<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>عالمی امن کا روڈ میپ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-23/11301</link><pubDate>Tue, 23 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-23/11301</guid><description>امریکہ اور ایران میں سوئٹزر لینڈ کے شہر برگن سٹاک میں لیک لوسرن مذاکرات کے پہلے دور میں اتفاق کردہ ساٹھ روزہ روڈ میپ کو عالمی امن کا روڈ میپ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔ روڈ میپ کی منظوری اور مذاکرات کی نگرانی کیلئے اعلیٰ سطحی کمیٹی کا قیام اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان اور قطر کی ثالثی میں فریقین پائیدار اور نتیجہ خیز معاہدے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ یہ بات طے شدہ ہے کہ جب تک فریقین آمنے سامنے بیٹھ کر تبادلہ خیال نہیں کرتے‘تنازعات کے حل کی جانب پیش رفت ممکن نہیں۔ جب بھی دو متحارب ممالک کسی تصفیے کی طرف بڑھتے ہیں تو مذاکرات کا عمل انتہائی صبر آزما اور پیچیدہ ہوتا ہے۔ اس تناظر میں لیک لوسرن میں مذاکرات کا آغاز اور حتمی معاہدے کیلئے ساٹھ روزہ مدت اگرچہ مختصر معلوم ہوتی ہے لیکن یہ فریقین کے عزم اور تدبر کا امتحان ہے۔ امریکہ کی جانب سے ایران کیلئے خام تیل اور پیٹرو کیمیکل مصنوعات کی ترسیل سے متعلق لائسنس کا اجرا اور منجمد اثاثوں کی مرحلہ وار بحالی کا عندیہ اس امر کی غمازی ہے کہ فریقین کے مابین برف کافی حد تک پگھل چکی ہے اور اب وہ ایسے حل کی تلاش میں ہیں جو دونوں فریقوں کیلئے قابلِ قبول ہو اور معاملات کو تکنیکی جزئیات کے ساتھ اختتامی موڑ تک لایا جا سکے۔

تاہم اس سفارتی پیچیدگی میں کئی نزاکتیں بھی ہیں جن سے نمٹنا فریقین کیلئے بڑا چیلنج ہو گا۔ یہ ایک بدیہی حقیقت ہے کہ اسرائیل اور اس کے حامی جاری مذاکرات کو ناکام بنانے کیلئے کوشاں ہیں اور ان کی تمام تر توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ کسی بھی طرح اس امن عمل میں رخنہ ڈالا جا سکے۔ ایسے حالات میں جب نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی امن اور خطے کے مفادات داؤ پر لگے ہوں‘ دشمن کی سازشوں سے ہر لمحہ ہوشیار رہنا اور ان کا ممکنہ تدارک کرنا فریقین کی اولین ذمہ داری ہے۔ اس اہم موڑ پر فریقین کو کسی بھی قسم کی غلط فہمیوں‘ افواہوں اور بدمزگی سے بچنے کیلئے باہمی رابطہ کاری کے نظام کو مزید مضبوط اور فعال بنانے کی ضرورت ہے۔ یقینا انہیں بھی اس کا ادراک ہے اور دونوں ممالک کے مابین ہاٹ لائن کا قیام‘ لبنان میں جنگ بندی کا جائزہ لینے کے لیے ڈی کانفلکشن سیل اور ثالثی عمل کی نگرانی کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی پر اتفاق اس کی دلیل ہے کہ مذاکراتی عمل درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔ دنیا کی تاریخ کا سبق یہ ہے کہ جنگ کے ہولناک خدشات کو سفارتکاری کے ذریعے ہی دور کیا جا سکتا ہے اور کسی بھی پیچیدہ تنازع کا پُرامن حل صرف مذاکرات اور بات چیت ہی سے ممکن ہے۔ جنگیں صرف تباہی‘ بربادی اور انسانی جانوں کا زیاں لاتی ہیں جبکہ مذاکراتی میز پر بیٹھ کر کی جانے والی گفتگو نسلوں کو امن اور خوشحالی کی ضمانت فراہم کرتی ہے۔
ثالث ممالک کی جانب سے لیک لوسرن مشترکہ اعلامیہ کا اجرا دراصل اس آفاقی سچائی کا اعادہ ہے کہ طاقت کے استعمال کے بجائے گفت وشنید کا راستہ ہی دنیا کو بڑے بڑے بحرانوں سے بچا سکتا ہے۔ اب جبکہ ایک مثبت ماحول میں سفر کا آغاز ہو چکا ہے تو فریقین کے ساتھ عالمی برادری پر بھی یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس عمل کی پشت پناہی کرے تاکہ یہ ساٹھ روزہ روڈ میپ ایک دیرپا اور پائیدار امن معاہدے پر منتج ہو سکے۔ ان حالات میں ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا دورۂ اسلام آباد پاکستان کے کلیدی سفارتی کردار کے اعتراف کا پختہ ثبوت ہے۔ عالمی سیاست کے اس نازک موڑ پر ایرانی صدر کا پاکستان آنا نہ صرف دونوں برادر ممالک کے مابین تجارتی‘ معاشی اور سرحدی روابط کو ایک نئی جہت دینے کا باعث بنے گا بلکہ یہ پاکستان کے ایک بااعتماد‘ بااثر اور مؤثر ثالث کے وقار کو بھی بین الاقوامی سطح پر نمایاں کرے گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>انسانی ترقی پر سرمایہ کاری(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-23/11300</link><pubDate>Tue, 23 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-23/11300</guid><description>قومی اسمبلی میں وفاقی بجٹ 2026-27ء پر بحث کے دوران ارکانِ اسمبلی اور ماہرینِ معیشت نے زور دیا ہے کہ ملک میں پائیدار معاشی استحکام اور قومی ترقی کیلئے صحت‘ تعلیم‘ سماجی تحفظ اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے شعبوں کو ترجیح دی جائے۔ یہ مطالبہ زمینی حقائق اور مستقبل کے چیلنجز کا ناگزیر تقاضا ہے۔ بلاشبہ ترقی کا اصل پیمانہ صرف مالیاتی اشاریوں میں بہتری نہیں بلکہ یہ ہے کہ شہریوں کو معیاری تعلیم‘ معیاری علاج‘ روزگار کے مواقع ا ور محفوظ ماحول میسر ہو۔ انسانی وسائل ہی کسی معیشت کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔ بیمار‘ غیر تعلیم یافتہ اور غیر محفوظ آبادی کبھی بھی مضبوط معیشت کی بنیاد نہیں بن سکتی۔ اس لیے اگر آج صحت‘ تعلیم‘ ہنرمندی اور سماجی تحفظ پر خاطر خواہ سرمایہ کاری نہ کی گئی تو بڑھتی ہوئی آبادی قومی طاقت کے بجائے بڑے سماجی اور معاشی بوجھ میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ بھی فوری توجہ کا متقاضی ہے۔

حالیہ برسوں میں سیلاب‘ ہیٹ ویوز‘ خشک سالی اور غیر متوقع بارشیں جانی اور مالی نقصان کا باعث بن چکی ہیں جبکہ آنیوالے برسوں میں موسمیاتی بحران مزید سنگین ہونے کی پیشگوئیاں کی جا رہی ہیں۔ ایسے حالات میں موسمیاتی موافقت‘ آبی وسائل کے تحفظ‘ جدید زرعی نظام‘ قدرتی آفات سے بچاؤ اور ماحول دوست انفراسٹرکچر پر سرمایہ کاری ناگزیر ہو چکی ہے۔بصورت دیگر بڑھتی ہوئی آبادی‘ کمزور انسانی ترقی اور سنگین موسمیاتی خطرات مستقبل میں ایسے بحرانوں کو جنم دے سکتے ہیں جن سے نمٹنا کہیں زیادہ مشکل اور مہنگا ثابت ہوگا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کپاس، کاشت کا ہدف(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-23/11299</link><pubDate>Tue, 23 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-23/11299</guid><description>ایک خبر کے مطابق پنجاب میں کپاس کی کاشت کا مقررہ ہدف حاصل نہیں ہو سکا۔ صوبائی حکومت نے نئے سیزن کیلئے32 لاکھ ایکڑ رقبے پر کپاس کاشت کرنے کا ہدف مقرر کیا تھا مگر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 26 لاکھ ایکڑ پر ہی کپاس کاشت ہو سکی ہے۔ کپاس کی کاشت میں کمی کا براہِ راست مطلب پیداوار میں کمی ہے‘ نتیجتاً ملکی ضروریات پوری کرنے کیلئے درآمدات کا سہارا لینا پڑے گا۔رواں مالی سال کے ابتدائی گیارہ ماہ کے دوران ایک ارب 30کروڑ ڈالر سے زائد مالیت کی کپاس درآمد کی جا چکی ہے۔ کپاس کی کاشت میں کمی کی متعدد وجوہات ہیں۔ کم پیداوار کے حامل ناقص بیج‘ مہنگے زرعی مداخل‘ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث غیر متوقع بارشیں‘ شدید گرمی اور پانی کی قلت وغیرہ۔

