان اور قطر کی ثالثی میں سوئٹزرلینڈ میںامریکہ اور ایران کے درمیان زبردست پیش رفت دکھائی دی اور آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے اور لبنان میں جنگ بندی پر اتفاق رائے ہوا۔ پاکستان اور قطر کی جانب سے جاری کئے گئے اعلامیہ میں واضح کہا گیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکراتی عمل میں حوصلہ افزا پیش رفت ہوئی ہے جبکہ ایران اور امریکہ نے 60 دن کے اندر جنگ کے خاتمہ کے حتمی معاہدے پر پہنچنے کیلئے روڈ میپ تیار کر لیا ہے۔ اس کی تائید ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی اپنے ٹویٹ میں یہ کہتے ہوئے کی کہ پاکستان اور قطر کی انتھک کوششوں کے نتیجے میں لبنان کی جنگ کے خاتمے کے حوالے سے پیش رفت ہوئی ہے۔ مذاکرات کے حوالے سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا کہ مفاہمت کی یادداشت کو بنیاد بناتے ہوئے فریقین نے اعلیٰ سطحی کمیٹی کے قیام پر اتفاق کیا ہے جو اس ثالثی کی سیاسی نگرانی کرے گی۔ مذکورہ کمیٹی نے 60 روز کے اندر حتمی معاہدے تک پہنچنے کیلئے روڈ میپ پر بھی اتفاق کیا جس سے تکنیکی مذاکرات کے عمل میں مزید پیش رفت کی بنیاد رکھی گئی۔ اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ فریقین اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ حتمی معاہدے تک پہنچنے کے مقصد سے مذاکرات تعمیری ماحول میں جاری رہیں۔ سوئٹزرلینڈ کے دلکش مقام برگن سٹاک میں ہونے والے مذاکراتی عمل کے حوالے سے اچھی خبریں عالمی میڈیا کی زینت بنیں اور اس میں پاکستان کی لیڈرشپ خصوصاً وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے قائدانہ کردار کا بھرپور اعتراف کیا گیا۔ ماہرین اس عمل کو مذاکرات کی نتیجہ خیزی کے حوالے سے مثبت قرار دے رہے ہیں‘ لیکن مذکورہ عمل کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے اور خصوصاً اس عمل کے دوران صدر ٹرمپ کے طرز عمل اور ان کی جانب سے ایران پر دبائو ڈالنے کے لیے دھمکیوں کے انداز کا تجزیہ کیا جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاید وہ کسی اندرونی دبائو کا شکار ہیں اور سمجھتے ہیں کہ طاقت اور قوت کے استعمال کے باوجود انہیں مرضی کے نتائج نہیں مل سکے تو اس مذاکراتی عمل کے نتیجے میں ان کی پوزیشن مزید متاثر نہ ہو اور وہ مسلسل ایران پر دبائو ڈالنے کی حکمت عملی پرعمل پیرا رہیں۔ دوسری جانب مذاکراتی عمل بارے ایران کی سنجیدگی دیکھی جائے تو ایک تو وہ تول کر بولتے نظر آ رہے ہیں اور مشکل صورتِ حال میں بھی ان کی سنجیدگی ان کے طرزِ عمل سے عیاں ہے۔ ویسے بھی زمینی حقائق کا جائزہ لیا جائے تو جانی اور مالی نقصان کے باوجود ایران کی لیڈرشپ نے حوصلہ نہیں ہارا اور وہ اپنی قوم کے احساسات اور جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے امن‘ آزادی اور خودمختاری پر کمپرومائز کے لیے تیار نظر نہیں آتے۔ اس صورتِ حال میں بڑھتی امیدوں اور توقعات کا اظہار تو ہو رہا ہے کہ مذاکراتی عمل نتیجہ خیز ہونا چاہیے کیونکہ اس پر دنیا کو درپیش معاشی صورتحال خاص طور پر پٹرولیم کے بحران کے حل کا بہت حد تک انحصار ہے۔اب تک کی صورتِ حال کا جائزہ لیا جائے تو جنگ بندی اور مذاکراتی عمل کا بڑا فائدہ ایران کو ملتا نظر آ رہا ہے۔ اس پر سے تجارتی پابندیوں کا خاتمہ اور تیل کی آزادانہ فروخت بھی یقینی بنتی نظر آ رہی ہے‘ اس کے منجمد اثاثوں کی بحالی کی بھی خبریں ہیں‘ لہٰذا اسے کسی طرح بھی مذاکرات سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے‘ اس لیے کہ یہ مذاکراتی عمل امن کا ضامن ہے اور دنیا اپنا وزن جارحیت کے خلاف امن کے پلڑے میں ڈال چکی ہے۔ دنیا کی سپر پاور امریکہ کو ایران کے خلاف صرف اسرائیل کی مدد مل سکی اور یہی عمل اس کے سیاسی عمل پر اثر انداز ہوا اور پھر امریکہ کو نہ صرف مذاکراتی عمل کی طرف آنا پڑا بلکہ اس نے اس عمل کے لیے جلدی بھی دکھائی۔ پاکستان کو اس صورتِ حال کا یہ فائدہ ہوا کہ پاکستان نے کسی کے ساتھ فریق یا شراکت دار بننے کے بجائے جنگ بندی اور مذاکراتی عمل پر کام کیا۔ دنیا کی تاریخ میں پاکستان کے اس مصالحانہ اور مفاہمانہ طرز عمل کو اچھے لفظوں میں یاد رکھا جائے گا۔ بلاشبہ قطر نے بھی مذاکراتی عمل میں کردار ادا کیا لیکن اس عمل میں بڑ ا کردار پاکستان ہی کا ہے۔ البتہ اس بڑے اور تاریخی کردار کا اصل کریڈٹ تب ملے گا جب فریقین کے درمیان حتمی معاہدہ طے پا جائے گا۔ فی الحال پاکستان کو جو چیلنج درپیش ہے وہ اس مذاکراتی عمل کی نتیجہ خیزی کا ہے جس کیلئے دوست ممالک کی معاونت کے ساتھ تگ ودو جاری رکھنا ہو گی۔ایک طرف جہاں دنیا کے اہم ممالک سوئٹزرلینڈ میں جاری مذاکراتی عمل کی کامیابی کے لیے دعاگو ہیں تو دوسری طرف اسرائیل اور امریکہ میں یہودی لابی اس عمل پر اثر انداز ہونے کے لیے کوشاں نظر آتی ہے۔ امریکی دبائو پر اسرائیل لبنان میں جنگ بندی پر آمادہ ہوا لیکن اس کا طرز عمل بتا رہا ہے کہ وہ چین سے نہیں بیٹھے گا۔ اسرائیلی حکومت کے ذمہ داران مسلسل یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ حزب اللہ کے ٹھکانوں پر بمباری جاری رکھیں گے جبکہ ایران یہ واضح کر چکا ہے کہ معاہدے پر اسرائیل سے عمل کرانے کی ذمہ داری امریکہ کی ہے۔ عالمی امور کے ماہرین کہہ رہے ہیں کہ اگر امریکہ ایران کے ساتھ ڈیل کا خواہشمند ہے تو اسے لبنان میں حملے بند رکھنے کیلئے اسرائیل پر دبائو ڈالنا ہو گا۔ امریکہ کو خیال رکھنا پڑے گا کہ اس کے لیے بھی واحد راستہ اب مذاکرات کی کامیابی ہے‘ کیونکہ ایران پر جارحیت کے عمل نے امریکہ کے رعب اور دبدبہ کو متاثر کیا ہے اور بطور سپر پاور اس کی ساکھ مجروح ہوئی ہے۔ صدر ٹرمپ نے ایران جنگ کا بیڑا اسرائیلی مفادات کے لیے اٹھایا تھا مگر اس غلط فیصلے نے امریکہ کو اب اس نہج پر لا کھڑا کیا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/230_37874475.