<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>صائب تجویز(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-15/11633</link><pubDate>Thu, 15 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-15/11633</guid><description>پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے حکومت کو اپوزیشن کے ساتھ دوبارہ مذاکرات شروع کرنے کی تجویز نے ملکی سیاست میں جمود کو توڑنے اور سیاسی ہیجان کو کم کرنے کی امید پیدا کی ہے۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین کا یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک سیاسی محاذ آرائی کی وجہ سے دباؤ کا شکار ہے اور یہ تجویز نہ صرف بروقت ہے بلکہ ملک کو سیاسی بحرانوں کی دلدل سے نکالنے کا واحد منطقی راستہ بھی ہے۔ اگرچہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور اور ایمرجنسی کے نفاذ اور گزشتہ روز دونوں ایوانوں سے اس صدارتی فیصلے کی توثیق سے حکومت اور اپوزیشن بالخصوص پی ٹی آئی کے مابین بڑی خلیج حائل نظر آتی ہے مگر سیاست میں کچھ بھی حرفِ آخر نہیں ہوتا۔ مفاہمت‘ مذاکرات اور بات چیت کی گنجائش ہمیشہ رہتی ہے۔ سیاسی سوجھ بوجھ کا تقاضا یہی ہے کہ جب قومی سلامتی کا معاملہ درپیش ہو تو ذاتی اور سیاسی اَنا کو پسِ پشت ڈال کر وسیع تر قومی مفاد کو اولیت دی جائے اور محاذ آرائی کے بجائے مفاہمت کا راستہ چنا جائے۔ موجودہ صورتحال کا عمیق جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہو تی ہے کہ ملک کے معاشی‘ سماجی اور سکیورٹی مسائل کی سنگینی کی ایک بڑی وجہ سیاسی عدم استحکام ہے۔ کوئی بھی ملک اس وقت تک معاشی اور سماجی طور پر مستحکم نہیں ہو سکتا جب تک وہاں سیاسی ہیجان برپا ہو۔

سرمایہ کار‘ خواہ وہ ملکی ہوں یا غیر ملکی‘ ایسے ماحول میں سرمایے کا تحفظ محسوس نہیں کرتے جہاں سیاسی محاذ آرائی کا ماحول حاوی رہے۔ ایسے ماحول میں حکومت کی توجہ اصل خطرات سے ہٹ کر داخلی سیاسی لڑائیوں پر مرکوز ہو جاتی ہے۔ اس تناظر میں یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کیلئے تمام سیاسی قوتوں کو اپنے اختلافات سے بالاتر ہو کر کام کرنا ہو گا۔ تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان نے ماضی میں دہشت گردی کے خلاف حتمی کامیابی اُس وقت حاصل کی تھی جب دسمبر 2014ء میں آرمی پبلک سکول پشاور کے المناک سانحے کے بعد تمام سیاسی جماعتوں نے اپنے اختلافات کو بھلا کر نیشنل ایکشن پلان کی منظوری دی تھی۔ اسی سیاسی اتفاقِ رائے کا نتیجہ تھا کہ ملک سے دہشت گردوں کے نیٹ ورک کا خاتمہ ممکن ہوا اور سکیورٹی اداروں کو یکسوئی میسر آئی۔ آج جب ملک کو دوبارہ اسی نوعیت کے خطرات اور سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کے علاوہ داخلی سہولت کاری کا بھی سامنا ہے تو اس کا مقابلہ ہمہ جہت حکمت عملی سے کرنا ہو گا جس میں ایک متفقہ سیاسی بیانیہ کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ جب تک اپوزیشن اور حکومت ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوششوں میں مشغول رہیں گے‘ ملک دشمن سیاسی خلا کا فائدہ اٹھاتے رہیں گے۔
دنیا بھر کے جمہوری نظاموں میں معیشت‘ خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی سے متعلق امور پر ایک اتفاقِ رائے اور سیاسی اجماع پایا جاتا ہے۔ پاکستان کو بھی ایسے اتفاقِ رائے اور سیاسی مفاہمت کی ضرورت ہے۔ اگر حکومت اور اپوزیشن مل کر سکیورٹی پالیسی اور معاشی روڈ میپ پر متفق ہو جائیں تو نہ صرف موجودہ پالیسیوں کے نتائج زیادہ مؤثر ثابت ہوں گے بلکہ حکومتی کارکردگی اور فیصلوں کی ساکھ میں بھی اضافہ ہو گا۔ موجودہ دور میں کوئی بھی جماعت تنِ تنہا ملکی چیلنجز سے نہیں نمٹ سکتی‘ سب کو مل کر کام کرنا ہو گا۔ سیاسی ہم آہنگی سے نہ صرف عوام کا جمہوریت پر اعتماد بحال ہو گا بلکہ عالمی برادری کو بھی سیاسی نظام کی مضبوطی اور مالیاتی پالیسیوں کے استقرار کا پیغام جائے گا۔ اس وقت سیاسی درجہ حرارت کو اعتدال میں لانا اپوزیشن کے علاوہ خود حکومت کی بھی بڑی ضرورت ہے۔
اسکے بغیر معاشی اصلاحات کے ثمرات عوام تک نہیں پہنچ سکتے۔ اقتدار کی طاقت حکومت کے پاس ہوتی ہے‘ اسلئے ماحول کو پُرامن بنانے اور بات چیت کی دعوت دینے میں بھی حکومت کو پہل کرنی چاہیے۔ بلاول بھٹو نے دوبارہ مذاکرات کی صائب تجویز دے کر ایک مدبرانہ سیاسی مؤقف اپنایا ہے۔ اب فیصلہ حکومت اور اپوزیشن کو کرنا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>فضائی آلودگی کا مسئلہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-15/11632</link><pubDate>Thu, 15 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-15/11632</guid><description>حالیہ چند ہفتوں کے دوران لاہور متعدد بار دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سر فہرست رہا ہے۔ منگل کے روز بھی ایئر کوالٹی انڈیکس 190پارٹیکیولیٹ میٹر ہونے کی وجہ سے اسے دنیا کا سب سے آلودہ شہر قرار دیا گیا۔پنجاب انوائرمینٹل پروٹیکشن ایجنسی کے آفیشل اے کیو آئی ڈیش بورڈ کے مطابق بدھ کوبھی شہر کا ایئر کوالٹی انڈیکس 189پارٹیکیولیٹ میٹر تھا۔ فضا میں موجود یہ زہریلے ذرات پھیپھڑوں اور خون کی شریانوں میں داخل ہوکر فالج‘ امراضِ قلب‘ پھیپھڑوں کے کینسر اور سانس کے انفیکشن بشمول نمونیا جیسی بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔لیکن فضائی آلودگی سے مسلسل متاثر ہونے کے باوجود لاہور میں گزشتہ چار سال سے میاواکی جنگل کا کوئی نیا منصوبہ شروع نہیں ہو سکا جبکہ اربن فاریسٹ کیلئے مختص مقامات پر بھی شجرکاری نہیں ہو سکی۔ لنگر آف لاہور منصوبے کے تحت راوی کے دونوں اطراف 800 اراضی پر شجرکاری ہونا تھی تاہم اب تک صرف 20 ایکڑ پر پودے لگائے جا سکے ہیں۔

فضائی آلودگی ایسا مسئلہ نہیں جس پر چند دنوں یا ہفتوں میں قابو پایا جا سکے بلکہ اسکے تدارک کیلئے سالہا سال کی محنت درکار ہے جو ہمارے ہاں عنقا ہے۔ ضروری ہے کہ حکومت  فضائی آلودگی کے تدارک کیلئے اپنی کاوشیں مخصوص مہینوں تک محدود کرنے کے بجائے سارا سال اس حوالے سے متحرک رہے۔ اس ضمن میں دھواں چھوڑنے والی صنعتوں اور گاڑیوں کی بندش کیساتھ ساتھ شجر کاری کے فروغ پر بھی توجہ دینی چاہیے‘ ہمہ جہت حکمتِ عملی ہی سے فضائی صورتحال بہتر بنائی جا سکتی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>فنی مہارتوں کی صورتحال(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-15/11631</link><pubDate>Thu, 15 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-15/11631</guid><description>ورلڈ اکنامک فورم کے گلوبل فیوچر لیڈرز کے سالانہ اجلاس میں پیش کردہ کیس سٹڈی کے مطابق پاکستان میں صرف سات فیصد نوجوانوں کو فنی اور پیشہ ورانہ تربیت کے اداروں تک رسائی حاصل ہے ‘جبکہ علاقائی اوسط 22فیصد ہے۔ کیس سٹڈی کے مطابق پاکستان میں 15سے 29سال کی عمر کے تقریباً ایک تہائی نوجوان نہ رسمی تعلیم حاصل کر رہے ہیں‘ نہ کسی فنی تربیتی پروگرام میں شامل ہیں اور نہ ہی برسرِ روزگار ہیں۔ یعنی آبادی کا وہ بڑا حصہ جو ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے‘ حکومتی عدم توجہی کے باعث معاشرے کیلئے بوجھ بنتا جا رہا ہے۔ ملکِ عزیز میں طویل عرصے سے کامیابی کو صرف ڈگری کے حصول سے جوڑا جاتا رہا ہے جبکہ صنعت‘ تجارت اور جدید خدمات کے شعبوں کو پس پشت ڈال دیا جاتا ہے‘ حالانکہ ان شعبوں میں بھی باصلاحیت افرادی قوت درکار ہوتی ہے لیکن انہیں مطلوبہ مہارتوں کے حامل کارکن میسر نہیں آتے۔

