<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>آبنائے ہرمز کا تنازع(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-15/11363</link><pubDate>Wed, 15 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-15/11363</guid><description>خلیج فارس کے خطے میں بڑھتی ہوئی بدامنی اور اس کے علاقائی و عالمی اثرات باعثِ تشویش ہیں۔ آبنائے ہرمز ایک بار پھر امریکہ اور ایران میں میدانِ جنگ بنی ہوئی ہے اور اس اہم گزر گاہ سے بحری تجارت ایک بار پھر انتہائی کم ہو چکی ہے۔ ’میرین ٹریفک‘ پلیٹ فارم کے مطابق منگل کے روز صرف چار بحری جہاز‘ ایک آئل ٹینکر اور تین کنٹینرشپ آبنائے ہرمز سے گزر سکے۔ 17جون کو ایم او یو پر دستخط کے بعد ادھر سے گزرنے والے جہازوں کی یہ سب سے کم تعداد تھی۔ دونوں متحارب ملک ایک دوسرے کے اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ امریکہ ایران میں پچھلے کئی روز سے بمباری کر رہا ہے اور ایران ہمسایہ ممالک میں امریکی اہداف کو۔ اس دوران ایک نہایت تشویشناک واقعہ یمن کے حوثیوں کی جانب سے سوموار کی رات سعودی عرب کے جنوبی علاقوں پر بیلسٹک میزائل حملہ تھا‘ جسے سعودی فضائی دفاع نے ناکام بنا دیا۔ پاکستان کی جانب سے اس واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے اور وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت پر حملے کو ناقابلِ قبول اور خطے کے امن واستحکام کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔

پاکستان نے خلیجی خطے کی صورتحال کو اس نہج تک پہنچنے سے بچانے کے لیے غیر معمولی اور انتھک محنت کی اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی صورت میں خطے میں پائیدار امن کی مضبوط بنیاد بھری جا چکی تھی کہ امریکہ اور ایران کی بے اعتمادی نے امن کے بجائے انہیں تصادم کی راہ پر ڈال دیا۔ یوں جنگ کے بادل جو چھٹ چکے تھے‘ ایک بار پھر خطے کے آسمانوں پر اکٹھے ہو چکے ہیں اور صورتحال پہلے سے زیادہ گمبھیر نظر آتی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ خود کو آبنائے ہرمز کے چوکیدار کے طور پر پیش کرنے لگے ہیں‘ جس کے لیے انہوں نے ادھر سے گزرنے والے کارگو پر 20 فیصد کے برابر وصولی کا مطالبہ کر دیا۔ اگرچہ گزشتہ روز ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں صدر ٹرمپ نے 20 فیصد محصول کے اعلان سے تو یوٹرن لے لیا البتہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے عزم پر اسی طرح قائم ہیں۔ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی اور خطے میں کشیدگی کا اثر توانائی کی منڈیوں میں شدت کے ساتھ سامنے آ رہا ہے اور برینٹ کروڈ کی قیمت منگل کے روز 85 ڈالرفی بیرل کے قریب پہنچ گئی۔ اگرچہ یہ ایک ماہ کی بلند ترین سطح ہے تاہم آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی‘ جس میں امریکہ اور ایران دونوں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں‘ کچھ روز اسی طرح جاری رہی تو تیل کی قیمتوں میں اس سے زیادہ اضافہ خارج از امکان نہیں۔
یہ واضح ہے کہ خلیج کے علاقے میں تصادم کی صورتحال یہی رہی تو نہ صرف پورا خطہ بلکہ پوری دنیا اس سے متاثر ہو گی اور اس کے بھیانک اثرات سے نکلنے میں نجانے کتنا وقت لگے۔ اس لیے وہی قوتیں جو پہلے اس بحران میں بروئے کار آئیں انہیں ایک بار پھر آگے بڑھنا اور دنیا کو اس تباہی سے بچانا ہو گا جو اس تصادم میں واضح دیکھی جا سکتی ہے۔ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر دنیا خلیج کے علاقے کی جنگ وجدل کے یکساں متاثرین ہیں۔ فروری آخر سے شروع ہونے والی کشیدگی نے پہلے ہی عالمی معیشت کی صلاحیت کو بڑی حد تک نچوڑ لیا ہے۔ اس آگ کا دوبارہ بھڑک اٹھنا خوفناک المیے کا سبب بن سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ پاکستان سمیت وہ سبھی ممالک جو اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے لیے متحرک تھے‘ ایک بار پھر اس کارِ خیر کے لیے کمر ہمت باندھ لیں۔ اگرچہ یہ عمل پہلے سے زیادہ پیچیدہ اور دشوار ہو چکا ہے مگر امن کا قیام ہی علاقائی اور عالمی مفاد کی واحد صورت ہے۔ دوسری صورت میں تباہی اور اس کے لامتناہی اثرات ہیں۔
بظاہر اب کے وجہ تنازع آبنائے ہرمز اور اس کا انتظام ہے‘ اوریہ مسئلہ بھی فروری آخر میں امریکی جنگ کی دین ہے۔ اس سے پہلے اس آبی گزرگاہ پر اختیار اور قبضے کا کوئی سوال نہ تھا۔ بھرپور کوشش کی جانی چاہیے کہ یہ تنازع خوش اسلوبی سے حل ہو جائے اور امن بحال ہو۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>آٹا بحران(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-15/11362</link><pubDate>Wed, 15 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-15/11362</guid><description> آٹے کا بحران ایک بار پھر شدت اختیار کرنے کی خبریں آ رہی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق مختلف شہروں میں 20کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2900 روپے تک پہنچ چکی ہے جبکہ نان بائیوں نے بڑھتی لاگت کا جواز پیش کرتے ہوئے سرکاری نرخ 14 روپے کے بجائے روٹی 25 روپے اور نان 20 کے بجائے 30 روپے میں فروخت کرنا شروع کر دیا ہے۔ پہلے سے مہنگائی کی چکی میں پستے عوام کیلئے یہ اضافہ کسی نئے معاشی صدمے سے کم نہیں کیونکہ آٹا ہر گھر کی بنیادی ضرورت ہے اور اس کی قیمت میں معمولی اضافہ بھی لاکھوں خاندانوں کے ماہانہ بجٹ کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں زرخیز زرعی زمین اور گندم کی وافر پیداوار کی صلاحیت موجود ہے لیکن ناقص منصوبہ بندی‘ غیر مستقل پالیسیوں اور انتظامی کمزوریوں کے باعث تقریباً ہر سال گندم اور آٹے کا بحران جنم لیتا ہے۔

ابھی گندم کی نئی فصل مارکیٹ میں آئے صرف چار ماہ ہوئے ہیں لیکن گزشتہ سال کے مقابلے میں 20کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت تقریباً 1250روپے بڑھ چکی ہے۔ضروری ہے کہ حکومت گندم اور آٹے کی ذخیرہ اندوزی‘ بلیک مارکیٹنگ‘ ناجائز منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی میں ملوث عناصر کیخلاف بلاامتیاز کارروائی کرے۔ اس کیساتھ ساتھ حکومت کو طویل مدتی اور جامع گندم پالیسی بھی تشکیل دینی چاہیے ۔ جب تک زرعی پالیسیوں کا تسلسل‘ شفافیت اور مؤثر نگرانی یقینی نہیں بنائی جاتی‘ زرعی بحران ختم نہیں ہو سکتا اور خوراک کی قیمتیں قابو میں نہیں آ سکتیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>معیاری الیکٹرک وہیکلز(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-15/11361</link><pubDate>Wed, 15 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-15/11361</guid><description>قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کے اجلاس میں بتایا کیا گیا کہ ملک میں الیکٹرک موٹر سائیکلوں کیلئے کوئی ریگولیٹری اتھارٹی موجود نہیں بلکہ مختلف وزارتیں اور ادارے الگ الگ ذمہ داریاں ادا کررہے ہیں۔یہ خدشہ ہے کہ معیار کی نگرانی نہ ہونے سے ملک میں بننے والی الیکٹرک موٹر سائیکلوں میں طے شدہ حفاظتی معیارات کا خیال نہیں رکھا جاسکتا۔ خاص طور پر لیتھیم بیٹریوں کیلئے جامع پالیسی کی عدم موجودگی نے غیر معیاری اور خطرناک بیٹریوں کی فروخت کی راہ ہموار کر دی ہے جو نہ صرف جلد ناکارہ ہو جاتی ہیں بلکہ آگ لگنے اور دیگر حادثات کی خبریں بھی آتی رہتی ہیں۔اس طرح خدشہ ہے کہ الیکٹرک موٹر سائیکلوں پر عوام کا اعتماد متاثر ہوگا؛چنانچہ ضروری ہے کہ الیکٹرک موٹر سائیکلوں کے حوالے سے معیار خاص طور پر ان میں لگی بیٹریوں کی پائیداری اور حفاظتی یقین دہانیو ں کو یقینی بنانے کا مؤثر انتظام کیا جائے ۔

