<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>توانائی بحران کا امڈتا خطرہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-30/11150</link><pubDate>Thu, 30 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-30/11150</guid><description>ورلڈ بینک کی کموڈیٹی مارکیٹس آؤٹ لُک رپورٹ نے دنیا بھر کیلئے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے عالمی سپلائی چین کے نظام کو اس حد تک متاثر کیا ہے کہ توانائی‘ خوراک اور صنعتی دھاتوں کی قیمتوں میں اضافے کو قابو میں رکھنا اب ممکن نہیں رہا۔ ورلڈ بینک کے تخمینے کے مطابق توانائی کی قیمتوں میں رواں سال 24فیصد اضافے کا امکان ہے۔ عالمی اشیائے صرف کی قیمتیں 16فیصد تک بڑھ سکتیں جبکہ کھاد کی قیمتوں میں 31فیصد اضافہ ہو سکتا ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق یہ صورتحال ترقی پذیر ممالک کیلئے خاص طور پر تشویشناک ہو سکتی ہے کیونکہ خوراک‘ توانائی اور زرعی لاگت میں اضافے سے کوئی بھی شعبہ متاثر ہوئے بغیر نہ رہے گا۔ اس وقت پوری دنیا کی نظریں خلیجی خطے خصوصاً آبنائے ہرمز پر لگی ہوئی ہیں جہاں سے روزانہ لاکھوں بیرل تیل گزرتا ہے۔ اگر اس حساس بحری راستے پر سے بندشیں فوری دور نہ ہوئیں تو پوری دنیا پر اس کے سنگین اثرات ہوں گے۔ اس وقت عالمی سطح پر خام تیل کی سپلائی میں یومیہ ایک کروڑ بیرل تک کی تاریخی کمی ہو چکی ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ گزشتہ سال خام تیل کی اوسط فی بیرل قیمت لگ بھگ 69 ڈالر کی سطح پر برقرار رہی تھی لیکن حالیہ تنازعات اور سپلائی لائنز کے انقطاع کے سبب اب اس کے 86 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ خلیج کے خطے میں غیر یقینی کی جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس نے عالمی مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کو خوف میں مبتلا کر دیا ہے۔ متحدہ عرب امارات کا تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک سے نکلنے کا فیصلہ بھی عالمی آئل مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال میں مزید اضافے کا سبب بنا ہے۔ اسی طرح یمن کے قریب خلیج عدن اور بحیرہ احمر کو ملانے والی آبی گزرگاہ‘ باب المندب کی بندش کے خطرے نے بھی بحری تجارت کے رِسک فیکٹر میں اضافہ کر دیا ہے اور پریمیم وانشورنس اخراجات اور فریٹ چارجز میں فی کنٹینر 1500 سے چار ہزار ڈالر کا اضافہ ہو چکا ہے۔ ان عوامل نے مستقبل میں تیل کے مزید مہنگا ہونے کا اندیشہ پیدا کر دیا ہے۔ ورلڈ بینک نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اگر کھادوں اور اناج کی سپلائی متاثر ہوئی تو مزید کروڑوں لوگ فاقہ کشی کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ورلڈ بینک کی کموڈیٹی مارکیٹس آؤٹ لُک کا تخمینہ اس مفروضے پر مبنی ہے کہ مئی میں آبنائے ہرمز کی بندشوں کا خاتمہ ہو جائے‘ تاہم اگر ایسا نہیں ہوتا اور آبنائے ہرمز کی بندش بدستور جاری رہتی ہے تو صورتحال اس سے کہیں بدتر ہو سکتی ہے۔
یہ صورتحال پاکستان جیسے ممالک کیلئے بڑی تشویش کا موجب ہونی چاہیے۔ اگر پٹرولیم مصنوعات کی عالمی قیمتوں میں بڑا اضافہ ہوتا ہے‘ جس کے آثار بظاہر دکھائی دے رہے ہیں‘ تو اس کی بھاری معاشی قیمت ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔ ایران‘ امریکہ جنگ بندی کے بعد نو اپریل کو عالمی مارکیٹ میں برینٹ کروڈ کی قیمت 96 ڈالر کی سطح تک آ گئی تھی‘ جو اَب دوبارہ 115 ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔ جب تیل مہنگا ہوتا ہے تو بجلی‘ ٹرانسپورٹ اور مینو فیکچرنگ سمیت ہر چیز کی لاگت بڑھ جاتی ہے۔ ان حالت میں صرف ایک ہی راستہ بچتا ہے اور وہ ہے داخلی خود کفالت اور متبادل منڈیوں کی تلاش۔ ہمیں توانائی کے شعبے میں روایتی درآمدی ممالک پر انحصار کم کر کے دیگر متبادل خطوں پر بھی متوجہ ہونا پڑے گا۔ ملک میں موجود متبادل توانائی ذرائع کا استعمال ہنگامی بنیادوں پر بڑھانا ہوگا تاکہ تیل کی درآمد پر خرچ ہونے والا قیمتی زرمبادلہ بچایا جا سکے۔ ایک اہم ترین ترجیح زراعت میں خود کفالت ہونی چاہیے تاکہ عالمی مارکیٹ میں اٹھنے والی گرانی کی لہروں سے اپنے معاشی ڈھانچے کو محفوظ رکھا جا سکے۔ وقت آ گیا ہے کہ ملکی قیادت اور ادارے مل کر ایک  جامع اور ہمہ گیر حکمتِ عملی ترتیب دیں جو عالمی بحرانوں کے اثرات سے پاکستان کے غریب عوام کو محفوظ رکھ سکے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بجلی کی پیداوار کا ہدف(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-30/11149</link><pubDate>Thu, 30 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-30/11149</guid><description>پاور ڈویژن نے پاور سیکٹر کیلئے آئندہ ایک دہائی کا جو خاکہ تیار کیا ہے اس کے مطابق 2035 ء تک ملک کی متوقع معاشی ترقی کیلئے 70 ہزارمیگاواٹ سے زائد بجلی کی پیداواری صلاحیت درکار ہوگی ۔ ملک میں اس وقت 46,605 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے جبکہ ان دنوں مجموعی طلب 20 سے 22 ہزار میگاواٹ ہے لیکن عملی صورتحال یہ ہے کہ اس وقت چھ ہزار میگا واٹ سے زائد شارٹ فال کا سامنا ہے‘ جس کی وجہ سے عوام کو شدید لوڈ شیڈنگ برداشت کرنا پڑ رہی ہے۔ جس کی بنیادی وجہ آر ایل این جی کی عدم فراہمی کے باعث ایل این جی پر چلنے والے پلانٹس کی بندش ہے۔ اس پس منظر میں منصوبہ ساز اداروں کو مستقبل کیلئے قابلِ تجدید توانائی کے فروغ پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔

اگرچہ حکومت نے 2030ء تک ملکی ضرورت کی 60فیصد بجلی قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع سے حاصل کرنے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے لیکن اصل مسئلہ پالیسی کے تسلسل اور عملی نفاذ کا ہے۔ حکومت کی جانب سے بار بار تبدیل ہوتی سولر پالیسیوں نے صارفین کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر رکھا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ توانائی کی منصوبہ بندی کو محض اعداد و شمار تک محدود رکھنے کے بجائے ایک مربوط اصلاحاتی فریم ورک تشکیل دیا جائے جس میں قابلِ تجدید توانائی‘ ترسیلی نظام کی بہتری‘ پالیسی کا تسلسل اور طلب و رسد کے حقیقت پسندانہ تخمینے شامل ہوں۔ بصورت دیگر اضافی پیداواری صلاحیت کے باوجود توانائی بحران برقرار رہے گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ایڈز، علاج کی ناکافی سہولیات(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-30/11148</link><pubDate>Thu, 30 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-30/11148</guid><description>وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال کے مطابق ملک میں ایڈز کے رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد 84ہزار تک پہنچ چکی ہے‘ اورصرف 2025ء میں 14ہزار سے زائد کیس رپورٹ ہوئے۔ طبی ماہرین کے مطابق اس کی بنیادی وجوہات میں سرنجوں اور طبی آلات کا غیرمحفوظ استعمال‘ غیرمحفوظ انتقالِ خون‘ ایچ آئی وی ٹیسٹنگ اور علاج کی محدود سہولیات اور سب سے بڑھ کر عوام میں آگاہی کا فقدان شامل ہیں۔ سماجی دباؤ بھی اس مرض کے پھیلاؤ میں اضافے کا سبب بن رہا ہے۔ سماجی دباؤ کے باعث بہت سے افراد ایچ آئی وی سہولت مراکز سے رجوع کرنے سے کتراتے ہیں جس کے باعث ان کی بروقت تشخیص اور علاج ممکن نہیں ہو پاتا۔

