<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>ڈانواں ڈول معیشت(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-14/11190</link><pubDate>Thu, 14 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-14/11190</guid><description>سٹیٹ بینک آف پاکستان کی رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے حوالے سے جاری کردہ رپورٹ ملکی معیشت کا جامع جائزہ پیش کرتی ہے۔ اس رپورٹ میں عارضی استحکام کا اعتراف بھی ہے اور درپیش سنگین اندرونی وبیرونی خطرات کی نشاندہی بھی۔ مرکزی بینک نے واضح کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی پاکستان کے میکرو اکنامک منظرنامے کیلئے بڑا بیرونی خطرہ بن کر آئی ہے۔ عالمی سطح پر بڑھتی بے یقینی‘ بین الاقوامی سپلائی چین میں خلل اور تیل سمیت بنیادی اشیا کی قیمتوں میں ممکنہ  اضافہ ملکی معیشت کے استحکام کو ٹھیس پہنچا سکتا ہے۔ اس بحران کا خلیجی ممالک سے پاکستان آنیوالی ترسیلاتِ زر پر براہِ راست اثر کا بھی خدشہ ہے۔ گزشتہ پانچ برس کے دوران کُل ترسیلاتِ زر میں خلیجی تعاون کونسل کے ممالک کا حصہ تقریباً 55 فیصد رہا مگر تیل و گیس کے سپلائی روٹ میں رکاوٹوں اور خلیجی ممالک میں معاشی امکانات محدود ہونے سے کارکنوں کی طلب میں کمی آئی ہے‘ جس سے پاکستان کی افرادی قوت اور خلیجی ممالک سے پاکستانیوں کی بھیجی جانے والی رقوم میں کمی کے خدشات ہیں۔

ترسیلاتِ زر ملکی زرِمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دینے میں کلیدی کردار ادا کرتی آئی ہیں‘ لہٰذا خلیج میں اقتصادی سرگرمیاں متاثر ہونے سے پاکستان کا کرنٹ اکائونٹ خسارہ خطرناک حد تک بڑھ سکتا ہے۔ ششماہی رپورٹ کا ایک اہم پہلو مہنگائی اور شرح نمو کا تخمینہ ہے۔ سٹیٹ بینک کے مطابق رواں مالی سال کیلئے مہنگائی کی شرح طے شدہ ہدف کی بالائی حد (5تا 7 فیصد )سے بھی زیادہ رہنے کا خدشہ ہے‘ البتہ جی ڈی پی کی شرح نمو مقررہ تخمینے (3.75 تا 4.75) کی نچلی سطح کے قریب رہنے کی توقع ہے۔ پہلی ششماہی میں شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔ اگرچہ کٹھن معاشی حالات میں یہ رفتار اطمینان بخش نہ سہی امید افزا ضرور ہے مگر تلخ حقیقت یہ ہے کہ اس رفتار سے آگے بڑھتی معیشت بھی عوام کو ریلیف اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے حوالے سے کوئی نوید سناتی نظر نہیں آتی‘ کجا یہ کہ مستقبل کے حوالے سے خطرات کہیں شدید ہیں۔ پہلی ششماہی میں معاشی اشاریے نسبتاً مثبت رہے مگر خرابی کے دہانے بھی اب تک وہیں موجود ہیں۔
اقتصادیات کا ایک اصول ہے کہ جب نمو سست اور افراطِ زر بلند ہو تو معیشت جمود کا شکار ہو جاتی ہے جس سے ٹیکس وصولی اور صنعتی پیداوار براہِ راست متاثر ہوتی ہے۔ ٹیکس اہداف کو پورا کرنا پہلے ہی ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ ٹیکس ریونیو ہدف کے حصول کیلئے حکومت توانائی پر عائد بالواسطہ ٹیکسوں کی شرح بڑھا رہی ہے۔ دوسری جانب مالی سال کے پہلے نو ماہ میں بجٹ خسارہ 856ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔ اگرچہ صوبوں کے سرپلس کی وجہ سے اسے کم کر کے 541 ارب تک لانے میں مدد ملی ہے مگر جولائی تا مارچ 14ہزار 799ارب روپے آمدن کے مقابل 15 ہزار 665 ارب روپے سے متجاوز اخراجات مستقبل کے چیلنجز کو زیادہ سخت اور مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں ملکی مصنوعات کی کمزور مسابقت اور برآمدات میں گراوٹ کا مسئلہ بھی گمبھیر ہوتا جا رہا ہے۔ توانائی کی بڑھتی قیمتوں‘ مہنگے خام مال اور جدید ٹیکنالوجی کی عدم دستیابی کے باعث برآمدی صنعتیں علاقائی حریفوں کا مقابلہ کرنے سے قاصر ہیں۔
ایسے میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی نے غیر ملکی امداد اور بیرونی قرضوں پر انحصار مزید بڑھا دیا ہے۔ یہ عارضی حل پائیدار معاشی استحکام کے تقاضوں کے منافی ہے۔ یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ غیر ملکی قرضے‘ دوست ممالک کے ڈیپازٹس اور بیل آؤٹ پیکیجز معیشت کو دستاویزی شکل دینے‘ برآمدات کو بڑھانے اور نان ٹیکس شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے جیسے اقدامات کا متبادل نہیں بن سکتے۔ اگر اب بھی طویل مدتی اور ناگزیر فیصلوں سے چشم پوشی کی جاتی رہی تو ملکی معیشت عبوری استحکام اور خطرات کے بیچ جھولتی رہے گی اور عالمی منظر نامے پر کوئی بھی اتھل پتھل کسی بھی وقت ملکی اقتصادیات کے لیے بڑا خطرہ ثابت ہو سکتی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>گیس پر سبسڈی ختم؟(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-14/11189</link><pubDate>Thu, 14 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-14/11189</guid><description>حکومت نے گیس صارفین کو دی جانے والی تقریباً 140 ارب روپے کی کراس سبسڈی کو مرحلہ وار ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔  اس اقدام کو گیس سیکٹر میں اصلاحات‘ مالی نظم و ضبط اور صنعتوں پر اضافی بوجھ کم کرنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے مگر اس کے سب سے زیادہ اثرات گھریلو صارفین پر پڑیں گے جو پہلے ہی معاشی مشکلات سے دوچار ہیں۔ موجودہ نظام کے تحت کم گیس استعمال کرنیوالے گھریلو صارفین کو کم نرخوں پر گیس فراہم کی جاتی تھی۔ اب حکومت اس نظام کو ختم کرکے تمام صارفین کیلئے یکساں اوسط گیس ٹیرف نافذ کرنا چاہتی ہے جس سے کم آمدنی والے گھریلو صارفین کے بلوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔

عوام پہلے ہی مہنگی بجلی‘ مہنگی گیس‘ مہنگی پٹرولیم مصنوعات اور اشیائے خورونوش کی مسلسل بڑھتی قیمتوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ ایسے میں اگر کراس سبسڈی بھی ختم ہو گئی تو لاکھوں خاندانوں کیلئے اپنے ماہانہ اخراجات پورے کرنا مزید دشوار ہو جائے گا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ توانائی کے شعبے میں اصلاحات کا تمام تر بوجھ صرف صارفین پر ڈال دینا مسئلے کا پائیدار حل نہیں۔ حکومت کو گیس کی ترسیل میں نقصانات‘ چوری‘ نااہل انتظامی ڈھانچے اور گردشی قرضوں کی بنیادی وجوہات پر بھی توجہ دینا ہوگی۔ ضروری ہے کہ حکومت توانائی اصلاحات کے ساتھ ساتھ عوامی ریلیف کو بھی اپنی اولین ترجیح بنائے۔ شہریوں کو بنیادی ضروریاتِ زندگی قابلِ برداشت قیمتوں پر فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے تاکہ وہ باعزت طریقے سے جسم و جان کا رشتہ برقرار رکھ سکیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>منشیات فروشوں کا چیلنج(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-14/11188</link><pubDate>Thu, 14 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-14/11188</guid><description>کراچی میں ڈرگ نیٹ ورک سے جڑے حالیہ کیس نے اس خوفناک حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے کہ منشیات کا کاروبار اب اندھیروں اور خفیہ ٹھکانوں تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ کھلے عام ریاستی رِٹ کو چیلنج کررہا ہے۔ سب سے تشویشناک امر یہ ہے کہ انسدادِ منشیات اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس ناسور کو ختم نہیں کر سکے۔ اس کا نتیجہ ہے کہ منشیات فروش منظم اور بااثر ہیں اور ریاستی عملداری اور قوانین کو کھلے عام چیلنج کر رہے ہیں۔ منشیات فروشی کسی ایک شہر کا مسئلہ نہیں یہ لعنت ملک بھر میں پھیل چکی ہے اور دھڑلے سے جاری ہے۔ یہ سب کچھ اُن اداروں کی ناک کے نیچے ہو رہا ہے جو اس لعنت کے خاتمے کے ذمہ دار ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر یہ منظم گروہ اتنے طاقتور کیسے ہو گئے‘ کیا انہیں قانون کا خوف نہیں رہا یا قانون کی گرفت کمزور پڑ چکی ہے؟

