<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>دہشت گردوں کا تعاقب(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-22/11562</link><pubDate>Tue, 22 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-22/11562</guid><description>سکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع اور پاک افغان سرحدی علاقے میں بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج کیخلاف کارروائیاں کرتے ہوئے خودکش بمباروں کے ایک تربیتی مرکز سمیت دہشتگردوں کے تین ٹھکانوں کو تباہ کر دیا۔ ان کارروائیوں میں 37 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ یہ کارروائی جمعہ کے روز کوہاٹ پولیس لائنز حملے میں افغانستان کے ملوث ہونے کے شواہد کے بعد عمل میں لائی گئی جس میں 25 افراد شہید ہوئے۔ افغانستان کی جانب سے پاکستان میں جاری دہشتگردی کے مسلسل واقعات کے بعد یہ ناگزیر ہو چکا تھا کہ ریاست ان دشمنوں کیخلاف مؤثر اقدامات کرے۔ پاکستانی حکام کی جانب سے رواں ماہ اقوام متحدہ میں جمع کرائی گئی دستاویزات کے مطابق گزشتہ تین برس میں سرحد پار سے ہونیوالے حملوں کے نتیجے میں 4700 سے زائد پاکستانی سکیورٹی اہلکار اور شہری شہید ہو چکے ہیں۔ سکیورٹی حکام کی رپورٹس کے مطابق 2022ء سے 2025ء تک تخریب کاری کی بڑی کارروائیوں اور خودکش حملوں میں 265 افغان شہری ملوث پائے گئے۔ گزشتہ برس (2025ء) دہشتگردی کے دس بڑے واقعات میں مارے گئے تمام 78 دہشت گرد افغان شہری تھے۔ اقوام متحدہ کے ماہرین کی تیارہ کردہ اور سلامتی کونسل کو پیش کی گئی رپورٹس بھی پاکستان کے افغانستان سے متعلق سکیورٹی خدشات کی توثیق کرتے ہوئے یہ واضح کر چکی ہیں کہ افغانستان میں موجود دہشتگرد گروہ پورے خطے کی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔

ان رپورٹس کے مطابق افغانستان میں موجود تربیتی مراکز میں القاعدہ اور فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں کو تربیت دی جاتی ہے۔ فتنہ الخوارج کے پاس چھ سے سات ہزار دہشتگرد ہیں‘ جنہیں امریکہ اور نیٹو فورسز کے چھوڑے ہوئے جدید ہتھیاروں تک رسائی حاصل ہے‘ اور اسی اسلحے نے ان کے حملوں کی ہلاکت خیزی میں اضافہ کیا ہے۔ 2020ء میں پاکستان میں دہشتگردی کے 193 واقعات رپورٹ ہوئے مگر اگلے برس‘ جب اگست میں طالبان نے کابل کا اقتدار سنبھالا‘ ان واقعات میں 38 فیصد سے زائد اضافہ ہوا۔ 2022ء میں یہ اضافہ 36 فیصد‘ 2023ء میں 45 فیصد‘ 2024ء میں تقریباً 50 فیصد اور 2025ء میں 34 فیصد پہ پہنچ گیا۔ ایک تھنک ٹینک کی رپورٹ کے مطابق رواں سال جنوری تا اگست دہشت گردی کے 515 واقعات میں 819 افراد شہید ہو چکے۔ پاکستان نے ہمیشہ سفارتی ذرائع سے اس معاملے کو سلجھانے کی کوشش کی لیکن افغان عبوری حکومت کی طرف سے دہشت گردوں کی سرپرستی اور ان کیخلاف کارروائی سے گریز نے پاکستان کو مجبور کیا کہ وہ اپنی بقا کی جنگ خود لڑے۔ اب پاکستان نے اپنے بین الاقوامی حقِ خود ارادیت کا استعمال کرتے ہوئے ایک بار پھر واضح پیغام دیا ہے کہ اگر افغان سرزمین سے مسلح جتھے پاکستان میں داخل ہو کر معصوم لوگوں کو نشانہ بنائیں گے تو پاکستان انکے محفوظ ٹھکانوں کو وہیں تباہ کرنے کا قانونی حق رکھتا ہے۔ خطے میں کشیدگی کو کم کرنے اور امن کی بحالی کا واحد راستہ اب یہی ہے کہ افغان عبوری حکومت دوحہ معاہدے کے تحت کیے گئے اپنے وعدوں پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائے۔
دوحہ معاہدے کی بنیادی روح یہی تھی کہ افغانستان کی سر زمین دنیا کے کسی بھی ملک کیخلاف دہشت گردی‘ حملوں یا مسلح گروہوں کی تنظیمِ نو کیلئے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔اگر اب بھی کابل کی جانب سے غیر ذمہ دارانہ رویہ برقرار رکھا گیا اور دہشت گردوں کی سرگرمیوں پہ روک نہ لگائی گئی تو یہ معاملہ مزید سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے‘ جسکی تمام تر ذمہ داری افغان انتظامیہ پر عائد ہوگی۔ پاکستان ایک پُرامن ہمسایہ ملک کا خواہاں ہے لیکن اپنی بقا‘ سالمیت اور اپنے شہریوں کی حفاظت کیلئے وہ کسی بھی حد تک جانے کا عزم رکھتا ہے اور حالیہ کارروائیوں واضح اعلان ہیں کہ دہشت گردوں کا یہ تعاقب جاری رہے گا۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بجلی کی مسابقت اور چیلنجز(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-22/11561</link><pubDate>Tue, 22 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-22/11561</guid><description>حکومت کا بجلی کی خرید و فروخت سے دستبرداری کا اعلان توانائی کے شعبے میں ایک اہم پیشرفت ہے۔ ابتدائی طور پر ایک میگا واٹ سے بڑے صارفین اس سہولت سے مستفید ہوں گے اور براہِ راست بجلی پیدا کرنیوالی کمپنیوں سے بجلی خرید سکیں گے جبکہ ترسیلی کمپنیاں وہیلنگ ماڈل کے تحت محض ترسیلی چارجز وصول کریں گی۔ بجلی کا وہ فرسودہ نظام‘ جس میں حکومت خود بجلی خرید کر صارفین کو بیچتی ہے‘نہ صرف مسائل کا انبار ثابت ہوا بلکہ اس نظام سے حکومت کو سوائے گردشی قرضوں کے کچھ حاصل نہیں ہوا۔ اب بجلی پیدا کرنیوالے نجی کارخانوں اور بڑے صارفین کو براہِ راست لین دین کی اجازت دینا ایک خوش آئند فیصلہ ہے جس سے مارکیٹ میں صحتمند مسابقت پیدا ہوگی اور ڈوبتی ہوئی صنعتوں کو ایک سہارا میسر آ سکے گا۔

تاہم آئی پی پیز کو دیے جانیوالے کپیسٹی چارجز کے مسئلے کو حل کیے بغیر حکومت کا بجلی کی خریداری سے پیچھے ہٹنا ایک نامکمل فیصلہ ہے۔ دوسری طرف بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کیلئے بھی یہ ایک امتحان ہے اور انہیں بدعنوانی‘ لائن لاسز اور بجلی چوری کا خاتمہ یقینی بنانا ہوگا تاکہ یہ سسٹم کامیاب ہو سکے۔ اگر اس پالیسی پر شفافیت کیساتھ عمل درآمد کیا گیا تو نہ صرف توانائی کے بحران کا پائیدار حل نکل سکتا ہے بلکہ ملکی معیشت کیلئے بھی یہ ایک اہم موڑ ثابت ہو گا۔ اسکا دائرہ کار عام گھریلو صارفین تک بڑھانا حکومت کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے۔ جب تک عام شہری کو مسابقتی نرخوں پر بجلی خریداری کا حق نہیں ملتا‘ ایسی اصلاحات کے حقیقی ثمرات حاصل نہیں کیے جا سکتے۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مہنگائی کے داخلی اسباب(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-22/11560</link><pubDate>Tue, 22 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-22/11560</guid><description>مسابقتی کمیشن کی جانب سے خوردنی تیل اور گھی کی ترسیل کے کرائے غیر منصفانہ طور پر طے کرنے اور کاروبار کو آزادانہ مسابقت کے بجائے پرچی اور باری کے نظام کے تحت چلانے پر خوردنی تیل کی ٹینکر ایسوسی ایشن کو چھ کروڑ کا جرمانہ اس بات کا بیّن ثبوت ہے کہ ملک میں مہنگائی کے ذمہ دار محض بیرونی عوامل نہیں بلکہ داخلی مسائل بھی ہیں۔ ٹینکرز مالکان کی جانب سے ڈیزل کی قیمت میں ایک روپے اضافے پر ٹرانسپورٹ کرایہ 0.75 فیصد جبکہ ایک روپے سستا ہونے کی صورت میں صرف 0.5 فیصد کمی کی جاتی‘ اس طرح چھ سال میں کرایوں کی مد میں کئی گنا تک ناجائز اضافہ کیا گیا۔

