<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>مفاہمانہ طرزِ سیاست کی ضرورت(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-10/11618</link><pubDate>Sat, 10 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-10/11618</guid><description>جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کا حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان سیاسی ڈیڈ لاک ختم کرانے کیلئے متحرک ہونا سیاسی حبس میں تازہ ہوا کا جھونکا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن‘ دونوں جانب سے مولانا فضل الرحمن سے رابطہ کیا گیا ہے اور مذاکراتی سلسلے کو جاری رکھنے کیلئے کردار ادا کرنے کا کہا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت پر سامنے آئی ہے جب حکومت خیبر پختونخوا کے سیاسی مستقبل سے متعلق آج (ہفتے کو) اعلیٰ سطحی اجلاس میں حتمی فیصلہ کرنے جا رہی ہے۔ اس وقت فریقین میں پائی جانے والی بداعتمادی ہی ان کی راہ کی بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے اور سیاست کو بند گلی سے نکالنے کیلئے ایک ایسے قابلِ قبول چہرے کی ضرورت ہے جو فریقین کے درمیان ایک پُل کا کردار ادا کر سکے۔ امید ہے کہ مولانا فضل الرحمن اپنے والد محترم مفتی محمود الرحمن کی سیاسی روایت کو زندہ کرتے ہوئے فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے اور مفاہمتی عمل کا نتیجہ خیز بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ جس طرح 1973ء کے آئین کی تیاری کے دوران مفتی محمود نے تمام تر سیاسی تحفظات کے باوجود ملک کو ایک متفقہ آئین دینے کیلئے حکومتی وفود کیساتھ طویل مذاکرات کیے اور لچک کا مظاہرہ کیا‘ آج بھی پاکستان کو اسی روایت کو زندہ کرنے اور مفاہمت کی سیاست کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی سیاستدانوں نے ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے‘ نقصان ہمیشہ جمہوریت اور ریاست کا ہوا ہے۔

سیاست تو بند راستوں پر پُل بنانے‘ تضادات کو مکالمے کی شکل دینے اور ناممکنات کے حصول کے فن کا نام ہے۔  موجودہ صورتحال میں جب سیاسی تلخی اپنی انتہا کو چھو رہی ہے اور منقسم سیاسی منظرنامے میں جہاں ہر فریق اپنے مؤقف پر اڑا ہوا ہے‘ وطنِ عزیز کو نوابزادہ نصر اللہ خان جیسے مفاہمت پسند اور طرفین کیلئے یکساں قابلِ قبول افراد کی کمی شدت سے محسوس ہو رہی ہے‘ جو متضاد نظریات کی حامل سیاسی قوتوں کو ایک میز پر بٹھانے اور سیاسی اختلافات کو ذاتی عناد میں بدلنے سے روکنے کا ہنر جانتے تھے۔ آج جب سیاست میں برداشت ختم ہو چکی ہے اور مکالمے کی جگہ دھمکیوں نے لے لی ہے‘ مفاہمانہ طرزِ سیاست کو زندہ کرنے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ سیاسی مصالحت اور رواداری کی ایک مثال ہمارے سامنے میثاقِ جمہوریت کی صورت میں بھی موجود ہے‘ جب پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) جیسی دو روایتی حریف سیاسی جماعتوں نے نوے کی دہائی کی تلخیوں اور سیاسی انتقام کے روایتِ بد کو پسِ پشت ڈال کر ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کیے تھے جس نے نہ صرف ملک میں جمہوریت کی بحالی میں اہم کردار ادا کیا بلکہ سیاسی رواداری اور بقائے باہمی کے ایک نئے دور کی بنیاد بھی رکھی۔ اگرچہ بعد ازاں سیاسی قیادت اس معاہدے پر اسکی روح کے مطابق عمل نہ کر سکی اور جمہوریت کی بنیادیں کھودنے کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا‘ مگر آج کی قیادت کو اسی سیاسی تدبر اور وسیع القلبی کو اپنانے کی ضرورت ہے تاکہ سیاسی تعطل کو ختم کر کے مذاکرات کے ذریعے سیاسی معاملے کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔ اس کیلئے ملک کے دیگر سنجیدہ فکر رہنماؤں کو بھی آگے آنا چاہیے۔
محمود خان اچکزئی‘ علامہ راجا ناصر عباس سمیت دیگر سیاسی قیادت‘ جس کا اپنا ایک سیاسی وزن اور ساکھ ہے‘ انکی شمولیت سے اس مفاہمتی عمل کو مزید وسعت اور استحکام مل سکتا ہے۔ سیاسی قائدین کو چاہیے کہ گروہی مفادات اور وقتی سیاسی نفع و نقصان سے بالاتر ہو کر ملک کو درپیش آئینی و سیاسی ہیجانی کیفیت سے نجات دلانے کی سعی کریں۔ مذاکرات کی کامیابی کا سب سے بڑا اصول یہ ہے کہ فریقین ایمانداری‘ خلوص اور نیک نیتی کیساتھ بغیر کسی کڑی شرط کے مذاکرات کی میز پر بیٹھیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ خلوصِ دل سے کی جانیوالی کوششیں کبھی رائیگاں نہیں جاتیں اور جہاں نیت صاف ہو وہاں راستے خود بخود بنتے چلے جاتے ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مشرقِ وسطیٰ کا سنگین ہوتا بحران(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-10/11617</link><pubDate>Sat, 10 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-10/11617</guid><description>وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب میں ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل اور عیسر صوبے میں ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر میزائل حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری‘ علاقائی سالمیت اور سلامتی کے تحفظ کیلئے پُرعزم ہے۔ حرمین شریفین کی نسبت سے سعودی عرب کو عالم اسلام میں دل کی حیثیت حاصل ہے اور اس پہ ہوئے جارحانہ حملوں پر پورا عالم اسلام کرب میں مبتلا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کا خطہ طویل عرصے سے پراکسی جنگوں کا اکھاڑا بنا ہوا ہے اور اب اس جنگ کے شعلے سرزمین حرمین تک پہنچ گئے ہیں۔ یہ امر بلاشبہ پورے عالم اسلام کیلئے سخت تشویشناک ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس بحران اور مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کو ختم کرنے کیلئے عالمی ادارے اور علاقائی ومغربی قوتیں فوری طور پر اپنا فعال کردار ادا کریں اور مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلوں کو بجھانے کی تدبیر کریں۔ مشرقِ وسطیٰ کا بحران محض ایک خطے کا بحران نہیں ہے بلکہ یہ دنیا کی معاشی شہ رگ پر حملہ ہے۔

ایک طرف خلیج فارس میں آبنائے ہرمز تو دوسری جانب بحیرہ احمر میں باب المندب اور ملحقہ ساحلی پٹی تک جنگ وسیع ہونے سے بحیرہ احمر کی یہ شہ رگ ایک ایسے بحران کی زد میں آ گئی ہے جو پورے عالمی تجارتی نظام کو مفلوج کر سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز اور باب المندب محض دو آبی گزرگاہیں نہیں بلکہ عالمی توانائی اور سپلائی چین کے وہ دو بازو ہیں جن سے عالمی معاشی نظام فعال ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ دونوں راستے بیک وقت بند یا شدید متاثر ہوتے ہیں تو دنیا کو 25 سے 30 فیصد توانائی کی ترسیل رک سکتی ہے اور عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں 150سے 200 ڈالر فی بیرل کی بلند ترین سطح کو چھو سکتی ہیں۔ پاکستان کیلئے یہ بحران دہری مشکلات کا سبب ہے۔ عالمی منڈی کی قیمتوں اور رسد کی بندش کے اثرات ایک طرف‘ پاکستان کی تیل اور گیس کی تقریباً تمام درآمدات آبنائے ہرمز اور باب المندب کے راستوں ہی سے آتی ہیں جبکہ علاقائی ہمسائیگی کے سبب بھی پاکستان مشرقِ وسطیٰ کے بحران سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔