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پٹرول، ٹیکس اور معیشت کے افسانے(محمد حسن رضا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-hasan-raza/2026-06-24/52181/78514239</link><pubDate>Wed, 24 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-hasan-raza/2026-06-24/52181/78514239</guid><description>پاکستان میں پٹرول 150 روپے فی لٹر؟ یہ سوال جتنا پُرکشش ہے‘ اتنا ہی پیچیدہ بھی۔ عالمی توانائی کی منڈی اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں سیاست‘ جنگ‘ پابندیاں اور معاہدے ایک ہی وقت میں قیمتوں کا تعین کر رہے ہیں۔ ایران پر سے پابندیوں میں نرمی اور 60 روزہ برآمدی لائسنس جیسے اقدامات نے ایک بار پھر یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ کیا واقعی پاکستان جیسے درآمدی ملک میں ایندھن سستا ہو سکتا ہے یا یہ صرف ایک معاشی فریبِ نظر ہے۔ پاکستان کی توانائی کی حقیقت جذبات سے نہیں بلکہ اعداد و شمار سے سمجھنا پڑتی ہے۔ مالی سال 2025ء کے اعداد کے مطابق پاکستان نے تقریباً 20 لاکھ ٹن ڈیزل درآمد کیا جبکہ 50 لاکھ ٹن مقامی ریفائنریوں سے حاصل کیا گیا۔ دوسری طرف پٹرول کی صورتحال اُلٹ ہے‘ جہاں تقریباً 50 لاکھ ٹن درآمد اور صرف 20 لاکھ ٹن مقامی پیداوار ہے۔ یعنی ملک کی توانائی کی سانسیں اب بھی بیرونی منڈیوں سے جڑی ہوئی ہیں۔ملکِ عزیز اپنی زیادہ تر خام تیل اور پٹرولیم مصنوعات سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے حاصل کرتا ہے۔ اس کے علاوہ نائیجیریا‘ امریکہ اور ماضی قریب میں روس بھی سپلائی چین کا حصہ رہے ہیں۔ 2023ء میں جب روسی تیل پاکستان پہنچا تو یہ صرف ایک تجارتی معاہدہ نہیں بلکہ ایک علامتی موڑ تھا جس نے پالیسی سازوں کو یہ باور کرایا کہ عالمی توانائی مارکیٹ اب پہلے جیسی بند نہیں رہی۔ جہاں سیاسی دروازے کھلیں‘ وہاں سپلائی چین بھی بدل سکتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ایران کی عالمی مارکیٹ میں واپسی پاکستان کو سستے ایندھن کی فراہمی کا سبب بن سکتی ہے؟ اس کا سادہ سا جواب ہے کہ شاید نہیں‘ کم از کم براہِ راست نہیں۔ اس وقت ملک میں پٹرول کے سرکاری نرخ تقریباً 299 روپے اور ڈیزل کے 311 روپے فی لٹر ہیں جبکہ بلوچستان میں ایرانی ڈیزل اور پٹرول تقریباً 250 روپے فی لٹر میں دستیاب ہے۔ یہ فرق بظاہر بہت بڑا لگتا ہے مگر ماہرین کے مطابق یہ قیمتیں پابندیوں کے دور کی معیشت کا نتیجہ ہیں نہ کہ آزاد مارکیٹ کا۔ جیسے ہی ایران عالمی نظام میں واپس آئے گا وہ بھی وہی قیمت وصول کرے گا جو عالمی مارکیٹ طے کرے گی۔ روس اس کی واضح مثال ہے۔ 2022ء میں یوکرین جنگ کے بعد جب روس پر مغربی پابندیاں لگیں تو روسی تیل عالمی قیمت سے 30 سے 40 فیصد سستا فروخت ہوا۔ بھارت اور چین نے اس موقع سے فائدہ اٹھایا لیکن جیسے ہی پابندیاں نرم ہوئیں روسی تیل بھی عالمی قیمتوں کے قریب آ گیا۔ مارکیٹ نے جذبات نہیں دیکھے‘ صرف طلب اور رسد کو دیکھا۔ایران پر بھی یہی اصول لاگو ہوتا ہے۔ ایران پر امریکی پابندیاں 2018ء میں اس وقت دوبارہ سخت ہوئیں جب امریکہ نے جوہری معاہدے (JCPOA) سے نکلنے کا اعلان کیا۔ اس سے پہلے ایران تقریباً 25 لاکھ بیرل یومیہ تیل برآمد کر رہا تھا۔ پابندیوں کے بعد یہ مقدار گر کر پانچ سے سات لاکھ بیرل یومیہ رہ گئی۔ اب اگر 60 روزہ برآمدی لائسنس یا کسی عارضی نرمی کے نتیجے میں ایران 10سے 15 لاکھ بیرل یومیہ بھی مارکیٹ میں لے آتا ہے تو یہ عالمی سپلائی میں ایک بڑا اضافہ ہو گا۔ یہی وہ نکتہ ہے جس سے پاکستان جیسے ممالک کی امیدیں جڑی ہیں۔ عالمی منڈی میں اگر سپلائی بڑھتی ہے تو قیمتوں پر دباؤ آتا ہے۔ 2008ء میں جب عالمی تیل کی قیمت 140 ڈالر فی بیرل تک پہنچی تھی تو دنیا بھر میں معاشی بحران پیدا ہوا تھا۔ اس کے بعد شیل آئل انقلاب اور اوپیک کی پالیسیوں نے قیمتوں کو نسبتاً کم کیا۔ 2020ء میں کورونا کے دوران تو صورتحال یہ تھی کہ امریکی خام تیل (WTI) منفی قیمت تک گر گیا تھا‘ یعنی بیچنے والے خریدار کو پیسے دینے کو تیار تھے۔ یہ تاریخ کا غیرمعمولی واقعہ تھا۔ لیکن ان تمام مثالوں میں ایک چیز مشترک ہے‘ قیمتیں عالمی سپلائی اور طلب سے چلتی ہیں نہ کہ کسی ایک ملک کی خواہش سے۔ پاکستان کیلئے ایران کا سب سے بڑا فائدہ جغرافیہ ہے نہ کہ کم قیمت۔ ایران سے قربت کی وجہ سے فریٹ اور ٹرانسپورٹ لاگت کم ہو سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس سے فی لٹر چند روپے کی بچت ممکن ہے لیکن 150 روپے فی لٹر تک کمی کا تصور موجودہ عالمی ڈھانچے میں حقیقت پسندانہ نہیں۔ اصل مسئلہ صرف قیمت نہیں بلکہ ریفائننگ کا نظام بھی ہے۔ ایرانی خام تیل نسبتاً بھاری (heavy crude) ہوتا ہے‘ جس سے 40 سے 45 فیصد تک فرنس آئل نکلتا ہے۔ پاکستان میں فرنس آئل کی کھپت محدود ہے جبکہ ریفائنریوں کی اکثریت لائٹ کروڈ کیلئے ڈیزائن کی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ایران سے خام تیل بڑے پیمانے پر آئے بھی تو اسے پروسیس کرنا پاکستان کیلئے چیلنج ہو گا۔ پاکستان کی ڈیزل اور پٹرول کی سالانہ کھپت 70‘ 70لاکھ ٹن کے قریب ہے۔ اس میں سے بڑا حصہ درآمدی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کی توانائی پالیسی بیرونی جھٹکوں کیلئے ہمیشہ حساس رہی ہے۔ 1973ء کا آئل کرائسز‘ 2008ء کی قیمتوں میں تیزی اور 2022ء کی عالمی مہنگائی‘ یہ سب پاکستان کیلئے معاشی جھٹکے ثابت ہوئے۔ یہاں ایک اہم پہلو سفارتکاری کا بھی ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان پاکستان کی مفاہمتی کوششیں اس بات کی علامت ہیں کہ توانائی اب صرف تجارت نہیں بلکہ جیوپولیٹکل ٹول بن چکی ہے۔ اگر پاکستان اس توازن کو درست طریقے سے استعمال کرے تو نہ صرف توانائی کے شعبے بلکہ معاشی استحکام میں بھی فائدہ ہو سکتا ہے۔