<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>عدالتِ عظمیٰ کا فیصلہ ، سیاسی بصیرت کا امتحان(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-19/11466</link><pubDate>Wed, 19 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-19/11466</guid><description>سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے اُن کے اہلخانہ کی ملاقات اوراُن کو علاج کیلئے اسلام آباد کے شفا ہسپتال منتقل کرنے کا حکم ایک اہم اور دوررس فیصلہ ہے۔ عدالت عظمیٰ نے جہاں ایک قیدی کے طبی حقوق کا تحفظ کیا‘ وہیں اس بات پر بھی زور دیا کہ صحت کے اس حساس معاملے کوسیاسی رنگ دینے سے اجتناب کیا جائے۔ ابتدائی طور پر حکومت کی جانب سے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا گیا‘ تاہم منگل کی شام وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا یہ بیان سامنے آ گیا کہ حکومت اس پر نظر ثانی کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔پچھلے کئی ماہ کے دوران بانی پی ٹی آئی کی صحت اور جیل میں اُن کے عزیز واقارب سے ملاقاتوں کا معاملہ بحث کا اہم موضوع رہا ہے۔ اس دوران بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کا عارضہ اور ہسپتال میں ان کے علاج سے پی ٹی آئی اور بانی کے اعزہ کی تشویش میں مزید اضافہ ہوا اور ان کی جانب سے ملاقات کے لیے عدالتی دروازہ کھٹکھٹایا گیا۔ اگر حکومت خود ہی اس تشویش کا ازالہ کر دیتی تو شاید یہ سیاسی تنازع کی صورت اختیار نہ کرتی۔

تاہم سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو بروقت اور احسن قرار دیا گیا ہے کہ اس سے ملک کی سیاسی فضاؤں میں تناؤ کو کم کرنے اور دوسری جانب ایک قیدی اور اس کے اہل خانہ کے ملاقات کے حق کا تحفظ کیا گیا ہے۔ اگر کسی قیدی کے اہل خانہ یا اس کے وکلا کسی ضابطے یا قانون کی خلاف ورزی کرتے ہیں تو اس کی سزا اُس قیدی کو اس کے بنیادی طبی حقوق پر قدغن کی صورت میں نہیں دی جا سکتی۔ اگر ابتدا ہی سے جیل مینوئل اور رائج قواعد وضوابط پر شفافیت کے ساتھ عمل کیا جاتا تو یہ معاملہ سپریم کورٹ تک جانے کی نوبت ہی نہ آتی۔ یہ جیل انتظامیہ کی کوتاہی تھی کہ ایک خالصتاً انتظامی معاملے کو اس حد تک طول دیا گیا کہ ملک کی سب سے بڑی عدالت کو اس میں مداخلت کرنا پڑی۔ اسی پس منظر میں حکومت کے ان رہنماؤں کے بیانات کو دیکھنے کی ضرورت ہے جنہوں نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر من وعن عملدرآمد کا کہا۔ اگرچہ وزیر قانون کا بیان جس میں مذکورہ فیصلے پر نظر ثانی کی اپیل کا بتایا گیا ہے‘ حکومت کی جانب سے ایک مختلف نقطہ نظر کو پیش کرتا ہے۔ ہر چند کہ حکومت کو اس فیصلے کے خلاف نظر ثانی کا قانونی حق حاصل ہے تاہم اس خالصتاً صحت کے معاملے پر سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد میں حکومت پس و پیش سے کام لیتی ہے تو یہ اقدام کوئی اچھی نظیر قائم نہیں کرے گا۔
