<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>سیاسی ترجیحات بدلنے کی ضرورت(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-11-07/11701</link><pubDate>Sat, 07 Nov 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-11-07/11701</guid><description>پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا سیاسی جماعتوں کو اختلافات بھلا کر عوام کی معاشی مشکلات اور ملکی مسائل کی جانب توجہ دینے کا مشورہ صائب ہے۔ گزشتہ روز پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے اس حوالے سے جو کچھ کہا وہ ملکی حالات کی صحیح ترجمانی اورعوامی مسائل کی درست نشاندہی کرتا ہے۔ اس میں دو رائے نہیں کہ عوام کی معاشی حالت شدید تشویش کا شکار ہے‘ اور اس پر مستزاد وہ سیاسی تناؤ جو سماجی سطح پر اور ملک کی سائبر سپیس میں انتشار کا سبب بن رہا ہے۔ اگرچہ عالمی اور علاقائی صورتحال بھی اضطراب کا باعث ہے مگر یہ آشوب داخلی ہیجان کے ساتھ مل کر تلخیوں کو انتہائی نقطے تک پہنچاتا ہے۔ ایسے حالات میں صرف ضروری نہیں بلکہ ناگزیر ہے کہ ملک کی سیاسی قیادت بروئے کار آئے اور سیاسی بحران میں کمی کیلئے پہل کرے تاکہ ملک کے اصل مسائل سیاسی توجہات کا محور بن سکیں۔ بلاول بھٹو کا یہ نکتہ حقیقت پسندانہ ہے کہ ہم بہت سی لڑائیاں ایک ساتھ نہیں لڑ سکتے؛ چنانچہ ہمیں ترجیحات کا تعین کرنا ہو گا کہ فی الحقیقت کن محاذوں پر پہلے توجہ دینی چاہیے۔

اس پہلو سے سوچا جائے تو ملکی معیشت اور قومی سلامتی یقینا سرفہرست آنے والے امور ہیں‘ لہٰذا کیوں نہ دیگر بکھیڑوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے معیشت اور امن وسلامتی کے مسائل کو پہلی ترجیح بنایا جائے‘ اور اس کیلئے جو لوازمات درکار ہیں وہ پورے کیے جائیں۔ عوامی سطح پر تشویش کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ لوگ دکھی دلوں کیساتھ دیکھتے ہیں کہ ملک کی سیاسی قیادت اُنکے حقیقی مسائل پر توجہ دینے کے بجائے باہم دست وگریباں ہے۔ پارلیمان کا اجلاس ہو یا کوئی اور فورم سیاسی قیادت ملکی معیشت اور عوامی وملکی فلاح وبہبود کے موضوعات کے بجائے ایک دوسرے کے لتے لینے میں مصروف دکھائی دیتی ہے۔ جمہوری نظام میں حزبِ اختلاف نے حکومتی کارکردگی کا احتساب کرنا ہوتا ہے‘ مگر ہمارے ہاں حزبِ اختلاف نے اپنی ساری توجہات کو ایک دو ذاتی سیاسی نوعیت کے مسائل تک محدود کررکھا ہے۔ عوام کی زندگی کس حال میں گزرتی ہے حزبِ اختلاف کو اس سے کوئی غرض نہیں۔ حزبِ اختلاف کی سیاسی ترجیحات اپنی جگہ مگر اسے عوام اور ملک کے حقیقی مسائل اور اپنی ذمہ داریوں کا احساس بھی ہونا چاہیے۔ بلاول بھٹو کا انتخابی اصلاحات کیلئے پی ٹی آئی کو کمیٹی میں شامل ہونے کا مشورہ بھی اسی تناظر میں اہمیت رکھتا ہے۔ سیاسی جماعتیں انتخابی نتائج پر اعتراضات کرتی رہی ہیں اور ہر انتخاب کے بعد دھاندلی کے الزامات سیاسی ماحول کو کشیدہ کر تے ہیں۔
اگر حکومت اور اپوزیشن کو انتخابی عمل پر تحفظات ہیں تو ان مسائل کا حل سڑکوں پر احتجاج میں نہیں مذاکرات اور ادارہ جاتی اصلاحات میں تلاش کیا جانا چاہیے اور اس کیلئے اصلاحاتی کمیٹی میں تمام بڑی سیاسی جماعتوں کی نمائندگی یقینی بنانا ضروری ہے۔ پی ٹی آئی کو بھی چاہیے کہ اپنے تحفظات کے باوجود اس عمل کا حصہ بنے اور انتخابی نظام کی بہتری کیلئے قابلِ عمل تجاویز پیش کرے۔ سیاسی جماعتوں کو ایسی اصلاحات متعارف کرانی چاہئیں جن سے انتخابی نظام کی شفافیت پر اٹھنے والے سوالات کا ازالہ کیا جا سکے۔ انتخابی اصلاحات میں سیاسی جماعتوں کا اتفاقِ رائے وسیع تر سیاسی مفاہمت کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ سیاسی جماعتوں میں خاص طور پر حکومت اور حزبِ اختلاف کے درمیان عدم اعتماد سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہو رہا ہے ۔ اگر انتخابی اصلاحات کے مقصد سے یہ جماعتیں مل بیٹھیں تو دیگر معاملات میں بھی پیش رفت کی امید کی جا سکتی ہے۔ پاکستان کو معیشت کی بحالی‘ قومی اتفاقِ رائے اور جمہوری استحکام کی ضرورت ہے۔ تمام جماعتوں کو سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر ان قومی مسائل کے حل کیلئے اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ سیاسی لڑائیوں سے نکل کر عوام کی زندگی آسان بنانے کو قومی سیاست کا بنیادی مقصد بنایا جائے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>قرضوں کا بوجھ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-11-07/11700</link><pubDate>Sat, 07 Nov 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-11-07/11700</guid><description>ورلڈ بینک کی ’ گلوبل ڈیٹ رپورٹ 2026ء ‘کے مطابق گزشتہ دس سال میں پاکستان کا بیرونی قرضہ تقریباً دو گنا ہو کر 135 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔ 2015ء میں بیرونی قرضہ 68.7ارب ڈالر تھا جو 2025ء میں بڑھ کر 135.1ارب ڈالر تک پہنچ چکا۔ اس وقت قومی خزانے کا تقریباً نصف قرضوں اور انکے سود کی ادائیگیوں میں خرچ ہو رہا ہے اورپرانے قرضے اتارنے کیلئے نئے قرض لیے جارہے ہیں۔ قرضوں میں غیر معمولی اضافے کے باوجود معیشت کے حجم میں کوئی نمایاں ترقی نظر نہیں آتی؛چنانچہ قرض اتارنے کیلئے مزید قرض لینے کی حاجت بڑھتی چلی جاتی اور عوامی ترقی کے منصوبوں پر خرچ کرنے کے بجائے قومی سرمائے کا غالب حصہ انہی قرضوں کی نذر ہو جاتا ہے ۔ملکی معیشت کو قرضوں میں کمی کی مؤثر حکمت عملی کی ضرورت ہے۔

یہ درست ہے کہ معیشت میں ابھی وہ دم خم نہیں کہ ہر سال کی قومی ضروریات اور ادائیگیوں کابوجھ اٹھا سکے ؛مگر کچھ ایسا ضرور کیا جاسکتا ہے جو قرضوں کے رجحان کو کم کرنے میں مدد کر سکے۔ اس سلسلے میں پہلا اور بنیادی قدم قومی سطح پر بچت کی مؤثر حکمت عملی پر شفاف عملدرآمد ہونا چاہیے۔ ہمارے ہاں انفرادی اور قومی سطح پر معاشی تنگدستی کے باوجود اسراف کا رجحان ہے۔ حکومتیں دعوے تو بہت کرتی ہیں مگر کسی مؤثر اور نتیجہ خیز بچت کی پالیسی کا ابھی انتظار ہے۔جب تک یہ رویے نہیں بدلتے اور قومی پیداوار میں اضافے کے اقدامات نہیں کیے جاتے قرضوں کے گھن چکر سے چھٹکارا کیونکر ممکن ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ایل پی جی کا بحران(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-11-07/11699</link><pubDate>Sat, 07 Nov 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-11-07/11699</guid><description>ملک میں ایل پی جی کا بحران محض رسد میں کمی یا قیمتوں میں اضافے کا معاملہ نہیں بلکہ توانائی کے شعبے میں ناقص منصوبہ بندی اور بنیادی ڈھانچے کی کمزوریوں کا مظہر ہے۔ قدرتی گیس کی پیداوار میں کمی نے لاکھوں گھروں کو متبادل ایندھن کی طرف ایل پی جی کا ضرورت مند بنا دیا ہے لیکن ایل پی جی کی بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرنے کیلئے مناسب انتظامات موجود نہیں۔ پٹرولیم ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق ملک میں تقریباً ڈھائی کروڑ سے زیادہ گھرانے ایل پی جی سمیت متبادل ایندھن استعمال کرتے ہیں۔ گزشتہ چھ برس میں ایل پی جی کی طلب میں سالانہ اوسطاً 7.5 فیصد اضافہ ہوا جبکہ آئندہ چھ برسوں میں یہ شرح 8 سے 8.5 فیصد رہنے کا امکان ہے۔

