<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>علاقائی استحکام کا راستہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-30/11589</link><pubDate>Wed, 30 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-30/11589</guid><description>’پاکستان امن، مذاکرات اور پُرامن بقائے باہمی پر یقین رکھتا ہے اور افغانستان کیساتھ باہمی طور پر قابلِ قبول اور دوستانہ حل کیلئے مذاکرات کا حامی ہے‘۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ کا یہ بیان پاک افغان تعلقات کے موجودہ تناظر میں پاکستان کی بنیادی خارجہ پالیسی کا واضح عکاس ہے۔ اسلام آباد میں ’’افغانستان کی صورتحال اور امن کی جانب پیشرفت‘‘ کے موضوع پر ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان خطے میں کسی قسم کے تصادم کا خواہاں نہیں بلکہ مسائل کے حل کیلئے مذاکرات اور باہمی افہام و تفہیم کو پائیدار راستہ سمجھتا ہے۔پاک افغان تعلقات ایک اہم اور حساس مرحلے سے گزر رہے ہیں ایسے میں وزیر اطلاعات کا یہ بیان ہمسایہ ملک کی جانب شاخِ زیتون بڑھانے کے مترادف ہے۔یہ پیغام اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان اختلافات کے باوجود مذاکرات کے دروازے کھلے رکھنے اور خطے کے وسیع تر مفاد میں پُرامن حل کی کوشش جاری رکھنے پر یقین رکھتا ہے۔پاک افغان تعلقات کی تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ کابل کیساتھ خوشگوار تعلقات اور باہمی مسائل کے حل کیلئے سفارتی ذرائع کو ترجیح دی ہے۔ نہ صرف امریکہ کے انخلا کے دوحہ معاہدے میں پاکستان نے اہم کردار ادا کیا بلکہ کابل کی نئی انتظامیہ کیساتھ بھی تعلقات استوار کرنے کی کوشش کی۔

بعد ازاں جو مسائل پیدا ہوئے اور پاکستان کو دہشتگردی کے جس سنگین مسئلے کا سامنا کرنا پڑا‘ اس حوالے سے بھی ہر ممکن حد تک سفارتی روابط سے کام لیا گیا۔ متعدد اعلیٰ سطحی وفود یہاں سے افغانستان گئے مگر عملی طور پر کوئی پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی‘ نتیجتاً بداعتمادی کی خلیج مزید گہری ہوتی چلی گئی۔گزشتہ برس اکتوبر میں جھڑپوں اور بعد ازاں دوحہ اور استنبول مذاکرات میں بھی درپیش باہمی مسائل کا حل نکالنے کی کوشش کی گئی مگر افغان عبوری حکومت پاکستان کے تحفظات پر کسی قسم کی تحریری یقین دہانی سے گریزاں رہی اور اسی غیر سنجیدہ رویے کے سبب دوطرفہ تعلقات تعطل کا شکار ہو گئے۔ یہ ایک بدیہی حقیقت ہے کہ تالی ہمیشہ دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے‘ اگر ایک فریق مسلسل امن کا خواہشمند ہو اور دوسری جانب سے شرپسندی برقرار رہے تو سفارتی کوششیں بارآور نہیں ہو سکتیں۔ بدلتے عالمی منظرنامے میں پورے خطے کے اندر علاقائی امن اور تجارت کے فروغ کی خواہش موجود ہے۔
وسطی ایشیا کی ریاستیں اور خود افغانستان بھی خواہاں ہے کہ اسے سمندر تک رسائی ملے۔ اگر افغانستان پائیدار امن کی یقین دہانی کرائے تو پورے خطے میں معاشی انقلاب برپا ہو سکتا ہے۔ وسطی ایشیا اور کابل سے لے کر کراچی اور گوادر تک ایک منافع بخش تجارتی روٹ قائم ہو سکتا ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ جب تک سکیورٹی کے بنیادی مسائل حل نہیں ہوتے اور سرحدی دراندازی بند نہیں ہوتی‘ اس وقت تک ایسے معاشی اور تجارتی منصوبوں پر عملدرآمد ناممکن ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے افغان عبوری حکومت کو نہایت صائب اور حقیقت پسندانہ حل کی جانب متوجہ کیاہے کہ پائیدار امن اور ترقی کیلئے افغانستان کو عسکریت پسندانہ ذہنیت سے باہر نکلنا ہوگا۔ افغان حکومت گزشتہ پانچ برس کے دوران انتہا پسندی اور عالمی تنہائی کے نتائج دیکھ چکی‘ دنیا سے کٹ کر‘ انتہا پسند گروہوں کو پناہ دے کر اور بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی کر کے کوئی بھی ملک معاشی طور پر مستحکم نہیں ہو سکتا۔
پاکستان آج بھی افغانستان کیساتھ بیٹھنے اور تصفیہ طلب امور پر بات چیت کرنے کیلئے تیار ہے مگر اس کیلئے افغان قیادت کو شدت پسندانہ ذہنیت کو ترک کرنا اور اپنی سر زمین کو پاکستان کیخلاف استعمال ہونے سے روکنا ہو گا۔پاکستان کی یہ مخلصانہ پیشکش کابل حکومت سے سنجیدگی کا تقاضا کرتی ہے۔ ایشیا کے جنوبی اور وسطی حصوں کو جوڑنے اور روشن و خوشحال مستقبل کا یہی واحد راستہ ہے۔ بصورتِ دیگر بداعتمادی اور انتہا پسندی پورے خطے کو مزید بدامنی کی طرف دھکیلتی رہے گی۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پولیو کی صورتحال(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-30/11588</link><pubDate>Wed, 30 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-30/11588</guid><description>پاکستان انسدادِ پولیو پروگرام کی طرف سے خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں سے نئے پولیو کیس کی تصدیق کی گئی ہے‘ جس کے بعد رواں سال اب تک ملک بھر سے مجموعی طور پر رپورٹ شدہ پولیو کیسز کی تعداد پانچ ہو گئی ہے۔ان پانچ میں سے تین پولیو کیسزضلع بنوں سے رپورٹ ہوئے ہیں۔رواں سال رپورٹ ہونے والے نئے پولیو کیسز کے بعد نہ صرف پولیو فری پاکستان کی منزل ایک مرتبہ پھر نظروں سے اوجھل ہو تی محسوس ہوتی ہے بلکہ یہ کیس پولیو کے حوالے سے ہائی ویلیو ٹارگٹڈ ایریاز کی بھی نشاندہی کرتے ہیں۔ انسدادِ پولیو پروگرام کے مطابق بنوں خیبرپختونخوا کے پولیو کے سب سے زیادہ سے متاثرہ سات جنوبی اضلاع میں شامل ہے۔ گزشتہ برس بھی ان اضلاع سے 17پولیو کیس رپورٹ ہوئے تھے۔ ملک سے پولیو کے خاتمے کا طے شدہ ہدف حاصل کرنے کیلئے متعلقہ حکام کو ان اضلاع پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔

پاکستان تین دہائیوں سے پولیو کے خلاف لڑ رہا ہے مگر باقاعدگی سے پولیو مہمات کے باوجود اگر وطنِ عزیز پولیو سے پاک نہیں ہو سکا تو ان اسباب کو جاننے کی ضرورت ہے جن کی وجہ سے ابھی تک ملک سے پولیو وائرس کا خاتمہ نہیں ہو سکا۔ ایمرجنسی آپریشن سنٹر بلوچستان اور قومی ادارۂ صحت بچوں کی پولیو ویکسی نیشن میں ہونے والی کوتاہیوں کو اس کی بڑی وجہ قرار دے چکے ہیں۔ لہٰذا حکام کو ماضی کی غلطیوں سے سیکھتے ہوئے پولیو ویکسی نیشن کو مزید بہتر بنانا چاہیے۔ ہر بچے کو پولیو ویکسین دیے بغیر ملک پولیو فری نہیں ہو سکتا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>زیر زمین پانی کی قلت(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-30/11587</link><pubDate>Wed, 30 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-30/11587</guid><description>ایک آبی تحقیقاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ آٹھ برس کے دوران ملک میں زیر زمین پانی کی مقدار میں تقریباً چھ فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پنجاب میں تقریباً 23فیصد اور خیبر پختونخوا میں تقریباً 33 فیصد رقبے کے نیچے پانی کی بوند تک نہیں بچی اور اگر اب بھی ضروری اقدامات نہ کیے گئے تو پنجاب کے تقریباً 36فیصد اور خیبرپختونخوا کے 42فیصد مزید رقبے سے زیر زمین پانی جلد ختم ہونے کا خدشہ ہے۔یہ رپورٹ متعلقہ حکام اور عوام دونوں کیلئے ہوشربا ہونی چاہیے۔ ملک میں زیر زمین پانی کا سب سے زیادہ استعمال زراعت میں ہوتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق آبپاشی کے ناقص نظام اور شہری علاقوں میں پانی کے بے دریغ استعمال کی وجہ سے ملک کا 60 فیصد پانی ضائع ہو رہا ہے۔

