<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>قرضوں کاجال(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-01/11592</link><pubDate>Thu, 01 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-01/11592</guid><description>وزارتِ خزانہ کی جاری کردہ ’سالانہ قرض پروگرام 2027ء‘ رپورٹ نے ملکی معیشت کے دیرینہ مسئلے کو اجاگر کیا ہے۔ دستاویزات کے مطابق گزشتہ چار برس کے دوران پاکستان کے مجموعی قومی قرض میں 76 فیصد اضافہ ہوا ہے‘ جس کے بعد  قرض کا مجموعی حجم 86 ہزار 700 ارب روپے ہو گیا ہے۔ جون 2022ء میں یہ حجم 49 ہزار 300 ارب روپے تھا۔ یہ رپورٹ اس امر کا واضح اظہار ہے کہ پاکستان اس وقت قرضوں کے جال میں جکڑا ہوا ہے ۔ اس وقت ملک کی کُل مالیاتی ضرورت 28 ہزار 650 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے‘ جو مجموعی قومی پیداوار کا تقریباً 20 فیصد ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اس کا بیشتر حصہ پرانے قرضوں اور سود کی ادائیگیوں پر خرچ ہو رہا ہے۔ زیادہ تلخ پہلو یہ ہے کہ اس دلدل سے نکلنے کی تمام کوششیں مزید گہرائی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔ اب تک ہر حکومت نے جس معاشی حکمتِ عملی پر انحصار کیا‘ سادہ لفظوں میں وہ نیا قرض لے کر پرانا قرض اتارنا رہی ہے۔ یہ اس دائرے کے سفر کا ہی نتیجہ ہے کہ رواں مالی سال کا تقریباً 43 فیصد بجٹ (8054 ارب روپے) صرف قرضوں اور سود کی ادائیگیوں کیلئے مختص کیا گیا ہے۔

جب نصف کے قریب بجٹ ترقیاتی کاموں‘ تعلیم‘ صحت اور دفاع کے بجائے صرف قرض اتارنے اور سود ادا کرنے میں خرچ ہو جائے تو حکومت کے پاس عوام کو ریلیف دینے یا نئے ترقیاتی منصوبوں کی کوئی گنجائش باقی نہیں بچتی۔ دوسری جانب یہ تلخ حقیقت بھی سامنے ہے کہ جس مدت میں قرضوں میں 76 فیصد اضافہ ہوا اسی دوران ٹیکس کا ہدف 5800 ارب روپے سے بڑھ کر 15ہزار 264 ارب روپے ہو گیا۔ یعنی ایک طرف ٹیکس کولیکشن میں 163 فیصد اضافہ ہوا مگر دوسری جانب قرضوں کا پہاڑ کم ہونے کے بجائے بڑھتا ہی چلا گیا۔ یہ امر اب واضح ہو چکا کہ نئے قرضوں کی عارضی پیوند کاری مزید نہیں چل سکتی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اپنی معاشی بنیادوں کو درست کیا جائے۔ اس وقت ملکی معیشت کو نئے قرضوں کے بجائے قرض سے نجات کی طویل مدتی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔ اس کیلئے تین بنیادی نکات پر کام کرنا ہو گا۔سب سے پہلے حکومتی اخراجات میں کمی لاتے ہوئے حقیقی معنوں میں کفایت شعاری کو اپنا ہو گا۔
سالانہ بجٹ کا ایک بڑا حصہ شاہانہ اخراجات‘ بھاری مراعات اور غیر پیداواری امور کی نذر ہو جاتا ہے‘ لہٰذا اب کفایت شعاری اعلانات کے بجائے وفاقی اور صوبائی سطح پر حقیقی بجٹ کٹوتی کی صورت میں عملاً نظر آنی چاہیے۔ خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں سے بھی جان چھڑانا ہو گی۔ وزارتِ خزانہ کی ایک رپورٹ کے مطابق مالی سال 26ء کی پہلی ششماہی کے دوران سرکاری ملکیتی اداروں کو 342 ارب روپے سے زائد خسارے کا سامنا رہا جبکہ حکومت نے ان اداروں کو 804 ارب روپے کی مالی معاونت فراہم کی۔ ٹیکس گزاروں کی محنت کی کمائی ایسے شگاف بھرنے پر نہیں خرچ کی جا سکتی جو کبھی پُر ہی نہ ہوں۔ اسی طرح ٹیکسوں بالخصوص بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ بڑھانے کے بجائے ٹیکس نیٹ میں توسیع لانا ہو گی۔ پیداواری شعبے اور تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس یا جنرل سیلز ٹیکس کی بلند شرح اگرچہ ٹیکس ریونیو بڑھانے کے آسان طریقے ہیں مگر ان کے معاشی مضمرات کہیں زیادہ ہے۔
اس سے کاروباری لاگت بڑھتی‘ متوسط اور نچلے طبقے کی  قوتِ خرید سکڑتی اور سرمایہ کاری ملک سے باہر چلی جاتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ غیر ٹیکس شدہ شعبوں کو دستاویزی معیشت کا حصہ بنا کر ٹیکس نیٹ کو وسیع کیا جائے۔ ہدف محض ٹیکس ریونیو نہیں بلکہ براہِ راست ٹیکسوں کا دائرہ وسیع کرنا ہونا چاہیے۔ قرضوں کی ایک بنیادی وجہ تجارتی خسارہ بھی رہا ہے‘ لہٰذا درآمدات میں کمی اور برآمدات میں نمایاں اضافہ بھی ناگزیر ہے۔ قرضوں سے نجات کیلئے معیشت کو جامع اصلاحات اور غیر روایتی اقدامات کی ضرورت ہے‘ اس کے بغیر اس کھائی سے نکلنا ممکن نہیں ہو گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>المناک واقعہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-01/11591</link><pubDate>Thu, 01 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-01/11591</guid><description>پانچ ماہ سے زائد عرصے تک صومالی قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال رہنے والے بحری جہاز ایم ٹی آنر25 کے عملے کی بازیابی کے لیے کیے گئے آپریشن کے دوران قزاقوں کی فائرنگ سے عملے کے پانچ ارکان جاں بحق ہو گئے‘ جن میں تین پاکستانی شہری شامل ہیں جبکہ تین پاکستانی زخمی بھی ہوئے ہیں۔ گزشتہ پانچ مہینوں کے دوران یرغمالیوں کی جانب سے متعدد بار مدد کی اپیلیں کی گئیں‘ ان کو ملنے والی ناقص خوراک اور پانی کے علاوہ صحت کی خراب حالت کی اطلاعات بھی متواتر ملتی رہیں جبکہ مغویوں کے اہلِ خانہ حکومت سے مدد کی اپیل کرتے رہے۔

اس دوران حکومتِ پاکستان کی طرف سے صومالی حکام سے پاکستانی عملے کی بحفاظت بازیابی کے لیے ملاقاتیں کی گئیں تاہم یہ کوششیں کوئی عملی نتیجہ پیدا نہ کر سکیں اور یرغمالی ایک افسوسناک المیے سے دوچار ہوئے۔ دفتر خارجہ کے مطابق زندہ بچ جانے والے عملے کو بحفاظت بندر بیلا اور صومالیہ پہنچا دیا گیا ہے جبکہ جبوتی میں پاکستانی سفارت خانے کی ٹیم پاکستانی شہریوں کی معاونت کے لیے بندر بیلا روانہ ہو گی۔ حکومت کو چاہیے کہ جاں بحق پاکستانیوں کی میتوں اور زخمی پاکستانی شہریوں کی فوری واپسی یقینی بنانے کے عملی اقدامات یقینی بنائے جائیں‘ تاکہ ان کی واپسی میں مزید تاخیر عملے اور ان کے لواحقین کے لیے تکلیف کا باعث نہ بنے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>گلوف کے خطرات(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-01/11590</link><pubDate>Thu, 01 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-01/11590</guid><description>سپارکونے شمالی علاقہ جات میں گلیشیرز پگھلنے سے گزشتہ دو ماہ کے دوران60 سے زائد جھیلیں بننے کی نشاندہی کی ہے۔  