<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>مثبت اور تعمیری بات چیت(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-13/11099</link><pubDate>Mon, 13 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-13/11099</guid><description>نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحق ڈار نے ایران امریکہ مذاکرات کے حوالے سے کہا ہے کہ جامع اور تعمیری مذاکرات ہوئے‘ امید کرتے ہیں دونوں ملک خطے اور دنیا میں پائیدار امن اور خوشحالی کیلئے مثبت سوچ سے آگے بڑھیں گے۔ دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ مذاکرات کے دوران آبنائے ہرمز‘ جوہری معاملات‘ جنگی نقصانات کے ازالے‘ پابندیوں کے خاتمے اور خطے میں جنگ کے مکمل خاتمے پر بات چیت ہوئی۔ مذاکرات میں متعدد نکات پر اتفاق ہوا تاہم دو‘ تین معاملات پر اختلافِ رائے کے باعث جامع معاہدہ طے نہیں پا سکا۔ جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹرتھ سوشل پر اپنے بیان میں کہا کہ مذاکرات اچھے رہے‘ بیشتر نکات پر اتفاق ہو گیا لیکن جو واحد نکتہ سب سے اہم تھا‘ یعنی جوہری معاملہ‘ اس پر اتفاق نہیں ہو سکا۔ مذاکرات کرنے والے امریکی وفد کے سربراہ‘ نائب صدر جے ڈی وینس‘ پاکستانی حکام‘ ایرانی حکام اور خود صدر ٹرمپ کے بیان کے بعد یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ مذاکرات میں اگرچہ سمجھوتا یا معاہدہ طے نہیں پا سکا تاہم فریقین نے مجموعی طور پر جو کچھ حاصل کیا ہے یا ان مذاکرات کے نتیجے میں جن امور میں پیشرفت ہوئی ہے اس کو دیکھتے ہوئے مذاکرات کے اس دور کیلئے ناکامی یا تعطل کے الفاظ برمحل نہیں۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے الفاظ زیادہ حقیقت پسندانہ معلوم ہوتے ہیں کہ کسی کو بھی اتنی جلدی معاہدے کی توقع نہیں تھی۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ نصف صدی کی دشمنی اور تازہ ترین جنگ کے بعد ایک ہی نشست میں معاہدے کو حتمی شکل مل جانا ممکن نہیں تھا۔ تاہم پاکستان کی نیک نیتی پر مبنی کوششوں اور ثالثی کے ساتھ جس عمل کا آغاز ہوا ہے اس کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں ناقابلِ عبور رکاوٹ کوئی نہیں۔ جیسا کہ طرفین کی جانب سے کہا گیا کہ بہت سے معاملات میں پیشرفت ہوئی‘ البتہ دو ایک امور میں اتفاق نہیں ہو سکا‘ ان میں سب سے بڑا مسئلہ جوہری ہتھیار وں کی تیاری کا ہے۔ یہ امریکہ کیلئے ریڈ لائن ہے اور اس ضمن میں انہیں ٹھوس یقین دہانی چاہیے۔ اس معاملے میں ایران کی پوزیشن اصولی طور پر واضح اور ٹھوس ہے کہ جوہری توانائی کی صلاحیت حاصل کرنے کا مقصد جوہری ہتھیار کا حصول نہیں۔ آئی اے ای اے اور امریکی انٹیلی جنس ادارے بھی ایسے کوئی ٹھوس شواہد سامنے نہیں لا سکے جو ایران کے اس مؤقف کی تردید کرتے ہوں۔ اس لیے قوی امکان ہے کہ جوہری صلاحیت کی رکاوٹ کا بھی کوئی حل نکل سکتا ہے۔
آخر 2015ء میں بھی تو جوہری معاہدہ ہو گیا تھا‘ جس کے تحت ایران نے یورینیم کی افزدگی کو 3.67 فیصد تک محدود کرنے‘ اپنے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو 97 فیصد تک کم کر کے 300 کلوگرام کرنے پر اتفاق کیا تھا اور اس کی تعمیل بھی کی۔ مارچ 2018ء میں آئی اے ای اے کے سربراہ نے ادارے کے بورڈ کو بتایا تھا کہ آج کی تاریخ تک یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایران اپنے جوہری وعدوں پر عمل پیرا ہے۔ اُسی سال مئی میں صدر ٹرمپ نے امریکہ کو ایران کے ساتھ جامع جوہری معاہدے سے الگ کر لیا۔ فریقین میں آج بھی اسی نوعیت کا جامع جوہری معاہدہ ہو سکتا ہے لیکن باہمی عدم اعتماد کی فضا ایسا ماحول بننے میں مشکلات پیدا کر رہی ہے لہٰذا ضروری ہے کہ پہلے اعتماد کی بحالی کیلئے اقدامات کئے جائیں۔
آبنائے ہرمز پر بھی ایران اور امریکہ کی پوزیشنز میں فرق ہے مگر اس وقت جب دونوں ملک امن کی جانب بڑی پیشرفت کر چکے ہیں‘ جو چند روز پہلے تک خواب وخیال نظر آتا تھا اور بالمشافہ مذاکرات جو 1979ء سے دونوں ممالک میں نہیں ہوئے‘ دونوں ملکوں  کا مل بیٹھنا اور جیسا کہ صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ان کے تینوں نمائندوں نے ایرانی وفد کے ساتھ دوستانہ اور احترام پر مبنی ماحول میں ملاقات کی‘ اس پیشرفت نے ایران امریکہ جامع بات چیت اور امن معاہدے کی زمین ہموار کر دی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>معیشت بحالی کی راہ پر(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-13/11098</link><pubDate>Mon, 13 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-13/11098</guid><description>ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے جاری کردہ ایشین ڈویلپمنٹ آؤٹ لُک پاکستان کی معیشت کے حوالے سے مثبت تصویر پیش کرتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی میں سخت میکرو اکنامک پالیسیوں اور معاشی اصلاحات کے نتیجے میں پاکستانی معیشت نے بحالی کی راہ اختیار کی ہے۔ یہ پیش رفت اس امر کی علامت ہے کہ طویل عرصے سے جاری معاشی دباؤ کے باوجود پالیسی سطح پر کچھ درست سمت میں پیشرفت ہو رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان اقدامات کی وجہ سے حقیقی جی ڈی پی کی شرح نمو‘ جو مالی سال 2025ء میں 3.1 فیصد تھی‘ وہ رواں مالی سال میں 3.5 فیصد اور مالی سال 2027ء میں 4.5 فیصد تک بڑھنے کی توقع ہے۔ تاہم اے ڈی بی کی کنٹری ڈائریکٹر برائے پاکستان کے مطابق یہ معاشی بحالی ابھی نازک مرحلے میں ہے۔

اگر اصلاحات میں تسلسل اور پالیسی استحکام برقرار نہ رکھا گیا تو حاصل شدہ معاشی فوائد دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں۔ عالمی غیر یقینی صورتحال خصوصاً مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ملکی معیشت کیلئے بڑا بیرونی خطرہ ہے لہٰذا معاشی استحکام کو برقرار رکھنے کیلئے اصلاحات کا تسلسل ناگزیر ہے۔ اس ضمن میں توانائی کے شعبے کی اصلاح‘ سرکاری ملکیتی اداروں کی کارکردگی میں بہتری‘ ٹیکس نیٹ کا دائرہ وسیع کرنا اور برآمدات کی بنیاد کو متنوع بنانا ناگزیر ہے۔ مالیاتی نظم و ضبط‘ غیر ضروری سبسڈیز میں کمی اور پیداواری شعبوں میں سرمایہ کاری کا فروغ ہی وہ راستہ ہے جو معیشت کو پائیدار ترقی کی طرف لے جا سکتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پٹرولیم قیمتیں اور عوامی ریلیف(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-13/11097</link><pubDate>Mon, 13 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-13/11097</guid><description>حکومت کی جانب سے ڈیزل کی قیمت میں 135 روپے کی کمی ایک ایسا فیصلہ ہے جو مہنگائی کے حبس میں خوشگوار جھونکے کی مانند ہے۔ تاہم ضروری ہے کہ اس کمی کے ثمرات کی نچلی سطح تک منتقلی کیلئے بھی فعال کردار ادا کیا جائے۔ جب پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی سا بھی اضافہ ہوتا ہے تو ٹرانسپورٹرز اور تاجر طبقہ پلک جھپکتے ہی کرایوں اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں خود ساختہ اضافہ کر لیتا ہے مگر جب قیمتیں کم ہوتی ہیں تو اس ریلیف کے اثرات پہنچنے عوام تک پہنچانے میں حیلے بہانے کیے جاتے ہیں۔ اب جبکہ ڈیزل کی قیمتوں میں بڑی کمی ہو چکی ہے تو ان ثمرات کا بلاتاخیر عام آدمی کی جیب تک پہنچنا ناگزیر ہے۔

