<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>امن معاہدہ اور خدشات(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-15/11278</link><pubDate>Mon, 15 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-15/11278</guid><description>اس اختتامِ ہفتہ پر امریکہ ایران امن معاہدے پر ٹھوس پیش رفت کی امید کی جا رہی تھی مگر حسبِ سابق اس بار بھی اسرائیلی جارحیت آڑے آئی اور امن کا امکان ایک بار پھر دگرگوں ہو گیا۔ اتوار کے روز لبنان پر اسرائیلی جارحیت امریکہ ایران امن معاہدے کی عملی صورت میں رکاوٹ بن کر سامنے آئی۔ اس سے پہلے بھی یہ ہو چکا ہے کہ جب بھی امن معاہدے کے حوالے سے کوئی ٹھوس پیشرفت متوقع ہوتی ہے لبنان میں اسرائیلی جارحیت کا زور بڑھ جاتا ہے اور یہ صورتحال ایران کو امن معاہدے سے پیچھے دھکیل دیتی ہے۔ گزشتہ روز بھی ایسا ہی ہوا کہ صدر ٹرمپ امن معاہدے پر دستخطوں کا عندیہ دے رہے تھے مگر اسی صبح اسرائیل نے لبنان کے دارالحکومت بیروت میں رہائشی علاقوں کو ایک بار پھر نشانہ بنا کر ایران کیلئے امن معاہدے پر دستخط سے انکار کا جواز پیدا کر دیا۔ گزشتہ ہفتے بھی اسرائیل کی اسی حرکت کے جواب میں ایران کی جانب سے اسرائیل پر میزائل حملے کئے گئے جن کے جواب میں اسرائیل نے بھی ایران پر میزائل داغے۔

اپریل کی جنگ بندی کے بعد دونوں ملکوں میں میزائل حملوں کے تبادلے کا یہ ایک خطرناک مرحلہ تھا جس نے کشیدگی دوبارہ بھڑک اٹھنے کا خطرہ پیدا کر دیا تاہم صدر ٹرمپ کی مداخلت سے کشیدگی پھیلنے سے رک گئی۔ گزشتہ روز کی اسرائیلی جارحیت پر بھی امریکی صدر نے یہ کہہ کر کہ اسرائیل کی جانب سے یہ حملہ نہیں ہونا چاہیے تھا‘ معاملات کو بگڑنے سے بچانے کی کوشش کی ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیل کی طرف سے لبنان میں کہیں بھی مزید حملے نہیں ہونے چاہئیں۔ اس تاکید کے بعد دیکھنے والی بات یہ ہے کہ اسرائیل امریکی صدر کے کہے کا کتنا اثر لیتا ہے۔ کہنے کو تو لبنان کے معاملے میں صدر ٹرمپ کی اسرائیلی وزیراعظم کے ساتھ تلخ وترش گفتگو بھی ہوئی مگر لبنان بدستور اسرائیلی جارحیت کے نشانے پر ہے۔ یہ صورتحال خطے کے ممالک سمیت امریکہ کیلئے بھی تشویش کا باعث ہونی چاہیے کہ امریکی لے پالک اب اس کے کہے میں بھی نہیں۔ امریکہ ایران امن معاہدہ دونوں ملکوں‘ خطے اور دنیا کے مفاد میں ہے مگر صہیونی ریاست مشرق وسطیٰ میں امن کے اس امکان سے مایوس اور غیر مطمئن دکھائی دیتی ہے؛ چنانچہ اب تک پوری کوشش کے ساتھ وہ اس بیل کو منڈھے چڑھنے سے روکے ہوئے ہے۔ تاہم امریکہ اور ایران اور خطے کے دیگر ممالک کو مجوزہ امن معاہدے کے ثمرات کو پیش نظر رکھتے ہوئے آگے بڑھنے کی سعی کرنی چاہیے۔
اسرائیل بدنیتی اور بار بار جارحیت کے ارتکاب سے اگر اس امن معاہدے کی راہ روکنا چاہتا ہے تو امریکہ اور ایران کو چاہیے کہ اسرائیل کو اس کے مذموم ارادوں میں کامیاب نہ ہونے دیں اور امن معاہدے کی جانب عملی پیشرفت کر دکھائیں‘ کیونکہ امن دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے۔ امریکہ کی بھی یہ بڑی ضرورت ہے تاکہ صدر ٹرمپ اس جنگی بکھیڑے سے نکل کر اسی سال نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات پر توجہ دے سکیں۔ انتخابات سے قبل حکمران جماعت کی عوامی مقبولیت نمایاں طور پر بہتر ہونی چاہیے مگر صدر ٹرمپ کی قومی منظوری کی ریٹنگ تقریباً 35 فیصد اور نامنظوری کی 60 فیصد ہے۔ ’دی اکانومسٹ‘ کے مطابق صدر کی خالص منظوری کی درجہ بندی اس وقت منفی25 ہے جو پچھلے ہفتے سے 0.8 پوائنٹس کم ہے۔ ٹرمپ کی دوسری مدت کی مقبولیت کو افراط زر‘ پٹرول کی قیمتوں اور ایران جنگ کی وجہ سے تاریخی گراوٹ کا سامنا ہے۔
ایران بھی یقینا جنگ کے ماحول سے نکلنے کا خواہشمند ہوگا تا کہ تعمیر نو اور ملکی معاملات پر توجہ دے سکے۔ مگر اسرائیل کیلئے مشرق وسطیٰ میں قیام امن کی پیشرفت سوہانِ روح بنی ہوئی ہے اور یہ بات اب کوئی ڈھکی چھپی نہیں رہی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ امریکہ‘ ایران اور خطے کے ممالک اسرائیل کے ان معاندانہ منصوبوں کو سمجھتے ہوئے تحمل سے آگے بڑھیں‘ نہ کہ اپنا حال اور مستقبل صہیونی سازشیوں کے ہاں رہن رکھ چھوڑیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>گلوبل پیس انڈیکس(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-15/11277</link><pubDate>Mon, 15 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-15/11277</guid><description>انسٹیٹیوٹ فار اکنامکس اینڈ پیس کے گلوبل پیس انڈیکس میں پاکستان کو دنیا کے 163 ممالک کی فہرست میں چھ درجے تنزلی کے بعد 152ویں نمبر پر دکھایا گیا ہے۔ امن و امان کے گراف میں یہ گراوٹ 2017ء کے بعد سے اب تک کا سب سے نچلا مقام ہے۔ یہ انڈیکس پاکستان میں مسلسل بڑھتے سکیورٹی خدشات اور شہریوں کے عدم تحفظ کے مسائل کو اجاگر کرتا ہے۔ ملکی رینکنگ میں گراوٹ کے اسباب پر نظر دوڑائی جائے تو مغربی سرحدوں کی صورتحال اس کی ایک بڑی اور بنیادی وجہ ہے۔ افغانستان میں سیاسی تبدیلی اور وہاں پائے جانے والے مستقل عدم استحکام نے گزشتہ چند برسوں میں پاکستان کے سکیورٹی مسائل کو سنگین بنایا ہے۔ سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی اور شدت پسندوں کو وہاں ملنے والی محفوظ پناہ گاہوں نے پاکستان کی داخلی سکیورٹی کو شدید متاثر کیا ہے۔

علاوہ ازیں بگڑتی علاقائی صورتحال‘ خلیجی جنگ اور معاشی عدم استحکام نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ جب کسی ملک کی معیشت کمزور ہوتی ہے تو وہاں غربت‘ بیروزگاری اور جرائم کی شرح بڑھنے لگتی ہے‘ جس کا براہِ راست اثر سماجی امن پر پڑتا ہے جبکہ معاشی مسائل سے سکیورٹی وسائل بھی محدود ہو جاتے ہیں۔ سیاسی تنائو نے بھی سکیورٹی خدشات کو بڑھاوا دیا ہے۔ امن و امان کی بگڑتی صورتحال اقتصادی ترقی اور بیرونی سرمایہ کاری کیلئے بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے‘ لہٰذا ضروری ہے کہ ان مسائل کا سدباب کیا جائے جو ملک عزیز میں امن و امان کیلئے خطرہ بن رہے ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>جنگلات کا بے دریغ کٹائو(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-15/11276</link><pubDate>Mon, 15 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-15/11276</guid><description>قومی اقتصادی سروے رپورٹ نے ملک میں ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی کے دعووں پر بڑا سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں جنگلات کی تیز رفتار اور بے دریغ کٹائی کا سلسلہ تھم نہیں سکا اور ہر سال اوسطاً 27 ہزار ایکڑ سے زائد جنگلاتی رقبہ کم ہوتا جا رہا ہے۔ رواں مالی سال کے دوران شعبہ جنگلات کی شرح نمو محض دو فیصد ریکارڈ کی گئی جو حکومتی ہدف 3.5 فیصد سے نمایاں کم ہے۔ یہ محض ایک ادھورا معاشی ہدف نہیں بلکہ ماحولیاتی بحران کی تشویشناک صورتحال کا اظہار ہے۔ جنگلات کے رقبے میں کمی کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ رقبہ مری کے شہری علاقے کے مساوی ہے‘ یعنی ہم ہر سال مری کے برابر رقبے کے سرسبز جنگلات بے ہنگم شہری پھیلاؤ اور ٹمبر مافیا کی نذر کر رہے ہیں۔