ہمارا یہ طرزِ عمل آنیوالے وقت میں پانی کے خوفناک بحران کا باعث بن سکتا ہے۔ اس ممکنہ بحران سے بچنے کیلئے آبپاشی کے روایتی طریقہ کار کو ترک کرکے ڈرپ ایری گیشن جیسا جدید طریقہ اپنانا ہو گا۔ اسی طرح گھروں میں بھی پانی کی ایک ایک بوند کو سوچ سمجھ کر استعمال کرنا ہوگا۔ایک رپورٹ کے مطابق اگر ہر سال ہونے والی بارش کا 25فیصد پانی بھی ریجارج ایبل کنوؤں کے ذریعے زمین میں بھیج دیا جائے تو زیر زمین پانی کی سطح نمایاں طور پر بہتر ہو سکتی ہے‘ حکومت کو اس جانب بھی توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>اب سیر سپاٹے کو جی چاہتا ہے(ایاز امیر)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-09-30/52754/39237443</link><pubDate>Wed, 30 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-09-30/52754/39237443</guid><description>دو چیزوں میں دلچسپی تھی ایک سیاست‘ وہ بھی پرانی طرز کی اور دوسری صحافت جس قسم کی ہم جوانی میں آئے تو دیکھا کرتے تھے۔ اس سنہری دور میں ان دونوں برکات کا وہ حشر ہوا ہے کہ پیچھے کچھ نہیں رہا۔ نہ مزہ اب سیاست میں‘ اور صحافت کا ذکر نہ ہی کیا جائے تو بہتر ہے۔ اتنی زندگی گزارنے کے بعد کوئی نئے کرتب سیکھنے سے تو ہم رہے۔ اس لیے عادتاً ہر صبح اخبارات کا مطالعہ ضرور ہوتا ہے لیکن اُن میں کوئی انداز چٹ پٹا رہا نہیں۔ اور جہاں تک سیاست کا تعلق ہے جو چہرے نظر آتے ہیں اُنہیں دیکھ کر ذہن پر تھکاوٹ سی چھا جاتی ہے۔ پھر یہی سوچ آتی ہے کہ نکلا جائے‘ اچھے مقامات کی سیر ہو جائے‘ کچھ شغل میلے کا چسکا ہو جائے۔ ایک زمانہ تھا کہ پاکستان کے انگریزی اخبارات میں فلور شوز کے اشتہار چھپتے تھے کہ فلاں محترمہ فلیٹیز لاہور یا کراچی کے کسی ہوٹل میں پرفارم کرنے بیروت‘ بنکاک یا منیلا سے آ رہی ہیں۔ اب اشتہارات رہ گئے ہیں (ن) لیگ کی ترقی کے کاموں کے یا رہائشی سکیموں کے۔ ان میں شغل میلے کا نکتہ کون سا نکلتا ہے؟مدت ہوئی کہ وعظ و نصیحت کی باتوں سے چڑ ہونے لگی۔ ملک کا مستقبل کیا ہو گا‘ آئندہ کیا ہونا چاہیے‘ ایسی باتوں میں کوئی دلچسپی نہیں رہی۔ اور تو کچھ سیکھا نہیں لیکن جو زندگی گزری ہے اُس سے یہ جانا کہ یہاں حالات ایسے ہی رہنے ہیں اور مسلمانوں کا مجموعی حال بھی وہی رہے گا جو کہ آج کل کی جنگوں کے تناظر میں نظر آتا ہے۔ جسے ترقی کہتے ہیں اُس کی تقسیم جب ہوئی تو لگتا یہی ہے کہ آسمانوں کا فیصلہ تھا کہ ترقی دوسری اقوام کے حصے میں آئے۔ برادر ممالک کو تیل اور گیس کے ذخائر ضرور عطا ہوئے لیکن حالیہ واقعات نے بتا دیا ہے کہ صرف تیل ہو‘ بغیر کسی دیگر ہنر کے تو خواری مقدر کا حصہ رہتی ہے۔ تیل اور گیس اتنے ہی بڑے ہتھیار ہوتے تو برادر ممالک کا حال یہ نہ ہوتا۔ جہاں تک ہم ہیں‘ حالت یہاں اور بھی پتلی ہے‘ نہ کوئی صلاحیت نہ کوئی تیل کے ذخائر۔ اس لیے مارے مارے پھرتے ہیں۔ گو اتنا اعزاز تو ہمارا ہے کہ کہیں دور کا نکتہ کھینچ کے فخریہ انداز میں کہتے ہیں کہ اور کچھ نہیں ہمارا پروفائل تو اونچا ہو گیا ہے۔ حیرانی ہے کہ کسی چوراہے پر اس پروفائل کا ابھی تک کوئی مجسمہ تعمیر نہیں ہوا۔سیر سپاٹے کے زمرے میں ایک خیال تو آتا ہے کہ جہاں ایرانی حملوں کے نتیجے میں دبئی کے ساتھ اچھا نہیں ہوا کیا پتا ثقافتی مشاغل کے نرخ نیچے آ گئے ہوں۔ بڑے ہوٹلوں کا تو معلوم ہے کہ ویرانی چھائی ہوئی ہے لیکن ان بڑے ہوٹلوں میں ثقافتی مشاغل تو عروج پر ہوا کرتے تھے۔ اُن کا کیا بنا‘ اہلِ ثقافت وہیں ہیں یا کوچ کر گئے؟ ثقافت کے میدان کے حوالے سے بہت بڑی ہجرت لاہور سے دبئی ہوئی تھی۔ کوئی واپس کی ہجرت بھی ہو رہی ہے یا ثقافت کے علمبرداروں نے اپنے خیمے وہیں لگا رکھے ہیں؟ لاہور کی معیشت کا یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ اس میں بہتری تب ہی آئے جب ہندوستان کا بارڈر کھلے اور وہاں سے لوگ آنے لگیں اور پرانی رونقیں بحال ہوں‘ کچھ چہل پہل پھر سے شروع ہو جائے۔اگلے روز نیٹ پھرولتے ہندوستانی پنجاب کی شادیوں کے بارے میں کچھ جاننا چاہا۔ کیا شغل اُن میں ہوتا ہے اور کیسا کیسا شغل کا سامان۔ ان نیک کاموں میں خواتین بھی برابر کی شریک۔ ظاہر ہے اونچی دیواروں کے پیچھے شادی بیاہ کی تقریبات میں ایسا شغل میلہ یہاں بھی چلتا ہو گا لیکن بھاری جیبوں والوں پر یہ بات صادق آتی ہے۔ عام شادیوں میں بے ہنگم خرچے کے باوجود ایک اُداسی چھائی ہوتی ہے۔ اس حوالے سے ہم چھوٹے شہر والوں کا حال تو کچھ رہتا ہی نہیں‘ ایک طرف مرد اور خواتین کہیں گہرے پردوں کے پیچھے۔ بس کھانے کا انتظار ہوتا ہے اور پھر سماں کچھ یوں بندھتا ہے جیسے کوئی تاتاری فوج کی اچانک آمد ہو۔ جا کے دیکھ لیجئے انٹرنیٹ پر کہ بارڈر کے اُس پار شادیاں کس انداز سے ہوتی ہیں۔ عام سے لوگ بھی خوب مستی میں ہوتے ہیں۔ ہم جو کم از کم سیدھی راہ پر چلنے کا شائبہ دیتے ہیں‘ ہمارے نصیبوں میں بوریت کچھ زیادہ ہی لکھی گئی ہے۔ پر زیادہ رونا نہیں چاہیے۔ فضول قدغنوں کے باوجود مملکتِ اسلامیہ کے اپنے مزے ہیں۔ اخبارات کے حوالے سے پڑھا کچھ زیادہ تو نہیں جاتا لیکن چند لیڈر اور وزیر ضرور ہیں جن کی تصویریں دیکھتے ہی ہنسی چھوٹ جاتی ہے۔ نام کیا لینا پر کئی عدد ایسے فنکار وزرا ہیں۔ شاید کسی ایسے صاحب کے بارے میں ہی حضرت نعیم بخاری نے کہا تھا کہ اسلامی جمہوریہ میں میرٹ پر کام چلتا تو یہ وزیر لاہور ریلوے سٹیشن کے باہر سانڈے کا تیل بیچ رہے ہوتے۔ فارم 47 کا ذکر ایک تو کہانیوں کی زینت ہے لیکن ہم اُن کرشمات کے عینی شاہد ہیں۔ فارم 47کا ہم نے محض سنا نہیں‘ ہم پہ فارم 47 گزرا ہے۔ پھر جب اس کیفیت سے پیدا ہونے والے حکمرانی کے سپوتوں کو دیکھتے ہیں تو خدا کی بے نیازی کا یقین ہو جاتا ہے۔اور پھر اَللے تللے‘ آنیاں جانیاں‘ نہ ختم ہونے والے بیرونی دورے۔ سیلوٹ کرنا پڑتا ہے محترم وزیراعظم کو‘ 14 ستمبر کو نیویارک کیلئے نکلے تھے اور اب کہیں واپس آئے ہیں۔ نیویارک سے پہلے دو تین روزہ لندن میں قیام‘ نیویارک سے واپسی پر لندن میں پھر اتنا ہی قیام۔ اتنی تھکاوٹ کے بعد آرام تو درکار ہوتا ہے۔ بس موجیں لگی ہوئی ہیں۔ اور اگر آگ کے دریا بہہ رہے ہیں مغربی صوبوں میں تو مملکتوں کے معاملات میں ایسا ہوتا ہے۔ زمینی حالات کیا ہیں اور اندازِ حکمرانی یہاں کیسے چل رہی ہے ان دونوں عوامل میں فرق نرالا ہے۔ لگتا ہے بیک وقت دو متضاد کیفیتیں وطنِ عزیز میں کارفرما ہیں۔ ایک جو گولیوں اور بارود کی گھن گرج میں مغربی صوبوں میں جو حالت ہے اور دوسری جو کیفیت یہاں اعلیٰ سیاست کی ہے۔ مولا کے رنگ ہیں۔اس لیے کب سے کہہ رہے ہیں چھوڑیں ان جھمیلوں کو۔ یہاں ایسا ہی چلنا ہے۔ اپنی خیریت کو دیکھیں‘ بس جیب میں چند سکوں کی گنجائش ہو۔ دال ساگ کا بندوبست ہو جائے اس سے زیادہ نہیں۔ بھادوں کا مہینہ بیت چکا‘ اَسوج کے پہلے ایام ہیں‘ شامیں اچھی ہو رہی ہیں۔ خوش قسمت ہیں وہ لوگ جن کی ان حالات میں بھی لوازماتِ شب تک رسائی ممکن ہے۔ آسمان بھی کیسے مہربان ہے ایسے لوگوں پر کہ وحشت کا سماں ہر اطراف بندھا ہو اور تسکینِ قلب کا ذریعہ ہاتھ آئے۔ نہیں تو طالبان کے افغانستان کا حال یہاں ہوتا تو عاشقانِ نامراد کہاں جاتے۔ کس دیوار میں سر مارتے۔ لہٰذا جو ہے جتنا بھی ہے اُس کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ ناکوں اور پولیس کی کارستانیوں کے باوجود جو کچھ ہے غنیمت سمجھیں۔اس دھرتی کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ہمیشہ ایسی نہ تھی جیسے اب نظر آتی ہے۔ مرحوم مولانا کوثر نیازی کہا کرتے تھے کہ یہ گناہگار مسلمانوں کی سرزمین ہے۔ مذہب سے لگاؤ آخری حدوں تک موجود ہے لیکن روزمرہ کی زندگی میں لغزش اور تھوڑی سی بے راہ روی کی گنجائش رکھنا‘ تاریخی طور پر اس معاشرے کا منفرد پہلو رہا ہے۔ ضیاالحق جیسے لوگوں نے اس خصوصیت کو مٹانا چاہا لیکن اس معاشرے کا اصل رنگ وہی ہے جو آٹھ سو سال سے چلا آ رہا ہے۔ جو کلچر یہاں کا بنا مغلوں کے دور میں اپنے عروج کو پہنچا۔ ہم اُس کلچر کی پیداوار ہیں۔ کیا ہم پر زور زبردستی کے نظریات یہاں ٹھونسنے کی کوشش کی گئی ہے۔ کچھ یہاں کے تاریخی مزاج کو تو جانیے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_80573045.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>1971ء سے 2026ء تک(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-09-30/52755/40194553</link><pubDate>Wed, 30 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-09-30/52755/40194553</guid><description>کچھ دن پہلے موجودہ سیاسی حالات پر پیپلز پارٹی کی سینیٹر پلوشہ خان صاحبہ سے بات ہو رہی تھی‘ انہوں نے دریا کو کوزے میں بند کر دیا۔ کہنے لگیں: جس طرح کے حالات ہم سب نے پیدا کر دیے ہیں اس کا نتیجہ کبھی اچھا نہیں نکلتا۔ نہ ماضی میں نکلا ہے نہ اب نکلے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے ہم بڑی محنت سے حالات کو ایسے مقام تک لے جاتے ہیں اور جب سب کچھ لپیٹ دیا جاتا ہے تو ہمیں جمہوریت یاد آنا شروع ہو جاتی ہے اور وہی پارٹیاں جو ایک دوسرے کی گردن مارنے پر تلی ہوتی ہیں اور جن کی وجہ سے جمہوریت لپیٹی جاتی ہے‘ ایک دوسرے سے مل کر جمہوریت بحالی کیلئے الائنس بنا کر جدوجہد شروع کر دیتی ہیں۔ جب برسوں کی تکالیف کے بعد جمہوریت بحال ہو جائے تو پھر وہی دنگل شروع ہو جاتا ہے اور کل کے اتحادی دوبارہ ایک دوسرے کو مرنے مارنے پر اتر آئیں گے اور پھر وہی کھیل کہ تخت الٹے گا اور پھر سب دیرینہ دشمن مل کر جمہوریت بحالی پروجیکٹ پر لگ جائیں گے۔ یہ دائرے کا وہ سفر ہے جو پچھلی کئی دہائیوں سے جاری ہے۔ دیکھا جائے تو پلوشہ صاحبہ نے موجودہ اور ماضی کی پوری سیاست اور سیاستدانوں کا پوسٹ مارٹم کر دیا ہے۔ اگرچہ ہم کہتے ہیں کہ موجودہ سیاست اور سیاستدانوں نے ملک کا یہ حشر کر دیا ہے لیکن دیکھا جائے تو بھٹو دور سے یہی کچھ چل رہا ہے۔ خود بھٹو صاحب کا اپنا دور دیکھیں تو اُس وقت بھی اپوزیشن حکومت کو نہیں چلنے دے رہی تھی۔ بلوچستان اور سرحد میں حکومتیں توڑ کر وہاں بھٹو صاحب نے گورنر راج لگا دیا تھا اور بلوچستان کے وزیراعلیٰ عطا اللہ مینگل مری جیل میں ڈال دیے گئے تھے۔ پھر وہی اپوزیشن والے اُس وقت فوج کو بھٹو حکومت کیخلاف خط لکھ رہے تھے۔ اپوزیشن پارٹیوں نے پورا ملک ہڑتالوں اور احتجاج سے جام کر دیا تھا۔نو ستاروں کا الائنس بنا‘ گولیاں چلیں‘ لوگ مارے گئے اور پھر مارشل لاء لگ گیا۔ بھٹو صاحب کا تختہ الٹ گیا‘ وہ گرفتار ہو گئے اور پھر پھانسی چڑھ گئے۔ کچھ عرصے کے بعد وہی سیاستدان جو بھٹو کیخلاف تحریک چلا رہے تھے اور انہیں پھانسی گھاٹ تک لے گئے‘ وہ بینظیر بھٹو اور نصرت بھٹو کے ساتھ مل کر اُسی جنرل ضیا سے جمہوریت کی بحالی مانگ رہے تھے‘ جسے کبھی انہوں نے خط لکھ کر مداخلت کی دعوت دی تھا۔ بینظیر بھٹو تو بعد میں اصغر خان کے ساتھ بھی جمہوری الائنس میں رہیں جن پر الزام تھا کہ بھٹو کے خلاف انہوں نے فوج کو خط لکھا تھا۔ویسے دیکھا جائے تو سیاسی مخالفین کیلئے گنجائش بھٹو نے بھی نہیں چھوڑی تھی اور اپوزیشن کے ساتھ جو بدترین سلوک کیا گیا وہ اپنی جگہ بہت افسوسناک تھا۔ بھٹو صاحب پڑھے لکھے انسان تھے۔ انہیں علم ہونا چاہیے تھا کہ جمہوریت اپوزیشن کے بغیر کمزور رہے گی اور وہ اس کھائی میں خود بھی گریں گے۔ اگر اپوزیشن کو ہی ختم کر دیا تو حکومت کو بھی ختم کرنا آسان ہو گا۔ آپ جمہوریت میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کے سیاسی مفاد شامل کرتے ہیں تاکہ سب کو جمہوریت میں اپنے فوائد نظر آئیں اور وہ خود آگے بڑھ کر اس سسٹم کی حفاظت کریں۔ میاں عامر محمود صاحب صوبوں کے حوالے سے ایک دن یہی بات کر رہے تھے کہ ہمارے سیاستدانوں نے تمام تر طاقت اپنے اور اپنے خاندانوں کے ہاتھوں میں رکھ کر جمہوری سسٹم کو کمزور کیا۔ سوچیں اگر ملک میں طاقتور ضلعی حکومتیں کام کر رہی ہوتیں تو لاکھوں لوگ اس سسٹم سے وابستہ ہوتے اور وہ سب اس کے تحفظ کیلئے کھڑے ہو جاتے‘ جیسے دس سال پہلے ترکی میں ہوا ‘ جہاں فوجی بغاوت کو ناکام بنانے کیلئے لوگ سڑکوں پر آ گئے۔ وجہ یہ ہے کہ وہاں میئر اور لوکل حکومتوں نے ڈِلیور کیا اور لوگوں کو وہ سسٹم اپنا لگتا تھا۔ ہمارے ہاں آپ نے چار صوبائی حکومتیں برطرف کرنی ہیں‘ چار وزرائے اعلیٰ کو گھر بھیجنا ہے‘ وزیراعظم کو پی ایم ہائوس میں چند دن قید رکھنا ہے‘ اور ہو گیا ٹیک اوور۔ اگر لوکل گورنمنٹ سسٹم میں لاکھوں لوگ شریک ہوں تو پھر سیاسی طور پر کسی معاشرے کو ہائی جیک کرنا آسان نہیں ہوتا۔بینظیر بھٹو اور نواز شریف کے مابین 1988ء سے 1999ء تک سیاسی دشمنی چلی۔ دونوں نے ایک دوسرے کو گرانے اور جیلوں میں ڈالنے کا سلسلہ شروع کیا اور جب مارشل لاء لگا تو بینظیر بھٹو پرویز مشرف کو پیغام بھیج رہی تھیں کہ وہ ان سے بات چیت کیلئے تیار ہیں۔ تاریخ خود کو دہرا رہی تھی۔ جیسے بھٹو صاحب نے اپنے سیاسی مخالفین کا جینا حرام کر دیا تھا اور وہ جنرل ضیا کی چھتری تلے پناہ لینے پر راضی ہو گئے‘ اسی طرح نواز شریف نے بینظیر بھٹو پر اتنے مقدمات بنائے کہ وہ پاکستان چھوڑنے اور مشرف کے مارشل لاء کے بعد اُن سے بات چیت اور تعاون کیلئے آمادہ ہو گئیں۔ جیسے ذوالفقار علی بھٹو کے مخالفین کو بعد میں احساس ہوا اور اس احساس نے انہیں جنرل ضیا سے دور کیااور انہوں نے ایم آر ڈی بنا کر پیپلز پارٹی سے الائنس کر لیا‘ اس طرح بینظیر بھٹو کو بھی دو سال کے بعد احساس ہوا کہ ان کی نواز شریف سے لڑائی کا فائدہ مشرف اور ان کے حواریوں کو ہوا ہے۔ اس کے بعد وہ دونوں سیاستدان جمہوریت کی بحالی کیلئے اکٹھے ہو گئے‘ جو کبھی ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے۔ دونوں نے 2006ء میں لندن میں میثاقِ جمہوریت پر دستخط کیے اور ماضی سے سبق سیکھنے کا اعلان کیا۔بینظیر بھٹو کے بعد پیپلز پارٹی نے نواز شریف کیساتھ مل کر حکومت بنائی اور مشرف سے چھٹکارا پایا۔ مگر جونہی مشرف منظر سے ہٹے‘ نواز شریف اور آصف زرداری کا وہی پرانا کھیل دوبارہ شروع ہو گیا۔ شہباز شریف اور چودھری نثار علی خان کی جنرل کیانی اور جنرل پاشا سے خفیہ ملاقاتیں شروع ہو گئیں۔ ساتھ ہی میمو گیٹ اور پھر میثاقِ جمہوریت سائن کرنے والے نواز شریف اور شہباز شریف کالا کوٹ پہن کر چیف جسٹس افتخار چودھری کے عدالت میں پیپلز پارٹی حکومت کو غدار ڈکلیئر کرانے کیلئے دلائل دے رہے تھے۔ اس دوران میں عمران خان ابھرے‘ یا انہیں ابھارا گیا کہ پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ دوبارہ پرانے کام پر لگ گئی ہیں لہٰذا اب تیسری قوت درکار ہے۔ میں 2007ء کی لندن کی اُس پریس کانفرنس میں موجود تھا جو عمران خان نے نواز شریف کیساتھ ان کے دفتر میں کی تھی۔ وہ نواز شریف سے ملنے لندن گئے تھے کہ میاں صاحب وطن واپس آئیں اور ہم مل کر مشرف کیخلاف تحریک چلاتے ہیں۔ عمران خان جو نواز شریف کی برطرفی اور جیل جانے پر مشرف کا کھل کر ساتھ دے رہے تھے‘ آج وہ اسی نواز شریف کو پاکستان بلانے آئے تھے کہ مل کر جمہوریت بحال کراتے ہیں۔ نواز شریف نے بھی‘ بھٹو کی طرح اپنے دور میں سیاسی مخالفین کا جینا حرام کیا ہوا تھا۔ بینظیر اور پیپلز پارٹی کے علاوہ عمران خان کی ساس پر بھی ٹائلوں کی سمگلنگ کا الزام لگا کر ایف آئی آر کٹوا دی تھی۔ جمہوریت بحال ہوئی تو (ن) لیگ کی حکومت میں 2014ء میں عمران خان اسلام آباد دھرنے کیلئے پہنچ گئے۔ یہ سب دیکھ کر نواز شریف اور زرداری پھر سے اکٹھے ہو گئے اور الائنس بنا لیا۔ وہی پرانا سکرپٹ اور وہی پرانے کھلاڑی‘ بس اب کی دفعہ نئی انٹری عمران خان کی تھی۔ عمران خان جب وزیراعظم بنے تو انہوں نے بھی بھٹو اور نواز شریف والا روٹ لیا اور پوری اپوزیشن کو جیل میں ڈال دیا۔ اُس وقت مولانا فضل الرحمن عمران خان کی حکومت گرانے میں پیش پیش تھے۔ کوئٹہ سے لانگ مارچ لے کر چلے‘ تحریک عدم اعتماد سے خان کی حکومت گرائی اور پی ڈی ایم حکومت میں اپنی پارٹی کے لوگ وزیر بنوائے۔ آصف زرداری اور شہباز شریف‘ جو کل عمران خان حکومت میں قید میں تھے‘ آج انکی حکومت میں عمران خان جیل میں ہیں اور وہی مولانا فضل الرحمن جنہوں نے خان کی حکومت گرانے میں اہم کردار ادا کیا تھا‘ وہ تحریک انصاف کیساتھ الائنس کر کے عمران خان کو رہا کرانے کی کوششوں میں لگے ہیں۔ یہ ہے 1971ء سے 2026ء تک کی ہماری سیاست اور ہمارے سیاستدان‘ جنہوں نے اس قوم کے اندر اپنے اپنے حصے کے بیوقوف (سوری فالوورز) ڈھونڈ رکھے ہیں‘ جو دن رات ان سب کیلئے روتے رہتے ہیں۔ </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>راولپنڈی کا ریلوے سٹیشن: ایک قدیم رومانس …(3)(شاہد صدیقی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-siddiqui/2026-09-30/52756/33849104</link><pubDate>Wed, 30 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-siddiqui/2026-09-30/52756/33849104</guid><description> باہر زوروں کا مینہ برس رہا تھا اور میں راولپنڈی کے ریلوے سٹیشن کے ویٹنگ روم میں بیٹھا ریل گاڑی سے جڑی یادوں کے سحر میں کھویا ہوا تھا۔ تب مجھے &#39;&#39;شعلے‘‘ فلم یاد آگئی۔ جس نے بالی وُڈ کی فلموں کا رخ بدل دیا تھا۔ یہ اردو کے معروف شاعر جاں نثار اختر کے بیٹے جاوید اختر اور سلیم خان کی لکھی ہوئی کہانی تھی۔ شعلے فلم کا آغاز ایک ٹرین کے سفر سے ہوتا ہے جس پر ڈاکو حملہ کردیتے ہیں۔ اس ٹرین میں دو قیدی بھی سفر کر رہے ہوتے ہیں جن کی نگرانی پر مامور پولیس افسر اُن کی ہتھکڑیاں اس شرط پر کھول دیتا ہے کہ وہ ڈاکوؤں سے مقابلہ کریں گے اور فرار نہیں ہوں گے۔ دونوں قیدی ڈاکوؤں سے دیوانہ وار لڑتے ہیں حتیٰ کہ حملہ آور پسپا ہو جاتے ہیں۔ اس دوران قیدی چاہتے تو بھاگ بھی سکتے تھے لیکن دونوں نے پولیس افسرسے کیے گئے وعدے کا پاس رکھا اور واپس اسی ڈبے میں آکر اپنی سیٹ پر بیٹھ گئے۔&#39;&#39;چنائی ایکسپریس ‘‘فلم کا تو نام ہی ایک ٹرین کے نام پر تھا۔ اس فلم کا بڑا حصہ ٹرین کے سفر پر مشتمل تھا۔ ہالی وڈ کی کئی فلموں کی کہانیوں میں ٹرین ایک مرکزی کردار ہے۔ پھر مجھے وہ دن یاد آ یا جب میں نے راولپنڈی کے سیروز سینما میں Von Ryan&#39;s Expressفلم دیکھی تھی۔ فلم کا آخری سین مجھے ابھی تک ہانٹ کرتا ہے۔  ریل‘ ریل کی پٹری اور ریلوے سٹیشن تو اردو میں استعارے بن گئے ہیں۔ امجد اسلام امجد کے اس شعر میں ریل کے سفر کے تجربے کو کس خوبصورتی سے خیال کی تفہیم کیلئے استعمال کیا گیا ہے: جیسے ریل کی ہر کھڑکی کی اپنی اپنی دنیا ہے؍ کچھ منظر تو بن نہیں پاتے کچھ پیچھے رہ جاتے ہیں امجد اسلام امجد ہی کے ان اشعار میں ریل زندگی کا استعارہ بن کر ابھرتی ہے: ٭تھے خواب ایک ہمارے بھی اور تمہارے بھی؍ پر اپنا کھیل دکھاتے رہے ستارے بھی٭ پہ جیسے ریل میں دو اجنبی مسافر ہوں؍ سفر میں ساتھ رہے یوں تو ہم تمہارے بھی ریل اور ریل کی پٹری میں ایک عجیب پُراسرار کشش ہے۔راولپنڈی کے ریلوے سٹیشن کے ویٹنگ روم میں بیٹھے مجھے اردو کے جواں مرگ شاعر شکیب جلالی کا خیال آرہا ہے۔ کیا البیلا شاعر تھا۔تازہ خیال‘ جدید ڈکشن‘ منفرد تشبیہات اور استعارے۔ اسکی موت کے بعد احمد ندیم قاسمی نے اسکی شاعری کی کتاب&#39;&#39;روشنی اے روشنی‘‘ شائع کی۔ کہتے ہیں شکیب جلالی کی زندگی معاشی مجبوریوں سے بہت مشکل ہو گئی تھی‘ اتنی مشکل کہ ایک دن اس نے موت کو گلے لگانے کا فیصلہ کر لیا۔ موت کا طریقہ اسکے ذہن میں واضح تھا۔ شکیب کے ایک شعر میں آئندہ کے منظر کی جھلک دیکھی جا سکتی ہے۔ فصیلِ جسم پہ تازہ لہو کے چھینٹے ہیں؍ حدودِ وقت سے آگے نکل گیا ہے کوئی شکیب نے جب موت کا گلے لگانے کا فیصلہ کیا تو اس کی عمر محض 33 برس تھی۔ یہ 1966ء کا سال تھا جب سرگودھا کے ریلوے سٹیشن پر شکیب جلا لی چیختی چلاتی ٹرین کے سامنے آگیا اور حدود ِ وقت سے آگے نکل گیا۔  پھر مجھے سارہ شگفتہ کا خیال آیا‘ جدید نظم کی منفرد شاعرہ جسکے شعری مجموعے &#39;&#39;آنکھیں‘‘میں اس کے تخلیقی جوہر کھلتے ہیں۔ نئے موضوعات اور اچھوتا اندازِبیاں۔ سارہ شگفتہ کی اپنی زندگی بھی کسی افسانے سے کم نہیں تھی۔ یہ 1986ء کا سال تھا جب منفرد لہجے کی اس خوبصورت شاعرہ نے ٹرین کے سامنے ا ٓکر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا ۔اُس وقت اُس کی عمر صرف 30 برس تھی۔تب مجھے اردو کے ایک اور جواں مرگ شاعر آنس معین کا خیال آیا۔ اُن دنوں میں راولپنڈی کے گورڈن کالج میں پڑھتا تھا اور ہم دوست کلاسز کے بعد زمزم ہوٹل پہ بیٹھا کرتے تھے۔وہیں میں آنس کی شاعری سے پہلی بار متعارف ہوا۔ اس کی کے اسلوب کا بانکپن سب سے جدا تھا:انجام کو پہنچوں گا میں انجام سے پہلےخود میری کہانی بھی سنائے گا کوئی اور یہ 1986ء کا سال تھا جب 27 سالہ آنس معین نے ریل کی پٹری پر ٹرین کے سامنے ا ٓکر موت کو گلے لگا لیا۔ اور پھر ثروت حسین جس کے بغیر اردو غزل کی تاریخ مکمل نہیں ہوتی۔ ثروت کو بھی ریل کی پٹری میں ایک عجیب سی کشش نظر آئی‘ اتنی کشش کہ موت زندگی سے حسین نظر آنے لگی۔ ثروت حسین کے ایک شعر میں آنے والے واقعات کی چاپ صاف سنائی دیتی ہے۔ موت کے درندے میں اک کشش تو ہے ثروت  لوگ کچھ بھی کہتے ہوں خودکشی کے بارے میں یہ 1993ء کی بات ہے جب ثروت کراچی سے حیدرآباد جانے کیلئے ریلوے سٹیشن پر کھڑا تھا۔ جونہی شالیمار ایکسپریس آئی پتا نہیں اس کے جی میں کیا آیا کہ وہ ٹرین کے سامنے آ گیا۔ آخری وقت میں لوگوں نے اسے پٹری سے دوسری طرف کھینچ لیا۔ ثروت کی جان تو بچ گئی لیکن اس کے پاؤں ٹرین کے نیچے آ کر کچلے گئے۔ موت کے درندے کی کشش اس کے رگ و پے میں سما گئی تھی۔ تین سال بعد پھر ستمبر کا مہینہ آیا اور ثروت حسین ایک بار پھر کراچی سے کوئٹہ جانے والی بولان میل کے سامنے آگیا۔ اس بار کوئی اسے نہ بچا سکا۔ موت کے درندے کی کشش کا اسیر اجل کی وادی میں اتر گیا۔ ثروت حسین کی کہانی کی تفصیل ڈاکٹر عدنان بشیر کی ثروت پر لکھی کتاب میں ملتی ہے۔ راولپنڈی کے ریلوے سٹیشن کے ویٹنگ روم میں بیٹھے بیٹھے مجھے جھر جھری سی آگئی‘ میرے سامنے میز پر چائے تھی اور باہر زوروں کا مینہ برس رہا تھا۔ میں نے ویٹنگ روم کے دروازے سے باہر دیکھا۔ پلیٹ فارم پر رکی ٹرین چلنے کو تیار تھی۔ مسافر اپنی اپنی سیٹوں پر بیٹھ رہے تھے۔ میں نے استقبالیہ والی لڑکی کا شکریہ ادا کیا اور ویٹنگ روم سے باہر نکل آیا۔ میں ایک ستون کے ساتھ کھڑے ہو کر یہ منظر دیکھنے لگا۔ لوگ اپنے اپنے پیاروں کو الوداع کہہ رہے تھے۔ تب ریل کی سیٹی بجی تو ٹرین آہستہ آہستہ چلنے لگی۔ اتنی آہستہ کہ مسافر اس چلتی ٹرین پر سوار ہو رہے تھے۔ اپنے پیاروں کو رخصت کرنے والے ڈبوں کے ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔ پھر ٹرین کی رفتار تیز ہونے لگی اور چند ہی لمحوں بعد ٹرین ہماری نظروں سے اوجھل ہو گئی۔ سٹیشن یکلخت خالی ہو گیا ۔چپ چاپ‘ حیران۔ میں سوچتا ہوں وقت بھی کیسے دبے پاؤں گزر جاتا ہے یہی سٹیشن تھا جب ہم گورڈن کالج سے یہاں وقت گزارنے کیلئے آیا کرتے تھے۔ میں نے سوچا اس وقت گورڈن کالج کے دوست شاہد مسعود‘ پرویز رشید اور شعیب بن عزیز کہاں ہوں گے؟ شاہد مسعود تو پی ٹی وی کی ملازمت سے ریٹائر ہو کر اسلام آباد کے گوشے میں بیٹھا بارش کا منظر دیکھ رہا ہو گا۔ پرویز رشید لاہور اور اسلام آباد کے درمیان سفر میں ہو گا۔ تب میں نے فیصلہ کیا کہ شعیب بن عزیز کو فون کیا جائے۔ کسی زمانے میں اس کا گھر راولپنڈی کے ریلوے سٹیشن کے پہلو میں تھا۔ میں نے شعیب کا نمبر ڈائل کیا۔ فون کی گھنٹی بج رہی تھی کچھ ہی دیر بعد شعیب بن عزیز کی مانوس آواز سنائی دی۔ میں نے کہا: شعیب میں راولپنڈی کے ریلوے سٹیشن پر کھڑا ہوں۔ میرا خیال تھا وہ کہے گا &#39;&#39;تم ادھر ہی ٹھہرو‘ میں ابھی آتا ہوں‘‘ لیکن اس نے بتایا کہ وہ اس وقت راولپنڈی سے بہت دور امریکہ کی ایک ریاست میں ہے۔ سٹیشن پر کھڑے مجھے یوں لگا میں یکلخت تنہا ہو گیا ہوں۔ میں نے سوچا بیتا ہوا وقت بہت پیچھے رہ گیا ہے اورتیز قدم زندگی بہت آگے نکل گئی ہے۔ مجھے اردو کے معروف شاعر شوکت واسطی کا شعر یاد آگیا:شوکت ہمارے ساتھ بڑا حادثہ ہواہم رہ گئے، ہمارا زمانہ چلا گیامیں نے آخری بار پلیٹ فارم پر نگاہ ڈالی اور آہستہ آہستہ سٹیشن کی سیڑھیاں اتر کر باہر آنے لگا جہاں زوروں کا مینہ برس رہا تھا۔(ختم)</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_21538475.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>گیند عالمی برادری کی کورٹ میں(سلمان غنی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/salman-ghani/2026-09-30/52757/20917087</link><pubDate>Wed, 30 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/salman-ghani/2026-09-30/52757/20917087</guid><description>ان دنوں بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف جاری میڈیا مہم میں زیادہ زور سندھ طاس معاہدے کی بندش پر دیا جا رہا ہے اور کہا یہ جا رہا ہے کہ بھارت پاکستان کے حصے کا پانی بند کرکے اسے بنجر بناکر گزشتہ سال ہونے والی شکستِ فاش کا بدلہ لے گا۔ سندھ طاس معاہدے کے خاتمے کا اعلان اس نے دس مئی 2025ء کے بعد کیا تھا اور اس کا خیال تھا کہ جنگی محاذ پر پاکستان سے شکست کھانے کے بعد سندھ طاس معاہدے کے خاتمے کی صورت میں پاکستان کو پانی کے تنازع میں اُلجھائے گا۔ لیکن پاکستان نے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کو اس معاہدہ کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے نہ صرف اس کی پُرزور مذمت کی بلکہ اسے متعلقہ عالمی فورمز پر چیلنج بھی کیا۔ بعد ازاں عالمی بینک‘ جو اس معاہدے کا ثالث ہے‘ نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ اس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل یا ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اس ضمن میں ہیگ میں قائم عالمی ثالثی عدالت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے سنایا جانے والا فیصلہ بہت اہم ہے‘ جس میں عالمی عدالت نے بھارت کی جانب سے 1960ء کے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کیے جانے کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ یہ معاہدہ اب بھی مکمل طور پر نافذالعمل ہے۔ عدالت نے اس سال 31اگست کو معاہدے کی حیثیت پر حتمی فیصلہ جاری کرنے کے ساتھ ساتھ بھارت کی جانب سے دریائے چناب پر تعمیر کیے جانے والے رتلے ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹ سے متعلق مابعد عبوری اقدامات کا حکم بھی جاری کیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ بھارت بین الاقوامی وعدوں کا پابند ہے‘ وہ یکطرفہ طور پر معاہدے سے دستبردار یا اپنی ذمہ داریوں سے فرار حاصل نہیں کر سکتا۔ بھارت کو سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی‘ جن میں مغربی دریاؤں پر اس کے پن بجلی منصوبوں کے ڈیزائن سے متعلق شرائط بھی شامل ہیں۔ اس فیصلے کے بعد سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے بھارت کے یکطرفہ اقدامات کو قانونی چیلنجز کا سامنا ہے۔ لیکن عالمی اداروں خصوصاً ثالثی عدالت کے واضح فیصلے کے باوجود بھارتی حکومت اور میڈیا سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی اورپاکستان کے پانی کی بندش پر مسلسل پروپیگنڈا مہم شروع کیے ہوئے ہے۔ بھارت کی اس آبی جارحیت کے حوالے سے پاکستان کی لیڈرشپ کے بیانات ریکارڈ پر ہیں جنہوں نے سندھ طاس معاہدے کو قومی سلامتی کی بنیاد قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ اس حوالے سے بھارت کو اس کی ضد‘ ہٹ دھرمی اور انتہا پسندی کو منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔حالیہ جنرل اسمبلی اجلاس میں وزیراعظم شہبازشریف نے عالمی و علاقائی مسائل کے حوالے سے پاکستان کے واضح مؤقف کا اظہار کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر پانی کے ایشو کو اجاگر کیا اور سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے واضح کیا کہ کوئی فریق اسے یکطرفہ طور پر غیرمؤثر نہیں کر سکتا‘ دریاؤں کے پانی کو سیاسی یا معاشی دباؤ کے ذریعے روکنا خطے کے امن کیلئے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ جنرل اسمبلی میں پانی جیسے اہم ایشو کو اٹھانے کا مقصد دنیا کو یہ پیغام دینا تھا کہ پاکستان اپنے حصے کے پانی کو بین الاقوامی قوانین کے تحت محفوظ سمجھتا ہے۔ پاکستان نے پانی کے معاملے کو بھارت مخالف جذباتی بیانیہ بنانے کے بجائے اسے عالمی امن کے تناظر میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے‘ تاہم اس کا عملی اثر اس بات پر منحصر ہوگا کہ پاکستان عالمی حمایت کو کس حد تک قانونی‘ سفارتی اور آبی مذاکرات میں تبدیل کر پاتا ہے۔ آبی جارحیت کا بھارتی طرزِ عمل نیا نہیں ‘تاریخ اس امر کی گواہ ہے کہ جب بھی کوئی بین الاقوامی فورم بھارت کے خلاف کوئی فیصلہ دیتا ہے تو وہ اسے تسلیم کرنے کے بجائے اس کی ساکھ اور اختیار کو ہی مشکوک بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہی ضد اور ہٹ دھرمی مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے حوالے سے بھی دیکھنے میں آئی۔ سیاچین اور سرکریک کے ایشوز کے بعد اب سندھ طاس معاہدے پر بھی وہ اسی حکمتِ عملی پر قائم ہے اور یہ اس امر کا غماز ہے کہ بھارت خود کو بین الاقوامی قانون اور اصولوں سے بالاتر سمجھتا ہے اور بین الاقوامی اداروں کو نظرانداز کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ یہاں بڑا سوال یہ ہے کہ اگر بھارت جیسا ملک‘ جو دنیا کی بڑی جمہوریت ہونے کا دعویدار ہے‘ عالمی عدالت کے فیصلوں کو محض اس بنیاد پر مسترد کرتا ہے کہ وہ اس کے مفادات سے مطابقت نہیں رکھتے تو پھر بین الاقوامی قوانین اور عالمی عدالتی نظام کا کیا مقصد رہ جاتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں حقِ خود ارادیت کے حوالے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں دہائیوں سے موجود ہیں مگر بھارت کشمیریوں کو حقِ خود ارادیت دینے کے بجائے طاقت سے ان کی آواز کو دبانے کی پالیسی پر کاربند ہے۔ اب اگر وہ پانی جیسے اہم ایشو پر عالمی اداروں کے فیصلوں پر عملدرآمد کیلئے تیار نہیں تو پھر جو حال اقوام متحدہ کی کشمیر پر قراردادوں کا ہوا‘ یہ نہ ہو کہ سندھ طاس معاہدے سے متعلق عالمی اداروں کے فیصلوں کو بھی بھارت یونہی نظر انداز کر دے۔ ایسا اقدام نہ صرف پاکستان اور خطے کے امن کیلئے خطرناک ہوگا بلکہ عالمی قانونی نظام کی ساکھ کیلئے بھی ایک سخت ضرب ثابت ہوگا۔ بھارت کی طرف سے بین الاقوامی قانونی عمل کو بار بار مسترد کیے جانے سے اس کا سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا عمل جائز نہیں ہو جائے گا بلکہ اس طرزِ عمل سے بھارت کی بین الاقوامی قوانین کی پابندی اور اس تعاون پر مبنی نظام سے وابستگی کے بارے میں سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔ سندھ طاس معاہدے کی اصل روح ہی یہ ہے کہ بھارت اور پاکستان اپنے آبی تنازع کو افہام و تفہیم سے طے کریں۔ لیکن جب ایک فریق اس سے یکطرفہ طور پر دستبردار ہو جائے  تو دوسرے فریق کے پاس اس کے سوا کیا چارہ رہ جاتا ہے کہ وہ تمام دستیاب قانونی اور سفارتی ذرائع استعمال کرے۔پاکستان کیلئے اپنے حصے کے پانی کا تحفظ ملکی بقا اور سلامتی کا مسئلہ ہے‘ جس پر لچک کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ وزیراعظم شہبازشریف ہر پلیٹ فارم پرپانی کو ریڈ لائن قرار دے چکے ہیں۔ لاکھوں پاکستانی زراعت کیلئے دریائی پانی پر انحصار کرتے ہیں۔ وزیراعظم شہبازشریف بار بار یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال نہیں کیا جانا چاہیے اور نہ ہی اسے کسی دوسرے پر ملک دباؤ کیلئے بروئے کار لانا چاہیے۔ ان کا یہ کہنا کہ بین الاقوامی معاہدوں کو سیاسی سہولت کے مطابق یکطرفہ طور پر معطل نہیں کیا جا سکتا‘ زمینی حقائق کی عکاسی کرتا ہے۔ عالمی برادری کو بھارت پر دباؤ ڈالنا ہوگا کہ وہ خطے میں کشیدگی کے خاتمے کیلئے اپنے طرزِ عمل میں تبدیلی لائے‘ ضد اور ہٹ دھرمی کا وتیرہ ترک کرے‘ ورنہ اس کا یہ طرزِ عمل خود اُس کی وحدت کیلئے خطرناک ہو سکتا ہے۔ پاکستان ہمیشہ سے اس مؤقف پر قائم رہا ہے کہ دونوں ملکوں کے مابین تنازعات کا پُرامن حل نکالا جائے اور بین الاقوامی قوانین کا احترام ہونا چاہیے۔ پاکستان کا یہ مؤقف اس کے ذمہ دارانہ کردار کا ثبوت ہے۔ اگر بھارت یہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنی ضد اور ہٹ دھرمی پر کاربند رہ کر علاقائی محاذ پر اپنی چودھراہٹ قائم رکھ پائے گا تو دنیا دیکھ چکی ہے کہ پاکستان پر مسلط کی جانے والی جارحیت کے جواب میں پاکستان کے ردعمل نے اسے ایک ایسی نفسیاتی کیفیت میں مبتلا کر دیا ہے جس سے اس کی فوجی و سیاسی قیادت اب تک نکل نہیں پائی۔ پانی جیسے اہم ایشو پر پاکستان کا طرزِ عمل ذمہ دارانہ ہے اور اس حوالے سے عالمی برادری کو اپنے کردار کی ادائیگی کی اپیل کی جا رہی ہے۔ اگر بھارت ضد اور ہٹ دھرمی پر قائم رہتا ہے تو اس کا مؤثر جواب پاکستان کے پاس ہے‘ جو مناسب وقت دیا جائے گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/230_37874475.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>آگ، ماچس اور کرسی(محمد حسن رضا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-hasan-raza/2026-09-30/52758/83899752</link><pubDate>Wed, 30 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-hasan-raza/2026-09-30/52758/83899752</guid><description>جرمن ادیب فرانز کافکا کی لکھی ایک کہانی میں ایک آدمی قانون کے دروازے پر عمر بھر کھڑا رہتا ہے۔ دروازہ کھلا ہوتا ہے مگر دربان اسے اندر نہیں جانے دیتا۔ ہمارے ہاں صورتحال کچھ الٹ ہے۔ آئین میں شہری کیلئے راستہ کھلا ہے مگر سڑک پر کنٹینر کھڑا ہے۔ دربان بھی موجود ہے‘ احتجاجی قافلہ بھی آنے والا ہے اور ان دونوں کے بیچ وہ شخص پھنس گیا ہے جس نے کسی کے خلاف جنگ کا اعلان نہیں کیا۔ اسے صرف دفتر‘ ہسپتال یا اپنے گھر پہنچنا ہے۔ تحریک انصاف نے اسلام آباد کی طرف مارچ چار اکتوبر تک مؤخر کیا مگر دارالحکومت کے شہریوں کی آزمائش مؤخر نہیں ہوئی۔احتجاج ابھی دور تھا کہ راستوں پر رکاوٹیں پہلے پہنچ گئیں۔ یوں ہمارے سیاسی نظام نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ یہاں جلسے کی تاریخ بدل سکتی ہے‘ شہری کی مشکلات نہیں۔ حکومت کہتی ہے امن قائم رکھنا ہے‘ تحریک انصاف کہتی ہے احتجاج ہمارا حق ہے۔ دونوں اپنی جگہ سوال پوچھ سکتے ہیں مگر جواب اس شخص کو کون دے گا جس کی گاڑی بند راستے پر کھڑی ہے؟ یہ سوال صرف وفاقی حکومت سے نہیں‘ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے بھی ہے۔ آپ عمران خان کی رہائی کیلئے جدوجہد کرنا چاہتے ہیں‘ ضرور کیجیے مگر صوبے کے لوگ آپ کو پارٹی کا جلوس منظم کرنے کیلئے نہیں حکومت چلانے کیلئے منتخب کرتے ہیں۔ وزیراعلیٰ کی کرسی کے ساتھ لوگوں کے جان و مال کی حفاظت‘ بچوں کی تعلیم‘ مریضوں کے علاج اور سرحدی اضلاع میں رہنے والے خاندانوں کے امن کی ذمہ داری بھی بندھی ہے۔ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات نے اس ذمہ داری کو مزید سنجیدہ بنا دیا ہے۔ کوہاٹ میں پولیس کمپاؤنڈ پر حملہ ہوا‘ ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی جانیں گئیں ایسے وقت میں وزیراعلیٰ کی کارکردگی کا پیمانہ یہ ہونا چاہیے کہ شہری خود کو اپنے صوبے میں کتنا محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ پشاور سے اسلام آباد تک احتجاجی قافلہ پہنچانے کی صلاحیت سیاسی کامیابی ہو سکتی ہے مگر گھر سے بازار تک شہریوں کو بحفاظت پہنچانا حکمرانی کی کامیابی ہے۔ کیا پی ٹی آئی کے پاس وزیر اعلیٰ کے علاوہ ایک بھی لیڈر اس قابل نہیں کہ وہ احتجاج کو لیڈکرسکے ؟ عمران خان کی قید اس جماعت کیلئے بلا شبہ بڑا سیاسی مسئلہ ہے لیکن سیاسی قیادت کو یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ ہر مسئلے کا آخری حل سڑک پر اترنا نہیں ہوتا۔ عمران خان ماضی میں اپنے مؤقف پر ڈٹے رہے‘ ان کے حامی اسے استقامت کہتے ہیں۔ اب یہ فیصلہ بھی قیادت نے کرنا ہے کہ کیا کسی باوقار سیاسی مفاہمت‘ قانونی پیشرفت اور قابلِ عمل گفتگو کا راستہ اختیار کرنا ہے۔ کوئی باہر سے ان کیلئے یہ فیصلہ نہیں کر سکتا۔ البتہ ان کے نام پر حکومت کرنے والوں سے یہ ضرور پوچھا جا سکتا ہے کہ جب تک فیصلہ نہیں ہوتا‘ صوبے کے عوام کی زندگیاں یونہی متاثر ہوتی رہیں گی ؟ ادھر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی بھی اطمینان سے دوسروں کی ناکامیاں نہیں گن سکتیں۔ وفاق میں اقتدار ان کے پاس ہے۔ اگر احتجاج کے اعلان کا جواب ہفتوں تک بند راستے‘ معطل کاروبار اور خوفزدہ شہری ہوں تو اسے اچھی حکمرانی نہیں کہا جا سکتا۔ ریاست کا کام خطرے کا اندازہ لگانا اور اس سے نمٹنا ہے‘ ہر آنے والے شہری کو پہلے سے مشتبہ سمجھ کر شہر بند کرنا نہیں۔ طاقت کا سب سے آسان مظاہرہ کنٹینر اٹھا کر سڑک پر رکھ دینا ہے۔ مشکل کام یہ ہے کہ امن بھی رہے اور آئینی حق کیلئے جگہ بھی۔ اسی کشیدگی کے دوران خیبرپختونخوا میں گورنر راج کی باز گشت سنائی دے رہی ہے۔ اس لفظ کو بعض لوگ ایسے بولتے ہیں جیسے الماری سے فائل نکال کر صوبے کی منتخب حکومت بند کی جا سکتی ہو۔ آئین اتنا بھی سادہ نہیں۔ جنگ‘ بیرونی جارحیت یا صوبائی حکومت کے قابو سے باہر اندرونی بدامنی والی ایمرجنسی کا معاملہ آرٹیکل 232 میں ہے۔ صوبے میں آئینی مشینری کی ناکامی کی بنیاد پر اعلان کا الگ راستہ آرٹیکل 234 میں درج ہے۔ دونوں کو ایک ہی سیاسی نعرے میں گڈمڈ کرنا خطرناک ہے۔ آرٹیکل 232 کے تحت اندرونی بدامنی کی بنیاد پر ایمرجنسی کیلئے متعلقہ صوبائی اسمبلی کی قرارداد درکار ہے ‘اگر صدر خود اعلان کریں تو دس دن کے اندر پارلیمان کے دونوں ایوانوں سے الگ الگ منظوری کا مرحلہ آتا ہے۔ آرٹیکل 234 کے تحت گورنر کی رپورٹ پر صدر کو مطمئن ہونا ہوگا کہ صوبائی حکومت آئین کے مطابق نہیں چلائی جا سکتی۔ اس اعلان میں صوبائی حکومت کے بعض یا تمام انتظامی اختیارات صدر یا ان کی طرف سے گورنر سنبھال سکتے ہیں۔صوبائی اسمبلی کے اختیارات پارلیمان کے تحت استعمال کرنے کا اعلان بھی ہو سکتا ہے۔ یہ اسمبلی کی خودکار تحلیل نہیں‘ اور ہائیکورٹ کے اختیارات اس طریقے سے نہیں لیے جا سکتے۔ اعلان مشترکہ اجلاس سے سامنے آتا ہے؛ منظوری نہ ملے تو دو ماہ بعد ختم ہو جاتا ہے‘ جبکہ اس کی مجموعی مدت چھ ماہ سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔ اس کے بعد صوبہ چلے گا کیسے؟ انتظامی فیصلے گورنر کے ذریعے وفاقی اختیار کے تحت کیے جا سکتے ہیں۔ اگر اسمبلی کے قانون سازی کے اختیارات پارلیمان کو منتقل کیے گئے ہوں تو صوبائی امور پر قانون اور اخراجات کی منظوری کیلئے بھی آئین میں طریقہ موجود ہے۔ لیکن آئینی اختیار مل جانا اور صوبے کو بہتر انداز سے چلانا دو الگ سوال ہیں۔ کیا اسلام آباد میں بیٹھا فیصلہ ساز دور دراز ضلع کے تھانے‘ ہسپتال اور سکول کی جوابدہی بہتر کر سکے گا؟ اگر اس سوال کا ٹھوس جواب نہیں تو گورنر راج کو انتظامی مسائل کا حل کہنا قبل از وقت ہوگا۔ سیاسی تاریخ کا ماضی بھی اس حوالے سے کوئی اچھی تصویر پیش نہیں کرتا۔ فروری 2009 ء میں پنجاب میں شہباز شریف کی نااہلی کے فیصلے کے بعد گورنر راج نافذ ہوا اور 30 مارچ کو واپس لے لیا گیا۔ جنوری 2013 ء میں کوئٹہ کے المناک حملوں کے بعد بلوچستان میں گورنر راج آیا مگر اس کے خاتمے پر سابق صوبائی حکومت بحال ہوگئی۔ یہ مثالیں بتاتی ہیں کہ غیر معمولی اختیار سیاسی اور انتظامی بحران کو فوری طور پر ختم کرنے کا جادوئی نسخہ نہیں۔تاہم سہیل آفریدی کو یہ غلط فہمی نہیں پالنی چاہیے کہ گورنر راج کی بحث انہیں اپنے صوبے کی کارکردگی کے سوال سے آزاد کر دے گی۔ وفاق کو بھی یہ خیال دل سے نکال دینا چاہیے کہ ایک اعلان صوبے کے عوام کا اعتماد حاصل کر لے گا۔ امن و امان‘ پولیس کی کارکردگی ‘ تعلیم‘ صحت‘ روزگار اور وفاق سے وسائل کی تقسیم کے معاملات روزانہ کی بنیاد پر توجہ مانگتے ہیں۔ جو حکومت ان فیصلوں کواحتجاج کے بعد تک مؤخر کر دے‘ وہ اپنے ہی حقِ حکمرانی کے مقدمے کو کمزور کرتی ہے۔ چار اکتوبر کو قافلہ نکلے یا مذاکرات شروع ہو جائیں‘ اصل امتحان برقرار رہے گا۔ تحریک انصاف بتائے کہ اس کی جدوجہد کا سیاسی راستہ کیا ہے اور صوبے کی حکومت اس دوران عوام کو کیا دے رہی ہے؟ وفاق بتائے کہ وہ امن و امان قائم رکھنے کیلئے شہریوں کی زندگیوں کو مفلوج کیے بغیر کیا کر سکتا ہے؟ دونوں کے پاس تقریریں بہت ہیں لیکن ملک کو اب جواب چاہیے۔ کنٹینر سڑک کا راستہ روک سکتا ہے‘ سوال کا نہیں۔ اور اس وقت سب سے بڑا سوال یہی ہے جب سیاستدان ایک دوسرے کو گھیرنے میں مصروف ہیں تو عوام کو اس محاصرے سے کون نکالے گا؟خیبر پختونخوا حکومت اب فیصلہ کر لے کہ احتجاج یا گورننس ‘ اس کی ترجیح کیا ہے ؟ دوسری جانب وفاقی حکومت بھی یہ کلیئر کر لے کہ انہوں نے کے پی کو وفاق کی ایک اکائی سمجھ کر ڈیل کرنا ہے یا اپنی مخالف سیاسی جماعت کا گڑھ سمجھ کر ؟ &#39;&#39;اگلے 48گھنٹوں میں کچھ بھی ہوسکتا ہے ‘‘ یہ جملہ دباؤ بڑھانے کیلئے ہے یا و اقعی کے پی میں کچھ ہونے جا رہاہے ؟ تادم تحریر اس کی وضاحت درکار ہے۔ا س مشکل وقت میں آئین ہی وہ رسی ہے جس کو تھامے رکھنا سب کے مفادمیں ہوگا۔ کسی بھی غلط اقدام سے اگر صوبے میں آگ بھڑک اٹھی تو ہاتھ میں ماچس پکڑے کرسی کا کھیل کھیلنے والوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/229_33941343.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کامیاب عائلی زندگی(علامہ ابتسام الہٰی ظہیر )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-09-30/52759/12756017</link><pubDate>Wed, 30 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-09-30/52759/12756017</guid><description>ہر شخص اچھی عائلی زندگی گزارنے کا طلبگار ہے لیکن بہت سے لوگ خواہش کے باوجود بے چینی‘ بے قراری اور انتشار والی زندگی گزارتے ہیں۔ بہتر عائلی زندگی گزارنے کیلئے بعض امور پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اگر ان پر غور وخوض کر لیا جائے تو انسان کی عائلی زندگی بہترین ہو سکتی ہے۔ اس سلسلے میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ شریکِ زندگی کا انتخاب دین کی بنیاد پر کیا جائے۔ اس حوالے سے صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا &#39;&#39;عورت سے نکاح چار چیزوں کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ اس کے مال کی وجہ سے‘ اس کے خاندانی شرف کی وجہ سے‘ اس کی خوبصورتی کی وجہ سے اور اس کے دین  کی وجہ سے۔ تُو دیندار عورت سے نکاح کر کے کامیابی حاصل کر‘ اگر ایسا نہ کرے تو تیرے ہاتھوں کو مٹی لگے گی (یعنی اخیر میں تجھ کو ندامت ہو گی)‘‘۔ صحیح مسلم میں حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: &#39;&#39;دنیا متاع (کچھ وقت تک کیلئے فائدہ اٹھانے کی چیز) ہے اور دنیا کی بہترین متاع نیک عورت ہے‘‘۔ ان احادیث سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جب نکاح کیا جائے تو عورت کی دینداری کو اہمیت دینی چاہیے۔جب عورت شوہر کے گھر بیاہ کر آجاتی ہے تو اس پر بعض اہم ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں جن میں سے چند اہم درج ذیل ہیں:1۔ شوہر کی عدم موجودگی میں عورت گھر کی نگران ہے: بیوی کو شوہر کی عدم موجودگی میں گھر‘ اولاد اور مال کی حفاظت کرنی چاہیے۔ اس حوالے سے صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا &#39;&#39;تم میں سے ہر ایک حاکم ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا۔ مرد اپنے گھر والوں پر حاکم ہے۔ عورت اپنے شوہر کے گھر اور اس کے بچوں پر حاکم ہے۔ تم میں سے ہر ایک امیر (حاکم) ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا‘‘۔2۔ شوہر کی رضامندی کا اہتمام: بیوی پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ شوہر کی خوشی اور رضا مندی کا اہتمام کرے۔ اس حوالے سے سنن نسائی میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ سے پوچھا گیا کہ کون سی عورت بہتر ہے؟ آپﷺ نے فرمایا &#39;&#39;وہ عورت کہ جب خاوند اسے دیکھے تو وہ اسے خوش کر دے‘ اور جب اسے کوئی حکم دے تو وہ اس کی اطاعت کرے اور اپنے نفس اور مال میں اس کی مخالفت نہ کرے جسے وہ ناپسند کرتا ہو‘‘۔3۔ خاوند کی نیکی پر اس کا شکریہ ادا کرنا: احادیث مبارکہ کے مطالعہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ عورت کو اپنے خاوند کی ناشکری کے بجائے شکرگزاری کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ اس حوالے سے صحیح بخاری میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریمﷺ عید الاضحی یا عیدالفطر میں عیدگاہ تشریف لے گئے‘ وہاں آپﷺ عورتوں کے پاس سے گزرے اور فرمایا &#39;&#39;اے عورتوں کی جماعت! صدقہ کرو کیونکہ میں نے جہنم میں زیادہ تم ہی کو دیکھا ہے۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہﷺ! ایسا کیوں؟ آپﷺ نے فرمایا کہ تم لعن طعن بہت کرتی ہو اور شوہر کی ناشکری کرتی ہو‘‘۔جہاں عورت پر گھریلو حوالے سے چند ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں وہیں پر شوہر کی بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ عورت کے ساتھ حسنِ سلوک کرے۔ اس حوالے سے اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ النساء کی آیت: 19 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;اور ان کے ساتھ بھلے طریقے سے زندگی بسر کرو‘‘۔ سورۃ البقرہ کی آیت: 228 میں ارشاد ہوا: &#39;&#39;اور عورتوں کیلئے بھی معروف طریقے کے مطابق ویسے ہی حقوق ہیں جیسے ان پر ذمہ داریاں ہیں‘‘۔ جس طرح عورت اور مرد پر بعض انفرادی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں وہیں بعض ذمہ داریاں شوہر اور بیوی پر بیک وقت عائد ہوتی ہیں جن میں سے بعض اہم درج ذیل ہیں:1۔ مرد اور عورت ایک دوسرے کے رازوں کو افشا نہ کریں: اللہ تبارک وتعالیٰ نے مرد و زن کو ایک دوسرے کیلئے سکون کا ذریعہ بنایا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الروم کی آیت: 21 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تم ہی میں سے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو‘ اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کر دی‘‘۔ اس زندگی کا لطیف اور حساس پہلو ایک دوسرے کیساتھ نہایت قریبی تعلق ہے جو مرد و زن کیلئے ایک راز کی حیثیت رکھتا ہے اور اس راز کو افشا کرنا انتہائی قبیح عمل ہے۔ اس حوالے سے صحیح مسلم میں حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا &#39;&#39;بلاشبہ قیامت کے دن اللہ کے ہاں امانت کے حوالے سے سب سے بڑے (سنگین) معاملات میں سے اس آدمی (کا معاملہ) ہو گا جو خلوت میں بیوی کے پاس جائے اور وہ اس کے پاس آئے‘ پھر وہ اس (بیوی) کا راز افشا کر دے‘‘۔ ابن نمیر نے کہا &#39;&#39;سب سے بڑا (سنگین) معاملہ (یعنی یہ سب سے بڑی خیانت ہے)‘‘۔2۔ مشکلات میں ایک دوسرے کا سہارا بننا: شوہر اور بیوی کو ایک دوسرے کی مشکلات میں ایک دوسرے کا سہارا بننا چاہیے۔ صحیح بخاری میں یہ واقعہ تفصیل کے ساتھ موجود ہے کہ جب نبی کریمﷺ پر وحی کا نزول ہوا اور آپﷺ گھر تشریف لائے‘ آپﷺ نے ساری صورتحال سے سیدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کو آگاہ کیا تو انہوں نے نبی کریمﷺ کو دلاسہ دیا اور اپنے قریبی رشتہ دار ورقہ بن نوفل کے پاس بھی لے کر گئیں‘ جنہوں نے رسول اللہﷺ پر اترنے والی وحی کی تصدیق کی اور آپﷺ کو تسلی دی۔ اس حدیث پاک سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ شوہر اور بیوی کو ایک دوسرے کا سہارا بننا چاہیے۔3۔ ایک دوسرے کی مالی معاونت: کئی مرتبہ شوہر اور بیوی میں سے کوئی ایک فرد مالی طور پر کمزور ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں شوہر اور بیوی کو ایک دوسرے کی مالی معاونت سے دریغ نہیں کرنا چاہیے۔ اس حوالے سے صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن مسعود کی زوجہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا ایک طویل قصہ ہے‘ وہ فرماتی ہیں کہ میں نے مسجد نبوی میں رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے دیکھا &#39;&#39;صدقہ کرو‘ خواہ اپنے زیور ہی میں سے دو‘‘۔ حضرت زینب اپنا صدقہ اپنے شوہر حضرت عبداللہ بن مسعودؓ اور چند یتیموں پر‘ جو اُن کی پرورش میں تھے‘ خرچ کیا کرتی تھیں۔ انہوں نے اپنے خاوند سے کہا کہ آپ رسول اللہﷺ سے پوچھئے کہ کیا وہ صدقہ مجھے کفایت کرے گا جو میں آپ پر اور ان چند یتیموں پر خرچ کروں‘ جو میری سپردگی میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تم خود جا کر رسول اللہﷺ سے پوچھ لو۔ وہ خود رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ وہ کہتی ہیں کہ اس وقت میں نے آپﷺ کے دروازے پر ایک انصاری خاتون کو پایا‘ جو میری ہی جیسی ضرورت لے کر موجود تھیں۔ (وہ حضرت زینبؓ زوجہ حضرت ابومسعود انصاریؓ تھیں)۔ پھر ہمارے سامنے سے بلال گزرے تو ہم نے ان سے کہا کہ آپ رسول اللہﷺ سے یہ مسئلہ دریافت کیجئے کہ کیا وہ صدقہ مجھے کفایت کرے گا جسے میں اپنے شوہر اور اپنے زیر تحویل یتیم بچوں پر خرچ کروں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہمارا نام نہ لینا۔ حضرت بلالؓ اندر گئے اور آپﷺ سے سوال کیا کہ دو عورتیں یہ مسئلہ دریافت کرتی ہیں‘ اس پر حضورﷺ نے فرمایا کہ یہ دونوں کون ہیں؟ بلال رضی اللہ عنہ نے کہا کہ زینب نام کی ہیں۔ آپﷺ نے پھر پوچھا کہ کون سی زینب؟ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے کہا کہ عبداللہ بن مسعود کی بیوی۔ آپﷺ نے فرمایا کہ ہاں! بیشک یہ درست ہے‘ اور انہیں دُگنا ثواب ملے گا۔ ایک قرابت داری کا اور دوسرا خیرات کرنے کا‘‘۔اگر مذکورہ بالا نکات پر عمل کر لیا جائے تو انسان کی عائلی زندگی مثالی بن سکتی ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ تمام گھرانوں کو خوشیاں‘ امن اور سکون عطا فرمائے‘ آمین!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_19740082.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>