<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>مشرق وسطیٰ، تنازعات اور تجارت(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-21/11559</link><pubDate>Mon, 21 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-21/11559</guid><description>دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہونے والی آبنائے باب المندب ان دنوں کشیدگی کی زد میں ہے۔ اس تزویراتی آبی گزرگاہ میں تجارتی جہازوں پر حوثی ملیشیا کے حملوں نے نہ صرف عالمی تجارت اور جہاز رانی کے تحفظ سے متعلق شدید خدشات پیدا کر دیے ہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ کی پہلے سے پیچیدہ سکیورٹی صورتحال کو بھی مزید تشویشناک بنا دیا ہے۔ باب المندب عالمی تجارت کیلئے ایک اہم بحری راستہ ہے جہاں سے دنیا کی تقریباً 12 فیصد بحری تجارت گزرتی ہے۔ بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور بحرِ ہند سے جوڑنے والی اس گزرگاہ کی دنیا کے مختلف حصوں کے درمیان اشیا کی ترسیل‘ توانائی کی سپلائی اور تجارتی سرگرمیوں کیلئے اہمیت مسلمہ ہے؛ چنانچہ یہاں پیدا ہونے والی کشیدگی کے اثرات کسی ایک ملک یا خطے تک محدود نہیں یہ عالمی تجارت‘ شپنگ انشورنس‘ مال برداری کے اخراجات اور سپلائی چینز پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ سمندروں میں آزادانہ اور محفوظ جہاز رانی بین الاقوامی تجارت کا بنیادی تقاضا ہے۔

کسی اہم بحری راستے پر جہازوں کو خطرات لاحق رہیں تو شپنگ کمپنیوں کو متبادل اور طویل راستے اختیار کرنا پڑ تے ہیں جس سے وقت اور اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے اور اس کا اثر عالمی منڈیوں اور بالآخر صارفین تک پہنچ جاتا ہے۔ باب المندب میںجہاز رانی کیلئے بڑھتے ہوئے خدشات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکہ ایران جنگ کی وجہ سے آبنائے ہرمز‘ جس سے تیل کی تجارت کا تقریباً 20 سے 25 فیصد حصہ گزرتا ہے‘ پہلے ہی سخت رکاوٹوں کا سامنا کر رہی ہے۔ اس دوران اگر باب المندب کا راستہ بھی رکاوٹوں کا شکار ہوتا ہے  تو یہ غیر معمولی بحران کا سبب بنے گا اور ایسی صورتحال پاکستان کیلئے خوفناک ہو گی کیونکہ تیل کی قیمتیں پہلے ہی صارفین کی استطاعت سے باہر ہو چکی ہیں اور رومرہ زندگی کی اشیا پر اس کے اثرات بڑھتے جا رہے ہیں؛ چنانچہ ان تزویراتی اہمیت کے بحری راستوں کا کھلا رہنا پاکستان سمیت دنیا بھر کی معیشت کیلئے ناگزیر ہے۔
حوثیوں کی جانب سے صرف باب المندب کی بحری گزرگاہ کو درپیش خطرات ہی باعثِ تشویش نہیں بلکہ سعودی عرب کے خلاف اس گروہ کی اشتعال انگیزی بھی قابلِ مذمت ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی کئی طرح کے بحرانوں سے گھرا ہوا تھا کہ یمن کے حوثی اس آگ پر تیل ڈالنے کا کام کر رہے ہیں۔ سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کی اشتعال انگیزی اور باب المندب کی بحری ٹریفک کیلئے خطرات کی روک تھام کیلئے بلا تاخیر اقدامات کی ضرورت ہے۔ مشرق وسطیٰ کی صورتحال مسلم ممالک میں مزید تنازعات کی متحمل نہیں ہو سکتی اور نہ ہی یہ حالات مسلم اقوام کا کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔ علاقائی تنازعات کی حقیقت اپنی جگہ مگر یہ اس راکھ کو کریدنے کا وقت نہیں۔ مسلم ریاستوں اور غیر ریاستی گروہوں کو یہ مان کر چلنے کی ضرورت ہے کہ حقیقت میں ایک تیسرا فریق ان کی تاک میں ہے۔ گروہی‘ سیاسی‘ نظری اختلافات اپنی جگہ مگر تاریخ کے اس مرحلے پر باہمی تصادم کا مطلب تیسرے مشترکہ دشمن کا کام آسان کرنا ہے۔ مسلم دنیا میں اس احساس اور فکر کا ابھرنا فی الوقت سب سے زیادہ ضروری ہے۔
یہی حکمت کا تقاضا ہے اور تدبر کی علامت۔ مشرق وسطیٰ کی مسلم ریاستوں کو ان تنازعات سے گریز کرنا اور ایک دوسرے کیلئے خلوص‘ اعتماد اور برداشت کا ماحول پیدا کرنا ہو گا۔ باہمی کدورتوں اور کینہ توزیوں کا کوئی نتیجہ نہیں۔ پاکستان‘ ترکیہ‘ قطر اور دیگر جو بھی اس کارِ خیر میں حصہ لے سکیں‘ انہیں مشرق وسطیٰ کے تنازعات کے حل کیلئے آگے بڑھنا ہو گا۔ ایران امریکہ تنازع کا بھی جلد حل نکلنا چاہیے اور دیگر تنازعات کا بھی۔ جہاں تک باب المندب کی سلامتی کی بات ہے تو یہ عالمی تجارت کی سلامتی سے جڑی ہوئی ہے۔ اس آبی گزرگاہ کو تنازعات کا میدان بنانے کے بجائے اسے محفوظ‘ کھلا اور غیر جانبدار تجارتی راستہ برقرار رکھنا ہی خطے اور دنیا کے وسیع تر مفاد میں ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پٹرول ریلیف اور متبادل کی تلاش(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-21/11558</link><pubDate>Mon, 21 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-21/11558</guid><description>مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور تیل کی عالمی رسد متاثر ہونے سے اس وقت پوری دنیا بدترین توانائی بحران کی زد میں ہے‘ جس کے اثرات ترقی پذیر ممالک پر زیادہ شدت سے اثر انداز ہو رہے ہیں۔ اس عالمی بحران کے تناظر میں وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے شروع کی گئی پٹرول ریلیف سکیم بلاشبہ ایک مثبت‘ بروقت اور قابلِ ستائش کاوش ہے۔ اب تک ملک بھر میں 22 لاکھ سے زائد افراد اس ڈیجیٹل سسٹم میں رجسٹر ہو چکے ہیں اور لاکھوں غریب شہریوں‘ موٹر سائیکل اور رکشہ مالکان کو براہِ راست ریلیف فراہم کیا جا چکا ہے۔ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے تناظر میں یہ سکیم عام آدمی کے روزگار کو بچانے اور ان کے چولہے کو جلتا رکھنے کی ایک مخلصانہ کوشش دکھائی دیتی ہے‘ لیکن اس امدادی سکیم کی کامیابی کے ساتھ ہی اس کے مستقبل کے حوالے سے کئی سنجیدہ سوالات بھی درپیش ہیں۔ سب سے بڑا سوال تو یہ ہے کہ مالی مشکلات سے دوچار حکومت کب تک اس بھاری ریلیف کا بوجھ برداشت کر پائے گی؟

ماضی کا تجربہ بتاتا ہے کہ اس نوعیت کی سبسڈیز قومی خزانے پر ایسا اضافی بوجھ ڈالتی ہیں جو تادیر برقرار رکھنا ممکن نہیں ہو پاتا۔ وفاقی وزیر پٹرولیم کا یہ تشویشناک انتباہ کہ پٹرول کی قیمت ایک ہزار روپے فی لیٹر تک بھی جا سکتی ہے‘ صورتحال کی سنگینی کو پوری طرح واضح کرتا ہے۔ اگر عالمی بحران یا قلت کے باعث قیمتیں واقعتاً اس نہج پر پہنچ گئیں تو حکومت کا یہ ریلیف اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہو جائے گا۔ موجودہ بحران کا ایک پائیدار حل یہ ہے کہ حکومت ملک میں الیکٹرک وہیکلز کو ہنگامی بنیادوں پر فروغ دے۔ اس مقصد کیلئے ای وی گاڑیوں‘ موٹر سائیکلوں اور ان کے پرزہ جات پر سے تمام اقسام کی امپورٹ ڈیوٹیز اور ٹیکسز کا فوری خاتمہ کیا جانا چاہیے۔ حکومت کو چاہیے کہ نہ صرف ان گاڑیوں کی آسان درآمد کو یقینی بنائے بلکہ ان کی مقامی پیداوار کیلئے بھی خصوصی مراعات فراہم کرے۔ اس وقت ملک میں کُل رجسٹرڈ گاڑیوں کا تین چوتھائی سے زائد موٹر سائیکلوں پر مشتمل ہے‘ جن کی تعداد سوا تین کروڑ کے لگ بھگ ہے۔ اگر اس تعداد کا نصف بھی الیکٹرک بائیکس سے بدل جائے تو پٹرول کی اچھی خاصی بچت ممکن بنائی جا سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پٹرولیم مصنوعات پر عائد ٹیکسوں کے ڈھانچے پر نظرِ ثانی کرنا بھی ناگزیر ہے۔ کم از کم تیل بحران کے دوران ہی اگر حکومت ٹیکسوں کی شرح میں مناسب کمی کر دے تو عوام کو بڑا ریلیف میسر آ سکتا ہے۔