لیکن ایک حقیقت اٹل ہے کہ ایران پر پابندیوں میں نرمی کا مطلب پاکستان میں فوری سستا پٹرول نہیں۔ یہ زیادہ سے زیادہ عالمی قیمتوں میں معمولی کمی‘ سپلائی میں استحکام اور طویل مدتی معاہدوں میں بہتری کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے۔ پاکستان میں اصل مسئلہ عالمی قیمت نہیں بلکہ داخلی ڈھانچہ ہے۔ ٹیکس‘ لیوی‘ روپے کی قدر اور ریفائننگ مارجن‘ جب تک یہ عوامل موجود ہیں عالمی منڈی میں چاہے جتنی بھی نرمی آئے‘ صارف تک مکمل فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔ نتیجہ سادہ ہے مگر تلخ بھی: ایران کی واپسی عالمی منڈی کیلئے اہم ہے‘ یہ پاکستان کیلئے فائدہ مند ہو سکتی ہے مگر 150روپے فی لٹر پٹرول کا خواب موجودہ معاشی اور جغرافیائی حقیقتوں میں ایک دور کی کوڑی ہے۔ اگلے روز چیئرمین ایف بی آر نے اپنے ایک کالم میں ملکی معیشت کے کئی &#39;&#39;افسانوں‘‘ کا ذکر کیا‘ مگر کالم پڑھتے ہوئے سب سے بڑا سوال یہی پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ افسانے تخلیق کس نے کیے‘ انہیں زندہ کس نے رکھا اور ان سے فائدہ کس نے اٹھایا؟ اگر قرضوں پر انحصار‘ کمزور ٹیکس نظام‘ محدود ٹیکس بیس‘ مراعات یافتہ طبقوں کو دی جانے والی ہزاروں ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ اور مالیاتی بے ضابطگیاں واقعی معیشت کی خرابی کی بنیادی وجوہات ہیں تو پھر ان مسائل کے حل کی ذمہ داری بھی انہی اداروں پر عائد ہوتی ہے جو ریاست کے مالیاتی نظام کے محافظ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ عجیب بات ہے کہ برسوں سے عوام کو انہی پالیسیوں کے نتائج بھگتنا پڑ رہے ہیں اور آج انہی نتائج کو افسانے قرار دے کر بیان کیا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ چیئرمین ایف بی آر جو کہہ رہے ہیں‘ تو جناب جب یہ افسانے پروان چڑھ رہے تھے ریاستی ادارے تب کہاں تھے؟ اگر نظام غلط تھا تو اسے درست کرنے کی کوشش کیوں نہ ہوئی؟ اگر مراعات غیرمنصفانہ تھیں تو انہیں ختم کیوں نہ کیا گیا؟ اگر ٹیکس کا بوجھ غلط سمت جا رہا تھا تو اس کی اصلاح کیوں نہ ہوئی؟ آج بھی صورتحال یہ ہے کہ تنخواہ دار طبقہ‘ صارفین اور دستاویزی معیشت مسلسل دباؤ میں ہے جبکہ بڑے لوگوں کے استثنیٰ‘ خصوصی رعایتیں اور مفادات بڑی حد تک محفوظ دکھائی دیتے ہیں۔ ایسے میں عوام کو محض افسانوں کی فہرست نہیں چاہیے بلکہ یہ جاننے کا حق چاہیے کہ ان افسانوں کے کردار کون تھے‘ ان کے نگہبان کون تھے اور ان کا احتساب کب ہوگا۔ سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ معیشت کے افسانوں پر روشنی ڈالنے والے خود اسی معاشی نظام کے اہم ترین کرداروں میں شمار ہوتے ہیں۔ اس لیے عوام شاید یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ افسانے صرف معیشت میں نہیں‘ احتساب اور اصلاحات کے دعوؤں میں بھی موجود ہیں!