<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>قومی ترقی کی ضرورت(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-05/11425</link><pubDate>Wed, 05 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-05/11425</guid><description>ملکِ عزیز پاکستان کو جس قسم کے سیاسی‘ انتظامی ‘ معاشی اور سماجی مسائل کا سامنا ہے ایسے میں یہ سوال برمحل ہے کہ آیا ہمارا نظام ان چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے ؟ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا یہ بیان کہ ’سسٹم ناکام ہو گیا ہے‘ ٹھہرے پانی میں کنکر ثابت ہوا ‘اور اسکے بعد کئی سیاسی اور غیر سیاسی رہنماؤں نے اپنے الفاظ میں اس خیال کی توثیق کی۔ گزشتہ روز لاہور میں ایک نجی یونیورسٹی کے زیر اہتمام ایک کانفرنس میں بھی سیاسی رہنماؤں اور ماہرین نے ان ناکامیوں کا ذکر کرتے ہوئے ملک میں نئے صوبے بنانے اور بلدیاتی نظام کو اختیارات دینے کی حمایت کی۔ نئے صوبوں کا قیام اور مقامی حکومت کی مضبوطی ایسا بنیادی تقاضا ہے جس کا احساس ملک کی سیاسی‘ سماجی اور معاشی ضرورتوں سے بخوبی ہوتا ہے۔ ملکِ عزیز کی تقریباً 48 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ تقریباً ڈھائی کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں‘ جو دنیا میں سکولوں سے باہر بچوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ گزشتہ برس ایک کروڑ دس لاکھ افراد شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا کرتے رہے۔ ملک کی55 فیصد آبادی پینے کے صاف پانی سے محروم ہے ۔

پانچ سال سے کم عمر 40 فیصد بچے غذائی قلت کا شکار ہیں جبکہ بچوں میں قد اور ذہنی نشوونما کی کمی (سٹنٹنگ) ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا ازالہ زندگی کے ابتدائی ایک ہزار دن گزرنے کے بعد ممکن نہیں رہتا۔ مزید تشویشناک امریہ ہے کہ بچوں میں شدید غذائی کمی کی شرح 17.7 فیصد تک پہنچ چکی ہے ۔انسانی ترقی کے اشاریے ‘ پائیدار ترقی کے اہداف‘ بھوک کے عالمی اشاریے اور قانون کی حکمرانی جیسے تمام بین الاقوامی پیمانے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستان کو صرف معاشی نہیں بلکہ شدید درجے کے انتظامی اور حکومتی بحران کا بھی سامنا ہے۔ایسے حالات میں صرف افراد یا حکومتوں کی تبدیلی کافی نہیں ہوتی‘ نظام کی اصلاح ناگزیر ہو جاتی ہے۔ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنے میں دیر نہیں کرنی چاہیے کہ ہمارے ملک کا انتظامی ڈھانچہ آبادی‘ وسائل اور جغرافیائی وسعت کے مقابلے میں ناکافی ہے؛چنانچہ عوام تک حکومتی خدمات بروقت اور مؤثر انداز میں پہنچانا ممکن ہی نہیں۔ ان مسائل سے صرفِ نظر کی گنجائش نہیں اور اسکا حل نئے انتظامی یونٹس کے قیام اور ان یونٹس میں فعال مقامی حکومتی نظام ہے۔
اس طرح اختیارات اور وسائل عوام کے قریب منتقل ہوں گے اور مقامی مسائل کا مقامی سطح پر بہتر حل ممکن ہوسکے گا۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں مقامی حکومتیں عوامی خدمات‘ ترقیاتی منصوبوں اور شہری سہولیات کی فراہمی میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں جبکہ ہمارے ہاں کا مقامی حکومتی نظام صرف خانہ پری کرتا ہے۔چین میں مجموعی سرکاری وسائل کاتقریباً 60فیصد مقامی حکومتیں خرچ کرتی ہیں جبکہ ہمارے ہاں یہ شرح پانچ فیصد بتائی جاتی ہے۔یہی فرق مقامی ترقی‘ بنیادی سہولیات اور عوامی خدمات کے معیار میں بھی نظر آتا ہے۔ جب تک مقامی حکومتیں مالی طور پر خودمختار نہیں ہوں گی وہ عوامی مسائل کا مؤثر حل فراہم نہیں کر سکتیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ میں مقامی حکومتوں کیلئے آئینی طور پر مستقل حصہ مختص کیا جائے۔ سویلین سپرمیسی‘ قانون کی حکمرانی اور عوامی نمائندوں کے اختیارات مضبوط کیے بغیر کوئی بھی اصلاح دیرپا ثابت نہیں ہو سکتی۔
ملک میں ایک ایسا نظام درکار ہے جس میں فیصلے عوام کے قریب ہوں‘ وسائل کی منصفانہ تقسیم ہو اور مقامی قیادت اپنے علاقوں کی ضروریات کے مطابق منصوبہ بندی کر سکے۔پاکستان کے موجودہ معاشی‘ سماجی اور انتظامی اشاریے اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ معمولی اصلاحات سے کام نہیں چلے گا۔ ملک کو غربت‘ بے روزگاری‘ تعلیمی پسماندگی‘ غذائی بحران اور بنیادی سہولیات کی کمی جیسے مسائل سے نکالنا ہے تو نئے انتظامی یونٹس‘ آئینی تحفظ کے حامل مضبوط بلدیاتی نظام اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے بغیر یہ نہیں ہوسکتا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>یومِ استحصالِ کشمیر(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-05/11424</link><pubDate>Wed, 05 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-05/11424</guid><description> بھارتی حکومت کی جانب سے ریاست جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے غیرقانونی اور غیر آئینی عمل کو آج سات برس مکمل ہو گئے ہیں۔ پانچ اگست 2019ء کو جب فاشسٹ مودی حکومت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی جغرافیائی حیثیت میں تبدیلی کی تو کشمیریوں پر بھارتی ظلم و ستم کے ایک نئے باب کا آغاز ہو گیاجو ہنوز جاری ہے۔ افسوس کہ بھارتی مظالم اور غاصبانہ اقدام پر عالمی اداروں کی مجرمانہ خاموشی کی وجہ سے کشمیری آج ایک سنگین انسانی المیے کا شکار ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق پانچ اگست 2019ء سے اب تک تقریباً 1100کشمیریوں کو قابض بھارتی فورسز کی جانب سے شہید کیا جا چکا ہے۔ عالمی قوانین اور انسانی حقوق کے یکساں اطلاق کا تقاضا ہے کہ عالمی برادری اور انسانی حقوق کے علمبردار ادارے کشمیر کے معاملے کو بھی اسی سنجیدگی سے دیکھیں جس کا مطالبہ دنیا کے دیگر تنازعات میں کیا جاتا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ اقوامِ متحدہ اور بااثر عالمی طاقتیں مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں‘ قابض بھارتی افواج کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں کھیلی جانے والی خون کی ہولی رکوائیں‘کشمیری عوام کے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائیں اور انہیں آزادانہ‘ غیر جانبدارانہ استصوابِ رائے کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دلانے کیلئے مؤثر اور عملی کردار ادا کریں۔یہی خطے میں پائیدار امن، انصاف اور استحکام کی بنیاد بن سکتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>تعلیم، دعوے اور حقیقت(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-05/11423</link><pubDate>Wed, 05 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-05/11423</guid><description>قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم کے اجلاس میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ اسلام آباد میں 26 ہزار سے زائد بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ یہ اعداد و شمار صرف ایک انتظامی ناکامی کی نشاندہی نہیں کرتے بلکہ اس تلخ حقیقت کو بھی بے نقاب کرتے ہیں کہ ملک کا سب سے منظم اور وسائل سے مالا مال انتظامی یونٹ بھی ہر بچے تک تعلیم پہنچانے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ اسلام آباد محض 36یونین کونسلوں پر مشتمل ایک محدود علاقہ ہے‘ جہاں تعلیم کیلئے الگ وزارت اور وسیع انتظامی ڈھانچہ موجود ہے‘ جبکہ ہر سال اربوں روپے کا بجٹ بھی مختص کیا جاتا ہے۔ اس کے باوجود اگر اتنے محدود علاقے میں بھی سو فیصد بچوں کو سکولوں میں داخلہ یقینی نہیں بنایا جا سکتا تو ملک کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں تعلیمی اہداف کے حصول کی امید کیسے رکھی جا سکتی ہے؟

