<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>مذاکرات کی بحالی ناگزیر(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-08/11613</link><pubDate>Thu, 08 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-08/11613</guid><description>پاکستان اس وقت ایسے سیاسی موڑ پر کھڑا ہے جہاں ایک طرف احتجاج کی سیاست گرم ہے تو دوسری طرف ملکی معیشت اور امنِ عامہ کا استحکام داؤ پر لگا ہوا ہے۔ اس تناظر میں حکومت کی جانب سے اپوزیشن کو دوبارہ مذاکرات کی دعوت ایک مثبت پیشرفت ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اپوزیشن احتجاجی سیاست سے ملکی معیشت کو پہنچنے والے نقصان کا ادراک کرتے ہوئے پہلے لانگ مارچ ختم کرے‘ پھر حکومت مذاکرات کرے گی۔ گزشتہ روز وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ  نے بھی حکومت کی آفر کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی طرف سے مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں‘ تاہم ریاست کو یرغمال بنا کر کوئی مطالبہ نہیں منوایا جا سکتا۔ دوسری جانب پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی تصدیق کی ہے کہ حکومتی ارکان سے رابطے میں ہیں اور کوشش ہے کہ مسائل کا حل بات چیت سے نکالا جائے۔ دیکھا جائے تو یہی وہ راہ ہے جو سیاسی بحران سے باہر نکال سکتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ سیاسی مسائل کبھی بھی طاقت‘ دھونس یا بلیک میلنگ سے حل نہیں ہوتے بلکہ انکا پائیدار حل مفاہمت‘ مشاورت اور باہمی تعاون سے نکلتا ہے۔ موجودہ سیاسی تناظر میں حکومت کے علاوہ اپوزیشن کے سنجیدہ حلقوں کو بھی اس بات کا ادراک ہے کہ مسائل کا حل سڑکوں پر نہیں بلکہ میز پر بیٹھ کر ہی نکلے گا‘ لہٰذا اپوزیشن کیلئے یہ ایک سنہری موقع ہے کہ حکومت کی طرف سے مذاکرات کی آفر کا مثبت جواب دے اور اس سے سیاسی فائدہ اٹھائے۔ سیاسی تلخی کی موجودہ فضا کسی کے مفاد میں نہیں۔ یہ معاملہ سب پر عیاں ہے کہ اس کھینچا تانی سے نہ تو حکومت کی بقا کو کوئی خطرہ لاحق ہے اور نہ ہی اپوزیشن کو اس کے تمام مطالبات طشتری میں رکھ کر پیش کیے جائیں گے بلکہ اسکا نتیجہ صرف اور صرف عوامی مشکلات اور ملکی معیشت کی مزید ابتر صورتحال کی صورت میں سامنے آئے گا۔ سیاست میں حکمتِ عملی اور تدبر کو بنیادی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ اپوزیشن کو سمجھنا چاہیے کہ وہ اپنی عوامی تحریک یا احتجاج کی طاقت کو حکومت سے ٹکرانے کے بجائے بارگیننگ کیلئے استعمال کرے تو زیادہ سیاسی فائدے حاصل کر سکتی ہے۔ سیاست جلد بازی کا کھیل نہیں ہوتا بلکہ یہ لمبی دوڑ ہوتی ہے‘ لہٰذا ضروری نہیں کہ اپنے تمام پتے ایک ساتھ شو کر دیے جائیں۔
کئی بار طاقت کا بھرپور استعمال کرنے کے بجائے اس کا علامتی اظہار ہی مخالف فریق کو دباؤ میں لانے اور مطالبات تسلیم کروانے کیلئے کافی ہوتا ہے۔ اپوزیشن بھی نظم ریاست کا حصہ ہے‘ لہٰذا اس کے احتجاج کا مقصد ریاست کے معاشی و انتظامی پہیے کو روکنا نہیں بلکہ اپنی سیاسی پوزیشن کو مضبوط کر کے مذاکرات کی میز پر اپنے مطالبات کو تسلیم کرانا ہونا چاہیے اور حکومت کی جانب سے مذاکرات کی آفر سے وہ اپنا یہ مقصد حاصل کر چکی ہے۔ اب مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کی طرف بڑھنا چاہیے اور یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ابتدائی طور پر جن چند نکات پر اختلاف پایا جاتا ہے‘ اگر مذاکراتی عمل جاری رہے تو رفتہ رفتہ ان کا بھی کوئی نہ کوئی قابلِ قبول حل نکل آتا ہے۔ بڑی سے بڑی جنگوں کا حل بھی بالآخر مذاکرات کی میز پر ہی نکلتا ہے جبکہ ہمارے اربابِ سیاست کے مسائل عالمی سیاسیات کے مقابل نہایت معمولی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس وقت بدلتے علاقائی جغرافیائی و سیاسی حالات اور مہنگائی کا مسئلہ ملک بھر کے عوام کا اولین مسئلہ ہیں۔
اگر احتجاج کا سلسلہ پھیلتا ہے تو حکومتی توجہ اصل مسائل سے ہٹ جائے گی۔ نتیجتاً عوامی مشکلات اورسماجی بے چینی میں مزید اضافہ گا۔ قومی مفاد کا تقاضا ہے کہ معیشت‘ معاشرت اور سیاست کے الجھے ہوئے دھاگوں کوسلجھانے پر فوری توجہ دی جائے اور سیاسی اختلافات کو ختم کرنا اس وقت کا اولین تقاضا ہے۔ یہ حکومت اور اپوزیشن‘ دونوں کے سیاسی وژن کا امتحان ہے کیونکہ بات چیت میں تاخیر کا مطلب یہ ہو گا کہ سیاسی قیادت ملک کو مسائل کی اس دلدل میں پھنسائے رکھنا چاہتی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بڑھتی ہوئی غربت(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-08/11612</link><pubDate>Thu, 08 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-08/11612</guid><description>ورلڈ بینک کی MENAP خطے‘ جس میں مشرقِ وسطیٰ‘ شمالی افریقہ‘ افغانستان اور پاکستان سمیت 20 سے زائد ممالک شامل ہیں‘ کیلئے جاری کردہ اکنامک آؤٹ لک کے مطابق خطے میں یومیہ تین ڈالر سے کم آمدن والے انتہائی غریب افراد میں 48 فیصد پاکستان میں ہیں‘ اور 2019ء سے 2024ء کے دوران ملک میں غربت کی شرح 6.4 فیصد بڑھی ہے۔ رپورٹ میں ملک میں غربت میں اضافے کا ذمہ دار کورونا‘ 2022ء کے سیلاب‘ مہنگائی‘ روپے کی قدر میں کمی اور معاشی بحران کو ٹھہرایا گیا ہے۔ یہ آفات اور قدرتی عوامل اپنی جگہ مگر ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ اس دوران حکومتوں کی جانب سے ایسے معاشی اقدامات نہیں کیے گئے جو غریب خاندانوں کی آمدنی اور پیداواری صلاحیت بڑھا سکتے۔

حکومت کا سارا زور غربت کے بنیادی اسباب سے نمٹنے کے بجائے عوام سے زیادہ سے زیادہ محصولیاں کرنے پر ہے۔ورلڈ بینک کی اس رپورٹ کے بعد موجودہ حکومت پر بدرجہ اتم یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ تخفیف غربت کیلئے مؤثر اقدامات کرے۔ اس مقصد کیلئے حکومت کی جانب سے نقد امداد کے پروگرام کافی نہیں بلکہ ایسے اقدامات بھی ناگزیر ہیں جو لوگوں کو مالی خود انحصاری کی طرف لے کر جائیں۔ اس ضمن میں چین سے سیکھنا چاہیے جہاں غربت کو مستقل طور پر کم کرنے کیلئے زرعی اصلاحات‘ صنعت‘ برآمدات‘ انفراسٹرکچر اور روزگار کے ذریعے لوگوں کی آمدنی بڑھائی گئی۔ یہاں صورتحال اسکے برعکس ہے‘ نتیجتاً غربت کی شرح خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ٹیکس کا بوجھ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-08/11611</link><pubDate>Thu, 08 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-08/11611</guid><description>فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں تنخواہ دار طبقے نے 144 ارب روپے انکم ٹیکس ادا کیا جبکہ اسی مدت میں ہول سیلرز ‘ ریٹیلرز اور رئیل اسٹیٹ کی مجموعی ٹیکس ادائیگی صرف 54 ارب روپے رہی۔ تنخواہ دار طبقے کی تنخواہ سے ٹیکس براہِ راست منہا کر لیا جاتا ہے‘ اس لیے اس طبقے کیلئے ٹیکس سے بچنے کی گنجائش نہ ہونے کے برابر ہے لیکن دوسرے شعبوں کیلئے آمدنی چھپانے کے ذرائع موجود ہیں جبکہ اس لیے وہ ٹیکس چھپاتے ہیں اور ایف بی آر ان کے معاملے میں ضروری اقدامات نہیں کرتا۔ ہول سیلرز ‘ ریٹیلرز اور رئیل اسٹیٹ سمیت معیشت کے کئی ایسے شعبے ہیں جہاں آمدن کا حجم زیادہ ہونے کے باوجود ٹیکس وصولی ان کی حقیقی معاشی سرگرمی سے مطابقت نہیں رکھتی۔