حکومت کو چاہیے کہ فنی اور پیشہ ورانہ تعلیم کو قومی تعلیمی و معاشی پالیسی کا بنیادی حصہ بنائے۔ ہر ضلع میں مقامی صنعتوں اور روزگار کی ضروریات کے مطابق جدید تربیتی مراکز قائم کیے جائیں۔ اسی طرح نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت‘ کمپیوٹر پروگرامنگ اور سائبر سکیورٹی سے متعلق مہارتیں سکھانا بھی ضروری ہے تاکہ نوجوان معاشرے پر بوجھ بننے کے بجائے ملک کی معاشی طاقت بن سکیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مخمل میں ٹاٹ کا پیوند(محمد اظہارالحق)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-10-15/52844/71444402</link><pubDate>Thu, 15 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-10-15/52844/71444402</guid><description>مکان ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے تھے۔ انہی مکانوں میں ایک خاتون اپنے کنبے کے ساتھ رہتی تھی۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ! سی ایس ایس کرنے کے بعد اچھے باعزت منصب پر فائز۔ کبھی کبھی رات کو اس کے گھر سے چیخوں کی آواز آتی تھی۔ جیسے کوئی کسی مصیبت میں گرفتار ہو۔ ساتھ اونچی آواز میں گالیوں کی آواز آتی۔ یہ چیخیں اس خاتون کی تھیں اور گالیاں اس کا شوہر نکالتا۔ اسے اعتراض تھا کہ فون کیوں آتے ہیں؟ کل دفتر دیر تک کیوں بیٹھی رہیں؟ فائلیں گھر کیوں لاتی ہو؟ پی اے  گھر کیوں آتا ہے؟ ڈرائیور سے کیا بات کر رہی تھیں؟ آپ کا کیا خیال ہے ایسا کیوں ہو رہا تھا؟ اس لیے کہ شوہر نیم تعلیم یافتہ تھا۔ معمولی سا کاروبار کرتا تھا۔ اس کا اٹھنا بیٹھنا جن لوگوں کے ساتھ تھا ان میں کوئی دکاندار تھا۔ کوئی کار ڈیلر تھا۔ کوئی ٹیکسی ڈرائیور تھا۔ دکاندار‘ یا کار ڈیلر‘ یا ٹیکسی ڈرائیور ہونا کوئی جرم نہیں مگر اسے یہ حق نہیں دیا جا سکتا کہ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون کو  زدو کوب کرے۔ تاہم دلچسپ اور افسوسناک حقیقت یہ تھی کہ یہ حق اس مرد کو‘ غیر اعلانیہ طور پر‘ خاتون کے ماں باپ نے دیا تھا کیونکہ وہ اپنی ذات سے باہر بیٹی کی شادی نہیں کرنا چاہتے تھے اور ذات کے اندر یہی مرد میسر تھا۔مدتوں پہلے کا یہ واقعہ دو ہفتے پہلے یاد آیا جب یہ خبر پڑھی کہ ایک بڑے شہر کی‘ ایڈمنسٹریٹر‘ خاتون افسر پر اس کے میاں نے شدید تشدد کیا‘ موبائل فون چھین لیا‘ اسے غیر قانونی حراست میں رکھا اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں۔ بالآخر خاتون کو قانون کی مدد لینا پڑی۔ ذہن میں پہلا سوال یہ اٹھا کہ اس کا میاں کرتا کیا ہے؟ تعجب ہے کہ میڈیا میں سے اکثریت نے یہ معلوم کرنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ صرف ایک جگہ یہ نظر آیا کہ شوہر پراپرٹی ڈیلر ہے۔ اب یہ معلوم نہیں کہ یہ شادی والدین نے زبردستی ذات برادری کی بنیاد پر کی یا کسی اور بنیاد پر کی گئی۔ ذات برادری کے اندر شادی کرنے والوں کو جب یہ سمجھایا جاتا ہے کہ مرد کی تعلیم یا پیشہ بھی دیکھو تو جواب ملتا ہے کہ شادی اپنے &#39;&#39;کفو‘‘ کے اندر کرنے کا کہا گیا ہے اور کفو سے مراد ذات برادری ہے۔ نرم ترین لفظوں میں بھی اس جواب کو بدترین لاعلمی ہی کہا جا سکتا ہے۔ کہیں بھی نہیں لکھا گیا یا کہا گیا کہ کفو کا مطلب ذات برادری ہے۔ فقہا نے کفو میں عام طور پر چھ چیزیں شامل کی ہیں۔ اسلام‘ حریت (یعنی غلام نہ ہو)‘ نسب‘ مال و دولت‘ دینداری اور پیشہ!! شادی کے ضمن میں پیشے کی بہت اہمیت ہے۔ چچا یا ماموں کا بیٹا پراپرٹی ڈیلر ہے یا پوسٹ مین ہے تو اس کی شادی اس خاتون سے کرا دینا جو اسسٹنٹ کمشنر ہے یا جج ہے یا پروفیسر ہے‘ ظلم کے علاوہ کچھ نہیں! کفو کا لفظی معنی برابر یا ہمسر ہے۔ یعنی مرد کی عورت کے ساتھ مناسبت‘ ہم آہنگی‘ مطابقت‘ موزونیت اور سازگاری (Compatibility) ہو۔ اَن پڑھ لڑکے کی شادی ڈاکٹر لڑکی کے ساتھ یہ کہہ کر کر دی جاتی ہے کہ &#39;&#39;گھر کی لڑکی ہے‘ گھر ہی میں رہے گی‘‘۔ یہ جہالت ہے اور ظلم! میں ایک ایسی خاتون کو جانتا ہوں جو پی ایچ ڈی ہے اور میاں چِٹا اَن پڑھ! خاتون کا ناول شائع ہو کر آیا  تو شوہر نے سارے نسخے نذرِ آتش کر دیے۔ اَن پڑھ یا نیم تعلیم یافتہ یا رتبے میں کمتر شوہر شدید احساسِ کمتری کا شکار ہوتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ شک کرتا ہے۔ حسد کا شکار ہو جاتا ہے۔ تب اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ مرد ہے اور عورت سے برتر! اپنے آپ کو برتر ثابت کرنے کے لیے وہ بیوی کو مارتا پیٹتا ہے۔ اس سے فون چھینتا ہے۔ کبھی اسے میکے نہیں جانے دیتا۔ کبھی گھر میں نظر بند کر دیتا ہے۔ کبھی خاتون کے ماتحتوں کے سامنے خاتون کی بے عزتی کرتا ہے۔ افسوس ہے کہ ہمارے معاشرے میں ایسی بے جوڑ اور احمقانہ شادیوں کی کمی نہیں! میں کچھ سال ایک ایلیٹ کلب کی کمیٹی کا رکن رہا۔ اس کمیٹی کا کام یہ تھا کہ ان امیدواروں کا انٹرویو کرے جو کلب کی ممبرشپ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ انٹرویو میں میاں بیوی دونوں کو پیش ہونا ہوتا تھا۔ یہ ایک عجیب و غریب تجربہ تھا۔ ایسے ایسے جوڑے دیکھے جن میں ایک اور دس کا نہیں‘ ایک اور پچاس کا فرق تھا۔ عورت ماہر امراضِ چشم ہے تو میاں پراپرٹی ڈیلر۔ بیوی فُل پروفیسر ہے تو میاں میٹرک پاس۔ بیوی پی ایچ ڈی ہے تو شوہر کی جوتوں کی معمولی سی دکان! ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون کے میاں نے بیٹھتے ہی کہا کہ یہ جس زمین پر آپ کا کلب ہے یہ ساری زمین ہماری تھی۔ موصوف کی قمیص کے بٹن آگے سے کھلے تھے اور ہاتھ میں مہنگے سگریٹوں کی ڈبی تھی۔ وہ تو اچھا ہوا کہ انہوں نے بیٹھتے ہی سگریٹ سلگانے کے لیے ماچس نہ مانگی! یہ کیسے والدین ہیں جو اپنی بیٹیوں کو پہلے اعلیٰ تعلیم دلاتے ہیں اور پھر انہیں اُن مردوں کے ساتھ باندھ دیتے ہیں جن کے ساتھ ان کا پیشہ مناسبت رکھتا ہے نہ مزاج نہ ماحول!!عام طور پر سروس سیکٹر اور بزنس سیکٹر کے درمیان بھی شادیاں بے جوڑ ثابت ہوتی ہیں۔ تنخواہ دار طبقے اور کاروباری طبقے کی نفسیات‘ رہن سہن اور ماحول میں بہت بڑا فرق ہوتا ہے۔ ایسا نہیں کہ سو فیصد شادیاں ان دو طبقوں کے درمیان ناکام رہتی ہیں۔ کچھ کامیاب بھی رہتی ہیں۔ مگر زیادہ تر بے جوڑ رہتی ہیں۔ میں ایک بار اپنے ایک دوست کے پاس بیٹھا تھا جو انکم ٹیکس کمشنر تھا۔ شہر کا ایک انتہائی متمول بزنس مین اس کے سامنے پیش ہوا۔ میں اسے جانتا تھا۔ اس نے میلا‘ کم حیثیت لباس پہنا ہوا تھا۔ شاید جان بوجھ کر کہ اسے غریب سمجھا جائے۔ سرکاری ملازم یا کارپوریٹ سیکٹر میں کام کرنے والا شخص ایسا کبھی نہیں کرے گا۔ وہ ایسے موقع پر‘ یا کسی بھی موقع پر‘ باعزت اور متاثر کن لباس پہنے گا۔ پاکستان میں فرقہ بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ بین المسالک شادی ممنوع نہیں‘ ہو جاتی ہے اور بالکل ہو جاتی ہے۔ مگر روزانہ کے مسائل تلخی پیدا کرتے رہتے ہیں۔ ایک صاحب کی‘ جنہیں میں جانتا ہوں‘ بیٹی کی شادی بریلوی خاندان میں ہوئی‘ جبکہ لڑکی کا فرقہ مختلف تھا۔ لڑکے والوں کے پیر صاحب تشریف لائے۔ لڑکی نے ان کے سامنے جانے سے انکار کر دیا۔ اور بھی کئی مسائل پیش آئے جن کا اندازہ آپ آسانی سے لگا سکتے ہیں۔ کچھ ہی عرصہ گزرا تھا کہ لڑکی واپس میکے آ گئی اور دوبارہ جانے سے انکار کر دیا۔ یاد رکھیے‘ کوئی کسی کے لیے اپنا عقیدہ بدلتا ہے نہ سیاسی رجحان! بچے الگ خوار ہوتے ہیں۔ شادی کرتے وقت یہ بھی سوچنا چاہیے کہ دس پندرہ سال بعد صورتِ حال کیا ہو گی۔ اہلِ کتاب کے ساتھ شادی جائز ہے۔ ایسی لا تعداد مثالیں موجود ہیں کہ مغربی ملک میں شادی تو پاکستانی یا کسی دوسرے ملک کے مسلمان نے سفید فام عورت سے کر لی۔ بچے بڑے ہوتے ہیں تو تب تک محبت کی چربی آنکھوں کے آگے سے ہٹ جاتی ہے۔ بچہ چرچ اور مسجد کے درمیان گھسیٹا جاتا ہے۔ باپ بچوں کو لے کر چپکے سے وطن واپس بھاگ آتا ہے۔ پیچھے پیچھے ماں بھی آ جاتی ہے۔ عدالتوں میں مقدمہ بازی ہوتی ہے۔ متعلقہ سفارت خانہ بھی درمیان میں کود پڑتا ہے۔ زیادہ تر فتح ماں کی ہوتی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_57182973.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>جمہوری خزاں اور بشیر کا گھر(خالد مسعود خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-10-15/52845/69381730</link><pubDate>Thu, 15 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-10-15/52845/69381730</guid><description>خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی لگنے کے فوراً بعد اسلام آباد میں لگے ہوئے رکاوٹی کنٹینر ہٹنا شروع ہو گئے۔ بظاہر گورنر راج اور ایمرجنسی کے پی میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور صوبائی حکومت کی طرف سے اس کے سدباب کیلئے مناسب اور ضروری اقدامات نہ کرنے کے الزامات پر لگائی گئی ہے۔ تاہم ان دونوں اقدامات کا نتیجہ کے پی میں جاری دہشت گردی کے خلاف فوری مؤثر اقدامات کے بجائے اسلام آباد سے کنٹینر اٹھوا کر نکل رہا ہے۔ چند روز قبل دہلی میں کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج کے نتیجے میں 250 ٹرینیں منسوخ ہونے اور 57 میٹرو سٹیشن بند ہونے کی خبر ہمارے اخبارات میں جلی سرخیوں کی صورت میں شائع ہوئی۔ تاہم اس دوران کہیں کوئی خبر‘ علاوہ سوشل میڈیا کے‘ جو ظاہر ہے حقیقت کے بجائے خواہشات کے تابع چلنے والا فورم ہے‘ نہیں ملی کہ لانگ مارچ کے حوالے سے اسلام آباد میں کیا صورتحال ہے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے ملنے والی یہ خبریں بھی کسی طور قابلِ اعتماد نہیں کہ اس کو لگانے والوں کا ایک خاص مائنڈ سیٹ اور مقصد ہے۔ تاہم اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ عوام کو نہ تو میڈیا کے ذریعے صورتحال سے آگاہی ہو رہی ہے اور نہ ہی سوشل میڈیا کے ذریعے ۔ ایسے میں معلومات کا ذریعہ سوائے افواہوں کے اور کچھ نہیں۔ ہمیں اس بات کی فکر نہیں کہ اسلام آباد میں آمد و رفت کھلی ہوئی ہے یا بند ہے‘ ریڈ زون میں داخلہ ممکن ہے یا نہیں‘ موٹر وے پر ٹریفک رواں دواں ہے یا رکاوٹیں ہیں لیکن ہمیں یہ جان کر بڑی خوشی اور اطمینان محسوس ہو رہا ہے کہ دہلی میں کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج چل رہا ہے‘ ٹرینیں منسوخ ہو رہی ہیں اور میٹرو سٹیشن بند ہو رہے ہیں۔ ہم  وہ لوگ ہیں جنہیں امتحان میں اپنے فیل ہو جانے کا رتی برابر غم نہیں ہوتا لیکن دوسروں کے فیل ہو جانے پر جشن منانے کی پڑی ہوتی ہے۔میرا مسئلہ یہ ہے کہ میں سوشل میڈیا پر نہیں ہوں۔ نہ فیس بک پر‘ نہ ٹویٹر پر اور نہ ہی انسٹاگرام وغیرہ پر۔ میرے نزدیک کوالٹی آف لائف کا تصور محض کوٹھی‘ بنگلہ‘ کار اور دولت کا لامحدود حصول نہیں ہے۔ یہ چیزیں ایک حد میں رہتے ہوئے زندگی گزارنے کیلئے بلا شبہ ضروری ہیں اور ہر شخص کو بہرحال یہ حد ضرور مقرر کرنی چاہیے‘ بصورت دیگر زندگی خواہشات کی ایسی دوڑ بن جاتی ہے جس کی کوئی حد نہیں اور اس کا اختتام دنیا سے دونوں ہاتھ خالی جانے پر ہوتا ہے۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حضرت عبداللہ بن عباسؓ روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا &#39;&#39;اگر انسان کیلئے سونے کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری تلاش کرتا ہے‘ اور انسان کے پیٹ کو صرف (قبر کی) مٹی ہی بھرے گی‘ اور اللہ توبہ کرنے والے شخص کی توبہ قبول فرماتا ہے‘‘۔ بات کوالٹی آف لائف کی ہو رہی تھی۔ میرے نزدیک کوالٹی آف لائف یہ ہے کہ آپ کی بنیادی اور جائز ضروریات پوری ہو رہی ہوں اور آپ زندگی کو ویسے گزار رہے ہوں جیسی آپ گزارنا چاہتے ہیں تو اس سے بہتر دنیاوی زندگی کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔  میرے مالک کا شکر ہے کہ میں اس کی مہربانی کے طفیل زندگی اسی طرح گزار رہا ہوں جیسی گزارنا چاہتا ہوں اور اس آسودہ زندگی میں سوشل میڈیا کی کوئی گنجائش نہیں۔ آج کی صورتحال کے تناظر میں یہ بات درست ہے کہ میڈیا میں ہمیں بہت سے حقائق بارے سچ نہیں ملتا‘ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سوشل میڈیا پر جتنا جھوٹ ملتا ہے اس کی بھی کوئی حد نہیں ہے۔ اگر پرنٹ میڈیا میں مکمل سچ سے آگاہی نہیں ہو پا رہی تو کم از کم جھوٹ بھی نہیں مل رہا۔ دوسری طرف سوشل میڈیا جھوٹ کا ایسا پہاڑ ہے جس میں سے سچائی تلاش کرنا بھُس کے ڈھیر سے سوئی تلاش کرنے کے مترادف ہے۔ پاکستان کے موسم اور سیاسی تاریخ میں کافی حد تک مماثلت پائی جاتی ہے۔ یہاں خزاں کا موسم جمہوریت کیلئے بھی پت جھڑ کا موسم ثابت ہوتا ہے۔ اکتوبر ہمارے یہاں موسمِ خزاں کا پیغام لے کر آتا ہے۔ فارسی میں اسے برگ ریز کہتے ہیں یعنی پت جھڑ۔ ہمارے ہاں درختوں اور جمہوریت کی پت جھڑ میں مماثلت کے چند واقعات درج ذیل ہیں۔24اکتوبر 1954ء: ملک غلام محمد نے ملک میں ہنگامی حالت نافذ کر دی۔ 14اکتوبر 1955ء: ون یونٹ کا نظام نافذ العمل ہوا۔ 11اکتوبر 1957ء: حسین شہید سہروردی کو وزارتِ عظمیٰ سے مستعفی ہونے پر مجبور کر دیا گیا۔ 7اکتوبر 1958ء: اسکندر مرزا نے آئین منسوخ کرکے مارشل لاء نافذ کر دیا۔ 27 اکتوبر 1958ء: ایوب خان نے اسکندر مرزا کو اقتدار سے بے دخل کر دیا۔ 30اکتوبر 1998ء: سندھ میں گورنر راج نافذ کر دیا گیا۔ 12 اکتوبر 1999ء: پرویز مشرف نے کُو کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کر لیا اور اب 11 اکتوبر 2026ء: خیبر پختونخوا میں ہنگامی حالت اور گورنر راج کا نفاذ ہوا ہے۔ تاہم ہمارے دل میں اپنے ارد گرد واقع ممالک میں جمہوریت کی کسمپرسی پر خوشی کے لڈو پھوٹ رہے ہیں۔ ہم جس طرح اپنے گھر کو بھول کر دوسروں کے گھروں میں ہونے والی خرابیوں پر جشن ِطرب مناتے ہیں اس پر ایک واقعہ یاد آ گیا جو ایک دوست نے سنایا تھا۔ اس نے بتایا کہ برمنگھم میں ایک پاکستانی کا چچازاد بھائی اسے ملنے کیلئے پاکستان سے آیا۔ اس کا کزن زندگی میں پہلی بار ولایت آیا۔ انگلینڈ میں ایک آبادی میں گھروں کی شکل و صورت‘ ہیئت اور تعمیر تقریباً ایک جیسی ہوتی ہے۔ ایک ہی سائز کے مکان‘ ایک ہی سائز کے دروازے‘ ایک ہی طرح کی کھڑکیاں اور روشن دان‘ جو ایک ہی مقام پر لگے ہوتے ہیں۔ اگر ان گھروں پر لگا ہوا نمبر یاد نہ ہو تو اچھے خاصے واقف شخص کو بھی مطلوبہ مکان ڈھونڈنے میں دقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے کجا کہ وہ بندہ پہلی بار اس علاقے میں آیا ہو۔ ہم فرض کر لیتے ہیں کہ میزبان کا نام بشیر تھا۔ بشیر صاحب صبح اُٹھے اور کام پر جانے سے پہلے انہوں نے اپنے کزن کو کہا کہ وہاں سائیڈ ٹیبل پر کچھ رقم پڑی ہے اور پیچھے دو گلیاں چھوڑ کر ایک بنگالی کی کریانہ شاپ ہے‘ وہاں سے تمہیں چھوٹی موٹی ضرورت کی چیز اور سگریٹ وغیرہ مل جائے گی‘ اگر تمہیں کسی چیز کی ضرورت ہو تو تم وہاں سے جا کر لے لینا‘ میں شام کو آ جاؤں گا۔ دوپہر کو اسے سگریٹ کی طلب ہوئی اور دو گلیاں پیچھے بنگالی کی دکان پر چلا گیا۔ بشیر نے دو گلیاں کہیں تھیں‘ ممکن ہے بنگالی کی دکان تین گلیاں پیچھے ہو۔ بہرحال جب وہ واپس آیا تو مکانوں کی مماثلت نے اسے چکرا دیا۔ مکان کا نمبر اسے یاد نہیں تھا‘ اب وہ پریشان کہ میں کدھر جاؤں۔ مکان کی تلاش میں وہ گلیوں کی ترتیب بھی بھول گیا‘ پہلے مکان کی پریشانی تھی جب گلی بھی بھول گیا تو اس کی پریشانی مزید بڑھ گئی۔ اسے انگریزی بھی نہیں آتی تھی۔ اسی اثنا میں اسے ایک سردار جی آتے ہوئے دکھائی دیے‘ وہ لپک کر ان کے پاس پہنچا اور ان سے پوچھا کہ کیا وہ یہیں رہتے ہیں اور کیا وہ بشیر کو جانتے ہیں۔ وہ اس کا گھر بھول گیا ہے۔ نشے میں ٹُن سردار جی نے اس کے کندھے پر زور سے ہاتھ مارا اور کہا: لو جی! بشیر کو کیوں نہیں جانتا‘ بشیر اپنا بیلی ہے‘ چلو میرے ساتھ۔ مہمان کی جان میں جان آئی‘ وہ سردار جی کے ساتھ چل پڑا۔ اب سردار جی اسے لے کے کبھی ادھر جا رہے ہیں‘ کبھی اُدھر۔ جب پانچ سات منٹ گزرے تو مہمان نے تنگ آ کر کہا کہ سردار جی! اگر آپ کو بشیر کے گھر کا پتا نہیں تو میں کسی اور سے پوچھ لیتا ہوں۔ سردار جی کہنے لگے کہ ابھی میں اپنا گھر تلاش کر رہا ہوں‘ پہلے مجھے اپنا گھر مل جائے ‘ وہاں سے مجھے بشیر کے گھر کا پتا ہے کہ کس طرح جاتے ہیں۔ ہمیں یہ تو علم ہے کہ دوسروں کے ہاں کیا صورتحال ہے لیکن یہ پتا نہیں کہ ہمارے اپنے سامنے کیا ہو رہا ہے۔ سچ یہ ہے کہ فی الوقت ہمیں اپنا گھر مل نہیں رہا اور ہم بشیر کے گھر کی تلاش کے دعویدار ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90500073.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>خاموشی اچھی نہیں(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-10-15/52846/65932759</link><pubDate>Thu, 15 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-10-15/52846/65932759</guid><description>ایک جواں سال بیٹی نے اپنی جان لے لی۔ ایک روشن مستقبل کو مزید روشن کرنے کے لیے‘ اس نے ایک کوشش کی۔ یہ ناکام ہوئی تو وہ دل ہار بیٹھی۔ دل ہاری تو جان بھی ہار گئی۔ معاشرے میں ایک اضطراب ہے۔ اس اضطراب اور بے چینی کی زندگی کتنی ہے؟ایسا پہلی بار نہیں ہوا۔ مختاراں بی بی تو آپ کو یاد ہو گی۔ چلیں‘ اس واقعے کو کچھ برس گزر گئے۔ رانی پور کی فاطمہ کا قصہ تو چند ماہ پہلے کا ہے۔ ایک کم سن بچی ایک پیر کے گھر میں ملازم تھی۔ پیر کی ہوس کا نشانہ بنی۔ پہلے عزت سے گئی‘ پھر جان سے۔ واقعے کی وڈیو موجود ہے۔ مقدمہ عدالت میں پیش ہوا۔ پھر صلح ہوگئی۔ پیر صاحب باعزت طور پر رہا ہو گئے۔ اس وقت بھی اسی طرح شور اٹھا۔ اضطراب پیدا ہوا اور پھر ایک طویل خاموشی۔ ایسی خاموشی جو بالعموم وہاں ہوتی ہے جہاں لوگوں کی یادداشت کھو جائے۔ یادداشت اگر اجتماعی طور پر کھو جائے تو بڑے المیے بھی طاقِ نسیاں کی نذر ہو جاتے ہیں۔یہ واقعات ایک دوسرے سے مختلف ہیں لیکن ان میں ایک مطابقت بھی ہے۔ مختاراں مائی ہو یا فاطمہ‘ ان واقعات کا تعلق خواتین کے حقوق سے ہے‘ معاشرتی اقدار سے ہے اور مذہبی استحصال سے بھی۔ لائبہ کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ اس میں کچھ اور مسائل ہیں۔ وہ‘ جن کا تعلق معاشرے کی اخلاقی حالت سے ہے۔ پھر نئی نسل کے نفسیاتی مسائل ہیں‘ جو اس حادثے کے ذمہ دار ہیں۔ اس لیے یہ واقعات ہمہ جہت تجزیے کے متقاضی ہیں۔ ان واقعات میں جو بات مشترک ہے میں اسی کو نمایاں کرنا چاہتا ہوں۔معاشرہ ایسے واقعات پر جس ردعمل کا اظہار کرتا ہے وہ چند دن سے زیادہ نہیں ہوتا۔ دکھ اور افسوس کے لمحات‘ کوئی تاثر چھوڑ ے بغیر جلد گزرتے ہیں۔ ہم ذہنی اور جذباتی طور پر ایک نئے حادثے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں‘ ان واقعات کو مشیتِ ایزدی جان کر‘ ہم ان پر مطمئن ہو جاتے ہیں۔ مشیتِ خداوندی کا یہ مفہوم‘ ہمارے دین میں تو نہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو جزا وسزا کا تصور بے معنی تھا۔ بیعتِ رضوان جیسے واقعات کو قرآن مجید بیان نہ کرتا۔ اللہ تعالیٰ کے آخری رسولﷺ بھی ایسی خبروں کو خدا کی مرضی قرار دے کر نظر انداز کر دیتے۔ ان واقعات کی یہ تفہیم درست نہیں۔ ہم اکثر فیصلہ کر سکتے ہیں کہ کون سا واقعہ انسانی اعمال کا نتیجہ ہے اور کون سا شامتِ اعمال ہے۔ میں فی الحال بات کو انسانی اعمال سے متعلق رکھنا چاہتا ہوں۔ یہ معاشرے کی عمومی بے حسی کا اظہار ہے۔ کسی معاشرے کا اجتماعی سطح پر انسانی المیوں کے بارے میں بے حس ہو جانا ایک بڑا حادثہ ہے۔ میں اس کے ایک سبب کو بیان کرنا چاہتا ہوں اور پھر اس کے دو نتائج کو۔ میں ماہرِ نفسیات نہیں ہوں۔ اگر نفسیات کا ماہر تجزیہ کرے گا تو وہ اس فہرست کو طویل کر سکتا ہے۔ میرا انحصار تو روز مرہ مشاہدے پر ہے۔ گویا یہ واقعات بعض حوالوں سے اتنے ناطق ہیں کہ ان سے مجھ جیسا ایک عامی بھی نتائج اخذ کر سکتا ہے۔ ایسا کثرتِ واقعات سے ہوتا ہے۔ جب واقعات بڑھ جائیں تو نتائج کا ظہور بھی کثرت کے ساتھ ہوتا ہے۔ اتنی کثرت کہ واقعات کے ساتھ نتائج بھی صاف دکھائی دینے لگتے ہیں۔پہلے ہم سبب کی بات کرتے ہیں۔ جب کسی معاشرے میں گھٹن کا احساس بڑھ جائے تو اس کے دو نتائج متوقع ہوتے ہیں۔ بے حسی اور لاتعلقی یا غصہ اور بغاوت۔ اظہارِ ذات یا اظہارِ رائے‘ ایک فطری جذبہ ہے۔ یہ جذبہ دو طرح سے ظہور کرتا ہے۔ ایک یہ کہ بقا کے فطری مطالبات پورے نہ ہوں تو انسانی وجود کے اندر سے احتجاجی صدائیں اٹھتی ہیں۔ بچہ بھی روتا ہے جب اسے دودھ نہیں ملتا۔ جبلی اور فطری مطالبات پورے نہ ہوں تو آدمی مر جاتا ہے یا نفسیاتی مریض بن جاتا ہے۔ بے حسی موت ہی کی ایک صورت ہے۔ جب انسان گرمی سردی‘ ہجر و وصال‘ خوشی اور غمی کے جذبات سے آزاد ہو جاتا ہے۔ منیر نیازی نے اسے اپنے اسلوب میں بیان کیا ہے:وہ بے حسی ہے مسلسل شکستِ دل سے منیرؔکوئی بچھڑ کے چلا جائے غم نہیں ہوتااسی طرح ہر وقت احتجاج اور شکایت کے موڈ میں رہنا‘ نفسیاتی مرض ہے۔ ناکامی کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا اور ایک شکست کو دائمی شکست سمجھ لینا‘ اسی نفسیاتی مرض کی علامات ہیں۔ یہ مرض بھی اس وقت پیدا ہوتا ہے جب نفسیاتی مطالبات پورے نہیں ہوتے۔ اب اظہارِ ذات اور اظہارِ رائے ایک فطری تقاضا ہے۔ اس کی دو صورتیں ہیں: ایک یہ کہ بنیادی مطالبات کے لیے آواز اٹھانا ممنوع ہو۔ جیسے کوئی اپنی بات کہنا چاہے تو اسے روک دیا جائے۔ یہ ہر آدمی کی ضرورت ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ کسی کو اللہ تعالیٰ نے ایک صلاحیت عطا فرمائی ہو اور وہ اس کا اظہار نہ کر سکے۔ جیسے کوئی پیدائشی موسیقار ہے یا کوئی مصور ہے‘ اب اسے گانے یا تصویر بنانے سے روک دیا جائے۔ معاشرے میں گھٹن اس وقت ہوتی ہے جو ان دونوں یا ان میں سے کسی ایک صورت کا ظہور ہو۔ یہ گھٹن کبھی ریاست پیدا کرتی ہے اور کبھی معاشرہ۔ معاشرے میں پھیلے ہوئے تصورات اظہارِ ذات یا اظہارِ فن کے راستے میں حائل ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح کبھی ریاست بھی زبان بندی کر دیتی ہے۔جب ان دونوں یا ایک صورت میں استمرار ہو اور معاشرہ مسلسل گھٹن کا شکار رہے تو اس کے نتیجے میں دونوں یا ایک رویہ ضرور پیدا ہوتا ہے۔ یا معاشرہ بے حس ہو جاتا یا باغی۔ ایک معاشرے میں ممکن ہے ایک طبقہ بے حس ہو جائے اور دوسرا باغی۔ بے حسی کے نتیجے میں‘ بڑے سے بڑے واقعے پر سماج میں ردعمل نہیں ہوتا۔ اور اگر ہوتا ہے تو قلیل وقت کے لیے۔ آہستہ آہستہ وہ وقت آ جاتا ہے کہ لوگ بُری باتوں کو بھی معمول کا واقعہ سمجھ کر قبول کر لیتے ہیں۔ اسی کو بیان کرتے ہوئے‘ اقبال نے کہا تھا کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر۔ یہ وہی کیفیت ہے کہ کچھ نہ کہنے سے بھی چھن جاتا ہے اعجازِ سخن۔ اس کے نتیجے میں آہستہ آہستہ سماج بانجھ ہو جاتا ہے‘ فنون مر جاتے ہیں اور علم کا ارتقا رک جاتا ہے۔ بڑے دماغ دوسرے معاشروں کو ہجرت کر جاتے ہیں اور پیچھے بونے رہ جاتے ہیں۔ اکثریت بغاوت پر آمادہ ہو جائے تو انارکی پھیلتی ہے۔ اسے ہم انقلاب کہتے ہیں۔ لوگ ایک دوسرے کے گلے کاٹتے ہیں۔ سیاسی نظم درہم برہم ہو جاتا ہے۔ پھر لوگ &#39;الف‘ کا غصہ &#39;ب‘ پر نکالتے ہیں۔ ریاست جبر سے امن قائم کرنا چاہتی ہے۔ اس سے امن تو آ جاتا ہے مگر قبرستان والا۔ یا پھر وہ سکوت جو زلزلے سے پہلے دکھائی دیتا ہے۔اگر آج رانی پور کی فاطمہ ہماری یادداشت میں تادیر قیام نہیں کرتی یا لائبہ کا ذکر ہفتے عشرے میں قصہ پارینہ بن جاتا ہے تو پھر سمجھ لینا چاہیے کہ بے حسی نے ہمارے گھروں کا رخ کر لیا ہے۔ یہ ایک قومی المیے کا اعلان ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ زندگی کے آثار کم ہو رہے ہیں۔ اگرہم معاشرے کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں لوگوں کو سانس لینے کا موقع دینا ہو گا۔ انہیں اظہار کا موقع دینا ہو گا۔ ریاست اور سماج‘ دونوں کو اپنی اداؤں پر غور کرنا ہو گا۔ ریاست کی نمائندگی ریاستی ادارے کرتے ہیں اور سماج کی طبقات۔ یہ طبقات سیاسی ہو سکتے ہیں اور مذہبی بھی۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ایمرجنسی کے بعد اب کیا ہونے والا ہے؟(عمران یعقوب خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-10-15/52847/62502565</link><pubDate>Thu, 15 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-10-15/52847/62502565</guid><description>قومی اسمبلی نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی منظوری دے دی ہے۔ اس موقع پر اپوزیشن نے حسبِ توقع اور حسبِ سابق صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کی مخالفت کی اور نعرے لگائے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اب صوبائی حکومت کی بحالی کے امکانات مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں یا کچھ امکانات ابھی باقی ہیں؟قوموں‘ معاشروں اور افراد کی معمول کی زندگی تو چلتی رہتی ہے لیکن کچھ فیصلے‘ اقدامات اور پالیسیاں ایسی ہوتی ہیں جن کے اثرات اور نتائج نہایت دور رس اور گہرے ہوتے ہیں۔ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ ملک کی سیاست میں ایک اہم اور دیرپا اثرات والا موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ وفاقی حکومت کے اس اقدام نے صوبائی خود مختاری‘ قومی سلامتی اور جمہوری مینڈیٹ کے حوالے سے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ کئی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور کئی طرح کے امکانات اور خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ بہت سے دوسرے سوالات کے ساتھ ساتھ یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا صوبے کے حالات واقعی غیر معمولی اقدامات کا تقاضا کر رہے تھے اور ایمرجنسی کیوں ضروری سمجھی گئی؟اس سلسلے میں حکومت کا مؤقف ہے کہ خیبرپختونخوا طویل عرصے سے دہشت گردی‘ بدامنی اور سرحدی علاقوں میں عسکریت پسندی جیسے سنگین مسائل کا سامنا کر رہا ہے‘ ایسے حالات میں شہریوں کے جان و مال کا تحفظ‘ قانون کی عمل داری اور امن و امان کا قیام ریاست کی اولین ذمہ داری بنتی ہے‘ اگر صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے مابین سکیورٹی پالیسی پر اختلافات مؤثر کارروائی میں رکاوٹ بن رہے ہوں تو قومی سطح پر مربوط حکمت عملی کی ضرورت مزید بڑھ جاتی ہے۔ وفاقی حکومت نے ایمرجنسی کے جواز میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں صوبائی حکومت کی عدم دلچسپی اور انتظامی ناکامیوں کو بنیاد بنایا ہے۔ حکومت کے مطابق غیرمعمولی حالات میں مرکز کی مداخلت ناگزیر ہو گئی تھی۔ دوسری جانب اپوزیشن نے اسے غیرضروری اقدام قرار دیا ہے۔پاکستان میں سیاسی عدم استحکام اور سیاسی بے یقینی ایک پیچیدہ مسئلہ ہے جس کی وجوہات صرف سیاسی جماعتوں کے اختلافات تک محدود نہیں بلکہ اس کا تعلق آئینی اداروں کے کردار‘ جمہوری روایات‘ انتخابی نظام‘ معاشی مسائل‘ حکمرانی اور ریاستی اداروں کے باہمی تعلقات سے بھی ہے۔ سیاسی استحکام کا مطلب یہ نہیں کہ تمام سیاسی جماعتیں ایک جیسا مؤقف اختیار کر لیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ سیاسی اور اصولی اختلافات کے باوجود آئین کی پابندی ہو‘ حکومتیں قانونی طریقے سے تبدیل ہوں‘ ادارے اپنی متعین حدود میں کام کریں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ جہاں قومی مفادات‘ قومی وقار اور قومی سلامتی کی بقا جیسے معاملات درپیش ہوں وہاں سب سیاسی جماعتیں ہر طرح کے اختلافات طاق پر رکھ کر اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کریں۔ سوال یہ ہے کہ کیا خیبر پختونخوا کے حوالے سے واقعی صورتحال ایسی تھی کہ وفاق اور صوبے میں تعاون بالکل ختم ہو چکا تھا تو اس کا جواب وفاقی حکومت ہاں اور صوبائی حکومت ناں میں دے رہی ہے‘ لیکن اگر زمینی حقائق کو سامنے رکھا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہاں وفاق اور صوبے کے مابین وہ ہم آہنگی موجود نہیں تھی جو ایک آئیڈیل صورتحال میں موجود ہوتی ہے۔ سیاسی استحکام کیلئے حکومت اور اپوزیشن دونوں کو اپنی آئینی ذمہ داریاں ادا کرنا ہوں گی‘ جبکہ اداروں کو اپنے قانونی دائرہ اختیار کا احترام کرنا ہو گا۔اگر وفاق اور صوبے یا صوبوں میں ہم آہنگی نہ ہو تو ایسی صورتحال میں آئین بروئے کار آتا ہے۔ آئین پاکستان کا آرٹیکل 232 اندرونی بدامنی کی ایسی صورت میں ایمرجنسی کی گنجائش فراہم کرتا ہے جو صوبائی حکومت کے قابو سے باہر ہو‘ جبکہ آرٹیکل 234 صوبے میں آئینی نظام کی ناکامی کی صورت میں مخصوص اقدامات کی اجازت دیتا ہے۔ لیکن عام تاثر یہ ہے کہ حکومت نے ایمرجنسی کا نفاذ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ سے خوف زدہ ہو کر کیا۔ اس کی وجہ شاید ایمرجنسی لگائے جانے کا وقت اور صورتحال ہے۔ ایمرجنسی کا نفاذ ایک ایسے وقت پر کیا گیا جب خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کا لانگ مارچ عروج پر تھا‘ حکومت اور اپوزیشن کے مابین مذاکرات ناکام ہو چکے تھے اور حکومتی حلقوں کی جانب سے بار بار عوام کو یا شاید خود کو یہ یقین دہانی کرائی جا رہی تھی کہ اسلام آباد پر یلغار کی اجازت نہیں دی جائے گی۔اب یہاں چار معاملات ہمارے سامنے ہیں‘ جو چار سوال بھی ہیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ حکومت کو یہ ثابت کرنا ہو گا کہ اس نے صوبے میں ایمرجنسی ٹھیک طور پر لگائی‘ عوام کو دکھانا ہو گا کہ ایمرجنسی لگائے جانے سے پہلے صوبے میں دہشت گردی کی صورتحال یہ تھی اور اب یہ ہے۔ حکومت اگر دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کرنا چاہتی ہے تو یہ فوری طور پر شروع ہو جانا چاہیے اور اس کے مثبت اثرات بھی سامنے آنے چاہئیں۔ ایمرجنسی اسی وقت مؤثر ثابت ہو گی جب اس کے نتیجے میں دہشت گردی میں کمی‘ شہریوں کے تحفظ اور انتظامی کارکردگی میں قابلِ پیمائش بہتری آئے۔دوسرا معاملہ یا سوال یہ ہے کہ پی ٹی آئی کا مستقبل کیا ہو گا؟ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت کی معطلی جماعت کیلئے ایک بڑا سیاسی اور انتظامی چیلنج ہے‘ مگر اس سے جماعت کے سیاسی مستقبل کا حتمی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ پی ٹی آئی کے پاس عوامی حمایت‘ منظم کارکنوں اور اپنے سیاسی مؤقف کو عوام تک پہنچانے کا پلیٹ فارم موجود ہے۔ دوسری جانب اسے دہشت گردی کے خلاف واضح پالیسی‘ مؤثر صوبائی حکمرانی اور وفاق کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے اپنے مؤقف کی وضاحت کرنا ہو گی۔ پی ٹی آئی کیلئے سب سے اہم راستہ قانونی جدوجہد‘ پُرامن سیاسی سرگرمی اور عوامی مسائل پر توجہ دینا ہے۔ اگر جماعت آئینی طریقوں سے اپنے حقوق کا دفاع کرتی ہے اور اپنی حکومتی کارکردگی کے بارے میں قابلِ اعتماد جواب دیتی ہے تو وہ سیاسی میدان میں اپنا کردار برقرار رکھ سکتی ہے۔ اس کے برعکس مسلسل تصادم‘ غیر واضح حکمت عملی اور انتظامی مسائل پر جواب دہی سے گریز اس کیلئے مشکلات بڑھا سکتا ہے۔یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا صوبے کی منتخب حکومت کبھی بحال ہو سکے گی؟ اس کا ایک جواب تو درج بالا پیراگراف میں بیان کر چکا ہوں جو پی ٹی آئی کے طرزِ عمل پر منحصر ہے۔ اس کا ایک جواب بلاول بھٹو کے اس بیان سے بھی ملتا ہے جس میں انہوں نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کی حمایت کرتے ہوئے کہا: وزیراعظم شہباز شریف کو تجویز دیتا ہوں کہ پی ٹی آئی کو ایک بار مذاکرات کی دعوت دیں تاکہ ہم سب مل کر دہشت گردی کا خاتمہ کر سکیں۔ اگر وزیراعظم بلاول بھٹو کی تجویز مان کر اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دیں‘ اگر حکومت پی ٹی آئی مذاکرات ہوں اور اگر مذاکرات میں فریقین میں اہم معاملات پر ہم آہنگی پیدا ہو جائے تو باہمی رضا مندی سے گورنر راج کے خاتمہ اور صوبائی حکومت کی بحالی کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں؟ایک اور معاملہ یہ ہے کہ وفاقی آئینی عدالت نے سہیل آفریدی کی نااہلی سے متعلق کیس 15 اکتوبر کو یعنی آج مقرر کر رکھا ہے۔ اس کیس میں درخواست گزار کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ سزا یافتہ شخص کسی عوامی عہدیدار کی نامزدگی کا اختیار نہیں رکھتا۔ اگر اس کیس کا فیصلہ سہیل آفریدی کے حق میں آ گیا تو بھی شاید اس کا اثر صوبے میں لگائی گئی ایمرجنسی پر مرتب نہیں ہو گا۔ بہرحال پاکستان تحریک انصاف نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کو پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا ہے‘ جبکہ عدالت سے درخواست کی جلد سماعت کی استدعا بھی کی گئی ہے۔ بلاول بھٹو کے بیان کے بعد پی ٹی آئی کے سامنے یہ دوسرا دروازہ ہے جس کے کھلنے کا وہ انتظار کر سکتی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_58350786.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>جھیل، پہاڑ، جنگل(سعود عثمانی )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-10-15/52848/19337610</link><pubDate>Thu, 15 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-10-15/52848/19337610</guid><description>28 ستمبر کوگیبزے سے عارفیے جاتے ہوئے ٹرین کے باہر مسلسل بارش نے منظر اور بھی حسین بنا دیا تھا۔ یہ علاقہ حسن اور قدرتی خوبصورتی سے مالا مال تھا۔ پہاڑ‘ جنگل‘ میدان‘ ہریالی‘ جھیل اور موسم کی پریاں ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر رقص کرتی تھیں۔ آسمان سے اترتی چنچل اور شوخ بارش کی پری بھی آج اس رقص میں شامل تھی۔ منظر اتنا خوبصورت تھا کہ پلک جھپکنے کو بھی جی نہیں چاہتا تھا۔ خوبصورت اور آرام دہ لوکل ٹرین کی اکثر نشستیں خالی تھیں۔ کچھ فاصلے پر بھیگے پردے کے اُس پار ساپانجا جھیل رہ رہ کر اپنی جھلک دکھاتی اور مسافر کو حیران کرتی تھی۔ یہ جھیل میرے تصور سے کہیں بڑی تھی۔ذرا ترکی کا نقشہ اپنے فون پر نکالیے اور دیکھیے کہ یہ علاقہ ہے کہاں؟ نظر آئے گا کہ ترکی کئی سمندروں سے گھرا ہوا ملک ہے۔ بحیرہ مرمرا‘ بحیرہ ایجین‘ بحیرہ اسود وغیرہ۔ ترکی میں استنبول کو مرکز مان لیجیے اور شمال مشرق کی طرف بلیک سی یعنی بحیرہ اسود کی طرف روانہ ہو جائیے۔ ساحلی شہر شیلے (Sile)یہاں سے تقریباً 85 کلو میٹر دور ہے‘ لیکن ابھی آپ شیلے نہیں جا رہے۔ راستے میں ایک بڑی جھیل ساپانجا اپنے حسن کی زنجیر ڈال کر آپ کو آگے جانے نہیں دے گی۔ٹرین سے جائیں تو لگ بھگ ڈھائی گھنٹے میں اس جھیل کے کنارے بسی خوبصورت بستیوں تک پہنچ جائیں گے۔ساپانجا لگ بھگ 250 مربع کلو میٹر میں پھیلی ہوئی ایک میٹھے پانی کی جھیل ہے۔ اتنی بڑی جھیل کے کنارے کوئی ایک نہیں‘ کئی چھوٹے شہر اور بستیاں آباد ہیں۔ ساکاریا‘ عارفیے‘ ساپانجا‘ معشوقیے چند شہروں کے نام ہیں۔ یہ سب شہر نیم میدانی اور نیم پہاڑی ہیں۔ جھیل کے اطراف میں چھوٹے اور بڑے جنگلا ت سے ڈھکے ہوئے پہاڑ ہیں۔ دریا اور ندیاں پہاڑوں میں گھومتے بل کھاتے آتے ہیں اور جھیل کو پانی فراہم کرتے ہیں۔ دل اور آنکھوں کی شادابی کا اس سے بہتر مقام کون سا ہو سکتا ہے؟میرے ایک عزیز ترک دوست ڈاکٹر عبد الحمید برائشک ترکی کے سفروں میں ہمیشہ مدد اور رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ ان کے ایک دوست ڈاکٹر محمود ازجی ساکاریا یونیورسٹی میں استاد ہیں۔ مزید یہ کہ انگریزی جانتے اور بولتے ہیں۔ برصغیر کے بارے میں تحقیقی کام بھی کر چکے ہیں۔ ڈاکٹر برائشک کے حوالے سے ڈاکٹر محمود سے رابطہ ہوا تو انہوں نے غیرمعمولی مدد اور محبت کا اظہار کیا۔ پہلا مسئلہ یہ تھا کہ میں استنبول سے عارفیے کیسے پہنچوں؟ راستے اور ٹرینوں کے بارے میں ڈاکٹر محمود نہ بتاتے تو میرے لیے پہنچنا مشکل ہوتا۔ ڈاکٹر محمود ازجی نے کہا کہ آپ عارفیے پہنچ جائیں‘ وہاں ٹرین سٹیشن سے میں آپ کو لے لوں گا۔ پردیس میں ناواقفیت سے جو مسافر کو خواری ہوتی ہے‘ وہ مسافر ہی جانتے ہیں۔ خاص طور پر ایسے ملک میں جہاں زبان کا بہت بڑا مسئلہ ہو۔ کوئی آپ کی قدم قدم رہنمائی کر دے تو آپ کا دل شکر اور شکریے سے بھر جاتا ہے۔ ساپانجا سٹیشن سے ٹرین گزری۔ جھیل اپنے حسن کے ساتھ سامنے پھیلی ہوئی تھی۔ اگلا سٹیشن عارفیے تھا۔ دس منٹ بعد میں عارفیے پر اترا‘ اور ایک ہی نظر میں اس خوبصورت چھوٹے سے شہر نے دل موہ لیا۔ سٹیشن سے باہر ایک چھوٹا سا قہوہ خانہ تھا۔ میزبانوں نے کچھ فاصلے پر ساکاریا یونیورسٹی سے یہاں آنا تھا اس لیے دس منٹ میں ترکی چائے کے ایک اور فنجان سے لطف اندوز ہوا جا سکتا تھا۔ بھیگے ہوئے شہر میں موسم کی خنکی جسم کو خوشی دیتی تھی۔ ڈاکٹر محمود آئے تو ان کے محقق دوست ڈاکٹر خلیل ابراہیم بھی ساتھ تھے۔ ڈاکٹر خلیل بھی انگریزی میں گفتگو کر سکتے تھے۔ یہ نوجوان دوست مجھ سے کم عمر لیکن علم میں زیادہ تھے۔ بڑی آسانی انہوں نے یہ کی تھی کہ میرا تین چار دن کا پروگرام مرتب کر دیا تھا۔ یعنی مجھے کیا کرنا ہے‘ کہاں ٹھہرنا ہے‘ کیا دیکھنا ہے۔ یہ سب گفتگو راستے میں ہوتی رہی۔ ابھی ہم ساکاریا یونیورسٹی جارہے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ میں ایک نظر یونیورسٹی بھی دیکھوں۔ یہ میرے لیے ایک علمی مرکز کو دیکھنے کا ایک اچھا موقع بھی تھا۔ساکاریا (شاید اصل نام سقاریا یا سقریہ ہوگا) بحیرہ اسود کے قریب ترکی کا ایک صوبہ ہے۔ اب ساکاریا اس شہر کا نام بھی ہے جسے عثمانی سلاطین کے زمانے میں &#39;&#39;اڈاپازاری‘‘ کہا جاتا تھا اور آج بھی یہ نام بولا جاتا ہے۔ اس طرح اڈا پازاری اور ساکاریا ایک ہی شہر کے دو نام ہیں۔ اڈا ترکی میں جزیرے کو کہتے ہیں اور پازاری بازار ہے؛ یعنی جزیرے کا بازار۔ دراصل یہاں دریائے ساکاریا بہتا ہے جو ترکی کا تیسرا بڑا دریا ہے۔ دریا بالآخر بحیرہ اسود میں گر کر اپنا سفر ختم کردیتا ہے۔ کسی زمانے میں دریا میں کوئی جزیرہ یا جزیرے ہوتے ہوں گے۔ اسی لیے اس علاقے کا نام جزیرے کا بازار تھا۔ اس علاقے کی ترکوں کی جنگ آزادی میں بھی بڑی اہمیت رہی اور یہاںکمال اتا ترک کے زمانے میں یونانیوں سے ترکوں کی کئی لڑائیاں ہوئی تھیں۔ ہم ساکاریا شہر سے گزرے اور میزبان اسکے بارے میں بتاتے رہے۔ پھر میدانی سفر ختم ہوا اور گاڑی ایک موڑ مڑ کر قریب کے ایک پہاڑ پر چڑھنے لگی۔ پہاڑی ڈھلانوں کا یہ سفر حسین اور سرسبز تھا‘ اور تھوڑی ہی دیر میں ساپانجا جھیل نیچے ایک چاندی کے تالاب کی طرح نظر آنے لگی۔ ہم کچھ چڑھائی اور چڑھے اور دو تین کلو میٹر کے بعد ساکاریا یونیورسٹی کے محرابی دروازے نے ہمارا استقبال کیا۔ ڈھلانوں پر بنائی گئی بڑی ساکاریا یونیورسٹی ایک گھنے اور سرسبز جنگل کے بیچ اپنی دلکشی کیساتھ ہماری منتظر تھی۔ یونیورسٹی کی عمارات دائیں بائیں ڈھلانوں اور زمین کے قطعات پر پھیلی ہوئی تھیں اور بالآخر گاڑی ایک پارکنگ میں ٹھہر گئی۔ برستی بارش میں ہم اترے اور اس گھنے جنگل کی طرف چلے جو اَب سبز اور زرد خزاں کے حسن سے بھرا ہوا تھا۔ اس جنگل کے ایک گوشے میں یونیورسٹی کیفے ٹیریا تھا۔ جتنی دیر میں میزبانوں نے کافی لی‘ میں نے کیفے کیساتھ ملحق چھوٹے سے اس خوبصورت کتب خانے کے منظر محفوظ کر لیے جو بنانے والوں کے حسنِ ذوق کی ترجمانی کرتا تھا۔ ہر حسین جنگل میں چھوٹے چھوٹے لکڑی کے بنچ بارش سے بھیگے ہوئے تھے لیکن یہ جنگل اتنا خوبصورت تھا کہ یہاں کچھ وقت نہ گزارنا بد ذوقی ہوتی۔ ہم کافی کے کپ لیے ایک سائبان تلے کھڑے ہوئے اور جنگل ہمارے ساتھ آکھڑا ہوا۔ لمبے اونچے درختوں کے سبزپتے زرد اور سرخ ہونے لگے تھے۔ ہر درخت کے پیروں میں اسکے پتوں کا ڈھیر لگا ہوا تھا۔ کبھی کبھی ہوا کا جھونکا آتا اور کچھ پتے اڑا کر ساتھ لے جاتا۔ساکاریا یونیورسٹی 1992ء میں قائم ہوئی تھی۔ یہ صوبے کا پہلا سب سے بڑا تعلیمی ادارہ تھا۔ لگ بھگ دو لاکھ سے زیادہ طالبعلموں‘ 10 ہزار اساتذہ‘ 13 فیکلٹیز‘ چار انسٹیٹیوٹس‘ چار کالجز‘ 14 ووکیشنل سکولز کا یہ ادارہ قابلِ رشک خوبصورت جامعہ ہے۔ انڈر گریجویشن سے ڈاکٹریٹ تک سبھی درجات کی تعلیم ہے۔ ایک نظر ہی میں محسوس ہوتا تھا کہ یہ ادارہ اپنے تعلیمی معیار میں بھی ممتاز ہے۔ ہمارے سامنے ہیومینٹیز یعنی غیرسائنسی علوم کی عمارت تھی اور بائیں طرف سماجی علوم یعنی سوشل سائنسز فیکلٹی کی عمارت۔ اتنا وقت نہیں تھا کہ اس وقت یہ عمارتیں دیکھی جائیں‘ سو یہ کام اگلے دن پر موقوف کیا۔ اونچی نیچی ڈھلوانوں اور چڑھائیوں پر بنی عمارتوں کی سیر کی اور پھر سکاریا کا رخ کیا۔ میزبانوں نے ایک مناسب سے ہوٹل کا بندوبست سکاریا شہر کے مرکزی علاقے دیوان سرائے میں کیا ہوا تھا۔ اس علاقے میں طعام گاہیں اور دکانیں بھی تھیں۔ ایک چھوٹے سے خوبصورت ہوٹل نے مجھے خوش آمدید کہا جس میں خاموشی مجھ سے پہلے مقیم تھی۔ میں نے میزبانوں کو شکریے کے ساتھ رخصت کیا۔ شام اترنے لگی تھی اور جیسی لگاتا بارش ہو رہی تھی اسے دیکھتے ہوئے رات تک کہیں جانا ممکن نظر نہیں آتا تھا۔ سو اب آج کا کام کل پر ٹالے بغیر گزارہ نہیں تھا۔ اس وقت ایک گرم شاور‘ نرم بستر اور گہری نیند سے زیادہ طلب کسی چیز کی نہیں تھی۔ اور یہ تینوں چیزیں جلد ہی مجھے میسر آ گئیں۔ لیکن نیند سے پہلے ضروری رابطے کیے‘ وہ حسین مناظر تازہ کیے جو دن بھر کی یادگار تھے۔ بستر کے قریب دریچہ کھول کر خنک ہوا کو خوش آمدید کہا اور نیند کی گہری وادی میں اتر گیا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_81278520.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کشمیر کا مسئلہ !(مفتی منیب الرحمٰن )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-10-15/52849/12578476</link><pubDate>Thu, 15 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-10-15/52849/12578476</guid><description>اس وقت پاکستان سنگین مسائل سے دوچار ہے‘ ان میں بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی کشیدہ صورتحال بھی شامل ہے؛ اگرچہ مقتدرہ کا دعویٰ ہے کہ حالات اُس کے کنٹرول میں ہیں‘ علیحدگی پسندی اور دہشت گردی کو کچل دیا جائے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سلامتی کے ادارے قربانیاں دے رہے ہیں‘ شہادتیں ہو رہی ہیں‘ لیکن صورتحال بظاہر قابو میں آتی ہوئی نظر نہیں آ رہی اور کبھی ایسا لمبا وقفہ بھی نہیں آتا کہ کوئی تخریبی کارروائی نہ ہو۔ کوئٹہ سے چلنے والی جعفر ایکسپریس پر حملے ہوتے رہتے ہیں اور وقتاً فوقتاً اُسے معطل بھی کرنا پڑتا ہے۔ پنجاب اور خیبر پختونخوا کے عام لوگ جو بلوچستان کے تنازع کا حصہ نہیں ہیں اور محض روزگار کیلئے بلوچستان یا وہاں سے گزر کر ایران جاتے ہیں‘ انہیں شناختی کارڈ دیکھ کر قتل کر دیا جاتا ہے۔ یہ انتہائی اذیتناک کارروائی ہے۔ تخریب کار اور علیحدگی پسند عناصر کو ہماری مقتدرہ فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان سے تعبیر کرتی ہے‘ اُن کے جانی نقصانات کے مصدّقہ اعداد وشمار اور شناختیں دستیاب نہیں ہیں‘ بلکہ حال ہی میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس میں لاپتا افراد کی بابت اشارۃً کہا کہ وہ وطن دشمن عناصر کی صفوں میں موجود ہیں اور ہم انہیں مار کر چھوڑ دیتے ہیں۔ لیکن فوج سمیت سلامتی کے اداروں کے نقصانات بھی کم ہونے کو نہیں آ رہے‘ جبکہ ایک ایک افسر اور جوان کی تیار ی پر ریاست کے گراں قدر وسائل صرف ہوتے ہیں اور شہدا کے خاندانوں کی کفالت بھی ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ ہر ناخوشگوار واقعے کے بعد حکمرانوں کا بیان آتا ہے کہ ان شہادتوں اور قربانیوں سے ہمارا عزم مزید مضبوط ہوا ہے اور ہم ان وطن دشمن عناصر کا خاتمہ کر کے دم لیں گے‘ لیکن بظاہر اُن کے خاتمے کے آثار نظر نہیں آ رہے۔ یہ بھی مسلّم ہے کہ پاکستان کے اندر سارے فساد کے پیچھے بھارت کی ایجنسی &#39;&#39;را‘‘ کا کثیر سرمایہ‘ تخریب کاری کی تربیت اور جدید اسلحے کی فراہمی بھی شامل ہے۔ بعض تجزیہ کار اس میں ایک خلیجی ریاست کے غیر مَرئی کردار کی بھی نشاندہی کرتے ہیں‘ لیکن ایک تو اس کے شواہد پیش کرنا دشوار ہے‘ مزید یہ کہ عَلانیہ اُن کا ذکر کرنا بھی یقینا ہماری ریاست کے مفاد میں نہیں ہے‘ اس لیے اس حوالے سے صبر وتحمل اور برداشت سے کام لیا جا رہا ہے۔تازہ ترین مسئلہ آزاد کشمیر کا ہے‘ جو سنگین صورت اختیار کر چکا ہے۔ آزاد کشمیر میں 2023ء میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی قائم ہوئی‘ اس نے بظاہر جماعتی وابستگی سے بالاتر ہو کر عوامی مسائل کو اپنے منشور کا حصہ بنایا‘ عوامی مظاہرے شروع کیے‘ ان کے ساتھ ابتدائی معاہدہ مئی 2024ء میں ہوا اور پھر معاہدۂ مظفر آباد 4 اکتوبر 2025ء کو ہوا۔ اس میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی دونوں کے نمائندے شامل تھے۔ آزاد کشمیر کو آٹے اور بجلی کی قیمتوں میں وہ رعایت دی گئی‘ جس کاپاکستان میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ ظاہر ہے اس سے ان کا اعتماد حد درجے بڑھا اور چونکہ عوام کو غیرمعمولی مادّی فوائد حاصل ہوئے‘ اس لیے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ساتھ اُن کا وابستہ ہونا فطری امر تھا۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہم معمول کے حالات میں مسائل کو حل کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے اور دبائو کے حالات میں بہت کچھ دے بیٹھتے ہیں‘ پھر اس لہر کو سنبھالنا اور قابو میں لانا انتظامیہ اور مقتدرہ کے بس میں نہیں رہتا۔ گزشتہ پانچ سالوں میں آئی پی پیز کو تقریباً 13 ہزار 397 ارب روپے کی ادائیگیاں کی گئی ہیں‘ ان میں سے بجلی کی اصل پیداوار کے عوض صرف7 ہزار 275 ارب روپے تھے‘ جبکہ باقی رقم استعدادی پیداواری گنجائش کی مد میں دی گئی‘ حالانکہ اس رقم کے عوض بجلی پیدا کرنے کی نوبت ہی نہیں آئی۔ آئی پی پیز کے ساتھ معاہدات‘ ادائیگیوں اور واجبات کے صحیح اور قطعی اعداد وشمار دستیاب نہیں ہیں‘ حکومت کو چاہیے کہ یہ تمام تفصیلات عوام کے سامنے لائے تاکہ انہیں پتا چلے کہ اُن کے ساتھ کیا ہوتا رہا ہے۔ کارکے رینٹل‘ رکوڈک‘ پی ٹی سی ایل کی نجکاری اور اتصالات کی تحویل میں دینے‘ نیز ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن کے معاہدے کے حوالے سے ہمارے بین الاقوامی معاہدات کی تاریخ انتہائی تکلیف دہ ہے۔ ان معاہدات کے وقت پاکستان کے مفادات کو پوری طرح پیشِ نظر نہیں رکھا گیا اور یہ بھی طے نہ ہوا کہ ان کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔کشمیر میں سلامتی کے اداروں اور سول افراد کا نقصان انتہائی اذیتناک اور تکلیف دہ ہے‘ اس کے مِن جملہ اسباب میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے قائدین کا غیر لچک دار رویہ ہے‘ حالانکہ انہیں اتنا دیا جا چکا ہے جس کا پاکستان میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ ملک کے اندر اور باہر سے ہمارے بہت سے احباب فرمائش کرتے رہے ہیں کہ ہم اس پر بات کریں یا ثالثی کریں‘ ہم نے ابتدا میں اپنا متوازن مؤقف دے دیا تھا۔ لیکن من حیثُ القوم ہمارے مزاج میں اعتدال نہیں ہے اور ہم انتہا پسندی کی طرف جا رہے ہیں جو تباہی کا راستہ ہے۔ کوئی فریق یہ نہیں چاہتا کہ کوئی اصلاح کی بات کرکے درمیانی راستہ نکالے‘ بلکہ یہ چاہتا ہے کہ آنکھیں بند کر کے اُن کی حمایت کی جائے اور اُن کے حق میں آواز بلند کی جائے۔ یہ عملاً ممکن نہیں ہے‘ کیونکہ ہم جس کے حق میں بھی بات کریں‘ لازم ہے کہ آئین وقانون اور شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے کریں گے۔ حقوق کا مطالبہ عوام کا حق ہے‘ لیکن اُسے آئین وقانون اور شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے کرنا ہوگا۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے اکثر مطالبات عوامی مفاد میں تھے اور کافی حد تک حل بھی ہو گئے تھے۔ ہم بھی اس بات کے حق میں ہیں کہ سول حکمرانوں اور اعلیٰ بیورو کریسی کو حاصل غیر معمولی مراعات اور وزارتوں کی تعداد میں کمی کی جائے۔ مہاجرین کے منتخب نمائندوں کو آزاد کشمیر کی حکومت سازی میں شامل نہ کیا جائے تاکہ آزاد کشمیر میں حکومت پر وہی لوگ فائز ہوں جنہیں وہاں کے لوگ منتخب کریں۔ بلکہ سینیٹ کی طرز کا ایک ایسا ادارہ بنایا جائے کہ جس میں بلا امتیاز آزاد کشمیر کے مقامی اور مہاجرین کے منتخب نمائندے مل بیٹھیں اور مقبوضہ کشمیر کی تحریکِ آزادی کیلئے پروگرام بناکر اس پر عملدرآمد کریں۔ مقبوضہ کشمیر سے میر واعظ عمر فاروق نے بھی یہی مطالبہ کیا ہے کہ آزاد جموں وکشمیر اسمبلی میں مہاجرین کو نمائندگی سے محروم نہ کیا جائے۔کسی بھی احتجاجی تحریک کا مقصد پُرامن طور پر اپنے آئینی اور قانونی حقوق کا تحفظ ہوتا ہے‘ اگر مطالبات کی منظوری یا ان پر عملدرآمد میں تاخیر ہو جائے تو حب الوطنی کا تقاضا یہ ہے کہ انتظامیہ کو کچھ وقت دیا جائے اور وقتی طور پر تحریک کو مؤخر کر دیا جائے تاکہ فریقین دبائو سے نکل کر اس کا کوئی قابلِ قبول حل نکال سکیں۔ ایسے حالات نہ پیدا کیے جائیں جن سے یہ شبہات جنم لیں کہ آیا یہ تحریک حقوق حاصل کرنے کیلئے ہے یا ریاست کے خلاف بغاوت کیلئے‘ نیتوں کا حال اللہ جانتا ہے۔ احتجاج میں مطالبات رکھے جاتے ہیں‘ قابلِ عمل مطالبات مان لیے جاتے ہیں اور ناقابلِ عمل مطالبات ردّ بھی ہوتے ہیں‘ اگر ایسا نہ ہو تو بزورِ طاقت مطالبات منوانے سے ٹکرائو کی کیفیت پیدا ہوتی ہے جوکہ ریاست اور عوام دونوں کے مفاد میں نہیں ہے۔ عقلمندی یہ ہے کہ جتنا ملے‘ اس کو لے لیں اور مزید کیلئے پُرامن کوشش جاری رکھیں‘ لیکن ایک حق کیلئے دس حقوق کو قربان کرنا عقلمندی نہیں ہے۔ سیاسی مکالمے میں ایک &#39;&#39;گرے ایریا‘‘ ہوتا ہے‘ جس میں فریقین &#39;&#39;کچھ لو اور کچھ دو‘‘ کے اصول پر مذاکرات کرتے ہیں‘ ریاست کی بالادستی کو تسلیم کرنا ہوتا ہے‘ ریاست اس حد تک بے بس ہرگز نہیں ہوتی کہ آپ جو چاہیں‘ بزورِ قوت اس سے منوا لیں۔ ہمارے لیے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے بعض مطالبات اور طرزِ عمل کی غیر مشروط حمایت کرنا اس لیے دشوار تھا اور ہے کہ ان کے سٹیج سے بعض ایسے خطابات کیے گئے جو ملک کی سا لمیت کے خلاف تھے‘ سوشل میڈیا پر اسی طرح کی باتیں رپورٹ ہوتی رہی ہیں۔ اس بات کو ایکشن کمیٹی کے سینئر رکن عمر نذیر نے خود تسلیم کیا ہے کہ ہمارے سٹیج کا غلط استعمال کیا گیا ہے‘ ہم پاکستان کے وفادار ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_61172381.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>