<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>کثیر الجہتی غربت ،اسباب اور خدشات(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-18/11641</link><pubDate>Sun, 18 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-18/11641</guid><description>اقوام متحدہ کے ترقیاتی ادارے(UNDP) کی جانب سے کثیرالجہتی غربت انڈیکس (MPI)کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی 38.3 فیصد آبادی صحت‘ تعلیم اور معیارِ زندگی کی محرومیوں کا شکار ہے جبکہ مزید12.9 فیصد آبادی کثیرجہتی غربت کے خطرے سے دوچار ہے۔ کثیرجہتی غربت محض آمدنی کی کمی کا نام نہیں بلکہ اس سے مراد زندگی کی بنیادی ضروریات اور سہولتوں سے محرومی ہے۔ کسی خاندان کی آمدنی بظاہر مناسب بھی ہو لیکن اگر اُس کے بچوں کو معیاری تعلیم میسر نہیں‘ بیماری کی صورت میں علاج کرانا مشکل ہے‘ صاف پانی اور صفائی کی سہولتیں دستیاب نہیں اور رہائش کا معیار ناقص ہے تو اس خاندان کو حقیقی معنوں میں خوشحال قرار نہیں دیا جا سکتا؛چنانچہ کثیرجہتی غربت کا اشاریہ کسی ملک میں انسانی ترقی کی اصل صورتحال کو سمجھنے کا اہم پیمانہ ہے۔تاہم ہمسایہ ممالک کی نسبت پاکستان میں کثیر جہتی غربت کی بلند شرح واضح کرتی ہے کہ معاشی استحکام اور بحالی کے دعوؤں کے باوجود یہاں عام آدمی کی زندگی میں بہتری نہیں آ رہی اور غربت کے خاتمے کیلئے اختیار کی جانے والی حکمتِ عملی مؤثر ثابت نہیں ہو رہی ۔

بھارت میں کثیر جہتی غربت کی شرح 16.4 فیصد ہے اور بنگلہ دیش میں 14.9 فیصد‘ جبکہ بھارت میں مزید4.2 فیصدآبادی غربت کے خطرے سے دوچار ہے اور اور بنگلہ دیش میں 3.9 فیصد۔ معاشی ترقی‘ مالیاتی استحکام اور سرمایہ کاری کے اعداد و شمار اپنی جگہ اہم ہیں لیکن انکی حقیقی افادیت اسی وقت سامنے آتی ہے جب عام شہری کی قوتِ خرید بہتر ہو‘ روزگار کے مواقع بڑھیں اور بنیادی سہولتوں تک رسائی آسان ہو۔ اگر معیشت کے بعض اشاریوں میں بہتری کے باوجود بڑی تعداد میں لوگ تعلیم‘ صحت اور مناسب رہائش سے محروم رہیں تو معاشی کامیابی کے دعوؤں پراعتبار نہیں کیا جاسکتا۔ملک میں کثیر جہتی غربت کی شدت میں بیروزگاری‘ کم آمدنی‘ مہنگائی اور معاشی مواقع کی غیر مساوی تقسیم کا بنیادی کردار ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی کے مقابلے میں روزگار کے مناسب مواقع میسر نہ ہونے سے نوجوانوں کی بے روزگاری بڑھ رہی ہے اور گھرانوں کی آمدنی اور اخراجات میں فرق بڑھتا جاتا ہے۔ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے سے کم آمدنی والے گھرانوں کیلئے خوراک‘ تعلیم‘ علاج‘ توانائی اور دیگر بنیادی اخراجات پورے کرنا دشوار ہو چکا ہے۔
غربت صرف موجودہ ضروریات پوری کرنے میں رکاوٹ نہیں بن رہی بلکہ مستقبل میں بہتر زندگی کے امکانات بھی محدود کررہی ہے۔تعلیم اور صحت کے شعبوں میں محرومیاں اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنارہی ہیں۔اس صورتحال میں یہ خدشہ مزید تشویش کا باعث ہے کہ معیاری تعلیم سے محروم بچوں کو مستقبل میں بہتر ملازمتوں کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے جبکہ علاج کی سہولتوں تک محدود رسائی خاندانوں کو مالی مشکلات میں دھکیلنے کا سبب بنے گی۔ دیہی علاقوں کی پسماندگی اورشہری آبادیوں میں بنیادی سہولتوں کی کمی غربت کی شدت میں اضافے کا سبب بن رہی ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے دیرپا معاشی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ صنعت‘ زراعت اور چھوٹے کاروباروں کو فروغ دے کر روزگار کے مواقع پیدا کرنا ضروری ہے جبکہ فنی تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت کے ذریعے نوجوانوں کو مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق ہنر فراہم کیے جائیں تو نوجوانوں کی بے روزگاری کی شرح میں کمی آ سکتی ہے۔
کم آمدنی والے طبقوں کی قوتِ خرید بہتر بنانے‘ اجرتوں کو مہنگائی کے تناظر میں دیکھنے اور سماجی تحفظ کے پروگراموں کو مؤثر بنانے کی بھی ضرورت ہے جبکہ تعلیم اور صحت پر حکومت کی جانب سے سرمایہ کاری میں اضافہ بھی ضروری ہے ‘ نیز عام آدمی کی ضروریات‘ باعزت روزگار‘ معیاری تعلیم اور صحت کی سہولتوں کو ملک کی معاشی پالیسیوں کا محور بنانا ہو گا کیونکہ جب تک ترقی کے ثمرات سماج کے محروم طبقات تک نہیں پہنچتے معاشی بحالی کا عمل ادھورا سمجھا جائے گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>شدید غذائی بحران(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-18/11640</link><pubDate>Sun, 18 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-18/11640</guid><description>’گلوبل نیٹ ورک اگینسٹ فوڈ کرائسس‘ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان دنیا کے ان دس ممالک میں شامل ہے جہاں غذائی بحران شدید ترین صورت اختیار کر چکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملک میں ایک کروڑ چھ لاکھ افراد شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں‘ جنہیں فوری امداد درکار ہے۔ غذائی قلت اور غربت کے حوالے سے عالمی اداروں کی رپورٹیں اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ ملکِ عزیز میں غذائی قلت کا مسئلہ سنگین چیلنج بن چکا ہے‘ جس سے صرفِ نظر کی گنجائش نہیں۔مذکورہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں غذائی بحران کی بنیادی وجوہات میں غربت‘ اشیائے خورونوش کی مہنگائی‘ روزگار کے محدود مواقع اور گھریلو آمدن میں کمی نمایاں ہیں۔ زرعی مداخل کی بڑھتی ہوئی لاگت‘ کسانوں کو ان کی پیداوار کی مناسب قیمت نہ ملنا اور منڈیوں میں قیمتوں کا عدم توازن بھی غذائی تحفظ کو متاثر کر رہا ہے۔

حکومت کو اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے فوری امداد اور دیرپا اصلاحات پر مشتمل جامع حکمتِ عملی اپنانا ہو گی۔ شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار خاندانوں کو فوری ٹارگٹڈ سبسڈی‘ نقد مالی معاونت اور خصوصی فوڈ پروگرامز فراہم کیے جائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ غربت کے خاتمے‘ روزگار کے مواقع میں اضافے اور عوام کی معاشی سکت بہتر بنانے کیلئے ٹھوس اقدامات بھی ناگزیر ہیں۔ صنعتوں کو مناسب نرخوں پر توانائی کی فراہمی‘ چھوٹے کاروباروں کی حوصلہ افزائی اور ہنرمندی کے فروغ سے روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ڈینگی اور انتظامی غفلت(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-18/11639</link><pubDate>Sun, 18 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-18/11639</guid><description>لاہور سمیت پنجاب بھر میں ڈینگی کے خطرات بدستور برقرار ہیں اور اس مرض کے کیسزمیں اضافہ ہو رہا۔ ایک خبر کے مطابق رواں سیزن صوبے میں ڈینگی کے 250 سے زائد تصدیق شدہ کیس رپورٹ ہو چکے ہیں‘ جن میں 84 کیس رواں ماہ سامنے آئے ہیں۔ سب سے زیادہ کیس لاہور اور راولپنڈی سے رپورٹ ہوئے ہیں۔ ڈینگی کے پھیلاؤ پر قابو پانے میں انتظامی غفلت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ گزشتہ ہفتے لاہور میں 30 ہزار سے زائد ڈینگی ہاٹ سپاٹس کی نشاندہی جہاں انتظامی چشم پوشی کا ثبوت ہے وہی اس امر کی متقاضی بھی ہے کہ متعلقہ اداروں کی جانب سے انسدادی اقدامات کی رفتار اور مؤثریت کا جائزہ لیا جائے۔

