<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>پائیدار امن کے تقاضے(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-10/11091</link><pubDate>Fri, 10 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-10/11091</guid><description>وزیراعظم شہباز شریف اور لبنان کے وزیراعظم نواف سلام کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ پاکستان کی خطے میں پائیدار امن کے قیام کیلئے جاری کوششوں کا تسلسل ہے۔ وزیراعظم نے لبنان کیخلاف جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے سینکڑوں قیمتی جانوں کے ضیاع پر دکھ کا اظہار کیا۔ وزیراعظم کا لبنانی ہم منصب سے رابطہ پاکستان کے اس دیرینہ مؤقف کا اظہار ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کا خواب اس وقت تک شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا جب تک پورے خطے میں جنگ بندی نہیں ہو جاتی۔ یہ ایک بدیہی حقیقت ہے کہ خطے کا امن ایک اکائی کی مانند ہے جسے حصوں میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔ یہ امر سب پہ واضح ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ کے کسی ایک بھی گوشے میں جنگ کی آگ لگی رہے گی تو اس کی تپش پورے خطے کے سیاسی اور معاشی استحکام کو جھلساتی رہے گی۔ اس سے پہلے غزہ کے معاملے میں ہم اس حقیقت کا بغور مشاہدہ کر چکے ہیں۔ عالمی برادری بالخصوص یورپی یونین‘ برطانیہ‘ فرانس اور آسٹریلیا جیسے ممالک نے بھی اسی لیے جنگ بندی کے معاہدے میں لبنان کو لازمی طور پر شامل کرنے کا مطالبہ کیا ہے کیونکہ لبنان یا کسی اور علاقائی ملک کو غاصبانہ جارحیت کی نذر کر کے خطے میں حقیقی امن کے تقاضے پورے نہیں کیے جا سکتے۔ مشرقِ وسطیٰ کی جغرافیائی اور سیاسی جڑیں ایک دوسرے میں اس قدر پیوست ہیں کہ ایک ملک میں اٹھنے والا طوفان سرحدوں کے پار تک اثرات پہنچاتا ہے۔

آج کے گلوبل ویلیج میں کسی ایک خطے میں بدامنی دنیا کے دوسرے کونے تک اثرات مرتب کرتی ہے۔ ایران جنگ اس کی واضح مثال ہے‘ جس نے عالمی معیشت‘ بالخصوص آئل انڈسٹری اور ایوی ایشن کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔ مجموعی طور پر عالمی معیشت کو پہنچنے والے نقصانات اس قدر زیادہ ہیں کہ دہائیوں تک اس نقصان کی بھرپائی ممکن نہیں۔ ان تلخ حقائق نے دنیا کے ہر باشعور فرد کو یہ باور کرا دیا ہے کہ امن محض انسانی ہمدردی کا تقاضا نہیں رہا بلکہ عالمی معیشت اور انسانیت کی بقا کا واحد ذریعہ بن چکا ہے۔ اسی لیے پاکستان اس صورتحال میں ایک متحرک اور ذمہ دار ریاست کے طور پر سامنے آیا ہے‘ جو نہ صرف سفارتی سطح پر امن کی پکار بلند کر رہا ہے بلکہ عالمی طاقتوں کے درمیان پُل کا کردار بھی ادا کر رہا ہے۔ اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے اعلیٰ سطحی وفود کی آمد اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کو عالمی سطح پر ایک بااعتماد ثالث کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔ یہ مذاکرات اس لحاظ سے کلیدی اہمیت کے حامل ہیں کہ ان میں مشرقِ وسطیٰ کے بحران کے حل کیلئے ایک مشترکہ فریم ورک پر اتفاق کیا جائے گا۔ پاکستان کی سہولت کاری کا محور تہران اور واشنگٹن کے درمیان موجود خلیج کو کم کرنا ہے تاکہ لبنان اور غزہ سمیت پورے خطے میں ایک جامع اور پائیدار جنگ بندی ممکن ہو سکے۔
لبنان کی موجودہ صورتحال اس لیے بھی تشویشناک ہے کہ وہاں کا انفراسٹرکچر اور انسانی زندگی دہائیوں پر محیط بحرانوں سے چور چور ہے۔ حالیہ جنگ نے لاکھوں افراد کی نقل مکانی اور بنیادی ضروریاتِ زندگی کی قلت سے ایک ایسا انسانی بحران پیدا کر دیا ہے‘ جس کے اثرات ہمسایہ ممالک پر بھی مرتب ہو رہے ہیں لہٰذا یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ مشرقِ وسطیٰ کا حقیقی امن اور پائیدار استحکام مکمل جنگ بندی سے مشروط ہے۔ اور مشرقِ وسطیٰ‘ جو دنیا میں توانائی کا سب سے بڑا ماخذ ہے‘ اس کا امن محض ایک خطے کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ عالمی امن کی کلید ہے۔ اب سب کی نظریں اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات پر ٹکی ہوئی ہیں۔ پائیدار امن کا سفر دشوار ضرور ہے لیکن اس کے مقاصد نہایت واضح اور انسانیت کی بھلائی پر مبنی ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ عالمی طاقتیں اپنی انا اور سٹرٹیجک مفادات سے بالاتر ہو کر اس حقیقت کو تسلیم کریں کہ جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں اور اصل فتح اُس امن میں ہے جس میں مشرق سے مغرب اور شمال سے جنوب تک ہر انسان کو زندگی جینے کا مکمل حق میسر ہو۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بجلی مزید مہنگی(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-10/11090</link><pubDate>Fri, 10 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-10/11090</guid><description>نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نے ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کی قیمت میں ایک روپے 42 پیسے فی یونٹ کا اضافہ کر دیا ہے۔ کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ تین برسوں کے دوران ملک میں بجلی کی قیمتوں میں 155فیصد تک اضافہ کیا جا چکا ہے۔یہ اضافہ کسی ایک وجہ کا نتیجہ نہیں بلکہ کئی ساختی بگاڑوں کا مجموعہ ہے۔ کیپسٹی پیمنٹس کا غیر معمولی بوجھ‘ روپے کی مسلسل گراوٹ‘ درآمدی ایندھن پر حد سے زیادہ انحصار اور گردشی قرضے کا مسلسل پھیلاؤ وہ بنیادی عوامل ہیں جنہوں نے بجلی کی لاگت کو ناقابلِ برداشت سطح تک پہنچا دیا ہے۔ نتیجتاً توانائی کا پورا ڈھانچہ پیداواری کارکردگی کے بجائے مالی دباؤ کا مرکز بن چکا ہے۔

اس پالیسی ناکامی کا سب سے بھاری بوجھ براہِ راست عوام اٹھا رہے ہیں۔ صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ بجلی کے بل گھریلو کرایوں سے بھی تجاوز کر گئے ہیں۔مہنگی بجلی نے چھوٹے کاروبار‘ صنعتوں اور زرعی شعبے کی پیداواری لاگت میں بھی نمایاں اضافہ کیا ہے‘ جس کے معیشت پر منفی اثرات ظاہر و باہر ہیں۔ ضروری ہے کہ توانائی کے پورے ڈھانچے کو ازسرنو ترتیب دیا جائے۔یہ امر کسی سے پوشیدہ نہیں کہ توانائی کا محفوظ مستقبل قابلِ تجدید توانائی میں ہے اور پاکستان نے 2030ء تک 30 فیصد بجلی قابلِ تجدید ذرائع سے پیدا کرنے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے لیکن اس حوالے سے عملی اقدامات کا فقدان ہے۔ ضروری ہے کہ حکومت اس حوالے سے بلاتاخیر اقدامات کرے تاکہ عوام کو سستی بجلی میسر آ سکے۔ 
