<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>بزدلانہ حملہ!(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-25/11223</link><pubDate>Mon, 25 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-25/11223</guid><description>کوئٹہ میں چمن پھاٹک پر دہشت گردی کا گھناؤنا واقعہ انتہائی قابلِ مذمت اور اس واقعے کے ذمہ دار‘ فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کو منطقی انجام تک پہنچانے کا تقاضا کرتا ہے۔ بزدل دہشت گردوں نے ایک شٹل ٹرین کو نشانہ بنا کر ایک بار پھر یہ ثابت کیا کہ مسافراور نہتے شہری ان کا ہدف ہیں۔ اس سے پہلے بھی مسافر گاڑیاں‘ مزدور اور راہگیر دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے تک بلوچستان کی شاہراہوں پر دہشت گردی کے واقعات معمول بن چکے تھے مگر اب ایسے واقعات میں واضح کمی نظر آتی ہے جو شاہراہوں پر سکیورٹی انتظامات اور دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائیوں کا نتیجہ ہے۔ تاہم دہشت گردی کے اس تازہ واقعے نے مسافروں اور نہتے عوام کی سکیورٹی کے حوالے سے نئے خدشات سے دوچار کیا ہے۔ اس المناک واقعے کے بعد ضروری ہے کہ بلوچستان میں سکیورٹی کے خدشات سے نمٹنے کیلئے مزید مؤثر اقدامات کئے جائیں۔ بلوچستان میں سکیورٹی خطرات کے محرکات داخلی سے زیادہ خارجی ہیں۔ بھارتی سپانسرڈ دہشت گردی ایک کھلا راز ہے اور یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے ہر واقعے کے تانے بانے افغانستان سے ہوتے ہوئے دہلی سے ملتے ہیں۔

پاکستان کے باصلاحیت سکیورٹی ادارے خطرات کی اس نوعیت کا ادراک کرتے ہوئے انہیں کچلنے کیلئے کمر بستہ ہیں ۔ اس سلسلے میں صوبائی حکومتوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اس میں دو رائے نہیں کہ پولیس میں انسدادِ دہشت گردی کے شعبے کو ترقی دینا وقت کا تقاضا ہے تاکہ شہریوں کو بہتر تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ شہری علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سکیورٹی کا یکساں بڑا مسئلہ ہیں۔ اس مسئلے کے پائیدار حل کیلئے جامع اور ہمہ جہت اقدامات ناگزیر ہیں۔ اس میں شہروں کی الیکٹرانک نگرانی‘ شاہراہوں کی مؤثر پٹرولنگ اور شہروں کے داخلی وخارجی راستوں کی مؤثر مانیٹرنگ ضروری ہے۔ ایسا دیکھنے میں آیا ہے کہ جن علاقوں میں سکیورٹی کے ان تقاضوں کو پورا کیا گیا وہاں سکیورٹی کے حوالے سے ناخوشگوار واقعات کی تعداد اور شدت میں نمایاں کمی ہوئی؛ چنانچہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی حکومت کو اس جانب زیادہ سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
بلوچستان میں صوبائی دارالحکومت ایک عرصے سے دہشت گردوں کے نشانے پر ہے اسی طرح خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع مسلسل دہشت گردی کا ہدف بنے ہوئے ہیں۔ ان خطرات سے نمٹنے کیلئے صوبائی دائرہ کار میں مؤثر سکیورٹی بندوبست کی ضرورت ہے۔ بلوچستان میں دہشت گردی کے تازہ واقعے کی ٹائمنگ بھی قابلِ غور ہے۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں ہوا جب امریکہ ایران مذاکرات میں پیشرفت پر دنیا میں مسرت کا اظہار کیا جا رہا ہے اور اس عمل میں پاکستان کی پُرعزم سفارتکاری اور ثالثی کو سراہا جا رہا ہے۔ دہشت گردوں نے اس گھناؤنے واقعے سے پاکستان کے اس تشخص کو گہنانے کی کوشش کی۔ملک میں دہشت گردی کا ہر واقعہ پاکستان کے اس مقدمے کو تقویت دیتا ہے کہ فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کی صورت میں پاکستان کو بیرونی دہشت گردی کا سامنا ہے۔ اس حوالے سے پاکستان پہلے بھی اپنا مؤقف عالمی فورمز پر پیش کر چکا ہے‘ ضروری ہے کہ یہ مقدمہ اب مزید پُرزور انداز سے پیش کیا جائے۔
عالمی سطح پر پاکستان کا ابھرتا ہوا تشخص یقینی بنائے گا کہ دہشت گردی کے بیرونی خطرات سے دنیا کو بہتر آگاہی فراہم کی جا سکے اور ان گھناؤنے عزائم کے محرکین کا سدباب کرنے کیلئے عالمی اثر ورسوخ استعمال کیا جائے۔ مگر ساتھ ہی ہمیں اپنے سکیورٹی انتظامات کو زیادہ مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تاکہ یقینی بنایا جا سکے کہ دہشت گردوں کیلئے ایسا کوئی خلا باقی نہ رہے جہاں سے وہ پاکستان کو نقصان پہنچا سکیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>آسان قرض نہیں پیداواری معیشت(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-25/11222</link><pubDate>Mon, 25 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-25/11222</guid><description>ایسے وقت میں جب ملکی معیشت قرضوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے‘ رواں مالی سال کے پہلے 10 ماہ (جولائی تا اپریل) کے دوران عالمی اداروں‘ بین الاقوامی بینکوں اور دوست ممالک سے 11 ارب ڈالر کا قرض مالیاتی بوجھ میں مزید اضافے کا سبب بنے گا۔قرضوں کا یہ حجم گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 83 فیصد زیادہ ہے۔ قرضوں کا بوجھ اس قدر بڑھ چکا ہے کہ پرانے قرضوں کی ادائیگی نئے قرضوں سے مشروط ہو چکی ہے۔ یہ ایسی دلدل ہے‘ جس میں ہماری معیشت بُری طرح پھنس چکی ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ اس حوالے سے سنجیدہ روش اختیار کی جائے اور وقتی بیل آؤٹ پیکیجز پر انحصار کی پالیسی ترک کر کے معیشت کی پیداواری استعداد میں اضافہ کیا جائے۔

جب تک زرعی و صنعتی پیداوار اور برآمدات میں اضافہ اور مقامی مینوفیکچرنگ کو فروغ نہیں دیا جائے گا‘ معاشی پائیداری کا خواب ادھورا رہے گا۔ قرض گیری کے بجائے ٹیکس ریونیو بڑھانے اور برآمدات اضافے کے اقدامات کی ضرورت ہے۔ پاکستان کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب خطے میں سب سے کم ہے‘ ٹیکس نیٹ کو وسعت دے کر حکومتی آمدن کو بہتر بنانا اب ناگزیر ہو چلا ہے۔ برآمدات میں آئی ٹی‘ ہائی ٹیک مصنوعات اور ویلیو ایڈڈ اشیا پر توجہ دی جانی چاہیے تاکہ تجارتی خسارہ کم ہو اور ڈالروں کیلئے بیرونی قرضوں کی ضرورت نہ پڑے۔ اب بھی وقت ہے کہ مصلحت پسندی چھوڑ کر سٹرکچرل اصلاحات کی طرف بڑھا جائے وگرنہ قرضوں پر انحصار کی پالیسی زیادہ سنگین مالیاتی بحران کی طرف دھکیل سکتی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>گندم کی کم پیداوار اور زرعی پالیسی(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-25/11221</link><pubDate>Mon, 25 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-25/11221</guid><description>ملک عزیز میں زراعت کا شعبہ حکومتی پالیسیوں میں عدم تسلسل کی وجہ سے بحران کا شکار ہے۔ گندم کی خریداری اور امدادی قیمت کے حوالے سے حکومتی پالیسی تبدیل ہونے کا نتیجہ رواں سال گندم کی پیداوار میں کمی کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ محکمہ زراعت پنجاب کے تخمینوں سے علم ہوتا ہے کہ پنجاب میں گندم کی پیداوار میں تین سے دس فیصد تک کمی آئی ہے۔ اندازہ ہے کہ رواں سال گندم کی پیداوار قومی ضروریات سے 20 فیصد تک کم ہو سکتی۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے علاوہ کم پیداوار کی ایک بڑی وجہ حکومتی پالیسیوں کی بے یقینی ہے۔