پاکستان بھی عالمی درجہ حرارت میں ہونے والے اضافے کے اثرات سے محفوظ نہیں رہا‘ اور یہاں گلیشیرز تیزی سے پگھل رہے ہیں اور گلیشیائی جھیلوں کے پھیلاؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔اگر ان جھیلوں کے برف‘ چٹانوں اور ملبے سے بنے قدرتی بند کمزور پڑ گئے تو یہ جھیلیں پھٹنے سے خوفناک تباہی آ سکتی ہیں۔ اگست میں نیپال میں گلیشیر کے انہدام اور اس سے پیدا ہونے والے تباہ کن سیلاب نے ثابت کردیا کہ ہمالیائی خطے میں یہ خطرہ کسی قدر سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا میں تقریباً 17لاکھ افراد گلوف کے خطرات سے دوچار ہیں‘ لہٰذا حکومت کو بلاتاخیران گلیشیائی جھیلوں کی مانیٹرنگ کا خصوصی نظام قائم کرنا چاہیے جس کے تحت نہ صرف ان جھیلوں اور گلیشیرز کی مسلسل نگرانی یقینی بنائے جائے بلکہ ممکنہ طور پر متاثرہ تمام وادیوں میں جدید ارلی وارننگ سسٹم کی بلاتاخیر تنصیب اور اسے فعال رکھنے کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔ گوکہ گلیشیرز کے پگھلنے کی رفتار کو روکنا حکومت کے اختیار میں نہیں ‘مگر اس کے نتیجے میں ہونے والی ممکنہ تباہی کو روکنے کیلئے بروقت تیاری حکومت کی ذمہ داری ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ایک بہادر شخص اور رستم نامی(محمد اظہارالحق)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-10-01/52760/16475317</link><pubDate>Thu, 01 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-10-01/52760/16475317</guid><description>عجیب بہادر شخص ہے۔اسمبلی کی &#39;&#39;جتوائی‘‘ ہوئی سیٹ ٹھکرا دی۔ دھرنے دیے جا رہا ہے۔ جلوس نکالے جا رہا ہے۔ پٹرول کی قیمت سے لیوی کا جگا ٹیکس ہٹوانے کیلئے‘ بجلی کی قیمت میں ریلیف کیلئے۔ جنون نیا نہیں‘ پرانا ہے۔ کبھی کراچی الیکٹرک کے ظلم کے خلاف سینہ سپر ہوا۔ کبھی پانی کے نکاس اور واٹر سپلائی کیلئے لڑا۔ عجیب شخص ہے۔ اپنے ہم چشموں سے یکسر مختلف!! ٹوپی ٹیڑھی کر کے اوڑھی نہ اپنے علاقے میں خواتین ووٹروں کی حوصلہ شکنی کی۔ مغربی تعلیم کے خلاف اور مدرسہ کی تعلیم کے حق میں تقریر کی‘ نہ بچوں کو اعلیٰ تعلیم کیلئے امریکہ کینیڈا بھیجا۔ اولاد کو دوسری سیاسی جماعتوں میں بھی پلانٹ نہ کیا۔ کسی سکہ رائج الوقت کو ہوا میں اچھالا نہ اس سے خریداری کی۔ نہ ہاؤسنگ سوسائٹیاں بنائیں۔ ملک کا واحد سیاستدان ہے جو عوام کیلئے لڑ رہا ہے۔ پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ پٹرول لیوی اور آئی پی پیز کے خلاف کیسے بول سکتی ہیں جبکہ وہ حکمرانی میں حصہ دار ہیں۔ امرا کی حکومت (Oligarchy) کی اگلی صفوں میں کھڑی ہیں۔ جو خود مسئلے کاحصہ ہوں وہ کیسے مسئلہ حل کریں گے! اے بادِ صبا ایں ہمہ آوردۂ تست! (یہ باغ کا جو حال ہو رہا ہے وہ بادِ صبا نے خود ہی تو کیا ہے)۔ رہی تحریک انصاف تو وہ بیچاری اپنے زخم چاٹ رہی ہے۔ ان کا رہنما زنداں میں ہے‘ وہ اس کے بغیر کیا کر سکتے ہیں! یہ بھاری پتھر اس بہادر شخص ہی نے اٹھانا تھا‘ سو اٹھا لیا اور اٹھائے ہوئے ہے! اکیلا! اس کے ساتھ اس کے لوگ ہیں مگر کوئی ایسا نہیں جو اس کی طرح پیش قدمی کرے‘ للکارے اور طاقت کی آنکھوں میں آنکھ ڈال کر بات کرے۔ ریاض مجید یاد آ رہے ہیں:میرا دکھ یہ ہے میں اپنے ساتھیوں جیسا نہیں میں بہادر ہوں مگر ہارے ہوئے لشکر میں ہوںاس ہارے ہوئے جمود زدہ لشکر میں وہ اَن فِٹ ہے! مکمل طور پر اَن فِٹ!! رومی نے کہا تھا: زیں ہمرہانِ سست عناصر دلم گرفت!! سست الوجود ہمراہی!! لیکن قدرت کے اور قسمت کے کھیل عجیب ہیں۔ ہیرا کنکروں میں اور چنگاری راکھ میں ہوتی ہے!دیکھیے اس بحر کی تہہ سے اچھلتا ہے کیا گنبدِ نیلوفری رنگ بدلتا ہے کیا پس نوشت!! کیا مضافات میں بڑے شہروں کی نسبت بہتر شاعری ہو رہی ہے؟ یہ بحث پرانی ہے اور ایسی بحث ہے جس کا کوئی نتیجہ آج تک نکلا ہے نہ نکلے گا۔ شاعری کا شہر‘ قصبے یا گاؤں سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ شاعری کا تعلق صرف شاعر سے ہے۔ ظفر اقبال صاحب کی زندگی کا بیشتر حصہ اوکاڑہ میں گزرا۔ پہلا شعری مجموعہ &#39;&#39;آبِ رواں‘‘ آیا تو دھماکا ہوا اور یہ دھماکا کسی بڑے شہر سے نہیں‘ اوکاڑہ جیسے قصبے سے ہوا۔ رستم نامی ایک ایسا شاعر ہے جو مضافات میں نہیں بلکہ مضافات کے بھی مضافات میں رہتا ہے؛ یعنی شنکیاری میں! عمر محکمۂ جنگلات میں بسر کی۔ یعنی مضافات سے بھی دور! مگر شعر کمال کے کہے۔ مختلف! یکسر مختلف! اردو ادب میں ہزارہ کا حصہ بہت بڑا ہے۔ رستم نامی ایسا شاعر ہے جس پر اردو شاعری کو بھی ناز ہے اور ہزارہ کو بھی۔ اس کی شاعری گل و بلبل کی ہے نہ زلف و رخسار کی۔ اس میں زندگی کی تلخیاں ہیں اور پیچیدگیاں مگر رستم نامی نے یہ شاعری رو کر نہیں‘ ہنس کر کی ہے۔ کبھی معصومیت سے سوال کرتا جاتا ہے۔ کبھی بھگو بھگو کر لگاتا ہے۔ یہ مختلف ذائقے کی شاعری ہے۔ ذرا چند اشعار چکھ کر دیکھیے:رک بھی سکتا ہے کسی دن چند سانسوں کا نظامیہ عمل ہر وقت جاری ہو‘ ضروری تو نہیں بے ضمیری بھی تو آخر کار کوئی چیز ہےلغزشوں پر شرمساری ہو ضروری تو نہیںلیتے ہیں چند لوگ وطن اپنا لوٹ کراس پار کے مزے کبھی اس پار کے مزےادا ہو گا نہ جب تک چائے پانی ہمارا کام بابو تک رہے گابقدرِ اختیار و ظرف اس کو لوٹتے ہیں سبسلامت ہے مگر تاحال پاکستان تقریباً فقط چالیس نمبر شاعری کے ہیںبقایا ساٹھ اس کی افسری کے ہیںکیا ہے کارنامہ ایسا کیا تُو نے؟بہت چرچے تری دو نمبری کے ہیںہمارے رابطے ہیں سارے ملکوں سےکہ رشتے سب سے دریوزہ گری کے ہیں فالتو اشیا سے ہو کس واسطے گھر زیرِ بار  بس گزر اوقات کا سامان ہونا چاہیے ہم جدھر بھی جائیں ہونی چاہیے اردو زباں ہم جہاں بھی جائیں پاکستان ہونا چاہیےدیدنی ہے یہاں کا ہر موسمکتنے خوش بخت ہیں ہزارے والعمر ساری گزار کر نامیؔ چاہیے ہیں مزید بھی کچھ سالشجر جب صحن میں پھلدار ہو گا کہیں سے آئیں گے پتھر وغیرہستم سہنے کے عادی ہو گئے لوگنہیں ہے کوئی شورو شر وغیرہ وہ قیامت کو آئے گا یعنی ایک دو دن ہیں اس کے آنے میںاس گرانی میں کون پوچھے گاکیا پکایا ہے آج کھانے میںمنسلک ہیں پار سے سب مقتدرسب کو ملتی ہے ہدایت پار سے کام لیں گے کیا یہ بد عنوان لوگحشر میں بھی درہم و دینار سے؟آرام سے رہتے ہیں یہ لوگ پہاڑوں کے جو ساتھ کبھی لے کر اخبار نہیں جاتےاس ملک سے کرتے ہیں جو لوگ محبت وہبیمار پڑیں بھی تو اس پار نہیں جاتے کون پھر دے مجھے میرے حقوق میں ریاست میں کہیں ہوں ہی نہیںاٹھاؤ منصب و دولت سے کچھ تو فائدہ آخر دباؤ زیر دستوں کے علاقہ جات بسم اللہ مرے بھائی !