کراچی سے سامنے آنے والا حالیہ کیس متعلقہ حکام کیلئے ایک ٹیسٹ کیس ہے۔ ضروری ہے کہ ریاست منشیات فروشوں کے خلاف سخت اور مثالی کریک ڈاؤن کرے اور اس معاملے میں دقیقہ فروگزاشت نہ کی جائے۔ ملک بھر میں سرگرم منشیات فروش گروہوں کے پورے ڈھانچے کو توڑنااور ان عناصر کے مالی ذرائع‘ سپلائی چین‘ سہولت کاروں اور پشت پناہی کرنے والوں کو انجام تک پہنچانا ایک ایسا چیلنج ہے جو ملک کو منشیات کی لعنت سے بچانے کیلئے ناگزیر ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کچھ آہ وزاری مزید(محمد اظہارالحق)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-05-14/51942/24649246</link><pubDate>Thu, 14 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-05-14/51942/24649246</guid><description>وہ جو اردو میں محاورہ ہے‘ زخموں پہ نمک چھڑکنا‘ فرنگیوں کا محاورہ اس مضمون میں شدید تر ہے‘ یعنی Adding insult to injury۔ ہمارے حکمران طبقہ سے اگر پوچھا جائے کہ دونوں زبانوں کے محاوروں میں سے کون سا پسند فرمائیں گے تو غالباً بلکہ یقینا دونوں میں سے ایک کو بھی نہ چھوڑ پائیں گے!!ایک معزز سینیٹر نے‘ جو کسی زمانے میں بائیں بازو پر فریفتہ تھے‘ اور اب دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی حکمران پارٹی کے برگزیدہ ارکان میں شمار ہوتے ہیں اور شاہی خاندان کے بہت قریب ہیں‘ فرمایا ہے کہ &#39;&#39;مہنگائی صرف عوام کی نہیں‘ بلکہ ہم سب کی پریشانی ہے‘‘۔ پھر یہ بھی فرمایا کہ &#39;&#39;حکومت اور عوام ایک ہی ہیں‘ اور دونوں اس پریشانی سے نجات چاہتے ہیں‘‘۔ ہم سب جانتے ہیں کہ قومی اسمبلی کے ارکان الیکشن جیت کر آتے ہیں۔ اصل جمہوری ملکوں میں ایوانِ بالا کے ارکان سو فیصد میرٹ پر لیے جاتے ہیں۔ ان میں ٹیکنو کریٹ‘ دانشور اور صاحبانِ علم وفضل شامل ہوتے ہیں۔ بہت سے ایسے لائق فائق افراد کو حکومتیں اور سیاسی پارٹیاں بزور ایوانِ بالا کا رکن بناتی ہیں جبکہ یہ افراد پارلیمنٹ میں آنے کیلئے زیادہ بے قرار بھی نہیں ہوتے۔ تاہم ہمارے ہاں چونکہ ہر شے باقی دنیا سے مختلف ہوتی ہے اس لیے سینیٹر بننے کے راستے بھی انوکھے اور اچھوتے ہیں۔ اس ضمن میں سب سے بڑا عامل‘ بلا شک وشبہ‘ روپیہ ہے۔ سب اچھی طرح جانتے ہیں اور یہ ایک اوپن سیکرٹ ہے کہ ایک ایک نشست کروڑوں میں بکتی ہے۔ ایک معروف مذہبی پارٹی کی طرف سے تو ایسے ایسے افراد سینیٹر بن جاتے ہیں جن کی جڑیں اور تنا تو کیا‘ اوپر کی شاخیں بھی پارٹی سے کوئی تعلق یا مناسبت نہیں رکھتیں۔ اسی طرح حکمران اپنے پسندیدہ افسروں کو بھی سینیٹ میں لاتے ہیں کیونکہ یس سر‘ یس سر کہنے کی ضرورت آخر سینیٹ میں بھی پڑتی ہے۔ آج کی سینیٹ کو بھی دیکھ لیجیے۔ ماضی میں پولیس افسروں کو بھی ایوانِ بالا کی رکنیت سے نوازا جاتا رہا ہے۔ مگر جن سینیٹر صاحب کے ارشادات کا حوالہ ہم نے اوپر دیا ہے‘ وہ یقینا ایک سیاسی ورکر ہیں اور سیاسی جدوجہد کرتے رہے ہیں لیکن حیرت ہے کہ بیان ایسا داغ دیا ہے جو کوئی سرد وگرم چشیدہ سیاستدان کبھی نہ دے! یہ کہہ کر کہ &#39;&#39;مہنگائی صرف عوام کی نہیں‘ بلکہ ہم سب کی پریشانی ہے‘‘ انہوں نے اس حقیقت پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی ہے کہ وہ عوام سے الگ ہیں۔ اس حق گوئی کے کیا کہنے!! سوچنے کی بات یہ ہے کہ ایسا ضرر رساں بیان دینے کی ضرورت ہی کیا تھی؟ نہ دیتے تو کون سا اربوں کا نقصان ہو جاتا۔ یہ کہنا کہ &#39;&#39;حکومت اور عوام ایک ہی ہیں‘‘ نہ صرف زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے بلکہ فرنگی محاورے کی رُو سے زخم کی توہین کرنے والی بات بھی ہے۔ اس جملے پر غور کیجیے اور سر دھنیے۔ &#39;&#39;حکومت اور عوام ایک ہی ہیں‘‘۔ حکومت میں صدر‘ وزیراعظم‘ وزرائے اعلیٰ‘ صوبوں کے گورنر‘ وفاق اور صوبوں کے وزرا‘ مشیرانِ کرام‘ پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان‘ عدلیہ اور مقتدرہ کے اربابِ بست وکشاد شامل ہیں۔ ان میں سے کون ہے جو عوام کے ساتھ ایک ہے؟ اہم ترین سوال یہ ہے کہ ان میں سے کتنے پٹرول پمپوں پر آکر‘ قیمت ادا کر کے پٹرول لیتے ہیں؟ غالباً بلکہ یقینا ایک بھی نہیں!! کیا عوام کو ان میں سے کوئی بھی کبھی کسی بازار میں دکھائی دیا؟ یہ سب وہ معززین (ایلیٹ) ہیں جو مراعات یافتہ ہیں۔ عوام کی دنیا سے ان کا دور دور سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کی پانچوں گھی میں اور سر کڑاہی میں ہے جبکہ عوام کی زندگیاں حسرتوں سے عبارت ہیں! پرسوں ہی ہمارے دوست رؤف کلاسرا صاحب نے خبر بریک کی ہے کہ ایک طرف تو ایک ایم پی اے کے بیٹے کے علاج کیلئے پچاس لاکھ روپے سرکاری خزانے سے دیے گئے ہیں‘ اس کیلئے موجودہ قوانین وقواعد میں خصوصی نرمی کی گئی ہے۔ دوسری طرف ایک غریب آدمی اپنی کینسر زدہ بیٹی کو لے کر در در خوار پھر رہا ہے۔ یہ ایک مثال ہی یہ ثابت کرنے کیلئے کافی ہے کہ &#39;&#39;حکومت اور عوام ایک ہی ہیں‘‘۔ہماری اَپر کلاس کے اہلِ سیاست کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ اپوزیشن میں ہوں تو ان سے بڑا حق گو اور مجاہد کوئی نہیں۔ اور حزبِ اقتدار میں ہوں تو کوڑے کو قالین کے نیچے چھپانے میں ان سے بڑا ماہر کوئی نہیں۔ حکومتی سینیٹر کا نقطۂ نظر آپ نے جان لیا۔ عوام کی خوش قسمتی سے سینیٹر علی ظفر آ ج کل حزبِ اختلاف میں ہیں۔ ان کے والد ایس ایم ظفر مرحوم‘ جنرل ایوب خان کے وزیر قانون تھے۔ بیرسٹر علی ظفر سینیٹ میں عوام کیلئے بولے۔ کل کو ان کی پارٹی تحریک انصاف برسر اقتدار آئی تو کیا خبر وہ سچ بولیں یا وہ بھی حکومتی ارکان کی طرح &#39;&#39;زیادہ سچ‘‘ بولنے لگیں۔ آج اگر کوئی سیاستدان سچ بول رہا ہے تو اسے غنیمت جانیے کہ بقول جون ایلیا:پھر یہ جبین و چشم و لب تجھ کو نظر نہ آئیں گےغور سے ہم کو دیکھ لے آج کے بعد ہم کہاںحکومتی سینیٹر صاحب نے یہ بھی فرمایا کہ &#39;&#39;کچھ ایسے ملک ہیں جن میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں پاکستان سے زیادہ ہیں‘‘۔ مگر کوئی مثال نہ دی۔ اس کے برعکس بیرسٹر علی ظفر نے اعداد وشمار پیش کیے۔ انہوں نے بتایا کہ آئی ایم ایف پٹرول پر اسّی روپے محصول لگانے پر رضامند ہو گیا تھا مگر حکومت فی لیٹر ایک سو سترہ روپے سے بھی زیادہ محصول لے رہی ہے۔ بقول سینیٹر علی ظفر یہ کھلم کھلا ڈاکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بھارت میں فی لٹرپٹرول کی قیمت 278 پاکستانی روپے ہے‘ بنگلہ دیش میں 310 روپے فی لٹر ہے جبکہ پاکستان میں 415 روپے فی لٹر!!! بجلی کے بل 53 فیصد بڑھ گئے ہیں اور آٹے کی قیمت میں 51 فیصد اضافہ ہوا ہے۔سچ یہ ہے کہ پٹرول کی قیمت 415روپے فی لٹر ہونے سے عوام کی کمر ٹوٹ گئی ہے۔ ستم یہ ہے کہ حکمران طبقے کے اخراجات میں کوئی کمی نہیں ہوئی۔ ایوانِ صدر‘ وزیراعظم آفس‘ وزیراعظم ہاؤس‘ صوبائی گورنروں اور وزرائے اعلیٰ کے سرکاری محلات کے اخراجات میں کچھ بھی قطع وبرید نہیں ہوئی۔ جہاز خریدے جا رہے ہیں۔ لاکھوں روپے ایلیٹ کے علاج پر خرچ ہو رہے ہیں۔ سرکاری پروٹوکول اسی طرح قائم ودائم ہے۔ کاش! پارلیمنٹ میں اتنا دم خم ہوتا کہ سوال کر سکتی! پوچھتی کہ حکمرانوں کے رشتہ داروں کے پروٹوکول پر کتنا خرچ ہو رہا ہے؟ کیا فرزندان کرام اور دخترانِ عظام قانونی طور پر سرکاری پروٹوکول کے حقدار ہیں؟ پارٹی چیئرمین کے پاس کوئی سرکاری عہدہ نہیں۔ سندھ اسمبلی کیوں نہیں پوچھتی کہ ان کے سفر کے‘ گاڑیوں کے‘ پٹرول کے اور پروٹوکول کے اخراجات ان کی پارٹی ادا کر رہی ہے یا صوبائی حکومت؟ آج ہی ایک صاحب نے اعداد وشمار بتائے ہیں کہ اسلام آباد میں‘ جو چند لاکھ کا شہر ہے‘ ایک تو پولیس کا سربراہ ہے یعنی آئی جی۔ اس کے نیچے چار ڈپٹی آئی جی ہیں۔ بارہ ایس ایس پی ہیں۔ بیس ایس پی ہیں۔ نو اے ایس پی ہیں۔ چالیس سے زیادہ ڈی ایس پی ہیں۔ 173 انسپکٹر ہیں۔ 514 سب انسپکٹر ہیں۔ اے ایس آئی‘ ہیڈ کانسٹیبل اور کانسٹیبل تینوں ملا کر 10800 سے زیادہ ہیں (یہ تفصیل انٹرنیٹ پر ہر کوئی دیکھ سکتا ہے)۔ آپ کا کیا خیال ہے اس جمِّ غفیر کے بعد اسلام آباد جرائم سے پاک ہو گا؟؟ پٹرول کی قیمت آسمان پر ہے مگر پولیس کی تعداد کم نہیں ہوئی۔ کون پوچھے کہ ان میں سے کتنے پروٹوکول ڈیوٹی پر ہیں؟ تن ہمہ داغ داغ شد پنبہ کجا کجا نہم۔ کس کس زخم پر پٹی باندھیں گے؟</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_57182973.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سفید پوشی سے کاچھا پوشی تک(خالد مسعود خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-05-14/51943/97973075</link><pubDate>Thu, 14 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-05-14/51943/97973075</guid><description>چند روز پہلے تک میرا خیال تھا کہ میں سفید پوش ہوں لیکن جب سات سات‘ آٹھ آٹھ کروڑ کے فلیٹ خریدنے والے لوگوں نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ وہ سفید پوش ہیں تو نہ صرف یہ کہ میری ساری سفید پوشی کی ہوا نکل گئی ہے بلکہ مجھے لگتا ہے کہ میرے سفید کپڑے بالکل اُتر چکے ہیں اور میں فی الوقت سفید پوش نہیں بلکہ ایک ننگ دھڑنگ &#39;&#39;کاچھا پوش‘‘ ہوں۔ میں تو اب یہ سوچ کر ہی &#39;پسینو پسینی‘ ہو رہا ہوں کہ کل کلاں اگر کچھ کروڑ پتیوں نے کسرِ نفسی کی ایک دو مزید منزلیں طے کرتے ہوئے اپنے کاچھا پوش ہونے کا اعلان کر دیا تو میرا کیا بنے گا۔ کم از کم میرے پاس اب کاچھا پوش سے نیچے والی منزل پر کھسکنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ بھلا ہو وَن کانسٹیٹیوشن ایونیو نامی ٹوئن ٹاور کا جس نے اس بزعم خود قسم کے سفید پوش کو اس کی اصل حقیقت سمجھا دی۔ کانسٹیٹیوشن ایونیو کا اردو ترجمہ شاہراہِ دستور ہے بلکہ یہ ترجمہ بھی نہیں‘ یہ کانسٹیٹیوشن ایونیو کا سرکاری اردو نام ہے۔ جس جگہ یہ شہرۂ آفاق عمارت تعمیر ہوئی ہے وہ اس سڑک کا نقطۂ آغاز ہے اور اس پلاٹ کا نمبر ایک ہے۔ شاہراہِ دستور کو آپ شاہراہِ آئین بھی کہہ سکتے ہیں۔ اب اس بات سے اس ملک کے آئینی حالات کا اندازہ لگا لیں کہ جہاں سے اس ملک کی شاہراہِ دستور شروع ہوتی ہے وہاں کا آغاز ہی غیرقانونی تعمیر سے ہوا ہے۔ آئین اور قانون کی عین ناک کے نیچے کامل دو عشرے تک قواعد و ضوابط اور قوانین سے کھلواڑ ہوتا رہا۔ عدلیہ‘ انتظامیہ اور مقننہ دھنیا پی کر سوئی رہی۔ اس دوران بری امام کے مکین کسی عوضانے یا زرِ تلافی کے بغیر بے گھر کر دیے گئے اور یہاں مقیم سب خاک نشین در بدر ہو گئے۔ اب دھانسو لکھاری‘ حق گو دانشور‘ انسانی حقوق کے علمبردار‘ قانونی ماہرین اور اشرافیہ کے نمائندے وَن کانسٹیٹیوشن ایونیو کے مکینوں اور خریداروں کو بے دخل کرنے کے عوض انہیں ان کے ملکیتی اپارٹمنٹس کی مکمل ادائیگی کرنے پر زور دے رہے ہیں۔ قانون کے اطلاق کے بارے میں ایک مشہور اصولِ قانون ہے کہ &#39;&#39;Ignorance of the law is no excuse‘‘ یعنی قانون سے لاعلمی کوئی عذر نہیں ہے۔ اب یہ کہنا کہ یہاں اپارٹمنٹس خریدنے والوں کو تو علم ہی نہیں تھا کہ اس عمارت کی بطور رہائشی ٹاور تعمیر سرے سے غیر قانونی ہے یا اس کی تعمیر میں قواعد و ضوابط کی دھجیاں اڑائی گئی ہیں۔ وہ تو اس سلسلے میں لاعلم تھے اور اب ایسے معصوم لوگوں کی کروڑوں روپے کی سرمایہ کاری کو اس طریقے سے بلا معاوضہ ملیامیٹ نہیں کیا جا سکتا۔ لوگوں کی فوری نوعیت کی درخواستیں اعلیٰ عدالتوں میں سالہا سال اپنی باری کے انتظار میں الماریوں کی زینت بنی رہتی ہیں۔ انصاف کے طالب راہیٔ عدم ہو جاتے ہیں اور فوری نوعیت کا معاملہ اپنی موت آپ مر جاتا ہے لیکن نسلہ ٹاور کراچی کے انہدام کے حکم بارے ایسا نہ ہوا اور جب تک یہ ٹاور‘ جو اپنے منظور شدہ نقشے سے تجاوز کر کے تعمیر کیا گیا تھا‘ مکمل طور پر گرا نہیں دیا گیا تب کے اُس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان گلزار احمد اس کی تقریباً روزانہ کی بنیاد پر مانیٹرنگ کرتے رہے۔ اس ٹاور کی تعمیر کی باقاعدہ اجازت اور منظوری سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے دی تھی تاہم بلڈر نے ماسٹر پلان کے برعکس اس میں سروس روڈ اور عوامی و رفاہی استعمال کی کچھ زمین بھی شامل کر لی تھی۔ یعنی عمارت کا کچھ حصہ غیر قانونی اور خلاف از ضابطہ تھا لیکن ساری عمارت گرا دی گئی۔ اب وَن کانسٹیٹیوشن کا معاملہ پیش آن پڑا ہے جو سو فیصد غیرقانونی تعمیر پر مشتمل ہے تو قانون دانوں کو قانونی چک پھیریاں‘ لکھاریوں کو منطقی جواز‘ انسانی حقوق کے علمبرداروں کو خریداروں کے بنیادی حقوق اور اشرافیہ کو امرا کی ہمدردی کے مروڑ اٹھ رہے ہیں۔ وَن کانسٹیٹیوشن ایونیو نامی اس کثیرالمنزلہ عمارت میں ایک سے تین بیڈ روم پر مشتمل 263 لگژری فلیٹس ہیں۔ اس کی تعمیر میں کی جانے والی بے ضابطگیوں‘ گھپلوں‘ نالائقیوں‘ سفارشوں اور زور آوروں کی زور آوریوں کی کہانی بارہا دہرائی جا چکی ہے لیکن ہم اس قسم کی کہانیوں اور ان بے نتیجہ اختتاموں کی طویل تاریخ کے حامل ہیں۔ یہاں اس قسم کے بہت سے سکینڈل سامنے آئے‘ ان کی گرد آسمان تک اٹھی لیکن یہ ساری دھول وقت کی تہہ میں دب کر آنکھوں سے اوجھل ہو گئی۔ کس معاملے کا کیا انجام ہوا کسی کو معلوم نہیں۔ لیکن یہ بات سب کو معلوم ہے کہ اس قسم کے کسی ہائی پروفائل کیس کا کبھی کوئی نتیجہ خیز انجام سامنے نہیں آیا۔ ہاں البتہ! غریبوں‘ بے سہارا لوگوں‘ خاک نشینوں اور بے وسیلہ لوگوں کو قانون نے نشانِ عبرت بنا کر ہمارے سامنے پیش کیا۔ قانون کی علمبرداری‘ آئین کی بالادستی اور انتظامیہ کی طاقت‘ سب کی سب تبھی میدانِ عمل میں دکھائی دیں جب ان کا نشانہ درج بالا طبقات تھے۔ ایسے معاملات میں غریب‘ سفید پوش‘ بے سہارا اور کمزور آدمی اپنی ساری عمر کی جمع پونجی سے محروم ہو گیا جبکہ غیرقانونی منظوری دینے والے سرکاری افسر کسی اور واردات میں‘ کسی اور غیرقانونی منظوری میں اور کسی اور پیداگیری میں مصروف ہو گئے۔ بہت ہوا تو کسی درمیانے یا نچلے درجے کے ملازم کو معطل کر دیا گیا۔ معطل ہونے والے ان افسروں اور ملازموں نے پیدا گیری والی دولت سے نامور وکیل کیے اور پھر انہی عدالتوں سے حکم امتناعی یا مکمل ریلیف والے بحالی کے احکامات حاصل کیے اور دوبارہ اپنی کرسیوں پر براجمان ہو گئے۔ غیرقانونی اجازت اور منظوریاں دینے والوں کا کام اسی طرح جاری و ساری رہا۔ ان معاملات میں رشوت‘ سفارش اور بڑوں کے احکامات کی بجا آوری کرنے والے کسی سرکاری افسر کا عملی طور پر کچھ بھی نہ بگڑا اور رشوت کی ندی میں غیرقانونی منظوریوں کا بیڑا پار ہوتا رہا۔ وَن کانسٹیٹیوشن ایونیو کے معاملے میں ہر پہلو زیر بحث ہے لیکن اس سارے غیرقانونی عمل کی اجازت‘ منظوری اور نگرانی کرنے والوں کے بارے میں کچھ خاص سنائی نہیں دے رہا۔ ایک بار‘ صرف ایک بار اس معاملے کو ٹیسٹ کیس بناتے ہوئے اس ساری تعمیر کے درجہ بدرجہ مراحل میں غیرقانونی منظوری‘ عدم نگرانی اور فرائض میں غفلت کے مرتکب افسران کو ان کے جرم کے مطابق سزائیں دی جائیں اور ان پر عمل درآمد بھی کیا جائے تاکہ آئندہ کیلئے اس قسم کی صورتحال کو پیدا ہونے سے پہلے روکا جائے۔ ہمارے ہاں ہمیشہ سے سانپ گزرنے کے بعد لکیر پیٹنے کی روایت پختہ ہے۔ وَن کانسٹیٹیوشن ایونیو میں مختلف بیڈرومز اور درجوں پر مشتمل فلیٹس کی قیمتیں ساڑھے چار کروڑ سے 23کروڑ تک ہیں۔ ظاہر ہے اس قیمت کے فلیٹس خریدنا کسی ہماشما یا عام تام بندے کا کام نہیں اس لیے ان فلیٹس کو خالی کروانے کے عدالتی حکم پر اس طرح تو عملدرآمد نہیں ہو سکتا تھا جس طرح بری امام میں خاک نشینوں کے گھر تہِ خاک کرنے کے حکم پر ہوا تھا‘ اس لیے عدالتی احکامات کو چک پھیریاں دینے کیلئے ایک ہائی پاور کمیٹی بنا دی گئی۔ اس کمیٹی کی ایک میٹنگ میں رہائشیوں کی نمائندگی کرنے والوں نے انکشاف کیا کہ ان لگژری فلیٹس کو صرف امرا اور اشرافیہ نے ہی نہیں خریدا بلکہ اس خریداری میں بہت سے سفید پوش بھی شامل ہیں۔ ظاہر ہے اس عمارت میں کم از کم ساڑھے چار کروڑ والا لگژری فلیٹ خریدنے والے سفید پوش اب بھی کہیں نہ کہیں تو رہائش پذیر ہوں گے اور وہ والا گھر بھی کروڑوں کا تو ہو گا جبکہ یہ لگژری فلیٹس تو محض اضافی سہولت اور سٹیٹس کی سربلندی کا باعث ہیں۔ اب جبکہ اس ملک کے سفید پوش بھی کروڑوں روپے کی قیمت والے فلیٹ خریدنے کی استطاعت کے حامل ہو چکے ہیں تو ہمارے جیسے سفید پوشی کے دعویداروں کو اب اپنی نام نہاد کیٹیگری سے کھسک کر کاچھا پوش کیٹیگری میں بسرام کر لینا چاہیے۔ بندے کو حقیقت پسندی سے کام لیتے ہوئے اپنے معاشی حالات کے مطابق اپنے معاشرتی درجے کو نیچے اوپر کر لینا چاہیے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90500073.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مزاحمت اور’سٹیٹس کو‘(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-05-14/51944/71738622</link><pubDate>Thu, 14 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-05-14/51944/71738622</guid><description>یہ تاریخ کا ایک دلچسپ واقعہ ہے کہ مزاحمتی فرد یا گروہ‘ جب &#39;سٹیٹس کو‘ کی قوتوں کو پچھاڑ دیتا اور کامیاب ہو جاتا ہے توکچھ وقت کے بعد خود سٹیٹس کو کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ پھر اس کے خلاف مزاحمت شروع ہو جاتی ہے۔ اس طرح انسانی سماج اکھاڑ پچھاڑ سے گزرتا ہے۔ اگر آپ کو یہاں ہیگل یاد آ رہا ہے تو یہ بے محل نہیں۔ میں مگر کچھ اور کہنا چاہتا ہوں۔مذہبی تاریخ میں سیدنا مسیحؑ نے روایتی مذہبی پیشوائیت کے خلاف آواز اٹھائی۔ یہ منفعلانہ مزاحمت تھی۔ یہودیوں نے انہیں اپنے تئیں مصلوب کر دیا‘ الگ بات کہ خدا کا فیصلہ کچھ اور تھا۔ حضرت مسیحؑ نے بہرحال اس کی ایک قیمت ادا کی۔ پھر ایک وقت آیا کہ رومی بادشاہ نے ان کا مذہب اختیار کر لیا اوراس دور کے رواج کے مطابق‘ سارا روم مسیحی ہو گیا۔ مرورِ وقت کے ساتھ‘ کلیسا جبر کی ایک قوت بن کر سامنے آیا۔ انسان کی فکری آزادی پر قدغن لگ گئی۔ مذہب &#39;سٹیٹس کو‘ کی علامت بن گیا۔ اس کے خلاف گیلیلیو جیسوں کی مزاحمت تاریخ کا ایک باب ہے۔ نوبت بایں جا رسید کہ مسیحیت سے نجات کے لیے عوامی تحریک برپا ہو گئی۔ سیکولرازم اسی کا نتیجہ ہے۔ یوں کہنا چاہیے کہ ایک متبادل مذہب وجود میں آ گیا۔اب جدید تاریخ میں آئیں۔ اشتراکیت مزاحمت کی ایک بڑی تحریک تھی۔ روس کا زار ہو یا پھر یورپ کاصنعت کار اورجاگیردار‘ ان کے خلاف مزدوروں اور کسانوں نے احتجاج کا عَلم اٹھا لیا۔ اشراکیت عوامی نعرہ بن گئی۔ ہمیں بھی بتایا گیاکہ اب ٹوٹ گریں گی زنجیریں‘ اب زندانوں کی خیر نہیں۔ اب راج کرے گی خلقِ خدا۔ اشتراکیت کا انقلاب برپا ہو گیا۔ کچھ دنوں بعد اندازہ ہوا کہ ریاست ظلم کی ایک نئی قوت بن کر ابھری ہے۔ لینن اور سٹالن &#39;سٹیٹس کو‘ کے مظاہر قرار پائے۔ آہنی پردے اٹھنے لگے۔ دیوارِ برلن گر گئی اور سوویت یونین کے حصے بخرے ہو گئے۔ وسطی ایشیا کی ریاستوں نے سکھ کا سانس لیا کہ بدترین جبر سے نجات ملی۔ پھر ایران میں ہم نے دیکھا کہ پہلوی بادشاہت کے خلاف تاریخ ساز مزاحمت ہوئی اور مذہبی طبقے کی حکومت قائم ہو گئی۔ آج ایران میں پھر اضطراب کی لہریں اُٹھ رہی ہیں۔ ہم انسانی تاریخ سے اور بہت سی مثالیں تلاش کر سکتے ہیں کہ کیسے &#39;سٹیٹس کو‘ کے خلاف مزاحمت کے نام پر اٹھنے والی قوتیں‘ وقت کے ساتھ &#39;سٹیٹس کو‘ کی علامت بن گئیں اور پھر لوگوں کو ان کے خلاف آواز اٹھانا پڑی۔معلوم ہوا کہ طاقت انسان کو گمراہ کرتی ہے۔ یہ مذہب کے پاکیزہ تصور کے نام پر حاصل کی گئی ہو یا اشتراکیت جیسے مقبول نظریے کے ساتھ‘ طاقت ظلم کو جنم دیتی ہے۔ اسلام کے نظامِ خلافت سے لوگوں نے خاندانی بادشاہت اور ملوکیت برآمد کر لی۔ خلقِ خدا کی حکمرانی کا جھانسا دے کر بدترین آمریتیں مسلط کر دی گئیں۔ ایک گروہ زمین پر بزعمِ خویش خدا کا نمائندہ بن گیا یا پھر عوام کا۔ خدا کو اس کی خبر تھی نہ عوام کو۔ بعض لوگوں کے نزدیک سیاست اسی عمل کی تفہیم کا نام ہے۔ آدابِ حکمرانی پر لکھی جانی والی کتابوں میں یہی بتایا گیا کہ اقتدار کی سیاست کا اخلاقیات کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ جن میں جرأت ہے وہ اس کا برملا اظہار کرتے ہیں۔ دوسرے منافقت سے کام لیتے ہیں۔&#39;پاسبان ‘ کی جب جماعت اسلامی سے علیحدگی ہوئی تو یہ سوال اٹھا کہ ایک تنظیم کھڑی ہو گئی ہے‘ اب اس کا کیا کیا جائے؟ ہم جانتے ہیں کہ محترم قاضی حسین احمد کی قیادت میں قائم ہونے والے پاکستان اسلامک فرنٹ کا ہراول دستہ یہی پاسبان تھے۔ یہی ظلم کے خلاف ہر جگہ آواز اٹھا رہے تھے۔ &#39;ظالمو! قاضی آ رہا ہے‘‘ اسی دور کا مقبول نعرہ تھا۔ پاسبان کے نوجوان ظلم کے خلاف مزاحمت کی علامت بن گئے۔ راولپنڈی کا معروف آسیہ ایوب کیس‘ پاسبان کی ملک گیر شہرت کا باعث بنا۔ جب فرنٹ کی صف لپیٹ دی گئی اور جماعت اسلامی نے پاسبان کا بوجھ اٹھانے سے انکار کر دیا تو ان نوجوانوں کو اپنے مستقبل کی فکر لاحق ہوئی۔ میں اس مشاورتی مجلس میں شریک تھا جس میں اس کے مستقبل کا سوال اٹھا۔ ملک کے ایک معروف کالم نگار اور اس نظام کو تیزاب سے غسل دینے کی خواہش کرنے والے ایک دانشور &#39;پاسبان‘ کے فکری راہنما تھے۔ وہ بھی اس مجلس میں شریک تھے۔ انہوں نے &#39;پاسبان‘ کے لیے مستقبل کا لائحہ عمل تجویز کیا۔ ان کی ایک تجویز تھی کہ &#39;پاسبان‘ کو ایک باقاعدہ سیاسی جماعت بنا دیا جائے۔ اس سے اہم‘ نوجوانوں کے لیے ان کی نصیحت تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سودا ذہن سے نکال دو کہ تم ظلم ختم کرنے کے لیے اٹھے ہو۔ تم دراصل نئے ظالم پیدا کرنے کے لیے نکلے ہو۔ سیاست کی اس بے رحم اور برہنہ حقیقت کو صرف وہی بیان کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ یہ تاریخی عمل کا نچوڑ ہے کہ ظلم کے خلاف اٹھنے والی مزاحمت‘ خود ظلم کی قوت میں بدل گئی۔ سوال یہ ہے کہ کیا تاریخ میں اس کا کوئی استثنا بھی ہے؟میرا خیال ہے کہ دو طرح کے استثنا موجود ہیں۔ ایک یہ کہ عوام اور قیادت کا اخلاقی معیار بہت بلند ہو جائے۔ اتنا بلند کہ وہ خاکی ہوکر بھی خاک سے پیوند نہ رکھتے ہوں۔ انسان ہو کر بھی انسانی خواہشوں سے آزاد ہو جائیں۔ اقتدار میں بھی ان کا اخلاقی شعور اتنا تربیت یافتہ ہو کہ زمین زبانِ حال سے پکار اٹھے: &#39;سلطنتِ اہلِ دل فقر ہے شاہی نہیں‘۔ تاریخ نے اس خیال کو مشہود دیکھا‘ اگرچہ چند ہی برس۔ اللہ کے آخری رسول سیدنا محمدﷺ نے اس کا آغاز کیا اور سیدنا عمرؓ نے انتہا کر دی۔ اس دور کی داستان رقم ہو گئی اور اس کا اعتراف ہر منصف مزاج طبیعت نے کیا۔ دوسری صورت یہ ہے کہ سماجی ادارے اخلاقی اعتبار سے اتنے توانا ہو جائیں کہ فرد اجتماعی اخلاقی اقدار سے بغاوت کرنا چاہے تو اس کے لیے یہ آسان نہ ہو۔ یہ دو اسباب سے ممکن ہوتا ہے۔ ایک یہ کہ سماجی قدریں مضبوط ہوں۔ دوسرا یہ کہ جزا وسزا کا نظام مستحکم ہو۔ اسے ہم قانون کی حکمرانی کہتے ہیں۔ یورپ اور امریکہ نے داخلی سطح پر اس صورت کو بڑی حد تک ممکن بنا کر دکھا دیا۔ یہ دعویٰ تو کوئی نہیں کر سکتا کہ وہاں سب خیر ہے لیکن ماضی کے مقابلے میں‘ آج انسان کہیں زیادہ محفوظ ہے۔ یہ کیسے ممکن ہوا؟ یہ ارتقا اور اخلاقی تربیت کا مرہونِ منت ہے۔ اہلِ دانش نے برسوں صرف کیے کہ عوام کے سوچنے کا انداز بدلے۔ عوام کی شعوری تربیت کے لیے ادارے بنائے گئے۔ سو‘ دو سو برس بعد یہ ممکن ہوا کہ انسان محفوظ ہو گیا۔ تاہم یہ المیہ اپنی جگہ باقی رہا کہ انہوں نے اپنا معاشرہ محفوظ بنایا مگر اس دائرے سے باہر ظلم کا بازار گرم کر دیا۔ یہ اخلاقیات کے اس تصور کا حاصل ہے جوخدا پر ایمان کے بجائے‘ خود غرضی سے جنم لیتا ہے۔ہم اس بحث کو اس طرح سمیٹ سکتے ہیں کہ ہر مزاحمت لازم نہیں کہ خیر ہی ہو۔ دوسرا یہ کہ خیر پر مبنی مزاحمت وہی ہو سکتی ہے جو انسان کو ارتقائی مراحل سے گزار کر‘ اسے اخلاقی طور پر با شعور بنا دے۔ انسان کا اخلاقی شعور جتنا پختہ ہوگا‘ مزاحمت اتنی ہی خیر کا باعث ہو گی۔ اگر وقتی اشتعال کو مزاحمت کا نام دے کر‘ اسے نظریہ بنانے کی کوشش کی جائے گی تو مزاحمت کی قوت خود &#39;سٹیٹس کو‘ کی قوت میں بدل جائے گی۔ ہمیں ظلم کے خلاف مزاحمت کرنی ہے تو اس کے لیے نئے راستے تلاش کرنا ہوں گے۔ انقلاب پسندوں نے مزاحمت کے نعرے کو جس طرح استعمال کیا‘ اس کے خلاف مزاحمت آج سب سے زیادہ ضروری ہے۔تری دعا ہے کہ ہو تیری آرزو پوریمری دعا ہے تری آرزو بدل جائے</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بیساکھ(عمران یعقوب خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-05-14/51945/77874505</link><pubDate>Thu, 14 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-05-14/51945/77874505</guid><description>جب تک جنگ کے خاتمے کیلئے ٹھوس اور نتیجہ خیز مذاکرات کا بندوبست ہو رہا ہے آئیے موسم کی بات کرتے ہیں۔ جب آپ یہ کالم پڑھ رہے ہوں گے تو بیساکھی یا وساکھی کا مہینہ رخصت ہو رہا ہو گا۔ ہم مسلمان ہیں تو اسلامی مہینوں اور چاند کی تاریخوں کو فالو کرتے ہیں۔ مسیحی برادری عیسوی کیلنڈر کے مطابق اپنے معاملات چلاتی ہے۔ پنجاب بلکہ برصغیر کے ایک خاصے بڑے حصے میں بکرمی سال اور مہینوں کا رواج ہے۔ اس علاقے کے بڑے بوڑھے تو اسلامی اور عیسوی کیلنڈر سے کم اور بکرمی کیلنڈر سے زیادہ واقف اور آگاہ ہوتے تھے اور اس کے مطابق اپنے روزمرہ کے معاملات طے کیا کرتے تھے۔ ان کے پوچھنے پر اگر بتاتے کہ آج دسمبر یا جنوری کی فلاں تاریخ ہے تو وہ کہتے: جنوری فروری تو ٹھیک ہے لیکن یہ بتاؤ کہ آج مگھر‘ پوہ کی کیا تاریخ ہے؟ ان دیسی‘ پنجابی یا بکرمی مہینوں کی تاریخوں کے بارے میں وہ اتنے آگاہ ہوتے کہ انہیں موسم کی خفیف سی تبدیلیوں کا بھی علم ہوتا کہ کب شروع ہوں گی۔شمسی تقویم کے مطابق دیسی یا بکرمی سال کا آغاز بیساکھ کے مہینے سے ہوتا ہے جو 13اپریل سے شروع ہو کر 14مئی تک جاری رہتا ہے (یاد رہے کہ آج 14مئی ہے اور اس لحاظ سے آج بیساکھ کا آخری دن ہے)۔ وکی پیڈیا کے مطابق 365دنوں کی اس تقویم کے نو مہینے تیس تیس دن کے ہوتے ہیں‘ ایک مہینہ بیساکھ اکتیس دن کا ہوتا ہے اور دو مہینے جیٹھ اور ہاڑ بتیس بتیس دن کے ہوتے ہیں۔ دن بکرمی سال کے بھی 365 ہی ہوتے ہیں لیکن مہینوں کے دن کم یا زیادہ ہوتے ہیں‘ اس طرح بکرمی کیلنڈر شمسی تقویم کے ساتھ نہیں چلتا۔جب بیساکھ کا مہینہ شروع ہوتا ہے تو سردیاں رخصت ہو چکی ہوتی ہیں اور گرمیوں کا آغاز ہوتا ہے۔ گرمیوں کے آغاز کا یہ موسم کسانوں کیلئے بے حد اہم ہوتا ہے۔ وہ ان دنوں میں گندم کی فصل کو کاٹ اور گاہ کر سنبھالتے ہیں۔ گندم کی سنبھال سے فرصت مل جائے تو باقی دن آرام کے ہوتے ہیں‘ چنانچہ کسان اور کاشتکار ان دنوں میں میلوں ٹھیلوں کا رخ کرتے ہیں‘ کچھ موج میلہ کرتے ہیں‘ کچھ آرام کے دن بیتاتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ سال کے اس عرصے میں پنجاب میں سب سے زیادہ میلے لگتے ہیں۔ لاہور میں میلہ چراغاں گزرے ابھی چند دن ہوئے ہیں۔ یہ میلہ 16ویں صدی عیسوی میں لاہور میں بسنے والے عظیم صوفی بزرگ حضرت شاہ حسینؒ کے سالانہ عرس کے موقع پر منعقد کیا جاتا ہے۔ اسی طرح دوسرے شہروں اور دیہات میں لگائے جانے والے میلے بھی کسی نہ کسی بزرگ ہستی یا کسی یادگار شخصیت کے حوالے سے ہوتے ہیں۔ ان میلوں میں شرکت کرنے والوں کا ان شخصیات کے ساتھ اظہارِ عقیدت دیدنی ہوتا ہے لیکن ان کی دلچسپی کا سب سے بڑا سامان ان میلوں میں منعقد کیے جانے والے پہلوانی اور کبڈی وغیرہ کے مقابلے‘ وہاں لگائے جانے والے سرکس اور کھانے پینے کے سٹال ہوتے ہیں۔ چوڑیاں‘ پراندے‘ نیل پالش اور اسی طرح کی دوسری اشیا لڑکیوں اور خواتین کی توجہ کا مرکز ہوتی ہیں۔ پھل فروش اور حلوائی بھی میلوں کے مقامات پر اپنی عارضی دکانیں سجا لیتے ہیں۔