<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>دہشت گردی کے خلاف سیاسی اتحاد(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-21/11650</link><pubDate>Wed, 21 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-21/11650</guid><description>وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنا اللہ نے ایوانِ بالا میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے تمام سیاسی جماعتوں کو دہشت گردی کے نازک اور حساس مسئلے پر حکومت کیساتھ سر جوڑ کر بیٹھنے کی دعوت دی ہے۔ ایسے وقت میں جب ایک طرف ملکی سرحدوں پر خطرات منڈلا رہے ہیں اور مغربی سرحدی اضلاع دہشت گردی کی لپیٹ میں ہیں‘ اندرونی عدم استحکام اور سیاسی خلفشار سکیورٹی کے ابھرتے ہوئے چیلنجز کو سنگین بنا رہا ہے۔ ان حالات میں دہشت گردی کے خلاف تمام سٹیک ہولڈرز کو ایک پیج پر آنا ہو گا۔ ماضی کا تلخ تجربہ ہمیں یہی سکھاتا ہے کہ جب بھی ریاست اور سیاسی قیادت نے سکیورٹی چیلنجز پر قابو پانے کیلئے یکسوئی اور یکجہتی کا مظاہرہ کیا‘ دہشت گردوں کو شکست و پسپائی کا سامنا کرنا پڑا اور جب کبھی باہمی سیاسی و نظریاتی اختلافات کو قومی سلامتی پر فوقیت دی گئی ملک میں عدم استحکام کی لہر نے جنم لیا۔ایک رپورٹ کے مطابق 2022ء میں ملک میں دہشت گردی کے 262 واقعات میں 419اموات ہوئیں۔ 2025ء میں دہشت گردی کے واقعات کی تعداد 699تک پہنچ گئی اور جانی نقصان 1034۔

اہم بات یہ ہے کہ دہشت گردی کے 90 فیصد واقعات مغربی صوبوں میں پیش آئے اور تین برسوں میں دہشت گردی کے واقعات میں 166فیصد اضافہ ہوا اور اضافے کا رجحان رواں سال بھی جاری ہے؛ اگرچہ سکیورٹی فورسز کی بھرپور کارروائیوں کے نتیجے میں دہشت گردی کے متعدد واقعات کو ناکام بنا دیا جاتا ہے۔ دہشت گردی کے واقعات میں اضافے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اس دوران آپس میں الجھی رہیں اور دہشت گردی کے خلاف حکمتِ عملی اور قومی بیانیے پر یکسو نہ ہو سکیں۔ دشمن قوتوں نے اس صورتحال کا فائدہ اٹھایا اور آج نتیجہ دہشت گردی کے پے بہ پے واقعات کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ قومی سلامتی اور استحکام ایسے غیر متزلزل اصول ہیں جنہیں سیاسی‘ جماعتی‘ گروہی یا ذاتی مفادات کی نذر نہیں کیا جا سکتا۔ دسمبر 2014ء میں نیشنل ایکشن پلان کی تشکیل کا مقصد ہی یہ تھا کہ قومی سلامتی کے معاملات کو سیاسی مناقشوں سے دور رکھا جائے اور اس ضمن میں ہر ادارے اور ہر فرد کی ذمہ داریاں واضح کی جائیں۔
سانحہ اے پی ایس کے بعد ملک کی تمام سیاسی قیادت نے اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر ایک چھت تلے بیٹھنے کا جو تاریخی فیصلہ اور عسکری قیادت کے ساتھ مل کر جس قومی عزم کا اظہار کیا تھا‘ اسی نے بعد ازاں آپریشن ضربِ عضب اور آپریشن رد الفساد کی بنیاد رکھی‘ جنہوں نے سوات سے لے کر وزیرستان اور کراچی سے لے کر کوئٹہ تک دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا۔ جب سیاسی قیادت کا بیانیہ یکساں ہوتا ہے تو قوم بھی انکے پیچھے یکجان ہو جاتی ہے اور یوں ریاست کی طاقت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ اسکے برعکس جب سیاسی بیانیوں میں ابہام پیدا ہوتا ہے اور کوئی پورب اور کوئی پچھم کا رخ کرتا ہے تو اس کی بھاری قیمت ملک و قوم کو چکانا پڑتی ہے۔ آج پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مکمل یکسوئی‘ متفقہ سیاسی بیانیے اور مصمم عزم کی ضرورت ہے۔ یہ مقصد وسیع البنیاد سیاسی شرکت داری ہی سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ستر ہزار سے زائد شہریوں اور دس ہزار سے زائد جوانوں اور فوجی افسروں کی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔ یہ قربانیاں رائیگاں نہیں جانے دی جا ئیں گی۔
سیاسی جماعتوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں‘ لیکن کسی بھی اقدام یا قول و فعل سے ریاست کی سلامتی پر کوئی حرف نہیں آنا چاہیے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ سیاسی وابستگیوں کو ایک طرف رکھ کر‘ قومی سلامتی کی خاطر سکیورٹی مسائل کا سیاسی حل نکالا جائے اور ایک ایسے مضبوط‘ متحد اور پُرعزم پاکستان کی بنیاد رکھی جائے جہاں دہشت گردی کی کوئی گنجائش نہ ہو۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ملتان کا المناک وقوعہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-21/11649</link><pubDate>Wed, 21 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-21/11649</guid><description>ملتان میں ایک پندرہ سالہ یتیم بچے کو کام چھوڑ کر جانے پر گاڑی تلے کچل کر قتل کیے جانے کا واقعہ محض ایک بچے کی المناک موت کا سانحہ نہیں بلکہ ہمارے معاشرے میں بڑھتی لاقانونیت‘ کمزور طبقات کے استحصال اور بچوں کے تحفظ میں ناکامیوں کا ایک ہولناک مظہر ہے۔ اب تک سامنے آنے والے شواہد کے مطابق ملزمان بچے کو جبری مشقت کیلئے زدوکوب کرتے تھے‘ ان حالات سے تنگ آ کر جب اس نے بھاگ کر جان بچانے کی کوشش کی تو ملزمان نے گاڑی میں اس کا تعاقب کیا‘ اسے تیز رفتار گاڑی سے ٹکر ماری اور کچل کر قتل کر دیا۔اہلِ علاقہ نے واقعے میں ملوث ایک سفاک شخص کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا تاہم دوسرا ملزم تاحال مفرور ہے۔

ملتان پولیس کے سربراہ نے یتیم بچے کے قاتلوں کے خلاف بھر پور مقدمہ قائم کرنے اور انصاف کے تقاضے پورے کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے تا ہم یہ اس المناک وقوعے کا ابھی دوسرا روز ہے‘ دیکھنا یہ ہے کہ پولیس کا یہ جذبہ اور اس مقتول کو انصافی کی فراہمی یقینی بنانے کا عزم برقرار رہتا ہے یا وقت کے ساتھ ماند پڑ جاتا ہے اور غریب ‘ یتیم بچے کا خون رزقِ خاک ہو جاتا ہے۔ واقعے کی تمام سی سی ٹی وی فوٹیجزاور گواہ موجود ہیں‘ ملزم زیر حراست ہے اور امید کی جاتی ہے کہ دوسرا ملزم بھی جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔ قتل کے اس مقدمے میں بظاہر ایسی کوئی وجہ نہیں کہ ملزمان اپنے کیے کی قرار واقعی سزا سے بچ سکیں۔بہرکیف ریاست کی ذمہ داری ‘ دلچسپی اور کارکردگی یہ ثابت کرے گی کہ انصاف ہوتا نظر آتا ہے یا۔۔۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ایل پی جی کا بحران(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-21/11648</link><pubDate>Wed, 21 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-21/11648</guid><description>اوگرا کی جانب سے اکتوبر کیلئے ایل پی جی کی قیمت 279 روپے فی کلو مقرر کیے جانے کے باوجود عوام تقریباً دو گنا نرخوں میں ایل پی جی خریدنے پر مجبور ہیں۔ ایک خبر کے مطابق پنجاب اور خیبرپختونخوا میں ایل پی جی کے نرخ 500روپے فی کلو تک پہنچ چکے ہیں جبکہ بعض علاقوں میں یہ 600روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔ ایل پی جی کی قیمتوں میں یہ اضافہ مارکیٹ کی نگرانی اور قیمتوں پر مؤثر عملدرآمد کے نظام کی کمی کی نشاندہی کرتا ہے۔ قدرتی گیس کی قلت کے باعث ہونے والی لوڈ شیڈنگ کے پیش نظر گھریلو صارفین نے اس مسئلے کا حل ایل پی جی کے استعمال کی صورت میں نکالا لیکن اب یہ بھی عوامی قوتِ خرید سے باہر ہوچکی ہے اور آئندہ دنوں میں اسکی قیمت میں مزید اضافے کا امکان ہے۔