پاکستانی دفترِ خارجہ برادر اسلامی ملک سعودی عرب کیساتھ کھڑے رہنے‘ اس کی سالمیت‘ خودمختاری اور سٹرٹیجک مفادات کے تحفظ کے غیر متزلزل عزم کا اظہار کر چکا ہے جبکہ پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کیلئے بھی پوری طرح تیار ہے‘ تاہم خطے کا ایک ذمہ دار ملک ہونے کے ناتے پاکستان کسی قسم کی جنگ یا عسکری تصادم کے حق میں نہیں ہے۔ پاکستان کی اولین اور مخلصانہ خواہش ہے کہ یہ معاملہ خوش اسلوبی سے مذاکرات کے ذریعے حل ہو۔ پاکستان کا دیرینہ مؤقف رہا ہے کہ طاقت کا استعمال مسائل کو مزید الجھاتا ہے۔ لہٰذا جہاں پاکستان سعودی عرب کی سکیورٹی کے معاملے پر کوئی سمجھوتا نہ کرنے کے عزم پر قائم ہے وہیں سفارتی چینلز کو فعال کرنے اور ڈائیلاگ کے ذریعے بحیرہ احمر کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کیلئے بھی کوشاں ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ عالمی برادری بالخصوص مغربی طاقتیں بھی اس تنازع کو حل کرنے کیلئے سفارتی کوششیں تیز کریں۔ </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>تخلیقی اقلیت کہاں ہے؟(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-10-10/52814/67584603</link><pubDate>Sat, 10 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-10-10/52814/67584603</guid><description>فیض صاحب کا یہ شعر تو سب نے سن رکھا ہے:ہر چارہ گر کو چارہ گری سے گریز تھاورنہ ہمیں جو دکھ تھے بہت لا دوا نہ تھے25کروڑ کے ایک ملک میں کیا کوئی ایک فرد ایسا نہیں ہے جو چارہ گر ہو؟ جس پر قوم اجتماعی طور پر اعتماد کرتی ہو؟ فرد نہ سہی کوئی گروہ؟ کیا ہماری اجتماعی دانش بانجھ ہو گئی ہے؟ کیا ہم میں اتنی بصیرت باقی نہیں رہی کہ ہم اپنے تنازعات کو حل کر  سکیں؟ٹوائن بی نے تہذیبوں کے عروج و زوال کے باب میں ایک &#39;&#39;تخلیقی اقلیت‘‘ (Creative Minority) کا ذکر کیا ہے۔ یہ جب بروئے کار آتی ہے تو تہذیب عروج کی طرف گامزن ہو جاتی ہے۔ میرا خیال ہے یہ بات ہر اجتماعیت کے لیے  درست ہے۔ نہ صرف تہذیب بلکہ قوم اور ملک بھی اگر تخلیقی اقلیت سے محروم ہو جائیں تو زوال کے راستے پر چل پڑتے ہیں۔ میں مدت سے اس پر سوچ رہا ہوں کہ مذہب ہو یا سیاست‘ ہمارا ہر اختلاف تصادم پر کیوں منتج ہوتا ہے؟ ایسا کیوں ہے کہ ہم کسی ایسے حل پر متفق نہیں ہو پاتے جو عقلِ عام کے مطابق ہو اور جو سب کے لیے قابلِ قبول ہو۔ہماری ریاست مسلسل حالتِ اضطراب میں ہے۔ قوم میں کوئی نقطۂ اتصال نہیں۔ ریاست اور ایک طبقے میں خلیج حائل ہے۔ پاکستان میں 25کروڑ افراد رہ رہے ہیں۔ ان کے معاملاتِ زندگی رواں دواں ہیں۔ لوگ خواہشات اور ضروریات کے مابین ایک توازن قائم کر لیتے ہیں۔ حقیقت پسندی کے ساتھ زندگی کے سفر کو جاری رکھتے ہیں۔ پسند کی شادی نہ ہو سکے تو عمر بھر کنوارے نہیں بیٹھے رہتے‘ جو میسر ہوتا ہے اس کے ساتھ زندگی گزار دیتے ہیں۔ خواہش کے مطابق نوکری نہ ملے تو  بیروزگاری کو قبول نہیں کرتے‘ جو ملازمت ملے اختیار کر لیتے ہیں۔ یہ لوگ مگر جیسے ہی قومی معاملات کی بات کرتے ہیں‘ حقیقت سے کوسوں دور ہو جاتے ہیں۔ اگر حکومت اور ریاست کی بحث ہو تو وہ مثالیت پسند بن جاتے ہیں۔ یہ رویہ مذہب اور سیاست دونوں میں دکھائی دیتا ہے۔ یہاں عقل کا کوئی کردار نہیں ہے۔ سراب کے پیچھے دوڑتے اور ایک ایسے سفر میں زندگی بِتا دیتے ہیں جس کی کوئی منزل نہیں ہوتی۔ انفرادی اور اجتماعی زندگی کا یہ تضاد کیوں ہے؟اس سوال کا جواب تلاش کرنا &#39;&#39;تخلیقی اقلیت‘‘ کا کام ہے۔ یہ اقلیت بھی اس وقت مؤثر ہو گی جب ریاست کے معاملات اس کے ہاتھ میں آئیں گے یا ان کے ہاتھ میں‘ جو اس اقلیت کی بات کو اہمیت دینے پر آمادہ ہوں۔ ہمارا معاملہ یہ ہے کہ اول تو  وہ تخلیقی اقلیت موجود نہیں ہے اوراگر کہیں ہے بھی تو اربابِ حل و عقد اس کی اہمیت کو نہیں سمجھتے۔ وہ خود ہی کو اس کا مصداق  سمجھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ عقل کے سوتے ان کے آنگن سے پھوٹتے اور انہی کے گھر کو سیراب کرتے ہیں۔ وہی تخلیقی اقلیت ہیں اور انہی کو فیصلہ کرنے کا حق ہے۔ اب ایسا بھی نہیں ہے کہ یہ لوگ پڑھتے نہیں ہیں۔ میں نے دیکھا ہے کہ اقتدار پر فائز گروہ کے لیے جن مصنفین کی کتابیں بطورِ خاص شائع کی جاتی ہیں‘ ان میں ٹوئن بی اور پال کینیڈی جیسے دانشور اور تاریخ دان موجود ہیں۔ یہ کتابیں ان کی سوچ پر کوئی اثر نہیں ڈالتیں۔ عشروں سے پاکستان میں آزمودہ فارمولوں کو اپنایا جا رہا ہے اور ان لوگوں کی باتوں پر کوئی کان دھرنے پر آمادہ نہیں ہوتا جو تاریخ اور علمِ تاریخ کے شناور ہیں۔آج ریاست کا سامنا ایک ایسے گروہ سے ہے جو نیم سیاسی‘ نیم انقلابی اور نیم خواندہ ہے۔ ناخواندگی اتنی بری چیز نہیں جتنی نیم خواندگی۔ اس لیے کہاوت ہے کہ نیم حکیم خطرہِ جان‘ نیم ملا خطرہِ ایمان۔ ادھورا علم بہت خطرناک ہوتا ہے۔ آج ریاست کوان کے ساتھ معاملہ کرنا ہے۔ اس کے سامنے سوال یہ ہے کہ وہ اس گروہ سے کیسے نمٹے؟ میں جب ریاست کے ذمہ  داران کی گفتگو سنتا ہوں‘ مجھے اندازہ ہوتا ہے کہ یہاں معاملات کو ان کے درست تناظر میں سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی گئی۔ ابلاغ کا ایسا خلا ہے جو ختم نہیں ہو رہا۔ یہ المیہ اس وقت دو چند ہو جاتا ہے جب ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ آج ہمارے پاس نہ کوئی ایسا فرد موجود ہے اور نہ ادارہ جس پر قوم اجتماعی طور پر اعتماد رکھتی ہو۔ جو ادارے کبھی یہ حیثیت رکھتے تھے‘ آج فریق ہیں۔ جب قوموں میں ارتداد پھیل جائے تو انہیں کسی ابو بکر صدیقؓ کی ضرورت ہوتی ہے۔ مولانا علی میاں کہتے تھے کہ آج ارتداد تو ہے‘ ابوبکر صدیقؓ کوئی نہیں۔عقلی طور پر یہ بات قابلِ قبول نہیں ہے کہ 25کروڑ کے ایک ملک میں چند افراد بھی ایسے موجود نہ ہوں جو درپیش مسائل کا قابلِ عمل حل بتا سکیں۔ یہ عقلاً محال ہے۔ جب مرض ہوتا ہے تو لازماً اس کی دوا بھی ہوتی ہے۔ یہ دوا دریافت کرنا پڑتی ہے۔ کووڈ کی تباہی کو ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ بستیوں کی بستیاں موت کی وادی میں اُتر گئیں۔ اب کچھ ایسے بھی تھے جو علاج کی تلاش میں نکلے اور ویکسین دریافت کر لائے۔ اسی طرح دنیا سے چیچک کا خاتمہ ہوا۔ اسی طرح پولیو ختم ہوا۔ سیاست  کا معاملہ بھی یہی ہے۔ کبھی اقتدار کے فیصلے میدانِ جنگ میں ہوتے تھے۔ تلوار فیصلہ کن تھی۔ آج پولنگ بوتھ پر ہوتے ہیں۔ آج ووٹ فیصلہ کن ہے۔ یہ تبدیلی کیسے آئی؟ وہی تخلیقی اقلیت کام آئی ہے۔ کچھ اہلِ دانش نے غور کیا۔ تاریخ کو سمجھا‘ عقلِ عام کو استعمال کیا اور مسئلے کا حل نکل آیا۔ یہ اقلیت قدرت کی طرف سے زمین پر بکھیر دی گئی ہے۔ یہ کسی ایک خطے میں مرتکز نہیں۔ یہ ترقی یافتہ ممالک میں پائی جاتی ہے اور ترقی پذیر معاشروں میں بھی۔ وہ ترقی یافتہ اس لیے کہلاتے ہیں کہ وہاں یہ تخلیقی اقلیت بروئے کار آتی ہے۔ اس کی سنی جاتی ہے۔ جو ترقی پذیر ہیں‘ وہ اس لیے ترقی پذیر ہیں کہ وہاں اقلیت غیر فعال ہے۔ اور اگرکہیں فعال ہے تو معاملہ ساز اس سے بے نیاز ہیں۔میں برسوں سے لکھ رہا ہوں کہ جب ایک فرد یا گروہ کو سیاسی عصبیت حاصل ہو جاتی ہے تو اس کے ساتھ معاملہ کرنے کے لیے مختلف حکمت عملی کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ بھی عرض کیا تھا کہ طاقت ہر مسئلے کا حل نہیں ہوتی۔ طاقت کے استعمال سے ہم  بعض اوقات ایک مسئلے کو دبا لیتے ہیں لیکن وہ زیر زمین سلگتا رہتا ہے اور ایک وقت آتا ہے کہ آتش فشاں بن کر پھٹ پڑتا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے درد کو درد کش (Pain killer)دوائی سے دبا دیتے ہیں۔ درد ختم نہیں ہو جاتا‘ جسم میں موجود  رہتا ہے۔ وہ اسی وقت ختم ہوتا ہے جب اس کے سبب کو دریافت کرکے اس کا خاتمہ کیا جاتا ہے۔پاکستان کو آج چارہ گر کی ضرورت ہے۔ ہمارا درد لا دوا نہیں ہے۔ ریاست کی ذمہ داری سب سے زیادہ ہے کہ منصوبہ  سازی اور قوت اس کے ہاتھ میں ہے۔ ساری عقل و بصیرت‘ اس وقت درد کو دبانے کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ اس کی افادیت اپنی جگہ مگر کسی کو اصل بیماری کے سراغ کے لیے بھی کوشش کرنی چاہیے۔ میرے لیے یہ بات قابلِ قبول نہیں کہ 25کروڑ عوام یہ مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔اگر ہم بانجھ ہوتے تو کسی شعبے میں زندگی کے آثار نہ ہوتے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ہم اور ہماری مسلسل حماقتیں(خالد مسعود خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-10-10/52815/52653209</link><pubDate>Sat, 10 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-10-10/52815/52653209</guid><description>گندم کی گزشتہ فصل کے بارے میں زراعت کے طالب علم اس قلمکار نے جن خدشات کا اظہار کیا تھا وہ من و عن پورے ہوئے۔ اس عاجز نے یہ بات اپنے کالموں میں بارہا دہرائی کہ گندم سے جب تک کاشتکار کو چار پیسے نہیں بچیں گے گندم کی کاشت میں کوئی قابلِ ذکر بہتری نہیں آئے گی۔ اس کیلئے جو سب سے پہلی اور ضروری چیز ہے وہ یہ ہے کہ حکومت گندم کی خریداری کی سپورٹ پرائس کا اعلان گندم کی کاشت شروع ہونے سے پہلے کر دے تاکہ حکومت کی اعلان کردہ قیمتِ خرید کو مدنظر رکھتے ہوئے کاشتکار نہ صرف یہ کہ گندم کاشت کرنے کا ارداہ کرے بلکہ زیادہ سے زیادہ رقبے میں گندم اُگائے۔ قیمت اچھی ہونے کی صورت میں کاشتکار اپنی پیداوار بڑھانے کیلئے ممکنہ حد تک زرعی مداخل استعمال کرے گا۔ زرعی مداخل کے بھرپور استعمال سے جہاں گندم کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ گندم کے کاشتکار کی خوشحالی کا باعث بنے گا وہیں ملک گندم کی پیداوار میں خودکفیل ہوگا۔ غلط اور احمقانہ حکومتی پالیسیوں کے باعث ملکی ضرورت سے کم گندم پیدا ہونے کی صورت میں گندم کی درآمد پر صرف ہونے والا زرِ مبادلہ اس ملک کی معاشی صورتحال کے مدنظر ایک اضافی معاشی بوجھ کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ گزشتہ کئی سال سے یہی ہو رہا ہے کہ کبھی حکومت بروقت گندم کی امدادی قیمت کا اعلان نہیں کرتی اور کبھی کاشتکار سے گندم نہیں خریدتی۔ گزشتہ سے پیوستہ سیزن میں گندم کی فصل مارکیٹ میں آئی تو حکومت نے خریداری سے ہاتھ کھینچ لیا‘ نتیجہ یہ نکلا کہ آڑھتی‘ بیوپاری‘ فلور ملز مالکان اور ذخیرہ اندوزوں نے لوٹ کے مال کی طرح سستے داموں گندم خرید لی اور کاشتکار کا معاشی بیڑا غرق ہو گیا۔ گزشتہ فصل کی آمد پر سرکار نے خود تو خریداری سے جان چھڑوا لی تاہم اپنی طرف سے بارہ تیرہ نامزد کردہ پرائیویٹ کمپنیوں کو گندم کی خرید کے حقوق تقویض کر دیے۔ اس سارے گورکھ دھندے میں اصل مسئلہ یہ تھا کہ حکومت کی اعلان کردہ گندم کی قیمت ایسی تھی کہ اس قیمت میں کاشتکار کی لاگت بھی پوری نہیں ہوتی تھی لہٰذا اس بار آڑھتیوں‘ بیوپاریوں‘ ذخیرہ اندوزوں‘ مل مالکان اور سرمایہ کاروں نے سرکاری اعلان کردہ ریٹ سے نسبتاً بہتر ریٹ پر کاشتکار سے گندم خرید لی اور اسے ذخیرہ کر لیا۔ اب یہ گندم خریدنے والے آڑھتی‘ بیوپاری‘ ملز مالکان اور ذخیرہ اندوز خدائی خدمتگار تو تھے نہیں کہ اپنی خرید کردہ گندم پر مناسب منافع لے کر اسے مارکیٹ میں فروخت کر دیتے۔ ان کی ذخیرہ اندوزی کے طفیل مارکیٹ میں گندم کی کمی واقع ہوئی۔ اکنامکس کا قاعدہ ہے کہ مارکیٹ میں کسی چیز کی قیمت کے تعین میں طلب اور رسد میں توازن یا عدم توازن بنیادی کردار سرانجام دیتا ہے‘ سو گندم کے معاملے میں یہ قاعدہ اپنی پوری شدومد کے ساتھ بروئے کار آیا۔ ملز مالکان‘ آڑھتیوں‘ بیوپاریوں اور سرمایہ کاروں کی جانب سے گندم کی ذخیرہ اندوزی کا یہ نتیجہ نکلا کہ مارکیٹ میں مصنوعی قلت کی صورت پیدا ہو گئی اور گندم کی قیمت دیکھتے ہی دیکھتے سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں روپے فی چالیس کلو گرام اوپر چلی گئی۔ اس کمی کو پورا کرنے کیلئے جہاں حکومت نے ایک ملین ٹن گندم درآمد کرنے کا اعلان کیا وہیں اس نقطہ نظر کو مزید تقویت ملی کہ گندم ملک کی ضرورت سے کم ہے لہٰذا ذخیرہ اندوزوں نے گندم کی رسد کے سلسلے میں مزید ہاتھ کھینچ لیا۔اب صورتحال یہ ہے کہ گندم کی مارکیٹ میں قیمت 5300 سے 5500 روپے فی چالیس کلو گرام کے درمیان ہے۔ اگر اُس وقت حکومت 4500 روپے فی چالیس کلوگرام کے حساب سے کاشتکار سے براہِ راست گندم خرید لیتی اور فلور ملز کو حسبِ سابق سرکاری گندم کی پسائی کے کوٹے کے مطابق گندم فراہم کرتی رہتی تو گیہوں کی قیمت کسی حد تک کنٹرول میں رہتی نتیجتاً عوام کو مناسب قیمت میں آٹا ملتا رہتا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ 3500 روپے فی چالیس کلو گرام پر خرید کردہ گندم ذخیرہ اندوزی کے طفیل 5500 روپے فی چالیس کلو گرام کے لگ بھگ پہنچ چکی ہے۔ یعنی سرمایہ کاروں‘ ذخیرہ اندوزوں‘ آڑھتیوں اور ملز مالکان کو فی چالیس کلو گرام دو ہزار روپے بچ رہے ہیں۔ کیا شاندار سرمایہ کاری ہے کہ چند ماہ میں ان کو اپنی بنیادی انویسٹمنٹ پر 60 فیصد منافع ہو رہا ہے۔آج اکتوبر کا پہلا عشرہ گزر گیا ہے اور گندم کی کاشت میں اب بہت کم وقت رہ گیا ہے۔ یوں سمجھیں کہ حکومت کے پاس گندم کے کاشتکار کو گندم کی بھرپور کاشت پر مائل کرنے کیلئے بہت کم وقت بچا ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ اس سال گنے کے کاشتکار کے ساتھ جو ہوئی ہے وہ کسی دشمن کے ساتھ بھی نہ ہو۔ کرشنگ سیزن ختم ہوئے کم و بیش چھ ماہ ہو چکے ہیں۔ میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ بہت سے کاشتکاروں کو ابھی تک ان کے گنے کی رقم وصول نہیں ہوئی۔ شوگر ملز کے پاس اس کا ایک ہی جواب ہے کہ چینی ملکی پیداوار سے بہت زیادہ ہو گئی ہے اور ان کی چینی گوداموں میں پڑی ہے اور فروخت نہ ہونے کی وجہ سے وصولی نہیں ہو رہی‘ ایسی صورتحال میں وہ کاشتکار کو ادائیگی کرنے سے قاصر ہیں۔ شوگر ملز مالکان کی اسمبلیوں میں اچھی خاصی نمائندگی ہے اور وہ اپنے حقوق کا بہر حال کسی نہ کسی طرح نہ صرف تحفظ کر لیتے ہیں بلکہ چینی ملکی ضرورت سے کم ہو یا زیادہ‘ وہ بہرحال اپنی چینی میں سے سونے کی چڑیا برآمد کر لیتے ہیں‘ گھاٹے میں صرف کاشتکار رہتا ہے۔ خیر پچھلے دو تین سیزن گنے کے کاشتکار کو اپنی فصل کی اچھی قیمت ملتی رہی تھی اور کپاس‘ مکئی اور دیگر فصلوں میں نقصان کے بعد بہت سے کاشتکار گنے کی کاشت کی طرف منتقل ہو گئے تھے۔ اس سال جبکہ ان کی گنے کی رقم ابھی تک پھنسی ہوئی ہے‘ بہت سے کاشتکار شاید اس سال گنا کاشت نہ کریں۔ یہ نہایت مناسب وقت ہے کہ حکومت گندم کی پُرکشش قسم کی قیمت کا اعلان کرے اور گندم کے کاشتکار کو سرکار کی طرف سے خریداری کی یقین دہانی کرائے۔ میں پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر حکومت اپنی سابقہ پالیسیوں سے رجوع کرتے ہوئے اگلے چند روز میں گندم سے متعلق جامع پالیسی جس میں قیمت اور خریداری کے پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا ہو‘ اعلان کر دے تو آئندہ سال ملک کو گندم درآمد نہیں کرنا پڑے گی۔ ایک زمانہ تھا کہ حکومت نے گنے کی کاشت کیلئے زون مخصوص کیے ہوئے تھے پھر یہ زوننگ آہستہ آہستہ ختم ہو گئی۔ گنا ان علاقوں میں بھی کاشت ہونے لگ گیا جو گنے کی کاشت کیلئے مناسب ہی نہیں تھے۔ اس کے بعد موسمیاتی تبدیلیاں اونٹ کی کمر پر آخری تنکا ثابت ہوئیں اور نتیجہ یہ نکلا کہ بالائی پنجاب کی ساری شوگر ملز تقریباً بند ہو چکی ہیں یا بند ہونے کے قریب ہیں۔ ان ملوں نے اپنا کاروبار وہاں سے اٹھا کر جنوبی پنجاب اور وسطی پنجاب میں منتقل کر دیا ہے۔ بالائی پنجاب میں گنے سے چینی کی ریکوری آٹھ‘ ساڑھے آٹھ‘ حد نو فیصد تک ہے‘ جنوبی پنجاب میں یہ ریکوری دس فیصد یا اس سے زائد جبکہ سندھ میں یہ ریکوری گیارہ فیصد سے بھی اوپر ہے۔ بالائی پنجاب میں گنے کی کرشنگ اب منافع بخش یا سودمند نہیں رہی۔ اوپر سے چینی کی پیداوار ملکی ضرورت سے کہیں زیادہ ہو چکی ہے جبکہ ملکی آبادی میں شوگر کے مریضوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہو چکی ہے۔ گورے کی حکومت میں سو خرابیاں ہوں گی مگر اس کا وضع کردہ نظام حکومت سراسر ریاست کو مدنظر کر بنایا گیا تھا جبکہ ہمارا نظام حکومت حکمرانوں‘ مقتدرہ اور اشرافیہ کو مدنظر رکھ کر بنایا اور چلایا جا رہا ہے۔ اپنی غلطی سے سبق حاصل کیا جائے تو یہ دانائی ہے اور اگر اس پر اصرار کیا جائے تو یہ حماقت کے علاوہ کچھ بھی نہیں‘ اور ہم مسلسل حماقتیں کر رہے ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90500073.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کہ آواز دے کر بُلا لے گی مجھ کو…(ڈاکٹر حسین احمد پراچہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-10-10/52816/90658503</link><pubDate>Sat, 10 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-10-10/52816/90658503</guid><description>فضا میں اتنی تلخی و مایوسی آ چکی ہے کہ اس میں مزید اضافہ کرنے کے بجائے بات کا آغاز ہلکے پھلکے انداز میں ہونا چاہیے۔گزشتہ ہفتے کے روز حکومت اور پی ٹی آئی کے مذاکرات کی پہلے کامیابی اور پھر ناکامی کی خبریں آئیں۔ اسی پس منظر میں اتوار کے روز ایک پریس کانفرنس میں سینیٹ میں قائد حزبِ اختلاف علامہ راجا ناصر عباس نے ایک دلچسپ خواہش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم مذاکرات کی میز سے واضح فیصلے کے بغیر اُٹھ کر آ رہے تھے تو میرا خیال یہ تھا کہ سپیکر صاحب اور حکومتی مذاکراتی ٹیم کے دیگر شرکا ہمیں روک لیں گے‘ بٹھا لیں گے اور معاملے کا کوئی درمیانی حل نکال لیں گے۔ یہ سن کر مجھے کیفی اعظمی کا لکھا ہوا ایک گیت یاد آ گیا۔ اس کے بول کچھ یوں تھے:میں یہ سوچ کر اُس کے در سے اٹھا تھاکہ وہ روک لے گی منا لے گی مجھ کوقدم ایسے انداز سے اُٹھ رہے تھےکہ آواز دے کر بلا لے گی مجھ کومگر اس نے روکا نہ مجھ کو منایانہ دامن ہی پکڑا نہ مجھ کو بٹھایانہ آواز ہی دی نہ مجھ کو بلایامیں آہستہ آہستہ بڑھتا ہی آیاتاہم جب سے مذاکرات میں تعطل آیا ہے یا پہلا دور ناکام ہوا ہے تب سے حکومت چین سے سوئی ہے نہ پی ٹی آئی کو نیند آئی ہے۔ حکومت مذاکرات کو کامیاب بنا کر یا کم از کم پی ٹی آئی کو انگیج کر کے اسلام آباد کی طرف آتے ہوئے مارچ سے جان چھڑانا چاہتی ہے۔ مذاکرات کے پہلے دور کی ناکامی کے بارے میں دونوں فریق ایک دوسرے کو الزام دیتے ہیں۔ مذاکرات میں تعطل کا سب سے بڑا سبب باہمی عدم اعتمادی ہے۔ مذاکرات کے آخری مرحلے میں سیاسی معاملات کے ساتھ جب دہشت گردی کے خلاف قومی پالیسی بھی جڑ گئی تو پھر اُن کی نتیجہ خیزی میں پیچیدگی آ گئی۔ پی ٹی آئی والوں کا کہنا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف قومی پالیسی کا حصہ ہیں اور اس سلسلے میں اُن کی کوئی الگ پالیسی نہیں۔ پاکستان کی ہر سیاسی جماعت سمجھتی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف مشترکہ قومی پالیسی اور حکمت عملی ہی میں ہمارا اجتماعی مفاد ہے۔ پی ٹی آئی والوں کا کہنا ہے کہ ہم قومی مفاد کیلئے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں تاہم حکومت ڈکٹیٹ کرنے کے بجائے مشاورت و مفاہمت سے کام لے۔ دوسری طرف حکومت بار بار اعلان کر رہی ہے کہ ہم موجودہ سیاسی کشمکش کی طوالت کے متحمل نہیں ہو سکتے اور صوبے کے انتظامات و معاملات کی درستی کیلئے قانونی دائرے کے اندر رہتے ہوئے کئی اقدامات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ان اقدامات میں ایمرجنسی‘ گورنر راج اور دیگر آئینی آپشنز شامل ہیں۔ اگر پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کو کسی غیرآئینی طریقے سے ہٹانے کی کوشش کی جاتی ہے تو اس کے اثرات نہ صرف صوبے بلکہ پورے ملک پر مرتب ہوں گے۔ خیبر پختونخوا میں چاہے لانگ مارچ کیلئے لاکھوں نہیں ہزاروں لوگ ہی نکلے ہوں مگر گزشتہ ایک دہائی سے صوبہ متواتر پی ٹی آئی کو ووٹ دے رہا ہے اور اب بھی وہاں اس جماعت کی سیاسی و انتخابی قوت موجود ہے۔ تازہ ترین صورتحال کے مطابق کے پی اسمبلی میں پی ٹی آئی کو جمعیت علمائے اسلام کی بھی مکمل حمایت حاصل ہو گی۔ مجھے سب سے زیادہ حیرت پاکستان پیپلز پارٹی کے رویے پر ہے۔ جب نئے صوبے بنانے کی بات ہوئی تو پیپلز پارٹی نے اس پر سندھ اسمبلی میں غیرمعمولی ردِعمل کا اظہار کیا۔ اور اس احتجاج کو سیاسی و آئینی حق قرار دیا۔ اسی طرح آزاد کشمیر میں انتخابات کے موقع پر بلاول بھٹو زرداری نے مسلم لیگ (ن) پر دھاندلی کے الزامات لگائے اور شدید تنقید کی۔ مذاکرات سے پہلے پیپلز پارٹی کے زعما اور بعض دیگر سپورٹرز نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ حکومت تو بس گورنر راج لگانے پر تلی بیٹھی تھی مگر ہم نے پی ٹی آئی کو یہ سپیس دلوائی ہے۔ پیپلز پارٹی فخریہ کہتی ہے کہ ہم سیاسی سوچ اپروچ رکھتے ہیں جبکہ ایسا نہیں ہے۔ مدتوں سے اس کی سوچ &#39;&#39;عملی‘‘ ہو چکی ہے۔ مگر اب یہ محسوس ہو رہا ہے کہ پیپلز پارٹی کی سینئر رکنِ قومی اسمبلی شیری رحمن سے لے کر سید نوید قمر تک مذاکرات کی ناکامی کا سارا ملبہ پی ٹی آئی کے سر ڈال رہے ہیں اور حکومت کی وکالت کر رہے ہیں۔ پنجابی کی ایک مشہور مثل ہے کہ &#39;&#39;چور نالوں پَنڈ کاھلی‘‘ کہ چور سے زیادہ مال مسروقہ کو ٹھکانے لگنے کی جلدی ہوتی ہے۔ اب گورنر کے پی فیصل کریم کنڈی بھی اسلام آباد میں ملاقاتیں کرتے ہیں‘ کبھی گورنر ہاؤس پشاور میں آئی جی سمیت انتظامیہ کا اجلاس بلا لیتے ہیں۔ جب تک صوبائی حکومت قائم ہے اس وقت تک پیپلز پارٹی کے گورنر اور وفاقی حکومت کو عوامی مینڈیٹ اور آئینی حکومت کا ہر طرح سے احترام کرنا چاہیے۔ پیپلز پارٹی کے زعما کو ادراک ہونا چاہیے کہ ایمرجنسی‘ گورنر راج کی رِیت چل نکلی تو بات دور تلک جائے گی۔مذاکرات کا حقیقی منظر نامہ یہ ہے کہ حکومتی پارٹی کی طرف سے سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق‘ رانا ثنا اللہ اور ڈاکٹر طارق فضل چودھری چاہتے تھے اور اب بھی چاہتے ہیں کہ مذاکرات کامیاب ہوں‘ ملک میں امن و امان ہو‘ سیاسی عمل آگے بڑھے اور معاشی استحکام آئے۔ اسی طرح پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان‘ سابق سپیکر اسد قیصر اور علامہ راجا ناصر عباس بھی ہر طرح سے بات بنانے کیلئے کوشاں ہیں۔ قومی اسمبلی میں محمود خان اچکزئی بھی مذاکرات کی کامیابی کیلئے تگ و دو کر رہے ہیں۔ عمران خان سے ملاقات کو انہوں نے مذاکرات کیلئے اوّلین شرط قرار دیا ہے۔ اچکزئی صاحب سے ہماری پرانی یاد اللہ ہے‘ وہ بڑے منجھے ہوئے پارلیمنٹرین ہیں۔ البتہ ایک طرف اُن کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ کو سپریم ہونا چاہیے تو دوسری طرف قومی اسمبلی یا سپیکر چیمبر میں مذاکرات نہ کرنے کی منطق ناقابلِ فہم ہے۔پی ٹی آئی والے چار پانچ روز پہلے مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کرنے گئے اور اُن سے اپوزیشن کی قیادت اور مذاکرات کیلئے حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان ایک پُل کا کردار ادا کرنے کی درخواست کی۔ اس موقع پر مولانا نے تحریک انصاف کی قیادت سے یہ بھی پوچھا کہ آپ کی جماعت میں فیصلہ سازی کس کے پاس ہے؟ لانگ مارچ کے اہداف کیا ہیں؟ مولانا نے یہ استفسار بھی کیا کہ اگر آپ نے 27 ستمبر کا لانگ مارچ طے کر لیا تھا تو اسے آپ نے ملتوی کر کے چار اکتوبر کی نئی تاریخ کیوں دی؟ وغیرہ وغیرہ۔ پی ٹی آئی والے اندرونِ خانہ معاملات درست کر لیں۔ اب جبکہ پی ٹی آئی کے زعما اور اگلے روز حکومتی مذاکراتی ٹیم کے ارکان سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق‘ رانا ثنا اللہ اور ڈاکٹر طارق فضل چودھری مولانا کی اسلام آباد میں رہائش گاہ پر گئے۔ فریقین نے مذاکرات کے حوالے سے اپنا اپنا مؤقف مولانا کے سامنے رکھا۔ ادھر وزیراعظم نے بھی تجدیدِ مذاکرات کی دعوت دی ہے۔ فریقین مولانا فضل الرحمن کو ثالث مان لیں اور اُن کی زیر صدارت فیصلہ کن مذاکرات کریں۔ نیز اپوزیشن کے قائدین اور وکلا کی عمران خان سے ملاقات کا راستہ ہموار کروائیں تاکہ بات آگے بڑھے۔ نیز وزیراعظم مذاکرات کی کامیابی کیلئے اپنے بعض وزرائے کرام کی زباں بندی کرائیں۔خاکسار مولانا فضل الرحمن کو مذاکرات کیلئے بطور ثالث تسلیم کرنے کی تجویز درج بالا سطور میں پیش کر چکا تھا کہ خبر آئی کہ تحریک انصاف ہی نہیں وزیراعظم شہباز شریف بھی مولانا کی ثالثی میں مذاکرات پر آمادہ ہیں۔ یہ بہت بڑی پیش رفت ہے۔ مذاکرات کی کامیابی کیلئے حکومت گورنر راج یا ایمرجنسی وغیرہ کا آپشن واپس لے۔ سہیل آفریدی لانگ مارچ ملتوی کریں۔ دہشت گردی کے خلاف صوبائی حکومت ریاستی اداروں کے ساتھ تعاون کرے۔ سینیٹر علامہ ناصر عباس اللہ والے بندے ہیں‘ لگتا ہے کہ حکومت انہیں آواز دے کر مذاکرات کیلئے واپس بلا رہی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_70033906.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ہماری پسماندگی کا اصل سبب(افتخار احمد سندھو)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/iktakhar-ahmed-sandhu/2026-10-10/52817/52720949</link><pubDate>Sat, 10 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/iktakhar-ahmed-sandhu/2026-10-10/52817/52720949</guid><description>سوشل میڈیا پر انڈیا میں دہلی کے ایک سرکاری سکول کو دیکھا تو اندازہ ہوا کہ بھارت کے تعلیمی اداروں میں کیا بہتری آئی ہے۔ اس سال وہاں چالیس ہزار بچوں نے پرائیویٹ سکولوں سے نام کٹوا کر سرکاری سکولوں میں داخلہ کروایا ہے جبکہ ہمارے تقریباً دو کروڑ 60 لاکھ بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ سکول سے باہر بچوں کی بڑی تعداد تعلیمی نظام کے لیے ایک اہم چیلنج بنی ہوئی ہے۔ پاکستان میں تعلیم کا یہ بحران اچانک پیدا ہونے والا مسئلہ نہیں بلکہ دہائیوں پر محیط ناقص تعلیمی پالیسیوں‘ سیاسی عدم استحکام‘ معاشی کمزوریوں‘ سماجی بے حسی اور فکری انتشار کا شاخسانہ ہے۔ پاکستان میں تعلیمی مسائل کا جائزہ لیں تو پتا چلتا ہے کہ یہاں تعلیم کے حالات دوسرے ترقی پذیر ممالک کی طرح نہیں ہیں۔ لازمی تعلیم کی سطح پر داخلے کی کم شرح‘ صنفی امتیاز‘ معاشی تضادات‘ اساتذہ کی عدم موجودگی اور مناسب سازو سامان کی کمی کی وجہ سے پاکستان میں تعلیمی مسائل دن بدن بڑھتے جا رہے ہیں۔ طبقاتی تقسیم اور تعلیمی عدم مساوات بھی پاکستان میں تعلیم کے تنزل کی ایک بڑی وجہ ہے۔ پاکستان میں تعلیم تین بڑے طبقات میں تقسیم ہو چکی ہے۔ ایلیٹ کلاس کے مہنگے تعلیمی ادارے‘ متوسط طبقے کے کم معیاری تعلیمی ادارے اور غریب طبقے کے لیے بنیادی سہولتوں سے عاری سرکاری تعلیمی ادارے۔ یہ تقسیم پاکستان کے طبقاتی نظام میں ناہمواری کو مزید بڑھا رہی ہے اور ایک متحد معاشرتی نظام کی تشکیل میں بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ پاکستان کے تعلیمی اداروں کی موجودہ حالتِ زار کا جائزہ لیں تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ مسئلہ صرف کمزور تعلیمی اور انتظامی معیار کا نہیں بلکہ یہ ایک ہمہ جہتی بحران ہے جس نے قوم کی فکری‘ علمی اور معاشی ترقی کو جکڑ رکھا ہے۔ ہمارے سرکاری سکولوں کی حالتِ زار یہ ہے کہ وہ اصطبل اور بھینسوں کے باڑے بنے ہوئے ہیں اور وہاں سے انسانوں کے بجائے جانور برآمد ہوتے ہیں۔ بچے سکول سے باہر درختوں کے نیچے بیٹھ کر پڑنے پر مجبور ہیں۔ آٹھ دہائیوں کے بعد بھی ہمارے پاس بجلی ہے نہ گیس‘ نہ تیل اور نہ کوئی سیاسی اور معاشی نظام ۔ بقول شاعر:لوگ حد سے ہیں بڑے‘ چاند پر چلے گئےاور اب مریخ کے بھی ڈھونڈتے ہیں راستےہم صرف جہاں میں طعام ڈھونڈتے رہےاور ملک کے لیے نظام ڈھونڈتے رہےاس امر میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں ایلیٹ طبقات تمام اختیارات اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں اور عوام کو تعلیم سے دور رکھ کرکمزور کرنا چاہتے ہیں کہ ان میں بولنے کی صلاحیت نہ رہے اور مقتدر طبقات اپنی من مانی کرتے رہیں۔ ملک کے معاشی اور سماجی حالات اور رویے بھی پاکستان میں تعلیمی مسائل میں اضافہ کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ ملک میں پائے جانے والے سیاسی عدم استحکام کے نتیجے میں ہونے والی ہڑتالیں‘ جلسے جلوس‘ ہنگامے‘ رشوت اور سفارشی کلچر کو بڑھاوا ملتا ہے۔ پاکستان میں تعلیمی مسائل کے دوسرے عوامل میں سب سے بڑا مسئلہ نصاب تعلیم کو جدید زمانے سے ہم آہنگ نہ کرنا ہے۔ ہمارے نظام تعلیم میں نصاب عموماً جدید زمانے سے ہم آہنگ نہیں ہوتا اور ہم بچوں کواس بات پر مجبور کرتے ہیں کہ وہ رٹا لگائیں اور زیادہ سے زیادہ نمبر حاصل کریں۔ پاکستان کے تعلیمی نظام میں رائج رٹا بازی کا چلن طلبہ میں ایک تنگ اور محدود نقطہ نظر کو برقرار رکھتا ہے۔ یہ نقطہ نظر تنقیدی سوچ یا آزادانہ تجزیہ کی حوصلہ افزائی کیے بغیر حقائق اور اعداد وشمار کو یاد کرنے پر زور دیتا ہے‘ نتیجتاً طلبہ اکثر نصابی کتابوں کے ذریعے وضع کردہ نقطہ نظر تک محدود رہتے ہیں‘ تخلیقی صلاحیتوں اور اختراعات کو روکتے ہیں۔ تبدیلی کے دور میں پاکستانی طلبہ اب بھی نصابی کتب میں کسی بڑے اَپ ڈیٹ کے بغیر فوٹو کاپی شدہ نوٹس اور سمریوں پر گزارہ کرتے ہیں اور نتیجے میں تنگ نظر اور پُرتشدد معاشرہ تشکیل دیتے ہیں۔ دوسری طرف نصابِ تعلیم کا یکساں نہ ہونا ایک بہت اہم فیکٹر ہے جو ہمارے بچوں میں شروع دن سے طبقاتی تضاد پیدا کرنا شروع کر دیتا ہے۔ والدین کی ذاتی پسند ناپسند بھی ہمارے ہاں تعلیمی مسائل میں ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ بجائے اس کے کہ بچے کے رجحانات کے مطابق اسے تعلیمی عمل سے گزارا جائے‘ ہم لوگ بچوں پر اپنی مرضی تھوپتے ہیں۔ میرا بچہ پڑھ لکھ کر ڈاکٹر بنے گا‘ میں اسے انجینئر بناؤں گا‘ میرا بیٹا تو اعلیٰ افسر بنے گا۔ ایسے میں بیشتر بچے نہ تو ڈاکٹر بنتے ہیں نہ انجینئر اور نہ ہی افسر بلکہ ان کا پڑھائی سے دل ہی اچاٹ ہو جاتا ہے۔اسی طرح اساتذہ کا معیارِ تعلیم میں سب سے اہم کردار ہے۔ اگر آپ کا استاد اچھا نہیں ہے تو پھر آپ چاہے کچھ بھی کر لیں‘ جو بھی ریسورسز فراہم کر دیں وہ کارگر نہیں ہو پائیں گے۔ پاکستان میں سب سے پہلے تو اساتذہ کی مناسب تعداد ہی موجود نہیں ہے۔ ایک کلاس جس میں عموماً پچاس یا اس سے زیادہ بچے ہوتے ہیں اور انہیں پڑھانے کے لیے صرف ایک استاد۔ جو اساتذہ ہیں اگر ان کا پڑھانے سے لگاؤ نہیں ہو گا تو وہ طلبہ کو اچھی تعلیم فراہم کرنے میں ناکام ہو جائیں گے۔ انگریز کے زمانے سے رائج نو آبادیاتی اور طبقاتی نظام تعلیم پاکستان کے مسائل کی جڑ سمجھا جاتا ہے۔ گزشتہ 77 سال سے ہمارے ہاں ایک دو نہیں چار پانچ قسم کے تعلیمی نظام رائج ہیں۔ حکمران طبقہ‘ بیورو کریسی اور امیر لوگ اپنے بچوں کو جدید اور مہنگے اداروں میں تعلیم دلوا کر اپنی جاں نشینی کے لیے تیار کرتے ہیں جبکہ عام طبقے کے بچے سرکاری سکولوں میں جاتے ہیں۔ بدقسمتی سے ان تعلیمی اداروں کو بھی نیلام کیا جا رہا ہے اور ایک عام آدمی کے بچوں پر تعلیم کے دروازے بند کیے جا رہے ہیں۔قیامِ پاکستان کے وقت سے ہی اس ملک میں تعلیم کے دو مختلف نظام موجود رہے ہیں۔ ایک طرف سرکاری تعلیمی ادارے تھے اور دوسری طرف مشنری سکول‘ دینی ادارے اور نجی ادارے۔ معاشی لبرلائزشن کی پالیسیوں کے نتیجے میں پہلے سے موجود طبقاتی نظام تعلیم ایک منافع بخش کاروبار کی صورت اختیار کر گیا۔ آج جہاں ہمیں ایک طرف سرکاری تعلیمی اداروں کی زبوں حالی نظرآتی ہے وہیں دوسری طرف ہر گلی کوچے میں اکیڈمیوں اور سکولوں کا جال نظر آتا ہے۔ جو بچے فیسوں کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتے وہ دینی مدارس کا رخ کر لیتے ہیں‘ اور ان بچوں کی بھی ایک اچھی خاصی تعداد ہے جو ان مدرسوں سے فارغ ہونے کے بعد بیروزگاری کی صورت میں ملک وقوم پر بوجھ بن جاتی ہے کیونکہ ان کے پاس کوئی ہنر نہیں ہوتا۔ آئین پاکستان کے مطابق استحصال کی تمام تر شکلوں کا خاتمہ کرتے ہوئے ہر شہری کے لیے بنیادی سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنانا ریاست کی ذمہ داری ہے‘ یعنی ہر شہری کے لیے تعلیم کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری اور اس کا فرض ہے لیکن اس کا اطلاق پاکستان میں کہیں نظر نہیں آتا۔ تعلیم کی عدم فراہمی کے باعث جہالت‘ غربت اور بیروزگاری میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے‘ اور یہی ہماری پسماندگی کا اصل سبب ہے۔ حکومت کو اس طرف خاص توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/228_40817243.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>دلدل سے نجات(جاوید حفیظ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/javed-hafiz/2026-10-10/52818/64762782</link><pubDate>Sat, 10 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/javed-hafiz/2026-10-10/52818/64762782</guid><description>آج کل اسلام آباد میں کنٹینروں کی بہار ہے۔ اگلے روز فارن آفس جانا ہوا‘ ہوٹل سیرینا کے باہر اتنے کنٹینر پڑے تھے کہ دیوارِ چین یاد آ گئی جو چند سال پہلے دیکھی تھی۔ دیوارِ چین لمبے عرصے میں تعمیر ہوئی تھی اور دفاعی مقاصد کے لیے بنائی گئی تھی۔ ہوٹل کے باہر کنٹینروں سے بنائی گئی دیوار بھی دفاعی مقصد کے لیے ہے۔ سینکڑوں کنٹینر اسلام آباد میں تین‘ چار ہفتوں سے موجود ہیں اور مزید کئی ہفتوں تک رہنے کاقوی امکان ہے۔ شنید ہے کہ ایک کنٹینر کا یومیہ کرایہ بیس سے پچیس ہزار روپے ہے۔ باہر سے آئی ہوئی پولیس‘ رینجرز اور ایف سی کے اخراجات ملا کر روزانہ دارالحکومت کو یلغار سے بچانے کا خرچ تقریباً ایک ارب روپے ہے۔ اس بارے پوری دنیا میں جو منفی تاثر جا رہا ہے اسے اعداد و شمار میں سمیٹنا ناممکن ہے۔ ہمارے سینگ متواتر آپس میں ہی پھنسے رہتے ہیں اور ہم دنیا سے توقع کرتے ہیں کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کرے۔ اس وقت سب سے اہم کام قومی تصادم کو کم کرکے قومی اجماع اور مفاہمت کا فروغ ہے۔قریب ڈیڑھ ماہ قبل ایک وفاقی وزیر نے بیان دیا کہ ہمارا نظام ناکام ہو گیا ہے‘ اور ان کے بیان کی خاصی اہمیت ہے۔ قومی لیول پر بحث چھڑ گئی کہ صوبوں کا سائز چھوٹا کر دیا جائے تو بہت سے مسئلے حل ہو جائیں گے۔ اس حل کے حق میں بہت سے بیانات آئے۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ ہمارا قومی مسئلہ صرف نئے صوبے تشکیل دینے سے حل نہیں ہوگا‘ ہمارے قومی مسائل کی جڑ اس مسئلے سے وسیع تر ہے۔ فرض کر لیں کہ اسلام آباد کا دیہی اور شہری علاقہ ایک صوبہ ہے اور اگر یہ صوبہ ہے تو یہ پاکستان کا سب سے چھوٹا صوبہ ہوگا۔ یہاں علیحدہ ہائیکورٹ ہے‘ پولیس اور ریونیو کے ضرورت سے زیادہ دفاتر ہیں۔ سی ڈی اے کے افسران اور سٹاف کی فوج ظفر موج ہے اور پھر ہائوسنگ اتھارٹی ہے جو وہی کام کر رہی ہے جو کبھی سی ڈی اے اکیلے کرتی تھی۔ ان کی تنخواہیں اور مراعات قابلِ دید ہیں لیکن یہ اسلام آباد میں صرف اونچے گریڈز سے ریٹائر ہونے والے افسران کی رہائش کا ہی بندوبست کرتی ہے۔ اس سنگدل اور گریڈ زدہ شہر میں نائب قاصد اور کلرک کو سرکاری پلاٹ نہیں ملتا۔ اسلام آباد صفائی کے لحاظ سے بھی کوئی ماڈل شہر نہیں۔ بڑی وجہ یہ ہے کہ اس شہر کی اونرشپ اس کے باسیوں کے پاس نہیں۔ یہاں کوئی لوکل گورنمنٹ نہیں‘ ایک زمانے سے اسلام آباد کا کوئی میئر نہیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ محض انتظامی یونٹ کا چھوٹا ہونا گڈ گورننس کی ضمانت نہیں ہے۔ سابق فارن سیکرٹری شمشاد احمد خان صاحب کی تجویز ہے کہ جی او آر کے تمام گھر خالی کرا کے مع زمین‘ نیلام کر دیے جائیں اور سبز نمبر پلیٹ کی تمام گاڑیاں واپس لے لی جائیں۔ تاہم میرے خیال میں اس اقدام سے بھی ہمارا قومی مسئلہ حل نہیں ہوگا‘ جو وسیع تر ہے۔ کچھ دوست آبادی کے جن کو بوتل میں بند کرنے اور فرسٹ کزن شادیوں کو کم کرنے کو ذریعہ نجات سمجھتے ہیں لیکن پاپولیشن کنٹرول بھی قومی مسئلے کا جزوی حل ہے۔ کئی پڑھے لکھے اور باخبر دوست یہ صائب مشورہ دیتے ہیں کہ کرپشن کو مکمل ختم کریں اور ہر کام میرٹ پر ہو تو پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہو جائے گا۔ اس سلسلہ میں وہ سنگاپور کی مثال دیتے ہیں۔ لیکن پاکستان اور سنگاپور کے معروضی حالات مختلف ہیں۔ سنگاپور کو اپنے ہمسایوں سے کوئی خطرہ نہیں۔ آبادی چھوٹی ہے۔ اکثریت چین نژاد لوگوں کی ہے جو بہت محنتی ہیں۔ سنگاپور کی خوش قسمتی تھی کہ اسے لی کوآن یو جیسا لیڈر مل گیا۔ پاکستان میں اُس لیول اور وژن والا لیڈر دور دور تک نظر نہیں آتا۔ پھر کرپشن کا مکمل خاتمہ ایک غیر عملی سی بات ہے۔ کرپشن ہر ملک اور ہر معاشرے میں ہوتی ہے لیکن پاکستان اس فیلڈ میں بہت آگے ہے۔ ہماری نصابی کتب میں وعظ و نصیحت کی بھرمار ہے لیکن ہماری اخلاقیات درست نہیں ہو سکیں۔ اخلاقیات کا درس دینے والا استاد جب سالانہ امتحان میں نقل کی حوصلہ افزائی کرتا ہے تو طلبہ کا نصابی کتابوں میں لکھے وعظ و نصیحت پر سے ایمان اٹھ جاتا ہے۔ کرپشن کا سو فیصد خاتمہ ناممکنات میں ہے۔ کسی کو سفارش پر یا برادری ازم کی بنا پر سرکاری جاب دینا بھی کرپشن ہے۔ چند ہفتے پہلے ایک وزیر باتدبیر نے کہا تھا کہ بہت سے بیورو کریٹ پرتگال کی شہریت لے چکے ہیں۔ پرتگال کی شہریت حاصل کرنے کے لیے آج کل اس ملک میں پانچ لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کرنا پڑتی ہے جو ملکی کرنسی میں 14 کروڑ سے کچھ زائد رقم بنتی ہے۔ جس افسر کے پاس 14 کروڑ کی بچت ہے‘ اس کی ایمانداری پر شکوک اٹھنا فطری بات ہے۔ کاش وزیر موصوف دو چار نام بھی ثبوت کے طور پر دے دیتے‘ لیکن اُس کے بعد وہ بالکل خاموش ہو گئے۔ ہم کرپشن کے خلاف اپنی نفرت کا اظہار محض اپنی سیاسی ضرورت کے مطابق کرتے ہیں۔ چین میں کرپشن ثابت ہو جائے تو موت کی سزا یقینی ہے اور فائرنگ سکواڈ کے لیے گولی بھی مجرم کے اہلِ خانہ خریدتے ہیں۔ حکومت یہ خرچ بھی برداشت نہیںکرتی۔ جبکہ ہمارے ہاں احتساب اکثر صرف سیاسی مقاصد کے لیے ہی استعمال ہوتا ہے۔ میرے خیال میں کرپشن ایک بڑا مسئلہ ضرور ہے لیکن ہمارا نمبر ون قومی پرابلم نہیں ہے۔کچھ احباب کا خیال ہے کہ ہماری عدلیہ بہتر ہو جائے‘ لوگوں کو انصاف ملنے لگے تو ہمارے حالات خاصے بہتر ہو جائیں گے۔ 2025ء کی ایک انٹرنیشنل رینکنگ میں 143ملکوں میں ہماری عدلیہ کا 130واں نمبر تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عدلیہ کی کارکردگی اور جج صاحبان کی تنخواہیں اور مراعات کا آپس میں کوئی تناسب نہیں۔ لیکن صرف عدلیہ کی بہتر کارکردگی سے بھی قومی مسائل جزوی طور پر ہی حل ہوں گے۔ پاکستان میں جی ڈی پی کے اعتبار سے ٹیکس کا تناسب تقریباً دس فیصد ہے۔ ہماری اشرافیہ بہت کم ٹیکس دیتی ہے۔ پوش علاقوں میں جائیں تو لگتا ہے کہ پاکستان بہت خوشحال ملک ہے۔ فارم ہائوسز بن رہے ہیں‘ بچے مہنگے پرائیویٹ سکولوں میں جا رہے ہیں جہاں ایک ایک بچے کی فیس گریڈ اٹھارہ کے افسر کی ماہانہ تنخواہ کے برابر ہے۔ لش پش کرتی لمبی لمبی گاڑیاں ہماری سڑکوں پر فراٹے بھر رہی ہیں۔ کچھ لوگوں کی روز افزوں خوشحالی غریبوں کی غربت کا ہر روز مذاق اڑاتی ہے۔ ورلڈ بینک کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں غربت میں چھ فیصد اضافہ ہوا ہے۔میرے نزدیک پاکستان کا اصل مسئلہ قومی افہام وتفہیم اور اجماع کا ہے۔ ہمیں طاقتور اور صائب رائے عامہ کی ضرورت ہے جو پاور سینٹر اور سیاسی لوگ ایک دوسرے کی بات سننے کو تیار نہیں‘ انہیں مل بیٹھنا ہو گا۔ اسلام آباد کا کوئٹہ‘ کراچی اور پشاور سے رشتہ مضبوط کرنا ہو گا۔ ملک کی اونرشپ عوام کے حوالے کریں‘ صاف شفاف الیکشن کرائیں اور متواتر کرائیں۔ الیکشن کمیشن مکمل آزاد ہو۔ تعلیمی نظام اور میڈیا صحتمند رائے عامہ کو فروغ دیں۔ ہمیں نئی لیڈرشپ کی ضرورت ہے۔ ترکیہ کے صدر اردوان ایک زمانے میں استنبول کے میئر تھے۔ ہمیں سیاسی نفرتوں کے گھن چکر سے نکلنے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے ہمیں نیلسن منڈیلا اور لی کوآن یو کے قد کاٹھ کے لیڈر درکار ہیں۔ اور لیڈر مسلسل سیاسی عمل سے بنتے ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_85338835.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>تحریکِ لبیک کا مسئلہ!(مفتی منیب الرحمٰن )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-10-10/52819/37932607</link><pubDate>Sat, 10 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-10-10/52819/37932607</guid><description>تحریکِ لبیک پاکستان کے وابستگان ہمیں لکھتے رہتے ہیں کہ ان کے معاملات پر بات کریں۔ اس دوران جو ہم سے ہو سکا‘ وہ کرتے رہے اور ہر صاحبِ اختیار سے رابطہ کیا‘ بعض امور میں کچھ کامیابیاں ملیں‘ لیکن مکمل کامیابی نہیں مل سکی؛ تاہم اب بھی ہماری کوششیں جاری ہیں‘ مگر ان کی تشہیر ہم نے مناسب نہیں سمجھی۔ یہ بات ریکارڈ کا حصہ ہے کہ ماضی میں بھی ہم تمام تر تحفظات کو بالاتر رکھتے ہوئے تحریک کے حق میں بات کرتے رہے ہیں اور انہیں مشکل سے نکالنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے؛ اگرچہ ہمارا تحریک کی تنظیمی ساخت یا اُس کے نظم سے کسی بھی طرح کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہمارا اُن کے ساتھ تعلق صرف دین ومسلک کے حوالے سے ہے۔ ہم نے علامہ حافظ خادم حسین رضوی رحمہ اللہ تعالیٰ سے کراچی میں علامہ غلام غوث بغدادی اور علامہ لیاقت حسین اظہری کی موجودگی میں اپنی آخری ملاقات میں کہا تھا: &#39;&#39;آپ اپنے کارکنوںکے جذبات کو گرمانے کے لیے نعرے ضرور لگوائیں لیکن ازراہِ کرم چہار دیواری کے اندر اُن کی تربیتی نشستیں بھی منعقد کریں‘ اس کی بہت ضرورت ہے‘‘۔ مگر پھر اُن کو حیاتِ مستعار نے زیادہ مہلت نہ دی اور قضائے الٰہی سے وہ ہم سب سے جدا ہو گئے۔ عقیدت میں غُلو‘ اِفراط اور مبالغہ آرائی کی اسلام نے اجازت نہیں دی۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: &#39;&#39;اے اہلِ کتاب! تم اپنے دین میں حد سے تجاوز نہ کرو اور اللہ کے متعلق حق کے سوا اور کچھ نہ کہو‘ مسیح عیسیٰ ابن مریم تو صرف اللہ کا رسول اور اس کا کلمہ ہے جس کو اس نے مریم کی طرف القا کیا اور اس کی طرف سے روح ہے‘ سو تم اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائو اور یہ نہ کہو کہ (معبود) تین ہیں‘ (اس قول سے) باز رہو‘ یہ تمہارے لیے بہتر ہے‘ صرف اللہ ہی واحد مستحقِ عبادت ہے‘ وہ اس سے پاک ہے کہ اس کی کوئی اولاد ہو‘ جو کچھ آسمانوں اور زمینوں میں ہے‘ اسی کی مِلک میں ہے اور اللہ کافی کارساز ہے‘‘ (النسآء: 171)۔ رسول اللہﷺ کے بارے میں امت کے مسلّمہ اجماعی عقیدے کو اس شعر میں سمو دیا گیا ہے: (ترجمہ) &#39;&#39;آپ کی تعریف کا حق ادا کرنا ممکن ہی نہیں ہے‘ مختصراً یہی کہا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے بعد مخلوق میں بزرگ ترین ہستی فقط آپ ہی ہیں‘‘۔ اس کے باوجود رسول اللہﷺ نے اپنی ذات کے بارے میں فرمایا: &#39;&#39;(میری شان بیان کرنے میں) مبالغہ نہ کرو جیساکہ نصاریٰ نے ابنِ مریم کے بارے میں کیا (کہ انہیں ابن اللہ اور ثَالِثُ ثلٰثۃ کہا)‘ پس میں فقط اُس کا بندہ ہوں‘ سو یوں کہو: اللہ کا بندہ اور اس کا رسول‘‘ (بخاری: 3445)۔ہم نے 23 جنوری 2026ء کو &#39;&#39;تحریکِ لبیک کی قانونی پوزیشن‘‘ کے عنوان سے کالم لکھا اور اس کا مقصد یہ تھا کہ اہلِ اقتدار کو یہ باور کرایا جائے کہ ٹی ایل پی قانونی طور پر اب بھی قائم ہے‘ کیونکہ محض وفاقی وزارتِ داخلہ کے کسی جماعت کو ممنوع قرار دینے سے وہ جماعت آئینی اور قانونی طور پر ممنوع نہیں ہو جاتی‘ جب تک کہ آئین وقانون میں درج پورے طریقۂ کار کو اختیار نہ کیا جائے ۔ ٹی ایل پی الیکشن کمیشن آف پاکستان میں اب بھی ایک سیاسی جماعت کی حیثیت سے رجسٹرڈ ہے۔ نیز اس میں حکمتِ عملی کے اعتبار سے ٹی ایل پی سے جو غلطیاں ہوئیں‘ اُن کی بھی نشاندہی کی تو اس پر ٹی ایل پی کے بعض غالی عقیدت مندوں نے لکھا: &#39;&#39;یہ تو آپ نے چارج شیٹ مرتب کی ہے‘‘۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انہیں اصلاح سرے سے مطلوب ہی نہیں ہے‘ صرف تعریف وتوصیف مطلوب ہے۔ ہم نے یہ بھی کہا: &#39;&#39;آپ لوگ سرکردہ علما و مشایخ کے ساتھ احترام کا تعلق رکھیں‘ مگر ان کے کارکنوں نے علما ومشایخ کی توہین کو بھی اپنا شعار بنا لیا ‘ ہم جب ملک کے بیشتر حصوں میں جاتے ہیں تو علما ومشایخ کو یہی گلہ کرتے ہوئے پاتے ہیں۔ تجربے نے ثابت کیا کہ ٹی ایل پی کے کارکنوں کا شعار احسان شناسی نہیں بلکہ اپنے محسنوں کو ذہنی اذیت پہنچا کر لطف اٹھانا ہے‘ انہیں یہ ادا مبارک ہو۔ اب پی ٹی آئی اور ٹی ایل پی کے کارکنوںکے طریقۂ کار اورسوشل میڈیا پر تحقیر آمیز تحریروں کے حوالے سے کوئی فرق نہیں ہے‘ حالانکہ ٹی ایل پی ایک مذہبی جماعت ہے اور اپنے افعال واقوال کے لیے اللہ کے سامنے جوابدہ اور دینی اقدار کی پابند ہے۔ دوسروں کو گالیاں دینا‘ تحقیر‘ تذلیل اور توہین کرنا یہ اہلِ دین کا شعار کبھی نہیں رہا۔ رسول اللہﷺ سے جب مشرکوں کے خلاف دعائے ہلاکت کے لیے کہا گیا تو آپﷺ نے فرمایا: &#39;&#39;مجھے لعنت کرنے والا بناکر نہیں بھیجا گیا‘ مجھے تو رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے‘‘ (مسلم: 2599)۔ہم نے وزیرِ داخلہ محسن نقوی اور حساس اداروں کے ذمہ داران سے ایک سے زائد بار کہا کہ &#39;&#39;اہلسنّت کے سب فعّال لوگوں کی ٹی ایل پی کے ساتھ جذباتی وابستگی ہے اور ابھی تک اس میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔ آپ انہیں قومی سیاست کے مرکزی دھارے میں لانے کے لیے کوئی مناسب طریقۂ کار وضع کریں‘ کوئی &#39;ایس او پی‘ بنا لیں کہ یہ تنظیم آئین وقانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کسی ضابطۂ اخلاق اور سیاسی شعار کی پابندی قبول کرکے اپنی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھ سکے۔کیونکہ اگر ملک کے ایک بڑے مذہبی طبقے کے لیے اپنے اجتماعی مؤقف کے اظہار کے سارے آئینی اور قانونی راستے بند کر دیے جائیں گے تو پھر اس سے انتہا پسندی جنم لیتی ہے اور ہم پہلے ہی اس وبا کا سامنا کر رہے ہیں۔ جس الزام میں ٹی ایل پی پر کریک ڈائون کیا گیا ہے اور پابندی لگائی گئی ہے‘ ایک دوسری مذہبی جماعت کا ریکارڈ ان سے دس گنا زیادہ شدید ہے لیکن ان کے ساتھ یہ سلوک روا نہیں رکھا گیا۔ یہ امتیازی سلوک صرف اہلسنّت کے ساتھ روا رکھا گیا ہے‘ جبکہ اہلسنّت تحریکِ پاکستان سے لے کر آج تک ہمیشہ پاکستان کے وفادار اور محبِّ وطن رہے ہیں‘ ان کی تاریخ اس پر گواہ ہے‘‘۔ ہم نے ان سے کہا: &#39;آپ مسجد کھولیں ‘ہم ایک معتدل مزاج امام وخطیب فراہم کر دیں گے اور وہ اس مسجد کے پلیٹ فارم سے ریاست وحکومت کیلئے کوئی مسئلہ پیدا نہیں کریں گے‘‘ لیکن آج تک یہ مسئلہ بھی حل نہیں کیا گیا۔حکومت کو پی ٹی آئی کی ریلی کو روکنے کیلئے پورے اسلام آباد اور راولپنڈی واٹک کے ضلعوں کو بند کرنا پڑ ا ہے اور بعض میڈیا رپورٹوں کے مطابق ریلی کے مؤخر اور طویل ہونے کے سبب اس پر ایک ارب روپے کے لگ بھگ اخراجات کا تخمینہ ہے۔ بہتر ہے کہ ساری سیاسی اور مذہبی جماعتیں مل کر قومی اتفاقِ رائے سے احتجاج کیلئے کوئی طریقۂ کار وضع کریں اور پھر سب اس کی پابندی کریں تاکہ ملک کی سماجی زندگی اور معیشت کا پہیہ رواں دواں رہے‘ لیکن کسی ایک طبقے یا جماعت کو تعیین کے ساتھ ہدف بنانا ہرگز جائز نہیں ہے۔ لوگ پوچھتے ہیں کہ رضوی برادران کہاں ہیں؟ ہمیں اس کا کوئی علم نہیں ہے‘ ہم نے وزیر داخلہ اور حساس اداروں سے ایک سے زائد بار پوچھا تو انہوں نے کہا: ہمارے پاس نہیں ہیں۔ اگر حکومت کی نظر میں اُن سے کوئی جرم سرزد ہوا ہے تو بھی عدالتی طریقۂ کار ہی اختیار کیا جائے۔ پاکستان میں مختلف اوقات میں سب جماعتوں پر ابتلا کے ادوار آئے ہیں لیکن پارٹی کا موقف بیان کرنے کیلئے ان کا کوئی نہ کوئی ذمہ دار ترجمان میدان میں رہا ہے۔ ٹی ایل پی کا المیہ یہ ہے کہ وہ خود روپوش ہیں اور توقع یہ کر رہے ہیں کہ سارے علماء و مشایخ ان کیلئے سرپر کفن باندھ کر میدان میں نکل آئیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_61172381.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>