<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>شاندار سفارتی کامیابی اور تقاضے(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-19/11289</link><pubDate>Fri, 19 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-19/11289</guid><description>مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے کیلئے پاکستان کی اَنتھک کوششوں‘ سفارتی بصیرت اور قائدانہ صلاحیتوں کا اعتراف پوری دنیا کر رہی ہے۔ امریکہ اور ایران کو ’اسلام آباد میمورنڈم‘ کے ذریعے ایک طویل اور سنگین تنازع کے پُرامن حل کی طرف لانا پاکستان کی خارجہ پالیسی کا وہ شاندار اعزاز ہے جس نے اسے عالمی برادری کا مرکزِ نگاہ بنا دیا ہے۔ اقوام متحدہ‘ یورپی یونین اور برطانوی ایوانِ بالا سے عالمی میڈیا تک‘ ہر جگہ پاکستان کے اس تعمیری کردار کی گونج سنائی دے رہی ہے‘ جس نے دنیا کو ایک بڑی تباہی سے بچانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ فعال سفارتکاری سے آبنائے ہرمز میں تجارتی راستوں کی بحالی اور عالمی امن کے قیام نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان عالمی بساط پہ ایک ذمہ دار اور انتہائی اہم تزویراتی کھلاڑی ہے۔ سفارتی محاذ پر حاصل ہونیوالی یہ غیر معمولی کامیابی اس حقیقت کی مظہر ہے کہ جب ملکی قیادت اور ادارے یکسو ہو کر مشترکہ وژن کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں تو بظاہر ناممکن نظر آنے والے اہداف بھی حاصل ہو جاتے ہیں۔ اس پذیرائی نے جہاں عالمی سطح پر ملک کا وقار بلند کیا ہے وہیں داخلی حالات کے حوالے سے ذمہ داریوں میں بھی اضافہ کیا ہے۔

خارجہ امور میں دکھائی دینے والی اس تگ ودو کی اب اندرونِ ملک سیاسی‘ معاشی اور سماجی استحکام کیلئے بھی شدید ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کوئی بھی ملک عالمی سطح پر پائیدار اثر و رسوخ اس وقت تک برقرار نہیں رکھ سکتا جب تک اس کی جڑیں اندرونی طور پر مضبوط نہ ہوں۔ اس وقت پاکستان کو جس نوعیت کے سیاسی و سماجی بحران کا سامنا ہے‘ اسے ختم کرنے کیلئے اسی عزم اور مصالحت پسندی کی ضرورت ہے جو ہم نے مشرقِ وسطیٰ کے بحران کو حل کرنے کیلئے دکھائی ہے۔ اندرونی سطح پر سیاسی جماعتوں اور اداروں سمیت تمام سٹیک ہولڈرز میں وسیع تر قومی مفاہمت ناگزیر ہو چکی ہے۔ جب تک ملک سے سیاسی بے یقینی اور سماجی اضطراب کا خاتمہ نہیں ہوتا تب تک عالمی سطح پر حاصل ہونے والی کامیابیوں کے ثمرات سے طویل عرصے تک مفاد کشید کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ اگرچہ حالیہ مہینوں میں معیشت میں جزوی استحکام دیکھنے کو ملا ہے لیکن بنیادی سطح پر معیشت اب بھی جمود کا شکار ہے۔ یہ صورتحال ملک کی شاندار سفارتی کامیابیوں اور عالمی ساکھ سے بالکل میل نہیں کھاتی۔ ایک طرف پاکستان دنیا کے بڑے بحرانوں کو حل کرنے کیلئے ایک مضبوط اور باوقار ثالث کے طور پر ابھرا ہے اور دوسری طرف زرِمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دینے کیلئے دوست ممالک کے ڈیپازٹس اور عالمی مالیاتی اداروں کے قرضوں کا رہین ہے۔ گزشتہ ایک برس کے دوران پاکستان عسکری اور سفارتی‘ دونوں محاذوں پر اپنے آپ کو منوا چکا ہے‘ اب ضروری ہے کہ خود کو معاشی میدان میں منوانے کا بیڑا اٹھایا جائے۔
حالیہ سفارتی کامیابی نے اس حوالے سے ایک نیا موقع فراہم کیا ہے کہ امریکہ‘ ایران اور مشرقِ وسطیٰ سمیت بیرونی دنیا کے ساتھ اپنے تعلقات کو ایک نئے تجارتی فریم ورک میں ڈھالا جائے۔ ایران سے سستی توانائی کے حصول کے منصوبوں کے علاوہ خلیجی اور مغربی ممالک کیساتھ تجارتی حجم میں اضافے کیلئے اس سیاسی ساکھ کو بروئے کار لایا جائے۔ آج کی دنیا اکنامک ڈپلومیسی کی طرف بڑھ رہی اور اب وہی ممالک اپنا مقام برقرار رکھ سکتے ہیں جو معاشی اور تجارتی طور پر خود کو ناگزیر بنائیں۔ لہٰذا اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے نئی برآمدی منڈیوں کی تلاش‘ دیرپا معاشی معاہدوں اور بڑے پیمانے پر براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کی کوشش کی جانی چاہیے۔ پاکستان کی اس عظیم سفارتی کامیابی کا پھل عام آدمی تک ضروریاتِ زندگی کے حصول میں آسانی‘ مہنگائی میں کمی اور روزگار کے نئے مواقع کی صورت میں پہنچنا انتہائی ضروری ہے۔ مضبوط دفاع‘ فعال سفارتکاری اور عوامی فلاح یکجا ہو کر ہی ایک حقیقی‘ مستحکم اور خوشحال پاکستان کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بیرونی سرمایہ کاری میں کمی(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-19/11288</link><pubDate>Fri, 19 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-19/11288</guid><description>سٹیٹ بینک آف پاکستان کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے گیارہ مہینوں میں ملک میں براہِ راست بیرونی سرمایہ کاری میں 28 فیصد سے زائد کمی آئی ہے۔ جولائی تا مئی میں براہِ راست بیرونی سرمایہ کاری ایک ارب 62کروڑ ڈالر تک محدود رہی جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں یہ دو ارب 67 کروڑ ڈالر تھی۔ ترقی پذیر خصوصاً پاکستان جیسے ممالک کیلئے بیرونی سرمایہ کاری معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کا اہم ستون سمجھی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سرمایہ کاری میں کمی کے اثرات محض اعداد و شمار تک محدود نہیں رہتے بلکہ ان کے اثرات صنعتی سرگرمیوں‘ روزگار‘ زرِمبادلہ کے ذخائر اور مجموعی معاشی نمو پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ ملک میں سرمایہ کاری میں کمی کی متعدد وجوہات ہیں جن میں پالیسیوں کا عدم تسلسل‘ کاروباری لاگت میں اضافہ‘ توانائی کے بلند نرخ‘ پیچیدہ ریگولیٹری نظام اور سیاسی غیریقینی سرفہرست ہیں۔

حکومت اگر بیرونی سرمایہ کاری میں حقیقی اضافہ چاہتی ہے تو اسے اعلانات سے آگے بڑھنا ہو گا۔ سرمایہ کاروں کو شفاف‘ قابلِ پیش گوئی اور طویل مدتی پالیسی ماحول فراہم کرنا ناگزیر ہے۔ نیز کاروبار کے آغاز اور توسیع کے مراحل کو آسان بنانا‘ توانائی اور ٹیکس کے شعبوں میں اصلاحات‘ معاہدوں کے تحفظ کی ضمانت‘ انتظامی رکاوٹوں کا خاتمہ اور سرمایہ کاروں کو یکساں مواقع کی فراہمی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ سرمایہ کار اعتماد چاہتے ہیں اور یہ اعتماد زبانی وعدوں سے نہیں بلکہ مستقل‘ شفاف اور نتیجہ خیز پالیسیوں سے حاصل ہوتا ہے۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ترقیاتی فنڈز کا عدم استعمال(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-19/11287</link><pubDate>Fri, 19 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-19/11287</guid><description>وفاقی حکومت رواں مالی سال کے ابتدائی گیارہ ماہ کے دوران ترقیاتی پروگرام کے تحت مختص فنڈز کا بڑا حصہ خرچ کرنے میں ناکام رہی ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق وفاقی پی ایس ڈی پی کا ابتدائی حجم ایک ہزار ارب روپے مقرر کیا گیا تھا تاہم بعد ازاں اسے کم کرکے 837 ارب روپے کر دیا گیا لیکن 11مہینوں میں ترقیاتی منصوبوں پر صرف 530 ارب روپے خرچ کیے جا سکے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سینکڑوں ارب روپے کے ترقیاتی وسائل یا تو استعمال ہی نہیں ہو سکے یا اُن منصوبوں تک نہیں پہنچ سکے جن کیلئے یہ مختص کیے گئے تھے۔ ترقیاتی فنڈز کے بروقت اور مکمل استعمال میں ناکامی کا سب سے بڑا نقصان عام شہریوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔

