<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>گورنر راج ،ایمرجنسی یا لانگ مارچ کا خاتمہ؟(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-11/11621</link><pubDate>Sun, 11 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-11/11621</guid><description>ہفتہ کے روز ایوانِ صدر میں وزیراعظم شہباز شریف اور صدرِ مملکت آصف علی زرداری کی ملاقات میں ملک کی سیاسی اور سلامتی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا اورمنگل کو سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاس بلانے پر اتفاق کیا گیا۔ اس پیش رفت کو خیبرپختونخوا میں ایمر جنسی کے نفاذ پر حکومتی سطح پر اتفاقِ رائے سے تعبیر کیا جارہا ہے۔ آج اتوار کے روز وفاقی کابینہ کا اجلاس بھی طلب کیا گیا ہے جس میں اس فیصلے کی منظوری کا امکان ظاہر کیا گیا ہے جبکہ منگل کو پارلیمان کے اجلاس میں ممکنہ طور پر اس فیصلے کی توثیق کی جا سکتی ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں غیر معمولی آئینی آپشن کا عندیہ کئی روز سے دیا جارہا تھا تاہم ایک امید سی تھی کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے مابین بات چیت کے نتیجے میں کوئی پیش رفت ان خدشات کو ٹال سکتی ہے ‘ بدقسمتی سے تادم تحریر ایسی کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی اوروفاقی حکومت کی جانب سے ایمرجنسی کا عندیہ سامنے آیا ہے۔ خیبر پختونخوا میں بڑھتی دہشت گردی وفاقی حکومت کیلئے سب سے بڑی تشویش ہے اور اس صورتحال میں صوبائی حکومت سے تعاون کی توقع کی جاتی ہے‘ تاہم صوبائی حکومت کا رویہ وفاق اور صوبے کے تعلقات کار میں خلیج ثابت ہوا ۔

اس حال میں اسلام آباد کی جانب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا حالیہ لانگ مارچ صوبائی حکومت اور وفاق کے معاملات میں اونٹ کی کمر پر آخری تنکا ثابت ہوا۔ جمہوری نظام حکومت میں ایمرجنسی کوئی مثالی حل نہیں مگروفاق کی تشویش‘ چیلنجز اور مشکلات آئین میں دیے گئے اس آپشن کو جوازمہیا کرتے ہیں۔ وفاقی حکومت کی اولین ترجیح دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنا اور قومی سلامتی کا تحفظ یقینی بنانا ہے لیکن صوبائی حکومت سیاسی ہیجان کو کم کرنے پر آمادہ نہیں ۔ اس صورتحال کو بدقسمتی ہی کہا جا سکتا ہے کہ عوام کو سیاسی جماعتوں کے کچھ انتہائی ذاتی نوعیت کے معاملات کا بھگتان بھگتنا پڑتا ہے۔ پچھلے کچھ عرصے میں پی ٹی آئی کی خیبرپختونخوا حکومت نے کتنے ہی لانگ مارچ کیے‘ عوام نے جنہیں بڑی تکلیف سے برداشت کیا ۔ اسلام آباد پچھلے کئی ہفتوں سے کنٹینروں کے حصار میں ہے۔ کیا اس سے دنیا میں پاکستان کا اچھا تاثر جاتا ہے؟ ایک ملک جو خطے میں اور عالمی سطح پر قیام امن کے لیے کردار ادا کررہا ہے اس کے اپنے دارالحکومت میں یہ تناؤ پاکستان کے عالمی تشخص کیلئے ناموافق ہے۔ احتجاج خواہ سیاسی ہوں یا غیرسیاسی ملکی معیشت کیلئے بے حد نقصان دہ ہیں۔
سیاسی جماعتوں کیلئے ان کی قیادت کی اہمیت اپنی جگہ مگر کیا یہ زیب دیتا ہے کہ کوئی سیاسی جماعت عوامی مسائل‘ ملکی سلامتی اور سیاسی استحکام‘ سب کچھ داؤ پر لگا کر جب جی میں آئے وفاقی دارالحکومت پر ہلہ بول دے؟ یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے‘ تاکہ ملکی اور عوامی مسائل کی جانب سنجیدگی اور توجہ کا ماحول بن سکے۔ حکومت اور پی ٹی آئی کے مابین حالیہ دنوں مذاکرات ہوئے مگر اس لانگ مارچ کی شورش میں یہ بیل بھی منڈے نہ چڑھ پائی۔ بعد میں مولانا فضل الرحمن کو اس معاملے میں کردار ادا کرنے کیلئے درخواست کی گئی مگر اس سے پہلے کہ کوئی نتیجہ خیز پیش رفت سامنے آتی حکومت کی جانب سے ایمرجنسی کا عندیہ سامنے آگیا۔تاہم امکانات اب بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔ خاص طور پر گزشتہ شام وزیراعظم سے مولانا فضل الرحمن کی ملاقات اور ایمرجنسی کے بجائے مسئلے کے حل کیلئے سیاسی مشاورت‘ باہمی اتفاقِ رائے اور تمام متعلقہ فریقوں کو اعتماد میں لینے کی ضرورت پر زور صورتحال کے سیاسی حل کے امکانات کو وضح کرتا ہے۔ تاہم گیند پی ٹی آئی کی کورٹ میں ہے۔بادی النظر میں حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کو ایک انتخاب کرنا ہے‘ گورنر راج‘ایمرجنسی یا لانگ مارچ کا خاتمہ ۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>اشیائے ضروریہ مزید مہنگی(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-11/11620</link><pubDate>Sun, 11 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-11/11620</guid><description> وفاقی ادارۂ شماریات کے مطابق آٹھ اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران 20 اشیائے ضروریہ مزید مہنگی ہوگئیں جبکہ ہفتہ وار مہنگائی کی شرح تقریباً 12فیصد تک پہنچ گئی۔ رپورٹ کے مطابق پیاز کی قیمت میں سالانہ بنیادوں پر 100فیصد‘ ایل پی جی 68‘ بجلی 58‘ پٹرول 47‘ ڈیزل 42اور آٹے کی قیمت میں 32فیصد اضافہ ہوا۔ ایک ہفتے کے دوران ملک کے مختلف شہروں میں بیس کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت میں تقریباً 400 روپے تک کا اضافہ ہوا ہے۔ مہنگائی پر قابو پانے کیلئے حکومتی کوششوں کو مزید مؤثر اور نتیجہ خیز بنانے کی ضرورت ہے۔ اگرچہ وفاقی وزیر منصوبہ بندی نے جمعہ کے روز نیشنل پرائس مانیٹرنگ کمیٹی کے اجلاس میں اشیائے ضروریہ‘ بالخصوص آٹے کی قیمتوں میں اضافے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے صوبائی اور ضلعی انتظامیہ کو رسد‘ منڈیوں میں اشیا کی آمد‘ ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کی سخت نگرانی کی ہدایات دی ہیں۔

تاہم اصل کام ان فیصلوں پر عملدرآمد کرانا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ آٹے سمیت دیگر بنیادی اشیا کی طلب و رسد کا درست تخمینہ لگا کر ان کی مسلسل دستیابی یقینی بنائے تاکہ مصنوعی قلت پیدا کرکے قیمتیں بڑھانے کی گنجائش باقی نہ رہے۔ ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف کارروائی محض چھوٹے دکانداروں تک محدود رکھنے کے بجائے پوری سپلائی چین میں کی جائے۔ ان وقتی انتظامی کارروائیوں کے ساتھ پیداواری لاگت میں کمی‘ منڈیوں میں مسابقت اور عوام کی قوتِ خرید بڑھانا بھی ضروری ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>فراڈ کے مراکز(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-11/11619</link><pubDate>Sun, 11 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-11/11619</guid><description>ایک خبر کے مطابق نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے لاہور میں سات غیر قانونی کال سنٹرز کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 21 غیر ملکیوں سمیت 281 افراد کو گرفتار کیا ہے۔ ان مراکز سے آن لائن فراڈ‘ مالی معلومات اور شناختی کوائف کی چوری‘ ہنی ٹریپنگ اور دیگر سائبر جرائم کا ارتکاب کیا جا رہا تھا۔ ملک میں سائبر جرائم کے بڑھتے ہوئے واقعات سنجیدہ مسئلہ بن چکے ہیں۔ ان کال سنٹرز سے صرف پاکستانی شہریوں کو ہی نشانہ نہیں بنایا جاتا بلکہ غیر ملکی افراد بھی ان کی دھوکہ دہی کا شکار ہوتے ہیں جس سے ملک کی بین الاقوامی ساکھ اور ڈیجیٹل معیشت پر شدید منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

