<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>بلوچستان میں امن اور استحکام کا راستہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-28/11583</link><pubDate>Mon, 28 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-28/11583</guid><description>سکیورٹی فورسز نے گزشتہ چند روز کے دوران بلوچستان کے مختلف علاقوں میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں میں 70 سے زائد دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔ دہشت گردی کے خلاف یہ کارروائیاں ناگزیر ہیں کیونکہ کسی بھی معاشرے میں مسلح گروہوں کو عوامی زندگی‘ ریاستی اداروں اور ترقیاتی سرگرمیوں کو یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ عزمِ استحکام کے ویژن کے تحت انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں کا تسلسل اس قومی ضرورت کا تقاضا ہے۔ بلوچستان کے سکیورٹی مسائل کی بات کی جائے تو وہاں بیک وقت دو طرح کے بحرانوں کا سامنا ہے۔ ایک تو فتنہ الہندوستان کی دہشت گردی ہے جس سے نمٹنا ناگزیر ہے جبکہ دوسری جانب بلوچ عوام کی محرومیوں کا خاتمہ کر کے انہیں دہشت گردوں اور عوامی حقوق کو پامال کرنے والوں کے چنگل سے چھڑانے کا کڑا چیلنج درپیش ہے۔ یہ ایک پیچیدہ سیاسی‘ معاشی اور سماجی چیلنج ہے جس کے پائیدار حل کیلئے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کے ساتھ ساتھ ان حالات کو بھی تبدیل کرنا ہوگا جو محرومی‘ پسماندگی اور بے اعتمادی کو جنم دیتے ہیں۔ بلوچستان میں عوامی محرومی کی صورتحال تشویشناک ہے۔

گزشتہ برس اسلام آباد میں منعقدہ ایک سمپوزیم میں وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے صوبے میں کثیر جہتی غربت کے حوالے سے تشویشناک اعداد وشمار پیش کیے تھے۔ بقول ان کے صوبے میں 51 فیصد گھرانے آمدنی کے لحاظ سے غربت کے دائرے میں آتے ہیں جبکہ 71 فیصد آبادی کثیر جہتی غربت میں مبتلا ہے۔ اکنامک سروے 2025-26ء کے مطابق بلوچستان ملک کا غریب ترین صوبہ ہے جہاں غربت کی شرح تقریباً 47 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ صوبے میں 46.6 فیصد بچے سٹنٹنگ کا شکار ہیں جبکہ 35 لاکھ بچے سکول سے باہر ہیں۔ شرحِ خواندگی ملک کے دیگر صوبوں کے مقابلے میں خاصی کم ہے۔صرف25 فیصدآبادی کو پینے کا صاف پانی میسر ہے۔یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ بلوچستان میں امن کیلئے سماجی ترقی ایک بنیادی تقاضا ہے۔ اس لیے ضرورت ایک ایسی جامع حکمت عملی کی ہے جس میں سکیورٹی‘ معیشت‘ تعلیم‘ صحت‘ روزگار اور بنیادی شہری سہولتوں کو ایک دوسرے سے مربوط کیا جائے۔ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ اور قدرتی و معدنی وسائل سے مالا مال خطہ ہے۔ اس کے پاس معدنیات‘ ساحلی پٹی اور وسیع رقبے کی صورت میں ترقی کے غیر معمولی امکانات موجود ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ان امکانات کو عوامی خوشحالی میں پوری طرح تبدیل نہیں کیا جا سکا۔ طویل فاصلے‘ بنیادی ڈھانچے کی کمی‘ انتظامی مسائل‘ سرمایہ کاری کی رکاوٹیں اور سکیورٹی کے چیلنجز اس عمل میں حائل ہیں۔
اس لیے بلوچستان کیلئے قومی پالیسی کا بنیادی مقصد انسداد دہشتگردی کے ساتھ ساتھ ایسا ماحول پیدا کرنا بھی ہونا چاہیے جس میں عام شہریوں کو تعلیم‘ صحت‘ روزگار‘ صاف پانی‘ سڑک‘ بجلی اور دیگر بنیادی سہولتیں میسر ہوں۔ جب لوگوں کو اپنے علاقوں میں ترقی‘ روزگار اور بہتر مستقبل کے مواقع میسر آئیں گے تو دہشت گرد گروہوں کیلئے نوجوانوں کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرنا مشکل ہوتا جائے گا۔ بلوچستان میں پائیدار امن کیلئے ایک طرف ریاستی قوت اور دوسرے طرف عوامی فلاح کا عزم ضروری ہے۔ دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں جاری رہنی چاہئیں مگر اس کے ساتھ تعلیم‘ صحت‘ روزگار‘ بنیادی سہولیات اور معاشی مواقع میں حقیقی بہتری لانا ہوگی۔ بلوچستان میں پائیدار امن سکیورٹی اور ترقی کے اشتراک سے مشروط ہے۔ جب ریاستی رٹ مضبوط ہو گی‘ عوامی اعتماد بحال ہو گا اور ترقی کے ثمرات عام شہریوں تک پہنچیں گے تو شدت پسندی کی گنجائش خود بخود کم ہو گی۔ یہی وہ جامع حکمت عملی ہے جو بلوچستان کو بدامنی کے اس منحوس چکر سے نکال کر امن‘ استحکام اور ترقی کی طرف لے جا سکتی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پٹرول سبسڈی، پائیدار اقدامات ضروری(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-28/11582</link><pubDate>Mon, 28 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-28/11582</guid><description>وزیراعظم شہباز شریف نے پٹرول پر ریلیف کیلئے آئی ایم ایف کو راضی کرنے اور جلد خوش کن پیشرفت کا عندیہ دیا ہے۔ اس وقت ملک میں پٹرول کی قیمتیں 390 روپے فی لیٹر کے لگ بھگ ہیں‘ جس سے نچلا اور متوسط طبقہ شدید معاشی پریشانی کا شکار ہے۔ اگرچہ حکومت کی جانب سے پٹرول پر فی لٹر سو روپے ٹارگٹڈ سبسڈی دی جا رہی ہے مگر پٹرولیم منصوعات کی قیمتیں بڑھنے سے ان کے اثرات ہمہ گیر ہوتے ہیں جو ہر شعبہ ہائے زندگی کو متاثر کرتے ہیں۔ پٹرول‘ ڈیزل کی قیمتیں بڑھنے سے ٹرانسپورٹیشن اخراجات بھی بڑھ جاتے اور ہر چیز کی قیمتوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اگرچہ وفاقی وزیر پٹرولیم نے ضرورت پڑنے پر 10 ماہ تک پٹرول ریلیف سکیم جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے مگر یہ عزم ملک کے معاشی حالات اور زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔

جب ملکی معیشت پہلے ہی بھاری قرضوں اور بجٹ خسارے تلے دبی ہو اور وفاق صوبوں کا ترقیاتی بجٹ مستعار لے رہا ہو تو سرکاری اخراجات میں کٹوتی کر کے طویل مدت تک اربوں روپے کی سبسڈی دینا عملی طور پر ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ حکومت کو یہ سمجھنا چاہیے کہ کہ پٹرول پر اس وقت 114 روپے فی لیٹر مختلف سرچارج‘ ٹیکسز اور لیویز کے نام پر وصول کیے جا رہے ہیں۔ اگر ان ٹیکسوں کی شرح ہی نیچے آ جائے تو عوام کو بڑی سہولت میسر آ سکتی ہے۔ ہمیں وقتی ریلیف پیکیج کے بجائے ایک ایسی پائیدار اور طویل مدتی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے جو عوام کو سہولت دے اور معیشت پر منفی اثرات بھی مرتب نہ کرے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ریلوے، مال برداری(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-28/11581</link><pubDate>Mon, 28 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-28/11581</guid><description>خیبر پختونخوا میں سڑکوں کی بندش کے دوران پاکستان ریلوے کی دو مال گاڑیوں کے ذریعے سترہ لاکھ لیٹر سے زائد ڈیزل کی ہنگامی سپلائی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ریلوے ملک میں مال برداری اور تیل کی ترسیل کا سب سے سستا‘ آسان اور تیز رفتار ذریعہ ہے۔ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اگر ریلوے کے شعبے پر مناسب توجہ دی جائے تو یہ ملکی معیشت کی لائف لائن بن سکتا ہے۔ دنیا بھر میں ریلوے کو مال برداری کا زیادہ بھروسہ مند اور تیز رفتار ذریعہ مانا جاتا ہے۔ سڑکوں کے مقابلے میں ٹرین کے ذریعے سامان کی ترسیل سے نہ صرف اخراجات میں نمایاں کمی آتی ہے بلکہ شاہراہوں پر سے بھاری ٹریفک کا بوجھ بھی کم ہوتا ہے‘ جس سے سڑکوں کی ٹوٹ پھوٹ اور حادثات کی شرح میں کمی آتی ہے۔

