<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>دہشت گردی کا شاخسانہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-20/11557</link><pubDate>Sun, 20 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-20/11557</guid><description>کوہاٹ میں دہشت گردی کے واقعے کے تانے بانے بھی افغانستان سے ملے ہیں اور دہشت گردی میں ملوث ایک خود کش حملہ آور کی شناخت افغان شہری کے طور پر ہوئی ہے۔ ملکِ عزیز میں دہشت گردی کے واقعات میں افغانستان کا کسی نہ کسی طرح ملوث پایا جانا ایک طے شدہ امر کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کے ایک بیان کے مطابق پاکستان میں ہونیوالے خودکش حملوں کے تقریباً 80 فیصد حملہ آور افغان شہری ہیں۔ افغانستان میںغیر ملکی افواج اور سابق افغان سکیورٹی اداروں کے چھوڑے ہوئے بھاری اسلحے اور عسکری آلات بھی علاقائی سکیورٹی کیلئے بہت بڑا خطرہ بن چکے ہیں۔ افغان عبوری حکومت کی ناکامی صرف اسی حد تک نہیں کہ وہ افغان سرزمین کو دہشت گردوں کی آماجگاہ بننے سے نہیں روک سکی بلکہ یہ بھی ہے کہ اس نے اس جدید اسلحے اورفوجی سازو سامان کو دہشت گردوں تک پہنچنے سے نہیں روکا۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق جب 2021ء میں طالبان نے افغانستان کا کنٹرول دوبارہ سنبھالا تو تقریباً دس لاکھ ہتھیاراور بھاری مقدار میں فوجی سازوسامان ان کے ہاتھ لگا مگر اس میں سے کم از کم آدھے ہتھیار اور دیگر سامان شدت پسند تنظیموں تک پہنچ چکے ہیں۔

جدید اسلحے اور فوجی سامان کی دستیابی نے افغانستان میں موجود شدت پسند تنظیموں کی دہشت گردانہ صلاحیتوں میں اضافہ کیا ہے اور ہمسایہ ملک کیلئے افغانستان سے ابھرنے والے مسلسل اور سنگین خطرات کیلئے افغان عبوری حکومت جوابدہ ہے۔ پاکستان گزشتہ پانچ برس کے دوران اَنگنت مرتبہ طالبان عبوری حکومت کو اسکی ذمہ داریوں سے خبردار کر چکا ہے مگر دہشت گردی کے مسلسل واقعات اور ان واقعات میں افغان شہریوں کا ملوث پایا جانا اس امر کا ناقابلِ تردید ثبوت ہے کہ افغان عبوری حکومت اپنی علاقائی ذمہ داریوں سے غافل ہے اور افغانستان بڑی تیزی سے عالمی دہشت گردی کے اڈے میں تبدیل ہوا ہے۔ افغان حکومت اپنی اس ذمہ داری سے صرفِ نظر نہیں کر سکتی کہ اپنی سرزمین کو دوسرے ممالک کیلئے دہشت گردی کا مرکز بننے سے روکے۔ اگر طالبان یہ ذمہ داری ادا نہیں کریں گے تو پاکستان کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے‘ اقوام متحدہ کے چارٹر کا آرٹیکل 51 اس حوالے سے بالکل واضح ہے۔
افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد ایک امید سی تھی کہ افغان بیس سالہ جنگ کے بعد اپنے ملک کا انتظام سنبھالیں گے تو شدت پسندانہ ماضی کی طرف لوٹ کر جانے کے بجائے خطے اور دنیا کیساتھ مل کر آگے بڑھنے کی کوشش کریں گے‘ مگرجلد ہی یہ امیدیں دم توڑ گئیں اور پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث عناصر کیلئے نرم گوشے نے افغانستان کو اسی مقام پر لا کھڑا کیا جہاں دہائیوں پہلے کھڑا تھا۔ حالانکہ اس دوران علاقائی سطح پر ترقی کے نئے مواقع اور ضروریات نے افغانستان کیلئے ترقی کے کئی دروازے کھولے مگر اس جانب بڑھنے کے بجائے طالبان کی عبوری حکومت نے شدت پسندی کا انتخاب کیا۔ یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ افغانستان مسلسل ایک بھنور میں ہے‘ عوام سہولتوں سے محروم ہیں‘ پسماندگی کی کوئی انتہا نہیں اور سماجی سطح پر ترقی کے امکانات صفر ہیں۔ افغانستان آج بھی اسی خلا میں ہے جہاں طالبان کے سابقہ دور میں تھا۔اس صورتحال میں افغانستان میں طالبان مخالف مسلح گروہوں کی سرگرمیوں میں اضافہ حیران کن نہیں۔
اس طرح طالبان جو پاکستان یا دیگر ہمسایہ ممالک کیلئے سکیورٹی کے خدشات کو نظر انداز کرتے آئے ہیں بالآخر اسی جال میں پھنستے چلے جارہے ہیں۔ افغانستان کیلئے آبرو مندانہ اور محفوظ راستہ یہی ہے کہ علاقائی و عالمی ذمہ داریوں کی پاسداری کرے۔یہی افغانستان کیلئے بہترہے۔ پاکستان بھی یہی چاہتاہے کہ دہشتگردی کے ابھرتے ہوئے خطرات ختم ہوں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ایل این جی کی قلت(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-20/11556</link><pubDate>Sun, 20 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-20/11556</guid><description>بینکاک میں منعقدہ 54ویں سالانہ گیس ٹیک کانفرنس میں پاکستان کو ایل این جی بحران سے شدید متاثرہ ملک قرار دیا گیا ہے۔ ملک ِعزیز اپنی ضرورت کی تقریباً 99فیصد ایل این جی قطر اور متحدہ عرب امارات سے درآمد کرتا ہے لیکن آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے ان ممالک سے سپلائی معطل ہو چکی ہے۔ درآمدی ایل این جی بجلی کی پیداوار‘ کھادسازی اور دیگر صنعتی سرگرمیوں کیلئے استعمال ہوتی ہے۔ اس وقت تقریباً 55سو میگا واٹ بجلی درآمدی ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس سے حاصل کی جاتی ہے جس کی وجہ سے گیس کی دستیابی میں کمی براہِ راست بجلی کی پیداوار پر اثر انداز ہورہی ہے۔ کسی ایک سپلائر یا خطے پر انحصار بحران کے وقت مشکلات پیدا کرتا ہے۔

اس لیے حکومت کو چاہیے کہ ملکی توانائی پالیسی میں تنوع پیدا کرے‘ طویل المدتی معاہدوں کیساتھ ساتھ متبادل سپلائی چینز کو بھی فعال کرے اور مقامی پیداوار میں اضافہ کو ترجیح دے۔ ساتھ ہی ملک میں ایل ایج جی کی سٹوریج کی صلاحیت بڑھانا ناگزیر ہے تاکہ چند دنوں کی ترسیلی رکاوٹ پورے توانائی نظام کو مفلوج نہ کر سکے۔ اصل توجہ ایل این جی پر مستقل انحصار کم کرنے پر ہونی چاہیے۔ اس مقصد کیلئے حکومتی سطح پر سولر‘ وِنڈ اور ہائیڈل انرجی اور بیٹری سٹوریج سسٹم میں سرمایہ کاری بڑھانا ہو گی۔ حکومت کو ایک متنوع‘ مقامی وسائل پر زیادہ انحصار رکھنے والا اور بیرونی جغرافیائی سیاسی جھٹکوں سے نسبتاً محفوظ توانائی نظام تشکیل دینا چاہیے‘ بصورت دیگر توانائی بحران وقتی نہیں بلکہ مستقل معاشی دباؤ کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>خوراک کا ضیاع(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-20/11555</link><pubDate>Sun, 20 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-20/11555</guid><description>اقوام متحدہ کے زیر اہتمام آج خوراک کے ضیاع کی روک تھام کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق دنیا بھر میں ہر روز تقریباً اتنی خوراک ضائع کر دی جاتی ہے جس سے ایک ارب افراد ایک وقت کیلئے اپنا پیٹ بھر سکتے ہیں۔اس ضمن میں ہمارے ملک کی صورتحال بھی کچھ اچھی نہیں۔ وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں سالانہ تقریباً 26 فیصد خوراک ضائع ہوجاتی ہے جبکہ اقوام متحدہ کے فوڈ ویسٹ انڈیکس 2025ء کے مطابق پاکستان خوراک کے ضیاع کے حوالے سے دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے۔ ملکِ عزیز میں خوراک کا ضیاع صرف کھانے کی میز پر نہیں ہوتا بلکہ اس کا آغاز کھیت ہی سے ہو جاتا ہے۔

