<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>دہشت گردی کے خلاف عزم صمیم!(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-24/11659</link><pubDate>Sat, 24 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-24/11659</guid><description>چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بھارتی سرپرستی میں سرگرم انتہا پسند عناصر کے خلاف کارروائیاں پوری شدت کے ساتھ جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ دہشت گرد جہاں بھی موجود ہوں‘ انہیں بھرپور ضرب لگائی جائے گی۔ فیلڈ مارشل نے ان خیالات کا اظہار جمعہ کے روز پشاور میں کور ہیڈ کوارٹرز کے دورہ کے موقع پر کیا۔ خیبر پختونخوا ایک عرصے سے سرحد پار دہشت گردی کا شکار ہے‘ تاہم چند برس پہلے افواج پاکستان کی مؤثر کارروائیوں کے نتیجے میں قبائلی پٹی میں دہشت گردوں کی عملداری کا خاتمہ کر کے امن بحال کر دیا گیا تھا۔ افواجِ پاکستان کی یہ ایک مثالی کامیابی تھی کہ مختصر وقت میں عالمی دہشت گردی کے وسیع نیٹ ورکس کو ختم کرتے ہوئے قبائلی علاقوں میں ریاستی عملداری کو بحال کیا گیا۔ یہ جامع اور فیصلہ کن پیش رفت تھی جس کے اثرات کو پورے ملک میں محسوس کیا گیا‘ امن اور تحفظ کے احساس میں بہتری آئی اور پاکستان کی ایک پُرامن ملک کے طور پر شناخت بحال ہوئی۔

اس کے بعد ضروری تھا کہ سماجی سطح پر اقدامات کیے جاتے۔ روزگار کے بہتر مواقع‘ معاشی سرگرمیوں‘ لوگوں کو بااختیار بنانے کے اقدامات اور تعلیم وصحت کے شعبوں میں بہتری سے قبائلی سماج میں وہ مطلوب تبدیلیاں ممکن تھیں جو انتہا پسندی کے خاتمے میں مدد کرتیں۔ یہی مقصد قبائلی علاقوں کو صوبے میں ضم کرنے کا موجب بنا اور قبائلی اضلاع کیلئے کئی خصوصی اقدامات اور مالی وعدے بھی کیے گئے۔ قبائلی علاقوں کو قومی دھارے کیساتھ ملانے کی یہ بنیادیں درست اور مستحکم تھیں مگر وقت کیساتھ ان پر جو تعمیرات ہونا تھیں وہ کہیں نہیں ہو سکیں۔ نو تشکیل شدہ قبائلی اضلاع میں ترقیاتی کاموں میں سست روی‘ تعلیم‘ روزگار اور صحت کے منصوبوں میں کوتاہیاں اور ان علاقوں کو معاشی طور پر مستحکم کرنے کے خصوصی اقدامات خیال و خواب سے آگے نہ بڑھ سکے۔ دوسری جانب اگست 2021ء میں افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت کا قیام اس علاقے میں انتہا پسندوں کی سوکھتی جڑوں کو تازہ کرنے کا سبب بنا۔
افغان طالبان نے آتے ہی نہ صرف افغان سرزمین پر چھپے ہوئے انتہا پسند گروہوں کیلئے سہولت کاری شروع کر دی بلکہ جن شدت پسندوں کو سابق افغان حکومتوں نے قید کیا ہوا تھا انہیں بھی رہا کر دیا۔ دہشت گردی کی سرگرمیوں کی بحالی کیلئے یہ اقدامات بہت بڑی سہولت ثابت ہوئے اور اس پر مستزاد افغانستان میں غیر ملکی افواج کا چھوڑا ہوا جدید اسلحہ اوردفاعی سازو سامان۔ اگست 2021ء کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کی نئی لہر انہی حالات سے ابھری اور آنے والے برسوں میں خونریزی کے واقعات بڑھتے چلے گئے۔ اس دوران پاکستان کی جانب سے افغان عبوری حکومت کیساتھ بارہا ان مسائل کو اجاگر کیا گیا مگر طالبان کا رویہ ایک ذمہ دار حکومت کے بجائے دہشت گردانہ معاون کے طور پر سامنے آتا رہا۔ طالبان بھارت گٹھ جوڑ اور دہشت گردی کی تکون نے یہ ثابت کر دیا کہ افغان طالبان خطے میں پائیدار امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ ملکِ عزیز میں دہشت گردی کے ہر واقعے کے محرکات سرحد پار ملنا اور دہشت گردی کے بیشتر واقعات میں افغان شہریوں کا ملوث پایا جانا معمولی بات نہیں۔
اس صورتحال میں قومی سلامتی کے دفاع کیلئے بھر پور اقدامات کی ضرورت ہے‘ ایسے اقدامات جن میں سیاسی اور حکومتی حمایت ریاست کے دفاعی مقاصد اور عزائم کیساتھ ہو۔ خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور دہشت گردی سے زیادہ متاثرہ بارہ اضلاع میں ایمر جنسی کا نفاذ اس کیلئے کفایت کرے گا۔ امید کی جاتی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں جو مقاصد ماضی میں حاصل نہیں ہو سکے‘ حکمت عملی اور اقدامات میں ان تبدیلیوں کی بدولت فیصلہ کن تبدیلی سے گزریں گے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بروقت ، خوش آئند(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-24/11658</link><pubDate>Sat, 24 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-24/11658</guid><description>وزیراعظم شہباز شریف نے 2027ء کے لیے گندم کی مجوزہ قیمت 4500 روپے فی من مقرر کرنے کا فیصلہ ہے۔ نئی مجوزہ قیمت گزشتہ سال کے مقابلے میں ایک ہزار روپے زیادہ ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ملک میں گندم کی بوائی کا سیزن شروع ہے لیکن کاشتکار بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت‘ کھاد‘ بیج‘ زرعی ادویات اور ڈیزل و بجلی کے مسلسل بڑھتے نرخوں کے باعث شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ حکومت کی جانب سے مجوزہ قیمتوں کے اعلان کے بعد گندم کے کاشتکار کی حوصلہ افزائی ہو گی اور وہ زیادہ سے زیادہ رقبے پر گندم کاشت کرنے کی طرف راغب ہو گا۔حالیہ دنوں ملک میں گندم کی مارکیٹ قیمتوں میں اضافہ اور آٹے کے حوالے سے تحفظات کی بنیاد حالیہ برسوں گندم کی خریداری میں سست روی اور غیر سنجیدگی ہے۔

دو سال قبل پنجاب حکومت نے 3900 روپے فی من گندم کی امدادی قیمت کا اعلان کیا تھا مگر جب فصل مارکیٹ میں آئی تو حکومت ذخائر میں پرانی گندم موجود ہونے کے بہانے خریداری سے پیچھے ہٹ گئی اور کسانوں کو مارکیٹ کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔ اگر حکومت گندم کی کٹائی کے بعد خریداری سے گریز کرے تو کسان اپنی فصل آڑھتیوں کو اونے پونے فروخت کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ لہٰذا گندم کی مجوزہ قیمت کا بروقت اعلان اور اس میں مناسب اضافہ خوش آئند اقدام ہے لیکن اس کے مؤثر ہونے کا فیصلہ عملی نتائج سے ہوگا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>عدم برداشت کا رجحان(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-24/11657</link><pubDate>Sat, 24 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-24/11657</guid><description>لاہور میں مبینہ طور پر راستہ نہ ملنے پر ایک شخص کا سکوٹی سوار لڑکی پر تشدد افسوسناک اور اور سماجی سطح پر عدم برداشت اور اخلاقی زوال کی مثال ہے۔ ابھی ملتان میں پندرہ سالہ بچے کے قتل کی لرزہ خیز واردات کو زیادہ دن نہیں ہوئے کہ اس تازہ واقعے نے معاشرے میں تشدد اور لاقانونیت کے بڑھتے رجحان کو اجاگر کر دیا ہے۔ملک بھر سے آئے روز معمولی تنازعات پر ہراسانی، تشدد اور قتل کی وارداتیں رپورٹ ہو رہی ہیں۔ معمولی باتوں پر اس طرح کا سنگین ردِعمل سماجی سطح پر بڑھتی ہوئی گھٹن‘ معاشی پریشانیوں‘ ذہنی الجھنوںاور عدم برداشت کو ظاہر کرتا ہے۔

یہ کیفیت بظاہر جن سماجی عوارض کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے وہ کسی بھی گروہِ انسانی کی اجتماعی نفسیات کو متاثر کیے بغیر نہیں رہتی؛چنانچہ ٹامک ٹوئیاں مارنے کے بجائے ان عوارض کی اصلاح پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ معاشرے کو محفوظ اور پُرامن بنانے کیلئے قانون کی بالادستی‘ مؤثر احتساب اور اخلاقی اصلاح کی اہمیت میں دو رائے نہیں۔ایسے واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ ہمارے اجتماعی وجود میں کون کون سے پہلو نازک ہیں‘ جن کی بہتری کیلئے کام ہونا چاہیے۔ بصورتِ دیگر عدم برداشت اور لاقانونیت کا بڑھتا سلسلہ ہمارے اجتماعی امن‘ شہری آزادیوں اور معاشرتی اقدار کو تہس نہس کر کے رکھ دے گا اور بطور سماج ہماری بقا کیلئے سنگین نوعیت کے خطرات پیدا ہو اجائیں گے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>تحریک انصاف: دوست اور دشمن کے درمیان(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-10-24/52898/67452378</link><pubDate>Sat, 24 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-10-24/52898/67452378</guid><description>ایک سیاسی جماعت ہے‘ جو عوام میں مقبول ہے۔ اس کا لیڈر ایک کرشماتی شخصیت کا مالک ہے جس سے لوگ جذباتی لگاؤ رکھتے ہیں۔ وہ اس میں کوئی خرابی نہیں دیکھتے۔ ان کا حسنِ ظن ہے کہ وہ ان کا نجات دہندہ ہے۔ روایتی سیاست اور سیاستدانوں کو‘ وہ خیر سے یکسر محروم سمجھتے ہیں۔ یہ جماعت اور لیڈر جب اقتدار کی سیڑھیاں چڑھ رہے تھے تو انہیں ریاستی اداروں کی تائید بھی میسر تھی۔ اس وقت ان اداروں کے بارے میں‘ ان کی رائے اچھی تھی۔ ایک وقت آیا کہ وہ اقتدار کے ایوانوں تک پہنچ گئے۔ پھر حالات نے پلٹا کھایا۔ ان پر پارلیمنٹ نے عدم اعتماد کیا اور انہیں اقتدار چھوڑنا پڑا۔ ان کامؤقف ہے کہ یہ امریکی دباؤ پر ہوا‘ ان کے لیڈر نے جس کی غلامی قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اقتدار سے محرومی دراصل غلامی قبول نہ کرنے کی سزا ہے۔ سیاسی جماعتوں اور کچھ اور افراد نے سہولت کار کا کردار ادا کیا۔اپنے کھوئے ہوئے اقتدار کے دوبارہ حصول کے لیے پارٹی نے احتجاج کا راستہ اپنایا‘ جسے وہ اپنا جمہوری اور آئینی حق سمجھتی ہے۔ یہ احتجاج ایک مرحلے پر پُرتشدد ہو گیا۔ ریاستی ادارے بھی اس کی زد میں آ گئے۔ ان اداروں کو سیاسی جماعتوں کے ساتھ اپنا مجرم قرار دے دیا گیا۔ اس دوران میں ان کے لیڈر کے ساتھ مرکزی قیادت بھی گرفتار ہو گئی۔ اداروں پر حملے کو ریاست نے سنجیدگی کے ساتھ لیا اور پارٹی کیلئے کام کرنا مشکل بنا دیا گیا۔ لیڈروں پر مقدمات قائم ہوئے۔ انہیں سزائیں بھی سنا دی گئیں۔ پارٹی کا مؤقف ہے کہ انہوں نے ریاستی اداروں کو نشانہ نہیں بنایا۔ ان کے خلاف جھوٹا مقدمہ قائم ہوا۔ اس کشمکش نے تلخی کو بڑھا دیا۔ پارٹی نے سیاستدانوں کے ساتھ ریاستی اداروں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ سوشل میڈیا کی مدد سے ادارے اور اس کے سربراہ کے خلاف توہین آمیز مہم چلائی گئی۔ اس کا ناگزیر نتیجہ ریاست کے ساتھ تصادم تھا۔ان حالات میں پارٹی کو نہ صرف اپنی بقا کا سامان کرنا تھا بلکہ اپنے لیڈر کو رہا بھی کرانا تھا۔ اس کے سامنے یہی دو بڑے مقاصد ہیں۔ اس کی خواہش ہے کہ پارٹی کو تمام سیاسی آزادیاں حاصل ہوں۔ اس کا لیڈر قومی سیاست میں اپنا کردار ادا کرے اور اس کے خلاف تمام مقدمات ختم ہوں‘ جو اس کے نزدیک سیاسی بنیادوں پر قائم کیے گئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ پارٹی یہ مقاصد کیسے حاصل کر سکتی ہے؟ یہ کیسے ممکن ہو کہ اس کا لیڈر رہا ہو کر سیاست میں فعال ہو اور وہ ایک سیاسی جماعت کی طرح اپنی سرگرمیاں جاری رکھ سکے۔یہ سوالات سامنے آئے تو زبانِ حال اور زبانِ قال سے اس کے دو جواب دیے گئے۔ ایک یہ کہ پارٹی اور اس کا لیڈر حق پر ہیں۔ جب آپ حق پر ہیں تو آپ مصالحت کا راستہ کیوں اختیار کریں؟ یہ راستہ وہ لوگ اپناتے ہیں جو بزدل ہوں۔ جن کا مؤقف حق پر مبنی نہ ہو۔ ان کے ساتھ ظلم روا رکھا گیا ہے۔ وہ ظالم سے مصالحت کیسے کر سکتے ہیں؟ ان کے لیڈر کے سامنے تو اسوۂ شبیری ہے۔ وہ کبھی مصالحت کا راستہ اختیار نہیں کرے گا۔ وہ اسے احتجاج کی طاقت سے رہا کرائیں گے اور ریاست کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کریں گے۔ ان کے پاس ایک صوبائی حکومت موجود ہے۔ یہ اس کے لیے نہیں ہے کہ اس کی مدد سے عوامی مسائل کیے جائیں۔ یہ حکومت عمران خان کی عطا ہے۔ اس کا صحیح مصرف یہ ہے کہ اس کی قوت‘ ان کی رہائی کے لیے استعمال ہو۔ اگر مذاکرات بھی ہوں گے تو صرف مقتدر قوتوں سے۔ سیاسی حکومت تو نمائشی ہے جس کی کوئی حیثیت نہیں۔ پارٹی کے بعض لوگوں کے اصرار پر سیاسی حکومت سے مذاکرات ہوئے لیکن اسے بالعموم قبول نہیں کیا گیا۔ ایسے لوگوں کی لیڈر سے وفا داری کو مشکوک سمجھا گیا۔دوسرا جواب یہ تھا کہ سیاست چونکہ امکانات کا کھیل ہے‘ اس لیے حکمت یہ ہے کہ اپنے لیے راستہ تلاش کیا جائے۔ مؤقف کی صداقت سے قطع نظر اگر آپ کے سامنے ریاست کھڑی ہے تو پھر اس کے ساتھ تصادم میں آپ کے لیے سراسر خسارہ ہے۔ درست طرزِ عمل یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں سے ربط و ضبط بڑھایا جائے اور ریاستی اداروں کو آئینی اور سیاسی جماعتوں کی معاونت سے اس کردار تک محدود کر دیا جائے جو آئین نے ان کے لیے طے کردیا ہے۔ سیاست میں فیصلہ ہمیشہ موجود امکانات کی روشنی میں کیا جاتا ہے۔ یہ اقتدار کا کھیل ہے جس میں آپ کے مدمقابل‘ اپنی قوم کے لوگ ہیں‘ چاہے وہ سیاست کی نمائندگی کرتے ہوں یا ریاست کی۔ تصادم میں سب کا نقصان ہے۔ شیخ مجیب الرحمن نے یہ راستہ اپنایا تو وہ خسارے میں رہے اور ریاست بھی۔ بے نظیر بھٹو صاحبہ اور نواز شریف صاحب کو بھی ایسی ہی صورتحال کا سامنا رہا۔ مجلسِ عمل کو بھی ایسے حالات سے گزرنا پڑا۔ سب نے تصادم کے بجائے ریاستی اداروں کو راستہ دیا۔ کسی نے آٹھویں آئینی ترمیم کا ساتھ دیا اور کسی نے سترہویں کا۔ اس سے ملک میں جمہوریت کے لیے امکانات پیدا ہوئے۔ آپ کو بھی یہی راستہ اپنانا چاہیے۔ تصادم سے گریز اور سیاسی عناصر کے ساتھ مل کر جمہوریت کی طرف سفر۔ یہی درست حکمتِ عملی ہو گی۔ جمہوری ریاست اور معاشرہ ارتقا سے بنیں گے۔ اس کے لیے صبر اور حکمت کی ضرورت ہے۔پارٹی نے دوسرے راستے کا انتخاب نہیں کیا۔ اس نے احتجاج پر اصرار کیا۔ اس کا خیال تھا کہ اگر اسلام آباد کا گھیراؤ کر لیا جائے تو ریاست کو مجبور کیا جا سکتا ہے کہ وہ گھٹنے ٹیک دے۔ یہ حکمت عملی بار ہا ناکام ہوئی۔ پھر وہ وقت آیا کہ یہ احتجاجی سیاست صوبائی حکومت کو بہا لے گئی۔ اس حکومت کے خاتمے پر بھی احتجاج کی کوئی لہر نہ اُٹھ سکی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پورے صوبے میں کہیں سو سے زیادہ افراد جمع نہ ہو سکے۔صرف باڑہ میں پانچ سو افراد کا اجتماع ہوا۔ تھوڑی دیر کیلئے مان لیں کہ یہ سب غلط ہوا۔ مگر یہ ریاست کی قوت اور اپنی قوت کے بارے میں ایک غلط تخمینے کا نتیجہ تھا۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جماعت کو عوامی تائیدحاصل نہیں۔ یقینا حاصل ہے مگر یہ عوامی تائید مؤثر احتجاجی تحریک نہیں اٹھا سکتی۔ اس حکمتِ عملی کا نتیجہ یہ نکلا کہ صوبائی حکومت ختم ہو گئی۔ لیڈرکی رہائی کا امکان پہلے سے بھی کم ہو گیا۔ ریاست اور حکومت پر دباؤ ڈالنے کی قوت پہلے کی طرح باقی نہیں رہی۔احتجاجی سیاست کا یہ نتیجہ نکل چکا۔ اب یہ جائزہ لینا آسان ہے کہ پارٹی کے لیے درست مشورہ کون سا تھا؟ پہلا راستہ تجویز کرنے والے پارٹی کے ہمدرد اور دوست تھے یا دوسرا راستہ دکھانے والے؟ پارٹی لیڈرکی عمر ڈھلتی جا رہی ہے۔ اگر وہ آپ کے نزدیک قوم کے نجات دہندہ ہیں تو وہ یہ کردار جیل میں رہ کر ادا کر سکتے ہیں یا پھر باہر نکل کر؟ یہ اقتدار کی سیاست ہے‘ اس میں راستے بنائے جاتے ہیں۔ موجود راستوں پر اپنے لیے کانٹے نہیں بوئے جاتے۔ یہاں یہ سوال بھی غیر اہم ہے کہ آج کے دانشور کا مؤقف کیا ہونا چاہیے؟ اس پر میں ان شاء اللہ الگ سے لکھوں گا۔ اس وقت تو ایک سیاسی جماعت کی حکمت عملی کا تجزیہ مطلوب ہے۔ جو حکمت عملی اپنائی گئی‘ اس کا نتیجہ سامنے آ چکا۔ پارٹی کے ہمدرد اب زیادہ آسانی سے رائے قائم کر سکتے ہیں کہ ان کا دوست کون ہے اور دشمن کون؟ پہلا راستہ سجھانے والے یا دوسرا راستہ دکھانے والے؟</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>