<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>امن اور مذاکرات کے تقاضے(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-26/11138</link><pubDate>Sun, 26 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-26/11138</guid><description>ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اسلام آباد میں اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کے بعد پاکستان سے روانہ ہو چکے ہیں۔ خطے کی تیزی سے بدلتی صورتحال میں ایرانی وزیر خارجہ کے حالیہ دورے نے ایک بار پھر عالمی توجہ پاکستان کی سفارتی حیثیت پر مرکوز کر دی ہے۔ اس دورے کے موقع پر ایرانی وزیر خارجہ نے وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات کی‘ تاہم اس دورے میں ایرانی رہنماؤں اور امریکی نمائندوں میں ملاقات نہیں ہوئی۔ بہرکیف سفارتکاری میں پس پردہ رابطے اور بالواسطہ مذاکرات بھی اہم ہوتے ہیں خصوصاً ایسے وقت میں جب خطہ نازک جنگی صورتحال سے گزر رہا ہے اور عالمی توانائی کی منڈیاں عدم استحکام کا شکار ہیں۔ توانائی کی بے تحاشا مہنگائی ترقی یافتہ اور ترقی پذیر دنیا کیلئے یکساں پریشانی کا موجب ہے۔ توانائی کی مہنگائی کا اثر ترقی کی رفتار پر پڑتا ہے۔ متوسط اور کمزور معیشت والے ممالک ہوں یا گھرانے ان کیلئے یہ صورتحال مزید مشکلات کا سبب بنتی ہے۔ اس تناظر میں پاکستان کی جانب سے ایران اور امریکہ کے درمیان سفارتکاری اور مذاکرات کیلئے سہولت کاری صرف پاکستان‘ امریکہ‘ ایران یا مشرق وسطیٰ کی ریاستوں کے فائدے میں نہیں پوری دنیا کا مفاد اس سے جڑا ہے۔

پاکستان کی سفارتی کوششوں کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ وہ کسی ایک فریق کیساتھ کھڑا ہونے کے بجائے توازن برقرار رکھے ہوئے ہے‘ یہی وجہ ہے کہ اسے دونوں فریقوں کا اعتماد حاصل ہے۔ تاہم یہ توازن برقرار رکھنا آسان نہیں۔ ایک طرف ایران اپنی ’سرخ لکیروں‘ پر قائم ہے خصوصاً جوہری پروگرام اور پابندیوں کے خاتمے کے حوالے سے جبکہ دوسری جانب امریکہ دباؤ بڑھانے کے اقدامات میں اضافہ کرتا چلا جاتا ہے۔ خطے میں امن و استحکام کیلئے پاکستان کی کوششیں قابلِ تحسین ہیں مگر ان کے نتائج کا انحصار امریکہ اور ایران کے رویے پر ہے۔ اس لیے فریقین کو لچک اور تحمل سے کام لینے کا مشورہ دیا جاتا ہے تاکہ مذاکرات کیلئے اعتماد کا ماحول پیدا کیا جا سکے۔ اگر فریقین دباؤ بڑھانے کے اقدامات اور سرخ لکیروں پر جمے رہنے کی حکمت عملی پر نظر ثانی کیلئے تیار نہیں ہوتے تو دنیا کیلئے اس کشیدگی کے منفی اثرات سے نکلنے کی امید خاصی کم ہو جاتی ہے۔ ماضی کے تجربات بتاتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ مطالبات یا فریقِ مخالف پر دھونس جمانے کا تاثر مذاکرات کو ناکام بنا دیتا ہے۔
خلیج فارس میں کشیدگی خصوصاً امریکی بحری ناکہ بندی مذاکرات کی پیش رفت کیلئے اس وقت سب سے بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ اس حکمت عملی سے امریکہ ایرانی بحری تجارت خصوصاً تیل کی برآمدات پر اثر انداز ہو کر اسے معاشی نقصان پہنچا سکتا ہے مگر مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کی تلاش کے عمل پر اس کے منفی اثرات پائیدار امن کے امکان کو کم کر دیتے ہیں۔ امریکہ اور ایران مذاکرات کی اب تک کی پیش رفت امید اور غیریقینی کے درمیان معلق ہے۔ دونوں ملک اس عمل کو کامیابی سے آگے بڑھانے میں کامیاب ہو جائیں تو نہ صرف مشرق وسطیٰ میں امن اور ہم آہنگی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے بلکہ عالمی معیشت پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ تاہم ایرانی وزیر خارجہ کا براہِ راست مذاکرات کے بغیر واپس جانا ایک اشارہ ہے کہ اعتماد کی کمی موجود ہے‘ مگر یہ صورتحال جذباتی بیانات سے زیادہ عملی سفارت کاری کا تقاضا کرتی ہے۔
اگر ایران اور امریکہ نے تحمل‘ لچک اور حقیقت پسندی کا مظاہرہ کیا تو دونوں ملکوں کے مذاکرات میں بڑی پیش رفت خارج از امکان نہیں۔ اس میں دو رائے نہیں کہ خطے کا امن سنجیدہ‘ مسلسل اور دانشمندانہ مذاکرات سے جڑا ہوا ہے۔ اس سلسلے میں اب تک جو رکاوٹیں ہیں وہ باہمی اعتماد کی کمی کی وجہ سے ہیں۔ امریکہ اور ایران مذاکرات میں پیش رفت کے لیے اعتماد سازی کے اقدامات ناگزیر ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>غذائی عدم تحفظ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-26/11137</link><pubDate>Sun, 26 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-26/11137</guid><description>گلوبل رپورٹ آن فوڈ کرائسز 2026ء کے مطابق پاکستان عالمی سطح پر شدید غذائی عدم تحفظ کے شکار دس ممالک کی فہرست میں شامل ہے۔ اس فہرست میں پاکستان کے ساتھ افغانستان‘ بنگلہ دیش‘ کانگو‘ میانمار‘ نائیجیریا‘ سوڈان‘ شام اور یمن جیسے ممالک موجود ہیں۔ رپورٹ کے مطابق تقریباً 90لاکھ پاکستانی بحرانی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں جبکہ 17لاکھ شدید غذائی قلت کا شکار ہیں جنہیں جسم و جان کا رشتہ برقرار رکھنے کیلئے فوری خوراک کی فراہمی ضروری ہے۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور یہاں غذائی اجناس وافر مقدار میں میسر ہیں‘ اسکے باوجود تقریباً 90لاکھ پاکستانیوں کا غذائی قلت کا شکار ہونا کسی المیے سے کم نہیں۔ اس غذائی قلت کا سبب مہنگائی کی وہ لہر ہے جس نے معاشرے کے ہر طبقے کی قوتِ خرید کو شدید متاثر کیا ہے۔ ملک میں غذائی اجناس وافر موجود ہونے کے باوجود وہ غریب اور پسماندہ طبقے کی پہنچ سے باہر ہیں۔

عالمی بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق ملک کی تقریباً 45 فیصد آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ روز افزوں مہنگائی میں کمزور طبقوں کیلئے بنیادی اشیائے خورونوش کا حصول مزید مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ حکومت کو لوگوں کی قوتِ خرید بڑھانے کے علاوہ مہنگائی کے بے قابو طوفان کو کنٹرول کرنا چاہیے تاکہ بڑھتی غذائی قلت پر قابو پایا جا سکے۔ نیز شدید غذائی قلت کے شکار افراد کیلئے ٹارگٹڈ سبسڈی اور مفت راشن کی فراہمی سے بھی اس مسئلے سے نمٹنے میں مدد مل سکتی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پٹرولیم لیوی کا بوجھ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-26/11136</link><pubDate>Sun, 26 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-26/11136</guid><description>پٹرول اور ڈیزل کے ایکس ریفائنری ریٹ میں کمی کے باوجود حکومت نے ان مصنوعات کی قیمتوں میں 26روپے 77پیسے فی لٹر کا اضافہ کر دیا ہے۔ اس اضافے کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 393 روپے 35 پیسے جبکہ ڈیزل کی 380 روپے 19 پیسے فی لٹر تک جا پہنچی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اس اضافے کا تعلق عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے نہیں بلکہ یہ پٹرولیم لیوی اور اِن لینڈ فریٹ ایکوالائزیشن مارجن میں نمایاں اضافے کا نتیجہ ہے۔ حالیہ اضافے کے بعد پٹرول پر فی لٹر لیوی 107 روپے سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ مجموعی ٹیکسوں کا حجم تقریباً 135 روپے فی لٹر ہے۔ اسی طرح ڈیزل پر اِن لینڈ فریٹ مارجن سات روپے 54 پیسے سے بڑھ کر 37 روپے 75 پیسے تک پہنچ گیا ہے۔

