<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>دہشت گردی کے خلاف مصمم عزم(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-23/11656</link><pubDate>Fri, 23 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-23/11656</guid><description>گورنر ہاؤس پشاور میں نیشنل ایکشن پلان کی اپیکس کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملک سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کر کے امن و ترقی کو بحال کیا جائے گا۔ وزیراعظم نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ خیبر پختونخوا میں بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کے باعث وفاقی حکومت صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ پر مجبور ہوئی۔ وزیراعظم نے خیبر پختونخوا میں ترقیاتی منصوبوں کیلئے 160 ارب روپے فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا۔ اس بات میں کچھ شک نہیں کہ پاکستان میں دہشت گردی کا سنگین ہوتا مسئلہ غیر معمولی اور سخت فیصلوں کا تقاضا کر رہا ہے۔ اس وقت ملک میں امن وامان کی دگرگوں صورتحال کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ سکیورٹی سے متعلق ایک ملکی ادارے کی رپورٹ کے مطابق صرف ستمبر کے مہینے میں ملک بھر میں دہشت گردی کے 225 سنگین واقعات ریکارڈ کیے گئے اور یہ تعداد گزشتہ 12 سالوں میں کسی بھی ایک مہینے کے دوران ہونے والے حملوں کی سب سے بڑی شرح ہے۔ ستمبر کے اس خونیں مہینے میں 259 اموات اور 242 افراد زخمی ہوئے۔ گلوبل ٹیررازم انڈیکس 2026ء کی رپورٹ میں بھی پاکستان کو دہشت گردی سے متاثرہ ممالک کی فہرست میں پہلے نمبر پر رکھا گیا جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ماضی قریب میں دہشت گردی کے خلاف حاصل کی گئی کامیابیاں اب ہاتھ سے پھسل رہی ہیں اور اس حوالے سے فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔ دہشت گردی کی نئی لہر کا عمیق جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ پاکستان کے مغربی صوبے‘ خیبر پختونخوا اور بلوچستان اس عفریت کا سب سے زیادہ شکار ہیں۔ اور اس کا سبب ان صوبوں کی افغانستان کیساتھ طویل اور دشوار گزار سرحد ہے۔ 2021ء میں کابل میں افغان طالبان کی واپسی کے بعد یہ توقع کی جا رہی تھی کہ اب دہشت گردوں کی سرپرستی اور سرحد پار سے ہونے والی دراندازی کا سلسلہ تھم جائے گا لیکن عملاً صورتحال اس کے عین برعکس نکلی۔ کالعدم ٹی ٹی پی اور دیگر شرپسند عناصر کو افغانستان میں نہ صرف محفوظ پناہ گاہیں میسر ہیں‘ جہاں سے وہ پاکستان پر حملہ آور ہوتے ہیں بلکہ پیچیدہ‘ دشوار گزار اور غیر ہموار سرحدی علاقے میں دراندازی کا سلسلہ بھی کسی نہ کسی طور جاری ہے۔ اب وزیراعظم نے دہشت گردی کے خلاف تمام وسائل فراہم کرنے‘ پولیس کی تربیت اور استعدادِ کار میں اضافے‘ کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ کو مؤثر بنانے کی جو ہدایات کی ہیں‘ اور وفاق کی جانب سے جو فنڈز کا اعلان کیا ہے‘ ان پر لفظ بہ لفظ فوری عمل کرنا ہو گا۔ نیز دہشت گردی کے خلاف عسکری آپریشنز کو تیز کرنے کیساتھ ساتھ ایک منظم‘ ٹھوس اور طویل المیعاد سیاسی منصوبہ بندی بھی ناگزیر ہے۔ ٹارگٹڈ آپریشنز سے دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کو توڑا جا سکتا ہے لیکن جب تک اُن فکری‘ معاشی اور سیاسی محرکات کا خاتمہ نہیں کیا جاتا جو نوجوانوں کو انتہا پسندی کی طرف راغب کرتے ہیں‘ اس ناسور کو جڑ سے نہیں اکھاڑ پھینکا جا سکتا۔ وفاق اور صوبوں کے درمیان سکیورٹی حکمتِ عملی پر مکمل ہم آہنگی‘ پسماندہ علاقوں کی ترقی اور مقامی قیادت کو اعتماد میں لینا اس سیاسی منصوبے کا لازمی حصہ ہونا چاہیے۔ یہ محض سکیورٹی کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ سماج کے تحفظ اور اس کی سلامتی کی جنگ ہے۔ سماج کے تمام طبقات کو مل کر انتہا پسندی اور دہشت گردی کے بیانیے کا فکری توڑ کرنا ہو گا۔ جب تک عوام اور ریاست ایک پیج پر کھڑے ہو کر دہشت گردوں کو پناہ دینے اور ان کی سہولت کاری کرنے والوں کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار نہیں بنیں گے اس عفریت کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں ہو سکے گا۔ اپیکس کمیٹی کا عزم تبھی حقیقت کا روپ دھار سکتا ہے جب عسکری قوت‘ سیاسی بصیرت اور عوامی اتحاد مل کر اس چیلنج کا مقابلہ کریں۔ اسی طرح ہم پاکستان کو پُرامن اور ایک محفوظ ملک بنا سکتے ہیں۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مہنگائی خدشات اور حکومتی ذمہ داریاں(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-23/11655</link><pubDate>Fri, 23 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-23/11655</guid><description>آئی ایم ایف نے اپنی حالیہ علاقائی اقتصادی رپورٹ میں پاکستان کی مجموعی معاشی پیداوار میں رواں سال 1.3 فیصد کمی اور مہنگائی میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے کے مطابق اس کی وجہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال ہے۔ عالمی بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق بھی پاکستان میں مہنگائی کی شرح مالی سال 2027ء میں 8.2 فیصد تک پہنچ سکتی ہے‘ جو گزشتہ مالی سال میں 7.1 فیصد رہی۔ عالمی بینک نے بلند توانائی و اجناس کی قیمتوں اور خوراک کی قیمتوں کے دباؤ کو معاشی بحالی کیلئے خطرہ قرار دیا ہے۔ عالمی مالیاتی اداروں کی یہ رپورٹیں محض اعدادوشمار نہیں بلکہ حکومت کیلئے ایک تنبیہ ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ عالمی منڈیوں اور علاقائی صورتحال پر مسلسل نظر رکھتے ہوئے ایسے اقدامات کرے جن سے بیرونی جھٹکوں کا بوجھ کم سے کم عوام پر منتقل ہو۔حکومت ممکنہ مہنگائی کی روک تھام‘ کمزور طبقات کے تحفظ اور پائیدار معاشی اصلاحات کو ایک مربوط حکمت عملی کا حصہ بنائے۔ عالمی بینک نے واضح کیا ہے کہ سٹرکچرل اصلاحات پر تیز رفتار اور مستقل عملدرآمد سے پاکستان کی فی کس آمدنی 2050ء تک تین گنا ہو سکتی ہے۔ قیمتوں میں استحکام کیلئے ٹھوس اور مربوط نظام‘ پیداواری صلاحیت بڑھانے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کیلئے سخت معاشی اصلاحات کے نفاذ کی ضرورت ہے۔ اصلاحات کا عمل ہی عالمی بحرانوں کے اثرات کم کرنے اور معاشی ترقی کے ثمرات عام آدمی تک پہنچانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ مگر یہ کام سنجیدہ عملی اقدامات کا متقاضی ہے۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ریلوے کی زبوں حالی(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-23/11654</link><pubDate>Fri, 23 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-23/11654</guid><description>گزشتہ روز قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر ریلوے کی جانب سے پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2022ء سے ستمبر 2026ء تک ملک میں ٹرینوں کے پٹری سے اترنے کے 349 واقعات پیش آئے۔ ان میں 95 واقعات عملے کی غلطی اور 64 رولنگ سٹاک کی خرابی کے باعث ہوئے‘ جبکہ سب سے بڑی وجہ ریلوے ٹریک کی خرابی بتائی گئی۔ ملک میں تواتر سے پیش آنیوالے ریلوے حادثات حفاظتی انتظامات اور دیکھ بھال کے نظام کا ازسرنو جائزہ لینے کی متقاضی ہیں۔ قیامِ پاکستان کے بعد ملک میں ریلوے کے بنیادی ڈھانچے کو وسعت دینے اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے پر مطلوبہ توجہ نہیں دی جا سکی۔ نئے ٹریک بچھانا تو دور کی بات موجودہ پٹریوں کی بروقت مرمت اور دیکھ بھال بھی ایک بڑا چیلنج دکھائی دیتی ہے۔ ٹریک‘ سگنل نظام‘ انجنوں اور بوگیوں کی حالت ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے؛ ان میں سے کسی ایک حصے کی خرابی بھی بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔حکام کو چاہیے کہ خطرناک ریلوے ٹریکس کی فوری نشاندہی‘ باقاعدہ تکنیکی معائنے‘ بروقت مرمت اور حفاظتی آلات کی تنصیب کیلئے اقدامات کریں۔ عملے کی غلطیوں کی روک تھام کیلئے تربیت‘ قواعد پر سختی سے عملدرآمد اور غفلت کے مرتکب افراد کیخلاف شفاف کارروائی بھی ضروری ہے۔ ریلوے کی بحالی کیلئے مسلسل سرمایہ کاری اور مؤثر انتظام ضروری ہے۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>گرین سے بلیو پاسپورٹ تک کا سفر(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-10-23/52892/69087495</link><pubDate>Fri, 23 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-10-23/52892/69087495</guid><description>رواں ہفتے ایوانِ بالا میں سینیٹرز کو ڈیڑھ گھنٹے تک اپنے‘ اپنے بیوی بچوں اور والدین کیلئے تاحیات بلیو؍سفارتی پاسپورٹ حاصل کرنے کی خاطر لڑتے دیکھا تو مجھے یاد آیا کہ صحافی بننے سے پہلے کی سیاست اور سیاستدانوں کے بارے میں میری کیا سوچ اور رائے تھی۔ چند ماہ پہلے بھی سینیٹرز کے بلیو پاسپورٹ پر بہت بحث ہوئی تھی جو میڈیا کی چند روزہ تنقید کے بعد دب گئی تھی۔ سب نے سمجھا کہ شاید سینیٹرز میڈیا اور عوام کے دباؤ کی وجہ سے پیچھے ہٹ گئے ہیں۔ لیکن اب چند روز پہلے پھر سینیٹ میں سینیٹرز نے بل کی شکل میں یہ معاملہ پیش کیا اور ڈیڑھ گھنٹے تک اس پر لڑائی ہوتی رہی۔ ایک طرف وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور وزیر مملکت طلال چودھری تھے‘ جو اس کی مخالفت کر رہے تھے تو دوسری طرف حکومت اور اپوزیشن کے تمام سینیٹرز اکٹھے تھے‘ جن میں پی ٹی آئی کے سینیٹرز بھی پیش پیش تھے۔ یوں کہہ سکتے ہیں کہ جب بات سینیٹرز یا ارکانِ اسمبلی کی مراعات کی آتی ہے تو محمود و ایاز ایک ہی صف میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ پھر پی ٹی آئی‘ پیپلز پارٹی‘ نواز لیگ اور دیگر جماعتوں کے ارکان متحد ہو جاتے ہیں۔ تب ان کا بھائی چارہ دیکھنے لائق ہوتا ہے۔ ایک طویل عرصے تک میں یہی پڑھتا اور سمجھتا رہا کہ سیاست کا مطلب عوام اور غریبوں کی خدمت ہوتا ہے۔ سیاست میں وہی لوگ آتے ہیں جو گھر سے رج چکے ہوتے ہیں اور انہیں لگتا ہے کہ جس طرح ان کی اپنی زندگیاں بہت اچھی اور آسان ہیں‘ اسی طرح انہیں اس معاشرے کے دیگر طبقات کا طرزِ زندگی بہتر بنانے کیلئے بھی کوشش کرنی چاہیے۔ انکے ساتھ جو ظلم اور زیادتی ہو رہی ہے‘ اسکے خلاف کھڑا ہونا چاہیے۔ ان سب کو انصاف ملے‘ اچھی تعلیم ملے اور ان کے بچوں کا مستقبل اچھا ہو۔ میرے نزدیک یہی اس بندے کی تعریف تھی جو سیاستدان بنتا تھا۔ اس پوری سوچ میں کہیں یہ شامل نہ تھا کہ اسے اقتدار درکار تھا‘ یا اسے اپنے جیسے عام لوگوں پر حاکم بننا تھا‘ یا ان کے پیسے پر عیاشی کرنی تھی‘ یا اپنے اور اپنی اولاد کیلئے بے تحاشا مراعات حاصل کرنی تھیں‘ یا اندھا دھند ترقیاتی فنڈز کے نام پر پیسہ کمانا تھا۔ میں سمجھتا تھا کہ وہ سب اچھے لوگ کسی نظریے اور مقصد کیلئے سیاست کے میدان میں اترتے ہیں اور عام لوگوں کی زندگیاں بدلنے کیلئے کوشاں رہتے ہیں۔ تاہم جب کچھ ہوش سنبھالا تو میری رائے بدلنے لگی اور جب میں عملی صحافت میں آیا تو سوچ مزید بدل گئی۔ رہی سہی کسر اُس وقت پوری ہو گئی جب 2002ء کے انتخابات کے بعد پارلیمنٹ کی رپورٹنگ شروع کی۔ اس کیلئے میں اپنے ایڈیٹر سلیم بخاری صاحب کا شکر گزار ہوں جنہوں نے مجھ جونیئر رپورٹر پر اتنا اعتماد کیا کہ پارلیمنٹ کَور کرنے کی اجازت اور پھر بھرپور سپورٹ بھی دی۔یہ بات آج تو عجیب لگے گی مگر اس وقت تک پارلیمنٹ‘ سیاسی بیٹ‘ فارن آفس یا سپریم کورٹ کی رپورٹنگ بہت ہی سینئر صحافی کیا کرتے تھے۔ کم عمر یا نوجوان رپورٹرز کو یہ بِیٹس نہیں دی جاتی تھیں کیونکہ یہ بہت ذمہ داری کا کام تھا اور اس میں تجربہ کار ہی چل پاتا تھا۔ اب تو خیر بہت سارے نوجوان سیاسی بیٹ کر رہے ہیں۔ تاہم جب میں نے پارلیمنٹ کی رپورٹنگ شروع کی تو بہت سارے معاملات کا پتا چلا اور اندازہ ہوا کہ تیسری دنیا کے ممالک میں عوامی مفاد کے نام پر کوئی سیاست نہیں ہوتی۔ یہ سب ذاتی مفادات ہوتے ہیں‘ جنہیں عوام کا نام دے کر ان پر حقِ حکمرانی حاصل کیا جاتا ہے اور پھر انہی کے پیسے پر عیاشی کی جاتی ہے۔ مجھے ایک ایم این اے کی بات یاد آ رہی ہے کہ جب وہ پہلی دفعہ پارلیمنٹ پہنچے تو انہیں محسوس ہوا کہ یہاں سب سے اہم کام اپنے مفادات کا تحفظ اور مراعات حاصل کرنا ہے۔ عوام کے نام پر بس تقریریں کرنی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے تو انہیں حیرانی ہوئی‘ پھر بتایا گیا کہ وہ‘ ان کی بیوی‘ بچے اور والدین تک تاحیات بلیو پاسپورٹ بنوا کر دنیا کے تیس چالیس ممالک کا بغیر ویزا سفر کر سکتے ہیں۔ یہ وہ مراعات ہیں جو اَب انہیں اور ان کے خاندان کو تاحیات میسر رہیں گی‘ چاہے وہ ایم این اے رہیں یا نہ رہیں۔ وہ اپنے تئیں پورے جذبے سے عوام کی خدمت کے نام پر آئے تھے لہٰذا وہ حیران ہوئے کہ عوام کے پاس سبز پاسپورٹ ہے تو ان چار پانچ چھ سو لوگوں نے بلیو پاسپورٹ کیوں بنوا لیے ہیں؟ مطلب پچیس کروڑ لوگوں کے ووٹ تو لینے ہیں لیکن سبز پاسپورٹ لے کر انکے ساتھ ایئرپورٹ پر لائن میں نہیں کھڑا ہونا۔ عالمی ایئرپورٹس پر بھی کہیں سے نہ لگے کہ ہم پاکستانی گرین پاسپورٹ ہولڈرز ہیں۔ ہمارے پاسپورٹ کا رنگ مختلف ہونا چاہیے تاکہ ہمیں ایئرپورٹس پر اُس سلوک کا سامنا نہ کرنا پڑے جو عام پاکستان کو اکثر ایئرپورٹس پر برداشت کرنا پڑتا ہے۔اسی طرح سفارتی پاسپورٹ پر بھی پھڈا رہتا ہے۔ بعض ارکانِ اسمبلی نے نہ صرف سفارتی پاسپورٹ خود لے لیے بلکہ اپنے بچوں کو بھی دلا دیے‘ جو قانون کے خلاف ہے۔ اس کا انکشاف پچھلے دنوں ہوا‘ جب پی ٹی آئی کے ایک ایم این اے کے بیٹے کے حوالے سے یہ خبر سامنے آئی کہ وہ نوجوان اٹلی گیا‘ اس کے پاس سفارتی پاسپورٹ تھا اور اس نے وہاں پہنچ کر اسی سفارتی پاسپورٹ پر اسائلم کیلئے درخواست دے دی۔ اندازہ کریں‘ وہ سفارتی پاسپورٹ جو صرف مخصوص سفارتکاروں یا اعلیٰ عہدیداروں کو دیا جاتا ہے‘ وہ ایک ایم این اے کے بیٹے کو بھی ملا ہوا تھا اور اس نوجوان نے اس کا کیا خوب استعمال کیا۔ اب سوال یہ ہے کہ وہ پاسپورٹ کس کی منظوری سے ایک ایم این اے کے بیٹے کو دیا گیا؟ یہ سب تفصیلات دو تین دن کے شور شرابے کے بعد دب کر رہ گئیں۔ یقینی طور پر اگر پی ٹی آئی کا ایک ایم این اے سفارتی پاسپورٹ لے سکتا ہے تو پھر دیگر بڑے بڑے وزیروں‘ مشیروں‘ سینیٹرزیاایم این ایز کے بچوں کو کتنے سفارتی پاسپورٹ جاری ہوئے ہوں گے! چاہیے تو یہ تھا کہ کوئی ایم این اے یا سینیٹر وقفۂ سوالات میں یہ سوال اٹھاتا کہ ان لوگوں کے نام بتائے جائیں جن کے پاس سفارتی پاسپورٹ ہیں‘ کون اس کیلئے اہل تھا اور کتنے لوگوں کو قواعد و ضوابط میں نرمی کرکے یہ پاسپورٹ دیے گئے۔ مگر اب سبھی سینیٹرز یہ چاہتے تھے کہ انہیں بچوں اور والدین سمیت تاحیات بلیو پاسپورٹ دیے جائیں۔ پتا چلا کہ اس وقت 45 ہزار پاکستانی ایلیٹس کے پاس بلیو پاسپورٹ ہیں۔ تاہم سفارتی پاسپورٹس کی تعداد کے بارے میں طلال چودھری نے یہ نہیں بتایا کہ وہ کتنے ہیں اور نہ ہی کسی نے پوچھا۔ طلال چودھری نے کہا کہ پہلے 75 ہزار بلیو پاسپورٹ تھے اور اب تیس ہزار پاسپورٹ منسوخ کیے جا چکے ہیں‘ اور ان میں کوئی سیاستدان نہیں تھا۔ پتا چلا کہ سب بیورو کریٹس نے اپنے اور اپنے خاندان کیلئے تاحیات بلیو پاسپورٹ رکھنے کا قانون بنوا رکھا ہے۔ اس پر سینیٹ میں شور مچا کہ دیکھیں بیوروکریٹس نے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی‘ چپکے سے ماں باپ اور بچوں سمیت تاحیات سرکاری پاسپورٹ رکھنے کی سہولت حاصل کر رکھی ہے جبکہ یہی بیورو کریسی ہر دفعہ سینیٹرز کے تاحیات بلیو پاسپورٹ پر اعتراض لگا کر بل پاس نہیں ہونے دیتی۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اس کا درمیانی حل نکالا کہ آپ سینیٹرز کیلئے گنجائش نکالتے ہیں اور بیورو کریٹس کو ریٹائرمنٹ کے بعد خاندان سمیت بلیو پاسپورٹ فراہم کرنے کا قانون ختم کر دیتے ہیں‘ جس پر سینیٹرز خوش ہو گئے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ بیورو کریسی کی یہ شاہی مراعات ختم کرنے کے بجائے سینیٹرز ان کو دی گئی مراعات کا حوالہ دے کر اپنے لیے بھی وہی سہولت‘ خاندان سمیت تاحیات حاصل کرنا چاہتے تھے۔کیا دنیا کی کسی اور پارلیمنٹ میں ارکان کو اپنے لیے بلیو پاسپورٹ حاصل کرنے کی خاطر ڈیڑھ گھنٹے تک لڑتے دیکھا یا سنا ہے؟ میں نے دیکھا بھی ہے اور سنا بھی ہے‘ اور آخر جیت انہی کی ہوئی جو عوام کے دکھ درد مٹانے کیلئے سیاست میں آئے تھے اور اب اپنے اور پورے خاندان کیلئے تاحیات وہ پاسپورٹ لینے میں کامیاب ہو گئے جس کا رنگ پچیس کروڑ عوام کے سبز پاسپورٹ سے الگ ہے۔ اس سے بڑی کارکردگی یا کامیابی اور کیا ہو سکتی ہے؟</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>شاہراہیں یا قتل گاہیں؟(رسول بخش رئیس)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-10-23/52893/96108062</link><pubDate>Fri, 23 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-10-23/52893/96108062</guid><description>بدھ کی صبح اپنے آبائی علاقے کے بالکل سامنے‘ مغرب میں انڈس ہائی وے پر حادثے کی المناک خبر پڑھی تو اپنے بھی زخم تازہ ہو گئے۔ ان زخموں کے بارے میں کچھ دیر بعد عرض کروں گا‘ پہلے کچھ وطنِ عزیز کی بات کرتے ہیں۔ سڑکوں‘ گلیوں‘ شاہراہوں اور یہاں تک کہ بڑے شہروں کے بازاروں میں آپ جو بے ہنگم ٹریفک دیکھتے ہیں‘ شاید دنیا کے ہمارے جیسے چند ممالک ہی‘ ایسی اجتماعی بے احتیاطی کا مقابلہ کر سکیں۔ حادثات ایسے ہی نہیں ہوتے! بے قاعدگیوں کی وجہ سے لوگ جسمانی طور پر معذور ہوتے ہیں اور کچھ بدقسمت اپنی زندگیاں گنوا دیتے ہیں۔ ہمارے ملک میں حادثات کے شماریات اب کئی سالوں سے جمع ہو رہے ہیں جن کے مطابق روزانہ تقریباً 94 انسان لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔ گزشتہ سال 34 ہزار 392 افراد سڑکوں پر حادثات کی نذر ہوئے۔ ہر نوع کی گاڑیوں کے 4 لاکھ 83 ہزار حادثات کے واقعات ہوئے جن میں 5 لاکھ 70 ہزار افراد زخمی ہوئے۔ اس بات پر اب حیرانی نہیں ہونی چاہیے کہ 75 فیصد حادثات کا شکار موٹر سائیکل سوار ہوئے۔ دنیا میں سڑکوں پر حادثات کا ہونا جدید تیز رفتار زندگی کا ایک ہولناک عکس ہے۔ کسی بھی ملک کے لوگ سڑکوں پر مکمل محفوظ نہیں‘ مگر اکثر ممالک میں ٹریفک کے معاملات کو زیادہ سنجیدگی سے دیکھا جاتا ہے۔ قوانین پر سختی سے عمل ہوتا ہے اور ہائی ویز کا انتظام جدید ٹیکنالوجی اور سڑکوں کی بہتر ساخت سے مؤثر انداز میں زندگیوں کا تحفظ کرتا ہے۔ امریکہ میں ہمارے مقابلے میں کئی گنا زیادہ گاڑیاں ہیں اور ہر شخص سڑکوں پر کئی گنا زیادہ ڈرائیونگ کرتا ہے۔ وہاں کی آبادی بھی زیادہ ہے۔ وہاں گزشتہ سال 36 ہزار 640 افراد سڑکوں پر لقمہ اجل بنے۔ یہ اموات بھی اگرچہ بہت زیادہ ہیں‘ مگر وہاں ہر سال حادثات کی شرح کم اور ہمارے ہاں بڑھتی جا رہی ہے۔ اب یہ سوال ہم کس سے کریں‘ کون آپ کے خیال میں ذمہ دار ہے‘ اور ان الجھے ہوئے معاملات کا کیا حل ہو سکتا ہے! حکومتوں کی غفلت سے ہونے والے حادثات کو ہم نہیں روک سکتے‘ مگر اپنا خیال تو رکھا جا سکتا ہے۔ بہت عرصہ پہلے کسی بزرگ نے نصیحت کی تھی کہ سڑک پر گاڑی نکالتے وقت خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی بچائیں۔راجن پور کے ضلع میں جس شاہراہ پر گزشتہ دنوں ایک بس حادثے کا شکار ہوئی‘ جس میںدس افراد کے جاں بحق اور درجنوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں‘ اس سڑک پر اکثر حادثات ہوتے رہتے ہیں۔ اکثر بسیں پشاور‘ سوات اور کراچی کے درمیان اسی شاہراہ پر دن رات چلتی رہتی ہیں۔ شام ہوتے ہی بڑے بڑے ٹریلروں اور ٹرکوں کی دوڑ بھی شروع ہو جاتی ہے‘ جو اکثر ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے اوور ٹیک کرتے ہیں‘ اور انہیں سامنے سے آنے والی ٹریفک کا مطلق خیال نہیں ہوتا۔ یہ اپنے تجربے اور مشاہدے کی بنیاد پر کہہ رہا ہوں کہ بسوں کی رفتا ر کا اندھیرے میں‘ بلکہ دن میں بھی اس وقت اندازہ ہوتا ہے جب تیز رفتار آندھی کا جھکڑ گاڑی کو ہلا کر رکھ دیتا ہے۔ شام ہوتے ہی ان بسوں کی ہیڈ لائٹس مخالف سمت سے آنے والی ٹریفک کی بصارت کو مفلوج کر دیتی ہیں۔ مجھے نہیں معلوم ایسی صورت میں دوسرے ڈرائیور کیا کرتے ہوں گے‘ اگرمیں کسی وجہ سے اندھیرے میں پھنس جائوں تو بریک لگا کر رک جاتا ہوں۔ خوف مزید بڑھ جاتا ہے کہ عقبی سمت سے آنے والا کوئی تیز رفتار سوار ٹکر نہ مار دے۔ اب ایک عرصہ سے رات کو گاڑی چلانے پر‘ اپنے آپ پر پابندی لگا رکھی ہے۔ مگر اسلام آباد میں کبھی تو یہ ناگزیر ہو جاتا ہے۔ شاہراہوں کی بات تو اکثر ہوتی رہتی ہے۔ جو شہروں کے اندر ٹریفک ہے اس کے بارے میں بھی ہمارے افسرانِ بالا اور حکومتیں کچھ نہیں کر رہیں۔ آپ کسی بھی شہر میں ہیں‘ شام ہوتے ہی موٹر سائیکلوں کی تیز ہیڈ لائٹس آپ کو اندھا کر دیں گی۔ بڑی اور چھوٹی گاڑیوں والے بھی تیز سفید قسم کی ہیڈ لائٹس آن کیے‘ تیز رفتاری میں آپ کو حواس باختہ کر دیں گے۔ بہتر تو یہ ہے کہ آدمی گھر سے نکلے ہی نہ‘ مگر کیا معاشرے‘ شہر اور حکومتیں ایسی ہوتی ہیں کہ ہر کوئی بازاروں‘ سڑکوں اور شاہراہوں پر من مانی کرتا پھرے؟اب تو موٹر ویز پر بھی نہ تو بسیں لین کی پابندی کرتی ہیں اور نہ ہی حدِ رفتار کی۔ اگر آپ گاڑی چلاتے ہیں تو آپ نے بھی یہ نوٹ کیا ہوگا۔ آخر ہم اچھے بنے بنائے نظام کو خراب کرنے کی کیوں ٹھان لیتے ہیں۔ آخر ان ڈرائیوروں کا کیوں محاسبہ نہیں ہوتا۔ اگر ہوتا دیکھا تو صرف مخصوص جگہوں پر‘ جہاں کسی جھاڑی یا گاڑی کی آڑ میں کیمرہ لگا کر موٹر ویز اہلکار شکار کے انتظار میں بیٹھے نظر آتے ہیں۔ لیکن ان کی کمیں گاہوں کا سب کو علم ہوتا ہے‘ اس لیے وہاں رفتار کم کر لیتے ہیں۔ اس کے لیے اب کوئی اور مؤثر طریقہ وضع کرنا ہو گا۔ چلیں اب اپنے اُن زخموں کی بات کرنے کے لیے واپس انڈس ہائی وے پر آپ کو لیے چلتا ہوں‘ جو کچھ نشانات‘ ایک دو ٹیرھی ہڈیوں کی صورت پندرہ بیس سال بعد بھی موجود ہیں۔ نہ کبھی ان کا علاج کرایا اور نہ پروا کی۔ شکر ہے کہ جان بچ گئی۔ یہ صبح کا وقت تھا۔ پوری رات بس میں سفر کرکے راجن پور پہنچا تھا مگر کوئی گاڑی یا ویگن میسر نہیں تھی کہ اُس دن ایک حاکمِ وقت کا ڈیرہ غازی خان میں جلسہ تھا اور جو کچھ سڑکوں پر چل سکتا تھا‘ وہ پولیس پکڑ کر ایک دن پہلے ہی لوگوں کو ان میں بند کرکے جلسہ گاہ کی رونق بڑھانے کے لیے لے گئی تھی۔ کئی ماہ بعد اپنے گھر جانے اور بیمار والدہ کو دیکھنے کا اشتیاق تھا۔ ایک عزیر سے موٹر سائیکل مہیا کرنے اور میرے ساتھ 45 کلومیٹر سفر کرنے کی درخواست کی۔ سڑکیں اس دن تقریباً خالی تھیں۔ پرانے زمانوںکی طرح کک ماری اور موٹر سائیکل فراٹے بھرنے لگی۔ آدھا سفر ہی گزرا تھا کہ اچانک چند لمحوں کے لیے خود کو ہوا میں اڑتا محسوس کیا۔ اس کے بعد دنیا وما فیہا کی خبر نہ رہی۔ ہوش آیا تو انڈس ہائی وے کے کنارے پڑا ہوا تھا۔ ارد گرد کچھ لوگ پانی پلانے کی کوشش کر رہے تھے۔ انہوں نے پہچان لیا۔ ایک ویگن میں ڈال کر ایک ڈاکٹر کے پاس واپس راجن پور لے گئے۔ راستے میں ہوش تو تھا‘ مگر بصارت مکمل طور پر جواب دے چکی تھی۔ ڈاکٹر نے کچھ ٹیکے لگا کر کئی گھنٹے آرام کرنے کو کہا۔ شام تک طبیعت سنبھلی۔ ہوا یوں تھا کہ جب میں اور میرا عزیز موٹر سائیکل پر رواں دواں تھے تو کراچی کی جانب جانے والی ایک بس زناٹے سے گزری تھی۔ اس کی رفتار اتنی زیادہ تھی کہ موٹر سائیکل اور ہم دونوں ہوا کے پریشر سے اڑ کر دور جا گرے۔ نہ بس ہمیں پہلے نظر آئی تھی نہ بعد میں۔ صرف اُس کی آواز اور ہوا کا پریشر یاد ہے۔ راستوں میں نجانے کتنے لوگ اس طرح ان تیز رفتار بسوں کی وجہ سے اپنی ہڈیاں تڑوا کر میری طرح خموش گھروں کی راہ لیتے ہوں گے۔ ہم نے تب کوئی شکایت کی‘ نہ اب کوئی کرتا ہے۔ بے حسی ایک طرف‘ ہمارا ٹرانسپورٹ کا نظام بہت ہی بگڑا ہوا ہے۔ ہماری سڑکیں اور شاہراہیں ہمارے شہروں کی طرح بڑھتی ہوئی آبادی کا بوجھ نہیں اٹھا سکتیں۔ آپ کے لیے شاید یہ بات عجیب ہو مگر میں اکثر دیکھتا ہوں کہ شام ہوتے ہی ایک گدھا گاڑی والا اسلام آباد کے ہمارے قریبی مرکز میں مع اہل وعیال چوک میںبھیک مانگنے کی غرض سے گھومتا رہتا ہے۔ اس طرح پھٹے رکشے پر سوار پیشہ ور بھکاری بھی آ دھمکتے ہیں۔ آپ کہیں گے کہ راجن پور کو چھوڑیں‘ اسلام آباد کی ٹریفک پولیس کہاں ہوتی ہے؟ کہیں تو ہوتی ہو گی‘ مجھے معلوم نہیں۔ شاید کسی کی گھات لگائے بیٹھی ہو‘ کسی موٹر سائیکل کا چالان کرکے اپنا ہدف پورا کرنے کی فکر میں۔ اس لیے خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی بچائیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_33241568.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ایران، امریکہ تنازع اور روس(ڈاکٹر رشید احمد خاں)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr-rasheed-ahmad-khan/2026-10-23/52894/13525301</link><pubDate>Fri, 23 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr-rasheed-ahmad-khan/2026-10-23/52894/13525301</guid><description>رواں ہفتے دو اہم شخصیات نے ایران کے دارالحکومت تہران کا دورہ کیا اور ملک کے اہم رہنماؤں سے ملاقات کی۔ ان میں پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز‘ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف شامل تھے۔ اگرچہ فیلڈ مارشل کے دورے سے متعلق ابھی تک پاکستانی دفترِ خارجہ کی جانب سے آفیشل تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں مگر ایرانی میڈیا میں جو کچھ رپورٹ ہوا‘ اس کو دیکھ کر بہ آسانی کہا جا سکتا ہے کہ اس دورے کا تعلق ایران اور امریکہ کے تنازع کو پُرامن سفارتی ذرائع سے حل کرنے کی کوششوں سے ہے۔ دوسری جانب28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے سے جنگ چھڑنے کے بعد روسی وزیر خارجہ کا یہ پہلا دورۂ ایران تھا۔ روسی وزیر خارجہ نے ایران پہنچنے سے پہلے بحرین میں روس اور خلیج تعاون کونسل کے تحت سٹرٹیجک ڈائیلاگ کی نویں جوائنٹ منسٹریل کونسل کے اجلاس میں شرکت کی ۔ اس لیے تہران پہنچنے سے پہلے انہیں اچھی طرح معلوم تھا کہ خلیج کی صورتحال‘ خاص طور پر آبنائے ہرمز کے بارے میں خلیج کی عرب ریاستوں کا کیا نقطۂ نظر ہے۔ اگرچہ تہران میں ایرانی اور روسی وزرائے خارجہ کے درمیان ہونے والی بات چیت کو ایرانی حکومت نے دوطرفہ تعلقات کو مزید بہتر اور وسیع کرنے کے موضوع پر ہونے والی گفتگو قرار دیا ہے‘ مگر فریقین کے درمیان ایران اور امریکہ کے تنازع‘ خاص طور پر آبنائے ہرمز پر بھی خیالات کا تبادلہ ہوا ہے۔ نہ صرف دفاع بلکہ تجارت اور دیگر معاشی شعبوں میں بھی ایران اور روس کے مابین قریبی تعاون پایا جاتا ہے۔ یہ تعاون 2025ء میں روسی صدر پوتن اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے درمیان طے پانے والے 25 سالہ جامع سٹرٹیجک پارٹنرشپ معاہدے کے تحت جاری ہے‘ جس میں نہ صرف دفاع اور سلامتی بلکہ توانائی اور ٹرانسپورٹیشن کے شعبے بھی شامل ہیں۔ یہ بھی یاد رہے کہ ایران اور روس کے مابین جوہری توانائی کے شعبے میں بھی تعاون جاری ہے۔ ایران میں بوشہر کا نیوکلیئر پاور پلانٹ اس کی ایک مثال ہے۔اگرچہ روس نے ایران کو بڑے ہتھیار مثلاً ٹینک اور توپیں مہیا نہیں کیے‘ لیکن مغربی ذرائع کا کہنا ہے کہ روس (اور چین) نے ایران کو انٹیلی جنس شیئرنگ میں مدد فراہم کی ہے۔ ایران کے علاوہ یمن میں اس کی اتحادی انصار اللہ المعروف حوثی تنظیم خلیج فارس میں امریکی اڈوں اور سعودی تنصیبات کو اپنے میزائلوں سے جو نشانہ بنانے میں کامیاب ہو رہی ہے‘ اسے روس کی تکنیکی مدد کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے۔ اسی طرح ایران نے اپنے ڈرون &#39;شاہد‘ کی پیداوار میں روسی ٹیکنالوجی استعمال کی ہے اور انہیں بڑی تعداد میں تیار کرکے روس کے حوالے کیا ہے جنہیں روس یوکرین کے خلاف جنگ میں استعمال کر رہا ہے۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف مختلف الزامات پر مبنی جو چارج شیٹ اکثر عائد کرتے رہتے ہیں‘ ان میں بڑی تعداد میں شاہد ڈرون تیار کرکے روس کو سپلائی کرنا بھی شامل ہے۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ امریکہ نے ایران کی جو سخت اقتصادی ناکہ بندی کر رکھی ہے‘ چین کی طرح روس نے بھی اسے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ روسی وزیر خارجہ نے حالیہ دورۂ ایران کے دوران کھل کر کہا ہے کہ روس نے ایران کے ساتھ جو اقتصادی معاہدے کر رکھے ہیں‘ ان پر اس کی حکومت امریکی ناکہ بندی کی پروا کیے بغیر پوری طرح عمل کرے گی۔ متعدد ذرائع سے یہ معلومات بھی سامنے آ چکی ہیں کہ روس نے بحیرہ کیسپین کے راستے ایران کو اپنی برآمدات بھیجنے میں سہولت فراہم کر رکھی ہے۔ اس طرح ایران کی تقریباً 30 فیصد برآمدات امریکی ناکہ بندی کے باوجود وسطی ایشیائی ممالک اور روس کی منڈیوں تک پہنچنے میں کامیاب ہو رہی ہیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ویٹو پاور رکھنے والے روس اور چین کی موجودگی ایران کیلئے بہت مددگار ثابت ہوئی ہے۔ اگر اس کونسل میں روس اور چین ایران کی مدد نہ کرتے تو امریکی صدر اب تک سلامتی کونسل سے ایران کے خلاف اپنی جارحانہ جنگ پر مہر ثبت کروا چکے ہوتے۔ روس ان ممالک میں شامل ہے جنہوں نے ایران کیخلاف امریکی اور اسرائیلی جنگ کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور بلاجواز قرار دیا اور اسے فوراً بند کرنے کا مطالبہ کیا۔روسی وزیر خارجہ کے حالیہ دورۂ ایران کے دوران ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا تھا کہ ایران اور روس کے باہمی تعلقات جتنے مضبوط آج ہیں اس سے پہلے کبھی نہ تھے۔ ان مضبوط تعلقات کی روشنی میں‘ اور خاص طور پر دفاعی شعبے میں تعاون اور سفارتی سطح پر حمایت کی بنا پر توقع کی جا رہی ہے کہ روس کی ثالثی ایران اور امریکہ کے تنازع کا حل تلاش کرنے میں کامیاب ہو جائے گی‘ یا کم از کم روس کی کوششوں سے اس جنگ کو وسیع ہونے سے روکا جا سکے گا۔ ان توقعات کو اس حقیقت سے بھی تقویت ملتی ہے کہ اگرچہ روس نے اس تنازع کے حل میں مدد فراہم کرنے کی متعدد بار پیشکش کی ہے لیکن پہلی مرتبہ اس ضمن میں ایک سنجیدہ اور عملی قدم اٹھایا گیا ہے۔ روسی وزیر خارجہ کا دورۂ ایران اس کا ثبوت ہے۔ اس کے علاوہ امریکی صدر ٹرمپ نے بھی حال ہی میں انکشاف کیا ہے کہ امریکہ‘ ایران کے مسئلے پر روس کے ساتھ بھی بات چیت میں مصروف ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایران کے ساتھ امریکہ کا تنازع حل کرنے میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کیلئے روس کو امریکہ کا گرین سگنل مل چکا ہے۔ لیکن تہران میں روسی وزیر خارجہ کی اہم ایرانی عہدیداروں کے ساتھ بات چیت کا کوئی فوری ٹھوس نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ روس مسئلے کے حل کیلئے ایران کو جو تجاویز دے رہا ہے‘ وہ فی الحال ایران کیلئے قابلِ قبول نہیں ہیں۔ مثلاً روسی وزیر خارجہ نے تہران میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کی جنگ سے پہلے والی حیثیت بحال کی جائے تاکہ ہر ملک کے بحری جہازوں کو اس تنگ آبی راستے سے گزرنے کی مکمل آزادی ہو۔ اس کے برعکس ایران کا مؤقف یہ ہے کہ جنگ کی وجہ سے آبنائے ہرمز کی پہلی حیثیت بحال نہیں کی جا سکتی کیونکہ یہ ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ نہیں ہے بلکہ ایران اور عمان کی علاقائی حدود سے گزرتی ہے۔ اس لیے اس میں سے بحری جہازوں کی آمدورفت کو ایران اور عمان مشترکہ طور پر کنٹرول کریں گے۔ اسی طرح ایران نے روس کی طرف سے تقریباً 500 کلوگرام 60 فیصد افزودہ یورینیم کو روس یا کسی تیسرے ملک میں منتقل کرنے کی پیشکش بھی مسترد کر دی ہے اور اس بات پر اصرار کیا ہے کہ یہ ایران کی قومی ملکیت ہے اور ایران ہی میں رہے گا۔ آبنائے ہرمز اور افزودہ یورینیم دو ایسے مسائل ہیں جن پر ایران اور روس میں ڈیڈلاک موجود ہے‘ اور روس کی کوشش سے بھی یہ ڈیڈلاک ختم نہیں ہو سکا۔ لہٰذا خدشہ ہے کہ  امریکہ ایران پر دوبارہ حملہ کر سکتا ہے مگر اس جنگ کی بڑھتی ہوئی غیر مقبولیت اور امریکہ کے یورپی اتحادیوں کی طرف سے ٹرمپ کا ساتھ دینے سے انکار‘ دو ایسے اہم عوامل ہیں جو امریکی صدر کو اس خطرناک مہم جوئی سے باز رکھنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔روس کیلئے بھی ایران کے مسئلے کا حل بہت اہم ہے۔ اب جبکہ یوکرین جنگ کے اختتام کے امکانات روشن ہو رہے ہیں‘ روس کیلئے خلیج فارس اور مشرقِ وسطیٰ میں امن کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ اگلے ماہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کے درمیان ملاقات ہونے والی ہے‘ اور امید ہے کہ دونوں کے مابین بات چیت کے نتیجے میں ایران اپنے مؤقف میں کچھ لچک کا مظاہرہ کرنے پر آمادہ ہو جائے گا۔ امریکہ میں ایران کے خلاف ٹرمپ جنگ کی مخالفت بڑھ رہی ہے اور بین الاقوامی برادری کی طرف سے اس کے سفارتی حل پر زور دیا جا رہا ہے۔ اس صورتحال کے تناظر میں روس‘ پاکستان اور قطر کی مصالحتی کوششیں کامیاب ہونے کی امیدیں مزید بڑھ گئی ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90264263.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مصنوعی ذہانت: امکانات اور خدشات(اسد طاہر جپہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/asad-tahir-jappa-/2026-10-23/52895/35759781</link><pubDate>Fri, 23 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/asad-tahir-jappa-/2026-10-23/52895/35759781</guid><description>آرٹیفیشل انٹیلی جنس یا مصنوعی ذہانت اب کوئی سائنسی تصور یا فکشن فلم کا خیالی خاکہ نہیں رہی۔ اب یہ ہماری جیب میں ہے‘ ہمارے دفتر میں ہے‘ ہمارے بچوں کے سکول بیگ میں ہے۔ جس تیزی سے ہم نے پچھلے دو برسوں میں اسے اپنایا ہے‘ اس کی مثال انسانی تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ ہر بڑی ایجاد کو عام آدمی تک پہنچنے میں دہائیاں لگیں مگر چیٹ جی پی ٹی کو ایک سو ملین صارفین تک پہنچنے میں صرف دو ماہ لگے۔ یہ برق رفتاری ہی اس کی سب سے بڑی خوبصورتی بھی ہے اور سب سے بڑا خدشہ بھی۔ لہٰذا اس وقت سوال یہ نہیں رہا کہ مصنوعی ذہانت آئے گی یا نہیں‘ سوال یہ ہے کہ ہم اس کے ساتھ کیسے رہیں گے؟ یہ ہماری خادمہ بنے گی یا مالکن؟ کیا یہ ہمیں ایک بہتر انسان بنائے گی یا ہم سے انسانیت ہی چھین لے گی؟ کالم کے محدود الفاظ میں ان تمام پہلوؤں پر سیر حاصل گفتگو ممکن نہیں؛ البتہ کچھ امکانات اور خدشات کو زیر بحث ضرور لایا جا سکتاہے۔پہلے اس کے روشن پہلوؤں کا احاطہ کرتے ہیں کیونکہ میں ذاتی طور پر رجائیت پسند ہوں اور ہمیشہ امید و آرزو کے نگر آباد رکھتا ہوں۔ مصنوعی ذہانت کا سب سے پہلا اور نمایاں پہلو یہ ہے کہ اس نے علم و تدریس پر اشرافیہ کا اجارہ ختم کر دیا ہے۔ میری نسل نے لائبریریوں میں گھنٹوں دھول پھانکی ہے۔ ایک مستند حوالے کیلئے رجسٹر ڈھونڈنا‘ پھر کتاب‘ پھر اس کا صفحہ۔ جبکہ آج ہر کوئی اپنے موبائل پر دنیا کے بہترین استاد سے سوال پوچھ سکتا ہے۔ مصنوعی ذہانت نے علم کو اشرافیہ کے ڈرائنگ روم سے نکال کر کوچہ و بازار میں لاکھڑا کیا ہے۔ اردو میں ترجمہ‘ قرآن کی تفسیر‘ اقبال کی تشریح‘ میڈیکل کا مشورہ‘ قانونی رہنمائی‘ سب کچھ ایک ٹچ اور ایک کلک پر دستیاب ہے۔ یہ ایک ایسا انقلاب ہے جس کا ماضی میں تصور تک نہیں تھا۔ دوسری جانب صحت کے شعبے سے متعلق وقوع پذیر ہونے والی تبدیلیاں ہیں۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں ہزاروں مریضوں کیلئے ایک ڈاکٹر ہے‘ اے آئی ایک مسیحا بن سکتی ہے۔ ایکسرے میں کینسر کی ابتدائی تشخیص‘ دل کی دھڑکن کا پیٹرن دیکھ کر ہارٹ اٹیک کی پیش گوئی‘ گاؤں میں بیٹھی خاتون کا الٹرا ساؤنڈ‘ سینکڑوں میل دور شہر کے ڈاکٹر تک پہنچانا‘ یہ سب اب ممکن ہے۔ مصنوعی ذہانت تھکتی نہیں‘ رشوت نہیں لیتی‘ اور ہڑتال پر نہیں جاتی۔ اس کے ساتھ ساتھ معیشت اور روزگار کے نئے دروازے کھلے ہیں۔ یہ کہا جا رہا ہے کہ اے آئی نوکریاں کھا جائے گی۔ یہ آدھا سچ ہے۔ ہر ٹیکنالوجی نے کچھ نوکریاں ختم کی ہیں اور اس سے کئی گنا زیادہ نئی پیدا کی ہیں۔ جب کمپیوٹر آیا تو ٹائپسٹ کی نوکری ختم ہوئی لیکن سافٹ ویئر انجینئر‘ گرافک ڈیزائنر‘ ڈیٹا انٹری آپریٹر جیسے لاکھوں روزگار بنے۔ آج ایک نوجوان ساہیوال میں بیٹھ کر اے آئی سے لوگو بنا کر امریکہ میں بیچ رہا ہے۔ ایک بچی گوجرانوالہ میں بیٹھ کر اے آئی وائس اوور سے یوٹیوب چینل چلا رہی ہے۔ اصل سوال نوکری جانے کا نہیں‘ ہنر بدلنے کا ہے۔ چوتھا روشن پہلو تخلیقی صلاحیتوں کا فروغ ہے۔ بہت سے ادیب پریشان ہیں کہ اے آئی لکھے گی تو ہم کیا کریں گے؟ میں سمجھتا ہوں کہ اے آئی لکھ نہیں سکتی‘ وہ صرف جوڑ توڑ کر سکتی ہے۔ درد‘ ہجرت‘ ماں کی گود کا لمس‘ پہلی محبت کی ناکامی‘ یہ لطیف جذبات اے آئی کے پاس نہیں۔ لیکن ہاں! یہ ایک بہترین معاون بن سکتی ہے۔ آپ ایک خاکہ دیں‘ وہ اسے پھیلا دے گی۔ آپ غزل کا ایک مصرع دیں‘ وہ اس پر زمینیں دے دے گی۔ یہ قلم کو چھینتی نہیں بلکہ اسے تیز کرتی ہے۔اب تصویر کا دوسرا رخ دیکھتے ہیں اور ان خدشات پر بات کی جائے جن سے آنکھ نہیں چرائی جا سکتی۔ جس طرح ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی‘ اس مصنوعی چمک کے پیچھے کچھ بہت گہرے اندھیرے بھی ہیں جن پر بات کرنا ضروری ہے۔ سب سے بڑا نقصان سچ اور جھوٹ کی تمیز کا خاتمہ ہے۔ یہی میرا سب سے بڑا اندیشہ ہے۔ پچھلے مہینے ایک وڈیو وائرل ہوئی جس میں ایک معروف سیاسی رہنما ایسی بات کہہ رہا تھا جو اس نے کبھی کہی ہی نہیں۔ بعد میں پتا چلا وہ ڈیپ فیک تھی۔ مصنوعی ذہانت سے اب کسی کی بھی شکل‘ آواز‘ چال ڈھال بنائی جا سکتی ہے۔ آنے والے الیکشن میں‘ آنے والے فسادات میں‘ یہ سب سے خطرناک ہتھیار بنے گا۔ جب ہم کسی وڈیو پر ہی یقین نہیں کر سکیں گے تو معاشرہ کس پر یقین کرے گا؟ عدالت کس ثبوت کو مانے گی؟ میڈیا کس کو سچ کہے گا؟ یہ محض ٹیکنالوجی کا مسئلہ نہیں‘ یہ تہذیب کے بھروسے کا بحران ہے۔ یہ انسانی دماغ کی سستی اور تنزلی کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ ہم نے کیلکولیٹر آنے کے بعد پہاڑے یاد کرنا چھوڑ دیے۔ گوگل آنے کے بعد راستے یاد کرنا چھوڑ دیے۔ کیا اب اے آئی کے بعد سوچنا بھی چھوڑ دیں گے؟ مبینہ طور پر یونیورسٹیوں میں طلبہ تھیسس اے آئی سے لکھوا رہے ہیں۔ سکول کے بچے مضمون اور ماڈلز اے آئی سے بنوا رہے ہیں۔ ہم ایک ایسی نسل تیار کر رہے ہیں جس کے پاس معلومات تو بہت ہوںگی لیکن اپنی عقل اور شعور کم ہوگا۔ جس کے پاس جواب تو ہوں گے لیکن سوال پوچھنے کی جستجو نہیں ہوگی۔ یاد رکھیے‘ جو افراد سوچنا چھوڑ دیتے ہیں‘وہ ٹیکنالوجی کے غلام بن جاتے ہیں اور یوں تخلیقی صلاحیتوں کا فقدان ہو سکتا ہے۔ روزگار کے مواقع محدود ہونے کے باعث معاشی ناہمواری بڑھ جائے گی۔ یہ کہنا کہ نوکریاں نہیں جائیں گی‘ خوش فہمی ہے۔ دس میں سے تین نوکریاں ضرور جائیں گی‘ بالخصوص جن میں دہرائے جانے والے کام زیادہ ہیں۔ مثلاً کال سنٹر‘ بنیادی اکاؤنٹنگ‘ عام ترجمہ‘ ڈیٹا انٹری وغیرہ۔ پاکستان جیسے ملک کیلئے جہاں پہلے ہی 60 فیصد نوجوان بے روزگار یا نیم بے روزگار ہیں‘ یہ ایک بڑا چیلنج ہو گا۔ سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ اس ٹیکنالوجی کا فائدہ صرف چند بڑی کمپنیوں کو ہو رہا ہے۔ ڈیٹا ہمارا‘ محنت ہماری لیکن پیسہ سیلیکون ویلی کا۔ یہ ایک نئی قسم کی ایسٹ انڈیا کمپنی ہے جو ڈیٹا کی صورت میں ہم سب کو نوآبادیاتی کالونی بنا رہی ہے۔اس کے علاوہ اس سے منسلک کچھ اخلاقی اور قانونی پہلو بھی ہیں۔ مثال کے طور پر اگر ایک خودکار گاڑی ایکسیڈنٹ کر کے کسی کو مار دے تو قاتل کون ہے؟ گاڑی بنانے والا‘ سافٹ ویئر لکھنے والا یا گاڑی میں بیٹھا شخص؟ اگر اے آئی کسی مریض کو غلط دوا تجویز کر دے تو ذمہ دار کون ہو گا؟ ہمارے قانون‘ ہماری فقہ‘ ہمارے اخلاقی اصول ابھی اس کیلئے تیار نہیں ہیں۔ ہم ایک ایسی دنیا میں داخل ہو رہے ہیں جس کا نقشہ ہمارے پاس ہے ہی نہیں۔ یہاں پر سب سے بڑا سوال یہی ہے۔ جب ایک تنہا بوڑھا اپنی شامیں ایک چیٹ بوٹ کے ساتھ گزارنے لگے گا جو اسے ہر بات پر &#39;&#39;جی بالکل! آپ درست کہتے ہیں‘‘ جیسے جواب دے گا تو وہ حقیقی انسانوں کی تلخی‘ اختلاف اور محبت کو کیسے برداشت کرے گا؟ مصنوعی ذہانت ہمیں بہت میٹھی‘ بہت فرمانبردار‘ بہت مطلبی دنیا دے رہی ہے۔ لیکن انسانیت کا حسن تو اس کی خامیوں‘ اس کے اختلاف اور اس کی قربانی میں ہے۔تو پھر راستہ کیا ہے؟ راستہ دکھائی نہ دے تو آنکھیں بند کر کے چلنا ہے‘ اور نہ ڈر کر اس سے اجتناب کرنا ہے۔ راستہ بیچ کا اپنا ہے‘ اور وہی ہمارا تاریخی راستہ رہا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ فوری طور پر ایک قومی اے آئی پالیسی بنائے۔ سکول کے نصاب میں اے آئی لٹریسی شامل کی جائے۔ بچوں کو یہ سکھایا جائے کہ اے آئی سے سوال کیسے پوچھنا ہے‘ اور اس کے جواب پر کیسے شک کرنا ہے۔ اگر ہم نے اردو‘ پنجابی‘ سندھی‘ پشتو میں اپنا اے آئی ماڈل نہ بنایا تو کل ہماری نسلیں انگریزی ماڈل سے اپنی تاریخ پوچھیں گی جو ہمیں ہماری تاریخ‘ ہماری نظر سے نہیں دوسروں کی نظر سے بتائے گا۔ لہٰذا ہمیں اپنا ڈیٹا محفوظ کرنا ہے اور اپنی زبانوں میں بڑے ماڈلز بنانے ہیں۔ ہمیں ہر جگہ لکھنا ہوگا کہ یہ مواد اے آئی سے بنا ہے یا انسانوں نے بنایا ہے۔ ہمیں عدالتوں‘ ہسپتالوں اور کلاس رومز میں فیصلہ کرنے کا حتمی حق اپنے پاس ہی رکھنا ہوگا۔ مصنوعی ذہانت وکیل کو تو کیس کی تیاری میں مدد فراہم کر سکتی ہے مگر عدالت میں اپنے کلائنٹ کی نمائندگی نہیں کر سکتی۔ مشین مشورہ تو دے سکتی ہے‘ فیصلہ نہیں کر سکتی۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_34710710.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>تماشا کب بدلتا ہے!(آصف عفان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/asif-afan-/2026-10-23/52896/39416045</link><pubDate>Fri, 23 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/asif-afan-/2026-10-23/52896/39416045</guid><description>جب تک زندہ تھا سگی ماں‘ دادا اور ننھیال جیسے خونی رشتے وارث بننے سے انکاری رہے۔ نانا نے بوجھ اتارنے کے لیے یتیم خانے کے حوالے کر دیا‘ یتیم خانے نے اپنا بوجھ ہلکا کرنے کے لیے ٹھیکیدار کے سپرد کر ڈالا اور ٹھیکیدار نے دردناک موت سے دوچار کیا تو سبھی وارث بن گئے۔ بین کرتی ماں ہو یا دہائی دیتے دیگر خونی رشتے دار‘ محلے دار ہوں یا عزیز و اقارب‘ اتنے وارثان تھے تو لاوارث کیوں مرا؟ مرنے کی دیر تھی سرکار بھی وارث بن بیٹھی‘ پولیس کی مدعیت میں مقدمہ درج ہوا اور ملزم گرفتاری کے بعد 24 گھنٹوں سے پہلے ہی دورانِ ریمانڈ پار ہو گیا۔ یعنی جب تک مرے نہ تھے کوئی پوچھتا نہ تھا۔ مرتے ہی اتنی پذیرائی‘ اتنی ہمدردی اور محبتیں‘ تعجب ہے! کیسا مردہ پرست معاشرہ ہے‘ زندوں کیلئے ذلت‘ دھتکار‘ پھٹکار کے علاوہ محتاجی کی زندگی۔ تنگ آکر کوئی مر کے دکھا دے تو یہی معاشرہ سروں پہ اٹھا لیتا ہے۔ 15سالہ وسیم زندگی کی تلاش میں اتنا بھاگا کہ کم سنی میں ہی مارا گیا۔ باپ نے دنیا سے منہ کیا موڑا اپنے پرائے‘ سگے سوتیلے سبھی نے منہ موڑ لیا۔ سی سی ٹی وی کیمروں کی آنکھ نے دہشت اور بربریت کے سبھی مناظر محفوظ نہ کیے ہوتے تو شاید سانحہ اتنی شہرت ہی نہ پاتا۔ دلخراش واقعے کی وڈیو اس طرح وائرل ہوئی کہ غم و غصے سے بھرے عوامی ردّعمل پر پولیس نے اس قدر تیزی دکھائی کہ چندگھنٹوں میں ہی قصہ ختم کر ڈالا۔سوشل میڈیا پر مبینہ پولیس مقابلے میں جہاں ٹھیکیدار توقیر کی ہلاکت پر خوب دانشوری جھاڑی جا رہی ہے‘ کوئی فوری انصاف کی شان میں زمین و آسمان کے قلابے ملا رہا ہے تو کوئی اسے عجلت کی کارروائی قرار دے رہا ہے۔ وہی گھڑی گھڑائی کہانی اس بار بھی دہرائی گئی ہے۔ ملزم کے ساتھی چھڑوانے آئے اور فائرنگ کے تبادلے میں اپنے ہی ساتھیوں کی گولیوں سے مارا گیا۔ سفاک قاتل کی ہلاکت پر قطعی کوئی اعتراض ہے نہ افسوس! جیسی کرنی ویسی بھرنی! لیکن پہلے سے کھڑے کئی سوالات کو مزید کڑے سوالات کا سامنا ہے۔ پولیس مقابلوں کی تاریخ خاصی پرانی ہے‘ مخصوص ادوار میں یہ مقابلے کبھی سیلابی رفتار سے ہوتے چلے آئے ہیں تو کبھی طوفانی رفتار سے ۔ جبکہ بیشتر ادوار میں ان کا گراف اور رجحان کبھی نچلے درجے پر رہا ہے تو کبھی نہ ہونے کے برابر۔ گھسا پٹا سکرپٹ اس قدر گھس چکا ہے کہ لفافہ دیکھ کر خط کا مضمون بخوبی پڑھا جا سکتا ہے اور ایک ہی مضمون کو اُلٹا پلٹا کر سالہا سال سے کام چلایا جا رہا ہے۔ سبھی واقفانِ حال بخوبی جانتے ہیں کہ پولیس مقابلوں کو سرکاری سرپرستی کب کب اور کس طرح حاصل رہی ہے۔ان مقابلوں کی مجہول روداد ڈی کوڈ کریں تو معرکے سے کہیں زیادہ نالائقی اور نااہلی کے اشارے تقویت پاتے دکھائی دیتے ہیں۔ پولیس تحویل سے فرار کی کہانی ہو یا ملزم کے مسلح ساتھیوں کی آمد‘ چھڑانے کی کوششوں میں فائرنگ کا تبادلہ اور ملزم کی ڈرامائی ہلاکت تک سبھی مراحل کی منظرکشی پر اٹھنے والے سوالات جوابات سے محروم ہی پائے گئے ہیں۔ حالیہ مقابلوں کا چربہ دکھائی دینے والا ہر مقابلہ سسٹم اور متعلقہ اداروں کیلئے الارمنگ بنتا چلا جا رہا ہے۔ ٹھیکیدار توقیر کی پولیس مقابلے میں ہلاکت سے کیس پر کھیس تو ڈال دیا گیا ہے لیکن یہ معمہ بدستور حل طلب ہے کہ ٹھیکیدار بچے کے تعاقب میں اس حد تک کیونکر چلا گیا کہ اس کی جان لینے سے بھی دریغ نہیں کیا۔ ایسی کون سی افتاد آن پڑی تھی کہ کام سے بھاگ جانے والے بچے کو ڈھونڈنے کیلئے وہ سوسائٹی کی گلیوں میں پاگلوں کی طرح گاڑی دوڑائے پھر رہا تھا؟ ایک خاتون صوبائی وزیر نے بچے پر ٹوٹنے والی قیامت کا عقدہ کھول ڈالا تھا۔ اسی طرح ایک خاتون ایم پی اے نے ایکس (ٹویٹر) پر اس مقابلے کا کریڈٹ وزیراعلیٰ کو دینے کی کوشش کی تو اتنا شدید ردّعمل آیا کہ حرفِ غلط کی طرح مٹانا پڑ گیا۔ اپنوں کے ٹھکرائے ہوئے‘ زمانے کی ٹھوکروں اور یتیم خانے کے رحم و کرم پر پلنے والے 15 سالہ وسیم عباس کے شب و روز اور ماہ و سال کی جمع تفریق کریں تو محرومیوں‘ مایوسیوں اور دھتکار‘ پھٹکار کے سوا کچھ نہیں نکلتا۔ یہ دلخراش واقعہ ریکارڈ ہو گیا‘ پھر رپورٹ ہو گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے دنیا بھر میں وائرل ہو گیا تو دوڑیں لگ گئیں۔ معصوم کے کچلے ہوئے لاشے نے سسٹم کو بھی انگڑائی لینے پر مجبور کر دیا۔ یاد رہے! ایسے کتنے ہی وسیم یتیم خانوں‘ پاگل خانوں سمیت نجانے کون کون سے خانوں میں زمانے کے ستم سہہ رہے ہیں۔کیا ریاست کے ایکشن کیلئے مظلوم کا مرنا اور وائرل ہونا ضروری ہے؟ فوری انصاف کے شادیانے بجانے والوں کے سامنے ایک سوال بار بار منہ چڑا رہا ہے کہ آسٹریلیا پلٹ چکوال کی معصوم ہانیہ کو گولیوں سے چھلنی کرنے والے جھاکا اُترے ملزمان کے ساتھی کب چھڑوانے آرہے ہیں؟ کاش کسی دن خبر آئے کہ معصوم ہانیہ کے ملزمان فرار ہو کر رکشے پر جا رہے تھے کہ ناکے پر پولیس اہلکاروں کو دیکھ کر گھات لگائے ملزمان کے ساتھیوں نے پولیس پر اندھا دھند فائرنگ کر دی اور فائرنگ کے تبادلے میں مفرور ملزمان اپنے ہی ساتھیوں کی گولیوں سے مارے گئے۔ کاش یہ خبر بھی ملتی کہ غیر ملکی خواتین کے اغوا اور زیادتی کے ہائی پروفائل ملزمان کے ہائی پروفائل ساتھی لگژری گاڑیوں میں چھڑانے آئے تھے اور پولیس پارٹی نے تعاقب کیا تو ملزمان نے فائر کھول دیا‘ وغیرہ وغیرہ... باقی سکرپٹ تو ریڈی میڈ اور کم و بیش وہی ہوتا ہے۔ ایک آدھ کیس رپورٹ اور وائرل ہونے کا مقصد یہ نہیں ہے کہ معاشرہ زندہ اور ادارے اپنا کام مستعدی سے کر رہے ہیں۔ ایسے درجنوں‘ سینکڑوں اور ہزاروں دلخراش واقعات مملکتِ خداداد کے طول و عرض میں صبح دوپہر شام تواتر سے ہورہے ہیں جو رپورٹ اور وائرل نہ ہونے کی وجہ سے انصاف اور دادرسی سے محروم رہتے ہیں۔ خون میں لت پت لاشہ 15سالہ وسیم کا نہیں بلکہ سماج اور اس کے ٹھیکیداروں کا ہے‘ اس سسٹم کا ہے۔ عدالتوں کے احاطوں میں قتل و غارت کے پسِ پردہ عوامل کے تانے بانے بھی اسی سسٹم اور گورننس سے جا ملتے ہیں۔ انصاف کی تلاش میں عدالتوں میں بھٹکنے والے تنگ آمد بجنگ آمد جیسے انتہائی اقدام پر یونہی مجبور نہیں ہوتے۔ قانون کے احترام کے بجائے اداروں کی دہشت کو نصب العین بنا کر مجرم تو مارے جا سکتے ہیں لیکن اس سے جرم کی پنیری کا خاتمہ ممکن نہیں۔ ادھر اسلام آباد کی لائبہ کو سنہرے مستقبل کے خواب دکھا کر بھاری رقم ہتھیانے والا ایجنٹ بھی اپنے ساتھیوں کے نرغے میں آکر مارا گیا۔ لائبہ کی خودکشی کا ذمہ دار یقینا یہی ایجنٹ تھا لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ملک بھر میں ایسے خواب فروش ایجنٹوں کے سبھی ٹھکانے تو واقفانِ حال خوب جانتے ہیں‘ اکثر تو اتنے جانے مانے ہیں کہ سبھی خاص و عام پہچانتے بھی ہیں لیکن ہدف پر وہی آتا ہے جو وائرل ہو جاتا ہے۔ یہ تماشا یونہی جاری رہے گا بس تماشائی بدلتے رہیں گے۔ وضاحت کیلئے چند اشعار پیش خدمت ہیں: عجب سا شور و غل ہے کیسا یہ سنسار ہے لوگو!ہر اک اس زندگی سے برسرِ پیکار ہے لوگو!وہی جیتا ہے یاں جو صاحبِ دستار ہے لوگو!کہ بازارِ دنیا بھی عجب بازار ہے لوگو!کسی کو پیٹ کی خاطر نہیں روٹی میسر بھیکسی کے پاس اتنا ہے نہیں گننے کی فرست بھیامیرِ شہر خوش ہے مفلسی آزار ہے لوگو!کہ بازارِ دنیا بھی عجب بازار ہے لوگو!کوئی ہنسنے ہنسانے کی اداکاری جو کرتا ہےمگر جینے کی خواہش میں ہزاروں بار مرتا ہے نہیں سودا بدلتا یاں تو سودائی بدلتے ہیںتماشا کب بدلتا ہے تماشائی بدلتے ہیں</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_65560900.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>دماغ، موت اور سائنس(امیر حمزہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ameer-hamza/2026-10-23/52897/50318727</link><pubDate>Fri, 23 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ameer-hamza/2026-10-23/52897/50318727</guid><description>اللہ تعالیٰ نے آخری آسمانی کتاب قرآن مجید اپنے آخری رسول حضرت محمد کریمﷺ پر نازل فرمائی۔ قرآن مجید فرقانِ حمید میں ایک سورت سیدنا ہود علیہ السلام کے نام پر ہے۔ یہ اللہ کے رسول تھے جنہیں احقاف کے علاقے میں مبعوث فرمایا گیا۔ یہ علاقہ سعودی عرب‘ عمان اور یمن کے پاس &#39;&#39;ربع الخالی‘‘ کے ریگستان میں واقع ہے۔ حضرت ہود علیہ السلام کا زمانہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے بھی ہزاروں سال پہلے کا ہے۔ حضرت ہود علیہ السلام نے جب اپنی فسادی قوم کو دعوتِ حق دی تو وہ دھمکیوں پر اتر آئے۔ اس پر ہود علیہ السلام نے جواب دیتے ہوئے کہا: &#39;&#39;میں نے اللہ پر توکل کر لیا ہے جو میرا بھی پالنہار ہے اور تمہاری ضروریات کو بھی پورا کرنے والا ہے۔ (یاد رکھو!) زمین پر چلنے والا کوئی جاندار ایسا نہیں جس کا ماتھا اللہ تھامے ہوئے نہ ہو‘‘ (ہود: 56)۔یاد رہے! دماغی خلیات کو میڈیکل کی زبان میں &#39;&#39;نیورون‘‘ کہا جاتا ہے۔ دماغ کے ماہر ڈاکٹر کو &#39;نیورولوجسٹ‘ کہا جاتا ہے۔ جدید دماغی ریسرچ کے ماہرین کہتے ہیں کہ انسانی جسم میں کوئی 86ارب نیورونز ہیں۔ یہ ایک سادہ سا تخمینہ ہے۔ یہ ایک کھرب بھی ہو سکتے ہیں۔ ہر دو نیورون کے درمیان ایک خلا ہوتا ہے۔ یہ خلا اس وقت پُر ہوتا ہے جب یہ آپس میں معلومات کا تبادلہ کرتے ہیں۔ یوں باہمی گفتگو کے دوران جو چمک پیدا ہوتی ہے اسے Synapse کہتے ہیں۔ دماغ کے پورے نظام کے اندر ان کی تعداد اس قدر زیادہ ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ یاد رہے کہ سو کروڑ کا ایک بلین ہوتا ہے اور ایک ہزار بلین کا ایک ٹریلین۔ اور اگر یہ تعداد ایک ہزار ٹریلین ہو تو بات کہاں جائے گی!راقم نے ایک سادہ سا اندازہ لگایا تو اس نتیجے پر پہنچا کہ ہر Synapse کو اگر 10 واٹ کا ایک بلب سمجھا جائے تو ہماری زمین ایسے بلبوں سے بھر جائے اور اتنی زیادہ روشنی ہو گی کہ رات بھی دن کا نظارہ پیش کرنے لگے گی۔ ہماری ملکی وے گلیکسی کہ جس کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک کا فاصلہ 27 ہزار نوری سال ہے‘ یعنی تقریباً 9.46 ٹریلین کلو میٹر۔ مطلب ہر سیکنڈ میں روشنی کی رفتار (تین لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ) کی رفتار سے چلا جائے تو 27 ہزار سال میں ملکی وے کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک پہنچ سکیں گے۔ اس میں ہزاروں ٹریلین سٹارز ہیں۔ امریکہ کے خلائی ادارے ناسا نے چند ماہ قبل جیمز ویب سپیس سے لی گئی قابلِ مشاہدہ کائنات کی تصویر شائع کی اور اس کے ساتھ ہی انسانی دماغ کی تصویر شائع کی تو دونوں تصاویر ایک جیسی دکھائی دیتی تھیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جس خالق نے انسان کا دماغ بنایا ہے‘ اسی خالق نے کائنات بنائی ہے۔ انسانی دماغ بھی اسی کے کنٹرول میں ہے اور کائنات کی گلیکسیاں‘ گلیکسیوں کے جھرمٹ اور جھرمٹوں کے سپر جھرمٹ وغیرہ بھی سب اسی خالق کے کنٹرول میں ہیں۔آج ہماری سائنس اس قدر ترقی کر چکی ہے کہ &#39;&#39; نیورون‘‘ کی تصویر بھی ہمارے سامنے آ گئی ہے۔ میں نے اس تصویر کو دیکھا تو یہ ایک درخت کی مانند ہے جس کی جڑیں ہیں۔ ان جڑوں کے مختلف فنکشنز ہیں۔ پھر تنے کے مختلف اجزا ہیں۔ ہر جزو کی الگ خصوصیات ہیں۔ پھر شاخیں ہیں۔ ان شاخوں کی اپنی خصوصیات اور کارکردگی ہے۔ ان کے پتوں اور پھلوں کی موجودگی اور ان کی خصوصیات پر ابھی پردہ پڑا ہے۔ یہ ایک نیورون کی بات ہے الغرض! بالغ انسان کے دماغ کا وزن تیرہ یا چودہ سو گرام کے قریب ہے۔ وہ اپنے اندر کائنات کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ وہ چلتا ہے تو فریج کے ایک چھوٹے سے بلب کی برابر بجلی سے چلتا ہے۔ یہ اتنا بڑا اعجاز ہے‘ اورہر انسان کے دماغ میں ہے کہ سمجھ سے باہر ہے۔ ہماری مصنوعی ذہانت کا نظام جو ڈیٹا سنٹرز میں جمع ہے‘ اس پر رواں سال یعنی 2026ء میں بجلی کی کھپت 565 ٹیرا واٹ تک پہنچنے کو ہے۔ اللہ اللہ! انسانوں کے مونہوں سے نکلے ہوئے الفاظ اور لکھی ہوئی تحریریں ڈیٹا سنٹروں میں دنیا بھر کے بجلی گھروں پر ایک بوجھ بن گئی ہیں جبکہ اصلی ڈیٹا سنٹرز یعنی آٹھ ارب سے زیادہ انسانوں کے دماغ معمولی سی بجلی پر چل رہے ہیں۔ ان کو اگر مصنوعی بجلی پر چلانا پڑ جائے تو موجودہ زمین جیسی سینکڑوں زمینیں بجلی گھروں سے بھر جائیں گی‘ پھر بھی انسانوں کے دماغوں کی بجلی کی ضروریات پوری نہیں ہو سکیں گی۔ پرندوں‘ درندوں‘ چرندوں‘ مچھلیوں اور حشرات الارض کے دماغ اس کے علاوہ ہیں۔نتیجہ یہی ہے کہ انسان کو اپنا ماتھا زمین پر رکھ کر &#39;&#39;سبحان ربی الاعلیٰ‘‘ کہنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ اس سے بھاگے گا تو سوچوں کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ٹکریں مار مار کر مر جائے گا۔ دنیا بھی اندھیرے میں اور آخرت بھی برباد۔اللہ کے رسولﷺ نے آگاہ فرمایا کہ انسان کی موت کے وقت اس کے پاس &#39;&#39;ملک الموت‘‘ یعنی موت کا فرشتہ آتا ہے۔ (بائبل میں اس فرشتے کا نام عزرائیل بتایا گیا ہے‘ جو ہمارے ہاں بھی معروف ہے۔ بعض روایات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ایک سے زائد فرشتے ہوتے ہیں۔ واللہ اعلم) وہ فرشتہ فوت ہونے والے شخص کے سرہانے کے پاس بیٹھتا ہے اور اسے کہتا ہے: اے پاکیزہ روح! اللہ کی خوشنودی اور رضامندی کی طرف آ جا۔ یعنی فوت ہونے والے شخص نے اللہ کی رضا مندی اور خوشنودی کا خیال رکھا۔ اسے اپنی اولین ترجیح بنا کر زندگی کو گزارا تو موت کے دن روشن چہروں والے نورانی فرشتے اسے سلام کہیں گے اور پھر جنت کی خوشخبری دیتے ہوئے اپنے ساتھ علیّین میں لے جائیں گے۔ نیورولوجی کی جدید سائنسی تحقیق واضح کر چکی ہے کہ &#39;&#39;کلینکل ڈیتھ‘‘ کے بعد دماغ کی سرگرمیاں یکدم اس قدر عروج پر چلی جاتی ہیں کہ جس کی مثال انسانی زندگی میں نہیں ملتی۔ خصوصاً یادداشت کا دماغی شعبہ جس قدر تیز ہوتا ہے‘ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بیتی ہوئی زندگی لمحوں میں سامنے آ کر گزر جاتی ہے۔ جی ہاں! یہی وہ وقت ہے جو انسان کے خوش ہونے یا واویلا کرنے کا وقت ہوتا ہے۔حالیہ ہفتے میں ہمارے دو قریبی بھائی ہم سے جدا ہو گئے۔ ان میں سے پہلے جو روانہ ہوئے وہ چودھری محمد سرور ابو الہاشم تھے۔ عصر کی نماز کے لیے مسجد میں اقامت کہی جا رہی تھی۔ وہ وضو کرکے‘ نماز پڑھنے کے لیے سیڑھیوں سے نیچے اتر رہے تھے۔ مسنون دعا پڑھتے ہوئے آ رہے تھے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور حضرت محمد کریمﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ اے اللہ! مجھے توبہ کرنے والوں اور دنیاوی آلودگیوں (حسد‘ چغلی‘ بدگمانی اور ٹوہ وغیرہ) سے بچا کر پاک صاف لوگوں میں شامل کر دے۔ سیڑھیاں اترتے ہوئے چکر آیا تو گر پڑے۔ نیچے گرتے ہوئے سر سیڑھی سے ٹکرایا۔ خون کا ایک فوارہ پھوٹا۔ پھر یہی سر نیچے فرش سے جا لگا۔ ملک الموت تیار کھڑا تھا۔ روح نے پرواز پکڑ لی۔ مسجد میں جماعت ابھی کھڑی نہیں ہوئی تھی۔ نمازی دوڑے مگر چودھری سرور دنیا کے قید خانے سے آزاد ہو کر اپنے خالق ومالک کی آزاد اور خوبصورت سروری میں قدم رکھ چکے تھے۔ ان شاء اللہ!اتوار کے روز اس غم سے گزرے تو تین دن بعد بدھ کے دن چودھری ثاقب صاحب کا فون آیا کہ عبدالحمید صاحب فوت ہو گئے ہیں‘ جنازہ آپ پڑھا دیں۔ علاقے کی محبوب اور ہر دلعزیز شخصیت تھے۔ خدمت خلق میں دن رات ایک کیے ہوئے تھے۔ وسیع میدان میں لوگ ہی لوگ تھے۔ آنسو اور سسکیاں تھیں۔ اللہ ان دونوں کی اور سب اہلِ اسلام کی مغفرت فرمائے۔ ہمیں آخری سفر کے لیے ہر دم تیاری کرنے کی توفیق ملے۔ آمین!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_68712266.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>