<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>آبی گزرگاہوں میں تجاوزات(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-09/11343</link><pubDate>Thu, 09 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-09/11343</guid><description>سپارکو کی تازہ سیٹیلائٹ نگرانی نے ایک نہایت تشویشناک صورتحال کی نشاندہی کی ہے کہ گلگت بلتستان میںخطرناک  گلیشیائی جھیلوں کی تعداد 131تک پہنچ چکی ہے جو کسی بھی وقت پھٹ کر شدید سیلاب کا سبب بن سکتی ہیں۔ زیادہ پریشانی کی بات یہ ہے کہ گلگت کے قریب آبی گزرگاہوں کے اطراف گزشتہ ایک دہائی کے دوران تجاوزات اور غیرقانونی تعمیرات میں اضافے سے قدرتی آبی راستے سکڑ چکے ہیں اور پانی اور ملبے کے شدید ریلے کو سنبھالنے کے قابل نہیں رہے جس کا نتیجہ گلوف کی صورت میں بستیوں‘ زرعی زمینوں‘ بنیادی ڈھانچے اور قیمتی جانوں کے ضیاع کی صورت میں نکلے گا۔ قدرتی آبی گزرگاہوں‘ ندی نالوں‘ دریاؤں کے پاٹ اور سیلابی میدانوں میں غیرقانونی تعمیرات برسوں سے ایک سنگین مسئلہ بنی ہوئی ہیں۔

گزشتہ برس اور اس سے قبل 2022ء کے تباہ کن سیلابوں نے بھی ثابت کیا تھا کہ دریا برد علاقوں اور قدرتی گزرگاہوں پر قائم تجاوزات سب سے زیادہ نقصان اٹھاتی ہیں‘ مگر اس خوفناک تجربے سے بھی سبق نہیں سیکھا گیا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ گلگت بلتستان اور متعلقہ حکومتیں گلوف کے ممکنہ خطرات کے پیشِ نظر آبی گزرگاہوں میں قائم تجاوزات کے خاتمے کے لیے فوری اور مؤثر کارروائی کریں اور آبی تجازوات کے مستقل خاتمے کے لیے جامع لائحہ عمل تشکیل دیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>