یعنی مالی سال 2026ء میں24 لاکھ میٹرک ٹن رہنے والی طلب 2032ء تک بڑھ کر 41 لاکھ میٹرک ٹن تک پہنچنے کی امید کی جاتی ہے۔ اس وسیع طلب کے مقابلے میں ملک میں ایل پی جی ذخیرہ کرنے کی گنجائش محض 70 ہزار میٹرک ٹن ہے جبکہ اندرون ملک ترسیل کا مؤثر نظام بھی موجود نہیں۔ حکومت کو فوری طور پر ایل پی جی ذخیرے کی گنجائش بڑھانے‘ درآمدی ذرائع میں تنوع پیدا کرنے اور مقامی پیداوار میں اضافے کیلئے حکمت عملی تشکیل دینا ہو گی۔ ساتھ ہی اوگرا اور ضلعی انتظامیہ کی سطح پر مربوط نگرانی کا نظام بھی قائم کیا جائے تاکہ مقررہ قیمت پر فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کیا جمہوریت کا سر بچ گیا؟(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-11-07/52982/93897473</link><pubDate>Sat, 07 Nov 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-11-07/52982/93897473</guid><description>امریکی انتخابات کے بعد‘ کیا جمہوریت کی وہ ساکھ بحال ہو گئی ہے جو تیزی کے ساتھ ختم ہو رہی تھی؟صدر ٹرمپ جمہوریت کا تحفہ ہیں۔ جمہوریت کی کوکھ سے جس پاپولزم نے جنم لیا ہے‘ وہ اس کا ایک مظہر ہیں۔ ووٹ کی طاقت سے اُن جیسوں کا اقتدار کی مسند تک پہنچنا‘ خود جمہویت کے لیے ایک چیلنج بن گیا ہے۔ ایک رائے اب پختہ ہونا شروع ہو چکی ہے کہ اگر جمہوریت کے ہنر کے شاہکار ٹرمپ اور مودی جیسے لوگ ہیں‘ جو نفرت کا کاروبار کرتے ہیں اور جن کی ذہنی سطح پست ہے‘ تو ایسی جمہوریت سے توبہ۔ بخشو بی بلی چوہا لنڈورا ہی بھلا۔امریکی سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان کے انتخابات نے مگر پانسا پلٹ دیا ہے۔ عوام کی رائے‘ ٹرمپ کے بارے میں تبدیل ہو نے لگی ہے۔ ان انتخابات میں اس کا واضح اظہار ہوا۔ جس جمہوریت نے ٹرمپ کو اعتماد بخشا تھا‘ اس نے اپنا یہ اعتماد واپس لے لیا ہے۔  اب معلوم ہوا کہ یہ اعتماد کسی رومانوی تعلق کا بیان نہیں تھا۔ جمہوریت میں فیصلہ عقل سے ہونا چاہیے۔ اگر کبھی جذبات کا غلبہ ہو جائے تو یہ اُس درجے کا نہ ہو کہ عقل کے لیے پردہ بن جائے۔ انتخابی نتائج بتا رہے ہیں کہ ٹرمپ سے جو جذبات وابستہ ہوئے تھے‘ وہ سرد پڑ چکے ہیں۔ ممکن ہے اگلے صدارتی انتخابات میں اس کی قیمت ریپبلکنز کو ادا کرنا پڑے۔ سوال یہ ہے کہ یہ رائے کیسے تبدیل ہوئی؟ وہ کیا اسباب تھے جنہوں نے اسے ممکن بنایا؟ کیا جمہوریت کی نتیجہ خیزی کے لیے‘ کسی خاص سماجی ماحول کا ہونا ضروری ہے؟یہ سب کچھ آزاد میڈیا‘ آزاد عدلیہ اور آزاد سماج کی وجہ سے ممکن ہوا۔ یہ اُس جمہوری ماحول کی دین ہے جو وہاں موجود ہے۔ یہ  بات تسلیم کی گئی ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ‘ اس شکست کی بڑی وجہ تھی۔ عوام نے اسے مسترد کر دیا۔ جب سے اس جنگ کا آغاز ہوا ہے‘ امریکی میڈیا میں اس پر بات ہو رہی ہے۔ صدر ٹرمپ شدید تنقید کی زد میں رہے۔ اسی طرح امریکی عدالتوں نے ان کے بہت سے فیصلوں کو قبول نہیں کیا۔ اس آزادی کی وجہ سے لوگوں کو یہ موقع ملا کہ وہ صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کا ناقدانہ جائزہ لے سکیں۔ مہنگائی کی لہر کے بارے میں عوام نے یہ جانا کہ اس کا بڑا سبب ایران کے ساتھ جنگ تھی۔ اس جنگ سے امریکہ کو مادی‘ عسکری اور اخلاقی طور پر شدید نقصان اٹھانا پڑا۔ اب تو یہ اندازہ ہوتا ہے کہ اس جنگ کا اگر کسی کو فائدہ پہنچا تو وہ ایران ہے۔ جس اسرائیل کی شہ پر صدر ٹرمپ نے یہ ایڈونچر کیا‘ اُس کو بھی مزید ذلت اٹھانا پڑی۔ نیتن یاہو نے جس طرح فلسطینیوں کا قتلِ عام کیا‘ اس میں ٹرمپ کو شریک سمجھا گیا۔ ریپبلکنز کی اس شکست میں اسرائیل کے ان مظالم نے بھی اپنا کردار ادا کیا جو اُس نے فلسطینیوں پر ڈھائے۔ اسرائیل کی حمایت اگر چہ امریکی پالیسی کا حصہ ہے لیکن اب جو فضا بن رہی ہے‘ اس میں ڈیمو کریٹس کے لیے بھی ہر بات میں اسرائیل کی تائید کرنا مشکل ہو گا۔اس تجربے سے اس قدیم تصور کی تائیدِ مزید ہوتی ہے کہ جمہوریت کی خرابیوں کا علاج مزید جمہوریت ہے۔ تاہم‘ اس کے نتیجہ خیز ہونے کے لیے کچھ لوازمات ہیں‘ جن کا اہتمام ضروری ہے۔ جمہوریت ایک جمہوری معاشرے ہی میں پنپ سکتی ہے۔ جمہوری معاشرہ وہی ہوتا ہے جس میں آزادیٔ رائے کا احترام ہو۔ جہاں اختلاف اور حزبِ اختلاف کوگوارا کیا جائے۔ ادارے موجود ہوں جو سماجی اقدار کا تحفظ کر سکیں۔ آزاد میڈیا کے بغیر جمہوریت پنپ نہیں سکتی۔ اگر پاکستان جیسے ممالک میں جمہوریت کو جڑ پکڑنی ہے تو پہلے وہ سازگار فضا پیدا کرنا ہو گی جہاں یہ پودا پروان چڑھ سکے۔ اس کے بعد نظام میں یہ صلاحیت پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ جمہوریت کی کمزوری کا مداوا کر سکے‘ جیسے امریکہ میں ہوا۔کیا اس کا یہ مطلب لیا جا سکتا ہے کہ امریکہ نے اپنی اس غلطی کی اصلاح کر لی جو صدر ٹرمپ کی صورت میں سامنے آئی تھی؟ اس سوال کا جواب دینا سرِدست مشکل ہے۔ ان کا دورِ صدارت ابھی مکمل نہیں ہوا۔ ان کے لیے قانون سازی اگرچہ مشکل ہو گئی ہے کیونکہ وہ دونوں ایوانوں میں اکثریت کھو چکے ہیں‘ تاہم امریکی صدر کے پاس بہت اختیارات ہوتے ہیں۔ وہ ایوانِ صدارت  میں قیام کے دوران میں مزید گُل کھلا سکتے ہیں۔ اس کے باوصف‘ اُن کے لیے کوئی بڑا فیصلہ کرنا شاید اب مشکل ہو جائے۔ سب  سے اہم ایران کے ساتھ جنگ کا جاری رکھنا ہے۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس جنگ کو پھیلنے سے روکنے میں جمہوریت نے ایک کردار ادا کیا ہے۔ اسرائیل کے انتخابی نتائج بھی اس جانب اشارہ کر رہے ہیں۔ہمارے لیے سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان میں بھی جمہوریت کی خرابیوں کا حل‘ مزید جمہوریت ہے؟ کیا ہم میں صبر اور برداشت کی  کمی ہے؟ یہ سوال اس وقت ہماری دانش کی توجہ کا مستحق ہے۔ کیا جمہوری سوچ کے ساتھ‘ ہمیں کسی نئے نظام کو اپنانا ہو گا جو اس پارلیمانی نظام سے مختلف ہو جیسے متناسب نمائندگی‘ یا پارلیمانی نظام پر اصرار جاری رکھنا ہے؟ ہمارا مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہم ایک غیر جمہوری معاشرے میں زندہ ہیں۔ اگر امریکہ جیسے آزاد معاشرے میں اتنی بڑی غلطی ہو سکتی ہے تو پاکستان میں اس کا زیادہ امکان ہے کہ ہم کسی حادثے سے گزریں۔ یہ تشویش اپنی جگہ‘ مگر کیا ہمیں یہ خطرہ مول لینا ہوگا‘ اگر ہم مستقبل میں جمہوریت کو فروغ دینے میں سنجیدہ ہیں۔ یہ ممکن ہے کہ جمہوریت کے نتیجے میں ہم پھرکسی غلط فیصلے تک پہنچیں۔ اس کی غلطی مگر صرف جمہوریت سے درست ہو سکتی ہے۔اس باب میں سب متفق ہیں کہ جب عمران خان کی حکومت ختم ہوئی‘ ان کی مقبولیت بہت کم ہوچکی تھی۔ شیخ رشید صاحب سمیت ان کے حامی یہ تسلیم کر رہے تھے کہ اگلے انتخابات میں ان کی جیت کے امکانات نہیں ہیں۔ ان کی حکومت ختم ہوئی تو یہ عمل نہ صرف رک گیا بلکہ ترقیٔ معکوس کا شکار ہو گیا۔ آج کوئی حکومتی یا عدالتی فیصلہ ان کی مقبولیت پر اثر انداز نہیں ہو رہا۔ کے پی میں خاموشی سے اگرچہ بعض لوگ یہ نتیجہ اخذ کر رہے ہیں کہ ان کی مقبولیت کم ہو رہی ہے۔ میرا خیال ہے کہ اس کا صحیح فیصلہ اس وقت ہو گا جب  تحریک انصاف آزادی کے ساتھ اپنے سیاسی وجود کا اظہار کرے گی۔ احتجاج کی ناکامی سے یہ سمجھنا شاید درست تجزیہ نہ ہو کہ اس  کی انتخابی قوت بھی کم ہوئی ہے۔ صحیح نتیجے تک پہنچنے کے لیے‘ یہ خطرہ تو مول لینا پڑے گا کہ سیاست کے بند دروازے کھولے  جائیں۔ اس پر سوچا جا سکتا ہے کہ اس کا محفوظ راستہ کون سا ہو سکتا ہے۔پاکستان کا سیاسی منظرنامہ اس وقت جمود کا شکارہے۔ اس جمود کا خاتمہ اُسی وقت ہو گا جب یہاں سیاسی سرگرمیاں معمول کے  مطابق جاری ہوں گی۔ اگر ہم صبر کا مظاہرہ کریں اور جمہوری عمل کے متوقع نتائج کو قبول کرنے کے لیے آمادہ ہو جائیں تو اس سے جمہوری عمل آگے بڑھ سکتا ہے۔ یہ ممکن ہے کہ اس کے بعد‘ ہمارے مزید پانچ سال ضائع ہو جائیں اور اس کے نتائج تادیر باقی رہیں۔ اگر ہم نے صبر کے ساتھ یہ دور گزار لیا تو امید کی جا سکتی ہے کہ یہاں حقیقی جمہوریت جڑ پکڑ لے۔ اس میں یہ صلاحیت پیدا ہو جائے کہ وہ اپنی غلطیوں کا مداوا کر سکے جیسے امریکہ میں جمہوریت نے اپنی اصلاح کر لی ہے۔ ہم نے جو متبادل راستہ چنا ہے‘ اس کی کامیابی ا بھی تک مشتبہ ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کم اوہو منیر سی مشکلاں دا(خالد مسعود خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-11-07/52983/34279582</link><pubDate>Sat, 07 Nov 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-11-07/52983/34279582</guid><description>بارش تو مجھے پووس کاسل جانے سے نہیں روک سکی لیکن امریکہ میں ہونے والے درمیانی مدت کے انتخابات نے پووس کاسل کی کہانی کو کہیں درمیان میں روک دیا ہے۔ کل امریکی وقت کے مطابق شام کو کومل کو فون کیا تو کومل اور عہدآفرین دونوں ٹی وی لگا کر امریکی انتخابات کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ ہو رہے تھے۔ انتخابات سے قبل مجھ سمیت امریکی رائے عامہ کی مانند ان کا بھی خیال تھا کہ حالیہ درمیانی مدت کے انتخابات میں ڈیموکریٹس کا‘ بلکہ زیادہ صاف الفاظ میں ٹرمپ مخالف پارٹی کا پلڑا بھاری رہے گا۔امریکہ میں ہونے والے یہ درمیانی مدت کے انتخابات بنیادی طور پر دو پارٹیوں‘ یعنی ریپبلکن پارٹی اور ڈیموکریٹک پارٹی کے درمیان ہوتے ہیں‘ تاہم اس بار اس الیکشن کی نوعیت تھوڑی مختلف ہے۔ یہ انتخابات دو پارٹیوں کے درمیان انتخابات سے زیادہ ٹرمپ حمایت اور ٹرمپ مخالفت‘ یعنی پرو ٹرمپ اور اینٹی ٹرمپ کی صورت میں ہوئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ٹرمپ مخالفین کو ان درمیانی مدت کے انتخابات میں اتنی زیادہ سبقت حاصل ہے کہ ان انتخابات کے نتائج امریکی کانگریس اور سینیٹ میں ڈیموکریٹس کی عددی اقلیت کو اکثریت میں بدل دیں گے۔میرے امریکہ میں رہائش پذیر تمام دوستوں میں شفیق امریکی سیاست کو سب سے زیادہ سمجھتا ہے۔ نہ صرف یہ کہ وہ امریکہ کی سیاسی حرکیات سے خود کو مکمل آگاہ رکھتا ہے بلکہ اسے امریکہ کی سیاسی تاریخ‘ انتخابی معرکے‘ امریکی آئین کی انتخابات سے متعلق شقوں اور امریکی سیاسی کلچر سے بھی خاصی آگاہی ہے۔ کومل سے فون پر بات ختم ہونے کے فوراً بعد میں نے شفیق کو فون کیا۔ توقع کے عین مطابق لاس اینجلس میں مقیم شفیق اس وقت ٹی وی کے سامنے بیٹھا تھا اور امریکی انتخابات کے تازہ ترین نتائج سن رہا تھا۔ منطقی طور پر تو مجھے شفیق کو ان انتخابات سے پہلے فون کرنا چاہیے تھا لیکن سفر کی مصروفیت میں اس کا موقع نہ مل سکا۔امریکی کانگریس کے کل اراکین کی تعداد 535 ہے‘ اس میں ایوان نمائندگان کی تعداد 435 اور سینیٹ کے ارکان کی تعداد 100 ہے۔ قبل از الیکشن ایوان نمائندگان کی کل 435 نشستوں میں سے ریپبلکنز کے پاس 218 نشستیں جبکہ ڈیموکریٹس کے پاس 214 نشستیں تھیں۔ ایوان نمائندگان میں ٹرمپ کی پارٹی کو چار ارکان کی سبقت حاصل تھی۔ سینیٹ کی کل 100 سیٹوں میں ریپبلکن پارٹی کے پاس 53 نشستیں جبکہ ڈیموکریٹک پارٹی کے پاس 47 نشستیں تھیں۔ یہاں ریپبلکن پارٹی کو 6 ارکان کی برتری حاصل تھی۔ حالیہ مڈٹرم انتخابات میں ایوان نمائندگان کی تمام 435 اور سینیٹ کی 35 نشستوں پر ووٹنگ ہوئی ہے۔ امریکی ایوانِ نمائندگان کے ارکان دو سال کیلئے جبکہ امریکی سینیٹ کے ارکان چھ سال کیلئے منتخب ہوتے ہیں۔ امریکی سینیٹ کے کل ارکان میں سے ایک تہائی ارکان ہر دو سال بعد اپنی چھ سالہ مدت مکمل کرنے کے بعد ریٹائر ہو جاتے ہیں۔ اس بار 35 ریٹائر ہو جانے والے ارکانِ سینیٹ کی نشستوں پر انتخابات ہو رہے تھے۔ شفیق کا اندازہ تھا کہ سینیٹ کے حالیہ وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ان 35 نشستوں میں سے اتنی نشستیں حاصل کر لے گی کہ وہ نہ صرف سینیٹ میں اپنی چھ ارکان کی کمی پوری کر لے گی بلکہ سینیٹ میں ریپبلکنز پر سات آٹھ ارکان کی مجموعی برتری بھی حاصل کر لے گی اور ایسا ہی ہوا۔ امریکی صدر ٹرمپ کے ایران پر حملے کا بنیادی مقصد وہاں کی حکومت کو تبدیل کرنا تھا لیکن نتیجہ اس کے برعکس نکلا ہے۔ ایران میں تو وہی امریکہ کے ناپسندیدہ لوگ برسراقتدار ہیں جبکہ ادھر امریکہ میں تبدیلی آگئی ہے۔ امریکہ میں حکومت نہ سہی مگر حکومتی پارٹی ضرور تبدیل ہو گئی ہے۔ مسلم لیگ( ن) کے امیدوار برائے نوبیل انعام کو بری طرح شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ شفیق بتانے لگا کہ امریکہ آئین کے مطابق تین نومبر کو ہونے والے حالیہ مڈ ٹرم انتخابات میں جیتنے والے اراکین سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان 3 جنوری 2027ء کو دوپہر 12 بجے اپنی نشستیں سنبھالیں گے۔ تین نومبر سے تین جنوری کے دو مہینوں کے دوران پرانے ارکان کانگریس اپنے عہدوں پر برقرار رہیں گے۔ امریکی آئین کی 20ویں ترمیم کے مطابق‘ نئی منتخب ہونے والے ارکانِ کانگریس کی مدت کا آغاز ہمیشہ طاق سال کی 3 جنوری سے شروع ہوتا ہے۔ اگلے سال یعنی 2027 ء میں تین جنوری کیونکہ اتوار ہے اس لیے معمولی قانون سازی کے ذریعے یہ تاریخ بدل کر چار جنوری کر دی جائے گی۔ شفیق کہنے لگا کہ ان دو مہینوں کے دوران کیونکہ صدر ٹرمپ کانگریس میں اپنی پوری عددی برتری کے ساتھ موجود ہوں گے اس لیے ان کی ذہنی کیفیت کا اندازہ کرتے ہوئے میرا اندازہ ہے کہ وہ ایران پر شدید حملہ کریں گے۔ یہ شخص حالیہ انتخابات میں اپنی شکست کو جس طرح کھلے دل سے تسلیم کر رہا ہے یہ اس کی فطرت ہی نہیں ہے۔ اس کے ذہن میں اس شکست کا بدلہ لینے کیلئے ضرور کچھ نہ کچھ چل رہا ہو گا اور ایران پر ایک اور بھر پور حملے کے علاوہ اس کی ذہنی تسکین اور کسی طرح ممکن ہی نہیں ہے۔ سونے پر سہاگہ یہ ہے کہ اسرائیل میں نیتن یاہو کی اقتدار سے فوری رخصتی کا بھی کوئی امکان نہیں۔ وہاں حالیہ انتخابات میں کسی فریق کو حتمی برتری حاصل نہیں ہوئی۔ اس کے مخالف دائیں بازو کے اتحاد جس کی قیادت گادی آئزن کوٹ کر رہا ہے‘ کو مطلوبہ 61 نشستیں نہیں مل سکیں۔ اسرائیلی سیاسی نظام کے تحت ایسی صورت میں جب تک کوئی فریق حکومت سازی نہیں کرتا‘ اگلی حکومت کی تشکیل تک وزیراعظم برقرار رہے گا۔ یعنی اسرائیل میں نیتن یاہو بطور وزیراعظم اور امریکہ میں ٹرمپ بطور صدر کم از کم اگلے دو ماہ تک اسمبلی میں اپنی موجودہ اکثریت کے ساتھ‘ اپنے اپنے عہدوں پر موجود ہیں۔