<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>بڑھتی ہوئی اشتعال انگیزی اورسنگین ہوتا بحران(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-08/11085</link><pubDate>Wed, 08 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-08/11085</guid><description>مشرقِ وسطیٰ میں چالیس روز سے جاری جنگ نے دنیا کے امن و استحکام کو بارود کے ڈھیر پر لا کھڑا کیا ہے۔اس صورتحال سے نکلنے کی ضرورت محتاجِ بیان نہیں اور پاکستان اس کیلئے سفارتی حل تلاش کرنے میں اپنا بھر پور تعاون پیش کر چکا ہے۔ اس صورتحال میں ایران کی جانب سے تحمل اور ٹھہراؤ کا مظاہرہ درکار تھا مگر بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوا اور سعودی عرب کے پیٹرو کیمیکل اور صنعتی کمپلیکس کو نشانہ بنانے کے واقعات نے نہ صرف علاقائی سلامتی کو مزید خطرے میں دھکیل دیا ہے بلکہ امن و استحکام کی امیدوں کو بھی دھندلا دیا ہے۔پاکستان کی جانب سے اس اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے اور اسے امن کوششوں کیلئے بڑی رکاوٹ قرار دیا ہے۔ پاکستان کا یہ مؤقف اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے جسے نظر انداز کرنا خطے کو بڑی تباہی کی طرف دھکیلنے کے مترادف ہوگا۔ سعودی عرب کے انرجی انفراسٹرکچر‘ جو عالمی توانائی کی سپلائی لائن میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے‘ پر حملے کسی بھی طور پر دفاعی اقدام قرار نہیں دیے جا سکتے۔ یہ ایسی سنگین اشتعال انگیزی ہے جو ان سفارتی کوششوں کو سبوتاژ کر رہی ہے جو گزشتہ کئی ہفتوں سے پسِ پردہ جاری ہیں۔

ان حملوں کے بعد سعودی عرب نے جس تحمل کا مظاہرہ کیا ہے وہ قابلِ تعریف ہے۔ سعودی قیادت نے اشتعال انگیزی کے بجائے ثالثی اور سفارتی حل کی حمایت کی ہے تاکہ خطے کو مزید بحران سے بچایا جا ئے۔ ایسے مرحلے پر جب امن کی کوششیں ایک نازک دور میں داخل ہو چکی ہیں اور ایرانی قیادت خود تسلیم کر رہی ہے کہ جنگ کے خاتمے کیلئے مثبت اور تعمیری کوششیں جاری ہیں‘ عرب ممالک میں انرجی اور صنعتی تنصیبات کو نشانہ بنایا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ کچھ عناصر خطے میں استحکام نہیں دیکھنا چاہتے۔ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے اس صورتحال کو سنجیدگی سے لیا ہے۔ حالیہ کور کمانڈرز کانفرنس میں ان حملوں کو انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور خطرناک اقدام قرار دیا گیا۔ سعودی عرب پاکستان کا برادر اسلامی ملک ہے اور مشترکہ دفاعی معاہدے کی رُو سے پاکستان سعودی عرب کی سالمیت اور خود مختاری کی حفاظت کا ذمہ دارہے ۔حکومتی ردعمل نے یہ واضح کیا ہے کہ پاکستان اسے محض دو ملکوں کے تنازع کے طور پر نہیں دیکھ رہا بلکہ اسے پاکستان کی معاشی اور تزویراتی سلامتی پر حملہ تصور کرتا ہے۔ اسرائیل اور امریکہ تو اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کر رہے ہیں مگر ایران کو اس وقت محتاط رویہ اپنانے کی ضرورت ہے۔
تہران کو یہ سمجھنا ہوگا کہ عین جنگ کے دوران دشمنوں کی فہرست میں اضافہ کرنا دانشمندی نہیں ہوتی ۔ موجودہ منظرنامے میں جہاں جنگ میں مزید شدت آتی جا رہی ہے ایران کو علاقائی ممالک کیساتھ محاذ آرائی بڑھانے کے بجائے سنبھل کر چلنے کی ضرورت ہے۔ اشتعال میں آ کر کیے گئے فیصلے الٹا نقصان پہنچاتے ہیں اور طاقت کا بے جا استعمال مزیدمسائل کو جنم دیتا ہے‘ جبکہ پائیدار اور پُرامن تصفیہ محض مذاکرات کی میز پر ممکن ہے۔ گزشتہ روز امریکی صدر کی جانب سے ایرانی تہذیب مٹانے کی دھمکیوں اور ایران کی جانب سے جنگ بندی کیلئے جاری مذاکرات ختم کرنے اور بات چیت میں مزید حصہ نہ لینے کے اعلانات نے اس تنازع کو عالمی امن کیلئے مزید خطرناک بنا دیا ہے۔افسوسناک بات یہ ہے کہ متحارب فریقین کے پاس اس محاذ آرائی کے خاتمے کا کوئی پلان نظر نہیں آتا۔ پوری دنیا کی معیشت اور شرقِ اوسط کا خطہ پہلے ہی عدم استحکام کا شکار ہے‘ اب مزید کسی مہم جوئی کی گنجائش نہیں۔
