<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>انتخابی اصلاحات اور اپوزیشن کا کردار(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-11-01/11683</link><pubDate>Sun, 01 Nov 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-11-01/11683</guid><description>انتخابی عمل کی شفافیت اور انتخابات پر سیاسی جماعتوں کا اعتماد جمہوری نظام کے استحکام کیلئے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔۔ اس پس منظر میں انتخابی اصلاحات کی پارلیمانی کمیٹی کی تجویز اور سپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے اس سلسلے میں وزیراعظم‘ چیئرمین سینیٹ اور قائد حزب اختلاف کو خطوط ارسال کرنا خوش آئند ہے۔ انتخابات جمہوری نظام کی بنیاد ہیں۔ عوام اپنے ووٹ کے ذریعے نمائندوں کا انتخاب کرتے ہیں اور عوامی مینڈیٹ حکومتوں کو آئینی اور جمہوری جواز فراہم کرتا ہے۔ اگر انتخابی نتائج پر سیاسی اور عوامی اعتمادنہ ہو تو منتخب حکومتوں کی ساکھ  متاثر ہوتی ہے ۔ اس لیے انتخابی تنازعات کو محض سیاسی بیانات اور الزام تراشی تک محدود رکھنے کے بجائے ان کے اسباب کا غیر جانبدارانہ جائزہ لینا ضروری ہے۔ اس سلسلے میں حکومت کی جانب سے اپوزیشن کو انتخابی اصلاحاتی کمیٹی میں شامل کرنے کا فیصلہ حزبِ اختلاف کو اپنا کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کر سکتا ہے۔ بالخصوص پاکستان تحریک انصاف کو اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے انتخابی تحفظات اور شکایات کو پارلیمانی فورم پر پیش کرنا چاہیے۔

کسی سیاسی جماعت کیلئے اپنے مؤقف کے حق میں دلائل‘ شواہد اور تجاویز سامنے لانے کا مؤثر ذریعہ یہی ہے کہ متعلقہ آئینی اور پارلیمانی اداروں میں کردار ادا کرے۔ محض احتجاجی جلسوں اور سیاسی بیانات سے کوئی بڑا کردار ادا نہیں کیا جا سکتا۔ فعال اپوزیشن پارلیمان کے اندر اپنی موجودگی کو عوامی مسائل کے حل اور نظام کی بہتری کیلئے استعمال کرتی ہے۔ اگر اپوزیشن پارلیمانی کمیٹیوں سے دور رہے تو اس سے نہ صرف اس کی اپنی سیاسی شرکت محدود ہوتی ہے بلکہ اصلاحات کے عمل میں اس کے مؤقف کی مؤثر نمائندگی بھی نہیں ہو سکتی۔ تاہم حکومت کو بھی یہ سمجھنا ہو گا کہ انتخابی اصلاحات محض کمیٹی قائم کرنے یا اپوزیشن کو دعوت دینے سے نہیں ہوں گی۔ کمیٹی کی کارروائی شفاف‘ مشاورت بامعنی اور نتائج قابلِ عمل ہونے چاہئیں۔ دھاندلی کے الزامات کا جائزہ سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر لیا جانا چاہیے اور جہاں بے ضابطگیوں کے قابلِ اعتماد شواہد ہوں وہاں قانون کے مطابق ذمہ داری کا تعین کیا جائے۔ اسی طرح انتخابی عمل کی نگرانی‘ نتائج کی تیاری اور اعلان‘ شکایات کے ازالے اور انتخابی اداروں کی خودمختاری سے متعلق امور پر بھی توجہ دی جانی چاہیے۔ ملک کی سیاسی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ انتخابی تنازعات سیاسی عدم استحکام کی بڑی وجہ ہیں۔ تقریباً سبھی انتخابات کے بعد دھاندلی کے الزامات سیاسی محاذ آرائی کا سبب بنے جس نے جمہوری تسلسل اور قومی ترقی کو متاثر کیا۔
اس لیے سیاسی جماعتوں کو ذاتی سیاسی مفادات سے بلند ہو کر ایسے انتخابی نظام کی تشکیل میں حصہ لینا چاہیے جس کے نتائج پر عوام اور سیاسی جماعتوں کا اطمینان ہو۔ موجودہ صورتحال میں مجوزہ پارلیمانی کمیٹی حکومت اور اپوزیشن کیلئے اپنی سیاسی سنجیدگی ثابت کرنے کا بھی امتحان ہے۔ حکومت کو کھلے دل سے اختلافی آرا سننی چاہئیں جبکہ اپوزیشن کو پارلیمانی کردار کی طرف آنا چاہیے۔ جمہوریت میں اختلافِ رائے فطری ہے لیکن اختلاف کو مکالمے اور اصلاحات میں بدلنا ہی سیاسی بلوغت کی علامت ہے۔ اس مجوزہ کمیٹی میں اپوزیشن کی شمولیت ممکن ہے حکومت اور حزبِ اختلاف میں پائی جانے والی سیاسی خلیج کو کم کرے‘ فریقین میں آرا کے اختلاف میں کمی آئے اور یہ پیش رفت پارلیمانی طرفین میں اتفاقِ رائے کا سبب بنے۔ پچھلے دو‘ ایک سال میں حکومت اور حزبِ اختلاف میں مذاکرات کے ڈول ڈالے گئے مگر باہمی عدم اعتماد کسی بڑے نتیجے کی راہ میں حائل رہا۔ وقت آ گیا ہے کہ حکومت اور حزبِ اختلاف اس جمود کو توڑنے کیلئے اقدامات کریں۔ دلوں کی الجھنیں کم کرنے کا اہتمام کریں کہ یہی راستہ مفاہمت اور سیاسی استحکام کی طرف لے کر جائے گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>غربت کاپھیلاؤ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-11-01/11682</link><pubDate>Sun, 01 Nov 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-11-01/11682</guid><description>ورلڈ بینک کی رپورٹ ’پاورٹی اینڈ ایکویٹی بریف‘ کے مطابق مالی سال 2024-25ء میں پاکستان میں غربت کی شرح 29 فیصد تک پہنچ گئی‘ جو مالی سال 2018-19ء میں 22 فیصد تھی۔ یعنی چھ سال کے عرصے میں غربت کی شرح میں سات فیصد کا اضافہ ہوا۔ رپورٹ کے مطابق ملک کے پانچ کروڑ 76 لاکھ افراد‘ یعنی تقریباً 23 فیصد آبادی کا یومیہ تین ڈالر سے کم آمدن پر گزارہ ہے۔ دیہی علاقوں میں غربت کی شرح 56.4 فیصد جبکہ شہری علاقوں میں 34.4 فیصد بتائی گئی ہے۔ یہ اعدادوشمار اس حقیقت کا واضح اظہار ہیں کہ غربت اب قومی سطح کا مسئلہ بن چکی ہے۔ غربت میں اضافے کی بنیادی وجوہات میں بیروزگاری‘ مہنگائی‘ معاشی سست روی اور عوام کی کمزور معاشی سکت شامل ہے‘ تاہم حکومت کی جانب سے تخفیف غربت کیلئے مؤثر اقدامات کا نہ ہونا بھی بڑھتی ہوئی غربت کی ایک اہم وجہ ہے۔

غربت میں کمی کیلئے مہنگائی پر قابو پانے‘ کم آمدن والے خاندانوں کیلئے مؤثر سماجی تحفظ‘ کم از کم اجرت پر عملدرآمد‘ نوجوانوں کو فنی تربیت‘ بلاسود یا آسان شرائط پر کاروباری قرضے اور روزگار کی فراہمی جیسے اقدامات کی ضرورت ہے۔ حکومت کو ایک جامع اور مستقل قومی حکمت عملی تشکیل دینا ہوگی جس کے تحت ہر سال غربت میں کمی کے اہداف مقرر کیے جائیں اور ان پر پیش رفت کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے۔ غربت کی شرح میں مسلسل اضافہ حکمرانوں کیلئے ایک واضح انتباہ ہے۔ اگر اس مسئلے کو قومی ترجیح نہ بنایا گیا تو اسکے معاشی اور سماجی اثرات مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>غذائی قلت(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-11-01/11681</link><pubDate>Sun, 01 Nov 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-11-01/11681</guid><description>وفاقی وزارتِ صحت کے مطابق ملک میں پانچ سال سے کم عمر 40 فیصد سے زائد بچے سٹنٹنگ جبکہ تقریباً 18 فیصد بچے ویسٹنگ کا شکار ہیں۔ دوسری جانب نصف سے زائد نو عمر لڑکے اور لڑکیاں مختلف غذائی اجزا کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ غذائی قلت کے مسئلے کو خطرے کی گھنٹی سمجھا جائے اور اس کیلئے مناسب اقدامات کیے جائیں۔ بچپن میں غذائی کمی کا ازالہ عمر بھر نہیں ہوتا۔ مناسب غذا نہ ملنے سے بچوں کی جسمانی اور ذہنی نشوونما متاثر ہوتی ہے‘ سیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت محدود ہو جاتی ہے اور تعلیمی کارکردگی پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ یہی بچے عملی زندگی میں کم پیداواری صلاحیت کے باعث بہتر روزگار اور معاشی مواقع سے محروم رہ سکتے ہیں۔