بڑھتی ہوئی آبادی‘ شہری توسیع‘ پانی اور توانائی کے مسائل‘ موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات اور جدید معیشت کے تقاضے اس بات کے متقاضی ہیں کہ ترقیاتی منصوبے صرف شروع ہی نہ کیے جائیں بلکہ انہیں مقررہ وقت اور لاگت کے اندر مکمل بھی کیا جائے۔ مختص شدہ ترقیاتی فنڈز کا عدم استعمال محض ایک انتظامی خامی نہیں بلکہ قومی وسائل کے مؤثر استعمال سے متعلق ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس معاملے کا غیر جانبدارانہ جائزہ لے‘ ذمہ داروں کا تعین کرے اور آئندہ مالی سال میں ترقیاتی فنڈز کے شفاف استعمال اور منصوبوں کی بروقت تکمیل کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کرے۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سمارٹ فون سے سوشل میڈیا ٹیکس تک(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-06-19/52147/53358385</link><pubDate>Fri, 19 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-06-19/52147/53358385</guid><description>بجٹ پیش ہونے کے بعد قومی اسمبلی اور سینیٹ کی فنانس کمیٹیوں کے اجلاس شروع ہوئے تاکہ پارلیمانی کمیٹیوں کے ارکان منظوری سے پہلے اس کا جائزہ لے سکیں۔ اگر بجٹ میں کوئی خامی رہ گئی ہو یا کہیں کوئی زیادتی ہو رہی ہو تو اسے پوائنٹ آؤٹ کیا جائے اور بجٹ دستاویزات سے ہٹایا جائے۔ اتفاق کی بات کہ سینیٹ اور قومی اسمبلی کی فنانس کمیٹیوں کے چیئرمین اس وقت پیپلز پارٹی کے دو سابق وزرا ہیں۔ سینیٹ کمیٹی کے سربراہ سلیم مانڈوی والا جبکہ قومی اسمبلی کی کمیٹی کے چیئرمین نوید قمر ہیں۔ دونوں انتہائی سمجھدار اور قابل پارلیمنٹرین سمجھے جاتے ہیں اور بلاشبہ دونوں اس ذمہ داری کو بخوبی نبھا رہے ہیں۔ میں اکثر ان کمیٹیوں کے اجلاس میں جاتا رہتا ہوں لہٰذا ان کے کام کا کچھ اندازہ ہے۔ ان کمیٹیوں کے ارکان بھی اہم اور قابل لوگ ہیں اور ہر جماعت نے چن کر انہیں یہاں بھیجا ہے۔نئے بجٹ میں سوشل میڈیا انفلوئنسرز‘ وِی لاگرز یا انٹرنیٹ کے ذریعے ڈالر کمانے والوں پر ٹیکس کی شرح پانچ فیصد کر دی گئی ہے۔ سب کہیں گے کہ اگر یہ لوگ لاکھوں ڈالر کما رہے ہیں تو پانچ فیصد ٹیکس دینے میں کیا مسئلہ ہے؟ جب یہ معاملہ سینیٹ کی فنانس کمیٹی میں آیا تو سلیم مانڈوی والا نے وہاں موجود صحافیوں سے پوچھا کہ کسی کو اعتراض ہے؟ وہاں اخبار کے دو رپورٹرز نے کہا کہ انہیں اعتراض نہیں‘ آپ پانچ فیصد ٹیکس لگا دیں‘ اور یوں انہوں نے منظوری دے دی۔ میں اُس دن اجلاس میں موجود نہیں تھا۔ اگلے دن پھر اجلاس تھا تو میں بھی گیا۔ سلیم مانڈوی والا صاحب مجھے یہ بات بتانے لگے تو میں نے کہا کہ آپ کو اس ٹیکس میں اضافے کو مسترد کرنا چاہیے تھا۔ کہنے لگے: آپ کے دو تین صحافی تو کہہ رہے تھے کہ اسے ختم نہ کریں‘ اس لیے ہم نے منظور کر لیا۔ میں نے کہا: سر جی! پہلے آپ کتنی پالیسیاں صحافیوں کے کہنے پر بناتے ہیں کہ اب ٹیکس بھی صحافیوں سے پوچھ کر بڑھا دیا ہے؟ دوسری بات یہ ہے کہ یہاں جو رپورٹر آتے ہیں وہ اکثر اخباری یا ٹی وی کے نامہ نگار ہوتے ہیں‘ ان میں سے کوئی بھی وی لاگر یا سوشل میڈیا انفلوئنسر نہیں۔ ان کی بلا سے آپ سو فیصد ٹیکس لگا دیں‘ انہیں کیا فرق پڑنا ہے؟ آپ کو خود دیکھنا چاہیے کہ آیا یہ ٹیکس جائز ہے یا نہیں۔ پہلے شاید ایک فیصد ٹیکس ملک میں آنے والے ان ڈالروں پر کٹ رہا تھا‘ وہی رہنے دیں۔ میں نے کہا: عجیب بات ہے کہ جو پاکستانی اپنی محنت سے سوشل میڈیا پر ڈالر کما کر پاکستان لا رہے ہیں ان پر یہ ٹیکس لگ رہا ہے لیکن دوسری طرف حکومت اربوں ڈالر قرض لے کر آتی ہے اور ان ممالک کو چار سے چھ فیصد تک سود دیتی ہے۔ ابھی ایک نجی بینک سے آٹھ سو ملین ڈالر کا قرض ساڑھے آٹھ فیصد سود پر لیا گیا ہے۔ چین‘ سعودی عرب‘ متحدہ عرب امارات اور آئی ایم ایف سے بھی گزشتہ برسوں میں اربوں ڈالر قرض لیے گئے ہیں اور ان قرضوں کی شرحِ سود چار سے آٹھ فیصد تک رہی ہے۔ اس سے پہلے پی ٹی آئی حکومت کے دور میں &#39;&#39;ہاٹ منی‘‘ کا تصور دیا گیا تھا جس کے تحت بیرونِ ملک پاکستانیوں کو سٹیٹ بینک کے پاس ڈالر ڈپازٹ رکھنے پر بھاری سود ادا کیا گیا تھا۔ اکثر اوورسیز پاکستانیوں نے اس سکیم سے بڑا منافع کمایا۔ اب بھی روشن ڈیجیٹل پاکستان سکیم کے تحت منافع دیا جا رہا ہے‘ لیکن وہ ہزاروں پاکستانی جو لاکھوں ڈالرز ملک میں لا رہے ہیں‘ اور اس میں حکومت کا کوئی بھی کردار نہیں‘ ان پر اُلٹا پانچ فیصد ٹیکس لگا دیا گیا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ان پاکستانیوں کو اپنے ڈالرز‘ ڈالر اکاؤنٹس میں رکھنے کی اجازت بھی نہیں۔ جو بھی پیسہ باہر سے آتا ہے‘ اسے پاکستانی روپوں میں تبدیل کرکے متعلقہ شخص کے اکاؤنٹ میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔ایک اور مزے کی بات سنیں۔ اکثر بینکوں کے پاس جب کسی وی لاگر یا انفلوئنسر کے ڈالر آتے ہیں تو وہ بینک عموماً سٹیٹ بینک کے مقررہ ریٹ سے دو سے تین روپے کم ریٹ لگاتا ہے۔ یوں بینک ان ڈالروں پر اچھا خاصا منافع خود کما لیتا ہے۔ بعد ازاں وہی ڈالر حکومت کو قرض دے کر اس پر آٹھ فیصد تک سود وصول کیا جاتا ہے۔ اب اگر سوشل میڈیا انفلوئنسر یا وی لاگر کو خود ڈالر درکار ہوں تو وہ اپنے اکاؤنٹ سے روپے نکال کر منی ایکسچینج ڈیلر کے پاس جائے گا‘ جو اسے بینک ریٹ کے بجائے مارکیٹ ریٹ پر دو تین روپے زیادہ میں ڈالر فروخت کرتا ہے۔ یوں وہ اپنا ڈالربینک کو سستابیچ کر منی ایکسچینج والے سے مہنگا خریدتا ہے۔ اس پورے چکر میں اس کے آٹھ سے دس روپے فی ڈالر کٹ جاتے ہیں۔ بجائے اس کے کہ آپ اس کے شکر گزار ہوں کہ وہ آپ کو مفت ڈالر لا کر دے رہا ہے‘ الٹا آپ اس کی آمدن پر پانچ فیصد ٹیکس لگا رہے ہیں۔ یہ کیسی سوچ ہے کہ ڈالر مفت نہیں بلکہ سود پر قرض لے کر ملک میں لائیں گے؟ میری اس گفتگو کے باوجود فنانس کمیٹی نے اس تجویز کو منظور کر دیا کہ ٹیکس لیا جائے گا۔اب ایک اور بات سنیں۔ پچھلے سال قاسم اور موسیٰ گیلانی مہم چلا رہے تھے کہ سمارٹ فون پر ٹیکس کم کیا جائے۔ یہ معاملہ بھی فنانس کمیٹی میں آیا‘ جہاں ایف بی آر کے افسران موجود تھے۔ چیئرمین ایف بی آر کو ذہین اور حاضر جواب افسر سمجھا جاتا ہے۔ بعض اوقات لگتا ہے کہ ان کے پاس ہر سوال کا جواب موجود ہوتا ہے‘ لہٰذا وہ ہنستے ہنستے اور مذاق مذاق میں اپنی بات منوا جاتے ہیں۔ وہ اس ٹیکس کے بڑے حامی تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو شخص چار لاکھ روپے کا فون خرید سکتا ہے‘ وہ ڈیڑھ سے دو لاکھ روپے ٹیکس بھی دے سکتا ہے۔ اجلاس سے باہر نکلے تو میرے ساتھ گپ شپ ہونے لگی۔ میں نے کہا: آپ کو علم ہے کہ اس ٹیکس کی وجہ سے نوجوان نسل کتنی پیچھے رہ جائے گی؟ آپ چند ارب روپے ٹیکس تو اکٹھا کر لیں گے لیکن پاکستانی جدید دنیا کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے۔ 2018ء میں ڈالر سو روپے کے قریب تھا۔ ایک ہزار ڈالر والا سمارٹ فون ایک لاکھ دس ہزار یا ایک لاکھ بیس ہزار میں مل جاتا تھا۔ اب ڈالر 280روپے کا ہے۔ اوپر سے حکومت نے امپورٹڈ فون پر ٹیکس لگا دیا‘ جو ڈیڑھ سے دو لاکھ روپے تک ہے۔ مطلب یہ کہ ایک جدید فون اب پانچ سے چھ لاکھ روپے تک جا پہنچا ہے۔ اب دنیا سمٹ کر سمارٹ فون میں آ گئی ہے۔ اسی فون کے ذریعے آپ نے سب کچھ سیکھنا اور آگے بڑھنا ہے۔ اب فون عیاشی نہیں رہا۔ بھارت میں متوسط طبقے کے تقریباً ہر فرد کے پاس سمارٹ فون موجود ہے۔ ایک تو وہاں ڈالر 72 روپے کا ہے (اب شاید 95 روپے کے قریب ہے)‘ یوں انہیں آئی فون ایک لاکھ روپے سے بھی کم میں پڑتا ہے جبکہ ہمیں تقریباً تین لاکھ روپے کا‘ جبکہ ٹیکس ملا کر پانچ لاکھ روپے کا۔ اب جبکہ آئی فون بھارت میں بن رہے ہیں‘ پچھلے سال 70فیصد آئی فون بھارت میں تیار ہوئے۔ آپ نے اپنے نوجوانوں کو بھارت کے مقابلے میں لانے کے بجائے الٹا یہ فون ان کی پہنچ سے باہر کر دیا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت سوا لاکھ بھارتی نوجوان امریکی ٹیک کمپنیوں میں کام کر رہے ہیں جبکہ پاکستان کے صرف دس ہزار۔ آپ چند ارب ٹیکس کما لیں لیکن بھارت نے اپنے نوجوانوں کے ذریعے پوری دنیا کی ٹیک مارکیٹ پر قبضہ جما رکھا ہے۔ آپ سمارٹ فون پر ٹیکس لگا کر اسے مزید مہنگا کر دیں اور بھارت سمارٹ فونز کی فیکٹریاں لگا کر انہیں ایک لاکھ روپے سے بھی کم میں فراہم کر رہا ہے۔ آپ اپنے نوجوانوں کو خود ٹیکنالوجی کی دوڑ میں پسماندہ کر رہے ہیں کیونکہ وہ مہنگے فون خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ میرا اپنا فون تین سال پرانا ہے‘ میں بھی اب نیا فون نہیں خرید سکتا کیونکہ دو لاکھ روپے ٹیکس کہاں سے لائیں؟ راشد لنگڑیال حیران ہو کر بولے: آپ کی باتیں مجھے تو سمجھ آ رہی ہیں‘ آپ کسی دن ہمارے افسران کو بھی یہی باتیں سمجھائیں۔ چھ ماہ سے اوپر گزر گئے لیکن وہ دن کبھی نہیں آیا کہ ہم ایف بی آر کے افسران کو سمجھا پاتے کہ اپنے نوجوانوں کو اس جدید دنیا میں چند ارب روپوں کی خاطر کنویں کا مینڈک نہ بنائیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>چھتر پارک اور جامعات کا مستقبل(رسول بخش رئیس)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-06-19/52148/64658541</link><pubDate>Fri, 19 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-06-19/52148/64658541</guid><description>چند دن ہوئے اخبار میں حکومتِ پنجاب کا ایک فیصلہ نظر سے گزرا‘ اور ایسا لگا کہ کوئی آگ کا گولا دل اور جگر کو چیرتا ہوا جسم سے دوسری طرف نکل گیا ہو۔ سرکاری زمینوں اور اثاثوں کی بندربانٹ مقصود ہو تو نت نیا طریقہ ایجاد کرنا ہمارے حکمرانوں کے بائیں ہاتھ کا کھیل رہا ہے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں۔ نجانے کب سے ایسا ہوتا چلا آ رہا ہے۔ کئی مثالیں ذہن میں ہیں۔ جب سرکاری املاک کو کئی دہائیوں کیلئے نجی شعبے کے من پسند لوگوں کو شراکت داری کی بنیاد پر دے دیا گیا۔ پارک‘ کھیل کے میدان‘ یہاں تک کہ کمپنی باغ جو تقریباً پنجاب کے ہر ضلع میں موجود تھے‘ آج وہاں جا کر دیکھیں بازار بن چکے ہیں تو کہیں مختلف سرکاری محکموں کی عمارات کھڑی کر دی گئی ہیں۔ اگر آپ آج سے 40سال پہلے پرانی مری روڈ پر سفر کرتے رہے ہیں تو آپ کو چھتر پارک یاد ہو گا۔ گورنگ نالے پر اسے بسایا گیا تھا۔ ایک چھوٹی سی عمارت تھی جہاں ریستوران تھا اور ساتھ ہی پانی اور اس کا چٹانوں اور پتھروں سے ٹکرانا اور شور۔ ہر طرف ہریالی تھی اور سرسبز لان تھا۔ کئی مرتبہ صرف چائے یا کافی پینے اور کچھ وقت ٹھہرنے کیلئے ہم اُدھر نکل جاتے تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب پنجاب میں نواز شریف صاحب نے پہلی حکومت بنائی تھی۔ چند ماہ بعد وہاں جانا ہوا تو نقشہ بدل رہا تھا۔ اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے سب کچھ بدل گیا۔ سنا ہے کہ فیصل آباد کے کسی صاحب کو وہ پارک ٹھیکے پر دے دیا گیا۔ ایک دو بار وہاں سے گزرا۔ دیکھا تو حیرانی ہوئی کہ وہاں تو ایک بہت بڑا بازار سجا ہوا ہے۔ دکانیں‘ گھوڑے اور ان کی سیر اور نالے پر کھیل کود کے بندوبست کے ساتھ وہ تمام چیزیں جو آپ عوامی میلوں میں دیکھتے ہیں۔ پارک اب ایک بازار کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ شکر پڑیاں کی پہاڑی ہم نے 1973ء کے آخر میں دیکھی تھی۔ کیا خوبصورت جگہ تھی! ارد گرد گھنا قدرتی جنگل‘ خوبصورت لان اور ہر طرف پھول دار جھاڑیاں اور چلنے کیلئے پختہ راستے۔ آج جا کر دیکھیں تو ہرطرف ریستوران اور ہر طرح کی خرید و فروخت کی دکانیں ہیں۔ ایک دفعہ کوئی بربادی کر جائے تو ہمارے ملک میں کوئی دوبارہ اسے اصل حالت میں نہیں لا سکتا‘ اور نہ کسی میں قانونی لڑائیاں لڑنے کی سکت رہتی ہے۔وہ دل سوز خبر جس کا ذکر شروع میں کیا‘ وہ پنجاب میں سرکاری جامعات کی اراضی کو پبلک پرائیویٹ شراکت داری کی نذر کرنا ہے۔ کسی کو اگر جامعات کی خود مختاری اور بحیثیت قومی اثاثہ اگلی نسلوں تک پہنچانا مقصود ہے تو اس کیلئے یہ ایک انتباہ‘ الرٹ اور انتہائی تشویشناک خبر ہے۔ حکومتِ پنجاب نے اس مقصد کیلئے ایک کمیٹی بنائی ہے جس میں کابینہ کے وزرا‘ چند محکموں کے سیکرٹری اور کچھ اراکینِ اسمبلی شامل ہیں۔ اس خبر کے مطابق یہ کمیٹی جامعات کے اثاثوں کو کمرشلائز کرنے کیلئے تجاویز مرتب کرے گی‘ اور وہ سرکاری محکمہ جو نجی اور سرکاری شراکت داری کا نظام چلاتا ہے‘ اس کے حوالے کرے گی۔ مقصد یہ بتایا گیا ہے کہ سرکاری جامعات چونکہ مالی مشکلات کا شکار ہیں‘ اس لیے انہیں اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی ضرورت ہے۔ یہ کہنا کہ جامعات کے اندر اُن کی زمینوں پر کون سی معاشی سرگرمی کوئی سرمایہ دار کرے گا اور اس کا ایک مخصوص حصہ کما کر جامعات کے حوالے کرے گا‘ کے بارے میں ابھی صرف قیاس آرائی ہو سکتی ہے۔ بلکہ قیاس آرائی کیوں کریں‘ ماضی میں کچھ وائس چانسلرز اور ان کے سیاسی سرپرستوں نے معاشی بدحالی کا رونا رو کر کھیل کے میدانوں کے ایک حصے پر شادی گھر بنائے تھے۔ پنجاب یونیورسٹی کے بڑے میدان میں ہم یہ سب کئی برسوں تک دیکھتے اور دیکھ کر کڑھتے رہے۔ وہاں اس کے سامنے کی زمین پر پھول‘ پتیاں بیچنے کا بازار بھی بنایا گیا تھا۔ پتا نہیں ایسا وژن اور ذہنی رجحان رکھنے والے خواتین و حضرات کیسے اعلیٰ تعلیمی میدان کے اہم منصبوں پر فائز ہو جاتے ہیں۔ ان کی ہنرمندی کا کمال ہی سمجھیں یا قوم اپنی قسمت کا رونا روئے کہ ایسوں کو ایک بار نہیں‘ کئی بار فیضیاب کیا جاتا ہے۔ شادی ہال تو اب نظر نہیں آ رہے مگر پھول پتیوں کا بازار ابھی تک قائم ہے۔ یہ تو انتظامیہ ہی بتا سکتی ہے کہ آخر اس بازار سے یونیورسٹی کی مالی استعداد میں کس قدر اضافہ ہوا ہے۔ہماری سرکاری جامعات میں سے کچھ کو ہزاروں ایکڑ زمین الاٹ کرنے کا مقصد یہ تھا اور نہ ہو سکتا تھا کہ اسے بازار‘ تجارت کے مراکز‘ ڈاکٹروں اور دیگر شعبوں سے متعلق لوگوں کے دفاتر‘ شادی ہال اور اس نوع کی سرگرمیوں کیلئے استعمال کیا جائے۔ ہمیں معلوم ہے کہ سرکاری جامعات مالی مشکلات کا شکار ہیں۔ ایک نہیں سب! سوچنے کی بات ہے کہ آخر ایسا کیوں ہے؟ کبھی کسی حکومت نے معاشی اور انتظامی ماہرین کا کوئی کمیشن بلا کر گہرا مطالعہ نہیں کرایا کہ جامعات کی مالی حالت بتدریج خراب کیوں ہوتی جا رہی ہے؟ ہم تو نصف صدی تک ان کا حصہ رہے ہیں‘ اور سب تماشا اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھتے آئے ہیں۔ ان کے معاشی بحران پیدا کرنے میں بااثر حکمران طبقات اور ان کے نمائندہ وائس چانسلروں کا ہاتھ رہا ہے۔ ہر سرکاری جامعہ میں ان حکمرانوں نے انتظامی عہدوں سے لے کر نچلے درجے تک مبینہ بھرتیاں کرا رکھی ہیں۔ کچھ جامعات ایسی بھی دیکھی ہیں جہاں مالی زیادہ اور درخت کم ہیں۔ اس طرح ہر شعبے میں کم از کم پانچ سات بیکار کلرک آپ کو ہر وقت موبائل سکرینوں پر نظر جمائے دکھائی دیں گے۔ ایک زمانہ تھا جب ہر سرکاری جامعہ میں صرف دو ڈین ہوا کرتے تھے۔ ایک سائنسز کا اور دوسرا عمرانی علوم کا۔ آج کل کئی شعبوں کو فیکلٹی کا درجہ دے کر کئی ڈین تعینات کر دیے گئے ہیں‘ اور ساتھ ایسی مراعات جن کا کسی زمانے میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ سرکاری جامعات کی انتظامیہ اور ہماری صوبائی حکومتوں نے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں۔ اس کے ساتھ وہ جو جامعات کے اثاثوں پر اپنا ہاتھ صاف کرنا چاہتے تھے‘ انہیں خوب موقع ملا کہ جو دھندے وہ شروع کر رہے ہیں‘ ان کا جواز مالی استعداد بڑھانے سے کیا۔ ایک سرکاری جامعہ کے وائس چانسلر نے تو حد ہی کر دی کہ اپنی یونیورسٹی کی فرنچائز کئی شہروں میں کمرشل ذہنیت والوں کے سپرد کر دیں۔ چند کمروں میں بنی ان جامعات میں ڈگریاں بٹنے لگیں اور کروڑوں روپے بنائے جانے لگے۔ جب کارروائی ہوئی تو کئی خاندان لٹ چکے تھے۔ اب تو جیسے پورے صوبے کو ان لوگوں کے حوالے کیا جا رہا۔ خدشہ ہے کہ تعلیمی تاجروں کے ساتھ بااثر سیاسی لوگ‘ شادی ہالوں کے مالک‘ پٹرول پمپوں والے تک پر تول رہے ہیں کہ موقع ملے اور شہروں کے وسط میں جامعات کی اراضی پر ان کے قدم جم جائیں۔ ایک دفعہ وہ اس پبلک پرائیویٹ شراکت داری کے نام پر بیٹھ گئے تو جامعات کا مستقبل چھتر پارک سے کوئی مختلف نہ ہو گا۔ کاش کہیں پر کوئی عقل مندی ہوتی تو جامعات کی سرکاری فنڈنگ میں معقول اضافہ کیا جاتا۔ ان میں عام‘ زیریں متوسط اور غریب طبقات کے بچے بچیاں پڑھتی ہیں۔ اس لیے یہ حکومتوں کی اولین ترجیح نہیں۔ صرف ایک طبقے کے کیلئے اٹھارہ ارب روپے اور پھر اس سے کئی گنا زیادہ مفت کے راشن پر اور نوکر شاہی کو خوش رکھنے کیلئے خرچ کر رہی ہے‘ اس سے جامعات کیلئے مالی گنجائش نہیں نکلتی۔ ترجیح اعلیٰ تعلیم نہیں۔ کبھی کسی سرکاری جامعہ کے وائس چانسلر کو یہ خیال نہیں آیا کہ اپنے سابق طلبہ کو متحرک کرکے مخیر حضرات سے درخواست کرکے وقف فنڈ قائم کرے‘ بھرتیاں ختم ہوں‘ وسائل کا ضیاع نہ ہو اور خراجات کو کم کیا جائے۔ اس وقت بھی اگر جامعات کے اساتذہ نے آواز بلند نہ کی اور رکاوٹ نہ بنے تو مادیت پرست اور مخصوص طبقے کی نمائندہ انتظامیہ گٹھ جوڑ کرکے جامعات کے قیمتی اثاثوں کو کوڑیوں کے بھاؤ نجی شعبے کے حوالے کر دیں گے۔ پھر جامعات کا مستقبل چھتر پارک سے کچھ مختلف نہیں ہو گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_33241568.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>آزاد کشمیر اور آرٹیکل 257(کنور دلشاد)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/kunwar-mohammad-dilshad/2026-06-19/52149/96663653</link><pubDate>Fri, 19 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/kunwar-mohammad-dilshad/2026-06-19/52149/96663653</guid><description>ایسے ملک میں جہاں انتخابات کے بعد نتائج سے زیادہ ان کی ساکھ زیرِ بحث آتی ہو‘ کیا یہ مناسب نہیں کہ انتخابی نتائج کے فارم 45 اور فارم 47 فوری ویب سائٹ پر جاری کر دیے جائیں اور عوامی اعتراضات موصول ہونے کے بعد فارم 47 پر مزید کارروائی کرتے ہوئے فارم 48 مرتب کیا جائے؟ مزید یہ کہ چیف الیکشن کمشنر قوم کو یقین دلائیں کہ نتائج عوام کے ووٹ کی حقیقی اور مکمل عکاسی کرتے ہیں۔ جس حلقے میں فارم 45 اور فارم 47 کے درمیان تنازع ہو وہاں ریٹرننگ افسران سے حلف لیا جائے۔ اگر ادارے اپنی کارکردگی‘ شفافیت اور دیانت داری پر اتنے ہی مطمئن ہیں جتنا وہ دعویٰ کرتے ہیں تو پھر اس اخلاقی اور عوامی احتساب سے گریز کیوں؟ اصل بحران صرف دھاندلی کا نہیں بلکہ اعتماد کے فقدان کا ہے اور جب اعتماد ختم ہو جائے تو اعداد و شمار نہیں بلکہ کردار گواہی دیتے ہیں۔آزاد کشمیر میں کالعدم قرار دی جانے والی ایکشن کمیٹی بنیادی طور پر ایک پانی بچاؤ تحریک تھی۔ جب نیلم جہلم پراجیکٹ شروع کیا گیا تو یہ کمیٹی آزاد کشمیر کا پانی ضائع ہونے سے بچانے کے مقصد کے تحت بنائی گئی تھی۔ آہستہ آہستہ اس کمیٹی نے اپنے مطالبات میں اضافہ کرنا شروع کر دیا۔ ان کا پہلا مطالبہ یہ تھا کہ انہیں بجلی مہنگی ملتی ہے اس لیے بجلی سستی کی جائے۔ حکومت نے آزاد کشمیر کیلئے بجلی کی قیمت تین روپے فی یونٹ کر دی۔ دوسرا مطالبہ یہ تھا کہ انہیں آٹا سستا ملنا چاہیے جبکہ پورے پاکستان کے مقابلے میں آزاد کشمیر میں آٹا پہلے ہی سب سے سستا دستیاب ہے۔ اس سب کے باوجود گزشتہ سال اس تنظیم کی جانب سے جو احتجاج ہوا‘ اس میں سات پولیس اہلکار شہید کر دیے گئے اور ان کے جسدِ خاکی کی توہین بھی کی گئی۔ اب ایک سال بعد دوبارہ وہی سب شروع ہو چکا ہے۔ کالعدم ایکشن کمیٹی کے حکومت کے ساتھ مذاکرات ہوئے جن میں انہوں نے 38 مطالبات پیش کیے۔ حکومتی نمائندوں‘ جن میں پاکستان مسلم لیگ (ن)‘ پاکستان پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں پر مشتمل مذاکراتی پینل شامل تھا‘ نے کالعدم کمیٹی کو بتایا کہ ان کے 35 مطالبات حکومت پہلے ہی پورے کر چکی ہے جبکہ باقی تین مطالبات پر مذاکرات کا سلسلہ جاری رہے گا۔کالعدم کمیٹی کا ایک مطالبہ یہ ہے کہ پنجاب میں کشمیری مہاجرین کی 12نشستیں ختم کی جائیں حالانکہ ان سیٹوں پر وہی کشمیری الیکشن لڑتے ہیں جو مقبوضہ کشمیر میں ہنگاموں کے دوران ہجرت کر کے پاکستان میں آباد ہوئے تھے۔ ان کا یہ مطالبہ بھی ہے کہ مہاجرین کی کشمیر میں شہریت ختم ہونی چاہیے۔ یہ مطالبات غیر مناسب ہیں اور حکومت نے انہیں مسترد ہی کرنا تھا۔ ایک انتہائی مضحکہ خیز مطالبہ یہ بھی کیا ہے کہ جس خطے کو آزاد کشمیر کہا جاتا ہے‘ اس کے نام کے ساتھ پاکستان کا حوالہ نہیں ہونا چاہیے بلکہ صرف آزاد کشمیر کا نام استعمال کیا جائے۔ حکومت یہ تمام مطالبات آزاد کشمیر کی سپریم کورٹ میں لے گئی۔ اب عدالت چاہے تو ان مطالبات کو قابلِ عمل قرار دے یا یکسر ناقابلِ عمل قرار دے۔ آزاد کشمیر کی سپریم کورٹ نے واضح کر دیا کہ کسی احتجاجی تحریک یا ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے یہ احکامات لاگو نہیں ہو سکتے۔ یہ تمام کام آئینی ترمیم کے ذریعے ہی ممکن ہیں اور ترمیم کرنا منتخب اسمبلی کا کام ہے۔ یعنی یہ تمام مطالبات صرف آزاد کشمیر اسمبلی کے ذریعے ہی قابلِ عمل ہو سکتے ہیں۔ آزاد کشمیر میں اسمبلی موجود ہے جبکہ مطالبات ایک ایسی کمیٹی کر رہی ہے جو عوام کی منتخب کردہ نہیں۔ یہ عناصر شاید مخصوص طاقتوں کے اشارے پر اس حساس خطے میں عدم استحکام پیدا کرنا چاہتے ہیں۔جنرل باجوہ نے غالباً 2020ء میں اسلام آباد میں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے زیرِ اہتمام ایک سکیورٹی کانفرنس منعقد کرائی تھی جس میں &#39;&#39;جیو اکنامکس‘‘ کی نئی اصطلاح متعارف کرائی گئی۔ انہی دنوں پاکستان اور بھارت میں ایک نیا کشمیر فارمولا زیر غور آنے کی بازگشت بھی سنائی دی۔ کہا جاتا ہے کہ جنرل باجوہ نے &#39;&#39;جیو پالیٹکس‘‘ یعنی سیاسی تنازعات کو پسِ پشت ڈال کر جیو اکنامکس پر مشترکہ کام کرنے کا تصور پیش کیا تھا۔ وہ لائن آف کنٹرول یعنی ایل او سی کو ایک مخصوص مدت کے لیے مستقل سرحد کا درجہ دے کر اپنی توجہ معاشی معاملات پر مرکوز کرنا چاہتے تھے۔ پاکستان کی مشرقی سرحد بھارت سے ملتی ہے مگر مستقل سرحد کے برعکس ایل او سی پر کشیدگی ہمیشہ برقرار رہتی ہے۔ اس لیے جنرل باجوہ سرحدی معاملات کو پُرامن بنا کر معیشت پر توجہ دینا چاہتے تھے۔ اس کے تقریباً ایک ماہ بعد اس وقت کے وفاقی وزیر تجارت عبدالرزاق داؤد نے بھارت کے ساتھ تجارت بحال کرنے کا اعلان کر دیا‘ جو کہ اگست 2019ء میں مودی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کو بھارت کا وفاقی علاقہ قرار دینے اور بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 اے ختم کرنے کے متازع فیصلے کے بعد مکمل بند کر دی گئی تھی۔ ایسے حالات میں بھارت سے تجارت کے فیصلے پر شدید تنقید ہوئی اور عمران خان کی کابینہ کے اندر بھی رائے منقسم ہو گئی اور حکومت پر دباؤ بڑھ گیا جس کے نتیجے میں صرف دو دن بعد ہی اس خیال کو ترک کر دیا گیا۔ عام تاثر یہی ہے کہ حکومت کی جانب سے انکار کے اس فیصلے سے قمر جاوید باجوہ خوش نہیں تھے۔ بعد ازاں عمران خان اور قمر باجوہ کے تعلقات میں کشیدگی نے حالات کو مزید تلخ بنا دیا اور قمر باجوہ اپنی خواہش کے باوجود آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سے متعلق اپنے منصوبے پر عملدرآمد ممکن نہیں بنا سکے۔ اپریل 2022ء میں عمران خان اقتدار سے محروم ہو گئے اور ملک میں سیاسی عدم استحکام بڑھتا چلا گیا۔ اس وقت کالعدم کمیٹی ابھی تشکیل کے مراحل میں تھی اور اُس کے عزائم کھل کر سامنے نہیں آئے تھے۔ ساتھ ہی یہ خدشہ بھی موجود تھا کہ اگر اس کمیٹی کے خلاف کوئی سخت اقدامات کیے گئے تو بھارت اس صورتحال سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ لیکن اب یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ کالعدم ایکشن کمیٹی کے مطالبات پاکستان کی سلامتی کے تقاضوں سے خلاف ہیں۔ چنانچہ آنے والے چند ہفتے پاکستان کے لیے بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔پاکستان‘ بالخصوص فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی عالمی سفارتی سطح پر پذیرائی کے بعد بھارت نے آزاد کشمیر میں ایک نیا داؤ کھیلا ہے جس کا حل روایتی طاقت کے استعمال سے ممکن نہیں۔ یقینا ہمارے نظام اور اجتماعی مزاج میں کئی کمزوریاںموجود ہیں اور بھارت انہی سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔ آزاد کشمیر میں جو سیاسی اضطراب اس وقت نظر آ رہا ہے قانون کی حکمرانی‘ انصاف اور برابری ہی ان مسائل کا پائیدار حل فراہم کر سکتی ہے۔ مقتدر حلقوں اور سول انتظامیہ کوآزاد کشمیر کے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ حکومتِ پاکستان کو آئین کے آرٹیکل 257 اور آرٹیکل ایک کی ذیلی شق تین کے تحت آزاد کشمیر کے بارے میں آئینی راستہ نکالتے ہوئے اسے عبوری طور پر پاکستان کے صوبے کا درجہ دے دینا چاہیے۔ کالعدم کمیٹی کے اراکین وہی لوگ ہیں جو کشمیر کے مسئلے کے حوالے سے پاکستان کے بارے میں مثبت جذبات نہیں رکھتے۔ آزاد کشمیر میں ان کی سرگرمیاں اور نعرے ہوں یا بیرونِ ملک‘ خصوصاً برطانیہ میں ان کے ہم خیال افراد‘ یہ سب پاکستان کے بارے میں معاندانہ رویہ رکھتے ہیں۔ اس کا اندازہ کمیٹی کے حالیہ اجتماعات‘ ریلیوں میں ان میں گونجنے والے ریاست مخالف نعروں اور بدزبانی سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_15667905.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>شریکا اک زہر قاتل(اسد طاہر جپہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/asad-tahir-jappa-/2026-06-19/52150/18015645</link><pubDate>Fri, 19 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/asad-tahir-jappa-/2026-06-19/52150/18015645</guid><description>شریکا لفظ شریک سے ماخوذ ہے اور اس کے دائرے میں ہر وہ شخص شامل ہے جو ایک خاندان‘ ذات اور برادری سے تعلق رکھتا ہو اور حسب نسب‘ وراثتی زمین‘ جائیداد اور خاندانی عزت و وقار میں شریک یا حصہ دار ہو۔ ایک ہی ذات برادری اور باپ دادا کی اولاد ہونے کے باعث ایک خاندان کے تمام افراد بنیادی طور پر خود کو برابر سمجھتے ہیں مگر عملی طور پر سب برابر نہیں ہو سکتے۔ ہر شخص کی ذہانت‘ محنت اور صلاحیت دوسروں سے مختلف ہوتی ہیں جس کے باعث عملی زندگی کی دوڑ میں سب برابر نہیں بھاگ سکتے۔ اس کے علاوہ ہر شخص کا اپنا اپنا نصیب ہوتا ہے۔ یہ امر بھی روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ کوئی کسی کو اپنا نصیب نہیں دے سکتا۔ ان تمام عوامل کے باعث ایک ہی خاندان اور والدین کی اولاد میں کامیابی کا معیار اور تناسب مختلف ہو سکتا ہے جس کے باعث سماجی مقام و مرتبہ اور معاشی آسودگی کے معیار بھی مختلف ہو جاتے ہیں۔ یوں حیثیت‘ عزت‘ دولت اور شہرت کے پیمانے یکساں نہیں رہتے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں خدا کی تقسیم پر اختلاف شروع ہو جاتا ہے اور جنہیں دستِ قدرت نے دنیاوی نعمتوں سے مالا مال کر دیا ہو انہیں ان کے اپنے ماننے سے انکار کر دیتے ہیں اور شریکے کا شیش ناگ پھنکارنے لگتا ہے‘ اپنوں کی کامیابی ناگن بن کر ڈسنے لگتی ہے اور نفرت کا زہر انسانی جسم کی رگ و پے میں سرایت کرنے لگتا ہے۔ ایک ہی خاندان اور ذات برادری سے تعلق رکھنے والوں کو برابری کا وہم ہو جاتا ہے اور یہی حسد کی جڑ بن جاتا ہے۔ ایک ہی باپ کی اولاد ہونے کے باعث سب خود کو برابر سمجھتے ہیں اور یہی سب سے خطرناک نکتہ ہے۔ اللہ نے صلاحیت‘ رزق اور نصیب انسانوں میں تقسیم کر دیے ہیں لیکن ہم برادری کے نام پر زبردستی برابری مانگتے ہیں۔ یہ فطری عمل ہے کہ جو زیادہ ذہین ہے وہ آگے نکل جائے گا‘ زیادہ محنت اور لگن سے کام کرنے والا اپنے اردگرد نکمے اور نکھٹو لوگوں کو میلوں پیچھے چھوڑتے ہوئے شاہراہِ زیست پر بہت آگے نکل جائے تو باقی اس کی کامیابی پر ناز اور فخر کرنے کے بجائے اس سے حسد کرنے لگتے ہیں اور دن رات اس کی ٹانگیں کھینچ کر اسے گرانے کے منصوبے بناتے رہتے ہیں۔ یوں شریکے کی لت میں مبتلا خدا کی تقسیم کے منکرین بھی ہیں اور حاسدین بھی جو ہمہ وقت خود سے یہ کہتے رہتے ہیں کہ اسے ہی سب کچھ کیوں ملا‘ اور مجھے یہ کیوں نہیں مل سکا۔ تو گویا وہ لاشعوری طور پر یہ کہہ رہے ہوتے ہیں &#39;&#39;یا اللہ! تیری تقسیم غلط ہے‘‘۔ نعوذ باللہ! اس لیے نبی کریمﷺ نے حسد کو نیکیاں کھانے والی آگ کے مترادف قرار دیا ہے۔ اکثر اہلِ علم نے لکھا کہ حسد شرکِ خفی کی ایک شکل ہے۔شریکا ہماری معاشرتی زندگی میں ایک تلخ حقیقت اور جان لیوا مرض بن چکا ہے۔ شریکے کا مریض ہمہ وقت دوسرے کی نعمت‘ کامیابی اور خوشی چھننے کی دعا بھی کرتا ہے اور ہر ممکن کوشش بھی۔ یہ زہر ہمارے خونی رشتوں سے لے کر برادری اور مقامی وسیب کی سانجھ کے خدو خال میں سرایت کر چکا ہے۔ خاندانی سطح پر ساس بہو‘ دیورانی جیٹھانی اور بہن بھائیوں کے درمیان مسابقت اکثر اوقات مخاصمت میں بدل جاتی ہے جس کے نتیجے میں گھر ٹوٹ جاتے ہیں اور خونی رشتے عمر بھر کیلئے چھوٹ جاتے ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق طلاق کی 30 فیصد وجوہات میں قریبی رشتہ داروں کا عمل دخل شامل ہوتا ہے جنہیں اس شادی سے شدید تکلیف محسوس ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں معاشرتی سطح پر ٹانگیں کھینچنا ہمارا قومی کھیل بن گیا ہے۔ شہروں کی نسبت دیہی علاقوں میں شریکے کا زہر زیادہ پھیل چکا ہے۔ اگر کوئی اپنی شبانہ روز اَنتھک محنت سے کامیابی حاصل کر لے یا ترقی کر جائے تو اس کے اپنے اسے دعا نہیں دیتے بلکہ اسے گرانے اور نقصان پہنچانے کی سازش کرتے رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں لوگ کامیاب ہو کر اپنا گاؤں چھوڑ دیتے ہیں اور ہمیشہ کیلئے شہروں کے باسی بن جاتے ہیں۔ اکثر اوقات یہ دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کہ ایک کسان محنت کرتے ہوئے خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو تو اس کے شریک اس کی پکی فصل کو آگ لگا دیتے ہیں۔ اسی طرح اب جانوروں کو زہر دینے کا مذموم دھندہ بھی چل نکلا ہے۔ اسی طرح کاروباری لحاظ سے ایک شخص ترقی کرتا نظر آئے تو دوسرے اس کے خلاف منفی پراپیگنڈا شروع کر دیتے ہیں۔ اگر کوئی شخص مقام و مرتبہ پا کر معاشرے میں باعزت بن جائے تو اس کے شریک سارا دن لوگوں کے سامنے اس کی عیب جوئی کرتے نہیں تھکتے۔ شریکا دراصل حسد ہی کی ایک شکل ہے اور روحانی کینسر ہے۔ شریکا دراصل جہالت کی ایک بھیانک تصویر ہے اور ہمارے معاشرے میں لوگوں کی پسماندگی کی ایک بڑی وجہ بھی ہے۔ ہمارے ہاں ایک کی ترقی دوسرے کی توہین سمجھی جاتی ہے۔ اس لیے کوئی بھی کسی دوسرے کو خود سے بڑا نہیں ہونے دیتا اور نہ ہی کسی کی خوشی اور خوشحالی برداشت کی جاتی ہے۔ لوگ اپنا زیادہ تر وقت‘ توانائی اور صلاحیت اپنی بہتری اور ترقی کے بجائے کامیاب ہونے والے افراد کی راہوں میں کانٹے بچھانے میں ضائع کر دیتے ہیں۔ دوسروں کا چہرہ سرخ دیکھ کر اپنا منہ تھپڑوں سے لال کر لیتے ہیں۔ شریکوں کو گراتے ہوئے بسا اوقات لوگ خود کو برباد کر لیتے ہیں جس کا انہیں ادراک ہوتا ہے اور نہ کوئی ملال۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں یونیکورن‘ یعنی بلین ڈالر سٹارٹ اپس نہیں بنتے کیونکہ چند لوگ مل کر ہر باصلاحیت فرد کو گرانے پر تل جاتے ہیں۔ حالانکہ اگر دیکھا جائے تو جب برادری کا کوئی بچہ سکالرشپ لے تو خاندان کے ساتھ ساتھ پورے گاؤں کی عزت بڑھتی ہے۔ اسی طرح جب کوئی کسان جدید طریقہ اپنائے اور اپنی پیدوار بڑھانے میں کامیاب ہو جائے تو اس کے تجربے سے فائدہ اٹھا کر پورے علاقے کی پیداوار بڑھ سکتی ہے۔ محض میں کی جگہ ہم کی سوچ آ جائے تو شریکا خوشحالی اور ترقی کا موجب بن سکتا ہے اور رکاوٹ نہیں رہتا۔ اب سوشل میڈیا کی چمک دمک اور مصنوعی نمود و نمائش نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے اور شریکوں کے ظاہر و باطن میں مزید آگ بھڑکا دی ہے۔ ہمارے بیرونِ ممالک میں بسنے والے پاکستانیوں نے اپنی محنت کی کمائی واپس بھیج کر اپنے آبائی علاقوں میں عالیشان محلات نما گھر اور ڈیرے تعمیر کیے‘ مہنگی گاڑیاں خرید کر چودھراہٹ کی ایک نئی دوڑ شروع کر دی ہے۔ اگر آپ میرپور‘ گجرات اور منڈی بہاء الدین اور نواحی علاقوں میں جائیں تو وہاں شریکے کے اظہار کو عملی طور پر دیکھا جا سکتا ہے کیونکہ ان اضلاع کے متعدد افراد برطانیہ اور دیگر مغربی ممالک میں آباد ہیں۔ اب ان کی شادی بیاہ کی تقریبات میں غیرملکی کرنسی کا بے دریغ استعمال ہونے لگا ہے اور اسے قصداً سوشل میڈیا پر وائرل کیا جاتا ہے۔ یہ سب کچھ شریکوں کو آگ لگانے کیلئے ایندھن کا کام دیتا ہے۔ ہاں مگر شریکے کے کچھ فوائد بھی ہیں۔ شریکوں کی دیکھا دیکھی لوگوں میں آگے بڑھنے کی تڑپ پیدا ہوتی ہے اور یوں ترقی کی وہ منازل بھی طے کر جاتے ہیں جو شریکوں کی عدم موجودگی میں شاید ممکن نہ ہو پاتیں۔ دوسرے لفظوں میں اب سوشل میڈیا نے شریکے کے زہر کو گاؤں سے نکال کر پوری دنیا میں پھیلا دیا ہے۔ پہلے لوگ اپنے چچا کے بیٹے کی ترقی سے جلتے تھے‘ اب ایلون مسک سے جلتے ہوں گے۔ یوں شریکے کا دائرہ عمل بڑا ہو گیا ہے مگر زہر وہی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_34710710.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کنٹینر کے اوپر یا اندر(آصف عفان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/asif-afan-/2026-06-19/52151/21485621</link><pubDate>Fri, 19 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/asif-afan-/2026-06-19/52151/21485621</guid><description>نئے مالی سال کا پہلا بجٹ آچکا ہے جبکہ ننھے مُنے چھوٹے موٹے اور سپلیمنٹری بجٹ سال بھر آتے رہیں گے‘ یعنی بڑا دھماکا ہر سال جون کے مہینے میں طے ہے جبکہ چھوٹے موٹے ڈرون حملے حسبِ ضرورت جاری رہیں گے۔ بجٹ کو عوام دوست ثابت کرنے کیلئے وہی روایتی اور گھسے پٹے حربے آزمانے کے علاوہ جہاں اقلیتی اشرافیہ کو مزید مستحکم کرنے کی بدعت کو دوام بخشا ہے وہاں رعایا کیلئے حالاتِ بد کو بدترین کرنے کے سبھی اسباب جوں کے توں رکھنے کا بندوبست بھی کر ڈالا ہے۔ تعلیم اور صحت کے ساتھ بجٹ میں وہی سلوک کیا گیا جس کی جھلک طرزِ حکمرانی میں بخوبی دیکھی جا سکتی ہے۔ حکومتِ پنجاب نے گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں نئے مالی سال میں صحت عامہ کی مد میں 500ارب 62کروڑ روپے مختص کیے ہیں جو رواں مالی سال کے مقابلے میں 130ارب روپے کم ہیں۔ اس تناظر میں پنجاب کے فی کس عوام کے حصہ میں صحت عامہ کی مد میں تقریباً 3920 روپے سال بھر کے لیے آتے ہیں۔ اسی طرح تعلیم کی پتلی حالت مزید پتلی کرنے کے لیے 750ارب روپے کا بجٹ تجویز کیا گیا ہے‘ یاد رہے گزشتہ بجٹ میں یہ رقم 812 ارب روپے تھی۔ اس طرح تعلیمی مد میں تقریباً 5873 روپے سالانہ فی کس بنتے ہیں۔ ان دونوں اہم ترین شعبوں میں بھاری کٹوتیاں حکومتی ترجیحات کا پرچہ آؤٹ کرنے کے لیے کافی ہیں۔ تاہم امن و امان کے نام پر وی وی آئی پی شخصیات کی نقل و حمل اور تحفظ کیلئے خصوصی اقدامات اور خطیر فنڈز بھی مختص کیے گئے ہیں۔ البتہ صحت کیلئے &#39;&#39;ھوالشافی‘‘ تعلیم کیلئے &#39;&#39;ربّ زدنی علما‘‘ خوراک کیلئے &#39;&#39;واﷲ خیر الرازقین‘‘ اور امن و امان کیلئے &#39;&#39;فی امان اﷲ‘‘ جیسے وظیفے پڑھنے پر قطعی کوئی ممانعت نہیں۔ ایسے وظائف سے رحمتِ خداوندی کی امید تو بجا طو رپر کی جاسکتی ہے لیکن حکومت کی طرف سے کسی خیر کی توقع سراسر اپنی ذمہ داری پر وابستہ کرنی چاہیے۔اُدھر حکومت عوام دوست اور تاریخی بجٹ میں مصروف رہی اِدھر سانحہ چکوال میں ناحق ماری جانے والی آسٹریلیا پلٹ نو سالہ ہانیہ کی پوسٹمارٹم رپورٹ آگئی ہے‘ جس میں اس کے جگر‘ دل اور پھیپھڑوں سمیت دیگر اندرونی اعضا چھلنی ہونے کی نشاندہی ہو گئی ۔ اسی دوران آسٹریلوی وزیراعظم نے ہانیہ کے قتل کی ایسی صاف و شفاف تحقیقات کامطالبہ کیا ہے جسے دنیا تسلیم کرے۔ آسٹریلوی وزیر اعظم کو کیا معلوم کہ ہمارے حکمران کس قدر اہم امور میں مصروف ہیں۔ ہمارے ہاں تو ایسے واقعات معمول ہیں۔ حکومت کو بجٹ کی منظوری اور حکمرانی کے دیگر جوہر دکھانے سے فرصت ملے تو اس خاندان کی طرف توجہ مرکوز کرے ۔ البتہ سی سی ڈی کے کمانڈر ظلم کا شکار ہونے والے خاندان کے گھر ضرور گئے اور اندراجِ مقدمہ سمیت دیگر پورے کیے جانے والے قانونی تقاضوں بارے آگاہ کیا اور انصاف کی فراہمی کی بھی یقین دہانی کرائی۔سی سی ڈی کو اپنی ساکھ اور شہرت کا مان رکھنا ہوگا۔ خیال رہے کہ یہ مان کہیں ٹوٹ نہ جائے۔بجٹ کے موسم میں فیصل واوڈا نے ایک بار پھر لنکا ڈھانے کا بیڑا اُٹھا لیا ہے۔ سبھی وزرائے اعلیٰ کے آئندہ عزائم و اہداف کے علاوہ کرپشن کہانیاں بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ سبھی ایک کنٹینر کے اوپر ہوں گے یا کنٹینر کے اندر ہوں گے۔ دور کی کوڑی لانے والے فیصل واوڈا کی دبنگ انٹری کو 28ویں ترمیم سے اس طرح منسوب کر رہے ہیں کہ برسرِ اقتدار دو بڑی اتحادی جماعتیں مل کر تاخیری حربوں کے ساتھ ترمیم کھٹائی میں ڈالنے کیلئے کوشاں ہیں۔ تبھی تو وزرائے اعلیٰ سے لے کر وزارتوں میں جاری کرپشن کہانیاں ریکارڈ کی طرح سنائی اور بجائی جا رہی ہیں۔ کھلے عام دیے جانے والے پیغام میں واضح کیا جا رہا ہے کہ 28ویں ترمیم پر کسی گیم یا سیاست کی صورت میں فائلوں میں بند کالے کرتوت ازخود نکلنا شروع ہو جائیں گے اور دیکھتے ہی دیکھتے ان سبھی کی کالک چلتی سرکار پر یوں مل دی جائے کہ مزید چلنا محال ہوتا چلا جائے گا۔دوسری طرف سہیل وڑائچ صاحب نے اس بار خطرے کی گھنٹی کے بجائے گھنٹا بجا ڈالا ہے۔ پہلے کالم پر شدید ردِ عمل کے بعد جوابِ شکوہ کے طور پر اپنے مخصوص اسلوب میں اضافی تکلف کے ساتھ پہلا کالم بڑی مہارت سے دہرایا‘ یعنی بھگو کر مارنے سے پہلے کالم کی سنگینی اور خبریت میں مزید اضافہ کر دیا۔ وڑائچ صاحب الفاظ کو اس قدر کھلا کُرتا پہناتے ہیں کہ بوقتِ ضرورت آسانی سے گھمایا بھی جا سکتا ہے جبکہ ہمارے بعض اناڑی الفاظ پر اس قدر چست قبا چڑھاتے ہیں کہ گھومنا تو درکنار ہلنے کی اجازت بھی نہیں ملتی۔ البتہ وزیر باتدبیر سے اختلافات کو ہوا دینے والے ہوں یا بغلیں بجانے والے سبھی خاطر جمع رکھیں اور آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا؟ واقفانِ حال بخوبی جانتے ہیں کہ بظاہر دکھائی دینے والی لڑائی کسی مناسب وقت پر صلح صفائی میں تبدیل ہو سکتی ہے جبکہ نورا کشتی کے امکان کو بھی قطعی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ راج نیتی میں تھیوریز کی لانچنگ سے لے کر سکرپٹڈ اختلافات بھی بوقتِ ضرورت چلتے اور خوب بکتے ہیں۔ گلے ملتے ہی گِلے بھی ایسے رفو چکر ہوتے ہیں جیسے کبھی کوئی گلہ تھا ہی نہیں‘ دکھائی دینے والی اکثر لڑائیاں لڑائی نہیں ہوتیں۔ شریکِ اقتدار حکومتی اتحاد کو ہی دیکھ لیجئے‘ ان کی لڑائیاں مفادات کی ہوتی ہیں تو دوستی اہداف کی‘ تاہم ایسے کالموں پر مستقبل کے خاکے ضرور بنائیے لیکن پس منظر اور ماضی کے حوالے ہرگز نظرانداز نہ کیجئے۔ آندھی کی طرح چلنے والے ان کالموں نے سوشل میڈیا اور ٹی وی ٹاک شوز میں خوب رونق لگا رکھی ہے‘ ریٹنگ وغیرہ بھی خوب آرہی ہے لیکن ہمارے ہاں ایسی سچوایشن کو ڈی کوڈ کرنے کا رواج اور ہنر کم ہی دیکھنے میں آیا ہے۔ بات کالم کی چل نکلی ہے تو &#39;بٹ صاحب‘ کے کالم کا ذکر بھی کرتا چلوں جس پر سرکاری بابوؤں کی ایک تنظیم نے سائبر کرائم ونگ کو درخواست دی ہے کہ &#39;&#39;بیورو کرپٹ‘‘ کا لفظ استعمال کرنے پر موصوف کالم نگار کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔ کالم نگار نے تو اس اصطلاح سے پہلے &#39;کچھ‘ کا لفظ لگا کر راستہ چھوڑ دیا تھا مگر بقول شاعر:وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا وہ بات ان کو بہت ناگوار گزری ہے توپوں کا رُخ خود اپنی طرف موڑنے نے نہ صرف مذکورہ کالم کو ٹاپ ٹرینڈ بنا ڈالا بلکہ اب کرپشن کی داستانیں بھی کھلنا شروع ہو چکی ہیں‘ نیب کیسز‘ دہری شہریت اور پلی بارگین کے گڑے مردے بھی نکل کر سامنے آرہے ہیں۔ تعجب ہے ان افسران کی بے خبری پر کہ اسمبلی فلور پر وزیر دفاع خواجہ آصف نے کچے چٹھے کھولنے سے لے کر بیرونِ ممالک کالا دھن اور جائیدادوں کا اعلانیہ ذکر کیا تھا‘ اس وقت تو کسی کو ہوش نہیں آیا‘ کسی کو سائبر کرائم کا رستہ سجھائی نہ دیا‘ شاید وزیر باتدبیرکے خلاف کسی درخواست کی جرأت ہی نہ ہوئی۔ </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_65560900.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>دو پھول اور گلشن(امیر حمزہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ameer-hamza/2026-06-19/52152/94901922</link><pubDate>Fri, 19 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ameer-hamza/2026-06-19/52152/94901922</guid><description>اللہ تعالیٰ نے اپنی آخری الہامی کتاب قرآن مجید میں ایک سورت نازل فرمائی جس کا نام اپنے صفاتی نام پر &#39;&#39;الرحمن‘‘ رکھا ۔ اللہ تعالیٰ کے ذاتی نام اللہ کے بعد جو صفاتی نام ہیں ان میں سرفہرست &#39;&#39;الرحمن‘‘ ہے۔ یعنی صفاتی اسمائے گرامی میں پہلا نام &#39;&#39;الرحمن‘‘ ہے۔ اس اسم گرامی کی تفسیر اللہ کے رسول ﷺ خود فرماتے ہیں۔ پھر یہ جو تفسیری حدیث ہے‘ حدیث کی اقسام میں یہ سرفہرست یعنی ٹاپ پر ہے۔ جی ہاں! حدیث کی اس نمبر وَن قسم کو &#39;&#39;حدیث قدسی‘‘ کہا جاتا ہے۔ حدیث قدسی وہ ہوتی ہے جس کے الفاظ کا الہام اللہ کی طرف سے حضورﷺ کے مبارک دل پر ہوا۔ &#39;&#39;حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے اللہ کے رسولﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میں رحمن ہوں اور (یہ جو باہمی رشتہ داریاں ہیں جسے) &#39;&#39;رحم‘‘ (کہا جاتا ہے‘ اس لفظ) کو میں نے اپنے نام (رحمان) سے نکالا ہے۔ جو شخص اس رشتہ داری کو ملا کر رکھے گا میں اسے اپنے ساتھ ملا کر رکھوں گا اور جو شخص اس کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا میں اس کے پُرزے اڑا کر رکھ دوں گا‘‘۔ (سنن ابو دائود:1694، سندہٗ صحیح)سورۃ الرحمن کی آیت: 12 میں اللہ تعالیٰ نے اُس اناج کی بات کی ہے جسے انسان کھاتے ہیں اور ان کی زندگی برقرار رہتی ہے۔ اس کو قرآن نے &#39;&#39;حَب‘‘ کہا ہے؛ یعنی گندم‘ جو‘ چاول‘ چنے وغیرہ کہ جن کا دانہ غلاف میں لپٹا ہوتا ہے۔ اس کی جمع &#39;&#39; حبوب‘‘ ہے۔ مگر مذکورہ آیت میں حب کے لفظ کو لا کر جمع کا مطلب لیا گیا ہے۔ اسی آیت کا اگلا اور آخری لفظ &#39;&#39;الریحان‘‘ ہے۔ اس کی جمع &#39;&#39;ریاحین‘‘ ہے۔ یہاں بھی واحد بول کر مراد جمع لی گئی ہے۔ اس کا معنی طرح طرح کی دل پسند خوشبوئیں دینے والے خوبصورت پھول ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ حضورﷺ نے اپنی مبارک زندگی میں کبھی پھولوں کا ذکر کیا ہو‘ اگر کسی کے علم میں ہو تو مجھے ضرور آگاہ فرمائے؛ البتہ ایک بار آپﷺ نے پھولوں کا ذکر فرمایا اور وہ بھی صرف دو پھولوں کا۔ صحیح بخاری میں ہے &#39;&#39;ھُمَا ریحانتای من الدنیا‘‘ یہ دونوں (حضراتِ حسن و حسین کریمین رضی اللہ عنہما) دنیا میں میرے دو خوشبودار پھول ہیں‘‘۔ عربی زبان کے قواعد میں واحد جمع میں واحد کے بعد جوڑا اور پھر جمع کا لفظ بولا جاتا ہے۔ جوڑے یعنی دو کے لیے &#39;&#39;تثنیہ‘‘ کا لفظ آتا ہے۔ اللہ کے رسولﷺ نے اس حدیث شریف میں تثنیہ کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ بات واضح ہے کہ حضورﷺ کے دو پھول ہیں اور سب کو تلقین ہے کہ دنیا والو! ان پھولوں کا خیال کرنا‘ انہیں کہیں مسل نہ دینا‘ وگرنہ تم دنیا و آخرت میں مسلے جائو گے۔عظیم انصاری خاتون حضرت اُم سلیم رضی اللہ عنہا‘ جو مشہور خادمِ رسول صحابی حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی والدہ اور رشتے میں حضورﷺ کی خالہ لگتی تھیں‘ وہ بیان کرتی ہیں کہ حضورﷺ انصار کے گھروں میں تشریف لے جایا کرتے تھے تو ان کے گھر میں بھی تشریف فرما ہو جاتے تھے۔ ایک بار آپﷺ تشریف لے گئے تو تھوڑے آرام کے لیے لیٹ گئے۔ حضرت اُم سلیم رضی اللہ عنہا نے ایسا گدّا بچھایا جس کا غلاف صاف ستھرے چمڑے کا تھا۔ گرمیوں کا موسم تھا‘ حضور ﷺ کا پسینہ مبارک گدے کے وسط میں ایسی جگہ اکٹھا ہو گیا جہاں قدرے نشیب تھا۔ حضرت اُم سلیم رضی اللہ عنہا نے دیکھا تو اس پسینے مبارک کو ایک شیشی میں بھر لیا۔ صحیح بخاری اور حدیث کی دیگر کتب میں ہے کہ حضورﷺ کی آنکھ مبارک کھلی تو آپﷺ نے حضرت اُم سلیمؓ کے ہاتھ میں وہ شیشی دیکھی تو پوچھا کہ آپ یہ کیا کر رہی ہیں؟ تو عظیم صحابیہؓ نے کہا: اے اللہ کے رسولﷺ! آپ کے پسینے کو ہم لوگ اپنی خوشبوئوں میں ملاتے ہیں اور استعمال کرتے ہیں۔ آپﷺ کا پسینہ بذاتِ خود زبردست خوشبو ہے۔ جی ہاں! جس طرح ہم لوگ اعلیٰ ترین خوشبو جو مہنگی اور نایاب ہوتی ہے‘ اس کے تھوڑے سے حصے کو کسی معمولی خوشبو والے تیل میں ملا دیتے ہیں تو اعلیٰ ترین خوشبو سے وہ تیل مزید خوشبودار ہو جاتا ہے۔ حضورﷺ کے پسینہ مبارک میں کستوری سے کہیں بڑھ کر نایاب خوشبو تھی۔ اس کا ایک قطرہ بھی دوسری شیشی میں پڑ جاتا تو ساری شیشی خوشبودار بن جاتی۔ سوچتا ہوں حضرت اُم سلیم رضی اللہ عنہا نے شیشی بھر لی ہو گی‘ نجانے کتنی انصاری خواتین نے اپنی اپنی شیشیوں میں ایک ایک قطرہ حضرت اُم سلیمؓ سے لیا ہوگا۔حضرات حسن و حسین کریمین رضی اللہ عنہما اپنے نانا جان کے جگر گوشے ہیں۔ حضورﷺ سجدے میں جاتے ہیں تو آپﷺ کی کمر مبارک پر سوار ہو کر کھیلتے ہیں۔ حضورﷺ سجدہ لمبا کر دیتے ہیں۔ آپﷺ جمعہ کا خطبہ ارشاد فرماتے ہیں تو حضرت فاطمۃ الزہرا بتول رضی اللہ عنہا اپنے دونوں جگر گوشوں کو تیار کر کے مسجد میں بھیج دیتی ہیں۔ دونوں ہنستے کھیلتے اپنے نانا جان کی طرف بڑھنا شروع کر دیتے ہیں۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین دونوں کو دیکھتے ہیں تو خوش ہو کر جگہ دیتے چلے جاتے ہیں۔آج مسجد نبوی شریف میں عجب منظر ہے۔ فرشتے بھی خطبہ جمعہ سننے آئے ہیں۔ عرش والا رب تعالیٰ بھی یہ منظر دیکھ رہا ہے۔ حضورﷺ منبر سے اترتے ہیں‘ آگے بڑھتے ہیں۔ اللہ اللہ! ان دو پھولوں کی خاطر سجدہ بھی لمبا اور حضورﷺ منبر پر تشریف فرما ہوں تو منبر چھوڑ دیا۔ اے کرسی والو! ذرا غور کرنا! حضورﷺ جنت کے سرداروں کے استقبال میں منبر چھوڑ کر آگے بڑھتے ہیں اور دونوں کو لے کر منبر پر بیٹھ جاتے ہیں۔ اللہ کی قسم! یہ ایک پیغام تھا اس ملعون عاص بن وائل کے لیے جس نے حضورﷺ کے صاحبزادے کی وفات پر مکہ میں کہا تھا کہ محمد (ﷺ) کا نام لیوا اب کوئی نہیں رہا۔ اسی بدبخت کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے آسمانوں سے سورۃ الکوثر کا نزول فرمایا اور واضح کر دیا کہ &#39;&#39;ان شانئک ھو الابتر‘‘۔ بے شک آپ کا دشمن اور آپ سے بغض رکھنے والے ہی بے نام و نشان رہیں گے۔ یہ تو ختم نبوت کا تقاضا تھا کہ حضورﷺ کا صلبی بیٹا باقی نہ رہے مگر حضرات حسن و حسین کریمین رضی اللہ عنہما کو اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری رسولﷺ کے بیٹے قرار دیا۔ آج دنیا میں عترتِ رسول‘ ساداتِ مصطفی لاتعداد ہیں۔ جی ہاں! اللہ کے رسولﷺ اپنے ان دونوں جگر گوشوں کو چومتے تھے‘ حسن و حسین کریمین رضی اللہ عنہما کی خوشبو کو سونگھتے تھے۔الحمدللہ! مسلمانانِ پاکستان اللہ کے رسول کے ان دونوں پھولوں سے محبت کرنے والے ہیں۔ ان دونوں پھولوں سے صحابہ کرامؓ بھی محبت کرتے تھے۔ ہم ان سب کے ماننے والے اور ان سے محبت کرنے والے ہیں۔ حضورﷺ کی ازواجِ مطہرات‘ مومنوں کی مائیں دونوں پھولوں سے بے پناہ محبت کرتی تھیں۔ یہ عظیم مائیں‘ صحابہ کرام‘ اہل بیت اطہار رضی اللہ عنہم‘ یہ سب ہمارے دلوں کا سرور ہیں‘ آنکھوں کا نور ہیں۔ سب کی نسبتیں اس ہستی کے ساتھ ہیں جو ہم سب کے لیے گرامی قدر ہے‘ یعنی حضور محمد مصطفیﷺ۔نئے اسلامی سال کا آغاز ہوا ہے۔ محرم الحرام کا حرمت والا مہینہ آیا ہے۔ آئیے! باہم سب حرمتوں کے پاسبان بن جائیں۔ پاکستان کو عظیم سے عظیم تر بنانے کا کردار ادا کریں۔ پاک وطن کی قیادت نے جس طرح دنیا کو جنگ کے بھنور سے نکالا ہے‘ مشرق وسطیٰ میں بدامنی کو تالا لگایا ہے‘ اسی چابی کو اپنی عزت اور فخر قرار دے کر پاک وطن کو پُرامن بنائیں۔ معاشی خوشحالی کی سیڑھیوں کے زینے دکھائی دینے لگ گئے ہیں۔ ان پر اکٹھے ہو کر قدم رنجہ فرمائیں۔ یا اللہ! پاک وطن کو اتحاد و یگانگت کا گلشن بنا دے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_68712266.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>