گزشتہ برس ایک من گندم کے عوض کسان کو محض 2200 روپے ملے‘ رواں سال حکومت نے 3500 روپے فی من نرخ مقرر کیے مگر نامزد نجی فرموں کی عدم دلچسپی‘ تاخیر اور دیگر ٹال مٹول کی وجہ سے بیشتر کسانوں کو رواں برس بھی اپنا جائز محنتانہ نہیں مل سکا۔ اس صورتحال سے مایوس کسان آنے والے سال گندم کے بجائے دیگر نفع آور فصلوں کا رخ کر سکتے ہیں جس سے ملک میں غذائی تحفظ کا سنگین خطرہ پیدا ہو سکتا ۔ ہر سال گندم‘ چینی اور دیگر اہم اجناس کا بحران بدانتظامی اور سرکاری پالیسیوں کے عدم تسلسل کا شاخسانہ ہے۔ حکومت کوزراعت میں طویل مدتی‘ پائیدار اور مستقل پالیسیاں تشکیل دینی چاہئیں۔ کسانوں کو معاشی تحفظ دینے کے علاوہ یہ غذائی خود کفالت کا بھی ناگزیر تقاضا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مسجد و خانقاہ کی تشکیلِ نو(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-05-25/52008/90704580</link><pubDate>Mon, 25 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-05-25/52008/90704580</guid><description>مسلم تہذیب کا فروغ‘ تسلسل اور ارتقا دو اداروں کا مرہونِ منت ہے: مدرسہ اور خانقاہ۔اس تہذیب کے دو ستون ہیں: علم اور تزکیہ۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے دو بڑی نعمتوں سے نوازا ہے۔ ایک عقل اور دوسری اپنی ہدایت۔ عقل کی مدد سے کئی عقدے حل ہو سکتے ہیں۔ معیشت چل سکتی ہے‘ سیاست پنپ سکتی ہے۔ ایک خاص مفہوم میں علم بھی آگے بڑھ سکتا ہے۔ فنونِ لطیفہ بھی اپنا رنگ دکھا سکتے ہیں۔ یہ سب کچھ ممکن ہے۔ یہ سب اس نعمت کے کمالات ہیں جسے عقل کہتے ہیں۔ جس ہستی نے انسا ن کو زندگی عطا کی ہے‘ اس نے عقل بھی دی ہے۔ انسانی تاریخ اس کے کارناموں سے مملو ہے اور ہر صاحبِ عقل اس کا معترف ہے۔ اس میں مسلم یا غیر مسلم میں کوئی فرق نہیں۔انسان کی تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ اس پر تباہی کے جو پہاڑ ٹوٹے‘ اس کی عزت جس طرح سرِ بازار پامال ہوئی‘ اس کی زندگی میں جو دکھ اور تکلیفیں آئیں‘ اس میں بڑا دخل اس عقل کا ہے۔ اسی نے اُسے ظلم کا راستہ دکھایا۔ چال بازیاں سکھائیں۔ اس کے لیے ایٹم بم بنائے اور پھر انسانی بستیوں پر برسائے۔ انسانوں کو غلام بنانے کے نئے نئے طریقے ایجاد کیے۔ اس کے استحصال کے لیے نظریات اور نظاموں کا تانا بانا بُنا۔ اس لیے لازم تھا کہ اس نعمت کی آفات سے محفوظ رکھنے کے لیے‘ انسان کو کچھ مزید عطا کیا جاتا۔ یہ اللہ کی ہدایت ہے جو پیغمبروں کی وساطت سے ملی۔ یہ علم وعمل کا تزکیہ کرتی ہے۔ علم کا تزکیہ ہو جائے تو وہ علمِ نافع بنتا ہے۔ عمل کا تزکیہ ہو جائے تو انسان خیر کی علامت بن جاتا ہے۔ مسلم تہذیب ان دونوں کاموں کا اہتمام کرتی ہے۔علم کی دو صورتیں ہیں۔ ایک خود اس ہدایت کا علم اور دوسرا اس کائنات کا علم جس میں انسانی سماج بھی شامل ہے۔ اس ہدایت کے علم کو درست بنیادوں پر کھڑا کرنا لازم ہے۔ یہ اس لیے کہ انسان میں پائے جانے والا شر کا شعور اور پھر جبلی تقاضے اس علم سے بھی شر دریافت کر لیتے ہیں۔ ہم اس کے گواہ ہیں کہ کیسے اس دین کے علم سے وہ فکری اور عملی فتنے پیدا ہوئے جنہوں نے مسلمانوں کو بالخصوص اور دنیا کو بالعموم برباد کر ڈالا۔ اسی نے مسلمانوں کی تکفیر کا راستہ کھولا۔ اسی سے معصوم انسانوں کو قتل کرنے کا جواز تلاش کیا گیا۔ اسی سے ترقی کے راستے روکے گئے۔ اس لیے لازم ہے کہ اس علم کو صحیح خطوط پر استوار کیا جاتا رہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی لازم تھا کہ سماج اور کائنات کے علم کو بھی درست سمت دی جائے تاکہ وہ انسانوں کے لیے باعثِ خیر بنے نہ کہ باعثِ آزار۔اس کے لیے ضروری تھا کہ انسان کے اخلاقی وجود کی اصلاح کی جائے۔ اس میں چھپے خیر کو نمایاں کیا جائے تاکہ وہ اس کے اعمال کے لیے قوتِ متحرکہ بن جائے۔ یہی قوتِ متحرکہ طے کرتی ہے کہ اس کا کردار کیا ہو گا۔ اگرعلم شعورِ خیر سے پھوٹا ہے تو انسانوں کے لیے نافع ہے۔ بصورتِ دیگر وہ انسانی زندگی کو عذاب بنا سکتا ہے۔ علم کے فروغ کا کام مسلمانوں کے مدارس نے کیا اور اس کی اخلاقی تطہیر کا اہتمام خانقاہی نظام نے کیا۔ مسلم سماج میں یہ دونوں ادارے اسی مقصد کے لیے قائم کیے گئے تھے۔ یہی سبب ہے کہ ہمارے مدارس اور خانقائیں ایک دوسرے سے الگ نہیں تھے۔ ہر مدرسے کے ساتھ مسجد ضروری تھی۔ یہ اس لیے تھا کہ علم پروردگار کی موجودگی کے احساس سے جڑا رہے۔مسلم سماج میں زوال اس وقت آیا جب ان اداروں نے اپنے اصل کردار سے انحراف کیا۔ علم اور اخلاق میں طلاق ہو گئی۔ لوگ دینی علوم پر بحث کر ر ہے ہوتے ہیں اور صاف معلوم ہوتا ہے کہ ہر اخلاقی تقاضے سے بے نیاز ہیں۔ انہیں یہ اندازہ ہی نہیں کہ بحث مباحثے کے بھی اخلاقیات ہوتے ہیں جو دین نے بیان کیے ہیں۔ وہ بلاتکلف منبر پر بیٹھ کر دوسروں کو گالیاں دے سکتے ہیں۔ خانقاہی نظام کا معاملہ بھی ناگفتہ بہ ہے۔ شاید ہی کوئی ایسا ادارہ ہو جس کی طرف اصلاحِ نفس کے لیے رجوع کیا جا سکے۔ مسلم تہذیب کے احیا کے لیے ناگزیر ہے کہ ان اداروں کی تشکیلِ نو ہو۔ اس کے لیے دین کے علم سے وابستہ افراد کو اس جانب متوجہ کرنا لازم ہے۔ امید کی بات یہ ہے کہ اس بات کا احساس اہلِ علم کو ہونے لگا ہے اور حکومت کو بھی۔یہ بات میں ان مشاہدات کی بنیاد پر کہہ رہا ہوں جو مجھے لاہور کے دو روزہ قیام کے دوران میں ہوئے۔ ایک دن منہاج یونیورسٹی میں گزرا جہاں اہلِ علم کو اس کے لیے جمع کیا گیا تھا کہ وہ سماج میں پھیلتی دہشت گردی کا حل تلاش کریں۔ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم دہشت گردی کو مذہبی تناظر میں موضوع بنانے پر مجبور ہیں کیونکہ اس نے مذہب کی غلط تعبیرات سے جنم لیا ہے۔ منہاج یونیورسٹی میں یہی تعبیرات زیرِ بحث رہیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری صاحب نے 1986ء میں اس جامعہ کی بنیاد رکھی تھی۔ آج یہ ایک توانا درس گاہ ہے جس میں وہ تمام ذرائع میسر ہیں جو علم وتحقیق کی ضرورت ہیں۔ ان کے صاحبزادے ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے اس موقع پر فکر انگیز مقالہ پڑھا۔ خود ڈاکٹر طاہر القادری صاحب نے مذہب کی غلط تعبیر کی کوکھ سے جنم لینے والی فتنے کے خلاف چھ سو صفحات پر مشتمل ایک کتاب بھی تصنیف کی ہے۔ اس کانفرنس میں فوج‘ پولیس اور زندگی کے دوسرے شعبوں سے وابستہ افراد شریک ہوئے۔ انہوں نے اپنے تجربات کی روشنی میں بتایا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کیا عملی اقدامات اٹھائے جا سکتے ہیں۔دوسرا اجتماع علما اور مشائخ کا تھا۔ اس میں بھی بنیادی سوال یہی تھا کیسے مسجد وخانقاہ کو اس کے اصل کردار کی طرف لوٹایا جائے۔ اس اجتماع کا اہتمام حکومتِ پاکستان کے ادارے &#39;سنٹر آف ایکسیلنس برائے انسدادِ دہشت گردی‘ نے کیا تھا۔ یہ ادارہ منہاج یونیورسٹی میں منعقد ہونے والی کانفرنس کے شریک معاونین میں شامل تھا۔ علماو مشائخ کو جمع کرنے کی وجہ بھی یہی تھی کہ مسجد وخانقاہ کے اداروں کو سماج میں امن کے لیے استعمال کیا جائے تاکہ محراب ومبنر سے بھائی چارے کی آواز ابھرے۔ یہ پنجاب حکومت کے ان اقدامات کا تسلسل ہے جن کا مقصد صوبے میں مذہبی اداروں کو ایک نظم کے تابع کر نا ہے تاکہ ان کے سوئے استعمال کو رو کا جا سکے۔یہ درست سمت میں ایک اقدام ہے۔ مسلم دنیا میں مذہبی سرگرمیاں ایک نظم کے تحت ہوتی ہیں۔ ہمارے ہاں بدقسمتی سے ایسا نہیں ہے۔ مسجد کے خطیب کے لیے کوئی معیار مقرر ہے نہ مسجد بنانے کے لیے قانونی ضابطہ ہے۔ اگر حکومت اور علما مل کر ایک نظام وضع کر سکیں تو اس میں دونوں کا فائدہ ہے اور ساتھ عوام کا بھی۔ ضرورت یہی ہے کہ مدرسہ‘ مسجد اور خانقاہ‘ پھر سے علم اور تزکیہ کے مراکز بنیں۔ علما ہمیشہ یہ دلیل دیتے ہیں کہ جب ہر معاملے میں ماہرین سے رجوع کیا جاتا ہے تو علمِ دین کے باب میں کیوں نہیں۔ اس دلیل میں وزن ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ خطیب اور امامِ مسجد کے لیے بھی کوئی معیار ہونا چاہیے۔ علمِ دین کی سند کے ساتھ‘ اس کے پاس ابلاغ کی مہارت ہونی چاہیے اور سماج کا شعور بھی۔ اسے معلوم ہو کہ اس کا مخاطب کس طرح کے افراد ہیں اور اسے کس اسلوب میں بات کرنی چاہیے۔ اللہ کرے کہ یہ سنٹر آف ایکسیلنس ان اہم سماجی اداروں کی تشکیلِ نو میں کوئی کردار ادا کرے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ایک نئے دور کا ممکنہ آغاز(رسول بخش رئیس)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-05-25/52009/96356271</link><pubDate>Mon, 25 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-05-25/52009/96356271</guid><description>ایران کے خلاف اسرائیلی اور امریکی جنگ کو ختم کرانے کے لیے ثالث کا کردار ہمارے لیے باعثِ فخر ہے۔ خبریں ابھی تک تو اچھی آ رہی ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ اس جنگ نے ہمیں تو بھاری معاشی مجبوریوں کی وجہ سے جھنجھوڑنا ہی تھا  مگر اس کے منفی اثرات دنیا کے ہر کونے میں دیکھے اور محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ سب سے زیادہ تو ایرانی عوام اذیت کا شکار رہے۔ دہائیوں کی معاشی پابندیوں کے بوجھ نے انہیں پہلے ہی ہلکان کر رکھا تھا اب چالیس دنوں کی بمباری اور پھر بندرگاہوں کی ناکہ بندی نے جو حال کیا ہے وہ بہت بڑا انسانی المیہ ہے۔ ایران نے تزویراتی حکمت عملی کا جو جال پورے خطے میں پراکسیوں کی صورت پھیلایا ہوا تھا‘ وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کا شکار ہوا۔غزہ میں نسل کشی کی جدید دور میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ اب ظلم وبربریت کی وہی کہانی جنوبی لبنان میں دہرائی جا رہی ہے۔ ایران انقلاب کے دن سے اپنے خلاف اٹھتی ہوئی مخالف قوتوں کا اندازہ بخوبی لگا چکا تھا۔ نہ تو خطے کے ممالک نہ امریکہ اور اس کے مغربی حلیف اسلامی انقلاب کے پھیلائو اور رجعت پسند مذہبی رجحان کی ترویج و اشاعت کو برداشت کر سکتے تھے۔ ایک نئے نظریے‘ نئے انقلاب اور اپنے طرز کی وسعت پسندی کے ساتھ ایک نئی سرد جنگ کا آغاز ہوا۔ ایسی سلگتی جنگوں میں اتحادوں کی تلاش‘ نظریے کی صداقت اور اندرونی ہم آہنگی کے ساتھ بھرپور دفاعی تیاریاں بھی اہم ہتھیار رہے ہیں۔ ایران صرف ایک علاقائی ریاست‘ شام کو اپنا حلیف بنا سکا تھا۔ اس کی وجوہات میں جانے کی ضرورت نہیں۔ سب کو معلوم ہے کہ فرقہ بندی ایران مخالف اور اُس کے حق میں اسلامی دنیا کے سب معاشروں میں ایک نئی طاقت کے ساتھ جدید دور میں ابھری۔ اسلامی حلقوں میں ایران کے اسلامی انقلاب کی حمایت فرقہ واریت کے جذبوں سے ماورا تھی۔ وہ بھی اپنے ملکوں میں ایسے انقلاب کے خواب اپنی آنکھوں میں سجائے ہوئے تھے۔ یہ سب باتیں اب فروعی ہیں۔ ان کا تذکرہ ایک تمہید کے طور پر کیا ہے کہ فوکس اُس سرد جنگ پر رکھنا مقصود ہے۔ اس خیال اور سوال کے ساتھ کہ اب اس جنگ کے بعد اس کے شعلے ٹھنڈے پڑیں گے یا چنگاریاں کہیں راکھ میں کسی نئی آگ کو بھڑکا ئیں گی؟مغرب اور اس کے سیاسی اور دفاعی اتحادیوں نے پہلے اشتراکی اور بعد میں ایرانی انقلاب کو محدود کرنے کی پالیسی اپنائی۔ موجودہ جنگ کا اونٹ جس کروٹ بھی بیٹھے‘ اس طویل جنگ کے دوران دونوں فریقوں کے نظریاتی‘ سیاسی اور تزویراتی حربوں کے بارے میں بہت کچھ جزئیات کے ساتھ لکھا جائے گا۔ ایران کو محدود کرنے کے لیے جو حصار اور اس کے عناصر استعمال ہوئے وہ سوویت یونین اور چین کے خلاف آلہ کاروں سے صرف محل وقوع اور حالات کے لحاظ سے مختلف تھے‘ کئی قدریں ان میں مشترک تھیں۔ ایران کے خلاف بھی اندر سے ابھرتی سماجی اور نظریاتی تحریکوں کو ہوا دی گئی۔ اس کے ساتھ پوری دنیا میں جو رجیم بارے نقشہ کھینچا گیا اُس کے رنگ عین اسی نوعیت کے تھے جو ایک زمانے میں اشتراکی چین اور تب کے سوویت یونین کے متعلق ہوا کرتے تھے۔ اس سرد جنگ کے اثرات کے حوالے سے ایک اور قدرِ مشترک کچھ ممالک میں ایسے گروہوں اور سماجی طاقتوں کو اپنے زیرِ اثر لانا تھا جو مخالف ممالک کی حکومتوں کے لیے فانے کا کام دے سکیں۔ یہاں سب سے بڑا اور بنیادی فرق جدید نظریاتی اور مخصوص مذہبی رجحانات کی صورت ہمیں نظر آتا ہے۔ اشتراکیت جدید نظریہ رہا ہے اور اب بھی جہاں کہیں انقلابی خون جوش مارتا ہے اس کی گرفت محسوس کی جا سکتی ہے۔ اس کے برعکس وسیع تر علاقائی اتحاد پید اکرنے کی غرض سے مخصوص مذہبی خیالات کی حمایت کوئی نئی بات تو نہیں مگر ہم نے اس نوعیت کی بڑھتی ہوئی مقابلہ بازی میں ریاستوں کے کردار کو کلیدی دیکھا۔ یہ آگ جو ہمارے معاشروں میں لگی وہ کسی ایک سمت سے ہرگز نہیں تھی۔ عدم اعتماد‘ خوف اور کچھ پرانی تاریخ کے اوراق جس نئے رنگ میں لکھے گئے‘ وہ مرغی اور انڈے والا معاملہ بنتا چلا گیا ہے۔ اس کا حتمی تعین کبھی موافق ترین حالات میں کرنا بھی ممکن نہیں کہ پہلے کیا تھا اور کیا ہوا۔یہاں کسی ایک کو موردِ الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا اور نہ اس کی ضرورت ہے۔ اس لیے نہیں کہ سرد جنگوں میں جب تنائو پیدا ہوتا ہے تو ان کے محرکات اسباب میں بھی موجود ہوتے ہیں اور نتائج میں بھی۔ اس گھمن گھیری میں حکومتوں کی نظریں حالاتِ حاضرہ پر رہتی ہیں اور اکثر ان کی پالیسی دور اندیش نہیں ہوتی بلکہ ردعمل کے خلاف ردعمل کی رو میں بہتی رہتی ہے۔ یہی کچھ ہم نے مشرق وسطیٰ میں دیکھا۔ پہلے تو عراق کے صدام حسین کو شہ دے کر اور ا س کی بے پناہ مالی اور عسکری حمایت کرکے ایران کے انقلاب کو دبائو میں رکھنے اور ممکنہ حد تک اُس کا تختہ الٹنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ اس کے ساتھ عربوں کا جھکائو اور دفاعی انحصار امریکہ کی طرف بڑھتا چلا گیا۔ ایران نے بھی غیر ریاستی عناصر کا سہارا لیا کہ مخالفین کو کہیں دور مصروف رکھا جائے۔ لیکن یہ کوئی آسان اور بلاخطر پالیسی نہ تھی۔ ایران اور عربوں کی ایک دوسرے کے خلاف پالیسیوں کا جائزہ لیں تو بداعتمادی‘ شک اور خوف نے دونوں جانب ایسا ذہن بنایا کہ باہمی خلیج بڑھتی ہی چلی گئی۔ آخرکار جو آپ نے ایران کے خلاف جنگ میں ہوتے دیکھا اور جو ایران نے جوابی کارروائی کے طور پر کچھ عرب ریاستوں میں کر دکھایا اسے آپ برادر کشی نہیں کہیں گے تو اور کیا کہیں گے۔