<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>پائیدار امن کیلئے سفارتی کوششوں میں تیزی(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-21/11211</link><pubDate>Thu, 21 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-21/11211</guid><description>وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا ایک ہفتے میں دوسری بار ایران کے دورے پر جانا اس بات کا اظہار ہے کہ پاکستان امریکہ ایران تنازعے کے حل میں کس عزم کے ساتھ سر گرم ہے۔ سفارتی کوششوں میں آنے والی یہ غیر معمولی تیزی ظاہر کرتی ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے مابین پس پردہ جاری رابطے حساس مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں۔ وزیر داخلہ کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب بظاہر ایران اور امریکہ کے مابین حتمی معاہدے کیلئے ڈیڈ لاک برقرار ہے تاہم فریقین کی جانب سے لچک کا فقدان امن کی ہر کوشش کو سبوتاژ کر سکتا ہے اور مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئی ہولناک جنگ کا خطرہ شدت اختیار کرسکتا ہے ۔ بین الاقوامی برادری یہ محسوس کر رہی ہے کہ اگر اب کوئی بریک تھرو نہ ہوا تو حالات قابو سے باہر ہو سکتے ہیں۔ان حالات میں امریکی سینیٹ کی جانب سے ایران جنگ سے متعلق صدر ٹرمپ کے اختیارات محدود کرنے کی قرارداد ایک بڑی پیشرفت ہے۔ امریکی ایوانِ بالا میں47کے مقابلے میں 50 ووٹوں سے ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کرنے اور امریکی فوج کے انخلا کی قرارداد منظور کی گئی۔اس قرار داد کے بعد صدر ٹرمپ کیلئے کانگرس کی باضابطہ منظوری کے بغیر جنگ جاری رکھنا غیر قانونی ہوگا۔

اگرچہ وائٹ ہاؤس نے اس قرارداد کے خلاف ویٹو پاور کے استعمال اور صدر ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے اسرائیلی وزیراعظم کے ساتھ ایک پیج پر ہونے کا اعلان کیا ہے مگر یہ صورتحال اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکہ کے اندر قانون سازوں کی اکثریت اس کشیدگی کے حق میں نہیں۔ عالمی سطح پر اس وقت سب سے بڑی تشویش یہ ہے کہ اگر ایک بار پھر جنگ کی چنگاری دوبارہ بھڑک اٹھی تو یہ تباہی صرف فریقین یا ان کے قریبی ممالک تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اس بار سٹرٹیجک لحاظ سے انتہائی اہم بحیرہ احمر کا خطہ بھی اس کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ یہ صورتحال بین الاقوامی معیشت کیلئے ایک ایسے ڈراؤنے خواب کی طرح ہو گی جس کا تصور ہی لرزا دینے والا ہے۔شاید اس ممکنہ تباہی کے پیشِ نظر عالمی برادری کی بڑی طاقتیں اب کھل کر جنگ بندی اور امن کی ضرورت پر زور دے رہی ہیں۔ بیجنگ میں ہونے والی ملاقات میں چین اور روس کے صدور نے متفقہ طور پر یہ اعلان کیا ہے کہ اس وقت دنیا کو جنگ کی نہیں بلکہ امن کی اشد ضرورت ہے۔ چین اور روس کا یہ مؤقف اس بات کو تقویت دیتا ہے کہ کسی بھی نئی مہم جوئی کی صورت میں عالمی سیاست کے بلاکس مزید مضبوط ہوں گے اور یہ صورتحال سرد جنگ کے ایک نئے دور کا پیش خیمہ ثابت ہو گی۔
دنیا اب مزید کسی جنگی معاشی بوجھ کو برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتی۔ خلیج فارس کے خطے میں بحری ناکہ بندی نے تمام بین الاقوامی منڈیوں کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر رکھا ہے۔ خام تیل اور گیس کی سپلائی متاثر ہونے سے دنیا بھر میں مہنگائی کی ایک ایسی لہر اٹھی ہے جس سے عام آدمی کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے۔ ان سنگین حالات میں پائیدار امن کے قیام کیلئے علاقائی ممالک کا دباؤ بھی بڑھتا جا رہا ہے کیونکہ سعودی عرب‘ قطر اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک بخوبی جانتے ہیں کہ ان کی جغرافیائی حدود کے قریب ہونے والی کوئی بھی جنگ ان کے معاشی مقاصد اور ترقیاتی عزائم کو خاک میں ملا سکتی ہے۔ اسی لیے وہ بھی اب زور دے رہے ہیں کہ سفارتکاری کا راستہ چنا جائے۔ ایسے میں پاکستان کلیدی ثالث کے طور پر دن رات متحرک ہے‘ جس کی شٹل ڈپلومیسی کا محور ممکنہ فوجی تصادم کی روک تھام ہے۔
ایران کیساتھ پیغام رسانی کیلئے ہنگامی دورے اور پے بہ پے ملاقاتیں کچھ مثبت اشارے دے رہی ہیں۔ حج کے بعد دوسرا براہِ راست مذاکراتی دور اسلام آباد میں ہونے کی خبریں بھی زیر گردش ہیں۔ تمنا ہے کہ یہ سفارتی بھاگ دوڑ پُرامن معاہدے پر منتج ہو اور دنیا کے معاشی و سیاسی افق سے بے یقینی کے بادل چھٹ سکیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>تیل اور گیس کی تلاش(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-21/11210</link><pubDate>Thu, 21 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-21/11210</guid><description>تقریباً دو دہائیوں بعد ساحلی علاقے سے تیل اور گیس کی تلاش کے نئے معاہدوں کا عمل خوش آئند ہے۔ اس مقصد کیلئے حکومت نے گزشتہ روز مختلف کمپنیوں کیساتھ 21آف شور بلاکس میں تیل اور گیس کی تلاش کے معاہدے کیے جبکہ دو بلاکس پہلے ہی الاٹ کیے جا چکے ہیں۔یہ بلاکس سندھ اور بلوچستان کے ساحلی علاقوں کے قریب انڈس اور مکران بیسن میں واقع ہیں۔ پاکستان طویل مدت سے توانائی کے بحران کا سامنا کر رہا ہے۔ ملک کو اپنی ضرورت کیلئے بڑی مقدار میں تیل اور گیس درآمد کرنا پڑتی ہے جس پر سالانہ اربوں ڈالر خرچ ہوتے ہیں۔ اگر اپنی سمندری حدود سے تیل اور گیس کے حصول میں کامیابی مل جائے تو اس سے توانائی کی درآمدات میں کمی آئے گی اور معیشت کو بھرپور سہارا ملے گا۔

تیل اورگیس کی آف شور ایکسپلوریشن کے معاہدوں سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا پاکستان پر اعتماد بحال ہونے کا اشارہ بھی مل رہا ہے۔ پٹرولیم ڈویژن کے مطابق اس منصوبے میں ابتدائی مرحلے میں تقریباً 82 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری ہو گی اور اگر ڈرلنگ کامیاب رہی تو یہ سرمایہ کاری ایک ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ سمندر میں تیل اور گیس کی تلاش کا دوبارہ آغاز ایک امید افزا قدم ہے۔ اگر حکومت ان شعبے کو بہتر منصوبہ بندی اور مستقل مزاجی کیساتھ آگے بڑھائے تو نہ صرف توانائی کے بحران میں کمی کا سبب بن سکتا ہے بلکہ ملکی معیشت‘ روزگار اور ترقی کیلئے بھی نئے دور کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>معیشت کیلئے انتباہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-21/11209</link><pubDate>Thu, 21 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-21/11209</guid><description>عالمی ریٹنگ ایجنسی سٹینڈرڈ اینڈ پورز کی ایشیا پیسیفک جائزہ رپورٹ کے مطابق اگر ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ طول پکڑتی ہے تو پاکستان ایشیا بحرالکاہل خطے میں سب سے زیادہ میکرو فنانشل خطرات سے دوچار معیشت بن سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کا خلیجی ممالک سے تیل کی سپلائی اور ان ممالک میں مقیم پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر پر بھاری انحصار‘ محدود زرِمبادلہ ذخائر‘ بیرونی قرضوں کی واپسی کا دباؤ اور ری فنانسنگ کی بڑھتی ہوئی ضروریات جیسے عوامل معیشت کو عدم استحکام سے دوچار کر سکتے ہیں۔ جائزہ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2027ء میں پاکستان کی حقیقی جی ڈی پی نمو کم ہو کر تقریباً 3.2 فیصد تک محدود رہنے کا امکان ہے جبکہ توانائی کی عالمی قیمتوں میں اضافہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو دوبارہ بڑھا سکتا ہے‘ روپے پر دباؤ ڈال سکتا ہے اور مہنگائی کی شرح کو بلند سطح پر برقرار رکھ سکتا ہے۔

