<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>معاشی ترجیحات اور عملی اقدامات(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-11-04/11692</link><pubDate>Wed, 04 Nov 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-11-04/11692</guid><description>وزیراعظم شہباز شریف نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار‘ ہاؤسنگ اور زراعت کے فروغ کو حکومت کی اولین ترجیح قرار دیا ہے۔ اسلام آباد میں قرضوں کی فراہمی میں سہولت سے متعلق جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار میں معاشی ترقی کی رفتار تیز کرنے‘ برآمدات بڑھانے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔ ایسے وقت میں جب پاکستان کی معیشت عبوری استحکام کے دور سے گزر رہی ہے اور میکرو اکنامک سطح پر افراطِ زر اور مالیاتی خسارے میں کمی اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری جیسے معاشی اشاریے مستقبل کے حوالے سے پُرامیدی ظاہر کر رہے ہیں‘ مائیکرو اکنامک سطح پر توجہ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ جب تک میکرو معاشی استحکام کے ثمرات عام آدمی کی معیشت تک منتقل نہیں ہوتے‘ یہ استحکام پائیدار نہیں ہو سکتا۔اور عام آدمی کی معاشی بحالی کیلئے ان شعبوں پر توجہ دی جائے جو براہِ راست عوام کی زندگی سے جڑے ہوئے ہیں۔ حکومت کے پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق زراعت کے شعبے میں مجموعی قرضوں کا حجم 1329 ارب روپے‘ ہاؤسنگ فنانس کا حجم 455 ارب روپے اور سمال اینڈ میڈیم انٹر پرائزز سیکٹر میں قرضوں کی مالیت 1148ارب روپے ہو گئی ہے۔

بظاہریہ اعداد و شمار پُرامید نظر آتے ہیں لیکن زمینی حقائق کی روشنی میں دیکھا جائے تو ان شعبوں کو درپیش ساختی بحران اور پالیسیوں کا عدم تسلسل ان کی حقیقی صلاحیت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ زراعت کا شعبہ ملکی معیشت کیلئے ایک پوشیدہ سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے‘ اور یہ ایسا شعبہ ہے کہ اگر تھوڑی توجہ دی جائے اور درست سمت میں محنت کی جائے تو محض چھ ماہ میں ہی اس کے حیرت انگیز نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ بدقسمتی سے زرعی پالیسیاں طویل عرصے سے غیر مستحکم اور ایڈہاک بنیادوں پر استوار ہیں۔ محض زرعی قرضوں کے ہدف میں اضافے سے اس شعبے میں کوئی انقلابی تبدیلی برپا نہیں کی جا سکتی۔ اس کیلئے کسانوں کو سستی کھاد‘ بجلی اور جدید زرعی ٹیکنالوجی تک رسائی دینا ہوگی۔ جب تک کسان کو اس کی فصل کا جائز معاوضہ نہیں ملے گا اور مارکیٹ میں مڈل مین کا کردار ختم نہیں ہوگا‘ زرعی انقلاب کا خواب ادھورا رہے گا۔ اسی طرح تعمیرات اور ہاؤسنگ کے شعبے کو دیکھا جائے تو یہ ملکی معیشت میں انجن کا کردار ادا کرتا ہے اور اپنے ساتھ 40 سے زائد دیگر صنعتوں کو بھی متحرک کرتا ہے جس سے نہ صرف سرمائے کی گردش تیز ہوتی ہے بلکہ روزگار کے لاکھوں نئے مواقع بھی پیدا ہوتے ہیں۔
لیکن اس وقت حالت یہ ہے کہ یہ شعبہ پراپرٹی اور تعمیراتی شعبے پر عائد ٹیکسوں‘ پراپرٹی ٹرانسفر کے مسائل اور فائلرز‘ نان فائلرز کے جھمیلوں میں الجھا ہوا ہے۔ اگر ان مسائل کو حل کر دیا جائے یہ شعبہ بہت جلد ایک مضبوط معاشی ستون میں ڈھل سکتا ہے۔ اگر درمیانی و چھوٹی صنعتوں کی بات کریں تو یہ شعبہ جی ڈی پی میں 40 فیصد حصہ ڈالتا اور غیر زرعی افرادی قوت کے 78 فیصد سے زائد کو روزگار فراہم کرتا ہے۔ لیکن اس وقت یہ شعبہ مہنگے ترین قرضوں‘ ان کے حصول کے پیچیدہ طریقہ کار‘ توانائی کی مہنگائی اور عدم دستیابی کے باعث بندش کا شکار ہے۔ جب تک صنعتوں کی پیداواری لاگت میں کمی نہیں لائی جاتی وہ خطے کے دیگر ممالک کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔
اعلیٰ حکومتی سطح پر مذکورہ ترجیحات کا ذکر صرف زبانی سطح تک محدود نہیں رہنا چاہیے‘ بلکہ اب وقت آ گیا ہے کہ ملکی معیشت کے اشاریوں کے ساتھ اب نچلی سطح اور عام آدمی کے حالات میں بھی واضح تبدیلی نظر آئے۔ چھوٹے کسانوں اور ابھرتے ہوئے کاروباروں کو آسان شرائط پر قرضے دیے جائیں‘ بیوروکریٹک رکاوٹوں کو ختم کیا جائے اور پالیسیوں کا تسلسل یقینی بنایا جائے۔ مثبت مائیکرو معاشی اشاریے صرف اسی صورت میں پائیدار ہو سکتے ہیں جب ان کا فائدہ ملک کے غریب اور متوسط طبقے کو بھی پہنچے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>گیس بحران اور حکومتی ذمہ داری(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-11-04/11691</link><pubDate>Wed, 04 Nov 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-11-04/11691</guid><description>وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے عوام کو موسم سرما میں مناسب نرخوں پر گیس کی فراہمی یقینی بنانے کی امید دلائی ہے۔ سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی ملک میں گیس کی قلت اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مسائل گھریلو صارفین کے لیے تشویش کا باعث بننے لگے ہیں۔ اوگرا کی جانب سے ایل پی جی کی سرکاری قیمت تقریباً 294 روپے فی کلو مقرر کیے جانے کے باوجود مارکیٹ میں بعض مقامات پر یہی گیس 800 روپے فی کلو تک فروخت ہونے کی شکایات ہیں۔ملک میں قدرتی گیس کی پیداوار میں کمی اور سردیوں میں گیس کی طلب کے مقابلے میں محدود فراہمی اور لوڈشیڈنگ کے باعث شہریوں کا انحصار ایل پی جی پر بڑھ جاتا ہے۔ وزیر پٹرولیم کے مطابق ملک میں ایل پی جی کی یومیہ کھپت چھ سے سات ہزار ٹن ہے‘ اس میں سے ڈھائی ہزار ٹن سے زائد مقامی سطح پر پیدا ہوتی ہے اور باقی ضروریات درآمدات سے پوری کی جاتی ہیں۔

درآمدی سپلائی میں مشکلات بھی موجودہ بحران کی ایک وجہ ہیں تاہم اس صورتحال سے ناجائز فائدہ اٹھانے والے عناصر کے خلاف کارروائی حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔حکومت اور متعلقہ حکام کو ایل پی جی پلانٹ مالکان‘ ڈسٹری بیوٹرز اور ریٹیلرز کی پوری سپلائی چین کی نگرانی کرنی چاہیے تاکہ ذخیرہ اندوزی‘ مصنوعی قلت اور ناجائز منافع خوری کا خاتمہ ہو سکے۔ عوام پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں‘ انہیں بنیادی ضرورت کے ایندھن کے حصول کے لیے اضافی قیمتیں ادا کرنے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سموگ کے اثرات(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-11-04/11690</link><pubDate>Wed, 04 Nov 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-11-04/11690</guid><description>پنجاب کے بیشتر شہروں خاص طور پر لاہور میں ان دنوں شدید درجے کی فضائی آلودگی سے طبی امراض میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ایک خبر کے مطابق پچھلے سات روز کے دوران لاہور کے چھ سرکاری ہسپتالوں میں فلو‘ کھانسی‘ نزلہ‘ گلے میں درد اور سینے کے انفیکشن کے 35 ہزار سے زائد مریض رپورٹ ہوئے ہیں۔ پنجاب اے کیو آئی ڈیش بورڈ کے مطابق گزشتہ چار روز کے دوران لاہور کا مجموعی ایئر کوالٹی انڈیکس 450 پوائنٹس سے تجاوز کرتا رہا جبکہ دو نومبر کی صبح یہ 500 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔ فضائی آلودگی کی یہ سطح انسانی صحت کیلئے انتہائی مضر ہے۔ باریک زہریلے ذرات نہ صرف پھیپھڑوں بلکہ خون کی نالیوں میں شامل ہو کر دل اور جسم کے دیگر اعضا کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔

اس صورتحال کے پیش نظر محکمہ صحت کو فوری طور پر متحرک ہونے کی ضرورت ہے۔ حکومت کو اب روایتی بیانات اور عارضی اقدامات سے آگے بڑھ کر فضائی آلودگی کے بنیادی اسباب کے خاتمے کیلئے جامع اور مستقل حکمت عملی اپنانا ہوگی۔اگر اب بھی فضائی آلودگی کو محض موسمی مسئلہ سمجھ کر نظرانداز کیا گیا تو اس کی قیمت نہ صرف موجودہ بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی اپنی صحت اور زندگی کے قیمتی سال گنوا کر ادا کرنا پڑے گی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ لاہور کو دوبارہ سانس لینے کے قابل شہر بنانے کیلئے محض وعدے نہیں بلکہ ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ممتا کے نرالے انداز(ایاز امیر)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-11-04/52964/31495030</link><pubDate>Wed, 04 Nov 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-11-04/52964/31495030</guid><description>ہمارے ہاں بہت سی اصطلاحوں میں ایک یہ ہے کہ ریاست ماں ہوتی ہے۔ ضرور ہو گی لیکن اس کے نٹ کھٹ عجیب ہیں۔ پولیس کا محکمہ رشوت پہ چلتا ہے۔ تہمت نہیں حقیقت ہے۔ ہر قدم پہ کچھ پیش کرنا پڑتا ہے نہیں تو چھوٹے سے چھوٹا کام نہ ہو۔ یہ کوئی چھپی ہوئی حقیقت نہیں پاکستان کا ہر باسی جانتا ہے۔ پٹوار یا مال کا محکمہ رشوت پہ چلتا ہے۔ کوئی راز افشا نہیں ہو رہا یہ بھی سب جانتے ہیں۔ دیگر باتوں کو چھوڑیے‘ جب یہ دو اہم ستون ریاست کے رشوت پر چل رہے ہوں تو ریاست پیچھے کیا رہ جاتی ہے؟ پنجاب میں محکمہ تعلیم آؤٹ سورس ہو رہا ہے۔ مَت محکمے کی پہلے ہی ماری ہوئی تھی‘ جو کسر باقی تھی وہ آؤٹ سورسنگ پوری کر دے گی۔ آؤٹ سورسنگ یہ کہ سرکاری سکول پرائیویٹ ہاتھوں میں دیے جا رہے ہیں۔ انگریز کے زمانے میں ایلیمنٹری‘ مڈل اور ہائی سکول سرکار چلاتی تھی‘ کالج بھی۔ فرنگی یہاں کے نہیں تھے باہر سے آئے تھے۔ تلوار کے زور پر حاکم اور فاتح تھے لیکن پھر بھی ان کے وقت سکول اور ہسپتال سرکار چلاتی تھی۔ آزادی کے 79 سال ہم نے خوب گزارے کہ اب سرکاری سکولوں اور ہسپتالوں سے جان چھڑائی جا رہی ہے۔ سرکاری ہسپتالوں کی حالت اب وہ ہوگئی ہے کہ کوئی جانے پر مجبور ہو تو توبہ کرے یا آسمان کی طرف دیکھے۔ویسے تو ماشاء اللہ حالت یہ ہے کہ پاکستان کے کسی سرکاری دفتر میں قائداعظم کی تصویر کی جھلک دکھائے بغیر کام نہیں ہوتا۔ لیکن جو کسی سرکاری بندوبست کے بنیادی محکمے سمجھے جاتے ہیں ان کی حالت یہ ہو یا پولیس یا محکمہ مال کی طرح رشوت پر چل رہے ہوں تو ٹیکس دینے کا جواز کیا رہ جاتا ہے؟ میں ٹیکس گزار ہوں اور ٹیکس ادا کرنے کا تصور یہ ہوتا ہے کہ اس کے بدلے سرکار کچھ بنیادی سروسز مہیا کرے گی۔ جب تھانے میں رپٹ درج کروانے کیلئے مجھے پیسے دینے ہوں‘ تفتیشی کو ٹرانسپورٹ کا بندوبست مہیا کرنا ہو‘ تفتیشی کا مزاج درست رکھنے کیلئے پیشگیاں دینی ہوں‘ اور پٹوار اور تحصیل کے ہر کام کیلئے پہلے شیرینی یا جسے ایک زمانے میں بخشیش کہتے تھے‘ دینی ہو تو کہاں کی ریاست اور کہاں کے ٹیکس۔جواب میں یہ آ سکتا ہے کہ ریاست کی ممتا ریل گاڑی چلاتی ہے اور سڑکیں بناتی ہے۔ ہماری ممتا سے تو ریل کا نظام نہ چلایا گیا۔ اب کباڑ کے بھاؤ بیچیں تو کوئی نہ لے۔ جہاں تک سڑکوں اور موٹرویوں کا تعلق ہے تو سارے قرضہ لے کر بنائے جاتے ہیں۔ قرضہ وہاں پہنچ چکا ہے کہ سود کی مد ریاست سے بمشکل پوری ہوتی ہے اور وہ بھی مزید قرضے لے کر۔ ممتا ہماری ایئر پورٹ چلاتی ہے اور ایک ایئر لائن بھی چلاتی تھی۔ ایئر لائن بک چکی اور ایئر پورٹوں کو بھی آؤٹ سورس کرنے کا سوچا جا رہا ہے۔ ممتا ہماری بجلی بھی مہیا کرتی ہے لیکن اس انداز سے کہ بجلی کے قرضے خود ممتا کا پھندا بنے ہوئے ہیں۔بظاہر زرعی ملک کے کسان کا تو حال مت پوچھیے۔ بری ہمیشہ اس کے ساتھ ہوتی رہی لیکن جو اس سنہری دور کے پچھلے تین چار سالوں میں ہوئی ہے وہ اپنے میں ایک کہانی ہے۔ جیسے کسان کے ساتھ کوئی ذاتی بیر ہو‘ یہ حال اس کا ان سالوں میں ہوا۔ بجلی سستی اس کو دے نہیں سکتے‘ کھاد مناسب داموں پر اس کے ہاتھ آتی نہیں اور پھر قیمتیں بھی جو مقرر ہیں اس سے خرچہ پورا نہ ہو۔ گندم باہر سے منگوا لیں گے‘ اب تو کپاس بھی باہر سے آنے لگی ہے۔ انڈسٹری یہاں ہے نہیں‘ ٹیکسٹائل کے علاوہ مینوفیکچرنگ اس دیس میں کیا ہے۔ اوپر سے زراعت کے ساتھ یہ رویہ! تو بتائیے پھر ریاستِ پاکستان نے مصنوعی ذہانت سے کام نکالنا ہے؟ کیا ایلون مسک یہاں ڈیٹا سنٹر لگانے آ رہے ہیں اور چاند اور مریخ کی طرف ان کے راکٹ یہیں سے اڑان بھریں گے؟ مذاق کی کوئی حد ہوتی ہے لیکن ہماری ممتا ہے کہ اس کا حسِ مزاح ختم ہی نہیں ہوتا۔شہروں کی جائیدادوں پر پراپرٹی ٹیکس لگتا ہے۔ اور یہ ٹیکس سیدھا میونسپل کمیٹیوں یا کارپوریشنوں کو منتقل ہوتا ہے‘ اس مقصد سے کہ وہ اپنی میونسپل سروسیں پوری کریں گے۔ میونسپل سروسوں میں سب سے پہلے آتا ہے صفائی کا نظام‘ یعنی پراپرٹی ٹیکس ادا ہوا اور میونسپل کمیٹی یا کارپوریشن کا فرض بنا کہ وہ گلیوں اور سڑکوں کو صاف رکھے اور کچرا اٹھایا جائے۔ 79سال کی آزادی میں کم از کم اتنا تو ہوتا کہ شہروں میں سالڈ کچرا یا جسے انگریزی میں سالڈ ویسٹ کہتے ہیں اس کو تلف کرنے کا کوئی نظام وضع کیا جاتا۔ یہاں کے حالات ملاحظہ ہوں کہ چھوٹے شہر تو ایک طرف رہے اسلام آباد جو دارالحکومت ہے اس میں سالڈ کچرے کو تلف کرنے کا کوئی نظام نہیں۔ سی ڈی اے کوئی جگہ منتخب کرتا ہے اور وہاں کچرا جمع شروع ہونے لگتا ہے۔ وہ جگہ بدبو اور غلاظت سے بھر جائے تو کوئی اور جگہ منتخب کر لی جاتی ہے۔ اسلام آباد کے بننے سے لے کر آج تک یہی سلسلہ جاری ہے۔ یہی نظام نہ صرف لاہور اور کراچی بلکہ ہر چھوٹے بڑے شہر میں چل رہا ہے۔ ایٹم بم بن گیا‘ میزائل ٹیکنالوجی پر دسترس ہو گئی لیکن ریاست پاکستان سے سالڈ کچرا تلف نہ ہو سکا۔پنجاب کے باسی خوش ہوئے کہ ستھراپنجاب کا نظام متعارف کرایا جا رہا ہے۔ شہروں سے تو کچرا اٹھایا جاتا تھا دیہات میں یہ سلسلہ پہلی بار شروع ہوا۔ لیکن اب کسی ذہنی جھٹکے کے نتیجے میں حکومت پنجاب کا فرمان آیا ہے کہ گھروں اور دکانوں سے ستھرے پنجاب کا ٹیکس وصول کیا جائے گا۔ اس اقدا م کی ابھی تک پوری طرح آگاہی نہیں ہوئی‘ نہیں تو مناسب شورشرابا مچتا۔ شہروں کے دکانداروں اور باسیوں کو پتا چلے کہ پراپرٹی ٹیکس تو دیتے ہی تھے اب یہ ستھرا ٹیکس بھی دینا پڑے گا تو دیکھیے کیا ہوتا ہے۔ پنجاب کے وزرا خاص طور پر متحرک خواتین وزرا تو اسی کام پر مامور لگتے ہیں کہ چیف منسٹر پر ہر تنقید کا مع سود جواب دینا ہے۔ کوئی عقل کی بات سمجھانے والا نہیں کہ گاؤں گاؤں اور گلی محلوں میں یہ ستھرا ٹیکس لینے محکمہ ایکسائز پہنچے گا تو آگے سے عوامی ردعمل کیا ہو گا۔ محکمہ ایکسائز اپنا اصل کام بمشکل ادا کر پاتا ہے‘ اوپر سے یہ بے عقل کا کام۔امن و امان کے سلسلے میں پنجاب تو باقی صوبوں سے ویسے ہی سبقت لے چکا ہے۔ باہر سے آئے ہوئے حاکم انگریز ایک ہی پولیس اور ایک سپیشل برانچ سے کام چلاتے تھے۔ ہمارے ہاں اب یہ حالت ہو چکی ہے کہ ہر تحصیل میں ہر ایجنسی نے اپنا دفتر کھول لیا ہے۔ پنجاب نے اور بھی پہل کی ہے کہ یہاں سی سی ڈی یا کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ کا محکمہ قائم کر دیا گیا ہے۔ اگر اس محکمے نے کرائم کنٹرول کرنا ہے تو ریگولر پولیس کا کام کیا رہ جاتا ہے؟ سی سی ڈی کی کارکردگی دیکھی جائے تو یہ نہ صرف علیحدہ پولیس فورس ہے پر اس نے اپنا الگ عدالتی نظام بھی قائم کر لیا ہے۔ جو دھر لیا جائے اگلے روز ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو جاتا ہے اور سی سی ڈی کے کسی فرد کو خراش تک نہیں آتی۔ دکانوں اور تجاوزات کیلئے ایک پیرا فورس قائم ہوئی ہے۔ امن و امان کے اتنے محکمے بن گئے لیکن سرکاری ہسپتال دوائیوں سے خالی اور سرکاری سکولوں سے جان چھڑانے کی انتھک کوشش۔جہاز کی بات نہیں کرتے‘ موڈ خراب ہو جاتا ہے۔ البتہ مری اور مظفرآباد کیلئے وہ شیشے کی ٹرین کہاں گئی؟ قومی ترقی میں بس وہ ایک کسر رہ گئی تھی‘ اُسے پورا کر دیجیے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_80573045.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>لاہور، محبت سے سموگ تک(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-11-04/52965/68796187</link><pubDate>Wed, 04 Nov 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-11-04/52965/68796187</guid><description>آج کل سموگ نے لاہوریوں کی حالت خراب کی ہوئی ہے۔ ویسے تو سموگ کا مسئلہ ہر سال سر اٹھاتا ہے لیکن اس سال صورتحال زیادہ خراب لگ رہی ہے۔ تو کیا میرے جیسوں کو لاہوریوں کی اس حالت پر خوش ہونا چاہیے کہ دیکھا! ہم نہ کہتے تھے کہ ایک دن آپ کا فضائی آلودگی کے ہاتھوں جینا حرام ہو جائے گا۔مجھے یاد ہے کہ میں نے اپنے کالموں میں کئی دفعہ لکھا کہ محکمہ موسمیات کے ایک اعلیٰ افسر نے خطرناک پیشگوئی کی تھی کہ پنجاب کے تین شہر دس پندرہ برس بعد رہنے کے قابل نہیں رہیں گے۔ انہوں نے لاہور‘ فیصل آباد اور گوجرانوالہ کا نام لیا تھا اور کہا تھا کہ آلودگی اتنی بڑھ جائے گی کہ لوگ دھیرے دھیرے ان شہروں سے ہجرت کرنا شروع کر دیں گے یا کم از کم تین سے چھ ماہ ان شہروں سے دور رہیں گے۔ اس وقت اُس ماہرِ موسمیات کو اندازہ نہ تھا کہ ان تین شہروں کے علاوہ ملتان کا نمبر بھی لگے گا‘ جو اس وقت لاہور کے بعد فضائی آلودگی کے اعتبار سے دوسرے نمبر پر آ گیا ہے۔ اگلی باری اسلام آباد کی ہے۔ جب میں نے لاہور میں بڑھتی آلودگی اور سبزے کی بربادی کے بارے میں اپنے کالموں اور ٹی وی شوز میں شور مچانا شروع کیا کہ لاہور کی ترقی کا یہ نیا ماڈل اس شہر کو تباہ کر دے گا کیونکہ فضائی آلودگی کے خطرناک انڈیکیٹرز سامنے آنا شروع ہو گئے تھے‘ تو میرے خلاف سوشل میڈیا پر باقاعدہ مہم چلوائی گئی کہ جنوبی پنجاب سے تعلق ہونے کی وجہ سے اسے لاہور کی ترقی چبھ رہی ہے۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ میں نے اپنے ایک کالم میں اس پر یہی بات لکھی تھی کہ کیا میں یہ بات کرکے لاہور کی ترقی کا دشمن بن رہا ہوں‘ یا میں یہ بات اس لیے کر رہا ہوں کہ لاہور مجھے بہت عزیز ہے‘ ان لاکھوں کروڑوں لوگوں کی طرح جو لاہور میں رہتے ہیں‘ یا جنہوں نے 80ء اور 90ء کی دہائیوں کا لاہور دیکھ رکھا ہے اور وہ آج تک اس کے رومانس سے نہیں نکل سکے۔ ایسے تو نہیں کہا گیا تھا کہ لہور لہور اے‘ جنیں لہور نئیں ویکھیا او جمیا ای نئیں۔ لاہور سے محبت تو سرحد پار بھی موجود ہے۔ انڈین فلموں میں لاہور پر گائے گئے گیت آج بھی مقبول ہیں۔ وہ لاہور جس پر شاعروں نے شعر لکھے‘ ادیبوں نے کہانیاں لکھیں‘ مصنفوں نے کتابیں لکھیں‘ اس کی خوبصورتی اور حسن کے قصیدے لکھے‘ جو مغلوں کا سب سے پسندیدہ شہر تھا‘ آج اس لاہور میں لوگ سانس نہیں لے پا رہے۔مجھے یاد ہے کہ جب میں پہلی دفعہ 1985ء میں ہائی سکول کی چھٹیوں میں لیہ سے لاہور آیا تھا اور پہلی بار اپنی خالہ سائرہ اور خالو میجر نواز ملک کے کینال روڈ پر واقع گھر پہنچا تھا‘ تو یہ کیسا خوبصورت‘ خوشبوؤں اور پھولوں والا شہر تھا۔ مون سون کا موسم تھا ‘ تقریباً روز ہی تھوڑی تھوڑی بارش ہوتی تو سڑکیں دھل جاتیں اور ہر طرف پھولوں کی خوشبو سی پھیل جاتی۔ پورا شہر اچانک بہت پیارا اور زندگی خوبصورت لگنے لگتی۔ میں اُس لاہور کی محبت میں آج تک گرفتار ہوں کہ کیسے خالہ اپنے بچوں اور میرے کزنز کے ساتھ مجھے مال روڈ پر فیروز سنز لے جا کر کہانیوں کی کتابیں لے کر دیتی تھیں۔ پھر دس گیارہ برس بعد‘ 1996ء میں مَیں صحافی بن کر لاہور گیا تو پتا چلا کہ یہ غریب پرور شہر بھی ہے‘ یہاں آپ بھوکے نہیں مرتے۔ میرے ساتھ خان پور کا عبیداللہ تھا اور میں فکشن ہاؤس کے ظہور احمد خان‘ رانا عبدالرحمن اور محمد سرور کی مہربانی سے تراجم کرتا تھا‘ جو عبیداللہ ٹائپ کرتا تھا۔ انارکلی میں آپ اس وقت چند روپوں میں پیٹ بھر کر کھانا کھا سکتے تھے۔ لیکن بعد ازاں لاہور کی ترقی کا جو ماڈل اپنایا گیا وہ دھیرے دھیرے اس شہر کو نگلتا چلا گیا۔ پھر ترقی کا یہی ماڈل پورے پنجاب میں بیچا گیا۔ مجھے یاد ہے کہ نواز شریف صاحب راجن پور کے ایک جلسے میں تقریر کر رہے تھے تو انہوں نے کہا تھا کہ ترقی دیکھنی ہے تو لاہور جا کر دیکھیں۔ پورے ہجوم نے تالیاں بجائیں کہ چلیں لاہور ترقی کر گیا ہے‘ ہماری خیر ہے۔ سارا بجٹ لاہور کی کھدائی‘ انڈرپاسز‘ فلائی اوورز اور سریا سیمنٹ پر لگا کر داد تو سمیٹ لی گئی اور پنجاب کے دور دراز علاقوں کے لوگوں نے بھی تالیاں بجائیں‘ لیکن یہ طے تھا کہ اب پورا پنجاب لاہور کا رخ کرے گا تاکہ نواز شریف صاحب کے دعوے کی تصدیق کر سکے۔ یوں پورے پنجاب سے عمومی طور پر اور ہمارے سرائیکی علاقوں سے خصوصی طور پر لوگوں نے لاہور کا رخ کیا اور آبادی کا دباؤ بڑھا تو شہر اس کے نیچے دبتا ہی چلا گیا۔ میٹرو بس ضروری تھی لیکن اس کیلئے آسمان پر کنکریٹ کی چھتیں ڈالنا ضروری نہ تھا۔بظاہر وجہ ان پراجیکٹس کی لاگت بڑھانا تھی تاکہ ٹھیکیداروں کے ساتھ حکمرانوں اور سرکاری افسران کا بھی بھلا ہو سکے‘ اور وہی ہوا۔ اب تو ایسی لت لگ گئی ہے کہ لگتا ہے ہر شہر کی افسر شاہی سب کام چھوڑ کر شہروں کی کھدائی پر لگ گئی ہے کہ کھدائی ہوگی تو ٹھیکیدار کچھ چونچ گیلی کرائے گا۔اتنی دولت ہمارے حکمرانوں نے بیورو کریسی کے ساتھ مل کر اکٹھی کر لی ہے کہ اب ہمارے وزیر دفاع خواجہ آصف برملا کہتے ہیں کہ پاکستان کے بڑے بڑے افسران پرتگال میں جائیدادیں خرید رہے ہیں۔ پولیس افسران نے کینیڈا کو اپنا گھر بنا لیا ہے تو ڈی ایم جی کلاس نے آسٹریلیا‘ پرتگال‘ سپین اور نیوزی لینڈ کی شہریتیں لے لی ہیں۔ پچھلے ہفتے کابینہ کی سینیٹ کمیٹی کا اجلاس تھا جس کی صدارت ہمارے ملتانی سینیٹر رانا محمود الحسن کر رہے تھے۔ اس میں انکشاف ہوا کہ اس وقت گریڈ سترہ سے بائیس تک 2700 سی ایس ایس افسران حاضر سروس ہیں‘ ان میں سے 1100نے بتایا ہے کہ ان کے پاس غیر ملکی شہریت ہے یا نہیں‘ لیکن بقیہ 1600 افسران نے جواب ہی نہیں دیا‘ جس کا مطلب ہے کہ ان کے پاس دہری شہریت ہے اور وہ چھپا رہے ہیں۔ تاہم جن گیارہ سو نے جواب دیا ہے ان میں سے صرف 91 افسران نے تصدیق کی ہے کہ ان کے پاس دہری شہریت ہے۔ ان کی مہربانی کہ انہوں نے بتا دیا‘ اگر نہ بتاتے تو کوئی انہیں ٹریس نہیں کر سکتا تھا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ان 91 افسران کی شہریت کینیڈا‘ آسٹریلیا‘ نیوزی لینڈ‘ برطانیہ‘ امریکہ اور یورپ کی ہی نکلی۔ اب آپ کہیں گے کہ بات لاہور اور آلودگی سے شروع ہو کر دہری شہریت تک کیسے پہنچ گئی؟ میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ گریڈ سترہ سے بیس تک کے ایک افسر کے پاس کروڑوں روپے کہاں سے آ جاتے ہیں کہ وہ کینیڈا‘ امریکہ‘ اٹلی یا پرتگال میں گھر اور جائیداد لے کر بچوں کو وہاں شفٹ کر دیتا ہے اور ہر ماہ انہیں پاکستان سے کما کر خرچہ بھی بھیجتا ہے؟ ان میں سے کوئی ارب پتی خاندانوں میں سے سول سروس میں نہیں آیا۔ اکثریت نے انہی ترقیاتی منصوبوں سے کمایا۔ کھدائی کلچر نے انہیں امیر کر دیا۔ ہر خالی جگہ‘ پلاٹ‘ جنگل‘ پارک یا سبزہ دیکھ کر اس پر بلڈوزر چلا کر چونچ گیلی کی گئی۔ اچانک اربوں کے پراجیکٹس شہروں کے اندر شروع ہوئے اور آلودگی کا لیول بڑھتا چلا گیا۔ پورے صوبے میں ہر ضلع کو اس کے فنڈز دینے کے بجائے لاہور پر سب کچھ خرچ دیا گیا‘ جیسے آج کل اسلام آباد میں بے تحاشا پیسہ خرچ ہو رہا ہے۔ یہ فنڈز شہروں کی ترقی کی غرض سے خرچ نہیں ہوئے بلکہ اس میں بابوؤں اور ان کے سیاسی آقاؤں کا فائدہ تھا۔ عوام کے حصے میں صرف آلودگی آئی‘ جبکہ اس ایلیٹ کے حصے میں پرتگال کی جائیدادیں اور مغربی ملکوں کی شہریت آئی۔ پہلے لاہور تباہ ہوا‘ اب ترقی کے نام پر اسلام آباد کی بربادی شروع ہے۔ جیسے شہباز شریف کے دور میں کہا جاتا تھا کہ مخالفین نواز لیگ کے ماڈل اور ویژن سے جلتے ہیں‘ ویسے ہی آج کل اسلام آباد میں محسن نقوی کہتے ہیں کہ اسلام آباد کی ترقی اور ان کے ویژن کے مخالف پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔ پہلے شہباز شریف کو لاہور کے بارے میں ہر بات پروپیگنڈا لگتی تھی‘ اب نقوی صاحب کو اسلام آباد کے بارے میں یہی لگتا ہے۔ اب لاہوری سانس لیتے وقت تازہ ہوا کے بجائے آلودہ ہوا اندر کھینچ رہے ہیں۔ یہی کچھ بہت جلد اسلام آباد میں بھی ہوگا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>جامعات کے نام بدلنے کا کھیل کب تک(شاہد صدیقی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-siddiqui/2026-11-04/52966/20184567</link><pubDate>Wed, 04 Nov 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-siddiqui/2026-11-04/52966/20184567</guid><description>پنجاب کے محکمہ ہائر ایجوکیشن نے چھ سرکاری جامعات کے وائس چانسلرز کو خط لکھ کر ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے اداروں کے ناموں سے &#39;&#39;یونیورسٹی‘‘ کا لفظ ہٹا دیں۔ یہ ہدایت پبلک سیکٹر یونیورسٹیز ترمیمی ایکٹ 2026ء کے تحت دی گئی ہے۔ ان چھ اداروں میں گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور‘ لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی‘ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد کے علاوہ فیصل آباد‘ سیالکوٹ اور بہاولپور کی خواتین کی جامعات شامل ہیں۔ یہ ادارے بدستور ڈگریاں دیں گے‘ پی ایچ ڈی پروگرام چلائیں گے اور تحقیقی گرانٹس کیلئے مقابلہ کریں گے۔ بس انہیں اپنے نام میں یہ بتانے کی اجازت نہیں ہو گی کہ وہ دراصل ہیں کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے آج سے چوبیس برس پہلے ان اداروں کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ اپنے ناموں کے ساتھ یونیورسٹی کا لفظ لکھیں۔ 24 سال کے بعد پنجاب حکومت کو خیال آیا کہ وہ فیصلہ غلط تھا‘ لہٰذا ایک بار پھر جامعات کے نام بدل کر یونیورسٹی سے کالج کر دیا گیا۔ یہاں یہ بات اہم ہے کہ نام صرف آرائش کیلئے نہیں ہوتے بلکہ وہ کسی ادارے کی شناخت اور حیثیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ جب کوئی ادارہ خود کو یونیورسٹی کہتا ہے تو وہ طلبہ کو‘ روزگار دینے والوں‘ نگران اداروں اور تحقیقی شراکت داروں کو بتاتا ہے کہ اس کی نوعیت کیا ہے‘ وہ کس درجے کی ڈگریاں دیتا ہے اور وہاں کس نوعیت کا علمی کام ہوتا ہے۔ اسی لیے بظاہر صرف نام کی تبدیلی نظر آنے والی یہ ترمیم سنجیدہ بحث کی مستحق ہے۔ 2002ء میں قانون سازوں نے نام رکھنے کا ایک ایسا طریقہ اختیار کیا جس کی پاکستان میں پہلے کوئی مثال نہیں تھی۔ انہوں نے &#39;&#39;گورنمنٹ‘‘ اور &#39;&#39;کالج‘‘ برقرار رکھے اور ان کیساتھ &#39;&#39;یونیورسٹی‘‘ کا اضافہ کر دیا۔ مقصد تاریخ کو مٹانا نہیں اسے ساتھ لے کر آگے بڑھنا تھا۔ ورثے کو محفوظ رکھنے کا یہ ایک معقول حل تھا۔ وہ سابق طلبہ جو آج بھی محبت سے اپنے ادارے کو &#39;&#39;جی سی‘‘ کہتے ہیں ان سے کچھ نہیں چھینا گیا تھا‘ پرانا نام نئے نام کے اندر موجود رہا۔ اسلئے نئے ایکٹ کے حامیوں کو ایک سادہ سوال کا جواب دینا چاہیے کہ &#39;&#39;گورنمنٹ کالج یونیورسٹی‘‘ میں کون سا تاریخی ورثہ موجود نہیں تھا جسے &#39;&#39;گورنمنٹ کالج لاہور‘‘ بحال کرتا ہے؟نئے ایکٹ کے حامی کنگز کالج لندن‘ امپیریل کالج لندن‘ ٹرینیٹی کالج ڈبلن اور ڈارٹ ماؤتھ کالج کی مثالیں دیتے ہیں۔ یہ سب جامعات ہیں مگر انکے ناموں میں کالج کا لفظ موجود ہے۔ درحقیقت یہ مثالیں ایک اور پہلو کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ ان ناموں کا مفہوم ایسے تعلیمی نظاموں میں سمجھا جاتا ہے جہاں لوگ پہلے ہی جانتے ہیں کہ ان اداروں کی حیثیت کیا ہے۔ اسکے برعکس پاکستان میں &#39;&#39;کالج‘‘ کا ایک واضح اور عام فہم مطلب ایسا تدریسی ادارہ ہے جو عموماً کسی یونیورسٹی سے الحاق رکھتا ہے جبکہ امتحانات لینے اور ڈگری دینے کا اختیار یونیورسٹی کے پاس ہوتا ہے۔ بیرونِ ملک داخلہ دینے والا افسر یا اسناد کی جانچ کرنیوالا ماہر پاکستانی تعلیمی ریکارڈ پر گورنمنٹ کالج دیکھے گا تو اسے اسی مفہوم میں سمجھے گا۔ ڈارٹ ماؤتھ کے فارغ التحصیل طلبہ کو اپنی مادرِ علمی کی حیثیت سمجھانے کی ضرورت نہیں پڑتی‘ مگر ہمارے طلبہ کو ضرورت پڑے گی۔2002ء کے بعد گزشتہ دو دہائیوں میں کالج سے یونیورسٹی بننے والے ان اداروں نے اپنے موجودہ ناموں سے ساکھ بنائی ہے۔ سکوپس (SCOPUS) اور ویب آف سائنس (web of science) میں اساتذہ کے تحقیقی مقالوں کے ساتھ انہی ناموں سے ان کی ادارہ جاتی وابستگی درج ہے۔ یہ جامعات ریسرچ آرگنائزیشن رجسٹری (آر او آر) میں رجسٹرڈ ہیں‘ جہاں سے آرکڈ (ORCID) اور کراس ریف (CrossRef) جیسے نظام معلومات حاصل کرتے ہیں۔ تعلیمی اسناد کی جانچ کرنے والے ادارے مثلاً ڈبلیو ای ایس اور ای سی سی ٹی آئی ایس انہیں تسلیم شدہ ڈگری دینے والے اداروں کے طور پر درج کرتے ہیں۔ غیر ملکی جامعات کے ساتھ مفاہمتی یادداشتیں بھی انہی ناموں سے طے ہوئی ہیں۔ ان نظاموں میں نام کی تبدیلی درج تو ہو سکتی ہے مگر یہ عمل اتنا سادہ بھی نہیں۔ اس میں بہت سی رکاٹیں آ سکتی ہیں۔ اکثر تحقیقی کام کا ریکارڈ پرانے اور نئے ناموں میں بٹ جاتا ہے‘ یہاں تک کہ کوئی شخص الگ سے محنت کرکے اسے یکجا کرے۔ اس دوران تحقیقی حوالہ جات کی بنیاد پر بننے والے اشاریے (Indices) بھی متاثر ہوتے ہیں۔ پہلے ہی مالی مشکلات سے دوچار سرکاری جامعات یہ اضافی خرچ برداشت کریں گی جبکہ اس سے کوئی علمی فائدہ نہیں ہو گا۔ پھر انفرادی سطح پر بھی اس کی ایک قیمت ہے۔ فرض کیجیے کہ 2015ء میں فارغ التحصیل ہونے والا ایک شخص ٹورنٹو میں رہتا ہے اور اس کے پاس &#39;&#39;گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد‘‘ کی ڈگری ہے۔ جب کوئی آجر یا امیگریشن حکام اس کی تصدیق کرائیں گے تو ڈگری جاری کرنے والے ادارے کا نام بدل چکا ہو گا۔ یہ فرق بالآخر واضح تو ہوجائے گا مگر خط و کتابت‘ تصدیقی دستاویزات اور تاخیر کے بعد‘ اور اس سب کا خرچ بھی ڈگری رکھنے والے کو اٹھانا پڑے گا۔ اب بیس برس کے دوران چھ اداروں کے فارغ التحصیل افراد کو سامنے رکھ کر اس بوجھ کا اندازہ لگائیے۔اس ترمیم کے پیچھے موجود ناسٹلجیا کا جذبہ اپنی جگہ مگر اسے اس کی اصل صورت میں دیکھنا چاہیے۔ گورنمنٹ کالج لاہور کے بہت سے سابق طلبہ برسوں سے کہتے آئے ہیں کہ پرانا نام‘ ایک راوین کے الفاظ میں &#39;&#39;شناخت اور ورثے‘‘ کا نام ہے۔ میں اس احساس کو سمجھتا ہوں۔ ناموں سے یادیں وابستہ ہوتی ہیں اور یادوں کی اہمیت اپنی جگہ ہے‘ مگر یادوں کی بنیاد پر پالیسی نہیں بنائی جا سکتی۔ پرانے ناموں کی بحالی کا مطالبہ بنیادی طور پر ماضی کی محبت (Nostalgia) سے جنم لینے والی ایک خواہش ہے۔ یہ مطالبہ زیادہ تر ان سابق طلبہ کی طرف سے آتا ہے جنہوں نے ادارے کو یونیورسٹی کا درجہ ملنے سے پہلے وہاں تعلیم حاصل کی تھی۔ ان میں سے بہت سے اب ریٹائر ہو چکے ہیں۔ ان کے لیے &#39;&#39;جی سی‘‘ محض ایک ادارہ نہیں ایک پورا زمانہ ہے۔ ان کی جوانی‘ ان کے استاد اور وہ لاہور جسے وہ جانتے تھے۔ نام کی بحالی سے گویا اُس زمانے کی واپسی کی امید باندھی جاتی ہے۔ مگر ایسا ممکن نہیں! اوول گراؤنڈ اور گھڑیال والا مینار اپنی جگہ موجود رہیں گے لیکن نام کی تختی سے ایک لفظ ہٹا دینے سے ستر کی دہائی واپس نہیں آ جائے گی۔ اس کے بجائے ان لوگوں کے بارے میں بھی سوچنے کی ضرورت ہے جنہیں اس فیصلے میں نظر انداز کر دیا گیا۔ لاہور اور فیصل آباد میں تقریباً ربع صدی سے اور نسبتاً نئی خواتین جامعات میں ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے‘ ہر نیا بیچ &#39;&#39;یونیورسٹی‘‘ کے نام سے تعلیم حاصل کرتا آیا ہے۔ ان کے داخلہ خطوط‘ ڈگریوں‘ تعلیمی ریکارڈ‘ مقالوں اور تحقیقی اشاعتوں پر یہی نام درج ہے۔ ان کے لیے یونیورسٹی کوئی ایسا نیا لیبل نہیں جو ایک پرانے کالج پر زبردستی چسپاں کر دیا گیا ہو۔ یہی ان کے مادرِ علمی کا وہ واحد نام ہے جس سے وہ اسے جانتے ہیں۔ اس لیے حیرت کی بات نہیں کہ یونیورسٹی کے دور میں پڑھنے والے طلبہ اور فارغ التحصیل افراد اس فیصلے سے اضطراب میں ہیں۔عوامی معاملات سے متعلق قانون سازی میں فائدے اور نقصان کو تولنا ضروری ہوتا ہے۔ یہاں فائدہ اور نقصان الگ الگ لوگوں کے حصے میں آ رہے ہیں۔ فائدہ بڑی حد تک جذباتی ہے اور وہ زیادہ تر ان لوگوں کو پہنچتا ہے جو ادارے کو یونیورسٹی کا درجہ ملنے سے پہلے فارغ التحصیل ہوئے تھے۔ اس فیصلے کے منفی ثرات موجودہ طلبہ‘ اساتذہ اور یونیورسٹی بننے کے بعد فارغ التحصیل ہونے والوں کو برداشت کرنا ہوں گے۔ جن میں سے بیشتر افراد ابھی اپنے پیشہ ورانہ سفر کے ابتدائی مرحلے میں ہیں اور جن کی اسناد‘ تقرریوں اور امیگریشن ریکارڈ میں موجودہ نام درج ہیں۔ گھڑیال کی سوئیاں پیچھے کرنے سے بیتا ہوا ماضی واپس نہیں آئے گا۔ پنجاب اسمبلی کے پاس اب بھی موقع ہے کہ وہ ایک نسل کی یادوں کی خاطر دوسری نسل کی شناخت بدلنے کا فیصلہ واپس لے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_21538475.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>افغان رجیم بھارتی پراکسی کیوں؟(سلمان غنی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/salman-ghani/2026-11-04/52967/74853084</link><pubDate>Wed, 04 Nov 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/salman-ghani/2026-11-04/52967/74853084</guid><description>دوحہ معاہدے کے تحت طالبان نے یہ شرط تسلیم کی تھی کہ وہ برسرِ اقتدار آنے کے بعد افغانستان سے دہشت گردی کا خاتمہ یقینی بنائیں گے اور افغان سرزمین کا ہمسایہ ممالک کے خلاف استعمال روکیں گے تاکہ افغانستان اور خطے میں امن و استحکام قائم ہو۔ لیکن طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد دہشت گردی کم ہونے کے بجائے کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ طالبان نے اس حوالے سے ذمہ داری قبول کرنے اور دوحہ معاہدے کی پابندی کرتے ہوئے دہشت گردی کی بیخ کنی کرنے کے بجائے پاکستان سمیت دیگر ہمسایہ ممالک پر الزام تراشی شروع کر دی۔ اس رجحان سے افغانستان کی عالمی ساکھ کو ٹھیس پہنچی اور عالمی و علاقائی سطح پر اس کا نام دہشت گردی اور شدت پسندی سے جڑ گیا۔پاکستان افغانستان میں امن کو خطے کے استحکام سے مشروط کرتا آیا ہے اور ماضی قریب تک افغان مسائل کے سیاسی حل کیلئے طالبان کو اقتدار میں لانے کی کوشش کرتا رہا لیکن آج افغان سرزمین سے دہشت گردی کا سب سے زیادہ متاثرہ ملک پاکستان ہی ہے۔ اب پاکستان عالمی و علاقائی قوتوں سے دہشت گردی کے سدباب کیلئے اثرورسوخ استعمال کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ حال ہی میں G20 کے وزرائے خارجہ اجلاس کے دوران امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں افغان سرزمین کے استعمال سے متعلق اپنے بیان میں کہا کہ امریکہ اس مؤقف کی حمایت کرتا ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی میں افغان سرزمین استعمال ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق امریکہ چاہتا ہے کہ پاکستان اس کا نشانہ نہ بنے‘ افغان سرزمین سے پاکستان پر ہونے والے دہشت گرد حملے تشویشناک ہیں۔ امریکہ کا یہ پالیسی بیان حقیقت پسندانہ ہے۔ امریکہ کو یاد رکھنا چاہیے کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کو فرنٹ لائن اتحادی بنانے کا فیصلہ اسی کا تھا۔ پاکستان نے یہ جنگ جیت کر دکھائی اور بھاری مالی اور جانی نقصان بھی اٹھایا۔ پاکستان نے دہشت گردی کے جن کو قابو کرکے بوتل میں بند کیا مگر سوال یہ ہے کہ امریکہ سمیت مغربی ممالک پاکستان کے خلاف ہونے والی دہشت گردی کے معاملے میں اس کے ساتھ کس حد تک کھڑے رہے؟ وار آن ٹیرر میں پاکستان کو لگ بھگ 150 ارب ڈالرز کا نقصان ہوا اور تقریباً 90 ہزار سے زائد شہریوں‘ افسروں‘ اور جوانوں کی قربانیاں دینا پڑیں۔ امریکہ اور مغرب کو اس نقصان کا مداوا کرنے کے بارے میں سوچنا ہوگا۔ آج بھی پاکستان دہشت گردی کے خلاف ثابت قدم ہے اور خصوصاً مغربی سرحد پر اس چیلنج کا مقابلہ کر رہا ہے۔ پاکستان پُرعزم ہے کہ اپنی سرزمین کو دہشت گردی سے یکسر پاک کرکے دم لے گا۔افغان سرزمین سے دہشت گردی کا معاملہ اب واضح ہو چکا ہے۔ گزشتہ سال مئی میں بھارتی فورسز کو پاکستان کے ہاتھوں عبرتناک شکست کے بعد بھارت بظاہر پاکستان پر براہِ راست جارحیت کے قابل نہیں رہا تاہم اپنے زخم سہلاتے ہوئے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کیلئے وہ افغان سرزمین سے سرگرم ہے۔ شواہد موجود ہیں کہ بھارتی ایجنسی &#39;را‘ اور افغان طالبان کا گٹھ جوڑ دہشت گردوں کی پشت پناہی کر رہا ہے اور انہیں اسلحہ و فنڈنگ فراہم کی جا رہی ہے۔ پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ٹی ٹی پی کو افغان انتظامیہ میں شامل عناصر کی براہِ راست تائید حاصل ہے۔ افغان انتظامیہ میں تقسیم کا عمل بھی بالواسطہ طور پر دہشت گردی کے فروغ کا باعث بن رہا ہے کیونکہ انتظامیہ میں شامل ذمہ داران کی اکثریت بھارت سے رابطے میں ہے اور بھارتی شہ پر ہی پاکستان کے خلاف مذموم کھیل کا حصہ بنی ہوئی ہے۔ اسی تناظر میں ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے رائٹرز کو دئیے گئے انٹر ویو میں خبردار کیا ہے کہ طالبان رجیم نے پاکستان میں دہشت گردی بند نہ کی تو اسے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ افغان طالبان اپنے مذموم مقاصد کیلئے غیر ریاستی عناصر اور کرائے کے جنگجو استعمال کرتے ہیں‘ افغانستان کو اب غیر ریاستی عناصر چلا رہے ہیں‘ یہ ایک ایسا رجیم ہے جو بھارت کی پراکسی ہے اور بھارت پاکستان میں دہشت گردی کا بڑا سرپرست ہے۔ ان کے مطابق کالعدم تنظیمیں ٹی ٹی پی اور بی ایل اے پاکستان کے خلاف بھارتی پراکسی ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق افغان طالبان رجیم نے نور ولی ‘ بشیر زیب اور گل بہادر جیسے دہشت گردوں کو پناہ دے رکھی ہے۔ پاکستان میں دہشت گردی کے لیے ان کو وہاں سے اسلحہ ملتا ہے اور انہیں اہداف دیے جاتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر طالبان رجیم نے دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کے تحفظات دور نہ کیے تو اسے اس کی قیمت چکانا ہوگی۔پاکستان اپنی بقا اور سلامتی کیلئے اپنے سے چھ گنا بڑی قوت کو شکست دے کر دنیا کو اپنی دفاعی صلاحیت کا پیغام دے چکا ہے۔ پاکستان پر جارحیت کرنے والی کوئی طاقت کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو‘ پاکستان اسے بھرپور سبق سکھانے کی اہلیت رکھتا ہے۔ اس لیے افغان سرزمین پر دہشت گردی کو کچلنا اور دہشت گردوں کو انجام تک پہنچانا پاکستان کیلئے زیادہ مشکل نہیں۔ تاہم افغانستان سے ہمسائیگی کا خیال کرتے ہوئے اور خطے کے استحکام کیلئے پاکستان وہاں امن کے قیام کو ضروری سمجھتا ہے۔ افغانستان کے ساتھ اس کے تعلقات اور خدمات کی طویل تاریخ ہے۔ پاکستان نے لاکھوں افغان مہاجرین کی دہائیوں تک میزبانی کی اور افغانستان کے مسائل کے سیاسی حل اور اس عمل میں افغانوں کی شمولیت کیلئے کوششیں کیں۔ پاکستان دوحہ معاہدے میں بھی حتی المقدور شریک رہا اور اس کی کوششوں کے نتیجے میں ہی طالبان اور امریکہ میں مذاکرات ہوئے اور وہ اقتدار میں آئے‘ لیکن انہوں نے جس بنیاد پر یہ ذمہ داری قبول کی تھی اس سے کھلا انحراف شروع کر دیا۔ دہشت گردوں کی بیخ کنی کے بجائے پہلے ان سے صرفِ نظر کیا‘ پھر واضح ہوا کہ طالبان اپنے مفادات کے سبب دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ افغان طالبان کی غفلت کے سبب ہی پاکستان نے افغان سرزمین پر دہشتگردوں کے اڈوں کے خلاف کارروائی کرکے دہشتگردوں کو نشانہ بنایا۔ پاکستان نے اس کارروائی سے پہلے ہی دنیا پر اپنا مؤقف واضح کر دیا تھا اور یہ ناگزیر بھی تھا۔ اس کے باوجود افغان انتظامیہ اب بھی پاکستان کے خلاف براہِ راست جوابی کارروائی میں مصروف ہے جبکہ دہشت گردی کی پشت پناہی سے ظاہر ہوتا ہے کہ طالبان انتظامیہ دہشت گردوں کے خلاف تعاون اور مؤثر اقدامات کیلئے تیار نہیں۔ اگر پاکستان کی مغربی سرحد کے پر سرحد پار سے دہشتگردی کے حملے جاری رہے اور جانی نقصان رکنے میں نہ آیا تو پاکستان کے پاس فوجی کارروائی‘ سفارتی دباؤ اور علاقائی تعاون کے آپشن موجود ہیں۔ پاکستان افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے اور سرحدی علاقوں کو پاک کرنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے تاہم پاکستان اب بھی افغانستان سے کھلی جنگ سے گریزاں ہے‘ جس کی بڑی وجہ افغانستان کا ہمسایہ ملک ہونا اور افغان عوام سے پاکستان کے تعلقات ہیں۔ پاکستان کی کوشش رہی ہے کہ اسے یہ ناخوشگوار فریضہ انجام نہ دینا پڑے اور طالبان خود اپنی بنیادی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے اپنی سرزمین کو دہشت گردی سے پاک کریں۔ پاکستان نے چین‘ ترکیہ‘ سعودی عرب‘ قطر اور دیگر ہمسایہ ممالک سے رابطے کیے کہ وہ اپنے اثرورسوخ کو استعمال کرکے افغان سرزمین کا دہشتگردی کیلئے استعمال رکوائیں لیکن افغان طالبان ذمہ داری کا احساس کرنے کے بجائے اپنی سرزمین کے دہشتگردی کیلئے استعمال ہی سے انکار کرتے رہے اور سفارتی دباؤ کی افادیت محدود ہو کر رہ گئی۔جب کوئی ملک طالبان کی ضمانت نہ دے سکا تو پاکستان کے پاس جوابی کارروائی کے سوا کوئی چارہ نہ رہا۔ اب بھی یہی آپشن مؤثر ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/230_37874475.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>امریکی انتخابات، عالمی سیاست کا نیا موڑ(محمد حسن رضا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-hasan-raza/2026-11-04/52968/21649677</link><pubDate>Wed, 04 Nov 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-hasan-raza/2026-11-04/52968/21649677</guid><description>امریکہ کے مڈٹرم انتخابات محض ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ کی نشستوں کیلئے سیاسی مقابلہ نہیں بلکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت‘ حکومتی پالیسیوں اور آئندہ دو برس کے سیاسی مستقبل کا امتحان ہیں۔ 2026ء کے مڈ ٹرم انتخابات‘ جن کی گزشتہ روز ووٹنگ ہو چکی ہے‘ کے نتائج یہ طے کریں گے کہ ٹرمپ کا اقتدار مضبوط ہوگا یا انہیں اپنی صدارتی مدت کے باقی دو برس ایسی کانگریس کے ساتھ گزارنا پڑیں گے جو اُن کے فیصلوں کو چیلنج کرے گی۔ امریکہ میں ایک حیران کن انتخابی روایت موجود ہے۔ گزشتہ آٹھ دہائیوں کے دوران تقریباً ہر وسط مدتی انتخاب میں اقتدار میں موجود صدر کی جماعت کو ایوانِ نمائندگان میں نشستوں کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ سوال یہ ہے کہ امریکی عوام اپنے منتخب کردہ صدر کی جماعت کے خلاف ووٹ کیوں دیتے ہیں؟ کیا یہ محض اتفاق ہے یا امریکی جمہوری نظام میں اقتدار کو محدود رکھنے کا ایک مستقل سیاسی رجحان موجود ہے؟ اور سب سے اہم بات یہ کہ کیا ڈونلڈ ٹرمپ اس مرتبہ تاریخ کا رخ تبدیل کرنے میں کامیاب ہوں گے؟ حالیہ مڈ ٹرم انتخابات میں ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 اور سینیٹ کی 35 نشستوں پر مقابلہ ہے۔ اگر صدر کی جماعت دونوں ایوانوں میں اکثریت برقرار رکھے تو قانون سازی نسبتاً آسان رہتی ہے‘ لیکن اپوزیشن کسی ایک ایوان کا کنٹرول حاصل کر لے تو صدر کو اپنے منصوبوں کی منظوری کیلئے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تاہم امریکی سیاسی تاریخ کے اعداد و شمار ایک دلچسپ حقیقت سامنے لاتے ہیں۔ 1946ء سے 2022ء تک ہونے والے 20 وسط مدتی انتخابات میں سے 18 مرتبہ صدر کی جماعت کو ایوانِ نمائندگان کی نشستوں کا نقصان ہوا۔ دوسرے الفاظ میں‘ گزشتہ 80 برس کے دوران 90 فیصد وسط مدتی انتخابات حکمران جماعت کیلئے نقصان دہ ثابت ہوئے۔ صرف دو مرتبہ حکمران جماعت یہ روایت  توڑنے میں کامیاب ہوئی۔ 1998ء میں صدر بل کلنٹن کی ڈیموکریٹک پارٹی نے نشستیں بڑھائیں اور 2002ء میں صدر جارج ڈبلیو بش کی ریپبلکن پارٹی نے ایسا کیا۔ باقی انتخابات میں وائٹ ہاؤس پر قابض جماعت کو کم یا زیادہ نشستیں گنوانا پڑیں۔  سیاسیات کے ماہرین اس رجحان کو مڈٹرم پینلٹی یا صدارتی اقتدار کی انتخابی قیمت قرار دیتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ صدر کے اقتدار میں آنے کے بعد عوام کی توقعات بہت زیادہ ہوتی ہیں۔ انتخابی مہم میں معاشی خوشحالی‘ روزگار‘ مہنگائی میں کمی‘ قومی سلامتی اور بہتر حکمرانی کے وعدے کیے جاتے ہیں لیکن ابتدائی دو برس میں ان تمام وعدوں کو پورا کرنا ممکن نہیں ہوتا نتیجتاً بعض ووٹرز مایوسی کا اظہار کرتے ہیں جبکہ مخالف جماعت کے حامی حکومت کو محدود کرنے کیلئے زیادہ متحرک ہو جاتے ہیں۔ یوں وسط مدتی انتخابات صدر کی کارکردگی پر عوامی ردعمل کا اظہار بن جاتے ہیں۔ گزشتہ تقریباً 20 وسط مدتی انتخابات میں صدر کی جماعت کو ایوانِ نمائندگان میں اوسطاً 26 نشستوں کا نقصان اٹھانا پڑا۔ ڈیموکریٹک صدور کے ادوار میں ان کی جماعت کو اوسطاً 29 نشستیں جبکہ ریپبلکن صدور کے ادوار میں تقریباً 23 نشستیں گنوانا پڑیں۔ تاہم یہ اعداد و شمار آئندہ انتخاب کے نتائج کی پیشگوئی نہیں کرتے۔ ہر انتخاب میں معیشت‘ امیدواروں کی مقبولیت‘ مقامی مسائل‘ انتخابی حلقوں کی ساخت اور سیاسی حالات مختلف ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود 80 سال پر محیط یہ رجحان حکمران جماعت کیلئے ایک مستقل چیلنج کی نشاندہی کرتا ہے۔امریکی تاریخ میں وسط مدتی انتخابات کی سب سے بڑی شکست 2010ء میں دیکھنے میں آئی۔ باراک اوباما 2008ء میں تاریخی کامیابی حاصل کرکے امریکہ کے پہلے سیاہ فام صدر منتخب ہوئے تھے لیکن صرف دو سال بعد ان کی ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان کی 64 نشستیں ہار گئی۔ یہ 1946ء کے بعد کسی حکمران جماعت کو ہونے والا سب سے بڑا وسط مدتی نقصان تھا۔ اسی طرح 1946ء میں صدر ہیری ٹرومین کی ڈیموکریٹک پارٹی کو 56 نشستوں کا نقصان ہوا جبکہ 1994ء میں صدر بل کلنٹن کے دور میں ڈیموکریٹس 54 نشستیں ہار گئے۔ دونوں مواقع پر ایوانِ نمائندگان کی اکثریت حکمران جماعت کے ہاتھ سے نکل گئی۔  ریپبلکن صدور بھی اس رجحان سے محفوظ نہیں رہے۔ 1958ء میں صدر ڈیوائٹ آئزن ہاور کی جماعت کو 50 نشستوں کا نقصان اٹھانا پڑا جبکہ 1974ء میں صدر جیرالڈ فورڈ کے دور میں ریپبلکنز 48 نشستیں گنوا بیٹھے۔ ان مثالوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ وسط مدتی انتخابات میں نقصان کا تعلق کسی ایک جماعت یا سیاسی نظریے سے نہیں بلکہ اقتدار میں موجود ہونے سے بھی ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ  کیلئے یہ تاریخی ریکارڈ اس لیے اہم ہے کہ وہ پہلے بھی اس صورتحال کا سامنا کر چکے ہیں۔ 2018ء میں ان کی پہلی صدارت کے دوران ریپبلکن پارٹی ایوانِ نمائندگان کی 42 نشستیں ہار گئی تھی۔ یہ انتخابات دنیا نیوز کی جانب سے بطور رپورٹر‘ فیلڈ میں باقاعدہ تحقیق اور سروے کے ذریعے کور کیے گئے تھے۔ ریپبلکنز کی شکست کے نتیجے میں ڈیموکریٹس نے ایوان کا کنٹرول حاصل کر لیا جس کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کو قانون سازی اور حکومتی نگرانی کے معاملات میں سخت سیاسی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔حالیہ وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کو ایوانِ نمائندگان کا کنٹرول حاصل کرنے کیلئے محض تین نشستوں کا اضافہ درکار ہے۔  435 رکنی ایوان کے مقابلے میں یہ تعداد معمولی دکھائی دیتی ہے‘ لیکن امریکی پارلیمانی نظام میں اس کی اہمیت غیر معمولی ہے۔ چند انتخابی حلقوں کے نتائج پوری کانگریس کی قیادت تبدیل کر سکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ایوان کی کمیٹیوں‘ قانون سازی کے ایجنڈے اور حکومتی تحقیقات کا اختیار ایک جماعت سے دوسری جماعت کو منتقل ہو سکتا ہے۔ تاہم نشستوں میں کمی اور ایوان کی اکثریت کھو دینا دو مختلف معاملات ہیں۔ مثال کے طور پر 1966ء میں صدر لنڈن جانسن کی ڈیموکریٹک پارٹی 47نشستیں ہار گئی تھی لیکن اس کے باوجود ایوانِ نمائندگان میں اس کی اکثریت برقرار رہی۔ سینیٹ کی تاریخ قدرے مختلف تصویر پیش کرتی ہے۔ گزشتہ 20 وسط مدتی انتخابات میں 13 مرتبہ صدر کی جماعت کو سینیٹ میں نشستوں کا نقصان ہوا‘ یعنی تقریباً 65 فیصد مواقع پر حکمران جماعت کو اس ایوان میں بھی انتخابی دھچکا لگا۔ سینیٹرز چھ سال کیلئے منتخب ہوتے ہیں اور ہر انتخاب میں صرف تقریباً ایک تہائی نشستیں ووٹنگ کیلئے پیش کی جاتی ہیں؛ چنانچہ قومی سطح پر کسی جماعت کے خلاف سیاسی لہر کے باوجود مخصوص ریاستوں کے انتخابی حالات اسے سینیٹ میں بڑی شکست سے بچا سکتے ہیں۔ 2026ء کے انتخابات میں ڈیموکریٹس کو سینیٹ کا کنٹرول حاصل کرنے کیلئے چار نشستوں کا اضافہ درکار ہے۔ اگر دونوں جماعتیں 50‘ 50 نشستوں پر برابر ہو جائیں تو فیصلہ کن ووٹ کا اختیار نائب صدر جے ڈی وینس کے پاس ہوگا جس کے باعث ریپبلکنز سینیٹ کا عملی کنٹرول برقرار رکھ سکیں گے۔ امریکی قانون سازی کے نظام میں کسی بل کی منظوری کیلئے دونوں ایوانوں کی حمایت ضروری ہوتی ہے۔ اپوزیشن کسی ایک ایوان کا کنٹرول حاصل کرکے صدر کے کئی منصوبے روک سکتی ہے۔ ایوانِ نمائندگان کو حکومتی معاملات کی تحقیقات شروع کرنے اور صدر کے خلاف مواخذے کی کارروائی کا اختیار حاصل ہے تاہم صدر کو عہدے سے ہٹانے کیلئے سینیٹ میں الگ سماعت اور دو تہائی اکثریت سے سزا کا فیصلہ ضروری ہوتا ہے۔ امریکی انتخابات پر پوری دنیا کی نظر ہے اور پاکستان میں بھی انہیں بڑی توجہ سے دیکھا جاتا ہے۔ سپر پاور میں ہونے والی تبدیلیوں کے اثرات پوری دنیا پر پڑتے ہیں۔ ٹرمپ کے پاکستانی قیادت کے بارے میں ریمارکس تو اچھے رہے ہیں مگر مجموعی طور پر ان کی پالیسیوں سے لوگ نالاں ہیں۔ ٹرمپ کے مستقبل کے بارے میں جاننے کا تجسس سب کو ہے کیونکہ اس انتخاب کے بعد بہت سی تبدیلیاں متوقع ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/229_33941343.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کراچی میں دینی اجتماعات(علامہ ابتسام الہٰی ظہیر )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-11-04/52969/66701800</link><pubDate>Wed, 04 Nov 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-11-04/52969/66701800</guid><description>کراچی صوبہ سندھ کا دارالحکومت اور پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے۔ اس کی سڑکیں کشادہ اور مناظر دلکش ہیں۔ اس میں بکثرت بلند وبالا عمارتیں موجود ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ کراچی میں سمندر اور اس کے کنارے کے مناظر بھی انتہائی دلکش اور حسین ہیں۔ کراچی میں دین سے محبت کرنے والے لوگ بڑی تعداد میں آباد ہیں۔ مختلف دینی جماعتوں کے کراچی میں بڑے بڑے پروگرام ہوتے رہتے ہیں۔ قرآن وسنہ موومنٹ صوبہ سندھ کے چیئرمین مولانا اختر علی محمدی اور ان کے رفقا عبدالرحمن فاروقی‘ مولانا یوسف سلفی‘ مولانا حنیف سلفی اور حافظ وقاص نے مجھ سے 31 اکتوبر کو گلشن ضیا اورنگی ٹائون میں ہونے والی ختم نبوت کانفرنس کیلئے وقت مانگا اور ساتھ ہی اصرار کیا کہ اس بار میں دو تین روز کیلئے کراچی آئوں۔ 30 اکتوبر کی رات کو جب میں کراچی پہنچا تو دوست احباب کے ہمراہ جماعت غربا اہلحدیث کے مرکز جامعہ ستاریہ میں پہنچا جہاں جماعت کے نومنتخب امیر مولانا محمد سلفی اپنے رفقا کے ہمراہ موجود تھے۔ انہوں نے اس موقع پر بڑے پیار‘ محبت اور گرمجوشی کا مظاہرہ کیا۔ میں نے جماعت کے سابق امیر مولانا عبدالرحمن سلفی‘ جو چند روز قبل دنیائے فانی سے کوچ کر گئے تھے‘ کی وفات پر تعزیت کی۔ مولانا عبدالرحمن سلفی ایک باعمل عالم دین تھے جو مدتِ مدید تک کراچی میں درس وتدریس‘ وعظ ونصیحت اور تدریس وتحقیق کے کاموں میں مشغول رہے۔ ان دوستوں سے مل کر یونہی محسوس ہوا جیسے اپنے رشتہ داروں کے ساتھ ملاقات ہو رہی ہے۔اگلے روز اورنگی ٹائون میں ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد کیا گیا تھا۔ مغرب کی نماز کے بعد شروع ہونے والی اس کانفرنس میں مجھے رات کے تقریباً ایک بجے اپنی گزارشات کو عوام کے سامنے رکھنے کا موقع ملا‘ جن کی کثیر تعداد وہاں موجود تھی۔ میں نے سامعین کے سامنے یہ بات رکھی کہ عقیدۂ ختم نبوت غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ اللہ تعالیٰ کی توحید کے ساتھ نبی کریمﷺ کی رسالت اور ختم نبوت پر بھی مکمل یقین رکھنا ایمان کا تقاضا ہے۔ یہ عقیدہ کتاب اللہ‘ سنت رسول اللہﷺ اور اجماعِ امت سے ثابت ہے اور اس عقیدے میں کسی قسم کی ترمیم و تحریف کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔ نبی کریمﷺ کے بعد جو شخص بھی نبوت کا اعلان کرتا ہے وہ دائرہِ اسلام سے خارج ہے۔ اس عقیدے کی اہمیت کو جہاں تحریر وتقریر کے ذریعے واضح کیا گیا‘ وہیں پاکستان کی قومی اسمبلی میں 7 ستمبر 1974ء کو ختم نبوت کے دفاع کیلئے متفقہ قرارداد پیش کی گئی اور یوں دنیا بھر میں اس مسئلے کی قانونی حیثیت بھی واضح ہو گئی۔یکم نومبر کو مغرب کی نماز کے بعد رول ماڈل انسٹیٹیوٹ میں &#39;&#39;فتنوں کے مقابلے پر ایمان کی حفاظت‘‘ کے حوالے سے ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں مرد وخواتین کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر میں نے سامعین کے سامنے اس بات کو رکھا کہ ایمان اللہ تبارک وتعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت ہے اور باقی تمام نعمتیں اسی کے ساتھ معنی خیز ہوتی ہیں۔ فرعون کے پاس عہدہ تھا‘ قارون کے پاس سرمایہ تھا‘ ہامان کے پاس منصب تھا اور ابولہب کا تعلق ایک بڑے قریشی خاندان کے ساتھ تھا لیکن یہ لوگ اس لیے ناکام ہو گئے کہ ایمان کی دولت سے محروم رہے۔ ایمان کو نقصان پہنچانے والے فتنوں سے ہمیں باخبر رہنے کی ضرورت ہے۔ چند اہم فتنے درج ذیل ہیں: 1: بد اعتقادی۔ 2: نبی کریمﷺ کی اتباع میں سستی اور کوتاہی۔ 3: مادہ پرستی۔ 4: شہوات کی پیروی۔ 5: خواہشات کا اتباع۔ 6: پروپیگنڈے کا فتنہ‘ جس میں جھوٹ اور سچ کی آمیزش ہوتی ہے۔2 نومبر کو کراچی کے ایک بڑے تعلیمی ادارے‘ جامعہ ابی بکر میں ظہر کی نماز کی ادائیگی کے بعد اساتذہ اور طلبہ کے سامنے اپنی گزارشات کو رکھنے کا موقع ملا جن کو کچھ کمی بیشی کے ساتھ قارئین کے سامنے بھی پیش کرنا چاہتا ہوں: اللہ تبارک وتعالیٰ کا چنا ہوا اور پسندیدہ دین اسلام ہے۔ اور اسکی بنیاد اللہ تعالیٰ کی کتاب اور نبی کریمﷺ کے ارشادات اور تعلیمات ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریمﷺ کی ذاتِ اقدس کو جمیع انسانیت کیلئے اسوۂ کامل بنایا۔ آپﷺ کی اتباع کو اپنی محبت کے حصول کا ذریعہ قرار دیا اور سورۃ النساء میں اس بات کو واضح فرما دیا کہ جس نے نبی کریمﷺ کی اطاعت کی‘ درحقیقت اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی۔ نبی کریمﷺ کی اتباع دنیاوی اور اخروی کامیابی کی بنیاد ہے لیکن بہت سے لوگ مختلف وجوہات کی بنیاد پر اتباع رسولﷺ سے محروم ہو جاتے ہیں‘ جس کی چند اہم وجوہ درج ذیل ہیں:(1) آبائو اجداد کی اندھی پیروی: ہر شخص کو طبعاً اپنے آبائو اجداد سے محبت ہوتی ہے اور وہ ان کی ہر بات کو اپنے لیے اہم سمجھتا ہے لیکن اس بات کو ذہن نشین رکھنے کی ضرورت ہے کہ رسول اللہﷺ کی بات کے مقابلے میں آبائو اجداد کی بات پر اصرار کرنا درست نہیں ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ المائدہ کی آیت: 104 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ نے جو احکام نازل فرمائے ہیں ان کی طرف اور رسول کی طرف رجوع کرو تو کہتے ہیں کہ ہم کو وہی کافی ہے جس پر ہم نے اپنے بڑوں کو پایا‘ (کیا) اگر چہ ان کے بڑے نہ کچھ سمجھ رکھتے ہوں اور نہ ہدایت رکھتے ہوں‘‘۔ (2) مذہبی رہنمائوں کی ہر بات کو بلا چون وچرا تسلیم کرنا: کتاب وسنت کے مطابق نبی کریمﷺ کی بات کے مقابلے میں اپنے مذہبی رہنمائوں کی ہر بات کو بلا چون وچرا تسلیم کرنا درست نہیں ہے۔ مذہبی رہنمائوں کی عزت اور احترام کے ساتھ ان کی اُسی بات کو تسلیم کرنا چاہیے جو کتاب وسنت سے ثابت ہو۔ اس حوالے سے جامع ترمذی میں حضرت عدیؓ بن حاتم طائی سے روایت ہے کہ میں نبی اکرمﷺ کے پاس آیا‘ میری گردن میں سونے کی صلیب لٹک رہی تھی۔ آپﷺ نے فرمایا: &#39;&#39;عدی! اس بت کو نکال کر پھینک دو‘ میں نے آپﷺ کو سورۃ التوبہ کی آیت  اتخذوا احبارھم ورھبانھم اربابا من دون اللہ (انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے عالموں اور راہبوں کو اپنا معبود بنا لیا ہے) (التوبہ: 31) پڑھتے ہوئے سنا۔ آپﷺ نے فرمایا: &#39;&#39;وہ لوگ ان کی عبادت نہ کرتے تھے‘ لیکن جب وہ لوگ کسی چیز کو حلال کہہ دیتے تھے تو وہ لوگ اسے حلال جان لیتے تھے اور جب وہ لوگ ان کیلئے کسی چیز کو حرام ٹھہرا دیتے تو وہ لوگ اسے حرام جان لیتے تھے‘‘۔ (3) اپنے سیاسی رہنمائوں کی ہر بات کو حجت سمجھنا: دین وشریعت میں اپنے سرداروں‘ چودھریوں‘ وڈیروں اور سیاسی رہنمائوں کی بلا دلیل اور غیر مشروط پیروی کی بھی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔ سورۃ الاحزاب کی آیات: 66 تا 67 میں اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;اس دن ان کے چہرے آگ میں الٹ پلٹ کیے جائیں گے۔ (حسرت وافسوس سے) کہیں گے کہ کاش ہم اللہ اور رسول کی اطاعت کرتے۔ اور کہیں گے: اے ہمارے رب! ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کی مانی جنہوں نے ہمیں راہِ راست سے بھٹکا دیا‘‘۔ (4) خواہشات کی پیروی: کتاب وسنت کے مطابق اللہ اور نبی کریمﷺ کے مقابلے پر اپنے خواہش کی پیروی کرنے والے لوگ ناکام ونامراد ہو جائیں گے جبکہ اپنی خواہش کو دبا کر اللہ اور اس کے رسولﷺ کی بات کو ماننے والے لوگ کامیاب ہو جائیں گے۔ سورۃ النازعات کی آیات: 37 تا 41 میں اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;تو جس (شخص) نے سرکشی کی (ہو گی)۔ اور دنیوی زندگی کو ترجیح دی (ہو گی)۔ اس کا ٹھکانا جہنم ہی ہے۔ ہاں! جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتا رہا ہوگا اور اپنے نفس کو خواہش سے روکا ہوگا۔ تو اس کا ٹھکانا جنت ہی ہے‘‘۔ (5) اکثریت کی پیروی: عوام کے اکثریت کی رائے اگر اللہ اور اس کے رسولﷺ کی بات سے متصادم ہو تو اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ سورۃ الانعام کی آیت: 116 میں اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;اور دنیا میں زیادہ لوگ ایسے ہیں کہ اگر آپ ان کا کہنا ماننے لگیں تو وہ آپ کو اللہ کی راہ سے بے راہ کر دیں‘‘۔اساتذہ و طلبہ نے ان گزارشات کو بہت توجہ کے ساتھ سنا۔ یوں دورۂ کراچی اپنے جلو میں بہت سی خوبصورت یادوں کو لیے مکمل ہوا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_19740082.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>