<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>سندھ طاس معاہدہ اور آبی بقا کا چیلنج(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-01/11321</link><pubDate>Wed, 01 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-01/11321</guid><description>اسلام آباد میںسندھ طاس معاہدے کے حوالے سے انٹرنیشنل سیمینار کا انعقاد پانی کے سنگین مسئلے‘ بھارت کی آبی جارحیت اور پاکستان کے جائز آبی حقوق کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی اچھی کاوش ہے۔ سیمینار میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ بھارت کو کروڑوں پاکستانیوں کا پانی روکنے کی قطعاً اجازت نہیں دی جا سکتی اور یہ کہ پاکستان کے پانی کا تحفظ ہرصورت ممکن بنایا جائے گا۔ پانی نہ صرف زندگی کی بنیادی ضرورت ہے بلکہ یہ قومی سلامتی‘ بقا اور خود مختاری کا تقاضا بھی ہے۔ پاکستان طویل عرصے سے بھارت کی آبی جارحیت کا شکار ہے اور اس کے ماحولیاتی اور سماجی اثرات خاصے ہولناک ثابت ہوئے ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اب تک پاکستان میں بھارتی آبی جارحیت بالخصوص اچانک چھوڑے جانے والے سیلابی ریلوں اور پانی کی بندش کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال کی وجہ سے لگ بھگ چھ ہزار افراد جاں بحق اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں۔ انسانی جانوں کا یہ ضیاع پاک بھارت جنگوں میں ہونے والے جانی نقصان سے بھی زیادہ ہے‘ جو اس امر کی دلیل ہے کہ بھارت پانی کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے‘ جو انتہائی خطرناک رجحان ہے۔ 1960ء میں پاکستان اور بھارت کے مابین ورلڈ بینک کی ثالثی میں طے پانے والے سندھ طاس معاہدے میں نہ صرف دونوں ممالک کے مابین آبی مسائل کا عالمی قوانین کے تناظر میں حل نکالا گیا بلکہ یہ ایسا جامع معاہدہ تھا جو چھ دہائیوں سے زائد عرصہ سے دونوں ممالک میں نافذ العمل ہے اور باہمی جنگوں کے دوران بھی معطل نہیں ہوا۔

تاہم گزشتہ برس اپریل میں پہلگام فالس فلیگ واردات کے بعد بھارت نے یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کا اعلان کر دیا اور بعد ازاں مغربی دریائوں میں پانی چھوڑنے کی اطلاعات بھی روایتی فورمز کے ذریعے نہیں دی گئیں جس کے سبب پاکستان کو سیلابی ریلوں سے نمٹنے میں اضافی مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ عالمی ثالثی عدالت اور معاہدے کا ضامن ورلڈ بینک متعدد بار یہ حقیقت واضح کر چکے کہ بھارت کو یکطرفہ طور پر اس معاہدے کو معطل‘ منسوخ یا اس میں من مانی تبدیلیاں کرنے کا اختیار نہیں ۔ ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا رواں سال اپریل میں یہ واضح کر چکے ہیں کہ سندھ طاس معاہدے میں اسے یکطرفہ معطل یا ختم کرنے کی کوئی شق نہیں‘ معاہدے میں تبدیلی یا اسے ختم کرنے کیلئے پاکستان اور بھارت‘ دونوں کا متفق ہونا ضروری ہے۔ پاکستان بھی بارہا بھارت پر واضح کر چکا کہ معاہدے میں کسی بھی قسم کے تغیر وتبدل یا تنازع کی صورت میں ایک واضح اور قانونی طریقہ کار پہلے سے موجود ہے‘ لہٰذا اگر بھارت کو تحفظات ہیں تو اسے متعلقہ فورم سے رجوع کرنا چاہیے‘ مگر بھارت اس عالمی معاہدے پر عملدرآمد سے انکار کر کے ایسی روایت کی بنیاد رکھ رہا ہے جو دنیا میں فقط تباہی کا پیغام لائے گی۔ دنیا بھر میں اس وقت سو سے زائد ممالک ایسے ہیں جو دریاؤں کے پانی کی تقسیم اور آبی مسائل کا شکار ہیں۔