ملک بھر میں اس وقت صرف 97 ایچ آئی وی سکریننگ مراکز موجود ہیں جو ملکی آبادی کے تناسب سے ناکافی ہیں۔ ایڈز پر قابو پانے کیلئے ضروری ہے کہ حکومت فوری طور پر سکریننگ سنٹرز کی تعداد میں اضافہ یقینی بنائے۔ اس کے ساتھ ساتھ موبائل سکریننگ یونٹس اور پرائمری ہیلتھ کیئر سسٹم کو بھی فعال بنانا ضروری ہے۔ علاوہ ازیں سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں انفیکشن کنٹرول پروٹوکولز پر ہر صورت عملدرآمد بھی ناگزیر ہے۔ ایڈز ایک لاعلاج مرض ضرور ہے لیکن اس کی بروقت تشخیص‘ مسلسل علاج اور احتیاطی تدابیر کے ذریعے مریض معمول کی زندگی گزار سکتا ہے۔ </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مکھڈی حلوہ اور صدر ٹرمپ کی صاف گوئی(محمد اظہارالحق)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-04-30/51858/16708684</link><pubDate>Thu, 30 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-04-30/51858/16708684</guid><description>آج کل میں جہاں رہ رہا ہوں‘ وہ جگہ اُس مشہور ہوٹل سے بہت قریب ہے جہاں حساس نوعیت کے مذاکرات ہوتے رہے اور جہاں غیرملکی مہمان قیام پذیر رہے۔ اسی وجہ سے وفاقی دارالحکومت کے اندرونی راستے بھی بند رہے۔اسی ضمن میں صدر ٹرمپ کی بھی آمد آمد تھی۔ میں نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ کچھ ذمہ داری ہماری بھی ہے۔ انہوں نے سوالیہ آنکھوں سے میری طرف دیکھا۔ میں نے کہا کہ ہم ہوٹل کے نزدیک رہتے ہیں۔ یعنی صدر ٹرمپ آئیں گے تو ہمارے پڑوسی ہوں گے۔ ہمیں ان کی دعوت کرنی چاہیے۔اس پر اہلیہ نے فوراً یاد دلایا کہ کچھ دن پہلے انہوں نے دوست خواتین کی دعوت کی تھی تو میں نے کہا تھا کہ گرانی ہوشربا ہو چکی ہے اس لیے ان آئے روز کی دعوتوں کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ اس پر بیگم نے اس وقت بھی کہا تھا کہ ٹھیک ہے پھر آپ کے سابق‘ فائل زدہ رفقائے کار اور نیم بے ہوش شاعر دوست بھی نہیں آئیں گے جو مسلسل نازل ہوتے رہتے ہیں اور اٹھنے کا نام نہیں لیتے۔ اب بھی بیگم نے اسی حکم نامے بلکہ معاہدے کا ذکر کیا مگر میں نے انہیں سمجھایا کہ یہ قومی معاملہ ہے اور ملک کی عزت کا سوال ہے۔ صدر ٹرمپ پڑوس میں آکر رہیں اور ہم انہیں کھانے پر نہ بلائیں تو یہ نہ صرف مہمان نوازی کے اصولوں کے خلاف ہو گا بلکہ پورے پاکستان کی عزت پر حرف آئے گا۔ یہ ایک ایسی دلیل تھی جس کے سامنے بیگم نے ہتھیار ڈال دیے۔اب یہ طے کرنا تھا کہ دعوت کا مینو کیا ہو۔ خصوصی اجلاس منعقد کیا گیا۔ سب افرادِ خانہ نے اپنی اپنی رائے دی۔ میری نواسی زینب اور پوتیاں زہرا اور زرین غصے میں تھیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ صدر ٹرمپ نے ایران پر بہت مظالم ڈھائے ہیں اس لیے وہ زیادہ سے زیادہ دال چاول کے مستحق ہیں۔ بہت زیادہ رونق دسترخوان پر لگانی ہے تو مکئی کی روٹی اور ساگ بھی پیش کر دیں۔ مگر میرے نواسوں قاسم اور رستم اور پوتوں حمزہ اور تیمور نے لڑکیوں کو سمجھایا کہ گھر آئے ہوئے مہمان کی توقیر اور خاطر تواضع ہماری تہذیب کا لازمی جزو ہے اس لیے کھانے میں کم از کم مرغِ مسلّم‘ بکرے کی رانیں‘ اونٹ کی نہاری اور دنبے کا پلاؤ ضرور ہو۔ ساتھ کستوری بوٹی‘ ریشمی کباب اور نرگسی کوفتے بھی ہونے چاہئیں۔ میں خاموشی سے سب کی تجاویز سنتا رہا۔ آخر میں مَیں نے صرف اتنا کہا کہ حتمی فیصلہ بچوں کی بڑی امی کریں گی تاہم مکھڈی حلوہ لازم ہے کیونکہ یہ ہمارے علاقے کی شناخت ہے۔ ہمارے ہاں کوئی دعوت مکھڈی حلوے کے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔ اور کیا بات ہے مکھڈی حلوے کی! میٹھے پکوانوں کا سردار!! ہمارے عساکر کے جوان جب مشقیں کرتے ہیں اور سنگلاخ زمینوں اور چٹیل میدانوں میں دس دس پندرہ پندرہ میل دوڑتے ہیں تو کون سی خوراک ان کی جسمانی قوت کو بحال کرتی ہے؟؟ مکھڈی حلوہ اور دیسی چُوچہ!! مکھڈی حلوہ اٹک اور میانوالی کے اضلاع میں ہر جگہ بنیادی غذا (Staple Food) کے طور پر پکایا جاتا ہے۔ یہ تلہ گنگ میں بھی روزمرہ کی خوراک کا حصہ ہے! (آہ! تلہ گنگ! جسے عوام سے پوچھے بغیر ضلع اٹک سے کاٹ کر کہیں اور جوڑ دیا گیا اورخدا خدا کر کے اب ضلع بن گیا ہے مگر ڈپٹی کمشنر سے محروم ہے)! تاہم ہر شے کا ایک مرکز یا گڑھ ہوتا ہے۔ جس طرح پلاؤ کا گڑھ بخارا‘ سمر قند اور تاشقند ہیں‘ اور جس طرح نہاری کا گڑھ دلّی ہے اور جس طرح رس گلے کے لیے ڈھاکہ کی نواحی بستی گھوڑا سال معروف ہے اور جس طرح میٹھے دہی کے لیے بوگرا (بنگلہ دیش) مشہور ہے اور جس طرح مشہور ترکی پکوان &#39;&#39;اسکندر کباب‘‘ کے لیے بورصہ کا شہر جانا پہچانا ہے اسی طرح بہترین مکھڈی حلوے کے لیے پنڈی گھیب مشہور ہے۔ بیٹی کی شادی پر میں نے خصوصی طور پر پنڈی گھیب ہی سے حلوہ منگوایا تھا جو بہت &#39;&#39;ہِٹ‘‘ ہوا تھا۔ بہر طور مینو کا فیصلہ ہو گیا۔ دعوت کی تیاری پورے زور شور سے ہونے لگی۔ ہمارے ہاں بڑی بڑی دعوتوں میں کھانا پکانے والے کو &#39;&#39;پکوتا‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس عظیم الشان دعوت کے لیے پنڈی گھیب ہی سے ایک ماہر پکوتے کا بندو بست کیا گیا۔ ہر روز کئی بار ہم معلوم کرنے کی کوشش کرتے کہ صدر ٹرمپ تشریف لا چکے ہیں یا نہیں؟ وہی حال تھا کہ بقول نصرت فتح علی خان: آ جا تینوں اکھیاں اُڈیک دیاں! مگر صدر ٹرمپ نے نہیں آنا تھا‘ نہ آئے۔ ساری تیاریاں دھری رہ گئیں۔ سودا سلف منگوانے پر خاصی رقم لگی تھی۔ یوں امریکہ کے صدر کی وجہ سے ہمیں مالی نقصان پہنچا۔خواتین‘ خاص طور پر پاکستانی خواتین دُھن کی پکی ہوتی ہیں۔ اپنی ہٹ پر قائم رہتی ہیں۔ بیگم نے فیصلہ کیا کہ ٹیلیفون کر کے صدر ٹرمپ کو بتائیں گی کہ دعوت کرنا تھی مگر آپ تشریف ہی نہ لائے۔ منع کیا مگر پاکستانی شوہروں کی سنتا کون ہے۔ اللہ جانے بیگم صاحبہ نے صدر ٹرمپ کا ذاتی موبائل فون نمبر کیسے معلوم کیا مگر کر لیا۔ صدر صاحب لائن پر آئے۔ بیگم نے بتایا کہ جناب عالی!! آپ کی دعوت کرنا تھی اور ایسے ایسے پکوان کھلانے تھے کہ مذاکرات کے لیے آپ کی طاقت اور حوصلہ دو چند ہو جانا تھا۔ صدر ٹرمپ بہر طور ایک کائیاں سیاستدان ہیں۔ کہنے لگے &#39;&#39;آپ پاکستانی مطلب کے بغیر دعوت کہاں کرتے ہیں۔ پہلے بھی ایک امریکی صدر کو ایک پاکستانی نے کہا تھا کہ اس کے بیٹے کو تحصیلدار لگوائے۔ آپ کام بتائیے‘‘۔ اب حاشا و کلا ہم تو یہ دعوت خالصتاً فی سبیل اللہ کر رہے تھے مگر صدر صاحب نے کام کا پوچھا تو بیگم صاحبہ کو اپنی دُکھتی رگ یاد آئی۔ کہنے لگیں: عالی جناب صدر ٹرمپ! ہمارے وزیراعظم سے کہیے کہ ہم پاکستانیوں کے سر پر سے بجلی پیدا کرنے والے نجی مافیا کا بھاری بوجھ ہٹالیں۔ صدر ٹرمپ نے قہقہہ لگایا۔ کہنے لگے: خاتون! آپ اپنے وزیراعظم اور ان کے رفقا کو شاید جانتی نہیں۔ یہ لوگ بہت نرم دل ہیں۔ صلہ رحمی ان کی گھٹی میں پڑی ہے۔ اپنے طبقے کا‘ اپنی کلاس کا بہت خیال رکھتے ہیں۔ بجلی پیدا کرنے والی نجی کمپنیوں (IPPs) کے مالکان ان کی اپنی کلاس سے تعلق رکھتے ہیں۔ عوام کی حیثیت ان کے مقابلے میں گھاس کے تنکے جتنی بھی نہیں! جبھی تو کپیسٹی کا پھندا عوام کے گلے میں ڈالا گیا ہے۔ یعنی اگر نجی کارخانہ سو یونٹ بجلی پیدا کرنے کی طاقت رکھتا ہے تو حکومت اسے پورے سو یونٹ کی قیمت ادا کرے گی اگرچہ وہ سو سے کم یونٹ پیدا کر رہا ہے۔ جو کارخانے صفر یونٹ یعنی کچھ بھی نہیں پیدا کر رہے انہیں بھی کپیسٹی کے حساب سے ادائیگیاں ہو رہی ہیں اور وہ بھی ڈالروں میں!! اس لیے خاتون! بھول جائیے کہ بجلی کبھی سستی ہو گی۔ یہ آئی پی پیز آپ کا خون چوس کر آپ کو اَدھ مویا کر دیں گے۔ میں‘ صدر ٹرمپ‘ یوں بھی صاف گوئی کے لیے بدنام ہوں۔ وقتی طور پر تو پچیس کلو واٹ سے کم سولر لگانے والوں سے لائسنس فیس ہٹا دی گئی ہے مگر یاد رکھیے! آخرِ کار آپ کو نہ صرف سولر پر ٹیکس دینا پڑے گا بلکہ پانی‘ ہوا‘ چاندنی اور درختوں کی چھاؤں پر بھی ٹیکس ادا کرنا ہو گا۔ تمہارے کانوں میں پرندوں کے چہچہانے کی آواز پڑے گی تو اس کی بھی قیمت ادا کرو گے۔ پھولوں کی خوشبو سونگھنے پر بھی ٹیکس لگے گا۔ منہ دھونے اور کنگھی کرنے پر بھی ٹیکس لگے گا۔ پاکستان پر امرا کی حکومت ہے۔ بالائی طبقے کو صرف اپنی دولت کی حفاظت کرنی ہے اور اس میں بہر طور اضافہ کرنا ہے۔ اس لیے معزز خاتون! میں آپ کی کوئی مدد نہیں کر سکتا۔ بظاہر لگتا ہے کہ پاکستان میں میری بڑی اتھارٹی ہے۔ یہ بات اتنی غلط بھی نہیں! مگر اپنی کلاس پھر اپنی کلاس ہوتی ہے۔ اور ہاں! مکھڈی حلوہ بنانے کی ترکیب مجھے وٹس ایپ کر دیجیے۔ میلانیا سے کہتا ہوں کہ پکا دے!!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_57182973.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کل بھی کچھ نہیں بدلے گا(خالد مسعود خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-04-30/51859/86277192</link><pubDate>Thu, 30 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-04-30/51859/86277192</guid><description>آئین میں ہونے والی 27 ویں ترمیم کے بارے میں عدلیہ کی آزادی بارے فکر مند لوگوں کو جو پُریقین قسم کے شکوک و شبہات تھے وہ اب کم از کم شکوک و شبہات کے دائرے سے باہر نکل آئے ہیں اور سب کچھ صاف صاف دکھائی دینے لگا ہے۔ جنہیں یہ سب کچھ اب بھی دکھائی نہیں دے رہا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ دراصل یہ سب وہی ہیں جنہوں نے اپنے ضمیر پر اس ترمیم کی حمایت کا بوجھ اٹھا رکھا ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ میں ہونے والے حالیہ تبادلوں سے بہت سی چیزیں کھل کر سامنے آ گئی ہیں جن میں سب سے پہلی تو یہ ہے کہ اب سپریم جوڈیشل کونسل پر حقیقی کنٹرول عدلیہ کا نہیں عوامی نمائندوں کا ہے۔ بلکہ زیادہ صاف لفظوں میں اب یہ کنٹرول حکمران پارٹی اور ان کے اتحادیوں کے ہاتھ میں ہے۔ جمہوریت کی دعویدار اور آئینی معاملات کو سیدھی لائن میں رکھنے کی علمبردار پیپلز پارٹی ہر بار کسی بھی معاملے پر گلی محلے کی حد تک بڑھکیں مارنے والے کسی جعلی جگے کی طرح آزمائش پڑنے پر بھیگی بلی ثابت ہوتی ہے۔ یہی کچھ حالیہ سپریم جوڈیشل کونسل کے اجلاس میں ہوا۔ آئین‘ قانون اور عدلیہ کی آزادی و خود مختاری کے نعرے لگانے والوں نے دو ججوں کا تبادلہ تو مؤخر کروا لیا لیکن تین ججوں کے بارے میں ہونے والی رائے شماری کے موقع پر وہی کچھ کیا گیا جو گزشتہ ایک عرصے سے ہوتا آ رہا ہے۔ حکمران پارٹی اور ان کے اتحادی ایک طرف تھے۔ ہمارے ہاں حالات کا رخ بھانپ کر وزنی پلڑے کو مزید وزنی کرنے کی شاندار روایت کو مدنظر رکھتے ہوئے دیگر مرغانِ باد نما نے سرکاری رضا والے پلڑے کو زمین سے لگا دیا اور آسمان کی طرف بلند ہونے والے پلڑے میں چیف جسٹس کے ہمراہ راندۂ درگاہ پارٹی کے دو عدد قانون دان نمائندے تھے۔گو کہ موجودہ تناظر میں پارٹی کے دو نمائندگان یعنی بیرسٹر علی ظفر اور بیرسٹر گوہر خان نے بظاہر قانون‘ آئین اور عدلیہ کی عزت و آبرو کو تحفظ دینے کے نام پر سپریم جوڈیشل کونسل میں ججوں کی ٹرانسفر کے خلاف ووٹ ڈالا ہے۔ اللہ مجھے بدگمانی سے بچائے‘ میرے خیال میں ان دونوں حضرات کا سپریم جوڈیشل کونسل میں ڈالا جانے والا مخالفت کا ووٹ فی الوقت وہی رویہ ہے جو ہمارے ہاں اپوزیشن میں رہتے ہوئے اپنایا جاتا ہے۔ میں مخالفت میں ڈالے جانے والے ان دونوں ووٹوں کو اخلاقی‘ آئینی اور قانونی اقدار کی خاطر ڈالے جانے والے ووٹوں میں اس لیے شمار نہیں کرتا کہ کل کلاں اسی قسم کی صورتحال میں آج ان ٹرانسفرز کی مخالفت میں ووٹ ڈالنے والے جب خود حکمران پارٹی کی نمائندگی کر رہے ہوں گے تو ان کا تب کا اصولی مؤقف وہی ہوگا جو آج حکمران پارٹی سے تعلق رکھنے والے سپریم جوڈیشل کونسل کے ارکان کا ہے۔ دراصل ہمارے ہاں ایسے معاملات میں مسئلہ اصول کا نہیں بلکہ یہ ہوتا ہے کہ آپ اپوزیشن میں ہیں یا حکمران پارٹی کے نمائندے ہیں۔ 27ویں ترمیم کے ذریعے سرکار نے عدلیہ کے ساتھ جو کچھ کیا ہے اس کے بعد ہم جیسے قلم گھسیٹ اگر نظامِ عدل کے بارے کچھ لکھ دیں تو ان کے لیے اب عام معافی ہو نی چاہیے کہ توہین کرنے کیلئے اب بچا ہی کیا ہے؟ لیکن جیسا کہ وہ کہاوت ہے کہ پانی ہمیشہ نیچے کی سمت بہتا ہے ہم چونکہ نیچے کی سمت ہیں اس لیے ہمیں بہرحال محتاط ہی رہنا پڑتا ہے۔ اسی احتیاط کے باعث فی الوقت اس عاجز کو بالکل سمجھ نہیں آ رہی کہ وہ ان کیلئے کیا الفاظ لکھے۔ انہیں ناپسندیدہ‘ باغی یا معتوب جج بھی نہیں لکھا جا سکتا کیونکہ اس کی کوئی وجہ ہونی چاہیے اور جو وجوہات ہیں وہ بھی کھل کر بیان نہیں کی جا سکتیں‘ لہٰذا اس بات پر مٹی ڈالی جائے کہ ان تین ججوں کو کیا لکھا جائے۔ تاہم یہ یاد رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں ان کے بعض فیصلوں اور اقدامات کے باعث ان کو متعدد انتظامی اقدامات کے ذریعے کافی حد تک &#39;&#39;نُکڑے‘‘ لگایا جا چکا تھا۔ اتفاقاً یہ تینوں معزز جج صاحبان اُن چھ ججوں میں شامل تھے جنہوں نے مارچ 2024ء میں سپریم جوڈیشل کونسل کو ایک خط لکھا تھا‘ جس میں عدالتی امور میں مداخلت اور دیگر ہتھکنڈوں سے ہراساں کیے جانے کا ذکر تھا۔ یہ بھی محض اتفاق ہے کہ یہ تینوں جج اُن پانچ ججوں میں شامل تھے جنہوں نے جسٹس عامر فاروق کے سپریم کورٹ کا جج بننے کے بعد لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سرفراز ڈوگر کو اسلام آباد ہائیکورٹ کا جج بمعہ پرانی سنیارٹی تعینات کرنے کی مخالفت کی تھی۔ اتفاقات کا عجب تسلسل ہے کہ یہ جج موجودہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کی تقریبِ حلف برداری میں بھی شریک نہیں ہوئے تھے۔ ظاہر ہے یہ احتجاج نہیں محض ایک اتفاق تھا۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے پانچ ججوں کے تبادلے کی درخواست پر چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے مذکورہ درخواست سے اختلاف کرتے ہوئے بغیر کسی وجہ کے ان ججوں کے تبادلوں کوروکنے کی کوشش کرتے ہوئے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کو سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس بلانے سے رک جانے کا مشورہ دیا۔ لیکن بہرحال اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس بلانے کی درخواست کر دی۔ چیف جسٹس کی جانب سے اجلاس سے گریز کرنے کے مشورے کے باوجود جوڈیشل کونسل کے پانچ ارکان نے آئین کی شق نمبر 175 (اے) (22) کے تحت کونسل کا اجلاس بلانے کی درخواست جمع کروا دی جس کے بعد اجلاس بلانا آئینی مجبوری تھا۔ اجلاس میں جو کچھ ہوا ممکن ہے اس پر وقت کی دھول جم جائے لیکن اس کے اثرات بہت دیر تک باقی رہیں گے۔ یوں سمجھیں پنجابی کے ایک لفظ کے مطابق سرکار کا &#39;&#39;اینٹ‘‘ کھل گیا ہے اور جب &#39;&#39;اینٹ‘‘ کھل جائے تو پھر چل سو چل ہے۔ہمارا ایک دوست اس قسم کی &#39;&#39;دَبڑ گھسنیوں‘‘ پر ہمیشہ اس امید کا اظہار کرتا ہے کہ جب حکومت بدلے گی تو یہ سارے غیر قانونی‘ غیر آئینی اور غیر اخلاقی ضابطے‘ شقیں‘ ترامیم اور قوانین لپیٹ دیے جائیں گے۔ میں اس کی بات پر ہنستا ہوں اور اسے کہتا ہوں کہ وہ کسی خیالی دنیا میں رہتا ہے۔ ایسے بننے والے قاعدے‘ ضابطے اور قوانین برسر اقتدار لوگ بناتے ہیں اور انہیں واپس لینے یا بدلنے کا اختیار بھی برسر اقتدار لوگوں کے پاس ہی ہوتا ہے ان قوانین کے طفیل رگڑا کھانے والی اپوزیشن جب اقتدار میں آتی ہے تو انہیں علم ہوتا ہے کہ یہ قوانین ان کی حفاظت‘ اقتدار کی طوالت‘ حکمرانی کی پختگی‘ مطلق العنانی اور بلا شرکت غیرے موج میلہ کرنے میں مدو معاون ہیں اور بحیثیت حکمران اب وہ اس سے براہِ راست مستفید ہونے والے ہیں تو وہ ان قوانین کو بدلنے کے بجائے استعمال کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ ان کے پاس بڑا مدلل جواب ہوتا ہے کہ اب اپوزیشن کو رونے دیں‘ یہ انہی کے بنائے ہوئے قوانین ہیں۔ جب وہ خود بینی فشری بنتے ہیں تو انہیں ان قوانین کو بدلنے کا خیال بھی نہیں آتا۔ جنرل ضیا الحق کی آمریت کے سائے تلے طلبہ یونینوں پر لگنے والی پابندیاں آج 40سال گزرنے کے بعد بھی برقرار ہیں۔ جنرل ضیا الحق کی آمریت سے متاثرہ پیپلز پارٹی بھی اس کے بعد تین بار برسر اقتدار آئی اور میاں نواز شریف بھی تین بار اقتدار میں آئے۔ کسی جمہوری حکومت کو آمریت کے زور پر یونینز پر عائد کی جانے والی پابندی ختم کرنے کا نہ خیال آیا اور نہ حوصلہ ہوا۔ وجہ صرف یہ تھی کہ انہیں بھی طلبہ کی جانب سے کسی قسم کے احتجاج‘ مخالفت اور رکاوٹ کا خوف نہ رہا تھا‘ سو طلبہ تنظیموں اور تعلیمی اداروں میں طلبہ یونین پر پابندی برقرار ہے۔ یہاں کل کا دن بھی آج جیسا ہی طلوع ہو گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90500073.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>عالمِ نو ہو رہا ہے پیدا؟(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-04-30/51860/19011538</link><pubDate>Thu, 30 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-04-30/51860/19011538</guid><description>عالمی جنگوں نے تاریخ اور جغرافیہ‘ دونوں کو بدلا ہے۔ یہ تبدیلی حالات کے ساتھ افکار وخیالات میں بھی آئی ہے۔ جس جنگ سے ہم ان دنوں میں گزر رہے ہیں‘ اس نے بھی انسانی خیالات اور نظریات کو متاثر کیا ہے۔ حسبِ روایت یہ تبدیلی پہلے مرحلے میں اہلِ دانش میں ظہور کرے گی اور دوسرے مرحلے میں عامۃ الناس کو متاثر کرے گی۔ پہلے مرحلے کا آغاز ہو چکا۔دوسری جنگِ عظیم کے بعد‘ پرانے سیاسی نظریات تشکیلِ نو کے عمل سے گزرے۔ اقوام کے بارے میں خیالات تبدیل ہوئے۔ دنیا سلطنتوں کے عہد سے نکل کر قومی ریاستوں کے دور میں داخل ہوئی۔ مطلق العنانیت یا فاشزم کے خلاف عالمی سطح پر تحریک اٹھی۔ ہٹلر اور مسولینی کو ناپسندیدہ شخصیات میں شامل کر لیا گیا۔ سلطنتوں کے دور میں ایسا نہیں تھا۔ فاتحین کو تحسین کی نظر سے دیکھا جاتا تھا اور سیاسی راہنما ان کو اپنے لیے مثال قرار دیتے تھے۔ جنگ جس طرح انسانی سماج کے لیے عذاب بن کر اترتی ہے‘ آج لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ انہیں مؤرخ کا انتظار نہیں کرنا پڑا کہ وہ گواہی دے اور پھر وہ فیصلہ کریں کہ ان کا ہیرو کون ہے۔ہولو کاسٹ نے یہودیوں کے بارے میں اہلِ کلیسا کے خیالات بدل ڈالے تھے۔ یہی یہودی تھے جنہوں نے اپنے تئیں سیدنا مسیحؑ کو مصلوب کیا‘ یہ الگ بات کہ اللہ تعالیٰ نے محفوظ رکھا۔ سیدہ مریم کی چادرِ عصمت پر ناپاک نگاہ ڈالی۔ ان کے جرائم کی ایک طویل فہرست ہے جو تاریخ کا حصہ ہے۔ ہولو کاسٹ نے مگر اس تاریخ کو بدل ڈالا۔ یہودیوں کے بارے میں عالمی سطح پر ہمدردی کی لہر اٹھی۔ ان کی بے وطنی‘ جو دراصل خدا کے ساتھ ان کی بدعہدی کی سزا تھی‘ ادب اور سیاست کا موضوع بنی۔ یہودیوں نے اس کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔ اہلِ کلیسا نے انہیں اسرائیل بنا کر دیا۔ عالمی معیشت پر اُن کی گرفت بڑھ گئی۔ پہلے برطانیہ اور پھر امریکہ نے ان کو اپنی پناہ میں لے لیا۔ یہود کے مظالم اور اہلِ کلیسا سے اختلاف قصہ پارینہ بن گئے۔ جرمنی نے ہولو کاسٹ پر دنیا سے معافی مانگی۔ اس کے بعد جو تاریخ لکھی گئی‘ اس میں یہود مظلومیت کا استعارہ بن گئے۔موجودہ جنگ سے بھی بہت کچھ بدل رہا ہے۔ اس تبدیلی کا پہلا ہدف جمہوریت ہے۔ اس کے بارے میں ا گر چہ پہلے سے بحث جاری ہے مگر اس جنگ نے اسے مہمیز دے دی ہے۔ اس کا آغاز عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے صدر ٹرمپ نے کیا۔ اسرائیل کے وزیراعظم بھی منتخب راہنما ہیں۔ گویا اس جنگ نے جمہوریت کی کو کھ سے جنم لیا۔ جمہوریت نے جو انڈے بچے دیے‘ اس میں ایک پاپولزم بھی ہے۔ ٹرمپ‘ مودی جیسے لوگ اسی کے مظاہر ہیں۔ پاپولزم میں لوگ عوام کے تائید سے اپنے اقتدار کے لیے جواز تلاش کر تے ہیں۔ پھر وہ اسے آمریت‘ ظلم اور لاقانونیت کے لیے لائسنس بنا لیتے ہیں۔ اس فہرست میں بنگلہ دیش کی حسینہ واجد بھی شامل ہیں۔ گزشتہ چند عشروں میں ٹرمپ‘ مودی‘ نیتن یاہو اور حسینہ واجد کے ہاتھوں جتنے انسانوں کا قتل ہوا ہے‘ وہ بڑی بڑی جنگوں میں نہیں ہوا۔ اس فہرست میں ہم چند اور حکمران بھی شامل کر سکتے ہیں جن میں مسلم اور غیر مسلم دونوں شامل ہیں۔ جمہوریت نے اکثر مطلق العنانیت کو جنم دیا۔آج تاریخ میڈیا کی وجہ سے روزانہ لکھی جا رہی ہے۔ اس لیے لوگوں کو نتائج تک پہنچنے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔ یہ سوال اب اٹھ رہا ہے کہ کیا جمہوریت ایک قابلِ بھروسا نظام ہے؟ کتابی سطح پر جمہوریت قانون کی حکمرانی سے عبارت ہے لیکن واقعات یہ بتاتے ہیں کہ اقتدار میں آنے کے بعد‘ جمہوری حکمرانوں کے رویے بھی دوسروں سے کم ہی مختلف ہوتے ہیں۔ جمہوریت بھی انہیں ظلم سے روک نہیں پاتی۔ منتخب امریکی صدور نے عراق اور ایرن میں عالمی قوانین کو پامال کیا۔ صدر ٹرمپ تو کانگرس کو بھی خاطر میں نہیں لائے اور اپنے ملک کو جنگ میں دھکیل دیا۔ مودی رجیم اقلیتوں کے لیے دورِ عذاب ثابت ہوا۔ اس کے بعد جمہوریت کے ساتھ کسی رومان کا باقی رہنا مشکل ہو جائے گا۔ جمہوریت چنداور حوالوں سے پہلے بھی زیرِ بحث رہی ہے۔ اس کی ایک جہت مسلم معاشروں میں جمہوریت کا مستقبل ہے۔ برنارڈ لیوس اور فوکو یاما جیسے لوگ یہ رائے رکھتے ہیں کہ عالمِ اسلام کی فضا جمہوریت کے لے سازگار نہیں۔جمہوریت کے لیے ایک چیلنج چین نے بھی پیدا کر رکھا ہے۔ چین نے آزاد منڈی کی معیشت اورایک مضبوط ریاستی بندوبست کے اختلاط سے جو ریاستی نظام بنایا ہے‘ وہ اب تک نتیجہ خیز ثابت ہوا ہے۔ یہ اگرچہ اس جنگ کا براہ راست نتیجہ نہیں لیکن جمہوریت کے بارے میں جاری بحث کا ایک اہم باب ہے۔ اس سے یہ مؤقف مضبوط ہوا ہے کہ جمہوریت کو لبرل ازم کے پیراڈائم سے الگ کر کے دیکھا جانا چاہیے اور اسے براہ راست عوامی فلاح وبہبود سے متعلق کر دینا چاہیے۔ چین نے بتایا ہے کہ یہ ممکن ہے۔ سیاسیات کے ایک طالب علم کی حیثیت سے میں اس باب میں ابھی تک تذبذب کا شکار ہوں۔ یہ سوال میرے لیے جواب طلب ہے کہ اگر بادشاہت اور چین جیسے نظام سے عوام کی بنیادی ضروریات پوری ہو رہی ہوں جو امن اور بنیادی انسانی حقوق سے عبارت ہیں‘ تو لبرل ڈیموکریسی پر اصرار کیوں ضروری ہے؟دوسری تبدیلی کو غزہ میں اسرائیلی مظالم نے جنم دیا جو اسی جنگ کا ابتدائی دور تھا۔ اس جنگ نے یہودیوں کو مظلوم سے ظالم کے مقام پر لا کھڑا کیا ہے۔ ان کے بارے میں جو تاثر ہولو کاسٹ کے نتیجے میں قائم ہوا تھا‘ وہ اب باقی نہیں رہا۔ مظلومیت کا کارڈ ان کے ہاتھ سے نکل چکا۔ یہ اب فلسطینیوں کے پاس ہے۔ امریکہ میں ہونے والے حالیہ سروے اس کی تائید کر رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں فلسطینیوں کے حمایت میں اضافہ ہو گا۔ پہلے پی ایل او اور پھر حماس نے فلسطینیوں کی ساکھ کو بہت نقصان پہنچایا۔ گزشتہ چند عشرے وہ تھے جس میں تشدد کے لیے کوئی قبولیت نہیں تھی۔ حماس جیسی تنظیموں نے تشدد کو ہتھیار بنایا تواہلِ فلسطین کے لیے وہ ہمدردی پیدا نہیں ہو سکی‘ وہ جس کے مستحق تھے۔ اسرائیل نے ظلم کے میدان میں حماس کو شکست دے دی۔ اس باب میں کوئی باقی ابہام نہیں رہا کہ اسرائیل کی قیادت اور صہیونی ظالم ہیں۔ اس لیے فضا بدل رہی ہے۔ ہولوکاسٹ کی طرح یہ تبدیلی عالمی سیاست پر اثر انداز ہو گی۔ اگر اس موقع پر فلسطینیوں نے حماس جیسی غلطی کو نہ دہرایا تو ان کا مقدمہ آسان ہو جائے گا۔ اب اسرائیل اور صہیونیوں کو کٹہرے میں کھڑا ہونا ہو گا۔ گریٹر اسرائیل کا اب کوئی مستقبل نہیں ہے۔ اس تصور کو امریکہ یا یورپ کے عوام کی تائید نہیں مل سکے گی۔ان واقعات کے پس منظر میں‘ میرا خیال ہے کہ اس جنگ نے افکار اور خیالات کو وسیع پیمانے پر متاثر کیا ہے۔ اب مزاحمت کا تصور بھی تشکیلِ نو سے گزرے گا۔ مسلم سیاسی فکر میں بھی نئی جہتیں سامنے آئیں گی۔ ولایتِ فقیہ پر بھی اب نئی بحث چھڑے گی۔ جیسے جیسے جنگ کے اثرات نمایاں ہوں گے‘ مسلمانوں میں غور وفکر کا نیا باب کھلتا چلا جائے گا۔ ایران اور افغانستان کے تجربات پر بات ہو گی۔ اب وہ عالمی بندوبست بھی زیرِ بحث آئے گا جو دوسری جنگِ عظیم کے بعد قائم ہوا اور جو عالمی امن قائم کرنے میں ناکام ثابت ہوا۔ جو مظلوموں کے بجائے ظالموں کا ساتھی ثابت ہوا۔ دکھائی یہ دیتا ہے کہ ایک جہانِ نو پیدا ہو رہا ہے اورعالمِ پیر مر رہا ہے۔ یہ کہنا البتہ مشکل ہے کہ نیا نظام انسانیت کے لیے خیر کا باعث ہو گا۔ زیادہ امکان یہی ہے کہ کردار بدل جائیں گے‘ حالات فی الجملہ وہی رہیں گے۔ کچھ قوانینِ فطرت ہیں جو کسی دور میں تبدیل نہیں ہوتے۔ ان پر پھر بات ہو گی۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>تیل کی مار بھی ذرا دیکھو(سعود عثمانی )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-04-30/51861/30728666</link><pubDate>Thu, 30 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-04-30/51861/30728666</guid><description>میرے والد جناب محمد زکی کیفی مرحوم مصطفی صادق اور جناب جمیل اطہر کے روزنامہ وفاق میں برسوں قطعہ لکھتے رہے۔ نومبر 1973ء میں جب مرحوم شاہ فیصل کے ایما پر عرب ممالک نے یورپ اور امریکہ پر تیل کی بندش کا ہتھیار استعمال کیا تو دنیا میں بہت بڑا بحران پیدا ہو گیا۔ اُس وقت جناب زکی کیفی نے لکھا تھا:تیل کا کاروبار دیکھ چکے ؍ تیل کی دھار بھی ذرا دیکھوتم نے دیکھی ہے تیل کی بھرمار ؍ تیل کی مار بھی ذرا دیکھووہ شمسی توانائی کے دور سے ناآشنا دنیا تھی جس میں توانائی کے متبادل ذرائع نہ ہونے کے برابر تھے۔ چنانچہ دنیا خاص طور پر یورپ گھٹنوں پر آ گیا۔ اب 53 برس کے بعد دنیا پھر ایک بہت بڑے بحران کا سامنا کر رہی ہے‘ اور یہ شاید پچھلے سے بھی بڑا ہے۔ اب میں 395 روپے فی لٹر تیل ڈلواتے ہوئے اور بحران کو پیدا کرنے والوں کو کوستے ہوئے سوچ رہا ہوں کہ یہ غبارہ پھٹنے والا ہے یا ابھی اور بڑا ہو گا۔ کل ہی یہ خبر پڑھی کہ متحدہ عرب امارات نے اوپیک اور اوپیک پلس سے الگ ہونے کا اعلان کردیا ہے۔ کم و بیش پندرہ بیس برس سے متحدہ عرب امارات دنیا میں‘ مشرقِ وسطیٰ میں اور خلیجی ممالک میں ایک ایسا ملک بننے کی کوشش میں ہے جو تینوں دائروں میں اپنی اہمیت اور اثر منوا سکے۔ اب اچانک اس کا اوپیک اور اوپیک پلس چھوڑ دینے کا اعلان غیرمتوقع تو ہے لیکن اس سلسلے کی ایک کڑی بھی ہے۔ اس فیصلے کو تکنیکی نہیں‘ جیو پولیٹکل سمجھنا چاہیے۔ اور عالمی اور بدلتی علاقائی سیاست کے پس منظر میں دیکھناچاہیے۔ صرف تیل کی دنیا کو دیکھا جائے تو یقینا دنیا پر اس کے گہرے اثرات ہوں گے لیکن یہ اثرات صرف تیل تک محدود نہیں ہیں بلکہ اس میں نئے سیاسی اور دفاعی اتحادوں کا ایک نیا منظرنامہ بھی نظر آتا ہے۔پہلے دیکھیے کہ اوپیک اور اوپیک پلس ہے کیا؟ 1960ء میں بغداد میں تیل پیدا کرنے والے ممالک کی ایک تنظیم بنائی گئی جس کا نام اوپیک OPEC (آرگنائزیشن آف دی پٹرولیم ایکسپورٹنگ کنٹریز) تھا۔ اس تنظیم میں سعودی عرب‘ عراق‘ ایران‘ کویت اور چند دیگر ممالک شامل تھے۔ یاد رہے کہ اس وقت متحدہ عرب امارات وجود میں نہیں آیا تھا لیکن 1967ء میں ریاست ابوظہبی نے اس میں پہلے خود اور 1971ء میں یو اے ای کی صورت میں شرکت اختیار کی۔ ان ممالک کے مقاصد میں تیل کی منڈی میں قیمتوں کو کنٹرول کرنا اور رکن ممالک کے زیادہ سے زیادہ فائدے شامل تھے اور کوئی شک نہیں کہ اوپیک نے ان ممالک کو بہت فائدہ پہنچایا۔ دنیا اوپیک کی مرضی کی قیمتوں پر چلنے لگی اور یہ ممالک مشترکہ طور پر اپنی مرضی کی قیمتیں طے کرنے لگے۔ صرف قیمتیں ہی نہیں بلکہ تیل کی پیداوار بھی کنٹرول کی جاتی تھی تاکہ طلب اور قیمت کم نہ ہو۔ سعودی عرب تیل پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک تھا لہٰذا اوپیک میں اس کی اہمیت بھی زیادہ تھی۔ 2016ء میں جب تیل کی قیمتیں گرنے لگیں تو ایک اور تنظیم اوپیک پلس بنائی گئی جس میں روس‘ آذربائیجان‘ بحرین‘ برونائی اور عمان وغیرہ کو بھی شامل کر لیا گیا۔ مقصد زیادہ سے زیادہ ملکوں کا کارٹل بنا کر تیل کی پیداوار اور قیمتوں کو کنٹرول کرنا تھا۔66 سال تک اوپیک کامیابی سے چلتا رہا۔ عملاً اوپیک کا سربراہ سعودی عرب ہی تھا لیکن جب خلیجی ممالک میں اختلافات شروع ہوئے اور دراڑیں نظر آنے لگیں تو دیگر ممالک بھی یہ جتن کرنے لگے کہ ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں نہ ہو بلکہ ان کی اپنی اہمیت اور طاقت نظر آئے۔ قطر اور عرب امارات کے سعودی عرب سے اختلافات شروع ہوئے اور بڑھتے چلے گئے۔ خلیجی ممالک کو دنیا کے دوسرے ممالک کی نسبت یہ آسانی ہے کہ نہ ان کے ہاں سیاست ہے نہ سیاستدان‘ نہ انتخاب نہ مقننہ نہ حزبِ اختلاف۔ حکومت ایک خانوادے کی چلی آرہی ہے‘ سو اسی کی نسلیں حکومت کرتی رہیں گی۔ اس کا ایک فائدہ اور نتیجہ یہ کہ پالیسیوں میں تسلسل رہتا ہے۔ تیل کا ہتھیار ابھی تک مؤثر ہے اور دولت اتنی ہے کہ تجوریاں ناکافی رہتی ہیں۔ لیکن عرب ممالک میں کئی عشروں سے دولت اور طاقت کی نمائش کے ساتھ چودھراہٹ کی دوڑ بھی جاری ہے۔متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے باہمی اختلافات مسلسل بڑھتے گئے۔ یو اے ای کا امریکہ اسرائیل اور ساتھ ساتھ بھارت سے اتحاد ڈھکا چھپا نہیں۔ وہ ان ممالک کے ذریعے اپنے تجارتی‘ دفاعی اور سیاسی فائدے چاہتا ہے۔ ابراہم اکارڈ میں بھی امارات پیش پیش رہا۔ سعودی عرب اس میں محتاط تھا اور اسے اپنی کئی نزاکتیں بھی ملحوظ رکھنا تھیں۔ اب امریکہ ایران جنگ ہوئی تو دراڑیں بڑھ کر شگاف بن گئیں۔ عرب امارات پر ایرانی حملے زیادہ ہوئے اور آبنائے ہرمز کی بندش سے اس کا نقصان بھی بہت ہوا۔ یو اے ای میں سرمایہ کاری بھی نہ صرف رک گئی بلکہ ڈھلوان پر لڑھکنے لگی۔ سعودی عرب پر حملے کم بھی ہوئے اور اس کے پاس آبنائے ہرمز کا متبادل راستہ بھی تھا۔ امارات چاہتا تھا کہ اوپیک ممالک خاص طور پر خلیجی اور نزدیکی ممالک کھل کر ایران کی مخالفت کریں اور آبنائے ہرمز بزور کھلوانے میں اس کا ساتھ دیں۔ یہ خبریں بھی آئی تھیں کہ یو اے ای اور کچھ خلیجی ممالک چاہتے ہیں کہ ایران کی طاقت مکمل کچل دینے تک جنگ بندی نہ کی جائے۔ سعودی عرب نے اس مؤقف کا ساتھ نہیں دیا بلکہ پاکستان‘ ترکیہ اور مصر کے ساتھ مل کر جنگ بندی اور معاہدے کی کوششوں میں ساتھ رہا۔ اسی ناراضی میں یو اے ای نے پاکستان سے اپنے ساڑھے تین ارب ڈالر واپس مانگے تو سعودی عرب نے وہ کمی پوری کردی۔ اس طرح اب خلیجی ممالک میں دو دھڑے بنتے جارہے ہیں۔ ممکن ہے کہ آئندہ دنوں میں کچھ اور ممالک بھی اوپیک چھوڑنے کا اعلان کریں اور اوپیک کمزور ہوکر رہ جائے۔اس کشمکش کے علاوہ بھی بظاہر متحدہ عرب امارات اس وقت تیل کی اونچی قیمتوں اور دنیا میں تیل کی زبردست طلب کو دیکھتے ہوئے 2027ء تک اپنی پیداوار 30 فیصد تک بڑھانا چاہتا تھا اور اسے یہ موقع بہترین محسوس ہوتا ہے کیونکہ آبنائے ہرمز کھلنے کے بعد بھی کافی مدت تک تیل کی قیمتیں اونچی رہیں گی۔ اوپیک میں رہتے ہوئے پیداوار بڑھانا ممکن نہیں تھا۔ اس لیے امارات نے اپنے فائدے کیلئے یہ فیصلہ کیا ہے۔ اس معاملے کی ایک جہت ایران بھی ہے۔ اگر ایران پر پابندیاں بدستور رہتی ہیں اور آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی بھی جاری رہتی ہے تو شاید چین کے استثنیٰ کے ساتھ باقی دنیا کو ایرانی بندرگاہوں سے تیل سمیت کچھ بھی نہ مل سکے۔ اس لیے امارات کو تیل کی پیداوار بڑھانے کا یہ موقع بہتر لگتا ہے۔ یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ یو اے ای کی متحدہ ریاستوں میں اصل طاقت اور فیصلہ ابوظہبی کا ہے۔ اصل رقبہ اور تیل ابوظہبی کے پاس ہے اور اسے اس کی زیادہ پروا نہیں ہے کہ سیاحت اور تجارت کا بھٹہ بیٹھ گیا ہے۔ ابوظہبی کا انحصار ان دونوں پر نہیں ہے جبکہ دبئی نے تجارت اور سیاحت کے ذریعے جو مرکزیت حاصل کی ہے اس کا امریکہ ایران جنگ نے بیڑا غرق کردیا ہے۔ لیکن یو اے ای پر عملداری ابوظہبی کی ہے۔آبنائے ہرمز کا مستقبل ابھی تک واضح نہیں۔ اگر ایران اس پر ٹول ٹیکس لگانے میں کامیاب ہو گیا اور بالفرض عمان بھی اس معاملے میں اس کا ساتھی بنا تو یہ امارات کیلئے مستقل درد سر رہے گا۔ میرے خیال میں کالم کی اشاعت تک ڈونلڈ ٹرمپ کی خوشی کی ٹویٹ آچکی ہو گی۔ یہ خبر اس کیلئے کامیابی ہے اور بظاہر پس پردہ اس فیصلے میں امریکی دخل بھی ہے۔ 2018ء میں ٹرمپ نے اقوام متحدہ میں اوپیک پر کڑی تنقید کی تھی بلکہ کہا تھا کہ یہ تیل کے ذریعے دنیا کی کھال اتارنا چاہتے ہیں۔ اور اب ہم عربی اور عجمی ہاتھیوں کو کوستے ہوئے مہنگا تیل خریدتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ غبارہ کب پھٹے گا۔ ہم تیل کی دھار دیکھتے ہیں اور تیل کی مار سہتے ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_81278520.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>جنوبی ایشیا سے مشرقِ وسطیٰ تک(کنور دلشاد)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/kunwar-mohammad-dilshad/2026-04-30/51862/94430559</link><pubDate>Thu, 30 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/kunwar-mohammad-dilshad/2026-04-30/51862/94430559</guid><description>حالیہ دنوں میں عالمی بینک نے پاکستان کو جنوبی ایشیا کے ریجن سے نکال کر مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ ریجن (MENA) میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا‘ جس کا باقاعدہ اطلاق بھی ہو چکا ہے۔ یہ فیصلہ بنیادی طور پر ایک انتظامی و تجزیاتی تبدیلی ہے۔ورلڈ بینک جیسے عالمی مالیاتی ادارے اپنے رکن ممالک کو ایسے خطوں میں تقسیم کرتے ہیں جہاں ان کے معاشی مسائل‘ ترقیاتی ترجیحات اور علاقائی روابط زیادہ مماثلت رکھتے ہوں تاکہ پالیسی سازی‘ فنڈنگ اور ڈیٹا اینالیسز بہتر انداز میں ہو سکے۔ اس لیے کسی ملک کا ایک سے دوسرے ریجن میں منتقل ہونا لازمی طور پر سیاسی اتحاد یا خارجہ پالیسی کی تبدیلی کی علامت نہیں ہوتا؛ یہ زیادہ تر ادارہ جاتی ضروریات اور انتظامی حکمتِ عملی کے تحت کیا جانے والا اقدام ہوتا ہے۔تاہم پاکستان کے معاملے میں اس تبدیلی کی علامتی اہمیت بھی ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں پاکستان کے معاشی اور سفارتی تعلقات کا مرکز تیزی سے خلیجی ممالک کی طرف منتقل ہوا ہے۔ سعودی عرب‘ متحدہ عرب امارات اور قطر کے ساتھ سرمایہ کاری‘ مالی معاونت اور افرادی قوت کی برآمد جیسے شعبوں میں تعلقات مضبوط ہوئے ہیں۔ ایسے میں اگر پاکستان کو مشرقِ وسطیٰ کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے تو یہ فیصلہ اس رجحان کی ایک ادارہ جاتی توثیق کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔معاشی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو یہ فیصلہ براہِ راست پاکستان کی معیشت میں کوئی بہتری نہیں لا سکتا۔ معیشت کی بنیادیں بدستور اندرونی اصلاحات‘ برآمدات میں اضافے اور سیاسی استحکام سے منسلک رہیں گی۔ البتہ اس تبدیلی سے یہ امکان ضرور پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کو ایسے ترقیاتی پروگرامز اور منصوبوں تک رسائی ملے جو مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کیلئے ترتیب دیے جاتے ہیں‘ خصوصاً توانائی‘ انفراسٹرکچر اور آبی وسائل کے شعبوں میں۔ سفارتی سطح پر بھی پاکستان کیلئے یہ ایک اہم موقع ہو سکتا ہے۔ اگر اسے مؤثر حکمتِ عملی کے ساتھ استعمال کیا جائے تو پاکستان جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان ایک پُل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھل سکتے ہیں بلکہ علاقائی سیاست میں پاکستان کا کردار بھی نمایاں ہو سکتا ہے۔ تاہم یہ سب اسی صورت میں ممکن ہے جب پالیسی ساز اس تبدیلی کو محض علامتی کامیابی کے بجائے عملی اقدامات میں ڈھالیں۔ اس پیشرفت کو نہ تو غیرمعمولی کامیابی سمجھنا چاہیے اور نہ ہی محض ایک معمولی انتظامی تبدیلی‘ حقیقت ان کے درمیان کہیں موجود ہے۔ یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جو بنیادی طور پر ادارہ جاتی نوعیت کا ہے مگر اس میں وہ صلاحیت موجود ہے کہ اگر اسے درست سمت میں استعمال کیا جائے تو پاکستان کے لیے معاشی اور سفارتی امکانات پیدا کر سکتا ہے۔