بیساکھی کا میلہ پاکستان میں ہر سال باقاعدگی سے منعقد ہوتا ہے۔ امسال 327واں عالمی وساکھی فیسٹیول یا میلہ 10اپریل سے 19اپریل تک جاری رہا جس میں تقریباً 20 ہزار مقامی‘ تین ہزار بھارت سے اور تین ہزار دنیا بھر سے آئے سکھ یاتریوں نے شرکت کی۔ یاتریوں نے لاہور‘ ننکانہ صاحب‘ حسن ابدال‘ ایمن آباد‘ فاروق آباد اور کرتارپور نارووال سمیت مختلف مقدس مقامات کا دورہ کیا۔ دوسرے ممالک سے آنے یاتریوں کیلئے حکومتِ پنجاب فول پروف انتظامات میں مصروف رہی جو صوبائی حکومت کی پنجابی ثقافت میں گہری دلچسپی کو ظاہر کرتی ہے۔ کسان سارا سال بارش کیلئے آسمان کی طرف دیکھتا ہے لیکن چیت اور بیساکھ دو مہینے ایسے ہیں جب کسان بار بار بارش نہ ہونے کی دعائیں مانگتے ہیں کیونکہ ان دو مہینوں میں انہوں نے اپنی چھ ماہ کی کمائی اور سال بھر کی خوراک یعنی گندم کاٹنی‘ گاہنی‘ چھڑنی اور ذخیرہ کرنا ہوتی ہے۔ یہ محنت ٹھکانے لگ جائے یعنی کسان اپنی سال بھر کی ضرورت کی گندم رکھ کر زائد گندم بیچ دے تو اس کے بھڑولے بھرے ہوتے ہیں اور جیب بھی‘ لہٰذا اسے تفریح کی سوجھتی ہے اور دیہات میں میلوں‘ کشتی کے مقابلوں اور کبڈی کے میچوں سے زیادہ تفریح والی اور کوئی چیز نہیں ہوتی۔ لاہور والے اپنی زبان میں اس صورت حال کو یوں بیان کرتے ہیں کہ &#39;&#39;دیہاڑے ست تے اَٹھ میلے‘ گھر جاواں میں کیہڑے ویلے‘‘ یعنی ہفتے کے دن سات ہیں اور میلے آٹھ ہیں تو ان سے فرصت ملے تو میں گھر جانے کا سوچوں۔ لاہور کے روایتی میلے بہت ہیں۔ قریب قریب ہر مزار پر اس میں مدفون شخصیت کی یاد میں اس کے سالانہ عرس کے موقع پر ایک میلہ لگتا ہے‘ چنانچہ سال بھر لاہور میں میلے جاری رہتے ہیں۔ یہی حالت پنجاب کے دیگر علاقوں کی ہے۔ بیساکھ کے موسم میں لگنے والے میلوں کی تعداد اسی لیے زیادہ ہوتی ہے کہ گندم کی فصل سنبھالنے کے بعد کسان کے پاس فرصت کا خاصا وقت ہوتا ہے۔جس طرح عیسوی کیلنڈر میں دن کو آٹھ پہروں میں بانٹا گیا ہے اسی طرح بکرما جیت کیلنڈر میں بھی 24گھنٹوں کو آٹھ پہروں میں تقسیم کیا گیا ہے جن کو پہر یا ویلا کہتے ہیں۔ ہر پہر تین گھنٹے پر مشتمل ہوتا ہے۔ لوگ باتوں کے دوران کسی کو جب یہ بتاتے ہیں کہ اس نے فلاں کام کفتاں ویلے کیا وہ فوراً سمجھ جاتا ہے کہ یہ کام رات کے پہلے پہر میں ہوا تھا۔ پرانے زمانے میں یہ اوقات یا پہر کاشتکاری اور روایتی زندگی میں وقت کی پیمائش کیلئے استعمال ہوتے تھے اور کچھ دیہی علاقوں میں آج بھی رائج ہیں۔ پنجابی کے آٹھ پہر اس طرح تھے: دھمی؍ نور پیر دا ویلا: صبح 6 بجے سے 9 بجے تک (صبح کا آغاز)۔ چھاہ ویلا: دوپہر سے پہلے 9 سے 12 بجے تک (ناشتے کا وقت)۔ پیشی ویلا: 12 سے 3 بجے تک (دوپہر کا وقت)۔ دیگر؍ ڈِیگر ویلا: سہ پہر 3 سے شام 6 بجے تک (عصر کا وقت)۔ نماشاں؍ شاماں ویلا: شام 6 سے رات 9 بجے تک (مغرب کا وقت)۔ کفتاں ویلا: رات 9 سے 12 بجے تک (عشا کا وقت)۔ اَدھ رات ویلا: رات 12 سے 3 بجے تک (آدھی رات)۔ سرگی ویلا : رات 3 سے صبح 6 بجے تک (پچھلی رات)۔ایک لوک گیت ہے:ککڑا دھمی دیا کویلے دِتی اَیی بانگماہیا ٹور بیٹھی تے میکوں پچھوں لگا ارمانترجمہ: اے پَو پھٹنے پر اذان دینے والے مرغ! تُو نے بے وقت اذان دے دی اور میں نے یہ سوچ کر ماہیا رخصت کر دیا کہ اس کے جانے کا وقت ہو گیا۔ اب بیٹھی افسوس کر رہی ہوں کہ میں نے اسے قبل از وقت کیوں رخصت کر دیا۔اور ایک طویل پنجابی نظم کے اس بند میں دیکھیں کہ چھاہ ویلے یعنی دوپہر سے پہلے کے وقت کا استعمال کیسے کیا گیا ہے:پنجابوں آؤندیا ویرنیاں!؍ کوئی گلّ کر اپنے تھاواں دی؍ میرے پنڈ دی‘ میرے ٹبر دی؍ ہمسایاں بھین بھراواں دی؍ فصلاں چنگیاں ہو جاندیاں نے؟؍ مینہہ ویلے سر پے جاندا اے؟؍ گھیو سستا‘ انّ سولاّ اے؟؍ سبھ رجّ کے روٹی کھاندے نے؟؍ پربھات رڑکنے پیندے سن؟؍ چھاہ ویلے بھتے ڈھکدے سن؟؍ بھٹھیاں تے جھرمٹ پیندے سن؟؍ ترنجناں وچ چرخے گھکدے سن؟؍ پردیساں اندر بیٹھیاں نوں؍ کوئی یاد تے کردا ہووے گا</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_58350786.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مہنگے پٹرول کا سستا حل(سعود عثمانی )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-05-14/51946/45182470</link><pubDate>Thu, 14 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-05-14/51946/45182470</guid><description>417 روپے لیٹر پٹرول ڈلوا کر پمپ سے نکلا تو خون کھول رہا تھا۔ گرمی کے دن کا آغاز اس سرگرمی سے ہو تو سارا دن موڈ خراب رہنا ہی ہے۔ غور کر رہا تھا کہ اس مہینے اب تک میرا کتنا پٹرول خرچ ہوا اور کتنا مزید خرچ ہوگا۔ خون جلنے کی اب تک کوئی قیمت طے نہیں ہوئی ورنہ لاکھوں میں پہنچتی۔ پمپ سے نکل کر سڑک پر آیا تو ایک تیز رفتار موٹر سائیکل والا میری گاڑی سے بالکل رگڑتا ہوا گزر گیا۔ گاڑی سے بلبلانے کی آوازیں آئیں۔ موٹر سائیکل والا کچھ لڑکھڑایا لیکن سنبھل کر مزید تیز رفتاری سے بھاگتا چلا گیا۔ اُتر کر دیکھا تو گاڑ ی کی دائیں طرف کا کچھ حصہ اندر جا چکا تھا اور رنگ بھی اُتر چکا تھا۔ میرے اشتعال میں اضافہ ہو گیا لیکن یہ غصہ کس پر نکالوں۔ اس کو برا بھلا کہتا میں پھر روانہ ہو گیا۔ راستے میں میکینک نے گاڑی کا معائنہ کیا اور خوشخبری سنائی کہ کم از کم 25 ہزار روپے کا خرچ ہے۔ یہ پہلی بار نہیں تھا کہ ناگہانی خرچ آپڑے ہوں۔ گاڑی کے خرچ تو نکلتے ہی رہتے تھے اور انہیں بھگتتے بھگتتے اَدھ موا ہو چکا تھا۔ خرچ کے ساتھ ایک دن گاڑی بھی میکینک کے پاس چھوڑنی تھی اس لیے آج کے باقی سب پروگرام کینسل۔رات کو گھر پر رکشہ سے اُتر رہا تھا کہ خواجہ بدر نظر آ گئے۔ بولے &#39;&#39;عثمانی صاحب! خیریت؟ گاڑی کہاں ہے؟‘‘ میں بھرا ہوا تھا۔ ساری روداد تفصیل کے ساتھ سنائی۔ اس لیے بھی کہ خواجہ بدر کو میں خواجہ خضر کہتا ہوں۔ ریٹائرڈ‘ تجربہ کار اور تیر بہدف ٹوٹکوں کے سب سے بڑے خزانچی ہیں۔ میں نے کہا خواجہ صاحب پٹرول اور گاڑی کا خرچ میری برداشت سے باہر ہو چکا ہے۔ لیکن سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کروں‘ سوچ رہا ہوں سائیکل لے لوں لیکن گھاٹیاں اُتر کر پھر اوپر چڑھنا مجھ جیسے دل کے مریض کیلئے ایک الگ مسئلہ ہے۔ خواجہ صاحب کہنے لگے: عثمانی صاحب! کیوں پریشان ہوتے ہیں۔ تاریخ پر غور کریں۔ یہیں سارے مسائل کا حل چھپا ہوا ہے۔ میرا چہرہ سوالیہ نشان بنا دیکھ کر بولے: یہ بتائیں جب گاڑیاں نہیں تھیں اور پٹرول دریافت نہیں ہوا تھا تو لوگ کیسے سفر کرتے تھے؟ میں نے کہا: خواجہ صاحب! خدا کا نام لیں۔ میں اس عمر میں بیل گاڑی پر سفر کرتا اچھا لگوں گا؟ ہاتھی اور اونٹ کہاں ملتے ہیں پتا نہیں‘ اور ان پر بیٹھا کیسے جائے گا۔ ایک لمبی سیڑھی الگ سے چاہیے۔ اور اونٹ‘ ہاتھی کا سٹیئرنگ کس طرف ہوتا ہے؟ ان کے گیئر کیسے لگتے ہیں؟ ایک ڈرائیور بھی تو چاہیے ان کے لیے۔ پھر ہاتھی اور اونٹ کہاں باندھوں گا۔ ان کیلئے گنے اور چارہ کہاں سے آئے گا۔ آپ مشکلات کا حل بتا رہے ہیں یا مشکلات میں اضافہ کر رہے ہیں۔ خواجہ صاحب ہنستے رہے۔ میں خاموش ہوا تو بولے: یہی تو مسئلہ ہے آپ کا۔ ہمیشہ شاہی سواریوں کی طرف دیکھتے ہیں۔ نیچے اترتے ہی نہیں۔ 70 سی سی موٹر سائیکل چلا لیں گے‘ 600سی سی گاڑی رکھ لیں گے لیکن سوچیں گے ہمیشہ ہاتھی اور اونٹ کے بارے میں۔ بھائی! میں شاہی اور وزیروں کی سواریوں کی بات نہیں کر رہا۔ عام آدمی کیسے سفر کرتے تھے اُس زمانے میں آسانی کے ساتھ۔ یہ پوچھ رہا ہوں۔میں نے پھر ذہن میں تاریخ کے صفحات گھمائے۔ بات سمجھ آنے لگی تھی لیکن نہیں۔ بہت مشکل تھا یہ بھی۔ خواجہ صاحب! گھوڑا مجھ سے نہیں سنبھلے گا۔ جانے کہاں لے جاکر پٹخ دے۔ جست لگا کر سوار ہونا اس عمر میں بہت مشکل ہے۔ البتہ چھوٹا سا پیڈسٹل بنوایا جا سکتا ہے۔ جہاں گھوڑا آکر کھڑا ہو جائے اور میں اس پر سوار ہوجاؤں۔ لیکن گھوڑا تو کھاتا بھی بہت ہے۔ دانہ پانی کا کیا ہوگا؟ یہ بھی کافی خرچہ ہے۔ خواجہ صاحب سن کر بولے: پھر وہی شاہی سواری۔ گھوڑا بھی شہنشاہی سواری ہے جناب! ذرا نیچے اُتر آئیے گھوڑے سے۔ گھوڑا بھی مہنگا پڑے گا۔ عوامی سواری سوچیے۔ آپ سب کا مسئلہ یہ ہے کہ آپ سوچتے نہیں۔ اللہ نے ہر مشکل کا حل بنایا ہے۔ کبھی گدھے کا نام سنا ہے؟ کیسا مسکین سا بے ضرر جانور ہے۔ نہ سیڑھی کی ضرورت نہ پیڈسٹل کی۔ میری مانیے۔ موٹر سائیکلیں‘ گاڑیاں بیچ دیجیے اور چھوٹے قد کے مضبوط 100 سی سی گدھے خرید لیجیے۔ سارا گھر انہی پر سفر کرے۔ واپس آکر گھر کے سامنے باندھ دیجیے یا گیراج میں۔ ان کی کھرلیاں بھی بن سکتی ہیں۔ گاڑیاں تو ہوں گی نہیں‘ جگہ خالی ہو گی۔ ایک گاڑی کی جگہ تین گدھے بندھ سکتے ہیں۔ نہ پٹرول کا خرچہ‘ نہ چالان کا ڈر‘ نہ میکینک کی جھک جھک۔ آپ تو بھولے بادشاہ ہیں۔ آپ کو کہاں پتا ہو گا کہ نہ گدھے میں موبل آئل ڈلتا ہے نہ رِنگ پسٹن۔ ساری مصیبتوں سے آزادی ہے۔ پھر گدھا گھوڑے کی نسبت بہت کم کھاتا ہے۔ کسی گھسیارے سے بات کر لیجیے۔ دو تین سو کی گھاس ڈال دیا کرے روز ان کو۔ صبح اٹھے‘ کک ماری‘ گدھا سٹارٹ کیا اور چل سو چل۔ انڈر پاسز سے اتریں چڑھیں‘ کوئی محنت نہیں‘ شارٹ کٹ سے جائیں گے تو آدھ گھنٹے میں دفتر پہنچ جائیں گے۔ وہاں بھی ان کا بندوبست ہو سکتا ہے۔ گاڑی کی جگہ گدھا کھڑا کردیں اور اوپر کپڑا ڈال دیں تاکہ مٹی سے محفوظ رہے۔ میں خوش ہو گیا۔ بات سمجھ آنے لگی تھی۔ میںنے کہا: خواجہ صاحب! بہت عمدہ بات ہے۔ اللہ جزائے خیر دے۔ میرے دادا موٹر سائیکل کو مشینی گدھا کہتے تھے۔ تو کیا حرج ہے مشینی نہ سہی‘ اصلی سہی‘ زیادہ سے زیادہ آدمی شیخ چلی لگے گا لیکن ایک دفعہ لوگوں کو فائدے پتا لگ گئے تو بہت سارے شیخ چلی گدھوں پر صبح اکٹھے نکلا کریں گے‘ شام کو واپس اکٹھے آیا کریں گے۔ بہت اچھا لگے گا۔ جیسے اب موٹر سائیکلوں کی الگ لین ہوتی ہے ایسی ہی ایک کھوتا لین ہو جائے تو بڑا اچھا ہو جائے۔ لیکن یہ بتائیں گدھے میں سکیورٹی سسٹم لگ سکتا ہے؟ ایسا نہ ہو کوئی بھی گدھا سٹارٹ کرے اور لے جائے۔ آپ ٹاپتے رہ جائیں۔ خواجہ صاحب کہنے لگے: ویسے تو گدھا اپنے مالک کو پہچانتا ہے لیکن اسے سٹیئرنگ لاک لگا بھی سکتے ہیں۔ یہ تو کوئی مسئلہ ہے ہی نہیں۔ مجھے گدھے میں سکیورٹی سسٹم نصب کرنے کے کئی آئیڈیاز آنے لگے لیکن بات کرتے کرتے ایک اور خیال آیا۔ خواجہ صاحب! گدھوں کی ٹکر ہوجائے تو کیا ہوتا ہے۔ گدھوں میں ایئر بیگ ہوتے ہیں؟ یا ہیلمٹ لگانا بہتر رہے گا؟ ہیلمٹ لگا لیں احتیاطاً کوئی حرج نہیں۔ لیکن گدھے ٹکرا بھی جائیں تو کون سا بمپر ٹوٹنا ہے؟ جہاں تک مجھے پتا ہے ٹکر کے بعد ان کی باڈی کا پینٹ بھی نہیں خراب ہوتا۔ سو ڈینٹنگ پینٹنگ بھی نہیں۔ مسئلہ ان کا نہیں‘ ان پر بیٹھے ہوئے جانوروں کا ہو گا وہ نہ لڑیں تو کوئی دِقت نہیں۔ یہ مسئلہ بھی حل ہوا تو میری رگوں میں خوشی تیزی سے دوڑنے لگی۔ میکینک کا چہرہ سامنے آگیا جو ہر ماہ پندرہ بیس ہزار کی اسامی نکل جانے پر افسردہ کھڑا تھا۔ یہ تو نری بچت تھی۔ پٹرول کی ایک دن کی بچت ایک ہزار بھی لگائیں تو زیادہ سے زیادہ تین چار سو کی گھاس کھالیں گے گدھے۔ زیادہ بھی کھا لیں تو میکینک اور چالان کے خرچ تو بہرحال بچے۔ میرا دل خواجہ صاحب کیلئے احساسِ تشکر سے چھلکنے لگا۔ خواجہ صاحب! بہت مہربانی آپ کی۔ میں کل ہی گاڑی اور موٹر سائیکل کیلئے گاہک تلاش کرتا ہوں۔ آپ مہربانی کرکے کوئی اچھے سے‘ کم چلے ہوئے یا زیرو میٹر گدھے ڈھونڈ دیجیے۔ تین کافی ہیں پورے گھر کیلئے۔ اور ہاں! محلے میں کسی کو یہ تجویز نہ بتائیے گا۔ میں چاہتا ہوں کہ پوری شان سے محلے میں سب سے پہلے میں گدھے پر نکلوں اور جل ککڑ مجھے دیکھ دیکھ کر جلتے رہیں۔ خواجہ صاحب بولے فکر ہی نہ کریں۔ پہلے آپ کے گھر میں گدھا آئے گا‘ باقی گھر بعد میں گدھا چال چلیںگے۔ لیکن دو باتوں کا دھیان بہت ضروری ہے‘ بعد میں نہ کہیے گا خواجہ صاحب نے بتایا نہیں۔ ایک تو گدھے دولتیاں مارا کرتے ہیں‘ انہیںہر جگہ اس طرح پارک کرنا ہے کہ منہ سامنے ہو۔ پیچھے کی طرف سے ہرگز سوار نہ ہوں ورنہ ہڈیوں کا خرچ مہنگا بہت ہے۔ دوسرے گدھے بہت زور سے بولتے ہیں۔ لیکن پیسے بچانے ہیں تو یہ برداشت کرنا تو ہو گا۔ اس کا بھی حل ہے میرے پاس‘ کچھ دن وزیروں کے بیانات‘ سوشل میڈیا بند کر دیجیے۔ گدھوں کی آوازیں بہتر لگنے لگیں گی۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_81278520.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>روحِ حج(مفتی منیب الرحمٰن )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-05-14/51947/63954756</link><pubDate>Thu, 14 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-05-14/51947/63954756</guid><description>مئی کے آخری ہفتے میں لاکھوں کی تعداد میں خوش قسمت اہلِ ایمان حج کا رُکنِ اعظم &#39;&#39;وقوفِ عرفہ‘‘ ادا کرنے کیلئے میدانِ عرفات میں جمع ہوں گے‘ سب کے سب اپنا قومی لباس اتار کر سنتِ ابراہیم واسماعیل اور سید المرسلین سیدنا محمد رسول اللہ علیھم السلام ادا کرتے ہوئے دو اَن سِلی چادروں پر مشتمل ایک ہی لباس میں ملبوس ہوں گے‘ سب اپنے قومی اور علاقائی امتیازات‘ وضع قطع اور لباس کو ترک کرکے ایک ہی رنگ میں رنگے ہوں گے۔ سب کی زبان پر تلبِیہ کے یہ کلمات جاری ہوں گے‘ ترجمہ: &#39;&#39;میں حاضر ہوں‘ اے اللہ! میں تیرے حضور حاضر ہوں‘ میں حاضر ہوں‘ تیرا کوئی شریک نہیں‘ میں حاضر ہوں‘ بیشک سب تعریفیں تجھی کو سزاوار ہیں اور ہر نعمت کا منبع تیری ہی ذاتِ عالی صفات ہے اور ملک واقتدار کا مالکِ حقیقی تو ہی ہے‘ تیرا کوئی شریک نہیں‘‘۔ اگر واقعی حضوریِ بارگاہِ ربّ العالمین کا تصور مومن کے دل ودماغ میں رَچ بس جائے تو اُس پر قیامت کے دن جیسا لرزہ طاری ہو جائے‘ ہیبت وجلالِ الٰہی سے اس کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں اور وہ اللہ تعالیٰ کے ان ارشادات کا کامل مظہر بن جائے: (1) &#39;&#39;درحقیقت کامل مومن وہی لوگ ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل دہل جاتے ہیں اور جب ان پر اُس کی آیات تلاوت کی جائیں تو وہ ان کے ایمان کو تقویت عطا کرتی ہیں اور وہ اپنے رب پر بھروسا کرتے ہیں‘‘ (انفال: 02)۔ (2) &#39;&#39;اللہ نے بہترین کلام کو نازل کیا‘ جس کے مضامین ایک جیسے ہیں‘ بار بار دہرائے جاتے ہیں‘ جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے ہیں (اسے سن کر) ان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں‘ پھر ان کی کھالیںاور ان کے دل اللہ کے ذکر کے لیے نرم ہو جاتے ہیں‘‘ (الزمر: 23)۔پس ہر حاجی اپنے اندر جھانک کر اپنا جائزہ لے سکتا ہے کہ کیا یہ کیفیت اس پر طاری ہے اور وہ اس روحانی تجربے سے گزر رہا ہے۔ اگر وہ اس کیفیت میں سرشار نہیں ہے تو اس کا حج حقیقت اور روحِ عبادت سے کوسوں دور ہے‘ اس نے صرف عبادت کی ظاہری صورت کو اپنایا ہے‘ اُس کا اندر اس کے نور سے خالی ہے۔ ایک عارف باللہ ولی اللہ تعالیٰ کی حضوری میں ڈوبے ہوئے &#39;&#39;لبّیک اللّٰھم لبّیک‘‘ کی صدائیں بلند کر رہے تھے کہ غیب سے ندا آئی: &#39;&#39;لَا لبّیک‘‘ (یعنی تیری حاضری قبول نہیں)‘ ایک نوجوان نے اس ندائے غیبی کو سنا تو کہا: &#39;&#39;بابا! جب آپ کی حاضری قبول ہی نہیں‘ تو میدانِ عرفات میں آپ کی آمد کا کیا فائدہ؟‘‘ بزرگ نے جواب دیا: &#39;&#39;یہ جواب تو میں چالیس برس سے سن رہا ہوں‘ لیکن کیا اللہ کی بارگاہ کے سوا کوئی اور بارگاہ ہے‘ جہاں میں رجوع کروں‘ ظاہر ہے کہ نہیں ہے‘ تو تا حیات مجھے تو یہیں حاضری دینی ہے‘‘۔ اس پر غیب سے ندا آئی: &#39;&#39;اے میرے بندے! میں نے تیری آج کی اور گزشتہ تمام برسوں کی حاضریاں قبول کیں‘‘۔ یعنی جب یہ حقیقت بندے کے قلب وروح میں جذب ہو جائے کہ حقیقی مالک ومختار صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے‘ ساری نعمتوں اور تمام فیوض وبرکات کا منبع اسی کی ذات ہے‘ اس کے مقابل کسی کیلئے کوئی جائے امان نہیں ہے اور جب بندہ ہر حال میں اسی کی طرف رجوع کرے اور آخری سانس تک اسی کا ہوکر رہے‘ تو پھر وہ حج کی برکات اور بندگی کی معراج کو پا لیتا ہے۔ ایسی کیفیت سے معمور حج کو &#39;&#39;حجِ مبرور‘‘ کہا جاتا ہے اور کامل اجرو ثواب کی ساری بشارتیں اسی کے لیے ہیں۔ چنانچہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: &#39;&#39;جس نے حج کیا‘ نہ کوئی بیہودہ بات کی اور نہ اللہ اور اس کے رسول کی حکم عدولی کی تو وہ حج کے بعد گناہوں کی ہر میل سے پاک ہو کر اس حال میں لوٹے گا جیسے اس دن پاک تھا جب اس کی ماں نے اسے جنا تھا‘‘ (بخاری: 1819)۔ (2)&#39;&#39;یکے بعد دیگرے حج اور عمرہ ادا کیا کرو‘ کیونکہ یہ دونوں فَقر اور گناہوں کو اس طرح دور کر دیتے ہیں جیسے بھٹی لوہے‘ سونے اور چاندی کی میل کو دور کر دیتی ہے اور &#39;&#39;حجِ مقبول‘‘ کا ثواب جنت کے سوا کچھ نہیں‘‘ (ترمذی: 810)۔ موجودہ دور میں ہجوم کی کثرت شدید مشقت کا باعث ہے‘ اس لیے اگر لوگ نفلی حج کم کریں تو فرض حج کرنے والوں کیلئے قدرے آسانی ہو سکتی ہے۔اسلام میں حج نو ہجری کو فرض ہوا‘ مگر رسول اللہﷺ اُس سال بذاتِ خود حج پر تشریف نہیں لے گئے اور حضرت ابوبکر صدیقؓ کو &#39;&#39;امیر الحج‘‘ مقرر فرمایا‘ بعد میں ضروری اعلانات کے لیے حضرت علیؓ کو اپنا نمائندۂ خاص بنا کر بھیجا۔ ان اعلانات کا ذکر سورۂ توبہ کی ابتدائی آیات میں موجود ہے۔ پھر دس ہجری کو رسول اللہﷺ بذاتِ خود حج کیلئے تشریف لائے اور یہ آپ کی ظاہری حیاتِ مبارَکہ کا &#39;&#39;حَجَّۃُ الْاِسْلَام‘‘ تھا‘ اسی میں آپﷺ نے جبلِ رحمت پر اپنی ناقۂ مبارَکہ &#39;&#39; قَصوا‘‘ پر سوار ہوکر وہ عظیم الشان خطبہ ارشاد فرمایا‘ جو تاریخِ انسانی میں حقوقِ انسانی کا پہلا منشور ہے‘ اسے &#39;&#39;خطبۂ حَجۃ الوَداع‘‘ کہا جاتا ہے۔سورۂ توبہ میں &#39;&#39;حج اکبر‘‘ کا ذکر ہے۔ علامہ علی القاری لکھتے ہیں: &#39;&#39;حج اکبر کے بارے میں چار اقوال ہیں: ایک یہ کہ اس سے مراد &#39;&#39;یومِ عرفہ‘‘ ہے‘ دوسرا یہ کہ اس سے مراد &#39;&#39;یومِ نحر‘‘ ہے‘ تیسرا یہ کہ اس سے مراد &#39;&#39;طوافِ زیارت‘‘ کا دن ہے‘ چوتھا یہ کہ حج کے تمام ایام عظیم المرتبت ہیں۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ عمرے کے مقابلے میں ہر حج &#39;&#39;حجِ اکبر‘‘ ہے اور ایک قول یہ ہے: اگر حج جمعہ کے دن واقع ہو جائے تو اسے &#39;&#39;حج اکبر‘‘ کہتے ہیں اور رسول اللہ ﷺ نے جب حج فرمایا تھا تو وہ جمعۃ المبارک کا دن تھا‘‘ (اَلْحَظُّ الْاَوْفَرُ فِی الْحَجِ الْاَکْبَر‘ ص: 481)۔ اگر حج جمعہ کے دن واقع ہو جائے تو اس پر &#39;&#39;حجِ اکبر‘‘ کا اطلاق کرنا متفق علیہ مسئلہ نہیں ہے‘ تاہم اس کے بارے میں ایسے قرائن موجود ہیں کہ اس کی افضلیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ علامہ علی قاری نے لکھا ہے: &#39;&#39;جب یومِ عرفہ جمعہ کے دن واقع ہو تو اس پر حجِ اکبر کا اطلاق زبان زدِ خلائق ہے اور خلقِ خدا کی زبانیں حق کا قلم ہوتی ہیں‘ پھر وہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی ایک حدیث بیان کرتے ہیں: &#39;&#39;جس چیز کو مسلمان اچھا سمجھیں وہ اللہ کے نزدیک بھی حسن ہے اور جس چیز کو مسلمان برا سمجھیں‘ وہ اللہ کے نزدیک بھی بُری ہے‘‘ (مسنداحمد: 3600)۔ وہ مزید لکھتے ہیں: &#39;&#39;امام رَزین بن معاویہ نے &#39;&#39;تَجْرِیْدُ الصِّحَاح‘‘ میں حضرت طلحہ بن عبیداللہؓ سے روایت کیا ہے: نبیﷺ نے فرمایا: &#39;&#39;افضل الایام یومِ عرفہ ہے اور جب یہ جمعہ کے دن واقع ہو تو دیگر ایام کے ستر حج کے برابر ہے‘‘۔ یہ اعتقادی مسئلہ نہیں‘ اس کا تعلق فضائلِ اعمال سے ہے اور فضائلِ اعمال میں ضعیف حدیث معتبر ہوتی ہے۔ جمعہ کے دن یومِ عرفہ واقع ہونے کی صورت میں بلاشبہ جمعہ کی برکات بھی قدرِ زائد کے طور پر شامل ہو جاتی ہیں‘ کیونکہ جمعۃ المبارک کے فضائل احادیثِ مبارَکہ میں بکثرت مذکور ہیں: رسول اللہﷺ نے اسے &#39;&#39;سید الایّام‘ افضل الایّام اور عید المومنین قرار دیا ہے۔ہم دعویٰ تو کرتے ہیں کہ عبادتِ حج &#39;&#39;اسلامی مساوات‘‘ کا سب سے بڑا مظہر ہے‘ امیر وغریب‘ سفید فام وسیاہ فام‘ شرقی اور غربی سب برابر ہو جاتے ہیں‘ لیکن اب عملاً ایسا نہیں ہے۔ حج میں بھی طبقاتی تفاوت کے مظاہر موجود ہیں۔ حرمین طیبین کے اردگرد فائیو سٹار وسیون سٹار ہوٹل ہیں‘ جن میں صرف اعلیٰ طبقات کے لوگ ہی قیام کر سکتے ہیں‘ متوسّط اور زیریں طبقات کیلئے حرمین طیبین سے دور رہائشگاہیں تعمیر کی گئی ہیں‘ اسی طرح منیٰ کے خیموں میں بھی سہولتوں اور جمرات کی قُرب کے اعتبار سے تفاوت موجود ہے۔ حضرت عائشہؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہﷺ! مناسب ہے کہ آپ کیلئے منیٰ میں ایک گھر یا مُسَقَّف (Covered) جگہ بنا لی جائے تاکہ آپ پر سورج کی دھوپ نہ پڑے‘ آپﷺ نے فرمایا: نہیں! منیٰ اُس کی قیام گاہ ہے جو یہاں پہلے آئے‘‘ (ابودائود: 2019) مگر اب عملاً ایسا ممکن بھی نہیں ہے‘ کیونکہ کثیر المنزلہ عمارات کے بغیر تمام حجاج کے قیام کے انتظامات ہو ہی نہیں سکتے۔ حجاجِ کرام کو چاہیے کہ نظم وضبط اور صبر واستقامت کا مظاہرہ کریں‘ غیر ضروری شکوہ وشکایات سے گریز کریں اور اپنا زیادہ سے زیادہ وقت اللہ تعالیٰ کی عبادت میں بسر کریں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_61172381.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>