<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>غذائی سلامتی اورموسمیاتی تبدیلیوں کے چیلنجز(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-21/11381</link><pubDate>Tue, 21 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-21/11381</guid><description>ملکِ عزیز پاکستان کو جن بڑے چیلنجز کا سامنا ہے ان میں موسمیاتی تبدیلی سرفہرست ہے۔ یہ مسئلہ اب صرف ماحولیات تک محدود نہیں بلکہ معیشت‘ زراعت‘ خوراک‘ صحت اور سماجی استحکام کو بھی متاثر کر رہا ہے۔ زرعی ملک ہونے کے ناتے پاکستان کی غذائی سلامتی کا دارو مدار بڑی حد تک موسمی حالات پر ہے لیکن درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ‘ بارشوں کے معمولات میں تبدیلی‘ سیلابوں کی شدت‘ خشک سالی کے دورانیے میں اضافہ اور پانی کی قلت نے زرعی شعبے کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ وفاقی وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کے تحقیقی ادارے گلوبل چینج امپیکٹ سٹڈیز سنٹر کے مطابق رواں صدی کے اختتام تک پاکستان میں اوسط درجہ حرارت عالمی اوسط سے زیادہ بڑھنے کا امکان ہے جس سے گندم کی پیداوار میں تین سے 16 فیصد اور چاول کی پیداوار میں 12 سے 22 فیصد تک کمی کا خدشہ ہے۔ اگرچہ یہ قریب پون صدی بعد کا منظرنامہ ہے تاہم اس کی شروعات ابھی سے ہو چکی ہے اور ہم بچشم خود اس کے اثرات کو دیکھ رہے ہیں۔ ہر سال بڑھتا ہوا درجہ حرارت ایک ایسی حقیقت ہے جس کا انکار کوئی نہیں کر سکتا مگر خوراک کی پیداوار کے وسائل اس سے کس قدر متاثر ہو رہے ہیں یہ فصلوں کی اوسط پیداوار کے اعدادو شمار سے واضح ہو جاتا ہے۔

مالی سال 2025-26ء کے اکنامک سروے کے مطابق زراعت کی مجموعی نمو 2.8فیصد رہی جبکہ چاول‘ گندم‘ کپاس‘ گنا اور مکئی جیسی اہم فصلوں کی نمو 0.65 فیصد تھی۔ گندم‘ چاول اور گنے کی پیداوار میں یہ اضافہ آبادی میں 2.55فیصد اضافے کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہے۔ اگر بڑی فصلوں خاص طور پر خوراک کے ذرائع پیداوار کا یہی رجحان رہا تو مستقبل میں خوراک کی طلب اور رسد کے درمیان خلیج مزید بڑھ جائے گی اور درآمدی خوراک پر انحصار مزید بڑھ جائے گا۔ ضروری ہے کہ اس حوالے سے کوئی وقت ضائع کیے بغیر اقدامات کیے جائیں۔ پانی کی بروقت اور حسب ضرورت فراہمی میں مسائل زرعی بحران کو مزید سنگین بنا رہے ہیں۔ پاکستان پہلے ہی پانی کی کمی کے شکار ممالک میں شمار ہونے لگا ہے۔ گلیشیرز کا تیز ترین پگھلاؤ‘ بارشوں کے بدلتے معمولات اور زیرِ زمین پانی کے بے دریغ استعمال نے آبی وسائل پر شدید دباؤ ڈال دیا ہے۔ نہری نظام کی فرسودگی اور پانی کے ضیاع نے بھی مسئلے کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔
اس صورتحال میں محض روایتی زرعی طریقوں پر انحصار کافی نہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان اپنے زرعی ماڈل کو موسمیاتی تبدیلیوں کے مطابق نئی بنیادوں پر استوار کرے۔ ایسے بیج متعارف کرائے جائیں جو زیادہ درجہ حرارت‘ کم پانی اور موسمی شدت کو برداشت کر سکیں۔ جدید آبپاشی نظام‘ خصوصاً ڈرپ اور سپرنکلر ٹیکنالوجی کو فروغ دیا جائے تاکہ پانی کا ضیاع کم ہو۔ زرعی تحقیق کے اداروں کو مضبوط بنایا جائے اور کسانوں کو جدید تربیت اور موسمی پیش گوئیوں تک بروقت رسائی فراہم کی جائے تاکہ وہ بہتر فیصلے کر سکیں۔ زرعی پالیسیوں میں موسمیاتی خطرات کو مرکزی حیثیت دینا ہو گی اور فصلوں کی انشورنس‘ موسمیاتی آفات سے متاثرہ کسانوں کیلئے مالی معاونت‘ آبی ذخائر کی تعمیر‘ شجرکاری اور ماحول دوست زرعی پالیسیوں پر تیزی سے عمل درآمد ناگزیر ہے۔
فوڈ سکیورٹی صرف زرعی پیداوار کا مسئلہ نہیں‘ قومی سلامتی کا بھی ایک اہم پہلو ہے۔ خوراک کی قلت مہنگائی‘ غربت‘ بیروزگاری اور سماجی بے چینی کو جنم دیتی ہے۔ اس لیے موسمیاتی تبدیلی کو مستقبل کا نہیں بلکہ آج کا بحران سمجھتے ہوئے قومی سطح پر مربوط حکمت عملی اختیار کرنا ہو گی۔ آج دانشمندانہ فیصلے کیے گئے تو زرعی شعبے کو محفوظ اور غذائی تحفظ کو یقینی بنا یا جا سکتا ہے۔ بصورت دیگر موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات ملک کو ایسے غذائی اور معاشی بحران کی طرف دھکیل سکتے ہیں جس سے نکلنا انتہائی دشوار ہوگا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پیشگی حفاظتی اقدامات کی ضرورت(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-21/11380</link><pubDate>Tue, 21 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-21/11380</guid><description>این ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ رواں ہفتے گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا میں گلیشیرز کے تیز پگھلاؤ اور گلیشیائی جھیلیں پھٹنے کے باعث خطرناک سیلابی ریلوں اور لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔ گزشتہ روز بھی طوفانی بارش اور لینڈ سلائیڈنگ کے مختلف واقعات میں چار افراد جاں بحق ہوئے جبکہ وادی نیلم میں بادل پھٹنے سے آنیوالا سیلابی ریلا اپنے ساتھ درجنوں دکانیں‘ مکانات اور گاڑیاں بہا کر لے گیا۔ ملکِ عزیز تقریباً ہر سال مون سون کے موسم میں سیلاب کی تباہ کاریوں کا شکار ہوتا ہے۔ ان نقصانات میں بڑی حد تک انسانی غفلت بھی شامل ہوتی ہے۔ دریاؤں‘ ندی نالوں اور قدرتی آبی گزرگاہوں پر قائم تجاوزات ہر سال سیلابی ریلوں کی زد میں آتی ہیں اور پھر جانی و مالی نقصان میں اضافہ ہوتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے پیشگی حفاظتی اقدامات یقینی بنائیں۔

آبی گزرگاہوں سے تجاوزات کا بلاامتیاز خاتمہ‘ دریا‘ ندی نالوں اور گلیشیائی علاقوں کی مسلسل نگرانی‘ حساس مقامات پر جدید وارننگ سسٹم کی تنصیب‘ ریسکیو اداروں کی پیشگی تعیناتی اور مقامی انتظامیہ کے درمیان مؤثر رابطہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اسی طرح شہری علاقوں میں ممکنہ اربن فلڈنگ سے محفوظ رہنے کیلئے سیوریج نالوں کی بروقت صفائی بھی ناگزیر ہے۔ ہر سال ایک جیسے سانحات اس بات کے متقاضی ہیں کہ متعلقہ ادارے ہنگامی ردِعمل کے بجائے مستقل‘ سائنسی اور دوررس پالیسیوں کو اختیار کریں تاکہ انسانی جانوں اور قومی املاک کا بہتر تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>خسرہ کا پھیلاؤ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-21/11379</link><pubDate>Tue, 21 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-21/11379</guid><description>ملک میں خسرہ ایک بار پھر تشویشناک صورت اختیار کر چکا ہے۔ ایک خبر کے مطابق رواں سال اب تک ملک میں خسرہ کے آٹھ ہزار سے زائد مریض اور 102اموات رپورٹ ہو چکی ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق پاکستان دنیا میں خسرہ سے سب سے زیادہ متاثرہ دس ملکوں میں شامل ہے۔ امریکی سنٹر فار ڈیزیز کنٹرول کے مطابق رواں برس مئی میں 11037کیسوں کیساتھ پاکستان دنیا میں پانچویں نمبر پر تھا۔یہ صورتحال صحتِ عامہ کے موجودہ ڈھانچے کا ازسرِنو جائزہ لینے کا تقاضا کرتی ہے۔ خسرہ کے پھیلاؤ کی بنیادی وجوہات میں بچوں کو بروقت حفاظتی ٹیکے نہ لگوانا‘ بیماری سے متعلق عوامی آگاہی کی کمی‘ بنیادی صحت کے ڈھانچے کی کمزوری شامل ہے۔ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق ملک میں اب بھی چھ لاکھ سے زائد بچے حفاظتی ٹیکوں سے مکمل طور پر محروم ہیں۔

