<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>پاکستان کی سفارتی جیت(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-09/11088</link><pubDate>Thu, 09 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-09/11088</guid><description>مشرقِ وسطیٰ میں بھڑکنے والی جنگ کی آگ کو پاکستان نے جس طرح ثالثی سے ٹھنڈا کیا ہے‘ وہ نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کیلئے مقام شکر ہے۔ ایران اور امریکہ میں دو ہفتوں کیلئے جنگ بندی اور پائیدار امن کیلئے جمعہ کو اسلام آباد میں فریقین کے مذاکرات پر اتفاق ایک ایسی سفارتی پیشرفت ہے جس نے پاکستان کو عالمی بساط پر ایک اہم سیاسی کھلاڑی کے طور پر معتبر  مقام دلایاہے۔ اس کامیابی کے پیچھے پاکستان کی خاموش سفارتکاری اور بیک چینل ڈپلومیسی کے وہ تمام حربے کارفرما تھے جو بین الاقوامی تعلقات میں کسی ریاست کو معتبر بناتے ہیں۔ جنگ بندی کیلئے پاکستان کی کاوشوں کا آغاز اگرچہ جنگ کے آغاز کیساتھ ہی ہو گیا تھا اور جیسے جیسے جنگ میں شدت آتی گئی ‘ سفارتی سرگرمیاں بھی تیز ہوتی گئیں۔ وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ہنگامی دورے‘ دوست ممالک سے ٹیلیفونک رابطے‘ اسلام آباد میں چار فریقی وزرائے خارجہ اجلاس اور پاک چین پانچ نکاتی امن فارمولا‘یہ سب پاکستان کی سفارتی کوششوں کے تسلسل کی وہ کڑیاں ہیں جو کشیدگی کے اتار چڑھائو کے باوجود جاری رہیں اور آخر کار ایسے موقع پر‘ جب تہران اور واشنگٹن کے مابین کشیدگی اپنے عروج پر تھی اور خدشہ تھا کہ مشرقِ وسطیٰ کی آگ بڑے عالمی تنازع میں بدل جائے گی‘ پاکستان کی بارُسوخ سفارتی کوششوں نے امن کی وہ کلید تلاش کر لی جس کی دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت تھی۔

اس تمام عرصے میں نہ صرف علاقائی ممالک کو اس جنگ میں کودنے سے روکا گیا بلکہ انہیں اس بات پر بھی قائل کیا گیا کہ جنگ مسئلے کا حل نہیں بلکہ معاشی تباہی کا آغاز ثابت ہو گی۔ اس پورے عمل میں پاکستان کی سب سے بڑی قوت اس کا متوازن اور غیر جانبدارانہ کردار تھا۔ بین الاقوامی تعلقات میں جب کوئی ملک کسی ایک بلاک کا حصہ بن جاتا ہے تو اسکی ثالثی کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے لیکن پاکستان نے تہران اور واشنگٹن دونوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو اس طرح متوازن رکھا کہ متحارب فریقین نے اسلام آباد کی سہولت کاری کو نہ صرف تسلیم کیا بلکہ امن مذاکرات کو جاری رکھنے کیلئے فوری جنگ بندی پر بھی متفق ہو گئے۔ جی سی سی‘ یورپی یونین‘ ترکیہ اور دیگر ممالک کی جانب سے پاکستان کے اس امن پسند کردار کی تحسین پاکستان کیلئے ایک نئے عالمی کردار کا بھی پیام ہے۔ تاہم ضروری ہے کہ مربوط قومی حکمت عملی کے ذریعے اس غیر معمولی کامیابی کو اندرونِ ملک سیاسی استحکام اور ایک نئے معاشی دور کا بھی پیش خیمہ بنایا جائے۔ حالیہ کامیابی سے پیدا ہونیوالے مثبت تاثر کو سیاسی پولرائزیشن کم کرنے اور معاشی پالیسیوں میں تسلسل کیلئے بھی بروئے کار لانا چاہیے۔ گزشتہ برس مئی میں پاکستان نے معرکہ حق کے ذریعے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو منوایا تھا اور اب امنِ عالم کی خاطر اپنی سفارتی صلاحیتوں کو دنیا سے منوا کر یہ ثابت کیا ہے کہ پاکستان عسکری‘ سفارتی اور سیاسی توازن کے ایسے امتزاج کا حامل ہے جو پیچیدہ عالمی مسائل کو حل کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ کامیابی پاکستان کی سٹرٹیجک خود مختاری کا بھی اعلان ہے کہ پاکستان قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے عالمی امن کی خاطر بڑے سے بڑا کردار ادا کرنے کی پوری اہلیت رکھتا ہے۔ یہ اسلام آباد کی نئی سٹرٹیجک ڈاکٹرائن معلوم ہوتی ہے جس میں طاقت کو امن کے حصول کا ذریعہ بنایا گیا ہے۔ اسلام آباد کی یہ امن کوششیں عالمی سطح پر ایک ایسی مثال قائم کر رہی ہیں جو آئندہ کئی دہائیوں تک سفارتکاری کے طالب علموں کیلئے مشعلِ راہ رہے گی۔ملکی ساکھ میں بہتری سے یقینا بین الاقوامی برادری اور عالمی اداروں کا پاکستان پر اعتماد بڑھے گا تاہم عالمی سٹیج پر ایک ذمہ دار ریاست کا کردار اسی وقت مؤثر ہو سکتا ہے جب ملک کی معاشی بنیادیں مضبوط اور سیاسی سمت واضح ہو‘ اور اس حوالے سے ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بارشوں کی تباہ کاریاں(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-09/11087</link><pubDate>Thu, 09 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-09/11087</guid><description>نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق ملک بھر میں 19 مارچ سے 8اپریل تک بارشوں سے ہونے والے حادثات میں مجموعی طور پر 96افراد جاں بحق جبکہ 192زخمی ہوئے ہیں۔ حالیہ بارشوں نے حکومتی انتظامات کا پول کھول دیا ہے۔ گزشتہ برس بھی ملک کے بیشتر اضلاع میں انتظامی نقائص بارشوں اور سیلاب کے نقصانات میں اضافے کا سبب بنے تھے۔ اس تلخ تجربے کے بعد یہ امید تھی کہ حکومت کی طرف سے بارشی پانی کے بروقت نکاس کیلئے ضروری اقدامات کر لیے جائیں گے اور شہریوں کو دوبارہ ویسی صورتحال کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا‘ لیکن یوں لگتا ہے کہ تاحال سیلابی بارشوں کے ممکنہ خدشات سے نمٹنے کیلئے مطلوبہ اقدامات نہیں کیے جا سکے۔ محکمہ موسمیات کی جانب سے رواں برس معمول سے 26 فیصد زیادہ بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

ان اضافی بارشوں سے نمٹنے کیلئے ضروری ہے کہ پیشگی منصوبہ بندی یقینی بنائی جائے۔ قومی اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے ادارے اور متعلقہ حکام باہمی روابط سے ممکنہ سیلابی بارشوں سے نمٹنے کیلئے تمام پیشگی احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ نالوں کی بروقت صفائی‘ سیلابی گزرگاہوں اور برساتی نالوں سے تجاوزات کا خاتمہ اور آبی ذخائر تعمیر کر کے سیلابی خدشات کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔حکومت کو چاہیے کہ حالیہ بارشوں کو نقارۂ خدا سمجھتے ہوئے مون سون سے قبل نالوں کی صفائی سمیت تمام ضروری اقدامات یقینی بنائے تاکہ شہریوں کو کسی ناخوشگوار صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ایل پی جی کی مہنگائی(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-09/11086</link><pubDate>Thu, 09 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-09/11086</guid><description>حکومت کی جانب سے مہنگائی پر قابو پانے اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے دعوؤں کے برعکس ناجائز منافع خوری کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ خصوصاً ایل پی جی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ عوام کی معاشی مشکلات میں بے تحاشا اضافہ کر رہا ہے۔ ایک خبر کے مطابق لاہور میں ایل پی جی 500 سے 510 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہی ہے جبکہ اس کی سرکاری قیمت 304 روپے فی کلو مقرر ہے۔ دیگر شہروں میں بھی عوام کو اسی نوعیت کے استحصال کا سامنا ہے۔ اس منافع خوری پر شہری دکانداروں کو جبکہ دکاندار ایل پی جی مارکیٹنگ کمپنیوں کو موردِ الزام ٹھہراتے ہیں۔ اس باہمی الزام تراشی کے نتیجے میں اصل مسئلہ جوں کا توں برقرار ہے اور عام آدمی ہی اس کا خمیازہ بھگت رہا ہے۔