مگر اصل سوال یہ ہے کہ حکومت نے اس صورتحال کے تدارک کیلئے کیا اقدامات کیے ہیں؟ یہ امر حیران کن ہے کہ پنجاب کے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں زراعت جیسے اہم شعبے کیلئے صرف 92 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ حکومت کو زراعت کیلئے جامع پالیسی مرتب کرنا ہوگی‘ جس کے تحت معیاری بیجوں کی فراہمی‘ زرعی تحقیق پر سرمایہ کاری‘ جدید آبپاشی نظام‘ موسمیاتی تبدیلیوں سے مطابقت رکھنے والی زرعی حکمت عملی‘ کھاد اور زرعی ادویات کی مناسب قیمتوں پر دستیابی اور کسانوں کو آسان شرائط پر قرضوں کی فراہمی کو یقینی بنانا چاہیے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>آنرایبل لارڈ کلائیو کا خواب میں آنا(محمد اظہارالحق)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-06-23/52171/99011662</link><pubDate>Tue, 23 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-06-23/52171/99011662</guid><description>پہلے یہ ہوتا تھا کہ کوئی جب گھر سے باہر جاتا تو گھر والے پریشان ہوتے تھے کہ اللہ کرے خیریت سے واپس آ جائے۔ باہر کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ ٹریفک کی لاقانونیت کسی حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔ پولیس والے پکڑ کر حوالات میں بند کر سکتے ہیں۔ دہشت گردی جان لے سکتی ہے۔ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ شام پڑ جائے اور بچے واپس نہ پہنچیں تو گھر والے دروازے پر کھڑے ہو کر انتظار کرنے لگ جاتے تھے۔ مگر اب معاملہ الٹ ہو گیا ہے۔ اب جو گھر سے باہر ہے‘ اسے فکر لاحق ہے کہ پیچھے گھر والوں پر کوئی افتاد نہ آ پڑے۔ اب گھر کے اندر بھی حادثہ ہو سکتا ہے۔ چاردیواری کے اندر رہ کر بھی آپ محفوظ نہیں۔ یہی گزشتہ ہفتے میرے ساتھ ہوا!میں اتوار بازار سے سودا سلف لے رہا تھا کہ بیٹے کا فون آیا۔ وہ سخت گھبرایا ہوا تھا۔ کہنے لگا: ابو! جلد گھر پہنچیں۔ ابھی اس نے اتنا ہی کہا تھا کہ عجیب سی آواز آئی۔ جیسے کسی نے اس کے ہاتھ سے فون چھین لیا ہو۔ پھر اس کے چیخنے کی آوازیں آئیں۔ مجھے نہیں معلوم واپسی پر میں گاڑی چلا رہا تھا یا ہوا میں اُڑ رہا تھا۔ گھر کے قریب پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ لوگ گھر کے سامنے جمع ہیں۔ اندر داخل ہوا تو عجیب وغریب منظر دیکھا۔ کچھ لوگ ہمارے صحن میں گڑھا کھود رہے تھے۔ میں نے ان سے پوچھا: تم لوگ کون ہو اور میرے صحن میں کیا کر رہے ہو؟ پاس کرسی پر بیٹھے‘ نیم بابو اور نیم افسر قسم کے شخص نے اونچی آواز میں کہا کہ یہ گھر کا مالک لگتا ہے‘ اسے بھی اندر لے جاؤ۔ دو قوی ہیکل‘ حبشی نما افراد مجھے دھکیل کر میرے ہی گھر کے ایک کمرے میں لے گئے‘ اور دروازہ باہر سے بند کر دیا۔ میری اہلیہ اور بیٹا بھی وہیں‘ فرش پر بیٹھے ہوئے تھے۔ بیٹے سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ یہ لوگ بجلی کے محکمے سے ہیں اور بجلی کا کھمبا ہمارے صحن میں لگا رہے ہیں۔ بیٹے اور اس کی ماں نے انہیں روکنے کی کوشش کی تو دونوں کو کمرے میں بند کر دیا گیا۔ شام کو ہماری قید ختم ہوئی۔ باہر نکل کر دیکھا تو صحن کے بیچوں بیچ ایک آسماں بوس کھمبا نصب تھا۔ صحن برباد ہو چکا تھا۔ اب اس میں بچے کھیل سکتے تھے نہ شام کو کرسیاں بچھا کر بیٹھنے کی جگہ باقی بچی تھی۔ ہم پولیس کے پاس گئے۔ پولیس والے رو پڑے اور کہا کہ وہ بے بس ہیں۔ ہم نے قاضی کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ وہ بھی ہمیں گلے سے لگا کر زار و قطار رویا اور پھر اپنی بے چارگی کا بتا کر مزید رویا۔ ابھی ہم اس بلائے بے درماں سے سنبھلے بھی نہ تھے کہ ایک دن دوپہر کے وقت ٹیلی فون کے محکمے والے آ گئے۔ انہوں نے بھی ہمیں کمرے میں بند کیا۔ باہر نکلے تو دیکھا کہ اب کے ہمارے لاؤنج کے عین درمیان ایک کھمبا نصب تھا۔ چھت میں سوراخ تھا جس سے کھمبا اوپر گیا تھا۔ ہم نے پھر متعلقہ اداروں کے پاس جا کر داد رسی چاہی مگر سب نے یہی کہا کہ معاملہ ان کے اختیار سے بہت اوپر کا ہے۔ پھر گیس والے آئے۔ ہمارے کمروں کے فرش اکھاڑے گئے اور ان کے نیچے سے پائپ گزارے گئے۔ ہم نے فرش کی ازسر نو تعمیر کا خرچ مانگا تو ہمیں بتایا گیا کہ اگر دوبارہ ایسی بات کی تو دو کروڑ روپے کا جرمانہ کیا جائے گا۔ ہم سب گھر والے چوہوں کی طرح دبک کر بیٹھ گئے۔ اب ہمارے گھر میں صرف ایک کمرہ سلامت رہ گیا تھا۔ سب افرادِ خانہ اسی میں رہنے پر مجبور تھے۔ یہی کھانے کا کمرہ تھا‘ یہی مہمان خانہ تھا اور یہی خواب گاہ تھی۔ ہم نے حالات سے سمجھوتا کر لیا اور ریاست کا شکریہ ادا کیا کہ چلو ایک کمرہ تو چھوڑ دیا۔ افسوس! یہ خوش فہمی بھی جلد دور ہو گئی۔ ایک دن سرشام گھر کے باہر‘ گلی میں شور سنائی دیا۔ باہر نکل کر دیکھا تو بہت سے لوگ صفیں باندھے کھڑے تھے۔ سب سے آگے امام صاحب تھے اور ان کے سامنے چارپائی پر‘ کفن میں لپٹی میت رکھی تھی۔ جنازہ ختم ہوا تو سب ہمارے گھر میں گھس آئے۔ بتایا گیا کہ قبرستانوں کی قلت ہو گئی ہے۔ طاقتور خاندانوں نے اُن ساری زمینوں پر قبضہ کر لیا تھا جو قبرستانوں کیلئے مختص تھیں۔ ان طاقتوروں میں وہ معززین بھی شامل تھے جو بجلی پیدا کرنے والی نجی کمپنیوں کے مالکان تھے۔ ظاہر ہے کہ انہیں روکنا ناممکنات سے تھا۔ چنانچہ نئی قانون سازی کی گئی جس میں یہ طے پایا کہ آئندہ مرنے والوں کو کسی بھی جگہ دفنایا جا سکے گا۔ مزاحمت کرنے والوں کو کوڑے مارے جائیں گے۔ جرمانہ الگ ہو گا اور جیل کی سزا الگ۔ ہمارے ایک کمر ے میں‘ جو باقی بچا تھا اور جس میں ہم سب رہ رہے تھے‘ قبر بنائی گئی اور میت کو دفن کیا گیا۔ مرحوم کے لواحقین رات بھر قبر کے گرد بیٹھ کر تسبیح وعبادت میں مشغول رہتے۔ اب گھر میں ہمارے سونے کی جگہ باقی نہیں رہی تھی۔ ہم باہر گلی میں سونے لگے!!یہ اُس رات کی بات ہے جو خاصی ڈراؤنی تھی۔ بادل گرج رہے تھے۔ میں نے سر سے پاؤں تک لحاف اوڑھا ہوا تھا اور سونے کی کوشش کر رہا تھا۔ کچھ دیر کے بعد گلی سے گزرنے والے راہگیروں کے قدموں کی آواز نیند کے غلبے میں دبنے لگ گئی۔ یہ ایک ایسی کیفیت تھی جو خواب کی تھی نہ بیداری کی! مجھے کسی نے جگایا۔ لحاف سر سے ہٹا کر دیکھا تو صاحب بہادر‘ آنرایبل لارڈ کلائیو کھڑے تھے۔ میں ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا۔ چارپائی سے نیچے اترنا چاہا تو لارڈ صاحب نے روک دیا۔ میں نے دست بستہ معذرت کی کہ صاحب بہادر!! میرے پاس گھر ہی نہیں‘ مہمان خانہ کہاں سے لاؤں جہاں آپ تشریف فرما ہوں۔ صاحب بہادر آنرایبل لارڈ کلائیو میرے ساتھ چارپائی پر ہی بیٹھ گئے۔ کہنے لگے کہ بس ایک دو ضروری باتیں کر کے چلا جاؤں گا۔ عرض کیا: حضور فرمائیے! ہمہ تن گوش ہوں۔ کہنے لگے: تم ان لکھاریوں میں سے ہو جو ہندوستان پر برطانوی قبضے کی مذمت میں لگے رہتے ہو۔ تمہارے قلم سے سامراج دشمنی کے علاوہ کچھ اور نکلتا ہی نہیں۔ مگر اب تو تمہاری آنکھیں کھل جانی چاہئیں! ہم جتنے بھی برے تھے تم لوگوں کی ذاتی جائدادیں تو محفوظ تھیں۔ یہ درست ہے کہ ہم نے نوابوں اور راجوں مہاراجوں کے تخت وتاج پر قبضہ کیا‘ بغاوتیں بھی کچلیں مگر دل پر ہاتھ رکھ کر بتاؤ کہ کیا تم لوگوں کے مکانوں‘ کھیتوں‘ جائدادوں کو کوئی خطرہ لاحق تھا؟ کسی انگریز کو بھی اجازت نہ تھی کہ کسی ہندوستانی کے گھر پر یا گھر کے کسی حصے پر قبضہ کرے یا اس پر کوئی تعمیری سرگرمی دکھائے۔ اب جب تمہاری اپنی حکومت ہے تو حالت یہ ہے کہ نجی کمپنیاں تمہیں در بدر کر سکتی ہیں‘ تمہاری جاگیروں پر‘ تمہارے کھیتوں کھلیانوں پر‘ تمہارے رہائشی مکانوں پر‘ تمہارے پارکوں‘ باغوں اور سیر گاہوں پر‘ تمہارے دالانوں‘ ڈیوڑھیوں‘ بر آمدوں‘ غلام گردشوں اور آنگنوں پر کوئی بھی‘ ملکی کمپنی ہو یا غیر ملکی‘ قبضہ کر سکتی ہے۔ تم مزاحمت کرو تو کروڑوں کا جرمانہ بھرو گے۔ کہیں کوئی شنوائی نہیں‘ کوئی انصاف نہیں۔ ہم پر الزام تھا کہ ہم برصغیر کی دولت برطانیہ منتقل کر رہے تھے۔ اب تو تمہارے حکمران تمہی میں سے ہیں۔ کیا ان سے کبھی پوچھا ہے کہ ان کی دولت کہاں ہے؟ جرائم کا اندازہ لگا لو۔ اُس وقت زیادہ تھے یا آج زیادہ ہیں۔ تب پولیس فورس تعداد میں کم تھی۔ اب کئی گنا زیادہ ہے مگر جرائم کی کوئی حد نہیں۔ غیر ملکی کمپنیاں رات دن لوٹ رہی ہیں۔ باڑ کھیت کو کھا رہی ہے۔ ابھی تو تم گلی میں سو رہے ہو۔ کیا عجب کچھ عرصہ کے بعد گلی بھی لے لی جائے!وضاحت: یہ ایک فرضی کہانی ہے‘ کسی قسم کی مماثلت اتفاقیہ ہو گی!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_57182973.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>منافقت کا صدر دفتر(خالد مسعود خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-06-23/52172/77340507</link><pubDate>Tue, 23 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-06-23/52172/77340507</guid><description>لاس اینجلس امریکہ میں مقیم چھوٹے بھائیوں جیسے دوست اور ہمدمِ دیرینہ شفیق سے میری صرف امریکی سیاست پر گفتگو ہوتی ہے۔ پاکستانی سیاست کے حوالے سے مجھے اس کے نظریات سے اتفاق نہیں۔ تاہم اس کی خوبی یہ ہے کہ وہ پاکستانی سیاست کے بارے میں مجھ سے گفتگو ہی نہیں کرتا۔ میری اور اس کی ساری گفتگو صرف اور صرف امریکی سیاست پر ہوتی ہے۔ اس کی امریکی سیاست پر کافی گہری نظر ہے اور وہ ایک محقق اور سیاسی طالب علم کے طور پر اس کا بے لاگ تجزیہ کرتا ہے۔ امریکی سیاست کے حوالے سے عام طور پر اس کا تجزیہ سو فیصد درست نکلتا ہے۔ امریکی سیاست پر میں اسے اپنے جاننے والے امریکہ میں رہائش پذیر دوستوں میں سب سے زیادہ باعلم شخص تصور کرتا ہوں۔ وہ میرے دوستوں میں واحد شخص ہے جو امریکی سیاست کو جانچنے اور سمجھنے کی شعوری کوشش کرتا ہے‘ پڑھتا ہے اور غور کر کے نتائج اخذ کرتا ہے۔ باقی دوستوں کو لاحاصل پاکستانی سیاست سے ہی فرصت نہیں ملتی۔ندیم سعید سے (جب وہ لندن میں تھا تب بھی اور اب جبکہ وہ امریکہ میں ہے) پاکستان کے عالمی منظرنامے میں مقام‘ اس میں بہتری یا تنزلی‘ برصغیر کی علاقائی صورتِ حال کے بین الاقوامی تناظر میں تجزیے اور عمومی بین الاقوامی سیاست پر بات ہوتی ہے۔ وہ ایک غیر جانبدار اور باخبر صحافی کے طور پر نہایت ایمانداری سے اپنا تجزیہ‘ اپنے اندازے اور مستقبل کے امکانات پر روشنی ڈالتا ہے۔ ایک غیر جانبدار اور اس سے بڑھ کر اقوام متحدہ جیسے عالمی ادارے میں بیٹھے ہوئے شخص کے طور جسے بہت سے ممالک کے نمائندوں کے خیالات سے آگاہی جیسی سہولت میسر ہو‘ حالیہ ایران امریکہ تنازعے سے پیدا ہونے والی عالمی صورتحال میں پاکستان کی امن کوششوں کے بارے میں سوال کرنے کے لیے وہ مناسب ترین شخص تھا۔ کسی درست اور مناسب جواب کے حصول کے لیے یہ سوال بہرحال پاکستان میں بہت سے دوستوں سے نہیں کیا جا سکتا۔ جیسا کہ میں پہلے بھی کئی بار لکھ چکا ہوں کہ ہمارے ہاں سیاسی تجزیہ غیر جانبدار نہیں رہا۔ ہر شخص کا اپنا اپنا سچ ہے۔ اس سچ کے پیچھے اس کی اپنی پسند وناپسند اور سیاسی وابستگی کارفرما ہوتی ہے۔ ابھی میں اس میں مفاداتی معاملات شامل نہیں کر رہا کیونکہ اس سے بات کہیں کی کہیں چلی جاتی ہے‘ لیکن بہرحال یہ بھی ایک مضبوط عامل ہے۔ تاہم میں ذاتی طور پر یہ محسوس کرتا ہوں کہ پاکستان میں بہت سے صحافی اب کسی نہ کسی کیمپ کا حصہ بن چکے ہیں۔ بہت سے لوگ غیر جانبدار صحافت کے بجائے لابیسٹ (Lobbyist) کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ ایسے میں غیر جانبدارانہ تجزیہ کرنے والے لوگ خال خال ہی دکھائی دیتے ہیں۔ اگر آپ پاکستان میں کسی سے یہ سوال کریں کہ حالیہ ایران‘ امریکہ اور اسرائیل تنازعے کے بعد علاقائی صورتحال میں جو ابتری پیدا ہوئی تھی اسے بہتر بنانے کے سلسلے میں پاکستان کی کوششیں کیا رنگ لائیں‘ ان کے کیا اثرات مرتب ہوئے اور اس کے پاکستان کے عالمی امیج پر کیا اثرات مرتب ہوئے ہیں تو آپ کو اس سوال کا جواب دو انتہائی صورتوں میں ملے گا اور یہ جواب دو سو فیصد مثبت یا اڑھائی سو فیصد منفی نتائج پر مشتمل ہو گا۔ ندیم سعید سے پوچھا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ‘ بعد از جنگ کشیدگی اور انتہائی بگڑے ہوئے تعلقات کو صلح کی جانب لانے اور پورے خطے کی صورتِ حال کو معمول پر لانے کے لیے پاکستان نے جو کردار انجام دیا ہے‘ اور جس طرح امریکہ اور ایران کے باہمی تعلقات جو انتہائی کشیدگی کا شکار تھے‘ اس میں سہولت کار کا فریضہ سرانجام دیا ہے‘ جو کامیابی کی طرف بڑھتا ہوا دکھائی دے رہا ہے‘ اس ساری پیش رفت میں بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے کردار کے بارے میں کیا عمومی رائے ہے اور کیا اس ساری بھاگ دوڑ سے پاکستان کا امیج بہتر ہوا ہے یا یہ ساری کوشش محض کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑا بارہ آنے کے مترادف ثابت ہوئی ہے؟وہ بتانے لگا کہ اس ساری بھاگ دوڑ کے بعد جو صورتحال سامنے آئی ہے وہ عالمی سطح پر سکون کا باعث بنی ہے۔ خاص طور پر تیل کی سپلائی کی بحالی کے جو امکانات پیدا ہوئے ہیں‘ ان سے بہت سے ممالک مستفید ہوں گے۔ اس حوالے سے مذاکرات میں سہولت کار کے طور پر مؤثر کردار ادا کرنے والے ملک کے طور پر پاکستان کے کردار کو سراہا جا رہا ہے۔جن حلقوں میں پاکستان کے بارے میں کوئی خاص تاثر موجود نہیں تھا یا منفی تاثر پایا جاتا تھا وہاں یہ تاثر کافی بہتر ہوا ہے۔ اس معاہدے کی ابتدائی کامیابی کے بعد پاکستان کا امیج عالمی سطح پر مثبت انداز میں دیکھا جا رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر مختلف اطراف سے ملنے والی داد و تحسین بھی اس مثبت تاثر کی گواہی دیتی ہے۔ ندیم سعید کے مطابق حالیہ ایران‘ امریکہ جنگ کے خاتمے کے لیے دونوں فریق ایک باعزت راستہ تلاش کر رہے تھے جس کے ذریعے وہ اس صورتحال سے نکل سکیں۔ اس خواہش میں ایران کی نسبت امریکہ زیادہ دلچسپی رکھتا تھا۔ تاہم جو فریق خود کو دنیا کا بلاشرکت غیرے چودھری سمجھتا ہو اس کے لیے شکست تسلیم کرنا‘ اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنا اور مصالحت کی طرف آنا آسان نہیں ہوتا۔ اس کے مطابق غالب گمان یہ ہے کہ پاکستان کو اس معاملے میں امریکی خواہش کے پیشِ نظر مصالحتی کردار ادا کرنے کے لیے آگے لایا گیا۔ پاکستان نے اس دوران خاصا فعال کردار ادا کیا اور ان فریقین کو‘ جو شدید اختلافات اور تنازعات میں الجھے ہوئے تھے‘ بالآخر کسی نہ کسی قابلِ قبول سمجھوتے کی طرف لانے میں کامیابی حاصل کی۔ ان تمام تفصیلات سے قطع نظر یہ بات طے ہے کہ ان کاوشوں کے نتیجے میں عالمی برادری میں پاکستان کی اہمیت‘ وقار اور سفارتی حیثیت میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ ندیم سعید کا ایک غیر جانبدارانہ تبصرہ تھا۔میں نے نیویارک کے علاقے مین ہیٹن سے گزرتے ہوئے متعدد بار اقوامِ متحدہ کے صدر دفتر کی عمارت کو دیکھا ہے۔ ایسٹ ریور کے کنارے واقع تقریباً سترہ سے اٹھارہ ایکڑ پر مشتمل صدر دفتر کا یہ کمپلیکس اپنے سیکرٹریٹ کی 39منزلہ منفرد اور شاندار عمارت کی وجہ سے نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ پانچ سو فٹ سے زیادہ بلند سبزی مائل نیلگوں شیشوں والی یہ عمارت کافی فاصلے سے نظر آ جاتی ہے۔اس عمارت کی سینکڑوں تصاویر دیکھنے کے بعد برسوں قبل جب پہلی مرتبہ اسے نیویارک کی فلک بوس عمارتوں کے درمیان دیکھا تو اسے پہچاننے میں لمحہ بھر کی بھی دقت نہ ہوئی۔ اس کمپلیکس کے مشرق میں ایسٹ ریور‘ مغرب میں فرسٹ ایونیو‘ شمال میں پینتالیسویں سٹریٹ اور جنوب میں اڑتالیسویں سٹریٹ واقع ہے۔ اس عمارت کے پاس سے بارہا گزرتے ہوئے اسے اندر سے دیکھنے کا شوق پیدا ہوا۔ مگر یہ خواہش بس خواہش ہی رہی۔ تاہم اب ندیم سعید کے توسط سے اس عمارت تک رسائی صرف ممکن ہی نہیں‘ آسان بھی تھی۔ اس نے کہا کہ صبح ہم یو این ہیڈکوارٹر چلیں گے تو ایک بار پرانی دلی تمنا نے تھوڑا سرخوشی کا اظہار کیا مگر میں نے انکار کر دیا۔ میں نے ندیم سعید کے چہرے پر ابھرنے والے تاثرات کو پڑھ لیا۔ میں نے کہا: دل اب منافقت بھرے سمندر میں تیرنے سے انکاری ہو گیا ہے۔ دل اب اس بلند وبالا عمارت کی عملی بے وقعتی‘ منافقت‘ فریب اور طبقاتی انصاف سے اُوب گیا ہے۔ طاقتوروں کی غلام اور کمزوروں پر اپنے احکامات مسلط کرنے والی اس تنظیم کے صدر دفتر کو دیکھنے کی خواہش پہلے غزہ اور اب ایران پر اسرائیلی اور امریکی جارحیت پر سوئے رہنے کے بعد مر چکی ہے۔ اس عمارت کے اندر جانا تو کجا‘ اب تو باہر سے بھی دیکھنے کو دل نہیں کرتا۔ یہ اقوام عالم کا نہیں‘ منافقت کا صدر دفتر ہے۔ چلو کسی بینچ پر بیٹھ کر کافی پیتے ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90500073.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کلمۂ حق کی قیمت(ڈاکٹر حسین احمد پراچہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-06-23/52173/78939758</link><pubDate>Tue, 23 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-06-23/52173/78939758</guid><description>سچی بات تو یہ ہے کہ محرم الحرام کے موقع پر پنجاب میں ایک لاکھ 24 ہزار پولیس اور 15 ہزار رینجرز اہلکاروں کی تعیناتی سے دل ہی دل میں بہت شرمساری محسوس کر رہا ہوں۔ ملکِ عزیز میں مسلمانوں کے تمام مسالک میں ہم آہنگی اور رواداری ہے۔ محرم الحرام کے موقع پر مسئلہ عدم رواداری نہیں‘ دہشت گردی ہے جس کا کوئی مذہب ہے نہ مسلک۔ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ ہمارے ہاں رواداری اور احترامِ باہمی کا فقدان ہی نہیں خاتمہ ہو چکا ہے؟ میرے بچپن اور لڑکپن میں غمگسارانِ حسینؓ کے ماتمی جلوس سڑکوں اور بازاروں سے گزرتے تو سُنی اُن کے احترام میں پانی‘ دودھ اور شربت کی سبیلیں لگاتے تھے۔ حقیقت تب بھی اور اب بھی یہ ہے کہ نواسۂ رسولؐ جگر گوشۂ بتولؓ اور فرزند شیرِ خدا علی المرتضیٰؓ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کسی ایک فرقے کے نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کے محبوب ہیں۔ دیکھئے اس بارے میں علامہ اقبالؒ نے بزبان فارسی کیا فرمایا ہے:رمز قرآں از حسین آمو ختیم؍ ز آتش او شعلہ ہا اندوختیمخون او تفسیر ایں اسرار کرد؍ ملت خوابیدہ را بیدار کردیعنی میں نے قرآن کا سبق سیدنا حسینؓ کی قربانی سے یاد کیا ہے۔ حق کیلئے ان کے جذبوں سے میں نے ولولوں کے شعلوں کا ذخیرہ جمع کیا ہے۔ سیدنا حسینؓ کے خوں کی خوشبو راز ہائے سر بستہ کی تفسیر بیان کرتی ہے۔ میدانِ کربلا میں حضرت حسینؓ کی قربانی سے سوئی ہوئی امت مسلمہ جاگ گئی ہے۔استادِ گرامی ڈاکٹر خورشید رضوی نے بچوں کیلئے واقعۂ کربلا سے حاصل ہونے والے اسباق کو سادہ مگر انتہائی دل نشیں انداز میں بیان کیا ہے اور حق گوئی کیلئے زبانی ہی نہیں عملی گواہی کی حقیقت سے بھی انہیں آگاہ کیا ہے۔ لکھتے ہیں:حسینؓ صبر و رضا کا پیکر ؍ حسینؓ عزم و وفا کا پیکرحسینؓ نے جا کے کربلا میں؍ حسینؓ نے گِھر کے ہر بلا میںقدم کو اپنے جمائے رکھا؍ علم کو اپنے اٹھائے رکھاشبیر حضرت امام حسینؓ کا لقب ہے۔ اقبالؒ فرماتے ہیں:نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسمِ شبیریکہ فقرِ خانقاہی ہے فقط اندوہ و دلگیرییہ رسم شبیری کیا ہے‘ جس کیلئے امام عالی مقامؓ نے نہ صرف اپنی جان کی قربانی دی بلکہ اپنے خاندان کے بچوں تک کو کٹوا دیا۔ کسی شخص کی مظلومانہ شہادت پر اس کے اہلِ خانہ کا اظہارِ غم کرنا تو عین فطری بات ہے۔ اس خاندان سے عقیدت و ہمدردی کے جذبات رکھنے والوں کا غم و اندوہ بھی ایک روایت اور حقیقت ہے۔ مگر امام حسینؓ کی وہ خاص بات کیا ہے کہ جس کی بنا پر آج تقریباً چودہ سو برس گزرنے کے بعد ہر سال ان کا غم تازہ ہوتا رہتا ہے؟ ہر سال محرم میں کروڑوں شیعہ و سنی مسلمان ان کی شہادت پر اپنے غم کا اظہار کرتے ہیں مگر عملاً اس مقصد کی طرف کم ہی توجہ کرتے ہیں جس کیلئے اتنی عظیم قربانی دی گئی تھی۔دراصل امام عالی مقام نے یزید کی ولی عہدی اور جاں نشینی سے یہ پہچان لیا تھا کہ اسلامی طرزِ حکومت میں بڑی بنیادی نوعیت کی تبدیلی آ گئی ہے۔ بظاہر تو اس طرح سے مساجد کے میناروں سے اذانیں بھی بلند ہو رہی تھیں‘ عدالتوں میں اسلامی شریعت کے مطابق فیصلے بھی ہو رہے تھے‘ پھر وہ کیا وجہ تھی جس کی بنا پر امام عالی مقام نے یزید کی بیعت کرنے سے انکار کر دیا اور جب میدانِ کربلا میں وہ گھِر گئے تھے تو انہوں نے اپنی اور اپنے پیاروں کی جانیں تک قربان کر دیں۔اسلام میں یہ واضح عقیدہ کہ ملک خدا کا ہے‘ وہی اقتدارِ کُلی کا مالک و مختار ہے۔ باشندے خدا کی رعیت ہیں۔ ریاست کے معاملات وہاں کے اصحاب البرا کے مشوروں سے چلائے جائیں گے اور حکمران لوگوں کے حقوق کے سلسلے میں امت کے سامنے ہی نہیں خدا کے سامنے بھی جوابدہ ہیں۔ یزید کی جانشینی سے اسلامی دستور کے بنیادی اصولوں کو بھی بدل ڈالا گیا۔ اسلامی قانون کا سب سے بنیادی ستون یہ تھا کہ کوئی خلیفہ یا حاکم مسلمانوں کی مرضی کے بغیر ان پر مسلط نہیں کیا جا سکتا۔  مختصر یہ کہ اسلامی خلافت کو ملوکیت میں بدل دیا گیا۔ اسلامی ریاست کے خلیفہ کیلئے مسلمانوں کی بیعت یا آج کی زبان میں ان کا ووٹ تھا۔ مگر اوپر سے یزید کی تعیناتی کی گئی اور عامۃ المسلمین کی رائے یا بیعت سے کسی تکلف کا کوئی اہتمام نہ کیا گیا۔ بعد کے ادوار میں بھی مسلم حکمرانوں نے عامۃ المسلمین سے بزور شمشیر بیعت حاصل کرنے کی کوشش کی۔ حضرت امام حسینؓ سے لے کر آج کے دور تک امتِ مسلمہ میں ایسے اللہ والے آتے رہے ہیں کہ جنہوں نے اپنی جانوں پر کھیل کر بہ جبر و اکراہ بیعت کرنے سے انکار کر دیا۔ امام مالکؒ جیسی عظیم المرتبت شخصیت کو عباسی دورِ حکومت میں خلیفہ ابو جعفر منصور کے چچا زاد اور مدینہ کے گورنر جعفر بن سلمان نے حق گوئی کی پاداش میں کوڑے لگوائے تھے۔ اس کی بنیادی وجہ آپ کا وہ فتویٰ تھا جس کے مطابق زبردستی لی گئی بیعت اور زبردستی دی گئی طلاق باطل اور غیرمعتبر ہوتی ہے۔اسی طرح بعد کے ادوار کے دوران۔ 1953ء میں لاہور کی ایک فوجی عدالت نے حق گوئی کے ایسے ہی ایک &#39;&#39;جرم‘‘ کی پاداش میں مولانا سیّد ابو الاعلیٰ مودودی کو سزائے موت سنا دی۔ جب حکومتِ وقت کی پھانسی کی کوٹھڑی میں موت کا انتظار کرتے ہوئے مولانا مودودی کو رحم کی اپیل کرنے کے کاغذات دستخط کرنے کیلئے پیش کیے گئے تو مولانا نے شانِ بے نیازی کے ساتھ یہ تاریخی جملہ کہہ کر اس پیشکش کو ٹھکرا دیا کہ: زندگی اور موت کے فیصلے زمینوں پر نہیں آسمانوں پر ہوتے ہیں۔ بعد میں ایسے ہی ہوا کہ ایک سول عدالت کے فیصلے پر مولانا مودودی کو باعزت بری کر دیا گیا۔ اسی طرح کی ایسی ہی حق گوئی کی بھاری قیمت ممتاز مصری سکالر اور مفسرِ قرآن سیّد قطب نے 1966ء میں مسکراتے ہوئے تختۂ دار چوم کر ادا کی تھی۔ حق گوئی کل آسان تھی نہ آج ہے۔ عالمِ عرب کی آمریتوں اور خاندانی بادشاہتوں میں آج بھی کلمۂ حق کہنا اتنا ہی دشوار ہے جتنا محرم الحرام 61ہجری بمطابق 680عیسوی میں تھا۔ جہاں تک ہمارے جیسے نیم جمہوری ملکوں کا تعلق ہے وہاں بھی حق گوئی کا فریضہ جان ہتھیلی پر رکھ کر ہی ادا کیا جا سکتا ہے اور بعض اوقات جان گنوانا بھی پڑتی ہے۔ امریکہ اور یورپ جیسے جمہوری ملکو ں میں بھی حق گوئی پر مصلحت کیشی غالب ہے۔ ایک بار پھر یاد کرا دوں کہ امام عالی مقام نے میدانِ کربلا میں یزیدی لشکر جرار کے سامنے مزاحمت کے ایسے ابواب رقم کیے جو رہتی دنیا تک مسلمانوں کیلئے ہی نہیں دنیا بھر کے انسانوں کیلئے مشعلِ راہ ثابت ہوں گے۔ ایسے مواقع پر کہ جب فوج گھِر جائے تو بڑے بڑے جرنیل ہتھیار ڈال دیتے ہیں مگر نواسۂ  رسولؐ نے کربلا میں مفاہمت کے بجائے اصول کی غیرت اور عزیمت کے راستے کو ترجیح دی۔ یزید حضرت امام حسینؓ کو  اپنے سامنے سرنگوں کرنا چاہتا تھا۔ وہ ان سے بزورِ شمشیر بیعت لینا چاہتا تھا۔ وہ میدانِ کربلا میں خانوادۂ رسولؐ کے چراغوں کو گل کر دینا چاہتا تھا مگر اسے معلوم نہ تھا کہ وہ شمع مدہم پڑنے کے بجائے ہر گزرتے دن کے ساتھ روشن تر ہو رہی ہے اور ایک دنیا کو منور کر رہی ہے۔غمگسارانِ حسینؓ کہ جن میں یہ معمولی قلمکارِ حسین بھی شامل ہے‘ انہیں ڈاکٹر خورشید رضوی کے اس شعر کے ذریعے میدانِ کربلا میں شہادت حسینؓ کے اصل مقصد کی طرف متوجہ ہونا چاہیے۔اب ڈوب کے سوچا ہے کردارِ حسینی پراب اشک نہیں آتے اب عزم ابھرتا ہے</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_70033906.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>قرض کے بجائے ایکویٹی سے کاروبار(شاہد کاردار)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-kardar-/2026-06-23/52174/92692021</link><pubDate>Tue, 23 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-kardar-/2026-06-23/52174/92692021</guid><description>جب بھی پاکستان میں شرح سود بڑھتی ہے کاروباری حلقے‘ ٹی وی چینلز کے تجزیہ کار اور صنعتکار ایک ہی بات کہتے ہیں کہ اگر سٹیٹ بینک نے فوری طور پر شرح سود کم نہ کی تو سرمایہ کاری میں نمایاں کمی آ جائے گی‘ صنعتیں متاثر ہوں گی اور معاشی ترقی سست پڑ جائے گی۔ اس بیانیے کا بنیادی تصور بہت ہی سادہ ہے یعنی قرضے سستے ہوں تو معیشت کی ترقی ہوتی ہے۔ پہلی نظر میں یہ بیانیہ معقول لگتا ہے۔ کاروباری اداروں کو کارخانے لگانے‘ مشینیں خریدنے اور کاروبار میں توسیع کیلئے سرمایہ درکار ہوتا ہے۔ اگر قرض سستا مل جائے تو کمپنیاں زیادہ آسانی سے سرمایہ کاری کر سکتی ہیں لیکن اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے ایک بڑا مسئلہ چھپا رہتا ہے جسے پاکستان نے کئی برسوں سے نظر انداز کر رکھا ہے۔ وہ یہ کہ سرمایہ کاری کیلئے رقم حاصل کرنے کے دو بنیادی طریقے ہیں۔ ایک طریقہ بینکوں سے قرض لینا ہے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ کاروباری افراد اپنی رقم استعمال کریں یا پھر سرمایہ کاروں کو کمپنی کے شیئرز فروخت کریں‘ جسے ایکویٹی کہتے ہیں۔ سرمایہ کاری کے ہر دو طریقوں سے وجود میں آنے والے کاروباروں اور معیشتوں کی نوعیت ایک دوسرے سے بہت مختلف ہوتی ہے۔ پاکستان میں کاروباری مالکان کا مسلسل یہی مطالبہ رہتا ہے کہ انہیں بینکوں سے سستے قرضے ملتے رہیں جبکہ وہ اپنے شیئرز فروخت کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ ساتھ ہی وہ یہ توقع رکھتے ہیں کہ بچت کرنے والے عام لوگ اپنی بچتوں پر کم منافع قبول کر لیں تاکہ کمپنیاں سستے قرضے حاصل کرتی رہیں۔ جب کمپنیاں قرض لیتی ہیں تو کاروبار کی ملکیت ایک چھوٹے گروہ کے اندر برقرار رہتی ہے جو عموماً ایک ہی خاندان ہوتا ہے۔ لیکن جب کمپنیاں شیئرز فروخت کر کے سرمایہ حاصل کرتی ہیں تو دولت زیادہ لوگوں میں تقسیم ہو جاتی ہے۔ شیئر ہولڈرز شفافیت‘ منافع میں حصہ داری یا کمپنی کے انتظامی بورڈ میں نمائندگی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ بہت سے خاندانی کاروبار یہ نہیں چاہتے کہ ان کے کام میں اس قسم کا بیرونی عمل دخل ہو۔ اسی لیے ان کی ترجیح ایکویٹی کے مقابلے میں بینک کے قرض ہوتے ہیں۔کئی دہائیوں سے زیادہ تر بڑے خاندانی کاروباروں کی یہ حکمتِ عملی رہی ہے کہ وہ زمین‘ عمارتوں یا مشینری کو ضمانت کے طور پر استعمال کر کے بینکوں سے قرض حاصل کرتے ہیں اور پھر ملکیت یا اختیار چھوڑے بغیر اپنے کاروبار کو وسعت دیتے ہیں۔ یہ نظام ان کیلئے بہت مؤثر ثابت ہوا کیونکہ پاکستان میں تاریخی طور پر حقیقی شرح سود بہت کم رہی ہے۔ حقیقی شرح سود سے مراد وہ شرح سود ہے جو مہنگائی کو مائنس کرنے کے بعد باقی رہتی ہے۔ پاکستان میں حقیقی شرح سود اکثر طویل عرصے تک دو فیصد سے بھی کم رہی۔ بینکوں کے لیے بھی یہ زیادہ محفوظ اور آسان طریقہ تھا کہ وہ بڑی کمپنیوں کو قرض دیں کیونکہ ان کمپنیوں کے پاس زمین اور مشینری جیسی ضمانت موجود ہوتی۔ اسی لیے انہوں نے چھوٹی کمپنیوں کی گروتھ کو سپورٹ کرنے کے بجائے زیادہ تر بڑے کاروباری گروپوں کو قرض دیے۔ ایک اعتبار سے بینکوں کا ایسا کرنا بالکل معقول بات ہے کیونکہ سٹیٹ بینک کے قواعد وضوابط اس عمل کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ بینک اثاثوں (زمین‘ مشینری وغیرہ) کی ضمانت کے عوض قرضے جاری کریں۔ تاہم اس نظام نے ملکی معیشت کے لیے طویل مدتی مسائل پیدا کیے۔ ایک تو پاکستان کی سٹاک مارکیٹ کمزور اور محدود رہی۔ بھارت میں بھی بڑے کاروباری گروپوں کے 50 فیصد سے زیادہ شیئرز اُن کے خاندانوں سے باہر عام شہریوں کی ملکیت ہیں لیکن پاکستان میں بہت سی بڑی کمپنیاں سٹاک مارکیٹ میں اندراج سے گریز کرتی ہیں۔ اگر وہ اندراج کر بھی لیں تو اکثرعوام کو بہت کم فیصد شیئرز فروخت کرتی ہیں‘ وہ بھی صرف اس بنیادی شرط کو پورا کرنے کے لیے جو سکیورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کی جانب سے عائد کی جاتی ہے۔اکثر کاروباروں کے مالکان سٹاک مارکیٹ میں کمپنی کے اندراج کو ایک موقع کے بجائے بوجھ سمجھتے ہیں۔ اس عمل کی وجہ سے پاکستان کی مالیاتی مارکیٹوں کی ترقی سست پڑ گئی اورعام شہریوں کیلئے سرمایہ کاری کے مواقع محدود ہو گئے۔قرض لینا بذاتِ خود کوئی بُری چیز نہیں‘ دنیا بھر میں کاروبار ترقی کے لیے قرض استعمال کرتے ہیں۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کمپنیاں بینکوں کے قرض پر حد سے زیادہ انحصار کرنے لگتی ہیں۔ زیادہ مقروض کمپنیاں اس وقت غیر محفوظ ہو جاتی ہیں جب شرحِ سود بڑھ جائے‘ ملکی کرنسی کمزور ہو جائے یا معاشی ترقی سست پڑ جائے۔ مثال کے طور پر اگر کسی کمپنی نے بہت زیادہ قرض لے رکھا ہو اور اچانک شرح سود بڑھ جائے تو اس کمپنی کے لیے قرض کی ادائیگیوں کی قیمت بہت زیادہ ہو سکتی ہے۔ اس سے کاروبار پر مالی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ بعض اوقات کمپنیاں دیوالیہ ہونے لگتی ہیں۔ ایک حد سے زیادہ قرض پورے بینکاری نظام کے لیے بھی اس وقت مسائل پیدا کر سکتا ہے جب ایک ہی وقت میں بہت سی کمپنیاں ناکام ہو جائیں۔ اس کے برعکس شیئرز کے ذریعے سرمایہ کاری (ایکویٹی) مختلف انداز میں کام کرتی ہے۔ جب کوئی کمپنی شیئرز کے ذریعے سرمایہ حاصل کرتی ہے تو سارے خطرات بینک کے قرضوں میں اکٹھے ہونے کے بجائے شیئر ہولڈرز میں تقسیم ہو جاتے ہیں۔ ایکویٹی کا عمل کمپنیوں کے کام کاج کے طریقہ کو بھی تبدیل کر دیتا ہے۔ کاروبار زیادہ شفاف ہو جاتے ہیں کیونکہ شیئر ہولڈرز درست معلومات چاہتے ہیں۔ منیجرز پر زیادہ دباؤ ہوتا ہے کہ وہ پیداوار اور منافع میں بہتری لائیں۔ سرمایہ کاری کے فیصلوں کا زیادہ احتیاط سے جائزہ لینا پڑتا ہے۔ یوں کاروباری مینجمنٹ بہتر ہو جاتی ہے۔ بعض ناقدین کا مؤقف ہے کہ شیئرز کے ذریعے حاصل کیا گیا سرمایہ عموماً قرض کے مقابلے میں زیادہ مہنگا ہوتا ہے۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ پاکستان کے سستے قرضوں پر مبنی کاروبار عالمی سطح پر مسابقتی صنعتیں پیدا نہیں کر سکے۔ بلکہ اس کی وجہ سے اکثر ناقص کارکردگی والے کاروباروں کو تحفظ ملا اور اس امر کی حوصلہ افزائی ہوئی کہ دولت چند خاندانی گروپوں کے اندر اکٹھی ہوتی جائے۔ پاکستان اب بھی کمزور برآمدات‘ کم پیداواریت اور محدود عالمی مسابقت جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ پاکستان کو اب ایک بڑی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ سٹیٹ بینک اور سکیورٹی ایکسچینج کمیشن جیسے ریگولیٹری اداروں اور معاشی فیصلہ سازوں کو چاہیے کہ کمپنیوں سے تقاضا کریں کہ وہ بینک کے قرضوں پر بنیادی انحصار کے بجائے خود اپنے سرمایہ پر رسک لیں۔ انہیں اپنی ریگولیٹری اتھارٹی کا استعمال کرنا چاہیے اور ایکویٹی بڑھانے کیلئے ترغیبات دینی چاہئیں۔ اس طرح زیادہ صحتمند کاروبار اور مضبوط فنانشل مارکیٹیں وجود میں آئیں گی۔ اگر بڑی کمپنیاں بینکوں سے کم قرض لیں تو بینکوں کے پاس چھوٹے کاروباروں اور کسانوں کیلئے زیادہ مالی وسائل دستیاب ہو جائیں گے۔ یوں زیادہ وسیع البنیاد معاشی ترقی ہو سکتی اور روزگار کے زیادہ مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کا پرانا ماڈل (قرض پر مبنی کاروبار) اب اپنی آخری حدوں تک پہنچ چکا ہے۔ پاکستان کی آبادی تقریباً 25 کروڑ ہے لیکن لوگوں کی مجموعی قوتِ خرید اتنی نہیں کہ ملکی کمپنیاں ترقی کرکے بین الاقوامی کمپنیاں بن سکیں۔ پاکستان کے اندر جو کمپنیاں خاصی بڑی ہیں انہیں اگر مزید ترقی کرنی ہے تو ایک ہی راستہ ہے کہ وہ ملک سے باہر جا کر اپنے کاروبار کو وسعت دیں۔ اس مقصد کیلئے ایک تو انہیں بیرونِ ملک پہلے سے موجود مستحکم کاروباری ادارے خریدنا ہوں گے اور دنیا کی بڑی مارکیٹوں میں ڈسٹری بیوشن نیٹ ورکس کے ساتھ اشتراک کرنا پڑے گا۔ دوسرا‘ کاروبار کو وسعت دینے کیلئے عالمی سرمایہ درکار ہے جو مطالبہ کرتا ہے کہ اسے شیئرز دیے جائیں۔ تاہم بین الاقوامی سطح پر مقابلہ کرنے کیلئے پاکستان کو زیادہ مضبوط‘ زیادہ شفاف اور بہتر سرمایہ رکھنے والی کمپنیوں کی ضرورت ہے۔ یہ اسی وقت ممکن ہوگا جب کاروبار سستے قرضوں پر حد سے زیادہ انحصار کرنا چھوڑ دیں اور ایکویٹی کے ذریعے ملکیت کو زیادہ وسیع پیمانے پر پھیلائیں۔ ایکویٹی کے ذریعے سرمایہ کاری کاروباری ساخت کی ضرورت بن چکی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_78012569.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سفارت کاری کی جیت(رشید صافی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-06-23/52175/96323147</link><pubDate>Tue, 23 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-06-23/52175/96323147</guid><description>اکیسویں صدی کی تاریخ جب بھی لکھی جائے گی‘2026 ء کو دنیا کے ایک ہولناک عالمی جنگ کے دہانے سے واپسی اور سفارت کاری کی بے مثال فتح کے سال کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ مشرقِ وسطیٰ میں 100 دنوں سے زائد جاری رہنے والی بدترین جنگی کشیدگی اور امریکہ و ایران کے درمیان چالیس روزہ براہِ راست تصادم نے پوری دنیا کو ایک ایسے بحران میں دھکیل دیا تھا جہاں معیشت منجمد‘ عالمی تجارت مفلوج اور تیسری عالمی جنگ کے خطرات بڑھ چکے تھے۔ شدید جنگی بحران کے دوران اسلام آباد ٹاکس سے شروع ہونے والی امن کوششیں بالآخر سوئٹزرلینڈ میں نتیجہ خیز ثابت ہوئیں۔ امریکہ اور ایران امن معاہدہ محض دو ملکوں کا باہمی معاملہ یا کوئی روایتی سٹرٹیجک دستاویز نہیں‘ یہ معاہدہ جس قدر متحارب ممالک کیلئے ناگزیر تھا اس سے کہیں زیادہ ان علاقائی ممالک کیلئے زندگی اور موت کا مسئلہ بن چکا تھا جو اس جنگ کا حصہ نہ ہونے کے باوجود اس کی تپش کو براہِ راست محسوس کر رہے تھے؛ چنانچہ برگن سٹاک سے ابھرنے والی امن کی کرن پوری دنیا کیلئے باعثِ اطمینان ثابت ہوئی ہے۔متحارب فریقین کو جنگ کے میدان سے نکال کر مذاکرات کی میز تک لانا اور پھر انہیں ایک حتمی یادداشت پر دستخط کرنے کیلئے آمادہ کرنا قطعی طور پر آسان کام نہ تھا۔ ذرا تصور کریں‘ مذاکرات کی ایک ایسی میز جس کے گرد دونوں جانب ایسے رہنما بیٹھے ہوں جن کے دلوں میں دہائیوں پرانی نفرتیں اور دماغوں میں تین ماہ سے زائد کے خونریز بحران کا غصہ ابھر رہا ہو۔ بداعتمادی اور تلخیاں اس انتہا پر تھیں کہ مذاکرات میں فریقین ایک دوسرے سے ہاتھ ملانے پر بھی آمادہ نہ تھے۔ سفارتی آداب اور رسمی مسکراہٹیں غائب تھیں اور فضا اس قدر بوجھل تھی کہ کسی بھی لمحے مذاکرات کی ڈور ٹوٹ جانے کا خطرہ موجود تھا۔ ان کٹھن حالات میں مصالحت کاروں اور ثالثوں بالخصوص پاکستان اور قطر نے کمال درجے کی برداشت‘ صبر اور سٹرٹیجک بصیرت کا مظاہرہ کیا۔ ان کے سامنے چیلنج صرف یہ نہیں تھا کہ وہ میز پر بیٹھے لوگوں کی تلخ گفتگو سنیں بلکہ اصل امتحان یہ تھا کہ ان تلخیوں کو تعمیری تجاویز میں کیسے بدلا جائے۔ جب بھی کوئی ڈیڈ لاک پیدا ہوتا‘ ثالث ممالک کی عسکری اور سیاسی قیادت پس پردہ متحرک ہو جاتی‘ غصے کو ٹھنڈا کرتی اور دوبارہ بات چیت کا سرا جوڑتی۔ یہ ثالثوں کی انتھک محنت کا ہی حاصل ہے کہ جو رہنما ایک دوسرے کا وجود برداشت کرنے کو تیار نہ تھے وہ مشترکہ روڈ میپ پر راضی ہو گئے۔