<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>سیلاب کے خدشات اور پیشگی احتیاط(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-22/11384</link><pubDate>Wed, 22 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-22/11384</guid><description>پاکستان کے بالائی اور میدانی علاقوں میں مون سون بارشوں سے دریائوں میں پانی کا بہائو بتدریج بڑھتا جا رہا ہے۔ ملک کے بڑے دریاؤں کے واٹر شیڈ میں مغربی ہواؤں کے سلسلے اور بحیرہ عرب و خلیج بنگال سے آنے والے مون سون سلسلوں کے امتزاج کے باعث محکمہ موسمیات پانی کے بہائو میں مزید اضافے اور بڑے دریاؤں اور ندی نالوں میں سیلاب کے خدشات ظاہر کر رہا ہے۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے دریائے چناب اور جہلم میں اونچے درجے کے سیلاب سے خبردار کیا ہے۔ مون سون کے موسم میں جب دریاؤں میں طغیانی آتی ہے تو ہزاروں افراد لقمہ اجل بن جاتے اور اربوں روپے کا نقصان ہوتا ہے۔ اس موقع پر حکومتی و انتظامی سطح پر کچھ ہلچل دکھائی دیتی ہے مگر پانی اترنے کیساتھ ہی تمام جوش وجذبہ ٹھنڈا پڑ جاتا ہے۔ ورلڈ بینک اور دیگر عالمی اداروں کی پاکستان میں سیلابوں سے متعلق اسیسمنٹ رپورٹس میں ملکی ڈیزاسٹر مینجمنٹ نظام پر متعدد سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ہمارا ڈیزاسٹر مینجمنٹ کا نظام اس وقت فعال ہوتا ہے جب آفت سر پر آ جاتی ہے۔ پیشگی تیاری‘ خطرات کی سائنسی بنیادوں پر نشاندہی‘ انفراسٹرکچر کی مضبوطی اور اداروں کے درمیان رابطہ کاری کے فقدان نے مون سون کو جان لیوا بنا دیا ہے۔ اگر گزشتہ دو سیلابوں کا جائزہ لیا جائے تو 2022ء کے سیلاب میں 1700 سے زائد افراد جاں بحق اور تقریباً سوا تین کروڑ لوگ بے گھر ہوئے تھے۔

2025ء میں کم و بیش ایک ہزار افراد جاں بحق اور 35 لاکھ سے زائد بے گھر ہوئے ۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کو تین عشروں میں سیلابوں سے 59 ارب ڈالر سے زائد کا معاشی نقصان ہو چکا۔ 1992ء سے 2021ء کے دوران موسمیاتی آفات سے تقریباً 29 ارب ڈالر کا نقصان ہوا جبکہ صرف 2022ء کے سیلابوں سے 28 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہوا۔ پے درپے سیلابوں کے باعث ملکی معیشت کو افراطِ زر سمیت وسیع تر خطرات لاحق ہیں جن سے پائیدار اقتصادی ترقی کے حصول اور ترقیاتی اہداف کی تکمیل کی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔ گزشتہ پانچ برس میں یہ تیسرا موقع ہے کہ ملک پہ ایک مرتبہ پھر سیلاب کے خدشات منڈلا رہے ہیں۔ اگرچہ پورا خطہ اس وقت شدید بارشوں کی زد میں ہے مگر ہمیں اب یہ تسلیم کر لینا چاہیے کہ مون سون میں طغیانی اچانک آنے والی قدرتی آفت نہیں رہی بلکہ اس خطے میں ایک نیا موسمیاتی پیٹرن تشکیل پا چکا ہے اور ہمیں اب خود کو اس کے مطابق ڈھالنا ہو گا۔
مسلسل کئی سالوںکے سیلابی تجربات کے باوجود ملک میں مربوط وارننگ سسٹم کا فقدان ہے۔ جب سیلابی ریلا بستیوں کو ڈبو رہا ہوتا ہے تب جا کر امدادی ٹیمیں حرکت میں آتی ہیں۔ اس تباہ کن دائرے سے نکلنے کیلئے روایتی طریقوں کو خیرباد کہنا ہوگا۔ پالیسیوں کے محور کو ریلیف اور ریسکیو سے ہٹا کر پیشگی تیاری اور تخفیفِ خطرات کی طرف منتقل کرنا ہوگا۔ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ پانی کے قدرتی بہاؤ کے راستوں پر تجاوزات‘ دریائی گزرگاہوں میں کنکریٹ کے جنگلات اور سیلابی پاٹ میں آباد کاری آفت کو خود دعوت دینے کے مترادف ہے۔ دریائی کناروں اور فلڈ پلین میں کسی بھی قسم کی تعمیرات پر مستقل پابندی عائد کرنا ہو گی۔ اگر ہم نے دریاؤں کو سانس لینے کی جگہ نہ دی تو لامحالہ دریا ہمارے شہروں اور کھیتوں کا رخ کریں گے۔
فی الحال ملکی دریائوں میں پانی کا بہائو خطرے کے نشان تک نہیں پہنچا‘ یہ وقت ہے کہ صوبائی و ضلعی انتظامیہ دریائوں کے بہائو میں حائل رکاوٹوں کو دور کریں اور دریائی کناروں سے تجاوزات کا خاتمہ کریں۔ اگر پانی کے بہائو کا راستہ صاف اور وسیع ہو جائے تو پانی آبادیوں میں داخل ہوئے بغیر اپنا راستہ لے گا‘ وگرنہ دوبارہ ویسی ہی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جو ہم پچھلے سال بھی بھگت چکے اور ابھی تک اس کے اثرات سے مکمل طور پر باہر نہیں نکل سکے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>گندم بحران(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-22/11383</link><pubDate>Wed, 22 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-22/11383</guid><description>ملک میں گندم کا بحران پیچیدہ صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ نئی فصل کی آمد کو ابھی صرف چار ماہ ہی گزرے ہیں مگر تین صوبوں کو اپنی ضروریات پوری کرنے کیلئے وفاق سے گندم طلب کرنا پڑ گئی ہے۔ پنجاب نے وفاقی ذخائر سے 10 لاکھ ٹن‘ سندھ نے دو لاکھ 20 ہزار ٹن اور خیبر پختونخوا نے آٹھ لاکھ ٹن گندم فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔ دوسری جانب وفاقی ذخائر محدود ہونے کی وجہ سے گندم درآمد کرنے کے امکانات بڑھتے جا رہے ہیں۔ اگر ایسا کرنا پڑا تو ایک طرف قیمتی زرِ مبادلہ خرچ ہو گا اور دوسری طرف موجودہ علاقائی کشیدگی اور عالمی سپلائی چین کی غیر یقینی صورتحال کے باعث فوری درآمد بھی آسان نہیں۔ اکنامک سروے کے مطابق مالی سال 2026ء میں گندم کی مجموعی پیداوار دو کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی‘ جو مالی سال 2025ء کے مقابلے میں 4.3 فیصدزیادہ تھی۔

یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ ملک کو درپیش اصل مسئلہ گندم کی پیداوار کا نہیں بلکہ اس کی منصوبہ بندی‘ خریداری‘ سٹوریج اور تقسیم کے انتظامی نظام کا ہے۔ صوبوں میں زراعت سے متعلق محکمے موجود ہیں مگر اسکے باوجودگندم کے حوالے سے کوئی جامع پالیسی نہیں‘ نتیجتاً عوام کو ہر سال گندم اور آٹا بحران کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ضروری ہے کہ وفاق اور صوبے مل کر گندم کی کاشت‘ پیداوار‘ خریداری‘ سٹوریج اور بین الصوبائی ترسیل کیلئے ایک واضح اور قابلِ عمل قومی پالیسی مرتب کریں۔ اس کیساتھ ذخیرہ اندوزی‘ ناجائز منافع خوری اور مارکیٹ میں مداخلت کرنیوالے عناصر کیخلاف کارروائی بھی کرنی چاہیے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>نان ٹیکسٹائل برآمدات میں کمی(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-22/11382</link><pubDate>Wed, 22 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-22/11382</guid><description>وفاقی ادارۂ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026ء میں ملک کی نان ٹیکسٹائل برآمدات تقریباً 14فیصد کمی کے بعد 12 ارب 21 کروڑ ڈالر تک رہیں جبکہ مالی سال 2025ء میں ان کا حجم 14 ارب 16 کروڑ ڈالر تھا۔ سب سے شدید دھچکا زرعی برآمدات کو لگا جن میں 30فیصد کمی آئی اور یہ پانچ ارب دو کروڑ ڈالر تک محدود رہیں۔ اسی طرح کینوس کے جوتوں کی برآمدات 33 فیصد‘ قالینوں اور دریوں کی برآمدات 20 فیصداور خام چمڑے کی برآمدات میں چھ فیصد کمی ہوئی جبکہ آلاتِ جراحی کی برآمدات بھی منفی رجحان دیکھنے میں آیا۔ یہ امر افسوسناک ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان آلاتِ جراحی کا اہم پیداواری ملک ہونے کے باوجود ان مصنوعات کی اصل برانڈ ویلیو سے خاطر خواہ فائدہ حاصل نہیں کر پا رہا۔