ایسے حساس معاملات پر قانونی موشگافیوں سے خدشہ یہ ہے کہ ملک میں سیاسی تناؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے اور یہ تاثر مزید پختہ ہوگا کہ حکومت بنیادی انسانی معاملے کو بھی سیاست کی عینک سے دیکھتی ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کا یہ فیصلہ سیاسی تناؤ کو کم کرنے کے اسباب مہیا کرتا ہے؛ چنانچہ بہتر ہو گا کہ حکومت اس فیصلے کو ایک امکان کے طور پر لے اور اس کی مدد سے ملک میں سیاسی بے یقینی کو استحکام میں اور سماجی بے چینی کو اطمینان میں بدلنے کی کوشش کرے۔ انسانی ہمدردی کے جذبات ہمارے سماج میں غیر معمولی اہمیت کے حامل ہیں اور ہماری سیاسی تاریخ میں ایسی مثالیں موجود ہیں کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر حکومتوں نے قیدیوں کے لیے غیر معمولی اقدامات کئے۔ موجودہ حکومت بھی ایسا کوئی اقدام کرتی ہے تو یہ اس کے حق میں جائے گا مخالفت میں نہیں۔
پاکستان اس وقت جن شدید معاشی‘ سماجی اور سیاسی بحرانوں سے دوچار ہے‘ ان کا تقاضا ہے کہ ملک میں سیاسی محاذ آرائی کے طوفان کو تھمنے کا موقع دیا جائے۔ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ حکومت اور اپوزیشن کو ایسا موقع فراہم کرتا ہے جسے اگر حکمت‘ تدبر اور سیاسی بصیرت کے ساتھ بروئے کار لایا جائے تو یہ ملک میں سیاسی ہم آہنگی اور مفاہمت کے نئے باب کا نقطۂ آغاز بن سکتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مالیاتی وسائل کا ضیاع(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-19/11465</link><pubDate>Wed, 19 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-19/11465</guid><description>اختیارات کی منتقلی سے متعلق سینیٹ کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں بتایا گیا کہ 18ویں ترمیم کے باوجود وفاقی حکومت بعض وزارتوں اور امور کو اپنے پاس برقرار رکھ کر سالانہ پانچ سے چھ ہزار ارب روپے ضائع کر رہی ہے۔ آبی وسائل‘ موسمیاتی تبدیلی‘ ہاؤسنگ اور ثقافت و ورثہ سمیت پچیس سے زائد ادارے صوبوں کو یا مشترکہ مفادات کونسل کو منتقل ہونے چاہئیںمگر گزشتہ ڈیڑھ دہائی میں اس جانب پیشرفت نہ ہونے سے سالانہ چھ ہزار ارب روپے تک کا اضافی مالی بوجھ برداشت کیا جا رہا ہے‘ جو پنجاب کے کُل سالانہ بجٹ سے بھی زیادہ ہے۔ سینیٹ کمیٹی کا یہ انکشاف وفاق کے کفایت شعاری اور اصلاحات کے دعوؤں کے علاوہ حکومتی ترجیحات پر بھی سوالیہ نشان ہے۔

