<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>سیاسی مفاہمت ہی واحد راستہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-03/11598</link><pubDate>Sat, 03 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-03/11598</guid><description>پاکستان اس وقت اپنی تاریخ کے نازک دور سے گزر رہا ہے۔ ایک طرف معاشی بحران کی سنگینی ہے جو عام آدمی کی کمر توڑ رہی ہے اور دوسری طرف دہشتگردی کا عفریت ایک بار پھر سر اٹھا رہا ہے۔ ان دونوں چیلنجز کا سامنا کرنے کیلئے جس داخلی استحکام اور قومی یکجہتی کی ضرورت ہے‘ بدقسمتی سے ہمارا سیاسی نظام اس سے محروم نظر آ رہا ہے۔ اس پس منظر میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور سیاسی جمود کو توڑنے کی جانب ایک خوش آئند قدم ہے۔ یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے جب اپوزیشن کی جانب سے چار اکتوبر کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کی کال دی گئی ہے۔ دیر آید درست آید کے مصداق سیاسی جماعتوں میں رابطہ کاری کا یہ سلسلہ بہرطور جاری رہنا چاہیے کیونکہ جمہوریت کی بقا کا راز مکالمے ہی میں پنہاں ہے۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ پاکستان اس وقت جس گہرے سیاسی و سماجی بھنور میں پھنسا ہوا ہے اس سے نکلنے کا واحد‘ موزوں اور قابلِ عمل راستہ صرف سیاسی مفاہمت ہے۔ گزشتہ چار‘ پانچ برس سے ملک حکومت اور اپوزیشن کی سیاسی رسہ کشی کے بیچ جھول رہا ہے جبکہ ڈیڑھ سال سے دونوں میں کسی قسم کی کوئی مذاکراتی بیٹھک بھی منعقد نہیں ہو سکی۔

اس دوران دونوں اطراف سے مذاکرات کی زبانی پیشکشیں تو کئی بار ہوئیں لیکن عملی طور پر برف پگھل نہ سکی اور تعطل برقرار رہا۔ اس طویل جمود نے نہ صرف پارلیمان کو مفلوج کیا بلکہ ریاستی اکائیوں کو بھی ایک مستقل تناؤ کی کیفیت میں مبتلا رکھا۔ اب جبکہ فریقین نے میز پر بیٹھنے کا فیصلہ کیا ہے تو یہ سمجھنا ضروری ہے کہ مذاکرات بذاتِ خود کوئی منزل نہیں بلکہ یہ اُس طویل سفر کا آغاز ہیں جس کا مقصد ملک میں سیاسی استحکام کا قیام ہے۔ یہاں یہ اعتراف بھی ضروری ہے کہ فریقین میں پائی جانے والی بداعتمادی اب تک مذاکرات کے نتیجہ خیز ہونے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ رہی ہے۔ اس خلیج کو یکلخت پُر کرنا ممکن نہیں لیکن بات چیت جاری رہنے سے کوئی ایسی راہ ضرور نکل سکتی ہے جو نظری اختلافات کو دور کر سکے۔ سیاستدانوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کرنا اور برداشت کرنے کا حوصلہ ہی سیاست اور جمہوریت کا حقیقی حسن ہے۔ اگر ایک دوسرے کو سیاسی منظرنامے سے مٹانے کی ضد برقرار رہی تو نقصان کسی ایک جماعت کا نہیں بلکہ پورے ریاستی ڈھانچے کا ہوگا۔
آج سب سے بڑا چیلنج معاشی استحکام کا حصول ہے۔ آئی ایم ایف کے پروگراموں‘ دوست ممالک کی معاونت اور سخت معاشی فیصلوں کے باوجود سرمایہ کار اُس وقت تک پاکستان کا رخ نہیں کریں گے جب تک انہیں مستقبل کی سیاسی سمت واضح نظر نہیں آئے گی۔ اسی طرح دہشتگردی کے خلاف ایک متفقہ قومی بیانیے کی تشکیل وقت کی اہم ضرورت ہے۔ سکیورٹی فورسز کی قربانیاں اپنی جگہ‘ تاہم جب تک ملک کی تمام سیاسی قیادت ایک پیج پر کھڑی ہو کر دہشتگردی کے خلاف دوٹوک مؤقف اختیار نہیں کرے گی‘ دشمن ہماری داخلی کمزوریوں کا فائدہ اٹھاتا رہے گا۔ ان دونوں محاذوں پر کامیابی کی راہ میں جو سب سے بڑی رکاوٹ ہے وہ سیاسی عدم استحکام ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپوزیشن کے جائز آئینی و قانونی مطالبات کو تسلیم کرے اور اپوزیشن کو بھی یہ ادراک ہونا چاہیے کہ ضد اور انتشار کی سیاست کا حاصل ملک و قوم کے نقصان کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔
سیاسی قیادت کو اب ملک وقوم کے مستقبل کا سوچنا ہوگا۔ عوام مہنگائی‘ بیروزگاری اور امن و امان کی بگڑتی صورتحال سے تنگ آ چکے ہیں اور اپنے سیاسی رہنماؤں کو آپس میں دست و گریبان دیکھنے کے بجائے مسائل کا حل ڈھونڈتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ آج اور آئندہ ہونے والے مذکراتی ادوار میں سنجیدگی‘ لچک اور قومی مفاد کو ذاتی و جماعتی مفاد پر ترجیح دی جائے تاکہ ملک کو اِس سیاسی و سماجی بھنور سے نکال کر ترقی کی شاہراہ پر گامزن کیا جا سکے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مہنگائی میں متواتر اضافہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-03/11597</link><pubDate>Sat, 03 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-03/11597</guid><description>حکومتی دعووں کے باوجود مہنگائی میں مسلسل اضافے کا سلسلہ جاری ہے۔ وفاقی ادارۂ شماریات کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق یکم اکتوبر کو ختم ہونیوالے کاروباری ہفتے میں 20اشیائے ضروریہ مزید مہنگی ہوئیں جبکہ ہفتہ وار مہنگائی کی شرح 11.53 فیصد تک پہنچ گئی۔ ماہانہ رپورٹ کے مطابق ستمبر کے دوران افراطِ زر کی شرح 10.3 فیصد رہی۔ رپورٹ کے مطابق اگرچہ ستمبر میں چند غذائی اجناس کی قیمتوں میں کمی ہوئی لیکن بجلی‘ ایندھن‘ ٹرانسپورٹ اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ جاری رہا۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے گھر یلو بجٹ پر براہِ راست دباؤ پڑنے کے ساتھ کاروبار‘ نقل و حمل اور اشیائے خورونوش کی پیداواری لاگت بھی بڑھ جاتی ہے۔ یہی وہ پہلو ہے جسے پالیسی سازی میں بنیادی اہمیت دینا ہوگی۔

توانائی مہنگی ہوگی تو ٹرانسپورٹ‘ زرعی پیداوار‘ کولڈ سٹوریج‘ صنعت اور دکان تک اشیا پہنچانے کی لاگت بھی بڑھے گی‘ اور بالآخر اس کا بوجھ صارف پر منتقل ہوگا۔ چنانچہ صرف کسی ایک شے کی قیمت کم کرنے یا عارضی سبسڈی دینے سے مسئلہ مستقل طور پر حل نہیں ہو گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مہنگائی کے اس پورے سلسلۂ اسباب کو دیکھا جائے۔ مہنگائی میں کمی کیلئے حکومت کو بجلی‘ گیس اور ایندھن کی قیمتوں کے ساتھ ساتھ ترسیل و تقسیم کے غیر ضروری اخراجات میں بھی کمی یقینی بنانا ہو گی۔ اس کے ساتھ اجرتوں اور روزگار کے مسائل کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ مہنگائی پر قابو پانے کا پائیدار راستہ پیداواری صلاحیت‘ روزگار اور حقیقی آمدنی میں اضافہ کرنا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بڑھتا تجارتی خسارہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-03/11596</link><pubDate>Sat, 03 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-03/11596</guid><description>وفاقی ادارۂ شماریات کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ملک کا تجارتی خسارہ سالانہ بنیادوں پر 15 فیصد سے زائد اضافے کے ساتھ 10 ارب 79 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا‘ جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 9 ارب 37 کروڑ ڈالر تھا۔ اگرچہ ان تین مہینوں میں برآمدات میں سالانہ بنیادوں پر تقریباً 11 فیصد اضافہ ہوا مگر اس دوران درآمدات میں ہونے والا تقریباً 13فیصد اضافہ برآمدات کی رفتار پر بھاری پڑ گیا۔ اس صورتحال کو صرف درآمدات میں اضافے کی حد تک محدود کرکے دیکھنا مسئلے کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔ ملکی درآمدات میں ایندھن‘ مشینری‘ صنعتی خام مال اور دیگر کئی ایسی اشیا شامل ہوتی ہیں جو معیشت کی پیداواری سرگرمی کیلئے ضروری ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہماری برآمدی صلاحیت مطلوبہ رفتار سے نہیں بڑھ رہی۔

