<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>دہشت گردی کا عفریت(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-13/11187</link><pubDate>Wed, 13 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-13/11187</guid><description>منگل کے روز خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت کے علاقے سرائے نورنگ بازار میں ریلوے پھاٹک کے قریب ہونے والا دھماکہ محض ایک واقعہ نہیں بلکہ اس بات کا انتباہ ہے کہ دہشت گردی کا عفریت دوبارہ سر اٹھارہا ہے۔ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران خیبر پختونخوا بالخصوص اس کے جنوبی علاقوں میں دہشت گردی اور سکیورٹی فورسز پر حملوں کے واقعات تشویش ناک ہیں۔ دہشت گردی کے ان واقعات سے یہ بھی واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے کہ اب بازاروں‘ چوراہوں اور عوامی اجتماعات جیسے آسان اہداف کو ٹارگٹ کیا جا رہا تاکہ شہریوں کو خوفزدہ کیا جا سکے۔ یہ واقعات دو دہائی قبل کے حالات کی یاد دلاتے ہیں جب پاکستان دہشت گردی کے سنگین چیلنج سے نبرد آزما تھا اور بم دھماکے روز کا معمول بن چکے تھے۔ دس ہزار سے زائد سکیورٹی اہلکاروں اور ستر ہزار سے زائد شہریوں کی شہادت‘ اربوں ڈالر کے نقصانات اور ایک دہائی کی جدوجہد کے بعد ریاستی ادارے اس مسئلے پر قابو پانے میں کامیاب ہوئے تھے۔ 2015-16ء کے بعد سے ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی آنا شروع ہو گئی‘ تاہم اگست 2021ء میں افغانستان میں طالبان کے برسر اقتدار آنے اور علاقائی شدت پسند تنظیموں کو وہاں محفوظ پناہ گاہیں میسر آنے کے بعد دہشت گردی کا دوبارہ آغاز ہو گیا۔

2021ء کی دوسری ششماہی سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ 2025ء میں اپنے عروج پر پہنچ گیا جب اس سال کو گزشتہ ڈیڑھ دہائی کا خونیں ترین سال قرار دیا گیا‘ جس میں دہشت گردی کے واقعات میں سالانہ بنیادوں پر 73 فیصد کا ہولناک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ پاکستان کی جانب سے بارہا اس مسئلے کو افغان عبوری انتظامیہ کے ساتھ اٹھایا گیا اور اس حوالے سے مصدقہ شواہد بھی فراہم کیے گئے کہ سرحد کے اُس پار موجود تنظیمیں پاکستان میں دہشت گردی کر رہیں مگر کابل انتظامیہ کا کردار اس تمام صورتحال میں نہایت منفی رہا۔ 2020ء کے دوحہ معاہدے میں افغان طالبان نے یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ افغان سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی کیلئے استعمال نہیں ہو گی‘ لیکن زمینی صورتحال اس کے برعکس نکلی۔ کالعدم ٹی ٹی پی‘ داعش اور دیگر گروہوں کو سرحد پار جو سہولت کاری میسر ہے وہی پاکستان میں دہشت گردی کا سب سے بڑا سبب ہے۔ افغان عبوری حکومت کے لیت ولعل نے دہشت گردوں کو حوصلہ دیا کہ وہ پاکستان میں کارروائیاں کر کے بہ آسانی سرحد پار روپوش ہو جائیں۔ دوسری جانب سیاسی محاذ پر بھی اس حساس مسئلے کو غیر سنجیدگی کا سامنا رہا‘ جس سے دہشت گردوں کو فائدہ اٹھانے کا موقع ملا‘ تاہم رواں سال فروری میں پشاور میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں وفاق‘ صوبائی حکومت اور سکیورٹی اداروں نے دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے مشترکہ حکمتِ عملی پر اتفاق کیا۔
اسی ماہ آپریشن غضب للحق کا آغاز کیا گیا‘ جس کے تحت سرحد پار دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا جس سے گزشتہ دو مہینوں کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی آئی۔ اب عوامی مقامات پر دہشت گردی کے واقعات یہ ظاہر کر رہے کہ شکست خوردہ دہشت گرد بوکھلاہٹ کا شکار ہیں اور شہریوں کو نشانہ بنا کر اپنی موجودگی کا احساس دلانا چاہتے ہیں۔ پاکستان نے امن کے قیام کیلئے لاکھوں جانوں کا نذرانہ اور اربوں ڈالر کا معاشی نقصان برداشت کیا ہے۔ خیبر سے کراچی تک‘ لہو سے سینچی اس دھرتی پر دہشت گردی کو کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔ انسانی بستیوں کو مقتل بنانے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ اگر کابل انتظامیہ اپنی روش نہیں بدلتی تو پاکستان کو آپریشن غضب للحق کے تسلسل سمیت اپنے حقِ دفاع کے تمام حربے اپنانے چاہئیں۔ دہشت گردی کا حقیقی خاتمہ اسی وقت ممکن ہے جب دہشت گردوں کے ساتھ ان کی نرسریوں اور ٹریننگ کیمپوں کا بھی قلع قمع کیا جائے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بجلی سستی ہو گی؟(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-13/11186</link><pubDate>Wed, 13 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-13/11186</guid><description>مہنگی بجلی نے عوام اور معیشت دونوں کو شدید دباؤ میں مبتلا کر رکھا ہے۔ ایسے میں وفاقی وزیر توانائی کا یہ بیان کہ حکومت بجلی کو اتنا سستا کرنے جا رہی ہے کہ لوگ دن میں بیٹریاں چارج کر کے رات کو استعمال کریں گے ‘خوش کن ہے۔ بجلی سستی ہونے کی وجہ یہ بتائی گئی کہ حکومت آئی پی پیز کے کاروبار سے نکل آئی ہے۔مگر عملی صورتحال یہ ہے کہ عوام اب بھی بجلی کے بلوں میں بھاری کپیسٹی پیمنٹس ادا کرنے پر مجبور ہیں۔ منگل کے روز سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کے اجلاس میں نیپرا حکام نے انکشاف کیا کہ حکومت آئی پی پیز کو سالانہ 1800سے 2000 ارب روپے تک کپیسٹی ادائیگیاں کرتی ہے جبکہ تقریباً 1200 ارب روپے کی سبسڈی بھی دی جاتی ہے۔ ملک میں فی یونٹ اوسط ٹیرف 36 روپے ہے جس میں سے 18 روپے صرف کپیسٹی پیمنٹس کی مد میں وصول کیے جاتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار اس بحران کی سنگینی کو واضح کرتے ہیں۔

آئی پی پیز کے ساتھ کیے گئے کئی معاہدے قومی معیشت پر بھاری بوجھ بن چکے ہیں۔ اگرچہ حکومت نے بعض معاہدوں پر نظرثانی کی ہے لیکن اصل ضرورت صرف نئے آئی پی پیز روکنے کی نہیں بلکہ مہنگے اور غیر متوازن معاہدوں کے مکمل خاتمے کی ہے۔ جب تک بجلی کے شعبے سے غیر ضروری مالی بوجھ ختم نہیں ہوگا‘ عوام کو حقیقی ریلیف ملنا مشکل ہے۔ اگر حکومت کپیسٹی چارجز میں کمی کے ساتھ سمارٹ میٹرنگ‘ شفاف بلنگ اور قابلِ تجدید توانائی کو فروغ دے تو بجلی سستی ہو سکتی اور گردشی قرضوں میں بھی کمی لائی جا سکتی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>موسمیاتی تبدیلی اورنقل مکانی(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-13/11185</link><pubDate>Wed, 13 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-13/11185</guid><description>ایک تھنک ٹینک کی رپورٹ کے مطابق ملک کے مختلف حصوں بالخصوص پنجاب میں شدید بارشیں‘ سیلاب‘ خشک سالی‘ ہیٹ ویوز اور دیگر موسمیاتی خطرات لاکھوں افراد کو اپنے آبائی علاقوں سے ہجرت پر مجبور کر رہے ہیں۔ اس اچانک نقل مکانی کے اثرات ملکی معیشت‘ شہری ڈھانچے‘ سماجی استحکام اور انسانی زندگی کے ہر شعبے پر مرتب ہو رہے ہیں۔ گزشتہ برس کے غیر معمولی سیلاب کے نتیجے میں جنوبی پنجاب کے چھ اضلاع سے بے گھر ہونیوالے پانچ لاکھ 23 ہزار سے زائد افراد قریبی شہروں کا رخ کر چکے ہیں‘ جس سے پہلے ہی محدود وسائل کے حامل شہری مراکز پر بوجھ مزید بڑھ رہا ہے۔