غذائی اجناس کی سٹوریج کا ناقص انتظام‘ غیرموزوں پیکیجنگ‘ نقل و حمل اور منڈیوں میں مناسب سہولتوں کا فقدان پھلوں‘ سبزیوں اور دیگر جلد خراب ہونے والی اجناس کا بڑا حصہ ضائع کر دیتا ہے۔ اسکے بعد دکانوں‘ ہوٹلوں‘ شادی ہالوں اور گھروں میں ضرورت سے زیادہ مقدار میں کھانا پکانا اور بچا ہوا کھانا مناسب طریقے سے محفوظ نہ کرنا اس ضیاع میں اضافہ کرتے ہیں۔ جہاں حکومت کو بعد از کٹائی نقصانات کم کرنے کیلئے سٹوریج نظام کو بہتر‘ منڈیوں اور نقل و حمل کو جدید بنانے کی ضرورت ہے‘ وہیں عوام کو بھی صرف ضرورت کے مطابق کھانا پلیٹ میں ڈالنے کی عادت اپنانی چاہیے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>’’میں اور عرفان بھائی‘‘(مجیب الرحمٰن شامی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mujeeb-ur-rehman-shami/2026-09-20/52694/16343360</link><pubDate>Sun, 20 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mujeeb-ur-rehman-shami/2026-09-20/52694/16343360</guid><description>ڈاکٹر شاہد صدیقی‘ جو ایک نامور معلم‘ محقق اور نثر نگار ہونے کیساتھ ساتھ سینیٹر عرفان صدیقی مرحوم کے چھوٹے بھائی بھی ہیںنے &#39;&#39;میں اور عرفان بھائی‘‘ کے زیر عنوان اپنی یادداشتیں کتابی صورت میں مرتب کی ہیں۔ وہ اپنے بڑے بھائی کی انگلی پکڑ کر آگے بڑھے اور بڑھتے ہی چلے گئے۔اب اُن کی یادوں کا عصا تھامے زندگی کا سفر جاری رکھے ہوئے ہیں۔ان کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ انہوں نے &#39;&#39;اصحابِ عرفان‘‘ کو بھی شریک سفر کر لیا ہے۔ ان کے بقول: &#39;&#39;یہ بھائی عرفان صدیقی سے جڑی یادوںکی کہانی ہے جو اُن شب و روز کے گرد گھومتی ہے جو کبھی لوٹ کر نہیں آئیںگے۔ یہ ایک ماں کے خواب کی تعبیر کی داستان ہے جس کی خواہش تھی کہ اس کے بچے اعلیٰ تعلیم حاصل کریں اور (اپنے اپنے شعبوں میں) نام کمائیں۔ یہ اس بچے کی زندگی کا احوال ہے جس نے گائوں کے ایک کچے گھر کے آنگن میںآنکھ کھولی اور سخت محنت سے زندگی میں اپنا مقام بنایا‘‘۔صدیقی برادران یعنی عرفان صدیقی اور شاہد صدیقی زندگی بھر ایک دوسرے سے جڑے رہے‘ اور اب بھی شاہد صاحب تنہا نہیں ہیں    ؎تیری یاد ہے یا ہے تیرا تصور؍ کبھی داغ کو ہم نے تنہا نہ دیکھاعرفان مرحوم کی پہلی برسی کے موقع پر زندہ بھائی نے اپنے زندۂ جاوید بھائی کے ساتھ گزارے شب و روز کی کہانی بیان کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی شاعری اور نثرکے منتخب حصے بھی ہمیں یاد کرا دیے ہیں۔ وہ الفاظ جنہیں لکھتے لکھتے عرفان کی منزلیں طے ہوئیں اور ایک سکول ٹیچر‘ ایک ممتاز شاعر‘ نامور کالم نگار اور باوقار سیاستدان کے طور پر جانا اور مانا جانے لگا۔ عرفان صاحب نے جو کچھ حاصل کیا‘ اپنی والدہ کی دعائوں کے سائے میں محنت‘ محنت اور محنت کرتے ہوئے حاصل کیا۔ وہ جتنی بھی سیڑھیاں چڑھے‘ قلم کے سہارے چڑھے‘ قلم ہی کی چابی سے انہوں نے بند دروازے کھولے اور کچے مکان سے اونچے ایوان تک پہنچے‘ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سب سے بڑے ایوان‘ سینیٹ کے قائد چُنے گئے۔عرفان صاحب نے آٹھ دہائیاں ہمارے درمیان گزاریں‘ ان کی زندگی کی پہلی چار دہائیاں درس گاہوں میں گزریں۔ سکول ٹیچر کے طور پر سفر شروع کیا‘ کالج کے پروفیسر بنے‘ ان کے شاگردوں کی تعداد سینکڑوں نہیں ہزاروں میں ہو گی۔ سر سیّد کالج میں تعلیم حاصل کرنے والے بڑے بڑے عہدوں تک پہنچے‘ یہاں تک کہ ایک (قمر جاوید باجوہ) چیف آف آرمی سٹاف بنے اور اس کے بعد انہوں نے اہلِ سیاست کو تگنی کا ناچ نچایا۔ایک وقت ایسا تھا کہ لیفٹیننٹ جنرل قمر جاوید باجوہ نے عرفان صدیقی کو ڈھونڈا‘ اپنا استاد ٹھہرایا‘ ماضی یاد دلایا اور اپنا مستقبل سنوارنے میں کامیاب ہو گئے۔ بلاخوفِ تردید کہا جا سکتا ہے کہ عرفان صدیقی وزیراعظم نواز شریف کے کانوں میں سحر نہ پھونکتے تو قمر جاوید باجوہ کا جادو سر چڑھ کر نہ بول سکتا۔ باجوہ کے ساتھ کیا ہوا اور پھر انہوں نے اپنے محسنوں کے ساتھ کیا کِیا‘ اس سے قطع نظر ان کی بلندیٔ درجات‘ ان کے استاد کے بلند درجے کا پتہ بہرحال دیتی ہے۔شاہد صدیقی صاحب نے اپنے بھائی کی اور اپنی جو کہانی ہمیں سنائی ہے‘ اس میں نہ تو کوئی مبالغہ ہے‘ نہ افسانہ۔ عرفان صاحب پر قسمت کیسے مہربان ہوتی گئی‘ وہ صحافت کے ایوانوں میں کیسے پہنچے اور ان کا نام وہاں کیسے گونجنے لگا‘ایوانِ صدر تک رسائی کیسے ہوئی‘ صدر رفیق تارڑ نے کس طرح اُنہیں &#39;&#39;رفیق ِ حیات‘‘ بنایا‘ نواز شریف کے ساتھ رشتۂ محبت کیسے استوار ہوا‘ میدانِ سیاست ان کی راہ میں کیسے بچھا‘اس کی سطر سطر تفصیل محفوظ کر دی گئی ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ ان چند صحافیوں میں تھے‘جو باقاعدہ سیاستدان کہلائے۔ اقتدار سے لطف اٹھایا اور اختلاف کا مزہ بھی چکھا۔ کوئے یار میں برسوںگزارے تو &#39;&#39;سرِدار‘‘ جاتے بھی نظر آئے لیکن اس تمام عرصے میں ان کے اندر کا آدمی متاثر ہونے نہیں پایا۔ اِترائے‘ نہ گھبرائے۔اقتدار سے لطف اندوز ہوتے ہوئے بھی انکساری اور ملنساری ان کا پہرہ دیتی رہی‘اور عمرانی اقتدار سے اختلاف کرتے ہوئے بھی ان کے قدم نہیںڈگمگائے۔ مسلم لیگ (ن) کو ایسے دانشور بھی نصیب ہوئے جنہوں نے دن بدلتے ہی آنکھیں بدل لیں لیکن عرفان صدیقی نے مسلم لیگ(ن) کا انتخاب کیا تو پھر اسی کے ہو رہے۔پیچھے مڑ کر دیکھا‘ نہ اِدھر اُدھر جھانکا۔ وہ سینیٹ کی پارلیمانی پارٹی کے لیڈر تھے‘ قائدِ ایوان تھے‘ خارجہ تعلقات کمیٹی کے سربراہ بھی رہے لیکن قلم کا ساتھ نہیں چھوڑا‘ اس کی آبرو برقرار رکھی‘ اور اس ہی کے ذریعے نواز شریف کے دل میں گھر بنائے رکھا۔ جناب اعجاز الحق سے لے کر جناب رفیق تارڑ اور جناب نواز شریف کی درجنوں تقریریں لکھی ہوں گی۔ صدرِ مملکت اور وزیراعظم کے باقاعدہ تقریر نویس بھی رہے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کے درمیان طے پانے والے میثاقِ جمہوریت کی نوک پلک درست کرنے میں بھی کردار ادا کیا‘ لیکن اپنے آپ کو زمین ہی پر رکھا۔ آسمانوں کی سیر کا شوق تو پالا لیکن اڑان بھر کرواپس آئے اور اپنے قدم اپنی زمین پر ٹکا دیے۔میری اُن سے اولین ملاقات برادرِ عزیز اعجاز الحق کے ذریعے ہوئی تھی کہ جنرل ضیا الحق کی شہادت کے بعد قائم کی جانے والی &#39;&#39;ضیاء الحق فائونڈیشن‘‘ میں انہیں اعجاز صاحب کے مشیر کا درجہ حاصل تھا۔ وہ کچھ ہی دیر پہلے ریٹائرمنٹ لیکر آزاد دنیا کے باسی بن چکے تھے۔ اعجاز الحق سمندر پار پاکستانیوں کے وزیر بنے تو عرفان صاحب نے اوورسیز فائونڈیشن میں ڈائریکٹر ایجوکیشن کا منصب سنبھالا۔ یہیں سے صحافت اور سیاست کے دروازے ان پر کھلے اور کھلتے چلتے گئے۔ کالم نگاری شروع کی تو کالم نگاروں کی صف ِ اول ان کے بغیر مکمل نہیں ہوتی تھی۔ انٹرویو نگاری میں بھی کمال پیدا کیا‘افغانستان پر امریکی حملے کے بعد تو اُن کا قلم تلوار بن گیا۔ اہلِ وطن کی ترجمانی کا حق ادا کیا اور پورے پاکستان میں ان کا نام گونجنے لگا۔پاکستان کی تاریخ ان لوگوں سے بھری پڑی ہے جنہوں نے غربت میں آنکھ کھولی اور اعلیٰ مناصب تک پہنچے‘ جرنیل‘ بیورو کریٹ اور سیاستدان بنے۔ مقام بنایا اور نام بھی کمایا لیکن بہت کم ایسے ہیں جنہوں نے اپنی غربت کو یاد رکھا۔ اس پر فخر کرتے رہے اور نوجوانوں کو موٹیویٹ کرنے کا ذریعہ بنے۔ عرفان صدیقی اس صف میں نمایاں نہیں نمایاں تر تھے‘ان کی زندگی کی کہانی نوجوانوں میں اعتماد پیدا کرے گی‘اپنے آپ پر بھروسہ کرنے اور محنت کے ذریعے مقام بنانے کا جذبہ جواں رکھے گی۔ ان کی داستانِ حیات &#39;&#39;قومی ترانے‘‘ کی طرح ہے جو سننے والے کو اپنی نشست پر بیٹھنے نہیں دیتا‘ اُٹھ جانے اور منزلِ مراد کی طرف قدم بڑھانے پر مجبور کرتا ہے۔ قوم‘ ملک‘ سلطنت‘ پائندہ تابندہ باد۔ڈاکٹر عارف ریاض قدیر مرحومڈاکٹر عارف ریاض قدیر83برس گزار کر اس دنیا سے رخصت ہوئے ہیں تو بے شمار گھروں کو ویران کر گئے ہیں۔اُن کا ایک امتیاز تو یہ تھا کہ وہ ڈاکٹر ریاض قدیر کے بیٹے تھے‘ پاکستان کے ابتدائی سالوں میں وہ ایک ممتاز معالج کے طور پر جانے جاتے تھے۔انہوں نے نوزائید ہ مملکت میں صحت کے ڈھانچے کو مضبوط بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا‘ڈاکٹر عارف کا نکاح مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ کی بیٹی عائشہ بی بی سے ہوا‘اس نسبت نے اُنہیں ممتاز تر کر دیا۔ وہ ذیا بیطس کے ایک بڑے معالج کے طور پر معروف ہوئے۔اپنا ہسپتال بھی قائم کیا اور دن رات مریضوں کی خدمت کرتے رہے۔کم وسیلہ لوگ ان کی توجہ کا خصوصی مرکز تھے‘اُنہیں ادویات بھی اپنے پاس سے فراہم کر دیتے۔(یہ کالم روزنامہ &#39;&#39;پاکستان‘‘ اور روزنامہ &#39;&#39;دنیا‘‘ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_37052987.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ایران اور بادشاہتوں میں فرق تو سمجھنا چاہیے(ایاز امیر)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-09-20/52695/68937718</link><pubDate>Sun, 20 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-09-20/52695/68937718</guid><description>برادر بادشاہت کو انصاراللہ کے مقابلے میں مشکل صورتحال کا سامنا ہوا تو وائٹ ہاؤس کو فون کھڑکایا‘ دوبار۔ مدد کی مانگ کی کہ امریکی طیارے آئیں اور انصاراللہ کی پیش قدمی کو روکنے کے لیے راکٹ اور بم برسائیں۔ صدر ٹرمپ دنیا کے تمام بیوپاریوں کے باپ ہیں۔ ایران کی دلدل کو دیکھتے ہوئے‘ جہاں دنیا کی طاقتور ترین ریاست سات ماہ سے پھنسی ہوئی ہے‘ صدر ٹرمپ نے بادشاہت کی اپیل کو مسترد کر دیا۔ کیا کیفیت طاری ہوئی ہوگی شاہی محلات میں۔ اِس کے برعکس دیکھیے کہ دو نیوکلیئر طاقتیں‘ امریکہ اور اسرائیل‘ ایران پر 28فروری کو حملہ کرتی ہیں۔ رہبراعلیٰ اور قیاد ت کے کتنے ہی لوگ مارے جاتے ہیں‘ ایران پر وسیع پیمانے پر بمباری شروع ہو جاتی ہے اور تھمنے کا نام نہیں لیتی لیکن ایران کی قیادت سنبھلی رہتی ہے اور ٹوٹنے کے بجائے امریکی اڈوں اور اسرائیل پر جوابی حملے شروع ہو جاتے ہیں۔ تہران سے کوئی روس‘ چین کو فون نہیں جاتا۔ کسی کی مدد نہیں مانگی جاتی۔ اقوام متحدہ کی طرف کوئی رجوع نہیں کیا جاتا۔ رونے پیٹنے سے اجتناب ہوتا ہے۔ اور جہاں جارحیت کرنے والے سمجھے بیٹھے تھے کہ ایرانی قیادت اور حکومت کا ختم ہونا چند دنوں یا زیادہ سے زیادہ چند ہفتوں کی بات ہے‘ سات مہینے پورے ہو رہے ہیں اور امریکہ دانت پیسنے کے سوا کچھ نہیں کر پا رہا۔ امریکہ نے ایران کی ایئرفورس کیا تباہ کرنی تھی‘ایران تو پرانے جہاز اڑا رہا تھا‘ نیوی بھی اُس کی واجبی سی تھی۔ ایران نے زیادہ زور میزائل اور ڈرونوں پر دیا اور ڈرون ٹیکنالوجی میں تو کہیں امریکہ سے آگے نکل گیا۔ میزائلوں کی تنصیبات ایران نے گرینائٹ کے پہاڑوں کے 300‘400 میٹر نیچے تیار کیں۔ یہ تیاریاں ایسی تھیں کہ امریکی اور اسرائیلی جاسوس ادارے ایران کی صلاحیت کا صحیح اندازہ نہ لگا سکے۔ یہ سب کچھ ایران نے خود کیا‘ کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلایا۔ موازنے میں دیکھیے کہ بادشاہتوں نے اپنا کیا حال کیا۔ تیل کی دولت تو قدرت سے عطا ہوئی لیکن بادشاہتیں خود انحصاری نہ پیدا کر سکیں۔ سارا تکیہ امریکہ پر تھا‘ تیل کی قیمتوں کا تعین ڈالروں میں ہوتا اور پھر تیل کی دولت سے ایک تو امریکہ سے اسلحہ خریدا جاتا اور دوسرا امریکہ کے ہی خزانے کے بانڈوں میں انویسٹمنٹ کی جاتی یعنی تیل کا پیسہ اسلحہ اور بانڈوں کی خریداری کے ذریعے امریکی اکانومی میں ہی جاتا۔ پچاس پچپن سال سے یہی بندوبست چلا آ رہا تھا اور بادشاہتوں کو ایک تو اپنی دولت پہ ناز تھا اور دوسرا امریکہ دفاعی حفاظت پہ فخرکہ امریکی دفاعی ضمانتوں کے ہوتے ہوئے کون اُن پرمیلی نظر ڈال سکتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ اسلحہ خریدنے کے ساتھ پورے اس خطے میں امریکی فوجی اڈوں کا ایک جال بچھ گیا۔ اس کے علاوہ کون سی فضول خرچی ہے جس سے بادشاہتوں نے اجتناب کیا۔ کنسٹرکشن ہو رہی ہے تو مغربی کمپنیاں کر رہی ہیں۔ لگژری سامان کی درآمد ہو رہی ہے تو زیادہ تر مغربی دنیا سے۔ مہنگے ترین داموں پر مغرب سے فٹبال کھلاڑی خریدے جا رہے ہیں اپنی ٹیموں کیلئے۔ ورلڈ کپ کا انعقاد 2022ء میں قطر میں کیا جاتا ہے اس خیال سے کہ قطر کی شناخت بنے گی ‘اس کا عالمی پروفائل اونچا ہوگا۔ایران جنگ کی وجہ سے جو گلف ممالک کا حشر ہوا ہے اُس میں اعلیٰ شناخت کیا کام آئی اور عالمی پروفائل سے کیا حاصل ہوا؟امریکہ نے اتنی زحمت بھی نہ کی کہ ایران پر حملے سے پہلے اپنے اتحادیوں سے کچھ صلاح مشورہ کر لے۔ ایران کی بہت تباہی ہوئی ہے اس سے کوئی انکار نہیں لیکن عبرتناک نقصان امریکہ اور اُس کے اتحادیوں کا بھی ہوا ہے۔ایران جنگ کی سنگینی کافی نہ تھی کہ ایک اور مسئلہ بھی پیدا ہوتا؟لیکن یمن میں آگ کے شعلوں کے بھڑکنے سے معاملہ مزید گمبھیر ہو گیا ہے۔ مغربی میڈیا میں انصاراللہ کا ذکر کچھ حقیر طریقے سے ہوتاہے۔ کہ چپل پہنے اور کندھوں پر کلاشنکوف ڈالے ایک باغی گروہ ہے۔ انصاراللہ کی پیش قدمی شروع ہوئی تو چودہ طبق روشن ہوگئے۔ یمن میں سعودی اتحادی بھی ہیں جن کو سالوں سے سعودیہ نے پالا پوسا ۔ لیکن انصار اللہ کا حملہ شروع ہوا تو سعودی اتحادی ایسے غائب ہوئے کہ دنیا حیران رہ گئی۔ کہیں بھی جم کے دفاع نہ کر سکے۔ انصاراللہ یا حوثیوں نے صرف جنوب میں حملہ نہیں کیا بلکہ سعودی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا جس سے وہاں کی ساری تیل پروڈکشن اور برآمد بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ اسی صورتحال میں امریکی صدر سے مدد مانگی گئی اور آگے سے انکار ملا۔ اب امریکہ سے اطلاعات ہیں کہ سعودی عرب کو F-35 طیارے مہیا کرنے کی منظوری مل رہی ہے ۔ جب سعودیوں کو مدد کی ضرورت تھی مدد نہ ملی۔ اب مستقبل بعید میں یہ طیارے سعودیہ کے کس کام آئیں گے؟ ویسے بھی سعودی عرب کو جدید طیاروں کی تو کوئی کمی نہیں۔ یمن کی جنگ میں فقدان تھا تو جذبے اور ایثار کا۔ حوثی تو جذبے سے سرشار لگتے ہیں‘ دوسری طرف حالت کرائے کے سپاہیوں والی لگتی ہے۔ صدر ٹرمپ سے مدد مانگنا تو ایک طرف رہا۔ تمام جی سی سی کے ممالک جو تیل اور گیس کی دولت سے مالامال ہیں‘ جن کی دولت کا کوئی حساب نہیں‘ سب کے سب کا بھروسہ امریکہ پر تھا۔ یہ بات سمجھ بھی آتی ہے کیونکہ یہ سارے ممالک نقشۂ عالم پر پہلی جنگ عظیم کے بعد آئے۔ ان علاقوں پر حکمرانی سلطنتِ عثمانیہ کی تھی۔ جنگ میں سلطنتِ عثمانیہ کو شکست ہوئی تو انگریزوں اور فرانسیسیوں نے اس خطے کے نقشے پر لکیریں کھینچیں اور کہیں عراق معرض وجود میں آ یاکہیں کویت کہیں اردن اور کہیں شام اور لبنان۔ بڑی بادشاہت بھی اسی ہنگامی اور تغیر والے دور کی پیداوار ہے۔ مغربی تسلط تو ایران پر بھی رہا۔ شاہ ایران کس کا بنایا ہو ابادشاہ تھا؟برطانیہ اور امریکہ اُس کے محافظ تھے۔ تیل کی دولت آئی تو شاہ ایران کسی سے کم اِتراتے نہیں تھے۔ میڈیا میں کبھی مغرب کو لیکچر سنا دیتے۔ یہ تو ایرانی انقلاب ہے جس نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا۔ اور پھر جب شاہ ایران کو ایران سے فرار ہونا پڑا وہ روداد پڑھیں تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ کوئی ملک حتیٰ کہ امریکہ بھی شاہ ایران کو پناہ دینے کے لیے تیار نہ تھا۔ اب جو ایرانی قوم ہے یہ جو امریکہ کے سامنے کھڑی ہے اور جھکنے کے لیے تیار نہیں یہ اُس انقلاب کی بھٹی میں پیدا ہوئی۔ ہمارے عرب بھائیوں کا ایران سے جھگڑا کیا ہے؟ کوئی زمینی تنازع نہیں‘ کوئی اس قسم کا مسئلہ نہیں۔ خلش ہے تو صرف یہ کہ جب ہم امریکہ کے اتحادی ہیںتو ایران امریکہ اور اسرائیل کو کیوں للکارتا ہے۔ فلسطینیوں کے حق میں کیوں بات کرتا ہے۔ حزب اللہ کا ساتھ کیوں دیتا ہے۔ حماس کیساتھ کیوں کھڑا تھا ۔ انصار اللہ کے حق میں کیوں ہے۔ یہ لڑائی ہے اور تو کچھ نہیں۔ عرب تیل تنصیبات اور امریکی اڈوں پر حملے تو اب ہوئے ہیں۔ یہ بھی ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوںکے جواب میں جہاں امریکی اڈے بھرپور طریقے سے اِن حملوں میں استعمال ہوئے۔ اس کے علاوہ ایران نے کسی ملک پر حملہ نہیں کیا۔ کویت پر حملہ عراق نے کیا تھا ایران نے نہیں۔ اور ایران پر حملہ 1980ء میں عراق نے کیا جب بیشتر جی سی سی ممالک نے ایران کے خلاف عراق کی بھرپور حمایت کی۔سوچ بدلنے کی ضرورت ہے۔ امریکہ نوازی عرب بھائیوں نے دیکھ لی۔ اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کا فیصلہ کریں تو یہ جنگ فورا ًختم ہو جائے۔ حوثیوں کی کیا مذمت کرنی‘ کرنی ہے تو اصل مجرم کی کریں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_80573045.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مریم نواز صاحبہ کو نورتن کی ضرورت(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-09-20/52696/53883334</link><pubDate>Sun, 20 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-09-20/52696/53883334</guid><description> وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ملتان میں لندن تک جہاز کے اخراجات پر دی گئی وضاحت پر مجھے خیال آیا کہ کیا انہوں نے کبھی سوچا ہے ان کے پاس بھی اکبر بادشاہ کی طرح سمجھدار وزیر یا درباری ہونے چاہئیں جن کے ساتھ وہ ریاستی امور پر عوام اور میڈیا سے بات کرنے سے پہلے مشورہ کریں خصوصا ًجو حساس اور متنازع معاملات ہوں یا جن میں ان کی اپنی ذات کا سوال پیدا ہورہا ہو؟ بے شک آپ اُن کی بات نہ مانیں لیکن کم از کم سن تو لیں‘ بعض دفعہ آپ کا ذہن ان باتوں کے بارے میں نہیں سوچ رہا ہوتا جو طاقت کے زعم میں آپ نظر انداز کر جاتے ہیں اور اس کے نتائج اچھے نہیں نکلتے اور بعد میں آپ پچھتاتے رہتے ہیں کہ ایسا کیوں کہا۔ یہ لمحہ ہم سب پر آتا ہے جب ہم اپنی باتیں خود سنتے ہیں تو خیال آتا ہے بہتر تھا کہ اس موقع پر چپ ہی رہا جاتا تو۔ لیکن بعض دفعہ ہماری انا ہم پر حاوی ہو جاتی ہے اور ہم فوراً اس کا ری ایکشن دیتے ہیں اور اس کا خمیازہ بھگتتے ہیں۔ میں خود اس کا شکار رہا ہوں اور کافی مشکلات دیکھی ہیں۔ عمر کے اس حصے میں جا کر اب میں نے دھیرے دھیرے بہت سے ایشوز کو نظر انداز کرنا شروع کیا ہے۔ کبھی ٹوئٹر یا فیس بک پر کسی نے کوئی منفی کمنٹ کیا تو فورا ًاس کا منہ توڑ جواب دیتا تھا لیکن اب جا کر احساس ہوا ہے کہ ہر بات پر ردعمل یا جواب دینا کوئی سمجھداری نہیں ۔ اگر آپ فوراً جواب نہ دیں کچھ ٹھہر کر دیں تو نتیجہ بہتر نکلے گا۔ وقتی ابال جب ٹھنڈا ہوتا ہے اور دماغ کچھ سوچنے سمجھنے کے قابل ہوتا ہے تو آپ کے ذہن میں بہتر خیالات اور جوابات آتے ہیں بلکہ اکثر تو یہ ہوتا ہے آپ جواب ہی نہیں دیتے کہ چھوڑو یار۔ لیکن یہ سب باتیں آپ کو عمر اور تجربے سے آتی ہیں اور شاید یہی زندگی کی خوبصورتی بھی ہے۔ مجھے نہیں پتہ مریم صاحبہ کو کس نے مشورہ دیا‘ کہ جب آپ کہہ چکی ہیں کہ جہاز کے سارے اخراجات آپ دے رہی ہیں تو پھر اتنی لمبی تقریر کی کیا ضرورت تھی؟ آپ کا یہی جواب کافی تھا کہ آپ نے اخراجات ادا کر دیے ہیں۔ اس کے بعد بحث تقریباً ختم ہو گئی تھی لیکن مریم صاحبہ نے سوچا کہ ابھی انہیں مخالفین کو منہ توڑ جواب بھی دینا ہے۔ اکبر بادشاہ کے نورتن والی باتیں ملتان میں وزیر اعلیٰ صاحبہ کی تقریر سے یاد آرہی ہیں جو انہوں نے پنجاب حکومت کے جہاز پر لندن کا سفر کیا اور وہاں کچھ دن ٹھہر کر واپس آئیں۔یہ بات ہمارے حکمران نہیں سمجھ پائے کہ پبلک لائف بہت مشکل ہے۔ اس کے ساتھ بہت سی آسانیاں ہیں تو ساتھ میں مشکلات بھی بہت ہیں۔ آپ دن رات سکروٹنی میں رہتے ہیں۔آپ کیا کھاتے پیتے ہیں‘ کیا پہنتے ہیں‘ چھٹیاں کہاں مناتے ہیں‘کس سے ملنا جلنا ہے‘ بچوں کی شادیاں کس خاندان میں ہورہی ہیں‘ سفر کس کلاس میں کرتے ہیں۔ حتی کہ کسی کو ٹپ کتنی دیتے ہیں‘ سادہ لباس ہے یا چمکیلا‘ آپ کی کلائی پر گھڑی یا گلے میں پہنا ہار‘ ہاتھ میں پکڑا بیگ کس برانڈ کا ہے ۔ اس طرح کی ہزاروں باتیں آپ کی نوٹ ہورہی ہوتی ہیں اور وہی عوام یہ سوال کر تے ہیں جن کے ووٹ کی طاقت سے آپ کو پبلک لائف نصیب ہوتی ہے۔ ابھی ایک بھارتی وزیر کا وڈیو کلپ دیکھ رہا تھا جس میں وہ گاڑی میں بیٹھے گائوں کے لوگوں سے بات چیت کر رہے ہیں اور ان میں سے ایک بندہ کہتا ہے ہمارے گائوں کی سڑک بنوا دیں ورنہ ہم آپ کو اگلی دفعہ ووٹ نہیں دیں گے۔ اس پر وہ نوجوان وزیر بھڑک گیا اور کہا‘ آپ مجھ سے ریکویسٹ کریں اور اس لہجے میں بات آئندہ نہ کرنا کہ ووٹ نہیں دیں گے۔ اس پر اس وزیر کی پورے انڈیا میں سوشل میڈیا پر مت ماری جارہی ہے۔ اگر وہ وزیر اس وقت ہنس کر کہتا سرکار آپ کی سڑک بھی بنوائیں گے اور ووٹ بھی لیں گے یا آپ کی سڑک بنوا دیں گے بے شک ووٹ نہ دینا یا آپ کا پیسہ ہے اس سے سڑک بنے گی ووٹ دینا نہ دینا آپ کی مرضی‘ تو اندازہ کریں اس وزیر کی کیا بلے بلے ہوتی۔ ہوسکتا ہے دس بیس سال کے بعد یہ نوجوان کسی دن یہی جواب دے گا اور ہنس کر دے گا لیکن وہی بات کہ سمجھ دیر سے آتی ہے۔ اب جس لہجے اور لفظوں کا انتخاب مریم نواز صاحبہ نے کیا اس سے ان کا کیا بھلا ہوا ۔ کیا تنقید رک گئی یا ان کے دیے گئے جواب کو تسلیم کر لیا گیا ہے؟ انکساری‘ عاجزی اور اخلاق بہت بڑی طاقت ہیں جس سے ہم بہت کم آشنا ہیں۔ہمیں لگتا ہے جاہ و جلال اور منہ توڑ جواب دینے والے کی ہی دنیا عزت کرتی ہے۔ مریم نواز صاحبہ کے پاس اگر اکبر بادشاہ جیسے نورتن ہوتے تو وہ جہاز والے ایشو میں اس طرح پھنس کر اتنی تنقید اور ردِعمل کا سامنا نہ کررہی ہوتیں۔ پہلے تو وہ نورتنوں کے ساتھ چائے کافی پر بیٹھ کر یہ ڈسکس کرتیں کہ انہوں نے لندن جانا ہے بیٹی کی گریجویشن کی تقریب ہے‘ کیا مشورہ ہے؟ کسی ایک آدھ سیانے نے جرأت کر کے کہہ دینا تھا کہ آپ بہتر ہے کمرشل فلائٹ سے جائیں جیسے وزیراعلیٰ بننے سے پہلے سفر کرتی تھیں۔ آپ کے سیاسی مخالف ہیں‘ جہاز لندن لے جا کر کسی کو جواز مت دیں۔ سوشل میڈیا کی دنیا ہے۔ بس اپنی بزنس کلاس بک کرائیں۔ ساتھ میں اپنا ایک دو سٹاف بھی لے لیں۔ لندن میں بھائی حسن یا حسین کو کہہ کر گاڑی ڈرائیور منگوا لیں اور جا کر خاموشی سے تقریب میں شرکت کریں۔ ممکن ہے کسی نورتن کو خوف ہو کہ اگر ہم نے مزاج کے برعکس مشورہ دیا تو اگلی دفعہ وہ اس بیٹھک میں شریک نہیں ہوں گے۔ یہ پھر مریم صاحبہ پر ہے کہ نورتن کی ایسی بات سننے کو تیار ہیں یا نہیں۔ ہم انسان عجیب مزاج کے ہیں کہ جو ہمارے مزاج کے برعکس بات کرے یا مشورہ دے تو ہم اس سے فاصلہ کر لیتے ہیں۔ تو پھر نقصان کس کا ہوتا ہے؟ اس معاملے میں مَیں نے نواز شریف صاحب کو بڑا قریب سے دیکھا ہے کہ وہ مشورے کی طاقت پر یقین رکھتے ہیں۔ اگرچہ کرتے اپنی مرضی ہیں لیکن پوچھتے سب سے ہیں۔ لندن کے دنوں میں اُن سے بڑی ملاقاتیں رہیں اور وہ ہر ایک سے مشورہ مانگتے تھے۔ان کے مقابلے پر شہباز شریف صاحب کو کبھی کسی سے پوچھتے نہ دیکھا۔ اور شاید ٹھیک ہی کرتے تھے کہ آج وہ دوسری دفعہ وزیراعظم ہیں۔ مجھے ایک دفعہ وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے وزیراعظم ہاؤس بلایا تو باتوں باتوں میں کہنے لگے کہ کوئی مشورہ دیں۔ میں نے کہا‘ میں اتنا ذہین ہوتا جس کا مشورہ مانا جاتا تو میں آج آپ کی جگہ بیٹھا ہوتا۔ مریم صاحبہ میں ایک احساسِ برتری ہے جو فطری طور پر اس وجہ سے آجاتا ہے کہ آپ کا باپ تین دفعہ وزیراعلیٰ‘پھر تین دفعہ وزیراعظم‘ پھر چچا تین دفعہ وزیراعلیٰ اور دوسری دفعہ وزیراعظم‘ کزن حمزہ وزیراعلیٰ اور اب وہ خود وزیراعلیٰ ہیں۔ اس بیک گراؤنڈ کے ساتھ خود کو سنبھال لینا آسان کام نہیں۔ میں رومن جنرل سیزر پرAdrian Goldsworthy کی لکھی ایک نئی کتاب پڑھ رہا تھا تو اس میں بھی ایک روایت کا ذکر ہے کہ جب رومن بادشاہ یا جنرل کسی رتھ میں کھڑے ہو کر عوام کی تالیوں کے گونج میں سے گزرتے تو ایک غلام ساتھ کھڑا ان کے کان میں کہتا رہتا تھا کہ تم نے بھی ایک دن مرنا ہے۔ وہ اسے یاد دلاتا رہتا کہ دنیا فانی ہے تاکہ اس کی انا اور تکبر اس کے قابو میں رہے خصوصاً جب وہ دیکھتے تھے کہ لوگ ان کی جنگی کامیابیوں کی وجہ سے ستائش کرتے تھے۔ مریم نواز صاحبہ کو بھی ایک آدھ نورتن چاہیے یا کم از کم رومن روایات کی طرح ایک ایسا غلام جو کان میں کہتا رہے: You are a mortal ۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کوہاٹ میں لہو رنگ صفیں(رشید صافی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-09-20/52697/34264446</link><pubDate>Sun, 20 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-09-20/52697/34264446</guid><description>خیبر پختونخوا ایک بار پھر دہشت گردی کی سفاکانہ لہر کا نشانہ بنا ہے۔ کوہاٹ کی اولڈ پولیس لائنز کی جامع مسجد میں نمازِ جمعہ کے دوران دہشت گردوں نے انتہائی وحشیانہ اور خونریز حملہ کیا۔ اس لرزہ خیز واقعے میں 21بے گناہ شہریوں اور نماز کیلئے موجود پولیس اہلکاروں نے جام شہادت نوش کیا جبکہ 100سے زائد افراد شدید زخمی ہوئے ہیں۔ عینی شاہدین اور ابتدائی شواہد کے مطابق ایک خودکش حملہ آور نے بارود سے بھری گاڑی عمارت کے مرکزی گیٹ سے ٹکرا دی جس سے ہونے والے شدید دھماکے کے ساتھ ہی دیگر مسلح دہشت گردوں نے پولیس لائنز میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ حملہ آوروں میں سے کچھ  شدت پسند سپیشل برانچ کی عمارت کی طرف بڑھنا چاہتے تھے لیکن فرض شناس پولیس اہلکاروں کی بروقت‘ دلیرانہ اور جوابی کارروائی کے نتیجے میں سات دہشت گرد وہیں جہنم واصل کر دیے گئے‘ جبکہ چند دہشت گردوں نے سپیشل برانچ کی عمارت کی جانب پیش قدمی کی۔ اگر سکیورٹی فورسز کی طرف سے فوری جوابی کارروائی نہ کی جاتی تو جانی نقصان اس سے بھی کہیں زیادہ ہو سکتا تھا‘ تاہم ہمارے بہادر جوانوں نے اپنی جانیں قربان کر کے ایک بہت بڑی تباہی کا راستہ روک لیا۔خالقِ حقیقی کے سامنے سر بسجود نمازیوں کو مسجد جیسی مقدس جگہ پر نشانہ بنانا نہ صرف انتہائی سفاکانہ اور انسانیت سوز فعل ہے بلکہ یہ اسلامی تعلیمات‘ انسانی اقدار اور اخلاقی حدود کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔ عبادت گاہوں‘ درس گاہوں‘ عوامی مقامات اور نہتے شہریوں کو خاک و خون میں نہلا دینا نری درندگی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اس طرح کے اندوہناک واقعات میں ملوث عناصر کا نہ تو کوئی واضح انسانی نظریہ ہے اور نہ ہی وہ کسی بھی دین یا مذہب کے سچے پیروکار ہو سکتے ہیں۔ جنگ کے عالمگیر اصول  بھی اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ بلا تفریق عام شہریوں‘ بچوں اور خدا کے حضور جبیں ٹیکے عبادت میں مشغول افراد کو نشانہ بنایا جائے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو لوگ مسجد کی صفوں میں خدائے بزرگ و برتر کی بارگاہ میں کھڑے تھے‘ انہیں آخر کیونکر نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ایسے لوگ کس نظریے کے حامل ہیں؟ کوہاٹ کی اولڈ پولیس لائنز مسجد پر ہونے والے اس خودکش حملے کی ذمہ داری حافظ گل بہادر کی قیادت میں متحرک گروہ &#39;&#39;اتحاد المجاہدین پاکستان‘‘ نے قبول کی ہے۔ یہ گروہ اور  اس سے منسلک کالعدم تنظیمیں بظاہر مذہبی شناخت رکھتی ہیں اور ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کے بلند بانگ دعوے کرتی ہیں لیکن جب یہ عناصر مساجد کی حرمت پامال کرتی ہیں اور معصوم مسلمانوں کا بے دردی سے خون بہاتی ہیں تو ان کے تمام باطل دعوؤں کی قلعی کھل جاتی ہے۔ تمام حلقوں کی جانب سے اس بزدلانہ کارروائی کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی جا رہی ہے اور یہ جملے زبان زدِ عام ہیں کہ اسلام سلامتی‘ امن اور احترامِ انسانیت کا دین ہے‘ جس میں ایک معصوم کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا گیا ہے۔ اس لیے مذہب کے نام پر یا مذہبی لبادہ اوڑھ کر تشدد کی راہ اپنانے والے گمراہ گروہ نہ تو اسلام کے نمائندے ہیں اور نہ ہی ان کا آئینِ پاکستان اور دینِ اسلام سے کوئی تعلق ہے۔ یہ عناصر دراصل اپنے مذموم مقصد اور غیر  ملکی سرپرستی کے ایجنڈے کو پورا کرنے کیلئے دینِ مبین کے مقدس نام کو بطور ہتھیار استعمال کر رہے ہیں۔ جب یہ مساجد کو مقتولین کے خون سے رنگین کرتے ہیں تو ان کے نام نہاد نظریہ کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب ہو جاتا ہے۔ اسلام نے تو جنگ کے دوران بھی غیر جنگجوؤں‘ عورتوں‘ بچوں‘ اور عبادت گاہوں میں موجود افراد کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کا حکم دیا ہے‘ ایسے میں مساجد میں خودکش دھماکے کرنے والے کسی بھی رعایت یا لچک کے مستحق نہیں ہو سکتے۔شدت پسند اور تفرقہ انگیز عناصر اکثر آسان اور سافٹ ٹارگٹ کو نشانہ بناتے ہیں اور پاکستان جیسے جغرافیائی لحاظ سے وسیع اور کثیر آبادی والے ملک میں سکیورٹی کی تمام تر تدابیر کے باوجود کہیں نہ کہیں ایسی رخنہ اندازی کی گنجائش پیدا ہو جاتی ہے۔ سکیورٹی فورسز اور افواجِ پاکستان اگرچہ ملک کے طول و عرض میں مسلسل آپریشنز‘ انٹیلی جنس بیسڈ اقدامات اور دہشت گردوں کا تعاقب جاری رکھے ہوئے ہیں‘ تاہم خیبرپختونخوا پولیس پر پے در پے ہونے والے حملوں کی روک تھام کیلئے مزید ٹھوس اور پائیدار اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔ یہ حقیقت بارہا سامنے آ چکی ہے کہ جن جدید ترین ہتھیاروں‘ ٹیکنالوجی‘ نائٹ ویژن آلات اور مخصوص گوریلا ٹریننگ کا سامنا ہمارے جوانوں کو ہے‘ اس کے مقابلے کیلئے خیبرپختونخوا پولیس کو بھی جدید ترین خطوط پر استوار کرنا ہو گا۔ پولیس فورس کی تربیت اور ان کا روایتی اسلحہ شہری آبادی میں امن و امان قائم رکھنے کی بنیادی ضروریات کے تحت مہیا کیا جاتا رہا ہے‘ لیکن موجودہ غیر روایتی جنگ نے پولیس فورس کی جدید ترین ساخت اور تیاری پر نئے سوالات اٹھا دیے ہیں۔ دہشت گردی کے یکے بعد دیگرے پیش آنے والے ان سنسنی خیز واقعات اور ان میں فرنٹ لائن پر لڑنے والے پولیس کے اہلکاروں کی مسلسل شہادتوں کے پیش نظر یہ ناگزیر ہو چکا ہے کہ وفاقی اور صوبائی سطح پر زبانی دعوؤں کے بجائے عملی اور ٹھوس اقدامات سامنے آئیں۔ خیبرپختونخوا پولیس کی صلاحیتوں‘ بلٹ پروف گاڑیوں‘ تھرمل امیجنگ اور جدید ساز و سامان کی فراہمی کے بارے میں جو وعدے اور اعلانات کیے جاتے رہے ہیں‘ ان پر فوری اور بلا تاخیر عمل درآمد یقینی بنانا ہو گا۔ جب تک ہماری پولیس فورس کو جدید خطوط پر انسدادِ دہشت گردی کی تربیت اور وسائل سے مکمل طور پر لیس نہیں کیا جائے گا‘ تب تک ہمارے بہادر جوانوں کو ایسے بزدلانہ حملوں کے سامنے ڈھال بننے کی قیمت چکانی پڑے گی۔ ریاست کیلئے اپنے محافظوں کی حفاظت اور ان کی آپریشنل صلاحیتوں میں اضافہ سب سے پہلی ترجیح ہونا چاہیے۔ہمیں یہ حقیقت مدِ نظر رکھنی ہو گی کہ پاکستان کو درپیش پیچیدہ اور اندرونی سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے صرف مسلح فورسز یا پولیس پر انحصار کافی نہیں‘ بلکہ اس جنگ میں ہر شہری کی بیداری اور سکیورٹی شعور بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ ملک بھر میں ہزاروں مساجد‘ امام بارگاہیں اور حساس عوامی مقامات موجود ہیں‘ جہاں ہر وقت پولیس کی مستقل نفری تعینات کرنا مالی اور انتظامی طور پر ممکن نہیں۔ اس کا حل یہ ہے کہ محلہ اور علاقائی سطح پر شہری خود بھی چوکس رہیں‘ اپنے اردگرد کے ماحول پر کڑی نظر رکھیں۔ جب سکیورٹی کو صرف کسی ایک ادارے کی ذمہ داری کے بجائے مشترکہ قومی فریضہ تسلیم کیا جائے گا تو شدت پسندوں کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملانا کہیں زیادہ آسان ہو جائے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ قومی بیانیے کو مزید تقویت دی جائے‘ شدت پسندانہ سوچ کی فکری بیخ کنی کی جائے اور سکیورٹی اداروں کو مطلوبہ وسائل فراہم کر کے دہشت گردوں کے باقی ماندہ نیٹ ورکس کا مکمل خاتمہ کیا جائے۔ دہشت گردی ایک قومی نوعیت کا مسئلہ ہے‘ تاہم جب وفاق اور صوبوں کے درمیان سیاسی تلخیاں بڑھتی ہیں تو ملک دشمن عناصر اس خلا کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ سیاسی اختلافات اپنی جگہ مگر دہشت گردی کی جنگ کے خلاف پوری قوم اور تمام سیاسی قیادت کو یکجہتی اور اتفاقِ رائے کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/222_48272610.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کفایت شعاری یا پھر لاک ڈاؤن کا انتظار؟(عمران یعقوب خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-09-20/52698/20386732</link><pubDate>Sun, 20 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-09-20/52698/20386732</guid><description>امریکہ ایران جنگ کے تناظر میں خلیج فارس اور خلیج عمان کے درمیان واقع آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں واقع باب المندب کی بندشوں کی وجہ سے پٹرولیم مصنوعات کی سپلائی منقطع ہونے کا خدشہ پیدا ہو چکا ہے۔ اس خدشے کے پیشِ نظر حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کے استعمال اور سرکاری اخراجات میں کفایت شعاری سے متعلق اہم اقدامات کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے جس کی تفصیل آپ نے پڑھ اور سمجھ لی ہو گی۔ حکومت نے یہ اقدام عوام کو مستقبل قریب میں ممکنہ طور پر پیش آنے والی مشکلات سے بچانے کے لیے کیا ہے۔جب بھی کسی ملک یا قوم کو اجتماعی چیلنج درپیش ہوتے ہیں تو ان کا مقابلہ اسی طرح متحدہ‘ متفقہ اور مشترکہ اقدامات کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ قومی یا اجتماعی سطح پر وسائل محدود ہوتے ہیں‘ اس لیے ان کا بے دریغ استعمال بحران پیدا کرتا ہے۔ جب حالات مخدوش ہوں تو ایسا بحران شدید تر ہو سکتا ہے۔ جب ایک پورا معاشرہ بچت اور سادگی کو اپنا شعار بناتا ہے تو ملکی معیشت مضبوط ہوتی ہے اور کم وسائل سے زیادہ کام لیا جا سکتا ہے۔ قومیں درپیش چیلنجز کا مقابلہ حالات کے درست ادراک‘ علم و تحقیق‘ باہمی اتحاد اور فکری بیداری کے ذریعے کرتی ہیں۔ اندرونی اختلافات کو بھلا کر اجتماعی مفادات اور اقدار کو فروغ دینا بحرانوں سے نکلنے میں مدد دیتا ہے۔ جذباتی رویوں کے بجائے حقائق کی تفہیم اور عصری تقاضوں کے مطابق لائحہ عمل تیار کیا جاتا ہے۔ مسائل کا حل طاقت کے بجائے علمی مباحث‘ مکالمے اور فکری بصیرت سے تلاش کیا جاتا ہے۔ لیکن اس عمل کی ابتدا اشرافیہ سے ہوتی ہے اور حکمرانوں کو دیکھ کر عوام اپنا رنگ ڈھنگ تبدیل کرتے ہیں۔ اصل کفایت شعاری یہ ہے کہ وزرا اور مشیروں کے شاہانہ پروٹوکول‘ فضول خرچیوں اور سرکاری محکموں کی عیاشیوں پر تالا لگایا جائے مگر مجال ہے کہ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے مقتدر طبقات کے ماتھے پر وسائل کے ضیاع پر کبھی کوئی شکن اُبھری ہو۔یہ پہلا موقع نہیں کہ کفایت شعاری مہم شروع کی گئی ہے‘ اس سے پہلے جب کورونا کی وبا پھیلی تھی تو بھی اجتماعی سطح پر احتیاطی تدابیر اختیار کی گئی تھیں‘ حتیٰ کہ سافٹ اور پھر ہارڈ لاک ڈاؤن بھی لگایا گیا تھا جس کا نتیجہ یہ نکلا تھا کہ پاکستان میں اس وبا کے پھیلاؤ کو کنٹرول کر لیا گیا اور وبا کے نتیجے میں اموات کی رفتار محدود ہو گئی۔ اس سے پہلے جب ملک بھر میں دہشت گردی کے واقعات رونما ہو رہے تھے تو بھی پوری قوم نے مل کر دہشت گردوں کا سامنا کیا تھا۔ اس لیے کفایت شعاری مہم کی وجہ سے کچھ کٹھنائیاں تو پیش آئیں گی لیکن اس کے نتیجے میں بہت سی آسانیاں بھی ہاتھ آئیں گی۔ اگر کفایت شعاری مہم پر پوری طرح عمل درآمد نہ ہو سکا تو تیل کے جو ذخائر موجود ہیں وہ چند دنوں یا چند ہفتوں میں صرف ہو جائیں گے اور پٹرولیم مصنوعات کی ترسیل کے راستے نہ کھلے‘ یعنی مشرقِ وسطیٰ میں جنگ طوالت اختیار کر گئی تو پھر معاملہ لاک ڈاؤن تک بھی پہنچ سکتا ہے۔ اب یہ سوچنا آپ کا کام ہے کہ کفایت شعاری مہم کا ساتھ دینا ہے یا پھر مکمل لاک ڈاؤن کا انتظار کرنا ہے؟کفایت شعاری مہم کے حوالے سے چند تجاویز پیش کرنا چاہتا ہوں لیکن اس سے پہلے ایک اہم معاملے کی طرف حکومت کی توجہ دلانا چاہوں گا۔ عرض ہے کہ چھوٹی گاڑیوں کے لیے پٹرول ایک سو روپے فی لٹر سستا کرنے کا فائدہ تمام صارفین تک پہنچایا جائے کیونکہ سننے میں آیا کہ 2011ء سے پہلے رجسٹرڈ ہونے والی گاڑیوں کو پٹرول سبسڈی نہیں دی جا رہی تھی اور ان شہریوں میں شدید تشویش پائی جا رہی تھی جن کے پاس 2011ء یا اس سے پرانے ماڈل کی گاڑیاں ہیں۔ ایک روزنامہ کی ایک رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم کی پٹرول سبسڈی سکیم میں 2011ء سے پہلے رجسٹرڈ موٹر سائیکلز اہل نہ ہونے پر سوشل میڈیاصارفین نے فیس بک‘ ایکس (سابق ٹویٹر) اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وفاقی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔ اب خبر ملی ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے فیول ریلیف سکیم میں عوام کو مزید سہولت فراہم کرنے کی خصوصی ہدایت دی ہے اور انہوں نے سکیم میں 20 سال پرانی موٹر سائیکلوں اور رکشوں کو فوری شامل کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔ اب یکم جنوری 2006ء کے بعد رجسٹرڈ تمام موٹر سائیکلیں اور رکشے فیول ریلیف سکیم میں رجسٹریشن کے لیے اہل ہوں گے جس کے بعد ریلیف سکیم سے 20سال پرانی موٹر سائیکل اور رکشے چلانے والے بھی مستفید ہو سکیں گے۔ اس لیے عوام کے Behalf پر جناب وزیر اعظم سے درخواست ہے کہ پٹرول کے تمام چھوٹے صارفین کو غیر مشروط سبسڈی فراہم کی جائے تاکہ ان کی زندگیوں میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کی وجہ سے جو مالی مسائل پیدا ہو رہے ہیں‘ ان میں قدرے کمی واقع ہو۔ میرے خیال میں اس سکیم کی گنجائش میں مزید کشادگی پیدا کی جانی چاہیے اور رجسٹریشن کی حد یکم جنوری 2001ء مقرر کی جانی چاہیے۔اب آتے ہیں تجاویز کی طرف۔ سب سے پہلے تو مفت پبلک ٹرانسپورٹ سکیم کا تین ماہ کے لیے دوبارہ اجرا کیا جانا چاہیے۔ اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ خاصی بڑی تعداد میں موٹر سائیکل اور گاڑیاں سڑکوں پر نہیں آئیں گی کیونکہ مہنگائی کے اس زمانے میں لوگ مفت پبلک ٹرانسپورٹ کو ترجیح دیں گے۔50فیصد سرکاری گاڑیاں گراؤنڈ کرنے کے ساتھ پُول شیئرنگ یا بڑی شخصیات کے لیے ایک سے زائد گاڑیوں پر مکمل پابندی عائد کی جانی چاہیے اور دفاتر میں بجلی اور ایندھن کی بچت کے لیے ہفتے میں کم از کم دو دن ورک فرام ہوم والی پالیسی دوبارہ نافذ کی جانی چاہیے۔ مفت بجلی‘ گیس اور مفت پٹرول جیسی مراعات کو فوری طور پر ختم کر کے ان کو تنخواہ کے پیکیج کا حصہ بنایا جائے تاکہ فضول خرچی کا خاتمہ ہو۔حکومت کی کفایت شعاری پالیسی محض چند سرکاری گاڑیوں‘ دعوتوں یا مراعات میں کمی کا نام نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ریاست اپنے محدود وسائل کو کس طرح عوامی مفاد کیلئے استعمال کرتی ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں قرضوں کا بوجھ بڑھتا رہے‘ محصولات مطلوبہ سطح تک نہ پہنچیں اور عام آدمی مہنگائی سے دوچار ہو‘ وہاں حکومتی اخراجات میں نظم و ضبط ناگزیر ہے۔ جیسا کہ تمہیدی سطور میں عرض کیا کفایت شعاری کی پالیسی اسی وقت معتبر ہو گی جب اس کا اطلاق حکمران طبقے سے شروع ہو اور اس کے نتائج شفاف انداز میں عوام کے سامنے رکھے جائیں۔ قوم کو محض اعلانات نہیں‘ اعداد و شمار اور عملی نتائج درکار ہیں۔ ریاست کی طاقت اس کے حجم میں نہیں‘ وسائل کے ذمہ دارانہ استعمال میں ہے۔خوش امیدی ہے کہ امتحان کے اس دور میں حکمران اور عوام‘ سبھی ہوش مندی کا مظاہرہ کریں گے اور حالات کو مکمل لاک ڈاؤن کی طرف نہیں جانے دیں گے کیونکہ مشرقِ وسطیٰ کے حالات غماز ہیں کہ یہ تناؤ ابھی جلدی ختم ہونے والا نہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_58350786.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سعودیہ پر حوثی حملے امریکی پراکسی وار کا نیا محاذ(محمد عبداللہ حمید گل)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-abdullah-hameed-gull/2026-09-20/52699/29156863</link><pubDate>Sun, 20 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-abdullah-hameed-gull/2026-09-20/52699/29156863</guid><description>سابق سربراہ آئی ایس آئی جنرل حمید گل مرحوم نے 2015ء میں ایک انٹرویو میں پیش گوئی کرتے ہوئے یمن کو سعودی عرب سمیت پاکستان اور ترکیہ کیلئے پھندا کہا تھا کہ جس کے ذریعے امت مسلمہ کو ٹریپ کیا جائے گا۔ حوثی باغیوں کے امریکہ سے حالیہ خفیہ مذاکرات نے 11 برس بعد جنرل حمید گل مرحوم کی پیش گوئی پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔ یہ خفیہ ملاقات مسقط میں امریکی سفارت خانے میں ہوئی۔مذکورہ مذاکرات میں امریکیوں و صہیونیوں کو ان کے بحری جہازوں پر حملہ نہ کرنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے یہ بھی کہا گیا کہ سعودی عرب کی تیل بردار جہازوں کو استثنیٰ نہیں ملے گا۔یہ افسوسناک اورقابلِ مذمت ہے کہ خود کو مسلمان کہلوانے والے حوثی مسلم دشمنوں کے مفادات کو نقصان نہیں پہنچائیں گے۔میں نے بارہا یہ سوالات اٹھائے کہ ایران کی طویل ناکہ بندی کے باوجود حوثی باغیوں کے پاس اسلحہ کا وافر ذخیرہ کیوں ہے؟ سعودی عرب کے اندر اہداف کو درست ٹارگٹ بنانے کیلئے کہاں سے معلومات فراہم کی جارہی ہیں؟ خودکش ڈرونز کے ذریعے سعودی عرب کی معاشی شہ رگ کی حامل 1200کلومیٹر ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن کو کیسے نشانہ بنایا گیا؟ امت مسلمہ کے خلاف کسی مذموم منصوبے پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔دوسری طرف واشنگٹن نے براہ راست جنگ میں اترنے سے انکار کر دیا ہے ۔بنیادی سوال تو یہ ہے کہ وہ اربوں ڈالر کے دفاعی معاہدے کہاں گئے؟ صدر ٹرمپ کے پہلے دور اقتدار 2017ء میں ٹرمپ کے دورۂ ریاض کے دوران 350 بلین ڈالر کے معاہدے سے جولائی 2026ء کے 1.96بلین ڈالر کے معاہدے تک امریکہ کا اسلحہ ‘جدید دفاعی ٹیکنالوجی کیوں مکہ مکرمہ پر حوثیوں کے مبینہ حملے کو روک نہ سکے؟ کیسے حوثی میزائلوں نے 810کلومیٹر کا سفر طے کر لیا ؟اس کے پیچھے کو نسی دجالی قوتیں کار فرما ہیں جو حیلے بہانوں سے مسلمانوں کے عقائد اور مقدس مقامات کی طرف باقاعدہ پلاننگ کے تحت پیش قدمی کر رہی ہیں۔ حیرت تو یہ ہے کہ حوثیوں نے تیزی سے پریم جزیرے کے ساتھ بحیرہ احمر سے جڑی ہوئی یمن کی مکمل ساحلی پٹی کو بھی قبضے میں لے لیا۔کیا یہ سعودی عرب کو اقتصادی و عسکری دباؤ میں لانے کی سازش رچائی گئی ہے کہ وہ ابراہیم اکارڈ میں شامل ہو جائے اور امریکی لاڈلی ناجائز ریاست کو تسلیم کر لیا جائے اور اس کے بعد دیگر مسلم ممالک اس نام نہاد معاہدے میں جوق در جوق داخل ہوتے جائیں؟میں اپنے کالم کے ذریعے یہ بھی سوال اٹھاتا ہوں کہ سعودیہ سے کیااس انکار کا بدلہ لیا جارہا ہے جب اس نے ٹرمپ کے آپریشن فریڈم میں اپنی فضائی و بحری حدود دینے سے کر دیا تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ فلسطین کی آزادی کیلئے آواز اٹھانے پر اشتعال انگیز چال چلی گئی ہے۔اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ اس کشیدگی کا فائدہ کس کو پہنچ رہا ہے؟ امریکہ کی پانچوں انگلیاں گھی میں ہیں۔سعودی عرب امریکہ کیلئے سونے کی چڑیا ہے۔اس نے اربوں ڈالر کے دفاعی معاہدے پر سعودی عرب کا ساتھ دینے کے بجائے دفاعی ڈیل کے تحت 24.3 ملین ڈالر کی ففتھ جنریشن ایف35کے 48یونٹس کی خریداری کی منظوری دیدی ہے؛ چنانچہ اب تک کے حالات کی کڑیاں ملا کر دیکھیے تو یہ کہنا بے جا نہیں کہ اب یہ پراکسی کس کی ہوئی؟موجودہ گمبھیر صورتحال میں فائدہ کون اٹھا رہا ہے ؟ امریکہ اور دجالی ریاست اسرائیل۔خسارے میں مسلمان ہیں چاہے وہ شیعہ ہو یا سنی۔ سعودی ولی عہد نے امریکی صدر سے براہِ راست مداخلت کی درخواست کی لیکن ٹرمپ نے جنگ میں مداخلت سے گریز کرتے ہوئے مشرق وسطی کے دفاع کے لیے ذمہ دار سینٹرل کمانڈ کے وساطت سے سعودی عرب اسرائیل کے درمیان حوثی حملہ آوروں کے خلاف انٹیلی جنس کی فراہمی پر مذاکرات کا اہتمام کیا ‘ برطانیہ سے بھی مدد کی اپیل کی گئی مگر برطانوی حکومت نے بھی سعودی عرب کو جنگ میں مدد کے لیے مشیروں پر مشتمل ایک ٹیم بھیجنے پر آمادگی ظاہر کی‘سعودی ولی عہد نے مصر کا دورہ بھی کیا‘ یاد رہے مصر 2015ء میں سعودی عرب کی سربراہی میں قائم ہونے والے عرب کولیشن کا رکن بھی ہے۔یمن کی سعودی عرب کے ساتھ کئی دہائیوں سے کشیدگی جاری ہے۔آخر یمن کا مسئلہ کیا ہے ؟حوثی چاہتے کیا ہیں ؟ اس طرح کے بہت سے سوالات جواب طلب ہیں۔یمن جنگ دراصل ایران کے خلاف امریکہ اسرائیل جنگ کی توسیع ہے جب تک اس تنازعہ کا مکمل خاتمہ نہیں ہوتا یہ جنگ نہیں رکے گی کیونکہ اس کا مقصد پورے مشرقِ وسطیٰ کو اس آگ میں دھکیلنا ہے۔ امریکہ سمیت یورپ کی سرد مہری نے خلیجی خطے کو مایوس کیا ہے۔خلیج کے دفاع کیلئے پرانی روایتی سکیورٹی چھتری پر انحصار نہیں کیا جا سکتا۔سعودی عرب پر حملے کوئی جھڑپ نہیں یہ سعودی اقتصادی تنصیبات و امن کی تباہی کے ساتھ ساتھ حرمین شریفین کی سرزمین پر دبائو بڑھانے کی مذموم پراکسی جنگ ہے۔ پاکستان میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ مکہ معاہدہ پر عمل کیوں نہیں ہورہا؟ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کر دیا ہے کہ دفاعی وعدوں پر عملدرآمد کا طریقہ عوامی سطح پر ظاہر نہیں کیا جاتا۔مکہ مکرمہ ہماری ریڈ لائن ہے یہ بھی حقیقت ہے کہ مکہ مکرمہ کی حفاظت کیلئے کسی معاہدے کی ضرورت نہیں۔خانہ کعبہ اللہ کے گھر کے تحفظ و حرمت کیلئے میں ہی نہیں میری جماعت تحریک جوانان پاکستان و کشمیر کا ہر کارکن تیار ملے گا ۔پاکستان کیلئے موجودہ صورتحال انتہائی حساس ہے کیونکہ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے گہرے برادرانہ‘ دفاعی اور اقتصادی تعلقات ہیں جبکہ ایران پاکستان کا ہمسایہ ملک ہے۔ حالیہ تناظر میں پاکستان نے سعودی عرب کی خود مختاری‘سلامتی‘ علاقائی سالمیت کی حمایت کا واضح اعلان کیا ہے۔ پاکستان کو کسی بھی ایسے اقدام سے گریز کرنا چاہیے جو اسے ایک طویل اور پیچیدہ علاقائی جنگ کا براہِ راست فریق بنا دے۔ وطن عزیز پہلے ہی دہشت گردی‘ معاشی دبائو اور داخلی سلامتی کے متعدد چیلنجز سے دو چار ہے۔اگر یمن تنازع مزید بڑھا تو باب المندب ‘بحیرہ احمر اور خلیج کے راستوں پر دبائو میں اضافہ ہو سکتا ہے۔مسلمان جان لیں کہ اسرائیل مشرقِ وسطی میں دجالی سٹیج مکمل طور پر سجا چکا ہے۔ پہلے تیونس‘مصر‘لیبیا ‘ شام اور اب ایران اسرائیل جنگ جو پوری آب وتاب کے ساتھ یمن سعودی عرب جنگ کی صورت میں پھیلا دی گئی ہے۔ تاہم مسلمانوں کو مقدس مقامات کی حفاظت کے حوالے سے سٹرٹیجک پلان بنا نا ہو گا کیونکہ مکہ مکرمہ پر حالیہ حملہ مسلم امہ کیلئے وارننگ ہے۔ اور یہی اسلام دشمنوں کا طریقۂ واردات بھی ہے۔اب انتظار صرف پاکستان کے جوہری پروگرام کو دبوچنے کا ہے جو اسرائیلی قبضے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ مکہ مکرمہ پر میزائل داغے جانا ایک بڑی وارننگ ہے۔ چند برس قبل امریکی فوج کے سابق سربراہ جنرل مارٹن ڈیمپسی کی جانب سے ایک انکشاف سامنے آچکا ہے جس نے یقینا مسلم دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا کہ امریکی ملٹری اکیڈمیوں میں امریکی فوج کے مستقبل کے افسران کو اسلام مخالف لٹریچر میں کیا پڑھایا جا رہا ہے۔ان تمام باتوں میں سب سے خوفناک بات یہ ہے کہ امریکی اپنے فوجی افسران کو سبق دیتے ہیں کہ مسلمانوں کو تباہ کرنے کیلئے ان کے مقدس ترین شہروں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو حملے کا نشانہ بنایا جا ئے۔ مسلمانوں کا مورال گرانے کیلئے ایسے گھنائونے اقدامات اٹھائے جانے کی منظم منصوبہ بندی بہت پہلے کی جا چکی ہے۔امریکی ملٹری اکیڈمیوں میں اسلام دشمن نصاب کی تعلیم گزشتہ کئی برسوں سے جاری ہے۔ یہ صہیونی صلیبی اتحاد درحقیقت اسلام کے خلاف ایک بڑی منصوبہ بندی کا حصہ ہے۔جس میں شمالی افریقہ سے لے کر مشرق ِوسطی تک پھیلی ہوئی ریاستوں پر عسکری اورمعاشی تسلط قائم کرنا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_62843609.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>