<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>بڑھتی آبادی اور مفلوج انتظامی ڈھانچہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-14/11630</link><pubDate>Wed, 14 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-14/11630</guid><description>وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ پاکستان میں آبادی میں تیز رفتار اضافہ صحت‘ تعلیم اور روزگار کیلئے بڑا چیلنج ہے۔ عالمی بینک کے زیر اہتمام ایک کانفرنس سے خطاب میں وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کو تیزی سے بڑھتی آبادی اور اسکے اثرات سے نمٹنے کیلئے فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔ وفاقی وزیر خزانہ نے ملک کے سب سے سنگین مگر مسلسل نظر انداز کیے جانے والے مسئلے پر توجہ مبذول کرائی ہے۔ 2023ء کی ڈیجیٹل مردم شماری رپورٹ کے مطابق پاکستان میں آبادی میں اضافے کی سالانہ شرح 2.55 فیصد ہے جو نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ دنیا کے کئی خطوں میں سب سے زیادہ ہے۔ اس کا سادہ مطلب یہ ہے کہ ہمارے ملک میں ہر سال 60 لاکھ سے زائد افراد کا اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسے وقت میں جب ریاست موجودہ 25کروڑ سے زائد شہریوں کو پینے کا صاف پانی‘ تعلیم‘ صحت اور روزگار کی سہولتیں بھی فراہم کرنے سے قاصر دکھائی دیتی ہے‘ ہر سال 60 لاکھ سے زائد افراد کا یہ اضافی بوجھ کب تک اٹھایا جا سکتا ہے؟ معاشی ماہرین کے مطابق آبادی کی موجودہ شرحِ نمو کا مقابلہ کرنے اور ملک کو معاشی مسائل کی دلدل سے نکالنے کیلئے ملکی جی ڈی پی کی سالانہ شرحِ نمو کم از کم چھ سے سات فیصد ہونی چاہیے جبکہ اس وقت ہماری معاشی ترقی کی رفتار بمشکل 3.5 سے چار فیصد تک ہے۔

جب تک معیشت کی رفتار آبادی کی رفتار سے دو یا تین گنا زیادہ نہیں ہو گی تب تک غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والی آبادی کے حالاتِ زندگی کو بدلنا ممکن نہیں۔ اس پورے بحران کا ایک تشویشناک پہلو ملک کا وہ فرسودہ اور مفلوج انتظامی ڈھانچہ ہے جو ساڑھے سات عشرے قبل وجود میں لایا گیا تھا۔ 1951ء میں جب چار صوبوں پر مشتمل انتظامی ڈھانچہ تشکیل دیا گیا تھا‘ تب ملک (مغربی پاکستان) کی آبادی تین کروڑ 37لاکھ کے لگ بھگ تھی۔ گزشتہ 75سال میں آبادی میں سات گنا سے زائد اضافہ ہو چکا مگر انتظامی ڈھانچہ جوں کا توں ہے‘ نتیجتاً صوبوں کے درمیان معاشی‘ مالیاتی اور آبادیاتی تفاوت کم ہونے کے بجائے اب ایک گہری خلیج کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ آج پنجاب کی آبادی تقریباً پونے تیرہ کروڑ ہے‘ یعنی ملک کی نصف آبادی صرف ایک صوبے میں مقیم ہے۔ اسکے برعکس‘ بلوچستان‘ جس کا رقبہ پاکستان کے کُل رقبے کا تقریباً 44 فیصد ہے‘ وہاں کی آبادی ڈیڑھ کروڑ سے بھی کم ہے۔ رقبے اور آبادی کا یہ شدید عدم توازن جہاں بڑے شہروں پر آبادی کے بوجھ کو بڑھا رہا ہے وہیں ان کے وسائل کو بھی متاثر کر رہا ہے۔ اسی تناظر میں ورلڈ اکنامک فورم نے اپنی حالیہ خصوصی رپورٹ میں پاکستان کے انتظامی ڈھانچے کو ناکام اور مفلوج قرار دیا ہے۔ مذکورہ رپورٹ کے مطابق نائیجیریا‘ انڈونیشیا‘ کینیا اور برازیل جیسے ممالک نے بڑھتی ہوئی آبادی کو منظم کرنے کیلئے اپنے انتظامی نقشے تبدیل کیے اور صوبوں کی تعداد میں اضافہ کیا تاکہ اختیارات اور فنڈز نچلی سطح تک منتقل ہو سکیں۔
ہمارے ملک میں بھی کئی دردمند طبقات مسلسل اس مسئلے پر توجہ مبذول کرا رہے ہیں کہ ملک کی نئی انتظامی تقسیم‘ حقیقی مالیاتی خود مختاری اور ایک فعال و بااختیار لوکل گورنمنٹ سسٹم کے بغیر نہ تو آبادی پر قابو پانا ممکن ہے اور نہ ہی معاشی ترقی کی منازل طے کی جا سکتی ہیں۔ وزیر خزانہ کا اعتراف اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ سٹیک ہولڈرز مل بیٹھ کر قومی اتفاقِ رائے قائم کریں۔ این ایف سی ایوارڈ کے فارمولے پر بھی نظر ثانی ہونی چاہیے جو صوبوں کو آبادی بڑھانے کی ترغیب دیتا ہے۔ اس کی جگہ کارکردگی اور آبادی کنٹرول کرنے پر مالی مراعات دینے کا نظام لانا ہوگا۔ مفلوج انتظامی ڈھانچے کی جگہ اب چھوٹے اور بااختیار انتظامی یونٹس کا قیام ناگزیر ہو چکا ہے۔ اگر اب بھی تساہل برتا گیا تو آبادی کا بڑھتا بوجھ یہیں تک نہیں رکے گا بلکہ ہر گزرتے دن کیساتھ ملک کو معاشی طور پر مزید کھوکھلا کرتا اور سماجی طور پر ایک بے قابو ہجوم میں بدلتا جائے گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>غربت کا بڑھتادائرہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-14/11629</link><pubDate>Wed, 14 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-14/11629</guid><description>یو این ڈی پی کے کثیر جہتی غربت انڈیکس کے مطابق پاکستان کی 38.3 فیصد آبادی کثیر جہتی غربت کا شکار ہے جبکہ بنگلہ دیش میں یہ شرح تقریباً 15 اور بھارت میں 16 فیصد ہے۔حکمرانوں کیلئے یہ صورتحال لمحہ فکریہ ہونی چاہیے کہ لگ بھگ ساڑھے نو کروڑ پاکستانی کثیر الجہت غربت کا شکار ہیں۔ کثیر جہتی غربت سے مراد محض آمدن کی کمی نہیں بلکہ خوراک‘ صاف پانی‘ صحت‘ تعلیم‘رہائش اور زندگی کی دیگر بنیادی سہولتوں کی عدم دستیابی ہے۔ پاکستان اکنامک سروے 2026ء کے مطابق 2018ء سے 2025ء تک ملک میں غربت کی شرح میں سات فیصد اضافہ ہوا۔ مسلسل مہنگائی بالخصوص توانائی کے بڑھتے اخراجات‘ قوتِ خرید میں کمی‘ معاشی سست روی اور روزگار کے محدود مواقع غربت میں اضافے کے بنیادی اسباب ہیں لیکن تشویشناک امر یہ ہے کہ حکومت کی طرف سے تخفیف غربت کے لیے اقدامات نظر نہیں آتے۔

حکومت کو غربت کے خاتمے کے لیے محض امدادی رقوم اور عارضی سبسڈی جیسے اقدامات تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ تخفیفِ غربت کا مستقل حل عوام کی معاشی سکت مضبوط کرنا اور روزگار کے مواقع میں اضافہ ہے۔ ایسا روزگار جو مہنگائی کے مقابلے میں مناسب آمدن فراہم کرے‘ خاندانوں کو امداد کا محتاج رہنے کے بجائے خود کفالت کی طرف لے جاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے صنعت‘ زراعت‘ برآمدات اور چھوٹے و درمیانے کاروباروں کو وسعت دینا ہو گی‘ اور نوجوانوں کو مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق ہنر سکھانا ہو گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ٹرین حادثہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-14/11628</link><pubDate>Wed, 14 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-14/11628</guid><description>گزشتہ روز کراچی سے پشاور جانے والی رحمان بابا ایکسپریس کی ملتان کے قریب 15 میں سے 14 بوگیاں پٹری سے اُتر گئیں‘ اس حادثے میں چھ مسافر جاں بحق اور تقریباً 40زخمی ہو گئے۔ ملک میں تقریباً ہر ہفتے کوئی نہ کوئی ریل گاڑی کسی حادثے کا شکار ہو جاتی ہے۔ وزارتِ ریلوے کی جانب سے رواں سال مئی میں قومی اسمبلی میں پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق 2021ء سے 2025ء کے دوران ملک میں 448 ریلوے حادثات پیش آئے‘ جن میں 169 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ وزارت کے زیر انتظام ریلوے ٹریک کا تقریباً 67 فیصد حصہ اپنی طبعی عمر پوری کر چکا ہے۔ رواں سال اب تک ریل گاڑیوں کے پٹری سے اترنے کے 50سے زائد واقعات ہو چکے ہیں۔ یہ صورتحال برسوں کی غفلت‘ ناقص منصوبہ بندی اور بروقت مرمت سے چشم پوشی کا نتیجہ ہے۔