حکومت کی جانب سے رواں مالی سال میں پٹرولیم لیوی کی مد میں 1468 ارب روپے جمع کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ ابتدائی نو ماہ میں اس مد میں 1234 ارب روپے اکٹھے کیے جا چکے ہیں۔ پٹرولیم مصنوعات حکومتی ریونیو کا بڑا ذریعہ بن چکی ہیں‘ تاہم اس پالیسی کا سب سے زیادہ بوجھ عام آدمی پر پڑ رہا ہے۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ نہ صرف ٹرانسپورٹ بلکہ اشیائے خورونوش سمیت ہر شعبے میں مہنگائی کی نئی لہر کو جنم دے رہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت  پٹرولیم لیوی میں کمی کر کے عوام کو مہنگائی کے دباؤ سے نکالے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ایک اور معرکۂ حق(مجیب الرحمٰن شامی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mujeeb-ur-rehman-shami/2026-04-26/51834/19578180</link><pubDate>Sun, 26 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mujeeb-ur-rehman-shami/2026-04-26/51834/19578180</guid><description>ایران پر مسلط کردہ امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کب رکے گی‘ پائیدار امن کا قیام کب ممکن ہو گا۔ اس بارے میں کوئی کچھ بھی نہیں کہہ سکتا۔ اچھی خبر یہ ہے کہ عارضی جنگ بندی برقرار ہے‘ فریقین ایک دوسرے کے بارے میں جو بھی شعلے اُگلیں۔ صدر ٹرمپ اپنی فتح کا جو بھی اعلان کریں اور ایران اپنے عزم کو جس طرح بھی دہرائے‘ ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے کے جو بھی ارادے ظاہر کیے جائیں‘ بمباری نہیں ہو رہی۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اس وقت اسلام آباد کے دورے پر ہیں لیکن ان کی طرف سے واضح کر دیا گیا ہے کہ یہ دوطرفہ معاملہ ہے۔ وہ مسقط اور روس جاتے ہوئے اسلام آباد رکے ہیں۔ اس دوران امریکہ سے بات چیت کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے جبکہ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا ہے کہ امریکہ کا ایک دو رکنی مذاکراتی وفد اسلام آباد پہنچنے کے لیے تیار ہے۔ اگر سپیکر ایران اسمبلی ایرانی وفد میں شامل ہوں گے تو پھر نائب صدر جے ڈی وینس بھی اسلام آباد روانہ ہو جائیں گے‘ بصورتِ دیگر وہ واشنگٹن میں بیٹھ کر ہی مذاکراتی عمل کی نگرانی کریں گے لیکن ایران کی طرف سے تاحال کوئی آمادگی ظاہر نہیں گئی۔ وہ آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی ختم کرنے کے مطالبے پر قائم ہے۔ کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ تعطل کب تک برقرار رہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر دن رات ایک کیے ہوئے ہیں کہ فریقین کسی طور آمنے سامنے بیٹھ جائیں‘ ایک ایسا معاہدہ کرنے میں کامیاب ہو جائیں جس سے دنیا کو امن کا تحفہ مل سکے۔ آبنائے ہرمز کی بندش نے اس جنگ کے اثرات ہر ملک تک پھیلا دیے ہیں۔ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے‘ مہنگائی بڑھتی چلی جا رہی ہے‘ یورپ اور امریکہ بھی لپیٹ میں ہیں۔ صدر ٹرمپ کو داخلی محاذ پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ وہ متعدد فوجی افسروں کو برطرف کر چکے لیکن پھر بھی یکسوئی نصیب نہیں ہو رہی۔ پاکستان ثالث کے طور پر جو کردار ادا کر رہا ہے‘ اس کی تحسین جاری ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے بھی اس کی داد دی ہے اور ایرانی قیادت سے مسلسل رابطے بھی اس اعتماد کی نشاندہی کر رہے ہیں جو تہران کو اسلام آباد پر ہے۔ میڈیا میں بعض عناصر &#39;&#39;نامعلوم‘‘ ایرانی عہدیداروں کی آڑ لے کر پاکستان کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ اسے متنازع بنانے میں کوشاں ہیں لیکن انہیں یوں منہ کی کھانا پڑ رہی ہے کہ ایران کا کوئی ذمہ دار اپنے برادر ملک پر انگلی اٹھانے پر تیار نہیں ہے۔پاکستان کی بھاری اکثریت ایران کے ساتھ ہے۔ اس نے جس استقامت کے ساتھ جارحیت کا مقابلہ کیا ہے اور اس کی دفاعی صلاحیتوں کی جو تفصیل سامنے آئی ہے‘ اس نے سب کو ششدر کر رکھا ہے۔ ایران کے ڈرون اور میزائل حملہ آوروں کو ناکوں چنے چبوا گزرے ہیں‘ ایران کو ونیزویلا بنانے کے خواب چکنا چُور ہیں۔ شدید نقصانات اٹھانے اور اپنی اعلیٰ ترین قیادت سے محروم ہونے کے باوجود ایران نے ریاستی نظم کو برقرار رکھا ہے۔ تفریق اور انتشار پھیلانے والوں کی سرکوبی کی ہے اور دنیا کو دکھا دیا ہے کہ اس کی عسکری اور سیاسی قیادت یک جان ہو کر یلغارکا سامنا کر رہی ہے۔ اب اسے ماضی سے زیادہ مستقبل پر نگاہ رکھنی ہے‘ جو نقصان ہو چکا‘ اس کے ازالے کا مطالبہ اپنی جگہ لیکن جو نقصان ہو سکتا ہے اس سے بچنا بھی ضروری ہے۔ اگر یہ کہا جائے تو نامناسب نہیں ہو گا کہ مستقبل کو سنبھالنا اہم ترین ہے۔ ماضی کا ازالہ کرتے کرتے اگر مستقبل ہاتھوں سے نکل جائے تو اسے فراست نہیں کہیں گے‘ جو ہاتھ میں ہے اسے محفوظ رکھنا اس وقت سب سے اہم ہے۔ اس حوالے سے اگر اقدامات کا جائزہ ہو گا تو پھر معاملہ اور ہو گا۔ اگر یہ نکتہ نظر انداز کر دیا جائے تو پھر کچھ بھی کہا اور کچھ بھی کیا جا سکتا ہے۔پاکستان میں پیٹرول اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے‘ بجلی بھی مہنگی ہو گی اور نتیجتاً پورا ملک مہنگائی کی شدید لہر کی زد میں ہو گا۔ عام آدمی کی زندگی اجیرن ہو رہی ہے۔ اگر مستقل جنگ بندی ہو جائے تو بھی حالات کو معمول پر آنے میں وقت لگے گا لیکن اگر ایسا نہ ہوا۔ شعلے ایک بار پھر بھڑک اٹھے تو کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ نتیجہ کیا ہو گا‘ کون کیسے متاثر ہو گا اور کس کو کتنا نقصان اٹھانا پڑے گا۔ بے یقینی کو ختم کرنا تو کسی کے بس میں نہیں لیکن مشکل حالات کا سامنا کرنے کے لیے صف بندی تو ممکن ہے۔ اس کے لیے لازم ہے کہ ہم داخلی سیاست کی کمزوریوں پر قابو پائیں۔ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے بجائے ایک دوسرے کے ساتھ سر جوڑ کر بیٹھیں۔ روکھی سوکھی مل بانٹ کر کھائیں۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ عوام کا جینا حرام ہو جائے اور مقتدر طبقے اپنے اللے تللے جاری رکھیں۔تحریک انصاف حزبِ اختلاف کی سب سے بڑی جماعت ہے‘ اس کے رہنماؤں اور کارکنوں کی شکایات کا فوری طور پر جائزہ لیا جانا چاہیے‘ جو لوگ جیلوں میں ہیں ان کے مقدمات پر نظرثانی کے لیے ایک کل جماعتی پارلیمانی کمیٹی (یا کمیٹیاں) بنائی جا سکتی ہیں۔ بزرگ اور بیمار اسیروں کو فی الفور رہا کر دینا چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ نظمِ ریاست پر بے اعتمادی میں اضافہ کرنے والوں کی سرزنش لازمی ہے۔ اعلیٰ عدلیہ میں تبادلوں کی جو کوشش کی جا رہی ہے‘ اس پر فی الفور نظرثانی ہونی چاہیے۔ دستورِ پاکستان کے مطابق اعلیٰ عدلیہ کے کسی جج کا اس کی رضا مندی کے بغیر تبادلہ نہیں کیا جا سکتا تھا۔ ستائیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے &#39;&#39;جج کی رضا مندی‘‘ کو ختم کر کے معاملہ جوڈیشنل کمیشن کی صوابدید پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ اب کوشش کی جا رہی ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے پانچ جج صاحبان کو دوسری عدالتوں میں منتقل کر دیا جائے۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے بھی اس کے خلاف آواز بلند کی ہے‘ اور اسے عدلیہ کی آزادی پر حملے کے مترادف قرار دیا ہے۔ عدالتی کمیشن کے اجلاس میں ان کا احتجاج مؤثر ہو سکے گا‘ اس پر تو کچھ کہا نہیں جا سکتا لیکن یہ بات بہرحال واضح ہے کہ عدالت ہائے عالیہ کے ججوں کو ان کی مرضی کے بغیر یا خلاف تبادلہ کرنے کی روش اپنائی کی گئی تو عدلیہ کی آزادی اور خود مختاری کا تصور زمیں بوس ہو جائے گا۔ جوڈیشل کمیشن کے ارکان کی توقیر اور احترام اپنی جگہ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو کسی بھی دباؤ کے بغیر کام کرنے کا حق حاصل رہنا چاہیے۔ پاکستانی ریاست اور سیاست اس وقت جن حالات سے دوچار ہیں‘ ان کا تقاضا ہے کہ اداروں کی جو بھی ساکھ بچی ہے‘ اس کی حفاظت یقینی بنائی جائے۔ انہیں مضبوط اگر نہیں کیا جا سکتا تو کمزور بھی نہ کیا جائے۔ وقتی مصلحتوں کے لیے ایسے اقدامات نہ کیے جائیں جو مستقبل کو دھندلا کر دیں۔ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو دباؤ میں رکھنا‘ اور انتظامی افسران کی طرح ان کے تبادلے کرنا عدالتی نظام کے انہدام کی طرف ایک بڑا قدم ہو گا۔ اس سے پورا ریاستی ڈھانچہ کمزور ہو گا۔ پاکستانی ریاست کو اس وقت تقسیم کی نہیں اتحاد اور اتفاق کی ضرورت ہے۔ جو کچھ بچا ہوا ہے‘ اس میں (فی الحال) اگر اضافہ نہیں کیا جا سکتا تو کمی بھی نہ ہونے دی جائے۔ وکلا‘ میڈیا اور سیاسی کارکنوں کو &#39;&#39;بنیانٌ مرصوص‘‘ بن کر اس معرکۂ حق میں دادِ شجاعت دینی چاہیے۔(یہ کالم روزنامہ &#39;&#39;پاکستان‘‘ اور روزنامہ &#39;&#39;دنیا‘‘ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_37052987.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پاکستان کا سماجی ماحول اب بدلیے(ایاز امیر)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-04-26/51835/85558807</link><pubDate>Sun, 26 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-04-26/51835/85558807</guid><description>وہ پارسائی کون سی تھی جو ضیا الحق کے دور میں اس بدقسمت معاشرے پر ٹھونسی گئی؟ جنرل صاحب کو گئے 38سال ہو گئے  لیکن ان کی زبردستی کی پارسائی کے اثرات پاکستان سے نہ مٹ سکے۔ یہاں نیکی نہیں پھیلی نہ انصاف کا بول بالا ہوا بس فرضی اور ظاہری اعتبار سے پارسائی کا ڈھنڈورا۔ جس کا سب سے بڑا نتیجہ یہ نکلا کہ انسانی معاشرے کی کمزوریاں باپردہ ہو گئیں یا زیر زمین چلی گئیں۔ اور جنہیں ہم قانون نافذ کرنے والے ادارے کہتے ہیں‘ جو قانون کم اور رشوت اور کرپشن کو زیادہ نافذ کرتے ہیں‘ ان کی زور زبردستی بڑھ گئی۔ سانس سونگھنا اور کوئی غریب اور لاچار جوڑا ہتھے چڑھا تو نکاح نامہ طلب کر لیا۔ پارسائی کے نام پر بہت ہو چکا‘ اب مزید پارسائی کا بوجھ یہ معاشرہ نہیں اٹھا سکتا۔ویسے بھی ایران جنگ کی وجہ سے دبئی کے معمولات پر گہرا اثر پڑا ہے۔ وہاں کی رعنائیاں تو ختم نہیں ہوئیں لیکن سیر سپاٹے کی غرض سے لوگوں کا آنا جانا کم ہو جائے اور دبئی ایئرپورٹ جو دنیا کے مصروف ترین ایئرپورٹوں میں شمار ہوتا تھا‘ تقریباً خالی پڑا ہو تو رعنائیوں کی آماجگاہوں پر اثر تو پڑنا ہے۔ پاکستان نے دبئی جیسی سرزمین کو کیا بھیجنا تھا‘ مزدور بھیجے اور ثقافت کے شعبے کو بے پناہ فروغ دیا۔ جہاں دبئی میں دنیا بھر کے ثقافت کے علمبرداروں نے اپنے ڈیرے جمائے‘ لاطینی امریکہ سے لے کر روس اور مشرقی یورپ تک‘ پاکستان سے بھی شعبۂ ثقافت سے تعلق رکھنے والے فنکاروں نے روزگار کی غرض سے دبئی کا رخ کیا۔ لاہور جیسے شہر میں ثقافت کے اعتبار سے جو تاریخی محلے ہوا کرتے تھے وہ ویران پڑ گئے۔ کچھ ہجرت تو اندرونی رہی یعنی ان پرانے محلوں سے لوگ جنہیں پوش علاقے کہتے ہیں وہاں چلے گئے لیکن بہت سے ایسے تھے جنہوں نے دبئی کا رخ کیا۔ اب جب ایران جنگ سے پیدا شدہ صورتحال کی وجہ سے دبئی کے حالات تھوڑے بدلے ہیں تو کوشش ہونی چاہیے کہ یہ جو بے پناہ ثقافتی ورثہ یہاں کے گلی کوچے چھوڑ کر اپنی قسمت آزمانے پردیس چلا گیا وہ واپس آئے۔یہ واپسی کی ہجرت تب ہی ہو سکتی ہے جب یہاں کا معاشرہ کچھ بدلے۔ ڈھولک اور سازندوں کی ذرا سی آواز بھی اٹھے اور پولیس کے چھاپے پڑ جائیں یا چھاپوں کا اندیشہ ہو تو ایسے ماحول میں نہ کسی ثقافتی فنکار نے واپس آنا ہے نہ یہاں کا ماحول بدل سکتا ہے۔ ویسے تو پولیس گردی ہمارے معاشرے کا ایک حصہ ہے لیکن یہ سمجھنا مشکل ہے کہ کسی گاؤں میں کسی نے مرغے یا بٹیر لڑا لیے تو ہماری پولیس کو کون سی ایسی تکلیف ہوتی ہے کہ وہاں ضرور چھاپہ مارنا ہے۔ بڑے لوگ اور بڑے وہی ہوتے ہیں جن کی جیبوں میں کچھ مال ہو وہ جوا کھیلیں تو ٹھیک ہے‘ جو تھوڑے بہت کلب اس ملک میں رہ گئے ہیں وہاں مخصوص کمروں میں جوا چلتا ہے لیکن وہاں تو کوئی چھاپے نہیں پڑتے۔ چھاپے ہمارے معاشرے میں لاچار طبقات کیلئے وقف ہوتے ہیں۔ کوئی بھولے سے شادی بیاہ کے فنکشن میں خواجہ سراؤں کو بلا لے اور پولیس کے ہاتھ پہلے سے رنگے نہ گئے ہوں تو چھاپہ پڑ جائے گا۔ فنکارائیں جو عموماً لاہور یا چنیوٹ جیسے مقامات سے بلائی جاتی ہیں‘ وہ کسی شادی بیاہ کے فنکشن میں آئیں تو پولیس سے پہلے بات طے نہ ہو تو چھاپہ ضرور پڑنا ہے۔ ان باتوں پر کیوں نہیں کوئی سوچ بچار ہوتی؟ مہنگائی اور بے روزگاری سے مارے لوگوں کو کوئی تفریح کا موقع مل جائے تو اچھی بات سمجھنی چاہیے۔ کرپشن کے زمرے میں کون سی لعنت ہے جو ہمارے معاشرے میں روا نہیں۔ لیکن پولیس کی نظریں بے راہ روی کی چھوٹی چھوٹی وارداتوں پر پڑتی ہیں کیونکہ ایک تو نچلے طبقات کے لوگ ہوتے ہیں اور کچھ مال پانی بن جاتا ہے۔ ہمارے حکمران اللہ‘ ان کا بھلا کرے‘ بڑے محدود ذہنی آؤٹ لُک کے مالک ہوتے ہیں۔ پڑھائی وغیرہ بھی ان کی واجبی ہوتی ہے۔ لیکن اقتدار کی پوزیشنوں پر جب پہنچ جاتے ہیں تو انہیں نظر اپنی کچھ وسیع رکھنی چاہیے۔ ضیا الحق کے ایک دو قانون جو اَب تک موجود ہیں اور جنہوں نے اس معاشرے کو گہنایا ہوا ہے اُنہیں ہٹانے کی ضرورت ہے۔ جن عادات یا روشوں کو پارسائی کے مارے لوگ برائیاں سمجھتے ہیں وہ قانونی پابندیوں سے ختم نہیں ہوتیں۔ سمجھدار معاشرے ایسی برائیوں کو مینج یا ریگولیٹ کرتے ہیں۔ قوانین اور پابندیوں کی پاکستان میں کوئی کمی نہیں لیکن کیا ان کی بدولت معاشرہ پاک صاف ہو گیا ہے؟ لہٰذا عقل اور شعور سے کام لینا چاہیے اور بے جا کی پابندیوں کو سرد خانے میں ڈالنے کا سوچنا چاہیے۔ ان پابندیوں کی وجہ سے ایک تو منافقت میں اضافہ ہوا ہے اور دوم دو نمبری کو فروغ ملا ہے۔ دو نمبری اب باقاعدہ بڑا کاروبار بن چکا ہے۔ ذاتی تجربہ ہے‘ اچھے بھلے نوٹ کسی چیز کیلئے جیب سے نکالتے ہیں اور دھڑکا لگا رہتا ہے کہ دو نمبری نہ ہو جائے۔ بتائیے ریاست کو اس سے کیا حاصل ہوتا ہے؟ جو ریونیو یا آمدن ریاست کی جیب میں جانا چاہیے وہ دو نمبری کرنے والے یا جو سپلائی اینڈ ڈیمانڈ کے کرتا دھرتا ہیں اُن کی جیبوں میں چلا جاتا ہے اور چونکہ دو نمبری خود جرم ہے تو جرائم میں اضافہ ہوتا ہے۔ دبئی والوں نے اپنے ملک میں کیا کرشمہ کیا تھا؟ انہوں نے دبئی کا ماحول ایسا بنایا کہ باہر کے لوگ وہاں آنا چاہتے تھے۔ جو پیسہ لے کر آئے گا انویسٹ کرنے کیلئے اُسے شام کو بھی کچھ کرنا ہے۔ کہیں آرام کرنا ہے کہیں ریلیکس ہونا ہے۔ سوچئے تو سہی ہماری نامور پولیس دبئی میں ہوتی تو وہاں جانے اور رہنے کا کوئی سوچتا؟ حکمران یا بڑے لوگ عیاشی کرنے دبئی جائیں گے لیکن اپنے دیس میں پارسائی کا چورن بیچیں گے۔ اسی دوغلے پن نے اس ملک کا چہرا مسخ کیا ہوا ہے۔ کوئی معاشرہ ہی دروغ گوئی اور دوغلے پن پر قائم ہو تو کیا وہ ایک اچھا معاشرہ بن سکتا ہے؟ ہماری جنریشن جو تقسیمِ ہند کے چند سال بعد اس دنیا میں آئی ویسے ہی ایک غلط وقت پر پروان چڑھی‘ جب زور زبردستی کی پارسائی یہاں نافذ ہو چکی تھی۔ 1977ء تو ایک ایسا سال تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو سے سیاست نہ سنبھالی گئی‘ بھٹو کے دشمنوں نے اسلام کا نعرہ لگا دیا اور سیاسی بحران جس کے حل میں بھٹو نے بہت دیر کر دی اُس کے نتیجے میں ملک پر مارشل لا نافذ ہو گیا۔ وہ دن اور آج کا دن منافقت کے بادل یہاں سے نہیں چھٹ سکے۔ ہوتا سب کچھ ہے لیکن اندرونِ خانہ۔ یہ بھی ہے کہ اس اندرون خانہ کیفیت کی وجہ سے جسے تفریح کہا جا سکتا ہے غریب کے ہاتھ سے نکل گئی ہے۔ جب ہم لیفٹین کپتان تھے تو لاہور جیسے شہر میں سو روپے میں ٹھیک ٹھاک شام گزر جاتی تھی۔ آج کیفیت یہ ہے کہ وہ جو سو روپے میں ہو جاتا تھا وہ کرنے کیلئے پچاس ہزار سے ایک لاکھ خرچ کرنا پڑتا ہے۔ بتائیے غریب بیچارا کہاں جائے۔ اس زمانے میں چھوٹے شہروں کے لوگ لاہور کے مخصوص محلوں کا رخ کر لیتے تھے۔ اب اس قسم کی یاترا ممکن نہیں اور اگر چھوٹے شہر میں رہ کر ہی کچھ کرنا ہے تو چھاپوں کا حساب رکھنا پڑتا ہے۔ اس ماحول کا نتیجہ کیا نکلتا ہے؟ لوگ سہم جاتے ہیں ڈرے رہتے ہیں۔ یورپ یا امریکہ کی ورکر کلاس یا مزدور طبقے کو دیکھیں کیااعتماد ان کا ہوتا ہے۔ پاکستان یا ہندوستان کے مزدور طبقے کو دیکھیں۔ ڈرے ڈرے لگتے ہیں۔ ڈرے لوگوں سے کبھی پُر اعتماد قوم بن سکتی ہے؟</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_80573045.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>دشمن کی تلاش جاری رہے گی(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-04-26/51836/61018090</link><pubDate>Sun, 26 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-04-26/51836/61018090</guid><description>آپ کو کیا لگتا ہے کہ امریکہ‘ ایران اور اسرائیل کے درمیان اگر اب معاملات ٹھیک ہو جاتے ہیں تو اس کے بعد ان تینوں کو دشمنوں کی ضرورت نہیں رہے گی‘ اور سب لوک کہانیوں کے شہزادوں اور شہزادیوں کی طرح ہنسی خوشی رہنے لگیں گے؟ پہلے تو یہ انہونی ہونی نہیں ہے‘ اور اگر امریکہ‘ اسرائیل اور ایران شیر و شکر ہو گئے تو بھی بہت جلد ان تینوں ملکوں کو نئے دشمنوں کی ضرورت پڑے گی یا پھر یہ پرانی دشمنیاں بحال کر لیں گے۔ جتنا میرا تھوڑا بہت انسانی تاریخ اور نفسیات کا مطالعہ ہے اس سے مجھے تو یہی سمجھ آتی ہے کہ ہر ریاست کو اپنا وجود قائم رکھنے کیلئے ایک مضبوط دشمن کی ضرورت ہوتی ہے۔ بغیر کسی دشمن کے آپ کا ملک یا معاشرہ زیادہ دیر تک متحد نہیں رہ سکتا‘ لہٰذا اگر آپ امن کے ساتھ بھی رہنا چاہتے ہیں تو بھی آپ کو کسی نہ کسی شکل میں ایک خطرناک دشمن درکار ہوتا ہے۔ان ایشوز پر ماضی میں بہت کام کیا گیا ہے اور ہر ذہین مورخ اور سوشل سائنٹسٹ نے اس مسئلے کی گہرائی میں جا کر یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ کسی ریاست‘ قبیلے حتیٰ کہ ایک برادری کیلئے بھی ایک عدد دشمن کیوں ضروری ہوتا ہے۔ ابنِ خلدون‘ نکولو میکاولی اور آرنلڈ ٹوئن بی نے ان موضوعات پر لکھا ہے اور اپنے اپنے انداز میں اس کا تجزیہ پیش کیا ہے۔ ابنِ خلدون کی شہرہ آفاق کتاب &#39;&#39;مقدمہ‘‘ پڑھیں‘ جس میں وہ بڑی تفصیل سے بتاتا ہے کہ عصبیت کسی بھی قوم‘ قبیلے یا ریاست کیلئے نہایت اہم ہوتی ہے۔ اس کے نزدیک کوئی قوم اسی وقت تک متحد رہ سکتی ہے جب تک اس کے اندر عصبیت موجود ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قوم اور قبیلہ ایک دوسرے کے ساتھ جڑت محسوس کرتے ہیں اور کسی بھی بیرونی حملے یا خطرے کی صورت میں اکٹھے ہو کر اس کا مقابلہ کرتے ہیں۔ اس عصبیت کو آپ کسی بھی معاشرے یا ریاست کے مختلف پہلوؤں پر لاگو کر سکتے ہیں۔جب بات خطرے کی ہوتی ہے تو پھر آپ کو مورخ آرنلڈ ٹوئن بی کی تھیوری یاد آتی ہے کہ کسی بھی ریاست کو ترقی کرنے اور متحد رہنے کیلئے &#39;&#39;چیلنج اینڈ رسپانس‘‘ درکار ہوتا ہے۔ اگر کسی ریاست کو کوئی بیرونی چیلنج درپیش نہ ہو تو وہاں کے حکمران اور عوام دھیرے دھیرے سست ہو جاتے ہیں اور عیش و عشرت میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ ریاست اور اس کا اتحاد کمزور پڑتا جاتا ہے اور زیادہ سے زیادہ ایک حکمران خاندان‘ جو کسی ریاست پر حکومت کر رہا ہوتا ہے‘ وہ 120سال کے اندر ختم ہو جاتا یا ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر اس ریاست یا اس کے عوام کے سامنے کوئی تھریٹ یا چیلنج ہو تو وہ اس خطرے سے نمٹنے کیلئے تیاری میں جُت جاتے ہیں تاکہ وہ دشمن کے ہاتھوں شکست نہ کھائیں۔ یہ ان کا اس چیلنج کے مقابلے میں ردِعمل ہوتا ہے جو ان کی بقا کیلئے ضروری ہے۔ جب آپ کسی چیلنج کا مقابلہ کرنے نکلتے ہیں تو اپنے باہمی‘ قبائلی‘ لسانی یا علاقائی اختلافات سب کچھ بھول جاتے ہیں کیونکہ آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ بیرونی خطرہ اتنا بڑا ہے کہ وہ سب کو نگل سکتا ہے۔ لہٰذا اس وقت باہمی لڑائیوں یا اختلافات کو ہوا دینا ہم سب کیلئے نقصان دہ ہوگا۔ اپنے باہمی مسائل ہم بعد میں حل کر لیں گے‘ پہلے ہم بیرونی خطرے سے نمٹ لیں۔ یوں جب وہ چیلنج کا سامنا کرتے ہیں تو جہاں عوام متحد رہتے ہیں‘ وہیں حکمران بھی نسبتاً آسانی سے حکومت کرتے اور وہ معاشرے نئی ٹیکنالوجی اور تخلیق کے ذریعے ترقی بھی کرتے ہیں۔ اگر وہ بیرونی دشمن کے مقابلے کیلئے مناسب تیاری نہ کریں‘ جس کیلئے تخلیق اور جدت درکار ہے تو پھر وہ ملک‘ قوم یا ریاست بیرونی طاقت کے نیچے کچلی جا سکتی ہے۔ یوں اس پورے عمل میں معاشرہ بتدریج ترقی کرتا جاتا ہے۔لیکن اگر اس طرح کی تھریٹس یا جنگیں طویل ہو جائیں تو معاشرے اور ملک ڈوب بھی جاتے ہیں۔ معاشرہ ہر وقت حالتِ جنگ میں رہ کر تھکن اور ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے اور آخرکار بکھرنے لگتا ہے۔ میکاولی نے بھی لکھا ہے کہ حکمران کا کام ہے کہ وہ اپنی رعایا کی توجہ مسلسل جنگ اور بیرونی خطرات پر مرکوز رکھے۔ جنگ کا خطرہ دکھا کر حکمران زیادہ سختی سے حکومت کر سکتا ہے۔ اس  جنگی جواز کے تحت لوگوں پر مرضی کی پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں‘ ان کی آزادیاں سلب کی جا سکتی ہیں اور ملک کے عوام بھی ایک دوسرے سے نہیں لڑتے‘ لہٰذا میکاولی کے نزدیک جنگ کا مسلسل خوف بھی حکمران کیلئے کارآمد ہوتا ہے۔ ایک جرمن سوشل سائنٹسٹ نے اس موضوع پر اپنی تھیوری پیش کی ہے کہ ایک سیاسی کمیونٹی اسی وقت زندہ رہ سکتی ہے جب وہ اپنے اصل دشمن کو پہچان سکے۔  بغیر کسی حقیقی دشمن کے ریاست اپنا مقصد کھو دیتی ہے اور لوگ اتحاد و اتفاق بھول جاتے ہیں۔ اس دوران دشمن اور دوست کی تمیز  بھی ضروری ہے۔ ان مفکرین نے بڑی تفصیل سے ان تھریٹس یا بیرونی خطرات کا ذکر کیا ہے جو ماضی کی ریاستوں کو متحد رکھنے میں مددگار ثابت ہوئے۔ اگر ہم یہیں رک کر ان تھیوریز کی روشنی میں جدید ریاستوں کو دیکھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ ہزاروں سال پہلے بھی روم کی ریاست نے اپنی رعایا کو اس دور کے وحشی قبائل (Barbarians) سے ڈرا کر متحد رکھا ہوا تھا کہ اگر آپ متحد نہ رہے  تو وہ آپ کو تہس نہس کر دیں گے اور ان کے خلاف کئی خوفناک جنگیں بھی لڑی گئیں۔ یہ صرف ایک مثال ہے ورنہ انسانی تاریخ میں ایسی ہزاروں مثالیں موجود ہیں جہاں بیرونی دشمن کو بنیاد بنا کر ریاستوں اور عوام کو متحد رکھا گیا۔ ایک جگہ اسے The Art of War کا نام بھی دیا گیا ہے کہ آپ نے اس حکمتِ عملی کے ذریعے خود کو متحد رکھنا ہے۔اب ان تاریخی تھیوریز اور قدیم تجربات کو سامنے رکھیں تو آپ کو سمجھ آنا شروع ہو جاتی ہے کہ یہ سارا چکر کیا ہے۔ یہ طے ہے کہ اسرائیل کو بھی اپنی بقا کیلئے دشمنوں کی ضرورت ہے اور ایران کو بھی انقلاب کے بعد اس کی ضرورت تھی۔ اگر ایرانی انقلاب کے بعد ایران کے دشمن نہ ہوتے تو شاید بہت پہلے وہاں داخلی مسائل شدت اختیار کر لیتے جو بعد میں عوامی مظاہروں کی صورت میں وہاں سامنے بھی آئے۔ اسی طرح عرب ریاستوں کو بھی ایران جیسے دشمن کی ضرورت تھی تاکہ وہ اپنے عوام کو ایرانی خطرے سے ڈرا کر متحد رکھ سکیں‘ چاہے عرب و عجم کی پرانی کشمکش ہی کیوں نہ ہو۔ ایران کو زیادہ دشمنوں کی ضرورت تھی لہٰذا خلیجی ممالک سے لے کر امریکہ تک دشمن بنے یا بنائے گئے۔ ایران کا انقلاب اسی صورت میں محفوظ رہ سکتا تھا کہ عوام کو ایک بڑے دشمن کے خوف میں رکھا جائے۔ روس میں انقلاب آیا تو بالشویک اور کمیونزم کو بھی دشمن کی ضرورت محسوس ہوئی اور یوں دنیا نے سرد جنگ کا طویل اور خوفناک دور دیکھا‘ جس میں کمیونزم اور کیپٹلزم کے درمیان کشمکش جاری رہی۔اگر آپ نظر دوڑائیں تو آپ کو ہر ملک کسی نہ کسی کا دشمن دکھائی دے گا۔ پاکستان اور بھارت کی دشمنی دونوں ممالک کو کسی نہ کسی سطح پر فائدہ دیتی ہے اور ان کے درمیان مکمل دوستی کا امکان کم نظر آتا ہے۔ کابل پہنچ کر افغان طالبان کو بھی دشمن کی ضرورت پڑی تو انہوں نے پاکستان کو ہی نشانہ بنا لیا حالانکہ پاکستان ہی ان کے اقتدار تک پہنچنے میں مددگار تھا۔ چلیں پاکستان کی بھارت اور افغانستان کے ساتھ سرحدیں ملتی ہیں اس لیے ان کا تنازع کسی حد تک فطری لگتا ہے لیکن کیا امریکہ اور روس کی سرحدیں ملتی ہیں؟ یا چین اور امریکہ کا کوئی مشترکہ بارڈر ہے کہ وہ ایک دوسرے کے حریف ہیں؟ مغربی اور مشرقی یورپ کی دشمنیاں بھی اسی طرح چلتی رہیں۔لہٰذا میرے خیال میں ایران کو ہرگز سُوٹ نہیں کرتا کہ جن ممالک کو اُس نے انقلاب کے بعد اپنا دشمن بنایا یا امریکہ اور اسرائیل نے ایران کو دشمن قرار دیا‘ ان کے درمیان مستقل دشمنی ختم ہو جائے۔ اگر ایسا ہو گیا تو ایران کو اندرونی محاذ پر کچھ عرصہ بعد مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اگر آرنلڈ ٹوئن بی‘ نکولو میکاولی یا ابنِ خلدون کے تاریخی اسباق اور تھیوریز کو سامنے رکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے  کہ ان ریاستوں کو دشمنیاں زیادہ سُوٹ کرتی ہیں‘ دوستیاں نہیں جبکہ پاکستان سمیت پوری دنیا دوستی کی کوششوں میں مصروف ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>رازداری کے پردے میں مذاکرات(رشید صافی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-04-26/51837/87010586</link><pubDate>Sun, 26 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-04-26/51837/87010586</guid><description>ایران اور امریکہ کے درمیان 12اپریل کو اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے پہلے دور کے اختتام پر بظاہر یہ تاثر ابھرا کہ فریقین کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے میں ناکام رہے ہیں۔ اسلام آباد کے سرینا ہوٹل میں جاری رہنے والا مذاکرات کا پہلا دور  تقریباً 21گھنٹوں پر محیط رہا مگر کسی حتمی معاہدے کی نوید سنائے بغیر ہی تمام ہوا۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی میڈیا سے گفتگو کے بعد واپسی نے بھی اس خدشے کو جنم دیا کہ شاید سفارت کاری کا باب بند ہو چکا ہے تاہم پس پردہ حقائق اس کے برعکس تھے۔ جے ڈی وینس نے مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے 22اپریل کو دوبارہ اسلام آباد پہنچنا تھا‘ جس کی تصدیق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کی تھی۔ لاجسٹک انتظامات کے لیے تین امریکی کارگو جہاز بھی اسلام آباد اتر چکے تھے جن میں وفد کے لیے ضروری سامان‘ گاڑیاں اور حفاظتی آلات لائے گئے تھے۔ پاکستان ان مذاکرات کے لیے مکمل طور پر تیار  تھا اور وفاقی دارالحکومت کے ریڈ زون سمیت تمام حساس مقامات پر سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے تھے۔ اس پس منظر میں دو نکات کو سمجھنا نہایت ضروری ہے۔ اول یہ کہ اگرچہ اعلیٰ سطح کا امریکی وفد 22 اپریل کو پاکستان نہ پہنچ سکا لیکن امریکی جہازوں کا اسلام آباد میں قیام اس بات کا ثبوت ہے کہ اندرون خانہ بات چیت کا سلسلہ ٹوٹا نہیں تھا۔ دوم 12 اپریل سے قبل جڑواں شہروں میں کیے گئے سخت سکیورٹی انتظامات کو ختم نہ کرنا بھی اسی تسلسل کی کڑی تھی۔ چونکہ مذاکرات کا محور اس وقت ٹیکنیکل ٹیمیں تھیں اور سب کچھ رازداری کے پردے میں تھا اس لیے افواہوں اور جنگ کی قیاس آرائیوں نے جنم لیا مگر حقیقت یہ تھی کہ امریکی ماہرین اسلام آباد میں موجود رہ کر مذاکراتی عمل کو کسی نہ کسی سطح پر آگے بڑھا رہے تھے۔ یہاں یہ  واضح کرنا ضروری ہے کہ سیاسی قیادت کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطوں کو ہی مذاکرات سمجھنے والے اسے معطلی قرار دے رہے تھے جبکہ ٹیکنیکل ٹیموں کی خاموش پیش رفت کو نظر میں رکھنے والے اسے جاری عمل کے طور پر دیکھ رہے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ  جب ماہرین کسی نتیجے پر پہنچ جاتے ہیں تب ہی سیاسی قیادت حتمی اعلان کے لیے سٹیج پر آتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ مشکلات کے باوجود پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں مستقل جنگ بندی کے لیے مخلصانہ سفارتی کوششیں جاری رکھیں۔ یہ پاکستان کی مثبت سفارت کاری اور صلح جوئی کا ثمر ہے کہ آج فریقین ایک بار پھر مذاکرات کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی کی قیادت میں ایک اہم وفد اسلام آباد پہنچ چکا ہے۔ چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ایرانی وزیر خارجہ کی ملاقات نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ عراقچی یہاں سے مسقط اور ماسکو کے لیے بھی روانہ ہوں گے کیونکہ ایران اس مشاورتی عمل میں اپنے دیرینہ اتحادی روس کو بھی شامل رکھنے کا خواہاں ہے۔ اگرچہ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے فی الوقت امریکی حکام سے براہِ راست ملاقات کی نفی کی ہے تاہم یہ عین ممکن ہے کہ پاکستانی حکام کو اپنے مشاہدات فراہم کرنے کے بعد جب امریکی صدر کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر پاکستان پہنچیں تو ماسکو کا دورہ مکمل کر کے عباس عراقچی بھی دوبارہ اس عمل کا حصہ بن جائیں۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان  کیرولین لیوٹ نے امریکی وفد کی شرکت کی تصدیق کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ نائب صدر جے ڈی وینس امریکہ میں موجود رہ کر صورتحال کی نگرانی کریں گے اور ضرورت پڑنے پر پورے وفد کو پاکستان روانگی کے لیے سٹینڈ بائی رکھا گیا ہے۔پاکستان مشرق وسطیٰ کی جنگ سے براہِ راست متاثر ہونے والے ممالک میں شامل نہیں مگر سفارتی سطح پر سب سے زیادہ متحرک پاکستان دکھائی دے رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جنگ سے براہ ِراست متاثر ہونے والے ممالک میں برادر اسلامی ممالک شامل ہیں نیز ایران ہمارا پڑوسی ملک بھی ہے۔اس صورتحال میں پاکستان نے خاموش تماشائی بننے کے بجائے صلح جوئی کو ترجیح دی۔ دنیا تسلیم کر رہی ہے کہ جنگ کے شعلوں کو مزید بھڑکنے سے صرف پاکستان ہی روک سکتا ہے۔ اسی طرح جنگ کے خاتمے کیلئے جس مہارت اور دانشمندی کی ضرورت ہے پاکستان کی قیادت اس سے مالا مال ہے۔ بین الاقوامی سیاست کے تپتے ہوئے ماحول میں جہاں جنگ کے شعلے بھڑک رہے ہوں کسی ایک فریق کا ساتھ دینے کے بجائے دونوں متصادم قوتوں کو ایک میز پر لانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہوتا ہے۔ پاکستان نے اس نازک مرحلے پر جس درجے کی سنجیدگی اور استقامت دکھائی ہے اس نے ثابت کر دیا کہ پاکستانی قیادت خارجہ امور کی باریکیوں سے نہ صرف واقف ہے بلکہ کسی دباؤ میں آئے بغیر عالمی امن کے ایجنڈے پر کاربند رہنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔ یہ پاکستان کی بصیرت کا ثبوت ہے کہ دونوں متحارب فریق ‘امریکہ اور ایران‘ نہ صرف پاکستان کی کوششوں کے معترف ہیں بلکہ اس پر مکمل اعتماد کا اظہار بھی کر رہے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے بہترین ثالث کا خطاب ملنا پاکستان کی دہائیوں پر محیط سفارتی ساکھ کی کامیابی ہے۔ پاکستانی قیادت نے ثابت کیا کہ سفارت کاری خاموشی سے جمود کو ختم کرنے اور مخالفین کے درمیان مشترکہ نکات تلاش  کرنے کا فن ہے۔ مذاکرات اب ابتدائی لیول سے نکل کر فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ دونوں ممالک کی ٹیکنیکل ٹیمیں طویل نشستوں کے بعد اب کافی امور پر اتفاق کر چکی ہیں جو کہ بڑی کامیابی ہے۔ جنگ سے متاثرہ دیگر ممالک کی شدید خواہش ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان فوری طور پر حتمی معاہدہ ہو۔ یوں معاہدے کا جلد سے جلد طے پانا اب محض فریقین کی ہی ضرورت نہیں بلکہ پوری دنیا کی بقا کا مسئلہ بن چکا ہے۔ عالمی معیشت اس وقت شدید کساد بازاری کی زد میں ہے‘ صنعتی پہیہ جام ہو رہا ہے اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے نے ترقی پذیر ممالک کی معیشتوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ توانائی کے بڑھتے ہوئے بحران اور عالمی سپلائی چین کی معطلی سے پیدا ہونے والی صورتحال سے دنیا شدید مثاثر ہو رہی ہے‘ اسلئے یہ معاہدہ جس قدر جلد ہو گا عالمی منڈیوں میں استحکام آئے گا اور انسانیت ایک بڑی معاشی تباہی سے بچ سکے گی۔ پاکستان کا کردار تو ثالث اور سہولت کار ہے لیکن اگر فریقین کے درمیان کچھ امور پر اختلافات برقرار رہتے ہیں اور کوئی فریق ضمانت کی شرط رکھتا ہے تو ممکنہ طور پر پاکستان سفارتی ضامن بھی ہو سکتا ہے۔ اب دنیا کی نظریں اسلام آباد پر لگی ہیں جہاں امن کی تاریخ لکھی جا رہی ہے۔ ہمارے لیے یہ فخر کا مقام ہے کہ جس جنگ سے دنیا تنگ ہے‘ پاکستان اس جنگ کے شعلے بجھانے میں صفِ اول میں رہ کر کردار ادا کر رہا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/222_48272610.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>انا کی بھینٹ(عمران یعقوب خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-04-26/51838/17110911</link><pubDate>Sun, 26 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-04-26/51838/17110911</guid><description>لاہور میں اپنے ہی تین کم عمر بچوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار ماں پانچ روزہ ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہے۔ پولیس کے مطابق لاہور کے علاقے اچھرہ میں پیش آئے اس افسوسناک واقعہ میں ڈیڑھ سال سے لے کر پانچ سال تک کی عمر کے تین بچوں‘ دو بہنوں اور ایک بھائی کو تیز دھار آلے سے قتل کیا گیا۔ پولیس کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ یہ معاملہ میاں بیوی کے درمیان لڑائی جھگڑے کا ہے۔ پولیس کے مطابق خاتون کی اس کے شوہر سے چھ سال قبل شادی ہوئی تھی اور ان کے تین بچے تھے۔ تفتیشی افسر کے مطابق اہلِ خانہ اور اہلِ محلہ نے بتایا کہ میاں بیوی کا گھریلو معاملات پر اکثر جھگڑا رہتا تھا۔مجھے شعبۂ صحافت میں 35 برس ہو چکے ہیں اور اس سارے عرصے میں سینکڑوں نہیں تو درجنوں بار ایسی خبریں رپورٹ کرنے‘ لکھنے اور پڑھنے میں آئیں جن میں والدین کی آپس کی چپقلش کی سزا بچوں کو دی گئی۔ انہیں قتل کر دیا گیا یا بری طرح مارا پیٹا گیا۔ اس عمل کا مقصد فریقِ مخالف یعنی اگر قاتل یا ضارب ماں ہے تو شوہر کو اور اگر بچوں کی بَلی چڑھانے والا شوہر ہے تو ماں کو ذہنی و جسمانی کرب میں مبتلا کرنا اور سزا دینا ہوتا ہے۔ ایسا کرنے سے فریقِ مخالف کرب میں بھی مبتلا ہوتا ہے اور اسے اذیت بھی ضرور ملتی ہے لیکن میرے خیال میں اصل سزا بچوں کو ملتی ہے۔ ان کلیوں کو ملتی ہے جنہیں کھلنے سے پہلے ہی مسل دیا جاتا ہے۔ اس سانحے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ بچے تو والدین کی لڑائیوں والی تکلیف دہ زندگی سے ابدی نجات پا جاتے ہیں لیکن انہیں ان لڑائیوں کی بھینٹ چڑھانے والے ساری زندگی اس احساسِ گناہ کے ساتھ سلگتے ہوئے گزارتے ہیں کہ جنہیں انہوں نے پیدا کیا‘ ان کی پرورش کی‘ ان کی قلقاریاں سنیں‘ ان کی میٹھی میٹھی باتوں سے محظوظ ہوئے اور جو اُن کی زندگی (چاہے لڑائی زدہ ہی تھی) کا مرکز و محور تھے انہیں انہوں نے خود ہی اپنی زندگیوں سے نکال دیا۔ اب اچھرہ کے تین بچوں کی ماں چاہے عدالت سے چھوٹ جائے‘ چاہے اسے کوئی بھی سزا نہ ملے‘ اس اذیت کے ساتھ زندگی گزارے گی کہ وہ اپنے بچوں کی قاتلہ ہے۔ ان بچوں کی جنہیں اس نے نو نو ماہ اپنی کوکھ میں رکھا اور اپنا خون ان کی رگوں میں ڈالا اور انہیں زندگی دی‘ جنہیں زچگی کی تکلیفوں کے ساتھ دنیا میں وارد کیا‘ جنہیں اس نے برسوں اپنا دودھ پلایا۔ ان بچوں کی جن کو کھلانے‘ جن کا پیٹ بھرنے سے پہلے وہ خود ایک نوالہ تک لینا پسند نہ کرتی تھی۔ ان بچوں کی جن کو دیکھے بنا‘ پیار کیے بنا اسے قرار نہ آتا تھا۔ اب اسے ان بچوں کے بغیر ساری زندگی تڑپتے ہوئے گزارنا پڑے گی‘ چاہے جیل میں گزرے‘ چاہے جیل سے باہر۔یہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے اس لیے اس پر زیادہ بات نہیں کی جا سکتی لیکن میں اس سانحے کے صرف انسانی پہلوؤں پر کچھ ضرور کہنا چاہوں گا۔ ممکن ہے اجتماعی قتل کی ایسی وارداتوں کے پیچھے یہ سوچ کارفرما ہو کہ اگر وہ یعنی ماں شوہر سے علیحدہ ہو جائے یا خود کشی کر لے تو بعد میں اس کے بچوں کا کیا بنے گا‘ لہٰذا پہلے بچوں کا ٹنٹا ہی ختم کیا جائے‘ بعد میں دیکھا جائے گا کہ کیا کرنا ہے۔ یہ سچائی کڑوی ہے لیکن ہے سچائی کہ بنا والدین کے بچوں کو کوئی نہیں سنبھالتا اور در در کی ٹھوکریں ان کا مقدر بن جاتی ہیں۔ یتیم خانوں میں ہزاروں بلکہ ممکن ہے لاکھوں بچے ایسے ہوں جو والدین کی محبت کو ترستے ہیں۔ انہیں حکومت نے جائے پناہ تو دے رکھی ہوتی ہے۔ کھانا بھی ملتا ہے۔ پہننے کو بھی اچھا ملتا ہو گا۔ وہ تعلیم بھی حاصل کرتے ہیں لیکن ماں باپ کی کمی کوئی پوری نہیں کر سکتا۔ یہ وہ بچے ہیں جو سرکار کی پناہ میں آ گئے۔ جو زمانے کی بھینٹ چڑھے وہ چور‘ ڈاکو اور رہزن ہی بنتے ہیں کہ آج کے معاشرے میں انصاف عنقا ہے۔ احمد مشتاق نے لکھا تھا: امن ملے تیرے بچوں کو اور انصاف ملےدودھ ملے چاندی سا اجلا‘ پانی صاف ملےوالدین نہ ہوں تو نہ امن ملتا ہے‘ نہ انصاف میسر آتا ہے‘ نہ چاندی سا اجلا دودھ حاصل ہوتا ہے اور نہ صاف پانی ہی مل پاتا ہے۔ والدین نہ ہوں تو دن دن نہیں ہوتا‘ رات رات نہیں ہوتی۔ لوریاں صرف والدین دیتے ہیں‘ ضدیں صرف والدین پوری کرتے ہیں۔ زمانے کو پتا چل جائے کہ کوئی یتیم یا مسکین ہے تو وہ ٹھوکروں پر رکھ لیتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں یتیم بچوں کی زندگی اکثر محرومیوں سے بھری ہوتی ہے۔ وہ والدین کی شفقت اور رہنمائی کے بغیر بڑے ہوتے ہیں اور ان کے دل میں اکیلا پن اور شفقت کی کمی شدت سے ہوتی ہے۔لیکن ان ساری قباحتوں‘ ان سارے خدشات‘ اندیشوں اور خطرات کے باوجود کسی ماں‘ کسی باپ کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنے معصوم بچوں پر ہاتھ اٹھائیں‘ چہ جائیکہ انہیں قتل کر دیں۔ بچے اللہ تعالیٰ کی نعمت ہیں۔ وہ خوشیوں کا منبع‘ مستقبل کی امید ہوتے ہیں۔ ان کی قدر کی جانی چاہیے۔ انکی قدر ہوتی بھی ہے۔ اس وقت جب باپ چلچلاتی دھوپ اور شدید سردیوں میں بغیر کسی کو بتائے‘ بغیر کسی کو جتائے دن بھر محنت کرتا ہے کہ اپنے بچوں کا پیٹ بھر سکے‘ ان کی زندگی کی ضروریات پوری کر سکے۔ اس وقت جب ماں باپ گھر سے اپنی ضروریات کی شاپنگ کے لیے نکلتے ہیں لیکن جب واپس آتے ہیں تو خریدی گئی چیزوں کے تھیلوں میں سے زیادہ تر بچوں کے استعمال کی چیزیں نکلتی ہیں۔ اس وقت جب ماں بھوکی رہ کر بچوں کو پیٹ بھر کر کھانا کھلاتی ہے۔ اس وقت جب گھر میں ایک روٹی ہو تو وہ بچوں میں بانٹ دی جاتی ہے اور والدین بھوکے سوتے ہیں۔کہنا یہ چاہتا ہوں کہ والدین اپنی لڑائیوں کی آگ کا ایندھن اپنے بچوں کو نہ بنائیں۔ جو پھول کھلے ہیں انہیں کھلنے دیں۔ اگر زیادہ ہی مسئلہ ہے تو مزید نہ پیدا ہونے دیں۔ طلاق لے لیں۔ خلع کی اجازت بھی ہمارا مذہب دیتا ہے لیکن خود کشی کے بارے میں سوچنا یا اپنی بیوی یا اپنے شوہر کو تکلیف میں مبتلا کرنے کے لیے اپنے بچوں کو قتل کر دینا اس کی اجازت کوئی نہیں دے سکتا‘ نہ مذہب نہ سماج۔ یہ کہاں کی دانشمندی ہے‘ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ سب سے پہلے تو سوچ سمجھ کر ساتھی کا انتخاب کریں اور اگر ایک بار شادی کے بندھن میں بندھ جاتے ہیں تو پھر کوشش کی جائے کہ اس کو نبھایا جائے۔ اگر کوشش کے باوجود کامیابی نہیں ملتی تو علیحدگی کا آپشن ہمیشہ سے موجود رہا ہے اور موجود رہے گا۔ وہ اپنائیں‘ بچوں کو قتل نہ کریں‘ انہیں اپنی انا کی بھینٹ نہ چڑھائیں۔ اپنے لیے باقی ساری زندگی کی اذیت کا بندوبست نہ کریں۔ کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے اس کے نتائج کے بارے میں سوچیں۔ بچے تو قتل ہو کر دنیا سے چلے جاتے ہیں لیکن انہیں اپنی انا کی بھینٹ چڑھانے والے والدین ساری زندگی احساسِ ندامت کی سولی پر لٹک کر گزارتے ہیں۔تازہ خبر یہ ہے کہ ریمانڈ کے دوران پولیس کی تفتیش سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ اپنے بچوں کی قاتل ملزمہ اپنے شوہر سے طلاق لے کر کسی اور سے شادی کرنا چاہتی تھی‘ لیکن شادی میں بچے سب سے بڑی رکاوٹ تھے۔ یہ پڑھ کر تو مجھے اس عورت کو عورت کہتے ہوئے بھی شرم آ رہی ہے‘ ماں تو عورت کا اعلیٰ ترین درجہ ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_58350786.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ایران جنگ، بدلتی عالمی بساط اور امن کی راہیں(محمد عبداللہ حمید گل)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-abdullah-hameed-gull/2026-04-26/51839/88672399</link><pubDate>Sun, 26 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-abdullah-hameed-gull/2026-04-26/51839/88672399</guid><description>ایران کے خلاف جاری جنگ اب اس مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں ابتدائی جوش اور تیز رفتار عسکری حکمتِ عملی کی جگہ تعطل‘ تھکن اور سٹریٹجک الجھن نے لے لی ہے اور فوری کامیابی کے دعوے دم توڑتے نظر آ رہے ہیں۔ امریکہ کے لیے یہ صورتحال دن بہ دن پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ نیٹو اتحاد میں بھی اختلافات اب واضح ہو رہے ہیں‘ جہاں اس جنگ کے تسلسل اور حکمتِ عملی پر رائے منقسم ہوتی جا رہی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اندرونِ ملک سیاسی دباؤ‘ عوامی بے چینی اور جنگی اخراجات پر بڑھتی تنقید کا سامنا ہے۔ پینٹاگون کے اندر اختلافات اور اعلیٰ عسکری قیادت میں تبدیلیاں اس بات کا اشارہ ہیں کہ  فیصلہ سازی میں یکسوئی باقی نہیں رہی جبکہ عوامی سطح پر بڑھتی ہوئی جنگی تھکن اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن کے لیے یہ جنگ اب بوجھ بنتی جا رہی ہے۔ جب کسی جنگ میں کمانڈ سٹرکچر میں دراڑیں پڑنا شروع ہو جائیں تو یہ محض عسکری نہیں سیاسی بحران کی بھی علامت ہوتا ہے۔ ابتدائی اندازہ یہ تھا کہ جدید ٹیکنالوجی‘ فضائی برتری اور Shock and Awe حکمتِ عملی (ایک جدید فوجی نظریہ جس کا مقصد دشمن کو اچانک‘ شدید اور بھرپور طاقت سے مفلوج کر دیا جائے) کے ذریعے ایران کو جلد زیر کر لیا جائے گا‘ مگر زمینی حقیقت اس کے برعکس نکلی۔ ایران نے نہ صرف اپنی دفاعی صلاحیت برقرار رکھی بلکہ ایک منظم اور مؤثر جوابی حکمتِ عملی کے ذریعے خود کو ایک مضبوط فریق کے طور پر منوایا ہے۔ میزائل اور ڈرون حملوں نے نہ صرف اس کے جوابی وار کی صلاحیت کو ثابت کیا بلکہ خطے میں طاقت کے توازن کو بھی بدل دیا ہے۔ جبکہ ایران اور امریکہ کے درمیان دوسرے دور کے مذاکرات‘ ایٹمی پروگرام پر بڑھتا ہوا تنازع‘ جنگ بندی میں توسیع کی باتیں اور ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات میں روز بروز آنے والا یوٹرن‘ یہ سب مل کر ایک ایسی پیچیدہ تصویر بنا رہے ہیں جسے سمجھنا آسان نہیں۔ تاریخ کا بغور جائزہ لیا جائے تو امریکہ ایران کشیدگی کوئی نئی بات نہیں‘ 1979ء کے ایرانی انقلاب کے بعد دونوں ملکوں میں مستقل مخالفت پائی جاتی ہے۔ 2015ء میں ہونے والی ایران نیوکلیئر ڈیل امید کی کرن بن کر سامنے آئی مگر 2018ء میں ٹرمپ کی جانب سے اس معاہدے سے علیحدگی نے ایک بار پھر حالات کو ملیا میٹ کر دیا۔ آج جب مذاکرات کا دوسرا دور زیر بحث ہے تو اصل مسئلہ ایران ایٹمی پروگرام اور اس پر عائد پابندیاں ہیں‘ یہیں سے تنازع شدت اختیار کرتا ہے۔ آبنائے ہرمز اس جنگ کا سب سے حساس پہلو بن چکی ہے‘ جو عالمی معیشت اور توانائی کے وسائل کی شہ رگ سمجھی جاتی ہے۔ ایران کی قیادت کی طرف سے اس کی امریکی ناکہ بندی کے خلاف سخت مؤقف اور عملی اقدامات کے اشارے عالمی منڈیوں کے لیے خطرے کی گھنٹی ہیں۔ اگر اس راستے میں کوئی رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو اس کے اثرات مشرق وسطیٰ سمیت پوری دنیا پر مرتب ہوں گے۔ ٹرمپ کے بیانات بھی اس صورتحال کو مزید الجھا رہے ہیں۔ یہ تضاد امریکی پالیسی کو غیرواضح اور بین الاقوامی سطح پر بے یقینی کو بڑھا رہا ہے۔ اس اہم گزرگاہ پر کشیدگی نے دنیا بھر کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے‘ مگر حیران کن طور پر امریکہ کے قریبی اتحادی بھی اس محاذ پر کھل کر سامنے آنے سے گریزاں ہیں۔ یہ ہچکچاہٹ اس کا ثبوت ہے کہ جنگی تھکن صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں بلکہ سفارتی اور اتحادی سطح پر بھی سرایت کر چکی ہے۔ دوسری جانب ماسکو اور بیجنگ کا خاموش مگر انتہائی اہم کردار مغرب کے لیے دردِ سر بن چکا ہے۔ توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ آبنائے ہرمز سے جڑا ہونے کی وجہ سے چین خطے میں استحکام چاہتا ہے‘ پاکستان کے ساتھ مل کر اس نے جو پانچ نکاتی امن منصوبہ پیش کیا تھا‘ اس کو عالمی سطح پر بہت سراہا گیا۔ اقوام متحدہ میں روس کا بعض قراردادوں کو ویٹو کرنا بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ صدر پوتن ایران کو تنہا چھوڑنے کے حق میں نہیں۔ اس نئی صف بندی سے دنیا ایک بار پھر دو بڑے بلاکس میں تقسیم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس ساری صورتحال میں اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات نے عالمی سفارت کاری میں پاکستان کے کردار کو نئی پہچان دی۔ اگرچہ حتمی معاہدہ تاحال نہیں ہوا لیکن جنگ بندی کے نکات پر پیشرفت ضرور ہوئی جو کسی بڑے تصادم کو روکنے کیلئے اہم قدم ہے۔ دوسری جانب اسرائیل بھی اس جنگ کے دباؤ سے محفوظ نہیں رہا۔ مسلسل خطرات‘ فوجی دباؤ اور عوامی بے چینی نے داخلی سطح پر سوالات کو جنم دیا ہے۔ اسرائیلی افواج اور ریزرو فورسز پر بوجھ بڑھ رہا ہے جبکہ شہری آبادی پر مسلسل مزائل حملوں کے باعث نیتن یاہو پر تنقید بڑھتی جا رہی ہے۔خلیجی تعاون کونسل (GCC) کے ممالک جو برسوں سے امریکی سکیورٹی پر انحصار کرتے آئے ہیں‘ اب خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔ جدید دفاعی نظام ہونے کے باوجودانہیں ایرانی ردعمل کی شدت کا سامنا  کرنا پڑ رہا ہے جس کے معاشی اور نفسیاتی اثرات واضح ہیں۔پاکستان نے اس دوران متوازن کردار ادا کیا ہے۔ سفارتی کوششوں سے اسلام آباد نے خلیجی ممالک کو ایران کے خلاف کشیدگی بڑھانے سے روکا اور ممکنہ تباہ کن نتائج کی نشاندہی کی۔ ایران کی سب سے بڑی طاقت اس کی عسکری برتری نہیں بلکہ اس کی حکمتِ عملی ہے۔ اس نے روایتی جنگ کے بجائے غیر روایتی اور غیر مرکزی طریقہ اختیار کیا ہے جس میں بکھرے ہوئے نیٹ ورکس‘ اتحادی گروہوں اور محدود وسائل کے مؤثر استعمال کے ذریعے بڑے دشمن کو الجھایا جاتا ہے۔ یہی حکمتِ عملی اسے ایک طویل جنگ میں برتری دیتی ہے۔ شدید بمباری کے باوجود ایران نے جوابی حملوں کی صلاحیت برقرار رکھی اور بتدریج زیادہ جدید ہتھیاروں کا استعمال کرنے لگا‘ جن میں درست نشانہ لگانے والے بیلسٹک اور ہائپر سونک میزائل بھی شامل تھے‘ ساتھ ہی اس کا ڈرون نظام بھی مؤثر ہے۔ ان ہتھیاروں نے ایران کو زیادہ درستگی اور سٹریٹجک اثر حاصل کرنے میں مدد دی۔ داخلی سطح پر ایرانی حکومت کو عوامی حمایت حاصل نظر آتی ہے اور قوم پرستی کے جذبات نے مزاحمت کو تقویت دی۔اہم سوال یہ ہے کہ آخر امریکہ اور اس کے اتحادی ایران کو زیر کرنے میں ناکام کیوں ہیں؟ اس کا جواب سادہ مگر تلخ ہے۔ ایران ایک بڑا‘ آبادی کے لحاظ سے مضبوط اور جغرافیائی طور پر پیچیدہ ملک ہے۔ اس کے خلاف مکمل جنگ نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت کو بھی شدید متاثر کر سکتی ہے‘ خصوصاً اگر آبنائے ہرمز لمبے عرصے کے لیے بند ہو جائے۔ مزید برآں ایران کی جوابی صلاحیت‘ مختلف محاذوں پر بیک وقت دباؤ ڈالنے کی حکمتِ عملی اور علاقائی اتحادیوں کا کردار اسے ایک مضبوط دفاعی پوزیشن دیتا ہے۔ تاہم اس تاریک منظرنامے میں امید کی کرن بھی موجود ہے اور وہ ہے امن کی ضرورت کا احساس۔ امریکہ‘ یورپ‘ خلیجی ممالک اور حتیٰ کہ اسرائیل بھی اس حقیقت کا سامنا کر رہے ہیں کہ طویل جنگ بغیر واضح نتائج کے مزید نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔ ایران بھی بظاہر مکمل تصادم کے بجائے ایک باعزت مذاکراتی راستہ چاہتا ہے‘ جہاں وہ اپنی شرائط کے ساتھ بات چیت کر سکے۔ ایسے میں پاکستان‘ چین اور روس جیسے ممالک اہم ثالثی کردار ادا کر سکتے ہیں‘ جبکہ اقوامِ متحدہ ایک مؤثر سفارتی پلیٹ فارم فراہم کر سکتا ہے۔ اعتماد سازی کے چھوٹے اقدامات جیسے محدود جنگ بندی اور سمندری راستوں کی جزوی بحالی امن معاہدے کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ تمام فریقین اپنی انا سے بالاتر ہو کر حقیقت پسندانہ فیصلے کریں۔ سوال یہ نہیں ہے کہ جنگ ہو گی کہ نہیں بلکہ اب دیکھنا یہ ہے کہ طاقت کا یہ کھیل کونسی نئی کہانی رقم کرے گا۔ آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ یہ جنگ ایک ایسے مقام پر پہنچ چکی ہے جہاں مؤثر آواز سفارتکاری کی ہوتی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_62843609.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>