<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>جنگ اور معیشت(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-17/11283</link><pubDate>Wed, 17 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-17/11283</guid><description>آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے کہا ہے کہ امریکہ ایران امن معاہدے کے باوجود توانائی کا بحران برقرار ہے اور جنگ کے نتیجے میں سپلائی چین کو پہنچنے والے تعطل کو مکمل طور پر ختم ہونے میں ابھی وقت لگے گا۔ یہ انتباہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ امریکہ اور ایران میں امن معاہدہ ہرچند کہ ایک خوش آئند پیش رفت اور عالمی امن کیلئے ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے مگر اس جنگ کے معاشی اثرات ابھی باقی ہیں۔ جنگوں کی تباہ کاریاں دنوں میں جنم لیتی ہیں لیکن معاشی ڈھانچے کو پہنچنے والے اس کے نقصانات دہائیوں تک ختم نہیں ہوتے۔ دیکھا جائے تو یہ صورتحال امن کی اہمیت کیلئے بذاتِ خود ایک بڑی دلیل ہے ۔ خلیج فارس کے خطے میں پیدا ہونے والا بحران محض ایک خطے تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے پوری دنیا کے مالیاتی اور پیداواری نظام کو متاثر کیا ہے۔ سفارتی میز پر جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط ایک الگ عمل ہے لیکن بین الاقوامی منڈیوں میں اعتماد کو بحال کرنا ایک طویل اور صبر آزما مرحلہ ہو گا جس کیلئے دنیا کو طویل مدتی حکمت عملی اپنانا ہو گی۔

اس جنگ کی وجہ سے توانائی‘ بین الاقوامی شپنگ اورفریٹ انشورنس سمیت معیشت کے متعدد اہم شعبے شدید متاثر ہوئے‘ جو عالمی تجارت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ تجارتی بحری جہازوں کیلئے فریٹ انشورنس اور وار رِسک پریمیم اس حد تک بڑھ گئے کہ عالمی تجارت مالی طور پر خسارے کا سودا بن کر رہ گئی۔ ایران‘ امریکہ جنگ نے عالمی معیشت کو جو مجموعی معاشی نقصان پہنچایا ہے‘ حالیہ گلوبل پیس انڈیکس میں اسکا محتاط تخمینہ 2000ارب ڈالر سے زائد لگایا گیا ہے‘ جو عالمی جی ڈی پی کے دو فیصد کے برابر بنتا ہے۔ اتنے بڑے مالیاتی نقصان کے بعد عالمی معیشت کو پہلے والی سطح پر آنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔ کئی بڑی معیشتیں اب تک کورونا کی عالمی وبا کے معاشی جھٹکے کے اثرات ہی سے نہیں نکل پائی تھیں کہ امریکہ کی اس جنگ نے مزید سنگین بحران پیدا کردیا اور معیشت کوعشروں پیچھے دھکیل دیا۔ تاہم اس جنگ کے بھیانک اثرات نے دنیا بھر کی حکومتوں اور پالیسی سازوں کو سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ مستقبل کے حوالے سے ایسی حکمتِ عملی بنائی جائے جس سے عالمی بحرانوں کے اثرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔ حالات کا تقاضا ہے کہ ہر ملک اپنی داخلی معیشت کو معاشی جھٹکے سہنے کے قابل بنائے اور ایسی پالیسیاں وضع کرے جو ہنگامی حالات میں معاشی تسلسل کو برقرار رکھ سکیں۔
معاشی تحفظ کیلئے یہ ناگزیر ہو چکا کہ توانائی کے ذخائر کو نہ صرف مستحکم بنایا جائے بلکہ ان میں خاطر خواہ اضافہ بھی ہو۔ حالیہ بحران نے یہ بھی ثابت کیا کہ کسی ایک خطے یا چند ممالک کے توانائی وسائل پر حد سے زیادہ انحصار خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ سپلائی چین کو متنوع بنانے کے ساتھ مقامی اور قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع کی طرف تیزی سے پیش قدمی کرنا ہوگی تاکہ مستقبل میں دنیا کے کسی بھی دوسرے خطے میں پیدا ہونے والی کشیدگی داخلی معیشت پر اثر انداز نہ ہو سکے۔ موجودہ بحران کا ایک بڑا سبق یہ ہے کہ اب دنیا کو ایسے دور کی طرف بڑھنا چاہیے جہاں سیاسی تعلقات اور معاشی مفادات کو الگ الگ رکھا جائے۔ اس کیلئے گلوبل چارٹر آف اکانومی وقت کی ضرورت بن چکا ہے۔ علاقائی اور عالمی کشیدگی کا بھگتان اقوام اور افراد معاشی مسائل کی صورت میں بھگتتے ہیں ۔وقت آ گیا ہے کہ باہمی اختلافات سے نمٹتے ہوئے معاشی استحکام یقینی بنانے کی جانب پیش قدمی کی جائے۔
امریکہ ایران جنگ کے اثرات سے یہ بھی واضح ہوا کہ جنگوں کے اثرات متحارب ممالک تک محدود نہیں رہتے۔ عالمی معاشی ڈھانچے میں کسی نہ کسی طرح یہ اثرات علاقائی اور عالمی سطح تک اپنا اثر دکھاتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ امریکہ ایران جنگ کے اس تازہ ترین تلخ تجربے سے دنیا نے کیا سیکھا ؟ کیا یہ آنیوالا وقت عالمی امن کیلئے محفوظ اور معیشت کیلئے سازگار ہو گا؟</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پنجاب کا بجٹ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-17/11282</link><pubDate>Wed, 17 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-17/11282</guid><description>حکومتِ پنجاب نے مالی سال 2026-27ء کیلئے 5903 ارب روپے کا بجٹ پیش کر دیا ہے۔ بظاہر یہ بجٹ گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں حجم میں 10.7فیصد بڑا ہے اور حکومت اسے معاشی استحکام کی جانب ایک اہم قدم کے طور پر پیش کر رہی ہے۔ لیکن کسی بھی بجٹ کا سب سے اہم پیمانہ یہ ہوتا ہے کہ وہ انسانی ترقی کے شعبوں کو کتنی ترجیح دیتا ہے۔ تعلیم اور صحت کسی بھی معاشرے کی بنیاد ہوتے ہیں مگر پنجاب کے نئے میزانیے کی تفصیلات دیکھنے سے یہ حیران کن انکشاف ہوتا ہے کہ بنیادی اہمیت کے حامل یہ دونوں شعبے حکومتی ترجیحات میں بہت پیچھے رہ گئے۔ حکومتِ پنجاب نے آئندہ مالی سال میں شعبہ تعلیم کیلئے 750 ارب روپے تجویز کیے ہیں جبکہ رواں مالی سال کے بجٹ میں یہ رقم تقریباً 812ارب روپے تھی۔ جبکہ صحت کیلئے 500 ارب 62 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں جو رواں مالی سال کے مقابلے میں تقریباً 130ارب کم ہیں۔ تعلیم اور صحت کے بجٹ میں کمی ‘ جبکہ یہ دونوں شعبے زبوں حالی کا شکار ہیں‘حکومتی ترجیحات پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اسی طرح زراعت بھی بجٹ میں وہ اہمیت حاصل نہیں کر سکی جس کی توقع کی جا رہی تھی۔

بجٹ میں زراعت‘ لائیوسٹاک اور ایری گیشن یعنی تین شعبوں کیلئے مجموعی طور پر 132ارب 54کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ کسان مہنگی کھاد‘ مہنگے بیج‘ بجلی کے بڑھتے نرخوں‘ پانی کی کمی اور ناقص مارکیٹنگ نظام کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہے لیکن بجٹ میں کسانوں کی آمدنی میں اضافے کیلئے کوئی بڑی اور انقلابی حکمت عملی نظر نہیں آتی۔ دوسری جانب بجٹ میں کئی مثبت پہلو بھی ہیں جیسے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں سات اور پنشنرز کیلئے ساڑھے تین فیصد اضافہ۔ صاف پانی اور نکاسی آب کیلئے 507 ارب روپے کی خطیر رقم تجویز۔ اسی طرح امن و امان کیلئے 252 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں‘ یہ خطیر رقم ظاہر کرتی ہے کہ حکومت اس شعبے کو اہمیت دے رہی ہے۔ پولیس انفراسٹرکچر‘ کرائم سین یونٹس اور جدید نظامِ تفتیش پر سرمایہ کاری یقینا ضروری ہے تاہم امن و امان کی صورتحال صرف پولیسنگ سے بہتر نہیں ہو سکتی بلکہ اس کیلئے تعلیم‘ روزگار اور سماجی انصاف بھی ناگزیر عناصر ہیں۔بجٹ کا ایک حیران کن پہلو ترقیاتی فنڈ میں نمایاں کٹوتی ہے۔ رواں مالی سال کیلئے ترقیاتی فنڈ تقریباً 1240 ارب روپے تھا جسے کم کرکے 752 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔
ترقیاتی بجٹ میں نمایاں کمی کا مطلب یہ ہے کہ بنیادی ڈھانچے‘ نئی سڑکوں‘ آبی منصوبوں‘ شہری سہولتوں‘ صنعتی زونز اور سماجی ترقی کے متعدد منصوبے سست روی کا شکار ہو جائیں گے۔ لہٰذا یہ حکومتی ترجیحات کا بڑا امتحان ہو گا کہ وہ ترقیاتی منصوبوں میں موزوں ترین پراجیکٹس کو اہمیت دے۔ بجٹ کی مجموعی تصویر یہی بتاتی ہے کہ حکومت نے پائیدار انسانی ترقی‘ زرعی بحالی اور بنیادی عوامی خدمات کے مقابلے میں وقتی اقدامات کو زیادہ اہمیت دی ہے۔ اگر سکولوں‘ ہسپتالوں‘ کھیتوں اور روزگار کے مواقع کیلئے وسائل کم ہوتے جائیں اور مہنگائی تسلسل سے بڑھتی رہے تو بجٹ عوام کیلئے محض اعداد و شمار کا الجھاؤ بن کر رہ جاتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>افسانہ نگاری اہلِ کرم کی(ایاز امیر)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-06-17/52135/99888734</link><pubDate>Wed, 17 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-06-17/52135/99888734</guid><description>ایک بات طے سمجھنی چاہیے کہ افسانہ نگاری کا کوئی ایوارڈ ہو تو پنجاب سی سی ڈی کھلے عام جیت جائے۔ کوئی دن نہیں جاتا جب اس ادارے کے افسانے خبروں کی زینت نہ بنیں۔ کہانی وہی مقابلے یا انکاؤٹر کی۔ یا تو کہیں جا رہے تھے اور مقابلہ ہو گیا‘ یا کسی مجرم کو چھڑانے اُس کے ساتھی آئے‘ کراس فائر میں ملزم مارا گیا اور معجزانہ طور پر محکمے والے بچ گئے۔ ہر بار وہی سکرپٹ تقریباً وہی الفاظ۔ ڈرامہ بازی عیاں لیکن لوگ برداشت کر رہے ہیں اور عدالتیں بھی۔ محکمہ اسی پھڑکانے کے عمل پر جاری ہے۔اتنی تمہید اس لیے کہ چکوال میں جو واقعہ ہوا ہے اُس کی بازگشت پوری دنیا میں سنائی دے رہی ہے۔ آسٹریلیا میں مقیم عدیل اور اُس کی فیملی کی قسمت ہاری کہ اپنے سسر کرنل محمد خان کے گھر دعوت کھا کر اپنے رشتہ دار علی اعجاز کو تقریباً پونے بارہ بجے رات ملنے آئے۔ آسٹریلیا سے حج کرنے گئے اور حج کرکے پاکستان آئے تھے اور رشتہ داروں کو مل رہے تھے۔مکان کے گیٹ پر عدیل اور اُن کی اہلیہ ڈاکٹر سدرہ کھڑے تھے کہ ٹھیک گیارہ بج کر اکاون منٹ پر ایک موٹرسائیکل آتا ہے جس پر دو سوار ہیں۔ علی اعجاز کا گھر سی سی ڈی دفتر کے بالکل ساتھ ہے‘ بیچ میں ایک سڑک گزرتی ہے۔ موٹر سائیکل سوار بڑے اطمینان سے سی سی ڈی کی دیوار کے ساتھ موٹر سائیکل کھڑا کرتے ہیں اور بغیر تیزی دکھائے عدیل اور سدرہ کے پاس آتے ہیں۔ بچے اُن کے گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھ چکے ہیں۔ پستول تان کر وارداتیے مال کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ڈاکٹر سدرہ اپنی بالیاں اُتار کر انہیں دیتی ہے۔ بیگ بھی اُن کے ہاتھ میں تھا لیکن پتا نہیں اُس کا کیا بنا۔ اس ساری کارروائی میں ظاہر ہے کوئی مزاحمت نہیں۔ ڈاکوؤں کی طرف سے پستول تاننے کے علاوہ کوئی زور زبردستی نہیں۔ ویسے بھی مین سڑک سے رات کے اُس وقت بھی اکا دُکا ٹریفک آ جا رہی ہے۔ یعنی ایک نارمل قسم کی واردات جو آئے روز ہمارے شہروں میں ہوتی رہتی ہے۔ لیکن اچانک سے سی سی ڈی کے گیٹ کی طرف سے فائرنگ ہوتی ہے۔ چار سیکنڈ میں سات گولیاں چلتی ہیں۔ اس کے دو سیکنڈ بعد ڈاکوؤں کی طرف سے دو فائر ہوتے ہیں۔ یہ تفصیلات سی سی ٹی وی فوٹیج میں موجود ہیں۔بوکھلاہٹ کے عالم میں عدیل گاڑی میں بیٹھ کر تیزی سے وہاں سے نکلتا ہے۔ پیچھے سے آٹومیٹک فائر کا ایک برسٹ آتا ہے۔ ہانیہ کو گولیاں لگتی ہیں‘ دو گولیاں بھائی عفان کو‘ اور دو گولیاں عدیل کو۔ سی سی ڈی گیٹ سے علی اعجاز کا گھر بمشکل پچیس گز دور ہو گا۔ قریب موٹر سائیکل کھڑا ہے۔ ڈاکوؤں کی طرف سے پھر کوئی فائرنگ نہیں ہوتی اندھیرے میں غائب ہو گئے ہوں گے۔ لیکن سی سی ڈی والے اتنا تو کرتے کہ چند قدم چل کے جاننے کی کوشش کرتے کہ ہوا کیا ہے۔ لیکن نہیں! گاڑی نکلتی ہے اور اُس پر برسٹ مار دیا جاتا ہے۔ عدیل دیوانہ وار گاڑی اپنے سسر کرنل محمد خان کے گھر کی طرف بھگاتا چلا جاتا ہے۔ بتانے والے کہتے ہیں کہ موٹر سائیکل سوار دو اہلکار گاڑی کے پیچھے لگ جاتے ہیں۔ عدیل محمد خان کرنل کے گھر کی طرف مڑتا ہے تو موٹر سائیکل والے آگے نکل جاتے ہیں۔یہ سارا واقعہ ہے۔ ساتھ بتانا یہ بھی ضروری ہے کہ اس واقعہ کے کچھ دیر پہلے اُسی سڑک پر دو دکانوں پر ڈکیتی ہوتی ہے۔ پہلی دکان جس پر واردات ہوئی دو لوگ آئے‘ سرجیکل ماسک اُنہوں نے پہنے ہوئے تھے‘ چار منٹ میں اُنہوں نے کارروائی کی‘ بڑے نوٹ لیے چھوٹے نوٹ وہیں رکھ دیے اور پھر وہاں سے نکل گئے۔ دوسری دکان پر واردات کی تفصیل معلوم نہیں کر سکا۔ واللہ واعلم عدیل اور اُن کے خاندان کے ساتھ جو المیہ پیش آیا اُس میں یہی ڈکیت ملوث تھے یا کوئی اور۔ لیکن اتنا تو واضح ہے کہ ان دو وارداتوں کے بعد کوئی پولیس کا ناکہ نہیں لگا‘ کوئی پہرا نہیں تھا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ معمول کی ٹریفک سڑک پر اور اُس مقام پر جہاں عدیل اور اُن کی فیملی کے ساتھ واردات ہوئی چل رہی ہے۔بہرحال عدیل اور اُس کی فیملی کے ساتھ جو کچھ ہوا فائر کرنے والا سی سی ڈی کا اہلکار شجاعت تھا‘ ایک نوجوان جس کا تعلق موضع منگوال سے ہے۔ وقوعے کے وقت لائٹ گئی ہوئی تھی۔ پچیس تیس گز کے فاصلے پر اُس اندھیرے میں شجاعت کو کچھ چیز نظر آتی ہے اور بغیر کوئی چھان بین کیے فائر کھول دیتا ہے۔ بتایا یہی جا رہا ہے کہ پہلے فائر پسٹل کے تھے‘ اور آٹومیٹک رائفل کے فائر کوئی اٹھارہ سیکنڈ بعد شروع ہوئے۔ یہ کہاں کی ٹریننگ ہے کہ لوگ آ جا رہے ہوں‘ اتنی زیادہ کشادہ سڑک بھی نہ ہو اور وہاں آٹومیٹک فائر کھول دیا جائے۔ محکمے کی طرف سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ ڈکیتوں اور سی سی ڈی کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور بدقسمت فیملی کار میں بیٹھے کراس فائر میں آ گئی‘ جو کہ سراسر غلط ہے ۔ ڈاکو تو غائب ہو چکے تھے‘ پریشانی میں عدیل نے وہاں سے گاڑی بھگائی اور ہمارے جوان نے آٹومیٹک فائر کھول دیا۔ جس سے یہ المناک حادثہ پیش آیا۔دفاع میں کہا جا سکتا ہے کہ اندھیرے میں حالات ہی ایسے تھے‘ کچھ سمجھ نہیں آئی اور سمجھ لیا گیا کہ ڈکیت کار میں سوار ہیں۔ حالانکہ چند قدم ہی چلتے‘ موٹر سائیکل کو دیکھ لیا ہوتا‘ سامنے مکینوں سے کچھ پوچھ لیا ہوتا۔ گاڑی جا بھی رہی تھی تو پولیس کنٹرول پر خبر دی جا سکتی تھی۔ فوری ناکے لگ سکتے تھے۔ لیکن ایسا نہ کیا گیا‘ ایک ہانیہ کی زند گی گئی اور پورے خاندان کے ساتھ ایک ایسا المیہ ہوا جس کے اثرات اُن پر ساری عمر رہیں گے۔ ہانیہ کے بھائی پر کیا گزری ہو گی‘ ڈاکٹر سدرہ کی حالت کیا ہو گی۔ سوال تو یہ اٹھنا چاہیے کہ یہ سب کچھ محض اتفاق سے ہوا یا اس خاص محکمے کا کلچر ہی کچھ ایسا بن گیا ہے کہ فائر پہلے کھلتا ہے اور سوچ بچار بعد میں ہوتی ہے۔ یہ تو اب کامن نالج ہے کہ محکمے کے پسندیدہ جملے دو ہیں‘ ہاف فرائی اور فل فرائی۔ کہیں ٹانگ پہ گولی مارنی ہو تو وہ ہاف فرائی‘ اور پورا قصہ تمام کرنا ہو تووہ فل فرائی۔ عدیل کے خاندان کے ساتھ تو فل فرائی والا عمل ہو گیا۔ لیکن کوئی پوچھے گا؟ کوئی بازپرس ہو گی؟ہاف فرائی اور فل فرائی کے مختلف پہلوؤں کا جواز جرائم کو کنٹرول کرنا تھا۔ کیا ان طریقوں سے مطلوبہ نتائج مل رہے ہیں؟ پنجاب میں کرائم کنٹرول ہو رہا ہے؟ چکوال کے ان واقعات سے تو پتا چلتا ہے کہ ہاف فرائی اور فل فرائی کے باوجود وارداتیے دندناتے پھر رہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ اگلے روز خبر آتی ہے کہ ان واقعات میں ملوث دو اشخاص مقابلوں کی نذر ہوگئے ہیں‘ ایک چوآ چوک پر‘ ایک سرگودھا روڈ پر۔ ایک انسپکٹر سے میں نے پوچھا کہ اتنے جلدی یہ آپ کے ہاتھ کیسے لگ گئے؟ قدرے جھنجھلا کے جواب دیا کہ انکاؤٹر میں مارے گئے ہیں۔ یعنی اتنی بڑی وارداتیں ڈالنے کے بعد سی سی ڈی کی سہولت کے لیے ایک ڈکیت چوآ چوک پر نمودار ہوتا ہے اور سی سی ڈی کے ہتھے چڑھ جاتا ہے اور دوسرا مزید سہولت کے لیے سرگودھا روڈ پر سی سی ڈی کے سامنے آ جاتا ہے۔ڈسٹرکٹ ہسپتال میں دو وڈیوز بنتی ہیں۔ دونوں دکاندار جن کی دکانوں پر ڈکیتی ہوئی تھی‘ کہتے ہیں کہ یہی وہ ڈکیت تھے‘ سو فیصد وہی تھے اور ہم سی سی ڈی کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ اتنی جلدی ڈکیتوں کو کیفرکردار تک پہنچا دیا۔صاف لگتا ہے کہ بتائی ہوئی کہانی پڑھ رہے ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_80573045.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ایک جنگ جو سب کچھ بدل گئی(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-06-17/52136/34917545</link><pubDate>Wed, 17 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-06-17/52136/34917545</guid><description>آج کل پارلیمنٹ میں خوب رونق لگی ہوئی ہے۔ بجٹ کا موسم ہے۔ بجٹ عوام کیلئے جتنی بھی بُری خبریں لے کر آئے‘ ارکانِ اسمبلی کیلئے یہ بہترین موسم ہوتا ہے جب وہ اپنے پورے سال کے گلے شکوے اور کام کاج نہ ہونے کا حساب چکا لیتے ہیں۔ ہر سال بجٹ سے تین ماہ پہلے ہی کورم کا مسئلہ پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ 340 ارکانِ اسمبلی میں سے 84 ارکان بھی ایوان میں نہیں آتے‘ جس پر روز کورم ٹوٹ جاتا اور ایوان کی کارروائی رک جاتی ہے۔ پھر وہ اپنی شرائط پر ایوان میں آتے اور پورے سال کیلئے ترقیاتی فنڈز کی صورت میں بندوبست کر لیتے ہیں۔ ویسے کورم پورا نہ ہونے کی خبریں وزیراعظم کی سیاسی طاقت پر بھی سوال کھڑا کر دیتی ہیں کہ ان کی پارٹی ایوان کو چلانے میں سنجیدہ نہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ارکانِ اسمبلی کے ایوان میں نہ آنے کی وجہ وزیراعظم اور ان کے وزرا بھی بنتے ہیں‘ جو خود ایوان کی کارروائی میں شریک نہیں ہوتے۔ کہا جاتا ہے کہ وزیراعظم اس لیے ایوان میں نہیں آتے کہ ارکانِ اسمبلی اپنے اپنے کاموں اور بیورو کریسی سے متعلق شکایات لے کر بیٹھ جاتے ہیں۔ پھر وزیراعظم کو ہر اُس رکن سے ملنا پڑتا ہے جو اُن کی نشست تک پہنچ جاتا ہے۔ اب اندازہ کریں کہ کسی دن (جو آج تک ہوا نہیں) 340 ارکان ایوان میں موجود ہوں اور سب وزیراعظم کو سلام کرنے چلے جائیں تو وزیراعظم کتنے لوگوں سے بار بار اپنی نشست سے اُٹھ کر مل سکتا ہے؟ شاید یوسف رضا گیلانی واحد وزیراعظم تھے جو روزانہ ایوان میں شریک ہوتے تھے‘ ارکانِ اسمبلی سے اٹھ کر ملتے بھی تھے اور ان کے ترقیاتی فنڈز اور دیگر کام بھی کراتے تھے۔ اس پر تو پیپلز پارٹی کے ایم این ایز باقاعدہ ناراض رہتے تھے کہ وزیراعظم تو ان کی پارٹی سے ہیں لیکن زیادہ خیال مسلم لیگ (ن) کے ایم این ایز کا رکھتے ہیں۔ شاید یہی وجہ تھی کہ جب عمران خان کے دور میں انہوں نے اسلام آباد کی سینیٹ نشست پر وزیرِ خزانہ حفیظ شیخ کو حیران کن شکست دی تو کسی کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ حکومت کیسے سینیٹ اور قومی اسمبلی میں اکثریت کے باوجود سینیٹ کی یہ اہم نشست ہار گئی۔ یہ کسی بھی حکومت کیلئے شرمندگی بلکہ شکست سمجھی جاتی ہے اور جمہوری ملکوں میں ایسی صورتحال میں وزیراعظم مستعفی ہو جاتا ہے کیونکہ وہ پارلیمنٹ کا اعتماد کھو چکا ہوتا ہے۔ شاید اسی بات کو ذہن میں رکھ کر عمران خان نے اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لیا تھا کیونکہ اس شکست سے ان کی پارلیمانی اکثریت پر سوالات اُٹھ گئے تھے۔ اگرچہ اعتماد کا ووٹ مل گیا لیکن ایک ڈینٹ ضرور پڑ گیا تھا۔ خیر گیلانی صاحب کے بعد کسی وزیراعظم نے ایوان کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور نہ ہی ارکان کو وہ عزت دی جس کے وہ حقدار تھے۔ بیورو کریسی نے سب کو اس سوچ پر لگا دیا کہ ایوان کے اجلاس میں وزیراعظم کا کیا کام ہے۔ بس وزیراعظم بن گئے ہیں تو دنیا بھر کے دورے کریں۔ نواز شریف صاحب نے بھی یہی کیا اور بعد کے وزیراعظم بھی یہی کرتے رہے۔ اب شہباز شریف نے تو سب کا ریکارڈ توڑ دیا۔ نواز شریف اگر آٹھ ماہ تک پارلیمنٹ نہیں گئے تو عمران خان چھ ماہ تک نہیں گئے‘ لیکن شہباز شریف سب پر سبقت لے گئے۔ تقریباً ایک سال بعد انہیں بجٹ والے دن دیکھا گیا‘ وہ بھی شاید اس لیے کہ اس دن چھٹی کرنا ممکن نہیں تھا ورنہ شاید وہ کر گزرتے۔شہباز شریف صاحب جب بجٹ سے اگلے روز بھی ایوان تشریف لائے تو سب حیران ہوئے کہ اللہ خیر کرے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ انہیں امریکہ ایران معاہدے پر تقریر کرنی اور پوری دنیا کو مبارکباد دینی تھی۔ واقعی یہ بہت بڑا کام ہوا اور پوری دنیا اس وقت پاکستان کی تعریف کر رہی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی تعریفیں کی جا رہی ہیں۔ ایک بات ضرور ہے کہ بھارت میں اس وقت ماتم کی سی فضا ہے حالانکہ جنگ رکنے سے زیادہ فائدہ بھارت کو ہوا اور اب معاہدے سے بھی بھارت ہی کو فائدہ ہونے والا ہے کیونکہ اس کی توانائی کی ضروریات دنیا کے اکثر ممالک سے زیادہ ہیں اور سب سے بڑھ کر اس کی معاشی ترقی پر اس کا براہِ راست اثر پڑا ہے۔ بھارت میں تو پٹرول اور ڈیزل کی قلت کے باعث پٹرول پمپس پر باقاعدہ ہنگامے ہونے لگے تھے۔ لیکن اس کے باوجود پاکستان کی کوششوں کی تعریف کرنے کے بجائے بھارت پاکستان کا سخت ترین ناقد بن کر سامنے آیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ دنیا کے 100 سے زائد ممالک نے پاکستان کے ثالثی کے کردار کو سراہا ہے لیکن تین ممالک ایسے ہیں جنہوں نے اس کردار کی تعریف نہیں کی۔ ایک اسرائیل‘ دوسرا بھارت اور تیسرا مشرقِ وسطیٰ کا ایک ملک ہے۔ اگرچہ بھارت میں بھی کچھ سمجھدار لوگوں اور میڈیا شخصیات نے پاکستان کی تعریف کی ہے۔ ایک بڑے نیوز اینکر نے تو یہاں تک کہا کہ ہمیں تو بتایا گیا تھا کہ ہم نے پاکستان کو دنیا بھر میں تنہا کر دیا ہے لیکن اب حالت یہ ہے کہ دنیا اپنے بڑے بڑے جھگڑے اسلام آباد میں طے کروا رہی ہے جبکہ مودی صاحب‘ جنہیں وشوا گرو کا لقب دیا گیا تھا‘ گھر بیٹھے ٹی وی پر پاکستان کو دیکھ رہے ہیں۔