درخت زمین کا دفاعی حصار ہوتے ہیں‘ جو سیلاب کی شدت کو روکتے‘ درجہ حرارت کو اعتدال میں رکھتے اور مضر گیسوں کو جذب کرتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں ملک بھر میں طوفانی آندھیوں‘ غیر متوقع بارشوں اور آسمانی بجلی گرنے کے واقعات میں درجنوں قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ یہ آفات اس حقیقت کا ثبوت ہیں کہ موسمیاتی تبدیلیاں اب ہمارے دروازے پر دستک دے رہی ہیں۔ حکومت کو جنگلوں کی کٹائی کو فوجداری جرائم میں شامل کرنا چاہیے تاکہ ماحولیاتی تحفظ اور جنگلات کی بقا کو ممکن بنایا جا سکے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>چین میں چند روز(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-06-15/52123/21387140</link><pubDate>Mon, 15 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-06-15/52123/21387140</guid><description>چین نے مذہبی دہشت گردی کے خلاف ایک کامیاب جنگ کیسے لڑی؟ سنکیانگ کے مسلمان ان دنوں کس حال میں ہیں؟چین کا سفر جوہری طور پر ان سوالات کے جوابات تلاش کر نے کے لیے تھا۔ درست تر الفاظ میں ان مظاہر کو دیکھنا مقصود تھا جو زبانِ حال سے اس کامیابی کی داستان سنا رہے ہیں۔ کچھ ضمنی سوالات بھی پیشِ نظر تھے جن کا ذکر بعد میں ہو گا۔ گنتی کے چند دن کا قیام‘ اس کے لیے کافی نہیں ہوتا کہ ایسے سوالوں کے حتمی جواب دیے جا سکیں۔ یوں بھی انسانی مشاہدے اور تجربے کی بنیاد پر کوئی حتمی حکم لگانا ایک غیر علمی رویہ ہے۔ واقعات کی کئی جہتیں ہوتی ہیں اور مشاہدے کی ایک حد ہوتی ہے۔ تاہم پس منظر کی معلومات اور اہلِ علم کی آراء سے بھی اگر استفادہ کیا جائے تو سب کو یکجا کرنے سے معقول بات کی جا سکتی ہے۔سنکیانگ میں بیسویں صدی کے آخر اور اکیسویں صدی کے اوائل میں شورش کی ایک نئی لہر اٹھی۔ اختلاف کی ایک تاریخ ہے جس نے نئی فکری اور سیاسی تبدیلیوں کے ہمراہ‘ صورتِ حال کو انگیخت کیا۔ یہاں اویغور قبیلے کا غلبہ تھا جو اصلاً ترک ہیں۔ 1884ء میں چنگ بادشاہت(Qing Dynasty) میں یہ علاقہ باقاعدہ سلطنتِ چین کا حصہ بنا۔ یہاں قبائلی توازن پیدا کرنے کیلئے اسی عرصے میں ہان (Han) قبیلے کو آباد کیا گیا۔ بوجوہ یہاں اقتدار کے لیے جنگ جاری رہی۔ یہ کئی جنگجو لیڈروں کے درمیان تھی۔ بیسویں صدی میں یہاں بغاوت ہوئی جو &#39;قبول بغاوت‘ کہلاتی ہے اور اس کے نتیجے میں 1933ء میں پہلی &#39;مشرقی ترکستان ریپبلک‘ کے قیام کا اعلان کر دیا گیا۔ اس کے نتیجے میں جنگجو لیڈر شینگ شیائی کا اقتدار قائم ہوا۔ اسے سوویت یونین کی مدد میسر تھی۔ سوویت ریاست اس حما یت کے نتیجے میں یہاں کے قدرتی وسائل تک رسائی چاہتی تھی۔ یہی وہ دور ہے جب ترک یا مسلم کے بجائے اویغور (Uyghur) کی شناخت پر اصرار ہوا۔ 1942ء میں شینگ نے سوویت یونین کو چھوڑ کر چین سے معاملہ کر لیا۔ 1944ء میں ایک اور بغاوت ہوئی اور دوسری &#39;مشرقی ترکستان ریپبلک‘ کے قیام کا اعلان کر دیا گیا۔ اس بغاوت کو بھی کہتے ہیں کہ سوویت یونین کی حمایت حاصل تھی۔ چین میں جب خانہ جنگی شروع ہوئی اور ماؤ اشتراکی انقلاب آیا تو اسے بھی سوویت یونین کی حمایت حاصل ہوئی۔ 1949ء میں جب نیا اشتراکی چین وجود میں آیا تو سنکیانگ کا الحاق چین کے ساتھ ہو گیا۔1950ء میں سنکیانگ کو ایک خود مختار اکائی کا سٹیٹس دیا گیا۔ اس کے بعد بھی امن نہیں آیا۔ 1968ء میں مشرقی ترکستان پیپلز پارٹی قائم ہوئی۔ اس پر اویغور علیحدگی پسندوں کا غلبہ تھا۔ اس طویل کہانی کو مختصر کرتے ہوئے‘ تاریخ اس خطے کی سیاست پر بھی اثر انداز ہوتی رہی جیسے سوویت یونین کی ا فغانستان میں آمد اور پھر &#39;جہاد‘ کی کامیابی۔ اس سے اسلامی بیداری کے نام پر ایک تحریک اٹھی۔ ترکستان اسلامی جماعت بنی۔ یہی جماعت تھی جو پہلے مشرقی ترکستان تحریکِ اسلامی تھی۔ جہاد کی عالمگیر لہر اُٹھی تو القاعدہ کی آئیڈیالوجی کیلئے یہاں سازگار ماحول موجود تھا۔ یوں بیسویں صدی کی آخری دہائی میں اس خطے میں بھی آزادی اور اسلامی انقلاب کے نام پر دہشت گردی کی لہر اٹھی۔ کئی لوگ اپنی جان سے گئے۔ یہی وہ لہر تھی جسے چین نے ختم کیا۔ سوال یہ ہے کہ یہ کیسے ہوا؟اپنے مختصر قیام کے دوران میں مَیں نے جو دیکھا‘ جو سمجھا اور جو کچھ قابلِ بیان ہے‘ اس کے مطابق چین نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تین کام کیے۔ ایک طرف دہشت گردی سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا۔ دوسری طرف علاقے میں ترقی کے ایک غیر معمولی عمل کا آغاز کیا۔ عوام کے لیے زندگی کو سہل بنایا۔ تیسری طرف ان سماجی عوامل کو مخاطب بنایا جو ایسے فساد کا باعث بنتے تھے۔ مجھے ارمچی اور ینگ انگ جانے کا موقع ملا۔ ایک شاندار انفراسٹرکچر‘ صنعتیں اور جدید زراعت کا قابلِ دید نظام۔ مسلم تہذیب کے مظاہر بھی دیکھے۔ ارمچی کے سب سے مقبول بازار میں ایک بڑی اور خوبصورت مسجد خطے کی اسلامی شناخت کی گواہی دے رہی ہے۔ ایک اسلامی مرکز جانے کا بھی اتفاق ہوا۔ شاندار مسجد اور مدرسے کی عالیشان عمارت۔ طلبہ کو اسلامی علوم پڑھتے دیکھا۔ تجوید سے لے کر تفسیر تک پڑھائے جا رہے تھے۔ سڑکوں پر گاڑیوں کا کوئی شمار نہیں تھا۔ خوشحالی تو جیسے چھلک رہی تھی۔ ارمچی میں شہر کا مرکزی بازار مقامی تہذیب کا نمائندہ تھا۔ مسجد کی خوبصورت عمارت کے پہلو میں ثقافت بھی اپنا رنگ دکھا رہی تھی۔ سنکیانگ کے شہری ان دنوں اپنی ترقی کا ستر سالہ جشن منا رہے ہیں۔ نئی اور جدید عمارتوں کا ایک سلسلہ ہے جو آسمان کو چھونے کی تمنا کر رہا ہے۔ ایک عمارت میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کا میوزیم بنایا گیا ہے۔ دوسری میں ستر سالہ ترقیاتی عمل کے مختلف مراحل کو تصاویر‘ ماڈلز اور تھری ڈی ٹیکنالوجی سے اس طرح اجاگر کیا گیا ہے کہ تاریخ نظروں کے سامنے چلتی پھرتی دکھائی دیتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا کہ چین کے لوگوں نے کیسے اپنی غیر معمولی محنت اور استقامت سے تاریخ کا رخ بدل دیا ہے۔تیسرا کام یہ کیا گیا کہ علاقے کی شناخت کو بدل ڈالا گیا ہے۔ یہاں ہان اور اویغور کے علاوہ کئی نسلی شناختیں ہیں۔ اس کے لیے کئی اقدام کیے گئے۔ ہان کو یہاں آباد کیا گیا۔ اب وہ اکثریت میں ہیں۔ اویغور کی آباد ی بھی بڑھ گئی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے جب چین میں &#39;ایک خاندان ایک بچہ‘ کی پالیسی اپنائی گئی تو اویغور کو اس سے استثنا دے دیا گیا۔ اس سے ان کی آبادی میں بہت اضافہ ہوا۔ دہشت گردی کے خلاف اس حکمتِ عملی کا اگر میں خلاصہ کروں تو اس کے تین نکات ہیں۔ دہشت گردی کی سخت سزا‘ آبادی کے لیے بڑا ترقیاتی پروگرام اور فساد کا باعث بننے والے سماجی عوامل کا تدارک‘ جیسے قبائل کے مابین آبادی کا تناسب۔ یہ سب اسی وقت ممکن ہوا جب سارے قبائل‘ اقوام اور عوام کو ایک مرکزی نظام کے تابع کر دیا گیا۔ ثقافتی اقدار اور مذہب کی آزادی کو اسی حد تک گوارا کیا جاتا ہے جس حد تک وہ قومی وحدت اور اجتماعی شناخت کے لیے قابلِ قبول ہے۔ اسی کو آپ جوابی بیانیہ بھی کہہ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ مجھے کسی سرکاری بیانیے کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیے۔اس سفر میں نیک اور اچھے لوگوں کا ساتھ رہا جس نے سفر کو خوشگوار اور سہل بنا دیا۔ جامعہ امدادیہ کے مفتی محمد زاہد‘ مولانا تقی عثمانی کے صاحبزادے جو خود اسلامی معیشت کے ماہر ہیں‘ ڈاکٹر عمران اشرف عثمانی‘ پشاور یونیورسٹی کے ڈاکٹر عامر رضا‘ کے پی اسمبلی کے رکن احمد کندی‘ اکوڑہ خٹک سے مولانا عبدالحق ثانی‘ تبلیغی جماعت کے شاہد صاحب‘ پشاور سے نور حبیب صاحب‘ گھمگول شریف سے محمد انور جنیداور خبیب فاؤنڈیشن کے ندیم احمد وفد میں شامل تھے۔ دعوہ اکیڈمی اسلامی یونیورسٹی اسلام آبادکے ڈاکٹر پروفیسر محمد الیاس نے حسنِ خلق اور حسنِ تدبیر سے ان سرگرمیوں کو منظم کیے رکھا۔انٹر نیشنل کونسل فار ریلیجیئس افیئرز کے صدر برادر محمد اسرار مدنی نے اس سفر کا اہتمام کیا۔ انہوں نے &#39;مذہبی سفارتکاری‘ کی ایک طرح ڈالی ہے‘ سفارتی حلقے جس کی اہمیت کا اب ادراک کر رہے ہیں۔ یہ ایک معلومات افزا سفر تھا۔ ایسا ہر سفر میرے لیے اس سوال کو اضطراب میں بدل دیتا ہے کہ ہم اپنے مسائل کے حل پر کیوں قادر نہیں؟ ترقی یافتہ اقوام عقل اور تجربات سے اگر سیکھ سکتی ہیں تو ہم کیوں نہیں؟ ہمارے دن آخر کب پھریں گے؟سفر کا آخری مرحلہ بیجنگ میں دو روزہ قیام تھا۔ وہاں وزارتِ خارجہ کے حکام سے اہم ملاقات ہوئی۔ اس حوالے سے اور پاک چین تعلقات پر اپنے تاثرات‘ ان شاء اللہ اگلے کالم میں بیان کروں گا۔ </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بے زبان لو گ(رسول بخش رئیس)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-06-15/52124/18498072</link><pubDate>Mon, 15 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-06-15/52124/18498072</guid><description>زبان تو ہے اور اس میں کچھ کہنے کی فطری سکت بھی مگر بوجوہ کچھ لوگ خاموشی سے سب کچھ سہتے رہتے ہیں۔ دکھ کی بات تو یہ ہے کہ جو اُن کے ہم عمر تھے‘ سکول‘ کالج یا دیہات میں کھیتی باڑی کے پیشوں کے ہم جولی‘ زیادہ تر اللہ کو پیارے ہو چکے ہیں۔ اکثر تو اُس صف میں ہیں کہ ان کی شریکِ حیات اُن سے پہلے راہی ٔملکِ عدم ہو چکیں۔ دل کی بات کس سے کہیں‘ تنہائیوں کا رونا کس کے سامنے روئیں اور گزرے وقتوں کی داستانیں کسے سنائیں۔ بزرگوں کے اس طبقے میں خوش قسمت وہ ہیں جنہیں مالی آسودگی میسر ہے۔ آبائی جائیدادیں اور خوشحالی یا پھر اپنے پیشوں کے دوران برُے دنوں اور ملازمت کے بعد کی زندگی کے لیے جنہوں نے کچھ بچت کرنے کی عادت اختیار کی۔ ان میں سرکاری ملازمین کا وہ بڑا طبقہ بھی شامل ہے جو پنشن اور دیگر مراعات یافتہ تو ہے مگر سماجی محرومیوں کا شکار وہ بھی نظر آتے ہیں۔ سب تو ایسا کبھی نہیں کرتے مگر جواپنے تعلقات کو استوار کرنے میں ناکام رہتے ہیں‘ ان پر ریٹائرمنٹ ایک بھاری پتھر کے طور پر اچانک آن گرتی ہے۔ وہ لوگوں کی طوطا چشمی کا گلہ کرتے ہیں لیکن اصل بات تو یہ ہے کہ ملازمت اپنی طاقت کا سودا کرنے میں گزار بیٹھے ہیں۔ یہ ضروری نہیں کہ موقع پر‘ فوری طور پر مادی شکل میں صلہ ملا ہو‘ دیگر صورتیں بھی ممکن تھیں۔ اپنے ہاں کے بزرگوں اور اُن کی عمر کے لوگوں کی زندگیوں کا کوئی تقابل مناسب نہیں۔ تہذیب‘ ثقافت‘ طرزِ زندگی اور حکومت کی طرف سے سہولتوں کے بارے میں فرق کی کیا بات کریں‘ ہمارے ہاں تو یہ سب کچھ ناپید ہے۔دنیا میں بہت سی جگہیں دیکھیں جہاں عمر رسیدہ لوگ رہتے ہیں۔ اُن کی عمر کے لحاظ اور صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے مخصوص نوعیت کی رہائش گاہیں‘ کالونیاں اور سہولتیں میسر ہیں۔ سب کے لیے یہ مفت کی باتیں نہیں۔ جس طرح آپ اپنی مالی استعداد کو پیش نظر رکھتے ہوئے ڈاکٹر اور ہسپتال کے بارے میں فیصلہ کرتے‘ اس طرح صنعتی ممالک بھی بزرگوں کی کالونیوں کے لیے جگہ اور سہولتوں کا تعین کرتے ہیں۔ کم از کم وہاں بزرگ بے زبان نہیں‘ اُن کی مضبوط اور گرج دار آواز ہے۔ وہ منظم ہیں اور جب بات صحت پر اٹھنے والے اخراجات‘ ہیلتھ انشورنس اور سوشل سکیورٹی بینیفٹ جو ماہانہ پنشن کی ایک شکل ہے‘ کی آتی ہے تو بزرگ شہریوں کو آپ اکٹھا دیکھتے ہیں۔ امریکن ایسوسی ایشن آف ریٹائرڈ پیپل وہاں کی بڑی غیر حکومتی تنظیموں میں سے ایک ہے۔ نہ اس کی لیڈرشپ جعلی ہے اور نہ ہی کسی کے ذاتی مفاد اور کمائی کی آلہ کار ہے۔ کوئی اس سے منافع نہیں لیتا۔ ساڑھے تین کروڑ سے زیادہ اس کے رکن ہیں‘ جو پندرہ بیس ڈالر سالانہ چندہ دیتے ہیں‘ یعنی ایک ناشتے یا دوپہر کے کھانے کے برابر۔ یہ انجمن بزرگوں کو آخر میں جینے کا سلیقہ‘ اپنے اثاثے محفوظ کرنے کے گُر‘ ورزش‘ خوراک‘ تفریح اور صحت کے پروگراموں سے مستفید کرتی رہتی ہے۔ سب سے بڑھ کر اُن کے حق میں حکومت کے سامنے آواز بلند کرتی ہے۔ انتخابات میں اس کے اراکین اُس صدارتی امیدوار اور پارٹی کے حق میں مجموعی طور پر ووٹ ڈالتے ہیں جو اُن کے مفاد میں منشور بناتی ہے۔ ان کی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے مقامی ریڈیو اور ٹیلی ویژن سٹیشن اُن کی تفریح اور دلچسپی کے موضوعات پر پروگرام ترتیب دیتے ہیں۔ اُن کی ضروریات کی چیزیں پیدا کرنے والی کمپنیاں اُنہیں سپانسر کرتی ہیں۔ وہاں مشاہدے میں ہے کہ امریکی اور یورپی بزرگ باوسائل ہونے کے باوجود اکثر ہاتھ کرنے والوں کے ہتھے بھی چڑھ جاتے ہیں۔ کئی مرتبہ دیکھنے میں آیا کہ بزرگوں کو مفت ٹرانسپورٹ‘ لنچ‘ کچھ نرم گرم مشروبات اور یہاں تک کہ تیس چالیس ڈالر ہاتھوں میں تھما کر جوا باز کمپنیاں جوئے خانے‘ جنہیں وہ کیسینو کہتے ہیں‘ میں لے جاتی ہیں۔ اُن کی اکثریت شام کو لٹی پٹی واپس آتی ہے۔ اُن کا نقصان بہرحال اتنا نہیں ہوتا جو پنجاب کے زمینداروں کا کسی زمانے میں لاہور کے بدنام بازار میں ہوا کرتا تھا۔ اب بھی ہمارے کچھ زمیندار شہزادوں کے سماجی رجحانات زیادہ مختلف نہیں‘ مگر دولت برباد کرنے کے ڈھنگ کچھ بدل گئے ہیں۔ایک نظریہ ہے‘ جو مغرب میں زیادہ مقبول ہے اور جس کے اثرات پوری دنیا میں پھیل رہے ہیں۔ پنجابی زبان اور فلمی گیتوں میں بھی اس موضوع پر بہت خوبصورت شاعری ہے‘ مہذب انداز میں جو بادشاہ ظہیر الدین بابر نے کہا تھا کہ &#39;&#39;بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست‘‘۔ میرے ذہن میں تو وہ بزرگ آتے ہیں جو یا تو اس فلسفے پر عمل کرکے تہی دست ہو چکے ہیں یا وقت کے ظالم تھپیڑوں نے انہیں زندگی کے ایسے ساحلوں کی طرف دھکیل دیا ہے جہاں کسمپرسی ان کا مقدر بن چکی ہے۔ کئی کہانیاں ہیں جو اس طرف دھیان کرنے پر دل میں ابل پڑتی ہیں اور زور زور سے ضربیں لگاتی ہیں۔ لکھنے سے معذرت کہ کردار حیات ہیں‘ ان کی حالت دیکھی نہیں جاتی کہ قسمت نے ایسی جگہ پر انہیں لا کھڑا کیا ہے کہ جہاں روشنی‘ امید اور باہر نکلنے کا کوئی راستہ نہیں بچا۔ زندگی کے آخری حصے کے لیے دانشمندانہ فیصلوں اور منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ مگر اس سب کے باوجود خوش قسمتی‘ صحت اور صحتمند رشتے جو آپ کو حوصلہ دیں‘ نیچے گرا کر سفاکانہ انداز میں آپ پر ہنسیں نہیں‘ ہنسی دبا کر خوش نہ ہوں اور کم از کم تضحیک نہ کریں۔ آپ خوش قسمت ہیں اور اس سے بڑھ کر اچھا مقدر کیا ہو سکتا ہے کہ آپ کسی کے محتاج نہیں۔ یقین مانیں‘ بزرگوں کے چہروں پر اداسی دیکھتا ہوں تو دل بیٹھ جاتا ہے۔ہمارے بزرگوں کی اکثریت وسائل کے باوجود سماجی تنہائی کا شکار ہے۔ کہتے ہیں کہاں جائیں‘ کس سے ملیں‘ کون ہمیں پہچانے گا‘ مجبوراً بہت ہی محدود حلقے ہیں جو وقت کے ساتھ مزید سکڑ کر چند رشتہ داروں‘ ساتھیوں یا ملازموں تک محدود رہ جاتے ہیں۔ دیہات میں بزرگوں کے پاس وسائل نہیں‘ جن کے پاس کبھی زمین کی صورت تھے‘ بہت کچھ بلکہ بعض کیسوں میں سب کچھ بیٹوں نے اپنے قبضے میں لے لیا۔ کل کے کئی زمینداروں کو آج دوسروں کا دست نگر دیکھتا ہوں تو دل بھر آتا ہے۔ ہوا یہ کہ دبائو میں آ کر زمین بیٹوں کے نام کردی‘ ہاتھ کٹوا بیٹھے اور پھر کبھی دینے والا ہاتھ لینے پر مجبور ہو گیا۔ سمجھدار لوگ ایسی جلد بازیاں نہیں کرتے۔ مادیت پرستی میں تیل دیکھو‘ تیل کی دھار دیکھو والا محاورہ متروک نظر آتا ہے۔ خود غرضی کے تیل کی دھار ہر جگہ اور ہر موسم میں ایک جیسی ہوتی ہے۔ دیہات میں جو کبھی چھوٹے زمیندار‘ مزارع‘ کاشتکار اور دستکار تھے‘ وہ مجھے ہر جگہ مفلوک الحال دکھائی دیتے ہیں۔ اُن کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔ اولاد جسے محنت مزدور ی کرکے پالا‘ بڑا کیا‘ انہیں پائوں پر کھڑا کرکے زندگی کا رختِ سفر بھی دیا‘ وہ بھی معاشی جبر کے پیش نظر آنکھیں پھیر لیتی ہے۔ بازاروں میں جانے سے بھی بیچارے کتراتے ہیں کہ کہیں چائے خانے پر بیٹھیں تو جیب میں کچھ تو ہونا چاہیے کہ ایک پیالہ چائے خرید کر پی سکیں۔ آپ اگر شہر کے لوگ ہیں تو آپ نے شاید بچوں‘ بزرگوں اور عورتوں کی وہ غربت نہیں دیکھی جو یہ درویش اپنے آبائی علاقے میں اکثر دیکھتا ہے۔ ان میں جو اَب عمر رسیدہ ہیں‘ وہ بیچارگی کے کونے کھدروں میں‘ کبھی اس پیڑ کے نیچے‘ کبھی اُس دربار پر‘ کبھی کسی ہمدرد کے ٹھکانے کے چکر لگاتے رہتے ہیں۔ گزشتہ دنوں ایک شفا خانے کی انتظار گاہ میں کچھ وقت گزرا تو قطار میں بے زبان بزرگ افسردگی سے بوجھل‘ اپنی فائلیں ہاتھوں میں تھامے خاموش نظر آئے۔ کچھ سے بات چھیڑی‘ کچھ کی طرف مسکرا کر دیکھا اور مسکرانے پر قائل کرنے کی کوشش کی‘ کچھ کو سلام کیا۔ ایک اجنبی سے کہا کہ پہلے بھی ہم کہیں ملے تھے۔ دوسرے اجنبی نے سرگوشی کی کہ اس عمر میں یہی کچھ کہتے ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_33241568.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>آبنائے ہرمز اور ایران(جاوید حفیظ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/javed-hafiz/2026-06-15/52125/36674827</link><pubDate>Mon, 15 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/javed-hafiz/2026-06-15/52125/36674827</guid><description>آبنائے ہرمز کی وجہ تسمیہ جاننے کی کوشش کی جائے تو متعدد متضاد آرا ملتی ہیں۔ ایک رائے یہ ہے کہ یہ نام ایک رومن بادشاہ سے منسوب ہے جس کے زمانے میں سلطنت روم اور ایران کے درمیان تجارت عروج پر تھی اور ایران خود بہت بڑی سلطنت تھی۔ دوسرا نظریہ ہے کہ ہرمز ایک زر تشت دیوتا کا نام تھا‘ ایک تیسری رائے یہ ہے کہ ہرمز کھجوروں کے بڑے جھنڈ کو کہتے ہیں‘ جو کثرت سے اس خطے میں موجود ہیں اور یہ بھی تاریخی حقیقت ہے کہ ہرمز نامی سلطنت ایران میں صدیوں تک رہی اور صفوی خاندان کی آمد کے ساتھ ختم ہوئی۔ پس ثابت ہوا کہ لفظ ہرمز ایران کی تاریخ اور جغرافیہ سے منسلک ہے۔ آبنائے ہرمز کی دوسری جانب عمان کا قصبہ خصب ہے‘ میں وہاں کئی مرتبہ گیا ہوں۔ 2007ء میں جب میں ایک پاکستانی دوست کے ساتھ وہاں سیر کر رہا تھا تو وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ یہ پُرسکون علاقہ ایک روز جنگ میں شہ سرخیوں کا حقدار ٹھہرے گا۔ اور اب آتے ہیں موضوع کی جانب۔ خبر یہ ہے کہ ایران ہرمز کیلئے نئے قوانین اور ضوابط وضع کر رہا ہے اور اس مقصد کیلئے ایک اتھارٹی قائم کر دی گئی ہے۔ اس تھارٹی کے فرائض میں گزرنے والے جہازوں کو ضروری سہولتیں فراہم کرنا ہوگا۔ اس کے بدلے میں ہر جہاز سے ٹول ٹیکس لیا جا سکے گا جو دو ملین ڈالر فی جہاز تک ہو سکتا ہے۔ یاد رہے کہ اس سمندری گزرگاہ کا عرض 35 کلومیٹر کے قریب ہے لیکن گہرائی کے اعتبار سے بڑے جہاز صرف چھ کلومیٹر چوڑے پانی سے گزر سکتے ہیں اس سے باہر سمندر کی تہہ کم ہے اور جہاز وہاں سے گزرنے کا خطرہ مول نہیں لیتے لیکن یہ محدود سمندری گزر گاہ اپنی نوع کی اکلوتی جگہ نہیں‘ اس کے علاوہ آبنائے ملاکا‘ باب المندب‘ جبرالٹر اور باسفورس بھی ہیں۔ ملا کا انڈونیشیا‘ ملائشیا اور سنگاپور کے درمیان واقع ہے۔ باب المندب یمن اور جبوتی کے مابین ہے۔ جبرالٹر بحیرہ روم اور بحر اوقیانوس کو ملانے والا تنگ راستہ ہے جس کے گرد سپین اور مراکش واقع ہیں۔ ان تمام آبی گزر گاہوں میں کوئی ٹول ٹیکس یا فیس نہیں ہے‘ تمام تجارتی اور عسکری جہاز آزادانہ گزرتے ہیں اور بین الاقوامی قانون کے مطابق فیس معاف ہے؛ البتہ باسفورس کا معاملہ ذرا مختلف ہے جس کا ذکر آگے چل کر آئے گا۔مجوزہ ایران قوانین کے مطابق ہرمزسے گزرنے والے ہر جہاز کو اپنی رجسٹریشن انشورنس کے کاغذات‘ عملے اور کارگو کی تفصیل بتانا ہوں گی۔ عسکری جہازوں کا گزرنا ممنوع ہو گا۔ اسی طرح اسرائیلی جہازوں کو گزرنے کی مکمل ممانعت ہو گی۔ امریکی جہاز مکمل جانچ پڑتال کے بعد اجازت حاصل کرکے گزریں گے۔ کیا مجوزہ ایرانی قانون بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے؟ اس کا جواب بعد میں تلاش کریں گے‘ فی الحال دیکھتے ہیں کہ آبنائے باسفورس میں کیا پوزیشن ہے۔ باسفورس شاید اکلوتی انٹرنیشنل آبی گزرگاہ ہے جہاں جہازوں کو گزرنے کیلئے فیس دینا پڑتی ہے۔ باسفورس استنبول کے درمیان سے گزرتی ہے۔ عرض خاصا تنگ ہے باسفورس میں جہازوں کو گائیڈ کرنے کیلئے لائٹ ہائوس موجود ہیں‘ کچھ جہازوں کو گائیڈ کرنے کیلئے پائلٹ کشتیاں دی جاتی ہیں۔ اگر کوئی جہاز پھنس جائے تو اسے نکالنے کیلئے ترک حکومت مدد فراہم کرتی ہے۔ ان سہولتوں کے عوض ترک حکومت فیس وصول کرتی ہے لیکن یہ فیس خلافِ قانون نہیں اور اسے 1936ء کے انٹرنیشنل کنونشن کی حمایت حاصل ہے جس کے مطابق ترکیہ یہ فیس لینے کا مجاز ہے اور اس وقت تمام علاقائی ممالک نے اس کنونشن کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ مجوزہ ایرانی قانون نے ابھی منظوری کی ایک دو اور منزلیں طے کرنی ہیں۔ یہ قانون صدر کی فائنل منظوری کے بعد نافذ العمل ہو جائے گا۔ اس قانون کے مطابق وہ ممالک جنہوں نے ایران پر یکطرفہ پابندیاں عائد کی ہوئی ہیں انہیں آبنائے ہرمز سے جہاز گزارنے کیلئے پیشگی منظوری لینا ہو گی۔اکثر مغربی ممالک کا خیال ہے کہ اس نئے قانون کے ذریعے ایران جہازوں کی ٹریفک پر مکمل کنٹرول کا خواہاں ہے جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ وہ اپنے پانیوں پر مقتدر ہے۔ یاد رہے کہ بین الاقوامی قانون کے مطابق ساحل سمندر سے لے کر 22 کلومیٹر کا علاقہ اسی ملک کا حصہ تصور کیا جاتا ہے۔ یہ کنونشن 1982ء میں اقوام متحدہ کی زیر نگرانی تشکیل پایا‘ لیکن جب 22 کلومیٹر کا سمندری علاقہ سب ممالک کو دیا گیا تو ساتھ یہ بھی لکھا گیا کہ اس علاقے سے سمندری جہازوں کو گزرنے کا حق حاصل ہوگا‘ اسےInnocent passage کا حق بھی کہا جاتا ہے؛ یعنی ان پانیوں میں سے گزرنے کا ہر جہاز کو حق ہے بشرطیکہ وہ جہاز اس ملک کے خلاف عزائم نہ رکھتا ہو۔ کنونشن کے آرٹیکل نمبر 38 اور 39 آزاد سمندری راہداری سے متعلق ہیں۔ ایران کے اس اقدام کی دنیا کے کسی ملک نے حمایت نہیں کی حتیٰ کہ چین بھی مجوزہ ایرانی قانون سازی کے خلاف ہے۔ خلیجی ممالک نے International Maritime Organization کو لکھا ہے کہ ایران کے اقدام کسی سطح پر پذیرائی نہیں ملنی چاہیے۔ IMO کا کہنا ہے کہ ایرانی مجوزہ اقدام غیر قانونی ہے اور یہ دنیا بھر میں خطرناک نظیر ثابت ہوگا‘ یعنی پھر آبنائے ملاکا‘ باب المندب اور جبرالٹر والے ممالک بھی ایسا ہی ٹول ٹیکس لگانے کا سوچیں گے اور دنیا کی بحری تجارت سخت بحران کا شکار ہو جائے گی۔معاملے کی سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ جب امریکہ کو علم ہوا کہ ایران اور عمان آبنائے ہرمز کے آئندہ مشترکہ انتظام کے بارے میں مشاورت کر رہے ہیں تو فوراً عمان پر بمباری کی دھمکی دی گئی۔ حالانکہ سلطنت عمان کے امریکہ کے ساتھ تعلقات شاندار رہے ہیں۔ عمان اور امریکہ کا عسکری تعاون بھی ایک عرصے سے قائم ہے۔ اس دھمکی کے بعد عمان نے قدرے خاموشی اختیار کر لی لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ایران کے ساتھ تجارت بڑھائی جائے گی۔ سلطنت عمان نے ہمیشہ کی طرح بڑا مہذب ردعمل دیا۔ ایران کا کہنا ہے کہ جنگ سے پہلے والا نظام واپس نہیں آئے گا۔ وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ اب ہمارے ہاتھ میں ہمیشہ کیلئے ہرمز کی تلوار آ گئی ہے۔ آبنائے ہرمز صدیوں سے تجارت کیلئے استعمال ہو رہی ہے‘ یہ تلوار ایران کے پاس ایک عرصے سے تھی لیکن اس تلوار کی اہمیت اب اجاگر ہوئی ہے۔ ایران کو صدر ٹرمپ کا شکر گزار ہونا چاہیے۔دنیا کے اہم ممالک ایران کے مجوزہ قانون کے مخالف ہیں۔ برطانیہ‘ فرانس اور جرمنی نے اس اقدام کے خلاف بیان دیا ہے۔ کئی ممالک نے اسے ایران کی بلیک میلنگ قرار دیا ہے۔ ایران کے سب سے اہم دوست چین نے بھی اس کی مخالفت کی ہے۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ ہرمز ایک تُرپ کا پتا ہے جو ایران کے ہاتھ لگ گیا ہے اور وہ اسے مذاکرات میں اپنا وزن بڑھانے کیلئے خوب استعمال کرے گا اور جب مطلوبہ نتائج حاصل ہو جائیں گے تو وہ اسے چھوڑ دے گا‘یعنی نئے نظام اور اپنے کنٹرول کا مطالبہ ترک کر دے گا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ایران ایسا کرے گا یا نہیں۔ مجھے خود اس خواہش کے پورا ہونے کے امکانات کم نظر آتے ہیں۔ بنیادی بات یہ ہے کہ آبنائے ہرمز ایک قدرتی اور عالمی آبی گزر گاہ ہے یہاں ایک طرفہ سکیورٹی فراہم کرنے کے نام پر ٹیکس لگانا سمندروں کے قانون 1982ء کی خلاف ورزی ہوگی اور اگر ہرمز میں ایران کو ٹیکس لگانے کی اجازت دی گئی تو پھر انڈونیشیا‘ ملائیشیا اور سنگاپور آبنائے ملا کا میں ٹیکس لگانے میں حق بجانب ہوں گے اور باب المندب سے جو جہاز گزرے گا وہ یمن اور جبوتی کو ٹول ٹیکس دے گا۔ جبرالٹر سے گزرنے والے سفینوں سے سپین اور مراکش بھاری رقوم وصول کریں گے۔ ذرا غور کریں کہ تیل کا ہر جہاز اگر ہرمز کراس کرتے ہوئے ایران اور عمان کو بھاری رقم ادا کرے گا تو تیل کی قیمتیں کہاں پہنچ جائیں گی۔ امریکہ اور اسرائیل کی اس غیر ضروری جنگ کی قیمت ایک عام صارف ادا کرے گا‘ لہٰذا اس مسئلے کا حل بین الاقوامی قانون کے مطابق ہو تو بہتر ہوگا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_85338835.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بجٹ اور ملکی معیشت(میاں عمران احمد)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mian-imran-ahmad/2026-06-15/52126/79385338</link><pubDate>Mon, 15 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mian-imran-ahmad/2026-06-15/52126/79385338</guid><description>وفاقی حکومت نے مالی سال 2026-27ء کا بجٹ ایسے وقت میں پیش کیا ہے جب معیشت استحکام اور نمو کے درمیان ایک نازک مرحلے سے گزر رہی ہے۔ تقریباً 18 ٹریلین روپے کے وفاقی بجٹ میں ایک طرف 15.26 ٹریلین روپے کا ریکارڈ ٹیکس ہدف مقرر کیا گیا ہے تو دوسری جانب مختلف شعبوں کو ریلیف دینے کی کوشش بھی کی گئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس بجٹ میں اصل فائدہ کس کو ہوا اور بوجھ کس پر پڑا؟تنخواہ دار طبقے کی بات کریں تو حکومت نے 52 ارب روپے کا ٹیکس ریلیف دیا ہے۔ سالانہ 22 لاکھ سے 32 لاکھ روپے آمدنی والوں کے لیے ٹیکس شرح 23 فیصد سے کم کرکے 20 فیصد‘ 32 لاکھ سے 41 لاکھ روپے آمدنی والوں کے لیے 30 فیصد سے 25 فیصد‘ 41 لاکھ سے 56 لاکھ روپے آمدنی والوں کے لیے 35 فیصد سے 29 فیصد اور 56 لاکھ سے 70 لاکھ روپے آمدنی والوں کے لیے 35 فیصد سے 32 فیصد کر دی گئی ہے۔ 10 ملین روپے سے زائد آمدنی پر عائد 9 فیصد سرچارج بھی ختم کر دیا گیا ہے۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد جبکہ کم از کم اجرت میں 10 فیصد اضافہ کیا گیا ہے‘ لیکن حکومت خود آئندہ سال اوسط مہنگائی 8.2 فیصد رہنے کا تخمینہ دے رہی ہے‘ جس سے حقیقی آمدنی میں اضافہ محدود رہ سکتا ہے۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا بجٹ بڑھا کر 838 ارب روپے کر دیا گیا ہے‘ جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 17 فیصد زیادہ ہے۔ اس پروگرام سے ایک کروڑ بیس لاکھ خاندان مستفید ہو سکتے ہیں۔ رئیل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے کو بجٹ کا سب سے بڑا فائدہ اٹھانے والا شعبہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ حکومت نے تقریباً 115 ارب روپے کا ریلیف دیا ہے۔ جائیداد کی خریداری پر ایڈوانس ٹیکس 2.5 فیصد سے کم کرکے 1.25 فیصد اور فروخت پر ٹیکس 5.5 فیصد سے کم کرکے 2.75 فیصد کر دیا گیا ہے۔ بیرون ملک ظاہر شدہ اثاثوں پر ایک فیصد کیپٹل ویلیو ٹیکس بھی ختم کر دیا گیا ہے۔ کاروباری شعبے کے لیے سپر ٹیکس میں نمایاں کمی کی گئی ہے۔ 50 کروڑ روپے تک آمدنی رکھنے والی کمپنیوں کے لیے سپر ٹیکس ختم جبکہ اس سے زائد آمدنی پر شرح 10 فیصد سے کم کرکے 8 فیصد کر دی گئی ہے۔ تاہم بینکوں‘ تیل وگیس اور کھاد کے شعبے کو اس رعایت سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ چھوٹے تاجروں اور دکانداروں کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کے لیے فکسڈ ٹیکس آسان سکیم متعارف کرائی گئی ہے جس کے تحت 20 کروڑ روپے تک سالانہ کاروبار رکھنے والے تاجر ایک سادہ اور آسان طریقہ کار کے ذریعے اپنے ٹرن اوور کا ایک فیصد ٹیکس ادا کر سکیں گے جبکہ کم از کم سالانہ ٹیکس 25 ہزار روپے مقرر کیا گیا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ایف بی آر یہ تعین کس طرح کرے گا کہ کس دکان کا ٹرن اوور 20 کروڑ سے زیادہ ہے؟ دکاندار 25 ہزار روپے ادا کر کے اپنی مرضی کی کم آمدن ریٹرن جمع کروا سکتے ہیں‘ جیسا کہ ماضی میں ہوتا آیا ہے۔ اگر چیک اینڈ بیلنس نہ رکھا گیا توصرف 25 ہزار روپے ٹیکس دکانداروں کے لیے ایک طرح کی ٹیکس ایمنسٹی سکیم بن سکتی ہے۔برآمدات اور آئی ٹی سیکٹر کے لیے بھی اچھی خبر ہے۔ آئی ٹی برآمدات پر 0.25 فیصد رعایتی ٹیکس شرح مزید تین سال کے لیے برقرار رکھی گئی ہے جبکہ عمومی برآمدات پر کم از کم ٹیکس دو فیصد سے کم کرکے 1.25 فیصد کر دیا گیا ہے۔ کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ کے ذریعے بیرون ملک ادائیگیوں پر ود ہولڈنگ ٹیکس بھی پانچ فیصد سے کم کرکے صرف 0.5 فیصد کر دیا گیا ہے۔ صنعتی شعبے کو ایک طرف تقریباً 180 ارب روپے کی کسٹم ڈیوٹی رعایت دی گئی ہے۔ 3125 ٹیرف لائنوں پر کسٹم ڈیوٹی کم یا ختم کی گئی ہے جبکہ 1914 ٹیرف لائنوں پر ریگولیٹری ڈیوٹی میں کمی کی گئی ہے۔ دوسری طرف درآمدی خام مال پر اضافی تین فیصد سیلز ٹیکس لگا کر صنعتوں پر نیا بوجھ بھی ڈالا گیا ہے۔ گاڑیوں کے شعبے میں پالیسی ملی جلی ہے۔ کچھ ہائبرڈ گاڑیوں پر 18 فیصد سیلز ٹیکس نافذ کیا گیا ہے۔ دو کروڑ سے تین کروڑ روپے مالیت کی الیکٹرک گاڑیوں پر 30 فیصد اور تین کروڑ روپے سے زائد مالیت کی گاڑیوں پر 40 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کی گئی ہے۔ اسی طرح 2000 سی سی سے 3000 سی سی گاڑیوں پر 70 فیصد اور 3000 سی سی سے بڑی گاڑیوں پر 81 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی نافذ کی گئی ہے۔ ڈیجیٹل معیشت کے لیے پہلی مرتبہ سوشل میڈیا آمدن پر پانچ فیصد ودہولڈنگ ٹیکس لگایا گیا ہے جس کا اطلاق یوٹیوب‘ فیس بک‘ انسٹاگرام اور ٹک ٹاک سے حاصل ہونے والی آمدن پر ہو گا۔بجٹ میں اگر کسی ایک عدد نے سب سے زیادہ توجہ حاصل کی ہے تو وہ پٹرولیم لیوی ہے جو تقریباً 1.68ٹریلین سے 1.73 ٹریلین روپے کے درمیان مقرر کی گئی ہے۔ یہ رقم وفاقی حکومت کے ترقیاتی بجٹ سے 70 فیصد زیادہ ہے۔ بجٹ کے مطابق آئندہ مالی سال میں تقریباً 7.8 سے آٹھ ٹریلین روپے صرف قرضوں کے سود کی مد میں ادا کیے جائیں گے۔ یعنی کل آمدن کا تقریباً 43 فیصد سود کی ادائیگیوں میں خرچ ہو گا۔ یہ مالیاتی ڈھانچہ ایک تلخ حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ ریاست زیادہ آمدن تو پیدا کر رہی ہے مگر اس آمدن کا بڑا حصہ مستقبل بنانے کے بجائے ماضی کے قرضوں اور ان کے سود کی ادائیگی میں خرچ ہو رہا ہے۔ تاہم اس بجٹ کا سب سے بڑا بوجھ بالواسطہ ٹیکسوں اور لیویز کی صورت میں عوام پر ہی پڑے گا۔ حکومت نے پٹرولیم لیوی سے 1.68 ٹریلین روپے وصول کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے جبکہ کلائمیٹ سپورٹ لیوی سے مزید 50 ارب روپے حاصل کیے جائیں گے۔ پاکستان کی معیشت کے بارے میں ایک اہم حقیقت یہ ہے کہ مالی سال 2018-19ء میں بجٹ خسارہ جی ڈی پی کے 9.1 فیصد تک پہنچ گیا تھا جبکہ آج یہ کم ہو کر تقریباً 3.6 فیصد کی سطح پر آ گیا ہے۔ یعنی سات برسوں میں بجٹ خسارے میں 5.5 فیصد پوائنٹس کی کمی ہوئی ہے جو گزشتہ دو دہائیوں کی کم ترین سطح ہے۔ یہ معمولی کامیابی نہیں۔ خسارے میں کمی کا مطلب ہے کہ حکومت کو کم قرض لینا پڑتا ہے۔ کم قرض لینے سے بینکوں پر حکومتی دباؤ کم ہوتا ہے‘ نجی شعبے کے لیے قرضوں کی گنجائش بڑھتی ہے اور افراطِ زر کے دباؤ میں بھی کمی آ سکتی ہے۔ اگر خسارہ اب بھی 2018-19ء کی سطح پر ہوتا تو حکومت کو تقریباً 6.7 ٹریلین روپے اضافی قرض لینا پڑتا۔ دوسرے لفظوں میں پاکستان نے وفاقی بجٹ کے ایک تہائی حصے کے برابر قرض لینے سے گریز کیا ہے۔ تا ہم اصل سوال یہ ہے کہ کیا خسارے میں کمی ہی معاشی اصلاحات کا نام ہے؟ جواب نفی میں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بجٹ خسارہ تو کم ہوا ہے مگر اصلاحات کا خسارہ برقرار ہے۔ موجودہ جاری اخراجات اب بھی تقریباً 16 ٹریلین روپے ہیں‘ سرکاری ادارے ہر سال دو ٹریلین روپے سے زائد کا بوجھ ڈال رہے ہیں اور توانائی کے شعبے کا گردشی قرضہ پانچ ٹریلین روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔ اسی طرح ترقیاتی اخراجات کے بڑے دعوؤں کے باوجود یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کتنے سکول فعال ہوئے‘ کتنے ہسپتال بنے اور کتنے ترقیاتی منصوبے عوام کو حقیقی سہولت فراہم کر سکے؟ محض رقوم مختص کرنا ترقی نہیں‘ نتائج دینا ترقی ہے۔ بجٹ خسارہ کم ہونا ایک مثبت پیش رفت ہے‘ لیکن اصل کامیابی اس وقت ہو سکتی ہے جب ریاست اپنے حجم‘ اخراجات اور ناکامیوں کو بھی کم کرے۔ ورنہ شاید پاکستان مالیاتی دباؤ تو کم کر لے مگر معاشی اصلاحات کا سفر ادھورا رہ سکتا ہے۔ بجٹ خسارہ کم ہوا ہے‘ مگر اصلاحات کا خسارہ اب بھی برقرار ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/212_71532147.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>زنجیر بدل گئی ہماری(سعود عثمانی )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-06-15/52127/85926648</link><pubDate>Mon, 15 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-06-15/52127/85926648</guid><description>غلامی کی شکلیں بدل گئیں لیکن غلامی نہیں بدلی۔ یہ قدرے معزز غلامی ہے جس میں پیروں میں دکھائی دینے والی زنجیریں اور گلے میں جھنکتا طوق نہیں ہوتا۔ احسان دانش کا مصرع ہے: آزاد کر دیا ہمیں زنجیر ڈال کر۔ بس ہم اسی طرح کے آزاد ہیں۔ شاید غلامی کے ادوار میں ایک ہی زنجیر ہواکرتی ہو گی اور وہ بھی اس وقت جب غلام کے فرار ہو جانے کا اندیشہ ہو لیکن اس دور میں نہ دکھائی دینے والی اتنی زنجیریں ہیں کہ شاید ہی کسی دور میں رہی ہوں گی۔ اب غلام کہیں بھاگ نہیں سکتا اور یہ زنجیریں بھی ہر وقت بجتی رہتی ہیں۔ ان زنجیوں کا احساس ہر بجٹ کے وقت زیادہ شدت سے ہونے لگتا ہے۔ اگلے روز بجٹ کا اعلان ہو گیا اور یہ زنجیریں مزید بھاری ہو گئیں۔ میں نے ایک بار لکھا تھا:تقدیر تو خیر کیا بدلتی ؍ زنجیر بدل گئی ہماریکیا تقدیر ہے ہماری۔ ہم نے مہاجن سے پیسے لیے سو لیے‘ ان پر کمر توڑ دینے والا سود اٹھایا سو اٹھایا‘ لیکن ان پیسوں کو خرچ کیسے کرنا ہے‘ یہ بھی مہاجن طے کرتا ہے۔ کتنے پیسے کہاں دینے ہیں‘ کتنے سکے کس کی جیب میں جانے ہیں‘ رقم میں کتنے فیصد سود کی مد میں واپس کرنا ہے یہ ہم طے نہیں کرتے۔ کر بھی نہیں سکتے کہ یہ پیسے اس قرض کے ہیں جس نے گلے میں طوق ڈالا ہوا ہے۔ زندگی یہ حسرت کرتے گزر گئی اور باقی ماندہ گزر جائے گی کہ ہم معاشی لحاظ سے اپنے پیروں پر کھڑے نظر آئیں۔ ہر بجٹ میں امید بندھتی ہے کہ شاید اس بار حکومت اور فیصلہ ساز یہ خیال کریں کہ ہم کتنی دیر یہ قرض اٹھائے جائیں گے۔ ہر بجٹ سے پہلے کچھ انقلابی تبدیلیوں کی آس بندھتی ہے کہ شاید اس بار... لیکن وہ اس بار کبھی آ ہی نہیں پاتا۔ بلکہ بجٹ سے پہلے یہ خبریں آنے لگتی ہیں کہ مہاجن نے فلاں فلاں معاملات پر کڑی شرطیں لگا دی ہیں کہ یہ نہیں کرنا اور وہ نہیں کرنا۔ اس بار بھی یہی ہوا۔ وہی عوام کی فلاح کے وعدے‘ وہی ملک کی بہتری کی سکیمیں‘ وہی قرض سے باہر آنے کی خواہشیں۔ کاغذوں کے ایک پلندے میں درج خوبصورت الفاظ۔ جن میں ایک لفظ بھی بجٹ بنانے اور فیصلے کرنے والوں کی نیت کی ترجمانی نہیں کرتا۔