سب گرم اور سرد جنگیں ایک دن ہم نے ختم ہوتے دیکھیں اور انقلابوں کی بھاپ بھی ٹھنڈی ہوتی دیکھی ہے۔ چین کا نظریاتی رخ بھی وہاں کی بڑی پارٹی نے تبدیل کرکے اسے دنیا کی بڑی طاقت میں تبدیل کر دیا۔ سوویت یونین نے اپنے آپ کو کئی طرح کے بوجھ سے ایسا لاد لیا کہ خود ہی گھٹنوں کے بل گر پڑا۔ اُس کی توسیع پسندانہ روش کو مغرب نے اس کے زوال میں اُس کی کمزوری کے طور پر استعمال کیا اور اس کی مخالف طاقتوں کی زبردست حمایت کی۔ پچھتر سال بعد اشتراکیت ہوا ہو گئی اور سوویت یونین کا ایک نئی ریاست کا تجربہ زمین بوس ہوا۔ ایران کا انقلاب اب دیکھیں پینتالیس سال بعد کیا سمت اختیار کرتا ہے۔ ایرانیوں کا زیادہ تر نقصان معاشی اور عسکری میدان میں ہوا ہے مگر یمن‘ جنوبی لبنان‘ شام اور غزہ میں اس کے اتحادیوں کے لیے سرد جنگ کے جو نتائج نکلے ہیں‘ ان پر ہم بے بسی کے آنسو ہی بہا سکتے ہیں۔ جنگ سرد اور گرم‘ دونوں صورتوں میں ختم ہوتی نظر آ رہی ہے۔ تاریخ ہمیں ہمیشہ غلط ثابت کرتی رہی ہے‘ اس لیے میرا نقطہ نظر بھی غلط ہو سکتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ ایران اپنے راستے بدلے گا۔ اس وقت جس چوراہے پر کھڑا ہے‘ یا اسے لا کھڑا کیا گیا ہے‘ جلد یا بدیر اس کا جبر اس کی اندرونی اور خارجہ پالیسی پر نظرثانی کی صورت دیکھیں گے۔ اگر بداعتمادی‘ شک‘ خوف اور عدم سلامتی جو سرد جنگ اور حالیہ جنگ کے محرکات تھے‘ ختم ہوتے ہیں تو ایران بھی بدلے گا اور دوسروں کو بھی بدلنا ہو گا۔ ہر نوع کی جنگوں کے نتائج ایسے ہی برآمد ہوتے ہیں جن کے بارے میں پہلے سے کچھ کہنا مشکل ہوتا ہے۔ کوئی شک ہے تو امریکہ کے ویتنام اور چین کے ساتھ تعلقات‘ سرمایہ کاری‘ باہمی تجارت اور شراکت داری کو دیکھ سکتے ہیں۔ ہمارے خطے میں ایک نئے دور کی امید پیدا ہو چکی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_33241568.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>جنگ، امن اور معیشت(جاوید حفیظ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/javed-hafiz/2026-05-25/52010/85122304</link><pubDate>Mon, 25 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/javed-hafiz/2026-05-25/52010/85122304</guid><description> امریکہ ایران جنگ بظاہر دو ملکوں کے درمیان تھی لیکن اس کے اثرات پوری دنیا پر ہیں ۔اپریل کے وسط سے اگرچہ جنگ تو رک گئی مگر آبنائے ہرمز جزوی طور پر بند ہونے کی وجہ سے عالمی اقتصادیات پر منفی اثرات طاری ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا میں کارپوریٹ کمپنیوں کو اب تک 25 ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔ حکومتوں کے خسارے اس کے علاوہ ہیں۔ دوسری عالمی جنگ اتحادی ممالک نے جیت لی تھی۔ برطانیہ اس اتحاد کا حصہ تھا۔ فاتح ہونے کے باوجود اس طویل جنگ نے برطانوی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ۔ موجودہ جنگ عالمی اقتصادیات پر اب بری طرح اثر انداز ہو رہی ہے۔ شرح نمو بیشتر ممالک میں سست ہو گئی ہے۔ پٹرول کی قیمت میں بے پناہ اضافے نے امریکہ سے لے کر پاکستان تک صارفین کو پریشان کیا ہوا ہے۔ایران جنگ کے آغاز سے اب تک 27 ممالک نے اپنی معیشت پر جنگ کے اثرات کے باعث مدد لینے کیلئے ورلڈ بینک سے رجوع کیا ہے۔ دنیا میں کئی بار ہوا ہے کہ ایک شخص نے اپنی سوچ اور عمل سے تاریخ کا دھارا موڑدیا۔ یہ بات بھی قرینِ قیاس ہے کہ اسامہ بن لادن اور القاعدہ نے بہت سے بے گناہ لوگوں کو قتل کیا‘ نائن الیون کو نیویارک میں دو عمارتیں تباہ ہوئیں۔ ان میں کام کرنے والے 3753لوگ‘ سب کے سب بے قصور تھے‘ وہ امریکہ کی پالیسیوں سے منسلک بھی نہیں تھے۔ اب اسے دوسرے زاویے سے دیکھتے ہیں۔ بین الاقوامی امور سے خوب واقف میرے ایک دوست کہا کرتے ہیں کہ دنیا کو اسامہ بن لادن کا شکرگزار ہونا چاہیے۔ میں نے پہلی مرتبہ ان کے منہ سے یہ بات سنی تو ششدر رہ گیا کیونکہ میری نظر میں اسامہ بن لادن دہشت گرد تھا۔ میں نے استفسار کیا کہ اپنی بات کی تشریح کریں‘ تو کہنے لگے کہ اسامہ بن لادن کی وجہ سے امریکہ پہلے افغانستان اور پھر عراق میں آیا۔ میں نے جواب دیا کہ افغانستان میں تو امریکہ القاعدہ کی وجہ سے آیا مگر عراق میں وجوہات کچھ اور تھیں۔ جواب ملا کہ نائن الیون کے بعد امریکی افواج افغانستان گئیں تو طالبان کی حکومت جلد ہی تحلیل ہو گئی۔ امریکہ کا اپنی عسکری قوت پر گھمنڈ بہت بڑھ گیا اور پھر عراق پر حملے کیلئے بہانے تراشے گئے۔ مہلک ہتھیاروں کے وجود کا جھوٹا الزام لگایا گیا۔ ان دونوں جنگوں میں امریکہ اپنے اہداف حاصل نہ کر سکا اور اس کا عالمی قد کاٹھ بہت متاثر ہوا۔ اب وہ اکلوتی سپر پاور نہیں رہا بلکہ ملٹی پولر ورلڈ کا حصہ ہے۔فی کس سالانہ آمدنی کے لحاظ سے قطر دنیا میں اولین نمبروں پر تھا۔ قطر ایل این جی کا بہت بڑا ایکسپورٹر رہا ہے۔ جنگ کی وجہ سے آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث قطر کی گیس برآمدات متاثر ہوئی ہیں۔ ظاہر ہے کہ قطر کی آمدنی خاصی کم ہوئی ہے۔ گیس برآمدات سے حاصل شدہ آمدن قطر کی جی ڈی پی کا 60 فیصد تھی۔ اپنی بے پناہ دولت کے زور پر قطر نے تاریخ کا سب سے مہنگا فٹ بال ورلڈ کپ کرایا۔ اب صورتحال قدرے مختلف ہے۔ قطر نے پاکستان اور ایران سے اچھے تعلقات کی بنا پر چند گیس کارگو شپ پاکستان بھیجے ہیں لیکن مجموعی برآمدات میں خاصی کمی آئی ہے۔ صرف سعودی عرب اور سلطنتِ عمان کی صورتحال بہتر ہے کیونکہ وہ بحیرۂ احمر؍ بحیرۂ عرب سے بھی برآمد کر سکتے ہیں۔ جبکہ متحدہ عرب امارات کو ایسا کرنے کیلئے فجیرہ تک پائپ لائن بچھانا ہو گی اور بندر گاہ کو بہتر کرنا ہو گا۔لمبی جنگیں ملکوں کو تباہ کر دیتی اور لوگوں کو ہجرت پر مجبور کر دیتی ہیں۔ یہ معاشرے کی ہیئت کو برُی طرح متاثر کرتی ہیں۔ شام میں 13 سال تک خانہ جنگی اور بیرونی مداخلت جاری رہی۔ میں 1970ء کی دہائی میں دمشق میں تین سال رہا۔ سوشلزم کی جانب مائل حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے معیشت قدرے جکڑی ہوئی ضرور تھی لیکن امنِ عامہ کی صورتحال مکمل قابو میں تھی۔ جرائم بہت کم تھے۔ میرے ایک شامی دوست حال ہی میں اسلام آباد سے دمشق واپس گئے ہیں۔ یہاں وہ اسلامک یونیورسٹی میں زیر تعلیم رہے۔ اب دمشق جا کر اسلام آباد کو یاد کرتے ہیں کہ پاکستان میں امورِ زندگانی بہت بہتر تھے۔ تیرہ سالہ خانہ جنگی اور بیرونی مداخلت نے ایک شاندار ملک کا چہرہ مسخ کر دیا ہے۔ میں دمشق کے پوش علاقے ابو رمانہ میں قیام پذیر تھا اور وہاں شام کو سڑکیں روزانہ دھوئی جاتی تھیں۔ اب سنا ہے کہ ایسا نہیں ہوتا۔ ان کاموں کیلئے وسائل درکار ہیں جو شاید اب شام کے پاس نہیں ہیں۔ ویسے بھی لمبی جنگیں رعنائی ٔخیال کو مسخ کر دیتی ہیں۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ اگر 1965ء اور 1971ء کی جنگیں ہمیں نہ لڑنا پڑتیں تو شاید آج معاشی اعتبار سے ایشین ٹائیگرز کی صف میں کھڑے ہوتے اور آئی ایم ایف کے پاس جانے کی نوبت ہی نہ آتی۔ چین‘ جنوبی کوریا‘ جاپان نے عرصے سے کوئی جنگ نہیں لڑی اور اقتصادی ترقی میں بہت آگے نکل گئے ہیں۔ اس ترقی کے اہم فیکٹرز امن‘ منصوبہ بندی اور یکسوئی ہیں۔ اب چلتے ہیں روس یوکرین کی جانب۔ روس نے اس طویل جنگ میں 12 فیصد اضافی رقبہ یوکرین سے ضرور چھین لیا لیکن اسے بھاری قیمت بھی چکانا پڑی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس جنگ میں ساڑھے تین لاکھ روسی فوجی زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔ اسلحہ کا بھی بہت نقصان ہوا ہے۔ فائدہ صرف روس کی تیل اور گیس کمپنیوں کو ہوا ہے۔ جنگ میں روس کا پلڑا بھاری ضرور رہا لیکن سپر پاور کا درجہ اسے پھر بھی حاصل نہیں ہو سکا۔ روس اور امریکہ جنگوں میں اپنے وسائل اور انرجی ضائع کرتے رہے اور چین خاموشی سے ترقی کرتا رہا۔ آج چین اقتصادی طور پر روس سے بہت آگے ہے اور چند برسوں میں امریکہ کے شانہ بشانہ کھڑا ہوگا۔آبنائے ہرمز کی بندش سے صرف تیل اور گیس کی سپلائی متاثر نہیں ہوئی کیمیاوی کھادیں جو خلیجی ممالک بڑی مقدار میں سپلائی کرتے تھے ان کی سپلائی بھی متاثر ہوئی ہے۔ یو این کی ایک رپورٹ کے مطابق اگر یہ جنگ دو تین ماہ مزید جاری رہتی تو دنیا میں مزید ساڑھے چار کروڑ افراد بھوک کا شکار ہو سکتے تھے۔ روس کا خیال تھا کہ مختصر عرصے میں یوکرین گھٹنے ٹیک دے گا۔ اسی طرح امریکہ کا اندازہ تھا کہ وہ چند روز میں ایران میں اپنی پسند کی حکومت لے آئے گا۔ ایران کا تیل پھر وہیں جائے گا جہاں امریکہ چاہے گا اور چین کو بھی ایران سے تیل لینے کیلئے امریکہ کی طرف دیکھنا پڑے گا۔ مگر یہ سارے اندازے غلط نکلے کیونکہ ایران وینزویلا سے بہت مختلف ہے۔ یہ وہ ملک ہے جو ڈھائی ہزار سال پہلے سپر پاور تھا۔امریکہ اور ایران کے مطالبات میں بڑا خلا تھا۔ پاکستان نے ان تمام تر مشکلات کے باوجود پوری کوشش کی کہ بات چیت جاری رہے‘ مذاکرات سے کوئی حل نکلے۔ حال ہی میں ایک دو اچھی خبریں آئی ہیں۔ سنا ہے کہ امریکہ اسرائیل سے کہہ رہا ہے کہ مذاکرات کی کامیابی کیلئے جنوبی لبنان پر فضائی حملے بند کر دیے جائیں۔ دوسری اچھی خبر یہ ہے کہ امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ وقتی طور پر نرم کرنے کا عندیہ دیا ہے تاکہ ایران محدود مدت کیلئے تیل ایکسپورٹ کر سکے۔ میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ امریکہ اور مغربی ممالک ایران کی مکمل تباہی کے حق میں نہیں ہیں۔ اگر خدانخواستہ ایران مکمل تباہ ہو جائے تو ایرانی ہوّا دکھا کر خلیجی ممالک کو اسلحہ بیچنے کا عمل رک جائے گا۔ اس جنگ سے جہاں بے پناہ نقصانات ہوئے‘ قیمتی جانوں کا نقصان ہوا‘ وہاں پاکستان کو بڑا فائدہ یہ ہواکہ مختصر سے عرصے میں پوری دنیا میں ہمارا امیج بہتر ہوا ہے۔ مغربی میڈیا اور انڈیا نے پورا زور لگا کر برسوں تک دنیا کو باور کرایا کہ پاکستان دہشتگردی کی سرپرستی کرتا ہے۔ پھر اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد سے دریافت نے اس تاثر کو تقویت دی۔تاہم حکومت اس معاملے میں فعال کردار ادا کرنے اور صلح کے مذاکرات کرانے پر داد کی مستحق ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_85338835.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ڈیم، سرمایہ کاری اور بجٹ(میاں عمران احمد)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mian-imran-ahmad/2026-05-25/52011/61123352</link><pubDate>Mon, 25 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mian-imran-ahmad/2026-05-25/52011/61123352</guid><description>پاکستان کی تاریخ میں شاید پہلی مرتبہ ایسا ہو رہا ہے کہ ایک ہی وقت میں تین بڑے ڈیم تعمیر ہو رہے ہیں۔ دریائے سندھ پر دیامر بھاشا ڈیم‘ دریائے سندھ ہی پر داسو ڈیم اور دریائے سوات پر مہمند ڈیم۔ پاکستان کا آخری بڑا ڈیم‘ تربیلا 1976ء میں مکمل ہوا تھا۔ یعنی تقریباً پچاس سال تک ملک بڑے آبی ذخائر کے خواب‘ سیمیناروں‘ کمیٹیوں اور سیاسی نعروں میں پھنسا رہا ہے۔ اب پہلی بار ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ ریاست واقعی دریاؤں کے بہاؤ پر قابو پانے کی سنجیدہ کوششیں کر رہی ہے۔ ان تینوں منصوبوں کی مجموعی پیداواری صلاحیت 9620 میگاواٹ ہے۔ صرف داسو ڈیم 4320 میگاواٹ جبکہ دیامر بھاشا 4500 میگاواٹ بجلی پیدا کرے گا۔ یہ دونوں منصوبے مکمل ہونے کے بعد پاکستان کی پن بجلی صلاحیت تقریباً دُگنی ہو سکتی ہے۔ مجموعی لاگت تقریباً 2.6 کھرب روپے ہے‘ جو بظاہر ایک بہت بڑی رقم ہے مگر یہ منصوبے اب صرف فائلوں میں نہیں رہے۔ داسو میں فروری 2023ء اور دیامر بھاشا میں دسمبر 2023ء کے دوران دریائے سندھ کا رخ کامیابی سے موڑا جا چکا ہے‘ جو کسی بھی بڑے ڈیم کی تعمیر کا انتہائی اہم مرحلہ ہوتا ہے۔ دیامر بھاشا پر اس وقت بیک وقت 13 مقامات پر کام جاری ہے جبکہ 2026ء کے آغاز میں مرکزی ڈیم باڈی پر رولر کمپیکٹڈ کنکریٹ کا کام بھی شروع ہو چکا ہے۔ مہمند ڈیم کی تعمیر 2019ء میں شروع ہوئی تھی اور حکومتی دعوؤں کے مطابق یہ 2026-27ء تک مکمل ہو سکتا ہے۔ یہ صرف بجلی کی کہانی نہیں‘ پانی کی بقا کی بھی کہانی ہے۔ ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اس وقت صرف 30 دن کا پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جبکہ بھارت تقریباً 220 دن کا پانی ذخیرہ کر سکتا ہے۔ دیامر بھاشا‘ داسو اور مہمند ڈیم مکمل ہونے کے بعد پاکستان کی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت تقریباً 45 دن تک پہنچ سکتی ہے۔ یہ اب بھی ناکافی ہے مگر کم از کم تباہی کی طرف بڑھتے قدموں کو کچھ دیر کے لیے روکا جا سکتا ہے۔ 2022ء کے تباہ کن سیلابوں نے پاکستان کو 30 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان پہنچایا۔ لاکھوں گھر تباہ ہوئے‘ فصلیں بہہ گئیں‘ سڑکیں ٹوٹ گئیں اور پورا ملک معاشی جھٹکے سے سنبھل نہ سکا۔ ان ڈیموں کا ایک اہم پہلو سیلابی پانی کو منظم کرنا بھی ہے۔ آبی ذخائر کے ذریعے پانی کے بہاؤ کو کنٹرول کر کے انسانی جانوں‘ زرعی زمینوں اور انفراسٹرکچر کو بڑے پیمانے پر بچایا جا سکتا ہے۔اب بات کرتے ہیں پاکستان کی معیشت کے اندر ہونے والی ایک نئی ڈیجیٹل تبدیلی کی‘ جو بظاہر خاموش ہے مگر معیشت کے لیے اس کے اثرات بہت اہم ہیں ۔ایک دہائی پہلے پاکستان میں باقاعدہ وینچر کیپٹل یعنی وی سی فنڈز تقریباً نہ ہونے کے برابر تھے۔ آج ملک میں 53 وینچر کیپٹل فنڈز کام کر رہے ہیں جن میں سے 23 صرف کراچی میں موجود ہیں۔ صرف چند برسوں میں پاکستانی سٹارٹ اپس تقریباً 4.77 ارب ڈالر کی مجموعی سرمایہ کاری حاصل کر چکے ہیں۔ یہ تبدیلی خاموش ضرور ہے لیکن اس کے اثرات آنے والے برسوں میں پاکستان کی معیشت کا نقشہ بدل سکتے ہیں۔ دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ یہ بڑی کامیابیاں کراچی سے سامنے آئیں۔ حقیقتاً پاکستان کا موجودہ سٹارٹ اپ انقلاب زیادہ تر کراچی کی کہانی ہے۔ سرمایہ کار‘ فنڈنگ‘ کامیاب بانی اور بڑے آئیڈیاز زیادہ تر اسی شہر میں جمع ہیں۔ سندھ حکومت کی دلچسپی سے یہ کامیابیاں ممکن ہوئی ہیں۔