ناجائز منافع خوری ملک کا ایک دیرینہ مسئلہ ہے مگر افسوس کہ آج تک اس کے سدباب کیلئے کوئی جامع اور مربوط حکمت عملی وضع نہیں کی جا سکی۔ ضروری ہے کہ حکومت فوری طور پر ناجائز منافع خور عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن کرے‘ ایل پی جی مارکیٹنگ کمپنیوں اور دکانداروں کے مابین قیمتوں کے تعین کے نظام کو شفاف بنائے اور سخت نگرانی کا مؤثر نظام قائم کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ سپلائی میں مصنوعی رکاوٹوں کا خاتمہ بھی یقینی بنایا جائے تاکہ منافع خوروں کیلئے کوئی گنجائش باقی نہ رہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>گگو منڈی سے تحصیل ہسپتال بوریوالہ تک(محمد اظہارالحق)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-04-09/51732/26762664</link><pubDate>Thu, 09 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-04-09/51732/26762664</guid><description>چک 249۔ ای بی کے باشندے منور سیال ولد اللہ دتہ کا قصور کیا تھا؟اس کا سب سے بڑا‘ ناقابلِ معافی‘ قصور یہ تھا کہ وہ ایک عام آدمی تھا۔ پاکستان میں عام آدمی ہونا گناہ ہے‘ ایسا گناہ جو کبھی معاف نہیں ہوتا۔ آپ سو قتل کریں‘ بچ جائیں گے۔ آپ بندے اغوا کریں‘ آپ کو ہاتھ کوئی نہیں لگا سکتا۔ آپ گاڑی اٹھا لیں‘ پھر علاقہ غیر جا کر گاڑی کے مالک کو بلائیں۔ پھر مسجد میں بیٹھ کر اس سے لاکھوں روپے لے کر اس کی اپنی گاڑی اسے واپس کریں۔ وہ اعتراض کرے تو اس بدبخت کو بتائیں کہ یہ آپ کے بچوں کی محنت کا ثمر ہے۔ اس کے بعد آپ حاجی صاحب بن کر سارا ملک گھوم آئیں۔ آپ کا بال بیکا کوئی نہیں کر سکتا۔ آپ بینک سے کروڑوں روپے کا قرض لے کر واپس دینے سے انکار کر دیں‘ یا معاف کرا لیں‘ کسی ادارے میں ہمت نہیں کہ سزا تو دور کی بات ہے‘ آپ کا نام ہی ظاہر کرے۔ آپ ٹیکس چوری کریں‘ آپ کی عزت میں اضافہ تو ہو سکتا ہے‘ کمی نہیں ہو گی۔ آپ چینی مافیا کا حصہ بن کر راتوں رات اربوں کما لیں‘ آپ کو ہاتھ تو کوئی کیا لگائے گا‘ الٹا نئی کابینہ میں آپ وزارت کا حلف لے رہے ہوں گے! آپ موٹروے سے پیسہ بنائیں یا رِنگ روڈ سے‘ آپ معزز کے معزز رہیں گے۔ لیکن اگر آپ عام آدمی ہیں تو چند ہزار کا قرض بھی واپس کرنے میں تاخیر کی صورت میں بینک آپ کے گردے اور انتڑیاں نکال کر تار پر لٹکا دے گا۔ قتل کوئی اور کرے گا لیکن آپ چونکہ عام آدمی ہیں‘ اس لیے جیل میں آپ جائیں گے۔ وہاں آپ مر جائیں گے۔ مرنے کے بعد آپ کو بے گناہ قرار دیا جائے گا۔ تھانے میں چوری کی رپورٹ درج کرانے جائیں گے تو تھانیدار چور کو پکڑے یا نہ پکڑے‘ آپ کو ضرور بٹھا لے گا۔ زمین کے انتقال کیلئے کچہری جائیں گے تو آپ کی کھال اس طرح اتار لی جائے گی جیسے محمد تغلق کے زمانے میں زندہ مجرموں کی اتاری جاتی تھی۔چک 249۔ ای بی کے منور سیال ولد اللہ دتہ کا بھی سب سے بڑا قصور یہی تھا کہ وہ ایک عام پاکستانی تھا۔ اس کی پشت پر کوئی ایم این تھا نہ کوئی ایم پی اے۔ اس کے عزیزوں میں کوئی جرنیل تھا نہ کوئی بیورو کریٹ! اس کے آبائو اجداد میں سے کسی نے بھی لارڈ کرزن کی یا اوڈائر کی یا مِٹکاف کی چاکری کی تھی نہ مخبری نہ ہی آزادی کی جنگ لڑنے والوں کے خلاف سفید فام سرکار کا ساتھ دیا تھا۔ ایسا ہوتا تو آج وہ بھی گدی نشین ہوتا یا وڈیرہ اور اسمبلی میں اس کیلئے خاندانی نشست محفوظ ہوتی! ایسا ہوتا تو اس کے اہلِ خانہ لاس اینجلس میں ہوتے یا لندن میں اور وہ خود اسلام آباد کے کسی محل میں بیٹھ کر سینیٹر بننے کیلئے جوڑ توڑ کر رہا ہوتا۔چک 249۔ ای بی کے منور سیال ولد اللہ دتہ کا یہی قصور کیا کم تھا کہ وہ عام آدمی تھا‘ اس پر مستزاد‘ اس نے ظلم یہ کیا کہ وہ بیمار پڑ گیا۔ اسے بیمار پڑنے کا کوئی حق نہیں تھا۔ یوں تو مملکتِ خداداد میں عام آدمی کا کوئی جرم معاف نہیں ہوتا مگر بیمار پڑنا اتنا بڑا اور اتنا ہولناک جرم ہے کہ اس سے درگزر ہرگز نہیں کیا جا سکتا۔ بیمار پڑنا تو ان خواص کو زیبا ہے جو چھینک آنے پر بھی لندن جا کر علاج کرائیں اور وہ بھی سرکاری خرچ پر!! ڈاکٹر جن کی دہلیز پر حاضری دیں۔ ایسی بیماریوں ہی میں تو مزہ ہے۔ بیماری کی بیماری! سیر کی سیر! پکنک کی پکنک!! ایک زمانہ تھا کہ اونچے طبقے کے مراعات یافتہ افراد‘ علاج کیلئے مقامی اطبّا کو بلاتے تھے۔ ان اطبّا کا کام ایسی ادویات تیار کرنا تھا جو خوش ذائقہ ہوں اور خوش نما بھی! چاندی اور سونے کے ورق خوشنمائی کیلئے استعمال ہوتے اور شہد‘ شیرینی کیلئے! زیادہ تر ادویات شباب کے دوام کیلئے ہوتیں! معجونیں‘ خمیرے‘ مرکبات‘ کُشتے‘ جوارش‘ اطریفل‘ طلا‘ لعوق‘ مربّے‘ شربت‘ عرق اسی دور کی یادگاریں ہیں۔ مگر اب خمیرہ گاؤزبان‘ خمیرہ مروارید اور مربّہ سیب عام لوگوں کیلئے رہ گئے ہیں۔ خواص بلکہ خاص الخاص اب بیماری میں پہلے جہاز کی فرسٹ کلاس کا مزہ لیتے ہیں۔ پھر لندن‘ دبئی‘ امریکہ یا سوئٹزر لینڈ جا کر چیک اپ کیلئے مہینوں قیام کرتے ہیں۔ اس عرصہ میں اگر کاروبارِ سلطنت کی ذمہ داری بھی نبھانا ہو تو منشی اور اہلکار بھی لندن یا دبئی منتقل ہو جاتے ہیں۔ کوئی پوچھے کہ کئی دہائیوں کے اقتدار میں کیا ایک شفاخانہ بھی آپ ایسا نہیں بنا سکے جو آپ کے علاج کے شایانِ شان ہو تو ایسے بندۂ گستاخ کا منہ بند کرنے کیلئے کئی پشتینی وفادار شمشیر بدست باہر نکل آتے ہیں۔چک 249۔ ای بی کے منور سیال ولد اللہ دتہ نے بیمار ہونے کی غلطی کی تو اسے قریب ترین قصبے گگو منڈی لایا گیا۔ یہ قصبہ ملتان دہلی روڈ پر واقع ہے۔ یہ وہی شاہراہ ہے جو شیر شاہ سوری نے بنوائی تھی۔ گگو منڈی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہاں ایک ہسپتال چیف منسٹر صاحبہ کے نام پر بنا ہے۔ منور سیال ولد اللہ دتہ کو جب ہسپتال لایا گیا تو ایمرجنسی میں کوئی ڈاکٹر موجود نہیں تھا۔ موجود ڈسپنسر نے کھڑپینچی دکھائی اور منور سیال ولد اللہ دتہ کو کسی قسم کی طبی امداد دیے بغیر‘ بوریوالہ ہسپتال ریفر کر دیا۔ منور سیال ولد اللہ دتہ کے ساتھ بوریوالہ میں کیا سلوک کیا گیا‘ یہ جاننے سے پہلے ذرا وہ خبر پڑھ لیجیے جو گگو منڈی ہسپتال کے متعلق تین اپریل کو روزنامہ دنیا میں چھپی۔ &#39;&#39;گگومنڈی کے شہریوں نے مریم نواز ہسپتال کی تزئین وآرائش پر کروڑوں روپے خرچ ہونے کے باوجود سہولتوں کی عدم دستیابی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ شہریوں نے بتایا کہ ہسپتال میں مریضوں کو بنیادی سہولتیں میسر نہیں۔ ایمرجنسی میں مریضوں کو ادویات فراہم نہیں کی جاتیں بلکہ بازار سے خریدنے کا کہا جاتا ہے۔ شہریوں کے مطابق حادثات کی صورت میں زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے بعد ٹی ایچ کیو بوریوالہ ریفر کر دیا جاتا ہے۔ ہسپتال میں ڈاکٹرز کی کمی اور ایکسرے وبلڈ ٹیسٹ کی سہولتیں نہ ہونے کے باعث مریضوں کو نجی لیبارٹریوں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے‘‘۔ گگومنڈی کے ہسپتال کو اس کے حال پر چھوڑ کر ہم منور سیال ولد اللہ دتہ کے ساتھ تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال بوریوالہ چلتے ہیں۔ منور سیال کو بوریوالہ ہسپتال پہنچایا گیا تو وہ جاں بلب تھا۔ اس کی حالت خراب تھی۔ مگر ڈاکٹروں نے دانائی سے کام لیتے ہوئے اس کا شناختی کارڈ طلب کیا۔ جس حالت میں منور سیال کو چک 249۔ ای بی سے گگو منڈی ہسپتال لایا گیا تھا اور پھر وہاں سے تحصیل ہسپتال بوریوالہ پہنچایا گیا تھا اس میں شناختی کارڈ کا کسے ہوش تھا؟ مسئلہ منور سیال کی جان بچانے کا تھا۔ تاہم تحصیل ہسپتال بوریوالہ کے نرم دل اور خدا ترس ڈاکٹروں نے اس کا علاج کرنے سے انکار کر دیا۔ کرتے بھی کیسے؟ شناختی کارڈ جو نہیں تھا! منور سیال کے لواحقین منتیں کرتے رہے۔ مگر ڈاکٹر شناختی کارڈ کے مطالبے سے ایک انچ بھی پیچھے نہ ہٹے۔ اصول اصول تھا۔ علاج کرنے سے انکار کر دیا گیا۔ منور سیال ولد اللہ دتہ نے تحصیل ہسپتال بوریوالہ کی ایمرجنسی کے سامنے دم توڑ دیا۔ یوں منور سیال ولد اللہ دتہ کا جو سفر چک 249۔ ای بی سے شروع ہوا تھا‘ وہ گگومنڈی ہسپتال سے ہوتا ہوا تحصیل ہسپتال بوریوالہ کی ایمرجنسی کے سامنے موت کی صورت میں اختتام پذیر ہوا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_57182973.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بے اعتباری کا موسم(خالد مسعود خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-04-09/51733/79317274</link><pubDate>Thu, 09 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-04-09/51733/79317274</guid><description>میں نے اپنی زندگی میں بہت سی چیزوں کو موسموں کے ساتھ جوڑ رکھا ہے۔ ان میں کچھ چیزیں ایسی ہیں جو کیلنڈر سے وابستہ ہیں اور کچھ ایسی ہیں جو براہِ راست موسم سے جڑی ہوئی ہیں۔ اب ناشتے ہی کو لے لیں‘ میرا ناشتہ گرمیوں اور سردیوں کے حساب سے بدلتا رہتا ہے۔ اس دوران میں صرف دو قسم کا ناشتہ کرتا ہوں‘ میری ناشتے کی گرمیاں 15مارچ سے شروع ہوتی ہیں اور 14نومبر کو ختم ہو جاتی ہیں یعنی میں 15مارچ سے لسی کے ساتھ صبح ناشتہ کرتا ہوں اور یہ ناشتہ 14نومبر تک یکسانیت کے ساتھ چلتا ہے۔ 15نومبر سے میں کشمیری چائے کے ساتھ آدھی باقر خانی لیتا ہوں اور یہ معاملہ 14مارچ تک چلتا ہے لیکن میرے نزدیک موسمیاتی اعتبار سے سردیاں اُس روز شروع ہوتی ہیں جس دن باتھ روم میں میری وینٹی پہ پڑی ہوئی پلاسٹک کی بوتل میں ناریل کا تیل جمنا شروع ہو جاتا ہے‘ سو میں اپنا گیزر سٹارٹ کر لیتا ہوں اور جب بوتل میں پڑا ہوا یہ تیل پگھلنا شروع ہوتا ہے تو میں سمجھ جاتا ہوں کہ اب سردی رخصت ہوئی اور گرمیاں آ گئی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی میں گیزر بند کر دیتا ہوں لیکن اس سال بڑا عجیب ہوا‘ گرمیاں قبل از وقت دستک دینے لگیں اور 25فروری کو وینٹی پہ رکھی ہوئی پلاسٹک کی بوتل میں پڑا ہوا ناریل کا تیل پگھلنا شروع ہوا تو میں نے گیزر بند کر دیا۔ ابھی گیزر بند کیے چند روز ہی گزرے تھے کہ 15مارچ کو ناریل کا تیل دوبارہ جمنا شروع ہو گیا لہٰذا گیزر دوبارہ سٹارٹ کر لیا لیکن یہ والا معاملہ بھی زیادہ دن نہ چلا اور تین اپریل کو تیل دوبارہ پگھل گیا۔ اصول کے مطابق گیزر بند کیا مگر دو دن بعد تیل پھر سے جمنا شروع ہو گیا اور پہلے دو بار بند کیا گیا گیزر تیسری بار پھر سٹارٹ کر لیا۔ اس بار تو عجب ہورہا ہے۔ گزشتہ سے پیوستہ روز کی ژالہ باری نے جہاں اس خطے کا ریکارڈ توڑا ہے وہیں آم اور گندم کی فصل کو بھی برباد کر کے رکھ دیا ہے۔ موسم کا اعتبار ہی نہیں رہا لیکن موسم کا کیا کہیں‘ کسی چیز کا بھی اعتبار نہیں رہا۔ نہ سرکاری خبر کا کوئی اعتبار رہا ہے اور نہ غیر سرکاری خبر ہی بااعتبار رہی ہے۔ اب نہ سرکاری ترجمان پر کوئی بھروسا رہا ہے اور نہ ہی سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی کوئی خبر یقین کے معیار پر پوری اُترتی ہے۔ دور کیوں جائیں‘ متحدہ عرب امارات کے ادھار پر دیے گئے ڈالروں کی بات کریں تو ترجمان کے مطابق یہ واپسی معمول کی بات ہے اور سوشل میڈیا نئے سے نیا شوشہ چھوڑ رہا ہے۔ بقول حکومتی ترجمان اگر یہ معمول کی بات ہے تو آخر سات سال تک یہ معمول کیوں طاقِ نسیاں پر پڑا رہا اور اس مستعار شدہ ڈپازٹ کی واپسی انہی دنوں میں کیوں ہوئی؟ بہت سی چیزیں اور باتیں اپنی ٹائمنگ کی وجہ سے مشکوک ہو جاتی ہیں اور ابہام پیدا کرتی ہیں۔ یہ بھی ایسا ہی معاملہ ہے۔ ہم اس ادھار پر لی گئی رقم سے جہاں اپنے ڈانواں ڈول قسم کے زرِمبادلہ کے ذخائر کو بہتر کر کے آئی ایم ایف سے قرض لینے میں کامیاب ہو رہے تھے وہیں متحدہ عرب امارات کو اس قرض پر چھ فیصد سالانہ کے حساب سے سود بھی ادا کر رہے تھے‘ یعنی یہ دوستی کے پس منظر میں دیا جانے والا قرضہ اچھی خاصی شرح فیصد کے سود پر لیا گیا تھا۔ عمومی طور پر لوگوں کا خیال تھا کہ یہ رقم ہماری کمزور مالی صورتحال کے تناظر میں برادر اسلامی ملک نے کسی محبت بھرے جذبے کے تحت دی تھی۔ لیکن ایسا نہیں تھا۔ یاد رہے کہ جس آئی ایم ایف کو ہم دن میں 10بار مطعون کرتے ہیں اور ہفتے میں کم از کم تین بار گالیوں سے نوازتے ہیں‘ وہ ہمیں ایک سے ڈیڑھ فیصد سالانہ کی شرح سے قرض دیتا ہے جبکہ متحدہ عرب امارات نے ہمیں تین ساڑھے تین ارب ڈالر کا ادھار آئی ایم ایف کے قرض سے چار گنا زیادہ شرح فیصد پر دیا تھا جو اَب اس نے واپس لے لیا ہے۔ جیسا کہ میں نے پہلے کہا ہے کہ بعض اوقات چیزیں صرف اپنے وقت کے اعتبار سے مشکوک ہو جاتی ہیں۔ اب ایسے موقع پر جب ایران اپنے ہمسائیگی میں واقع عرب ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں اور امریکی مفادات سے وابستہ مختلف دفاعی و غیر دفاعی مقامات پر ڈرون حملے کر رہا تھا اور میزائل داغ رہا تھا‘ پاکستان ممکنہ حد تک غیر جانبدار رہتے ہوئے اس جنگ کو کسی نہ کسی طور بند کروانا چاہتا تھا۔ المیہ یہ ہے کہ ہمارے بہت سے معاشی مفادات خلیجی ممالک سے جڑے ہوئے ہیں جبکہ ہماری جغرافیائی سرحد ایران سے جڑی ہوئی ہے‘ اب ہم اس جنگ میں کھل کر کس کا ساتھ دیں؟ یہ ایسا سوال ہے جس کا معقول جواب کسی کے پاس بھی نہیں۔ سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک جو اس جنگ میں امریکی حمایت کے باعث ایرانی حملوں کی زد میں رہے‘ امریکہ کے ساتھ ساتھ پاکستان سے بھی اپنے دفاع کے طالب تھے اور سعودی عرب کے ساتھ تو ہمارا باقاعدہ دفاعی معاہدہ بھی ہے۔ ہماری مصیبت یہ ہے کہ اگر ہم ایسا کرتے تو اپنی جغرافیائی مصیبتوں کو مزید وسیع کر لیتے۔ ایک طرف ہمارا ازلی دشمن بھارت ہے تو دوسری طرف ہمارا نیا دشمن افغانستان ہے۔ ہمالیہ‘ قراقرم اور ہندو کش کے پار ہمارا دوست چین ہے جدھر سے ہم مطمئن ہیں یا پھر ایران کی سمت سے ہمیں کوئی دفاعی خطرہ درپیش نہیں لیکن اس جنگ کی وجہ سے ہم ایک عجب مشکل میں گرفتار تھے‘ نہ کھل کر عربوں کی حمایت کر سکتے اور نہ ایران کی طرفداری کر سکتے۔ عربوں کی حمایت کریں تو ہمسائے سے تعلقات خراب ہوتے ہیں۔ ایران کی حمایت کریں تو عربوں سے معاملات خراب ہوتے ہیں‘ جہاں ساٹھ ستر لاکھ کے لگ بھگ پاکستانی ورکر کام کرتے ہیں اور ملک کیلئے اربوں ڈالر کا زر مبادلہ بھیجتے ہیں۔ تاہم اگر یہ معاشی معاملہ درپیش نہ بھی ہوتا تب بھی غصے میں منہ سے کف اڑاتے ہوئے مغلوب الغضب ٹرمپ صاحب کی ناراضی مول لینے کی ہمت بھلا کیسے کر سکتے ہیں ؟ نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن والا معاملہ آن پڑا۔اس پر ایک کہانی یاد آ گئی۔ ایک آدمی اپنی دو بیاہی ہوئی بیٹیوں سے ملنے کی غرض سے باری باری ان کے گاؤں گیا۔ پہلی بیٹی کا شوہر بارانی علاقے کا کاشتکار تھا۔ اس کی یہ والی بیٹی اپنی تازہ کاشتہ فصل کے بارے میں پریشان تھی۔ اس نے ملنے پر باپ سے کہا کہ وہ ان کیلئے بارش کی دعا کرے تاکہ ان کی فصل تباہ ہونے سے بچ جائے۔ پہلی بیٹی سے ملنے کے بعد وہ اپنی دوسری بیٹی سے ملنے کیلئے اس کے گاؤں پہنچا‘ جو کمہاروں کے ہاں بیاہی ہوئی تھی‘ تو وہ مٹی سے بنے ہوئے برتن دھوپ میں رکھ کر سکھا رہی تھی۔ چلتے وقت بیٹی نے باپ سے کہا کہ ابا دعا کرو کہ بارش نہ ہو اگر ایسا ہوا تو ہماری کئی دنوں کہ محنت اکارت چلی جائے گی اور ہمارا بہت نقصان ہو جائے گا۔ باپ گھر پہنچا تو اس کی اہلیہ نے پوچھا کہ بیٹیوں کا کیا حال ہے؟ تو وہ ٹھنڈی سانس بھر کر کہنے لگا فی الحال تو دونوں ٹھیک ہیں لیکن دونوں میں سے کسی ایک کا معاملہ تو بہرحال گڑبڑ ہونے والا ہے۔ بارش ہوئی تو کمہاروں کے گھر بیاہی ہوئی بیٹی کو نقصان اٹھانا پڑے گا اور اگر بارش نہ ہوئی تو کاشتکاروں کے گھر بیاہی بیٹی کی فصل سوکھ کر تباہ ہو جائے گی۔ دونوں نے بارش ہونے اور نہ ہونے کی دعا کرنے کا کہا ہے۔ میرے لیے عجب مخمصہ ہے کہ میں کیا دعا کروں؟ ایک نہ ایک بیٹی تو ہر صورت میں مالی طور پر مشکل کا شکار ہونے والی ہے۔ سو ہمارا معاملہ بھی ہر دو صورت میں خراب ہوتا دکھائی دے رہا تھا‘ ہاں! البتہ اب جنگ بندی ہوئی ہے تو شاید عزت بچ جائے۔ لیکن جنگ ختم ہونے کا بھی کیا اعتبار کہ اس کا اختیار صرف ایک آدمی کے ہاتھ میں ہے لیکن اُس آدمی کا بھی کیا اعتبار جو دن میں دس بار اپنے بیانات اور بیس بار خیالات تبدیل کرتا ہو۔ اللہ عزت سلامت رکھے‘ ہم فی الحال تو بطور ثالث عزت کما رہے ہیں لیکن بے اعتبارے بندے کے بس پڑے ہیں جبکہ ہر طرف بے اعتباری کا موسم چل رہا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90500073.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پاکستان زندہ باد(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-04-09/51734/38585364</link><pubDate>Thu, 09 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-04-09/51734/38585364</guid><description>عزت اور ذلّت کے فیصلے آسمانوں پر ہوتے ہیں۔ قسامِ ازل نے عزت پاکستان کے حصہ میں لکھ دی۔ وزیراعظم شہباز شریف‘ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور جناب اسحاق ڈار سرخرو ہوئے۔ الحمدللہ!اللہ تعالیٰ کا اعلانِ عام ہے: جس نے ایک انسان کی جان بچائی‘ اس نے پوری انسانیت کی جان بچائی۔ جنگ بندی کے اعلان نے اَن گنت جانوں کو بچا لیا۔ یہ معمولی کارنامہ نہیں۔ خدا کے اس اعلان پر لاکھوں نوبیل انعام قربان۔ بظاہر جنگ کے بادل چھٹ گئے۔ پروردگار سے دعا ہے کہ وہ جنگ بندی کے اس اعلان کو دائمی امن کا مقدمہ بنا دے۔ فریقین کو اپنے وعدے نبھانے کی توفیق دے۔ دنیا کو فسادیوں سے نجات دے۔ ہم ایک نیا مشرقِ وسطیٰ دیکھیں جس میں امن ہو اور اس کے نتیجے میں اہلِ فلسطین کو بھی عزت اور وقار کے ساتھ اپنے وطن میں رہنا نصیب ہو۔اللہ تعالیٰ نے اپنے فیصلوں کو عالمِ اسباب سے جوڑ رکھا ہے۔ اسے وہ اپنی سنت کہتے ہیں جسے کوئی تبدیل نہیں کر سکتا۔ اس سنت کے مطابق دعا کی قبولیت کیلئے لازم ہے کہ انسان پہلے مقصد کے حصول کیلئے جان لڑا دے۔ پاکستان کی قیادت نے اس شرط کو پورا کیا۔ ملامت کرنے والوں کی ملامت سے بے نیاز ہو کر‘ نرگسیت اور اَنا کی رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے‘ ہمارے راہنماؤں نے دن رات ایک کر دیے۔ امید کا دامن ہاتھ سے جانے نہ دیا۔ ایک ایک لفظ ناپ تول کر ادا کیا۔ جب دعا کی قبولیت کی شرطیں پوری ہو گئیں تو بشارت آ گئی۔اس جنگ بندی سے کون خوش ہوا؟ دنیا کے تمام امن پسند۔ پاکستان سے محبت رکھنے والے‘ جو اس ریاست کے شہری ہیں یا وہ جو دنیا کے مختلف خطوں میں آباد ہیں۔ ان بستیوں کے مکین جن کی فضائیں جنگ کے بادلوں سے اَٹی تھیں۔ اس سے ناخوش کون ہیں؟ وہ جو فسادی ہیں۔ جن کے مفادات جنگوں سے وابستہ ہیں۔ جو انسانی جان کی حرمت کے قائل نہیں۔ اسرائیل‘ جس نے اپنے ناجائز وجود کی بقا کیلئے امریکہ کو اس جنگ میں جھونکا اور انسانی لہو جس کے منہ کو لگ چکا۔ بھارت‘ جسے پاکستان کی کامیابی ایک آنکھ نہیں بھاتی‘ جو مسلسل انگاروں پر لوٹ رہا ہے کہ اللہ نے پاکستان کو یہ عزت کیوں دی۔ پاکستان کے بدخواہ‘ وہ جو ملک کے اندر ہیں یا باہر۔ شہباز شریف صاحب اور عاصم منیر صاحب کی نفرت میں اندھا ہو جانے والا وہ طبقہ جو ایک کلٹ کی اسیری میں ہر اخلاقی قدر اور قومی مفاد کو بھلا چکا۔یہ آسان کام نہیں تھا۔ خارجہ امور کے محاذ پر ایک حکیمانہ جنگ لڑی گئی۔ صدر ٹرمپ کا اعتماد حاصل کیا گیا کہ بالآخر فیصلہ انہی کے ہاتھ میں تھا۔ ان کی نفسیات کے گہرے مطالعے کے بعد‘ ایک ایک قدم اٹھایا گیا۔ پنجابی محاورے کے مطابق‘ جس نے منہ سے کتے باندھ رکھے ہوں‘ اس کی زبان سے اپنے لیے کلمۂ خیر نکلوانا آسان نہیں ہوتا۔ جو جھوٹ سچ میں تمیز کا قائل نہ ہو‘ اسے کسی معاہدے کیلئے یکسو کرنا جان جوکھوں کا کام ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ ایران نے بھی اسے ناکوں چنے چبوا دیے تھے لیکن ایک نرگسیت پسند‘ مایوسی اور غصے میں کوئی بڑی حماقت کر سکتا تھا۔ پاکستانی قیادت نے لوگوں کی باتیں سنیں‘ سطحی ذہن کے جذبات فروشوں کے طعنے برداشت کیے اور آخرکار اسے جنگ بندی پر آمادہ کر لیا۔اس حکمتِ عملی کا دوسرا اہم پہلو عربوں اور ایران کے مابین براہِ راست تصادم کو روکنا تھا۔ اس باب میں ایرانی قیادت‘ بالخصوص پاسدارانِ انقلاب نے حکمت کا مظاہرہ نہیں کیا۔ پاکستان کو مگر دونوں کا اعتماد میسر رہا۔ ایرانی صدر‘ سپیکر اور وزیر خارجہ نے مذہبی راہنماؤں کے مقابلے میں زیادہ بصیرت کا مظاہرہ کیا اور صورتِ حال کو سمجھا۔ انہیں ایک طرف اپنے ملک کے وقار کو بچانا تھا اور دوسری طرف خود کو ایک شریر کے شر سے بھی محفوظ رکھنا تھا۔ انہوں نے پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کا ساتھ دیا‘ اس کے باوجود کہ پاکستان میں موجودان کے نادان دوستوں نے ایران کو بے پناہ نقصان پہنچایا۔ ان کی طرف سے کسی اظہارِ ندامت کا امکان تو نہیں مگر اب انہیں یہ بات یقینا سمجھ آ گئی ہو گی کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر صاحب کے لہجے میں تلخی کیوں تھی۔ جو آدمی ایران کی خیر خواہی میں دن رات ایک کیے ہو‘ اس کو اگر ایران مخالف ثابت کیا جائے تو اس کی ناراضی کو بلاجواز نہیں کہا جا سکتا۔