اسکے نتیجے میں نہ صرف عام صارف کی قوتِ خرید متاثر ہوگی بلکہ صنعتی لاگت اور کاروباری سرگرمیاں بھی دباؤ میں آ جائیں گی۔ جائزہ رپورٹ کے خدشات کے پیشِ نظر حکومت کو چاہیے کہ معاشی پالیسیوں کو محض وقتی انتظامات کے بجائے ایک جامع‘ طویل مدتی حکمت عملی کے تحت ترتیب دے۔اگر بروقت اور مربوط حکمت عملی اختیار نہ کی گئی تو ملکی معیشت زبوں حالی کا شکار ہونے سے عام آدمی کا عرصۂ حیات مزید تنگ ہو جائے گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پنکی اور Whataboutism(محمد اظہارالحق)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-05-21/51984/33542403</link><pubDate>Thu, 21 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-05-21/51984/33542403</guid><description>وہ جو شاعرہ نے کہا تھا کہ &#39;&#39;بچے ہمارے عہد کے چالاک ہو گئے‘‘ تو اصل بات یہ ہے کہ بچے چالاک  نہیں ہوئے‘ ہم سے زیادہ عقلمند ہو گئے ہیں۔ اب وہ دور چلا گیا جب بچوں کو سوال پوچھنے پر یا اختلاف کرنے پر ڈانٹ پڑتی تھی۔ آج کے بچوں کا وژن‘ پہلی نسل کے بزرگوں کے وژن سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ ٹچ سکرین کا زمانہ ہے۔ بچے ایک ٹچ سے جان لیتے ہیں کہ سات سمندر پار کیا ہو رہا ہے۔میں اپنی بیٹی سے بحث کر رہا تھا کہ پنکی بی بی کو یونہی پکڑ لیا گیا ہے‘ اسے سلطانی گواہ بنا کر ان لوگوں کے نام معلوم کریں جو اس کی پشت پناہی کر رہے تھے۔ بیٹی کہنے لگی: پشت پناہی کرنے والے کبھی نہیں سامنے لائے جائیں گے کیونکہ عین ممکن ہے کہ پشت پناہی کرنے والوں کی سیاسی جماعتوں میں اعلیٰ پوزیشنیں ہوں یا وہ بلند مناصب پر ہوں۔ ایسے صاحبان کو سامنے لانے اور پکڑنے سے کسی پارٹی پر زد پڑ سکتی ہے‘ اقتدار کمزور ہو سکتا ہے‘ کسی کے ووٹ کم ہو سکتے ہیں۔ رہی یہ بات کہ پنکی کو یونہی پکڑ لیا گیا ہے تو اسے بالکل صحیح پکڑا گیا ہے۔ اگر پشت پر کوئی اور تھا اور پنکی صرف آلۂ کار بنی تھی تواسے اس لیے کڑی سزا ملنی چاہیے کہ آلۂ کار بننے والے عبرت پکڑیں۔اب میں نے ایک اور زاویے سے بات کی۔ پوچھا: آخر پنکی بی بی کی ڈرگ فروشی سے کتنے لوگ مرے ہوں گے؟ سینکڑوں مرے ہوں گے؟ بیٹی کہنے لگی: ہو سکتا ہے یہ تعداد ہزاروں میں ہو کیونکہ وہ ایک طویل عرصے سے یہ کام کر رہی تھی اور پھر اس کا نیٹ ورک پورے ملک میں پھیلا ہوا تھا۔ بالکل! میں نے کہا: چلیں ہزاروں میں ہو گی پنکی کے متاثرین کی تعداد! لیکن جن کی وجہ سے لاکھوں  لو گ ہلاک ہوئے اور اب تک ہو رہے ہیں‘ کیا انہیں پکڑا گیا؟ وہ جو افغان جنگ میں زبردستی حصہ دار بن گیا‘ محض اپنے عہدِ اقتدار کو طول دینے کیلئے‘ جس نے ملک کی سرحدوں کو ملیامیٹ کر کے جنگجو لا بسائے اور دہشت گردوں کو تخلیق کیا جو آج تک ہمارے لوگوں کو قتل کر رہے ہیں‘ کیا اسے سزا دی گئی؟ کوئی مہذب ملک ہوتا تو بعد از مرگ مقدمہ چلایا جاتا۔ دنیا میں ایسی مثالیں موجود ہیں جن میں مجرموں کے جسموں کو قبروں سے نکال کر لٹکایا گیا! کیا حمود الرحمن کمیشن رپورٹ میں ظاہر کیے جانے والے مجرموں کو سزا دی گئی؟ کم از کم عمران خان جیسے جری انسان کو اپنی حکومت کے دوران یہ کام ضرور کرنا چاہیے تھا۔ یہ اور بات کہ اقتدار سے اترنے کے بعد انہوں نے بارہا اس رپورٹ کا نام لیا۔ اگر عمران خان جیسا دُھن کا پکا اور نڈر وزیراعظم اس رپورٹ پر عمل پیرا نہ ہو سکا تو اور  کون مائی کا لعل ہو گا جو یہ بھاری پتھر اٹھا سکے؟ چلیے مان لیا پنکی کی پھیلائی ہوئی منشیات سے ہزاروں اموات ہوئی ہوں گی اس لیے وہ مجرم ہے‘ تو بچوں کے دودھ میں ملاوٹ کرنے والے کیا کم مجرم ہیں؟ غذائی اشیا میں ملاوٹ کیا قاتلانہ حملے سے کم ہے؟ کیا حکومت بتائے گی کہ پاکستان میں ڈمپروں‘ ٹرالیوں اور ٹریکٹروں کی اندھا دھند ڈرائیونگ سے ہر ہفتے کتنی اموات ہوتی ہیں؟  ایسے کتنے وحشی ڈرائیوروں کو موت یا قید کی سزا دی گئی ہے؟ دلوں میں جعلی سٹنٹ لگانے والے اور بغیر ضرورت سٹنٹ ٹھونسنے والے ڈاکٹر نما قاتلوں کے چہروں پر کپڑا ڈال کر عدالتوں میں کیوں نہیں پیش کیا جاتا؟ کوئٹہ میں جس سردار نے سرکاری اہلکار کو دن  دہاڑے گاڑی کے نیچے‘ افطار سے ذرا پہلے‘ روند ڈالا تھا‘ اُس سردار کو عدالت میں اس طرح کیوں نہیں پیش کیا گیا جس طرح پنکی کو پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ کیسا نظام ہے کہ کچھ کو اس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ ان کے چہرے کپڑے سے ڈھانک دیے جاتے ہیں اور کچھ کو اس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ وہ دو انگلیوں سے فتح کا نشان بنا رہے ہوتے ہیں۔ ریاست چاہے تو ایک سابق وزیراعظم کو اس لیے تختۂ دار پر لٹکا دیتی ہے کہ قتل کا حکم مبینہ طور پر اُس نے دیا تھا؛ اگرچہ قتل کرنے والے اور تھے‘ اور ریاست چاہے تو پنکی کی پشتیبانی کرنے والوں کا سراغ ہی نہ لگائے! اور لگائے بھی تو ان کے نام نہ افشا کیے جائیں! بغیر پشت پناہی کے چڑیا بھی پَر مارے تو پکڑی جائے تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک عورت ملک کے طول وعرض میں سالہا سال منشیات کی فروخت اس طرح کرتی پھرے کہ  درجنوں افراد استعمال ہو رہے ہوں اور پھر بھی پکڑی نہ جائے؟ بچہ بھی سمجھ سکتا ہے اور پاگل بھی جانتا ہے کہ اس کے پیچھے مضبوط اور طاقتور لوگ ہیں۔ وہی تو اصل مجرم ہیں۔ پنکی کا قصور یہ ہے کہ وہ کاؤنٹر پر بیٹھی ہوئی تھی۔بیٹی نے میرے یہ تقریر نما دلائل سنے۔ ہنسی اور کہنے لگی: ابو! لگتا ہے آپ Whataboutism کا شکار ہو گئے ہیں۔ میں نے پوچھا: یہ کیا ہوتا ہے؟ وہ پھر ہنسی اور کہا کہ کسی پر لگے الزام کی اہمیت کم کرنے کیلئے And what about کہہ کر کسی اور جرم کی مثال دی جائے تو اسے Whataboutism کہا جاتا ہے۔ یعنی پانی کو گدلا کر دیا جائے تا کہ جرم ہلکا لگنے لگے۔ سرد جنگ کے زمانے میں جب امریکہ سوویت یونین پر الزام لگاتا تھا کہ لوگوں کو سائبیریا بھیج دیا جاتا ہے جہاں وہ سسک سسک کر مر جاتے ہیں  تو روسی جواب دیتے تھے کہ What about slavery in Southern states of USA?۔ یعنی امریکہ کی جنوبی ریاستوں میں کالوں کو غلام بنا کر تم نے تھوڑے ظلم ڈھائے ہیں۔ Whataboutism کو اردو میں &#39;&#39;انحرافی دلائل‘‘ کہا جا سکتا ہے۔ باپ بیٹے کو ڈانٹتا ہے کہ تم شام گئے اتنی دیر سے لوٹتے ہو۔ بیٹا آگے سے انحرافی دلیل دیتا ہے کہ آپ بھی تو کبھی کبھی رات کو ایک بجے گھر آتے ہیں۔ بیٹی نے گفتگو جاری رکھی: ابو! آپ جب اُن اموات کا ذکر کرتے ہیں جو جعلی ادویات یا ڈمپروں کی وجہ سے واقع ہوتی ہیں تو اس سے فائدہ تو کچھ نہیں ہوتا‘ ہاں پنکی کے جرائم کی شدت کم ہوجاتی ہے!!بیٹی میرے علم میں Whataboutism کا اضافہ کر کے اپنے بچوں کو سلانے چلی گئی مگر مجھے تشخیص کا ایک فارمولا دے گئی۔ ہمارے ملک کو بھی اسی &#39;&#39;انحرافی دلیل بازی‘‘ نے خوار و زبوں کیا ہے۔ ایک طرف سے سرے محل کا الزام لگتا ہے تو دوسری طرف سے ایون فیلڈ کا بتایا جاتا ہے۔ سندھ کی کرپشن کا الزام لگتا ہے تو What about کہہ کر پنجاب کے خرید کردہ جہاز کا پوچھا جاتا ہے۔ اس طرح کسی الزام کی سچائی یا عدم صداقت پر بات کرنے کے بجائے الزام‘ جوابی الزام اور الزام در الزام کا سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ اپنے اوپر لگے الزام کا جواب کوئی نہیں دیتا۔ نہ کوئی اعتراف کرتا ہے نہ نادم ہی ہوتا ہے نہ وضاحت ہی کرتا ہے۔ موضوع پر بات کرنے کے بجائے اشتعال انگیزیاں کی جاتی ہیں۔ سچ الزامات کی تہہ میں دب جاتا ہے۔ ہونا یہ چاہیے کہ جوابی الزام لگانے سے پہلے‘ اپنے اوپر لگے الزام کا جواب دینا چاہیے۔اگر ایسا ہو جائے تو سیاستدان اور حکمران غلط کام کرنے سے پہلے ایک بار ضرور سوچیں گے کہ کل الزام لگے گا تو وضاحت کرنا پڑے گی۔ویسے جوابی الزام لگانا جرم کا اعتراف ہی تو ہے۔ میں اگر سچا ہوں تو الزام کا جواب دوں گا۔ دل میں چور ہو گا تو الزام لگانے والے  کا ماضی کھنگالنا شروع کر دوں گا۔ پارٹیوں کے اندر حقیقی جمہوریت ہو تو پارٹی ارکان خود ہی اپنے سربراہ کا محاسبہ کر لیتے ہیں۔ فریق مخالف کو الزام لگانے کا موقع ہی نہیں ملتا۔ جب تک سیاسی پارٹیاں خاندانی قبضوں سے نجات نہیں حاصل کرتیں‘ What about ہی سے کام نکالیے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_57182973.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>جھاڑو کون پھیرے گا؟(خالد مسعود خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-05-21/51985/82531029</link><pubDate>Thu, 21 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-05-21/51985/82531029</guid><description>اس ملک میں چٹپٹی خبروں کی کبھی کوئی &#39;&#39;تھوڑ‘‘ نہیں پڑی۔ ہر وقت کوئی نہ کوئی گرما گرم اور مسالے دار خبر ہمارا دل لگائے اور ذہن بھٹکائے رکھتی ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ چار دن بعد وہ چٹ پٹی خبر کسی سرکاری فائل کی طرح داخلِ دفتر ہو جاتی ہے اور وقت کی گرد اسے ہمارے ذہن سے بھلا دیتی ہے۔ لیکن قوم اس سلسلے میں کبھی فکرمند نہیں ہوئی کیونکہ اس خبر کے مدہم پڑنے سے پہلے کوئی اور دھواں دھار خبر ہمارا دل بہلانے کیلئے مارکیٹ میں آ جاتی ہے۔ بقول شاہ جی یہ سب خبریں &#39;&#39;سموک سکرین‘‘ ہیں جو ہمیں ہمارے اصلی مسائل سے بھٹکانے کیلئے‘ ہمارا ذہن منتشر کرنے کیلئے اور ہماری سوچ کو کسی ایک طرف یکسو ہونے سے روکنے کیلئے چھوڑی جاتی ہیں۔ کبھی دبئی لیکس آ جاتا ہے۔ کبھی پاناما لیکس اپنی شکل دکھا دیتا ہے۔ کبھی ایان علی کی خبر اخبار کی زینت بنتی ہیں۔ اس کی عدالت میں پیشی کو کیٹ واک سے تشبیہ دے کر خبر کو مسالے دار بنایا جاتا ہے۔ اسلام آباد ایئرپورٹ سے 506800 کے کڑکتے امریکی ڈالروں سے بھرے ہوئے بیگ سمیٹ پکڑی جانے والی ایان علی اب کدھر ہے؟ نہ کسی کو خبر ہے اور نہ ہی کسی کو کوئی فکر ہے۔ غلط ایئرپورٹ کا انتخاب کر کے پکڑی جانے والی ماڈل ممکن ہے اب کسی ایسے ایئرپورٹ سے‘ جہاں اس کے مہربانوں کا زور چلتا ہے‘ اپنے مہربانوں اور سرپرستوں کی حلال کی کمائی کی منی لانڈرنگ کر رہی ہو۔ اب خبروں میں بھی ریٹنگ اور ویوز جیسا مسئلہ در آیا ہے۔ خبر کو رنگین اور چٹخارے دار بنا کر قارئین اور ناظرین کو گھیرا جاتا ہے۔ اس دوران بہت سے اہم موضوعات پسِ پردہ چلے جاتے ہیں۔ اس قوم کو اوّل تو ویسے ہی سنجیدہ معاملات سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ اوپر سے سیاسی پارٹیوں کی باہمی دشمنی اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ ایک دوسرے کی مخالفت نے قومی سطح کے ہر معاملے کو متنازع بنا کر رکھ دیا ہے۔ اگر ایک طرف ہر حکومتی اقدام پر حکومتی چمچہ گیر طبلچی چاپلوسی کی دھنوں پر مبنی بینڈ اپنے پورے زور و شور سے بجاتے ہیں تو دوسری طرف راندۂ درگاہ پارٹی کے فدائین ہر حکومتی قدم کی‘ خواہ وہ غلطی سے درست ہی کیوں نہ ہو‘ مخالفت کرنا اپنا مذہبی اور اخلاقی فریضہ سمجھتے ہیں۔ ایسے حالات میں عام آدمی کے پاس سوائے کنفیوز ہونے کے اور چارہ نہیں ہے۔ حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف کے اراکینِ اسمبلی باقی ہر معاملے پر باہم دست و گریبان ہیں لیکن متحارب سیاسی پارٹیوں کے یہی ارکانِ اسمبلی اپنے ذاتی فائدوں اور مراعات کیلئے اس طرح شیر و شکر ہوتے ہیں کہ یک جان دو قالب کا محاورہ عملی تصویر بن کر ہمارے سامنے آ جاتا ہے۔ سوائے اپنی ذاتی مفادات کے یہ سب لوگ ہمہ وقت باہم دست و گریبان رہتے ہیں۔ مخالفت برائے مخالفت کا یہ عالم ہے کہ سنجیدہ سے سنجیدہ قومی نوعیت کا مسئلہ بھی انہیں ایک نکتے پر متفق نہیں کر پاتا۔ تاہم اگر معاملہ تنخواہوں میں اضافے‘ بلیو پاسپورٹ کے حصول اور مراعات میں بہتری کا ہو تو پھر یہ تمام لوگ ایک دوسرے کے دست و بازو بن جاتے ہیں۔ ممکتِ خداداد میں قوم کا دل لگائے رکھنے کیلئے ہر چوتھے دن کوئی نئی خبر ملکی منظر نامے پر دھواں دھار انٹری دیتی ہے۔ اب آپ سے کیا پردہ‘ یہ قوم بنیادی طور پر تماش بین ہے اور محض اپنے اس شوق کی تکمیل کی خاطر اپنے سارے دھندے چھوڑ کر ہر نئی آنے والی خبر کے پیچھے پڑ جاتی ہے۔ اس طرح نہ صرف اس خبر اور قوم کے چار چھ دن اچھے گزر جاتے ہیں بلکہ خبر کے محرکین کو بھی دلی سکون اور راحت ملتی ہے۔ جب کوئی خبر اپنی کشش کھونے لگتی ہے کوئی نئی خبر دھم سے کودتی ہے اور قوم کو دلچسپی کا نیا محور مل جاتا ہے۔ یہ سلسلہ عشروں سے اسی طرح چل رہا ہے اور چلتا رہے گا۔ بقول شاہ جی اس قسم کی خبروں کی ساری منصوبہ بندی بھی بڑے گھر سے جڑی ہوئی ہے اور اس کا کھرا بھی وہیں جا کر ختم ہوتا ہے۔ عشروں سے باقاعدہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت قوم کو رنگین اور چٹخارے دار خبروں کا عادی بنا دیا گیا ہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ قوم کا دل لگا ہوا ہے اور منصوبہ سازوں کی چاندی ہے۔ عشروں سے چلنے والے اس ڈرامے کا تازہ ترین ایپی سوڈ انمول عرف پنکی ہے۔ بقول ہمارے ایک دوست کے‘ انمول کا عرف پنکی کے بجائے سوئی ہوئی ریاست ہوتا تو زیادہ مناسب اور معنی خیز ہوتا۔ اس ملک میں بھی کیا عجیب و غریب ادارے ہیں کہ دکھائی دینے پر آئے تو انہیں شیر پاؤ برج کے نیچے سے ڈاکٹر یاسمین راشد کا پھینکا ہوا لکڑی کا ڈنڈا چھ ماہ بعد لاہور کی مصروف ترین سڑک پر دکھائی دے جاتا ہے‘ نہ دکھائی دے تو عین ناک کے نیچے گزشتہ 20سال سے منشیات فروشی کا گینگ چلانے والی ڈرگ کوئین اور کوکین کی چلتی پھرتی فیکٹری دکھائی نہ دے۔