دنیا کی 40 فیصد سے زائد آبادی ان دریاؤں کے بیسن پر آباد ہے جو ایک سے زائد ممالک سے گزرتے ہیں لہٰذا بین الاقوامی برادری کو یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ اگر آج بھارت کو سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرنے کی کھلی چھوٹ دی گئی تو دنیا بھر میں انتہائی منفی اور ایک خطرناک مثال قائم ہو جائے گی اور حتمی نتیجے میں پانی کے تنازعات سنگین جنگوں کی شکل بھی اختیار کر سکتے ہیں‘ جس سے پوری دنیا کا امن واستحکام تباہ ہو جائے گا۔ تمام تر آبی مسائل اور تنازعات کا پائیدار حل صرف اور صرف عالمی معاہدوں کی پاسداری اور بین الاقوامی قوانین کے احترام میں پنہاں ہے۔ عالمی برادری ‘ اقوام متحدہ اور سندھ طاس معاہدے کے ضامن ورلڈ بینک کو چاہیے کہ وہ بھارت کو بین الاقوامی قوانین اور سندھ طاس معاہدے کی پاسداری کا پابند بنائیں تاکہ جنوبی ایشیا کو ایک بڑے انسانی اور ماحولیاتی بحران سے بچایا جا سکے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کاہنہ کا اندوہناک سانحہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-01/11320</link><pubDate>Wed, 01 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-01/11320</guid><description>لاہور کے علاقے کاہنہ میں ایک ٹیوشن سنٹر کی چھت گرنے سے 14بچوں کے جاں بحق ہونے کا واقعہ انتہائی افسوسناک ہے۔ یہ ننھے بچے علم حاصل کرنے کیلئے گھروں سے نکلے تھے مگر ٹیوشن سنٹر کی انتظامیہ کی غفلت اور بے احتیاطی نے ان بچوں کی زندگیوں کے چراغ گل کر دیے۔ ٹیوشن سنٹر ایک خستہ حال رہائشی عمارت میں قائم تھا جس کی چھت مضبوط نہیں تھی۔ ریسکیو حکام کے مطابق چھت پر تعمیراتی کام کے دوران مٹی اور ٹائلوں کے اضافی بوجھ کی وجہ سے پوری چھت ٹوٹ کر نیچے آ گری۔ یعنی یہ حادثہ کسی قدرتی آفت کا نہیں بلکہ انسانی غفلت کا نتیجہ ہے۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں۔ رواں برس مئی میں ڈیرہ غازی خان میں ایک نجی سکول کی چھت گرنے سے چار بچے جاں بحق ہوئے جبکہ گزشتہ برس ستمبر میں پنجاب ہی کے ایک قصبے سکھیکی میں ایک سکول کی چھت گرنے سے چھ بچے اور ایک استاد زندگی کی بازی ہار گئے۔ ان تمام واقعات میں قدرِ مشترک یہ ہے کہ تینوں عمارتوں کی چھتیں ٹی آر کی بنی تھیں اور بروقت مرمت نہ ہونے کے باعث موت کا پھندا بن گئیں۔

یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ سکولوں‘ تعلیمی اداروں‘ اور اکیڈمیوں کی عمارتوں کا معائنہ کس کی ذمہ داری ہے؟ اس سے بھی زیادہ تشویشناک پہلو گلی محلوں میں قائم ہزاروں غیر رجسٹرڈ ٹیوشن سنٹرز اور اکیڈمیوں کا ہے۔ ان مراکز کیلئے کوئی واضح قانونی فریم ورک موجود نہیں۔ نہ ان کی رجسٹریشن کرائی جاتی ہے اور نہ ہی عمارتوں کا حفاظتی آڈٹ ہوتا ہے‘ حالانکہ روزانہ لاکھوں بچے ان مقامات پر کئی گھنٹے گزارتے ہیں۔ لیکن یہ مسئلہ صرف سکولوں اور ٹیوشن سنٹروں تک محدود نہیں بلکہ پورے ملک میں خستہ حال عمارتیں سنگین نوعیت کے خطرات کی نشاندہی کرتی ہیں۔ رواں برس جنوری میں والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ میں جمع کرائی گئی ایک رپورٹ کے مطابق صرف اندرون شہر لاہور میں 346خستہ حال اور انتہائی خطرناک عمارتیں موجود ہیں‘ جن میں سے 254اب بھی رہائش‘ تجارت یا دیگر سرگرمیوں کیلئے استعمال ہو رہی ہیں۔ اسی طرح سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے مطابق کراچی میں 588مخدوش عمارتیں موجود ہیں جن میں تقریباً 50انتہائی خطرناک قرار دی جا چکی ہیں اور وہ کسی بھی وقت ایک بڑے انسانی سانحے کا سبب بن سکتی ہیں۔
دیگر بڑے شہروں میں بھی کمی و بیش ایسی ہی صورتحال ہے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کا ثبوت ہیں کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو کاہنہ جیسے مزید سانحات وقوع پذیر ہو سکتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت محض حادثات کے بعد ردِعمل دینے کے بجائے مستقل اور مؤثر اصلاحات کی طرف بڑھے۔ سانحہ کاہنہ کو قدرت کی آخری تنبیہ سمجھا جائے اور فوری طور پر نہ صرف تمام صنعتی اور کمرشل عمارتوں میں حفاظتی آڈٹ قانونی طور پر لازمی قرار دیا جائے بلکہ بلڈنگ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی بھی عمل میں لائی جائے۔ کاہنہ کے 14 معصوم بچوں کی جانیں واپس نہیں آ سکتیں لیکن اگر ان کی قربانی بھی ہمارے نظام کو نہ جگا سکی تو یہ ہماری اجتماعی بے حسی کا ثبوت ہو گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>زبردستی کا عشق(ایاز امیر)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-07-01/52213/27211333</link><pubDate>Wed, 01 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-07-01/52213/27211333</guid><description>چار سے زیادہ سال ہو گئے ہیں اس نظام کو جو پاکستانی عوام کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ رجیم چینج بھی اسے کہا گیا‘ ہائبرڈ کا لفظ بھی استعمال ہوتا ہے جب اس نظام کی نزاکتیں بیان کرنا مقصود ہو۔ بنیادی نکتہ اس نظام کا یہ ہے کہ عوام کا لینا دینا اس سے کچھ نہیں۔ جب یہ ساری کارروائیاں شروع ہوئیں اور جب بعد میں الیکشن کے نام پر وہ سب کچھ رچایا گیا جو اس قوم نے پہلے نہیں دیکھا تھا تو سب کچھ اوپر سے ہی ہوا۔ عوام سے پوچھا گیا نہ رائے لی گئی۔ جو کچھ ایوانانِ اعلیٰ میں ترتیب دیا گیا عوام کے سروں پر ڈال دیا گیا۔ عوام کی داد بنتی ہے کہ کمال ہمت سے سب کچھ برداشت کر رہے ہیں۔ زور زبردستی کے سودے‘ معاشی بدحالی‘ کمر توڑ مہنگائی اور اوپر سے وعظ و نصیحت کہ حالت تمہاری بہتر ہو رہی ہے۔ ایسے میں عوام جائیں تو جائیں کہاں۔پچھلے سال ہندوستان نے اس بندوبست کے ساتھ مہربانی کی کہ بغیر سوچے سمجھے چھیڑ خانی کر دی۔ اس پر جو جھڑپیں ہوئیں ہمارا پلڑا بھاری رہا اور ان کے کئی جہاز مار گرائے گئے۔ جس سے ہماری بڑی بلّے بلّے ہوئی اورلوگوں نے کہنا شروع کر دیا کہ اقوامِ عالم میں پاکستان کی قدر ومنزلت بڑھ گئی ہے۔ اس بات سے انکار بھی ممکن نہیں تھا کیونکہ ہندوستان کے جہاز تو گرے تھے اور چار روزہ جھڑپ میں ہماری دفاعی کارکردگی بہتر رہی۔ یہ دنیا نے بھی دیکھا اور اس کا اقرار کیا۔ پھر اس سال فروری کے آخری دن یہ ایران والی جنگ شروع ہو گئی اور ہمارے اہلِ اقتدار کی طرف سے ثالثی اور امن بحال کرنے کی کوششیں شروع ہوئیں۔ جب امریکی نائب صدر اور ایران کی طرف سے سپیکر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی اسلام آباد آئے اور اسلام آباد کے سرینا ہوٹل میں مذاکرات کا طویل دور چلا تو یہاں کے مقتدر حلقوں کی بلّے بلّے بہت ہوئی اور پاکستان کی ہر طرف سے تعریف ہوئی۔ ہر طرف سے اعتراف ہوا کہ پاکستان کا گراف بڑھ گیا ہے اور ہمیں عزت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ لیکن جوں جوں ایران اور امریکہ کی کشیدگی ایک دائمی شکل اختیار کر رہی ہے تو یہاں سے کی جانے والی کوششوں کو ایک نارمل انداز سے لیا جانے لگا ہے۔ تالیاں بجائی بھی جائیں تو کتنی بجائی جا سکتی ہیں۔ پھر یہ بھی ہے کہ عام لوگوں کی دلچسپی اپنے حالات میں زیادہ ہوتی ہے اور خارجی امور یا دور کے ڈھولوں میں ذرا کم ہوتی ہے۔ یہ گرمی کا موسم اور اوپر سے مہنگائی اور معاشی بدحالی تو خارجہ امور کے معرکوں کو انسان کتنا سراہے۔ خیال یہ بھی آتا ہے کہ اوروں کے معاملات درست کرنا بہت اچھی بات ہے لیکن ساتھ ہی اپنے مسائل پر بھی کچھ توجہ ہو جائے تو کتنا ہی بہتر ہو۔جہاں تک اپنے مسائل کا تعلق ہے پاکستانی معیشت کو تو خدا جانے کون سی دیمک لگی ہوئی ہے کہ آگے چلنے کا نام نہیں لیتی۔ دو اڑھائی سال سے یہ سُن سُن کر کان پک چکے ہیں کہ معیشت میں استحکام آ گیا ہے۔ استحکام کاغذی اعداد وشمار تک محدود ہے‘ اس کا کوئی اثر ایسا نہیں کہ عام آدمی محسوس کر سکے اور بھنگڑا ڈالنے لگے کہ لو جی اس معاشی استحکام سے ہمارا چولہا زیادہ اچھا جلنے لگا ہے۔ استحکام کے کرشمات وزیر خزانہ اور وزیراعظم کی تقریروں تک محدود ہیں۔ معیشت کا یہ حال ہے تو سیاست کا اس سے زیادہ بہتر نہیں۔ سیاسی محاذ پر تو ہر چیز جام ہے۔ اسمبلیاں بیٹھتی ہیں اور تنخواہیں لیتی ہیں لیکن ہر کوئی جانتا ہے کہ اقتدار کا اصل منبع کہاں ہے اور کیسے چل رہا ہے۔ وہ جو ڈرامہ ہوتا ہے کہ پتلیاں ناچ رہی ہوتی ہیں اور ان کے دھاگے پیچھے سے کھینچے جاتے ہیں۔ چار سال سے کچھ اس قسم کا ناٹک یہاں چل رہا ہے۔ معاشی خوشحالی ہو جاتی‘ مہنگائی کے گھوڑوں کو کچھ لگام دی جاتی‘ بازار‘ منڈیوں اور فیکٹریوں میں نوکریاں ملنے لگتیں تو جمہوریت کے کھلواڑ پر کس نے رونا تھا۔ لیکن جہاں معاشی تنگدستی کے ساتھ زبردستی کی زبان بندی معمول بن جائے تو عوام پھر سوچتے تو ہیں کہ ان کے ساتھ ہو کیا رہا ہے۔ سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ ایسا کتنی دیر چلایا جا سکتا ہے۔ چار سال تو ہو گئے اور جو کرشمے اس نظام نے جنم دیے ہیں وہ اس قوم کے سامنے ہیں۔ نارمل سوال ہے کہ حضور جو کچھ آپ نے کیا ٹھیک کیا لیکن آگے کیا کرنا ہے؟ امریکہ کی وہ بات نہیں رہی جو ایران جنگ سے پہلے تھی۔ اسرائیل کی امریکی سیاست میں وہ حیثیت نہیں رہی جو اس جنگ سے پہلے تھی۔ نیویارک کی سیاست میں دیکھا نہیں کہ کیا ہوا ہے؟ ڈیموکریٹک پارٹی کے پرائمری الیکشن میں تین ایسے نمائندے چنے گئے ہیں جو واضح طور پر اسرائیل مخالف ہیں۔ یہ اس شہر میں ہوا جہاں اسرائیل کی حیثیت اب تک مسلمہ سمجھی جاتی تھی۔ ان تینوں نمائندوں کے پیچھے میئر زہران ممدانی کا ہاتھ ہے۔ اسرائیل کے خلاف تو امریکی سیاست میں بات ہو نہیں سکتی تھی اور اب یہ صورتحال کہ اسرائیل کے کھلے مخالف سامنے آ رہے ہیں۔ عرض کرنے کا مطلب یہ کہ جہاں اتنی تبدیلیاں ہو رہی ہیں کیا پاکستان میں ایسا ہی چلتا رہے گا؟ یہ جو یکطرفہ عشق یہاں کا حکومتی بندوبست پاکستانی عوام کے ساتھ چلا رہا ہے یہ ایسا ہی رہے گا؟ حالات اتنے ہی کنٹرول میں ہوں تو یہ روز کی خبریں نہ آئیں کہ خیبر پختونخوا میں فلاں مقام پر فلاں واقعہ ہو گیا‘ بلوچستان میں فلاں واقعہ ہو گیا۔ چار سال کوئی کم عرصہ نہیں‘ یہ تو پہلی جنگ عظیم کا دورانیہ ہے۔ دونوں مغربی محاذوں پر کچھ تو بہتری آئے‘ خبروں کا رخ بدلے۔ امن قائم ہو وہاں کے مکینوں کا اعتماد بحال ہو۔ حالات جتنے بھی خراب ہوں عوام کا حوصلہ قائم رہتا ہے جب احساس اور یقین ہو کہ اقتدار چلانے والوں کی سمت درست ہے لیکن حالات ایسے ہی چل رہے ہوں کہ &#39;نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں‘ تو پھر بے یقینی پھیلتی ہے۔ عوامی اعتماد متزلزل ہونے لگتا ہے اور پھر یہ کہنا کافی نہیں رہتا کہ پاکستان کا گراف بڑھ گیا ہے۔پر کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ اگر میدانِِ سیاست منجمد ہے تو یہ بھی عیاں ہے کہ کسی اعتبار سے کوئی نئی سوچ پیدا نہیں ہو رہی۔ وہ جو فیصلے چار سال پہلے کیے گئے تھے اُنہی پر اکابرینِ ملت کاربند نظر آتے ہیں کہ بس چلائے جاؤ ایسے اور پھر دیکھا جائے گا۔ یہاں کے حالات کا تعین تو اپنے لوگوں نے ہی کرنا ہے۔ جے ڈی وینس یا عباس عراقچی نے یہاں کے حالات درست نہیں کرنے۔ فارم 47 کوئی اتنا بڑا سیاسی نسخہ ہوتا تو اب تک دودھ اور شہد کی نہریں دریافت ہو چکی ہوتیں۔ اور یہاں کے لوگ ماضی کی سیاسی وابستگیاں بھول چکے ہوتے۔بہرحال آزاد کشمیر کے حوالے سے ایک بات سمجھ نہیں آئی کہ ان بارہ مہاجرین کی نشستوں پر اتنی ضد کیوں دکھائی جا رہی ہے۔ کہا تو یہ جاتا ہے کہ ان بارہ نشستوں کے بل بوتے پر حکومتیں بنانے کے وقت گڑبڑ ہوتی ہے۔ ایسا کون سا مسئلہ ہے کہ اتنی سختی دکھائی جائے۔ جہاں سوئٹزرلینڈ کے اس خوبصورت شہر میں ایران اور امریکہ کے مذاکرات ہو سکتے ہیں اور اس سارے عمل میں ہمارا اہم کردار ہوتا ہے تو یہی فلسفہ اپنے معاملات میں نہیں کارفرما ہو سکتا؟ لیکن زیادہ سوال کیا پوچھے جائیں‘ مزاج خراب کرنے کی بات ہے۔ بلوچستان میں سزائیں بھی سنائی گئیں ۔ان کے بارے میں اب کیا تبصرہ کیا جائے ۔بس یہی کہاجا سکتا ہے کہ امید پر دنیا قائم ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_80573045.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>