<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>اسلام آباد مذاکرات اور توقعات(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-11/11094</link><pubDate>Sat, 11 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-11/11094</guid><description>اسلام آباد میں ہونے والے ایران امریکہ مذاکرات غیر معمولی اہمیت کی حامل پیشرفت ہے۔ پاکستان کی مخلصانہ اور انتھک کوششوں سے متحارب فریقین کو مذاکرات کی میز پر لا بٹھانا کوئی معمولی بات نہیں۔ تاریخِ عالم پچھلی کئی دہائیوں کے دوران ایسی دوسری مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ اس دو ہفتے کی جنگ بندی نے مذاکرات کے اُس سلسلے کو بحال کرنے میں مدد دی ہے جو فروری کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کے حملے سے ٹوٹ گیا تھا۔ اس سے قبل عمان اور بعد میں جنیوا میں ایران اور امریکہ کے درمیان اچھی پیشرفت کی خبریں آ رہی تھیں۔ جنگ شروع نہ کی گئی ہوتی تو ممکن ہے امریکہ اور ایران اب تک بہت سے تنازعات اور تحفظات کا ازالہ کرنے میں کامیاب ہو چکے ہوتے۔ اس طرح مشرق وسطیٰ مہینہ بھر کی اس کشیدگی سے بچ جاتا اور دنیا اس بے یقینی کے کرب سے‘ جس میں توانائی کی سنگین مہنگائی اور مستقبل کے حوالے سے پائی جانے والی تشویش نے مبتلا کر رکھا تھا۔ اس دوران ایران میں قریب تین ہزار کے قریب افراد جنگ کا رزق بنے۔ خلیجی ملکوں میں بھی ڈھیروں نقصان ہوا اور دنیا کیلئے ترقی کی مثال سمجھا جانیوالا یہ خطہ اپنی تاریخ کے بدترین سکیورٹی مسائل سے دوچار ہوا۔

پاکستان کی کوششوں سے ہونیوالی جنگ بندی اور مذاکرات کے عمل نے اس ڈراؤنے خواب سے نکلنے کی راہ ہموار کی ہے۔ بظاہر امریکہ اور ایران دونوں کو اس کا احساس ہے‘ جس کا اندازہ نائب امریکی صدر جے ڈی وینس‘ جو مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت کیلئے پاکستان تشریف لائے ہیں‘ کے بیانات سے ہوتا ہے۔ یہ بیانات بڑے حوصلہ افزا اور پیشرفت کیلئے آمادہ ذہنیت کی عکاسی کرتے ہیں۔ گزشتہ روز پاکستان کے سفر پر روانہ ہونے سے قبل انہوں نے ایران کیساتھ مثبت مذاکرات کی امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کیساتھ تعمیری گفتگو کے خواہاں ہیں‘ ایران نیک نیتی سے مذاکرات کرتا ہے تو ہم بھی تیار ہیں۔ ایران کی جانب سے مذاکراتی وفد کی قیادت وزیر خارجہ سید عباس عراقچی اور پارلیمان کے سپیکر باقر قالیباف کر رہے ہیں۔ ہر دو شخصیات سنجیدہ‘ تجربہ کار اور دانشمند ہیں۔ عباس عراقچی تو اس سے قبل عمان اور جنیوا کے مذاکرات میں بھی ایران کی نمائندگی کر چکے ہیں۔ادھر سے مشرق وسطیٰ کیلئے امریکی صدر کے نمائندہ خصوصی سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی عمان اور جنیوا کے مذاکرات میں امریکی نمائندگی کر چکے ہیں۔ باقر قالیباف اور جے ڈی وینس کی شمو لیت نئی ہے اور دنیا کی نیک خواہش یہ ہے کہ اسلام آباد میں آج ہونیوالی بات چیت بڑی پیشرفت کا سبب بنے۔ اصولی طور پر یہ ناممکن نہیں۔ اس مہینہ بھر کی جنگ نے بھی کئی سبق سکھائے ہیں۔
جہاں ایران کو امریکہ اور اسرائیل کے گٹھ جوڑ اور اُنکی مشترکہ طاقت کے ہاتھوں بے مثال جانی ومالی نقصانات اٹھانے پڑے ہیں وہیں امریکہ نے ایران کے مضبوط دفاعی نظام‘ میزائل پاور اور عوامی جذبے کو اس جنگ میں واضح طور پر دیکھ لیا ہے۔ حالات کا سبق یہ ہے کہ فریقین میں جنگ کا جاری رہنا دونوں جانب کیلئے بھی اور خطے اور دنیا کیلئے بھی شدید نقصان دہ ہے۔ جنگوں کا خاتمہ اور پائیدار امن انسانوں کو ترقی کے مثالی مواقع فراہم کر سکتا ہے۔ آج دنیا بھر میں کوئی بھی ذی ہوش اس جنگ کی حمایت نہیں کرتا۔ وہ بھی نہیں جنہوں نے اس جنگ میں بہت نقصان اٹھایا۔ جنگ کی آگ کو مزید آگ سے ٹھنڈا نہیں کیا جا سکتا۔ فریقین کو باعزت خلاصی کا موقع ملتا ہو تو اسے ضائع کرنا حماقت ہے۔ امریکہ اور ایران کے مذاکراتی وفود کو یقینا اس کا احساس ہے؛ چنانچہ انہیں اس کیلئے مخلصانہ جذبے کیساتھ پوری کوشش کرنی چاہیے کہ اس بحران کا کوئی آبرو مندانہ حل نکل آئے۔ یہی ایران کے مفاد میں ہے اور یہی امریکہ کے مفاد میں۔ لڑتے رہنے میں کوئی بھلائی نہیں‘ نہ ہی اس سے طاقت کی دھاک بیٹھتی ہے۔ دبدبہ طاقت کو بچا کر رکھنے میں ہے نہ کے برپا کرنے میں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مہنگائی اور عوامی بے بسی(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-11/11093</link><pubDate>Sat, 11 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-11/11093</guid><description>وفاقی ادارۂ شماریات کے مطابق نو اپریل کو ختم ہونے والے کاروباری ہفتے کے دوران ملک میں 28اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھنے سے ہفتہ وار مہنگائی کی شرح میں سالانہ بنیادوں پر 12.15فیصد اضافہ ہوا ہے۔ جن اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ان میں ایل پی جی‘ پٹرولیم مصنوعات‘ آٹا‘ روٹی‘ دودھ‘ اور تقریباً سبھی سبزیاں اور پھل شامل ہیں۔ مہنگائی کی حالیہ لہر کا تعلق مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہونیوالے ہوشربا اضافے سے ہے۔ دکاندار ایل پی جی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو جواز بنا کر ناجائز منافع خوری میں مصروف ہیں جبکہ متعلقہ حکام محض زبانی جمع خرچ تک محدود نظر آتے ہیں۔ عالمی بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں غربت کی شرح تقریباً 45 فیصد سے زائد ہے جبکہ بیروزگاری کی شرح بھی7.1فیصد ہے۔

ایسے حالات میں مہنگائی میں معمولی اضافہ بھی عوام پر شدید مالی بوجھ ڈالتا ہے۔ مہنگائی کے مستقل تدارک کیلئے زبانی دعوئوں کے بجائے حکومت کو ایک جامع معاشی لائحہ عمل تشکیل دینے کی ضرورت ہے جس میں ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری کے خلاف سخت کارروائی اور عوام کی آمدن میں حقیقی اضافہ شامل ہو۔ حکومت کو ادراک ہونا چاہیے کہ جب تک عام آدمی کی قوتِ خرید بحال نہیں ہوتی‘ مہنگائی کا مقابلہ ممکن نہیں۔ ساتھ ہی انسدادِ گرانی کے اداروں کی کارکردگی کو مؤثر بنانا بھی ناگزیر ہے۔ مہنگائی کا مسئلہ نئی اصلاحات اور سنجیدہ حکومتی ترجیحات کا متقاضی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>منکی پاکس کا پھیلاؤ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-11/11092</link><pubDate>Sat, 11 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-11/11092</guid><description>کراچی اور لاہور سے منکی پاکس کا ایک‘ ایک کیس سامنے آنے کے بعد رواں برس ملک میں منکی پاکس کے مریضوں کی مجموعی تعداد 26تک پہنچ چکی ہے جبکہ پانچ افراد اس مرض سے جاں بحق ہو چکے ہیں۔ سندھ سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ ہے جہاں اسکے 14کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں‘ جن میں سے 12کا تعلق خیرپور جبکہ دو کا کراچی سے ہے۔ منکی پاکس ایک وائرل بیماری ہے جو متاثرہ شخص کی جلد‘ زخموں‘ جسمانی رطوبتوں یا اس کے زیر استعمال اشیا کے ذریعے دوسرے افراد تک منتقل ہو سکتی ہے۔ اس کی ابتدائی علامات میں بخار‘ نزلہ‘ گلے میں خراش اور جسم پر دانے شامل ہیں‘ جو بعد میں پیپ والے چھالوں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ عوام کو چاہیے کہ منکی پاکس کے مریضوں سے فاصلہ رکھیں اور انکے زیر استعمال اشیا کو استعمال نہ کریں۔

