<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>تجارتی خسارے کی دلدل(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-11-08/11704</link><pubDate>Sun, 08 Nov 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-11-08/11704</guid><description>رواں مالی سال کے پہلے چار ماہ کے دوران ملک کا تجارتی خسارہ تقریباً 16فیصد اضافے کیساتھ 14.63 ارب ڈالر تک پہنچ گیا جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں 12.61 ارب ڈالر تھا۔ اس دوران 25.96 ارب ڈالر کی درآمدات کی گئیں جبکہ برآمدات کا حجم 11.34 ارب ڈالر تک پہنچ سکا۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق رواں مالی سال کے دوران درآمدات کا تخمینہ تقریباً 71 ارب ڈالر ہے اور برآمدات 32.5 سے 33 ارب ڈالر رہنے کا امکان ہے۔ اگرچہ درآمدات میں اضافہ کسی حد تک ملکی معاشی سرگرمیوں کی عکاسی کر سکتا ہے تاہم برآمدات سے دوگنا درآمدات اور تجارت میں بڑھتا خسارہ کرنٹ اکاؤنٹ اور زرمبادلہ کے ذخائر پر دوبھر ہے۔ حکومتی سطح پر 2029-30ء تک برآمدات کو 60 ارب ڈالر تک لے جانے کا عزم ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ معاشی ڈھانچے‘ پالیسیوں اور صنعتی حالات میں اگلے چار برس میں برآمدات میں دوگنا اضافہ ممکن ہے؟ ملک عزیز کی پیداواری صلاحیتوں اور وسائل کو دیکھا جائے تو 60ارب ڈالر کی برآمدات کا ہدف ناقابلِ حصول نہیں۔ ہمارے ہاں زرعی پیداوار‘ ٹیکسٹائل‘ کھیلوں کے سامان‘ سرجیکل آلات‘ معدنیات‘ آئی ٹی اور دیگر شعبوں میں بے پناہ امکانات موجود ہیں‘ لیکن مسئلہ وسائل کی دستیابی سے زیادہ ان کے مؤثر استعمال‘ جدید ٹیکنالوجی کے فقدان اور مستقل صنعتی پالیسی نہ ہونے کا ہے۔

گزشتہ پانچ برسوں کے اعداد و شمار کو دیکھا جائے تو برآمدات میں برائے نام اضافہ ہوا۔ مالی سال 2021ء میں برآمدات 25.304 ارب ڈالر تھیں جو 2022ء میں 31.782 ارب ڈالر تک پہنچیں اور مالی سال 2025ء میں 32.040 ارب ڈالر رہیں۔ گویا پانچ برسوں کے دوران برآمدات میں اضافہ پانچ‘ سات ارب ڈالر سے زیادہ نہیں۔ اس دوران حکومتوں نے برآمدکنندگان کو سستے قرضوں کی سہولت فراہم کی‘ روپے کی قدر میں نمایاں کمی بھی ہوئی لیکن ان اقدامات کے باوجود برآمدات میں حسب توقع اضافہ نہیں ہو سکا۔ ایک بڑا مسئلہ ملکی معیشت کی درآمدی نوعیت کا بھی ہے‘ دوسری طرف برآمدات کا بڑا حصہ روایتی اور کم ویلیو ایڈڈ مصنوعات پر مشتمل ہے؛ چنانچہ ان مصنوعات کو عالمی منڈی میں زیادہ قیمت نہیں مل پاتی۔ صنعتی شعبے کو درپیش مسائل کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ مہنگی بجلی اور گیس‘ بلند شرح سود‘ بھاری ٹیکس‘ پالیسیوں میں عدم تسلسل‘ بے یقینی اور پیداواری لاگت میں غیرمعمولی اضافے نے پاکستانی مصنوعات کی عالمی منڈی میں مسابقتی حیثیت کو محدود کردیا ہے۔ جب مقامی صنعتکاروں کو خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں مہنگی توانائی‘ مہنگا قرض اور زیادہ ٹیکس ادا کرنا پڑیں گے تو ان کیلئے عالمی منڈی میں اپنی مصنوعات مناسب قیمت پر فروخت کرنا آسان نہیں ہو گا۔
نتیجتاً بعض صنعتیں اپنی پیداواری سرگرمیاں محدود کرنے یا بیرونِ ملک منتقل کرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ برآمدات میں اضافے کا ہدف صرف اعلانات اور مراعات کے ذریعے حاصل نہیں ہو سکتا۔ اس کیلئے جامع اور طویل مدتی صنعتی اور تجارتی پالیسی درکار ہے اور صنعتوں کو کم نرخوں پر توانائی‘ کم شرح سود پر قرض‘ ٹیکسوں کے نظام میں استحکام اور خام مال کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانا ہو گی۔ اس کے ساتھ ساتھ زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی‘ فوڈ پروسیسنگ‘ پیکجنگ اور سٹوریج کے نظام کو بہتر بنا کر زرعی برآمدات میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح ٹیکسٹائل کو صرف دھاگے اور کپڑے تک محدود رہنے کے بجائے تیار ملبوسات اور اعلیٰ معیار کی مصنوعات کی طرف منتقل کرنا ہو گا۔ آئی ٹی‘ سافٹ ویئر‘ فری لانسنگ‘ انجینئرنگ‘ معدنیات اور ادویہ سازی جیسے شعبوں کو بھی برآمدی پالیسی کی ترجیحات میں رکھنا ہو گا۔ برآمدی مصنوعات میں تنوع اور نئی منڈیوں تک رسائی کے بغیر برآمدات میں اضافے کے اہداف کا حصول ممکن نہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مہنگائی ،بجلی اور ایل پی جی(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-11-08/11703</link><pubDate>Sun, 08 Nov 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-11-08/11703</guid><description>وفاقی ادارۂ شماریات کے مطابق گزشتہ ہفتے کے دوران 21 اشیائے ضروریہ مہنگی ہوئیں جبکہ ہفتہ وار مہنگائی کی شرح میں سالانہ بنیادوں پر 12.3فیصد اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ ہفتے مہنگی ہونے والی اشیا میں ایل پی جی‘ بجلی‘ ٹماٹر‘ آلو‘ انڈے اور ڈبل روٹی سمیت دیگر اشیائے خورونوش شامل ہیں۔دوسری جانب نیپرا نے گزشتہ روز ستمبر کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کی قیمت میں دو روپے 37پیسے فی یونٹ کا مزید اضافہ کر دیا ہے جبکہ ایل پی جی پر منافع خوری کا سلسلہ بھی رکنے کا نام نہیں لے رہا۔ایل پی جی بحران اور غیر مصنفانہ قیمتوں کے پیشِ نظر اب حکومت نے ایل پی جی کی نیلامی کا نیا طریقہ کار وضع کیا ہے جس کے مطابق مقامی ایل پی جی پیدا کرنے والے ادارے اپنی کل پیداوار کا 10 فیصد سرکاری مارکیٹنگ کمپنیوں کے لیے مختص کریں گے۔

 جبکہ باقی 90 فیصد مقامی پیداوار میڈیا کی موجودگی میں نیلامی کے ذریعے فروخت کی جائے گی‘ اورنیلامی میں ہر اہل کمپنی کو یومیہ زیادہ سے زیادہ 20 میٹرک ٹن ایل پی جی حاصل کرنے کی اجازت ہوگی تاکہ تمام خریداروں کو مساوی مواقع مل سکیں۔ ماضی میں بھی توانائی کے بحران پر قابو پانے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے متعدد اقدامات اور منصوبوں کا اعلان کیا جاتا رہا ہے لیکن ان کے نتائج ہمیشہ توقعات کے مطابق نہیں نکلے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ نیلامی کا یہ نیا نظام محض ایک انتظامی تبدیلی ثابت ہوتا ہے یا واقعی ایل پی جی کی دستیابی اور قیمتوں میں استحکام لانے میں مددگار ثابت ہوگا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>افغانستان سے پولیو کا خطرہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-11-08/11702</link><pubDate>Sun, 08 Nov 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-11-08/11702</guid><description>افغانستان میں پولیو کے بڑھتے ہوئے کیسز پاکستان کی برسوں پر محیط انسدادِ پولیو کوششوں کیلئے خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔  پاکستان انسدادِ پولیو پروگرام کے مطابق ملک میں سیوریج کے 29 نمونوں میں افغانستان سے منتقل ہونیوالے پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ کراچی‘ جامشورو‘ راولپنڈی اور ملتان تک اس وائرس کی موجودگی سامنے آ چکی ہے۔ ضلع خیبر میں رپورٹ ہونیوالے تینوں پولیو کیسز کا جینیاتی تعلق بھی افغانستان سے ثابت ہوا ہے۔ حکام کے مطابق غیرقانونی راستوں سے پاکستان میں در اندازی کرنیوالے افغان باشندے اپنے ساتھ پولیو وائرس کی منتقلی کا باعث بنتے ہیں۔ پاکستان نے پولیو کے خاتمے کیلئے قومی سطح پر متعدد اقدامات کیے ہیں۔ سال بھر میں بار بار ویکسی نیشن مہمات کا انعقاد اور گھر گھر جا کر بچوں کو قطرے پلانا  اسی عزم کا اظہار ہیں۔

