<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>بھارتی فالس فلیگ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-02/11595</link><pubDate>Fri, 02 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-02/11595</guid><description>ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں کیے گئے ایک اور  فالس فلیگ آپریشن کا کچا چٹھا کھول دیا۔ کچھ روز پہلے بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیرکے علاقے میں ایک آپریشن کے دوران آصف عرف ہاشم موسیٰ نامی شخص کے مارے جانے کا دعویٰ کیا تھا اور اس سلسلے میں پاک فوج کے ریٹائرڈ حوالدار محمد آصف کی شناختی دستاویزات پیش کیں ۔ مگر بھارت کے اس الزام کو جھٹلانے کیلئے ایس ایس جی کے سابق حوالدارمحمد آصف ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس میں بذاتِ خود موجود تھے۔ بھارت کی جانب سے ایک پاکستانی کے کوائف کو پراپیگنڈے کیلئے استعمال کرنے کا یہ پہلا واقعہ نہیں مگر بھارتی جھوٹ کے اس پلندے کا انجام بھی وہی ہوا جو اس سے پہلے اس طرح کی رام کہانیوں کاہوتا رہا ہے۔ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے چنانچہ بھارتی پراپیگنڈے کی رائی کا پہاڑ بھی حقیقت کے سامنے لمحہ بھر کو ٹک نہ سکا۔ یہ سچ ہے کہ یہ میڈیا اور پراپیگنڈا وار فیئر کا زمانہ ہے مگر بھارتی پراپیگنڈے کو دھول چاٹنی پڑی اور ہزیمت کا منہ دیکھنا پڑا۔ ہندوستان بلا شبہ الزامستان بن چکا ہے اور یہ کیفیت اس کی اسٹیبلشمنٹ کی نفسیاتی شکست و ریخت کو واضح کرتی ہے۔

بھارت کے کھوکھلے دعوؤں کی وجہ سے دنیا میں کوئی اس پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں۔ دہائیوں تک بھارت مغرب کو چین کا خوف اور پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات بیچتا رہا اور خود کو اس خطے میں ’’ نیٹ سکیورٹی پرووائیڈر‘‘ بنا کر پیش کیا‘مگر معرکۂ حق نے بھارت کی فوجی صلاحیت کا بھانڈا پھوڑ دیا جبکہ بھارتی دہشت گردی اور تخریب کاری‘ جس کا سلسلہ پاکستان اورجنوبی ایشیا کے دیگر ممالک سے مغرب تک پھیل چکا ہے‘ نے بھارت کے دہشت گردی سے متعلق الزامات کی قلعی کھول دی ؛چنانچہ اس حال میں جب بھارت کی نہ کوئی دفاعی حیثیت ہے اور نہ علاقائی اثر و رسوخ ‘ کھوکھلے پراپیگنڈے کے زور پر بھارت اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو بچانے کی سر توڑ کوشش کررہا ہے ۔آج جب دنیا پاکستان کو حقیقی معنوں میں علاقائی عسکری اور سفارتی قوت کے طور پر دیکھتی ہے تو بھارت کے سینے پر سانپ لوٹتے ہیں اور پراپیگنڈے کی فریب کاریوں سے وہ پاکستان کے امیج کو گہنانے کی فکر میں رہتاہے۔پاک فوج کے سابق حوالدار کے کوائف کو پراپیگنڈے کیلئے استعمال کرنے کی دوسری کوئی وجہ نہیں۔ ہم بھارت کے اس گھناؤنے چہرے اور مجرمانہ کردار کو فراموش نہیں کر سکتے جو بھارتی سپانسرڈ دہشت گردی کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔
بھارت کی افغانستان کے راستے پاکستان میں دہشت گردی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ دوسری جانب سندھ طاس معاہدے کی صریحاً خلاف ورزی کرتے ہوئے دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر قانونی مداخلت سے بھارت خطے میں تناؤ کا خواہش مند ہے۔ اس صورتحال میں افواجِ پاکستان اور ریاست کے دیگر اداروں کی جانب سے بھارتی ریشہ دوانیوں کے توڑ کیلئے مؤثر اقدامات خوش آئند ہیں کہ نہ بھارتی پراپیگنڈے کی دال گلنے دی جاتی ہے اور نہ میدان جنگ میں بھارت پاکستان کی عسکری قوت کا سامنا کرنے کے قابل ہے‘ تاہم ایک میدان جس میں ہمیں بھارتی چال بازیوں کا توڑ کرنے کیلئے مزید اقدامات کی ضرورت ہے وہ انسداد دہشت گردی ہے۔ اس کے باوجود کہ سکیورٹی فورسز بھارتی سپانسرڈ دہشت گردی کی بیخ کنی میں دن رات مصروف ہیں اور اس میں نمایاں کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں ‘اس خطرے سے نمٹنے کیلئے ہمیں داخلی اور عوامی سطح پر مزید بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ دہشت گرد اکثر و بیشتر سماج کے اندر اپنے رابطے قائم کرتے اور اپنے لیے سہولت کاری کے مواقع بناتے ہیں‘ اس لیے دہشتگردی کے خلاف قومی ہم آہنگی‘ سیاسی اتفاقِ رائے اور عوامی ساتھ کی ضرورت ہمیشہ رہتی ہے۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ایل پی جی مزید مہنگی(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-02/11594</link><pubDate>Fri, 02 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-02/11594</guid><description>حکومت نے ایل پی جی کی قیمت میں 20روپے 68پیسے فی کلو کا اضافہ کر دیا ہے جس کے بعد ایل پی جی کی نئی سرکاری قیمت 279روپے 32پیسے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔ جبکہ زمینی صورتحال یہ ہے کہ بازاروں میں گیس پہلے ہی ساڑھے چار سو سے پانچ سو روپے فی کلو تک فروخت کی جا رہی ہے۔مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث عالمی سپلائی چین متاثر ہونے سے ملک میں مہنگائی اور ناجائز منافع خوری کا جو طوفان اٹھا ‘ اس کی گرد تاحال بیٹھتی نظر نہیں آ رہی‘ جس کی بڑی مثال ایل پی جی کی ہوشربا قیمتوں کی ہے ۔ صارفین گزشتہ تقریباً سات ماہ سے مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے نام پر ناجائز منافع خوروں کے نرغے میں ہیں مگر حکومتی اور انتظامی رِٹ کہیں دکھائی نہیں دے رہی۔

ایل پی جی گھریلو استعمال کے علاوہ تنوروں‘ ریستورانوں‘ چھوٹی صنعتوں اور رکشہ وغیرہ میں بھی بطور ایندھن استعمال ہوتی ہے مگر سرکار اور بازار کی قیمتوں میں اس قدر تفاوت نے صارفین کو شدید مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے۔ حکومت کو ایل پی جی سمیت دیگر اشیائے ضروریہ کے نرخ مقرر کرنے تک ہی محدود نہیں رہنا چاہیے‘ بلکہ سرکاری نرخ نامے پر سختی سے عملدرآمد بھی یقینی بنانا ہو گا۔ ملک میں مہنگائی کی ایک بڑی وجہ ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری ہے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو ہر ممکن ریلیف پہنچائے اور توانائی و اشیائے خورونوش کی مارکیٹ میں نظم و ضبط قائم کرے تاکہ کسی بحران کی صورت میں بھی عوام کو اضافی بوجھ نہ اٹھانا پڑے۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>اوزون آلودگی(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-02/11593</link><pubDate>Fri, 02 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-02/11593</guid><description>یورپی یونین کے فضائی آلودگی کی نگرانی کرنے والے ادارے کوپرنیکس ایٹماسفیئر مانیٹرنگ سروس کے مطابق لاہور دنیا کے ان چند شہروں میں شامل ہو چکا ہے جہاں زمین کی سطح پر اوزون آلودگی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔فضا کی بلندیوں پر اوزون کی تہہ زمین کو سورج کی نقصان دہ شعاعوں سے بچاتی ہے ‘ تاہم زمین کی سطح کے قریب اوزون کی زیادہ مقدار انسانی صحت ‘ ماحولیاتی نظام اور زرعی پیداوار کیلئے انتہائی خطرناک سمجھی جاتی ہے۔ یہ آلودگی گاڑیوں اورکارخانوں کے دھوئیں اور فصلوں کی باقیات کے جلائے جانے اور دیگر گیسوں کے تیز دھوپ اور گرمی میں کیمیائی ردِعمل سے بنتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق لاہور میں گاڑیوں کی بڑھتی تعداد اور صنعتی اخراج سمیت مختلف عوامل اس آلودگی کا سبب بن رہے ہیں۔

اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ مسئلہ سموگ کی طرح دیگر بڑے شہروں تک بھی پھیل سکتا ہے۔ماحولیاتی اداروں کو اوزون آلودگی کے تدارک کیلئے بروقت  اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ آلودگی کی یہ قسم چونکہ مختلف گیسوں کے باہمی ردِعمل سے بنتی ہے‘ اس لیے اس پر قابو پانے کیلئے ان گیسوں کے اخراج کو کم کرنا ہوگا۔ اس کیلئے گاڑیوں کے دھویں کی مؤثر جانچ‘ صنعتی اخراج کی سخت نگرانی‘ صاف ایندھن کا فروغ‘ فصلوں کی باقیات جلانے کی روک تھام اور فضائی آلودگی کی مسلسل نگرانی جیسے اقدامات ضروری ہیں۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>اختر بلند رانا سے کیا سبق سیکھا(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-10-02/52766/38997876</link><pubDate>Fri, 02 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-10-02/52766/38997876</guid><description> سینیٹ فنانس کمیٹی کے اجلاسوں میں اندازہ ہوتا رہتا ہے کہ ملک میں اس وقت معیشت اور لوگوں کی کیا حالت ہے۔ ویسے تو ہر کمیٹی اجلاس میں بڑے بڑے انکشافات ہوتے ہیں۔ پچھلے دنوں سینیٹر پلوشہ خان کی انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی کمیٹی کا اجلاس تھا جس میں سائبر کرائمز سے لے کر آڈیٹر جنرل آف پاکستان تک کی بھی ایک ٹیلی کام کمپنی کے بارے رپورٹ تھی کہ کیسے پاکستانیوں سے ساڑھے چھ ارب روپے اضافی بلوں میں چپکے سے نکلوا لیے گئے ۔ مزے کی بات یہ تھی پچھلے اجلاس میں آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے ایک آڈٹ افسر نے اسی اجلاس میں دھواں دھار تقریر کی تھی کہ پاکستانیوں کو لوٹ لیا گیا ہے۔  لوگوں کی جیبوں سے ساڑھے چھ ارب روپے غیرقانونی طور پر نکلوا لیے گئے ‘ ریگولیٹری ادارہ بھی اس لوٹ مار میں شریک تھا۔ آڈٹ افسر اچھل اچھل کر چھت سے لگ رہا تھا کہ یہ کتنی بڑی زیادتی ہوگئی ہے۔ عوام لٹ گئے۔ اجلاس میں سب سینیٹرز  حیران رہ گئے جب وہی آڈٹ افسر اب اچھل اچھل کر اس ٹیلی کام موبائل کمپنی کا دفاع کررہا تھا۔ دفاع ایک طرف وہ اُلٹا کمیٹی کی پاورز چیلنج کرنے لگ گیا کہ آپ اس رپورٹ کو یہاں ڈسکس ہی نہیں کرسکتے‘ یہ پبلک اکاونٹس کمیٹی کا کام ہے۔ پلوشہ خان نے حیرت سے اس آڈٹ افسر کو کہا آپ کو آج کیا ہوا ہے‘ پچھلے اجلاس میں تو سب سے زیادہ آپ اس رپورٹ پر اس کمپنی کے خلاف دلائل دے رہے تھے‘ آج آپ کا وہ جوش کہاں غائب ہو گیا ہے۔ پلوشہ خان نے بار بار کہا کہ آپ کہیں تو   پچھلے اجلاس کی ریکارڈنگ نکلوا کر آپ کو سنائی جا سکتی ہے۔ وہ پھر بھی شرمندہ نہ ہوئے اور کہا کہ رولز کے تحت آپ یہ کیس یہاں نہیں سن سکتے۔ اس پر پلوشہ خان صاحبہ نے سینیٹ رولز منگوا لیے جس میں کہیں نہیں لکھا تھا کہ سینیٹ کمیٹی اس طرح کی رپورٹس پر اجلاس نہیں بلا سکتی یا اسے زیر بحث نہیں لاسکتی۔ یہ سُن کر اس آڈٹ افسر کا پارہ چڑھ گیا اور وہاں موجود وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ کی کسی بات پر انہیں ڈانٹ دیا‘ جو کمیٹی ممبران اور وہاں موجود دیگر لوگوں خصوصاً میڈیا کیلئے حیران کن تھا کہ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ گریڈ انیس کا افسر اجلاس میں وفاقی وزیر کو یوں ڈانٹ دے۔ ایک لمحہ کیلئے تو کسی کو کچھ احساس نہ ہوا کہ اس آڈٹ افسر نے کیا حرکت کی تو اس نے دوبارہ اپنے الفاظ دہرائے۔ ہونا یہ چاہیے تھا کہ اس آڈٹ افسر کو کمیٹی ممبر شٹ اَپ کال دیتے‘اسی وقت اسے اجلاس سے نکال دیا جاتا اورتحریک استحقاق تیار کر کے استحقاق کمیٹی کو بھیجی جاتی تاکہ پارلیمنٹ ڈسپلنری کارروائی کرتی۔چیئر مین پلوشہ خان کو ایک خط وزیراعظم پاکستان ‘چیئرمین سینیٹ اور ایک خط آڈیٹر جنرل آف پاکستان کو لکھنا چاہیے تھا کہ ان کے آڈیٹر نے ایک ٹیلی کام کمپنی کو بچانے کیلئے پچھلے اجلاس میں کیا مؤقف اختیار کیا اور اب اس اجلاس میں نہ صرف مؤقف بدلا بلکہ ہاؤس کمیٹی کے اختیارات کو بھی چیلنج کر دیااور اس سے بڑھ کر اس نے ان کی زیرصدارت اجلاس میں بدتمیزی کی اور وزیر صاحبہ سے بھی جس لہجے میں بات کی وہ بھی نامناسب تھا۔ لیکن کمیٹی اراکین اور چیئرپرسن نے اس بدتمیزی کو نظر انداز کردیا جس کا انہیں آنے والے دنوں میں یقینا نقصان ہوگا کہ اب اگر گریڈ انیس کا افسر دھڑلے سے پارلیمنٹ کی کمیٹی کے آگے یوں پہلے ایک پوزیشن لے گا اور بعد میں ممکنہ طور پر لابنگ کے زیر اثر اپنی پوزیشن بدل لے گا بلکہ کمیٹی کی پاورز کو ہی چیلنج کر دے گا اور سب کے ساتھ بدتمیزی کرے گا اور اراکین ری ایکٹ نہیں کریں گے تو یہ سینیٹرز اپنی اور اپنے ہاؤس کی عزت افزائی نہیں کررہے۔یہ ٹرینڈ مزید بڑھے گا کہ افسران جب بھی خود کو پھنسا ہوا پائیں گے تو وہ سینیٹرز کو اونچا بول کر اور دبا کر چلتے بنیں گے۔ کچھ دن پہلے سینیٹ کی ہیومین رائٹس کمیٹی میں ایک ڈی آئی جی نے بھی چیئرپرسن سینیٹر ثمینہ زہری صاحبہ سے اونچے لہجے میں بات کی تو انہوں نے اس ڈی آئی جی کو وہیں فکس کر دیا۔ اگر چیئرپرسن یہ کام نہیں کریں گے تو بیوروکریٹس دھیرے دھیرے آپ کو سیریس لینا چھوڑ دیں گے اور آپ کی رہی سہی عزت بھی جاتی رہے گی۔ سب سینیٹرز کو واضح لگ رہا تھا کہ آڈٹ افسر اس وقت اس کمپنی کی زبان بول رہا تھا جس کے خلاف ساڑھے چھ ارب روپے غیرقانونی وصولی کا آڈٹ پیرا بھی اس نے خود بنایا تھا۔ اندازہ کریں آڈٹ افسر خود پہلے جج بنا‘ پھر جیوری اور پھر جلاد بننے کے بجائے اس موبائل کمپنی کا وکیل بن گیا۔ اگرچہ پلوشہ خان نے اس آڈٹ افسر کی یہ توجیح مسترد کر دی کہ ان کی کمیٹی وہ آڈٹ رپورٹ کی سماعت نہیں کرسکتی کیونکہ وہ بھی پی اے سی کی طرح کی ایک کمیٹی ہے اور دونوں کی ایک جیسی پاورز ہیں۔یاد آیا جب 2013ء میں نواز شریف صاحب کی حکومت آئی تو جون میں مالی سال ختم ہونے سے دو تین دن پہلے ہی اسحاق ڈار جو وزیرخزانہ تھے ‘نے آئی پی پیز کا 480 ارب روپے کا سرکلر ڈیٹ ایک ہی دن میں ادا کرایا۔ ایک دن میں سمری بنی‘منظور ہوئی‘ اسی دن سٹیٹ بینک کو حکم ملا کہ لاہور کے ان چھ سات بینک اکاؤنٹس جو بجلی گھروں کے تھے میں آج ہی پیسہ ٹرانسفر کرواور وہی کچھ ہوا۔ اس پر اس وقت کے آڈیٹر جنرل اختر بلند رانا نے شدید احتجاج کیا کہ بغیر پری آڈٹ کیسے  اربوں کی ادائیگی کر دی گئی۔ قانون کے تحت ان بجلی گھروں کے بل کی سکروٹنی آڈیٹر جنرل آفس نے کرنی تھی کہ بل اصلی تھے‘ کتنے ارب یونٹس کس ریٹ پر خریدے گئے اور کتنی ادائیگی ہونی تھی۔ ان بلوں کے پری آڈٹ کے بعد آڈیٹر جنرل نے ہی اکاؤنٹنٹ جنرل کو ہدایت دینی تھی کہ ادائیگی کردیں۔