سوئٹزرلینڈ کے خوبصورت اور تاریخی مقام برگن سٹاک میں ہونے والے ان چار فریقی مذاکرات کی تفصیلات اب دنیا کے سامنے آ چکی ہیں جو پاکستان اور قطر کی مخلصانہ ثالثی کا شاہکار ہیں۔ ثالث ممالک کے جاری کردہ مشترکہ اعلامیے کے مطابق اس تاریخی امن عمل کو باقاعدہ‘ مربوط اور محفوظ بنانے کیلئے ایک جامع انتظامی ڈھانچہ تشکیل دیا گیا ہے۔ فریقین نے مذاکراتی عمل کی کڑی نگرانی کیلئے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی کے قیام پر اتفاق کیا ہے جبکہ اس پورے عمل کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے60 روزہ روڈ میپ کی باقاعدہ منظوری دی جا چکی ہے۔ پاکستان کے دفترِ خارجہ کے مطابق ایران اور امریکہ کے مابین تکنیکی نوعیت کے مذاکرات کا آغازکر دیا گیا ہے اور یہ تفصیلی نشستیں پورا ہفتہ برگن سٹاک کی پُرسکون فضا میں جاری رہیں گی تاکہ کسی بھی قسم کے بیرونی دباؤ کے بغیر تمام پیچیدہ امور کو حل کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ بحری تجارت کو محفوظ بنانے کیلئے ایک انقلابی فیصلہ کیا گیا ہے جس کے تحت آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی بلاتعطل اور پُرامن آمدورفت کو یقینی بنانے کیلئے فریقین میں براہِ راست ہاٹ لائن قائم کرنے پر اتفاق ہوا ہے‘ جو مستقبل میں کسی بھی قسم کی غلط فہمی یا حادثاتی تصادم کو روکنے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔مشترکہ اعلامیے کے مندرجات اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ مذاکرات کو محض بیانات تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ ان کو عملی جامہ پہنانے کیلئے ٹھوس سٹرکچر بنایا گیا ہے۔ دو بڑے مسائل یعنی ایٹمی پروگرام اور اقتصادی پابندیوں کے حل کیلئے خصوصی ورکنگ گروپس تشکیل دیے گئے ہیں۔ یہ گروپس اطراف کے تکنیکی اور قانونی ماہرین پر مشتمل ہوں گے جو مرحلہ وار تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر قابلِ عمل تجاویز پیش کریں گے۔ ایک اور انتہائی اہم اور بڑی پیشرفت لبنان میں جنگ کے خاتمے کے حوالے سے سامنے آئی ہے۔ اعلامیے کے مطابق لبنان میں فوری جنگ بندی پر سختی سے عمل کرانے کیلئے ایک De-confliction Cell قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے‘ جس میں لبنان کی قیادت کے ساتھ ساتھ ثالث ممالک کے نمائندے بھی شامل ہوں گے جو زمین پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کی نگرانی کریں گے۔ ثالث ممالک نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ برگن سٹاک کے اس تعمیری اور مثبت ماحول کو برقرار رکھنے کیلئے تمام تر سفارتی توانائیاں بروئے کار لاتے رہیں گے۔ قائم کردہ نگران کمیٹی اس بات کو یقینی بنائے گی کہ چیف مذاکرات کار ایٹمی پروگرام‘ پابندیوں کے خاتمے اور تنازعات کے حل سے متعلق تمام ورکنگ گروپس کی قیادت کرتے ہوئے کمیٹی کو باقاعدگی سے رپورٹ پیش کریں تاکہ معاہدے کی ایک ایک شق پر اس کی روح کے مطابق مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے ان مذاکرات کے مثبت اثرات نظر آنا شروع ہو گئے ہیں۔ برگن سٹاک بریک تھرو پر اپنے گہرے اور مثبت ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان اور قطر کی ثالثی کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور قطر کی مشترکہ کوششوں کے نتیجے میں لبنان میں جاری خونیں جنگ کے خاتمے کیلئے بڑی اور تاریخی پیشرفت ممکن ہوئی ہے۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ اس سفارتی کامیابی کے نتیجے میں ایران کیلئے تیل اور پیٹرو کیمیکل کی برآمدات پر عائد طویل مدتی پابندیاں ختم کر دی گئی ہیں‘ اور بین الاقوامی بینکوں میں منجمد کیے گئے ایرانی اثاثوں کا ایک بڑا حصہ فوری طور پر جاری کر دیا گیا ہے۔ آبنائے ہرمز پر قائم بحری ناکہ بندی کا مکمل خاتمہ کر دیا گیا ہے جسکے بعد اب ایران کی معیشت کی ترقی اور جنگ سے متاثرہ علاقوں کی تعمیرِ نو کا قومی منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ بحران کا سب سے حساس پہلو توانائی کی منڈی اور بحری راستوں کی سکیورٹی تھا۔ مذاکرات میں شامل ایرانی وفد کے اہم رکن اور ایرانی نیشنل آئل کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر حمید بوارد نے اس حوالے سے انتہائی حوصلہ افزا تفصیلات فراہم کی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے ان چار فریقی مذاکرات کے دوران ایرانی تیل پر سے پابندیوں کے مستقل خاتمے کے معاملے کو انتہائی سنجیدگی اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ آگے بڑھایا گیا۔انہوں نے خوشخبری سناتے ہوئے کہا کہ بحری ناکہ بندی کے خاتمے کے فوراً بعد خلیج فارس کے روایتی راستے سے ایرانی تیل بردار جہازوں کی بین الاقوامی برآمدات کا سلسلہ بحال ہو گیا ہے۔برگن سٹاک امن معاہدے کا اعلامیہ اگرچہ پاکستان اور قطر کی جانب سے جاری کیا گیاہے تاہم ایران اور قطر کی جانب سے پاکستان کو ہی مرکزی مصالحت کار قرار دیا گیا ہے۔ اس ضمن میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پریس کانفرنس میں ان مذاکرات کو تاریخ ساز قرار دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن تہران کے ساتھ دیرینہ عداوت کو پائیدار امن میں بدلنے کیلئے تیار ہے بشرطیکہ ایران علاقائی عدم استحکام کی پالیسی ترک کرے۔ انہوں نے آبنائے ہرمز کی سلامتی اور لبنان میں مستقل جنگ بندی کیلئے ہونے والی پیش رفت کو مشرقِ وسطیٰ کے استحکام کیلئے ناگزیر قرار دیا اور اس بریک تھرو کو ممکن بنانے پر پاکستان اور قطر کی مخلصانہ سفارتی کوششوں کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ مشرقِ وسطیٰ جنگ کا خاتمہ کسی فریق کی فتح یا شکست نہیں بلکہ سفارت کاری کی جیت ہے۔ یوں پاکستان اور قطر نے مل کر عالمی تاریخ کا ایک ایسا قابلِ فخر باب لکھ دیا ہے جسے رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/222_48272610.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سٹوڈنٹ یونین الیکشن اور ہنگامہ آرائی(حافظ محمد ادریس)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/hafiz-muhammad-idreess/2026-06-23/52176/91516993</link><pubDate>Tue, 23 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/hafiz-muhammad-idreess/2026-06-23/52176/91516993</guid><description>جنوری 1970ء میں جامعہ پنجاب کے سٹوڈنٹ یونین الیکشن میں پولنگ سٹیشن کافی بڑی تعداد میں تھے۔ بڑے ڈپارٹمنٹس میں متعدد پولنگ سٹیشن قائم کیے گئے تھے۔ پولنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد ہر پولنگ سٹیشن پر ریٹرننگ افسر (جو جامعہ کے اساتذہ تھے) کی نگرانی میں پولنگ ایجنٹوں کی موجودگی میں ووٹوں کی گنتی ہوتی۔ گنتی مکمل ہونے پر ہر امیدوار کے پولنگ ایجنٹ سے پیپر پر لکھی ہوئی تعداد کی تصدیق کرائی جاتی اور دستخط لیے جاتے۔ پھر پولنگ افسر پروفیسر بھی دستخط کرتے اور مہر لگاتے۔ اس کے بعد نتیجے والا پیپر سر بمہر لفافے میں مرکزی الیکشن کمیشن کے دفتر‘ نیو کیمپس جمع کرا دیا جاتا۔ اس کارروائی اور گنتی کے بعد ایس ٹی سی میں دوبارہ مجموعی گنتی چیف الیکشن کمشنر اور چیف پولنگ ایجنٹوں کی موجودگی میں ہوتی۔