اس پیش رفت کے بعد‘ کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ جنگ کا خطرہ ہمیشہ کیلئے ٹل گیا؟ اس وقت اس کا جواب اثبات میں دینا ممکن نہیں؛ اگرچہ امید غالب ہے۔ سب سے بڑا خدشہ تو اسرائیل کی طرف سے ہے جو چاہے گا کہ امریکہ ایران کے ساتھ کسی معاہدے کی طرف نہ بڑھے۔ اسی خطرے کو توسیع دیتے ہوئے‘ صہیونیوں کے ساتھ ان صہیونی مسیحیوں کو بھی اس میں شامل کر لیں جو امریکہ کے شہری ہوتے ہوئے‘ امریکہ سے زیادہ اسرائیل کے خیر خواہ اور مذہبی جنونی ہیں۔ صدر ٹرمپ کے داماد بھی ان میں شامل ہیں۔ دوسرا خطرہ صدر ٹرمپ خود ہیں‘ جو کسی قانون اور اخلاقی قدر کے پابند نہیں ہیں۔ ان سے کسی بھی وقت توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ معاہدے کی کسی شق کو پامال کر دیں۔ تیسرا خطرہ ایران کے انتہا پسند ہیں جو توسیع پسند عزائم کے ساتھ حکمت سے زیادہ جذبات سے کام لیتے ہیں۔ چوتھا خطرہ امریکہ کے ان مخالفین کی طرف سے ہے جو ایران کو امریکہ کیلئے افغانستان بنانا چاہتے ہیں تاکہ امریکہ کی ناک رگڑی جائے اور عالمی قوت کا بھرم ختم ہو۔ انہیں اس سے دلچسپی نہیں کہ ایران‘ افغانستان کی طرح اس کی کیا قیمت ادا کرے گا۔یہ خدشات یقینا دنیا کی نظر میں ہوں گے۔ پاکستان معاملات کو یہاں تک لے آیا ہے۔ اب دنیا کے امن پسندوں کا کام ہے کہ ان خدشات پر قابو پانے کیلئے اپنا حصہ ڈالیں۔ اس میں سب سے اہم کردار یورپ اور نیٹو کے رکن ممالک کا ہے۔ اب تک ان کا طرزِ عمل سب سے حکیمانہ اورنسبتاً قرینِ انصاف رہا ہے۔ انہوں نے صدر ٹرمپ کی جلی کٹی برداشت کیں لیکن خود کو اس جنگ میں جھونکنے سے انکار کیا۔ ان ممالک کو پاکستان کا ساتھ دینا چاہیے تاکہ یہ جنگ بندی مستقل ہو۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اگلاہدف یہ ہونا چاہیے کہ یورپ اور روس کو جنگ بندی کے اس عمل کا متحرک کردار بنایا جائے۔ اس کے ساتھ یہ کوشش کی جائے کہ امریکہ کے سمجھ دار لوگ آگے آئیں تا کہ صدر ٹرمپ صہیونی لابی کے زیرِاثر مزید کوئی حماقت نہ کر بیٹھیں۔آج وقت کی اہم ترین ضرورت جنگ بندی تھی۔ اللہ کا شکر ہے یہ مرحلہ طے ہوا۔ ایک کٹھن کام جو باقی ہے‘ وہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کا قیام ہے۔ اس پر ان شاء اللہ تفصیلاً لکھوں گا۔ مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس کیلئے تین اقدام لازم ہیں۔ ایک یہ کہ مشرقِ وسطیٰ کے سب ممالک پُرامن بقائے باہمی کیلئے ایک معاہدہ کریں اور اپنے دفاع کیلئے امریکہ سمیت سب خارجی قوتوں پر انحصار ختم کریں۔ اس باب میں پاکستان ان کا معاون اور ثالث بالخیر ہو سکتا ہے جس پر سب کو اعتماد ہے‘ جو مشرقِ وسطیٰ کی قیادت کے جھگڑے میں فریق نہیں۔ دوسرا یہ کہ ایران مشرقِ وسطیٰ میں اپنی پراکسیز کو ختم کرے اور کسی دوسرے ملک کے معاملات میں مداخلت نہ کرے۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ ایران داخلی سطح پر قیادت کی تطہیر کے عمل سے گزرے۔ تیسرا یہ کہ مسلم ممالک اسرائیل کے بارے میں ایک قابلِ عمل اور حقیقت پسندانہ حکمتِ عملی پر اتفاق کریں تاکہ فلسطینیوں کی ایک خودمختار ریاست وجود میں آ سکے۔ دعا ہے کہ جنگ بندی مستقل ہو۔ پاکستان نے امن کیلئے ایک تاریخ ساز کردار ادا کیا اور ہماری قیادت نے قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا۔ اس پر وہ تحسین کی مستحق ہے۔ پاکستان زندہ باد!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ایران امریکہ جنگ کے متوقع اور غیر متوقع نتائج … (2)(عمران یعقوب خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-04-09/51735/17855756</link><pubDate>Thu, 09 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-04-09/51735/17855756</guid><description>وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کوششیں رنگ لے آئی ہیں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کی درخواست پر عمل کرتے ہوئے دو ہفتے کی جنگ بندی کا اعلان کیا ہے۔ ایران بھی پاکستان کی تجویز مانتے ہوئے جنگ بندی پر رضا مند ہو گیا ہے جبکہ اسرائیل نے بھی جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے۔ امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ امریکہ اپنے تمام فوجی اہداف حاصل کر چکا ہے اور ایران کے ساتھ طویل مدتی امن معاہدے کے حوالے سے نمایاں پیشرفت ہو چکی ہے‘ ایران کی جانب سے پیش کردہ 10نکاتی منصوبے کو مذاکرات کی بنیاد کے طور پر قابلِ عمل سمجھا جا رہا ہے۔سب سے پہلے تو صدر ٹرمپ کا دو ہفتے کی جنگ بندی پر راضی ہو جانا غیر متوقع تھا کیونکہ دو تین روز پہلے ہی وہ منگل کے روز ایران پر بڑے حملے کی دھمکیاں دے رہے تھے‘ لیکن منگل کے روز معمول کے حملوں اور جوابی حملوں کے سوا کچھ نہیں ہوا۔ اللہ کرے کہ ایران اور امریکہ کے مابین اسی طرح حتمی معاہدہ بھی طے پا جائے اور مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے قیام کی راہ ہموار ہو سکے۔ حتمی معاہدے کے حوالے سے ایک بات طے ہے کہ کچھ لو کچھ دو کے اصول پر عمل کرتے ہوئے کوئی درمیانی راستہ اختیار کرنا پڑے گا‘ یہ نہیں ہو سکتا کہ ایران امریکہ کی تمام تر شرائط تسلیم کرے اور یہ بھی ضروری نہیں کہ ایران کے سبھی نکات مان لیے جائیں۔ بہرحال اس دو ہفتے کی جنگ بندی کو خوش آئند مانتے ہوئے توقع کی جاتی ہے کہ یہ عارضی جنگ بندی مستقل جنگ بندی میں تبدیل ہو جائے گی اور مستقل جنگ بندی ایران امریکہ حتمی معاہدے پر منتج ہو گی۔ہم نے آج بات کرنا ہے ایران امریکہ جنگ کے غیر متوقع نتائج پر۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے غیر متوقع نتائج میں سب سے پہلا ایران کی جانب سے امریکہ اور اسرائیل کے متحدہ و متفقہ حملوں کا مردانہ وار جواب دینا ہے۔ کوئی شک نہیں کہ ایران کے ردِعمل نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ساتھ پوری دنیا کو حیرت میں مبتلا کر دیا ہے۔ ٹرمپ کا خیال شاید یہ تھا کہ ایران میں بھی ونیزویلا جیسے معاملات ہی پیش آئیں گے اور چند روز میں وہ مشرقِ وسطیٰ کے اس اہم ملک کو شکست سے دوچار کر دیں گے‘ لیکن حملے کے بعد امریکی صدر کا یہ خواب ایک ڈراؤنے خواب کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ایران نے اتنی تیاریاں کر رکھی ہیں اور وہ اس قدر سخت جان ثابت ہو گا۔ &#39;&#39;میں عالمی قوانین کو نہیں مانتا، دنیا کے تمام ممالک کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کا اختیار میرے پاس ہے، میری اپنی اخلاقیات، میرا اپنا فیصلہ ہے یہی وہ چیز ہے جو مجھے روکتی ہے‘‘ یہ کہنے والے ٹرمپ کو ایران پر حملے کے بعد فل سٹاپ سا لگ چکا ہے۔ عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کرنے کے حکم نامے پر دستخط کرنے والے‘ کینیڈا کو امریکہ کی 51ویں ریاست بنانے کا دعویٰ کرنے والے‘ امریکہ کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک کی درآمدات پر ٹیرف پر ٹیرف عائد کرنے والے‘ گرین لینڈ کو امریکہ کا حصہ بنانے کی بڑھک لگانے والے‘ پاناما کینال پر قبضے کی دھمکیاں دینے والے ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران پر حملے کے بعد ایک الگ قسم کی صورتحال کا سامنا ہے۔ ایک ایسی صورتحال جس کی توقع انہیں بالکل بھی نہیں تھی۔ اسی لیے اب وہ ایران کو مذاکرات اور معاہدے کی دھمکی آمیز دعوتیں دینے کے بعد عارضی جنگ بندی پر راضی ہو چکے ہیں۔دوسرا غیر متوقع نتیجہ یہ سامنے آیا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے مسلسل منفی سگنلز اور غزہ میں جاری تشویشناک صورتحال نے ایران کو اپنی میزائل اور ڈرون ٹیکنالوجی کو فروغ دینے کا موقع فراہم کر دیا اور اس موقع سے ایران نے بھرپور فائدہ اٹھایا ہے۔ سی این این نے تین روز پہلے یہ خبر نشر کی کہ ایران کے تقریباً نصف میزائل لانچر اب بھی محفوظ ہیں‘ اور گزشتہ پانچ ہفتوں کے دوران امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے اہداف پر حملوں کے باوجود ہزاروں خود کش حملہ آور ڈرون ایران کے اسلحہ ذخائر میں موجود ہیں۔ امریکی انٹیلی جنس کی بھی یہی رپورٹ ہے کہ حالیہ کشیدگی اور اب تک کی فوجی کارروائیوں کے باوجود ایران کی عسکری قوت‘ بالخصوص میزائل اور ڈرون ٹیکنالوجی‘ بڑے پیمانے پر محفوظ اور فعال ہے اور ایران اب بھی پورے خطے میں کسی بھی وقت بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایران نے اپنے 50فیصد سے زائد میزائل لانچرز کو اب بھی برقرار رکھا ہوا ہے‘ جبکہ اس کے پاس ہزاروں ڈرونز کا ذخیرہ موجود ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایران اب بھی دشمنوں کو طویل عرصے تک ناکوں چنے چبوا سکتا ہے۔ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کے قابل ہوا ہے یا نہیں‘ اس بارے میں وثوق کے ساتھ کچھ نہیں کہا جا سکتا لیکن یہ طے ہے کہ میزائلوں اور ڈرونز کے شعبوں میں ایران کسی بھی ملک کی توقع سے زیادہ ترقی کر چکا ہے اور اگر یہ عارضی جنگ بندی نہ ہو جاتی تو ایران اس وقت بھی امریکی اہداف کو اپنے میزائلوں کے ذریعے نشانہ بنا رہا ہوتا۔اس غیر متوقع جنگ کا تیسرا غیر متوقع اثر یہ ظاہر ہوا ہے کہ توانائی کا بحران زیادہ شدت اور زیادہ تیزی سے پھیلا۔ جنگ شروع ہونے پر یہ اندیشہ تو تھا کہ توانائی کا گہرا بحران پیدا ہو گا لیکن اس سلسلے میں سب سے پہلے خود امریکی صدر کا حوصلہ ٹوٹے گا‘ یہ غیر متوقع تھا۔ امریکی صدر نے جنگ شروع کرنے کے چند روز بعد ہی نہ صرف ایران کو تیل فروخت کرنے اور دنیا کو اس سے تیل خریدنے کی اجازت دے دی بلکہ روس سے تیل خریدنے پر عائد پابندی بھی ختم کر دی تھی‘ لیکن ایسا ممکن نہ ہو سکا کیونکہ ایران نے آبنائے ہرمز کو کسی بھی شپمنٹ کیلئے بند کر دیا۔ ٹرمپ اور نیتن یاہو کو یہ توقع نہ تھی کہ ایران اس طرح کامیابی کے ساتھ آبنائے ہرمز بند کر دے گا اور وہ کوشش کے باوجود اسے کھلوا نہیں سکیں گے۔ امریکی بحری بیڑے بحر ہند اور بحیرۂ عرب میں موجود ہیں لیکن 40 دنوں میں وہ اس قابل نہیں ہو سکے کہ اس بند آبنائے کو کھلوا سکیں تاکہ توانائی کا بحران شدید نہ ہو۔وال سٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ بتاتی ہے کہ ایران امریکہ جنگ نے ٹرانس اٹلانٹک تعلقات کو ٹوٹنے کی نہج پر پہنچا دیا ہے۔ جنگ کے دوران یا جنگ کے بعد 77سال پرانا نیٹو اتحاد ٹوٹ سکتا ہے۔ نیٹو ٹوٹا تو یورپ تنہا ہو جائے گا اور امریکہ بھی اور یہ ایک غیرمتوقع صورتحال ہو گی۔ بروکلنگ انسٹیٹیوٹ میں فارن پالیسی پروگرام کی ڈائریکٹر Suzanne Maloney نے حال ہی میں نیویارک ٹائمز کے پوڈ کاسٹ ‘The Ezra Klein Show میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ یہ جنگ ہار چکا ہے‘ فتح حقیقی فتح نہیں ہو گی۔ اس جنگ کا اختتام امریکہ کے زیادہ جانی و مالی نقصان کے ساتھ ہو سکتا ہے۔ خطے میں اور پوری دنیا میں ہمارے اتحادیوں نے روس اور چین کو بھاری مالی فائدے پہنچائے ہیں اور بہت سے ڈپلومیٹک مواقع ضائع کر دیے ہیں‘ اور یہ واضح نہیں ہے کہ ٹرمپ امریکی لیڈر شپ کے طور پر برقرار رہ سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس جنگ کے بعد ایران ایک بڑی معاشی اور فوجی طاقت بن کر ابھرے گا۔ موجودہ صورتحال میں مکمل جنگ بندی اور معاہدہ ہو جانا‘ امریکہ میں ٹرمپ کو صدارت سے ہٹانے کی کوشش اور ایران کا ایک بڑی طاقت بن کر ابھرنا‘ سب کچھ غیرمتوقع ہی تو ہو گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_58350786.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>نوبیل انعام کا اصل حقدار۔ پاکستان(سعود عثمانی )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-04-09/51736/56248499</link><pubDate>Thu, 09 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-04-09/51736/56248499</guid><description>امن کا نوبیل انعام میرٹ پر ملا کرتا تو پاکستان اس کا حقدار ہوتا۔ پاکستان نے وہ جنگ کم از کم 15دن کیلئے روک دی جس نے پوری دنیا کی سانس روکی ہوئی تھی۔ آبنائے ہرمز دنیا کا نرخرہ نکلا جس سے سانسیں چلتی ہیں۔ ایران‘ امریکہ اور اسرائیل تو اس جنگ کے محض تین نام ہیں۔ عمان‘ متحدہ عرب امارات‘ کویت‘ بحرین‘ قطر اور سعودی عرب بھی اسی جنگ کا حصہ ہیں۔ دیکھا جائے تو دنیا کے وہ سب ممالک جن کی معیشت اس جنگ کی وجہ سے دائو پر لگی‘ اس کی لپیٹ میں ہیں۔ یہ مشکل ‘ پیچیدہ اور نہایت حساس معاملہ ہے جس میں اتنی نزاکتیں شامل ہیں کہ شاید کوئی دوسرا جھگڑا اس کا مقابلہ نہ کر سکے۔ ایسے پیچیدہ معاملے کو سفارتکاری کے ذریعے کم از کم جنگ بندی پر لے آنا بچوں کا کھیل نہیں۔ اس تاریخی کامیابی پر پاکستان کو فخر ہے اور پوری قوم کو اس پر فخر ہونا چاہیے۔ یہ پاکستان کا اعزاز ہے اور رہے گا۔معاملہ اتنا ہی نہیں تھا کہ دونوں بلکہ تینوں ملکوں کے ایک دوسرے پر اور عرب ممالک پر حملے فوری طور پر رکوانے تھے۔ اصل مسئلہ تینوں فریقوں کی اَنا اور ناک کا بن چکا ہے۔ انہیں فیس سیونگ چاہیے تھی‘ اس طرح کہ وہ اپنے عوام کو بتا سکیں کہ ہم نے فتح حاصل کی ہے اور مخالف کو عبرتناک شکست ہوئی ہے۔ آپ دیکھیں کہ ٹرمپ کی ٹویٹ بھی اپنے عوام کو بتانے کیلئے ہے کہ میں جیت گیا ہوں۔ ایرانی سپریم قیادت نے بھی فتح کا اعلان کیا ہے اور اسرائیل نے بھی ناک اونچی رکھنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن یہ ممکن نہیں تھا اگر ثالث یعنی پاکستان اس معاملے میں امریکہ اور ایران دونوں کی انا اور سیاسی مجبوریوں کا خیال نہ رکھتا۔ یہ گنجائش دونوں طرف دی گئی اور جب فریقین کو محسوس ہوا کہ وہ جیتے ہوئے دکھائی دے سکتے ہیں تو یہ جنگ بندی منظور کی گئی۔ اس کامیابی پر وزیراعظم شہباز شریف‘ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیر خارجہ اسحاق ڈارکو جتنی بھی مبارک دی جائے‘ کم ہے۔ انہوں نے نہ صرف سنگینی کا مکمل ادراک کیا بلکہ خوفناک صورتحال کو حل کرنے اور فوری جنگ بندی تک اپنے اوپر نیند اور آرام کو حرام کر لیا۔ یہ کامیابی بتاتی ہے کہ قوم کے فیصلہ ساز اگر متحد ہو کر کسی معاملے کو حل کرنے نکل پڑیں تو کامیابی قدم چومتی ہے۔ ایسی ہی کامیابی اللہ نے مئی 2025ء میں بھارت کے مقابلے میں نصیب کی تھی جب سب لوگ یکجان اور ہم آواز تھے۔