نتیجتاً قومی معیشت کو ہنرمند اور صحت مند افرادی قوت کی کمی‘ صحت کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مجموعی پیداواری صلاحیت میں کمی کی صورت میں بھاری نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ اس بحران کی بنیادی وجوہ میں غربت‘ بے روزگاری‘ مہنگائی اور معیاری خوراک تک محدود رسائی نمایاں ہیں۔ مہنگائی اور عوام کی گرتی ہوئی قوتِ خرید نے کم آمدن والے خاندانوں کیلئے بچوں کو متوازن اور غذائیت سے بھرپور خوراک فراہم کرنا مشکل بنا دیا ہے۔ اس صورتحال پر قابو پانے کیلئے عوام کی قوتِ خرید میں اضافہ اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں استحکام ناگزیر ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مولانا… اقتدار کے بغیر(مجیب الرحمٰن شامی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mujeeb-ur-rehman-shami/2026-11-01/52946/40739709</link><pubDate>Sun, 01 Nov 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mujeeb-ur-rehman-shami/2026-11-01/52946/40739709</guid><description>مولانا فضل الرحمن قومی اسمبلی میں تقریر کرنے کھڑے ہوئے تو پورا ایوان گوش بر آواز تھا۔ انہوں نے پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان مذاکرات کی کہانی سنانا شروع کی‘ اپنے مفاہمانہ کردار کی تفصیل بیان کرتے گئے‘ انہیں بڑی توجہ سے سنا جا رہا تھا۔ وہ بولتے بولتے کچھ پھسلے اور ریاست کا تذکرہ زبان پر آ گیا۔ گزشتہ کچھ عرصے سے ریاست کا لفظ اسٹیبلشمنٹ کے مترادف کے طور پر بولا جانے لگا ہے۔ احزابِ اقتدار و اختلاف میں ایسے لوگ موجود ہیں جو ریاست سے مراد ریاستی ادارے‘ بلکہ ادارہ لیتے ہیں۔ اہلِ دانش اور صحافت میں سے بھی کئی ریاست کا ذکر اسی انداز میں کرنے لگے ہیں‘ حالانکہ ریاست کسی ایک ادارے کا نہیں‘ اداروں کے مجموعے کا نام ہے۔ مقننہ‘ انتظامیہ اور عدلیہ مل کر ریاست کی تشکیل کرتے ہیں۔ جہاں تک دفاعی اداروں کا تعلق ہے‘ آئین ان کا کوئی الگ تشخص یا حیثیت تسلیم نہیں کرتا‘ وہ انتظامیہ کا حصہ سمجھے جاتے ہیں اور اسی کے تحت ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں۔ ریاست کے ساتھ اس بے تکلفی کے مرتکب حضرات و خواتین کا کہنا ہے کہ چونکہ ہمارے ہاں ایک ادارہ سب پر حاوی رہا ہے‘ اس لیے ریاست سے مراد اس کو لیا جا سکتا ہے یا لیا جانا چاہیے۔ یہ درست ہے کہ ہمارے ہاں کئی بار مارشل لاء کا نفاذ ہوا ہے‘ آئین منسوخ کیا گیا‘ اور اسے معطل کرنے کا سلسلہ بھی جاری رہا‘ ہمارے مارشل لاؤں نے انتظامیہ اور (کسی حد تک) مقننہ کی ذمہ داریاں تو سنبھالیں لیکن عدلیہ سے چھیڑ چھاڑ کم ہی کی ہے۔ اس کے ڈھانچے کو برقرار رکھتے ہوئے اس کے احکامات کی پیروی کو یقینی بنانے کا تاثر دیا جاتا رہا ہے۔ نتیجتاً ملک کا اجتماعی نظم درہم برہم نہیں ہو پایا۔ مارشل لاء جتنی آسانی سے لگا‘ اتنی ہی آسانی سے ر خصت بھی ہو گیا۔ ہم اپنی خامیوں کا تذکرہ تو بآوازِ بلند کرتے رہتے ہیں لیکن یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ہمارے ہاں جب بھی فوج نے اقتدار سنبھالا ہے‘ ایک ادارے کے طور پر اور ایک اجتماعی فیصلے کے تحت سنبھالا ہے۔ فوجی ہائی کمان کو زیر کر کے یا اس کے خلاف بغاوت کر کے اقتدار سنبھالنے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو پائی۔ جس نے اس حماقت کا ارتکاب کرنے کی کوشش کی‘ اُسے حوالہ ٔ زنداں کیا گیا‘ مقدمات قائم ہوئے اور اسے طویل عرصے تک قید کا مزہ چکھنا پڑا ہے۔ میجر جنرل اکبر خان سے لے کر ظہیر الاسلام عباسی تک طویل کہانی بلکہ کہانیاں موجود ہیں۔ پاکستانی فوج کا یہ بھی افتخار ہے کہ اس کے ہاتھوں کسی منصب دار کا &#39;&#39;ماورائے عدالت‘‘ قتل نہیں ہوا۔ مشرقی پاکستان سے بنگلہ دیش کے قالب میں ڈھل جانے والے اپنے برادر محترم ہی کو دیکھ لیجیے۔ بنگلہ بندھو سے لے کر جنرل ضیاء الرحمن تک ڈھیروں خون تاریخ کے صفحات پر بکھرا ہوا ہے۔ پاکستان میں صرف ایک سابق وزیراعظم کو تختۂ دار پر لٹکایا گیا‘ اور وہ بھی باقاعدہ مقدمہ چلا کر‘ سول عدالت کے ذریعے۔ پہلے ہائی کورٹ میں اور پھر سپریم کورٹ میں کئی ماہ سماعت ہوئی۔ وکلائے صفائی نے دل کھول کر دلائل دیے‘ ملزم نے بھی خوب دل کی بھڑاس نکالی۔ طویل تحریری فیصلے نے اس کا جرم ثابت کیا۔ اس  مقدمے کے مدعی احمد رضا قصوری آج بھی ہمارے درمیان سرگرم ہیں۔ انہوں نے انصاف کے تقاضے پورے کرنے پر اظہارِ تشکر کیا اور آج تک اس فیصلے کو انصاف کے اعلیٰ اصولوں کے مطابق قرار دیتے ہیں۔ ان سے اختلاف کرنے والے موجود ہیں‘ سپریم کورٹ کے اندر بھی موجود رہے ہیں اور ان میں سے چند نے اس فیصلے کے خلاف فیصلہ بھی داغ دیا ہے‘ لیکن کہنے اور سمجھنے کی بات یہ ہے کہ مارشل لاء نے یکطرفہ طور پر کسی سیاستدان یا عہدیدار کا خون اپنی گردن پر نہیں لیا۔ ہماری فوج نے (بحیثیت مجموعی) قوانین اور قواعد کی پابندی کو برقرار رکھنے کی سعی کی ہے یا اس کا تاثر دیے رکھا ہے جس سے ہمارا ریاستی ڈھانچہ الحمدللہ اپنے پاؤں پر کھڑا رہا ہے۔ بات کہاں سے شروع ہوئی اور کہاں نکل گئی۔ عرض یہ کرنا مقصود تھا کہ مولانا ریاست کی من مانی تشریح کر کے اس پر چڑھ دوڑے تو ان کی گرفت ہونی چاہیے تھی اور اب بھی ان کی خدمت میں عرض کیا جانا چاہیے کہ وہ علم سیاسیات کی اصطلاحات کو ان کے معروف معانی میں استعمال کریں تو یہ فقہ حنفیہ کے عین مطابق ہو گا‘ اور اس پر فقہ جعفریہ کی رُو سے بھی کوئی اعتراض نہیں کیا جا سکے گا۔ مولانا فضل الرحمن ماشاء اللہ 73برس کے ہو چکے۔ وہ کوئی لا ابالی نوجوان تو ہیں نہیں کہ انہیں شک کا فائدہ دے دیا جائے۔ وہ ایک ایک لفظ سوچ سمجھ کر بولنے پر قادر ہیں۔ اردو اور عربی کے ساتھ ساتھ فارسی اور انگریزی پر بھی نظر رکھتے ہیں‘ اس لیے ذومعنی گفتگو سے گریز ہی ان کے شایانِ شان ہو گا۔مولانا کئی دہائیاں سیاست میں گزار چکے‘ انہوں نے آئین کی بالادستی اور جمہوری عمل کی توانائی کے لیے جو کچھ کیا وہ سب کے سامنے ہے۔ طاقت کے ذریعے اسلام نافذ کرنے کے دعویدار جتھوں کا جس طرح انہوں نے منہ موڑا‘ ان کے سامنے جس طرح دیوارِ چین بن کر کھڑے رہے اور اپنے ساتھیوں کے خون کا نذرانہ جس طرح پیش کیا‘ وہ سب تاریخ میں جگمگا رہا ہے۔ ان کی شخصیت اور ان کی جماعت قابلِ فخر ہیں‘ وہ ہماری جمہوریت کا اثاثہ ہیں۔ ان سے اختلاف ہونا چاہیے‘ ان پر تنقید بھی کی جانی چاہیے‘ لیکن ان کی شخصیت اور حیثیت کا انکار ریاستِ پاکستان کی مشکلات میں اضافہ کرے گا۔ یہ جو وزرائے کرام ان پر جھپٹ رہے ہیں اور اپنا توازن برقرار نہیں رکھ پا رہے‘ یہ حکومت کی کوئی خدمت نہیں کر رہے۔ دلیل اور ادب کے ساتھ اپنی بات کیجیے‘ الفاظ کا صحیح انتخاب سیکھیے۔ اردو ادب کا نہیں تو گرائمر ہی کا مطالعہ کر لیجیے۔ بھونڈے الزامات نہ لگایے‘ مولانا جو کچھ بھی ہیں اور جیسے بھی ہیں ان کا دم غنیمت ہے۔ پاکستانی قوم انہیں اچھی طرح جانتی ہے‘ ان کا اعتراف کرتی اور اُنہیں تسلیم کرتی ہے۔ وہ اقتدار کے بغیر زندہ رہ سکتے ہیں اور الحمد للہ رہ رہے ہیں۔ اقتدار کو ان سے ٹکرانا مہنگا پڑ سکتا ہے۔لاہور جمخانہ پر حملہلاہور کا جم خانہ کلب آج کل حملوں کی زد میں ہے۔ اس کی عمر ایک سو سال سے کہیں زائد ہے۔ اسے اشرافیہ کا مرکز قرار دیا جا رہا ہے اور اس سے زمین چھین لینے کے منصوبے بنائے جا رہے ہیں جبکہ یہ جمہوری انداز میں کام کرنے والا ایک ادارہ ہے‘ جس کے ہزاروں ممبروں میں سرکاری افسروں کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر‘ انجینئر‘ پروفیسر‘ اہلِ صحافت‘ اہلِ تجارت غرض کہ زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے موجود ہیں۔ پنجاب حکومت نے اسے زمین کرائے پر دے کرپورے لاہور پر احسان کیا ہے۔ اس کے وسیع و عریض سبزہ زار لاہور کے شہریوں کو آکسیجن فراہم کرتے ہیں‘ فضا کی کثافت کو نگل جاتے ہیں۔ یہ کھیلوں کے ساتھ ساتھ ادبی‘ سماجی اور ثقافتی سرگرمیوں کا بھی بڑا مرکز ہے۔ اس کی جگہ عمارات تعمیر کرنے کی نہ قانون اجازت دے سکتا ہے‘ نہ لاہور کے شہری۔ اگر ثقافتی اور تہذیبی مراکز کو مسمار کرنے کا سلسلہ شروع ہو گیا تو یہ کہیں رکے گا نہیں‘ لاہور کیا پورے پنجاب کو کھنڈر بنا کر رہے گا۔ انگریزوں کی عطا کردہ جاگیروں اور زمینداریوں کا تحفظ کرنے والے یہ نوٹ کر لیں کہ بے معنی اور کھوکھلے الفاظ کی جگالی کسی کام نہیں آئے گی۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے درخواست ہے کہ ریٹائرڈ یا حاضر سروس انقلابیوں سے ہوشیار رہیں۔ لاہور کا چہرہ مسخ نہ ہونے دیں‘ اس کا دم نہ گھٹنے دیں۔ اس کے سبزہ زاروں پر لوہے اور سیمنٹ کا تسلط نہ ہونے دیں۔ اس کے پھیپھڑوں کی چیر پھاڑ کسی کو نہ کرنے دیں۔ لاہور کے ثقافتی اور تاریخی ورثے کی حفاظت ان کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ یہ دستورِ پاکستان کا تقاضا بھی ہے کہ تعلیمی‘ تفریحی‘ سماجی اور سپورٹس کی سہولتیں فراہم کرنا ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔(یہ کالم روزنامہ &#39;&#39;پاکستان‘‘ اور روزنامہ &#39;&#39;دنیا‘‘ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_37052987.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سافٹ ویئر کا اپڈیٹ ہونا(ایاز امیر)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-11-01/52947/62028407</link><pubDate>Sun, 01 Nov 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-11-01/52947/62028407</guid><description>تہران سفارتکاری کے حوالے سے ہمارے لبوں سے کچھ تعریف کے جملے ادا کیے گئے تو یار لوگوں نے پھبتیاں کَسیں کہ سافٹ ویئر اپڈیٹ ہو گیا ہے۔ ایسی باتوں کا جواب نہیں دینا چاہیے‘ بہتری اسی میں ہے کہ انہیں سہہ لیا جائے۔ اور اگر شرمندگی ہو تو اسے پی لیا جائے۔ یہ قصہ تو ہو گیا۔ پھبتیوں کے کچھ روز بعد اسلام آباد ایک سفارتی دعوت میں جانے کا اتفاق ہوا۔ اچھی محفل رہی۔ ایسے موقعوں پر ہم سے بے اعتدالی ہو جاتی ہے‘ وہ بھی ہوئی۔ لیکن بلوچستان سے کچھ مہمان آئے ہوئے تھے اور ان سے جو گفتگو ہوئی اس سے وہاں کی صورتحال کا سُن کے ہوش ٹھکانے آ گئے۔ تفصیل میں کیا جائیں کیونکہ ایسی باتوں کی تفصیل شجرۂ ممنوعہ کے زمرے میں آتی ہے۔ صورتحال جو ہے سو ہے لیکن اس کا ذکر نہیں کیا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ رقبے کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے میں جو کچھ ہو رہا ہے اس سے باقی تین صوبے بے خبر ہیں۔ سوشل میڈیا پر بہت کچھ آتا ہے لیکن وہاں پرابلم یہ پیدا ہوتی ہے کہ سمجھ نہیں آتی کہ خبریں کتنی صحیح اور کتنی ان میں مبالغے کی ملاوٹ ہے۔ سرکاری بیانیے پر جایئے تو وہ ایک الگ داستان ہے۔ یا یوں سمجھا جائے کہ سرکاری بیانیے کی الگ ہی دنیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بے خبری کی اس صورتحال سے حاصل کیا کرنا ہے؟ حقیقت اگر ایک روپ دھارے اور آپ اس سے انکاری ہوں تو کیا بدل جاتی ہے؟ ایک طرف سفارتکاری کے بڑے عزائم اور حال ہمارا ایسا کہ آنکھیں بند رکھنی ہیں اور لبوں پر حقیقت کو آنے نہیں دینا۔یہ ایک اضطراب کی کیفیت ہے اور تکلیف دہ‘ اس لیے کہ اجتماعی طور پر ریاستِ پاکستان پہلے بھی ایسے حالات سے گزری ہے۔ 1970-71ء کا ذکر کیا کریں کیونکہ ان حالات اور بلوچستان کے حالات میں مماثلت کا کوئی نکتہ بیان کیا جائے تو وہ ناگوار ہو گا۔ اضطراب کا عالم پھر دیکھیے کہ پتا ہو کہ یہ کچھ ہو رہا ہے اور لب ہل نہ سکیں۔ سوشل میڈیا پر جائیں اور وہاں کچھ کہا جائے تو یہ راستہ بھی خطرے سے خالی نہیں۔ میں ابھی تک پوری طرح نہیں جان سکا کہ ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ نے کیا کیاکہ ردِعمل اتنا سخت اور بے لچک ہے۔ قید پہلے کاٹ رہے ہیں اور تازہ ترین عدالتی فیصلے کے مطابق ایک اور کیس میں ان کو قید سنا دی گئی ہے۔ اس سے تو بہتر ہے کہ ہر چیز بند کر دی جائے اور سرکار پھر میڈیا چلائے اور ہم جیسے نکمے جو کسی اور کام کے قابل نہیں انہیں پھر اس سرکاری میڈیا میں کوئی نوکری مل جائے۔ پہلے ادوار میں پی ٹی وی ہوتا تھا اور بس وہی ہوتا تھا۔ نہ پرائیویٹ چینل نہ سوشل میڈیا۔ اس صورتحال میں اچھی بات یہ تھی کہ ہم جیسے پھر اپوزیشن جماعتوں کے جلسوں میں پہنچ جاتے تھے۔ رپورٹنگ نہ بھی کرتے تو حال احوال دیکھ آتے۔ آج کل پوری بات جب کہنا مشکل ہے تو سوشل میڈیا پر جاتے ہیں‘ بہت کچھ کی جانکاری ہوتی ہے لیکن بہت بکواس بھی سننی اور دیکھنی پڑتی ہے۔ ایلگوریتھم کی حاکمیت ایسی ہے کہ آپ سوشل میڈیا پر گئے تو بے تکی باتیں سامنے آنے لگتی ہیں اور چونکہ ان میں کشش ہوتی ہے تو آپ دیکھتے ہی جاتے ہیں۔ سوشل میڈیا سے جہاں جانکاری ہوتی ہے وہاں دماغ شل بھی ہو جاتے ہیں۔ دو گھنٹے آپ یہ بکواس دیکھتے رہیں تو ذہن کی عجیب سی کیفیت ہو جاتی ہے۔ اس وقت جو صورتحال ہے اس لیے بھی تشویشناک ہے کہ بہتری کا پہلو کوئی نظر نہیں آتا۔ سرکاری کنٹرول تو ہے لیکن رویے بے لچک ہیں۔ ہر جگہ پالیسی یہی ہے کہ زور سے کام لینا ہے کسی سیاسی زاویے کو نہیں دیکھنا۔ یہ رویہ بلوچستان میں ہے یہی اپروچ سیاسی میدان میں ہے۔ اس صورتحال میں کوئی تبدیلی رونما ہو سکتی ہے؟ آثار تو نظر نہیں آتے۔ رویہ بے لچک اور صورتحال ہر جگہ دیکھیں خراب سے کہیں اور جا رہی ہے۔ دیکھیں میں نے خراب سے خراب تر نہیں کہا کیونکہ سمجھا کہ خراب تر کہیں زیادہ بھاری نہ ہو جائے۔ پھر بتائیں کیا کریں۔ قصیدے پڑھیں؟ واہ واہ کرتے رہیں؟ گورنر راج خیبرپختونخوا میں لگے تو تعریف کے ڈونگرے برسائیں۔ بلوچستان کے بارے میں لب کشائی کا اصول اپناتے رہیں۔ سرکاری بیانیے پر تالیاں بجائیں۔ پھر ہم جو پنجاب کے رہنے والے ہیں ہماری نفسیات ہی الگ ہے۔ یہاں کی فطرت ہی کچھ ایسی ہے کہ جو چورن سرکار بیچتی ہے‘ سرکار جیسی بھی ہو‘ اُسی کو یہاں کے باسی سچ سمجھتے ہیں۔ بلوچستان میں کوئی دوسری بات سننے کے لیے یہاں کے لوگ تیار نہیں ہوتے۔ جو لیبل بھی بلوچستان کی بدامنی پر چسپاں کیا جائے پنجاب کے باسیوں کے لیے وہی قابلِ قبول ہو گا۔ باقی پاکستان کو چھوڑیں‘ جو لوگ اسمبلیوں اور سینیٹ میں بیٹھے ہیں وہ بھی کبھی سچ کا ساتھ دے دیا کریں۔ بلوچستان کے بارے میں وہ ہی کچھ بتا دیا کریں۔ لیکن کوئی ایسا حوالہ دیا جا سکتا ہے کہ وہاں کی اصل صورتحال کو قوم کے سامنے پیش کیا گیا؟ پھر یہی رہ جاتا ہے کہ شامیں کچھ اس انداز سے گزریں کہ سلطنتِ مغلیہ ہر چیز سے بے خبر ہو جائے۔ نادر شاہ کی فوج آ رہی ہو اور اس کا احساس نہ ہو۔ بنگال سے انگریز آہستہ سے بڑھ رہے ہوں اور ان کی عیاری کی سمجھ نہ ہو۔ لیکن شاموں کا ذکر کریں تو اہلِ نصیحت کا پارا چڑھنے لگتا ہے کہ یہ کیا بکواس ہے۔ خیبرپختونخوا کے بہت سے اضلاع میں اور بلوچستان میں خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے اور یہی لگتا ہے کہ اہلِ پنجاب مزے کی نیند سو رہے ہیں۔ یہ تماشا البتہ قومی اسمبلی میں خوب رہا کہ مولانا فضل الرحمن نے چند جملے ہی ادا کیے اور کیا وزیر دفاع اور کیا وزیر داخلہ دونوں ہی سیخ پا ہو گئے۔ مولانا نے یہی کہا تھا کہ دفاعی بیٹھک تہران میں منعقد ہو رہی ہو اور وزیر دفاع یہاں بیٹھے ہوں۔ اور پھر کہا کہ کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے۔ ہنس کے کہا‘ تلخی سے نہیں لیکن الفاظ کا تیر کچھ ایسے لگا کہ اگلے روز وزیر دفاع تاویلیں دینے کھڑے ہو گئے۔ مولانا پر حملے بھی کیے لیکن سچ پوچھیے بات نہ بنی۔ مولانا کا ایک اپنا انداز ہے‘ الفاظ اور ان کی ادائیگی کے بادشاہ ہیں۔ چند جملے کہے اور آگے سے لمبی تقریریں لیکن جیسے عرض کیا کچھ بات نہ بنی۔ حالت اربابِ سیاست کی یہ ہے کہ چند جملوں کو سہہ نہیں سکتے اور چلے ہیں قوم کی تقدیر بدلنے۔ کیسے الیکشن ہوا کیسے نہ ہوا‘ فارم 47کے کرشمات کیا تھے‘ یہ بحث پرانی ہو چکی۔ فکر کریں بلوچستان اور کے پی کے کی۔ عام لوگوں پر مقدمات قائم کرنا آسان ہے۔ ان شورش زدہ علاقوں میں مقدمات کس پر قائم ہوں گے؟وہاں کی حالت یہ کہ ڈپٹی کمشنر نقل و حمل میں آزاد نہیں۔ کمشنر اغوا ہو جاتے ہیں۔ اور تو اور خان قلات کا بیٹا محافظوں سمیت اغوا ہو گیا۔ حضور‘ کچھ بات سمجھ آ رہی ہے؟ بلوچستان میں سرداروں والا زمانہ گیا۔ اب پڑھے لکھے لوگ یہ کر رہے ہیں۔شورش کی نوعیت اور ہو گئی ہے۔ حالات بدلے ہوئے ہیں‘ رویے وہی پرانے ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_80573045.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>جنرل کاکڑ نے عزت کیسے کمائی(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-11-01/52948/42728476</link><pubDate>Sun, 01 Nov 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-11-01/52948/42728476</guid><description>سابق آرمی چیف جنرل عبدالوحید کاکڑ کی وفات پر جس طرح انہیں ہر شعبۂ فکر کی طرف سے خراج تحسین پیش کیا گیا ہے‘ وہ پاکستان میں ایک غیر معمولی بات سمجھی جائے گی۔ اگرچہ بہت سے لوگ کہیں گے کہ اس میں ایسی کیا غیرمعمولی بات ہوسکتی ہے کہ ایک اچھے پروفیشنل فوجی کمانڈر کا اسی طرح عزت او احترام کیا جانا چاہیے جیسے جنرل کاکڑ کا کیا گیا ہے۔ آپ لوگوں نے امریکہ میں سفر کے دوران نوٹ کیا ہوگا کہ جب وہاں مقامی ایئرپورٹس پر فلائٹ بورڈنگ ہونے لگتی ہے تو معذور؍بچوں کے بعد امریکی فوجیوں کو کہا جاتا ہے کہ اگر وہ مسافروں میں موجود ہیں تو آگے آئیں اور پہلے سوار ہوں۔ یہ وہ عزت ہے جو عوام اپنے فوجیوں کیلئے رکھتے ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو جنرل ایوب دور سے ان دہائیوں میں اگر کسی آرمی چیف کو غیرمتنازع سمجھا گیا تو وہ یہی جنرل کاکڑ تھے حالانکہ ان کے دور میں ہی صدر غلام اسحاق خان اور وزیراعظم نواز شریف کو ایک ساتھ گھر جانا پڑا جو اس سے پہلے ملکی تاریخ میں نہیں ہوا تھا۔ فوج کے اندر بغاوت بھی پکڑی گئی تھی‘ اس کے باوجود انہیں غیرمتنازع سمجھا گیا اور ان کی عزت کی جاتی ہے۔ اس کی ایک ہی بڑی وجہ ہے جو انہیں جنرل ایوب‘ جنرل ضیا‘ جنرل مشرف‘ جنرل کیانی‘ جنرل باجوہ اور دیگر سے ممتاز کرتی ہے کہ انہوں نے اپنے تین سال کی مدتِ ملازمت پوری کی اور گھر چلے گئے۔ ہوسکتا ہے آپ کہیں کہ اس فارمولے پر تو جنرل اسلم بیگ‘ جنرل جہانگیر کرامت اور جنرل راحیل شریف بھی پورے اترتے ہیں۔ یقینا ایسا ہے لیکن ایک بڑا فرق ہے۔ جنرل بیگ کے بارے میں کہا جاتا ہے وہ بھی مدتِ ملازمت میں توسیع چاہتے تھے‘ مارشل لاء کا بھی سوچ رہے تھے۔ میجر عامر اکثر بتاتے ہیں کہ نواز شریف کو مشورہ دیا گیا تھا کہ اگلے آرمی چیف کی تقرری کا اعلان جلدی کر دیں تو اِن کا منصوبہ خراب ہوسکتا ہے اور وہی ہوا جب جنرل آصف نواز کا اعلان پہلے کیا گیا۔ اس طرح جہانگیر کرامت نے متنازع بیان کے بعد خود استعفیٰ دے دیا‘ لہٰذا ان کی مدتِ ملازمت میں توسیع کا سوال پیدا نہیں ہوتا تھا اور دوسرے میرے خیال میں انہیں بھی کارما لے ڈوبا کہ انہوں نے بینظیر بھٹو کی حکومت مدتِ ملازمت مکمل ہونے سے پہلے ختم کرائی ‘ جنہوں نے انہیں آرمی چیف لگایا تھا۔ یوں جنرل کرامت خود بھی اپنی مدتِ ملازمت پوری نہ کرسکے۔ اس طرح جنرل راحیل شریف کے بارے اب یہ راز نہیں رہا کہ وہ مدتِ ملازمت میں توسیع چاہتے تھے۔ سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل رضوان بھی سرتوڑ کوشش کررہے تھے کہ انہیں ایک سال ہی مل جائے تاکہ ایک سال بعد وہ آرمی چیف بننے کے اہل ہو جائیں اور وزیر اعظم ہاؤس میں اپنے تعلقات کے ذریعے اپنے لیے کچھ کرشمہ کر گزریں۔ جنرل باجوہ نے چیف بنتے ہی انہیں ہٹایا اور پھر استعفیٰ دینے پر مجبور کیا۔ یوں دیکھا جائے تو اکیلے جنرل کاکڑ ہی بچتے ہیں جو اِن سب سے الگ تھے۔ جنرل کاکڑ کی آرمی چیف بننے کے داستان بھی دلچسپ ہے۔ جنرل آصف نواز کی اچانک موت سے نئے چیف کی تقرری کا سوال اٹھا تو نواز شریف اور غلام اسحاق خان میں ایشو پیدا ہوگیا۔ اس وقت متوقع طور پر لیفٹیننٹ جنرل رحم دل بھٹی (ویسے کتنا خوبصورت نام ہے) اور جنرل فرخ کے نام آرہے تھے۔ جنرل فرخ پر نواز شریف کو اعتراض تھا جبکہ رحم دل بھٹی کو ایک پروفیشنل سولجر سمجھا جاتا تھا۔ اب جب پھڈا ہوا تو اس وقت نواز شریف کیمپ سے چوہدری نثار علی خان اور صدر کیمپ سے روائیداد خان فائر فائٹنگ کیلئے ایکٹو ہوئے تاکہ اس ڈیڈ لاک کو توڑا جائے۔ اس وقت ڈیڈ لاک اتنا شدید ہوچکا تھا کہ جنرل آصف نواز کے جنازے پر نواز شریف اور اسحاق خان نے ایک دوسرے سے دعا سلام تک نہ کی۔ غلام اسحاق خان کا کہنا تھا کہ آئینی طور پر آرمی چیف کی تقرری کرنا ان کا حق تھا اور نواز شریف نے صرف ناموں کی سمری بھیجنی تھی جبکہ نواز شریف کا کہنا تھا کہ وہ وزیراعظم ہیں اور آرمی چیف نے ان کے ساتھ کام کرنا تھا نہ کہ صدر کے ساتھ ‘لہٰذا چوائس ان کا ہونا چاہیے۔ یوں جب بات بڑھی تو پھر سوچا گیا چلیں نہ نواز شریف کا جنرل نہ ہی اسحاق خان کا ‘ کوئی تیسرا ڈھونڈتے ہیں۔ چوہدری نثار علی خان اپنے بھائی جنرل افتخار علی خان کی وجہ سے جرنیلوں کو جانتے تھے۔ (جنرل مشرف کو بھی چوہدری نثار کی تجویز پر آرمی چیف لگایا گیا)۔ یوں چوہدری نثار کو جنرل عبدالوحید کاکڑ کا نام دیا گیا جو انہوں نے روائیداد خان کے آگے رکھا۔ نثار علی خان کو یقین تھا کہ وہ اس نام پر اعتراض نہیں کریں گے کیونکہ جنرل کاکڑ بھی صدر اسحاق خان اور ان کے مشیر خاص روائیداد خان کی طرح پشتون تھے اور وہ ایک پشتون آرمی چیف لانے کا موقع ضائع نہیں کریں گے۔ اگرچہ بتایا جاتا ہے کہ نواز شریف کو اس وجہ سے ہی کچھ خدشات ضرور تھے لیکن چوہدری نثار علی خان نے نواز شریف کو تسلی دی کہ جنرل کاکڑ ایک پروفیشنل فوجی ہیں۔یوں اسحاق خان نے بھی فوراً رضامندگی ظاہر کر دی اگرچہ بعد میں جو کچھ ہوا اس سے نواز شریف کا خدشہ کسی حد تک ٹھیک ثابت ہوا‘ لیکن ایک اہم دوست جو اُن دنوں کے ان تمام حالات سے واقف ہیں‘ کا کہنا تھا کہ جنرل کاکڑ نے نواز شریف کو استعفیٰ کیلئے نہیں کہا تھا بلکہ یہ نواز شریف کی پیشکش تھی کہ وہ بھی مستعفی ہوتے ہیں اور وہ صدر کو بھی کرائیں‘ نئے الیکشن کرا لیتے ہیں۔ نواز شریف کو یقین تھا کہ اس طرح صدر اسحاق جن کے ابھی کچھ سال باقی تھے وہ واپس نہیں آسکیں گے جبکہ وہ مقبولیت کی بنیاد پر دوبارہ وزیراعظم بن جائیں گے۔ یوں اگر کسی کو ہرٹ ہوناچاہیے تو وہ صدر اسحاق اور روائیداد خان اور اجلال حیدر زیدی ہوں گے جنہوں نے کاکڑ کو چیف لگایا تھا۔ جب بینظیر بھٹو وزیراعظم بنیں تو انہوں نے جنرل کاکڑ کو دفتر بلایا اور کہا کہ وہ ان کی ایک سال مدت ملازمت میں توسیع کررہی ہیں۔ جنرل کاکڑ جو وردی میں تھے‘ کھڑے ہوئے اور سیلوٹ مار کر کہا: شکریہ میڈم پرائم منسٹر میں تین سال پورے ہوتے ہی وردی اور بوٹ اتار دوں گا۔ اس پر بینظیر بھٹو نے کہا: ہم آرمی چیف کی تقرری کا دورانیہ چار سال کر دیتے ہیں۔ اس پر جنرل کاکڑ نے جواب دیا: اچھا خیال ہے‘تین سال واقعی کم ہوتے ہیں‘ چار سال کر دیں لیکن یہ کام آپ میری ریٹائرمنٹ کے بعد کریں اور نئے چیف کی تقرری چار سال کیلئے کر دیں۔ میرے دور سے ہوئی تو سمجھا جائے گا کہ میں نے کرائی ہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد کسی نے جنرل کاکڑ کو کسی تقریب‘ میڈیا ‘انٹرویو یا سماجی محافل میں نہیں دیکھا۔ مجھے یاد ہے 2003-04ء میں اپنی کتاب &#39;&#39;ایک سیاست کئی کہانیاں ‘‘پر کام کررہا تھا تو پنڈی میں جنرل علی قلی خان سے ملا تھا۔ اُن کے ڈرائنگ روم میں بیٹھے تھے کہ ایک باریش خوبصورت نوجوان اندر آیا تو جنرل قلی نے تعارف کرایا کہ یہ جنرل عبدالوحید کاکڑ کے بیٹے ہیں‘ وہ ساتھ والے گھر میں رہتے ہیں۔ اب اس پس منظر میں جب پاکستان میں ہر دوسرا سول یا فوجی عہدیدار اپنی مدتِ ملازمت مکمل ہونے پر کسی دوسرے کو موقع نہیں دینا چاہتا لیکن اس روایتی کلچر میں آپ خود ہی وردی اور بوٹ اتار دیتے ہیں حالانکہ امریکہ اور بینظیر بھٹو آپ کو بار بار پیشکش کررہے ہیں‘ ایسے آرمی چیف کی کون عمر بھر عزت نہیں کرے گا۔ وہی بات کہ بندہ عہدے‘ مال و دولت کما لیتا ہے لیکن لوگوں کی عزت کمانا بہت مشکل ہے۔ اس کیلئے اپنے اندر کے لالچ‘ خواہشات کو مارنا پڑتا ہے۔ سات دریا اور سات جنگل عبور کرنا پڑتے ہیں۔ خود سے لڑنا پڑتا ہے۔ سادھو سنت ‘فقیر والی قناعت پیدا کرنی پڑتی ہے۔ جو زندگی کے اس کڑے امتحان میں کامیاب ہوتے ہیں اور پاور حاصل کرنے کی اپنی اندھا دھند خواہشات کو شکست دیتے ہیں وہی سکندر کہلاتے ہیں۔ وہی زندگی اور موت کے بعد عزت کماتے ہیں۔ </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مفاہمت اور پارلیمانی سیاست(رشید صافی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-11-01/52949/60806691</link><pubDate>Sun, 01 Nov 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-11-01/52949/60806691</guid><description>خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے بعد تحریک انصاف کی قیادت ہر وہ کام کر رہی ہے جو اسے بہت پہلے کر لینا چاہیے تھا۔ اگر پہلے دانشمندی سے کام لیا ہوتا تو صوبائی حکومت کو بچایا جا سکتا تھا۔ پی ٹی آئی کی صوبائی پارلیمانی پارٹی نے وفاقی حکومت سے مذاکرات کی حمایت کر دی ہے۔ پارلیمانی پارٹی نے گورنر راج اور ایمرجنسی کے خاتمے کے لیے مذاکرات پر اتفاق کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور کو مذاکراتی عمل میں شامل کرنے کی تجویز دی ہے۔ یعنی وہی علی امین گنڈا پور جن پر کچھ عرصہ پہلے پارٹی کا ایک دھڑا اعتماد کرنے کے لیے تیار نہ تھا اب انہی کا نام مذاکرات کے لیے تجویز کیا جا رہا ہے۔ پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں یہ بات بھی زیر بحث آئی کہ اس نے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر دوسری جماعتوں کے رہنماؤں کو بنایا جس کی وجہ سے پارٹی کو مشکل صورتحال سے دوچار ہونا پڑا۔ پارٹی قیادت آج جس نتیجے پر پہنچی ہے اگر پہلے ہی حالات کی سنگینی کا ادارک کر لیا جاتا تو پارٹی ساکھ اور صوبائی حکومت دونوں کو بچایا جا سکتا تھا۔ آج پی ٹی آئی دہشت گردی کے معاملے پر وفاق کی بات ماننے کے لیے تیار ہے‘ اگر یہی بات سہیل آفریدی اُس وقت کر دیتے جب خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت تھی تو اس کی اہمیت بڑھ جاتی اور وفاق کو صوبے میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی نوبت نہ آتی۔جمہوری معاشروں میں مذاکرات کا دروازہ کبھی بھی بند نہیں ہونا چاہیے۔ پی ٹی آئی مذاکرات کے ذریعے مسائل کو حل کرنا چاہتی ہے تو اس سے بہتر کوئی راستہ ہو نہیں سکتا‘ تاہم پوزیشن پر فرق ضرور پڑے گا۔ کچھ عرصہ پہلے تک پی ٹی آئی اپنی شرائط سے نیچے آنے کے لیے کسی صورت آمادہ نہیں تھی مگر اب صورتحال یکسر تبدیل ہو چکی ہے۔ احتجاج کا طوفان ناکامی کا داغ اپنے ماتھے پر سجائے تھم چکا ہے۔ صوبائی حکومت‘ جسے بوقتِ ضرورت ڈھال کے طور پر استعمال کیا جا سکتا تھا‘ وہ ختم ہو چکی ہے۔ اب اگر وفاق کے ساتھ مذاکرات کا دروازہ کھلتا ہے تو وفاقی حکومت بخوبی جانتی ہے کہ اس وقت مذاکرات پی ٹی آئی کی ضرورت ہیں‘ سو وفاقی حکومت پی ٹی آئی کے کمزور پوائنٹ کا فائدہ اٹھائے گی۔ اس بدلتی سیاسی صورتحال میں یہ امر بھی پیشِ نظر رہنا ضروری ہے کہ کسی جماعت کی بقا کا دارومدار وقت کے درست ادراک پر ہوتا ہے‘ مگر تحریک انصاف نے ہر موڑ پر تصادم کو ترجیح دی جس نے ریاست اور جماعت کے درمیان خلیج کو اس حد تک بڑھا دیا کہ اب معمولی نوعیت کا ریلیف حاصل کرنے کے لیے بھی طویل اور کٹھن مراحل سے گزرنا پڑ رہا ہے۔وفاق میں شامل جماعتوں نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج لگایا تو دہشت گردی اور بیڈ گورننس کو جواز بنایا۔ اس ضمن میں وفاق نے اعلیٰ سطحی کمیٹیاں تشکیل دے کر خصوصی فنڈز کا اجرا کیا ہے۔ وفاقی حکومت نے پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں ہونے والی قانون سازی کا جائزہ لینے کا عندیہ بھی دیا ہے۔ ان اقدامات کے لیے کم از کم چھ ماہ کی مدت درکار ہو گی کیونکہ وفاقی حکومت اگر دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات کے بغیر ایمرجنسی اور گورنر راج کو ختم کرتی ہے تو اسے موردِ الزام ٹھہرایا جائے گا کہ ایمرجنسی اور گورنر راج سے کیا حاصل کر لیا؟ ہماری اطلاعات کے مطابق وفاق اور مقتدرہ کی طرف سے پی ٹی آئی کے لیے اگلے چھ ماہ تک کسی لچک کا مظاہرہ نہیں کیا جائے گا۔ پی ٹی آئی کے ساتھ اگر وفاق کی بات چیت شروع ہوتی ہے تو اس میں خیبر پختونخوا کی حکومت بحالی کو ثانوی حیثیت حاصل ہو گی۔ پی ٹی آئی بہت کچھ حاصل نہیں کر سکے گی۔ اگر کچھ حاصل کیا بھی تو وہ خان صاحب کے علاج معالجے میں ریلیف ہو گا۔ اس وقت تمام پتے حکومت کے پاس ہیں اور پی ٹی آئی کو اپنی کھوئی ہوئی چیزیں واپس پانے کے لیے کافی تگ و دو کرنا پڑے گی۔ کوئی جماعت ریاستی رِٹ کو چیلنج کرتی ہے اور اپنی حکمت عملی میں سختی کا عنصر غالب رکھتی ہے تو وقتی جذباتی جوش تو بلند رہتا ہے لیکن تنظیمی اور انتظامی ڈھانچہ اندر سے کھوکھلا ہو جاتا ہے۔ خیبر پختونخوا کا معزول انتظامی سیٹ اَپ اس بات کا ثبوت ہے کہ وسائل اور عوامی تائید کے باوجود اگر بروقت درست فیصلے نہ کیے جائیں تو طاقت کے توازن کا پلڑا مخالف فریق کے حق میں جھک جاتا ہے۔ وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا میں جو لائحہ عمل ترتیب دیا ہے‘ اس کا مقصد نہ صرف صوبے میں امن و امان کی مستقل بحالی ہے بلکہ پی ٹی آئی کے اثر و رسوخ کو قانون اور انتظامی دائرے میں محدود کرنا بھی ہے۔ ایسے میں پارلیمانی پارٹی کا دیر سے جاگنے کا احساس اس بات کا غماز ہے کہ پارٹی کے اندر سنجیدہ حلقے جذباتی سیاست کے نتائج سے خوفزدہ ہونے لگے ہیں اور وہ زمینی حقائق کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی اجلاس میں سوشل میڈیا پر موجود گروہ کی جانب سے پیدا کی جانے والی مشکلات بھی زیر بحث آئیں‘ جس پر تشویش کا اظہار کیا گیا مگر یہ تلخ حقیقت ہے کہ ایک دور میں پی ٹی آئی کے لیے پلس پوائنٹ سمجھا جانے والا سوشل میڈیا اب بے قابو جن کی شکل اختیار کر چکا ہے۔مفاہمت اور مزاحمت کے اس بیانیے نے تحریک انصاف کو اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے جہاں اس کے پاس کھونے کے لیے تو بہت کچھ تھا مگر پانے کے لیے راستے دشوار ہو چکے ہیں۔ دونوں ایوانوں میں قائد حزبِ اختلاف کے لیے دوسری جماعتوں کو فوقیت دینا ایسی غلطی تھی جس کی تلافی آسان نہیں۔ اگر آج پارٹی قیادت ماضی کی تلخیوں کو پسِ پشت ڈال کر مضبوط اور متفقہ پالیسی کے تحت آگے بڑھتی ہے تب بھی اسے یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ سیاسی میدان میں اس وقت اس کی قیمت بہت کم ہے۔ آنے والے مہینوں میں اگر سنجیدہ ڈائیلاگ شروع ہوتا بھی ہے تو وہ صرف اور صرف شخصی سطح پر چند انسانی بنیادوں پر دی جانے والی سہولیات یا ریلیف تک محدود رہنے کا احتمال ہے کیونکہ ریاستی مشینری صوبائی حکومت کی بحالی کو فی الحال اپنے ایجنڈے پر فوقیت دینے کے لیے تیار نہیں۔ ملک کے موجودہ سیاسی حالات کا تجزیہ کرنے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ تحریک انصاف کے لیے نعرے بازی اور بے سود احتجاجی سیاست کی سوچ سے نکل کر مؤثر پارلیمانی اپوزیشن کے سانچے میں ڈھلنے کی گنجائش اب بھی موجود ہے۔ پارلیمانی میدان اور آئینی فورمز کا عملی استعمال ہی کسی سیاسی قوت کے لیے عوامی مقبولیت کو پائیدار نتائج میں بدلنے کا ذریعہ ہوتا ہے۔ اگر صوبائی پارلیمانی پارٹی کی جانب سے سامنے آنے والا مفاہمتی رجحان کسی عارضی دباؤ کا نتیجہ یا وقت گزاری کی حکمتِ عملی ثابت ہوا تو اس کے نتیجے میں پارٹی کے لیے سیاسی بحران اور تنہائی کے دائرے مزید وسیع ہو سکتے ہیں۔ اس امر کو فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ جو سیاسی جماعتیں وقت کے ساتھ ساتھ اپنی حکمتِ عملی میں تبدیلی نہیں لاتیں وہ بالآخر قومی منظرنامے پر اپنا وجود کھو بیٹھتی ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/222_48272610.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>اسرائیلی الیکشن‘ کچھ بھی تبدیل نہیں ہو گا!(عمران یعقوب خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-11-01/52950/78201187</link><pubDate>Sun, 01 Nov 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-11-01/52950/78201187</guid><description>اسرائیل میں عام انتخابات مکمل ہو گئے اور ان کے نتائج بھی سامنے آ گئے۔ وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کا اتحاد پارلیمان میں سب سے بڑا بلاک بن کر ابھرا ہے‘ تاہم وہ حکومت سازی کے لیے درکار 61نشستوں کی اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی نے 27نشستیں حاصل کیں‘ جبکہ پورے اتحاد کی نشستوں کی تعداد 53رہی‘ سادہ اکثریت سے آٹھ نشستیں کم۔ یہ نتیجہ 2022ء کے انتخابات کے مقابلے میں نیتن یاہو کے اتحاد کے لیے ایک بڑا جھٹکا ہے کیونکہ 2022ء کے انتخابات کے نتیجے میں اس اتحاد کے پاس 64نشستیں تھیں۔ دوسری جانب نیتن یاہو کے اہم حریف گاڈی آئزنکوٹ کی یشار پارٹی نے 21نشستیں حاصل کیں جبکہ ان کے اتحادیوں سمیت اپوزیشن بلاک کے پاس 48نشستیں ہیں۔ اگر عرب اکثریتی آبادی کی نمائندہ جماعتیں تعاون پر آمادہ ہو جائیں تو آئزنکوٹ کے حکومت بنانے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں کیونکہ اپوزیشن جماعتوں کو مجموعی طور پر 67نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔نیتن یاہو بھی عرب جماعتوں کی حمایت سے حکومت بنانے کی کوشش کر سکتے ہیں لیکن اس راستے میں سیاسی اختلافات موجود ہیں۔ نیتن یاہو کی جانب سے عرب پارٹیوں پر قطر اور ترکیہ سے رقم لے کر انتخابات میں دھاندلی کر کے سیٹیں حاصل کرنے کے الزامات نے صورتحال کو مزید کشیدہ کر دیا ہے؛چنانچہ ایک قومی اتحاد کی حکومت کے قیام یا نئے انتخابات کا امکان بھی رد نہیں کیا جا سکتا۔ ایک بات طے ہے کہ جو بھی ہو گا مشرقِ وسطی پر اس سیاسی تبدیلی کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ میڈیا تجزیوں میں کہا گیا ہے کہ اگر نیتن یاہو دوبارہ اقتدار میں آتے ہیں تو غزہ‘ لبنان‘ ایران اور مغربی کنارے کے حوالے سے ان کی موجودہ سخت گیر پالیسیوں کا تسلسل دیکھنے کو مل سکتا ہے‘ لیکن اگر گاڈی آئزنکوٹ کی قیادت میں نئی حکومت بنتی ہے تو فلسطین اور عرب ممالک کے ساتھ تعلقات میں سفارتی حکمتِ عملی کی تبدیلی کی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے‘ البتہ اسرائیل کی بنیادی سکیورٹی پالیسی میں فوری طور پر کوئی واضح تبدیلی نظر نہیں آئے گی۔میرا تجزیہ یہ ہے کہ اسرائیل میں حکومت چاہے کسی بھی جماعت کی ہو‘ یہ طے ہے کہ یہودیوں کی پالیسیاں تبدیل نہیں ہوں گی۔ یہودیوں کی پروٹوکولز آف دی ایلڈرز آف زائن (Protocols of the Elders of Zion) ایک معروف حکم نامہ یا تحریر ہے۔ یہ تحریر پہلی بار 1903ء میں روسی اخبار Znamyaمیں شائع ہوئی تھی اور 1905ء میں روسی مصنف سرگئی نیلس (Sergei Nilus) نے اسے اپنی کتاب میں شامل کیا تھا۔ اس کتاب میں 24پروٹوکولز یا نکات درج ہیں‘ جن میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ یہودی پوری دنیا پر غلبہ حاصل کرنے اور حکومت کرنے کی خفیہ سازش میں مصروف ہیں۔ انہی پروٹوکولز کے تحت آج پوری دنیا کی کیا حالت ہے اور کس طرح امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل وزیراعظم کے ہاتھوں میں کھلونا بنے ہوئے ہیں‘ اس کی وضاحت کی ضرورت نہیں‘ سبھی جانتے ہیں؛ چنانچہ یہ طے ہے کہ اسرائیل میں نئی حکومت تشکیل پانے کے بعد بھی گریٹر اسرائیل کے قیام کی تیاریوں کا سلسلہ نہیں رکے گا۔ غزہ‘ مغربی کنارے اور فلسطینیوں پر ان کی اپنی سرزمین تنگ کرنے کا سلسلہ بھی دراز رہے گا۔ یہودیوں کی آباد کاری کے لیے فلسطینی علاقوں کی یہودی کٹنگ (چائنہ کٹنگ کے وزن پر) بھی رکے گی نہیں حالانکہ ترکیہ‘ مصر‘ پاکستان اور سعودی عرب جیسے ممالک کے مشترکہ اعلامیوں کے مطابق اسرائیلی قبضہ اور مغربی کنارے سمیت دیگر علاقوں میں یہودی بستیوں کی مسلسل توسیع ہی خطے میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ ہے۔ ایسے اعلامیوں سے اسرائیلی حکومت (نئی یا پرانی) کے سر پر جوں تک نہیں رینگتی‘ نہ آئندہ رینگے گی۔ مغربی کنارے اور غزہ کی زمینوں پر قبضے‘ نئی یہودی بستیوں کی تعمیر اور اجتماعی سزاؤں پر مبنی اقدامات اسرائیلی ریاستی حکمت عملی کا حصہ رہے ہیں اور آگے بھی رہیں گے۔ اسرائیل کے شام کو مزید برباد کرنے اور لبنان کو تاراج کرنے کا سلسلہ بھی نہیں تھمے گا۔ اسرائیل کی ایران‘ شام‘ لبنان اور خطے کے دیگر عسکری و سیاسی گروہوں کے خلاف پالیسی عسکری ٹکراؤ‘ فضائی حملوں اور سٹرٹیجک دباؤ پر مبنی ہے‘ جسے ایرانی حکام اور خطے کے بعض ممالک خطے کے امن کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہیں۔ فلسطینی اتھارٹی اور عالمی برادری کے مطابق اسرائیلی حکومت کی موجودہ پالیسیاں آزاد فلسطینی ریاست اور دو ریاستی حل کے مکمل خاتمے کا سبب بن رہی ہیں۔ عالمی برادری کی یہ رائے اسرائیل کی دو ریاستی حل کو در خور اعتنا نہ سمجھنے کی روش کو نہ تبدیل کر پائی ہے نہ کر پائے گی۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ جیسی عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں نے اپنی رپورٹس میں قرار دیا ہے کہ فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی پالیسیاں نسلی امتیاز اور جبر کے زمرے میں آتی ہیں‘ لیکن یہ رپورٹیں اسرائیل کی فلسطینیوں کے خلاف پالیسیوں کو تبدیل نہیں کر پائی ہیں‘ نئی حکومت کے قیام کے بعد بھی نہیں کر پائیں گی۔ایران کے ساتھ براہِ راست یا پراکسی جنگ اور خطے میں تہران کے اثر و رسوخ کو محدود کرنا اسرائیل کی ترجیح رہی ہے‘ جبکہ سفارتی حل کے مواقع کو بارہا سیاسی اختلافات کی نذر کیا گیا‘ آئندہ بھی کیا جاتا رہے گا۔ اسرائیلی قیادت عسکری طاقت کے استعمال کو بنیادی ہتھکنڈا سمجھتی ہے اور قیادت کی تبدیلی اس سوچ میں تبدیلی کا سبب نہیں بن سکے گی۔ 2020ء کے ابراہیم معاہدوں (Abraham Accords) کے بعد سے اسرائیل کی خارجہ پالیسی خلیجی اور عرب ممالک کے ساتھ اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو معمول پر لانے پر مرکوز رہی ہے۔ یہ جال آئندہ بھی بچھایا جاتا رہے گا۔ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے اداروں کی جانب سے اسرائیلی حکام کی پالیسیوں کو غیر انسانی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا جاتا ہے‘ آئندہ بھی دیا جاتا رہے گا‘ لیکن جس طرح گزرے برسوں میں کچھ بھی نہیں ہوا‘ آئندہ برسوں میں بھی کچھ نہیں ہو گا‘ عالمی اداروں کے کوسنوں کے باوجود اسرائیل کے معاملات میں کوئی تبدیلی نہیں ہونے والی۔تو پھر اسرائیل میں ہونے والے انتخابات کے نتائج پر اتنا کیوں سر کھپانا؟ حقیقت یہ ہے کہ سب کچھ نظروں کے سامنے ہے‘ اسرائیلی قیادت کی پالیسیاں بھی یہودیوں کے منصوبے بھی۔ بی بی سی کی رپورٹ ہے کہ سابق امریکی صدور جارج ڈبلیو بش جونیئر اور باراک اوباما نے اپنے دورِ صدارت میں اسرائیل کے دباؤ کے باوجود ایران پر براہِ راست حملہ کرنے یا اسرائیل کو اس کی اجازت دینے سے انکار کیا تھا‘ لیکن ٹرمپ اس جھانسے میں آ گئے اور ایران پر حملہ کر دیا اور ان کے اس فیصلے نے پوری دنیا کو اس وقت خلفشار میں مبتلا کر رکھا ہے۔ اسرائیل اور عرب ممالک میں پائی جانے والی تلخیوں کو کیسے بھلایا جا سکتا ہے؟ غزہ میں دو سال تک جاری رہنے والے فلسطینیوں کے قتلِ عام کو کیسے نظرانداز کیا جا سکتا ہے؟ دنیا کو یہودیوں سے نہ ماضی میں خیر کی توقع تھی‘ نہ آئندہ ہو سکتی ہے۔ ان پالیسیوں کے سامنے اسرائیل میں ہونے والے عام انتخابات اور ان کے نتائج ایک بے معنی اور ایک بودی سی سرگرمی کے سوا کچھ نہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_58350786.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>گڈ گورننس اور غذائی تحفظ کا مستقبل(محمد عبداللہ حمید گل)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-abdullah-hameed-gull/2026-11-01/52951/64153626</link><pubDate>Sun, 01 Nov 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-abdullah-hameed-gull/2026-11-01/52951/64153626</guid><description>گڈ گورننس کی تعریف یوں کی جا سکتی ہے کہ اس میں عوامی اعتماد‘ یکساں احتساب‘ بدعنوانی کی روک تھام‘ مؤثر عوامی خدمات‘ خطرات پر قابو پانے کیلئے بہترین انتظام‘ استحکام‘ بالخصوص عوام کی فلاح کیلئے مؤثر اقدامات‘ عدم مساوات اور سماجی انتشار و اضطراب میں کمی شامل ہیں۔ کوئی بھی ملک مؤثر گورننس میکانزم کے بغیر نہ ترقی کر سکتا ہے اور نہ ہی آگے بڑھ سکتا ہے۔ نہ ہی وہ اقوامِ عالم کے ساتھ مقابلہ کرنے کی سکت رکھتا ہے۔ مادرِ وطن 79برسوں سے گڈ گورننس کی ان تمام خصوصیات سے محروم ہے۔ جمہوری نظام میں تعطل‘ احتساب کا فقدان‘ بدعنوانی اور قانون کی حکمرانی کی عدم دستیابی ملک میں بہترین حکمرانی کی راہ میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔ لہٰذا راقم الحروف اپنے کالم کے ذریعے ایسے نکات کا تجزیہ پیش کرنے لگا ہے جو ایک بہترین نظامِ حکومت کی بنیادیں ہیں۔ ایک مضبوط ریاست وہ ہوتی ہے جہاں قوانین کا اطلاق طاقتور اور کمزور‘ دونوں پر یکساں ہو۔ حکومتی فیصلے عوامی مفاد میں کیے جائیں اور ہر ادارہ اپنی کارکردگی کیلئے جواب دہ ہو۔ دیانتدار قیادت‘ احتساب اور مؤثر حکومتی ڈھانچے کے ذریعے پاکستان اپنی حقیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے روشن مستقبل کی جانب بڑھ سکتا ہے۔ Honesty is the best policy ہی گڈ گورننس کا اہم اصول ہے۔ یونین کونسل‘ ٹاؤن کمیٹی‘ ضلعی کونسل‘ میٹروپولیٹن کارپوریشن‘ صوبائی و وفاقی حکومت اسکا بنیادی ڈھانچہ ہیں۔ بہترین حکومت دو اہم ماڈلز کے تحت کام کرتی ہے: حکمرانی اور خدمات کی فراہمی۔ جبکہ مقامی بلدیاتی حکومتوں کے بغیر شہریوں کے بنیادی حقوق اور ضروریات کی آئینی ضمانتوں کو یقینی بنانا مشکل ہے۔ ہماری حکمرانی کا ماڈل تین بڑے شعبوں پر مشتمل ہے‘ جن میں لیڈرشپ‘ Execution Pillar اور معاون عناصر شامل ہیں۔گڈ گورننس کا تصور صرف انتظامی مسائل کا حل نہیں بلکہ آبادی کے بے ہنگم پھیلاؤ‘ زرعی اراضی پر غیرقانونی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی یلغار‘ پانی کے بحران‘ موسمیاتی تبدیلی اور ناقص حکمرانی کی بدولت غذائی تحفظ کے حوالے سے قومی سلامتی کیلئے بھی سوال کھڑا ہو گیا ہے۔ ملک عزیز 2021ء میں زرعی طور پر خود کفیل تھا مگر اب گلوبل ہنگر انڈیکس میں 122 ممالک میں سے 106ویں نمبر پر آ چکا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ خوراک کی قلت نے بڑی بڑی ریاستوں کے استحکام کو متاثر کیا‘ معاشرتی بے چینی کو جنم دیا اور حکومتوں کو شدید عوامی دباؤ سے دوچار کیا۔ آج جب دنیا جنگوں‘ موسمیاتی تبدیلیوں اور عالمی مہنگائی جیسے چیلنجز سے گزر رہی ہے‘ پاکستان کیلئے غذائی تحفظ کا معاملہ غیرمعمولی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ کیا وسیع ہاؤسنگ سوسائٹیاں کسی ملک کی حقیقی خوشحالی کا معیار بن سکتی ہیں؟ روس‘ یوکرین جنگ سمیت حالیہ عالمی واقعات‘ سپلائی چین سے متعلق بڑھتے ہوئے مسائل اور دنیا بھر میں غذائی تحفظ کی کمی کو دیکھتے ہوئے اب اس ممکنہ خطرے پر بھرپور توجہ دینا بہت ضروری ہے۔ ماہرین مستقبل میں خوراک کی ممکنہ قلت سے بچاؤ کے طریقے تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دراصل روس‘ یوکرین تنازع سے پہلے بھی عالمی معیشت کو متعدد انسانی تنازعات‘ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات‘ قدرتی آفات‘ کووڈ19 اور خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث مشکلات کا سامنا تھا۔ یوکرین کو دنیا میں غذائی اجناس کی فراہمی کے ایک بڑے مرکز کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ روس یوکرین جنگ نے غذائی تحفظ کے مسائل کو غیرمعمولی حد تک بڑھا دیا ہے‘ جس سے قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔ مثال کے طور پر بحیرۂ اسود میں ترسیل کیلئے بحری جہازوں کے بیمے کے اخراجات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے‘ جس سے بنیادی غذائی اشیا کی قیمتیں مزید بڑھ رہی ہیں۔ یورپ اور مشرقِ وسطیٰ کے وہ ممالک جو روس یا یوکرین سے غذائی اجناس درآمد کرتے تھے‘ اب انہیں اچانک کینیڈا یا آسٹریلیا جیسے ممالک سے خوراک خریدنا پڑ رہی ہے۔ طویل فاصلے کی وجہ سے نقل و حمل کے اخراجات سمیت خوراک مزید مہنگی ہو گی۔ اقوامِ متحدہ اور بین الاقوامی اداروں میں غذائی تحفظ کے مسائل سے نمٹنے کیلئے متعدد پروگراموں پر کام جاری ہے۔ جیسا کہ زرعی پیداوار میں اضافہ کرنا‘ منافع بخش اور ماحول دوست زرعی نظام کو فروغ دینا‘ خوراک کے ضیاع میں کمی اور مؤثر تقسیم کے نظام کو بہتر بنانا۔ قارئین کی آگاہی کیلئے مذکورہ پس منظر بیان کیا گیا ہے۔ پاکستان میں غذائی تحفظ کے مسائل تیزی سے سنگین ہوتے جا رہے ہیں لیکن اس مسئلے پر حکومت کی جانب سے کوئی سنجیدہ منصوبہ نظر نہیں آتا‘ نہ ہی اس مسئلے پر کوئی بات کرتا دکھائی دیتا ہے۔ پاکستان کو جن مختلف چیلنجز کا سامنا ہے ان میں ایک بڑا چیلنج آبادی میں تیزی سے اضافے کو سنبھالنا اور زرعی زمینوں میں مسلسل کمی کو روکنا ہے۔ شہری آبادی میں بے قابو اضافہ ایک عالمی رجحان ہے‘ خصوصاً ترقی پذیر ممالک میں‘ جہاں یہ مسئلہ مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ اسکی بنیادی وجہ یہ ہے کہ لوگ بہتر مواقع‘ تعلیم‘ ملازمتوں اور کاروبار کیلئے دیہی علاقوں سے شہروں کی طرف نقل مکانی کر رہے ہیں۔ جتنی زیادہ آبادی ایک جگہ جمع ہو گی‘ خصوصاً ان غریب ممالک میں جہاں زمین کے وسائل محدود ہیں‘ اتنا ہی زیادہ دباؤ دستیاب وسائل پر پڑے گا۔دنیا کی بدلتی ہوئی سیاسی‘ معاشی اور ماحولیاتی صورتحال نے یہ حقیقت واضح کر دی ہے کہ مستقبل کی بڑی جنگیں صرف سرحدوں‘ وسائل اور جغرافیائی حدود پر نہیں لڑی جائیں گی بلکہ خوراک اور پانی کا تحفظ بھی عالمی طاقتوں کے درمیان اہم ترین سٹرٹیجک ایشوز میں شامل ہو چکا ہے۔ جس ریاست کے پاس اپنی آبادی کی غذائی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت نہیں وہ نہ صرف عالمی منڈیوں کے اتار چڑھاؤ کی محتاج رہے گی بلکہ کسی بھی بین الاقوامی بحران کے دوران اسے شدید معاشی و سماجی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ہمارے ملک میں ایک جانب آبادی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے تو دوسری طرف زرعی رقبہ رہائشی منصوبوں کی نذر ہو رہا ہے‘ اور ناقص طرزِ حکمرانی اور غیر مؤثر منصوبہ بندی نے غیر یقینی مستقبل کے خطرات کو اور بڑھا دیا ہے۔ ضروری قانون سازی کے ذریعے پھیلتی ہوئی رہائشی سکیموں کو محدود کیا جائے۔ زرعی زمینوں کر رہائشی سکیموں میں تبدیل کرنے کے نتیجے میں زرعی اراضی سکڑ رہی ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ زرعی شعبے کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ زراعت سے متعلقہ شعبوں کو بہتر بنانے کیلئے جدید ٹیکنالوجیز کا استعمال کیا جائے۔سوال یہ ہے کہ کیا متعلقہ اداروں کے پاس زرعی رقبے کے تحفظ کا کوئی مؤثر منصوبہ ہے؟ کیا ہاؤسنگ سکیموں کی منظوری سے قبل زرخیز اراضی کا جائزہ نہیں لیا جاتا؟ زرعی زمین کا نقصان ملک کی معیشت اور مستقبل پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ سرکاری اداروں کی کارکردگی جانچنے کیلئے کلیدی کارکردگی کے اشارے (KPIs) اور قابلِ پیمائش اہداف مقرر کرنا ضروری ہے۔ متعلقہ اداروں سے یہ پوچھا جائے کہ زرعی اراضی کے تحفظ‘ شہری آبادی کے بہترین انتظام‘ پانی کی دستیابی اور غذائی تحفظ کیلئے کیا کیا اقدامات اٹھائے ہیں۔ محض پالیسیوں کا اعلان کافی نہیں۔ شہری آبادی کے بے قابو پھیلاؤ نے ترقی کے نام پر بڑے شہروں کو بڑے بحرانوں میں ڈال دیا ہے۔ جیسا کہ لاہور‘ جو کبھی باغوں کا شہر کہلاتا تھا‘ اب توسیعی پراجیکٹس‘ بڑھتی ہوئی ٹرانسپورٹ‘ درختوں کی بے دریغ کٹائی اور موسمیاتی تبدیلی کے باعث اس کی ہر سانس &#39;&#39;گراں بار‘‘ ہے۔ کراچی &#39;&#39;شہرِ ناپرساں‘‘ کا نوحہ بھی سب کے سامنے ہے۔ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹ رہا ہے جن کی ایک بڑی وجہ ترقی یافتہ ممالک کی جانب سے گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج ہے۔ اگرچہ پاکستان اقوامِ متحدہ کی سطح پر یہ مسئلہ اٹھا رہا ہے‘ تاہم نتیجہ خیز اقدامات کے حصول کیلئے حکومت کو اس معاملے پر مزید توجہ اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ پاکستان کو سیاسی استحکام‘ شفافیت‘ عوامی خدمات کی تیز رفتار فراہمی اور ریاستی اداروں میں جواب دہی کو یقینی بنانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے‘ جس کیلئے شفافیت اور احتساب کا ایک بہترین نظام تشکیل دینا ضروری ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_62843609.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>