بھارتی حکومت نے گزشتہ دس برسوں میں پاکستان کے حوالے سے جو پالیسی اختیار کی اس کا بی جے پی کو انتخابی فائدہ تو کسی حد تک ضرور ہوا اور وہ بہار اور مغربی بنگال جیسی ریاستوں میں بھی انتخابات جیتنے میں کامیاب رہی لیکن عالمی سطح پر بھارت کو شدید شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بلکہ اگلے روز تو عمان کے سمندروں میں امریکہ کی طرف سے ایک بھارتی جہاز کو نشانہ بھی بنایا گیا جس میں تین بھارتی اہلکار ہلاک ہوئے۔ اس پر بھارت میں بڑا شور مچا کہ مودی تو کہتے تھے کہ ٹرمپ میرا دوست ہے‘ یہ کیسا دوست ہے جس کے دور میں ہمارے لوگ مارے گئے۔ اس سارے واقعے میں اصل المیہ یہ تھا کہ ایک بھارتی شہری‘ جو غزہ پر اسرائیلی حملوں کا بہت بڑا حامی تھا اور روزانہ نسل کشی کے حق میں ٹویٹس کرتا تھا‘ اس کا بائیس سالہ بیٹا بھی مرنے والوں میں شامل تھا۔ جو شخص دوسروں کے بچوں کے مرنے پر خوش ہوتا تھا بدقسمتی سے اس کا اپنا بیٹا بھی اس حملے میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ سوشل میڈیا پر اس بدنصیب باپ کی وہ ٹویٹس‘ جو اُس نے غزہ میں نسل کشی کے حق میں کی تھیں‘ اور بعد ازاں اپنے بیٹے کی تلاش سے متعلق اس کی پوسٹوں کے سکرین شاٹس پر بہت تبصرے ہوئے۔ لیکن حقیقت یہی ہے کہ بیٹا کسی کا بھی ہو اس کی موت ایک ناقابلِ برداشت صدمہ ہوتی ہے۔ بات یہاں ختم نہیں ہوئی۔ بھارت پر دباؤ بڑھا کہ وہ اس حملے کے بعد امریکہ کی سخت مذمت کرے۔ اس سے پہلے کہ بھارت زبانی کلامی کچھ کرتا‘ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کو فون کر کے سخت لہجے میں خبردار کیا کہ آئندہ بھارتی جہازوں کو امریکہ کی جانب سے ایران اور دیگر مقامات پر عائد بحری ناکہ بندی کا احترام کرنا ہو گا۔ (یہ معاہدے سے دو دن پہلے کی بات ہے)۔ مارکو روبیو کے بقول بھارتی جہاز ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کر رہا تھا جس وجہ سے اس پر میزائل حملہ کیا گیا اور تین بھارتی اہلکار مارے گئے۔ اس پر ششی تھرور بھی حیران رہ گئے اور انہوں نے ٹویٹ کیا کہ امریکی الٹا ہمیں ہی ڈانٹ رہے ہیں۔ بھارتیوں کو یقین نہیں آ رہا کہ ان کے ساتھ اس ایک سال میں کیا سے کیا ہو گیا ہے۔ بھارتی عوام ماننے کو تیار نہیں کہ ان کے وشوا گرو مودی کو دنیا اب وہ اہمیت نہیں دے رہی جو پہلے دی جاتی تھی۔جب آپ کسی کو محض اقتدار اور ووٹوں کی خاطر بانس پر بہت اونچا چڑھا دیتے ہیں تو پھر نیچے اترتے وقت تکلیف بھی اتنی ہی زیادہ ہوتی ہے۔ بھارتی عوام اس وقت اسی تکلیف سے گزر رہے ہیں کہ پاکستان‘ جسے وہ کسی قابل نہیں سمجھتے تھے‘ آج دنیا بھر میں عزت کما رہا ہے اور اس کی سفارتکاری کی تعریف کی جا رہی ہے۔ مودی کا پاکستان پر جنگ مسلط کرنے کا فیصلہ بھارت کو بہت بھاری پڑا ہے۔ اُس ایک جنگ نے بہت کچھ بدل کر رکھ دیا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ستر کی دہائی اور میں … (3)(شاہد صدیقی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-siddiqui/2026-06-17/52137/83252458</link><pubDate>Wed, 17 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-siddiqui/2026-06-17/52137/83252458</guid><description>بھٹو کی پھانسی کے بعد ایک عجیب خوف اور دہشت کی فضا تھی۔ لوگوں کو یقین نہیں آرہا تھا کہ ایک جمہوری حکومت کے سربراہ کو معزول کر کے پہلے گرفتار اور پھر تختۂ دار پر پہنچایا جا سکتا ہے۔ بھٹو پاکستانی سیاست کا ایک مقبول اور منفرد کردار تھا جس نے فیوڈل پس منظر ہونے کے باوجود معاشرے کے کمزور طبقوں کی بات کی تھی اور انہیں اپنے حقوق کا شعور دیا تھا۔ بھٹو کی سیاست نے الیکشن میں پنجاب کے بڑے بڑے سیاسی بت توڑ دیے تھے۔ بھٹو اسلامی سوشلزم کا علمبردار تھا اور ملکی معیشت میں ایک بنیادی تبدیلی چاہتا تھا۔ اس کیلئے اس نے ایک انقلابی اقدام کا فیصلہ کر لیا تھا۔ اس وقت کسی کو معلوم نہ تھا کہ یہ اقدام کس طرح پاکستان کی معاشی اور سماجی صورتحال پر اثر انداز ہو گا۔ 1972ء میں حکومت کے اس اعلان نے سب کو چونکا دیا کہ ملک کی تمام صنعتوں اور تعلیمی اداروں کو نیشنلائز کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے دور رس اثرات مرتب ہوئے اور نجی شعبے کی حوصلہ شکنی ہوئی۔ خاص طور پر وہ تعلیمی ادارے جو مشنری اداروں کے زیراہتمام وجود میں آئے تھے اور جن کا تعلیمی معیار اور ماحول قابلِ رشک تھا‘ قومیائے جانے کے بعد تنزلی کا شکار ہو گئے۔ اسی طرح انتہائی غیرمعیاری نجی تعلیمی ادارے راتوں رات سرکاری بن گئے اور تمام سرکاری مراعات کے حقدار ٹھہرے۔ جلد ہی قومیائے جانے کے منفی ثرات سامنے آنے لگے۔ بعد میں اس پالیسی پر نظر ثانی کی کوشش کی گئی لیکن یہ ادارے پھر کبھی اپنے سابقہ معیار کو حاصل نہ کر سکے۔ جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے‘ 1979ء میں مَیں نے گورڈن کالج سے ایم اے انگلش کی ڈگری مکمل کی تھی۔ اسی سال بھٹو کی پھانسی کا المناک واقعہ پیش آیا تھا جس کا ذکر پہلے آچکا ہے۔ 1979ء میں ہی افغانستان پر روس نے حملہ کر دیا جس کے براہِ راست اثرات پاکستان پر پڑے۔ اس وقت ملک میں آمریت تھی اور جنرل ضیا الحق ملک کے حکمران تھے۔ روس کے افغانستان پر حملے کو امریکہ نے ایک سنہری موقع جانا کہ وہ سوویت یونین کو اس جنگ کی دلدل میں پھنسا کر ویتنام میں اپنی شکست کا بدلہ لے سکے۔ ادھر جنرل ضیا الحق کو اپنی پوزیشن کو مستحکم کرنے کیلئے امریکہ کی اشیرباد کی ضرورت تھی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان خم ٹھونک کر افغانستان کی جنگ میں شریک ہو گیا۔ بدلے میں امریکہ نے پاکستان کیلئے ڈالرز اور اسلحے کے انبار لگا دیے۔ پاکستان مختلف ممالک سے آئے ہوئے اُن مجاہدین کا مرکز بن گیا جو افغانستان میں روس کے خلاف جہاد میں شریک تھے۔ اس جنگ میں روس کو شکست ہوئی اور اسے افغانستان سے نکلنا پڑا لیکن پاکستان پر اس جنگ کے دور رس سماجی اثرات مرتب ہوئے۔ 1979ء کا سال ایک اور لحاظ سے بھی بہت عام تھا کیونکہ اسی سال ہمارے ہمسائے ایران میں امام خمینی کا انقلاب برسوں کی شہنشاہیت کو اپنے ساتھ بہا کر لے گیا تھا۔ ایرانی بادشاہ رضا شاہ پہلوی نے 1953ء میں اُس وقت کے جمہوری وزیراعظم محمد مصدق کی حکومت کو معزول کر کے گھر میں نظر بند کر دیا تھا۔ اس اقدام میں رضا شاہ پہلوی کو امریکہ اور برطانیہ کی حمایت حاصل تھی۔ رضا شاہ پہلوی کے دور میں کسی کو اختلافِ رائے کی اجازت نہیں تھی۔ اس کی خفیہ تنظیم SAVAKسے ہر شہری لرزہ براندام تھا۔ لیکن کسے معلوم تھا کہ ایک دن امام خمینی کے پیروکاروں کے سامنے رضا شاہ پہلوی کی یہ مضبوط حکومت خس و خاشاک کی طرح بہہ جائے گی اور رضا شاہ پہلوی پر یہ زمین تنگ ہو جائے گی۔ میں نے تاریخ کا یہ اہم واقعہ اپنی آنکھوں کے سامنے ہوتے دیکھا۔ 70ء کی دہائی کی ایک اور اہم یاد 1974ء میں بھارت کی طرف سے کیے گئے ایٹمی دھماکے تھے جن سے جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن یکسر بدل گیا تھا۔ ان ایٹمی دھماکوں کے جواب میں اُس وقت کے وزیراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو نے اعلان کیا تھا کہ بھارت کے ایٹمی دھماکوں کا جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ہم گھاس کھا لیں گے لیکن ایٹم بم بنائیں گے۔ اسی دوران بیرونِ ملک مقیم ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے بھٹو سے رابطہ کر کے اپنی خدمات پیش کی یوں ایٹم بم بنانے کے سفر کا آغاز ہوا جو بعد میں کامیابی سے ہمکنار ہوا۔ 1970ء کی دہائی سے جڑا ایک اور اہم واقعہ 1975ء میں شیخ مجیب الرحمن کا قتل ہے۔ شیخ مجیب الرحمن جو عوامی لیگ کے سربرا ہ تھے اور جنہوں نے 70ء کے الیکشن میں مشرقی پاکستان میں سب سے زیادہ نشستیں جیتی تھیں اور پھر بنگلہ دیش کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ شیخ مجیب کو ان کی اپنی رہائش گاہ پر قتل کر دیا گیا اور قاتل کوئی اور نہیں بنگلہ دیشی فوج کے اپنے افسران تھے۔70ء کی دہائی اس لحاظ سے بھی یادگار تھی کہ اس میں کھیلوں کے میدان میں پاکستان نے بڑی کامیابیاں سمیٹیں۔ 1970ء میں پاکستان نے ایشیائی کھیلوں میں ہاکی کے میچ میں بھارت کو ایک صفر سے ہرا دیا۔ پھر 1978ء میں بینکاک میں ہونے والے مقابلے میں پاکستان نے گولڈ میڈل حاصل کیا۔ اسی سال پاکستان نے بیونس آئرس میں ورلڈ کپ جیتا اور 1978ء میں ہونے والی پہلی چیمپئنز ٹرافی جیتنے کا اعزاز بھی حاصل کیا۔ اسی سال پاکستان نے باکسنگ کے مقابلوں میں دو گولڈ میڈ ل حاصل کیے۔ 1978ء میں ہی پاکستان کے بہرام اواری اور منیر صادق نے کشتی رانی کے مقابلے میں سونے کا تمغہ حاصل کیا۔ 70ء کی رہائی کے آخر میں پاکستان میں سکواش کے کامیاب سفر کا آغاز ہوا جس نے آنے والے برسوں میں پاکستان کو سکواش کی دنیا کا بلا شرکتِ غیرے حکمران بنایا تھا۔70ء کی دہائی مجھے فلموں‘ گیتوں اور مدھر موسیقی کی وجہ سے بھی یاد رہے گی۔ کیسی کیسی شاہکار فلمیں اس دور سے وابستہ ہیں۔ ہالی وڈ میں گاڈ فادر‘ جاز‘ سٹار وارز۔ اسی طرح بالی وڈ میں شعلے‘ دیوار‘ پاکیزہ‘ امر اکبر انتھونی اور لالی وڈ میں اُردو فلم آئینہ اور پنجابی فلم مولا جٹ۔ اسی طرح پاکستانی ٹی وی ڈراموں میں خدا کی بستی‘ وارث‘ انکل عرفی‘ شمع‘ الف نون‘ اَن کہی‘ پر چھائیاں‘ کرن کہانی‘ ایک محبت سو افسانے اور شہ زوری شامل ہیں۔ وہ پاکستانی ڈراموں کے عروج کا زمانہ تھا۔ اس کی ایک بڑی وجہ ڈراموں کے معیاری سکرپٹ تھے جنہیں معروف ادیبوں اشفاق احمد‘ امجد اسلام امجد‘ بانو قدسیہ‘ فاطمہ ثریا بجیا‘ حسینہ معین اور یونس جاوید جیسے ادیبوں نے تحریر کیا تھا۔ ان سکرپٹس میں ادبی رنگ‘ زبان کی چاشنی و شائستگی اور سماجی سچائیوں کا عکس نظرآتا ہے۔ بہت سے ڈرامے معروف ناولوں یا افسانوں پر بنائے گئے تھے۔ یہ سب کچھ شاید اس لیے ممکن تھا کہ اس وقت کمرشلائزیشن کا اس قدر دباؤ نہ تھا۔ ٹی وی اداکاروں کی ایک کہکشاں تھی۔ کچھ نام مجھے یاد آرہے ہیں۔ روحی بانو‘ طلعت حسین‘ خالدہ ریاست‘ قوی خان‘ شکیل‘ کمال احمد رضوی‘ فردوس جمال‘ عابد علی‘ راحت کاظمی‘ شجاعت ہاشمی اور منور سعید۔ یہ کسی طور مکمل فہرست نہیں۔ مجھے یقین ہے بہت سے نام اس فہرست میں شامل نہیں ہوں گے۔ موسیقی کے حوالے سے بھی 70ء کی دہائی بہت اہم ہے۔ پاکستان میں مہدی حسن‘ نور جہاں‘ غلام علی‘ نیرہ نور اور عالمگیر اور بھارت میں کِشور کمار‘ محمد رفیع‘ مکیش اور لتا اپنے فن کا مظاہرہ کر رہے تھے۔ستر کی دہائی پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم دور تھا جس میں سیاسی ہنگامہ خیزی‘ ثقافتی رنگا رنگی اور کھیلوں کی شاندار کامیابیاں ایک ساتھ دکھائی دیتی ہیں۔ اگرچہ اس دہائی کے واقعات اب تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں لیکن ان کے اثرات آج بھی ہماری سیاست اور معاشرت میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ جن لوگوں نے وہ زمانہ دیکھا ان کیلئے ستر کی دہائی محض دس برسوں کا نام نہیں بلکہ یادوں‘ تجربات اور احساسات کی ایک ایسی کہکشاں ہے جس کی چاندنی ہماری یادوں میں اب بھی جگمگاتی ہے۔ (ختم)</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_21538475.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>امریکہ ایران معاہدہ اور پاکستان کا کردار(سلمان غنی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/salman-ghani/2026-06-17/52138/39403606</link><pubDate>Wed, 17 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/salman-ghani/2026-06-17/52138/39403606</guid><description>امریکہ اور ایران کے درمیان طے شدہ معاہدے کے تحت لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمے کے اعلان کو عالمی امن کے قیام‘ معیشت کی بحالی اور تحفظ اور توانائی کے بحران کے سدباب کے حوالے سے اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ دنیا کے اہم ممالک کی جانب سے اس معاہدے پر تحسین کا اظہار یہ ظاہر کرتا ہے کہ دنیا آج کے دور میں جنگ وجدل کے بجائے ڈائیلاگ کے ذریعے مسائل کے حل کی خواہاں ہے ۔ امن معاہدے کے حوالے سے تقریب پاکستان کی میزبانی میں 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں ہو گی اور بتایا جا رہا ہے کہ اس تقریب میں وزیراعظم شہباز شریف‘ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سمیت اعلیٰ حکومتی ذمہ دار شرکت کریں گے۔ مذکورہ معاہدے کے حوالے سے پاکستان کا کردار اور معاہدے میں ہونے والی پیش رفت پر وزیراعظم شہباز شریف سوشل میڈیا کے ذریعے پیغامات جاری کرتے رہے اور معاہدے کا حتمی اعلان بھی سب سے پہلے انہوں نے ہی سوشل میڈیا پیغام کے ذریعے کیا۔ اپنے اس پیغام میں وزیراعظم نے سعودی عرب‘ قطر اور ترکیہ کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ فریقین نے عام محاذوں پر فوجی کارروائیاں فوری اور مستقل طور پر ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ معاہدے میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر کارروائیاں روکنا شامل ہے۔ صدر ٹرمپ نے بھی معاہدے کی تصدیق کے ساتھ مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ مکمل ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی ختم کر دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ انہوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے جہازو! اپنے انجن سٹارٹ کرو اور تیل کو بہنے دو۔امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر جارحانہ اقدامات نے دنیا بھر میں خطرات اور خدشات پیدا کر دیے تھے اور دنیا کی معیشت ہل کر رہ گئی تھی اور پٹرولیم بحران کے اثرات سے دنیا کے اہم ممالک بھی محفوظ نہ رہے تھے۔ اس صورتحال میں یہ پاکستان تھا جس نے کمال ذمہ داری اور نیک نیتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جنگ بندی کی کوششیں کیں۔ پاکستان سمجھتا تھا کہ اگر جنگ کا سلسلہ وسیع ہوتا ہے تو کوئی بھی اس ہیجانی کیفیت سے بچ نہیں پائے گا۔ پاکستان نے اس حوالے سے کوششیں شروع کیں‘ رابطوں کا سلسلہ وسیع کیا تو دنیا کے اہم ممالک نے پاکستان کی تائید کی۔ پاکستان نے پہلے مرحلے پر فریقین میں جنگ بندی کو یقینی بنایا اور ساتھ ہی مذاکراتی عمل کے لیے کوششیں شروع کر دیں۔ اسلام آباد نے واشنگٹن اور تہران کو ایک میز پر لانے اور ایشوز پر ایک دوسرے کے نقطہ نظر سے آگاہی کے لیے ممکنہ سہولت کاری کی۔ مذاکراتی عمل میں آنے والے اُتار چڑھائو کے باوجود پاکستان نے ثالثی اور سفارتی کردار جاری رکھا اور آج جب معاہدے کے اعلان سے دنیا بھر میں خوشی کی لہر دیکھنے کو مل رہی ہے تو دنیا پاکستان کے کردار کو بھی سراہتی نظر آ رہی ہے۔ امریکہ ایران مذاکراتی عمل کے دوران اسرائیل کی بھرپور کوشش رہی کہ یہ مذاکراتی عمل آگے نہ بڑھے اور اس حوالے سے امریکی انتظامیہ پر بھی دبائو ڈالا گیا لیکن امریکہ نے اپنے مفاد میں مذاکرات پر پیش رفت جاری رکھی۔ امریکی انتظامیہ کو احساس ہوا کہ اسرائیلی مفادات کے لیے امریکہ نے جارحیت کا خطرہ مول لیا اور اب اسرائیل امریکہ کے اس دلدل سے نکلنے میں رکاوٹ بن رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صدر ٹرمپ نے لبنان پر بمباری سے روکنے کے لیے اسرائیلی وزیراعظم سے گفتگو میں سخت لہجہ اختیار کیا۔ باوجود اس امر کے کہ لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ بندی کا اعلان ہو چکا ہے‘ اب بھی اسرائیل اس معاہدے کے لیے بڑا خطرہ ہے۔ آسان الفاظ میں نئی پیدا شدہ صورتحال کا تجزیہ کیا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ اس امن معاہدے سے دنیا کو جنگی تباہی‘ معیشت کے بحران اور مہنگائی کے رجحان سے نجات ملے گی‘ لیکن طویل مدتی طور پر یہ دیکھنا ہو گا کہ آیا امریکہ ایران جوہری معاملات پر اتفاق رائے کر پاتے ہیں یا یہ معاہدہ ایک عارضی وقفہ ثابت ہوتا ہے۔ بہرکیف یہ ایک ایسا موقع ہے جس پر پوری دنیا نے سکون کا سانس لیا ہے۔ اب آنے والے 60 دنوں میں یہ فیصلہ ہونا ہے کہ یہ خوشی عارضی ہو گی یا مستقل‘ اس لیے کہ تفصیلی معاملات کے حل کا سلسلہ ابھی چلنا ہے۔ فی الحال مفاہمتی یادداشت پر دستخطوں کے عمل سے اسے مضبوط بنیاد میسر آئی ہے اور امریکہ اور ایران نے اس کے ذریعے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ آپس کے مسائل کو مل بیٹھ کر حل کریں گے اور معاملات آگے کی طرف چلائیں گے اور انہیں نتیجہ خیز بنائیں گے۔بلاشبہ امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام سمیت بعض اہم ایشوز ہیں اور اگر فریقین نیک نیتی کے جذبے سے ان کا حل چاہیں گے تو حل نکل سکتا ہے۔ ایران نے اس سے قبل بھی عمان کے ثالثی عمل سے جوہری پروگرام پر بات چیت شروع کی تھی لیکن اس ثالثی عمل کی نتیجہ خیزی کے دوران ہی امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کر دیا لیکن اب امریکہ اور ایران کو اس جنگی صورتِ حال کے نتیجے میں اپنے ہونے والے نقصان کا احساس ہوا ہے اور دونوں ہی جنگ کا خاتمہ اور فیس سیونگ چاہتے ہیں۔امریکہ اور ایران کے مابین معاہدے کے عمل میں پاکستان کا مرکز ی کردار ہے لیکن امن معاہدے پر دستخطوں کے ساتھ یہ کردار اور ذمہ دار ی ختم نہیں ہو جائے گی بلکہ مزید بڑھ جائے گی۔ اس کا سب سے بڑا چیلنج آنے والے مشکل مذاکرات میں توازن قائم رکھنا ہو گا۔ اسلام آباد میمورنڈم صرف امریکہ ایران میں پیدا شدہ گمبھیر صورتِ حال سے نکلنے کا راستہ ہی نہیں بلکہ یہ دنیا کے لیے ایک پیغام بھی ہے کہ اب دنیا میں فیصلے جنگوں کے ذریعے نہیں ڈائیلاگ کے ذریعے ہوں گے اور نیک نیتی سے معاملات کو حل کرنے کا جذبہ ہوگا تو ہی معاملات آگے بڑھیں گے اور ان کا حل بھی نکلے گا۔ پاکستان نے اس معاہدے میں اپنے کریڈٹ میں سعودی عرب‘ قطر اور ترکیہ کو بھی شامل کیا ہے اور ان کی شمولیت کا مقصد خطے میں امن واستحکام کو مضبوط بنیادیں فراہم کرنا ہے۔ یہ پاکستان کی متوازن خارجہ پالیسی کا کریڈٹ تھا کہ پاکستان نے ایک حساس صورتحال میں سعودی عرب اور ایران کو باہم الجھنے نہیں دیا اور بہت حد تک ان کے تحفظات بھی دور کیے۔امریکہ ایران معاہدے کے عمل میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کلیدی کردار کو بطورِ خاص سراہا گیا ہے جن کی امریکی انتظامیہ اور ایرانی لیڈرشپ تک براہِ راست رسائی تھی اور امریکہ اور ایران‘ دونوں پاکستان کی قومی قیادت پر بھروسا کرتے نظر آئے اور ان کے ذریعے ہی فریقین کے مابین بالواسطہ طور پر رابطہ قائم رہا‘ لیکن یہ پاکستان کی قومی قیادت کا اعزاز ہے کہ انہوں نے حکومت کو سفارتی محاذ پر آگے رکھا اور معاہدے کا حتمی اعلان وزیراعظم شہباز شریف نے کیا۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ پاکستان کا یہ ثالثی کردار معاشی ترقی میں کیا کردار ادا کرتا ہے اور امریکہ اور دنیا کی اہم قوتیں اس ضمن میں کیا کردار ادا کرتی ہیں‘ اس لیے کہ معاشی طور پر مضبوط پاکستان ہی خطے میں امن واستحکام کا ضامن ہو سکے گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/230_37874475.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پراجیکٹ مکمل، اگلا امتحان اندرونی استحکام کا(محمد حسن رضا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-hasan-raza/2026-06-17/52139/69605839</link><pubDate>Wed, 17 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-hasan-raza/2026-06-17/52139/69605839</guid><description>دنیا کی سیاست میں کچھ لمحات ایسے ہوتے ہیں جو صرف ایک سفارتی واقعہ نہیں ہوتے بلکہ آنے والے کئی برسوں کی سمت کا تعین کرتے ہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کے خاتمے اور امن معاہدے کی جانب پیش رفت بھی ایک ایسا ہی لمحہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ایک ایسا تنازع جس نے کئی دہائیوں تک مشرقِ وسطیٰ کو جنگ‘ پابندیوں‘ اقتصادی عدم استحکام اور عالمی طاقتوں کی کشمکش کا میدان بنائے رکھا‘ اس کے حل کے لیے مذاکرات کا راستہ کھلنا پوری دنیا کے لیے اہم پیش رفت ہے۔ اس تمام عمل میں پاکستان کا نام بھرپور طریقے سے نمایاں ہونا غیرمعمولی بات ہے۔ چند برس پہلے تک پاکستان کو عالمی سطح پر زیادہ تر معاشی بحران‘ سیاسی عدم استحکام اور سکیورٹی چیلنجز کے تناظر میں دیکھا جاتا تھا مگر آج عالمی سفارت کاری میں ایک ایسے ملک کے طور پر اس کا ذکر ہو رہا ہے جس نے امریکہ اور ایران کے مابین کشیدگی کم کرنے اور بات چیت کے ماحول کو بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ یہ کامیابی کسی ایک دن کی پیداوار نہیں بلکہ مختلف سطحوں پر مسلسل رابطوں اور سفارتی کوششوں کا نتیجہ قرار دی جا رہی ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف نے سیاسی سطح پر پاکستان کے مؤقف کو دنیا کے سامنے پیش کیا‘ مختلف عالمی رہنماؤں کے ساتھ روابط قائم رکھے اور پاکستان کو ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر نمایاں کیا۔ اسی طرح فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی سرپرستی میں وزیر داخلہ محسن نقوی نے پسِ پردہ سفارتی رابطوں میں متحرک کردار ادا کیا۔ ایران‘ قطر‘ سعودی عرب اور امریکی سفارتی حلقوں کے ساتھ ملاقاتیں‘ مختلف نکات کی ترسیل اور اعتماد سازی کے عمل میں ان کی سرگرمیوں کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ فیلڈ مارشل کی سطح پر ہونے والے رابطوں نے بھی پاکستان کی عالمی اہمیت کو ایک نیا پہلو دیا۔ ایک ایسے وقت میں جب خطہ ایک بڑے تصادم کے دہانے پر کھڑا تھا پاکستان کی عسکری قیادت کو بات چیت‘ رابطے اور کشیدگی میں کمی کی کوششوں کے تناظر میں دیکھا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی عسکری اور سفارتی قیادت کے کردار پر دنیا بھر میں گفتگو ہوئی اور پاکستان کو ایک ممکنہ پل کے طور پر دیکھا گیا۔تاہم سفارتی کامیابیوں کی اصل اہمیت اس وقت سامنے آتی ہے جب وہ کسی ملک کی معیشت اور عوامی زندگی میں بہتری کا سبب بنیں۔ آبنائے ہرمز‘ جہاں سے دنیا کے تقریباً 20فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے‘ میں کشیدگی کم ہونے کا براہِ راست اثر عالمی توانائی کی منڈیوں پر پڑ ے گا۔ پاکستان ہر سال تقریباً 20سے 22ارب ڈالر کی توانائی درآمد کرتا ہے۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں 10ڈالر فی بیرل کمی پاکستان کے لیے ایک سے ڈیڑھ ارب ڈالر تک سالانہ بچت کا سبب بن سکتی ہے۔ یہ رقم زرمبادلہ کے ذخائر‘ بجٹ خسارے اور کرنٹ اکاؤنٹ کے دباؤ کو کم کرنے میں مدد دے گی۔ اسی طرح ایران کے ساتھ تجارت کے نئے امکانات بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ پاکستان اور ایران کی تقریباً 900 کلومیٹر طویل سرحد ہے لیکن پابندیوں اور علاقائی سیاسی پیچیدگیوں کے باعث دونوں ملکوں کی باہمی تجارت اپنی حقیقی صلاحیت تک نہیں پہنچ سکی تاہم ماہرین کے مطابق دو طرفہ تجارت کئی گنا اضافے کی گنجائش رکھتی ہے۔ ایران پاکستان گیس پائپ لائن‘ جسے امن پائپ لائن بھی کہا جاتا ہے‘ بھی دوبارہ اہمیت اختیار کر سکتی ہے۔ پاکستان جو ایل این جی کی درآمد پر اربوں ڈالر خرچ کرتا ہے‘ مستقبل میں توانائی کے متبادل ذرائع سے فائدہ اٹھا سکتا ہے‘ اگر بین الاقوامی ماحول اس کے لیے سازگار بنتا ہے۔ لیکن شاید اس پورے واقعے کا سب سے بڑا سیاسی اثر پاکستان کے داخلی منظرنامے پر پڑنے والا ہے۔ عالمی سطح پر حاصل ہونے والی سفارتی کامیابی کے بعد یہ تاثر مزید مضبوط ہوا ہے کہ پاکستان کی ریاستی ساخت اور فیصلہ سازی کے مراکز پہلے کے مقابلے میں زیادہ اعتماد اور استحکام کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔ طاقت کے روایتی توازن میں تبدیلی کے حوالے سے بھی سیاسی حلقوں میں بحث جاری ہے اور یہ سوال اُٹھ رہا ہے کہ آئندہ قومی فیصلوں میں ریاستی اداروں کا کردار کس حد تک نمایاں ہوگا۔ گزشتہ کئی برسوں میں پاکستان سیاسی انتشار‘ معاشی بحران اور ادارہ جاتی کشمکش کی بھاری قیمت ادا کر چکا ہے۔ اور یہ بات اب واضح ہو چکی کہ مقتدرہ اب پہلے سے زیادہ طاقتور ہو چکی ہے۔ اب شاید وہ وقت ہے کہ سیاستدانوں کی ضرورت بھی کم پڑنے لگی ہے اور شاید ایسا وقت آ گیا ہے کہ توجہ صرف سیاسی لڑائیوں کے بجائے ریاستی اصلاحات اور عوامی مسائل کے حل کی طرف منتقل ہو۔ 28ویں آئینی ترمیم ہو‘ نئے صوبوں کا قیام ہو‘ سب پراجیکٹس کو جلد پایۂ تکمیل تک پہنچانا ہو گا۔ اختیارات کی بہتر تقسیم کا معاملہ ‘ مستقبل کی آئینی اصلاحات اور گورننس کے نظام کو مؤثر بنانے کے اقدامات‘ آنے والے دنوں میں بڑے فیصلوں کی گنجائش پیدا ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ تاہم کسی بھی آئینی یا انتظامی تبدیلی کی کامیابی جمہوری عمل‘ پارلیمانی اتفاقِ رائے اور عوامی حمایت سے مشروط ہو گی۔ اور اب وہ بھی راستہ مکمل صاف دکھائی دینے لگا ہے۔ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ عالمی پذیرائی کسی قوم کے لیے ایک موقع تو بن سکتی ہے لیکن یہ داخلی کامیابی کی ضمانت نہیں ہوتی۔ دنیا کی بڑی طاقتیں ہمیشہ اپنے مفادات کے مطابق تعلقات استوار کرتی ہیں‘ اس لیے پاکستان کے لیے اصل امتحان اب شروع ہوتا ہے۔ کیا پاکستان اس سفارتی مقام کو معاشی طاقت میں بدل سکے گا؟ کیا عام آدمی کو مہنگائی‘ بے روزگاری اور بنیادی سہولتوں کے مسائل سے نجات مل سکے گی؟ کیا نظامِ حکومت میں وہ اصلاحات آ سکیں گی جن کا وعدہ دہائیوں سے کیا جاتا رہا ہے؟ شاید آنے والا وقت ان تمام سوالات کا جواب دے گا۔ لیکن ایک بات واضح ہے کہ دنیا نے پاکستان کو ایک نیا موقع ضرور دیا ہے۔ عالمی سفارت کاری میں حاصل ہونے والی یہ اہمیت اگر قومی اتحاد‘ بہتر گورننس‘ معاشی اصلاحات اور عوامی فلاح کے لیے استعمال کی گئی تو یہ دور پاکستان کی تاریخ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ متحارب طاقتوں کو امن کی میز تک پہنچانا ایک کامیابی ہے لیکن قوموں کی اصل کامیابی اپنے عوام کے لیے امن‘ خوشحالی اور استحکام پیدا کرنے میں ہوتی ہے۔ اب دنیا کی نظریں صرف اس بات پر نہیں کہ پاکستان نے ایک عالمی بحران میں کیا کردار ادا کیا بلکہ اس پر بھی ہیں کہ پاکستان اس عالمی اعتماد کو اپنے اندرونی استحکام اور ترقی کی داستان میں کس حد تک تبدیل کر پاتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/229_33941343.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>محرم الحرام(علامہ ابتسام الہٰی ظہیر )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-06-17/52140/43112022</link><pubDate>Wed, 17 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-06-17/52140/43112022</guid><description>اللہ تبارک وتعالیٰ کائنات کو بنانے والے ہیں۔ اس وسیع وعریض کائنات میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے بعض مقامات کو دوسرے مقامات اور بعض اوقات اور ایام کو دوسرے ایام اور اوقات کے مقابلے میں فوقیت اور فضیلت عطا کی ہے۔ چنانچہ مکہ اور مدینہ کو دوسرے شہروں پر فضیلت حاصل ہے جبکہ شہروں میں سب سے فضیلت والی جگہیں مسجدیں ہیں۔ اسی طرح جب ہم ایام پر غور کرتے ہیں تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے ہفتے کے ایام میں سے جمعہ کے دن کو فضیلت دے رکھی ہے۔ اسی طرح سال میں بہت سے ایام ایسے ہیں جن کو دیگر ایام پر فضیلت حاصل ہے۔ چنانچہ ذوالحجہ کے پہلے عشرے کو حج اور قربانی کی مناسبت سے دیگر ایام کے مقابلے میں فضیلت حاصل ہے۔ رمضان المبارک کے آخری عشرے کی طاق راتوں کو سال کی باقی تمام راتوں پر فضیلت حاصل ہے۔ اسی طرح جب مہینوں کی بات آتی ہے تو چار مہینے تخلیقِ ارض وسما کے دن ہی سے فضیلت والے ہیں جن میں رجب‘ ذیقعد‘ ذی الحج اور محرم الحرام شامل ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ان عظمت والے مہینوں کے حوالے سے سورۃ التوبہ کی آیت: 36 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39; مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک کتاب اللہ میں بارہ ہی ہے‘ اسی دن سے جب سے آسمان و زمین کو اس نے پیدا کیا ہے‘ اس میں سے چار حرمت و ادب والے مہینے ہیں۔ یہی درست دین ہے‘ تم ان مہینوں میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو‘‘۔ اس آیت مبارکہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ان مہینوں میں اپنی جانوں پر ظلم کرنے سے بچنا چاہیے۔ اس لیے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کو معزز اور محترم مہینے قرار دیا ہے۔ چنانچہ ان محترم اور معزز مہینوں میں اللہ تبارک وتعالیٰ کی نافرمانی سے بچنے کی زیادہ سے زیادہ کوشش کرنی چاہیے۔احادیثِ مبارکہ کے مطالعہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ رمضان المبارک کے فرض روزوں کے بعد سب سے زیادہ فضیلت والے روزے محرم الحرام کے ہیں۔ رمضان المبارک کے روزوں کی فرضیت سے قبل نبی کریمﷺ یومِ عاشور کے روزے کا خصوصی انتظام فرماتے تھے لیکن رمضان المبارک کے روزوں کی فرضیت کے بعد اب اسے ایک اختیاری روزے کا درجہ حاصل ہو چکا ہے۔ بہت زیادہ فضیلت کے باوجود اس روزے کو رکھنا فرض نہیں ہے۔ جس شخص کیلئے ممکن ہو وہ اس کو رکھ لے اور اگر کوئی اس کو چھوڑ دیتا ہے تو اس پر کوئی مواخذہ نہیں ہے۔ اس حوالے سے صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: &#39;&#39;رمضان کے بعد سب سے افضل روزے اللہ کے مہینے محرم کے ہیں اور فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز رات کی نماز (تہجد) ہے‘‘۔ مسند احمد میں حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رمضان کے روزے فرض ہونے سے پہلے نبی کریمﷺ اپنے صحابہ کو دس محرم کا روزہ رکھنے کا حکم دیتے‘ پھر جب ماہِ رمضان کے روزے فرض ہو گئے تو نبی کریمﷺ ماہِ رمضان ہی کے روزے رکھنے لگے اور عاشورہ کا روزہ چھوڑ دیا‘ اب جو چاہے وہ روزہ رکھ لے اور جو چاہے نہ رکھے۔محرم الحرام کی فضیلت جہاں کتاب وسنت سے ثابت ہے وہیں اس مہینے میں بہت سے اہم تاریخی واقعات بھی رونما ہوئے جن میں سے بعض اہم درج ذیل ہیں:1۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم سے نجات: فرعون زمین پر اللہ تبارک وتعالیٰ کا بہت بڑا باغی حکمران تھا جس نے زمین کو بنی اسرائیل کے لوگوں کیلئے تنگ کر رکھا تھا۔ ان پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑتا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام فرعون کے پاس اللہ کی توحید کی دعوت لے کر گئے لیکن اس نے اس دعوت کو قبول کرنے کے بجائے موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ عناد اور بغض کا رویہ اختیار کیا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے موسی علیہ السلام اور بنی اسرائیل کے لوگوں کو فرعون کے ظلم سے 10 محرم الحرام کو نجات دے دی۔ یہود اس کی مناسبت سے روزہ رکھا کرتے تھے۔ چنانچہ نبی کریمﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھی اس دن کا روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ اس حوالے سے صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ &#39;&#39;نبی کریمﷺ مدینہ میں تشریف لائے تو (دوسرے سال) آپﷺ نے یہودیوں کو دیکھا کہ وہ عاشورا کے دن روزہ رکھتے ہیں۔ آپﷺ نے ان سے اس کا سبب معلوم فرمایا تو انہوں نے بتایا کہ یہ ایک بابرکت دن ہے‘ اسی دن اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن (فرعون) سے نجات دلائی تھی۔ اس لیے موسیٰ علیہ السلام نے اس دن کا روزہ رکھا تھا۔ آپﷺ نے فرمایا: پھر موسیٰ علیہ السلام کے (شریکِ مسرت ہونے میں) ہم تم سے زیادہ مستحق ہیں؛ چنانچہ آپﷺ نے اس دن روزہ رکھا اور صحابہ کرام کو بھی اس کا حکم دیا‘‘۔ نبی کریمﷺ نے بعد ازاں یہود سے مشابہت کی وجہ سے 9 محرم الحرم کا روزہ رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ بعض اہلِ علم نے اس سے یوں سمجھا کہ شاید نبی کریمﷺ نے 10 کے روزے کو 9 سے تبدیل فرما دیا ہے جبکہ جمہور علماء کی رائے یہ ہے کہ 10 تاریخ پر 9 تاریخ کے روزے کا اضافہ کیا گیا ہے۔2۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت: اسی مہینے کی پہلی تاریخ کو مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ راشد حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو ذی الحجہ کے آخری ایام میں قاتلانہ حملے سے زخمی ہوئے تھے‘ اس دنیائے فانی سے خلعتِ شہادت کو زیب تن کرتے ہوئے رخصت ہو گئے اور شہادت کے بعد آپ کو نبی کریمﷺ کے پہلو میں دفن کر دیا گیا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے زمانۂ نبوت اور اپنے دورِ خلافت میں دین اسلام کی بھرپور انداز سے خدمت کی اور مسلمانوں کی شان وشوکت اور دین کی ہیبت وسطوت میں آپ کی خدماتِ عالیہ کی وجہ سے بہت زیادہ اضافہ ہوا۔ آپؓ نے رفاہِ عامہ کے ایسے ایسے کام انجام دیے کہ جن کی وجہ سے آج بھی مغربی مفکرین خدمت خلق کے باب میں آپ کو ایک مثال سمجھتے ہیں۔ یہ مہینہ آپ کی شہادت کی یاد کو تازہ کرتا اور آپ کی عظیم المرتبت شخصیت کی ہمہ گیر خدمات کی یاد دلاتا ہے۔3۔ سیدنا حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت: نبی کریمﷺ کے اہلِ بیت میں سے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ ایک نمایاں اور بلند مقام رکھتے ہیں۔ آپؓ سیدنا علی المرتضیٰ اور حضرت فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہما کے لختِ جگر ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نبی کریمﷺ کی محبتوں کا مرکز ومحور رہے۔ نبی کریمﷺ نے سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما کو نوجوانانِ جنت کا سردار قرار دیا اور ساری زندگی ان کے ساتھ محبت فرماتے رہے۔ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ زہد وتقویٰ اور للہیت کے اعتبار سے ایک انتہائی مثالی شخصیت ہیں۔ زندگی بھر کتاب وسنت پر عمل پیرا رہے اور زندگی کے آخری ایام بھی آپؓ نے زہد وتقویٰ اور للہیت میں گزارے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے محرم الحرام کی 10 تاریخ کو آپؓ کو شہادت کی خلعتِ فاخرہ عطا فرمائی اور آپؓ اس دنیا سے ایک مظلوم شہید کی حیثیت سے رخصت ہوئے۔ سیدنا حسینؓ اور آپ کے اہلِ خانہ کی مظلومانہ شہادت کی کسک آج بھی دنیا ئے اسلام کے ہر فرد کے دل میں موجود ہے۔ لوگ سیدنا حسنین کریمینؓ سے اس حد تک والہانہ محبت کرتے ہیں کہ ان کے نام نامی پر اپنی اولاد کا نام رکھنا اپنے لیے باعثِ فخر وسعادت گردانتے ہیں۔ محرم الحرام کا مہینہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ اگر ہم حقیقت میں ان عظیم شخصیات سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں تو ہمیں ان کے سیرت وکردار سے رہنمائی حاصل کرنی چاہیے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جس انداز سے اثر ورسوخ کے مقابلے میں جدوجہد کی‘ حضرت عمر فاروقؓ نے جس اعتبار سے اسلام کی خدمت کی اور سیدنا حسینؓ جس انداز سے تقویٰ‘ للہیت اور کتاب وسنت کے ساتھ تمسک والی زندگی گزارتے رہے‘ یقینا یہ اہلِ اسلام کیلئے بہت بڑی تحریک کا سبب ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں اپنے اسلاف کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق دے‘ آمین!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_19740082.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>