کچھ ماہرین کی رائے یہ ہے کہ اس اقدام کا مقصد دراصل ایک عالمی حکمتِ عملی کے تحت پاکستان کی جغرافیائی اہمیت کو کم کرنے کے لیے اسے شمالی افریقہ کے خطے میں شامل کرنا ہے۔ پاکستان حقیقی طور پر برصغیر کا حصہ ہے۔ مشرقی پاکستان کے سقوط کے بعد جب صدر ذوالفقار علی بھٹو نے اپریل 1972ء میں روس کا دورہ کیا تو سوویت یونین حکومت نے انہیں ریڈ کارپٹ پروٹوکول نہیں دیا اور ملاقات کے دوران یہ باور کرایا کہ چونکہ مشرقی پاکستان مغربی پاکستان سے علیحدہ ہو چکا ہے لہٰذا اب پاکستان برصغیر کا حصہ نہیں رہا۔ اصولی طور پر پاکستان وسطی ایشیا کے بجائے مشرق وسطیٰ کے قریب ہے لہٰذا پاکستان کے سامنے روسی قیادت نے یہ آپشن رکھی کہ وہ یا تو مشرقِ وسطیٰ کا حصہ بن جائے یا پھر جنوبی ایشیا میں شامل ہو جائے۔ بھٹو صاحب روسی قیادت کے مؤقف کو جھٹلا نہ سکے کیونکہ روسی وزیراعظم الیگزے کوسیگن معاہدۂ تاشقند میں بھٹو صاحب کی جانب سے اختیار کیے گئے معاندانہ رویے سے باخبر تھے‘ لہٰذا بھٹو صاحب نے لامحالہ پاکستان کے برصغیر کی جغرافیائی حدود سے نکلنے کے اس اشارے کو قبول کر لیا۔ دراصل اس وقت کی سوویت حکومت نے پاکستان کو جنوبی ایشیا میں شامل کر کے ریاست جموں و کشمیر پر پاکستان کے مؤقف کو کمزور کیا تھا۔ صدر بھٹو نے مئی 1972ء میں شملہ جانے سے پیشتر پاکستان ٹائمز میں مضامین لکھوانے کا سلسلہ شروع کرایا‘ جن میں کشمیر کے بارے میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ یہ پاکستان اور بھارت کے بجائے کشمیریوں اور بھارتی حکومت کا مسئلہ ہے۔ جب عسکری حلقوں سے شدید ردعمل سامنے آیا تو صدر بھٹو نے سیکرٹری اطلاعات نسیم احمد کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی جس کے روبرو وضاحت پیش کی گئی کہ یہ مضامین صدر بھٹو کی ہدایت پر شائع کیے گئے تھے۔ اب عالمی بینک نے پاکستان کو مشرقِ وسطیٰ و شمالی افریقہ کے ریجن میں شامل کر دیا ہے تو اس کے پسِ پردہ ایک گہری سازش کا تاثر بھی دیا جا رہا ہے کہ اس تبدیلی کے بعد پاکستان کو مقبوضہ کشمیر کے مؤقف سے دستبردار ہونا پڑ سکتا ہے کیونکہ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک  کو مسئلہ کشمیر سے براہِ راست دلچسپی نہیں ہے۔ لہٰذا وزارتِ خارجہ کو اس فیصلے کو عالمی تناظر میں دیکھتے ہوئے اپنا واضح مؤقف پیش کرنا چاہیے۔ اس نقطۂ نظر کے مطابق عالمی بینک کے اس اقدام کے اثرات جموں و کشمیر کے مسئلے اور سندھ طاس معاہدے پر بھی پڑ سکتے ہیں۔دوسری جانب اگر ایران‘ امریکہ جنگ میں پاکستان کی سفارتی کوششوں کی بات کی جائے تو یہ ہماری جغرافیائی مجبوری اور دانائی کا تقاضا ہیں۔ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی جاری رہتی ہے تو پورا خطہ اس کی قیمت ادا کرے گا اور پاکستان کو براہِ راست جنگ میں شامل نہ ہونے کے باوجود بھاری نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ ایسے میں اگر پاکستان دونوں فریقوں کیلئے فیس سیونگ کا راستہ بنتا ہے تو یہ عمل ہماری طاقت بھی بن سکتا ہے کہ پاکستان میدانِ جنگ کے بجائے مذاکرات کے ذریعے ممکنہ عالمی تصادم کو روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اُدھر ایران کی حکمتِ عملی اور فیصلے صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں بلکہ ایک گہری فکری اور روحانی سطح پر استوار دکھائی دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی قیادت واضح طور پر پریشانی کا شکار نظر آتی ہے۔ صدر ٹرمپ اور ان کی ٹیم کیلئے اس صورتحال کو سنبھالنا آسان نہیں رہا؛ بظاہر وقت گزرنے کے باوجود حکمتِ عملی کا رخ متعین نہیں ہو پا رہا‘ اور یہی ابہام اشارہ ہے کہ مقابلہ صرف طاقت کا نہیں بلکہ سوچ اور اندازِ عمل کا بھی ہے۔قدرت نے ملکی قیادت کو بین الاقوامی سطح پر ایک نمایاں مقام عطا کیا ہے‘ اب ان کی توجہ ملک کی معاشی صورتحال کی طرف بھی مبذول ہونی چاہیے۔ کرپشن نے ملک کو زہر آلودہ دلدل میں پھنسا دیا ہے۔ مقتدر حلقوں کو سٹیٹ بینک آف پاکستان‘ قومی احتساب بیورو‘ وفاقی وزارتِ خزانہ اور آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے دفتر سے ملکی معیشت کی حقیقی رپورٹ حاصل کرنی چاہیے تاکہ اس کے مطابق مستقبل کا لائحہ عمل تشکیل دیا جا سکے۔ اسی طرح منی لانڈرنگ میں ملوث عناصر کا بے احتساب بھی یقینی بنانا چاہیے۔ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد مرکز کمزور جبکہ صوبے مالی طور پر مضبوط ہو گئے ہیں جس کے نتیجے میں کرپشن کے رجحانات میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے اور اربوں کھربوں روپے بیرونِ ملک جائیدادوں میں منتقل ہو رہے ہیں۔ مقتدرہ کو اپنی انتظامی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے حکومت کی پالیسی کمزوریوں پر بھی نظر رکھنی چاہیے۔ چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کی کارکردگی اور صوبوں میں کرپشن کا بھی غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جانا چاہیے۔ قومی مفاد کے پیش نظر سابق بیورو کریٹس کو بھی فعال کردار دینا چاہیے‘ جیسا کہ بھارت میں سینٹرل سیکرٹریٹ کے تحت ایک وسیع پول قائم ہے جہاں سینئر بیوروکریٹس اپنے تجربے کی بنیاد پر حکومت کی معاونت کرتے ہیں۔ اس نظام کے تحت پارلیمنٹ اور حکومتی اداروں پر بھی ایک مؤثر نگرانی قائم رہتی ہے‘ اور قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ ان بیوروکریٹس کو کوئی اضافی اعزازیہ نہیں دیا جاتا بلکہ وہ اپنی پنشن کے عوض ہی یہ قومی خدمت سرانجام دیتے ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_15667905.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>عازمینِ حج کو مشورہ!(مفتی منیب الرحمٰن )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-04-30/51863/50411694</link><pubDate>Thu, 30 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-04-30/51863/50411694</guid><description>امام احمد رضا قادری نے سید محمد احسن بریلوی کی فرمائش پرعازمینِ حج کیلئے ایک رسالہ &#39;&#39;انوارُ البَشَارَۃ فِیْ مَسَائِلِ الْحَجِّ وَالزِّیَارَۃ‘‘ کے عنوان سے لکھا جو فتاویٰ رضویہ جلد: 10 میں شامل ہے۔ ہم اس رسالے کے بعض مندرجات کو حجاج کے فائدے کیلئے درج کر رہے ہیں:سب سے اہم یہ کہ اس سفر سے مقصود صرف اور صرف اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسولِ مکرمﷺ کی رضا ہونی چاہیے۔ حج کیلئے روانگی سے قبل جس کا قرض یا امانت ہو‘ اُسے واپس کرے‘ اگر فوری طور پر پورے قرض کی واپسی کے وسائل نہیں ہیں تو جو ادا کر سکتا ہو وہ ادا کرے اور باقی کیلئے اُن سے مہلت مانگے۔ کسی کا ناحق مال لیا ہو تو اسے واپس کرے یا معاف کرائے‘ مالک کا پتا نہ چلے تو اتنا مال فقیروں پرصدقہ کرے‘ کیونکہ ناجائز طریقے سے حاصل کیا ہوا مال درحقیقت غاصب کی ملکیت نہیں ہوتا؛ پس جتنی جلدی ممکن ہو اُسے اپنی مِلک سے نکالے۔ ماضی کی قضا نمازیں‘ روزے‘ زکوٰۃ الغرض جتنی عبادات واجب تھیں اور اُن سے عہدہ برآ نہیں ہوا‘ اللہ تعالیٰ سے اس کوتاہی پر صِدقِ دل سے توبہ کرے اور شریعت کے مطابق اُن کی تلافی کرے۔ اس کے باوجود اُن کا قبول ہونا اللہ تعالیٰ کے کرم پر موقوف ہے۔