ڈیزل کا براہِ راست تعلق مال برداری اور پبلک ٹرانسپورٹ سے ہے‘ اس لیے حکومت کی جانب سے ٹرانسپورٹ کرایوں میں 25 فیصد کمی کا جو اعلان کیا گیا ہے‘ اس کا اثر صرف سفر تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی اسی تناسب سے کمی آنی چاہیے۔ اس ضمن میں محض اعلانات کر دینا کافی نہیں بلکہ انتظامی ذمہ داریوں کو بھی بھرپور انداز میں نبھانا ہو گا۔ اگر حکومت ٹرانسپورٹ کرایوں اور ناجائز منافع خوروں پر قابو پانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو اس سے نہ صرف مہنگائی کی شرح میں کمی آئے گی بلکہ عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد بھی بحال ہوگا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>امید باقی ہے(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-04-13/51756/92815060</link><pubDate>Mon, 13 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-04-13/51756/92815060</guid><description>بحیثیت ثالث بالخیر‘ پاکستان کامیاب رہا۔ اُس نے کم وبیش نصف صدی کا جمود توڑا اور دو جانی دشمنوں کو ایک چھت تلے لا بٹھایا۔ نہ صرف بٹھایا بلکہ انہوں نے گھنٹوں ایک دوسرے سے گفتگو کی۔ ثالث کا کام یہی تھا۔ دونوں فریقوں نے اس کو سراہا۔ جنگ کے دوران میں مذاکرات کی میز بچھانا اور پھر برسرِ پیکار طاقتوں کو بات چیت پر آمادہ کرنا آسان نہیں ہوتا۔ پاکستان کی قیادت نے یہ کارنامہ کر دکھایا۔ پاکستان کی اس کامیابی پر دو آرا نہیں ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ اور ایران بھی کامیاب رہے؟دونوں کا تبصرہ بتا رہا ہے کہ امید باقی ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے الفاظ پر غور کیجیے۔ انتہائی نپے تلے اور کوئی ایک لفظ ایسا نہیں ہے جس سے ایران کی توہین کا پہلو نکلتا ہو۔ انہوں نے اپنا نقطہ نظر دہرایا‘ مستقبل کے راستے کی نشاندہی کی اور مذاکرات  کا دروازہ بند نہیں کیا۔ ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا بیان بھی سیاسی بالغ نظری کا مظہر ہے۔ انہوں نے اپنا مؤقف باوقار انداز میں بیان کیا۔ امریکہ کے بارے میں کوئی ایک لفظ ایسا نہیں کہا جو سفارتی آداب کے خلاف ہو۔ انہوں نے کئی نکات پر &#39;مفاہمت‘ کی خوشخبری سنائی۔ ان کا کہنا تھا: &#39;اس فضا میں یہ توقع کسی کو نہیں تھی کہ محض ایک نشست میں مذاکرات نتیجہ خیز ہو جائیں گے‘۔ نیویارک ٹائمز نے آج ہی یاد دلایا کہ 2015ء میں ہونے والا ایران امریکہ معاہدہ دو سال کے بعد حقیقت بن سکا۔ بقائی کا یہ جملہ امید کا دروازہ کھولتا ہے کہ &#39;سفارت کاری کبھی ختم نہیں ہوتی‘۔میری تفہیم یہ ہے کہ یہ لب ولہجہ سوچ سمجھ کر اختیار کیا گیا ہے اور گمان ہے کہ اس پر مذاکرات میں اتفاق ہوا ہو گا۔ یہ اسلوبِ کلام بتا رہا ہے کہ دونوں فریق مذاکرات کا دروازہ بند نہیں کر نا چاہتے۔ دونوں جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ اختلاف اس پر ہے کہ اس خاتمے کا اعلان کیسے ہو۔ ہر فریق کی خواہش ہے کہ اس کی فتح کا تاثر غالب رہے۔ ایک عالمی طاقت کے لیے یہ تسلیم کرنا مشکل ہے کہ کوئی جنگ اس کی جیت پر منتج نہ ہو۔ یہ اعصاب اور نفسیات کی جنگ ہے۔ جے ڈی وینس نے بتایا کہ ان مذاکرات کے دوران میں وہ صدر ٹرمپ سے رابطے میں تھے اور بارہا ان سے بات ہوئی ۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ امریکی تبصرے میں اگر تلخی نہیں ہے تو اس میں صدر ٹرمپ کی رائے شامل ہے۔مذاکرات کے اس دور میں‘ میرا تاثر یہ بھی ہے کہ ایران کا پلہ بھاری رہا۔ ایران کی پہلی کامیابی یہ ہے کہ وہ امریکہ کے بالمقابل برابری کی سطح پر آ گیا۔ امریکہ نے زبانِ حال سے ایران کی حیثیت کا اعتراف کیاہے۔ ایران یہ تاثر دینے میں بھی کامیاب رہا کہ امن یا جنگ بندی تنہا اس کی ضرورت نہیں ہے۔ ان مذاکرات نے امریکی برتری کے تاثر کو زائل کر دیا۔ یہ ایران کی دوسری  کامیابی ہے۔ ایران نے ایک لمحے کے لیے یہ تاثر نہیں دیا کہ وہ کمزور جگہ پر کھڑا ہے۔ یہ تیسری کامیابی ہے۔ اسے ایران کی کامیاب سفارت کاری قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ایران کو جدید پڑھے لکھے لوگوں کی زیادہ ضرورت ہے۔ اس کے لیے یہی بہتر ہے کہ وہ سیاسی اور دنیاوی معاملات کو اصلاح پسندوں کے حوالے کر دے اور مذہبی طبقہ مذہبی امور میں راہنمائی تک محدود رہے۔ عوامی جذبات کو بھڑکانے کے لیے اس طبقے کا کردار ہو سکتا ہے مگر سفارت کاری کے لیے نہیں۔ایرانی قیادت کی بالغ نظری کا ایک مظہر یہ بھی ہے کہ انہوں نے پاکستان میں سنی شیعہ تفریق سے بے نیاز ہو کر سب سے رابطہ رکھا۔ یہ ایک عقل مندانہ قدم (smart move) تھا۔ اس سے انہوں نے پاکستان میں اپنی عوامی حمایت کو مضبوط کیا۔ اس کا فائدہ انہیں ان مذاکرات میں بھی ہوا۔ شیعہ تو ان کے حامی ہیں ہی‘ انہوں نے سنیوں کی ایک نمائندہ جماعت کی قیادت سے مل کر انقلابِ ایران کے ابتدائی نعرے &#39;لاشرقیہ لاغربیہ‘ کا بالواسطہ احیا کیا اور اس تاثر کو ختم کرنے کی شعوری کوشش کی‘ جو ان کے نادان دوستوں نے ان کے بارے میں قائم کر دیا تھا۔ جب سیاسی قیادت پڑھی لکھی اور عالمی سیاست کا ادراک رکھتی ہو تو اس کا یہی فائدہ ہوتا ہے۔میں نے یہ بھی محسوس کیا کہ اس سارے عمل کے دوران میں پاکستان کا واضح جھکاؤ ایران کی طرف رہا۔ سفارت کاری کے آداب کا پوری طرح خیال رکھتے ہوئے‘ ایران کے ساتھ اپنے تعلق کو چھپایا نہیں جا سکا۔ اسحاق ڈار صاحب نے جو بیان جاری کیا‘ اس میں ایران کا ذکر پہلے ہوا اور امریکہ کا بعد میں۔ یہ غیر ارادی نہیں ہو سکتا۔ یہ شاید فطری بھی تھا۔ پاکستان نے اس سارے عرصے میں یہی پیغام دیا کہ وہ ایران کا خیر خواہ ہے۔ گزشتہ دو دنوں کا پیغام بھی یہی تھا۔ ایرانی وفد اور میڈیا سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس پیغام کا پوری طرح ابلاغ ہوا ہے۔ اس سے باہمی تعلقات مزید خوشگوار ہوں گے۔اہم سوال یہ ہے کہ اب کیا ہو گا؟ کیاجنگ بندی برقرار رہے گی؟ کیا مذاکرات کا کوئی نیا دور جلد شروع ہو سکے گا؟ کیا پاکستان کا مزید کردار باقی ہے؟ پہلے سوال کا جواب فریقین کے رویے پر منحصر ہے۔ اگروہ جذبہ برقرار رہتا ہے جس کا اظہار مذاکرات کے بعد ہوا ہے تو امید یہ ہے کہ بات امن کی طرف بڑھے گی۔ اسی طرح یہ امید بھی غالب ہے کہ اس مذاکراتی عمل کی توسیع ہو اور عنقریب ان کا کوئی دوسرا دور ہو۔ دونوں فریقوں نے جس طرح پاکستان کی تعریف کی ہے‘ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان کا کردار باقی ہے اور وہ اب بھی پوری صلاحیت رکھتا ہے کہ دونوں کو کسی حل تک پہنچنے میں مدد گار ہو۔