ہر دو حضرات نے اپنے اپنے الیکشن سے پہلے یہ بلاوجہ والی جنگ صرف اس لیے چھیڑی تھی کہ وہ ایران کی قیادت کو ختم اور موجودہ رجیم کو ملیا میٹ کرتے ہوئے ایران کو گھٹنوں کے بل جھکنے پر مجبور کر دیں گے۔ یہ غیر معمولی فتح ان کو اپنے اپنے ملک میں ہیرو بنا دے گی اور وہ آئندہ الیکشن میں اپنی مقبولیت کو بامِ عروج پر لے جائیں گے مگر سب کچھ الٹا ہو گیا۔ انہیں اس جنگ میں‘ جسے وہ دو دن کا کھیل اور بالکل معمولی بات سمجھ رہے تھے‘ بدترین رسوائی اور ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ احمقانہ جنگی کارروائی ان کیلئے سانپ کے منہ میں چھچھوندر بن گئی اور اب صورتحال ساری دنیا کے سامنے ہے۔ اسی دوران حتمی نتائج بھی آ گئے ہیں۔ مشی گن سے سینیٹ کیلئے ڈیموکریٹ امیدوارمصری نژاد عبدل السید (عبدالرحمن محمد السید) ٹرمپ کی شدید ترین مخالفت کے باوجود الیکشن جیت کر امریکی تاریخ کا پہلا رکنِ سینیٹ بن گیا ہے۔ صدرٹرمپ نے عبدل السید کی مذہبی شناخت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے جنونی قرار دیا تھا۔ اس منفی پروپیگنڈا نے اُلٹا اس کی جیت میں کافی اہم کردار سرانجام دیا۔ ایوانِ نمائندگان کی موجودہ عددی صورتحال کو مدنظر رکھیں تو ڈیموکریٹک پارٹی کے حاکیم جیفریز امریکی تاریخ کے پہلے سیاہ فام سپیکر بن جائیں گے۔ صدر ٹرمپ کی مسلسل تنقید بلکہ بدکلامی کا ہدف الہان عمر اپنے مینی سوٹا کے حلقہ انتخاب سے مسلسل پانچویں بار جیت گئی ہیں۔ حال ہی میں حکومتی ہدایات پر ان کے گھر اور دفتر پر چھاپے مارے گئے اور ان کی امریکی شہریت کینسل کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی۔ وہ 76 فیصد ووٹ لے کر یکطرفہ مقابلے میں کامیاب ٹھہری ہے۔بقول شفیق‘ بظاہر آسان سی ایران جنگ صدر ٹرمپ کے جوڑوں میں بالکل ویسے ہی بیٹھی ہے جیسے یمن کی جنگ سعودی عرب کے گلے پڑی ہوئی ہے۔ بقول منیر نیازی:کم اوہو منیر سی مشکلاں دا؍ جیہڑا شروع چ بوہتا آسان دِسیا</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90500073.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ٹرمپ کی شکست، امریکی عوام کی جیت(ڈاکٹر حسین احمد پراچہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-11-07/52984/17401459</link><pubDate>Sat, 07 Nov 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-11-07/52984/17401459</guid><description>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی عبرتناک شکست ایک ایسا نوشتۂ دیوار تھا جسے سب پڑھ رہے تھے سوائے امریکی صدر کے۔ تاہم اَنا پرست امریکی سربراہ کو الیکشن سے ایک روز قبل اپنی شکست نظر آنے لگی تھی۔ اسی لیے انہوں نے کہا کہ امریکہ 2026ء کے اختتام تک اسرائیل کو دی جانے والی سالانہ چار ارب ڈالر کی فوجی اور مالی امداد بند کر دے گا۔ مگر اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ بقول شاعر: صبح دم کوئی اگر بالائے بام آیا تو کیایہ کہنا مبالغہ نہ ہو گا کہ امریکی ووٹروں نے فی الحقیقت مڈٹرم الیکشن میں ٹرمپ کو ووٹ دینے کی غلطی کو نہ صرف درست کیا بلکہ زبردست سیاسی انقلاب برپا کر دیا۔ پہلے ہم آپ کے سامنے امریکی ایوانوں کا مختصر منظر نامہ پیش کرتے ہیں تاکہ آپ کو مڈٹرم الیکشن سے پہلے اور بعد کی صورتحال کا اندازہ ہو سکے۔ 435 کے ایوانِ نمائندگان میں تادمِ تحریر اعلان کردہ 410 سیٹوں کے نتائج کے مطابق ڈیمو کریٹس کے پاس پہلے 214 سیٹیں تھیں جو اَب بڑھ کر 253 ہو گئی ہیں جبکہ حکمران ریپبلکن پارٹی کی سیٹیں 218 سے کم ہو کر 157 رہ گئی ہیں۔ سینیٹ میں ڈیمو کریٹس کے 47 سینیٹرز تھے جن کی تعداد اَب بڑھ کر 54 ہو گئی ہے اور حکمران جماعت کے پاس 44 سینیٹرز ہیں۔ اسی طرح ڈیمو کریٹس کے پہلے 24 گورنر تھے ‘ اب اُن کی تعداد 28 ہو گئی ہے اور ریپبلکن گورنروں کی تعداد 26 سے کم ہو کر 20 رہ گئی ہے۔ مختصراً یہ کہ ہر ایوان اور سیاست کے ہر میدان میں ڈیمو کریٹس پہلے پیچھے تھے مگر اب بہت آگے نکل چکے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی اتنی بدترین شکست کے یوں تو کئی اسباب ہیں مگر امریکی عوام خوب سمجھتے تھے کہ ٹرمپ نے اپنی من مانی کرتے ہوئے امریکی ٹیکس دہندگان کے اربوں ڈالر اسرائیل کی غاصبانہ و ظالمانہ ایران جنگ لڑنے کیلئے جھونک دیے ہیں۔ ٹرمپ نے جس طرح سے امریکی عوام کی خون پسینے کی کمائی اس بے مقصد جنگ پر لٹائی اس سے امریکہ میں مہنگائی بے حد بڑھ گئی۔ امریکی عوام اس بات پر بھی شدید غم و غصے میں تھے کہ نیتن یاہو نے غزہ میں بھوک سے بلکتے بچوں کو گولیوں سے چھلنی کیا اور اہلِ فلسطین کی نسل کشی کر کے تقریباً ایک لاکھ اہل غزہ کو شہید کیا۔ یہ انسانیت کی تذلیل تھی۔ اس تذلیل میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ برابر کے شریک تھے۔ ٹرمپ نے صرف بیرونِ ملک ہی امریکی عوام کی خواہشات کے برعکس جنگ کے شعلوں کو ہوا نہیں دی بلکہ اندرونِ خانہ بھی مہنگائی میں ہوشربا اضافہ کیا۔ امیگریشن کے حوالے سے سو فیصد درست دستاویزات رکھنے والے تارکین وطن کے خلاف بھی احکامات جاری کرتے رہے اور دھمکیاں دیتے رہے۔ ٹرمپ کے ان غیر قانونی اقدامات کو وہاں کی آزاد عدلیہ نے مسترد کر دیا تھا۔نائب امریکی صدر جے ڈی وینس متوازن شخصیت کے مالک ہیں۔ انہوں نے برملا اعتراف کیا ہے کہ ریپبلکن کی اس تاریخی شکست کے چار اسباب تھے۔ سب سے پہلا سبب ایران پر امریکہ کی مسلط کردہ جنگ‘ دوسرا سبب اسرائیل کیلئے امریکی ٹیکس دہندگان کے اربوں ڈالر کی عسکری امداد اور اس کی بے جا سیاسی حمایت‘ تیسرا مہنگائی اور چوتھا سبب یہ کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے تمام امریکیوں کو ایک نظر سے نہیں دیکھا۔ ٹرمپ نے کبھی نیویارک کے میئر زہران ممدانی کے خلاف بیان بازی کی‘ کبھی مینی سوٹا سے ایوانِ نمائندگان کی مقبول ترین رکن الہان عمر کے خلاف مہم چلائی کہ اسے امریکہ بدر کر دوں گا‘ اور پھر امریکی تاریخ کے پہلے مسلم سینیٹر عبدالرحمن محمد السید کو کبھی جہادی کہا اور کبھی اس کا تعلق اخوان المسلمون سے جوڑا۔ ٹرمپ نے اسے محمد کے نام سے پکارا۔ جب لوگوں نے ٹرمپ کو بتایا کہ اس کا نام عبدالرحمن ہے تو اس پر ٹرمپ نے کہا کہ میں صدر ہوں‘ میں جو چاہوں کہہ سکتا ہوں۔ مگر اسلامی تاریخ سے نابلد اس شخص کو معلوم نہیں کہ جب کسی مسلمان کو &#39;&#39;محمد‘‘ (فداک ابی وامی) کے نام سے پکارا جائے تو اُس کیلئے اس سے بڑھ کر کوئی اور اعزاز نہیں ہوتا۔اس مڈٹرم الیکشن میں مسلم امریکیوں کی شاندار کارکردگی کا قدرے تفصیل سے جائزہ لینے سے پہلے ہم ایک اہم نکتے کا یہاں تذکرہ کرنا چاہتے ہیں۔ امریکی سوسائٹی کے بہت سے شعبے تنزل وانحطاط کا شکار ہیں مگر آج بھی امریکہ کا سیاسی وانتخابی نظام بے حد مضبوط ہے۔ کوئی طاقتور سے طاقتور صدر بھی اس نظام میں مداخلت کا تصور نہیں کر سکتا اور نہ ہی ڈیپ سٹیٹ ایسا کرنے کا سوچ سکتی ہے۔ امریکی الیکشن نے ثابت کر دیا کہ امریکی عوام ہی اقتدار کے مالک و مختار ہیں۔ وہ جسے چاہیں اسے محرومِ اقتدار کر دیں۔ بڑی بڑی بڑھکیں مارنے والے صدر ٹرمپ نے بھی اب ووٹرز کے فیصلے کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا ہے۔ نہ کوئی نظریۂ ضرورت اور نہ ہی کسی منتخب عہدیدار کے سامنے کسی کو سرتابی کی مجال اور نہ ہی ووٹنگ مشینوں کی خرابی اور نہ ہی رات دن کے نتائج کا فرق۔ البتہ امریکی عوام کو آئندہ یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ وہ صدر منتخب کرنے سے پہلے کسی مخصوص پارٹی کے ساتھ کسی امیدوار کی وابستگی کے علاوہ‘ اس کی شخصیت کو بھی دیکھیں۔ ایسی شخصیات دنیا بھر میں امریکی امیج کو بہت مجروح کرتی ہیں۔ جارج واشنگٹن‘ ابراہم لنکن اور جان ایف کینیڈی جیسے مثالی صدور کے وطن کیلئے یہ جگ ہنسائی کا باعث بنتی ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کے اندر ہی نہیں دنیا بھر میں اسلاموفوبیا کا پرچار کرتے اور مسلمانوں کی توہین کرتے رہے۔ اس پر مسلم حکمران تو خاموش رہے مگر امریکی مسلمانوں نے اپنے ووٹ کے ذریعے اس زہریلی بیان بازی کا دندان شکن جواب دیا ہے۔ موصوف برطانیہ گئے تو وہاں انہوں نے لندن کے مسلم میئر صادق خان کا مذاق اڑانے کی کوشش کی اور خود مذاق بن گئے۔ اس وقت کے برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر نے آگے بڑھ کر مسلم میئر کا زبردست دفاع کیا اور انہیں خراجِ تحسین پیش کیا۔2026ء کے مڈٹرم امریکی الیکشن کی سب سے بڑی خبر ڈونلڈ ٹرمپ کی جماعت کی شکست اور پہلے مسلم سینیٹر عبدالرحمن السید کی فتح ہے۔ امریکی ریاست مشی گن سے 41 سالہ مصری نژاد عبدالرحمن محمد السید کی بحیثیت سینیٹر کامیابی کئی حوالوں سے تاریخ ساز ہے۔ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ امریکی سینیٹ میں کسی مسلمان کا جانا اس قدر اہمیت کا حامل کیوں ہے؟ امریکی دستور کے مطابق اصل فیصلہ ساز ادارہ ایک سو ممبران پر مشتمل سینیٹ ہے‘ نہ کہ ایوانِ نمائندگان۔ امریکہ کی صہیونی لابی نے ڈیمو کریٹک امیدوار کے مدمقابل مائیک راجرز کیلئے 42 ملین سے 95 ملین ڈالرز کی فنڈ ریزنگ کی۔ ادھر امریکہ بھر کے مسلمانوں نے عبدالرحمن السیّد کیلئے تقریباً 54 ملین ڈالر اکٹھے کیے۔ اس لیے فنڈز کی کمی کا ادھر بھی کوئی مسئلہ نہ تھا۔ عبدالرحمن نے فتح کے بعد بڑا جامع تبصرہ کیا کہ الیکشن مہم کے آغاز پر ہم نے کہا تھا ان شاء اللہ‘ جیت کے بعد ہم کہتے ہیں الحمدللہ ۔ سینیٹر عبدالرحمن ! ماشاء اللہ، ماشاء اللہ۔ ملا جلا کر امریکی مسلمانوں کو 40 سے زائد مختلف وفاقی‘ ریاستی اور مقامی عہدوں پر کامیابی ملی ہے۔ ان میں ایک سینیٹر‘ تقریباً سات ایوان نمائندگان کے ارکان اور 38کے قریب ریاستی اور مقامی حکومتوں کے نمائندے ہیں۔ تقریباً سات پاکستانی نژاد امریکی مسلمانوں کو بھی فتح حاصل ہوئی ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بارہا کہا ہے کہ ہماری شکست کا سب سے بڑا سبب ایران کی جنگ ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی تسلیم کیا ہے کہ ان کی شکستِ فاش کا سبب ایران جنگ ہے‘ مگر وہ اس بات پر مُصر ہیں کہ انہوں نے ایران پر درست حملہ کیا۔ اگر امریکی عوام کی مرضی‘ سینیٹ و امریکی ایوان نمائندگان کی رائے کے خلاف ویٹو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ پھر ایران پر حملہ کرتے ہیں تو اب کی بار انہیں مواخذے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_70033906.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>انتخابی اصلاحات کمیٹی کی اہمیت(کنور دلشاد)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/kunwar-mohammad-dilshad/2026-11-07/52985/34376887</link><pubDate>Sat, 07 Nov 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/kunwar-mohammad-dilshad/2026-11-07/52985/34376887</guid><description>انتخابی اصلاحات کمیٹی کی منظوری کے بعد وفاقی حکومت نے انتخابی اصلاحات کیلئے 30رکنی پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل کا عمل شروع کر دیا ہے جبکہ آئندہ انتخابات کو شفاف اور قابلِ اعتماد بنانے کیلئے اپوزیشن کو اعتماد میں لینے اور پارلیمانی سطح پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی کوششیں بھی تیز کر دی گئی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے انتخابی اصلاحات کمیٹی کے معاملے پر وزیراعظم شہباز شریف‘ چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی اور اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کو خطوط لکھ کر اراکین کے نام بھجوانے کی درخواست کی ہے۔ ان خطوط کے مطابق وزیراعظم کو بطور قائد ایوان 15اراکین‘ چیئرمین سینیٹ کو 10سینیٹرز اور اپوزیشن لیڈر کو پانچ اراکین قومی اسمبلی کے نام بھجوانے کی درخواست کی گئی ہے۔ نام موصول ہوتے ہی کمیٹی کے قیام کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا جائے گا۔ پیپلز پارٹی نے انتخابی اصلاحات سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کیلئے اپنے پانچ ارکان کے نام سپیکر قومی اسمبلی کو بھجوا دیے ہیں۔پیپلز پارٹی کی جانب سے شازیہ مری‘ قادر پٹیل‘ علی قاسم گیلانی‘ نوابزادہ افتخار اور صادق میمن کو قومی اسمبلی کی پارلیمانی کمیٹی کیلئے نامزد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔پارٹی نے اپنے نام بھجوا کر کمیٹی کی تشکیل کے عمل میں باضابطہ پیشرفت کر دی ہےجولائی 2014ء میں اپوزیشن کے دھرنے اور احتجاجی تحریک کے خاتمے کیلئے اُس وقت کے وزیراعظم نواز شریف نے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی سربراہی میں 30رکنی انتخابی اصلاحات کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا تھا۔ اسی دوران تحریک انصاف کے 35ارکانِ قومی اسمبلی نے اجتماعی استعفے قومی اسمبلی کے سپیکر سردار ایاز صادق کو بھجوا دیے تھے۔ سپیکر قومی اسمبلی نے آئین کے آرٹیکل 64کی پارلیمانی تشریح کرتے ہوئے ان استعفوں کو منظور کرنے سے گریز کیا اور ملک کو آئینی بحران سے محفوظ رکھا۔ سوائے مخدوم جاوید ہاشمی کے کسی رکن کا استعفیٰ منظور نہیں کیا گیا اور یہ معاملہ مؤخر کر دیا گیا۔ اس صورتحال کا پارلیمنٹ کی انتخابی اصلاحات کمیٹی پر گہرا اثر پڑا اور کمیٹی کی کارروائی غیر معینہ مدت کیلئے مؤخر کرنا پڑی۔ اسی دوران ڈاکٹر طاہر القادری دھرنے سے لاتعلقی اختیار کرکے واپس لاہور چلے گئے۔ عمران خان کے دھرنے کا بھی زور تقریباً ٹوٹ گیا تھا کہ اسی دوران پشاور میں آرمی پبلک سکول کا سانحہ پیش آ گیا۔ سانحہ پشاور کے بعد عمران خان نے اپنا دھرنا ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ بعد ازاں ہم نے انہیں پشاور میں شہدائے اے پی ایس کی تعزیت اور فاتحہ خوانی کی ایک تقریب میں وزیراعظم نواز شریف کے ہمراہ کھانا کھاتے ہوئے بھی دیکھا۔ اس کے بعد تحریک انصاف کے ارکان نے استعفے واپس لے لیے اور اس غیر حاضری کے باوجود قومی اسمبلی سے تمام مراعات حاصل کرکے ایوان میں واپس آ گئے‘ جس پر خواجہ آصف نے جمہوری روایات کے برعکس ان پر تنقید کی۔تحریک انصاف کے ارکان کی قومی اسمبلی میں واپسی کے بعد انتخابی اصلاحات کمیٹی دوبارہ فعال ہو گئی اور قومی اسمبلی کے ارکان ڈاکٹر عارف علوی‘ شاہ محمود قریشی‘ اعظم سواتی اور شیریں مزاری نے کمیٹی کے اجلاسوں میں باقاعدگی سے شرکت کرکے اپنی تجاویز بھی  پیش کیں۔ انتخابی اصلاحات کمیٹی نے اکتوبر 2017ء میں الیکشن ایکٹ 2017ء کی منظوری دی‘ اس میں ایسی متنازع شقیں بھی منظور کی گئیں جن سے مذہبی حلقوں میں اضطراب کی لہر دوڑ گئی اور ایک مذہبی جماعت نے 22 دن تک فیض آباد کے راستے بند رکھے۔ بعد ازاں جنرل (ر) فیض حمید کی مداخلت سے متنازع قوانین کی شقیں حذف کر دی گئیں اور اس کے نتیجے میں راجہ ظفرالحق کی رپورٹ کی روشنی میں دو وفاقی وزرا کو مستعفی ہونا پڑا۔ انتخابی اصلاحات کمیٹی نے انتخابی قوانین میں نمایاں تبدیلیاں کرنے کے بجائے 1974ء اور 1976ء کے انتخابی قوانین‘ نیز پرویز مشرف کے جاری کردہ انتخابی قوانین کو یکجا کرکے الیکشن ایکٹ 2017ء تیار کیا‘ جسے 27اکتوبر 2017ء کو پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد جاری کر دیا گیا۔راقم نے انتخابی امور کے تجربے کی روشنی میں یہ مؤقف اختیار کیا کہ انتخابی اصلاحات کمیٹی نے ایسی اصلاحات نافذ کرنے سے گریز کیا جو اشرافیہ کے مفادات سے متصادم تھیں۔ چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) سردار رضا نے یہ تجاویز انتخابی اصلاحات کمیٹی کو وفاقی سیکرٹری بابر یعقوب فتح محمد کے ذریعے بھجوائیں‘ جنہیں کمیٹی نے مسترد کر دیا۔ میں نے انتخابی اصلاحات کمیٹی کے چیئرمین اسحاق ڈار کو کئی تجاویز بھجوائیں‘ جو اَب بھی کمیٹی کے آرکائیو شعبہ میں موجود ہوں گی‘ لیکن ان سب کو نظرانداز کر دیا گیا۔ کمیٹی کے وائس چیئرمین اور وفاقی وزیر زاہد حامد نے بعد ازاں بتایا کہ ان تجاویز کو زیرِ غور لایا گیا تھا لیکن یہ تمام تجاویز ان کے مفادات کے برعکس تھیں۔ میں نے اپنی تجاویز میں بنگلہ دیش اور بھارت کے انتخابی قوانین کا حوالہ دیا تھا جن کی وجہ سے ان دونوں ممالک میں انتخابات کی غیر جانبداری برقرار رہی۔اب مجوزہ انتخابی اصلاحات کمیٹی کو چاہیے کہ سابقہ انتخابی اصلاحات کے ریکارڈ کا تحقیقی انداز میں جائزہ لے۔ سردار رضا کی بھجوائی ہوئی سفارشات اور میری تجاویز‘ جو تقریباً دو سو صفحات پر مشتمل ہیں‘ کا جائزہ لے کر پیش رفت کی جا سکتی ہے۔ میں قومی اسمبلی کے سپیکر سردار ایاز صادق‘ ایوان کے قائد شہباز شریف اور اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی کو ازسرِنو تجاویز بھجوانے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ الیکشن ایکٹ 2017ء کی کل 236دفعات میں سے نصف سے زائد ایسی ہیں جو ناقص ہیں اور ملک کے موجودہ حالات سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ اگر اصلاحات کیلئے ایسی شقوں پر نظر ثانی کی جائے تو ملک میں انتخابی نتائج میں ہیرا پھیری کا باب ہمیشہ کیلئے بند ہو جائے گا اور فارم 45اور 47کی بحث ختم ہو سکتی ہے ۔ انتخابی اصلاحات میں دس کے لگ بھگ ایسی تجاویز شامل ہونی چاہئیں جن سے عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔ موجودہ پارلیمانی نظام کے غیر جمہوری طرزِ حکومت کی کمزوریوں کا واحد حل صدارتی نظامِ حکومت اور متناسب طریقۂ نمائندگی میں ہے۔ صدارتی نظام زیادہ جمہوری ہے کیونکہ صدرِ مملکت پوری قوم کے اکثریتی ووٹوں سے منتخب ہوتا ہے۔ اس نظام میں ارکانِ پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیاں قانون سازی اور بجٹ کی منظوری تک محدود ہوتی ہیں۔ نیز صدارتی نظام سیاسی استحکام کا ضامن ہے۔ دستورِ پاکستان 1973ء اور ہمارا پارلیمانی نظام انڈین ایکٹ 1935ء کے مطابق پارلیمانی طرز پر بنایا گیا ہے جس کے بارے میں قائداعظم محمد علی جناح نے 11 جولائی 1947ء کے تحریر کردہ ایک نوٹ میں کہا تھا کہ پارلیمانی طرزِ حکومت اب تک صرف انگلستان میں اطمینان بخش رہا ہے اور کہیں نہیں۔ صدارتی طرزِ حکومت پاکستان کیلئے زیادہ موزوں ہے۔اس سے قبل 1941ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے قائد اعظم نے کہا تھا کہ برطانوی پارلیمانی نظام کو اختیار کرنا نہ انڈیا کے مفاد میں ہوگا اور نہ ہی پاکستان کے۔ ہم اپنا صدارتی نظامِ حکومت پر مبنی دستور بنائیں گے۔ ضروری ہے کہ پاکستان میں مضبوط اور دلکش نظام کے قیام کیلئے صدارتی نظامِ حکومت پر غور کرنے کی غرض سے پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے۔ تاریخ میں جگہ بنانے کیلئے صرف مزاحمت‘ تصادم اور طویل جدوجہد کافی نہیں ہوتی‘ نتائج بھی اہم ہوتے ہیں۔ مقتدرہ سے ٹکراؤ میں ریاستی نظام اپنی جگہ قائم رہتا ہے لیکن سیاسی جماعتیں اپنی سیاسی گنجائش‘ کارکنوں اور مستقبل کی سیاست کی قیمت ادا  کرتی ہیں۔ قیادت کا اصل امتحان ڈٹ جانے میں نہیں بلکہ حالات کی نزاکت کو سمجھنے‘ درست وقت پر فیصلہ کرنے اور اپنے سیاسی اہداف حاصل کرنے میں ہے۔ تاریخ ضد اور ہٹ دھرمی کو نہیں‘ بلکہ بصیرت‘ حکمتِ عملی اور نتائج کو یاد رکھتی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_15667905.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مہنگائی کا طوفان اور بے حس حکمران(افتخار احمد سندھو)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/iktakhar-ahmed-sandhu/2026-11-07/52986/36896677</link><pubDate>Sat, 07 Nov 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/iktakhar-ahmed-sandhu/2026-11-07/52986/36896677</guid><description>پاکستان میں عام آدمی کے لیے مہنگائی کے عذاب کی شدت بڑھتی جا رہی ہے جبکہ حکمرانوں کی لوٹ مار اور عیاشیاں کم نہیں ہو رہیں۔ بجلی‘ گیس اورپٹرول کی قیمتیں ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح تک پہنچ چکی ہیں اور اس میں اب بھی بہت اضافہ ہونے کا امکان موجودہے۔ حکمران طبقات عوام کو فروعی لڑائیوں میں الجھائے رکھنا چاہتے ہیں اور پوری قوت سے نان ایشوز کو سماج پر مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے‘ اس کے باوجود زندگی کی حقیقتیں ہر روزعام آدمی کو ڈستی اور انہیں موت کے منہ میں دھکیلتی چلی جا رہی ہیں۔ موجودہ حکومت انہی افراد پر مبنی ہے جو مہنگائی کے خلاف سب سے زیادہ تقریریں کیا کرتے تھے۔ مگر اپنے اقتدار کے دوران یہ پٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں تاریخ کا سب سے بڑا ضافہ کر چکے ہیں۔ ملک میں مہنگائی کا ایک سیلاب آچکا ہے جوغریب عوام کی تھوڑی بہت جمع پونجی بھی بہا لے جانے کے بعد اب ان کی زندگیوں کو نگل رہا ہے۔ اس دوران حکمرانوں کی کرپشن کے نئے قصے ہر روز سننے کو ملتے رہتے ہیں۔ مقتدرطبقات فیضیاب ہو رہے ہیں اور لوٹ مار کی نئی تاریخ رقم کر رہے ہیں۔ ہر چند ہفتے بعد وزیر اعظم یہ کہتے ہیں کہ مہنگائی کا نوٹس لے لیا ہے اور حکم جاری کر دیا ہے کہ مہنگائی کو کم کیا جائے لیکن ایسے ہر حکم کے بعد مہنگائی میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔ حکمران اسی طبقے کے نمائندگان ہیں جو اس ملک میں عوام کے خون کاآخری قطرہ بھی نچوڑنے کے درپے ہے اور تیزی سے اپنی دولت بیرونِ ملک محفوظ مقامات پر منتقل کرتا چلا جا رہا ہے۔ حکومت اور اس کی پشت پناہی کرنے والوں کا واحد کام میڈیا پرآکر جھوٹ بولنااوراسی جھوٹ اور فراڈ پر مبنی سیاست کرنا ہے جس میں عوام کو کسی نہ کسی طرح خاموش رکھا جائے اور اس دوران یہ تمام مافیا اور سرمایہ دار طبقہ اپنی لوٹ مار جاری رکھ سکے۔ اسی لیے ملک میں جتنی زیادہ مہنگائی اور بیروزگاری پھیل رہی ہے اورغریب طبقے کی بھوک اور بیماری سے اموات بڑھتی جا رہی ہیں۔ آٹا اور چینی مافیا سے تو سب ہی واقف ہو چکے ہیں جو بنیادی ضرورت کی ان اہم ترین اشیا پر بے دریغ لوٹ مار جاری رکھے ہوئے ہیں اور اربوں روپے کے منافع ہر سال کما لیتے ہیں جبکہ کروڑوں لوگ فاقوں پر مجبور ہیں۔ حکومت میں شامل تمام وزیر اور ان کی پشت پر موجود ریاستی اہلکار بھی اسی لوٹ مار میں ملوث ہیں اور یہی وجہ ہے کہ غریب عوام بھوک سے خودکشیاں کر رہے ہیں جبکہ یہ سرمایہ دار قیمتوں میں کمی کرنے کے بجائے مزید اضافے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔غریب عوام کے ٹیکسوں کے پیسے پر عیاشی کرنے والے اب اس موجودہ مہنگائی کی بھی بہت سی وضاحتیں پیش کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ ایک آزمودہ نسخہ دنیا کے دوسرے ممالک کے ساتھ قیمتوں کا مقابلہ کرنا ہے جو پچھلے وزیر اعظم بھی کرتے آئے ہیں۔ ورلڈ بینک کی ایک تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کا بیرونی قرض ایک دہائی میں تقریباً دُگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے زائد ہوچکا ہے۔ ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کا بیرونی قرض 2015ء میں 68.67 ارب ڈالر تھا جو 2025 ء میں بڑھ کر 135.107 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کے ذمے سرکاری اور حکومتی ضمانتوں کے تحت 107.07 ارب ڈالر قرض واجب الادا ہے جبکہ پاکستان کے نجی شعبے کا غیر ضمانتی بیرونی قرض 17.58 ارب ڈالر ہے۔ ورلڈ بینک کا کہنا ہے کہ پاکستان کے قلیل مدتی بیرونی قرضوں کا حجم 10.45 ارب ڈالر تک پہنچ گیا جبکہ ایشیائی ترقیاتی بینک کے بھی پاکستان کے ذمے 16.83 ارب ڈالر واجب الادا ہیں۔ ملکی قرض میں بے تحاشا اضافے کے باوجود ساری دنیا سے قرض مانگنے والے حکمران دنیا کی جدید ترین سہولتوں سے فیض یاب ہورہے ہیں اور دنیا کی قیمتی ترین سہولتوں سے استفادہ کرتے ہیں۔ ان کے لباس‘ خوراک اور وضع قطع سے یہ کہیں سے بھی غریب ملک کے نمائندے نہیں لگتے۔ یہی حالت بیوروکریٹک اشرافیہ کی ہے جن کی مراعات اگر اس ملک کا ایک عام شہری دیکھ لے تو دم بخود رہ جائے کہ اس کے پیسوں کو لوٹ کر کس طرح عیاشی کی جا رہی ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ یہی لوگ عوام کو غربت میں صبر کی تلقین کرتے ہیں اور اس کے لیے مختلف وضاحتیں گھڑتے ہیں۔ ان دانشوروں کی بھی کمی نہیں جو اِن افراد کی حاکمیت اور عوام سے کیے جانے والے سلوک کا جواز گھڑنے کے لیے ہر قسم کی دلیل ڈھونڈ کر لاتے رہتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ ان کی طرف سے یہ گلہ بھی عوام سے اکثر سننے کو ملتا ہے کہ لوگ ٹیکس نہیں دیتے جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اگر ٹیکس نہیں دیتے تو وہ اس ملک کے سرمایہ دار‘ جاگیر دار اور حکمران طبقے کے دیگر افراد ہیں جبکہ محنت کش عوام بجلی‘ پٹرول‘ گیس اورخوراک سے لے کر ماچس کی ڈبی تک ٹیکس دیتے ہیں۔ یعنی ایک بیروزگار اور محنت کش بھی ٹیکس تو دیتا ہے مگر ٹیکسوں کی اس آمدن پر اس ملک کے حکمرانوں اور سامراجی طاقتوں کا ہی حق ہے‘ عوام کے لیے صرف بھوک اور بیماری ہی رہ جاتی ہے۔ غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے جس کی بڑی وجہ برآمدات میں کمی ہے۔ حکمرانوں کی لوٹ مار کی پالیسی کے باعث ملکی درآمدات میں بہت بڑا ضافہ ہوا ہے جس سے معیشت گہری کھائی میں گر رہی ہے۔ اس وقت یہ ملک بنیادی ترین اجناس بھی درآمد کر رہا ہے جس پر قیمتی زرِ مبادلہ خرچ ہو رہا ہے۔ چینی اور گندم بھی درآمد کی جاتی ہے اور دیگر زرعی اجناس بھی۔ پاکستان کی صنعتیں بھی تکنیک میں انتہائی پسماندہ ہیں۔ سرمایہ داروں کو اربوں روپے کی مراعات اوروسیع مواقع دینے کے باوجود صنعت ترقی نہیں کر سکی اور نہ ہی اس نظام میں رہتے ہوئے کرسکتی ہے۔ صنعتوں کے لیے درکار خام مال کا بہت بڑا حصہ آج بھی درآمد کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے اگربرآمدات بڑھانے کی کوشش کی جاتی ہے تو اس سے درآمدات کئی گنا بڑھ جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ برآمدات کے خود ساختہ اعدادوشمار دے کرری بیٹ‘ سبسڈی‘ ٹیکسوں میں چھوٹ اور دیگر مراعات لینے کی شکایات بھی سننے میں آتی ہیں‘ جس سے عوام کے ٹیکسوں کا پیسہ براہِ راست سرمایہ داروں کی جیبوں میں چلا جاتا ہے اور کوئی روزگار پیدا نہیں ہوتا۔ اس عمل میں ملک کے حکمران برابر کے شریک ہیں۔اس صورتحال میں آنے والے عرصے میں بھی معیشت کی مشکلات دور ہوتی نظر نہیں آتیں جبکہ مہنگائی اور بیروزگاری میں مزید اضافے کا واضح امکان ہے۔ حکومت تعلیم‘ صحت اور دیگر شعبوں پر جو تھوڑا بہت خرچ کرتی تھی وہ بھی بتدریج ختم کر رہی ہے۔ ایسے میں غربت‘ بیماری اور ذلت میں کئی گنا اضافہ ہوگا اور درمیانے طبقے کے کروڑوں افراد بھی غریب طبقے کی صف میں شامل ہوتے چلے جائیں گے۔ موجودہ نظام میں کوئی بھی حکمران آجائے اور کوئی بھی سیاسی پارٹی اس نظام میں رہتے ہوئے غریب آدمی کوتھوڑا سا ریلیف بھی نہیں دے سکتی۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/228_40817243.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>امتِ وسَط کی وحدت:شرعی مسلَّمات سے میثاقِ وحدت تک(2)(مفتی منیب الرحمٰن )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-11-07/52987/90412683</link><pubDate>Sat, 07 Nov 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-11-07/52987/90412683</guid><description>(2) نبی کریمﷺ نے اپنی امت کو مستقبل میں پیش آنے اختلافات اور فتنوں سے پہلے ہی آگاہ فرما دیا تھا تاکہ اُمت بیدار اور محتاط رہے اور ان سے بچنے کی کوشش کرے۔ حضرت عرباضؓ بن ساریہ کی حدیث میں ہے: نبیﷺ نے فرمایا: &#39;&#39;تم میں سے جو میرے بعد زندہ رہے گا وہ بہت اختلاف دیکھے گا‘‘ (ترمذی: 2676)۔ نیز آپﷺنے فرمایا: &#39;&#39;یہود اکہتر یا بہتّر فرقوں میں بٹ گئے‘ نصاریٰ اکہتر یا بہتّر فرقوں میں بٹ گئے اور میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی‘‘ (ترمذی: 2640)۔ یہاں فرقوں کی تعداد متعیّن کرنا مقصود نہیں ہے بلکہ تشتُّت وافتراق سے باخبر کرنا ہے‘ خواہ تعداد کچھ بھی ہو۔ ایک روایت میں ہے: &#39;&#39;سب جہنم میں ہوں گے سوائے ایک جماعت کے‘‘ (ترمذی:2641)۔ الغرض ان روایات کا بنیادی مقصد محض فرقوں کی تعداد بتانا نہیں بلکہ اُمت کو افتراق وانتشار کے خطرے سے آگاہ کرنا اور کتاب وسنت پر قائم رہنے کی تلقین کرنا ہے۔ حضرت سعدؓ بن ابی وقاص بیان کرتے ہیں: رسول اللہﷺ نے فرمایا: &#39;&#39;میں نے اپنے رب سے تین چیزیں مانگیں‘ اس نے دو عطا کیں اور ایک سے منع کر دیا‘ میں نے دعا مانگی کہ میری امت کو قحط سے ہلاک نہ کیا جائے‘ تو یہ دعا قبول کر لی گئی‘ میں نے دعا کی : میری امت کو غرق کر کے ہلاک نہ کیا جائے‘ یہ دعا بھی قبول کر لی گئی‘ پھر میں نے دعاکی کہ میری اُمت کو باہم جدال وقتال سے محفوظ رکھا جائے‘ تو مجھے اس سے منع کر دیاگیا‘‘ (مسلم: 2890)۔ پس تقدیرِ خداوندی کے مطابق اُمت میں اسی طرح باہمی نزاع وافتراق ہوتے رہے جیسے نبی کریمﷺ نے خبر دی‘ لہٰذا اس سے اجتناب ضروری ہے۔ (3) اس سلسلے میں ایک اہم اور بنیادی بات پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ قرآن وسنت کی نصوص میں جس اختلاف کی مذمت آئی ہے‘ اس سے وہ اجتہادی‘ علمی اور فقہی اختلاف مراد نہیں‘ جو صحابہ کرام اور ائمہ مجتہدین کے درمیان واقع ہوا ہے‘ بلکہ اس سے مراد وہ اختلاف ہے جوضد‘ تعصب‘ خواہشِ نفس‘ بغض اور گروہی عصبیت کے نتیجے میں پیدا ہو اور مسلمانوں کو باہم دست وگریباں کر دے۔ چنانچہ عہدِ نبوت میں پیش آنے والا واقعہ اس کی واضح دلیل ہے۔ مہاجرین اور انصار دو عظیم مقدس جماعتیں تھیں‘ جن کے ایمان و وفا کی اللہ تعالیٰ نے گواہی دی ہے اور انہیں جنت کی بشارتیں سنائی ہیں: &#39;&#39;غزوہ بنی مصطلق سے واپسی پر ایک انصاری اور ایک مہاجر کے درمیان پانی کے معاملے میں تنازع ہوا۔ انصاری نے انصار کو اور مہاجر نے مہاجرین کو اپنی اپنی مدد کیلئے پکارا‘ نبیﷺ نے یہ سنا تو جلدی سے تشریف لائے اور فرمایا: یہ جاہلیت کی پکار کیسی ہے‘ جب آپؐ کو واقعہ بتایا گیا تو فرمایا: اسے چھوڑ دو‘ یہ بدبودار چیز ہے‘‘ (بخاری: 4907)۔ پس یہ غورو فکرکامقام ہے کہ مہاجرین و انصار جیسی مقدس اور قابلِ احترام نسبتیں بھی جب غلط فہمی کی بنا پر گروہی عصبیت کا ذریعہ بنیں تو نبی کریمﷺ نے اسے جاہلیت کی پکار قرار دیا اور بدبودار فرمایا۔ امام شاطبیؒ نے مشروع اور مذموم اختلاف کے مابین فرق کے حوالے سے ضابطہ بیان کرتے ہوئے فرمایا: &#39;&#39;جس مسئلے کی بابت اہلِ اسلام میں اختلاف پیدا ہو جائے اور وہ اختلاف باہمی دشمنی‘ بغض اور قطع تعلقی کا سبب نہ بنے‘ تو وہ اسلام کے مسائل میں سے ہے لیکن جو اختلاف مسلمانوں کے درمیان عداوت‘ نفرت اور ترکِ تعلق کاباعث بنے تو اُس مسئلے کا اسلام اور دین سے کوئی تعلق نہیں ہے‘‘۔ الغرض اختلافِ رائے اور افتراقِ امت دو الگ حقیقتیں ہیں۔ اسلام اختلافِ اجتہاد کو برداشت کرتا ہے‘ لیکن اختلاف کو دشمنی اور انتشار میں بدلنے کی اجازت نہیں دیتا۔ (4) اُمت میں افتراق وانتشار کے بنیادی اور اہم ترین اسباب میں سے خواہشِ نفس کی پیروی‘ تکبر‘ حق کو قبول کرنے سے انکار اور باطل پر اصرار ہے۔ جب انسان کا مقصد حق کی تلاش اور اس کی پیروی کے بجائے اپنی رائے‘ شخصیت یا جماعت کی برتری ثابت کرنا بن جائے تو دلیل کی اہمیت وقوت کم اور تعصب وخود پسندی غالب آ جاتی ہے۔ قرآنِ کریم نے اس طرزِ عمل کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا: &#39;&#39;کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش کو اپنا معبود بنا لیا اور اللہ نے علم کے باوجود اسے گمراہ کر دیا‘‘ (الجاثیہ:23)‘‘۔ (5) حضرت علیؓ فرماتے ہیں: &#39;&#39;مجھے امت کے بارے میں دو چیزوں کا سب سے زیادہ خوف ہے: لمبی امیدیں اور خواہشِ نفس کی پیروی۔ لمبی امیدیں آخرت سے غفلت پیدا کرتی ہیں‘ جبکہ خواہش کی پیروی انسان کو حق قبول کرنے سے روک دیتی ہے‘‘ (شعب الایمان: 10129)۔ یہی نفسانی کیفیت جب علمی اور دینی اختلافات میں سرایت کر جاتی ہے تو اختلافِ رائے‘ حق کی تلاش کے بجائے ذاتی عِناد اور گروہی کشمکش کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ افتراق کا دوسرا اہم ترین سبب نصوصِ شرعیہ کی فاسد تاویل بھی ہے۔ ہر دور میں اہلِ بدعت وَانحراف نے اپنے خود ساختہ نظریات اور اپنی خواہشات کو ثابت کرنے کیلئے قرآن وسنت کی فاسد تاویل کا راستہ اختیار کیا۔ اس لیے ضروری ہے کہ دینی نصوص  کو خواہشات اور پہلے سے قائم شدہ نظریات کے تابع بنانے کے بجائے معتبر علمی اصولوں‘ صحیح احادیث اور فہمِ سلَف کی روشنی میں سمجھا جائے تاکہ دین کی صحیح تعبیر برقرار رہے اور اختلاف وانتشار کے دروازے بند ہوں۔(6) نبی کریمﷺ نے اُمت کو افتراق و انتشار کے خطرات سے نہ صرف خبردار کیا بلکہ اُمت کو اس سے محفوظ رہنے اور وحدت واجتماعیت کو برقرار رکھنے کے بنیادی اُصول اور ذرائع بھی واضح فرمائے ہیں۔ ان میں سے سب سے اہم قرآن وسنت کی طرف رجوع اور اُنہیں مضبوطی سے تھامنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: &#39;&#39;اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ نہ ڈالو‘‘ (آل عمران: 103)۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول مکرّمﷺ کی اطاعت کو لازم قرار دیا‘ لیکن ہر عہد کے اہلِ اقتدار کی اطاعت کو غیر مشروط طور پر لازم قرار نہیں دیا‘ بلکہ فرمایا: &#39;&#39;پھر اگر کسی چیز میں تمہارا (اہلِ اقتدار سے) اختلاف ہو جائے تو (حق کے تعین کیلئے) اس معاملے کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹا دو‘‘ (النسآء: 59)۔ اس سے مراد بالترتیب قرآن وسنّت کی طرف رجوع کرنا ہے؛ چنانچہ نبیﷺ نے فرمایا: &#39;&#39;میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں‘ جب تک تم انہیں مضبوطی سے تھامے رکھو گے ہرگز گمراہ نہ ہوگے: اللہ کی کتاب اور اس کے نبی کی سنت‘‘ (دارقطنی: 4606)۔ اسی طرح اُمت میں اختلاف وانتشار کی پیش گوئی کے موقع پر آپﷺ نے نجات واستقامت کا راستہ بتاتے ہوئے فرمایا: &#39;&#39;تم پر میری اور میرے ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کا اتباع لازم ہے‘ اسے داڑھوں سے مضبوط پکڑ لو‘‘ (ابن ماجہ: 42)۔ نیز نجات پانے والے گروہ کی نشاندہی کرتے ہوئے فرمایا: &#39;&#39;جو میرے اور میرے صحابہ کے جادۂ مستقیم پر کاربند ہو‘‘ (ترمذی: 2641)۔ تاہم اس سلسلے میں ایک بنیادی اور ضروری نکتہ جاننا ضروری ہے کہ قرآن وسنت کے وہی مفاہیم اور تعبیرات معتبر ہیں جو رسول اللہﷺ کی تشریحات اور صحابہ کرام کے فہم سے ہم آہنگ ہوں؛ پس صحابہ کا فہم اس معاملے میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے‘ کیونکہ وہ رسول اللہﷺ سے براہِ راست فیض یافتہ تھے۔ اُنہوں نے قرآن کریم کے معانی‘ اس کی تشریحات وتفسیرات اور دین کے عملی احکام و مفاہیم براہِ راست نبی کریمﷺسے سیکھے تھے۔ لہٰذا قرآن وسنت کے فہم وتشریح میں ان کا مقام بنیادی اور غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ اس کے برعکس جب قرآن وسنت کی ایسی من مانی اور انفرادی تعبیرات اختیار کی جائیں جنہیں علمی اُصولوں اور صحابہ کرام وسلَف کے منہج سے کوئی تائید حاصل نہ ہو تو وہ اتحاد واتفاق کا ذریعہ بننے کے بجائے تفرقہ اور اختلاف وانتشار کا ذریعہ بن جاتی ہیں اور اسی طرزِ فکر سے بدعات و خرافات جنم لیتی ہیں۔ حضرت عمرؒ بن عبدالعزیز نے ایک گمراہ فرقے قدریہ کے جواب میں اسی اصول کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: &#39;&#39;صحابہ کرام نے بھی قرآن کریم کی وہی آیات پڑھی ہیں جو تم پڑھتے ہو‘ لیکن اس کی تفسیر وتشریح میں اُنہوں نے وہ کچھ سمجھا اور جانا ہے جس سے تم بے خبر ہو‘‘۔ (جاری)</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_61172381.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>