متاثرہ افراد اکثر کچی آبادیوں اور غیر محفوظ علاقوں میں رہائش اختیار کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں جہاں نہ بنیادی سہولتیں موجود ہوتی ہیں اور نہ ہی باعزت روزگار کے مواقع۔ اگر موسمیاتی نقل مکانی کو فوری طور پر قومی پالیسی کا حصہ نہ بنایا گیا تو یہ بحران مزید خطرناک صورت اختیار کر سکتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو محض ہنگامی امداد تک محدود رکھنے کے بجائے طویل مدتی حکمت عملی اختیار کرے۔ متاثرین کو وقتی امداد کے بعد بے یار و مددگار چھوڑنے کے بجائے رہائش‘ صحت‘ تعلیم‘ روزگار اور سماجی تحفظ کی سہولتوں کیساتھ نئے مقامات پر آباد کیا جانا چاہیے تاکہ وہ شہری استحصال اور غربت کے نئے دائرے میں داخل نہ ہوں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>اس ہر دلعزیزی سے حاصل کیا ہونا ہے(ایاز امیر)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-05-13/51936/63046042</link><pubDate>Wed, 13 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-05-13/51936/63046042</guid><description>ہماری خاصیت رہی ہے معمولی باتوں پر اِترا جانا۔ ہمارا پروفائل اونچا ہو گیا شکر ہے۔ لیکن پٹرول کی ٹینکی میں تو پروفائل جاتا نہیں۔ تیل کی قیمتوں نے جینا دوبھر کر دیا ہے‘ ہم پٹرول کو رو رہے ہیں‘ کسان بے چارہ ٹریکٹر اور ڈیزل کا کون سا نوحہ پڑھے؟ فی الحال تو امریکہ دوستی اور جواہرِسہولت کاری پہ ناز کیا جا رہا ہے لیکن اس سے آگے بھی سوچنا ہے یا نہیں؟برادر عرب ممالک جو نہ ختم ہونے والے خزانو ں پر بیٹھے تھے اُن کے حالات بدل گئے ہیں۔ یو اے ای کے تیور دیکھے جائیں۔ یہ ملک چلے تھے دنیا کو بدلنے‘ چند ہفتوں کی جھڑپوں کی تاب نہ لا سکے۔ بولنے کا انداز بدل گیا ۔ جنگ سے پیدا شدہ حالات نے رویوں میں کچھ عاجزی بھی پیدا کر دی ہے۔ جب وہ نہ بدلنے والے بدل گئے تو ہمارے حالات پر کچھ اثر نہ پڑے گا؟ اُن کے قارون کے خزانے تو پھر بھی قائم ہیں‘ یہاں ہمیشہ کی استدعا اور طلب ہی ہے۔ سفارتی اثر و رسوخ پر ناز کتنا کیا جا سکتا ہے؟ تیل کی کمی تو اس سے پوری نہیں ہو رہی۔ اتنا ذہن میں رہے کہ سہولت کار ضرور ہیں حالات پر اثرانداز نہیں ہو سکتے۔ ایران نے امریکی مطالبات کے سامنے لچک دکھانی ہوتی‘ یعنی سرنڈر کرنا ہوتا تو کب کا کر دیا ہوتا۔ جہاں تک امریکہ کا تعلق ہے وہ عقل اور شعور سے بے نیاز‘ ہماری کہاں سنی جانی ہے۔ نہ ہی زور دے کر کہہ سکتے ہیں کہ ہٹ دھرمی اور بیوقوفی میں کچھ کمی لائی جائے۔حالات یہاں کے جوں کے توں نہیں‘ ہر گزرتے دن خراب ہو رہے ہیں۔ تیل کی قیمتوں کا بوجھ معیشت اُٹھا نہ سکے گی۔ امریکہ ایران کے معاملات سنبھل تو نہیں رہے اور مزید ایسے رہتے ہیں تو تیل کی قیمتیں مزید اوپر نہ بھی گئیں تو بدستور یہی رہیں گی۔ بوجھ کس پر پڑنا ہے؟ لے دے کر اس ملک کے باسیوں پر۔حکومتی عیاشیوں میں تو کمی نہ آئے گی‘ نہ امیر طبقات کی فضول خرچیوں میں۔ محدود وسائل والے مزید مارے جائیں گے۔ سوال اتنا ضرور بنتا ہے کہ حدِ برداشت کیا ہے؟ گدھا بھی ایک حدتک ہانکا جا سکتا ہے۔ بیچارے عوام کتنا بوجھ برداشت کر سکتے ہیں۔سہولت کاری کی داد وصول کرنا اپنی جگہ لیکن مملکت کے بنیادی مسائل جہاں تھے وہیں موجود ہیں۔ معیشت تو ایک طرف رہی‘ صوبہ خیبر پختونخوا اور صوبہ بلوچستان کی سکیورٹی صورتحال میں کوئی بہتری آئی ہے؟ ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے حملے تھم نہیں سکے۔ اگرچہ خبریں اتنی نہیں‘ جس سے تاثر مل سکتا ہے کہ حالات بہتر ہیں‘ لیکن جیسا کہ ہم جانتے ہیں ایسا ہے نہیں ۔ بنوں اور لکی مروت کے حملے کوئی چھوٹے حملے نہیں تھے۔ کتنی ہی اموات ہوئیں‘ لیکن ملاحظہ ہو کہ ہماری طرف سے افغانستان پر کوئی ہوائی حملہ نہیں ہوا۔ حملوں سے بات بننی تھی تو اب تک ایران قائلِ شکست نہ ہو جاتا؟ امریکہ نے ایران کے خلاف سارے تیر چلا دیے اور اہداف حاصل نہیں ہوئے۔ ہمارے پاس تین آپشن تھے۔ یہاں مقیم افغانوں کی جبراً واپسی‘ بارڈر اور تجارت کی بندش اور فضائی حملے۔ تینوں آپشن بروئے کار لائے گئے لیکن سکیورٹی صورتحال میں کتنی بہتری آئی؟ یہ بھی دیکھا جائے افغان ناظم الامور کو دفتر خارجہ بلا کر جو احتجاج اور انتباہ کیا گیا اُس کا لہجہ بدلا سا لگتا ہے۔ کہا گیا کہ حکامِ طالبان سے روابط کیے گئے لیکن اُن کی طرف سے مثبت ردِعمل نہ آیا۔ اس لہجے میں اور حملوں میں خاصا فرق ہے۔موسمِ بہار ہو اور پتنگ کی اڑان تو بہت اچھی لگتی ہے۔ لیکن پتنگ کا کمال اتنا ہی ہوتا ہے‘ کٹ جاتی ہے یا ڈور کھینچنے والی انگلیاں تھک جاتی ہیں۔ پھر آسمان خالی ہو جاتا ہے۔ہمارے کردار کے چرچے ہوئے‘ داد دی اور وصول کی گئی۔ بڑی بھلی چیزیں ہیں اور اچھی لگتی ہیں۔ لیکن اس کا جشن کہاں تک منایا جائے‘ اور اس سے حاصل کیا ہونا ہے؟ کچھ سستا تیل ہی مل جاتا۔ کچھ ہمت کی ہوتی ‘ ایران بارڈر پر تیل کی ترسیل کا انتظام ہو جاتا۔ بھلے امریکہ کی ناراضی مول لینی پڑتی۔داد و تحسین اپنی جگہ مگر تیل کی قیمتوں سے اس قوم کا حشر ۔ جہاں تک ستائش کا تعلق ہے‘ جب سے ایران جنگ کی وجہ سے صدر ٹرمپ کا قد کاٹھ کم ہوا ہے اور اُن کی بات میں وہ گرج نہیں رہی تو اُن کے لفظوں میں وہ چاشنی بھی نہیں رہی۔ حالت اب یہ ہے کہ اُن کی بہت سی باتیں اب مذاق کے زمرے میں لی جانے لگی ہیں۔ اُن کے کئی جملے امریکی سوشل میڈیا میں مذاق کا درجہ حاصل کر چکے ہیں۔بہرحال اپنے بنیادی تضادات پر نظر رہے۔ معاشی زبوں حالی کے ساتھ یہ صورتحال بھی سامنے رہے کہ سوائے چین کے پاکستان کے تمام بارڈر بند ہیں۔ مغربی بارڈر بند‘ مشرقی بارڈر بند اور جنگ کی وجہ سے ایران بارڈر پر بھی واجبی آمدورفت۔ حالات جتنے کشیدہ ہوں تجارت کے دروازے کھلے رہنے چاہئیں۔ چین اور بھارت کے درمیان بارڈر پر جھڑپیں بھی ہوں تو تجارت جاری رہتی ہے‘ دیگر تعلقات بھی بحال رہتے ہیں۔ یہاں تناؤ کے پہلے اثرات نمایاں ہوں تو تجارت کی بندش پہلا ردِعمل ہوتا ہے۔ یعنی دشمن کو جونقصان پہنچتا ہے اُس کا پتا نہیں لیکن اپنا نقصان ضرور کر لیتے ہیں۔ پچھلے سال معرکۂ حق ہو ا۔ ہمارے ہوا بازوں کی کارکردگی بہت اچھی رہی۔ اتنا ہی کافی نہیں؟کیا ہر رابطے کو ختم کرنا ضروری ہے؟ اس سے کیا حاصل ہو گا؟ کون سا ہدف ہے جو ایسے اقدامات سے حاصل کرنا مقصود ہے؟ بھلے معرکۂ حق ہوا ‘ بھلے نریندر مودی اور اُن کی جماعت کی جو بھی پالیسیاں ہوں‘ اسلام آباد اور دلی میں ایک دوسرے کے سفیر متعین ہونے چاہئیں اور تجارت کے راستے کھلنے چاہئیں۔ بیشک دشمنی دلوں میں رکھی جائے لیکن سمجھ رکھنے والے معمول کے تعلقات پر خواہ مخواہ کی کلہاڑی نہیں چلاتے۔دفاعی صلاحیت مقدم ہے‘ اس پر کوئی سمجھوتا نہیں ہو سکتا۔ لیکن یہ کہاں کی حکمتِ عملی ہے کہ خام تیل کو صاف کرنے کی صلاحیت سے بے خبری روا رکھی جائے؟ ہندوستان بھی خام تیل امپورٹ کرتا ہے لیکن اُس کی ریفائننگ کپیسٹی تو دیکھی جائے۔ ہم اس بارے میں غافل کیوں؟ اب پتا چلا کہ اس صلاحیت سے محروم رہنے سے سالانہ ایک بلین ڈالر کی ڈَز مملکت کو لگ رہی ہے۔ جشنِ فتح کی ضرورت سے انکار نہیں لیکن آگے سوچنے کی بھی ضرورت ہے۔گزارش یہ کہ حالات مشکل ہو رہے ہیں اور مزید خراب ہونے کا اندیشہ ہے۔ معاشی اور سکیورٹی مسائل تو ہیں ہی سیاسی اُفق پر بھی تناؤ کی ایک بے جا کیفیت ہے۔ہمارے ہاں میں ہر معاملے پرپُلسیا ذہنیت کا چھا جانا سوچ کا ایک زاویہ ہے۔ مخالف آواز اُٹھے تو اُٹھانے والے کو دھر لیا جائے۔ ہر ناپسندیدہ روش کا ایک ہی علاج‘ زور زبردستی والا۔ہماری سفارتی کامیابیوں کے جواہر زیادہ اچھے لگیں اگر اندرونِ ملک بھی پیامِ رسانی اور سفارت کاری کی نوید ملے۔ </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_80573045.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ہمارے بعد قیامت ہے(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-05-13/51937/50359732</link><pubDate>Wed, 13 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-05-13/51937/50359732</guid><description>پاکستانی پارلیمنٹ ایک نہایت دلچسپ جگہ ہے۔ گزشتہ 24برسوں سے وہاں آنا جانا ہے اور اس دوران خود کو بھگوان سمجھنے والوں کے عروج و زوال اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سب بڑے لوگ انہی حرکتوں کے باعث زوال کا شکار ہوتے رہے جو اُن سے پہلے والے کرتے آئے تھے۔ انسان ہمیشہ حیران رہتا ہے کہ لوگ دوسروں کی غلطیوں سے کیوں نہیں سیکھتے۔ جو وجہ مجھے سمجھ آئی‘ وہ یہ ہے کہ ہر انسان خود کو دوسروں سے مختلف اور بہتر سمجھتا ہے۔ وہ خود کو ذہین اور باقیوں کو بیوقوف تصور کرتا ہے۔ اس کا خیال ہوتا ہے کہ اس سے پہلے والا شخص احمق تھا‘ وہ حالات یا لوگوں کو درست انداز میں ہینڈل نہ کرسکا لیکن میں بہت سمجھدار ہوں اور وہ غلطیاں کبھی نہیں کروں گا جو میرے سے پہلے اس منصب پر بیٹھنے والے کرتے رہے۔ مگر انجام پھر بھی وہی نکلتا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ اس کی ایک بڑی وجہ طاقت ہے۔ جب طاقت آپ کے ہاتھ میں آتی ہے اور سب کچھ آپ کے اشارۂ ابرو پر ہونے لگتا ہے اور حواری یہ احساس دلانا شروع کر دیتے ہیں کہ &#39;&#39;اپُن ہی بھگوان ہے‘‘ تو پھر انسان احتیاط کا دامن چھوڑ دیتا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ نہ کبھی اس پر زوال آئے گا اور نہ ہی وہ کوئی غلطی کرے گا۔ 2012ء میں بھارتی فلمی سپر سٹار راجیش کھنہ کی وفات ہوئی تو ایک بھارتی ٹی وی پروگرام میں ان کے ایک دوست کو یہ کہتے سنا کہ جب راجیش کھنہ اپنے عروج پر تھے تو انہیں یقین تھا کہ نہ وہ کبھی بوڑھے ہوں گے اور نہ ہی ان کا زوال آئے گا۔ لیکن پھر ان کی تنہائی اور ڈپریشن ان کی موت کا سبب بنے کیونکہ وہ سپر سٹار جس کے گرد کبھی دنیا گھومتی تھی‘ آخر میں ایسا شخص بن گیا جس سے ملنے کوئی نہیں جاتا تھا۔اسی طرح جب بل کلنٹن اور مونیکا لیونسکی کا سکینڈل سامنے آیا تو ایک میگزین نے یہ خصوصی رپورٹ شائع کی تھی کہ آخر بڑے اور کامیاب لوگ ہی سکینڈلز کا شکار کیوں ہوتے ہیں۔ رپورٹ میں مختلف سکینڈلز کا جائزہ لینے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ طاقتور اور کامیاب لوگ آہستہ آہستہ احتیاط ترک کر دیتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ چونکہ وہ اب تک کامیاب رہے ہیں اس لیے ہمیشہ ایسے ہی رہیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ان خطرات کو نظر انداز کرتے جاتے ہیں جو واضح اشاروں کی صورت سامنے موجود ہوتے ہیں۔ یہی کچھ بل کلنٹن کے ساتھ ہوا۔ وائٹ ہاؤس میں بیٹھا ہوا شخص خود کو اس قدر طاقتور سمجھنے لگا کہ اس نے کبھی نہ سوچا کہ ایک 22سالہ لڑکی کے ساتھ دوستی اس کیلئے کس قدر خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔یہی سب کچھ میں نے پارلیمنٹ میں بھی ہوتے دیکھا ہے۔ یہاں بھی سیاسی احتیاط‘ جس کا تقاضا آپ کا عہدہ آپ سے کرتا ہے‘ پوری نہیں کی جاتی کیونکہ لوگ سمجھتے ہیں کہ اب وہ کامیاب ہو چکے ہیں۔ ایک کامیاب شخص کے اندر اپنی شان و شوکت کا غرور اور تکبر پیدا ہو جاتا ہے۔ 2002ء کے بعد تقریباً ہر وزیراعظم سے میری ملاقات رہی ہے ان میں سے کسی ایک سے مل کر بھی کبھی یہ احساس نہیں ہوا کہ انہیں اندازہ ہے کہ یہ سب وقتی ہے اور ایک دن اچانک ان کے نیچے سے اقتدار کا قالین کھینچ لیا جائے گا۔ انہیں ہمیشہ یہی محسوس ہوا کہ وہ عمر بھر اسی کرسی پر رہیں گے۔ اسی لیے ان کے پاس کبھی &#39;پلان بی‘ نہیں ہوتا اور پھر ایک طویل جنگ شروع ہوتی ہے جو کسی کو پھانسی‘ کسی کو جیل اور کسی کو جلاوطنی تک لے جاتی ہے۔ذوالفقار علی بھٹو نے کب سوچا ہو گا کہ ان جیسے طاقتور شخص کو بھی پھانسی دی جا سکتی ہے؟ بھٹو صاحب کو چھوڑیں‘ شاید کوئی پاکستانی بھی یہ ماننے کو تیار نہ تھا۔ روایت ہے کہ اسی حیرت کے عالم میں بھٹو صاحب نے اپنے جلاد تارا مسیح سے وہ تاریخی جملہ کہا تھا: &#39;&#39;Finish it‘‘۔ نواز شریف کو دیکھ لیں‘ جنہوں نے بطور وزیراعظم چار سو دن بیرونِ ملک دوروں میں گزارے‘ وہ بھی اقتدار سے برطرفی کے بعد حیرت سے پوچھتے تھے: &#39;&#39;مجھے کیوں نکالا؟‘‘ شاید اُن کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ایک جمہوری ملک میں عدالت کسی مرحلے پر انہیں گھر بھیج سکتی ہے۔ وہ ایک طویل منصوبہ بندی کے ساتھ آگے بڑھ رہے تھے۔ بالکل یہی کچھ عمران خان کے ساتھ بھی ہوا۔ ان کے وزرا فیض حمید کی وجہ سے اس قدر پُراعتماد تھے کہ ٹی وی شوز میں کہتے تھے کہ &#39;&#39;اپنا تو اب یہاں دس سال رہنے کا پلان ہے‘‘۔ ان کی پوری حکمت عملی یہ تھی کہ نومبر 2022ء میں فیض حمید آرمی چیف بنیں گے‘ آصف غفور ڈی جی آئی ایس آئی ہوں گے پھر الیکشن سے پہلے شہباز شریف کو سولہ ارب روپے کی منی لانڈرنگ کیس میں سزا ہو گی‘ نواز شریف پہلے ہی ملک سے باہر تھے لہٰذا 2023ء کا الیکشن آسانی سے جیت کر دوبارہ حکومت قائم کرلی جائے گی۔ دورۂ ماسکو سے واپس آنے والے صحافی ہمیں بتایا کرتے تھے کہ فیض حمید پاکستان کا نیا پوتن ہے۔ میں حیرانی سے ان کی باتیں سنتا تھا اور سوچتا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کو اپنے اقتدار پر کس قدر اعتماد ہے کہ وہ اتنی طویل منصوبہ بندی کیے بیٹھے ہیں۔مجھے یاد ہے کہ 2022ء کے ابتدائی دنوں میں ایک ٹی وی شو میں اُس وقت کے وفاقی وزیر علی زیدی نے مجھ سے کہا تھا &#39;&#39;آپ بیشک ہمارے خلاف سکینڈلز فائل کرتے رہیں ہم 2028ء تک یہاں ہیں‘‘۔ یعنی ان کو یقین تھا کہ وہ 2023ء کا الیکشن جیت کر دوبارہ حکومت بنائیں گے۔ پھر کچھ عرصہ بعد بات 2035ء تک پہنچ گئی۔ اور پھر وہی عمران خان سڑکوں پر کھڑے پوچھ رہے تھے کہ ملک تو بہت اچھا چل رہا تھا‘ پھر مجھے کیوں نکالا؟ عمران خان کو بھی یہی لگتا تھا کہ ان سے پہلے جتنے وزرائے اعظم آئے اور اپنا وقت پورا نہ کر سکے‘ وہ اتنے ذہین نہ تھے جتنے وہ خود ہیں‘ یا ان کے پاس ویسی طاقت نہیں تھی جیسی ان کے پاس ہے۔ وزیراعظم بننے کے بعد عمران خان نے پارلیمنٹ آنا تقریباً چھوڑ دیا تھا۔ پارلیمنٹ اور ارکانِ اسمبلی کو فیض حمید کا ایک ماتحت چلاتا تھا‘ جو ارکانِ اسمبلی کو اکٹھا کرکے ایوان میں لاتا اور کہتا کہ فلاں بل پر ووٹ ڈالنا ہے‘ لہٰذا عمران خان کو محسوس ہی نہیں ہوتا تھا کہ انہیں ایوان میں جانے‘ ارکان سے تعلق رکھنے یا پارلیمنٹ کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔اب یہی سوچ مجھے شہباز شریف کی دکھائی دیتی ہے‘ جو چھ ماہ سے پارلیمنٹ نہیں گئے۔ عمران خان کو لگتا تھا کہ قمر جاوید باجوہ اور فیض حمید موجود ہیں تو انہیں فکر کی کوئی ضرورت نہیں۔ اب شہباز شریف کی سوچ بھی کچھ ایسی ہی ہو چکی ہے کہ ایک پیج پر ہوتے ہوئے انہیں کسی چیز کی پروا نہیں کرنی چاہیے۔ اسی لیے پیر کے روز پارلیمنٹ میں ایک دلچسپ منظر دیکھنے کو ملا جب ایوان میں نہ وزیراعظم موجود تھے‘ نہ ڈپٹی وزیراعظم‘ نہ وزیرداخلہ‘ نہ وزیر دفاع اور نہ ہی دیگر درجنوں وزرا۔ حتیٰ کہ حکومتی ارکان بھی نہ ہونے کے برابر تھے۔ مولانا فضل الرحمن‘ بیرسٹر گوہر علی اور محمود خان اچکزئی خالی حکومتی نشستوں کو دیکھ کر حیرت سے تقاریر کر رہے تھے۔ کبھی تحریک انصاف پر الزام لگایا جاتا تھا کہ وہ ایوان میں نہیں آتی مگر اب حکومت خود ایوان سے غائب ہے۔ مجھے اس وقت بے اختیار ہنسی آئی جب محمود اچکزئی نے سپیکر سے کہا کہ اگر عمران خان کو علاج کیلئے ہسپتال نہ لے جایا گیا تو وہ ایوان نہیں چلنے دیں گے‘ پھر گلہ نہ کیجیے گا۔ میں نے ایوان پر نظر دوڑائی تو وہاں پہلے ہی حکومت کا کوئی نمائندہ موجود نہ تھا۔ ایوان تو ویسے بھی اپوزیشن ارکان چلا رہے تھے۔ شہباز شریف کے بغیر ایوان ایک سال سے اسی طرح چل رہا ہے جیسے عمران خان کے دور میں چلتا تھا۔ پھر اچکزئی کی اس دھمکی پر ہنسی نہ آئے تو اور کیا آئے؟ سب بڑے لوگ جو خود کو بھگوان سمجھنے لگتے ہیں دراصل خود کو دھوکا دیتے رہتے ہیں کہ وہ ناگزیر ہیں۔ کبھی نواز شریف‘ کبھی عمران خان‘ اور آج کل شہباز شریف خود کو یوں سمجھتے ہیں جیسے کرۂ ارض کے آخری انسان ہوں‘ اور ان کے بعد قیامت ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>تعلیم کے فرسودہ تصور سے آگے(شاہد صدیقی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-siddiqui/2026-05-13/51938/31780957</link><pubDate>Wed, 13 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-siddiqui/2026-05-13/51938/31780957</guid><description>تعلیم کے قدامت پسند تصور کے مطابق علم ایک جامد اور طے شدہ شے ہے جسے ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل کرنا ہی تعلیم کا بنیادی مقصد ہے۔ اس تصور کے پیچھے یہ مفروضہ کارفرما ہے کہ طلبہ ایک خالی تختی یا خالی برتن کی مانند ہوتے ہیں اور استاد کا کام ان خالی ذہنوں پر معلومات نقش کرنا اور انہیں پہلے سے طے شدہ علم سے بھر دینا ہے۔ اس نظریے میں طالبعلم کا کردار نہایت محدود اور غیر فعال ہوتا ہے۔ کلاس روم میں جو معلومات اسے فراہم کی جاتی ہیں وہ انہیں یاد کرکے امتحان میں دہرا دیتا اور اچھے نمبر حاصل کر لیتا ہے۔ اس پورے عمل میں سوال کرنے‘ تنقیدی انداز میں سوچنے یا علم کو اپنی زندگی سے جوڑنے کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی۔ معروف ماہر تعلیم پاؤلو فریرے (Paulo Freire) نے اس تصور کو &#39;&#39;بینکاری طرزِ تعلیم‘‘ قرار دیا۔ ان کے مطابق اس نظام میں استاد Depositor (جمع کرنیوالے) اور طلبہ محض Repositories (ذخیرہ کرنیوالے) بن جاتے ہیں۔ طلبہ کا کام صرف معلومات وصول کرنا‘ انہیں محفوظ رکھنا اور وقت آنے پر دہرا دینا رہ جاتا ہے۔ اس قدامت پسند نظامِ تعلیم میں سکول تین بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ اول یہ کہ وہ معاشرے میں ایسے تصورات اور دقیانوسی خیالات پیدا کرتے ہیں جو طاقتور اور غالب طبقات کے مفادات کے مطابق ہوں۔ دوم‘ ان خیالات کو نئی نسل تک منتقل کرتے ہیں تاکہ وہ معاشرتی ڈھانچے کا حصہ بن جائیں۔ سوم‘ ان تصورات کو جائز اور فطری ثابت کرتے ہیں تاکہ لوگ انہیں بغیر سوال کیے قبول کر لیں۔ ترقی پذیر ممالک کے بیشتر تعلیمی اداروں میں یہی قدامت پسند نظام غالب نظر آتا ہے جہاں امتحانی نظام یادداشت اور رٹے پر مبنی ہوتا ہے۔ چونکہ امتحانات میں صرف معلومات دہرانے کو اہمیت دی جاتی ہے اس لیے تدریسی عمل اسی طرز میں ڈھل جاتا ہے۔ نتیجتاً تعلیم ایک غیر سیاسی‘ غیر متحرک اور محض معلومات کی ترسیل کا عمل بن کر رہ جاتی ہے۔کیا تعلیم واقعی ایک غیر جانبدار اور غیر سیاسی عمل ہے؟ کیا تعلیمی ادارے محض علم کی منتقلی کا کام کرتے ہیں؟ اطالوی مفکر انتونیو گرامچی نے اپنی مشہور کتاب The Prison Notebooks میں اس تصور کو چیلنج کیا ہے۔ گرامچی کے مطابق تعلیم ایک نہایت متحرک‘ سیاسی اور مسلسل بدلنے والا عمل ہے۔ وہ بالادستی کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ معاشرے کے طاقتور طبقات صرف طاقت کے زور پر نہیں بلکہ تعلیمی اداروں‘ ذرائع ابلاغ اور ثقافتی اداروں کے ذریعے بھی اپنی برتری قائم رکھتے ہیں۔ گرامچی کے مطابق تعلیمی ادارے صرف معلومات فراہم نہیں کرتے بلکہ وہ مخصوص شناختیں بھی تشکیل دیتے ہیں۔ ان اداروں کے ذریعے افراد کے سوچنے کے انداز‘ ترجیحات‘ اقدار اور رویوں کو ایک خاص رخ دیا جاتا ہے۔ یوں تعلیم ذہنوں کو تشکیل دینے اور طاقتور طبقات کے مفادات کو برقرار رکھنے کا ایک اہم ذریعہ بن جاتی ہے۔ فرانسیسی مفکر فوکو (Foucault) طاقت‘ بیانیے اور سماجی حقیقت کے درمیان تعلق کو واضح کرتے ہوئے بتاتا ہے کہ طاقتور طبقات مخصوص بیانیے تشکیل دیتے ہیں‘ پھر ان بیانیوں کو جائز اور مقبول بنایا جاتا ہے‘ جس کے نتیجے میں ایک خاص قسم کی سماجی حقیقت وجود میں آتی ہے۔ یہ سماجی حقیقت طاقتور طبقات کے افعال اور مفادات کو درست ثابت کرتی ہے۔ تعلیم کے میدان میں بھی یہی عمل دکھائی دیتا ہے۔ طاقتور گروہ ایسا تعلیمی نظام تشکیل دیتے ہیں جو ان کی اقدار‘ نظریات اور مفادات کو تقویت دے۔ نصاب‘ زبان‘ تدریسی طریقوں اور امتحانی نظام کے ذریعے ایک مخصوص سوچ کو فروغ دیا جاتا ہے جبکہ متبادل خیالات کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔نیل پوسٹ مین اپنے مضمون Politics of Reading میں لکھتا ہے کہ تمام تعلیمی سرگرمیاں دراصل سیاسی نوعیت رکھتی ہیں کیونکہ ان کا مقصد ایک خاص قسم کے انسان پیدا کرنا ہوتا ہے۔ بعض معاشروں میں خواندگی کا مقصد ایسے افراد تیار کرنا ہوتا ہے جو محض احکامات پر عمل کریں‘ سوال نہ اٹھائیں اور طاقتور طبقات کے ایجنڈے کو مضبوط بنائیں۔ اس قسم کے نظام میں تنقیدی سوچ کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی‘ اس لیے اسے فروغ بھی نہیں دیا جاتا۔ تاریخ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ تقریباً تمام سامراجی طاقتوں نے تعلیم کو اپنے تسلط کے ایک مؤثر ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ انہوں نے صرف فوجی طاقت پر انحصار نہیں کیا بلکہ مقبوضہ اقوام کے ذہنوں اور سوچ کو بدلنے کے لیے تعلیمی نظام کو بھی استعمال کیا۔ اس سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ فکری اور بیانیے کا غلبہ بعض اوقات جبر اور طاقت سے زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے۔ ایڈورڈ سعید اپنی معروف کتاب Orientalism میں تفصیل سے بتاتا ہے کہ مغرب نے مشرق کو کس طرح اپنے تعصبات اور مفروضات کی بنیاد پر پیش کیا۔ یہ عمل بیانیے کے ذریعے ہی انجام دیا گیا۔ سامراجی طاقتیں اپنے آپ کو مہذب‘ ترقی یافتہ اور برتر ثابت کرتی رہیں جبکہ مشرقی اقوام کو پسماندہ‘ غیر مہذب اور کمتر قرار دیا گیا۔ اسی &#39;&#39;احساسِ برتری‘‘ نے طاقتور قوموں کو یہ یقین دلایا کہ ان کی زبان‘ ان کا ادب‘ ان کی تہذیب اور ان کا نظامِ تعلیم دوسروں سے بہتر ہے۔ایوان ایلیچ اپنی کتاب Deschooling Society میں رسمی تعلیمی اداروں پر شدید تنقید کرتا ہے۔ اس کے مطابق یہ ادارے انسانوں کو آزاد اور تخلیقی بنانے کے بجائے ایک &#39;&#39;سکول زدہ معاشرہ‘‘ پیدا کرتے ہیں جہاں انسان صرف طے شدہ اصولوں کے مطابق سوچنے کا عادی بن جاتا ہے۔ اس نظام میں تخلیقی اور تنقیدی سوچ کیلئے بہت کم گنجائش باقی رہ جاتی ہے۔اسی طرح مائیکل ایپل اپنی کتاب Curriculum and Ideology میں سکولوں کو معاشرتی عدم مساوات کو برقرار رکھنے والے مراکز قرار دیتا ہے۔ اسکے مطابق تعلیمی ادارے صرف طلبہ کے رویوں کو کنٹرول نہیں کرتے بلکہ وہ &#39;&#39;معنی‘‘ کو بھی کنٹرول کرتے ہیں‘ یعنی وہی طے کرتے ہیں کہ کونسا علم اہم ہے‘ کون سی زبان معتبر ہے‘ کون سی تاریخ پڑھائی جائے گی اور کن آوازوں کو خاموش رکھا جائے گا۔ تنقیدی نظریہ رکھنے والے ماہرینِ تعلیم تعلیم کو ایک زندہ‘ متحرک اور طاقت وسیاست سے جڑا ہوا عمل سمجھتے ہیں۔ اس نقطۂ نظر میں تعلیم کا بنیادی مقصد تبدیلی ہے‘ یہ تبدیلی صرف فرد تک محدود نہیں بلکہ معاشرتی اصلاح سے بھی وابستہ ہے۔ اس تصور میں ترقی کا مطلب صرف معاشی خوشحالی نہیں بلکہ آزادیوں کا فروغ بھی ہے۔معروف ماہر معاشیات اور فلسفی امرتیا سین کے مطابق حقیقی ترقی وہ ہے جو انسان کو سوچنے‘ اظہار کرنے اور انتخاب کرنے کی آزادی فراہم کرے۔ اگر تعلیم انسان کی بنیادی آزادیوں کو فروغ نہیں دیتی تو وہ محض معلومات کی منتقلی بن کر رہ جاتی ہے۔ اس مقصد کے حصول کیلئے ہمیں تعلیم کو ایک ایسی قوت کے طور پر دیکھنا ہوگا جو انسان اور معاشرے‘ دونوں میں مثبت تبدیلی لا سکے۔ اگر ہم واقعی ایسی تعلیم چاہتے ہیں جو فرد اور معاشرے کو بہتر بنا سکے تو ہمیں تدریس کے روایتی اور یکطرفہ انداز سے نکلنا ہو گا۔ ہمیں تنقیدی تدریس یا Critical Pedagogy کی طرف بڑھنا ہو گا۔ اس تصورِ تعلیم میں استاد اور شاگرد دونوں علم کی تشکیل کے عمل میں شریک ہوتے ہیں۔ علم کو زندگی‘ معاشرتی مسائل اور انسانی فلاح سے جوڑا جاتا ہے۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ ہمارا امتحانی اور جائزے کا نظام بھی تبدیل ہو۔ ایسا نظام جو یادداشت کے بجائے تنقیدی سوچ‘ تجزیاتی صلاحیت اور تخلیقی اظہار کی حوصلہ افزائی کرے۔ جب تک امتحانات رٹے اور یادداشت پر مبنی رہیں گے تدریسی عمل میں حقیقی تبدیلی ممکن نہیں۔ ہمیں ایسے تعلیمی نظام کی ضرورت ہے جو صرف معاشرے میں موجود slots کو بھرنے کیلئے افراد تیار نہ کرے بلکہ ایسے باشعور انسان پیدا کرے جو وقت آنے پر معاشرتی ناانصافیوں‘ تعصبات اور فرسودہ روایات کو چیلنج کر سکیں۔ یہی تعلیم کا حقیقی مقصد ہے اور یہی نظام ایک زندہ‘ متحرک اور انسانی معاشرے کی بنیاد بن سکتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_21538475.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>دہشت گردی کے خلاف آپریشن ناگزیر(سلمان غنی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/salman-ghani/2026-05-13/51939/80500823</link><pubDate>Wed, 13 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/salman-ghani/2026-05-13/51939/80500823</guid><description> خیبرپختونخوا کے جنوبی علاقے ایک مرتبہ پھر دہشت گردوں کے نشانے پر ہیں۔ نو مئی کی رات بنوں کی فتح خیل پولیس چوکی پر دہشت گردی کے واقعے میں 15 پولیس اہلکار شہید ہوئے اور گزشتہ روز لکی مروت کے سرائے نورنگ بازار میں دھماکے میں نو افراد لقمہ اجل بنے۔ان واقعات نے ثابت کر دیا ہے کہ افغان سرزمین بدستور دہشت گردوں کیلئے محفوظ پناہ گاہ بنی ہوئی ہے اور افغان طالبان یقین دہانیوں کے باوجود اپنی سرزمین کو دہشت گردوں سے پاک نہیں کر سکے۔ پاکستان افغانستان کو دہشت گردی کے حوالے سے اس کی ذمہ داریوں کا احساس دلاتا رہا ہے لیکن افغان طالبان دہشت گردوں کے پشتیبان بنے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بنوں دھماکے کے بعد پاکستان کو یہ کہنا پڑا کہ وہ افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کر سکتا ہے۔ اس ضمن میں افغان ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کرکے اپنے تحفظات سے آگاہ کیا گیا اور واضح کیا گیا کہ یقین دہانیوں کے باوجود افغان سرزمین سے جاری دہشت گردی کو پاکستان برداشت نہیں کر سکتا۔ پاکستان نے ہمیشہ مکمل شواہد کے ساتھ افغان سرزمین کے دہشت گردی کیلئے استعمال پر سوال اٹھایا ہے۔ ماضی میں متعدد بار یہ شواہد بین الاقوامی اداروں‘ سفارتکاروں اور افغان طالبان کو بھی فراہم کیے گئے۔ اس پر طالبان رجیم کی جانب سے ہر مرتبہ یقین دہانی کرائی گئی کہ وہ اپنی سرزمین دہشت گردی کیلئے استعمال نہیں ہونے دیں گے اور پاکستان کے تحفظات دور کیے جائیں گے لیکن حقیقت یہ ہے کہ جہاں ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گرد تنظیمیں افغان سرزمین پر اپنے مراکز قائم کرکے ہمسایہ ممالک میں دہشت گردی کی کارروائیاں کر رہی ہیں وہاں پاکستان کے خلاف بھارت افغان گٹھ جوڑ بھی سرگرم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ چند مہینوں سے خطے میں جنگ اور کشیدگی کا ماحول ہے‘ جو دونوں ممالک سمیت پورے خطے کیلئے خطرناک رجحانات کو جنم دے رہا ہے۔روسی وزارتِ خارجہ کی ایک حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ افغانستان میں اس وقت بیس سے پچیس ہزار دہشت گرد موجود ہیں۔ افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی علاقائی سلامتی اور استحکام کیلئے ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ رپورٹ کے مطابق داعش کے تقریباً تین ہزار جبکہ ٹی ٹی پی کے پانچ سے سات ہزار دہشت گرد افغان سرزمین پر موجود ہیں۔ اسی طرح القاعدہ اور دیگر گروہ بھی افغانستان میں تربیتی مراکز اور نیٹ ورکس چلا رہے ہیں۔ اقوام متحدہ بھی اپنی مختلف رپورٹس میں بارہا اس امر کی نشاندہی کر چکی ہے کہ طالبان انتظامیہ اپنی بنیادی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہی ہے اور دوحہ معاہدے کے تحت ہمسایہ ممالک کے خلاف اپنی سرزمین استعمال نہ ہونے دینے کی یقین دہانی بھی مؤثر ثابت نہیں ہوئی۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ افغانستان القاعدہ کیلئے علاقائی روابط اور محفوظ پناہ گاہ کا ایک اہم مرکز بن چکا ہے۔ القاعدہ کے تربیتی مراکز کنڑ‘ لغمان‘ غزنی‘ ہلمند‘ قندھار اور ارزگان سمیت مختلف صوبوں میں موجود ہیں جہاں دہشت گردوں کو تربیت دینے کے ساتھ ساتھ انہیں اہداف بھی سونپے جاتے ہیں۔ پاکستان براہِ راست افغان سرزمین سے دہشت گردی کی زد میں ہے لیکن دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات کے بجائے کابل انتظامیہ الٹا پاکستان پر الزامات عائد کرتی آئی ہے۔ گویا افغان طالبان اپنی ذمہ داری سے آزاد ہیں۔ بعض دوست ممالک خصوصاً سعودی عرب‘ ترکیہ اور قطر نے بھی افغان طالبان کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کیا‘ اس حوالے سے دونوں ملکوں کے حکام کے مابین مذاکرات بھی ہوئے اور متعدد اقدامات تجویز کیے گئے مگر افغان طالبان اپنی سرزمین کا دہشت گردی کیلئے استعمال نہ روک سکے۔ چین نے بھی کوشش کی کہ پاکستان اور افغانستان دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اپنائیں مگر افغان طالبان کی اپنی سرزمین پر کمزور رِٹ ایک بڑی رکاوٹ بن کر سامنے آئی۔ نتیجتاً افغانستان سے دہشت گردوں کی آمد اور پاکستان میں بڑی وارداتوں کا سلسلہ جاری رہا۔ اسی وجہ سے رواں برس فروری کے آخر میں پاکستان کو افغان سرزمین کے ان علاقوں کو نشانہ بنانا پڑا جہاں دہشت گردوں کے تربیتی مراکز موجود تھے۔ ان کارروائیوں سے دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ گئی لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف ایک &#39;&#39;گریٹ گیم‘‘ اب بھی جاری ہے اور دہشت گردوں کو بھارت سمیت ان عناصر کی معاونت بھی حاصل ہے جو پاکستان کو معاشی خود انحصاری کی منزل تک پہنچتے نہیں دیکھنا چاہتے۔ ان عناصر کا خیال ہے کہ اگر پاکستانی فوج کے ہاتھوں بھارت کی ذلت آمیز شکست کے بعد پاکستان کو غیرمستحکم نہ کیا گیا تو یہ معاشی لحاظ سے بھی مضبوط ہو جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ دہشت گردی کا ایک منظم سلسلہ پاکستان کے خلاف سرگرم ہے اور ڈیفنس فورسز کے ساتھ پولیس چوکیاں بھی اس کا خاص ہدف ہیں۔ دشمن بخوبی جانتا ہے کہ اس کا پہلا مقابلہ تھانوں‘ چوکیوں اور گشت پر مامور اہلکاروں سے ہوتا ہے‘ اسی لیے حملہ آور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو نشانہ بنا کر ریاست کو کمزور کرنا چاہتے ہیں تاکہ سکیورٹی فورسز کا مورال متاثر ہو اور عوام میں خوف و ہراس پھیلایا جا سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ بنوں‘ لکی مروت‘ ڈیرہ اسماعیل خان‘ کرک اور قبائلی علاقوں میں قائم پولیس چوکیاں دشوار گزار علاقوں میں واقع ہیں جہاں محدود نفری اور وسائل کی کمی کے باوجود پولیس کے جوان اپنی ذمہ داریاں بخوبی نبھا رہے ہیں۔ دہشت گرد اِن دور دراز چوکیوں کو سافٹ ٹارگٹ سمجھتے ہیں۔ چونکہ پولیس چوکی ریاستی رِٹ کی علامت ہوتی ہے لہٰذا ان پر حملہ کر کے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ یہاں ریاست کی عملداری موجود نہیں۔ تاہم دشمن اپنے عزائم میں ناکام ہو رہا ہے کیونکہ پاکستان کے سکیورٹی ادارے وطن کے تحفظ کیلئے اپنی جانوں کی پروا نہیں کرتے۔ دہشت گردی کے خلاف ایک طویل اور سخت جنگ لڑ کر پاکستان نے دنیا بھر کو یہ پیغام دیا ہے کہ پاکستانیوں کیلئے اپنی سرزمین کا تحفظ اپنی جانوں سے زیادہ مقدم ہے۔ لہٰذا یہ جائزہ لینا ناگزیر ہو چکا ہے کہ آج جب پاکستان عملاً حالتِ جنگ میں ہے تو کیا ہماری فورسز کو مکمل وسائل‘ جدید اسلحہ اور ضروری ساز و سامان فراہم کیا جا رہا ہے؟ پولیس کو ان سہولتوں اور وسائل کی فراہمی کی ذمہ داری صوبائی حکومتوں پر عائد ہوتی ہے۔ خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کی وارداتوں کا سلسلہ جاری ہے تو صوبائی حکومت کو ترجیحی بنیادوں پر اپنی پولیس فورس کو جدید اسلحہ اور تمام ضروری وسائل فراہم کرنا ہوں گے اور سرحدوں پر لڑنے والوں کو یہ احساس دلانا ہوگا کہ ریاست اور عوام ان کے پیچھے چٹان کی طرح کھڑے ہیں۔جہاں تک افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف کارروائی کا تعلق ہے تو اقوام متحدہ کے چارٹر سمیت عالمی قوانین میں واضح طور پر یہ اصول موجود ہے کہ اگر کسی ملک کے خلاف بیرونی سرزمین سے جارحانہ کارروائی ہو تو پہلے متعلقہ ملک کو کارروائی کیلئے کہا جاتا ہے لیکن اگر وہ اپنی ذمہ داری ادا نہ کرے تو متاثرہ ملک کو دہشت گردوں اور تخریب کاروں کے خلاف کارروائی کا حق حاصل ہوتا ہے۔ پاکستان نے افغان سرزمین سے دہشت گردی کے نتیجے میں بھاری نقصان اٹھانے کے بعد اس آپشن کو بروئے کار لانے کا فیصلہ کیا ہے جو ہر لحاظ سے قرینِ انصاف‘ عالمی قوانین کے مطابق اور اپنی سرزمین کے تحفظ کیلئے ناگزیر دکھائی دیتا ہے۔ افواجِ پاکستان کیلئے دہشت گردوں کو ان کے انجام تک پہنچانا کوئی مشکل امر نہیں۔ جو فوج اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کے جارحانہ عزائم کو بروقت ناکام بنا سکتی ہے‘ اس کیلئے دہشت گردی کے ناسور کا خاتمہ چنداں مشکل نہیں۔ پاکستان نے اگر یہ آپشن اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے تو اس کی اصل ذمہ داری طالبان انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت پر عائد ہوتی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/230_37874475.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>روٹی، تیل اور تخت(محمد حسن رضا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-hasan-raza/2026-05-13/51940/17940777</link><pubDate>Wed, 13 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-hasan-raza/2026-05-13/51940/17940777</guid><description>حکومت پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیوں کر رہی ہے؟ یہ وہ سوال ہے جو آج ہر پاکستانی کے ذہن میں گونج رہا ہے مگر اس سوال کا جواب دینے کے بجائے ہر ہفتے حکومت کی طرف سے قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ عوام کو کہا جاتا ہے کہ یہ اضافہ عالمی منڈی میں اتار چڑھاؤ کی وجہ سے ہے حالانکہ زمینی حقائق اور سرکاری دستاویزات اس دعوے کی تردید کرتی ہیں۔ اصل مسئلہ وہ مالیاتی خلا ہے جسے حکومت پٹرولیم لیوی کے ذریعے پُر کرنا چاہتی ہے اور اس خلا کی قیمت عام آدمی ادا کر رہا ہے۔ پاکستان اپنی مجموعی تیل کی ضروریات کا تقریباً 80فیصد درآمد کرتا ہے۔ یہ بیرونی انحصار ہر عالمی جھٹکے پر ہماری معیشت کو ہلا کر رکھ دیتا ہے۔ مگر اس بار کہانی مختلف ہے۔ گزشتہ ہفتے عالمی منڈی میں پٹرول کی قیمت تقریباً جوں کی توں رہی اس کے باوجود ملک میں پٹرول اور ڈیزل پندرہ روپے فی لٹر مہنگا کر دیا گیا۔ عالمی قیمتوں کی بنیاد پر ملک میں پٹرول کی قیمت تقریباً 268روپے فی لٹر بنتی تھی مگر صارف کو اس سے کہیں زیادہ ادا کرنا پڑ رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ فرق کہاں سے آیا؟ جواب سیدھا ہے کہ پٹرولیم لیوی کی وجہ سے۔ مالی سال 2024-25ء میں حکومت نے پٹرولیم مصنوعات پر لیوی کے ذریعے گیارہ سو ارب روپے سے زائد رقم اکٹھی کی۔ رواں سال میں یہ ہدف بڑھا کر ساڑھے چودہ سو ارب روپے مقرر کر دیا گیا ہے۔ یعنی ایک سال میں تقریباً چار سو ارب روپے اضافی بوجھ‘ جو براہِ راست عام آدمی پر ڈالا جا رہا ہے۔ یہ اضافہ کسی تکنیکی غلطی یا وقتی مجبوری کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا مالی فیصلہ ہے جس کا مقصد ٹیکس شارٹ فال کو پورا کرنا اور آئی ایم ایف کو مطمئن کرنا ہے۔چند ہفتے قبل جب حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں وقتی کمی کی تھی تو اسے عوامی ریلیف کے طور پر پیش کیا۔ مگر اس ریلیف کی اصل قیمت چھپی ہوئی تھی۔ اس سبسڈی سے قومی خزانے پر 100سے 125ارب روپے کا بوجھ پڑا ۔ دعویٰ کیا گیا کہ یہ رقم ترقیاتی اخراجات میں کٹ لگا کر پوری کی جائے گی مگر عملی طور پر ایسا نہ تھا۔یہ رقم پٹرولیم لیوی کے ذریعے عوام سے لی جا رہی ہے۔ پٹرول پر لیوی 103 روپے 50 پیسے فی لٹر سے بڑھا کر 117 روپے 41 پیسے فی لٹر کر دی گئی۔ یعنی ہر لٹر پر تقریباً 14 روپے کا اضافی بوجھ۔ ڈیزل پر بھی لیوی 28 روپے 69 پیسے سے بڑھ کر 42 روپے 60 پیسے فی لٹر کر دی گئی۔ یہ اضافہ اس وقت کیا گیا جب عالمی سطح پر ڈیزل کی قیمت میں اضافہ صرف ساڑھے سات روپے فی لٹر کے قریب تھا۔ پھر ملک میں دگنا کیوں وصول کیا گیا؟ ملک میں مہنگائی کی شرح پہلے ہی ڈبل ڈیجٹ ہو چکی ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق ایندھن کی قیمت میں ہر دس روپے اضافے سے مجموعی مہنگائی میں 0.5 سے 0.7 فیصد کا اضافہ ہوتا ہے۔ اس حساب سے حالیہ اضافے کا اثر خوراک‘ ٹرانسپورٹ‘ بجلی اور دیگر بنیادی ضروریات کی قیمتوں میں واضح طور پر نظر آئے گا۔ یعنی پٹرول صرف گاڑی میں نہیں جلتا یہ ہر باورچی خانے میں آگ لگا دیتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ اس آگ کی تپش صرف غریب اور متوسط طبقہ محسوس کرتا ہے‘ ایوانوں میں بیٹھے فیصلہ ساز نہیں۔ ایک طرف عوام کو کہا جا رہا ہے کہ قربانی دیں‘ حالات مشکل ہیں اور دوسری طرف حکمران اشرافیہ کے پروٹوکول‘ وی آئی پی گاڑیاں‘ شاہانہ دفاتر‘ غیرملکی دورے‘ سرکاری قافلے‘ مہنگی سرکاری گاڑیوں کی خریداری‘ مفت ایندھن‘ مراعات اور کروڑوں روپے کے اخراجات بدستور جاری ہیں۔ جن لوگوں نے کبھی اپنی گاڑی میں پٹرول ڈلواتے وقت جیب نہیں ٹٹولی وہ آج کروڑوں لوگوں کو کفایت شعاری کے لیکچر دے رہے ہوتے ہیں۔ ایک مزدور ہر صبح کام پر جانے سے پہلے اس سوچ میں گم ہوتا ہے کہ بچوں کیلئے دودھ لے یا موٹر سائیکل میں پٹرول ڈلوائے‘ جبکہ اقتدار کے ایوانوں میں درجنوں گاڑیوں کے قافلے مہنگائی کے خوف کے بغیر رواں دواں ہیں۔ پہلے ہی کوئی ایسا حکومتی اقدام نہیں جس کو تمام تر کوششوں کے باوجود مثبت انداز سے دیکھا جا سکے‘ جن گھروں میں پہلے ایک وقت کا کھانا کم ہوا تھا‘ اب وہاں چولہا جلانا بھی مسئلہ بن چکا ہے۔ سفید پوش طبقہ خاموشی سے ٹوٹ رہا ہے‘ اور غریب آدمی آہستہ آہستہ اس نہج پر پہنچ رہا ہے جہاں غصہ‘ مایوسی اور بے بسی خطرناک شکل اختیار کر سکتی ہے۔ حکومت نے مارکیٹوں کا ٹائم رات آٹھ بجے مقرر کر کے غریبوں کے پاس جو کچھ روزگار تھا وہ بھی بند کرنا شروع کر دیے۔ انتظامیہ کے کارندوں نے اپنی مبینہ لوٹ مار مچا رکھی ہے‘ جن پر آئے روز مختلف الزامات سننے کو مل رہے ہیں۔ مگر کیا یہ سب قوانین اور پابندیاں صرف غریبوں کیلئے ہیں اور حکومت ان غریبوں کے خون پسینے کو نچوڑ کر خزانہ بھرنے پر لگی ہوئی ہے؟ اگر حکمران واقعی عوام کے درد کو سمجھتے ہیں تو اپنے شاہانہ اخراجات کم کیوں نہیں کرتے؟ پاکستان میں ایک غریب شہری کی اوسط ماہانہ آمدن 35 سے 40 ہزار روپے کے درمیان ہے۔ شہری علاقوں میں ٹرانسپورٹ اور توانائی کے اخراجات اس آمدن کا 25سے 30فیصد پہلے ہی کھا جاتے ہیں۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ اس تناسب کو مزید بگاڑ دے گا۔ جو لوگ پہلے ہی اپنی بچت ختم کر چکے ہیں‘ اب وہ قرض کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ یہ محض معاشی مسئلہ نہیں بلکہ سماجی بگاڑ کا پیش خیمہ ہے جس کے اثرات جرائم‘ بے چینی اور عدم استحکام کی صورت میں سامنے آ سکتے ہیں۔اب ذرا تیل کی اصل لاگت کی طرف آئیے جہاں سوالات اور بھی سنگین ہو جاتے ہیں۔ ملک میں اس وقت روزانہ تیل کی مجموعی کھپت تقریباً پانچ لاکھ بیرل‘ یعنی سات کروڑ 95لاکھ لٹر ہے۔ اس میں سے ملکی پیداوار صرف ایک کروڑ 32 لاکھ لٹر ہے۔ اندازوں کے مطابق روزانہ تقریباً ایک کروڑ لٹر ایرانی تیل سمگل ہو کر ملک میں آ رہا ہے۔ یوں باقی ضرورت‘ یعنی تقریباً پانچ کروڑ 63لاکھ لٹر روزانہ درآمد کے ذریعے پوری کی جاتی ہے۔ ایرانی ریفائن شدہ تیل کی موجودہ قیمت تقریباً 15ہزار ایرانی ریال‘ یعنی صرف تین روپے 18 پیسے فی لٹر بنتی ہے۔ دوسری طرف زیادہ تر درآمدی تیل سعودی عرب سے آ رہا ہے جہاں خام تیل کی قیمت 94.68 سعودی ریال فی بیرل ہے‘ جو تقریباً 44 روپے 22 پیسے فی لٹر بنتی ہے۔ اس پر ریفائنری اخراجات شامل کریں تو یہ لاگت 4.80 ڈالر فی بیرل‘ یعنی تقریباً 8 روپے 39 پیسے فی لٹر بنتی ہے۔ تیل کی بحری ترسیل کی بات کریں تو ایک بڑے جہاز کی لوڈ کپیسٹی تقریباً تین ملین بیرل‘ یعنی 47 کروڑ 70 لاکھ لٹر ہوتی ہے‘ جس کا مطلب ہے کہ فی لٹر ٹرانسپورٹیشن لاگت ایک روپے سے بھی کم ہے۔ ریفائننگ کے بعد خام تیل سے 85 سے 90 فیصد قابلِ استعمال مصنوعات حاصل ہوتی ہیں‘ جن میں تقریباً 45 فیصد پٹرول‘ 29 فیصد ڈیزل‘ 10 فیصد جیٹ فیول اور پانچ فیصد بھاری تیل شامل ہے‘ جو بحری جہازوں اور پاور پلانٹس میں استعمال ہوتا ہے۔ باقی 10 سے 15 فیصد میں اسفالٹ‘ روڈ آئل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات شامل ہیں‘ جو پلاسٹک‘ کھاد‘ ربڑ‘ پولیسٹر‘ نائیلون‘ ڈٹرجنٹ اور فارماسیوٹیکل صنعت میں استعمال ہوتی ہیں۔ یعنی خام تیل کی تقریباً ہر پیداوار قابلِ استعمال اور قیمتی ہے۔ اس کے باوجود یہی 90فیصد پیداوار پاکستان میں 415روپے فی لٹر کے قریب فروخت کی جا رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر خرید‘ ریفائننگ اور ٹرانسپورٹیشن کی مجموعی لاگت اس سے کہیں کم ہے تو یہ اضافی رقم کہاں جا رہی ہے؟ اور اگر باقی 10سے 15فیصد مصنوعات تیل سے بھی کہیں زیادہ قیمت پر فروخت ہو رہی ہیں تو کیا یہ منافع پہلے ہی کافی نہیں؟ پھر عوام سے مزید کیوں وصول کیا جا رہا ہے؟ سوال یہ نہیں کہ حکومت کو پیسہ چاہیے یا نہیں‘ سوال یہ ہے کہ یہ پیسہ کس سے اور کس قیمت پر لیا جا رہا ہے۔ اگر یہی روش برقرار رہی تو پٹرول کی قیمت صرف معیشت کو نہیں معاشرے کو بھی جلا کر راکھ کر دے گی۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/229_33941343.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مسئلہ فلسطین اور ایک اہم تقریب(علامہ ابتسام الہٰی ظہیر )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-05-13/51941/96941362</link><pubDate>Wed, 13 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-05-13/51941/96941362</guid><description>&#39;&#39;دنیائے اسلام کا ہر فرد مسئلہ فلسطین کے پائیدار حل کے لیے بیتاب ہے اور فلسطینیوں کی نسل کشی اور استحصال پر ہر درد مند شخص اپنے دل میں ایک کسک محسوس کرتا ہے‘‘۔ یہ کہنا تھا سعودی عرب کے سفیر کا۔ نواف سعید المالکی ایک ملنسار اور متحرک شخصیت ہیں اور کئی برسوں سے پاکستان میں سفارت کاری کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ جہاں وہ سعودی عرب کی سرکاری سطح پر نمائندگی کرتے ہیں‘ وہاں تمام طبقاتِ زندگی کے لوگوں کو بھی کھلے دل سے خوش آمدید کہتے ہیں۔ وہ اپنے وسیع تعلقات‘ میل ملاقات اور کھلے دل سے میزبانی کی وجہ سے معروف ہیں۔ سعودی سفارت خانے کے زیر اہتمام قومی ڈے کی سالانہ تقریبات اور ان کے علاوہ جب کبھی سعودی عرب سے کوئی معزز مہمان پاکستان آتا ہے تو اس کے اعزاز میں سعودی سفارت خانے کی طرف سے استقبالیہ تقریب کا انعقاد کیا جاتا ہے‘ جس میں ملک کے تمام مذہبی طبقات کے نمائندگان کو بھی مدعو کیا جاتا ہے۔ ماضی میں ائمہ حرمین‘ رابطہ عالم اسلامی کے نمائندگان اور اہم علماء کرام کی پاکستان آمد کے موقع پر بہت سی یادگار تقریبات کا انعقاد کیا جا چکا ہے۔