اس لیے حکومت کوشہر شہر پھیلے فراڈ کے ان مراکز کے خلاف ملک گیر کریک ڈاؤن کرنا چاہیے‘اوراس کا دائرہ کار ان مراکز کے اصل مالکان‘ سرپرستوں اور مالی معاونین تک وسیع کرنا چاہیے تاکہ جرائم کے پورے نیٹ ورک کو توڑا جا سکے۔ اس مقصد کیلئے این سی سی آئی اے‘ پولیس‘ بینکوں‘ ٹیلی کام کمپنیوں اور ڈیجیٹل ادائیگی کی خدمات فراہم کرنے والے اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ ناگزیر ہے۔ حکومت کو یہ امر بھی یقینی بنانا چاہیے کہ گرفتار ملزمان کے خلاف تحقیقات شفاف اور مؤثر انداز میں مکمل ہوں‘ مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے اور جرم ثابت ہونے پر قانون کے مطابق سزا دی جائے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ثالث تلاش کر لیجیے(مجیب الرحمٰن شامی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mujeeb-ur-rehman-shami/2026-10-11/52820/34253506</link><pubDate>Sun, 11 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mujeeb-ur-rehman-shami/2026-10-11/52820/34253506</guid><description>خیبرپختونخوا میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے زیر قیادت &#39;&#39;لانگ مارچ‘‘ جاری ہے‘ اسے اسلام آباد پہنچنا تھا لیکن یہ اپنا راستہ اور تاریخیں بدلتا جا رہا ہے۔ اپنے ہی صوبے کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک اُچھل کود جاری ہے۔ ہمارے اہلِ سیاست نے جہاں پولیٹکل سائنس اور جمہوریت کی کئی اصطلاحات کو من مرضی کے معانی پہنا دیے ہیں وہیں لانگ مارچ کی بھی من مانی تاویلیں اور تشریحات کی جا رہی ہیں۔ چین کی ریڈ آرمی کا لانگ مارچ مشہور ترین اور عظیم ترین سمجھا جاتا ہے کہ اس کے نتیجے میں عوامی جمہوریہ چین وجود میں آیا‘ کیمونسٹ پارٹی مضبوط ہوئی‘ چیئرمین ماؤزے تنگ کی قیادت اُبھر کر سامنے آئی۔ یہ کم و بیش ایک سال جاری رہا۔ اس میں ریڈ آرمی کو شدید جانی نقصانات بھی اٹھانا پڑے لیکن بالآخر چیانگ کائی شیک کی حکومت گر گئی۔ ہمارے سہیل آفریدی جس مارچ کو &#39;&#39;لانگ مارچ‘‘ قرار دے رہے ہیں وہ ایک &#39;&#39;گشتی میلہ‘‘ ہے‘ مختلف شہروں اور قصبوں سے ان کا یہ &#39;&#39;میلہ‘‘ گزر رہا ہے۔ کہیں کم کہیں زیادہ لوگ اسے دیکھ کر تالیاں بجاتے اور نعرے لگا دیتے ہیں‘ اپنے کارکنوں کو تھکا دینے کے علاوہ ابھی تک اس نے کوئی اور کارنامہ سرانجام نہیں دیا۔ گورنر فیصل کریم کنڈی کا دعویٰ ہے کہ کسی بھی مقام پر چند سو افراد اکٹھے نہیں ہو پائے۔ اس دعوے کو تسلیم نہ کیا جائے اور اسے عوام کا &#39;&#39;ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر‘‘ قرار دے دیا جائے تو بھی اسلام آباد کی طرف پیش قدمی کا کوئی اعلان نہیں ہو رہا۔ رانا ثناء اللہ کا دعویٰ ہے کہ اسے اسلام آباد کے قریب بھی پھٹکنے نہیں دیا جائے گا۔ محسن نقوی کے دستے اس کے راستے میں دیوارِ چین بنے ہوئے ہیں جبکہ راجہ ناصر عباس کا کہنا ہے کہ مارچ کے شرکاء قانون کو ہاتھ میں نہیں لیں گے۔ جہاں ان کے راستے میں وفاقی رکاوٹ کھڑی کی جائے گی وہ وہیں بیٹھ جائیں گے۔ قانون کو ہاتھ میں لیں گے نہ کسی دوسرے کو موقع دیں گے کہ وہ (جواباً) قانون کو ہاتھ میں لے۔ اس طرح بیٹھے بیٹھے ہزاروں افراد وفاقی حکومت کی جڑوں میں بیٹھ جائیں گے۔وفاقی حکومت سر جوڑ کر بیٹھی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری بار بار تحریک انصاف کو سمجھا رہے ہیں کہ آصف علی زرداری چودہ سال جیل کاٹ کر دکھا چکے ہیں۔ عمران خان بھی کچھ عرصہ مزید جیل میں گزار لیں تو ان کا کچھ نہیں بگڑے گا۔ جیل زرداری صاحب کا کچھ نہیں بگاڑ سکی تو عمران خان کا کیا بگاڑ لے گی۔ وہ ماشاء اللہ دوسری بار اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدر منتخب ہو چکے ہیں‘ ان کی فراست اور ذہانت کا سکہّ چل رہا ہے۔ انہیں سڑکوں پر گھسیٹنے کا دعویٰ کرنے والے بھی سیاست کے گُر ان سے سیکھنے کے لیے بڑے اہتمام سے تشریف لاتے ہیں‘ اور اپنا سر صدرِ محترم کے سر سے جوڑ کر تحریک انصاف کا توڑ ڈھونڈنے کے منصوبے بناتے ہیں۔ بلاول بھٹو نے خان صاحب کو دلاسہ دیا ہے کہ اگر وہ مزید کچھ عرصہ جیل میں گزار لیں تو صدارت یا وزارتِ عظمیٰ کے لیے ان کی &#39;&#39;کوالیفکیشن‘‘ میں اضافہ ہو جائے گا۔ ان کے سی وی میں دس سال یا آٹھ سال یا سات سال قید بھگتنے کا ذکر ہو گا تو &#39;&#39;پبلک سروس کمیشن‘‘ کے ذریعے ان کی تقرری کا باقاعدہ اعلان آسان ہو جائے گا۔عمران خان اس نسخے کو آزمائیں یا اپنے نسخے کو ترجیح دیں‘ یہ ان کی مرضی ہے۔ ان کے گزشتہ چار سال تو بتا رہے ہیں وہ &#39;&#39;نو نقد‘‘ کے قائل ہیں &#39;&#39;تیرہ ادھار‘‘ پر یقین نہیں رکھتے۔ وہ آج کا حساب آج بے باق کرنا چاہتے ہیں۔ سو وزارتِ عظمیٰ سے فراغت کے بعد مسلسل جوہر دکھا رہے ہیں۔ یہ اور بات کہ منزل قریب آتی محسوس نہیں ہو رہی۔ راستہ لمبا اور پیچیدہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔بلاول بھٹو زرداری کی بات اگر مان لی جائے یا میاں نواز شریف کے تجربے سے سبق حاصل کر لیا جائے تو پھر تحریک انصاف کے جملہ رہنماؤں اور کارکنوں کو ٹھنڈا پانی پینا پڑے گا۔ ہو سکتا ہے جب یہ سطور آپ کی نظر سے گزر رہی ہوں‘ خیبرپختونخوا میں کوئی وفاقی کارروائی کی جا چکی ہو۔ گورنر فیصل کریم کنڈی کے ہاتھ میں کنڈا پکڑایا جا چکا ہو یا وزیراعلیٰ کے اختیارات سلب کرنے کے لیے کوئی اور اقدام کیا جا چکا ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ کچھ نہ کیا گیا ہو‘ صرف تیل دیکھیے اور تیل کی دھار دیکھنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہو۔ حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے سے دور رہ کر جو بھی فیصلہ کریں گی‘ اس کے نتیجے میں الجھاؤ پیدا ہو گا۔ تلخی بڑھے گی‘ پاکستان کی تاریخ میں کئی بار ایسا ہو چکا ہے کہ اپنی اپنی ضد پر اڑنے والے ہاتھ ملتے رہ گئے ہیں۔ معاملات ان کے ہاتھ سے یوں نکلے ہیں کہ وہ تالیاں بجانے کے بھی قابل نہیں رہے۔یہ درست ہے کہ فی الوقت مارشل لاء کا تو نفاذ کوئی آپشن نظر نہیں آتا‘ اس سے پیچیدگیاں بڑھیں گی اور پاکستانی ریاست ایسے گرداب میں پھنس جائے گی جس سے نکلنا دشوار تر ہو گا لیکن آئین کے اندر جو کچھ لکھا ہوا ہے‘ اس کو تو بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔ گورنر راج یا ایمرجنسی ناپسندیدہ سہی‘ ان کے سیاسی مضمرات کی تفصیل خوفناک سہی لیکن اگر کوئی چارہ نہیں رہے گا تو پھر چارہ گر بے چارگی سے بیٹھے تو نہیں رہیں گے۔تحریک آئین پاکستان اور تحریک انصاف کے سرد و گرم چشیدہ رہنما اپنے معاملات کا دوبارہ جائزہ لیں‘ وفاقی حکومت بھی اپنے گزشتہ اور آئندہ اقدامات پر ایک بار نہیں‘ سو بار غور کرے۔ مولانا فضل الرحمن اور ان کی طرح کے جو دوسرے اصحاب موجود ہیں جن کی بات سنی جا سکتی ہے‘ ان سے موثر رابطہ کیا جائے۔ مفتی تقی عثمانی‘ مولانا طارق جمیل‘ مفتی منیب الرحمن کے دروازوں پر بھی دستک دے دی جائے۔ فریقین اگر اپنی اپنی پیدا کردہ الجھنوں کو خود رفع کرنے کے قابل نہیں رہے تو پھر ثالثی کا سہارا لے لیں۔ جن افراد کا اوپر نام لیا گیا ہے‘ ان کو یا اگر کوئی اور صاحبانِ وقار تلاش کیے جا سکتے ہیں تو ان کو یہ اختیار دے دیا جائے کہ وہ اپنا فیصلہ صادر کر دیں‘ راہِ عمل تجویز کر دیں۔ اس طرح کسی کی اَنا مجروح نہیں ہو گی۔ تصادم کا سانپ مر جائے گا اور فریقین کی لاٹھی بھی محفوظ رہے گی۔ وہ اسے کسی اور وقت کے لیے سنبھال کر رکھ سکتے ہیں۔&#39;&#39;سینیٹ آف پاکستان‘‘ممتاز محقق اور مصنف ڈاکٹر دلاور حسین نے پاکستان کے ایوانِ بالا‘ یعنی سینیٹ کو اپنی تحقیق کا موضوع بنایا‘ اور اسے باقاعدہ کتابی شکل دے کر بیرونِ ملک سے چھپوایا ہے۔ اس گراں قدر کتاب میں سینیٹ کی آئینی اہمیت اور حیثیت کے ساتھ ساتھ اس کردار پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے‘جو اس نے پاکستانی جمہوریت کے فروغ اور استحکام میں ادا کیا ہے۔سینیٹ صوبوں کا نمائندہ ادارہ ہے اور ہر صوبائی اسمبلی سے مساوی تعداد میں ارکان منتخب ہو کر اس کا حصہ بنتے ہیں۔ اس کا طریق انتخاب اور اختیارات میں اضافہ اہلِ علم اور اہلِ سیاست کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔ پاکستانی جمہوریت کو مختلف ادوار میں جو چیلنج درپیش رہے ہیں اور آج کل بھی اس کی ادارہ جاتی ساخت جن مشکلوں سے گزر رہی ہے‘ ان میں سینیٹ کا کردار خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اس ادارے کی معنویت اور صلاحیت کی طرف متوجہ ہونے کی ضرورت بڑھ گئی ہے۔ پاکستانی سیاست کے عاملوں اور طالب علموں کو اس تحقیقی کاوش کا بغور مطالعہ کرنا چاہیے۔(یہ کالم روزنامہ &#39;&#39;پاکستان‘‘ اور روزنامہ &#39;&#39;دنیا‘‘ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_37052987.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>جتنی بات ہم گناہگار سمجھ سکے ہیں(ایاز امیر)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-10-11/52821/89615354</link><pubDate>Sun, 11 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-10-11/52821/89615354</guid><description>اس جنگ کو سمجھنے کیلئے یا اس کی تہہ تک جانے کیلئے ایک بات ضروری ہے کہ شیعہ سنی کی اصطلاحوں کا استعمال ترک کر دینا چاہیے۔ ان سے کنفیوژن پیدا ہوتی ہے۔ یہ جنگ امریکی سامراج نے کسی اور پر نہیں مسلم دنیا پر مسلط کی ہے۔ اور مسلمانوں کی بدقسمتی یا کم عقلی ہے کہ بجائے اس کے کہ امریکی سامراج کے سامنے مل کر کھڑے ہوں‘ آپس میں بٹے ہوئے ہیں۔ ایک طرف وہ ممالک صف آرا ہیں جو روایتی طور پر امریکہ کے حمایتی رہے ہیں اور اب تک ہیں۔ دوسری طرف ایران اور اُس کے حمایتی ہیں جن کا مدعا صرف اتنا ہے کہ امریکی اثر و رسوخ اس خطے سے نکل جائے کیونکہ تب ہی اس خطے کو چین نصیب ہو سکتا ہے۔ اتنی بات تو کم عقل بھی سمجھیں کہ اس خطے میں اسرائیل امریکی اڈے کی حیثیت رکھتا ہے اور امریکی پالیسی کا اہم جزو یہ ہے کہ جو کچھ بھی ہو اس خطے میں اسرائیل کو فوجی برتری حاصل رہنی چاہیے۔ اسرائیل کا شر تو اپنی جگہ رہا‘ مسلمان ممالک کو اتنی بات تو سمجھ آنی چاہیے کہ امریکی اثر و رسوخ اور امریکی اڈے خطے سے نکل جائیں تو پیچھے جھگڑا کیا رہ جاتا ہے۔ لیکن یہ بات بھی عیاں ہے کہ جتنی سمجھ بوجھ مسلمان ممالک میں ہونی چاہیے اُس کا ہمیشہ فقدان رہا ہے۔ کبھی شاہ ایران اپنے آپ کو عقلِ کُل سمجھتا تھا۔ کبھی ایران عراق جنگ ہو رہی ہے اور جی سی سی ممالک اس جنگ میں عراق کی پشت پناہی اور مالی معاونت کر رہے ہیں۔ کبھی عراق کویت پر حملہ آور ہو رہا ہے اور امریکی اور اُس کے اتحادی کویت کو صدام حسین کی حاکمیت سے آزاد کرانے آتے ہیں۔ یعنی اتنی سمجھ بوجھ مسلمان ممالک میں نہیں ہوتی کہ اپنے مسائل کا حل خود تلاش کر سکیں۔ اس جنگ کی وجہ سے البتہ بہت سی بنیادی چیزیں واضع ہو گئی ہیں۔ اب تک تیل سے مالا مال عرب بادشاہتوں نے یہ نکتہ گلے سے لگایا ہوا تھا کہ اُن کی حفاظت امریکہ کے ہاتھوں میں ہے۔ خطرہ اُنہیں ایران سے لگتا تھا حالانکہ ایران نے کبھی کسی عرب ملک پر حملہ نہیں کیا۔ ایران للکارتا تھا امریکہ اور اسرائیل کو اور ہمارے عرب دوستوں کو یہ بات بری لگتی تھی۔ حالانکہ سوچا جائے تو اس میں بری بات کیا تھی۔ مشرقِ وسطیٰ میں جو انتشار اور شورش ہے وہ ایران کی وجہ سے نہیں بلکہ امریکہ اور اسرائیل کی وجہ سے ہے۔ انتشار پھیلانے والا اسرائیل ہے اور اسرائیل پر ہاتھ امریکہ کا ہے۔ یہ ریاضی کا کون سا مشکل سوال ہے جو سمجھ نہ آئے؟اچھی بات یہ کہ اس جنگ سے حفاظت والا مفروضہ ہوا میں تحلیل ہو گیا۔ بادشاہتوں نے دیکھا اور بڑے قریب سے دیکھا کہ امریکی نہ تو اپنے اڈے بچا سکے نہ عربوں کی تیل اور گیس کی تنصیبات۔ اور تو اور امریکی نیوی آبنائے ہرمز کو کھلا نہ رکھ سکی۔ حفاظت کی ضمانتیں تو پھر ہوا میں اُڑ گئیں۔ اس کے باوجود عرب ممالک ڈرے ہوئے ہیں کہ امریکہ سے ناطہ توڑا یا فوجی اڈوں کو ختم کرنے کی بات کی تو پتا نہیں کیا ہو جائے گا۔ اتنا بھی نہیں سوچ رہے کہ جتنا ان کے ساتھ ہو چکا ہے اس سے زیادہ کیا ہونا ہے۔امریکہ کا سلطان ایئر بیس عربیہ کے تقریباً درمیان میں ہے۔ بہت بڑا اڈہ ہے۔ تیل کی ترسیل خلیجِ فارس اور بحیرۂ احمر دونوں طرف سے بند ہے۔ مشرقِ سے مغرب پائپ لائن پر متعدد حملے ہو چکے ہیں۔ بندرگاہ ینبع کے گرد پمپنگ سٹیشنوں پر حوثیوں کے حملے ہوئے ہیں۔ جازان ریفائنری اور آرامکو کی دوسری ریفائنریوں پر حملے ہو چکے ہیں۔ ریاض ایئر پورٹ حوثی حملوں کی زد میں آ چکا ہے اور کئی ایئر لائنوں نے عارضی طور پر عربیہ کی طرف اپنی پروازیں معطل کی ہیں۔ اس صورتحال میں سلطان ایئر بیس سے کیا حاصل ہو رہا ہے؟ کس مرض کی وہ دوا ہے؟ یہ اڈہ ویسے بھی بہت حد تک ایرانی حملوں کی وجہ سے ناکارہ ہو چکا ہے۔ اس میں تعینات امریکی فوجی دیگر شہروں اور ان شہروں کے ہوٹلوں میں منتقل ہو گئے تھے۔ جنہیں اپنی جان کی پڑی ہو انہوں نے عربیہ کی حفاظت کیا کرنی ہے؟ نجد اور حجاز میں فوجی تنصیبات ایران کے خلاف استعمال نہ ہوں تو عرب بادشاہت اور ایران کا جھگڑا کیا رہ جاتا ہے؟ آپس کی ان کی کوئی لڑائی نہیں۔ جھگڑا محض اتنا ہے کہ اس سرزمین پر امریکی فوجی موجود ہیں جن کی وجہ سے خطے میں عدمِ استحکام پیدا ہو رہا ہے۔ پہلے تو امریکہ کے خلاف کوئی بات سننے کیلئے بادشاہت تیار نہ ہوتی تھی لیکن اب تو صورتحال یکسر بدل چکی ہے۔ بادشاہت کے استحکام پر حملے ہو رہے ہیں اور یہ سلسلہ شروع تب ہوا جب امریکی سامراج اور اس کے آلہ کار اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا۔ حملہ نہ ہوتا تو پُرامن طور پر تیل کی ترسیل جاری رہتی اور گولہ بارود کی گھن گرج سنائی نہ دے رہی ہوتی۔ یعنی بادشاہتوں کو محافظ ہی ایسا ملا جس کی وجہ سے اُن پر حملے ہونے لگے۔ یمن کی صورتحال ذرا مختلف ہے۔ وہاں پر لڑائی ایک طرف بادشاہت اور دوسری طرف حوثیوں کے درمیان ہے۔ یہ مغربی میڈیا کا کرتب ہے کہ حوثیوں کو باغی کہتے ہیں۔ وہ باغی نہیں ہیں‘ یمن کی 70فیصد آبادی ان کے زیر کنٹرول علاقوں میں ہے۔ یمن کے دارالحکومت صنعا میں وہ موجود ہیں۔ یمن کے باسی ان کو باغی نہیں حریت پسند اور قوم پرست سمجھتے ہیں۔ دس گیارہ سال سے سعودی عرب اور یو اے ای کی طرف سے حوثیوں پر حملے ہوئے۔ اندھا دھند ہوائی بمباری ہوتی رہی۔ سویلین علاقے متاثر ہوئے‘ عام شہری مارے گئے۔ جنگ کی وجہ سے قحط کی صورتحال پیدا ہوئی اور اس بنا پر لاکھوں افراد لقمۂ اجل بنے۔ یہ ایک انسانی بحران تھا جس میں بچے اور بوڑھے بِلک بِلک کر مرتے رہے اور کمال یہ ہے کہ اسلام کا نام لینے والوں کے دلوں میں کوئی رحم کی گنجائش پیدا نہ ہوئی۔ اس سب کے باوجود حوثی جہاں تھے وہاں قائم رہے اور آخرکار دس سال کی جنگ کے بعد 2022ء میں بڑی بادشاہت کو حوثیوں کے ساتھ جنگ بندی کا معاہدہ کرنا پڑا۔ اس سے پہلے یو اے ای اور سعودیہ کے درمیان مسائل پیدا ہو چکے تھے اور یو اے ای نے اپنے فوجی یمن سے واپس بلا لیے تھے۔ جنگ بندی چار سال رہی۔ اس سال جولائی میں ایران نے ایک جہاز صنعا بھیجا حوثیوں کے ایک وفدکیلئے جس نے تہران میں آیت اللہ خامنہ ای کے جنازہ میں حاضری دینی تھی۔ وفد تہران گیا اور رسومات کے بعد جب صنعا پہنچنے والا تھا تو بادشاہت نے صنعا ایئر پورٹ پر حملہ کر دیا اور وجہ یہ بتائی گئی کہ جہاز آنے کی اجازت ہم سے نہ لی گئی۔ اندازہ کیجئے کہ کیا ذہنی کیفیت ہو گی جس میں ایسا اقدام کیا گیا۔ موجودہ جنگ وہاں سے شروع ہوئی۔ ہم مجبوریوں کے مارے ہوئے ویسے ہی پھنس گئے۔ اب وضاحتیں دیے جا رہے ہیں کہ اتنا کریں گے اتنا نہیں کریں گے۔ بہرحال زیادہ تبصرہ کیا کرنا‘ بات نہ کریں تو چپ پر شرمندگی‘ بات کریں تو مشکل۔ بہرحال کون پوچھے برادروں سے کہ جولائی میں تیلی لگانے کی ضرورت کیا تھی۔ لیکن اب جب جنگ کے شعلے بھڑک اُٹھے ہیں عقل کس میں ہے‘ شعلوں کو ہوا دینے میں یا بجھانے میں؟ لیکن ہر قدم جو لیا جا رہا ہے اُس سے آگ بھڑک رہی ہے۔ یا تو طاقت اتنی ہو کہ حوثیوں کو شکست ہو۔ لیکن ایسا نہیں ہے‘ حوثی آگے بڑھ رہے ہیں۔ تاریخ کا سبق تو جانیے‘ جو حملہ آور یمن آیا مارا گیا ۔ اَنا کا مسئلہ بھی ہے‘ حوثیوں کو کمتر سمجھا جاتا تھا۔ جنہوں نے امریکہ سے مار نہ کھائی اُنہوں نے کمتر کیا ہونا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_80573045.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بھٹو‘ کافی اور پرویز رشید(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-10-11/52822/36313693</link><pubDate>Sun, 11 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-10-11/52822/36313693</guid><description>سینیٹر پرویز رشید سے لندن میں بہت ملاقاتیں رہیں۔ جب نواز شریف اور بینظیر بھٹو لندن میں مقیم تھے تو اُن دنوں میں دی نیوز کی رپورٹنگ کیلئے وہاں تھا۔ میرا دوست ارشد شریف اس وقت ڈان ٹی وی کیلئے رپورٹنگ کرتا تھا۔ سارا دن اکٹھے گزرتا تھا۔ وہاں ارشد شریف‘ پرویز رشید اور میں اکثر لندن کی سڑکوں پر واقع کیفیز میں وقت گزارتے۔ پاکستانی سیاست پر گفتگو ہوتی تھی اور پرویز رشید سے سیاسی طور پر بہت کچھ سمجھا اور جانا بھی۔ خیر‘ پرویز رشید اب سینیٹ کی مواصلات کمیٹی کے چیئرمین ہیں اور بڑے اچھے انداز میں کمیٹی چلاتے ہیں۔ میں بھی ان کی کمیٹی میں جا بیٹھتا ہوں تاکہ کچھ خبریں نکال سکوں۔ مجھے اپنی کمیٹی کے اجلاس میں پریس والوں کے ساتھ بیٹھے دیکھا تو حیران ہو کر بولے کہ اور کوئی اینکر تو کبھی ان کمیٹیوں میں نہیں آتا‘ تم اکثر یہاں پائے جاتے ہو۔ میں نے کہا: سر جی‘ میں شوقیہ صحافی ہوں اور اپنا شوق پورا کرتا ہوں۔ خیر‘ اجلاس پارلیمنٹ لاجز کے ایک کمیٹی روم میں ہو رہا تھا تو مجھے کہنے لگے  کہ چل‘ تجھے کمرے میں بیٹھ کر کافی پلاتا ہوں۔ فیملی لاہور میں رہتی ہے‘ اس لیے جب وہ پارلیمنٹ اجلاس اٹینڈ کرنے آتے ہیں تو لاجز میں اپنے کمرے میں اکیلے ہی رہتے ہیں۔ کمرے کو خاصا صاف ستھرا اور آرٹسٹک دیکھ کر کچھ حیرانی ہوئی۔ وہ کچن میں گئے اور وہاں سے دو کافی مگ اٹھا کر لائے۔ پانی گرم کیا۔ مگوں میں کافی ڈالی اور پھر چمچ سے دھیرے دھیرے ہلانے لگے۔ اچانک انہیں کچھ یاد آیا اور کہنے لگے: برسوں پہلے بھٹو صاحب جب یحییٰ خان کی کابینہ میں وزیر تھے تو انہوں نے مجھے کہا کہ مہمان (یاسر عرفات) آ رہے ہیں‘ آپ نے آنا ہے۔ پرویز رشید طالب علمی کے دور سے بھٹو کے قریب ہو گئے تھے۔ یاسر عرفات آئے تو انہوں نے نوجوان پرویز رشید سے کہا کہ ہمیں بلیک کافی بنا کر سرو کرو۔ پرویز رشید نے اندر جا کر مگ لیے‘ پانی گرم کیا اور کافی کے مگوں میں پانی اور کافی ڈال کر چمچ سے دونوں مگوں میں موجود کافی کو ہلایا تاکہ اچھی طرح مکس ہو جائے‘ اور پھر سرو کر دی۔کچھ دیر بعد یاسر عرفات روانہ ہونے لگے تو بھٹو صاحب نے پرویز رشید کو کہا کہ انہیں رخصت کر کے آؤ۔ وہ رخصت کر کے واپس دفتر میں آئے تو بھٹو صاحب نے تعریف کی کہ میں اوپر سے دیکھ رہا تھا‘ آپ نے بڑے اچھے انداز میں مہمان کو رخصت کیا۔ لیکن ایک بات بتاؤں‘ آپ نے کافی کو صحیح انداز میں چمچ سے مکس نہیں کیا۔ آپ نے فزکس پڑھی ہو گی۔ کافی مکس کرتے وقت اس پر فزکس ہی اپلائی ہوتی ہے۔ (شاید بھٹو صاحب نے لاء آف موشن کی بات کی ہو گی)۔ کافی کے پانی میں چمچ کو دائرے میں نہیں گھماتے‘ جیسے تم گھما رہے تھے۔ اس سے گرم پانی اچھل کر باہر گرتا ہے۔ چمچ کو سیدھا رکھ کر مگ کے ایک سے دوسرے کونے تک بس ہلاتے ہیں۔پرویز رشید کہنے لگے کہ کافی بنانے کا سلیقہ بھٹو صاحب سے سیکھا تھا۔ کہنے لگے کہ جب نواز شریف وزیراعظم تھے تو میں کسی تقریب میں قطار میں کھڑا تھا اور گلے میں مفلر ڈالا ہوا تھا۔ نواز شریف رکے‘ میرے کوٹ کے بٹن بند کیے اور مفلر کو اندر کر دیا۔ بعد میں جب وہ تقریب ختم ہوئی تو کہنے لگے: پرویز صاحب‘ آپ ناراض تو نہیں ہوئے؟ لیکن آپ ایسے کھڑے تھے جیسے راجہ بازار میں پھرنے آئے ہوں۔ نواز شریف کی بات ہوئی تو کہنے لگے کہ ان کی عادت ہے‘ وہ کسی بھی بندے سے ملتے ہیں تو ان کی پہلی نظر اس کے جوتوں پر جاتی ہے کہ آیا صاف ہیں یا نہیں۔ مجھے یاد آیا کہ اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ صاف جوتا آپ کی شخصیت کے بارے میں  دوسروں کو جاننے کا موقع دیتا ہے اور پہلی نظر جوتوں پر ہی پڑتی ہے۔ خیر‘ کافی دیر تک بھٹو صاحب کی باتیں بتاتے رہے تو مجھے یاد  آیا کہ پاکستان کے ایک سابق سفیر ڈاکٹر افضل اقبال نے بھٹو صاحب کی شخصیت کے ایک اہم پہلو کے بارے میں اپنی کتاب میں لکھا تھا۔ بھٹو صاحب وزیراعظم تھے تو وہ سویڈن کے دورے پر گئے جہاں ڈاکٹر افضل اقبال اس وقت سفیر تھے۔ انہوں نے بھٹو صاحب اور ان کے وفد کے اعزاز میں ضیافت دی۔ کھانا کھاتے وقت یہ بات زیرِ بحث آ گئی کہ انگولا کو تسلیم کرنا چاہیے یا نہیں۔ وزیرِ خارجہ نے انگولا کو تسلیم کرنے میں تاخیر کو روس کی پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے جوڑا۔ اس میز پر جتنے مہمان بیٹھے تھے‘ سب نے اس معاملے پر اپنی اپنی رائے دی۔ لیکن وزیراعظم بھٹو‘ جن سے یہ سوال کیا گیا تھا‘ اس پوری بحث میں خاموش رہے اور ایک لفظ نہیں بولے۔ ڈاکٹر افضل اقبال نے بھی اپنی رائے دی کہ ان کے خیال میں انگولا کو تسلیم کر لینا چاہیے۔ اس سے روس کسی حد تک مطمئن ہو گا‘ پاکستان کے خلاف اس کا جو جارحانہ رویہ رہا ہے‘ اس میں کمی ہو گی اور انگولا کو تسلیم کرنے سے ہمارے قومی مفاد کو بھی کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ اس پر ساتھ بیٹھے سیکرٹری خارجہ نے سختی سے سفیر کی بات کو رد کیا اور اونچی آواز میں پوری گفتگو کو یہ کہہ کر ختم کرنے کی کوشش کی کہ سفیر صاحب کو اس معاملے کا کچھ علم نہیں ہے اور یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے کہ اسے جلدی میں لپیٹ دیا جائے۔ اس پر سفیر نے بھی جواباً ردِعمل ظاہر کیا کہ اگر میں فارن آفس ڈیسک پر نہیں ہوں اور مجھے ان خفیہ ٹیلی گرامز تک رسائی نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں اپنی رائے نہیں دے سکتا۔ سفیر کی اہلیہ نے‘ جو میزبان تھیں‘ بات بگڑتی دیکھ کر فوراً مداخلت کی اور میزبان ہونے کے ناتے سیاسی بحث روک دی۔ جونہی کھانا ختم ہوا تو بھٹو صاحب نے اسی سیکرٹری خارجہ سے کہا کہ اسلام آباد فون کر کے فارن آفس کو کہیں کہ وہ انگولا کو تسلیم کرنے کا اعلان کرے۔ یہ سن کر سب ہکے بکے رہ گئے۔ باقی سب خوش ہوئے لیکن فارن سیکرٹری کا منہ بن گیا۔ میز پر بھٹو صاحب نے اشارہ تک نہ دیا کہ وہ کیا سوچ رہے ہیں اور سارا وقت چپ رہے ۔ انہوں نے سب کے دلائل سنے اور قائل ہوئے تو فوراً فیصلہ کر لیا۔اگلی صبح وزیراعظم نے سٹاک ہوم جانا تھا اور انہوں نے سفیر کو وہاں بلایا جہاں وہ ٹھہرے ہوئے تھے۔ پتا چلا کہ وزیراعظم فارن سیکرٹری کے رات والے رویے پر سخت ناراض تھے۔ بھٹو صاحب کا خیال تھا کہ اس نے غیر ضروری بات کی ۔ وزیراعظم کے علاوہ وہاں تین وفاقی وزیر اور دو سینئر سیکرٹری جنرلز بھی اس میز پر موجود تھے۔ فارن سیکرٹری پروٹوکول کے حساب سے وہاں سب سے جونیئر تھے۔ بھٹو صاحب نے اپنے تین وزیروں کی بھی کلاس لی کہ جب فارن سیکرٹری سفیر صاحب کو ہراساں کر رہے تھے تو انہوں نے فوراً مداخلت کیوں نہیں کی۔ بھٹو صاحب نے کہا کہ ایک لمحے کیلئے تو انہوں نے سوچا کہ وہ میز چھوڑ کر چلے جائیں لیکن پھر خیال آیا کہ یہ میزبان کی توہین ہو گی۔ وزیراعظم نے اپنے وزیرِ خارجہ سے کہا کہ اس ڈنر کے تمام مہمانوں کو دوبارہ بلایا جائے اور  سیکرٹری خارجہ ان سب کے سامنے سفیر سے اپنے رویے کی معذرت کریں گے۔ وہی ہوا۔ اجلاس بلایا گیا۔ وزیرِ خارجہ نے پوری صورتحال بتائی کہ انہیں یہاں کیوں بلایا گیا تھا۔ وزیرِ خارجہ نے سیکرٹری خارجہ سے کہا کہ وہ وزیراعظم بھٹو اور سفیر سے اپنے نامناسب رویے کی معذرت کریں۔ فارن سیکرٹری نے کھڑے ہو کر معذرت کی اور سفیر کو گلے لگایا۔ سفیر صاحب جب جہاز پر الوداع کہنے گئے تو بھٹو صاحب نے پوچھا کہ کیا سیکرٹری نے دل سے معذرت کی؟ سفیر نے جواب دیا: سر‘ اس کی ضرورت نہیں  تھی۔ معذرت تو کر لی تھی لیکن بعد میں اس کا خمیازہ تو مجھے بھگتنا پڑے گا۔ بھٹو صاحب نے نصرت بھٹو کی موجودگی میں غصے سے کہا: Over my dead body۔ اور پھر وہی ہوا۔پرویز رشید اب بھی بلیک کافی میں بھٹو صاحب کے سکھائے ہوئے طریقے سے چمچ ہلا رہے تھے۔ مجھے بھٹو صاحب کی پھانسی سے پہلے کی آخری خواہش یاد آئی کہ مجھے شیو کا سامان مہیا کریں اور بلیک کافی پلائیں۔ کافی ختم کی اور جا کر تارا مسیح سے کہا: Finish it, please۔ کمرے میں کافی کے چمچ کے ہلنے کی آواز اب بھی سنائی دے رہی تھی۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>دو لانگ مارچ: تاریخ کے آئینے میں(رشید صافی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-10-11/52823/27253540</link><pubDate>Sun, 11 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-10-11/52823/27253540</guid><description>پاکستان تحریک انصاف کا ایک ہفتہ قبل شروع ہونے والا لانگ مارچ تادم تحریر چارسدہ پہنچا ہے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کارکنوں کو صوابی پہنچنے کی ہدایت کی ہے جہاں سے وہ آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔ سیاسی حکمت عملی کے اعتبار سے یہ تدبیر بہتر معلوم ہوتی ہے کیونکہ صوابی کا انتخاب کرنے سے کارکنان کا جوش و خروش قائم رہے گا اور انہیں ساتھ جوڑے رکھنا آسان ہو گا۔ اس تدبیر کے پیچھے وزیراعلیٰ کے پیشِ نظر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ چونکہ خیبرپختونخوا ان کا سیاسی گڑھ ہے اور وہاں اپنی حکومت ہونے کی وجہ سے کوئی رکاوٹ نہیں‘ اس لیے اپنے صوبے کی حدود میں رہتے ہوئے لوگوں کو بڑی تعداد میں متحرک کرنا نسبتاً آسان ہے۔ اس کے ذریعے وفاقی حکومت کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ وہ اسلام آباد کی طرف روانگی سے پہلے مذاکرات کی میز پر آئے اور مطالبات پر بات چیت کرے۔ ظاہر ہے وفاقی حکومت بھی اس سٹرٹیجی سے اچھی طرح واقف ہے اور یہ دیکھنے کی منتظر ہے کہ لانگ مارچ کی اسلام آباد کی طرف روانگی کے وقت اس میں کتنے لوگ شامل ہوتے ہیں۔ تادم تحریر ہمیں تحریک انصاف کی جانب سے وفاقی دارالحکومت کی طرف باقاعدہ پیش قدمی کے حوالے سے کوئی حتمی اطلاعات موصول نہیں ہو ئیں‘ تاہم اس احتجاج اور لانگ مارچ کا سب سے بڑا مطالبہ دیکھ کر حیرانی ہوئی۔ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان ہونے والے  ابتدائی رابطوں اور پی ٹی آئی قیادت کے بیانات میں جو مطالبہ سرفہرست نظر آتا ہے‘ وہ عمران خان سے ملاقات ہے۔کسی بھی سیاسی جماعت کیلئے پُرامن احتجاج اور لانگ مارچ کا انعقاد اس کا آئینی و جمہوری حق ہے لیکن قومیں ہمیشہ انہی تحریکوں کو یاد رکھتی ہیں جن کی بنیاد کسی عظیم مقصد اور اجتماعی مقصد پر قائم ہو۔پی ٹی آئی کا یہ لانگ مارچ اکتوبر کے مہینے میں ہو رہا ہے اور آج سے تقریباً نو دہائیاں پہلے بھی اکتوبر میں ہی تاریخ کا ایک عظیم لانگ مارچ شروع ہوا تھا۔ جب ہم ان دونوں لانگ مارچوں کا موازنہ کرتے ہیں تو دونوں کی ترجیحات اور مقاصد میں نمایاں فرق نظر آتا ہے۔ 1934ء سے 1935ء کے دوران چین میں ہونے والا لانگ مارچ چینی تاریخ میں انتہائی اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے‘ جس نے کمیونسٹ پارٹی کا مستقبل اور سمت بدل کر رکھ دی۔ 1930ء کی دہائی کے اوائل میں چیانگ کائی شیک کی قوم پرست حکومت (گوومنتانگ) نے کمیونسٹ فورسز کو ختم کرنے کیلئے پانچ بڑی فوجی مہمات چلائیں۔ اکتوبر 1934ء میں جب کمیونسٹوں کا جنوبی بیس (جیانگ شی) شدید خطرے میں پڑ گیا تو ماؤزے تنگ اور پارٹی قیادت نے مکمل تباہی سے بچنے کیلئے محفوظ انخلا کا راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔ تقریباً ایک لاکھ سپاہیوں پر مشتمل ریڈ آرمی نے جنوب مشرقی چین سے شمال مغربی چین کے دور دراز علاقے ینآن (Yan&#39;an) کی طرف سفر شروع کیا۔ یہ سفر ایک سال پر محیط تھا جس کے دوران فورسز نے انتہائی کٹھن حالات میں دلدلوں‘ برف پوش پہاڑوں اور تیز رفتار ندی نالوں کو عبور کرتے ہوئے نو سے دس ہزار کلومیٹر کا دشوار گزار فاصلہ طے کیا۔چینی عوام اور کمیونسٹ پارٹی لانگ مارچ کو عزم‘ قربانی اور جدوجہد کی عظیم ترین علامت مانتی ہے۔ مسلسل جنگ‘ محاصروں اور سخت موسم کے باعث صرف 10 فیصد (تقریباً سات سے آٹھ ہزار) سپاہی منزل مقصود تک پہنچ سکے‘ مگر اسی کٹھن راستے نے ماؤزے تنگ کو ایک مضبوط اور مدبر قائد کے طور پر قوم کے سامنے پیش کیا۔ 22اکتوبر 1935ء کو جب ریڈ آرمی کی مختلف ٹکڑیاں شانشی کے مقام پر یکجا ہوئیں تو کمیونسٹ تحریک کو ایک نئی بنیاد ملی جس نے آگے چل کر 1949ء میں انقلابِ چین اور عوامی جمہوریہ چین کے قیام کی راہ ہموار کی۔ چینی قوم کیلئے 1935ء کا لانگ مارچ صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ان کی جدید ریاست کے وجود‘ عزم اور خودداری کا ایک استعارہ ہے۔ چینی بیانیے میں اس مارچ کو فکری و نظریاتی بنیاد کا درجہ حاصل ہے جس نے بکھری ہوئی قوم کو اتحاد اور ایثار کا وہ درس دیا جس پر عمل کر کے ایک پسماندہ ملک دنیا کی عظیم طاقت بن گیا۔ چینی عوام کے نزدیک لانگ مارچ سپرٹ اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر نظریاتی لگن اور مضبوط قیادت موجود ہو تو سخت ترین حالات اور بحرانوں پر بھی فتح حاصل کی جا سکتی ہے۔ 22 اکتوبر 2026ء کو اس واقعے کے 90سال مکمل ہونے پر چین میں قومی سطح پر جن تقریبات کا آغاز کیا جا رہا ہے‘ ان کی اہمیت انتہائی معنویت کی حامل ہے۔ یہ تقریبات نہ صرف ماضی کے شہدا اور ماؤزے تنگ کی قیادت کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا ذریعہ ہیں بلکہ موجودہ عالمی تناظر میں بیجنگ کی طرف سے اپنے عوام اور دنیا کو ایک واضح پیغام بھی ہیں۔ ان تقریبات کے ذریعے چینی قیادت نئی نسل میں وہی نظم و ضبط‘ جذبہ اور یکجہتی بیدار کرنا چاہتی ہے جو 1935ء میں ریڈ آرمی کی پہچان تھا‘ تاکہ جدید دور کی عالمی مسابقت اور چیلنجز کا مقابلہ بھی اسی جذبے کے ساتھ کیا جا سکے۔ یوں 90سالہ تقریبات صرف ایک یادگار کا دن ہی نہیں بلکہ چین کی جدید ریاست کی روح کو تازہ کرنے کی ایک روشن علامت ہیں۔دنیا کی تاریخ احتجاج اور لانگ مارچ کے واقعات سے بھری پڑی ہے لیکن تاریخ صرف انہی لانگ مارچوں کو یاد رکھتی ہے جو کسی ذاتی مقصد کے بجائے خالصتاً قومی اور اجتماعی مقصد کیلئے کیے گئے ہوں۔ تحریک انصاف اس سے پہلے بھی تقریباً انہی مطالبات کے ساتھ کئی ناکام احتجاج کر کے واپس جا چکی ہے۔ اس بار بھی مطالبات پرانے ہیں اور بنیادی مقصد ایک ملاقات تک محدود دکھائی دیتا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ ان مطالبات میں سے کتنے پورے ہوتے ہیں یا اس بار بھی پی ٹی آئی ایک اور ناکام اور بے نتیجہ احتجاج کا لیبل لگوا کر واپس لوٹے گی؟ ماؤ زے تنگ نے جس تاریخی لانگ مارچ کو تاریخ میں امر کیا وہ مجموعی طور پر دو سال تک جاری رہنے والی جان گسل جدوجہد کا نام تھا‘ جس کے دوران چینی کمیونسٹوں کی سرخ فوج نے تقریباً 10ہزار کلومیٹر کا دشوار گزار سفر طے کیا اور بے شمار قربانیاں دیں۔ اس کے برعکس پی ٹی آئی کا لانگ مارچ دائروں میں سفر کرنے سے آگے نہیں بڑھ رہا۔ نہ منزل کا تعین‘ نہ سمت کا اندازہ اور نہ ہی کوئی واضح سیاسی ہدف۔ محض احتجاج کو لانگ مارچ کا نام دینے سے کوئی تحریک تاریخی لانگ مارچ نہیں بن جاتی۔ اگر ہم چین کا اپنے حالات سے موازنہ کریں تو فرق بالکل واضح ہو جاتا ہے۔ چین نے اپنے لانگ مارچ کے بعد ذاتی و سیاسی مفادات کو پیچھے چھوڑ کر صرف  قومی تعمیر‘ نظم و ضبط اور معاشی خودمختاری کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا‘ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج وہ دنیا کی دوسری بڑی معاشی و صنعتی طاقت بن چکا ہے۔ اس کے برعکس ہم دہائیوں سے سیاسی بے ثباتی‘ ذاتی عناد اور بے مقصد احتجاجی سیاست کے دائرے میں گھوم رہے ہیں‘ جس کی وجہ سے ہم معاشی ابتری‘ قرضوں کے بوجھ اور شدید داخلی بحرانوں کا شکار ہیں۔ چین نے 90برس میں غربت کے خاتمے سے لے کر تسخیرِ خلا تک کے عظیم معرکے سر کیے جبکہ ہم آج بھی بنیادی سہولیات اور ذاتی نوعیت کے سیاسی مطالبات کے گرد الجھے ہوئے ہیں۔ کاش ہماری سیاسی قیادتیں اور عوام چین کے اس تاریخی سفر سے سبق حاصل کریں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/222_48272610.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سریلے مہمان(عمران یعقوب خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-10-11/52824/45339436</link><pubDate>Sun, 11 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-10-11/52824/45339436</guid><description>سرما کی آمد آمد ہے اور موسم سرما پاکستان میں کروڑوں مہمانوں کی آمد کا سبب بنتا ہے۔ ستمبر اور اکتوبر کے مہینوں میں جب موسم تبدیل ہونے لگتا ہے اور گرم ہواؤں کی جگہ قدرے خنک ہوائیں لے لیتی ہیں تو ان مہمانوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ کچھ مہمان پاکستان کی فضاؤں سے ہو کر آگے کے دیسوں میں چلے جاتے ہیں جبکہ کچھ چند ماہ کے لیے یہاں قیام پذیر ہو جاتے ہیں۔ سائبیریا‘ روس اور وسطی ایشیا کے انتہائی سرد علاقوں سے لاکھوں مہاجر پرندے انڈس فلائی وے کے گرین روٹ کے ذریعے پاکستان کی جھیلوں اور آبی پناہ گاہوں کا رخ کرتے ہیں کیونکہ ان کے اپنے خطوں میں جب درجہ حرارت نقطۂ انجماد سے نیچے چلا جاتا ہے تو وہاں کے باسی پرندوں کے لیے زندگی کی سرگرمیاں جاری رکھنا محال ہو جاتا ہے‘ چنانچہ وہ ایسے علاقوں کی جانب وقتی ہجرت کرتے ہیں جہاں موسم تو ٹھنڈا ہو لیکن برف نہ جمتی ہو۔ پاکستان کا شمار ایسے ہی علاقوں میں ہوتا ہے۔ پاکستان کے کچھ علاقے ان مہاجر پرندوں کے پسندیدہ خطوں میں شمار ہوتے ہیں‘ جیسے ہالیجی جھیل ٹھٹہ ایشیا کی سب سے بڑی پرندوں کی محفوظ پناہ گاہ ہے۔ اس کے علاوہ کینجھر جھیل ٹھٹھہ‘ ڈریگ اور لنگھ جھیل لاڑکانہ اور قمبر شہدادکوٹ‘ اچھالی کمپلیکس وادیٔ سون خوشاب (اس میں تین جھیلیں اچھالی‘ کابی کی اور جھالر جھیل شامل ہیں)‘ چشمہ بیراج اور تونسہ بیراج دریائے سندھ‘ راول جھیل اسلام آباد‘ منگلا ڈیم‘ ٹانڈہ ڈیم کوہاٹ‘ تربیلا ڈیم‘ بوریتھ جھیل ہنزہ‘ شیوسر جھیل دیوسائی‘ ہنگول ندی اور پسنی کی ساحلی پٹیاں بھی یہاں آنے والے ان فضائی مہمانوں کے پسندیدہ مقامات ہیں۔گرم خطوں کا رخ کرنے والے پرندے پاکستان میں شمال سے شروع کر کے دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ نیچے تک گیلی سرسبز زمینوں‘ جھیلوں کے کناروں یا ڈیموں والے علاقوں اور دوسری ویٹ لینڈز (Wet lands) میں قیام کرتے ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ہر سال سات سے بارہ لاکھ مہاجر پرندے پاکستان آتے ہیں۔ یہ پرندے یہاں موسم سرما کے اختتام تک رکتے ہیں۔ اس دوران وہ یہاں گھونسلے بناتے ہیں‘ انڈے دیتے ہیں‘ ان میں سے بچے نکالتے ہیں اور مارچ میں جب وہ اپنے وطنوں کی جانب واپس لوٹتے ہیں تو نئی نسل کے ہزاروں جوان پرندے بھی ان کے ہمراہ اڑان بھرتے ہیں۔