ایسے حالات میں اس وبا پر قابو پانا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔ حکومت کو خسرہ کے بڑھتے پھیلاؤ کے پیشِ نظر فوری اور مؤثر اقدامات کرنے چاہئیں۔ متاثرہ اضلاع میں خصوصی ویکسی نیشن مہمات‘ حفاظتی ٹیکوں کی بلا تعطل فراہمی‘ طبی عملے کی جدید خطوط پر تربیت‘ بیماری کی بروقت تشخیص کے نظام کو مضبوط بنانے اور عوام میں مؤثر آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ والدین کو بھی چاہیے کہ بچوں کے حفاظتی ٹیکوں کے حوالے سے لاپروائی نہ کریں‘ بچوں کو بروقت ٹیکے لگوائیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ہمارے ساتھی! ہمارے غم خوار!!(محمد اظہارالحق)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-07-21/52333/84377500</link><pubDate>Tue, 21 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-07-21/52333/84377500</guid><description>صحن میں لگا ہوا وہ لسوڑے کا درخت کہاں گیا جس کے سائے میں‘ چارپائی بچھا کر‘ میں نے چارلس ڈکنز‘ سٹیون سن اور جونیتھن سوئفٹ کے ناول اور برنارڈ شا کے ڈرامے پڑھے؟ صحن کے کونے میں لگا ہوا‘ رنگا رنگ پھول کھلاتا‘ گل باسی (گلِ عباسی) کا وہ پودا کہاں گیا جسے دیکھ دیکھ کر میں بڑا ہوا۔ بیری اور انجیر کے درختوں کے لاتعداد جھنڈ جن کے نیچے ہم گرم‘ چلچلاتی دوپہریں گزارتے تھے‘ کہاں غائب ہو گئے۔ کَرِیں کے وہ تنہائی پسند‘ صوفی درخت کیوں نہیں نظر آتے جن کے سائے میں‘ ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں تک سفر کرتے ہوئے‘ ہم چادر بچھا کر سستاتے تھے اور جن پر اکا دکا‘ بہت سرخ پھول لگتے تھے یا ڈیلی کے پھل!! وہی ڈیلی یا ڈیلیاں‘ جن کا اچار آج بھی معروف ہے۔یہ ماتمی فقرے میرے دل سے اس لیے نکل رہے ہیں کہ میں نے ایک ماتمی خبر پڑھی ہے۔ خبر پڑھ کر دل میں درد کی لہر اٹھی جو کاغذ پر منتقل ہونا چاہتی ہے۔ وفاقی دارالحکومت کے راول جھیل کے ایریا میں درخت صرف پچاس فیصد رہ گئے ہیں۔ یہی لیل ونہار رہے تو بقیہ پچاس فیصد بھی مجرمانہ تغافل کی نذر ہو جائیں گے۔ ہم لوگ بھی عجیب ہیں۔ اپنے ہاتھوں سے اپنا مستقبل تباہ کر رہے ہیں۔ وہ بھی زمانہ تھا جب لوگ مرتے دم تک شجر کاری کرتے تھے۔ فارسی پڑھتے ہوئے‘ سبق میں یہ حکایت جو آئی تھی‘ آج تک ذہن پر کھدی ہوئی ہے۔ بادشاہ نوشیروان عادل نے دیکھا کہ ایک بوڑھا درخت لگا رہا تھا۔ پوچھا تمہاری ٹانگیں قبر میں ہیں۔ تمہاری زندگی میں تو یہ درخت جوان ہونے اور پھل دینے سے رہا! پھر کیوں مشقت کر رہے ہو؟ بوڑھے نے جو جواب دیا کاش ہم من حیث القوم‘ اس پر عمل کرتے!! اس نے کہا: جہاں پناہ! ہمارے بڑوں نے شجرکاری کی۔ وہ دنیا سے چلے گئے تو ہم نے ان کے لگائے ہوئے درختوں کے پھل کھائے۔ ہم درخت لگائیں گے تو ہماری آئندہ نسلیں ان کا پھل کھائیں گی!! ایران ہمارا ہمسایہ ہے۔ فرنگی زبان میں Next door neighbour۔ ہمارے جیسے ہی لوگ ہیں۔ وہی دو پاؤں‘ وہی دو آنکھیں‘ وہی ایک ناک!! مگر پورا ملک باغ کی صورت ہے۔ کل ہی اپنے دوست اور معروف کالم نگار جاوید چودھری صاحب کو سن رہا تھا۔ وہ ماضی قریب ہی میں‘ جنگ سے پہلے ایران سے ہو کر آئے ہیں۔ بتا رہے تھے کوئی قطعۂ زمین ایسا نہیں ہے جہاں سبزی کاشت نہ کی گئی ہو یا ثمردار پیڑ نہ لگائے گئے ہوں! ہر گھر اس حوالے سے خودکفیل ہے۔ یہ تو تاشقند‘ سمرقند‘ بخارا‘ خیوا اور ترمذ میں میرا بھی مشاہدہ ہے جہاں بارہا جانا ہوا۔ ہر گھر کے وسط میں باغ ہے۔ رہائشی کمرے اس باغ کے اردگرد بنے ہوئے ہیں۔ باغ کو &#39;&#39;حولی‘‘ (ماحول سے) کہتے ہیں۔ اس میں ہر وہ پھل لگا ہے جو اُس علاقے میں لگ سکتا ہے۔ انگور‘ آڑو‘ سیب‘ خوبانی‘ انجیر‘ اخروٹ‘ بادام! یہی حال سبزیوں کا ہے! ہر گھر خودکفیل ہے۔ معروف ازبک ادیب اور صحافی دادا خان نوری (مرحوم) اسلام آباد تشریف لاتے تو قیام غریب خانے میں ہی کرتے۔ پہلی بار تشریف لائے تو علی الصبح سیر کے لیے نکل گئے۔ واپس آئے تو سخت غصے میں تھے۔ کہنے لگے: تم پاکستانی کتنے نالائق اور لاپروا ہو۔ ہر گھر کے سامنے‘ پیچھے اور دائیں بائیں‘ ساری زمین بیکار پڑی ہے۔ کہیں جنگل اُگا ہے۔ کہیں اینٹیں اور روڑے پڑے ہیں۔ خدا کے بندو!! سبزیاں اور پھلوں والے درخت کیوں نہیں لگاتے؟ قدرت کی دی ہوئی نعمت سے فائدہ کیوں نہیں اٹھاتے؟ ساری زمین تمہاری اجاڑ‘ غیر آباد پڑی ہے! دادا خان نوری کو سمجھا بجھا کر ٹھنڈا کیا‘ ایک جاندار‘ خوبصورت ناشتہ کرایا اور بتایا کہ ہم ایسے ہی ہیں! اور ایسے ہی رہیں گے۔ ہمیں اسی حالت میں‘ جہاں اور جیسے ہیں‘ کی بنیاد پر قبول کرنا ہو گا! دادا خان نوری پاکستان سے بہت محبت کرتے تھے۔ ان کی وفات پر کالم لکھا تھا جو 31 مئی 2022 ء کو روزنامہ دنیا میں شائع ہوا۔کیا آپ نے کبھی درختوں کو غور سے دیکھا ہے؟ درخت ہمارے خیر خواہ ہیں! ہمارے دوست ہیں اور غم خوار! آپ انہیں کیوں نظر انداز کرتے ہیں؟ کبھی وقت ملے تو تنہائی میں ان کے ساتھ کچھ وقت گزاریے۔ ان میں آپ کو خلوص نظر آئے گا۔ یہ ہمیشہ بازوؤں کو وا کیے ہوتے ہیں۔ یہ سسکیاں بھر کر روتے بھی ہیں۔ یہ آپ کے غم میں کُڑھتے بھی ہیں۔ آپ کسی درخت کو کبھی بھی مکار اور دشمنی پالنے والا نہیں پائیں گے۔ درخت ہمارے بارے میں سب کچھ جانتے ہیں۔ ہماری نیتوں کی برائی کا‘ ہمارے صدق کا‘ ہماری بے بسی کا‘ انہیں سب کچھ معلوم ہے۔ غور سے دیکھیے۔ درختوں کی بہت سی قسمیں ہیں‘ اونچے سر افراز درخت! جو پُرشکوہ قطاروں میں وجیہ شہزادوں کی طرح کھڑے ہیں۔ کچھ بیچارے پستہ قد ہوتے ہیں جھکی ہوئی کمر کے ساتھ! کچھ ٹیڑھے ہوتے ہیں اکیلی پگڈنڈیوں پر ثابت قدمی سے جمے ہوئے! ہمارے گاؤں میں کچھ درخت قبروں پر جھکے ہوتے تھے۔ ان قبروں پر چراغ جلائے جاتے تھے۔ ہم ان درختوں کے تنوں کو ہاتھ لگا کر اپنے ہاتھ چومتے تھے۔ درخت زیتون کے ہوں یا بیر کے‘ انجیر کے ہوں یا شہتوت کے‘ کیکر کے ہوں یا پھلائی کے‘ شمشاد کے ہوں یا املتاس کے‘ میوہ دار ہوں یا بانجھ‘ میٹھا بُور لیے ہوں یا نوکیلے کانٹے! اُجڑے ہوئے صحن میں ہوں یا آباد پائیں باغ میں‘ جیسے بھی ہوں‘ جہاں بھی ہوں‘ مقدس ہوتے ہیں‘ پاکباز ہوتے ہیں اور انسانوں کے دوست ہوتے ہیں۔ درخت نبیوں کے ساتھی اور ولیوں کے مددگار ہیں‘ درخت پرندوں کے گھر ہوتے ہیں اور معصوم بچوں کے امانت دار۔ درختوں سے بنی لاٹھیوں سے اندھوں نے روشنی پائی۔ درختوں کے سائے تلے مرنے کی بیعتیں ہوئیں اور محبت کے قول وقرار! درختوں کی چھال پر عاشقوں نے معشوقوں کے نام کھودے ہیں! ہمارے پاؤں ہیں‘ ہم چل کر اپنی زمینوں سے‘ اپنے پیاروں سے دور چلے جاتے ہیں۔ مگر درخت اُس زمین سے کبھی بھی جدا نہیں ہوتے جس میں ان کی جڑیں ہوتی ہیں۔وفاقی دارالحکومت میں کچھ عرصہ قبل‘ ماضی قریب میں‘ درختوں کا قتلِ عام ہوا! لاکھوں درخت قتل کر دیے گئے۔ میڈیا نے آہ وفغاں کی۔ پارلیمنٹ میں بھی شور کی گونج سنائی دی۔ یہ قتلِ عام سرکار کے اپنے کارندوں نے کیا اور کرایا تھا۔ کسی کا بال بھی بیکا نہ ہوا۔ الٹا‘خلعتیں بانٹی گئیں۔ نوکر شاہی کے جو ارکان ذمہ دار تھے انہیں مزید پوسٹوں سے نوازا گیا۔ مگر یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے۔ یہ سوال سب سے پہلے میں اپنے آپ سے کرتا ہوں۔ پھر آپ سے! میں نے خود گزشتہ ایک سال میں کتنے درخت لگائے؟ کتنے پودے کاشت کیے؟ کتنے بیج زمین کی گود میں بھرے؟ یہی سوال آپ بھی اپنے آپ سے کیجیے۔ ہم سب درختوں کی خطرناک کمی کے ذمہ دار ہیں۔ کیا ہم اپنے بچوں کو شجرکاری کی تربیت دے رہے ہیں؟ کیا ہم نے بچوں کو بتایا ہے کہ درخت کاٹنا قومی جرم ہے؟ کہ درخت کاٹنا قتل کے مترادف ہے؟ حکومتیں تو مجرم ہیں ہی! کیا ہم اپنا فرض ادا کر رہے ہیں؟ کیا ہم نے گھر کے اندر‘ اور گھر کے باہر‘ جہاں جہاں خالی جگہ ہے‘ سبزی کاشت کی ہے؟ پودے لگائے ہیں؟ خود نہیں کر سکتے تو مالی سے کرائیے۔ لازم نہیں کہ مالی ہر روز آئے۔ ہفتے میں دو بار ہی آئے تو آپ کا گھر‘ اور گھر کے باہر خالی جگہ سبزیوں‘ پھولوں اور پھلوں سے بھر سکتی ہے۔ جہاں ہر ماہ آپ موبائل فون کے کارڈ پر‘ پیزوں اور برگروں پر‘ ڈھابوں اور ریستورانوں میں بیٹھ کر چائے اور کافی پر‘ اچھی خاصی رقم لگا سکتے ہیں وہاں چند ہزار مالی کے لیے بھی مختص کر سکتے ہیں! بیج اور کھاد پر بھی خرچ کر سکتے ہیں۔درختوں کی کمی ہماری زندگیوں کے لیے خطرناک ہے! خدارا مسئلے کو سمجھیے اور دوسروں کو سمجھائیے!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_57182973.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پابندیاں اور مادر پدر آزادی(خالد مسعود خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-07-21/52334/92474665</link><pubDate>Tue, 21 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-07-21/52334/92474665</guid><description>میں اپنے کالموں میں پہلے بھی بارہا یہ بات لکھ چکا ہوں کہ مملکتِ خداداد پاکستان ہمہ وقت کسی نہ کسی گمبھیر مسئلے میں پھنسی دکھائی دیتی ہے۔ یہ مسئلہ حقیقی ہے یا پیدا کردہ‘ اس سے قطع نظر عوام کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانے کیلئے کوئی نہ کوئی موضوع بہرحال میدان میں موجود ہوتا ہے۔ یہ مسئلہ حادثاتی ہو‘ فرمائشی ہو‘ خود ساختہ ہو‘ کسی غلطی کا شاخسانہ ہو‘ کسی سازش کی پیداوار ہو‘ کسی کا تخلیق کردہ ہو یا محض حماقت کی وجہ سے وقوع پذیر ہوا ہو‘ اس چیز سے قطع نظر اصل بات یہ ہے کہ حکمرانوں کو عوام کو اصل مسائل سے ہٹا کر اپنی تمام تر صلاحیتیں اس نان ایشو کی طرف رکھنے کے لیے مصروفیت اور بہانہ میسر ہے۔ کل مجھے ایک دوست کا فون آیا۔ ایسے معاملات میں دوستوں کا نام نہیں لکھنا چاہیے‘ لہٰذا نام کو رہنے دیں۔ کہنے لگا کہ اس وقت ملک میں ہر گفتگو کا مرکز‘ ہر بیان کا مخاطب‘ ہر تحریر کا موضوع اور ہر کالم کا نشانہ مولانا فضل الرحمن ہیں۔ دانشور‘ اخبار نویس‘ سیاستدان یک زبان ہو کر مولانا فضل الرحمن کے قصور والے جلسے میں کیے جانے والے خطاب میں پاک فوج کے جان نثاروں‘ جانبازوں‘ شہیدوں اور غازیوں کو تنخواہ کا طعنہ دے کر ان کی قربانیوں کا ٹھٹھا اڑانے کی مذمت کر رہے ہیں۔ مولانا صاحب اپنا نیا سیاسی رخ متعین کرنے اور خاص طور پر عمران خان کی غیر موجودگی سے پیدا ہونے والے سیاسی خلا کو پُر کرنے کی کوشش میں جس نافہمی کے مرتکب ہوئے ہیں‘ تم اس پر کچھ لکھنے کے بجائے ملتان کی گرمی سے بچ کر امریکہ میں موج میلہ بھی کر رہے ہو اور ملک کے سیاسی ماحول میں پیدا ہونے والی گرما گرمی سے پہلو بچا کر ایسے موضوعات کو زیرِ قلم لا رہے ہو جن سے بیشتر پاکستانیوں کو نہ کوئی واسطہ ہے اور نہ ہی کوئی غرض ہے۔میں نے اپنے دوست کو کہا کہ آپ میرے خیالات اور میرے نظریات سے مکمل طور پر آگاہ ہیں۔ میں جمہوریت پر شب خون مار کر قائم ہونے والی حکومتوں اور سیاست میں دخل نہ دینے کا حلف اٹھا کر ملکی سیاست چلانے کے خلاف ہوں لیکن ادارے کے طور پر میں شانہ بشانہ اس کے ساتھ کھڑا ہوں۔ یہ فوج نہ صرف ہماری اپنی ہے بلکہ ہم میں سے ہی ہے اور ہمیں دل و جان سے عزیز ہے۔ عالمی طاقتوں اور سازشوں نے اپنی ریشہ دوانیوں سے عراق‘ شام‘ لیبیا‘ یمن‘ سوڈان‘ لبنان اور اب ایران کا جو حشر کر رکھا ہے‘ عالمی طاقتوں کی نظر میں کھٹکنے کے حوالے سے شاید ہم ان تمام ملکوں اور اقوام سے زیادہ اس کے مستحق ہیں جو وہ درج بالا ممالک کے ساتھ کر چکے ہیں۔ لیکن پاکستان کی اب تک کی جغرافیائی وحدت اور سلامتی کی واحد وجہ ہمارا ایٹم بم اور ہماری فوج ہے۔ اگر ایٹم بم اور اس فوج کا خوف نہ ہوتا تو یہ خطہ محض پراکسی وار تک محدود نہ ہوتا بلکہ عملی طور پر میدانِ جنگ میں تبدیل ہو کر حصے بخرے ہو چکا ہوتا۔ جغرافیائی طور پر ایک ازلی دشمن ہمسائے سے جڑے ہوئے اور اسی کے آلہ کار کے طور پر کام کرنے والے دوسرے ہمسائے کے درمیان سینڈوچ بنے ہوئے اس ملک میں بہرحال فوج تو ہو گی۔ اگر مجھے یہ انتخاب کرنا ہو کہ کون سی فوج ہوگی تو ظاہر ہے میرا جواب کسی شک و شبہ یا ابہام کے بغیر سو فیصد سچائی اور شرح صدر کے ساتھ یہی ہوگا کہ یہاں پاکستانی فوج ہی ہو گی۔ صورتحال یہ ہے کہ الحمدللہ اس موضوع پر لکھنے والے بہت لوگ ہیں۔ محب وطن پاکستانی اخبار نویس‘ دانشور‘ لکھاری‘ سیاستدان اور عام لوگ۔ حیرت یہ ہے کہ اس وقت مولانا صاحب کو وہ لوگ بھی اپنی زبان اور تحریر سے مشقِ ستم بنا رہے ہیں جن کا نہ صرف ماضی اسی قسم کے خیالات اور بیانات سے لبریز ہے بلکہ وہ زمانۂ حال میں بھی نجی محفلوں‘ دوستوں کے حلقوں اور محدود فورمز میں وہی کچھ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر لن ترانی کرتے ہیں جس کے مولانا مرتکب ہوئے ہیں۔میں کبھی بھی مولانا کا ممدوح نہیں رہا اور اس کی وجہ یہ نہیں کہ وہ اپنی سیاسی ہنرمندی کے طفیل اپنی سیاسی عددی حیثیت سے کہیں بڑھ کر سیاسی فوائد اور مفادات نچوڑ لینے میں یدِطولیٰ رکھتے ہیں‘ بلکہ اعتراض اور اختلاف اس بات پر ہے کہ وہ اپنے دیگر ہم عصر سیاستدانوں کے برعکس یہ کام مذہبی قائد کے طور پر کرتے ہیں۔ اگر وہ یہی کام سیدھے سبھاؤ دیگر سیاستدانوں کی طرح کریں تو مجھے ان کی سیاست سے اس حوالے سے کوئی اختلاف نہیں رہے گا کہ وہ بھی وہی کچھ ذرا زیادہ ہوشیاری اور کامیابی سے کر رہے ہیں جو باقی سیاستدان کر رہے یا کرنا چاہتے ہیں۔فرمائشی اور مفاداتی کالموں سے قطع نظر‘ تنخواہ کو جان کا عوضانہ قرار دینے کے حوالے سے محترم ایاز امیر کے انتہائی مدلل اور شاندار کالم کے بعد اس موضوع پر مزید کچھ لکھنا وقت اور کالم کے ضیاع کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں۔ تاہم صرف اتنا عرض کرنا ہے کہ مولانا خود اپنی سیاست کے عوض آسمان سے اترنے والے غیبی فوائد سے قطع نظر‘ بطور رکن اسمبلی مبلغ 600,000 روپے ماہانہ تنخواہ‘ آفس مینٹی ننس الاؤنس کی مد میں 35000 روپے‘ ٹیلی فون الاؤنس 35000 روپے اور مہمان نوازی الاؤنس کی مد میں 35000 روپے یعنی کل 705,000 روپے ماہانہ لیتے ہیں۔ اسمبلی کے اجلاسوں میں شرکت کا الاؤنس اس کے علاوہ ہے۔ مزید یہ کہ 300,000 روپے کے ٹریول وائوچر‘ مفت کا علاج اور 30 عدد بزنس کلاس کے اوپن ریٹرن فضائی ٹکٹ ملتے ہیں۔ یہ سب کچھ تو وہ ہے جو کاغذوں میں ملتا ہے۔ باقی کے بارے میں آپ لوگ خود بہتر جانتے ہیں۔ اس میں کشمیر کمیٹی کے الاؤنسز کا ذکر نہیں کیا کہ وہ قصۂ ماضی ہے۔ سیاست اور عوامی نمائندگی کے عوض آپ کو تنخواہ‘ الاؤنس‘ سہولتیں‘ پروٹوکول‘ وی آئی پی طرزِ زندگی اور بلند سماجی ومعاشرتی مقام مل گیا۔ اب اس میں بلٹ پروف گاڑی کی سرکاری فراہمی کہاں سے آ گئی؟ جان بہت عزیز ہے اور سیاست خطرناک کھیل ہے تو اس پر لعنت بھیجیں اور گھر بیٹھ کر مزے کریں۔ ملک کی اندرونی صورتحال اور بیرونی سرحدوں کی حفاظت کرنے والے جوان اور افسر یہ مطالبہ نہیں کرتے کہ ان کی جان کو خطرہ ہے‘ ان کو بلٹ پروف گاڑیاں دی جائیں۔ ان کی حفاظت کے لیے ڈالے اور پولیس گارد متعین کی جائے۔ خود دنیا جہان کی مالی و مادی سہولتیں بمعہ حفاظتی انتظامات لینے والے جان کو تلی پر رکھے وطن کی حفاظت پر مامور محافظوں کی تنخواہ کو ان کی جان کا عوضانہ کہہ کر ان کی قربانیوں کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ ویسے اس سارے معاملے پر سرکار کے پاس زبانی جمع خرچ کے بجائے اگر قانونی اور آئینی طور پر کچھ کرنے کے لیے ہے تو وہ کرے‘ ورنہ عوام کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانے کے بجائے ملک کو درپیش حقیقی مسائل کے حل کی طرف توجہ دے۔اپنی افواج کے بارے میں دیگر ممالک کے عوام کے جذبات سے لاعلم بہت سے پاکستانی نقادوں کو دراصل یہ علم ہی نہیں کہ وہاں اس قسم کی گفتگو کرنے والوں کے ساتھ قانون‘ اور اس سے بڑھ کر عوام کیا سلوک کرتے ہیں۔ ادھر امریکہ میں کوئی سیاستدان ایسا کچھ کہہ دیتا تو وہ اس کا سیاست میں آخری دن ہوتا۔ یہ بات درست کہ ہمارے ہاں بہت سی جائز باتیں بھی نہیں کہی جا سکتیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمارے ہاں بعض معاملات میں جو مادر پدر آزادی ہے اور جو کچھ کہا جاتا ہے وہ بھی دنیا میں کہیں نہیں کہا جا سکتا۔ بیک وقت عجیب وغریب پابندیوں اور بے محابا آزادی جیسے عدم توازن کے بیچوں بیچ حالات جس قدر خراب و خستہ ہو سکتے ہیں‘ ہم اسی کا شکار ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90500073.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مولانا کی سمجھداری کا تقاضا(ڈاکٹر حسین احمد پراچہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-07-21/52335/36842207</link><pubDate>Tue, 21 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-07-21/52335/36842207</guid><description>مولانا فضل الرحمن صاحب ہمیشہ خود احتسابی سے کام لیتے رہے ہیں مگر قصور کے جلسے کے بعد انہوں نے یہ فریضہ انجام دینے میں اتنی تاخیر کیوں کر دی‘ میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں۔ یہ غالباً ساڑھے تین دہائیاں پہلے کی بات ہو گی۔ جمعیت علمائے اسلام سے وابستگی رکھنے والے بعض دوستوں نے مولانا فضل الرحمن کو طائف میں دعوتِ خطاب دی اور ہمیں بھی مدعو کیا تھا۔ مکۃ المکرمہ سے آنے والے راستے سے طائف کی پُربہار وادیوں اور کوہساروں کی سیر و سیاحت کیلئے آنے والوں کیلئے ایک اونچی پہاڑی پر ایک خوبصورت خیر مقدمی عبارت لکھی ہوئی ہے: &#39;&#39;مرحبا تراحیب المطر‘‘ ہم آپ کیلئے یوں چشم براہِ ہوتے ہیں جیسے بارش کیلئے۔ اُن دنوں طائف میں کام کرنے والے پاکستانیوں میں یہی صفت پائی جاتی تھی۔ کسی جماعت سے تعلق رکھنے والا پاکستانی رہنما یہاں آتا تو پارٹیوں کی تقسیم سے ماورا وہ سبھی کا ہی مہمان تصور کیا جاتا تھا۔ میرا تو کسی جماعت سے تعلق نہ تھا مگر باقی سب حاضرینِ مجلس میں سے اکثریت کا تعلق مختلف پارٹیوں سے تھا۔ غالباً کچھ ہی مدت قبل مولانا فضل الرحمن نے حضرت مفتی محمودؒ کی رحلت کے بعد پارٹی کی سیکرٹری شپ کا منصب سنبھالا تھا۔ نوجوان مولانا فضل الرحمن کا خطاب نپا تلا‘ جوش اور ہوش کا نہایت دلکش مرقع تھا۔ اُس خطاب میں مولانا نے دلائل کے ساتھ جمہوریت کی عملداری اور آئین کی سربلندی کو ایک ایسا فریضہ ثابت کیا جس کی بجا آوری ہر پاکستانی پر فرض ہے۔میرے اخباری مضامین کی بنا پر مولانا مجھے پہچانتے تھے اور میں انہیں حضرت مفتی محمودؒ کے صاحبزادے اور قومی سیاست میں ایک نووارد کی حیثیت سے جانتا تھا۔ یہ مولانا کا عنفوانِ شباب تھا اور کم و بیش ہمارا بھی یہی زمانہ تھا۔ مولانا اپنے زمانۂ طالب علمی سے حضرت مفتی صاحب کے ہمراہ &#39;&#39;جاب آن ٹریننگ‘‘ تھے۔ اپنے خطاب کے بعد مولانا نے مجھ سے سرگوشی میں پوچھا کہ اُن کا خطاب کیسا تھا؟ عرض کیا قابلِ داد اور لائقِ تحسین۔ آپ نے سب پر تنقید کی مگر کسی کے جذبات کو ٹھیس نہیں پہنچائی۔ مجھے خوشگوار حیرت ہوئی کہ نوجوان مولانا خود احتسابی سے کام لیتے ہیں۔ وقت گزرتا گیا۔ میں 2004ء میں انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد میں تدریسی فرائض کی انجام دہی کیلئے واپس پاکستان آ گیا۔ 2002ء میں تشکیل پانے والی اسمبلی میں متحدہ مجلس عمل کو شاندار کامیابی ملی تھی۔ مولانا قومی اسمبلی میں لیڈر آف دی اپوزیشن تھے۔ یہ کامیابی دینی طبقے کی باہمی یگانگت کا نتیجہ تھی۔ اسی اسمبلی میں بھائی فرید پراچہ بھی منتخب ہو کر آئے تھے۔ لہٰذا اس دوران مولانا سے ملاقاتوں اور قومی اسمبلی میں اُن کی تقریروں کو براہِ راست سننے کے زیادہ مواقع ملے۔ سیاسیات کا طالبعلم ہونے کی حیثیت سے کئی بار مولانا کے طرزِ سیاست سے میرا اختلاف ہوا۔ کئی بار ایسا بھی ہوا کہ مولانا نے میرے نقطۂ نظر کو تسلیم کیا۔ مگر شاذ ہی ایسا ہوا کہ ان کے طرزِ تخاطب سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہو۔پارلیمنٹ کا فورم ہو یا کوئی عوامی جلسۂ عام‘ مولانا کا خطاب آئین کے دائرے کے اندر رہتا۔ مولانا ذاتی نوعیت کے حملوں سے اجتناب کرتے اور کسی کے جذبات کو ٹھیس نہ پہنچاتے۔ لیکن چند روز قبل قصور کے جلسۂ عام کے موقع پر مولانا نے پُرجوش مجمع سے خطاب کرتے ہوئے پہلے تو ساری قوم کو آئین کے تناظر میں اپنا اپنا دائرہ کار یاد دلایا‘ اور پھر جمہوریت کی سربلندی اور بعض حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے جوشِ خطابت میں یہ تک کہہ گزرے کہ اگر سپاہی یا افسر اپنی جان کی قربانی دیتے ہیں تو اس کی تنخواہ بھی لیتے ہیں۔ شوقِ شہادت یا جذبۂ جہاد نہ ہو تو کیا کوئی چند ہزار یا لاکھ دو لاکھ کیلئے اپنے &#39;&#39;پروانۂ موت‘‘ پر دستخط کرتا ہے؟ یہ فوج کی پیشہ ورانہ اور ولولہ انگیز اسلامی و عسکری تربیت کا نتیجہ ہے کہ جوان اور افسر جذبۂ ایمانی سے آگے بڑھ کر جام شہادت نوش کرنے پر بخوشی آمادہ ہوتے ہیں۔میں اپنے ایک عزیز دوست کے دو نوجوان بیٹوں کو جانتا ہوں کہ جنہوں نے چار پانچ برس قبل میٹرک امتحانات میں اعلیٰ پوزیشن حاصل کی‘ وہ چاہتے تو آگے ایف ایس سی میں میڈیکل یا انجینئرنگ کے مضامین لے کر ڈاکٹر اور انجینئر بن سکتے تھے۔ ان نوجوانوں کے والد عالم دین ہیں‘ پاکستان اور آکسفورڈ سے پی ایچ ڈی ہیں۔ اُن کے دادا بھی عربی و اسلامیات کے پروفیسر رہے۔ گھر کی ایسی دینی و قومی فضا کا نتیجہ تھا کہ دونوں نوجوانوں نے بااصرار ایک ملٹری کالج جوائن کرنے کا فیصلہ کیا۔ وہاں بھی وہ داخلہ ٹیسٹ میں ٹاپ پر رہے۔ وہاں سے ایف ایس سی کرنے کے بعد بھی وہ سویلین اداروں میں جا سکتے تھے مگر اپنے شوقِ شہادت کی بنا پر انہوں نے فوج جوائن کرنے کا فیصلہ کیا۔ دونوں بھائی فوج میں منتخب کر لیے گئے۔ کاکول کی تربیت مکمل کرنے کے اب دونوں نوجوان افسر ہیں۔ جوانوں میں بھی یہی جذبے پائے جاتے ہیں۔حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرنا سیاستدانوں کا حق ہے۔ مولانا ہی نہیں‘ آج کے حکمران بھی ماضی میں مقتدرہ پر تنقید کرتے رہے ہیں۔ مولانا بھی اس سے قبل کئی بار ہر کسی کو اس کا دائرہ کار یاد دلاتے رہے ہیں مگر انہوں نے کبھی ایسی بات نہیں کہی جو جذبات کے آبگینوں کو ٹھیس پہنچانے اور شہدا کے خاندانوں کے احساسات کو مجروح کرنے والی ہو۔ مولانا کے بعض ساتھیوں اور حامیوں سے کچھ ایسے بیانات بھی منسوب ہو رہے ہیں جن کی مجھے اُن سے توقع نہ تھی۔ مثلاً مولانا فضل الرحمن کے دستِ راست مولانا عبدالغفور حیدری سے یہ بیان تک منسوب کیا جاتا ہے کہ انہوں نے جی ایچ کیو کے باہر احتجاج کرنے کا نعرہ بلند کیا ہے۔ اپنے چھ سالہ قیامِ اسلام آباد کے دوران میری کئی بار مولانا حیدری سے ملاقاتیں ہوئیں۔ وہ میرے ٹی وی پروگراموں میں بھی آتے تھے‘ اُس زمانے میں وہ نرم دم گفتگو اور گرم دمِ جستجو تھے۔ وہ جو بات کرتے دلیل سے کرتے تھے اور کبھی دورانِ پروگرام دوسری جماعت کے نمائندوں سے نہ اُلجھتے تھے بلکہ انہیں ٹھنڈے غور و فکر کا مشورہ دیتے رہتے تھے۔ مولانا کے اس دھیمے مزاج کی یاد سے مجھے اس طرح کی غیر سیاسی دھمکیوں کی اُن سے توقع نہ تھی۔ میں نے اتوار کے روز انہیں کال کیا تو کوئی جواب نہ آیا۔ بعد میں اُن کے ایک دوست سے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ وہ تقریباً ایک ماہ تک ہسپتال میں زیر علاج رہے اور اب انہیں پیس میکر لگایا گیا ہے۔ ڈاکٹروں نے انہیں گھر پر آرام کرنے کی ہدایت کی ہے۔مولانا فضل الرحمن ایک مستند پارلیمنٹرین ہیں۔ وہ کئی بار قومی اسمبلی کے رکن رہے۔ وہ صاف سیدھی بات کرنے کی شہرت رکھتے ہیں۔ زیر بحث موضوع کے تمام آئینی و قانونی پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہیں۔ قصور کے خطاب کے بعد انہوں نے قومی اسمبلی کے اندر بھی تقریر کی۔ اُن کی تقریر آئین کے دائرے کے اندر تھی۔ بہت سے ممبرانِ اسمبلی نے ڈیسک بجا کر داد دی۔ اسمبلی کے اندر انہوں نے مختلف شعبوں میں افسران کو ملازمت میں دی جانے والی توسیع پر تنقید کی۔ اسمبلی کے اندر اور باہر وہ لوگ بھی مولانا کے اندازِ بیان اور طرزِ خطاب کی داد دیتے ہیں جو اُن کے نقطۂ نظر سے اتفاق نہیں اختلاف کرتے ہیں۔ بالخصوص سیاست میں مولانا کی سمجھداری اور قومی طرزِ فکر کو تو سب پسند کرتے ہیں۔ کالعدم ٹی ٹی پی کی دھمکیوں اور ان کی طرف سے متعدد بار مولانا کے قافلوں پر خودکش حملوں کے باوجود مولانا نے ہمیشہ مداہنت یا مصلحت پسندی کے بجائے حق گوئی اور جرأت مندی کو ترجیح دی ہے۔ مولانا پر تنقید کرنے والے بعض لوگ دور کی کوڑیاں لا رہے ہیں اور مولانا پر طرح طرح کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔ ہمارے خیال میں قصور کے جلسے میں مولانا فضل الرحمن سے شہدا کے ورثا کی جو دلآزاری سرزد ہوئی اس کا سبب جوشِ خطابت کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ ہم مولانا کی سمجھداری سے یہی توقع رکھتے ہیں کہ وہ بلاتاخیر اپنے خطاب کے متنازع حصے کی وضاحت کریں گے اور اپنا پُرجوش سیاسی سفر جاری رکھیں گے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_70033906.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>اختیارات کی علیحدگی کا مسئلہ(شاہد کاردار)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-kardar-/2026-07-21/52336/68089548</link><pubDate>Tue, 21 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-kardar-/2026-07-21/52336/68089548</guid><description>حالیہ برسوں میں متعدد ایسے واقعات سامنے آئے جن میں ریاست کے بڑے اداروں نے واضح طور پر دائرہ اختیار سے تجاوز کیا۔ پارلیمان نے عدلیہ پر قانون سازی کرنے کا الزام عائد کیا جبکہ حکومت نے پارلیمان کو عدالتوں کے اندرونی انتظام وانصرام کو ریگولیٹ کرنے کیلئے استعمال کیا۔ 26ویں اور 27 ویں آئینی ترامیم نے مل کر عدالتی تقرریوں کے نظام کو اس انداز میں ازسرنو ترتیب دیا کہ عدلیہ پر انتظامیہ کا اثر ورسوخ بڑھ جائے اور سپریم کورٹ کے اختیارات محدود ہو جائیں ۔ بادی النظر میں ان ترامیم نے عدلیہ کے فیصلہ سازی کے عمل میں مداخلت کی راہ ہموار کی‘ انتظامیہ کے اختیارات کو منظم انداز میں مضبوط کیا اور عدلیہ کے اختیارات اور آزادی کو کمزور کر دیا۔ ادارہ جاتی حفاظتی انتظامات پہلے ججوں کو آزادی فراہم کرتے تھے‘ اب ان میں تبدیلی نے پاکستان کے آئین میں موجود اختیارات کے توازن اور باہمی نگرانی کے ڈھانچے کو کمزور کر دیا ہے۔ لہٰذا آئین میں جس انداز سے اختیارات کی علیحدگی کا تصور پیش کیا گیا ہے‘ اس کا جائزہ لینا ضروری ہو گیا ہے۔ تصوراتی طور پر اختیارات کی علیحدگی کا اصول اس تصور سے جنم لیتا ہے کہ ریاست کا کوئی ایک ادارہ من مانے اختیارات استعمال کرنے کے قابل نہ ہو۔ اس اصول کے تحت ریاست کے انتظامی‘ قانون ساز اور عدالتی فرائض کو رسمی اور ساختی طور پر تین الگ اور خود مختار اداروں کے درمیان تقسیم کیا جاتا ہے۔ ہر ادارہ اپنے اختیارات حاکمِ اعلیٰ یعنی عوام سے حاصل کرتا ہے۔ عوام یہ اختیارات آئین کے ذریعے اس ادارے کو تفویض کرتے ہیں اور ہر ادارہ انہیں صرف اسی حد تک استعمال کر سکتا ہے جس حد تک آئین کے تحت اسے سونپے گئے ہوں۔ آئین عوام کی مرضی کا اظہار ہے۔ یہ وہ معاہدہ ہے جس میں اختیارات کی علیحدگی کے اصول کا اظہار کیا گیا ہے۔ اگر کوئی ادارہ آئین میں تفویض کردہ اختیارات سے بڑھ کر اختیارات استعمال کرنے کی کوشش کرے تو عدالتیں ایسے اقدام کو کالعدم قرار دے کر ناکام بنا دیں گی۔ مگر ہمارے معاملے میں اختیارات کی علیحدگی کے اصول کی آئین کے متن میں واضح طور پر تفصیل نہیں دی گئی۔ ہمارے ریاستی نظام کی ایک نمایاں خصوصیت یہ رہی ہے کہ مختلف ادارے اپنے آئینی دائرہ اختیار سے بڑھ کر اختیارات حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ ایک دوسرے کے اختیار میں یہ تجاوز ہمیشہ کامیاب تو نہیں ہوا لیکن اس سے ایسی ہلچل اور ہنگامے نے ضرور جنم لیا کہ نظام مفلوج ہو کر رہ گیا۔ اس عمل کی ایک طویل تاریخ ہے۔ ایک مثال دیکھیے: نظری طور پر وزیراعظم ریاست کے سربراہ یعنی صدر کے نام پر تمام انتظامی اختیارات استعمال کرتا ہے۔ اگرچہ پارلیمان اور صوبائی اسمبلیوں کے منتخب کردہ صدر کے پاس عملاً کوئی اختیار نہیں ہوتا لیکن ذوالفقار علی بھٹو کیلئے یہ ادارہ جاتی بندوبست بھی قابلِ قبول نہ تھا۔ انہوں نے آئین میں یہ شرط شامل کر دی کہ صدر کے دستخط اسی وقت مؤثر تصور ہوں گے جب ان پر وزیراعظم کے جوابی دستخط بھی موجود ہوں۔