جن حق داروں کی اجازت کے بغیر سفر مکروہ ہے‘ جیسے اولاد کیلئے ماں باپ اور بیوی کیلئے شوہر‘ حتی الامکان انہیں رضامند کرے‘ اگر وہ کسی طور پر بھی رضامند نہ ہوں تو پھر حجِ فرض پر چلا جائے‘ کیونکہ اُن کا روکنا اللہ کے فرض سے روکنا ہے اور اس بارے میں فرمانِ رسول ہے: &#39;&#39;ایسے امور میں مخلوق کی اطاعت جائز نہیں ہے جن میں اللہ کی نافرمانی لازم آئے‘ حق داروں کی اطاعت صرف نیک کاموں میں روا ہے‘‘ (مسلم: 1840)۔ فریضۂ حج ادا کرنے کیلئے تو ہر صورت میں جانا ہی ہے‘ والدین اور شوہر سے اجازت طلب کرنا اولاد اور بیوی کیلئے سعادت اور اجر کا باعث ہے۔ ماں باپ اور شوہر کو بھی چاہیے کہ بخوشی اجازت دیں‘ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: &#39;&#39;نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو‘‘ (المائدہ: 2)۔سفرِ حج میں عورت کو جب تک شوہر یا مَحرم کی رفاقت میسر نہیں‘ وہ حج پر نہیں جا سکتی۔ اگر جائے گی تو فقہی اعتبار سے حج تو ادا ہو جائے گا مگر گناہگار ہو گی۔ مصارفِ سفر اور زادِ راہ مالِ حلال سے ہوں‘ ورنہ حج کے قبول ہونے کی امید نہیں ہے؛ البتہ فرض ساقط ہو جائے گا۔ حسبِ توفیق اپنی ضرورت سے زیادہ زادِ راہ لے کر جائے تاکہ اپنے احباب اور ضرورت مندوں پر بھی کچھ خرچ کر سکے‘ یہ حجِ مبرور کی نشانی ہے۔ مسائلِ حج وعمرہ اور زیارات پر کوئی عام فہم کتاب لے کر جائے یا کسی عالم سے رہنمائی حاصل کرے یا بہارِ شریعت حصہ ششم یاحج وعمرہ پر کسی مستند عالم کی کتاب اپنے پاس رکھے۔ اکیلے سفر نہ کرے کہ یہ منع ہے؛ البتہ بے دین رفیقِ سفر سے اکیلا رہنا بہتر ہے۔ فرمانِ رسول ہے: &#39;&#39;جب کسی سفر میں تین افراد ہوں تو وہ آپس میں سے ایک کو امیر بنا لیں‘‘ (ابودائود: 2608)۔ ایسے شخص کو امیر بنانا بہتر ہے جو بااخلاق‘ دین دار‘ معاملہ فہم اور خدمت کا جذبہ رکھتا ہو۔روانگی سے پہلے اپنے حق داروں‘ دوستوں عزیزوں سے ملے‘ کسی کی حق تلفی کی ہو یا کوئی ناراض ہو تو اُس سے معافی مانگے اور راضی کرے اور اُن کو بھی چاہیے کہ خوش دلی سے راضی کریں۔ حدیثِ پاک میں ہے: &#39;&#39;جس نے اپنے بھائی سے اپنے کسی قصور پر معافی مانگی اور اُس نے اسے قبول نہیں کیا تو اُسے ایسا ہی گناہ ہو گا جیسے مالی واجبات وصول کرنے والے کو خیانت پر ہوتا ہے‘‘ (ابن ماجہ: 3718)۔ اپنے خطاکار کو معاف کرنا اللہ تعالیٰ کی سنت ہے۔ النور: 22 میں خطاکاروں کو معاف کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا: &#39;&#39;اور چاہیے کہ وہ معاف کر دیں اور درگزر کریں‘ کیا تمہیں یہ بات پسند نہیں ہے کہ اللہ تمہاری خطائوں کوبخش دے‘‘۔ یعنی اگر یہ چاہتے ہو کہ اللہ تمہارے قصوروں کو معاف فرمائے تو تم بھی اپنے قصوروار کو معاف کر دو۔ رخصت ہوتے وقت سب سے دعا کی درخواست کرے‘ گھر پر چار نفل پڑھ کر نکلے‘ یہ واپسی تک اس کیلئے اللہ تعالیٰ کے حفظ وامان کا وسیلہ بنیں گے اور گھر سے نکلتے وقت &#39;&#39;بِسْمِ اللّٰہِ وَآمَنْتُ بِاللّٰہِ وَتَوَکَّلْتُ عَلَی اللّٰہِ‘‘ پڑھ کر یہ دعا مانگے‘ (ترجمہ:) &#39;&#39;اے اللہ! ہم اس سے تیری پناہ چاہتے ہیں کہ ہم لغزش کھائیں یا کوئی ہمیں لغزش دے‘ ہم گمراہ ہوں یا کوئی ہمیں گمراہ کرے‘ ہم کسی پر زیادتی کریں یا کوئی ہم پر زیادتی کرے‘ ہم کسی سے ہٹ دھرمی کریں یا کوئی ہم سے ہٹ دھرمی کرے‘‘۔ نیز یہ دعا مانگے: &#39;&#39;اے اللہ! ہم تجھ سے اس سفر میں نیکی اور تقویٰ کا سوال کرتے ہیں اور تیرے پسندیدہ کاموں کی توفیق طلب کرتے ہیں‘ اے اللہ! اس سفر کو ہمارے لیے آسان فرما دے اور اس کی مسافت کو ہمارے لیے لپیٹ دے‘ اے اللہ! اس سفر میں ہمارا رفیق اور گھر کا نگہبان بھی تو ہی ہے۔ اے اللہ! ہم سفر کی مشقتوں‘  تکلیف دہ صورتِ حال پیش آنے اور اپنے مال اور اہل میں ناخوشگوار تبدیلی آنے سے تیری پناہ چاہتے ہیں‘‘ اور جب سفر سے واپس آئے تو مذکورہ بالا کلمات کے بعد یہ دعا مانگے: &#39;&#39;ہم عافیت کے ساتھ لوٹنے والے‘ اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرنے والے‘ اُسی کی توفیق سے عبادت کرنے والے اور اپنے رب کی حمد کرنے والے ہیں‘‘ (مسلم: 1342)۔ بلندی پر چڑھتے ہوئے &#39;&#39;اللہ اکبر‘‘ اور پستی کی طرف اترتے وقت &#39;&#39;سبحان اللہ‘‘ کہے۔ کوئی چیز گم ہو جائے تو &#39;&#39;اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن‘‘ یا &#39;&#39;اِنَّہٗ عَلٰی رَجْعِہٖ لَقَادِر‘‘ یا &#39;&#39;یَا جَامِعَ النَّاسِ لِیَوْمٍ لَّارَیْبَ فِیْہِ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَاد اِجْمَع بَیْنِیْ وَبَیْنَ ضَالَّتِیْ‘‘ پڑھے۔حج مشقت کی عبادت ہے‘ اگرچہ ماضی کے مقابلے میں آج کل حجاجِ کرام کو ایسی سہولتیں میسر ہیں جن کا پہلے کوئی تصور بھی نہیں تھا۔ لیکن اس کے باوجود حج کی مشقت کسی نہ کسی صورت میں باقی ہے اور انسانی ہجوم نے مشقت کی نئی صورت اختیار کر لی ہے‘ جس میں تخفیف کیلئے سعودی حکومت ہر سال کثیر مالی وسائل صَرف کرتی ہے‘ توسیع‘ تزئین اور تعمیر کا کام جاری رہتا ہے‘ لیکن اس کے باوجود انسانوں کے ہجوم میں سال بہ سال اضافہ ہی ہو رہا ہے۔ اس لیے حجّاج کرام کو تحمل کا مظہر ہونا چاہیے اور کوئی ناخوشگوار صورتحال پیش آنے پر مغلوب الغضب نہیں ہونا چاہیے۔ بہت سے لوگ اپنا زیادہ تر وقت معلّمین اور اُن کے کارندوں کو کوسنے اور گِلے شکوے میں گزار دیتے ہیں‘ ان کا ماحصل غیبت اور بدگوئی کے سوا کچھ نہیں ہوتا‘ اس کے بجائے انہیں حسبِ توفیق طواف‘ نوافل‘ تلاوت‘ اذکار وتسبیحات ودرود پڑھتے رہنا چاہیے اور اپنے اور سب کیلئے اصلاحِ احوال کی دعا کرتے رہنا چاہیے۔سیلفی بنانا ایک عالمی متعدی بیماری بن چکی ہے‘ اس کی کثرت بھی عبادات میں حضوریِ قلب سے مانع ہے اور یہ ریاکاری کی ایک صورت ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ حجاجِ کرام یہ وقت اپنے عزیز واقارب کیلئے دعا میں صَرف کریں۔ فرمانِ رسول ہے: &#39;&#39;اپنے متعلقین کیلئے غائبانہ دعا قبول ہوتی ہے‘‘ کیونکہ اس کا مُحَرِّک صرف اخلاص اور لِلّٰہیت ہوتی ہے‘ جبکہ سامنے کی دعا میں رِیا کا بھی احتمال ہو سکتا ہے۔ حجاجِ کرام اور زائرین کو چاہیے کہ اپنے لیے‘ اپنے والدین وجملہ اہلِ ایمان آبائو اجداد‘ اپنے حق داروں‘ احباب اور عزیزوں کے لیے دعا کرنے کے ساتھ ساتھ امتِ مسلمہ اور اپنے وطنِ عزیز کیلئے بھی دعا کرتے رہیں۔ اہل پاکستان کو بیرونِ ملک اپنے سیاسی اختلافات اور نفرتوں کا اظہار کرنے کے بجائے ایک دوسرے سے محبت‘ دلداری اور ہمدردی کا رویّہ رکھنا چاہیے۔ ہمیں اپنے قلب و روح اور ظاہر وباطن کوگناہوں کی آلودگی سے پاک رکھنے کیلئے سچی توبہ کرنی چاہیے‘ پھر اللہ تعالیٰ سے ساری زندگی اُس پر کاربند رہنے کی توفیق مانگیں۔ ان میں سے بیشتر باتیں عام زندگی میں بھی اختیار کرنے کی ہیں۔حرمِ کعبہ میں عبادت کا ثواب ایک لاکھ گنا ہے‘ وہاں کی سب سے اہم عبادت بیت اللہ کا طواف ہے۔ اسی طرح مسجدِ نبوی میں جب بھی موقع ملے‘ رسول اللہﷺ کے مواجہۂ اقدس میں حاضر ہو کر نہایت ادب کے ساتھ پست آواز میں صلوٰۃ وسلام پیش کریں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_61172381.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>