ہمارے ان مہمانوں کی درجنوں اقسام ہیں‘ جیسے بطخوں اور آبی پرندوں میں مالارڈ‘ کامن ٹیل ‘ ناردرن پِن ٹیل‘ گیڈوال‘ یوریشین ویجن‘ ناردرن شویلر‘ کامن پوچارڈ‘ فیریجینس ڈک۔ غوطہ خور بطخوں میں ماربلڈ ٹیل‘ لانگ ٹیلڈ ڈک‘ کامن مرگینسر‘ رڈی شیل ڈک اور کامن شیل ڈک شامل ہیں۔ ہنس اور قازوں میں بار ہیڈڈ گوز‘ گرے لیگ گوز اور لیزر وائٹ فرنٹڈ گوز شامل ہیں۔ سوانز میں ہوپر سوان اور میوٹ سوان شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ڈیموئزل کرین‘ سائبیرین کرین‘ کامن؍ یوریشین کرین‘ سارس کرینز بھی پاکستان آتی ہیں۔ پھر گریٹر فلیمنگو‘ لیزر فلیمنگو‘ بلیک سٹارک‘ وائٹ سٹارک‘ ڈالمیشن پیلکن‘ کئی قسم کے Herons اور Egrets یعنی بگلے بھی ہمارے مہمان بنتے ہیں۔ سینڈرلنگ‘ ٹیمِنک سٹنٹ‘ براڈ بلڈ سینڈ پائپر‘ شارپ ٹیلڈ سینڈ پائپر‘ ووڈ سینڈ پائپر‘ کامن سینڈ پائپر‘ گرین سینڈ پائپر‘ کامن ریڈ شنک‘ بلیک ٹیلڈ گاڈوٹ‘ بار ٹیلڈ گاڈوٹ‘ یوریشین کرلیو‘ بلیک وِنگڈ سٹِلٹ اور ریور لیپ وِنگ بھی ہر سال پاکستان آ کر اپنے مختصر بسیرے کرتے ہیں۔ کئی قسم کے شاہین‘ عقاب‘ باز اور دوسرے شکاری پرندے بھی ان مہمان پرندوں کے ہمراہ پاکستان پہنچتے ہیں۔ حبارہ ( Houbara Bustard) یعنی تلور بھی بلوچستان‘ سندھ‘ تھر اور چولستان کے خشک علاقوں میں موسمِ سرما کے دوران آنے والا مشہور مہاجر پرندہ ہے جن کے شکار کے لیے پاکستانی شکاری ہی نہیں‘ دوسرے ممالک سے بھی طالع آزما بلوچستان اور سندھ کے صحراؤں کا رخ کرتے نظر آتے ہیں۔مشاہدے میں آیا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ پرندوں کی بین الاقوامی اور بین البراعظمی ہجرت میں کمی واقع ہو رہی ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں جیسے عالمی درجہ حرارت میں اضافہ (موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے سردی اور گرمی کے موسموں کی شدت بدل رہی ہے اور اس تبدیلی کی وجہ سے وہ فضائی راستے بھی متاثر ہو رہے ہیں جو نقل مکانی کرنے والے پرندے اپنی پروازوں کیلئے استعمال کرتے ہیں)‘ جنگلات کے رقبے میں مسلسل کمی‘ آبی علاقوں کا کم ہونا‘ شہروں کے پھیلاؤ اور زرعی زمینوں کا سکڑنا‘ غیر منظم سیاحت اور انسانوں کے ہاتھوں پرندوں کے خالص ماحولیاتی نظاموں کو پہنچنے والا نقصان‘ آب گاہوں کی تباہی‘ غیر پائیدار ماہی گیری اور مہاجر پرندوں کی غیر قانونی تجارت۔ صنعتی فضلہ‘ شہری گندا پانی‘ زرعی کیمیکلز اور بھاری دھاتیں آبی ماحول کو زہریلا بناتی ہیں اور وہ پرندوں کے استعمال کے بھی قابل نہیں رہتا۔ زرعی علاقوں میں استعمال ہونے والی پیسٹی سائیڈز پرندوں کے لیے زہریلی ثابت ہو سکتی ہیں اور ان کی خوراک کے ذرائع کو بھی متاثر کرتی ہیں۔ تحقیق کے مطابق بعض پاکستانی آب گاہوں میں آلودگی مہاجر آبی پرندوں کی صحت اور افزائشِ نسل کو متاثر کرتی ہے۔ سب سے بڑی وجہ عارضی طور پر ہجرت کر کے پاکستان آنیوالے ان مہمانوں کا بے دریغ شکار ہے۔ حکومت کی جانب سے کچھ علاقوں میں اس شکار کو روکنے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں لیکن اس حوالے سے موجود قوانین کو پورے پاکستان میں نافذ کرنا ابھی باقی ہے۔پاکستان میں ہر سال لاکھوں مہاجر اور جنگلی پرندے غیر قانونی یا مشروط شکار کی زد میں آتے ہیں۔ ماحولیاتی رپورٹس اور دستیاب اعداد و شمار کے مطابق غیر قانونی شکار اور ماحولیاتی وجوہات کی بنا پر مہاجر پرندوں کی پاکستان آمد میں 50سے 69فیصد تک کمی دیکھی گئی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق سندھ میں 2019ء کے دوران دو لاکھ 48ہزار مہاجر پرندوں کی آمد ریکارڈ کی گئی لیکن 2020ء میں کورونا لاک ڈاؤن کے باعث جب شکار رکا تو یہ تعداد بڑھ کر سات لاکھ 41ہزار ہو گئی‘ جو اس بات کا ثبوت ہے کہ عام حالات میں یہاں آنیوالے لاکھوں پرندے شکار یا دباؤکا شکار رہتے ہیں۔ یہاں ان پرندوں کا کتنا شکار کیا جاتا ہے‘ اس کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ ہر سال صرف پاکستان میں 4000 سے 6000 تک فالکن جیسے نایاب شکاری پرندے پھنسائے جاتے اور سمگل کیے جاتے ہیں۔ جنوبی وزیرستان سمیت مختلف علاقوں میں اکیلے ڈیموئزیل کرینز یعنی کونجیں تقریباً 8000 کی تعداد میں شکار کر لی جاتی ہیں یا وہ شکار ہو جانے کے دباؤ کا شکار رہتی ہیں۔ پنجاب اور دیگر صوبوں میں وائلڈ لائف ڈپارٹمنٹ کی جانب سے اکتوبر سے مارچ تک پرمٹ کے تحت محدود قانونی شکار کی اجازت دی جاتی ہے‘ بڑے پیمانے پر غیر قانونی شکار بھی جاری رہتا ہے۔مہاجر پرندے پاکستان کے ماحولیاتی نظام کا اہم حصہ ہیں۔ ان کے تحفظ کے لیے غیر قانونی شکار کی روک تھام‘ آب گاہوں کا تحفظ‘ آلودگی میں کمی‘ کیڑے مار ادویات کے محتاط استعمال اور عوامی شعور میں اضافہ ضروری ہے۔ حالیہ مقامی اور بین الاقوامی تحقیق بھی پاکستان میں مہاجر پرندوں کی آبادی میں کمی کے تناظر میں ان اقدامات کی ضرورت پر زور دیتی ہے۔ آج جب میں یہ کالم لکھ رہا ہوں تو مہاجر پرندوں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ کیا آج یہ عہد کیا جا سکتا ہے کہ اپنی لذتِ کام و دہن کا ذریعہ بنانے کے بجائے ہم اپنے ان سریلے مہمانوں کا تحفظ یقینی بنائیں گے؟</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_58350786.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بھارت میں مسجدیں نشانے پر(محمد عبداللہ حمید گل)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-abdullah-hameed-gull/2026-10-11/52825/19887179</link><pubDate>Sun, 11 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-abdullah-hameed-gull/2026-10-11/52825/19887179</guid><description>بھارت میں نریندر مودی کی ہندوتوا حکومت کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد سے مسلمانوں پر عرصۂ حیات تنگ ہو چکا ہے۔ وقتاً فوقتاً مسلم دشمن قوانین کی منظوری اور نت نئے حربے و ہتھکنڈے آزماتے ہوئے انہیں اسلام سے دور کرنے کی سازشیں رچائی جا رہی ہیں۔ مسجدوں پر حملوں اور ان کی شہادت کا گھناؤنا سلسلہ جاری ہے۔ بھگوا ٹولے نے تین ہزارسے زائد مسجدوں‘ مزاروں اور درگاہوں کو شہید کرنے کی فہرست تیار کر رکھی ہے۔ ایک اور رپورٹ کے مطابق بھارت میں مسلمانوں کے تین لاکھ مقدس مقامات ہندوتوا کے نشانے پر ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق 1947ء سے اب تک بھارت میں پچاس ہزار سے زائد مسجدیں شہید کی جا چکی ہیں۔ بابری مسجد کی شہادت کے بعد ہی ہندو فرقہ پرستوں نے نعرہ لگایا تھا کہ ایودھیا تو صرف ایک جھانکی ہے‘ کاشی متھرا باقی ہیں۔ جبکہ بابری مسجد بھارت کی نام نہاد سیکولر تاریخ کا وہ سیاہ باب ہے جب بھارتی سپریم کورٹ نے انصاف کا خون کرتے ہوئے پانچ سوسالہ قدیم مسلم تاریخی و تہذیبی ورثے کی علامت کو مسمار کرکے آستھا کی بنیاد پر وہاں رام مندر کی تعمیر کی اجازت دی‘ جس کا سنگِ بنیاد ہندوتوا وزیراعظم اور آر ایس ایس کے پرچارک نریندر مودی نے اپنے ہاتھوں سے رکھ کر ہندوستان کے سیکولرازم کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دیا تھا۔