<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>قومی سلامتی کا تقاضا(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-03/11419</link><pubDate>Mon, 03 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-03/11419</guid><description>گزشتہ ماہ دہشت گردی کے حوالے سے رواں سال کا سب سے خونریز مہینہ ثابت ہوا۔ ملک میں سکیورٹی صورتحال پر نظر رکھنے والی ایک تنظیم کی رپورٹ کے مطابق اُس مہینے کم از کم آٹھ خو د کش حملے ہوئے جن میں سے پانچ میں بارود بھری گاڑیوں کو استعمال کیا گیا تھا۔ جولائی میں دہشت گردی کے واقعات میں سکیورٹی فورسز کے کم از کم 112 اہلکار اور 93 عام شہری شہید ہوئے۔ جون میں یہ تعداد بالترتیب 26‘ 52 اور مئی میں 68‘ 71 تھی۔ قابلِ غور بات یہ ہے کہ گزشتہ ماہ ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی تعداد بھی رواں سال کے کسی دوسرے مہینے سے دگنا تھی۔ جولائی میں 401 دہشتگرد ہلاک ہوئے جبکہ جون اور مئی میں بالترتیب 184 اور 270۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا دہشتگردی کے نشانے پر ہیں۔ ہفتے کے روز شمالی وزیرستان میں دہشتگردی کے ایک واقعے میں پاک فوج کے ایک میجر بہادری سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کر گئے جبکہ اتوارکے روز سوات کے علاقے میں دہشتگردی کے واقعے کم ازکم پانچ پولیس اہلکار شہید ہو گئے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا دہشتگردی کا مسلسل ہدف ہیں۔ بظاہر اس کی پہلی اور بنیادی وجہ ان صوبوں کی جغرافیائی صورتحال ہے۔

ہر دو صوبوں کی سرحدیں افغانستان سے ملتی ہیں اور افغانستان اس وقت عملاً فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کا ٹھکانہ ہے۔ افغانستان سے یہ توقع کی گئی تھی کہ دو دہائیوں کی جنگ کے بعد وہاں کا اقتدار سنبھالنے والے نئی شروعات کریں گے اور خطے کے ممالک کے ساتھ بھائی چارے کے اصولوں کو ترجیح دیں گے مگر حقیقتاً اس کے برعکس ہوا اور اگست 2021ء سے کابل پر مسلط طالبان نے وہیں سے کام شروع کیا جہاں وہ دو دہائی پہلے چھوڑ کر گئے تھے۔ پاکستان اور خطے کے دیگر ممالک کی خواہش تھی کہ افغانستان کو ہر ممکن مدد فراہم کر کے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے قابل بنایا جائے مگر طالبان کی عبوری حکومت نے ہمسایوں کے خلوص کا یہ صلہ دیا کہ آتے ہی دہشتگردوں کو جیلوں سے چھوڑنا شروع کر دیا‘ نتیجتاً پاکستان میں دہشتگردی میں 2021ء کے وسط سے اضافے کا جو سلسلہ شروع ہوا وہ آج پانچ سال بعد بھی اسی طرح جاری ہے۔ سکیورٹی فورسز نے ان ابھرتے ہوئے خطرات کا بھرپور صلاحیتوں سے مقابلہ کیا اور انسدادِ دہشتگردی کی مسلسل کارروائیوں کا نتیجہ یہ ہے اس خطرے کو ماضی کی طرح ملک بھر میں پھیلنے سے روکا گیا ہے۔
دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر چھاپہ مار کارروائیاں مسلسل جاری ہیں اور سکیورٹی فورسز کا زیادہ تر جانی نقصان انہی کارروائیوں میں ہوا ہے۔ ان جرأتمندانہ اقدامات کا نتیجہ یہ ہے کہ ملک کے دیگر حصے دہشتگردوں کے حملوں سے محفوظ ہیں۔ البتہ ضروری ہے کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بھی امن بحال اور ان علاقوں میں معاشی ترقی کے امکانات کو فروغ دیا جائے‘ مگر یہ اسی صورت ممکن دکھائی دیتا ہے جب خطرے کو اُس کے نقطہ آغاز پر روکا جائے اور وہ افغانستان ہے جہاں کی عبوری انتظامیہ اس ذمہ داری کے احساس سے بے بہرہ ہے۔ ماضی میں پاکستان نے بیشمار ایسی کوششیں کیں کہ طالبان اس ذمہ داری کو باور کریں مگر اس کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا‘ الٹا طالبان کی عبوری حکومت دہشتگردوں کے ساتھ کھڑی ہو گئی جس پر افواج پاکستان کو افغانستان میں خطرے کے مقامات کو نشانہ بنانا پڑا۔
مستقبل میں پائیدار امن کے حوالے سے کیا کیا جانا ضروری ہے اس پر غور کیا جائے تو حل کی کئی صورتیں سامنے آتی ہیں جن پر بیک وقت کام کرنے کی ضرورت ہے۔ سب سے اہم یہ ہے کہ سرحد پار ایسے مقامات جن کے بارے یقینی شواہد موجود ہیں کہ پاکستان میں سلامتی کے خطرات کا سبب بن رہے ہیں‘ وہ پاکستان کا جائز ہدف ہیں۔ دوسری بات یہ کہ دہشت گردی سے متاثرہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں معاشی منصوبوں‘ عوامی ترقی اور فلاح و بہبود کے اقدامات کو تیز کیا جائے۔ دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے کیلئے ہمہ جہت اقدامات وقت کا تقاضا ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>آزاد کشمیر الیکشن، اصلاحات اور رواداری(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-03/11418</link><pubDate>Mon, 03 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-03/11418</guid><description>آزاد کشمیر میں انتخابات کے دوسرے مرحلے کے دوران مظفر آباد ڈویژن کی نو اور مہاجرین کی 12 نشستوں کیلئے پولنگ ہوئی تاہم اس دوران بھی سیاسی کشمکش اور الزام تراشی کے وہی مناظر دیکھنے کو ملے جو اس سے قبل پہلے مرحلے میں دیکھنے کو ملے تھے۔ 27 جولائی کو پہلے انتخابی مرحلے کے بعد یہ امید کی جا رہی تھی کہ متعلقہ ادارے اور سیاسی قیادت اپنی خامیوں سے سبق سیکھیں گے‘ سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کریں گے اور ووٹ کے تقدس کو یقینی بنانے کیلئے شفافیت کے نئے معیارات قائم کریں گے۔ مگر افسوس کہ یہ توقعات پوری نہ ہو سکیں اور وہی پرانے مناظر ایک بار پھر دہرائے گئے جن سے انتخابی عمل کی شفافیت مجروح ہوتی اور عوام کا جمہوریت پر اعتماد متزلزل ہوتا ہے۔

اگر پہلے مرحلے میں سامنے آنے والی خامیوں کا بروقت تدارک کر لیا جاتا تو دیگرمراحل کو نسبتاً زیادہ شفاف اور پُرامن بنایا جا سکتا تھا۔ کسی بھی صحتمند جمہوری معاشرے میں انتخابات محض اقتدار کی تبدیلی کا نہیں بلکہ عوام کے حقِ رائے دہی کے اظہار کا بنیادی ذریعہ ہوتے ہیں۔ جب انتخابی عمل میں انتظامی کمزوریاں سامنے آتی ہیں تو اس سے پورے نظام کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔ یہاں سیاسی جماعتوں پر بھی بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اپنے ذاتی اور گروہی مفادات کی خاطر انتخابی عمل کو متنازع بنانے سے گریز کریں اور تحمل و رواداری کا مظاہرہ کریں۔ انتخابات کے تیسرے مرحلے کو اب ہر لحاظ سے پُرامن اور شفاف بنانا چاہیے تاکہ انتظامی خامیوں کا مؤثر ازالہ کیا جا سکے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سرمایہ کاری گراوٹ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-03/11417</link><pubDate>Mon, 03 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-03/11417</guid><description>وزارتِ خزانہ کی ماہانہ آؤٹ لک رپورٹ کے مطابق ملک میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں تقریباً 34 فیصد کمی آئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2025-26ء میں بیرونی سرمایہ کاری دو ارب 47 کروڑ ڈالر سے کم ہوکر ایک ارب 63 کروڑ ڈالر رہ گئی۔ یہ اعداد وشمار اور سرمایہ کاری میں منفی رجحان ملکی معیشت کیلئے تشویشناک ہے۔ سرمایہ کاری میں منفی رجحان کا سبب سیاسی عدم استحکام‘ پالیسیوں میں عدم تسلسل‘ مہنگائی‘ بلند شرح سود اور کاروبار میں دشواری جیسے وہ سٹرکچرل مسائل ہیں جو طویل عرصے سے ملکی معیشت کیلئے چیلنج بنے ہوئے ہیں اور جن پرفوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کار ہمیشہ ایسے ماحول کے متلاشی ہوتے ہیں جہاں طویل مدتی استحکام‘ شفافیت اور سازگار ماحول میسر ہو۔