سکولوں سے باہر بچوں کی تعداد میں اضافے کی ایک بڑی وجہ غربت بھی ہے۔ بے شمار خاندان روزمرہ ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہوتے ہیں اس لیے وہ اپنے بچوں کو تعلیم دلانے کے بجائے کم عمری ہی میں مزدوری پر لگا دیتے ہیں۔ جب تک اس معاشی حقیقت کا ادراک نہیں کیا جائے گا‘ سو فیصد داخلوں کا ہدف حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بھی ضروری ہے کہ سکولوں میں ابتدائی سطح ہی سے فنی تعلیم‘ ہنر مندی اور جدید آئی ٹی مہارتوں کو فروغ دیا جائے تاکہ طالبعلم ابتدائی عمر میں ہی باعزت روزگار کمانے کے قابل بن سکیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>دونوں خاندان بات سمجھ نہیں رہے(ایاز امیر)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-08-05/52423/55014630</link><pubDate>Wed, 05 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-08-05/52423/55014630</guid><description>بات سمجھنے کی یہ ہے کہ ان دونوں گھروں کی وارنٹی ختم ہو چکی ہے۔ ان کا جاہ و جلال ختم نہیں ہو رہا لیکن موجودہ ملے جلے نظام میں ان کی افادیت وہ نہیں رہی جو پہلے تھی۔ حالات کے تقاضے اب اور ہیں جنہیں سمجھنے میں انہیں مشکل پیش آ رہی ہے۔ پہلے تو باہمی ضرورت کے تحت یہ بندوبست پایہ تکمیل کو پہنچا۔ اولین مقصد فتنہ 804کا کچھ کرنا تھا۔ باجوہ کی رہنمائی اور باقی جماعتوں کے ووٹوں سے عمران خان کی چھٹی کرائی گئی اور شہباز شریف کو سامنے رکھتے ہوئے نئی حکومت سازی ہوئی۔ ووٹوں کی اپنی اہمیت تھی‘ اُن کے بغیر رجیم چینج کا عمل پورا نہیں ہو سکتا تھا۔ لیکن پھر 2024ء کے انتخابات آئے جن میں اصلی ووٹوں کی اتنی حیثیت نہ رہی جتنی کہ فارم 47 کے جادو کی۔ یعنی 2024ء کے الیکشن میں یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ بنائی گئی حکومتوں کی کوئی حیثیت ہے تو محض فارم 47کی وجہ سے۔اس حقیقت کے پیشِ نظر اب تو برملا طعنے دیے جا رہے ہیں کہ وزرا اور کابینہ فارم 47کی پیداوار ہیں تو جنابِ صدرآپ بھی تو اسی کرشمہ سازی کے مرہونِ منت ہیں۔ جو اطاعت اور فرمانبرداری اس حقیقت کی وجہ سے حکومتی جماعتوں پر لازم تھی اُس کا اظہار اور مظاہرہ بھی ہوتا رہا۔ مدح سرا میں پیچھے نہ رہے۔ وقت بے وقت کی تعریف کے استاد ہو گئے۔ استاد بھی کیا ہونا تھا کیونکہ مدح سرائی میں (ن) لیگ ویسے ہی خاصی مہارت رکھتی تھی۔ صدر اور وزیراعظم اپنے عہدوں پر موجود رہے لیکن حکومتی درجہ بندی کی اصلیت سب خاص و عام پر واضح تھی۔ تب سے لے کر اب تک مزید پانی پلوں کے نیچے سے گزر چکا ہے اور اب نئی حقیقتیں اور نئی ضروریات سامنے آ رہی ہیں۔ انہیں سمجھنے میں دِقت پیش آ رہی ہے جس کی وجہ سے حکومتی ایوانوں میں ایک بحران کا تصور پیدا ہو رہا ہے۔ حالانکہ اصل بحران سمجھنے کا ہے نہ کہ کسی اور چیز کا۔محسن نقوی نظام کے زمین بوس ہونے کی بات کر رہے ہیں‘ وہ یہ نہیں کہہ رہے کہ حکومتی کارکردگی بہتر ہونی چاہیے یا مریم نواز کو اتنا مہنگا جہاز نہیں خریدنا چاہیے تھا۔ وہ بات بالکل مختلف کر رہے ہیں کہ آپ کی عقلوں پر پردے کیوں پڑ گئے ہیں اور جو حکمرانی کے اب نئے تقاضے ہیں اُنہیں سمجھنے میں آپ کو اتنی مشکل کیوں پیش آ رہی ہے۔ محسن نقوی کو ئی اصلاحات کا پیکیج لیے نہیں پھر رہے‘ اس نظام کے زمین بوس ہونے کی بات کررہے ہیں جو فارم 47کی پیداوار ہے اور جس کی وجہ سے تمام موجودہ حکومتیں معرضِ وجود میں آئیں اور بس چلتی جا رہی ہیں۔ محسن نقوی کا اشارہ اس طرف ہے کہ جناب اپنی پوزیشن سمجھیے‘ اس بات کا ادراک رکھیے کہ جن کرسیوں پر براجمان ہیں کس کی وجہ اور کس کی اشیرباد سے یہ اعزاز حاصل ہوا ہے۔ ادراک کا ثبوت تبھی مل سکتا ہے کہ دونوں خاندان مل کر حکومتی درجہ بندی میں تبدیلی لانے کی نہ صرف حامی بھریں بلکہ مؤدبانہ التجا کریں کہ حضور جو فرما رہے ہیں‘ اسی میں قوم و ملک کی بہتری ہے۔ دیکھا جائے تو ہرزاویے سے محسن نقوی کی بات درست ہے۔ اوپر سے مہربانی ہوئی تو یہ سارے اقتدار میں بیٹھے ہیں۔ جہاز بھی پنجاب میں تب ہی خریدا گیا جب اقتدار میں بیٹھے تھے۔ فارم 47کی مہربانی نہ ہوتی تو کہاں کے منصب اور کہاں کے جہاز ۔ لیگی وزرا جو ایوانِ صدر کو طعنے دے رہے ہیں کہ ہم فارم 47ء کی پیداوار ہیں‘ آپ بھی تو ہماری کشتی میں سوار ہیں‘ بالکل درست کہہ رہے ہیں۔ اس سے کیا انکار کیا جاسکتا ہے؟ اس نظام کا سارا زور سارا سریا سیمنٹ کس کی بدولت ہے سب کومعلوم ہے۔ علاقائی سفارتکاری میں کس کی حیثیت پیش پیش ہے وہ بھی سب پر عیاں ہے نہیں تو انہیں کون پوچھے‘ جناب اسحاق ڈار کی کون سی پذیرائی ہو۔ ملکی صورتحال جو بنی ہوئی ہے اُس کا سامنا اگر کیا جا رہا ہے تو کس ادارے کی طرف سے ؟ دہشت گردی اور شورش کے خلاف جنگ کا بیشتر بوجھ کون اٹھا رہا ہے؟ اس جنگ میں وزیراعظم کا کیا کردار ہے اور صدرِ محترم کی کون سی حصہ داری ؟ وزیراعظم تو شورش زدہ علاقوں میں کبھی گئے نہیں‘ باہر کے دوروں میں زیادہ مصروف رہے ہیں۔ اصل بات یہی ہے کہ سب کچھ کرنا ہم نے‘ فارم 47 کی مدد آپ کوپہنچانی ‘نہیں تو آپ بڑے لیڈر اپنی سیٹیں بھی ہار گئے تھے۔ عیاشی کرلی اقتدار کے مزے لے لیے اب حقیقت کو سمجھیں اور اُسی طریقے سے اپنے آپ کو ایڈجسٹ کریں۔ آپ کی چھٹی نہیں کرائی جا رہی لیکن رموزِ سلطنت تو سمجھیے۔ اشارہ اوپر سے یہ ہے کہ سب کچھ ہو جائے لیکن خوش اسلوبی سے ۔ کہیں کسی جھٹکے کی ضرورت نہ پڑے۔ جو ایک مغالطہ آئین اور قانون کا موجود ہے وہ قائم رہے۔اسمبلیاں رہیں گی‘ وزیراعظم بھی ہوگا لیکن اپنی نئی حیثیت کے مطابق۔ اعلیٰ تصورات میں تبدیلی کا خاکہ یہ ہے۔جو اصل بحران ملک کو درپیش ہے اُس کی نوعیت کچھ اور ہے۔ ہر طر ف ایک الگ فتنہ ہے۔ کے پی میں فتنہ الخوارج‘ بلوچستان میں فتنہ الہندوستان۔ سیاسی میدان میں فتنہ 804۔ جو صورتحال کشمیر کی ہے اُسے شاید نیا نام دینا پڑے۔ معیشت کی الگ کہانی ہے۔ مانگے تانگے کے بغیر قرضوں اور اُن پر بنے سود کی اقساط ادا نہ ہوسکیں۔ ایسے میں انتظامی ڈھانچے پر یہ جو فالتو کی سواریاں بیٹھی ہیں ان کا بوجھ کون اٹھائے؟ یہ ہے سوچ اس اعلان کے پیچھے کہ نظام زمین بوس ہو گیا ہے۔ نظام تو وہی رہے گا ‘ اس میں کون سی تبدیلی آنی ہے لیکن فالتو سواریوں کا بوجھ اب شد ت سے محسوس ہو رہا ہے۔ شہباز شریف سمجھدار انسان ہیں۔ اُن کی حد تک شاید کوئی د قت پیش نہ آئے۔ مشرف کے زمانے میں بھی کچھ درمیانی راستہ نکالنے کے حامی تھے۔ مسئلہ رہبرِ جماعت کی طرف سے پیش ہو سکتا ہے جنہیں اپنی عوامی حیثیت کا زُعم کبھی ستاتا ہے۔ مسئلہ ایوانِ صدر کا بھی ہے۔ خواہ مخواہ کا رعب اور آسائشیں کون چھوڑنا چاہتا ہے۔ سفارتکاری کا اصل معرکہ تو یہاں دیکھنا ہے کہ صدرمحترم اور وزیراعظم اس نئے بندوبست کے اعلیٰ مقاصد کے حق میں کس انداز او ر کس تندہی سے قائل ہوتے ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_80573045.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>جمہوریت خود قید ہوگئی(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-08-05/52424/33083460</link><pubDate>Wed, 05 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-08-05/52424/33083460</guid><description>موجودہ ملکی صورتحال سے یاد آیا کہ برسوں سے پڑھ اور سن رہے ہیں کہ جمہوریت مشکل لیکن ایک ایسا نظام ہے جو دھیرے  دھیرے مضبوط ہوتا ہے۔ انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اس میں بہت وقت لگتا ہے کہ لوگوں کے رویے جمہوری ہوں۔ راتوں رات کچھ نہیں ہوتا۔ جن ملکوں کی ہم مثالیں دیتے ہیں وہاں چار پانچ سو سال سے زائد عرصے سے جمہوریت ہے‘ لہٰذا اب ان معاشروں کے ڈی این اے میں بھی جمہوریت آ چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پچھلے دس سال میں برطانیہ میں ساتواں وزیراعظم تبدیل ہو چکا ہے لیکن وہاں کوئی ایسا پینک نہیں ہے جو ہمارے ہاں اس وقت وزیرداخلہ کی ایک تقریر سے پیدا ہو چکا ہے۔ ویسے حیرانی ہوتی ہے کہ اٹلی‘ جاپان‘ برطانیہ یا فرانس تک میں وزیراعظم تبدیل ہو جائیں اور مسلسل ہوتے رہیں تو بھی جمہوریت خطرے میں نہیں پڑتی۔ ہمارے ہاں ایک وزیراعظم تبدیل ہو جائے تو لگتا ہے آسمان گر گیا ہے۔ عمران خان کو تحریکِ عدم اعتماد کے ذریعے ہٹایا گیا تو انہوں نے جیل میں جانا مناسب سمجھا اور پوری پارٹی بین کرا لی‘ اپنے ساتھیوں کو دس دس سال قید کرا کے نااہل کرا لیا لیکن سرکاری بینچوں سے اٹھ کر اپوزیشن بینچوں پر بیٹھنا انہیں مناسب نہیں لگا۔ بھٹو صاحب نے بھی پھانسی لگنا قبول کر لیا لیکن انہیں بھی الیکشن لڑ کر جیتنا اچھا نہیں لگا‘ جہاں سے ان کے خلاف دھاندلی کا نعرہ بلند ہوا۔ میاں نواز شریف بھی تین دفعہ وزیراعظم بن کر مطمئن نہ ہوئے تو چوتھی کوشش کی جو کامیاب نہ ہوئی۔ بھٹو صاحب کا دور دیکھیں تو اس وقت ان کے چاروں وزرائے اعلیٰ سمیت سترہ وزیروں اور دیگر اہم سیاسی ساتھیوں نے خود کو بلامقابلہ الیکٹ کرا لیا۔ بھٹو صاحب کے پاس الیکشن لڑنے کی چوائس بھی تھی۔ بھلا انہیں لاڑکانہ سے کون ہرا سکتا تھا۔ اگر وہ دو تہائی اکثریت نہ بھی لے پاتے لیکن سادہ اکثریت تو ان کے سیاسی مخالفین بھی مانتے تھے کہ وہ لے جاتے۔ مگر وہی بات کہ بغیر الیکشن لڑے جیتنے کا اپنا رومانس تھا۔ نتیجہ ہم سب جانتے ہیں۔ اگر آپ نے بغیر الیکشن لڑے ہی وزیراعظم بننا ہے تو آپ جمہوریت کے اس فلسفے کی ہی خلاف ورزی کر رہے ہیں جس نے بادشاہوں کے خلاف جنم لیا تھا کہ تاحیات سربراہ کسی نے نہیں رہنا۔ ہر پانچ سال کے بعد آپ کو لوگوں کے سامنے پیش ہو کر اپنا پارلیمانی احتساب کرانا ہوگا۔ لیکن جہاں جہاں حکمرانوں نے منتخب سیاسی وزیراعظم بننے کے بجائے تاحیات کرسی پر بیٹھنے کا فیصلہ کیا‘ ان کا انجام کچھ اچھا نہیں ہوا۔ اگرچہ آپ میں سے اکثر قارئین یہ کہہ سکتے ہیں کہ برطانیہ میں ایسی مثالیں موجود ہیں جہاں ایک ہی شخص دو دو دفعہ بلکہ مارگریٹ تھیچر تین دفعہ بھی وزیراعظم رہیں۔ میں پھر کہوں گا کہ جن ملکوں میں اچھی بری جمہوریت کی روایت چار پانچ سو سال پرانی ہے وہاں ادارے اتنے مضبوط ہو چکے ہوتے ہیں کہ یہ نارمل بات لگتی ہے۔ پھر مارگریٹ اپنی جگہ اپنی بیٹی یا بیٹے کو وزیراعظم نہیں بنوا گئی۔ لیکن تیسری دنیا کے ممالک میں سیاسی وزیراعظم کے اندر بہت خواہش ہوتی ہے کہ وہ الیکٹ تو جمہوری طریقے سے ہوجائے لیکن حکومت ایک بادشاہ کی طرح کرے جو کسی کو جوابدہ نہ ہو‘ اور اس پر تنقید کرنے والا قابلِ گردن زنی ہو۔ پھر وہ گھر نہیں جانا چاہتا اور طاقتور حلقوں کے ساتھ مل کر تاحیات تخت پر بیٹھنا چاہتا ہے۔ بھارت میں بھی تو اندرا گاندھی کے ساتھ یہی کچھ ہوا۔ وہی اندرا گاندھی جس نے بنگلہ دیش بنوا کر عوام میں نام کمایا تھا‘ وہ  محض چار سال کے بعد اتنی غیرمقبول اور آمرانہ مزاج کی ہو گئی کہ اسے آئین کو معطل کر کے ایمرجنسی لگانا پڑی تاکہ وہ اپنے سیاسی مخالفین کو جیلوں میں ڈال سکے۔ تو کیا نہرو کی بیٹی یہ سب کچھ جمہوری اقدار کے نام پر کر رہی تھی؟ ہرگز نہیں۔ وہ وزیراعظم ہاؤس نہیں چھوڑنا چاہ رہی تھی‘ لہٰذا اس کیلئے آئین‘ قانون یا جمہوری رویے غیر اہم ہو گئے تھے۔ اور وہی ہوا کہ دو سال کے بعد الیکشن ہوا تو وہ الیکشن ہار گئی۔ اندازہ کریں‘ اندرا گاندھی نے دو سال تک پورے بھارت میں کھل کر کھیلا کہ کسی طرح اس کی گرتی مقبولیت بحال ہو جائے اور وہ الیکشن جیت جائے لیکن عوام میں نفرت بڑھتی گئی اور وہ الیکشن ہار گئی‘ اور وہ کچھ ہو گیا جو کبھی کسی نے نہ سوچا تھا۔ اگرچہ دو سال کے بعد پھر الیکشن ہوئے تو وہ جیت کر وزیراعظم تو بن گئی لیکن وہی عہدہ اس کی جان لے گیا۔ اس ساری بحث کا مقصد یہی ہے کہ انسان آمرانہ مزاج رکھتا ہے۔ اسے پاور پسند ہے۔ وہ پاور کیلئے کچھ بھی کرے گا۔ جبکہ جمہوریت کا مطلب یا تصور ہی یہی تھا کہ آپ مستقل بادشاہ نہیں بن سکتے کیونکہ اس سے زیادہ قتل و غارت اور خون خرابہ ہوتا ہے۔ بادشاہ کبھی ریٹائر نہیں ہوتا‘ نہ ہی وہ گھر جاتا ہے جب تک قدرت خود مداخلت نہ کرے یا پھر خاندان میں وراثت کیلئے جنگ نہ شروع ہو جائے۔ ہندوستان کی ہی مثالیں دیکھ لیں کہ اکبر کے بیٹے نے اس کے خلاف جنگ لڑی‘ جہانگیر کے بیٹے نے باپ کے خلاف جنگ لڑی‘ شاہ جہاں کے بیٹے نے باپ اور چار بھائیوں کے خلاف جنگ لڑی اور انہیں قتل کیا۔ یہ لمبی بحث ہے کہ بادشاہوں کو ہٹا کر جمہوری وزیراعظم یا پارلیمنٹ کیوں لائے گئے تھے۔ جمہوریت نے اور کچھ کیا ہو یا نہ کیا ہو لیکن بادشاہوں کا قتلِ عام اور شہزادے شہزادیوں کا لہو بہنا بند ہوا۔ جمہوریت نے انسانوں کی اقتدار کیلئے جنگیں تو بڑی حد تک ختم کرائیں ورنہ تو سلطنتِ دہلی میں‘ جہاں ایک بادشاہ کی اوسط اقتدار کی عمر دس سال رہی‘ وہاں جب بغاوت ہوتی تھی تو بچوں تک کو بھی قتل کیا جاتا تھا تاکہ وہ کل بڑے ہو کر تخت پر حق نہ جتائیں‘ جیسے اورنگزیب نے اپنے بھتیجے کو جنگ کے بعد گرفتار کر کے قتل کیا تھا تو بھی یہی وجہ ذہن میں تھی کہ اگر اسے چھوڑ دیا تو وہ کل کو اپنا حق جتائے گا۔ شاید اورنگزیب کو اپنے مغل خون کا اندازہ تھا کہ سب کسی نہ کسی سگے کو مار کر ہی اقتدار میں آئے تھے۔ اور تو اور شاہ جہاں‘ جو ایک مظلوم بادشاہ سمجھا جاتا ہے‘ وہ بھی اپنے سوتیلے بھائی کو قتل کر کے بادشاہ بنا تھا۔ ان حالات میں جب انگریزوں نے ہندوستان میں جمہوریت متعارف کرانی شروع کی تو انہیں یہ کریڈٹ دینا پڑتا ہے کہ ان کے اس نظام کی وجہ سے اس خطے میں خون خرابہ کم ہوا اور تبدیلی کا نیا سفر شروع ہوا۔ لیکن وہی بات کہ ہمارے ہاں ہر کوئی کوشش کرتا ہے کہ وہ اگر اقتدار میں آ گیا ہے تو اب مرتے دم تک اس نے یا اس کے خاندان نے ہی اقتدار میں رہنا ہے۔ اگرچہ یورپی دنیا میں سینکڑوں سال کی جمہوریت کی وجہ سے خاندانی سیاست دھیرے دھیرے ختم ہوتی چلی گئی لیکن ہندوستان‘ پاکستان‘ سری لنکا اور بنگلہ دیش میں آج بھی سیاسی خاندان مضبوط ہیں۔ ہمارا خیال تھا اور اب بھی ہے کہ بدترین جمہوریت بھی آمریت سے بہتر ہے اور اگر جمہوریت کو وقت ملتا رہے گا تو یہ مضبوط ہوتی رہے گی۔ مقتدرہ کی طاقت کم کرنے کا یہی طریقہ تھا کہ ایک ہی شخص مسلسل حکمران نہ رہے‘ اپنا کردار خراب نہ کرے‘ دولت اکٹھی کرنے کے چکر میں نہ پڑے بلکہ خدا کا شکر ادا کرتا رہے کہ اس نے کروڑوں لوگوں میں سے اس کو ان کا حاکم چنا۔ لیکن کیا کریں کہ ہمارے اندر کی ہوس ہی ختم نہیں ہوتی‘ چاہے وہ حکمرانی کی ہو یا دولت کی۔ وفاق میں شہباز شریف وزیراعظم تو سمدھی اسحاق ڈار نائب وزیراعظم‘ ڈار صاحب کا بیٹا پنجاب میں مشیر تو مریم نواز وزیراعلیٰ ہیں۔ اب حمزہ شہباز کو بھی وزیراعظم ہاؤس میں لا بٹھایا ہے۔ جمہوریت‘ جو شاہی خاندانوں اور شہزادے شہزادیوں کے تاحیات حکمرانی کے حق کے خلاف متعارف کرائی گئی تھی وہ ہمارے ہاں خود قیدی بن کر رہ گئی ہے۔ ہمارے جیسے انتظار ہی کرتے رہے کہ جمہوریت جاری رہی تو پرانے چہرے سکرین سے آؤٹ ہوتے جائیں گے‘ نئے چہرے آتے جائیں گے‘ پراسیس چلتا رہے گا تو ملک اور معاشرہ ٹھیک ہوتے جائیں گے۔ وہ جمہوریت‘ جس نے ہمیں آزادی دلوانی تھی وہ ہمارے ہاں خود قید ہو گئی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>اٹھارہویں ترمیم ،خواب سے سراب تک(شاہد صدیقی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-siddiqui/2026-08-05/52425/29860990</link><pubDate>Wed, 05 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-siddiqui/2026-08-05/52425/29860990</guid><description>پاکستان میں شاید ہی کسی آئینی ترمیم کو وہ سیاسی اتفاقِ رائے اور عوامی پذیرائی نصیب ہوئی ہو جو اٹھارہویں آئینی ترمیم کو حاصل ہوئی۔ پارلیمنٹ نے اسے متفقہ طور پر منظور کیا اور صدر آصف علی زرداری نے 19اپریل 2010ء کو اس پر دستخط کیے۔ یوں مشترکہ فہرست کے خاتمے سے وفاق اور صوبوں کا تعلق نئے سرے سے تشکیل پایا اور 1973ء کے آئین کا وفاقی توازن بحال کرنے کی کوشش کی گئی۔ تعلیم‘ صحت‘ زراعت‘ محنت‘ ثقافت‘ ماحولیات‘ ہاؤسنگ اور سماجی بہبود سمیت متعدد شعبے صوبوں کے حوالے کر دیے گئے تاکہ ملک مرکزیت سے نکل سکے۔ یہ محض انتظامی اقدام نہیں بلکہ ایک آئینی معاہدہ تھا کہ حکومت کی ہر سطح صرف وہی اختیارات استعمال کرے جو آئین اسے دے۔اس عزم کا آئینی خاکہ بھی واضح تھا۔ آرٹیکل 270-AA کے تحت ایک عملدرآمد کمیشن نے وفاقی اختیارات کی صوبوں کو منتقلی کی نگرانی کی۔ اس کی سفارشات پر وفاقی حکومت نے دو دسمبر 2010ء‘ 15اپریل 2011ء اور 29 جون 2011ء کو تین نوٹیفکیشن جاری کیے‘ اور 30جون 2011ء تک 17وزارتیں صوبوں کے سپرد کر دی گئیں۔ آئینی اعتبار سے یہ عمل مکمل تھا مگر 16برس گزرنے کے بعد بھی اس پر عملدرآمد نہیں ہوا۔ صوبوں کو منتقل کی گئی وزارتیں مختلف ناموں سے آہستہ آہستہ اسلام آباد میں دوبارہ نمودار ہوئیں۔ تعلیم کی وزارت‘ وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کی صورت میں‘ زراعت کی وزارتِ قومی غذائی تحفظ کے روپ میں‘ اور ماحولیات کی وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کی شکل میں لوٹ آئی۔ صحت‘ ثقافت‘ ہاؤسنگ‘ سماجی بہبود‘ محنت سے متعلق ادارے‘ ای او بی آئی‘ اوقاف اور زکوٰۃ و عشر بھی دوبارہ وفاقی ڈھانچے کا حصہ بن گئے۔اس صورتحال نے ایک اہم آئینی بحث کو جنم دیا ہے۔ حامیوں کا مؤقف ہے کہ جدید وفاق کو تعلیم‘ صحت اور موسمیاتی تبدیلی جیسے شعبوں میں قومی سطح پر ہم آہنگی درکار ہوتی ہے‘ اور اس دلیل سے اختلاف مشکل ہے۔ آئین خود ہی مشترکہ مفادات کونسل کی صورت میں ایسا طریقہ کار فراہم کرتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ ہم آہنگی ضروری ہے بلکہ یہ ہے کہ ہم آہنگی اسی مقصد کے آئینی اداروں کے ذریعے ہو یا ان وزارتوں کے ذریعے جنہیں پارلیمنٹ پہلے ہی صوبوں کے سپرد کر چکی ہے؟ یہ بحث اب وکلا یا وفاقیت کے طالب علموں تک محدود نہیں‘ خود پارلیمنٹ کے اندر داخل ہو چکی ہے۔24 جولائی 2026ء کو سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے ڈیوولیوشن نے اٹھارہویں ترمیم کے نفاذ کا تفصیلی جائزہ لیا۔ کمیٹی کے مطابق 30 جون 2011ء تک 17وزارتیں صوبوں کو منتقل کی جا چکی تھیں مگر پھر تعلیم‘ صحت‘ خوراک‘ ماحولیات‘ ہاؤسنگ اور سماجی بہبود سمیت متعدد شعبوں کی وزارتیں بحال کر دی گئیں۔ کمیٹی کے سربراہ نے کہا کہ صوبوں کے حوالے کیے گئے معاملات پر وزارتیں دوبارہ قائم کرنا اٹھارہویں ترمیم کی خلاف ورزی ہے جس کی بدولت نامکمل صوبائی خودمختاری کی بھاری مالی قیمت چکائی جا رہی ہے۔ سینیٹ کمیٹی کے مطابق اٹھارہویں ترمیم کے نامکمل نفاذ کے مالی نتائج انتہائی سنگین ہیں کیونکہ وفاقی ڈھانچے کی توسیع نے حکمرانی کی لاگت بڑھا دی ہے جس کی وجہ سے خزانے پر اضافی بوجھ پڑا ہے۔ سینیٹ کمیٹی کے سربراہ کے مطابق اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد وفاق کو صرف نو آئینی وزارتوں تک محدود رہنا چاہیے تھا جن میں دفاع‘ خارجہ امور‘ خزانہ‘ تجارت‘ مواصلات‘ بحری امور‘ سائنس و ٹیکنالوجی‘ قانون و انصاف اور امورِ پارلیمانی شامل ہیں۔ اس کے برعکس وفاقی حکومت اس وقت 31وزارتیں چلا رہی ہے‘ جن میں سے بیشتر صوبوں یا مشترکہ مفادات کونسل سے متعلق امور دیکھتی ہیں۔ ملک کے مجموعی محاصل تقریباً 20ٹریلین روپے جبکہ وفاقی اخراجات 19ٹریلین روپے سالانہ تک پہنچ چکے ہیں۔ اٹھارہویں ترمیم کے مطابق وفاق کے پاس موجود وزارتوں میں سے دفاع کے علاوہ باقی آٹھ وزارتوں کو تقریباً 420ارب روپے سالانہ درکار ہیں‘ لیکن وفاق میں خلافِ آئین وزارتوں کی بھر مار نے اخراجات میں خاصا اضافہ کیا ہے۔ سینیٹ کی کمیٹی نے وفاقی اخراجات تقریباً 13ٹریلین روپے سالانہ تک محدود کرنے کی تجویز دی ہے‘ جن میں قرضوں کی ادائیگی کے تقریباً آٹھ ٹریلین روپے شامل ہیں۔ اس تنظیمِ نو سے پانچ سے چھ ٹریلین روپے کی بچت ممکن ہے جس سے قرضوں پر انحصار کم ہو سکتا ہے۔کمیٹی کے اس تخمینے سے ماہرین متفق ہوں یا نہ ہوں لیکن یہ سوال سنجیدہ توجہ کا متقاضی ہے۔ ملک میں مالی اصلاحات کی بحث زیادہ تر ٹیکس محاصل بڑھانے اور ترقیاتی اخراجات کم کرنے پر مرکوز رہی جبکہ اس سوال پر کم توجہ دی گئی کہ کیا خود وفاقی ڈھانچہ آئینی خاکے سے تجاوز کر چکا ہے۔ ہر اضافی وزارت وزرا‘ مشیروں‘ سیکرٹریوں‘ دفاتر‘ رہائش گاہوں‘ عملے اور گاڑیوں کے مستقل اخراجات کا تقاضا کرتی ہے۔ اگر وفاق میں وزارتیں وہی امور جاری رکھیں جو آئین نے صوبوں کو دیے تھے تو یہ دہرا پن انتظامی اور مالی پیچیدگیوں کو جنم دیتا ہے۔ کمیٹی نے مشترکہ مفادات کونسل کے دائرہ اختیار میں آنے والی وزارتوں کی آئینی حیثیت پر بھی سوال اٹھائے اور کہا کہ صنعت‘ پٹرولیم‘ ریلوے‘ منصوبہ بندی‘ شماریات اور واپڈا جیسے شعبے الگ الگ وزارتوں کے بجائے مشترکہ مفادات کونسل کے ذریعے چلائے جانے چاہئیں۔ کمیٹی نے یہ دلیل بھی مستر کر دی کہ بحال شدہ وزارتیں محض اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری (ICT) کیلئے ہیں کیونکہ یہ معاملات پہلے ہی ICT ڈویژن کے دائرہ اختیار میں ہیں۔ اس بحث کے اثرات آئینی تشریح سے بڑھ کر طرزِ حکمرانی کی روح تک جاتے ہیں۔ 18ویں ترمیم کا بنیادی مقصد وفاق اور صوبوں کے مابین ذمہ داری کی حد بندی تھا۔ جب یہ حدود دھندلا جائیں تو جوابدہی کمزور پڑ جاتی ہے اور عوام فیصلہ نہیں کر پاتے کہ جوابدہ کون ہے۔ ملک کو تعلیم‘ صحت اور سماجی تحفظ میں سنگین چیلنجز درپیش ہیں اور حکومتیں مالی تنگی کا حوالہ دے کر ان شعبوں میں محدود سرمایہ کاری کا جواز پیش کرتی ہیں جبکہ دہرے انتظامی ڈھانچوں پر سکولوں اور ہسپتالوں کے حصے کا پیسہ بھی استعمال ہو رہا ہے۔ بڑی سیاسی جماعتیں فخر سے18ویں ترمیم کا کریڈٹ لیتی ہیں مگر ہر جماعت کی حکومت نے وفاقی ڈھانچے کو انہی شعبوں میں پھیلایا جو پارلیمنٹ نے صوبوں کے حوالے کیے تھے۔ حکومتیں بدلیں‘ وزرائے اعظم بدلے مگر اختیارات سمیٹنے کا رجحان برقرار رہا۔ اسے مضبوط وفاق کیخلاف دلیل نہ سمجھا جائے۔ مضبوط وفاق کا پیمانہ وزارتوں کی تعداد نہیں بلکہ آئین سے وفاداری ہے۔ 18ویں آئینی ترمیم کی کامیابی کا معیار صرف وہ متفقہ ووٹ نہیں ہونا چاہیے جس سے یہ منظور ہوئی تھی۔ اس کی حقیقی کامیابی اس بات میں ہے کہ اسکے آئینی وعدے کو حقیقت میں کس حد تک نافذ کیا گیا ہے۔ آج کل انتظامی امور کو زیادہ مؤثر بنانے اور سہولتیں نچلی سطح تک پہنچانے کیلئے نئے صوبے یا مزید انتظامی اکائیاں قائم کرنے کی بحث بھی زور پکڑ چکی ہے۔ یہ بحث اہم‘ بروقت اور قابلِ غور ہے لیکن اس سے پہلے ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کا کیا ہوا‘ جو نہایت نیک نیتی اور بلند مقاصد کے ساتھ منظور کی گئی تھی۔ اگر ایک آئینی اصلاح جس کا بنیادی مقصد اختیارات کو مرکز سے صوبوں تک منتقل کرنا تھا‘ طاقتور مرکز کی ہچکچاہٹ کے باعث مکمل طور پر نافذ نہ ہو سکی تو نئے صوبوں یا انتظامی اکائیوں کی تشکیل سے مطلوبہ نتائج حاصل ہوں گے؟ اصل مسئلہ آئین کی روح کے مطابق اختیارات کی حقیقی منتقلی کا ہے۔ جب تک وفاق اختیارات‘ وسائل اور انتظامی ذمہ داریوں کو پوری دیانت داری کے ساتھ نچلی سطح تک منتقل کرنے کیلئے آمادہ نہیں ہوتا اس وقت تک نئی انتظامی تقسیم بھی محض ایک اور تجربہ ثابت ہو سکتی ہے۔ شاید اب وقت آ گیا ہے کہ سولہ برس پہلے قوم سے کیا گیا آئینی وعدہ اپنی مکمل روح کے ساتھ پورا کیا جائے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_21538475.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>نئے صوبوں پر پیش رفت کا جائزہ(سلمان غنی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/salman-ghani/2026-08-05/52426/55751751</link><pubDate>Wed, 05 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/salman-ghani/2026-08-05/52426/55751751</guid><description>ملک میں گورننس ایک اہم ایشو بن رہی ہے اور سیاسی و معاشی بحران شدت اختیار کر چکا ہے۔اچھی حکمرانی کی بات ہوتی ہے تو نئے صوبوں کا نعرہ بھی لگتا ہے۔ موجودہ حالات میں گورننس کے عمل کو بنیاد بناتے ہوئے نئے انتظامی یونٹس کی بات زور پکڑتی نظر آ رہی ہے۔ اس کا آغاز اسلام آباد میں منعقدہ اکنامک سمٹ کانفرنس میں وزیر داخلہ سید محسن نقوی کے خطاب سے ہواجنہوں نے موجودہ سسٹم کو بنیاد بناتے ہوئے مسائل کا جائزہ لیا اور کہا کہ موجودہ نظام گر چکا ہے لہٰذا گورننس کو یقینی بنانے کیلئے نئے صوبوں کا قیام ضروری ہے جس کیلئے سیاستدانوں کو مل بیٹھنا چاہیے۔ اس کانفرنس میں دنیا میڈیا گروپ کے چیئرمین میاں عامر محمود نے اعداد و شمار کے ساتھ بتایا کہ حکومتوں کا عوام کے قریب نہ ہونا سب سے بڑا مسئلہ ہے اور اس کا حل نئے انتظامی یونٹس کا قیام ہے۔ ہمارے ہاں آبادی میں مسلسل اضافہ ہوا لیکن اس کے پیدا کردہ مسائل کو حل نہیں کیا جاسکا اور نہ ہی نئے انتظامی یونٹس قائم ہوئے۔ اکنامک سمٹ کانفرنس میں دیگر مقررین نے بھی اپنے اپنے انداز میں ملک کو درپیش مسائل کا ذکر کرتے ہوئے ان کا حل تجویز کیا لیکن اس میں بنیادی بات گورننس کی بنیاد پر صوبوں کی تقسیم کا عمل ہی تھا۔ مذکورہ کانفرنس کے اگلے روز مسلح افواج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بھی ملک میں گورننس کو یقینی بنانے کی بات کی۔ان کا کہنا تھا کہ مسائل حل نہیں ہو رہے اور گورننس کیلئے کچھ کرنا پڑے گا۔ آبادی چار گنا بڑھ چکی ہے مگر صوبے وہی چار کے چار ہیں۔ مذکورہ صورتحال میں گورننس اور نئے صوبوں کے مطالبے کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے اور لگتا ہے کہ پاکستان کے فیصلہ سازوں کو سیاسی جماعتوں کے تحفظات کا علم ہے ۔ تاہم بڑی سیاسی جماعتیں فیصلہ اپنے سیاسی مفادات کو دیکھ کر کریں گی اور اپنے اقتدار میں تقسیم کا عمل انہیں ہضم نہیں ہو پائے گا‘ یہی وجہ ہے کہ اس ضمن میں پارلیمنٹ سے زیادہ عوام سے رجوع کی بات کی جا رہی ہے کہ براہِ راست عوام سے اس حوالے سے کوئی فیصلہ لیا جا ئے۔ واقفانِ حال یہ کہتے نظر آ رہے ہیں کہ اب فیصلہ ہو جانا چاہیے۔ پہلے مرحلے میں ترجیح آئینی ترمیم ہو گی اور اطلاعات یہ ہیں کہ اس کیلئے مسودہ تیار ہے اور 28ویں آئینی ترمیم کی بازگزشت بھی سننے میں آ رہی ہے جس میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام‘ ملک کے بعض اہم علاقوں کو وفاق کے زیر انتظام لانے اور مؤثر بلدیاتی سسٹم سمیت اہم امور شامل ہیں۔ اس حوالے سے گیند سیاسی جماعتوں کی کورٹ میں ہے لیکن اس ضمن میں مطلوبہ نتائج ممکن بنتے نظر نہیں آ رہے ۔( ن) لیگ کی حکومت تو کوئی واضح مؤقف اختیار کرتی نظر نہیں آ رہی البتہ پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت کے تحفظات ڈھکے چھپے نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اب آئینی ترمیم سے زیادہ توجہ ریفرنڈم کے انعقاد پر ہے اور ریفرنڈم میں نئے صوبوں کی بنیاد گورننس کے عمل کو ہی بنایا جائے گا اور یہ عمل سیاسی مصلحتوں کے بجائے انتظامی ضرورت معاشی قابلیت اور عوام کے مسائل سے مشروط ہوگا۔ پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کا آئینی طریقہ کار دیکھیں تو اس میں اگر کسی صوبہ کی حدود تبدیل کرنامقصود ہوں تو متعلقہ صوبائی اسمبلی کی اکثریت سے منظوری ضروری ہوتی ہے اور پھر قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بھی دوتہائی اکثریت درکار ہوتی ہے اور بڑی سیاسی جماعتوں میں اتفاق رائے نہیں‘ اس لیے کہ مختلف جماعتوں کی اپنی علاقائی اور سیاسی ترجیحات ہیں اور پاکستان کے فیصلہ سازوں کو اس حوالے سے سیاسی جماعتوں کے تحفظات کا علم ہے۔ جہاں تک ریفرنڈم کے انعقاد کا سوال ہے تونئے صوبوں کے قیام کیلئے عوامی ریفرنڈم کو لازمی شرط کے طور پر شامل نہیں کیا گیا البتہ عوامی رائے جاننے کیلئے ریفرنڈم یا کسی اور عوامی مشاورت کی تجویز دی جا سکتی ہے لیکن پھر بھی آئینی ترمیم اور پارلیمانی منظوری ناگزیر رہے گی۔ماضی میں بھی ریفرنڈم کی روایت موجود ہے اور تیاریوں سے بھی لگ رہا ہے کہ آنے والے چند ماہ اس حوالے سے اہم ہوں گے۔ اب تک ہونے والی بحث میں نئے صوبوں کے حوالے سے پیپلزپارٹی کی مخالفت کھل کر سامنے آئی ہے۔