تاہم دوسری طرف افغانستان میں گھر گھر جا کر بچوں کو ویکسین پلانے کا سلسلہ اکتوبر 2024ء سے معطل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ افغانستان میں رواں سال پولیو کے پچاس جبکہ پاکستان میں صرف نو کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت اور عالمی انسدادِ پولیو پروگرام کو افغانستان پر مؤثر پولیو ویکسی نیشن کیلئے دباؤ ڈالنا چاہیے جبکہ حکومت پاکستان کو پاک افغان سرحدی گزرگاہوں اور غیر قانونی راستوں کی مؤثر نگرانی اور متاثرہ علاقوں میں ہنگامی ویکسی نیشن یقینی بنانی چاہیے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ریاست اور عوام کا ساتھ(مجیب الرحمٰن شامی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mujeeb-ur-rehman-shami/2026-11-08/52988/52703515</link><pubDate>Sun, 08 Nov 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mujeeb-ur-rehman-shami/2026-11-08/52988/52703515</guid><description>امریکہ میں وسط مدتی انتخابات ہو چکے‘ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ وہ کچھ ہو گیا جس کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔ کھسیانی بلی نے فی الفور کھمبا یوں نوچا کہ ٹویٹ کر دیا‘ میرا نام بیلٹ پر نہیں تھا اگر ہوتا تو شاندار کامیابی ملتی‘ حالانکہ موصوف درجنوں بار ووٹرز کو یہ باور کرا چکے تھے کہ میرا نام پرچی پر لکھا ہے‘ یعنی کہ میں خود امیدوار ہوں۔ اس لیے کسی ریپبلکن امیدوار کو ووٹ دینا مجھ کو ووٹ دینا ہے۔ جس جس امیدوار کے حلقے میں جلسہ کیا اسے شکست سے ہمکنار کرنے کا سبب بنے۔ وہ جو کہا جا رہا تھا‘ مختلف سروے اور پول اس کی بار بار یاد دہانی کرا رہے تھے کہ حضرت غیرمقبولیت کی انتہا کو چھو رہے ہیں‘ یعنی کہ بہت نیچے گر چکے ہیں‘ وہ سچ ثابت ہوا۔ وہ سروے کرنے والوں کا مذاق اڑاتے‘ میڈیا اداروں کو &#39;&#39;بکاؤ مال‘‘ قرار دیتے اپنی دھن میں اپنی سی کیے جا رہے تھے۔ آخری دنوں میں یہ تک کہہ دیا کہ اگر ڈیمو کریٹ جیت گئے تو میں مسٹر &#39;&#39;ویٹو‘‘ بن جاؤں گا‘ ان کی قانونی موشگافیوں کو اُدھیڑ کر رکھ دوں گا۔ آں جناب نے بہت کچھ کہا‘ بہت کچھ کیا۔ مسلمان امیدواروں پر برسے‘ ووٹروں کے لتے لیے‘ اسلاموفوبیا کو بھی اُبھارنے کی کوشش کی لیکن کچھ ہاتھ نہ آیا۔ اب ہاتھ مل رہے ہیں لیکن ہاتھ پر ہاتھ دھر کر نہیں بیٹھے۔ کچھ نہ کچھ کر گزرنے کے منصوبے بنا رہے ہیں یا یہ کہیے کہ خیالی پلاؤ پکا رہے ہیں۔ ایوان نمائندگان پر ان کے حریفوں کی گرفت انتہائی مضبوط ہو چکی‘ سینیٹ میں بھی انہیں اکثریت حاصل ہو گئی۔ وہ بلا روک ٹوک ان کے خلاف کارروائیوں کا آغاز کر سکتے‘ ان کے جملہ امور کی تحقیقات کا ڈول ڈال سکتے‘ یہاں تک کہ مواخذے کی تحریک بھی پیش کر سکتے ہیں۔ ان کے وزیر جنگ بھی زد میں ہیں اور وزیر خارجہ بھی۔ نائب صدر جے ڈی وینس نے تو نتیجہ آتے ہی ہاتھ کھڑے کر دیے اور اعلان کر دیا کہ ایران سے جنگ اور اسرائیل کی حد سے بڑھی ہوئی قربت ہمیں لے ڈوبی۔ ایران کے ساتھ بے مقصد جنگ نے تیل مہنگا کیا اور اس کے بعد ہر شے مہنگی ہوتی چلی گئی۔ مہنگائی کا طوفان اٹھتا گیا اور ٹرمپ کی ساکھ بیٹھتی گئی۔ جناب نائب صدر آئندہ صدارتی انتخاب لڑنا چاہتے ہیں‘ اس لیے وہ اپنے صدر سے فاصلہ بڑھا رہے ہیں کہ جو موصوف کے قریب ہو گا وہ ریپبلکنز کی حمایت سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے گا۔ جناب ٹرمپ اپنے حریفوں سے تو کیا نبٹتے ان کی اپنی پارٹی میں ان کے دشمنوں کی تعداد بڑھ چکی ہے۔ وہ ان کے جسدِ خاکی کا بوجھ اٹھانے کو تیار نہیں ہیں۔امریکی انتخابات کے بے شمار تجزیے‘ بے شمار تجزیہ کاروں اور مبصروں نے کیے ہیں۔ مسلمان ووٹروں کے جوش و خروش کا سب کو اعتراف ہے۔ سینیٹ میں مصری نژاد عرب مسلمان عبدالرحمن محمد السیّد نے جگہ بنا کر نیا ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ امریکی تاریخ میں پہلی بار ایک مسلمان سب سے بڑے پالیسی ساز ادارے کا رکن بن گیا ہے۔ کئی دوسری نشستوں پر بھی مسلمان کامیاب ہوئے ہیں‘ پاکستانی نژاد بھی اپنا آپ منوا رہے ہیں۔ اسرائیل کے خلاف جذبات زوروں پر ہیں‘ جو نسل کشی اس نے غزہ میں کی ہے‘ ہزاروں بے گناہ خواتین‘ بچوں‘ جوانوں اور بزرگوں کا خون بہایا ہے‘ وہ رنگ لا رہا ہے۔ امریکی یہودیوں کی بڑی تعداد نے بھی نیتن یاہو اور اس کی خون آشامی کو رد کر دیا ہے۔ تل ابیب میں نیتن یاہو کے لیے اقتدار حاصل کرنا ممکن نظر نہیں آ رہا‘ وہاں بھی اس کے مخالف نیا حوصلہ پکڑ چکے ہیں۔ امریکہ میں اسرائیلی لابی سر توڑ کوشش کے باوجود پیش قدمی نہیں کر سکی۔ ڈالر پانی کی طرح بہائے گئے لیکن ووٹروں نے ثابت کر دیا کہ وہ بکاؤ مال نہیں ہیں۔ سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ امریکہ کا تحفظ کر سکتے ہیں۔ اس کی شناخت اور قدریں انہیں عزیز ہیں۔ صدر ٹرمپ جو ہر دوسرے‘ تیسرے روز نیتن یاہو سے راز و نیاز کرتے تھے اور اس کے ہاتھ میں کٹھ پتلی بنے ہوئے تھے‘ امریکی ووٹروں کی نظروں سے ایسے گرے ہیں کہ اٹھنے کے قابل نہیں رہے۔امریکہ میں جو کچھ بھی ہوا ہے‘ اس نے امریکہ کا چہرہ اُجلا کر دیا ہے۔ اس کے اندر اور باہر رہنے والوں کو اس کا اعتراف کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ جمہوریت کے رعب داب میں اضافہ ہوا ہے کہ پُرامن اور خاموش انقلاب اس ہی کے ذریعے ممکن ہے۔ اگر ووٹ کی پرچی کا آزادانہ اور ذمہ دارانہ استعمال ہو تو پھر برج الٹنے کے لیے کسی برچھی کی ضرورت نہیں رہتی۔ پاکستان اور اس جیسے دوسرے ممالک کو بھی یہ سبق حاصل کرنے اور اسے یاد رکھنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ ووٹ ہی کے ذریعے تخلیق ہوا تھا۔ اس کے حصول کے لیے کوئی مسلح جدوجہد نہیں کی گئی تھی۔ اس لیے اس کی زندگی اور توانائی بھی ووٹ ہی سے وابستہ ہے۔ ووٹ کی طاقت بندوق کی طاقت سے بڑھ کر ہے کہ اس کے ذریعے وہ کچھ بآسانی حاصل کیا جا سکتا ہے جو ثانی الذکر کے ذریعے بصد مشکل بھی حاصل نہیں ہو پاتا۔ ووٹ کو فیصلہ کرنے کا حق دیا جائے تو نظم برقرار اور استوار رہتا ہے۔ پاکستان کی مشکلات بھی اسی راستے پر چل کر کم ہو سکتی ہیں۔ عوام ریاست کے ساتھ جڑے رہیں تو ریاست کی توانائی کم نہیں ہوتی۔ عوام اور ریاست ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہوں تو پھر دونوں کسی کام کے نہیں رہتے۔ عوام ریاست کے بغیر اور ریاست عوام کے بغیر؛ ہر چند کہیں کہ ہے‘ نہیں ہے۔شوکت خانم ہسپتال، کراچی میںشوکت خانم کینسر ہسپتال کو پاکستان تو کیا دنیا بھر میں لوگ جانتے اور مانتے ہیں۔ اس کے اولوالعزم بانی کی والدہ کینسر سے انتقال کر گئیں تو انہوں نے کینسر کے مریضوں کے لیے بین الاقوامی معیار کا ہسپتال لاہور میں قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس وقت تک نجی تو کیا سرکاری شعبے میں بھی ایسا ادارہ موجود نہیں تھا۔ عمران خان کرکٹ کا ورلڈکپ جیتنے کے بعد اس کام کے لیے وقف ہو گئے اور اہلِ پاکستان کے تعاون سے کرشمہ کر دکھایا۔ اپنی نوعیت کا پہلا ہسپتال قائم کیا جہاں کم وسیلہ لوگ بھی بے دھڑک آتے اور شفا یاب ہوتے ہیں۔ ان کا ایک پیسہ بھی خرچ نہیں ہوتا۔ لاہور کے بعد پشاور میں ایسا ہی شفا خانہ قائم ہوا اور اب کراچی میں تیسرا شوکت خانم ہسپتال تعمیر کے آخری مراحل میں ہے۔ یہ پاکستان کا سب سے بڑا کینسر ہسپتال ہو گا۔ شوکت خانم کی لیبارٹریز بین الاقوامی معیار کے مطابق تصدیق شدہ ہیں‘ ان سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی مریضوں کے علاج پر خرچ ہوتی ہے۔ ہسپتالوں کا یہ سلسلہ جہاں اہلِ پاکستان کے ایثار اور اخوت کی دلآویز کہانیاں سناتا ہے‘ وہیں اس کے بانی کا نام بھی اس کی بدولت جگمگا رہا ہے۔ شوکت خانم کینسر ہسپتال کراچی کی طرف متوجہ ہو جائیے‘ دل کھول کر اس کا ساتھ دیجیے اور اس سے جڑے ہر شخص کے لیے دعا کیجیے کہ اللہ تعالیٰ تاقیامت اس پر اپنی رحمت اور برکت کا سایہ رکھے۔ بے شک اللہ ہر شے پر قادر ہے۔(یہ کالم روزنامہ &#39;&#39;پاکستان‘‘ اور روزنامہ &#39;&#39;دنیا‘‘ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_37052987.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کرپشن اب کوئی موضوع نہیں رہا(ایاز امیر)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-11-08/52989/91149557</link><pubDate>Sun, 08 Nov 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-11-08/52989/91149557</guid><description>یہ روٹین کا کام بن چکا ہے۔ اس ریاست کا ہر باسی جانتا ہے کہ حضرت قائداعظم کی تصویر کے بغیر یہاں کوئی کام نہیں ہوتا۔ لیکن نشانہ کہیں صحیح بیٹھے تو حساسیت بھڑک اُٹھتی ہے۔ چوہدری سالک حسین نے اپنے چچا چوہدری پرویز الٰہی کی پنجاب حکومت کی کیا تعریف کی اور آج کل رائج بے ضابطگیوں کی طرف کیا اشارہ کیا کہ پنجاب سرکار سیخ پا ہو گئی۔ چوہدری سالک پر پانچ ارب روپے کا ہتک عزت کا دعویٰ ٹھوک دیا‘ یعنی جن کو معاملے کا نہیں پتا تھا ان کی بھی جانکاری ہو گئی۔ لیکن ایسی انوکھی بات کون سی کہی‘ کامن نالج ہے کہ پیسے کا لین دین اور کچھ دے کے کام کروانا یہی ہماری مملکت کا دستور ہے۔ ہم فون کہیں کریں تو سُن لیا جاتا ہے‘ آگے سے کچھ حیا بھی کرتے ہیں لیکن سائل بھی سمجھتا ہے کہ کام ہونا ہے تو کچھ دے کر۔ فون ہم کر دیتے ہیں آگے سے سودا سائل خود طے کر لیتا ہے۔ ہمارے دوست سابق سینئر پولیس افسر ذوالفقار چیمہ نے کیا خوب بات کہی کہ ہم سمجھتے تھے کہ اعلیٰ سروسوں میں خواتین آئیں گی تو بہتری ہو گی۔ ان کا کہنا ہے کہ یہاں تو خواتین افسر مردوں سے بھی آگے نکل گئی ہیں۔ چکوال میں ایک سابقہ افسر کے میک اَپ کے چرچے اب تک مشہور ہیں۔ کوئی لیزر ٹریٹمنٹ کرواتی تھیں جس کا پتا نہیں ہر ہفتے کتنا خرچہ ہوتا۔ ایسی باتیں پہلے نہیں سنی جاتی تھیں۔ اب ذوالفقار چیمہ والی بات ہے کہ ایسی باتیں عام ہوتی جا رہی ہیں۔ ہر چیز بیان نہیں کی جا سکتی لیکن چکوال میں ہی لین دین کی ایسی داستانیں سننے کو ملتی ہیں کہ آدمی حیران رہ جاتا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے ہمارے ایک جاننے والے کے حوالے سے معلوم ہوا کہ ایک قبضے کے سلسلے میں ذرا تھوڑی سی شیرینی پیش ہوئی تو نوٹ جوتے والے ڈبے میں رکھے گئے۔ راوی سے پوچھا کہ لینے میں کوئی ہچکچاہٹ تو نہیں ہوئی؟ بالکل نہیں‘ اُنہوں نے کہا۔کرپشن کی بات نہیں لیکن نالائقی کا نکتہ بنتا ہے کہ چکوال کے چھپڑ بازار کی جو تزئین و آرائش ہوئی ہے اور جس پر لاگت کوئی 25‘26 کروڑ آئی ہے اس ضمن میں بازار میں بھاری لوہے کے جنگلے یا دروازے لگائے گئے ہیں۔ لوہا اتنا ہے کہ واہ آرڈیننس فیکٹری میں بھیجیں تو کئی ٹینک بن جائیں۔ کوئی پوچھے نیسپاک سے‘ جس نے ڈیزائن کیا‘ اور چکوال کی ضلعی انتظامیہ سے جس نے کام کی نگرانی کی‘ کہ ان گیٹوں کی یوٹیلیٹی یا مصرف کیا ہے؟ اتنی بھاری رقم سے یہ جو کباڑ کھڑا کیا گیا ہے اس کا کوئی مقصد بھی تو ہو۔ خوامخواہ دکانوں کا فرنٹ چھپا دیا گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ والے پڑھے لکھے لوگ سمجھے جاتے ہیں۔ کوئی استھیٹک (Aesthetic) یا آرکیٹیکچرل (Architectural) سینس تو ہونی چاہیے۔ کفایت شعاری کی کوئی مہم چلے تو اس لوہے کو اکھاڑ کر بیچ دیا جائے‘ یہ بہتر ہو گا۔ لاہور سے کوئی افسر آئے‘ اس فضول کے کام کا جائزہ لے اور بتائے ان گیٹوں کا فائدہ کیا ہے۔ کھلے آٹے کا ریٹ پنجاب کے بازاروں میں 150روپے فی کلو تک پہنچا ہوا ہے۔ گندم کی خاطر خواہ پالیسی آپ سے نہ بنی۔ گندم کا ذخیرہ جو ہونا چاہیے آپ کے پاس نہیں ہے۔ اس اعلیٰ کارکردگی کے پیش نظر آپ کو گندم درآمد کرنی پڑ رہی ہے۔ پنجاب جو ہندوستان میں گندم کا ذخیرہ سمجھا جاتا تھا‘ اس میں آٹے کے حصول کی یہ حالت ہو تو پیچھے آپ کی حکمرانی کیا رہ جاتی ہے؟ غریب آدمی آٹے کو ترسے یا لاہور میں منعقدہ سرکاری میٹنگوں کی تصویروں سے اپنا پیٹ بھرے۔ عجیب تماشا لگا ہوا ہے‘ پرانے محکموں سے کام چلا نہیں سکتے‘ نت نئے محکمے بنائے جا رہے ہیں۔ سی سی ڈی کے نرالے مقابلوں کے بعد تو جرائم کا پنجاب سے خاتمہ ہو جانا چاہیے تھا۔ لیکن ایسا کیا ہوا ہے؟ بہرحال پوچھنے والی بات ہے کہ چوہدری سالک نے بات تو ٹھیک کی لیکن انہیں کیا ہوا کہ چچا جان‘ جن سے ان کے تعلقات اتنے اچھے نہ تھے‘ ان کی یاد انہیں اس وقت آئی۔ ساتھ ہی موجودہ پنجاب حکومت کے بارے میں کچھ کہہ گئے۔ پنجاب سرکار کو ان کا یہ تبصرہ اچھا نہیں لگا۔ سالک کو اکیلا نہ دیکھا جائے‘ ان کے تعلقات ادھر اُدھر ہیں‘ وزیر داخلہ سے بھی کچھ ناطہ بنتا ہے۔ ہونا میرے خیال میں کچھ نہیں لیکن جہاں فارم 47کی مہر لگی ہو یعنی جو کچھ آپ اس وقت ہیں وہ اوروں کی مرہونِ منت ہو تو چھوٹی سی بات سے بھی دھڑکا لگ جاتا ہے۔ یہاں بھی کچھ ایسا ہی محسوس ہوتا ہے۔ پھر وہ جہاز والی کہانی‘ کمبخت ایسی کہانی کہ کہیں جاتی نہیں۔ کچھ اور بات بھی کی جائے تو بیچ میں آ جاتی ہے۔ ویسے جہاں لوٹ مار کا معیار اتنا سکہ بند ہو وہاں 10‘ 11ارب روپوں کا جہاز پر لگ جانا کوئی اتنا بڑا واقعہ نہیں۔ مسئلہ البتہ اتنا ہے کہ جہاز کی تصویر سامنے آئے تو پھر اخلاقیات کا کوئی درس آپ دے نہیں سکتے۔ کفایت شعاری کی کوئی نصیحت آپ کے لبوں پر جچتی نہیں۔ یہ ویسے ہی ہے جیسے ہم سا کوئی بادہ خواری کے نقصانات پر نصیحت کرے۔ سننے والے کی ہنسی چھوٹ جائے گی۔ یہاں کے معاملات تو چلتے رہیں گے‘ ہمارے فیورٹ صدر کے ساتھ اچھی نہیں ہوئی۔ وہ پھینٹی پڑی مڈ ٹرم انتخابات میں کہ کئی سیاسی ریکارڈ ٹوٹ گئے۔ نتائج اپنے گاؤں بھگوال میں سنے اور جھومنے کی کیفیت ایسی بنی کہ پاک چین دوستی کی عظیم نشانی کو ایک طرف رکھ کر سکاٹ لینڈ کی یاد آئی۔ نیویارک ٹائمز میں بڑی عمدہ رپورٹنگ ہوئی ہے‘ صدر ٹرمپ کی حالت پر جب نتائج آنے لگے۔ یہ پوچھا کہ اگر ہم ایران پر حملہ نہ کرتے تو کیا ہوتا۔ لیکن حملہ آپ نے کیا اور جنگ سے نکل نہ سکے۔ موقع جب امریکی عوام کو ملا تو آپ کی دھلائی ہو گئی۔ بات موقعے کی ہوتی ہے۔ حکمرانی کے جو دعوے یہاں کیے جاتے ہیں کوئی موقع تو آئے پھر دیکھا جائے کون کتنے پانی میں ہے۔کرپشن پر دو تین جملے ہی ادا ہوئے اور پنجاب سرکار سہہ نہ سکی۔ مولانا فضل الرحمن تو بہت آگے کو جا رہے ہیں۔ ماننا پڑے گا الفاظ کی ادائیگی پر کمال رکھتے ہیں۔ اظہار میں وہ کاٹ کہ باتیں ان کی چبھ رہی ہیں اور برداشت نہیں ہو رہیں۔ اور مولانا ہیں کہ یہ نیا بیانیہ بیان کیے جا رہے ہیں۔ وقت کی بھی بات ہوتی ہے۔ عمران خان کے خلاف بولتے تھے تو بلا کے مقرر تب بھی تھے لیکن بات میں اتنا اثر نہ ہوتا۔ آج کے ماحول میں جب اور کوئی اس اندا ز سے نہیں بول رہا تو مولانا کی بات میں عجیب سا اثر پیدا ہو گیا ہے۔ سرکاری ہتھکنڈے البتہ وہی پرانے ہیں۔ سی ڈی اے سے کوئی نوٹس آ گئے ہیں۔ واللہ‘ فلم کی سکرپٹ میں تھوڑی سی تبدیلی تو لے آئیں۔ مولانا کو جواب دینا ہے تو دلائل سے دیں۔ لیکن اپنے پلے کچھ بات ہو تو دلائل بنیں۔ جواب دینے والے وزرا صاحبان کا معیار کچھ ایسا کہ بات کچھ بنتی نہیں۔اوپر سے بلاول بھٹو نے جو کہا‘ اور میں پڑھ کر تھوڑا حیران سا ہو گیا‘ کہ حکومت ہر ایک سے نہ لڑے۔ امریکہ کا حوالہ دیا کہ ایران پر حملہ کیا اور وہیں پھنسا ہوا ہے۔ یہاں کے حالات سے بات جوڑی کہ ہر محاذ پر الجھے رہنا ہے تو اسی میں پھنسے رہیں گے۔ عمر دیکھیں اور بات کیسی کر دی۔ لیکن جہاں ٹر مپ اور اس کی انتظامیہ نہ سمجھی‘ امریکہ میں دائیں بازو کی سوچ رکھنے والے جید عالم اور دانشور نہ سمجھے‘ یہاں کس نے سمجھنا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_80573045.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بھائی! ہم لڑائی کے ساتھ ہیں(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-11-08/52990/15169725</link><pubDate>Sun, 08 Nov 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-11-08/52990/15169725</guid><description> اس وقت مولانا فضل الرحمن اور حکومت کے درمیان جو میچ چل رہا ہے‘ اس پر سب سے خوبصورت تبصرہ وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم صاحب اس معاملے میں کچھ نہیں کہنا چاہتے۔ مطلب وہ نیوٹرل ہیں۔ جو کچھ ہو رہا ہے‘ اس سے حکومت کا لینا دینا نہیں ہے۔ ان کے خیال میں یہ مقتدرہ اور مولانا صاحب کی لڑائی ہے‘ جس سے ان کا کوئی  تعلق نہیں۔ وہ دونوں جانیں‘ ہمیں مداخلت کی ضرورت نہیں۔ وہ اپنے معاملات خود ہینڈل کر لیں گے۔دوسری طرف مولانا کی پارٹی کے ایک اہم رہنما کا کہنا ہے کہ حکومت ان کے ساتھ اتنا ہی برا سلوک کرے کہ کل کلاں کو حکومت ختم ہونے کے بعد کوئی تو ایسا ہو جو موجودہ حکمرانوں کو سہارا دے سکے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اس وقت حکومت سے مقتدرہ اور مولانا‘ دونوں ناخوش دکھائی دیتے ہیں کیونکہ ان دونوں کو محسوس ہوتا ہے کہ حکومت ان کی طرف کھڑی نہیں ہو رہی۔ بظاہر تو لگتا ہے کہ حکومت ہی مولانا کے خلاف تمام اقدامات کر رہی ہے اور اس کی ذمہ داری بھی اسی پر عائد ہوتی ہے کیونکہ جو ادارے اور محکمے اس وقت کارروائیاں کر رہے ہیں یا نوٹسز بھیج رہے ہیں وہ سب حکومت کے ماتحت کام کرتے ہیں۔ ان اداروں کے سربراہان بھی وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے دستخط سے تعینات کیے ہیں‘ لہٰذا اس وقت ان کا نیوٹرل رہنا یا یہ تاثر دینا کہ وہ یہ سب نہیں کر رہے‘ کسی جواز کا حامل نہیں ہے۔ اس وقت مقتدرہ ناخوش ہے کہ مولانا اور ان کی پارٹی کے رہنما سخت تقریریں اور جلسے جاری رکھے ہوئے ہیں جن میں وہ کھل کر دھمکیاں بھی دے رہے ہیں اور سخت زبان بھی استعمال کر رہے ہیں‘ لیکن ان کی ساری گفتگو کا جواب حکومت کا کوئی وزیر نہیں دے رہا۔ یوں مولانا صاحب کو کھلا میدان ملا ہوا ہے۔ وزرا کی خاموشی اور نیوٹرل رہنے کی پالیسی کی وجہ سے اب مقتدرہ نے ایک اور حکمت عملی اپنائی ہے کہ سوشل میڈیا کا سہارا لے لیا ہے۔ وہاں سے اب مولانا صاحب پر تنقیدی اور سکینڈلز سے بھرپور ٹویٹس ہو رہے ہیں جو مولانا اور ان کی پارٹی کے غصے میں اضافہ کر رہے ہیں‘ اور شاید یہی اس ساری مہم کا مقصد بھی ہے۔ مولانا کو بھی احساس ہے کہ ان کا سامنا وزیرداخلہ محسن نقوی سے ہے‘ جن پر وہ پہلے بھی چند زبانی حملے کر چکے ہیں۔ پہلا زبانی حملہ اس وقت کیا گیا جب قابلِ احترام صحافی مجیب الرحمن شامی نے مولانا صاحب کو اپنے گھر دعوت دی‘ جہاں لاہور کے سینئر صحافی اور کالم نگار بھی مدعو تھے۔ وہاں مولانا نے گفتگو کرتے ہوئے پہلی دفعہ جو باتیں کیں وہ باہر نکلیں تو اندازہ ہوا کہ محسن نقوی صاحب اور مولانا صاحب کے درمیان جو پرانی الفت تھی‘ وہ اب ختم ہو چکی ہے۔ تاہم محسن نقوی صاحب نے پرانے تعلقات کی وجہ سے مولانا صاحب کے ان سخت تبصروں کا فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔ صحافیوں نے دو تین دفعہ مولانا سے سوالات پوچھے تو اندازہ ہوا کہ غصہ بڑھ رہا تھا۔ رہی سہی کسر مولانا نے اس وقت پوری کر دی جب قومی اسمبلی میں انہوں نے سخت تقریر کی جس میں ریاست کو بھی نشانہ بنایا اور ساتھ ہی خواجہ آصف کو بھی &#39;&#39;شرم و حیا‘‘ دلائی کہ آپ یہاں بیٹھے ہیں اور محسن نقوی وزیر خارجہ اور وزیر دفاع بن کر ایران میں بیٹھے ہیں۔ یہاں سے محسن نقوی کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا اور انہوں نے پرانے تعلقات ایک طرف رکھ کر سخت جواب دینے کا فیصلہ کیا۔ اگرچہ خواجہ آصف نے بھی اگلے دن مولانا کو سخت جواب دیا۔ وہ بڑے عرصے کے بعد اپنی پرانی فارم میں نظر آئے اور مولانا کو آڑے ہاتھوں لیا۔ رعایت مولانا نے بھی نہیں کی تھی تو کسر خواجہ صاحب نے بھی نہیں چھوڑی۔ مولانا صاحب پہلے بھی افواجِ پاکستان کے شہداء کے حوالے سے بہت متنازع بیان دے چکے تھے اور اب کی دفعہ ریاست کے بارے میں جوالفاظ کہے وہ ان پر الٹے پڑے ہیں‘ لہٰذا فیصلہ ہوا کہ اب مولانا صاحب کی مزید عزت و احترام نہیں کرنا اور انہیں اسی زبان میں جواب دینا ہوگا۔اگرچہ خواجہ آصف نے پہلے دن مولانا کی سخت گفتگو کو نظر انداز کیا‘ جیسے انہوں نے اپنے جارحانہ مزاج کے برعکس مولانا کو فوری جواب نہیں دیا تھا۔ اس سے پہلے وہ اپنے ساتھی وزیر حنیف عباسی اور بلاول بھٹو کی اپنے خلاف سخت تقریروں کو بھی نظر انداز کر چکے تھے۔ اب مولانا کی تقریر کو بھیwell left کر دیا۔ میرا اپنا بھی یہی خیال ہے کہ مولانا نے خواجہ آصف کے کندھے استعمال کرکے محسن نقوی کو ہدف بنایا تھا۔ لیکن اگلے دن جب میڈیا اور سوشل میڈیا پر مولانا کے کلپس کو وائرل کیا گیا اور خواجہ صاحب کی ٹرولنگ شروع ہوئی تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ اب جواب دینا ضروری ہے۔ پھر ان کے اندر کا نوجوان خواجہ آصف نکل آیا۔ اس پر محسن نقوی  بھی سینیٹ آئے کہ آپ جا کر خود سخت جواب دیں۔ سینیٹ میں محسن نقوی نے اپنی تقریر یہاں سے شروع کی کہ وہ آج سے پہلے تو مولانا کی بہت عزت کرتے تھے لیکن جو کچھ انہوں نے ریاست کے بارے میں کہا ہے اس کے بعد اب وہ ان کی عزت نہیں کرتے۔ یوں سینیٹ میں اندازہ ہو گیا تھا کہ اب محسن نقوی اور مولانا کے درمیان دوستی دشمنی میں بدلنے والی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بہترین دوست بدترین دشمن ثابت ہوتے ہیں اور یہاں بھی کچھ ایسا ہی ہو رہا ہے۔ نقوی صاحب نے اسی وقت سینیٹ میں خبردار کر دیا تھا کہ اب انہیں جواب ملے گا۔ ہم سمجھ رہے تھے کہ شاید زبانی جواب ملے گا لیکن لگتا ہے کہ اب کی دفعہ عملی جواب دینے کا فیصلہ بھی ہوا ہے ۔ اگلے دن ہی مولانا اور ان کی پارٹی کے خلاف کارروائی شروع ہو گئی۔ اب معاملات روز بروز خطرناک حد تک پہنچ چکے ہیں لیکن اس معاملے میں محسن نقوی صاحب کو یقینا یہ محسوس ہوتا ہوگا کہ شاید وفاقی وزرایا حکومت نے مولانا کی تقریروں اور ان کے جلسوں میں استعمال کی گئی سخت زبان کا جواب دینے کے بجائے خاموش رہنے کا فیصلہ کیا ہے اور یہ بات یقینا انہیں تکلیف پہنچا رہی ہو گی۔سینیٹ میں بھی وفاقی وزیروں‘ حکمران جماعت اور پیپلز پارٹی کے سینیٹرز میں سے صرف عابد شیر علی نے انہیں سپورٹ کیا۔ جب وہاں سینیٹر کامران مرتضیٰ اور مولانا عطاالرحمن نے جوابی حملے شروع کیے تو کوئی سینیٹر اُن کی مدد کو نہ آیا۔ محسن نقوی کا اس میں کچھ اپنا بھی قصور ہے کہ وہ ان دو سالوں میں سینیٹ اور اسمبلی میں کم کم ہی جاتے رہے لہٰذا وہاں کسی سے ان کی کامریڈشپ نہیں بن سکی۔ جبکہ پیپلز پارٹی‘ مسلم لیگ (ن)‘ جے یو آئی یا تحریک انصاف کے سینیٹرز روزانہ ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھتے آئے ہیں‘ لہٰذا جب  نقوی صاحب اور جے یو آئی کے درمیان زبانی ٹاکرا ہوا تو وہ سب نیوٹرل رہے۔ یوں نقوی صاحب پر زیادہ دباؤ آیا اور وہ اپنی وہ طویل تقریر نہ کر سکے جو وہ تیار کرکے لائے تھے‘لیکن باہر نکلتے ہی مولانا اور ان کی پارٹی کے خلاف کارروائی کا حکم دے دیا‘ جو اَب سب کو نظر آ رہا ہے۔ تاہم جو بات سب کو پریشان کر رہی ہے وہ یہ ہے کہ معاملہ اتنی خطرناک حد تک پہنچ گیا ہے لیکن وزیراعظم اور ان کی حکومت خاموش ہے۔ اب یہی وجہ ہے کہ اینکرز اور ٹی وی چینلز نے سوالات کرنا شروع کر دیے ہیں کہ اس ملک میں کوئی وزیراعظم بھی ہے‘ کابینہ بھی ہے‘ وزیر بھی ہیں یا صرف نقوی صاحب اور مولانا صاحب ہی ہیں؟لگتا ہے وزیراعظم اور ان کے وزرااس ساری لڑائی میں نیوٹرل ہیں بلکہ لگتا ہے کہ وہ لڑائی کے ساتھ ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ووٹ‘ جمہوری معاشروں کی اصل طاقت(رشید صافی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-11-08/52991/78616809</link><pubDate>Sun, 08 Nov 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-11-08/52991/78616809</guid><description>امریکی انتخابات تو ہمیشہ سے ہی دنیا بھر کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل رہے ہیں مگر اسرائیلی انتخابات کو عموماً خبروں کی حد تک ہی دیکھا جاتا تھا‘ لیکن اس بار اسرائیلی انتخابات پر بھی پوری دنیا کی نظریں بڑی شدت کے ساتھ مرکوز تھیں۔ عالمی سطح پر اس غیر معمولی توجہ کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی جارحانہ اور توسیع پسندانہ پالیسیوں کو دنیا بھر میں انتہائی تنقیدی نظروں سے دیکھا جا رہا ہے۔ مسلم ممالک کے ساتھ ساتھ مغربی معاشروں میں بھی نیتن یاہو کی پُرتشدد پالیسیوں پر کھل کر تنقید کی گئی۔ اگرچہ اسرائیل میں یہودیوں کی اکثریت ہے اور یہ حقیقت ہے کہ وہاں جو بھی نیا حکمران آئے گا وہ بہرحال یہودیوں ہی کا نمائندہ ہو گا‘ اس کے باوجود عام لوگ اور باشعور طبقہ اب نیتن یاہو کو آئندہ کے لیے ملک کے وزیراعظم کے طور پر دیکھنے کے لیے بالکل تیار نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی انتخابات کے فوراً بعد وہاں کی عرب جماعتوں کی جانب سے گاڈی آئزن کوٹ کی بطور وزیراعظم حمایت کا اعلان محض اتفاق نہیں تھا بلکہ یہ اسی جانب اٹھایا گیا قدم تھا تاکہ بنجمن نیتن یاہو کو دوبارہ اقتدار میں آنے سے ہر ممکن طریقے سے روکا جا سکے۔امریکہ میں ہونے والے حالیہ مڈٹرم انتخابات کو بھی اسی تناظر میں خاص اہمیت حاصل ہے کہ دنیا مشرقِ وسطیٰ جنگ اور اس کے نتیجے میں جنم لینے والے تباہ کن معاشی اثرات سے تنگ آ چکی ہے۔ اس حقیقت سے قطع نظر کہ مڈٹرم الیکشن کے نتیجے میں ڈیموکریٹس کو کانگریس میں برتری حاصل ہوئی ہے اور ریپبلکنز نے دونوں ایوانوں میں اپنی برتری کھو دی ہے‘ آئینی مدت کے مطابق 20جنوری 2029ء تک ڈونلڈ ٹرمپ ہی امریکہ کے صدر رہیں گے۔ اس کے باوجود ریپبلکن پارٹی کی شکست پر دنیا نے سکھ کا سانس لیا ہے کیونکہ کرۂ ارض کے باسی امن کے خواہاں ہیں۔ اگرچہ ابھی یہ حتمی طور پر معلوم نہیں ہے کہ مشرقِ وسطیٰ جنگ آگے چل کر کیا شکل اختیار کرتی ہے تاہم مڈٹرم الیکشن کے فوری بعد جو پیغام پوری دنیا میں گیا ہے وہ یہ ہے کہ  امریکی عوام نے بالآخر ان سیاسی چہروں کو یکسر مسترد کر دیا ہے جو براہِ راست یا بالواسطہ دنیا کو تباہی کے دہانے میں دھکیلنے کے ذمہ دار ہیں۔ یہ پاکستان کا اصولی مؤقف بھی ہے‘ چین کا دیرینہ مؤقف ہے اور دنیا کے ہر امن پسند و ذمہ دار ملک کا مؤقف یہی ہے۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکہ نے چین سے ایران جنگ ختم کرانے میں کردار ادا کرنے کی درخواست کی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ جنگ سے دنیا کے اکثر ممالک بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ اس طویل جنگ کے عالمی معیشت پر جو شدید منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں‘ اس سے شاید ہی دنیا کا کوئی خطہ یا ملک محفوظ رہ سکا ہو۔ امریکہ اور اسرائیل کے ان انتخابات میں اس سیاسی و عسکری اتحاد کو عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے جس نے خطے میں اس تباہ کن جنگ کا آغاز کیا تھا۔ اگر یہ اتحاد حالیہ انتخابات میں کامیاب ہو جاتا تو ایک بڑی اور تباہ کن عالمی جنگ کے خطرات بے حد بڑھ جاتے۔ لہٰذا اس خطرناک تسلسل کا راستہ روکنے کے لیے دنیا بھر میں اس اتحاد کے خلاف آوازیں اٹھنے لگیں۔ چونکہ اس کا حتمی اختیار صرف اسرائیل اور امریکی عوام کے ہاتھوں میں ہی تھا لہٰذا دونوں ممالک میں عوامی سطح پر سیاسی شعور دیکھنے میں آیا۔ عوام نے جارحانہ مزاج کے حامل حکمرانوں کو یہ پیغام دیا کہ وقت آنے پر ووٹرز اپنے حقِ رائے دہی کا بھرپور اور درست استعمال کر کے ان کے عزائم کو خاک میں ملا سکتے ہیں۔ یہی دراصل جمہوریت کی روح ہے جس کا اصل اور بنیادی مرکز عوام کی طاقت ہوتی ہے‘ مگر اس سیاسی طاقت کے بہترین اور درست استعمال کا اصل وقت صرف اور صرف پولنگ کا دن ہوتا ہے۔ مغربی ممالک میں جمہوریت ہماری نسبت کافی مضبوط ہے۔ امریکی عوام اور اسرائیل کے اندر موجود عرب ووٹرز نے اس موقع پر انتہائی بیداری کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے ووٹ کی طاقت سے ایسی زبردست ضرب لگائی جس سے نہ صرف ان کے اپنے مستقبل کا فیصلہ تبدیل ہوا ہے بلکہ اس کے مثبت اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوں گے۔امریکہ اور اسرائیل میں یہ انتخابی مرحلہ طے ہو چکا مگر اب سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا اس کے بعد دنیا دوبارہ اپنی معمول کی ڈگر پر لوٹ سکے گی؟ کیا دنیا 28فروری 2026ء سے پہلے والے پُرامن حالات کی طرف واپس جانے کے قابل ہو سکے گی؟ امریکی اور اسرائیلی انتخابات کے فوری بعد جو سب سے خوش آئند تبدیلی دیکھنے کو ملی وہ یہ ہے کہ امریکی صدر کے خلاف مواخذے کا عوامی مطالبہ اب زور پکڑ رہا ہے جبکہ ٹرمپ کے وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کو بھی ان کے منصب سے ہٹائے جانے کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ اگرچہ یہ اتنا آسان کام بھی نہیں ہے تاہم عوامی سطح پر ایسے علامتی مطالبات اہمیت کے حامل ہوتے ہیں جو آگے چل کر شدت بھی اختیار کر سکتے ہیں۔ دوسری طرف اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو بھی قانون کے کٹہرے میں لا کر جیل میں ڈالے جانے کے امکانات زیرِ بحث ہیں۔ ان تمام حقائق سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کے عوام نے مجموعی طور پر تشدد اور جنگوں پر مبنی سیاست کو مسترد کیا ہے۔ دنیا کو مسلسل جنگوں اور سنگین معاشی مسائل میں دھکیلنے والے ان رہنماؤں کا عروج تو ختم ہو ہی چکا ہے‘ اس کے ساتھ ساتھ ان کا سیاسی کیریئر بھی اپنے انجام کو پہنچتا دکھائی دے رہا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے نائب صدر جے ڈی وینس نے بالآخر اس حقیقت کو تسلیم کر لیا ہے کہ انتخابی شکست کی  وجہ ایران جنگ‘ مہنگائی اور پٹرولیم قیمتوں میں اضافہ ہے۔ دوسری طرف امریکی صدر ٹرمپ نے مڈٹرم انتخابات کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا ہے کہ محض ایک انتخابی عمل یا کشمکش کی وجہ سے امریکہ کو معاشی طور پر تین ٹریلین ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا۔ حالانکہ یہ خسارہ الیکشن کی وجہ سے نہیں بلکہ ان کے اپنے دورِ اقتدار کی معاشی ترجیحات اور پالیسیوں کا نتیجہ تھا جسے عوام نے مسترد کرنے میں کوئی دیر نہیں لگائی۔ عالمی معیشت پر امریکی مڈٹرم الیکشن کے مثبت اور خوش آئند اثرات مرتب ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے اور یہ سلسلہ روزانہ کی بنیاد پر جاری ہے۔ معاشی بہتری کے یہ آثار اب ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں اور ظاہر ہے کہ کسی تباہ حال معیشت کو مکمل طور پر ٹھیک ہونے میں کچھ عرصہ درکار ہوتا ہے۔ اصل معاملہ اب بھی پائیدار امن کا قیام اور اس جاری جنگ کا مستقل خاتمہ ہے۔مڈٹرم انتخابات میں ریپبلکن پارٹی نے اگرچہ کانگریس میں اپنی اکثریت کھو دی ہے تاہم ڈونلڈ ٹرمپ بدستور ملک کے صدارتی  منصب پر فائز ہیں اور امریکی آئین کے تحت صدر کو انتہائی وسیع انتظامی اختیارات حاصل ہوتے ہیں۔ اسی طرح امریکی نظام حکومت میں خارجہ اور داخلی پالیسیاں ایک خاص تسلسل کے ساتھ آگے بڑھتی رہتی ہیں۔ اگرچہ مڈٹرم انتخابات میں ڈیموکریٹس نے واضح اکثریت حاصل کر لی ہے لیکن ماضی میں ڈیموکریٹس کی اپنی عسکری پالیسیوں بالخصوص مسلم دنیا کے حوالے سے جارحانہ رویے سے کون واقف نہیں؟ یہی وجہ ہے کہ مڈٹرم انتخابات میں سخت عوامی مؤقف سامنے آنے کے باوجود جنگ کے خاتمے کے حوالے سے فوری تبدیلیوں کے امکانات واضح نہیں۔ اگر امریکی صدر اپنی سابقہ جارحانہ پالیسیوں پر کاربند رہتے ہیں تو خطے میں بڑی جنگ کے خطرناک سائے بدستور منڈلاتے رہیں گے۔ مشرقِ وسطیٰ اور پوری دنیا کو اس تباہ کن جنگ سے نکالنا ہی اس پوری جدوجہد کی اصل اور حقیقی کامیابی کہلائے گی۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/222_48272610.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مڈ ٹرم شکست کے بعد(عمران یعقوب خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-11-08/52992/85958132</link><pubDate>Sun, 08 Nov 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-11-08/52992/85958132</guid><description>جو کچھ ہوا وہ غیر متوقع نہیں۔ گزشتہ دو برسوں سے اور ذرا وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو پچھلی ایک دہائی کے دوران امریکہ کے اندر اور عالمی سطح پر جو کچھ ہو رہا تھا‘ بلکہ یہ کہنا بہتر رہے گا کہ جو کچھ کیا جا رہا تھا اس کے دور رس اثرات و نتائج کے بارے میں تمام ذی شعور طبقے اتنے ہی عرصے سے خبردار بھی کرتے چلے آ رہے تھے۔ امریکہ میں مڈ ٹرم الیکشن کے نتائج ان اثرات میں سے ایک ہیں‘ یا شاید یہ کہنا بہتر ہو کہ یہ ان اثرات کے سامنے آنے کا آغاز ہیں۔ ڈیموکریٹک پارٹی نے امریکی کانگریس کے ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کر لی ہے جبکہ ریپبلکن پارٹی کی کارکردگی مایوس کن رہی‘ جسے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کیلئے ایک بڑا سیاسی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔امریکہ کے مڈ ٹرم انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ اور ریپبلکن پارٹی کی شکست محض ایک انتخابی ناکامی نہیں بلکہ امریکی داخلی سیاست اور خارجہ پالیسی کیلئے ایک اہم موڑ بھی ہے۔ ڈیموکریٹس نے ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ اس نئی صورتحال میں ٹرمپ کیلئے اپنی پالیسیوں کو سابق رفتار سے جاری رکھنا مشکل ہو سکتا ہے‘ خصوصاً ایران کے ساتھ جاری جنگ کے معاملے میں۔ امریکی مڈ ٹرم الیکشن کے نتائج واشنگٹن کی اندرونی سیاست کے ساتھ ساتھ عالمی برادری پر بھی گہرے اثرات مرتب کریں گے۔ ریپبلکن پارٹی کی ہار سے صدر ٹرمپ کو اپنی صدارت کے باقی دور میں قانون سازی اور پالیسی نفاذ کے شدید بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ معیشت کو لے کر عوامی سطح پر پایا جانے والا گہرا عدم اطمینان ظاہر کرتا ہے کہ امریکی ووٹر اب محض سیاسی نعروں کے بجائے اپنی جیب اور روزگار کو ترجیح دے رہا ہے اور اسی عنصر نے الیکشن کے نتائج کا رخ متعین کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس‘ دونوں نے وسط مدتی انتخابات میں اپنی پارٹی کی شکست کو نہ صرف تسلیم کیا بلکہ یہ بھی کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ اس شکست کی وجہ ایران کے ساتھ امریکہ کی جنگ ہے۔ یہ بھی بالکل سامنے کی بات ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اس ہار کی وجہ سے ریپبلکن پارٹی کے شدید ترین دباؤ میں ہیں جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وائٹ ہاؤس میں ہنگامی میٹنگیں ہو رہی ہیں اور صلاح مشورے کیے جا رہے ہیں۔ ٹرمپ اس وجہ سے بھی دباؤ میں ہیں کہ اب ڈیموکریٹک پارٹی والے ان کا مواخذہ کرنے کی پوزیشن میں آ چکے ہیں اور انہوں نے ٹرمپ کی پالیسیوں کے احتساب کا اعلان بھی کیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس شکست سے سبق سیکھتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جنگ کے بارے میں اپنی سٹرٹیجی تبدیل کریں گے؟ اس کا فی الحال کوئی واضح اور ٹھوس جواب نہیں دیا جا سکتا لیکن آئندہ چند روز میں صدر ٹرمپ کی جانب سے جن پالیسیوں یا اقدامات کا علان کیا جائے گا ان سے واضح ہو جائے گا کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔شکست کے باوجود اور دوٹوک فیصلوں کا اختیار کھو دینے کے باوجود ٹرمپ کے سامنے کئی راستے موجود ہیں۔ آئندہ کیا ہوتا ہے؟ اس کا انحصار اس بات پر ہو گا کہ ٹرمپ کیا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ ایک راستہ یہ ہے کہ وہ انتخابی شکست کے باوجود ایران کے خلاف سخت مؤقف برقرار رکھیں۔ وہ ایران کی جوہری تنصیبات‘ فوجی مراکز یا دیگر اہم اہداف پر مزید حملوں کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔ امریکی جریدے بلومبرگ کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کے انتخابات کے بعد ٹرمپ ایران کے خلاف بڑے حملوں کا حکم دے سکتے ہیں اور وہ اس کی تیاری بھی کر رہے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ وہ انتخابی شکست کے بعد اپنی طاقت اور عسکری برتری کا تاثر برقرار رکھنا چاہیں گے‘ لیکن یہ سٹرٹیجی اپنانے کے خطرات بہت زیادہ ہیں کیونکہ ایران امریکی مفادات‘ اسرائیل اور خلیجی خطے میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کر سکتا ہے۔ اس کا ایران نے اعلان بھی کیا ہے۔ اس سے ایک محدود جنگ وسیع علاقائی تصادم میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ ایک بڑی عالمی جنگ کا بھی باعث بن سکتی ہے۔ اگر امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر ایٹمی حملے کرنے کی کوشش کی تو ٹرمپ کی رہی سہی ساکھ بھی داؤ پر لگ جائے گی۔دوسرا راستہ سفارت کاری ہے۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا‘ انتخابی شکست نے ٹرمپ پر داخلی دباؤ بڑھا دیا ہے۔ امریکی عوام میں جنگ‘ مہنگے ایندھن اور معاشی اخراجات کے حوالے سے بے چینی سامنے آئی ہے۔ دوسری جانب یورپ میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے احتجاجی تحریکیں زور پکڑ رہی ہیں‘ اور سب جانتے ہیں کہ یہ سب ایران امریکہ جنگ کے شاخسانے ہیں جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بے سوچے سمجھے شروع کی۔ یہ دبائو ٹرمپ کو ایران کے ساتھ کسی معاہدے کی طرف دھکیل سکتا ہے۔ ٹرمپ ایران کے ساتھ کسی ایسے معاہدے کی کوشش کر سکتے ہیں جس میں ایران کے جوہری پروگرام پر پابندیاں عائد ہوں‘ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال ہو‘ دونوں ممالک جنگ بندی پر متفق ہوں اور امریکی پابندیوں میں مرحلہ وار نرمی کے امکانات پیدا ہوں۔ ایسا معاہدہ ٹرمپ کو تو جنگ سے نکلنے کا سیاسی راستہ دے سکتا ہے لیکن ایران اپنی شرائط پر سمجھوتے کیلئے تیار ہونے کا پابند نہیں ہے۔ ساتھ ہی ساتھ یہ زمینی حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ بڑھتی ہوئی معاشی کمزوری ایران کو امریکہ کیساتھ کسی سمجھوتے تک پہنچنے کا راستہ فراہم کر دے۔اس شکست کے بعد ٹرمپ کا گرین لینڈ اور کینیڈا کو فتح کرنے کا خواب شرمندۂ تعبیر ہونے سے رہ جائے گا۔ صدر ٹرمپ مختلف مواقع پر کہہ چکے ہیں کہ ایران کے معاملے کو حل کرنے کے بعد کیوبا کا حساب چکایا جائے گا اور ضرورت پڑنے پر مغربی نصف کرۂ ارض میں امریکی مفادات کیلئے فوجی طاقت استعمال کی جا سکتی ہے۔ اب ضروری نہیں کہ ڈیموکریٹس ٹرمپ کو اپنے یہ منصوبے مکمل کرنے دیں۔یہ تو ہیں جنگ کے معاملات‘ اب یہ دیکھتے ہیں کہ مڈ ٹرم شکست اور کیا کیا نتائج لا سکتی ہے۔ ڈیموکریٹس اب کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت رکھتے ہیں۔ جنوری 2027ء میں نئی کانگریس کے فعال ہونے کے بعد ڈیموکریٹس ٹرمپ کی ایران پالیسی کی سخت نگرانی کر سکتے ہیں۔ وہ دفاعی بجٹ اور جنگی اخراجات محدود کرنے‘ جنگ کے قانونی جواز پر تحقیقات کرنے اور انتظامیہ سے جواب طلب کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس کے علاوہ وزرا اور اہم سرکاری عہدیداروں کی نامزدگیوں میں بھی رکاوٹیں پیدا ہو سکتی ہیں۔ یوں ٹرمپ کو اپنی انتظامیہ کے اندر بھی سیاسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ درست ہے کہ اگلے سال جنوری میں صدر ٹرمپ کے اختیارات پر کچھ قدغن لگ جائیں گے‘ اس کے باوجود وہ امیگریشن‘ تجارت‘ خارجہ پالیسی اور دفاعی معاملات میں انتظامی احکامات کے ذریعے اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اتنا کرنا ٹرمپ کے ساکھ بحال کرنے کا سبب بن جائے گا؟ٹرمپ کی انتخابی شکست کے اثرات صرف امریکہ تک محدود نہیں رہیں گے۔ تہران اس صورتحال کو امریکی پالیسی پر داخلی دباؤ کی علامت سمجھ سکتا ہے اور نئی شرائط پیش کر سکتا ہے۔ امریکی کانگریس میں اسرائیل کیلئے فوجی امداد اور جنگی حکمت عملی پر زیادہ سوالات اٹھ سکتے ہیں۔ چین اور روس‘ دونوں امریکہ کے داخلی اختلافات اور مشرقِ وسطی کی صورتحال سے سفارتی فائدہ اٹھانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ سعودی عرب‘ قطر‘ عمان‘متحدہ عرب امارات اور دوسرے با اثر عرب ممالک خطے میں جنگ بندی اور استحکام کیلئے سفارتی کوششیں بڑھا سکتے ہیں۔ ٹرمپ کی ہار ابراہام اکارڈ کو طاق پر رکھنے کا باعث بھی بن سکتی ہے۔یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ مڈ ٹرم کی شکست کے بعد دنیا ایک نئے فیز‘ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ اس نئے مرحلے میں دنیا کی قسمت میں کیا لکھا ہے اس کے ابتدائی خدوخال جاننے کیلئے بس چند روز اور انتظار۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_58350786.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>خیبرپختونخوا کے مالیاتی سکینڈل اور تبدیلی کے دعوے(محمد عبداللہ حمید گل)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-abdullah-hameed-gull/2026-11-08/52993/90669214</link><pubDate>Sun, 08 Nov 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-abdullah-hameed-gull/2026-11-08/52993/90669214</guid><description>پی ٹی آئی کے حامی بنیادی طور پر سیاسی طور پر ناپختہ بالغ کارکن ہیں اور ان میں کثیر تعداد سیاست کی سمجھ بوجھ سے نابلد ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ صرف عمران خان کے عقیدت مند اور پیروکار ہیں۔ ان کے نزدیک ان کے لیڈر کا کہا ہوا ہر لفظ حتمی اور سچا ہے۔ لہٰذا پی ٹی آئی نے اپنے کارکنوں کی اس کمزوری سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی سیاست کو کارکردگی کے بجائے جھوٹ‘ من گھڑت بیانیوں اور فرضی دعوؤں کی بنیاد پر استوار کیا۔ پارٹی کی الزامات کی سیاست‘ حقائق کو چھپانے اور اپنی ناکامیوں کا ملبہ دوسروں پر ڈالنے کی اس روش کی پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ 11اکتوبر کو کے پی کے میں پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کی برطرفی اور گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد‘ جبکہ صوبہ بدترین دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے‘ افواجِ پاکستان کے خلاف ایک منظم مہم سوشل میڈیا پر چلائی جا رہی ہے۔ اس گھناؤنی مہم کے ذریعے ہماری جری و بہادر افواج پر صوبے کے معدنی وسائل پر قبضے کا جھوٹا الزام عائد کیا گیا ہے۔ دوسری جانب پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت پر اٹھنے والے سنگین سوالات ابھی تک حل طلب ہیں۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ پاک فوج کے خلاف اشتعال انگیزی کی گئی ہو۔ قبل ازیں بھی کالعدم دہشت گرد تنظیم ٹی ٹی پی اور پی ٹی آئی کا ملک دشمن بیانیہ یہی تھا کہ پاک فوج نے دہشت گردی کے خلاف جنگ امریکی ڈالرز کے حصول کے لیے لڑی۔ اس طرح دہشت گردی کی جنگ میں افواجِ پاکستان‘ عوام کی عظیم قربانیوں کو نقصان پہنچانے کی مذموم کو شش کی گئی۔ حقائق تو یہی ہیں کہ پی ٹی آئی کے سابق دور میں اس کے ٹی ٹی پی‘ تحریک طالبان افغانستان کے ساتھ روابط اور کرپشن نے ایک نیا باب رقم کیا۔ سہیل آفریدی کی صوبائی حکومت کو دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں وفاقی حکومت اور فوج کے ساتھ مطلوبہ تعاون نہ فراہم کرنے پر برطرف کیا گیا۔ مولانا فضل الرحمن نے بھی صوبے کی صورتحال پر وفاقی حکومت اور فوج پر تنقید کرتے ہوئے اسی نوعیت کا مؤقف اپنایا۔ ان کے اس طرزِ عمل نے گورنر راج‘ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ اور پاک فوج پر عائد الزامات کے حوالے سے جاری تنازعے کو ایک نیا سیاسی رخ دے دیا ہے۔ جبکہ ان کے اپنے ماضی میں بھی کئی ایسے معاملات موجود ہیں جن کی تحقیقات ضروری ہیں۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ کب سیاسی رہنما اپنے سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر صوبے کے امن و استحکام کو ترجیح دیں گے؟پی ٹی آئی کی سابق حکومت کو بدعنوانیوں سمیت صوبے کے معدنی وسائل کے انتظام و بگڑتے امن و امان کے حوالے سے سنگین سوالات کا سامنا ہے۔ صوبے کے معدنی ذخائر وہاں کے عوام کی ملکیت ہیں اور ان کی الاٹمنٹ‘ ریونیو کا مکمل حساب شفاف انداز میں عوام کے سامنے آنا چاہیے۔ کسی بھی سیاسی حکومت کو اپنی ذمہ داری سے فرار کی ہرگز اجازت نہیں دی جا سکتی۔ درحقیقت یہاں اصل مسئلہ احتساب ہے‘ پروپیگنڈا نہیں۔ فوج کے خلاف الزامات کیلئے بھی ٹھوس شواہد ضروری ہیں۔ یوں قومی سلامتی اور عساکرِ پاک کے خلاف پروپیگنڈا مہم کا خاتمہ ناگزیر ہو چکا ہے۔ تحریک انصاف کے گزشتہ بارہ‘ تیرہ سالہ دورِ حکومت کا بھی اسی سختی اور غیر جانبداری سے جائزہ لیا جانا ضروری ہے۔ سیاسی نعرے‘ الزامات‘ حقائق‘ شفافیت اور ذمہ داری کا متبادل نہیں ہو سکتے۔ خیبر پختونخوا کے قیمتی معدنی وسائل پی ٹی آئی کے سہولت کاروں‘ سر پرستوں‘ قریبی ساتھیوں اور عزیز و اقارب میں ریوڑیوں کی طرح بانٹے گئے جیسے یہ کوئی ان کی ذاتی جاگیر ہو۔ اس کرپشن اور بے ضابطگیوں کو چھپانے کے لیے سارا الزام فوج پر ڈالا جا رہا ہے۔ یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر معدنی وسائل کی تقسیم شفاف تھی تو پی ٹی آئی اس کی تفصیلات منظرِ عام پر لانے سے گریزاں کیوں ہے؟ کیا یہ صوبے کی قیمتی معدنی دولت کی لوٹ مار سے توجہ ہٹانے کی کوشش تو نہیں ہے؟ لیکن اعداد و شمار جھوٹ نہیں بولتے۔ 2010ء میں خیبر پختونخوا میں معدنیات کے صرف 482 لائسنس تھے۔ پی ٹی آئی حکومت میں یہ تعداد بڑھ کر 4917 تک پہنچ گئی۔ بتایا جائے کہ لائسنسوں کی تعداد میں اتنا اضافہ کیوں ہوا؟ اور علیمہ خان کے بیٹوں کو لائسنس کیوں جاری کیے گئے؟ یہ بھی بتایا جائے کہ صوبے کے وسائل سے حاصل ہونے والی رقم مبینہ طور پر عمران خان کے رشتہ داروں اور مراد سعید کی جیبوں تک کیسے پہنچی جبکہ یہ رقم صوبائی خزانے میں جمع ہونی چاہیے تھی۔ تحریک انصاف کے دورِ حکومت میں ہونے والے اس مالی لین دین کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے لائی جانی چاہئیں۔ عدالت بھی ان معلومات کو منظرِ عام پر لانے کے احکامات جاری کر چکی ہے لیکن شفافیت کے علمبردار متعلقہ تفصیلات جاری کرنے سے مسلسل انکاری ہیں۔ اور جب بھی فوج کی جانب سے احتساب کا مطالبہ کیا جاتا ہے تو اس کے خلاف الزامات کی ایک نئی پروپیگنڈا مہم شروع کر دی جاتی ہے۔ پی ٹی آئی کے بارے میں یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ پارٹی کا مقصد فوج کو موردِ الزام ٹھہرا کر دہرا فائدہ حاصل کرنا ہے۔ اپنی کرپشن سے توجہ ہٹانا اوردہشت گردی کے خلاف فوجی کارروائیوں میں رکاوٹیں پیدا کرنا۔ تاہم جب ٹھیکوں سے فائدہ اٹھانے والوں کے نام سامنے آتے ہیں تو اقربا پروری کے حوالے سے سوالات اٹھنا ضروری ہو جاتا ہے۔ علیمہ خان اور مراد سعید پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے پسندیدہ افراد‘ قریبی ساتھیوں اور سرپرستوں میں 300سے زائد لائسنس تقسیم کیے جن کے عوض بھاری کمیشن وصولی کی خبریں بھی سامنے آئیں۔ چترال مائنز اینڈ منرلز کے بڑے ٹھیکوں کے حوالے سے بھی علیمہ خان کے بیٹوں‘ شیر شاہ خان اور شہروز خان کے نام سامنے آتے ہیں۔ ان قیمتی معدنی ذخائر کے اجازت نامے شہروز خان اور ان کی اہلیہ کے نام پر جاری ہوئے اور اس آمدنی کا ایک بڑا حصہ علیمہ خان کے خاندان کو پہنچایا جاتا رہا۔ یہ معاملہ محض ٹھیکوں کی الاٹمنٹ تک محدود نہیں بلکہ بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا عوامی وسائل کی تقسیم شفاف طریقے سے ہوئی؟ صوبے کے معدنی وسائل کسی کی نجی ملکیت نہیں کہ انہیں ذاتی جاگیر سمجھ کر استعمال کیا جائے اور عوام کی پوچھ گچھ کو سیاسی مخالفت قرار دے کر انہیں خاموش کرا دیا جائے۔ مزید برآں صوبے کے شعبۂ صحت میں بھی کرپشن کی داستانیں منظر عام پر آ چکی ہیں۔ جس کا سب سے بڑا ثبوت امریکہ میں مقیم عمران خان کے کزن ڈاکٹر نوشیروان برکی کو صوبے کی وزارتِ صحت میں اعلیٰ عہدہ سونپنا تھا۔ وہ پالیسی ساز باڈیز کا حصہ بھی رہے اور لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور کے بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین بھی رہے۔ صحت کارڈ پروگرام اور دیگر اہم پالیسی فیصلوں میں ان کے کردار سے متعلق سوالات بھی حکومتی کارکردگی و کرپشن کے وسیع تر اختلافات کا حصہ بن چکے ہیں۔ افسوس تو یہ ہے کہ پی ٹی آئی خود باقاعدہ پلاننگ کے تحت اپنے کارکنوں کو نعروں‘ شاہراہوں پر احتجاج اور سوشل میڈیا کی لڑائیوں میں مصروف رکھتی ہے تاکہ ان کی توجہ کرپشن و عوامی وسائل کے غلط استعمال سے ہٹائی جا سکے۔ مراد سعید عوامی وسائل کی لوٹ مار سے بھاری مالی فوائد سے مستفید ہوتے رہے ہیں جو اس وقت پکتیکا میں حافظ گل بہادر گروپ کے پاس پناہ لیے ہوئے ہیں۔ تحریک انصاف کی سیاسی چالیں اور خیبر پختونخوا کے بگڑتے حالات اب کسی سے ڈھکے چھپے نہیں رہے۔اگر تحریک انصاف کے دورِ حکومت میں لائسنس اور ٹھیکے شفاف طریقے سے تقسیم کیے گئے تھے تو ان کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے کیوں نہیں لائی جا رہیں؟ اگر قریبی رشتہ داروں کو ٹھیکے دینے کے الزامات غلط ہیں تو متعلقہ ریکارڈ پیش کرکے واضح جواب کیوں نہیں دیا جاتا؟ تشویش کا پہلو تو یہ ہے کہ صوبے کے معدنی ذخائر سے حاصل ہونے والی آمدن واقعی صوبائی خزانے میں جمع ہوئی یا اسے نجی ہاتھوں میں منتقل کر دیا گیا؟ وقت آ گیا ہے کہ عوام سوشل میڈیا کے پروپیگنڈا اور سیاسی نعروں سے آگے بڑھ کر سرکاری ریکارڈ کا جائزہ لیں اور یہ سوال اٹھائیں کہ اس کا اصل ذمہ دار کون ہے؟</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_62843609.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>