اگر حکومت گیس کی قلت دور نہیں کر سکتی تو کم از کم سرکاری نرخ نامے کی پابندی تو یقینی بنائے۔ یہ صرف ایل پی جی تک ہی موقوف نہیں بلکہ منافع خوری کی یہ روش تمام اشیائے ضروریہ کے حوالے سے رائج ہے۔ ضروری ہے کہ حکومت فوری طور پر ناجائز منافع خور عناصر کیخلاف کریک ڈاؤن کرے‘ ایل پی جی مارکیٹنگ کمپنیوں اور دکانداروں کے مابین قیمتوں کے تعین کے نظام کو شفاف بنائے اور سخت نگرانی کا مؤثر نظام قائم کرے۔ اس کیساتھ ساتھ سپلائی میں مصنوعی رکاوٹوں کا خاتمہ بھی یقینی بنایا جائے تاکہ منافع خوروں کیلئے کوئی گنجائش باقی نہ رہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کھوئے موقعے‘ گزری یادیں(ایاز امیر)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-10-21/52880/26476008</link><pubDate>Wed, 21 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-10-21/52880/26476008</guid><description>پاکستان افغانستان کشیدگی کے تناظر میں یہاں بیٹھے کوس افغانستان کو رہے ہیں۔ ردِعمل ٹھیک ہے لیکن ساتھ ہی پرانی کوتاہیوں پر ایک نظر جائے تو کوئی حرج نہیں۔ بنیادی غلطی اس طرف سے یہ تھی کہ افغانستان کے اندرونی حالات بگڑے تو یہاں کے حاکموں نے استعمال کرنا شروع کیا مذہبی عناصر کو۔ سردار داؤد کی بغاوت کے بعد بھٹو صاحب کے زمانے میں افغانستان سے کچھ مذہبی جھکاؤ رکھنے والے عناصر یہاں پناہ لینے آئے تو پاکستانی حکومت نے اُن کی مدد امداد کرنا شروع کی۔ اپریل 1978ء میں سردار داؤد کا تختہ اُلٹا اور افغان کمیونسٹ اقتدار میں آئے تو افغانستان کی مذہبی جماعتیں ہی کمیونسٹ حکومت کے خلاف کھڑی ہوئیں اور یہاں سے امداد کا پیمانہ زیادہ ہو گیا۔ دسمبر 1979ء میں سوویت فوج افغانستان آئی تو کمیونسٹ مخالف بغاوت جو پہلے سے بھڑک رہی تھی اُس کو امریکہ اور سعودی عرب کی امداد بوساطت پاکستان ملنے لگی۔ اس امداد اور مداخلت کے بل بوتے پر جو ایک اندرونی افغان مسئلہ تھا اُس کی نوعیت بین الاقوامی ہو گئی۔ پاکستان کے حکمران جنرل ضیا الحق مذہبی رجحانات کے حامل تھے اور وہاں افغانستان میں جو نام نہاد سلسلۂ جہاد شروع ہوا اُس میں جو سات مزاہمتی جماعتیں جہاد کی کمان کر رہی تھیں وہ ساری کی ساری کٹر مذہبی سوچ رکھنے والی تھیں۔حالات کا تقاضا بھی یہی تھا کہ پاکستان اُنہی جماعتوں کی حمایت کرے جو کہ میدان میں موجود تھیں۔ لیکن جوں جوں جہاد کی نوعیت بڑھتی گئی اُس کے اثرات پاکستان میں محسوس ہونے لگے۔ بہت بڑی تعداد میں افغان مہاجرین پناہ کی خاطر پاکستان آئے‘ جگہ جگہ افغانوں کیلئے بڑے کیمپ بنے‘ افغانوں کی نقل وحرکت ملک کے طول وعرض میں ہونے لگی۔ بہت سے افغان کاروبار میں گئے اور بہت سوں کا تعلق جہاد کے ساتھ ہوا۔ مدرسے کھڑے ہوئے‘ اُن میں تعلیم حاصل کرنے والے طالب علموں کی تعداد بڑھی‘ مولانا سمیع الحق کے اکوڑہ خٹک کا مدرسہ افغانوں کیلئے یونیورسٹی کا درجہ اختیار کر گیا۔ یہاں کی حکومتِ وقت ویسے بھی مذہبی رجحانات اور مذہبی نعروں کے پرچار میں لگی ہوئی تھی۔ افغانستان اور یہاں کے عوامل کے مل جانے سے ان رجحانات کو تقویت ملی۔ یہاں کے حکمران خوش‘ امریکہ خوش‘ سعودی خوش۔ پیسے کی کمی نہ تھی‘ ہتھیار بھی آ رہے تھے۔ امریکہ کا مقصد سوویت یونین کی پسپائی تھا اور چونکہ پاکستان جہاد کا معاونِ خصوصی تھا تو جنرل ضیا کی بہت پذیرائی صدر رونلڈ ریگن کے وائٹ ہاؤس میں ہونے لگی۔حال میں سب مست تھے مستقبل کا ادراک کسی کو نہ تھا۔ مختلف مسلم ممالک سے آئے جہادی جنہوں نے افغان جہاد کیلئے تربیت حاصل کی اور جنہیں تب امریکہ مجاہدین کا لقب دیتا تھا وہی بعد کے دہشت گرد ٹھہرے۔ انہی مجاہدین کے بیچ میں سے طالبان تنظیم اُٹھی۔ یہی طالبان پھر افغانستان کے حاکم بنے۔ القاعدہ کو پناہ طالبان نے دی۔ القاعدہ کا تعلق ستمبر 11 کے امریکہ پر حملوں سے بنا۔ اُسی افغان جہاد سے وہ عناصر اُٹھے جنہوں نے جنرل مشرف کے زمانے میں ریاستِ پاکستان کے خلاف جنگ کا اعلان کیا۔ مشرف کے ہی زمانے میں اسلام آباد میں ایک مسجد کے خلاف جو بڑا آپریشن ہوا وہ اسی تناظر میں تھا۔ اُس آپریشن کے بعد دہشت گردی کی سخت ترین لہر پاکستان میں اُبھری۔ اُنہی عناصر کے نظریاتی ہمنوا آج پھر سے افغانستان کے حکمران ہیں اور انہی سے نظریاتی ہم آہنگی رکھنے والے تحریک طالبان پاکستان والے ریاست پاکستان سے برسرِ پیکار ہیں۔ کہنے کا مطلب یہ کہ ٹی ٹی پی نظریاتی طور پر آج کی پیداوار نہیں۔ اس کی روحانی جڑیں تو اُس نام نہاد جہاد سے جا ملتی ہیں جس کا اعلان اڑتالیس سال پہلے افغان کمیونسٹوں کے خلاف ہوا تھا۔پاکستانی سوچ کوزے میں بند رہی‘ جب امریکیوں اور طالبان کی طویل جنگ جاری تھی۔ ظاہری طور پر پاکستان امریکہ کا حمایتی تھا لیکن اندرونِ خانہ کچھ نہ کچھ امداد طالبان کی بھی ہو رہی تھی۔ حامد کرزئی اور اشرف غنی یہی گلہ کرتے تھے کہ پاکستان دوغلی پالیسی پر گامزن ہے۔ یہاں کے حکمران سمجھتے تھے کہ وہ بہت ہوشیاری دکھا رہے ہیں کیونکہ امریکہ نے ایک دن چلے جانا ہے اور پیچھے طالبان رہ جائیں گے۔ اُن سے ہمارے تعلقات اچھے ہوں گے اور پاکستان افغانستان دوستی ایسے ہو گی کہ ہندوستان کو کوئی جگہ افغانستان میں نہ ملے گی۔ پاکستان کی افغان پالیسی کے پیچھے ایک بڑی سوچ یہ رہی کہ جو دخل اندازی یہاں سے افغانستان میں ہو رہی ہے اُس سے اور کچھ ہو نہ ہو ہندوستان کی دائمی بے دخلی افغانستان سے ہو جائے گی۔امریکی افغانستان سے چلے گئے۔ رسوا ہو کر گئے۔ طالبان براجمانِ اقتدار ہیں اور پاکستان کو چین نصیب ہونے کے بجائے مصیبتوں کے نئے پہاڑوں کا سامنا ہے۔ اڑتالیس سال کا قضیہ‘ ملکی مفادات کو خطرے میں ڈال کر افغان جہادوں کی امداد اور نتیجہ کیا نکلا۔ آج ہمارے دو ممالک کے درمیان ایک جنگ کی کیفیت ہے۔ بارڈر بند ہے اور پہلے بھی بندشیں ہوتی رہیں لیکن اتنی طویل دورانیے کی نہیں۔ کراس بارڈر تجارت بند ہے اور کوئی صورت نظر نہیں آ رہی کہ ان حالات میں کوئی بہتری آئے۔پاکستان کو سمجھنے میں دیر ہوئی کہ افغانستان میں حکمران کمیونسٹ ہوں یا اسلام پسند‘ کسی افغان کو ڈیورنڈ لائن کا ہونا قبول نہیں۔ جس مکتب فکر کا بھی کوئی افغان ہو ڈیورنڈ لائن کو نوآبادیاتی تسلط کا نتیجہ سمجھا جاتا ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ تعلقات میں بہتری بھی ہو جائے ڈیورنڈ لائن کا کھٹکا رہے گا۔ اس حقیقت کو پاکستانی سوچ کا حصہ بننا چاہیے۔ لیکن اس کھٹکے کے ہوتے ہوئے بھی تعلقات استوار ہو سکتے ہیں۔ ظاہر شاہ کے زمانے میں بھی افغانستان اس بارڈر کو تسلیم نہیں کرتا تھا لیکن تعلقات کبھی کبھار کی معمولی جھڑپوںکے باوجود اچھے تھے۔ سیر سپاٹے کیلئے پاکستانی کابل جایا کرتے تھے۔ جی ٹی ایس کی ایک بس پشاور سے کابل جاتی تھی۔ میں نے اُس پر خود سفر کیا ہے‘ بتیس روپے کرایہ 1978ء میں تھا۔ ظاہر شاہ کے زمانے میں جشنِ کابل منعقد ہوتا تو اقبال بانو وہاں اپنی غزلیں پیش کیا کرتیں۔ یقینا اور بھی فنکار جاتے ہوں گے۔ یہ تو کوئی نظرِ بد افغانستان کو لگی کہ پہلے ظاہر شاہ کے خلاف بغاوت ہوئی اور پھر سردار داؤد کے خلاف کمیونسٹوں نے بغاوت کی۔ اُس وقت سے افغانستان کی بدقسمتی کی داستان رقم ہو رہی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو سردار داؤد سے تعلقات استوار کر رہے تھے لیکن بدقسمتی کہ بھٹو کے خلاف ایکشن ہوا اور جنرل ضیا الحق یہاں پر قابضِ اقتدار ہو گئے۔ پھر بس کیا تھا آنکھیں بند کرکے پاکستان افغانستان کی دلدل میں دھنستا چلا گیا۔بیشتر پاکستانیوں کو بات اچھی نہیں لگے گی لیکن پاکستان کے مفاد میں یہ تھا کہ افغانستان کے آخری کمیونسٹ سربراہ نجیب اللہ سے تعلقات استوار کیے جاتے۔ کٹر انتہا پسند سوچ کی روک تھام ہوتی۔ لیکن ایسا پاکستان میں کون سوچتا کیونکہ یہاں کے حکمران طبقات کی سوچ میں کبھی ایسی وسعت نہیں رہی۔ یعنی یہاں کے حکمران طبقات کا اتحاد کٹر سوچ والوںسے ہی ہو سکتا تھا۔ کوئی اور متبادل ناممکن تھا۔ برطانیہ دوستی‘ امریکہ نوازی اور سیاسی رجعت پسندی یہ رویے تو اس دھرتی کو ورثے میں ملے۔ سارے حکمران ہمارے سوائے کسی حد تک ذوالفقار علی بھٹو کے اسی آٹے میں گندھے ہوئے تھے۔ ضیا الحق توکٹر سوچ کا علمبردار تھا۔ وہ کمیونسٹوں سے اتحاد کا کیسے سوچ سکتا تھا؟</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_80573045.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>اک یاد ہے کہ دامنِ دل چھوڑتی نہیں(خالد مسعود خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-10-21/52881/81969303</link><pubDate>Wed, 21 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-10-21/52881/81969303</guid><description>زندگی کا ہر گزرتا لمحہ غنیمت ہے سو اسے مہلتِ جان کر استعمال کرنا چاہیے۔ اب اندازہ ہوتا ہے کہ بہت سی چیزوں کیلئے وقت ملتا نہیں نکالنا پڑتا ہے اور اگر یہ وقت گزر جائے تو باقی صرف ملال رہ جاتا ہے۔ اس کے ساتھ چھبیس سال چھ ماہ اور سترہ دن جو بظاہر چوتھائی صدی سے زیادہ لمبا عرصہ بنتا ہے مگر یقین جانیے اس تیزی سے گزرا کہ لگتا ہے یہ 9697دن گزرے نہیں‘ بس ہاتھ سے پھسل گئے اور اب ملال ہوتا ہے۔ ایسی چھوٹی چھوٹی چیزوں کا ملال‘ جو بظاہر اس وقت کسی شمار قطار میں ہی نہیں تھیں۔ ایک دو نہیں بیسیوں ایسی چیزیں جنہیں پورا کرنا شاید ایسا مشکل بھی نہیں تھا نہ جانے کیسے رہ گئیں ؟ تب یہی خیال تھا کہ بھلا وقت کہیں بھاگا چلا جا رہا ہے ؟ کل کر لیں گے‘ اور اب سچ کہوں تو ان گزرے ہوئے چودہ برسوں میں یہ ملال ساتھ ساتھ چلتا آ رہا کہ یہ چھوٹے چھوٹے کام اگر تب ہی کر لیے جاتے تو بھلا کیامشکل درپیش تھی۔ لیکن تب شاید کچھ معاملات میں مجبوریاں اور مشکلات بھی تھیں لیکن اس میں سارا قصور میرا نہیں‘ اس میں وہ بھی برابر کی قصوروار تھی۔ اس نے کبھی کسی بات پر اصرار ہی نہیں کیا تھا۔ وہ اپنی خواہشات میں بھی ترجیحات کی قائل تھی اور اس کی کئی خواہشات تو خود اس کی ترجیحات کی نذر ہو گئیں۔ برآمدے کا معاملہ ہی دیکھ لیں جب کبھی بارش ہوتی تو اسے یاد آتا کہ گھر میں بارش سے لطف اندوز ہونے کیلئے کوئی برآمدہ نہیں ہے۔ جیسے ہی بارش گزر جاتی وہ یہ سب کچھ بھول بھال کر اپنے کاموں میں ایسے مصروف ہو جاتی کہ برآمدہ خواب و خیال بن جاتا تاوقتیکہ نئی بارش برس پڑتی۔ اگر کسی وقت اس کا خیال آیا تو اس دوران کبھی مالی مسئلہ آن پڑا اور کبھی سستی درپیش آ گئی اور معاملہ آگے سے آگے جاتا رہا۔ اسی اثنا میں ایک دو بار میں نے برآمدہ بنانے کا ارادہ کیا اور اسے بتایا تو اس نے برآمدے سے زیادہ اہم چیزوں کی طرف میری توجہ دلاتے ہوئے مجھے خود اس کام سے روک دیا اور کہا کہ برآمدے کا کیا ہے‘ کبھی پھر بنا لیں گے ابھی یہ کام زیادہ ضروری ہے۔ سو ہم زیادہ ضروری کاموں کی تکمیل میں لگے رہے اور برآمدہ درمیان میں ہی رہ گیا۔ اب بارش ہوتی ہے تو ملال ہوتا ہے۔ اور اس سال تو بارش بھی خوب ہوئی لیکن اب برآمدہ بنانے کو دل نہیں کرتا۔ گھر میں صرف اسی کو بارش میں برآمدے میں بیٹھ کر لطف اندوز ہونے کا شوق تھا۔ اب وہ نہیں رہی تو برآمدے کا کیا کرنا ہے۔ سو بارش ہوتی تو وہ اور برآمدہ یاد آتے ہیں۔ لیکن صرف برآمدے پر ہی کیا موقوف ؟ایمانداری کی بات ہے کہ خیر سے میں تو مزاج کا تیز تھا ہی شروع شروع میں اپنی جگہ پر وہ بھی کم نہیں تھی۔ مجھے آج بھی اپنے دوست فرخ نسیم انصاری مرحوم کا جملہ یاد ہے جو اس کی رخصتی سے قبل خانیوال والے گھر کے برآمدے میں اس نے سب کو سناتے ہوئے بظاہر میرے کان میں کہا۔ میں اس کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھا ہوا تھا کہ فرخ نسیم انصاری جس کے والد نسیم انصاری صاحب میرے سسر مرحوم کے عزیز ترین دوست بلکہ فیملی ممبر تھے‘ نے سرگوشی سے ذرا بلند آواز میں مجھے انتباہی وارننگ دیتے ہوئے کہا: ابے بندوقوں کے شوقین! ہم نے بیاہ میں تجھے کلاشنکوف دی ہے۔ سچ پوچھیں تو فرخ نسیم انصاری کا یہ انکشاف پہلے پہل جزوی طور پر تو درست ثابت ہوا‘ تاہم پھر آہستہ آہستہ وہ تقریباً ویسی ہی ہو گئی جیسا میں چاہتا تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ میرے مزاج کی تیزی میں بھی کمی ہوئی مگر اس نے تو کمال ہی کر دیا تھا۔ یہ عام دنوں کی بات ہے مگر آخری دو سال میں تو حد ہی ہو گئی۔ بیماری عام طور پر انسان کو چڑچڑا اور بات بات پر الجھنے والا بنا دیتی ہے۔ مگر اس پر اس کا بالکل الٹا اثر ہوا۔ جتنی شانت‘ متحمل‘ خیال رکھنے اور درگزر کرنے والی وہ آخری دو سال میں ہو گئی تھی۔وقت کی بھی بھلی پوچھو۔ چھبیس سال چھ ماہ اور سترہ دن تو چٹکی بجاتے گزر گئے اور اب ان چودہ سال کے طوالت کا یہ عالم ہے کہ وہ اب خواب و خیال لگتی ہے۔ آخری دنوں میں اسے بس یہی فکر لاحق تھی کہ مجھ جیسا سست‘ کاہل اور اپنی بعض خراب عادتوں کا اسیر یہ شخص اس کے بعد کیا کرے گا؟ اور ایمانداری کی بات ہے کہ میں اس کی اپنے بارے میں تمام تر فکر مندی کے باوجود اس موضوع پر سوچنے کیلئے ہی تیار نہیں تھا۔ یہ ایک عجب معاملہ ہے کہ آپ جس شخص سے جتنی زیادہ محبت کرتے ہوں‘ آپ اس کے جانے کے بارے میں شاید سوچ ہی نہیں سکتے۔ آپ معجزوں کے منتظر رہتے ہیں جیسا میں اُس رات تھا۔ سترہ اکتوبر کو اسے ہسپتال میں داخل کرواتے وقت یہ بات ہم گھر والوں کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھی کہ اسے اس طرح واپس لائیں گے۔ جس دن اس کو ہسپتال داخل کروایا عین اسی روز میری لاہور سے امریکہ کی فلائٹ تھی۔ سولہ اکتوبر کی دوپہر وہ مجھے کہنے لگی: کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ آپ امریکہ نہ جائیں ؟ میں نے کہا کہ میں نے وعدہ کر رکھا ہے۔ اس لیے جانا تو پڑے گا۔ ہاں البتہ واپس دو تین دن میں ہی آجاؤں گا۔ پھر میں نے ملتان سے لاہور اپنی شام والی فلائٹ کینسل کر دی اور لاہور کیلئے اگلے روز دوپہر کی فلائٹ میں نئی ٹکٹ لے لی۔ صبح میں پہلے دفتر  اور پھر وہاں سے ایئر پورٹ جانے کیلئے اپنا سامان اٹھانے کیلئے جانے لگا تو اللہ جانے اس کے جی میں کیا آئی کہ اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور کہا کہ میں نے آپ کو کبھی نہیں روکا لیکن آپ آج نہ جائیں۔ اس نے اس طرح مجھے کبھی بھی نہیں روکا تھا۔ پھر کہنے لگی میری طبیعت ٹھیک نہیں‘ اگر آپ چلے گئے تو پھر بعد میں پچھتائیں گے۔ ایمانداری کی بات یہ ہے کہ میں نے پہلے یہ سمجھا کہ یہ صرف مجھے روکنے کیلیے طبیعت کی خرابی کا کہہ رہی ہے جو بظاہر دکھائی نہیں دے رہی تھی‘ لیکن اللہ جانے میرے بھی دل میں کیا آئی کہ میں نے امریکہ فون کر کے کہہ دیا کہ میں نہیں آ رہا۔ دوپہر کو اچانک ہی اس کا بلڈ پریشر ایک دم خطرناک حد تک گر گیا۔ میں نے مذاق سے کہا کہ اب جبکہ میں امریکہ نہیں جا رہا تو اس ڈرامے کی کیا ضرورت ہے؟ وہ مسکرائی اور کہنے لگی آپ کو تو کبھی میری بیماری کا یقین ہی نہیں آیا۔ میں نے کہا تم نے بیماروں والی حرکتیں کی ہوتیں تو مجھے تمہاری بیماری کا یقین بھی آتا۔ تم بھلا کہیں سے بیمار لگتی ہو؟ تمہارے بہت سے جاننے والوں کو تمہاری علالت کا علم ہی نہیں۔ بھلا جو بندہ بیمار دکھائی نہ دیتا ہو وہ کتنا بیمار ہو سکتا ہے ؟ ہم اپنے پیاروں کے بارے میں آخر وقت تک معجزے کے منتظر ہوتے ہیں۔ اکیس اکتوبر کی شب نو بجے جب میں اس کا ہاتھ پکڑ کر اس کے بستر کی بائیں جانب کھڑا ہوا تھا تو ڈاکٹر اس کا سانس بحال کرنے کی تگ و دو میں مصروف تھے۔ کومل‘ سارہ‘ انعم اور اسد اس کے سرہانے کھڑے آنسو بہا رہے تھے۔ خاص طور پر کومل جو ڈاکٹر تھی‘ اسے صورتحال کا سب سے زیادہ ادراک تھا۔ وہ سب سے زیادہ پریشان اور مایوس کھڑی تھی۔ مجھے تب بھی کسی معجزے کا یقین تھا لیکن ضروری تو نہیں کہ واقعی معجزہ ہو بھی جائے۔ جیسے جیسے وقت گزرتا جا رہا ہے ملال بھی بڑھتے جارہے ہیں۔ سب سے بڑا ملال تو یہ ہے کہ اب مجھے کبھی کبھی ایسا لگنے لگ جاتا ہے کہ وہ اس شاید اس گھر میں میرے ساتھ تھی ہی نہیں۔ اس کا ہونا ایک وہم و خیال لگتا ہے۔ آپ ہی بتائیں جب کوئی حقیقت خواب لگنے لگ جائے تو پھر اس بڑا ملال اور کیا ہوسکتا ہے ؟ پھر خیال آتا ہے کہ اگر وہ تھی ہی نہیں تو پھر میں ایسا کیوں ہوں جیسا میں نہ تو کبھی تھا اور نہ ہی کبھی ایسا ہونے کا سوچا ہی تھا ؟ اور اب ایسا ہونے کا فائدہ بھی کیا ہے۔ فہمی بدایونی کا شعر شاید میرے جیسوں کیلئے ہے: اب ان کو یاد کر کے رو رہے ہیں؍ بچھڑتے وقت رونا چاہیے تھا وقت بڑی سست روی سے چل رہا ہے مگر ہر گزرتا سال بہرحال درمیان میں حائل فاصلے کو کم ضرور کر رہا ہے۔ اک یاد ہے کہ دامنِ دل چھوڑتی نہیں؍ اک بیل ہے کہ لپٹی ہوئی ہے شجر کے ساتھ ٭اس مرحلے کو موت بھی کہتے ہیں دوستو؍ اک پل میں ٹوٹ جائیں جہاں عمر بھر کے ساتھ</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90500073.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>راولپنڈی کے قدیم چائے خانے … (2)(شاہد صدیقی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-siddiqui/2026-10-21/52882/31354116</link><pubDate>Wed, 21 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-siddiqui/2026-10-21/52882/31354116</guid><description>یہ اُن دنوں کا ذکر ہے جب راولپنڈی میں گرمیوں کی شامیں طویل اور سحر انگیز ہوتی تھیں اور ہواؤں میں چنبیلی کے پھولوں کی مہک بسی ہوتی تھی۔ یا کم از کم مجھے ایسا لگتا تھا۔ یہ وہ دن تھے جب میں گورڈن کالج میں ایم اے انگلش کر رہا تھا۔ تب ہم دوست کالج کے بعد اپنا وقت چائے خانوں میں گزارتے تھے۔ پچھلی قسط میں ٹینچ بھاٹا‘ لالکرتی اور صدر کے چائے خانوں کا ذکر ہوا تھا۔ صدر کے چائے خانوں کے ذکر کے بعد اب ہم راولپنڈی کی مری روڈ پر واقع چائے خانوں کو یاد کرتے ہیں جو راولپنڈی کے تاریخی لیاقت باغ کے سامنے سڑک کے پار واقع تھے۔ اُن سے میں ایک پارک ہوٹل تھا۔ دراصل یہ پرانی کوٹھی تھی جسے ہوٹل میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ اس طرح کے کشادہ گھر اُن دنوں عام نظر آتے تھے۔ بعد میں اس کے برابر اور ریستوران بھی آ گئے جن میں کیفے ڈی ارشد اور الحیات ہوٹل شامل تھے۔ چونکہ ان ہوٹلوں کے سامنے ہی بس سٹاپ تھا لہٰذا یہاں پر ہر وقت لوگوں کا ایک ہجوم رہتا تھا۔ میرا الحیات ہوٹل اور کیفے ڈی ارشد کئی بار جانے کا اتفاق ہوا۔ ان تین ریستورانوں کے سامنے راولپنڈی کا تاریخی لیاقت باغ تھا۔ وہی لیاقت باغ جو کبھی کمپنی باغ کہلاتا تھا اور جو ایک جلسہ گاہ بھی تھا۔ اسی جگہ پاکستان کے دو وزرائے اعظم‘ لیاقت علی خان اور بینظیر بھٹو کو شہید کیا گیا تھا۔23مارچ 1973ء کو اسی لیاقت باغ میں حزبِ اختلاف کے اتحاد یو ڈی ایف (یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ ) کے جلسے پر فائرنگ کی گئی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ اس فائرنگ کی منصوبہ بندی میں پیپلز پارٹی کے رہنما اور اُس وقت کے گورنر پنجاب غلام مصطفی کھر بھی شامل تھے‘ اور یہ منصوبہ بندی پارک ہوٹل میں کی گئی تھی۔ لیاقت باغ کے جلسے میں شریک نہتے شہریوں پر اچانک فائرنگ سے ہر طرف ہڑبونگ مچ گئی۔ یہ قیامتِ صغریٰ کا منظر تھا۔ لوگ جان بچانے کیلئے ادھر اُدھر بھاگ رہے تھے۔ اسی جلسہ گاہ میں ہمارا دوست اور اردو کا معروف شاعر شعیب بن عزیز بھی شامل تھا جس نے بھاگ کر پارک ہوٹل میں پناہ لی تھی۔ اس فائرنگ میں عوامی نیشنل پارٹی کے بارہ افراد شہید ہو گئے۔ وہ دن اور اُس دن سے جڑی تفصیلات آج بھی شعیب بن عزیز کے دل و دماغ میں محفوظ ہیں۔ لیاقت باغ سے ذرا آگے مری روڈ پر اگر ہم اسلام آباد کی طرف جا رہے ہوں تو دائیں ہاتھ کمیٹی چوک ہے۔ یہ راولپنڈی کا مرکزی چوک ہے جو کبھی کبھار جلسہ گاہ کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ کمیٹی چوک کے بالکل سامنے‘ بائیں ہاتھ مشتاق کیفے ہوا کرتا تھا۔ مری روڈ پر واقع یہ ایک مصروف کیفے تھا۔ میں کئی بار یہاں اپنے دوستوں کے ہمراہ چائے پینے گیا ۔راولپنڈی کا مصروف ترین کاروباری مرکز راجہ بازار ہے جہاں ہزاروں لوگ ہر روز خرید و فروخت کیلئے آتے ہیں۔ راجہ بازار میں دو چائے خانے افضل ہوٹل اور مقبول ہوٹل ہوا کرتے تھے۔ ان ہوٹلوں پر ہر وقت بھیڑ لگی رہتی تھی کیونکہ قریب و دور سے آنے والے خریدار یہیں پر کھانا کھاتے اور چائے پیتے تھے۔ خاص بات یہ ہے کہ ان میں سے ایک ہوٹل چوبیس گھنٹے کھلا رہتا تھا۔ راجہ بازار کے فوارہ چوک پر اکمل کیفے تھا جو چائے کا ایک اہم مرکز تھا۔ یہ وہی اکمل کیفے تھا جہاں پیپلز پارٹی کے چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو ایک رات اچانک چائے پینے کیلئے پہنچ گئے تھے۔ اگلے روز اخبارات میں یہ خبر چھپی تو اکمل کیفے سب کی نظروں میں آ گیا۔ بھٹو کا یہی عوامی انداز لوگوں کو پسند آ گیا اور 70ء کے انتخابات میں پیپلز پارٹی مغربی پاکستان کی سب سے مقبول جماعت بن کر ابھری۔ پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے والے غیر معروف امیدواروں نے بڑے بڑے سیاسی برجوں کو اُلٹ دیا تھا۔ راولپنڈی کے جس حلقے میں ہم رہتے تھے وہاں قومی اسمبلی کیلئے پیپلز پارٹی کے خورشید حسن میر اور ایئر مارشل (ر)اصغر خان کے مابین مقابلہ تھا۔ بھٹو کے گرفتار ہو جانے کے بعد ایئر مارشل (ر)اصغر خان نے اپوزیشن کے تاریخی جلوس کی قیادت کی تھی۔ کہتے ہیں کہ وہ کراچی کی تاریخ کا طویل ترین جلوس تھا۔ یوں اصغر خان بھٹو صاحب کی گرفتاری کے بعد اپوزیشن کے مقبول رہنما بن کر ابھرے لیکن حیرت انگیز طور پر انتخابات میں پیپلز پارٹی کے ایک غیر معروف امیدوار خورشید حسن میر کے مقابلے میں ایئر مارشل (ر)اصغر خان کی ضمانت ضبط ہو گئی۔ اسی حلقے میں پیپلز پارٹی کے صوبائی اسمبلی کے امیدوار ڈاکٹر عبدالخالق اور جاوید حکیم قریشی بھی بھاری اکثریت سے جیت گئے تھے۔