علاوہ ازیں ملک میں چارجنگ سٹیشنز کی منصوبہ بندی بھی ضروری ہے۔ عوام کو معیاری اور محفوظ الیکٹرک وہیکلز اور چارجنگ سہولتیں دستیاب ہوں گی توان کی جانب رجحان بڑھے گا۔ملک میں ماحولیاتی تحفظ اور آلودگی کم کرنے کیلئے گاڑیوں کے دھویں کی مقداد میں نمایاں کمی کرنا ہو گی اور یہ اسی صورت ممکن ہے جب الیکٹرک وہیکلز کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہو اور معیاری الیکٹرک وہیکلز آسانی سے دستیاب ہوں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>غلط راستوں کے مسافر(ایاز امیر)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-07-15/52297/76741624</link><pubDate>Wed, 15 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-07-15/52297/76741624</guid><description>جمہوریت ہمیں ویسے راس نہیں‘ اس کی نزاکتیں قومی مزاج کے مطابق نہیں۔ حکمران ہیں کہ سبق تھانیداری کا سامنے رکھتے ہیں۔ برداشت کا مادہ جو کسی بھی جمہوری نظام کیلئے ضروری ہے‘ ہمارے حکمرانی دائروں میں کہیں نظر آتا نہیں۔ پھر زور زبردستی سے ہی کام چلایا جاتا ہے۔ یہ تصور بھی اچھا ہے اگر زور زبردستی کی باتیں چل جائیں اور مفید ثابت ہوں۔ پنجاب اور سندھ کے حالات دیکھ لیں‘ جس طریقے سے نظام چلایا جا رہا ہے ہمارے سامنے ہے۔ کوئی چوں بھی کہیں سے آئے تو ردِعمل کچھ اس قسم کا ہوتا ہے کہ پھر کہنے کی ہمت نہیں رہتی۔ کاش پنجاب اور سندھ سارا پاکستان ہوتے‘ پھر تو کوئی مسئلہ نہ تھا۔ مسئلہ بنا ہوا ہے باقی دو صوبوں میں اور وہاں پر سیاست کرنے کے کچھ مختلف ذریعے اپنائے جا رہے ہیں۔یہاں تک نوبت آنی نہیں چاہیے تھی۔ دونوں مغربی صوبوں میں جو کچھ ہو رہا ہے شورش کے زمرے میں آتا ہے۔ ایسی روشیں پہلے بھی سر اٹھاتی تھیں لیکن جہاں آپریشن ضروری سمجھا گیا خاطرخواہ نتائج حاصل ہو جاتے تھے۔ جیسا کہ پچھلے ادوار میں سوات میں آپریشن ہوا اور پھر وزیرستان میں۔ یہ تب کی بات ہے جب جنرل اشفاق پرویز کیانی فوج کے سربراہ تھے۔ اُن کے بعد جنرل راحیل شریف آئے اور 2014ء میں خیبر پختونخوا میں جو آپریشن شروع کیا گیا وہ بہت حد تک کامیاب رہا۔ سوچ یہ پیدا ہوئی کہ عسکریت پسندی کو کاری ضرب لگ چکی ہے اور پھر سے ریاست کیلئے یہ خطرہ نہیں بنے گی۔ لیکن اب ہم دیکھ رہے ہیں کہ صورتحال مختلف ہے‘ کے پی کے وسیع علاقوں میں عسکریت پسندی نے پھر سر اٹھایا ہے اور صورتحال گمبھیر ہو رہی ہے۔ عسکریت پسندی کے اس نئے دور میں ایک فرق یہ ہے کہ اس کے پیچھے افغانستان کی طالبان حکومت کھڑی ہے۔ کسی بھی شدت پسند تحریک کیلئے ضروری ہے کہ پیچھے معاونت اور امداد کا ایک علاقہ ہو۔ کالعدم ٹی ٹی پی کو ایسی معاونت افغانستان سے مل رہی ہے۔ گوریلا جنگ کا بنیادی اصول یہ ہے کہ اپنے چنے ہوئے ٹارگٹ پر اپنے متعین کردہ وقت پر حملہ ہو اور پھر پیچھے بھاگنے اور چھپنے کا راستہ ہو۔کالعدم ٹی ٹی پی کیلئے یہ شرائط افغانستان پوری کر رہا ہے۔ ٹی ٹی پی کا وجود افغان طالبان سے جڑا ہوا ہے۔ بھولنا نہیں چاہیے کہ یہ نام نہاد افغان جہاد کا شاخسانہ ہے۔ افغان طالبان سترہ سال تک امریکہ سے برسرپیکار رہے اور یہاں سے گئے ہوئے لوگ جو اُس میں شامل ہوئے اُنہوں نے ہی بعد میں کالعدم ٹی ٹی پی کی صورت اختیار کی۔ بلوچستان میں مسئلہ بالکل الگ ہے۔ بلوچ ناراضگی تو دہائیوں پر محیط ہے لیکن جس شورش نے اب اتنی خطرناک شکل اختیار کر لی ہے اس کی شروعات نواب اکبر بگٹی کے 2006ء میں مارے جانے سے ہوتی ہے۔ پہلے بھی ناراض بلوچ نوجوان ہوتے تھے لیکن جیسے شعلے آگ میں بھڑک اٹھتے ہیں‘ نواب بگٹی کے مارے جانے نے اجتماعی بلوچ ذہن پر گہرا اثر چھوڑا۔ بہت سے پڑھے لکھے لوگوں کے ذہنوں میں عجیب خیالات جنم لینے لگے۔ اُس شروع کے الاؤ کا نتیجہ اب دیکھا جا سکتا ہے جب وہاں کی شورش کا پھیلاؤ بڑھتا گیا ہے اور اُس کی شدت میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ ایک اور خطرناک زاویہ جو سامنے آ رہا ہے وہ یہ کہ شورشیں جو بالکل مختلف تھیں اُن کے بارے میں اب رپورٹیں آ رہی ہیں کہ اُ ن میں قدرے اشتراک پیدا ہو رہا ہے۔ پہلے گڑبڑ تو بلوچ علاقوں پر پھیل رہی تھی۔ بلوچستان کا پختون علاقہ بہت حد تک اس شورش سے محفوظ تھا۔ لیکن اب جو زیارت وغیرہ میں حملے ہوئے ہیں اُن سے پتا چلتا ہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی کی انٹری پختون علاقوں میں ہو رہی ہے۔عسکریت پسندی کے حوالے سے بلوچستان کا سب سے بڑا مسئلہ اُس کا جغرافیہ ہے۔ پھیلے ہوئے سنگلاخ قسم کے علاقے جن پر کنٹرول کرنا مشکل‘ آمدورفت مشکل اور اس کے برعکس شورش پسند عناصر چپے چپے سے واقف۔ موٹر سائیکلوں پر سوار جتھوں کا کبھی ایک مقام پر حملہ کبھی کہیں اور۔ جیسے اوپر عرض کیا یہاں تک نوبت آنی نہیں چاہیے تھی۔ بلوچستان کی صورتحال کو گہری نظر سے دیکھنے کی ضرورت تھی۔ اس شورش کی نوعیت کا مطالعہ کرنے کی ضرورت تھی‘ کہ یہ لوگ کون ہیں ان کی لیڈرشپ کہاں سے آ رہی ہے۔ یہ نوابوں کی مسلح تحریک تو ہے نہیں۔نواب بگٹی کے قتل کا سانحہ 2006ء میں ہوا اور یہ بیس سال بعد کی بات ہے‘ یعنی بیس سال سے یہ لاوا اُبل رہا ہے۔ سمجھنے کے بجائے اسلام آباد سے کیا ہوتا رہا‘ کبھی کوئی نئی پارٹی بن رہی ہے‘ سرکاری اشیرباد سے نئے لوگ آ گے لائے جا رہے ہیں‘ قائم مقام وزیراعظم کسی کو بنایا جا رہا ہے۔ جن لوگوں کی صحیح معنوں میں عوامی حیثیت کچھ زیادہ نہیں اُنہیں پال پوس کے آگے لانے سے کیا حاصل ہو سکتا ہے؟ یہ تو ایسا ہی ہے جیسے امریکی ویتنام میں کر رہے تھے۔ کبھی ایک مہرے پر ہاتھ رکھنا پھر اُسے ہٹا کر ایک نیا مہرہ آگے لانا۔ سارے تجربے بری طرح ناکام رہے کیونکہ عوامی حیثیت دوسری طرف تھی۔ شدت پسند تحریکیں جہاں بھی چلی ہیں یہ اُن کے بارے میں بنیادی باتیں ہیں۔ ان میں کوئی راکٹ سائنس کا عمل دخل نہیں۔ لیکن پھر بھی بات کو سمجھنا نہیں اور رویہ ایسے رکھنا جس سے دوسری طرف منفی اثرات ہی پڑتے ہوں۔ ایسی باتیں کرنا کہ بلوچستان کی صورتحال ایک تگڑے ایس ایچ او کی مار ہے۔ ڈھونڈیں پھر ایسے ایس ایچ او کو اور وہاں بھیجیں۔ کہنے کا مطلب یہ کہ جو کچھ کے پی اور بلوچستان میں ہو رہا ہے بچوں کا کھیل نہیں۔ وہاں صورتحال بڑی سنجیدہ رخ اختیار کر چکی ہے۔ اور اس کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔کیا کرنا چاہیے‘ کیا ہونا چاہیے یہ کوئی اتنا پیچیدہ حساب کتاب نہیں۔ لیکن مسئلہ یہاں یہ ہے کہ عوامی حمایت کی بات کریں تو موڈ فوراً خراب ہو جاتا ہے۔ ریاست کے معاملات اڈیالہ میں مقید خاص قیدی کے حوالے سے دیکھے جاتے ہیں۔ صرف پنجاب اور سندھ کا مسئلہ ہو پھر تو ٹھیک ہے جیسے چل رہا ہے چلتا رہے۔ مسئلہ تو بنا ہوا ہے دوسری قسم کی شورش کا جو مغربی صوبوں میں جاری ہے۔ خاطرخواہ نتائج حاصل ہونے کیلئے وہاں عوامی حمایت کی ضرورت ہے۔ یہ اٹل حقیقت سمجھ لینی چاہیے کہ بغیر عوامی حمایت کے کوئی شدت پسند تحریک کامیاب نہیں ہو سکتی۔ عوامی حمایت ساتھ ہو پھر ہی شدت پسندوں سے نمٹا جا سکتا ہے۔ نامور تحریریں گوریلا جنگوں کے بارے میں کون سی ہیں؟ چیئرمین ماؤ کی سب سے آزمودہ تحریر ہے۔ اُنہوں نے صرف اس بارے لکھا نہیں بلکہ گوریلا جنگ کی کمان بھی کی۔ پڑھ لیجیے کہ وہ کیا کہتے ہیں۔ ویتنام جنگ کا مطالعہ ہونا چاہیے۔ ساتھ پڑوس میں جو طالبان کی تحریک امریکہ کے خلاف تھی اُس کے مطالعے سے بہت کچھ حاصل ہو سکتا ہے۔ طالبان حکومت سے ہمارے تعلقات خراب ہیں‘ وہ الگ بات ہے لیکن سترہ سال پر محیط مزاحمت کے نتیجے میں اُنہوں نے امریکیوں کو شکست دی۔ یہ کوئی چھوٹی بات نہیں۔ اس کا بغور جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ ہم پنجاب والے بے خبری کی نیند سو رہے ہیں۔ ہمیں کیا ادراک اُس کا جو کچھ دریائے سندھ کے پار اور دور بلوچستان میں ہو رہا ہے۔ خطرے کی گھنٹیاں بج رہی ہیں اگر سننے کی سکت ہو۔ پر جو چہرے سامنے ہیں اُن سے کیا توقع کی جا سکتی ہے۔ اپنے بَل پر تو بیٹھے نہیں کسی اور کے مرہونِ منت ہیں‘ یہ سب کو معلوم ہے۔ حالات ایسے اور سامنے کی قیادت لاچار۔ ہم جیسے دعا ہی کر سکتے ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_80573045.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>وزیر بدلنے کا موسم آن پہنچا؟(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-07-15/52298/65411193</link><pubDate>Wed, 15 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-07-15/52298/65411193</guid><description> بہت لوگ پوچھتے ہیں کہ کابینہ میں کیا تبدیلیاں ہو رہی ہیں؟ کون آ رہا ہے اور کون جا رہا ہے؟ اب کس کا سورج ڈوبنے اور کس کا طلوع ہونے والا ہے؟ یہ وہ سوال ہے جو میں 2002ء کے بعد سے اکثر سنتا رہتا ہوں۔ کبھی اس سوال کا جواب ڈھونڈنے یا جواب دینے میں جو جوش و جذبہ ہوتا تھا‘ وہ وقت کے ساتھ ساتھ دم توڑ گیا۔ مجھے ان برسوں میں ایک پیٹرن سمجھ میں آ گیا کہ ہر حکومت کو دو تین سال کے بعد کیوں وزیر تبدیل کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے یا اس بارے میں خبریں پھیلنا یا پھیلانا شروع کی جاتی ہیں۔ پہلے تو یہی سمجھتا تھا کہ اس مشق کا مقصد واقعی بری کارکردگی والے وزیروں کو گھر بھیج کر سبق سکھانا ہے کہ وہ ڈِلیور نہیں کر سکے اور ان  کی جگہ نئے وزیر لائے جائیں گے۔ اس پورے عمل میں دو تین ماہ کا وقت لگتا تھا کہ تمام وزیر اچانک متحرک ہو جاتے تھے‘ وہی وزیر جو کئی کئی ماہ پارلیمنٹ کے وقفۂ سوالات میں نظر نہیں آتے تھے اور اپنی جگہ اپنی وزارت کے پارلیمانی سیکرٹری کو بریف کر کے ہاؤس میں بھیج دیتے تھے کہ یار تم ہی سنبھال لو یہ کون سا ایسا کام ہے جس کیلئے میرا ہاؤس میں ہونا ضروری ہے۔ وہ اب خود ہاؤس میں روز بیٹھنا شروع کر دیتے ہیں۔ پہلے وہی وزیر کمیٹی اجلاسوں میں وزیرِ مملکت کو بھیج دیتے تھے یا سیکرٹری کے ذریعے کہلوا بھیجتے کہ وزیر صاحب کو اچانک وزیراعظم نے بلا لیا ہے۔ یہ بڑا مشہور اور مستند بہانہ ہے جو اکثر کمیٹی اجلاسوں میں وزیر صاحبان کے نہ آنے پر وزارت کا سیکرٹری اجلاس کے سینیٹرز یا ایم این ایز کے سامنے پیش کرتا ہے۔آج بھی یہی بہانہ چلتا ہے اور چیئرمین کمیٹی دب جاتا ہے کہ وزیراعظم کے نام پر وہ بھلا کیا کہے کہ وہ ان سے ملنے کیوں چلا گیا اور اس اہم اجلاس میں شریک نہیں ہوا جس کا نوٹس ایک ماہ پہلے سے دیا گیا تھا۔ کسی سینیٹر یا کمیٹی چیئرمین نے بھی وزیراعظم ہاؤس سے کبھی چیک کرنے کی زحمت نہیں کی آیا کہ وزیراعظم نے وزیر کو واقعی بلوا لیا تھا یا ممبران کو گولی دی گئی۔اب تو قومی اسمبلی میں ہر دوسرے روز کورم کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے اور ہاؤس کی کارروائی معطل ہو جاتی ہے۔ کچھ ارکان سے پوچھا تو ہنس کر کہنے لگے: رؤف صاحب ہم سے تو پوچھ رہے ہیں‘ ذرا وزیراعظم صاحب سے بھی پوچھیں‘ وہ کتنی دفعہ اس سال اجلاس میں شریک ہوئے یا جنہیں انہوں نے وزیر‘ ڈپٹی وزیر یا پارلیمانی سیکرٹری بنا رکھا ہے وہ ہاؤس میں موجود رہیں تو بھی اجلاس معطل نہیں ہوگا۔ یوں جو وزیر بن جاتے ہیں وہ اس لیے ہاؤس کو سنجیدہ نہیں لیتے کہ بھلا اب ان کا کیا کام۔ جب وزیراعظم خود پورا سال پارلیمنٹ سے دور رہے گا تو پھر وزیروں کو کیا ڈر۔ وہی بات کہ کسی دفتر کا افسر اگر صبح نو بجے اپنے دفتر موجود ہوگا تبھی ملازم نو بجے پہنچیں گے۔ اگر افسر ہی گیارہ بجے آئے گا یا بالکل نہیں آئے گا تو وہ اخلاقی جواز کھو بیٹھتا ہے۔ اس لیے جو ارکان وزیر نہیں بن سکتے‘ وہ دھیرے دھیرے حکومت سے کورم کا مسئلہ پیدا کر کے بدلہ لیتے ہیں۔ اب تبدیلی کی خبروں کے ساتھ وزیر ایکٹو ہو جائیں گے۔ یہی وزیر اب باخبر صحافیوں کو فون کر کے پوچھیں گے کہ ان کا نام تو اس فہرست میں شامل نہیں ہے جنہیں ہٹانا ہے۔ جو وزیر بننا چاہتے ہیں‘ وہ بھی متحرک ہو جاتے ہیں اور وہ اپنے دوست صحافیوں کے ذریعے خبریں لگوائیں گے یا ٹکر چلے گا کہ فلاں کا نام بھی وزارت کیلئے سوچا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد وزیراعظم یا ان کے قریبی حلقے تک پیغام پہنچانا ہے: ہم بھی تو پڑے ہیں راہوں میں۔ اس دوران جو زیادہ سنجیدہ اور سمجھدار ہوتے ہیں وہ وزیراعظم کے خاندان کے لوگوں کو اپروچ کرتے ہیں یا بڑے گھر کی سفارشیں کام آتی ہیں۔ خود وزیراعظم کو نئے سرے سے اپنے وزیروں سے حلفِ وفاداری لینے کا موقع مل جاتا ہے۔ پارٹی لیڈر بھی ایکٹو ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ کون جائے گا اور کون بچے گا۔ یوں پوری حکومت کا فوکس‘ اور اس سے بڑھ کر میڈیا اور پورے ملک کی توجہ اس ایشو پر ہو جاتی ہے کہ کابینہ میں تبدیلی کب اور کیسے ہو رہی ہے۔ ٹی وی چینلز کے پروگرامز اور سوشل میڈیا بلکہ میرے جیسے کالم نگاروں کو بھی نیا موضوع مل جاتا ہے اور توجہ حکومت کی نااہلی اور کرپشن سے ہٹ کر چند وزیروں کی تبدیلی پر مرکوز ہو جاتی ہے۔ اگر دو وزیروں کو ہٹایا بھی جاتا ہے تو انہیں صرف ایک وزارت سے ہٹا کر دوسری وزارت میں بھیج دیا جاتا ہے۔ کوئی نہیں پوچھتا کہ اگر ایک وزیر کسی ایک وزارت میں کام نہ کر سکا تو دوسری وزارت میں کیا کر لے گا؟ اس دوران ایک دو نئے سفارشی چہرے بھی کابینہ میں ڈال دیے جاتے ہیں اور اس کے ساتھ لوگوں اور میڈیا کو پیغام چلا جاتا ہے کہ دیکھنا اب وزیراعظم اور ان کی ٹیم کیسی توپ چلاتی ہے جو پچھلے دو تین سالوں میں نہیں چلا سکی تھی۔ انسانی مزاج ہے کہ وہ ایسی تبدیلیوں سے نئی امیدیں باندھ لیتا ہے اور اپنے پچھلے دکھ درد بھول جاتا ہے۔ یہی حال پانچ سال کے بعد نیا وزیراعظم اور اس کی نئی کابینہ بننے پر ہوتا ہے کہ عوام‘ اپوزیشن اور میڈیا کچھ ماہ آرام سے بیٹھ جاتے ہیں کہ چلیں دیکھتے ہیں نئی حکومت کیا کرشمے دکھا تی ہے ‘ ابھی اسے کچھ نہیں کہتے۔ اسے ہنی مون پیریڈ کہا جاتا ہے‘ لیکن حکومتوں کے ذہن میں کچھ کرنے کا جذبہ کم ہی ہوتا ہے اور جب دیکھتے ہیں کہ عوام کا دو ڈھائی سال کے بعد پیمانۂ صبر لبریز ہو رہا ہے تو پھر وہ خبر چلواتے ہیں کہ وزیراعظم نے اپنی کابینہ میں تبدیلی کا فیصلہ کر لیا ہے۔ وزارتوں کی کارکردگی پر بریفنگ ہوگی اور پھر قسمت کا فیصلہ ہوگا۔میں آپ کو ماضی سے مثالیں دے کر بور نہیں کرنا چاہتا ورنہ آپ کو پورا پیٹرن سمجھ میں آ جاتا کہ ان وزیروں کی تبدیلیوں کی خبروں کے پیچھے کیا اصل محرکات ہوتے ہیں اور کیسے وزیروں کو ایک دوسرے کے کپڑے اور جوتے پہنا کر عوام کو خوش کر دیا جاتا ہے کہ دیکھا! ہم نے نالائقوں کی وزارتیں بدل دی ہیں۔ اب عوام اور میڈیا کچھ دن اپنے گھوڑے چھاؤں کے نیچے باندھیں۔ مجھے ایک بات پر ہنسی آتی ہے کہ 2010ء میں اٹھارہویں ترمیم کے بعد اسلام آباد میں کتنے وزیروں کی ضرورت رہ گئی ہے؟ اس وقت چالیس سے زائد وزارتیں ہیں جو وفاقی حکومت نے ختم کرنی تھیں کیونکہ سب کچھ صوبوں کو منتقل کر دیا گیا تھا۔ میرے حساب سے اسلام آباد میں آپ کو زیادہ سے زیادہ دس وزیروں کی ضرورت ہے لیکن اس وقت پچاس سے زائد وزیر‘ ڈپٹی وزیر‘ مشیر‘ معاونِ خصوصی اور یار دوست کابینہ میں بیٹھے ہیں۔ ایک ایک وزارت میں ایک وفاقی وزیر‘ ایک وزیرِ مملکت‘ ایک مشیر‘ ایک معاونِ خصوصی اور ایک پارلیمانی سیکرٹری ہے۔ ان سب کا کام دیکھ لیں تو آپ حیران ہوں گے کہ اس وزارت میں اٹھارہویں ترمیم کے بعد جو کام بچ گیا ہے وہ ایک سیکشن آفیسر یا کلرک کے کرنے کا ہے کیونکہ وفاقی حکومت کی چند وزارتیں چھوڑ کر باقی کا دائرہ کار صرف چوبیس کلومیٹر پر محیط ہے‘ جس پر اسلام آباد قائم ہے۔ چوبیس کلومیٹر کے شہر پر حکومت کیلئے پچاس ساٹھ وزیر اور مشیر ہیں۔ اگر اچھے قابل وزیروں کی ضرورت ہے تو وہ صوبوں میں ہے‘ جہاں اصل طاقت اور اختیارات سولہ سال پہلے ٹرانسفر کر دیے گئے تھے۔ صوبوں میں نئی وزارتیں بنائی گئیں اور ساتھ میں وفاقی حکومت میں وزارتیں کم کرنے کے بجائے الٹا وزیروں کی تعداد بڑھا دی گئی۔فیملی فرینڈز پیکیج میں اپنے رشتہ داروں کے ساتھ ساتھ یار دوست بھی وزیر بنا دیے جاتے ہیں اور جب حاکموں کو لگتا ہے کہ شاہی کشتی پر بوجھ بڑھ رہا ہے تو دو ڈھائی سال کے بعد وزیروں کی ایک دوسرے کی وزارتوں کے ساتھ تبدیلی کی خبریں لیک ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ مقصد عوام کو نئے ٹرک کی پرانی بتی کے پیچھے لگانا ہوتا ہے۔ آج کل اسلام آباد وہی موسم آیا ہوا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>یونیورسٹیاں کب تک لاوارث رہیں گی؟(شاہد صدیقی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-siddiqui/2026-07-15/52299/30787374</link><pubDate>Wed, 15 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-siddiqui/2026-07-15/52299/30787374</guid><description>پاکستان کی جامعات متعدد مسائل کا شکار ہیں جن میں فنڈز کی عدم دستیابی‘ داخلوں میں کمی‘ غیر مؤثر گورننس اور ڈگریوں کا گرتا ہوا معیار شامل ہیں‘ لیکن ان کے علاوہ بھی ایک مسئلہ ایسا ہے جو باقی تمام مسائل پر اثر انداز ہوتا ہے۔ یہ مسئلہ ہے جامعات کو ایڈہاک بنیادوں پر چلانے کا رواج۔ پاکستان کی کئی جامعات باضابطہ وائس چانسلر کے بجائے قائم مقام یا اضافی چارج رکھنے والے کسی وائس چانسلر کے زیرِ انتظام ہوتی ہیں‘ کبھی مہینوں کیلئے تو کبھی برسوں کیلئے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ تقرری کا عمل جان بوجھ کر سست رکھا جاتا ہے۔ صوبوں میں یہ عمل سرچ کمیٹی‘ صوبائی ہائر ایجوکیشن کمیشن‘ محکمہ اعلیٰ تعلیم‘ وزیراعلیٰ ہاؤس اور گورنر ہاؤس سے گزرتا ہے۔ وفاقی جامعات کیلئے اس میں وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن‘ وزارتِ تعلیم اور صدرِ مملکت کا سیکرٹریٹ بھی شامل ہوتے ہیں۔ ان میں سے کسی بھی مرحلے پر فائل مہینوں تک بغیر کسی جوابدہی کے پڑی رہ سکتی ہے۔ اس کا نتیجہ وہ صورتحال ہے جسے خودکار نظام کہا جا سکتا ہے۔ چونکہ ایکٹنگ وائس چانسلر کا چارج عارضی ہوتا ہے اس لیے اس کا اختیار بھی عارضی رہتا ہے۔ قائم مقام وائس چانسلر کوئی اہم اور دور رس فیصلہ کرنے کا مجاز نہیں‘ چاہے وہ طویل المیعاد تعلیمی یا تعمیراتی منصوبہ ہو یا یونیورسٹی میں اہم تقرریاں ہوں۔اکثر قائم مقام وائس چانسلرز کی مسلسل یہ کوشش ہوتی ہے کہ عارضی چارج کو کیسے طول دیا جائے اور کیسے اسے مستقل چارج میں بدل دیا جائے۔ اسی لیے جامعات کے اکثر قائم مقام سربراہ عموماً ایسے فیصلوں سے گریز کرتے ہیں جو غیرمقبول ہوں‘ جیسے نااہل فیکلٹی کے خلاف تادیبی کارروائی‘ داخلوں میں دباؤ کا مقابلہ یا مالیاتی معاملات میں سختی۔ اس کے برعکس ان کی توجہ میرٹ کے برعکس ترقیوں‘ ایڈہاک تقرریوں کو مستقل کرنے اور دیگر رعایات کی طرف ہوتی ہے۔ ان سب مقبولِ عام اقدامات کا مقصد یونیورسٹی میں ملازمین کے گروہوں کی حمایت حاصل کرنا ہوتا ہے۔ یہ حمایت ان کے خواب کی تعبیر حاصل کرنے میں مدد گار ثابت ہو سکتی ہے۔ ایسے ایڈہاک انتظامات کی قیمت تین گروہوں کو چکانا پڑتی ہے۔ یونیورسٹی‘ فیکلٹی اور طلبہ۔ یونیورسٹی کی ترقی کا سفر رک جاتا ہے۔ حکمتِ عملی کے منصوبے جامد ہو جاتے ہیں۔ تعلیمی معیار گر جاتے ہیں۔ ملازمین طویل غیریقینی صورتحال میں زندگی گزارتے ہیں۔ ترقیاں اور معمول کی منظوریاں مؤخر ہوتی رہتی ہیں اور بدترین صورت میں وزٹنگ فیکلٹی کی تنخواہیں اور پنشن مہینوں تک ادا نہیں ہوتیں کیونکہ کوئی بھی اس ذمہ داری پر دستخط کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔ سب سے زیادہ نقصان طلبہ کو اٹھانا پڑتا ہے جنہیں ایڈہاک ازم کی سزا ہر قدم پر ملتی ہے۔اہم بات یہ ہے کہ اس ساری صورتحال سے آسانی سے بچا جا سکتا ہے۔ جس تاریخ کو کسی وائس چانسلر کی مدت ختم اور اسامی خالی ہونی ہوتی ہے‘ وہ برسوں پہلے سے معلوم ہوتی ہے۔ یہ تاریخ تقرری کے پہلے دن ہی تقرر نامے میں درج ہوتی ہے۔ ایسی کوئی واضح وجہ نظر نہیں آتی کہ جانشین کی تلاش چھ مہینے پہلے کیوں شروع نہیں کی جا سکتی تاکہ نیا وائس چانسلر اُسی ہفتے چارج سنبھال لے جس ہفتے پرانا وائس چانسلر رخصت ہو۔ لیکن ایسا شاذ و نادر ہی ہوتا ہے۔ یہ صورتحال اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ معاملہ محض انتظامی نہیں اکثر سرکاری فیصلہ ساز مستقل سربراہ کے بجائے ایک لچکدار قائم مقام سربراہ کو ترجیح دیتے ہیں۔اپریل 2024ء میں جامعات کے اساتذہ کی جانب سے سپریم کورٹ میں ایک رِٹ پٹیشن دائر کی گئی جس میں کہا گیا کہ ملک کی بڑی تعداد میں سرکاری جامعات مستقل وائس چانسلرز کے بغیر کام کر رہی ہیں۔ اگلے مہینے ایچ ای سی کی جانب سے عدالت میں جمع کرائے گئے بیان میں بتایا گیا کہ ملک کی 154 سرکاری جامعات میں سے 66‘ یعنی تقریباً 43 فیصد بغیر کسی باقاعدہ مقرر کردہ سربراہ کے تھیں‘ اور وفاقی حکومت کی اپنی 29 جامعات میں سے پانچ قائم مقام چارج پر تھیں۔ یہ عدالت کیلئے کوئی نئی بات نہیں تھی۔ عدالت پہلے ہی عامر رضا اشفاق بنام منہاج احمد خان (2012ء) کے مقدمے میں یہ قرار دے چکی تھی کہ وائس چانسلر کا عہدہ خالی نہیں چھوڑا جانا چاہیے کیونکہ اس تقرری میں تاخیر جامعہ کے کام کاج پر منفی اثر ڈالتی ہے۔ عدالت نے حکام کو تین ماہ کے اندر خالی اسامیاں پُر کرنے کی ہدایت دی۔ کچھ جامعات نے عمل کیا‘ بیشتر نے نہیں کیا۔دو سال بعد ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین کو تقریباً وہی بات دوبارہ کہنا پڑی۔ فروری 2026ء کو ایچ ای سی کے چیئرمین ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے ہر جامعہ کو خط لکھا جس میں وائس چانسلر‘ رجسٹرار‘ ٹریژرر اور فیکلٹی کی اسامیوں کے دائمی طور پر پُر نہ ہونے کو مستقل نوعیت کی گورننس کی ناکامی قرار دیا۔ خط کی بنیاد بننے والے ایک سروے کے مطابق ملک بھر میں فیکلٹی اور انتظامی اسامیوں میں سے تقریباً 40 فیصد خالی پائی گئیں۔ جامعات کو بھرتی مکمل کرنے کیلئے 15 اگست 2026ء تک کی مہلت دی گئی ورنہ انتظامی اور ریگولیٹری نتائج بھگتنے کی وارننگ دی گئی۔ کیا یہ ڈیڈ لائن 2024ء کی سپریم کورٹ کی ہدایت سے بہتر نتیجہ دے گی‘ یہ دیکھنا ابھی باقی ہے۔ آئیے تعلیمی ایڈہاک ازم کے حوالے سے وفاقی جامعات کی صورتحال دیکھتے ہیں۔ پاکستان کی نمایاں ترین جامعات میں سے ایک قائداعظم یونیورسٹی چھ فروری 2026ء کو اپنے ریگولر وائس چانسلر سے محروم ہوئی‘ جب یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر نیاز احمد اختر ایچ ای سی کے چیئرمین کے عہدے پر ترقی پا گئے۔ اس کے بعد دو ماہ تک یونیورسٹی کا کوئی سربراہ نہیں تھا‘ نہ قائم مقام اور نہ مستقل۔ سات اپریل کو پروفیسر جسپال کو تین ماہ کیلئے قائم مقام وائس چانسلر مقرر کیا گیا۔ نتیجہ یہ کہ پانچ ماہ سے زائد گزرنے کے باوجود قائداعظم یونیورسٹی مستقل وائس چانسلر کے بغیر چل رہی ہے۔ایک اور وفاقی یونیورسٹی‘ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی کہانی بھی ملتی جلتی ہے۔ ڈاکٹر معصوم یٰسین زئی کی بطور ریکٹر مدت 2023ء میں ختم ہوئی۔ ان کی جانشین ریکٹر ڈاکٹر ثمینہ ملک تھیں‘ ان کو ایک سال کے اندر ہی 2024ء میں معطل کر دیا گیا جب سپریم کورٹ نے ان کی تقرری کو غیرقانونی قرار دیا۔ ایچ ای سی کے چیئرمین ڈاکٹر مختار احمد نے اس کے بعد قائم مقام ریکٹر کا چارج سنبھالا۔ یوں دو سال گزرنے کے باوجود اسلامی یونیورسٹی کو مستقل ریکٹر نہیں مل سکا۔ایک تیسری وفاقی یونیورسٹی نیشنل سکلز یونیورسٹی کی کہانی سب سے زیادہ دلچسپ ہے۔ اس کے بانی وائس چانسلر پروفیسر محمد مختار نے 2019ء سے 2023ء تک خدمات انجام دیں‘ تب سے اب تک یعنی پچھلے تین برسوں سے یہ یونیورسٹی قائم مقام بنیادوں پر چلائی جا رہی ہے۔ جہاں نظام کام کرتا ہے وہاں بھی شاذ و نادر ہی بروقت کام کرتا ہے۔ اس کی ایک مثال ورچوئل یونیورسٹی ہے۔ ورچوئل یونیورسٹی آف پاکستان کو جون 2026ء میں مستقل ریکٹر ملا جنہیں صدرِ مملکت نے چار سالہ مدت کیلئے مقرر کیا‘ مگر یہ تقرری پندرہ ماہ کے عبوری چارج کے بعد ہوئی جو مارچ 2025ء میں شروع ہوا تھا۔ اگر اسے انتظامی کامیابی سمجھا جائے تو یہ خود اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ ہمارا معیار کتنا گر چکا ہے۔اس ساری صورتحال کو درست کرنا مشکل نہیں۔ نہ ہی اس کیلئے کسی اضافی فنڈ کی ضرورت ہے۔ صرف اتنا درکار ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں وائس چانسلر کی تقرری کا بروقت اہتمام کریں۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ تلاش کا عمل جلدی شروع کیا جائے کہ اقتدار کی منتقلی براہِ راست ہو سکے‘ اور رخصت ہونے والے اور نئے وائس چانسلر کے درمیان مناسب بریفنگ کیلئے وقت میسر ہو۔ یوں حکومت وائس چانسلرز کی تقرری کے عمل کو باقاعدہ اور بروقت بنا کر جامعات میں تعلیمی معیار کی بہتری یقینی بنا سکتی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_21538475.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>خلیج پر منڈلاتے خطرات(سلمان غنی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/salman-ghani/2026-07-15/52300/95502470</link><pubDate>Wed, 15 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/salman-ghani/2026-07-15/52300/95502470</guid><description>امریکہ اور ایران میں جنگ بندی‘مذاکراتی عمل اور بعد ازاں پاکستان اور قطر کی مدد ومعاونت سے طے پانے والی مفاہمتی یادداشت‘ جسے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کا نام دیا گیا ‘ پر دنیا بھر نے سکھ کا سانس لیا اور طے پایا کہ اس مفاہمتی عمل کے تحت اگلے 60 روز میں تنازعات کے حل کیلئے ایک واضح ایجنڈا سامنے آئے گا‘ جس پر عمل پیرا ہو کر معاملات حل ہوں گے۔ مفاہمتی معاہدے کے وقت بعض حلقوں کی جانب سے معاہدے کے حوالے سے خدشات کا اظہار بھی کیا جا رہا تھا لیکن سفارتی اور ثالثی عمل میں متحرک ممالک مطمئن تھے کہ جنگ کے خطرات ختم ہوں گے اور معاملات آگے چلیں گے۔ کچھ حلقے اس معاہدے کو اس لیے ہدف بناتے دکھائی دے رہے تھے کہ انہیں یہ امن عمل ہضم نہیں ہو رہا تھا اور وہ اسے اپنے عزائم میں بڑی رکاوٹ سمجھتے تھے‘ ان میں اسرائیل سرفہرست تھا جس نے معاہدے کے بعد لبنان اور غزہ پر بمباری کا سلسلہ جاری رکھا اور اس کے اس عمل پر ایران کو شدید تحفظات تھے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ معاہدے پر ہونے والی پیش رفت کے باوجود‘ اپنے مخصوص انداز میں ایران اور اس کی لیڈرشپ کو ٹارگٹ کرتے اور دھمکیاں دیتے رہے‘ جس سے معاہدے کے باوجود کشیدگی کی فضا قائم رہی۔ ایران اور امریکہ کے مابین اعتماد کی خلیج‘ جو دہائیوں سے حائل تھی‘ اس میں کمی آتی نظر نہیں آ رہی تھی اور معاہدے کے باوجود آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے مسئلے پر دونوں ملکوں کے درمیان پائیدار امن کے امکانات بہت کم نظر آتے تھے۔ صدر ٹرمپ اور ایرانی قیادت‘ دونوں جانب سے جنگ بندی کو ختم کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے اور فریقین کھلم کھلا ایک دوسرے کے خلاف اپنے عزائم کا اظہار کرتے اور ایک دوسرے کے خلاف ممکنہ اقدامات کرتے نظر آ رہے ہیں۔ اس تناظر میں پاکستان کیلئے پریشانی یہ ہے کہ جنگی رجحانات کے اثرات براہِ راست خطے میں تناؤ اور ٹکراؤ کا باعث بن رہے ہیں اور اس کا براہِ راست اثر علاقائی امن واستحکام اور پٹرولیم کی قیمتوں پر پڑے گا۔ نئی پیدا شدہ صورتحال نہ صرف پہلے سے زیادہ تشویشناک ہے بلکہ اب مزید خطرناک صورت اختیار کرتی نظر آ رہی ہے۔ آبنائے ہرمز کی دو طرفہ ناکہ بندی ہو چکی ہے اور توانائی کی رسد معطل ہو گئی ہے۔ اسرائیل اور اس کے کئی حامی‘ جو پہلے ہی سے اس معاہدے کو ناکام بنانے کیلئے کوشاں تھے‘ موجودہ صورتحال پر بہت خوش نظر آتے ہیں۔ ان کے علاوہ فریقین کے اندر بھی بعض ایسے عناصر سرگرم تھے جو اس معاہدے کو غیر حقیقت پسندانہ قرار دیتے ہوئے اس پر اثر انداز ہونے کیلئے کوشاں تھے۔ جب دنیا میں معاہدے پر خوشی اور اطمینان کا اظہار ہو رہا تھا تو دونوں ممالک کے بعض حکومتی ذمہ داران اور بعض انتہا پسند عناصر اس کی ناکامی کیلئے سرگرم تھے اور اب وہ جنگ و جدل کے سماں پر اطمینان ظاہر کرتے نظر آ رہے ہیں حالانکہ انہیں خود بھی نہیں معلوم کہ آنے والے حالات میں تناؤ اور ٹکراؤ کا یہ رجحان خود دونوں ممالک کیلئے کس قدر خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔جہاں تک مذکورہ صورتحال میں پھر سے ثالثی اور سفارتی کوششوں کا سوال ہے تو پاکستان اور قطر مذکورہ صورتحال کے توڑ کیلئے دوبارہ سرگرم نظر آ رہے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر خلیج کی لیڈرشپ سمیت دنیا کے دیگر حکمرانوں سے رابطہ کرتے اور انہیں اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنے پر زور دے رہے ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو دونوں ممالک میں اصل ایشو آبنائے ہرمز میں جہاز رانی ہے۔ اس مسئلے نے پائیدار امن کے امکانات کو بہت کم کر دیا ہے۔ امریکہ کا دعویٰ ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کے ذریعے کمرشل جہازوں کی آزادانہ آمدورفت میں خلل ڈال رہا تھا۔ ایران کا مؤقف ہے کہ جس ایم او یو پر صدر ٹرمپ نے دستخط کیے‘ اس کے تحت 60 دن کیلئے آبنائے ہرمز سے کمرشل بحری جہازوں اور آئل ٹینکروں کو بحفاظت گزارنے کی ذمہ داری ایران پر تھی اور ایران نے جہازوں کی آمدورفت کیلئے سمندری حدود میں ایک راستہ متعین کر رکھا تھا۔ اس راستے کو چھوڑ کر دیگر راستے اپنانا ایم او یو کی صریح خلاف ورزی تھی اور اسی خلاف ورزی پر ایران نے بعض بحری جہازوں پر ڈرون گرائے مگر ایران کی یہ کوشش عالمی امن کو بھاری پڑی اور فریقین کے مابین پھر سے جنگی ماحول پیدا ہو گیا۔ اس وقت امریکہ ایران کے اہم اہداف کو ٹارگٹ کرتا نظر آ رہا ہے اور ایران گلف کے مختلف ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملہ آور ہے۔ مذکورہ صورتحال نے پھر سے علاقائی امن کیلئے بہت سے خطرات و خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ خصوصاً پاکستان کو اس وقت ایک بڑا چیلنج درپیش ہے۔ ایک طرف ہر آنے والا دن امریکہ‘ ایران کے درمیان تناؤ میں اضافہ کر رہا ہے تو دوسری طرف پھر سے پس پردہ رابطوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اب بڑا سوال یہی ہے کہ پس پردہ رابطوں کا سلسلہ نتیجہ خیز بن پائے گا؟ اگر پھر سے یہ رابطے مؤثر ہوتے ہیں اور فریقین کو پھر سے جنگ بندی پر آمادہ کر لیا جائے تو اس کی کامیابی کی کیا ضمانت ہو سکتی ہے؟ اب تک ہونے والے رابطے اسی صورت میں نتیجہ خیز ہو سکتے ہیں کہ جب فریقین کشیدگی میں مزید اضافے سے گریز برتنا چاہیں اور محدود مگر قابلِ قبول حکمتِ عملی پر اتفاق ہو جائے۔اگر زمینی حقائق کا جائزہ لیا جائے تو بڑی سیاسی حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اور ایران میں بداعتمادی عروج پر ہے اور دونوں اپنے اندرونی دباؤ کے باعث ایک دوسرے کے خلاف سخت مؤقف اختیار کر رہے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ فریقین کی لیڈر شپ اپنی مقبولیت پر کمپرومائز کرنے کو تیار نہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ کیلئے بڑی فکر یہ ہے کہ انہیں نومبر میں مڈٹرم انتخاب کا سامنا ہے اور ایران کے خلاف جارحیت کے نتیجے میں یہ تاثر پیدا نہیں ہو سکا کہ امریکہ کو فتح ملی ہے بلکہ الٹا یہ تاثر نمایاں رہا کہ اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران پر حملے کے نتیجے میں ان کی پوزیشن متاثر ہوئی اور وہ پھنسے نظر آ رہے ہیں۔ اسی بنیاد پر صدر ٹرمپ پر نفسیاتی کیفیت طاری ہے اور وہ جلد از جلد بڑی کامیابی کے خواہاں ہیں‘ جو فی الحال نظر نہیں آ رہی۔ دوسری جانب ایران کا عالم یہ ہے کہ بڑے پیمانے پر مالی وجانی نقصان کے باوجود وہ پسپائی پر تیار نہیں۔ شہید رہبر اعلیٰ سید علی خامنہ ای کے جنازے میں لاکھوں کی تعداد میں عوامی شرکت کے نتیجے میں نہ صرف یہ کہ ایرانی حکومت مزید مضبوط ہوئی ہے بلکہ قومی اتحاد ویکجہتی کا تاثر بھی پختہ ہوا ہے۔ ایران سے باہر بھی دنیا پر یہ حقیقت نمایاں ہے کہ ایران کی اصل طاقت ایرانی قوم ہے‘ جس کے جذبے اور ولولے کا اعتراف خود صدر ٹرمپ کو بھی کرنا پڑا۔ لہٰذا جب امریکہ اور ایران اپنے اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور مفاہمتی عمل پر کاربند نہیں ہوں گے تو معاملات کیسے حل ہو سکتے ہیں۔ ادھر خلیجی ممالک بھی شدید تشویش میں مبتلا نظر آتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اگر لڑائی کا یہ سلسلہ وسیع ہو گیا تو پورا خطہ عدم استحکام سے دوچار ہوگا اور اگر امریکہ سمجھے کہ اس کے مفادات یا اتحادیوں کو مسلسل خطرہ لاحق ہے تو وہ دباؤ کو برقرار رکھنے کا فیصلہ بھی کر سکتا ہے۔ وہ کسی طور پر نہیں چاہے گا کہ اس کی عالمی اہمیت وحیثیت پر حرف آئے اور اس کے علاقائی اتحادیوں پر اس کی کمزوری عیاں ہو۔ اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ فریقین کو اندرونی و بیرونی چیلنجز درپیش ہیں۔ تاہم پاکستان‘ قطر اور سعودی عرب کے علاوہ یورپی یونین اور چین بھی امریکہ‘ ایران ٹکراؤ کو دنیا کیلئے خطرناک گردانتے ہوئے دونوں ممالک کے مابین مفاہمت پر زور دے رہے ہیں۔ لہٰذا کہا جا سکتا ہے کہ سفارتکاری ناگزیر ہے کیونکہ مسلسل تصادم کسی بھی فریق کیلئے پائیدار حل نہیں ہو سکتا‘ خود پاکستان سمیت خطے کے ممالک کے مفاد میں بھی نہیں کہ امریکہ‘ ایران مذاکرات سے دور جائیں۔ اگر دونوں فریق پاکستان پر اعتماد کریں تو بات بن بھی سکتی ہے اور چل بھی سکتی ہے لیکن بنیادی فیصلے بالآخر دونوں ممالک کو خود ہی کرنے ہیں۔ پاکستان کی کوشش مفید تو ہو سکتی ہے لیکن کامیابی کا انحصار واشنگٹن اور تہران کی سیاسی آمادگی پر ہوگا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/230_37874475.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پٹرولیم قیمتوں میں شفافیت کا سوال(محمد حسن رضا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-hasan-raza/2026-07-15/52301/15285084</link><pubDate>Wed, 15 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-hasan-raza/2026-07-15/52301/15285084</guid><description>ہمارے ہاں پٹرول کی قیمت پر بحث عموماً ایک سادہ جملے سے شروع ہوتی ہے کہ متعدد ممالک کے مقابلے میں یہاں ایندھن اب بھی سستا ہے‘ حالانکہ کرنسی تبدیل کرکے تیار کی گئی فہرست کا موازنہ کسی شہری کی قوتِ خرید پر ایندھن کی قیمتوں کے بوجھ کا صحیح احاطہ نہیں کرتا۔ اصل سوال یہ ہے کہ ایک لٹر پٹرول خریدنے کیلئے اسے اپنی آمدن کا کتنا حصہ خرچ کرنا پڑتا ہے‘ اس کے پاس سفر کے سستے متبادل ذرائع کتنے ہیں اور قیمت میں نئے اضافے کے بعد اس کے گھر کا بجٹ کتنی مزید قربانی مانگتا ہے؟تازہ اضافے کے بعد پٹرول کی قیمت 310 روپے 71 پیسے فی لٹر اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت 323روپے 30پیسے فی لٹر ہو چکی ہے۔ ایک موٹر سائیکل سوار اگر روزانہ دو لٹر پٹرول استعمال کرتا ہے تو اس کا یومیہ خرچ تقریباً 621روپے بنتا ہے۔ اگر وہ مہینے میں 26دن دفتر‘ دکان یا فیکٹری جاتا ہے تو صرف پٹرول پر 16ہزار روپے سے زیادہ خرچ ہو سکتے ہیں جبکہ پانچ لٹر روزانہ استعمال کرنے والی چھوٹی گاڑی کا ماہانہ ایندھن خرچ 40 ہزار روپے سے تجاوز کر سکتا ہے۔ اس حساب میں انجن آئل‘ مرمت‘ ٹائر‘ ٹول ٹیکس‘ پارکنگ‘ رجسٹریشن اور گاڑی کی قسط شامل نہیں۔ کسی امیر ملک میں پٹرول پاکستانی روپے میں 400 یا 500 روپے فی لٹر بھی ہو سکتا ہے لیکن وہاں ایک ملازم کی فی گھنٹہ اجرت اتنی ہو سکتی ہے کہ وہ چند منٹ کام کرکے ایک لٹر پٹرول خرید سکتا ہے جبکہ پاکستان میں لاکھوں افراد کو ایک لٹر پٹرول خریدنے کیلئے کئی گھنٹوں کی آمدن خرچ کرنا پڑتی ہے۔ اس لیے حقیقی قیمت صرف شرح مبادلہ کے ساتھ نہیں بلکہ اجرت‘ قوتِ خرید‘ مہنگائی اور سفر کی مجبوری کے مجموعے سے سامنے آتی ہے۔ اگر کسی شخص کی ماہانہ آمدن 40 ہزار روپے ہے تو 50 لٹر پٹرول کی قیمت تقریباً 15 ہزار 535 روپے بنتی ہے۔ یوں اس کی آمدن کا تقریباً 39 فیصد صرف پٹرول پر خرچ ہو سکتا ہے۔ ایک لاکھ روپے کمانے والا شہری اگر مہینے میں 100 لٹر پٹرول استعمال کرے تو اسے 31 ہزار روپے سے زیادہ ادا کرنا ہوں گے۔ اب اسی رقم سے گھر کا کرایہ‘ بجلی اور گیس کے بل‘ بچوں کی فیس‘ راشن‘ ادویات اور دیگر اخراجات بھی پورے کرنے ہیں۔ اس تناظر میں یہ کہنا کہ پاکستان میں پٹرول کسی دوسرے ملک سے سستا ہے‘ ایک عام پاکستانی کی مالی مشکلات کو کم نہیں کرتا۔ پاکستان خام تیل اور تیار پٹرولیم مصنوعات درآمد کرتا ہے‘ اس لیے عالمی مارکیٹ کے نرخ‘ روپے اور ڈالر کی شرحِ مبادلہ‘ بحری کرایہ‘ انشورنس اور بندرگاہی اخراجات قیمت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس کے بعد ریفائنری مارجن‘ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا مارجن‘ ڈیلر کمیشن‘ اندرون ملک ترسیل اور حکومتی لیوی شامل ہوتی ہے۔ ان میں سے ہر جزو اپنی جگہ قابلِ فہم ہے لیکن صارف کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ حتمی قیمت میں کس مد کا حصہ کتنا ہے۔ وفاقی بجٹ میں پٹرولیم لیوی سے تقریباً 1676 ارب روپے وصول کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے جبکہ مزید 50 ارب روپے کلائمیٹ سپورٹ لیوی سے حاصل ہونے کی توقع ہے۔ دونوں کو جمع کیا جائے تو تقریباً 1726 ارب روپے بنتے ہیں۔ اسے 12 مہینوں پر تقسیم کیا جائے تو اوسطاً 143 ارب روپے سے زیادہ ماہانہ بنتے ہیں۔ پٹرولیم لیوی بذاتِ خود غیرقانونی یا لازماً نامناسب محصول نہیں۔ پاکستان کو بجٹ خسارے‘ قرضوں‘ دفاع‘ سرکاری تنخواہوں‘ پنشن اور ترقیاتی اخراجات کیلئے آمدن درکار ہے۔ براہِ راست ٹیکسوں کی محدود وصولی اور مختلف طاقتور شعبوں کو حاصل رعایتوں کے باعث حکومت کیلئے پٹرولیم مصنوعات سے محصول جمع کرنا نسبتاً آسان ہے۔ مگر انتظامی طور پر آسان ٹیکس ہمیشہ معاشی طور پر منصفانہ ٹیکس نہیں ہوتا۔ ایک بڑی گاڑی رکھنے والا امیر شخص اور موٹر سائیکل استعمال کرنے والا کم آمدن والا مزدور پٹرول پر ایک ہی شرح سے لیوی ادا کرتے ہیں‘ حالانکہ دونوں کی مالی برداشت میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ ایک شخص کیلئے پٹرول کی قیمت تفریحی سفر محدود کرنے کا سبب بن سکتی ہے جبکہ دوسرے کیلئے یہی اضافہ بچوں کی فیس‘ دوا یا دودھ کا بجٹ کم کر دیتا ہے۔ یہی بالواسطہ ٹیکسوں کا بنیادی مسئلہ ہے کہ ان کی شرح آمدن کے مطابق تبدیل نہیں ہوتی۔ جون 2026ء میں سالانہ مہنگائی 11.1 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ ایسے ماحول میں ایندھن کی نئی چھلانگ صرف ایک شے تک محدود نہیں رہتی بلکہ آئندہ ہفتوں اور مہینوں میں دیگر اشیا کے نرخ بڑھنے کا خطرہ بھی پیدا کرتی ہے۔ ہر اضافہ فوری طور پر اور مکمل مقدار میں صارف تک منتقل نہیں ہوتا۔ اس کا انحصار مارکیٹ کی طلب‘ تاجروں کے درمیان مقابلے‘ پرانے ذخیرے‘ ٹرانسپورٹ معاہدوں اور قیمت کے بلند رہنے کی مدت پر ہوتا ہے۔ تاہم پاکستان میں قیمتوں کے نفسیاتی اثرات اکثر حقیقی لاگت سے پہلے بازار تک پہنچ جاتے ہیں۔ اگر چند ہفتوں بعد ایندھن سستا بھی ہو جائے تو اشیائے ضروریہ کے نرخ عموماً اسی رفتار سے نیچے نہیں آتے۔ جولائی 2025ء سے مارچ 2026ء کے دوران پٹرولیم درآمدات 13.88 ملین ٹن تک پہنچ گئیں اور پٹرولیم کاسب سے زیادہ حصہ ٹرانسپورٹ کے شعبے نے استعمال کیا۔ مسافروں اور سامان کی نقل و حرکت کیلئے ملک کا غیرمعمولی انحصار سڑکوں پر ہے جبکہ ان سڑکوں پر جلنے والا تیل بڑی مقدار میں بیرونِ ملک سے آتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ‘ آبنائے ہرمز میں کشیدگی‘ بحری جہازوں کے کرایوں میں اضافہ‘ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت یا روپے کی قدر میں کمی چند دنوں یا ہفتوں میں پاکستانی صارف کو متاثر کر سکتی ہے۔ عالمی قیمت کم ہونے کے باوجود اگر روپیہ کمزور ہو جائے تو درآمدی لاگت بڑھ جاتی ہے۔ اسی طرح خام تیل مستحکم رہنے کے باوجود تیار شدہ ڈیزل یا پٹرول‘ فریٹ اور انشورنس مہنگے ہونے سے مقامی قیمت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ پاکستان عالمی درجہ بندی میں کہیں بھی کھڑا ہو‘ درآمدی انحصار اسے بیرونی جھٹکوں کے رحم و کرم پر رکھے گا۔ اس مسئلے کا مستقل حل سبسڈی نہیں‘ تیل کی طلب کم کرنا ہے۔ مال برداری کیلئے پاکستان ریلوے پر انحصار بڑھایا جائے تو ایک ہی ٹرین متعدد ٹرکوں جتنا سامان منتقل کر سکتی ہے۔ اس سے فی ٹن ایندھن کی کھپت‘ سڑکوں کی ٹوٹ پھوٹ‘ ٹریفک اور حادثات کم ہو سکتے ہیں۔ صنعتی علاقوں‘ بندرگاہوں اور زرعی منڈیوں کو مال گاڑیوں سے منسلک کرنا طویل مدت میں درآمدی تیل کا بل کم کرنے کی مؤثر حکمت عملی بن سکتی ہے۔ اس طرح شہری علاقوں میں پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم‘ پیدل چلنے کیلئے محفوظ راستے‘ سائیکل ٹریک اور پارک اینڈ رائیڈ سہولت شہریوں کو ذاتی گاڑیاں چھوڑنے کا موقع فراہم کر سکتی ہے۔ صرف چند مہنگے نمائشی منصوبے کافی نہیں‘ درمیانے اور چھوٹے شہروں میں کم خرچ‘ باقاعدہ اور وقت کی پابند بس سروس زیادہ لوگوں کو فائدہ پہنچا سکتی ہے۔ الیکٹرک موٹر سائیکلیں اور گاڑیاں بھی تیل کی طلب کم کرنے میں کردار ادا کر سکتی ہیں لیکن ان کی قیمت‘ بیٹری کی عمر‘ چارجنگ سہولت اور ری سائیکلنگ کا قابلِ اعتماد نظام بنانا ہوگا۔ پٹرولیم قیمتوں کی شفافیت کیلئے عالمی یا درآمدی قیمت‘ شرح مبادلہ‘ فریٹ چارجز‘ انشورنس‘ ریفائنری مارجن‘ آئل مارکیٹنگ کمپنی کا مارجن‘ ڈیلر کمیشن‘ پٹرولیم لیوی‘ کلائمیٹ لیوی اور حتمی قیمت الگ الگ لکھی جائے۔ گزشتہ قیمت کے مقابلے میں ہر جزو کا اضافہ یا کمی بھی ظاہر کی جائے۔ اس طرح عوام جان سکیں گے کہ قیمت عالمی منڈی سے بڑھی‘ روپے کی کمزوری سے یا حکومتی محصول میں تبدیلی سے۔ کلائمیٹ سپورٹ لیوی کے استعمال کی بھی سہ ماہی رپورٹ جاری ہونی چاہیے۔ اگر شہری ماحول کے نام پر رقم ادا کر رہا ہے تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ کتنی رقم الیکٹرک بسوں‘ ریلوے‘ صاف توانائی‘ سیلاب سے تحفظ‘ فضائی آلودگی یا شہری شجرکاری پر خرچ ہوئی اور پھر اس کے اثرات کیا آئے۔ اس محصول کو عمومی خزانے میں شامل کرکے اس کا مقصد غیر واضح کر دینا عوامی اعتماد کو نقصان پہنچائے گا۔ اسی طرح پٹرولیم لیوی کو ٹیکس اصلاحات کا مستقل متبادل نہیں بننا چاہیے۔ پٹرول کی قیمت کا حقیقی پیمانہ عالمی جدول نہیں بلکہ پاکستانی شہری کی جیب‘ آمدن اور زندگی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/229_33941343.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>قرآن مجید اور ہماری ذمہ داریاں(علامہ ابتسام الہٰی ظہیر )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-07-15/52302/80780614</link><pubDate>Wed, 15 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-07-15/52302/80780614</guid><description>اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسانوں کی رہنمائی کے لیے مختلف ادوار میں انبیاء کرام علیہم السلام کو معبوث فرمایا اور ان میں سے بعض جلیل القدر انبیاء کرام پر الہامی کتابوں کو بھی نازل کیا‘ جو وقت گزرنے کے ساتھ تبدیل ہو گئیں لیکن نبی کریمﷺ کے قلبِ اطہر پر نازل ہونے والی اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب قرآن مجید کا یہ اعزاز ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس کی حفاظت کا ذمہ خود لیا ہے۔ چنانچہ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الحجر کی آیت: 9 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;ہم نے ہی اس ذکر (قرآن) کو نازل فرمایا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں‘‘۔ قرآن مجید کا یہ پیغام قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کے لیے ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ التکویر کی آیت: 27 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;یہ تو تمام جہان والوں کے لیے نصیحت نامہ ہے‘‘۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف سے جمیع انسانیت کی رہنمائی کے لیے اترنے والی اس کتاب پر انسانیت کو مکمل توجہ دینی چاہیے لیکن ایک بہت بڑا المیہ ہے کہ انسانوں کی کثیر تعداد قرآن مجید کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے سے قاصر نظر آتی ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ قیامت کے دن نبی کریمﷺ کے اس شکوے کا قرآن مجید میں ذکر کرتے ہیں کہ وہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی بارگاہ میں اپنی قوم کی قرآن مجید سے دوری کا ذکر کریں گے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الفرقان کی آیت: 30 میں بیان فرماتے ہیں: &#39;&#39;اور رسول کہیں گے کہ اے میرے پروردگار! بیشک میری امت نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا‘‘۔