صرف ٹیکسٹائل کا شعبہ ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر میں پائیدار استحکام نہیں لا سکتا۔ حکومت کو معیشت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے کیلئے زراعت‘ انجینئرنگ‘ لیدر‘ سرجیکل‘ فوڈ پروسیسنگ اور دیگر شعبوں کو یکساں اہمیت دینا ہو گی۔ حکومت کو نان ٹیکسٹائل برآمدات کا حجم بڑھانے کیلئے زرعی پیداواری صلاحیت بڑھانے‘ ٹیکنالوجی اور ویلیو ایڈیشن کو فروغ دینے‘ برآمد کنندگان کو سہولتیں فراہم کرنے‘ نئی منڈیوں تک رسائی بڑھانے اورمیڈ اِن پاکستان مصنوعات کی عالمی برانڈنگ پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ادھوری کہانیاں(ایاز امیر)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-07-22/52339/65053483</link><pubDate>Wed, 22 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-07-22/52339/65053483</guid><description>نامکمل تعلیم کا احساس تو ہمیشہ رہا لیکن اب جا کے صحیح احساس ہو رہا ہے کہ ادھوری تعلیم ہماری کتنی رہی۔ زندگی ساتویں دہائی سے گزر رہی ہے اور اب جا کے صحیح معنوں میں استاد بڑے غلام علی خان کی موسیقی کی عظمت کا کچھ معلوم ہو رہا ہے۔ خیال اُن کا پہلے بھی سنا‘ مدت ہوئی جب ہندوستان پہلی بار گئے تو موسیقی کی ایک دکان سے اُن کی کچھ سی ڈی وغیرہ خریدیں۔ ایک سی ڈی اُن کی راگ جے جے ونتی کی تھی ۔ خان صاحب کی گائیکی کمال کی تھی اور یہ راگ ویسے بھی بہت مدہوش کر دینے والا ہے۔ وہ سنتے رہتے‘ ایک دو اور ریکارڈنگ تھیں اُن کی‘ کوئی صحیح طرح سمجھ نہ آتی۔ موسیقی کے بارے میں ویسے بھی ہماری تکنیکی جانکاری بہت کم ہے۔ کوئی تانوں وغیرہ کے بارے میں سوال کرے تو کچھ زیادہ نہ کہہ سکیں۔ بس شوق رہا ہے اور جو سماعت کو آواز یا لَے اچھی لگی اُس کو سنتے رہے۔ لیکن اسے عمر کا تقاضا سمجھیے یا کسی اور چیز کا کہ اب جا کے جب شام ڈھلے موسیقی سننے کا موقع ملتا ہے اور یوٹیوب سے خان صاحب کی کچھ گائیکی نکال لیتے ہیں تو یوں سمجھیے کہ اُس میں غرق ہونا پڑتا ہے۔ ایسی کیفیت پہلے نہ ہوتی تھی لیکن اب شاموں کو دل یہی چاہتا ہے کہ ہم ہوں اور خان صاحب کی گائیکی۔ سنتے ہیں تو کسی اور چیز کی تمنا نہیں رہتی۔ شبِ غم کے تقاضے بھول جاتے ہیں اور دھیان کسی اور فضول حرکت پر بھی نہیں جاتا۔کوئی پوچھے کہ سنتے کیا ہو تو کیا جواب دیں گے۔ اُن کا راگ کیدار تو سنتے آئے ہیں اور کوئی میری مانے تو پہلی فرصت میں خان صاحب کا یہ راگ سُن لے۔ کامود بھی سنتے آئے ہیں اور اس کے بارے میں یہی کہیں گے کہ جس بشر نے خاں صاحب کا کامود نہیں سنا اُس نے کچھ نہیں سنا۔ راگ یمن کی ایک اُن کی پرفرمانس ہے جو اُنہوں نے 1956ء میں بنگلور میں کی۔ سنیے تو سہی اور ہر چیز بھول جائیں گے۔ بھوپالی بھی سنتے آئے ہیں اور جونپوری بھی۔ لیکن کچھ شامیں پہلے اُن کا راگ چھایانٹ سنا۔ اُس کا تجزیہ کرنا ہم جیسے نالائقوں کے بس کی بات نہیں۔ اتنا کہیں گے کہ سنیے اور شروع کی تان ہی سے کسی اور دنیا میں کھو جائیں گے۔ جے جے ونتی کا ذکر تو ہوا اُسی پر مبنی خان صاحب کا ایک ترانہ ہے یا پتا نہیں صحیح لفظ کیا ہے اُسے پکارنے کا‘ بول ہیں &#39;بنتی کا کریے‘۔ خان صاحب کی تان اٹھتی ہے تو پتا نہیں آسمانوں سے کہیں اوپر چلی جاتی ہے۔ یہ بندش کوئی زیادہ لمبی نہیں ہے لیکن سننے کا موقع ملے تو عظمتِ موسیقی کی کچھ سمجھ آنے لگے گی۔اور ایک اور راگ‘ ہنس دھونی۔ بہت سال ہوئے پہلی بار میڈم کِشوری اَمونکر سے یہ راگ سنا۔ کیا گاتی ہیں‘ کیا آواز اور سُر اور تان پہ کیا عبور۔ لیکن کچھ عرصہ پہلے خاں صاحب کا راگ ہنس دھونی سنا اور کیا کہیں بس برباد ہی ہو گئے۔ شامیں ہماری ایسی گزرتی تھیں کہ بے چینی برقرار رہتی تھی۔ تمنا کسی چیزکی‘ خیال کہیں اور بکھرا ہوا لیکن جب سے خان صاحب کی موسیقی کا جادو سر چڑھا ہے تو یقین مانیے کہ گانا اُن کا شروع ہوتا ہے اور دنیا کی ہر چیز بھول جاتی ہے۔ مطلب سمجھ جائیں‘ طلب کسی اور چیز کی نہیں رہتی۔ خیالوں کے ہر دریچے پر گائیکی حاوی ہو جاتی ہے۔ اور کسی اور خیال کی گنجائش نہیں رہتی۔ جوانی سے خان صاحب کی عظمت اور اُن کی گائیکی کی تعریف سنتے آئے تھے۔ بہت سی تعریف ہمیں ایک رسم کی مانند لگتی تھی کہ بس ویسے ہی کی جا رہی ہے۔ اب کچھ کچھ دنیائے موسیقی میں خان صاحب کا صحیح مقام نظر آنے لگا ہے۔ پوری سمجھ تو شاید ہمیں کبھی نہ آئے کیونکہ اتنی بڑی بات سمجھنے کیلئے کچھ موزوں صلاحیت بھی ہونی چاہیے اور یہ اقرار تو ہم برملا کرتے آئے ہیں کہ موسیقی کے بارے میں ایسی صلاحیت یا سمجھ ہم میں کبھی نہ تھی۔یہی ادھوری تعلیم ہے جس کے بارے میں رو رہے ہیں۔ فوج کی تعیناتی لاہور میں ہوئی تو عمر بمشکل انیس بیس سال تھی۔ ہماری رجمنٹ کا پڑاؤ والٹن ایئرپورٹ کے بالکل بغل میں تھا۔ وہاں سے فاصلہ گلبرگ تھری کا کچھ زیادہ نہ تھا۔ تعمیرات زیادہ نہ تھیں‘ ویرانہ زیادہ تھا۔ اور گلبرگ تھری میں ہی ملکہ ترنم کی رہائش گاہ تھی۔ اتنی سمجھ یا ہمت ہوتی تو کسی شام میڈم کے آستانے پر حاضری دینے چلے جاتے۔ ظاہر ہے کسی نے اندر جانے نہیں دینا تھا لیکن کوشش تو ہونی چاہیے تھی کہ نوجوان افسر ہیں اور میڈم کو سلام کرنا چاہتے ہیں۔ پہلے روز نہیں تو کوشش کرتے رہتے کسی خوش نصیب شام کو کوئی ترس کھا جاتا اور کچھ لمحوں کیلئے میڈم کے سامنے حاضر ہو جاتے۔ لیکن وہی بات ‘ نہ اتنی سمجھ نہ اتنی ہمت۔لوئر اردو کے پڑھے‘ اردو شاعری سے ہم ویسے ہی ناآشنا تھے لہٰذا فیض صاحب کی شاعری کا کچھ زیادہ پتا نہ تھا۔ اُن کا قیام ماڈل ٹاؤن میں ہوتا تھا جو کہ والٹن کے خاصا قریب ہے۔ وہاں حاضری کبھی دے دیتے۔ عظیم موسیقار خواجہ خورشید انور حیات تھے‘ ڈھونڈتے اُن کے در پر پہنچ جاتے۔ اُنہوں نے کیا وقت ہم پر ضائع کرنا تھا لیکن دیکھ تو لیتے اور اگر بار بار آتے تو کسی محفل میں شاید ایک کونے بیٹھنے کا موقع مل جاتا۔ لیکن یہ سب چیزیں ہم سے نہ ہوئیں کیونکہ سمجھ نامکمل تھی۔ جس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اب مکمل ہو گئی ہے۔ اس عمر میں بھی ہمارے خیالات بکھرے ہی ہیں‘ کچھ دھیان ایک چیز پر‘ تھوڑا سا دھیان کسی اور چیز پر۔ اور انہی بکھرے خیالات کے ساتھ زندگی گزری ہے۔ لیکن اُن دنوں کا پاکستانی معاشرہ نسبتاً سادہ اور شفاف تھا۔ آج کل کی بھیڑ اور ہنگامہ تب نہ تھا۔ موسیقی اور شاعری کی محفلیں ہوتی تھیں لیکن ہم اُن سے ناواقف رہے۔ زندگی میں یہ ہمارا نقصان رہا ہے۔ سردار ہیرا سنگھ سے منسوب محلے کا ذکر کریں تو بہت سے لوگ چونک پڑتے ہیں کہ دیکھو بات پھر وہاں چل نکلی ہے۔ لیکن یہاں ذکر صرف اتنا بتانے کیلئے کہ یہ علاقے تب آباد ہوا کرتے تھے۔ موسیقی اور رقص کا ایک منفرد کلچر ان جگہوں میں نظر آتا تھا۔ استاد دامن کا قیام اسی بازار کی ایک کوٹھڑی میں تھا۔ داستانیں سننے کو ملتی ہیں کہ سامانِ شب سے آراستہ فیض صاحب بھی کبھی کبھار استاد دامن کے ہاں حاضری دیتے تھے۔ یہ بڑے لوگوں کی باتیں ہیں‘ فیض صاحب کوئی چھوٹے آدمی تھے؟ لیکن وہاں جا رہے ہیں۔ سننے میں آتا ہے کہ ایک دفعہ فراق گورکھپوری ہندوستان سے آئے ہوئے تھے اور فیض صاحب اسی محلے میں اُنہیں لے کر گئے۔ اس بازار کے ہوتے ہوئے کون کمبخت کہیں اور جانے کی سوچتا بھی۔ لیکن جو ہم رونا رو رہے ہیں وہ یہ کہ لاہور میں رہتے ہوئے بھی استاد دامن کی طرف جانے کا کبھی خیال نہ آیا۔ ایک وجہ اُس محلے میں نہ جانے کی یہ تھی کہ کپتانی کی تنخواہ میں جیب خاصی ہلکی ہوا کرتی تھی۔ کسی نامور چوبارے پر جانے کا سوچ بھی نہ سکتے تھے کیونکہ چند سکوں سے تو وہاں کام نہ چلتا۔ اُس کے علاوہ استاد دامن کا ہم نے اتنا کون سا سن رکھا تھا کہ باقاعدہ وہاں جانے کی سوچتے۔پر ایک خیال شدت سے ستاتا ہے۔ استاد بڑے غلام علی خان تو یہاں کے تھے۔ کچھ سال نومولود ریاست میں قسمت آزمائی لیکن دل نہ لگا اور ہندوستان چلے گئے۔ وہیں اُن کا فن بلندیوں پر پہنچا‘ وہیں اُن کو شہرت ملی۔ کتنے ہی ایسے مسافر اس سرزمین سے ہوئے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_80573045.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ایک باپ کا مقدر(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-07-22/52340/90995160</link><pubDate>Wed, 22 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-07-22/52340/90995160</guid><description>ہمیں اپنے والدین کی بے بسی اس وقت سمجھ میں آتی ہے جب ہم خود والدین بنتے ہیں۔ یہ بھی عجیب انسانی نفسیات ہے کہ والدین کو علم ہوتا ہے کہ ان کا بچہ غلط کر رہا ہے‘ وہ اسے روکنے کی کوشش بھی کرتے ہیں‘ لیکن وہ بچہ نہیں رکتا کیونکہ اس کا خیال ہے کہ وہ والدین خصوصاً باپ سے بہت آگے نکل آیا ہے اوروہ زمانے سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ باپ کو کیا علم کہ دنیا اب کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے۔ اکثر بچے والدین کی نصیحتوں کو وقت کا ضیاع سمجھتے ہیں۔ اچھے بچے زیادہ سے زیادہ والد یا ماں کی بات سن لیں گے لیکن کریں گے وہی جو وہ سمجھتے ہیں کہ ٹھیک ہے۔ اکثر معاملات میں باپ کی بتائی ہوئی باتیں ٹھیک نکلتی ہیں تو شاید بچے بھی سوچتے ہوں کہ ہمارے باپ کو کیسے علم تھا کہ جو کام یا فیصلہ ہم کر بیٹھے تھے‘ اس کا نتیجہ اچھا نہیں ہو گا۔مجھے ایک فلم یاد آتی ہے جس میں ایک باپ اپنی بیٹی کو کسی بات سے منع کرتا ہے تو وہ کہتی ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہو گا‘ یہ محض آپ کا وہم ہے۔ اگلے دن وہی کچھ ہوتا ہے جو باپ نے کہا تھا۔ اس کی بیٹی حیران ہو کر باپ کے پاس آتی ہے اور پوچھتی ہے کہ ڈیڈ! کیا بات ہے‘ جب بھی آپ نے مجھے کسی بات سے روکا اور میں نہ رکی تو جس سے آپ نے خبردار کیا تھا وہی نتیجہ نکلا۔ ایسا کیوں ہوتا ہے کہ ہر دفعہ آپ ہی ٹھیک نکلتے ہیں؟ اس باپ نے بڑا خوبصورت جواب دیا کہ میری بیٹی اس کی وجہ یہ ہے کہ جوانی میں بہت سی جگہوں پر میں تمہاری طرح کافی غلط ثابت ہو چکا ہوں‘ لہٰذا مجھے علم ہوتا ہے کہ اس کام یا فیصلے کا کیا نتیجہ نکلے گا۔ وجہ یہ نہیں کہ میں تم سے زیادہ ذہین یا سمجھدار ہوں‘ وجہ یہ ہے کہ میں ان ناکامیوں اور اپنے اندازوں کے غلط ہونے کے عمل سے تم سے پہلے گزر چکا ہوں۔ تم اب گزر رہی ہو۔ ایک دن تم بھی میری طرح ان نتائج کو سوچ کر اپنے بچوں کو منع کرو گی لیکن وہ نہیں مانیں گے‘ جیسے تم نے میری بات نہیں مانی۔ یہی وہ سفر ہے جو ہم انسان اپنی زندگی میں طے کرتے ہیں۔ابھی کچھ دن پہلے میرے چھوٹے بیٹے نے اے آئی سے فیفا ورلڈ کپ کے حوالے سے کئی وڈیوز بنائیں تو وہ اس کے انسٹاگرام پر وائرل ہوگئیں اور لاکھوں ویوز تک گئیں۔ وہ اکثر وڈیوز بنا کر مجھے دکھاتا رہتا۔ اب اس نے دو فٹ بال ٹیموں کے حوالے سے مشہور ڈرامہ سیریز &#39;&#39;پیکی بلائنڈرز‘‘ کے کرداروں اور کھلاڑیوں کو لے کر وڈیو بنائی تو مجھے اس کا تصور اچھا نہیں لگا۔ میں نے اسے کہا کہ ایسا نہ کرو‘ یہ اچھی نہیں‘ اس میں جو پیغام ہے وہ اچھا نہیں۔ وہ کہنے لگا: بابا آپ کو کیا پتا‘ اے آئی کی دنیا ہی مختلف ہے۔ اب نوجوان کچھ اور سوچتے ہیں۔ ہماری وڈیوز پہلے بھی لاکھوں میں دیکھی گئی ہیں۔ وہ ڈیجیٹل میڈیا‘ فلم پروڈکشن اور ڈائریکشن میں گریجوایشن اور پھر ماسٹرز کر چکا ہے اور چھوٹے دورانیے کی کچھ فلمیں بھی بنا چکا ہے‘ لہٰذا اس کا اپنا اعتماد کا لیول ہے۔ میں نے اسے بٹھایا اور تفصیل سے سمجھایا کہ اسے یہ اے آئی کلپ نہیں لگانا چاہیے۔ میں نے کہا کہ پہلی بات یہ ہے کہ ایک کریئیٹر کو کبھی واہ واہ‘ بلّے بلّے کی پروا نہیں کرنی چاہیے‘ نہ ہی تنقید کی۔ اس سے بڑھ کر اسے کسی قسم کی تخلیق میں‘ چاہے وہ کروڑوں لوگ ہی کیوں نہ دیکھیں‘ اخلاقیات کے پہلو کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ میں نے اسے دیکھا تو مجھے لگا وہ میری باتوں سے قائل نہیں۔ میں نے کہا: چلو اس کلپ کو کسی اور زاویے سے دیکھتے ہیں۔ ان کھلاڑیوں کی بھی فیملیز ہیں‘ بچے ہیں‘ بہت بڑی فین فالوونگ ہے۔ ان کو کیسا لگے گا یہ سب دیکھ کر؟ انہیں آپ کی تخلیق دیکھ کر مزہ آنا چاہیے اور مسکرانا چاہیے‘ نہ کہ انہیں دیکھ کر جھٹکا لگے یا وہ افسردہ ہو جائیں اور ان کی آنکھوں میں آنسو آ جائیں۔ میں نے کہا: اگر ایسی کوئی اے آئی وڈیو میرے بارے میں اس سین کو سامنے رکھ کر بنائی جائے اور آپ کی نظر سے گزرے تو آپ کے کیا جذبات ہوں گے‘ چاہے یہ ڈرامے کے سین سے ہی کیوں نہ متاثر ہو؟ پہلی دفعہ وہ چونکا اور چپ رہا۔ میں نے کہا: کوئی بھی چیز تخلیق کرنے سے پہلے یہ ضرور سوچا کرو کہ اے آئی سے بنائی گئی وڈیوز نے لوگوں کے چہروں پر حیرت‘ مسکراہٹ‘ قہقہے یا سنجیدگی سے سوچنے کی کیفیت پیدا کرنی ہے نہ کہ ان بڑے یا مشہور کھلاڑیوں‘ ان کے بچوں یا ان کے فینز کو تکلیف پہنچانی ہے۔ میرے بچے آپ نے ایسا کچھ نہیں کرنا۔ اس طرح کی صورتحال سے ہم سب والدین گزرتے ہیں‘ جو بچوں کے فیصلوں کے نتائج جانتے ہیں لیکن بے بسی سے بچوں کو ان مشکلات کا سامنا کرتے دیکھتے رہتے ہیں۔ابھی ہمارے بھائی حفیظ اللہ نیازی کو ہی دیکھ لیں‘ جن کی اذیت کا سوچ کر ہی تکلیف ہوتی ہے۔ حفیظ اللہ نیازی ایک سمجھدار انسان ہیں جو عمران خان کی سیاسی اپروچ کے ناقد رہے ہیں اور انہوں نے کبھی اپنے خیالات کو نہیں چھپایا اور اخباری کالموں یا ٹی وی شوز میں ان کا کھل کر اظہار کرتے رہتے ہیں۔ اب ان کی بے بسی ملاحظہ فرمائیں کہ ان کا بیٹا اپنے ماموں کی سیاسی فلاسفی سے متاثر ہے۔ حفیظ اللہ نیازی کا کہنا ہے‘جس کا اظہار وہ کئی دفعہ اپنی گفتگو میں کر چکے ہیں کہ انہوں نے اپنے بیٹے کو ہر لحاظ سے سمجھانے کی کوشش کی کہ جس سیاسی فلاسفی پر اس کا ماموں چل رہا ہے اس کا نتیجہ ان سب کیلئے اچھا نہیں نکلے گا۔ جواباً ان کے بیٹے نے انہیں یہاں تک کہا کہ بابا آپ تو اُن کے مخالف ہیں لہٰذا آپ ایسی باتیں کرتے رہتے ہیں۔ ایک بیٹے کیلئے باپ کی فلاسفی سے ماموں کی فلاسفی زیادہ اہم ہو گئی۔ عمران خان کے سخت بیانات پر حفیظ اللہ نیازی کی اپنے بیٹے سے بات ہوئی تو اسے کہا &#39;&#39;اگلے تین سے چھ ماہ میں یا تو مقتدرہ نہیں ہوگی یا تمہارا ماموں‘‘۔ یہ سب باتیں نیازی صاحب کے بیٹے کی گرفتاری اور دس سال کی سزا سے پہلے کی ہیں۔ اور کچھ ماہ بعد ماموں‘ بھانجا جیل میں تھے۔ حفیظ اللہ نیازی طویل عرصہ سے پاکستانی سیاست کو قریب سے دیکھنے اور پرکھنے کے بعد جانتے تھے کہ حالات کس طرف جا رہے تھے اور اس کا نتیجہ کیا نکلے گا‘ لیکن نوجوان بیٹا مختلف سوچتا تھا کہ اس کا والد کیونکہ اس کے ماموں کی سیاسی سوچ کا مخالف ہے‘ لہٰذا وہ ایسی باتیں کرتا رہتا ہے۔ وہ نوجوان بیٹا ایک باپ کی پریشانی اور آنے والے خطرناک حالات کو نہ دیکھ سکا۔مجھے حفیظ اللہ نیازی سے اس لیے بھی ہمدردی ہے کہ ان کا بیٹا پہلے ہی جیل میں ہے اور اب ان کی اہلیہ بھی ایسا بیان دے بیٹھی ہیں کہ ان پر بھی مقدمہ ہوگیا ہے۔ اب حفیظ اللہ نیازی کیلئے کیا راستہ ہے جبکہ وہ برسوں سے دیکھ رہے تھے کہ نتائج اچھے نہیں نکلیں گے۔ اگرچہ وہ یہ بات کہتے ہیں کہ نورین صاحبہ کے بھی خیالات اور جذبات کو سمجھنے کی کوشش کی جائے‘ جن کا جوان اکلوتا بیٹا دس سال کی سزا کاٹ رہا ہے‘ اکلوتا بھائی تین سال سے قید ہے۔ حفیظ اللہ نیازی یہ سب کچھ آتا دیکھ رہے تھے اور برسوں سے کوشش کر رہے تھے کہ یہ آگ ان کے گھر تک نہ پہنچے۔ انہیں آگاہی کا کرب تھا کہ ایک دن اس سوچ کا یہی نتیجہ نکلے گا۔ وہ اس سوچ کے مخالف سمت کھڑے تھے لیکن بیٹا اور بیوی اسی سوچ کے مالک نکلے۔ عرصہ ہوا مشہور روسی ادیب شولوخوف کے ناولٹ کا قرۃ العین حیدر نے &#39;&#39;انسان کا مقدر‘‘ کے عنوان سے ترجمہ کیا تھا۔ حفیظ اللہ نیازی جس کرب اور اذیت میں زندگی گزار رہے ہیں‘ اس سے لگتا ہے یہی ایک باپ کا مقدر تھا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>تعلیمی ایمرجنسی: کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا(شاہد صدیقی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-siddiqui/2026-07-22/52341/74778008</link><pubDate>Wed, 22 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-siddiqui/2026-07-22/52341/74778008</guid><description>دو برس قبل وفاقی حکومت نے بڑے جوش و خروش کے ساتھ ملک میں تعلیمی ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کیا تھا۔ اس اعلان کے ساتھ 14 اہداف پر مشتمل ایجنڈا بھی پیش کیا گیا جس کا مقصد تعلیم کے شعبے کو درپیش سنگین مسائل سے نمٹنا تھا۔ یہ ایک خوش آئند اقدام تھا جس پر عملدرآمد ملک کے بہت سے تعلیمی مسائل کو کم کر سکتا تھا‘ لیکن ہمیشہ کی طرح یہ خواب بھی سراب میں بدل گیا۔ اب تعلیمی ایمرجنسی کے نفاذ کو دو برس بیت چکے ہیں۔ آئیے اس موقع پر ان 14 اہداف پر ہونے والی پیشرفت کا جائزہ لیتے ہیں جن کا تعلیمی ایمرجنسی میں وعدہ کیا گیا تھا۔ٹاسک 1: پہلا ہدف ملک بھر میں سکولوںسے باہر بچوں کا جامع سروے کرنے اور اس کی بنیاد پر ایک قومی ایکشن پلان تیار کرنا تھا۔ صوبوں سے مشاورت کے بعد یہ منصوبہ تیار تو کر لیا گیا اور جنوری 2026ء میں بین الصوبائی وزرائے تعلیم کانفرنس میں اس کی منظوری بھی حاصل کر لی گئی‘ مگر آج تک اس منصوبے کو باقاعدہ طور پر نافذ نہیں کیا جا سکا۔ ٹاسک 2: سکولوں سے باہر بچوں کی تعلیم کیلئے پانچ برس کے دوران 25 ارب روپے کا ایک خصوصی چیلنج فنڈ قائم کیا جانا تھا تاکہ نئے مالی وسائل حاصل کیے جائیں اور مختلف اداروں کے ساتھ شراکت داری کو فروغ دیا جا سکے۔ دو سال گزرنے کے باوجود اس فنڈ کا کہیں وجود نظر نہیں آتا؛ چنانچہ تعلیمی مالیات آج بھی روایتی سرکاری بجٹ تک محدود ہیں جبکہ اس ایمرجنسی کا ایک بنیادی مقصد نئے اور پائیدار ذرائع تلاش کرنا تھا۔ ٹاسک 3: تیسرا ہدف وزیراعظم کی سربراہی میں ایک فعال قومی ٹاسک فورس قائم کرنا تھا جو مسلسل پیشرفت کا جائزہ لے اور  ضروری فیصلے کرے۔ لیکن یہ ٹاسک فورس اپنے قیام کے بعد دو برس میں صرف ایک اجلاس منعقد کر سکی اور اس اجلاس کی صدارت بھی ٹاسک فورس کے سربراہ یعنی وزیراعظم نے نہیں کی۔ یہ صورتحال اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ جس سیاسی عزم کی اس منصوبے کو ضرورت تھی وہ عملاً دکھائی نہیں دیا۔ ٹاسک 4: چوتھا اور شاید سب سے اہم ہدف یہ تھا کہ تعلیم پر قومی اخراجات کو بتدریج بڑھا کر جی ڈی پی کے چار فیصد تک پہنچایا جائے گا۔ یہ اس حقیقت کا اعتراف تھا کہ مناسب سرمایہ کاری کے بغیر کوئی بھی تعلیمی اصلاح دیرپا نتائج نہیں دے سکتی۔ لیکن سرکاری اعداد و شمار ایک مختلف کہانی سناتے ہیں۔ مالی سال 2024-25ء کے ابتدائی دس مہینوں (جولائی تا مارچ) کے دوران تعلیم پر 899.6ارب روپے خرچ کیے گئے تھے جبکہ 2025-26ء کی اسی مدت میں یہ رقم کم ہو کر 356.5 ارب روپے رہ گئی۔ یعنی ایک ہی سال میں تعلیمی اخراجات میں 60 فیصد سے زیادہ کمی آئی۔ ایسے میں چار فیصد کا ہدف پہلے سے بھی زیادہ دور ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ ٹاسک 5: پانچواں ہدف ملک بھر میں میرٹ کی بنیاد پر معیاری اساتذہ کی بھرتی کے عمل کو تیز کرنا تھا۔ مگر تعلیمی ایمرجنسی کے تحت اس نوعیت کی کوئی قومی مہم شروع نہیں کی جا سکی۔ آج بھی ملک کے مختلف علاقوں میں اساتذہ کی شدید  کمی موجود ہے حالانکہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی بھی تعلیمی نظام کا معیار اس کے اساتذہ کے معیار کے بغیر بلند نہیں ہو سکتا۔ ٹاسک 6: چھٹا ہدف ملک بھر میں بچوں کیلئے غذائیت اور سکول میل پروگرام کا آغاز تھا۔ اس کے پیچھے یہ تصور کارفرما تھا کہ غذائیت اور تعلیمی کارکردگی کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ سندھ‘ بلوچستان اور وفاق نے اپنی سطح پر کچھ اقدامات ضرور کیے ہیں لیکن آج بھی ملک میں ایسا کوئی قومی پروگرام موجود نہیں جو تمام صوبوں میں یکساں طور پر نافذ ہو‘ جس کیلئے مستقل مالی وسائل مختص ہوں اور جس کے واضح اہداف مقرر کیے گئے ہوں۔ ٹاسک 7:ساتواں ہدف معاشرے کو تعلیم کے عمل میں دوبارہ شریک کرنا تھا۔ اس مقصد کیلئے یہ تصور پیش کیا گیا کہ ہر پڑھا لکھا شہری کم از کم ایک فرد کو تعلیم دینے کی ذمہ داری قبول کرے۔ نیشنل کمیشن فار ہیومن ڈویلپمنٹ نے &#39;&#39;Each One Teaches One‘‘ مہم شروع کی جو یقینا ایک مثبت قدم ہے‘ مگر ملک میں بالغ ناخواندگی کی وسعت کے مقابلے میں اس کا دائرۂ اثر نہایت محدود ہے۔ اگر اسے واقعی قومی خواندگی تحریک بنانا ہے تو صرف ایک سرکاری پروگرام کافی نہ ہو گا۔ اس کیلئے جامعات‘ سول سوسائٹی‘ نوجوانوں اور رضاکار تنظیموں کو بھی بھرپور کردار ادا کرنا ہو گا۔ ٹاسک 8:معاشی طور پر کمزور  طلبہ کیلئے پاکستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کا قیام آٹھواں ہدف تھا۔ دو سال گزرنے کے باوجود یہ فنڈ قائم نہیں ہو سکا‘ یوں ایک اور اہم وعدہ عملی شکل اختیار کرنے کے بجائے سرکاری دستاویزات تک محدود رہ گیا۔ ٹاسک 9 : نواں ہدف دانش سکول ماڈل کو ملک بھر میں وسعت دینا تھا۔ حکومت نے پندرہ نئے دانش سکول قائم کرنے کا اعلان کیا ہے اور وفاقی بجٹ 2026-27ء میں ان کی تعمیر کیلئے تقریباً 22 ارب روپے بھی مختص کیے گئے ہیں۔ بلاشبہ یہ ایک بڑی سرمایہ کاری ہے لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ منصوبہ ملک کے سکول سے باہر کروڑوں بچوں کے مسئلے کا مؤثر حل بن سکے گا؟ دانش سکول یقینا بعض بچوں کیلئے معیاری تعلیم کے مواقع فراہم کریں گے مگر جب کروڑوں بچے سکولوں سے باہر ہوں تو چند نئے اداروں کی تعمیر مسئلے کا جامع حل نہیں بن سکتی۔ اصل کامیابی کا معیار عمارتوں کی تعداد نہیں بلکہ یہ ہے کہ اس سرمایہ کاری کے نتیجے میں کتنے نئے بچے تعلیمی نظام میں شامل ہوتے ہیں۔ ٹاسک 10: ساٹھ ہزار نوجوانوں کیلئے قومی سکل ڈویلپمنٹ پروگرام شروع کرنا تھا تاکہ انہیں بین الاقوامی معیار کی مہارتیں اور اسناد فراہم کی جا سکیں اور فنی و پیشہ ورانہ تعلیم کو روزگار کی ضروریات سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔اگرچہ NAVTTC اور مختلف صوبائی ادارے اپنی سطح پر مہارتوں کی تربیت کے پروگرام جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن تعلیمی ایمرجنسی کے تحت جس قومی‘ مربوط اور بڑے پیمانے کے پروگرام کا اعلان کیا گیا تھا وہ آج بھی حقیقت کا روپ نہیں دھار سکا۔ ٹاسک 11: ایک قومی آن لائن تعلیمی پورٹل قائم کرنا تھا تاکہ طلبہ بالخصوص سکول سے باہر بچوں کی معیاری تعلیمی مواد اور ورچوئل تعلیم تک رسائی آسان ہو سکے۔ آج دو سال بعد بھی ایسا کوئی قومی پورٹل وجود میں نہیں آ سکا۔ یہ کمی اس لیے بھی زیادہ تشویشناک ہے کہ روایتی سکولوں سے باہر رہ جانیوالے بچوں تک پہنچنے کیلئے ٹیکنالوجی شاید سب سے مؤثر ذریعہ ثابت ہو سکتی ہے۔ ٹاسک 12: وسیلۂ تعلیم پروگرام کو مزید وسعت دینے اور قدرتی آفات کیلئے مختص فنڈز کو تعلیمی سہولتوں کی بہتری کیلئے استعمال کرنا تھا۔ لیکن تعلیمی ایمرجنسی کے اعلان کے بعد اس حوالے سے کوئی ایسی قومی پیشرفت سامنے نہیں آئی جسے نمایاں کامیابی قرار دیا جا سکے۔ ٹاسک 13: سٹیٹ بینک اور سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کے تعاون سے ملک بھر میں مالیاتی خواندگی کو فروغ دینا تھا۔ اگرچہ دونوں ادارے اپنی سطح پر کچھ سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن تعلیمی ایمرجنسی کے تحت جس ہمہ گیر قومی پروگرام کا اعلان کیا گیا تھا وہ عملی صورت اختیار نہیں کر سکا۔ ٹاسک 14: سائنس‘ ٹیکنالوجی‘ انجینئرنگ‘ آرٹس اور ریاضی (STEAM) پر مبنی جدید تعلیمی ماڈل کو فروغ دینا تھا تاکہ تدریس کو اکیسویں صدی کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔ تاہم دو سال گزرنے کے باوجود ملک گیر سطح پر ایسا کوئی نمایاں اقدام سامنے نہیں آیا جس سے یہ محسوس ہو کہ STEAM تعلیم کو قومی ترجیحات میں شامل کر لیا گیا ہے۔ان چودہ نکات کا جائزہ لینے کے بعد یہ سوال ذہن میں ابھرتا ہے کہ اگر تعلیمی ایمرجنسی واقعی ایک قومی مہم تھی تو پھر اس کی پیشرفت‘ اخراجات اور نتائج کے بارے میں باقاعدہ عوامی رپورٹنگ کیوں نہیں کی گئی؟ آج بھی حکومت کی جانب سے ایسا کوئی منظم نظام موجود نہیں جس کی بنیاد پر شہری‘ ماہرینِ تعلیم یا پارلیمان کے ارکان یہ جان سکیں کہ کن وعدوں پر عمل ہوا‘ کن میں تاخیر ہوئی اور اس تاخیر کے ذمہ داران کون ہیں؟</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_21538475.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>آبنائے ہرمز کی بندش کا چیلنج(سلمان غنی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/salman-ghani/2026-07-22/52342/16016874</link><pubDate>Wed, 22 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/salman-ghani/2026-07-22/52342/16016874</guid><description>آبنائے ہرمز کی بندش دنیا کیلئے مسئلہ بن چکی ہے۔ اس کے اثرات پٹرولیم کی قیمتوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ کئی صورتوں میں عالمی معیشت کو متاثر کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چین نے بھی آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی بندش سے تمام ممالک متاثر ہوں گے ۔ ادھر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے علاقائی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کیلئے اپنا کردار ادا کریں تاکہ تیل کی عالمی تجارت جاری رہ سکے۔ امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکہ صرف ایران کی اُن تنصیبات کو نشانہ بنا رہا ہے جو تجارتی جہازوں پر حملوں کیلئے استعمال ہو رہی ہیں۔ دوسری جانب ایران اس مؤقف پر ڈٹا ہوا ہے کہ اگر اس کی سلامتی یا تیل کی برآمدات کو نشانہ بنایا گیا تو آبنائے ہرمز مستقل بند ہو سکتی ہے۔ گویا اگر ایران کو خلیج میں آزادانہ تجارت اور تیل کی برآمد سے محروم کیا گیا تو وہ دوسروں کو بھی اس راستے سے فائدہ نہیں اٹھانے دے گا۔ ایران کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ خلیج فارس میں امن اور تجارت کا حامی ہے بشرطیکہ اس کے خلاف فوجی کارروائیاں بند ہوں اور اس پر عائد اقتصادی پابندیاں ختم کی جائیں۔ آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے اثرات کا جائزہ لیا جائے تو سب سے پہلے عالمی اور علاقائی سلامتی اس سے متاثر ہو گی۔ خود ایران کی معیشت بھی اس کے منفی اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکے گی جبکہ امریکہ اور عالمی طاقتوں کے ساتھ براہِ راست فوجی تصادم کا خطرہ بھی بڑھ جائے گا۔ اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش ایران کیلئے ایک اہم سٹرٹیجک دباؤ کا ذریعہ ضرور ہے لیکن اسے مکمل طور پر بند کرنا ایران کیلئے بھی مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ ایران اسے ایک سٹرٹیجک لیوریج کے طور پر دیکھتا ہے‘ تاہم آبنائے ہرمز کی مکمل بندش کی صورت میں خطے میں وسیع جنگ اور عالمی اقتصادی بحران کے خدشات بھی بڑھ جائیں گے۔ یہاں یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش کے ممکنہ اثرات کیا ہوں گے‘ اس سے کون سے خطرات جنم لیں گے اور کیا متعلقہ ممالک اس بحران کے خاتمے کیلئے مؤثر کردار ادا کر سکیں گے؟ جہاں تک اس کے اثرات کا تعلق ہے تو یہ صرف خلیجی ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کی معیشت اس سے متاثر ہو گی کیونکہ دنیا کی سمندری تیل کی تجارت کا بڑا حصہ اور مائع قدرتی گیس کی نمایاں مقدار اسی راستے سے گزرتی ہے۔ بندش کی صورت میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو گا‘ عالمی منڈیوں میں بے یقینی بڑھے گی اور اسکے منفی اثرات اشیائے ضروریہ‘ نقل و حمل اور صنعتوں پر بھی مرتب ہوں گے۔ آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی سپلائی چین شدید متاثر ہو گی‘ جسکے نتیجے میں کئی ممالک میں ایندھن اور درآمدی اشیا کی دستیابی متاثر ہو سکتی ہے۔ مالیاتی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ بڑھے گا‘ سرمایہ کاری محدود ہو گی اور سرمایہ کار نسبتاً محفوظ معیشتوں کا رخ کریں گے۔ سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ اسکی بندش سے خطے میں فوجی کشیدگی میں اضافہ ہو گا اور بحری راستوں کے تحفظ کیلئے مختلف ممالک اپنی بحری موجودگی بڑھا دیں گے۔ حالیہ صورتحال میں بھی پٹرولیم کی قیمتوں اور عالمی معیشت پر اسکے ابتدائی اثرات مرتب ہونا شروع ہو چکے ہیں۔ جہاں تک آبنائے ہرمز دوبارہ کھلوانے میں دیگر ممالک کے کردار کا تعلق ہے تو اس ضمن میں سعودی عرب‘ قطر‘ عمان‘ چین اور پاکستان اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ چین دنیا کی بڑی توانائی درآمد کرنے والی معیشت ہے‘ اسلئے ایران پر اس کا اثر و رسوخ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے اور وہ اس حوالے سے متحرک بھی دکھائی دے رہا ہے۔ پاکستان کے ایران اور خلیجی ممالک‘ دونوں کیساتھ قریبی تعلقات ہیں اس لیے وہ رابطہ کاری اور اعتماد سازی میں معاون کردار ادا کر سکتا ہے‘ تاہم کسی بھی ثالثی کی کامیابی کا انحصار بنیادی طور پر ایران‘ امریکہ اور خلیجی ممالک کی سیاسی آمادگی پر ہو گا کیونکہ ایسے بحرانوں کا دیرپا حل صرف سفارتکاری اور اعتماد سازی ہی سے ممکن ہے۔ موجودہ صورتحال میں پاکستان‘ چین‘ سعودی عرب‘ قطر اور عمان ہی فریقین کے مابین پُل کا کردار ادا کر سکتے ہیں‘ تاہم حتمی پیشرفت ایران اور امریکہ کی لچک پر منحصر ہے۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو آبنائے ہرمز کا بحران کسی ایک ملک کی کوشش سے حل نہیں ہو سکتا‘ اس کیلئے علاقائی طاقتوں اور متعلقہ فریقوں کے درمیان مؤثر سفارتکاری ضروری ہے۔ اطلاعات کے مطابق کشیدگی میں اضافے کے باوجود پس پردہ سفارتی کوششیں جاری ہیں تاکہ صورتحال مکمل فوجی تصادم یا جہاز رانی کی مکمل بندش تک نہ پہنچے۔ قطر اور عمان فریقین کے درمیان رابطوں میں سہولت فراہم کر رہے ہیں اور ایک دوسرے کے خدشات دور کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ چین بھی آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے اور خطے میں استحکام پر زور دے رہا ہے کیونکہ اس کی توانائی کی ضروریات خلیج سے وابستہ ہیں۔ اسی طرح خلیجی ممالک بھی اس آبی گزرگاہ کو کھلا رکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں کیونکہ ان کی برآمدات اور معیشت کا انحصار اسی راستے پر ہے۔ پاکستان بھی اس حوالے سے سرگرم ہے اور اس کی کوشش صرف آبنائے ہرمز کی بندش ختم کرانے تک محدود نہیں بلکہ امریکہ اور ایران کے درمیان پیدا ہونے والا ڈیڈ لاک ختم کرانے اور مفاہمتی عمل کو آگے بڑھانے پر بھی مرکوز ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب تک امریکہ اور ایران کے درمیان بداعتمادی ختم نہیں ہوگی‘ اس کے منفی اثرات پوری دنیا کو بھگتنا پڑیں گے۔ تاہم خطے میں کشیدگی کے باوجود سفارتی رابطے مکمل طور پر منقطع نہیں ہوئے کیونکہ عالمی اور علاقائی طاقتیں توانائی کی ترسیل میں تعطل سے بچنا چاہتی ہیں۔ جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ ایران کن عوامل کے باعث آبنائے ہرمز کی بندش پر مجبور ہوا اور کیا یہ مسائل حل ہو سکتے ہیں‘ تو اس ضمن میں بنیادی کردار امریکہ ہی کا ہے۔ بعض ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کے بحران سمیت موجودہ کشیدگی کا حل بڑی حد تک امریکہ کی پالیسی میں مضمر ہے۔ اگر امریکہ اپنے جارحانہ رویے پر نظرثانی کرے تو نہ صرف کشیدگی میں کمی آ سکتی ہے بلکہ آبنائے ہرمز کی بندش کا خطرہ بھی ٹل سکتا ہے۔عمومی رائے یہی ہے کہ آبنائے ہرمز میں طویل بحران کسی کے مفاد میں نہیں۔ اسی لیے دباؤ اور سفارتکاری ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ امریکہ بھی مکمل فوجی تصادم سے گریز چاہتا ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں عالمی معیشت‘ توانائی کی منڈیاں اور خطے کا استحکام شدید متاثر ہوگا۔ لہٰذا اسے اپنے رویے میں لچک پیدا کرتے ہوئے مسئلے کے سیاسی حل پر توجہ دینا ہوگی۔ اگر طاقت کے استعمال سے مسائل حل ہونا ممکن ہوتے تو اب تک ہو چکے ہوتے‘ لیکن عملی صورتحال یہ ہے کہ شدید دباؤ کے باوجود ایران پسپائی اختیار کرتا دکھائی نہیں دیتا۔ اس کے ساتھ ہی اس نے مذاکرات کا دروازہ بھی مکمل طور پر بند نہیں کیا۔ البتہ ایران کا بنیادی سوال یہی ہے کہ امریکہ سے معاہدوں اور وعدوں کی پاسداری کون کرائے گا اور ان کی خلاف ورزی پر اسے جوابدہ کون ٹھہرائے گا۔یہ بھی حقیقت ہے کہ آبنائے ہرمز کے معاملے میں صرف امریکہ ہی فریق نہیں بلکہ دیگر ممالک کے مفادات بھی وابستہ ہیں‘ اس لیے ایران طویل عرصے تک سب کی خواہشات کے برعکس نہیں چل سکتا۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ چین سمیت دیگر ممالک کا دباؤ بڑھتا جائے گا‘ جس کے باعث بالآخر مذاکرات ہی واحد راستہ رہ جائیں گے۔ امکان یہی ہے کہ امریکہ بین الاقوامی جہاز رانی کی آزادی اور اپنے اتحادیوں کے مفادات کے تحفظ کے مؤقف پر قائم رہتے ہوئے بحران کے خاتمے کیلئے لچک دکھا سکتا ہے‘ تاہم اس کا انحصار ایران کے اقدامات‘ علاقائی صورتحال اور دونوں فریقوں کی مذاکرات پر آمادگی پر ہو گا۔ اگر امریکہ اور ایران حقیقی معنوں میں مذاکرات پر آمادہ ہو جائیں تو نتیجہ خیز پیشرفت ممکن ہے۔ دونوں ممالک بڑے اور براہِ راست تصادم کی بھاری قیمت سے آگاہ ہیں۔ اگر رابطوں کا سلسلہ برقرار رہا تو محدود معاہدوں سے آغاز کرتے ہوئے بڑے مسائل کے حل کی طرف پیشرفت ممکن ہو سکتی ہے۔ </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/230_37874475.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>صلۂ شہید کیا ہے…(محمد حسن رضا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-hasan-raza/2026-07-22/52343/39474944</link><pubDate>Wed, 22 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-hasan-raza/2026-07-22/52343/39474944</guid><description>کسی بھی جمہوری معاشرے میں حکومت‘ پارلیمنٹ اور ملکی پالیسیوں پر جائز تنقید نہ صرف حق بلکہ ضرورت ہوتی ہے۔ سوال اٹھانا سیاست کا حصہ‘ اختلاف جمہوریت کی روح اور جوابدہی عوامی نمائندوں کی ذمہ داری سمجھی جاتی ہے‘ لیکن اختلاف اور تضحیک میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ جب سیاسی زبان اس فرق کو پامال کر ے تو بحث دلیل سے نکل کر دل آزاری میں تبدیل ہو جاتی ہے‘ اور جب معاملہ ان لوگوں کا ہو جو وطن کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی جان دے چکے ہوں تو الفاظ کا وزن کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔مولانا فضل الرحمن نے قصور میں ایک جلسے کے دوران خیبرپختونخوا اور بلوچستان میںامن و امان کی خراب صورتِ حال‘ عوامی مشکلات‘ مبینہ انتخابی دھاندلی اور ریاستی پالیسیوں پر تنقید کی۔ یہ تمام موضوعات سیاسی بحث کا جائز حصہ ہیں۔ ہر سیاسی رہنما کو یہ حق حاصل ہے‘ مگر اسی تقریر کے دوران جب یہ کہا گیا کہ سکیورٹی اہلکار ملک کیلئے لڑنے کی تنخواہ لیتے ہیں تو یہ تاثر پیدا ہوا کہ محاذ پر جان قربان کرنے کو ملازمت کی ایک عام شرط قرار دیا گیا ہے۔ اس رپورٹ شدہ بیان کے بعد متعدد سیاسی و حکومتی شخصیات نے اسے شہدا کی قربانی کے مقام و مرتبے کو کم تر ظاہر کرنے کے مترادف قرار دیا۔ یہاں سوال کسی ایک جماعت‘ حکومت یا سیاسی شخصیت کی حمایت اور مخالفت کا نہیں بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا تنخواہ اور قربانی کو ایک ہی ترازو میں تولا جا سکتا ہے؟ فوج‘ پولیس اور ایف سی کے جوانوں کو یقیناً تنخواہ ملتی ہے‘ جیسے استاد‘ ڈاکٹر‘ صحافی‘ مزدور اور ہر طرح کے سرکاری ملازم کو ملتی ہے‘ لیکن کیا ہر تنخواہ دار شخص سے یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ بارودی سرنگ پر قدم رکھتا ہوا آگے بڑھے‘ خودکش حملہ آور کا راستہ روکے‘ برفانی چوٹی پر منفی درجہ حرارت میں مہینوں تعینات رہے یا اپنے بچوں سے آخری بار فون پر بات کرکے ایسے آپریشن پر روانہ ہو جائے جہاں سے واپسی یقینی نہ ہو؟ تنخواہ ذمہ داری کی قیمت ہو سکتی ہے‘ زندگی کی نہیں۔ پاکستان کی موجودہ سکیورٹی صورتحال محض تقریروں‘ پریس کانفرنسوں اور سیاسی نعروں کا موضوع نہیں بلکہ خون سے لکھی ہوئی حقیقت ہے۔ پاکستان انسٹیٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سکیورٹی سٹڈیز کے مطابق 2025ء میں 667 سکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔ سکیورٹی اہلکاروں کی شہادتوں میں ایک سال میں 26فیصد اضافہ ہوا۔ یہ 2011ء کے بعد سکیورٹی فورسز کا سالانہ بلند ترین جانی نقصان تھا۔ ان میں سے ہر شخص تنخواہ دار ضرور تھا مگر اس کی جان کسی سرکاری پے سکیل کا حصہ نہیں تھی۔ سینٹر فار ریسرچ اینڈ سکیورٹی سٹڈیز کے مطابق 2026ء میں‘ اپریل سے جون کے دوران ملک بھر میں کم از کم 267پُرتشدد واقعات میں134 سکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔ تقریباً 96فیصد شہادتیں خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں ہوئیں۔ سکیورٹی فورسز کے کسی جوان کی شہادت کی خبر میں صرف نام‘ رینک اور واقعے کا مقام بتایا جاتا ہے لیکن ان کے گھروں کے اندر ایک کرسی ہمیشہ کیلئے خالی ہو جاتی ہے‘ ایک موبائل نمبر خاموش ہو جاتا ہے‘ بچے سکول کے فنکشن میں دروازے کی طرف دیکھتے رہتے ہیں اور ماں رات گئے تک کسی آواز کا انتظار کرتی ہے۔ قومی پرچم میں لپٹا تابوت گھر پہنچتا ہے تو تنخواہ کے کسی ہندسے سے اس نقصان کی تلافی نہیں ہو سکتی۔ لوگ کیوں بھول جاتے ہیں کہ وردی کے پیچھے بھی ایک انسان ہوتا ہے‘ جس کے خواب‘ رشتے‘ بچے‘ والدین اور مستقبل ہوتا ہے۔ مولانا صرف 24گھنٹوں کیلئے اپنے کسی صاحبزادے کو کسی محاذ پر بھیجنے کا تصور کرکے دیکھیں‘ شاید تب انہیں اندازہ ہو کہ ان ماؤں پر کیا گزرتی ہے جن کے جوان بیٹے گھر وں کو واپس آتے ہیں لیکن اپنے قدموں پر چل کر نہیں قومی پرچم میں لپٹے ہوئے۔ کسی فوجی کی ماں رات کو فون کی گھنٹی سے خوفزدہ ہوتی ہے‘ اس کی اہلیہ دروازے کی آہٹ سن کر چونکتی ہے اور اس کے بچے اپنے باپ کی واپسی کے دن گنتے ہیں۔ ایک ماں کا یہ جواب جذباتی ضرور ہے مگر اس میں ان ہزاروں خاندانوں کی آواز موجود ہے جو ہر حملے‘ ہر آپریشن اور ہر بریکنگ نیوز کے بعد اپنے پیاروں کی خیریت معلوم کرنے کی بے تابی سے گزرتے ہیں۔فوجی قیادت کے فیصلوں‘ انسدادِ دہشت گردی کے آپریشنز اور پارلیمانی نگرانی پر سوال کرنا جمہوری حق ہے‘ منتخب نمائندوں کو اس بارے پوچھنا چاہیے کہ دہشت گردی کیوں بڑھ رہی ہے‘ سرحدی پالیسی کہاں ناکام ہوئی‘ بار بار ایک ہی علاقوں میں حملے کیوں ہو رہے ہیں اور سکیورٹی اہلکاروں کو بہتر وسائل کیوں دستیاب نہیں۔ مگر احتساب کی بات ہونی ہے تو اس کا دائرہ صرف ایک ادارے یا ایک طبقے تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ عوام کو یہ جاننے کا بھی حق ہے کہ دہائیوں سے اقتدار میں آنے والے سیاستدانوں کے اثاثوں میں غیرمعمولی اضافہ کیونکر ہوا؟ ان کے قریبی رشتہ دار‘ خاندان اور کاروباری مفادات چند برسوں میں کہاں سے کہاں پہنچ گئے؟ جن خاندانوں کے پاس کبھی محدود وسائل تھے وہ مہنگی گاڑیوں‘ وسیع کاروباری سلطنتوں اور پُرتعیش جائیدادوں کے مالک کیسے بن گئے؟ اسی کے ساتھ یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ دہشت گردی جیسے سنگین مسائل کے مستقل حل کیلئے مختلف ادوار میں حکومت کرنے والی سیاسی قیادت نے طویل المدتی اور مؤثر حکمت عملی کیوں نہ اپنائی؟ کیا قومی سلامتی پر یکساں پالیسی بنانے کے بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کی سیاست کو ترجیح دی جاتی رہی؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب کے عوام منتظر ہیں۔ مولانا وہ بات کیوں نہیں کرتے جو عوام پوچھنا چاہتے ہیں؟عام شہری بھی دہشت گردی کی بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں۔ 2025ء میں 580 شہری شہید اور 983 زخمی ہوئے جبکہ 2026ء کی دوسری سہ ماہی میں 187 شہری جان سے گئے۔ شہدا کے احترام کا حقیقی تقاضا یہ نہیں کہ ہم صرف جنازے اٹھائیں‘ قومی پرچم لہرائیں اور چند دن بعد سب کچھ بھول جائیں۔ حقیقی احترام یہ ہے کہ ایسی پالیسی بنائی جائے جو اگلے جنازے کو روک سکے۔ دہشت گردی کی وجوہات‘ شدت پسندوں کی مالی معاونت اور مقامی آبادی کی محرومیوں پر سنجیدہ بحث ہونی چاہیے۔ مولانا فضل الرحمن ملک کے تجربہ کار سیاستدانوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ایسے رہنما کے الفاظ کسی عام کارکن کے الفاظ نہیں ہوتے‘ ان کا ایک ایک جملہ پورے ملک میں بحث چھیڑ سکتا ہے اور ہزاروں متاثرہ خاندانوں کے احساسات کو مجروح کر سکتا ہے۔ تجربہ صرف اقتدار کے ایوانوں میں کئی دہائیاں گزارنے کا نام نہیں بلکہ یہ جاننے کا نام بھی ہے کہ کون سا لفظ کہاں بولنا ہے اور کس موقع پر خاموشی زیادہ باوقار ثابت ہوتی ہے۔ اگر بیان کا مقصد ریاستی اور سکیورٹی پالیسیوں پر تنقید تھا تو اس کی واضح وضاحت ہونی چاہیے۔ اگر الفاظ کے انتخاب سے شہدا کے خاندانوں کو رنج ہوا ہے تو ان الفاظ کو واپس لینے یا معذرت کرنے میں کوئی امر مانع نہیں۔ معافی سیاسی شکست نہیں ہوتی‘ بعض اوقات ایک جملہ واپس لینا انسان کو چھوٹا نہیں بلکہ مزید بڑا بنا دیتا ہے۔ مولانا سیاست کریں‘ حکومت پر بھرپور تنقید کریں‘ اداروں سے جواب طلب کریں‘ یہ ان کا جمہوری حق ہے‘ لیکن شہدا کی قربانیوں کو تنخواہ کے ایک لفظ میں محدود کرنا نہ تاریخی انصاف ہے اور نہ اخلاقی دیانت۔ پاکستان کو ایسی سیاست کی ضرورت ہے جو طاقتور سے سخت سوال پوچھے‘ مگر قربانی دینے والے کے گھر کی دہلیز پر پہنچ کر اپنے لہجے کو نرم کرنا ہی انصاف اور فراست کا تقاضا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/229_33941343.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پریشانیوں اور تکالیف کے اسباب(علامہ ابتسام الہٰی ظہیر )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-07-22/52344/84142930</link><pubDate>Wed, 22 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-07-22/52344/84142930</guid><description>اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسانوں کو اَن گنت نعمتوں سے نواز رکھا ہے۔ اگر انسان اپنے داخل پر غور کرے تو دیکھنے والی آنکھ‘ سننے والے کان‘ پکڑنے والے ہاتھ‘ چلنے والے قدم‘ دھڑکتا ہوا دل اور سوچنے والا دماغ‘ یہ سب اللہ تبارک وتعالیٰ کی بے مثل نعمتیں ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسانوں کو والدین‘ بہن‘ بھائی‘ شریکِ زندگی اور اولاد کی نعمت سے بھی نوازا ہے۔ روزگار‘ صحت اور فراغت بھی اللہ تبارک وتعالیٰ کی بڑی نعمتیں ہیں۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ بہت سے لوگ زندگی کے مختلف ادوار میں ان نعمتوں سے محروم ہو جانے کی وجہ سے تکالیف کا شکار ہو جاتے ہیں جبکہ بہت سے لوگ مادی نعمتوں کی موجودگی میں بھی غم اور پریشانیوں کا شکار رہتے ہیں۔ انسانوں کی زندگی میں آنے والی مشکلات اور پریشانیوں کے اسباب پر غور کیا جائے تو تین اہم وجوہات سامنے آتی ہیں:1۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش: اس زمین پر صالح و گنہگار‘ نیک اور بد‘ ہر طرح کے لوگ پیدا کیے گئے ہیں۔ بہت سے نیک لوگوں کو بھی زندگی میں مختلف طرح کی تکالیف اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ اہلِ ایمان کو مختلف طریقوں سے آزماتے اور یہ دیکھتے ہیں کہ وہ ان مصائب پر کس انداز سے صبر کرتے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ البقرہ کی آیات: 155 تا 157 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;اور ہم کسی نہ کسی طرح تمہاری آزمائش ضرور کریں گے‘ دشمن کے ڈر سے‘ بھوک پیاس سے‘ مال و جان اور پھلوں کی کمی سے‘ اور ان صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجئے۔ جنہیں جب کبھی کوئی مصیبت آتی ہے تو کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہم تو خود اللہ کی ملکیت ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ ان پر ان کے رب کی نوازشیں اور رحمتیں ہیں اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں‘‘۔ اسی حقیقت کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۃ العنکبوت کی آیات: 2 تا 3 میں کچھ یوں بیان فرمایا ہے: &#39;&#39;کیا لوگوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ ان کے صرف اس دعوے پر کہ ہم ایمان لائے ہیں‘ ہم انہیں بغیر آزمائے ہوئے ہی چھوڑ دیں گے؟ ان سے اگلوں کو بھی ہم نے خوب جانچا یقینا اللہ انہیں بھی جان لے گا جو سچ کہتے ہیں اور انہیں بھی معلوم کر لے گا جو جھوٹے ہیں‘‘۔ ان آیاتِ مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ جب انسان ایمان اور یقین کے راستے پر چلتا ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ اس کی آزمائش کرتے ہیں۔ اس قسم کی تکالیف اور پریشانیوں سے نجات حاصل کرنے کیلئے انسانوں کو صبر‘ توکل اور دعا کے راستے کو اختیار کرنا چاہیے۔ جب صالح انسان اللہ تبارک وتعالیٰ کی بارگاہ میں آ کر دعا مانگتا ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ اس کی تکالیف کو دور کر دیتے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید میں انبیاء کرام علیہم السلام کی بہت سی دعائوں کا ذکر کیا کہ جب انہیں تکالیف اور پریشانیوں کا سامنا ہوا تو انہوں نے اللہ تبارک وتعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کی اور اللہ نے ان کی تکالیف کو دور فرما دیا۔2۔ گناہوں کا نتیجہ: انسان زندگی میں بہت سے گناہوں کا ارتکاب کرتا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے کلام حمید میں مختلف مقامات پر اس بات کو واضح کیا کہ انسانوں کے انفرادی اور اجتماعی اعمال کی وجہ سے بھی انہیں مشکلات اور تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الشوریٰ کی آیت: 30 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;تمہیں جو کچھ مصیبتیں پہنچتی ہیں وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کے کرتوت کا بدلہ ہیں‘‘۔ اسی طرح جب انسان اجتماعی طور پر گناہوں کا ارتکاب کرتا ہے تو سماج کو اجتماعی مصائب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ اس حقیقت کو سورۃ الروم کی آیت: 41 میں کچھ یوں بیان فرماتے ہیں &#39;&#39;خشکی اور تری میں لوگوں کی بداعمالیوں کے باعث فساد پھیل گیا۔ اس لیے کہ انہیں ان کے بعض کرتوتوں کا پھل اللہ چکھا دے‘ ممکن ہے کہ وہ باز آ جائیں‘‘۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۃ النحل میں ایک ایسی بستی کا ذکر کیا جس کو امن‘ اطمینان اور رزق کی نعمتیں حاصل تھیں مگر ناشکری کی وجہ سے اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان نعمتوں کو چھین لیا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ النحل کی آیت: 112 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;اللہ اس بستی کی مثال بیان فرماتا ہے جو پورے امن واطمینان سے تھی اس کی روزی اس کے پاس بافراغت ہر جگہ سے چلی آ رہی تھی۔ پھر اس نے اللہ کی نعمتوں کا کفر کیا تو اللہ نے اسے بھوک اور ڈر کا مزہ چکھایا جو بدلہ تھا ان کے کرتوتوں کا‘‘۔ جب انسان اپنے گناہوں کی وجہ سے تکالیف کا شکار ہو جائے تو اس کو توبہ و استغفار کے راستے کو اختیار کرنا چاہیے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۃ الفرقان میں تین کبیرہ گناہوں اور اُن کے انجامِ بد کا ذکر کیا اور اس کے بعد توبہ‘ ایمان اور اعمالِ صالحہ کے نتیجے میں ان گناہوں کی معافی کا بھی ذکر فرمایا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الفرقان کی آیات: 68 تا 70 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;اور اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور کسی ایسے شخص کو جسے قتل کرنا اللہ نے منع کر دیا ہو وہ بجز حق کے قتل نہیں کرتے‘ نہ وہ زنا کے مرتکب ہوتے ہیں اور جو کوئی یہ کام کرے وہ اپنے اوپر سخت وبال لائے گا۔ اسے قیامت کے دن دُہرا عذاب دیا جائے گا اور وہ ذلت و خواری کے ساتھ ہمیشہ اسی میں رہے گا۔ سوائے ان لوگوں کے جو توبہ کریں اور ایمان لائیں اور نیک کام کریں‘ ایسے لوگوں کے گناہوں کو اللہ نیکیوں سے بدل دیتا ہے (اور) اللہ بخشنے والا‘ مہربانی کرنے والا ہے‘‘۔3۔ مجرموں کے لیے عذاب کا کوڑا: بعض لوگ برائی پر اصرار کر کے اللہ تبارک وتعالیٰ کی نافرمانی اور بغاوت کے راستے پر چل نکلتے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کئی مرتبہ ایسے مجرموں کو دنیا میں بھی مختلف طرح کی تکالیف اور پریشانیوں میں مبتلا کرتا اور بعد میں آنے والوں کے لیے انہیں نشانِ عبرت بنا دیتا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۃ العنکبوت میں بہت سے ایسے گروہوں کا ذکر کیا جو اللہ تبارک وتعالیٰ کے غضب کا نشانہ بنے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ العنکبوت کی آیات: 36 تا 40 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;اور مدین کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب کو بھیجا‘ انہوں نے کہا: اے میری قوم کے لوگو! اللہ کی عبادت کرو قیامت کے دن کی توقع رکھو اور زمین میں فساد نہ کرتے پھرو۔ پھر بھی انہوں نے انہیں جھٹلایا آخر انہیں زلزلے نے پکڑ لیا اور وہ اپنے گھروں میں بیٹھے کے بیٹھے (مردہ ہو کر) رہ گئے۔ اور ہم نے عادیوں اور ثمودیوں کو بھی غارت کیا جن کے بعض مکانات تمہارے سامنے ظاہر ہیں اور شیطان نے انہیں ان کی بداعمالیاں آراستہ کر دکھائی تھیں اور انہیں راہ سے روک دیا تھا باوجودیکہ یہ آنکھوں والے اور ہوشیار تھے۔ اور قارون اور فرعون اور ہامان کو بھی‘ ان کے پاس موسیٰ کھلے کھلے معجزے لے کر آئے تھے‘ پھر بھی انہوں نے زمین میں تکبر کیا لیکن ہم سے آگے بڑھنے والے نہ ہو سکے۔ پھر ہر ایک کو ہم نے اس کے گناہ کے وبال میں گرفتار کر لیا‘ ان میں سے بعض پر ہم نے پتھروں کا مینہ برسایا اور ان میں سے بعض کو زور دار سخت آواز نے دبوچ لیا اور ان میں سے بعض کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا اور ان میں سے بعض کو ہم نے ڈبو دیا‘ اللہ ایسا نہیں کہ ان پر ظلم کرے بلکہ یہی لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں‘‘۔ مجرموں کی بداعمالیوں پر اللہ تبارک وتعالیٰ وقتی طور ان کو ڈھیل دیتے ہیں لیکن جس وقت وہ نافرمانی پراصرار کرتے ہیں تو اللہ تبارک وتعالیٰ ان کو اپنے غضب کا نشانہ بنا دیتے ہیں۔اگر انسان پریشانیوں اور تکالیف کے اسباب پر غور کرنا چاہے تو کلام اللہ میں اس حوالے سے بہترین رہنمائی موجود ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کو تکالیف اور پریشانیوں سے محفوظ فرمائے اور جن تکالیف اور پریشانیوں کا ہمیں سامنا ہے‘ ان سے نجات دے‘ آمین!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_19740082.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>