جب تک فریقین ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کرتے ہوئے باہمی احترام کی بنیاد پر مکالمہ نہیں کریں گے امن کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ توانائی‘ صنعتی اور سول انفراسٹرکچر پر حملے بلا جواز ہیں‘ یہ سلسلہ فوری اور مکمل طور پر بند ہونا چاہیے تاکہ امن عمل ہموار انداز میں آگے بڑھ سکے۔ </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بارشیں اور ناقص انتظامات(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-08/11084</link><pubDate>Wed, 08 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-08/11084</guid><description>ملک کے مختلف حصوں میں جاری بارشیں شدید جانی و مالی نقصانات کا باعث بن رہی ہیں۔ خصوصاً خیبر پختونخوا میں صورتحال نہایت تشویشناک صورت اختیار کر چکی ہے جہاں صرف چار روز کے دوران بارش کے باعث مختلف حادثات میں 21افراد جاں بحق اور 40سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ یہ اعداد و شمار ناقص حکومتی انتظامات کی نشاندہی کرتے ہیں۔ گزشتہ روز پشاور میں ہونے والی موسلادھار بارش نے بھی شہری انتظامیہ کی تیاریوں کا بھانڈا پھوڑ دیا جہاں سیوریج نالے اوور فلو ہونے کے باعث بارشی پانی گھروں میں داخل ہو گیا۔ رواں سال کے ابتدائی بارشی سپیل نے ہی یہ واضح کر دیا ہے کہ موسمی خطرات سے نمٹنے کیلئے جو پیشگی اقدامات درکار تھے وہ یا تو مکمل طور پر نظر انداز کیے گئے یا ان پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔ نتیجتاً معمول کی بارشیں بھی شہری زندگی کو مفلوج کرنے کا سبب بن رہی ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ صوبائی حکومتیں اور ضلعی انتظامیہ مون سون سے قبل نکاسیِ آب کے نظام کی بہتری‘ برساتی نالوں اور سیوریج لائنوں کی مکمل صفائی یقینی بنائیں۔ اسی طرح آبی گزرگاہوں پر قائم تجاوزات کے فوری خاتمہ بھی ناگزیر ہے۔ مزید برآں حساس نشیبی علاقوں کی نشاندہی‘ خطرے کا پیشگی وارننگ سسٹم فعال کرنا‘ ریسکیو اداروں کی استعداد کار بڑھانا اور مقامی سطح پر ڈیزاسٹر رسپانس پلان کو عملی شکل دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر ان اقدامات کو سنجیدگی سے نافذ نہ کیا گیا تو ہر بارش کے بعد اسی قسم کی صورتحال کا سامنا رہے گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ویلیو ایڈیشن کی اہمیت(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-08/11083</link><pubDate>Wed, 08 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-08/11083</guid><description> ملکی معیشت کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے کے باوجود زرعی شعبہ غیرمؤثر انتظامی ڈھانچے اور پوسٹ ہارویسٹ نقصانات جیسے مسائل کا شکار ہے۔ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق ملک میں پھلوں اور سبزیوں کی سالانہ 40فیصد تک پیداوار ضائع ہو جاتی ہے۔ اس ضیاع کی بنیادی وجوہات میں جدید کولڈ سٹوریج سہولیات کی کمی‘ ٹرانسپورٹ کا غیرمعیاری نظام اور سب سے بڑھ کر ویلیو ایڈیشن انڈسٹری کا فقدان شامل ہے۔ زرعی پیداوار کا بڑا حصہ خام حالت میں منڈیوں تک پہنچتا ہے جہاں مناسب پروسیسنگ اور محفوظ کرنے کے انتظامات نہ ہونے کے باعث یہ پیداوار جلد خراب ہو جاتی ہے‘ نتیجتاً ملک نہ صرف ایک بڑی برآمدی صلاحیت سے  محروم رہ جاتا ہے بلکہ اکثر اوقات ان اجناس کی قلت بھی پیدا ہو جاتی ہے۔

ویلیو ایڈیشن خام زرعی اجناس کو پراسیس کر کے زیادہ دیر تک محفوظ رکھنے کے قابل بناتی ہے اور انہیں عالمی منڈیوں کے معیار کے مطابق تیار کرتی ہے لیکن ہمارے ہاں ویلیو ایڈیشن انڈسٹری میں سرمایہ کاری محدود ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ زرعی ویلیو چین کو مضبوط بنانے کیلئے جامع حکمت عملی اپنائے۔اگر حکومت سنجیدگی سے اس سمت میں اقدامات کرے تو نہ صرف زرعی اجناس کے ضیاع کو بڑی حد تک روکا جا سکتا بلکہ برآمدات میں نمایاں اضافہ کر کے زرِ مبادلہ کے بحران پر بھی قابو پا سکتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>