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ایکسپائر شناختی کارڈ اور سکیورٹی رسک(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-10/11089</link><pubDate>Fri, 10 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-10/11089</guid><description>نادرا حکام کی جانب سے یہ انکشاف کہ ملک میں 81لاکھ سے زائد سمیں زائد المیعاد شناختی کارڈوں پر فعال ہیں‘ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہمارے ڈیجیٹل شناختی اور مواصلاتی نظام میں خطرناک خلا موجود ہے۔ زائد المیعاد شناختی کارڈوں پر چلنے والی یہ سمیں جرائم پیشہ عناصر کیلئے ایک محفوظ ڈھال ثابت ہوتی ہیں۔ ایسے نمبر دہشت گردی‘ مالیاتی فراڈ‘ بھتہ خوری‘ سوشل میڈیا پر جعلی اکاؤنٹس اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں استعمال ہو سکتے ہیں‘ جہاں اصل صارف کی شناخت تک پہنچنا مشکل ہو جاتا ہے۔ فوت شدگان کے نام پر جاری سمیں تو کہیں زیادہ تشویش کا باعث ہیں۔

لہٰذا زائد المیعاد شناختی کارڈ پر چلنے والی تمام سموں کو فوری طور پر بلاک کیا جانا چاہیے۔ اس کیساتھ حکومت کو ایک واضح‘ مستقل اور سخت پالیسی بھی وضع کرنی چاہیے جس کے تحت شناختی کارڈ کی تجدید نہ کرانے کی صورت میں ایک مقررہ مدت کے بعد نہ صرف موبائل سم بلکہ دیگر شہری سروسز بھی عارضی طور پر معطل کر دی جائیں تاکہ شہریوں کو ذمہ دار بنایا جا سکے۔ اس ضمن میں سب سے پہلے نادرا‘ پی ٹی اے اور پبلک سیکٹر کے درمیان مکمل ڈیٹا انٹیگریشن کو یقینی بنایا جائے تاکہ کسی بھی شناختی کارڈ کی میعاد ختم ہوتے ہی متعلقہ خدمات خودکار طور پر معطل ہو جائیں۔ ساتھ ہی  تجدید کے عمل کو مزید آسان‘ سستا اور ڈیجیٹل بنایا جائے تاکہ کسی کو تاخیر کا جواز نہ مل سکے۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بس خدا ذرا سی عزت عطا کر دے(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-04-10/51738/66617288</link><pubDate>Fri, 10 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-04-10/51738/66617288</guid><description>2014ء میں مجھے امریکی ریاست ڈیلا ویئر (Delaware) میں واقع اپنے بھائی ڈاکٹر عاصم صہبائی کے خوبصورت گھر میں پانچ ماہ تک رہنے کا موقع ملا۔ اس قیام کے دوران جتنا خیال ان کی فیملی نے ہمارا رکھا اتنا شاید میرا سگا بھائی بھی مشکل سے رکھ پاتا۔اُن دنوں میرے پاس خاصا وقت ہوتا تھا لہٰذا پڑھنے لکھنے کا بہت موقع ملا۔ میں نے ڈاکٹر عاصم کے گھر قرآن پاک کا ایک نسخہ دیکھا جو بھارت کے ایک سکالر نے نہایت خوبصورت انداز میں مختلف انسانی موضوعات کو ابواب میں تقسیم کر کے ترجمہ کیا تھا‘ اور اس انداز میں کیا تھا کہ آپ پڑھتے جائیں اور سمجھتے جائیں۔ اگرچہ میں نے 1996ء میں اپنے ملتان کے قیام کے دوران ابوالاعلیٰ مودودی صاحب کا قرآن کا اردو ترجمہ اور تفسیر پڑھی تھی لیکن شاید اس وقت ذہنی طور پر اتنا میچور نہ تھا کہ اہم موضوعات کی اصل روح کو سمجھ پاتا۔ برسوں کے بعد جب ڈاکٹر عاصم کے گھر اس نسخے کو پڑھنا شروع کیا تو بہت سی باتیں واضح ہوتی چلی گئیں۔ایک باب حسد کے بارے میں تھا۔ اللہ تعالیٰ انسان کو حسد کرنے سے منع کرکے حسد کے شر سے بچنے کی دعائیں بھی سکھاتا ہے۔ اس باب کو پڑھ کر اندازہ ہوا کہ حسد انسانی کمزوریوں یا برائیوں میں سے نہایت خطرناک چیز ہے جو کسی اور کا نہیں بلکہ صرف اسی انسان کا نقصان کرتی ہے جو حسد بھرے احساسات پالتا ہے۔ اندازہ ہوا کہ اسی حسد کی وجہ سے حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی انہیں  ایک کنویں میں پھینک کر اپنے تئیں مار آئے تھے۔ اگر آپ کے بھائی اور آپ کا اپنا لہو بھی آپ سے حسد کرے تو پھر کسی اجنبی سے کوئی کیا گلہ کرے۔ اس باب کو پڑھتے ہوئے مجھے انسان کی بے بسی پر بھی ترس آیا۔ پیدائش کے وقت ہی انسان کے اندر مختلف جبلتیں ڈال دی جاتی ہیں جن میں اچھی اور بری دونوں شامل ہوتی ہیں۔ انسان عمر بھر ان جبلتوں سے لڑتا ہے۔ اپنی جبلت کے خلاف لڑنا کوئی آسان کام نہیں۔ مجھ سے پوچھیں تو شاید صوفی درویش یا سادھو‘ سنت‘ فقیر ہی ان منفی جبلتوں سے لڑ سکتے ہیں ورنہ میرے جیسے گناہگار انسان کے بس کا یہ کام نہیں۔حسد کے ساتھ ایک اور خطرناک جبلت انسانی اَنا ہے۔ اسی لیے گوتم بدھ بھی باپ کی شاہی چھوڑ کر جنگلوں کو نکل گئے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ جب گوتم کے پاس شہزادے یا امیر گھرانوں کے لڑکے چیلے بننے کیلئے آتے تو وہ سب سے پہلے ان کی اَنا کو توڑتے کیونکہ یہی انسانی کمزوریوں پر حاوی ہوتی ہے۔ گوتم ان شہزادوں کو کشکول دے کر گاؤں گاؤں بھیجتے کہ جاؤ‘ بھیک مانگ کر لاؤ۔ یہ انسانی اَنا توڑنے یا اس پر قابو پانے کا گوتم کا طریقہ کار تھا۔قرآن مجید میں حسد کے بارے میں پڑھنے اور سمجھنے سے پہلے اگر مجھے پتا چلتا کہ میرا کوئی قریبی حسد کا شکار ہو کر منفی باتیں کرتا ہے تو مجھے اس پر افسوس بھی ہوتا اور غصہ بھی آتا لیکن جب قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان پڑھا کہ حسد اس سے کیا جاتا ہے جسے میں نعمتیں عطا کرتا ہوں‘ اور جس سے حسد کیا جاتا ہے اسے اور زیادہ عطا کرتا ہوں‘ تو میں نے اپنی کونسلنگ شروع کر دی کہ نہ تو میں نے دوسروں سے حسد کرنا ہے‘ اور نہ ہی جو مجھ سے حسد کرتے ہیں انہیں برا سمجھنا ہے یا ان سے الجھنا ہے۔ ہم سب مجبور اور بے بس ہیں کیونکہ یہ بھی دیگر جبلتوں کی طرح ایک ایسی کیفیت ہے جس سے ہمیں مسلسل لڑتے رہنا ہے۔ اپنے آپ کو سمجھانا ہے کہ جو میرے مقدر میں ہے وہ مجھے مل رہا ہے۔ اگر یہ بھی میرے پاس نہ ہوتا تو میں کیا کر لیتا؟ آپ سے حسد وہ کرتا ہے جو آپ سے پیچھے قطار میں کھڑا ہوتا ہے یا جس کے پاس آپ سے کم علم‘ دولت یا مرتبہ ہوتا ہے۔ جو آپ سے علم‘ دولت‘ سٹیٹس یا عزت و احترام میں آگے ہے وہ آپ سے حسد محسوس نہیں کرتا۔ ہمیشہ وہی لوگ اس کا شکار ہوتے ہیں جن میں یہ چیزیں کم ہوتی ہیں۔اس کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ جو آپ کے قریبی حسد کرتے ہیں اور آپ کو ان کے رویوں یا جذبات سے اس کا اندازہ ہوتا رہتا ہے تو انہیں زیادہ عزت اور احترام دیں۔ انہیں اپنے سے کمتر ہونے کا احساس نہ ہونے دیں۔ ان کیلئے دل کو کھلا رکھیں۔ یہ رویہ ان پر اثر کرے گا۔ ایک طرف آپ ان سے آگے ہوں اور دوسری طرف آپ کا رویہ بھی متکبرانہ یا غرور سے بھرا ہو تو پھر آپ حسد کرنے والے سے بھی بدتر انسان ہیں جسے خدا نے کچھ زیادہ عطا کر دیا تو وہ خود کو سنبھال نہ سکا اور &#39;&#39;اپن ہی بھگوان ہے‘‘ والی سوچ اپنا لی۔ وہی بات کہ اگر انسان اپنے مقدر پر قناعت کر لے تو بہت ساری مشکلات آسان ہو جاتی ہیں لیکن ایک اہم بات جسے ہم نظر انداز کر دیتے ہیں‘ وہ یہ کہ خدا کہتا ہے کہ میں انسان کو اُتنا ہی دیتا ہوں جتنی وہ کوشش کرتا ہے۔ اگر آپ کو کسی سے متعلق حسد کا جذبہ محسوس ہوتا ہے تو اپنی محنت بڑھا دیں۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ محنت ضائع جائے۔ ہاں یہ الگ بات ہے کہ کامیابی کیلئے مسلسل اور طویل محنت درکار ہوتی ہے جبکہ لوگ راتوں رات دوسروں جیسا بننا چاہتے ہیں‘ جلدی تھک جاتے ہیں اور پھر وہی حسد اور دشمنی پر اتر آتے ہیں اور خود کو نقصان پہنچاتے ہیں۔یہ سب باتیں مجھے کیوں یاد آ رہی ہیں؟ اس کی وجہ بھارت کا رویہ ہے جو اس نے ایران‘ امریکہ اور اسرائیل کی جنگ میں پاکستان کے حوالے سے روا رکھا۔ اگر اِس وقت آپ بھارتی قیادت‘ میڈیا یا ماہرین کو سنیں تو آپ کو یقین آ جاتا ہے کہ حسد کتنی خوفناک چیز ہے۔ اس جنگ میں امریکی بمباری سے ہزاروں معصوم لوگ مارے گئے اور جنگ پھیلتی جا رہی تھی۔ خلیجی ریاستوں میں لاکھوں پاکستانی کام کرتے ہیں جن کے بھیجے ہوئے اربوں ڈالر پاکستان کیلئے لائف لائن ہیں۔ ہمارے ایران سمیت ان سب ممالک سے اچھے تعلقات ہیں۔ پوری دنیا اس جنگ کو نظر انداز کر سکتی ہے لیکن پاکستان نہیں کر سکتا۔ یہ جنگ پاکستان کو بھی لپیٹ میں لے سکتی تھی اور ممکن ہے اگلے مرحلے پر بھارت کو بھی متاثر کرتی۔ لہٰذا پاکستان کی اس جنگ کو روکنے کی کوششیں کرنا ایک فطری اور مثبت عمل تھا‘ جس کی اب پوری دنیا تعریف کر رہی ہے۔ پاکستانی شہریوں کو اپنے پاکستانی ہونے پر فخر محسوس ہو رہا ہے‘ ورنہ عمر بھر پاکستان نے عالمی انکوائریاں اور پیشیاں ہی بھگتی ہیں‘ کہیں پٹاخا بھی پھٹا تو چارج شیٹ ہمیں ہی دی گئی۔ ساری عمر ملزم بن کر گزار دی‘ اور اب خدا نے عزت کمانے کا موقع دیا ہے جس پر وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر مبارکباد کے مستحق ہیں۔ لیکن بھارت جس طرح جلن اور حسد کا شکار ہوا ہے وہ حیران کن ہے۔ بھارت کا واویلا دیکھ کر یقین ہی نہیں آتا کہ دشمنی‘ بغض اور نفرت انسان یا ملکوں کو اس سطح تک لے جا سکتی ہے کہ بھلے پوری دنیا تباہ ہو جائے لیکن پاکستان کو کریڈٹ نہ ملے۔پوری دنیا جنگ سے متاثر ہو رہی اور دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارت بھی شدید متاثر ہوا‘ جہاں توانائی کی ضروریات آبادی کی وجہ سے بہت زیادہ ہیں اور وہاں پٹرول پمپس پر ہنگامے بھی شروع ہو چکے ہیں۔ بھارت کو اس امن کا سب سے زیادہ فائدہ ہو گا لیکن وہ اپنے ڈیڑھ ارب عوام اور معیشت کے فائدے سے زیادہ اس بات کی فکر میں ہے کہ چاہے ہماری دیوار گر جائے‘ مگر پاکستان کے صحن میں گرے تاکہ ملبہ وہ صاف کرتے رہیں۔ حسد کی تکلیف کا اندازہ کرنا ہو تو بھارتی قیادت اور میڈیا کو دیکھیں اور سبق سیکھیں کہ حسد کتنی خطرناک جبلت ہے‘ جس سے انسان سب کچھ بھلا کر اپنا ہی نقصان کرنے پر تل جاتا ہے۔ اس وقت بھارت کی حالت دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ صرف انسان ہی حسد نہیں کرتے بلکہ اپنے آپ کو وِشوا گرو سمجھنے والے بھی پاکستان سے حسد کر سکتے ہیں‘ خواہ ان کے فارن ریزروز سات سو ارب ڈالر کیوں نہ ہوں اور پاکستان قرض کیلئے کوشاں ہو۔ حسد کا مرض کسی بھی وقت کسی کو بھی ہو سکتا ہے‘ بس خدا آپ کو ذرا سی عزت عطا کر دے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>غیر معمولی کردار(رسول بخش رئیس)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-04-10/51739/77171635</link><pubDate>Fri, 10 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-04-10/51739/77171635</guid><description>آج تعریف کرنے کے لیے الفاظ کم پڑ رہے ہیں۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی حکومت کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ ایران کے خلاف جنگ بندی کرا کے انہوں نے گویا تاریخ رقم کر دی ہے۔ یہ تو پوری قوم کے لیے باعثِ فخر ہے۔ اگر آپ ہمارے مضامین گزشتہ کئی برسوں سے پڑھتے رہے ہیں تو آپ کو اندازہ ہو گا کہ ہم ان کے مداحوں کی صف میں کبھی نہیں رہے۔ ان کے اچھے کاموں کے البتہ ہمیشہ معترف رہے ہیں۔ دوسرا کوئی بھی اگر اپنی قومی اور آئینی ذمہ داریاں پوری کرے‘ عام لوگوں کی خدمت خلوص اور جذبے سے کرے تو دل میں اس کے لیے قدر کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ گزشتہ چند مہینوں سے ہماری سفارت کاری سیاسی اُفق پر جاذب انداز میں ابھری ہے۔ ظاہر ہے کہ ہمارے حاسد کبھی خوش تو نہیں رہ سکتے مگر بھارت کے وزیر خارجہ تو اپنی بد زبانی میں سفارتی تو کیا عام آدمی کی تہذیب کی حد سے بھی گزر گئے۔ پاکستان کی تجویز پر جنگ بندی سے ملکی وقار میں نہ صرف اضافہ ہو گا بلکہ اس موقع کو استعمال کرتے ہوئے ہم اپنی نئی عالمی شناخت کے لیے ایک راہ متعین کر سکتے ہیں۔ کسی بھی لحاظ سے دو ہفتے کی جنگ بندی کو دیکھیں یہ ہر لحاظ سے ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔ منگل اور بدھ کی درمیانی رات بہت بے چینی میں گزری کہ رات کے اندھیرے میں ایران کی تہذیب کو مٹانے کی دھمکی کو ہلکا نہیں لیا جا سکتا تھا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں عام طور پر جو تصور ان کے اپنے ملک میں ہے وہ کوئی اتنا خوش کن نہیں۔ پوری دنیا میں اضطراب کی کیفیت تھی کہ اگر کہیں امریکی صدر نے ایران کے معاشی اور صنعتی انفراسٹرکچر کو پہلے سے کہیں بڑا نقصان پہنچا دیا تو ایک بہت بڑا انسانی المیہ جنم لے گا۔ پہلے ہی بہت کچھ تباہ کر دیا گیا ہے جسے دوبارہ تعمیر کرنے میں بہت سرمایہ اور وقت درکار ہو گا۔ سب سے بڑا نقصان تو انسانی جانوں کا ہے جو ایران اور لبنان میں ہوا ہے اور جس کی تلافی اب ممکن نہیں۔ جنگ بندی سے امید کی جا رہی ہے کہ نہ صرف اسرائیلی اور امریکی حملے رک جائیں گے بلکہ پائیدار امن اور علاقائی سلامتی کے لیے ایک جامع معاہدے کی طرف پیش رفت ممکن ہو سکے گی۔وزیراعظم شہباز شریف کی تجویز نے حریفوں کے درمیان کوئی قابلِ قبول راستہ نکالنے میں اہم کردار ادا کیا ہے‘ اگرچہ ایران کی کوشش اور خواہش تو رہی ہے کہ جنگ بندی کے بجائے امن منصوبے پر بات چیت ہو جس میں اس کے خلاف دہائیوں سے عائد اقتصادی پابندیوں کو ہٹانا بھی مقصود تھا اور یہ بھی کہ آئندہ اسرائیل اور امریکہ اس کے خلاف جارحانہ قدم نہیں اٹھائیں گے۔ جنگ کے دوران بھی ہماری حکومت کی وساطت سے ایسے معاہدے کے کچھ خدو خال طے ہوئے جن کو امید ہے کہ اس جنگ بندی کے دوران حتمی شکل دی جائے گی۔ جنگ بندی خلیجی ریاستوں اور عالمی معیشت کے لیے بھی نہایت ضروری تھی کہ ایران کی آبنائے ہرمز پر گرفت تیل اور گیس کی ترسیل مشکل اور غیر محفوظ بنا رہی تھی۔ اس تناظر میں امریکہ کی تمام تر عسکری منصوبہ بندی حالیہ ہفتوں میں اس آبی راستے کو عالمی جہاز رانی کے لیے کھلوانے کی رہی ہے۔ اس بار یورپی اور کچھ ایشیائی ممالک بھی زور لگا رہے تھے کہ سمندری راہداریوں کو بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہر ایک کے لیے کھلا رکھا جائے۔ حقیقت تو سب کو معلوم تھی اور اب بھی ہے کہ جب کوئی بڑی طاقت‘ جس نے ان قوانین کے احترام اور عالمی نظام کی فعالیت کی ذمہ داری اٹھائی ہو‘ اگر انہیں از خود ہی ہوا میں اڑا دے تو دوسرے کیوں ان کے پابند ہوں گے۔ بہرحال اس جنگ بندی سے عالمی معیشت خصوصاً ہمارے جیسے ایشیائی ممالک‘ جن کا خلیج فارس کے تیل اور گیس کے وسائل پر انحصار ہے‘ اب سکھ کا سانس لے سکیں گے۔اس جنگ بندی کی کئی تاویلیں اور ہر نوع کی تشریحات اب اگلے کئی دنوں میں پڑھنے اور سننے کو ملیں گی۔ میڈیا پر اور عوامی حلقوں میں بہت سے تبصرے کیے جاتے رہیں گے۔ یہ سب کچھ اپنی جگہ پر مگر یہ خدشہ بھی ہے کہ جو مقام اور احترام ہمارے ملک کو ملا ہے‘ اس پر فخر اور اپنے سفارت کاروں کی کارکردگی کی تعریف ان میں کہیں فٹ نوٹ بن کر نہ رہ جائے۔ ماضی میں ہماری بہت سی ایسی کاوشوں کو نہ صرف اہمیت نہ دی گئی بلکہ الٹا منفی بیانیوں کی مہم چلائی گئی یہاں تک کہ کارنامے ناکامیوں کے ذیل میں گنے جانے لگے۔ سوویت یونین اور افغان مجاہدین کے درمیان امن معاہدہ اور وہاں سے روسی فوجوں کا انخلا کوئی کم کارنامہ نہ تھا۔ اس نے اس وقت کی دنیا کا تزویراتی پیمانہ بدل دیا۔ اس طرح امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان بھی ہماری سفارت کاری نے اہم کردار ادا کیا۔ یہ موقع دوسروں کے لیے بھی تھا اور شاید اس میں ہم اکیلے نہیں تھے لیکن کلیدی کردار ہمارا ہی تھا۔ ایران کے خلاف جنگ رکوانے کے لیے دوسرے بہت سے ممالک کوشش کرتے رہے ہیں اور سب نے قابلِ تعریف حصہ ڈالا ہے۔ چلو اپنی خوش قسمتی ہی سمجھ لیں کہ جب ایک جنگی دھمکی کی خوفناک سرخ لکیر اپنی آخری حد کو پہنچ چکی تھی اور دنیا یقینی خطرے کے سامنے دم سادھے بیٹھی تھی تو ہماری تجویز مان لی گئی اور بڑا خطرہ ٹل گیا۔ خوش قسمتی کا اظہار صرف خشک مزاج دوستوں کے لیے کیا ہے۔ میرے نزدیک یہ مقام اَن تھک محنت اور سفارت کاری میں خلوص اور باہم حریفوں کے پاکستان پر اعتماد کا مرہونِ منت ہے۔یہ زبردست کامیابی سب کے لیے ہے۔ سب سے بڑھ کر ایران کے عوام کے لیے جنہیں بہت بڑی اذیت میں مبتلا ہونا پڑا اور دنیا کے سب ممالک کے لیے جہاں روز مرہ کی زندگی متاثر ہوئی۔ معاشی فکر مندی‘ مہنگائی‘ کساد بازاری میں اضافہ اور پیداوار میں کمی واقع ہو رہی تھی۔ ابھی یہ سطور لکھتے وقت تک اشارے مثبت آرہے ہیں کہ جنگ بندی کا احترام ہو گا اور ایران اور امریکہ کے درمیان بامعنی امن مذاکرات کا نیا مرحلہ شروع ہو گا‘ اگرچہ کچھ خدشات بھی اپنی جگہ پر موجود ہیں۔ بہتر تو یہی ہو گا کہ وہ نشستیں میرے اختیاری شہر‘ اسلام آباد میں ہوں اور یہ اعزاز ہمارے ملک کو ملے۔ سفارت کاری کی دوڑ کے دوسرے کھلاڑی بھی میدان میں ہوں گے۔ اگر ایسا نہ بھی ہو پایا تو عارضی جنگ بندی کرانے کا سفارتی سہرا بھی ہمارے لیے کم نہیں۔ اسی لیے تو یہ درویش اسے ایک غیرمعمولی کارنامہ سمجھتا ہے۔ ایک عرصے سے ہماری عالمی شناخت اور مقام کچھ اپنی نااہلیوں کی وجہ سے اور عمومی علاقائی حالات کے جبر کے تحت دباؤ کا شکار رہے ہیں۔ بحیثیت قوم ہماری خود اعتمادی کا خط بھی اعتدال کے زاویے سے کچھ کم رہا ہے۔ تاہم دو واقعات نے ہمیں مایوسیوں سے نکال کر امیدوں کے سفر کی راہ پر ڈال دیا ہے۔ گزشتہ سال مئی کی جنگ میں بھارت کو معقول اور متناسب جواب‘ اور اب مشرقِ وسطیٰ میں پھیلی خوفناک جنگ کے شعلوں پر پانی ڈالنے کی امتیازی حیثیت۔ زیادہ پائیدار مقام تو داخلی اصلاحات‘ صنعتی ترقی‘ فعال حکومت اور جاندار معاشرہ پیدا کرنے سے حاصل ہو گا۔ اس طرف قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_33241568.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کیا اب بھی سب اچھا ہے ؟…(2)(بابر اعوان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/babar-awan/2026-04-10/51740/83285752</link><pubDate>Fri, 10 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/babar-awan/2026-04-10/51740/83285752</guid><description>ایرانی قوم اور ان کی لیڈرشپ ایک پیج پر ہیں اسی لیے دنیا کی دو بے رحم ایٹمی بلائوں سے بین الاقوامی لڑائی لڑی۔ اس خون خشک کر دینے والی جنگ میں نہ تو ایرانیوں کے ہاتھ لرزے نہ سانس پھولی اور نہ ہی پیر ڈگمگائے۔ دنیا کے سامنے ایران اور اس کی لیڈرشپ سُرخرو ہے۔ دوسری جانب اسرائیل اور اس کا سرپرست امریکہ ہر محاذ پر بے آبرو ہوئے۔وجہ یہ ہے کہ جنگ شروع ہوتے ہی ایران میں روٹی‘ پٹرول اور ڈیزل تقریباً مفت کر دیا گیا۔ بڑے بڑے تاجروں نے لکھ کر لگا دیا کہ مال لے جائو پیسے جنگ کے بعد دے دینا۔ لاک ڈائون اور سمارٹ لاک ڈائون کی اصطلاح کسی ایرانی کو شاید معلوم ہی نہ ہو۔ سوا مہینے تک شب و روز بموں کی برسات ایرانیوں کو ہجرت پر مجبور نہ کر سکی۔ بلکہ دوسرے ملکوں میں مقیم ایرانی بڑی تعداد میں دفاعِ وطن کے لیے واپس آ رہے ہیں۔ اس قدر مسلسل بمباری‘ آگ و آہن کی برسات‘ شعلوں اور جنگ کے دوران بھی ایرانی وزرا عوام کے درمیان کھلی سڑکوں پر امریکہ مخالف مظاہروں میں تواتر سے شریک رہے۔ کسی تعلیمی ادارے میں کوئی لاک ڈائون نہیں کیا گیا۔ ایران کے 31 صوبوں میں کوئی ٹریول بین نہیں لگا۔ ایرانی صدر بذاتِ خود شاپنگ مالز میں جا کر مختلف اشیا کے ریٹس چیک کرتے رہے ۔ ساتھ ہی ساتھ صدر مسعود پزشکیان شہری سہولتوں کی فراہمی اور بمباری سے متاثر ہونے والے شہریوں کو کمفرٹ دینے کے لیے شخصی طور پر بھی موجود رہے۔پوٹھوہاری کی ایک قدیم اکھان کچھ یوں ہے &#39;&#39;کھوتا مریا کھاریاں تے سوگ اورنگ آباد‘‘۔ جنگ لگی عربیئن گلف اور پرشیئن گلف میں اور مہنگائی برصغیر میں۔ آپ سٹرک پر کسی بھی پاکستانی کو روک کر پوچھ لیں‘ سب یہی کہتے ہیں کہ جنگ کے نام پر کرپشن مافیا دیہاڑیاں لگا رہا۔آیئے آپ سے شہرِ اقتدار کے چند حقائق شیئر کرتے ہیں۔ ہم اسے خبر یا نیوز اس لیے نہیں کہیں گے کیونکہ موجودہ نظام نے ایک طرف نیوز کی آزادی کا فیوز اُڑا رکھا ہے جبکہ دوسری جانب فیک نیوز کا میلہ سجا رکھا ہے۔ خدا کی پناہ! اب تو ایسے دانشور مارکیٹ میں لانچ کیے گئے ہیں جنہوں نے پٹرولیم کی قیمتوں میں ناجائز اضافے کو انسانی صحت کے لیے نعمتِ عظمیٰ ہونے کا فتویٰ جاری کر دیا۔ کچھ دوسرے ایسے ہیں جن کی زبانوں پر شکمِ عزیز کے تالے پڑ گئے ۔ بہرحال! فیڈرل حکومت نے پٹرول پر 80 روپے کی لیوی کو واپس لینے کا جو اعلان کیا وہ دراصل چوری چھپانے کے لیے کاسمیٹک سرجری ہے۔ اگر ریلیف عوام کو دینا مقصد ہوتا تو یہ کمی ڈیزل‘ جو ساری ٹرانسپورٹ میں استعمال ہوتا ہے اور مٹی کا تیل جس سے غریب کا سٹوو اور چولہا جلتا ہے‘ اِن دونوں آئٹمز میں بھی کی جاتی۔ مذکورہ کمی کو حکومت کی طرف سے پہلے ہی سے عارضی رکھا گیا اور صاف بتا دیا گیا کہ یہ صرف تین سے چار ہفتے تک مؤثر رہے گی۔ اس کے بعد جو ہونا تھا‘ اس حوالے سے کچھ پلاننگ نہ تھی۔ جنگ بندی کے اعلان کے باوجود پٹرولیم مصنوعات کے ریٹس میں سکائی راکٹنگ جاری ہے اور معلوم نہیں کہ مزید کتنی ہونا باقی ہے۔ آئیے پٹرول بم گرانے کی وجوہات کا پوسٹ مارٹم کرتے ہیں۔پٹرولیم بم گرانے کی پہلی وجہ: دستیاب معلومات کے مطابق اس وقت تمام محکمہ جات کے سرکاری افسران کُل ملا کر مفت پٹرول کی مَد میں صرف ایک ماہ کے عرصے میں تین کروڑ لٹر پٹرول حاصل کر رہے ہیں۔ یہ پٹرول پرچیوں کے ذریعے لیا جا رہا ہے۔ اتنے بڑے &#39;&#39;پیٹرو بلیک ہول‘‘ کو بند کرنے کے بجائے حکومت نے ایک ہفتے میں معیشت‘ تجارت‘ صنعت‘ مواصلات‘ خور و نوش اور زندگی کے ہر شعبے میں فکسڈ انکم گروپس اور غریبوں کا گلا گھونٹ ڈالا۔ موثق پارلیمانی ذریعے کے مطابق حکومت کی مجبوری انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کا دیا گیا ٹارگٹ ہے‘ جس کے مطابق پٹرولیم مصنوعات پر 18 فیصد کی شرح سے جی ایس ٹی لگانے کا مطالبہ ہے‘ کاربن لیوی اور ٹیکس خسارے کو بھی پٹرول سے پورا کرنے کا پلان ہے‘ جس کا واحد مقصد فی لٹر قیمت کو چھ‘ سات سو روپے تک پہنچانا نظر آتا ہے۔ اس پالیسی سازی پر شہرِ اقتدار کے بابو دو لطیفے ایک دوسرے کو سناتے پھر رہے ہیں۔ پہلا لطیفہ یہ کہ ہماری قومی ترقی کے لیے جو ریکارڈ بنا ہے اس نے اہلِ زمین تو کیا‘ سورج کو بھی حیران کر دیا ہے۔ سورج بیچارہ سوچ رہا ہے کسی زمانے میں کرّہِ ارض پر میری پرستش کی جاتی تھی‘ اب یہ کون سی قوم آ گئی ہے جس نے سولر انرجی پر بھی اپنے غریبوں سے ٹیکس وصول کرنا شروع کر دیا؟ نہ مجھ سے پوچھا نہ مجھے میرا حصہ بھجوایا۔ دوسرے لطیفے نے پنجاب کے سرکاری ارسطوئوں کے حلقوں میں جنم لیا ہے۔ پچھلے دنوں ملک کے مختلف شہروں میں جو زلزلے آئے‘ ان کے بارے میں تجویز ہوا کہ کافی سارے لوگوں نے پنجاب میں مفت جھولے لیے‘ لہٰذا اب پنجاب کو پیرس میں تبدیل کرنے کے لیے ضروری ہے زلزلے کے جھولوں کو بھی فوراً ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔ شہرِ اقتدار کے ایک دیہاتی علاقے کی ایک شادی میں دو سرکاری عہدیدار مہمانوں نے گھیر لیے۔ ایک کو کہا گیا آپ کو خدا کا خوف نہیں ہے‘ آپ نے غریبوں کا بھرکس نکال دیا ۔ دوسرے نے کھسیانی ہنسی ہنستے ہوئے جواب دیا: ان حالات میں موجودہ حکومت کا کوئی &#39;&#39;role‘‘ نہیں ہے۔ یہ بھی ایک نیا عالمی ریکارڈ طے ہوا کہ جس حکومت کے پاس مہنگائی میں اضافے کا اختیار ہے وہ کہہ رہی ہے کہ مہنگائی کو کنٹرول کرنا ہمارے ایجنڈے پر نہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے پٹرول بم گرانے کی پہلی وجہ عوام دشمن پالیسی کے علاوہ اور کچھ نہیں۔پیٹرول بم گرانے کی دوسری وجہ: ایک نظر دبئی پراپرٹی لیکس پر ڈا لیں۔ پاکستان کی مقتدر اشرافیہ‘ طاقتور بابو اور بعض ریٹائر افسران صرف دبئی میں گیارہ ار ب ڈالر کی پراپرٹی چھپا کر بیٹھے ہیں۔ ان میں بھاری اکثریت اُن کی ہے جنہوں نے معمولی کاروبار کیے یا ملازمتیں کیں۔ ان کے باپ دادائوں نے بھی کروڑ روپیہ کبھی اکٹھا نہ دیکھا ہو گا۔ خبر یہ ہے کہ یو اے ای‘ سعودی عرب اور چین اپنے پیسے موڑنے کے لیے متحرک ہیں۔ دوسری جانب بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت جو بھی ہو‘ بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ ہمارے ملک میں جو ڈیزل بنتا ہے وہ 75فیصد ہماری ریفائنریز خود بناتی ہیں‘ جو تقریباً 190 روپے فی لٹر کاسٹ آتا ہے۔ آپ فرنس آئل یا پٹرول کے نقصانات منہا کر دیں تو ریفائنریز تقریباً 125روپے فی لٹر ایڈیشنل منافع کما رہی ہیں۔ اب خبر ہے کہ پٹرولیم کی قیمتیں جنگ بندی کے بعد 21 فیصد گر گئی ہیں۔ ہائبرڈ نظام تمام پٹرولیم مصنوعات پہ 21 فیصد کے حساب سے پبلک کو ریلیف دے۔بندگانِ شکم کی حالت پہ یہ دو شعر موزوں ہوئے۔کھل کر کہہ‘ گر سچا ہےکیا اب بھی سب اچھا ہے؟تیری شہ رگ‘ اُس کا پائوںچپ رہ‘ شیر کا بچہ ہے(ختم)</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_42786259.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سفارت کاری کا پل صراط(اسد طاہر جپہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/asad-tahir-jappa-/2026-04-10/51741/60414974</link><pubDate>Fri, 10 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/asad-tahir-jappa-/2026-04-10/51741/60414974</guid><description>لگ بھگ 40 روز تک جاری رہنے والی ایران اور اسرائیل و امریکہ جنگ میں کئی اتار چڑھاؤ آئے مگر اس کشیدگی میں سب سے زیادہ خوفناک موڑ اس وقت آیا جب صدر ٹرمپ نے ایران پر بدترین جنگی جارحیت کا استعمال کرتے ہوئے پانچ ہزار سال پہ محیط ایرانی تاریخ‘ تہذیب و تمدن کو نیست و نابود کرنے کا اعلان کیا‘ جس کی ڈیڈ لائن منگل اور بدھ کی درمیانی شب تھی‘ جس کے بعد امریکہ کی جانب سے شدید ترین حملے کی تیاریاں مکمل کر لی گئی تھیں۔ صدر ٹرمپ کے اس دھمکی آمیز اعلان سے عالمی میڈیا پر ایک بھونچال برپا تھا اور پوری دنیا میں لوگ اپنی گھڑیوں پر نظریں جمائے‘ ڈیڈ لائن کے خاتمے کا وقت قریب آتا دیکھ کر ایک ہیجانی کیفیت میں مبتلا تھے۔ کئی سیاسی مبصرین اور دفاعی امور کے ماہرین امریکہ کی طرف سے ایران پر ممکنہ جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے امکانات کا جائزہ بھی لے رہے تھے جس کے نتیجے میں دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر پہنچ گئی تھی۔ مگر اس بیچ پس پردہ مذاکرات کی بازگشت بھی سنائی دیتی رہی اور اس خطرناک ڈیڈ لائن کے خاتمے سے قبل ہی خود امریکی صدر اور ایران کی قیادت کی طرف سے ثالث ممالک کے ذریعے مذاکرات کی تصدیق بھی کی گئی تھی۔ فریقین کی طرف سے پیش کردہ جنگ بندی کے نکات پر اتفاق کے امکانات روشن نہیں دکھائی دے رہے تھے جس کے باعث تشویشناک صورتحال بدستور قائم رہی۔ اس شدید اضطراب کی کیفیت میں تمام تر نگاہیں اسلام آباد کی جانب مرکوز تھیں جہاں پاکستان کی سول و عسکری قیادت بیک وقت امریکہ‘ ایران‘ سعودی عرب اور چین کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھی اور جنگ بندی کے معاہدے کی شرائط اور جزئیات کو حتمی شکل دینے میں مصروف تھی۔ اس ضمن میں جہاں اسلام آباد سے بہت سی امیدیں وابستہ تھیں وہاں بطور ثالث پاکستان کی حیثیت پر کئی سوالات بھی اٹھائے جارہے تھے کہ کیا پاکستان امریکہ جیسی سپر پاور کے قول و فعل کی ضمانت کا بوجھ اٹھانے کی سکت رکھتا ہے۔ ان توقعات‘ امکانات اور خدشات کے درمیان پاکستان نے منگل اور بدھ کی درمیانی شب حتمی ڈیڈ لائن کے خاتمے سے تھوڑی دیر قبل امریکہ اور ایران کی قیادت سے دو ہفتے کیلئے جنگ بندی کی اپیل کی جسے فریقین نے قبول کر لیا اور جنگ بندی کا خواب شرمندۂ تعبیر ہوا‘ یوں پوری دنیا ہیجانی کیفیت سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوئی۔ ایک طرف صدر ٹرمپ اور ان کی دفاعی ٹیم فتح کے دعوے کر رہے ہیں تو دوسری طرف ایران میں جشن کا سماں ہے۔ مگر مسلمہ حقیقت یہ ہے کہ اس جنگ کے دوران ایران نے جس فقید المثال شجاعت اور بہادری سے امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت کا مقابلہ کیا اور جس طاقت کے ساتھ اس نے اسرائیل کے طول و عرض میں میزائل داغ کر جوابی وار کیے اس نے پوری دنیا کو ورطۂ حیرت میں مبتلا کر دیا ہے۔ امریکہ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر جنگی جارحیت کے پہاڑ توڑ ڈالے اور تباہ کن بمباری سے ایران کی تقریباً تمام صف اول کی سول و عسکری قیادت کو شہید کر دیا‘ متعدد اہم تنصیبات اور ہزاروں بلند و بالا عمارتوں کو نقصان پہنچایا جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد زندگی کی بازی ہار گئے۔ مگر ایران کی اعلیٰ سول و عسکری قیادت نے عزم و استقلال کا مظاہرہ کرتے ہوئے جس طرح ڈٹ کر مقابلہ کیا وہ تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ایران نے خلیجی ریاستوں میں موجود امریکی اڈوں اور اہم مقامات پر ڈرون اور میزائل داغ کر امریکہ کے کئی جنگی جہازوں سمیت دیگر بیش قیمت دفاعی ہتھیاروں کو شدید نقصان پہنچایا۔ اس کے علاوہ گرم پانیوں کی طرف پیش قدمی کرنے والے امریکی بحری بیڑوں ابراہم لنکن اور جیرالڈ فورڈ کو پسپائی اختیار کرنے پر مجبور کیا۔ سب سے زیادہ حیران کن پہلو ایرانی میزائلوں کا اسرائیل کے کثیر جہتی دفاعی حصار کو توڑ کر اس کے اہم ترین مقامات پر کامیابی سے نشانہ بنانا تھا۔ دوسری طرف ایران نے آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد اس پر اپنا مکمل کنٹرول قائم کر کے تیل و گیس کی سپلائی لائن کاٹ دی جس سے عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں نمایاں اضافے نے بین الاقوامی معیشت کو بری طرح متاثر کرنا شروع کر دیا۔ ادھر امریکہ میں جنگ کے خلاف عوامی مظاہروں نے زور پکڑ لیا۔ جنگ کے آغاز سے ہی تقریباً 80فیصد سے زائد امریکی صدر ٹرمپ کے اس اقدام کے خلاف تھے کیونکہ ان کے نزدیک کسی بھی خود مختار ریاست پر چڑھ دوڑنے کا قانونی اور اخلاقی جواز نہیں ہے۔ امریکہ جو ایران میں ونیز ویلا طرز کے مختصر مگر نتیجہ خیز فوجی آپریشن کے ذریعے رجیم چینج کی نیت سے حملہ آور ہوا اور اسرائیل کی جنگ کو ذاتی جنگ بنا کر اپنی عسکری برتری کے بل بوتے پر ایران پر چڑھ دوڑا تھا‘ اسے نہ صرف اپنے مقاصد میں ناکامی ہوئی بلکہ اسے اس کے ساتھ ساتھ سفارتی محاذ پر بھی شدید نقصان پہنچا اور عالمی سطح پر تنہائی کا سامنا کرنا پڑا۔ نیٹو ممالک سمیت تمام یورپ‘ آسٹریلیا‘ کینیڈا‘ برطانیہ‘ چین اور جاپان نے اس جنگ سے لا تعلقی کا اظہار کیا۔ سپین کے وزیراعظم نے سب سے پہلے اور سب سے زیادہ دوٹوک مؤقف اختیار کیا جس کے بعد اٹلی‘ جرمنی‘ فرانس اور برطانیہ نے بھی اس جنگ سے لا تعلقی کا اظہار کرتے ہوئے امریکہ کے جنگی جنون پر تنقید کی۔پاکستان کی سول و ملٹری قیادت نے جنگ شروع ہوتے ہی اپنے سفارتی روابط تیز کرکے جنگ بندی کی کوششوں کا آغاز کر دیا تھا۔ گزشتہ سال سعودی عرب کے ساتھ طے پائے دفاعی معاہدے کے بعد پاکستان کیلئے یہ جنگ ایک کڑا امتحان تھی۔ حرمین شریفین کی نسبت سے سعودی عرب کو پاکستان میں انتہائی عقیدت و احترام سے دیکھا جاتا ہے اور پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات ہمیشہ مثالی رہے ہیں۔ دوسری طرف ایران بھی پاکستان کے ہمسایہ اسلامی ملک کے طور پر ہمیشہ اپنی منفرد اہمیت کا حامل رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ایران نے اسرائیل و امریکہ کے حملوں کے جواب میں خلیجی ممالک اور سعودی عرب میں امریکی دفاعی اڈوں پر ڈرونز اور میزائل داغ کر جنگ کی آگ کو پورے خطے میں پھیلا دیا تو پاکستان کیلئے یہ صورتحال نہایت دشوار تھی کیونکہ ان تمام ممالک میں لاکھوں پاکستانی روزگار کے سلسلے میں کئی دہائیوں سے مقیم ہیں اور سالانہ اربوں ڈالر زرمبادلہ کماکر وطن بھجواتے ہیں، جس کا ہماری معیشت میں کلیدی کردار ہے۔ لہٰذا ان تمام وجوہات کی بنیاد پر پاکستان اپنی سیاسی تاریخ کے سب سے زیادہ نازک اور کٹھن سفارتی امتحان سے گزرا ہے جسے سفارتکاری کا پلِ صراط بھی کہا جا سکتا ہے۔ پاکستان نے ایک مرتبہ پھر ثابت کر دیا کہ خطے میں پھیلی کشیدگی اور سخت عالمی حالات میں بھی مضبوط سیاسی و عسکری قیادت‘ بہترین سفارتکاری اور قومی یگانگت سے اپنے ملکی مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انتہائی نامساعد حالات کے باوجود پاکستان کی اَن تھک محنت اور مؤثر سفارتی حکمت عملی سے امریکہ اور ایران میں جنگ بندی ممکن ہوئی‘ جو نہ صرف خطے میں استحکام کا سبب بنے گی بلکہ پوری دنیا کے پائیدار امن کیلئے ایک قابلِ تحسین اقدام ہے۔ یہ امن معاہدہ پاکستان کیلئے ایک تاریخی سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے اور ہماری مثالی سفارتکاری نے دنیا کو تیسری ممکنہ عالمی جنگ سے بچانے میں مرکزی کردار انجام دیا ہے جسے پوری دنیا میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ عالمی سطح پر پاکستان کا سبز ہلالی پرچم سربلند ہوا ہے۔ اگرچہ یہ عارضی جنگ بندی ہے اور اسے ابھی سفارتکاری کے کئی اور پل صراط کامیابی سے عبور کرکے ایک ٹھوس اور پائیدار امن معاہدے میں ڈھلنا ہے مگر اس سارے عمل میں پاکستان کا کلیدی کردار بدستور قائم رہے گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_34710710.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ویل ڈَن پاکستان!(آصف عفان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/asif-afan-/2026-04-10/51742/69548414</link><pubDate>Fri, 10 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/asif-afan-/2026-04-10/51742/69548414</guid><description>ویل ڈَن پاکستان! پاک بھارت جنگ کے بعد قدرت نے وطنِ عزیز کو ایک بار پھر عالمی سطح پر اس تاریخ ساز پذیرائی سے نوازا ہے جس پر فخر سے کہیں زیادہ شکر بجا لانا بنتا ہے۔ ٹرمپ بہادر کی دھمکی آمیز پے در پے ڈیڈ لائنز اور کسی بھی حد سے گزر جانے کے جارحانہ عزائم کو ٹالے رکھنے کے علاوہ فریقین کو قائل کرنے کی ثمر آور کوششیں بلاشبہ عالمی سفارتکاری کا سنہرا باب ہیں۔ آپے سے باہر امریکی صدر ٹرمپ کا جنگی جنون نہ صرف تیسری عالمی جنگ کا طبل بننے جا رہا تھا بلکہ خطے کو بھیانک انسانی المیے سے دوچار کرنے کا باعث بھی ہو سکتا تھا۔ ایسے میں پاکستانی ٹرائیکا کی بھاگ دوڑ اور معاملہ فہمی نے عین وقت پر وہ سبھی بلائیں ٹال دیں جو خطے کیلئے نہ ختم ہونے والی تباہی اور بربادی بننے جا رہی تھیں۔ جنگ بندی کا اعلان ہونے کے باوجود فساد کی جڑ اسرائیل نے لبنان پر ایک اور وحشیانہ حملہ کر ڈالا ہے‘ جس کے نتیجے میں 254شہادتوں کے علاوہ 1100شہری شدید زخمی ہو چکے ہیں۔ خدا جانے یہ کیسا امن معاہدہ ہے جس میں مرکزی مجرم کسی مصالحت کا پابند ہی نہیں۔ایران امریکہ جنگ بندی یقینا خوش آئند ہے لیکن گریٹر اسرائیل کے خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے کا جنون جوں کا توں دکھائی دے رہا ہے۔ امن مسودے کے مندرجات اور ثالثی اثرات اسرائیل پر کیونکر لاگو نہیں ہوتے یہ معمہ بجا طور پر معنی خیز ہے۔ گویا:ظلم رہے اور اَمن بھی ہو؍ کیا ممکن ہے تم ہی کہو دنیا بھر کی نظریں ہمارے شہر اقتدار پر ہیں‘ عالمی امن سے جڑے مذاکرات کی میزبانی جہاں پاکستان کیلئے باعث تفاخر اور اعزاز ہے وہاں بھارت کیلئے پریشان کن تنہائی کا باعث بھی ہے۔ بھارتی میڈیا کی یاوہ گوئی سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ بڑی معاشی منڈی اور عسکری طاقت ہونے کے باوجود اس عالمی منظرنامے میں بھارت کسی کھاتے میں شمار نہیں۔ ہسپانوی وزیراعظم نے اس جنگ بندی کا خیر مقدم کرنے کے علاوہ اپنے ایکس اکاؤنٹ پر لکھا ہے کہ ہسپانوی حکومت ان لوگوں کی تعریف نہیں کرے گی جو دنیا کو آگ لگائیں اور پھر داد وصول کرنے کیلئے پانی کی بالٹیاں بھی لے کر آجائیں۔ خدا کرے یہ جنگ بندی مستقل اَمن کی طرف پہلا قدم ثابت ہو اور 40روزہ جنگ سے برآمد ہونے والے سبق آموز نتائج امریکہ اور اسرائیل سمیت یقینا بھارت کیلئے بھی قابلِ فکر ہیں۔ عالمی اجارہ داری کے خواب ہوں یا عسکری قوت اور ٹیکنالوجی کے گھمنڈ میں خطے پر چڑھ دوڑنے کی حماقتیں‘ سبھی کے پول اس طرح کھلے ہیں کہ سپر پاور کو بھی جنگ بندی میں ہی پناہ نظر آئی۔ ایران جیسی قدیمی سپر پاور نے دورِ جدید میں سپرپاور تصور کیے جانے والوں کے سبھی بھرم توڑ ڈالے ہیں۔ ایرانی تہذیب کو ملیامیٹ کرنے کی دھمکی دینے والے پاکستانی ثالثی کو تسلیم کرنے پر مجبور ہیں۔ یہ عالمی پذیرائی بجا طور پر تحفۂ خداوندی ہے۔ ان لمحات سے آنے والوں برسوں‘ دہائیوں اور صدیوں کو بجا طور پر سنوارا جا سکتا ہے۔ ماضی کی غلطیاں دہرانے کے بجائے اس بار سبھی فیصلے ملک و قوم کے مفادات اور ترقی سے مشروط ہونے چاہئیں۔ضیا الحق دور میں افغان جہاد کی قیمت ملک و قوم کے حق میں وصول کرنے کے بجائے ایسے ایسے فیصلے کیے گئے جن کی قیمت نسل در نسل چکاتے چلے آرہے ہیں۔ طولِ اقتدار کی خواہش ہو یا استحکامِ اقتدار کی‘ ان سبھی کو پورا کرنے کیلئے جو اقدامات کیے گئے ان سبھی کے اثراتِ بد آج بھی ملک کے کونے کونے میں جابجا ہرسو دکھائی دیتے ہیں۔ اسی دور میں لگائی گئی نئی سیاسی پنیری کہیں گھنا جنگل بن کر تو کہیں خار دار بیل کی طرح آج بھی سسٹم کو لپیٹے ہونے ہے۔ اسی طرح نائن الیون کے بعد امریکی مطالبے &#39;&#39;ڈو مور‘‘ کو نصب العین بنانے والے پرویز مشرف بھی امریکہ کی ضرورت بنے رہنے کیلئے سبھی حدیں پار کرتے رہے۔ جنگی سہولت کاری کے علاوہ امریکی ایجنسیوں کو ہر ممکن رسائی کے سبھی مواقع فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے جیتے جاگتے شہریوں کو بھی پارسل بنا کر حوالے کرتے رہے۔ ان سبھی خدمات کے عوض ملک و قوم کو کیا ہی ملتا سبھی مراعات اور امریکی نوازشات کی بندر بانٹ بھی آپس میں ہی جاری رہی۔ ان دونوں ادوار میں پیش پیش اور سرگرم رہنے والوں کو سبھی جانتے ہیں‘ مال بنانے سے لے کر نسلیں سنوارنے تک کسی نے کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ تاریخ کے اوراق پلٹنے کا مقصد محض تمہید باندھنا ہرگز نہیں بلکہ ماضی کا وہ آئینہ دکھانا ہے جس میں سبھی چہرے اور کردار بخوبی دیکھے جا سکتے ہیں۔ عالمی منظر نامے پر پاکستان کو جو قدر و منزلت آج نصیب ہے ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ اس مقامِ شکر کا حق ماضی کی غلطیوں اور بدعتوں سے بچ کر ہی ادا کیا جا سکتا ہے۔ کل تک وزیراعظم شہباز شریف ٹرمپ بہادر کو امن داعی ثابت کرنے پر بضد اور نوبیل پیس پرائز کا حقدار قرار دے رہے تھے‘ آج خود وزیراعظم اس ٹائٹل کے اہل دکھائی دیتے ہیں‘ افسوس! صدر ٹرمپ نے ہمارے وزیراعظم کا نیوندرا پلٹانے کے بجائے تاحال دبا رکھا ہے۔ ستائشِ باہمی بھی کوئی چیز ہوتی ہے‘ اگر شہباز شریف صدر ٹرمپ کو بے سبب امن کا داعی قرار دے سکتے ہیں تو صدر ٹرمپ کو بھی ازخود خیال کرنا چاہیے۔ پاک بھارت جنگ بند کرانے میں ٹرمپ کا کتنا کردار تھا اور بھارت کے اوسان کیونکر خطا ہو گئے تھے‘ اس بارے سبھی واقفانِ حال بخوبی جانتے ہیں لیکن ایران کے ہاتھوں مستقل بنتی درگت کو روکنے کا کریڈٹ پاکستانی وزیراعظم اور سپہ سالار کو ہی جاتا ہے۔ اگر پاکستان ثالثی کی کوششیں تیز نہ کرتا تو ٹرمپ کو ڈیڈ لائن مجبوراً بڑھانا پڑتی اور رہا سہا بھرم بھی جاتا رہتا۔ خیر! اس جنگ تماشے سے خطے کے ان سبھی ممالک کو چانن ضرور ہو گیا ہے جو امریکی تعلقات کے خمار میں مغالطے کا شکار تھے۔ تلواروں کو فقط رقص پر لہرانے والے اپنے ملکی دفاع میں بھی امریکہ کے مرہونِ منت اور محتاج نکلے۔ ایران کی طرف سے دھلائی کے بعد یہ عقدہ بھی کھل چکا کہ امریکہ پر انحصار جیسی غلطی نے ان سبھی کا بیڑہ ڈبو ڈالا ہے۔ ایران نے بھاری معاشی نقصان کے علاوہ اکانومی کی چولیں بھی ہلا ڈالی ہیں‘ ایسے میں ان سبھی ریاستوں کو اپنے پیروں پر واپس کھڑا ہونے میں خاصا وقت لگ سکتا ہے۔ تاہم اس جنگ بندی کو عارضی ہی سمجھا جائے؛ البتہ اس کا دورانیہ حکمت اور تدبر سے بڑھایا ضرور جا سکتا ہے۔ لمحۂ موجود ہی سب کچھ ہے‘ امریکہ سمیت خطے کے دیگر ممالک سے کچھ معاہدے ایسے ضرور کر لینے چاہئیں جو ہماری مستقل اہمیت کے ضامن ہونے کے علاوہ معاشی استحکام اور ترقی سے بھی منسوب ہوں۔ ماضی میں مستقل دہرائی جانے والی غلطیوں کا ازالہ بس اسی صورت ہو سکتا ہے کہ اس بار فیصلے فقط ملک و قوم کے حق میں ہی کیے جائیں۔ بیرونِ ملک اثاثوں اور دھن دولت کے انبار لگانے کی بدعت نے ہر بار ملک و قوم کو مرگِ نو سے ہی دوچار کیا ہے‘ ان بدعتوں کو دوام بخشنے والے سبھی مملکتِ خداداد سے کہیں دام تو کہیں تاوان برابر وصول کرتے رہے ہیں۔ ان میں سے بیشتر عدم سدھارنے کے باوجود آج بھی زندہ اور عوام ہی مرتے چلے آرہے ہیں۔ قطرہ قطرہ‘ ریزہ ریزہ‘ دھیرے دھیرے‘ لمحہ لمحہ‘ ٹکڑوں میں‘ نسل در نسل۔ اس بار عالمی پذیرائی کے بینی فشری حکمران نہیں ریاست اور عوام ہونے چاہئیں۔ سرمایہ کاری ملک میں اور سرمایہ عوام کا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_65560900.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>اسلام آباد اور دریائے فرات(امیر حمزہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ameer-hamza/2026-04-10/51743/60445867</link><pubDate>Fri, 10 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ameer-hamza/2026-04-10/51743/60445867</guid><description>الحمدللہ! اسلام آباد سے سلامتی کے پیغام کو اللہ تعالیٰ نے ایسی رحمتوں اور برکتوں سے نوازا کہ سارا جہاں تیسری عالمی جنگ کے خدشات سے سلامتی کے ساتھ باہر نکل آیا۔ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے چرچے سلامیاں اور سیلوٹ لے رہے ہیں۔ باقی تذکرہ بعد میں‘ پہلے یہ عرض کر دوں کہ آج سے کوئی 30 سال قبل میں ایران گیا تو ایرانی بندرگاہ چابہار بھی گیا اور اس سے ملحقہ صوبے ہرمزگان کی بندرگاہ بندر عباس بھی گیا۔ ایک کشتی کے ذریعے خلیج فارس کے پانیوں میں اترا تو ایک جزیرے درگھان میں جا پہنچا۔ یہاں شافعی مسلک کے مسلمان بستے ہیں۔ چھوٹے سے جزیرے پر ایک ہی مسجد تھی‘ جہاں خطبہ سننے اور جمعہ کی نماز پڑھنے کا موقع ملا۔ یاد رہے! خلیج فارس کے سمندری پانیوں کو یہ شرف حاصل ہے کہ دریائے فرات کا پانی اس خلیج میں گرتا ہے۔ یہ دریا ترکیہ کے پہاڑوں سے شروع ہو کر شام سے ہوتا ہوا عراق میں داخل ہوتا ہے اور 2800 کلو میٹر کا سفر جونہی طے کر لیتا ہے‘ خلیج فارس کے پانیوں میں شامل ہو جاتا ہے۔ اللہ کے آخری رسولﷺ نے اس دریا کو جنت کی نہر قرار دیا ہے (صحیح مسلم)۔ جی ہاں! یہ وہی دریائے فرات ہے کہ جس سے ذرا دور یزیدی فوج نے رحمت دوعالمﷺ کے خوبصورت ترین پھول تک اس دریا کا پانی پہنچنے نہیں دیا اور وہ پھول مسل ڈالا۔ اس پھول یعنی سیدنا امام حسینؓ کے نانا جان رحمتِ دو عالمﷺ پر نازل ہونیوالے قرآن نے &#39;&#39;فرات‘‘ کے لفظ کو میٹھے پانی کے طور پر استعمال کیا ہے۔ خلیج فارس کا ایک کنارہ مکمل طور پر ایران کا حصہ ہے اور دوسرے کنارے پر سعودی عرب‘ بحرین‘ قطر‘ متحدہ عرب امارات‘ اور عمان واقع ہیں‘ اس لحاظ سے اسے خلیج عربی بھی کہا جاتا ہے۔ میرے ہمسفر زاہدان کے معروف عالم مولانا عبدالغنی شاہوزئیؒ تھے۔ سمندری لہروں اور موجوں پر جب ہماری کشتی فراٹے بھرنے لگی تو فرات اور سمندری پانیوں کو چھوتے ہوئے جو ہوا ہمیں چھو رہی تھی اسے یاد کرکے آج بھی دل کو فرحت ملتی ہے۔قرآن مجید کی &#39;&#39;سورۃ المرسلات‘‘ کی پہلی آیت کا ترجمہ کیا مزیدار ہے: &#39;&#39; قسم ہے ان ہوائوں کی جو نرم بنا کر چلائی جاتی ہیں‘‘۔ ذرا آگے چل کر اللہ تعالیٰ انسان کو مخاطب کر کے پوچھتے ہیں &#39;&#39;کیا ہم نے زمین کو ایسا نہیں بنایا کہ جو (انسانی ضروریات کو) کامل طور پر پورا کرنے والی ہے۔ زندہ ہوں یا مردہ‘ سب کیلئے (کافی ہو جانے والی ہے)۔ ہم نے اس میں اونچے پہاڑ بنا دیے ہیں جبکہ تم لوگوں کو فُرَاتاً (میٹھا پانی) پلا دیا ہے‘‘ (المرسلات: 25 تا 27)۔ ان آیات میں پہاڑوں کی صفت &#39;&#39;شامِخَات‘‘ آئی ہے جس کا عمومی ترجمہ بلند وبالا کیا جاتا ہے مگر اس لفظ میں اس قدر وسعت ہے کہ اس کے معنوں میں تکبر اور گھمنڈ بھی ہے‘ غلبہ پانا اور مخالف کا ناک رگڑنا بھی مراد ہے۔ قارئین کرام! دریائے فرات کا خلیج کے سمندر میں گرنا اور سورۂ مرسلات کی آیت: 27 میں &#39;فرات اور شامِخات‘ جیسے الفاظ اشارہ دے رہے ہیں کہ اس علاقے پر کنٹرول کیلٗے جنگیں ہوں گی۔ اسی خلیج میں &#39;&#39;خارگ‘‘ نام کا جزیرہ ہے جو تیل اور گیس سے مالا مال ہے۔ ایران بھی LNG برآمد کرتا ہے اور قطر سے بھی دنیا کو یہ برآمد کی جاتی ہے۔ دونوں اپنی اپنی حدود میں خلیجی پانیوں سے یہ گیس نکالتے ہیں۔ اس گیس کو جاپان‘ کوریا‘ مشرقِ بعید کے بعض دیگر ممالک اور یورپ بھی خریدتا ہے۔ یہ لوگ بجلی کا ایک حصہ اسی گیس سے بناتے ہیں۔ اس سے محرومی کا مطلب یہ ہے کہ مذکورہ ممالک کی فیکٹریاں بند ہو جائیں گی‘ شہر اندھیرے میں ڈوب جائیں گے‘ سردی کے موسم میں زندگی مزید مشکلات کا شکار ہو جائے گی۔ مجھے یوں سمجھ آتی ہے کہ ایران گزشتہ 47 سال سے جو پابندیاں جھیل رہا ہے‘ اب اس نے آٹھ ارب انسانوں کی شہ رگ کو پکڑ لیا کہ مزید ظلم کرکے امریکہ اور اسرائیل ہمیں مٹانا چاہتے ہیں تو پھر سب خاموش تماشائی بھی برباد ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ یورپ اور باقی ساری دنیا نے اس جنگ میں ٹرمپ اور اسرائیل کا ساتھ نہیں دیا۔پٹرول اور گیس کے ان ذخائر سے ہیلیم گیس بھی نکلتی ہے‘ جو ایم آر آئی مشینوں میں استعمال ہوتی ہے اور انہیں ٹھنڈا رکھنے کیلئے لازم ہے۔ سمارٹ فون‘ لیپ ٹاپ وغیرہ کیلئے مائیکرو چپ بنانے میں بھی یہی گیس استعمال ہوتی ہے۔ یہ گیس نہیں ملے گی تو چپ‘ جو کاروں‘ جہازوں اور کمپیوٹرائزڈ دنیا میں استعمال ہوتی ہے‘ وہ ساری فیکٹریاں بند ہو جائیں گی۔ ماڈرن ٹیکنالوجی کا جنازہ نکل جائے گا۔ اس ٹیکنالوجی کی گردن ایران نے پکڑ لی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل نے بموں سے تباہی مچا دی مگر ایران کا نظامِ حکومت ہل بھی نہیں سکا۔ ایران نے بھرپور مقابلہ کیا اور ڈٹ کر کھڑا رہا۔ آخرکار اہلِ اسلام آباد کی بات کو ماننا پڑا کہ جس میں ساری انسانیت کی سلامتی پنہاں ہے۔ یاد رہے! چالیس کے قریب کیمیکلز زمین سے نکلنے والے تیل سے نکلتے ہیں اور ان کی تفصیلات کیلئے کئی کالم درکار ہوں گے۔ مختصراً یہ کہ ان پیٹرو کیمیکلز کے بغیر آج کی دنیا دیوالیہ ہو جائے گی۔ ایران نے مخالفوں کے گریبان کو مضبوطی سے پکڑ لیا اور پھر خوب جھنجھوڑ ڈالا‘ اس قدر کہ جدید دنیا کی چیخیں نکلنے ہی کو تھیں۔ چین‘ بھارت اور برازیل جیسے بڑے صنعتی ملکوں کی فیکٹریوں کو تالے لگ جاتے تو صنعت کی دنیا قبرستان بن جاتی۔ وہ سڑکیں جن پر ٹرالے اور ٹرک سامان لے کر دوڑتے ہیں ان سڑکوں کا تارکول بھی کچے تیل سے ہی الگ کیا جاتا ہے۔ یہ سڑکیں ویران ہو جاتیں۔ بیروزگاری کا ایک طوفان آ جاتا۔ خانہ جنگیوں سے ملکوں کے ملک ویران اور برباد ہو جاتے۔زراعت کی دنیا کا رخ کریں تو امونیا گیس کا کوئی متبادل موجود نہیں ہے۔ قدرتی گیس کے ذریعے اس سے یوریا اور فیکٹریوں میں کھاد بنتی ہے۔ دنیا کی کوئی 25 فیصد قدرتی گیس خلیج سے نکلتی ہے۔ یہ گیس نہ ملی تو چار ارب انسانوں کی خوراک کم ہو جائے گی۔ دوسرے لفظوں میں چار ارب انسانوں کی خوراک آٹھ ارب انسانوں میں تقسیم کرنا پڑے گی۔ لامحالہ ایسا ناممکن ہے لہٰذا آدھی دنیا میں خوراک کی کمی کی وجہ سے خانہ جنگیاں ہو سکتی ہیں۔ عالمی قحط پڑ سکتا ہے۔ موجودہ جنگ اگر دو ماہ مزید چل جاتی تو دنیا ہر میدان میں تباہی کے گڑھے میں گرنے کو تیار ہوتی بلکہ اگر موجودہ سیزن بھی نکل جاتا تو اگلا سال خوراک کی شدید کمی کا ہو جاتا۔ یاد رہے! اب دنیا میں کاٹن کم ہے‘ پولیسٹر اور فائبر کے کپڑے‘ جو دراصل خام پٹرول سے ہی بنتے ہیں‘ انتہائی مہنگے ہو جاتے۔ رضائیاں اور کمبل‘ گھروں کے پردے‘ رضائیوں میں بھرا جانے والا پولیسٹر‘ صوفے‘ کاروں کی سیٹیں‘ ریکسین اور اس سے بننے والے جوتے! غرض یہ ساری صنعت تباہ ہو جاتی۔ پلاسٹک کا سامان ناپید ہو جاتا۔ اس سب کی گردن کو ایران نے مضبوطی سے پکڑ لیا۔لوگو! اس بحران سے بچانا کتنی بڑی نیکی ہے‘ اس کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ عین آخری لمحات میں جب دنیا تباہی کے اندھے کنویں میں گرنے کو تھی تو وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل آف پاکستان کی کوششوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمتوں اور برکتوں سے نوازا۔ جنگ بند ہو گئی۔ ایران کا شکریہ اور احسان ہے انسانیت پر۔ سب سے بڑا احسان اور شکریہ ہے سعودی عرب کا کہ جس نے پاکستان کی درخواستوں پر نقصان برداشت کر لیا مگر صبر کے دامن کو نہیں چھوڑا۔ عین آخر پر اسکی ریفائنری پر حملہ ہوا مگر اس نے پاکستان کی درخواست پر امن کو موقع دیا۔ یورپ اور دنیا بھر کا شکریہ اور احسان کہ کسی نے امریکہ اور اسرائیل کا ساتھ نہ دیا۔ بھارت خواہش کے باوجود اسرائیل کا ساتھ نہ دے سکا۔ ان امریکیوں کا شکریہ جنہوں نے اس جنگ کیخلاف مظاہرے کیے۔ امریکی کانگریس کے ان ممبران کا شکریہ کہ جنہوں نے ٹرمپ کی جنگ کو غیر قانونی قرار دیا۔ ان پانچ امریکی سینیٹرز کا شکریہ کہ جنہوں نے امریکی افواج سے اپیل کی کہ وہ صدر ٹرمپ کے غیر قانونی جنگی احکامات کو ماننے سے انکار کر دیں۔ دنیا بھر کے جس شخص نے بھی میڈیا کے ذریعے امن اور انسانیت کو جنگ سے بچانے کی بات کی‘ نفرت اور فرقہ واریت سے دور رہا‘ اللہ کے ہاں اس کی خیر ہو۔ سب سے بڑی خیر ان کے نام جنہوں نے اسلام آباد میں بیٹھ کر انسانیت کو فرات کا پُرامن اور میٹھا پانی پلا دیا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_68712266.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>