سٹیٹ بینک کو لکھا جاتا کہ وہ اتنے ارب روپے ان کی ڈسپوزل پر ڈال دے تاکہ وہ پھر ان کمپنیوں کو ٹرانسفر کرسکیں۔ لیکن اس پورے عمل کو بلڈوز کر کے ڈائریکٹ ادائیگی کی گئی جس پر آڈیٹر جنرل اختر بلند رانا نے انکوائری آرڈر کر دی۔ اس کے دو نتیجے نکلے‘ ایک تو فنانس منسٹری نے اگلے سال منی بل میں یہ شق چپکے سے  ڈلوا دی کہ آئندہ ان بلوں کی ادائیگی کیلئے پری آڈٹ یا آڈیٹر جنرل یا اکاؤنٹنٹ جنرل کی اجازت کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ادائیگی کر کے بس صدر پاکستان کو اطلاع کر دی جائے گی۔ دوسرا اختر بلند رانا کو اس گستاخی پر سزا دینے کا فیصلہ ہوا۔ ان کے خلاف ریفرنس بنوا کر سپریم جوڈیشل کونسل سے انہیں اپنی تنخواہ بیس ہزار روپے بڑھانے کی سزا کے طور پر ہٹوا دیا گیا۔ وزیرداخلہ چودھری نثار علی خاں کے ذریعے ان پر پاسپورٹ کا الگ سے کیس بنوا کر انہیں چند برس کی سزا بھی دلوا دی گئی۔ پھر بھی غصہ کم نہیں ہوا تو اختر بلند رانا کی پنشن اور گریجوٹی روک لی گئی۔ وہ عدالتوں میں آج بھی دھکے کھارہے ہیں۔ اس آڈٹ رپورٹ میں 190 ارب روپے کی بے ضابطگیوں کو ہائی لائٹ کیا گیا تھا اور اس میں یہ بھی تھا کہ 32 ارب روپے لیٹ جرمانہ معاف کرایا جاسکتا تھا لیکن نہ کرایا گیا‘ لیکن بعض کمپنیوں پر معاہدے کی خلاف ورزی پر 22 ارب سرکاری جرمانہ معاف کر دیا گیا ۔ اربوں روپے کے بلز کی فوٹوکاپیوں پر ادائیگی کی گئی‘ اوریجنل بلز غائب تھے۔ یہ رپورٹ پی اے سی میں بھی پیش ہوئی اور سینیٹ کی فنانس کمیٹی میں سلیم مانڈوی والا کی کمیٹی بھی اس کی سماعت کرتی رہی۔وہاں آڈٹ افسر نے اعتراض نہیں کیا تھا جیسے اب پلوشہ خان کی کمیٹی میں کیا گیا۔ شاید فرق لابنگ کا ہوگا جو اس دفعہ ساڑھے چھ ارب روپے بچانے کیلئے وہ کمپنی کررہی تھی۔ شاید موجودہ آڈیٹر جنرل نے اختربلند رانا سے سبق سیکھا اور اپنی لائن بدل لی جو دس برس بعد بھی عدالتوں میں اپنی پنشن کیلئے لڑ رہے ہیں کہ انہوں نے ایک ہی دن میں 480ارب روپے کی بغیر آڈٹ سکرونٹی ادائیگی پر انکوائری کیوں شروع کردی تھی۔ </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>’’رہائی‘‘ اور چین کا ہاتھ(رسول بخش رئیس)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-10-02/52767/38918163</link><pubDate>Fri, 02 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-10-02/52767/38918163</guid><description>نظریاتی اور پھر تزویراتی کشمکش ہمارے ملک کی آزادی کے چند برسوں بعد شروع ہو چکی تھی۔ دوسری عالمی جنگ نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا تھا۔ اس کے نتائج سے ہمارے جیسے ملکوں میں آزادی کی تحریکوں نے زور پکڑا۔ اس وقت پوری سامراجی طاقتیں اتنی بے جان اور تھک ہار چکی تھیں کہ انہیں ہمیں آزاد کرنے میں اب کچھ ہی دیر باقی تھی۔ برطانیہ تو یہاں سے ایسا بھاگا کہ بے شمار وسائل ہمارے لیے چھوڑ گیا۔ ایسا کرتے ہوئے اسے اپنی اخلاقی اور ریاستی ذمہ داریاں بھی یاد نہ رہیں۔ وہ بڑی طاقت اب واجبی طور پر تھا۔ یورپ کی ماضی کی ایسی سبھی طاقتیں اب نام کی رہ گئی تھیں۔ ان کی جگہ سوویت یونین اور امریکہ نے لے لی تھی۔ دنیا کا  تزویراتی نقشہ تبدیل ہو رہا تھا۔ مشرقی یورپ کی ریاستوں اور جرمنی کے آدھے حصے پر سوویت یونین کا قبضہ تھا‘ جہاں راتوں رات کمیونسٹ جماعتیں اقتدار میں آئیں اور ایسے سبھی دھڑے جو روسی فوج کی سرپرستی اور سائے میں تیار ہوئے تھے انہوں نے وہی کچھ کیا جو لینن اور سٹالن نے روس میں کیا تھا۔ آہستہ آہستہ اشتراکی نظریے اور انقلابی تحریکوں نے بعد از نوآبادیاتی ممالک میں پڑھے لکھے لوگوں‘ خصوصاً دانشوروں‘ ادیبوں‘ شاعروں اور نوجوانوں کو بہت متاثر اور متحرک کر رکھا تھا۔ روسی انقلاب کا اثر چین  میں ماؤزے تنگ کی انقلابی تحریک پر بھی پڑا تھا مگر چیئرمین ماؤ کا اپنا نظریہ اور اپنا انداز تھا۔ ان میں قدرِ مشترک صرف کارل  مارکس اور لینن تھے جن کے نظریات میں ماؤ نے ترمیم اور اضافہ کیا تھا۔ پہلی عالمی جنگ کے بعد روس میں انقلاب سے مغرب بہت ناخوش تھا۔ اس کے خلاف کئی خفیہ اور پُرتشدد تحریکیں چلائی گئیں‘ معاشی اور سفارتی پابندیاں عائد کی گئیں اور یہاں تک کہ نئی انقلابی حکومت کو کم از کم دو دہائیوں تک تسلیم نہیں کیا‘ نہ سفارتی روابط رکھے۔ دوسری عالمی جنگ اور جرمنی کی لشکر کشی اور توسیع پسندی جب ایک مشترکہ خطرہ بن کر ابھری تو سوویت یونین اور امریکہ نے ایک دوسرے کا اتحادی بننے کیلئے عہد و پیمان کر لیے۔ مگر جنگ میں فتح کے بعد امریکہ نے محسوس کیا کہ جرمنی کا خطرہ ٹلنے کے بعد اب اس کے عالمی غلبے کی راہ میں اشتراکیت سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔عالمی سیاست میں جنگ‘ امن اور اتحاد‘ قومی مفاد‘ جس کا تعین کسی بھی ریاست کے حکمران کرتے ہیں‘ سفارت کاری کے بنیادی عقائد اور اس کی مرکزی اخلاقیات میں سے ہیں۔ باقی سب کہانیاں ہیں۔ اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کیلئے ریاستیں وہ حربے استعمال کرتی ہیں جو اگر کوئی عام آدمی کرے تو جرائم کے زمرے میں آئیں گے۔ یہاں تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔ جیتی جاگتی مثال ہم سب کے سامنے ہے۔ غزہ میں نسل کشی اور ایران کے خلاف ظالمانہ اور غیر انسانی جنگ ہم سب نے گھر بیٹھے سکرینوں پر بے بسی کے ساتھ دیکھی ہے۔ جب اشتراکی بلاک اور مغربی بلاک‘ جس کی قیادت امریکہ کے ہاتھ میں تھی‘ نے بعد از نوآبادیاتی ممالک میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کیلئے تگ و دو شروع کی تو ان کے درمیان تناؤ کی ایسی کیفیت پیدا ہوئی جسے آپ نہ امن کہتے ہیں نہ جنگ‘ اور اس کا نام سرد جنگ پڑ گیا۔ دونوں جانب پروپیگنڈا کیلئے ہمارے ملکوں کی قومی زبانوں میں وہ اپنے نظریے‘ تاریخ‘ شناخت اور ترقی کے کارناموں کو اجاگر کرنے کیلئے ترجمے کراتے‘ سستے داموں اور اکثر مفت تقسیم کرتے۔ لاہور میں اپنے طالب علمی کے زمانے میں انارکلی کی دوسری جانب پیپلز پبلشنگ ہاؤس تھا جو روس میں شائع ہونے والی کتابیں بیچا کرتا تھا۔ وہاں ہمیں لینن اور سٹالن کے بڑے بڑے رنگین پوسٹر بھی مل جاتے۔ گورکی کی کتاب &#39;&#39;ماں‘‘ کا ترجمہ اور دیگر کچھ کتب وہاں سے خریدی تھیں۔ چین بھی اس میں پیچھے نہ تھا۔ انارکلی بازار کے پچھلے حصے‘ نیلا گنبد کی طرف‘ ایک چھوٹی سی دکان تھی جہاں ماؤزے  تنگ کی تحریریں، &#39;&#39;چین با تصویر‘‘ اور ماؤ کی ٹوپی بھی مل جاتی تھی۔ چین اور روس کی کتابیں ان کے ملکوں میں ترجمہ ہوتیں اور وہاں سے چھپ کر یہاں تقسیم ہوتیں۔ روس اور چین کے مقابلے میں امریکہ نے کام بہت منظم اور خفیہ طریقے سے کیا۔ آج تک لوگوں  کو‘ حتیٰ کہ بڑے بڑے پڑھے لکھے لوگوں کو بھی معلوم نہیں کہ عالمی نظریاتی پروپیگنڈا جنگ میں اس نے کیا کیا حربے استعمال کیے اور وطنِ عزیز میں کون کون سا ادیب‘ شاعر اور لکھاری اس کی خدمت پر مامور تھا۔ اس بارے میں میری اپنی معلومات بھی واجبی سی رہیں کہ یہ میرا کبھی موضوعِ تحقیق نہ تھا۔ اب ملک میں نئی نسل کے ایسے چند محققین سے ملاقات ہوئی ہے۔ ایک بہت بڑی عالمی کانفرنس‘ جو لاہور میں منعقد ہوئی‘ میں ان کی باتیں سنیں تو امریکی پروپیگنڈا کے طریقۂ کار کے پردے تحلیل ہو گئے۔ یہاں ادبی دنیا کے بڑے بڑوں کے نام معلوم ہونے کے باوجود ان کے بارے میں یہ درویش خاموش رہے گا‘ اس لیے کہ یہ اُس کھوجی کا کام ہے جس نے امریکہ کے آرکائیوز ٹٹول کر ثبوت نکالے ہیں۔ یہ اُس کا حق بنتا ہے۔ جب وہ اپنی کتاب تحریر اور شائع کریں گے تو پھر اس پر بات ہو گی۔نظریاتی پروپیگنڈا سے میری پہلی واقفیت اُس وقت ہوئی جب امریکی جامعہ میں پہلے ہی سمسٹر میں مجھے تائیوان کے ایک پروفیسر کے ساتھ معاون استاد نامزد کر دیا گیا۔ وہ چین کی سیاست پر کورس پڑھا رہے تھے۔ میری معاونت یہ تھی کہ ہر ہفتے کلاس کے تین چار گروپ بنا کر میں مزید تفصیل میں بات کرتا اور وہ نکات‘ جو طلبہ مشکل سمجھتے تھے‘ ان کی مزید تشریح کر دیتا۔ ایک کتاب انہوں نے لازمی مطالعے کیلئے مقرر کر رکھی تھی جس کا عنوان تھا &#39;&#39;ماؤزے تنگ کا قیدی‘‘۔ اگر آپ پڑھیں تو یہ تاثر پیدا کرتی ہے کہ ہٹلر تو کچھ  بھی نہیں تھا۔ پاکستان میں ایسی کتابوں کا‘ جو اشتراکیت کو ایک ظالمانہ اور غیر انسانی نظام اور نظریہ سمجھنے کا تاثر پیدا کرتی تھیں‘ امریکہ نے بہت ہی رازداری سے بڑے بڑے ناموں اور مقاموں کے ادیبوں کے قلم سے ترجمہ کروایا‘ اور مطبع خانوں سے معاہدہ کر کے شائع کروایا‘ اور لاکھوں کی تعداد میں مفت سرکاری کتب خانوں اور بازاروں میں رکھوا دیں۔ ایک کتاب کا عنوان تھا &#39;&#39;رہائی‘‘ مگر وہی کتاب اصل عنوان کے ساتھ اردو میں ہی بھارت میں شائع ہوئی: &#39;&#39;سرخ چین سے فرار‘‘ جو ایک سابق چینی سفیر کی داستان ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہاں یہ کتاب اصل عنوان کے ساتھ 1951ء میں کیوں نہ چھپی؟ تب پاکستان کی ایجنسیوں اور  سیاستدانوں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ انقلابِ چین کو ناراض ہرگز نہیں کرنا۔ دوسری جانب وہ امریکہ کی ان کارستانیوں سے واقف ہونے کے باوجود اسے بھی ناراض نہیں کر سکتے تھے۔ &#39;&#39;رہائی‘‘ میں کچھ ابہام تھا اور ایسا محسوس ہوا کہ یہ سب ادیبوں کے اپنے اپنے رجحانات ہیں‘ جس کے مطابق دنیا کے عظیم ادب کے ترجمے کر کے وہ پاکستانیوں کی نذر کر رہے ہیں۔ اب بھی وہی دھندا جاری ہے‘ جس کے بارے میں بہت کچھ معلوم ہے مگر راوی خاموش رہنے کا رجحان رکھتا ہے۔ آپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ ڈرا ہوا ہے۔ میرا خیال ہے کہ چین کے بارے میں جو فیصلے ابتدائی برسوں میں ہوئے‘ ان پر ہمیں فخر کرنا چاہیے اور اپنے قائدین کی بصیرت کو سلام کرنا چاہیے۔ چند دن پہلے ایک بہت بڑے بابے سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ عام بابا نہیں تھا۔ اس ملاقات پر پوری زندگی مشکور رہوں گا۔ جہاں دیدہ ہے اور ایسا انسان جو اَب پہاڑ کی چوٹی پر بیٹھ کر پوری دنیا کو دیکھ رہا ہے۔ ان سے نصیحت کی درخواست کی تو دعا کے علاوہ فرمایا: &#39;&#39;چین کا ہاتھ نہ چھوڑنا۔ امریکہ ناقابلِ اعتماد ہے۔ آپ کا مستقبل چین کے ساتھ ہے‘‘۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_33241568.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>شی ٹرمپ ملاقات اور بھارت کی مایوسی(ڈاکٹر رشید احمد خاں)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr-rasheed-ahmad-khan/2026-10-02/52768/26108786</link><pubDate>Fri, 02 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr-rasheed-ahmad-khan/2026-10-02/52768/26108786</guid><description>ستمبر کے آخری ہفتے میں چین کے صدر شی جن پنگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت پر امریکہ کا تین روزہ دورہ کیا۔ یہ ان کا امریکہ کا پہلا دورہ نہیں تھا۔ انہوں نے صدر ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت کے دوران 2017ء میں بھی امریکہ کا دورہ کیا تھا مگر اُس اور حالیہ دورے میں بہت فرق ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ 2017ء سے اب تک دنیا بہت بدل چکی ہے۔ خود صدر ٹرمپ کی چین کے بارے میں پالیسی اور رویے میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ 2016ء کے صدارتی انتخاب میں کامیاب ہو کر جب ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوری 2017ء میں اقتدار سنبھالا تو ان کے سر پر چین‘ امریکہ کی معیشت اور سٹرٹیجک بالادستی کیلئے سب سے بڑے چیلنج کی حیثیت سے سوار تھا۔ اس کی ذمہ داری وہ اپنے پیشرو‘ صدر باراک اوباما کی پالیسیوں پر ڈالتے تھے‘ جنہوں نے اپنے دورِ حکومت میں Pivot to Asia کے نظریے کے تحت چین کے ساتھ تعاون کی پالیسیوں کو فروغ دیا تھا۔صدر ٹرمپ نے اپنی پہلی صدارتی مدت کے دوران اور دوسری مدت کے آغاز میں چین کے خلاف جارحانہ پالیسی کا مظاہرہ کیا تھا لیکن تقریباً دو سال کے بعد انہیں نظر آ گیا کہ اس سے چین کے بجائے امریکہ کو نقصان ہو رہا ہے‘ اس لیے انہوں نے سابقہ پالیسی کے انداز کو بدلنے کا فیصلہ کیا۔ اس کا ثبوت واشنگٹن سربراہی کانفرنس کے موقع پر امریکی صدر کی طرف سے اپنے چینی مہمان کیلئے بے مثال مہمان نوازی‘ تعریفی کلمات اور عالیشان پروٹوکول سے ملتا ہے۔ صدر ٹرمپ صدر شی کے استقبال کیلئے خود ایئرپورٹ پر موجود تھے۔ اگرچہ سابقہ امریکی صدور‘ مثلاً آئزن ہاور اور جان ایف کینیڈی بھی اپنے زمانے میں کئی مہمانوں کو لینے کیلئے خود ایئرپورٹ گئے اور خود صدر ٹرمپ نے بھی صدر شی کے علاوہ اور مہمانوں کو یہ اعزاز بخشا ہے مگر 23ستمبر کو اینڈریو ایئربیس پر صدر ٹرمپ نے امریکن فرسٹ لیڈی میلانیا ٹرمپ کے ساتھ صدر شی اور اُن کی بیگم کو جہاز کی سیڑھیوں سے اترتے ہی جس گرم جوشی سے خوش آمدید کہا اس کی مثال نہیں ملتی۔ ابھی دونوں رہنماؤں کے درمیان رسمی اور باضابطہ بات چیت بھی نہیں ہوئی تھی کہ صدر ٹرمپ نے میڈیا کے ساتھ گفتگو میں جوپہلا جملہ کہا وہ یہ تھا کہ &#39;&#39;میں نے اور صدر شی نے آپس میں پکی دوستی قائم کر لی ہے‘‘۔اندازہ کیجیے کہ اپنی نیشنل سکیورٹی پالیسی کی دستاویز میں چین کو امریکہ کیلئے سب سے سنگین خطرہ قرار دینے والے امریکی صدر کو صرف دو سال بعد اپنے سب سے بڑے حریف کو پکا دوست کہنا پڑا۔ صدر شی کا دورۂ امریکہ تین دن پر محیط تھا۔ اس دوران دونوں رہنماؤں نے اپنے اپنے وفود کیساتھ اہم مسائل پر گفتگو کی بلکہ صدر ٹرمپ اور صدر شی نے تقریباً ایک گھنٹہ تنہائی میں ون آن ون ملاقات کی لیکن دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں کسی بڑی پیش قدمی کا اعلان نہیں کیا گیا۔ نہ ہی متنازع مسائل مثلاً تائیوان‘ ٹیرف‘ ساؤتھ چائنا سی اور مشرقِ وسطیٰ میں جنگ پر کسی سمجھوتے یا مفاہمت کا اعلان کیا گیا۔ حتیٰ کہ کانفرنس کے انعقاد پر کوئی مشترکہ بیان بھی جاری نہیں کیا گیا۔ اس کانفرنس نے اگر کوئی کامیابی حاصل کی تو یہ تھی کہ دونوں کے درمیان ٹیرف کی جنگ میں جو عارضی فائر بندی پہلے سے موجود ہے‘ اس میں جنوری 2027ء تک توسیع کر دی گئی ہے۔ اس کے مقابلے میں ٹرمپ نے صدر شی کی اس درخواست کو کہ امریکہ تائیوان کو ہتھیار فروخت کرنا بند کر دے‘ رد کر دیا۔ بلکہ یہ کہہ کر کہ امریکہ ساری دنیا میں ہتھیار فروخت کرتا ہے اور اسی پالیسی کے تحت وہ تائیوان کو بھی ہتھیار فروخت کر رہا ہے‘ امریکی صدر نے اپنے چینی مہمان کو پیشکش کی کہ چین چاہے تو امریکہ اسے بھی اپنے ہتھیار فروخت کرنے پر تیار ہے۔ مگر تائیوان کے بارے میں امریکی پالیسی اور ہتھیار بیچنے کا مسئلہ اتنا سادہ نہیں۔ تائیوان چین کیلئے نیشنل سکیورٹی کا سب سے بڑا مسئلہ ہے کیونکہ کمیونسٹ انقلاب (1949ء ) سے پہلے یہ جزیرہ چین کا حصہ تھا مگر چینی خانہ جنگی میں امریکی نواز چیانگ کائی شیک کی فوجوں نے شکست کھا کر اس میں پناہ لے لی تھی۔ اس وقت سے امریکہ اس کا چین کے حملے کے خلاف دفاع کرتا چلا آ رہا ہے‘ لیکن 1972ء میں امریکہ اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات قائم ہونے کے بعد امریکہ پیپلز ری پبلک آف چائنا کو تمام چین کی نمائندہ حکومت تسلیم کرتا ہے۔ مگر دوسری طرف اس کی تائیوان پر پالیسی بہت مبہم ہے۔ ایک طرف اس کی پالیسی ون چائنا پر مبنی ہے مگر تائیوان میں بعض سیاسی عناصر کی طرف سے جزیرے کو ایک آزاد ملک قرار دینے کی مخالفت نہیں کرتا بلکہ تائیوان کو کسی ممکنہ چینی حملے کا مقابلہ کرنے کیلئے جدید ترین ہتھیار فروخت کرتا ہے۔ ہتھیاروں کی فروخت کے اس قسم کے ایک پیکیج کا امریکہ نے اعلان کر رکھا ہے مگر چین کے سخت اور پُرزور احتجاج پر صدر ٹرمپ نے اسے معرضِ التوا میں رکھا۔واشنگٹن کی سربراہی کانفرنس کے موقع پر صدر شی نے صدر ٹرمپ سے تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت کو مستقل طور پر بند کرنے کی درخواست کی تھی لیکن صدر ٹرمپ نے اس سے اتفاق نہیں کیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکہ میں تائیوان کی ایک مضبوط لابی موجود ہے اور کانگریس نے ایک قانون منظور کر رکھا ہے جسکے تحت ہر امریکی حکومت تائیوان کو ہتھیار فروخت کرنے کی پابند ہے۔ دوسرے الفاظ میں امریکہ اور چین کے تعلقات کسی وقت بھی کشیدہ ہو سکتے ہیں کیونکہ ماضی کی طرح مستقبل میں بھی چین امریکہ کی طرف سے تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت یا کسی قسم کی یکجہتی کے اظہار پر سخت ردِعمل دے سکتا ہے۔ اس لیے بیشتر تبصرہ نگاروں کی نظرمیں شی ٹرمپ واشنگٹن سربراہی کانفرنس نمائش‘ تکلف‘ مہمان نوازی اور باہمی ستائش کے لحاظ سے دس میں سے دس نمبروں کی مستحق ہے مگر ٹھوس‘ بنیادی اور دور رس نتائج کے حامل فیصلوں کے معیار پر ایک تہائی نمبروں کے قابل بھی نہیں۔مشرقِ وسطیٰ‘ فلسطین اور ایران کیخلاف جنگ‘ یکطرفہ فیصلے کرنے کا رویہ اور مصنوعی ذہانت جیسے اہم مسائل پر فریقین میں جو اختلافات ایک عرصے سے چلے آ رہے ہیں وہ بدستور قائم ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں چینی مندوب وائس چیئرمین ہینگ زینگ کی تقریر حقیقت کو واضح کرتی ہے لیکن اسکے باوجود اس سربراہی کانفرنس کے دنیا بھر میں چرچے ہوئے اور ہمارے ہمسایہ ملک بھارت میں تو اسکے بعد سراسیمگی کا عالم نظر آتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کانفرنس کے بعد صدر شی اور صدر ٹرمپ کے مابین نومبر میں ایشیا پیسفک اکنامک کوآپریشن اور دسمبر میں جی 20 کی سربراہی کانفرنسیں لے موقع پر ملاقاتیں ہونے والی ہیں۔ ابھی تک دونوں رہنماؤں میں آٹھ ملاقاتیں ہو چکی ہیں‘ جن میں پانچ صدر ٹرمپ کے پہلے اور تین دوسرے دور میں ہوئی ہیں۔ ان ملاقاتوں میں دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات یا عالمی اور علاقائی مسائل پر اختلافات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے مگر دونوں رہنماؤں کے درمیان ایک مفاہمتی سوچ کی بنیاد پڑ رہی ہے کہ اختلافات‘ مسابقت اور مفاداتی تصادم کے باوجود دونوں ملک مقابلے کی فضا میں رہتے ہوئے بھی پُرامن طور پر آگے بڑھ سکتے ہیں بشرطیکہ دونوں میں تصادم اور محاذ آرائی نہیں ہونی چاہیے۔ چین اور امریکہ کے درمیان اس مفاہمت کی بنیاد پڑنے سے بھارت کو سخت مایوسی ہوئی ہے کیونکہ 1950ء کی دہائی سے آج تک بھارت کی علاقائی اور عالمی پالیسیوں کی بنیاد اس مفروضے پر رکھی گئی ہے کہ چین اور امریکہ کے درمیان محاذ آرائی دائمی ہے اور اس میں بھارت امریکہ کے اتحادی کے طور پر کردار ادا کر سکتا ہے‘ لیکن چین کی بقائے باہمی کے اصولوں پر مبنی خارجہ پالیسی نے دنیا میں ایسے حالات پیدا کر دیے ہیں کہ خود بھارت کے تجزیہ کار اور سفارتی حلقے اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ شی اور ٹرمپ کے درمیان دوستی نے بھارت کی سٹرٹیجک اہمیت کو کم کر دیا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90264263.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سپائڈر مین‘ زیرو سے ہیرو تک(اسد طاہر جپہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/asad-tahir-jappa-/2026-10-02/52769/35414611</link><pubDate>Fri, 02 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/asad-tahir-jappa-/2026-10-02/52769/35414611</guid><description>وہ یکم جون 1996ء کو جنوبی لندن کے ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوا۔ سات سال کی عمر میں اس کے والدین کو سکول سے بلایا گیا اور کہا گیا کہ آپ کے بچے کا دماغ دوسرے بچوں کی طرح نہیں چلتا۔ اسے ڈسلیکسیا ہے جس کے باعث حروف اس کیلئے سیدھی لکیر نہیں تھے‘ وہ اس کیلئے رقص کرتی ہوئی شکلیں تھیں۔ الفاظ اس کیلئے سیڑھی نہیں‘ دیوار تھے۔ سپیلنگ اور الفاظ کا جوڑ توڑ اس کیلئے سب سے بڑا پہاڑ تھا‘ جس پر چڑھتے ہوئے اس کے پاؤں ہر بار پھسل جاتے تھے۔ آج اس کی عمر 29سال ہے اور وہ دنیا کا مہنگا ترین نوجوان اداکار ہے۔ اس کی ایک فلم ڈیڑھ ارب ڈالر سے زیادہ کماتی ہے‘ اس کی تصویر دنیا بھر کے لاکھوں بچوں کے بستوں پر لگی ہوتی ہے۔ لیکن اس کامیابی کی فائل کا پہلا صفحہ بڑا تکلیف دہ ہے۔ وہ خود جے شیٹی کے پوڈ کاسٹ میں اعتراف کرتا ہے‘ میری ڈسلیکسیا صرف میرے سپیلنگ ہیں۔ میرے سپیلنگ میری زندگی کی سب سے بڑی رکاوٹ تھے۔ میں نے سکول میں بہت محنت کی لیکن میں کبھی بہت اچھا طالبعلم نہیں تھا۔ ذرا تصور کریں‘ وہ بچہ جس کی پوری زندگی کا دارومدار سکرپٹ یاد کرنے پر ہے‘ وہی بچہ لفظوں سے خوف کھاتا تھا۔ اسے ہر لفظ کو یاد کرنے کیلئے دوسرے بچوں سے پانچ گنا زیادہ وقت لگانا پڑتا تھا۔پھر وقت نے ایک اور گرہ لگائی۔ 2025ء میں ٹام نے دنیا کو بتایا کہ اسے اے ڈی ایچ ڈی بھی ہے۔ یعنی توجہ کی کمی‘ بے چینی اور ایک ایسا دماغ جس میں ایک ہی لمحے میں تیس خیالات بیک وقت دوڑتے ہیں لیکن کسی ایک خیال پر ٹھہرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ اب آپ سوچیں ہالی وڈ ہے کیا؟ ہالی وڈ ایک خالی کینوس ہے جہاں ہر صبح نیا کردار ہر شام نیا سکرپٹ‘ ہر گھنٹے دو سو لوگوں کی نظریں‘ کیمرے‘ لائٹس اور ڈائریکٹر کا وہ جملہ‘ ایکشن کانوں میں گونج اٹھتا ہے۔ اس خالی کینوس سے وہ لڑکا ڈرتا تھا جس کیلئے ایک لفظ یاد رکھنا جوئے شیر لانے کے برابر تھا۔ لیکن اس نے خوف سے اس قدر طاقت سے پنجہ آزمائی کی کہ اسی خوف نے اسے ہالی وڈ کا بے تاج بادشاہ بنا دیا‘ ٹام ہالینڈ جسے پوری دنیا سپائڈر مین کے روپ میں دیکھتی ہے۔ ٹام کی حیرت انگیز کامیابیوں کے پیچھے اس کے والدین کا کلیدی کردار رہا ہے۔ اس کے والد ڈومینک ہالینڈ خود ایک مزاح نگار تھے جبکہ والدہ نکی ایک فوٹوگرافر تھی۔ انہوں نے اپنے بیٹے کو کبھی نمبروں کے ترازو میں نہیں تولا۔ جب وہ کم نمبر لاتا تو وہ اسے ڈانٹتے نہیں تھے‘ وہ صرف ایک جملہ کہتے تھے جو ہر پاکستانی ماں باپ کو اپنے گھر کی دیوار پر سنہری حروف میں لکھ لینا چاہیے۔ جب تک تم اپنی پوری کوشش کرتے ہو‘ ہمیں تم پر فخر ہے۔ اس ایک جملے نے ٹام کو سکول کی دوڑ سے نکال کر زندگی کی دوڑ میں ڈال دیا۔ اس نے وہ کرنا شروع کیا جو اس کا دماغ کر سکتا تھا۔ حرکت‘ ناچ‘ کھیل کود‘ چھلانگ۔ اس نے لندن کے مشہور علاقے ومبلڈن کے قریب ایک سکول میں جمناسٹکس سیکھنا شروع کی۔ اس کی کمر میں اتنی لچک تھی کہ دوست اسے بلی کہتے تھے۔ اسے بلی کہنا اس کیلئے گالی نہیں‘ اس کی پہچان بن گیا۔ اسی لچک‘ اسی بلی جیسی پھرتی نے اسے نو سال کی عمر میں لندن کے ویسٹ اینڈ تھیٹر میں دنیا کے مشہور میوزیکل بلی ایلیٹ میں مرکزی کردار دلا دیا۔ دو سال تک ہر شام آٹھ بجے سٹیج‘ ہر صبح سکول۔ وہ بچہ جو ایک پیراگراف کے صحیح سپیلنگ نہیں کر سکتا تھا وہ تین سو صفحات کی ڈانس کوریوگرافی اپنی سانسوں میں یاد کر لیتا تھا کیونکہ اس کا دماغ لفظوں سے نہیں‘ حرکت سے سیکھتا تھا۔ یوں اس کی کمزوری ہی اس کی طاقت بن گئی اور راستے کے پتھر اس کی کامیابی کا راستہ بن گئے۔ 2012ء میں فلم دی امپاسیبل میں اس نے سونامی میں بہتے ہوئے بچے کا کردار ادا کیا اور دنیا نے پہلی بار اس کی آنکھوں میں وہ خوف دیکھا جو وہ بچپن سے اپنے اندر لیے پھر رہا تھا۔ پھر مارول کا وہ تاریخی آڈیشن آیا‘ کیپٹن امریکہ۔ سول وار کیلئے سپائڈر مین کی تلاش میں پندرہ سو بچوں نے ٹیسٹ دیا۔ ٹام آڈیشن روم میں داخل ہوا‘ بیک فلپ لگائی‘ اپنا جوتا اتارا اور رابرٹ ڈاؤنی جونیئر سے کہا‘ دیکھیں‘ میں اصلی سپائڈر مین ہوں۔ وہ منتخب ہو گیا لیکن یہ اس کی کہانی کا اختتام نہیں‘ یہ اس کے امتحان کا اصل آغاز تھا۔ٹام نے 2023ء میں دی کراؤڈڈ روم نامی سیریز میں ایک ایسے شخص کا کردار ادا کیا جو کئی ذہنی بیماریوں کا شکار ہے۔ وہ کردار اتنا بھاری تھا کہ اس نے خود ٹام کو توڑ دیا۔ شوٹنگ کے بعد اسے تھراپسٹ کی مدد لینی پڑی۔ لیکن اسی ٹوٹنے نے اسے جوڑ دیا۔ اسے پہلی بار سمجھ آیا کہ ذہنی صحت کیا ہوتی ہے اور اس کا اپنا دماغ کیسے کام کرتا ہے۔ وہ آج کھل کر اپنی بیماریوں پر بات کرتا ہے تاکہ دنیا کا کوئی اور بچہ جو کلاس میں اپنے سپیلنگز کی وجہ سے شرمندہ ہے وہ خود کو اکیلا نہ سمجھے۔ ذرا سوچیں‘ وہ لڑکا جو سات سال کی عمر میں اپنا نام تک صحیح سپیل نہیں کر سکتا تھا آج دنیا کے سب سے بڑے ہدایت کار کے مہاکاوی ڈائیلاگ بول رہا ہے۔ یہ کرشمہ کیسے ہوا؟ یہ قسمت کا کھیل نہیں بلکہ اس کامیابی کے یہ تین اصول ہیں جو ٹام ہالینڈ کی زندگی سے ہر بڑے خواب دیکھنے والے کو سیکھنے چاہئیں۔پہلا اصول‘ اپنی کمزوری کو اپنی طاقت اور مؤثر ترین ہتھیار بنائیں۔ مشکلات سے آنکھیں چرانے کے بجائے ان سے لڑنا سیکھیں۔ ٹام نے اپنی ڈسلیکسیا کو کبھی چھپایا نہیں۔ اس نے کہا‘ میرا دماغ مختلف ہے‘ تو میں مختلف طریقے سے سیکھوں گا۔ اگر میں لفظوں سے نہیں سیکھ سکتا تو میں حرکت سے سیکھوں گا‘ کھیل سے سیکھوں گا۔ ہم میں سے اکثر اپنی کمزوریوں کو چھپاتے چھپاتے اپنی طاقت کو بھی دفن کر دیتے ہیں۔ دوسرا اصول‘ محنت قسمت سے بڑی ہوتی ہے۔ ٹام کا اپنا قول ہے‘ تم کسی بھی چیز کیلئے جتنی بہتر تیاری کرو گے‘ اتنے ہی شاندار کام کر سکو گے۔ وہ آج بھی اپنا ہر سٹنٹ خود کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے‘ کیمرہ جھوٹ پکڑ لیتا ہے۔ تم جتنی محنت کرو گے اتنا ہی سچ سکرین پر نظر آئے گا۔ تیسرا اور سب سے اہم اصول‘ بہترین ہونا ضروری نہیں‘ اپنی پوری کوشش کرنا ضروری ہے۔ اس کے والدین کا وہ جملہ اس کی پوری زندگی کا محور ہے۔ ہم اکثر اس لیے ہار مان لیتے ہیں کہ ہم کلاس میں اول نہیں آ سکے۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ زندگی کلاس نہیں‘ ایک طویل سفر ہے۔ یہ سو میٹر دوڑ نہیں بلکہ میراتھن ریس ہے۔ ٹام نے کبھی اول آنے کی کوشش نہیں کی‘ اس نے صرف اپنا بہترین دینے کی کوشش کی اور وہی اسے اول پوزیشن پر لے گیا۔ٹام ہالینڈ کی زندگی دراصل پیٹر پارکر کی ایک کہانی کا وہ حصہ ہے جس میں پیٹر بُری طرح زخمی ہو کر گرتا ہے اور وہ اُٹھ نہیں پا رہا۔ تب وہ خود سے کہتا ہے‘ میں اس لیے نہیں اُٹھ رہا کہ میں طاقتور ہوں‘ میں اس لیے اُٹھ رہا ہوں کہ مجھے اٹھنا ہے۔ ٹام ہالینڈ کی پوری زندگی اسی ایک فقرے کی عملی تفسیر ہے۔ وہ سپائڈر مین اس لیے نہیں بنا کہ وہ کامل یا سب سے بہترین تھا‘ وہ سپائڈر مین اس لیے بنا کہ وہ نامکمل ہوتے ہوئے بھی ہار ماننے کیلئے تیار نہیں تھا۔ ولیم شیکسپیئر نے کہا تھا کہ دنیا میں ہیرو کی تین اقسام ہیں۔ ایک وہ جو آسمان سے اترتے ہیں‘ جن کے ماتھے پر پیدائش سے ہی قسمت کا ستارہ چمک رہا ہوتا ہے‘ جن کے بازوؤں میں خدائی طاقت ہوتی ہے۔ دوسرے وہ جو گلیوں میں پلتے ہیں‘ جو ٹھوکر کھاتے ہیں‘ جو گرتے ہیں اور پھر اپنے ہی ہاتھوں سے مٹی جھاڑ کر دوبارہ کھڑے ہو جاتے ہیں۔ تیسرے وہ جو حادثاتی طور پر مسندِ توقیر پر بٹھا دیے جاتے ہیں جبکہ ان کی اہلیت یا قابلیت کار فرما نہیں ہوتی۔ پہلی قسم کے ہیرو سے دنیا متاثر ہوتی ہے لیکن دوسری قسم کے ہیرو سے دنیا محبت کرتی ہے۔ سپائڈر مین اسی دوسری قسم کا ہیرو ہے جس نے اپنے عزم و استقلال اور جہدِ مسلسل سے زیرو سے ہیرو تک سفر طے کیا ہے اور ہار نہیں مانی کیونکہ ہارتا وہ ہے جو ہار مان لیتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_34710710.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>اعتبار کی خطائیں(آصف عفان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/asif-afan-/2026-10-02/52770/56830635</link><pubDate>Fri, 02 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/asif-afan-/2026-10-02/52770/56830635</guid><description>سیاسی دھوبی گھاٹ پر جہاں گندے کپڑوں کی دھلائی جاری ہے وہاں ایک دوسرے پر چھینٹے اُڑانے کا مقابلہ بھی زوروں پر ہے۔ ایک طرف حکمرانوں کے بھاشن جاری ہیں کہ ملک بدترین معاشی بحران سے گزر رہا ہے‘ عوام سے قربانیاں طلب کی جارہی ہیں‘ دوسری طرف پٹرولیم مصنوعات کی بھاری قیمتیں‘ جبکہ حکمرانوں کے نمائشی دورے اور سرکاری بابوؤں کے تام جھام اور آنیوں جانیوں کا پہیہ بھی خوب چل رہا ہے۔ یہ کیسے مشکل حالات ہیں؟ یہ کس طرح کی گرانی ہے؟ یہ کون سا نازک موڑ ہے؟ یہ کیسا توانائی کا بحران ہے؟ یہ کیسا کڑا وقت ہے؟ معیشت کو کون سے چیلنجز درپیش ہیں؟ جن کی قیمت چکاتے چکاتے عوام ٹکے ٹوکری ہو چکے ہیں۔ شوقِ حکمرانی کے ماروں پر اعتبار کی خطا وہ ناکردہ گناہ بن چکا ہے جس کی سزا نہ صرف نسل در نسل منتقل ہوتی چلی آرہی ہے بلکہ سزاؤں میں روز بروز اضافہ بھی مزید عذابوں اور عتابوں کا باعث ہے۔ یہ حکمرانی کا کیسا دیوتا ہے جو اَن گنت قربانیوں کے باوجود راضی ہونے کو تیار نہیں‘ جوں جوں بھینٹ بڑھتی چلی جاتی ہے توں توں یہ دیوتا مزید غضبناک ہوتا چلا جاتا ہے۔یہ کون سی بری گھڑی ہے‘ یہ کون سی آزمائش ہے کہ جسے ٹالنے کیلئے ہمیشہ عوام کی قربانی ہی درکار ہوتی ہے۔ کبھی نازک موڑ کا تاوان تو کبھی کڑے وقت کا‘ کبھی توانائی کے بحران کی وصولی تو کبھی پالیسیوں اور فیصلوں کی‘ کبھی قرض اُتارو ملک سنوارو کی آڑ میں دن اور نسلیں سنواری جاتی رہیں تو کبھی روٹی‘ کپڑا اور مکان کے جھانسے دے کر ووٹ کی سیاہی عوام کے منہ پر ملتے رہے۔ کبھی سب سے پہلے پاکستان کے نام پر غیرتِ قومی اور احترامِ آدمیت کے معانی الٹاتے رہے‘ تو کبھی جمہوریت بہترین انتقام کا نعرہ لگا کر جمہوریت سے ہی انتقام لیتے رہے۔ کبھی تبدیلی کا سونامی سب کچھ بہا لے گیا تو کبھی ریفارمز کے نام پر ڈیفارمز کے ڈھیر لگاتے رہے۔ کوئی نگران بن کر ماضی کے سبھی ریکارڈ توڑ گیا تو کوئی مہمان بن کر وبالِ جان بن بیٹھا۔ کبھی اچھے دنوں کے خواب دکھا کر تعبیر میں دھتکار اور پھٹکار سے دوچار کرتے رہے۔ کوئی معیشت کی کشتی کو بحرانی بھنور سے نکالنے کا کریڈٹ لے رہا ہے تو کوئی اقتصادی اصلاحات پر نازاں اور اترائے پھرتا ہے۔ کوئی ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کا سہرا سجائے پھر رہا ہے تو کوئی جان لیوا قیمتوں پر پٹرول کی فراہمی کو اپنی جادوگری گردانتا ہے۔ توہینِ انسانیت سے لے کر تذلیلِ آدمیت تک‘ شرمسار گورننس سے لے کر تار تار میرٹ تک‘ آئین کے انحراف سے لے کر ضابطوں اور قانون کی پامالی تک‘ خرد برد سے لے کر بندر بانٹ تک‘ لوٹ کھسوٹ سے لے کر مار دھاڑ تک‘ بندہ پروری سے لے کر شکم پروری تک‘ وزرا اور مشیروں سے لے کر مصاحبین اور رفقائے کار تک‘ سرچڑھے بابوؤں سے لے کر سہولت کاروں تک‘ تھانہ ہسپتال اور پٹوار سے لے کر دیگر سبھی سرکاری اداروں تک‘ ہر طرف ادھم کا سماں ہے۔ ہر طرف حکمرانی کے یہی روپ بہروپ چہروں کی تبدیلی کے ساتھ باریاں لگاتے چلے آرہے ہیں۔ عوام سے تاوان اور قربانیوں کے بدلے آسانیوں اور فراوانیوں کے اسباب ہی حکمرانی کا اعجاز رہا ہے۔اقتدار اور وسائل کے بٹوارے کے تحت راج نیتی کے سبھی دیوتا تاوان اور خراج کے ساتھ ساتھ عوام کے مستقبل پر بھی ہاتھ صاف کر چکے ہیں۔ ملک کبھی مشکل حالات سے دوچار رہا ہے نہ اس پر کوئی کڑا وقت آیا ہے‘ نازک موڑ کا ڈھکوسلہ بھی بیانیہ سازوں کی اختراع ہے۔ دراصل جب جب یہ مشکل حالات اور کڑے وقت سے دوچار ہوتے ہیں اسے ملک سے منسوب کر کے عوام سے قیمت اور تاوان طلب کرتے ہیں۔ ملک کے غلّے پر جب یہ سبھی بیٹھے ہیں تو خسارہ عوام کے کھاتے میں کس طرح ڈالا جا سکتا ہے؟ حکمرانی آپ کی‘ فیصلے آپ کے‘ اصلاحات آپ کی‘ اقدامات آپ کے‘ نیت اور ارادے بھی آپ کے تو نفع یا نقصان کے ذمہ دار بھی تو آپ ہی ہیں۔ سیاست کو دھندا بنانے والوں نے راج نیتی کو بھی بیوپار بنا ڈالا ہے۔ سبھی بیوپاری اپنی اپنی وصولیاں اس طرح کر رہے ہیں کہ عوام بنیادی ضرورتوں سے عاجز اور محتاج ہو چلے ہیں۔ کہیں دو وقت کی روٹی کے لالے ہیں تو کہیں فیسوں اور یوٹیلٹی بلوں کے‘ کوئی گھر کے کرایہ سے مجبور ہے تو کوئی علاج معالجے اور شادی بیاہ سے۔ یہ کیسی ریاست ہے‘ یہ کیسی مملکت ہے‘ یہ کیسا نظام ہے کہ ملک کی اقلیتی اشرافیہ کے طرزِ زندگی سے لے کر ٹھاٹ باٹ اور مال اسباب سمیت وسیع و عریض کاروبار اور جائیداد سے لے کر غیر ملکی اثاثوں اور دھن دولت تک شمار ممکن نہیں۔ دوسری طرف اکثریتی عوام کہیں دن کے چین سے محروم ہیں تو کہیں رات کی نیند اُچاٹ ہے۔ حالاتِ پریشاں اس قدر بھیانک اور ناقابلِ بیان ہیں کہ حالات کی عکاسی کیلئے ڈھونڈے سے الفاظ نہیں ملتے۔ اقتدار اور وسائل کے بٹوارے کا ماڈل اس قدر اٹوٹ ہے کہ عوام روز بروز بکھرتے اور ریزہ ریزہ ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ خوابوں سے لے کر آسوں اور اُمیدوں کی کرچیاں چنتے چنتے عوام کے ہاتھ لہولہان ہو چکے ہیں لیکن حکمران اشرافیہ کہیں حال مست ہے تو کہیں چال مست۔ اعتبار کی پاداش میں سزاوار ٹھہرائے جانے والے عوام بھی جھوٹے وعدوں‘ دلاسوں اور جھانسوں کی لت میں اس قدر لت پت ہیں کہ نسل در نسل لٹنے اور دھوکے کھانے کے باوجود ہر بار تازہ دم ہو کر باآسانی دھوکہ کھا لیتے ہیں۔ عوام کو ملک دیوالیہ ہونے کے خطرات سے ڈرانے والے بخوبی جانتے ہیں کہ اصل دیوالیہ تو عوام کا نکلتا ہے۔ ملکی وسائل سے لے کر نت نئے محصولات سمیت بھاری قرضوں کے بینی فشری تو براہِ راست خود حکمران ہی ہیں۔ کنبہ پروری سے لے کر اللّوں تللّوں سمیت سیر سپاٹوں اور شاہانہ حکمرانی کے سبھی لوازمات تو قومی خزانے کے مرہونِ منت ہیں۔ قوم کا تو بس نام ہی بدنام ہے خزانہ تو اسی کا ہے جو خزانے پر بیٹھا ہے۔ وزیرداخلہ تو یہ بات کہہ چکے ہیں کہ یہ نظام اور طرزِ حکمرانی ناکام ہو چکا‘ جس پر چھوٹے بڑے وزیروں اور مشیروں تک سبھی کونے جھانک کر رہ گئے۔ کسی نے اس بیان کی تردید نہیں کی اگرچہ نجی محفلوں میں لگے لپٹے لفظوں میں اختلافِ رائے کرتے رہے۔ یعنی حکومت نظام کے انہدام کے بیان پر کوئی واضح پوزیشن لینے سے گریزاں رہے۔ اگر نظام واقعتاً مفلوج ہے تو حکومت کے تسلسل اور جواز پر پہلے سے موجود سوالات مزید کڑے ہو جاتے ہیں‘ اور اگر حکومت اس نقطہ نظر سے متفق نہیں تو اس کی بھی وضاحت کرے کہ نظام کہیں نہیں گرا‘ حکومت بھی کھڑی ہے اور نظام بھی ۔ تعجب ہے اس بیان کے آگے حکمران چھوٹے کیوں پڑ گئے۔ </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_65560900.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>انسان اور فوٹون(امیر حمزہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ameer-hamza/2026-10-02/52771/17035530</link><pubDate>Fri, 02 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ameer-hamza/2026-10-02/52771/17035530</guid><description>اللہ تعالیٰ نے آخری الہامی کتاب قرآن مجید میں یمن کی ایک قوم کے نام سے ایک سورۃ نازل فرمائی۔ اس قوم کا نام &#39;&#39;سبا‘‘ تھا۔ اسی نام سے جو سورۃ نازل فرمائی اس کا آغاز &#39;&#39;الحمدللہ‘‘ سے ہوتا ہے۔ اس کے بعد ساتوں آسمانوں اور زمینوں کا ذکر فرمایا اور ذکر سے قبل &#39;&#39;لہٗ‘‘ کا لفظ استعمال فرمایا۔ یہاں &#39;&#39;ل‘‘ کا حرف عربی گرامر کے اعتبار سے ملکیت کے معنوں میں بھی ہے اور سبب کے معنی میں بھی ہے۔ یعنی ساری کائنات اللہ ہی کی ملکیت میں ہے اور اس کے قائم رکھنے ہی کی وجہ سے قائم اور موجود ہے۔ قارئین کرام! اسی سورۃ کی دوسری اور تیسری آیات میں اللہ تعالیٰ نے ذرات کا تذکرہ فرمایا ہے۔ پہلے دونوں آیات کا ترجمہ ملاحظہ ہو‘ اس کے بعد ہم ذرات کی سائنس کا رخ کریں گے۔ فرمایا: &#39;&#39;جو کچھ زمین میں جاتا ہے اور جو کچھ اُس سے نکلتا ہے اور جو کچھ آسمان سے اُترتا ہے اور جو کچھ اُس میں چڑھتا ہے‘ ہر چیز کو وہ جانتا ہے‘ وہ رحیم ہے (سر کشی کے باوجود) درگزر سے کام لیتا ہے (اور معافی کا موقع دیتا ہے)۔ منکر لوگ کہتے ہیں کہ قیامت کیوں نہیں آ رہی؟ (میرے حبیب) بتلا دوکہ مجھے اپنے رب کی قسم ہے وہ بہرصورت تم پر آکر رہے گی۔ وہ غیب کا جاننے والا ہے۔ ذرہ برابر بھی کوئی شے نہ آسمانوں میں اس سے چھپی ہوئی ہے اور نہ زمین میں۔ ذرے سے چھوٹی شے ہو یا اس سے بڑی ہو‘ سب کچھ ایک روشن کتاب میں درج ہے‘‘۔دنیاوی آسمان میں موجود لاتعداد گلیکسیاں‘ ان گلیکسیوں کے لاتعداد جھرمٹ اور ان جھرمٹوں کے لاتعداد سپر جھرمٹ کے اندر جو لاتعداد سورج یعنی ستارے ہیں‘ ان سے نکلنے والے روشنی کے ذرات کو &#39;&#39;فوٹون‘‘ کہا جاتا ہے۔ زمین پر انسانوں کی آبادی اس وقت آٹھ ارب کے لگ بھگ ہے۔ اگر ہر شخص کمپیوٹر سائنس کا سائنسدان بن جائے اور پھر یہ سب انسان اربوں سالوں تک فوٹونز کو شمار کرتے رہیں تو یہ شمار نہیں کر سکتے۔ قارئین کرام! لاتعداد ذرات میں سے فوٹون محض ایک قسم (نوع) ہے۔ فزکس کی دنیا میں  ذرات کی لاتعداد اقسام میں فوٹون ایک بنیادی ذرہ ہے جو روشنی اور تمام برقی مقناطیسی شعاعوں (Electromagnetic Radiation) کی سب سے چھوٹی اکائی ہے‘ جس کا وزن یا ماس نہیں ہوتا۔ فوٹون کی دو حالتیں ہوتی ہیں۔ یہ ذرہ بھی ہوتا ہے اور لہر (Wave) بھی ہوتا ہے۔ ہماری زمین کو روشنی دینے والا سورج ہے۔ یہ روشنی فوٹونز سے بھری ہوتی ہے۔ انہی فوٹونز کو پودے جذب کرتے ہیں۔ قدرتی گھاس جس سے ہماری زمین بھری پڑی ہے‘ وہ بھی ایک خصوصی نظام کے تحت فوٹونز کو جذب کرتی ہے۔ گھاس اور پودوں کو جب مویشی کھاتے ہیں تو یہ فوٹونز انرجی بن کر مویشیوں کے خون میں دوڑتے ہیں۔ اسی خون سے دودھ بنتا ہے۔ دودھ سے دہی بنتا ہے اور پھر اس سے مکھن اور گھی بنتا ہے۔ ان سب میں فوٹونز دوڑ رہے ہوتے ہیں۔ آگے چل کر وہ شوگر اور کاربوہائیڈریٹ میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ پودے جب فوٹونز کو جذب کرتے ہیں تو آکسیجن چھوڑتے ہیں‘ ہم انسانوں سمیت  تمام جاندار اس آکسیجن کے سہارے زندگی گزارتے ہیں۔ جی ہاں! سانس میں فوٹون ہر جگہ اپنی کرشماتی صلاحیت کا اظہار کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے سورۂ سبا کے شروع میں ذرے کیلئے &#39;&#39;اصغر‘‘ کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ عربی میں اصغر اپنے چھوٹے پن کے لحاظ سے &#39;&#39;سپر لیٹو‘‘ ڈگری ہے۔ عربی گرامر میں تفصیل کے لحاظ سے اس کی درجہ بندی ہے۔ بڑی ضخامت کی طرف اس کو لے جائیں تو &#39;&#39;اکبر‘‘ یعنی ہمالیہ پہاڑ سے بھی آگے لے جائیں۔ نیچے آنا چاہیں تو ایٹم کے اندر کے عناصر سے مزید نیچے &#39;&#39;کوارکس‘‘ تک آ جائیں۔ کوارکس جوڑا جوڑا ہوتے ہیں‘ یعنی ایک کوارک اَپ ہوتا ہے تو دوسرا ڈائون ہوتا ہے۔ اس طرح بات اصغر سے اکبر تک جاتی ہے۔ سورۂ سبا بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اصغر کو بھی جانتا ہے اور اکبر کو بھی جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ پر جو آخری کتاب نازل فرمائی‘ اس میں واضح کر دیا کہ ہر شے ذرات یعنی ایٹم سے بنی ہے اور ایٹم سے آگے بھی بہت کچھ ہے۔ تحقیق کرتے جائو اور حاصل کرتے جائو۔ ان سب میں فوٹون بھی ملے گا جو روشنی کا سرچشمہ ہے۔دیکھا جائے تو فوٹون ایک مادی نور ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں کہ اس مادی نور کی کتنی اقسام ہیں۔ فوٹون کے نام سے جو مادی نور ہے‘ یہ ایٹم کے ساتھ مل کر برقی مقناطیسی قوت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ وہ قوت ہے جو ایٹم میں موجود عناصر کو باندھ کر رکھتی ہے۔ اس قوت کا کردار ختم ہو جائے‘ فوٹون کا کردار ختم ہو جائے تو ساری کائنات تحلیل ہو جائے۔ پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اڑنے لگ جائیں۔ جی ہاں! اسی لیے تو اللہ تعالیٰ نے قیامت کا ذکر کیا اور پھر چھوٹے سے چھوٹے ذرے کا ذکر فرمایا۔ &#39;&#39;لہٗ‘‘ کا مطلب جیسے پہلے بتایا کہ یہ ہے کہ کائنات اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے وہ &#39;&#39;القیوم‘‘ ہے یعنی ہر شے کے وجود کو بکھرنے سے اس نے بچا رکھا ہے۔ کائنات کی بنیادی اینٹ یعنی ایٹم کے ذرات کو اسی نے باندھ کے رکھا ہوا ہے۔ وہ باہم باندھنے کے اس سبب کو ختم کر  دے تو ایک لمحے کے اربویں‘ کھربویں حصے میں کائنات ایسے ہو جائے جیسے یہاں کبھی کچھ تھا ہی نہیں۔ اللہ اللہ! یہ ہے اُس عظیم رب کریم کا اقتدار جس کا جلال قیامت کے دن ہر ایک کو نظر آئے گا۔ موجودہ کائنات اپنے وجود کیلئے ہر لمحہ اپنے خالق کی نظر کرم کی محتاج ہے۔فوٹون کے بارے میں سائنسی ریسرچ یہ بھی بتاتی ہے کہ یہ معلومات سے بھرا ہوتا ہے۔ جی ہاں! اس کے پاس جو معلومات ہیں وہ دیگر ذرات‘ ذیلی ذرات اور لہروں (Waves) وغیرہ کے ساتھ شیئر بھی ہوتی ہیں۔ یوں ہر جاندار کے کردار کا کھاتہ تیار ہو رہا ہے۔ ہر انسان کی زندگی کا لمحہ لمحہ فوٹونز کے پاس محفوظ ہورہا ہے۔ آگے ٹرانسفر بھی ہو رہا ہے۔ جس طرح اربوں انسانوں کی معلومات کا ڈیٹا موبائلز اور سافٹ ویئرز کے ذریعے مرکزی سسٹم میں جا رہا ہے اسی طرح نجانے کتنی انواع کے ذرات ہر انسان کا ڈیٹا ایک مرکز میں جمع کروا رہے ہیں۔ سورۃ الزلزال میں اس کا تذکرہ یوں کیا گیا ہے: &#39;&#39;جب زمین پوری شدت کے ساتھ (زلزلے کی صورت میں) ہلا دی جائے گی تو تب زمین اپنے سارے بوجھ (باہر) نکال دے گی۔ انسان (حیرت و پریشانی میں) کہہ اٹھے گا: اس زمین کو کیا ہو گیا ہے؟ (اصل بات یہ ہے کہ) اُس (قیامت کے) روز وہ اپنے اندر کی خبریں بیان کرنا شروع ہو جائے گی۔ ایسا اس لیے ہوگا کہ آپ کے رب نے اس کو ایسا کرنے کا حکم دیا ہو گا‘‘۔ (آیات: 1 تا 5)قارئین کرام! آج ہم اے آئی کو دیکھیں تو مشین لرننگ کے ذریعے زمینی دھاتوں کا سسٹم انسانی ڈیٹا کو کام میں لا کر اپنے فیصلے  کرنے کے قابل ہوتا جا رہا ہے۔ یہ سارا کچھ ذرات ہی کا کھیل ہے۔ سورۃ الزلزال کا اختتام یہاں ہوتا ہے کہ جو شخص ذرہ برابر خیر  کا کام کرے گا‘ انسانی بھلائی کا کام کرے گا‘ انسانیت کو جوڑنے کا کام کرے گا تو وہ اپنی ساری نیکیاں دیکھ لے گا۔ اس کے برعکس جو شر اور فساد پھیلاتا رہے‘ اپنے مفاد کی خاطر بھائیوں کی کردار کشی کرتا رہے‘ وہ بھی اپنے بدبودار‘ گندے اور تعفن زدہ بوجھ کو دیکھ لے گا۔ جی ہاں! فوٹون جو اربوں کھربوں کی تعداد میں ہر انسان کی آنکھوں میں آ جا رہے ہیں‘ ان کا اپنا تو کوئی وزن نہیں مگر انسان کے اعمال کو اٹھا کر مرکز میں ضرور منتقل کر رہے ہیں۔ خیر والا آدمی اپنی موت کے وقت بھی اور قیامت کے روز بھی جب اپنے اعمال کو دیکھے گا تو بہت خوش ہوگا۔ اس کے برعکس برے کاموں والا اس دنیا میں بھی نامراد ہو گا اور آخرت میں بھی خسارہ اٹھانے والوں میں شامل ہو گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_68712266.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>