پاکستان گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے ڈینگی کے مسئلے سے نبرد آزما ہے اور ہر سال بڑی تعداد میں شہری اس مرض کا شکار ہوتے ہیں۔ متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ ایسی جامع حکمت عملی اپنائیں جو صرف کیسز سامنے آنے کے بعد حرکت میں آنے کے بجائے بیماری کے پھیلاؤ سے پہلے خطرات کا تدارک کرے۔ اس مقصد کیلئے مچھر مار مہم تیز کرنے‘ متاثرہ اور  حساس علاقوں میں بروقت فیومیگیشن‘ ہاٹ سپاٹس کی مسلسل نگرانی اور لاروا کی افزائش روکنے کے اقدامات کو ترجیح دینا ہوگی۔ گلی محلوں میں نکاسی آب کے ناقص نظام کے باعث جمع ہونے والے پانی کی فوری نکاسی بھی ناگزیر ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ان حالات کے معنی(ایاز امیر)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-10-18/52862/36599720</link><pubDate>Sun, 18 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-10-18/52862/36599720</guid><description>ایرانیوں اور ان کے اتحادیوں نے اتنا تو بتلا دیا کہ بقا اور آزادی کیلئے کیسے لڑا جاتا ہے۔ دشمن کئی گنا زیادہ طاقتور‘ وسائل اور ہتھیار سے مالا مال‘ لیکن کیا ایران اور کیا یمن کے حریت پسند مقابلہ کرنے کا انداز تو دکھا دیا۔ ہم جو اہلِ ایمان اپنے آپ کو کہتے ہیں حالانکہ حرکتوں سے گمان اکثر ہوتا ہے کہ ایماں کہیں کھو گیا‘ کن راہوں پر چل رہے تھے۔ اپنے وجود کا دفاع اوروں پر چھوڑ دیا۔ تکیہ کس پر‘ دنیا کی سب سے بڑی سامراجی قوت پر۔ اُسی سے ناطے جوڑنا‘ اُسی کی طرف دیکھنا‘ اُسی کی طرف ہاتھ پھیلانا۔ اور پھر یہ سمجھنا کہ کمال کر دیا‘ سب ضمانتیں حاصل ہو گئیں۔ میلی آنکھ سے کوئی نہ دیکھ سکے گا۔ چند دنوں کی لڑائی نے ان سب مفروضوں کو فنا کر دیا۔ جن پر تکیہ تھا وہ اپنے فوجی اڈے بچا نہ سکے۔تیل کی دولت نعمت خداوندی تو تھی لیکن دولت کچھ اتنی آئی اور اتنی جلدی کہ آنکھوں پر پردے پڑ گئے۔ رویوں میں غرور آ بیٹھا اور خیال ہونے لگا کہ تیل کی دولت کے ساتھ عقلِ کُل بھی ہو گئے ہیں۔ ترقی کے ایسے خواب دِکھنے لگے کہ وہ سادگی جو عرب صحرا کی ایک خصوصیت تھی دور کہیں صحرا میں ہی گُم ہو گئی۔ ودیشی تصورِ ترقی سالم کا سالم اُٹھا کر صحراؤں میں پیوست کیا جانے لگا۔ کہاں جزیرۃ العرب کی پرانی طرزِ زندگی اور کہاں مغرب سے لائے گئے ترقی کے خاکے۔ شہروں کا حلیہ بدل گیا۔ رہن سہن کے طریقے بدل گئے۔ طرزِ زندگی ایسی اُبھری جس سے صحرا کا دور کا واسطہ نہ تھا۔ ہر چیز باہر کی۔ سائنس و ٹیکنالوجی دور ملکوں کی۔ تصوراتِ زندگی اُن کی۔ ہتھیار وہاں سے‘ جدید ترین لڑاکا طیارے باہر کے۔ لیکن ہتھیاروں کے ساتھ جو ترکیبِ جنگ آنی چاہیے تھی وہ ہاتھ نہ آئی۔ اور جب وقتِ امتحاں آیا تو جدید ترین ہتھیار ناکافی ٹھہرے۔ہم پاکستان والے تیل کی غنیمت سے ناآشنا رہے۔ پھر بھی گزر اوقات ایسی اپنائی کہ پاؤں چادر سے ہمیشہ زیادہ پھیلائے۔ اس لیے قوم کی زندگی میں جلد ہی گزر اوقات کے تقاضے پورے کرنے کیلئے ہاتھ پھیلانے کی ادائیں سیکھنی پڑیں۔ اس میں ماہر بھی ہو گئے اور پھر دستورِ ریاست ایسا بنا کہ مانگے تانگے پر ہی گزارا کرنا پڑا۔ صحراؤں میں تیل کے نخلستان پھوٹے تو ہمارے لیے بھی مواقع پیدا ہوئے۔ نظریۂ ترقی کے تصورات اگر مغرب سے آئے تو ہم جیسی قوموں نے مزدوری اور اس سے ملتے جلتے لوازمات کے تقاضے پورے کیے۔ انتھک محنت سے حاصل پیسوں کی وجہ سے ہماری گاڑی چلتی رہی۔ آج تک چل رہی ہے۔ باہر سے بھیجے پیسے رک جائیں تو معیشت کا پہیہ چل نہ سکے۔ اپنے حالات کو دیکھ کر قسمت کو روتے اور صحراؤں کی دولت پر رشک کرتے۔ امریکہ اور اسرائیل کی مسلط کی ہوئی جنگ نے سب کچھ الٹ پلٹ کر دیا ہے۔ صحراؤں کے باسی بہت کچھ سمجھ گئے ہوں گے۔ غیروں پر تکیہ کرنے کا شاخسانہ دیکھ چکے۔ ہمیں کچھ سمجھ آئی ہے یا نہیں اس کا کچھ کہا نہیں جا سکتا کیونکہ یہاں رائج نظام اور اُس سے پیدا شدہ اقدار و عادات منفرد نوعیت کی ہیں۔ اس دور سے نکلیں‘ نکلنا اگر تقدیر میں لکھا ہو‘ تو پھر دیکھیں کہ اس شورش کے زمانے سے قومی سوچ پر کوئی فرق پڑا ہے یا نہیں۔ البتہ اتنا ہم کم فہموں کو کوئی سمجھائے کہ بے پناہ دولت سے اتنا بھی کیا سوچ سے عار ی ہو جانا کہ فضول خرچیوں کی کوئی حد نہ رہے۔ صحرا میں نئے شہروں کے ایسے نقشے تیار کروائے گئے جن کا کوئی سر نہ پیر۔ ذاتی استعمال کیلئے ایسے بحری جہاز (Yacht)خریدنا جن کی قیمت سُن کر انسان دنگ رہ جائے۔ فرانس میں مہنگے محل‘ انگلستان اور امریکہ میں مہنگی جائیدادوں کا حصول۔ نایاب پینٹنگز کا خریدا جانا‘ عوام کے دیکھنے کیلئے نہیں بلکہ کسی ذاتی محل کی نمائش کیلئے۔ امریکہ کے صدر کا آنا اور حیران کن تحائف سے اُنہیں لاد دینا۔ مقصد خوشدلی حاصل کرنا‘ ایسی خوشدلی جو آڑے وقت کسی کام نہ آئی۔ حوثیوں کو تو کچھ سمجھا نہیں جاتا تھا۔ سالہا سال اُن پر بمباری ہوتی رہی۔ زمینی اور سمندری محاصرہ قائم ہوا جس کی وجہ سے قحط کے حالات یمن میں پیدا ہوئے۔ لیکن جب اس بار جنگ چھڑی اور اپنے سے کچھ نہ ہو سکا تو جن کی خوشدلی حاصل کرنے کیلئے اتنے پاپڑ بیلے گئے تھے اُن سے مدد کی اپیل ہوئی اور وہاں سے جواب نفی میں ملا۔ صحراؤں کے شہنشاہ سوچتے تو ہوں گے کہ ہمارے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ ہم جیسے گناہگاروں کا فہمِ اسلام ناقص ہے یا کم از کم نامکمل۔ زاہد نہیں‘ عالم نہیں‘ فقیہ نہیں۔ لاعلمی کے اندھیروں میں بس اتنی سمجھ آتی ہے کہ فہمِ اسلام دو اقوال میں سمو سکتا ہے۔ ایک حضرت عمر فاروقؓ کا‘ جب اُنہوں نے کہا کہ دریائے فرات کے کنارے کوئی کتا بھوکا ہو تو روز محشر اُن سے سوال کیا جائے گا۔ اور دوسرا جو حیدرِ کرارؓ سے منسوب ہے کہ غیر اسلامی حکومت تو قائم رہ سکے پر ظلم پر مبنی نظام نہ رہ سکے۔ کیا مکمل احاطہ اسلام کا یہ دونوں اقوال کرتے ہیں۔ کال مارکس کا سارا فلسفہ پہلے میں آ جائے اور جمہوریت کا تمام درس دوسرے قول میں ضم ہو جائے۔ جب ایسی سوچ اور ایسے خیالات صحرا سے ابھرتے تھے تو وہاں کا رہن سہن کیسا تھا؟ نمایاں اقدار کیا تھیں؟ کیا سادگی اور کفایت شعاری اس طرزِ زندگی کا ایک اہم جزو نہ تھا؟ اور اگر تھا تو اُس زندگی میں اور تیل کی دولت سے پیدا ہونے والے تصورِ زندگی میں مماثلت کیا تھی؟پورے جزیرۃ العرب میں وہ پرانی والی سادگی کہاں نظر آتی ہے؟ جواب سے چونک نہ جانا۔ صرف یمن میں۔ خاص طور پر یمن کے پہاڑوں کے محافظوں میں۔ کیا اُن کے بارے میںکہا جاتا ہے کہ سادہ چپلیں پہنے ٹیوٹا ٹرکوں پر بیٹھ کر حملے کرنے والے۔ تحقیر آمیز لہجے میں اُن کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے۔ چپلیں تو پہنی ہوں گی اور ہر آسائش سے محروم بھی ہیں لیکن لڑنا تو اُنہیں آتا ہے۔ جذبہ بھی اُن کے پاس ہے‘ اس لیے اُن سے کہیں طاقتور افواج اُن کے سامنے ٹھہر نہیں سکیں۔ ویسے بھی اسلام کی جو پہلی جنگیں تھیں عرب فوجوںکی حالت کیا ہوتی تھی؟ دوسرے خلیفۂ راشدؓ ایک اونٹ پر یروشلم آ رہے تھے تو غلام اونٹ کے اوپر تھا اور امیرالمومنین نے اونٹ کو آگے سے پکڑا ہوا تھا۔ استقبال کیلئے آنے والوں نے سمجھا اوپر بیٹھا خلیفہ ہے۔ موجودہ یہود کی مسلط کی ہوئی جنگ میں اُن گزرے وقتوں سے مشابہت کون رکھتا ہے؟اس جنگ سے رونما ہونے والی تبدیلیاں عارضی نہیں۔ اس خطے کا نقشہ ہمیشہ کیلئے بدل چکا ہے۔ امریکہ جو بھی ہاتھ پیر مارے یہاں سے گیا۔ کم از کم اُس کے اڈے گئے۔ کوئی فرمانروا حالات سے اب اتنا نابلد نہ ہوگا کہ ان بیکار کے اڈوں کو اپنی سرزمین پر رہنے دے۔ ان اڈوں کی افادیت تو دنیا نے دیکھ لی۔ اور دونوں طرف کے سمندری راستوں پر جو نہتے سمجھے جاتے تھے اُن کا کنٹرول قائم ہے۔ اس بڑی لڑائی میں جو کہ یہود اور امریکی سامراج کی مسلط کی ہوئی ہے کئی لاچار خواہ مخواہ کے پھنس گئے ہیں۔کچھ کریں تو نقصان پیچھے مڑیں تو تہمت۔ مجبوری کے سودے ہیں جب بغیر سوچے کچھ کرنا پڑ جائے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_80573045.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بڑا بن کر دکھائیں(مجیب الرحمٰن شامی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mujeeb-ur-rehman-shami/2026-10-18/52863/58816356</link><pubDate>Sun, 18 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mujeeb-ur-rehman-shami/2026-10-18/52863/58816356</guid><description>خیبرپختونخوا میں گورنر راج لگایا جا چکا، گورنر فیصل کریم کنڈی اختیارات سنبھال چکے، ان کی ایڈوائزری کونسل بن چکی، اس میں &#39;&#39;نیک نام ٹیکنو کریٹس‘‘ مناصب سنبھال چکے، سہیل آفریدی کو ان کے عہدے سے ہٹایا جا چکا، &#39;&#39;حفاظتی نظر بندی‘‘ میں لیے جا چکے، صوبائی اسمبلی عضوِ معطل بن چکی، اس کے سپیکر کی نقل و حرکت بھی محدود ہو چکی۔ یہ سب کچھ ہو چکا لیکن وہ کچھ نہیں ہوا جس کی پیشگوئی معزول وزیراعلیٰ اور ان کے مشیرِ اطلاعات شفیع جان کر رہے تھے۔ لاکھوں کیا ہزاروں کی تعداد میں بھی لوگ گھروں سے باہر نہیں نکلے۔ ترکیہ کا منظر تو کیا دیکھنے کو ملتا، نئی دہلی میں &#39;&#39;کاکروچوں‘‘ کے اجتماع کا سا نظارہ بھی نظر نہیں آیا۔ ایک حکومت ختم ہوئی، دوسری نے اس کی جگہ لے لی۔ جس طرح دن سے رات اور رات سے دن برآمد ہوتا ہے، اسی طرح پرانی انتظامیہ کو نئی انتظامیہ نے بدل دیا  ؎وہ ہر مقام سے پہلے وہ ہر مقام کے بعدسحر تھی شام سے پہلے سحر ہے شام کے بعدوہ سب لوگ جو گورنر راج لگانے کی خواہش رکھتے تھے یا اس کے سوا کوئی چارہ نہیں پاتے تھے یا حالات کو سنبھانے کیلئے اس انتہا کو آزمانے کے حق میں دلائل کے انبار لگا رہے تھے، ان سب کو دھڑکا لگا ہوا تھا، کہیں ایسا نہ ہو جائے، کہیں ویسا نہ ہو جائے۔ لوگ باہر نکل آئے، انتظامیہ پر چڑھ دوڑے، دفتروں اور افسروں کو نشانہ بنا لیا، تصادم کی نوبت آ گئی، خون خرابہ ہو گیا، لاشیں گریں اور زخموں سے چور چور ہونے والے تڑپتے دکھائی دیے تو کیا خبر حالات کیا رُخ اختیار کر لیں۔ تاریخ کے بدنما واقعات ایک بار پھر اپنے آپ کو دہرانے لگے تو ہاتھ ملنے والے ہاتھ جوڑنے والوں سے کہیں زیادہ ہوں گے۔ یہ سب دھڑکے، یہ سب اندیشے اپنی اپنی جگہ رہ گئے۔ گورنر کنڈی اور ان کے مشیرانِ کرام اطمینان سے اپنے اپنے ایوانوں میں اپنا اپنا کام کر رہے ہیں۔ ضلع ضلع اور شہر شہر اپنا پرچم لہرانے کیلئے سرگرم ہیں۔ فائلیں پھرول رہے ہیں، ان میں دبے کرپشن کے &#39;&#39;انباروں‘‘ کو تلاش کر رہے ہیں، نیب کو متحرک کیا جا رہا ہے اور نوید سنائی جا رہی ہے کہ امن و امان بحال ہو گا۔ دہشت گردی کا سر کچلا جائے گا اور پی ٹی آئی کے گزشتہ تیرہ سالوں سے فیض یاب ہونے والوں سے وہ کچھ اگلوایا جائے گا جو وہ کب کا ہضم بھی کر چکے ہیں۔دہائی دی جا رہی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف تعاون نہ کرنے کا الزام لگا کر جو حکومت گھر بھجوائی گئی ہے، ٹارگٹ اس کی خالق جماعت ہے۔ دہشت گردوں پر فوکس کرنے کے بجائے تحریک انصاف کی سیاست کو نشانہ بنانا مطلوب ہے، اس کے متعلقین و متوسلین پر زمین تنگ کی جا رہی ہے، ان کے پاؤں تلے سے زمین کھینچنے کے منصوبے بن رہے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ اگر یہ کام جاری رہا، دہشت گردوں کے بجائے تحریک انصاف کی سیاست کو محدود کرنے یا اس کا راستہ مسدود کرنے پر توجہ لگا دی گئی تو پھر حالات کا رُخ بدل بھی سکتا ہے، لینے کے دینے پڑ سکتے ہیں۔ ردِعمل شدید ہو سکتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ تحریک انصاف خیبرپختونخوا کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے۔ صوبائی اسمبلی میں اسے دو تہائی سے زیادہ کی حمایت حاصل ہے، اس پوری جماعت یا اس کی ساری قیادت کو دہشت گردوں کے ساتھ جوڑنا احمقانہ ہی نہیں سفاکانہ عمل ہو گا، جس کا نتیجہ پورے پاکستان کو بھگتنا پڑ سکتا ہے جس سے جسدِ سیاست ہی نہیں جسدِ قومی بھی متاثر ہو سکتا ہے۔ اسے شدید صدمہ پہنچ سکتا ہے۔ اس لیے احتیاط سے کام لینا ہو گا۔ وزیراعظم شہباز شریف یا صدر آصف علی زرداری یا دوسرے شریکانِ اقتدار، ہر ایک کو آنکھیں کھلی رکھنا ہوں گی۔ جو فرمان جاری کیا گیا ہے، اس کی آڑ میں کیے گئے اقدامات اور معاملات پر گہری نظر رکھنا ہو گی۔ گورنر راج کو محدود سے محدود کرنا ہو گا۔ کارروائی انہی کے خلاف ہونی چاہیے اور انہی تک رہنی چاہیے جو دہشت گردی کے خلاف مہم کے راستے میں رکاوٹ ہیں یا خوف یا لالچ کے باعث دبک کر رہ گئے تھے۔ تحریک انصاف کی سیاسی قیادت کی حمایت اس کیلئے حاصل کی جانی چاہیے۔ مولانا فضل الرحمن کو بھی اعتماد میں لینا چاہیے اور حافظ نعیم الرحمن کو بھی شریکِ مشورہ کر لینا چاہیے۔اپوزیشن نے گورنر راج پر شدید احتجاج کیا ہے، مولانا فضل الرحمن آگ بگولہ ہیں، حافظ نعیم الرحمن نے بھی غصے کا اظہار کر دیا ہے، عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹائے جا رہے ہیں، درخواستیں دائر کر دی گئی ہیں۔ اُمید کی جانی چاہیے کہ جلد ان کی سماعت شروع ہو گی اور توجہ انصاف کے ایوانوں پر مرکوز ہو جائے گی۔ اس مہلت سے فائدہ اٹھا کر مذاکرات کا دروازہ کھولنے کی ضرورت ہے۔ ایک دوسرے کو سبق سکھانے کے بجائے سب کو ماضی سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔ ہماری تاریخ ہمارے سیاسی اور غیر سیاسی اداروں کے درمیان الجھاؤ اور تناؤ سے بھری پڑی ہے۔ پاکستان تاریخ کو دہرانے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ایک دوسرے پر لعن طعن کرنے اور ایک دوسرے کی کمزوریاں ڈھونڈنے کے بجائے ایک دوسرے کی طاقت بن کر ہی سب طاقتور بن سکتے ہیں۔ آج اگر خیبرپختونخوا میں خاموشی ہے تو اس پر مطمئن ہو کر بیٹھ رہنا زہرِ قاتل ہو گا۔ حالات تو کسی وقت کوئی بھی رخ اختیار کر سکتے ہیں۔ دور تک دیکھنے کی کوشش کیجیے۔ احتیاط علاج سے بہتر ہے۔ آئینی منصب داروں کی ذمہ داری بہت زیادہ ہے۔ انہیں اپنے اپنے منصب کے تقاضے پورے کرنا ہوں گے۔ خیبرپختونخوا، بلوچستان، آزاد کشمیر جہاں بھی معمولاتِ زندگی میں خلل پڑ رہا ہے وہاں تدبیر اور تدبر کو بروئے کار لانا ہو گا۔ انتظامی فیصلوں اور اقدامات کی اپنی اہمیت ہے، لیکن صرف ان پر اکتفا کر لینا اور سیاسی عمل کی توانائی کو نظرانداز کر دینا، اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہے۔ آج کا پاکستان آج کے اربابِ اختیار سے توقع ر کھتا ہے کہ جس کو بڑائی کا جو بھی زعم ہے، وہ اس ہی کے مطابق بڑا بن کر دکھائے۔اقرار الحسن کی اونچی اڑانعوام راج تحریک کے رہنما اور الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کی معروف و محبوب شخصیت اقرار الحسن کو سائبر کرائم کی تفتیش کرنے والے ادارے نے لاہور سے گرفتار کر کے کراچی کی ایک عدالت میں پیش کر دیا۔ وہ ابھی تک حوالۂ زنداں ہیں۔ انہیں رات کے اندھیرے میں جس انداز میں دبوچا گیا، اس نے ہر قانون پسند شہری کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ان پر خیبرپختونخوا کے گورنر راج کے نفاذ کے خلاف سخت زبان استعمال کرنے کا الزام ہے۔ ان کا مقدمہ قانون کی عدالت میں ہے، اور عوام کی عدالت بھی اس کا بغور جائزہ لے رہی ہے۔ اُمید کی جانی چاہیے کہ وہ جلد ضمانت پر رہا ہوںگے اور اپنا مقدمہ پوری شدت سے لڑ سکیں گے۔ ان کے وکیل علی اشفاق ان کے حق میں دلائل کے انبار لگا رہے ہیں۔ اقرار الحسن سیاست کے میدان میں قدم رکھ چکے ہیں، بادِ مخالف انہیں اونچا ہی اڑائے گی کہ قید و بند کی صعوبتیں اہلِ سیاست کا بال بیکا نہیں کر پاتیں۔ برصغیر کی تاریخ تو یہی بتاتی ہے۔ اربابِ اختیار البتہ غور کر لیں کہ وہ کیا بو رہے ہیں، کس طرح بو رہے ہیں اور انہیں کس کس طرح کیا کیا کاٹنا پڑ سکتا ہے۔(یہ کالم روزنامہ &#39;&#39;پاکستان‘‘ اور روزنامہ &#39;&#39;دنیا‘‘ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_37052987.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پائو گوشت کیلئے پورا اونٹ ذبح(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-10-18/52864/59579559</link><pubDate>Sun, 18 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-10-18/52864/59579559</guid><description>حالیہ دنوں میں پارلیمنٹ کے اجلاس میں جو تقریریں سنی ہیں‘ ان پر حیران ہوں کہ وہاں بیٹھے اکثر ممبران کو اس ملک سے کتنی محبت ہے یا حکومت کو اس ملک میں کتنی دلچسپی ہے؟ کبھی کبھار تو لگتا ہے کہ ان کی اکثریت کسی اور سیارے سے کچھ دنوں کیلئے یہاں آئی ہے اور پانچ سال بعد یہاں سے واپس چلی جائے گی‘ لہٰذا انہیں اس ملک سے وہ محبت ‘پیار اور احساس نہیں ہے جو عام لوگوں کوہے۔  ان تقریروں نے مجھے خاصا مایوس اور کسی حد تک ڈپریس بھی کیا ہے‘ حالانکہ میں بنیادی طور پر مثبت سوچ والا بندہ ہوں۔ہو سکتا ہے کہ میری یہ بات بہت سے لوگوں کو اچھی نہ لگے کہ میں نے عام لوگوں کو اس ملک سے زیادہ محبت کرتے دیکھا ہے۔ اس ملک کی ایلیٹ یا امیر کلاس کو اس کے ساتھ اس لیول کی محبت نہیں ہے۔ میں جب بھی کسی ریسٹورنٹ میں گیا تو مجھ سے کبھی بھی کسی ویٹر‘ گارڈ یا کسی ملازم نے نہیں پوچھا کہ اس ملک کا کیا بنے گا۔ مجھ سے یہ سوال ہمیشہ وہ امیر طبقہ ہی کرتا ہے جو وہاں پندرہ بیس ہزار روپے کھانے کا بل دے کر نکل رہا ہوتا ہے۔ ہاتھ میں پانچ چھ لاکھ کا فون لیے اور باہر انتظار کرتی دس کروڑ کی گاڑی میں بیٹھنے سے پہلے وہ اس ملک پر تبرا پڑھنا نہیں بھولتے۔ جنید مہار نے مجھے کیا خوب احساس دلایا کہ آپ سے کبھی کوئی غریب ملک کی شکایت نہیں کرے گا‘ یہ سب کروڑ پتی اس ملک سے تنگ ہیں۔ غریب بندے کو اب بھی اس ملک پر اعتبار ہے۔وہ بتا رہے تھے کہ پوری  دنیا میں امیگرنٹس کے خلاف کیسے لہر شروع ہو چکی ہے۔ برطانیہ میں یہ لہر سب سے زیادہ عروج پر ہے۔ دنیا میں کوئی کسی کو اپنے ہاں نہیں آنے دیتا کہ ان کا اپنا ملک ہے‘ لیکن ہماری ناشکری انتہا پر ہے۔ایک دفعہ میرے ایک پرانے دوست نے مجھے اپنے فارم ہاؤس پر بلایا‘ جو اس نے نیا نیا خریدا تھا۔ اس کے فارم کے باہر اتنی قیمتی گاڑیاں کھڑی تھیں کہ مجھے پارکنگ کیلئے جگہ نہیں مل رہی تھی۔ میں دور گاڑی پارک کر کے دس منٹ پیدل چلتا ہوا فارم تک گیا تو راستے میں پارک شدہ گاڑیوں کے ماڈلز دیکھ کر حیران ہوتا گیا کہ اتنی مہنگی اور نئے ماڈلز کی گاڑیاں بھی اس ملک میں لوگوں کے پاس  ہیں۔ لوگوں کے پاس کتنی دولت ہے! خیر‘ جب اندر گیا تو وہاں ایک اور دنیا آباد تھی۔ وہاں چند لوگ‘ جو مجھے جانتے تھے‘ میرے  پاس آ کر بیٹھ گئے اور ملکی معیشت اور حالات پر بات کرنے لگے۔ میں اکثر اس طرح کے ہجوم میں خاموشی سے باتیں سنتا رہتا ہوں اور اپنی دانشوری کو قابو میں رکھتا ہوں۔ کبھی کوئی مجھے کہتا تھا کہ سنائیں جی! ملک کے کیا حالات ہیں‘ ملک کدھر جا رہا ہے‘ ہمارا کیا بنے گا‘ تو میں پوری ایمانداری اور سنجیدگی سے اپنی دانشوری شروع کر دیتا۔ ایک آدھ منٹ کے بعد وہ مجھے ٹوک کر کہتے کہ آپ رکیں‘ ہم بتاتے ہیں۔ پھر مجھے احساس ہوا کہ وہ میری بات نہیں سننا چاہتے تھے بلکہ مجھے متوجہ کرنے کیلئے ویسے ہی سرسری طور پر پوچھ لیتے  کہ بتائیں کیا چل رہا ہے۔ مجھے دیر سے سمجھ آئی کہ دراصل وہ اپنی سنانا چاہتے ہیں۔ اب میں خاموش ہو کر ان کی سنتا ہوں۔ اُس محفل میں بھی یہی ہوا۔ جب انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا چل رہا ہے تو میں نے اُلٹا ان سے کہا کہ آپ بتائیں‘ آپ سب کاروباری لوگ ہیں۔ پھر انہوں نے ملک اور معیشت کی وہ تصویر پیش کی کہ بندے کا دل کرے کہ بس دنیا ابھی ختم ہو جائے۔ کتنی بری زندگی یہ سب گزار رہے ہیں! میں نے کچھ دیر تک ان کا یہ منظرنامہ برداشت کیا اور پھر کہا کہ اگر پاکستان اتنا ہی برا ہے یا اکانومی تباہ ہو گئی ہے تو یہ سب پیسہ آپ نے کہاں سے کمایا ہے؟ میرے اس دوست نے‘ جس کے فارم ہاؤس پر ہم بیٹھے ہیں اور جس کی قیمت کم از کم ایک ارب روپے ہو گی‘ یہ پیسہ کہاں سے کمایا ہے؟ آپ لوگوں کی سینکڑوں لگژری گاڑیاں جو باہر پارک ہیں‘ آپ نے کہاں سے خریدی ہیں؟ پاکستانیوں نے دبئی میں دس ارب ڈالرز کی جائیدادیں خریدیں‘ یہ سب پیسہ کہاں سے آیا؟ خواجہ  آصف کے بقول‘ آج کل پاکستانی افسر پرتگال میں جائیدادیں خرید رہے ہیں۔ اپوزیشن لیڈر اچکزئی نے تو اسمبلی میں کہا ہے کہ تیس ہزار افسروں نے بیرونِ ملک شہریت لے رکھی ہے۔ کینیڈا پاکستانی افسران اور ان کے بچوں سے بھرا پڑا ہے۔ یہ سب پیسہ کہاں سے آیا جو انہوں نے باہر منتقل کیا؟ میں آپ سب کو جانتا ہوں۔ آپ ارب پتی نہیں تو کروڑ پتی ضرور ہیں۔ دس کروڑ سے کم قیمت کی گاڑی باہر نہیں کھڑی۔ آپ سب کی گاڑیوں میں سب سے پرانی گاڑی میری ہے‘ وہ بھی دفتر کی دی ہوئی ہے۔ اس کے باوجود آپ سب لوگ اس ملک اور اس کی معیشت سے مایوس ہیں؟ حیرت ہے! اور ناشکری کسے کہتے ہیں‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں کہا ہے کہ انسان ناشکرا ہے۔ جو گفتگو آپ کر رہے ہیں یہ ناشکری ہے۔ تھوڑی دیر کیلئے وہاں خاموشی سی چھا گئی اور وہ سب مجھے اکیلا چھوڑ گئے۔ پھر کسی نے نہ پوچھا کہ اس ملک کا کیا بنے گا۔ یہ تین سال پہلے کی بات ہے۔ تین سالوں میں وہ سب دوست مزید اربوں کما کر بھی یہی گفتگو کرتے ہوں گے کہ ملک تباہ ہو گیا‘ رہنے کے قابل نہیں رہا۔یہی حالت آپ کو اسمبلیوں میں ملتی ہے۔ پارلیمنٹیرینز آٹھ دس لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ‘ لاکھوں کا الاؤنس‘ مفت ایئر ٹکٹس‘ مفت میڈیکل‘ بیوی بچوں اور ماں باپ کیلئے تاحیات سرکاری پاسپورٹس‘ پانچ سالوں میں بیس تیس کروڑ ترقیاتی فنڈز‘ مفت گاڑیاں اور مفت پٹرول لے کر بھی ملک کے مستقبل سے مایوس ہیں ۔ آپ ذرا ان کی تقریریں سنیں کہ انہوں نے اس ملک کے بارے میں کیا کچھ نہیں کہا۔ ہر ایک کو اپنا حصہ چاہیے‘ جس کو نہیں ملتا وہ ملک کے خلاف ہو جاتا ہے۔ آپ اچکزئی صاحب کی تقریر سن لیں‘ جو اس ملک کی سرحدوں کو نہیں مانتے؛ انہیں افغان طالبان پاکستان سے بہتر لگتے ہیں۔ وہ جس طرح کی گفتگو اس ملک کے بارے میں کرتے ہیں‘ وہ میں رپورٹ تک نہیں کر سکتا۔ ان کے ایک دوسرے پر دہشت گردی کے الزامات سُن کر مجھے لگا کہ یہاں تو سب دہشت گردوں کے ساتھی یا ہمدرد بیٹھے ہیں۔ اگر سب ہمدرد ہیں تو پھر دہشت گردوں سے ہماری کیا لڑائی ہے؟اگر قمر جاوید باجوہ اور عمران خان ہزاروں جنگجوؤں کو واپس لائے تو شہباز شریف نے بھی وزارتِ اعلیٰ کے دور میں کہا تھا کہ طالبان پنجاب پر حملے نہ کریں کیونکہ ہماری اور آپ کی سوچ ایک ہی ہے۔ بیرسٹر گوہر کو وہ ثبوت دکھائے گئے ہیں کہ کیسے ان کی پارٹی کے لوگ دہشت گردوں سے رابطے میں ہیں۔ اب مولانا ناراض ہیں اور محسن نقوی کہتے ہیں کہ انہیں حصہ نہیں دیا تو وہ ناراض ہیں۔  اگر صدر زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کو جیل سے لا کر حصہ دیا جا سکتا ہے تو مولانا کو بھی دے دیتے۔ وہ تو جیل میں بھی نہیں تھے بلکہ جیل میں قید نواز شریف‘ شہباز شریف‘ مریم نواز صاحبہ‘ صدر زرداری‘ خواجہ آصف اور خواجہ سعد رفیق کو رہا کرانے کیلئے لانگ مارچ کرتے تھے۔ باقی سب نے اپنا اپنا حصہ لے لیا اور مولانا کو بھول گئے۔باقی یہ طے ہے کہ اس ملک سے اشرافیہ کو وہ محبت نہیں ہے جو عام پاکستانی کو ہے۔ اس ملک کو وہی عام لوگ اور غریب ہی بچا سکتے ہیں جو ان لیڈروں کی طرح ایک پاؤ گوشت کیلئے پورا اونٹ ذبح نہیں کرتے۔ پچھلے دو تین روز میں جو کچھ پارلیمنٹ میں سنا اور دیکھا ہے اس سے لگتا ہے کہ ہمارے پارلیمنٹرینز اور ان کے لیڈرز اس ملک سے زیادہ اہم ہیں۔ یہ ایلیٹ اب پارلیمنٹ میں اپنے اپنے ایک پاؤ گوشت کیلئے لڑ رہے ہیں۔ ایک پاؤ گوشت اہم ہے‘ ملک نہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل محدودیت(رشید صافی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-10-18/52865/53774669</link><pubDate>Sun, 18 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-10-18/52865/53774669</guid><description>قومی اسمبلی اور سینیٹ نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے فیصلوں کی توثیق کر دی ہے۔ یوں آئین کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے اٹھائے جانے والے اقدام کو اب ایوان کی حمایت حاصل ہے۔ تحریک انصاف ایوان سے باہر اور ایوان کے اندر حکومتی فیصلوں کے خلاف کسی بھی بڑی مزاحمت کا اظہار نہیں کر سکی۔ جب کوئی سیاسی جماعت اپنی مقبولیت اور ووٹ بینک کادعویٰ کرتی ہے تو اس کے مظاہر دو جگہوں پر دیکھنے کو ملتے ہیں‘ ایک پارلیمنٹ ‘ دوسرا عوامی احتجاج ۔ ایوان کے اندر عموماً سیاسی طاقت کا مضبوط مظاہرہ یوں دیکھنے کو ملتا ہے کہ جو بھی قرارداد یا قانون سازی کا بل حکومت ایوان میں منظور کرانا چاہتی ہے‘ اپوزیشن اس کا راستہ روکنے کی کوشش کرتی ہے۔ ماضی میں اس حوالے سے پارلیمانی سیاست کی کئی مثالیں ملتی ہیں۔ اگست 2020ء میں تحریک انصاف کی وفاقی حکومت نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس سے متعلق اینٹی منی لانڈرنگ اور انسدادِ دہشت گردی کی اہم ترامیم کے بل پارلیمنٹ میں پیش کیے تھے۔ اس وقت سینیٹ میں مسلم لیگ (ن)‘ پیپلز پارٹی اور ان کی دیگر اتحادی جماعتوں کو عددی برتری حاصل تھی اور ان کا مؤقف تھا کہ حکومت ان قوانین کو سیاسی انتقام کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہے۔ جب ان بلوں پر ووٹنگ ہوئی تو اپوزیشن نے اپنے اراکین کی تعداد کا پورا فائدہ اٹھایا اور کثرتِ رائے سے دونوں حکومتی بلوں کو مسترد کر دیا۔ اس طرح پارلیمنٹ کے اندر حکومت کو شکست ہوئی اور اپوزیشن کو کامیابی حاصل ہوئی۔ اس ناکامی کے بعد وفاقی حکومت مجبور ہوئی کہ اپوزیشن کے ساتھ بیٹھ کر مذاکرات کرے اور پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے قبل قانون کے مسودے میں اپوزیشن کی ترامیم اور تحفظات کو شامل کرے۔اپوزیشن جماعت کو ایوان کے اندر ووٹوں کے لحاظ سے دشواری کا سامنا ہو تو وہ عموماً عوامی احتجاج کا سہارا لیتی ہے اور سڑکوں پر احتجاج سے حکومتی فیصلوں میں رکاوٹیں ڈالنے کی کوشش کرتی ہے۔ ماضی میں اس حوالے سے بھی کئی مثالیں موجود ہیں کہ اپوزیشن نے عوامی احتجاج کی بنیاد پر حکمران جماعت کو بیک فٹ پر جانے پر مجبور کر دیا۔ 1977ء کے عام انتخابات کے بعد مبینہ دھاندلی کے خلاف نو اہم اپوزیشن جماعتوں کے &#39;&#39;پاکستان قومی اتحاد‘‘ نے ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے خلاف ملک گیر عوامی احتجاج اور پُرزور مظاہروں کا سلسلہ شروع کیا۔ اس تحریک نے عوامی مقبولیت اختیار کی اور پورے ملک کی معاشی و انتظامی زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا۔ شدید عوامی دباؤ اور اپوزیشن کے احتجاج کے نتیجے میں بھٹو حکومت دفاعی پوزیشن پر چلی گئی اور مجبوراً اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کی میز پر آنے پر تیار ہو گئی۔ حکومت نے نہ صرف اپوزیشن کے کئی سیاسی اور مذہبی مطالبات تسلیم کیے بلکہ جون 1977ء میں اپوزیشن کے اہم ترین مطالبے پر عمل کرتے ہوئے ملک میں دوبارہ نئے انتخابات کروانے پر بھی رضامندی ظاہر کر دی۔ اسی طرح پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور دیگر اعلیٰ ججز کی غیر قانونی برطرفی کے خلاف وکلا اور اپوزیشن جماعتوں مسلم لیگ( ن)‘ جماعت اسلامی اور دیگر نے عوامی تحریک چلائی۔ آصف علی زرداری کے دورِ حکومت میں جب حکومت ججز کی بحالی کے اپنے وعدے سے مکمل طور پر مکر گئی تو مارچ 2009ء میں میاں نواز شریف کی قیادت میں اپوزیشن اور وکلا برادری نے لاہور سے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ شروع کیا۔ اس عوامی سمندر اور شدید سیاسی دباؤ کے سامنے حکومت اتنی زیادہ بیک فٹ پر آئی کہ لانگ مارچ کے اسلام آباد پہنچنے سے پہلے ہی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے رات کی تاریکی میں قوم سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس افتخار چوہدری سمیت تمام معزول ججز کو فوری طور پر بحال کرنے کا اعلان کر دیا۔اس تناظر میں اگر موجودہ حالات کو دیکھیں تو بطور اپوزیشن تحریک انصاف ایک کمزور سیاسی جماعت ثابت ہوئی ہے۔ ایوان کے اندر اور ایوان سے باہر کسی قسم کا منظم احتجاج یا طاقت کا مظاہرہ کرنے میں پی ٹی آئی کی حکمت عملی ناکام ثابت ہوئی۔ پی ٹی آئی کے احتجاج کے دوران خیبر پختونخوا میں جب ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیا گیا تو غالب گمان تھا کہ اس کے ردِعمل میں پی ٹی آئی کا احتجاج پورے ملک تک پھیل جائے گا مگر عملی طور پر اس کے بالکل برعکس ہوا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی عوامی مقبولیت محض سوشل میڈیا کی حد تک ہے اور محفوظ کمروں میں بیٹھ کر ڈیجیٹل جنگ لڑی جا رہی ہے۔ کسی دور میں قید و بند اور جیل کی صعوبتیں سیاسی تربیت کا لازمی حصہ سمجھی جاتی تھیں‘ اس کٹھن راہ پر چلنے والوں کو گل اور خار دونوں ایک ساتھ کھلے دل سے قبول کرنے پڑتے ہیں۔ سوشل میڈیا ایک ڈیجیٹل ٹول ضرور ہے مگر اپنے حصے کے پتھر اٹھائے بغیر کبھی بھی کسی محاذ کو سر نہیں کیا جا سکتا۔ پی ٹی آئی پچھلے 13 سال سے خیبر پختونخوا کی حکمران جماعت چلی آ رہی تھی۔ صوبے کے عوام نے اپنے بنیادی حقوق کے تحفظ اور مسائل کے حل کے لیے پی ٹی آئی کو بھاری مینڈیٹ دیا۔ صوبے کے مسائل کس حد تک حل ہوئے اس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں تاہم یہ حقیقت ہے کہ اس وقت مولانا فضل الرحمن صوبے کے حقوق کے تحفظ کیلئے سب سے نمایاں آواز اٹھاتے نظر آتے ہیں۔خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبے کے امور چلانے کیلئے تین کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں۔ پہلی  کمیٹی صوبے کے انتظامی معاملات کو سنبھال رہی ہے۔ یہ 11رکنی مشاورتی کونسل گورنر خیبر پختونخوا کی معاونت کیلئے  خصوصی طور پر تشکیل دی گئی ہے۔ دوسری کمیٹی آٹھ قبائلی اور چار بندوبستی اضلاع پر مشتمل علاقائی ترقیاتی و نمائندہ کونسل کہلاتی ہے۔ اس کونسل میں ان 12 اضلاع سے منتخب کردہ عمائدین کو بھی شامل کیا گیا ہے۔12 اضلاع کے لیے مجموعی طور پر 48 نمائندگان کی نامزدگی کے عمل کو حکومتی سطح پر منظوری مل گئی ہے اور وفاقی حکومت کی جانب سے کونسل ارکان کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔ اس کونسل کی فنڈنگ اور مالی معاملات کی نگرانی وفاقی حکومت کرے گی۔ تیسری 11 رکنی کمیٹی وزیر اعظم شہباز شریف نے تشکیل دی ہے جو خیبرپختونخوا میں روزمرہ کے انتظامی امور کی نگرانی کرے گی۔ وفاق کی جانب سے اٹھایا گیا یہ آئینی قدم کب تک برقرار رہتا ہے یہ پی ٹی آئی کے رویے پر منحصرہے۔ تاہم پی ٹی آئی قیادت کیلئے جو امر سب سے زیادہ تشویشناک اور لمحہ فکریہ ہونا چاہیے وہ یہ ہے کہ پہلے وہ ایوان کی سیاست سے آؤٹ ہوئی پھر عوام کی مدد سے سڑکوں پر احتجاج کرنے کے بھی قابل نہ رہی اور اب وہ اس صوبے کے حقوق کیلئے بھی آواز اٹھانے کے قابل نہیں رہی جس میں وہ گزشتہ 13 برسوں سے وہ برسراقتدار رہی ہے۔ صوبے کے قیمتی معدنیات سمیت صوبے کے حقوق کے حوالے سے اگر اب مولانا فضل الرحمن کھل کر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں تو پی ٹی آئی کو سنجیدگی سے سوچنا ہو گا کہ وہ جس بڑی عوامی مقبولیت کا دعویٰ کر رہی ہے یا تو اس میں کوئی صداقت نہیں یا پھر وہ سیاسی تنزلی کا شکار ہو چکی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/222_48272610.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>رونگٹے کھڑے کر دینے والی خبریں(عمران یعقوب خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-10-18/52866/87374729</link><pubDate>Sun, 18 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-10-18/52866/87374729</guid><description>رونگٹے کھڑے کر دینے والی کئی طرح کی خبروں سے روزانہ کی بنیاد پر سامنا ہوتا ہے۔ کچھ پڑھتے ہیں‘ کچھ ٹیلی وژن پر دیکھتے ہیں اور کچھ سماجی رابطوں کے حوالوں سے سننے میں آتی ہیں‘ لیکن زمانہ اتنا مصروف ہو چکا ہے اور روزگار کمانے کی دوڑ اتنی تیز ہو چکی ہے کہ اب کوئی بھی ان خبروں کو خاطر میں نہیں لاتا‘ دھیان نہیں دیتا‘ حتیٰ کہ حکومت بھی نہیں جس کی ذمہ داری ہی عوام کی بہبود اور ملک کی ترقی کیلئے پالیسیاں بنانا اور ان پر عملدرآمد کرانا ہے۔ساحر لدھیانوی نے کہا تھا:کل کوئی مجھ کو یاد کرے، کیوں کوئی مجھ کو یاد کرے مصروف زمانہ میرے لیے ،کیوں وقت اپنا برباد کرےتو اب بڑی بڑی دھماکا خیز خبریں بھی روٹین کا معاملہ بنتی جا رہی ہیں۔ پہلے چند خبروں کے خلاصوں پر ایک نظر ڈالتے ہیں‘ پھر آگے بات کریں گے۔ کوئی ان خبروں پر غور کر کے اپنا وقت برباد کرنے کو تیار نہیں۔پہلی خبر: 2024ء میں 45830 اعلیٰ تعلیم یافتہ پاکستانی بیرون ملک گئے۔ 2025ء میں 28726 اعلیٰ تعلیم یافتہ پاکستانیوں نے بیرون ملک روزگار حاصل کیا۔ 2026ء میں اب تک یعنی 16 اکتوبر تک 15850 اعلیٰ تعلیم یافتہ پاکستانی بیرون ملک چلے گئے جبکہ ہزاروں ہیں جو بیرون ملک جانے کیلئے بیتاب ہیں۔ بیرون ملک جانے والوں میں ڈاکٹرز‘ انجینئرز‘ آئی ٹی پروفیشنلز اور ماہرین تعلیم شامل ہیں۔دوسری خبر: اقوام متحدہ کے ترقیاتی ادارے (UNDP)کے 2026ء کے غربت کے اشاریوں کے مطابق پاکستان میں غربت کی شرح 38.3 فیصد ہے جبکہ بھارت میں 16.4 فیصد اور بنگلہ دیش میں 14.9 فیصد۔ رپورٹ کے مطابق 21.5 فیصد پاکستانی شدید غربت کا شکار ہیں جو کم و بیش 10کروڑ افراد بنتے ہیں۔ 25 کروڑ آبادی والے ملک میں یہ ایک خاصی بڑی تعداد ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں کثیر جہتی غربت کا شکار افراد میں محرومی کی شدت 51.7 فیصد ہے‘ جبکہ مزید 12.9 فیصد آبادی غربت کے شدید خطرے سے دوچار ہے۔ تیسری خبر: گلوبل ہنگر انڈیکس 2026ء کی رپورٹ میں پاکستان میں بھوک‘ غذائی قلت اور غذائی تحفظ کی ابتر صورت حال کا انکشاف ہوا ہے۔ 2026ء کے گلوبل ہنگر انڈیکس میں پاکستان کا سکور 25.5 ہے جو ملک میں بھوک کی سنگین صورتحال کو ظاہر کرتا ہے۔ جنوبی ایشیا کا علاقائی سکور 23.5 جبکہ عالمی سکور 18.1 ہے۔ پاکستان کی 122 ممالک میں مجموعی درجہ بندی 106 ہے جو بھارت‘ بنگلہ دیش اور ایران سے نیچے ہے۔ غذائی تحفظ کے مراحل کی مربوط درجہ بندی‘ آئی پی سی کی امسال فروری میں آنے والی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 75 لاکھ افراد انتہائی درجے کے غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں جبکہ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے ملک میں بڑھتی ہوئی غذائی قلت‘ معاشی بدحالی اور ذہنی صحت کے بحران پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مہنگائی‘ غربت‘ قرضوں کے بوجھ اور سماجی تنہائی کے باعث پیدا ہونے والی مایوسی صحت عامہ کیلئے سنگین خطرہ بن رہی ہے۔چوتھی خبر: وفاقی سیکرٹری خزانہ نے پارلیمانی کمیٹی کو بتایا ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ یعنی آئی ایم ایف پاکستان کیلئے 37 ماہ پر محیط 7 ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی پروگرام کے تحت 174 قانون سازی کی ترامیم چاہتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی منظوری کا اختیار صرف پارلیمنٹ کے پاس ہے۔ پھر خبر آئی کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان حالیہ سیاسی تعطل کے خاتمے کے بعد دونوں جماعتوں نے آئی ایم ایف کی شرائط اور ملکی معیشت سے منسلک قوانین سمیت 30سے زائد اہم مسودۂ قانون یعنی بلزکی فوری اور باہم متفقہ منظوری پر اتفاق کر لیا ہے۔خبریں اور بھی ہیں لیکن مشتے نمونہ از خروارے والا فارمولا اختیار کرتے ہیں۔ کسی قوم کا سب سے بڑا سرمایہ اس کے افراد ہوتے ہیں کیونکہ افراد سے ہی قوم بنتی ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو کسی قوم کا ایک ایک فرد بے مثل اہمیت کا حامل ہوتا ہے‘ وہ جو علامہ اقبال نے کہا تھا: افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیرہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارابرین ڈرین کا سُن کر منہ دوسری طرف کر لینے والوں کو یہ شعر بار بار پڑھنا اور سمجھنا چاہیے۔ جب کسی قوم کے افراد اپنے مستقبل سے مایوس ہونے لگیں‘ نوجوان ملک چھوڑنے کو ترجیح دیں‘ غریب خاندان دو وقت کی روٹی کیلئے پریشان ہوں اور بھوک و ذہنی دبائو عام زندگی کا حصہ بن جائیں تو یہ محض معاشی مسئلہ نہیں رہتا بلکہ قومی ترجیحات پر نظرثانی کا تقاضا بن جاتا ہے۔ پاکستان میں یہ صورتحال پیدا ہونے کی کئی وجوہ ہیں۔ سب سے پہلی وجہ معاشی عدم استحکام ہے۔ مہنگائی‘ محدود ہوتے روزگار کے وسائل‘ کم ہوتی قوتِ خرید اور آمدنی و اخراجات کے درمیان بڑھتا ہوا فرق جیسے عوامل عام آدمی کی زندگی مشکل سے مشکل تر بنا رہے ہیں۔ جب ایک تعلیم یافتہ نوجوان کو اپنی قابلیت کے مطابق ملازمت‘ مناسب تنخواہ اور ترقی کے مواقع میسر نہ ہوں تو بیرونِ ملک بہتر مستقبل کی تلاش اس کیلئے فطری انتخاب بن جاتی ہے۔دوسری بڑی وجہ میرٹ پر عدم اعتماد‘ پالیسیوں کا تسلسل نہ ہونا اور ادارہ جاتی کمزوریاں ہیں۔ سرمایہ کاری کیلئے غیر یقینی ماحول‘ کاروبار کی بلند لاگت اور ہنرمند افراد کیلئے روزگار کے محدود مواقع رکاوٹ بنتے ہیں۔ غربت اور غذائی قلت اس وقت بڑھتی ہیں جب خاندانوں کی آمدنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کیلئے ناکافی ہو‘ جبکہ تعلیم‘ علاج اور غذائیت کی سہولتیں بھی انکی پہنچ سے باہر ہوتی جائیں اور یہ تو سبھی جانتے ہیں کہ معاشی محرومی جسمانی صحت کیساتھ ذہنی صحت کو بھی متاثر کرتی ہے۔اگرچہ حالات بہت دگرگوں ہو چکے ہیں اور سرنگ کی دوسری جانب روشنی کا کوئی سراغ نہیں ملتا پھر بھی یہ کہا جا سکتا ہے کہ اصلاحِ احوال کیا جائے تو حالات اب بھی ٹھیک ہو سکتے ہیں۔ اس کیلئے حکومت کو سب سے پہلے نمائشی منصوبوں کے بجائے انسانی ترقی کو ترجیح دینا ہو گی۔ چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کی حوصلہ افزائی‘ صنعتوں میں سرمایہ کاری‘ فنی تعلیم اور نوجوانوں کیلئے باعزت روزگار کے مواقع پیدا کرنا ناگزیر ہے۔ ضروری ہے کہ سرکاری ملازمتوں اور ترقیاتی مواقع میں میرٹ یقینی بنایا جائے‘ جبکہ پالیسیوں کو سیاسی تبدیلیوں سے بالاتر ہو کر مستقل بنیادوں پر نافذ کیا جائے۔غربت کے خاتمے کیلئے مستحق خاندانوں کو مؤثر مالی معاونت‘ بچوں کیلئے غذائیت کے پروگرام‘ معیاری سرکاری تعلیم اور سستی طبی سہولتیں فراہم کرنا ضروری ہے۔ زرعی پیداوار اور خوراک کی تقسیم کے نظام کو بہتر بنا کر غذائی عدم تحفظ میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ ٹیکس نظام میں منصفانہ اصلاحات اور سرکاری اخراجات میں شفافیت بھی بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ حکومت کو عوام کے سامنے جوابدہ ہونا چاہیے۔ کامیابی کا معیار محض معاشی شرحِ نمو نہیں بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ کتنے خاندان غربت سے نکلے‘ کتنے نوجوانوں کو روزگار ملا اور کتنے شہریوں کو بہتر زندگی میسر آئی۔پاکستان اور اس کے عوام کا مستقبل صرف وسائل بڑھانے سے نہیں‘ وسائل کی منصفانہ تقسیم اور درست استعمال سے محفوظ ہو گا۔ اگر انسان ہی مایوس‘ محروم اور بھوکے رہیں تو ترقی کے بڑے بڑے دعوے بے معنی ہو جاتے ہیں۔ اب ضرورت وعدوں کی نہیں‘ ایسی عملی اصلاحات کی ہے جن کے ثمرات عام آدمی تک پہنچیں اور اسے اپنے ہی وطن میں باعزت زندگی گزارنے کی امید ملے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_58350786.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ہمالیہ پگھل رہا ہے(محمد عبداللہ حمید گل)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-abdullah-hameed-gull/2026-10-18/52867/78021497</link><pubDate>Sun, 18 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-abdullah-hameed-gull/2026-10-18/52867/78021497</guid><description>نیپال میں تاریخ کی بدترین سیلابی تباہی نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے کہ ہمالیہ‘ ایشیا کاسب سے بڑا آبی ذخیرہ‘ تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے ‘جس میں برف کی سطح میں شدید کمی نے ماہرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ انٹرنیشنل سینٹر فار انٹیگریٹڈ ماؤنٹین ڈویلپمنٹ کی رپورٹHKH Snow Update 2026 کے مطابق نومبر 2025ء سے مارچ 2026ء تک برف میں 28.8 فیصد کمی آئی۔برف کی موجودگی (Snow Persistence )اس کا پیمانہ ہے کہ گرنے کے بعد برف کتنی دیر تک زمین میں باقی رہتی ہے۔ یہ پہاڑی علاقوں میں مستقبل میں پانی کی موجودگی کا اہم اشارہ سمجھا جاتا ہے۔موسمی برف ایک قدرتی آبی ذخیرے کا کردار ادا کرتی ہے اور ہندو کش ہمالیہ کے 12دریائی سسٹمز کے سالانہ بہاؤ کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ فراہم کرتی ہے۔ سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ گلیشیئرز اب 2000ء سے پہلے کے مقابلے میں دوگنی رفتار سے پگھل رہے ہیں جس سے طویل اور خشک موسمِ گرما کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ اس کے ممکنہ اثرات میں پانی کی شدید قلّت‘زیر زمین پانی کے ذخائر پر دباؤ ‘زراعت اور خوراک کی پیداوار میں کمی سمیت توانائی کے شعبے خاص طور پر ہائیڈرو پاور پر اثر انداز ہوں گے۔ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے گلیشئیرز پگھلنے سے جھیلیں بن رہی ہیںجو GOLFs کا سبب بنتی ہیں اور نتیجتاً فلیش فلڈ آتے ہیں۔ اسی طرح انتہائی شدت کی بارشیں اور بادل پھٹنے کے واقعات بھی بگڑتے موسم کا حصہ ہیں۔ ہمالیہ میں درجہ حرارت دگنی رفتار سے بڑھ رہا ہے۔ پہاڑوں کی کمزور مٹی اور چٹانوں کو تھامنے والی صدیوں پرانی پرما فراسٹ بھی تیزی سے پگھل رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ رجحان جاری رہا تو ہمالیہ میں برف کی مسلسل کمی آنے والے برسوں میں کسی بڑے ماحولیاتی اور انسانی بحران کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ہمالیہ میں ہزاروں گلیشیئرز موجود ہیں جو قدرتی طور پر میٹھے پانی کے بہت بڑے ذخائر کیلئے بھی اہم ہیں۔ ان گلیشیئرز سے پگھلنے والا پانی دریائے گنگا‘ سندھ‘ برہم پتر اور یانگسی اور ایشیا کے کئی بڑے دریائی نظاموں تک پہنچتا ہے اور زراعت‘ پن بجلی‘ پینے کے پانی کی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یقیناً دو ارب سے زائد افراد کا ہمالیائی گلیشیئرز کے پانی پر انحصار ہے لیکن مسلسل برف پگھلنے اور گلیشیئرز کے سکڑنے کا نتیجہ بالآخر یہ نکل سکتا ہے کہ خشک موسم میں استعمال کیلئے محفوظ قدرتی آبی ذخیرہ کم ہوتا جائے۔ ہمالیہ کے گلیشیئرز کا تیزی سے سکڑنا صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ یہ مستقبل میں ایشیا کے پانی‘ خوراک اور توانائی کے تحفظ سے جڑا ایک بڑا چیلنج بن کر ابھر رہا ہے۔ ماہرینِ ماحولیات نے خبردار کیا ہے کہ عالمی درجہ حرارت میں اضافے اور ہمالیائی خطے سے جڑے ہونے کے باعث شمالی علاقوں (گلگت بلتستان‘ چترال اور خیبر پختونخوا) میں گلیشیئرز کے پگھلنے کا عمل ملک کیلئے شدید خطرہ بن چکا ہے‘ جس کی وجہ سے پاکستان کو نیپال کی طرح کسی بھی وقت ایک اور بڑے سیلابی طوفان یا قدرتی تباہی کا سامنا ہو سکتا ہے۔ عالمی ماحولیاتی انڈیکس کے تحت پاکستان دنیا کے ان 10ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ پاکستان کے بالائی شمالی علاقوں میں سات ہزار سے زائد گلیشیئرز موجود ہیں جو بڑھتی ہوئی گرمی کے باعث تیزی سے پگھل کر اچانک سیلاب کی شکل اختیار کر رہے ہیں۔ پاکستان کے دریاؤں میں بہنے والے کل پانی کا تقریباً 70فیصد حصہ گلیشیئرز پگھلنے سے حاصل ہوتا ہے‘ لیکن ان کا غیرمعمولی اور بے وقت پگھلنا کسی بڑے سانحہ کا سبب بن سکتا ہے۔ پاکستان 2010 ء اور 2022 ء میں تاریخ کے بدترین سیلاب دیکھ چکا ہے۔ اگر موسمیاتی تبدیلیوں کی روک تھام کیلئے ٹھوس اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے وقت میں بڑے ماحولیاتی و موسمی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔خبر رساں ادارے رائٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق ہمالیہ کے گلیشئیرز تیزی سے پگھلنے کے باعث خطہ ایک خطرناک موڑ کی جانب بڑھ رہا ہے۔ اس تشویشناک صورتحال کا اس وقت انکشاف ہوا جب اگست میں نیپال اور تبت کی سرحد پر ایک ہمالیائی گلیشئیر نے سب کچھ تہس نہس کر دیا۔ اس آفت کو Cryospheric قرار دیاگیا۔ یہ زمین کے جمے ہوئے حصوں بشمول گلیشئیرز اور پرما فراسٹ کیلئے استعمال ہونے والی اجتماعی اصطلاح ہے۔ نیپال تیزی سے گرم ہوتے ہمالیائی خطے میں واقع ہے جہاں ہزاروں گلیشئیرز موجود ہیں۔ برٹش انٹارکٹک سروے کی ماہر ایلا گلبرٹ کے مطابق گلیشئیرز سکڑنے کے ساتھ غیر مستحکم ہو سکتے ہیں اور ان میں اچانک انہدام کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ امپریل کالج لندن کے ہائیڈرو لوجی ماہر واوٹر بائٹارٹ کا کہنا ہے کہ عالمی درجہ حرارت میں اضافہ گلیشئیرز کے ٹوٹنے اور سکڑنے کے امکانات بڑھا رہا ہے۔ نیپال سانحہ اس کی ایک خوفناک جھلک ہے۔ یہ صرف نیپال کا المیہ نہیں اس ہمالیائی خطے میں موجود تمام ممالک کیلئے انتباہ ہے جس میں پاکستان بھی شامل ہے۔ افغانستان سے میانمار تک پھیلا یہ وسیع پہاڑی سلسلہ تقریباً 40ہزار گلیشئیرز پر مشتمل ہے۔ زمینی سطح پر ان میں سے صرف 21گلیشئیرز کی باقاعدہ نگرانی کی جا رہی ہے۔ سائنسدانوں کیلئے یہ صورتحال ایک بھیانک چیلنج ہے کیونکہ گلیشیائی جھیلوں کی نگرانی تو ٹیکنالوجی کے ذریعے ممکن ہے لیکن بلندیوں پر موجود چٹانوں کی اندرونی توڑ پھوڑ کا پتہ لگانا ناممکن ہے جو ان آفات کی پیشگوئی کرتی ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق ہمالیائی خطہ بھارت کی مجموعی معیشت میں 20فیصد سے زائد حصہ ڈالتا ہے اور اس کے کروڑوں افراد کی معیشت اس سے وابستہ ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر گلیشئیرز کے پگھلنے کی رفتار اسی طرح برقرار رہی تو پیک واٹر کے بعد پانی کی دستیابی میں کمی زراعت‘ توانائی‘ پینے کے پانی اور لاکھوں افراد کے روزگار پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ایک دہائی قبل موسمیاتی تبدیلی پر بین الاقوامی پینل (IPCC) نے کہا تھا کہ زمین کے بڑھتے درجہ حرارت کی وجہ سے ممکن ہے کہ 2035ء تک ہمالیہ کے گلیشئیرز پوری طرح ختم ہو جائیں گے۔ اگر سنجیدگی سے غور کیا جائے تو پتہ چلے گا کہ ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے کے ان علاقوں میں ہی گلیشئیرز سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں جہاں انسانی مداخلت زیادہ رہی ہے۔ واضح رہے کہ 1953ء کے بعد اب تک 3000 سے زائد کوہ پیما ایورسٹ کی چوٹی سر کر چکے ہیں۔ دوسرے بلند پہاڑی سلسلوں پر پہنچنے والے افراد کی تعداد بھی ہزاروں میں ہے۔ انسانوں کی غیرضروری نقل و حرکت کی وجہ سے گلیشئیرز سمٹ رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ گلیشئیرز کے قریب تعمیر کیے جانے والے ہائیڈرو الیکٹرک پراجیکٹس کیلئے کیے جا رہے دھماکوں اور توڑ پھوڑ نے بھی انہیں غیر متوازن کر دیا ہے۔پانی کو ایک محدود مگر قیمتی وسیلہ سمجھتے ہوئے پاکستان میں اس کے مؤثر انتظام کی حکمتِ عملیوں میں سرمایہ کاری بڑھانے کی ضرورت ہے۔ اس میں آبی ذخیرہ کیلئے بہتر سہولیات‘ زراعت کیلئے آب پاشی کے مؤثر نظام اور خشک سالی سے نمٹنے کیلئے ہنگامی منصوبہ بندی شامل ہونی چاہیے۔ ہندوکشں ہمالیہ کے خطے میں واقع ہمسایہ ممالک کو ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا ہو گا تاکہ پیشگی وارننگ سسٹم کو مضبوط و فعال بنایا جا سکے اور برف کی صورتحال اور پانی کے بہاؤ سے متعلق معلومات کا تبادلہ یقینی بنایا جائے۔ اگر لاپرواہی اور کوتاہیوں کے رجحانات کا سلسلہ جاری رہا تو یہ خطہ پانی کے ایسے بحران سے دوچار ہو سکتا ہے جس کی تلافی شاید ممکن نہ ہو۔ شاید ہمالیہ پر برف کے ذخائر تیزی سے ختم ہوتے جائیں‘ لہٰذا فیصلہ کن اقدامات کیلئے دستیاب وقت کو ضائع نہیں ہونا چاہیے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_62843609.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>