وفاقی بجٹ کی بات کی جائے تو ملک بھر کی تاجر تنظیموں نے حکومت سے ٹرن اوور ٹیکس کم کر کے 0.5 فیصد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ بظاہر یہ ایک عام ٹیکس مطالبہ لگتا ہے لیکن حقیقت میں یہ پاکستان کی کمزور معیشت‘ مہنگائی‘ کاروباری بحران اور حکومتی ریونیو کے درمیان جاری کشمکش کی ایک بڑی تصویر ہے۔ پاکستان میں تقریباً 50 لاکھ سے زائد چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار ہیں‘ لیکن ٹیکس نیٹ میں شامل تاجروں کی تعداد اس کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ ایف بی آر کے مطابق ملک کی آبادی 24 کروڑ سے زیادہ ہے مگر فعال ٹیکس فائلرز کی تعداد تقریباً 50 لاکھ کے قریب ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ معیشت کا ایک بڑا حصہ اب بھی غیر دستاویزی ہے۔ پیچیدہ ٹیکس نظام‘ بار بار چھاپے‘ پوائنٹ آف سیل سسٹم اور ایف بی آر اہلکاروں کا رویہ کاروباری طبقے کو خوفزدہ کرتا ہے۔ کم شرح ٹیکس اور آسان نظام کاروباری افراد کو رضاکارانہ طور پر ٹیکس نیٹ میں لا سکتا ہے۔ پاکستان کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب تقریباً 9 سے 10 فیصد ہے جبکہ بھارت میں یہ شرح تقریباً 18 فیصد اور کئی ترقی یافتہ ممالک میں 25 سے 35 فیصد تک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے مسلسل پاکستان پر ٹیکس نیٹ وسیع کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔ پاکستان کو صرف زیادہ ٹیکس نہیں بلکہ بہتر ٹیکس نظام کی بھی ضرورت ہے۔ ایسا نظام جو آسان‘ شفاف اور کم کرپشن والا ہو۔ اگر حکومت تاجروں کا اعتماد بحال کرنے میں کامیاب ہو گئی تو ممکن ہے لاکھوں نئے کاروبار رضاکارانہ طور پر ٹیکس نیٹ میں شامل ہو جائیں۔ لیکن اگر پرانا دباؤ‘ چھاپے اور پیچیدہ قوانین جاری رہے تو معیشت کا بڑا حصہ بدستور غیر رسمی رہے گا۔ اسی طرح کے معاملات رئیل اسٹیٹ کے ساتھ ہیں۔ تاجروں کا سب سے بڑا اعتراض ایف بی آر کی پراپرٹی ویلیوایشن پر ہے‘ جو اُن کے مطابق اصل مارکیٹ ریٹس سے تقریباً 30 سے 40 فیصد زیادہ رکھی جاتی ہے۔ اس فرق کی وجہ سے خریدار کو زیادہ ٹیکس دینا پڑتا ہے جس سے جائیداد کی خرید وفروخت متاثر ہوتی ہے۔ اگر ایف بی آر کی پراپرٹی ویلیوایشن کم از کم 40 فیصد تک کم کر دی جائے تو مارکیٹ میں حقیقی قیمتیں بحال ہو سکتی ہیں اور سرمایہ کاری بڑھ سکتی ہے۔ موجودہ ٹیکس نظام میں غیر حقیقت پسندانہ قیمتیں کاروبار کو مزید سست کر رہی ہیں۔ اوور سیز پاکستانیوں کا کردار بھی اس شعبے میں نہایت اہم ہے۔ پاکستان کو سالانہ تقریباً 27 سے 30 ارب ڈالر کی ترسیلاتِ زر بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے حاصل ہوتی ہیں۔ اگر انہیں پراپرٹی خریداری میں خصوصی رعایتیں اور آسانیاں دی جائیں تو سرمایہ کاری بڑھ سکتی ہے اور ملک میں ڈالر کی آمد میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ ادھر وزیراعلیٰ پنجاب کا آذربائیجان کے دارالحکومت باکو کا حالیہ دورہ پاکستان خصوصاً پنجاب کی معیشت کے لیے اہم ثابت ہو سکتا ہے۔ اس دورے میں تجارت‘ سرمایہ کاری‘ سمارٹ سٹی‘ انفراسٹرکچر‘ توانائی‘ زراعت اور آئی ٹی سمیت کئی شعبوں میں تعاون پر بات چیت ہوئی۔ سب سے اہم پیشرفت پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان جوائنٹ ورکنگ گروپ کے قیام کا فیصلہ ہے‘ جس کا مقصد سیاسی تعلقات کو براہِ راست معاشی منصوبوں میں تبدیل کرنا ہے۔ پاکستان کو اس وقت فوری طور پر غیر ملکی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے تاکہ صنعتی شعبہ‘ برآمدات اور روزگار بہتر ہو سکیں۔ ایسے میں آذربائیجان جیسے توانائی سے مالا مال ملک کی دلچسپی پاکستان کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہے۔ آذربائیجان پہلے ہی پاکستان میں تقریباً دو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کر چکا ہے ۔ حالیہ ملاقاتوں میں اس سرمایہ کاری کو عملی منصوبوں میں تبدیل کرنے پر زور دیا گیا ہے۔اگر یہ سرمایہ کاری حقیقت بن جاتی ہے تو یہ حالیہ برسوں میں پاکستان میں آنے والی بڑی علاقائی سرمایہ کاریوں میں شامل ہو سکتی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/212_71532147.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ایرانی جوئے شیر اور پاکستانی کوہ کن(سعود عثمانی )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-05-25/52012/65507789</link><pubDate>Mon, 25 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-05-25/52012/65507789</guid><description>مبارک تو دینی ہے لیکن حالات کے اتار چڑھاؤ کب کسی مبارک کو غارت کر دیں کچھ علم نہیں۔ اس سے پہلے بھی کئی بار ایسا لگا کہ امریکہ اور ایران میں معاہدے کے دستخط بس آئندہ 24 گھنٹوں میں ہو جائیں گے‘ پھر کوئی نادیدہ ہاتھ معاہدے کے کاغذات چھین کر لے گیا اور مبارکبادیں دھری رہ گئیں۔ اس لیے اصل مبارک تو اس دن ہو گی جب اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے نمائندے معاہدے پر دستخط کریں گے اور پاکستان گواہ کی حیثیت میں۔ کئی اور عرب ممالک بھی شریکِ محفل ہوں گے۔ پھر بھی اِس وقت یہ خوش آئند خبریں امریکی اور ایرانی نمائندوں سمیت اتنی جہات سے آ رہی ہیں کہ لگتا ہے وہ کام ہو گیا جس کے لیے پاکستان سر توڑ کوششیں اور سفارتکاری کر رہا تھا‘ بس رسمی کارروائیاں باقی ہیں۔تہران یونیورسٹی‘ خیابانِ ولیِ عصر اور اطراف سے اس سے آ کر ملنے والی چھوٹی سڑکیں ان دنوں بہت یاد آ رہی ہیں۔ وہ سارا پُررونق مگر پُرسکون علاقہ اب کس حال میں ہے‘ کچھ معلوم نہیں۔ پرانے تہران میں قاچار بادشاہوں کے گلستان محل اور اس کے قریب قدیم مسقف بازار پر گزشتہ جنگوں کے بیچ کیا گزری‘ کچھ پتا نہیں‘ ان دکانوں پرخشک میوؤں کے لگے ہوئے ڈھیر اب بھی لگے ہیں یا جنگ نے انہیں اجاڑ دیا‘ کچھ کہہ نہیں سکتا۔ چلو کباب‘ جوجہ کباب اور ایرانی لسی دوغ کی قیمتیں اب کیا ہیں‘ کہہ نہیں سکتا۔ زرشک پلاؤ کی قاب اب کتنے کی ہے‘ نہیں جانتا۔ بالائی تہران میں کوہ دماوند کی ڈھلوانوں پر رضا شاہ پہلوی کا سعد آباد محل اب بھی شاداب ہے یا اُجڑ چکا۔ پہاڑوں سے زیریں تہران میں سڑکوں کے کنارے بہنے والی تیز رود کوہی کی آواز ہنستی کھلکھلاتی گونجتی رہتی ہے یا خاموش ہو چکی‘ کچھ خبر نہیں۔ سیاح کی نظروں میں تو وہی منظر بسے رہتے ہیں جو اس نے آخری بار دیکھے تھے‘ لیکن مجھے کچھ باتوں کی بہرحال خبر ہے۔ ایک دو دن پہلے تہران کے بارے میں ایک رپورٹ پڑھ رہا تھا اور پھر وہ سب مقامات یاد آئے جن کا ذکر کیا ہے۔لیکن یہ رپورٹ پڑھ کر تو اور شدت سے دعا اور خواہش دونوں یکجا ہو گئیں کہ پاکستان کی کوششیں کسی طرح بارور ہو جائیں۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایک بار پھر تہران پہنچے اور 24 گھنٹے گزار کر واپس پہنچ گئے۔ آئی ایس پی آر نے حوصلہ افزا مذاکرات کی نوید دی۔ پاکستانی وزیر داخلہ پہلے ہی ایک ہفتے کے دوران دو بار تہران جا چکے تھے۔ قیاس تو کیا جا سکتا تھا کہ کوئی امید بندھی ہو گی‘ کچھ یقین دہانیاں لی گئی ہوں گی تبھی یہ دورے ہو رہے ہیں۔ لیکن یہ امیدیں تو دو ماہ سے چل رہی تھیں۔ کونپل سر نکالتی تھی اور مَسلی جاتی تھی۔ بار بار یہی ہو رہا تھا۔ سب تجزیے غلط ہو جاتے ہیں لیکن امید ختم نہیں ہوتی۔ پوری دنیا کی نظریں اور امیدیں ادھر ہی لگی ہوئی تھیں۔ ہفتے کی رات سے وہ خوشخبریاں آنا شروع ہوئیں جن کا انتظار تھا۔میں سمجھتا ہوں کہ کسی ملک کو سب سے زیادہ اس امن کی ضرورت تھی تو وہ ایران ہے۔ باقی سب ملک بعد میں آتے ہیں۔ لوگوں کو اندازہ نہیں کہ ایران میں کیسی خوفناک معاشی صورتحال ہے۔ ہمارے ہاں ایران کے جذبے کی بات ہوتی ہے لیکن بے خبری ہے کہ ایران میں لوگ کس طرح زندہ ہیں۔ شاعر نے کہا تھاکہگزرنے والے جہازوں کو کیا خبر ہے کہ ہماسی جزیرۂ ناآشنا میں زندہ ہیںبین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) اور ایران کے شماریاتی ادارے (Statistical Center of Iran) کی رپورٹس کے مطابق ایران اس وقت عالمی سطح پر سب سے زیادہ مہنگائی والے چند ممالک میں شامل ہو چکا ہے۔ آئی ایم ایف کی مئی 2026ء کی رپورٹ کے مطابق ایران میں سالانہ مہنگائی کی شرح 69 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے جو دوسری عالمی جنگ کے بعد ملک کی تاریخ کی بلند ترین سطح ہے۔ عام استعمال کی اشیا اور کھانے پینے کی چیزوں میں مہنگائی کی رفتار 73 فیصد سے زائد ہو چکی ہے۔ گوشت‘ کوکنگ آئل اور روٹی جیسی بنیادی چیزیں غریب اور تنخواہ دار طبقے کی پہنچ سے باہر ہو گئی ہیں۔ مقامی اخبارات کے مطابق گوشت اب ایک پُرتعیش آئٹم بن چکا ہے اور حکومت کا راشن کوپن سسٹم بڑھتی ہوئی قیمتوں کا مقابلہ کرنے میں ناکام ہے۔ ایران میں ایک عام ملازمت پیشہ شخص کی اوسط ماہانہ تنخواہ تقریباً 230 سے 280 امریکی ڈالر کے درمیان ہے۔ یعنی پاکستانی روپے میں تقریباً 64 سے 78 ہزار لگ بھگ۔ اگر تہران میں پانچ افراد کا ایک کنبہ تصور کیا جائے تو اس کنبے کے اخراجات رہائش‘ کھانے‘ بلوں کی رقوم اور ٹرانسپورٹ سمیت 1200 سے 1400 امریکی ڈالر ہیں۔ اصفہان اور مشہد میں یہی خرچ تیس فیصد کم لگا لیں۔ آپ ایک اوسط آمدنی 70 ہزار روپے کا موازنہ اوسط خرچ ڈھائی لاکھ روپے سے کریں تو اندازہ ہو جائے گا کہ ایک عام کنبہ کس خوفناک صورتحال میں ہے۔ زندگی کا رشتہ برقرار رکھنے کے لیے کنبے میں زیادہ سے زیادہ افراد کام کرتے ہیں اور خرچ ہے کہ پھر بھی پورا نہیں پڑتا۔یہی حال ایرانی کرنسی کا ہے۔ ایران میں دو شرحِ مبادلہ ہیں۔ ایک سرکاری اور دوسرا اوپن مارکیٹ۔ اصل حالات کا اندازہ اوپن مارکیٹ سے ہوتا ہے جہاں ایرانی ریال کی قدر بُری طرح گر چکی ہے۔ ایران میں عام طور پر حساب کتاب تومان میں ہوتا ہے اور ایک تومان 10 ریال کے برابر ہے۔ (یہ برابری بھی کچھ سال پہلے طے کی گئی تھی اور کئی صفر ہٹا کر ایرانی ریال کو یہاں تک لایا گیا تھا) آج کے اوپن مارکیٹ کرنسی ریٹ دیکھ لیں‘ امریکی ڈالر تقریباً 1323400 ایرانی ریال (یعنی 132340 تومان) کا ہے۔ پاکستانی روپیہ 4750 ریال یعنی 475 تومان کا ہے۔ کچھ دوستوں نے بتایا‘ جو ایران میں کچھ عرصہ قیام کرکے واپس آئے ہیں اور اندرونی حالات سے واقف ہیں کہ یونیورسٹیوں اور کالجوں کے اساتذہ بھی فارغ وقت میں ٹیکسیاں چلانے پر مجبور ہیں کیونکہ گزارا نہیں ہوتا۔ پاکستان میں بھی اوسط آمدنی اور اوسط خرچ کی صورتحال بہت خراب ہے اور لوگوں کی چیخیں نکل رہی ہیں‘ پھر بھی پاکستان میں افراط زر 11 فیصد کے لگ بھگ ہے۔ اگر مجھے اور آپ کو یہ صورتحال کنار ے پر پہنچ ہوئی لگتی ہے تو کیا ایرانی فیصلہ سازوں کے علم میں نہیں ہو گی۔اس پورے قضیے میں ایران کے دو بنیادی مسئلے کھل کر سامنے آئے۔ ایرانی فیصلہ سازوں کا بہت بڑا مسئلہ ناک بچانے کا اور سیاسی اقتدار کو محفوظ رکھنے کا ہے۔ دوسرا مسئلہ اندرونی رائے منقسم ہونا اور سیاسی اور پاسدارانِ انقلاب کی قیادتوں کا اپنے اپنے مؤقف پر جمے رہنا؛ چنانچہ یہ تو بعد کا مسئلہ تھا کہ ایران اور امریکہ کا باہمی تصفیہ ہوتا ہے یا نہیں‘ پہلے یہ مسئلہ حل ہونا تھا کہ ایرانی سیاسی اور فوجی قیادتوں میں ہم آہنگی کیسے پیدا کی جائے۔ پاکستان کو ان دونوں محاذوں پر مسلسل کام کرنا پڑا۔ اس کے علاوہ ایک اور بڑا مسئلہ تھا بلکہ ابھی ہے کہ جب دونوں فریق اپنے اپنے سیاسی بیانات کے اسیر ہو چکے ہوں اور بتانا چاہتے ہوں کہ جیت ہماری ہوئی ہے۔ جب متحارب طاقتیں‘ انا اور ناک کی جنگ لڑ رہی ہوں تو یہ مسئلہ پیچھے رہ جاتا ہے کہ لوگ کس چٹان تلے پسے ہوئے ہیں۔ پھر ثالث کی ساری توجہ مسئلہ حل کرنے سے زیادہ دونوں کی ناک بچانے کی طرف ہو جاتی ہے۔ پاکستان اس وقت کوشش کر رہا ہے کہ ایسی صورت نکل آئے جس میں دونوں اپنے اپنے عوام کو فاتحانہ بیان دے سکیں۔ جب معاہدے کی شقیں طے ہو رہی ہوں گی تو یہ بھی طے ہوا ہو گا کہ کس فریق نے اپنے لوگوں کو اور دنیا کو کیا بتانا ہے۔ داد دینی چاہیے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر‘ وزیراعظم شہباز شریف اور دیگر کوہ کنوں کو کہ انہوں نے اس دور میں سنگلاخ پہاڑ کاٹے ہیں اور جوئے شیر بہائی ہے۔ یہ ناممکن کو ممکن بنانا تھا۔ یہ سفارتکاری پاکستان کے سوا کسی اور کے بس کی بات نہیں تھی۔ اور ہمیں اس پر فخر ہونا چاہیے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_81278520.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>حضرت ابراہیم علیہ السلام بحیثیت ِ والد(علامہ ابتسام الہٰی ظہیر )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-05-25/52013/75763273</link><pubDate>Mon, 25 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-05-25/52013/75763273</guid><description>اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے رفقا کی زندگی کو بہترین نمونہ قرار دیا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الممتحنہ کی آیت: 4 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;(مسلمانو!) تمہارے لیے ابراہیم میں اور ان کے ساتھیوں (کے طرزِ عمل) میں بہترین نمونہ ہے‘‘۔سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے جہاں بطور مقتدا‘ پیشوا اور رہنما جمیع انسانیت کی رہنمائی کا بطریق احسن فریضہ سرانجام دیا وہیں بحیثیتِ والد بھی آپ علیہ السلام کی زندگی میں ہمارے لیے بہترین رہنمائی موجود ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ بطور والد حضرت ابراہیم علیہ السلام کے کردار کو بہت خوبصورت انداز میں کلامِ حمید میں بیان فرماتے ہیں۔ آپ نے سیدنا اسماعیل علیہما السلام کی ولادت سے قبل ایک صالح بیٹے کی دعا مانگی جس کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۃ الصافات کی آیات: 100 تا 101 میں کچھ یوں بیان فرمایا: &#39;&#39;اے میرے رب! مجھے بیٹا عطا کر جو صالحین میں سے ہو۔ تو ہم نے اسے ایک بردبار بچے کی بشارت دی‘‘۔ جب حضرت اسماعیل علیہ السلام کچھ دوڑ دھوپ کے قابل ہوئے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ایک بڑی آزمائش سے گزرنا پڑا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ اس واقعہ کو سورۃ الصافات کی آیت: 102 میں کچھ یوں بیان فرماتے ہیں: &#39;&#39;پھر جب وہ (بچہ) اتنی عمر کو پہنچا کہ اس کے ساتھ چلے پھرے تو اس (ابراہیم) نے کہا: میرے پیارے بچے! میں خواب میں اپنے آپ کو تجھے ذبح کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔ اب تو بتا کہ تیری کیا رائے ہے؟ بیٹے نے جواب دیا کہ ابا! جو حکم ہوا ہے اسے بجا لائیے ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے‘‘۔اسی طرح سیدنا ابراہیم نے حضرت اسماعیل علیہما السلام کو ایسی بیوی کے ساتھ رہنے کی تلقین کی جو اللہ کی نعمتوں کا شکر کرنے والی تھی۔ اس حوالے سے صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ &#39;&#39;حضرت اسماعیل علیہ السلام کی شادی کے بعد ابراہیم علیہ السلام اپنے چھوڑے ہوئے خاندان کو دیکھنے آئے۔ اسماعیلؑ گھر پر نہیں تھے۔ اس لیے ابراہیمؑ نے ان کی بیوی سے اسماعیل کے متعلق پوچھا۔ انہوں نے بتایا کہ روزی کی تلاش میں کہیں باہر گئے ہیں۔ پھر آپ نے ان سے ان کے معاش وغیرہ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ حالت اچھی نہیں ہے‘ بڑی تنگی سے گزر اوقات ہوتی ہے۔ اس طرح انہوں نے شکایت کی۔ ابراہیمؑ نے ان سے فرمایا کہ جب تمہارا شوہر آئے تو ان سے میرا سلام کہنا اور یہ بھی کہنا کہ وہ اپنے دروازے کی چوکھٹ بدل ڈالیں۔ پھر جب اسماعیلؑ واپس تشریف لائے تو جیسے انہوں نے کچھ انسیت سی محسوس کی اور دریافت فرمایا: کیا کوئی صاحب یہاں آئے تھے؟ ان کی بیوی نے بتایا کہ ہاں ایک بزرگ اس اس شکل کے یہاں آئے تھے اور آپ کے بارے میں پوچھ رہے تھے۔ میں نے انہیں بتایا (کہ آپ باہر گئے ہوئے ہیں) پھر انہوں نے پوچھا کہ تمہاری گزر اوقات کا کیا حال ہے؟ تو میں نے ان سے کہا کہ ہماری گزر اوقات بڑی تنگی سے ہوتی ہے۔ حضرت اسماعیلؑ نے دریافت کیا کہ انہوں نے تمہیں کچھ نصیحت بھی کی تھی؟ ان کی بیوی نے بتایا کہ ہاں! مجھ سے انہوں نے کہا تھا کہ آپ کو سلام کہہ دوں اور وہ یہ بھی کہہ گئے ہیں کہ آپ اپنے دروازے کی چوکھٹ بدل دیں۔ حضرت اسماعیلؑ نے فرمایا کہ وہ بزرگ میرے والد تھے اور مجھے یہ حکم دے گئے ہیں کہ میں تم سے جدا ہو جائوں‘ اب تم اپنے گھر جا سکتی ہو۔ چنانچہ اسماعیلؑ نے انہیں طلاق دے دی اور بنی جرہم ہی سے ایک دوسری عورت سے شادی کر لی۔ جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور رہا‘ ابراہیمؑ ان کے یہاں نہیں آئے۔ پھر جب کچھ عرصے کے بعد وہ تشریف لائے تو اس مرتبہ بھی اسماعیلؑ اپنے گھر پر موجود نہیں تھے۔ آپ ان کی بیوی کے یہاں گئے اور ان سے اسماعیلؑ کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارے لیے روزی تلاش کرنے گئے ہیں۔ ابراہیمؑ نے پوچھا تم لوگوں کا حال کیسا ہے؟ ان کی گزر بسر اور دوسرے حالات کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ ہمارا حال بہت اچھا ہے‘ بڑی فراخی ہے‘ انہوں نے اس کیلئے اللہ کی حمد وثنا کی۔ ابراہیمؑ نے دریافت فرمایا کہ تم لوگ کھاتے کیا ہو؟ انہوں نے بتایا کہ گوشت! دریافت فرمایا کہ پیتے کیا ہو؟ بتایا کہ پانی! ابراہیمؑ نے ان کے لیے دعا کی: اے اللہ ان کے گوشت اور پانی میں برکت نازل فرما۔ (آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ ان دنوں انہیں اناج میسر نہیں تھا۔ اگر اناج بھی ان کے کھانے میں شامل ہوتا تو ضرور ابراہیم علیہ السلام اس میں بھی برکت کی دعا کرتے۔ صرف گوشت اور پانی کی خوراک میں ہمیشہ گزارہ کرنا مکہ کے سوا اور کسی زمین پر بھی موافق نہیں پڑتا)۔ ابراہیمؑ نے (جاتے ہوئے) فرمایا کہ جب تمہارے شوہر واپس آ جائیں تو ان سے میرا سلام کہنا اور ان سے کہہ دینا کہ وہ اپنے دروازے کی چوکھٹ باقی رکھیں۔ جب اسماعیلؑ واپس تشریف لائے تو پوچھا کہ کیا یہاں کوئی آیا تھا؟ بیوی نے بتایا کہ جی ہاں ایک بزرگ‘ بڑی اچھی شکل وصورت کے آئے تھے۔ بیوی نے آنے والے بزرگ کی تعریف کی اور بتایا کہ انہوں نے مجھ سے آپ کے متعلق پوچھا تو میں نے بتا دیا۔ پھر انہوں نے پوچھا کہ تمہاری گزر بسر کا کیا حال ہے‘ تو میں نے بتایا کہ ہم اچھی حالت میں ہیں۔ اسماعیلؑ نے دریافت فرمایا کہ کیا انہوں نے تمہیں کوئی وصیت بھی کی تھی؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! انہوں نے آپ کو سلام کہا تھا اور حکم دیا تھا کہ اپنے دروازے کی چوکھٹ کو باقی رکھیں۔ اسماعیلؑ نے فرمایا کہ وہ بزرگ میرے والد تھے اور چوکھٹ تم ہو اور وہ مجھے حکم دے گئے ہیں کہ میں تمہیں اپنے ساتھ رکھوں‘‘۔جب تعمیرِ بیت اللہ کا وقت آیا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس گھر کی تعمیر کے عظیم کام میں اپنے فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام کو بھی شریک فرمایا اور رہتی دنیا تک کے والدین کیلئے ایک مثال قائم کی کہ جس وقت انسان نیکی کا کام کرتا ہو تو اس کو اپنی اولاد کو بھی ان خیر کے کاموں میں شریک کرنا چاہیے۔ اس واقعہ کو اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ البقرہ کی آیات: 127 میں کچھ یوں بیان فرماتے ہیں: &#39;&#39;ابراہیم اور اسماعیل کعبہ کی بنیادیں اور دیواریں اٹھاتے جاتے تھے اور کہتے جا رہے تھے کہ ہمارے پروردگار! تُو ہم سے (یہ کارِ خیر) قبول فرما‘(بیشک) تُو ہی سننے والا اور جاننے والا ہے‘‘۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جہاں اپنی اولاد کی نیک تربیت کی اور نیک شریکِ زندگی کے حوالے سے ان کی رہنمائی کی‘ وہیں ان کیلئے بہت سی خوبصورت دعائیں بھی کیں جن کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۂ ابراہیم کی آیات: 35 تا 40 میں کچھ یوں بیان فرمایا: &#39;&#39;(ابراہیم کی یہ دعا بھی یاد کرو) جب انہوں نے کہا کہ اے میرے پروردگار! اس شہر کو امن والا بنا دے اور مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے پناہ دے۔ اے میرے پالنے والے معبود! انہوں نے بہت سے لوگوں کو راہ سے بھٹکا دیا ہے۔ پس میری اطاعت کرنے والا میرا ہے اور جو میری نافرمانی کرے تو تُو بہت ہی معاف اور کرم کرنے والا ہے۔ اے ہمارے پروردگار! میں نے اپنی کچھ اولاد اس بے کھیتی کی وادی میں تیرے حرمت والے گھر کے پاس بسائی ہے۔ اے ہمارے پروردگار! یہ اس لیے کہ وہ نماز قائم رکھیں‘ پس تو کچھ لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف مائل کر دے۔ اور انہیں پھلوں کی روزیاں عنایت فرما تاکہ یہ شکر گزاری کریں۔ اے ہمارے پروردگار! تو خوب جانتا ہے جو ہم چھپائیں اور جو ظاہر کریں۔ زمین وآسمان کی کوئی چیز اللہ پر پوشیدہ نہیں۔ اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے اس بڑھاپے میں اسماعیل واسحاق عطا فرمائے۔ کچھ شک نہیں کہ میرا پالنہار اللہ دعائوں کا سننے والا ہے۔ اے میرے پالنے والے! مجھے نماز کا پابند رکھ اور میری اولاد سے بھی‘ اے ہمارے رب میری دعا قبول فرما‘‘۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی اولاد کو دین کے ساتھ وابستہ رہنے کی وصیت بھی کی۔ دعا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی سنت پر عمل کرنے کی توفیق دے‘ آمین!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_19740082.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>