اہلِ اسلام کو قرآن مجید کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کی بھرپور کوشش کرنی چاہیے۔ جب ہم قرآن مجید کا مطالعہ کرتے ہیں تو سمجھ میں آتا ہے کہ قرآن مجید کے حوالے سے ہم سب پر بہت سی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں‘ جن میں سے چند اہم درج ذیل ہیں:1۔ قرآن مجید پر ایمان لانا: قرآن مجید اللہ تبارک وتعالیٰ کی کتاب ہے اور اس کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونے میں کوئی شک نہیں ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ البقرہ کی آیت: 2 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;اس کتاب (کے اللہ کی کتاب ہونے) میں کوئی شک نہیں، (یہ) پرہیزگاروں کو راہ دکھانے والی ہے‘‘۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس حقیقت کو بھی واضح فرمایا کہ یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی ایک ایسی کتاب ہے جس کو علمائے بنی اسرائیل بھی اچھی طرح پہچانتے ہیں۔ قرآن مجید میں اہلِ کتاب کے اہلِ علم کی قرآن مجید کے حوالے سے معرفت کو سورۃ البقرہ کی آیت: 146 میں کچھ یوں بیان کیا گیا: &#39;&#39;جنہیں ہم نے کتاب دی ہے وہ تو اسے ایسے پہچانتے ہیں جیسے کوئی اپنے بیٹوں کو پہچانتا ہے اور ان کی ایک جماعت حق کو پہچان کر چھپاتی ہے‘‘۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الشعراء کی آیات: 192 تا 197 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;اور بے شک وشبہ یہ ( قرآن) رب العالمین کا نازل فرمایا ہوا ہے۔ اسے امانت دار فرشتہ لے کر آیا ہے۔ آپ کے دل پر اترا ہے کہ آپ آگاہ کر دینے والوں میں سے ہو جائیں۔صاف عربی زبان میں۔ اگلے نبیوں کی کتابوں میں بھی اس قرآن کا تذکرہ ہے۔ کیا انہیں یہ نشانی کافی نہیں کہ حقانیتِ قرآن تو بنی اسرائیل کے اہلِ علم بھی جانتے ہیں‘‘۔2۔ قرآن مجید کی تلاوت کرنا: اللہ تبارک وتعالیٰ کے کلام پر ایمان لانے کے بعد اس کی تلاوت کرنا بھی ضروری ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کلام حمید میں تلاوت کرنے والوں ہی کو کتاب پر ایمان رکھنے والا قرار دیتے ہیں۔ سورۃ البقرہ کی آیت: 121 میں ارشاد ہوا: &#39;&#39;جنہیں ہم نے کتاب دی اور وہ اسے پڑھنے کے حق کے ساتھ پڑھتے ہیں وہ اس کتاب پر بھی ایمان رکھتے ہیں‘ اور جو اس کے ساتھ کفر کرے وہ نقصان والا ہے‘‘۔ اسی طرح حدیث مبارکہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جب کوئی شخص قرآن مجید کی تلاوت کرتا ہے تو اس کو ہر حرف کے بدلے نیکیاں ملتی ہیں۔ قرآن مجید کی تلاوت کرنے والے کو شفا ملتی اور سکینت حاصل ہوتی ہے۔روحانی‘ نفسیاتی اور جسمانی عوارض کا خاتمہ ہوتا ہے اور دل کو اطمینان اور فرحت حاصل ہوتی ہے۔3۔ قرآن مجید پر تدبر کرنا: قرآن مجید کو پڑھنے کے ساتھ ساتھ اس پر تدبر کرنا بھی انتہائی ضروری ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید میں کئی مقامات پر اہلِ ایمان کو تدبر کی دعوت دی ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۂ ص کی آیت: 29 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;یہ بابرکت کتاب ہے جسے ہم نے آپ کی طرف اس لیے نازل فرمایا ہے کہ لوگ اس کی آیتوں پر غور وفکر کریں اور عقلمند اس سے نصیحت حاصل کریں‘‘۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید میں متعدد مقامات پر پُرزور انداز میں قرآن مجید پر غور وفکر کی دعوت دی ہے۔ سورۂ محمد کی آیت: 24 ارشاد ہوا: &#39;&#39;کیا یہ قرآن میں غور وفکر نہیں کرتے‘ یا ان کے دلوں پر ان کے تالے لگ گئے ہیں‘‘۔ تدبر کرنے سے انسان اللہ تبارک وتعالیٰ کے ارشادات اور قرآن مجید کی تعلیمات کو سمجھنے کے قابل ہو جاتا ہے۔4۔ قرآن مجید پر عمل کرنا: تدبر کرنے کے ساتھ ساتھ قرآن مجید کے احکامات پر عمل کرنا بھی انتہائی ضروری ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے کلام حمید میں ان لوگوں کی شدید مذمت کی ہے جو ایسی باتیں کرتے ہیں جن پر ان کا عمل نہیں ہوتا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الصف کی آیات: 2 تا 3 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;اے ایمان والو! تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں۔ تم جو کرتے نہیں اس کا کہنا اللہ کو سخت ناپسند ہے‘‘۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید میں یہود کے بے عمل علما کی مذمت کرتے ہوئے ان کی تشبیہ ایسے گدھے کے ساتھ دی جس پر کتابوں کے بوجھ کو لاد دیا گیا ہو۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الجمعہ کی آیت: 5 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;جن لوگوں کو تورات پر عمل کرنے کا حکم دیا گیا پھر انہوں نے اس پر عمل نہیں کیا ان کی مثال اس گدھے کی سی ہے جو بہت سی کتابیں لادے ہو، اللہ کی باتوں کو جھٹلانے والوں کی بڑی بری مثال ہے اور اللہ (ایسی) ظالم قوم کو ہدایت نہیں دیتا‘‘۔5۔ قرآن مجید کی تعلیمات کا ابلاغ کرنا: انسان کو اللہ تبارک وتعالیٰ کے کلام کے ابلاغ کے لیے ہمہ وقت کوشش کرنی چاہیے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید کے متعدد مقامات پر دوسروں کو نیکی کا حکم دینے کی تلقین کی ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ التحریم کی آیت نمبر 6 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;اے ایمان والو! تم اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچائو جس کا ایندھن انسان ہیں اور پتھر‘ جس پر سخت دل مضبوط فرشتے مقرر ہیں جنہیں جو حکم اللہ دیتا ہے اس کی نافرمانی نہیں کرتے بلکہ جو حکم دیا جائے بجا لاتے ہیں‘‘۔6۔ قرآن مجید کے نفاذ کے لیے کوشش کرنا: اللہ تبارک وتعالیٰ نے جو احکامات نازل کیے ہیں‘ ان کی اپنی ذات اور گرد ونواح میں بسنے والے انسانوں پر تنفیذ ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ حکام اور معاشرے میں مقتدر لوگوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کے احکامات کو معاشرے میں لاگو اور نافذ کریں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے کلام حمید میں اپنے نازل کردہ احکامات کے قیام کے بہت زیادہ مثبت نتائج بتائے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ المائدہ کی آیت: 66 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;اور اگر یہ لوگ تورات اور انجیل اور ان کی جانب جو کچھ اللہ کی طرف سے نازل فرمایا گیا ہے‘ ان کے پورے پابند رہتے تو یہ لوگ اپنے اوپر سے اور نیچے سے روزیاں پاتے اور کھاتے‘ ایک جماعت تو ان میں سے درمیانہ روش کی ہے باقی ان میں سے بہت سے لوگوں کے برے اعمال ہیں‘‘۔بحیثیت مسلمان قرآن مجید کے حوالے سے ان ذمہ داریوں کو ادا کرنا ہم سب پر لازم ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ قرآن مجید کے حوالے سے ہمیں اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کی توفیق دے‘ آمین!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_19740082.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>