اس مرحلے پر ان قوتوں کا کردار اہم ہو جاتا ہے جو ابھی تک بظاہر کوئی عملی کردار ادا نہیں کر رہیں؛ اگرچہ کر سکتی ہیں۔ ان میں یورپ اور چین اہم ہیں۔ قیاس یہی ہے کہ پاکستان کے اس کردارکو چین کی بھرپور تائید حاصل رہی ہے۔ اگلے مرحلے میں اس کا امکان ہے کہ چین کھل کرکوئی کردار ادا کرے۔ اسی طرح یورپ کو بھی موقع مل گیا ہے کہ وہ جنگ بندی کو برقرار رکھنے میں عملاً معاونت کرے۔ عربوں کا انتخاب بھی امن ہو گا۔ اگر وہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا ایک عمل شروع کر سکیں تو اس کے مفید نتائج نکل سکتے ہیں۔پاکستان اب کیا کرے؟ ایک تو یہ کہ وہ اس مذاکراتی عمل کے تسلسل کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ دوسرا یہ کہ اسی طرح عربوں اور ایران کو بھی ایک میز پر بٹھائے۔ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے یہ ناگزیر ہے۔ پاکستان اس کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔ اگر پاکستان یہ کر گزرتا ہے تو اس کی عزت میں مزید اضافہ ہو گا۔ اصل کردار مگر امریکہ اور ایران کا ہے۔ اس وقت ایران کے معاملات جن ہاتھوں میں ہیں‘ وہ حالات کا بہتر ادراک رکھتے ہیں۔ یہ &#39;اصلاح پسند‘ہیں اور اس قیادت کا جھکاؤ جنگ سے زیادہ امن کی طرف دکھائی دیتا ہے۔ یہی ایران کی ضرورت ہے۔ امریکہ کا معاملہ البتہ مشکوک ہے۔ صدر ٹرمپ کے بارے میں کوئی پیش گوئی آسان نہیں۔ انہیں اگرچہ اندازہ ہے کہ جنگ کی طوالت امریکہ کے حق میں نہیں۔ نرگسی شخصیت کے لیے مگر مسئلہ یہ ہے کہ وہ اس دلدل سے فتح کا پھریرا لہراتے ہوئے کیسے باہر نکلے؟ پاکستان نے ان کی دست گیری کے لیے کوشش کی ہے۔ اگر ایران بھی کچھ مدد کرے تو مذاکرات کا اگلا دور حتمی ہو سکتا ہے۔ مذاکرات کا پہلا دور نتیجہ خیز نہیں رہا مگر یہ ختم نہیں ہوا۔ امید کا چراغ ابھی روشن ہے۔ اسے پاکستان نے روشن کیا اور اس کا یہ اعزاز تاریخ کا حصہ بن چکا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پھلتا پھولتا کاروبار(رسول بخش رئیس)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-04-13/51757/64499482</link><pubDate>Mon, 13 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-04-13/51757/64499482</guid><description>دورِ جدید میں کاروباروں کی نوعیت بدل چکی ہے اور ان کا دائرہ کار اب چیزوں کی خرید و فروخت‘ صنعت کاری اور ساز وسامان کی ترسیل اور دکانداری تک محدود نہیں۔ اب گھر بیٹھے لیپ ٹاپ اور فون کے ذریعے دنیا کے ہر کونے میں ماہرین اربوں ڈالر کما رہے ہیں۔ اس وقت میرے ذہن میں یہ کاروبار نہیں بلکہ ایک بہت پرانا دھندہ ہے جو وقت کے ساتھ ٹیکنالوجی کے استعمال سے کئی نئی جہتیں اختیار کر چکا ہے۔ پیری فقیری‘ سادھو‘ درویش اور جوگیوں کے لباس میں پُراسرار لوگ صدیوں سے عام لوگوں خصوصاً دیہاتیوں کی توجہ کا مرکز رہے ہیں۔ بچپن میں مجھے یاد ہے کہ خلیجی ریاستوں کے لوگ ایک پیر اور ایک خلیفہ کی صورت ہمارے دور دراز کے علاقوں میں گرمیوں کے علاوہ باقی سب موسموں میں ہمیں دعائیں دینے کے لیے آتے تھے۔ چند برس کا تھا کہ ٹانگوں میں شدید درد رہتا تھا۔ ان صاحب کو ہم عربی کہا کرتے تھے‘ وہ اپنے مخصوص لباس میں ہمارے ہاں سال میں ایک مرتبہ قیام کرتے تو سب ہم اپنی بیماریوں کا علاج ان کے تعویذ دھاگوں کی مدد سے کیا کرتے تھے۔ اس طرح ہمارے ملک کے کچھ علاقوں میں جعل ساز گھوڑوں پر بیٹھ کر اور پارسائی کا لبادہ اُوڑھ کر دیہات میں فصلوں کی کٹائی کے وقت آ جاتے۔ غریب کاشتکار اپنا پیٹ کاٹ کر غلے سے ان کی بوریاں بھر دیتے۔ یہ تو چلتے پھرتے پیر تھے مگر مقیم درگاہی پیروں کے درباروں میں روزانہ سینکڑوں اور ہزاروں‘ ان کے مقام اور شہرت کے مطابق حاضری دیتے اور اپنی جیبیں خالی کر کے واپس آ جاتے۔ کچھ گلوں میں تعویذ‘ رنگ برنگے دھاگے اور ہاتھوں میں تبرکات جو ساتھ ہی دکانوں سے دستیاب ہوتے‘ پہن کر درگاہی کاروبار کو نجانے کب سے رونق بخشے ہوئے ہیں۔ ہمارا بھی اکثر ایسی درگاہوں پر جانا رہتا ہے اور اکثر ہم سجا میلہ دیکھتے گزر جاتے ہیں۔ ان کے ثقافتی رنگوں میں جھانک کر دیکھیں تو بہت پُرکشش نظارے آپ کو ملیں گے مگر ہم ان کے بارے میں کچھ لکھ نہیں سکتے۔ ان کی ظاہری ثقافت‘ ناچ گانے‘ دھمال اور میلے ہم جیسے سب تماش بینوں کے لیے تفریح کا سامان ہیں۔ اس لحاظ سے ان کی سماجی حیثیت اور ہمارے ملک کی لوک ثقافت میں اہمیت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔درگاہی ثقافت کے پیچ وخم بہت گنجلک ہیں۔ اس لیے ان کی علمی‘ فکری اور تہذیبی روایات کے بارے میں کچھ کہنا ہم اس شعبے کے ماہرین پر چھوڑتے ہیں۔ اس مضمون کا مقصد صرف یہ ہے کہ پیری فقیری کا سلسلہ جو پہلے ملک کی مشہور درگاہوں‘ گدی نشینوں اور طاقتور مخدوموں تک محدود تھا اب ان کی دیکھا دیکھی ملک بھر میں پھیلتا نظر آ رہا ہے۔ آپ نے ایک حضرت‘ جنہیں کچھ صحافی بھائی شف شف سرکار کہتے ہیں‘ کے بارے میں تو سنا ہی ہوگا۔ اگر نہیں تو پھر نجانے آپ کس دنیا میں رہتے ہیں۔ ایک مشہور و معروف صحافی نے تحقیق کی تو پتا چلا کہ ان کا ایک ناہنجار مرید انہیں سات کروڑ کا ٹیکہ لگا کر غائب ہو گیا ہے۔ اُس نے پیر صاحب سے یہ رقم کسی کاروبار میں لگانے کے لیے ہتھیائی تھی۔ آخری خبریں آنے تک اس کا کہیں پتا نہیں چلا‘ یاکم از کم ان کے قابو میں نہیں آ سکا۔ ابھی ان کی شہرت عام نہیں ہوئی تھی اور منہ پر جوانی کے آثار بھی نمودار نہیں ہوئے تھے کہ ان کا ایک امیر مرید جو میرے جاننے والوں میں سے تھا‘ مجھے چائے کہ ایک کپ پر ان کی کرامات اور فضائل ودرجات پر قائل کرنے کے لیے ایسے شواہد اور دلائل دیتا کہ مجھے زمین پر فرشتوں کا گمان ہونے لگتا۔ ہم جیسے شکی مزاج بھلا کیا کہہ سکتے تھے۔ ہر کاروبار کا آغاز تشہیر سے ہوتا ہے۔ پرانے وقتوں میں دیہاڑی دار عقیدت مند مختلف علاقوں میں پھیلا دیے جاتے جو مختلف رنگوں میں ملبوس سرکاروں کے کرشمے اور کرامات لوگوں کو سنایا کرتے تھے۔ ان کی نظریں ہمیشہ بیمار‘ عمر رسیدہ‘ ان پڑھ اور غریب لوگوں پر ہوتی تھیں کہ کسی طرح انہیں گھیر گھار کر اپنی سرکار کے سامنے پیش کریں کہ آخر کچھ دے کر ہی واپس آئیں گے۔اپنے جنگل کی نگہبانی کے لیے میرے پاس ایک آدمی ملازمت کے لیے آیا اور اپنا نام پہلوان بتایا۔ نام‘ جسامت اور قامت اس کے رعب ودبدبے کی اتنی بڑی گواہی دے رہی تھی کہ اسے بغیر مزید کچھ پوچھے رکھ لیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس کی حالت تو بدلتی رہی مگر میرا جنگل ویسی ہی کسمپرسی کا شکار رہا جو اس کے آنے سے پہلے تھا۔ دو تین مسٹنڈے اس کے آس پاس منڈلاتے رہتے اور ایک دو اس کے پاس قیام کرتے۔ آخر ایک دن گھر سے چلتے وقت فیصلہ کر لیا کہ پہلوان سے بغیر کوئی کشتی لڑے‘ اُسے نکال کر واپس آنا ہے۔ پیار محبت سے بلایا‘ بسکٹ کھلا کے چائے پلائی اور کہا اب اپنا سامان لے آئو۔ پھر اسے باہر سڑک کی طرف اشارہ کر دیا۔ کچھ دن گزرے تو دو خواتین ادھر آ نکلیں اور پہلوان سرکار سے دم کروانے کی درخواست کی۔ دو چار دن بعد ایک بزرگ ہاتھ میں سبز رنگ کی پانی کی بوتل لیے دم کرانے آئے اور کہا کہ جسم میں بہت کھجلی ہوتی ہے اور پہلوان سرکار اس مرض کا کامیاب علاج کرنے کے لیے مشہور ہیں۔ بعد میں پتا چلا کہ وہ دو تین مسٹنڈے قرب وجوار کے ڈھابوں پر بیٹھ کر پہلوان سرکار کی کرامات بتاتے رہتے تھے۔جنگل میں ہمیشہ اپنے ہاتھ میں ایک مضبوط ڈنڈا ضرور ہوتا ہے تاکہ کتوں اور کچھ انسانوں سے حفاظت کا قابلِ بھروسہ ہتھیار اپنے پاس ہو۔ قریب ہی کسی کا ملازم لاٹھی ہاتھ میں دیکھتے گمان کرنے لگا کہ شاید مجھے چلنے پھرنے میں کوئی تکلیف ہے اور میں لاٹھی کا سہارا لیتا ہوں۔ ایک دن میرے ساتھ بیٹھ گیا اور محبت اور رازداری کے ساتھ میرے علاج کے لیے دم کرنے اور پانی پر کچھ پڑھ کر پھونکنے کی پیشکش کی اور کہا کہ اس کے بعد چلنے کے لیے لاٹھی کی ضرورت کبھی نہیں رہے گی۔جس علاقے میں آج کل قیام ہے یہاں تو یہ کاروبار دیگر جدید شعبوں کی طرح زور پکڑتا نظر آ رہا ہے۔ کچھ دن پہلے ایک بڑے دربار کے قریب سے گزر ہوا تو وہاں کئی بسیں عورتوں‘ بچوں اور ہر عمر کے لوگوں سے بھری ہوئی تھیں جو زیارت کے لیے دور دراز کے علاقوں سے آئے تھے۔ کئی دفعہ اس کے اندر بھی جانے کا موقع ملا ہے۔ ایک زمانے میں ہمارے اپنے پہلوان سرکار سے تین گنا بھاری بھرکم پہلوان خالص دودھ کی کھیر کے بڑے تھالوں میں گھرا بیٹھا‘ نیازیں وصول کرتا تھا۔ یہ نظارے آپ ہر درگاہ پر دیکھ سکتے ہیں۔ مفت خوری‘ کرپشن اور جعل سازی پہلے سے کہیں زیادہ پھیل چکی ہے۔ گئے گزرے علاقوں میں قبرستان ہمارے بچپن میں ویران تھے اور لوگ بھوت پریت کا گمان کر کے دور سے گزر جاتے تھے۔ اب وہاں بھی پہلوان سرکاروں نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ دیکھنے میں تو یہ عجیب بات ہے مگر اس کی وجہ سمجھ میں آتی ہے کہ اکثر ایسے دربار یا تو سڑکوں اور گزرگاہوں کے کنارے ہیں یا پھر ان شہروں اور قصبوں میں جو دریائوں کے زیادہ قریب ہیں۔ لوگوں کی آمد ورفت اور زرعی پیداوار کے وسائل نزدیک ہوں تو درگاہوں کی رونق میں بھلا اضافہ کیوں نہیں ہوگا۔ اب مشہوری کے لیے پہلوان سرکار کے مسٹنڈوں کی جگہ جدید تکنیک اور مواصلاتی ذرائع نے لے لی ہے۔ بڑی سرکار مخصوص رنگ کی دستار اور رنگین لاٹھی کے ساتھ مریدوں کے جھرمٹ کے آگے چلتے ہیں۔ درباری عقیدت مند فرطِ جذبات میں چھلانگیں لگاتے نعرہ زن ہو کر جو منظر پیش کرتے ہیں وہ اپنے تاثر میں کسی جادوگری سے کم نہیں۔ انگریز حکومت جب ایسی سرکاروں کی عوامی جادوگری سے قائل ہو کر انہیں جاگیریں عطا کر سکتی ہے تو ہم کیوں نہ ایسے پھلتے پھولتے کاروبار کی تعریف کریں۔ دعا ہے کہ سب سرکاریں خوشحال ہوں اور عوام ان کی خوشحالی کے نشے میں چین کی بانسری بجاتے رہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_33241568.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>اوراندرونی محاذ ؟(بابر اعوان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/babar-awan/2026-04-13/51758/12916595</link><pubDate>Mon, 13 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/babar-awan/2026-04-13/51758/12916595</guid><description>ہمیشہ سے راج نیتی کا عالمی نظام اعتماد‘ استحکام اور ترقی کے تین اصولوں پر مبنی چلا آتا ہے۔ انسانی تاریخ میں طے شدہ حقیقت ہے کہ اہرامِ ترقی‘ تقدم و تمدن نیچے سے اوپر کو اٹھایا جاتا ہے۔ دنیا کی سب سے اونچی بلڈنگ ہو یا جھونپڑی‘ دونوں ہوا میں معلق رہ کر نہ ٹاور کہلائیں گے نہ رہائش گاہ۔قارئینِ وکالت نامہ! آئیے انسانی جسد دیکھ لیں۔ ہمارے پائوں میں چھوٹی چھوٹی دس انگلیاں‘ پتلی سی ایڑی‘ اس سے آگے ایک ممبرین جسے fascia (فیشیا) کہتے ہیں۔ پھر نازک سے کچھ جوائنٹ اور انسانی جسم کی سب سے پتلی ہڈیاں۔ یہ بھی طے ہے انسان ہو یا چوپایہ‘ پستہ قد ہو یا طویل قامت‘ سوکھا ہو یا فربہ‘ انسانی باڈی کا سارا وزن صرف اور صرف پائوں اٹھاتے ہیں۔ اس کے پیچھے تخلیق کار کی حکمتِ عملی یہ ہے کہ اس نازک اور کمپلیکس حصے کو بہت عزیز جاننا ہے‘ اسے ہمیشہ مضبوط بنائے رکھنا ہے۔ جو بھی کرّہ ارض پر آیا ا س کا ٹانگوں کے سہارے چلنا پھرنا اصل زندگی ہے۔ اہرامِ آدمیت کی یہ دو اکائیاں نہ رہیں تو سانسیں چل سکتی ہیں انسان ہرگز نہیں۔ اسی اصولِ قدرت پر ہر طرح کا عالمی نظام قائم ہے؛ اقتصاد سے لے کر سکیورٹی پیراڈائم تک۔ اس حوالے سے دلچسپ حقیقت یہ ہے۔ جس طرح عمارت کی بنیاد میں لگنے والی نچلی اینٹ نظر نہیں آتی مگر چھت کے اوپر اونچی منڈیر نظر آ جاتی ہے‘ عین اسی طرح سے ریاستی نظام میں اوپر نظر آنے والے علامتی کردار ادا کرتے ہیں لیکن تاسیسی اور بنیادی کردار آبادی کے سب سے نچلے طبقے کا ہے۔ چلیے بات کو اور آسان کر دیتے ہیں۔ ملک میں ٹیکسیشن کا نظام لے لیں‘ آج پاکستان کے ہر علاقے‘ ہر شعبے‘ ہر طبقے میں ملینز کے حساب سے ارب پتی اور کھرب پتی موجود ہیں۔ یہ نو دولتیے وقتاً فوقتاً اپنی بلیک منی کا پبلک ڈسپلے بھی کرتے ہیں۔ مگر اس جائز وناجائز کمائی پر قومی خزانے کو ٹیکس نہیں دیتے۔ ایک دوسرا طبقہ وہ ہے جو نسوار کی پڑیا‘ ماچس کی ڈبیا‘ آٹا‘ چینی‘ دال‘ چاول‘ گھی‘ موبائل ایزی لوڈ ہر چیز پر‘ ہر طرح کا ٹیکس ادا کرتا ہے۔ بجلی کے ہر یونٹ پر‘ گیس کے ہر مکعب فٹ پر اور پٹرولیم کی ساری مصنوعات کے ہر لٹر پر اَن گنت ٹیکسوں کا بوجھ برداشت کرتا ہے۔ یہ راندۂ درگاہ مخلوقِ خدا اندرونی محاذ کا سارا بوجھ سہارتی ہے‘ اس قدر مجبور جس کی مثال دنیا کے کسی خطے سے شاید ہی دستیاب ہو۔شہیدِ ملت لیاقت علی خاں کے بعد ہمارے نظامِ ریاست نے اس آفاقی بنیادی اصول سے فوراً منہ موڑا لیکن جب جب ملک کے دستوری مخمل میں مارشل لائی ٹاٹ کا پیوند جوڑا گیا سب سے پہلے قوم کا اداروں پر سے اعتماد رخصت ہوا۔ عام فہم بات ہے کہ جس فرد‘ گروہ یا ہجوم پر سے اعتبار ہی اُٹھ چکا ہو وہ کس طرح سے نظام کو استحکام دے سکتا ہے۔ استحکام کی عدم موجودگی میں ترقی کے دعوے منظم چار سو بیسی کے علاوہ کچھ نہیں۔ وطنِ عزیز میں کسی معاملے میں اعتماد‘ استحکام‘ ترقی کو پانے کے لیے تلاشِ گمشدہ کا اشتہار دینا پڑے گا۔ اب یہ راز کی بات نہیں ہماری پالیسی سازی میں کوئی ایک بنیادی نقص نہیں بلکہ نقائص کے انبار لگے ہیں۔ اس گمبھیرتا کو سمجھنے کے لیے یہاں تین بنیادی خرابیوں کی نشاندہی کافی ہے۔پالیسی سازی کی پہلی خرابی: پچھلی صدی کے آخری تین عشرے اور موجودہ صدی کے ڈھائی عشرے عالمِ انسانیت کی تاریخ کا سب سے بڑا گیم چینجر ثابت ہوئے۔ ٹیلی فون آپریٹر کی جگہ وَٹس ایپ نے لے لی‘ رقعہ بازی اور خط لکھنے کا دور رخصت ہوا‘ فیس آف‘ وِڈیو کال‘ سکائپ‘ زوم نے سارے براعظموں میں بیک وقت گفتگو اور میٹنگز کو ممکن بنا دیا۔ ترقی یافتہ‘ ترقی پذیر‘ ویلفیئر سٹیٹ اور غیر ترقی یافتہ ملکوں کی اکثریت کا ہمہ وقت فوکس معیشت کے نئے ٹولز پر ہے۔ ہم دعوے تو ترقی کے کرتے ہیں‘ جہاز بنا لیتے ہیں لیکن اپنی لوئر مڈل کلاس‘ غریب عوام اور مڈل کلاس کے لیے اُن کی پہنچ میں آنے والی ایک سستی کار تک نہیں بنا سکے۔ کاروں کی پروڈکشن کے دعوے بے بنیاد ہیں اس لیے کہ ہم کوئی انڈسٹری نہیں لگا سکے۔ ہم نے اسمبلی پلانٹ نصب کر رکھے ہیں۔ ہم وہ بھی نہیں کر سکے جو دنیا بھر میں یونیورسٹی کے سٹوڈنٹس کے ذریعے ہو رہا ہے۔ ان یونیورسٹیوں کو فوری ضرورت کے پروجیکٹ بطور ماڈل تیار کرنے کے لیے بھجوائے جاتے ہیں۔ یوں نئی ایجادات اور عام آدمی کے لیے آسان زندگی گزارنے کے راستے کھلتے گئے۔ ٹریفک انجینئرنگ‘ ٹرانسپورٹ ٹیکنالوجی توند بردار ماہرین کے بس کا روگ نہیں رہا۔ پبلک کی آسانیاں ڈھونڈنے کے لیے یہ شعبے جنریشن زی کے حوالے کرنا ہوں گے۔ ملک میں ابھی تک جنریشن زی کی اِمپاورمنٹ‘ اعتماد سازی اور نیشن بلڈنگ میں شرکت کے بجائے اسے دبانے‘ مایوس کرنے اور ٹیکنالوجی سے محروم رکھنے کے طریقے ڈھونڈے جا رہے ہیں۔ انٹرنیٹ بلیک آئوٹ‘ آن لائن سلو ڈائون اور فائر وال اسی خرابی کے تازہ ثبوت ہیں۔پالیسی سازی کی دوسری خرابی: ہمارے علاوہ کیا کوئی دوسرا ملک ایسا ہے جہاں انتخابی نتائج بدلنے اور پبلک اوپینئن کی ری انجینئرنگ کرنے کے لیے انتخابی‘ پارلیمانی ادارے اور دیگر ملوث ہوں؟ جمعہ کے روز ایک رائونڈ ٹیبل ٹاک میں شرکت کی‘ جہاں شہرِ اقتدار کے معروف صحافی نے ایک سوال یہ کیا کہ ہم دستور کو کاغذ کا چیتھڑا سمجھتے ہیں‘ پبلک کی رائے چند درجن فارم 47 سے تبدیل ہو جاتی ہے‘ ہر پڑھا لکھا نوجوان اپنا مستقبل پاکستان سے باھر ڈھونڈتا ہے‘ کسی جگہ میرٹ ہے نہ ٹرانسپیرنسی‘ ترقی کا شارٹ کٹ راستہ رشوت اور سفارش سے کھلتا ہے‘ ہم نعرے جمہوریت‘ انصاف اور امن وامان کے مارتے ہیں سوال پوچھیں تو لاٹھیوں اورگھونسوں سے چہرے کی کاسمیٹک سرجری ہوتی ہے۔ اس توہینِ آدمیت کو ہم نے سافٹ ویئراَپ ڈیٹ کا نام دے کر ٹیکنالوجی کی دنیا کا مذاق اُڑا رکھا ہے۔ ایسے میں مستقبل بین‘ آزاد سوچ کہاں پنپ سکتی ہے۔پالیسی سازی کی تیسری خرابی: جس طرح سرکاری ہسپتالوں میں انجمنِ بہبودِ مریضاں میں مریض کے بجائے انجمنِ تاجران کو نمائندگی ملتی ہے۔ تھانے کی امن کمیٹی میں مخبر‘ کن ٹُٹے‘ بلیکیے اور منافع خور شامل ہوتے ہیں۔ اسی طرح نئے زمانے کی یوتھ پالیسی بنانے والے 65 سے 75 سال کے بابے ڈھونڈ ڈھونڈ کر عہدوں اور ایکسٹینشن پر آتے جاتے جاتے ہیں۔ اندرونی محاذ‘ قرضوں کی بھیک‘ عوام کی جیب تراشی اور ترقی کی بے وقعت چیخیں مارنے پہ یہ شعر موزوں ہوا:پھر بستی میں در آئے ہیں ڈھول بجانے والےاوروں کو بھی لوٹتے ہیں خود مانگ کے کھانے والے</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_42786259.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بے معاہدہ لیکن بامعنی مذاکرات(سعود عثمانی )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-04-13/51759/87764388</link><pubDate>Mon, 13 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-04-13/51759/87764388</guid><description>امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اتوار 12 اپریل کو صبح چھ بجے کے قریب مختصر سی پریس کانفرنس کے بعد اسلام آباد سے واپس امریکہ روانہ ہو گئے۔ ان کا کہنا تھا &#39;&#39;وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل کا شکریہ! ان کی طرف سے کوئی کمی نہیں تھی‘ وہ ہماری مدد کرنا چاہتے تھے۔ ہم نے 21 گھنٹے مذاکرات کیے لیکن مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے میں ناکام رہے‘ یہ امریکہ سے زیادہ ایران کیلئے بری خبر ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ایران واضح اور ٹھوس یقین دہانی کرائے کہ وہ کبھی بھی جوہری بم نہیں بنائے گا۔ ایک دو سال کی نہیں ‘ لمبی مدت کی یقین دہانی! ہم نے اپنی سیدھی سی حتمی بات ایرانیوں کو بتا دی ہے‘ اب ان پر منحصر ہے کہ وہ کیا فیصلہ کرتے ہیں‘‘۔ گویا دروازہ بند نہیں ہوا۔بظاہر جے ڈی وینس اپنے پورے وفد کے ساتھ واپس چلے گئے ہیں‘ یعنی اب کوئی تکنیکی ٹیم ایسی نہیں ہے جو ایرانی وفد سے معاملات طے کر رہی ہو لیکن یہ ابھی پوری طرح واضح نہیں ہے۔ اس سے چند گھنٹے پیشتر ایرانی وزارتِ خارجہ کا بیان آیا تھا کہ مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے لیکن آج بھی بات چیت جاری رہے گی۔ ممکن ہے یہ ایرانیوں کا فیصلہ ہو لیکن امریکیوں نے واپسی اختیار کر لی۔ یہ صورت ان لوگوں کیلئے مایوس کن ضرور ہے جو چاہتے تھے کہ فریقین کسی معاہدے تک پہنچ جائیں اور دنیا مزید کسی خون خرابے سے بچ جائے لیکن فیصلہ تو ان لڑنے والوں نے کرنا تھا جن کے ذہنوں اور دلوں میں اس سے کئی گنا زیادہ فاصلہ ہے جتنا ایران اور امریکہ کا زمینی فاصلہ۔ 47 سال کے بعد یہ مرحلہ آیا تھا کہ وہ ایسی بڑی سربراہی سطح پر ایک چھت تلے جمع ہوئے ہوں‘ نصف صدی میں 11 اپریل کے علاوہ یہ موقع کبھی نہیں آیا۔خواہشات اپنی جگہ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ملکوں کے بیچ معاہدے راتوں رات نہیں ہو سکتے۔ ایک دو دن میں نصف صدی کی بداعتمادی ختم نہیں ہو سکتی۔ مذاکرات نہ سو میٹر کی دوڑ ہوتی ہے نہ کوئی عام تقریب‘ جو کچھ دیر میں ختم ہو جائے۔ جن لشکروں نے چند دن پہلے ہی ایک دوسرے پر کاری ضربیں لگائی ہوں‘ وہ اتنی جلد اپنی اَنا نہیں چھوڑ سکتے۔ وہ بہت سے معاملات سے بلند ہو کر ٹھیک سے فیصلے کرنے کے قابل بھی نہیں ہوتے۔ لیکن معاہدہ نہ ہونے کے باوجود میں ان مذاکرات کو بامعنی سمجھتا ہوں۔ جن فوجوں کے جرنیل ایک دوسرے کا چہرہ دیکھنے کے روادار نہ ہوں‘ ایک میز پر بیٹھ کر گھنٹوں بات چیت کریں‘ ساتھ کھانا کھائیں تو یہ کم پیشرفت نہیں۔ یہ مذاکرات بہت حوالوں سے کامیاب رہے خواہ حتمی معاہدہ ابھی دور ہو۔ دو سوال اہم ہیں: پہلا یہ کہ مذکرات کے حتمی معاہدے تک پہنچنے میں کیا چیزیں رکاوٹ رہی ہوں گی؟ دوسرا اہم سوال یہ کہ وہ کون سی سرخ لکیریں ہیں جن کا ذکر جے ڈی وینس نے بھی کیا اور جن پر طریفین کے بے لچک مؤقف نے بات چیت ختم کر دی۔میں سمجھتا ہوں کہ فریقین کی ایک دوسرے پر حد درجہ بے اعتمادی وہ پہلی رکاوٹ ہے جو بات آگے بڑھنے میں رکاوٹ بنی۔ ایران سمجھتا ہے کہ امریکہ پر کسی بھی طرح اعتماد نہیں کیا جا سکتا اور وہ پہلے بھی مذاکرات کے بیچ دھوکا دے کر ایران پر حملے کرتا رہا ہے۔ گزشتہ دونوں مذاکرات اس کی مثال ہیں۔ وہ یہ بھی سمجھتا ہے کہ امریکہ جو بھی وعدہ کر لے‘ اسرائیل کو من مانی کی کھلی چھوٹ دیتا رہے گا۔ چنانچہ ان مذاکرات میں اعتماد کا بے حد فقدان تھا۔ دوسری وجہ ایران کی وہ شرائط تھیں جو اس نے سیز فائر کے بعد مذاکرات سے عین پہلے رکھی تھیں۔ اول‘ لبنان میں بھی سیز فائر کرایا جائے۔ دوم‘ ایران کے اربوں ڈالر کے منجمد فنڈز ریلیز کیے جائیں۔ یہ دونوں شرطیں پوری نہیں ہوئیں۔ ایران اس کے باوجود میز پر بیٹھ تو گیا لیکن مسئلہ یہ آن پڑا کہ اپنے عوام کو کیا بتایا جائے کہ جب لبنان پر مسلسل حملے جاری ہیں تو مذاکرات کیوں کیے؟ مذاکرات میں تیسری بڑی رکاوٹ ایران کا بے لچک رویہ رہا ہو گا۔ دنیا کا مجموعی تاثر یہی ہے کہ ایران اس جنگ میں فاتح رہا ہے‘ امریکہ اور اسرائیل اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکے اور انہوں نے ایران کو سخت نقصانات پہنچانے کے باوجود خود بھی بہت سے زخم کھائے ہیں اور ان پر سخت دبائو بھی ہے۔ چوتھی بڑی رکاوٹ امریکہ کی سیاسی مجبوریاں ہیں۔ ٹرمپ اور جے ڈی وینس کی شدید خواہش ہے کہ وہ اس جنگ سے نکل جائیں لیکن وہ اپنی سیاسی موت قبول نہیں کر سکتے۔ ایسا کوئی بھی معاہدہ جو انہیں ہارا ہوا ظاہر کرے‘ ان کی سیاسی موت ہو گی۔ وہ خود کو کمزور ظاہر نہیں کر سکتے۔مذاکرات میں اصل اختلافی معاملات کیا ہیں؟ جے ڈی وینس نے جوہری بم بنیادی نکتہ بتایا ہے لیکن میرے خیال میں اصل مسئلہ دنیا کا نرخرہ ہے جو ایران نے پکڑا ہوا ہے‘ جس سے دنیا کی سانس گھٹ گھٹ کر چل رہی ہے اور جس کا نام آبنائے ہرمز ہے۔ امریکہ چاہتا ہے کہ آبنائے ہرمز جنگ سے پہلے کی صورتحال پر بحال ہو جس میں ایران کا کوئی کنٹرول بھی نہ ہو اور کوئی ایرانی ٹیکس بھی نہ ہو۔ ایران آبنائے ہرمز کو اپنا بہت بڑا ہتھیار سمجھتا ہے‘ اب آمدنی کا ذریعہ بھی بنانا چاہتا ہے اور اس سے دستبردار ہونے کیلئے تیار نہیں۔ لیکن کسی بھی درجے کا ایرانی کنٹرول اور ایرانی ٹیکس امریکی شکست سمجھی جائے گی اور ساری دنیا سوال کرے گی کہ یہ مسئلہ تو فروری سے پہلے تھا ہی نہیں‘ یہ تو امریکی جنگ نے بنایا ہے تو اس جنگ کا فائدہ کیا ہوا؟ امریکہ یہ بھی ظاہر نہیں کرنا چاہتا کہ وہ آبنائے ہرمز طاقت کے ذریعے کھلوانے سے قاصر ہے لہٰذا جے ڈی وینس نے بنیادی اختلاف آبنائے ہرمز کو نہیں‘ جوہری بم کو قرار دیا۔ افزودہ یورینیم محفوظ ہاتھوں میں دینے کی بات امریکہ ضرور کرتا ہے لیکن افزودہ یورینیم کی نہ دنیا کو فوری فکر ہے نہ امریکہ پر پر دنیا کا دبائو ہے۔ دبائو آبنائے ہرمز کا ہے۔ میرے خیال میں ایرانی فنڈز کی بحالی اور دیگر شرائط بنیادی اختلافی وجہ نہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ ایران کو باقی شرائط منوا کر آبنائے ہرمز پر لچک دکھانی چاہیے تھی۔ بین الاقوامی قوانین کے تحت اس پر ایرانی کنٹرول نہیں ہو سکتا۔ یہ بہت ممکن ہے کہ اس بے لچک مؤقف کی وجہ سے یورپی ملک مجبور ہو جائیں کہ بزور آبنائے ہرمز کھلوائی جائے اور اس کے آثار شروع ہو چکے ہیں۔ بہت مدت تک ایران کیلئے یہ ممکن نہیں ہو گا کہ وہ ٹیکس لے کر جہاز گزارتا رہے۔ خلیجی ممالک پہلے ہی آبنائے ہرمز کھلوانا چاہتے ہیں۔ اس لیے یہ ایک بڑا سوال ہے کہ ایران کب تک معاملات ایسے ہی چلاتا رہے گا۔ ہماری ہمدردیاں ایران کے ساتھ سہی لیکن اس کی ہر بات نہیں مانی جا سکتی۔ میں نے پہلے بھی ایک کالم میں ایران میں مدبرانہ قیادت کی شدید ضرورت کا ذکر کیا تھا جو جذباتی نعروں کے بجائے ہوشمندی کے ساتھ ملک کی پالیسیوں پر‘ اپنی پراکسیوں پر نظر ثانی کرے اور ایران کو وہ امن مہیا کرے جو اس کی شدید ضرورت ہے۔مذاکرات میں سب سے بڑی کامیابی پاکستان کی ہے۔ پوری دنیا میں پاکستان کا نام گونج رہا ہے۔ ہر ملک کے میڈیا پر اسلام آباد کی خبریں چل رہی ہیں۔ شہباز شریف‘ سید عاصم منیر‘ اسحاق ڈار کو مبارکبادیں پہنچ رہی ہیں اور کوئی شک نہیں کہ ان تینوں کی انتھک محنت نے پاکستان کو وہ معتبر‘ معزز اور باوقار مقام دلایا ہے جس کی ہر پاکستانی صرف خواہش ہی کر سکتا تھا۔ کوئی ملک اربوں ڈالر خرچ کر کے بھی اتنی شہرت اور نیک نامی نہیں کما سکتا جتنی اس سیز فائر اور مذاکرات کی وجہ سے اسلام آباد نے کمائی ہے۔ پاکستان امن کے ایسے پیغامبر کے طور پر ابھرا ہے جو امن کی کوشش کسی کمزوری کی وجہ سے نہیں‘ مسلمہ جوہری طاقت ہونے کے باوجود کرتا ہے۔ یاد رکھیں! خاندان ہوں‘ معاشرے ہوں یا ملک‘ دنیا دو ہی چیزوں کی عزت کرتی ہے: دولت اور طاقت۔ پاکستان عسکری اور سفارتی طاقتوں کا مظاہرہ کر چکا‘ اب اسے عزت کے لیے معاشی طاقت بھی بننا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_81278520.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بارود کے ڈھیر پر بیٹھی دنیا(جویریہ صدیق )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/javeria-siddique/2026-04-13/51760/58197497</link><pubDate>Mon, 13 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/javeria-siddique/2026-04-13/51760/58197497</guid><description>اپنا دفاع کرنا ہر قوم ملک کا بنیادی حق ہے۔ اپنے دفاع کیلئے جدید دفاعی سازوسامان ہونا چاہیے‘ مگر یہ اس لیے جمع کرنا کہ مخالف پر حملہ کریں گے‘ یہ ایک پُرتشدد نظریہ ہے۔ جنگی جنون اور دشمنی کی آگ سب نگل جاتی ہے۔ اَنا‘ غرور اور تکبر بعض اوقات قیادت سے ایسے فیصلے کرا دیتے ہیں جس کا خمیازہ کئی نسلوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔ اپنے دفاع کیلئے سازو سامان ضرور اکٹھا کریں لیکن اس کا ڈھیر لگا لینا کہ دنیا مرعوب ہو اور پھر جنگی جنون میں مبتلا ہو جانا عالمی امن کو خطرے میں ڈال دیتا ہے۔ دنیا میں کچھ ممالک جنگی جنون میں مبتلا ہیں اور ان کی وجہ سے ساری دنیا بے چینی اور خوف کا شکار ہے۔ اسرائیل اور بھارت کے عزائم کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ ہم محض اس لیے محفوظ ہیں کہ پاکستان ایک ایٹمی قوت ہے اور ہمارے پاس ایک طاقتور فوج ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ہمارا حال بھی فلسطین‘ افغانستان جیسا ہو چکا ہوتا۔ اس لیے مضبوط دفاعی قوت بہت ضروری ہے۔ اگر ہم موجودہ تناظر میں مشرقِ وسطیٰ کے حالیہ تنازع کے فریقوں کی دفاعی قوت کا جائزہ لیں تو دنگ رہ جائیں گے۔ امریکہ اور اسرائیل اسلحے کے ڈھیر پر بیٹھے ہیں۔ ان کے مدمقابل ایران کے پاس اگرچہ دفاعی ساز وسامان کی کمی نہیں مگر جو بہادری‘ قوت اور جذبۂ ایمانی ایران کے غیور عوام نے دکھایا ہے وہ دیکھنے کے قابل ہے۔ یہ جذبہ امریکی یا اسرائیلی نہیں دکھا سکتے۔ اسرائیل کے شہری تو سائرن سنتے ہی یا بنکروں میں دبک جاتے ہیں۔ حالیہ جنگ میں جس جرأت کا ایران کے عوام نے مظاہرہ کیاہے‘ اس کی مثال ماضی قریب میں نہیں ملتی۔آج کی دنیا میں امریکہ سپر پاور ہے۔ دستیاب اعداد وشمار کے مطابق اس کے پاس چار لاکھ 54 ہزار کے قریب آرمی اہلکار ہیں۔ تین لاکھ 44 ہزار سے زائد نیوی اہلکار ہیں۔ تین لاکھ 21 ہزار سے زائد ایئر فورس اہلکار ہیں۔ ایک لاکھ 72 ہزار سے زائد میرین کور ہیں۔ تقریباً پچاس ہزار کوسٹ گارڈ ہیں۔ 10 ہزار سے زائد سپیس فورس اہلکار ہیں۔ ایک لاکھ آٹھ ہزار سے زائد امریکی فوجی اس وقت دنیا کے 160 ممالک میں تعینات ہیں۔ دو لاکھ سے زائد تربیت یافتہ رضاکار ہیں۔ دیگرمیں ایئر ڈیفنس‘ آرٹلری‘ آرمر کیولری‘ سائبر کور‘ کیمیکل کور‘ ایوی ایشن‘ انفارمیشن نیٹ ورک‘ انجینئرنگ‘ سول افیئرز کور‘ سپیس آپریشن‘ انفنٹری‘ ملٹری انٹیلی جنس‘ لاجسٹکس‘ میڈیکل کور‘ سپیشل فورس وغیرہ شامل ہیں۔ امریکی مسلح افواج‘ محکمہ فوج‘ وزارتِ دفاع‘ پینٹاگون‘ ایف بی آئی امریکی دفاع کا بنیادی جزو ہیں۔ اس وقت اس فوج کے کمانڈر انچیف صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہیں۔ سیکرٹری آف ڈیفنس پیٹ ہیگستھ ہیں‘ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل ڈین کین ہیں۔ ڈینیئل پی ڈرسکول امریکہ کے سیکرٹری آرمی ہیں۔ چیف آف سٹاف جنرل کرسٹوفر ہیں۔ ان کو یہ عہدہ چند روز قبل ہی دیا گیا۔ گزشتہ ہفتے امریکی سیکرٹری دفاع پیٹ ہیگستھ نے آرمی چیف جنرل رینڈی جارج کو عہدہ چھوڑنے کی ہدایت کی تھی۔ ان کے علاوہ کئی سینئر فوجی عہدیداران کو بھی تبدیل کیا گیا۔ اس پر دنیا بھر میں ایرانی سوشل میڈیا اکائونٹس نے امریکہ کا خاصا مذاق اڑایا کہ ہمارے ملک میں رجیم چینج کرنے نکلے تھے اور امریکہ کی اپنی عسکری قیادت چینج ہو گئی۔ امریکہ نے درجنوں سینئر فوجی اہلکاروں کو ان کے عہدوں سے ہٹایا جن میں چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف‘ نیول آپریشن ہیڈ اور دیگر شامل تھے۔ اگر ہم امریکہ کی دفاعی قوت کا جائزہ لیں تو امریکہ کے پاس زمین سے زمین‘ زمین سے فضا اور سمندر سے مار کرنے والے لانگ اور شارٹ رینج کے ہر قسم کے ہتھیار موجود ہیں۔ ایٹمی وار ہیڈ میں امریکہ روس کے بعد دوسرے نمبر پر ہے اور اس کے پاس پانچ ہزار سے زائد ایٹمی ہتھیار ہیں۔ اس کے فضائی بیڑے میں ایف 16‘ ایف 35‘ ایف 22‘ ایف 15‘ سپر ہومیٹ‘ اے 10 تھنڈر بولٹ‘ بی ٹو بومبر‘ کے سی 135 ری فیولر‘ ای 3 ایئر بورن کنٹرول سسٹم شامل ہیں۔ راکٹ آرٹلری اور میزائلوں میں ملٹی پل راکٹ سسٹم‘ ہائپرسونک میزائل‘ اینٹی بیلسٹک میزائل‘ کروز میزائل‘ اینٹی شپ ہارپون‘ اینٹی ٹینک جیولین میزائل اور دیگر شامل ہیں۔ ڈرونز میں پیوما‘ گرے ایگل‘ ریون‘ یو اے وی CQ10 شامل ہیں۔ ٹینک‘ گاڑیاں اور دیگر ہتھیار اس کے علاوہ ہیں۔ امریکی بحریہ کے پاس 290 سے زائد جنگی بحری جہاز ہیں۔ طیارہ بردار جہاز بھی سمندروں میں موجود ہیں ۔ اس وقت دنیا کے متعدد ممالک امریکی فوجیوں کی میزبانی کر رہے ہیں۔مشرق وسطیٰ میں بحرین‘ کویت‘ سعودی عرب‘ اسرائل‘ مصر اور قطر میں امریکی فوجی اور اڈے موجود ہیں۔ اسی لیے جب ایران نے جنگ میں مشرق وسطیٰ میں موجود ان اڈوں کو نشانہ بنایا تو پورا خطہ جنگ کی لپیٹ میں آگیا۔ اگر ہم ایران کی دفاعی قوت کا جائزہ لیں تو تاثر ہے کہ ایران خاموشی سے ایٹمی پروگرام پر کام کر رہا ہے۔ اسی لیے وہ متعدد بار عالمی پابندیوں اور امریکی حملوں کی زد میں آیا۔ ان کی لیڈرشپ اور سائنسدانوں کو قتل کیا گیا مگر اس قوم نے ہمت نہیں ہاری۔ دستیاب معلومات کے مطابق ایران کے پاس چھ لاکھ دس ہزار حاضر سروس فوجی ہیں۔ ساڑھے تین لاکھ ریزرو اور دیگر تربیت یافتہ اہلکار ملا کر یہ تعداد ساڑھے نو لاکھ سے تجاوز کر جاتی ہے۔ ایران نے پابندیوں کے باوجود مقامی سطح پر اسلحہ سازی کا آغاز کیا۔ ان کا بیشتر اسلحہ ملک کے اندر ہی تیار ہوتا ہے۔ ان کے پاس کروز اور بیلسٹک میزائل موجود ہیں۔ ٹینک‘ بکتر بند گاڑیاں‘ ڈرون اور جدید بحریہ کے علاوہ دفاعی نظام باور 373 اس کا اپنا تیار کردہ ہے۔ لانگ اور شارٹ رینج ہتھیار‘ ٹینک‘ لانچر اور چھوٹا اسلحہ بھی بڑی تعداد میں موجود ہے۔ ایران کے میزائلوں سے اسرائیل تلملا اٹھا ہے اور اس کا آئرن ڈوم ایرانی میزائلوں کے سامنے بے بس نظر آیا۔ حالیہ جنگ میں جس طرح آبنائے ہرمز بند کرکے ایران نے دنیا کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا وہ اس سے پہلے نہیں دیکھا گیا۔ اس جگہ کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ دنیا بھر کے خام تیل اور قدرتی گیس کا بیس فیصد سے زائد یہاں سے گزرتا ہے۔ اس کی بندش سے 800 جہاز یہاں پھنس گئے جس سے پوری دنیا میں تیل اور گیس کی رسد بری طرح متاثر ہوئی۔اگر ہم اسرائیل کی دفاعی قوت کا جائزہ لیں تو اپنی مضبوط دفاعی قوت ہی کے سبب اسرائیل نے پورے خطے کو آگ وخون کی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ کون سا ہمسایہ ملک ہے جو زیرعتاب نہیں آیا؟ اسرائیل کے پاس چھوٹے ہتھیاروں کے علاوہ ٹینک‘ میزائل‘ آرٹلری‘ ایئر کرافٹ‘ ڈرون‘ میزائل‘ ایئر ڈیفنس سسٹم‘ کیموفلاج سسٹم اور دیگر دفاعی و حربی سامان کے علاوہ ملٹی پل راکٹ لانچ سسٹم اور بیلسٹک میزائل بھی موجود ہیں۔ بحریہ اور فضائیہ کی قوت اسکے علاوہ ہے۔ اسرائیل غیر اعلانیہ طور پر ایٹمی ہتھیار بھی رکھتا ہے۔ مختصراً یہ کہ تمام فریق اسلحے کے ڈھیر پر بیٹھے ہیں۔ کوئی بھی طویل مدتی جنگ جیت نہیں سکتا۔ محض اس جنگ کے فریق ہی نہیں‘ اگر پورے خطے میں مستقل طور پر جنگ بندی نہیں ہوتی تو اس کے اثرات پوری دنیا کے امن اورمعیشت پر پڑیں گے۔ ایسے میں پاکستان کی جنگ بندی کی کوششیں قابلِ تحسین ہیں۔ اگر یہ جنگ نہ روکی جاتی تو پورا خطہ بلکہ ساری دنیا اس کی لپیٹ میں آ جاتی۔ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں۔ پائیدار امن کیلئے ضروری ہے کہ امریکہ اسرائیل کو روکے اور جنگ میں اس کا ساتھ نہ دے۔ اس جنگ کی وجہ سے خلیجی ممالک کوبھی بہت نقصان ہوا اور خوف وہراس پھیلا۔ ان کو اپنی سرزمین ایران کے خلاف استعمال نہیں ہونے دینی چاہیے۔ افسوس کہ امتِ مسلمہ میں اتحاد کی بہت کمی ہے۔ البتہ اس بار جو پاکستان نے کر دکھایا وہ حیران کن ہے۔ عوام نے ایران سے محبت وعقیدت کا اظہار کیا اور دنیا کو بتا دیا کہ وہ پوری دنیا میں امن کے خواہاں ہیں۔ اس وقت سب کی نظریں مذاکرات پر ٹکی ہیں۔ اگرچہ اسلام آباد میں منعقدہ پہلی نشست میں کوئی معاہدہ نہیں ہو سکا مگر امید ہے کہ جلد صورتحال بہتر ہو جائے گی۔ تمام ممالک کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ ایک چنگاری بھی مشرقِ وسطیٰ کے بارود کے ڈھیر میں آگ لگا سکتی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_38020467.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>اعلیٰ اخلاقی اقدار(علامہ ابتسام الہٰی ظہیر )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-04-13/51761/54505252</link><pubDate>Mon, 13 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-04-13/51761/54505252</guid><description>قرآن مجید نے جہاں اہلِ اسلام کی عقائد وعبادات کے حوالے سے مکمل رہنمائی کی ہے وہیں اخلاقی حوالے سے بھی انسانوں کی مفصل انداز میں رہنمائی کی گئی ہے۔ جب ہم قرآن مجید کا مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس میں دوسرے لوگوں کے ساتھ حسنِ سلوک اور برائیوں سے بچنے کا درس بہترین انداز میں دیا گیا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۂ بنی اسرائیل میں اپنی بندگی کا حکم دینے کے ساتھ والدین کی اطاعت کا حکم دیا‘ اسراف اور تبذیر سے بچنے کی تلقین کی۔ اسی طرح بخیلی سے بچنے کا حکم دیا‘ بدکرداری اور ناحق قتل سے بچنے کی تلقین کی‘ وعدوں کو نبھانے کا حکم دیا اور غرور اور تکبرسے اعراض کی نصیحت کی۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۂ بنی اسرائیل کی آیات 26 تا 39 میں فرماتے ہیں: &#39;&#39;اور رشتہ دار اور مسکین اور مسافر کو اس کا حق دے دو اور مال کو بے جا خرچ نہ کرو۔ بیشک بے جا خرچ کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں‘ اور شیطان اپنے رب کا ناشکرگزار ہے۔ اور اگر تجھے اپنے رب کے فضل کے انتظار میں کہ جس کی تجھے امید ہے‘ منہ پھیرنا پڑے تو ان سے نرم بات کہہ دے۔ اور اپنا ہاتھ اپنی گردن کے ساتھ بندھا ہوا نہ رکھ اور نہ اسے کھول دے (کہ) بالکل ہی کھول دینا‘ پھر تُو پشیمان تہی دست ہو کر بیٹھ رہے گا۔ بیشک تیرا رب جس کے لیے چاہے رزق کشادہ کرتا ہے اور تنگ بھی کرتا ہے‘ بیشک وہ اپنے بندوں کو جاننے والا دیکھنے والا ہے۔ اور اپنی اولاد کو تنگ دستی کے ڈر سے قتل نہ کرو‘ ہم انہیں بھی رزق دیتے ہیں اور تمہیں بھی‘ بیشک ان کا قتل کرنا بڑا گناہ ہے۔ اور زنا کے قریب نہ جائو‘ بیشک وہ بے حیائی ہے اور بری راہ ہے۔ اور جس جان کو قتل کرنا اللہ نے حرام کر دیا ہے اسے ناحق قتل نہ کرنا‘ اور جو کوئی ظلم سے مارا جائے تو ہم نے اس کے ولی کے واسطے اختیار دے دیا ہے لہٰذا قصاص میں زیادتی نہ کرے‘ بیشک اس کی مدد کی گئی ہے۔ اور یتیم کے مال کے پاس نہ جائو مگر جس طریقہ سے بہتر ہو‘ جب تک وہ اپنی جوانی کو پہنچے‘ اور عہد کو پورا کرو‘ بیشک عہد کی باز پرس ہو گی۔ اور ناپ تول کر دو تو پورا ناپو اور صحیح ترازو سے تول کر دو‘ یہ بہتر ہے اور انجام بھی اس کا اچھا ہے۔ اور جس بات کی تجھے خبر نہیں اس کے پیچھے نہ پڑ‘ بیشک کان اور آنکھ اور دل ہر ایک سے باز پرس ہو گی۔ اور زمین پر اتراتا ہوا نہ چل‘ بیشک تو نہ زمین کو پھاڑ ڈالے گا اور نہ لمبائی میں پہاڑوں تک پہنچے گا۔ ان میں سے ہر ایک بات تیرے رب کے ہاں ناپسند ہے۔ یہ اس حکمت میں سے ہے جسے تیرے رب نے تیری طرف وحی کیا ہے‘‘۔  سورۂ بنی اسرائیل کی ان آیاتِ مبارکہ پر غور وفکر کرنے سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اسلام میں صرف عقائد اور عبادات کی اہمیت کو اجاگر نہیں کیا گیا بلکہ اعلیٰ اخلاقی اقدار کی طرف بھی انسانوں کی کامل رہنمائی کی گئی ہے۔ہمارے معاشرے میں جہاں مذکورہ بالا امور پر صحیح طور پر توجہ نہیں دی جاتی وہیں معاشرے میں کسی کی تذلیل اور تحقیر کرنے اور غیبت اور عیب جوئی کو بھی معمولی بات سمجھا جاتا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان امور کے حوالے سے سورۃ الحجرات میں اہلِ اسلام کی بڑے خوبصورت انداز میں رہنمائی کی ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۂ حجرات کی آیات: 11 تا 12 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;اے ایمان والو! ایک قوم دوسری قوم سے ٹھٹھا نہ کرے عجب نہیں کہ وہ ان سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں دوسری عورتوں سے ٹھٹھا کریں‘ کچھ بعید نہیں کہ وہ ان سے بہتر ہوں‘ اور ایک دوسرے کو طعنے نہ دو اور نہ ایک دوسرے کے نام دھرو‘ فسق کے نام لینے ایمان لانے کے بعد بہت برے (گناہ) ہیں‘ اور جو باز نہ آئیں سو وہی ظالم ہیں۔ اے ایمان والو! بہت سی بدگمانیوں سے بچتے رہو‘ کیونکہ بعض گمان تو گناہ ہیں‘ اور ٹٹول بھی نہ کیا کرو اور نہ کوئی کسی سے غیبت کیا کرے‘ کیا تم میں سے کوئی پسند کرتا ہے کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے سو اس کو تو تم ناپسند کرتے ہو‘ اور اللہ سے ڈرو‘ بیشک اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا‘ نہایت رحم والا ہے‘‘۔اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۂ لقمان میں حضرت لقمان کی ان نصیحتوں کا ذکر کیا جو انہوں نے اپنے بیٹے کوکی تھیں۔ ان نصیحتوں میں جہاں اللہ تبارک وتعالیٰ کی توحید اور والدین سے حسنِ سلوک کا درس ہے‘ وہیں کئی اعلیٰ اخلاقی اوصاف کو بھی اختیار کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ سورۂ لقمان کی آیات 18تا 19 میں اللہ تبارک وتعالیٰ حضرت لقمان کی نصیحتوں کو کچھ یوں بیان فرماتے ہیں: &#39;&#39;اور لوگوں سے اپنا رخ نہ پھیر اور زمین پر اترا کر نہ چل‘ بیشک اللہ کسی تکبر کرنے والے فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔ اور اپنے چلنے میں میانہ روی اختیار کر اور اپنی آواز پست کر‘ بیشک آوازوں میں سب سے بری آواز گدھوں کی ہے‘‘۔ان آیاتِ مبارکہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ انسانوں کو ہمیشہ عاجزی اور انکساری کے راستے پر چلنا چاہیے اور دوسرے لوگوں کو کبھی بھی حقیر نہیں سمجھنا چاہیے۔ جو لوگ اللہ والے ہوتے ہیں وہ ہمیشہ دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک کرتے ہیں اور کسی پر بلاوجہ چیخنے اور چلانے سے گریز کرتے ہیں۔ ایسے لوگ ضرورت پڑنے پر دوسروں کی مدد کرتے اور انسانوں کی کوتاہیوں کو معاف کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں ہی کے بارے میں اللہ تبارک وتعالیٰ سورۂ آل عمران کی آیت: 134 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;(متقی وہ ہیں) جو خرچ کرتے ہیں‘ خوشحالی اور تنگی میں اور پی جانے والے ہیں غصے کو‘ اور معاف کر دینے والے ہیں لوگوں کو‘ اللہ محبوب رکھتا ہے اچھے عمل کرنے والوں کو‘‘۔اسی طرح اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۃ النساء میں انسان کو اپنے متعلقہ لوگوں سے حسنِ سلوک کا حکم دیا۔ سورۂ نساء کی آیات: 36 تا 37 میں ارشاد ربانی ہے: &#39;&#39;اور اللہ کی بندگی کرو اور کسی کو اس کا شریک نہ کرو‘ اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرو اور رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور قریبی ہمسایہ اور اجنبی ہمسایہ اور پاس بیٹھنے والے اور مسافر اور اپنے غلاموں کے ساتھ بھی (نیکی کرو)‘ بیشک اللہ پسند نہیں کرتا اِترانے والے‘ بڑائی کرنے والے شخص کو۔ (اور انہیں) جو لوگ بخل کرتے ہیں اور لوگوں کو بخل سکھاتے ہیں اور اسے چھپاتے ہیں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دیا ہے‘ اور ہم نے کافروں کے لیے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے‘‘۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کی اہمیت کو سورۂ بنی اسرائیل کی آیات 23 تا 24 میں کچھ یوں بیان فرمایا: &#39;&#39;اور تیرا رب فیصلہ کر چکا ہے اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرو‘ اور اگر تیرے سامنے ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں اُف بھی نہ کہو اور نہ انہیں جھڑکو اور ان سے ادب سے بات کرو۔ اور ان کے سامنے شفقت سے عاجزی کے ساتھ جھکے رہو اور کہو: اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما‘‘۔ والدین کے حقوق کے حوالے سے اس قدر خوبصورت انداز میں نصیحت دنیا کی کسی اور کتاب میں نہیں ملتی۔ یقینا والدین اور دیگر انسانوں کے حقوق کی بجاآوری کے حوالے سے کی جانے والی یہ نصیحتیں ہر اعتبار سے لائقِ تحسین ہیں۔قرآن مجیدکے بہت سے دیگر مقامات پر بھی اعلیٰ اخلاقی اقدار کے فروغ کے لیے بیش قیمت نصیحتیں کی گئی ہیں۔ اگر انسان ان نصیحتوں کو ملحوظ خاطر رکھے تو اللہ تبارک وتعالیٰ کے فضل وکرم سے ایک معیاری اخلاقی زندگی گزارنے کے قابل ہو سکتا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کو بداخلاقی اور غلط طرزِ زندگی سے محفوظ فرمائے‘ آمین!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_19740082.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>