پیپلز پارٹی کا مضبوط گڑھ سندھ ہے اورپارٹی نہیں چاہتی کہ سندھ کی تقسیم ہو اور خصوصاً کراچی نیا صوبہ بنے۔ فی الحال تو ان کے حلقوں میں یہاں تک کہا جا رہا ہے کہ اگر سندھ کی تقسیم پر انہیں حکومت بھی چھوڑنا پڑی تو وہ یہ قربانی دے سکتے ہیں۔وہ نئے صوبوں کو اپنی سیاست سے جوڑتے نظر آ رہے ہیں۔مسلم لیگ (ن) کھل کر تو صوبوں کی تقسیم یا نئے صوبوں کے قیام کی مخالفت نہیں کررہی لیکن وہ بھی کوئی فیصلہ پیپلزپارٹی کو دیکھ کر ہی کرے گی اور پیپلزپارٹی یہ مؤقف بھی اختیار کرتی نظر آتی ہے کہ انتظامی اصلاحات‘ وسائل کی منصفانہ تقسیم اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی بھی اتنی ہی اہم ہے جتنے نئے صوبوں کی بحث۔عام رائے یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں نئے صوبوں کا معاملہ انتخابی سیاست کے پس منظر میں اٹھاتی ہیں لیکن عملی پیشرفت کیلئے بین الجماعتی اتفاق ضروری ہے البتہ ماہرین کا کہنا ہے کہ صوبوں کے قیام کا فیصلہ صرف سیاسی مصلحت کے بجائے انتظامی ضرورت‘ معاشی قابلیت اور گورننس کو یقینی بنانے پر اتفاقِ رائے کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ مذکورہ بحث سے ایک بات تو سامنے آتی ہے کہ نئے صوبوں کی بات گورننس سے مشروط ہے‘ جس کا فقدان ملک میں نظر آ رہا ہے۔ گورننس کا مطلب ایسا نظام حکمرانی ہے جس میں ریاست مؤثر اور شفاف انداز میں عوام کو خدمات فراہم کرے اور خود کو جوابدہ سمجھے اور خصوصاً انصاف کی فراہمی کا عمل نظر آتا ہو۔ قانون سب پر لاگو ہو‘ احتساب غیر جانبدار اور عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد ہو‘ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بنیادی قومی معاملات پر اتفاقِ رائے ہو تاکہ پالیسیوں کا تسلسل برقرار رہے۔ ملک کے اندر بااختیار بلدیاتی سسٹم موجود ہو اور بلدیاتی اداروں کے پاس مالی اور انتظامی اختیارات ہوں تاکہ شہری و دیہی مسائل کا مقامی سطح پر حل یقینی بنے۔ میرٹ کی بالا دستی قائم ہو‘ سرکاری اداروں میں تقرریاں اور ترقی کا عمل سیاسی بنیادوں کے بجائے اہلیت کی بنیاد پر ہو‘ وسائل کی منصفانہ تقسیم کا عمل واضح نظر آئے‘تعلیم‘ صحت‘ سڑکوں اور دیگر بنیادی سہولیات کی تقسیم ضرورت اور آبادی کی بنیاد پر ہو۔ سرکاری اخراجات اور ترقیاتی منصوبوں اور پالیسیوں کی نگرانی مؤثر ہو اور عوام کو معاملات تک رسائی حاصل ہو ۔ اچھی گورننس کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ یہ صرف قانون سازی سے نہیں بلکہ سیاسی استحکام‘ اداروں کے درمیان تعاون اور پالیسیوں کے تسلسل سے ممکن ہوتی ہے اور مضبوط ادارے‘ واضح اختیارات‘ مؤثر مقامی حکومتیں اور پیشہ ور سول سروس بہترین گورننس کی بنیاد ہوتی ہے ۔ مذکورہ مقاصد کے حصول کیلئے مختلف ممالک نے اپنی آبادی اور وسائل کو بنیاد بناتے ہوئے نئے صوبے تشکیل دیے اور نئے صوبوں کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ یہ انتظامی بوجھ کم کر سکتے ہیں اور عوام کو درپیش مسائل کے حل کیلئے ان کا کردار اہم ہوتا ہے۔ پاکستان کی آبادی چار گنا بڑھ گئی لیکن صوبے وہی چار کے چار ہیں۔ البتہ نئے صوبے بنا دینا خود بخود اس گورننس کی ضمانت نہیں۔ اگر ادارے کمزور ہوں‘ احتساب مؤثر نہ ہو اور مقامی حکومتوں کا وجود برداشت نہ کیا جائے تو پھر نئے صوبوں میں بھی وہی مسائل برقرار رہ سکتے ہیں‘لہٰذا قانون کی اہمیت مضبوط اداروں کی ضرورت‘ منصفانہ احتساب اوربا اختیار بلدیاتی نظام پر سیاسی اتفاق رائے ہوتا ہے اور تمام فریق مل کر کام کرنے کو تیار ہوں تو گورننس میں بھی نمایاں بہتری آ سکتی ہے اور ملک سیاسی ‘ معاشی اور انتظامی استحکام سے ہمکنار ہو سکتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/230_37874475.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ری سیٹ پاکستان، بٹن پریس ہوچکا؟(محمد حسن رضا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-hasan-raza/2026-08-05/52427/26320160</link><pubDate>Wed, 05 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-hasan-raza/2026-08-05/52427/26320160</guid><description>جدید ریاست کا تصور صرف انتخابات تک محدود نہیں بلکہ یہ عوامی بہبود‘ سماجی تحفظ‘ انصاف‘ معاشی خوشحالی‘ سیاسی شراکت‘ تعلیم‘ صحت اور امن و امان پر استوار ہوتی ہے۔ ملکِ عزیز کا المیہ یہ ہے کہ یہاں جمہوریت تو آئی مگر اختیارات کی بادشاہت ختم نہ ہو سکی۔ ہم 79 برس سے بلدیاتی نظام مضبوط بنانے کی بات کر رہے ہیں۔ آئین کا آرٹیکل 140-A صوبوں کو سیاسی‘ انتظامی اور مالی اختیارات منتخب بلدیاتی نمائندوں کو منتقل کرنے کا پابند بناتا ہے مگر کوئی صوبائی حکومت دل سے اپنا اختیار چھوڑنے پر آمادہ نہیں۔ نتیجتاً سڑک‘ صفائی‘ سیوریج‘ پینے کا پانی‘ تجاوزات‘ پارکنگ‘ فائر بریگیڈ‘ مقامی ٹرانسپورٹ اور شہری منصوبہ بندی بلدیاتی اداروں کی ذمہ داری تو ہیں مگر فنڈز بیوروکریسی اور فیصلے صوبائی حکومت کے پاس رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آئین میں ایسی ترمیم کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے جس سے نئے صوبوں اور چھوٹے انتظامی یونٹس کے قیام کا مستقل اور قابلِ عمل راستہ نکل سکے۔  قیامِ پاکستان کے وقت مغربی پاکستان کی آبادی تقریباً تین کروڑ تھی اور یہ چار صوبوں پر مشتمل تھا۔ آج آبادی 25کروڑ کے قریب پہنچ چکی مگر بنیادی انتظامی نقشہ وہی ہے۔ دنیا نے آبادی بڑھنے کیساتھ اپنے گورننس ماڈل بدلے‘ ہم نے نہیں۔ سوال یہ ہے کہ ذمہ دار کون ہے اور جوابدہی کس سے ہوگی؟ جو سوال اٹھائے‘ اسے جماعتی بائیکاٹ‘ سیاسی تنہائی یا قیادت کی ناراضی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حالات کی سنگینی سرکاری اعداد و شمار میں بھی نمایاں ہے۔ وفاقی ادارۂ شماریات کے مطابق ملک میں پانچ سے 16سال کے 28 فیصد بچے سکول سے باہر ہیں‘ شرحِ خواندگی تقریباً 63 فیصد‘ بے روزگاری 7.1 فیصد اور ایک کارکن کی اوسط ماہانہ اجرت 39 ہزار 42 روپے ہے جبکہ اوسط گھرانے کی ماہانہ آمدن 82179 اور خرچ 79150 روپے ہے۔یہ محض اعداد نہیں بلکہ متوسط طبقے کی معاشی بے بسی کی تصویر ہیں۔چاروں صوبوں‘ وفاق اور سرکاری اداروں کو ملا کر 2026-27ء کا مجموعی قومی ترقیاتی پروگرام تقریباً تین ہزار 675 ارب روپے بنتا ہے۔ 24کروڑ سے زائد شہریوں پر تقسیم کیا جائے تو یہ سالانہ تقریباً 15 ہزار 200 روپے‘ یا صرف 54 ڈالر فی کس بنتا ہے‘ اور یہ بھی بجٹ میں مختص رقم ہے مکمل خرچ ہونے کی ضمانت نہیں۔ دوسری جانب وفاقی بجٹ میں قرضوں پر سود کی ادائیگی ترقیاتی اخراجات سے کئی گنا زیادہ ہے۔پنجاب کے تقریباً 5.9 ٹریلین روپے کے بجٹ میں پنجاب فنانس کمیشن کے تحت 900 ارب روپے رکھنے کا دعویٰ کیا گیا مگر یہ پوری رقم منتخب بلدیاتی حکومتوں کے آزادانہ تصرف میں نہیں آتی، کیونکہ اس میں ضلعی تنخواہیں‘ انتظامی اخراجات اور صوبائی کنٹرول میں چلنے والی خدمات بھی شامل ہیں۔ لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ کے ترقیاتی پروگرام کیلئے تقریباً 115.5 ارب روپے رکھے گئے جو مجموعی صوبائی بجٹ کا محض دو فیصد بنتے ہیں۔ اختیار لاہور میں‘ پیسہ بیوروکریسی کے پاس اور جواب دہی مقامی نمائندے سے...یہ نظام آخر کب تک چل سکتا ہے؟اسی غیرمنصفانہ نظام نے سیاسی قیادت کو بھی چند خاندانوں اور اشرافیہ تک محدود کر دیا ہے۔ ہمارے ہاں لیڈر یونین کونسل‘ شہر اور صوبہ چلا کر قومی سطح تک نہیں پہنچتا بلکہ اکثر طاقتور سرپرستی یا سیاسی وراثت کے ذریعے براہِ راست قومی قیادت میں آ جاتا ہے۔ پائیدار جمہوریت کا تقاضا یہ ہے کہ کوئی شخص پہلے شہر چلائے‘ پھر صوبے میں کارکردگی دکھائے اور اس کے بعد قومی قیادت کا حق مانگے۔میری معلومات کے مطابق گزشتہ کچھ عرصے میں 150سے زائد اراکینِ قومی اسمبلی اور 130سے زیادہ اراکینِ صوبائی اسمبلی نے حکومت کی ایک اہم اور طاقتور شخصیت تک بالواسطہ یا بلاواسطہ اپنی رائے پہنچائی ہے۔ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے بعض بااثر اراکین بھی نئے انتظامی یونٹس کے تصور کو اپنے حلقوں اور اپنی سیاسی ترقی کیلئے امید سمجھتے ہیں۔ان کا تعلق دونوں بڑی سیاسی جماعت سے ہے۔ ان کے مطابق نئے صوبے بننے سے انہیں اپنے حلقوں میں تعلیم‘ صحت‘ سڑکوں اور بنیادی سہولتوں کے منصوبے مکمل کرانے کا حقیقی موقع ملے گا۔ بعض نے یہاں تک کہا کہ صرف ایک ضلع یا خاندان نہیں بلکہ پورے ملک کی متوازن ترقی سوچنے والے ہی حقیقی معنوں میں محبِ وطن ہیں‘تاہم ان مبینہ رابطوں کو نظام کے اندر بڑھتی ہوئی بے چینی کا اشارہ سمجھنا چاہیے۔پردۂ سیاست کے پیچھے بھی غیرمعمولی سرگرمی کی اطلاعات ہیں۔ میرے &#39;&#39;عقاب‘‘ کے مطابق ایک بڑی جماعت کے اعلیٰ عہدیداروں کی نشست میں ابتدا میں بھرپور سیاسی مزاحمت کا فیصلہ ہوا۔ چند افراد کو جواب دینے کی ذمہ داری دی گئی اور چند چہیتے صحافیوں کے ذریعے مہم بھی شروع کی گئی مگر بیانات دلیل اور زمینی حقائق سے زیادہ جذباتی ثابت ہوئے‘ جس کا بوجھ قیادت کو اٹھانا پڑا۔بعد ازاں اسی جماعت کے ایک اہم رہنما نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ معاملہ اتنا سادہ نہیں‘ سیاسی موسم خاصا گرم ہے اور اگر زمینی حقیقت کو تسلیم نہ کیا گیا تو پورا نظام لپیٹے جانے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے آئندہ کے ممکنہ منصوبے سے بھی آگاہ کیا اور کہا کہ وہ تو اسی تنخواہ پر کام کرتے رہیں گے مگر پھر ہمارے کچھ دوست ساتھ نہیں رہیں گے۔ اس بریفنگ کے بعد جوش ٹھنڈا پڑ گیا‘ لہجے محدود ہو گئے اور بعض ہونٹوں پر ٹیپ لگانے کا مشورہ دیا گیا۔ اسی روز شام 5 بج کر 10 منٹ پر دو بڑی شخصیات‘ جن کی لاہور میں رہائش گاہوں کے درمیان تقریباً 9کلومیٹر کا فاصلہ ہے‘ 47 منٹ تک ملاقات میں مصروف رہیں۔ ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی۔ قہقہے‘ چمکتے چہرے اور غیرمعمولی گرم جوشی شاید کسی نئے سیاسی بندوبست &#39;&#39;ری سیٹ پاکستان‘‘ یا مستقبل کے کسی مشترکہ خاکے کا اشارہ تھی۔ شاید یہ بھی واضح کیا گیا کہ وہ ان کے ساتھ کھڑے ہیں اور &#39;مرشدِ پاک‘ کیساتھ بھی کھڑے تھے اور رہیں گے۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی سربراہی میں تین رکنی ٹیم نے جہاں پوری دنیا میں پاکستان کا نام روشن کیا‘ وہ اس کا تسلسل جاری رکھتے ہوئے انتظامی یونٹس،نئے صوبے بناکر عوامی مسائل کا حل کریں گے اور عوام کو ان کی دہلیز پر ان کا حق ملے گا اور ملک کو حقیقی معنوں میں ترقی کی راہ پر گامزن کریں گے ۔ تاہم جب تک آئینی مسودہ‘ پارلیمانی حمایت اور سرکاری اعلان سامنے نہ آئے اس ملاقات کو فیصلہ سمجھنا قبل از وقت ہوگا۔اطلاعات یہ بھی ہیں کہ موجودہ حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرے گی اور شہباز شریف ہی وزیراعظم رہیں گے۔ نئے انتظامی یونٹس کا منصوبہ جنوری تک کسی فیصلہ کن مرحلے میں داخل کرنے کی خواہش موجود ہے جبکہ کوشش ہے کہ اس کا اہم مرحلہ مارچ تک مکمل کر لیا جائے۔ اگر اتفاقِ رائے نہ بن سکا تو رواں سال اشارہ ضرور مل سکتا ہے جس کے بعد آئندہ موسمِ سرما میں ریفرنڈم کا راستہ زیرِ بحث آ سکتا ہے۔ تاہم آئین میں صوبائی حدود تبدیل کرنے کیلئے متعلقہ صوبائی اسمبلی کی دو تہائی منظوری سمیت بھاری آئینی تقاضے موجود ہیں‘ اس لیے ریفرنڈم سیاسی دباؤ تو پیدا کر سکتا ہے مگر آئینی ترمیم کا متبادل نہیں بن سکتا۔ نئے صوبے بننے کے بعد بھی فوری عام انتخابات ضروری نہیں ہوں گے۔ باقی مدت میں عبوری انتظام‘ اثاثوں اور ملازمین کی تقسیم‘ نئی اسمبلیوں کے ڈھانچے‘ مالیاتی حصوں اور حلقہ بندیوں پر کام کیا جا سکتا ہے۔ اس پورے عمل کیلئے زیادہ وقت درکار نہیں ہوگا کیونکہ بنیادی انتظامی ڈھانچے پہلے سے موجود ہیں۔ اضافی اخراجات بھی محدود رہیں گے بلکہ اربوں روپے کی بچت ممکن ہے۔ زیادہ سے زیادہ ایک سال میں یہ مرحلہ مکمل کیا جا سکتا ہے جس کے بعد آئندہ انتخابات تمام صوبوں یا نئے انتظامی یونٹس میں نئی حلقہ بندیوں کی بنیاد پر کرائے جا سکتے ہیں۔دیکھیں‘ اصل مقصد تخت تقسیم کرنا نہیں اختیار تقسیم کرنا ہے۔ عوام کا پیسہ انہی پر خرچ ہو‘ ان کے بچے بہتر تعلیم حاصل کریں‘ انہیں علاج اور صاف پانی میسر آئے اور ان کے نمائندے کسی دربار کی فرمائش کے محتاج نہ ہوں۔ جب تک ایسا نہیں ہوتا جمہوریت صرف پانچ سال بعد ووٹ ڈالنے کا نام رہے گی‘ عوام کی حقیقی شراکت سے چلنے والا نظام نہیں بن سکے گی۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/229_33941343.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>دِل اور وقت کا ضیاع(علامہ ابتسام الہٰی ظہیر )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-08-05/52428/17103356</link><pubDate>Wed, 05 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-08-05/52428/17103356</guid><description>اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسان کو بہت سی نعمتوں سے نواز رکھا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ ابراہیم کی آیت: 34 میں ارشاد فرماتے ہیں &#39;&#39; اسی نے تمہیں تمہاری منہ مانگی کل چیزوں میں سے دے رکھا ہے اگر تم اللہ کے احسان گننا چاہو تو انہیں پورے گن بھی نہیں سکتے یقینا انسان بڑا ہی بے انصاف اور ناشکرا ہے ‘‘۔ اسی طرح اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۃ الرحمن میں متعدد مرتبہ انسانوں اور جنات کو مخاطب ہوکر ارشاد فرمایا کہ پس تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ ان نعمتوں میں سے دو نعمتیں ایسی ہیں کہ جن کے صحیح استعمال کے ساتھ انسان دنیا و آخرت کی بہت سی بھلائیوں کو جمع کرسکتا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسان کو دِل جیسی نعمت سے نواز رکھا ہے جو ہمارے احساسات و جذبات کا مجموعہ ہے۔ اگر اس دِل کو فواحش‘ منکرات اور منفی رجحانات سے پاک کرکے للہیت‘ تقویٰ اور انسانیت کو فائدہ پہنچانے کے احساسات و جذبات کو جمع کیا جائے تو انسان بہت ساری بھلائیوں کو جمع کرسکتا ہے۔ اسی طرح اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسان کو وقت کی نعمت سے بھی نواز رکھا ہے۔ اگر انسان وقت کی نعمت کا درست استعمال کرے تو بتدریج دنیا و آخرت کی بہت سی بھلائیوں کو جمع کرنے کے قابل ہو سکتا ہے۔ بہت سے لوگ اپنے دِل اور وقت کی قدر کرنے کے بجائے اللہ تبارک وتعالیٰ کی ان دو نعمتوں کو ضائع کر بیٹھتے ہیں۔ کتاب و سنت کے مطالعہ اور ائمہ دین کے اقوال سے معلوم ہوتا ہے کہ ان دو عظیم نعمتوں کو ضائع ہونے سے بچانا ضروری ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ دل کی حفاظت کے حوالے سے سورۃ الاعراف کی آیت: 205 میں ارشاد فرماتے ہیں &#39;&#39; اور غافلوں میں سے مت ہو ‘‘۔ اسی طرح دنیا پرستی سے محفوظ رہنے کیلئے سورۃ الفاطر کی آیت: 5 میں ارشاد ہوا &#39;&#39; اے لوگو! بے شک اللہ کا وعدہ سچا ہے، لہٰذا دنیا کی زندگی تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دے، اور نہ ہی وہ بڑا دھوکے باز (شیطان) تمہیں اللہ کے بارے میں دھوکے میں مبتلا کرے ‘‘۔ اللہ تبارک وتعالیٰ وقت اور صلاحیتوں کے درست استعمال کے بارے میں رہنمائی کرتے ہوئے سورۃ العصر کی آیات: 1 تا 3 میں ارشاد فرماتے ہیں &#39;&#39; زمانے کی قسم! بے شک انسان خسارے میں ہے، سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے‘‘۔دل کی اہمیت کا اندازہ درج ذیل احادیث سے ہوتا ہے :1۔ صحیح بخاری و صحیح مسلم میں حضرت نعمان بن بشیرؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: &#39;&#39;بے شک حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے، اور ان دونوں کے درمیان کچھ مشتبہ امور ہیں جنہیں بہت سے لوگ نہیں جانتے۔ پس جو شخص مشتبہ چیزوں سے بچ گیا اس نے اپنے دین اور اپنی عزت کو محفوظ کر لیا، اور جو مشتبہ چیزوں میں پڑ گیا وہ حرام میں جا پڑا، اس چرواہے کی طرح جو شاہی چراگاہ کے قریب اپنے جانور چراتا ہے، قریب ہے کہ وہ اس میں داخل ہو جائیں۔ خبردار! ہر بادشاہ کی ایک محفوظ چراگاہ ہوتی ہے، اور سن لو! اللہ کی محفوظ حدود اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں۔ خبردار! جسم میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے، جب وہ درست ہو جاتا ہے تو سارا جسم درست ہو جاتا ہے، اور جب وہ خراب ہو جاتا ہے تو سارا جسم خراب ہو جاتا ہے۔ سن لو! وہ دل ہے‘‘۔ 2۔ صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: &#39;&#39;اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور تمہارے اموال کی طرف نہیں دیکھتا‘ بلکہ وہ تمہارے دلوں اور تمہارے اعمال کی طرف دیکھتا ہے‘‘۔3۔ صحیح مسلم ہی میں حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : &#39;&#39; ایک دوسرے سے حسد نہ کرو ، ایک دوسرے کیلئے دھوکے سے قیمتیں نہ بڑھاؤ ، ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو ، ایک دوسرے سے منہ نہ پھیرو ، تم میں سے کوئی دوسرے کے سودے پر سودا نہ کرے اور اللہ کے بندے بن جاؤ جو آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ مسلمان ( دوسرے ) مسلمان کا بھائی ہے ، نہ اس پر ظلم کرتا ہے ، نہ اسے بے یار و مددگار چھوڑتا ہے اور نہ اس کی تحقیر کرتا ہے۔ تقویٰ یہاں ہے‘‘۔ اور آپﷺ نے اپنے سینے کی طرف تین بار اشارہ کیا ، ( پھر فرمایا ) : &#39;&#39; کسی آدمی کے برا ہونے کیلئے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کی تحقیر کرے ، ہر مسلمان پر (دوسرے ) مسلمان کا خون ، مال اور عزت حرام ہیں‘‘۔ 4۔ صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہؓ نے نبی کریم ﷺ سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا :&#39;&#39; جنت میں ایسی قومیں ( امتیں ، جماعتیں ) داخل ہوں گی جن کے دل پرندوں کے دلوں کی طرح ہوں گے‘‘۔ وقت کی اہمیت کا اندازہ درج ذیل احادیث سے ہوتا ہے:1۔ صحیح بخاری میں حضرت عبد اللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: &#39;&#39;دو نعمتیں ایسی ہیں جن کے بارے میں بہت سے لوگ خسارے میں رہتے ہیں: صحت اور فراغت (فارغ وقت)‘‘۔ 2۔ جامع ترمذی میں حضرت ابو برزہ اسلمیؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: &#39;&#39; قیامت کے دن بندے کے قدم اس وقت تک اپنی جگہ سے نہیں ہٹیں گے جب تک اس سے یہ سوال نہ کر لیے جائیں: اس کی عمر کے بارے میں کہ اسے کن کاموں میں گزاری؟ اس کے علم کے بارے میں کہ اس پر کیا عمل کیا؟ اس کی جوانی کے بارے میں کہ اس کو کہاں کھپایا ؟ اس کے مال کے بارے میں کہ کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا ؟ اس کے علم کے بارے میں کہ اس پر کہاں تک عمل کیا؟ جامع ترمذی کی ایک اور حدیث میں جوانی کے بجائے جسم کا ذکر ہے۔3۔ جامع ترمذی میں حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جو لوگ بھی کسی ایسی مجلس میں بیٹھے جس میں انہوں نے نہ تو اللہ کا ذکر کیا اور نہ ہی اپنے نبی ﷺ پر درود بھیجا، تو وہ مجلس ان کیلئے تِرَہ (یعنی نقصان، حسرت اور وبال) بن جائے گی‘اب اگر اللہ چاہے تو انہیں عذاب دے اور اگر چاہے تو معاف فرما دے‘‘۔ 4۔ مسند احمد میں حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: &#39;&#39;جو لوگ بھی کسی ایسی جگہ (مجلس) میں بیٹھے جس میں انہوں نے نہ تو اللہ عزوجل کا ذکر کیا اور نہ ہی نبیﷺ پر درود بھیجا، تو وہ مجلس قیامت کے دن ان کیلئے باعثِ حسرت (اور افسوس) ہوگی، اگرچہ وہ ثواب کے نتیجے میں (اپنے دیگر اچھے اعمال کی وجہ سے) جنت میں ہی کیوں نہ داخل ہو جائیں‘‘۔شیخ عبد الفتاح ابو غدہ نے اپنی کتاب&#39;&#39; قیمۃ الزمن عند العلماء ‘‘ میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے: &#39;&#39;مجھے کسی چیز پر اتنا افسوس نہیں ہوتا جتنا اس دن پر ہوتا ہے جس کا سورج غروب ہو جائے، میری عمر کم ہو جائے اور میرے عمل میں اضافہ نہ ہو‘‘۔امام بغوی نے &#39;&#39; شرح السنہ ‘‘ میں امام حسن بصری رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے: &#39;&#39; میں نے ایسے لوگوں کو پایا جو اپنے وقت کی حفاظت اس سے بھی زیادہ کرتے تھے جتنا تم اپنے درہم و دینار کی کرتے ہو‘‘۔ابن جوزی نے &#39;&#39;الحث علی حفظ العمر‘‘ میں انہی سے ایک اور مشہور قول نقل کیا ہے: &#39;&#39; اے ابنِ آدم! تُو دنوں کا مجموعہ ہے، جب تیرا ایک دن گزر جاتا ہے تو تیرا ایک حصہ چلا جاتا ہے‘‘۔ امام ابن قیم الجوزیہ کی کتاب&#39;&#39; الفوائد‘‘ میں دل اور وقت کے ضیاع کے حوالے سے بہت ہی قابلِ توجہ قول مذکور ہے : &#39;&#39;تمام ضائع ہونے والی چیزوں میں سب سے بڑی دو ہیں، اور ہر ضیاع کی جڑ یہی دو ہیں: دل کا ضائع ہونا اور وقت کا ضائع ہونا۔ دل کا ضائع ہونا دنیا کو آخرت پر ترجیح دینے سے ہے، اور وقت کا ضائع ہونا لمبی امیدوں میں پڑنے سے ہے۔ پس سارا فساد خواہشِ نفس کی پیروی اور لمبی امیدوں میں جمع ہو جاتا ہے جبکہ ساری بھلائی ہدایت کی پیروی اور اللہ سے ملاقات کی تیاری میں ہے‘‘۔اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں اپنے دِل اور وقت کی حفاظت کرنے والا بنادے اور ان دو عظیم نعمتوں کو ضائع کرنے سے بچا لے، آمین!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_19740082.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>