ہم نے ہر سٹیشن پر کارکنوں کی ٹیمیں مقرر کر رکھی تھیں‘ جونہی کوئی نتیجہ برآمد ہوتا وہ فوراً مرکزی دفتر اور لاء کالج ہاسٹل میں اطلاع پہنچاتے۔ آخری گنتی کے دوران میں لاء کالج ہاسٹل میں تھا۔ رات آٹھ بجے تک صورتحال واضح ہو چکی تھی۔ ہم الیکشن جیت چکے تھے‘ اگرچہ مقابلہ خاصا سخت ہوا تھا۔ آٹھ بجے کے بعد میں ایک دوست کے ہاں آرام کرنے کی غرض سے چلا گیا۔ رات بارہ بجے کچھ ساتھی وہاں آئے اور کہا کہ چلو نیو کیمپس میں تمہارا انتظار ہو رہا ہے۔ ایک دوست کی گاڑی میں ہم نیوکیمپس پہنچے تو معلوم ہوا کہ نتائج تیار ہو چکے ہیں اور مخالف پارٹی کے کچھ لوگ غیر طالب علم غنڈوں کی معیت میں ایس ٹی سی کے باہر جمع ہو کر نتائج کا اعلان رکوانے کیلئے دھمکیاں دے رہے ہیں۔ ہمارے ساتھی ان کے مقابلے پر بہادری سے ڈٹے ہوئے تھے۔ ہم رات قریب ایک بجے ایس ٹی سی پہنچے۔ رات انتہائی خنک تھی اور ہر طرف دھند اور کہر تھی۔ ایک عجیب ہنگامہ آرائی کا منظر تھا۔ جونہی کارکنوں نے مجھے دیکھا تو جوش وخروش سے نعرے لگانے لگے۔ ہال کے اندر جب اطلاع پہنچی کہ میں آ گیا ہوں تو پرنسپل لاء کالج‘ پروفیسر امتیاز علی شیخ (جو بعد میں یونیورسٹی کے وائس چانسلر بھی مقرر ہوئے) اس الیکشن میں چیف الیکشن کمشنر تھے۔ وہ اسسٹنٹ الیکشن کمشنر خواجہ غلام صادق کے ہمراہ ہال سے باہر نکلے۔ دونوں اساتذہ خاصے تھکے ہوئے نظر آ رہے تھے۔ خواجہ غلام صادق کے ہاتھ میں ایک پرچہ تھا۔ اس پرچے میں ہر سیٹ کا نتیجہ درج تھا۔ اس میں سے انہوں نے نتائج کی تفصیل پڑھ کر سنائی۔ اعلان کے مطابق مجھے 2296 ووٹ ملے تھے اور جہانگیر بدر کے ووٹ 2100 تھے۔ باقی پوسٹوں پر تنویر تابش (نائب صدر) اور عثمان غنی خان (جوائنٹ سیکرٹری) منتخب ہوئے تھے۔ انجمن خواتین میں ہماری نمائندہ طالبہ سائرہ کریم کامیاب قرار پائیں۔ الیکشن کے دوسرے دن یعنی 27 جنوری کو ہم نے اولڈ کیمپس سے ایک ریلی نکالی اور اسمبلی ہال کے سامنے تقریریں کر کے منتشر ہو گئے۔ اسی روز شام کو مختلف ہاسٹلوں میں جا کر ووٹروں کا شکریہ ادا کیا۔ ہیلے کالج ہاسٹل میں عجیب منظر تھا۔ وہ منظر آج تک میری آنکھوں کے سامنے ہے۔ ہاسٹلوں کی بالکونیوں‘ گیلریوں اور برآمدوں میں ہر جانب موم بتیوں سے چراغاں کیا گیا تھا۔ تمام لڑکوں نے اپنے اپنے روم اور اپنی ڈارمیٹریوں کے اندر بھی موم بتیاں جلا رکھی تھیں۔ ہاسٹلوں کے طلبہ ہمارے زبردست حامی تھے مگر ان کی تعداد خاصی کم تھی۔ ہیلے کالج ہاسٹل ہی میں ہمیں اطلاع ملی کہ مخالف گروپ نے دن کو ایک میٹنگ کی ہے‘ جس میں فیصلہ کیا گیا کہ سیکرٹری کا انتخاب نہ ہونے دیا جائے۔ پولنگ کے دوران پولنگ سٹیشنوں پر حملے کر کے بیلٹ بکس اٹھا لیے جائیں۔ سیکرٹری کا الیکشن اگلے دن یعنی 28 جنوری کو ہونا قرار پایا تھا۔ یہ خبر ملتے ہی میں نے اسی وقت ہاسٹل سپرنٹنڈنٹ پروفیسر محمد ابراہیم کے ہائوس میں جا کر ان کی اجازت سے وائس چانسلر علامہ علاء الدین صدیقی (مرحوم) سے فون پر بات کی اور مخالف گروپ کی ہیلے کالج میں ہونے والی میٹنگ کا تذکرہ کیا۔ میں نے علامہ صاحب سے واضح طور پر کہاکہ اس معاملے میں یا تو جامعہ کی جانب سے حفاظتی اقدامات کیے جائیں یا ہم لوگ خود حفاظتی انتظامات کر لیں۔ انہوں نے بڑے وثوق سے کہا: پہلی بات تو یہ ہے کہ اس افواہ میں مجھے کوئی وزن نظر نہیں آتا۔ دوسرا‘ ہم تمام حفاظتی اقدامات کر لیں گے آپ کوئی فکر نہ کریں‘ آپ لوگوں کو بلاوجہ اشتعال دلانے کیلئے یہ افواہ پھیلائی گئی ہے۔جن جن دوستوں تک ہم پیغام پہنچا سکے‘ انہیں اطلاع دے دی گئی کہ کل گڑبڑ کا خطرہ ہے مگر زیادہ تر طلبہ کو اطلاع نہ مل سکی کیونکہ اس زمانے میں موبائل تو دور کی بات‘ ہر جگہ اور ہر شخص کے پاس لینڈ لائن فون کی سہولت بھی نہ ہوتی تھی۔ دوسرے روز علی الصباح جب پولنگ کا عمل شروع ہوا تو ہیلے کالج سے حسب پروگرام شکست خوردہ پارٹی نے پولنگ سٹیشنوں پر حملہ کر کے بیلٹ بکس اٹھا لیے۔ جامعہ کے عام الیکشن میں ہر ووٹر کو عہدیداران اور کونسلرز سمیت تقریباً 14 یا 15 امیدواران کے ناموں کے سامنے نشان لگانا ہوتا تھا‘ اس لیے اس میں کافی وقت لگ جاتا مگر اُس روز چونکہ ہر ووٹر کو صرف ایک ہی جگہ مہر لگانا تھی‘ اس لیے ایک گھنٹے کے اندر اندر کم وبیش پولنگ کا بیشتر کام ختم ہو چکا تھا اور اکثر شعبوں میں پریذائیڈنگ افسر اور پولنگ ایجنٹوں کے علاوہ کوئی اور نہ تھا۔ہیلے کالج سے بیلٹ بکس اٹھا کر جلوس کی صورت میں یہ لو گ اولڈ کیمپس آئے اور اکثر شعبوں میں گھس کر مخالف ایجنٹوں کو زدوکوب کیا۔ اساتذہ کو برا بھلا کہا گیا اور بیلٹ بکس اٹھا لیے۔ میں اس وقت اپنا ووٹ ڈال رہا تھا‘ جب یہ لوگ شعبہ اسلامیات پہنچے۔ ہمارے شعبے میں زیادہ تعداد طالبات کی تھی مگر الحمدللہ ہم نے اپنے سٹیشن پر بیلٹ بکسوں کی حفاظت کی۔ کئی دیگر شعبوں میں طلبہ نے بروقت پہنچ کر حملہ آوروں کو ناکام بنا دیا۔ ہنگامہ آرائی نیوکیمپس میں بھی اسی وقت شروع ہوئی جب اولڈ کیمپس اور ہیلے کالج کیمپس میں اس کا آغاز ہوا۔ یہ باقاعدہ سوچی سمجھی سکیم تھی۔ بیلٹ بکس توڑنے کے بعد ہنگامہ آرا غائب ہو گئے۔ بیلٹ پیپرز جو ادھر ادھر بکھرے پڑے تھے‘ بعض جگہوں سے ہمارے کارکنوں نے جمع کیے۔ بیلٹ پیپروں پر اکثر ووٹ حفیظ خان کے حق میں ڈالے گئے تھے۔ میں اسی روز وائس چانسلر صاحب سے ان کے دفتر میں جا کر ملا۔ طلبہ کا ایک وفد میرے ساتھ تھا۔ میں نے وائس چانسلر صاحب کے ساتھ ملاقات میں ان کو گزشتہ شب والی ٹیلی فون گفتگو یاد دلائی اور کسی قدر شکایت کے لہجے میں کہا کہ سر! ہم سے دھوکا ہوا ہے‘ آپ اس پر کوئی ایکشن نہیں لے رہے۔اس روز کی طویل گفتگو میں ہمارا ناقابل تبدیل موقف یہ تھا کہ (1) جس قدر بھی بیلٹ بکس محفوظ رہ گئے ہیں‘ ان کی گنتی کر کے نتائج کا اعلان کر دیا جائے۔ (2) ہنگامہ آرائی کرنے والوں کے خلاف فوراً کارروائی کا اعلان کیا جائے۔ (3) یونین کی حلف برداری کی تاریخ مقرر کی جائے۔ ہمارے مطالبات سننے پر وائس چانسلر صاحب کا جواب تھا کہ (1) چھ سات ہزار ووٹروں کے ادارے میں چار پانچ یا سات آٹھ سو محفوظ ووٹوں پر کس طرح جیت ہار کا اعلان کیا جائے۔ (2) کارروائی کے لیے انتظامیہ لازماً عنقریب غور کرے گی۔ (3) غیر مکمل یونین کی حلف برداری کیسے ممکن ہے۔ علامہ صاحب خدا کو پیارے ہو چکے ہیں‘ اللہ تعالیٰ ان کو جوار رحمت میں جگہ دے۔ میں اس وقت اپنے اور ان کے موقف کے حسن و قبح پر کچھ نہیں کہنا چاہتا۔ وہ ہمارے بزرگ بھی تھے‘ استاد بھی اور باہمی احترام وشفقت کا رشتہ بھی دو سال سے قائم تھا۔ میں نے صرف اتنا عرض کیا کہ سر! جب ہم نے آپ کو اطلاع دی تھی کہ شکست خوردہ فریق کا ہنگامہ آرائی کا پلان ہے تو آپ کا کہنا تھا کہ تم لوگ فکر نہ کرو‘ نہ کوئی کارروائی کرو‘ اس سے باہم تصادم ہو گا، ہم خود صورتحال کو کنٹرول کر لیں گے۔ پھر انتظامیہ نے کیوں غفلت برتی؟ اس پر استاد محترم نے کہا &#39;&#39;تم زیادہ بحث میں نہ پڑو، ہمیں کچھ کرنے دو! مزید کچھ کہنے پر قدرے بلند آواز میں جواب ملا: فضول بحث اور تکرار کو چھوڑو اور انتظار کرو۔ ہم کیا کر سکتے تھے‘ مجلس سے اٹھ کر باہر آ گئے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_24721193.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>