مرا حصہ بھی سب تجھ کو مبارک ہو نہ ہو تقسیم بے دردی سے یہ آبائی گھر تاکہ دس دن سے اوپر چل سکتی اتنی بھی تنخواہ نہیں تھی کہیں سے سانپ آ جاتے ہیں اس میں ہماری آستیں کا مسئلہ ہے </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_57182973.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مسافر کی حسرت اپنی جگہ(خالد مسعود خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-10-01/52761/67800929</link><pubDate>Thu, 01 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-10-01/52761/67800929</guid><description>اسے آپ محض میری ذاتی ترجیحی نمبر شماری کہہ لیں‘ میرے حساب سے کتابوں کی تین بنیادی اقسام ہیں۔ ان میں کتابوں کی پہلی قسم وہ ہے جو پڑھنے کے قابل ہے۔ دوسری قسم وہ ہے جوصرف دیکھنے کے قابل ہوتی ہے۔ تیسری قسم وہ ہے جو ردّی میں تولنے کے قابل ہوتی ہے۔ ان تین اقسام پر مشتمل فہرست میں پہلی قسم کے آگے کئی مدارج ہیں۔ اچھی کتاب اگر قابلِ مطالعہ ہونے کے ساتھ ساتھ دیکھنے میں بھی شاندار ہو تو اس کا جمالیاتی پہلو کتاب کو مزید شاندار بنا دیتا ہے۔ ویسے تو اچھی کتاب اپنی جگہ اور اپنا مقام خود پیدا کر لیتی ہے لیکن بعض کتابیں ایسی ہوتی ہیں کہ انہیں پڑھنے کے بعد سنبھال کر رکھنے کو جی کرتا ہے۔ اندر سے صدا آتی ہے کہ کسی روز اسے دوبارہ پڑھیں گے۔ سو ایسی کتاب آپ کی لائبریری میں سج جاتی ہے۔ ہمارے بڑے پیارے دوست ڈاکٹر تصور اسلم بھٹہ‘ جو آسٹریلیا کے شہر برسبین میں رہتے ہیں‘ کی کتاب زبانِ یارِ من ترکی اسی قسم کی کتاب ہے۔ یہ کتاب انہوں نے صرف دل سے لکھی ہی نہیں‘ دل سے چھپوائی بھی ہے۔ مواد کے اعتبار سے ایسی شاندار کہ پڑھتے ہوئے کتاب رکھنے کو دل نہ کرے اور دیکھنے میں بھی ایسی شاندار کہ دیکھتے ہوئے نہ نظریں تھکیں اور نہ دل بھرے۔یہ ترکی کا سفرنامہ ہے اور یہ مسافر لڑکپن سے ہی سفرناموں کا شوقین ہے۔ دل کے نہاں خانوں میں دنیا دیکھنے کی آرزو نے خواہش اور تکمیل کے درمیان حائل مجبوریوں کا یہ حل نکالا کہ سفرناموں سے دل بہلانے کا راستہ نکال لیا۔ تب یہ من کا مسافر ابنِ انشا‘ مستنصر حسین تارڑ‘ عطاالحق قاسمی‘ سید وجاہت علی‘ بیگم اختر ریاض الدین‘ جمیل الدین عالی اور پیسہ اخبار کے بانی و ایڈیٹر منشی محبوب عالم کا سفرنامۂ یورپ پڑھ کر تصور ہی تصور میں دنیا گھوم لیتا تھا۔ پھر مالک نے اپنے مسافر طبیعت بندے کے شوق کی تکمیل کا بندوبست کر دیا۔ اس کے اِذن سے یہ مسافر آدھی دنیا گھوم چکا ہے لیکن سفر نامہ پڑھنے کا شوق ماند نہیں پڑا۔ سفر نامہ اب بھی میرے لیے ایسی جادوئی آواز جیسا ہے جو مجھے اَن دیکھی دنیا کی طرف کھینچتا ہے۔ تصور اسلم بھٹہ سفر نامۂ ترکی پڑھنے کے بعد دل کرتا ہے کہ بندہ ایک بار اس سفرنامے کے لکھاری کی آنکھ سے ترکی کو دیکھنے کی کوشش کرے۔ حالانکہ میں بذاتِ خود دو بار انہی جگہوں سے گزر چکا ہوں جہاں سے تصور بھٹہ نے گزرتے ہوئے یہ سب کچھ قلمبند کیا ہے لیکن ایمانداری کی بات ہے کہ اس مسافر کا دل یہ کتاب پڑھنے کے بعد ترکی کو تیسری بار دیکھنے کیلئے مچل رہا ہے۔انہوں نے حقائق‘ تاریخ‘ واقعات‘ ماضی اور حال کو اس طرح ایک لڑی میں پرویا کہ پڑھتے ہوئے کبھی بندہ سلطنتِ عثمانیہ کے دربار میں کھڑا ہو جاتا ہے‘ کبھی شاخِ زریں کے پار سلطان محمد فاتح کی فتحِ قسطنطنیہ کی مہم میں خود کو ینی چری سپاہیوں کے ساتھ نعرے مارتے ہوئے شہرِ پناہ کی فصیل پر سیڑھی لگا کر چڑھتا ہوا محسوس کرتا ہے‘ کبھی توپ کاپی میوزیم میں رکھے ہوئے خرقہ مبارک کی عقیدت بھری رونمائی میں خود کو سرجھکائے کھڑا دیکھتا ہے اور کبھی ترکی کے آخری فرمانروا سلطان محمد ششم عبدالوحید کو شہر کی گلیوں میں تحقیر سے پھرتا ہوا دیکھ کر دکھی ہوتا ہے۔ غرض مصنف ایک ایسا ماحول تخلیق کرتے ہیں جس میں پڑھنے والا مکمل طور پر ڈوب کر اس کا حصہ بن جاتا ہے اور صدیوں کا سفر طے کر کے اسی ماحول میں پہنچ جاتا ہے۔ بعض اوقات ایسا لگتا ہے کہ یہ کتاب نہیں بلکہ ایک چھوٹی سی ٹائم مشین ہے جو اپنے قاری کو حال سے اٹھا کر ماضی میں لے جاتی ہے۔دنیا دیکھنے کی ہڑک ایسی ہے کہ مسافر کو شہر شہر اور ملکوں ملکوں لیے پھرتی ہے۔ ایک سفر کا اختتام ہوتا ہے تو اگلے سفر کیلئے دل مچل اٹھتا ہے۔ ایک سے بڑھ کر ایک مسافت اپنی طرف کھینچتی ہے۔ عالم یہ ہے کہ جو دیکھا ہے وہ تو خیر سے دیکھ لیا ہے اور جو نہیں دیکھا اسے دیکھنے کی لگن دل میں ایک چراغ روشن رکھتی ہے۔ ترجیحات کی ایک لمبی فہرست ہے جس کے سامنے کہیں وسائل‘ کہیں مجبوری اور کہیں عمر رکاوٹ بن جاتی ہے۔ ٹرانس سائبیریا ٹرین کے ذریعے ماسکو سے بیجنگ تک کا سفر‘ بیجنگ سے تبت کے شہر لہاسا جانے کا شوق‘ پیرو میں مچو پچو‘ اردن میں پیٹرا‘ مسائی مارا سے سرنگیٹی لاکھوں وائلڈ بیسٹ اور دیگر چوپایوں کی ہجرت‘ امریکی ریاست کیلیفورنیا کے صدر مقام سیکرامنٹو کے نواح میں سیکرامنٹو نیشنل والڈ لائف ریفیوج میں لاکھوں آبی پرندوں کا نظارہ‘ ییلو سٹون پارک میں سینکڑوں بائسن (ارنا بھینسا) کے ریوڑ اور سپین کے شہر پامپلونا میں گلیوں میں بھاگتے ہوئے بیلوں کے سامنے سفید پینٹ اور سفید شرٹ کے اوپر گلے میں سرخ رومال باندھ کر بھاگنے کی خواہش۔ غرض کس کس خواہش اور حسرت کا ذکر کیا جائے۔ یہ سب وہ خواہشات ہیں جن کے بارے میں یہ مسافر مایوس نہیں‘ بلکہ پُر امید ہے کہ زندگی رہی تو وہ کسی روز ان جگہوں کو بھی اپنی یادوں کا حصہ بنانے میں کامیاب ہو جائے گا۔ لیکن جو حسرتیں ناتمام رہ جانے کا خوف ہے ان میں سرِ فہرست بیت المقدس جانا ہے۔ یہ مسافر اپنے پاسپورٹ پر دنیا کے کسی بھی کونے میں جا سکتا ہے لیکن بس بیت المقدس وہ شہر ہے جس کا نام آتے ہی پاسپورٹ پر سرخ بتی جل اٹھتی ہے۔اور مجھ سے زیادہ تو اسد کو بیت المقدس جانے کا شوق ہے اور شوق بھی ایسا کہ آپ اسے پاگل پن کہہ لیں۔ ہر دو تین ماہ کے بعد پوچھے گا: بابا جان! یروشلم جانے کا کچھ بندوبست ہوا؟ میں اسے ہنس کر کہتا ہوں کہ ساری دنیا پڑی ہے جسے وہ دیکھ سکتا ہے۔ جواباً وہ کہتا ہے کہ جس دنیا میں یروشلم ہی نہ ہو بھلا ایسی دنیا ساری دنیا کیسے ہو سکتی ہے؟ ایک بار میں نے غلطی سے اسے بتا دیا تھا کہ پیر نقوی نے مجھے کہا کہ میں اگر اس کے ساتھ اردن چلوں تو عمان میں ایک ایجنٹ ہے جو ایک ہزار ڈالر لے کر بغیر پاسپورٹ ایک کاغذ پر مشتمل اجازت نامے پر اسرائیل جانے کا بندوبست کر سکتا ہے۔ لیکن میں نے پیر نقوی کو انکار کر دیا اور کہا کہ مسئلہ خطرہ نہیں بلکہ اس پابندی کا احترام ہے جو میری ریاست نے مجھ پر عائد کی ہوئی ہے۔ لیکن اسد نہیں مانتا۔ اس کا خیال ہے کہ میں شاید اب اس عمر میں ایڈونچر کرنے کا رِسک نہیں لے سکتا‘ اور سچی بات یہ ہے کہ اسد کے ساتھ تو میں واقعی یہ رِسک نہیں لے سکتا۔ لیکن دل میں بیت المقدس جانے کی ایک لو سی ہے جو بھلے پوری طرح بھڑکتی نہیں مگر بجھتی بھی نہیں ہے۔چند ماہ پہلے ڈاکٹر تصور اسلم بھٹہ اپنے فلسفی بیٹے حمزہ سربلند کے ہمراہ بیت المقدس گیا۔ حمزہ ایک غیرمعمولی نوجوان ہے جو آسٹریلیا میں پلا بڑھا ہے مگر میاں محمد بخش کی پنجابی شاعری کی گہرائیوں کو کھوجتا ہے۔ رومی اور اقبال کو سمجھنے اور ان کے پیغام کی روح تک پہنچنے کیلئے فارسی سیکھنے کیلئے ان حالات میں جبکہ امریکہ اور اسرائیل کا ایران پر حملہ نوشتہ دیوار تھا‘ وہ ایران چلا گیا اور کامل تین ماہ میں اپنی فارسی صیقل کر کے واپس آسٹریلیا آ گیا۔ ڈاکٹر تصور اسلم آج کل اپنے اس سفر کی روداد &#39;&#39;اہلِ وفا کی بستی‘‘ کے نام سے لکھ رہا ہے۔ اللہ جانے یہ کتاب کب مکمل ہو گی مگر اس مسافر کو اس کی پروا نہیں۔ تصور اسلم بھٹہ اس فقیر کو اپنے سفر کا حال بھیجتا رہتا ہے۔ جہاں یہ مسافر اپنے دیرینہ شوق کو اس تحریر سے بہلا رہا ہے وہیں اس جادو اثر تحریر سے مزید بے کل اور بے چین ہو رہا ہے۔ خواہش اور حسرت اپنی جگہ لیکن حقیقت یہی ہے کہ فی الحال مسافر کو اسی سفر نامے سے کام چلانا پڑے گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90500073.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>’’تم میرے ٹیکس پر پلتے ہو!‘‘(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-10-01/52762/42108351</link><pubDate>Thu, 01 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-10-01/52762/42108351</guid><description>&#39;&#39;تم میرے ٹیکس پر پلتے ہو۔ تم مجھے کیسے روک سکتے ہو؟‘‘تکبر میں ڈوبی ہوئی یہ آواز بسا اوقات سنائی دیتی ہے۔ عام طور پر یہ جملہ اُس وقت سننے میں آتا ہے جب پولیس والا ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر کسی کو روکتا یا کسی قانون شکن کو لگام دینے کی کوشش کرتا ہے۔ دو دن پہلے‘ جب دھرنے کا شور تھا‘ میں نے سوشل میڈپا پر ایسی ہی ایک وڈیو دیکھی۔ ایک کار سوار کو ممنوعہ راستے پر آگے بڑھنے سے روکا گیا۔ اس کا تکبر شرفِ انسانیت کو کھا گیا اور اس کی زبان پاکستان کے خلاف دراز ہونے لگی۔ پولیس والے کا حوصلہ قابلِ داد تھا۔ اُن صاحب کا معافی نامہ بھی اس وڈیوکا حصہ تھا۔ اس کا یہ جملہ میرے ذہن سے چپک گیا۔ &#39;&#39;تم میرے ٹیکس پر پلتے ہو۔ تم مجھے کیسے روک سکتے ہو؟‘‘ اس جملے نے اُس جیسے بہت سے کردار یاد دلا دیے۔ پولیس والے نے جواب میں ایک جملہ کہا اور کوزے میں دریا بند کر دیا۔ جب اس نے ٹیکس ٹیکس کی رَٹ لگائی تو پولیس والے نے کہا: &#39;&#39;ٹیکس دیتے ہو تو کماتے بھی یہیں سے ہو‘‘۔ یہ جملہ اُن متکبرین کے لیے کسی تازیانے سے کم نہیں۔ یہ لوگ ٹیکس کا ذکر ایسے کرتے ہیں جیسے ایک حاجت مند کو خیرات دے رہے ہوں۔ یہ طبقہ اس بات کو نظرانداز کرتا ہے کہ ملک انہیں وہ ماحول فراہم کرتا ہے جہاں سے وہ کروڑوں کماتے ہیں۔ عالیشان گھروں میں رہتے ہیں۔ بڑی بڑی گاڑیوں میں گھومتے اور باہر کے ملکوں میں جائیدادوں کے مالک ہیں۔ لاکھوں ٹیکس دینے کا مطلب یہ ہے کہ آپ اس سے کہیں زیادہ کما رہے ہیں اور اس کے لیے ملک کے وسائل کو استعمال کر رہے ہیں۔ یہ اس معاملے کا ایک پہلو ہے۔ اس سے تلخ تر پہلو دوسرا ہے۔ٹیکس دینے کا واویلا سب سے زیادہ اُس طبقے کی طرف سے کیا جاتا ہے جس کی شہرت یہ ہے کہ وہ ٹیکس چور ہے۔ پاکستان میں ہر سال اربوں روپے کا ٹیکس چوری کیا جاتا ہے۔ یہ کام وہی کر سکتا ہے جو اربوں کماتا ہے۔ یہ دو طبقات ہیں۔ ایک تاجر اور دوسرے جاگیردار۔ جاگیر دار تو بالکل ٹیکس نہیں دیتا اور صنعتکار و تاجر پر الزام ہے کہ وہ سب سے زیادہ ٹیکس چوری کے مرتکب ہوتے ہیں۔ حکومت انہیں بجلی‘ گیس سستے داموں فراہم کرتی ہے۔ ان پر جو ٹیکس عائد ہوتا ہے وہ اس کا بڑا حصہ صارف کو منتقل کر دیتے ہیں۔ ان کے کاروبار دن دُگنی اور رات چوگنی ترقی کررہے ہیں۔ اگر یہ کما نہیں رہے تو ان کی جائیدادوں میں اضافہ کیسے ہو رہا ہے؟ یہ شاہانہ اندازِ زندگی کو کیسے برقرار رکھے ہوئے ہیں۔یہ طبقہ جسے طعنہ دے رہا ہے کہ &#39;&#39;تم ہمارے ٹیکس پر پلتے ہو‘‘ یہ ملازم طبقہ ہے اور پاکستان میں اگر کوئی سب سے زیادہ دیانتداری سے ٹیکس دے رہا ہے‘ وہ یہی سرکاری ملازم ہے۔ اسے جو تنخواہ ملتی ہے‘ اس میں سے ٹیکس منہا کر لیا جاتا ہے۔ یہ بات غلط نہیں کہ یہ طبقہ سو فیصد ٹیکس دیتا ہے۔ اس طبقے کے ایک نمائندہ‘ پولیس والے کو ٹیکس چوری کی شہرت رکھنے والے طبقے کا کوئی فرد ٹیکس کے حوالے سے تضحیک کا نشانہ بنائے تو اسے خواجہ آصف کا معروف جملہ ضرور یاد دلانا چاہیے۔اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ کرپشن میں بیوروکریسی کا پہلا نمبر ہے۔ عرف ِعام میں جسے کرپشن کہتے ہیں وہ ٹیکس چوری سے مختلف عمل ہے۔ سرکاری افسر اگر اپنے منصب سے ناجائز فائدہ اٹھاتا ہے‘ وہ رشوت لیتا یا سرکاری وسائل کا ناجائز استعمال کرتا ہے تو یہ کرپشن ہے۔ تاہم یہ کرپشن زیادہ تر اونچی سطح پر ہوتی ہے۔ نچلی سطح پر تو اس کا ناقابلِ ذکر حصہ ہی پہنچتا ہے۔ جس پولیس والے یا عام سرکاری ملازم کو یہ طعنہ سننا پڑتا ہے‘ اس کا حصہ تو بہت کم ہے۔ کرپشن مگر ایک مختلف موضوع ہے۔ میں اپنی بات کو ٹیکس چوری تک محدود رکھنا چاہتا ہوں‘ جس کا سب سے زیادہ ارتکاب تاجر طبقے کی طرف سے ہوتا ہے۔ ٹیکس کے موجودہ نظام کا دفاع نہیں کیا جا سکتا۔ اس نظام میں پائے جانے والے خلا ہیں جو ٹیکس چوری کا دروازہ کھولتے ہیں۔ اس ظالمانہ نظام کے شکار مگر صرف تاجر نہیں ہیں۔ وہ ملازم پیشہ لوگ بھی ہیں جو بار بار ٹیکس دیتے ہیں۔ پہلی بار اپنی تنخواہ پر۔ پھر بازار سے خریداری کرتے ہیں تو مزید ٹیکس دیتے ہیں۔ بجلی پانی پر ٹیکس دیتے ہیں۔ ٹیکس کا یہ نظام زندگی کے ہر طبقے کو اپنی گرفت میں لیے ہوئے ہے۔ اس میں صنعتکا ر‘ تاجر اور ملازمت پیشہ طبقہ‘ سب شامل ہیں۔ اس لیے ٹیکس کے اس نظام کا کسی طرح دفاع نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم ٹیکس کا یہ نظام بھی میرا موضوع نہیں۔ میں تو اس متکبرانہ مزاج کی بات کر رہا ہوں جو اس جملے سے جھلک رہا ہے کہ &#39;&#39;تم ہمارے ٹیکسوں پر پلتے ہو‘‘۔کسی سرکاری دفتر میں بیٹھا کلرک ہو یا چوک میں کھڑا ٹریفک پولیس کا اہلکار‘ یہ سب قانون اور ضابطے کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ حکومت اگر انہیں تنخواہ دیتی ہے تو بدلے میں یہ اپنا وقت‘ ہنر اور صلاحیتیں دیتے ہیں۔ پھر یہ کہ قانون عام آدمی کی بھلائی کیلئے بنائے جاتے ہیں۔ اگر یہ اس کی پابندی کا مطالبہ کرتے ہیں تو دراصل عوام کی مدد کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ اگر موٹر سائیکل سوار کو ہیلمٹ پہننے پر اصرار کرتے ہیں تو مقصود اس کی جان کو بچانا ہے۔ یہ اگر سڑک بند کرتے ہیں تو ریاست کے قانون کے تحت کرتے ہیں۔ ان پر رعب جھاڑنے کا کوئی جواز نہیں۔ ان کا تو شکرگزار ہونا چاہیے۔ اس میں شبہ نہیں کہ ان میں سے بعض‘ عام آدمی کو غیرضروری طورپر تنگ کرتے ہیں۔ لیکن اکثریت صرف اپنی سرکاری ذمہ داری نبھا رہی ہوتی ہے۔ ان کے ساتھ اس رویے کا کوئی جواز نہیں جو مذکورہ وڈیو میں روا رکھا گیا۔ یہ سرا سر تکبر ہے۔اپنی کوتاہیوں کے باوصف‘ ریاست اور حکومت‘ ان لوگوں کو بہت کچھ دے رہی ہے۔ جس سپاہی کو طعنہ دیا جاتا ہے‘ وہ نہ ہو تو لوگوں کی عزت محفوظ رہے نہ جان اور نہ مال۔ ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ حکومتی نظام کی کوتاہیوں کا ازالہ ہو۔ ریاست اور حکومت سے شکایت کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں مگر یہ ٹیکس دینے کی بات تو کم ظرفی کی علامت ہے۔ یہ ٹیکس آپ اس رقم  میں سے دیتے ہیں جس کو کمانے کیلئے ریاست آپ کو سازگار ماحول فراہم کرتی ہے۔ اس پر تو ریاست اور ملک کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ یہ ناشکرا پن ہے کہ آپ کی دولت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور آپ مسلسل ملک کو گالی بھی دے رہے ہیں۔  ناشکری پست اخلاق کا اظہار ہے۔ آپ کو پولیس والے کا شکر گزار ہونا چاہیے جو ریاست کی نمائندگی کرتے ہوئے آپ کی جان و مال کی حفاظت کرتا ہے۔ مجھے ریاست سے بہت سی شکایات ہو سکتی ہیں مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں ریاست کے وجود ہی کو بے معنی ثابت کرنے لگوں اور یہ تاثر دوں کہ جیسے میں ٹیکس دے کر ملک پر کوئی احسان کر رہا ہوں۔ میں اس کا حامی ہوں کہ ریاست عوام کے لیے ہوتی ہے نہ کہ عوام ریاست کے لیے۔ تاہم ٹیکس دینا اور ریاست کے قوانین پر عمل کرنا عوام کی ذمہ داری ہے۔ ذمہ داری کی ادائیگی کوئی احسان نہیں ہوتا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>چار اکتوبر کو کیا ہو گا؟(عمران یعقوب خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-10-01/52763/22451429</link><pubDate>Thu, 01 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-10-01/52763/22451429</guid><description>جب یہ کالم چھپے گا اُس کے دو دن بعد پی ٹی آئی کو اپنے اعلان کے مطابق لانگ مارچ کرنا ہے اور اتنا ہی وقت حکومت کے پاس باقی ہے یہ فیصلہ کرنے کیلئے کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج لگانا ہے‘ تحریک عدم اعتماد کے ذریعے حکومت کی تبدیلی عمل میں لانی ہے یا صوبے میں چھوٹی کابینہ کے ساتھ کوئی ایڈمنسٹریٹر تعینات کرنا ہے۔ پی ٹی آئی اور حکومت دونوں کے لیے یہ سبھی فیصلے آسان نہیں ہیں۔ پی ٹی آئی کے حلقوں میں یہ باتیں لانگ مارچ کی تاریخ سے کئی دن پہلے سے سننے میں آ رہی تھیں کہ تیاری مکمل نہیں ہے‘ اس لیے لانگ مارچ ملتوی کر دینا چاہیے۔ کیا پی ٹی آئی کی انتظامی صلاحیت یہ ہے کہ ڈیڑھ مہینے میں بھی مارچ کو منظم نہ کیا جا سکا؟ اب بھی جبکہ لانگ مارچ ملتوی یا مؤخر کیا جا چکا ہے تو پارٹی میں سے کسی نے یہ نہیں بتایا کہ مارچ کیوں ملتوی کیا گیا۔ اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ اگر حکومت خیبر پختونخوا میں گورنر راج نہیں لگاتی تو کیا چار اکتوبر کو لانگ مارچ کرایا جا سکے گا؟ اب تک کی صورتحال یہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی نے چار اکتوبر کو پشاور سے اسلام آباد کی جانب ہر صورت لانگ مارچ شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے پارٹی اراکین اسمبلی اور قائدین کو تیاری کی ہدایت کر دی ہے۔یہ فیصلہ پاکستان تحریک انصاف کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی کے پارٹی قیادت کے نام لانگ مارچ کی مخالفت میں لکھے گئے خط کے باوجود کیا گیا ہے۔ اس خط میں انہوں نے پارٹی قیادت کو باور کرایا کہ بیرونی خطرات اور دہشت گردی میں اضافے کے پیشِ نظر اور ملک کے وسیع تر مفاد میں لانگ مارچ ملتوی کیا جائے۔ انہوں نے لکھا کہ وفاقی حکومت کچھ ایشوز کو بنیاد بنا کر ایمرجنسی نافذ کرنا چاہتی ہے‘ ریاست سے ٹکراؤ کے بجائے مذاکرات کی راہ ہموار کی جائے‘ افغانستان سے کوئی ممکنہ حملہ ایمرجنسی کا جواز بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت خیبر پختونخوا حکومت پر تعاون نہ کرنے کا بیانیہ بنا رہی ہے‘ اس لیے صوبائی حکومت کو ختم کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے‘ دہشت گردی کو سپورٹ کرنے کا الزام لگا کر پارٹی پر پابندی لگ سکتی ہے۔ہوتا کیا ہے‘ یہ دیکھنے کے لیے آپ کو دو دن مزید انتظار کرنا پڑے گا۔ حکومت کے تناظر میں دیکھیں تو امکان اور پی ٹی آئی کے تناظر میں دیکھیں تو خدشہ یہ ہے کہ پی ٹی آئی لانگ مارچ نہیں کر پائے گی‘ جس کی کئی وجوہ ہیں۔ پہلی وہی پارٹی قیادت میں انتظامی صلاحیت کا فقدان۔ دوسری عدالت کی جانب سے خیبر پختونخوا حکومت کو لانگ مارچ کے لیے صوبے کے وسائل استعمال کرنے کی ممانعت‘ ان وسائل کی عدم دستیابی لانگ مارچ کو مشکل بنا سکتی ہے۔ تیسری لانگ مارچ کے دوران دہشت گردی کے خطرات۔ چوتھی لانگ مارچ کی صورت میں وفاقی حکومت کی جانب سے سخت مزاحمت کا خدشہ‘ حکومت کی جانب سے جس کی تیاریاں بھی کی گئی ہیں۔وفاقی حکومت کی جانب سے تو تیاریاں ہو رہی ہیں‘ ساتھ ساتھ خبریں مل رہی ہیں کہ خود پی ٹی آئی کے اندر سے تبدیلی کی ہوائیں چلنا شروع ہو گئی ہیں اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پارٹی کے اندر سے آنے والی تحریک عدم اعتماد کے تحت بھی تبدیل ہو سکتے ہیں۔ حکمران پارٹیوں کی جانب سے تحریک عدم اعتماد یا گورنر راج کی صورت میں صوبے میں حکمران پارٹی تبدیل ہو جائے گی لیکن پی ٹی آئی کو پارٹی کے اندر سے تحریک عدم اعتماد اٹھانے کا فائدہ یہ ہو گا کہ وزیراعلیٰ تبدیل ہو جائے گا لیکن صوبے میں پی ٹی آئی کی حکومت بدستور قائم رہے گی۔ ظاہر ہے پی ٹی آئی کے لیے یہی سب سے بہتر راستہ ہو سکتا ہے کیونکہ اگر پی ٹی آئی کی یہ صوبائی حکومت ختم ہو گئی تو پھر اس کی وفاقی حکومت کے ساتھ بارگیننگ پوزیشن کمزور ہو جائے گی۔پیش گوئیوں میں معروف شیر افضل مروت نے بھی کہا ہے کہ سہیل آفریدی پر تحریک عدم اعتماد کی تلوار لٹک رہی ہے کیونکہ بقول ان کے بانی پی ٹی آئی نے وکیل سلمان صفدر کے ذریعے پیغام دیا تھا کہ اسلام آباد مارچ سہیل آفریدی کی صلاحیت سے زیادہ ہے‘ اس لیے سہیل آفریدی کو وزارتِ اعلیٰ سے سٹیپ ڈاؤن کرنا چاہیے۔ شیر افضل مروت کے مطابق علی امین گنڈاپور نے سہیل آفریدی کو ناکام بنانے کے لیے پریشر گروپ بنا رکھا ہے اور تقریباً 35 ارکانِ اسمبلی بغاوت پر اترے ہوئے ہیں‘ اور بانی پی ٹی آئی ان اراکین کے حامی ہیں۔ شیر افضل مروت کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر سہیل آفریدی مارچ نہ کرسکے تو بھی بانی پی ٹی آئی کی جانب سے کوئی معافی نہیں ہے۔جب کالم اختتام کے آخری مرحلے میں تھا تو وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والے وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت اعلیٰ سطح کے مشاورتی اجلاس کی خبر آ گئی جس میں خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی لگانے سے متعلق مختلف آپشنز پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں خیبر پختونخوا سمیت ملک بھر میں امن و امان کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے اعلان اور بیک ڈور رابطوں کا جائزہ لیا گیا جبکہ خیبر پختونخوا کی صورتحال کے تناظر میں آرٹیکل 233اور 234 پر آراء لی گئیں۔ سننے میں آیا کہ آئینی اقدامات کو حتمی شکل دینے کیلئے وزیراعظم اور صدرِ مملکت کی ملاقات بھی ہو سکتی ہے۔پچھلے اڑھائی برسوں میں حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی سمیت اپوزیشن کو اور اپوزیشن کی جانب سے حکومت کو مذاکرات کی متعدد پیشکشیں کی جا چکی ہیں لیکن حیرت انگیز طور پر فریقین ایک بار بھی بات چیت کے لیے ایک ٹیبل پر نہیں بیٹھے۔ ایک کے پاس ایک بہانہ ہوتا ہے تو دوسرے کے پاس دوسرا۔ میرے خیال میں بہانے بازی کے اس سلسلے کی بندش سے ہی آگے بڑھنے کے در وا ہو سکیں گے۔ حفیظ ہوشیار پوری کی ایک مشہور غزل کے دو اشعار یاد آ رہے ہیں:محبت کرنے والے کم نہ ہوں گےتری محفل میں لیکن ہم نہ ہوں گےدلوں کی الجھنیں بڑھتی رہیں گیاگر کچھ مشورے باہم نہ ہوں گےتو میرے خیال میں دلوں‘ بلکہ عوام کے دلوں کی بھی الجھنیں کم اور پھر بتدریج ختم کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ باہم مشوروں کا سلسلہ شروع کیا جائے۔ اور صاف دل و دماغ کے ساتھ بیٹھا جائے۔ مسائل کو حل کرنے کے لیے بیٹھا جائے‘ الجھنیں بڑھانے کی سوچ کے ساتھ نہ بیٹھا جائے۔ اگر ایسا ہو جائے تو لانگ مارچوں کی ضرورت از خود ختم ہو جائے گی اور حکمرانوں کو بھی گورنر راج نافذ کرنے یا ایک چلتی ہوئی صوبائی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی ضرورت پیش نہ آئے گی۔ مجھے حیرت اس بات پر ہے کہ لانگ مارچ کرنے اور اسے روکنے کے بارے میں سوچا جا رہا ہے اور اس کی تیاریاں بھی کی جا رہی ہیں لیکن کوئی بھی بات چیت کیلئے تیار نظر نہیں آتا۔ میں عطاالحق قاسمی صاحب کی تحریر کردہ پی ٹی وی کی مشہور ڈرامہ سیریز &#39; شب دیگ‘ کا انکل کیوں تو نہیں ہوں‘ لیکن پھر بھی یہ سوال پوچھتا ہوں کہ آخر کیوں؟</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_58350786.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>امینونو اور کراکوئے کے ساتھ کچھ ساعتیں(سعود عثمانی )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-10-01/52764/97392806</link><pubDate>Thu, 01 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-10-01/52764/97392806</guid><description>معشوقیے‘ جسے ترکی میں Masukiye لکھتے ہیں۔ ہے نا پیارا نام؟ یہ خوبصورت نام اگر پہاڑی دریا کنارے بسی ہوئی ایک چھوٹی سی بستی کا ہو تو؟ پھر تو نام رکھنے والے کو داد دینی چاہیے۔ معشوقیے کا وہی مطلب ہے جو عربی‘ فارسی اور اردو میں معشوق کا ہے۔ یعنی یہ الہڑ پہاڑی حسینہ اسم بامسمیٰ ہے۔ اس تحریر کے وقت میں معشوقیے میں ہوں۔ معشوقیے ہے کہاں اوریہاں کیوں ہوں‘ بیان کرتا ہوں لیکن پہلے گزشتہ چند دنوں کی روداد‘ جو ترکی میں گزرے۔پبلشرز کی ایک کانفرنس میں آیا تھا‘ اس میں تینوں دن بہت مصروف گزرے۔ 70 ملکوں کے 260 پبلشرز نے کانفرنس میں شرکت کی اور کانفرنس کے ایجنڈے کے علاوہ اصل قدر وقیمت ان سب سے ملاقاتیں تھیں۔ اس اجتماع کے سارے سیشنز جامعہ صباح الدین زعیم میں ہوئے جو ترکی میں سباحتین زائم یونیورسٹی کے نام سے معروف ہے۔ صباح الدین زعیم معروف ترک رہنما نجم الدین اربکان کے قریبی ساتھیوں میں سے تھے لیکن وہ سیاسی نہیں علمی میدان کے آدمی تھے۔ پیدائشی طور پر مقدونیہ سے تعلق تھا جو ایک زمانے میں سلطنت عثمانیہ کا حصہ تھا۔ پروفیسر ڈاکٹر صباح الدین مشہور ماہر تعلیم تھے اور نجم الدین اربکان کے اسلامی ذہن رکھنے والے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے۔ ان کے ذہن میں ایک خاص جامعہ کا تصور تھا جہاں کے نصاب ونظام میں اسلامی تشخص موجود ہو۔ 2007ء میں ان کا انتقال ہوا اور انہی کے نام پر یہ وسیع اور خوبصورت پرائیویٹ یونیورسٹی قائم ہے۔ بظاہر انہی خطوط پر‘ جو سوچے گئے تھے۔کانفرنس سے ہٹ کر دو اہم باتیں تھیں‘ ایک اتوار 27 ستمبر کو فجر کی نماز کیلئے آیا صوفیہ کی تاریخی مسجد میں مندوبین کیلئے شرکت کا انتظام تھا اور اس نماز کا عجیب لطف تھا۔ آیا صوفیہ ایک عظیم عمارت ہے اور میں پچھلے سفروں کے دوران آیا صوفیہ کے بارے میں کئی تحریریں لکھ چکا ہوں۔ یہ میرے سفرنامے &#39;&#39;مسافر‘‘ میں شامل ہیں۔دوسری یادگار چیز باسفورس کروز ڈنر تھا۔ عظیم عثمانی سلطان سلیمان اعظم کے حکم پر مشہور معمار اور حساب دان استاد معمار زینان نے 1550ء میں جامع سلیمانی کے نام سے استنبول کی سب سے بڑی مسجد بنائی۔ اسے زینان کے فن کا شاہکار بھی کہا جاتا ہے۔ ہم نے جامع سلیمانی میں عصر کی نماز پڑھی اور پہاڑی بلندی سے اترتے اترتے بے دم ہونے لگے تو امینونو آ گیا۔ ایک بات سیاحوں کو معلوم رہنی چاہیے۔ ترکی‘ خاص طور پر استنبول آنا ہے تو مکمل فٹ ہونا بہت ضروری ہے۔ روزانہ پانچ سے چھ میل پیدل چلنے کیلئے تیار رہیے‘ وہ بھی پہاڑی میل۔ مزید یہ کہ کچھ نہ کچھ سامان اٹھا کر۔ اگر آپ ارب پتی نہیں اور کوئی سربراہِ مملکت بھی نہیں تو پیدل چل چل کر تھکنے کا ذہن بنا کر آئیں۔ ہمیشہ یہی ہوتا ہے اور اس بار بھی تجربہ کوئی مختلف نہیں تھا۔ امینونو سے ہمیں بڑی کشتی پر سوار ہونا تھا۔ سلطنت عثمانیہ میں اس علاقے میں خزانچی کا دفتر تھا جسے امین کہتے تھے۔ امین اونو کا مطلب امین کے سامنے۔ اب یہی امینونو ہے۔ میں بڑی کشتی پر باسفورس کے کنارے عمارتیں گزرتے دیکھتا تھا اور تاریخ میرے اندر سے گزرتی تھی۔ دولما باشے سرائے جگمگ کرتا گزرا تو آخری چھ عثمانی سلاطین کے چہرے سامنے سے گزرنے لگے۔ اسی محل میں آخری سلطان عبدالمجید آفندی سے مصطفی کمال پاشا نے خلافت چھین کر ترکی کا رخ بدلا تھا۔ اسی محل کے ایک کمرے میں دیوار پر لگی ہوئی گھڑی کی سوئیاں صبح نو بج کر پانچ منٹ پر رکی ہوئی ہیں۔ یہ وہ وقت ہے جب 10 نومبر 1938ء کو اسی کمرے میں کمال اتا ترک نے تکلیف دہ بیماری میں مبتلا رہنے کے بعد آخری سانسیں لیں۔ باسفورس نے کیا کیا زمانے دیکھے۔ ہم کراکوئے کے ساحل پر اترے اور غلاطہ ٹاور سامنے روشن تھا۔ کراکوئے شاخِ زریں پر امینونو کے مقابل دوسرا کنارہ ہے۔ باسفورس یعنی مرمرا سے ملا ہوا سمندری اہم راستہ‘ یہ استنبول کو ایشیائی اور یورپی حصوں میں تقسیم کرتا ہے۔ پھر اسی باسفورس سے ایک اور شاخ پھوٹتی ہے جو یورپی ساحل کو دو حصوں میں تقسیم کرتی ہوئی آگے جاکر بند ہو جاتی ہے۔ اس کو شاخِ زریں یا گولڈن ہارن کہا جاتا ہے۔ اسی شاخ زریں پر میزبانِ رسول حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کا مزار ہے۔ شاخِ زریں کے ایک طرف قدیم قسطنطنیہ کا وہ حصہ تھا جس پر بازنطینیوں کی حکومت تھی۔ امینونو کا گھاٹ یہیں ہے۔ شاخ کے دوسری طرف برج غلاطہ (Galata) اور تقسیم (Teksim) کا علاقہ ہے۔ یہاں کراکوئے کا گھاٹ ہے اور اب ان دونوں یورپی حصوں کو ملاتا ہوا معروف گولڈن ہارن کا پُل ہے۔ قدیم فصیل کے اندر آیا صوفیہ کی عبادت گاہ موجود تھی اور یہیں بازنطینی بادشاہ قسطنطین کا محل تھا۔ باقی شہری آبادی بھی یہیں تھی۔ اسی علاقے کو آگے پیچھے تین دیواروں پر مشتمل فصیل گھیرے ہوئے تھی۔ تھیوڈوسین فصیل سمیت تین دیواروں کا یہ حصار اتنا مضبوط تھا کہ ہر حملہ آور لشکر ناکام ہو جایا کرتا تھا۔ فصیل کے بائیں طرف شاخِ زریں کی قدرتی سمندری رکاوٹ بھی ایک طرح فصیل کا کام کرتی تھی۔ اس کے دہانے پر بازنطینیوں نے لوہے کی بہت بڑی اور نہایت مضبوط زنجیر لگا رکھی تھی۔ اس زنجیر کے ہوتے ہوئے کوئی کشتی یا جہاز شاخِ زریں میں داخل نہیں ہو سکتا تھا۔ شاید اس تفصیل سے یہ واضح ہو سکے کہ قدیم قسطنطنیہ کی حدود کیا تھیں اور کیوں اس کی فتح اتنی دشوار تھی۔ گولڈن ہارن کے ایک طرف اصل شہر تھا اور دوسرا کنارا شہر اور فصیل سے باہر تھا۔ گویا جو قسطنطنیہ سلطان محمد فاتح نے 29 مئی 1453ء کو فتح کیا‘ اس کا اس دوسرے کنارے سے جہاں غلاطہ برج ہے‘ کوئی تعلق نہیں تھا۔ اس زمانے میں یہاں جینویز (جنیوا سے منسوب ایک قوم اور شاید یہودی مذہب کی ایک شاخ) آباد تھے۔ غلاطہ کا مینار سمندر کی نگرانی کیلئے واچ ٹاور کے طور پر پہلے سے موجود تھا۔میں 2016ء میں عم مکرم مفتی محمد تقی عثمانی کے ساتھ استنبول میں موجود تھا۔ ان کے ترک شاگرد خیری دمرجی نے قاسم پاشا کی ایک طعام گاہ میں دعوت کر رکھی تھی۔ ایک نئی بات چچا جان نے بتائی اور ایک خیری دمرجی نے۔ سلطان فاتح کیلئے گولڈن ہارن کی زنجیر بڑی رکاوٹ تھی‘ اسی سے بچ کر شاخ زریں میں جہاز پہنچانے کیلئے سلطان نے خشکی پر جہاز چلانے کا منصوبہ بنایا۔ چچا جان نے بتایا &#39;&#39;یہ جہاز تقسیم کی طرف سے پہاڑی پر چڑھائے گئے اور قاسم پاشا پر پانی میں اتارے گئے‘‘۔ چچا جان کی یہ بات نئی تھی۔ کتابوں میں پڑھا تھا کہ سیاہ رات میں فصیل کے ادھر بازنطینی جنگل میں جینویز کی آبادی اور بر ج غلاطہ کے پیچھے مشعلیں جلتے دیکھتے اور آوازیں سنتے تھے اور سمجھ نہیں آتا تھا کہ اُس پا رکیا ہو رہا ہے۔ خیری دمرجی نے بتایا کہ قاسم پاشا کا علاقہ لڑاکوں اور جنگجوئوں کیلئے مشہور ہے۔ حریف کو ڈرانا ہو تو کہا جاتا ہے کہ &#39;&#39;میں قاسم پاشا کا ہوں‘‘۔ صدر رجب طیب اردوان قاسم پاشا ہی کے ہیں۔ اس واقعے کے کچھ دن بعد ہی ترکی میں بغاوت ہوئی اور اس وقت اردوان نے جس بہادری اور ہمت کا ثبوت دیا‘ لگتا تھا کہ وہ بتا رہے ہیں کہ &#39;&#39;میں قاسم پاشا کا ہوں‘‘۔ اردوان نے بغاوت کے خلاف بغاوت کر دی اور انہی کی بغاوت کامیاب رہی۔اس بار عام زندگی میں کافی تبدیلیاں محسوس ہوئیں جس پر تفصیلی تحریر کی ضرورت ہے۔ ترک دوستوں سے ملاقات اور گپ شپ میں مکہ دفاعی معاہدے سے لے کر پاک ترک تعاون پر بات ہوئی‘ سبھی اس پر خوش ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ دونوں ممالک کیلئے فائدہ مند ہوگا۔ بات معشوقیے سے شروع ہوئی تھی اور ابھی وہاں پہنچنا تھا کہ الفاظ کی گنجائش ختم ہو گئی۔ میر کا کیا شعر ہے:موقوف غمِ میر کہ شب ہو چکی ہمدماب اور کسی روز یہ افسانہ کہیں گے</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_81278520.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>شیخ عبدالقادر جیلانی نوّراللہ مرقدہٗ …(3)(مفتی منیب الرحمٰن )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-10-01/52765/62112002</link><pubDate>Thu, 01 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-10-01/52765/62112002</guid><description>(10) ارشاد فرمایا: &#39;&#39;تو مکاری اور فریب کو چھوڑ دے اور اپنے ظاہر کو شریعت کے آداب سے مزین کر اور اپنے باطن کو مخلوق کے نقش مٹا کر سنوار لے۔ خلقِ خدا کے در اپنے دل پر بند کر لے اور انہیں اپنے دل سے اس طرح فنا کر ڈال اور یوں سمجھ کہ وہ کبھی پیدا ہی نہیں ہوئے۔ خبردار! بندوں کے ہاتھوں میں نفع یا نقصان دیکھنا چھوڑ دے۔ افسوس! تُو نے اپنے قلب کی زینت کوچھوڑدیا اور  مٹی کے اس قالب کو آراستہ کرنے میں زندگی ضائع کر دی۔ دل کی سچی زینت تو صرف توحید میں ہے‘ اخلاصِ کامل میں ہے‘ رب پر توکل کرنے‘ اسی کی یاد میں تڑپنے اور غیر اللہ کے ہر خیال کو یکسر بھلا دینے میں ہے‘‘ (الفتح الربانی)۔(11) دعائوں کی عدمِ قبولیت کی وجوہات میں سے ایک وجہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: &#39;&#39;دعائوں کے قبول نہ ہونے کی دوسری وجہ اللہ کے ساتھ شرکِ خفی ہے۔ انبیائے کرام علیہم السلام کے علاوہ انسانوں میں کوئی بھی معصوم نہیں ہے؛ چنانچہ عارف کی ہر دعا اس لیے قبول نہیں کی جاتی‘ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ محض اپنی نفسانی عادت اور طبعی خواہش کے تحت دستِ سوال دراز کرنے کا عادی بن جائے کیونکہ جب دعا تعمیلِ حکمِ الٰہی کے بجائے محض نفس کی عادت بن جائے تو اس میں بندگی کے بجائے شرک کی آمیزش ہو جاتی ہے۔ افسوس کہ انسان اس حقیقت سے کس قدر غافل ہے کہ زندگی کے ہر موڑ‘ ہر مقام اور قدم قدم پر اس سے شرکِ باطن کا ارتکاب ہو سکتا ہے‘‘ (فتوح الغیب)۔