حکومت کو کم از کم تحصیل کی سطح پر مؤثر نگرانی کا نظام قائم کرنا چاہیے تاکہ کیسز کی بروقت نشاندہی ہو سکے۔ اسی طرح ہسپتالوں میں قرنطینہ وارڈز کو فعال بنانا بھی ناگزیر ہے تاکہ مریضوں کو فوری طور پر الگ کر کے وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔ ملک عزیز پہلے ہی ڈینگی‘ پولیو اور دیگر متعدی امراض جیسے چیلنجز سے نبرد آزما ہے‘ ایسے میں منکی پاکس جیسے نئے خطرے کو نظرانداز کرنا کسی طور دانشمندی نہیں ہو گی۔لہٰذا حکومت‘ طبی ماہرین اور عوام سب مل کر ذمہ داری کا مظاہرہ کریں تاکہ اس بیماری کے پھیلنے سے روکا جا سکے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>تعصب حجابِ اکبر ہے(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-04-11/51744/52459803</link><pubDate>Sat, 11 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-04-11/51744/52459803</guid><description>تعصب ایک حجاب ہے۔ یہ دوسروں بالخصوص مخالفین کی خوبیوں کے اعتراف میں حائل ہو جاتا ہے۔ انسان مگر اندر سے جانتا ہے کہ صحیح کیا ہے اور غلط کیا۔ وہ خود کو مطمئن کرنا چاہتا ہے۔ عقلِ عیار یہاں اس کی مدد کرتی اور اس کے لیے دلائل تراشتی ہے۔حالات نے شہباز شریف صاحب اور فیلڈ مارشل عاصم منیر صاحب کے سر کامیابی کا سہرا باندھ دیا۔ سوشل میڈیا کے &#39;آبنائے ہرمز‘ پر قابض گروہ اور ان کے &#39;سیاسی لواحقین‘ کے لیے اس کامیابی کو ہضم کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ یہ قبضہ گروپ اپنے اور لواحقین کیاطمینان کے لیے دلائل گھڑ رہا ہے۔ ڈوبتے کو تنکے کا سہارا۔ وہ ان کی ٹکسال میں ڈھلے کچے پکے دلائل کو لے کر دوڑ پڑتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ایک میلہ لگ جاتا ہے۔ اس طرح لواحقین کو اطمینان اور قبضہ گروپ کو ڈالر ملتے ہیں۔یہ ایک دلچسپ کھیل ہے۔ مذہبی تعصبات کی آبیاری بھی اسی طرح ہوتی ہے۔ لوگ مسلکی واعظین اور ذاکروں پر ہر سال کروڑوں روپے خرچ کرتے ہیں۔ میں سوچتا تھا کہ وہ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ ایک دن مجھ پر یہ عقدہ کھلا۔ ہر مسلک کے ماننے والے کو اپنی وابستگی کے لیے دلیل کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسے آئے دن مخالفین کے اعتراضات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس سے جواب نہیں بن پاتا تو مدد گار ڈھونڈتا ہے۔ یہ واعظ اور ذاکر پھر اس کے کام آتے ہیں۔ وہ اس کے لیے عقلی اور نقلی دلائل تلاش کرتے‘ تراشتے اور ان کی مدد سے ایک سچا جھوٹا بیانیہ بناتے اور اس کے حوالے کر دیتے ہیں۔ اس طرح اسے اپنے مسلکی اور مذہبی تعصب کے لیے جواز مل جاتا ہے۔ وہ ان خطیبوں اور ذاکرین کو اسی کا معاوضہ ادا کرتا ہے۔ حق کی تلاش دونوں کے پیشِ نظرنہیں ہوتی۔ اس لیے دلائل تراشنے والوں کو روایت کی صحت کا لحاظ ہوتا ہے نہ عقلی دلیل کی مضبوطی کا۔ وہ صدیوں پہلے پیش آنے والے کسی حادثے میں رنگ بھرنے کے لیے ہر سال نئے واقعات گھڑتے ہیں۔ انہیں مخاطبین کی عقلی سطح اور ضرورت کا خوب اندازہ ہوتا ہے۔ انہیں اپنے معاوضے سے غرض ہوتی ہے اور وہ انہیں مل جاتا۔ انہیں اس سے کچھ دلچسپی نہیں ہوتی کہ وہ غارت گرِ ایمان بنتے اور گمراہی پھیلانے کے مرتکب ہوتے ہیں۔یہی کچھ سیاست میں ہو رہا ہے۔ سوشل میڈیا کے لیے ان سیاسی جماعتوں نے اپنے اپنے &#39;ذاکر و واعظ‘ پال رکھے ہیں۔ وہ ان کے حق میں بیانیہ بناتے اور ان جماعتوں کے حامیوں کو وابستہ رکھنے کے لیے انہیں &#39;دلائل‘ فراہم کرتے ہیں۔ وہ مذہبی بیانیہ سازوں کی طرح سچ جھوٹ کی تمیز کے قائل نہیں۔ ان کا کام سیاسی تعصبات کو باقی رکھنا ہے۔ آج جب وقت نے ایک عزت شہباز شریف صاحب کے مقدر میں لکھ دی ہے تو وہ ان سے چھیننا چاہتے ہیں۔ تاریخ سے لڑنا چونکہ ممکن نہیں ہوتا اس لیے کھسیانی بلی کھمبا نوچتی رہ جاتی ہے۔ ساری دنیا کو یہ کامیابی دکھائی دے رہی ہے۔ میڈیا اور سیاسی راہنما اس کا اعتراف کر رہے ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہکہ معاہدے کے فریق اسلام آباد میں جمع ہیں۔ اگر پاکستان کا کوئی کردار نہیں ہے تو یہ لوگ یہاں کیوں آ رہے ہیں؟ یہ سوال مگرعقلِ سلیم والوں کے لیے ہے اور تعصبات کی وادی سے اس کا گزر نہیں ہوتا۔اس حکمتِ عملی کا توڑ علاج بالمثل کے طریقے پرکیا جا رہا ہے۔ کرکٹ کے باب میں ایک کامیابی تاریخ نے عمران خان صاحب کے مقدر میں لکھ دی۔ وہ اُس پاکستانی ٹیم کے کپتان تھے جس نے ورلڈ کپ جیتا۔ اب کیسے ممکن ہے کہ کرکٹ کی بات ہو اور اس میں عمران خان کا ذکر نہ ہو؟ آج مگر یہی ہو رہا ہے۔ کرکٹ کی تاریخ عمران خان صاحب کے ذکر کے بغیر لکھنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ اس کوشش نے ظاہر ہے ناکام ہی ہونا ہے۔تعصبات سے بلند ہونا مشکل کام ہے۔ کم لوگ ہی یہ بھاری پتھر اٹھا سکتے ہیں۔ اگر یہ آسان کام ہوتا تو لوگ مسلکی اور مذہبی تعصبات میں اتنے پختہ نہ ہوتے۔ نسلیں ان تعصبات کی نذر ہو جاتی ہیں۔ دیوبند کا مدرسہ 1866ء میں قائم ہوا۔ بریلوی مسلک کے امام مولانا احمد رضا‘ مولانا اشرف علی تھانوی کے ہم عصر تھے۔ ایک صدی سے زیادہ وقت گزر چکا‘ یہ تعصبات نہ صرف قائم ہیں بلکہ روز افزوں ہیں۔ سائنسدان ثابت کر چکے کہ زمین متحرک ہے۔ ایک طبقہ آج بھی اسے ساکن مانتا ہے کہ ان کے امام کی رائے یہی تھی۔ آدمی سوچتا ہے کہ بظاہر معقول دکھائی دینے والا ایک آدمی ایسے دلائل کو کیسے جھٹلا سکتا ہے؟ جب ہم اسے تعصب کے پیراڈائم میں رکھ کر دیکھتے ہیں تو سب سمجھ میں آنے لگتا ہے۔اس مشکل کام کو کیا آسان بنایا جا سکتا ہے؟ آسان تو نہیں مگر ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ اس کی ایک شرط نظری ہے اور ایک عملی۔ نظری شرط یہ ہے کہ سیاست ہو یا مذہب‘ ہم سچ کے متلاشی بنیں۔ دل کو قبولیتِ حق کے لیے ہمیشہ آمادہ رکھیں۔ اپنی باگ عقل کے ہاتھ میں دیں جو مشاہدے اور تجربے کی آنکھوں سے دیکھتی ہے۔ عملی شرط یہ ہے کہ معلومات کا مستند ذریعہ تلاش کریں۔ جو آدمی ان شرائط کو پوراکر لے‘ غالب امکان یہ ہے کہ وہ صحیح بات تک پہنچ جائے گا۔ مذہب میں اس کا مطمح نظر اللہ تعالیٰ کے منشا کو جاننا ہو۔ اس کے مستند ذرائع قرآن وسنت اور نبیﷺ سے منقول صحیح روایات ہیں۔ اس کے علاوہ جو کچھ ہے وہ شرح و وضاحت ہے‘ ماخذ نہیں۔سیاست میں پیشِ نظر یہ معلوم کرنا ہو کہ کون سی جماعت یا فرد ملک و قوم کو بہتر قیادت فراہم کر سکتے ہیں؟ یہ جاننے کا مستند ذریعہ وہ اہلِ علم اور ذرائع ابلاغ ہیں جن پر دنیا کو بالعموم اعتبار ہوتا ہے۔اب اس کا اطلاق موجودہ حالات پر کریں۔ جنگ بندی میں پاکستان کا کردار کیا ہے؟ اس کے لیے مستند معلومات کا ماخذ سوشل میڈیا میں متحرک سیاسی جماعتوں کے پروپیگنڈا سیل نہیں ہو سکتے۔ ہمیں دیکھنا ہے کہ ایرانی اور امریکی قیادت کیا کہہ رہی ہے۔ عالمی ذرائع ابلاغ کیا خبر دے رہے ہیں۔ مشاہدہ کیا ان کی خبروں کی تائید کر رہا ہے۔ عالمی سیاسی راہنماؤں کا موقف کیا ہے۔ معاہدے کے لیے مذاکرات کہاں ہو رہے ہیں۔ ان سوالات کے جواب گمانِ غالب ہے کہ ہمیں درست نتائج تک پہنچا دیں۔صحیح نتیجے تک پہنچنے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ ہم خلطِ مبحث سے بچیں۔ دو غیرمتعلق امور کو خلط ملط نہ کریں۔ یہ حکومت اگر کسی کے نزدیک عوام کی رائے سے قائم نہیں ہوئی تو اس بات کا جنگ بندی کے معاملے سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ دو الگ موضوعات ہیں۔ یہ بات کہ جنرل ضیا الحق مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر تھے‘ امرِ واقعہ ہے لیکن اس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ انہوں نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو آگے بڑھایا۔ یہ واقعہ کہ عمران خان مقتدر قوتوں کا ایک پروجیکٹ تھے اور یہ حقیقت کہ وہ ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم کے کپتان تھے‘ دو الگ باتیں ہیں۔ ضیا الحق مرحوم کو مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر ماننے سے اس بات کی نفی نہیں ہو جاتی کہ انہوں نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو آگے بڑھایا۔یہ سب عقل کی باتیں ہیں اور تعصب وہ حجاب ہے جو عقل کو ڈھانپ لیتا ہے۔ اس حجاب کو ہٹانا ایک مشکل کام ہے۔ کم لوگ ہی اس گھاٹی سے گزر سکتے ہیں۔ اللہ کے آخری رسول سیدنا محمدﷺ یہ دعا مانگا کرتے کہ اے اللہ مجھے چیزوں کو ویسا ہی دکھا جیسی وہ ہیں۔ گویا تعصب جیسا کوئی پردہ میرے اور حالات و واقعات کے مابین حائل نہ ہو۔ ہمیں بھی یہی دعا کرنی چاہیے۔ تعصب وہ حجاب ہے جو پہاڑ جیسی چیزوں کو ہماری نگاہوں سے اوجھل کر دیتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>تیل کی قیمتیں اور الّو کی خریدوفروخت(خالد مسعود خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-04-11/51745/42706815</link><pubDate>Sat, 11 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-04-11/51745/42706815</guid><description>ایک زمانہ تھا برادرم طارق حسن کو کپڑوں کی خریداری کا بہت شوق تھا اور صرف کپڑوں پر ہی کیا موقوف برادرم کو دیوانگی کی حد تک خریداری کا شوق تھا۔ بس خریداری کا کوئی بہانہ بناتے اور چل پڑتے۔ جیب میں جب بھی تھوڑے سے پیسے فالتو ہوتے اُن کا دل خریداری کیلئے مچل پڑتا ‘تاہم اس خریداری میں کپڑوں کی خریداری کو دیگر تمام اشیاپر فوقیت حاصل تھی‘ اور اگر سیل لگی ہو پھر تو کیا ہی کہنے ۔ بس سیل کا نام ہی اُن کو خریداری کیلئے اکسانے کیلئے کافی سے زیادہ تھا۔ تب راولپنڈی صدر کے ایک پلازہ میں کپڑوں کی سیل بہت مشہور ہوا کرتی تھی۔ ممکن ہے اب بھی وہی حال ہو لیکن اب نہ تو برادرم طارق حسن میں خریداری کا وہ ذوق و شوق اور جذبہ باقی ہے اور نہ ہمیں اس بارے میں کچھ زیادہ معلومات رہی ہیں۔ راولپنڈی صدر کے اس پلازہ میں سیل کی حقیقت تو میں بعد میں بیان کروں گا تاہم برادرم اس سیل کا اعلان ہوتے ہی اپنی کمر کس لیتے اور پنڈی صدر اس پلازہ میں پہنچ جاتے۔ دھڑا دھڑ کپڑے خریدتے اور ہر خریداری پر خرچ ہونے والی رقم کے بجائے بچائی جانے والی رقم کا حساب کرتے اور خوش ہوتے‘ تاہم بعد میں تحقیق سے یہ معلوم ہوا کہ یہ ساری سیل تقریباً تقریباً فراڈ پر مبنی ہوتی تھی۔ وہی کوٹ جو سیل سے قبل 10 ہزار روپے میں بآسانی دستیاب تھا اس نام نہاد سیل میں اس کی پہلے تو قیمت بڑھا کر 15 ہزار روپے کر دی جاتی پھر اس 15 ہزار والے ٹیگ کے اوپر سرخ مارکر سے لکیر یا کراس لگایا جاتا اور اس کے نیچے 10 ہزار یا اسی کے لگ بھگ رقم لکھ کر اسے 35 فیصد یا 40 فیصد سیل یا اس طرح کی دل لبھانے والی ترکیب سے عوام کو بیوقوف بنایا جاتا۔ وہی کورٹ جو عام دنوں میں عوام کو 10 ہزار میں ملتا تھا سیل میں بھی تقریباً اسی قیمت میں ملتا‘ تاہم لوگ بہت خوش ہوتے کہ انہوں نے اس خریداری میں پانچ ہزار روپے بچا لیے ہیں۔ برادرم طارق حسن بھی اسی قسم کی خوشیاں حاصل کیا کرتے تھے۔ مجھے دراصل یہ سب کچھ اس لیے یاد آیا کہ ہمارے ہاں حکومت بھی اپنے زیر کنٹرول چیزوں کی قیمتوں میں تقریباً اسی قسم کی سیل لگاتی ہے لیکن حالیہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ در اضافہ اور پھر کی جانے والی کمی کی حکومتی سیل نے راولپنڈی صدر کے اُس پلازہ کی سیل کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کو ہی لیں‘ گزشتہ ماہ یہ قیمت علی الترتیب 266 اور 280 روپے فی لٹر تھی‘ اس کے بعد ایران امریکہ جنگ شروع ہوئی اور آبنائے ہرمز بند ہو گئی۔ تاہم بند آبنائے ہرمز سے پاکستانی جھنڈا لگے ہوئے جہاز گزرتے رہے لیکن ایران کی جانب سے دی جانے والی رعایت کا فائدہ عوام تک نہ پہنچ سکا۔ لیکن اس ساری چکر بازی پر لعنت بھیجیں‘ فی الحال یہ دیکھیں کہ اس بندش کو بہانہ بناتے ہوئے حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 55 روپے فی لٹر کا اضافہ کرتے ہوئے پٹرول کی قیمت 321 روپے اور ڈیزل کی قیمت 335 روپے فی لٹر کر دی۔ اس ریکارڈ توڑ اضافے پر عوام کی چیخیں ابھی مدہم نہیں پڑی تھیں کہ سرکار نے پٹرول کی قیمت میں 137 روپے اور ڈیزل کی قیمت میں 185 روپے فی لٹر کا ایک اور تباہ کن اضافہ کرتے ہوئے پٹرول کی قیمت 458روپے اور ڈیزل کی قیمت 520روپے فی لٹر کر دی۔ اس اضافے پر عوام کے کڑاکے نکل گئے مگر ماضی میں پٹرول کی قیمت 150 روپے ہونے پر کہرام مچانے والوں کو ڈیزل 520 روپے فی لٹر ہونے پر سوائے زبانی کلامی افسوس کے عوام کی حالت کا رتی برابر افسوس نہ ہوا۔ تاوقتیکہ عوام کی چیخیں فلک تک پہنچ گئیں۔  اس اضافے کے بعد حکومت عوام پر احسان فرماتے ہوئے پٹرول کی قیمت میں 80 روپے کمی کر کے اسے 378 روپے فی لیٹر کی سطح پر لے آئی ہے۔ تاہم ڈیزل کی قیمت آج بھی اسی پرانی شرح سے وصول کی جا رہی ہے۔ پٹرول کی قیمت میں کل اضافہ تو 192 روپے فی لیٹر ہوا جبکہ اس میں کمی 80 روپے کی گئی۔ حکومت نے ایک طرف قیمت بڑھا کر پہلے عوام کو پریشان کیا پھر اس قیمت میں تھوڑی سی کمی کر کے ان کو خوشی سے نوازا تاہم قیمت میں اضافے اور کمی کے باوجود حکومت نے درمیان میں سے پٹرول کی قیمت میں 112 روپے کا اضافہ اپنی جیب میں ڈال لیا۔ اس ساری ڈیل میں نفع اور نقصان کا تناسب دیکھ کر مرحوم کرنل شفیق الرحمن کی کتاب کا ایک بھولا بسرا اقتباس یاد آگیا۔ یہ جو میں نے کرنل شفیق الرحمن لکھا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ہماری یاد میں ان کا یہی نام محفوظ ہے۔ شفیق الرحمن اُردو مزاحیہ نثر میں بہت اونچے مقام پر فائز تھے۔ ہمارے نزدیک تب وہ اُردو مزاح کا سب سے بڑا نام تھے۔ مرشدی مشتاق یوسفی سے ہم کہیں بعد میں متعارف ہوئے۔ تاہم جس عمر میں ہم نے شفیق الرحمن کو پڑھنا شروع کیا اُس عمر اور ذہنی استعداد کے حوالے سے شفیق الرحمن درست طور پر اس مرتبے پر براجمان ہوئے۔ بعد ازاں مشتاق یوسفی نے مزاحیہ ادب کی کرسیٔ صدارت سنبھال لی‘ تاہم اس سے شفیق الرحمن کا درجہ کسی طور کم نہ ہوا۔ شفیق الرحمن بنیادی طور پر میڈیکل ڈاکٹر تھے اور انہوں نے پاکستان آرمی کی میڈیکل کور کو جوائن کیا۔ جب ان کی کتابیں چھپ کر اول اول ہم تک پہنچیں تو وہ کرنل شفیق الرحمن کہلاتے تھے‘ سو ہمارے ذہن میں اُن کے نام کے ساتھ ان کا وہی عہدہ آج بھی ثبت ہے۔ وہ بعد میں جنرل کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ تب ہمارے مرحوم دوست خلیل الرحمن شاہد‘ جن کی زمانۂ طالب علمی میں ہی شادی ہو گئی تھی‘ کا پہلا بیٹا پیدا ہوا اور انہوں نے اس کا نام شفیق الرحمن رکھا تو ہم سب دوست اپنے لکھاری ہیرو کرنل شفیق الرحمن کے تناظر میں خلیل الرحمن کے بیٹے کو بھی اعزازی طور پر کرنل کے نام سے پکارتے تھے۔ بات کہیں سے کہیں چلی گئی! شفیق الرحمن نے اپنے ایک مضمون میں لکھا (اب مجھے اس کتاب کا نام اور مضمون کا عنوان تو یاد نہیں لیکن اقتباس کی روح یاد ہے۔ یہ بھی یاد نہیں کہ اس اقتباس میں قیمتیں اور ان کے اعداد کیا تھے لیکن اس تمام تحریر کا جو نچوڑ ہے وہ پیش کر رہا ہوں) کہ ریاضی کی کلاس میں ایک استاد نے شاگردوں کو جمع‘ نفی اور نفع نقصان سمجھاتے ہوئے سوال کیا کہ اگر ایک الو 14 روپے چار پیسے میں خریدا ہو اور وہ 10 روپے 80 پیسے میں بیچا جائے تو کتنا نفع یا نقصان ہوگا۔پہلے تو ایک فطین طالبعلم نے کھڑے ہو کر کہا کہ اس نے کبھی اتنا مہنگا الّو فروخت ہوتے نہیں دیکھا۔ حساب کتاب میں ماہر ایک اور شاگرد نے بتایا کہ اس خرید و فروخت میں روپوں میں نقصان جبکہ پیسوں میں بہت فائدہ ہوا ہے۔ یہ اس لیے یاد آیا کہ اب ہمارے ہاں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں جو اضافہ اور جو کمی کی گئی ہے اس میں عوام کو نقصان روپوں میں جبکہ فائدہ محض پیسوں کے حساب سے ہوا ہے۔ اس خطے میں جنگ کے شعلے فی الحال عارضی طور پر ہی سہی مگر ٹھنڈے پڑے ہیں‘ اس پر یقینا حکومت پاکستان کی کاوشیں قابلِ تحسین ہیں۔ اس عارضی جنگ بندی کے نتیجے میں خطے میں ہونے والے امن پر خوشی کے شادیانے بجائے جا رہے ہیں جو بجا ہیں۔ لیکن اس خوشی میں ہماری حکومت کہیں یہ نہ بھول جائے کہ اس عارضی جنگ بندی سے عالمی تیل کی منڈی میں جو کمی واقع ہوئی ہے اس کے اثرات کو عوام تک پہنچانا بھی اسی کی ذمہ داری ہے۔ ابھی عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں اضافے کا اعلان ہوا ہی تھا کہ ہمارے ہاں پڑا پڑا تیل مہنگا ہو گیا ‘اب جبکہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی ہوئی ہے ہمارے ہاں اس کمی کے اثرات فی الحال تو کہیں دکھائی نہیں دے رہے۔ چاہیے تو یہ کہ حکومت نے جس پھرتی سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ کیا تھا اتنی پھرتی سے نہ سہی اس سے تھوڑا سستی سے ہی سہی‘ لیکن تیل کی قیمتوں میں کمی کی جاتی۔ ابھی تک ہمیں صرف خوشخبریوں پہ ٹرخایا جا رہا ہے ۔خدا نہ کرے کہ یہ کمی بھی عوام کیلئے روپوں میں نقصان اور پیسوں میں فائدے والی صورتحال کی عکاس ہو۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90500073.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>امن کا پل، پاکستان(ڈاکٹر حسین احمد پراچہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-04-11/51746/22187186</link><pubDate>Sat, 11 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-04-11/51746/22187186</guid><description>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے ایران پر تباہ کن حملوں کیلئے جو ڈیڈ لائن مقرر کی گئی تھی وہ واشنگٹن کے وقت کے مطابق منگل کی شب آٹھ بجے اور پاکستانی وقت کے مطابق بدھ کی صبح پانچ بجے تھی۔ ڈیڈ لائن سے ٹھیک 88 منٹ قبل پاکستانی زعما کی شب بیداریوں اور دعائے نیم شب کا افلاک سے مثبت جواب آیا اور سارے جہان میں دھڑکتے دلوں کو قرار آ گیا۔ اس سمے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی قیادت نے پندرہ روزہ سیز فائر قبول کر لی۔ جنگ کی تباہ کاریوں کو رکوانے میں وزیراعظم شہباز شریف‘ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی کامیاب کوششوں کو دنیا بھر سے خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔گزشتہ ایک ہفتے سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کو دھمکیاں دے رہے تھے کہ سیز فائر قبول کرو وگرنہ میں تمہاری چھ ہزار سالہ تہذیب کو صرف ایک شب میں مٹا دوں گا۔ ایران کی اینٹ سے اینٹ بجا دوں گا‘ اسے کھنڈر بنا دوں گا‘ آئل کی تنصیبات کو جلا کر راکھ کر دوں گا۔ حیران کن بات یہ ہے کہ جس شخص کے پاس دنیا کا مہلک ترین سامانِ حرب وضرب ہو‘ جو شخص بحروبر اور ہوا وفضا میں تباہی لانے والے ہتھیاروں کا مالک ہو وہ اتنا نروس اور گھبرایا ہوا کیوں تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ گھبرائے ہوئے اس لیے تھے کہ اُن کی توقعات کے مطابق ایران دو چار روز میں پسپا نہیں ہوا بلکہ وہ مسلسل 39 روز تک ڈٹ کر دنیا کی سپر پاور اور اسرائیل کے مقابلے میں کھڑا رہا۔ اسرائیل نے امریکہ کو یہ چکما دیا تھا کہ وہاں دو چار روز میں رجیم چینج ہو جائے گا‘ مگر اس کے برعکس وہاں جدت پسند اور قدامت پسند یکجان سو قالب ہو چکے تھے۔ ساری ایرانی قوم سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑی تھی۔ یہ دیکھ کر ڈونلڈ ٹرمپ ہیجانی کیفیت میں تھے۔ تبھی تو ٹرمپ نے آخر میں آ کر یہ تک کہہ دیا کہ میں ساری ایرانی قوم کو تباہ کر دوں گا۔ امریکہ اوراسرائیل نے سکولوں‘ یونیورسٹیوں اور تنصیبات وپلوں کو تباہ کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ ایران میں تین ہزار کے قریب افراد شہید ہوئے‘ 20 ہزار زخمی ہوئے‘ 70 سے 100 ارب ڈالر تک کا مالی نقصان ایران کو اٹھانا پڑا اور لاکھوں لوگ بے گھر ہوگئے۔منگل کے روز ٹرمپ کے متعین کردہ بڑے بڑے اہداف چاہے وہ پل تھے‘ شاہراہیں تھیں‘ آئل تنصیبات تھیں یا بجلی گھر‘ وہاں ایرانی مرد و زن اور بچے بوڑھے انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنا کر کھڑے ہو گئے تھے۔ اسرائیل و امریکہ کے اندازوں کے مطابق سقوطِ تہران چند روز کی بات تھی مگر اسکے برعکس ان 39دنوں میں ایران نے ساری دنیا پر ثابت کر دیا کہ وہ ایک جراتمند‘ دانشمند‘ بہترین منصوبہ ساز‘ شاندار دفاعی حکمت عملی وضع کرنے والی اور ہر محاذ پر ڈٹ کر کھڑی ہو جانیوالی قوم ہے۔ اب ایران نے جنگ بندی کیلئے دس نکات پیش کیے ہیں۔ ان نکات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک &#39;&#39;ورک ایبل دستاویز‘‘ قرار دیا ہے۔ ہم صرف پانچ اہم ترین نکات کا یہاں ذکر کرینگے۔ ایران نے مستقبل کیلئے اپنے خلاف عدم جارحیت کی ضمانت طلب کی ہے۔ دوسرا آبنائے ہرمز پر ایران کے کنٹرول کو تسلیم کیا جائے۔ تیسرا نکتہ یورینیم کی افزودگی کا حق ہے۔ چوتھا نکتہ یہ ہے کہ ایران پر عائد ساری امریکی وعالمی پابندیاں ختم کی جائیں اور ایران کے منجمد کردہ اثاثے واپس کیے جائیں۔اس 39روزہ جنگ میں اسرائیل کو بھی منہ کی کھانا پڑی۔ اسرائیل کا پروگرام یہ تھا کہ ایران جب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک میں موجود امریکی اڈوں پر حملے کرے گا تو مسلم ملکوں کے درمیان ٹھن جائے گی۔ پاکستان نے بھی جنگ کے آغاز ہی سے ایران سے درخواست کی کہ سعودی عرب پر حملے نہ کیے جائیں۔ ایک تو حرمین شریفین کی بنا پر مسلمانوں کی ہمدردیاں سعودی عرب کیساتھ ہیں‘ نیز پاکستان اور سعودی عرب کے مابین دفاعی معاہدہ موجود ہے‘ جس کی رو سے پاکستان کسی بھی بیرونی جارحیت کی صورت میں سعودی عرب کے دفاع کا پابند ہے۔ ایران کا مؤقف یہ تھا کہ ہم سعودی عرب سمیت کسی بھی عرب پڑوسی پر حملہ نہیں کرنا چاہتے مگرجب وہاں سے اُڑ کر امریکی ہم پر حملے کرتے ہیں تو ہمیں مجبوراً جواب دینا پڑتا ہے۔ بہرحال سعودی عرب نے جنگ کے دنوں میں انتہائی صبر وتحمل سے کام لیا اور ایران کو اپنی طرف سے جواب نہ دیا۔ جمعرات کے روز سعودی عرب اور ایران میں براہ راست رابطہ ہوا ہے‘ جو بہت اچھی پیشرفت ہے۔عارضی جنگ بندی کے معاہدے پر طرفین کے الگ الگ مؤقف سامنے آئے ہیں۔ منگل اور بدھ کی درمیانی شب کو جاری ہونے والے وزیراعظم شہباز شریف کے ٹویٹ کے مطابق سیز فائر میں ایران ہی نہیں‘ لبنان بھی شامل ہے مگر جنگ بندی کے باوجود اسرائیل نے لبنان پر حملے کر کے چند منٹوں میں 254 لبنانی شہریوں کو شہید اور 1165کو شدید زخمی کر دیا۔ اس وعدہ خلافی پر ایران نے سخت ردِعمل دیا۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ لبنان جنگ بندی معاہدے میں شامل نہیں۔ امریکہ کی طرف سے یہی کہا جا رہا ہے کہ ہم مشرق وسطیٰ میں امن چاہتے ہیں۔ ساری دنیا ایران ہی نہیں‘ لبنان میں بھی کشت وخون کا خاتمہ چاہتی ہے۔ فرانسیسی صدر میکرون بار بار کہہ رہے ہیں کہ لبنان میں بھی جنگ بندی اور پائیدار امن ہونا چاہیے۔ ایران کی طرف سے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور سپیکر محمد باقر قالیباف مذاکرات میں شرکت کر رہے ہیں۔ عباس عراقچی برطانیہ کی یونیورسٹی آف کینٹ سے سیاسیات میں پی ایچ ڈی ہیں جبکہ باقر قالیباف تہران یونیورسٹی سے سیاسی جغرافیہ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کر چکے ہیں۔ مذاکرات کیلئے امریکہ کی جو ٹیم اسلام آباد آئی ہے اس میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس‘ مشرق وسطیٰ کیلئے امریکہ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل ہیں۔ کشنر بزنس مین اور صدر ٹرمپ کے داماد ہیں۔ سنجیدہ امریکی ٹیم بظاہر بات بنانے والی ہے بگاڑنے والی نہیں۔ اس وقت ساری دنیا کی ہمدردیاں ایران اور خطے بلکہ عالمی امن کیساتھ ہیں۔ یورپی یونین کے امورِ خارجہ کی سربراہ کایاکلاس (Kaja Kallas) نے مستقل امن کیلئے ہونے والے مذاکرات کا خیر مقدم کیا ہے۔ سپین کے وزیراعظم پیدرو سانچیز تو بڑے عالمی ایوارڈ کے مستحق ہیں‘ انہوں نے روزِ اول سے امریکہ اور اسرائیل کی ایران پر مسلط کردہ جنگ کی پُرزور مذمت کی ہے اور امریکہ کو کسی قسم کی کوئی مدد فراہم نہیں کی۔ اٹلی کی وزیراعظم نے جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزیوں کی مخالفت کی ہے۔ فرانس کے صدر میکرون نے وزیراعظم شہباز شریف کو فون کر کے امن کیلئے اُنکی خدمات کو سراہا ہے۔ اس وقت سارے عرب ممالک‘ یورپی یونین اور دنیا بھر کے امن پسند لبنان میں بھی کشت وخون کا فی الفور خاتمہ چاہتے ہیں۔ اگر لبنان میں ہزاروں لوگوں کو شہید کیا جا رہا ہو تو خطے میں امن کیسے قائم ہو گا؟ صدر ٹرمپ ابھی تک ایران کو دھمکیوں کی رننگ کمنٹری جاری رکھے ہوئے ہیں۔ جس طرح مصر کو نہر سوئز سے گزرنیوالے بحری جہازوں پر ٹول وصول کرنے کا استحقاق ہے‘ اسی طرح آبنائے ہرمز سے ایران کو بھی ٹول وصول کرنے کا حق ہے۔ البتہ اس معاملے پر ایران کیساتھ مذاکرات میں مفاہمتی فارمولا طے ہو سکتا ہے۔ جس طرح آبگینوں کو سلامت رکھنے کیلئے احتیاط کی جاتی ہے‘ اسی طرح مذاکرات کے کھیل کو بگڑنے سے بچانے کیلئے بھی &#39;&#39;ہینڈل وِد کیئر‘‘ کا فارمولا اپنایا جاتا ہے۔ صدر ٹرمپ حسبِ عادت یہاں تک کہہ گئے ہیں کہ اگر مذاکرات کامیاب نہیں ہوتے تو ہم ایران پر خوفناک حملوں کیلئے تیار ہیں۔ عباس عراقچی نے جواباً درست کہا ہے کہ امریکہ جنگ یا جنگ بندی میں سے کسی ایک کو چن لے۔ ہمیں امید واثق ہے کہ ایرانی اور امریکی مذاکراتی ٹیمیں مذاکرات کو کامیابی سے ہمکنار کرانے کی مکمل کوشش کریں گی۔ امن کے پُل پر سفید جھنڈا لہراتے ہوئے پاکستان کی بھی یہی خواہش ہوگی کہ معزز مہمانوں کو مستقل اور پائیدار امن کا تحفہ دے کر وطن عزیز سے رخصت کیا جائے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_70033906.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ایران امریکہ مذاکرات(ڈاکٹر رشید احمد خاں)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr-rasheed-ahmad-khan/2026-04-11/51747/44494394</link><pubDate>Sat, 11 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr-rasheed-ahmad-khan/2026-04-11/51747/44494394</guid><description>7اپریل بروز بدھ ایران اور امریکہ 39 روز سے جاری جنگ کو 15روز کے لیے عارضی طو رپر بند کرنے پر اُس وقت راضی ہو گئے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے ایران کو دیے گئے الٹی میٹم کی مدت ختم ہونے میں صرف ڈیڑھ گھنٹہ رہ گیا تھا۔ امریکی صدر نے اپنے الٹی میٹم میں ایران کو تباہ کرنے کی دھمکی دی تھی ۔ٹرمپ کی دواپریل کی تقریر کے بعد مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیاسمیت دنیا بھر میں کھلبلی مچ گئی تھی۔ صاف نظر آ رہا تھا کہ ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں میں تیزی آنے سے ارد گرد کے خطے بھی اس کے تباہ کن نتائج سے متاثر ہوں گے۔ اس خطرناک صورتحال سے بچنے کے لیے دنیا کے اہم دارالحکومتوں میں حکومتی سربراہان سرجوڑ کر بیٹھے تھے‘ تاہم پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کی تجویز پر ایران اور امریکہ میں15روز کے لیے جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کو بحری جہازوں کی آمد و رفت کے لیے کھولنے پر راضی ہونے سے خطہ ایک بڑی تباہی سے بچ گیا۔ وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر ایران اور امریکہ کے وفود اسلام آباد میں عارضی جنگ بندی کو ایک دیرپا امن معاہدے میں ڈھالنے کے لیے بات چیت کر رہے ہیں۔ اسلام آباد میں شروع ہونے والے ایران امریکہ مذاکرات اس سلسلے کا تیسرا دور ہیں۔ اس سے قبل جون 2025ء اور فروری 2026ء میں ان ملکوں کے مابین مذاکرات کے دو ادوار ہو چکے ہیں مگر ان دونوں مواقع پر عین مذاکرات کے دوران اسرائیل اور امریکہ نے یکطرفہ طور پر ایران پر حملہ کر دیا۔ حملوں کا یہ سلسلہ موجودہ جنگ بندی تک جاری رہا۔ اب بھی اس جنگ بندی اور ایران امریکہ مذاکرات کے مستقبل کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ بادی النظر میں امریکہ اس پیش رفت کو ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز کو کھولنے کے عوض ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کو روکنے تک محدود کرنے کی کوشش کرے گا جبکہ وزیراعظم شہباز شریف کے بیان کے مطابق جنگ بندی کا اطلاق لبنان میں جاری جنگ پر بھی ہوتا ہے‘ لیکن اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جنگ بندی میں لبنان شامل نہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم کے اس دعوے کی امریکہ نے تائید کی ہے۔ امریکہ میں اس جنگ کو عوامی پذیرائی حاصل نہیں ہوئی بلکہ اس کی وجہ سے نہ صرف ٹرمپ کی عوامی حمایت ایک تہائی گر چکی ہے ۔ اُن کے بار بار یوٹرن اور سیاسی مخالفوں کے خلاف نامناسب زبان استعمال کرنے پر کانگرس کے حلقوں میں بھی اُن کی مخالفت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ گزشتہ سال جون میں امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد سے ایران کشیدگی میں کمی اور صورتحال کو نارمل کرنے کی جانب بڑھتا دکھائی دے رہا تھا‘ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اس سال کے مذاکرات میں یورینیم افزودگی کے مسئلے پر اتنی لچک کا مظاہرہ کیا  کہ صورتحال سے آگاہ حلقوں کے مطابق وہ اپنے پرانے مؤقف سے تقریباً دستبردار ہو گئے تھے۔ اس دفعہ بھی ایرانیوں نے 10 نکات پر مشتمل جو تجاویز پیش کی ہیں‘ اور جنہیں صدر ٹرمپ نے بنیاد بنا کر مذاکرات سے اتفاق کیا ہے‘ میں یورینیم افزودگی پر مبہم مؤقف اختیار کیا گیا ہے‘ جو اس بات کا اشارہ ہے کہ فریقین کے مابین اس پر سمجھوتا ہو سکتا ہے۔ مگر 10 نکاتی مسودے میں ایرانیوں نے دو مطالبات ایسے پیش کیے ہیں جنہیں امریکہ اور اس کے اتحادی قبول کر لیں‘ یہ مشکل نظر آتا ہے۔ ان میں سے ایک خلیج فارس اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اڈوں سے امریکی افواج اور جنگی سازو سامان کی واپسی کا ہے ۔ خلیج فارس‘ مشرق وسطیٰ اور اس کے اردگرد پانیوں مثلاً بحیرہ احمر‘ بحیرہ روم اور بحر ہند میں امریکہ کے تقریباً دو درجن بحری‘ فضائی اور فوجی اڈے ہیں جن پر ایک اندازے کے مطابق امریکہ کے 40 ہزارکے قریب فوجی اور دیگر عملہ مقیم ہے۔ قطر میں امریکی سینٹرل کمانڈر (Centcom) کافضائی اڈہ اور بحرین میں بحری اڈہ جہاں مشرق وسطیٰ کے دفاع پر مامور امریکہ کے پانچویں بحری بیڑے کا ہیڈ کوارٹر ہے‘ خاص طور پر اہم ہیں۔ باقی اڈے کویت‘ متحدہ عرب امارات‘ سعودی عرب اور عراق میں ہیں۔ بحیرہ روم میں سائپرس اور بحر ہند میں ڈیاگوگارشیا کے اڈوں کو بھی مشرق وسطیٰ میں کارروائی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ضرورت کے وقت جنوبی اٹلانٹک اور جنوب مشرقی ایشیا میں مقیم ساتویں بحری بیڑے کو بھی اپنے طیارہ بردار جہازوں‘ ڈیسٹرایئرز اور ایٹمی ہتھیاروں سے لیس آبدوزوں کے ساتھ خلیج فارس اور مشرق وسطیٰ کے کسی بھی حصے میں کارروائیوں میں حصہ لینے کے لیے بلایا جا سکتا ہے۔ اہم سٹرٹیجک مقامات پر فوجی اڈوں کے ذریعے بحر ہند کے دفاع کو مضبوط بنانے کی یہ حکمت عملی پرتگیزی قوم کی ایجاد ہے جس نے یورپی اقوام میں سے سب سے پہلے پندرہویں صدی کے تقریباً اختتام پر ہندوستان کے ساحل پر قدم رکھا تھا۔ انگریزوں نے جب اٹھارہویں صدی میں ہندوستان کی بتدریج فتح کا آغاز کیا تو انہوں نے بھی یہی حکمت عملی اپنائی بلکہ مغرب میں سوئز اور مشرق میں آبنائے ملاکا تک عدن ‘سری لنکا اور سنگاپور میں بحری اڈوں کی ایک زنجیر قائم کر کے اسے مزید توسیع دی۔دوسری جنگ عظیم کے بعد اس پورے خطے کے دفاع کی ذمہ داری امریکہ نے سنبھال لی اور خلیج فارس اور مشرق وسطیٰ میں بعض پرانے اور کچھ نئے فوجی اڈوں کا جو سلسلہ قائم کر رکھا ہے اس کی بنیاد بھی اسی حکمت عملی پر ہے جن کی بنیاد پر تقریباً 500 برس قبل رکھی گئی تھی۔ اس عرصہ کے دوران میں بحر ہند اور مشرق وسطیٰ کی یہ دفاعی حکمت عملی اتنی کامیاب رہی ہے کہ امریکہ نے اسے اور بھی مضبوط کر رکھا ہے۔ اس لیے ایک ایران کے مطالبے سے امریکہ ان اڈوں سے دستبردار نہیں ہوگا۔ دوسرا یہ اڈے متعلقہ ملکوں کے ساتھ امریکہ کے دوطرفہ معاہدات کی بنیاد پر قائم کئے گئے ہیں۔ لیکن برطانوی اڈوں کی طرح امریکی اڈے بھی اس خطے میں ہمیشہ کیلئے قائم نہیں رہ سکتے۔ انگریز سامراج کی طرح ایک نہ ایک دن امریکیوں کو بھی اس خطے سے بوریا بستر لپیٹ کر جانا پڑے گا۔ایران کے ساتھ 40 دن کی جنگ نے اس دن کے جلد آنے کی راہ ہموار کر دی ہے کیونکہ خلیجی ممالک پر واضح ہو گیا ہے کہ اربوں ڈالر خرچ کرنے کے باوجود یہ اڈے انہیں تحفظ فراہم نہیں کر سکتے۔ فوجی اڈوں کے بعد دوسرا اہم مسئلہ جس پر امریکہ اور ایران کے درمیان اختلاف پیدا ہو سکتا ہے وہ آبنائے ہرمز پر ایران کے مکمل کنٹرول کے مطالبہ کا ہے۔ آبنائے ہرمز کی جس تنگ راہداری سے دنیا کی ضروریات کا 20 فیصد تیل گزرتا ہے‘ اس کا ایک حصہ ایران اور دوسرا سلطنت مسقط اور عمان کے علاقائی سمندر پر مشتمل ہے۔ جنگ سے پہلے اس میں سے گزرنے والے ٹینکرز کو کسی قسم کی پابندی یا ٹول ٹیکس کی ادائیگی کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا مگر حالیہ جنگ نے اس کی اہمیت کو اجاگر کر دیا ہے۔ اس لیے ایران اور عمان دونوں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کے لیے آبنائے باسفورس یا نہر سوئز کی طرح ایک بین الاقوامی پروٹوکول کا مطالبہ کر سکتے ہیں‘ تاہم نہ صرف امریکہ بلکہ اس کے یورپی اتحادی ممالک کی طرف سے اس کی سخت مخالفت کی جائے گی۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90264263.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پرانا یا نیا ورلڈ آرڈر؟(افتخار احمد سندھو)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/iktakhar-ahmed-sandhu/2026-04-11/51748/80705044</link><pubDate>Sat, 11 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/iktakhar-ahmed-sandhu/2026-04-11/51748/80705044</guid><description>الحمدللہ حکومت پاکستان کی انتھک سفارتی کوششوں‘ بالخصوص فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی خصوصی کاوشوں کے باعث ایران اور امریکہ کے درمیان دو ہفتوں کا سیز فائر ہو چکا ہے‘ اور اس جنگ کے مکمل خاتمے کے لیے اسلام آباد میں پاکستان کی میزبانی میں فریقین کے مابین مذاکرات ہو رہے ہیں۔ بلا شبہ جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں؛ آخرکار فریقین کو مذاکرات کی میز پر ہی بیٹھنا پڑتا ہے۔ اللہ کرے کہ یہ مذاکرات بار آور ثابت ہوں اور دنیا مزید تباہی سے بچ جائے۔ ایران امریکہ جنگ بندی کے بعد سے نہ صرف اس جنگ کے مزید پھیلنے کا خطرہ ٹل چکا ہے بلکہ آبنائے ہرمز میں تجارتی سرگرمیاں بھی بڑھی ہیں اور تیل کی قیمتیں کم ہوئی ہیں۔ اس وقت امریکہ کی شدید خواہش ہے کہ جنگ بندی کے دوران بات چیت جاری رہے اور آبنائے ہرمز کھلی رہے‘ اس لیے اب ایرانیوں کو بھی اگلا قدم اٹھانا ہو گا۔ اگر ایرانی آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کا وعدہ کر رہے ہیں تو اس کے بدلے میں امریکہ کو بھی ایران کو کچھ دینا ہو گا۔ امریکہ ایران کو بہت کچھ دے سکتا ہے؛ وہ معاشی پابندیاں ختم‘ کم یا نرم کرنے پر بات کر سکتا ہے‘ مزید کسی بھی پیش رفت کے لیے ایسا کرنا ازحد ضروری ہے۔تاریخ پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ نے چار جولائی 1776ء کو دنیا کی سب سے بڑی سپر پاور برطانیہ‘ جس کی سلطنت میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا‘ سے آزادی کا اعلان کیا تھا‘ لیکن اس کی آزادی کی جنگ تین ستمبر 1783ء کو معاہدۂ پیرس کے بعد ختم ہوئی۔ امریکہ نے یہ جنگ لڑ کر باقی دنیا کو بھی آزادی کا راستہ دکھایا۔ جب امریکہ نے برطانوی راج سے آزادی حاصل کی تو دنیا کو معلوم ہوا کہ برطانیہ ناقابلِ شکست نہیں ہے۔ اس سے قبل لوگ برطانیہ کو ناقابلِ شکست سمجھتے تھے‘ جیسے آج امریکہ کو سمجھا جاتا ہے۔ امریکہ کی برطانوی راج سے آزادی دنیا کے لیے پہلا بڑا تحفہ تھی۔ پھر امریکہ نے اپنا آئین بنایا‘ قانون کی حکمرانی قائم کی‘ ملک کو سرسبز بنایا‘ لوگوں کو بنیادی حقوق دیے‘ حقیقی آزادی دی۔ بولنے‘ کام کرنے اور مذہب کی آزادی۔ اپنے شہریوں کو یہ تمام آزادیاں دے کر انہوں نے دنیا کو حقیقی آزادی کا ایک اور تحفہ دیا۔ امریکہ آزادی کی سرزمین بن گیا اور دنیا بھر سے دانشور‘ سکالرز اور سائنسدان وہاں آنا شروع ہو گئے۔ یوں امریکہ دنیا کی توجہ کا مرکز بن گیا۔دسمبر 1823ء میں امریکہ نے منرو ڈاکٹرائن کا اعلان کر کے یورپی طاقتوں کو‘ جو دنیا پر اپنا تسلط قائم کر رہی تھیں‘ کو مزید تسلط سے روک دیا اور دنیا کو یہ پیغام دیا کہ یورپی طاقتیں بے لگام نہیں ہیں‘ انہیں روکا جا سکتا ہے۔ پرتگال‘ سپین‘ جرمنی اور  فرانس جیسی طاقتوں نے مختلف علاقوں میں اپنی نوآبادیاں قائم کر رکھی تھیں۔ امریکہ نے منرو ڈاکٹرائن کے ذریعے انہیں  مزید نوآبادیاں قائم کرنے سے روکا۔ اس کے بعد امریکہ نے یورپ کے ساتھ معاہدے بھی کیے اور سفارتی تعلقات بھی استوار کیے جس سے یہ ثابت ہوا کہ جنگ کے بجائے سفارتکاری سے مسائل زیادہ بہتر انداز میں حل کیے جا سکتے ہیں۔ پھر امریکہ نے پہلی عالمی جنگ روکنے میں بھی اہم کردار ادا کیا‘ جو یورپی ممالک دوسرے ممالک پر مسلط کرتے چلے جا رہے تھے۔پہلی جنگِ عظیم کے بعد امریکہ نے لیگ آف نیشنز کے قیام میں بھی اہم کردار ادا کیا تاکہ دنیا میں امن قائم کیا جا سکے۔ اس دور کے امریکی صدور مدبر اور دانشور تھے۔ بعد ازاں انہوں نے دنیا کو ایک ایسا نظام دینے کی کوشش کی جس میں ریاستیں بھی ایک عالمی قانون کی پابند ہوں۔ جیسے معاشرے میں افراد کو کنٹرول کرنے کے لیے حکومت ہوتی ہے‘ اسی طرح انہوں نے سوچا کہ اگر ریاستیں حد سے تجاوز کریں تو ان کے لیے بھی عالمی سطح پر کوئی نظام ہونا چاہیے۔ اسی مقصد کے تحت عالمی ادارے قائم کیے گئے اور قانون کی حکمرانی کو فروغ دیا گیا۔پھر دوسری عالمی جنگ میں جب برطانیہ کے وزیراعظم ونسٹن چرچل نے روس پر حملے کی بات کی تو امریکی صدر فرینکلن روز ویلٹ نے اس سے انکار کر دیا۔ بعد ازاں روس کے جوزف سٹالن کے ساتھ مل کر ایک نیا عالمی نظام ترتیب دیا گیا۔ یوں دنیا میں ایک ایسا نظام وجود میں آیا جسے ہم آج عالمی قوانین کے نام سے جانتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ قائم ہوئی‘ اس کے تحت مختلف ادارے وجود میں آئے‘ سلامتی کونسل بنی‘ یونیسف اور عالمی ادارۂ صحت جیسے ادارے قائم ہوئے۔ اس سے پہلے دنیا میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون تھا۔ دنیا ایک جنگل کا منظر پیش کر رہی تھی جہاں ہر طاقتور کمزور پر حملہ آور ہوتا تھا۔اسی طرح 1956ء میں امریکہ نے مصر کا ساتھ دے کر اسے اسرائیل کے جبر سے بچایا۔ اس کے بعد کوریا اور ویتنام کی جنگیں ہوئیں۔ امریکہ نے پاکستان کے ذریعے سوویت یونین کو افغانستان سے نکالنے میں کردار ادا کیا‘ جہاں دس سال تک جنگ جاری رہی۔ اس دوران امریکہ نے بہت سی غلطیاں بھی کیں‘ زیادتیاں بھی کیں لیکن اس کے مثبت اقدامات بھی کم نہیں تھے۔ امریکہ نے کئی غلط فیصلے بھی کیے مگر اس نے دنیا کو جو کچھ دیا اس کی اہمیت بھی کم نہیں۔ امریکہ نے جہاں کئی جنگیں لڑی ہیں وہیں کئی جنگیں رکوانے میں بھی کردار ادا کیا۔ اگر امریکہ کے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو دیکھا جائے تو امریکہ نے 1948ء‘ 1965ء اور 1971ء کی پاک بھارت جنگوں کو رکوانے میں اہم کردار ادا کیا۔ 1999ء کے کارگل تنازع کو کم کرنے میں بھی اس کی کوششیں شامل رہیں۔ حتیٰ کہ گزشتہ برس معرکۂ حق میں پاک بھارت کشیدگی میں اضافے کے بعد امریکہ نے فریقین کے درمیان جنگ بندی کرائی۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ امریکہ کی طرف سے پاکستان کے ساتھ زیادتیاں بھی ہوئیں لیکن اس کے باوجود امریکہ کے پاکستان پر احسانات بھی بہت ہیں۔پھر وقت کے ساتھ حالات بدلتے گئے۔ نتیجتاً وہ عالمی نظام جو امریکہ نے قائم کیا تھا‘ اب عدم توازن کا شکار ہو چکا ہے۔ بالخصوص صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں نے امریکہ کے مثبت تشخص کو بہت نقصان پہنچایا ہے اور دنیا میں بے چینی کو فروغ دیا ہے۔ ایران کے ساتھ حالیہ کشیدگی نے اس صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔ اس جنگ میں ایران کے انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ وہ امریکہ جس نے دنیا کو بہت کچھ دیا آج اس ملک کی قیادت ایسے شخص کے پاس ہے جس نے تمام مثبت امریکی روایات کو کمزور کر دیا ہے۔ اس لیے نئے ورلڈ آرڈر میں اب &#39;الوداع امریکہ‘ جیسے جملے سننے کو مل رہے ہیں۔ جنگ میں کسی کی جیت نہیں ہوتی۔ جنگیں ہر فریق کے لیے تباہی کا باعث بنتی ہیں چاہے ایران ہو‘ امریکہ ہو یا کوئی بھی ملک۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ اس صورتحال سے اسرائیل نے بہت فائدہ اٹھایا ہے لیکن میرا ماننا ہے کہ حالیہ جنگ کے دوران اسرائیل کو بھی شدید نقصان اٹھانا پڑا ہے جبکہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے سے عالمی معیشت کو بھی شدید جھٹکا لگا ہے۔ اس لیے ایران امریکہ سیز فائر کا مستقل جنگ بندی میں تبدیل ہونا ناگزیر ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ایران امریکہ جنگ بندی کے بعد کون سا نیا عالمی نظام تشکیل پاتا ہے کیونکہ پرانا عالمی نظام تو اپنی افادیت کھو چکا ہے۔ </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/228_40817243.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>عَدُوّ شرے برانگیزد(مفتی منیب الرحمٰن )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-04-11/51749/68199743</link><pubDate>Sat, 11 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-04-11/51749/68199743</guid><description>فارسی کا مقولہ ہے: عَدُوّ شرے برانگیزد کہ خیرِ ما دراں باشد۔ یعنی دشمن اپنے منصوبے کے مطابق شر بپا کرتا ہے‘ لیکن اللہ تعالیٰ اپنی قدرت سے اس سے خیر برآمد فرما لیتا ہے۔ سیرتِ نبوی میں اس کی ایک نمایاں مثال یہ ہے: &#39;&#39;صلح حدیبیہ کے موقع پر مشرکینِ مکہ نے ایک شرط یہ رکھی کہ معاہدۂ حدیبیہ کے بعد مدینۂ منورہ سے جو شخص منحرف ہو کر مکۂ مکرمہ آئے گا‘ اسے مکۂ مکرمہ میں پناہ دے دی جائے گی‘ جبراً واپس نہیں کیا جائے گا‘ اس کے برعکس اگر کوئی مکۂ مکرمہ سے اسلام قبول کر کے مدینۂ منورہ جائے گا تو اُسے مدینے میں پناہ نہیں دی جائے گی‘ بلکہ جبراً واپس بھیج دیا جائے گا‘‘۔ ابھی معاہدہ ضبطِ تحریر میں لایا جانا تھا کہ کفارِ مکہ کے سفارتی نمائندے سہیل بن عمرو کا فرزند ابوجندل‘ جو مسلمان ہو چکے تھے اور اُنہیں زنجیروں میں جکڑ دیا گیا تھا‘ زنجیروں کو گھسیٹتے ہوا حدیبیہ پہنچ گئے۔ مسلمان انہیں دیکھ کر بے انتہا خوش ہوئے اور بڑے تپاک سے ان کو خوش آمدید کہا۔ اُن کا باپ سہیل ابھی وہیں تھا‘ اس نے اپنے بیٹے کو دیکھا تو غصے سے بے قابو ہو گیا‘ ایک خاردار ٹہنی پکڑی اور اس کے منہ پر پیہم ضربیں لگانا شروع کردیں‘ اسے گریبان سے پکڑ کر گھسیٹنے لگا اور کہنے لگا: اے محمد(ﷺ)! یہ پہلا آدمی ہے جس کی واپسی کا میں آپ سے مطالبہ کرتا ہوں۔ آپﷺ نے فرمایا: ابھی معاہدہ لکھا جا رہا ہے‘ اس پر دستخط بھی نہیں ہوئے‘ معاہد ہ اس وقت واجب العمل ہوتا ہے جب فریقین اس پر دستخط کر دیں۔ اس نے کہا: اگر آپ میرے لڑکے کو واپس نہیں کریں گے تو میں معاہدے سے دستبردار ہو جائوں گا۔ حضورﷺ نے فرمایا: سہیل! تو اسے میرے لیے معاف کر دے اور ہمارے پاس رہنے دے‘ لیکن اس نے آپﷺ کی اس فرمائش کو ردّ کر دیا۔ ابوجندل نے دیکھا کہ مجھے پھر ظالم باپ کی تحویل میں دے دیا جائے گا اور وہ مجھ پر پہلے سے بھی زیادہ مشق ستم کرے گا تو اس نے فریاد کرنا شروع کی‘ نبیﷺنے ابوجندل کو اپنے پاس بلایا اور فرمایا: &#39;&#39;ابوجندل! صبر کرو اور اللہ سے اجر کی امید رکھو‘ یقینا اللہ تعالیٰ تمہارے اور تمہارے کمزور ساتھیوں کیلئے نجات کی صورت مقدر فرمائے گا‘ ہم نے قریش کے ساتھ صلح اور ان کے ساتھ عہد وپیمان کیا ہے‘ اب ہم عہد شکنی نہیں کر سکتے‘‘۔ایک اور نوجوان جو دعوتِ حق قبول کرنے کی پاداش میں عرصہ دراز سے اپنے خاندان کے جورو ستم کا تختۂ مشق بنا ہوا تھا‘ کسی طرح اپنی زنجیروں کو کاٹ کر ان کے عقوبت خانہ سے نکل جانے میں کامیاب ہو گیا‘ یہاں آئے ہوئے تین دن گزرے ہوں گے کہ اس کے دو رشتہ دار اس کو ڈھونڈتے ہوئے نبی کریمﷺ کے پاس پہنچ گئے اور کہا: ہمارا ایک عزیز ابوبصیر بھاگ کر آپ کے پاس پہنچ گیا ہے‘ معاہدے کے مطابق اسے ہمارے حوالے کریں۔ نبی کریمﷺ نے ابوبصیر کو بلایا اور ان دو آدمیوں کے حوالے کر دیا اور فرمایا: تم ان دونوں کے ساتھ چلے جائو‘ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! آپ مجھے کافروں کے پاس بھیج رہے ہیں‘ ایسا نہ ہو کہ وہ مجھے آزمائش میں مبتلا کر کے ایمان سے محروم کر دیں۔ آپﷺ نے نہایت ملائمت سے فرمایا: &#39;&#39;ابوبصیر! تم جانتے ہو ہم نے اس قوم کے ساتھ معاہدہ کیا ہے اور ہمارا دین ہمیں عہد شکنی کی اجازت نہیں دیتا۔ اللہ تعالیٰ تمہارے اور تمہاری طرح دوسرے مسلمانوں کیلئے بھی نجات کی کوئی صورت مقدر فرما دے گا‘‘۔ انہوں نے پھر عرض کی: یا رسول اللہﷺ! آپ مجھے مشرکین کے حوالے کر رہے ہیں‘ آپﷺ نے فرمایا: &#39;&#39;ابوبصیر! چلے جائو‘ اللہ تعالیٰ بہت جلد تمہاری نجات اور رہائی مقدر فرمائے گا‘‘۔مسلمانوں کیلئے یہ دونوں مناظر انتہائی کرب واذیت کا باعث تھے‘ لیکن انہیں سینے پر پتھر رکھ کر اس صدمے کو برداشت کرنا پڑا۔ ابوبصیر راستے میں ایک تدبیر کے ذریعے ان میں سے ایک کو قتل کر کے مدینۂ منورہ آ گئے اور دوسرا خود پناہ لینے کیلئے حضورکے پاس پہنچ گیا۔ آپﷺ نے اسے پناہ دے دی‘ لیکن ابوبصیر کو واپس جانے کا حکم دیا۔ وہ سیف البحر یا عیص کے مقام پر قیام پذیر ہوئے‘ دوسری طرف جب سہیل نے سنا کہ ابوبصیر نے ہمارے ایک آدمی کو قتل کر دیا ہے تو اسے بڑا رنج ہوا‘ وہ غصے سے کہنے لگا: ہم نے اس لیے تو محمد(ﷺ) کے ساتھ معاہدہ نہیں کیا تھا‘ قریش نے سنا تو کہا: انہوں نے اپنا وعدہ پورا کر دیا ہے‘ ہمارے آدمی کو تمہارے آدمیوں کے حوالے کر دیا‘ راستے میں اگر اس نے تمہارے ایک آدمی کو قتل کر دیا تو اس کی ذمہ داری اُن پر عائد نہیں ہوتی۔بعض دوسرے مسلمان بھی جو اپنے رشتہ داروں کے ظلم وستم سے تنگ تھے‘ ابوبصیرؓ کے پاس سیف البحر کے مقام پر پہنچنے لگے۔ ابوجندلؓ بھی ستّر افراد کے ساتھ وہاں پہنچ گئے۔ اس طرح تقریباً تین سو کی تعداد میں لوگ جمع ہو گئے‘حضرت ابوجندلؓ ان کی امامت کرتے تھے‘ اگر کوئی تجارتی قافلہ وہاں سے گزرتا تو لوگ اسے لوٹ لیتے‘ اگر کوئی مقابلہ کرتا تو اسے موت کے گھاٹ اتار دیتے‘ ان کی روز مرہ کی کارروائیوں سے اہلِ مکہ کے اوسان خطا ہو گئے۔ آخر مجبور ہوکر انہوں نے ابوسفیان کوکہا کہ وہ حضور کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کریں کہ آپ اپنے آدمیوں کو اپنے پاس بلا لیں‘ ہم کوئی اعتراض نہیں کریں گے۔ اس کے بعد ہمارا جو آدمی آپ کے پاس آئے‘ اُسے اپنے پاس رکھ لیں‘ ہم صلح نامے کی اس شرط کو منسوخ کرتے ہیں۔ ابوسفیان اپنے وفد کے ساتھ حضورﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوا‘ بڑی منت سماجت اور عجز ونیاز سے درخواست پیش کی کہ اس شرط کو منسوخ کر دیں اور ابوبصیر اور ابوجندل کو واپس بلا لیں۔ رسول اللہﷺ نے اُن کی درخواست کو شرفِ قبولیت بخشا اور اپنے دونوں مجاہدوں ابوجندلؓ اور ابوبصیرؓ کی طرف نوازش نامہ لکھا کہ وہ اپنے مسلمان ساتھیوں کو ہمراہ لے کر مدینہ پہنچ جائیں اور باقی لوگوں کو اپنے اپنے گھروں کو واپس چلے جانے کی ہدایت کر دیں۔ جب حضورﷺ کا گرامی نامہ ابوبصیر اور ابوجندل کے پاس پہنچا تو اس وقت ابوبصیرؓ حالتِ نزع میں تھے۔ انہوں نے اپنے آقاﷺ کا عاطفت نامہ ہاتھ میں لے کر پڑھنا شروع کیا کہ روح قفس عنصری سے پرواز کرگئی۔ ابوجندلؓ نے تجہیز وتکفین کے بعد نماز جنازہ پڑھائی۔ سیرت نگاروں نے لکھا ہے کہ ان کے مزار پُرانوار کے پاس مسجد تعمیر کی گئی تاکہ اللہ تعالیٰ کے مخلص بندے جب اس مسجد میں اپنے پروردگار کو سجدہ کرنے سے فارغ ہوں تو انہیں ایک سچے عاشقِ رسول کے مزارِ مبارک کی زیارت ہو جائے۔ (ضیاء النبی‘ تلخیص‘ ج: 4‘ ص: 153 تا 164)۔ الغرض معاہدۂ حدیبیہ کی یہ شرط جو قریشِ مکہ نے مسلمانوں کے خلاف شامل کی تھی‘ اللہ کی تقدیر سے وہ خود اُن کے خلاف پڑ گئی اور مسلمانوں کیلئے اس میں سے خیر کی صورت برآمد ہوئی اور آخرکار قریش کو خود اس شرط کو منسوخ کرنے کیلئے رسول اللہﷺ سے درخواست کرنا پڑی‘ جسے آپﷺ نے منظور فرما لیا۔حالاتِ حاضرہ کے تناظر میں دیکھیں تو اسرائیل اور امریکہ نے بزعمِ خویش ایران پر اُسے نیست ونابود کرنے اور نشانِ عبرت بنانے کیلئے ظالمانہ اور سفاکانہ حملہ کیا‘ اُن کا زُعمِ باطل یہ تھا کہ ایران پہلے ہی ہلّے میں گھٹنے ٹیک دے گا اور شکست تسلیم کر لے گا۔ لیکن اُن کی یہ خوش فہمی ہوا ہو گئی اور ایران نے مثالی استقامت کا مظاہرہ کیا اور یہ افسوں (Myth) ہی ٹوٹ گیا کہ اسرائیل اور امریکہ کو کوئی ہاتھ بھی نہیں لگا سکتا‘ چیلنج کرنا یا اُن کا چیلنج قبول کرنا تو بہت دور کی بات ہے۔ اس کی مثال یوں ہے: ایک بستی کا ڈان تھا‘ اس کا بے پناہ رعب تھا‘ جس کو چاہتا نشانِ عبرت بنا لیتا‘ آخر ایک زخم خوردہ کمزور شخص نے اسے تھپڑ مار دیا اور پھر وہ ڈان اس بستی میں رہنے کے قابل نہ رہا۔ آج کچھ یہی صورتحال نیتن یاہو اور ٹرمپ کی ہے کہ ٹرمپ روز بیان بدلتا ہے‘ پچھلے دعوے بھول جاتا ہے اور نئے دعوے کرتا ہے‘ مگر خود امریکہ میں اس کے خلاف احتجاجی جلوس نکل رہے ہیں‘ نیٹو کے اتحادی اس سے برأت کا اعلان کر رہے ہیں‘ ایران کیلئے فتح کا یہی تصور کافی ہے۔ تاریخ فیصلہ کرے گی کہ آیا ایران کے پاس ان عظیم نقصانات سے بچنے کیلئے کوئی متبادلہ راستہ ممکن تھا۔ (نوٹ: یہ کالم 6 اپریل 2026ء کو لکھا گیا)</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_61172381.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>