ریلوے سستے‘ محفوظ اور مؤثر سفر کے ساتھ معیشت کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہ ذریعۂ آمدورفت ایندھن کی بچت‘ سڑکوں پر دباؤ میں کمی اور عوام کو سستا سفر فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے مگر اس کیلئے محض نئے منصوبوں کے اعلانات نہیں بلکہ فنڈز کی بروقت فراہمی‘ پٹری کی ہنگامی مرمت‘ جدید سگنلز‘ بوگیوں اور انجنوں کی باقاعدہ جانچ اور حفاظتی ضوابط پر سختی سے عمل درآمد درکار ہے۔ حکومت کو ایم ایل ون منصوبے کی جلد از جلد تکمیل کیلئے بھی عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>جب طاقتور پھسلنے لگیں(ایاز امیر)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-10-14/52838/97704016</link><pubDate>Wed, 14 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-10-14/52838/97704016</guid><description>سعودیہ میں جو کچھ ہو رہا ہے دلچسپ تو ہے ہی‘ سبق آموز بھی ہے۔ ولی عہد اور تھے‘ محمد بن نائف۔ اور یہ اپنے سے اس  عہدے پہ نہیں آئے تھے بلکہ خاندان کا فیصلہ تھا کہ ولی عہد کس کو ہونا چاہیے۔ محمدبن نائف سب سے موزوں قرار پائے اور اُنہیں اس رتبے پر بٹھا یا گیا۔ سالہا سال سے وزیرداخلہ تھے‘ امورِ سلطنت اچھی طرح جانتے تھے۔ واشنگٹن کے بھی پسندیدہ شخص تھے۔ لیکن بادشاہت بدلی تو ولی عہد ی کے معاملے پر بھی متبادل خیالات جنم لینے لگے۔ ہوا کیا دنیا جانتی ہے۔ رات گئے محمد بن نائف کو شاہی پیغام ملا کہ کسی بیٹھک میں اُن کی موجودگی ضروری ہے۔ یہ جون 2017ء کا واقعہ ہے۔ شہزادہ نائف اپنے محل سے آئے۔ آتے ہی اُن کے محافظوں کو غیر مسلح کر دیا گیا۔ فون لے لیے گئے اور ماحول کچھ ایسا بنا کہ کچھ دیر بعد شہزادہ نائف اپنے تمام عہدوں سے دستبردار ہوگئے۔ ٹی وی پر فوٹیج آئی جس میں دیکھا گیا کہ شہزادہ محمد شہزادہ نائف کے ہاتھ پر بوسہ دے رہے ہیں۔ یہ فوٹیج دنیا کو دکھائی گئی۔ لیکن پیچھے اس فوٹیج کے ایک بہت بڑاواقعہ ہو چکا تھا۔ شہزادہ نائف کی جگہ شہزادہ محمد نئے ولی عہد مقرر ہوئے۔ 2017ء سے لے کر آج تک وہ ولی عہد تو ہیں ہی لیکن بادشاہت کے اصل فرمانروا بھی ہیں۔ شاہ سلمان کی عمر وہ نہیں رہی کہ روزمرہ کے معاملات باریکی سے دیکھ سکیں۔اوپر بیان کیے گئے واقعہ سے دو سال پہلے جنوری 2015ء میں جب سلمان بن عبدالعزیز سعودیہ کے بادشاہ بنے تو فورا ًہی پرنس محمد کو وزیر دفاع بنایا گیا۔ دو ماہ بعد یعنی مارچ 2015ء میں سعودی عرب اور یو اے ای نے یمن میں انصاراللہ جنہیں دنیا حوثی کے نام سے جانتی ہے‘ پر مشترکہ حملہ کر دیا۔صدر امریکہ تب باراک اوباما تھے۔ اس حملے میں امریکہ کی پوری معاونت تھی۔ سعودیہ نے حملے میں فضائی قوت اور مالی وسائل مہیا کیے اور یو اے ای کی طرف سے زمین پر فوجی دستے بھیجے گئے۔ انصاراللہ پر وحشیانہ بمباری کا آغاز ہوا جوکہ عرصہ دراز تک جاری رہی۔ یمن کا فضائی اور سمندری محاصرہ بھی کیا گیا جس میں امریکی بحری وسائل پوری طرح سے استعمال ہوئے۔ بمباری تو حوثی سہتے رہے لیکن محاصرے سے کھانے پینے کی اشیا اور دوائیوں کی آمد بُری طرح متاثر ہوئی۔ یمن جوکہ پہلے ہی بہت غریب تھا اُس کی آفتوں میں اضافہ ہوتا گیا۔ عالمی تخمینوں کے مطابق بندش اور قحط کی وجہ سے تقریباً تین ساڑھے تین لاکھ اموات ہوئیں۔ جب یہ صورتحال پیدا ہو رہی تھی تینوں حملہ آور ممالک‘ سعودی عرب‘ یو اے ای اور امریکہ کے رویوں میں کوئی نرمی نہیںآئی۔یمن کے عوام پر یہ تمام مظالم ڈھائے جانے کے باوجود حوثیوں کی فوجی قوت نہیں ٹوٹی۔ نہ اُن کے عزم میں کوئی فرق آیا۔ عرصہ سات سال پر محیط فوجی کارروائیوں کے بعد تھکاوٹ کی کچھ ایسی صورت بنی کہ سعودی عرب اور حوثیوں میں 2022ء میں جنگ بندی کا معاہدہ ہو گیا۔ معاہدے کے باوجود سعودیہ نے فضائی اور سمندری محاصرہ جاری رکھا۔ شہزادہ محمد کی عمر 29سال تھی جب وہ وزیردفاع بنے۔ عالمی مبصرین کے مطابق یمن پر حملہ ایک طریقے سے ایک کوشش تھی دنیا کو باور کرانے کی کہ وہ بڑی ملٹری سوجھ بوجھ رکھتے ہیں۔ حملہ کرتے وقت سعودیہ اور یو اے ای دونوں میں یہ سمجھا جا رہا تھا کہ حوثیوں نے کیا مزاحمت کرنی ہے‘ اُن کی شکست یقینی ہے اور جنگ کچھ ہی عرصے میں ختم ہو جائے گی۔ ختم کیا ہونا تھی‘ سات سال چلتی رہی ۔ سعودی عرب کے بے پناہ وسائل جنگ میں صرف ہوئے اور سب کو نظر آ رہا تھا کہ سعودی عرب کسی دلدل میں پھنس گیا ہے۔ یہ بالکل ایسے ہی تھا جیسے امریکہ اور اسرائیل نے سمجھا کہ ایران پر ایسا سخت فضائی حملہ ہوگا کہ ایران اُس کی تاب نہ لا سکے گا۔ ایرانی انقلاب پسپا ہو جائے گا اور ایرانی قیادت امن اور رحم کی بھیک مانگ رہی ہوگی۔ جیسا ہم دیکھ رہے ہیں نتیجہ اُلٹا نکلا۔ حملہ 28فروری کو ہوا اور ایران پر چڑھائی چند ہفتوں کی بات سمجھی جا رہی تھی۔ وہ چند ہفتے آج آٹھویں مہینے میں بدل چکے ہیں اور ابھی تک جنگ کے اختتام کا کوئی منظر آنکھوںکے سامنے نہیں۔ ایران کے گھٹنے کیا ٹِکنے تھے امریکہ کو راہ ِ فرار نہیں مل رہی۔ امریکہ اس جنگ سے نکلے تب ہی جب ایران ہار مانے اور ہاتھ جوڑے۔ایسا ہو نہیں رہا اور جنگ کے اثرات پوری دنیا پر پھیل چکے ہیں۔لبِ لباب اس داستان کا یہ نکلا کہ سعودیوںکے اندازے انصاراللہ کے بارے میں غلط ثابت ہوئے اور امریکہ اسرائیل کے اندازے ایران کے بارے میں تباہ کن حد تک غلط ثابت ہوئے۔امریکہ دنیا کی طاقتور ترین طاقت ہے۔ ویتنام اور عراق جیسے بلنڈر بھی کرے تو نقصان سہہ سکتا ہے۔ ایران پر حملہ حماقت تھی‘اس کی قیمت چکا رہا ہے۔ سعودیہ کا المیہ زیادہ خطرناک ہے کیونکہ یہ جو پھر انصاراللہ سے جنگ چھڑ چکی ہے اس کے شعلے سعودی شہروں تک پہنچ رہے ہیں۔ ریاض ایئرپورٹ کا میزائلوں کی زد میں آنا کوئی معمولی واقعہ نہیں۔ ایئرپورٹ پر دو تین حملے ہو چکے ہیں اور ایک میں تو بھاری جانی نقصان ہوا۔ ایئرپورٹ بند‘ فلائٹیں معطل ایک بحران کی کیفیت کا پیدا ہونا۔ وہ سارا تصور جو بنا ہوا تھا کہ یہاں بڑا استحکام ہے اور اس میں کوئی خلل نہیں پڑ سکتا وہ سب ہوا میں اُڑ گیا۔ جب ایران جنگ کے شروع میں ایرانی ڈرون اور میزائل یو اے ای کی طرف چھوڑے گئے تو یواے ای کا دفاعی نظام ایک حد تک مؤثر ثابت ہوا۔ میزائل اور ڈرون نے تباہی مچائی بھی لیکن بہت سے میزائل اور ڈرون گرائے بھی گئے۔ سعودیہ پر تو انصارا للہ میزائل گرائے جا رہا ہے اور لگتا ہے کہ دفاعی نظام اگر ہے بھی تو بہت ناقص قسم کا ۔ ریاض ایئرپورٹ کے علاوہ دمام کے ہوائی اڈے پر میزائل اٹیک ہوئے ہیں۔ مشرق مغرب تیل پائپ لائن کئی مقامات سے اُڑا دی گئی ہے۔ پمپنگ سٹیشن حملوں کی زد میں آئے ہیں۔ دنیا کی سب سے بڑی ریفائنری اُس پر میزائل گِرے ہیں۔ سعودی عرب کا سارا دارومدار تیل پر ہے اور تیل کی پیداوار اور ترسیل بُری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ یہ جنگ ناگزیر نہ تھی۔ سعودیہ اور انصار اللہ کے درمیان 2022ء سے جنگ بندی چل رہی تھی۔ سعودیہ کے اولین مفاد میں تھا کہ جنگ بندی قائم رہے‘ لیکن ایک نسبتاًمعمولی واقعہ کی وجہ سے سعودی ایئرفورس نے صنعا ایئرپورٹ کے رن وے پر حملہ کر دیا۔ اس بنا پر کہ ایک ایرانی جہاز انصاراللہ کے حکومتی عہدیداروں کو لے کر بغیر سعودی اجازت کے تہران سے صنعا آ رہا ہے۔ سعودی فیصلہ سازوں کو کچھ تو سوچنا چاہیے تھا کہ کیا عوامل دا ؤ پر لگے ہوئے ہیں۔ ایرانی جہاز کی اڑان سے سعودی اَنا کو کوئی ٹھیس پہنچی بھی تھی تو تحمل سے کام لینا چاہیے تھا۔ لیکن نہ آؤ دیکھا نہ تاؤ اور حملہ کر دیا۔ انصار اللہ شاید اسی موقع کے انتظار میں تھے۔ رن وے پر حملہ ہوتا گیا اور اُنہوں نے اپنا زمینی حملہ شروع کر دیا۔ سعودیہ کے پاس لڑاکا جہازوں کی کمی نہیں ۔ اچھا دوست کوئی ہے تو سمجھانے کی کوشش کرے نہیں تو نقصان بہت زیادہ ہو سکتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_80573045.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>لاہور، دہلی، اسلام آباد تک ماحولیاتی بربادی(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-10-14/52839/92354545</link><pubDate>Wed, 14 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-10-14/52839/92354545</guid><description>پی ٹی آئی کو یقین تھا کہ صوبے میں گورنر راج نہیں لگے گا۔ میرا بھی خیال تھا کہ وفاقی حکومت اس حد تک نہیں جائے گی۔ پی ٹی آئی اور میرے یقین میں فرق تھا۔ پی ٹی آئی کو اپنی مقبولیت پر یقین تھا کہ اگر گورنر راج لگا تو ہزاروں‘ لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکل آئیں گے۔ پی ٹی آئی کی قیادت کو یہ بھی لگتا تھا کہ صوبے میں دہشت گردی کی جو صورتحال ہے‘ وفاقی حکومت حالات نہیں سنبھال پائے گی۔ بلوچستان اور کشمیر کے حالات بھی سامنے ہیں۔ اوپر سے صوبوں کے معاملے پر پیپلز پارٹی کو بھی ناراض کر رکھا ہے۔ انہیں یقین تھا کہ صدر زرداری خیبر پختونخوا میں گورنر راج پر راضی نہیں ہوں گے۔ پیپلز پارٹی پر دباؤ ہو گا کہ اگر آج صدر زرداری نے کے پی کے میں گورنر راج لگایا تو کل کو سندھ میں بھی اس کی راہ ہموار ہو سکتی ہے لہٰذا صدر زرداری خیبر پختونخوا کی حکومت کو اپنے مفاد میں بچائیں گے۔ مطلب یہ کہ پی ٹی آئی کا زیادہ انحصار پیپلز پارٹی کے ارکان کے گورنر راج کے خلاف بیانات اور صدر زرداری پر تھا‘ لہٰذا اپنی حکومت کو کچھ لو کچھ دو کی بنیاد پر مذاکرات کے ذریعے بچانے کے بجائے وہ ضد پر اترے اور لانگ مارچ شروع کر دیا۔ میرا خیال کچھ اور تھا۔ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی پچھلے تیرہ سال سے حکومت کر رہی تھی اور ایسی طویل حکومتوں سے لوگ بیزار اور تنگ آ جاتے ہیں۔ اگلے الیکشن میں شاید پی ٹی آئی کو وہ عوامی حمایت نہ ملتی جو اسے پچھلے تین الیکشنوں میں ملی‘ اس حکومت کو ختم کر کے آپ پی ٹی آئی کو سیاسی شہید بنا دیں گے‘ جیسے عمران خان بن گئے۔ بہتر ہوتا کہ اس حکومت کو باقی مدت بھی پوری کرنے دی جاتی۔ مسلسل حکومت کرنے کے جہاں فوائد ہیں وہاں نقصانات بھی ہیں کیونکہ لوگوں کو حکومت سے بہت سی شکایات پیدا ہو جاتی ہیں۔ بھارت کو ہی دیکھ لیں جہاں بارہ سال سے نریندر مودی وزیراعظم ہیں۔ اب ان کے خلاف بڑے بڑے مظاہرے شروع ہو گئے ہیں حالانکہ دیکھا جائے تو ان کے دور میں بھارت میں معاشی ترقی نسبتاً زیادہ ہوئی ہے۔ اس وقت بھارت کے زرمبادلہ کے ذخائر سات سو ارب ڈالر کے قریب ہیں۔ لوگوں کی قوتِ خرید اور مڈل کلاس میں اضافہ ہوا ہے۔ پچھلے سال 70 فیصد آئی فونز بھارت میں بنا کر امریکہ بھیجے گئے۔ اس وقت بھارت معاشی طور پر طاقتور ملکوں کے ہم پلہ ہے۔ بہت سے بھارتیوں کو تو یہ بھی گمان ہے کہ وہ بہت جلد دنیا کی نمبر ون معیشت بن جائیں گے‘ اگرچہ کچھ اب بھی کہتے ہیں کہ بھارت ابھی چین کے معاشی معیار اور ترقی سے بہت دور ہے کیونکہ صرف پیسہ‘ زرمبادلہ کے ذخائر یا تجارت ہی کافی نہیں ہوتی بلکہ عوام کا معیارِ زندگی اور معیاری انفراسٹرکچر بھی کسی ملک کو سپر پاور کے درجے پر فائز کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔حال ہی میں ایک کانفرنس میں ایک عالمی مالیاتی ادارے کی خاتون سربراہ نے کہا کہ بھارت کتنا ہی آگے کیوں نہ بڑھ جائے اسے وہ عالمی پوزیشن نہیں ملے گی جس پر دیگر ممالک کھڑے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی معاشی ترقی کو سب سے بڑا خطرہ ماحولیاتی آلودگی سے ہے اور بھارت اس وقت آلودگی میں پہلے نمبر پر ہے۔ باقی چھوڑیںدارالحکومت دہلی میں آلودگی کی وجہ سے لوگوں کا جینا حرام ہو چکا ہے۔ دہلی دنیا کا آلودہ ترین شہر ہے۔ اس خاتون نے‘ جو بھارتی نژاد ہے‘ بڑی خوبصورت بات کہی کہ اس معاشی ترقی کا آپ نے کیا کرنا ہے اگر آپ کے ہاں جنگل کٹ رہے ہوں‘ سبزہ ختم ہو رہا ہو‘ شہر گندگی سے بھرے پڑے ہوں‘ ہر طرف بُو ہو۔ اس بیان پر بھارت میں خاصا شور مچا۔ ایک تو مودی کے ان دس بارہ برسوں میں بھارتیوں کے اندر بہت پھونک بھر دی گئی ہے کہ وہ پوری دنیا سے الگ مخلوق ہیں‘ اُن پر کوئی تنقید یا منفی تبصرہ نہیں کر سکتا‘ لہٰذا ان سب نے جی بھر کر اُس خاتون کو برا بھلا کہا۔ لیکن کیا اس خاتون نے بھارت میں رہنا ہے یا اسے اس بات سے کوئی فرق پڑتا ہے کہ بھارت سرسبز رہتا ہے‘ وہاں درخت یا جنگل بچ جاتے ہیں اور شہر صاف ستھرے ہو جاتے ہیں؟ اس خاتون نے میرے سوچنے کے انداز کو بدل کر رکھ دیا کہ آپ کے پاس سات سو ارب ڈالر بھی ہوں تو بھی آپ پسماندہ ہیں‘ کیونکہ آپ کے ملک کا ماحول برباد ہے۔ وہی ممالک اچھے اور سپر پاور ہیں جو معاشی طور پر مضبوط ہونے کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی طور پر بھی محفوظ ہیں۔ خاتون کا کہنا تھا کہ کوئی بزنس مین بھارت میں زیادہ دیر کیوں رہے گا‘ اگر وہاں کا ماحول آلودہ ہے اور وہ سانس تک نہیں لے سکتا اور پورے دہلی کو سموگ نے گھیر رکھا ہے۔ہم بھی اس وقت اسلام آباد کے ساتھ یہی بربادی کر رہے ہیں۔ پہلے یہ کام شہباز شریف کی وزارتِ اعلیٰ کے دور میں لاہور میں ہوا۔ پورے پنجاب کا بجٹ لاہور پر لگا دیا گیا۔ پورے صوبے سے لوگ ہجرت کر کے لاہور آن بسے اور یوں سارے انفراسٹرکچر پر دباؤ پڑا۔ اس وقت لاہور بھی دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں شمار ہوتا ہے۔ وہاں دریائے راوی کے کنارے جنگلات اور ہزاروں ایکڑ سونا اگلتی زمینیں‘ سب کچھ بلڈرز کو دے دیا گیا۔ جو خالی کھیت نظر آیا‘ وہاں سیمنٹ اور سریا ٹھوک دیا گیا اور لاہور اب سانس نہیں لے سکتا۔وہی ماڈل اب اسلام آباد میں شروع ہے۔ یہاں بھی دو سالوں میں ہزاروں درخت کاٹے‘ بڑے بڑے جنگلات کاٹ ڈالے گئے ہیں اور اسلام آباد کا ماحولیاتی توازن بگڑتا جا رہا ہے۔ وہی اسلام آباد جہاں روزانہ بارشیں ہوتی تھیں‘ وہاں اب گرمیوں میں درجہ حرارت مزید بڑھ گیا ہے۔ ستمبر بھی گرم گزرا ہے۔ ابھی ایک اور خطرناک کام کیا جا رہا ہے کہ سری نگر روڈ پر سپورٹس گراؤنڈ کے نزدیک ایک بڑے جنگل کی نیلامی کر کے وہاں ہوٹل بنائے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ایف فائیو میں بھی نیا کنونشن سنٹر کم ہوٹل بنایا جا رہا ہے اور مزے کی بات یہ کہ موجودہ کنونشن سنٹر برسوں سے خالی پڑا ہے اور اسے 2017ء سے نجکاری کمیشن نے فروخت کی فہرست میں ڈالا ہوا ہے کہ اسے بیچ دیں۔ اب تک وہ نہیں بکا تو اب دو نئے کنونشن سنٹرز بن رہے ہیں۔ اربوں کی لاگت سے نیا کنونشن سنٹر بہارہ کہو میں بنے گا اور ساتھ ہی ایف فائیو سیکٹر میں ہوٹل نما کنونشن سنٹر بھی بنے گا۔اس کے علاوہ ڈی بارہ سیکٹر‘ جو پہاڑوں کے ساتھ کا علاقہ ہے‘ وہاں دس بارہ ارب کی لاگت سے نیا کرکٹ سٹیڈیم بنایا جا رہا ہے۔ مزے کی بات ہے کہ پنڈی کرکٹ گراؤنڈ وہاں سے صرف دس منٹ کی ڈرائیو پر ہے‘ جو پورا سال خالی پڑا رہتا ہے‘ لیکن اسلام آباد میں کئی ایکڑوں پر محیط علاقہ بلڈوز کر کے نیا سٹیڈیم بنے گا جہاں ہر طرف درخت‘ جنگل اور پہاڑ ہیں‘ جو کٹیں گے۔ اس سال سی ڈی اے کا بجٹ 152ارب ہے اور سارا پیسہ جنگل‘ درخت‘ سبزہ‘ گرین بیلٹس اور پہاڑ کاٹ کر وہاں ہوٹل‘ کرکٹ گراؤنڈز اور کنونشن سنٹرز بنانے پر خرچ ہو رہا ہے۔حیران ہوں کہ 24 کلومیٹر کا چھوٹا سا شہر جہاں پہلے ہی دو تین سو ہاؤسنگ سوسائٹیز ہیں‘ اتنی ماحولیاتی بربادی کیسے برداشت کر سکتا ہے جتنی اس وقت کی جا رہی ہے۔ یہ سب وزیر‘ سفیر‘ سیاستدان اور سرکاری بابو دو تین سال منافع کما کر پرتگال میں جائیدادیں خریدیں گے اور پیچھے لوگ اس ماحولیاتی آلودگی کا عذاب بھگتیں گے‘ جیسے اس وقت لاہور اور نئی دہلی بھگت رہے ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ ان ظالموں کے ہاتھ روکنے والا بھی کوئی نہیں۔ اس شہر کو ترقی کے نام پر برباد کرتے ہی چلے جا رہے ہیں۔ اپنے ایک پاؤ گوشت کے لیے پورا اونٹ ذبح کر رہے ہیں۔اگر بھارت کے سات سو ارب ڈالر بھی بھارتی عوام کو سڑکوں پر آنے سے نہیں روک سکے تو سمجھ لیں کہ معاشی ترقی سب کچھ نہیں ہوتی‘ جیسے اس عالمی ادارے کی خاتون نے بھارت کو طنزاً کہا تھا کہ لائف سٹائل اور خوبصورت ماحول اہم ہوتے ہیں‘ ورنہ آپ تیسری دنیا کے پسماندہ لوگ ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>راولپنڈی کے قدیم چائے خانے(شاہد صدیقی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-siddiqui/2026-10-14/52840/58746747</link><pubDate>Wed, 14 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-siddiqui/2026-10-14/52840/58746747</guid><description>یہ راولپنڈی کے قدیم چائے خانوں کا تذکرہ ہے جہاں مجھے جانے‘ بیٹھنے‘ گپ شپ لگانے اور چائے پینے کا اتفاق ہوا۔ ہو سکتا ہے اس تذکرے میں بہت سے چائے خانوں کا تذکرہ نہ ہو جن سے آپ واقف ہوں لیکن جیسے میں نے پہلے کہا کہ یہ صرف ان چائے خانوں کی کہانی ہے جن سے میرا ذاتی تعلق اور وابستگی رہی۔ یہاں ایک اور وضاحت بھی ضروری ہے۔ اُس زمانے میں ریستوران اور ہوٹل کا فرق نہیں ہوتا تھا اور اکثر ریستوران کو ہوٹل کے نام سے ہی پکارا جاتا تھا۔ راولپنڈی کے جن چائے خانوں کی کہانی آپ سنیں گے ان میں سے اکثر وقت کے ساتھ ساتھ معدوم ہو گئے اور ان کی جگہ جدید شاپنگ سنٹرز نے لے لی ہے لیکن یہ چائے خانے اب تک میری یادوں میں زندہ ہیں۔ آنکھیں بند کرتا ہوں تو بیتے ہوئے دن اور ان معدوم چائے خانوں کے دھندلے منظر واضح ہونے لگتے ہیں۔ میرے بچپن کا ایک حصہ ٹینچ بھاٹا میں گزرا۔ یہ راولپنڈی کی ایک پرانی اور معروف بستی ہے جو اپنے طویل ترین بازار کی وجہ سے جانی جاتی ہے۔ ٹینچ بھاٹا میں ہم جس گلی میں رہتے تھے اس کے قریب ہی مین روڈ پر معروف‘ اقبال ہوٹل ہوا کرتا تھا جہاں کبھی کبھار میں اپنے بڑے بھائیوں کے ساتھ جاتا تھا۔ اس ہوٹل میں اکثر شام ڈھلے لوگ آنا شروع ہو جاتے اور چائے پر گپ شپ ہوتی۔ ٹینچ بھاٹا میں دو اور ہوٹل بھی تھے جہاں ہر وقت بھیڑ لگی رہتی تھی۔ ان میں سے ایک گلزار ہوٹل اور ایک مغل ہوٹل تھا۔ مجھ سے بڑے‘ انعام بھائی اپنے دوستوں کے ساتھ اکثر ان ہوٹلوں میں جاتے تھے۔ ان کے ہمراہ مجھے بھی مغل ہوٹل اور گلزار ہوٹل میں جانے کا اتفاق ہوا۔ ٹینچ بھاٹا کے کرائے کے گھر کے بعد ہم راولپنڈی کی ایک اور قدیم بستی ٹاہلی موہری کی ایک نئی آبادی نورس کالونی میں آ گئے جہاں ہم نے اپنا نیا گھر تعمیر کیا تھا۔ ٹاہلی موہری چوک میں ہمارے سامنے ہما ہوٹل کی تعمیر کا آغاز ہوا۔ یہ ایک باقاعدہ ہوٹل تھا جس کی بالائی منزل پر رہائشی کمرے تھے اور جس کے لائونج میں ریستوران تھا۔ مجھے یاد ہے یہ اس زمانے کا ایک جدید طرز کا ریستوران تھا۔ میں دوستوں کے ہمراہ کئی بار اس ریستوران میں گیا۔ بہت عرصے کے بعد مجھے ٹینچ بھاٹا اور ٹاہلی موہری جانے کا اتفاق ہوا تو ان میں سے کوئی بھی ہوٹل باقی نہ تھا۔راولپنڈی کی لال کُرتی میں میرا ہائی سکول تھا اور جس کے بازار اور سڑکوں پر میرا بہت وقت گزرا۔ یوں تو یہاں کئی ہوٹل تھے لیکن مجھے بگا ہوٹل یاد ہے‘ جہاں کھانا اور چائے ملتے تھے۔ البتہ لال کُرتی میں ہم دوستوں کا اصل ٹھکانہ ملّا کا ہوٹل تھا۔ یہاں کی خاص بات چائے بنانے کا منفرد طریقہ تھا جس میں ایک چولہے پر قہوہ اور دوسرے چولہے پر دودھ اُبل رہا ہوتا۔ یوں یہ ایک طرح کی سیپرٹ (separate) چائے ہوتی‘ جس کا اپنا ہی ذائقہ تھا۔ ملا ہوٹل کی ایک اور خاص بات یہ تھی کہ اگر آپ چائے کا پورا کپ نہ پینا چاہیں تو آپ آدھا کپ بھی آرڈر کر سکتے تھے۔ اس کو یہاں کی زبان میں کٹ (Cut) کہا جاتا تھا۔ یہ عام کپ سے سستا ہوتا اور ہم طالب علموں کو سوٹ کرتا تھا۔ ہم اکثر کٹ آرڈر کرتے اور یہاں بیٹھ کر گپ شپ لگاتے۔کینٹ کے علاقے کا سب سے بڑا شاپنگ سنٹر صدر تھا‘ جو انگریزوں نے اپنی آمد کے بعد آباد کیا تھا۔ انگریز اپنے ساتھ اور بہت سی چیزوں کے علاوہ چائے بھی لائے تھے۔ کالج کے زمانے میں میری شناسائی صدر کے ریستورانوں سے ہوئی۔ صدر کے ہر ریستوران کا اپنا ایک مخصوص ماحول اور گاہک تھے۔ بینک روڈ پر سپر کیفے اپنے زمانے کا معروف ریستوران تھا۔ کیفے سے زیادہ کیفے کے مالک کی شخصیت ہمارے لیے اہم تھی۔ وہ &#39;&#39;فارغ البال‘‘ تھے اور لڑکے بالے انہیں فون کر کے پہلے تو مینو پوچھتے‘ پھر آخر میں ان کو دیا گیا نام پکارتے‘ جس کے جواب میں دی گئی مغلظات سن کر وہ قہقہے لگاتے۔ اب سوچتا ہوں وہ بھی کیا زمانہ تھا‘ ہم بات بے بات ہنسنے کے مواقع تلاش کیا کرتے تھے۔ سپر ہوٹل کے ہمسائے میں کامران ہوٹل تھا۔ میں جس زمانے کی بات کر رہا ہوں اس وقت ہمارا ٹھکانہ کامران ہوٹل ہوا کرتا تھا‘ جہاں انگلش ٹی ملتی تھی۔ انگلش ٹی سے مراد یہ ہے کہ چائے کی پیالی میں تھوڑی سی کافی کی آمیزش ہوتی۔ یاد رہے کہ اصل کامران ہوٹل کامران مارکیٹ میں تھا‘ جس میں رہائشی کمرے بھی تھے۔ کامران ہوٹل کی ایک برانچ ٹوپی رکھ (موجود ہ نیشنل پارک) میں ہوا کرتی تھی جس میں گھاس کا ایک وسیع و عریض لان تھا۔ اُن دنوں ٹوپی رکھ راولپنڈی کی ایک اہم سیرگاہ تھی۔ بالی وڈ کے مشہور اداکار بلراج ساہنی‘ جن کی پیدائش راولپنڈی میں ہوئی تھی‘ نے اپنے پاکستان کے سفرنامے میں راولپنڈی کی جن پسندیدہ جگہوں کا ذکر کیا ہے ان میں ٹوپی رکھ بھی شامل ہے۔ یہاں سال کے سال بڑے پیمانے پر موسیقی کا ایک پروگرام ہوا کرتا تھا۔ سینیٹر پرویز رشید جو اُن دنوں سکول میں پڑھتے تھے‘ بتاتے ہیں کہ ایک بار وہ بھی اپنے والد صاحب کے ہمراہ موسیقی کے اس سالانہ پروگرام کو سننے کیلئے ٹوپی رکھ میں واقع کامران ہوٹل گئے تھے۔ انہوں نے دیکھا کہ اُس وقت کے صدر فیلڈ مارشل ایوب خان سوٹ پہنے اور سر پر قراقلی ٹوپی سجائے پہلی صف میں بیٹھے ہیں۔ پرویز رشید بتاتے ہیں کہ اس دن گلوکارہ ثریا ملتانیکر نے اپنا معروف گیت &#39;&#39;بڑے بے مروت ہیں یہ حسن والے کہیں دل لگانے کی کوشش نہ کرنا‘‘ گایا تھا۔اسی دوران صدر میں ایک نئے ریستوران برلاس کا آغاز ہوا جو جلد ہی ہماری توجہ کا مرکز بن گیا۔ اس کی ایک وجہ اس کا محلِ وقوع تھا۔ ہم برلاس کی بالائی منزل پہ بیٹھتے تو اس کی شیشے کی دیوار سے صدر کی سڑک اور اس پر رواں دواں ٹریفک ہمیں صاف نظر آتی۔ اس ریستوران کی اور ایک خاص بات اس کے چائے کے بڑے سائز کے کپ تھے۔ میں صدر کے علاقے میں ہوتا تو اکثر برلاس چلا جاتا۔ یہیں ایک بار چائے پر گفتگو کے دوران معروف شاعر نثار ناسک نے اپنا ایک شعر سنایا جو یادوں میں ابھی تک تروتازہ ہے۔میں سازشوں میں گھِرا ا ک یتیم شہزادہیہیں کہیں کوئی خنجر مری تلاش میں ہےصدر کے سیروز سینما کے بالکل سامنے ووگیز کے نام سے راولپنڈی کا ایک معروف کیفے تھا جہاں کافی اور چائے دستیاب ہوتی تھی۔ انہی دنوں بینک روڈ پر واقع کریم ہوٹل اور نوائے وقت کے دفتر کی پشت پر داتا ہوٹل کا آغاز ہوا۔ شالیمار ہوٹل میں بیٹھنے والے شاعروں‘ ادیبوں کے ایک گروپ نے اب داتا ہوٹل میں بیٹھنا شروع کر دیا تھا۔ یہیں پر ایک دفعہ معروف شاعر اور کالم نگار اجمل نیازی مرحوم کے ساتھ چائے پی رہا تھا تو باتوں باتوں میں اجمل نیازی نے اپنا ایک شعر سنایا۔ اس بات کو مدتیں بیت گئیں لیکن وہ شعر میرے حافظے میں اب بھی تازہ ہے:منزلوں پر بھی پہنچ کر وہ ابھی تک منزلوں جیسا نہیںاس کی آنکھوں میں نہیں ہیں راستوں کے منظروں کی حیرتیںوہ راستوں کے منظروں کی حیرتیں سمیٹنے کے دن تھے۔ یوں بھی وہ حیرتوں کی فراوانی کا زمانہ تھا جب ہمیں گرمیوں کی تپتی ہوئی دوپہریں اور سردیوں کی ٹھٹھرتی ہوئی شامیں بھی گھروں میں نہ روک سکتی تھیں۔ سرِ شام ریستورانوں کی کشش ہمیں اپنی طرف بلاتی اور ہم اس کی پکار پر کھنچے چلے جاتے تھے۔ (جاری) </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_21538475.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>نوبت گورنر راج تک کیوں آئی؟(سلمان غنی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/salman-ghani/2026-10-14/52841/63142106</link><pubDate>Wed, 14 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/salman-ghani/2026-10-14/52841/63142106</guid><description>خیبر پختونخوا میں دہشت گردی اور امن و امان کی خراب صورتحال کے پیشِ نظر ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ متوقع تھا اور وفاقی حکومت نے اتوار کے روز یہ کر دیا۔ صوبے میں امن و امان کے قیام اور دہشت گردی کے واقعات پر قابو پانے کی بنیادی ذمہ داری صوبائی حکومت کی تھی تاہم صوبائی حکومت اس حوالے سے سنجیدہ رویہ اختیار کرنے کے بجائے وفاق پر عدم تعاون کے الزامات عائد کرتی رہی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کے پی کے میں دہشت گردی خطرناک صورت اختیار کر گئی۔ وفاق بار بار صوبائی حکومت پر زور دیتا رہا کہ وہ اپنی آئینی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف اقدامات میں وفاق سے تعاون کرے اور صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے پر توجہ دے لیکن پی ٹی آئی کی حکومت اس معاملے کو اپنے سیاسی ایجنڈے سے جوڑتی رہی۔ خیبرپختونخوا حکومت اور پی ٹی آئی نے سیاسی محاذ پر ایسی صورتحال برقرار رکھی جس سے وفاق کے تحفظات میں اضافہ ہوا۔ ریاستی ادارے وفاق  کو خبردار کر رہے تھے کہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے نتیجے میں دہشت گرد وفاقی دارالحکومت میں داخل ہو کر غیرمعمولی صورتحال پیدا کر سکتے ہیں۔ مغربی سرحد کے دوسری جانب دہشت گردی کو منظم کرنے کی سرگرمیاں بھی ریکارڈ پر تھیںجبکہ اسلام آباد کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی بھی بعض قوتوں کو ہضم نہیں ہو رہی تھی۔ ان حالات میں حکومت اور متعلقہ ادارے الرٹ رہے۔ حکومت نے پی ٹی آئی کے ذمہ داران کو متعدد بار اعتماد میں لیتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان دشمن قوتیں ملک کو غیرمستحکم کرنے کے ایجنڈے پر گامزن ہیں اور ان کا خصوصی ہدف اسلام آباد ہے اس لیے ایسا طرزِ عمل اختیار کرنے سے گریز کیا جائے جس کے منفی نتائج خود پی ٹی آئی کیلئے بھی سامنے آئیں۔شدید تحفظات کے باوجود حکومت اور اس کے اتحادیوں نے پی ٹی آئی کے ساتھ معاملات کے سیاسی حل کیلئے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا۔ پس پردہ اور کھلے عام ملاقاتوں اور مشاورت کا سلسلہ جاری رہا لیکن کوئی نتیجہ خیز پیش رفت نہ ہو سکی۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے دو ادوار کے بعد اتفاقِ رائے کی صورت پیدا ہوئی‘ طے پایا کہ احتجاجی تحریک ختم کی جائے گی اور پی ٹی آئی کے بعض مطالبات جن میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور ان کے علاج معالجے کی سہولتوں کیلئے پیش رفت شامل تھی‘ پر عمل درآمد کی کوشش کی جائے گی۔ تاہم یہ اتفاقِ رائے بعض عناصر کو قبول نہ ہوا اور چند ہی گھنٹوں بعد ایسی شرائط سامنے آ گئیں جنہیں حکومت کیلئے تسلیم کرنا ممکن نہیں تھا۔ یہی ڈیڈلاک ایمرجنسی اور گورنر راج کے آئینی آپشنز پر پیش رفت کا باعث بنا۔ حکومت مذاکرات میں پی ٹی آئی کے متعدد مطالبات تسلیم کر چکی تھی اور اپوزیشن کے مذاکرات کار بھی ان پر اتفاق کر چکے تھے۔ ریاستی سطح پر اس حوالے سے یکسوئی دکھائی دی گئی کہ خیبرپختونخوا کے عوام کو دہشت گردی کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا جبکہ صوبائی حکومت اپنی آئینی اور سیاسی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہی ۔ مزید یہ کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اسلام آباد میں مذاکرات کے بعد احتجاجی مارچ میں تیزی لاتے ہوئے ریاست کو تنقید کا نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ اس طرزِعمل سے یہ تاثر مضبوط ہوا کہ پی ٹی آئی صوبے میں اپنی بنیادی ذمہ داریاں ادا کرنے کے بجائے ایسے سیاسی ایجنڈے پر گامزن ہے جس سے کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ وفاق اور متعلقہ اداروں کے بھی اس حوالے سے تحفظات مزید واضح ہو گئے۔ گوکہ حکومت نے مذاکرات کے ذریعے خیبرپختونخوا کے معاملات اور پی ٹی آئی کے مسائل حل کرنے کی سنجیدہ کوشش کی‘ جس میں مثبت پیش رفت بھی ہوئی لیکن چند گھنٹوں بعد پیدا ہونے والے ڈیڈلاک نے حکومت کو یہ پیغام دیا کہ اب مذاکرات کے بجائے عملی اقدامات کا وقت آ گیا ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے آخری وقت تک معاملات کے سیاسی حل کیلئے کوششیں کیں لیکن اس وقت تک حکومت اور ریاستی ادارے ایوانِ صدر میں منعقدہ اجلاس کی روشنی میں عملی اقدامات کیلئے تیار ہو چکے تھے۔ بعدازاں وفاقی کابینہ کے اجلاس میں خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج لگانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس صورتحال میں حکومت کے مقابلے میں اپوزیشن‘ بالخصوص وہ عناصر زیادہ نمایاں کردار ادا کرتے دکھائی دیے جو مذاکرات کی کامیابی نہیں چاہتے تھے۔ ان میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی اور خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی قابلِ ذکر ہیں‘ جن کیلئے مذاکراتی عمل کی کامیابی ایک چیلنج بن گئی تھی۔ یوں خیبرپختونخوا کے سیاسی محاذ پر آئینی آپشنز کا استعمال وقت کی ضرورت قرار پایا۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ گزشتہ سال  کے مقابلے میں رواں سال صوبے میں دہشت گردی اور سنگین جرائم کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا مگر امن و امان کے ذمہ دار اداروں خصوصاً پولیس کو غیرمعمولی حالات سے نمٹنے کیلئے درکار وسائل اور سہولتیں فراہم نہیں کی جا سکیں۔ اب ریاست نے اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی کا بیڑا اٹھایا ہے۔ یہ دیکھنا یہ ہے کہ گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی اور ان کی ٹیم دہشت گردی کے خاتمے اور دہشت گردوں کے سہولت کاروں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کیلئے کیا کردار ادا کرتے ہیں۔ اس حوالے سے آئندہ ایک ماہ اہم ہو گا۔ اگر ان اقدامات کے نتیجے میں خیبرپختونخوا میں امن و امان بہتر ہوتا‘ دہشت گردی کے واقعات میں کمی آتی اور صوبے میں استحکام پیدا ہوتا ہے تو صوبائی حکومت کی کارکردگی اور اپنی آئینی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے حوالے سے سوالات مزید نمایاں ہوں گے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ گورنر فیصل کریم کنڈی کی مشاورتی کونسل میں خیبرپختونخوا کے سیاسی اور انتظامی محاذ پر اثرورسوخ رکھنے والے افراد کو شامل کیا جاتا تاکہ فیصلے زیادہ مؤثر انداز میں کیے جا سکتے اور گورنر راج کے مقاصد جلد حاصل ہوتے۔ بہرحال‘ اب یہ ذمہ داری گورنر اور وفاقی حکومت پر عائد ہوتی ہے کہ وہ ان اقدامات کو کس طرح نتیجہ خیز بناتے ہیں۔جہاں تک صوبے میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد پی ٹی آئی کے ممکنہ ردِعمل کا تعلق ہے‘ فی الحال خیبرپختونخوا میں کوئی بڑا ردِعمل سامنے نہیں آیا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے اور عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے ہمیشہ احتجاجی سیاست کو ترجیح دی۔ اپنی بنیادی ذمہ داریاں ادا کرنے کے بجائے سیاسی محاذ گرم رکھنے پر توجہ مرکوز رکھی‘ لیکن اس حکمت عملی سے نہ تو قیادت کیلئے ریلیف حاصل ہو سکا اور نہ ہی ان کی حکومت برقرار رہ سکی۔ اب سوال یہ ہے کہ خیبرپختونخوا کے سیاسی حالات پر اس تبدیلی کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ پی ٹی آئی کیلئے لانگ مارچ کی ساری مشق اپنی حکومت کے خاتمے پر منتج ہوئی۔ پی ٹی آئی کی سیاسی تاریخ میں اپنی حکومتیں اور اسمبلیاں ختم کرنے کے واقعات نمایاں رہے ہیں جس سے اس کی سیاسی قوت متاثر ہوئی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پارٹی موجودہ صورتحال سے کیا سبق سیکھتی ہے اور اپنی سیاسی و تنظیمی قوت برقرار رکھنے میں کامیاب ہوتی ہے یا نہیں۔ خیبرپختونخوا کا انتظامی نظم و نسق گورنر فیصل کریم کنڈی اور ان کی مشاورتی کونسل کیلئے یہ ایک بڑا امتحان ہے۔ اس کے نتائج صرف صوبے ہی نہیں بلکہ وفاق کیلئے بھی اہم ہوں گے۔ یہ اقدامات اسی وقت مؤثر ثابت ہوں گے جب صوبے میں امن و امان کی صورتحال میں واضح بہتری آئے گی‘ انتظامی کارکردگی نمایاں ہو گی اور خصوصاً مغربی سرحد سے دہشت گردی کے سلسلے کی روک تھام کیلئے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/230_37874475.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>یہی کمپنی چلے گی!(محمد حسن رضا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-hasan-raza/2026-10-14/52842/67907338</link><pubDate>Wed, 14 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-hasan-raza/2026-10-14/52842/67907338</guid><description>&#39;&#39;اب یہی کمپنی چلے گی‘ پلان پر عملدآمد شروع ہوچکا ہے‘‘۔ اقتدار کے بازار میں یہ جملہ سن کر کچھ چہرے کھل اٹھتے ہیں اور کچھ اُتر جاتے ہیں مگر سڑک کنارے بیٹھے شہری کا سوال مختلف ہے کہ اگر یہی کمپنی چلے گی تو میرا گھر بھی چلے گا؟ بچے کو سکول‘ بیمار کو دوا‘ نوجوان کو روزگار اور خاندان کو تحفظ ملے گا؟ یہی وہ سوالات ہیں جن کے جواب پر نئے سیٹ اَپ کی حمایت کی بنیاد کھڑی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ عملی نتائج دینے والے سیٹ اَپ کو موقع ملنا چاہیے کیونکہ عوام نے سیاسی دکانوں سے وعدے‘ دعوے‘ اعلانات اور بیانات بہت خریدے لیکن سہولتیں نہ مل سکیں۔ اب کمپنی چلانے والوں کا امتحان ہے کہ منصوبہ کاغذ سے نکل کر عام شہری کی دہلیز تک پہنچے۔خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی &#39;گڈ گورننس‘ کی تصویر ملاحظہ کیجیے۔ تحریک انصاف نے 31 مئی 2013ء کو پہلی حکومت بنائی‘ اکتوبر 2026ء تک 13 سال 4 ماہ کے دوران نگران ادوار نکال کر تقریباً 12 سال کی حکمرانی بنتی ہے۔ وزیراعظم کہتے ہیں کہ 2010ء سے 2026ء تک‘ جس میں تحریک انصاف سے پہلے کا دور بھی شامل ہے‘ انسدادِ دہشت گردی کیلئے 800 ارب روپے دیے گئے۔ وزیر دفاع کے بیان کے مطابق دو برس میں دہشتگردی کے 6200 واقعات‘ 1200 اموات‘ رواں سال تادم تحریر 14 خودکش حملے ہوئے۔ اسی طرح پانچ سے 16 سال عمر کے 49 لاکھ بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ اَپر و لوئر کوہستان میں محرومی کی شرح 79 فیصد۔ پشاور میں پانچ لاکھ سے زیادہ بچے تعلیم سے محروم۔ 28 اضلاع کے 10 ہزار سے زیادہ سکولوں میں بنیادی سہولتوں کی کمی۔ جون 2025ء کی ہسپتال مانیٹرنگ میں 174 ضروری ادویات کی دستیابی 45 فیصد تھی۔ 4 لاکھ 22 ہزار 947 افراد کیلئے ایک ضلعی ہسپتال ہے۔ 2025ء میں پولیو کے31 کیسز میں 20 کیسز کے پی اور ان میں 17 جنوبی اضلاع سے رپورٹ ہوئے۔ 2026ء میں اب تک چھ میں سے پانچ کیسز کے پی سے رپورٹ ہوئے۔ جون 2026ء کی ترقیاتی سکیموں کی تفصیلات میں 547 ارب کے تخمینے کے مقابلے میں 169 ارب یعنی تقریباً 31 فیصد خرچ ہوا۔ بجٹ 2026-27ء میں 2170 ارب کا حجم‘ 48 ارب خسارہ‘ 524 ارب ترقیاتی تخصیص۔ یہ محض اعداد و شمار نہیں بلکہ عوام کی زندگی ہے۔ تحریک انصاف نظام میں تبدیلی لانے میں ناکام رہی۔ کبھی بلین ٹری‘ کبھی صحت کارڈ اور تعلیم کے منصوبوں میں خورد برد کے سوالات اٹھے مگر عوام کے حالات بالکل نہ بدلے۔ امن کیلئے ملنے والے خطیر فنڈز کہاں خرچ ہوئے؟ کرائے کے مکانات والے بعض سیاستدان عالیشان گھروں‘ زمینوں اور جائیدادوں کے مالک کیسے بنے؟ چند ماہ میں رہن سہن بدل گیا‘ اشرافیہ میں شمار ہونے لگے مگر عوام کا کچھ نہ بنا۔ دولت بڑھنا جرم نہیں لیکن آمدن‘ اثاثوں اور ٹیکس کا حساب ضروری ہے۔ تحریک انصاف نے خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماری اور صوبائی حکومت سے ہاتھ دھو بیٹھی۔ سہیل آفریدی کی حکمت عملی دیکھ کر کہنا پڑتا ہے کہ شاید جماعت کا سب سے بڑا مخالف اس کا اپنا وزیراعلیٰ تھا۔ محسن نقوی نے مذاکرات اور طے شدہ نکات کے بارے میں حقائق بیان کر دیے کہ کیسے مذاکرات پر آمادہ ہوئے‘ پھر کیسے اور کیونکر پیچھے ہٹے۔ اگر صوبائی حکومت کام کرتی اور وفاق کیساتھ مل کر چلتی تو آج حالات مختلف ہو سکتے تھے۔ ایک معروف صحافی سے منسوب روایت میں بتایا گیا کہ انہوں نے افغانستان سے واپس آکر کسی شخصیت سے جماعت سے وابستہ افراد بشمول نوجوانوں کی بڑی تعداد وہاں موجود ہونے کا ذکر کیا۔ اگر ریاست مخالف سرگرمیوں کے شواہد ملیں تو سوال تو ہو گا۔ سہیل آفریدی سے پوچھنا چاہیے کہ دہشت گردی اور افغانستان سے حملوں کی مذمت میں تذبذب کیوں دکھائی دیا؟ صوبے کے عوام کی ضروریات احتجاج پر کیوں قربان ہوئیں؟ اب ایمرجنسی اور گورنر راج کے تحت وفاقی کردار بڑھا ہے۔ محسن نقوی پشاور پہنچے‘ اجلاس کی صدارت کی اور معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اطلاعات کے مطابق نفاذِ امن کی کارروائیوں کا سلسلہ شروع ہے اور آنے والے دنوں میں مزید سخت اقدامات متوقع ہیں۔ مائنز کے ٹھیکے ہوں‘ سمگلنگ یا منشیات کا مسئلہ‘ ہر ملوث شخص کے گرد گھیرا تنگ ہو گا۔ بتایا جارہا ہے کہ &#39;محسن سپیڈ‘ فارمولے کے تحت گورنر اور ٹیکنوکریٹس کو متعلقہ محکموں کی ذمہ داریاں اور ٹاسک دیے گئے ہیں‘ آنیوالے دنوں میں مزید تیزی دیکھنے کو ملے گی۔ امن وامان کی صورتحال پر کنٹرول کیساتھ ترقیاتی کاموں کا جال‘ تعلیم‘ صحت اور دوسرے شعبوں میں تیزی‘ کم وقت میں زیادہ عملی کام۔ یہی نئے سیٹ اَپ کا ہدف ہے۔ ہمیشہ اسی سسٹم نے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا ہے۔ کے پی میں یہ سسٹم کامیاب ہوا تو دوسرے صوبوں میں اس ماڈل کے آئینی نفاذ کی دلیل مضبوط ہو گی۔ملک چلانے کے طریقے پر بھی بحث بڑھے گی۔پنجاب میں نسبتاً بہتری نظر آتی ہے مگر دعوؤں سے زیادہ مسائل اور مبینہ طور پر لوٹ مار کی فیکٹریاں چلنے کی شکایات عام ہیں۔ لاہور اور چند اضلاع پر توجہ‘ منصوبوں میں اربوں کی مبینہ بے ضابطگیاں‘ کارروائی کے بعد معاملہ دبانے کی شکایات‘ دکھاوا بہت زیادہ جبکہ سوالات کا جواب دینے میں مکمل ناکامی۔ سندھ کے بدترین حالات اور بلوچستان کی محرومیاں بھی جواب چاہتی ہیں۔ ملکی خزانے سے بیرونی دورے اور مہنگے سفر تب بہت چبھتے ہیں جب غریبوں کے بچے سڑکوں پر رُلتے ہیں۔ مجھے ان عالمی تنظیموں پر دکھ ہوتا ہے جو رنگ برنگی بریفنگز پر اعزاز دیتی ہیں اور زمینی حقائق نہیں دیکھتیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ عملی اقدامات والی قیادت پر اعتماد بڑھانے کی گنجائش ہے۔ عالمی سطح پر صلاحیت دکھانے والوں کو اب داخلی خدمت کا موقع ملا ہے۔ میں نے ذرائع کے سامنے چار سوالات رکھے۔ ایک‘ عالمی سطح پر ہر محاذ پر بہترین کامیابی مگر اندرونی مسائل کے انبار کیوں؟ جواب ملا: اندرونی مسائل حل کرنے کی ذمہ داری جب سیاستدانوں پر ہوتی ہے تو مسائل ایسے ہی بڑھتے رہتے ہیں اور جب پوچھا جائے تو آئیں بائیں شائیں کی جاتی ہے۔ سوال پوچھا: نئے صوبے بنیں گے؟ جواب ملا: ہر صورت! اکتوبر کے فیصلے چند روز آگے ہو سکتے ہیں‘ جلد سرکاری سطح پر کمیشن یا کمیٹی کا اعلان متوقع ہے۔ چار وفاقی وزرا‘ دو سابق سینئر بیورو کریٹس جو چیف سیکرٹریز بھی رہے‘ دو دیگر ریٹائرڈ افسران‘ جن میں سے ایک آئی ایم ایف کے بورڈ میں رہے‘ چار وفاقی سیکرٹریز اور صوبائی چیف سیکرٹریز اس میں شامل ہو سکتے ہیں۔ سوال کیا کہ کارکردگی سے متعلق وفاق یا صوبائی حکومتیں سب اچھا کا دعویٰ کرتی ہیں؟ جواب ملا: سب اچھا کہاں؟ پھر میری طرف ایسے دیکھا جیسے کہا ہو کہ تمہیں نہیں معلوم کہ ہوکیا رہا ہے۔ کہا: جس معاملے کو دیکھیں مبینہ لوٹ مار کی کہانی۔ بعض طرم خانوں کے اپنے کاروبار اور خزانے بڑھتے چلے گئے مگر عوام مزید برے حالات میں پھنستے چلے گئے‘ ایسا کیوں؟ پوچھا: آپ تو بڑے ایوانوں میں آتے جاتے ہیں‘ رپورٹس بھی سب آپ کے پاس آتی رہتی ہیں‘ سیاستدان اب کیا سوچتے ہیں؟ جواب ملا: جانے والا یہی چاہتا ہے کہ کچھ نہ کچھ مل جائے۔ ایک عہدیدار کا شکوہ سنایا کہ ہم نے سب داؤ پر لگایا‘ سیاست بھی مگر اب سزا کس بات کی؟ جب سب کچھ سامنے رکھا گیا تو پھر معذرت کی اور کہا کہ ہم تو پہلے ہی آپ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ کمپنی چلانے والوں نے دنیا کو صلاحیت اور امن کا پیغام دیا‘ اب عوامی اعتماد کو عملی نتائج سے مضبوط کرنا ہے۔ کمپنی اب پاکستان میں پیسے لانے کیلئے بھی پوری کوشش کر رہی ہے‘ جس کے امکانات بڑھ رہے ہیں۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق فی الحال یہی کمپنی لمبا اور بھرپور چلنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ بعض طرم خان سیاستدانوں سے شراکت داری جلد ختم ہوسکتی ہے اور اگر وہ اسی تنخواہ پر رہنا چاہیں تو شراکت داری جاری بھی رہ سکتی ہے‘ مگر یہ مشکل‘ بہت مشکل لگ رہا ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ باری سب کی آنی ہے‘ کسی کی جلدی تو کسی کی کچھ تاخیر سے۔ اب تک کا پلان تو یہی نظر آ رہا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/229_33941343.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>رزقِ حلال کی اہمیت(علامہ ابتسام الہٰی ظہیر )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-10-14/52843/50692978</link><pubDate>Wed, 14 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-10-14/52843/50692978</guid><description>اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو اپنے ماننے والوں کی زندگی کے تمام شعبوں میں کامل رہنمائی کرتا ہے۔ جہاں انسان کو عبادات اور عقائد کو کتاب وسنت کے مطابق انجام دینا چاہیے وہیں اپنے معاملات کو بھی کتاب وسنت کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ہر شخص زندگی میں معاشی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے کاروبار‘ ملازمت یا دیگر امور انجام دیتا ہے لیکن بہت سے لوگ اس حوالے سے اپنی دینی ذمہ داریوں کو فراموش کر دیتے ہیں۔ اس حوالے سے کتاب وسنت میں بڑی وضاحت کے ساتھ رہنمائی کی گئی ہے۔اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ البقرہ کی آیت: 168 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39; اے لوگو! زمین میں جتنی بھی حلال اور پاکیزہ چیزیں ہیں انہیں کھائو‘ پیو اور شیطانی راہ پر نہ چلو‘ وہ تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے‘‘۔ اس آیتِ مبارکہ میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسانوں کو پاکیزہ رزق کھانے کا حکم دیا اور شیطان کے نقشِ قدم کی پیروی سے منع کیا ہے‘ اس لیے کہ وہ انسانوں کا کھلا دشمن ہے۔ گویا کہ انسان جب رزقِ حلال نہیں کماتا تو وہ شیطان کے نقشِ قدم پر چل رہا ہوتا ہے۔ اسی طرح سورۃ البقرہ کی آیت: 172 میں ارشاد ہوا: &#39;&#39;اے ایمان والو! جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تمہیں دے رکھی ہیں انہیں کھائو‘ پیو اور اللہ کا شکر ادا کرو‘ اگر تم خاص اسی کی عبادت کرتے ہو‘‘۔ سورۃ المومنون کی آیت: 51 میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے رسولوں کو بھی طیب کھانا کھانے اور نیک عمل کو بجا لانے کا حکم دیا: &#39;&#39;اے پیغمبرو! حلال چیزیں کھائو اور نیک عمل کرو‘ تم جو کچھ کر رہے ہو اس سے میں بخوبی واقف ہوں‘‘۔بہت سے لوگ ناجائز طریقے سے ایک دوسرے کے مال کو ہڑپ لیتے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے رضا مندی کے ساتھ تجارت کو جائز قرار دیا جبکہ باطل طریقے سے مال ہڑپ کرنے کی مذمت کی ہے۔ سورۃ النساء کی آیت: 29 میں ارشاد ہوا: &#39;&#39;اے ایمان والو! اپنے آپس کے مال ناجائز طریقہ سے مت کھائو‘ مگر یہ کہ تمہاری آپس کی رضا مندی سے خرید وفروخت ہو‘‘۔ اس آیت مبارکہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ باہمی رضامندی سے کی جانے والی تجارت درست ہے جبکہ دھوکے سے ایک دوسرے کا مال کھانے کی کوئی گنجائش نہیں۔اس وقت معاشرے میں سود کا لین دین عام ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے سودی لین دین کی مذمت کرتے ہوئے سورۃ البقرہ کی آیت: 275 میں ارشاد فرمایا: &#39;&#39;سود خور لوگ نہ کھڑے ہوں گے مگر اسی طرح جس طرح وہ کھڑا ہوتا ہے جسے شیطان چھو کر خبطی بنا دے‘ یہ اس لیے کہ یہ کہا کرتے تھے کہ تجارت بھی تو سود ہی کی طرح ہے حالانکہ اللہ نے تجارت کو حلال کیا اور سود کو حرام‘ جو شخص اپنے پاس آئی ہوئی اللہ کی نصیحت سن کر رک گیا اس کے لیے وہ ہے جو گزرا اور اس کا معاملہ اللہ کی طرف ہے‘ اور جو پھر دوبارہ حرام کی طرف لوٹا وہ جہنمی ہے۔ ایسے لوگ ہمیشہ ہی اس میں رہیں گے‘‘۔بہت سے لوگ ناپ تول میں کمی کرتے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ایسے لوگوں کی مذمت کرتے ہوئے سورۃ المطففین کی آیت: 1 تا 3 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;ہلاکت ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوںکے لیے۔ کہ جب لوگوں سے ناپ کر لیتے ہیں تو پورا پورا لیتے ہیں۔ اور جب انہیں ناپ کر یا تول کر دیتے ہیں تو کم دیتے ہیں‘‘۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید میں قوم مدین کا ذکر کیا جو ناپ تول میں کمی کیا کرتے تھے۔ حضرت شعیب علیہ السلام ان کو اللہ تعالیٰ کی بندگی کی دعوت دینے کے ساتھ ساتھ پورا تولنے اور ناپنے کی تلقین کرتے رہے مگر جب انہوں نے حضرت شعیب علیہ السلام کی نصیحت کو قبول نہ کیا تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان پر ایک چنگھاڑ کو مسلط کرکے ہلاکت کے گھڑے میں گرا دیا۔ بہت سے لوگ یتیموں اور بے کسوں کے مال کو ناجائز طریقے سے ہڑپ لیتے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ایسے لوگوں کی مذمت کرتے ہوئے سورۃ النساء کی آیت: 10 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;جو لوگ ناحق ظلم سے یتیموں کا مال کھا جاتے ہیں‘ وہ اپنے پیٹ میں آگ ہی بھر رہے ہیں اور عنقریب وہ دوزخ میں جائیں گے‘‘۔مذکورہ بالا آیاتِ مبارکہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ رزقِ حلال کھانے کی ترغیب دیتے اور مالِ حرام کھانے کی شدید مذمت کرتے ہیں‘ اور ایسے لوگوں کے لیے تباہی اور عذاب کی وعید سنائی گئی ہے۔ احادیثِ مبارکہ میں بھی حلال مال کمانے کی بہت رغبت دلائی گئی ہے۔ اس حوالے سے چند اہم احادیث درج ذیل ہیں:1۔ صحیح بخاری میں حضرت مقدامؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا &#39;&#39;کسی انسان نے اس شخص سے بہتر روزی نہیں کھائی جو خود اپنے ہاتھوں سے کما کر کھاتا ہے۔ اللہ کے نبی دائود علیہ السلام بھی اپنے ہاتھ سے کام کر کے روزی کھایا کرتے تھے‘‘۔ اس حدیثِ پاک سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اپنے ہاتھ سے کمانے میں کوئی عار نہیں ہے اور اللہ تبارک وتعالیٰ کے نبی دائود علیہ السلام بھی‘ جو اپنی قوم کے بادشاہ تھے‘ اپنے ہاتھ سے کام کر کے روزی کمایا کرتے تھے۔2۔ صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا &#39;&#39;وہ شخص جو لکڑی کا گٹھا اپنی پیٹھ پر لاد کر لائے اُس سے بہتر ہے جو کسی کے سامنے ہاتھ پھیلائے‘ چاہے وہ اسے کچھ دے یا نہ دے‘‘۔ اس حدیثِ پاک سے معلوم ہوتا ہے کہ رزق کمانے کی کوشش کرنا کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بہتر ہے‘ اس لیے کہ اس سے انسان کی عزت‘ آبرو اور وقار برقرار رہتا ہے۔3۔ صحیح بخاری میں حضرت حکیم بن حزامؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا &#39;&#39;خرید و فروخت کرنے والوں کو اختیار ہے جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں (کہ بیع فسخ کر دیں یا رکھیں) یا اگر دونوں نے سچائی اختیار کی اور ہر بات کھول کھول کر بیان کی تو ان کی خرید و فروخت میں برکت ہو گی۔ اور اگر انہوں نے کچھ چھپائے رکھا یا جھوٹ بولا تو ان کے خرید و فروخت کی برکت ختم کر دی جائے گی‘‘۔ اس حدیثِ پاک سے معلوم ہوتا ہے کہ جب انسان ناجائز طریقے سے مال کمانے کی کوشش کرتا ہے تو اس کے رزق میں برکت ختم ہوتی ہے جبکہ اس کے مدمقابل جو بندہ حلال کماتا ہے اللہ تبارک وتعالیٰ اس کے رزق میں برکت عطا فرما دیتے ہیں۔ 4۔ ہم اپنے گرد ونواح پہ نظر ڈالیں تو اس بات کا مشاہدہ کر سکتے ہیں کہ بہت سے لوگ فقط مال کمانے سے دلچسپی رکھتے ہیں‘ انہیں اس چیز سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ وہ جو کما رہے ہیں وہ حلال ہے یا حرام۔ اس حوالے سے صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: (لوگوں پر) ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ انسان اس کی پروا نہیں کرے گا کہ مال اس نے کہاں سے لیا‘ حلال طریقہ سے یا حرام طریقہ سے۔ 5۔ صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ایک آدمی کا ذکر کیا جو طویل سفر کرتا ہے‘ بال پراگندہ اور جسم غبار آلود ہے‘ (حرم کعبہ میں آ کر وہ دعا کیلئے) آسمان کی طرف اپنے دونوں ہاتھ پھیلاتا ہے (اور کہتا ہے): اے میرے رب! اے میرے رب! جبکہ اس کا کھانا حرام کا ہے‘ اس کا پینا حرام کا ہے‘ اس کا لباس حرام کا ہے اور اس کو غذا حرام کی ملی ہے تو اس کی دعا کہاں سے قبول ہو گی۔ اس حدیثِ پاک سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ رزقِ حرام کمانے والوں کی عبادات کو قبول نہیں کرتے‘ چنانچہ انسان کو اللہ تبارک وتعالیٰ کی بارگاہ میں اپنی عبادت کی قبولیت کے حوالے سے بھی اس بات پر توجہ دینی چاہیے کہ اس کا مال حلال ہو۔مذکورہ بالا آیات اور احادیث سے رزقِ حلال کی اہمیت اور رزقِ حرام کی قباحت واضح ہوتی ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کو حلال کمانے کی توفیق دے‘ آمین!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_19740082.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>