اس کمزوری کے پیچھے کئی ساختی عوامل موجود ہیں۔ سٹیٹ بینک ملکی برآمدات کے مسائل میں کم پیداواری صلاحیت‘ پالیسیوں میں عدم تسلسل‘ عالمی ویلیو چینز سے کمزور انضمام اور مصنوعات و منڈیوں میں محدود تنوع کی نشاندہی کر چکا ہے۔ چنانچہ حکومت کو تجارتی خسارے میں کمی کیلئے برآمدات میں پائیدار اضافہ یقینی بنانا ہو گا جس کیلئے توانائی کی مسابقتی قیمت‘ بلاتعطل فراہمی‘ خام مال کی آسان دستیابی‘ ٹیکس اور ریفنڈ کا سادہ نظام اور پالیسیوں کا تسلسل ضروری ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>تنقید اور احترام(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-10-03/52772/84745744</link><pubDate>Sat, 03 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-10-03/52772/84745744</guid><description>دنیا کے مشکل ترین کاموں میں سے ایک کام اپنی ممدوح شخصیت پر تنقید ہے۔ یہ بات صرف وہ لوگ سمجھ سکتے ہیں جنہیں کبھی یہ ہمالیہ سر کرنا پڑا ہو۔ مولانا وحید الدین خاں‘ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کے ناقد ہیں۔ مولانا کے فکر پر سب سے جاندار اور پُراثر تنقید انہوں نے کی ہے۔ مولانا مودودی‘ ایک وقت تھا کہ اُن کی ممدوح شخصیات میں سرفہرست تھے۔ &#39;&#39;علمِ جدید کا چیلنج‘‘ مولانا وحید الدین خاں کی وہ کتاب ہے جو علم کی دنیا میں ان کا تعارف بنی اور جس نے اسلام کے طالب علموں کی ایک بڑی تعداد کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ اس کتاب کو وہ جن دو شخصیات کا فیض قرار دیتے ہیں‘ ان میں ایک مولانا مودودی ہیں۔ اس کے دیباچے میں انہوں نے لکھا: &#39;&#39;اس کتاب کے ساتھ دو ایسی شخصیتوں کے نام وابستہ ہیں جو پچھلی چوتھائی صدی سے ہندو پاک میں خدمتِ دین کا نمایاں ترین نشان سمجھے جاتے ہیں۔ میری مراد مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی اور مولانا سید ابو الحسن علی ندوی سے ہے۔ یہ بالواسطہ طور پر مولانا مودودی ہی کا فیض ہے کہ پندرہ سال پہلے‘ اپنی زندگی کے ایک نازک ترین مرحلے میں میرے دل میں اس احساس نے غلبہ پایا کہ میں اپنی زندگی کو خدمتِ دین کے لیے وقف کروں‘ جس کا ایک با قاعدہ مظہر یہ کتاب ہے...‘‘۔علم اور فکر کے سفر میں‘ پھر مرحلہ آیا جب مولانا وحید الدین خاں کو &#39;&#39;تعبیر کی غلطی‘‘ لکھنا پڑی۔ ان پر یہ منکشف ہوا کہ مولانا کے فکر میں ایک ایسا اساسی مسئلہ ہے جس سے پورے دین کی عمارت‘ ایک نئی صورت میں ڈھل گئی ہے۔ جب انہیں اس کا ادراک ہوا تو شدید پریشانی نے انہیں گھیر لیا۔ اس سفر میں وہ جن نفسیاتی مسائل اور اضطراب سے گزرے‘ اس کی روداد انہوں نے لکھ ڈالی ہے‘ جو اس کتاب میں بھی شامل ہے۔ اس اضطراب کی نوعیت کیا ہے‘ اس کا اندازہ کتاب کھولتے ہی ہو جاتا ہے۔ پہلے صفحے پر لکھا ہے: &#39;&#39;اس کتاب کی اشاعت میرے اوپر کتنی سخت ہے‘ اس کا اندازہ آپ اس سے کر سکتے ہیں کہ میرا جی چاہتا ہے کہ اس کے شائع ہونے کے بعد‘ میں کسی ایسی جگہ جا کر چھپ جاؤں جہاں کوئی شخص مجھے نہ دیکھے‘ اور پھر اسی حال میں مر جاؤں‘‘۔ یہ اہم بات ہے کہ جب انہوں نے &#39;&#39;علمِ جدید کا چیلنج‘‘ لکھی تو دیباچے کے آخر میں اس کی تاریخ درج کی۔ یہ ہے اگست 1964ء۔ &#39;&#39;تعبیر کی غلطی‘‘ جو نقد ہے‘ اس کی مذکورہ بالا تحریر کے نیچے اگست 1963ء کی تاریخ لکھی ہے۔ گویا &#39;&#39;تعبیر کی غلطی‘‘ کی اشاعت کے بعد بھی‘ مولانا مودودی کے بارے میں ان کے جذبات وہی تھے۔میں اس کیفیت کو سمجھ سکتا ہوں کہ بارہا اس سے گزرا ہوں۔ مولانا مودودی میری ممدوح شخصیات کی پہلی صف میں ہیں۔ ان سے جو تعلقِ خاطر ہے‘ اس سے میں کبھی کمی نہیں آئی۔ اُن پر ہونے والی تنقید‘ جو اکثر روایتی علما کی طرف سے تھی‘ میری نظر سے گزری ہے۔ ان کی کسی دلیل نے مجھے متاثر نہیں کیا۔ پھر وہ مرحلہ آیا جب &#39;&#39;تعبیر کی غلطی‘‘ پڑھی۔ زمین پاؤں تلے سے سرکتی ہوئی محسوس ہوئی۔ بعد میں یہ فکری سفر‘ استاذِ گرامی جاوید احمد صاحب غامدی کی دہلیز تک لے گیا اور ان سے دین سمجھنا شروع کیا۔ میں بلامبالغہ عرض کرتا ہوں کہ میں راتوں کو سو نہیں سکتا تھا۔ دل یہ کہتا تھا کہ کاش فکرِ مودودی پر ہر تنقید‘ دیگر تنقیدات کی طرح‘ بے بنیاد ثابت ہو۔ غامدی صاحب کا مضمون &#39;&#39;تاویل کی غلطی‘‘ گویا اونٹ کی کمر پر آخری تنکا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ احساس ہوا کہ تنقید اور اختلاف اگر نیک نیتی اور اخلاص کے ساتھ ہو تو تعلقِ خاطر اور محبت پر اثر انداز نہیں ہوتا۔ ہم جن لوگوں سے استفادہ کرتے ہیں‘ یہ سب انسان ہیں۔ ان سے غلطی ہوتی ہے اور اس میں کچھ اچھنبے کی بات نہیں۔ ہمیں حکم یہ ہے کہ جسے حق سمجھیں‘ اس کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دیں۔پھر یہ بات سمجھ میں آئی کہ کسی شخصیت کے کسی ایک فکری پہلو سے اختلاف کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اس شخصیت میں کوئی خوبی تلاش نہیں کی جا سکتی یا یہ کہ اس سے دیگرعلمی استفادہ نہیں کیا جا سکتا۔ میں آج بھی جب قرآن مجید کے فہم تک رسائی کے لیے جن تفاسیر کی طرف رجوع کرتا ہوں‘ ان میں &#39;&#39;تفہیم القرآن‘‘ شامل ہے۔ آج بھی میرا احساس ہے کہ دین کا کوئی طالب علم اس تفسیر سے بے نیاز نہیں ہو سکتا۔ اس سے وہ علم اور فکری نشاط ملتا ہے کہ سبحان اللہ۔ اس علم پر مولانا کا اسلوبِ نگارش گویا سونے پر سہاگہ ہے۔یہ بات میں نے اپنے استاد جاوید احمد غامدی صاحب سے سیکھی۔ وہ مولانا مودودی کے فکری ناقد ہیں۔ میرا عشروں کا مشاہدہ ہے کہ ان کی مجلس میں مولانا کا ذکر ہو تو ان کی آنکھوں میں ایک خاص چمک پیدا ہوتی ہے۔ وہ ان کے اوصاف بیان کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ دریا ہے جو بہہ رہا ہے اور اسے روکنا مشکل ہے۔ ایک دور تھا جب وہ تنقید لکھتے تھے تو اس کی تاب لانا محال ہوتا تھا۔ اس دور میں بھی مولانا مودودی کا معاملہ الگ ہی تھا۔ مولانا پر فکری تنقید کرتے وقت‘ ان کی زبان اور قلم‘ دونوں ایسے محتاط ہو جاتے تھے جیسے کسی بارگاہِ عقیدت میں قدم رکھ دیے ہوں۔ اب تو خیر انہوں نے اس اسلوب کو خیرباد کہہ دیا ہے۔ اب یہ انداز مولانا مودودی کے لیے خاص نہیں رہا‘ سب کے لیے ہے۔ان جذبات کے باوصف‘ جہاں معاملہ علمی دیانت کا ہو تو اپنی بات کے اظہار میں وہ دوٹوک ہیں اور اپنا مؤقف کسی ابہام کے بغیر بیان کرتے ہیں۔ ہمیں بھی انہوں نے یہی سکھایا ہے کہ تنقید محبت اور احترام میں مانع نہیں ہوتی۔ اس باب میں وہ امام مالکؒ کے ہم مسلک ہیں کہ تنقید سے پاک اگر کوئی ہستی ہے تو وہ رسالت مآبﷺ کی ذاتِ والا صفات ہے۔ اسی طرح وہ امام ابوحنیفہؒ کے ہمنوا ہیں کہ ہم اسلاف کا احترام کرتے ہیں مگر اس احساس کے ساتھ کہ &#39;&#39;وہ بھی انسان تھے اور ہم بھی انسان ہیں‘‘۔ جاوید صاحب آج مولانا امین احسن اصلاحی پر تنقید کرتے ہیں‘ مگر ان کے احترام میں کوئی فرق نہیں لاتے۔ وہ آج بھی ان کے استاذ ہیں۔مولانا مودودی کا اپنا طرزِ عمل بھی یہی رہا۔ ان کے کام کی نوعیت ہی مسلمانوں کی علمی و سیاسی روایت پر تنقید ہے۔ ایک محقق اور مجتہد کی حیثیت سے یہ ان کی مجبوری تھی۔ &#39;&#39;خلافت و ملوکیت‘‘ انہیں لکھنا پڑی‘ جب ان کا اس اہم سوال سے سامنا ہواکہ خلافت راشدہ جیسا ایک عظیم الشان سیاسی نظام‘ ملوکیت و بادشاہت میں کیسے بدلا۔ اپنے فکری امتیاز کو بیان کرتے ہوئے انہیں &#39;&#39;تجدید و احیائے دین‘‘ لکھنا پڑی تاکہ یہ معلوم ہو کہ امام غزالی اور شاہ ولی اللہ جیسوں کے علمی کام کی موجودگی میں‘ کسی نئے فکری کام کی ضرورت کیا ہے۔ اس تنقید کا مطلب یہ نہیں کہ مولانا مودودی کو ان بزرگوں سے محبت نہیں تھی یا وہ ان کی علمی خدمات کے معترف نہیں تھے۔تنقید علمی دنیا کی ناگزیر ضرورت ہے۔ ہمیں ممدوح شخصیات سے محبت اور احترام کا رشتہ قائم رکھتے ہوئے‘ علم کی روایت کو آگے بڑھانا ہوتا ہے۔ ہر صاحبِ علم نے اپنے دور میں یہی کام کیا ہے۔ مولانا مودودی‘ مولانا اصلاحی‘ مولانا فراہی‘ جاوید احمد غامدی صاحب اور مفتی تقی عثمانی... ہم سب سے استفادہ کرتے ہیں اور سب کا احترام بھی کرتے ہیں۔ ان سے محبت بھی کرتے ہیں کہ یہ ہمارے بزرگ اور ہمارے تہذیبی و علمی سفر کا اہم پڑاؤہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>اللہ جانے یہ ملک کیسے چل رہا ہے(خالد مسعود خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-10-03/52773/64821600</link><pubDate>Sat, 03 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-10-03/52773/64821600</guid><description>پنجابی کی ایک کہاوت کا مفہوم ہے کہ یہ اندازہ لگانے کیلئے کہ چاولوں کی دیگ ٹھیک طرح سے پک گئی ہے یا ابھی کوئی کسر باقی ہے‘ اس میں سے صرف ایک &#39;&#39;لپ‘‘ (لقمہ) چاول چکھنے سے ہی اندازہ ہو جاتا ہے‘ اس کیلئے پوری دیگ نہیں کھائی جاتی۔ حکومتِ پنجاب کے جانب سے صوبہ بھر میں صفائی کے پروگرام کا نام &#39;&#39;ستھرا پنجاب‘‘ ہے۔ اب اس پروگرام کے نام کو مدِنظر رکھتے ہوئے صوبہ بھر کی صفائی کا اندازہ لگانے کیلئے ضروری نہیں کہ پورے پنجاب کا شہر شہر‘ قصبہ قصبہ‘ گاؤں گاؤں‘ گلی گلی‘ کوچہ کوچہ اور قریہ قریہ گھوم کر دیکھا جائے کہ پنجاب کتنا ستھرا ہے۔ آپ کو اس کا اندازہ اپنے اردگرد دیکھنے سے ہی ہو جاتا ہے۔ اور اردگرد دیکھنے سے اس عاجز کو جو اندازہ ہوا ہے‘ وہ یہ ہے کہ یا تو اس پروگرام کا نام تبدیل کر دیا جائے‘ اگر اس پروگرام کا نام تبدیل کرنا ممکن نہیں تو پھر لفظ &#39;&#39;ستھرا‘‘ کے معنی ہی تبدیل کر دیے جائیں۔ کیونکہ بچپن سے لے کر اب تک پڑھنے‘ سننے اور دیکھنے میں یہی آیا ہے کہ ستھرا سے مراد انگریزی میں نیٹ اینڈ کلین‘ اردو میں صاف‘ شفاف‘ بے داغ اور اسی کے مترادف الفاظ کے ساتھ اس لفظ کا ترجمہ کیا جاتا ہے۔پچھلے دنوں میں کئی دن کے بعد ملتان واپس آیا تو اپنے گھر کے باہر گلی میں لگے ہوئے ڈسٹ بِن کو دیکھا‘ جو گزشتہ چار پانچ روز کی غیر حاضری کے دوران نہ صرف یہ کہ اوپر تک بھر چکا تھا بلکہ نوبت یہ آ چکی تھی کہ ڈسٹ بِن کے اردگرد بھی کوڑا جمع ہو چکا تھا۔ اگر سرکار صفائی نہیں کر رہی تو اس کا مطلب یہ تو ہرگز نہیں کہ میں تا دیر اسی گندگی کے ساتھ گزارہ کروں۔ لہٰذا بابا شفیع کو کہا کہ میرے پیچھے اگر کوئی پرائیویٹ صفائی والا آئے تو پیسے دے کر یہ ڈسٹ بِن صاف کروا لینا۔ شام کو واپس آیا تو نہ صرف یہ کہ میرا ڈسٹ بِن صاف تھا بلکہ گلی میں لگے ہوئے باقی سب ڈسٹ بِن بھی صاف تھے۔ بابا شفیع نے بتایا کہ اس نے اتنے پیسے دے کر یہ سارا کوڑا صاف کروا لیا ہے۔ اپنے گھر کے باہر اور گلی کے دیگر گھروں کا سارا کوڑا کرکٹ اور کچرا پرائیویٹ صفائی کرنے والوں سے نقد ادائیگی پر صاف کروانے کے بعد میں یہ بات پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر پنجاب کی حدود میری گلی تک مشتمل ہیں تو پھر پنجاب صرف ستھرا نہیں بہت ہی &#39;&#39;ستھرا‘‘ ہے اور کم از کم اس گلی کے سارے ڈسٹ بِن دوبارہ بھر جانے تک ستھرا رہے گا۔ میں ایک وضاحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ اگر آپ کا یہ خیال ہے کہ میں اس کالم کے زور پر اپنی گلی کی اہمیت بڑھاتے ہوئے‘ صفائی کے بہانے اسے پورا پنجاب قرار دے رہا ہوں تو خدانخواستہ میرے دماغ میں ایسا کوئی فتور نہیں ہے۔ تاہم آپ اسے میری کم علمی سمجھ لیں کہ میرے خیال میں اگر پنجاب ستھرا ہے تو صفائی کی حالیہ صورتحال کو مدِنظر رکھتے ہوئے یہ حدود میری گلی کے ایک سرے سے شروع ہو کر دوسرے سرے پر ختم ہو جاتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جونہی میں اپنی گلی سے نکل کر دائیں طرف گلشنِ مہر کالونی کی مرکزی سڑک پر مڑتا ہوں تو وہاں سے صاف ستھرے پنجاب کی حدود ختم ہو جاتی ہیں۔ اس کے آگے جو جگہ ہے اب اس کے بارے میں صرف یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر وہ پنجاب ہے تو ستھرا نہیں ہے‘ اور اگر ستھرا نہیں ہے تو پھر ظاہر ہی پنجاب نہیں ہے۔ میرے لیے تو یہ انتہائی کنفیوز کرنے والی صورتحال ہے۔ گلی سے باہر نکل کر دائیں جانب مڑتے ہی اس کالونی کے ایم ڈی اے سے منظور شدہ نقشے کے مطابق‘ ڈسپنسری اور پوسٹ آفس کیلئے مختص پلاٹ خالی پڑا ہوا ہے۔ ہمارے ہاں خالی پلاٹ غیر سرکاری کچرا ڈپو کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ اس پلاٹ کا بھی یہی مصرف ہے اور اس میں مہینوں سے کچرا پڑا ہوا ہے۔ اس پلاٹ کے عین سامنے عرصۂ دراز سے کمرشل ایریا خالی پلاٹ کی صورت میں موجود تھا‘ جس پر کچھ نان کمرشل قسم کی ناجائز تعمیرات ہو چکی ہیں۔ یہاں موجود ایک نامکمل چار دیواری کے اندر اور باہر ہر طرف کچرے کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں۔ چہار سُو بکھرے اور اڑتے ہوئے لاتعداد پلاسٹک بیگ اور شاپر حکومت کی جانب سے پلاسٹک بیگز پر لگی پابندی کا منہ چڑا رہے ہوتے ہیں۔ میرا دل کرتا ہے کہ اس ساری صورتحال کی منظر کشی کرنے کیلئے ایک چھوٹی سی وڈیو بناؤں اور اسے کالم کے اختتام پر لگاؤں مگر افسوس کہ اس کام کیلئے فی الحال ایسی کوئی سہولت میسر نہیں ہے۔ آپ یقین کریں‘ صفائی کی اس بری حالت کو دیکھتے ہوئے اگر کوئی شخص &#39;&#39;ستھرا پنجاب‘‘ کی بات کرے تو اس کی صرف تین وجوہات میں سے کوئی ایک وجہ ہو سکتی ہے۔ پہلی یہ کہ وہ شخص بینائی سے محروم ہو‘ دوسری یہ کہ وہ لفظ &#39;&#39;ستھرا‘‘ کے مفہوم سے ہی لاعلم ہو اور تیسری وجہ یہ کہ وہ موجودہ حکمرانوں کیلئے رضاکارانہ صفائی کی خدمات پر مامور خودساختہ عملۂ صفائی کے طور پر اپنی ذمہ داری نبھانے کی کوشش کر رہا ہو۔ صفائی کی موجودہ صورتحال سے قطع نظر‘ میں یہ بات اپنے بہترین علم کے مطابق لکھ رہا ہوں کہ تھرڈ پارٹی کے ذریعے کوڑا کرکٹ اور کچرا اٹھا کر صفائی کا نظام وضع کرنا حکومت پنجاب کا ایک مستحسن قدم تھا۔ سرکاری محکموں‘ افسروں اور اہلکاروں کی کارکردگی ہمارے سامنے ہے اور ویسے بھی یہ کام براہِ راست سرکار کے کرنے کے ہیں بھی نہیں۔ حکومتوں کے کام نظام بنا کر اس کی نگرانی کرنا ہے نہ کہ گٹر صاف کرنا‘ کوڑا اٹھانا اور سبسڈی پر ٹرانسپورٹ کا نظام چلانا۔ دنیا بھر میں حکومتیں نظام بناتی ہیں اور اسے گنتی کے چند افسروں کے ذریعے ان کی نگرانی کرتے ہوئے کنٹرول کرتی ہیں۔ ادھر یہ عالم ہے کہ جن جن محکموں کے کام نجی کمپنیوں اور ٹھیکیداروں کے حوالے کیے گئے ہیں ماضی میں اسی کام پر مامور پورے پورے محکمے بھی موجود ہیں۔ نوکر شاہی بھی اسی طرح موجود ہے اور ٹھیکیداری نظام بھی پوری شان و شوکت سے چل رہا ہے۔ کنٹریکٹر بھی سرکار سے پیسے جھاڑ رہا ہے اور افسر شاہی بھی تنخواہیں بٹور رہی ہے۔ نجی کمپنی بھی موجود ہے اور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کا چیف ایگزیکٹو بھی مزے کر رہا ہے۔ کوڑا اٹھانے پر مامور نجی کمپنیاں جنہیں اٹھائے جانے والے کوڑے کے وزن کے حساب سے ادائیگی کا فارمولا طے ہے‘ اپنی نگرانی کرنے والے سرکاری محکمے کے افسروں اور عملے کی ملی بھگت سے اپنے تفویض کردہ علاقے سے اٹھائے جانے والے حقیقی کوڑے کے نیچے مٹی‘ ریت‘ اینٹیں اور پتھر رکھ کر اس کا وزن بڑھا کر سرکار کو چونا لگا رہی ہیں۔ کاغذوں کی حد تک اٹھائے گئے کوڑے کے وزن کا اندراج اور اس کے عوض کی جانے والی ادائیگی کے اعداد و شمار کو سامنے رکھیں تو بعض شہروں میں اگلے کئی سال کا کوڑا اپنے پھینکے جانے سے بھی کہیں پہلے اٹھایا جا چکا ہے۔ حیرانی اس بات کی ہے کہ ادھر کاغذوں اور ادائیگی کی حد تک روزانہ کی بنیاد پر اٹھایا جانے والا کچرا اس شہر میں روزانہ کی بنیاد پر پھینکے جانے والے کچرے سے زیادہ ہے اور گلیاں‘ سڑکیں‘ محلے اور عام تام علاقے کچرے سے اَٹے پڑے ہیں۔ بالکل بلی اور دو کلو گوشت والا معاملہ ہے کہ بلی دو کلو گوشت کھا چکی ہے اور اس کو بعد از خوش خوراکی تولیں تو اس کا اپنا کل وزن بمشکل دو کلو بنتا ہے۔ اب اگر یہ بلی کا اپنا وزن ہے تو پھر سارے کا سارا گوشت کہاں ہے اور اگر یہ گوشت کا وزن ہے تو پھر بلی کہاں ہے؟قارئین سے التماس ہے کہ میرے ملتان‘ بلکہ گلی کی صورتحال پر لکھے گئے کالم پر جز بز نہ ہوں۔ دو تین کے استثنا سے‘ پنجاب بھر کے تمام شہروں‘ قصبوں‘ کالونیوں اور گلی محلوں میں صفائی کی یہی صورتحال ہے۔ پہلے سرکاری محکموں کا عملہ اور افسر سرکاری خزانے پر ہاتھ صاف کرتے تھے‘ اب نگرانی والے بعض افسر اور نجی کنٹریکٹر مل کر ڈاکا زنی پر اُتر آئے ہیں۔ کئی شہروں میں ٹھیکے منسوخ اور درجن بھر سرکاری افسر معطل ہو چکے ہیں۔ اس ملک میں نہ سرکاری نظام چل رہا ہے اور نہ ہی پرائیویٹ کمپنیوں پر مشتمل تھرڈ پارٹی بندوبست چل رہا ہے۔ اللہ جانے یہ ملک کیسے چل رہا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90500073.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>دوستی کیوں ضروری ہے؟(ڈاکٹر حسین احمد پراچہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-10-03/52774/93758913</link><pubDate>Sat, 03 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-10-03/52774/93758913</guid><description>گزشتہ کئی مہینوں سے &#39;&#39;دوستی‘‘ کے بارے ہارورڈ یونیورسٹی سے جاری کردہ ایک تحقیقی مقالے کا دنیا بھر میں بہت چرچا ہے۔ &#39;&#39;دوستی‘‘ کی جس اہمیت کا سالہا سال کی تحقیق کے بعد ہارورڈ کے پروفیسر کو اندازہ ہوا ہے اس کا کئی دہائیوں پہلے ہر دلعزیز پنجابی شاعر میاں محمد بخش‘ جو دل لگتی بات کہنے کی شہرت رکھتے ہیں‘ کو ادراک ہو چکا تھا۔ فرماتے ہیں:اُچی جائی نیوں لگایا، بنڑی مصیبت بھارییاراں باجھ محمد بخشا کون کرے غمخواریربّا تُو بیلی تے سب جگ بیلی اَن بیلی وی بیلیسجناں باجھ محمد بخشا سنجی پئی حویلیان اشعار کا ترجمہ کچھ یوں ہے کہ کسی بڑے آدمی سے دوستی لگائی تو اس کے تقاضے نبھاتے ہوئے مصیبت بنی۔ دوستوں کے بغیر کوئی غمخواری نہیں کرتا۔ میرے مولا! اگر تیرا ساتھ ہو تو پھر سارا جگ ساتھ ہوتا ہے دوستوں کے بغیر حویلی اداس و ویران پڑی ہے۔ہارورڈ کے پروفیسر موصوف کی تحقیق کی طرف آنے سے پہلے میاں صاحب کے بیان کردہ لفظ غمخواری سے راہورِ تخیل نے اپنا رخ مرزا اسد اللہ غالب کی طرف کر لیا ہے۔ کوئی نہ کوئی نکتہ آفرینی کیے بغیر غالب سیدھی سادی بات تو کرتے نہیں۔ دوستی کے وہ بھی بڑے طرفدار ہیں مگر کچھ شرائط کے ساتھ۔ کہتے ہیں:یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصحکوئی چارہ ساز ہوتا کوئی غمگسار ہوتاجب جولائی 2026ء میں ہارورڈ یونیورسٹی امریکہ کے &#39;&#39;بزنس ریویو‘‘ میں یہ تحقیقی مضمون شائع ہوا تو مجھے بوسٹن میں مقیم ایک دوست انجینئر قاضی خالد نے تازہ بتازہ بھیج دیا تھا۔ آج سے کوئی دو اڑھائی دہائیاں قبل ہم اور قاضی صاحب طائف میں مقیم تھے۔ قاضی صاحب سندھی ہیں۔ سیاسی افکار میں اختلافات کے باوجود ہماری دوستی اسی طرح سر سبز و شاداب ہے۔ ہاں یاد آیا! انہی دنوں قاضی صاحب کی دعوت پر جدہ کے پاکستانی قونصل خانے سے ایک نوجوان سفارتکار بھی طائف آئے تھے۔ عبیدالرحمن نظامانی صاحب اپنی شرعی وضع قطع کے ساتھ ساتھ نہایت شگفتہ طبیعت کے مالک ہیں۔ ان دنوں وہ افغانستان میں پاکستان کے سفیر ہیں۔ جب نوجوان عبیدالرحمن نظامانی طائف آئے تھے تو انہوں نے دوستی کے بارے سندھی زبان کا ایک خوبصورت شعر سنایا تھا۔ سندھی متن تو میں بھول گیا ہوں؛ البتہ مفہوم یہ تھا کہ اے دوست! میرے اور تمہارے گھر قریب قریب تھے مگر اب کچھ دنوں سے لگتا ہے کہ بہت دور ہو گئے ہیں۔خیر اب چلتے ہیں ہارورڈ کے دوستی کے بارے میں مضمون کی طرف جس کا عنوان ہے: Friendship Recession (دوستی کا بحران)۔ فاضل مقالہ نگار کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر بالعموم اور امریکہ میں بالخصوص باہمی دوستی کی تعداد میں تیزی سے کمی واقع ہو رہی ہے۔ اس مضمون کے مطابق 1990ء سے لے کر اب تک امریکہ میں ایسے لوگوں کی تعداد میں چار گنا اضافہ ہوا ہے جو یہ کہتے ہیں کہ میرا کوئی مخلص دوست نہیں۔ اسی طرح جن لوگوں کے دوستوں کی تعداد دس تک ہوا کرتی تھی اب گھٹ کر صرف ایک تہائی رہ گئی ہے۔ فاضل پروفیسر کا کہنا ہے کہ یہی صورتحال بھارت میں بھی ہے۔ وہاں کے شہروں میں واقف کار تو بہت ہوتے ہیں مگر کوئی سچا دوست نہیں ملتا۔ مضمون نگار کا کہنا یہ ہے کہ ایک زمانہ تھا کہ جب امریکہ کے چائے خانوں‘ کلبوں اور تقریبات میں لوگ بے تکلف ایک دوسرے سے بات چیت کر لیتے اور نئی نئی دوستیاں بنایا کرتے تھے مگر اب لوگ ہجوم میں بھی تنہا ہوتے ہیں۔ اس تحقیقی رپورٹ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اب امریکہ میں تنہا کھانا کھانے والوں کی تعداد میں 29 فیصد اضافہ ہو گیا ہے۔امریکہ کی ایک اور شہرت یافتہ یونیورسٹی سٹینفورڈ فرینڈ شپ پر باقاعدہ ایک کورس کروا رہی ہے۔ بڑھتی ہوئی عمر کے لوگوں کے لیے پرانی دوستیوں کو برقرار رکھنا محض ایک معاشرتی ہی نہیں بلکہ طبی و ثقافتی ضرورت بھی ہے۔ ڈھلتی عمر میں دوستوں کے لیے وقت نکالنا ایک لگژری نہیں‘ ضروری تقاضا ہے۔ دوستی کی اہمیت اجاگر کرنے والے ریسرچ سکالر کا کہنا ہے کہ اگر ہم دوستی کی قدر نہیں کریں گے تو ہم نہ صرف نئے بلکہ پرانے دوستوں سے بھی محروم ہو جائیں گے۔ ہارورڈ کی اس تحقیق کے مطابق تنہائی صرف ایک معاشرتی و ذہنی کرب نہیں بلکہ مختلف جسمانی عارضوں کا باعث بھی بنتی ہے۔ ان عوارض میں دل کے امراض اور مرضِ نسیان بھی شامل ہیں۔ مضمون نگار تو تنہائی سے بہت ڈرا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تو یہ ہے کہ یہ زہرِ قاتل ہے۔ علامہ اقبال نے فرمایا تھا کہمرتا ہوں خامشی پر یہ آرزو ہے میریدامن میں کوہ کے اک چھوٹا سا جھونپڑا ہوعلامہ اقبال سے معذرت کے ساتھ تن تنہا چھوٹے سے جھونپڑے کی خواہش محض ایک &#39;&#39;شاعرانہ آرزو‘‘ ہے۔ وگرنہ تنہائی جیل کی کوٹھڑی میں ہو یا دامنِ کوہ میں‘ نہایت تکلیف دہ ہوتی ہے۔ مشرق ہو یا مغرب‘ دوستی کو ایک بہت ہی مقدس رشتہ سمجھا جاتا رہا۔ انگریزی شاعری کی رومانٹک ایج میں ورڈز ورتھ اور کالرج کی دوستی کی بہت شہرت تھی۔ ان دونوں کی شاعری کا ایک مشترکہ مجموعہ بھی شائع ہوا تھا۔ کالم کی تنگ دامانی کے باعث اردو ادب سے محض ایک ہی مثال پر اکتفا کروں گا۔ مرزا غالب اور نواب مصطفی خان شیفتہ کے تعلقات گہری دوستی اور احترام پر مبنی تھے۔ شیفتہ خود بہت بڑے نقاد اور شاعر تھے‘ وہ غالب کے کلام کے سچے قدر دان تھے۔ قدیم چینی ادبی کلچر میں چائے کے ادوار اور دوستوں کی محفلوں کا بہت تذکرہ ملتا ہے۔ خاکسار اس لحاظ سے بہت خوش قسمت رہا کہ زمانۂ سکول سے لے کر کالج و یونیورسٹی‘ پھر سعودی عرب سے واپسی پر مجھے پاکستان کے شہر اقتدار اسلام آباد میں بھی کئی مخلص دوستوں کی رفاقت نصیب ہوئی کہ جس کے بارے میں سبھی کہتے ہیں کہ وہ کم ہی کسی سے وفا کرتا ہے۔ نئے دوستوں کے علاوہ پرانے دوستوں سے بھی محبت و احترام کا رشتہ بدستور قائم ہے۔ وہی پرانے دوست کہ جن کے بارے میں استاد ابراہیم ذوق نے کہا تھا:اے ذوق کسی ہمدم دیرینہ کا ملنابہتر ہے ملاقاتِ مسیحا و خضر سےیقینا دوست وہی ہوتا ہے کہ جو در پریشاں حالی و درماندگی دوست کا ہاتھ تھامتا ہے۔ جناب ماہر القادری نہایت ہی قادر الکلام شاعر اور خوبصورت نثر نگار تھے۔ وہ 1906ء میں اس دنیا میں وارد ہوئے اور 1978ء میں جدہ کے ایک مشاعرے میں اپنا کلام سناتے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ ایسا حسنِ خاتمہ بڑے نصیب والے لوگوں کے حصے میں آتا ہے۔ وہ مکۃ المکرمہ کے جنت المعلیٰ قبرستان میں دفن ہوئے۔ دیکھیے سبھی دوستوں سے وفا اور دکھ سکھ میں ساتھ ساتھ کھڑا رہنے کے تمنا کرتے ہیں مگر ماہر القادری نے کیا منفرد بات کہی ہے اور دوستی کو سود و زیاں سے ماورا قرار دیاہے۔ شعر ملاحظہ کیجئے:عقل کہتی ہے دوبارہ آزمانا جہل ہےدل یہ کہتا ہے فریبِ دوست کھاتے جائیےبہرحال ہم ہارورڈ کے فاضل مضمون نگار کے شکر گزار ہیں کہ جنہوں نے سوشل میڈیا کے فریب میں گرفتار دنیا کے سامنے ایک بار پھر دوستی کی اہمیت و ضرورت کو بخوبی اُجاگر کیا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_70033906.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ہم کدھر جا رہے ہیں؟(افتخار احمد سندھو)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/iktakhar-ahmed-sandhu/2026-10-03/52775/50201270</link><pubDate>Sat, 03 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/iktakhar-ahmed-sandhu/2026-10-03/52775/50201270</guid><description>چند برسوں میں ملک میں ٹیکس پہلے کی نسبت دُگنا ہو گیا ہے مگر کاروبار سارے کا سارا بند ہو رہا ہے۔ بھوک بڑی تیزی سے ملک کے بیس کروڑ لوگوں کے دروازے پر دستک دے رہی ہے‘ مگر ملک کی ایلیٹ کلاس یعنی مقتدر طبقات دھڑا دھڑ عوام کے ٹیکس کا پیسہ کھا رہے ہیں۔ ڈر یہ ہے کہ جب ملک کے بیس کروڑ لوگ بھوک سے ادھ موے ہو جائیں گے تو ان کے ٹیکس پر مزے اڑانے والوں کا کیا بنے گا۔ اس لیے اشرافیہ کیلئے ان کو زندہ رکھنا بھی بہت ضروری ہے‘ ورنہ ان کا اپنا زندہ رہنا مشکل ہو جائے گا۔ بدقسمتی سے حکمرانوں میں ذرا سی بھی رمق نظر نہیں آتی کہ ان غریب اور ٹیکس دینے والوں کا بھی کچھ سوچا جائے یا ان کی بھی کوئی بات کی جائے۔ بقول ساغر صدیقی:کبھی شبستاں کے رہنے والو! غریب کی جھونپڑی بھی دیکھوخزاں کے پتوں کی جھانجھنوں میں کسی کی عصمت تڑپ رہی ہےغریب عوام بھوک سے مر رہے ہیں اور ان کے ٹیکس سے بلٹ پروف گاڑیاں خریدی جا رہی ہیں۔ حکومت اپنے آپ کو ایک طرح سے قلعہ بند کر رہی ہے۔ یہ جو بلٹ پروف گاڑیاں ہیں‘ یہ حکمرانوں کے چھوٹے چھوٹے قلعے ہی تو ہیں۔ حکومت اس حد تک خوفزدہ ہے کہ وہ جیل میں مقید ایک شخص سے ڈر رہی ہے۔ اسی خوف کے پیش نظر اربوں روپے روزانہ خرچ کیے جا رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ یہ معاملہ کدھر جا رہا ہے‘ اور کہاں جا کر تھمے گا۔ شہروں کے گرد کنٹینروں کی دیواریں کھڑی کرکے پاکستان کو پچیس کروڑ لوگوں کیلئے ایک قید خانہ کیوں بنایا جا رہا ہے۔ اس کا انجام کیا ہوگا؟ مجھے تو یہ سوچ کر ہی خوف آتا ہے‘ کیونکہ نتیجہ کوئی اچھا بر آمد ہوتا نظر نہیں آ رہا۔مصدقہ اطلاعات کے مطابق حال ہی میں پنجاب حکومت نے جرمنی سے چار بلٹ پروف گاڑیاں خریدی ہیں۔ ان میں سے ایک گاڑی شبانہ روز کوششوں کے بعد پاکستان پہنچ چکی ہے اور دیگر گاڑیاں مرحلہ وار جلد پہنچ جائیں گی۔ ان چاروں گاڑیوں کی مالیت ایک ارب روپے سے کچھ کم بتائی جا رہی ہے۔ ان گاڑیوں کو آرڈر پر تیار کرایا گیا ہے‘ جن کا بیرونی رنگ سیاہ اور اندرونی انٹیریئر خصوصی طور پر جامنی رنگ کا تیار کرایا گیا ہے۔ یہ گاڑیاں پنجاب میں وی آئی پیز شخصیات کی فول پروف سکیورٹی کیلئے استعمال کی جائیں گی۔ یہ بھی بتاتا چلوں کہ اس نئی خریداری سے پہلے وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ (پنجاب حکومت) کے پاس تقریباً 10 قیمتی بلٹ پروف گاڑیاں پہلے سے موجود ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف محکموں اور پولیس سکیورٹی کیلئے الگ سے بلٹ پروف سکواڈز کام کر رہے ہیں۔ اب معلوم نہیں کہ پنجاب میں کس کو اتنے خطرات لاحق ہوگئے ہیں کہ نئی بلٹ پروف گاڑیاں آرڈر پر تیار کرائی جا رہی ہیں۔دوسری جانب آئی پی پیز کو مسلسل اور باقاعدگی سے دیے جانے والے اربوں روپے حکومت کیلئے ایک ڈوبتا جہاز بن چکے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ یہ ڈوبتا جہاز مزید کتنے ارب روپے ڈبونے کا باعث بنے گا۔ اس امر میں کوئی شک نہیں کہ حکمران عوام کیلئے ایک بھاری بھرکم بوجھ بن چکے ہیں اور غریب عوام میں یہ بوجھ مزید اٹھانے کی اب سکت نہیں رہی۔ صرف پٹرول پر کئی قسم کے ٹیکسز عائد ہیں اور حکومت نے اس کو ریونیو یا پھر آسان کمائی کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ ایک حالیہ خبر کے مطابق پٹرول کی اصل قیمت پر ٹیکسوں اور مارجنز کا بوجھ مزید بڑھ گیا ہے۔ اب ایک لٹر پٹرول پر اصل قیمت سے 136 روپے 34 پیسے اور ہائی سپیڈ ڈیزل پر اصل قیمت سے 122 روپے 68 پیسے فی لیٹر زیادہ وصول کیے جا رہے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل بھی اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی اصل وجہ عالمی مارکیٹ کے نرخ نہیں بلکہ لیوی اور ٹیکسوں کی شرح میں اضافہ ہے۔ مفتاح اسماعیل نے دعویٰ کیا کہ حکومت پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں جو حالیہ اضافہ کر رہی ہے اس کی اصل وجہ عالمی قیمتیں نہیں بلکہ لیوی اور ٹیکسز میں اضافہ ہے۔ایسے وقت میں جب عوام پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں‘ ان سے مزید اضافی ٹیکس وصول کرنا سراسر ناانصافی ہے۔ ایک طرف حکومت کفایت شعاری کے دعوے کرتی ہے تو دوسری طرف تمام مالی بوجھ عوام پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ غریب اور متوسط طبقے سے پٹرول پر 30 فیصد ٹیکسوں کی صورت میں وصول کیے جا رہے ہیں۔ موٹر سائیکل سوار کی مجبوری کا ناجائز فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔ حکومت جانتی ہے کہ پاکستان میں 60 فیصد سے زائد پٹرول صارفین موٹر سائیکل چلانے والے ہیں۔ دوسری جانب حکومت یہ کہتی ہے کہ آئی ایم ایف کی جانب سے عوام کو سبسڈی دینے کی اجازت نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ آئی ایم ایف کو 11 ارب روپے کا جہاز اور اربوں روپے کی بلٹ پروف گاڑیاں خریدنے پر کوئی اعتراض نہیں؟ ان کاموں کی اس سے اجازت لی گئی تھی؟ جب بات نوکری پیشہ افراد پر سے ٹیکس کم کرنے کی آئے تو آئی ایم ایف اجازت نہیں دیتا۔ آئی پی پیز کو ہر ماہ بغیر بجلی پیدا کیے اربوں روپے دینے سے آئی ایم ایف نے کبھی منع نہیں کیا؟ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت عوام کی مجبوری کا فائدہ نہ اٹھائے اور ظالمانہ لیوی ٹیکس کو ختم کیا جائے۔ اس سے مہنگائی بڑھ رہی اور عوام پر ناقابلِ برداشت بوجھ پڑ رہا ہے۔ اس وقت پاکستان میں بیروزگاری کی شرح 21 سال کی بلند ترین سطح پر ہے۔ ادارۂ شماریات کی پچھلے سال کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ چار سالوں کے دوران ملک میں بیروزگاروں کی تعداد میں 14 لاکھ افراد کا اضافہ ہوا ہے۔ اس وقت پاکستان میں پٹرول‘ ڈیزل‘ بجلی اور گیس کی قیمتیں علاقائی ممالک کی نسبت بہت زیادہ ہیں۔ اب سردی کی آمد سے قبل ہی حکومت نے ایل پی جی کی قیمت میں بھی 20 روپے فی کلو کا بڑا اضافہ کر دیا ہے۔ اکتوبر کیلئے گھریلو استعمال کے 11.8 کلوگرام کے ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں 244 روپے 14 پیسے کا اضافہ کر دیاگیا ہے اور اب سلنڈر کی قیمت 3296 روپے ہو گئی ہے جبکہ ستمبر میں اسی سلنڈر کی قیمت 3052 روپے تھی۔ موجودہ حالات کے سبب خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نئی مانیٹری پالیسی میں سود کی شرح میں اضافہ کر سکتا ہے۔ اس وقت پاکستانی قوم پر 86 ہزار ارب روپے کا قرض ہے۔ مہنگائی کے باعث حکومت سٹیٹ بینک کو شرح سود کیلئے اضافی رقم دینے پر توتیار ہے لیکن عوام کو ریلیف دینے کیلئے تیار نہیں۔ دو سال پہلے حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ ہم کسان سے پوری گندم خریدیں گے لیکن وعدہ خلافی کی گئی اور کسانوں کو بے آسرا چھوڑ دیا گیا۔ اب دارالحکومت میں کنٹینرز لگا کر شہریوں کو محصور کر دیا گیا ہے۔کاروبار بند کر کے سرکاری خزانے کو روزانہ اربوں روپے کا نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ یہ غریب عوام پر لگائے گئے بھاری بھرکم ٹیکسوں کا پیسہ ہے۔ غریب سارا دن مزدوری کرتا ہے اور اس کے خون پسینے کی کمائی سے حکمران عیا شی کر رہے ہیں۔ حکومت اور اپوزیشن کی طرف سے صرف بیانات داغے جا رہے ہیں۔ ایک نہلاہے تو دوسرا دھلا ہے۔ وہ اس امر سے بے نیاز ہیں کہ ملک کا روزانہ اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔ حکمرانوں کو صرف اپنے اقتدار اور اپنی عیاشیوں کی فکر ہے ۔ سوئے ہوئے آدمی کو تو جگایا جا سکتا ہے لیکن جو جان بوجھ کر غفلت کا شکار ہو‘ اس کو کیسے جگایا جا سکتا ہے؟ بقول ساغرؔ:وقارِ یزداں نہ حسنِ انساں، ضمیرِ عالم بدل گیا ہےکہیں مشیت پہ نیند طاری، کہیں معیشت تڑپ رہی ہے</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/228_40817243.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ایک اور کنٹینر کا سامنا تھا مجھے …(جویریہ صدیق )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/javeria-siddique/2026-10-03/52776/89353145</link><pubDate>Sat, 03 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/javeria-siddique/2026-10-03/52776/89353145</guid><description>زندگی میں بہت سے مشکل مراحل دیکھے ہیں‘ بہت سی رکاوٹیں دیکھی ہیں لیکن جتنی رکاوٹیں اب جگہ جگہ کنٹینرز لگا کر اسلام آباد میں کھڑی کر دی گئی ہیں‘ اس کی مثال نہیں ملتی۔ اپنا شہر اپنا نہیں لگ رہا۔ ایسا لگ رہا ہے جیسے میں کسی بندرگاہ پر گھوم رہی ہوں۔ ہر چوک‘ ہر موڑ پر ایک کنٹینر کھڑا ہے۔ کسی بھی جگہ جانا آسان نہیں ہے‘ ہر جگہ کنٹینرز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یہاں تک کہ میری پسندیدہ ‘ مارگلہ روڈ پر بھی کنٹینرز کھڑے ہیں۔ سڑکوں پر کنٹینرز پڑے ہیں‘ گرین بیلٹس پر کنٹینرز موجود ہیں‘ شہر کے داخلی راستوں کی بھی یہی صورتحال ہے۔ یہاں تک کہ ریڈ زون بھی ان کی وجہ سے بندرگاہ کا منظر پیش کر رہا ہے۔ ٹریفک کی روانی میں بھی اس سبب مشکلات پیش آ رہی ہیں۔میں راولپنڈی سے اسلام آباد آ رہی تھی‘ راستے میں دو جگہ سڑکوں کی کھدائی ہو رہی تھی۔ اب نئے انڈر پاسز بن رہے ہیں۔ اس ملک میں جتنی سڑکیں بنتی ہیں‘ شاید ہی کسی اور ملک میں ایسا ہوتا ہو۔ یہاں ہسپتال اَپ گریڈ نہیں کیے جاتے‘ وہاں آگ بجھانے والے آلات نہیں نصب کیے جاتے‘ اشرافیہ کو صرف کنکریٹ پسند ہے۔ تعمیراتی کام کی وجہ سے ہر طرف دھول مٹی اڑ رہی تھی اور حدِ نگاہ بہت کم تھی۔ اس دھول مٹی میں سانس لینا مشکل ہو رہا تھا۔ اوپر سے بے ہنگم ٹریفک اور دونوں اطراف تین تین‘ چار چار منزلہ کنٹینرز کی قطاریں۔ راولپنڈی میں تو ٹریفک پولیس بھی نظر نہیں آتی۔ جس مرکزی سڑک پر تعمیرات ہو رہی ہیں‘ وہاں بھی اہلکار نظر نہیں آئے۔ جب آپ پشاور روڈ کی طرف سے اسلام آباد داخل ہونے کی کوشش کریں تو ٹرک‘ بسیں‘ ویگنیں سب لائن توڑ کر بائیک اور گاڑیوں کے اوپر آ رہے ہوتے ہیں۔ اس جگہ پر تو ہر وقت آیت الکرسی پڑھتے رہنا چاہیے۔ نہ ہی اس جگہ پر کوئی انڈر پاس ہے‘ نہ اوور ہیڈ برج‘ جہاں پر ان کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔اسی طرح سیکٹر جی15 اور بی17 والی سڑک کا بھی یہی حال ہے۔ بڑی سواری والے ٹریفک قوانین کی پابندی نہیں کرتے اور ٹریفک جام روز کا معمول ہے۔ پی ٹی آئی کا لانگ مارچ اب تک غیریقینی صورتحال کا شکار ہے لیکن وفاقی دارالحکومت میں گزشتہ کئی ہفتوں سے کنٹینرز کی دیواریں بنا کر شہریوں کو محصور کر دیا گیا ہے۔ ایک کنٹینر رکھ دینے سے بھی راستہ بند ہو جاتا ہے لیکن یہاں تو تین تین‘ چار چار منزلیں بنا کر شہر کو کنٹینرز کی فصیلوں میں بند کر دیا گیا ہے۔ اس سے شہر خاصا بدصورت ہو گیا ہے اور سڑکیں اور گرین بیلٹس تباہ ہو رہی ہیں۔ شہر میں پہلے سارا سال سجاوٹ کی جاتی ہے‘ پودے لگائے جاتے ہیں‘ عوامی بجٹ لگایا جاتا ہے‘ پھر اسی خوبصورتی پر لا کر ٹنوں وزنی کنٹینر رکھ دیے جاتے ہیں۔ ایک بار شہر سجانے پر بجٹ لگتا ہے‘ پھر کنٹینرز رکھنے پر عوامی ٹیکس خرچ ہوتا ہے‘ اور کنٹینرز اٹھانے کے بعد گرین بیلٹس کی بحالی پر ایک بار پھر عوام کا ٹیکس خرچ کیا جاتا ہے۔ کاش یہ سب پیسہ عوام کی فلاح پر خرچ ہو۔مجھے یاد ہے‘ مرحوم رحمان ملک کے دور میں جب بھی کوئی احتجاج ہوتا تھا تو موبائل سروس معطل کر دی جاتی تھی۔ اس طریقۂ کار سے حکومت مظاہرین کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتی تھی۔ خیر‘ اس سے بھی عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوتا تھا۔ اس کے بعد بھی وزرائے داخلہ اپنے اپنے طور پر اقدامات کرتے رہے اور پھر احتجاج روکنے کیلئے کنٹینرز کا استعمال عام ہو گیا۔ اس کی وجہ سے عام شہری پریشانی کا شکار ہوتے ہیں۔ ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کیلئے ان کو طویل روٹ لینا پڑتے ہیں‘ کئی گھنٹوں کا ٹریفک جام جھیلنا پڑتا ہے‘ اس سے فیول بھی زیادہ خرچ ہوتا ہے جو جیب پر اضافی بوجھ ہے۔ اس سے طالبعلم اور اساتذہ بھی متاثر ہوتے ہیں۔ درس و تدریس سے وابستہ لوگ اس کشمکش میں پھنسے رہتے ہیں کہ ہم نے آج درسگاہ جانا ہے یا یہ احتجاج کی وجہ سے تعلیمی ادارے بند ہیں۔ اکثر ایسے مواقع پر تعلیم آن لائن شفٹ ہو جاتی ہے مگر آج کل انٹرنیٹ بھی بہت سست ہے۔ اس سے طالبعلموں کا بہت حرج ہوتا ہے‘ وہ اپنا نصاب مکمل نہیں کر پاتے۔ موٹرویز بند ہونے کی وجہ سے تمام لوگ جی ٹی روڈ کا رخ کرتے ہیں‘ جہاں منٹوں کا سفر گھنٹوں میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ اس وقت اسلام آباد کے اطراف کا چکر لگائیں تو جگہ جگہ خندقیں کھدی ہوئی ہیں۔ خاردار تاریں‘ سیمنٹ کے بلاکس‘ مٹی کے ڈھیر اور ریت کی بوریاں پڑی ہیں۔ اس وقت جو شہر کی صورتحال ہے اس سے حکومت‘ انتظامیہ یا مظاہرین کو کوئی فرق نہیں پڑ رہا‘ صرف عام شہری پریشانی کا شکار ہیں۔ اسلام آباد میں کے پی‘ کشمیر اور پنجاب سے بھی مریض آتے ہیں‘ وہ تذبذب کا شکار ہیں کہ نجانے کب راستہ کھلے اور کب دوبارہ بند ہو جائے۔ ان کنٹینرز کو دیکھ کر مجھے بہت خوف آتا ہے۔ اگر ان کی وجہ سے کوئی حادثہ ہو جائے‘ خدانخواستہ یہ کسی پر گر جائیں‘ یہ سوچ کر ہی مجھے جھرجھری آ جاتی ہے۔ملک میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ سڑکوں سے کنٹینرز ہٹائے جائیں اور اپوزیشن سے مذاکرات کیے جائیں۔ جن کے کنٹینرز سڑکوں پر پڑے ہیں‘ وہ بھی پاکستانی ہیں۔ کروڑوں روپے کا مال ان کنٹینرز میں ہے۔ مظاہرین بھی پاکستانی ہیں اور جو اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں‘ عام شہری وہ بھی پاکستانی ہیں۔ اس تمام معاملے کا واحد حل بات چیت ہے۔ ٹرانسپورٹرز حکومت پر واضح کر چکے ہیں کہ اس احتجاج کیلئے جو کنٹینرز پکڑے گئے ہیں‘ اگر ان کی ادائیگیاں نہ ہوئیں تو وہ بندرگاہوں پر کام بند کر دیں گے۔ اس وقت اسلام آباد میں ہزاروں کی تعداد میں کنٹینرز لگائے گئے ہیں‘ جن کا یومیہ کرایہ بلامبالغہ کروڑوں میں ہو گا‘ اور اب تک اس کی ادائیگی مالکان کو نہیں ہوئی۔پولیس کے اخراجات اس کے علاوہ ہیں۔ اٹک سے اسلام آباد تک کا راستہ ایک فصیل کی مانند لگ رہا ہے۔ اتنی سکیورٹی‘ اتنے اہلکار‘ اتنے ناکے اور سینکڑوں کنٹینرز۔ کیا آئی ایم ایف کی مدد سے چلنے والی معیشت کو ایسے خرچے زیب دیتے ہیں؟ اگر لانگ مارچ‘ احتجاج‘ دھرنوں سے کوئی ایشو ہے تو مذاکرات سے مسئلے کا حل نکالا جانا چاہیے۔ اس وقت جارحانہ رویے کے بجائے سیاسی بردباری کی ضرورت ہے۔سیاسی انتقام کا سلسلہ اب ختم ہونا چاہیے اور انتقام کی غرض سے قید کیے گئے سبھی سیاسی قیدیوں کو رہا کرنا چاہیے۔ اس ضمن میں سینئر سیاستدان اور اہم قومی شخصیات اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ ایسے معاملات طاقت اور جبر کے بجائے افہام و تفہیم سے ہی حل ہوتے ہیں۔پی ٹی آئی لانگ مارچ کے حوالے سے اب بھی تذبذب کا شکار ہے‘ لیکن انتظامیہ نے پورے اسلام آباد کو بندرگاہ میں تبدیل کر دیا ہے۔ یہ صورتحال شہریوں پر نفسیاتی دباؤ ڈال رہی ہے کہ پتا نہیں کیا ہونے والا ہے۔ کنٹینرز کو صرف مال برداری کیلئے رہنے دیں‘ ان کو سڑکوں کی بندش کیلئے مت استعمال کریں۔ نہ یہ احتجاج روکنے کا ذریعہ ہیں‘ نہ ہی سڑکیں بند کرنے کیلئے بنے ہیں۔راستے بند کرنے سے پہلے متبادل راستوں کا پلان بھی جاری کرنا چاہیے۔ مسافروں‘ مریضوں اور طالب علموں کو پیش آنے والی مشکلات کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے۔ میں نے اپنے بزرگ والدین کو لے کر ہسپتال جانا ہے‘ نجانے کتنے کنٹینرز کا سامنا کرکے میں منزل تک پہنچ سکوں گی۔اس صورتحال کا حل صرف مذاکرات میں ہے۔ اس وقت ہم اپنے مشرقی اور مغربی ہمسایوں کی طرف سے مشکلات کا شکار ہیں‘ اس لیے ہمیں اپنے اندرونی مسائل کو خوش اسلوبی سے حل کرنا چاہیے۔ </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_38020467.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بَیْتُ الْجِنّ(مفتی منیب الرحمٰن )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-10-03/52777/35742578</link><pubDate>Sat, 03 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-10-03/52777/35742578</guid><description>ج اور ن کی تشدید کے ساتھ &#39;&#39;جِنّ‘‘ اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ ایک ناری مخلوق ہے‘ اس کی بابت اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (1) &#39;&#39;اور جنّ کو آگ کے خالص شعلے سے پیدا کیا‘‘ (الرحمن: 15)۔ (2) &#39;&#39;اللہ نے فرمایا: (ابلیس!) جب میں نے تمہیں حکم دیا تھا تو تجھے (آدم کو) سجدہ کرنے سے کس چیز نے منع کیا‘ اس نے کہا: میں اُس سے بہتر ہوں‘ تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور اسے مٹی سے پیدا کیا ہے‘‘ (الاعراف: 12)۔ ج اور ن مشدّد کے مادّے سے جو بھی الفاظ بنتے ہیں‘ ان میں ستر اور پوشیدگی کا معنی پایا جاتا ہے جیسے اَلجَنَّۃ: &#39;&#39;گھنا باغ جس کے نیچے زمین چھپ جاتی ہے ‘‘۔ جَنِیْن: &#39;&#39; ماں کے پیٹ میں بچہ جو مستور ہوتا ہے‘ اس کی جمع اَجِنَّۃٌہے‘‘۔ اَلْجُنَّۃ: &#39;&#39; ڈھال کو کہتے ہیں کہ اس کی آڑ میں انسان اپنا دفاع کرتا ہے‘ اس کی جمع مَجَانٌّ ہے‘‘۔ جَنَن: قبر کو کہتے ہیں‘ اس کی جمع &#39;&#39;اجنان‘‘ ہے۔ پاگل پن کو جنون کہتے ہیں‘ کیونکہ جسے جنون لاحق ہو جائے اُس کے دماغ پر ایک غیر مرئی پردہ پڑ جاتا ہے۔ جِنَانٌ: دل کو کہتے ہیں کہ وہ سینے میں مستور ہوتا ہے۔ رات کی تاریکی کو بھی قرآن نے &#39;&#39;جَنَّ‘‘ سے تعبیر کیا ہے: &#39;&#39; جب ابراہیم پر رات کی تاریکی چھا گئی‘‘ (الانعام: 76)۔ قرآنِ کریم میں 22 مرتبہ لفظ &#39;&#39;جِن‘‘ اور 7 مرتبہ لفظ &#39;&#39;جانّ‘‘ آیا ہے۔ سورۃ الاحقاف اور سورۃ الجن میں جنات کا رسول اللہﷺ کی بارگاہ میں آمد کا ذکر ہے اور اس امر کا بھی بیان ہے کہ ان میں مومن بھی ہیں اور کافر بھی۔ جنّات کے بارے میں قرآنِ کریم میں ہے: &#39;&#39;اے بنی آدم! کہیں شیطان تم کو فتنے میں مبتلا نہ کر دے جس طرح وہ تمہارے ماں باپ کے جنت سے اخراج اور ان کے لباس اترنے کا سبب بنا تھا تاکہ انجامِ کار انہیں ان کی شرمگاہ دکھائے‘ بے شک وہ اور اس کا قبیلہ تمہیں وہاں سے دیکھتے ہیں‘ جہاں سے تم انہیں نہیں دیکھ پاتے‘‘ (الاعراف: 27)۔ابلیس کو راندۂ درگاہ کرتے ہوئے اللہ نے فرمایا: &#39;&#39;تو اس (جنت) سے نکل جا‘ بے شک تو دھتکارا ہوا ہے اور بے شک تجھ پر قیامت کے دن تک میری لعنت ہے‘ ابلیس نے کہا: اے میرے رب! پھر مجھے حشر کے دن تک مہلت دے‘ فرمایا: بے شک تو اُس دن تک مہلت پانے والوں میں سے ہے‘ جس کا وقت (ہمیں) معلوم ہے‘ اس نے کہا: تیری عزت کی قسم! میں تیرے منتخب بندوں کے سوا ضرور ان سب کو گمراہ کروں گا‘‘ (ص: 77 تا 83)۔ (2) &#39;&#39;اور یاد کرو! جب ہم نے فرشتوں سے کہا: آدم کو سجدہ کرو تو ابلیس کے سوا سب نے سجدہ کیا‘ اس نے کہا: میں اُس کو سجدہ کروں جسے تُو نے مٹی سے پیدا کیا‘ اُس نے کہا: ذرا بتائیے! یہ ہے وہ شخص جس کو تُو نے مجھ پر فضیلت عطا کی ہے‘ سو اگر تُو نے مجھے قیامت کے دن تک مہلت دی تو ایک قلیل تعداد کے سوا میں اس کی اولاد کو جڑ سے اکھیڑ دوں گا‘‘ (بنی اسرائیل: 61 تا 62)۔کہاوت ہے: &#39;&#39;ویران گھر آسیب اور جنّات کا بسیرا ہوتا ہے‘‘۔ پس دلوں کی دنیا کو بھی اللہ تعالیٰ کے ذکر وفکر سے آباد رکھنا چاہیے‘ ورنہ وہ بھی افکارِ پریشاں اور فاسد خیالات کا مرکز بن جاتے ہیں۔ کچھ یہی صورتحال ہمارے اقتدار کے ایوانوں کی ہے کہ جب ہمارے سیاستدان اقتدار سے باہر ہوتے ہیں تو انہیں عوام کے دکھ درد بھی یاد آتے ہیں‘ اُن کے غم میں گھلتے بھی رہتے ہیں‘ اُن کی ہمدردی حاصل کرنے کیلئے ٹسوے بھی بہاتے ہیں‘ اُن کے مصائب ومشکلات کا ادراک بھی رکھتے ہیں۔ لیکن جب وہ ان کے کندھوں پر سوار ہو کر اقتدار کے ایوانوں میں پہنچتے ہیں تو اُن کے دل ودماغ کی کیفیت بدل جاتی ہے‘ عوام سے کیے گئے وعدے بھول جاتے ہیں‘ اپنی عشرتوں میں محو ہو جاتے ہیں۔ الغرض ایوانِ اقتدار اُن کیلئے &#39;&#39;بیتُ الجِنّ‘‘ بن جاتا ہے‘ پھر قرآنِ کریم کے الفاظ میں اُن کی کیفیت یہ ہو جاتی ہے: &#39;&#39;اُن کے لیے دل ہیں‘ مگر وہ اُن سے سوچتے نہیں اور اُن کی آنکھیں ہیں‘ (مگر) وہ ان سے دیکھتے نہیں اور اُن کے کان ہیں‘ (مگر) وہ ان سے سنتے نہیں‘‘ (الاعراف: 179)۔ (2) &#39;&#39;کہہ دیجیے! اُسی نے تم کو پیدا کیا ہے‘ تمہارے (سننے کے لیے) کان‘ (دیکھنے کے لیے) آنکھیں اور (سمجھنے کے لیے) دل بنائے ہیں‘ (مگر) تم بہت ہی کم شکر کرتے ہو‘‘ (الملک: 23)۔ حقیقی شکر گزاری یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ان نعمتوں کو اُس کی بندگی اور اس کے بندوں کی فلاح کیلئے استعمال کیا جائے‘ مگر ایسا ہوتا نہیں ہے۔ پس فرمایا: &#39;&#39;حقیقت یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں‘ بلکہ دل اندھے بن جاتے ہیں جو سینوں میں ہیں‘‘ (الحج: 46)۔شہباز شریف کو اقتدار میں آئے کم وبیش چارسال ہو گئے ہیں‘ مگر اس پورے عرصے میں عوام کی مشکلات میں اضافہ ہی ہوتا چلا گیا اور مہنگائی ناقابلِ تصور ہوگئی‘ بیروزگاری کا المیہ اس کے علاوہ ہے۔ کئی عالمی فرنچائز‘ برانڈ اور صنعتی ادارے پاکستان کو خیرباد کہہ چکے ہیں۔ حکومت تاجروں اور صنعتکاروں کی ناز برداری میں لگی رہتی ہے‘ مگر صنعتیں سمٹتی چلی جا رہی ہیں۔ دنیا بھر میں فلاحی ریاست کا تصور یہ ہے کہ مالداروں سے ٹیکس لیا جائے اور ناداروں کی فلاح پر خرچ کیا جائے‘ مگر حکومت امیروں اور جاگیرداروں سے براہِ راست ٹیکس لینے میں ناکام ہے‘ اس لیے بالواسطہ ٹیکسوں کا نظام پھیلتا چلا جا رہا ہے۔ پٹرول پر ٹیکس اور جنرل سیلز ٹیکس یہ سب بالواسطہ ٹیکس ہیں‘ ان کی زَد غریب عوام پر پڑتی ہے۔ وزیراعظم نے اس عرصے میں اتنی بڑی تعداد میں مختلف ممالک کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں (MOU&#39;s) پر دستخط کیے ہیں کہ شاید عالمی ریکارڈ ہو‘ مگر اُن کے بطن سے کچھ بھی برآمد نہیں ہوا۔ ملک کے اندر بیرونی سرمایہ کاری کی جو نویدیں سنائی جاتی رہی ہیں‘ وہ سَراب ثابت ہوئیں۔جب ہمارے اپنے سرمایہ دار اپنا سرمایہ دبئی اور دیگر ممالک میں منتقل کر رہے ہیں تو کوئی پاگل ہے جو باہر سے آکر پاکستان میں سرمایہ کاری کرے گا۔ حکمرانوں کے غیر ملکی دوروں پر ہونے والے اخراجات کی تفصیلات بھی ہوشربا ہیں۔ وہ اخراجات کم کرنے کی نوید سناتے رہتے ہیں‘ مگر جب اعداد وشمار کو دیکھا جائے تو حقیقت اس کے برعکس نظر آتی ہے۔ ہم نے گزشتہ کچھ عرصے میں عالمی سفارتکاری میں بڑا نام کمایا ہے‘ امریکی صدر ٹرمپ بھی ہمارے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی تحسین کرتے رہتے ہیں‘ لیکن ہم اپنے داخلی وسرحدی تنازعات اور دہشت گردی کے مسائل کو حل کرنے میں قطعاً ناکام ہیں۔ ہمارے دو صوبے بلوچستان اور خیبر پختونخوا نفرتوں کی آگ میں جل رہے ہیں‘ مگر اس آگ کو بجھانے کی کوئی تدبیر ہمارے اربابِ حلّ وعقد کو سجھائی نہیں دے رہی۔ ہمارے بین الاقوامی کاروباری معاہدات استحصال پر مبنی ہیں‘ ان میں آئی پی پیز سرِفہرست ہیں‘ اُن کو ہر سال حقیقی پیداوار پر نہیں‘ بلکہ پیداواری استعداد پر کھربوں روپے دیے جا رہے ہیں اور حکومتیں اتنی نااہل ہیں کہ اُن سے نجات کی کوئی تدبیر انہیں سمجھ میں نہیں آتی۔ بیرونی سرمایہ کاروں کو کے الیکٹرک اور پی ٹی سی ایل اس وعدے پر بیچے گئے کہ وہ باہر سے زرِ مبادلہ لاکر یہاں سرمایہ کاری کریں گے‘ ان اداروں کو جدید بنائیں گے؛ چنانچہ محض 26 فیصد شراکتی حصص کے عوض انہیں مکمل کنٹرول دے دیا گیا‘ مگر بجائے اس کے کہ باہر سے زرِ مبادلہ آتا‘ کے الیکٹرک نے پاکستانی بینکوں سے پرانی مشینری پر اجارہ صکوک کے نام پر ارب ہا روپے لیے اور منافع کماکر باہر لے گئے۔ یہی صورتحال اتصالات کی ہے کہ اب تک انہوں نے 80 کروڑ ڈالر پاکستان کو ادا نہیں کیے‘ حالانکہ ان کا معاہدہ شوکت عزیز کے زمانے میں ہوا تھا۔ ان کو بھی 26 فیصد شراکتی حصص کے عوض ادارے پر پورا کنٹرول دے دیا گیا اور اصل سرمائے کا کئی گنا منافع کما کر باہر لے گئے۔ اگر پٹرول لیوی کی طرح بالواسطہ ٹیکس ختم کر دیے جائیں یا انہیں ایک کم از کم مناسب شرح پر منجمد کر دیا جائے تو عوام کوکچھ نہ کچھ ریلیف مل سکتا ہے۔ عالمی سطح پر پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں جو اضافہ ہورہا ہے‘ اس کا ہر ایک کو ادراک ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_61172381.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>