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/229_33941343.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>وقت کی قدر(علامہ ابتسام الہٰی ظہیر )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-06-24/52182/88609448</link><pubDate>Wed, 24 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-06-24/52182/88609448</guid><description>اللہ تبارک وتعالیٰ کی نعمتیں اَن گنت اور بے پایاں ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۂ ابراہیم کی آیت: 34 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;اور اگر تم شمار کرنا چاہو اللہ کی نعمتوں کا تو تم نہیں کر سکتے ان کا احاطہ‘‘۔ اسی طرح اللہ تبارک وتعالیٰ نے جنات اور انسانوں کو مخاطب کر کے سورۃ الرحمن کی متعدد آیات میں ارشاد فرمایا: &#39;&#39;پس تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلائو گے؟‘‘۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک بڑی نعمت وقت ہے۔ یہ نعمت بہت سی مادی نعمتوں سے زیادہ قیمتی ہے۔ جو شخص وقت کی قدر کرتا ہے‘ اس کو مختلف حوالوں سے کامیابی حاصل ہوتی ہے اور جو شخص وقت کی قدر نہیں کرتا‘ اس کو مختلف طرح کی محرومیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس بات کا عام مشاہدہ کیا جا سکتا ہے کہ وقت کو ضائع کرنے والے لوگ اس ضیاع کا ازالہ نہیں کر پاتے جبکہ اس نعمت سے فائدہ اٹھانے والے لوگ مطمئن اور مسرور نظر آتے ہیں۔نظامِ کائنات میں وقت کی پابندی کی بہت سی نشانیاں موجود ہیں۔ سورج ہر روز اپنے مقررہ وقت پہ نکلتا اور وقتِ مقررہ ہی پر غروب ہوتا ہے۔ اسی طرح چاند وقتِ مقررہ کے ساتھ گھٹتا اور بڑھتا ہے۔ اجرامِ سماویہ کے اس نظم وضبط سے انسان کو اندازہ ہوتا ہے کہ وقت کی پابندی کس قدر اہمیت کی حامل ہے۔ کتاب وسنت کا مطالعہ کرنے کے بعد وقت کی اہمیت مزید اجاگر ہو کر سامنے آتی ہے۔ ارکانِ اسلام میں سے نماز کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ یہ شہادتین کے بعد اسلام کا دوسرا اہم رکن ہے۔ نمازوں کو انسان پر وقتِ مقررہ پر فرض کیا گیا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ النساء کی آیت: 103 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;یقینا نماز مومنوں پر مقررہ وقتوں پر فرض کی گئی ہے‘‘۔ جہاں ہر نماز کی ادائیگی کے لیے ایک خاص وقت مقرر ہے‘ وہیں نمازِ باجماعت کی ادائیگی کے لیے انسان کو وقت کی اضافی پابندی کرنا پڑتی ہے‘ کیونکہ اس حوالے سے معمولی سی کوتاہی کی وجہ سے انسان باجماعت نماز سے محروم ہو جاتا ہے۔ جو لوگ نمازوں کو وقتِ مقررہ کے بعد ادا کرتے ہیں‘ وہ درحقیقت بہت بڑی غفلت اور کوتاہی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ان کے بالمقابل نمازوں پر محافظت اور ان پر دوام اختیار کرنے والے ہر اعتبار سے قابلِ قدر اور لائقِ تحسین ہیں۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ بعض لوگ اس حوالے سے اس حد تک ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہیں کہ برسہا برس تک تکبیر اولیٰ کے ساتھ نمازوں کو ادا کرتے ہیں۔اسی طرح جب ہم زکوٰۃ کی ادائیگی کی بات کرتے ہیں تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ ہر قمری سال گزر جانے کے بعد انسان پر اپنے جمع شدہ مال پر زکوٰۃ دینا لازم ہے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی کمی کوتاہی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ زکوٰۃ کی ادائیگی اور انفاق فی سبیل اللہ کے حوالے سے کوتاہی کا مظاہرہ کرنے والے لوگوں کو دردناک عذاب کی وعید سنائی گئی ہے۔ یہی حال رمضان المبارک کے روزوں کا ہے۔ رمضان المبارک کے روزوں میں سحری اور افطاری کے اوقات مقرر ہیں۔ سحری کا وقت بیت جانے کے بعد کھانا کھانا درست نہیں۔ اسی طرح افطار کا وقت آ نے سے قبل بھی کھانا کھانے کی کوئی گنجائش نہیںہے۔ رمضان المبارک کا مہینہ جہاں تقویٰ اور للہیت کی دعوت دیتا ہے وہیں وقت کی پابندی کا بھی درس دیتا ہے۔ جو لوگ رمضان المبارک میں سستی اور لاپروائی کا مظاہرہ کرتے ہیں‘ وہ کئی مرتبہ سحری اور اس کی برکات سے محروم رہ جاتے ہیں۔اسی طرح کتاب وسنت کے مطالعہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ حج کے مہینے معلوم ہیں اور ان مہینوں یعنی شوال‘ ذیقعد اور ذی الحج میں احرام باندھنے والا شخص حج کے لیے احرام باندھتا ہے۔ حج کے ارکان کو 8 ذوالحجہ سے لے کر 12 یا 13 ذوالحجہ تک ادا کیا جاتا ہے۔ وقوفِ عرفات‘ مزدلفہ میں ٹھہرنا‘ منیٰ میں جمرات کو کنکریاں مارنا اور دیگر تمام ارکان کی ادائیگی کی ایک خاص ترتیب ہے جن کو مقررہ طریقے کے مطابق ادا کرنا ضروری ہے اور اس ضمن میں وقت کی پابندی کا خیال بھی کرنا چاہیے۔ جو شخص وقت کو مدنظر رکھتے ہوئے ان تمام ارکان کی درست طریقے سے ادائیگی کرتا ہے‘ اسی کا حج درست قرار پاتا ہے۔ اس کے مدمقابل حج کے ارکان کی ادائیگی میں وقت کی پابندی نہ کرنے سے حج میں کمال پیدا نہیں ہوتا‘ جبکہ بعض ارکان کی بجا آوری میں غفلت اور کوتاہی کی وجہ سے انسان کا حج سرے سے ضائع ہو جاتا ہے۔ ارکانِ اسلام کی ادائیگی کے حوالے سے وقت کی پابندی کا جو سبق ملتا ہے‘ اسے انسان کو اپنی زندگی کے جملہ معاملات میں بھی لاگو کرنا چاہیے۔ دین و دنیا کے معاملات میں ایسے شخص کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے جو وقت کی پابندی کرنے والا ہو۔ چنانچہ وہ سرکاری افسر ہو یا استاد‘ اگر وہ وقت کا پابند ہے تو اس کی ساکھ اور قدر ومنزلت میں اضافہ ہوتا ہے تاہم اگر وہ اس حوالے سے غفلت اور کوتاہی کا مظاہرہ کرتا ہے تو اس کی ساکھ مجروح ہوتی ہے۔ طالب علم ایسے استاد کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جو وقت کی پابندی کرنے والا ہو۔ اسی طرح ایسے طالب علم کی عزت اور وقار میں بھی اضافہ ہوتا ہے کہ جو وقت کا پابند ہو اور اپنے کاموں کو بروقت مکمل کر کے جمع کرانے والا ہو۔ کامیاب تاجر کے لیے بھی وقت کی پابندی کرنا انتہائی ضروری ہے۔ جو لوگ وقت کی پابندی کرتے ہیں‘ وہ تجارت کے شعبے میں دوسرے لوگوں سے سبقت لے جاتے ہیں۔ بہت سے لوگ ذہانت وفطانت کے باوجود کاروبار میں اس لیے ترقی نہیں کر پاتے کہ وہ باقاعدگی کے ساتھ تجارت کو توجہ نہیں دیتے۔ ان کے بالمقابل اوسط ذہانت رکھنے والے بہت سے لوگ محنت اور باقاعدگی کی وجہ سے کامیابی سے ہمکنار ہو جاتے ہیں۔ سائنس کی دنیا میں عروج حاصل کرنے والے لوگوں نے اپنے وقت کو بالکل بھی ضائع نہیںہونے دیا۔ ان کی محنتوں کی وجہ سے دنیا آج بہت سی جدید ایجادات سے استفادہ کر رہی ہے۔ بہت سے سائنسدانوں نے اپنا وقت تحقیق وتجربات میں اس حد تک صرف کیا کہ لوگ ان کی محنتوں کو دیکھ کر دنگ رہ گئے۔ انہوں نے اپنی بہت سی خواہشات اور سہولتوں کو اپنے تجربات اور تحقیق کی وجہ سے نظر انداز کر دیا اور ہمہ وقت انسانیت کو فائدہ پہنچانے کے لیے وقف رہے۔اسی طرح علم وحکمت کے معاملات ہیں۔ جو شخص مطالعے‘ تعلیم اور تحقیق پر توجہ دیتا ہے‘ وہ شخص کامیاب ہو جاتا ہے جبکہ اس سلسلے میں کوتاہی اور غفلت کا مظاہرہ کرنے والے لوگ ناکام ونامراد ہو جاتے ہیں۔ بہت سے ممتاز ائمہ اور علماء جنہوں نے وقت کی قدر کی‘ آج بھی دنیا ان کی محنت سے استفادہ کر رہی ہے۔ امام ابوحنیفہ‘ امام شافعی‘ امام مالک اور امام احمد ابن حنبل رحمۃ اللہ علیہم نے فقہ کی خدمات کے لیے اپنے آپ کو وقف کیے رکھا۔ اسی طرح امام بخاری‘ امام مسلم‘ امام ترمذی‘ امام ابن دائود‘ امام نسائی اور امام ابن ماجہ رحمۃ اللہ علیہم اجمعین احادیث کی خدمت کے لیے وقف رہے اور ایسی کتب کو مدون کیا کہ سینکڑوں سال گزر جانے کے باوجود بھی لوگ ان سے استفادہ کر رہے ہیں۔ امام ابن تیمیہ‘ امام ابن قیم‘ امام ابن کثیر اور حافظ ذہبی جیسے علماء کی خدمات کی وجہ سے ہمارے پاس دینی معلومات کا بہت بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ ان کے بالمقابل جن لوگوں نے اس حوالے سے کوتاہی اور غفلت کا مظاہرہ کیا‘ آج ان کا نام صفحۂ ہستی سے مٹ چکا ہے۔اگر ہم چاہتے ہیں کہ دین اور دنیا کے معاملات میں کامیابی حاصل کریں تو ہمیں وقت کی بھرپور طریقے سے قدر کرنی چاہیے اور کسی قسم کی کوتاہی اور غفلت کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔ اسی راستے پر چل کر ہم اپنے دین ودنیا کو بہتر بنا سکتے اور اپنی آل اولاد اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک مثال بن سکتے ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کو وقت کی قدر کرنے کی توفیق دے‘ آمین!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_19740082.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>