بھارت میں بی جے پی کی ہندوتوا مہم میں تیزی آ گئی ہے جس کی بدترین مثال اُتر پردیش کے ہندو فرقہ پرست وزیراعلیٰ کی سرپرستی میں مسجدوں کی شہادت کا گھناؤنا سلسلہ ہے۔ گزشتہ ماہ اُتر پردیش کے ضلع سہارنپور کی ایک صدی قدیم تاریخی مسجد کی شہادت کی خبر سامنے آئی جس سے پاکستان میں بھی غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ۔ دفترِ خارجہ نے احتجاج کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارتی حکام کی جانب سے مسلمانوں کو منظم طور پر نشانہ بنانے اور ریاستی سرپرستی میں ان کی عبادت گاہوں کی مسلسل بے حرمتی اور مسماری کا فوری نوٹس لے۔ مودی کی ہندوتوا حکومت مقبوضہ کشمیر سے لے کر پورے بھارت میں مسجدوں‘ مدرسوں‘ درگاہوں اور مزاروں کی مسماری کیلئے بلڈوزر چلا رہی ہے‘ جس کا مقصد ہندوتوا نظریے کو جِلا بخشنا ہے۔ اُتر پردیش کی یوگی حکومت مسلمانوں کو نشانہ بنانے کیلئے ہر ہتھکنڈہ آزما رہی ہے۔ سماج وادی پارٹی کی رکن اقرا حسین کو مسجد کی شہادت کے خلاف احتجاج کرنے پر حراست میں لے لیا گیا جبکہ مسجد کی مسماری کے بعد ملبے سے 1909ء میں بنی ہوئی اینٹیں ملنے اور 20فٹ گہرا کنواں برآمد ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں۔ مسجد کے قدیم ہونے کا ریکارڈ مسلم فریق پہلے ہی عدالت میں پیش کر چکا ہے۔ مسجد کمیٹی نے اس حوالے سے یکم جنوری 1911ء کا بجلی کا ایک بل بھی پیش کیا تھا۔ پھر بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے علاقے اجین میں چھ سوسال پرانی تاریخی مسجد کو ہندو یاتریوں کو راستہ دینے کا بہانہ بنا کر مسمار کرنے کا منصوبہ بنایا گیا۔ اس کے تحفظ کیلئے شہر بھر کے مسلمانوں نے ہر ممکن کوشش کی۔ اگست 2026ء میں مسوری میں 1918ء کے نقشے پر قائم مسجد کو شہید کر دیا گیا۔ جولائی 2026ء میں تجاوزات کی آڑ میں محض 24گھنٹوں میں پانچ مسجدیں شہید کر دی گئیں۔ بہرائچ‘ سدھارتھ نگر وغیرہ میں بھی بیس مسجدوں سمیت متعدد مدارس کو شہید کیا گیا تھا۔ مظفر نگر سمیت فتح پور کی 185سالہ قدیم نوری مسجد کو شہید کر دیا گیا۔ اُس وقت بی جے پی کے زیرِ اقتدار ریاستوں‘ اُتر پردیش سمیت آسام‘ دہلی‘ مہاراشٹر‘ گجرات‘ ہریانہ اور راجستھان میں پچیس سے زائد مسلم مقدس مقامات‘ مزارات‘ درگاہوں اور مسجدوں کو شہید کیا گیا۔ بھارتی ریاست اُتراکھنڈ میں گزشتہ پانچ برسوں کے دوران تین سوسے زائد مسلم مقدس مقامات‘ جن میں مسجدیں‘ مزار اور درگاہیں شامل ہیں‘ شہید کیے جا چکے ہیں۔ بھارتی ریاست گجرات میں وزیراعلیٰ نریندر مودی کی قیادت میں 500مزاروں‘ مسجدوں اور درگاہوں کو نذرِ آتش کیا گیا تھا۔ مسجدوں پر بلڈوزر چلانے کی یہ کارروائیاں انتظامی نوعیت کی نہیں بلکہ باقاعدہ منظم منصوبہ بندی کے تحت مسلم ثقافت و تہذیب کے خلاف پالیسیوں کے مذموم سلسلے کی ایک کڑی ہیں۔ راجستھان کے سرحدی اضلاع میں اب تک آٹھ مسجدوں اور مزاروں کو یا تو مسمار کیا جا چکا ہے یا زبردستی خالی کروایا جا چکا ہے۔بھارت میں 1991ء میں ایک قانون پاس کیا گیا جس کے تحت 15اگست 1947ء تک جو بھی عبادت گاہ جس شکل میں موجود تھی اسے مسمار نہیں کیا جا سکتا۔ بابری مسجد کو اس ایکٹ سے باہر رکھا گیا ۔ مسلم طبقے کو اطمینان تھا کہ بابری مسجد کی قربانی کے بعد باقی مسجدیں محفوظ رہیں گی مگر ایسا نہ ہو سکا۔ گیان واپی مسجد وارانسی‘ مغل شہنشاہ اورنگزیب کے دور کی اس مسجد پر طویل عرصے سے قانونی جنگ جاری ہے۔ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ کاشی وِشوناتھ مندر کے حصے پر بنی ہے۔ عدالتوں کی اجازت سے مسجدمیں سائنسی سروے (ASI Survey) بھی کروائے گئے۔ متھرا کی شاہی عیدگاہ مسجد کو شری کرشن کی جائے پیدائش قرار دے کر عدالتوں میں اس کے خلاف درخواستیں دائر کی گئیں۔ اسی طرح سنبھل کی 16ویں صدی کی‘ مغل دور کی شاہی جامع مسجد کے بارے میں بھی ہری ہر مندر ہونے کا دعویٰ کر کے سروے کروائے گئے۔ بھارت میں حالیہ برسوں میں مسجدوں اور مزاروں کے نیچے مندروں کے ڈھانچوں کی برآمدگی کے جھوٹے دعوؤں کے علاوہ ایک نیا طریقۂ کار اپنایا گیا ‘ جسے بلڈوزر پالیسی کہا جاتا ہے۔ راتوں رات مسجدوں پر بلڈوزر چلا کر انہیں شہید کیا جا رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارت کو جہنم کے گڑھے (Hellhole) سے تشبیہ دی گئی تھی۔ اگر انسانی حقوق کی عالمی رپورٹس اور بھارت کے اندرونی حالات کا بغور جائزہ لیا جائے تو امریکی صدر کے بیان نے درحقیقت مودی کے بھارت کا پول کھول کر رکھ دیا تھا‘ جہاں نہ صرف مسلمانوں بلکہ دیگر اقلیتوں اور نچلی ذات کے ہندو‘ دلتوں کیلئے بھی حالات واقعی جہنم بن چکے ہیں۔ امریکہ میں قائم خالصتانی تنظیم &#39;&#39;سکھ فار جسٹس‘‘ کے رہنما گرپتونت سنگھ پنوں کے مطابق بھارت صرف ایک جہنم نہیں بلکہ نسل کشی سے بھرا ہوا جہنم ہے۔ مودی حکومت اپنے قیام کے روزِ اول سے ہی سنگھ پریوار کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔ مسلمانوں کو فسادات کی آگ میں جھونکنے کے بہانے تراشے جاتے ہیں اور انہیں ہندو شرپسندوں کے حملوں کا مسلسل سامنا ہے۔ مسلمانوں کو گائے کے ذبیحے کی آڑ میں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ مسلم ناموں سے منسوب شہروں اور شاہراہوں کے نام بدل دیے گئے‘ تعلیم کا بھگوا کرن جاری ہے۔ نصابی کتب سے مسلمان حکمرانوں کو ہی حذف کر دیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ ہندوستان کی تاریخ کو ازسرِنو مرتب و تحریر کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ دوسرے لفظوں میں تاریخی حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جا رہا ہے۔ پورے ہندوستان میں مسلمان عدم تحفظ کا شکار ہیں اور مودی کی فرقہ پرست حکومت کھل کر مسلم دشمنی پر اُتر آئی ہے۔ مودی سرکار &#39;&#39;سب کا ساتھ‘ سب کا وکاس‘‘ کی بات کرتی ہے لیکن عملی طور پر وہ بھارت کی سب سے بڑی اقلیت کو دیوار سے لگانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی۔ انڈیا میں برہمن راج کی مکمل تیاری کی جا چکی ہے۔ برہمن ذات کا ایک خاص حصہ انتہائی طاقتور طریقے سے پورے برصغیر کو اپنے زیرِ تسلط کرنا چاہتا ہے۔ بھارت کے تمام انتظامی اور اہم معاملات اس خاص ہندو برہمن ذہنیت رکھنے والے لوگوں کے پاس جا چکے ہیں۔ جبکہ جنوبی ایشیا کے تمام ممالک ہندوستان کے اکھنڈ بھارت کے عزائم سے نالاں ہیں۔ انتہا پسند ہندو رہنما ماضی میں کئی بار اکھنڈ بھارت کا خواب پورا کرنے کے ارادے ظاہر کر چکے ہیں۔ 2022ء میں آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھگوت اکھنڈ بھارت کا خواب طاقت کے زور پر پورا کرنے کا اعلان کر چکے ہیں۔ پاکستان کے ساتھ ساتھ اقوامِ عالم کو بھی بھارت میں مسلمانوں کی مذہبی‘ سیاسی‘ سماجی و تاریخی شناخت چھیننے کیلئے بنائے گئے نت نئے مسلم دشمن قوانین پر نوٹس لینے کی اشد ضرورت ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_62843609.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>