ضرورت ہے کہ پاکستان میں بھی ریلوے کے ذریعے مال برداری کو وسعت دی جائے۔ اس کیلئے مین لائن اور مرکزی ٹریکس سمیت ریلوے لائنوں کی جدت کاری ناگزیر ہے۔ پاکستان میں آئے روز ٹرینوں کے پٹری سے اترنے اور حادثات کا شکار ہونے کے واقعات کا تدارک اسی وقت ہو سکتا ہے جب لائنوں کی مرمت‘ جدید سگنل سسٹم کی تنصیب اور فرسودہ پھاٹکوں کو خودکار نظام پر منتقل کرنے پر توجہ دی جائے۔ ریلوے کو اَپ گریڈ کر کے اسے سفر کا ایسا محفوظ‘ سستا اور جدید ذریعہ بنایا جا سکتا ہے جو پائیدار ملکی ترقی کا ضامن ہو۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>دہشت گردی کیوں ختم نہیں ہو رہی؟(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-09-28/52742/13649835</link><pubDate>Mon, 28 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-09-28/52742/13649835</guid><description>دہشت گردی مہذب دنیا میں ختم ہو چکی۔ اس کے خاتمے میں ہمارا کردار بنیادی تھا۔ ہم خود مگر آج بھی اس آگ میں جل رہے ہیں۔ اس کا ذمہ دارکون ہے؟دہشت گردی کیا‘ لوگ داخلی تنازعات کو بھی حل کر رہے ہیں۔ نظام مستحکم ہو رہے ہیں۔ اگر کہیں عدم استحکام ہے تو نظام میں اتنی جان ہے کہ وہ اس کا بوجھ اٹھا سکتا ہے۔ ایران میں داخلی اضطراب اتنا زیادہ تھا کہ امریکہ نے رجیم کی تبدیلی کو نوشتہ دیوار سمجھ لیا۔ ایران برے حالات میں بھی مگر داخلی طور پر مستحکم رہا۔ اس کا سبب ایک سخت گیر نظام ہے یا کچھ اور‘ ہم تو یہ نتیجہ دیکھ رہے ہیں کہ امریکہ کی خواہش پوری ہو سکی نہ اسرائیل کی۔ ایران کو امریکہ کی ریاستی دہشت گردی کا سامنا ہے لیکن ملک میں کسی دہشت گرد گروہ کا سراغ نہیں ملتا۔ کوئی واقعہ ہو جائے تو دہشت گرد دنوں میں پکڑے جاتے اور سزا سے گزر جاتے ہیں۔ ترکیہ میں معاشی مسائل ضرور ہیں لیکن وہاں سیاسی استحکام ہے۔ کردوں سے ریاست نے معاملہ کر لیا اور اب اس کے استحکام کو کوئی خطرہ نہیں۔ہمارا معاملہ عجیب ہے۔ دہشت گردی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ہمارے جوان آئے دن اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں۔ دوصوبے اس کی گرفت میں ہیں۔ ہم نے جتنے جوان‘ سپاہی اور عوام اس جنگ میں قربان کیے‘ دنیا کی کسی قوم نے نہیں کیے۔ ہماری ان قربانیوں کو عالمی سطح پر مانا گیا نہ داخلی طور پر ہی ہم کوئی ایسی حکمتِ عملی بنا سکے جو پاکستان کی سلامتی کی ضامن ہو۔ ریاست ہی نہیں‘ دانشوروں کی سطح پر معاملے کی سنگینی کا کسی کو احساس ہے نہ اہلِ سیاست ہی کو اس کا ادراک ہے۔ سول سوسائٹی بھی خاموش ہے۔ سیاسی جماعتوں کا معاملہ یہ ہے کہ وہ دھرنے ہی کو احتجاج کا واحد ماڈل سمجھ بیٹھی ہیں۔دھرنے کا اعلان ہوتا ہے تو معیشت دباؤ میں آنا شروع ہو جاتی ہے۔ آئے دن اس میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اسلام آباد کنٹینروں سے بوجھل ہے اور حکومت روزانہ کی بنیاد پر کروڑوں روپے کرائے کی مد میں ادا کر رہی ہے۔ شاہراہیں کھود ڈالی گئی ہیں۔ حکومت کے سیاسی مخالفین خوش ہیں کہ وہ اسے زچ  کر رہے ہیں۔ انہیں اس کا کوئی احساس نہیں کہ اس کی قیمت اس ملک کے عوام ادا کر رہے ہیں۔ کنٹینروں کا کرایہ قومی خزانے سے دیا جاتا ہے جسے عوام کے ٹیکسوں سے بھرا جاتا ہے۔آج ایک طرف دہشت گردی کا حملہ ہے اور دوسری طرف سیاسی جماعتوں کے لشکر دارالحکومت پر یلغار کا اعلان کر رہے ہیں۔ کوئی ریاست ان حالات میں کب تک چل سکتی ہے۔ اس لیے سنجیدگی کے ساتھ ہمیں اس بات کا جائزہ لینا ہوگا کہ جب ساری دنیا میں دہشت گردی ختم ہو گئی ہے تو ہم کیوں اس سے نجات نہیں پا سکے؟ داعش جہاں کی پیداوار تھی وہاں سکون آ چکا لیکن ہمارے خطے میں‘ وہ اسی طرح موجود ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کم و بیش القاعدہ سے خالی ہو چکا مگر یہاں اس کے آثار پائے جاتے ہیں۔ ٹی ٹی پی اور بی ایل اے جیسے مقامی گروہ اپنی جگہ سرگرم ہیں۔ اسی طرح سیاسی تنازعات بدستور حل طلب ہیں۔ ہمیں اس صورتِ حال سے نکلنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر تیاری کرنی ہے۔نیشنل ایکشن پلان کو بنے بارہ برس ہو گئے۔ اس کی افادیت پر ابھی تک سوال اٹھ رہے ہیں۔ اس وقت یہ قومی اتفاقِ رائے کا مظہر تھا۔ آج اس معاملے میں وہ اتفاقِ رائے موجود نہیں اور اسے پیدا کر نے کی کوئی سنجیدہ کوشش بھی نہیں ہو رہی۔ آج سب سے اہم ضرورت یہ ہے کہ سیاسی اختلافات سے ماورا‘ دہشت گردی کے خلاف ایک بیانیے پر اتفاقِ رائے پیدا کیا جائے۔ سیاسی جماعتوں کو قائل کیا جائے کہ وہ حکومت سے اپنے اختلافات برقرار رکھتے ہوئے‘ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے‘ ریاست کے ساتھ کھڑے ہو جائیں۔ اس کے لیے وزیراعظم ہاؤس میں ایک قومی کانفرنس بلائی جائے۔ جو اقدام 2014ء میں اٹھایا گیا اور جس کی کوکھ سے نیشنل ایکشن پلان برآمد ہوا‘ اسے آج پھر سے دہرایا جائے۔ اگر اس کی بنیادیں افغانستان میں ہیں تو اس پر قوم کو یکسو کیا جائے۔ آج اس باب میں عوام اور ریاست کے مابین ایک بڑا خلا ہے۔ اس کو دور کر نے کی ضرورت ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر ایک مؤقف بیان کرتے ہیں تو اس پر طرح طرح کی بولیاںسننے کو ملتی ہیں۔ یہ بولیاں ان معاملات کو عوام کی نظر میں مبہم بنا دیتی ہیں۔ قومی یکسوئی کے لیے ضروری ہے کہ اس کا تدارک ہو۔ جو بات ریاست کی طرف سے کہی جاتی ہے اسے قومی بیانیہ سمجھا جانا چاہیے۔ اگر کسی کو اعتراض ہے تو اس سے مذاکرات کر کے‘ اس اعتراض کو دور کرنا چاہیے۔ بلوچستان پر بھی اسی مشق کی ضرورت ہے۔اس کے ساتھ سیاسی استحکام کی کوشش بھی کی جانی چاہیے۔ کے پی حکومت کے ساتھ مرکز کے معاملات جس نہج پر آگے بڑھ رہے ہیں اس سے عدم استحکام میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اس قضیے کو ہمیشہ کے لیے حل کیا جائے۔ صوبوں اور مرکز کے درمیان اس نوعیت کا اختلاف زیادہ دیر نہیں چل سکتا۔ صوبے کے عوام اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔ انتظامی سطح پر صوبے اور مرکز میں ہم آہنگی لازم ہے۔ تحریک انصاف کو اپنی سیاست صوبائی حکومت سے الگ کرنی چاہیے۔ اگر اس نے کوئی حکومت مخالف تحریک چلانی ہے تو اسے تنظیمی سطح پر زیرِ بحث آنا چاہیے نہ کہ حکومتی سطح پر۔ وزیراعلیٰ کا کام یہ ہے کہ وہ عوام کی بہتری کے لیے حکمتِ عملی بنائیں۔ اسے سیاسی عمل سے الگ ہونا چاہیے۔ وزیراعلیٰ مرکز کے ساتھ اس معاملے میں مذاکرات کریں کہ صوبے میں امن اور خوشحالی کیلئے کیا کیا جا سکتا ہے۔ سیاسی تنظیم اپنے طور پر فیصلہ کرے کہ اس نے عمران خان صاحب کی رہائی کے لیے کیا حکمتِ عملی اپنانی ہے۔ دھرنا تحریک انصاف کا مسئلہ ہو نہ کہ صوبائی حکومت کا۔ اگر اس بات کو بطور اصول سامنے رکھا جا ئے تو صوبے میں حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔کوئی ملک دہشت گردی اور سیاسی خلفشار سے ایک ساتھ نہیں نمٹ سکتا۔ ایران کو امریکی حملے کا سامنا ہوا تو وہاں داخلی طور پر استحکام تھا۔ ریاست یکسو ہو کر امریکہ کے ساتھ لڑ رہی تھی۔ پاکستان کی ریاست کا معاملہ یہ نہیں ہے۔ وہ دہشت گردوں کے ساتھ یکسوئی کے ساتھ نہیں لڑ رہی۔ ایسی سیاسی قوتیں موجود ہیں جو اس کی ٹانگیں کھینچ رہی ہیں۔ اس کا مداوا کیے بغیر‘ خارجی چیلنج کا سامنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس کیلئے اتفاق رائے لازم ہے۔ ایک قومی بیانیے کی تشکیل ہو جسے پوری قوم کی تائید میسر ہو۔ نیکٹا میں جنرل فیصل نصیر کے جانے سے امید کی جا سکتی ہے کہ اس باب میں پیش رفت ہو اور نیشنل ایکشن پلان کو نئے حقائق کی روشنی میں زندہ کیا جائے۔ دوسرا اس بیانیے پر قوم کی مہر ہو۔ اس کے لیے وزیراعظم ہاؤس میں قومی کانفرنس کا انعقاد ضروری ہے۔ تیسرا اس پر عملدرآمد کا نقشہ ہے‘ جس کی صلاحیت قومی اداروں کے پاس موجود ہے۔ اس کے ساتھ داخلی استحکام کیلئے کے پی حکومت سے فیصلہ کن مذاکرات کئے جائیں۔دہشت گردی کا خاتمہ ناگزیر ہے۔ یہ ہمارے لیے پولیو کی طرح ہے۔ پولیو ساری دنیا میں ختم ہو گیا۔ اب پاکستان میں ہے یا افغانستان میں۔ دہشت گردی کا معاملہ بھی یہی ہے۔ ساری دنیا سے ختم ہو چکی مگر پاکستان اور افغانستان میں باقی ہے۔ یہ بات ہمارے لیے باعثِ تشویش ہونی چاہیے۔ اس سے نجات ہماری پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔ یہ انسانی جانوں کا معاملہ ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بے سود کشمکش(رسول بخش رئیس)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-09-28/52743/69291431</link><pubDate>Mon, 28 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-09-28/52743/69291431</guid><description> یہ مان بھی لیں کہ پاکستانیوں کو آئین نے یہ حق دیا ہے کہ جس موسم‘ مہینے‘ سال اور دن کو چاہیں وہ اسلام آباد پر یلغار کر سکتے ہیں تو اس سے انہیں حاصل ہی کیا ہو گا؟ پہلی بات تو یہ ہے کہ اگر سیاسی جماعت یا کسی اور نوعیت کا گروہ دھاوا بولے تو آپ دوسروں کو بھی ایسے ہی دھاووں کی اجازت دیں گے؟ سب یہ کہتے ہیں‘ اور یہ سب کچھ کہنے کی حد تک ہے کہ وہ پُرامن احتجاج کریں گے۔ سبھی سیاسی جماعتوں اور دیگر گروہوں کے دعوے ہم نے پوری زندگی دیکھے ہیں‘ وہ کبھی پُرامن نہیں رہے۔ تشدد صرف یہ نہیں ہوتا کہ آپ پولیس کے اہلکاروں پر گولیاں چلائیں۔ کیا یہ کم ہے کہ بچوں کے سکول بند اور شفا خانوں کا راستہ مریضوں کے لیے روک دیں اور وہ جو بیچارے دیہاڑی دار ہیں وہ فاقے کریں۔ میں کئی ایسے مظاہروں‘ جلوسوں اور مارچوں کا عینی شاہد رہا ہوں۔ یہ بھی مان لیتے ہیں کہ جماعتوں اور گروہوں کی ایسی کوئی منصوبہ بندی نہیں ہوتی مگر شرپسند عناصر کہیں سے ان کے جلوسوں میں گھس آتے ہیں۔ اگر ایسا ہے تو پھر شرپسند عناصر کو یہ موقع کیوں دیا جانا چاہیے؟ جماعتوں اور گروہوں کو تشدد کرتے دیکھ کر اب عام شہریوں نے بھی احتجاج کرنے کے لیے تشدد کا راستہ اختیار کر لیا ہے۔ اگر کہیں سڑک پر کوئی ٹریفک حادثہ ہو جائے اور کوئی راہ گزرتا دیہاتی یا گنجان آباد شہروں کا کوئی محلے دار اس کا نشانہ بنے تو اب یہ بات عام ہو چکی ہے کہ لوگ جتھوں کی صورت گھروں سے نکلتے ہیں اور اس گاڑی کوآگ لگا دیتے ہیں۔ اگر کوئی ڈرائیور ان کے ہتھے چڑھ جائے تو خوش قسمتی ہی ہو گی کہ وہ ان کے تشدد سے اپنی جان بچا سکے۔ کچھ شہروں میں تو اب یہ معمول کی بات بن چکی ہے کہ اگر کوئی ڈاکو پکڑا جائے تو اسے تشدد سے مار دیا جاتا ہے۔ یہ رویے اتنے عام ہو چکے ہیں کہ ان کے خلاف نہ کوئی لکھ سکتا ہے نہ بول۔ لوگ کہیں گے کہ آخر ڈاکو ایسا کام کیوں کر رہا تھا؟ بات یہ نہیں کہ کوئی ڈاکو یا چور ہے تو لوگ خود عوامی انصاف کر کے موقع پر ہی اس کی جان لے لیں۔ یہ معاشرے میں تشدد پسندی اور لاقانونیت کی علامتیں ہیں۔ اصل بات تو ملک کے اندر سیاسی کشمکش کی ہے کہ اسے یوں رہنے دیا جائے یا اس کا کوئی پائیدار حل نکالا جائے۔ ملک کے اندر کسی سے بات کریں تو وہ اس کے حل کے علاوہ اور کوئی دوسری بات نہیں کرے گا۔ اس قومی اتفاق کے باوجود پھر کیوں مفاہمت نہیں ہوتی؟ اگر ہم اپنی تاریخ پر نظر ڈالیں‘ شروع سے لے کرآج تک کتنے مواقع ہمیں ملے جو ہم نے ضائع کر دیے۔ مفاہمت ہو سکتی تھی مگر باہمی ضد اور کشمکش کی فضا میں بحران گہرے اور وسیع ہوتے چلے گئے۔ پھر جو نتائج نکلے‘ ان کی طرف کوئی دھیان کر کے دیکھ لیں اور کچھ تجزیہ کریں تو حکمرانوں کی کوتاہ نظری اور محدود مفادات کی سیاست کے علاوہ کچھ نظر نہیں آئے گا۔ یہاں نہ کوئی عوامی انقلاب لا سکتا ہے اور نہ ہی کھلی آمریت۔ ہماری تاریخ اور سیاسی روایات ان سے بہت مختلف ہیں۔ برصغیر کی شناخت کی علمی‘ ثقافتی اور سماجی تحریکوں کی صدیوں پر محیط تاریخ ہے۔ نیز ہماری سیاست‘ جمہوری اداروں‘ آئین‘ قانون اور ریاستی ڈھانچے پر برطانوی راج اور اس کی تاریخی روایات کا اثر ہے۔ اسی لیے تو یہاں ہر نوع کی آمریتوں کے خلاف تحریکیں چلی ہیں اور آئندہ بھی ایسا ہو گا۔ مغرب کی طرف خطے میں بہارِ عرب کی تاریخی تحریک چلی اور فلسطینیوں نے 80 کی دہائی میں انتفاضہ‘ یعنی &#39;&#39;جاگو اور جگائو‘‘ کی تحریک چلائی۔ میرا نظریہ سماجی تحریکوں کے بارے میں کچھ مختلف ہے‘ شاید آپ سے مختلف نہ ہو۔ میرے نزدیک کوئی بھی پُرتشدد تحریک کامیاب نہیں ہو سکتی۔ ایک زمانہ تھا جب کچھ ملکوں میں مسلح جدوجہد ہوئی مگر وہ صرف بیرونی اور سامراجی طاقتوں کے خلاف کسی حد تک کامیاب ہوئی۔ نیلسن منڈیلا جو 30 سال سے زیادہ عرصے تک اذیت ناک قید میں رہے‘ آخرکار انہوں نے عدمِ تشدد کا راستہ اختیار کیا اور سفید فام اقلیت سے جنوبی افریقہ کو آزادی دلائی۔ دنیا پُرتشدد تحریکوں اور ان کے وسیع قبرستانوں سے بھری پڑی ہے۔ اس طرف چلے تو بات لمبی ہو جائے گی۔ ہمارا تو مسئلہ یہ ہے کہ ہم پُرامن مفاہمت اور سیاسی مذاکرات سے بحرانوں سے اپنا راستہ نکالنے کی قومی سکت کھوتے چلے جا رہے ہیں۔ اب قابلِ احترام لوگ بھی گنے چنے رہ گئے ہیں جو مختلف طاقتوں اور سیاسی رہنماؤں سے بات کر کے مفاہمت کی ترغیب دیں یا مشورہ دیں‘ تو شاید کوئی سُن لے۔ایک اور بات بھی مان لیتے ہیں کہ اس وقت کی حکومت کی جائزیت کی بنیاد کمزور ہے۔ گزشتہ انتخابات کے بارے میں بھی سوال اٹھا سکتے ہیں اور یہ بھی کہ سرپرستی بھی ہے۔ تو کیا اسلام آباد پر چڑھائی اور لانگ مارچوں سے راستہ نکل سکتا ہے؟ جذباتی سیاست اور مدبرانہ حکمتِ عملی میں بہت فرق ہے۔ اگر کسی تدبیر میں حکمت نہیں تو یوں سمجھیں کہ آپ جان بوجھ کر کوئی حادثہ کرنا چاہتے ہیں جس میں لوگوں کی جانیں جا سکتی ہیں۔ میں خود چونکہ جوانی میں انقلابی رہ چکا ہوں تو انقلابی نعروں کی گروہی نفسیات سے کچھ آگاہی ہے۔ بہت اچھا لگتا ہے کہ اکٹھے ہو جاؤ‘ آگے بڑھو‘ جو طاقت میں ہیں ان کے خلاف یہ کر دو‘ وہ کر دو۔ اسلام آباد میں ایسے واقعات اب اکثر ہوتے ہیں۔ کبھی آپ کو موقع ملا تو سرینگر ہائی وے‘ جناح ایونیو اور دیگر سڑکوں کو اینٹوں‘ پتھروں اور ہر طرح کے عوامی ہتھیاروں سے اس طرح اٹا دیکھا ہو گا گویا ابھی آسمان سے آفت برسی ہے۔ گزشتہ ایک مضمون میں کچھ لانگ مارچوں کی تاریخ کا مختصر ذکر کر چکا ہوں۔ 15 لانگ مارچ ہو چکے ہیں اور 27ویں کی تاریخ‘ جو کل تھی‘ شاید ناموافق حالات کی وجہ سے اب تبدیل ہو چکی ہے۔ جب بھی وہ آئیں گے‘ کنٹینر ان کے استقبال کے لیے شہر کے سب داخلی راستوں پر موجود ہوں گے اور یہاں تک پہنچنے کے لیے انہیں کئی دریا‘ پہاڑ اور خندقیں عبور کرنی پڑیں گی۔ ایسی سیاست میں مجھے کوئی حکمت‘ تدبیر یا دور اندیشی نظر نہیں آتی۔ عوام‘ اسلام آباد کے شہریوں اور ملک کی تو بات ہی نہ کریں۔ اگر اس سے پہلے اسلام آباد میں 15 لانگ مارچ ناکام ہو چکے ہیں تو یہ نتیجہ نکالنا مشکل تو نہیں ہونا چاہیے کہ اگلے کا انجام کیا ہو گا۔ یہ مارچ صرف ہمارے ملک میں ہوتے ہیں۔ کبھی سنا ہے کہ افغانستان‘ ایران‘ عراق سے آگے سب ممالک شامل کر لیں‘ کبھی کوئی مارچ ہوا ہو؟ آزادی ہے تو ہم مارچ کرتے ہیں‘ اور اس آزادی کو سیاسی کشیدگی اور تناؤ میں تبدیل کرنے سے کوئی مقصد حاصل نہیں ہو سکتا۔ ہزاروں افراد‘ خصوصاً نو جوانوں کو ترغیب دے کر یہ راستہ دکھانا‘ ان کی زندگیوں سے کھیلنے کا گھناؤنا کھیل ہمارے ہر نوع کے سیاستدان نہ جانے کب سے کھیل رہے ہیں‘ اور ہم ہیں کہ ان کی چال بازیوں سے کوئی سبق سیکھنے کے لیے تیار نہیں۔انقلابوں کا زمانہ گزر گیا۔ پُرتشدد تحریکوں کا انجام دیکھا ہے اور ان کے بارے میں بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ اپنے ملک میں جو رجحانات دیکھ رہے ہیں‘ عدمِ تشدد کی بات کرنا ہمارے اکثر متمول مگر فطری طور پر ناخوش لوگوں کو ناگوار گزرتا ہے۔ ہمیں اپنی لولی لنگڑی جمہوریت کو اگر بیساکھیوں پر بھی چلانا پڑے تو اسے چلتے رہنا چاہیے کہ اگر ہمارے بزرگوں کی طرح یہ بیٹھ گئی تو پھر شاید کبھی نہ اُٹھ سکے۔ ہماری قومی بقا‘ سالمیت‘ ہم آہنگی اور امن بھی جمہوری اداروں اور رویوں کو مضبوط کرنے میں ہے۔ سیاسی کشمکش کسی بھی جواز سے ہو‘ ملک کے مفاد میں نہیں۔ مسائل ہمارے ایسے نہیں جو حل نہیں ہو سکتے۔ بات فقط یہ ہے کہ ہمارے حکمران سیاست کا پہلا سبق بھول چکے ہیں‘ یا پھر کبھی پڑھا ہی نہیں۔ یہ سیاست کچھ لے اور دے کی بنیاد پر‘ درمیانی راستے پر چلتی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_33241568.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>احتجاج اور گورنر راج(کنور دلشاد)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/kunwar-mohammad-dilshad/2026-09-28/52744/20560432</link><pubDate>Mon, 28 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/kunwar-mohammad-dilshad/2026-09-28/52744/20560432</guid><description>اٹھارہویں آئینی ترمیم کی بدولت صوبائی حکومتیں مالی و انتظامی طور پر خودمحتاری کی وجہ سے شتر بے مہار ہو چکی ہیں۔یہ سرکاری وسائل کے ضیاع‘ قومی سلامتی اوراحتساب کا بھی سوال ہے۔وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے 30 جولائی اور بعد ازاں 5 ستمبر کو گورننس کے بارے میں حکومت کو آئینہ دکھایا اور جرأت مندانہ انداز میں قوم کی ترجمانی کرتے ہوئے آگاہ کیا کہ سسٹم ناکام ہو چکا ہے اور تمام ادارے ناکام سسٹم کی علامت بن چکے ہیں۔ اداروں میں کرپشن کس نہج پر ہے‘ اس کیلئے وزارتِ خارجہ کی اندرونی رپورٹ کے انکشافات پر نظر ڈالنا کافی ہے جس کے مطابق کاغذات کی تصدیق کیلئے شہریوں سے ایک سال کے دوران مبینہ طور پر 12 ارب روپے کی رشوت وصول کی گئی اور اس مبینہ کرپشن میں سیکرٹری آفس سمیت اہم افسران ملوث تھے۔ بتایا جا رہا ہے کہ تحقیقاتی رپورٹ تیار کرنے والی ٹیم کے سربراہ ڈائریکٹر جنرل آڈٹ کو ہی گزشتہ تاریخوں میں معطل کر دیا گیا‘ یعنی جس نے کرپشن کی نشاندہی کی‘ اسے ہی معطل کر دیا گیا۔ کیا اس معاملے میں وزیراعظم اور نائب وزیراعظم‘ جو وزیر خارجہ بھی ہیں‘ کوئی ایکشن لیں گے؟ رولز آف بزنس کے تحت گریڈ 20 کے افسر کی معطلی کے احکامات وزیراعظم آفس سے ہی آ سکتے ہیں۔ وزارتِ خارجہ حساس ترین وزارتوں میں سے ہے‘ اس ادارے میں 12 ارب روپے کی کرپشن کی روداد رپورٹ کی صورت میں پیش کر دی گئی‘ اب وقت کا تقاضا یہ ہے کہ اس معاملے کی جامع انکوائری کرائی جائے تاکہ حقیقت سامنے آ سکے۔ اقتدار کی راہداریوں میں یہ خبر گردش کر رہی ہے کہ گورننس کا سسٹم فلاپ ہو چکا ہے اور اس کا اعتراف چونکہ وزیرداخلہ کر چکے لہٰذا معاملہ اب متبادل سیٹ اپ کی طرف جا تا نظر آرہا ہے۔ اس وقت ملک میں سیاسی تنائو عروج پر ہے۔ ایک طرف آزاد کشمیر میں کالعدم ایکشن کمیٹی کا احتجاج جاری ہے دوسری طرف پاکستان کسان اتحاد سڑکوں پر نکلنے کا عندیہ دے رہی ہے جبکہ جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کے لانگ مارچ بھی مختصر وفقے کے لیے موخر کئے گئے ہیں۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ ملک کا سسٹم کیسے چلے گا اور کون چلائے گا؟ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ صدر مملکت بھی سسٹم سے نالاں ہیں۔بہرحال بہتر تو یہی ہے کہ لانگ مارچ کی نوبت نہ آئے‘ تمام فریق کوئی ایسا درمیانی راستہ نکالیں جو شخصیات‘ انا اور سیاسی ضد سے بالاتر ہو کر ملک کے وسیع تر مفاد میں ہو۔ ملک سیاسی تقسیم سے پہلے ہی بہت نقصان اٹھا چکا‘ اب تمام فریقین کو اپنی انا کی تسکین کے بجائے ملک کے مفاد کو ترجیح دینا ہوگی۔ دوسری طرف اسلام آباد کے حالات دیکھیں تو یہاں کے شہری تنگ آ چکے ہیں۔ پورا شہر سیاسی احتجاجوں کے حصار میں ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اس بار دارالحکومت کی طرف ایک نہیں بلکہ مختلف سیاسی اور سماجی گروہوں کے مارچ متوقع ہیں۔ حکومت اور انتظامیہ نے اس صورتحال کے پیش نظر سکیورٹی انتظامات نہایت سخت کر رکھے ہیں۔ کنٹینرز کے ذریعے اہم شاہراہوں اور داخلی و خارجی راستوں کو بند کیا جا چکا ہے۔ یہ صورتحال اس سوال کو دوبارہ سامنے لے آتی ہے کہ آخر سیاسی احتجاج کو روکنے‘ راستے بند کرنے اور ہزاروں سکیورٹی اہلکار تعینات کرنے پر ریاست کو کتنی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔ 20 نومبر 2024ء کی ایک معاصر کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد پولیس کے افسران نے بتایا کہ جولائی سے نومبر 2024ء کے دوران تقریباً پانچ ماہ میں تحریک انصاف کے مختلف احتجاجوں‘ جلسوں اور سیاسی سرگرمیوں سے نمٹنے پر قومی خزانے سے ایک ارب گیارہ کروڑ روپے سے زائد خرچ ہوئے۔ رقم کا ایک بڑا حصہ کنٹینرز کے کرائے کی مد میں ادا کیا گیا جو 24 کروڑ 77 لاکھ 30 ہزار 500 روپے تھا۔ پولیس‘ فرنٹیئر کانسٹیبلری اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی نقل و حرکت اور ایندھن کیلئے 87 کروڑ روپے خرچ ہوئے جبکہ تعینات اہلکاروں کے کھانے کیلئے 32 کروڑ روپے مختص کیے گئے۔ 600 کنٹینرز کا صرف ایک دن کا کرایہ دو کروڑ 40 لاکھ روپے تھا جبکہ 60 گاڑیوں کا کرایہ 12 لاکھ روپے اور 6 ہزار اہلکاروں کے دو وقت کے کھانے کا خرچ 24 لاکھ روپے تھا۔ آنسو گیس اور انسدادِ ہنگامہ آرائی کے دیگر سامان کی لاگت اس رقم میں شامل نہیں۔ کنٹینرز لگانے کے باعث نہ صرف اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان آمد و رفت شدید متاثر ہوتی ہے بلکہ مریض‘ طلبہ‘ مزدور اور روزانہ اجرت پر کام کرنے والے افراد کے علاوہ کاروباری سرگرمیاں بھی شدید متاثر ہوتی ہیں جبکہ بعض علاقوں میں اشیائے خور و نوش کی سپلائی متاثر ہوتی ہے۔ایک سوال یہ بھی ہے کہ جب ایک احتجاج کو روکنے کیلئے شہر کے داخلی راستے بند کیے جاتے ہیں تو اس کا بوجھ کس پر پڑتا ہے؟ اگرچہ یہ حقیقت ہے کہ مختلف ممالک میں سکیورٹی کی صورتحال‘ احتجاج کی نوعیت اور مقامی قوانین کے مطابق راستوں کی عارضی بندش اور پولیس رکاوٹیں استعمال ہوتی ہیں تاہم ایسی بدحواسی کا مظاہرہ کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ اب حالات کافی بدل چکے ہیں۔ اگر نومبر 2024ء میں احتجاج کو روکنے کے انتظامات پر ایک ارب روپے سے زیادہ اخراجات ہوئے تو سوچیں آج یہ اخراجات کہاں پہنچ چکے ہوں گے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہر نئے احتجاج کے موقع پر اسی طرز کی بھاری تعیناتی اور بڑے پیمانے پر کنٹینرز بندی طویل مدت میں قابلِ عمل حکمت عملی ہے؟ اگر سڑکیں بند کرنے‘ کنٹینرز لگانے اور اہلکاروں کی تعیناتی پر عوام کا پیسہ خرچ ہوتا ہے تو اس خرچ کی شفاف تفصیلات بھی عوام کے سامنے رکھی جانی چاہیے۔ ملکی حالات اور بین الاقوامی کشیدگی کو دیکھتے ہوئے تمام فریقین کو جذبات کے بجائے بردباری اور تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ سیاسی مذاکرات کے ذریعے ہی فیصلہ کن راستہ کھلے گا۔ ہمیں ملک و قوم کو تقسیم سے بچانا اور ذاتی انا سے باہر آنا ہو گا۔ مشرق وسطیٰ کے حالات سنگین تر ہوتے جا رہے ہیں اس کے اثرات دیگر ممالک تک بھی پھیل سکتے ہیں۔ پاکستان بھی اس صورتحال کے اثرات کی زد میں ہے۔ان حالات میں پاکستان میں اندرونی انتشار کو ختم کرنے کے لیے جامع مذاکرات کا آغاز کرنا ہو گا تاکہ سیاسی امور و مسائل حل ہو سکیں۔خیبر پختونخوا حکومت کی احتجاجی تحریک کے تناظر میں آج کل ہر جگہ گورنر راج کی گردان سنائی دے رہی ہے۔ آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت گورنر کی رپورٹ پر صدرِ پاکستان یہ سمجھتے ہوئے کہ صوبائی حکومت آئین کے مطابق نہیں چل سکتی‘ صدارتی فرمان جاری کر کے گورنر کو صوبے کے حکومتی اختیارات سنبھالنے کی ہدایت کر سکتے ہیں۔ اس صدارتی فرمان کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے سامنے منظوری کے لیے پیش کرنا ہوتا ہے۔ تاہم ملکی تاریخ سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ گورنر راج عموماً بحران کے فوری انتظام کے لیے استعمال ہوا مگر مستقل سیاسی حل نہیں بن سکا۔ اسے ایک غیر معمولی اور عارضی آئینی اقدام سمجھا جاتا ہے نہ کہ معمول کے حکومتی نظام کا متبادل۔پاکستان میں گورنر راج کے نفاذ کی بات کی جائے تو 1973ء میں بلوچستان میں صدرِ پاکستان ذوالفقار علی بھٹو نے گورنر راج نافذ کیا۔ 1976ء میں آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت وفاق نے بلوچستان کے حکومتی اختیارات سنبھالے۔ 1993ء میں صدرلغاری نے وزیراعلیٰ سرحد صابر علی شاہ کو سبکدوش کرنے کیلئے گورنر راج نافذ کیا اور بعد ازاں آفتاب شیرپاؤ کواسمبلی میں اکثریت حاصل کرنے اور وزیراعلیٰ منتخب ہونے کاموقع ملا۔ جسٹس افتخار چودھری اور عدلیہ کی بحالی کی تحریک کے دوران فروری 2009ء میں پنجاب میں صدر آصف علی زرداری نے آرٹیکل 234 کے تحت پنجاب میں گورنر راج نافذ کیا جو چیف جسٹس افتخار چودھری کی بحالی پر ختم کر دیا گیا۔ آخری بار 2013ء میں اسمبلیوں کی مدت پوری ہونے سے چند ماہ قبل بلوچستان میں گورنر راج نافذ کر کے نواب اسلم رئیسانی کی حکومت کو معزول کیا گیا تھا۔لیکن یہ سبھی گورنر راج عبوری بندوبست تھے‘ کسی مسئلے کا مستقل سیاسی حل فراہم نہ کر سکے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_15667905.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ایشین ڈویلپمنٹ بینک، ٹیکس اور معیشت(میاں عمران احمد)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mian-imran-ahmad/2026-09-28/52745/90463013</link><pubDate>Mon, 28 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mian-imran-ahmad/2026-09-28/52745/90463013</guid><description>حکومت کی جانب سے ہر سال دعویٰ کیا جاتا ہے کہ پاکستان کا ٹیکس نظام جدید‘ آسان اور ڈیجیٹل ہو رہا ہے۔ اربوں روپے خرچ کرکے نظام کو بہتر بنانے کی بات کی جاتی ہے مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ آج بھی ہزاروں ٹیکس دہندگان معمولی تکنیکی غلطیوں کی وجہ سے اپنے گوشوارے جمع کرانے سے محروم رہ جاتے ہیں۔ اس وقت جب ریٹرنز فائل کرنے میں صرف چند دن باقی رہ گئے ہیں‘ انکم ٹیکس ریٹرن میں خیبر پختونخوا کے ضلع کرم کے صدر مقام پارا چنار کا نام موجود نہ ہونے کی وجہ سے وہاں جائیداد رکھنے والے افراد ریٹرنز میں اپنی پراپرٹی ظاہر نہیں کر پا رہے۔ یہ بظاہر ایک چھوٹی سی غلطی نظر آتی ہے‘ لیکن اس کے اثرات بہت بڑے ہیں۔  ریٹرن لیٹ فائل کرنے پر 25 ہزار روپے تک جرمانہ ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اصل مسئلہ صرف پارا چنار کا نہیں بلکہ پورے ملک میں ٹیکس ریٹرن فائلنگ کے دوران سامنے آنے والی تکنیکی خرابیوں کا ہے۔ رواں سال ریٹرن فارم میں سینکڑوں تکنیکی خامیوں کی نشاندہی کی گئی۔ ٹیکس بارز نئے ریٹرن فارم میں اب تک تقریباً 500 سسٹم بگز اور خامیوں کی نشاندہی کر چکے ہیں‘ جس سے فائلنگ کا عمل متاثر ہوا۔ ایسے مسائل میں اثاثوں کی درست میپنگ نہ ہونا‘ سابقہ معلومات کا ظاہر نہ ہونا‘ جائیدادوں اور بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات اَپ ڈیٹ نہ ہونا اور پورٹل کی سست رفتاری سرفہرست ہیں۔ حکومت کا ہدف ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح بڑھانا ہے۔ مالی سال 2025-26ء میں ایف بی آر نے تقریباً 14 ہزار ارب روپے سے زائد محصولات اکٹھے کیے جبکہ رواں مالی سال کیلئے 17 ہزار ارب روپے سے زیادہ کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اتنا بڑا ہدف حاصل کرنے کیلئے نئے ٹیکس دہندگان کو نظام میں لانا ضروری ہے‘ لیکن  اگر موجودہ فائلرز ہی سسٹم کی خرابیوں سے پریشان ہوں تو نئے لوگ اس نظام پر کیسے اعتماد کر سکتے ہیں؟ ورلڈ بینک نے ایف بی آر کے Pakistan Raises Revenue منصوبے کے تحت ابتدائی طور پر 400 ملین ڈالر فراہم کیے تھے جس میں 80 ملین ڈالر ایف بی آر کے آئی ٹی نظام‘ سافٹ ویئر اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی بہتری کیلئے مختص تھے۔ 2025ء میں مزید 70 ملین ڈالر کی منظوری کے بعد منصوبے کی مجموعی رقم 470 ملین ڈالر ہو گئی۔ اس منصوبے کا مقصد ایف بی آر کے آئی ٹی نظام‘ ڈیٹا اینالیٹکس اور ٹیکس کمپلائنس کو بہتر بنانا تھا۔ سوال یہ ہے یہ پیسہ کہاں استعمال کیا گیا؟ اگرکروڑوں روپے کے محصولات دینے والا ایک پورا شہر سسٹم سے غائب ہو سکتا ہے تو دیگر معلومات کی درستی کی کیا ضمانت ہے؟پاکستان کی معیشت کیلئے خلیجی ممالک صرف تجارتی شراکت دار نہیں بلکہ توانائی‘ ترسیلاتِ زر اور سرمایہ کاری کے حوالے سے بھی انتہائی اہم ہیں۔ تاہم خلیجی ممالک کے ساتھ پاکستان کا تجارتی توازن مسلسل ہمارے خلاف جا رہا ہے۔ رواں مالی سال کے پہلے دو ماہ میں خلیجی ممالک کے ساتھ پاکستان کا تجارتی خسارہ تین ارب 45 کروڑ ڈالر رہا جو گزشتہ سال اسی عرصے کے تین ارب 36 کروڑ ارب ڈالر کے مقابلے میں 2.61 فیصد زیادہ ہے۔ رواں سال جولائی تا اگست پاکستان کی مجموعی برآمدات تقریباً پانچ ارب 46 کروڑ ڈالر جبکہ درآمدات 12 ارب 58 کروڑ ڈالر رہیں‘ جس کے نتیجے میں تجارتی خسارہ سات ارب 12 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا۔ گزشتہ سال اسی عرصے میں تجارتی خسارہ تقریباً چھ ارب 30 لاکھ ڈالر تھا یعنی محض دو ماہ میں تجارتی خسارے میں تقریباً ایک ارب 90 ڈالر کا اضافہ ہوا۔ جولائی اور اگست میں مشرق وسطیٰ کیلئے پاکستانی برآمدات 7.4 فیصد بڑھ کر 550 ملین ڈالر ہو گئیں جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ تقریباً 512 ملین ڈالر تھیں۔ لیکن دوسری طرف خطے سے درآمدات 3.2 فیصد بڑھ کر تقریباً چار ارب ڈالر ہو گئیں۔ یعنی برآمدات میں اضافہ ہونے کے باوجود درآمدات کا حجم کہیں زیادہ رہا۔ اگر پاکستان اپنی برآمدات میں ویلیو ایڈیشن بڑھاتا ہے‘ خلیجی مارکیٹ کیلئے خصوصی مصنوعات تیار کرتا ہے‘ شپنگ کے متبادل راستے بناتا اور پاکستانی کمپنیوں کو ان منڈیوں تک براہ راست رسائی دیتا ہے تو تجارتی خسارہ کم کرنے کی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے۔ایشیائی ترقیاتی بینک کی تازہ رپورٹ نے پاکستان کی معیشت کے بارے میں ایک مرتبہ پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ کیا پاکستان کی معاشی رفتار اتنی ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی‘ روزگار‘ مہنگائی اور حکومتی اخراجات کے مسائل کو حل کر سکے؟ اے ڈی بی نے ستمبر 2026ء کی اپنی ایشین ڈویلپمنٹ آئوٹ لُک میں پاکستان کی مالی سال 2026-27ء کی معاشی ترقی کا اندازہ 3.7 فیصد رکھا ہے‘ اس کے ساتھ ہی مہنگائی کی شرح 8.3 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا ہے۔ 3.7 فیصد کی معاشی ترقی بظاہر ایک مثبت شرح ہے‘ لیکن پاکستان جیسے ملک کیلئے اصل سوال یہ ہے کہ یہ ترقی روزگار اور عام آدمی کی آمدنی میں کتنی بہتری لا سکتی ہے۔ حکومت نے بجٹ میں مالی سال 2026-27ء کا معاشی ترقی کا ہدف چار فیصد رکھا تھا‘ جبکہ اے ڈی بی کا اندازہ اس سے 0.3 پوائنٹ کم ہے۔ افراطِ زر کا 8.3 فیصد کا تخمینہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تازہ سرکاری اعداد وشمار میں قیمتوں کا دباؤ دوبارہ بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ اس کے علاوہ علاقائی ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں معاشی ترقی کی رفتار خاصی کم ہے۔ ستمبر 2026ء میں بھارت کی ترقی کی رفتار 7 فیصد بتائی گئی ہے جبکہ جنوبی ایشیا کی مجموعی ترقی 2026ء میں 6.4 فیصد اور 2027ء میں 6.5 فیصد رہنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ پاکستان میں 3.7 فیصد کی شرح علاقائی رفتار سے نمایاں طور پر کم ہے۔ پاکستان کی معیشت کیلئے یہ مالی سال ایک مشکل امتحان ہو سکتا ہے۔ 3.7 فیصد ترقی‘ 8.3 فیصد متوقع مہنگائی‘ 15.264 کھرب روپے کا ایف بی آر ٹیکس ہدف‘ 18.771 کھرب روپے کے وفاقی اخراجات اور 8.207 کھرب روپے کی سودی ادائیگیاں‘ یہ وہ اعدادوشمار ہیں جنہیں الگ الگ نہیں بلکہ ایک دوسرے سے جوڑ کر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر ٹیکس وصولی مقررہ ہدف سے کم رہتی ہے‘ مہنگائی پیشگوئی سے اوپر چلی جاتی ہے اور توانائی کی عالمی قیمتیں بلند رہتی ہیں تو حکومت کے مالی اختیارات مزید محدود ہو سکتے ہیں۔حکومت نے سوشل میڈیا سے آمدنی حاصل کرنے والے کانٹینٹ کریئیٹرز پر بھی ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کیاہے۔ ایف بی آر نے سوشل میڈیا آمدنی کے حساب کیلئے ویوز اور آر پی ایم کا خصوصی طریقہ نافذ کیا ہے۔ ایک ہزار ویوز پر 195 روپے کا آر پی ایم بینچ مارک رکھا گیا ہے۔ 10 لاکھ ویوز ہوں تو اس فارمولے سے آمدنی ایک لاکھ 95 ہزار روپے بنتی ہے‘ تاہم 195 روپے ٹیکس نہیں بلکہ قابلِ ٹیکس آمدن ہے۔ اصل وصول شدہ آمدنی اور آر پی ایم سے بننے والی رقم میں سے زیادہ رقم کو دیکھا جائے گا جبکہ زیادہ سے زیادہ 30 فیصد تک مخصوص اخراجات منہا کیے جا سکتے ہیں۔ سرکار نے کس حساب سے یہ فارمولا نافذ کیا ہے‘ اس بارے میں خاصی تشویش پائی جاتی ہے کیونکہ پاکستانی کانٹینٹ کریئیٹرز کی حقیقی آمدنی فی ہزار ویوز 195 روپے سے کہیں کم ہے۔ مزید پیچیدگی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب یوٹیوب چینل کسی سوشل میڈیا ایجنسی کے ایڈسنس اکاؤنٹ سے منسلک ہو۔ ایسی صورت میں ایجنسی اپنی سروس فیس یا کمیشن کاٹ کر ہی باقی رقم کریئیٹر کو دیتی ہے۔ ایسے معاملات میں یہ کیسے واضح ہو گا کہ مجموعی آمدنی کتنی تھی‘ ایجنسی نے کتنی فیس لی اور کریئیٹرز کو حقیقت میں کتنی رقم ملی؟ ڈیجیٹل معیشت کو ٹیکس نیٹ میں لانا اپنی جگہ ضروری ہے لیکن محض ویوز کو حقیقی آمدنی کا معیار نہیں بنایا جا سکتا کیونکہ ایک جیسے ویوز رکھنے والے دو چینلز کی آمدنی قدرے مختلف ہو سکتی ہے۔ اس لیے ٹیکس نظام میں حقیقی وصولی‘ پلیٹ فارم کی کٹوتیوں‘ ایجنسی کمیشن اور پہلے سے ادا کیے گئے ٹیکس کو واضح طور پر مدنظر رکھنا ضروری ہے تاکہ ٹیکس نیٹ وسیع بھی ہو اور کانٹینٹ کریئیٹرز پر غیرضروری بوجھ بھی نہ پڑے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/212_71532147.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>اعجاز صاحب کا اعجازِ بیان(نسیم احمد باجوہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/naseem-ahmed-bajwa/2026-09-28/52746/42684469</link><pubDate>Mon, 28 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/naseem-ahmed-bajwa/2026-09-28/52746/42684469</guid><description>اُن کی تحریروں کے مجموعہ کا نام بجا طور پر &#39;&#39;اعجازِ بیان‘‘ رکھا۔ بڑے سائز کی کتاب! آپ نے ضرور ملاحظہ فرمایا ہوگا کہ دنیا کے (خصوصاً ہندو پاک کے) کئی علاقے وہاں پیدا ہونے والے ادیبوں اور شہروں کے نام کا حصہ بن جاتے ہیں۔ جالندھر کے حفیظ۔ لدھیانہ کے ساحر۔ بٹالہ کے اعجاز حسین اور عاشق حسین۔ مراد آباد کے جگر۔ مچھلی شہر کے سلام۔ کشمیر کے آغا حشر اور شورش۔ پانی پت کے الطاف حسین حالی۔ دہلی کے شاہد احمد۔ فتح پور کے نیاز۔ تھانہ کے شوکت۔ لائل پور کے بخش۔ (اچھا شاعر جس نے ساری زندگی لندن گزار کر یہیں وفات پائی)۔ میرٹھ کے اسماعیل۔ انبالہ کے وقار۔ جہلم کے حمید (اپنے وقت کے بڑے صحافی)۔ مثالیں تو اور بھی دی جا سکتی ہیں۔1991ء میں برطانیہ کی ایک اچھی یونیورسٹی (Nottingham) سے قانون کی اعلیٰ تعلیم (ایل ایل ایم) حاصل کرنے کے بعد میں نے برطانیہ میں وکالت شروع کی تو پھر لاہور کا خیال آیا۔ میرا دوست شہر جسے میں 1967ء میں دل پر جبر کرکے چھوڑ آیا تھا مگر اُس کی یاد نے میرے دل کو نہیں چھوڑا۔ میں اولین فرصت میں لاہور گیا اور بار کا رکن بن کر لائسنس حاصل کر لیا۔ یہ مرحلہ طے ہوا تو میں ہائیکورٹ کے احاطے میں گھوما پھرا۔ جج صاحبان کی عدالتوں میں جھانکا۔ دو جج صاحبان (مقدمہ کی سماعت کے دوران) نے آخری قطار میں کھڑے (صرف پندرہ منٹ پہلے وکیل بنے ہوئے) شخص کو پہچان لیا۔ وہ تھے میاں نذیر احمد اور سجاد احمد سپرا۔ اُنہوں نے مسکراتے ہوئے دوستانہ ہاتھ ہلایا اور اپنے مددگار کے ذریعے مجھے چائے کے وقفہ میں اُن سے ملنے کی دعوت دی‘ جو میں نے بصد خوشی قبول کر لی۔ یونیورسٹی میں یہ دونوں صاحبان میرے دوست تھے اور ہم عصر بھی۔ تجدیدِ ملاقات 32 برس بعد ہوئی تو رشتہ بدل چکا تھا۔ وہ عدالت عالیہ میں منصف کی کرسی پر بیٹھے ہوں گے اور میں ان کے سامنے پیش ہو کر اور ان سے &#39;مائی لارڈ‘ کے الفاظ میں مخاطب ہو کر اور بطور نو آموز وکیل اپنے موکل کا موقف ادب و احترام سے بیان کروں گا۔ جب یہ صورتحال نظر آئی تو دل کچھ کبیدہ خاطر اور بوجھل ہو گیا ۔ اس کا ایک ہی علاج تھا اور وہ تھا ہائیکورٹ سے متصل سڑک‘ ٹرنر روڈ کی سیر۔ وہاں ایک صدی سے وکلا کے دفاتر ہیں۔ فی مربع گز دنیا میں سب سے زیادہ گنجان وکیلوں کے چیمبرز وہاں پائے جاتے ہیں۔ یہ بھی امید تھی کہ شاید کوئلوں پر بھونے ہوئے مکئی کے بھٹے یا برف میں لگی ہوئی گنڈیریاں بھی کسی ریڑھی سے مل جائیں تو اپنی کم مائیگی کا غم غلط ہو جائے گا۔ خوش قسمتی سے مطلوبہ ریڑھی مل گئی مگر اس سے کہیں بڑی خوش قسمتی میری منتظر تھی۔ اعجاز بٹالوی اپنے دفتر میں کھڑے اپنے پڑوسی (اور بہت اچھے وکیل) رحمان صاحب سے (ریڑھی سے شاپنگ کرتے ہوئے) باتیں کر رہے تھے۔ وہ مجھے نہ جانتے تھے مگر میں نے انہیں پہچان لیا۔ آگے بڑھ کر اپنا تعارف کرایا تو وہ مجھے اپنے دفتر کے اندر مزیدار چائے پلانے اور چائے سے زیادہ مزیدار باتیں سنانے لے گئے۔ وہ اچھی اور دلچسپ گفتگو کرنے میں کمال رکھتے تھے۔ پہلی ملاقات میں ہی ایک گرمجوش دوستانہ رشتہ قائم ہوا مگر جب اُن کے دفتر سے اُٹھا تو مجھے یہ خیال بار بار آتا تھا کہ جس شخص کیلئے میرے دل میں اتنا احترام تھا اور ہے‘ وہ بھٹو صاحب پر قتل کے چلائے جانے والے مقدمے میں استغاثہ کے وکیل بنے۔ اس مقدمہ کے قانونی پہلوئوں پر اس کا سیاسی پہلو (جنرل ضیا الحق کی بدنیتی اور بھٹو صاحب کو اپنے راستہ سے ہٹانے کی مذموم کوشش) اتنا زیادہ حاوی تھا کہ ان جیسے معزز اور اعلیٰ درجے کے وکیل کو بھٹو صاحب کو قتل کے مقدمہ میں مجرم ثابت کرنے اور پھانسی لگوانے کی ذمہ داری نہیں لینی چاہیے تھی۔ میری نظر میں یہ ان کے دامن پر واحد داغ ہے اور ایک بڑا داغ۔ بڑی مشکل سے میں نے اپنے مندرجہ بالا تحفظ پر قابو پایا۔ یہ سوچ کر کہ کوئی انسان بھی فرشتہ نہیں ہوتا۔ جب اپنی کوتاہیوں‘ لغزشوں اور گناہوں پر نظر پڑی تو دل سے اعجاز بٹالوی صاحب کیلئے ساری شکایت دور ہوگئی۔1991ء کے بعد میں جب بھی لاہور جاتا‘ ہائیکورٹ میں پیشہ ورانہ مصروفیات سے فارغ ہو کر ہمیشہ بٹالوی صاحب کی خدمت میں حاضری دیتا۔ ملاقات مختصر ہوتی یا طویل‘ چائے پلائی جاتی یا نہیں‘ اُن کو دیکھ کر ہی اور اُن کے منہ سے الفاظ بڑی عمدگی سی ادا ہوتے سُن کر دل خوش ہو جاتا۔ گاہے گاہے جب میں لندن میں لبِ دریا سیر کرتا ہوں تو اُن کی مدھر آواز میرے کانوں میں آتی ہے۔ ایک بار حاضر ہوا تو میرے ہاتھ میں تازہ خریدی ہوئی کتاب دیکھی۔ مجھ سے مانگی اور صفحۂ اول پر میر تقی میر کا شعر لکھا اور پھر اُسے بار بار پڑھا کر سنایا۔ برطانیہ میں میرے دوستوں کی بڑی تعداد کتاب خریدنے کی قائل نہیں۔ وہ اپنے ملنے والوں سے کتابیں اُدھار لے کر پڑھتے ہیں اور پھر واپس بھی نہیں کرتے۔ مذکورہ بالا کتاب‘ جس پر اعجاز صاحب کے ہاتھ کا لکھا ہوا میرؔ کا شعر تھا‘ کوئی مہربان لے گیا۔ کئی سال گزر گئے مگر مجھے یہ قیمتی کتاب واپس نہیں ملی۔ ہمارے ادبی اور ثقافتی اُفق پر ایسی بہت کم شخصیات نظر آتی ہیں جو ہمہ جہت ہوں (سید عابد علی عابد کی طرح)۔ اعجاز صاحب نہ صرف چوٹی کے وکیل تھے بلکہ بہت اچھے افسانہ نگار‘ نقاد‘ شاعر‘ معلم اور براڈ کاسٹر بھی تھے۔ آخری لفظ لکھ کر یاد آیا کہ میرے اور میرے مرحوم مہربان دوست میں وکالت سے قطع نظر ایک قدر اور بھی مشترک تھی۔ ہم دونوں نے برطانوی نشریاتی ادارے (BBC) میں (بطور براڈ کاسٹر) چار سال جز وقتی ملازمت کی۔اعجاز صاحب کے دونوں بھائیوں (آغا بابر) اور (عاشق حسین بٹالوی) نے بھی نام کمایا۔ پہلے نے ڈرامہ میں اور دوسرے نے تاریخ نویسی میں۔ میں نے 1960ء میں ریگستان تھل کے کنارے نئی آبادی (جوہر آباد) میں لائبریری سے ایک کتاب لے کر بڑے ذوق و شوق سے پڑھی۔ نام تھا &#39;&#39;آگ کا دریا‘‘۔ ناول نگار تھیں قرۃ العین حیدر۔ پڑھتا پڑھتا جب اُس صفحہ پر پہنچا جہاں اس کمال کی خاتون نے اعجاز بٹالوی کا نام لکھ کر ان کا تعریفاً ذکر کیا تو سچ جانیے کہ میں رشک کے مارے دم بخود ہو گیا۔ آگے پڑھنا مشکل ہو گیا تو وہی دل دکھانے والی سطور بار بار پڑھتا رہا۔ بٹالوی صاحب ایک روشن‘ خوشبودار‘ چمکتے دمکتے تخلیقی عہد کی پیداوار تھے اور نشانی۔ یہ عہد سرسّید اور مولانا الطاف حسین حالی سے چلتا ہوا اقبال تک پہنچا۔ وہاں سے آگے بڑھا تو فیض‘ صوفی تبسم‘ عابد علی عابد‘ سجاد باقر رضوی‘ شہزاد احمد‘ محمد حسن عسکری‘ قرۃ العین حیدر اور اس درجے کے درجنوں بلند پایہ ادیبوں تک پہنچا۔ آخر ی پڑائو پر انتظار حسین‘ احمد فراز‘ ناصر کاظمی‘ منیر نیازی اور افتخار عارف نظر آتے ہیں جنہوں نے اس نشاۃ ثانیہ کے دور کو زندہ و تابندہ رکھا۔ صد افسوس کہ اب یہ دور آخری سانسیں لے رہا ہے۔امریکہ میں رہنے والے اُن کے دو دیرینہ دوستوں (دائود راہبر اور شمیم احمد) نے ان کی وفات کے بعد ان پر بہت عمدہ اور دل کے تار ہلا دینے والے تعزیتی مضامین لکھے جو &#39;&#39;اعجازِ بیان‘‘ میں شامل کئے گئے۔ اعجاز بٹالوی مذکورہ بالا تمام بڑے ادیبوں کی طرح ہمارا قیمتی سرمایہ تھے جو ہماری بدقسمتی سے ہم سے چھن گیا۔ ہم اُن جیسا کہاں سے لائیں؟ وہ تہذیبی سانچہ ہی ٹوٹ گیا جو ایسے ذہین اور باغ و بہار قسم کے لوگ پیدا کرتا ہے۔ ٹرنر روڈ کی وہ عمارت جہاں وہ اپنے دفتر میں اتنے سال بیٹھے‘ وہ ہائیکورٹ جس میں انہوں نے پریکٹس کی‘ وہ لاء کالج جس میں اُنہوں نے اتنے برس پڑھایا‘ سب اُسی جگہ جہاں ہیں جہاں وہ پہلے تھے مگر اب وہاں اعجاز حسین بٹالوی نہیں۔ میں ایک اور کتاب لے کر ٹرنر روڈ کا رُخ کیوں کروں جہاں میرکا شعر لکھنے والا نہیں رہا۔ 80 سال کی عمر پا کر آٹھ مارچ 2004ء کو وہ دنیا سے رخصت ہوئے تو لاہور سے فلوریڈا تک صفِ ماتم بچھ گئی۔ درمیان میں لندن آتا ہے‘ جہاں اُن کا ایک مداح اپنی پُرنم آنکھوں کے ساتھ رہتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_32258580.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پاک سعودیہ تعلقات(علامہ ابتسام الہٰی ظہیر )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-09-28/52747/63602596</link><pubDate>Mon, 28 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-09-28/52747/63602596</guid><description>آج کی دنیا ایک گلوبل ویلیج کی شکل اختیار کر چکی ہے اور ہر ملک کے مختلف حوالوں سے‘ دوسرے ممالک کے ساتھ تعلقات ہوتے ہیں۔ بعض تعلقات ہمسائیگی کی بنیاد پر اور بعض تعلقات نظریات کی بنیاد پر استوار ہوتے ہیں۔ پاکستان کے بہت سے ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات ہیں جن میں چین اور سعودی عرب سرفہرست ہیں۔ چین پاکستان کا ہمسایہ ملک ہے اور طویل عرصے سے مختلف امور کے حوالے سے دونوں ممالک کا باہمی تعاون اور اشتراک جاری ہے۔ سعودی عرب اگرچہ ہمارا ہمسایہ ملک نہیں لیکن دینی تعلق کی وجہ سے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی خصوصی قربت پائی جاتی ہے۔ قیام پاکستان سے لے کر آج تک پاکستان میں کوئی بھی سیاسی حکومت ہو‘ پاکستان اور سعودی عرب کے باہمی تعلقات خوشگوار رہے ہیں اور ان تعلقات میں کسی بھی قسم کا کوئی انقطاع نہیں آیا۔ پاکستان کے اس اعتبار سے بھی سعودی عرب کے ساتھ گہرے تعلقات ہیں کہ پاکستان کے بہت سے لوگ روزگار کی تلاش میں سعودی عرب میں آباد ہیں اور مختلف اداروں اور صنعتوں میں اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔ بہت سے پاکستانی ڈاکٹرز اور انجینئرز سعودی عرب میں معاشی طور پر مستحکم اور اہم سرکاری و غیر سرکاری اداروں میں اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ سعودی عرب میں موجود لاکھوں کی تعداد میں پاکستانی جب اپنے ملک میں زرمبادلہ بھیجتے ہیں تو اس سے پاکستان کی معیشت کو استحکام حاصل ہوتا ہے۔ سعودی عرب کی یونیورسٹیوں میں بڑی تعداد میں پاکستانی طالبعلم تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ‘ جامعہ ام القریٰ مکہ مکرمہ اور جامعہ الامام ریاض ایسی یونیورسٹیاں ہیں جہاں سے ہر سال ہزاروں طلبہ اپنی تعلیم و تدریس مکمل کر کے اپنے وطن واپس لوٹ کر مختلف دینی اداروں اور جامعات میں تعلیمی اور تدریسی خدمات انجام دیتے ہیں۔ بہت سے پاکستانی سعودی عرب کے تعلیمی اداروں میں درس و تدریس کی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔پاکستان کے سیاسی معاملات کو بہتر بنانے کیلئے بھی سعودی عرب اپنی بساط کی حد تک کردار ادا کرتا آیا ہے۔ 1977ء میں جب قومی اتحاد اور پیپلز پارٹی کے درمیان سیاسی ڈیڈلاک پیدا ہوا اور پورا ملک سیاسی اعتبار سے عدم استحکام کا شکار ہو گیا تو اس وقت پاکستان میں متعین سعودی سفیر نے اس ڈیڈلاک کے خاتمے کیلئے نہایت فعال کردار ادا کیا اور سیاسی معاملات کو بہتر بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ پاکستان جب بھی کسی قدرتی آفت کی لپیٹ میں آیا سعودی عرب نے ہمیشہ برادر اسلامی ملک کے ہونے کے ناتے پاکستان کی بھرپور مدد کی۔ شمالی علاقوں اور بالاکوٹ میں آنے والے 2005ء کے زلزلے کے دوران سعودی عرب نے پاکستان کو بحالی کیلئے خطیر رقم بطور امداد دی۔ اسی سے قبل جب پاکستان نے ایٹمی دھماکے کیے اور بین الاقوامی برادری کا پاکستان پر بہت زیادہ سفارتی اور معاشی دبائو تھا تو پاکستان کو معاشی بحران سے باہر نکالنے کے لیے سعودی عرب نے بھرپور کردار ادا کیا۔پاکستان اور سعودی عرب کے باہمی تعلقات میں اس وقت ایک نیا رنگ پیدا ہوا جب 7 اگست 2026ء کو پاکستان‘ سعودی عرب اور ترکیہ نے مکہ دفاعی معاہدہ پر دستخط کیے۔ مکہ معاہدہ اس اعتبار سے ایک منفرد معاہدہ ہے کہ تین مسلم ممالک نے اپنے دشمنوں کو مشترکہ دشمن قرار دے کر دفاعی اعتبار سے ہر طرح کے تعاون کو یقینی بنانے کیلئے ایک جامع دستاویز پر دستخط کیے۔ سعودی عرب کے پاکستان کے ساتھ تو تعلقات مستحکم ہیں ہی‘ یہ دنیائے اسلام کیلئے بھی مختلف خدمات انجام دیتا رہتا ہے۔ شاہ فیصل مرحوم کو دنیائے اسلام کو درپیش سیاسی مسائل کے حل سے غیر معمولی دلچسپی تھی۔ وہ مسئلہ کشمیر اور مسئلہ فلسطین کے حل کیلئے خصوصی طور پر کوشاں رہتے تھے۔ سقوطِ ڈھاکہ کے موقع پر انہوں نے بڑے گہرے دکھ کا اظہار کیا اور بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ شاہ فیصل مرحوم کی شہادت جہاں سعودی عرب کیلئے ایک المناک خبر تھی وہیں اہلِ پاکستان نے بھی اس خبر کو بڑے درد سے محسوس کیا۔ شاہ فہد مرحوم کو توسیع حرمین شریفین اور قرآن مجید کی نشر و اشاعت سے غیر معمولی دلچسپی تھی اور وہ دنیا کے تمام ممالک میں قرآن کے تراجم کروا کر بھیجتے رہے‘ جس کے نتیجے میں بہت سے ایسے لوگوں کو قرآن پاک پڑھنے کا موقع میسر آیا جو اس سے پہلے قرآن مجید کے پیغام سے غافل تھے۔سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان وفود کا تبادلہ بھی جاری رہتا ہے۔ پاکستان کے سیاسی اور عسکری ذمہ داران اور مذہبی و سیاسی جماعتوں کے سربراہان و ذمہ داران سعودی عرب کے سرکاری دوروں پر جاتے رہتے ہیں۔ اسی طرح سعودی عرب سے بھی نمایاں مہمان پاکستان تشریف لاتے رہتے ہیں۔ پاکستان میں جب کبھی سعودی عرب سے کسی معزز مہمان کی آمد ہوتی ہے تو پاکستان کے دینی حلقوں کی طرف سے اسے گرمجوشی کے ساتھ خوش آمدید کہا جاتا ہے۔ ماضی میں بہت سے ائمہ حرمین پاکستان تشریف لا چکے ہیں جن میں شیخ عبدالرحمن السدیس‘ شیخ صالح الحمید‘ شیخ صلاح البدیر اور دیگر بہت سی نمایاں شخصیات شامل ہیں۔ کچھ عرصہ قبل جب شؤون حرمین کے مدیر شیخ صالح الحمید پاکستان تشریف لائے تو مجھے بھی ان سے ملاقات کرنے کا موقع ملا اور بہت سے علمی عناوین پر تبادلہ خیال ہوا۔ہر سال ستمبر کے آخری عشرے میں سعودی عرب اپنے قومی دن کے حوالے سے دنیا کے مختلف مقامات پر اہم تقاریب کا انعقاد کرتا ہے۔ پاکستان میں بھی اس حوالے سے ایک تقریب کا انعقاد کیا جاتا ہے جس میں دینی و سیاسی جماعتوں کے قائدین بڑی تعداد میں شریک ہوتے ہیں۔ اس موقع پر جہاں پاک سعودیہ تعلقات کے حوالے سے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا جاتا ہے وہیں ملک کے مختلف طبقات کو مل بیٹھنے کا موقع ملتا ہے اور یہ تقریب ایک کل جماعتی کانفرنس کا نقشہ پیش کرتی نظر آتی ہے۔ سعودی عرب کے سفیر دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کو بہتر بنانے کیلیے نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل پاکستان سے جانے والے سعودی سفیر نواف سعید المالکی نے دونوں ممالک کے تعلقات کو مستحکم کرنے میں بھرپور کردار ادا کیا۔ نئے سفیر ڈاکٹر راجح بن طامی البقمی سے بھی اس بات کی توقع ہے کہ وہ ماضی کی روایت کے تسلسل میں پاکستان کے ساتھ اپنے ملک کے تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کریں گے۔ پاک سعودیہ تعلقات دینی اور نظریاتی بنیاد پر استوار ہیں اور ان کی پختگی میں مسلمانوں کی حرمین شریفین سے وابستگی نمایاں کردار ادا کرتی ہے۔ اس لیے حرمین شریفین کے امن کے حوالے سے دیگر مسلم ممالک کی طرح پاکستان میں بھی ہمیشہ اچھے جذبات رہے ہیں۔ کچھ عرصہ سے سعودی عرب کو دفاعی حوالے سے چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان چیلنجز سے عہدہ برآ ہونے کیلئے جہاں سعودی عرب اپنا کردار ادا کر رہا ہے وہیں مسلم ممالک کو بھی اس حوالے سے معاونت کرنی چاہیے تاکہ سرزمین حرمین شریفین کے امن کو یقینی بنایا جا سکے۔ دنیا کے ہر ملک سے جانے والے حاجی اور عمرہ زائرین اگر کسی بھی قسم کی بدامنی یا دہشت کا شکار ہوں گے تو جہاں اس کے نتائج سعودی عرب کے امن کے حوالے سے مثبت نہیں ہوں گے وہیں عالم اسلام پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ پاک سعودیہ تعلقات مختلف ادوار سے گزرتے ہوئے اب جس مقام پر پہنچ چکے ہیں‘ اس کا بھی تقاضا ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کو درپیش مسائل کے حل کیلئے اپنا کردار ادا کریں تاکہ دوستی اور اخوت کے اس رشتے کوآنے والے وقت میں بہتر سے بہتر بنایا جا سکے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ تمام مسلم ممالک کو امن وسکون کا گہوارہ بنائے اور ان کی معیشت کو مستحکم کر دے‘ آمین!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_19740082.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>