(12) فقیر و سالک کے آداب اور مخلوق سے سوال کرنے کی بابت آپ لکھتے ہیں: &#39;&#39;سلوک و تصوف کی راہ پر گامزن سچے فقیر اور سالک کیلئے ضروری ہے کہ وہ اپنے دل سے اَغنیاء‘ دنیا اور حتیٰ کہ آخرت کی تمام خواہشات کو نکال کر دل کے خَلوت خانے کو صرف رب تبارک وتعالیٰ کی تجلیات کیلئے وقف کر دے۔ پس جب دل توحید اور توکل سے لبریز ہو جاتا ہے تو محنت و پریشانی کے بغیر حقیقی غِنا نصیب ہوتا ہے۔ اگر کسی مجبوری کے تحت مخلوق سے کوئی سوال کرنا پڑے تو اس کی بنیادی شرط یہ ہے کہ مخلوق کو رزق کا مالک نہ سمجھے‘ بلکہ اُنہیں محض بے بس کارندے‘ وکیل اور امانت دار سمجھے جن سے مالکِ حقیقی خود کام لے رہا ہے۔ پس خبردار! وہ انہیں اللہ کے سوا اپنا پروردگار اور حاجت روا نہ بنا بیٹھے۔ چنانچہ بندوں سے کچھ مانگنے کی حیثیت فقط اُنہیں خبر دینا یا احوال معلوم کرنا ہو۔ خبر دینے کا مطلب یہ ہے کہ وہ صرف اپنے اور اپنے اہل وعیال کی حالتِ زار بیان کرے‘ نہ کہ اپنے رب کی شکایت اور گلہ شکوہ کرنے لگے اور معلومات حاصل کرنے کا مقصد یہ ہو کہ: اے وکیل! اے خزانچی! اے امانت دار! اے بندہ مملوک! اور اے مجھ جیسے عاجز و فقیر! کیا تیرے پاس ہمارے نصیب کا کچھ بچا ہے‘ کیا ہمارے لیے تجھ پر کچھ لازم کیا گیا ہے اور کیا تجھے مالک کی طرف سے دینے کی اجازت ملی ہے‘ کیونکہ تو اور میں اس مال کے معاملے میں برابر ہیں جو تیرے ہاتھ میں ہے‘ جبکہ اس کا حقیقی مالک ہمارے علاوہ  کوئی اور ہے اور ہم سب اسی کے در کے محتاج ہیں۔ پس اگر وہ اس ایمانی معرفت اور شانِ توحید کے ساتھ سوال کرے گا تبھی اس کا مانگنا درست تسلیم کیا جائے گا‘ ورنہ ہرگز نہیں۔ یاد رکھو! ایسے ہر مشرک‘ دجال‘ ریاکار‘ بت پرست‘ راہِ حق سے بھٹکے ہوئے‘ جھوٹے مدعی] کذّاب‘ منافق اور زندیق کیلئے معرفت کی اس بارگاہ میں کوئی عزت واحترام نہیں۔ سچا فقیر وہ ہے جو مخلوق کے عطا کرنے پر شکر کرے اور محروم رہنے پر صبر و رضا کا دامن نہ چھوڑے۔ وہ رد کرنے والے پر ناراض یا معترض نہ ہو کیونکہ وہ جانتا ہے کہ دینے اور روکنے والا حقیقی مالک صرف اللہ تعالی ہی ہے۔ بندوں کی عدمِ توجہی کا اصل مقصد یہ ہوتا ہے کہ انسان مخلوق کے دروازے چھوڑ کر اپنے رب کے در سے چمٹ جائے اور دعا و عاجزی کے ذریعے قربِ الٰہی حاصل کرے۔ حقیقی سالک ہمیشہ انسانوں یا اسباب پر اعتماد کرنے کے بجائے ہر حال میں اللہ تعالیٰ ہی کی طرف رجوع کرتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ تمام خزانوں کی کنجیاں اُسی کے پاس ہیں۔ پس وہ اسی سے آسانیوں کا سوال کرتا ہے۔ وہ اپنی قدرتِ کاملہ سے اپنی مخلوق کے دلوں کو اُس کیلئے مسخر کر دیتا ہے‘ اُس کی مشکلات کو آسان فرماتا ہے‘ رزق کے دروازے کھول دیتا ہے اور اُس کے رزق کا حصہ اُس تک پہنچا دیتا ہے۔ جو شخص مخلوق کے سامنے جھکنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کے حضور عَجز وانکسار کرتا ہے‘ اللہ تعالیٰ اسے بندوں اور آقائوں کی غلامی و ذلت سے آزاد کر دیتا ہے اور اپنے غیب کے خزانے بلاواسطہ اس کیلئے کھول دیتا ہے‘ (الغنیۃ لطالبی طریق الحق‘ ج: 2‘ ص: 294)۔(13) عصرِ حاضر میں جہاں دیگر بہت سی خرابیاں پائی جاتی ہیں وہیں ایک بڑی بے توجہی یہ بھی ہے کہ بہت سے حضرات فرائض میں غفلت کا مظاہرہ کرتے ہیں‘ جبکہ مستحبات اور نوافل کے پابند نظر آتے ہیں۔ مثلاً محافل میں بھرپور شرکت کرتے ہیں لیکن نماز سے لاپروائی برتتے ہیں۔ دنیوی علوم کی تحصیل کیلئے دن رات ایک کر دیے جاتے ہیں لیکن دین کے بنیادی اور فرض علوم سے ناآشنا رہتے ہیں۔ صدقہ وخیرات کرتے ہیں مگر فرض حج ادا نہیں کرتے۔ ایسے حضرات کو شیخ کے ان ارشادات پر توجہ دینی چاہیے: &#39;&#39;مومن کو چاہیے کہ سب سے پہلے وہ فرائض کا اہتمام کرے‘ پھر سنتوں کو ادا کرے‘ اس کے بعد نوافل اور مستحبات میں مشغول ہو‘‘۔ فرائض و واجبات سے غفلت برتنے والوں کی بابت فرماتے ہیں: &#39;&#39;اگر فرائض سے پہلے سنن ونوافل میں مصروف ہو تو قبولیت حاصل نہیں ہو گی بلکہ اُسے ذلیل کیا جائے گا‘ اس کی مثال ایسی ہے کہ بادشاہ کسی شخص کو اپنی خدمت کیلئے بلائے تو وہ بادشاہ کے بجائے اس کے وزیر کی خدمت کرنے لگے‘ حالانکہ وزیر خود بادشاہ کا غلام‘ خادم اور ماتحت ہے‘‘ (فتوح الغیب‘ مقالہ 48)۔دنیا اور دنیا کی نعمتوں سے تعلق یقینا ناگزیر ہے لیکن اس کی حدود وقیود کیا ہونی چاہئیں‘ اس کی بابت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ فرماتے ہیں: &#39;&#39;دنیا کو اپنا مطلوب ومحبوب بنانے کے بجائے مومن کا اس کے ساتھ تعلق ضرورت وحاجت کی حد تک ہونا چاہیے‘‘۔ وہ فرماتے ہیں: &#39;&#39;دولتِ دنیا ہاتھ اور جیب میں رکھنی جائز‘ کسی اچھے مقصد کیلئے اسے جمع کرنا بھی جائز مگر خبردار! اُسے اپنے قلب پر اس طرح مسلّط کرنا کہ اُس کی محبت دل پر حاوی ہو جائے‘ ہرگز جائز نہیں ہے۔ دنیا کو درِ دل پر کھڑا کرنا جائز مگر خانۂ دل میں بسانا اور سجانا ناجائز ہے اور اس میں تیرے لیے کوئی عزت نہیں ہے کیونکہ دل تو فقط اللہ تعالیٰ کے ذکر وفکر سے آباد رہنا چاہیے‘‘۔دنیا پرستوں اور دنیاوی عشرتوں کو اوڑھنا بچھونا بنانے والوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: &#39;&#39;بیشک دنیا تمہارے لیے پیدا کی گئی ہے لیکن تم آخرت کیلئے پیدا کیے گئے ہو۔ دنیا میں سے اپنا حصہ اس طرح مت لو کہ وہ بے نیاز بن کر بیٹھی ہے اور تم اس کے سامنے نیاز مند بن کر کھڑے ہو بلکہ اس کو اس طرح برتو کہ وہ ایک بادشاہ کے دروازے پر اپنے سر پر طباق لیے کھڑی ہے اور وہ اس سے بے نیاز ہے‘‘۔ہمارے ہاں ایک شعار بن گیا ہے کہ غوث الاعظم کا ذکر کرامت سے شروع ہوتا ہے اور کرامت پر ختم ہوتا ہے‘ حالانکہ اصل شعار تو ان کی تعلیمات کو سمجھنا‘ قبول کرنا اور پھر عمل کے سانچے میں ڈھالنا ہونا چاہیے۔ ایک ایسے وقت میں جب اُن کی بیوہ والدۂ ماجدہ کو اُن کی خدمت کی ضرورت تھی‘ انہوں نے انہیں اپنے دل سے جدا کیا اور بغداد روانہ کیا‘ کیونکہ بغداد اس وقت عالَمِ اسلام میں علم کا مرکز تھا۔ سب سے پہلے انہوں نے علم حاصل کیا اور پھر اپنے شیخ کی مسند پر بیٹھ کر طویل عرصے تک درس وتدریس میں مشغول رہے اور اس کے بعد ریاضت ومجاہدہ کی طرف مائل ہوئے‘ چنانچہ فرماتے ہیں: دَرَسْتُ الْعِلْمَ حَتّٰی صِرْتُ قُطْبًا ؍ وَنِلْتُ السَّعْدَ مِنْ مَّوْلَی الْمَوَالِیْ۔ مفہوم: &#39;&#39;میں (ظاہری و باطنی) علوم پڑھتا رہا حتیٰ کہ میں قُطب بن گیا اور میں نے علم ہی کی برکت سے احکم الحاکمین کی بارگاہ سے سعادت کو پایا‘‘۔ </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_61172381.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>