جب پالیسیاں بار بار تبدیل ہوں اور سیاسی بے یقینی کا عنصر غالب رہے تو سرمایہ کار اپنے سرمائے کو محفوظ رکھنے کیلئے دیگر معیشتوں کا رخ کر لیتے ہیں۔ توانائی کے بحران اور پیداواری لاگت میں اضافے جیسے عوامل نے بھی بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متزلزل کیا ہے۔ اس چیلنج سے نمٹنے کیلئے حکومت کو ہنگامی بنیادوں پر مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔ نیز وفاقی اور صوبائی سطح پر ایسا مربوط نظام وضع کرنا ہوگا جو سرمایہ کاری کے عمل کو تیز اور آسان بنائے۔ معیشت کو پٹری پر لانے کیلئے سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی ناگزیر ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مدارس اور اُردو(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-08-03/52411/51492518</link><pubDate>Mon, 03 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-08-03/52411/51492518</guid><description>&#39;&#39;اُردو زبان کی حفاظت چونکہ دین کی حفاظت ہے‘ اس زبان کی حفاظت حسبِ استطاعت واجب ہو گئی ہے اور باوجود قدرت کے‘ اس میں غفلت اور سستی کرنا معصیت بھی ہو گی اور موجبِ مواخذۂ آخرت بھی ہو گی‘‘ (امداد الفتویٰ، جلد: 4)۔یہ مولانا اشرف علی تھانوی کا فتویٰ ہے۔ جو برصغیر کی دینی روایت میں حضرت تھانوی کی حیثیت سے واقف ہے‘ اسے اندازہ ہے کہ اُردو زبان کے فروغ میں اس فتویٰ کی کیا اہمیت ہے۔ یہ واقعہ ہے کہ اُردو کی حفاظت‘ فروغ اور ارتقا میں علما اور مدارس کا کردار غیر معمولی ہے۔ آج بھی اگر اُردو ایک زندہ زبان ہے تو یہ مدارس کا فیض ہے۔ جب کوئی زبان ایک مذہب کی زبان بن جاتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ امر ہو گئی۔ جب تک مذہب زندہ ہے‘ وہ زبان زندہ ہے۔ علما اور مدارس نے جب اُردو کو یہ حیثیت دے دی تو اس کے بعد یہ اپنی بقا کیلئے کسی دوسرے ذریعے کی محتاج نہیں رہی۔جو اسباب کسی زبان کو زندہ رکھتے ہیں‘ ان میں چار اہم تر ہیں۔ ایک یہ کہ وہ روزگار کی زبان ہو۔ دوسرا یہ کہ وہ علم کی زبان ہو۔ تیسرا‘ وہ ابلاغ کی زبان ہو۔ چوتھا یہ کہ وہ مذہب کی زبان ہو۔ اردو اگر علم‘ مذہب اور ابلاغ کی زبان ہے تو اس میں علما اور مدارس کا حصہ نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ریاست اسے روزگار کی زبان بنا سکی ہے نہ علم کی زبان۔ جس عدالت نے اسے سرکاری زبان بنانے کا فیصلہ دیا‘ وہ آ ج بھی اپنے فیصلے انگریزی زبان میں لکھتی ہے۔ ریاست اور اہلِ اقتدار کی عدم دلچسپی کے باوصف‘ اُردو آج علومِ اسلامیہ کی پہلی تین زبانوں میں شامل ہے۔ بیسویں صدی میں‘ بالخصوص تفسیر اور فکرِ اسلامی کی میدانوں میں‘ اُردو میں جو ادب تخلیق ہوا‘ اس کی مثال عربی سمیت کسی دوسری زبان میں موجود نہیں۔علما اور اہلِ مذہب نے اُردو کا ہاتھ اُس وقت سے تھام رکھا ہے جب یہ پاؤں پاؤں چلنا شروع ہوئی تھی۔ ابھی تو اس کا نام بھی نہیں رکھا گیا تھا۔ ڈاکٹر محمد ایوب قادری نے اپنی کتاب &#39;&#39;اُردو نثر کے ارتقا میں علما کا حصہ‘‘ میں یہ داستان لکھ دی ہے۔ ان کی تحقیق ہے کہ شاہ مراد انصاری نے 1771ء میں‘ تیسویں پارے کی تفسیر لکھی تھی۔ اس وقت اُردو کو &#39;ہندی‘ کہا جاتا تھا۔ اسے &#39;تفسیر مرادیہ‘ کا عنوان بھی دیا جاتا ہے۔ بعد میں یہ &#39;خدا کی نعمت‘ کے عنوان سے شائع ہوتی رہی۔ اس کی زبان اتنی سادہ ہے کہ آج بھی بآسانی سمجھ میں آ جاتی ہے۔ یہ جملہ دیکھیے: &#39;&#39;حمد اور شکرکا سجدہ‘ لائق ہے‘ سزاوار ہے‘ پاک پروردگار کے تئیں‘ جس خداوند نے اپنے فضل و کرم سے اور حضرت نبیﷺ کے طفیل سے&#39;عمّ‘ سیپارے کی تفسیر‘ ہندی زبان میں تمام کروا دی‘‘۔ پھر شاہ عبدالقادر کا ترجمۂ قرآن ہے جو آج بھی ذوق و شوق سے پڑھا جا تا ہے۔ یہ ترجمہ 1790ء میں لکھا گیا۔یہ علما اور مدارس تھے جنہوں نے اُردو کو مذہب کی زبان بناکر اس کی بقا کا سامان کر دیا۔ انگریزوں کی آمد سے پہلے‘ برصغیر کی سرکاری زبان فارسی تھی۔ 1835ء میں انگریزوں نے اسے انگریزی سے بدل ڈالا۔ یہی وہ دور ہے جب علما نے اپنے دینی ادب کو اُردو میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔ مولانا تھانوی کے فتوے کا پس منظر بھی یہی ہے۔ اس کے ساتھ انہوں نے مدارس قائم کیے اور اُردو کو تدریس کی زبان قرار دیا۔ اس نے اُردو کو توانا کر دیا اور اس کے دامن کو اتنا وسیع کر دیا کہ وہ بڑے علمی مضامین کا ابلاغ کر سکتی تھی۔ زبان و بیان کے اعتبار سے اُردو کا دینی ادب‘ روایتی ادب سے اگر زیادہ وقیع نہیں تو کسی طرح کم نہیں ہے۔ جو نثر شبلی‘ ابوالکلام‘ ابوالاعلیٰ اور مناظر احسن گیلانی نے لکھی‘ اس کی مثال تلاش کرنا آسان نہیں۔ شبلی تو اُردو کے عناصرِ خمسہ میں شامل ہیں۔شاعری میں بھی علما کا حصہ ناقابلِ انکار ہے۔ مولانا احمد رضا خان جیسی نعت کس نے لکھی ہوگی &#39;مصطفی جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام‘ آج بھی‘ جب پڑھی جاتی ہے تو وجد طاری کر دیتی ہے۔ دارالعلوم دیوبندکے بانی مولانا قاسم نانوتوی کا شعری ذوق بہت عمدہ تھا۔ انہوں نے ادب کی کتابیں صدر الدین آزردہ جیسے اساتذہ سے پڑھیں جو غالب کے شارح اور نقاد تھے۔ مولانا شعر کہتے تھے اور ان کی نعت بھی زبان زدِ عام ہے۔ دیوبند کے پہلے صدر المدرسہ مولانا یعقوب کی شاعری کا مجموعہ &#39;بیاضِ یعقوبی‘ ان کی شاعرانہ مہارت کا گواہ ہے۔ آج بھارت کے نوجوان احتجاجی جلسوں میں مولانا عامر عثمانی کی نظم پڑھتے ہیں۔ ان کا رسالہ &#39;تجلی‘ ہندوستان کے اہم ادبی جرائد میں شمار کیا جاتا تھا۔ وہ اس میں &#39;مسجد سے میخانے تک‘ کے عنوان سے کالم لکھتے تھے جسے اُردو کے اولین کالموں میں شمار کیا جانا چاہیے۔ مفتی محمد شفیع مرحوم کا تو پورا خانوادہ ہی شاعر ہے۔ زکی کیفی‘ ولی رازی اور مفتی تقی عثمانی کی شاعرانہ حیثیت مسلمہ ہے۔ پھر نئی نسل میں جو لوگ سب سے عمدہ شعر کہہ رہے ہیں‘ ان میں سعود عثمانی نمایاں تر ہیں۔ وہ جناب زکی کیفی کے صاحبزادے ہیں۔اُردو مذہب کی زبان بنی تو اس کا سماج سے زندہ تعلق قائم ہو گیا۔ مدارس نے اسے ایک حد تک روزگار کی زبان بھی بنا دیا۔ اسی طرح یہ علم اور ابلاغ کی زبان بنی۔ اس کے ساتھ زبان کی صحت کا بھی خیال رکھا گیا۔ پھر خطاطی کے ذریعے اس کے جمالیاتی پہلو کو بھی نمایاں کیا گیا۔ نفیس الحسینی المعروف نفیس رقم اسی روایت کی عطا ہیں۔ وہ نستعلیق میں ایک خطِ نفیسی کے موجد ہیں۔ نستعلیق کے علاوہ انہوں نے ثلث‘ نسخ‘ دیوانی‘ رقعہ‘ اعجاز اور کوفی خطوط میں بھی کمالات دکھائے۔ خانہ کعبہ سے لے کر مینارِ پاکستان تک‘ ہر اہم جگہ ان کے فن کے نمونے موجود ہیں۔ ان کا لکھا &#39;دیوانِ غالب‘ خاصے کی چیز ہے۔ وہ ایک عمدہ شاعر بھی تھے۔ کیا ریاست سمیت‘ کوئی ادارہ ایسا ہے جس نے اُردو کی ایسی ہمہ جہت خدمت کی ہو؟مدارس اور علما کی خدمات کے اس بیان کا مقصد یہ نہیں کہ اُردو کو زندہ رکھنے میں دوسرے شعبوں کی خدمت کا انکار کیا جا ئے۔ یقینا ان کا کردار بھی ہے لیکن قائدانہ کردار مدارس کا ہے۔ یہ ذمہ داری ریاست کی تھی کہ وہ اُردو کی حفاظت کرتی۔ افسوس کہ اس نے مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا۔ آج اُردو رسم الخط خطرات کی زد میں ہے۔ رومن میں اُردو لکھی جا رہی ہے اور اس باب میں کوئی قانون سازی ہو رہی ہے نہ ذہن سازی۔ بی ایس کی سطح پر انگریزی لازمی ہے لیکن اُردو نہیں۔ ہم ہندی کو اُردو سمجھتے ہیں‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ اُردو بطور زبان کسی سرپرست سے محروم ہے۔ قدیم بھارتی فلموں کے ٹائٹل پر‘ فلم کا نام ہندی‘ انگریزی اور اُردو‘ تینوں زبانوں میں لکھا جاتا تھا۔ آج اُردو کو خارج کر دیا گیا ہے۔ اگر فلم کا کردار کلام نہ کرے تو ہم لکھا ہوا سمجھ نہیں سکتے۔ہماری اشرافیہ نے اُردو سے قطع تعلق کر لیا ہے۔ وہ اپنے بچوں سے انگریزی میں بات کرتی ہے۔ اس نے اپنا احساسِ کمتری‘ نئی نسل کو منتقل کر دیا ہے۔ وہی پالیسی ساز بھی ہے اور رجحان ساز بھی۔ اس سے یہ توقع عبث ہے کہ وہ اُردوکی حفاظت کرے گی۔ اس ماحول میں اہلِ مدرسہ کی تحسین کی جانی چاہیے کہ انہوں نے اُردو کا دامن نہیں چھوڑا۔ دینی ادب تخلیق کیا جو ادب کا اعلیٰ نمونہ ہے۔ اس کے ساتھ افسانہ لکھا‘ کالم لکھا‘ شاعری کی‘ خطاطی کی۔ میں نے &#39;اسلامی ادب‘ کی تحریک کا دانستہ ذکر نہیں کیا کہ اس کا براہ راست تعلق مدارس سے نہیں۔ اس کو شامل کر لیں تو ایک نیا مقدمہ قائم کیا جا سکتا ہے کہ &#39;اہلِ مذہب نے سب سے زیادہ اُردو کی خدمت کی ہے‘۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>حسنِ کرشمہ ساز(رسول بخش رئیس)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-08-03/52412/25911049</link><pubDate>Mon, 03 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-08-03/52412/25911049</guid><description> وہ مشہور ضرب المثل تو آپ کی زبان پر بھی کبھی ضرور آئی ہو گی کہ جس گھر دانے‘ اس کے کملے بھی سیانے۔ یعنی جس گھر میں اناج یا مالی وسائل ہوں ‘ اس کے کم عقل لوگ بھی دانش مند مانے جاتے ہیں۔ یہ صرف ہماری تاریخ پر ہی منحصر نہیں پوری دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جن کے پاس طاقت‘ وسائل اور اقتدار کی کنجیاں ہوتی ہیں‘ بات اُن کی ہی معتبر ٹھہرتی ہے۔ وہی سیانے گردانے جاتے ہیں۔ اقتدار کے گھوڑے پر کوئی شہسوار سرپٹ دوڑتا جا رہا ہو تو حقیر مخلوق اور اُس کی آوازوں کی طرف دھیان نہیں جاتا۔ ہم تو ایک عرصہ سے کہہ اور لکھ رہے ہیں کہ نظام ٹھیک نہیں چل رہا‘ کچھ بھی تو ٹھیک نہیں۔ نہ کوئی سمت‘ نہ کوئی منزل اور نہ آئین کی طرف کوئی قدم۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ صوبائی حکومتوں کی کارکردگی‘ خصوصاً سندھ اور پنجاب میں‘ اشتہاری مہموں میں دکھائی دیتی ہے۔ آخر اٹھارہویں ترمیم کی فیوض وبرکات کا ارتکاز لاڑکانہ اور رائیونڈ میں ہوا ہے۔ ان کے تحفظ اور عوام کی نظروں میں جائزیت کے لیے عوام کا پیسہ ہی لگایا جائے تو کس نے سوال کرنا ہے۔ ہر تبصرہ نگار دہائیوں سے دوبڑے حکمران گھرانوں‘ اشرافیہ اور اقتدار کے مراکز سے وابستہ طفیلیوں کی کرپشن ‘ بے قاعدگیوں اور ملکی وسائل کی لوٹ مار کے بارے میں لکھتا چلا آ رہا ہے۔ اوپر سے چونکہ راوی سب چین ہی چین لکھتا ہے‘ اس لیے ہماری کمزور آوازیں ان کی طاقت کی گھن گرج میں دب کر رہ جاتی ہیں۔ اب بات چونکہ اوپر سے آئی ہے اس لیے میڈیا وزیرداخلہ کے فرمودات پر دن رات غور کرنے میں مصروف ہے۔ وہ ایک ایسی ہی تقریر میں پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ چند سالوں میں‘ یعنی جب سے اندرونی انقلاب آیا ہے‘ ایک سو ارب ڈالر منی لانڈرنگ کے ذریعے ملک سے نکل گئے ہیں۔ ہم کچھ کہہ نہیں سکتے‘ سوائے عام لوگوں کے لیے ایک سوال چھوڑ جانے کے‘ کہ آخر وہ کون لوگ ہیں جو ملک کی برآمدات کا قریباً تین گنا سرمایہ ان سالوں میں محفوظ ٹھکانوں میں منتقل کر چکے ہیں؟ یہ بھی سوال ان سے نہیں‘ اپنے لیے رکھ چھوڑتے ہیں کہ آخر اُن کے خلاف کوئی کارروائی کیوں نہ ہوئی؟قابلِ غوربات تو یہ ہے کہ وزیر موصوف خود اس نظام کا حصہ ہیں اور خاصے طاقتور وزیر ہیں اور وہ خود اس کی بوسیدگی اور ناکامی کا اعلان کر رہے ہیں۔ وطنِ عزیز کے معاشی‘ سیاسی اور سماجی جمود اور زوال کے بارے میں قومی اور بین الاقوامی سکالرز نے بہت کچھ لکھا ہے ‘ ان وجوہات پر سب نے بہت بحث کی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ سینکڑوں کتابیں اور ہزاروں مقالے ہمارے اہلِ اقتدار کی اور اہلِ سیاست کی نظروں سے نہ گزرے ہوں۔ یہ بھی کوئی راز کی بات نہیں کہ اصل تضادات نظام کے اندر کیا ہیں۔ کیوں یہ موروثی خاندان نصف صدی سے نسل در نسل اس ملک پر چھائے ہوئے ہیں؟ آخر وہ کیوں ڈھال یا فرنٹ کے طور پر ہر بدلتے موسم کے ساتھ‘ اکثرسیاسی لبادہ بدل کر‘ عوام کی خدمت کے لیے تیار ہو جاتے ہیں؟ بنیادی سوال یہ ہے کہ بارگاہِ عالی میں سرداروں‘ خانوں‘ ملکوں‘ چودھریوں‘ مخدوموں‘ گدی نشینوں اور دوسرے درجے کے درباریوں کی پذیرائی کیوں ہے؟واہ ری جمہوریت! زمانے کی کروٹ سمجھیں یا وقت کا تقاضا کہ سامراجی نظام نے سماج کو کنٹرول کرنے اور اپنی ترجمانی کے لیے جو خاندان تیار کیے تھے آزادی کے بعد سے وہی اقتدار میں نظر آتے ہیں۔ طرزِ حکمرانی نے تو بدلنا ہی تھا مگر وہ جو ریاست اور سیاست کے معاملات پرانے انگریزی دور میں طے ہوئے تھے کچھ مختلف اندا ز میں اپنا اثر دکھاتے رہے ہیں۔ ریاست کے کردار اور ملک کے جاگیرداری سماج پر موروثی خاندانوں کی گرفت دونوں کے لیے لازم و ملزوم رہی ہے۔ آپ ہی بتائیں کہ کون سا بڑا اور چھوٹا سیاسی خاندان ہے جو ریاست کی سرپرستی اور دست گیری کے بغیر آگے آیا ہو۔ یہاں کسی کا نام لینے کی ضرورت نہیں‘ جمہوری ادوار میں جو آئے یا لائے گئے انہوں نے نظام کو بدلنے کے بجائے اپنی کرسیاں مضبوط کیں کہ خاندانی سیاست اگلی نسلوں تک بغیر کسی چیلنج کے قائم رہے۔ ہماری سیاسی ثقافت کی روح میں مغلیہ شہزادوں کے ٹھاٹ باٹ‘ دربار‘ اُس زمانے کی عیش وعشرت اور طفیلی نظام رچا ہوا ہے۔ اُسی طرح اقتدار پر نظر رکھو اور لوٹ مار کرتے رہو۔ خوشامدی درباریوں کا لشکر ساتھ رکھو اور سیاسی نورا کشتی جاری رکھو۔ ایسے میں جمہوریت کی مالا جپنے میں کیا حرج ہے؟