پانچ مئی کو سعودی سفیر کے گھر میں ایک بڑی تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں مہمانِ خصوصی مسجد اقصیٰ کے امام اور فلسطین کے چیف جسٹس تھے۔ اس موقع پر جہاں بہت سے مسلم ممالک کے سفیروں کو مدعو کیا گیا‘ وہیں پاکستان کی نمایاں مذہبی شخصیات کو بھی تقریب میں شرکت کی دعوت دی گئی۔ حافظ طاہر اشرفی‘ مولانا زاہد محمود قاسمی‘ مولانا فضل الرحمن خلیل‘ برادرِ اصغر حافظ ہشام الٰہی ظہیر اور مولانا عتیق الرحمن کشمیری سمیت متعدد اہم دینی شخصیات نے اس تقریب میں شرکت کی۔ رات نو بجے شروع ہونے والی اس خوبصورت اور باوقار تقریب میں جہاں بہت سے احباب سے ملنے کا موقع ملا وہیں سعودی سفیر نے اسلام‘ پاکستان اور قبلۂ اول مسجد اقصیٰ سے اپنی والہانہ محبت کا اظہار کیا اور فلسطین پر ہونے والے مظالم کی کھل کر مذمت کی۔ انہوں نے اس بات کو اجاگر کیا کہ عالمی سطح پر جہاں تمام مسلم ممالک اس قضیے کے حل کے لیے بیتاب رہتے ہیں‘ وہیں پاکستان بھی اس حوالے سے اپنی بساط کے مطابق جستجو کرتا رہتا ہے اور مختلف فورمز پرفلسطین پر ہونے والے مظالم کی نشاندہی کی جاتی ہے۔ انہوں نے عالمی سطح پر قیام امن کے لیے پاکستان کی کوششوں کی تحسین کی اور اس بات کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا کہ مسلم ممالک کو بین الاقوامی معاملات میں یکسوئی اختیار کرنی چاہیے اور عالمی تنازعات کے حل کے لیے مشترکہ مؤقف اپنانا چاہیے۔ سعودی سفیر نے معزز علماء کرام کا پُرتپاک انداز میں خیر مقدم کیا۔ جناب نواف سعید المالکی کا خطاب تسلسل اور معنویت سے لبریز تھا اور فصیح عربی میں ان کی گفتگو حاضرین اور شرکا کے دل پر گہرے اثرات مرتب کر رہی تھی۔ اس موقع پر فلسطین کے نمائندے نے بھی اپنی معروضات کو بڑے مؤثر انداز میں بیان کیا اور بتلایا کہ القدس کے علاقے میں بسنے والے مظلوم مسلمان کئی عشروں سے اسرائیلی جارحیت کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے اس موقع پر اسلامی ممالک کے سربراہان سے مؤثر کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔ اس موقع پر بعض علماء کرام نے بھی اپنی معروضات کو سفرا اور علما کرام کے سامنے رکھا۔ مجھے بھی اس موقع پر انگریزی زبان میں اپنی گزارشات پیش کرنے کا موقع ملا جنہیں کچھ ترامیم و اضافے کے ساتھ قارئین کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں:اللہ تبارک وتعالیٰ کی یہ بہت بڑی عطا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عالم اسلام کو عقیدے اور ایمان کی بنیاد پر اخوت کی لڑی میں پرویا ہوا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۃ الحجرات کی آیت: 10 میں ارشاد فرمایا: &#39;&#39;(یاد رکھو!) سارے ایمان والے (آپس میں) بھائی بھائی ہیں‘‘۔ اگر سورۃ الحجرات کی اس آیت پر توجہ دی جائے تو مسلم قومیت کا ایک ایسا تصور ابھرتا ہے جو شرق و غرب میں بسنے والے مسلمانوں کو ایک ہی لڑی میں پرو دیتا ہے۔ قرونِ اولیٰ کے مسلمان اتحاد اور یکجہتی کی مثال تھے اور ہر مسلمان دوسرے مسلمان کو اپنے بھائی کا درجہ دیتا تھا لیکن افسوس کہ لسانی اور علاقائی تقسیم کی وجہ سے آج کے مسلمانوں نے اس درسِ اخوت کو فراموش کر دیا ہے۔ اگر مسلمان چاہتے ہیں کہ دنیا بھر میں ظالموں کے ہاتھ کو روکا جائے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ دنیا بھر میں بسنے والے مسلمانوں کے ساتھ اخوت اور یگانگت کا مظاہرہ کیا جائے اور دنیا کے کسی بھی خطے میں اگر مسلمان مجبور اور مظلوم ہوں تو ان کی مدد کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔ آج دنیا کے بہت سے مقامات پر مسلمان مظلومیت کی زندگی بسر کر رہے ہیں جن میں کشمیر‘ میانمار اور فلسطین سرفہرست ہیں۔ مسجد اقصیٰ مسلمانوں کا قبلہ اول اور مسلمانوں کی محبت کا اہم مرکز ہے۔ بیت اللہ شریف کے قبلہ بننے سے قبل مسلمان بیت المقدس ہی کی طرف رخ کر کے نماز ادا کیا کرتے تھے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے شب معراج نبی کریمﷺ کو بیت اللہ شریف کے قرب سے مسجد اقصیٰ میں منتقل فرما دیا اور سورۂ بنی اسرائیل کی پہلی آیت میں اس خوبصورت سفر کو کچھ یوں بیان فرمایا: &#39;&#39;پاک ہے وہ (اللہ تعالیٰ) جو اپنے بندے کو رات ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گیا جس کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھی ہے‘ اس لیے کہ ہم اسے اپنی قدرت کے بعض نمونے دکھائیں‘ یقینا اللہ ہی خوب سننے دیکھنے والا ہے‘‘۔ اس آیت مبارکہ سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ مسجد اقصیٰ اور اس کے گرد ونوا ح کا علاقہ ایک بابرکت علاقہ ہے۔ اس مسجد میں نبی کریمﷺ نے سابقہ انبیاء کرام علیہم السلام کی امامت بھی فرمائی اور آپﷺ امام الانبیاء اور نبی القبلتین کے شرف سے بہرہ ور ہوئے۔ یہ علاقہ ہزاروں انبیاء کرام علیہم السلام کا مسکن اور ان کی دعوت کا مرکز ومحور رہا۔ بنی اسرائیل کے انبیاء کرام اس علاقے کے گرد ونواح میں اللہ تبارک وتعالیٰ کی توحید کی دعوت دیتے رہے۔ چنانچہ اس علاقے کے مظلوم مسلمانوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرنا جہاں جذبۂ اخوت کے تحت ضروری ہے‘ وہیں ارضِ مقدس کو پنجۂ یہود سے بازیاب کرانا اہل اسلام کی ایک اجتماعی ذمہ داری بھی ہے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت صلاح الدین ایوبیؒ نے بیت المقدس کو صلیبیوں سے بازیاب کرایا تھا اور یہ مسجد عرصہ دراز تک مسلمانوں کی تولیت میں چلی آ رہی تھی لیکن بیسویں صدی میں ایک بین الاقوامی منصوبے کے تحت اس علاقے میں بسنے والی مسلم اکثریت کو دنیا بھر سے یہودیوں کی نقل مکانی کے ذریعے اقلیت میں تبدیل کر دیا گیا۔ اس تبدیلی پر دنیا بھر کے باشعور مسلمانوں نے بہت زیادہ کرب محسوس کیا اورعرب ریاستوں نے اسرائیل کے خلاف مزاحمت کی کوشش بھی کی لیکن بدقسمتی سے عرب اسرائیل جنگ میں مسلمان بوجوہ کامیاب نہ ہو سکے اور بیت المقدس کا علاقہ یہودیوں کے قبضے میں چلا گیا۔ اُس وقت سے لے کر آج تک القدس کے علاقے میں بسنے والے مسلمان یہود کی چیرہ دستیوں کا نشانہ بنے ہوئے ہیں اور اس ظلم کے خلاف آواز اٹھانے والوں کی بین الاقوامی سطح پر کوئی شنوائی نہیں ہے۔ مسلمانوں کو عرب وعجم کی تقسیم سے بالاتر ہو کر ارضِ مقدس کی بازیابی کے لیے ایک مؤثر حکمت عملی اپنانی چاہیے۔ اگر دنیا بھر کے مسلمان اس مسئلے پر یکسو ہو جائیں تو کوئی وجہ نہیں کہ مسلمان ارضِ مقدس کو واپس حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکیں۔تمام شرکائے مجلس نے تقریب میں کیے جانے والے خطابات کو بڑی توجہ کے ساتھ سنا۔ بعد ازاں مہمانوں کے لیے ایک باوقار عشائیے کا انتظام کیا گیا تھا۔ اس موقع پر شرکا نے مسجد اقصیٰ کے امام کے ساتھ بڑی عقیدت اور احترام سے ملاقات کی اور سعودی سفیر نے بھی مہمانوں کے ساتھ فرداً فرداً ملاقات کی۔ یوں یہ تقریب اپنے جلو میں خوبصورت یادوں کولیے مکمل ہوئی۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_19740082.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>