حکومت کو ایسا منصفانہ ٹیکس نظام متعارف کرانا چاہیے جس میں ہر فرد اور شعبہ اپنی آمدن کے مطابق اپنا حصہ ادا کرے۔ اس مقصد کیلئے رئیل اسٹیٹ‘ تجارت‘ ہول سیل اور ریٹیل کے کاروبار کو مؤثر طور پر دستاویزی بنانا‘ ڈیجیٹل لین دین اور پوائنٹ آف سیل نظام کی سخت نگرانی‘ ٹیکس گوشواروں اور حقیقی کاروباری سرگرمیوں میں فرق کا سراغ لگانا اور بڑے ٹیکس چوروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ضروری ہے۔ ٹیکس نیٹ میں وسعت‘ ٹیکس چوری کے خاتمے اور تمام شعبوں کیلئے قوانین کے یکساں نفاذ کے بغیر محصولات میں اضافہ ممکن نہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مسائل کیوں نہیں حل ہو رہے؟ … (2)(محمد اظہارالحق)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-10-08/52802/22041682</link><pubDate>Thu, 08 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-10-08/52802/22041682</guid><description>چوتھا بڑا مسئلہ جو مصیبت بن کر ہمارے ساتھ چپکا ہوا ہے‘ مفادات کا ٹکراؤ ہے۔ ہم بکری کی حفاظت کیلئے شیر کو بھرتی کرتے ہیں۔ چھیچھڑوں پر بلی کو پہریدار بناتے ہیں۔ اس طرزِ عمل کی کئی خوفناک مثالیں ہیں۔ بیوروکریسی کی اصلاحات کیلئے ہر حکومت میں کمیشن بنتے رہے ہیں۔ تقریباً ہر بار ڈاکٹر عشرت حسین جیسے شخص کو کمیشن کا چیئرمین بنایا جاتا ہے۔ وہ بیورو کریسی سے نکل گئے مگر بیوروکریسی ان کے اندر سے نہ نکلی۔ جیسے ایک نیم سیاسی‘ نیم مذہبی جماعت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ بندہ اس میں سے نکل جاتا ہے مگر وہ بندے میں سے نہیں نکلتی۔ میرے جیسا شخص گاؤں سے نکلتا ہے مگر گاؤں اس میں سے نہیں نکلتا۔ ڈاکٹر عشرت حسین واقعی قابل شخص ہیں‘ مگر ہیں اصلاً بیورو کریٹ!! چینی کا مسئلہ دیکھ لیجیے۔ صرف شوگر مافیا کہنے سے مسئلہ نہیں حل ہو گا۔ ہر سال یہ کھیل کھیلا جاتا ہے۔ پہلے چینی برآمد ہوتی ہے‘ پھر درآمد کی جاتی ہے۔ چینی مافیا کے ارکان کو اربوں کا فائدہ ہوتا ہے۔ عام صارف لہو لہان ہو جاتا ہے۔ کیوں؟ اس لیے کہ فیصلے کرنے میں وہ طاقتور لوگ شامل ہوتے ہیں جن کے چینی کے کارخانے ہیں! انصاف یا عوامی مفاد سے ان کا تعلق اتنا ہی ہے جتنا پوپ کا اسلام سے ہے! انہوں نے فیصلہ اپنے حق میں کرنا ہے اور کرتے رہیں گے۔ سب سے زیادہ ہولناک اور عبرتناک مثال بجلی پیدا کرنے والی نجی کمپنیوں (آئی پی پیز) کی ہے۔ ذرا تھوڑی سی تکلیف کر کے دیکھیے یہ کمپنیاں کن کن افراد کی ہیں؟ یہ انہی اربابِ قضا و قدر کی ملکیت میں ہیں جو اس سلسلے میں پالیسیاں بناتے ہیں اور فیصلے صادر کرتے ہیں۔ کیا کوئی اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار ے گا؟ کیا اپنے بچوں اور اپنے اعزہ و اقربا کے خلاف فیصلے کرے گا؟ آپ نے سینکڑوں بار پڑھا اور سنا ہو گا کہ پولیس کے ملازموں سے جرم سرزد ہو تو پولیس ہی کے افراد انکوائری پر مقرر کیے جاتے ہیں۔ مفادات کے ٹکراؤ کی بدترین مثال سالِ رواں کے جون میں سپریم جوڈیشل کونسل کا وہ فیصلہ ہے جو اسلام آباد ہائیکورٹ کے ایک جج کے خلاف دائر کی گئی شکایت پر کیا گیا تھا۔ اخبارات میں شائع شدہ تفصیل کے مطابق معروف وکیل کرنل (ر) انعام الرحیم نے سپریم جوڈیشل کونسل کے حضور کیس دائر کیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے فلاں جج کا سو لہ سالہ بیٹا ایک بڑی گاڑی (ایس یو وی) چلارہا تھا کہ دو لڑکیاں اس کی گاڑی کے نیچے آکر ہلاک ہو گئیں۔ مگر جج نے اپنی سرکاری پوزیشن کا غلط استعمال کر کے اور دباؤ ڈال کر بیٹے کو بچا لیا۔ سپریم جوڈیشل کونسل نے یہ درخواست خارج کر دی لیکن خارج کرنے کی وجوہات نہ بتائیں۔ سپریم جوڈیشل کونسل کے ارکان ججوں پر ہی مشتمل ہوتے ہیں۔ بے حسی کی انتہا دیکھیے کہ شکایت وجہ بتائے بغیر خارج کرنے کی یہ خبر روزنامہ دنیا کے علاوہ کسی اردو اخبار نے شائع ہی نہیں کی۔ مفادات کا ٹکراؤ ہمیں ہر جگہ اس ملک کو پیچھے دھکیلتا نظر آتا ہے۔ بدقسمتی سے صنعتی پالیسی کی تشکیل میں صنعتکار بیٹھے ہوتے ہیں۔ زرعی پالیسی بنانے میں وہ وزیر شامل ہوتے ہیں جو خود وڈیرے ہیں۔ اگر یہی ہوتا رہا تو یہ ملک مافیاز اور گروہوں کے ہاتھوں میں یرغمال ہی رہے گا۔پانچواں بڑا مسئلہ سزاؤں کا نہ ہونا ہے یا سزاؤں کا بہت کم ہونا ہے۔ آپ چاہیں تو اس مسئلے کو نظامِ عدل سے ملا لیں یا انتظامیہ سے‘ جس میں پولیس شامل ہے۔ طاقتوروں کیلئے سزاؤں کا وجود ہی نہیں۔ اگر آپ وڈیرے ہیں یا سیاستدان یا بلوچ سردار تو قتل ایک نہیں کئی کریں‘ آپ کا بال بھی کوئی نہیں بیکا کر سکتا۔ منصفوں کی اولاد کو کھلی چھٹی ہے کہ غریبوں کے بچوں کو قیمتی گاڑیوں کے نیچے کچل دیں۔ کراچی میں ایک بڑے برانڈ والوں کی بہو نے آدھی فیملی مار دی۔ کوئی سزا نہیں ملی۔ طاقتور حکمران کے نواسے کو چھوڑ دیا گیا۔ ظاہر جعفر صاحب زندہ و سلامت ہیں۔ ایک نہیں کئی ظاہر جعفر جرم کر کے کھلے دندناتے پھر رہے ہیں۔ بے شمار ایسی مثالیں ہیں جو ثابت کرتی ہیں کہ من حیث القوم ہماری ہلاکت کا فیصلہ آسمانوں میں ہو چکا ہے۔ &#39;&#39;تم سے پہلی قومیں اس لیے برباد ہوئیں جب ان کا کوئی بڑا جرم کرتا تو اسے چھوڑ دیا جاتا اور جب کوئی معمولی سا آدمی جرم کرتا تو اسے سزا دی جاتی‘‘۔ یہ جو نام نہاد دہشت گردی ہے‘ یہ جو بلوچستان کی صورتحال ہے‘ یہ جو مہنگائی کا عفریت منہ پھاڑے کھڑا ہے‘ یہ جو ہر مرد اور ہر عورت ملک سے بھاگنا چاہتے ہیں‘ یہ سب ہلاکت کے پیش خیمے ہیں۔ چیلنج ہے کہ وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ کسی کچہری سے زمین یا مکان کا انتقال رشوت دیے بغیر کرا کے دکھا دیں۔ ترقیاتی اداروں سے مکان کا نقشہ رشوت دیے بغیر پاس کرا کے دکھا دیجیے۔ حکمرانوں کی ناک کے عین نیچے جرائم ہو رہے ہیں۔ لوٹ مار کا بازار گرم ہے۔ کوئی سزا نہیں۔ جہاں سزائیں موجود ہیں وہاں سزائیں بہت کم ہیں۔ سزاؤں کا کم ہونا جرائم کا خاتمہ نہیں کر سکتا۔ لاکھوں لوگ ٹرالیوں‘ ٹریکٹروں اور ڈمپروں کے نیچے کچلے جا چکے ہیں۔ یہ کالم نگار اس قتلِ عام کے خلاف کئی کالم لکھ چکا۔ سوائے حافظ نعیم صاحب کے کسی سیاستدان نے اس بربریت کے خلاف آواز نہیں اٹھائی۔ ان ڈرائیوروں کو کوئی سزا نہیں ملتی۔ ہمارے ملک میں دنیا کا بدترین ٹریفک سسٹم ہے۔ اس لیے کہ سزائیں کم ہیں۔ چالان ہوتا ہے تو چند سو کی رقم کا جرمانہ ہوتا ہے۔ ایک قریبی عزیزہ کا امریکہ میں چالان ہوا تو چار سو ڈالر کی سزا ملی۔ ہوش ٹھکانے آ گئے۔ بڑے بڑے مجرم بھاؤ تاؤ کر کے بچ جاتے ہیں۔ اربوں کی لوٹ مار ہے تو چند کروڑ واپس دے کر باقی زندگی آزاد پھرتے ہیں۔کیا یہی پانچ مسائل ہیں جو ہمیں لاحق ہیں؟ نہیں! قارئین حق بجانب ہوں گے اگر کہیں کہ مسائل کے تو انبار لگے ہیں۔ مولانا ظفر علی خان یاد آ گئے:حذر ہیں اور بھی واجب مگر کہاں تک میںبتائے جاؤں گا تم کو فلاں فلاں سے بچومگر کہیں سے تو تطہیر کی ابتدا ہونی ہے۔ مندرجہ بالا پانچ مسائل ہی حل کر دیجیے تو بہت سے دیگر مسئلے خود ہی ان کی لپیٹ میں آ جائیں گے۔ ایک غلط کار شخص ایک بزرگ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اصلاح کی گزارش کی۔ حضرت نے صرف اتنا فرمایا کہ جھوٹ بولنا چھوڑ دو۔ کہنے لگا جی بہتر! یہ کون سا مشکل کام ہے‘ مگر دو چار دن میں بے شمار عاداتِ بد چھوڑنا پڑیں۔ یہ رقم کہاں سے آئی ہے؟ رات کہاں تھے؟ ڈاکا مارا؟ جھوٹ بول نہیں سکتا تھا۔ جرائم سے بھی توبہ کر لی۔ تین چار مسئلوں کا خاتمہ بھی بڑی بات ہے۔ مگر طوطی کی آواز نقار خانے میں کس نے سننی ہے۔ میں نے لکھ دیا۔ آپ نے پڑھ لیا۔ مسائل کا حل جن کی جیب میں ہے وہ کہاں پڑھیں گے۔ کسی نے غلطی سے پڑھ بھی لیا تو زہر خند کے ساتھ لکھے کو دیوانے کی بڑ قرار دیں گے! اقتدار کی کرسی دنیا کی بہترین لکڑی سے بھی بنائیں تو بھی اسے گھمنڈ کی دیمک ضرور لگتی ہے! اس کرسی پر بیٹھنے والوں کی آنکھوں میں ناقابلِ علاج قسم کا موتیا اُتر آجاتا ہے جس کے کارن انہیں ہر طرف اپنی ہی تصویر نظر آتی ہے۔ پھولوں کے ہار سے لدی ہوئی تصویر! مگر تا بکے؟ کب تک؟ تم ایک جہاز سے اترتے ہو تو دوسرا منتظر ہوتا ہے۔ تمہارے دسترخوانوں پر ماکولات اور مشروبات کا شمار ہی ممکن نہیں جبکہ خلقِ خدا علاج کیلئے‘ روٹی کیلئے‘ انصاف کیلئے ترس رہی ہے۔ آہ!! &#39;&#39;مجھے تمہارے حق میں ایک بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے‘‘۔ (الشعرا)</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_57182973.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>معمولی سی خواہش(خالد مسعود خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-10-08/52803/89315737</link><pubDate>Thu, 08 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-10-08/52803/89315737</guid><description>یہ جو میں ٹریفک کے مسائل پر‘ ماحولیات پر‘ درختوں پر‘ بے ہنگم آبادی پر‘ عدل و انصاف پر اور صفائی کے معاملات پر لکھتا رہتا ہوں تو کیا خیال ہے‘ یہ سب کچھ میں اپنے لیے لکھتا ہوں؟ بلکہ زیادہ وضاحت سے پوچھوں تو کیا میں یہ اپنے آج کیلئے لکھتا ہوں؟ آپ یقین کریں‘ میں ذاتی طور پر رجائی ہونے کے باوجود بہرحال اس نتیجے پر پہنچ چکا ہوں کہ یہ سب معاملات جن پر میں مسلسل لکھ رہا ہوں‘ ان کے مثبت نتائج کم از کم میری زندگی میں تو سامنے نہیں آ سکتے۔ میں ان معاملات میں بہتری اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے بارے میں مکمل طور پر نااُمید ہوں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں سے کسی چیز میں رتی برابر بہتری تو رہی ایک طرف‘ ٹھہراؤ بھی دکھائی نہیں دے رہا۔ ٹریفک‘ صفائی‘ آبادی‘ ماحولیات‘ عدل و انصاف‘ جمہوری اقدار اور مخلوقِ خدا کی توقیر‘ ان سب میں ہر آنے والا دن خرابی کی طرف جاتا دکھائی دے رہا ہے۔ اب بھلا میرے جیسے بندے کی زندگی کے باقی دن ہی کتنے رہ گئے ہیں‘ اور اگر چند سال ہوں بھی تو خرابیاں جتنی جڑیں پکڑ چکی ہیں‘ ان کا ٹھیک ہونا کوئی دو چار دن کی بات نہیں۔ یہ بھی تب ہو گا اگر حکمران اپنی نام نہاد سیاسی مقبولیت سے باہر نکل آئیں جو حقیقی طور پہ ان کا مسئلہ ہی نہیں۔ بھلا ہمارے حکمران عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر آ ہی کب رہے ہیں جو وہ ان کے خیال میں ہلکان ہوئے جا رہے ہیں۔ٹریفک کا مسئلہ ایسا ہے کہ جب صبح گھر سے نکلتا ہوں تو شروع ہوتا ہے اور میں اس پر کڑھنا شروع کرتا ہوں‘ سارا دن اس سلسلے میں خوار ہوتا ہوں اور یہ معاملہ رات تب تک جاری رہتا ہے جب تک میں گھر واپس نہیں آ جاتا۔ کوئی ایک خرابی ہو تو بندہ اس پر بات کرے۔ سماجی شعور کی تو بھلی کہی‘ کسی شخص کو (معاف کیجئے! دو چار فیصد کو چھوڑ کر) کسی شخص کو اپنی شہری ذمہ داریوں کا احساس نہیں۔ بالکل معمولی باتیں ہیں جن پر عمل کر کے اپنی آسانی کے ساتھ ساتھ دوسروں کی سہولت کا بندوبست ہو سکتا ہے۔ مثلاً گزشتہ سے پیوستہ روز میں نئی نکور بنی ہوئی بلکہ ابھی پوری بنی بھی کب ہے‘ ابھی بن رہی ہے‘ تاہم اس کے کچھ حصے تقریباً مکمل ہو چکے ہیں۔ میں ملتان ایونیو کی بات کر رہا ہوں‘ یہاں سرکار نے مرکزی شاہراہ کی دونوں طرف سروس روڈ‘ پارکنگ‘ گرین بیلٹس اور بیٹھنے کی جگہیں بنائی ہیں۔ جو جگہ پارکنگ کیلئے مختص ہے وہاں پیلے رنگ سے ترچھی لکیریں لگا کر گاڑیاں پارک کرنے کی جگہ کی نشاندہی کی ہے کہ آپ اس رخ پر ان لائنوں کے درمیان گاڑی کھڑی کریں۔ اب یہ سمجھنا کوئی راکٹ سائنس نہیں کہ گاڑی کو کہاں اور کیسے پارک کرنا ہے۔ اس کیلئے صرف بینائی کی ضرورت ہے۔ میں دنیا بھر میں سفر کرتا ہوں جہاں جہاں پارکنگ کیلئے سفید یا پیلے رنگ سے گاڑیوں کو کھڑا کرنے کی نشاندہی کی گئی ہے وہاں گاڑی پارک کرنے والے حضرات گاڑی کھڑی کرتے ہیں‘ اترنے کے بعد اگر یہ دیکھا کہ اس کی گاڑی کی کوئی ایک سائیڈ نشاندہی کرنے والی لکیر کے اوپر آ گئی ہے یا دوسری طرف چلی گئی ہے تو ڈرائیور دوبارہ گاڑی میں بیٹھتا ہے گاڑی کو ریورس کر کے دوبارہ صحیح جگہ پر لگاتا ہے اور باہر آنے کے بعد دوبارہ ایک نظر مارتا ہے کہ گاڑی اپنی جگہ پر درست طریقے سے کھڑی ہے یا نہیں۔ بات گزشتہ سے پیوستہ روز کی ہو رہی تھی‘ وہ کہیں اور چلی گئی۔ میں نے اس روڈ پر واپڈا ٹاؤن کے ساتھ ایک فوڈ چین کے سامنے موجود پارکنگ میں دو لائنوں کے درمیان اپنی گاڑی کھڑی کی اور ریسٹورنٹ میں آ گیا۔ آپ اسے میرا نفسیاتی مسئلہ سمجھ لیں یا کچھ اور‘ لیکن مجھے ہمیشہ ایسی جگہوں پر سڑک والی سائیڈ پر شیشے کے ساتھ بیٹھنا اچھا لگتا ہے۔ گزرتی ہوئی ٹریفک اور چلتے پھرتے لوگ مجھے زندگی اور حرکت کی علامت دکھائی دیتے ہیں۔ اسی طرح پہاڑی مقامات پر جاؤں تو میری کوشش ہوتی ہے کہ میں کسی دریا‘ کسی ندی یا کسی نالے کے ساتھ بیٹھوں‘ اور کچھ نہیں تو رواں پانی کو دیکھ کر اپنے اس شوق کی تکمیل کرتا رہوں۔میں سڑک والی جانب شیشے کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ ایک صاحب آئے اور انہوں نے اپنی گاڑی کو ان ترچھی اور نشان زدہ پیلی لائنوں کے درمیان کھڑا کرنے کے بجائے اس کے بالکل اُلٹ رخ پر کھڑا کر دیا۔ یوں سمجھیں کہ اگر ترچھی لائنیں دائیں سے بائیں طرف جا رہی تھیں تو اس نے بائیں سے دائیں طرف گاڑی لگا دی۔ وہ گاڑی جو دو لائنوں کے درمیان آ کر ایک گاڑی کی جگہ پر پوری آ جاتی‘ اس نے تین گاڑیوں کی جگہ روک دی۔ مجھ سے نہ رہا گیا۔ میں اٹھ کر باہر گیا اور وہ صاحب جو نوجوان بھی تھے‘ شکل و صورت اور حلیے سے اچھے خاصے پڑھے لکھے دکھائی دیتے تھے۔ میں نے ان کے پاس جا کر کہا کہ جناب اگر میں آپ سے ایک درخواست کروں تو آپ ناراض تو نہیں ہوں گے؟ انہوں نے بڑی خوش خلقی سے کہا: نہیں سر! فرمائیے۔ میں نے کہا کہ آپ سامنے دیکھ سکتے ہیں کہ پارکنگ کیلئے لائنیں لگی ہوئی ہیں جو ترچھی ہیں اور آپ نے عین ان کے الٹ گاڑی کھڑی کر دی ہے‘ جس سے تین گاڑیوں کی جگہ رک گئی ہے۔ یعنی آپ نے دو مزید لوگوں کی پارکنگ کی سہولت کو اس غلط پارکنگ کی وجہ سے ختم کر دیا ہے۔ شکر ہے وہ صاحب اس بات پر ناراض نہیں ہوئے۔ تاہم گاڑی سے باہر نکل کر گاڑی کا دروازہ لاک کرتے ہوئے میری طرف دیکھا اور کہنے لگے کہ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ یہاں بیس پچیس گاڑیاں پارک کرنے کی جگہ ہے جبکہ یہاں کل پانچ چھ گاڑیاں کھڑی ہوئی ہیں۔ اب بھی بیس بائیس گاڑیوں کی جگہ موجود ہے اور ان گاڑیوں کے آنے سے پہلے میں واپس آ کر اپنی گاڑی لے جاؤں گا۔ میں نے واپس جاتے ہوئے انہیں اتنا ضرور کہا کہ مسئلہ میسر جگہ کا یا پارک شدہ گاڑیوں کی تعداد کا نہیں‘ مسئلہ وہ عادت ہے جسے اپنا کر ہم اپنے لیے اور دوسروں کیلئے آسانی اور سہولت کا باعث بن سکتے ہیں۔ ان صاحب نے سنی اَن سنی کر دی اور آ کر اسی ریستوران میں بیٹھ گئے جہاں میں بیٹھا ہوا تھا۔ باہر نکلتے ہوئے میں نے ان پر شکایتی انداز کی نظر ڈالی۔ آپ یقین کریں ان صاحب کے چہرے پر کوئی شرمندگی‘ ملال‘ افسوس یا اس قسم کا کوئی تاثر موجود نہیں تھا بلکہ ان صاحب نے نظریں ملنے پر الٹا مجھے استہزائیہ نظروں سے دیکھا اور زیر لب مسکرائے‘ جیسے کہہ رہے ہوں کہ بعض لوگوں کو خدائی خدمتگار بننے کا شوق ہوتا ہے۔ جس کا جہاں دل کرتا ہے وہ گاڑی پارک کر دیتا ہے‘ خواہ اس سے دوسری گاڑیوں کی آمد و رفت بند ہوتی ہے یا تکلیف ہوتی ہے‘ کسی کو اس چیز کی کوئی پروا نہیں۔ جہاں یوٹرن دو چار فرلانگ دور ہو وہاں پر ٹریفک کے رُخ کے مخالف سمت سے آنا گویا اب فیشن کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ تحصیل چوک سے پہلے بوسن روڈ پر ایک یوٹرن ہے جو ایجوکیشن یونیورسٹی‘ گورنمنٹ ماڈل سکول اور ناظمِ تعلیمات یعنی ڈائریکٹر ایجوکیشن کے دفتر کی جانب مڑنے والی سڑک سے پچیس تیس گز کے فاصلے پر ہے۔ صبح اور سہ پہر کو دفاتر اور تعلیمی اداروں کے کھلنے اور بند ہونے کے اوقات پر وہاں ون وے کی خلاف ورزی کرنے والوں کی تعداد صحیح سمت پر چلنے والی ٹریفک سے زیادہ نہ سہی تو کم از کم برابر ضرور ہوتی ہے۔ خلاف ورزی کرنے والوں کی کم و بیش نوے فیصد تعداد طالب علموں‘ اساتذہ کرام‘ پروفیسر صاحبان اور محکمہ تعلیم کے ملازمین و افسران پر مشتمل ہوتی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن سے معاشرے کا حال اور مستقبل وابستہ ہے۔ ون وے کی خلاف ورزی صرف قانون کا مسئلہ نہیں‘ دوسروں کی جان سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ آپ یقین کریں یہ فقیر اب بڑی بڑی خواہشات سے تو دستبردار ہو چکا ہے‘ بس اتنا چاہتا ہے کہ اس کی زندگی میں ٹریفک درست سمت رواں ہو‘ پارکنگ صحیح طریقے سے کی ہو‘ لوگ سرخ اشارے پر رک جائیں اور گاڑیاں اپنی لین میں چلیں۔ لیکن لگتا نہیں کہ اس عاجز کی یہ معمولی سی خواہش پوری ہو گی۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90500073.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>عقل کی بات ممنوع ہے(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-10-08/52804/95163072</link><pubDate>Thu, 08 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-10-08/52804/95163072</guid><description>مسئلہ ہماری نفسیاتی ساخت کا ہے۔ مذہب ہو یا سیاست‘ یہ جہاں ظہور کرے گی‘ ایک جیسے نتائج دے گی۔عقل و دانش کی یہ بات ہمیں زہر لگتی ہے۔ ہر وہ آدمی ہمارا دشمن ہے جو عقلِ عام کی بات کرے۔ جسم کا وہ حصہ‘ جہاں یہ فرض کیا جاتا ہے کہ عقل کا گھر ہے‘ وہاں بھی جذبات کا بسیرا ہے۔ یہی وہ نفسیات ہے جس نے ہمیں طالبان کا مداح بنایا ہے۔ یہی ہے جو سیاست میں نمودار ہوئی تو ہم ایک کلٹ کے پیچھے لگ گئے۔ بچھڑے کو خدا بنانے کی روایت صرف بنی اسرائیل تک محدود نہیں۔ یہ نفسیات ہر جگہ ہے اور ایک جیسے نتائج دے رہی ہے۔سیاست اور بصیرت کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ بصیرت کے بغیر سیاست ایسے ہی ہے جیسے انسانیت کے بغیر انسان۔ سیاست معاملہ فہمی سکھاتی ہے۔ یہ بند گلی سے راستہ نکالنا ہے۔ سیاستدان اگر عقل کو طلاق دے دے تو پھر سیاست کا گھر اُجڑ جاتا ہے۔ انقلاب کا تصور‘ اس مفہوم میں سیاست کی ضد ہے۔ تصادم اور ٹکراؤ کے لیے بھینسا ہونا کافی ہے۔ انسان تو جنگلوں اور پہاڑوں میں سے راستے نکالتا ہے‘ درختوں اور پتھروں سے سر نہیں پھوڑتا۔ خود کشی انسان کے لیے حرام قرار دی گئی ہے‘ بھینسے کے لیے نہیں۔سیاسی نظریات اور تاریخ کا علم اس کے سوا کیا ہے کہ سیاسی عمل کو سمجھنے کی ایک شعوری اور عقلی کاوش ہے۔ یہیں سے قوموں کے عروج و زوال کے اصول اخذ ہوتے ہیں۔ اہلِ علم نے یونانی سلطنت کے زوال کی داستان لکھی۔ اُمویوں اور عباسیوں کی کہانی بیان کی۔ ان سے نتائج اخذ کیے۔ ابنِ خلدون نے پہلے تاریخ لکھی‘ اس کے بعد وہ شہرہ آفاق مقدمہ لکھا جس میں بتایا کہ دنیا میں قومیں اگر ابھرتی ہیں تو کس اصول پر‘ اور ڈوبتی ہیں تو بھی یہ اتفاقی واقعہ نہیں ہوتا۔ کسی کو اقتدار ملتا ہے تو اس کے اسباب ہوتے ہیں۔ انہی اسباب کی دریافت ہے جس نے ابنِ خلدون کو عظیم بنایا۔ انہوں نے متوجہ کیا کہ سیاسی اقتدار کس طرح سیاسی عصبیت سے جڑا ہوا ہے‘ اس کا ادراک کیے بغیر سیاسی عمل کو نہیں سمجھا جا سکتا۔ ہمارا معاملہ کیا ہے؟ یہاں ابنِ خلدون کے تصورِ عصبیت کا اطلاق کریں تو ہماری وہی نفسیات روبہ عمل ہوتی ہے جسے عقل سے دشمنی ہے۔ جس کا خیال ہے کہ عقل کا سیاست سے کیا تعلق؟ یہ گروہ پھر جہالت کے ہر ہتھیار کے ساتھ اُس پر پل پڑتا ہے جو اسے ابنِ خلدون کا تصورِ عصبیت سمجھانا چاہتا ہے۔ یہ لوگ صف کے دونوں اطراف پائے جاتے ہیں جو بے علم ہے وہ اسے قابلِ التفات نہیں سمجھتا۔ جو جاہل ہے‘ وہ زبان دراز کرتا ہے اور قلم بھی۔افادۂ عام کے لیے اپنی بات دہراتا ہوں۔ جب ایک فرد یا گروہ کو معاشرے میں سیاسی عصبیت حاصل ہو جاتی ہے تو اس کے بعد عام قانون اور روایت کے مطابق‘ اس کے ساتھ معاملہ نہیں کیا جا سکتا۔ اس پر کسی قانون کا اطلاق نتیجہ خیز ہوتا ہے‘ نہ کسی سماجی ضابطے کا۔ پاکستان میں یہ عصبیت ایک دور میں ذوالفقار علی بھٹو کو حاصل رہی۔ پھر نواز شریف صاحب کو ملی۔ اب یہ عصبیت عمران خان کو حاصل ہے۔ کلٹ اور عصبیت کا بہت گہرا تعلق ہے۔ عصبیت‘ عام سیاستدان کو ملے تو ایک عقلی بحث کا موضوع بن سکتی ہے۔ کسی کلٹ کو ملے تو عقل کو دیس نکالا دے دیا جاتا ہے۔ عمران خان صاحب کا معاملہ اگر مدت سے حل طلب ہے تو اس کا سبب یہی ہے کہ ان کے مداح اس بات کو سمجھ سکے ہیں نہ ان کے مخالفین۔ اسی لیے &#39;سٹیٹس کو‘ ہے۔ وقت جیسے تھم گیا ہے۔بھٹو صاحب پر قتل کا مقدمہ بنا تو ان کے مداحوں نے اسے مسترد کر دیا۔ نواز شریف صاحب پر قائم مقدمات جعلی قرار پائے۔ عمران خان صاحب کے چاہنے والے بھی یہی کہتے ہیں کہ ان کے خلاف دائر مقدمات بے بنیاد ہیں۔ عصبیت ایک حجاب ہے جو حقیقت اور تاثر کے مابین حائل ہو جاتی ہے۔ عمران خان صاحب کے خلاف جاری مہم‘ ان کی سیاسی حمایت کو کم نہیں کر سکی۔ میڈیا پر ان کا نام لینا ممنوع ہے۔ کرکٹ کی بات ہوتی ہے تو ان کا ذکر نہیں ہوتا۔ اس سے ان کی مقبولیت متاثر نہیں ہوئی۔ ریاستی قوت کا استعمال زمینی حقائق کو تبدیل نہیں کر سکا۔ ریاست کو اس پر غور کرنا چاہیے کہ یہ ساری مہم بے نتیجہ کیوں ہے؟ اس کی حکمتِ عملی میں کیا خلا ہے؟ میرا خیال ہے اس کا جواب ابنِ خلدون نے دیا ہے۔ اب ابنِ خلدون سے کون پوچھے؟ جس معاشرے میں ان کا حوالہ گناہ ہو‘ اس میں معاملات کا علمی سطح پر تجزیہ کیسے ہو سکتا ہے؟ سیاسی عصبیت غلط اور صحیح کا فیصلہ نہیں کرتی۔ یہ ایک زمینی حقیقت کا بیان ہے جس سے صرفِ نظر کرتے ہوئے کوئی حکمتِ عملی نہیں بنائی جا سکتی۔اسی طرح‘ جب کہا جاتا ہے کہ سیاسی جماعتوں کو عقل سے کام لیتے ہوئے اپنے لیے راستہ تلاش کرنا چاہیے تو کلٹ زدہ ذہنیت میدان میں نکل پڑتی ہے کہ تم نے ہم سے عقل کی بات کیوں کی؟ تم نے یہ کیوں کہا کہ ہمیں اپنے کارکنوں کے جان و مال کا تحفظ کرنا چاہیے؟ تم ہوتے کون ہو ہمیں عقل کی راہ دکھانے والے؟ عقل سے ہمارا کیا لینا دینا؟ عقل تو کمزور لوگوں کا ہتھیار ہے۔ یہ بزدلوں کا کام ہے۔ ہم تو ٹکرائیں گے کیونکہ ہم حق پر ہیں۔ یہ بات سمجھنے کے لیے بھی عقل چاہیے کہ حق پر قائم رہنے کے لیے بھی عقل کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ وہ نفسیات ہے جو دوست کو دشمن بنا دیتی ہے۔ پھر ہر وہ مشورہ زہر لگتا ہے جس میں عقل کی بات کی جاتی ہے۔مجھے یہ تجربہ دوسری بار ہو رہا ہے۔ پہلی بار اس وقت ہوا جب جہاد کے نام پر مسلم معاشروں کا امن بر باد کیا جا رہا تھا۔ ہم جیسے اس وقت بھی دہائی دے رہے تھے کہ مسلمانوں اور غیر محارب کا قتل‘ شریعت میں شدید جرم ہے۔ جو لوگ یہ علم اٹھائے ہوئے ہیں وہ دنیا کو فساد کی آماجگاہ بنا دیں گے۔ شرعی کے ساتھ اس کے عقلی دلائل بھی دیے گئے۔ اس وقت بھی ہمارا سامنا اسی نفسیات سے ہوا۔ ہمیں دشمن کا طرفدار بتایا گیا۔ جو یہ دہائی دے رہے تھے‘ انہیں قتل کیا گیا یا ہجرت پر مجبور کر دیا گیا۔ عقل کو اس وقت بھی دیس نکالا دے دیا گیا۔ ہر طرف ایک ہی سوچ کا غلبہ تھا: &#39;مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی‘۔ ہماری بات ریاست نے مانی نہ لوگوں نے۔ آج دونوں مان رہے ہیں مگر بعد از خرابیٔ بسیار۔آج پھر ہمیں اُسی صورتحال کا سامناہے۔ وہ نفسیات جو اُس وقت جہاد کے نام پر کار فرما تھی‘ آج سیاست میں روبعمل ہے۔ ریاست کو طاغوت بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ حکومت اور ریاست کا فرق ختم ہو چکا۔ نہ ریاست سیاسی عصبیت کو سمجھ پا رہی ہے نہ اس کے مخالفین کی حکمتِ عملی میں سیاسی شعور نام کی کوئی شے موجود ہے۔ اس کی قیمت ملک ادا کر رہا ہے۔ عوام ادا کر رہے ہیں۔ &#39;ضد اور عزیمت میں فرق ہوتا ہے‘۔ &#39;سیاست بے عقلوں کا کام نہیں‘۔ یہ دو &#39;اقوالِ زریں‘ ہی اگر قبول کر لیے جائیں تو ملک میں استحکام آ سکتا ہے۔ ایسا مگر کیوں ہو گا؟ جہاں ابنِ خلدون کے ذکر سے لوگ چڑ جائیں اور جہاں عقلِ عام کی بات گالی سمجھی جائے وہاں &#39;اقوالِ سیاہ‘ ہی کو حرزِ جاں بنایا جا سکتا ہے۔ لوگ اپنی خو نہیں بدلیں گے اورہم بھی مجبورِ وفا ہیں:مجھے ہے حکمِ اذاں لا الٰہ الا اللہ</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>حکم پر حکم اور بحران در بحران(عمران یعقوب خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-10-08/52805/81482905</link><pubDate>Thu, 08 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-10-08/52805/81482905</guid><description>آئی ایم ایف نے شوگر سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے کا نئی آٹو پالیسی میں ای ویز یعنی الیکٹرک وہیکلز کو ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کا مطالبہ بھی ہے‘ اور وہ پٹرولیم کے چھوٹے صارفین کیلئے وزیراعظم فیول سبسڈی سکیم کی منظوری دینے پر بھی بمشکل راضی ہوا ہے۔ عالمی مالیاتی فنڈ نے مطالبہ کیا ہے کہ پٹرول سبسڈی میں مزید صارف نہ بڑھائے جائیں‘ اور فیول سبسڈی چھوٹی گاڑیوں تک محدود رکھی جائے۔ گیس کے ٹیرف سٹرکچر میں تبدیلی‘ گیس کے شعبے میں گردشی قرضے‘ ڈسکوز  کی نجکاری اور لائن لاسز کے معاملات بھی زیر غور ہیں۔ چند روز پہلے آئی ایم ایف نے مارکیٹ بیسڈ ایکسچینج ریٹ رکھنے پر زور دیتے ہوئے مہنگائی پر قابو پانے کیلئے شرح سود سخت رکھنے کی تجویز دی تھی۔ حکومت نے جو نئی آٹو پالیسی تیار کی وہ بھی ملاحظے  کیلئے آئی ایم ایف کے حضور پیش کی گئی کہ وہاں سے اِذن ملے تو ملک میں نافذ کرنے کا قصد کیا جائے۔ اس سے پہلے سنتے رہے کہ سالانہ بجٹ بھی آئی ایم ایف کی نگرانی بلکہ ہدایات کی روشنی میں تیار کیا گیا۔آئی ایم ایف کے اس حکم پر حکم کے باوجود وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب معیشت کے درست نہج پر جانے کی خوشخبریاں دے  رہے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ تقریباً تین سال قبل معیشت زوال پذیر تھی‘ تاہم رواں مالی سال کے دوران اس کی شرح نمو  چار فیصد رہنے کی توقع ہے۔ بیرونی شعبے کے حوالے سے وزیر خزانہ نے کہا کہ دو ہفتے قبل زر مبادلہ کے ذخائر اکیس ارب چالیس کروڑ ڈالر تک پہنچ گئے تھے‘ جو ملکی تاریخ میں ریکارڈ کی گئی بلند ترین سطح ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس اب تقریباً تین ماہ کی درآمدات کیلئے زرمبادلہ موجود ہے۔ تین ماہ کی درآمدات کیلئے زر مبادلہ اکٹھا ہونا کیا واقعی اتنی بڑی خبر ہے کہ اس پر چھلانگیں لگائی جائیں؟ وزیراعظم شہباز شریف نے کچھ ایسی ہی باتیں ایک سال پہلی کی تھیں۔ بجٹ سے پہلے اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان ایسے مقام پر ہے جہاں ہمیں آگے بڑھنا ہے‘ تمام معاشی اشاریے باعثِ اطمینان ہیں۔ برآمدات‘ ترسیلاتِ زر اور آئی ٹی ایکسپورٹس میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ سارے دعوے کرنے کے بعد انہوں نے قرار دیا تھا کہ پاکستان اب معاشی میدان میں ٹیک آف کی پوزیشن میں ہے۔ جب ہر کام آئی ایم ایف سے پوچھ کر کیا جا رہا ہے‘ جب ہر پالیسی آئی ایم ایف کی اجازت کی مرہونِ منت ہے تو پھر معاشی استحکام کا کیا سوال؟ اقتصادی ترقی کے دعوؤں کی کیا حیثیت اور معاشی ٹیک آف کے دعوؤں کی کیا حیثیت؟بحرانوں کی بات کی جائے تو مہنگائی‘ بیروزگاری‘ روپے کی قدر کا کم ہونا‘ بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ‘ قرضوں کے حجم میں مسلسل اضافہ (اس وقت پاکستان کا بیرونی قرضہ 130ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے جبکہ قرضوں کی ادائیگی کیلئے بھی نئے قرضے لینے پڑتے ہیں)‘ زرِ مبادلہ کے ذخائر کا اطمینان بخش نہ ہونا‘ روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے درآمدات کا مہنگا ہونا‘ توانائی کے بحران (جس میں توانائی کی قلت اور مہنگا ہونا‘ دونوں شامل ہیں) اور اس بحران کی وجہ سے صنعتوں کی بندش نے روزگار کے مواقع محدود کر دیے ہیں‘ جبکہ روزگار کے مواقع محدود ہونے کا مطلب ہے لوگوں کی قوتِ خرید میں کمی‘ اور عوام کی قوتِ خرید میں کمی کا مطلب ہے صنعتکاروں کی تیار کردہ اشیا کے خریداروں میں کمی۔ بے روزگاری اور قوتِ خرید میں کمی کا شاخسانہ ہے کہ عام آدمی کی زندگی روز بروز مشکل ہوتی جا رہی ہے اور بنیادی ضروریات جیسے آٹا‘ چینی‘ بجلی‘ گیس اور پٹرول خریدنا بھی عوام کیلئے ممکن نہیں رہا۔ ورلڈ بینک کی آج ہی سامنے آنے والی تازہ ترین اکنامک اَپ ڈیٹ رپورٹ کے مطابق پاکستان‘ افغانستان‘ مشرقِ وسطی اور شمالی افریقہ پر مشتمل خطے میں روزانہ تین ڈالر سے کم آمدنی پر زندگی گزارنے والے انتہائی غریب افراد میں تقریباً 48فیصد پاکستان میں مقیم ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خطے میں تنازعات‘ معاشی بحران‘ بلند افراطِ زر اور اشیائے ضروریہ کی بڑھتی قیمتوں نے عوام کے ذرائع معاش کو شدید متاثر کیا ہے۔سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو جو شدید نقصان پہنچا ہے وہ اس پر مستزاد۔ یہ سارے بحران محض وقتی یا عالمی حالات کا نتیجہ نہیں بلکہ دہائیوں سے نافذ پالیسیوں کی ناکامی‘ بد عنوانی‘ ادارہ جاتی کمزوری اور فیصلہ سازی میں تسلسل کی کمی کا  نتیجہ ہے۔ دہائیوں سے جاری غلط پالیسیوں‘ کرپشن‘ غیر منصفانہ نظام‘ قرضوں پر انحصار اور پیداوار میں کمی نے معیشت کو  کمزور بلکہ کھوکھلا کر کے رکھ دیا ہے۔ مالیاتی بد انتظامی ان بحرانوں کو مزید گہرا اور شدید بنا رہی ہے۔ پاکستان کی صنعت اور معیشت درآمدی مواد پر انحصار کرتی ہے‘ اس لیے ان کے پیداواری اخراجات نہایت زیادہ ہیں؛ چنانچہ جو پروڈکٹس تیار ہوتی ہیں وہ قیمتوں کے تناظر میں عالمی منڈی میں موجود ویسی ہی دوسری پروڈکٹس کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری درآمدات مسلسل بڑھ رہی ہیں جبکہ برآمدات کا گراف اتنی ہی تیزی سے نیچے جا رہا ہے۔سیاسی عدم استحکام اور پالیسیوں کے عدم تسلسل کی وجہ سے بھی مالی مسائل اور بحرانوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پالیسیوں کا عدم تسلسل اس لیے ہے کہ جب بھی کوئی نئی حکومت برسر اقتدار آتی ہے تو وہ گزشتہ حکومت کی پالیسیوں میں تھوڑا بہت ردوبدل کر کے اسے اپنی پالیسیوں کے مطابق بنانے کے بجائے ان پالیسیوں کو یکسر تبدیل کر دیتی اور اپنی نئی پالیسیوں کو نافذ کر دیتی ہے۔ ہر نئی حکومت پچھلی حکومت کے منصوبوں کو ترک کر کے نئی پالیسیاں متعارف کرواتی ہے‘ جس سے معیشت میں غیر یقینی کیفیت پیدا ہوتی ہے اور سرمایہ کار اعتماد کھو بیٹھتے ہیں۔ بیرونی سرمایہ کاری رک جاتی ہے اور کاروباری طبقہ مستقبل کے خدشات سے پریشان ہو کر اپنی سرگرمیاں محدود کر دیتا ہے۔ اب بھی لوگ سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں‘ بیرون ملک سے بھی سرمایہ کار آ کر یہاں سرمایہ لگا سکتے ہیں لیکن محض غیر یقینی سیاسی صورتحال کی وجہ سے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں کہ سیاسی حالات یقینی ہوں تو وہ اپنے منصوبوں پر عمل درآمد کے بارے میں سوچیں۔توانائی کا بحران سب بحرانوں کا باپ ثابت ہوا ہے۔ بجلی کی لوڈ شیڈنگ‘ قدرتی گیس کے ذخائر میں کمی اور پٹرولیم مصنوعات  کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر ردوبدل نے بھی معاشی ترقی کے حکومتی دعوؤں کی حقیقت نمایاں کر دی ہے۔ مہنگی بجلی کی وجہ سے صنعتوں کی پیداواری لاگت بڑھ گئی ہے جس کی وجہ سے برآمدات کم ہو رہی ہیں۔ توانائی کے سیکٹر میں کپیسٹی پیمنٹس اور ہر سال جمع ہو جانے والے گردشی قرضوں نے بھی قومی معاشی مسائل میں اضافہ کرنے اور غربت کی شرح بڑھانے میں کردار ادا کیا ہے۔ بجلی پیدا ہو نہیں رہی‘ شارٹ فال کا سامنا ہے لیکن لوگوں سے کپیسٹی پیمنٹس کی رقوم مسلسل نکلوائی جا رہی ہیں۔ رہی سہی کسر ہر محکمے اور زندگی کے ہر شعبے میں پھیلی بدعنوانی نے پوری کر دی ہے۔ سرکاری محکموں میں بیٹھے بابوؤں کے ہاتھوں عام آدمی کے اس استحصال نے معاشی معاملات کو مزید دگرگوں بنا دیا ہے۔ میرے خیال میں ان بحرانوں پر قابو پائے بغیر ملکی معیشت کے استحکام کے دعوے درست نہیں ہو سکتے۔ بحران در بحران کا سلسلہ جاری رہے گا تو پھر آئی ایم ایف کی جانب سے حکم پر حکم کا معاملہ بھی روکا نہیں جا سکے گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_58350786.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ملک گیر جماعت یا صوبائی جماعت؟(سعود عثمانی )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-10-08/52806/26641362</link><pubDate>Thu, 08 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-10-08/52806/26641362</guid><description>میرے مرحوم والد گرامی جناب زکی کیفی برسوں تک سیاسی‘ سماجی و معاشرتی مسائل پر اخباری قطعات لکھتے رہے جو اَب کتابی شکل میں بھی شائع ہو چکے ہیں۔ یہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کی ایک اہم دستاویز ہے۔ حالیہ لانگ مارچ کے حوالے سے ان میں سے ایک قطعہ تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ یاد آ رہا ہے۔بیٹھتا ہے یہ ا ونٹ کس کروٹ؍ اپنی گردن ابھار کر دیکھوحال کیا لانگ مارچ کا ہو گا؍ اور کچھ انتظار کر دیکھومذاکرات ناکام ہو چکے اور تحریک انصاف کا لانگ مارچ شروع ہو چکا۔ دونوں فریق میز سے اُٹھ کر اپنے اپنے مورچوں میں جا بیٹھے اور اب بات چیت کی نہیں مقابلے کی حکمت عملی اور اقدامات طے ہو رہے ہیں۔ تادم تحریر لانگ مارچ کوہاٹ سے پشاور کی طرف رواں دواں ہے۔ بین الاقوامی میڈیا کے مطابق ابتدائی طور پر پانچ ہزار افراد لانگ مارچ میں شامل تھے۔ میڈیا اور سوشل میڈیا پر بھی نفسیاتی اثرات کیلئے سرگرمیاں شروع ہیں۔ تحریک انصاف کو لاکھوں افراد کی شرکت متوقع ہے لیکن لانگ مارچ میں بالآخر کتنے افراد شامل ہوتے ہیں‘ وہ اسلام آباد پہنچنے سے پہلے ہی بکھر جاتا ہے یا حکومت کو بکھیر کر دارالحکومت کے دل تک پہنچتا ہے‘ یہ چند دن بعد ہی واضح ہو سکے گا۔ اسی دوران حزبِ اختلاف کُل جماعتی کانفرنس کی تجویز پر بھی مشورے کر رہی ہے اور مولانا فضل الرحمن کی پریس کانفرنس میں حزبِ اختلاف کی بڑی شخصیات ان کے دائیں بائیں کھڑی تھیں۔ گویا سب دروازے ابھی بند نہیں ہوئے‘ اور یہ اچھی بات ہے۔ماضی میں علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی وغیرہ کی قیادت میں اسلام آباد پہنچنے والی احتجاجی ریلیاں اور مارچ اتنے مؤثر نہیں تھے کہ اپنے مطالبات منوا سکیں۔ ایسے ہر قدم کے بعد پی ٹی آئی مزید اختلافات کا شکار ہوئی۔ سابق وزیراعلیٰ پرمخالفین سے ملے ہونے کے الزامات بھی لگتے رہے اور پارٹی کی جانب سے ان کی بطور وزیراعلیٰ معزولی نے ان باتوں کو تقویت پہنچائی۔ سہیل آفریدی پر اس طرح کا کوئی الزام نہیں ہے۔ انہیں جارحانہ کردار سونپا گیا تھا اور وہ یہی ادا کررہے ہیں‘ لیکن ان کی اب تک ساری احتجاجی سیاست‘ خاص طور پر پنجاب اور سندھ کے دورے کوئی خاص ہلچل نہیں مچا سکے۔ عمران خان کی گرفتاری کے بعد سے اب تک تحریک انصاف کے فیصلے اب ایک بڑا سوال سامنے لائے ہیں‘ اور وہ یہ کہ کیا پی ٹی آئی ملک گیر مقبول جماعت کے مرتبے سے اُتر کر ایک صوبائی جماعت بننے جا رہی ہے؟ کیا پی ٹی آئی پیپلز پارٹی کی طرح ایک گوشے میں سمٹ جائے گی اور آئندہ اس کی سیاست کا دارو مدار خیبر پختونخوا پر رہ جائے گا؟ پی ٹی آئی کے رہنمائوں کے پیش نظر یہ ضرور ہو گا کہ کے پی میں وہ اکلوتی سیاسی طاقت نہیں‘ جمعیت علمائے اسلام کافی بڑا حلقہ رکھتی ہے اور کے پی کے جو اپنی بنیاد میں مذہبی فکر رکھتا ہے‘ تحریک انصاف وہاں کب تک اور کتنے علاقوں میں اپنی گرفت مضبوط رکھ سکتی ہے۔اگرچہ یہ افسوس کی بات ہے لیکن روز بروز یہ واضح ہو رہا ہے کہ تحریک انصاف ملک گیر سے علاقائی جماعت بنتی جا رہی ہے۔ اس میں کیا شک ہے کہ خان صاحب ہر دلعزیزی اور ملک گیر مقبولیت میں پہلے نمبر پر ہیں۔ ان سے محبت کرنے والے اور نظریے سے متفق لوگ پورے ملک میں ہیں۔ انہیں 2024ء کے انتخاب میں ہر صوبے سے بہت بڑی تعداد میں ووٹ پڑے تھے لیکن پی ٹی آئی کی احتجاجی تحریک کا اثر دیگر صوبوں میں نہ ہونے کے برابر ہے۔ لانگ مارچ ہی کو دیکھ لیجیے۔ اصولاً اس کیلئے قافلے پنجاب‘ سندھ اور بلوچستان کے اہم شہروں سے بھی اسلام آباد کی طرف نکلنے چاہئیں تھے لیکن ایسا ہوا نہیں۔ خود کے پی میں بھی زیادہ جوش وخروش نظر نہیں آ رہا۔انتظامیہ کی بندشیں‘ پکڑ دھکڑ اور دیگر صوبوں میں مخالف حکومتوں کا ہونا اہم وجوہات سہی لیکن عملی طور پر پی ٹی آئی کے کارکنوں کو یہ سرگرمیاں صرف ایک صوبے تک نظر آتی ہیں تو وہ مایوسی کا شکار ہوتے ہیں۔میں پی ٹی آئی کی مخالف کسی جماعت کے بارے میں خوش فہمی یا غلط فہمی کا شکار نہیں ہوں لیکن یہ اپنی جگہ حقیقت ہے کہ یہ جماعتیں تحریک انصاف سے کم مقبول ہوتے ہوئے بھی اپنے قدم جمائے ہوئے ہیں‘ جبکہ پی ٹی آئی کے بارے میں ہر وقت اندیشہ رہتا ہے کہ کب اس کے قدم اکھڑ جائیں۔ کئی سیاسی عناصر ساتھ ملانے کے باوجود پی ٹی آئی اگر کمزور نظر آ رہی ہے تو اسے اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ بنیادی کمزوری یہ ہے کہ اس کا ہر فیصلہ اور ہر قدم عمران خان کے فیصلے کے گرد گھومتا ہے اور خان صاحب سے اسیری میں مشاورت ممکن نہیں۔ مشاورت کیا‘ اب تو ملاقات ہی کے لالے پڑے ہیں۔ محمود خان اچکزئی‘ علامہ راجا ناصر عباس‘ بیرسٹر گوہر علی خان اور بیرسٹر سلمان اکرم راجا کی موجودگی میں ایک فیصلہ ساز کمیٹی ہونی چاہیے اور شاید ہے بھی۔ لیکن اہم فیصلوں کا حتمی اختیار اس کے پاس نہیں ہے۔حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کے باعث لانگ مارچ کو ایک ہفتے کیلئے مؤخر کیا گیا تھا لیکن بنیادی اختلافات دور نہ ہو سکے اور بالآخر مارچ کا آغاز ہو گیا۔ حسبِ روایت فریقین نے مذاکرات کی ناکامی پر ایک دوسرے کو موردِ الزام ٹھہرایا۔ کیا سچ ہے کیا جھوٹ‘ یہ الگ معاملہ ہے۔ لیکن اب آگے کیا ہے؟ ہر ذہن میں اس وقت کچھ بڑے سوال ہیں۔ مثلاً یہ کہ کیا یہ لانگ مارچ اپنے مقاصد حاصل کر سکے گا؟ اس میں کتنے لوگ شریک ہوں گے اور یہ حکومت کیلئے دبائو کا پیغام لائے گا؟ یہ کس حد تک پُرامن اور منظم ہوگا؟ خدانخواستہ یہ لانگ مارچ تصادم اور جانی نقصان پر تو منتج نہیں ہو گا؟ خدا نہ کرے ایسا ہو‘ لیکن ایسی صورت میں کیا لاشوں پر سیاست کا ایک نیا دروازہ کھلے گا؟ یہ سب سوالات سب کے سامنے ہیں۔ ظاہر ہے پی ٹی آئی نے کچھ تو سوچا ہو گا کہ کون سے مطالبات اس طرح پورے ہونے کی توقع کی جا سکتی ہے۔ لانگ مارچ کا بنیادی مقصد حکومت پر دبائو ڈال کر عمران خان کو رہا کرانا ہے‘ کم ازکم درجے میں ان سے ملاقاتوں کا راستہ کھولنا۔ لیکن کیا یہ مقاصد حاصل ہو سکیں گے۔ بلکہ اس سے بھی پہلے یہ سوال کہ کیا پی ٹی آئی ملکی اور غیر ملکی سطح پر ایسا دبائو بنا سکے گی کہ حکومت یہ مطالبہ ماننے پر مجبور ہو جائے۔ اگر لاکھوں افراد اسلام آباد پہنچ جائیں تو یقینا بین الاقوامی میڈیا اس طرف متوجہ ہو گا اور اس کی تفصیلات سفارتکاروں کے ذریعے پوری دنیا تک پہنچیں گی لیکن سابقہ تجربات اور حالیہ تیاریوں کو دیکھتے ہوئے بہت کم امکان نظر آتا ہے کہ یہ قافلے اٹک پار کر سکیں۔ وفاقی اور پنجاب حکومت کے یکجان ہوتے ہوئے بہت مشکل ہے کہ کسی راستے سے لانگ مارچ یا اس کی ٹکڑیاں اسلام آباد پہنچ سکیں۔ اسلام آباد میں اس مارچ کو روکنے کیلئے غیر معمولی انتظامات ہو رہے ہیں۔ اب راستے بند کرنے کا سب سے مؤثر طریقہ کنٹینرز ہیں‘ سو پورا شہر کنٹینرز کی فولادی دیواروں میں محصور ہے۔تحریک انصاف آزمائشی دور سے گزر رہی ہے۔ اس کیلئے بھی یہ مارچ آسان نہیں۔ اگر لانگ مارچ پُرتشدد راہ پر چل پڑتا ہے تو اس کے مضمرات کیا ہوں گے‘ یہ باتیں بھی ہو رہی ہیں کہ لانگ مارچ صوبائی حکومت کے اختتام اور سیاسی جماعت پر پابندی کا آغاز ہو سکتا ہے۔ یہ پی ٹی آئی کا بڑا نقصان ہو گا۔ مجھے نہیں لگتا کہ پی ٹی آئی کیلئے یہ لانگ مارچ کوئی خوشخبری لائے گا۔ اس سے بھی بڑے دکھ کی بات یہ ہو گی کہ پی ٹی آئی ایک ملک گیر جماعت سے صوبائی جماعت بن کر رہ جائے۔ یہی اس کا سب سے بڑا امتحان ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_81278520.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ہمارے فیصلہ ساز(مفتی منیب الرحمٰن )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-10-08/52807/34039095</link><pubDate>Thu, 08 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-10-08/52807/34039095</guid><description>ہم بھی عجب قوم ہیں اور ہمارے مقتدر اور فیصلہ ساز ہم سے بھی زیادہ &#39;&#39;اَعجب العجائب‘‘ (The Wonder of all wonders) ہیں۔ بچپن سے سنتے آ رہے ہیں کہ پاکستان واقعی &#39;&#39;مملکتِ خداداد‘‘ (God Gifted State) ہے کہ پوری قوم اس کی بیخ کَنی میں لگی ہوئی ہے مگر ملک جیسے تیسے چلاجا رہا ہے۔ اس کو عربی میں &#39;&#39;کَیْفَ مَا اتَّفَق‘‘ اور انگریزی میں Contingent کہتے ہیں۔ بقول جناب نصرت جاوید روزانہ سرِ شام ٹی وی چینلوں پر سیاستدان‘ تجزیہ کار‘ ماہرینِ قانون اور اینکر پائوڈر مل کر آ کر بیٹھ جاتے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ آج یہ قوم کے مسائل حل کر کے دم لیں گے اور کل سے ہماری ترقی کا سفر شروع ہو جائے گا۔ مگر اگلے دن منظر پھر وہی ہوتا ہے‘ کچھ بھی بدلا نہیں ہوتا۔ ایک دن محسن نقوی صاحب نے صنعتکاروں اور تاجروں کا کنونشن بلایا اور انہیں خبر دی کہ ملک کا نظام منہدم (Collaps) ہو چکا ہے۔ پھر سوال ہوا کہ آپ اس ڈوبتی کشتی پر کیوں سوار ہیں تو خبر درست کی گئی کہ نظام تو یقیناگزشتہ اسّی سال سے تباہی کا شکار ہے‘ بوسیدہ اور منہدم ہو چکا ہے‘ مگر وزیراعظم سمیت یہ حکومت اپنا دورانیہ پورا کرے گی۔ پھر میڈیا پر رونقیں لگ گئیں‘  بشارت سنائی جانے لگی کہ صوبے تو بن کر رہیں گے‘مقتدر حلقوں نیفیصلہ کر لیاہے‘ وہ اس سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ اس کے بعد سے اب تک تاریخیں آگے پیچھے ہو رہی ہیں‘ کبھی صوبے بنانے کی بات ہوتی ہے اور کبھی انتظامی یونٹ بنانے کی ‘ مگر چِتاونی کا اعادہ کیا جاتا ہے کہ ہونی تو ہو کر رہے گی۔ &#39;&#39;چِتاونی‘‘ سنسکرت کا لفظ ہے‘ اسے اردو میں انتباہ اور &#39;ڈراوے‘ سے تعبیر کر سکتے ہیں۔ عربی میں اسے &#39;&#39;وعید ‘‘ کہتے ہیں۔ہم جیسا معمولی عقل وفہم کا آدمی بھی یہ سمجھتا ہے کہ اس کام کیلئے پارلیمنٹ میں موجود سیاسی جماعتوں کی تائید وحمایت درکار ہو گی‘ خواہ وہ منتخب ہوں یا بقولِ اطہر ہاشمی چُنتخب (جن پر فارم 47 کی پھبتی کسی جاتی ہے)‘ الغرض کوئی نہ کوئی آئینی اور قانونی راستہ اختیار  کرنا پڑے گا۔ آئین کی شقوں کی کوئی نئی توجیہات وتاویلات کرنی پڑیں یا اس کیلئے وفاقی آئینی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑے۔ پس سوچنا پڑتا ہے کہ پوری قوم کو پسِ پردہ تیاری کے بغیر اس تفریق میں مبتلا کرنے اور سوشل میڈیا پر رونق افروز ستاروں کو زحمت دینے کی ضرورت کیا تھی‘ صحیح راستہ اختیار کیا جاتا اور پسِ پردہ تیاری کرکے آخری مرحلے میں اسے منظرِ عام پہ لایا جاتا۔ صدر آصف علی زرداری کا یہی تو کرشمہ ہے کہ 2010ء میں پارلیمنٹ کی آئینی کمیٹی بنی‘ تقریباً سال بھر پسِ پردہ اٹھارہویں ترمیم پر کام ہوا اور کمیٹی کے شرکا سے حلف لیا گیا کہ اس کی کارروائی (Proceedings) کو عوام کے سامنے یا میڈیا پر زیرِ بحث نہیں لایا جائے گا۔ پھر جب یہ کام مکمل ہوا تو پارلیمنٹ نے ایک دن اٹھک بیٹھک کر کے اچانک اٹھارہویں ترمیم کے عنوان سے آئین میں ایک سو ایک ترامیم منظور کر لیں اور کسی کو اس کی ہوا تک نہ لگی۔ جب اٹھارہویں ترمیم پوری طرح فعّال ہوگئی تو پھر اس کے مابعد جھٹکے (Aftershocks) پورے نظام کو محسوس ہونے لگے۔یہی غیر یقینی اور پوری قوم کو ذہنی انتشار میں مبتلا کرنے والا تجربہ خیبر پختونخوا میں تبدیلی کے بارے میں کیا جا رہا ہے۔ پس سوشل میڈیا پر رونق افروز  غیر سرکاری ترجمان صبح وشام ثقہ اور مستند خبریں سناتے ہیں اور پھر ان میں ردّوبدل بھی کرتے رہتے ہیں کہ صدر اور پارلیمنٹ کی منظوری سے آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج لگے گا یا آرٹیکل232 کے تحت ہنگامی حالات کا نفاذ ہوگا یا پی ٹی آئی کے اندر سے تبدیلی لاکر سہیل آفریدی کو فارغ کر دیا جائے گا‘ کیونکہ نہ صرف یہ کہ وہ سلامتی کے اداروں کے ساتھ تعاون نہیں کر رہے‘ بلکہ ملکی دفاع اور سلامتی کے اداروں کو اُن کی بیش بہا قربانیوں کے باوجود اس ساری صورتحال کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں۔ یہ کام برسرِ عام سمندر کی لہروں میں ارتعاش پیدا کیے بغیر پسِ پردہ گفت وشنید سے بآسانی انجام پا سکتا تھا۔ آخرکار ایوانِ صدر میں اجلاس ہوا اور اس پر اتفاق ہوا کہ حتی الامکان گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ سے گریز کیا جائے اور پی ٹی آئی کو اعتماد میں لے کر اور ان کے کم از کم مطالبات کو قبول کر کے کوئی متفقہ صورت نکالی جائے ۔ حکومت اور اپوزیشن کا دو روزہ اجلاس 2 اور 3 اکتوبر کو قومی اسمبلی میں سپیکر کے چیمبر میں سپیکر کے زیر صدارت منعقد ہوا۔الغرض اس سلسلے میں پیپلز پارٹی کا کردار مثبت رہا ہے‘ وہ دوسری سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں نسبتاً جمہوری مزاج رکھتے ہیں‘ تحمل وبرداشت بھی نسبتاً بہتر ہے اور دوسروں پر یلغار کیلئے سوشل میڈیا کے ٹرولرز یعنی اتّہام و الزام اور گالی گلوچ کا لشکر بھی نہیں پال رکھا۔ مگر دریں اثنا کہ حکومت اور پی ٹی آئی کی مذاکراتی کمیٹیاں آپس میں مذاکرات کر رہی تھیں‘ اس میں حکومت کا اولین مطالبہ یہ تھا کہ ریلی کے اعلان کو غیر مشروط طور پر واپس لیا جائے اور اپوزیشن کا مطالبہ یہ تھا کہ خان صاحب سے دو شخصیات کی ملاقات کا اہتمام کیا جائے کہ اچانک وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے ریلی کا اعلان کر دیا اور یہ تاثرپیدا ہوا کہ پی ٹی آئی میں عمران خان کے علاوہ کسی کے پاس حتمی فیصلے کا اختیار نہیں ۔ ہماری دانست میں یہ ملاقات کرا دینی چاہیے تھی‘ زیادہ سے زیادہ یہ ہوتا کہ وہ ریلی کو موقوف کرنے کا مطالبہ نہ مانتے اور یہ کام تو ویسے بھی ہو رہا ہے‘ مگر کم از کم اپوزیشن کی حجت تمام ہو جاتی۔ نیز اگر مذاکرات کی کامیابی اسی پر موقوف تھی تو عمران خان اور ان کی اہلیہ کو ہسپتال میں داخل کر دیا جاتا اور ضروری افراد کو ان تک رسائی دے دی جاتی تاکہ تنائو کم ہو اور کسی حد تک باہمی اعتماد کی فضا قائم ہو۔چونکہ ہمارے دفاع اور قومی سلامتی کے اداروں نے گزشتہ چند برسوں میں بے انتہا قربانیاں دی ہیں‘ زخم سہے ہیں‘ افسروں اور جوانوں کی شہادتیں ہوئی ہیں‘ اس لیے ان کا جذباتی ہونا فطری امر ہے اور قابلِ فہم ہے۔ ان اداروں سے تمام شکایات بجا‘ لیکن چاروں طرف سے دشمنوں کے گھیرے میں رہتے ہوئے ملک کے سلامت رہنے میں ان اداروں کا کردار نہایت قابلِ قدر اور قابلِ تحسین ہے‘ ورنہ فلسطین‘ عراق‘ شام‘ لبنان اور شرقِ اوسط کے تمام ممالک کی صورتحال ہمارے سامنے ہے۔ شرقِ اوسط اور خلیج کے ممالک نے اپنے دفاع کیلئے امریکہ پر بھروسا کیا‘ اس کی غلامی قبول کی‘ اپنا سرمایہ ان کے بینکوں میں جمع کیا‘ ان کی خوشنودی میں حد سے گزر گئے‘ لیکن جب اصل امتحان کا وقت آیا تو امریکہ نے ان کو بے سہارا چھوڑ دیا‘ اڈے خالی کر دیے اور وہ ایران کے رحم وکرم پر رہ گئے۔ اس لیے اب وہ متبادل امکانات کی تلاش میں ہیں؛ چنانچہ &#39;معاہدۂ مکہ‘ اسی کا نتیجہ ہے اور خلیج کے بعض ممالک تو لگتا ہے کہ اسرائیل کی آغوش میں جا رہے ہیں اور ٹرمپ کے جال &#39;ابراہم اکارڈ‘ کا حصہ بن رہے ہیں۔حالیہ 277ویں کورکمانڈر کانفرنس کا اعلامیہ درست ہے کہ دہشت گردی کا مقابلہ پوری قوم کو مل کر کرنا ہوگا اور اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے سلامتی کے اداروں کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا ہوگا‘ کیونکہ ملک میں دہشت گردی کرنے والوں کی کمین گاہیں انہی علاقوں میں ہوتی ہیں‘ وہاں انہیں پناہ بھی ملتی ہے اور معلومات کی فراہمی میں مدد بھی کی جاتی ہے۔ پس اس نیٹ ورک کو توڑنے کیلئے لازم ہے کہ وفاقی وصوبائی حکومتیں اور قومی سلامتی کے ادارے ایک صفحے پر ہوں‘ دوئی کا تاثر پیدا نہ ہو کہ اس سے دشمن کا حوصلہ بڑھتا ہے ۔لازم ہے کہ خیبر پختونخوا میں پولس کو پورے وسائل فراہم کیے جائیں‘ ان میں نقل وحمل کے بہترین ذرائع‘ جدید ترین اسلحہ کی فراہمی اور صوبائی حکومت کی سیاسی وانتظامی پشت پناہی شامل ہے‘ الغرض یہ جماعتی یا صوبائی خلافیات کا مسئلہ نہیں‘ بلکہ پوری قوم کی بقا کا مسئلہ ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_61172381.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>