آج کے دور کی چند مثالیں جو پارلیمان کے اختیارات میں کمی کو ظاہر کرتی ہیں‘ یہ ہیں: الف) انتظامیہ کو ایسے آرڈیننس جاری کرنے کا اختیار حاصل ہے جو پارلیمان کو نظرانداز کرتے ہوئے اس کے اختیارات کو محدود کر دیتے ہیں۔ اگرچہ بالآخر ان آرڈیننسوں کو پارلیمانی منظوری درکار ہوتی ہے لیکن وہ بہت بعد میں حاصل کی جاتی ہے اور اس وقت تک جو کچھ ہونا ہوتا ہے‘ خواہ اچھا ہو یا برا‘ ہو چکا ہوتا ہے۔ ب) وفاقی ٹیکس جمع کرنے کے ادارہ ایف بی آر کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ پارلیمان کی منظوری کے بغیر مختلف نوعیت کے محصولات عائد کرے اور ٹیکسوں سے متعلق قواعد وضوابط جاری کرے۔ حالیہ برسوں میں عدالتوں نے پارلیمان کو مخصوص موضوعات اور مسائل پر قوانین بنانے کیلئے ہدایات جاری کیں۔ سب سے بڑی کنفیوژن اس ادارہ کی مداخلت سے پیدا ہوتی ہے جسے مقتدرہ کہا جاتا ہے۔ اگرچہ حکمرانی میں اس کا کوئی باضابطہ یا آئینی کردار نہیں لیکن ملک کے قیام کے تقریباً آغاز ہی سے یہ مسلسل اختیارات استعمال کرتی آ رہی ہے۔ نتیجتاً اختیارات کی تقسیم اور الگ آئینی دائرہ ہائے اختیار پر مبنی نظام بڑی حد تک غیر مؤثر ہو جاتا ہے۔پارلیمانی نظام خود بھی عملی طور پر اختیارات کی علیحدگی کے اصول کو کمزور کر دیتا ہے۔ پارلیمانی نظام میں انتظامیہ‘ یعنی وزیراعظم اور کابینہ‘ اپنے اختیارات براہِ راست عوام سے منتخب ہو کر حاصل نہیں کرتے بلکہ یہ اختیارات انہیں قانون ساز ادارے (پارلیمان) سے حاصل ہوتے ہیں۔ اس لیے انتظامیہ اور پارلیمان ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوتے اور بظاہر ان کے درمیان کوئی واضح حدِ فاصل موجود نہیں رہتی۔ اکثریتی جماعت حکومت بناتی ہے اور ہمارے ہاں پارلیمان اکثر جماعتی قیادت کی خواہشات اور اختیارات کے من مانے استعمال کی یرغمال بن جاتی ہے۔ یہ بندوبست پارلیمان کیلئے انتظامیہ پر مؤثر نگرانی قائم کرنا تقریباً ناممکن بنا دیتا ہے۔ اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا پارلیمان عملی طور پر یا آئین کے متن کے مطابق انتظامیہ پر نگرانی کر سکتی ہے؟ دونوں کے درمیان حدِ فاصل کہاں ہے؟ کیا یہ مسئلہ خود نظام کی ساخت اور ترتیب میں موجود ہے یا صرف اس کے عملی نفاذ کا مسئلہ ہے؟ پارلیمانی جمہوریت کی اس بنیادی کمزوری کے ساتھ ساتھ ہمارے ملک میں انتظامیہ کے پاس سرپرستی اور مراعات دینے کے وسیع اختیارات بھی موجود ہیں جن کے باعث پارلیمان کیلئے نگرانی کا کردار ادا کرنے کے امکانات تقریباً ختم ہو جاتے ہیں۔ منظور شدہ بجٹ سے بڑھ کر اخراجات بلا روک ٹوک کیے جاتے ہیں اور بعد ازاں قومی اسمبلی سے انہیں منظور کرا لیا جاتا ہے۔ایک مکتب فکر کا مؤقف ہے کہ حقیقی جمہوری نظام میں تقسیم شدہ حاکمیتِ اعلیٰ بالآخر ایک ہی ادارے یعنی عوام کے منتخب نمائندوں میں مرکوز ہونی چاہیے کیونکہ یہی نمائندے عوام سے یہ اختیار حاصل کرتے ہیں۔ اس نقطہ نظر کے مطابق‘ تمام تر خامیوں کے باوجود منتخب پارلیمان کی بالادستی غیر منتخب عدلیہ کی آمریت سے بہتر ہے۔ اس دلیل کے حامی کہتے ہیں کہ عدالتوں کی مداخلت مولوی تمیز الدین کیس سے شروع ہوئی اور دوسری بڑی مثال چیف جسٹس افتخار چودھری کے دور کی ہے جب عوامی مفاد کی درخواستوں کے ذریعے متنازع اور حد سے بڑھی ہوئی عدالتی فعالیت سامنے آئی۔ ہم نے دیکھا کہ عدالتوں کی مداخلت سرمایہ کاری کے فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے اور اس طرح معاشی ترقی کے عمل اور رفتار کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ آئین میں عدلیہ کے پاس کوئی ایسی واضح اتھارٹی موجود نہیں کہ وہ آئینی ترمیم یا کسی قانون کا جائزہ لے سکے بلکہ وہ یہ اختیار استنباط کے ذریعے حاصل کرتی ہے۔ قوانین کی ناقص اور مبہم تدوین نے عدلیہ کو یہ موقع دیا کہ وہ ان کی ایسی تشریح کرے جسے وہ ان کا اصل مقصد اور دائرہ کار سمجھتی ہے۔ ان کے نزدیک بدلتے ہوئے حالات ایسی تشریح کا تقاضا کرتے تھے۔ لیکن سیاستدانوں اور سول سوسائٹی کے ان حلقوں نے ہمیشہ اس نقطہ نظر کو چیلنج کیا اور یہ مؤقف اختیار کیا کہ اس سے گورننس کی مؤثریت کمزور ہوئی اور جمہوریت کو نقصان پہنچا۔ تو کیا واقعی ایک ایسا ادارہ (پارلیمان) ہونا چاہیے جو سب سے بالاتر اختیار رکھتا ہو؟ اور کیا اسے یہ اجازت ہونی چاہیے کہ وہ ایسا کوئی بھی قانون نافذ کر دے جو آئین سے متصادم ہو جبکہ عدالتی نظام کے ذریعے اسے کالعدم قرار دینے کا کوئی راستہ موجود نہ ہو؟ اس بارے میں کوئی درمیانی راستہ نکالنے کی ضرورت ہے۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ چونکہ ہمارے پاس ایک تحریری آئین موجود ہے اس لیے اس میں ہر ادارے کے کردار‘ ذمہ داریوں او اختیارات کو پوری وضاحت کے ساتھ بیان کیا جانا چاہیے۔ اور ظاہر ہے کہ جمہوری نظام میں یہ کام صرف پارلیمان ہی انجام دے سکتی ہے۔ اس عمل سے ہر ادارے کو اس کے واضح طور پر متعین دائرہ اختیار تک محدود رکھنے میں مدد ملے گی لیکن پھر بھی مختلف اداروں کیلئے خود اختیار کردہ ضبط وتحمل کی ضرورت برقرار رہے گی۔ </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_78012569.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>خلیجی بحران اور پاکستان کا سٹرٹیجک توازن(رشید صافی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-07-21/52337/14589450</link><pubDate>Tue, 21 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-07-21/52337/14589450</guid><description>مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکہ میں کشیدگی ایک بار پھر انتہائی خطرناک اور سٹرٹیجک بحران میں داخل ہو گئی ہے جس نے پورے خطے کے امن و استحکام کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ گزشتہ بارہ روز سے جاری عسکری کارروائیوں اور شدید فضائی و بحری حملوں کے دوران امریکہ کی طرف سے اُن ایرانی اہداف‘ تنصیبات اور انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جو کچھ عرصہ پہلے تک پاکستان کی متحرک سفارتی کوششوں کے باعث محفوظ ہو گئے تھے۔ اسلام آباد نے خطے کو ہولناک تباہی سے بچانے کیلئے تہران اور واشنگٹن کے مابین بیک ڈور ڈپلومیسی کے ذریعے جو سٹرٹیجک توازن قائم کیاوہ حالیہ حملوں کی شدت اور جیو پولیٹکل تناؤ کے باعث مکمل طور پر برباد ہو چکا ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف دونوں طاقتوں کو بڑے تصادم پر لا کھڑا کیا ہے بلکہ ان تمام سفارتی ذرائع کو بھی ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے جو اَب تک اس خطے میں امن کو برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہو رہے تھے۔ تہران کی اعلیٰ عسکری و سیاسی قیادت کی جانب سے واشنگٹن کے عسکری اقدامات پر شدید عدم اعتماد کا اظہار کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے مذاکرات اور سفارتی کوششوں کے تمام تر راستے مسدود ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ایران نے امریکی حملوں کے ردِعمل میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو عملی طور پر معطل کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کو بلاک کرنے اور وہاں سے گزرنے والے بحری جہازوں کو روکنے کا اعلان کر دیا ہے۔ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی سے نہ صرف دنیا بھر میں تیل اور ایل این جی کی سپلائی متاثر ہونے کا اندیشہ ہے بلکہ اس سے عالمی مارکیٹ میں توانائی کا ایک نیا اور شدید بحران جنم لے رہا ہے۔امریکی پیش قدمی اور پابندیوں کے جواب میں ایران کی جنگی حکمتِ عملی کا سب سے بڑا ہدف مشرق وسطیٰ کے ممالک بالخصوص اردن‘ بحرین‘ کویت اور سعودی عرب بن رہے ہیں۔ اس جاری کشیدگی کے دوران ایران کی جانب سے سمندری پانی کو پینے کے قابل بنانے والی انتہائی حساس تنصیبات (Desalination Plants) پر حملوں نے خلیجی خطے کو غیرمعمولی خطرے میں ڈال دیا ہے۔ کویت نے حال ہی میں ایران پر ملک کے بڑے واٹر پلانٹ کو دوسری بار براہِ راست نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا ہے‘ جس کے بعد پورے خلیجی خطے میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور انسانی تحفظ کے حوالے سے شدید تشویش پیدا ہو چکی ہے۔ گلف ریسرچ سنٹر کے مطابق زیرِ زمین موجود انتہائی محدود قدرتی پانی اور سمندری پانی کو صاف کر کے پینے کے قابل بنانے والے ڈی سیلینیشن پلانٹس مل کر اس پورے خطے کی واٹر سپلائی اور روزمرہ ضروریات کا تقریباً 90 فیصد فراہم کرتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں عالمی سطح پر ہونے والی ماحولیاتی تبدیلیوں‘ درجہ حرارت میں بے پناہ اضافے اور زیرِ زمین پانی کی سطح میں کمی کے باعث متحدہ عرب امارات سے لے کر کویت تک خلیج کی پوری پٹی پر 400 سے زائد واٹر پلانٹس فعال ہیں‘ جو دنیا کے اس سب سے خشک‘ گرم اور بے آب و گیاہ خطے کے کروڑوں باشندوں اور صنعتی شعبوں کو پانی فراہم کرتے ہیں۔ خلیج تعاون کونسل کے چھ رکن ممالک جن میں سعودی عرب‘ متحدہ عرب امارات‘ کویت‘ قطر‘ بحرین اور عمان شامل ہیں‘ یہ ممالک عالمی سطح پر سمندری پانی صاف کرنے کی 60 فیصد صلاحیت کے حامل ہیں۔ کویت اپنے پینے کے پانی کا 90 فیصد‘ عمان 86 فیصد‘ سعودی عرب 70 فیصد اور متحدہ عرب امارات 42 فیصد حصہ انہی پلانٹس سے حاصل کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان پلانٹس پر ہونے والے حملے ایک بھیانک معاشی‘ انسانی اور ماحولیاتی بحران کو جنم دے رہے ہیں‘ جس سے لاکھوں بے گناہ شہریوں کی زندگی داؤ پر لگ چکی ہے۔اس تشویشناک منظرنامے میں کویت امریکہ کے ساتھ طویل مدتی روایتی دفاعی معاہدے اور امریکی سکیورٹی چھتری موجود ہونے کے باوجود پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان قائم دہائیوں پر محیط آزمودہ عسکری تعاون جیسے وسیع البنیاد ماڈل سے استفادہ کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق پاک کویت مذاکرات کے فریم ورک میں عسکری تربیت‘ مشترکہ مشقیں‘ دفاعی ٹیکنالوجی کی منتقلی‘ ایئر ڈیفنس سپورٹ‘ ڈرون سکیورٹی‘ خفیہ معلومات اور اعلیٰ سطح کے عسکری وفود کا تبادلہ شامل ہے تاکہ پائیدار‘ بااعتماد اور جامع سٹرٹیجک فریم ورک تشکیل دیا جا سکے۔ اگرچہ دونوں ممالک کے مابین 2023ء سے محدود پیمانے پر عسکری تعاون کا ایک خاکہ موجود ہے تاہم کویت موجودہ خطرات کے تناظر میں اسے توسیع دے کر مضبوط سکیورٹی فریم ورک میں ڈھالنے کا خواہشمند ہے۔ تاثر یہ ہے کہ وہ اپنی سرحدی اور فضائی حدود کے تحفظ کے لیے پاکستانی افواج کے عسکری تجربے پر اعتماد کرنا چاہتا ہے‘ تاہم پاکستان کی طرف سے اب تک اس سلسلے میں کسی باضابطہ دفاعی و جنگی معاہدے کا اعلان نہیں کیا گیا۔حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے لیے مشرقِ وسطیٰ کی سکیورٹی صورتحال انتہائی پیچیدہ سفارتی امتحان سے کم نہیں۔ اسلام آباد ایک طرف سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستوں کی شہری آبادیوں اور معاشی انفراسٹرکچر پر ہونے والے حملوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کر رہا ہے اور سفارتی ذرائع سے تہران کو مسلسل یہ باور کرا رہا ہے کہ خلیجی تنصیبات پر حملے خطے کی کشیدگی کو ناقابلِ تلافی حد تک بڑھا دیں گے اور اس سے مسلم دنیا ہی کو نقصان پہنچے گا۔ اگرچہ چند ماہ پہلے تک پاکستان کی ثالثی اور سفارتی دباؤ کے نتیجے میں ایران نے یہ باضابطہ یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ سعودی عرب پر براہِ راست حملے نہیں کرے گالیکن امریکی حملوں‘ تہران کی سخت گیر پالیسی اور خطے کی نئی صف بندی کے باعث حوثی باغیوں اور دیگر ایرانی اقدامات سے صورتحال مزید سنسنی خیز اور غیر متوقع ہو چکی ہے۔ پاکستان کا ہمیشہ سے یہ مؤقف رہا ہے کہ مسلم ممالک کا باہمی تصادم محض سامراجی اور دشمن قوتوں کے سٹرٹیجک مفادات کو تقویت دے گا‘ جس سے تمام علاقائی مسلم ممالک معاشی اور سیاسی طور پر کمزور ہوں گے۔اسلام آباد تمام تر مشکلات اور بحران میں انتہائی محتاط‘ دور اندیش اور غیرجانبدار سفارتی توازن قائم کیے ہوئے ہے اور خود کو کسی ایک بلاک کا حصہ بنانے سے گریزاں ہے۔ کویت کے ساتھ فوری طور پر کسی جامع عسکری یا جنگی معاہدے اور فوج کی براہِ راست تعیناتی کے معاہدے پر دستخط نہ کرنے کی بنیادی وجہ بھی پاکستان کی یہی سٹرٹیجک دور اندیشی ہے کہ پاکستان خطے کے کسی تنازع کا فریق بننے یا تہران کے ساتھ تعلقات بگاڑنے کے بجائے ایک غیر جانبدار‘ بااعتماد اور بااثر ثالث کے طور پر خود کو پیش کر رہا ہے۔ پاکستان کی اس غیر جانبدارانہ‘ امن پسندانہ اور مدبرانہ حکمت عملی کے باعث تمام متحارب فریق اس سخت بحران کے دوران ہمیں ایک قابلِ اعتماد سفارتی مرکز اور حقیقی امن کے داعی کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ اگر ایران‘ امریکہ اور خلیجی ریاستیں بھی اس اندازِ فکر اور سفارتی بصیرت کو اپنائیں تو مشرقِ وسطیٰ کو تباہی سے بچایا جا سکتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/222_48272610.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>گرفتاری اور ہلاکو خان(حافظ محمد ادریس)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/hafiz-muhammad-idreess/2026-07-21/52338/87707358</link><pubDate>Tue, 21 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/hafiz-muhammad-idreess/2026-07-21/52338/87707358</guid><description>وی سی صاحب کی پولیس کے ساتھ طویل ملاقاتوں اور جامعہ میں پولیس اہلکاروں کو دیکھ کر کسی قدر اندازہ ہو گیا تھا کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔ وہاں سے نکل کر باہر ایک جگہ سے فون کر کے امیر جماعت اسلامی لاہور چودھری غلام جیلانی صاحب اور ناظم دفتر‘ سعید مغل صاحب کو بلوایا۔ جماعت اسلامی کا دفتر نیلا گنبد میں قریب ہی تھا۔ دونوں حضرات تھوڑی دیر میں پہنچ گئے۔ ساری صورتحال ان کے سامنے رکھی گئی اور مشاورت کے بعد فیصلہ ہوا کہ ہاسٹل میں جانے کے بجائے رات سعید مغل صاحب کے گھر شاہدرہ میں گزاری جائے اور زاہد بخاری اور نسیم انصاری کے سوا کسی کو پتا نہ ہو کہ میں کہاں ہوں ۔ یہ بات بالکل واضح اور طے شدہ تھی کہ اگلے دن ارکانِ جمعیت پریس کا نفرنس کریں گے اور مجھے اطلاع دی جائے گی۔ ہم چاروں ایک ٹیکسی میں بیٹھ کر شاہدرہ چلے گئے۔ سعید مغل صاحب کے ہاں پہنچ کر زاہد اور نسیم کو واپس بھیج دیا کہ دوستوں کو صرف اتنا بتا دیں کہ میں ایک محفوظ مقام پر ہوں اور یہ کہ میں کل ان کی آمد کا منتظر رہوں گا۔اگلے روز صبح ناشتے کے بعد مغل صاحب مجھے سیر کیلئے اپنے ساتھ لے کر کھیتوں اور قریب کے دیہاتی علاقے میں چلے گئے۔ گندم کے ہرے بھرے کھیت‘ کئی جگہوں پر سرسوں کے پھولوں کی بہار‘ کہیں کہیں گنے کی خوبصورت فصل‘ مال مویشیوں کے چارے برسیم‘ لوسن وغیرہ کی کٹائی میں لگے ہوئے کسان‘ ہر منظر میرے لیے خوش کن تھا۔ ظہر کے بعد ہم گھر واپس لوٹے تو پتا چلا کہ شہر سے ابھی تک کوئی قاصد نہیں آیا جس کا مجھے شدت سے انتظار تھا۔ میں نے مغل صاحب سے کہا بھی کہ ہم خود ہی شہر چلیں مگر انہوں نے مزید کچھ دیر انتظار کا مشورہ دیا۔ اسی انتظار میں رات ہو گئی۔ نماز عشا اور کھانے کے بعد دیر تک میں مختلف کتب کی ورق گردانی کرتا رہا اور تقریباً بارہ ساڑھے بارہ بجے سو گیا۔ اس روز کے اخبارات میں ہمارے خلاف وہ ساری سچی جھوٹی باتیں چھپی تھیں جن کی بنیاد پر ہم گردن زدنی ٹھہرے۔ میں سوچ رہا تھا کہ پریس کے لیے اپنا بیان کن لائنوں اور نکات پر مرتب کروں۔ بستر پر لیٹتے ہی میں گہری نیند سو گیا۔ سوتے میں بھی میں اخباری نمائندوں سے ہی مخاطب اور ان کے مختلف سوالوں کے جواب دے رہا تھا۔ آنکھ لگے ابھی کچھ ہی دیر ہوئی تھی کہ دروازے پر دستک ہوئی۔ ٹائم دیکھا تو ایک بج رہا تھا۔ میں بیٹھک میں سو رہا تھا جو بیرونی دروازے کے بالکل ساتھ تھی۔ مغل صاحب مکان کے اندرونی حصے میں اپنے اہل وعیال کے ساتھ آرام کر رہے تھے۔ لائٹ جلا کر میں نے پوچھا: کون؟ زاہد بخاری کی آواز آئی: ہم ہیں۔ میں نے دروازہ کھولا تو نسیم اور زاہد کھڑے تھے اور ذرا فاصلے پر گلی میں پولیس کے کچھ آدمی نظر آ رہے تھے۔ میں نے انہیں کہا: تم لوگ گرفتار تو نہیں ہو گئے؟ کہنے لگے: آپ کے ایک رشتہ دار پولیس افسر اور حلقہ احباب کے ایک ساتھی (پروفیسر عثمان غنی مرحوم) باہر سڑک پر کھڑے ہیں۔ میں فوری تیار ہو گیا۔ میرے عزیز بزرگوارم پولیس انسپکٹر چودھری محمد صدیق سب سے پہلے مجھ سے ملے۔ مجھے معلوم تھا کہ میں گرفتار ہو گیا ہوں۔ صدیق صاحب اُن دنوں چوہنگ یا کاہنہ تھانہ میں تھے۔ ان کا تعلق ہمارے گائوں اور برداری سے تھا۔ میں نے زاہد اور نسیم سے سرزنش کے انداز میں کہا: آپ لوگوں نے پروگرام اور فیصلے کے خلاف کام کیا اور ساری سکیم دریا برد کر دی۔ مجھے گرفتاری کی کوئی پروا نہیں مگر اب مخالفانہ پروپیگنڈے اور جھوٹی خبروں کا جواب کون دے گا؟ انہوں نے معذرت کے انداز میں کہا کہ تفصیلی بات بعد میں کریں گے۔ یوں تو کوئی بھی ساتھی پریس کانفرنس میں سوالوں کے جواب دے سکتا تھا مگر چونکہ میں نہیں چاہتا تھا کہ دوسرے ساتھی بھی مصیبت میں پھنسیں‘ اس لیے پریس کانفرنس میں خود ہی کرنا چاہتا تھا۔ ایک تو میں منتخب صدر یونین اور جمعیت کا ناظم تھا۔ دوسرا اس رات میری موجودگی تو سب کو معلوم تھی‘ باقی لوگوں کا کسی کو علم نہ تھا۔ اب یہ ساری منصوبہ بندی قصۂ پارینہ بن گئی۔ حقیقت یہی ہے کہ تدبیر کند بندہ، تقدیر زند خندہ! پولیس کی تین گاڑیاں گلی میں کھڑی تھیں۔ ایک میں پروفیسر عثمان غنی‘ زاہد بخاری اور کچھ پولیس والے بیٹھ گئے‘ دوسری گاڑی میں نسیم انصاری‘ چودھری صدیق صاحب اور میں‘ تیسری میں باقی سب پولیس والے بیٹھ گئے۔ شاہدرہ سے ہم سول لائنز تھانے لائے گئے۔ وہاں لکھت پڑھت کی سرکاری کارروائی کے بعد مجھے ایک حوالاتی کمرے میں لے جایا گیا‘ جس میں مجھ سے قبل وہاں تین یا چار طالبعلم بلاوجہ بند تھے ۔ایک فاروق خان تھے‘ دوسرے اجمل ملک اور باقی کا کچھ یاد نہیں۔ یہ طلبہ ہمارے سپورٹر اور میرے ذاتی دوست تھے۔ ہمیں وہاں چھوڑ کر باقی افراد گھروں کو چلے گئے۔ ان طلبہ کی گھبراہٹ دیکھ کر میں نے انہیں تسلی دی کہ وہ کوئی فکر نہ کریں &#39;&#39;اصل مجرم‘‘ آ گیا ہے۔ مجھ سے مل کر ان کو خاصا حوصلہ ہوا۔تھانہ سول لائنز کے انچارج ڈی ایس پی محمد اصغر خاں نوانی تھے جو اُن دنوں &#39;&#39;ہلا کو خان‘‘ کے نام سے مشہور (یا بدنام) تھے۔ لوگوں کو ان سے بڑی شکایات تھیں اور ان کی داستان ہائے ستم زبان زد عام تھیں۔ اسی کی وجہ سے ان کو ہلاکو خاں کہا جاتا تھا۔ یہاں یہ بات میں ریکارڈ پر لانا چاہتا ہوں کہ باقی لوگوں سے اصغر خان صاحب کا سلوک معلوم نہیں کس قسم کا رہا ہو گا جہاں تک میرا معاملہ ہے انہوں نے میرے ساتھ نہایت شریفانہ برتاؤ کیا۔ حوالات کے چند ایام کے دوران وہ بڑی عزت سے پیش آتے رہے اور تین چار دن کے قیام میں ان سے اس قدر دوستانہ مراسم قائم ہو گئے کہ اپنے دفتر میں بلا کر دیر تک مجھ سے باتیں کرتے رہتے۔ یہاں تک کہ کبھی کبھار اپنے بچوں اور گھریلو معاملات کے بارے میں صلاح مشورے بھی کرتے۔ بھکر میں ان کا آبائی گھر اور اچھی خاصی وراثتی زرعی زمین تھی۔ زرعی امور کے بارے میں بھی گفتگو ہوتی رہتی۔ میں بھی اپنے خاندانی پس منظر اور زراعت سے وابستگی کا تذکرہ کرتا تو کئی سوال پوچھتے۔ اصغر نوانی صاحب کبھی تھانے کی کینٹین یا میس کے بجائے اپنے گھر سے خصوصی طور پر چائے منگواتے اور پھر اصرار کر کے پلاتے۔ میں حیران تھا کہ جس پولیس افسر کے بارے میں لوگوں کو ازحد شکایات ہیں وہ اس قدر شریف النفس اور اتنا اچھا آدمی ہے۔ چند ہی دنوں میں ایک &#39;&#39;ملزم‘‘ سے یوں بے تکلفی بڑے تعجب کی بات تھی۔ برسبیل تذکرہ موصوف ریٹائرمنٹ کے بعد اپنی خاندانی روایات کے مطابق سیاسی میدان میں داخل ہوئے تو بھکر سے ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ اس علاقے سے ہمیشہ نوانی خاندان کے افراد ہی کامیاب ہوتے رہے ہیں۔ اس وقت تک پرانی گپ شپ کو کافی عرصہ بیت چکا تھا۔ میں کئی سال بیرونِ ملک رہنے کے بعد پاکستان آیا اور جماعت اسلامی کے مرکز میں ذمہ داری ادا کر رہا تھا تو ایک بار وہ محترم قاضی حسین احمد صاحب سے ملنے کیلئے منصورہ آئے تھے۔ ایک مرتبہ اور کسی محفل میں ملاقات ہوئی تھی۔ پرانی باتیں ان کو بھی خوب یاد تھیں اور مجھے بھی! قاضی حسین احمد صاحب کو اس دور کے واقعات خان صاحب نے سنائے تو قاضی صاحب بھی بہت خوش ہوئے۔ اللہ مرحومین کی مغفرت فرمائے۔میری گرفتاری کے اگلے ہی روز مزید کئی طلبہ گرفتار ہو کر تھانہ سول لائنز میں آنے لگے۔ جہانگیر بدر اور ان کے ساتھی بھی گرفتار ہو کر آ چکے تھے۔ وہ کسی دوسرے حوالاتی کمرے میں بند تھے۔ ہمارے ساتھیوں میں سے حفیظ خان‘ افتخار فیروز‘ تنویر تابش اور جمعیت کے اکثرار کان گرفتار ہو کر آگئے ۔ ہمیں ایک بڑے ہال نما کمرے میں منتقل کر دیا گیا۔ اب تو یہاں مستقل طور پر ایک محفل سی لگ گئی تھی۔ نمازیں‘ تلاوتِ قرآن‘ درس و تدریس‘ شعر وشاعری‘ لطیفے‘ چٹکلے‘ ملاقاتیوں کا ہجوم‘ تحفے تحائف‘ غرض عجیب سماں تھا۔ </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_24721193.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>