اس گٹھ جوڑ کا براہِ راست نتیجہ گھی اور خوردنی تیل جیسی بنیادی اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں نکلا۔ یہ معاملہ واضح کر دیتا ہے کہ ملک میں مہنگائی کی وجہ صرف عالمی منڈی یا پٹرولیم مصنوعات کے نرخ نہیں ہیں بلکہ نظام کے اندر موجود وہ لوپ ہولز بھی مہنگائی کے ذمہ دار ہیں‘ جن کی اوٹ میں عوام کو بیدردی سے نچوڑا جا رہا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ایسے چور راستوں کا مستقل سدباب کیا جائے اور اجارہ داری سے مارکیٹ ریٹ پر اثر انداز ہونے کی کوششوں کو جڑ سے اکھاڑپھینکا جائے۔ جب تک ان اندرونی کارٹلز کا خاتمہ اور لوپ ہولز کو بند نہیں کیا جائے گا تب تک عوام کو مہنگائی کے بھنور سے نجات دلانا ممکن نہیں ہو گا۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پاکٹ منی فلاں جگہ پڑی ہے(محمد اظہارالحق)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-09-22/52706/63796268</link><pubDate>Tue, 22 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-09-22/52706/63796268</guid><description>میں نے حمزہ کو وڈیو کال کی اور لائبریری جانے کا کہا۔ جب وہ لائبریری پہنچ گیا تو میں نے بتایا کہ جو الماری کھڑکی کے ساتھ ہے اس سے اگلی الماری میں اردو شاعری کی کتابیں پڑی ہیں۔ ان میں ایک کتاب &#39;&#39;گلِ نغمہ‘‘ رکھی ہے۔ اسے ڈھونڈو۔ چند لمحوں کے بعد اس نے بتایا کہ &#39;&#39;گلِ نغمہ‘‘ مل گئی ہے۔ تب اسے کہا کہ اس میں تمہاری اس مہینے کی پاکٹ منی پڑی ہے۔ تھوڑی دیر میں اس نے بتایا کہ کتاب میں پڑے اتنے ڈالر مل گئے ہیں۔آسٹریلیا قیام کے دوران‘ اسرار اور معاذ‘ دونوں کے بچوں کو وقتاً فوقتاً پاکٹ منی دیتا رہتا ہوں۔ میری اس حرکت کو بچوں کے ماں باپ زیادہ پسند نہیں کرتے۔ اکثر والدین اس بات پر پختہ یقین رکھتے ہیں کہ نانا نانی‘ دادا دادی بچوں کو جب بھی کچھ کھلائیں پلائیں گے یا جیب خرچ دیں گے یا کسی باغ یا پارک میں لے جائیں گے یا انہیں کوئی ملبوس لے کر دیں گے تو بس بچوں کو خراب (spoil) کریں گے۔ یہ الزام صرف ہمارے ملک میں نہیں‘ پوری دنیا میں لگایا جاتا ہے۔ ایک دفعہ میں اور میری اہلیہ کینیڈا میں ایک ریستوران میں بیٹھے تھے۔ قریب ہی ایک سفید فام‘ عمر رسیدہ خاتون بارہ تیرہ سال کے بچے کے ساتھ بیٹھی تھی۔ بچہ کچھ کھا رہا تھا اور وہ اسے دیکھ دیکھ کر نہال ہوئے جا رہی تھی۔ ہم دونوں اندازہ لگانے لگے کہ بچہ اس خاتون کا پوتا ہے یا نواسہ۔ میں اس کے پاس چلا گیا۔ سلام کر کے پوچھا تو اس نے بتایا کہ نواسہ ہے۔ میں نے کہا کہ والدین الزام لگاتے ہیں کہ ہم بچوں کو خراب کرتے ہیں۔ اس نے مسکر اتے ہوئے جواب دیا &#39;&#39;بالکل! ہم خراب کرتے ہیں اور کریں گے۔ کیوں کہ ہم والدین نہیں بلکہ گرینڈ پیرنٹس ہیں اور گرینڈ پیرنٹس کا یہی کام ہے‘‘۔ یہ جو گزشتہ صدی کے معروف امریکی شاعر اوگڈین ناش (Ogden Nash) کا مشہور قول ہے کہ When grandparents enter the door, discipline flies out the window‘ یعنی جیسے ہی گرینڈ پیرنٹس دروازے سے داخل ہوتے ہیں‘ ڈسپلن کھڑکی کے راستے باہر کود جاتا ہے۔ تو یہ بھی شاعر نے بچوں کے والدین کو خوش کرنے کیلئے کہا ہو گا۔کچھ دن پہلے ایک وڈیو کلپ دیکھا کہ باپ بیٹے کی پٹائی کر رہا ہے کیونکہ بیٹے نے امتحان میں نمبر کم لیے ہیں۔ وقت گزرتا ہے۔ پٹائی کرنے والا باپ دادا بن جاتا ہے۔ مار کھانے والا بیٹا باپ بن جاتا ہے۔ اس کا بیٹا بھی کم نمبر لے کر پاس ہوتا ہے اور وہ جب بیٹے کی پٹائی کرنے لگتا ہے تو دادا درمیان میں آجاتا ہے اور کہتا ہے کہ نمبر کم ہیں تو کیا ہوا‘ پاس تو ہو گیا ہے نا! باپ حیران ہو کر اپنے ماتھے پر چپت رسید کرتا ہے اور بڑبڑاتا ہے کہ کل جس بات پر اسے پیٹا گیا تھا‘ آج اسی بات پر پوتے کو کچھ نہیں کہنے دیتے! آسٹریلیا قیام کے دوران‘ اسرار اور معاذ‘ دونوں کے بچوں کو وقتاً فوقتاً پاکٹ منی دیتا رہتا ہوں۔ پاکستان آنے کے بعد یہ سلسلہ معطل ہو جاتا ہے۔ پچھلے سال انہی دنوں آسٹریلیا میں تھا تو حمزہ پندرہ سال کا ہو گیا۔ سوچا کہ اب ماشاء اللہ بڑا ہو گیا ہے۔ اس کی ضروریات چھوٹے بچوں کی نسبت زیادہ ہوں گی‘ تو ایسا نظام بنایا کہ میرے پاکستان جانے کے بعد بھی اسے جیب خرچ ملتا رہے۔ چنانچہ واپس آنے سے پہلے میں اس کی بارہ ماہ کی پاکٹ منی مختلف جگہوں پر رکھ آیا۔ اپنے کسی کوٹ کی جیب میں‘ کسی دراز میں‘ زیادہ تر کسی کتاب میں! ہر ماہ کے پہلے ہفتے اسے فون پر بتاتا ہوں کہ فلاں الماری میں رکھی فلاں کتاب میں دیکھو۔ یا فلاں کوٹ یا فلاں قمیص کی جیب میں دیکھو۔ یہاں منطقی سوال پیدا ہوتا ہے کہ جیب خرچ حمزہ کی اماں یا ابا کو کیوں نہیں دے آتا کہ وہ ہر مہینے اسے دے دیا کریں۔ ایسا نہ کرنے کی وجہ ہے اور بہت ٹھوس وجہ ہے۔ ایک تو میں پوتوں پوتیوں اور نواسوں نواسیوں کے ضمن میں ان کے والدین پر اعتبار بالکل نہیں کرتا۔ اس لیے نہیں ان کی دیانت پر شبہ ہے‘ بلکہ اس لیے کہ ایک تو وہ بھول جائیں گے اور دوسرے بچوں کی جو اہمیت گرینڈ پیرنٹس کیلئے ہوتی ہے وہ والدین کیلئے نہیں ہوتی۔ جیسا کہ میں نے اپنی تصنیف &#39;&#39;سمندر، جزیرے اور جدائیاں‘‘ میں لکھا ہے کہ نانا دادا‘ نانی دادی کا اتحاد پوتوں پوتیوں‘ نواسوں نواسیوں کے ساتھ فطری ہے۔ بچوں کے والدین بچوں کی باتوں کو اہمیت نہیں دیتے اور کسی حد تک بچوں کے گرینڈ پیرنٹس کی باتوں پر بھی پوری توجہ نہیں دیتے۔ اس کے بر عکس بچے گرینڈ پیرنٹس کی باتوں پر بہت توجہ دیتے ہیں اور گرینڈ پیرنٹس بچوں کی باتوں پر۔ مثلاً ہم میں سے ہر شخص کا مشاہدہ ہے کہ بچہ باپ سے مٹھائی یا کھلونا مانگتا ہے تو باپ‘ جو کام سے تھکا ہوا آیا ہوتا ہے‘ کہتا ہے کہ کل لیتا آؤں گا۔ مگر دادا یا نانا آدھی رات کو بھی گھر سے نکل جاتا ہے‘ مطلوبہ شے لا کر بچے کو دیتا ہے اور پھر تھکاوٹ کا احساس کیے بغیر بچے کو خوش ہوتا دیکھتا ہے تو اسے ایک عجیب‘ آسمانی قسم کی راحت ملتی ہے۔ بچہ ماں سے کہتا ہے کہ اسے حلوہ یا آملیٹ یا پاستا بنا دے تو ماں جو دن بھر کی تھکی ہاری ہے‘ کہتی ہے کہ جو پکا ہوا ہے وہی کھا لو‘ حلوہ یا پاستا کل بنا دوں گی۔ مگر دادی یا نانی اسی وقت اٹھتی ہے اور بچے کی خواہش فوراً پورا کرتی ہے۔ ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ماں باپ زندگی کی گاڑی میں جُتے ہوتے ہیں۔ نوکری‘ کاروبار‘ ہزار افکار و آلام! جبکہ گرینڈ پیرنٹس اکثر و بیشتر ریٹائرڈ ہوتے ہیں اور نسبتاً کم مصروفیات کے حامل!! بچوں کیلئے بھی گرینڈ پیرنٹس کی ہر بات نہایت اہم ہوتی ہے۔ باپ شام کو گھر آئے گا تو بچہ فوراً بتائے گا کہ آج دادا جان گر گئے تھے یا نانو کی دوا ختم ہو گئی ہے۔ دو سال پہلے میری آنکھوں کی جراحی ہوئی تو حمزہ جو تب چودہ برس کا تھا‘ اپنی وڈیو گیم چھوڑ کر دن کا زیادہ حصہ میرے کمرے میں‘ میرے پاس بیٹھ کر گزارتا تھا۔ میں کئی بار کہتا کہ جاؤ باہر کھیلو کودو۔ مگر وہ نہیں مانتا تھا۔ بیمار پڑوں تو نواسی زینب فوراً ایک سخت گیر نرس بن جاتی ہے۔ بخار ہو تو کہیں جانے نہیں دیتی۔ ڈرائیور سے گاڑی کی چابی لے کر اپنے پاس رکھ لیتی ہے۔ ایک بار طبیعت کی ناسازی کے باوجود مجھے شہر سے باہر جانا پڑا۔ پہلے تو اس نے روکنے کی کوشش کی مگر میں نہ رکا۔ ابھی میں گوجر خان کے قریب پہنچا تھا کہ زینب کا فون آیا &#39;&#39;نانا ابو! راستے میں سونے کی کوشش کیجیے ورنہ تھکاوٹ زیادہ ہو گی‘‘۔ میں خدا کی قدرت پر حیران ہوا کہ انسان کیلئے کیسے کیسے محافظ پیدا کیے ہیں۔ سولہ سترہ سال کی بچی اور بڑی بوڑھیوں کی طرح فکر مند!! قدرت انسان سے اس کے ماں باپ‘ نانا نانی‘ دادا دای واپس لیتی ہے تو بدلے میں پوتیاں پوتے‘ نواسیاں نواسے عطا کرتی ہے جو بڑوں کی طرح اس کا خیال رکھتے ہیں۔لیکن سب نانے دادے ایک جیسے نہیں ہوتے۔ کچھ تو بچوں کا شور برداشت ہی نہیں کرتے۔ ایک صاحب کو میں جانتا ہوں جو اپنے بچوں سے کبھی بغلگیر ہوئے نہ نواسے کو کبھی بوسہ دیا۔ شاید میں اس حوالے سے زیادہ حساس ہوں۔ کچھ برس پہلے تاشقند سے ایک سیمینار میں شرکت کی دعوت ملی۔ میں نے معذرت کر لی کیونکہ اس دن حمزہ کی آسٹریلیا کیلئے پرواز تھی اور میں اسے رخصت کرنا زیادہ ضروری سمجھتا تھا۔ اس وقت جب یہ کالم لکھ رہا ہوں‘ چار سالہ رستم اور اڑھائی سالہ آزادِہ نے میرے کمرے ہی میں قیامت کا شور برپا کر رکھا ہے ۔ میں بڑوں کا شور نہیں برداشت کرتا مگر بچوں کے شور میں میری قوتِ تحریر میں اضافہ ہو جاتا ہے‘ بشرطیکہ بچے اپنے ہوں!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_57182973.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>حکمرانوں کے قول و فعل کا تضاد(خالد مسعود خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-09-22/52707/65229680</link><pubDate>Tue, 22 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-09-22/52707/65229680</guid><description>اب تو خیر سوشل میڈیا کا زمانہ ہے اور کوئی چیز زیادہ دیر چھپی نہیں رہتی۔ یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ جھوٹ بہرحال سامنے آ جاتا ہے۔ اس بات پر ضرور بحث ہو سکتی ہے کہ جھوٹ کو کتنے عرصے تک پردے میں رکھا جا سکتا ہے‘ لیکن یہ بات طے ہے کہ سچائی بالآخر سامنے آ جاتی ہے۔ جب سوشل میڈیا کا زمانہ نہیں تھا‘ تب جھوٹ اس تیزی سے آشکار نہیں ہوتا تھا جیسا کہ اب ہو رہا ہے۔ اُس زمانے میں جھوٹ بولنے والے یہ سمجھتے تھے کہ ان کا جھوٹ چھپ جائے گا۔ ویسے بھی ہر جھوٹ بولنے والے کو ہمیشہ یہ خوش فہمی رہی ہے کہ اس کا جھوٹ عیاں نہیں ہو گا‘ یا وہ اسے سچ ثابت کر دے گا‘ لیکن سوشل میڈیا کی مادر پدر آزادی کے دور میں تو اب اس چیز کا امکان مزید کم ہو گیا ہے کہ جھوٹ کو زیادہ دیر تک چھپایا جا سکے۔ہمارے حکمران بلکہ ہمارے کیا‘ دنیا بھر کے حکمران اپنے ہر جھوٹ کے بارے میں یقین رکھتے ہیں کہ بھلا ان کے منہ سے نکلی ہوئی بات جھوٹ کیسے ہو سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کے بھونپو عوام کو یہ بات باور کرانے میں لگے رہتے ہیں کہ ہمارے حکمران معصوم عن الخطا کے درجے پر فائز ہیں‘ اس لیے وہ جھوٹ نہیں بول سکتے لہٰذا ہم لوگوں کا اس بات پر ایمان ہونا چاہیے کہ وہ جو بھی کہہ رہے ہیں بس وہی سچ ہے۔ اگست 1997ء میں لندن کے مشہور جیولر &#39;&#39;شاٹیلا‘‘ (Chatila) سے ہیروں اور نیلم کا ایک قیمتی سیٹ جس میں ایک نیکلس‘ بالیاں‘ کڑا اور ایک انگوٹھی شامل تھی‘ خریدا گیا۔ خرید کے وقت اس کی قیمت ایک لاکھ 17 ہزار برطانوی پاؤنڈز یعنی آج کے حساب سے تقریباً 4 کروڑ 35 لاکھ روپے تھی۔ ان زیورات کی قیمت کا کچھ حصہ نقد اور بقیہ رقم بومر فنانس نامی آف شور کمپنی کے ذریعے اداکی گئی‘ جس کے بینیفشل آصف علی زرداری تھے۔ زرداری صاحب کی کمپنی کی جانب سے ادائیگی کے باعث اس جیولری سیٹ کی ملکیت کی کڑیاں بینظیر بھٹو سے جا ملتی تھیں۔ اس دور میں اس نیکلس کا بہت زیادہ شور اٹھا۔ اپوزیشن اس نیکلس کی ملکیت‘ اس کی قیمت‘ اس کی خریداری اور اتنی بڑی رقم کے بارے میں سوالات اٹھانے لگ گئی۔ جب یہ شور وغوغا زیادہ بلند ہوا تو بینظیر بھٹو نے بڑے واضح الفاظ میں اس قسم کے کسی نیکلس کی خریداری اور ملکیت سے صاف انکار کر دیا۔ انہوں نے بڑے تیقن سے کہا کہ ان کے پاس ایسا کوئی نیکلس نہیں اور یہ سب الزامات ان پر بہتان ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ساری باتیں محض الزام کی حیثیت رکھتی ہیں جو اپوزیشن ان کی سیاسی کردار کشی کے لیے ان پر لگا رہی ہے‘ ان کا دامن اس قسم کی چیزوں سے پاک ہے اور وہ ایسی کسی بھی شے کی ملکیت سے انکار کرتی ہیں۔ ان کے اس بیان پر پیپلز پارٹی کے ڈھنڈورچیوں نے بھی یہ بیان کورس کی شکل میں دہرانا شروع کر دیا کہ بی بی کی ملکیت میں کوئی نیکلس ویکلس نہیں اور یہ سارے الزامات جھوٹ پر مبنی ہیں۔ تین ماہ بعد نومبر 1997ء میں مسلم لیگ کی حکومت آ گئی۔ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے خلاف ایس جی ایس اور کوٹیکنا کرپشن کیسز کی تحقیقات شروع ہو گئیں۔ جون 1998ء میں سوئس عدالت کے تفتیشی جج کی ہدایت پر یہ زیورات بینک لاکر سے نکال کر سوئس حکام کے حوالے کر دیے گئے۔ اگست 2003ء میں عدالت نے منی لانڈرنگ کے الزام میں آصف علی زرداری اور بینظیر بھٹو کو چھ ماہ کی معطل شدہ سزا سناتے ہوئے ان کے اکاؤنٹس منجمد کر دیے اور غیر قانونی رقم سے خرید کردہ ان زیورات کو حکومتِ پاکستان کے حوالے کرنے کا حکم دیا۔ بعد ازاں ان زیورات کی ملکیت سے انکار کرنے والی بینظیر بھٹو نے پینترا بدلتے ہوئے کہا کہ انہیں یہ زیورات ان کے شوہر آصف زرداری نے تحفے میں دیے تھے مگر انہوں نے یہ تحفہ قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ (نومبر 2014ء میں بومر فنانس نامی آف شور کمپنی نے ان زیورات کی ملکیت کا دعویٰ کر دیا مگر عدالت نے ان کی ملکیت کا دعویٰ مسترد کرتے ہوئے ان زیورات کو آصف زرداری اور بینظیر بھٹو کی ملکیت قرار دیا)۔ جب ملکیت کا معاملہ کھل کر آشکار ہو گیا تو بینظیر بھٹو نے فرمایا کہ وہ تین پشتوں سے وزیراعظم ہیں‘ کیا وہ ایک نیکلس بھی نہیں خرید سکتیں؟ پیپلز پارٹی کے جیالوں نے بجائے یہ سوال کرنے کے کہ پہلے غلط بیانی کیوں کی اور بعد میں عدالتی فیصلے کے بعد ان کو کیسے یاد آیا کہ وہ تین پشتوں سے وزیراعظم ہیں اور یہ سیٹ خرید سکتی ہیں‘ دوبارہ کورس میں راگ الاپنا شروع کر دیا کہ ان کی لیڈر تین پشتوں سے وزیراعظم ہیں کیا وہ زیورات کا ایک سیٹ بھی نہیں خرید سکتیں؟ تب اس جھوٹ کا پردہ مکمل طور پر فاش ہونے میں سترہ سال کا عرصہ لگا۔ لیکن اب سوشل میڈیا کی تیز رفتاری نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا ہے۔ایک چینی کہاوت ہے کہ اگر آپ بنیاد ٹیڑھی رکھیں تو اس کے بعد دیوار کو خواہ آسمان تک لے جائیں‘ وہ سیدھی نہیں ہو سکتی۔ اسی طرح اگر آپ کسی بات کی بنیاد جھوٹ پر رکھیں تو اس پر سچائی کی دیوار کبھی بھی سیدھی کھڑی نہیں کی جا سکتی۔ ایک جھوٹ کو چھپانے کے لیے جھوٹ در جھوٹ کی ضرورت پڑتی ہے جبکہ سچ اپنی دلیل خود ہوتا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے حکومت پنجاب کے ملکیتی سرکاری جہاز پر لندن میں اپنی بیٹی کی گریجوایشن کے سو فیصد ذاتی دورے کے بعد کہا کہ ہاں! میں سرکاری جہاز پر لندن گئی تھی اور میں آئندہ بھی اس پر جاؤں گی۔ آخر میں ناقدین کو چڑانے کے لیے کہا &#39;&#39;تھینک یو ویری مچ‘‘۔ یہ قلمکار وزیراعلیٰ کی اس گفتگو پر صرف لکھ ہی سکتا ہے وزیراعلیٰ کو روک تو نہیں سکتا۔ تاہم صرف اتنی عرض ہے کہ اگر یہ بیان اس جہاز کی خرید کے روزِ اول ہی دے دیا جاتا تو طبلچیوں کو سو پینترے بدل بدل کر جھوٹ نہ بولنا پڑتا۔ اس جہاز کا جو سفر پنجاب ایئرلائن سے شروع ہوا تھا‘ اس کا اختتام لندن کے ذاتی دورے پر نہ کرنا پڑتا۔ بیان آیا کہ اس دورے پر خرچ ہونے والے تمام تر اخراجات جو کہ مبلغ پونے تین کروڑ روپے بنتے تھے‘ وزیراعلیٰ نے اپنی جیب سے ادا کیے ہیں۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ جب میاں نواز شریف وزارتِ عظمیٰ کے دوران لندن سے اپنا علاج کروا کر واپس آئے تو ان کے کسی وزیر نے اسمبلی میں یہی بیان دیا تھا کہ اس علاج اور دورے کے سارے اخراجات میاں نواز شریف صاحب نے ذاتی جیب سے ادا کیے ہیں۔ بعد میں علم ہوا کہ دیگر سارے اخراجات کے علاوہ لندن میں رہائش پذیر دو عدد خوشحال بیٹوں کے ہوتے ہوئے ایک علیل باپ نہ صرف بازار سے سرکاری خرچ پر کھانا منگواتا رہا بلکہ فیکس‘ ٹیکسی اور اخبارات وغیرہ کے بل بھی حکومتِ پاکستان کے کھاتے سے ادا کیے گئے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایسے عالم میں جب قوم کو سادگی اور بچت کا بھاشن بھی سنایا جا رہا ہے اور &#39;&#39;میرا پیسہ، میری مرضی‘‘ پر قدغن لگاتے ہوئے امرا اور صاحبِ حیثیت افراد کو بھی شادی پر ون ڈش کا پابند کیا جا رہا ہے‘ حکمران خواہ اپنا پیسہ ہی سہی‘ اس طرح لگژری جہاز کے سفر پر کس طرح لٹا سکتے ہیں؟ کیا حکمرانوں کے بھاشن‘ پابندیاں‘ نصیحتیں اور دعوے صرف عوام کے لیے ہیں؟ جب تک حکمران خود مثال قائم نہیں کرتے‘ ان کی کسی بات کا نہ کوئی اثر ہے اور نہ ہی کوئی فائدہ ہے۔ حکمرانوں کے قول و فعل میں تضاد ہو تو عوام سے کسی اچھائی کی توقع رکھنا عبث ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90500073.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ڈائیلاگ پالیسی(ڈاکٹر حسین احمد پراچہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-09-22/52708/54069205</link><pubDate>Tue, 22 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-09-22/52708/54069205</guid><description>پاکستان کی قیادت خطے کے اکثر ممالک ہی کو نہیں سپر پاور امریکہ تک کو قائل کر چکی ہے کہ تنازعات کا حل صرف اور صرف ڈائیلاگ ہے۔ پاکستان گزشتہ سات ماہ سے مذاکرات کے چراغ کو جلائے ہوئے ہے۔ جب یہ دیا ٹمٹمانے لگتا ہے تو کبھی سرِعام اور کبھی پس پردہ امریکہ‘ ایران اور اس تنازع سے بالواسطہ طور پر متاثر ہونے والے خطے کے دیگر فریق‘ پاکستان سے رجوع کرتے ہیں۔ اب یہ تنازع یمن کے حوثیوں کے سعودی عرب پر ڈرون اور میزائل حملوں کی بنا پر مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔ امریکہ ایران تنازع سے تیل کی قیمتیں بہت بڑھ چکی ہیں۔ ایک مرتبہ پھر پاکستان کے توسط سے امریکہ اور ایران مذاکرات کی میز پر آتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ایران اسلام آباد ایم او یو کی بنیاد پر مذاکرات جاری رکھنے پر رضامند نظر آتا ہے۔ پاکستان پُرامید ہے کہ تند و سرکش موجوں سے نبرد آزما مذاکرات کی نیّا بالآخر ساحلِ مراد پر پہنچے گی۔عام پاکستانی اس وقت دہری مصیبت میں گرفتار ہیں۔ ایک تو جنگی صورتحال کی بنا پر پٹرول کی قیمت 400روپے فی لٹر اور ڈیزل کی سوا چار سو روپے فی لٹر تک پہنچ چکی ہے۔ اشیائے ضرورت کی قیمتیں صرف غریب ہی نہیں سفید پوش کی پہنچ سے بھی بہت اوپر جا چکی ہیں۔ عوام کے اس دکھ درد کو بانٹنے کی تمام سیاسی جماعتیں دعویدار ہیں مگر مہنگائی کی مصیبت سے چھٹکارے کیلئے جماعت اسلامی نے عملی قدم اٹھایا اور وہ پاکستان کے بہت سے شہروں میں احتجاج دھرنوں کی صورت میں گزشتہ اڑتیس روز سے کر رہی ہے۔ جماعت نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کے پانچ ادوار کیے ہیں مگر حکومت لیوی ختم کرنے پر تیار نہیں اور جماعت اس سے کم کسی ریلیف پر راضی نہیں۔جماعت اسلامی کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ‘ نائب امیر جماعت اسلامی جناب لیاقت بلوچ نے مجھے بتایا کہ ملا جلا کر 135روپے کی فی لٹر مجموعی لیوی کا حکومتی مذاکراتی ٹیم کے پاس کوئی منطقی جواز ہے نہ معاشی دلیل۔ وہ جو آئی ایم ایف کی عائد کردہ مجبوریاں گنواتے ہیں وہ حکمرانوں کے شاہانہ ٹھاٹ باٹ‘ نئے لگژری جہازوں اور تقریبات میں ناقابلِ یقین اسراف پر کوئی قدغن کیوں نہیں لاگو کرتے؟ آئی ایم ایف والے بھی پاکستانی حکومت کی طرح برق گراتے ہیں تو بیچاروں غریبوں پر۔ مذاکرات کے پانچ بے ثمر ادوار کے بعد جماعت اسلامی نے 20ستمبر سے لانگ مارچ بذریعہ ٹرین کراچی سے شروع کر دیا ہے۔ وفاقی حکومت کے ترجمان کبھی کہتے ہیں کہ اسلام آباد کی سڑکیں کھلی ہیں‘ کبھی کہتے ہیں ہم کسی کو آنے نہیں دیں گے۔ کیلوں والے کنٹینروں اور خندقوں کی خبریں بھی عام ہیں۔ حافظ نعیم الرحمن صاحب کا اعلان ہے کہ ہم جماعت اسلامی کے پُرامن آئینی و قانونی احتجاج کے تاریخی تسلسل سے سرمو انحراف نہیں کریں گے اور قانون کے دائرے میں عوام الناس کے ساتھ اپنا احتجاج ریکارڈ کرائیں گے۔ ہماری جماعت اسلامی سے درخواست ہو گی کہ وہ جن لوگوں کیلئے یہ دھرنے اور مارچ کر رہی ہے‘ وہ واقعی مہنگائی سے بے حال ہو چکے ہیں۔ اگر خدانخواستہ علاقائی طور پر جنگی صورتحال طول پکڑتی ہے اور ملک مفاہمت کے بجائے تصادم کی طرف بڑھتا ہے تو پھر پاکستان کے عوام اس چکی کے دو پاٹوں میں بری طرح پس جائیں گے۔ اس لیے جماعت اسلامی حکومت کو مزید کچھ وقت دے اور ایک اور فیصلہ کن مذاکراتی نشست پر آمادگی اختیار کرے۔چند ہفتوں سے وزیر داخلہ محسن نقوی اور پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کے مابین ملاقاتوں کی خبریں آ رہی تھیں جس سے لگتا تھا کہ بات مخاصمت کے بجائے مفاہمت کی طرف بڑھ رہی ہے مگر اے بسا آرزو کہ خاک شدہ۔ گزشتہ ہفتے جناب محسن نقوی نے جو پریس کانفرنس کی اس میں ان کا لب و لہجہ ترش تھا۔ اس سے محسوس ہوا کہ حکومت اور تحریک انصاف کے مابین پس پردہ ملاقاتوں میں خاطر خواہ ہوم ورک نہیں ہو سکا۔ ملک کے دو صوبوں میں امن و امان کی صورتحال ناگفتہ بہ ہے۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں آئے روز دہشت گردی کی کوئی نہ کوئی بڑی واردات ہو جاتی ہے۔ افغان حکومت زبانی طور پر یہ کہتی ہے کہ وہ پاکستان سے اچھی تعلقات چاہتی ہے مگر عملاً اپنے ملک میں موجود کالعدم ٹی ٹی پی کو پاکستان کیخلاف دہشت گردی سے روکنے کی بھرپور کوشش نہیں کرتی۔ علاوہ ازیں ملک معاشی عدم استحکام سے دوچار ہے۔ تعلیم یافتہ نوجوانوں کے ہاتھ میں ڈگریاں ہیں مگر ملازمتیں نہیں۔ فیکٹریاں ہیں مگر اکثر بند پڑی ہیں۔ بیچارے کسان شب و روز محنت کرتے اور مہنگے زرعی مداخل کے اخراجات برداشت کرتے ہیں مگر حکومت کسانوں سے اُنکی لاگت پر بھی گندم خریدنے پر تیار نہیں ہوتی۔ نوجوان غریب اور مراعات یافتہ طبقے کے طرزِ بود و باش کو دیکھتے ہیں تو اُن کا دل کھولتا ہے۔ ان حالات میں جب کوئی اُنکا پرسانِ حال نہیں ہوتا تو وہ کسی نہ کسی طرح ملک چھوڑنے اور بیرونی دنیا میں قسمت آزمائی کے راستے پر چل پڑتے ہیں۔ ان حالات کا تقاضا ہے کہ حکومت تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کیساتھ مذاکرات کرے۔ دونوں جماعتوں کے مطالبات الگ الگ ہیں۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ عمران خان کے دورِ حکومت میں مولانا فضل الرحمن ایک لانگ مارچ کی قیادت کرتے ہوئے اسلام آباد آئے تھے۔ حکومت نے انہیں پڑاؤ کیلئے جگہ فراہم کی۔ اس دوران شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری بھی اسلام آباد میں جمعیت علمائے اسلام کے دھرنا سٹیج سے اپنا زورِ خطابت دکھاتے رہے۔دو تین روز کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے ممکنہ طور پر اپنی ڈائیلاگ پالیسی کی پرفارمنس بیان کریں گے‘ اور ثالثی کی برکات گنوائیں گے۔ وزیراعظم جنرل اسمبلی کو خبردار کریں گے کہ اگر دنیا مفاہمت کے بجائے تصادم کی طرف بڑھتی ہے تو اس سے انسانیت کا مستقبل روشن نہیں تاریک ہو جائے گا۔نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار جنرل اسمبلی کے اجلاسوں کے موقع پر ممکنہ طور پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملیں گے اور انہیں مذاکرات کی طرف واپس آنے اور کشیدگی سے دامن بچانے پر قائل کریں گے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی بھی ایران کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہتے ہیں۔وہ گزشتہ روز ڈائیلاگ پالیسی آگے بڑھانے کیلئے ایک بار پھر ایران پہنچ گئے ہیں۔ ادھر وطنِ عزیز میں سیاسی ٹمپریچر تیزی سے اوپر چڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ اگرچہ جماعت اسلامی کا سپر لانگ مارچ اور پی ٹی آئی کے مارچ میں بڑا بنیادی جوہری فرق ہے مگر دونوں کی منزل ایک یعنی اسلام آباد ہے۔ وفاقی وزرا اور دوسری طرف سے پی ٹی آئی کے بعض جوشیلے قائدین کے بیانات نے ماحول میں گرمی اور تلخی بڑھا دی ہے۔ عمران خان کی تینوں بہنوں کی گرفتاری و نظر بندی سے بظاہر مفاہمت کے راستے بند ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف اکثر پی ٹی آئی کو مذاکرات کی میز پر آنے کی دعوت دیتے رہتے ہیں‘ مگر اب تک یہ بیل منڈھے نہیں چڑھ سکی۔ پنجابی کی ضرب المثل ہے &#39;&#39;ڈُھلیاں بیراں دا کجھ نہیں گیا‘‘‘ یعنی حالات کسی وقت بھی سنوارے جا سکتے ہیں۔وزیراعظم شہباز شریف خارجہ ادوار میں اپنی &#39;&#39;ڈائیلاگ پالیسی‘‘ کو وطن عزیز میں بھی صدقِ دل سے اپلائی کریں۔ وہ گرینڈ ڈائیلاگ کا اعلان کر یں‘ پھر تمام سٹیک ہولڈرز ایک چھت کے تلے جمع ہو کر اجتماعی دانش سے پاکستان کے جملہ مسائل و معاملات کا کوئی دیرپا حل تلاش کریں جس پر سب فریق دل و جان سے اتفاق کر لیں۔ موجودہ ملکی حالات کا یہی تقاضا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_70033906.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مالیاتی نظام پر بینکوں کا غلبہ کیوں؟(شاہد کاردار)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-kardar-/2026-09-22/52709/47030263</link><pubDate>Tue, 22 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-kardar-/2026-09-22/52709/47030263</guid><description>پاکستان کے مالیاتی نظام پر بینکوں کا غلبہ ہے۔ کمرشل بینک ملک کے مالیاتی شعبہ کے 80 فیصد سے زائد اثاثوں کے مالک ہیں۔ ایک صحتمند اور ترقی یافتہ مالیاتی نظام میں لوگوں اور کاروباری اداروں کے پاس بچت کرنے اور سرمایہ حاصل کرنے کے کئی مختلف ذرائع ہونے چاہئیں مثلاً وہ سٹاک مارکیٹ‘ پنشن فنڈز‘ بیمہ کمپنیوں یا میوچل فنڈز سے استفادہ کر سکتے ہیں۔ ان مالیاتی اداروں کو بینکوں کے ساتھ مقابلہ کرنا چاہیے‘ تاہم پاکستان میں ان میں سے کئی ادارے بھی بینکوں کے ساتھ وابستہ ہیں۔ اس لیے بظاہر تو لگتا ہے کہ یہاں کئی مختلف مالیاتی ادارے موجود ہیں لیکن درحقیقت سرمایہ کی بہت بڑی مقدار بالآخر بینکوں کے کنٹرول ہی میں ہے۔ جو چیز مسابقت دکھائی دیتی ہے‘ اکثر وہ مقابلہ بازی کے پردے میں ارتکاز ہے۔ہمارے ہاں بینک اتنے طاقتور کیوں ہیں؟ بینکوں کو کئی بڑے فوائد حاصل ہیں۔ ان کے پاس بڑی مقدار میں سرمایہ (ڈپازٹس)‘ ہزاروں شاخیں‘ لاکھوں صارفین ہیں۔ ان کے کاروباری اداروں اور حکومت دونوں کے ساتھ طویل عرصے سے تعلقات قائم ہیں۔ لوگ بھی اپنی بچتیں بینک اکائونٹس میں رکھنے کے عادی ہیں۔ اس کے بعد بینک اس رقم کو قرض دینے یا سرمایہ کاری کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ وہ اپنے لاکھوں صارفین کی جمع کرائی گئی رقوم سے اثاثے بنا لیتے ہیں‘ اس لیے ان کی بیلنس شیٹ بھی تگڑی ہو جاتی ہے۔ بینکوں کو یہ جانچ پڑتال کرنے کا تجربہ بھی ہے کہ قرض لینے والے اپنا قرض واپس کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں یا نہیں۔ بینک قرض لینے والوں سے ان کے اثاثے بطور ضمانت طلب کر سکتے ہیں۔ ان تمام عوامل کے باعث نئے مالیاتی اداروں کے لیے بینکوں کا مقابلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔تاہم بینکوں کے غلبے کی ایک اور اہم وجہ ہے۔ وہ یہ کہ حکومت کو قرض لینے کی بہت زیادہ ضرورت رہتی ہے۔ حکومت بینکوں کی سب سے بڑی گاہک ہے۔ حکومت باقاعدگی سے جتنی رقم ٹیکسوں کی صورت میں جمع کرتی ہے‘ اس سے زیادہ خرچ کرتی ہے۔ اس لیے اسے اپنے اخراجات پورے کرنے کیلئے قرض لینا پڑتا ہے۔ حکومت کیلئے قرض لینے کا سب سے آسان ذریعہ بینک ہیں۔ آج بینکوں کے تقریباً 62فیصد اثاثے حکومتی سکیورٹیز (ضمانتی اسناد) میں لگے ہوئے ہیں جبکہ صرف 22فیصد اثاثے نجی کاروباری اداروں اور افراد کو دیے گئے قرضوں کی صورت میں ہیں۔ مطلب یہ کہ بینک کاروباری اداروں کی ترقی میں مدد فراہم نہیں کر رہے‘ اس کے بجائے  حکومت کی مالی ضروریات پوری کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ حکومتی سکیورٹیز پر دہرے ہندسے (دس فیصد یا اس سے زیادہ) میں منافع ملتا ہے اور نادہندگی کا بھی کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔ جب ایک بینک حکومت کو قرض دے کر بہت کم رِسک کے ساتھ اچھا منافع کما سکتا ہے تو وہ کسی کاروباری ادارے کو قرض دے کر خطرہ کیوں مول لے گا؟کسی کاروباری ادارے کو قرض دینے کیلئے بینک کو اس کاروبار کا بغور جائزہ لینا ہوتا ہے‘ اس ادارے کے حسابات کی جانچ کرنا‘ ضمانت طلب کرنا اور اس بات کی نگرانی کرنا ہوتی ہے کہ وہ قرض واپس کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں۔ اس کی نسبت حکومتی سکیورٹیز خریدنا بہت آسان ہے۔ جب تک حکومت اپنے خسارے پورے کرنے کیلئے بینکوں سے بھاری مقدار میں قرض لیتی رہے گی‘ بینک اپنا چلن تبدیل کیوں کریں؟ وہ زیادہ خطرہ مول لیے بغیر اور کاروباری اداروں کی مالی معاونت کے نئے طریقے بنائے بغیر بھی خوب منافع کما رہے ہیں۔ جب تک حکومت کا کمرشل بینکوں پر انحصار رہے گا‘ بینک ہی پاکستان کے مالیاتی ڈھانچے کے سب سے مستحکم اور سب سے منافع بخش ادارے رہیں گے۔مالیاتی نظام میں حکومت کا ایک اور عمل دخل بھی ہے۔ وہ نہ صرف کمرشل بینکوں سے بھاری قرض لیتی ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ وہ قومی بچت کا نظام بھی چلا رہی ہے۔ حکومت کئی مالیاتی اداروں کی مالک ہے یا ان پر گہرا اثر ورسوخ رکھتی ہے؛ چنانچہ بینکوں کا مقابلہ کرنے کی کوشش کرنے والے نئے مالیاتی ادارے کو صرف طاقتور بینکوں کا ہی مقابلہ نہیں کرنا ہوتا بلکہ وہ ادارہ ایسے ماحول اور نظام میں بھی کام کرتا ہے جس میں اسے وسائل کیلئے خود حکومت کے ساتھ مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔زیادہ لوگ سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کیوں نہیں کرتے؟ پاکستان کی سٹاک مارکیٹ کمزور ہے۔ آبادی کے 0.5 فیصد سے بھی کم لوگوں کے پاس سٹاک مارکیٹ میں اکائونٹس ہیں۔ زیادہ تر لوگ اپنی بچت بینکوں میں ڈپازٹس‘ نقد رقم‘ جائیداد یا سونے کی صورت میں رکھنا پسند کرتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ زیادہ تر لوگوں کو مالیاتی مارکیٹ کی اچھی طرح سمجھ  نہیں ہے۔ اس کے علاوہ لوگوں کے ذہن میں سٹاک مارکیٹ کے خطرات اور اس کے اتار چڑھاؤ کے بارے میں شکوک وشبہات کی ایک طویل تاریخ موجود ہے۔ اس سے بینکوں کو یہ فائدہ ہوتا ہے کہ لوگ اپنی رقم براہِ راست سٹاک مارکیٹ میں لگانے کے مقابلے میں بینک میں رکھنے کو زیادہ محفوظ اور آسان سمجھتے ہیں۔کاروباری ادارے بینکوں کو ترجیح کیوں دیتے ہیں؟ ایک کاروباری ادارہ بنیادی طور پر دو طریقوں سے سرمایہ حاصل کر سکتا ہے۔ ایک تو وہ بینک سے قرض لے سکتا ہے یا پھر شیئرز فروخت کرکے یا بانڈز جاری کرکے سرمایہ کاروں سے براہِ راست رقم حاصل کر سکتا ہے۔ لیکن شیئرز یا بانڈز کی مارکیٹ کے ذریعے رقم حاصل کرنا پیچیدہ عمل ہے۔ اس مقصد کیلئے کمپنیوں کو بہت سے قواعد کی پابندی کرنا پڑتی ہے‘ تفصیلی معلومات فراہم کرنا ہوتی ہیں‘ اپنے حسابات کا باقاعدہ آڈٹ کرانا ہوتا ہے‘ کارپوریٹ نگرانی سے متعلق تقاضے پورے کرنا ہوتے ہیں اور بعض صورتوں میں قرض واپس کرنے کی اپنی صلاحیت کی درجہ بندی (یعنی کریڈٹ ریٹنگ) بھی کرانا پڑتی ہے۔ ان کاموں میں وقت لگتا ہے اور رقم بھی خرچ ہوتی ہے۔ پاکستان کی مجموعی قرضوں کی مارکیٹ میں کارپوریٹ قرضوں کا حصہ تین فیصد سے بھی کم ہے کیونکہ بینک کا قرض حاصل کرنے کے مقابلے میں براہِ راست کارپوریٹ قرض لینا ایک انتہائی سست اور مہنگا عمل ہے۔ اس کے مقابلے میں بینک سے قرض لینا عموماً بہت آسان ہے۔ ایک کمپنی اپنے بینکار کے ساتھ بیٹھتی ہے‘ اسے ضمانت فراہم کرتی ہے اور قرض کی شرائط طے کر لیتی ہے۔ایک اور پہلو یہ ہے کہ پاکستان کی بہت سی بڑی کمپنیاں خاندانوں کے کنٹرول میں ہیں۔ ان کے مالکان سٹاک مارکیٹ میں اندراج کرانے کے خواہشمند نہیں ہوتے کیونکہ اندراج کا مطلب ہے کہ انہیں سرمایہ کاروں اور نگران اداروں کے ساتھ کمپنی کے بارے میں معلومات کا تبادلہ کرنا ہوگا؛ چنانچہ کمپنیاں اکثر عوام سے سرمایہ حاصل کرنے کے بجائے اپنا منافع استعمال کرتی ہیں اور بینکوں سے قرض لینے کو ترجیح دیتی ہیں۔پنشن فنڈز اور بیمہ کمپنیوں کا کیا کردار ہے؟ بہت سے ممالک میں پنشن فنڈز اور بیمہ کمپنیاں طویل مدتی سرمایہ کاری کے بڑے ذرائع ہیں‘ تاہم پاکستان میں وسیع پیمانے پر پھیلا ہوا پنشن کا بڑا نظام موجود نہیں۔ پنشن کے انتظامات بنیادی طور پر سرکاری ملازمین تک محدود ہیں۔ اکثر پنشن حکومت کی موجودہ آمدنی سے براہِ راست ادا کی جاتی ہے۔ ہمارے ہاں ایسا نہیں ہوتا کہ پنشن کو بڑے سرمایہ کاری فنڈز کی صورت میں جمع کیا جائے۔ نتیجتاً پنشن اور بیمہ فنڈز معیشت کے حجم کے مقابلے میں بہت چھوٹے ہیں۔ حکومتی ہدایات کے تحت سرکاری پنشن اور انشورنس کے اداروں کو بھی اپنا زیادہ تر سرمایہ حکومتی سکیورٹیز یا بینکوں میں ڈپازٹس کی صورت میں رکھنا پڑتا ہے؛ چنانچہ وہ رقم جس سے کاروباری اداروں میں سرمایہ کاری کی جا سکتی تھی‘ اکثر بالآخر حکومت یا بینکوں کے پاس پہنچ جاتی ہے۔اگلے کالم میں ہم اس بحث کو مزید آگے بڑھائیں گے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_78012569.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>نیویارک اجلاس: عالمی امن کا نادر موقع(رشید صافی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-09-22/52710/14176399</link><pubDate>Tue, 22 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-09-22/52710/14176399</guid><description>اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہو رہا ہے جب مشرقِ وسطیٰ کی جیو پولیٹکل اور جیو اکنامک صورتحال شدید تناؤ اور عدم استحکام کا شکار ہے۔ عالمی برادری کی تمام تر توجہ نیویارک میں جمع ہونے والے دنیا بھر کے رہنماؤں پر مرکوز ہے‘ جہاں تنازعات کے حل اور پائیدار امن کی بحالی کیلئے سفارتی کوششیں تیز تر ہو چکی ہیں۔ اس اہم عالمی فورم پر ایرانی صدر کی شرکت اور امریکی صدر کی جانب سے ان سے ممکنہ ملاقات کے اشاروں نے امید پیدا کی ہے۔ امریکہ اور ایران کے مابین طویل عرصے سے کشیدگی اور گزشتہ کچھ مہینوں سے بالواسطہ تصادم کے بعد یہ اجلاس فریقین کو اختلافات پر گفتگو کرنے اور بحران کے پُرامن حل کی سمت پیش رفت کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ مذاکرات میں تعطل آنے کے بعد متحارب گروہ اور متعلقہ فریقین مذاکرات کی میز پر بیٹھنے سے گریزاں رہے ہیں‘ جس کی وجہ سے خطے میں فوجی تصادم اور عدم استحکام کا دائرہ مسلسل پھیلتا چلا گیا۔ اس تناظر میں اقوام متحدہ کا یہ فورم تمام بااثر عالمی طاقتوں اور علاقائی ممالک کو ایک ایسا تاریخی پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے جہاں وہ تمام متحارب گروہوں کو لچک دکھانے اور گفت و شنید کا راستہ اختیار کرنے پر قائل کر سکیں۔ اگر اس موقع پر سفارتی لچک نہ دکھائی گئی اور یہ سنہری موقع ضائع کر دیا گیا تو اس کے نتائج نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کیلئے بے حد ہولناک ہو سکتے ہیں۔ امریکی قیادت کی جانب سے ایران کے بارے میں جن خیالات کا اظہار کیا جا رہا ہے‘ یہ صورتحال پورے خطے کے امن کیلئے خوفناک ہے۔ امریکی صدر نے کہاہے کہ مکمل تباہی کا راستہ‘ شدید ترین اقتصادی تنہائی یا پھر جامع و حتمی معاہدے تک پہنچنے کیلئے براہِ راست مذاکرات۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ بحران کی سنگینی اب انتہائی نکتے پر پہنچ چکی ہے۔امریکی قیادت کی طرف سے دھمکیوں کے باوجود سفارتی سرگرمیوں اور بین الاقوامی مذاکراتی میکانزم کو دیکھتے ہوئے یہ امید کی جا سکتی ہے کہ مزید کسی بڑے ملٹری ایڈونچر یا ہمہ گیر جنگ کی نوبت نہیں آئے گی اور اقوام متحدہ کے اجلاس کے اختتام سے قبل دنیا کو امن کی بحالی کا پیغام مل سکے گا۔ اس سلسلے میں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا تہران سے نیویارک روانگی کے دوران دوحہ میں مختصر قیام اور قطری حکام سے مشاورت ایک اہم پیش رفت قرار دی جا سکتی ہے۔ قطر امریکہ اور ایران کے مابین جاری شدید ترین تناؤ میں ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستان بھی خطے میں امن کیلئے کوشاں ہے۔ ایرانی حکام کی جانب سے ثالثوں کے ذریعے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے خاتمے سے متعلق شرائط کا تبادلہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ تہران بھی معاشی و فوجی توازن برقرار رکھتے ہوئے کسی تصفیے کا خواہشمند ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کشیدگی اور جنگ کا خاتمہ محض امریکہ یا ایران کی سیاسی ضرورت نہیں ہے بلکہ یہ پوری دنیا بالخصوص توانائی برآمد کرنے والے خلیجی ممالک کی اشد معاشی ضرورت بن چکا ہے۔ سعودی عرب اور قطر جیسے تیل اور قدرتی گیس پیدا کرنے والے اہم ترین ممالک فوری جنگ بندی اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی مکمل آزادی کے خواہشمند ہیں کیونکہ توانائی کی سپلائی چین متاثر ہونے کے باعث ان کی معیشتیں شدید دباؤ اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو چکی ہیں۔ قطر انرجی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سعد الکعبی نے حال ہی میں خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جاری بحران کے باعث کمپنی کے اہم ترین ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد میں تاخیر کا خدشہ پیدا ہو چکا ہے کیونکہ بحری رکاوٹوں کی وجہ سے ضروری مشینری اور آلات وقت پر پہنچنا ممکن نہیں رہا۔ نیویارک میں منعقدہ معاشی فورم کے دوران قطری حکام نے واضح کیا کہ قطر کو ایل این جی کی پیداوار اور بر آمدات میں مسائل کا سامنا ہے۔ اگر آبنائے ہرمز کو دوبارہ محفوظ جہاز رانی کیلئے مکمل طور پر کھول دیا جائے تو کچھ ہی ہفتوں کے اندر پیداواری اور تجارتی سرگرمیاں معمول پر لائی جا سکتی ہیں۔ اگر کشیدگی طویل ہوتی ہے تو شمال مشرق فیلڈ ڈویلپمنٹ جیسے بڑے منصوبوں کی 2027ء اور شمال جنوب فیلڈ منصوبے کی 2028ء تک متوقع پیداواری آؤٹ پٹ کے شیڈول شدید متاثر ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب سعودی عرب کی تیل تنصیبات کی صورتحال بھی کچھ مختلف نہیں ہے‘ جہاں حوثی ملیشیا کے بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملوں نے توانائی کی عالمی مارکیٹ کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اگرچہ ترکیہ‘ پاکستان اور خطے کے دیگر ممالک نے سعودی عرب پر ہونے والے حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور علاقائی امن کو تباہ کرنے والے عناصر کو سخت نتائج سے خبردار کیا ہے۔ پاکستان دنیا کو بحران سے بچانے کیلئے بھی سرگرم ہے تاکہ خطے کو ممکنہ تباہی سے بچایا جا سکے۔ایران یہ تاثر دے رہا ہے کہ وہ پوری استقامت کے ساتھ کھڑا ہے‘ تاہم اس کی معیشت بھی شدید متاثر ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران طاقت کے ساتھ ساتھ سفارتکاری کا حامی بھی ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف نے پارلیمنٹ سے خطاب میں اس کی نشاندہی کی کہ جنگوں کا آغاز تو آسانی سے ہو جاتا ہے اور اس پر بڑی بڑی باتیں کی جاتی ہیں لیکن اس کے حتمی‘ مؤثر اور پُرامن خاتمے کیلئے کوئی واضح اور ٹھوس لائحہ عمل موجود نہیں ہوتا۔ انہوں نے ایران کی حکمتِ عملی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ تہران دفاعی محاذ پر اپنی فوجی طاقت کا بھرپور استعمال کرے گا تاکہ دشمنوں کو پیچھے دھکیلا جا سکے‘ تاہم مناسب اور موزوں وقت آنے پر میدانِ جنگ میں حاصل ہونے والی کامرانیوں کو مستقل سیاسی تصفیے میں بدلنے کیلئے سفارتکاری اور بالواسطہ مذاکرات سے ہی کام لیا جائے گا۔اسی سفارتی عمل کو آگے بڑھاتے ہوئے ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی کے مطابق تہران نے ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن کو مذاکرات کی دوبارہ بحالی کیلئے سات بنیادی شرائط پیش کر دی ہیں اور اب امریکی قیادت کے جواب کا انتظار ہے۔ ان شرائط میں تمام محاذوں پر فوجی معرکہ آرائی کا مکمل خاتمہ‘ امریکہ میں منجمد ایرانی مالیاتی اثاثوں کی فوری بحالی اور بحری ناکہ بندیوں کے خاتمے کی شرائط شامل ہیں۔ تاہم جب بھی دو اہم طاقتیں سفارتکاری کے ذریعے مذاکرات کے میز پر آتی ہیں تو ہر فریق زیادہ سے زیادہ حاصل کر کے خود کو فاتح ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس سے قبل کے مذاکراتی ادوار بھی اسی لیے ناکامی کا شکار  ہوئے کیونکہ بعض فریقوں نے عوامی و میڈیا کے دباؤ کو اپنی اَنا کا مسئلہ بنا لیا اور سیاسی ہزیمت کے خوف سے دوبارہ جارحانہ حکمت عملی اپنا لی۔اگر اب بھی امریکہ کی جانب سے مذاکرات کے عمل کے ساتھ دھمکیوں اور اقتصادی دباؤ کا سلسلہ جاری رہا تو پُرامن حل کی تمام تر کوششیں ناکام ہو سکتی ہیں۔ اب چونکہ یہ بحران محض دو ممالک کا دو طرفہ مسئلہ نہیں رہا بلکہ قطر اور سعودی عرب جیسے اہم امریکی اتحادی بھی اعلانیہ طور پر یہ کہہ رہے ہیں کہ اس بحران کا طول پکڑنا ان کی معیشتوں کیلئے تباہ کن ثابت ہو رہا ہے‘ اس لیے عالمی برادری پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے اس اجلاس کو بہترین موقع کے طور پر استعمال کرے۔ نیویارک میں ہونے والی یہ ممکنہ ملاقاتیں اور سفارتی کوششیں اگر درست سمت میں آگے بڑھتی ہیں تو مشرق وسطیٰ کو ممکنہ تباہ کن جنگ سے بچایا جا سکتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/222_48272610.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>قصۂ یک درویش!(حافظ محمد ادریس)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/hafiz-muhammad-idreess/2026-09-22/52711/47104601</link><pubDate>Tue, 22 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/hafiz-muhammad-idreess/2026-09-22/52711/47104601</guid><description>گجرات میں رکنیت جماعت کی منظوری کے بعد مجھے شعبہ دعوت و تربیت کی ذمہ داری سونپی گئی جس کے دوران پورے ضلع میں دور دراز دیہات اور قصبوں تک جانے اور پروگراموں کو منظم کرنے کے مواقع ملے۔ یہ بہت مفید تجربات تھے۔ دوستوں کا ایک وسیع حلقہ قائم ہوا۔ اس وقت منڈی بہاء الدین ضلع گجرات کی ایک تحصیل ہوا کرتی تھی۔ یوں بہت وسیع و عریض علاقے میں بسوں‘ تانگوں پر اور کبھی بائیسکل پر یا پیدل سفر کرنا پڑتا۔ بہرحال اس دورِ جوانی میں کسی طرح کی کوئی مشکلات محسوس نہیں ہوتی تھیں۔ گجرات شہر کے رکن جماعت‘ صوفی محمد اسلم پنجابی کے زبردست شاعر تھے۔ وہ بھی اکثر دوروں میں ہمسفر ہوا کرتے تھے۔ ان کی پنجابی نظمیں بزرگ رکن جماعت اسلامی عبداللہ شاکر مرحوم کی طرح بہت پُرتاثیر ہوتی تھیں۔ ان کے حالات ہماری کتاب &#39;&#39;چاند اور تارے‘‘ میں محفوظ ہیں۔ ان کے پنجابی کلام میں سے کچھ حصہ ان کی وفات کے بعد &#39;&#39;کوڑے سچ‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔اس تحریکی ذمہ داری کے ساتھ ضلعی ہیڈکوارٹر (گجرات) سے نکلنے والے ہفت روزہ رسالے &#39;&#39;الحدید‘‘ کی ادارت بھی میرے ذمے لگ گئی۔ اس دور میں اس رسالے میں اداریہ‘ مضامین‘ رپورٹیں اور خبریں دلچسپ انداز میں چھپتی تھیں اور یہ رسالہ جماعتی حلقوں کے علاوہ تعلیمی اداروں اور ادبی حلقوں میں بھی بڑے شوق سے پڑھا جاتا تھا۔ ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ اُس زمانے میں پیپلز پارٹی کی بھٹو حکومت اپنے مخالف اخبارات ورسائل کو انتقام کا نشانہ بنا رہی تھی اور ان کے ڈیکلریشن منسوخ ہو جاتے اور بعض اوقات صحافی جیلوں میں ڈال دیے جاتے تھے۔ مشہور صحافی صلاح الدین شہید (ایڈیٹر ہفت روزہ تکبیر)‘ الطاف حسن قریشی مرحوم (ایڈیٹر ماہنامہ اردو ڈائجسٹ)‘ مجیب الرحمن شامی صاحب (ایڈیٹر ہفت روزہ زندگی) اور دیگر حکومت مخالف نظریات کے حامی صحافی خاصی مشکلات سے دوچار تھے۔ دیگر رسالوں کے ساتھ شامی صاحب کا ہفت روزہ زندگی بھی حکومت کے انتقام کی زد میں آ گیا تھا‘ لہٰذا ہم نے الحدید اپنے ڈیکلریشن کے ساتھ ان کو دے دیا۔ اس کے کچھ ہی عرصے بعد مجھے بیرونِ ملک جانا پڑا لہٰذا یاد  نہیں کہ اس کے کتنے ایڈیشن لاہور سے نکلے۔میں نے 1970ء میں ایم اے اسلامیات میں داخلہ لیا تھا مگر پھر جیل سے امتحان دینے کے بجائے یہی سوچا کہ رہائی کے بعد پرائیویٹ طالبعلم کے طور پر امتحان دے دوں گا؛ چنانچہ 1971ء میں ایم اے اسلامیات کا امتحان دیا۔ اس عرصے میں گجرات اور لاہور کے درمیان مسلسل آمدورفت رہتی۔ ایک روز اچھرہ میں سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے نمازِ مغرب کے بعد فرمایاکہ سنتیں پڑھ کر تھوڑی دیر کے لیے میرے دفتر میں آ جائو! میں ان کے دفتر میں گیا تو حسبِ معمول بڑی محبت سے پوچھا کہ کیا آج کل بہت زیادہ مصروفیت تو نہیں ہے؟ میں نے عرض کیا کہ کچھ مصروفیت تو چل رہی مگر آپ فرمائیں کہ کیا حکم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تفہیم القرآن (جلد پنجم) شائع ہو چکی ہے مگر ابھی اس کی جلد بندی نہیں ہوئی کیونکہ اشاریہ (انڈیکس) ابھی تیار کرنا ہے۔ میری مصروفیات بھی بہت ہیں اور صحت وہمت بھی جواب دے گئی ہے۔ میں نے ابھی کچھ نہیں کہا تھا کہ تھوڑے سے توقف کے بعد کہنے لگے: میں نے ایک دو حضرات کو اشاریے کا کام کرنے کی ذمہ داری سونپی تھی مگر وہ میرے اطمینان کے مطابق کام نہ کر سکے۔ اب آپ کو یہ کام سونپنا چاہتا ہوں۔ مولانا صاحب کی یہ گفتگو سن کر میری عجیب کیفیت ہو گئی۔ ایک طرف مولانا کا اعتماد میرے لیے باعثِ فخر تھا اور دوسری طرف یہ خیال ذہن میں موجزن تھا کہ دیگر لوگ (نہ اُس وقت مولانا نے بتایا کہ وہ کون تھے اور نہ آج تک معلوم ہوا ہے) یہ کام نہ کر سکے تو میں کس کھیت کی مولی ہوں۔ بہرحال ہمت کر کے عرض کیا کہ مجھے آزمائشی طور پر کام کرنے دیں‘ اگر اچھا اور معیاری ہوا تو مکمل کر لوں گا اور اگر اس میں خامیاں ہوئیں تو دو صورتیں ہو سکیں گی کہ یا تو کسی زیادہ تجربہ کار ساتھی کو یہ ذمہ داری سونپی جائے اور یا آپ مجھے کچھ طریقہ سلیقہ سمجھائیں کہ میں کام میں بہتری لا سکوں۔مولانا صاحب نے کہا کہ تمہارا خیال بالکل ٹھیک ہے۔ اس جلد کی پہلی دو سورتیں (سورۂ محمد اور سورۃ الفتح) کے مطبوعہ صفحات کی یہ کاپیاں لے لو اور ان پر طبع آزمائی کرو۔ پھر انہوں نے پوچھا کہ کیا تم نے پہلی جلدوں کا انڈیکس دیکھا ہے؟ میں نے عرض کیا: بہت گہرائی سے تو نہیں مگر وقتاً فوقتاً حسبِ ضرورت کئی بار دیکھتا اور استفادہ کرتا رہا ہوں۔ انہوں نے سارے عنوانات‘ جو اشاریے میں شامل کرنے تھے‘ ان کا مختصر تعارف کرایا اور پھر کام شروع کرنے کا حکم دیا۔ میں نے اللہ کا نام لے کر ساتھ والے دفتر میں‘ جو مولانا کے دفتر سے جانبِ مغرب واقع تھا اور جہاں کبھی میاں طفیل محمد صاحب بیٹھا کرتے تھے‘ کام شروع کیا اور دوسرے دن دونوں سورتوں کا انڈیکس مکمل کر کے شام کے وقت مولانا کی خدمت میں اپنی کارکردگی لے کر حاضر ہو گیا۔ مولانا صاحب نے توجہ سے ان دونوں سورتوں کے صفحات کو دیکھا اور چند صفحات پر میری تحریر بصورت اشاریہ غور سے ملاحظہ فرمائی۔ ایک آدھ جگہ اصلاح فرمائی اور پھر ارشاد ہوا کہ کام اطمینان بخش ہے‘ اب ساری جلد کا کام جتنی جلدی ممکن ہو سکے مکمل کر دو تاکہ جلد بندی کے بعد جلد پنجم قارئین تک پہنچ سکے۔ اللہ تعالیٰ کی مدد اور مولانا کی رہنمائی اور دعائوں سے ہفتے عشرے کے اندر اندر میں نے یہ سارا کام مکمل کر لیا اور ایک دو بار اس پر نظرثانی کے بعد مولانا کی خدمت میں پیش کیا تو وہ بہت خوش ہوئے اور تحسین کے انمول کلمات سے نوازا۔ میرے لیے یہ معمولی کام بھی ایک بڑا اعزاز ہے۔1971ء تا 1973ء تک‘ تین سالوں میں بہت سے تجربات سے گزرنا پڑا۔ میں حیران ہوتا ہوںکہ اتنے مختصر وقت میں اتنے سارے کام کیسے ممکن ہو گئے۔ ضلع گجرات کے دیہات و قصبات کے دورے‘ الحدید کی ادارت اور تھوڑا بہت تصنیفی کام۔ سیرت النبیﷺ اور سیرتِ صحابہ کرامؓ کا مطالعہ اور اپنی تقاریر میں اس کے حوالے میرا بچپن ہی سے ذوق تھا۔ دورِ طالبعلمی میں ان موضوعات پر بہت مرتبہ تقاریر کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ اکثر دوست اور بزرگان مطالبہ کرتے تھے کہ صحابہ کرامؓ کے حالات پر مضامین لکھوں۔ چنانچہ صحابہ کرامؓ کے حالات پر مضمون لکھنے کا سلسلہ 1971ء میں شروع ہوا۔ پہلا مضمون جو ہفت روزہ آئین میں چھپا‘ حضرت مصعب بن عمیرؓ کے حالات پر تھا۔ اس مضمون کے چھپنے کے بعد بعض بزرگان اور کئی ایک دوستوں نے تحسین کے ساتھ یہ اصرار کیا کہ اس سلسلے کو جاری رکھا جائے۔ ملک بھر سے متعدد احباب اور بزرگان کے بار بار توجہ دلانے پر میں نے اس سلسلے کو آگے بڑھایا۔ جب بیس صحابہ کرامؓ کے حالات قلمبند ہو گئے تو انہیں کتابی صورت میں شائع کرنے کا فیصلہ ہوا۔ یہی میری پہلی تصنیف تھی۔ اس کتاب کا نام &#39;&#39;روشنی کے مینار‘‘ رکھا گیا۔ اسے گجرات کے ایک ناشر نے 1972ء میں شائع کیا۔ اس کے بعد اس کتاب کے کئی ایڈیشن لاہور سے شائع ہوئے۔ اب تک اس کے جو ایڈیشن شائع ہوئے ہیں تقریباً پچیس ہیں۔ اسی زمانے میں قرآنی دعائوں پر مشتمل کتاب &#39;&#39;رحمان کے سائے میں‘‘ بھی مرتب کی۔ اس کے بھی بہت سے ایڈیشن چھپ چکے ہیں۔ اس دور میں قلم وقرطاس کا جو رشتہ قائم ہوا‘ بیرون ملک سفر کے بعد بھی جاری رہا۔ نوٹ: حافظ محمد ادریس صاحب کا یہ کالم روزنامہ دنیا کو چند روز قبل موصول ہوا تھا۔ گزشتہ روز حافظ محمد ادریس لاہور میں قضائے الٰہی سے وفات پا گئے۔وہ گزشتہ دس سال سے روزنامہ دنیا میں کالم لکھ رہے تھے۔ ادارہ دعاگو ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور درجات بلند کرے اور ان کے لواحقین و پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا کرے‘ آمین! </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_24721193.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>