چمک اور سرپرستی کا یہ عالم ہے کہ کوکین تیار کرکے اپنے نیٹ ورک کے ذریعے فروخت کرنے والی خاتون کو پولیس پورے پروٹوکول کے ساتھ عدالت میں پیش کرتی ہے اور عدالت پہلے مرحلے پر اس کا ریمانڈ دینے کے بجائے اسے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیتی ہے۔ سوشل میڈیا کے استعمال میں ہزار قباحتیں ہوں گی لیکن بہرحال بعض معاملات میں اس کے طفیل کچھ ایسی چیزیں بھی سامنے آ جاتی ہیں جو نہ تو اخبارات میں آتی ہیں اور نہ ٹیلی ویژن پر۔ سوشل میڈیا پر آنے کے بعد پرنٹ اور ڈیجیٹل میڈیا ایسی خبروں کی کوریج پر مجبور ہو جاتا ہے۔ عام آدمی کو بہت سے واقعات سے آگاہی اس لیے ہو رہی ہے کہ وہ موبائل فون کے کیمرے کی وساطت سے گھومتی ہوئی دنیا بھر میں پھیل جاتی ہے۔اب جس طرح معاملات سامنے آ رہے ہیں اس سے یہ بات صاف دکھائی دیتی ہے کہ موصوفہ ڈرگ کوئین نہ صرف ایلیٹ کلاس کو منشیات سپلائی کرتی تھی بلکہ اس کا یہ بھی الزام ہے کہ منشیات کی روک تھام پر مامور ادارے اور سرکاری افسران اس کی سرپرستی کرتے تھے۔ سرکاری افسران اور اداروں کی سرپرستی کے بغیر یہ کام جس کا دائرہ کار لاہور سے کراچی تک پھیلا ہوا تھا اور عرصہ بیس سال تک اس طرح بخیر و خوبی چل ہی نہیں سکتا تھا۔ سرکار کیلئے یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ ایک گینگ عرصہ دراز سے کوکین بنانے سے لے کر سپلائی کرنے تک کا دھندہ کر رہا ہے۔ آن لائن آرڈر بکنگ ہو رہی ہے۔ رائیڈر مال گھروں میں ڈِلیور کر رہے ہیں۔ بینکوں میں ٹرانزیکشنز ہو رہی ہیں۔ کوکین کی ڈبیوں پر ٹریڈ مارک چھپے ہوئے ہیں اور کسی کو کچھ خبر نہیں۔ ہمارے انسدادِ منشیات کے ادارے دو چار گرام والے منشیات فروشوں کو تو جھٹ سے پکڑ لیتے ہیں مگر اتنا پرانا اور وسیع نیٹ ورک ان کو دکھائی ہی نہیں دے رہا۔اگر ملک میں منشیات کے سدباب پر مامور اداروں کی یہی کارکردگی ہے تو بہتر ہو گا کہ یہ ادارے بند کر دیے جائیں۔ سکولوں میں استاد نہیں پڑھاتے تو سکول پرائیویٹ سیکٹر کے حوالے کیے جا رہے ہیں۔ ڈاکٹروں کی کارکردگی خراب ہے تو ہسپتال آہستہ آہستہ پرائیویٹ تنظیموں کو دیے جا رہے ہیں۔ کامرس کالجوں کے حالت خراب ہے تو انہیں پرائیویٹ یونیورسٹیوں کے سپرد کرنے کے باتیں چل رہی ہیں۔ زرعی تحقیقاتی اداروں کی کارکردگی ناگفتہ بہ ہے تو انہیں بند کر کے ان کی زمین جمخانہ بنانے والوں کو دی جارہی ہے۔ انسدادِ منشیات کے ادارے اگر کام نہیں کر رہے تو ان کو بھی پرائیوٹائز کر دیا جائے۔ یہ تو کوئی بات نہ ہوئی کہ سرکار کو اگر تعلیم‘ صحت اور تحقیق جیسے اداروں پر خرچہ کرنا پڑے تو وہ یہ ادارے بند کر دے یا پرائیویٹ سیکٹر کے حوالے کر دے اور جہاں بے پناہ مال پانی بنتا ہو افسران موج میلے کریں اور گلچھرے اڑائیں۔ یہ ادارے نااہلی‘ کرپشن اور بدانتظامی کی جس حد تک پہنچ چکے ہیں وہاں مکمل جھاڑو پھیرے بغیر بہتری کا کوئی امکان دکھائی نہیں دے رہا۔ لیکن جھاڑو کون پھیرے گا؟</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90500073.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بے بس مسلم عوام اور افغانستان میں بھوک کا ڈیرہ(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-05-21/51986/55706791</link><pubDate>Thu, 21 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-05-21/51986/55706791</guid><description>افغانستان میں پھول جیسے بچے موت کی وادی میں اُتر رہے ہیں۔ جہاں اناج اُگتا تھا‘ آج وہاں بھوک کی فصل کھڑی ہے۔ افغانستان کا خر بوزہ یہاں آتا تو لوگ اس کی طرف لپکتے تھے۔ اس کی مٹھاس ایسی کہ ہونٹ سِل جائیں۔ ایک خربوزہ ہی کیا‘ ثمرات کی ایسی بہتات کہ سبحان اللہ۔ تعلیم‘ تہذیب‘ اَن گنت مسائل تھے مگر بھوک نہ تھی۔ اب کیا ہے؟ والد اپنی بیٹیوں کا سودا کر رہا ہے کہ ان کو کھلا سکتا ہے نہ خود کھا سکتا ہے۔ سرحد بند ہے۔ پاکستان سے رابطہ کٹ چکا۔ ایک اَن دیکھی فصیل ہے جو کھڑی ہو گئی ہے۔بحران کے ان لمحات میں افغان حکومت کہاں ہے؟ امارتِ اسلامی کی قیادت کیا کر رہی ہے؟ اس کی ترجیحات کیا ہیں؟ پاکستان میں گرتی لاشیں‘ ان سوالوں کا جواب دے رہی ہے۔ پاک فوج اور پولیس کے شہدا اس کا جواب ہیں۔ تحریک طالبان پاکستان کے اسلحہ بردار جنگجو اس کا جواب ہیں۔ افغان حکومت &#39;غیرت‘ اور &#39;انا‘ کی جنگ لڑ رہی ہے۔ وہ اپنے شہریوں کیلئے بھوک کے بدلے دہشت گردی کی پشت پناہی کر رہی ہے۔ وہ پاکستان کو نیچا دکھانے کے منصوبے بنا رہی ہے۔ اپنے تئیں اسلام کا بول بالا کر رہی ہے۔ اس کے پاس یہ فرصت نہیں کہ وہ اپنے شہریوں کی بھوک کا علاج تلاش کرے۔ زیادہ سے زیادہ کیا ہو گا؟ لوگ مر جائیں گے۔ مریں گے تو شہادت کے منصب پر فائز ہو جائیں گے۔ انہیں اپنی حکومت کا شکرگزار ہونا چاہیے کہ ان کیلئے جنت ارزاں کر دی۔ محلات اور حوریں ان کا انتظار کر رہی ہیں۔ خاندانی منصوبہ بندی ان کے مسلک میں حرام ہے۔ دس مریں گے تو بیس پیدا بھی ہوں گے۔اور یہ ایران ہے۔ عوام بے یقینی کی فضا میں جی رہے ہیں۔ مہنگائی ہے کہ قابو میں نہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ اس کی منزل افلاس اور بھوک ہے۔ اس میں کیا شبہ ہے کہ ایران کو جارحیت کا سامنا تھا۔ اس کو دفاع کا حق تھا اور اس نے یہ حق خوب استعمال کیا۔ سب نے اس جرأت وشجاعت پر داد کے پھول برسائے۔ ایران کی فتح کیلئے دستِ دعا بلند کیے۔ سفارتی محاذ پر دوست سرگرم ہوئے۔ خدا خدا کر کے وقفہ آیا۔ امریکہ کی طاقت کا بھرم ٹوٹ چکا۔ اس کے ساتھ مگر ایران کا نقصان بھی کم نہیں ہوا۔ آج اس جنگ سے نکلنے کی صورت پیدا ہو رہی ہے۔ ایران کیلئے موقع ہے کہ وہ اس وقفے سے فائدہ اٹھائے اور صلح کی طرف مائل ہو۔ امریکی ظلم کے خلاف سراپا احتجاج دنیا اس کے ساتھ کھڑی ہے۔ اس کی قیادت مگر کیا سوچ رہی ہے؟ اس کی ترجیح کیا ہے؟ اس کی حکمتِ عملی میں مہنگائی کی چکی میں پسنے والے عوام کہاں ہیں؟ اسے چند کلو یورینیم عزیز ہے یا عوام کا مستقبل؟اب پاکستان کی سنیے! اللہ کا شکر ہے ہم بہت سوں سے بہتر ہیں‘ مگر کیا ہم مزید بہتر نہیں ہو سکتے؟ اگر ہو سکتے ہیں تو رکاوٹ کیا ہے؟ ایک صوبے کے وزیراعلیٰ نے شدید گرمی میں عوام کو تپتی سڑک پر بٹھائے رکھا۔ حکومت کا معاملہ یہ ہے کہ اقوامِ عالم میں ثالثی کے منصبِ جلیلہ پر فائز ہے مگر ایک قیدی سے ملاقات کا مسئلہ حل کر نے پر قادر نہیں ہے۔ عدالت اب کچہری ہے‘ عوام کو انصاف کی امید نہیں رہی۔ کراچی میں منشیات فروشی کے جرم میں ایک خاتون گرفتار ہے۔ اب تک کی معلومات کے مطابق‘ وہ اَن گنت نوجوانوں کی زندگی کو برباد کر چکی۔ میڈیا کئی دنوں سے چیخ رہا ہے۔ میں نے بہت سے لوگوں سے پوچھا: اس مقدمے کا کیا فیصلہ ہو گا؟ سو فیصد کا جواب تھا: &#39;کچھ نہیں ہو گا یہ رہا ہو جائے گی‘۔ اگر اس پر بات کی جائے تو عام آدمی بھی مقدمات کے بے شمار حوالے لے آتا ہے۔ فلاں کا کیا ہوا؟ کیا فلاں کو سزا ملی؟ سوشل میڈیا کے صفحات پلٹیے تو اہلِ دانش ان مسائل میں الجھے ملیں گے جن کا زندگی سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں۔ حال یہ ہے کہ مذہبی معاملات پر بات ہو رہی ہے اور ایک دوسرے کو ماں بہن کی گالیاں دی جا رہی ہیں۔یہ مثالیں بتا رہی ہیں کہ مسلم دنیا کی قیادتیں اور عوام‘ دونوں اخلاقی اور فکری طور پر اپاہج ہیں۔ فکری معذوری کے سبب وہ یہ نہیں جان سکے کہ اپنی ترجیحات کا تعین کیسے کریں؟ اخلاقی کمزوریاں انہیں شخصی مفادات سے بلند نہیں ہونے دیتیں۔ عقل کا کام جذبات سے لیتے ہیں۔ مذہب جو اخلاق سکھاتا‘ اسے انہوں نے عصبیت بنا دیا ہے۔ مذہب تزکیے کا موضوع نہیں‘ گروہی تشخص کا اظہار ہے۔ &#39;اب کہاں سے آئے صدا لا الٰہ الا اللہ‘؟اس فکری اور اخلاقی زوال کے اسباب بیشمار ہیں۔ اہلِ سیاست وحکومت کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ عوام ان کی ترجیحات میں کہیں نہیں۔ ان کی پہلی ترجیح گروہی وشخصی مفادات ہیں۔ دوسری ترجیح ریاست ہے۔ ریاست کے نام پر‘ ان کے نزدیک عوام کو تنگ کرنا جائز ہے۔ اگر &#39;قومی مفاد‘ کیلئے عوام کو گھنٹوں سخت گرمی میں سڑکوں پر رولنا پڑے تو ان کیلئے یہ کوئی مسئلہ نہیں۔ شہر میں ایک تقریب ہوتی ہے اور آدھی آبادی عذاب میں مبتلا کر دی جاتی ہے۔ اہلِ دانش کا معاملہ بھی یہی ہے۔ عوام کی زندگی اور مفاد سے انہیں کوئی دلچسپی نہیں۔ مذہبی راہنمائوں کو بھی اس سے کچھ غرض نہیں کہ وہ جس مذہب کا عَلم اٹھائے ہوئے ہیں وہ ان کیلئے امید کا اور نشاط کا پیغام ہے یا وحشت اور خوف کی علامت؟اگر افغانستان میں حکومت کی ترجیح عوام کی فلاح وبہبود ہوتی تو کیا ان کی حکمتِ عملی وہی ہونی چاہیے تھی جو اَب ہے؟ اگر ایران کی قیادت عوام کی طرف دیکھتی تو کیا ان کے مستقبل پر یورینیم کو ترجیح دیتی؟ ریاست کے مناصب پر فائز گروہوں نے ایک بیانیہ بنا رکھا ہے۔ جذبات کو مشتعل کر کے‘ عوام کو اس کا اسیر بنایا جاتا ہے۔ جن کے پاس یہ نہیں‘ وہ کلٹ یا مذہب کے نام پر عوام کو اپنا غلام بنائے ہوئے ہیں۔ مسلم ریاستوں کے معاملات اگر ایسے ہی رہتے ہیں اور امکان بھی اسی کا ہے‘ تو مجھے ان کے مستقبل کے بارے میں تشویش ہے۔ غربت‘ افلاس اور بھوک اسی طرح پنپتی رہے گی اور ہم خود ساختہ تصورات کا عَلم اٹھائے‘خود کو فاتح قرار دیتے رہیں گے۔ہر بات روا ہے۔ ہر موضوع پر بات ہو سکتی ہے۔ سوال مگر یہ ہے کہ ہم چاہتے کیا ہیں؟ عوام کیلئے خوشحالی اور امن یا اضطراب اور بے یقینی؟ اس وقت سیاسی قیادت کی ذمہ داری سب سے زیادہ ہے۔ دوسرے مسلم ممالک کیلئے ہم دعا ہی کر سکتے ہیں لیکن اپنے اہلِ اقتدار سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ عوام کو اپنی حکمتِ عملی میں ترجیح بنائیں۔ جو اقدام کریں‘ اس میں سب سے پہلے یہ دیکھیں کہ عوام پر اس کا کیا اثر پڑے گا۔ اسی طرح اہلِ دانش کو دیکھنا ہے کہ وہ جو خیالات پیش کر رہے ہیں اس سے عوام کا بھلا ہو رہا ہے یا ان کیلئے زندگی مشکل ہو رہی ہے؟ اہلِ مذہب کو بھی سوچنا ہو گا کہ وہ جن مذہبی تصورات کی آبیاری کر رہے ہیں‘ ان سے عوام کو کوئی فائدہ پہنچے گا یا کسی خاص مکتبِ فکر کو؟ اپنی ریاست سے ایک اضافی درخواست ہے: افغانستان کے بے بس عوام کی فوری امداد کا اہتمام کیا جائے۔ افغان بچے‘ خواتین اور عام شہری سیاست کی پیچیدگیوں سے ناواقف ہیں۔ انسانی اور اسلامی رشتے کے ناتے ہمیں ان تک خوراک پہنچانی چاہیے۔ وہ ہمارے ہمسایے ہیں۔ ہمیں اس سے ڈرنا چاہیے کہ آخرت میں کہیں ان کی بھوک کا سوال ہم سے نہ ہو۔ ریاستِ پاکستان کو کوئی راستہ تلاش کرنا چاہیے کہ ہماری حکومت اور عوام اس مشکل گھڑی میں ان کی مدد کر سکیں۔ ہمیں بے حس افغان قیادت کی طرف نہیں دیکھنا‘ اپنی اخلاقی ذمہ داری اور اللہ کی خوشنودی کے بارے میں سوچنا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>دُلہا دلہن کا مقابلہ اور پاکستان کرکٹ ٹیم(عمران یعقوب خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-05-21/51987/60595237</link><pubDate>Thu, 21 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-05-21/51987/60595237</guid><description>حال ہی میں ایک انوکھی خبر یہ پڑھنے کو ملی کہ چین میں ایک شادی ایسی ہوئی جو دلہن کے ساتھ ساتھ دلہا کو بھی ہمیشہ یاد رہے گی۔ چین کے صوبے گوئزوہو کے علاقے زونیی سے تعلق رکھنے والے دلہا ہی ین شینگ پروفیشنل ریسلر ہیں؛ چنانچہ انہوں نے شادی کے روز دلہن کے ساتھ ریسلنگ کے انوکھے مقابلے کا پلان بنایا۔ شرط یہ طے کی گئی کہ اس مقابلے میں ہارنے والا زندگی بھر گھر کے کام کاج کرے گا۔ شادی کے دن ویڈنگ سٹیج کے بجائے ریسلنگ رِنگ سجایا گیا اور دلہا اور دلہن کے پوسٹر آویزاں کیے گئے۔ نوبیاہتا جوڑے نے بیسٹ آف تھری مقابلہ کیا۔ دلہن نے مقابلے میں آسانی سے دلہے کو زمین پر پٹخ دیا اور مقابلہ جیت لیا جس کے بعد اب دلہے کو زندگی بھر کے لیے گھر کے کام کاج کو دیکھنا ہو گا اور ظاہر ہے ان کی بیگم صاحبہ  عیش کریں گی‘ شوہر پر حکم چلائیں گی‘ مجازی خدا سے جھاڑو پوچا کرائیں گی۔انہی دنوں دو اور پٹخنیاں بھی پڑی ہیں اور وہ پٹخنیاں کسی اور کو نہیں ہماری کرکٹ ٹیم کو پڑی ہیں۔ وہ کرکٹ ٹیم جس کو بیٹ پکڑنا ہم نے سکھایا اور جسے انٹرنیشنل کرکٹ میں لے کر ہم آئے‘ اس سے ٹیسٹ سیریز کے علاوہ لگاتار چوتھا ٹیسٹ میچ بھی ہار گئے ہیں۔ پہلا میچ ایک طرح سے ہم نے طشتری میں رکھ کر مخالف ٹیم کو پیش کیا تھا‘ لیکن دوسرے میچ میں البتہ کچھ فائٹ کی اور 437رنز کے ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے 359رنز بنا لیے۔ کاش کوئی ٹیم کے کھلاڑیوں کو یہ بتا دیتا کہ جب میچ جیتنا ناممکن ہو تو پھر ٹُک ٹُک لگا کر میچ کو ڈرا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ میج جیتنا ہو یا ڈرا کرنا ہو‘ کھلاڑیوں کا کریز پر ٹکنا ضروری ہوتا ہے۔ایک زمانے میں پاکستانی کرکٹ ٹیم دنیا کی بہترین ٹیموں میں شمار کی جاتی تھی۔ ایسا نہیں کہ ہماری ٹیم میچ ہارتی نہیں تھی لیکن ہماری جیت کا گراف ہارنے سے کہیں بلند ہوتا تھا۔ اب گزشتہ چند برسوں سے ہماری ٹیم کی کارکردگی مسلسل اتار چڑھاؤ کا شکار ہے۔ ٹیم کی ناکامیوں کی کئی وجوہات ہیں۔ سب سے بڑی وجہ ٹیم میں مستقل مزاجی کی کمی ہے۔ پاکستانی کھلاڑی بعض اوقات غیرمعمولی کارکردگی دکھاتے ہیں لیکن اہم میچوں میں دباؤ برداشت نہیں کر پاتے اور ہار جاتے ہیں۔ بڑے ٹورنامنٹس میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ بیٹنگ لائن اچانک ناکام ہو جاتی ہے یا باؤلرز اپنی لائن اور لینتھ برقرار نہیں رکھ پاتے جس کے نتیجے میں مخالف ٹیم کے بیٹرز سے چوکے چھکے کھاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کھلاڑیوں کی اس غیرمستقل مزاجی نے کئی یقینی فتوحات کو شکست میں بدل دیا۔ بار بار کپتانوں کی تبدیلی بھی ناکامیوں کی وجہ شمار کی جا سکتی ہے۔ یہ بھی سننے میں آتا ہے کہ کرکٹ ٹیم کے انتخاب میں اکثر سیاسی مداخلت اور غیرضروری فیصلے ہوتے ہیں۔ واللہ اعلم! فٹنس کے مسائل بھی پاکستانی ٹیم کی ناکامیوں میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جدید کرکٹ میں فٹنس کو بنیادی حیثیت حاصل ہے‘ لیکن کئی پاکستانی کھلاڑی اس معیار پر پورا نہیں اترتے۔ کمزور فیلڈنگ‘ آسان کیچ چھوڑ دینا اور گیند پکڑتے ہوئے دوڑ میں سستی نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔ آسٹریلیا‘ انگلینڈ اور بھارت جیسی ٹیمیں اپنی بہترین فٹنس کی وجہ سے نمایاں نظر آتی ہیں جبکہ پاکستان اس شعبے میں پیچھے نظر آتا ہے۔ میرٹ بھی ایک مسئلہ ہے۔ اسی وجہ سے باصلاحیت نوجوان آگے نہیں آ پاتے اور ٹیم میں حقیقی مقابلے کا ماحول پیدا نہیں ہوتا۔ نفسیاتی دباؤ بھی ایک اہم عامل ہے۔ پاکستانی ٹیم جب کسی بڑے حریف‘ خاص طور پر بھارت کے خلاف  کھیلتی ہے تو کھلاڑیوں پر بے حد دباؤ ہوتا ہے۔ اگر پاکستان کرکٹ کے اربابِ بست و کشاد میرٹ‘ مستقل قیادت اور جدید تربیت پر توجہ دیں تو پاکستانی ٹیم دوبارہ دنیا کی بہترین ٹیموں میں اپنی جگہ بنا سکتی ہے۔میں یہ بات ماننے کے لیے کبھی تیار نہیں ہوا‘ نہ اب ہوں کہ پاکستان میں کرکٹ کے حوالے سے ٹیلنٹ کی کمی ہے۔ میں جب گلی محلوں میں اور چھوٹے چھوٹے پارکس میں بچوں اور نوجوانوں کو کرکٹ کھیلتے دیکھتا ہوں تو حیرت ہوتی ہے کہ ان میں اتنی مہارت کیسے آ گئی۔ پتا نہیں کیا وجہ ہے کہ ہمارے ملک میں کرکٹ کے کرتا دھرتا عوام میں چھپے ہوئے کرکٹ کے اس ٹیلنٹ  کو تلاش کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ پہلے بھی کسی کالم میں یہ تجویز پیش کی تھی کہ اگر سکولوں کی سطح پر اور اس کے بعد کالجوں  کی سطح پر اور اس سے بھی آگے اضلاع اور ڈویژنوں کی سطح پر باقاعدگی سے کرکٹ ٹورنامنٹ منعقد کرائے جائیں اور ان ٹورنامنٹس میں اچھی کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں کو آگے لا کر پالش کیا جائے‘ ان کی حوصلہ افزائی کی جائے اور ان کو  قومی ٹیم میں شامل کیا جائے تو ہماری ہارنے کی شرح یقینا کم ہو جائے گی۔ پاکستان میں فرسٹ کلاس کرکٹ اچھی خاصی ہوتی ہے۔ اس سے بھی ٹیلنٹ تلاش کیا جا سکتا ہے۔ لیکن پتا نہیں کیوں ایسے کھلاڑیوں کو منتخب کیا جاتا ہے اور سلیکٹرز ایسی ٹیم سلیکٹ کرتے ہیں جو کبھی توقعات پر پورا نہیں اترتی۔ ہر پاکستانی محب وطن ہے وہ اپنے ملک کو جیتتا ہوا اور کامیاب ہوتا ہوا دیکھنا چاہتا ہے۔ ان کے لیے کسی دوسرے ملک کے ہاتھوں خصوصاً بھارت کے ہاتھوں ہار برداشت کرنا ناممکن ہو جاتا ہے لیکن نجانے کیوں ہمارے کھلاڑی عوام کے ان جذبات کو سمجھتے ہی نہیں ہیں۔پاکستان اور بنگلہ دیش کے مابین دوسرا کرکٹ میچ بہت عرصے کے بعد ایک ایسا میچ تھا جس میں پاکستانی ٹیم اگرچہ ہار گئی لیکن اس نے جیتنے کی سر توڑ کوشش کی اور ساڑھے تین سو سکور بھی کر لیا۔ پہلے بھی عرض کرتا رہا ہوں اور دوبارہ عرض ہے کہ مایوس ہو  کر اور دل چھوڑ کر ہارنا الگ معاملہ ہے اور جیتنے کی سر توڑ کوشش کر کے ہارنا ایک بالکل مختلف صورتحال ہے۔ بہت عرصے بعد پاکستانی ٹیم اس دوسری صورتحال میں نظر آئی۔ ہمیں صرف پٹخنیاں کھانا ہی نہیں دوسروں کو پٹخنیاں دینا بھی آنا چاہیے۔ یہ کوچز کی ذمہ داری ہے کہ وہ کھلاڑیوں کو کریز پر ٹکنا سکھائیں۔ یہ بتائیں کہ اگر چوکے چھکے نہیں لگ رہے تو سنگلز اور ڈبلز کا سلسلہ جاری رکھیں تاکہ سکور بورڈ حرکت کرتا رہے۔ ایسی صورت میں اکثر آخری اوور میں ایسی صورت حال بن ہی جاتی ہے جب چوکے چھکے لگا کر بڑا سکور کیا جا سکے‘ لیکن اگر چوکے چھکے رکے ہوئے ہوں اور سنگلز اور ڈبلز کے مواقع سے بھی فائدہ نہ اٹھایا جائے تو نتیجہ ہدف کے مشکل سے مشکل تر ہونے اور رن ریٹ کے بڑھنے کے سوا کچھ نہیں نکلتا۔اور آخری بات یہ کہ میچ ہارنے میں کوئی مضائقہ نہیں لیکن یہ دیکھنا اہم ہے کہ کس سے ہارے۔ چین کے اس دلہا جیسا حال نہیں ہونا چاہیے جو اپنی دلہن سے ہی ہار گیا۔ اب وہ دلہا میاں ساری زندگی گھر کے کام کاج تو کریں گے ہی اپنی بیگم سے کبھی نظریں بھی نہیں ملا سکیں گے۔ کسی مرد کے لیے کسی خاتون سے ریسلنگ میں ہار جانا افسوس کا مقام ہوتا ہے۔ کرکٹ میں اپنے ہاتھوں سے بنائی ہوئی ٹیموں سے ہار جانا بھی کچھ ایسا ہی معاملہ ہوتا ہے۔ کیا خیال ہے آپ کا؟</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_58350786.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>الطاف حسن قریشی۔ مسلسل تین حادثے(سعود عثمانی )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-05-21/51988/63119005</link><pubDate>Thu, 21 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-05-21/51988/63119005</guid><description>بات 1968ء کی ہو گی۔ میرے والد‘ باکمال شاعر جناب زکی کیفی ایک دن گھر میں ہنستے ہوئے داخل ہوئے۔ ان کے ہاتھ میں پھلوں کے لفافے تھے جن کا ہمیں انتظار رہتا تھا۔ لیکن ایک لفافے میں کچھ رسالے بھی تھے۔ یہ اردو ڈائجسٹ کے تازہ شمارے کے کئی نسخے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ اس کے سرورق پر کچھ خوبصورت پرندوں کی تصویریں بنی ہوئی تھیں۔ اردو ڈائجسٹ ان رسالوں میں تھا جو ہمارے گھر باقاعدہ آیا کرتے تھے۔ بچوںکے رسالے‘ تعلیم و تربیت‘ نونہال اور دہلی کا رسالہ کھلونا تو ہمارے پسندیدہ تھے ہی لیکن اردو ڈائجسٹ بھی صفحہ صفحہ پڑھا کرتے تھے۔ لیکن اُس دن اردو ڈائجسٹ کے کئی نسخے لانا سمجھ نہیں آیا اور والد گرامی کے‘ جنہیں ہم بھائی جی کہتے تھے‘ ہنسنے کی وجہ بھی معلوم نہیں تھی۔ کچھ دیر بعد پتا چلا کہ اس تازہ شمارے میں میرے دادا مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع صاحب کا انٹرویو شائع ہوا ہے اور ابتدا میں الطا ف حسن قریشی صاحب نے زکی کیفی کا تذکرہ خاصے تیکھے انداز میںکیا ہے۔ یہ الطاف صاحب کی زکی صاحب سے پہلی ملاقات کا ذکر ہے جس کا ابتدائی تاثر الطاف قریشی کیلئے زیادہ خوشگوار نہیں تھا۔ لیکن ابتدائی سطروں کے بعد جب زکی کیفی سے بعد کی ملاقاتوں کا ذکر کیا تو یہ بھی لکھا کہ زکی کیفی کی شخصیت کے کئی پہلو مثلاً شاعری ان پر بعد میں کھلے اور اب وہ اپنے ابتدائی تاثر پر افسوس کرتے ہیں۔ تیکھے جملوں اور شگفتہ انداز کے ساتھ الطاف صاحب کے اس انٹرویو کا یہ حصہ شگفتگی کی عمدہ مثال ہے۔ بعد کا تمام انٹرویو مفتی صاحب کے گرد گھومتا تھا۔ کورنگی کراچی میںکی گئی ملاقات کا ذکر‘ سوال اور جواب الطاف حسن قریشی کی خوبصورت اور جچی تلی نثر سے سجے ہوئے تھے۔ ان کی شائستہ طبیعت‘ ہمہ جہت مطالعہ‘ مشرقی روایت کے مطابق بزرگوں کا احترام سبھی ان کے انٹرویوز کا حصہ ہوا کرتے تھے اور یہ انٹرویو بھی اس کی عمدہ مثال تھا۔ صحافت میں جیسی ادبی نثر الطاف قریشی نے لکھی اس کی مثالیں کم ہوں گی۔ اس کی یہ وجہ بھی تھی کہ ان کی ادبی اور صحافتی تربیت ان لوگوں کے ہاتھوں میں ہوئی جو ادب آداب کے امین تھے اور صحافت کو پیسہ کمانے کا ذریعہ نہیں بلکہ بات پہنچانے کی ذمہ داری کے طور پر قبول کرتے تھے۔ اس زمانے میں دائیں اور بائیں بازو کی نظریاتی جنگیں عروج پر تھیں اور سیاست‘ صحافت‘ ادب اور تعلیم سب انہی لڑائیوں کے میدان بنے ہوئے تھے۔ اس زمانے میں دائیں بازو کے ہم خیال رسالوں میں اردو ڈائجسٹ سر فہرست تھا‘ جس کے جماعت اسلامی کے اکابرین سے قریبی تعلقات تھے۔آٹھ نوسالہ لڑکے کی حیثیت میں اس دور کی دو تین خاص باتیں مجھے یاد رہیں گی۔ ایک تو ہمارے گھر کی زیریں منزل میں قائم مغربی پاکستان اردو اکیڈمی میں ماہانہ مشاعرے‘ جس کا انتظام اکیڈمی کے سربراہ ڈاکٹر سید عبداللہ اور میرے والد زکی کیفی مشترکہ طور پر کرتے تھے۔ اکیڈمی ہمارے سمن آباد موڑ پر واقع گھر &#39;&#39;کاشانۂ زکی‘‘ میں کرایہ دار کی حیثیت میں تھی۔ ان ماہانہ مشاعروں میں لاہور کے بہت قد آور اور منتخب نوجوان شاعر تشریف لاتے تھے جن میں احسان دانش‘ قیوم نظر‘ ناصر کاظمی‘ انجم رومانی‘ مظفر وارثی‘ کلیم  عثمانی‘ سید وقار عظیم‘ سید اقبال عظیم‘ ضمیر فاطمی‘ اقبال ساجد وغیرہ شامل ہوتے۔ میں نے صرف ایک بار اپنے والد کے حکم پر اپنے پہلے پہل لکھے شعر سنائے تھے‘ ورنہ بطور سامع شامل ہوتا تھا۔ الطاف حسن قریشی بھی ان مشاعروں میں کئی بار تشریف لائے۔ الطاف صاحب کی غزل مضبوط اور تلازموں سے بھرپور بہت عمدہ ہوا کرتی تھی۔ یہ روایتی انداز کی سجی ہوئی غزل تھی جو شاعر کی ریاضت کا بھی پتا دیتی تھی۔ یہ میرے لیے بہت خوشگوار حیرت تھی کہ بہت عمدہ نثر کے حامل اردو ڈائجسٹ کو اردو دنیا میں پہلی بار متعارف کرانے والے الطاف صاحب اتنے اچھے شاعر بھی ہیں۔اُس دور کی دوسری یاد 1970ء کے انتخابات ہیں۔ یہ اُس زمانے کا بڑا اہم واقعہ تھا اور سیاسی افراد کی ہمارے گھر میں بہت ملاقاتیں ہوتی تھیں۔ آئے روز نامور لوگ ہمارے گھر آتے تھے اور بہت سے لوگوں مثلاً نوابزادہ نصر اللہ خان کے پیچھے خفیہ اداروں کی گاڑیاں بھی آنا معمول تھا۔ اس زمانے میں الطاف حسن قریشی بھی ہمارے گھر آیا کرتے تھے۔ لڑکپن کا وہ منظر مجھے یاد ہے کہ ایک چمکیلی صبح وہ ہمارے گھر کے برآمدے میں کھڑے تھے۔ برآمدے میں بنے روشن دانوں میں کبوتروں کی غٹرغوں معمول کے مطابق جاری تھی۔ الطاف صاحب شاید جناب ظفر احمد انصاری سے محو گفتگو تھے اور میں دیکھتا تھا کہ ان کا سر خفیف سی حرکت کرتا رہتا ہے۔ وہ دن گزر گئے اور راوی کا پانی تیزی سے بہتا گیا۔ پھر 1972ء میں یہاں تک کہ 1973ء میں دستور سازی کے مرحلے شرو ع ہو گئے۔ ان دنوں ہمارا گھر ایک بار پھر سیاسی اور نظریاتی عمائدین کا مرکز بنا ہوا تھا۔ ان دنوں بھی الطاف صاحب کا کافی آنا جانا رہا۔ وقت اور تیزی سے گزرا۔ 1974ء میں قادیانیت کے خلاف تحریک میں پھر مشاورت کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ بھٹو ایک ایسے ڈکٹیٹر کی صورت میں معروف ہوتے چلے گئے جو اپنے بارے میں تنقید برداشت نہیں کرتا تھا۔ اس دور میں الطاف صاحب اسیرِ زندان ہوئے تو والد صاحب نے ان کی گرفتاری پر قطعات لکھے۔ پھر وہ مارشل لاء دور میں دوبارہ زیر عتاب آئے۔ جنوری 1975ء میں والد گرامی کے انتقال پر الطاف صاحب چند ساتھیوں کے ہمراہ تعزیت کیلئے تشریف لائے اور بڑے بھائی محمود  اشرف عثمانی سے اپنے دلی دکھ کا اظہار کیا۔ ہمارے والد زکی کیفی بہت سے لوگوں سے ہمارے تعلق کے ایک پُل کی طرح تھے۔ یہ پل مسمار ہوا تو دونوں کنارے ایک دوسرے سے دور دور کھڑے رہ گئے۔ ملاقاتیں نہ ہونے کے برابر رہ گئیں۔ ایک دو بار عمِ مکرم مفتی محمد رفیع عثمانی کے ہمراہ الطاف صاحب کے ادارے پائنا (پاکستان انسٹیٹیوٹ آف نیشنل افیئرز) میں بھی جانے کا موقع ملا جہاں عمِ مکرم مہمانِ خاص تھے۔میں نے کالم نگاری شروع کی تو جن بڑے صحافیوں کے فون آئے اور ان کی حوصلہ افزائی میسر آئی ان میں جناب الطاف قریشی بھی تھے۔ انہوں نے کئی بار میرے کالموں کی داد کیلئے فون کیا اور بہت محبت کے ساتھ میرے لفظوں کو سراہا۔ ایک بار انہوں نے گلہ کیا کہ میرے پاس آپ کی شاعری کی کتب نہیں۔ مجھے بھی اس کوتاہی کا احساس ہوا تو تلافی کیلئے اپنی کتابیں پیش کرنے کیلئے الطاف صاحب کے پاس حاضر ہو گیا۔ وہ جوہر ٹاؤن جی وَن میں رہائش پذیر تھے اور اس وقت بینائی کے مسائل زیادہ ہو چکے تھے۔ ان  کی صحت دیکھ کر دھچکا سا لگا کہ میرے ذہن میں ان کی وہی تصویر تھی جو میں نے اوپر بیان کی۔ الطاف صاحب بہت محبت سے ملے‘ دس پندرہ منٹ گفتگو رہی۔ اس کے بعد بھی کئی بار فون پر بات ہوئی لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ عام طور پر وہ ملاقات سے گریزاں رہتے ہیں سو پھر بالمشافہ ملاقات نہیں ہو سکی۔ اور اب الطاف صاحب کی رخصت کا دکھ پورے ادب اور صحافت کا دکھ ہے اور یہ دکھ بہت محسوس کیا گیا ہے۔عجیب دنیا ہے یہ۔ ایک دور شروع ہوتا ہے تو لگتا ہے سدا جاری رہے گا۔ ایک روایت سر بلند ہوتی ہے تو لوگ یقین کرنے لگتے ہیں کہ یہ سربلندی صدیوں تک رہے گی۔ اردو میں ڈائجسٹوں کے دور کا آغاز کرنے والے الطاف حسن قریشی اور ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی تھے۔ بعد میں ڈائجسٹ کھمبیوں کی طرح اُگے۔ لیکن یہ روایت الطاف صاحب کے سامنے ہی زوال پذیر ہو کر غروب ہو گئی۔ صحافتی اقدار کی پاسداری کی روایت الطاف صاحب اور دیگر قد آور شخصیات نے کی اور حق کے اظہار میں بندشیں بھی جھیلیں اور قید و بند کی مشکلات بھی سہیں۔ یہ روایت بھی انہی کے سامنے دم توڑ گئی۔ یہ تین حادثے لگاتار ہوئے۔ الطاف صاحب سے پہلے سنجیدہ رسالوں کی موت ہوئی‘ شائستہ صحافت کا انتقال ہوا۔ دو حادثات پہلے ہوئے۔ اب الطاف صاحب کی رحلت تیسرا بڑا حادثہ ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_81278520.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>قربانی کے مسائل(مفتی منیب الرحمٰن )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-05-21/51989/56294790</link><pubDate>Thu, 21 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-05-21/51989/56294790</guid><description>٭قربانی ہر صاحبِ نصاب عاقل بالغ مرد وعورت پر واجب ہے‘ زکوٰۃ کی فرضیت کیلئے کم از کم نصاب پر پورا قمری سال یا سال کا اکثر حصہ گزرنا شرط ہے‘ جبکہ قربانی اور فطرے کے وجوب کیلئے بالترتیب عیدالاضحی اور عیدالفطر کی صبح صادق کو محض کم از کم نصاب کا مالک ہونا کافی ہے‘ سال گزرنا شرط نہیں ہے۔ قربانی کے جانوروں کی عمریں حسبِ ذیل ہیں: بکرا‘ بکری‘ دنبہ‘ بھیڑ ایک سال مکمل ہو جائے اور دوسرے سال میں داخل ہو جائیں۔ بیل‘ گائے‘ بھینس‘ بھینسے کی عمر دوسال پوری ہو جائے اور تیسرے سال میں داخل ہو جائیں‘ اونٹ‘ اونٹنی کی عمر پانچ سال پوری ہو جائے اور چھٹے سال میں داخل ہو جائیں‘ یہاں قمری سال مراد ہے؛ البتہ بھیڑ اور دنبہ اگر اتنے فربہ ہوں کہ دیکھنے میں ایک سال کے نظر آئیں تو ان کی قربانی جائز ہے۔٭اگر صاحبِ نصاب مالدار شخص نے قربانی کا جانور خریدا اور وہ گم ہو گیا یا قربانی سے پہلے مر گیا تو اس پر لازم ہے کہ دوسرا جانور خرید کر قربانی کرے یا قربانی کے جانور میں حصہ ڈالے۔ اگر قربانی سے پہلے گمشدہ جانور مل جائے تو مالدار شخص کو اختیار ہے کہ جس جانور کی چاہے قربانی دے‘ دونوں کی قربانی لازمی نہیں ہے‘ بہتر یہ ہے کہ جس جانور کی قیمت زیادہ ہو‘ اُس کی قربانی کرے۔ ٭اگر نادار شخص نے قربانی کا جانور خریدا اور وہ قربانی سے پہلے گم ہو گیا یا مر گیا تو اس پر دوسرے جانور کی قربانی لازم نہیں ہے۔ اگر اس نے دوسرا جانور خرید لیا اور پہلا گمشدہ جانور بھی بعد میں مل گیا تو اس پر دونوں کی قربانی لازم ہو گی‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تو اُس پر قربانی واجب نہیں تھی اُس نے قربانی کی نیت سے جانور خریدکر خود اپنے اوپر واجب کی‘ اسی طرح دوسرے جانور کا حکم ہے۔ ٭قربانی کے جانوروں کی عمر پورا ہونے کی ظاہری علامت دو دانت کا ہونا ہے‘ لہٰذا جس جانور کے دو دانت پورے نہیں ہوئے‘ اس کی قربانی جائز نہیں ہے؛ البتہ جانور گھر کا پلا ہوا ہے اور اس کی مطلوبہ عمر پوری ہو گئی ہے تو اس کی قربانی شرعاً جائز ہے‘ خواہ سامنے کے دو دانت ابھی پورے نہ ہوئے ہوں‘ عام کاروباری لوگوں پر اعتماد مشکل ہے۔٭قربانی کا جانور تمام ظاہر ی عیوب سے سلامت ہونا چاہیے‘ اس کیلئے فقہائے کرام نے یہ ضابطہ مقرر کیا ہے کہ ہر وہ عیب جو جانور کی کسی منفعت یا جمال کو بالکل ضائع کر دے‘ اس کی وجہ سے قربانی جائز نہیں ہے اور جو عیب اس سے کمتر درجے کا ہو‘ اس کی قربانی ہو جاتی ہے۔ ٭اندھا‘ کانا‘ لنگڑا‘ بہت بیمار اور لاغر‘ جس کا کان‘ دم یا چکتی تہائی سے زیادہ کٹے ہوئے ہوں‘ پیدائشی کان نہ ہوں‘ ناک کٹی ہو‘ دانت نہ ہوں‘ بکری کا ایک تھن یا گائے بھینس کے دو تھن خشک ہوں‘ ان سب جانوروں کی قربانی جائز نہیں ہے۔ فتاویٰ عالمگیری میں ہے: &#39;&#39;وہ جانور جس کے دانت نہ ہوں‘ اگر وہ چَر سکتا ہے اور چارا کھا سکتا ہے تو اُس کی قربانی جائز ہے‘‘ (ج: 5‘ ص: 298)۔ جس جانور کے پیدائشی سینگ نہ ہوں یا سینگ اوپر سے ٹوٹا ہوا ہے‘ کان‘ چکتی یا دُم ایک تہائی یا اس سے کم کٹے ہوئے ہیں تو ایسے جانوروں کی قربانی جائز ہے‘ جانور میں حسن پیدا کرنے کیلئے اُس کے سینگ چوٹی سے رگڑ دیتے ہیں یا ایسا کیمیکل استعمال کرتے ہیں کہ سینگ کی نشوونما رُک جاتی ہے‘ لیکن اس کا اثر دماغ یا سینگ کی جڑ پر نہیں ہوتا اور سینگ کی جَڑ اپنی جگہ قائم رہتی ہے تو ایسے جانور کی قربانی جائز ہے۔ صاحب نصاب نے عیب دار جانور خریدا یا خریدتے وقت بے عیب تھا‘ بعد میں عیب پیدا ہوگیا تو ان دونوں صورتوں میں اس کیلئے ایسے جانور کی قربانی جائز نہیںہے۔ لازم ہے کہ وہ دوسرا بے عیب جانور خریدکر قربانی کرے اور اگر خدانخوستہ ایسا شخص صاحب نصاب نہیں ہے تو اُس کیلئے اُسی جانور کی قربانی جائز ہے۔٭خصی جانور کی قربانی آنڈو کے بہ نسبت افضل ہے‘ کیونکہ اس کا گوشت زیادہ لذیذ ہوتا ہے‘ اگر گائے کے ساتویں حصے کی قیمت بکری سے زیادہ ہو تو وہ افضل ہے اور اگر قیمتیں برابر ہوں تو بکری کی قربانی افضل ہے‘ کیونکہ بکری کاگوشت زیادہ لذیذ ہوتا ہے۔ ٭بکرا بکری‘ بھیڑ دنبے کی قربانی صرف ایک فرد کی طرف سے ہو سکتی ہے‘ اونٹ گائے وغیرہ میں زیادہ سے زیادہ سات افراد شریک ہو سکتے ہیں‘ بشرطیکہ سب کی نیت عبادت کی ہو۔ سات سے کم (مثلاً: چھ‘ پانچ‘ چار‘ تین‘ دو) افراد بھی ایک گائے کی قربانی میں برابرکے حصے دار ہو سکتے ہیںحتی کہ ایک آدمی بھی پوری گائے کی قربانی کر سکتا ہے‘ سات حصے داروں کا ہونا ضروری نہیں ہے۔٭سات افراد نے مل کر قربانی کا جانور خریدا‘ پھر قربانی سے پہلے ایک حصے دار کا انتقال ہو گیا اگر اُس کے ورثا باہمی رضامندی سے یا کوئی ایک وارث یا چند ورثا اپنے حصہ وراثت میں سے اجازت دے دیں تو استحساناً اس کی قربانی کی جا سکتی ہے۔ ٭شریعت مطہر ہ کی رو سے ہر عاقل وبالغ مسلمان مرد وعورت اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنے اعمال کا جوابدہ ہے‘  لہٰذا گر کسی مشترکہ خاندان میں ایک سے زیادہ بالغ افراد صاحب نصاب ہیں تو سب پر فرداً فرداً قربانی واجب ہے‘ محض ایک کی قربانی سب کیلئے کافی نہیں ہو گی‘ بلکہ تعین کے بغیر ادا ہی نہیں ہو گی۔ ٭گائے کی قربانی میں عقیقہ کا حصہ بھی ڈال سکتے ہیں‘ بہتر ہے کہ لڑکی کیلئے ایک اور لڑکے کیلئے دوحصے ہوں‘ اگر دو کی استطاعت نہ ہو تو لڑکے کیلئے ایک حصہ بھی ڈالاجا سکتا ہے‘ نیز عقیقے کا گوشت والدین اور قریبی رشتے دار بھی کھا سکتے ہیں۔ قربانی کے جانور نے ذبح سے پہلے بچہ دے دیا یا ذبح کرنے کے بعد پیٹ سے زندہ بچہ نکلا تو دونوں صورتوں میں یا تو اسے بھی قربان کر دیں یا زندہ صدقہ کر دیں یافروخت کر کے اس کی قیمت صدقہ کر دیں‘ اگر بچہ مردہ نکلے تو اسے پھینک دیں‘ قربانی ہر صورت میں صحیح ہے۔ ٭ذبح کرتے وقت قربانی کا جانور اچھلا کودا اور اس میں کوئی عیب پیدا ہو گیا یا ذبح ہوتے ہوئے اٹھ کر بھاگا اور وہ عیب دار ہو گیا تو اسے اسی حالت میں ذبح کر دیں‘ قربانی ہو جائے گی۔ ٭افضل یہ ہے کہ قربانی کے گوشت کے تین حصے کیے جائیں: ایک حصہ ذاتی استعمال کیلئے‘ ایک اقارب واحباب کیلئے اور ایک مستحقین کو دیا جائے‘ سارا گوشت رضائے الٰہی کیلئے مستحقین کو دے دینا عزیمت اور اعلیٰ درجے کی نیکی ہے اور ضرورت مند ہونے کی صورت میں کل یا اکثر گوشت ذاتی استعمال میں لانے کی بھی اجازت ہے لیکن یہ روحِ قربانی کے منافی ہے۔ نوٹ: شریعت کے مطابق ذبح کیے ہوئے حلال جانور کے مندرجہ ذیل اعضاء کھانا منع ہیں: دم مسفوح (ذبح کے وقت بہنے والا خون)‘ نر جانور کا آلہ تناسل‘ گائے‘ بکری کے پیشاب کی جگہ‘ کپورے‘ مثانہ‘ جانور کے پاخانے کی جگہ‘ حرام مغز‘ اوجھڑی اور آنتیں‘ ان میں دمِ مسفوح حرام قطعی اور باقی مکروہِ تحریمی ہیں۔ بَٹ کو کھانا جائز ہے‘ اوجھڑی کو امامِ اہلسنّت نے مکروہِ تحریمی کہا ہے‘ بعض علماء اس کے جواز کے قائل ہیں۔ ٭قربانی کا وقت دس ذی الحجہ کی صبح صادق سے لے کر بارہ ذی الحجہ کے غروب آفتاب تک ہے۔ گیارہویں اور بارہویں شب میں بھی قربانی ہو سکتی ہے‘ شریعت کے مطابق عورت کا ذبیحہ حلال ہے‘ ایسے دیہات اور قصبات جہاں کی عید کی نماز پڑھی جاتی ہے‘ وہاں نمازِ عید سے پہلے قربانی جائز نہیں  اور جہاں نمازِ عید کا اہتمام نہیں ہوتا‘ وہاں دس ذوالحجہ کو صبح صادق کے بعد جائز ہے۔ہمارے بہت سے لوگ مغربی ممالک میں روزگار کے سلسلے میں مقیم ہیں وہ اپنی قربانی اپنے آبائی وطن میں کرانے کو ترجیح دیتے ہیں‘ اس کا ایک سبب تو یہ ہے کہ بعض صورتوں میں اُن ممالک کے قوانین کی وجہ سے قربانی کرنا دشوار ہوتا ہے اور دوسرا یہ کہ وہاں مستحقین دستیاب نہیں ہیں‘ لہٰذا وہ کسی رشتہ دار یا دینی مدرسہ یا رفاہی ادارے کو وکیل بنا کر قربانی کی رقم پاکستان بھیج دیتے ہیں تاکہ قربانی مستحقین تک پہنچ جائے۔ اس میں ان امور کا خیال رکھنا ہوگا: جس دن امریکہ یا کینیڈا وغیرہ میں مقیم کسی شخص کی قربانی پاکستان میں کی جا رہی ہے تو ضروری ہے کہ اس دن دونوں ممالک میں قربانی کے ایام ہوں‘ خواہ وہ یہاں کے اعتبار سے عید کا پہلا دن ہو یا دوسرا یا تیسرا‘ کیونکہ بعض اوقات امریکہ یا کینیڈا میں عید ایک دن پہلے ہو جاتی ہے۔ البتہ ذبح کیلئے مقامی وقت کا اعتبار ہو گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_61172381.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>