اس وقت جو نظام چل رہا ہے اسے کچھ لوگوں نے ہائبرڈ کانام دے رکھا ہے۔ اُردو میں اس کا ترجمہ جو دیکھا ہے‘ وہ یہاں لکھنا ممنوع کے زمرے میں آتا ہے۔ ہم نے پہلے ہی عرض کر دیا تھا کہ یہ نظام نہیں چلے گا۔ جو &#39;انقلاب‘ میں اتحادی بنے‘ انہوں نے دونوں ہاتھوں سے سمیٹا ہے‘ باقی دھندے بھی جاری ہیں۔ سب کو معلوم ہے کہ کراچی سے لے کر کریم آباد تک کیا ہو رہا ہے‘ مگر ہائبرڈ نظام کو صرف ایسے ہی چلایا جا سکتا تھا۔ بات تو سادہ اور آسان ہے کہ اگر طرزِ حکمرانی اور حکومت کی کارکردگی بہتر کرنا مقصود ہے تو اقتدار اور وسائل صوبوں میں مرتکز کرنے کے بجائے شہری اور مقامی حکومتوں کو منتقل کریں۔ موروثیوں کی سیاست کا تقاضا اس کے برعکس‘ سب کچھ اپنے ہاتھ میں رکھنا رہا ہے۔ اقتدار کی نچلی سطح تک منتقلی ان کی سیاست کے لیے زہرِ قاتل ہے۔ دوسری بات احتساب ہے‘ کرپشن اور بے قاعدگیوں‘ جعلی بھرتیوں اور اربوں کی ہیرا پھری کا احتساب‘ مگر قانون اور فیصلہ کرنے کی آزادانہ صلاحیت ہی ہوا میں اڑا دیں تو پھر وہی ہو گا جوآپ دیکھ رہے ہیں۔میری رائے میں چار صوبے اتنا بڑا مسئلہ نہیں نہ ہی آبادی کے لحاظ سے بڑا یا چھوٹا ہونا‘ اصل مسئلہ اقتدار کی جائزیت‘ حاکمیت کی جوابدہی‘ نادیدہ قوتوں اور سیاسی طفیلیوں کا پرانا اور تاریخی گٹھ جوڑ اور موروثی سیاسی گھرانوں کا غلبہ ہے۔ اگر جمہوریت اور آئین کی بالادستی ہوتی اور ان گھرانوں کو سرپرستی حاصل نہ ہوتی تو متبادل قیادت پیدا ہو سکتی تھی۔ ریاست انہیں ہاتھی کے دانتوں کی طرح رکھتی ہے اور وہ ہمارے اجتماعی وسائل سے مالامال ہونے کے مواقع پاتے ہیں۔ کچھ معلوم نہیں کہ آگے کا سیاسی نقشہ کیا ہوگا مگر کچھ ہونے والا ضرور ہے۔ اگر بنیادی تضادات حل نہ ہوئے‘ جو ہمارے نزدیک لولی لنگڑی ہی سہی جمہوریت حل کر سکتی ہے‘ تو پرانا کھیل جاری رہے گا۔ پرانی شراب نئی بوتلوں میں بھرنے والی بات ہو گی۔ بحران در بحران کی کیفیت میں رہنے کے بجائے آسان راستہ تو یہ ہے کہ مقامی اور شہری حکومتوں کو آئینی تحفظ‘ وسائل اور اختیارات کی منتقلی کے لیے اتفاق رائے پیدا کیا جائے۔ لیکن پھر یاد آتا ہے کہ مولانا حسرت موہانی نے کیا خوب کہا تھا:خرد کا نام جنوں پڑ گیا‘ جنوں کا خردجو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_33241568.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پٹرولیم‘ ایف بی آر اور گندم(میاں عمران احمد)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mian-imran-ahmad/2026-08-03/52413/83198700</link><pubDate>Mon, 03 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mian-imran-ahmad/2026-08-03/52413/83198700</guid><description>حکومت نے ملک میں ایندھن کی نقل وحرکت کی نگرانی کے لیے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم لاگو کرنے کی ہدایت کی ہے۔ پاکستان میں پٹرول اور ڈیزل کی سمگلنگ کئی برسوں سے ایک سنگین مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ ملک میں سالانہ تقریباً 18 ارب لیٹر پٹرولیم مصنوعات استعمال ہوتی ہیں‘ جن میں سے دو سے چار ارب لیٹر تک سمگل شدہ ایندھن شامل ہوتا ہے اور اس سے قومی خزانے کو سالانہ تقریباً 400 ارب روپے تک کا نقصان ہوتا ہے۔ ایف بی آر کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم سے سگریٹ‘ کھاد اور چینی سمیت مختلف شعبوں میں ڈیجیٹل نگرانی سے ٹیکس چوری پر قابو پانے میں مدد ملی ہے۔ اگر یہی ماڈل پٹرولیم سیکٹر میں کامیابی سے نافذ ہو گیا تو حکومت کو اربوں روپے کی اضافی آمدنی حاصل ہو سکتی ہے۔ اگر صرف پٹرولیم سیکٹر میں ہونے والے تقریباً 400 ارب روپے کے سالانہ نقصان کو روک لیا جائے تو حکومت کو کئی نئے ٹیکس لگانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ لیکن صرف ٹریکنگ ڈیوائسز نصب کرنے سے مسائل پر مکمل قابو پانا ممکن نہیں‘ اس کے لیے صوبائی حکومتوں‘ کسٹمز‘ ایف آئی اے‘ اوگرا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ بھی ضروری ہے۔ ماضی میں کئی اچھے منصوبے کمزور عملدرآمد کی وجہ سے مطلوبہ نتائج نہیں دے سکے۔ اب اگر حکومت پٹرولیم سپلائی چین کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ نہ صرف سمگلنگ کے خلاف بڑی کامیابی ہوگی بلکہ قومی خزانے کو مضبوط بنانے‘ کاروبار کے تحفظ اور عوام کو بہتر توانائی نظام فراہم کرنے کی جانب بھی اہم پیش رفت ہو گی۔ایف بی آر نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے جولائی میں 820 ارب روپے کی وصولیاں کی ہیں جو 780 ارب روپے کے مقررہ ہدف سے 40 ارب روپے زیادہ ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ یہ کامیابی پاکستان کے ٹیکس نظام میں حقیقی بہتری کا نتیجہ ہے یا عارضی کارروائی کا؟ پاکستان کی معیشت گزشتہ کئی برسوں سے کمزور ٹیکس نظام کے مسائل سے دوچار ہے۔ ملک کی آبادی 25 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے لیکن انکم ٹیکس ریٹرن فائل کرنے والوں کی تعداد تقریباً 59 لاکھ ہے جو آبادی کے تناسب میں بہت کم ہے۔ دوسری جانب حکومت کے اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ مالی سال 2026-27ء کے بجٹ میں قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے 8045 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ جب اتنی بڑی رقم صرف قرضوں کی مد میں خرچ ہو رہی ہو تو حکومت کے لیے ٹیکس آمدن بڑھانا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ مالی سال 2026-27ء میں ایف بی آر کو تقریباً 17 کھرب روپے کے محصولات جمع کرنے کا ہدف دیا گیا ہے۔ یہ ہدف گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ یہ ہدف حاصل کرنے کے لیے ایف بی آر کو ماہانہ اوسطاً 1400 ارب روپے سے زیادہ کی وصولیاں کرنی ہیں۔ ایسے میں جولائی کے 820 ارب روپے یقینا ایک اچھا آغاز ہیں لیکن پورے سال کی کامیابی کا فیصلہ صرف ایک مہینے کی کارکردگی سے نہیں کیا جا سکتا۔ جولائی میں ہدف سے زائد وصولیوں کی بڑی وجہ سیلز ٹیکس کی بہتر وصولی رہی ہے۔ پاکستان میں سیلز ٹیکس حکومت کی آمدنی کا سب سے بڑا اور آسان ذریعہ بن چکا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ سیلز ٹیکس براہ راست عوام ادا کرتے ہیں اور حکومت کے لیے سیلز ٹیکس جمع کرنا کوئی مشکل نہیں ہوتا‘ لیکن براہ راست ٹیکسوں کے دائرے کو بڑھانا حکومت کے لیے اب بھی ایک چیلنج ہے۔پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور دنیا کے بڑے گندم پیدا کرنے والے ممالک میں اس کا شمار ہوتا ہے پھر بھی ملک گندم اور آٹے کے بحران کا سامنا کر رہا ہے۔ آٹے کی قیمت مسلسل بڑھ رہی ہے‘ گندم مارکیٹ سے غائب ہو رہی ہے اور حکومت ایک مرتبہ پھر گندم درآمد کرنے کا سوچ رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ چند ماہ پہلے صورتحال بالکل مختلف تھی۔ کسان شکایت کر رہے تھے کہ ان کی گندم مناسب قیمت پر خریدی نہیں جا رہی اور اب عوام مہنگا آٹا اورگندم خریدنے پر مجبور ہیں۔ جولائی 2026ء کے آغاز میں ملک میں گندم کی اوسط قیمت 4611 روپے فی 40 کلوگرام تک پہنچ گئی جبکہ بعض صوبوں میں یہ قیمت 5100 روپے فی 40 کلوگرام سے بھی تجاوز کر گئی۔ پنجاب میں گندم تقریباً 4423 روپے‘ سندھ میں 4625 روپے‘ خیبر پختونخوا میں 5100 روپے اور بلوچستان میں 4800 روپے فی 40 کلوگرام فروخت ہو رہی ہے۔ گندم کی قیمت میں اضافے کا براہ راست اثر آٹے پر پڑا ہے۔ ملک میں 10 کلو آٹے کی اوسط قیمت 1288 روپے تک پہنچ گئی ہے‘ یعنی فی کلو آٹا تقریباً 129 روپے فروخت ہو رہا ہے۔ بعض علاقوں میں قیمتیں اس سے بھی زیادہ ہیں۔ سندھ‘ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں آٹے کی قیمت پنجاب کے مقابلے میں زیادہ بڑھی ہیں۔ حکومت نے 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن اصل سوال یہ ہے کہ ایک زرعی ملک کو بار بار گندم درآمد کرنے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟ اس بحران کی وجہ حکومتی خریداری کے اہداف کا پورا نہ ہونا بھی ہو سکتی ہے۔ اس سال پنجاب اور سندھ نے اہداف سے کم گندم خریدی ہے۔پاکستان اور چین کے درمیان ایک ارب چالیس کروڑ ڈالر کے معاہدوں پر دستخط ہوئے ہیں۔ پاکستان چین بزنس کانفرنس میں 250 سے زائد پاکستانی اور چینی کمپنیوں نے شرکت کی اور 42 سے زائد معاہدے طے پائے جن کی مالیت تقریباً 850 ملین ڈالر بتائی جا رہی ہے۔ ان معاہدوں کا تعلق فارماسیوٹیکل‘ ویکسین سازی‘ طبی آلات‘ صنعتی مینوفیکچرنگ اور ٹیکنالوجی کی منتقلی جیسے شعبوں سے ہے۔ یہ خبر خوش آئند ہے لیکن پاکستان کے عوام اب صرف اعلانات نہیں بلکہ نتائج دیکھنا چاہتے ہیں۔ گزشتہ ایک دہائی میں پاکستان نے چینی سرمایہ کاری کے کئی بڑے منصوبے دیکھے ہیں۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت مختلف منصوبوں میں 25 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری ہو چکی ہے۔ ان منصوبوں کے نتیجے میں موٹرویز‘ بجلی گھر‘ ٹرانسمیشن لائنیں اور گوادر پورٹ جیسے اہم منصوبے مکمل ہوئے۔ توانائی کے شعبے میں تقریباً 8000 میگاواٹ سے زائد بجلی قومی گرڈ میں شامل ہوئی جس سے ملک میں لوڈشیڈنگ کے بحران میں نمایاں کمی آئی۔ لیکن ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ اتنی بڑی سرمایہ کاری کے باوجود پاکستان کی معیشت آج بھی مشکلات کا شکار کیوں ہے؟ شاید سرمایہ کاری کی سمت درست نہیں رہی۔ ٹیکنالوجی کے بجائے مہنگی بجلی اور انفراسٹرکچر پر زیادہ توجہ دی گئی۔ صرف سڑکوں اور بجلی گھروں سے معیشت میں پائیدار ترقی نہیں آ سکتی بلکہ صنعتی پیداوار اور جدید ٹیکنالوجی کی ضرورت ہوتی ہے۔ حالیہ معاہدوں میں فارماسیوٹیکل اور ویکسین سازی کے شعبے میں سرمایہ کاری پر زیادہ زور دیا گیا ہے۔ پاکستان ہر سال اربوں ڈالر مالیت کا طبی خام مال‘ مشینری اور طبی آلات درآمد کرتا ہے۔ اگر ان مصنوعات کی مقامی پیداوار شروع ہو جاتی ہے تو نہ صرف درآمدی بل کم ہو سکتا ہے بلکہ برآمدات میں بھی اضافہ ممکن ہو سکتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/212_71532147.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>اندھیری شب میں ہے چیتے کی آنکھ جس کا چراغ(نسیم احمد باجوہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/naseem-ahmed-bajwa/2026-08-03/52414/56693199</link><pubDate>Mon, 03 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/naseem-ahmed-bajwa/2026-08-03/52414/56693199</guid><description>علامہ اقبال نے زندگی کا سراغ پا لینے کیلئے جو کڑی شرط رکھی ہے‘ وہی اس کالم کا عنوان ہے۔ جن بڑے لوگوں نے اس شرط کو پورا کیا اور مجھے اُن سے ملنے کا شرف حاصل ہوا‘ اُن میں ایک نام سیّد عابد علی عابد کا ہے۔ 1964-65ء میں اپنے بیوی بچوں کے ہمراہ میں لاہور چھائونی کے ساگر روڈ کے آخری مکان میں رہتا تھا۔ ہمارے مکان سے آگے جہاں سڑک ختم ہوتی تھی وہاں ایک تالاب تھا جسے کسی دور میں وہاں آباد ہندوئوں نے ساگر کا نام دیا تھا۔ بعد میں پتا چلا کہ وہاں ساگر (سمندر) تو تھا مگر عابد صاحب کے روپ میں‘ جن کا گھر ہمارے گھر کے بالکل سامنے تھا۔ اس لحاظ سے وہ ہمارے ہمسایہ تھے۔ ان سے پہلی ملاقات صدر کے علاقہ میں مادرِ ملت کی حمایت میں نکلنے والے لالٹین بردار جلوس نے کرائی تھی۔ 1964ء کے صدارتی الیکشن میں مادرِ ملت فاطمہ جناح کا انتخابی نشان لالٹین تھا۔ ہم سب لوگ ہر رات کو اندھیرا ہوتے ہی اپنی اپنی لالٹین اُٹھا کر کوچہ وبازار میں جلوس نکالتے تھے۔ ایک رات میں نے دیکھا کہ میرے ساتھ ایک دراز قد بزرگ (تہمد باندھے ہوئے) لالٹین اُٹھائے چل رہے ہیں۔ میں نے انہیں پہلے کبھی نہ دیکھا تھا۔ ایک لمحہ ضائع کیے بغیر ان سے اپنا تعارف کرایا اور اُن کا نام پوچھا۔ جواب ملا: عابد علی عابدؔ۔ میں ان کے نام سے اور بلند علمی وادبی مقام سے واقف تھا۔ یہ نام سن کر میری حیرت اور خوشی کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ ہم دونوں جلوس میں چلتے ہوئے باتیں کرتے رہے۔ جلوس ختم ہوا تو میں نے درخواست کی کہ ہمارے گھر چائے پینے تشریف لائیں۔ انہوں نے بلا تکلف دعوت قبول کر لی۔ اس شام میں اس خوشی سے سرشار تھا کہ آج اتنی بڑی شخصیت سے میرے دوستانہ مراسم قائم ہو گئے ہیں۔ جتنے دن انتخابی مہم جاری رہی‘ شاہ جی (میں اُنہیں اسی نام سے پکارتا تھا) اپنی لالٹین اُٹھا کر ہمارے گھر آجاتے اور ہم میاں بیوی کے ہمراہ جلوس میں شریک ہوتے۔ الیکشن میں ووٹ دینے کا حق صرف بنیادی جمہوریتوں کے 80 ہزار کونسلروں کے پاس تھا اور دلچسپ بات کہ مشرقی اور مغربی پاکستان میں تھانیداروں کی کل تعداد بھی 80 ہزار ہی تھی۔ الیکشن کا نتیجہ تو سب کو معلوم ہی ہے۔ اگلا برس (1965ء) بھی صدر میں گزرا تو شاہ جی کے ساتھ ہر ہفتے ایک ملاقات ضرور ہو جاتی۔ علم افروز اور واقعتاً چودہ طبق روشن کر دینے والی ملاقات! وہ میری اہلیہ کو &#39;&#39;بہو جی‘‘ کہتے تھے اور کبھی کبھار فرمائش کرتے کہ بہو جی کے ہاتھ کا پکا ہوا کھانا کھائیں گے ۔ میں مذاقاً کہتا کہ آپ خود کو سزا کیوں دینا چاہتے ہیں؟ تو وہ کھلکھلا کر ہنس پڑتے۔ شاہ جی اس وقت درویشانہ زندگی گزار رہے تھے۔ وہ کئی بار صبح کو میرے ساتھ ساگر روڈ پر چلتے اور بس سٹاپ سے ہم دونوں ایک ہی بس پر سوار ہو کر لاہور ریلوے سٹیشن پہنچتے اور وہاں سے اپنی اپنی بس پکڑتے۔ شاہ جی کا تعلق مشرقی پنجاب کے ایک گائوں (جگرائوں) کے علمی خانوادے سے تھا۔ اُن کے پردادا حکیم رجب علی ارسطو جاہ غالب کے مکتوب الیہ اور گورنر پنجاب کے میر منشی تھے۔ اُن کے والد فوج میں ملازم تھے۔ اُن کی تعیناتی ڈیرہ اسماعیل خان میں ہوئی جہاں ستمبر 1906ء میں اُن کے گھر بیٹا پیدا ہوا جس کا نام عابد علی رکھا گیا۔ بڑے ہو کر وہ شعر کہنے لگے تو نام کے ساتھ عابدؔ کے تخلص کا اضافہ کر لیا۔ شاہ جی نے فارسی میں ماسٹرز کرنے کے بعد لاء کی ڈگری حاصل کی۔ کچھ عرصہ وکالت بھی کی مگر اُن کا اس میدان میں جی نہ لگا اور وہ اسے چھوڑ کر علم و ادب سے اس طرح وابستہ ہوئے کہ مرتے دم تک پھر یہ رشتہ نہ ٹوٹا۔ انتظار حسین جیسے بڑے ادیب ان کی بلند درجہ اردو اور فارسی شاعری کے معترف تھے مگر شاہ جی نے شاعری سے زیادہ تنقید کے میدان میں اپنی علمیت کا سکہ منوایا۔ اُن کی کتابوں میں اُصولِ انتقاد‘ البیان‘ اسلوب‘ یدبیضا‘ البدیع محسنات‘ تلمیحات‘شعرِ اقبال‘ طلسمات (ناول)‘ شہباز خان (ناول)‘ میں کبھی غزل نہ کہتا (شاعری) اور فلسفہ کی کہانی (ول ڈیورنٹ کی کتاب کا ترجمہ) شامل ہیں۔ انہوں نے اُردو ادب میں تنقید کو نئی بلندی‘ گہرائی اور جہت دی۔ انہوں نے دیال سنگھ کالج لاہور میں فارسی پڑھانے سے اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا اور آگے چل کر اسی کالج کے پرنسپل بنے اور اپنے آپ کو ایک اچھا منتظم ثابت کیا۔ تدریس کے بعد وہ مجلسِ ترقی ادب سے بطور ناظم اعلیٰ اور اُس کے جریدہ &#39;&#39;صحیفہ‘‘ سے بطور مدیر منسلک ہوئے اور بہت نام کمایا۔ افسوس کہ 1966-67ء میں میرا اُن سے رابطہ منقطع ہو گیا اور پھر میرے انگلینڈ چلے آنے کے بعد رہی سہی کسر بھی نکل گئی۔ ان پر مزید لکھنے سے پہلے میں اُن کا ایک شعرہو جائے:آج آیا ہے اپنا دھیان ہمیں ؍ آج دل کے نگر سے گزرے ہیںعابد علی عابد سے میں فنونِ لطیفہ کے کسی شعبہ پر گفتگو کرتا تو بطور طالبعلم ان سے سیکھنے کی کوشش کرتا۔ اُن کا ذہنی اُفق اتنا وسیع تھا کہ وہ جو کچھ بھی کہتے وہ سند کی حیثیت رکھتا تھا۔ شاہ جی نے تنقید کی کتابیں فارسی اور اردو‘ دونوں زبانوں میں لکھیں۔ چالیس اور پچاس کی دہائی میں انہوں نے ریڈیو پاکستان کیلئے بہت عمدہ فیچر اور ڈرامے لکھے۔ 1931ء میں ہیر رانجھا کے نام سے بننے والی پہلی فلم کی کہانی لکھی۔ بدقسمتی سے شاہ جی دل کے مریض تھے اور ان کا دل تین حملوں کو ناکام بنانے میں کامیاب رہا مگر 1971ء میں چوتھا حملہ جان لیوا ثابت ہوا اور عابد علی عابد جنوری 1971ء میں‘ 65 برس کی عمر میں اس جہان کو چھوڑ گئے۔ Ian Talbotاور طاہر کامران نے Lahore, in the time of Raj کے نام سے ایک اچھی کتاب لکھی تو اس میں عابد علی عابد کے بلند علمی درجے کا بھی ذکر کیا۔ میں نے شاہ جی کی زندگی کا جمالی پہلو دیکھا اور بہت متاثر ہوا۔ ان کے ہمعصر بتاتے ہیں کہ ان کا ایک جلالی رنگ بھی تھا۔ ویسے وہ شخص سب لوگوں کی ہمدردیاں سمیٹ لیتا تھا مگر جس پر شاہ جی کا جلال گرتا وہ اسے بھسم کر دیتا۔ انتظار حسین نے شاہ جی کے بارے میں ایک دلچسپ بات لکھی کہ موت سے عابد صاحب کی ٹھنی ہوئی تھی۔ موت سے مردانہ وار مقابلے کی ایسی مثالیں کم ملیں گی۔ کہتے ہیں کہ جب محمود نظامی ریڈیو پاکستان کے ڈائریکٹر تھے تو عابد صاحب کی حالت اتنی بگڑی کہ لگا بس آخری وقت آگیا۔ محمود نظامی نے جلدی جلدی اُن کے بارے میں فیچر تیار کرایا مگر عابد صاحب کے ٹوٹتے سانس میں توانائی پیدا ہوتی چلی گئی۔ عابد صاحب اُٹھ بیٹھے اور بھلے چنگے ہو گئے۔ جب محمود نظامی اس دُنیا سے اُٹھے تو عابد صاحب نے اُن کی موت پر ریڈیائی فیچر لکھا۔ عابد صاحب کے جنازے میں شریک سوگوار ادیب ایک دوسرے سے کہہ رہے تھے کہ اُنہیں اب کوئی سوال درپیش ہوگا تو وہ کس سے پوچھنے جایا کریں گے۔ انتظار حسین کے مضمون کے ایک اقتباس کے اختصار کے ساتھ اختتام کرتا ہوں:عابد صاحب ہمہ گیر قسم کی شخصیت تھے۔ شاعری‘ افسانہ‘ ناول‘ ڈرامہ‘ ان سب میدانوں میں اُنہوں نے طبع آزمائی کی اور دھومیں مچائیں۔ پھر ان تخلیقی اصناف سے قطع نظر وہ علم کے دریا تھے۔ وہ زبان و بیان کے مسائل اور دس علمی روایات جنہیں مشرقی علوم کہتے ہیں‘ خوب رَچے ہوئے تھے۔ ہماری قدیم تہذیب کے منتشر ہونے کے ساتھ ہمہ گیریت کا وہ دور بھی ختم ہو گیا۔ اس شہر میں عابد صاحب ایسے شخص تھے جو ہمہ گیریت کی روایت کو زندہ رکھے ہوئے تھے۔ عابد صاحب نے حافظہ بھی قیامت کا پایا تھا۔ اُردو اور فارسی کے قدیم اساتذہ ازبر تھے۔ کسی بھی ایسی محفل میں عابد صاحب موجود ہوتے تو مقالہ نگار کیلئے زندہ بچ کے نکل جانا مشکل ہوتا۔ یہ الگ بات ہے کہ عابد صاحب ہی مقالہ نگار کی شان میں رطب اللسان ہو جائیں۔ اس شہر نے عابد صاحب کے کئی زمانے دیکھے۔ وہ زمانہ بھی دیکھا جب عابد صاحب کا بہت طنطنہ تھا۔ اچھے اچھے ان کے سامنے بات کرتے ہوئے گھبراتے تھے۔ پھر وہ زمانہ بھی دیکھا جب عابد صاحب آفاتِ روزگار کے نرغے میں آگئے۔ آخر میں رَسی جل چکی تھی بس کوئی کوئی بل باقی رہ گیا تھا: آگ تھے ابتدائے عشق میں ہم ؍ اب جو ہیں خاک انتہا ہے یہ</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_32258580.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>جنریشن زی: تھوڑا سا گلہ بھی سن لو(سعود عثمانی )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-08-03/52415/66877587</link><pubDate>Mon, 03 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-08-03/52415/66877587</guid><description>جنریشن زی کی کمزوریوں کے بارے میں لکھتے ہوئے ٹرولنگ کا ڈر ضرور ہے مگر یہ اطمینان بھی ہے کہ یہ کالم وہ نہیں پڑھیں گے‘ اس لیے کہ یہ اس کی دلچسپیوں سے باہر کی چیز ہے۔ ادب‘ نثر‘ کالم وغیرہ سے انہیں کیا دلچسپی؟ البتہ یہ شبہ ہے کہ شاعری شاید کچھ کچھ ان کے دل کو لگتی ہو گی کیونکہ رومانوی جذبات کے کام آ جاتی ہے۔ ان کی یہ لاتعلقی میرے لیے لکھنے میں آسانی پیدا کرتی ہے۔ یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ میں عمومی مزاج کی بات کر رہا ہوں‘ استثنائی مثالوں کی نہیں۔ نیز میری گفتگو کا محور اس وقت برصغیر کی جین زی ہے‘ یورپی و دیگر ممالک کی نسل نہیں۔ ویسے ہر نسل اپنے سے پچھلوں کی تنقید کا نشانہ بنتی رہی ہے اور یہ سلسلہ کوئی نیا نہیں۔ سقراط سے بھی غلط یا صحیح‘ نوجوانوں پر تنقید منسوب ہے لیکن یہاں معاملہ چند افراد کا نہیں پوری نسل کا ہے۔مجھے زیادہ افسوس جین زی کے مزاج پر یہ ہے کہ وہ اپنے سے پچھلی نسلوں کا نہ احسان مان سکتے ہیں نہ اعتراف کر سکتے ہیں۔ یہ بھی میرا سوال ہے کہ کیا وہ گزشتہ نسلوں سے محبت اور ان کا احترام کرتے ہیں؟ اگر یہ تاثر غلط ہے تو مجھے غلطی کے اعتراف میں دیر نہیں لگے گی لیکن یاد نہیں کہ میں نے ان میں سے کبھی کسی کو یہ کہتے سنا ہو کہ فلاں بڑے نے یہ بڑی نیکی کی تھی‘ بڑا اچھا کام کیا تھا۔ وہ شکر اور شکریے سے کوسوں دور رہتے ہیں لیکن شکایت کو اپنا حق سمجھتے ہیں۔ وہ یہ بھی اپنا حق سمجھتے ہیں کہ پچھلی نسلیں ان کا شکریہ ادا کریں اور کرتی رہیں اور چونکہ پچھلی نسلوں نے کچھ کیا تو ہے نہیں‘ تو ان کا شکریہ کس بات کا۔ ان سے بات کرتے ہوئے احساس ہونے لگے گا کہ آپ نے کتنی بیکار زندگی گزاری ہے۔ پچھلی نسلوں نے خواہ لاکھوں قربانیوں اور صدیوں کی جدوجہد کے بعد ملک بنایا ہو‘ چلایا ہو‘ آئین بنایا ہو‘ قوانین اور ضابطے بنائے ہوں‘ ان میں سے نوجوانوں کیلئے کچھ اہم نہیں۔ اہم ترین بات وہ مسائل ہیں جو جین زی کو پریشان کرتے ہیں۔ دکھ ہوتا ہے کہ ان کی باتوں اور عمل میں پچھلی نسلوں کا کیا‘ قومی ہیروز کا احترام بھی بہت کم ہو گا۔ وجہ صرف یہ کہ یہ ہیروز پہلی نسلوں سے تعلق رکھتے ہیں۔اس میں کیا شک ہے کہ جین زی کو نظام بہت خراب بلکہ گلا سڑا ملا ہے اور اس میں پہلی نسلیں ہی قصوروار ہیں لیکن کیا ان سے پہلی نسلوں کو نظام بہت اعلیٰ ملا تھا؟ کیا جین وائے کو قانون پر عمل کرنے والا معاشرہ نصیب ہوا تھا؟ کیا جین ایکس انصاف کی ندی میں تیرتی تھی؟ کیا بومرز کو میرٹ پر جگہ ملتی تھی؟ بومرز سے پہلے سائلنٹ جنریشن اور گریٹسٹ جنریشن کا تو اپنا ملک ہی نہیں تھا۔ وہ ملکی نظام میں فیصلہ کرنے کا اختیار ہی نہیں رکھتے تھے۔ لیکن ان سب کے باوجود ان سب نسلوں نے آئندہ نسلوں کیلئے جو کچھ کیا‘ وہ میں قابلِ فخر سمجھتا ہوں۔ وہ لوگ ڈیجیٹل دور میں نہیں جیتے تھے‘ نہ ان کے ہاتھ میں وہ جادو کا ڈبہ تھا جو ایک پل میں انہیں دنیا سے جوڑ دے۔ بیل گاڑیوں اور سست سواریوں میں پورے دن میں پندرہ بیس میل کا سفر کرنے والے‘ چٹھیوں سے پیغام رسانی کرنے والے‘ ایک جوڑے کو پہننے‘ دوسرے کو سُکھانے والے زمانے سے لے کر جہازوں‘ موبائلوں اور انٹرنیٹ کی دنیا تک ان نسلوں کا سفر سہل نہیں تھا۔ یہ لوگ بہت تنگی ترشی میں زندگی گزار کر گئے‘ بہت خراب حالات کا مقابلہ کیا لیکن ہمیں بہت کچھ دے گئے۔ جو کچھ نہیں دیا‘ یا جو کچھ ان کے دیے میں خرابیاں ہیں‘ وہ اپنی جگہ لیکن پہلے اعتراف تو کریں‘ پھر اختلاف اور شکایت بھی کر لیجیے گا۔ بہت مدت پہلے میں نے کسی کا شعر سنا کہکوئی دریچہ ہوا کے رخ پر نہیں بنایامرے بزرگوں نے سوچ کر گھر نہیں بنایاتو اچھے شعر کی داد دیتے ہوئے میں نے یہ بھی سوچا کہ دریچے کی خرابی اپنی جگہ لیکن کیا کہنے والے کو اندازہ ہو گا کہ یہ گھر کن حالات اور کن مشکلات کے ساتھ بنایا گیا تھا؟ وہ دریچہ غلط بنانے کی شکایت تو کر رہا مگر گھر بنانے کی قربانیاں نہیں دیکھ رہا۔ گھر ہے تو دریچہ ٹھیک ہو سکتا ہے‘ لیکن اگر گھر ہی نہ ہوتا؟ اور یہ بات صرف فلموں اور ڈرامو ں کی نہیں حقیقی دنیا کی ہے کہ والد یا والدہ نے اپنے کسی بچے کو کوئی کام بتایا‘ کوئی نصیحت کی‘ کوئی بات محبت اور اپنائیت سے سمجھائی تو جوا ب ایسا ملا جس میں نہ محبت تھی نہ اپنائیت‘ نہ غلطی کا اقرار۔ شکایت اور صرف شکایت! وہ اپنے ہم عمروں میں یہی رویہ دیکھتے ہیں اور یہی اختیار کرتے ہیں۔ جن لوگو ں کا استاد کی حیثیت میں اس نسل سے قریبی رابطہ اور تجربہ ہے‘ ان کے مشاہدات پوچھ لیجیے۔ ممکن ہے میرا تاثر غلط ہو لیکن اگر جین زی میں پہلی نسلوں کی قربانیوں کا احساس‘ ان کے کاموں کا ادراک اور ان کا ادب نہیں ہے تو یہ ان کی زندگیوں میں بڑی کمی ہے۔ یہ معاملات مغرب میں تو کافی مدت پہلے سے تھے اور دھیرے دھیرے ہمارے یہاں بھی ہر نسل میں پیدا ہو رہے تھے لیکن جین زی نے انہیں جس طرح اپنایا اس کی ہمارے ہاں پہلے کوئی مثال نہیں۔ایک بڑا مسئلہ اس نسل میں ارتکاز اور توجہ فوکس رکھنے کا ہے۔ چلیں ہم تو دقیانوسی لوگ ہیں اور فرسودہ باتیں کرتے ہیں‘ پڑھے لکھوں کی باتیں سن لیجیے۔ امریکی ماہر نفسیات جین ٹوینجے (Jean Twenge) نے اپنی کتاب iGen میں کہا کہ جنریشن زی وہ پہلی نسل ہے جس نے بلوغت سے پہلے ہی سمارٹ فون کو اپنا لیا۔ اس کا نتیجہ آٹھ سیکنڈ کے اٹینشن سپین کی صورت میں نکلا جس کی تصدیق مائیکرو سافٹ کارپوریشن کی 2015ء کی تحقیق نے بھی کی۔ اگر آپ چند سیکنڈ سے زیادہ کسی چیز پر توجہ مرتکز نہیں کر سکتے تو زندگی کیسے گزاریں گے۔ زندگی فیس بک یا ٹک ٹاک کی ریل نہیں ہوتی۔اس نسل کی ذہنی صحت کے بارے میں بھی خدشات ہیں۔ امریکن سائیکولوجیکل ایسوسی ایشن (APA) کی 2023ء کی رپورٹ کے مطابق جین زی میں ڈپریشن اور انزائٹی کی شرح پچھلی تمام نسلوں سے 40 فیصد زیادہ ہے۔ اس کی بڑی وجہ ناکامی کو برداشت نہ کرنا ہے۔ سوشل میڈیا پر ہر وقت &#39;&#39;پرفیکٹ لائف‘‘ دیکھنے سے ان میں Fear of Missing Out (FOMO) کا مسئلہ اور کم خود اعتمادی پیدا ہوئی ہے۔ نیویارک یونیورسٹی کے ماہرِ نفسیات جوناتھن ہائیڈ کا اپنی کتاب &#39;مضطرب نسل‘ (The Anxious Generation) میں استدلال ہے کہ بچپن میں حقیقی دنیا کے آزادانہ کھیل کود کی جگہ سکرین نے لے لی جس کے نتیجے میں جین زی کی ایک بڑی تعداد جذباتی لچک پیدا کرنے سے قاصر رہی۔ ان کے مطابق لڑکیوں میں یہ اثرات خاص طور پر شدید ہیں‘ جن کا تعلق سوشل میڈیا پر مسلسل موازنے اور دکھاوے کے رجحان سے ہے۔یہ بات بھی درست لگتی ہے کہ جین زی کی عملی دنیا سے دوری خطرناک حد تک زیادہ ہے۔ میکنزی اینڈ کمپنی کی 2022ء کی رپورٹ What Gen Z really wants اور گیلپ کے سروے بتاتے ہیں کہ یہ نسل جلد بور ہو جاتی ہے اور مشکل حالات میں فوراً نوکری چھوڑ بیٹھتی ہے۔ اسے Quiet Quitting اور Job Hopping کا نام دیا گیا ہے۔ محنت کے بجائے فوری نتائج کی خواہش بہت زیادہ ہونا ان کا ایک مسئلہ ہے۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جین زی جو دوسروں پر کڑی تنقید کیا کرتے ہیں خود اپنے اوپر تنقید برداشت کرنا ان کے بس میں نہیں۔ سوشل میڈیا نے اس نسل کو تنقید سننے کے قابل نہیں چھوڑا۔ معمولی اختلاف پر کسی کو کینسل‘ یا بلاک کر دو۔ ایسی صورت میں برداشت کیسے پیدا ہو گی؟ ٹیکنالوجی نے اس نسل کو معلومات دے کر صبر‘ مستقل مزاجی اور حقیقی انسانی تعلقات چھین لیے ہیں۔ یہ کم قیمت ہے کیا؟</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_81278520.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کامیابی کی اساس(علامہ ابتسام الہٰی ظہیر )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-08-03/52416/64406806</link><pubDate>Mon, 03 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-08-03/52416/64406806</guid><description>دنیا میں بہت سے لوگ پیشے‘ کنبے‘ قبیلے‘ شکل وصورت‘ عہدے اور طاقت کو کامیابی کی اساس سمجھتے ہیں اور دنیا میں حاصل ہونے والی ان نعمتوں کو اللہ تبارک وتعالیٰ کی رضامندی کے ساتھ تعبیر کرتے ہیں۔ اسی طرح بہت سے لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ جو دنیا میں کامیاب ہے شاید وہی اللہ کے ہاں پسندیدہ اور آخرت میں کامیاب ہو۔ کتاب و سنت نے اس حوالے سے انسانوں کی بڑی واضح انداز میں رہنمائی کی ہے۔ سورۃ الکہف میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے دو باغبانوں کا ذکر کیا ہے‘ جن میں سے ایک بڑا باغبان تھا جو اللہ تبارک وتعالیٰ کا منکر اور باغی تھا جبکہ دوسرا باغبان اگرچہ مالی حیثیت کے اعتبار سے چھوٹا تھا لیکن اللہ تبارک وتعالیٰ پر ایمان رکھنے والا اور اس کا اطاعت گزار تھا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ان دونوں باغبانوں کے مکالمے اور انجام کو سورۃ الکہف کی آیات: 32 تا 44 میں بڑے خوبصورت انداز میں کچھ یوں بیان فرماتے ہیں: &#39;&#39;اور انہیں ان دو شخصوں کی مثال بھی سنا دیں جن میں سے ایک کو ہم نے دو باغ انگوروں کے دے رکھے تھے اور جنہیں کھجوروں کے درختوں سے ہم نے گھیر رکھا تھا اور دونوں کے درمیان کھیتی لگا رکھی تھی۔ دونوں باغ اپنا پھل خوب لائے اور اس میں کسی طرح کی کمی نہ کی اور ہم نے ان باغوں کے درمیان نہر (بھی) جاری کر رکھی تھی۔ الغرض اس کے پاس میوے تھے‘ ایک دن اس نے باتوں ہی باتوں میں اپنے ساتھی سے کہا کہ میں تجھ سے زیادہ مالدار ہوں اور جتھے کے اعتبار سے بھی زیادہ مضبوط ہوں۔ اور یہ اپنے باغ میں گیا اور تھا اپنی جان پر ظلم کرنے والا۔ کہنے لگا کہ میں خیال نہیں کر سکتا کہ کسی وقت بھی یہ برباد ہو جائے۔ اور نہ میں قیامت کو قائم ہونے والی (حقیقت) خیال کرتا ہوں اور اگر (بالفرض) میں اپنے رب کی طرف لوٹایا بھی گیا تو یقینا میں (اس لوٹنے کی جگہ) اس سے بھی زیادہ بہتر پائوں گا۔ اس کے ساتھی نے اس سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ کیا تُو اس (معبود) سے کفر کرتا ہے جس نے تجھے مٹی سے پیدا کیا۔ پھر نطفے سے پھر تجھے پورا آدمی بنا دیا۔ لیکن میں تو عقیدہ رکھتا ہوں کہ وہی اللہ میرا پروردگار ہے‘ میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ کروں گا۔ تُو نے اپنے باغ میں جاتے وقت کیوں نہ کہا کہ اللہ کا چاہا ہونے والا ہے‘ کوئی طاقت نہیں مگر اللہ کی مدد سے‘ اگر تُو مجھے مال و اولاد میں اپنے سے کم دیکھ رہا ہے۔ (تو) بہت ممکن ہے کہ میرا رب مجھے تیرے اس باغ سے بھی بہتر دے اور اس پر آسمانی عذاب بھیج دے تو یہ چٹیل اور چکنا صاف میدان بن جائے۔ یا اس کا پانی نیچے اتر جائے اور تیرے بس میں نہ رہے کہ تو اسے ڈھونڈھ لائے۔ اور اس کے (سارے) پھل گھیر لیے گئے‘ پس وہ اپنے اس خرچ پر جو اس نے اس میں کیا تھا‘ اپنے ہاتھ مَلنے لگا اور وہ باغ تو اوندھا الٹا پڑا تھا اور (وہ شخص ) یہ کہہ رہا تھا کہ کاش! میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ کرتا۔ (تب) اس کی حمایت میں کوئی جماعت نہ اٹھی کہ اللہ سے اس کا کوئی بچائو کرتی اور نہ وہ خود ہی بدلہ لینے والا بن سکا۔ یہیں سے (ثابت ہے) کہ اختیارات اللہ برحق کے لیے ہیں وہ ثواب دینے اور انجام کے اعتبار سے بہت ہی بہتر ہے‘‘۔ باغبانوں کے اس واقعہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ انسان کی جاگیر اور باغات اس کی کامیابی کی بنیاد نہیں بن سکتے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کے یہاں پر کامیابی کی اساس انسان کا اللہ کی ذات پر ایمان اور اس کی اطاعت ہے۔اسی طرح بہت سے لوگ اپنے قبیلے اور خاندان کو اپنے لیے باعثِ فضیلت سمجھتے اور اسی پر فخر کرتے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الحجرات کی آیت: 13 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;اے لوگو! ہم نے تم سب کو ایک (ہی) مرد و عورت سے پیدا کیا ہے اور اس لیے کہ تم آپس میں ایک دوسرے کو پہچانو‘ کنبے قبیلے بنا دیے ہیں‘ اللہ کے نزدیک تم سب میں سے باعزت وہ ہے جو سب سے زیادہ ڈرنے والا ہے‘ یقین مانو کہ اللہ دانا اور باخبر ہے‘‘۔ اس حقیقت کی تائید مسند احمد کی ایک حدیث سے ہوتی ہے۔ حضرت ابونضرہؓ بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے اس شخص نے حدیث بیان کی جس نے ایامِ تشریق کے درمیان رسول اللہﷺ کا خطبہ سنا۔ آپﷺ نے فرمایا: اے لوگو! خبردار! تمہارا رب ایک ہے اور تمہارا باپ ایک ہے۔ کسی عربی کو کسی عجمی پر‘ کسی عجمی کو کسی عربی پر‘ کسی گورے کو کسی کالے پر‘ اور کسی کالے کو کسی گورے پر کوئی فضیلت نہیں‘ مگر تقویٰ کی بنیاد پر‘‘۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید میں ابولہب کے انجام بد کا ذکر کیا حالانکہ اس کا تعلق ایک بڑے قبیلے کے ساتھ تھا۔ اس کے بالمقابل احادیث مبارکہ میں حضرت بلالؓ کی کامیابی کا ذکر ہے حالانکہ وہ مکہ میں ایک غلام‘ پردیسی اور اجنبی تھے۔کتاب وسنت کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک انسان شدید بیمار‘ بہت زیادہ غریب اور کمزور ہی کیوں نہ ہو‘ اگر وہ باعمل مسلمان ہے تو خوش نصیب اور کامیاب ہے۔ اس کے بالمقابل اگر انسان بہت زیادہ صحتمند‘ مالدار اور مشہور ہے لیکن اسلام اور ایمان سے دور ہے تو وہ بہت بڑا بدنصیب ہے اور دنیا کی چند روزہ زندگی گزارنے کے بعد ہمیشہ کی ناکامی سے دوچار ہو جائے گا۔ اس اہم نکتے کو سمجھنے کے لیے چند اہم احادیث پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: &#39;&#39;اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور تمہارے اموال کی طرف نہیں دیکھتا‘ بلکہ وہ تمہارے دلوں اور تمہارے اعمال کی طرف دیکھتا ہے‘‘۔ صحیح مسلم ہی میں حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: &#39;&#39;بہت سے ایسے لوگ ہیں جن کے بال بکھرے ہوئے‘ جسم غبار آلود ہوتے ہیں‘ جنہیں لوگوں کے دروازوں سے دھتکار دیا جاتا ہے‘ لیکن اگر وہ (کسی معاملے پر) اللہ پر قسم کھا لیں تو اللہ تعالیٰ ان کی قسم ضرور پوری فرما دیتا ہے‘‘۔مسند احمد میں حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبیﷺ نے حضرت عبداللہ ابن مسعودؓ کو حکم دیا تو وہ درخت پر چڑھ گئے۔ نبیﷺ نے انہیں کچھ لانے کا حکم دیا تھا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کو جب درخت پر چڑھتے ہوئے دیکھا تو ان کی پنڈلی پر بھی نظر پڑی‘ وہ ان کی پتلی پتلی پنڈلیاں دیکھ کر ہنس پڑے۔ نبیﷺ نے فرمایا: کیوں ہنس رہے ہو؟ یقینا عبداللہ (بن مسعود) کا ایک پائوں قیامت کے دن میزانِ عمل میں احد پہاڑ سے بھی زیادہ وزنی ہو گا‘‘۔صحیح بخاری میں حضرت ابوبریدہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: بلاشبہ قیامت کے دن ایک بہت بھاری بھرکم موٹا تازہ شخص آئے گا لیکن وہ اللہ کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر بھی کوئی قدر نہیں رکھے گا اور فرمایا کہ پڑھو: فلا نقیم لھم یوم القیامۃ وزنا (الکہف: 105) &#39;&#39;قیامت کے دن ہم ان کا کوئی وزن نہ کریں گے‘‘۔ایک طرف حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ایک قدم کا وزن احد پہاڑ کے برابر جبکہ دوسری طرف ایمان سے محروم ایک موٹے آدمی کا وزن مچھر کے پر کے برابر بھی نہیں۔ چنانچہ اس حقیقت کو سمجھنا کچھ مشکل نہیں کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کے ہاں کسی شخص کی قدر ومنزلت اس کی جسمانی ساخت‘ ظاہری شکل وصورت‘ مال و اسباب‘ حسب و نسب اور شہرت و ناموری سے نہیں بلکہ اس کے ایمان‘ تقویٰ اور اعمالِ صالحہ سے ہوتی ہے۔ اس لیے ایک کمزور‘ بیمار یا غریب مگر باعمل مسلمان اللہ کے نزدیک بہت بلند مقام پا سکتا ہے جبکہ ایک طاقتور‘ مالدار اور مشہور شخص اگر ایمان اور صالح اعمال سے محروم ہو تو اللہ کے ہاں اس کی کوئی وقعت نہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کو کامیاب لوگوں میں شامل فرمائے‘ آمین!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_19740082.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>