ڈاکٹرعبدالخالق گوالمنڈی کے رہنے والے تھے۔ انتہائی شریف النفس آدمی تھے۔ راولپنڈی کے ہاتھی چوک میں ان کا کلینک تھا۔ ڈاکٹر خالق کے سگے بھائی کا نام منظور تھا۔ دونوں بھائی ایک دوسرے سے بالکل مختلف تھے۔ ڈاکٹر خالق اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ان کا بھائی منظور سٹریٹ سمارٹ تھا۔ منظور گوالمنڈی کے مرکزی چوک پر ایگل ہوٹل کے نام سے ایک معروف چائے خانہ چلاتا تھا۔ چوک کے وسط میں واقع یہ گوالمنڈی کا مرکزی ہوٹل تھا جہاں چائے ادھار پر ملتی تھی اور منظور وقت پر ادھار نہ چکانے والوں کے ناموں کی فہرست نمایاں جگہ پر آویزاں کرتا تھا جہاں سے سڑک پر ہر آنے جانے والے کی نظر ان ناموں پر پڑتی تھی۔ اب میں اپنے دلبر گورڈن کالج کا رخ کرتا ہوں جس کے مین گیٹ کے بالکل سامنے‘ سڑک کے اُس پار مجید ہوٹل ہوا کرتا تھا‘ جو دراصل ایک ڈھابا تھا۔ جب میں گورڈن کالج سے ایم اے انگلش کر رہا تھا تو ہم دوست اکثر مجید ہوٹل پر بیٹھا کرتے تھے۔ یہاں بیٹھ کر ہمیں گورڈن کالج کے جوبلی ہال کے اوپر والی منزل پر اپنا ایم اے انگلش کا کلاس روم صاف نظر آتا تھا۔ گورڈن کالج کے مین گیٹ سے کچھ ہی فاصلے پر میزبان ہوٹل تھا۔ یہ اُس زمانے کا ایک معروف ہوٹل تھا‘ جس کے سائن بورڈ پر &#39;&#39;میزبان‘‘ بڑے منفرد سٹائل میں لکھا ہوا تھا۔ اب ہم گورڈن کالج کے عقبی گیٹ کی طرف چلتے ہیں۔ عقبی گیٹ سے باہر قدم رکھیں تو ایک دلآویز دنیا ہمارا انتظار کر رہی ہوتی تھی۔ کالج روڈ پر چائے خانوں اور ریستورانوں کا ایک جھرمٹ تھا۔ کالج روڈ کے ایک سرے پر سٹار ہوٹل تھا جو ایک روشن اور صاف ستھرا ریستوران تھا۔ میں دوستوں کے ہمراہ کئی بار وہاں گیا۔ ایک اور ریستوران جہاں گورڈن کالج کے استاد اور شاگرد بیٹھا کرتے تھے‘ قیصر ہوٹل تھا۔ قیصر ہوٹل گورڈن کالج کے عقبی گیٹ کے بالمقابل سڑک کے دوسری طرف تھا۔ یہ ہوٹل کسی نواب فیملی کا تھا جنہیں شکار کا شوق تھا۔ اس ہوٹل کے در و بام سے مالکان کا شوق جھلکتا تھا۔ قیصر ہوٹل سے کچھ فاصلے پر شبنم ہوٹل تھا۔ یہ بھی محفل آرائی کا ایک اہم مرکز تھا۔ یہ کالج روڈ کے اُن چائے خانوں کا تذکرہ ہے‘ جو گورڈن کالج کے طالب علموں کے ٹھکانے ہوا کرتے تھے۔ لیکن یہ تذکرہ ابھی مکمل نہیں ہوا۔ ابھی اس کے سب سے اہم باب کا ذ کر باقی ہے۔ یہ باب کالج روڈ پر واقع اُس چائے خانے کے بارے میں ہے جس کی چھب سب سے نرالی تھی۔ جہاں گورڈن کالج کے طلبہ اور اساتذہ پہروں بیٹھا کرتے تھے۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ 70ء اور 80ء کی دہائی میں گورڈن کالج میں پڑھنے والا کوئی طالب علم چائے خانے کے اس مقناطیسی مرکز سے ناآشنا ہو۔ (جاری)</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_21538475.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پی ٹی آئی کی سیاست کا فیصلہ کن موڑ(سلمان غنی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/salman-ghani/2026-10-21/52883/78899231</link><pubDate>Wed, 21 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/salman-ghani/2026-10-21/52883/78899231</guid><description>قومی سیاست میں احتجاج کی اپنی اہمیت وحیثیت رہی ہے جس کا بنیادی مقصد حکومتی پالیسیوں یا قومی ایشوز پر اختلاف کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کو نظرثانی اور مسائل کے حل پر آمادہ کرنا ہوتا ہے۔ پاکستان میں مختلف ادوار میں احتجاج نے سیاسی تبدیلی‘ جمہوری حقوق کے تحفظ‘ عوامی مسائل کے حل اور حکومتی پالیسیوں پر نظرثانی میں اہم کردار ادا کیا۔ احتجاج حکومت کیلئے ایک موقع بھی ہوتا ہے کہ وہ ان اسباب کا جائزہ لے اور مسائل کے حل کیلئے اقدامات کرے‘ لہٰذا احتجاج ایک جمہوری حق ہے لیکن اسکی کامیابی ہجوم جمع کرنے یا نظام مفلوج کرنے میں نہیں عوامی مطالبات کو قابلِ عمل فیصلوں میں تبدیل کرنے میں ہے۔ صحتمند جمہوریت میں حکومت کو اختلافِ رائے کو برداشت کرنا‘ اپوزیشن کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا اور ریاستی اداروں کو آئینی حدود میں رہتے ہوئے کردار ادا کرنا لازم ہوتا ہے۔ احتجاج جب مکالمے اور اصلاح کا راستہ کھولتا ہے تو جمہوریت مضبوط ہوتی ہے‘ لیکن جب یہ مستقل تصادم میں بدل جائے تو اسکے نقصانات ملک و قوم اور معیشت سمیت تمام شعبہ ہائے زندگی کو برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اپوزیشن نے حکومتوں پر دباؤ بڑھانے اور پالیسیوں پر نظرثانی کیلئے احتجاج کو جمہوری حق کے طور پر استعمال کرنے کے بجائے اکثر اسے حکومتیں گرانے یا کمزور کرنے کا ذریعہ بنایا۔ اس طرزِ عمل سے سیاسی جماعتوں کیساتھ جمہوری نظام کو بھی نقصان پہنچا۔ سیاسی اختلاف ذاتی دشمنی میں بدل گئے‘ اہلِ سیاست کی حالات پر گرفت کمزور ہوئی اور سیاسی جماعتوں اور عوام کے مابین عدم وابستگی کا رجحان بڑھا۔ بڑی سیاسی جماعتوں نے جمہوریت مضبوط کرنے کے بجائے حکومتوں کو کمزور کرنے کیلئے احتجاجی تحریکوں اور لانگ مارچ کا سہارا لیا۔ حکومتیں تو نہ گریں البتہ باہمی تناؤ اور تصادم نے جمہوری نظام اور اہلِ سیاست کی عزت و تکریم کو ضرور متاثر کیا۔ نیز سیاست میں مکالمے کے بجائے ڈیڈلاک کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ آج بھی حکومت اور اپوزیشن خصوصاً پی ٹی آئی کے درمیان یہی صورتحال دکھائی دیتی ہے۔ 2013ء کے انتخابات میں خیبر پختونخوا میں کسی جماعت کو واضح اکثریت حاصل نہ ہوئی تو اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف نے اسے صوبے میں حکومت بنانے کا موقع دیا۔ یہی سلسلہ 2024ء کے انتخابات میں بھی قائم رہا‘ تاہم پی ٹی آئی کی صوبائی حکومتیں صوبے کی ترقی اور عوامی خوشحالی کے بجائے سیاسی مفادات کے حصول کیلئے سرگرم رہیں اور احتجاجی و مزاحمتی سیاست ان کی پہچان بن گئی۔ پی ٹی آئی کی احتجاجی سیاست کے نتیجے میں وفاقی حکومتوں پر دباؤ آیا اور دھرنوں کے باعث حکومتیں کمزور ہوئیں۔ اس پس منظر میں دیگر عوامل بھی تھے‘ تاہم اسی سیاسی عمل نے پی ٹی آئی کو اقتدار تک پہنچنے کا موقع دیا۔ اقتدار میں آنے کے بعد ملک و قوم کی بہتری اور مل کر کام کرنے کے بجائے سیاسی مخالفین سے نمٹنے کا سلسلہ زور پکڑ گیا۔ اس وقت کی اپوزیشن نے پی ٹی آئی حکومت سے نجات کیلئے احتجاج کیساتھ دیگر قوتوں کی تائید و حمایت بھی حاصل کر لی نتیجتاً تحریکِ عدم اعتماد کامیاب ہوئی اور مسلم لیگ (ن)‘ پیپلز پارٹی‘ جمعیت علمائے اسلام اور دیگر جماعتوں پر مشتمل پی ڈی ایم اتحاد اقتدار میں آیا۔ پی ٹی آئی نے اس تبدیلی کو قبول کرنے کے بجائے احتجاج اور مزاحمت کو اپنا ہتھیار بنا لیا۔ 9 مئی 2023ء کے واقعات کے بعد پیدا ہونیوالی صورتحال سے یہ جماعت آج تک نہیں نکل سکی اور نہ ہی اس مقصد کیلئے کوئی سنجیدہ کوشش دکھائی دیتی ہے۔ اب خیبر پختونخوا حکومت کے خاتمے کی صورت کیونکر پیدا ہوئی اور پی ٹی آئی کا لانگ مارچ نتیجہ خیز کیوں نہ ہو سکا یہ معاملات ڈھکے چھپے نہیں رہے۔ سہیل آفریدی نے وزارتِ اعلیٰ سنبھالنے کے بعد سے اپنے لیڈر کی نظروں میں خود کو سرخرو کرنے کیلئے احتجاجی سیاست کو ترجیح دی۔ انکی تیاریوں سے ظاہر ہوتا تھا کہ وہ اسلام آباد میں کوئی غیرمعمولی صورتحال پیدا کرنا چاہتے ہیں جبکہ وفاق نے ایسی صورتحال پیدا نہ ہونے دینے کا عزم کر رکھا تھا۔ اس کے اثرات پی ٹی آئی کی سیاست پر بھی مرتب ہوئے۔ بعض اپوزیشن رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ احتجاج کے بجائے مذاکرات کی طرف آنا چاہیے‘ لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ وجہ وہی مخصوص مائنڈ سیٹ ہے جس نے وفاقی حکومت پر اثرانداز ہونے کی کوشش میں اپنی صوبائی حکومت کے خاتمے کی ہی راہ ہموار کر دی۔اب کہا جا رہا ہے کہ حکومت نے گورنر راج کی تیاری بہت پہلے سے کر رکھی تھی۔ اگر ایسا تھا تو حکومت‘ اسکے ذمہ داران اور اتحادی ایمرجنسی اور گورنر راج کے معاملے پر دفاعی انداز کیوں اختیار کرتے نظر آتے ہیں؟ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے اور ایمرجنسی کے نفاذ کے حوالے سے جس ردِعمل کی توقع کی جا رہی تھی وہ بھی سامنے نہیں آیا۔ پی ٹی آئی کی قیادت جس احتجاجی بخار میں مبتلا رہی‘ وہ اب ٹوٹ چکا ہے۔ اپوزیشن کے کئی رہنما دبے لفظوں میں تسلیم کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ احتجاجی اور مزاحمتی سیاست نے جماعت کو اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے جہاں اس کی آخری سیاسی پناہ گاہ بھی چھن چکی ہے۔ پی ٹی آئی اندرونی بحران سے دوچار ہے۔ سینکڑوں رہنما اور کارکن جیلوں میں ہیں لیکن ان کیلئے مؤثر آواز سنائی نہیں دے رہی۔ بعض رہنما اب احتجاجی سیاست سے نکل کر سیاسی طرزِ عمل اختیار کرنے کی بات کر رہے ہیں لیکن یہ حکمتِ عملی کامیاب ہو سکے گی یا نہیں فی الحال کچھ کہنا مشکل ہے کیونکہ پارٹی میں حتمی فیصلہ اسیر لیڈر کا ہی ہوتا ہے۔ پی ٹی آئی کی پہچان احتجاج اور مزاحمت سے منسلک کرنے میں بانی پی ٹی آئی کا بنیادی کردار ہے۔ ان کے نزدیک وفاداری احتجاجی سیاست سے وابستگی کا نام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس پالیسی پر گامزن سہیل آفریدی اب سیاسی منظرنامے سے غائب ہیں‘صوبائی حکومت ان کے ہاتھ سے نکل چکی اور ان کے مورچے پر سکتہ طاری ہے۔پی ٹی آئی کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ اس کا ووٹ بینک بانی پی ٹی آئی سے وابستہ ہے اور انکی ضد کے باعث آگے بڑھنے کا راستہ بنتا نظر نہیں آ رہا۔ مذاکرات اور سیاسی معاملات کیلئے جس شخص کو اپوزیشن لیڈر بنایا گیا وہ نہ مذاکراتی سلسلہ بحال کرا سکا اور نہ ہی کوئی سیاسی راستہ نکال سکا۔ اب خود اپوزیشن کی صفوں سے آوازیں اُٹھ رہی ہیں کہ حکمتِ عملی کیساتھ ساتھ اپوزیشن لیڈر بھی تبدیل کیا جائے۔ ادھر محمود خان اچکزئی کا کہنا ہے کہ مجھے جس نے اپوزیشن لیڈر بنایا تھا وہی ہٹانے کا اختیار رکھتا ہے۔ گویا وہ اپنی ناکامی تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ پی ٹی آئی کے اراکینِ اسمبلی کی مایوسی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ایسے افراد کو اپوزیشن قیادت کیلئے منتخب کیا گیا جس کی قومی اسمبلی اور سینیٹ میں ایک ایک نشست ہے اور وہ کسی کو جوابدہ بھی نہیں۔ اب فیصلہ پی ٹی آئی کی جیل سے باہر موجود قیادت کو کرنا ہے۔ اسے اپنی جماعت کا سیاسی کردار بحال کرنے اور اسیر رہنماؤں اور کارکنوں کی رہائی کیلئے راستہ نکالنا ہوگا۔ اسی سے اس کے سیاسی مستقبل کا تعین ہوگا۔ دوسری جانب یہ حقیقت بھی واضح ہو چکی ہے کہ جو احتجاجی سیاست کبھی پی ٹی آئی کی مضبوطی کا باعث تھی وہی اب اسکی کمزوری بن چکی ہے۔ بڑے ووٹ بینک کے باوجود جماعت کا مؤثر سیاسی کردار دکھائی نہیں دے رہا۔ وہ آج تک نو مئی کے اثرات سے خود کو نکال نہیں پائی۔ اسے سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ریاست اور ریاستی اداروں کو بالواسطہ یا بلاواسطہ ہدف بنانے کا عمل اس کے پاؤں کی زنجیر بن چکا ہے۔ اس سے نجات حاصل کرنا جیل سے باہر موجود قیادت کی ذمہ داری ہے۔اسے سمجھنا ہو گا کہ ریاستی اداروں کیخلاف سوشل میڈیا کا منفی کردار انکے کھاتے میں پڑتا ہے اور یہ اسکی موجودہ مشکلات کی بڑی وجوہ میں شامل ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آخر کب تک جیل سے باہر بیٹھے رہنما اڈیالہ کی طرف دیکھتے رہیں گے۔ کیا قیادت جیل سے کسی اشارے کی منتظر رہے گی یا پارٹی کو اس مشکل صورتحال سے نکالنے کیلئے خود کوئی قدم اٹھائے گی؟ اس حوالے سے آنے والے چند روز اہم ہوں گے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/230_37874475.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>معدنی وسائل، سیاسی پوائنٹ سکورنگ یا معاشی بقا؟(عبدالواسع ملک)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/abdul-wase-malik/2026-10-21/52884/73295069</link><pubDate>Wed, 21 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/abdul-wase-malik/2026-10-21/52884/73295069</guid><description>خیبر پختونخوا ایک ایسا خطہ ہے جسے قدرت نے خوبصورت مناظر کے ساتھ ساتھ لامتناہی اور گرانقدر قدرتی خزانوں سے بھی نوازا ہے۔ سونے‘ تانبے‘ ماربل‘ قیمتی پتھروں اور نایاب معدنیات سے مالا مال یہ سرزمین اگر اپنے وسائل کو صحیح معنوں میں استعمال میں لائے تو نہ صرف صوبہ خیبر پختونخوا بلکہ پورا پاکستان معاشی خودکفالت کی نئی راہوں پر گامزن ہو سکتا ہے۔ ان دنوں میڈیا‘ سیاسی راہداریوں اور عوامی حلقوں میں خیبر پختونخوا کے معدنیات کی تلاش و دریافت کے حوالے سے بحث جاری ہے۔ یوں تو کسی بھی جمہوری اور زندہ معاشرے میں قومی اور معاشی حکمت عملیوں پر بحث و تمحیص ایک مثبت روایت سمجھی جاتی ہے‘ لیکن انتہائی افسوسناک اور تشویشناک امر یہ ہے کہ بعض سیاسی رہنما اور مخصوص عناصر محض اپنے ذاتی و سیاسی مفادات کی آڑ میں اس قومی و معاشی اہمیت کے حامل موضوع کو متنازع بنانے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔ خیبرپختونخوا کے سیاسی اور انتظامی پس منظر کا باریک بینی سے جائزہ لیں تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ صوبے میں حکومت کی حالیہ تبدیلی کی بنیادی وجہ دہائیوں سے جاری دہشت گردی کے ناسور کے خلاف ناکافی اقدامات‘ امن و امان کی بحالی اور تباہ حال گورننس کے مسائل تھے۔ صوبے کے عوام ایک ایسی قیادت اور انتظامی ساخت کے خواہش مند تھے جو اُن کے بنیادی انسانی و معاشی حقوق کی حفاظت کر سکے اور انہیں امن و امان کی ضمانت فراہم کرے۔ لیکن بدقسمتی سے آج چند سیاسی عناصر عوام کی توجہ ان بنیادی اور اصل درپیش چیلنجز سے ہٹا کر اپنے مخصوص اور ذاتی ایجنڈے کو فروغ دینے میں مصروف ہیں۔ معاشی منصوبوں کو سیاسی پوائنٹ سکورنگ کی نذر کرنا نہ صرف صوبے کی عوام کے ساتھ ناانصافی ہے بلکہ یہ ملکی معیشت کی پیٹھ میں خنجر گھونپنے کے مترادف ہے۔عالمی معاشی حقیقتوں‘ جدید دنیا کی ٹیکنالوجیکل پیش رفت اور بدلتے ہوئے دور کے تقاضوں کا تجزیہ کیا جائے تو یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ اگر ہم آج اپنے ان قدرتی اور معدنی وسائل کو بروئے کار نہ لائے اور انہیں زمین کی تہہ سے باہر نہ نکالا تو آنے والے چند برسوں اور دہائیوں میں یہ اپنی تمام تر قدر و قیمت اور افادیت کھو دیں گے۔ اس کی سب سے بڑی اور روشن مثال عرب ممالک (خلیجی ریاستوں) کی ہے۔ ذرا غور کیجیے کہ اگر عرب ممالک نے بروقت اپنی زمین سے تیل (Fossil Fuel) نہ نکالا ہوتا تو آج اس تیل کی کیا معاشی اور تجارتی قیمت رہ جاتی؟ آج جب دنیا ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے تیزی سے گرین انرجی اور الیکٹرک پاور کی طرف منتقل ہو رہی ہے‘ تیل کی روایتی طلب میں بتدریج کمی آ رہی ہے۔ اگر خلیجی ممالک اُس دور میں تیل نہ نکالتے تو وہ کبھی اتنے امیر اور خودکفیل نہ بن پاتے اور آج ان کا تیل زمین کے نیچے ایک بے سود مائع بن کر رہ جاتا۔ یہی عالمگیر معاشی اصول دیگر تمام تر معدنیات‘ دھاتوں اور قیمتی پتھروں پر بھی من وعن لاگو ہوتا ہے۔ دنیا میں سائنسی ایجادات کی رفتار اتنی تیز ہے کہ جو معدنیات آج صنعتی اور معاشی دنیا کے لیے ناگزیر سمجھی جاتی ہیں‘ ممکن ہے کل کوئی متبادل ٹیکنالوجی یا مصنوعی ترکیب ان کی جگہ لے لے۔ اگر آج ہم نے سیاسی نا اتفاقی‘ پراپیگنڈے اور ہٹ دھرمی کے باعث اپنے ان خزانوں کو زمین کے اندر ہی دبے رہنے دیا اور وقت پر ان کی تلاش و دریافت نہ کی تو بدلتی ہوئی دنیا کی نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ یہ بے بہا خزانوں کی جگہ محض بے سود اور لاحاصل پتھر بن کر رہ جائیں گے‘ جن کی بین الاقوامی مارکیٹ میں کوئی قدر نہیں ہو گی۔ دنیا بھر کی معاشی تاریخ اور تجربات یہ ثابت کرتے ہیں کہ جہاں بھی حکومتیں اپنے محدود مالی‘ تکنیکی اور فنی وسائل کے باعث انفرادی طور پر بڑے اور بھاری سرمائے کے حامل منصوبوں کو چلانے کی صلاحیت نہیں رکھتیں‘ وہاں غیر ملکی سرمایہ کاری کو دعوت دی جاتی ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کاری کا مطلب ملک یا صوبے کے وسائل کو فروخت کرنا نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک ایسا معاشی اشتراکِ کار ہوتا ہے جس کے تحت عالمی کمپنیاں نہ صرف اربوں ڈالر کا زرِ مبادلہ اور سرمایہ لاتی ہیں بلکہ جدید ترین سائنسی ٹیکنالوجی‘ جدید آلات اور عالمی تجربہ بھی ساتھ لاتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ‘ ایسی بین الاقوامی کمپنیاں کارپوریٹ سوشل ریسپانسیبلٹی (CSR) کے طے شدہ قوانین کے تحت مقامی آبادی کی معاشی‘ سماجی اور بنیادی فلاح و بہبود کے لیے بھاری فنڈز فراہم کرنے کی پابند ہوتی ہیں۔ اس کی ایک انتہائی واضح اور کامیاب مثال بلوچستان کے ضلع چاغی میں ریکوڈک کاپر اور گولڈ پروجیکٹ پر کام کرنے والی کمپنی بیرک گولڈ کارپوریشن (Barrick Gold Corporation /RDMC) ہے۔ اس کمپنی نے اپنے منصوبے کے باقاعدہ آغاز سے قبل ہی مقامی آبادی اور علاقے کی ترقی کے لیے کارپوریٹ سوشل ریسپانسیبلٹی کے تحت انتہائی شاندار اقدامات کیے۔ کمپنی نے اپنے منصوبے کے پہلے ہی سال تین ملین ڈالر اور دوسرے  سال سات ملین ڈالر کا ابتدائی سی ایس آر بجٹ مختص کیا‘ جس کا بڑا حصہ مقامی کمیونٹی ڈویلپمنٹ کمیٹیوں کے سپرد کیا گیا۔ اس فنڈنگ سے چاغی‘ گوادر اور گردونواح کے علاقوں میں پینے کے صاف پانی‘ سکولوں‘ ہسپتالوں اور روزگار کے مواقع کی فراہمی ممکن بنائی گئی۔ یہی ماڈل خیبرپختونخوا کے پسماندہ اور معدنیات سے مالا مال اضلاع میں بھی انقلاب برپا کر سکتا ہے۔ دوسری طرف‘ سیاسی حلقوں میں اس بے بنیاد پراپیگنڈے کو ہوا دینا بھی سراسر لاعلمی‘ سیاسی بدنیتی اور تکنیکی نااہلی پر مبنی ہے کہ خیبر پختونخوا میں نیاانتظامی یا حکومتی سیٹ اَپ محض معدنیات کی فوری تلاش یا ان کی تقسیم و فروخت کیلئے قائم کیا گیا ہے۔ جو لوگ معدنیات اور مائننگ کی صنعت سے معمولی واقفیت بھی رکھتے ہیں‘ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ معدنیات کی تلاش‘ ان کی لاگت کا تخمینہ (Cost Evaluation) اور ان کے معیار اور مقدار (Quality & Quantity) کا سائنسی اور جیو فزیکل جائزہ لینا کوئی چند ماہ کا کھیل نہیں ہے۔ اس پیچیدہ سائنسی عمل کے لیے دہائیوں کی جامع تحقیق‘ نقشہ نگاری‘ ڈرلنگ اور مسلسل محنت درکار ہوتی ہے۔ کوئی بھی کمپنی چھ ماہ میں نہ تو کاپر یا سونا نکال سکتی ہے اور نہ ہی حکومت راتوں رات اسے بیچ  سکتی ہے۔ آج وقت کی سب سے اہم ضرورت اور ملکی بقا کا تقاضا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں‘ مقامی رہنما اور اربابِ اختیار سیاسی پوائنٹ سکورنگ‘ افواہ سازی اور ذاتی مفاد پرستی کو بالائے طاق رکھیں۔ ملک اور بالخصوص خیبر پختونخوا کے معاشی  مستقبل‘ امن اور پائیدار ترقی کو اولین ترجیح دی جائے۔ بدلتی دنیا اور ٹیکنالوجی کے اس دور میں خیبر پختونخوا کے معدنی وسائل کو متنازع بنانا معاشی خودکشی کے مترادف ہے۔ اگر آج ان خزانوں کو بروئے کار نہ لایا گیا تو آنے والے ادوار میں یہ بے  سود پتھر بن کر اپنی تمام تر معاشی قدر کھو دیں گے لیکن اگر ان قدرتی خزانوں کو شفافیت‘ بین الاقوامی سرمایہ کاری اور جدید سائنسی اصولوں کے تحت بر وقت دریافت کر لیا جائے تو یہ وسائل نہ صرف خیبر پختونخوا بلکہ پورے پاکستان کی آنے والی نسلوں کی خوشحالی‘ روزگار‘ معاشی استحکام اور خودکفالت کا سب سے بڑا اور پائیدار ذریعہ بن سکتے ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/236_19152605.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ڈپریشن کا خاتمہ(علامہ ابتسام الہٰی ظہیر )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-10-21/52885/63937672</link><pubDate>Wed, 21 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-10-21/52885/63937672</guid><description>موجودہ دور مادہ پرستی کے عروج کا دور ہے۔ مادی عروج حاصل کرنے کیلئے لوگ کئی مرتبہ دوسروں کے حقوق کو یکسر فراموش کر دیتے اور فقط اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسی طرح آج کے دور میں انسانی تعلقات‘ دوستیاں‘ رشتے وغیرہ بھی خلوص سے زیادہ مفادات کی بنیاد پر استوار ہو چکے ہیں۔ انسان اپنے معاملات اور معمولات کو انجام دینے کے لیے بالعموم تنہا کوششیں کرتا نظر آتا ہے اور بے چینی‘ بے قراری‘ تکالیف اور مشکلات کے وقت قریبی دوست احباب اور اعزہ واقارب بھی دل سے اس کا ساتھ دینے پر تیار نہیں ہوتے۔ اس وجہ سے معاشرے میں بہت سے لوگ نفسیاتی عوارض کا شکار ہو جاتے ہیں جن میں ڈپریشن یا غم سرفہرست ہے۔ ان مسائل سے نکلنے کیلئے لوگ کئی مرتبہ نفسیاتی و طبی ماہرین سے رجوع کرتے ہیں۔ کتاب و سنت نے اس حوالے سے اہل اسلام کی نہایت خوبصورت انداز میں رہنمائی کی ہے۔ طبی علاج و معالجے کیساتھ اگر ان تدابیر کو بھی اختیار کر لیا جائے تو انسان اپنے غموں پر قابو پانے کے قابل ہو سکتا ہے۔ اس حوالے سے بعض اہم تدابیر درج ذیل ہیں:1۔ ایمان: اللہ تبارک وتعالیٰ پر پختہ ایمان انسان میں امید‘ حوصلہ اور زندگی کی مشکلات کا سامنا کرنے کی قوت پیدا کرتا ہے۔ ایمان انسان کو یہ یقین دلاتا ہے کہ وہ مشکلات میں بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہو اور اپنے حالات کی بہتری کیلئے کوشش جاری رکھے۔ اللہ تعالیٰ سورۂ یونس کی آیات: 62 تا 63 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;سن لو! بیشک اللہ کے دوستوں پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور تقویٰ اختیار کرتے رہے‘‘۔ اسی طرح سورۃ البقرہ کی آیت: 257 میں ارشاد ہوا: &#39;&#39;اللہ ایمان والوں کا دوست اور محافظ ہے۔ وہ انہیں تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتا ہے‘‘۔ بعض اوقات ڈپریشن میں مبتلا شخص یہ محسوس کرتا ہے کہ ہر طرف اندھیرے چھا گئے ہیں اور ان مسائل سے نکلنے کیلئے اس کی استطاعت اور صلاحیتیں کفایت نہیں کر سکتیں۔ ڈپریشن کے دوران اللہ تبارک وتعالیٰ کی ذات پر مضبوط ایمان انسان کے لیے بہت بڑا سہارا بن جاتا ہے۔ 2۔ تقویٰ: تقویٰ اسلامی زندگی کی بنیادی اقدار میں سے ایک ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ انسان اللہ تبارک وتعالیٰ کی کبریائی اور خوف کی وجہ سے گناہوں سے بچے۔ جب انسان تقویٰ اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو کامیاب کر دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سورۃ البقرہ کی آیت: 189 میںارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;اور اللہ سے ڈرو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ‘‘۔اسی طرح سورۃ الطلاق کی آیت: 2 میںارشاد ہوا: &#39;&#39;اور جو شخص اللہ سے ڈرے گا اللہ اس کے لیے نکلنے کا راستہ بنا دے گا‘‘۔ چنانچہ انسان کو ڈپریشن کے دوران تقویٰ کو اختیار کرنا چاہیے۔ 3۔ توکل: توکل کا مطلب یہ ہے کہ انسان جائز اسباب اختیار کرنے اور اپنی استطاعت کے مطابق کوشش کرنے کے بعد‘ اپنے معاملات اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دے۔ توکل انسان کو غیر ضروری خوف‘ بے جا فکر اور مستقبل کے بارے میں حد سے بڑھی ہوئی تشویش کا مقابلہ کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سورۃ الطلاق کی آیت: 3 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;اور جو شخص اللہ پر بھروسا کرے تو وہ اس کے لیے کافی ہے‘‘۔ چنانچہ جو شخص ڈپریشن کا شکار ہے اس کو اللہ تعالیٰ پر مکمل بھروسہ کرنا چاہیے۔ اللہ اس بھروسے کی وجہ سے انسان کو ڈپریشن سے باہر نکال دیتا ہے۔ 4۔ قرآن مجید سے تعلق: قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب اور انسانیت کیلئے رشد وہدایت کا عظیم سرچشمہ ہے۔ اس کی تلاوت باعثِ اجر و ثواب ہے جبکہ اس کے معانی پر غور و فکر اور اس کی تعلیمات پر عمل‘ انسان کی زندگی میں مثبت تبدیلی پیدا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سورۂ بنی اسرائیل کی آیت: 82 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;اور ہم قرآن میں وہ چیز نازل کرتے ہیں جو ایمان والوں کے لیے شفا اور رحمت ہے‘‘۔ اسی طرح سورۂ یونس کی آیت: 57 میں ارشاد ہوا: &#39;&#39;اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت آ چکی ہے‘ اور دلوں کی بیماریوں کے لیے شفا‘ اور ایمان والوں کے لیے ہدایت اور رحمت‘‘۔ ان آیاتِ مبارکہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جب انسان قرآنِ مجید سے تمسک اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی بیماریوں کو دور کر دیتے ہیں۔ قرآن مجید کی بعض سورتوں اور آیات کی تلاوت کی احادیث شریف میں خصوصی فضیلت بیان ہوئی ہے۔ ان میں سورۃ الفاتحہ‘ سورۃ البقرۃ‘ سورۃ الاخلاص‘ سورۃ الفلق اور سورۃ الناس کے علاوہ آیت الکرسی اور سورۃ البقرۃ کی آخری دو آیات شامل ہیں۔ ڈپریشن کے شکار شخص کو خصوصیت سے ان سورتوں اور آیتوں کی تلاوت کرنی چاہیے۔5۔ ذکر الٰہی: اللہ تعالیٰ کا ذکر مسلمان کی زندگی کا ایک اہم حصہ ہے۔ ذکر کے ذریعے انسان اپنے رب کو یاد کرتا اور اس کی نصرت کا طلبگار بن جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سورۃ الاحزاب کی آیات: 41 تا 43 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;اے ایمان والو! اللہ کو کثرت سے یاد کرو‘ اور صبح و شام اس کی تسبیح بیان کرو۔ وہی ہے جو تم پر رحمت بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے بھی‘ تاکہ وہ تمہیں تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لے آئے‘ اور وہ اہلِ ایمان پر بہت مہربان ہے‘‘۔ اسی طرح سورۃ الرعد کی آیت: 28 میں ارشاد ہوا: &#39;&#39;جو لوگ ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کے ذکر سے اطمینان حاصل کرتے ہیں۔ سن لو! اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے‘‘۔ ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ غموں کی دوری اور دلوں کے اطمینان کیلئے ذکر الٰہی ایک بہترین تدبیر ہے۔6۔ درود شریف کی کثرت: سیدنا محمدﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری رسول ہیں۔ آپﷺ پر درود و سلام بھیجنا مسلمانوں کیلئے ایک عظیم سعات اور عبادت ہے۔ اللہ تعالیٰ سورۃ الاحزاب کی آیت: 56 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود بھیجو اور خوب سلام بھیجو‘‘۔ احادیث مبارکہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جو شخص نبی کریمﷺ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ تبارک وتعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتے اور اس کی دس خطاؤں کو معاف کرتے اور اس کے دس درجات کو بلند کرتے ہیں۔ جو انسان کثرت سے نبی کریمﷺ کی ذاتِ اقدس پر درود بھیجتا ہے‘ اللہ تبارک وتعالیٰ اس کے گناہوں کو معاف کر دیتے اور اس کے غموں کو دور فرما دیتے ہیں۔ 7۔ دعا: دعا بندے اور اس کے رب کے درمیان تعلق کا اہم ذریعہ ہے۔ انسان خوشی اور غم‘ آسانی اور مشکل‘ غرض ہر حالت میں اللہ تعالیٰ سے دعا کر سکتا ہے۔ سورۃ البقرہ کی آیت: 186 میں ارشاد ہوا: &#39;&#39;اور جب میرے بندے آپ سے میرے بارے میں پوچھیں تو بیشک میں قریب ہوں۔ میں دعا کرنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ مجھ سے دعا کرتا ہے۔ پس انہیں چاہیے کہ میرا حکم مانیں اور مجھ پر ایمان رکھیں تاکہ وہ ہدایت پائیں‘‘۔ سورۃ النمل کی آیت: 62 میں ارشاد ہوا: &#39;&#39;بھلا کون ہے جو بے قرار شخص کی دعا قبول کرتا ہے جب وہ اسے پکارتا ہے‘‘۔ دعا کرنے سے بھی انسان کے غم دور ہو جاتے ہیں۔ 8۔ توبہ واستغفار: کتاب وسنت کے مطالعہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ انسانوں کی پریشانیوں کی ایک بڑی وجہ ان کے گناہ ہوتے ہیں۔ سورۃ الشوریٰ کی آیت: 30 میں ارشاد ہوا &#39;&#39;اور تمہیں جو بھی مصیبت پہنچتی ہے وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کے کمائے ہوئے اعمال کی وجہ سے ہے‘‘۔ سورۃ الروم کی آیت: 41 میں ارشاد ہوا: &#39;&#39;خشکی اور سمندر میں فساد ظاہر ہو گیا ہے‘ لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی کی وجہ سے‘‘۔ انسان جب تکالیف اور مشکلات کے دوران اللہ تبارک وتعالیٰ سے توبہ واستغفار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی تکالیف اور غموں کو دور فرما دیتے ہیں۔ 9۔ انفاق فی سبیل اللہ: سورۃ البقرہ کی آیت: 274 میں ارشاد ہوا: &#39;&#39;جو لوگ اپنے مال اللہ کی راہ میں رات اور دن‘ پوشیدہ اور علانیہ خرچ کرتے ہیں انکا اجر انکے رب کے پاس ہے۔ نہ ان پر کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے‘‘۔مسلمانوں کو چاہیے کہ طبی ذرائع کو استعمال کرنے کیساتھ مذکورہ بالا روحانی تدابیر بھی اختیار کریں تاکہ اپنے غموں پر قابو پانے میں کامیاب ہو جائیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_19740082.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>