کچھ دن پہلے میں کسی سے بات کر رہا تھا کہ پٹرول کی قیمتوں‘ بدلتی دنیا اور ٹیکنالوجی کی انقلابی تبدیلیوں کو دیکھتے ہوئے برقی گاڑیوں کی ملک میں سخت ضرورت ہے‘ اور ضرورت کا مطلب یہ نہیں کہ مہنگی گاڑیاں جو کسی اوسط آمدنی والے کی دسترس میں نہ ہوں بلکہ ایسی گاڑیاں جو اکثر وبیشتر طبقات خرید سکیں۔ ظاہر ہے کہ اس سے ایک طرف پٹرول کی بچت ہوگی دوسری طرف فضائی آلودگی کم ہو گی۔ ہمارے شہر بدترین آلوودہ شہروں میں شمار ہو رہے ہیں۔ صاف ہوا شہروں میں بھی میسر آنا شروع ہو جائے گی۔ اس وقت پٹرول کا ایک ہفتے کا امپورٹ بل 800 ملین ڈالر کے قریب ہے۔ ماہانہ 2.27 ارب ڈالر ہم صرف پٹرول در آمد کرنے میں خرچ کرتے ہیں۔ یہ ہماری کل درآمدات کا ایک چوتھائی ہے‘ یعنی ہم اس کو اگر نصف کی حد تک بھی کم کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو ہمیں مہاجن سے قرض لینے کی ضرورت ہی نہ پڑے۔ اس کا آسان حل الیکٹرک گاڑیوں‘ موٹر سائیکلوں‘ ٹرکوں وغیرہ کو زیادہ سے زیادہ سستا کرنا ہے‘ تاکہ ملک اس دلدل سے نکل سکے۔ ہر سال کی طرح میں خودفریبی میں مبتلا تھا کہ شاید حکومت کو اس کا ادراک ہو جائے کہ خلقِ خدا کس طرح اپنا پیٹ کاٹ کر پٹرول ڈلواتی ہے۔ خوش فہمی تھی کہ پاکستان میں سولر انقلاب کی وجہ سے جو بجلی کی بچت ہوئی ہے اس کو دیکھتے ہوئے الیکٹرک گاڑیوں پر ڈیوٹی کم کی جائے گی‘ ان کی تیاری میں سہولتوں کا اعلان کیا جائے گا اور چند سال میں اس کے نتائج پورے ملک کو ملنے لگیں گے۔ لیکن بجٹ سے پہلے یہ خبریں آنے لگیں کہ مہاجن نے کہا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں پر ڈیوٹی اور ٹیکس کم مت کرنا‘ ورنہ... اور اس ورنہ کا مطلب ہم سب جانتے ہیں۔چنانچہ بجٹ میں ان گاڑیوں پر ٹیکس کم نہیں ہوا‘ نہ ڈیوٹی کم کی گئی بلکہ جو تفصیلات آ رہی ہیں ان کے مطابق یہ گاڑیاں اور مہنگی ہو جائیں گی۔ براہ راست اور بالواسطہ ٹیکسوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اور ابھی تو بات صرف گاڑیوں کی ہو رہی ہے‘ روزمرہ استعمال کی جن چیزوں پر ٹیکس بڑھایا گیا ہے وہ تو الگ موضوع ہے۔ گاڑیوں کی حد تک نتیجہ یہ ہو گا کہ لوگ روایتی گاڑیاں ہی خریدنے اور استعمال کرتے رہنے پر مجبور ہوں گے۔ پٹرول کی درآمد بڑھتی جائے گی اور قیمتیں بھی۔ فضائی آلودگی جو پہلے ہی اپنی حدوں کو چھو رہی ہے‘ مزید بڑھے گی۔ اس آلودگی کو ختم کرنے کے لیے نئی مشینیں‘ نئے آلات خریدے جائیں گے اور یہ امپورٹ بل میں مزید اضافہ کریں گے۔ ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ مہاجن اس پر پابندی کیوں لگاتا ہے؟ اور افسر شاہی یہی چلن برقرار کیوں رکھنا چاہتی ہے؟ جواب کوئی مشکل نہیں۔ مسئلہ صرف مہاجن ہی نہیں کاروباری مافیاز بھی ہیں جن کے مفادات کے خلاف کوئی بجٹ نہیں بن سکتا۔ پٹرولیم مصنوعات کا بھی بہت پھیلا ہوا کاروبار ہے‘ وہ نہیں چاہیں گے کہ ان کی کمائی کم ہو۔ پاکستان میں ہر قسم کی روایتی اور الیکٹرک گاڑیاں پہلے ہی دیگر ملکوں کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔ کسی درمیانی سی گاڑی کی قیمت‘ جو اوسط درجے کے گھر کی بنیادی ضرورت ہے‘ 60 لاکھ سے کم نہیں‘ اور یہ نچلی حد ہے‘ بالائی حد نہیں۔ ایک عام آدمی کے لیے 60 لاکھ جمع کرنا ایک خواب ہوتا ہے۔ اتنی رقم میں تو چند سال پہلے تک زمین کا ٹکڑا خرید کر گھر بنایا جاتا تھا‘ وہ بھی ساری عمر کی پونجی جوڑ کر۔ اب زمین کے مافیاز نے زمین بھی دسترس سے چھین لی ہے۔ گورے مہاجنوں کو خطرہ ہے کہ اگر الیکٹرک گاڑیاں سستی ہوئیں تو اس کا سب سے بڑا فائدہ پاکستان کے ساتھ چین کو ہوگا۔ وہ ہمسایہ بھی ہے اور الیکٹرک گاڑیوں کا بہت بڑا برآمد کنندہ بھی اور افسر شاہی ان سیٹھوں کے ہاتھوں میں کھیلتی ہے جو روایتی گاڑیوں کے بڑے پلانٹ لگائے بیٹھے ہیں۔ اگر الیکٹرک گاڑیاں مہنگی ہی رہیں تو ان سب کا فائدہ ہے۔ مسئلہ صرف اس آدمی کا ہے جو پٹرول کی قطار میں کھڑا اپنی جیبیں ٹٹولتا ہے اور اپنے بیوی بچوں کو جھوٹی تسلیاں دیتا ہے کہ ان کی گاڑی لینے کے خواب جلد ہی پورے ہوں گے۔ چکی میں پستے اس آدمی کو کوئی یہ بتانے والا نہیں کہ جب تک یہ مہاجن ہیں جب تک یہ مافیاز ہیں اور جب تک یہ فیصلہ ساز ہیں‘ ان بچوں کے خواب پورے ہونے والے نہیں۔لیکن یہ تو صرف ایک پہلو ہے۔ آپ یہ خبر بھی پڑھ لیں تاکہ اندازہ ہو سکے کہ آپ آئندہ کس دور سے گزرنے والے ہیں۔ بجٹ میں تقریباً 150 ارب روپے کے نئے ٹیکس شامل ہیں۔ گھی‘ خوردنی تیل‘ مٹھائیاں‘ پاستا اور مختلف مسالوں پر بھی 18 فیصد جی ایس ٹی کی تجویز ہے۔ ہر قسم کے جوتے سیلز ٹیکس میں شامل کر دیے گئے ہیں۔ کراکری اور گھریلو استعمال کی اشیا پر بھی سیلز ٹیکس وصول کیا جائے گا۔ طوالت کی وجہ سے میں نے یہ خبر مختصر کر دی ہے ورنہ جن اشیا پر نئے ٹیکس لگائے گئے ہیں ان کی فہرست لمبی ہے۔ بجٹ رفتہ رفتہ اپنی شکل دکھاتا رہے گا اور ہر نئی خریداری آپ کا سانس مزید دوبھر کرے گی۔ سو میرے خوش فہم ہم وطنو! تیار ہو جاؤ۔ جنہوں نے واسا کی منتوں سے تنگ آکر خود بورنگ کروا لی ہے‘ جنہوں نے اپنے پنکھے سولر پلیٹوں پر منتقل کر دیے ہیں‘ جنہوں نے اپنی حفاظت کے لیے گلیوں میں گارڈ رکھے ہیں‘ جنہوں نے سرکاری سکولوں سے اپنے بچے کسی پرائیویٹ سکول میں داخل کروا دیے ہیں‘ اگر آپ سمجھ رہے تھے کہ اب آپ گورنمنٹ کے چنگل سے نکل گئے تو جلد ہی سمجھ آ جائے گی کہ چنگل ہوتا کیا ہے۔ آپ پرانی زنجیریں کھڑکھڑاتے اور تنگ ہوتے تھے۔ یہ نئی زنجیریں کیسی سجیں گی آپ پر؟ آپ بچ کے جائیں گے کہاں؟ ہے کوئی راہِ فرار؟ ہاں ایک بہرحال ہے۔ زیر زمین دو گز کے ٹکڑے میں۔ سانس لینا بند کر دیجیے‘ تاکہ ٹیکس دینا بند ہو سکے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_81278520.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>معاشی استحکام(علامہ ابتسام الہٰی ظہیر )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-06-15/52128/88925160</link><pubDate>Mon, 15 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-06-15/52128/88925160</guid><description>عصرِ حاضر میں کسی بھی ملک کے امن و استحکام کے لیے معاشی ترقی نمایاں کردار ادا کرتی ہے۔ معاشی اعتبار سے مستحکم ممالک ہی دنیا میں نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے سرزمین مکہ کے لیے جہاں امن کی دعا مانگی‘ وہیں اہلِ مکہ کیلئے پھلوں سے رزق کی دعا بھی مانگی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس دعا سے معاشی استحکام اور خوشحالی کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ وطن عزیز پاکستان ایک عرصے سے معاشی بحرانوں کا شکار ہے‘ جن پر قابو پانے کیلئے سیاسی رہنما اور معاشی ماہرین اپنے اپنے انداز میں تجاویز پیش کرتے رہتے ہیں لیکن اس کے باوجود یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ تاحال پاکستان کے معاشی مسائل حل نہیں ہو سکے۔ اس حوالے سے بعض اہم مادی اور روحانی تدابیر کو اختیار کرنا وقت کی ضرورت ہے۔دنیا بھر میں معاشی ترقی کے لیے جن معاملات کو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے پاکستان کو بھی ان پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ صنعتی ترقی کے لیے بجلی کا سستے نرخوں پر میسر آنا انتہائی ضروری ہے۔ اس حوالے سے عرصۂ دراز سے کوئی مضبوط لائحہ عمل سامنے نہیں آ سکا۔ توانائی کا بحران روز بروز بڑھتا جا رہا ہے اور بجلی کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے جبکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان اُن ممالک میں شامل ہے جہاں سستی توانائی کی فراہمی کے تمام قدرتی ذرائع دستیاب ہیں۔ پانی‘ ہوا اور شمسی توانائی کے ذریعے اس بحران پر قابو پانا کچھ مشکل نہیں ہونا چاہیے۔ پاکستان کے بہت سے علاقوں میں تیز ہوائیں چلتی ہیں۔ اگر اس ہوا کو توانائی کی فراہمی کیلئے استعمال کیا جائے تو بہ آسانی توانائی کی وافر مقدار میسر آ سکتی ہے۔ کراچی اور اس سے متصل ساحلی علاقوں میں سمندر کے کنارے ہمیشہ تیز ہوا چلتی رہتی ہے‘ وہاں سے بڑی مقدار میں توانائی حاصل کی جا سکتی ہے۔ پاکستان میں پانی بھی وافر مقدار میں موجود ہے لیکن بدقسمتی سے بعض سیاسی اور انتظامی مسائل کی وجہ سے وافر مقدار میں ڈیمو ں اور آبی ذخائر کو تعمیر نہیں کیا جا سکا۔ اگر آبی ذخائر کی تعداد کو بڑھایا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ پاکستان توانائی کے بحران پر قابو پانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ آبی ذخائر کے قیام کا ایک فائدہ یہ ہوگا کہ توانائی کا بحران قابو میں آ جائے گا اور دوسرا فائدہ یہ ہو گا کہ ملک میں ہر سال مو ن سون کی بارشوں کے بعد جو سیلابی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے‘ اس سے بھی ان شاء اللہ نجات مل جائے گی۔ پاکستان میں سال بھر سورج نمایاں طور پر نظر آتا ہے لہٰذا شمسی توانائی کے ذریعے توانائی کے بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ یورپ کے بہت سے ممالک‘ جن میں برطانیہ بھی شامل ہے‘ وہاں موسم اکثر ابر آلود ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود توانائی کے حصول کیلئے شمسی توانائی کو استعمال کیا جاتا ہے۔ گو کہ پاکستان میں انفرادی سطح پر اس حوالے سے کوششیں کی جا رہی ہیں لیکن حکومتی سطح پر اس ضمن میں زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو شروع کرتے وقت ایک اہم ہدف یہ بھی تھا کہ پاکستان جوہری توانائی کے ذریعے بجلی کے بحران پر قابو پائے گا لیکن اس حوالے سے زیادہ پیشرفت نہیں ہو سکی۔ اگر توانائی کے ان ذرائع پر توجہ دی جائے تو پاکستان کا یہ بڑا مسئلہ حل ہو سکتا ہے‘ جس کے نتیجے میں صنعتی ترقی کے دروازے کھل سکتے ہیں۔پاکستان میں توانائی کے بحران کے ساتھ ساتھ معاشی بحران کی ایک بڑی وجہ اشیائے ضرورت کے علاوہ سہولتیں فراہم کرنے والی چیزوں کی بکثرت درآمد ہے۔ ان اشیا کی درآمدات پر مکمل پابندی عائد کرنی چاہیے اور کوشش کی جانی چاہیے کہ پاکستان میں ان اشیا کو بنانے والی صنعتوں کا قیام عمل میں لایا جائے تاکہ خریداری کے لیے غیر ملکی مصنوعات پر انحصار کرنے کے بجائے پاکستانی ملک میں تیار کردہ مصنوعات پر انحصار کریں۔ پاکستان میں ہنرمند افراد کو صنعتی عدم استحکام کی وجہ سے مناسب روزگار میسر نہیں آ پاتا جس کی وجہ سے ہمارے معاشرے کے بہت سے ہنرمند افراد بیرونِ ملک چلے جاتے ہیں۔ اس نقل مکانی کی وجہ سے پاکستان ایک عرصے سے قیمتی انسانی اثاثوں سے محروم ہو رہا ہے۔ اس کے تدارک کے لیے حکومت کو مؤثر منصوبہ بندی کرنی چاہیے اور صنعتوں کی حوصلہ افزائی کیلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ مادی اقدامات کے ساتھ ساتھ معیشت کی ترقی کے لیے روحانی اقدامات بھی انتہائی ضروری ہیں‘ جن میں سے بعض اہم نکات درج ذیل ہیں:1۔ سود کا خاتمہ: اندرونی اور بیرونی تجارت کو فروغ دینے کے لیے سود کا خاتمہ انتہائی ضروری ہے۔ سود اللہ اور اس کے رسول کے خلاف اعلانِ جنگ ہے‘ اسی وجہ سے ہمارے معاشی معاملات عرصہ دراز سے الجھے ہوئے ہیں اور اس بحران کے خاتمے کے لیے تاحال کسی ٹھوس حکمت عملی کو اختیار نہیں کیا جا سکا۔2۔ توبہ واستغفار: جب کوئی فرد یا قوم توبہ واستغفار کرتی ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ اس کے معاشی معاملات کو سنوار دیتے ہیں۔ استغفار کے معاشی نتائج کے حوالے سے اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۂ نوح میں حضرت نوح علیہ السلام کے اس قول کو بیان کیا ہے‘ آیات: 10 تا 12 میں ارشاد ہوا: &#39;&#39;اور میں نے کہا کہ اپنے رب سے اپنے گناہ بخشوائو (اور معافی مانگو) وہ یقینا بڑا بخشنے والا ہے۔ وہ تم پر آسمان کو خوب برستا ہوا چھوڑ دے گا۔ اور تمہیں خوب پے درپے مال اور اولاد میں ترقی دے گا اور تمہیں باغات دے گا اور تمہارے لیے نہریں نکال دے گا‘‘۔3۔ تقویٰ: جب کوئی انسان یا قوم تقویٰ اور للہیت کا راستہ اختیار کرتی ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ اس کے لیے رزق کے دروازوں کو کھول دیتے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الطلاق کی آیات: 2 تا 3 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے چھٹکارے کی شکل نکال دیتا ہے۔ اور اسے ایسی جگہ سے روزی دیتا ہے جس کا اسے گمان بھی نہ ہو‘‘۔4۔ شرعی قوانین کا نفاذ: جب اللہ تبارک وتعالیٰ کے قوانین کی عملداری ہو تو اس کے نتیجے میں اللہ تبارک وتعالیٰ آسمان اور زمین سے رزق کے دروازوں کو کھول دیتے ہیں۔ سورۃ المائدہ کی آیت: 66 میں اس حوالے سے کچھ یوں ارشاد ہوا: &#39;&#39;اور اگر یہ لوگ تورات وانجیل اور ان کی جانب جو کچھ اللہ کی طرف سے نازل فرمایا گیا ہے‘ ان کے پورے پابند رہتے تو یہ لوگ اپنے اوپر سے اور نیچے سے روزیاں پاتے اور کھاتے‘ ایک جماعت تو ان میں سے درمیانہ روش کی ہے‘ باقی ان میں سے بہت سے لوگوں کے برے اعمال ہیں‘‘۔5۔ انفاق فی سبیل اللہ: رزق میں اضافے اور معاشی استحکام کیلئے انفاق فی سبیل اللہ بھی نمایاں کردار ادا کرتا ہے۔ اس حوالے سے سورۂ سباء کی آیت: 39 میں ارشاد ہوا: &#39;&#39;تم جو کچھ بھی اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے اللہ اس کا (پورا پورا) بدلہ دے گا اور وہ سب سے بہتر روزی دینے والا ہے‘‘۔ اگر حکومتیں مفاد ِعامہ کے لیے رقم خرچ کریں تو اللہ تبارک وتعالیٰ کے فضل وکرم سے ملک کی معیشت میں واضح طور پر بہتری آ سکتی ہے۔6۔ توکل: اللہ تبارک وتعالیٰ پر بھروسہ کرنے سے رزق میں اضافہ اور معاشی معاملات کی اصلاح ہوتی ہے۔ سورۃ الطلاق کی آیت: 3 میں ارشاد ہوا: &#39;&#39;اور جو شخص اللہ پر توکل کرے گا اللہ اسے کافی ہوگا۔ اللہ اپنا کام پورا کر کے ہی رہے گا (اور) اللہ نے ہر چیز کا ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے‘‘۔ اگر ہمارا انحصار غیر ملکی امداد اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے بجائے اللہ تبارک وتعالیٰ کی ذات پر ہو تو ہمارے معاملات میں خاصی بہتری آ سکتی ہے۔اللہ تبارک وتعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ پاکستان کو معاشی ترقی کی شاہراہ پر چلا دے‘ آمین!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_19740082.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>