<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>پانی پاکستان کی ریڈ لائن(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-15/11454</link><pubDate>Sat, 15 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-15/11454</guid><description>وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پانی کی ایک ایک بوند ہماری ریڈ لائن ہے اور اگر بھارت راہِ راست پر نہ آیا تو اسے منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ یومِ آزادی کے موقع پر وزیراعظم کا یہ بے لاگ اور دوٹوک اعلان اس بات کا غماز ہے کہ پانی کا مسئلہ محض ایک سفارتی یا تکنیکی تنازع نہیں رہا بلکہ ملکی و قومی سلامتی کا حساس مسئلہ بن چکا ہے۔ بھارت کی مسلسل آبی جارحیت نے پاکستان کی زراعت‘ معیشت اور استحکام کو ایسے سنگین خطرے سے دوچار کر دیا ہے جس پر مزید خاموشی یا سستی کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے جس کی معیشت‘ روزگار اور غذائی تحفظ کا دارو مدار براہِ راست ان دریاؤں پر ہے جو بالائی علاقوں سے بہتے ہوئے ہمارے میدانوں کو سیراب کرتے ہیں۔ جب بھارت ان دریاؤں کے بہاؤ کو اپنی مرضی سے کنٹرول کرنے‘ ان کا پانی روکنے یا یکطرفہ طور پر استعمال کرنے کی کوشش کرتا ہے تو دراصل وہ پاکستان کی زراعت اور معیشت پر وار کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ بھارت کی آبی جارحیت کا ایک بھیانک رخ حالیہ مون سون کے دوران سامنے آیا جب بغیر کسی پیشگی اطلاع یا مروجہ قوانین کی پاسداری کیے بغیر بھارت نے اچانک لاکھوں کیوسک پانی پاکستانی حدود میں چھوڑ دیا۔

رواں سال صرف سلال ڈیم سے ہی گیارہ مرتبہ پانی چھوڑا گیا جس سے پاکستان کے سرحدی اضلاع اور دیہات میں سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی۔ بھارت کا یہ رویہ عالمی قوانین اور دونوں ممالک میں طے شدہ معاہدے کے سراسر منافی ہے۔ آبی تنازعات کے حل کیلئے 1960ء میں دونوں ممالک نے سندھ طاس معاہدے پر دستخط کیے تھے‘ جو ایسے تمام مسائل کا واضح اور جامع حل سجھاتا ہے۔ یہ معاہدہ فریقین کو پابند کرتا ہے کہ وہ پانی کے بہاؤ‘ ڈیموں کی ساخت اور کسی بھی ہنگامی صورتحال کے بارے میں ایک دوسرے کو بروقت اور شفاف معلومات فراہم کریں۔ مگر گزشتہ سال اپریل سے پہلگام فالس فلیگ واقعے کو بنیاد بنا کر بھارت نہ صرف معاہدے پر عملدرآمد سے یکسر انکاری ہے بلکہ پکل ڈُل‘ کِیرو‘ کوار اور رتلے پن جیسے متنازع منصوبوں پر بھی کام تیز کر چکا جو معاہدے کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں۔ پاکستان کے اعتراضات پر نئی دہلی اب تک ٹال مٹول اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ مودی حکومت کے معاہدے کو منسوخ کرنے کے اعلانات کے جواب میں ورلڈ بینک‘ جو سندھ طاس معاہدے کا ثالث ہے‘ پہلے ہی یہ واضح کر چکا ہے کہ سندھ طاس ایک عالمی اور کثیر جہتی معاہدہ ہے جسے کوئی بھی فریق یکطرفہ طور پر معطل‘ ختم یا اس میں ترمیم نہیں کر سکتا۔
بین الاقوامی برادری کو یہ سمجھنا ہوگا کہ سندھ طاس معاہدے کی پامالی خطے کو ایک ہولناک صورتحال کی طرف دھکیل سکتی ہے۔ ورلڈ بینک اس معاہدے کا ضامن اور ثالث ہے اس لیے یہ اس کی ذمہ داری بنتی ہے کہ بیانات تک محدود نہ رہے بلکہ بھارت پر سندھ طاس معاہدے کی پاسداری کیلئے زور دے۔ موجودہ حالات متقاضی ہیں کہ اب بھارت کی اس منظم آبی جارحیت کو مؤثر‘ جارحانہ اور تکنیکی انداز سے عالمی فورمز بالخصوص عالمی عدالت انصاف اور عالمی ثالثی عدالت میں اٹھایا جائے۔ دنیا پر بھارت کی آبی دہشت گردی اور ماحولیاتی جارحیت واضح کرنے کیلئے ٹھوس تکنیکی شواہد‘ سٹیلائٹ ڈیٹا اور سیلاب کے نقصانات کی تفصیلی رپورٹس کے ساتھ اپنا مقدمہ تیار کرنا چاہیے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ بار بار پانی روکنے اور پھر مسلسل پانی چھوڑنے جیسے اقدامات پاکستان کی معیشت کو مفلوج کرنے کی ایک سوچی سمجھی چال ہیں۔
عالمی سطح پر مضبوط اور مؤثر سفارتکاری کے ذریعے ہی بھارت پر بین الاقوامی دباؤ بڑھایا جا سکتا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کے اس اعلان سے کہ پانی ہماری ریڈ لائن ہے‘ عالمی برادری پر واضح ہوجانا چاہیے کہ بھارت کو آبی غنڈہ گردی سے نہ روکا گیا تو پاکستان اپنے دفاع اور بقا کیلئے کسی بھی حد تک جانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پاکستان کی جیت(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-15/11453</link><pubDate>Sat, 15 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-15/11453</guid><description>آسٹریلیا کی وفاقی عدالت کی جانب سے بھارت کی باسمتی چاول کے نام پر خصوصی ٹریڈ مارک حقوق حاصل کرنے کی اپیل مسترد ہونا پاکستان کیلئے ایک اہم تجارتی پیشرفت ہے۔ عدالت کے فیصلے کے مطابق باسمتی ایسا نام نہیں جس پر بھارت کو اجارہ داری حاصل ہو کیونکہ یہ چاول پاکستان میں بھی پیدا ہوتا ہے اور پاکستانی تاجروں کو اس نام کے استعمال کا جائز حق حاصل ہے۔ باسمتی چاول اپنی مخصوص خوشبو‘ ذائقے اور معیار کے باعث عالمی منڈی میں منفرد مقام رکھتا ہے۔ گزشتہ مالی سال کے پہلے دس مہینوں میں مجموعی طور پر تقریباً 36 لاکھ ٹن چاول برآمد کیے گئے‘ جن کی مالیت ایک ارب 87کروڑ ڈالر سے زائد رہی۔ چاول کی برآمدات میں مزید اضافے کیلئے پاکستانی باسمتی کی عالمی سطح پر مؤثر برانڈنگ‘ معیار کی مستقل نگرانی‘ جدید پراسیسنگ اور پیکیجنگ ناگزیر ہے۔

اگر باسمتی چاول کو اس کے اصل معیار کیساتھ عالمی منڈی میں پیش کیا جائے تو اسکی قدر میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔باسمتی کیساتھ چاول کی دیگر اقسام پر بھی توجہ دی جانی چاہیے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ کسان کو بہتر بیج‘ پانی‘ زرعی تحقیق اور جدید طریقہ ہائے کاشت فراہم کیے جائیں جبکہ برآمد کنندگان کو آسان مالی سہولتیں‘ مسابقتی توانائی کی قیمتیں اور عالمی منڈیوں تک رسائی دی جائے۔باسمتی چاول پر بھارتی اجارہ داری کے دعوے کی عدالتی تردید پاکستان کیلئے بہت اہم قانونی جیت ہے ‘ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے اور چاول کی برآمدات کو بڑھایا جائے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مہنگائی کے وار جاری(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-15/11452</link><pubDate>Sat, 15 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-15/11452</guid><description>وفاقی ادارۂ شماریات کے مطابق 13 اگست کو ختم ہونے والے کاروباری ہفتے کے دوران 20 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اور ہفتہ وار مہنگائی 9.11 فیصد تک پہنچ گئی۔ رپورٹ کے مطابق سالانہ بنیادوں پر ٹماٹر کی قیمت میں 143 فیصد‘ پیاز 125‘ آٹا 77‘ ایل پی جی 55‘ ڈیزل 35 اور پٹرول کی قیمت میں تقریباً 23فیصد اضافہ ہوا ہے۔ مہنگائی میں یہ اضافہ کسی ایک سبب کا نتیجہ نہیں ہے۔ زرعی لاگت میں مسلسل اضافہ‘ مہنگی توانائی‘ درآمدی اشیا اور خام مال پر انحصار‘ کمزور رسد کا نظام‘ غربت‘ ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری سب مل کر قیمتوں کے دباؤ میں اضافہ کرتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ حکومت اکثر ان بنیادی خرابیوں کو دور کرنے کے بجائے قیمتیں بڑھنے کے بعد انتظامی کارروائیوں تک محدود رہتی ہے۔

