<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>لوڈشیڈنگ، مستقل حل درکار(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-25/11570</link><pubDate>Fri, 25 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-25/11570</guid><description>لاہور سمیت ملک کے مختلف شہروں میں ایک بار پھر رات کے اوقات میں چار سے پانچ گھنٹے تک غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے اس کی بنیادی وجہ رات کے وقت طلب میں اضافے کو قرار دیا جا رہا ہے۔ دن کے اوقات میں شمسی توانائی کے باعث گرڈ پر طلب نسبتاً کم رہتی ہے مگر شام ڈھلتے ہی سولر سسٹم کی پیداوار کم ہونے سے طلب بڑھ جاتی ہے اور نظام پر دباؤ آ جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ بحران کو محض طلب میں اضافے یا پیداوار میں کمی سے تعبیر کرنا مسئلے کی اصل نوعیت کو نظرانداز کرنا ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران ملک میں بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں طلب سے زیادہ اضافہ کیا گیا‘ مگر ہر جگہ اسی تناسب سے ترسیل اور تقسیم کا نظام مضبوط نہیں کیا گیا۔ دوسری طرف مہنگی بجلی نے صارفین کو سولر کی طرف منتقل ہونے پر مجبور کیا ہے۔ یوں گرڈ کی فروخت کم ہونے کیساتھ مقررہ اخراجات نسبتاً کم یونٹس پر تقسیم ہوتے ہیں اور مسئلہ مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ سولر توانائی مسئلے کی وجہ ہے۔ حقیقت میں قابلِ تجدید توانائی ملک کیلئے ایک اہم موقع ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سولر کو گرڈ کے مقابل کھڑا کرنے کے بجائے ایک مربوط توانائی نظام کا حصہ بنایا جائے۔ لوڈشیڈنگ کا مستقل خاتمہ محض مزید زیادہ بجلی پیدا کرنے سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے بہتر منصوبہ بندی‘ مضبوط ترسیل‘ محفوظ تقسیم‘ مؤثر نگرانی اور جدید توانائی ٹیکنالوجی کو باہم مربوط کرنا ہو گا۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بڑھتے جرائم(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-25/11569</link><pubDate>Fri, 25 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-25/11569</guid><description>سندھ پولیس کے ریکارڈ کے مطابق صوبے بھر کے تھانوں میں مختلف جرائم میں ملوث مفرور اور اشتہاری ملزمان کی مجموعی تعداد 77 ہزار سے زائد ہو چکی ہے‘ جبکہ صرف رواں سال کے دوران مفرور ملزمان کی تعداد میں 20 ہزار سے زائد اضافہ ہوا ہے۔ اتنی بڑی تعداد میں مفرور اور اشتہاری ملزمان کا آزادانہ گھومنا معاشرے کیلئے سنگین خطرہ ہے۔ ایسے افراد نہ صرف دوبارہ جرائم میں ملوث ہوسکتے بلکہ اپنے گروہوں‘ سہولت کاروں اور جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے ذریعے قانون کی عملداری کو کمزور بنا سکتے ہیں۔ محکمہ داخلہ کی سٹینڈنگ کمیٹی میں پیش کیے گئے یہ اعداد و شمار صوبہ سندھ میں جرائم کی سنگینی کو واضح کرتے ہیں کہ رواں سال کے دوران سندھ میں 1100سے زائد افراد قتل ہوچکے‘ جبکہ ڈکیتی‘ راہزنی‘ گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی چوری جیسے جرائم بھی بڑی تعداد میں رپورٹ ہوئے ہیں۔ یہ صورتحال صوبائی حکومت اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات اٹھاتی ہے۔ شہریوں کا تحفظ‘ قانون کی بالادستی اور مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لانا کسی بھی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔ صوبائی حکومت کو چاہیے کہ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنیوالے اداروں کو جدید وسائل‘ مطلوبہ نفری‘ جدید ٹیکنالوجی‘ فرانزک سہولتیں اور بہتر تربیت فراہم کرے تاکہ جرائم کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>