اگرچہ توانائی کا بحران اس وقت پوری دنیا کیلئے یکساں چیلنج ہے لیکن علاقائی ممالک میں اس کے اثرات اُس نوعیت کے نہیں جیسے پاکستان میں دیکھے جا رہے ہیں۔ اس کا مطلب واضح ہے کہ خرابی صرف عالمی حالات میں نہیں بلکہ ہمارے معاشی نظام‘ مالیاتی پالیسیوں اور انتظامی ڈھانچے میں بھی موجود ہے اور اندرونی خرابی کو دور کیے بغیر ہم بیرونی بحران کا پائیدار مقابلہ نہیں کر سکتے۔ حکومت کو اب عارضی اقدامات سے نکل کر جرأت مندانہ فیصلے کرنے چاہئیں تاکہ ملک کو مستقل بنیادوں پر پٹرولیم کے اس تباہ کن بحران سے نجات دلا سکے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>احتجاج غیر مؤثر کیوں؟(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-09-21/52700/98073273</link><pubDate>Mon, 21 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-09-21/52700/98073273</guid><description>یہ دھرنے‘ یہ احتجاج حکومت کے خلاف ہیں یا عوام کے؟گرمی کی شدت کم ہوئی تو بازارِ سیاست کی گرمی بڑھ گئی۔ سیاست کا بھی ایک ہی روپ ہے جو ہم برسوں سے دیکھ رہے ہیں: احتجاج۔ ہجوم راستوں اور شاہراہوں کا رخ کرتے ہیں۔ انتظامیہ ملک بھر سے کنٹینر جمع کرتی ہے۔ چند دن تک عوام کی اذیت اور معیشت کی بر بادی اپنے عروج پر رہتے ہیں۔ احتجاج پُرتشدد ہو جائے تو کئی گھروں کے چراغ گُل ہو جاتے ہیں۔ دکھ اور فساد کے کچھ کہے اور کچھ اَن کہے قصے چھوڑ کر‘ ایک دن یہ احتجاج ختم ہو جاتا ہے۔ حکومت البتہ اپنی قوت اور شان کے ساتھ وہیں رہتی ہے۔ یہ داستان برسوں سے دہرائی جا رہی ہے۔ عوام نے کبھی سوچا کہ ان دھرنوں اور احتجاج سے انہیں کیا ملا؟ اہلِ دانش نے کبھی تجزیہ کیا کہ اس مشق کا حاصل کیا ہے؟ پاکستان میں احتجاج بے نتیجہ کیوں رہتے ہیں؟احتجاج کو جب ہم جمہوری حق قرار دیتے ہیں تو پس منظر میں یہ مفروضہ ہوتا ہے کہ ہم ایک جمہوری معاشرے میں زندہ ہیں۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں جمہوریت بطور قدر مستحکم ہے‘ جس کا احترام سب پر واجب ہے۔ کوئی اقتدار میں ہے یا حزبِ اختلاف میں‘ یہ ضرور جانتا ہے کہ احتجاج کا مفہوم اس کے لیے کیا ہے اور جمہوریت اس کے لیے کیا آداب طے کرتی ہے۔ اہلِ اقتدار واقف ہیں کہ ان کی حکومت کا سب سے مضبوط ستون عوام کی تائید ہے۔ اگر یہ ستون قائم نہ رہا تو حکومت اپنا جواز کھو بیٹھے گی۔ احتجاج میں عوام کی شمولیت سے یہ طے ہو جاتا ہے کہ اس کوکتنی عوامی تائید حاصل ہے۔ اسے میڈیا میں بیان کیا جاتا ہے اور اگر عوام کی بڑی تعداد سراپا احتجاج ہو تو سماج میں یہ بات مستحکم ہو جاتی ہے کہ اس حکومت کو اکثریت کی حمایت میسر نہیں رہی۔ یا کسی خاص مسئلے پرعوام حکومتی پالیسی سے متفق نہیں ہیں۔ حکومت اس تاثر کو قبول کرتی ہے کیونکہ وہ بھی جمہوری معاشرے کا حصہ ہوتی ہے اور عوامی جذبات کا احترام کرتی ہے۔ اب وہ احتجاج کے نتیجے میں مستعفی ہو جاتی ہے یا زیرِ بحث پالیسی سے رجوع کر لیتی ہے۔ جو حکمران عوامی احتجاج کو نظر انداز کرتے ہیں‘ ان کا سیاسی مستقبل تاریک ہو جاتا ہے۔اس کی ایک مثال برطانیہ ہے۔ بر طانیہ کو جمہوریت کی ماں کہا جاتا ہے۔ جمہوریت اسی سرزمین پر جوان ہوئی اور مدتوں اس معاشرے نے اس کے شباب کو گرہن نہیں لگنے دیا۔ اس کے ساتھ‘ برطانیہ وہ ملک ہے جو اسرائیل کے قیام کا اصل محرک ہے۔ اسی کی تائید سے اسرائیل نے ظلم کا ایک بازار گرم کیے رکھا۔ ہر بین الاقوامی فورم پر برطانیہ نے اس کی پشت پناہی کی۔ آج تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ برطانوی عوام کی اکثریت اسرائیل کے خلاف ہو گئی۔ ستمبر کے آغاز میں‘ وہاں کے مزدوروں کی سب سے بڑی تنظیم &#39;ٹریڈز یونین کانگرس‘ نے اسرائیل کے مکمل بائیکاٹ کی متفقہ قرارداد منظور کی۔ اس تنظیم کے اراکین کی تعداد پچاس لاکھ سے زیادہ ہے۔ برطانوی پارلیمان میں اسرائیلی مظالم کے خلاف آواز اٹھی۔ جلوس نکلے۔ ایک جمہوری معاشرہ ہونے کے ناتے‘ برطانوی حکومت کے لیے ممکن نہیں رہا کہ وہ عوامی جذبات سے صرفِ نظر کرے۔ اس احتجاج سے اثر قبول کرتے ہوئے‘ برطانیہ نے مغربی کنارے پر آباد اسرائیلی بستیوں کو غیر قانونی سمجھتے ہوئے‘ وہاں سے درآمدات پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ جو کمپنیاں یہاں یہودی آباد کاری اور تعمیرات میں شریک ہوں گی‘ انہیں بھی بر طانیہ کی طرف سے پابندیوں کا سامنا ہو گا۔ اسرائیل اس پر شدید ناراض ہے اور اس نے ردعمل دیتے ہوئے برطانیہ سے یہ کہا ہے کہ وہ مشرقی یروشلم میں قائم اپنے قونصل خانے کو بند کر دے۔ یہ احتجاج کی قوت ہے جس نے ایک جمہوری معاشرے میں خود کو منوایا۔ دوسری طرف ٹونی بلیئر نے‘ عوامی جذبات کے برخلاف‘ عراق کے خلاف امریکی جارحیت کا ساتھ دیا تو بدنامی ان کا مقدر بن گئی۔جمہوری معاشرے میں احتجاج کرنے والوں پر بھی واضح ہوتا ہے کہ وہ عوام کی زندگی کو اجیرن بنانے کے لیے نہیں نکل رہے۔ ان کا حتجاج کسی کا راستہ نہیں روکتا۔ سڑکیں بند نہیں کرتا۔ شاہراہوں پر دھرنے نہیں دیتا۔ وہ زندگی اور معیشت کو رواں رکھتا ہے۔ بہت کم ایسا ہو تا ہے کہ انسانی جانیں اس احتجاج کی نذر ہو جائیں۔ یوں احتجاج سماج کو کوئی نقصان پہنچائے بغیر نتیجہ خیز ہوتا ہے۔ پس احتجاج کے نتیجہ خیز ہونے کے لیے ایک جمہوری معاشرہ ناگزیر ہے۔ ایسا معاشرہ جہاں حکومت جمہوری ہو اور اپوزیشن کی جماعتیں بھی اپنی حدود سے واقف ہوں۔ عوام جمہوریت کو بطور کلچر اپنا چکے ہوں۔ جہاں جمہوریت ایک قدر کے طور پر مستحکم ہو‘ جو سیاسی ایمانیات کا حصہ ہو۔ جہاں جمہوری اقدار پر عمل کرنی والی سیاسی جماعتیں ہوں۔ جہاں پس پردہ قوتیں احتجاج کو منظم نہ کرتی ہوں۔ جہاں میڈیا کو یہ ذمہ داری نہ سونپی جاتی ہو کہ ایک دھرنے کو کامیاب بنانے کے لیے خود کو وقف کر دے۔ جہاں احتجاج کی تحریک عوام سے شروع ہوتی اور عوام پر ختم ہوتی ہو۔ جہاں یہ لوازمات پورے ہو جاتے ہیں‘ احتجاج مؤثر ہو جاتا ہے۔پاکستانی معاشرہ یہ لوازمات پورے نہیں کرتا۔ جمہوریت کا جو حال ہے‘ ہم جانتے ہیں۔ احتجاج کرنے والے اپنی ذمہ داری سے واقف ہیں نہ حکمران۔ یہاں اگر کوئی احتجاج کامیاب ہوا ہے تو وہی جس کے پس پردہ کوئی قوت کارفرما تھی۔ ایک مجلس میں کئی افراد کی موجودگی میں‘ دو باخبر اور معتبرصحافیوں نے جنرل پرویز مشرف صاحب سے کیے گئے اپنے اپنے انٹرویو کا حوالہ دیا۔ دونوں نے جنرل صاحب سے سوال کیا: ان کی زندگی کی سب سے بڑی غلطی کیا ہے؟ ان کا جواب تھا: جنرل اشفاق کیانی کو ایک انٹیلی جنس ایجنسی کا سربراہ بنانا۔ برسبیلِ تذکرہ‘ جب جسٹس افتخارچودھری نے عَلمِ بغاوت بلند کیا اور وکلا سراپا احتجاج بن گئے تو اس وقت اشفاق کیانی اسی منصب پر فائزتھے۔ یہی احتجاج جنرل صاحب کے اقتدار کیلئے باعثِ زوال ثابت ہوا۔ اس کی &#39;کامیابی‘ کا محرک واضح ہے۔ اس وجہ سے جنرل صاحب نے اس فیصلے کو اپنی غلطی کہا۔جب یہاں لوگ اس جملے کو کثرت کے ساتھ دہراتے ہیں کہ &#39;احتجاج ہمارا جمہوری حق ہے‘ تو وہ جمہوریت کے لوازم کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ جمہوری حق جمہوری معاشروں میں ہوتے ہیں۔ مغرب کے سیکولر معاشروں میں &#39;مذہبی حق‘ پہ اصرار نہیں کیا جاتا کہ یہ سیکولر معاشرت کی اقدار کے خلاف مطالبہ ہے۔ یہ مذہبی ریاست ہی کے سیاق میں درست ہو سکتا ہے۔ اسی طرح اگر ہم پاکستان میں جمہوری حق کا مطالبہ کرتے ہیں تو پہلے ہمیں جمہوری بننا ہو گا۔ اہلِ اقتدار کو ماننا ہوگا کہ عوام ان کے خلاف ہو جائیں تو ان کا حقِ حکمرانی باقی نہیں رہتا۔ اسی طرح احتجاج کرنے والوں کو بھی معلوم ہونا چاہیے کہ احتجاج کا مطلب عوام اور معیشت کو نقصان پہنچانا نہیں ۔ جب تک یہ بات ہماری سمجھ میں نہیں آئے گی‘ احتجاج‘ دھرنے نتیجہ خیز نہیں ہوں گے۔آج جن دھرنوں اور احتجاج کا غلغلہ ہے‘ میرا احساس یہ ہے کہ یہ عوام کو اذیت میں اضافہ کرنے کے سوا کچھ حاصل نہیں کر پائیں گے۔ نہ پٹرول سستا ہوگا نہ عمران خان صاحب رہا ہوں گے۔ ان کی کامیابی کی شرط وہی ہے جو گزشتہ کامیاب دھرنوں میں پوری ہوئی۔ مجھے یہ شرط اس بار پورا ہوتی دکھائی نہیں دے رہی۔ اگر کسی نے پُرتشدد ہونے کی کوشش کی تو خاکم بدہن‘ چند مزید گھروں کے چراغ گُل ہو جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ سب کی حفاظت فرمائے۔ ساتھ ہی سب کو توفیق دے کہ وہ ہوش کے ناخن لیں۔ تحریک انصاف کے پچھلا دھرنا بھی پُرتشدد تھا جس نے کئی افراد کی جان لے لی۔ اس کی قیادت کو اس بار پرانا تجربہ دہرانا نہیں چاہیے۔ ریاست کے ساتھ تصادم سے‘ ہر صوررت میں گریز کرنا چاہیے۔ ایسا نہ ہوکہ ماضی کی طرح‘ یہ دھرنے عوام کواذیت اور دکھ کے سوا کچھ نہ دے سکیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>لانگ مارچ اور اس کے بعد(رسول بخش رئیس)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-09-21/52701/20969121</link><pubDate>Mon, 21 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-09-21/52701/20969121</guid><description>ہمارے اختیاری شہر اسلام آباد کی طرف اب تک 15 لانگ مارچ‘ جن میں ہر بڑی سیاسی جماعت‘ مذہبی گروہ اور وکلا کی تحریک شامل ہے‘ کیے جا چکے ہیں۔ آج جب ان مارچوں کے بارے میں کچھ سوچ اور لکھ رہا ہوں تو دل کرتا ہے کہ انہیں &#39;&#39;یلغاریں‘‘ کہا جائے۔ یلغار کے کئی دلچسپ معنی ہیں سر دست ہجوم‘ گروہ اور تیز دوڑتے گھوڑے پر گزارہ کریں۔ 20 ستمبر کا جماعت اسلامی کا &#39;لانگ مارچ‘ اس کی اپنی تاریخ کا دوسرا بڑا اور ہمارے شہر کی تاریخ کا پندرہواں لانگ مارچ ہے۔ اگر کوئی مخبر مائوزے تنگ کو قبر میں‘ اگر انہیں دفنایا گیا تھا‘ یہ خبر دے کہ پاکستانی سیاسی جماعتیں ستمبر کے آخری ہفتوں میں یا اکتوبر کے قریب قریب معمول کی کارروائی کی طرح لانگ مارچ کرتی ہیں تو ان کے خلاف وہ اسی طرح کی کارروائی کا فوری حکم صادر فرمائیں گے جیسا حکم انہوں نے ثقافتی انقلاب کے دوران اپنے مخالفوں کے لیے دیا تھا۔ یہ یلغاریں لانگ مارچ کی تضحیک اور عوام کے ساتھ کسی مذاق سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے۔ پہلے تو مائوزے تنگ کے لانگ مارچ کے بارے میں آپ کو بتاتا چلوں کہ وہ کس ہمت‘ مقابلے اور قربانی کے جذبے سے برپا کیا گیا تھا اور اس کے نتائج‘ انگریزی کے &#39;&#39;لانگ رن‘‘ میںآخرکار کیا نکلے تھے۔تقریباً ایک صدی قبل‘ جب چین میں خانہ جنگی کی صورتحال تھی اور کمیونسٹ پارٹی نے مسلح جدوجہد کی ٹھان لی تھی‘ چین تب بھی ایک عظیم عسکری اور قومی طاقت تھا اور صدر چیانگ کائی شیک امریکہ کا اتحادی تھا۔ 1934-35ء میں کمیونسٹ پارٹی نے تقریباً ایک لاکھ گوریلوں کی فوج تیار کی مگر وہ روایتی جنگ نہیں لڑ سکتے تھے۔ سرکاری افواج ان پر گولہ باری کرتیں‘ گھیرائو کرتیں‘ ہوائی جہازوں سے بمباری ہوتی مگر وہ گوریلے محاصرہ توڑتے توڑتے ایک سال سے زیادہ عرصے بعد شانزی صوبے سے چل کر یوآن میں اپنا اڈہ بنانے میں کامیاب ہو گئے۔ اس مارچ کی تکالیف‘ صعوبتوں اور جنگی حکمتِ عملی کے بارے میں ہزاروں مقالے اور سینکڑوں کتابیں موجود ہیں۔ ہم بھی اپنے زمانے کے اشتراکی دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر ایسے ہی لانگ مارچ کا خیالی پلائو پکایا کرتے تھے۔ مائو کے لانگ مارچ میں ایک لاکھ میں سے صرف آٹھ‘ نو ہزار فوجی بچے تھے۔ اس کے بعد 15 سال مزید جدوجہد میں لگے تو انقلاب آیا۔ ہمارے انقلاب پان گلوری سے شروع ہو کر دودھ پتی کی پیالی پر ختم ہو جاتے ہیں۔چونکہ اس وقت جماعتِ اسلامی کے &#39; لانگ مارچ‘ کی بات ہو رہی ہے‘ پہلے اسی کا ذکر کر لیتے ہیں۔ 29 اکتوبر 1996ء کو&#39; قائدِ تحریک‘ قاضی حسین احمد صاحب صاحب کی قیادت میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کی کرپشن کے خلاف جماعت نے پہلا لانگ مارچ کیا تھا۔ نعرہ ابھی تک یاد ہے: &#39;&#39;ظالمو! قاضی آ رہا ہے‘‘۔ قاضی صاحب ایک شفیق‘ نفیس‘ سلجھے ہوئے اور بہترین قائدین میں سے تھے۔ جس انداز میں انہوں نے جماعت کے اراکین اور عوام کو متحرک اور منظم کیا‘ شاید کوئی اور پارٹی نہ کر سکی۔ باقی سب شوباز رہے اور معمول کی کارروائی ڈال کر گھروں کو چلے گئے۔ اس مارچ میں جماعت کے بہت سے لوگ زخمی ہوئے اور غالباً قاضی صاحب کو بھی چوٹیں آئیں۔ پیپلز پارٹی حکومت کو قاضی صاحب کی ایسی بددعا لگی کہ پانچ دن بعد پیپلز پارٹی کے اپنے صدر نے اپنی ہی جماعت کی حکومت کو رخصت کر دیا۔ قاضی صاحب نے تو اپنا فرض پورا کر دیا مگر کرپشن اس دور کے مقابلے میں کئی گنا بڑھ گئی۔ اب ان کے جانشینوں میں سے ایک‘ حافظ نعیم الرحمن صاحب پٹرول پر حکومتی ٹیکس کے خلاف احتجاج کرتے نظر آ رہے ہیں۔ ایک ماہ سے زائد عرصہ تک مختلف شہروں میں دھرنے دینے کے بعد ملکی تاریخ کے پندرہویں لانگ مارچ کا اعلان کر چکے ہیں۔ یہ تو رفتہ رفتہ معلوم ہوگا کہ کیا ہوا۔ ہو سکتا ہے کہ وہ اور ان کے کارکنان رکاوٹیں عبور کرکے کنٹینروں سے جا ٹکرائیں یا پھر آنسو گیس کے دھوئیں میں واپس چلے جائیں مگر شاید وہ انقلاب نہ آ سکے جو مائوزے تنگ چین میں لائے تھے۔ جماعتِ اسلامی ملک کی منظم اور صحیح معنوں میں ایک سیاسی جماعت ہے۔ اگرچہ اس کی مقبولیت کا معاملہ بحث طلب ہے مگر جو روایتی سیاست اور موروثی خاندانوں کی پتھر کی دیواریں حائل ہیں‘ انہیں عبور کرنے میں بہت وقت لگے گا۔ اس مارچ کو انہوں نے &#39;&#39;سپر لانگ مارچ‘‘ کا نام دیا ہے۔ یہ تو بعد میں پتا چلے گا کہ اس میں &#39;&#39;سپر‘‘ والی کون سی بات تھی۔ ایسی اشتہار بازی تو بسکٹوں‘ آئس کریم اور مشروبات کے ڈبوں پر دیکھنے کو ملتی ہے۔ اچھی بات ہے کہ اب لانگ مارچ بھی &#39;&#39;سپر‘‘ ہوا کریں گے۔تین اور لانگ مارچ ہیں‘ جن کا تذکرہ نہ کریں تو شاید تاریخ کے اندھیروں میں ہی رہیں اور یہ اگلی نسلوں کی یادوں کے احاطے میں نہ آ سکیں۔ جب تحریک انصاف کی حکومت تھی تو مہنگائی کے خلاف ایک یادگار لانگ مارچ مریم نواز اورحمزہ شہباز شریف‘ جنہیں لوگ سیاست کی دوسری نسل کہتے ہیں‘ نے اسلام آباد کی طرف 2022ء میں کیا تھا۔ اگر اُس وقت کی مہنگائی کا آج کے دور سے موازنہ کریں تو اس جواز کے مطابق کراچی سے لے کر ملک کی آخری شمالی سرحد تک پاکستان کے عوام کو دن رات‘ ہر ہفتے اور ہر مہینے سڑکوں پر لیفٹ رائٹ کرتے رہنا چاہیے۔ اس مہنگائی کے زمانے میں 11 ارب کا سرکاری جہاز اور اس سرکاری جہاز پر سیر وتفریح‘ ٹھنڈے ملکوں کی طرف اڑانیں دیکھ کر قلم کی نوک سے بھی &#39;&#39;لانگ مارچ لانگ مارچ‘‘ کی آوازیں نکلتی ہیں۔ اسی طرح ہمارے محترم مولانا فضل الرحمن نے بھی تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف &#39;&#39;آزادی مارچ‘‘ نکالاتھا۔ سنا ہے کہ وہ اب تحریک انصاف کو آزادی دلانے کے لیے حزبِ اختلاف کے اتحاد کا حصہ بن چکے ہیں‘ یا بننے کے متمنی ہیں۔ خواہش کی بات نہیں کرتے‘ وہ کیا کسی نے کہا تھا: بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے! آسمان رنگ بدلے نہ بدلے‘ مولانا صاحب اپنی ذہانت‘ کمال درجے کی سیاست گری‘ گہری بصیرت اور تدبیر سے بدلنے میں کوئی دیر نہیں لگاتے۔ شرط یہ ہے کہ سب کچھ قوم و ملت کے مفاد میں ہو۔ آزادی مارچ کے مقابلے میں تحریک انصاف جب اقتدار سے ہاتھ دھو بیٹھی تو اس نے &#39;&#39;حقیقی آزادی مارچ‘‘ کی کوشش کی۔ جو کچھ ہوا‘ اس کے بارے میں موجودہ حالات و واقعات کے تناظر میں خاموشی اختیار کرنا ہی اپنی پگڑی بچانے کے لیے بہتر ہے۔ علامہ طاہر القادری صاحب نے بھی دو لانگ مارچ انقلاب لانے کی غرض سے کیے۔ ہزاروں خواتین و حضرات‘ جو اُن کے مرید‘ پیروکار اور کارکنان میں سے تھے‘ سردی میں ٹھٹھرتے رہے اور &#39;&#39;انقلاب انقلاب‘‘ کے نعرے لگانے کے بعد‘ پہلے سے تیار بسوں میں بیٹھ کر گھروں کو واپس چلے گئے۔ ہمارے کلاس فیلو‘ قبلہ ڈاکٹر صاحب کا اب بھی شدت سے انتظار ہے کہ کب دیارِ غیر سے واپس آ کر انقلاب لائیں گے اور &#39;&#39;سیاست نہیں، ریاست کو بچائیں‘‘ گے۔پیپلز پارٹی بلکہ محترم بلاول بھٹو کے 27 فروری 2022ء کے عوامی لانگ مارچ کی بات نہ کریں تو یہ صوبہ سندھ اور ہمارے زمانے کی سب سے بڑی پارٹی کے ساتھ ناانصافی ہو گی۔ اس عوامی لانگ مارچ کو مجھے موٹروے پر دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ گاڑی چلاتے ہوئے چند کالے رنگ کی گاڑیوں کو فراٹے بھرتے‘ جنوب سے شمال کی طرف آتے دیکھا تھا۔ یہ بھی کسی سے معلوم کرنے سے پتا چلا کہ لوگ عمران خان کی حکومت کے خلاف یہاں مارچ کر رہے ہیں۔ عوامی مارچ کا جلسہ اسلام آباد میں کہیں ہوا۔ یہ سب معمول کی کارروائی معلوم ہوتی تھی مگر اس کے 30 دن بعد تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہو گئی اور پھر وہی ہوا جو ہوتا آیا ہے۔ اب دیکھیں کہ حافظ نعیم صاحب کے &#39;&#39;سپر مارچ‘‘ کے بعد زمانہ کیا رنگ بدلتا ہے۔ ستمبر کا مہینہ ہے‘ اس کا موسم انتہائی خوشگوار ہے۔ ماضی میں حکمرانوں پر بھاری پڑتا رہا ہے۔ کیا پتا ایسا ہو‘ یا نہ ہو! آپ موسم سے لطف اندوز ہوں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_33241568.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سعودی عرب اور حوثیوں کے مابین کشیدگی …(2)(ڈاکٹر رشید احمد خاں)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr-rasheed-ahmad-khan/2026-09-21/52702/97240186</link><pubDate>Mon, 21 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr-rasheed-ahmad-khan/2026-09-21/52702/97240186</guid><description>کرۂ ارض پر متعدد ممالک یا مقامات ایسے ہیں جنہوں نے چھوٹے رقبے‘ کم آبادی اور ناکافی وسائل کے باوجود اپنے جغرافیائی محل وقوع کی بنا پر تاریخ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان میں سے ایک یمن ہے۔ جزیرہ نما عرب کے جنوب میں واقع اس ملک کے شمال میں سعودی عرب‘ شمال مشرق میں عمان‘ مشرق میں بحیرہ عرب‘ جنوب میں خلیج عدن اور مغرب میں بحیرہ احمر واقع ہے۔ لیکن فراعین مصر سے لے کر 20ویں صدی میں ریاست برطانیہ کے عروج و زوال تک‘ یمن کے خصوصی کردار کی اصل وجہ اس کی آبنائے باب المندب کے کنارے پر موجودگی ہے۔ آبنائے باب المندب کی تنگ آبی پٹی بحیرہ احمر کو بحر ہند سے ملاتی ہے اور اس طرح قدیم زمانے میں مشرق (چین اور ہندوستان) اور مغرب (یورپ) کے درمیان سمندر کے ذریعے انتہائی نفع بخش تجارت کے دو اہم راستوں میں سے ایک پر یمن کو کنٹرول حاصل رہا ہے۔ دوسرا تجارتی راستہ چین‘ جنوب مشرقی ایشیا اور آبنائے ملاکا سے گزر کر شمالی بحر ہند یا بحیرہ عرب سے آبنائے ہرمز کے راستے خلیج فارس اور اس سے آگے ایران‘ میسوپوٹیمیا (جدید عراق) کے بعد بحیرہ روم کے مشرقی کنارے پر واقع بندرگاہوں تک پہنچتا تھا۔ آج بھی یمن میں حوثی قبائل کے جنگجوؤں اور سعودی عرب کے درمیان جنگ سے دنیا بھر میں تشویش کی جو لہر دوڑ گئی ہے اس کی وجہ آبنائے باب المندب کے راستے توانائی خوراک کی ترسیل میں رکاوٹ پڑنے کا خدشہ ہے کیونکہ آبنائے ہرمز کے بعد مشرق وسطیٰ اور دنیا کے باقی حصوں کے درمیان تیل کی سب سے زیادہ مقدار (تیل کی کُل تجارت کا سات فیصد) آبنائے باب المندب سے گزرتی ہے۔ دنیا کی کُل تجارت کا 12 فیصد آبنائے باب المندب سے گزرتا ہے۔ اس کے علاوہ نہر سویز کے راستے یورپ اور بحیرہ روم کے مشرقی ساحل پر واقع عرب اور غیر عرب ممالک کیلئے جنوبی ایشیا‘ مشرقی افریقہ اور اس سے آگے جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک کے ساتھ روابط کیلئے سب سے کم فاصلے کا بحری راستہ آبنائے باب المندب سے ہی گزرتا ہے۔ 3 ستمبر سے حوثی جنگجوؤں کے حملوں اور پیش قدمی سے پیدا ہونے والی صورتحال سے یہ سب کچھ خطرے میں پڑ گیا ہے۔ اس لیے دنیا بھر میں یہ سوال پوچھا جا رہا ہے کہ یہ حوثی جنگجو کون ہیں اور کن مقاصد کیلئے باب المندب پر قبضہ کر کے سعودی عرب کو ہدف بنا رہے ہیں؟حوثی یمن کے بہت سے قبائل میں سے ایک ہیں اور ایک اندازے کے مطابق ملک کی کُل آبادی کا 35 فیصد ہیں۔ پہاڑوں اور دشوار گزار راستوں پر مشتمل یمن کا شمالی حصہ صدیوں سے ان کا مسکن ہے مگر سعودی عرب کے ساتھ وقفے وقفے کے ساتھ لیکن مسلسل تصادم کے سلسلے نے انہیں گوریلا جنگ کا ماہر بنا دیا ہے۔ مغربی ذرائع کی فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق حوثی جنگجوؤں کی تعداد ایک سے ڈیڑھ لاکھ کے قریب ہے اور یہ جدید ترین اسلحہ سے لیس ہیں‘ جن میں ہلکے اور بھاری خودکار ہتھیاروں کے علاوہ بیلسٹک میزائل اور ڈرون بھی شامل ہیں۔ حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان کوئی علاقائی جھگڑا نہیں ہے لیکن مشرق وسطیٰ خاص طور پر خطے میں امریکی کردار پر سعودی عرب اور حوثیوں کی ایک دوسرے کے مخالف سوچ دونوں کے مابین تصادم کا باعث بنی ہے۔ مثلاً 2003ء میں جارج بش کے دورِ صدارت میں عراق پر امریکی حملے کی حوثیوں نے نہ صرف مذمت کی تھی بلکہ ایک مسلم ملک کے خلاف اسے امریکی جارحیت قرار دیا تھا جبکہ سعودی عرب نے اس کی حمایت کی تھی بلکہ یمن کے اُس وقت کے صدر علی عبداللہ صالح کو بھی اپنے ساتھ امریکہ کے حامیوں کی صف میں کھڑا کر لیا تھا۔ 2011ء میں جب شمال مغربی افریقہ سے جمہوریت کے حق میں عرب ملکوں میں دہائیوں سے اقتدار پر قابض آمرانہ حکمرانوں کے خلاف عوامی احتجاج کا سلسلہ‘ جسے عرب سپرنگ کہا جاتا ہے‘ شروع ہوا تو یمن میں علی عبداللہ صالح‘ جو گزشتہ کئی دہائیوں سے اقتدار پر قابض تھے‘ کے خلاف بھی عوام نے احتجاجی جلوس نکالے اور اُن کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ مگر سعودی عرب نے صدر صالح کی حمایت کی اور جب اقتدار چھوڑ کر انہیں ملک سے بھاگنا پڑا تو سعودی عرب نے اُنہیں اپنے ہاں پناہ دی اور یمن میں صدر صالح کے جانشین منصور ہادی کی حمایت جاری رکھی۔ حوثیوں نے انہیں قبول کرنے سے انکار کر دیا اور حکومت کے خلاف جدوجہد جاری رکھی جس کے نتیجے میں ستمبر 2014ء میں حوثیوں نے یمن کے دارالحکومت صنعا پر قبضہ کر لیا۔ 2015ء میں سعودی عرب نے متحدہ عرب امارات کی مدد سے یمن میں مداخلت کی‘ جسے امریکہ نے ہوائی حملوں سے مدد فراہم کی‘ مگر سعودی عرب کی مداخلت اور امریکی حملے حوثیوں کو شکست دینے میں ناکام رہے۔ آخرکار 2022ء میں جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا‘ مگر سعودی عرب نے یکطرفہ طور پر حوثیوں کی بحری ناکہ بندی جاری رکھی۔ اب حوثیوں کی طرف سے اعلان کیا جا رہا ہے کہ ان کی موجودہ کارروائیوں کا مقصد صرف سعودی عرب کی طرف سے 2022ء سے بحری ناکہ بندی اور یمن کی فضائی حدود کے استعمال پر پابندی کا خاتمہ ہے۔ اگر سعودی عرب اس بحری اور فضائی ناکہ بندی کو ختم کر دے تو وہ بھی اپنی جنگی کارروائیوں کو روک دیں گے مگر سعودی عرب کی طرف سے اس کی جلد توقع نہیں کیونکہ حوثی ایک نان سٹیٹ ایکٹر ہیں اور بین الاقوامی برادری یمن کی اُس حکومت کو جائز تسلیم کرتی ہے جس کا دارالحکومت اب عدن ہے۔ سعودی عرب کو یہ خطرہ بھی لاحق ہے کہ حوثیوں کی کامیابی سے جزیرہ نما عرب نے جنوبی حصے میں ایران کے اثر ونفوذ کو تقویت ملے گی۔ سعودی عرب کے مؤقف سے نہ صرف امریکہ اور اسرائیل بلکہ خلیجی عرب ریاستیں بھی متفق ہیں‘ اس لیے حوثیوں کی حالیہ پیش قدمی اور سعودی عرب کے تیل اور توانائی کے انفراسٹرکچر کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون سے نشانہ بنانے کی سخت مذمت کر رہے ہیں مگر ان میں سے کوئی بھی اپنی فوجیں حوثیوں کے خلاف یمن میں داخل کرنے پر تیار نہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ یمن کا وہ علاقہ جو حوثیوں کے قبضے میں ہے‘ روایتی جنگ کیلئے موزوں نہیں۔ حوثی اس سے پوری طرح آگاہ اور عادی ہونے کی وجہ سے حملہ آور فوج کو ٹف ٹائم دے سکتے ہیں۔ خلیج میں کسی بھی عرب ملک کے پاس تربیت یافتہ اور پیشہ ورانہ طور پر لڑنے والی فوج نہیں کیونکہ 1970ء کی دہائی سے ان تمام ملکوں نے اپنے دفاع اور سلامتی کی ذمہ داری امریکہ کو دے رکھی ہے۔ امریکہ نے اپنی اس ذمہ داری کو نبھانے کیلئے بھاری معاوضے کے عوض سعودی عرب‘ قطر‘ متحدہ عرب امارات اور بحرین میں وسیع فضائی اور بحری اڈے تعمیر کر رکھے تھے مگر یہ دفاعی نظام کسی بیرونی حملے کی صور ت میں ہی مؤثر ثابت ہو سکتا ہے‘ اندرونی طور پر کسی خانہ جنگی یا بغاوت کو کچلنے کیلئے امریکی فوجیوں کی مداخلت اس منصوبہ بندی میں شامل نہیں۔ اسی وجہ سے امریکہ ایران کے سامنے بے بس ہے اور یمن جیسی صورت حال میں اپنی فوجیں بھیجنے پر تیار نہیں۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمجھتے ہیں کہ اگست میں پاکستان‘ ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان جس دفاعی معاہدے پر دستخط ہوئے‘ اسے یمن جیسی صورت حال میں استعمال کیا جا سکتا ہے اور پاکستان یا ترکیہ دونوں سے عملی طور پر سعودی عرب کی مدد یعنی حوثیوں کے خلاف اپنی فوجیں بھیجنے کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے‘ مگر یہ ممالک یمن میں حوثیوں کے خلاف اپنی فوجیں بھیجنا نہیں چاہتے۔ البتہ پاکستان اور ترکیہ کی طرف سے سعودی عرب کو حوثی حملوں سے بچانے کیلئے ہر ممکن اقدام کا ارادہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ جیسا کہ ترک وزیر خارجہ حقان فیدان نے کہا ہے کہ یمنی حوثیوں کے جاری حملوں کے باعث سعودی عرب کی کچھ عسکری ضروریات ہو سکتی ہیں‘ ہم پاکستان کے ساتھ مکہ معاہدے کے تحت ان عسکری ضروریات کا جائزہ لیں گے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90264263.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>فیول ریلیف، زرمبادلہ ذخائر اور کپاس(میاں عمران احمد)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mian-imran-ahmad/2026-09-21/52703/41090903</link><pubDate>Mon, 21 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mian-imran-ahmad/2026-09-21/52703/41090903</guid><description>حکومت کی جانب سے متعارف کرائے گئے فیول ریلیف پیکیج کے تحت موٹر سائیکل، رکشوں اور 800 سی سی تک کی چھوٹی گاڑیوں کو پٹرول کی قیمت میں 100 روپے فی لیٹررعایت کا اعلان کیا گیا ہے۔ موٹر سائیکل‘ رکشہ اور چنگ چی والے افراد ماہانہ بیس لیٹر تک رعایتی پٹرول حاصل کر سکتے ہیں جس سے انہیں دو ہزار روپے ماہانہ تک ریلیف ملے گا جبکہ 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے مالکان تیس لیٹر تک پٹرول پر سبسڈی حاصل کر سکتے ہیں۔ حکومتی اطلاعات کے مطابق بیس ستمبر تک تقریباً 22لاکھ افراد نے رجسٹریشن کروائی ہے اور تقریباً 19 لاکھ ٹوکن جاری کیے جا چکے جن میں سے سات لاکھ کے قریب ٹوکن ریڈیم ہو چکے ہیں۔ اب بیس سال پرانی موٹر سائیکلوں‘ رکشوں اور چنگ چی کو بھی پروگرام میں شامل کر لیا گیا ہے۔ 75 ارب روپے کے بجٹ سے تقریباً ایک کروڑ اٹھارہ لاکھ افراد کے مستفید ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے‘ جن میں موٹر سائیکلوں کی تعداد تقریباً ایک کروڑ ہے۔ اس وقت ملک میں تقریباً تین کروڑ رجسٹرڈ موٹر سائیکلیں موجود ہیں۔ مگرسوال یہ ہے حکومت نے ایک کروڑ مستحق موٹرسائیکل صارفین کا تخمینہ کس معیار اور ڈیٹا کی بنیاد پر لگایا ہے؟ یہ سکیم لوگوں کوکسی قدر ریلیف ضرور فراہم کر سکتی ہے تاہم اس کے ساتھ یہ سوال بھی موجود ہے کہ کیا حکومت طویل مدت تک اس مالی بوجھ کو برداشت کر پائے گی؟ پاکستان ہر سال تقریباً سترہ ارب ڈالر کا تیل درآمد کرتا ہے‘ یعنی ہم اپنی کُل ملکی برآمدات کا تقریباً پچاس فیصد زرمبادلہ تیل پر خرچ کر دیتے ہیں۔ اس لیے سبسڈی مستقل حل نہیں بلکہ توانائی کے متبادل ذرائع‘ ایندھن کی بچت اور سولر جیسی مقامی توانائی پیداوار میں اضافہ ہے۔ سٹیٹ بینک کے مطابق اس وقت ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر تقریباً 26 ارب 79 کروڑ ڈالر ہیں جو ایک ہفتہ پہلے 23 ارب 71 کروڑ ڈالر تھے۔ یعنی ایک ہفتے میں ذخائر میں تقریباً تین ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ۔ سٹیٹ بینک کے ذخائر 18 ارب 32 کروڑ ڈالر سے بڑھ کر 21 ارب 38 کروڑ ڈالر ہو گئے ہیں جبکہ کمرشل بینکوں کے ذخائر پانچ ارب 40 کروڑ ڈالر ہی رہے۔ اس سے پہلے ستمبر 2021ء میں یہ ذخائر تقریباً 27 ارب ایک کروڑ ڈالر کی سطح پر تھے۔ سٹیٹ بینک کے ذخائر ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ 21 ارب ڈالر کی سطح پر پہنچے ہیں۔ مجموعی زرمبادلہ کی 26.8 ارب ڈالر کی سطح تقریباً پانچ سال کی بلند ترین سطح ہے۔ موجودہ اضافے کی سب سے بڑی وجہ یورو بانڈ سے حاصل ہونے والی تقریباً تین ارب ڈالر کی رقم ہے۔ لیکن یہاں اصل سوال یہ ہے کہ کیا 27 ارب ڈالر کا زرمبادلہ پاکستان کی معیشت کو مستقل بنیادوں پر مضبوط بنا سکتا ہے؟ اس کا جواب صرف زرمبادلہ کے ذخائر اور ان میں موجود بڑی رقم دیکھ کر نہیں دیا جا سکتا۔ اگر زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ بنیادی طور پر قرض‘ بانڈ یا دیگر بیرونی فنانسنگ سے ہو اور دوسری طرف ملک کا تجارتی خسارہ دوبارہ بڑھنے لگے تو کچھ عرصہ بعد اضافی رقم واپس بیرون ملک چلی جاتی ہے۔ اس لیے اصل معاشی کامیابی اس وقت ہوگی جب پاکستان اپنے ذخائر میں اضافہ برآمدات‘ ترسیلاتِ زر‘ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری اور پیداواری معاشی سرگرمی کے ذریعے کرے گا۔ پاکستان کی سب سے بڑی کمزوری یہی رہی ہے کہ ملک کو اپنی درآمدی ضروریات پوری کرنے کیلئے بڑی مقدار میں زرمبادلہ درکار ہوتا ہے۔ تیل‘ مشینری‘ صنعتی خام مال‘ کیمیکل اور دیگر ضروری اشیا کی درآمد کیلئے ہر سال اربوں ڈالر خرچ ہوتے ہیں۔ اگر برآمدات میں اسی رفتار سے اضافہ نہ ہوا تو ذخائر میں وقتی اضافہ طویل مدت تک برقرار رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔کپاس کی فصل رواں سیزن میں گزشتہ سال کے مقابلے میں بہتر رہی ہے۔ پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کے مطابق 15 ستمبر تک ملک بھر کی جننگ فیکٹریوں میں 23 لاکھ 88 ہزار 682 گانٹھیں پہنچ چکی ہیں جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں 20 لاکھ 4 ہزار 384 گانٹھیں آئی تھیں۔ یعنی ابتدائی طور پر 19.17 فیصد اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ پنجاب میں گانٹھوں کی آمد آٹھ لاکھ 60 ہزار 942 جبکہ سندھ میں 15 لاکھ 27 ہزار 740 گانٹھیں رہی ہے۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ صرف ضلع سانگھڑ میں آٹھ لاکھ 88 ہزار 607 گانٹھیں پہنچ چکی ہیں‘ جو پورے پنجاب سے بھی زیادہ ہیں۔ یہ صورتحال پنجاب میں کپاس کے رقبے پر بڑھتے ہوئے دباؤ کی نشاندہی کرتی ہے۔ اگر گنا اور دیگر فصلیں مسلسل کپاس کی جگہ لیتی رہیں تو پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت کے لیے مقامی خام مال کا مسئلہ سنگین ہو سکتا ہے۔ موجودہ سیزن میں ابتدائی نتائج حوصلہ افزا ضرور ہیں لیکن ابھی شاید جشن منانے کا وقت نہیں۔ کپاس کو پنک بول ورم‘ سفید مکھی‘ بارش اور فائبر کوالٹی کے خطرات کا سامنا ہے۔ دوسری طرف روئی کی قیمت میں تقریباً 1000 روپے فی من کمی کسان کیلئے تشویش کا باعث ہے۔ حکومت کو محض 60 لاکھ گانٹھوں سے زیادہ پیداوار کے تخمینے پر مطمئن ہونے کے بجائے کسان کو مناسب قیمت‘ معیاری بیج‘ جدید ٹیکنالوجی اور مؤثر کیڑے مار ادویات فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ کپاس کی آمد میں 19 فیصد اضافہ خوش آئند لیکن اصل کامیابی تب ہو گی جب یہ اضافہ کسان کی آمدنی‘ ٹیکسٹائل برآمدات اور ملکی زرمبادلہ میں بھی نظر آئے۔پاکستان میں ہر بار مہنگائی کا ذمہ دار صرف ڈالر‘ پٹرول یا بجلی کو قرار دینا درست نہیں ہے۔ بعض اوقات مارکیٹ میں مسابقت کی کمی بھی قیمتوں میں اضافے کی ایک اہم وجہ بن جاتی ہے۔ کمپٹیشن کمیشن نے آل پاکستان ایڈیبل آئل ٹینکر اونرز ایسوسی ایشن پر چھ کروڑ روپے جرمانہ عائد کیا ہے۔ 2019ء سے 2025ء کے درمیان ٹرانسپورٹ کے نرخ 89 مرتبہ تبدیل کیے گئے‘ جن میں 52 مرتبہ اضافہ اور 37 مرتبہ کمی کی گئی اور نرخ طے کرنے کے لیے ٹینکر مالکان کی ایسوسی ایشن اور پاکستان ویناسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے درمیان یہ انتظام موجود تھا کہ ڈیزل کی قیمت میں ایک روپے اضافے پر ٹرانسپورٹ کرایہ 0.75 فیصد بڑھایا جبکہ ڈیزل کی قیمت میں ایک روپے کمی پر کرایہ 0.5 فیصد کم کرنے کا فارمولا موجود تھا۔ یعنی برابر مقدار میں ڈیزل مہنگا یا سستا ہونے کی صورت میں کرایہ بڑھانے کی شرح‘ کرایہ کم کرنے کی شرح سے 50 فیصد زیادہ تھی۔ کمپٹیشن کمیشن نے اب اس پر ایکشن لیا ہے‘ جسے عوامی سطح پر سراہا جا رہا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اس سے عام آدمی کے لیے آئل سستا ہو گا یا نہیں؟ اگر 100 کروڑ کما کر چھ کروڑ جرمانہ دینے سے جان چھوٹ جائے تو ان کیلئے یہ مہنگا سودا نہیں۔ اس کے علاوہ عوام یہ سوال بھی پوچھ رہے ہیں کہ چھ سال تک یہ نظام کیسے چلتا رہا؟ اگر 2019ء سے 2025ء کے دوران 89 مرتبہ تیل کے نرخوں میں تبدیلی ہوئی تو سوال صرف یہ نہیں کہ اب چھ کروڑ روپے جرمانہ کیوں کیا گیا بلکہ یہ بھی ہے کہ کمپٹیشن کمیشن نگرانی کا نظام پہلے کیوں مؤثر انداز میں حرکت میں نہیں آیا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/212_71532147.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ہاتھوں میں مختصر دھوپ(سعود عثمانی )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-09-21/52704/53377517</link><pubDate>Mon, 21 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-09-21/52704/53377517</guid><description>دبے پاؤں آنے والی تبدیلی آ چکی ہے۔ یہ تبدیلی کسی اعلان کے ساتھ نہیں آتی۔ نہ محکمہ موسمیات کسی خبر کا اعلان کرتا ہے‘ نہ خبر لگتی ہے نہ ٹکرز چلتے ہیں۔ نہ آسمان پر کوئی تختی لگتی ہے کہ خزاں اور پھر سردی آ پہنچی۔ موسم بس ایک دن اچانک اپنے انداز بدل لیتا ہے۔ اس موسم میں تو ہوا بھی گلابی شال اوڑھ کر چلتی ہے۔ تازگی سے چھلکتی‘ شاداب کرتی‘ دل پر چلتی ہوا جو ایک طرف درختوں کے زرد پتے اڑاتی اور دوسری طرف خزاں کے اس موسم میں دلوں میں پھول کھلاتی ہے۔ یہ مہک اور یہ خنکی جسم سے پہلے یادوں کو چھوتی ہے۔ مجھے وہ سارا وقت یاد آنے لگتا ہے جب امی سردیوں کی تیاریوں میں مصروف ہو جایا کرتی تھیں۔ ٹین کے بڑے بڑے بکسوں میں سے سارے گرم کپڑے نکال کر چارپائیوں پر دھوپ میں ڈال دیے جاتے تھے تاکہ سال بھر کی بساند نکل جائے اور کیڑے یا جراثیم‘ اگر کوئی ہیں تو‘ ختم ہو جائیں۔ چارپائیوں پر کپڑے پھیلانا اس بات کی علامت تھی کی گرمی ختم ہوئی اور سردی دہلیز پر کھڑی ہے۔ سال بھر سینت کر رکھے ہوئے لحاف اور گدے نکالے جاتے اور ان میں روئی بھروانے کا کام شروع ہو جاتا تھا۔ وہ زمانہ روئی کے بھرے لحافوں اور رضائیوں کا تھا۔ اب کمبلوں کا دور ہے لیکن لحاف کی نرمی گرمی اور آرام کا کوئی کمبل کیا مقابلہ کر سکتا ہے‘ خاص طور پر اُن علاقوں میں جہاں جم کر سردی پڑتی ہے۔ میری امی مرحومہ ان دنوں روئی پینجوانے یعنی دھنکوانے کی تیاری شروع کر دیتی تھیں۔ میں اپنے لڑکپن سے بہت بعد تک دُھنیے سے روئی دُھنکوانے جاتا رہا۔ اس وقت یہ ایک صبر آزما اور جھنجھلاہٹ بھری ڈیوٹی ہوتی تھی۔ اب وہ دن یاد آتے ہیں۔ پہلے پرانے لحافوں کی سلائیاں ادھیڑ کر پرانی روئی نکالی جاتی‘ پھر ساری روئی ایک گٹھڑ بنا کر اکٹھی کی جاتی جسے لے جانا بھی ایک مشکل کام تھا۔ اس کاریگر کے پاس جسے دُھنیا‘ دھنکیا‘ نداف یا پنجیارا کچھ بھی کہہ لیجیے۔ روئی دھننا صوفیا کا روزگار رہا ہے۔ حسین بن منصور حلّاج سے کون واقف نہیں اور حلّاج دُھنکنے والے ہی کو کہتے ہیں۔شاہزادوں کا افلاک پر راج تھا‘ کوئی عطار تھا کوئی حلاج تھاعشق سات آسماں پار کرتا گیا‘ ہل چلاتے ہوئے‘ روئی دھنتے ہوئےدھنکنے کی آواز سننا بھی ایک یادگار تجربہ تھا۔ وہ واقعہ ہر بار یاد آتا تھا جو والد مرحوم سے کئی بار سنا تھا اور جس کے مطابق خاص آہنگ میں نکلتی یہ آواز کہتی تھی کہ: دون است دون است دنیائے دوں (حقیر ہے‘حقیر ہے‘ یہ دنیاحقیر ہے)سخت‘ ملگجی ٹکڑیوں میں اکٹھی ہو چکی روئی کو نرم‘ سفید اڑتے گالوں میں تبدیل ہوتے دیکھنا بھی کیا عجب تماشا تھا۔ کیا عجب حلّاج نے تصوف کے ابتدائی رموز اسی مٹتی‘ روپ بدلتی روئی سے سیکھے ہوں۔ لحافوں میں روئی بھر کر نگندے بھرنا اگلا مرحلہ تھا۔ میں ڈورے ڈالنے کے الفاظ سے جان بوجھ کر اجتناب کر رہا ہوں۔ نگندوں کے لیے کئی عورتیں اجرت پر بلائی جاتیں۔ بڑے پرچم کی طرح پھیلے مخملی ریشمی لحاف میں آڑے ترچھے یا سیدھے‘ ڈوبتے ابھرتے نگندے ڈالنا ایک فن تھا۔رضائی اور لحاف ہی نہیں سویٹر‘ کوٹ‘ گرم کپڑے‘ دلائیاں‘ رضائیاںبھی اپنے محفوظ خانوں سے باہر نکل کر دھوپ بھرے صحنوں اور آنگنوں یا چھتوں کی راہ لیتے ہیں۔ ستمبر اپنے اختتام تک پہنچتا ہے تو ایئر کنڈیشنرز اور پنکھوں کو بھی چین سا آنے لگتا ہے۔ یہ آوازیں مدہم ہوتی ہیں تو سکون ماحول میں سرایت کرنے لگتا ہے۔ زندگی مصنوعی موسموں سے دور ہو کر فطرت کے قریب آنے لگتی ہے اور فطرت کے سکون جیسی طمانیت تو انسان نے کبھی بنائی ہی نہیں۔ یہ تو عمومی مشاہدہ بھی ہے اور نفسیات دانوں کا تجزیہ بھی کہ موسم خوشگوار ہو تو لوگوں کے موڈ بھی بہتر ہو جاتے ہیں۔ چڑچڑا پن‘ جھنجھلاہٹ اور بیزاری گرمی کے دنوں کی طرح کہیں پیچھے رہ جاتے ہیں اور خوش دلی ‘خوش مزاجی ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کرچلنے لگتی ہے۔موسم دروازہ کھٹکھٹا کر نہیں آتے۔ خزاں اور سردی بھی دبے پاؤں اترتی ہے۔ کبھی نیم کے پتوں میں چھپی ہوئی سرسراہٹ کی صورت‘ کبھی چائے کے کپ سے اٹھتی بھاپ میں اپنا چہرہ دکھاکر اور کبھی شام کے وقت کسی سڑک کے کنارے بیٹھے ہوئے بوڑھے کے کندھوں پر پڑی ہوئی شال میں نظر آتی ہے۔ صبح ذرا دیر سے روشن ہوتی ہے‘ شام ذرا جلدی دامن میں اندھیرا سمیٹ لیتی ہے۔ دروازے پر کوئی مانوس شخص آ جائے تو اس کے قدموں کی آہٹ بھی پہچان لی جاتی ہے۔ سردی کے قدموں کی آہٹ بھی سنائی دینے لگی ہے۔ لاہور کو سردی کا انتظار سب سے زیادہ رہتا ہے۔ یہ شہر گرمی کو جھیلتا ضرور ہے مگر گرمی سے محبت نہیں کرتا۔ جون‘ جولائی اور اگست کی تپتی دوپہریں جب سڑکوں کو آگ کی سلوں میں بدل دیتی ہیں اور ہوا جیسے بھٹی سے نکل کر آتی ہے تو لاہور کا ہر درخت‘ ہر دیوار‘ اور ہر آدمی ایک ایسی صبح کا منتظر ہوتا ہے جب ہوا میں ذرا سی ٹھنڈک ہو۔ پھر ستمبر آتا ہے‘ اکتوبر اپنی ہلکی سی سنہری چادر بچھاتا ہے‘ اور موسم آہستہ آہستہ اپنا لہجہ بدلنے لگتا ہے۔ نومبر اس موسم کی جوانی ہے؛ یعنی گلابی جاڑوں کی جوانی۔ شہابی جاڑوں کی جوانی۔لاہور میں خزاں خاموشی سے ساتھ آ کر بیٹھ جاتی ہے اور بس یہیں بسنے لگتی ہے۔ آپ کو گویا اس کا انتظار ہی ہوتا ہے۔ ایک زمانے میں لاہور کا منظر بہت مختلف تھا‘ اب لاہور بہت پھیل گیا ہے اور اس میں بہت کچھ تبدیلی آ گئی ہے لیکن شہر کے کچھ حصوں خاص طور پر اندرونِ شہر میں بہت کچھ ابھی ویسا ہے۔ آپ اس موسم کو روایتی لاہور کی آنکھوں سے دیکھنا چاہتے ہوں تو اندرون شہر چلے جائیے۔ دہلی دروازہ‘ بھاٹی دروازہ‘ لوہاری دروازہ‘ شاہ عالمی اور موچی دروازہ۔ یہ صرف شہر کے دروازوں کے نام نہیں‘ لاہور کے حافظے کے باب ہیں۔ ان گلیوں سے گزریں تو محسوس ہوتا ہے جیسے وقت منجمد ہوگیا ہو۔ پرانی اینٹوں کی دیواریں‘ لکڑی کے دروازے‘ بالکونیوں سے لٹکتے ہوئے کپڑے‘ تنگ گلیوں میں ایک دوسرے کے قریب کھڑے مکان اور صبح کی ہلکی دھوپ سب مل کر ایسا منظر بناتے ہیں جیسے کسی پرانی داستان کا ورق کھل گیا ہو۔ بادشاہی مسجد کی سیڑھیوں پر پڑتی دھوپ ہو یا شاہی قلعے کی دیواروں پر ٹھہری ہوئی خاموشی‘ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے شہر اپنی پرانی کتاب کے صفحات پلٹ رہا ہو۔ فجر کے بعد شہر ابھی پوری طرح بیدار نہیں ہوا ہوتا۔ مسجد کے مینار سے اذان کی آواز سرد ہوا میں کچھ زیادہ صاف سنائی دیتی ہے۔ صبح میں خاص نیم خوابی ہوتی ہے۔ شہر آنکھیں کھولتا تو ہے مگر پوری طرح بیدار ہونے سے پہلے کچھ دیر اپنے خوابوں میںجاگتا رہتا ہے۔ گلی کے نکڑ پر چائے کا کھوکھا آہستہ آہستہ جاگ رہا ہوتا ہے۔ کسی چھت پر کپڑے ابھی تک اوس سے نم ہوتے ہیں۔ یہ جملہ محسوس کیجیے گا کہ لاہور میں موسم صرف محسوس نہیں کیے جاتے‘ کھائے بھی جاتے ہیں۔ کسی گھر میں پراٹھا تلنے کی خوشبو اُٹھ رہی ہوتی ہے‘ کہیں سے آملیٹ کی خوشبو۔ کوئی بزرگ چادر لپیٹے چارپائی پر بیٹھے حقے یا چائے سے اپنی صبح کا آغاز کر رہے ہوتے ہیں۔ حلوہ پوری کی گرم خوشبو کاغذ میں لپٹ کر گھر پہنچتی ہے تو اس کے ساتھ صبح بھی گھر میں داخل ہوتی ہے۔ پائے کی دیگ سے اٹھتی ہوئی بھاپ‘ نہاری کی خوشبو‘ گرم نان کی سوندھ‘ تلوں والے کلچے کی مہک اور ساتھ میں چائے۔ کسی چھوٹے سے ہوٹل پر شیشے کے گلاس میں ڈالی ہوئی کڑک چائے ہو یا گھر کے کپ میں الائچی کی خوشبو لیے دودھ پتی۔ اور چائے... لاہور کی سردی اور چائے کا تعلق شاید کسی لغت میں نہیں ملے گا مگر لاہور کے دل کی لغت یہ صدیوں سے جانتی ہے۔ سردی کی صبح میں چائے محض ایک مشروب نہیں‘ ایک چھوٹی سی پناہ گاہ بن جاتی ہے۔ کپ دونوں ہاتھوں میں تھام کر اس کی گرمی کو محسوس کرنا ایسے ہے جیسے انسان اپنے ہاتھوں میں ایک مختصر سی دھوپ رکھ لے۔ کبھی سوچا ہے؟ کہ چائے کی بھاپ میں بھی ایک عجیب شاعری ہوتی ہے۔ وہ چند لمحوں کے لیے فضا میں اٹھتی ہے‘ کوئی شکل بناتی ہے‘ پھر تحلیل ہو جاتی ہے۔ ہم اسے دیکھتے رہ جاتے ہیں اور وہ ہماری آنکھوں کے سامنے ایک مختصر سی نظم کہہ کر غائب ہو جاتی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_81278520.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>استخارہ اور مشورہ(علامہ ابتسام الہٰی ظہیر )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-09-21/52705/14849097</link><pubDate>Mon, 21 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-09-21/52705/14849097</guid><description>اسلام زندگی کے تمام پہلوئوں کے حوالے سے انسانوں کی کامل رہنمائی کرتا ہے۔ کتاب و سنت میں فرائض‘ سنن‘ حلال اور حرام کو واضح کر دیا گیا ہے۔ انسان کے لیے فرائض کی ادائیگی اور حرام سے اجتناب کرنا نہایت ضروری ہے۔ انسان اپنی زندگی میں بہت سے ایسے کام کرتا ہے جو حقیقت میں جائز ہوتے ہیں لیکن ان کے نتائج کا علم نہیں ہوتا۔ ہر انسان اپنے تجربے کی روشنی میں فیصلہ کرتا ہے تو کئی مرتبہ نتائج مثبت اور کئی مرتبہ منفی نکل آتے ہیں۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ بہت سے لوگ جب عقلمند اور باشعور لوگوں سے مشورہ کرتے ہیں تو ان کے معاملات بہتر ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح بہت سے لوگ اللہ تبارک وتعالیٰ سے استخارہ کے ذریعے خیر کو طلب کر کے کامیاب ہو جاتے ہیں۔ کسی بھی کام کے کرنے کے حوالے سے استخارے اور مشورے کی اہمیت غیر معمولی ہے۔ اس حوالے سے عربی کے ایک خوبصورت قول کا ترجمہ توجہ طلب ہے: &#39;&#39;جس نے استخارہ کیا وہ نامراد نہ ہوا اور جس نے مشورہ کیا وہ پشیمان نہ ہوا‘‘۔ یہ قول بعض کتابوں میں نبیﷺ کی طرف منسوب روایت کے طور پر منقول ہے تاہم محدثین کے نزدیک اس کی سند ثابت نہیں۔ البتہ اس کا مفہوم درست ہے‘ اس لیے کہ استخارہ اور مشورہ دونوں شریعت سے ثابت ہیں۔اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید کے بہت سے مقامات پر مشورے کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الشوریٰ میں اہلِ ایمان کی اچھی صفات میں سے اس صفت کا بھی ذکر کرتے ہیں کہ وہ آپس میں مشورہ کرتے ہیں۔ سورۃ الشوریٰ کی آیات: 37 تا 38 میں ارشاد ہوا: &#39;&#39;اور (وہ) کبیرہ گناہوں سے اور بے حیائیوں سے بچتے ہیں اور غصے کے وقت (بھی) معاف کر دیتے ہیں۔ اور اپنے رب کے فرمان کو قبول کرتے ہیں اور نماز کی پابندی کرتے ہیں اور ان کا (ہر) کام آپس کے مشورے سے ہوتا ہے اور جو ہم نے انہیں دے رکھا ہے اس میں سے (ہمارے نام پر) دیتے ہیں‘‘۔اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید میں نبی کریمﷺ پر اس وحی کا بھی نزول فرمایا کہ وہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے مشورہ کر لیا کریں‘ حالانکہ نبی کریمﷺ کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے جس ذہانت‘ حکمت اور بصیرت سے نواز رکھا تھا‘ وہ جمیع انسانیت میں کسی کے پاس بھی نہیں تھی لیکن آپﷺ پر اس وحی کا نزول کہ &#39;&#39;مشورہ کر لیا کریں‘‘ درحقیقت اس میں امت کیلئے رہنمائی موجود ہے کہ انہیں اپنے معاملات میں مشورہ کر لینا چاہیے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورہِ آل عمران کی آیت: 159 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39; اور کام کا مشورہ ان سے کیا کریں پھر جب آپ کا پختہ ارادہ ہو جائے تو اللہ پر بھروسہ کریں بیشک اللہ توکل کرنے والوں سے محبت کرتا ہے‘‘۔ اس آیت مبارکہ سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ انسان کو مشورہ کرنے کے بعد ہی کوئی فیصلہ کرنا چاہیے اور ایک مرتبہ فیصلہ کرنے کے بعد تذبذب کا شکار ہوئے بغیر اللہ تبارک وتعالیٰ کی ذات پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ نبی کریمﷺ بہت سے امور میں اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے مشورہ کیا کرتے تھے۔ آپﷺ نے غزوۂ بدر‘ غزوۂ احد‘ غزوۂ خندق اور بہت سے دیگر مواقع پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے مشورہ کیا۔مشورے کے حوالے سے اس بات کو بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ مشورہ امانت ہوتا ہے۔ اس حوالے سے سنن ابودائود میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا &#39;&#39;مشورہ دینے والا امین ہوتا ہے‘‘۔ اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جس انسان سے مشورہ لیا جائے اس کو مشورہ دیانتداری کے ساتھ دینا چاہیے اور جس بارے میں مشورہ کیا جائے‘ اسے اپنے تک محدود رکھنا چاہیے۔ صحیح مسلم میں حضرت تمیم داریؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا &#39;&#39;دین خیر خواہی کا نام ہے‘‘۔ ہم نے عرض کیا: کس کیلئے؟ آپﷺ نے فرمایا: اللہ کیلئے‘ اس کی کتاب کیلئے‘ اس کے رسول کیلئے‘ مسلمانوں کے ائمہ کیلئے اور عام مسلمانوں کیلئے‘‘۔ اس حدیث سے یہ بات معلوم ہوتی ہے مسلمان کو ہمیشہ دوسرے مسلمانوں کے ساتھ خیر خواہی والا معاملہ کرنا چاہیے۔ چنانچہ جب کسی سے مشورہ طلب کیا جائے تو اس کو کسی کی غلط رہنمائی کرنے کی بجائے خلوص سے مشورہ دینا چاہیے‘ بالخصوص کاروبار اور نکاح کے حوالے سے اگر انسان کسی سے معاملہ کرنے جا رہا ہو تو مشورہ دینے والے کو متعلقہ شخص کے محاسن اور عیوب سے مشورہ مانگنے والے کو آگاہ کرنا ضروری ہے تاکہ وہ ممکنہ نقصان سے بچ سکے اور متوقع فوائد کو اچھے طریقے سے حاصل کر سکے۔جس طرح مشورے کی انسانی زندگی کے فیصلوں میں بہت واضح اہمیت ہے‘ اسی طرح استخارے کی بھی انسانی زندگی میں فیصلوں کے حوالے سے بہت زیادہ اہمیت ہے۔ اس حوالے سے صحیح بخاری میں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ ہمیں اپنے تمام معاملات میں استخارہ کرنے کی اسی طرح تعلیم دیتے تھے جس طرح قرآن کی کوئی سورت سکھلاتے۔ آپﷺ فرماتے کہ جب کوئی اہم معاملہ تمہارے سامنے ہو تو فرض کے علاوہ دو رکعت (نفل) پڑھنے کے بعد یہ دعا پڑھو: (ترجمہ) &#39;&#39;اے میرے اللہ! میں تجھ سے تیرے علم کی بدولت خیر طلب کرتا ہوں اور تیری قدرت کی بدولت تجھ سے طاقت مانگتا ہوں اور تیرے فضل عظیم کا طلبگار ہوں کہ قدرت تُو ہی رکھتا ہے اور مجھے کوئی قدرت نہیں۔ علم تجھ ہی کو ہے اور میں کچھ نہیں جانتا اور تُو تمام پوشیدہ باتوں کو جاننے والا ہے۔ اے میرے اللہ! اگر تُو جانتا ہے کہ یہ کام جس کیلئے استخارہ کیا جا رہا ہے میرے دین‘ دنیا اور میرے کام کے انجام کے اعتبار سے میرے لیے بہتر ہے (یا آپﷺ نے یہ فرمایا کہ میرے لیے وقتی طور پر اور انجام کے اعتبار سے یہ خیر ہے) تو اسے میرے لیے نصیب کر اور اس کا حصول میرے لیے آسان کر اور پھر اس میں مجھے برکت عطا کر اور اگر تُو جانتا ہے کہ یہ کام میرے دین‘ دنیا اور میرے کام کے انجام کے اعتبار سے بُرا ہے‘ (یا آپﷺ نے یہ فرمایا کہ میرے معاملہ میں وقتی طور پر اور انجام کے اعتبار سے برا ہے) تو اسے مجھ سے ہٹا دے اور مجھے بھی اس سے ہٹا دے۔ پھر میرے لیے خیر مقدر فرما دے‘ جہاں بھی وہ ہو اور اس سے میرے دل کو مطمئن بھی کر دے‘‘۔ آپﷺ نے فرمایا کہ &#39;&#39;ھذا الامر‘‘ (اس کام) کی جگہ اپنے کام کا نام لے۔ اس حدیث سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ1: استخارہ زندگی کے ہر معاملے میں کرنا چاہیے۔ 2: استخارے کی دعا کو نبی کریمﷺ اس طرح سکھلاتے جس طرح قرآن مجید کی آیات کو سکھلایا کرتے تھے۔ 3: استخارہ کرنے کیلئے دو رکعت نفل نماز ادا کرنی چاہیے۔ بعض لوگ استخارہ کیلئے ایسے طریقے اختیار کرتے ہیں جو رسول اللہﷺ کی سنت سے ثابت نہیں۔ استخارے میں ان طریقوں سے بچ کر نبی کریمﷺ کی سنت کی اتباع کرنی چاہیے۔ کتب احادیث سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ انسان کو دوسروں سے استخارہ کرانے کے بجائے اپنے معاملات میں خود استخارہ کرنا چاہیے۔ اگر استخارہ خلوص سے کیا جائے تو اللہ تعالیٰ انسان کے دل کو اس سمت میں مائل کر دیتا ہے جو انسان کیلئے بہتر ہو یا اُس کام میں آسانی پیدا کر دیتا ہے جو انسان کیلئے بہتر ہو۔ استخارے میں خواب کے ذریعے بھی رہنمائی ہو سکتی ہے تاہم خواب استخارہ کیلئے شرط نہیں ہے۔ اگر انسان اپنے معاملات میں استخارہ کرے تو اللہ تبارک وتعالیٰ اس کو خیر عطا فرما دیتے ہیں۔ اگر ہم اپنی زندگی کے معاملات کو مشاورت اور استخارے کے ذریعے انجام دیں تو بہت سی خیر و برکات کے حصول میں کامیاب ہو سکتے اور بہت سے نقصانات سے بچ سکتے ہیں۔مشورہ انسانوں کی رائے جبکہ استخارہ اللہ تعالیٰ سے خیر کو طلب کرنے کا نام ہے۔ دونوں کو یکجا کرنا ایک دوسرے سے متعارض نہیں۔ چنانچہ انسان کو کوئی بھی فیصلہ کرنے سے قبل یہ دونوں کام ضرور کرنے چاہئیں۔ دعا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں خیر والے فیصلے کرنے کی توفیق دے‘ آمین!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_19740082.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>