ایک آتش فشاں‘ جس کے پھٹنے میں چند گھنٹے باقی رہ گئے ہوں‘ ابتدائی ساری علامات مکمل ہوچکی ہوں‘ زہریلے سیاہ بادل اور سرخ لاوا ڈھلانوں پر بہنا شروع ہوگیا ہو اور لپیٹ میں آنے والی بستیوں کے مکین اسے دہشت سے پھٹی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں‘ اچانک معلوم ہو کہ کسی تدبیر سے اس کا پھٹنا کم از کم 15 دن کیلئے روک دیا گیا ہے اور ممکن ہے کہ ایسی صورت نکال لی جائے کہ یہ بالکل سرد ہوجائے‘ تو یہ خبر کسی ناقابلِ یقین کرشمے کی طرح محسوس ہوگی۔ اور یہ کام کر دکھانے والے کو دنیا کے محسن کا خطاب ہی ملے گا۔ اس وقت پاکستان پوری دنیا کا ایسا ہی محسن ہے۔ پرانے زمانے میں خوشخبر ی لانے والے یا قوم کے محسن کا منہ موتیوں سے بھردیا جاتا تھا‘ اسے سونے میں تول دیا جاتا تھا۔ دنیا کو چاہیے کہ اس وقت اس روایت پر عمل کرے اور اس کا بھرپور اعتراف کرے۔اعلانات کے مطابق آبنائے ہرمز ہر قسم کی بحری ٹریفک کیلئے دو ہفتوں تک کھولی جا رہی ہے۔ ایران نے کہا ہے کہ جہازوں کو تکنیکی معاملات کا خیال رکھنا ہوگا۔ یہ تکنیکی معاملات کیا ہیں‘ تفصیل معلوم نہیں لیکن بظاہر یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔ دوسری طرف ٹرمپ نے اپنی ٹویٹ میں یہ ظاہر کیا کہ میں نے اس شرط پر جنگ بندی قبول کی ہے کہ ہرمز فوری‘ مکمل اور محفوظ طریقے سے کھول دی جائے گی۔ گویا دونوں ملک اپنی اپنی شرط کے مطابق جنگ بندی قبول کرنے کا اعلان کر رہے ہیں۔ 10اپریل کو ایران اور امریکہ کے وفود اسلام آباد آنے کی تجویز ہے اور یہ تاریخ بڑھ بھی سکتی ہے۔اس جنگ بندی کے چند گھنٹوں کے اندر زندگی چلنے لگی ہے۔ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں 90 ڈالر کے قریب آ گئیں ۔ آمد ورفت شروع ہو گئی تو انشورنس بھی کم ہو جائے گی‘ رکی ہوئی کھادیں کھیتوں تک پہنچیں گی تو دنیا سے قحط کا خطرہ بھی ٹلے گا۔ ہر ملک میں تیل کی قیمتیں بھی نیچے آئیں گی اور اس کی بنیاد پر ایک ماہ میں ہونے والی مہنگائی بھی۔ ایئر پورٹس محفوظ ہوئے تو پروازیں بھی شروع ہوں گی اور ایئر لائنز کی جان میں جان آئے گی۔ اسرائیل‘ ایران اور متاثرہ خلیجی ملکوں کو ملبہ اٹھانے کا وقت مل جائے گا۔ سعودی عرب کے صبر اور تحمل کی داد دینی چاہیے کہ اس نے زخم سہہ کر بھی خود کو جنگ میں کودنے سے باز رکھا۔ اس کا کریڈٹ پاکستان کو ملنا چاہیے کہ وہ درست مشورے دے کر اور مکمل حمایت کا یقین دلا کر سعودی عرب کے ساتھ کھڑا رہا۔ ایک بار پھر یہی ثابت ہوا کہ پاکستان سعودی عرب کا مخلص ترین دوست ہے اور سعودی عرب کو پاکستان کا یہ اخلاص ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے۔پاکستان نے اس جنگ بندی کے ذریعے بہت سی جہات میں سرخروئی حاصل کی ہے۔ اس لیے یہ ایک نہیں‘ متعدد کامیابیاں سمجھنی چاہئیں۔ اس نے اسرائیل کا وہ منصوبہ ناکام بنا دیا جس کے تحت عرب ملکوں کو اس جنگ میں ایران کے خلاف کود پڑنا تھا۔ اسرائیل کی سر توڑ کوشش یہی تھی۔ دوسرا‘ اسرائیل جو ہر امن منصوبے اور جنگ بندی کو سبوتاژ کرتا آیا ہے‘ اسے پاکستان نے امریکہ کے ذریعے مجبور کر دیا کہ وہ یہ جنگ بندی قبول کرے۔ اگرچہ اسرائیل نے کہا ہے کہ لبنان کا معاملہ اس جنگ بندی کا حصہ نہیں لیکن وزیراعظم شہباز شریف کی ٹویٹ میں لبنان کا ذکر موجود ہے۔ جنگ بندی اور سفارتی کوششوں نے دنیا کی نظرمیں پاکستان کا کردار بہت اونچا کر دیا ہے اور پوری دنیا میں اس کا اعتراف کیا جا رہا ہے۔ دنیا بھر کے میڈیا میں پاکستان کا نام جلی سرخیوں میں ہے اور اللہ نے پاکستان کو ایک بار پھر معزز اور معتبر مقام بخشا ہے۔ بھارت جو اس ساری صورتحال میں نظر انداز ہوا کھڑا تھا اور جس کے وزیر خارجہ نے بے بسی اور غصے میں گھٹیا زبان استعمال کی تھی‘ اپنی سفارتی تنہائی اور شکست کا نظارہ کر رہا ہے۔ پچھلے سال جون کی لڑائی سے موجودہ جنگ تک ایران نے بھارت کا دو رُخا چہرہ اچھی طرح دیکھا ہے۔ اسے جان لینا چاہیے کہ بھارت ہمیشہ سے اسرائیل کے ساتھ تھا‘ اور رہے گا۔ اس نے مشکل وقت میں جس طرح ایران کو تنہا چھوڑا‘ وہ بھارت سے متعلق ایرانی نظریات بدلنے کیلئے کافی ہونا چاہیے۔ نیز دنیا کو پاکستان کی شکل میں ایک قابلِ اعتبار‘ طاقتور اور معاملہ فہم ثالث ملا ہے جس پر دنیا کی بڑی طاقتیں اعتماد کر سکتی ہیں۔ حقیقت یہی ہے کہ یہ نہایت مشکل اور پیچیدہ کام پاکستان کے علاوہ کسی اور ملک کے بس کا نہیں تھا۔ اس کا سہرا فوجی قیادت کے بعد سیاسی قیادت کے سر ہے۔ اگرچہ اب بھی اس جنگ بندی کے سبوتاژ کیے جانے کا امکان موجود ہے‘ خاص طور پر اسرائیل کی طرف سے لیکن بظاہر امریکہ ایسا نہیں چاہے گا۔ اسے فیس سیونگ مل گئی ہے اور اب مذاکرات کی میز پر وہ لچک دکھا سکتا ہے۔ یہ بات حیرت انگیز اور معنی خیز ہے کہ ٹرمپ نے ایران کے پیش کردہ دس نکاتی فارمولے کو قابلِ عمل کہا ہے۔ حالانکہ اس میں وہ شرائط شامل ہیں جن سے امریکہ انکار کرتا آیا ہے‘ مثلاً آبنائے ہرمز پر ایرانی کنٹرول۔ یہ دس نکات قابلِ عمل قرار دینا خود اس بات کی دلیل ہے کہ ٹرمپ اس جنگ سے نکلنے کیلئے ایسا فوری راستہ چاہتے تھے جس سے وہ اپنے عوام کو فتح یابی کا یقین دلا کر مطمئن کر سکیں۔ اپنے پائلٹ کو بچا لینے کا اعلان بھی اسی بیانیے کا حصہ تھا کہ امریکہ جیت گیا ہے۔جنگ سے لہولہان ملکوں میں جیت کس کی ہوئی؟ میرے خیال میں کسی کی بھی نہیں! لیکن اگر کسی ایک ملک کا نام لیا جا سکتا ہے تو وہ پاکستان ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_81278520.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ایران کا المیہ اور ہمارا زاویۂ نظر(مفتی منیب الرحمٰن )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-04-09/51737/72847815</link><pubDate>Thu, 09 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-04-09/51737/72847815</guid><description>سوشل میڈیا پر ایران کے بارے میں مثبت تاثرات کے ساتھ منفی تاثرات بھی پڑھنے کو ملتے ہیں اور ہمارے اہلسنّت کے بعض علمائے کرام بھی اس حوالے سے متردّد ہیں کہ ہم کیا مؤقف اختیار کریں۔ میں نے پنجاب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اور مختلف اجتماعات میں اس بارے میں علمائے کرام کی ذہن سازی کی۔ پہلا مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں اپنے قومی تناظر اور عالمی تناظر میں فرق کوسمجھنا چاہیے۔ ہمارے خطے میں بلاشبہ مسلکی خلافیات موجود ہیں اور وہ ہماری تاریخ میں پیوست ہیں۔ ہماری یا کسی کی خواہش پر بیک جنبشِ قلم اُن کا ازالہ نہیں ہو سکتا‘ ہر طرف کے اپنے اپنے دلائل ہیں۔ مگر ہمیں عالمی تناظر کا بھی ادراک ہونا چاہیے۔ اسرائیلی وزیرِ اعظم نے کہا: &#39;&#39;مسلمان شیعہ ہوں یا سنی‘ ہمارے لیے دونوں یکساں خطرہ ہیں‘‘۔ اُن کے نزدیک سنی مسلمان کا اطلاق داعش‘ داعش خراسان‘ القاعدہ‘ تحریکِ طالبان افغانستان‘ تحریکِ طالبان پاکستان اور پاکستان کے تمام غیر شیعہ مکاتب فکر پر یکساں ہوتا ہے۔ اگرچہ داعش کو امریکہ نے اپنے مقاصد کیلئے شام اور عراق میں استعمال کرنے کیلئے تخلیق کیا تھا‘ مگر بعض اوقات تخلیق خالق کے قبضے میں نہیں رہتی اور اس کیلئے بھی خطرہ بن جاتی ہے‘ لہٰذا بعد کو امریکہ نے اسے ممنوعہ دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا اور اس کے خاتمے کو اپنی مہم بنایا۔پس عالمی تناظر کو سمجھنے کی ضرورت ہے‘ ایران اسلامی کانفرنس کی تنظیم کا بھی رکن ہے اور شرقِ اوسط کے ممالک کے ساتھ بھی ایران کے تعلقات کو استوار کرنا وقت کی ضرورت ہے‘ ورنہ مسلم ممالک کی باہمی آویزش مسلمانوں کی کمزوری اور اسرائیل اور امریکہ کی تقویت کا باعث بنے گی۔ رسالت مآبﷺ کے مکی دور میں فارس اور روم کی آویزش چلی آ رہی تھی‘ اُس وقت اہلِ فارس آتش پرست تھے اور اہلِ روم جن کا عالمِ عرب میں مرکز شام تھا‘ اپنے آپ کو مسیحیت سے وابستہ قرار دیتے تھے۔ ایک مرحلے پر اہلِ فارس اہلِ روم پر غالب آ گئے تو مشرکینِ مکہ نے مسلمانوں پر طعن کیا کہ تمہاری طرح الہامی دین کے ماننے والے رومی شکست کھا گئے ہیں اور ہمارے ہمنوا فارس کے مشرک فتح یاب ہو گئے ہیں‘ تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی طمانیتِ قلب کیلئے یہ آیاتِ مبارکہ نازل فرمائیں: &#39;&#39;قریب کی سرزمین میں رومی (اہلِ فارس سے) مغلوب ہو گئے اور وہ اپنے مغلوب ہونے کے بعد عنقریب چند سالوں میں (دوبارہ) غالب ہوں گے‘ اول وآخر حکم اللہ ہی کا نافذ ہونا ہے اور اُس دن مومن اللہ کی مدد سے خوش ہوں گے‘ وہ جس کی چاہتا ہے مدد فرماتا ہے‘ وہ بہت غالب‘ بے حد رحم فرمانے والا ہے‘‘ (الروم: 2 تا 5)۔ یہاں دوبارہ رومیوں کے غلبے کیلئے قرآنِ کریم میں &#39;&#39;بِضْع‘‘ کا لفظ آیا ہے اور &#39;&#39;بضع‘‘ کا اطلاق تین سے نو تک ہوتا ہے اور آخرِکار قرآنِ کریم کی یہ بشارت سچی ثابت ہوئی اور 6 ہجری تک رومی دوبارہ اہلِ فارس پر غالب آ چکے تھے۔ یہ واضح ہے کہ نصاریٰ اگرچہ خاتم النبیین سیدنا محمد رسول اللہﷺ کی نبوت کا انکار کرنے پر کافر ہو گئے تھے‘ لیکن چونکہ اُن کا ایک الہامی کتاب اور الہامی دین کے ساتھ ایک کمزور سا تعلق باقی تھا‘ اس لیے مشرکینِ مکہ انہیں مسلمانوں سے قریب تر اور اہلِ فارس چونکہ مشرک تھے‘ اس لیے وہ انہیں اپنے سے قریب تر سمجھتے تھے۔ پس کبھی شرِّ محض پر خیرِ قلیل کو ترجیح دینا پڑتی ہے۔موجودہ صورتحال میں اسرائیل اور امریکہ جارح ہیں اور ایران اُن کی ظالمانہ جارحیت کا شکار ہوا ہے‘ پھر انہوں نے دھوکے پہ دھوکا دیا۔ ایک طرف انہوں نے ایران کو مصالحتی مذاکرات میں مشغول رکھا اور دوسری طرف اُن کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کی منصوبہ بندی کرتے رہے اور ہر بار مذاکرات کو نامکمل چھوڑ کر اچانک ایران پر حملہ کر دیا۔ اسی کو کہتے ہیں: &#39;&#39;بغل میں چھری، منہ میں رام رام‘‘۔ ایران آخری مذاکرات میں کم ترین درجے پر یورینیم کی افزودگی پر بھی آمادہ ہو گیا تھا‘ بس محض فنی بنیادوں پر اس معاہدے کو حتمی شکل دینا باقی تھی۔ ثالثی کا فریضہ انجام دینے والے عمان کے وزیرِ خارجہ نے اس کے بارے میں واضح بیان بھی دے دیا تھا اور بعد کو امریکہ اور اسرائیل کی وعدہ خلافی اور دھوکا دہی پر انہوں نے انتہائی افسوس کا اظہار کیا تھا۔ اسرائیلی وزیراعظم کی خوشنودی کیلئے امریکی صدر ٹرمپ نے نہ صرف اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل کو معطل کر دیا‘ بلکہ اس نے اپنے نیٹو اتحادیوں کو بھی پرِکاہ کے برابر اہمیت نہیں دی۔ حتیٰ کہ امریکی کانگریس کو بھی اعتماد میں لینا مناسب نہ سمجھا۔ گویا ایک شخص نے اپنی اَنا اور سیماب صفت مزاج کے سبب پوری دنیا کو مصیبت میں ڈال دیا۔ پس حکومتِ پاکستان نے سفارتی اور اخلاقی سطح پر ایران کی جو حمایت کی ہے‘ یہ ہر لحاظ سے درست ہے اور پوری قوم کو اس میں حکومت کا ہمنوا ہونا چاہیے۔ نیز پاکستان نے سعودی عرب اور بعض خلیجی ممالک کو ایران کے خلاف جنگ کا حصہ بننے سے مقدور بھر روکا ہے‘ یہ قابلِ تحسین بات ہے۔ خاص طور پر سعودی عرب‘ قطر‘ کویت اور عمان نے اس سلسلے میں بہت احتیاط سے کام لیا ہے اور اس کی بھی تحسین کی جانی چاہیے۔ البتہ متحدہ عرب امارات اور بحرین کا مؤقف مختلف ہے‘ کیونکہ انہوں نے اسرائیل کو تسلیم کر رکھا ہے۔ ہماری نظر میں خلیج کے تمام ممالک کو اسرائیل کے خلاف اور فلسطین کی حمایت میں متحد ہونا چاہیے اور پاکستان‘ ترکیے‘ مصر اور سعودی عرب پر مشتمل ایک مصالحتی گروپ بنا کر خطے کے ممالک کو آپس کے اختلافات حل کرنے کی تدبیر کرنی چاہیے‘ ورنہ دشمن ایک ایک کر کے سب کو شکار کرے گا اور آخر میں کفِ افسوس ملنے کے سوا کوئی چارۂ کار نہیں رہے گا۔ایران مظلوم ہے‘ جارحیت کا شکار ہوا ہے‘ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے تحت کسی ملک پر میزائل سازی کی پابندی نہیں ہے‘ نہ یہ پابندی ہے کہ وہ کتنے فاصلے تک مار کرنے والے میزائل بنائے‘ لہٰذا امریکہ اور اسرائیل کی یہ شرط غیر قانونی اور ناقابلِ قبول ہے۔ ایران کا یہ مطالبہ بھی درست ہے کہ اس پر ناجائز جارحیت کی گئی ہے‘ لہٰذا اس کے جنگی نقصانات کی تلافی جارح ممالک کو کرنی چاہیے‘ ان میں فوجی والیکٹرانک تنصیبات‘ شہری تعمیراتی ڈھانچہ اور سول اثاثوں سمیت تمام نقصانات شامل ہیں۔ البتہ ایران نے شرقِ اوسط کے ممالک پر جو حملے کیے ہیں‘ اُن پر گفتگو کی گنجائش موجود ہے۔ ایران کا مؤقف یہ ہے کہ امریکہ نے یہ فوجی اڈے ایران کے خلاف حملے اور جارحیت کیلئے قائم کیے ہیں‘ لہٰذا یہ ہمارا جائز ہدف ہیں۔ لیکن ہمارے پاس اس بات کے کوئی قطعی شواہد نہیں ہیں کہ آیا ان اڈوں سے عملاً ایران پر حملے ہوئے ہیں‘ بعض لوگوں نے بتایا: عرب سوشل میڈیا ایکٹوسٹ اسرائیل کی عَلانیہ حمایت کرتے ہیں۔ ایران کو یہ ساری قوت اسرائیل اور امریکہ کی اُن تنصیبات پر صرف کرنی چاہئیں جن تک اُس کی رسائی ممکن ہے۔ اسرائیل کو بلاشبہ سائنس اور ٹیکنالوجی میں برتری حاصل ہے‘ امریکہ سپر پاور ہے اور ان دونوں کا مشترکہ ہدف ایران ہے۔ ایران کا ان کے مقابل ثابت قدم رہنا اور مقدور بھر مقابلہ کرنا‘ اپنے میزائلوں سے انہیں ہدف بنانا‘ کسی حد تک ان کے فضائی دفاعی نظام کو بے اثر کرنا بہت بڑی بات ہے‘ کیونکہ اس سے پہلے سمجھا جاتا تھا کہ اسرائیل وامریکہ کو کوئی چھو بھی نہیں سکتا۔ ایران کی دوسری بڑی کامیابی اعلیٰ درجے کی کئی مراحل کی قیادت کے بتدریج منظر سے ہٹ جانے کے باوجود ثابت قدم رہنا اور منظم انداز میں مقابلہ کرنا ہے۔ اتنے مظالم سہنا اور سہارنا بھی عزیمت واستقامت اور قوت وطاقت کی علامت ہے۔ افغانستان نے بلاشبہ سوویت یونین اور امریکی اتحادی غاصب قوتوں کا مقابلہ کیا ہے اور آخرکار انہیں افغانستان سے نکلنے پر مجبور ہونا پڑا۔ لیکن افغان حکومت میدان میں کھڑی نہیں ہوئی تھی‘ بلکہ اس نے گوریلا جنگ کا حربہ استعمال کیا‘ جبکہ دشمن کی فوجیں اس کی سرزمین پر آکر قابض ہو گئی تھیں۔ اس کے برعکس ایرانیوں نے اپنی سرزمین پر ثابت قدمی کے ساتھ قائم رہتے ہوئے مردانہ وار مقابلہ کیا ہے اور یہ بلاشبہ بہت بڑی کامیابی ہے۔( نوٹ: یہ کالم مورخہ 5 اپریل 2026ء کو لکھا گیا)</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_61172381.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>