اگر کسان کی پیداواری لاگت بڑھ رہی ہو اور زرعی سہولتیں محدود ہوں تو اس صورتحال کا دباؤ قیمتوں پر آنا ناگزیر ہے۔ اسی طرح توانائی کی قیمتیں بھی شعبے کی پیداواری لاگت بڑھاتی ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وقتی ریلیف اور نمائشی پرائس کنٹرول اقدامات سے آگے بڑھے‘ اور ایک جامع پالیسی تشکیل دے جس میں بیک وقت پیداواری لاگت میں کمی‘ توانائی کے شعبے میں اصلاحات‘ زرعی پیداوار میں اضافہ‘ منافع خوری کے خلاف مؤثر نظام‘ درآمدی انحصار میں کمی اور عوام کی حقیقی آمدن میں اضافے جیسے اقدامات شامل ہوں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بٹوارا یا آزادی؟(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-08-15/52483/68518161</link><pubDate>Sat, 15 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-08-15/52483/68518161</guid><description>تقسیمِ ہند بٹوارا تھا یا آزادی؟لفظ کا مفہوم لغت سے نہیں‘ اس کے استعمال سے طے ہوتا ہے۔ لغت بتاتی ہے کہ لفظ کن مراحل سے گزرا اور کس کس مفہوم میں مستعمل ہے۔ کلام کا سیاق وسباق یہ فیصلہ کرتا ہے کہ لفظ کا کون سا مفہوم مراد لیا جا سکتا ہے۔ سیاق وسباق صرف کلام کا نہیں‘ متکلم کا بھی ہوتا ہے۔ کوئی صاحبِ فکر یا تخلیق کار لفظ کو لغت سے اٹھاتا اور اسے ایک معانی دے دیتا ہے۔ اس کے کلام میں صرف وہی معانی لیے جائیں گے۔ لغت صرف تحلیل ہی میں معاونت کرے گی۔ &#39;خودی‘ کو علامہ اقبال نے ایک مفہوم دیا۔ جب یہ لفظ ان کی شاعری اور نثر میں زیرِ بحث آئے گا تو لازم ہو گا کہ اقبال کے طے کردہ معانی ہی مراد لیے جائیں۔ اسی طرح ہر علم (Discipline) کا بھی سیاق وسباق ہوتا ہے جہاں لفظ اصطلاح بن جاتا ہے۔ یہ سماجی علوم میں ہوتا ہے اور طبعی علوم میں بھی۔تقسیمِ ہند کے پس منظر میں جو ادب تخلیق ہوا یا جو علمِ تاریخ وجود میں ہوا‘ اس میں لفظ &#39;بٹوارا‘ کا ایک مفہوم ہے۔ اس سیاق وسبا ق میں اس نے خاندانوں کو تقسیم کیا۔ لوگوں کو ہجرت پر مجبور کیا۔ قتل ہو ئے۔ عزتیں نیلام ہوئیں۔ خطے میں ایک مستقل دشمنی نے جنم لیا جس نے بعد از تقسیم‘ دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کی۔ یہ سب کیا دھرا &#39;بٹوارے‘ کا ہے جس نے بلاوجہ کروڑوں انسانوں کو ایک تاریخی المیے سے دوچار کر دیا۔ &#39;پس ثابت ہوا یہ چند اقتدار پرست سیاستدانوں کا کیا دھرا ہے جنہوں نے شخصی اَنا یا مفادات کی خاطر بٹوارا کرایا‘ ورنہ اس کی ضرورت نہیں تھی‘۔جو لوگ اس مقدمے سے اتفاق نہیں رکھتے‘ وہ کبھی بٹوارے کا لفظ استعمال نہیں کرتے۔ وہ اسے تقسیمِ ہند کہتے ہیں یا آزادی۔ ان کا خیال ہے کہ مسلمانوں کو صرف انگریزوں سے آزادی مطلوب نہیں تھی۔ اگر ہندوستان تقسیم نہ ہوتا تو انہیں ہندو اکثریت کے جبر کا سامنا ہوتا۔ انگریزوں کی رخصتی کے بعد‘ اگر ہندوستان کی ریاست جمہوری اصولوں پر قائم ہوتی تو ہندوئوں کا مستقل اقتدار وجود میں آتا۔ تقسیم کے وقت کم و بیش 73 فیصد آبادی ہندو تھی۔ یہ خیال ہندو نفسیات میں رچا بسا ہے‘ اور اس کے تاریخی آثار موجود ہیں کہ مسلمانوں نے اقلیت میں ہوتے ہوئے بھی‘ صدیوں تک ہندو اکثریت پر حکومت کی۔ انگریزوں کے بعد انہیں یہ موقع مل جائے گا کہ وہ تاریخ کے اس عمل کو معکوس کر دیں۔ اس لیے انگریزوں کی رخصتی ہی وہ مناسب وقت ہے جب اس خطے میں ہمیشہ کے لیے مسلمانوں کا تہذیبی اور مذہبی مستقبل محفوظ بنا لیا جائے۔ بصورتِ دیگر ایک نئی محکومی ان کا مقدر بن جائے گی۔ اس کی پُرامن صورت یہ ہے کہ مسلم اکثریتی علاقوں کو ایک الگ مملکت بنا دیا جائے۔تقسیم کو بٹوارا قرار دینے والے اس دلیل سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کا کہنا ہے کہ مسلمان کل آبادی کا 25 فیصد تھے‘ اتنی بڑی آبادی معروف معنوں میں &#39;اقلیت‘ نہیں ہوتی‘اس تعداد کو نظر انداز کر کے یا اُسے محکوم بنا کر کوئی جمہوری ریاست نہیں چل سکتی‘اس لیے یہ امکان بہت کم تھا کہ مسلمان کسی نئی محکومی میں مبتلا ہو جاتے‘ آج ہم جو دشمنی دیکھ رہے ہیں یہ دراصل &#39;بٹوارے‘ کا نتیجہ ہے۔ بٹوارے نے ایک دشمنی کو جنم دیا اور یہ دشمنی قتلِ عام اور تذلیلِ انسانیت کے واقعات پر منتج ہوئی۔ اگر یہ نہ ہوتا تو یہ واقعات بھی نہ ہوتے۔ عام آبادی امن کے ساتھ رہ رہی تھی۔ اگر کوئی برہمن ذہنیت اپنی برتری قائم کرنا چاہتی تو ہندو عوام اسے مسترد کر دیتے‘ سیاسی حالات‘ سماجی حالات پر اثر انداز نہ ہوتے‘ ہندو مسلم فساد کے چند معمولی واقعات کو بنیاد بنا کر تقسیم کا مقدمہ قائم نہیں کیا جا سکتا تھا۔آزادی کے مقدمے کو ماننے والے‘ اس کے جواب میں کہتے ہیں۔ ایک یہ کہ فسادات کی وجہ غیر منصفانہ تقسیم تھی نہ کہ قیامِ پاکستان کا مطالبہ۔ یہ باؤنڈری کمیشن‘ انگریزوں کی مسلم دشمنی اور برہمن ذہنیت کی عطا تھی‘ کانگرس جس کی نمائندہ بن گئی تھی۔ اگر کشمیر‘ حیدرآباد‘ جونا گڑھ اور پنجاب میں انصاف اور طے شدہ اصولوں پر مبنی پالیسی اپنائی جاتی تو فساد نہ ہوتا۔ دوسرا یہ کہ مسلم اکثریت نے تقسیم کی تائید کی۔ یہاں میں مولانا مودودی کی ایک بات نقل کرنا چاہوں گا جو اس اختلاف میں براہِ راست فریق نہیں تھے لیکن صاحب الرائے شخصیت کی حیثیت سے‘ ایک نقطہ نظر رکھتے تھے۔ نہرو نے ان فسادات پر تبصرہ کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ یہ دردِ زہ ہے۔ تاریخ دو ریاستوں کو جنم دے رہی ہے اور یہ درد اس کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے گویا ان کی شدت کو کم کرنا چاہا۔ مولانا مودودی کا تبصرہ تھا کہ اگر یہ دردِ زہ تو ہے تو پھر یہ کسی درندے کی پیدائش کی خبر ہے۔ گویا ان کے نزدیک یہ فسادات معمولی واقعات نہیں تھے جنہیں ایک جملے میں اڑا دیا جائے۔پاکستان میں ایسے لوگ موجود ہیں جوآزادی کے اس مقدمے کو درست نہیں سمجھتے۔ ان کا مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں اس مقدمے کے برخلاف کوئی رائے رکھنا آسان نہیں‘ اس لیے وہ بٹوارے کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ تاریخ کے باب میں ایک سے زیادہ آرا ہو سکتی ہیں۔ تاریخ کے باب میں دو مختلف آرا نے‘ مسلمانوں میں دو فرقوں کو جنم دیا جو صدیوں سے قائم ہیں۔ یہ اختلاف معمولی نہیں مگر اسے گوارا کیا جاتا ہے۔ ہمیں تاریخِ ہند کے باب میں بھی اختلاف کو گوارا کرنا چاہیے۔ تاہم اس حوالے سے میری ایک دو گزارشات ہیں۔ تاریخ کے کسی واقعے کے بارے میں کوئی رائے رکھنا اورعہدِ حاضر پر اس کا اطلاق کرنا‘ دو مختلف باتیں ہیں۔ عہدِ حاضر پر اطلاق کا مطلب یہ ہو گا کہ ہمیں اس &#39;غلطی‘ کی اصلاح کرنا چاہیے۔ جب ہم بار بار بٹوارے کا ذکر کرتے ہیں تو گویا اس کا اظہار کرتے ہیں کہ قیامِ پاکستان کے واقعے کو ہم بادلِ نخواستہ قبول کر رہے ہیں۔ بہت سے دوست جو اس لفظ کا استعمال کرتے ہیں‘ ان کے بارے میں میرا تاثر ہے کہ وہ تاریخی عمل کی &#39;اصلاح‘ کے حامی نہیں ہیں۔ وہ پاکستان کے بارے میں وہی جذبات رکھتے ہیں جو &#39;آ زادی‘ کا مقدمہ ماننے والے رکھتے ہیں۔ ان سے گزارش ہے کہ وہ اس کے استعمال سے گریز کر سکیں تو غلط فہمی پیدا ہونے کا امکان کم ہو جائے گا۔ دوسری گزارش عمومی ہے۔ محمد علی جناح کو قائداعظم مان لینے کے بعد یہ فرض نہیں ہو جا تا کہ مولانا ابوالکلام آزاد یا مولانا حسین احمد مدنی کو ملزموں کے کٹہرے میں کھڑا کر دیا جائے۔ اسی طرح یہ بھی لازم نہیں کہ جس دل میں مولانا مدنی کا احترام اور محبت ہو‘ اس میں قائداعظم کے لیے کوئی جگہ نہ ہو۔ اہلِ پاکستان کے لیے قائداعظم بابائے قوم ہیں اور اس حیثیت میں وہ منفرد ہیں۔ اس اعتراف کے ساتھ دوسری شخصیات کو بھی دل میں بٹھایا جا سکتا ہے‘ ہمیں ان کے نقطہ نظر سے اختلاف ہے مگر اخلاص سے نہیں۔ کم از کم مجھے تو نہیں ہے۔ خوشی کی خبر ہے کہ اب دیوبندی مدارس میں 14 اگست کا جشن منایا اور قائداعظم کو خراجِ تحسین پیش کیا جاتا ہے۔ اس پر یکسوئی لازم ہے کہ پاکستان ہماری پہچان اور ہمارا افتخار ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ہمیں رونا نہیں آتا(خالد مسعود خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-08-15/52484/82257297</link><pubDate>Sat, 15 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-08-15/52484/82257297</guid><description>ہمیں اب ایسی باتوں پر رونا نہیں آتا‘ حالانکہ ہمیں رونا چاہیے۔ مجبورِ محض انسان جب کچھ نہ کر پائے تو ظلم وزیادتی پر‘ ناانصافی پر‘ عدم تحفظ پر اور طبقاتی خلیج پر روتا ہے۔ ایسی باتوں پہ ہمیں بھی رونا چاہیے۔ ہنسنا اور رونا جذبات کے اظہار کی دو ایسی نمایاں ترین صلاحیتیں ہیں جو قدرت نے صرف اشرف المخلوقات کو عطا کر رکھی ہیں۔ قدرت کی عطا کردہ ان صلاحیتوں میں سے ہنسنے کو تو چھوڑیں‘ کم از کم ہمیں رونا تو چاہیے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ ایسی باتوں پر رو رو کر اب ہمارے آنسو خشک اور دل سخت ہو چکا ہے۔ سو ہمیں اب ایسی باتوں پر چاہنے کے باوجود رونا نہیں آتا۔آج صبح اخبار میں ایک خبر تھی کہ سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس یوسف علی سعید اور جسٹس محمد عثمان ہادی پر مشتمل ایک ڈویژن بینچ نے عطا محمد چانڈیو کی ایک درخواست پر جو اس نے آج سے تیرہ برس قبل قومی اسمبلی کی رکن شازیہ مری کی جعلی ڈگری کو بنیاد بناتے ہوئے ان کی رکنیت منسوخ کرنے کیلئے دی تھی‘ سندھ ہائیکورٹ کے اس ڈویژن بینچ نے تیرہ سال بعد یہ کہتے ہوئے خارج کر دی ہے کہ اس آئینی درخواست کے ذریعے ہائیکورٹ کے سامنے آئین پاکستان کے آرٹیکل (f)(1)62 کے تحت نااہل قرار دینے کی استدعا قابلِ سماعت نہیں ہے۔ یاد رہے کہ آئین کا یہ آرٹیکل 1973 ء سے آئین پاکستان میں موجود ہے۔ 2013ء میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 235 کے ووٹر عطا محمد چانڈیو نے ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی کہ شازیہ مری کی رونق اسلام کالج فار ویمن کی حاصل کردہ ڈگری ایک دوسری خاتون شازیہ مری جس کا والد بھی اتفاقاً مذکورہ شازیہ مری کے والد عطا محمد کا ہم نام تھا‘ کو جاری ہوئی تھی جسے شازیہ مری (ایم این اے) نے اپنے لیے استعمال کیا‘ جبکہ وہ کبھی بھی رونق اسلام کالج فار ویمن میں زیر تعلیم نہیں رہیں۔ عطا محمد چانڈیو نے تیرہ برس قبل جب یہ آئینی درخواست دائر کی تھی‘ تب آئین پاکستان اور اس کا یہ والا آرٹیکل بھی موجود تھا اور اس موجودگی کے باوجود ہائیکورٹ کے ڈویژن بنچ نے اس درخواست کے اخراج کا فیصلہ کرتے ہوئے ہوئے تیرہ سال لگا دیے۔ یہ فیصلہ ڈویژن بنچ نے کیا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ مذکورہ درخواست سندھ ہائیکورٹ کے اس دو رکنی بنچ کے پاس آنے سے پہلے سنگل بنچ میں بھی لگی ہو گی۔ یہی درخواست الیکشن ٹربیونل کے سامنے بھی پیش ہوئی تاہم اسے خارج کر دیا گیا۔ تب درخواست گزار نے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی۔ اس درخواست کی سماعت سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے کی جس کی سربراہی چیف جسٹس عمر عطا بندیال کر رہے تھے۔ اس بنچ نے جعلی ڈگری کے الزام میں دائر کردہ اس درخواست پر کوئی فیصلہ دینے کے بجائے درخواست گزار کو دوبارہ اصل فورم یعنی سندھ ہائیکورٹ جہاں یہ معاملہ زیر سماعت تھا‘ جانے کیلئے کہا۔ یہ کیس الیکشن ٹربیونل‘ الیکشن کمیشن‘ ہائیکورٹ‘ سپریم کورٹ اور پھر دوبارہ ہائیکورٹ کی راہداریوں میں تیرہ سال خجل خوار ہونے کے بعد بالآخر ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کر دیا گیا۔ لیکن اس تیرہ سال کے دوران اصل بات یعنی ڈگری جعلی ہے یا اصلی‘ شاید زیر بحث ہی نہیں آ سکی۔ ان تیرہ سالوں میں کسی کو یہ سادہ سی بات سمجھ نہیں آئی کہ یہ درخواست آئین کے آرٹیکل (f)(1)62 کی رُو سے نااہلی کا فیصلہ کرنے کیلئے اس فورم پر قابل سماعت ہی نہیں ہے۔ دوسرے الفاظ میں اس نہایت مشکل اور پیچیدہ آئینی درخواست کے قابل سماعت یا ناقابل سماعت ہونے کا فیصلہ ہونے میں تیرہ سال کا عرصہ لگا ہے۔ قارئین! میں معذرت چاہوں گا‘ مجھے معاف کیجئے کہ اس دوران مجھے منیر نیازی کی ایک نظم &#39;&#39;کہنے والی بات میں دیر کی وجہ ‘‘یاد آ گئی۔ آپ کو تو علم ہے کہ میں بعض اوقات بالکل کسی اور طرف نکل جاتا ہوں لیکن اب میری اس بری عادت کے آپ بھی عادی ہو چکے ہیں اور میں بھی اب اس عمر میں اپنی کئی بری عادتوں کے ساتھ سمجھوتا کر چکا ہوں۔ سو پہلے منیر نیازی کی نظم پڑھیے: کہنے والی بات میں دیر کی وجہیہی اصل حقیقت ہے؍ کہ میری بے رخی چاہت؍ ہوئی مثلِ قفس مجھ کو &#39;&#39;مجھے تم سے محبت ہے‘‘؍ بس اتنی بات کہنے میں؍ لگے بارہ برس مجھ کوقارئین! محبت جیسی آفاقی شے میں بارہ سال کا عرصہ گزرنا تو سمجھ میں آتا ہے لیکن آئینی اور قانونی معاملات میں‘ جبکہ آئین موجود ہو اور اس میں کسی معاملے پر آرٹیکل بھی وجود رکھتا ہو‘ صرف یہ فیصلہ کرنے میں کہ نااہلی آئین کے فلاں آرٹیکل کے تحت ہائیکورٹ کے دائرہ کار میں آتی ہے یا نہیں‘ محض اکا دکا پیشیوں کا معاملہ ہے۔ اصولی طور پر یہ فیصلہ آج سے تیرہ برس قبل عطا محمد چانڈیو کی درخواست دائر ہونے کے بعد عدالت عالیہ کی پہلی سماعت پر آ جانا چاہیے تھا۔ لیکن صرف یہ فیصلہ کرنے میں کہ دائر کردہ درخواست پر نااہلی ہائیکورٹ کے دائرہ اختیار میں نہیں آتی‘ تیرہ سال لگے ہیں۔ ہمارے ایک دوست کا کہنا ہے کہ پاکستان کے سرکاری محکموں میں مسئلہ یہ نہیں کہ وہاں افرادی قوت کم ہے‘ اصل مسئلہ اس افرادی تعداد کی استعدادِ کار میں کمی کا ہے۔ اس دوست کا کہنا ہے کہ اس وقت پاکستان کے سرکاری محکموں میں افسروں کی جتنی تعداد تعینات ہے اگر اس کا محض پچیس سے تیس فیصد ایسے افسران پر مشتمل ہوتا جو کام کرنا جانتے اور کام کرنے کی لگن رکھتے تو حالات کہیں بہتر ہوتے۔ ملکی خزانے پر تنخواہوں کا‘ الاؤنسز کا‘ سہولتوں کا‘ گاڑیوں کا‘ پٹرول کا اور دفتروں کا خرچہ محض پچیس فیصد رہ جاتا۔ افسران کم لیکن قابل اور مؤثر کارگزاری کے حامل ہوتے تو ملکی نظام شاندار ہوتا جبکہ خزانے پر تنخواہوں کا اور ملک پر قرضوں کا بوجھ بھی چوتھائی ہوتا۔ لیکن ہمارے یہاں افسروں کی فوج ظفر موج ہے جو صرف موج میلہ کر رہی ہے۔ اگر اس قسم کے کیس تیرہ سال بعد بغیر کسی فیصلے کے ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کرنے کا دورانیہ تیرہ سال ہے‘ تو پھر ظاہر ہے ہمہ وقت بڑھتے ہوئے زیر سماعت مقدمات کو نپٹانے کیلئے بہت زیادہ ججز کی ضرورت ہے۔ اس کمی کو پورا کرنے کیلئے حال ہی میں پانچ ہائیکورٹس میں نئے جج مقرر کیے گئے ہیں۔ اطلاع ہے کہ پنجاب میں نئے فائز کیے جانے والے دس ججز کیلئے ایک سو دس لاء افسران بھرتی کیے جائیں گے۔ خزانے پر بوجھ روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ سارا بوجھ ہم جیسے وہ لوگ برداشت کر رہے ہیں جن کیلئے خود اپنا بوجھ اٹھانا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ ہمیں اب اس گلے سڑے‘ بوسیدہ اور متروک نظام پر رونا بھی نہیں آتا‘ لیکن کب تک؟ جس دن ہم سب مل کر اس نظام پر روئے تب ایسا طوفان اُٹھے گا جو سب کچھ بہا کر لے جائے گا۔ لیکن فی الحال تو ہمیں رونا نہیں آتا۔ طارق حبیب کی ایک نظم: ہمارا رونا جب رویا گیاکچھ ایسا ہے کہ آدھی رات کے پہلو سے اُٹھ کر دکھ ؍ہمارے پاس آتے ہیں؍ ہمیں اپنا سمجھ کر ؍ اپنے سارے دکھ سناتے ہیں ؍ ہمیں رونا نہیں آتا ؍  ہمارا فرض بنتا ہے ؍ کہ ہم ان سب دکھوں کو؍ اک اک کر کے ؍ گلے لپٹائیں ؍ پرسا دیں ؍ہم اس خواہش میں رونے کی اداکاری بھی کرتے ہیں ؍ ہمیں رونا نہیں آتا ؍ ہم ان لمحوں سے ڈرتے ہیں ؍ کہ جن لمحوں کی قسمت میں ؍ ہمارا رونا لکھا ہے؍ ہمارا رونا جب رویا گیا ؍ اس دن؍ تماشا دیدنی ہو گا</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90500073.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سابق شامی صدر کو سزائے موت(ڈاکٹر حسین احمد پراچہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-08-15/52485/98263977</link><pubDate>Sat, 15 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-08-15/52485/98263977</guid><description>رواں ماہ کی 11 تاریخ کو دمشق کی ایک عدالت نے سابق شامی صدر بشار الاسد کو منصوبہ بندی کے تحت بے گناہ لوگوں کے قتل‘ 15 برس سے کم عمر بچوں پر تشدد کر کے انہیں موت کے گھاٹ اتارنے‘ غیر قانونی حراست اور انسانیت کے خلاف جرائم میں مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنائی ہے۔ بشار الاسد کے علاوہ اس کے بھائی ماہر الاسد اور چھ سابق فوجی و سکیورٹی حکام کو سزائے بھی موت سنا ئی گئی ہے۔ فیصلے کے روز دمشق کی عدالت کے باہر بشار الاسد کے مظالم کا نشانہ بننے والوں کے لواحقین اپنے پیاروں کی تصاویر اٹھائے عدالتی فیصلے کا انتظار کر رہے تھے۔ فیصلہ سنتے ہی انہوں نے ججوں کیلئے نعرہ ہائے تحسین بلند کیا۔ دسمبر 2024ء میں جب ظلم کے خلاف جدوجہد کرنے والے ہر طرف سے دمشق کے دروازے تک آ پہنچے تو آٹھ دسمبر کو بشار الاسد اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ جہاز میں ماسکو کی طرف فرار ہو گیا تھا۔ تب میں نے بشار الاسد اور اس کے والد حافظ الاسد کے 53سالہ دورِ ظلم و تشدد کے بارے میں لکھا تھا۔ آج اُن تاثرات کی قارئین کو یاد دہانی کرا رہا ہوں تاکہ معلوم ہو سکے کہ پہلے حافظ الاسد پھر اُس کے بیٹے بشار الاسد نے اپنے ہی لوگوں پر کیا کیا مظالم ڈھائے۔ 1971ء میں حافظ الاسد ایک ملٹری شبخون کے ذریعے اقتدار پر قابض ہوا تھا۔ ظلم کی یہ سیاہ رات 29 سال تک جاری رہی۔ اس دوران اپنے ہی شہریوں پر مظالم ڈھانے میں حافظ الاسد اور اس کا بھائی رفعت الاسد دوسرے عرب آمروں کو پیچھے چھوڑ گئے۔ حافظ الاسد کا تعلق شام کے اقلیتی علوی فرقے سے تھا۔ شام میں سنی العقیدہ مسلمانوں کی تعداد تقریباً 78 فیصد ہے۔ علوی فرقے کے عقائد نہایت پُراسرار قسم کے ہیں۔ یہ نہ تو سنی ہیں نہ شیعہ۔ حافظ الاسد ایک ملٹری افسر تھا اور بعث کمیونسٹ پارٹی کا رکن بھی تھا۔ اس نے برسراقتدار آتے ہی اپنی ہیبت قائم کرنے کیلئے شہریوں کے بنیادی حقوق اپنے پاؤں تلے روند ڈالے۔ آزادیٔ تقریر تھی نہ آزادیٔ تحریر اور نہ ہی کسی قسم کے سیاسی و دینی اجتماع کی اجازت۔ حافظ الاسد کے زمانے میں جہاں کہیں چند لوگ اکٹھے ہوتے وہاں بدترین قسم کا کریک ڈاؤن کیا جاتا۔ بلامبالغہ اس کے دور میں ہزاروں نہیں لاکھوں بے قصور شامیوں کو زندانوں‘ شاہراہوں اور قتل گاہوں میں موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ لاکھوں کو جیلوں میں ڈال دیا گیا‘ اور پھر برسوں تک اُن کا کوئی پرسانِ حال نہیں تھا۔ دسمبر 2024ء میں بشار الاسد کے شام سے فرار ہونے کے بعد اس کے والد کے زمانے میں قید کیے گئے سینکڑوں قیدیوں کو دہائیوں بعد رہائی ملی۔اسی دورِ استبداد کے دوران میں اور میری بیگم 1970ء کی دہائی کے اواخر میں طائف سے برائے سیاحت اپنی گاڑی سے تقریباً ڈیڑھ ہزار کلو میٹر ڈرائیو کر کے براستہ اردن دمشق گئے تھے۔ دمشق ایک نہایت خوبصورت شہر ہے جس کے باغات اور عمارات آراستہ پیراستہ ہیں۔ اگر ایسی حسین بستی پر دیو استبداد کا مہیب سایہ پڑ جائے تو اندازہ لگا لیجئے شہرِ جمال کا کیا حشر ہو گا۔ دمشق کے علاوہ ہم گاڑی میں حماۃ سے گزرتے ہوئے حلب بھی گئے۔ شام سے ہماری واپسی کے تین چار برس کے بعد 1982ء میں حافظ الاسد نے حماۃ پر بدترین قسم کا حملہ کیا۔ اس میں حافظ الاسد کے فوجی نہتے اہلِ حماۃ پر ٹوٹ پڑے اور اوپر سے جہازوں کے ذریعے سارے شہر پر بمباری بھی کی گئی۔ تقریباً 27روز تک وحشت و دہشت کا یہ کھیل جاری رہا۔ ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کے اعداد و شمار کے مطابق کم از کم 25ہزار پیر و جواں اور خواتین و بچے اس حملے میں شہید ہوئے اور سارا شہر کھنڈرات میں تبدیل ہو گیا۔ ان دنوں دنیا بھر کے میڈیا کا مرکزی نقطہ یہ تھا کہ کوئی حکومت اپنے لوگوں کے ساتھ یوں بھی کر سکتی ہے؟ اس قتل عام کی خبریں ساری دنیا کو دہلا گئی تھیں۔ جو شامی کسی نہ کسی طرح سعودی عرب پہنچ گئے اور وہاں کی وزارتِ تعلیم میں ملازمت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے‘ ان میں سے کچھ طائف میں ہمارے رفیق کار بن گئے۔ وہ سرگوشیوں میں بتایا کرتے تھے کہ حافظ الاسد اور اس کا بھائی رفعت الاسد نہایت جابر اور ظالم ہیں۔ جب حافظ الاسد کی وفات کے بعد 2000ء میں بشار الاسد نے اقتدار سنبھالا تو اس نے اپنے شہریوں پر تشدد اور قتل عام کے نئے ریکارڈ قائم کیے۔ آمروں کو یہ خوش فہمی ہوتی ہے کہ انسانوں کو ڈرا دھمکا کر خاموش کرایا جا سکتا ہے اور اُن کی گردنوں میں بندوق کے زور پر اپنی اطاعت کا طوق ڈالا جا سکتا ہے‘ مگر انجام کار یہی طوق آمر کی گردن میں کَس دیا جاتا۔ بشار الاسد نے صید نایا جیل بنوائی جس کی چار منزلیں زیر زمین تھیں۔ وہاں قیدیوں پر انسانیت سوز مظالم ڈھائے جاتے تھے۔ بشار الاسد کے دسمبر 2024ء میں ماسکو فرار کے بعد بہت سے قیدی اس بدنام زمانہ جیل سے رہا کرا لیے گئے مگر پھر بھی ہزاروں تہہ خانوں میں پابہ زنجیر مقید تھے۔ ان بھاری آہنی دروازوں کی چابیاں نہیں مل رہی تھیں‘ آخرکار وہ بھی رہا ہو گئے۔ یہ لوگ زمان و مکان کا ہر احساس کھو چکے تھے۔ سالہا سال سے انہوں نے سورج نہیں دیکھا تھا۔ اُن کیلئے یہ رہائی ناقابلِ یقین تھی۔ جب بشار الاسد کے مظالم اپنے باپ حافظ الاسد سے بھی بڑھ گئے تو تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق بہت سے شامی 2011ء میں حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور آزادی کی تحریک شروع کر دی۔ کچھ برسوں کے بعد بشار الاسد نے کیمیائی گیس کے استعمال سے ان کا قتلِ عام کیا۔ ان بدترین حالات میں لاکھوں وطن چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ انہیں ترکیہ‘ جرمنی اور امریکہ میں پناہ مل گئی۔گزشتہ برس جب میں ڈیلس‘ امریکہ گیا تو میری کئی شامی افراد سے ملاقات ہوئی۔ ان میں سے ایک نے بتایا کہ 8دسمبر 2024ء کو اسے نہ صرف شام کی آزادی کی خبر ملی بلکہ اسی روز اس کا بھائی 25 برس بعد جیل سے رہا ہوا۔ میں نے پوچھا کہ اس کا جرم کیا تھا؟ اس نے جواب دیا کہ کوئی جرم نہ تھا۔ وہ کسی کیفے میں بیٹھا اخبار پڑھ رہا تھا۔ اس کے خلاف انٹیلی جنس رپورٹ میں بتایا گیا کہ وہ اخوان کے بارے میں کوئی خبر پڑھ رہا تھا۔ اس طرح کے جرائم میں بے گناہ لوگوں کو بدترین عقوبت خانوں میں ڈال دیا جاتا تھا۔ اس شامی نے مجھے اپنی بیوی اور دو بچوں کے ساتھ دمشق سے فرار ہو کر اردن پہنچنے کی رونگٹے کھڑے کر دینے والی داستان بھی سنائی جو پھر کبھی بیان کروں گا۔ شام میں 53 برس تک انسانوں کی حیثیت کیڑے مکوڑوں سے بھی کم تر تھی۔8دسمبر 2024ء کو دمشق و حلب اور حماۃ و حمص میں ہی نہیں شام کے چپے چپے میں لوگوں نے یومِ نجات اور یوم آزادی کی خوشیاں منائیں اور حافظ الاسد کے مجسموں اور بشار الاسد کی تصویروں کو اپنے قدموں تلے روند ڈالا۔ اب 11اگست 2026ء کو بشار الاسد اور اس کے کئی قریبی ساتھیوں کو دمشق کی عدالت نے جو سزائے موت سنائی ہے‘ اس اہلِ شام بے حد مسرور ہیں اور سجدہ ہائے شکر ادا کر رہے ہیں۔موجودہ التحریر الشام کے صدر ابو محمد الجولانی 2011ء میں اس خاندان کے ظلم و ستم سے نجات حاصل کرنے والی تحریک میں شامل اعتدال پسند عناصر کے قائد تھے۔ شام میں موجودہ حکومتی الائنس دس بارہ دینی و سیاسی جماعتوں پر مشتمل ہے۔ اس کے سربراہ یہی 44سالہ اعتدال پسند الجولانی ہیں۔ انہیں عالم عرب اور مغربی دنیا سے پذیرائی مل رہی ہے۔ ابو محمدالجولانی کی اعلانیہ کمٹمنٹ ہے کہ وہ عوام کی منتخب حکومت کا قیام یقینی بنائیں گے اور تباہی و بربادی کو خوشحالی میں بدلیں گے۔ اس موقع پر دو باتیں عالم اسلام بالخصوص عرب حکمرانوں کو اچھی طرح سمجھ لینی چاہئیں۔ ایک تو یہ کہ اپنے ہی شہریوں کا کشت و خون بہادری نہیں بزدلی ہے۔ دوسری بات یہ کہ عوامی حمایت کے بغیر بالآخر اقتدار کا سنگھاسن زمیں بوس ہو جاتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_70033906.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>’’سسٹم‘‘ کی سرجری کی ضرورت(افتخار احمد سندھو)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/iktakhar-ahmed-sandhu/2026-08-15/52486/99541276</link><pubDate>Sat, 15 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/iktakhar-ahmed-sandhu/2026-08-15/52486/99541276</guid><description>پاکستانی قوم کو یوم آزادی مبارک ہو! گزشتہ روز پاکستانی قوم نے اپنا آزادی کا جشن اس حال میں منایا کہ قیام پاکستان کے 79 سال بعد بھی گونا گوں مسائل کا سامنا ہے۔ بدقسمتی سے ملک کا سیاسی اور معاشی نظام طویل عرصہ گزرنے کے بعد بھی ملک کو ترقی اور خوشحالی کے راستے پر نہیں ڈال سکا۔ ہمارے حکومتی اخراجات اس قدر زیادہ ہیں کہ یہ ملک ان کا بوجھ برداشت نہیں کر پا رہا۔ اس کی بڑی وجہ کرپشن کی انتہا ہے۔ ہمارا ترقیاتی بجٹ حقیقی طور پر صرف 30 سے 40 فیصد خرچ ہوتا ہے باقی 60 سے 70 فیصد مبینہ کرپشن کی نذر ہو جاتا ہے۔ ہماری بیورو کریسی کی کارکردگی اور ان کی بھاری بھرکم تنخواہیں اور مراعات ہمارے سامنے ہیں‘ لیکن کارکردگی اس کے مقابلے میں صفر ہے لہٰذا گھر کا سربراہ (یعنی حکومت) ہی گھر کے اوپر بوجھ بن چکا ہے‘ وہ اس سسٹم کوخاک ٹھیک کرے گا۔ جب تک حکومتی اداروں کے حجم کو کم نہیں کیا جائے گا اس ملک کا نظام کبھی ٹھیک طریقے سے چل نہیں سکے گا۔ وفاقی وزیر داخلہ نے بھی اس امر کا برملا اعتراف کیا ہے کہ پاکستان کا سسٹم ناکارہ ہو چکا ہے۔ اس تناظر میں نظام بدلو‘ انتظامی یونٹس بنائو‘ یہ مطالبہ کئی دن سے سوشل میڈیا پر ٹرینڈ بنا ہوا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ محض نظام بدلنے اور چھوٹے انتظامی یونٹس بنانے سے پاکستان کو لمبے عرصے سے درپیش مسائل حل ہو سکیں گے؟ دراصل پاکستان کو درپیش مسائل اب ایک طرح سے کینسر بن چکے ہیں‘ اور اس کا علاج صرف نئے صوبے بنانے سے نہیں ہوگا بلکہ اس کیلئے اب ایک میجر سرجری کی ضرورت ہے۔ میرے دوست خالد منظور اکثر کہا کرتے ہیں کہ اس نظام کو ٹھیک کرنے کیلئے تیزاب کا غسل دینا ہوگا۔ بقول مرتضیٰ برلاس:کتاب سادہ رہے گی کب تک‘ کبھی تو آغازِ باب ہو گاجنہوں نے بستی اجاڑ ڈالی‘ کبھی تو اُن کا حساب ہو گاسحر کی خوشیاں منانے والو! سحر کے تیور بتا رہے ہیںابھی تو اتنی گھٹن بڑھے گی کہ سانس لینا عذاب ہو گااُٹھے گی ہم پر جو اینٹ کوئی تو پتھر اس کا جواب ہو گاسکوتِ صحرا میں بسنے والو! ذرا رُتوں کے مزاج سمجھوجو آج کا دن سکون سے گزرا تو کل کا موسم خراب ہو گاانتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کے قیام سے کئی ایک ملکی مسائل ضرور حل ہو جائیں گے لیکن اس نسخے سے تمام ملکی مسائل کا حل ممکن نہیں۔ سسٹم کے ناکارہ ہونے سے متعلق وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کا ماننا ہے کہ وہ اپنی پرفارمنس پر وزیراعظم کو جوابدہ ہیں‘ اس لیے انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی وزارت سمیت تمام وزارتوں کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کرایا جائے اور اس کے نتائج عوام کے سامنے رکھے جائیں۔ محسن نقوی سمجھتے ہیں کہ ملک میں 79 سال سے جو نظام چل رہا ہے وہ ناکارہ ہے۔ اگر نظام درست چل رہا ہوتا تو پاکستان کہیں زیادہ ترقی کر چکا ہوتا۔بلاشبہ اس تلخ حقیقت سے تو انکار ممکن نہیں کہ عوام کی حکومت سے وابستہ توقعات کبھی پوری نہیں ہو پائیں اس لیے عوام کا سسٹم پر اعتماد بھی مضبوط نہیں ہو پایا۔ عوام جب روٹی‘ روزگار‘ غربت اور مہنگائی کے اپنے سنگین مسائل اور توانائی کے بے قابو ہوتے بحران کا جائزہ لیتے ہوئے حکمران اشرافیہ کی مراعات اور ان کے اللے تللوں پر نگاہ ڈالتے ہیں تو سسٹم سے ان کی مایوسی اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ وزیرداخلہ نے پاکستان کے مروجہ نظام پر کھل کر بات کی اور اسے نہ صرف ناکارہ قرار دیا بلکہ سسٹم کے اندر سے نیا سسٹم نکالنے کی بات کی جس کیلئے انہوں نے نئے صوبوں اور نئے انتظامی یونٹس کی ضرورت پر زور دیا۔ بادی النظر میں اس سے یہی عندیہ ملا کہ وہ اتحادی حکومت میں جن کی نمائندگی کر رہے ہیں وہ ان کی جانب سے سسٹم کی تبدیلی کا پیغام دے رہے ہیں۔ یقینا اسی بنیاد پر حکمران اتحادی جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی جانب سے ردِعمل آنا شروع ہوا اور مختلف فورموں پر یہ سوال بھی اٹھنے لگا کہ وزیر داخلہ کے بقول یہ سسٹم ناکارہ ہے تو اسے برقرار رکھنے کا کیا جواز رہ جاتا ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے یقینا اس ردِعمل کی بنیاد پر ہی قیامِ پاکستان سے اب تک کے پورے سسٹم کو ناکارہ قرار دیا ہے۔ بلاشبہ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ملک میں غربت‘ مہنگائی‘ بیروزگاری‘ توانائی کے بحران‘ کمزور گورننس‘ ادارہ جاتی بدنظمی اور سرکش بیورو کریسی نے عام آدمی کی زندگیاں دشوار بنا رکھی ہیں۔ اگرچہ مختلف ادوار میں حکومتوں نے اصلاحات کے دعوے کیے مگر عملی طور پر نظام کی بنیادی خامیوں کو دور کرنے کی سنجیدہ کوشش کم ہی نظر آئی۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کا ریاستی اداروں اور حکومتی نظام پر اعتماد متاثر ہوا ہے۔ جب عام آدمی کو انصاف‘ روزگار‘ سستی توانائی‘ معیاری تعلیم اور بروقت صحت کی سہولتیں میسر نہ ہوں اور حکمرانوں کی مسلط کردہ مہنگائی نے آبرو مندی کے ساتھ زندگی گزارنے کی سکت چھین لی ہو تو عوام میں بے چینی اور اضطراب پیدا ہونا فطری امر ہے۔ اس تناظر میں محسن نقوی کی تمام وزارتوں کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کرانے اور اس کے نتائج عوام کے سامنے رکھنے کی تجویز ایک مثبت تجویز ہے کیونکہ شفاف احتساب اور حکومتی کارکردگی کی غیر جانبدارانہ جانچ پڑتال کسی بھی جمہوری نظام کا بنیادی تقاضا ہوتی ہے۔ اگر وزارتوں‘ سرکاری اداروں اور ترقیاتی منصوبوں کی کارکردگی کا آزادانہ جائزہ لیا جائے اور اس کی رپورٹ عوام کے سامنے پیش کی جائے تو اس سے نہ صرف احتساب کا عمل مضبوط ہوگا بلکہ حکومتی اداروں پر عوام کا اعتماد بحال کرنے میں بھی مدد ملے گی۔وطنِ عزیز کی سیاسی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ محض حکومتیں بدلنے سے مسائل حل نہیں ہوتے۔ جب تک نظام میں شفافیت‘ میرٹ‘ قانون کی بالادستی‘ مالی نظم وضبط‘ ادارہ جاتی خودمختاری اور مؤثر احتساب کو یقینی نہیں بنایا جاتا اس وقت تک سسٹم کے ثمرات سے عوام مستفید نہیں ہو سکتے جبکہ سلطانیٔ جمہور کا تصور ہی عوام کی حکمرانی ہوتا ہے۔ عوام کو دعوؤں اور بیانات سے نہیں بلکہ عملی اقدامات ہی سے مطمئن کیا جا سکتا ہے۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اس وقت حکومت بہت سے داخلی اور خارجی چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے مگر اس کے لیے یہی وقت ہے کہ روزمرہ کے انتظامی معاملات تک محدود رہنے کے بجائے سسٹم کی اصلاح کو اپنی ترجیحات میں سرفہرست رکھے۔ سسٹم کی خرابیوں کی وجوہات کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے اور ٹھوس بنیادوں پر ان خرابیوں کے سدباب کا لائحہ عمل طے کیا جائے۔ بلاشبہ اس وقت ملک کو سیاسی استحکام کے ساتھ ساتھ انتظامی استحکام کی بھی ضرورت ہے اور اصل کامیابی اسی وقت ہو گی جب ہمارا ریاستی نظام عوام کی زندگیوں میں حقیقی بہتری لانے کے قابل ہو گا۔ آج پاکستان کو ایسے فیصلوں کی ضرورت ہے جو وقتی سیاسی فائدے کے بجائے قومی مفاد‘ مضبوط اداروں اور بہتر حکمرانی کی بنیاد رکھیں۔ نظام کی اصلاح محض ایک نعرہ نہیں بلکہ وقت کا اہم ترین تقاضا ہے اور جب تک اس تقاضے کو عملی جامہ نہیں پہنایا جاتا عوام کے اعتماد کی بحالی‘ پائیدار معاشی ترقی اور خوشحال پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکے گا۔ اور ملک کبھی بھی ترقی کی منازل طے نہیں کر سکے گا۔ آخر میں احمد ندیم قاسمی کے الفاظ میں وطن کیلئے دعا:خدا کرے کہ مری ارضِ پاک پر اترےوہ فصلِ گل جسے اندیشۂ زوال نہ ہویہاں جو پھول کھلے وہ کھلا رہے برسوںیہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہویہاں جو سبزہ اگے وہ ہمیشہ سبز رہےاور ایسا سبز کہ جس کی کوئی مثال نہ ہو</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/228_40817243.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سہ ملکی دفاعی معاہدہ(جویریہ صدیق )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/javeria-siddique/2026-08-15/52487/81307343</link><pubDate>Sat, 15 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/javeria-siddique/2026-08-15/52487/81307343</guid><description>سعودی عرب‘ ترکیہ اور پاکستان ایک دوسرے کے اچھے برے وقت کے ساتھی ہیں۔ تینوں ہی مسلم ممالک ہیں‘ اور کشمیر اور فلسطین کے حوالے سے ایک ہی مؤقف رکھتے ہیں۔ دنیا میں جیسے بھی سیاسی و معاشی حالات ہوں‘ یہ تینوں ممالک ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں میں نے بیرونِ ملک سفر کیلئے جدہ سے ٹرانزٹ کا آپشن لیا۔ سعودی عرب کی قومی ایئرلائن میں سفر بہت آرام دہ رہا۔ سعودی عرب میں قوانین پر سختی سے عملدرآمد کی وجہ سے مجھے یہ ملک خواتین کیلئے بہت محفوظ محسوس ہوتا ہے۔ یہاں کے سخت قوانین خواتین کو ہراسانی اور دھوکا دہی سے محفوظ رکھتے ہیں۔ مجھے جدہ ایئر پورٹ پر مختصر قیام کے دوران بہت خوشی محسوس ہوئی۔جدہ کا ایئرپورٹ کافی خوبصورت ہے‘ جدید سہولتوں سے آراستہ‘ دنیا بھر کے برانڈز یہاں موجود ہیں‘ اور کھانا تو یہاں بے حد لذیذ ہے۔ دوسرا یہاں صفائی کا بہت خیال رکھا جاتا ہے۔ مجھے سب سے خوشگوار حیرت امیگریشن پر ہوئی۔ میں جب جہاز سے اتری تو ذہن میں بہت کچھ چل رہا تھا۔ ارشد شریف کے بعد بیرونِ ملک کا یہ میرا پہلا سفر تھا۔ میں تھکے تھکے قدموں سے امیگریشن کاؤنٹر کی طرف بڑھ رہی تھی کہ پتا نہیں کیا پوچھیں گے یا کتنی چیکنگ ہو گی۔ کوئی چیز گم ہو گئی یا میں کاؤنٹر پر کچھ بھول گئی تو کیا ہوگا۔ مگر وہاں موجود عملے نے میرے ہاتھ میں سبز پاسپورٹ دیکھ کر کہا کہ &#39;&#39;سسٹر! پاکستان...؟ یو کین گو پلیز‘‘۔ میں نے ایک بار پھر پوچھا کہ کیا میں جا سکتی ہوں؟ جواب ملا: جی ہاں۔ مجھے بہت حیرت ہوئی کہ نہ بیگ کھلوائے‘ نہ جوتے اور جیولری اتارنے کو کہا اور عزت سے لاؤنج کی طرف جانے کیلئے کہہ دیا۔ مجھے خوشی بھی ہوئی اور فخر بھی کہ دونوں ممالک کے مابین تعلقات کتنے خوشگوار ہیں۔ میں ایک عام مسافر کے طور پر سفر کر رہی تھی‘ تاہم دونوں ممالک کے درمیان گرمجوشی اور دوستی کو میں نے براہِ راست محسوس کیا۔ حالیہ سفارتی کامیابیوں کی وجہ سے پاکستان کے سبز ہلالی پاسپورٹ کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک میں امیگریشن حکام بہت خوش دلی کے ساتھ پاکستانی مسافروں کو خوش آمدید کہتے ہوئے پاکستان کو امن کا داعی قرار دیتے ہیں۔ کاش کہ اس سفارتکاری کا اثر ہمارے ملک کی معیشت پر بھی جلد نظر آئے۔میں لاؤنج میں بیٹھی سعودی مسافر جہازوں کو دیکھتی رہی۔ نہ صرف سعودی ایئرلائنز کے جہاز لینڈ اور ٹیک آف کر رہے تھے بلکہ دیگر اہم غیرملکی ایئرلائنز بھی مسافروں کو منزلِ مقصود تک پہنچانے میں مصروفِ عمل نظر آئیں۔ پی آئی اے کا جہاز بھی نظر آیا۔ حال ہی میں سعودی عرب نے اپنی دوسری قومی ایئرلائن ایئر ریاض کا بھی افتتاح کیا ہے۔ سعودی عرب کی معیشت کا اندازہ ان کے وسیع اور جدید ایئرپورٹ سے ہو رہا تھا‘ جہاں پر غیرملکی مسافروں کا رش تھا۔ لوگ اب دبئی کے بجائے جدہ سے ٹرانزٹ لینا پسند کرتے ہیں۔ ولی عہد پرنس محمد بن سلمان کی پالیسیوں نے سعودی عرب کو جدید بنا دیا ہے۔ اب یہ صرف مذہبی نہیں‘ معاشی‘ ثقافتی اور سفارتی سرگرمیوں کا بھی مرکز ہے۔ سعودی عرب دنیا کی 19ویں بڑی معیشت ہے‘ اور 2025ء میں اس کی جی ڈی پی تقریباً 1277ارب ڈالر تھی‘ فی کس آمدنی لگ بھگ 33ہزار ڈالر اور آبادی تقریباً ساڑھے تین کروڑ ہے۔ سعودی عرب تیل برآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ اس کی معیشت تیل اور گیس پر انحصار کرتی ہے۔ سعودی عرب کی کمپنی آرامکو دنیا کی سب سے بڑی تیل کی کمپنی ہے۔ سعودی عرب حکمران &#39;وژن 2030ء‘ کے تحت سعودی معیشت کو تیل کے علاوہ سیاحت‘ ٹیکنالوجی اور مینوفیکچرنگ کی طرف لے جانا چاہتے ہیں۔ سعودی عرب میں فٹ بال ورلڈ کپ کی بھی تیاری کی جا رہی ہے اور 2034ء کا فیفا ورلڈ کپ سعودی عرب میں ہو گا۔ &#39;وژن 2030ء‘ کے تحت خواتین کو بھی ورک فورس کا حصہ بنایا گیا ہے‘ اور اب سعودی عرب کی ورکنگ فورس کا تقریباً 37 فیصد حصہ خواتین پر مشتمل ہے۔ اگر پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کی بات کی جائے تو دونوں ممالک کے مابین مذہبی‘ معاشی‘ سفارتی‘ ثقافتی اور دفاعی تعلقات 1947ء سے ہی مثالی رہے ہیں۔ ہر سال لاکھوں پاکستانی حج اور عمرہ کیلئے سعودی عرب جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ کام کی غرض سے لاکھوں پاکستانی سعودیہ میںمقیم ہیں۔ پاکستان کو سب سے زیادہ ترسیلاتِ زر سعودی عرب سے موصول ہوتی ہیں۔ سعودی فورسز اور پاکستانی افواج مل کر دفاعی مشقوں میں بھی حصہ لیتی ہیں۔ سعودی عرب پاکستان کو رعایتی نرخوں پر تیل بھی فراہم کرتا رہا ہے۔ اس کے علاوہ امداد اور قرضے بھی فراہم کیے جاتے رہے ہیں۔اگر ہم ترکیہ کی طرف دیکھیں تو یہ بھی پاکستان کا ایک مثالی دوست ہے۔ ترکیہ کے ساتھ مجھے خاص انسیت ہے کیونکہ میں نے ان کے سرکاری میڈیا کے ساتھ دس سال کام کیا ہے۔ ترک عوام پاکستان دوست ہیں۔ ان کی اردو سروس پاکستان اور ترکیہ کی دوستی کا مظہر ہے۔ ترکیہ اپنی دفاعی قوت پر بہت توجہ دیتا ہے‘ ترکیہ اور پاکستان مل کر فوجی مشقیں بھی کرتے ہیں۔ ترکیہ دنیا کی 17ویں بڑی معیشت ہے‘ جس کی آبادی آٹھ کروڑ 79 لاکھ ہے۔ ان کی معیشت سیاحت‘ برآمدات‘ تعمیرات اور زراعت پر مشتمل ہے۔ ترکیہ کی دفاعی صنعت بھی بہت مضبوط ہے۔ وہ اپنے دفاع کا بیشتر سازوسامان خود بنا رہا ہے۔ ترکیہ اور پاکستان برادر ممالک ہیں‘ دونوں کو مذہب‘ ثقافت اور سیاحت مزید قریب کر دیتے ہیں۔ پاکستانی ترک ڈراموں اور کھانوں کے بھی دلدادہ ہیں۔پاکستان‘ ترکیہ اور سعودی عرب نے سات اگست کو حرمِ پاک سے متصل ایک محل میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ سائن کیا ہے‘ جس کے تحت تینوں ممالک مل کر ایک دوسرے کے دفاع کو مضبوظ بنائیں گے۔ معاہدے میں یہ طے پایاہے کہ ایک ملک پر حملہ تینوں پر حملہ تصور ہو گا۔ معاہدے کے تحت خطے میں امن و استحکام قائم کرنے کیلئے کوششوں کو مزید تیز کیا جائے گا۔ یہ معاہدہ نیٹو اور اقوام متحدہ کے قوانین کے عین مطابق اور کسی فرقے یا ملک کے خلاف نہیں۔ اس معاہدے کیلئے جگہ کا انتخاب بھی بہت سوچ سمجھ کر کیا گیا تھا۔ مکہ معاہدے میں شامل تینوں ممالک منفرد نوعیت کے مسائل سے دوچار ہیں۔ پاکستان دہشت گردی سے متاثر ہے اور ہم معاشی اور سیاسی عدم استحکام کا بھی شکار ہیں۔ البتہ پاکستان کی جوہری صلاحیت اسے باقی دونوں ممالک میں دفاعی برتری دیتی ہے۔ پاکستان کی بہادر افواج بالخصوص ایئر فورس جس نے گزشتہ سال معرکۂ حق میں بھارت کے جہاز تباہ کیے اور اسے بری طرح شکست دی‘ وہ بھی تینوں ممالک میں پاکستان کو دفاعی برتری دیتی ہیں۔ یہ معاہدہ نہ صرف تینوں ممالک کو دفاعی طور پر مضبوط کرے گا بلکہ اس کے اثرات معیشت‘ سیاحت اور ثقافت پر بھی نظر آئیں گے۔ خلیجی ممالک پہلے اپنے دفاع کیلئے امریکہ پر انحصار کرتے تھے لیکن ایران‘ امریکہ جنگ جب اپنی حدود سے نکل کر خلیجی ممالک تک پہنچ گئی تو انہیں احساس ہوا کہ متبادل سکیورٹی بندوبست بھی بہت ضروری ہے‘ جو سات سمندر پار نہیں بلکہ اسی خطے میں ہونا چاہیے۔ چونکہ تینوں ممالک کے تعلقات امریکہ کے ساتھ بھی اچھے ہیں‘ اس لیے اس معاہدے کو کسی عالمی طاقت کے خلاف قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔ مکہ معاہدہ بلا شبہ جنوبی ایشیا‘ مغربی ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں استحکام کا باعث بنے گا۔ غزہ کی صورتحال‘ یوکرین روس تنازع‘ اسرائیل کا جنگی جنون‘ آبنائے ہرمز کا معاملہ‘ ایران امریکہ جنگ‘ حوثیوں کے حملے‘ یمن کی صورتحال اور ایران کی جوابی کارروائیوں نے خطے کی صورتحال کو تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ ایک سوال یہ بھی ہے کہ کیا اس معاہدے سے ایران اور پاکستان کے تعلقات میں کوئی فرق آئے گا؟ میرا نہیں خیال کہ ایسا ہو گا۔ پاکستان کی کوشش ہو گی کہ ریاض اور تہران میں کشیدگی کم ہو اور پاکستان کے اپنے ہمسایہ ملک سے تعلقات متاثر نہ ہوں۔ پاکستان کی کوششوں کی وجہ سے ہی ایران اور امریکہ سفارتکاری کی میز پر آئے ۔ مکہ دفاعی معاہدے میں ایران کو بھی شمولیت کی دعوت دی گئی ہے۔ تینوں ممالک کی خواہش ہے کہ اس معاہدے میں مزید ممالک بھی شامل ہوں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_38020467.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>معاہدۂ مکہ(مفتی منیب الرحمٰن )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-08-15/52488/31695984</link><pubDate>Sat, 15 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-08-15/52488/31695984</guid><description>اس معاہدے کی بابت پاکستانی وزارتِ خارجہ اور سعودی پریس ایجنسی کی طرف سے جو مشترکہ بیان جاری کیا گیا ہے اس کا متن درج ذیل ہے: &#39;&#39;خادمِ حرمینِ شریفین‘ سعودی وزیر اعظم اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آلِ سعود کی مشفقانہ دعوت پر جمہوریۂ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان اور اسلامی جمہوریۂ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے 7 اگست 2026ء کو سعودی عرب کا دورہ کیا۔ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے &#39;&#39;قصر الصفا‘‘ مکۃ المکرمہ میں دونوں سربراہانِ حکومت کا پُرجوش استقبال کیا‘ پھر اُسی مقام پر مشترکہ دفاعی سربراہی اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس کے دوران مملکتِ سعودی عرب‘ جمہوریۂ ترکیے اور اسلامی جمہوریۂ پاکستان کے درمیان خصوصی تعلقات کا جائزہ لیا گیا اور تینوں ممالک کے درمیان طویل تاریخی تعلقات کی روشنی میں باہمی دلچسپی کے متعدد امور پر تبادلۂ خیال ہوا۔ یہ تعلقات باہمی اُخوت‘ یکجہتی‘ طویل تزویراتی حکمتِ عملی اور دفاعی تعاون میں شراکت داری پر مبنی ہیں جو تینوں ممالک کو متحد رکھنے کی بنیاد ہیں۔ اس موقع پر سعودی ولی عہد‘ صدر جمہوریۂ ترکیے اور وزیراعظم پاکستان نے مشترکہ دفاعی &#39;&#39;معاہدۂ مکہ‘‘ پر دستخط کیے۔یہ دفاعی معاہدہ تینوں ریاستوں کے اس مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ اپنی اجتماعی سلامتی کو مزید تقویت دیں گی اور خطے کے اندر اور اس سے باہر خوشحال مستقبل کیلئے امن‘ سلامتی اور استحکام کو فروغ دیں گی۔ یہ معاہدہ اس عزم کا مظہر ہے کہ کسی بھی جارحیت کیخلاف مشترکہ دفاع کو تقویت دیں گے۔ یہ معاہدہ اس امر کا پابند بناتا ہے کہ تینوں میں سے کسی ایک ریاست پر کوئی بھی مسلح حملہ تینوں پر حملہ متصور ہو گا۔ یہ معاہدہ تینوں ریاستوں کے درمیان دفاعی تعاون کے تمام پہلوئوں پر محیط ہے‘ اس میں یہ گنجائش رکھی گئی ہے کہ خطے کے اُن دیگر ممالک کیلئے بھی اس معاہدے میں شرکت کا راستہ کھلا ہے جو اسکے اصولوں سے متفق ہوں۔ یہ معاہدہ ایران سمیت کسی ملک کیخلاف جارحیت کیلئے نہیں ہے بلکہ یہ خالص دفاعی نوعیت کا معاہدہ ہے۔ یہ نیٹو معاہدے کے آرٹیکل 5/6 اور اقوامِ متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 51کے تحت انفرادی اور اجتماعی حقِ دفاع کے مقاصد کیساتھ ہم آہنگ ہے۔ اس معاہدے کی بابت نہایت وضاحت سے کہا گیا ہے کہ اس کا جوہری صلاحیت کے حصول کی دوڑ سے کوئی تعلق ہے اور نہ یہ فرقہ وارانہ بنیاد پر ہے‘ سو ایران بھی چاہے تو اس میں شامل ہو سکتا ہے۔ اس موقع پر اعلیٰ سعودی حکام کے علاوہ ترکیہ کے وزیر خارجہ خاقان فیدان اور پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی موجود تھے‘‘۔یہ معاہدہ مسلمانوں کی امنگوں کا آئینہ دار ہے‘ اس لیے اس کا جشن منانا اور اس پر فرحت وانبساط کا اظہار فطری امر ہے۔ ماضی میں ہمارا ایسا ہی پُرجوش ردعمل &#39;&#39;علاقائی تعاون برائے ترقی (RCD)‘‘ کے بارے میں تھا‘ جسے ہم نے &#39;&#39;معاہدۂ استنبول‘‘ کا نام دیا تھا اور یہ شاہِ ایران کے زمانے میں پاکستان‘ ترکی اور ایران کے درمیان تھا‘ مگر اس کے کوئی دیرپا مثبت نتائج برآمد نہ ہو سکے‘ بلکہ محض ایک علامتی معاہدہ ہی رہا ہے جو انقلابِ ایران کے بعد ختم ہو گیا‘ کیونکہ اس کا صدر دفتر تہران میں تھا۔الغرض اس معاہدے کا پورا عملی طریقۂ کار‘ تفصیلات اور حدود وقیود تاحال معلوم نہیں ہیں۔ سرسری طور پر جو باتیں سامنے آئی ہیں اُن میں مشترکہ دفاعی صنعت کے منصوبے‘ مشترکہ فوجی مشقیں‘ تربیتی پروگرام‘ نیز دہشتگردی کے خطرات کا سدِّباب شامل ہے۔ خدانخواستہ اگر کسی ملک پر کوئی جارح قوت حملہ کرتی ہے تو آیا عملی طور پر تینوں ممالک کی برّی‘ بحری اور فضائی فوجیں مل کر جارحیت کے شکار ملک کے دفاع میں حصہ لیں گی‘ یہ ابھی تک واضح نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے کہ تمام تر جزئیات سمیت تفصیلات طے کر لی گئی ہوں‘ لیکن کسی حکمت کے تحت انہیں ابھی تک مستور رکھا گیا ہے۔ یہ بھی امکان ہے کہ مختلف ورکنگ گروپ بنائے جائیں اور دفاعی وسفارتی ماہرین علاقائی اور عالمی حساسیت کو پیشِ نظر رکھ کراس کی تفصیلات طے کریں تاکہ یہ محض ایک کاغذی دستاویز بن کر نہ رہ جائے بلکہ اسکی کوئی عملی شکل بھی سامنے آئے۔اس &#39;&#39;معاہدۂ مکہ‘‘ کے بارے میں ابھی تک امریکہ‘ برطانیہ‘ فرانس‘ یورپی یونین اور ٹرمپ انتظامیہ کا کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا؛ البتہ بعض ذرائع کے مطابق اسرائیل نے اس پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بعض سابق امریکی سفارتکاروں نے ذاتی تبصرے میں کہا ہے کہ یہ معاہدہ امریکہ کے خلیجی ممالک کے دفاع میں ناکامی اور ناقابلِ اعتماد ہونے کی دلیل ہے اور یہ کافی حد تک درست ہے۔ علامہ اقبال کی زبان میں ہم یہی کہہ سکتے ہیں:دیکھیے اس بحر کی تہہ سے اچھلتا ہے کیا؍ گنبد نیلوفری رنگ بدلتا ہے کیابہت ممکن ہے کہ آگے چل کر قطر‘ کویت اور بحرین بھی اس میں شامل ہو جائیں‘ البتہ متحدہ عرب امارات کی پوزیشن ابھی واضح نہیں ہے‘ ترکیہ نے کہا ہے: &#39;&#39;مصر بھی چاہے تو اس معاہدے میں شامل ہو سکتا ہے‘‘۔ ابتدا میں ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے رکن ابراہیم رضائی نے اسے کاغذی معاہدہ قرار دیا اور کہا: &#39;&#39; یہ معاہدہ سعودیہ کے تحفظ کی ضمانت نہیں بنے گا بلکہ یہ خلیجی ممالک کے امریکہ پر انحصار کی طرح ہوگا‘‘۔ انہوں نے مشورہ دیا: &#39;&#39;اپنی پالیسیاں درست کریں تاکہ اپنی سلامتی کیلئے دوسروں پر انحصار نہ کرنا پڑے‘‘۔ البتہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس منفی تاثر کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ایکس پر لکھا: &#39;&#39;مسلمان متحد ہو کر بیرونی چیلنجوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں‘ انہوں نے خود انحصاری اور حقیقی بھائی چارے پر زور دیا اور ایرانی فوج کی صلاحیتوں کا ذکر کیا۔ ایرانی وزارتِ خارجہ نے سرکاری طور پر کوئی بیان جاری کیا ہے اور نہ اس کی مخالفت کی ہے۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ کو اس معاہدے کے بارے میں آگاہ کیا اور انہوں نے اس پر شکریہ ادا کیا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ایرانی حکام انتظار کرو اور دیکھو کی پالیسی پر عمل پیرا ہوں۔ ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری جنرل محسن رضائی نے وزیر داخلہ محسن نقوی سے ملاقات کے موقع پر مسلمانوں کے عمومی اتحاد کی بات تو کی ہے‘ لیکن معاہدۂ مکہ کے بارے میں خاص تبصرہ نہیں کیا۔ ترکیہ کے وزیر خارجہ خاقان فیدان نے انادولو نیوز ایجنسی کو جو بیان دیا‘ اس کے اہم نکات یہ ہیں: &#39;&#39;یہ معاہدہ تکنیکی طور پر معاہدۂ نیٹو کے آرٹیکل 5 جیسا ہے کہ ایک رکن پر حملہ سب پر حملہ تصور کیا جائے گا‘ یہ کسی ملک کے خلاف ہے اور نہ اس میں کسی مشترکہ دشمن کو نامزد کیا گیا ہے۔ پس جو ملک ہم پر حملہ نہیں کرتا‘ وہ ہمارا ہدف نہیں ہے‘ انہوں نے مزید صراحت سے کہا: ایران اس معاہدے کا ہدف نہیں ہے۔ یہ معاہدہ جارحانہ یا توسیع پسندانہ نہیں ہے‘ جب تک کوئی ہم پر حملہ نہ کرے‘ یہ اتحاد کسی دوسرے ملک سے تنازع نہیں کرے گا۔ وزرائے خارجہ‘ وزرائے دفاع اور فوجی سربراہوں پر مشتمل سیاسی ودفاعی کمیٹیاں قائم ہوں گی‘ مستقل سیکرٹریٹ سعودی عرب میں قائم کیا جائے گا‘ مشترکہ دفاعی اور تربیتی مشقیں ہوں گی‘ انٹیلی جنس شیئرنگ اور لاجسٹک تعاون ہو گا۔ صدر طیب اردوان کا وژن یہ ہے کہ یہ معاہدہ تین ممالک تک محدود نہ رہے‘ مصر سمیت دیگر ممالک بھی اس میں شریک ہو سکتے ہیں۔ خاقان فیدان نے معاہدۂ مکہ کو خطے میں پائیدار استحکام اور علاقائی سا لمیت کی طرف ایک اہم اقدام قرار دیا۔ انہوں نے کہا: جب کوئی متاثرہ ملک درخواست کرے گا تو مشاورت سے انٹیلی جنس‘ لاجسٹک‘ اسلحہ یا فوجی دستوں کی بابت فیصلہ ہوگا۔ ہم 1952ء سے نیٹو کے رکن ہیں اور اسکے اجلاسوں میں شرکت کرتے رہے ہیں‘ صرف دو بار آرٹیکل 5 کے تحت نیٹو نے مشترکہ کارروائی کی: ایک نائن الیون کے بعد افغانستان میں اور دوسری 1999ء میں کوسووو میں اقوامِ متحدہ کی قرارداد کے تحت انسان دوستی کی بنیاد پر کی۔ نیٹو کے آرٹیکل 5/6 میں حدود (یورپ‘ شمالی امریکہ اور ترکیہ) متعین ہیں اور دفاعی اشتراک رضاکارانہ ہے‘ لیکن معاہدۂ مکہ اس بارے میں خاموش ہے۔ اللہ کرے یہ معاہدہ امتِ مسلمہ کیلئے وسیع تردفاعی‘ سیاسی اور معاشی اتحاد واشتراک کا پیش خیمہ ثابت ہو۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_61172381.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>