ایک طرف حکومت سالانہ ایک دو ارب ڈالر کی قسطوں کیلئے عالمی مالیاتی ادارے کی سخت شرائط تسلیم کرنے پر مجبور ہے اور دوسری جانب اس سے کئی گنا زیادہ مالیاتی وسائل غیر ضروری اخراجات پر صرف کیے جا رہے ہیں۔ حال ہی میں وفاق نے مالیاتی خسارہ پورا کرنے کیلئے صوبوں سے ترقیاتی فنڈز اور سرپلس ریونیو کا مطالبہ کیا‘ اگر حکومت ادارہ جاتی اصلاحات کا کام سنجیدگی سے مکمل کر لیتی تو نہ صرف صوبوں کا بجٹ متاثر نہ ہوتا بلکہ کئی گنا زیادہ وسائل ترقیاتی منصوبوں کیلئے دستیاب ہو سکتے تھے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ادارہ جاتی اصلاحات کا کام سنجیدگی سے مکمل کیا جائے۔ سالانہ ہزارہا ارب روپے کی یہ ممکنہ بچت پاکستان کو معاشی دلدل سے نکالنے میں بھی کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>گندم بحران، آٹا مہنگا(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-19/11464</link><pubDate>Wed, 19 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-19/11464</guid><description>ملک بھر میں آٹے کی قیمتوں میں اضافے اور گندم کا بحران حکومتی نااہلی‘ بروقت فیصلہ سازی میں تاخیر اور ذخیرہ اندوزوں کے سامنے انتظامیہ کی بے بسی کا شاخسانہ ہے۔ ہر سال گندم کی کٹائی اور خریداری کے سیزن میں حکومتی پالیسیوں میں ردوبدل کی وجہ سے عوام سستی روٹی سے اور کسان اپنی محنت کے جائز معاوضے سے محروم ہیں۔ صوبائی حکومتوں کی جانب سے گندم کی خریداری کے ہدف اور قیمتوں کے تعین میں لیت ولعل نے ذخیرہ اندوزوں کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے‘ یہی وجہ ہے کہ ملک گندم درآمد کرنے پر مجبور ہو چکا ہے۔ اس بحران سے مستقل بنیادوں پر نمٹنے کیلئے وفاق بالخصوص صوبائی حکومتوں کو پائیدار زرعی حکمت عملی وضع کرنے کی ضرورت ہے۔

زراعت جیسے اہم شعبے کو تجربات کی نذر نہیں کیا جا سکتا۔ حکومتی پالیسیوں میں عدم تسلسل کسانوں کو غیر یقینی کا شکار کرتا ہے جس کا براہ راست اثر فصل کی کم بوائی اور پیداوار میں نمایاںکمی کی صورت میں نکلتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ گندم کی امدادی قیمت کا اعلان فصل کی بوائی کے وقت کیا جائے تاکہ کسان دلجمعی سے فصل کاشت کر سکیں۔ حالیہ بحران سے سبق سیکھتے ہوئے مستقبل کیلئے ایسی مستحکم اور دیرپا زرعی پالیسی وضع کی جانی چاہیے جو کسان‘ معیشت اور عام صارف تینوں کے مفادات کا تحفظ کرے۔ علاوہ ازیں ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کریک ڈاؤن بھی ضروری ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>جب مہرباں تھوڑا مہربان ہو جائیں(ایاز امیر)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-08-19/52508/11953532</link><pubDate>Wed, 19 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-08-19/52508/11953532</guid><description>بڑی خبر ہے کہ عدالتِ عظمیٰ کے حکم پر ہسپتال منتقلی ہو رہی ہے۔ معاملہ بڑی عدالت میںکب پہنچا تھا‘ شاید اس سال کے اوائل میں اور حکم نامہ اب آیا ہے جب کتنے ہی موسم بدل چکے۔ دیر آید درست آید۔ اس مملکت میں کسی کو جہاں سے بھی کوئی رعایت ملے غنیمت سمجھنا چاہیے اور یہ نہیں پوچھنا چاہیے کہ درِ زنداں ملاقاتیں محدود کیوں کر دی گئیں اور وکلا کی رسائی بھی بہت کم ہو گئی۔ نہ ایسے نکات پر کچھ کہنا چاہیے کہ قیدی جو بھی ہو اخبارات اور کتابوں تک رسائی اُس کا قانونی حق ہے۔ قانون میں دی گئی رعایتوں کو محدود کیا جائے تو پوچھنا بنتا ہے کہ ایسے پریشر کی ترکیبوں کا مقصد کیا ہے۔ کیا کسی کو توڑنا مقصود ہے؟ کسی کے حوصلے کو کم کرنا نصب العین بنا ہوا ہے؟ توانائیاں کسی فرد کی یا حکومت کی محدود ہوتی ہیں۔ انہیں صرف اچھے کاموں پر صرف ہونا چاہیے۔ اس ضمن میں یہ کون سی روایات ہیں جو ہمارے ہاں میں ڈالی گئی ہیں؟گرفتاریاں انگریز دور میں بھی ہوتی تھیں۔ اپنی کتاب انڈیا وِنز فریڈم میں مولانا ابوالکلام آزاد لکھتے ہیں کہ پولیس کا دستہ گھر پر آیا گرفتاری کی غرض سے‘ پیغام بھیجا کہ ہم تیار ہو جائیں۔ چائے پی‘ سامان سمیٹا اور پھر عزت اور آبرو سے پولیس کے ساتھ چل پڑے۔ جس بدذوقی اور بدتمیزی کے مظاہرے ایسے موقعوں پر یہاں ہونے لگے ہیں ایسی کوئی چیز مولانا کے ساتھ نہ ہوئی۔ زیر حراست بھی رہے تو دوسرے چوٹی کے کانگریسی لیڈر بھی ساتھ تھے۔ اُن سے گپ شپ رہتی‘ مناسب کھانے کا انتظام ہوتا‘ چہل قدمی ہوتی۔ ہمارے ہاں تو یوں ہے کہ اخلاقی مجرم ہو اور وسائل ہوں تو جیل میں وقت اچھا گزر جاتا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو ہوں تو نفسیاتی اذیتیں پہنچانے کی سوچ پیدا ہوتی ہے۔ چھوٹی سی کوٹھڑی میں ڈال دیا جاتا ہے اور ارادہ یہی ہوتا ہے کہ قیدی اندر سے ٹوٹ جائے اور نرمی کا طلبگار بنے۔ بھٹو سے ملاقاتوں پر البتہ قانون سے ہٹ کر کوئی پابندی نہ تھی۔ اہلیہ اور دختر ملتی تھیں اور وکلا جب چاہتے سابق وزیراعظم سے مل لیتے۔ کتب اور اخبارات پر کوئی پابندی نہ تھی۔ معاشرہ اپنے آپ کو مہذب کہے تو حالات کو بہتری کی طرف جانا چاہیے۔ یہ کہنا پڑتا ہے کہ جیلوں میں عام قیدیوں کیلئے حالات بہتر ہوئے ہیں۔ ٹی وی کی سہولت قیدیوں کو مہیا کی گئی ہے۔ عثمان بزدار کی وجہ سے قیدیوں کو اندر سے فون کرنے کی سہولت بھی میسر ہے جو کہ بہت بڑی تبدیلی ہے۔ لیکن حکومت کی آنکھ میں کوئی کھٹکے تو پھر سب کچھ تبدیل ہو جاتا ہے۔ پھر وکلا کو انصاف کے دروازوں پر دستک دینی پڑتی ہے‘ تاریخیں لگتی ہیں اور کہیں کوئی رعایت آ بھی جائے جیسا کہ ہسپتال منتقلی کی صورت میں آئی ہے تو چہ مگوئیاں شروع ہو جاتی ہیں کہ رعایت کی اصل وجہ کیا ہے۔ پیچھے یا اندر خانہ کیا ہو رہا ہے؟ اندھیروں میں کوئی بات چیت تو نہیں ہو رہی جس کی وجہ سے یہ رعایت سامنے آئی ہے؟ حالات یہاں تک پہنچ چکے ہیں کہ عدالتی فیصلہ خود سے بھی آیا ہو اُس پر شک کیا جاتا ہے کہ خود سے تو آ نہیں سکتا تھا‘ پیچھے سے ضرور کچھ ہوا ہوگا۔ ہمارے حالات کا تقاضا ہے کہ ہر چیز کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ایک تو یہ منتقلی والی خبر آئی ہے اور اس کے حوالے سے چہ مگوئیاں ہوںگی‘ ایک نئی بحث چھڑ جائے گی کہ اصل بات کیا ہے۔ ساتھ ہی خبریں گرم ہیں کہ ایک نئی آئینی ترمیم کے ذریعے ایک نیا حکومتی نظام یا بندوبست لایا جا رہا ہے۔ اس مجوزہ ترمیم کے چیدہ چیدہ نکات سوشل میڈیا کے ذریعے منظر عام پر آ رہے ہیں۔ نئے صوبوں کی بات ہے‘ لوکل گورنمنٹ کے ایک نئے ڈھانچے کا ذکر ہے اور جیسا کہ ہم جیسے کہتے آئے ہیں‘ صدارتی طرزِ حکومت کا عندیہ بھی دیا گیا ہے۔ جو چیزیں تھیں اُن سے کام چلا نہیں اب پتا نہیں کون سے معجزوں کی توقع اس نئے مجوزہ ڈھانچے سے کی جا رہی ہے۔ ہندوستان کا ایک ہی نظام ہے جو وہ شروع دن سے چلا رہے ہیں۔ ایک مسز اندرا گاندھی نے ایمرجنسی کی جَھک ماری تھی لیکن اُنہیں جلد ہی آئینی راستے پر واپس آنا پڑا اور جو جَھک ماری اُس کی بھاری قیمت بھی ادا کرنی پڑی۔ اس ایک لغزش کے علاوہ ہندوستان کا وہی نظام چل رہا ہے جب سے اُن کا آئین لکھا گیا۔ پاکستان اُسی برطانوی ایکٹ آف پارلیمنٹ کے تحت معرضِ وجود میں آیا جس سے ہندوستان کو آزادی ملی لیکن ہم ہیں کسی ایک چیز پر ٹِک نہ سکے اور ہر رُت کے بدلنے کے ساتھ کسی نئے حکومتی تجربے کا ڈھنڈورا پیٹنے میں رہے۔ کون سا نسخہ ہے جو ہم نے نہیں آزمایا۔ پارلیمانی نظام‘ صدارتی نظام‘ مارشل لاء کے ضابطے‘ اسلامی نظام‘ ایوب خان کی بنیادی جمہوریت‘ ضیاالحق کا لوکل گورنمنٹ نظام‘ مشرف کا بلدیاتی نظام اور اب پھر سے ایک نئے آئینی راستے پر چلنے کی تیاری ہے۔ صوبوں کے حوالے سے ون یونٹ کا تجربہ ہوا اور پھر اُسے ختم کرنا پڑا۔ ملا کچھ بھی نہیں لیکن بے قراری موجود رہی۔ نام نہاد جمہوری ادوار کے درمیان کچھ سیاسی زُعما کو خلافت کے خواب آئے۔ اسباب جو بھی تھے شکر ہے وہاں تک بات نہ پہنچی۔نئے نظاموں کے چکر میں ایک مسئلہ پاکستان کی اعلیٰ صلاحیتوں سے حل نہ ہوا کہ ڈھنگ سے الیکشن کیسے کرائے جائیں۔ کوئی الیکشن دھاندلی یا غیر آئینی مداخلت کے الزامات سے آزاد نہ رہ سکا۔ جس ایک انتخاب کو آزاد اور منصفانہ سمجھا جاتا ہے‘ وہ جو یحییٰ خان نے1970ء میں کرایا‘ اُس کے نتیجے میں ملک دولخت ہوا۔ جہاں چھوٹی موٹی دھاندلی کے الزامات ہمیشہ سے لگے‘ جو 2024ء کے انتخابات میں فارم 47 کا جھرلو پھرا اُس نے سارے سابقہ تجربات کو مات دے دی۔ جس سے سوال اُٹھتا ہے کہ نیا نظام جیسا بھی ہو‘ لوکل یا قومی انتخابات کیسے کرائے جائیں گے؟ اہمیت ووٹوں کی ہو گی یا ووٹ گننے والوں کی؟ عوام کے ذہنوں میں یہ سوال تو ہے لیکن جو نئے نظام کی خوبیوں کے ڈھول پیٹ رہے ہیں اس سوال کا جواب نہیں دے پا رہے۔ مثال کے طور پر نئے نظام میں ضلع میئر کی بات ہو رہی ہے کہ ڈائریکٹ ووٹوں سے منتخب کیا جائے گا۔ میئر کا انتخاب حقیقی ووٹوں کی بنیاد پر ہوگا یا فارم 47کے کرشمے سے؟ اسی طرح صدارت کے عہدے کے بارے میں بھی کہا جا رہا ہے کہ ڈائریکٹ ووٹنگ ہو گی۔ پھر وہی سوال کہ فیصلہ ووٹوں سے ہو گا یا گننے والوں کی صوابدید سے؟ جب مغربی پاکستان کے چار صوبوں کو ایک یونٹ میں سمویا گیا تو کون سی انتظامی بہتری آئی؟ جب ون یونٹ ٹوٹا اور پہلے کے چار صوبے بحال ہوئے پھر کون سی تبدیلی آئی؟ ضلع کے ڈی سی جب مشرف اصلاحات کے تحت ڈی سی او بن گئے اور ایس پی ڈی پی او ہو گئے تو کون سے معجزے رونما ہونے لگے؟ عام آدمی کو تو اتنا پتا ہے کہ ون یونٹ ہو یا چار صوبے‘ چار صوبے ہوں یا اُس سے زیادہ‘ کسی سرکاری دفتر میں کام تو قائداعظم کے نوٹوں سے ہونا ہے۔ ضلع میں ایس پی ہو یا ڈی پی او‘ تھانوں میں قائداعظم کی تصویر ہی چلتی ہے۔قوم کے مہرباں اتنا تو سوچیں کہ اس وقت ملک قومی پیداوار سے نہیں چل رہا۔ چل رہا ہے تو بیرونی قرضوں سے اور اُس زرمبادلہ سے جو باہر مقیم پاکستانی بھیجتے ہیں۔ یہ دو ذرائع نہ ہوں تو سب کچھ ٹھپ ہو کر رہ جائے۔ کرنے کے کام ہوتے نہیں نت نئے نسخوں کی نوید سنائی جاتی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_80573045.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>میرا ذاتی انٹرسٹ کیا ہے؟(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-08-19/52509/26971241</link><pubDate>Wed, 19 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-08-19/52509/26971241</guid><description>یہ وہ سوال ہے جو میں خود سے 1993ء سے پوچھ رہا ہوں جب میں نے ملتان سے دی فرنٹیئر پوسٹ کے بیورو آفس سے آپرنٹس رپورٹر کے طور پر صحافت شروع کی تھی۔ میں نے صحافت کو شوق کے طور پر اپنایا نہ کہ مجھے نوکری نہیں مل رہی تھی تو سوچا چلو صحافی بن جاتے ہیں۔ جب 1996ء میں ڈان ملتان میں رپورٹر کی جاب ملی اور میں نے وہاں سے چند سیاستدانوں کے کاروباری سکینڈلز بریک کرنا شروع کیے تو میرے خلاف ڈان لاہور کے ایڈیٹر طاہر مرزا کو ان بڑے سیاستدانوں کے شکایتی فون گئے اور انہوں نے نیوز روم کو حکم دیا کہ رئوف کی یہ خبریں آئندہ نہیں لگانی۔ مجھے بھی فون کیا کہ آپ کا ان خبروں میں کیا انٹرسٹ ہے؟ میرے لیے حیرانی تھی کہ اتنا بڑا ایڈیٹر پوچھ رہا تھا کہ میرا اس میں کیا ذاتی انٹرسٹ تھا۔ وہ تو بڑے عرصے بعد مجھے پتا چلا کہ دراصل لاہور‘ کراچی‘ اسلام آباد کے نیوز ڈیسک پر یہ تاثر عام ہے کہ ضلعی نامہ نگار بلیک میلر ہوتے ہیں اور بغیر کسی ذاتی مفاد کے وہ خبر فائل نہیں کرتے‘ خصوصاً کسی پولیس افسر یا محکمے یا سیاستدان کے خلاف۔ ڈیسک کو یقین ہوتا ہے کہ ضلعی نامہ نگار میں اتنی صلاحیت نہیں ہوتی کہ وہ کوئی بڑا سکینڈل نکال سکے‘ جو مستند بھی ہو اور اس میں اس کا ذاتی انٹرسٹ بھی نہ ہو۔ یوں میں بھی اس مائنڈ سیٹ کا شکار ہوا۔ وہ تو اللہ بھلا کرے ڈان لاہور کے نیوز ایڈیٹر عمران اکرم اور ہمارے ڈیسک انچارج امجد محمود کا‘ جو میرے خلاف طاہر مرزا کے متعدد ایکشن کے باوجود میری خبریں استعمال کرتے تھے کہ انہیں لگتا تھا کہ وہ اچھی خبریں ہیں اور ان کا اعتماد مجھ پر بڑھ گیا تھا کہ اس میں کوئی ذاتی انٹرسٹ نہیں ہے‘ صرف صحافت ہے۔ میں ان دونوں مہربانوں‘ عمران اکرم اور امجد محمود کا آج تک دل سے شکرگزار ہوں کہ انہوں نے مجھے طاہر مرزا سے بھی بچایا اور رپورٹر کے طور پر میری گرومنگ بھی کی۔ ان خبروں کی وجہ سے ہی ڈان کے چیف ایڈیٹر احمد علی خان صاحب نے لاہور کے ایڈیٹر کی بھرپور مخالفت کے باوجود میرا ملتان سے اسلام آباد ٹرانسفر کیا جس نے میری زندگی بدل دی۔ احمد خان صاحب نے جولائی 1998ء کے کسی گرم ترین دن مجھے ملتان میں فون پر کہا تھا کہ سب کی سخت مخالفت کے باوجود آپ کو اسلام آباد بھیجا جا رہا ہے‘ میں آپ کی خبریں دو سال سے پڑھ رہا ہوں‘ آپ حقدار ہیں کہ آپ کو اسلام آباد موقع دیا جائے۔ ساتھ یہ بھی کہا تھا کہ اپنی جگہ ایسا ہی رپورٹر دے کر جائو۔ میں نے ڈی جی خان میں ڈان کے قابل رپورٹر ندیم سعید کا نام دیا‘ جس نے میرے جانے کے بعد اعلیٰ رپورٹنگ کی‘ جس کے بعد بی بی سی انہیں لندن اور اب اقوام متحدہ انہیں نیویارک لے گیا۔ ڈان اسلام آباد میں ضیا الدین صاحب ہمارے بیورو چیف تھے۔ میرے آنے کے کچھ عرصہ بعد میں نے اسلام آباد سے خبریں بریک کرنا شروع کیں تو میری خبروں کی سرکاری وضاحتیں آنے لگیں اور کہتے تھے کہ اس میں اس کا کیا ذاتی انٹرسٹ کیا ہے۔ اُس وقت تک ڈان میں سکینڈلز فائل کرنا نو گو ایریا تھا۔ میں ایک دن ضیا صاحب کے پاس اپنی سٹوریز کے سرکاری دستاویزات لے کر گیا تاکہ انہیں یہ نہ لگے کہ میں غلط خبریں دے رہا ہوں۔ انہوں نے بغیر دستاویزات دیکھے مجھے کہا: آپ لگے رہو‘ جو کام کرے گا‘ خبریں دے گا‘ اس کے خلاف ہی ردعمل آئے گا۔ جو کچھ نہیں کریں گے ان کو کس نے تردید بھیجنی یا سوالات اٹھانے ہیں۔ ضیا الدین صاحب کی اس تھپکی کے بعد کبھی مُڑ کر نہیں دیکھا۔ رہی سہی پروفیشنل ٹریننگ اور سپورٹ شاہین صہبائی صاحب سے ملی۔ اب آپ کہیں گے آج اتنی لمبی تمہید کی کیا ضرورت پڑ گئی۔ دراصل 1933ء سے اب تک صحافت اور صحافی‘ اور پڑھنے والے بہت بدل گئے ہیں۔ نئی نسلیں جوان ہو گئی ہیں اور اب سوشل میڈیا کی دنیا میں ہر ایک کو لگتا ہے کہ جو بھی خبر یا سکینڈل بریک کرتا ہے‘ اس میں اس کا ذاتی انٹرسٹ ہوتا ہے۔ یہ امیج بنانے میں یقینا ہم صحافیوں کا خود بڑا قصور ہے کہ ہم نے افسران سے ذاتی تعلقات کو ہی صحافت کی معراج سمجھ لیا۔ سورسز بنانے کی حد تک ٹھیک ہے کہ آپ کے تعلقات ضروری ہیں لیکن ان افسران کو پروٹیکٹ کرنا ہمارا کام نہیں ہے۔ ان سے کام نکلوانا اور کام نہ ہونے پر ان کے خلاف خبریں لگانا ہی اس معاملے کو &#39;&#39;ذاتی انٹرسٹ‘‘ کی طرف لایا ہے۔ دو تین دن پہلے ملتان پولیس کے ایک ایس ایچ او نے ایک مشہور ہوٹل پر مشکوک حالات میں چھاپہ مار کر ایک خاتون اور ہوٹل مالکان کو گرفتار کر کے ان کی ہتھکڑیاں لگی تصاویر کھنچوا کر سوشل میڈیا پر ڈلوا دیں۔ ایس ایچ او نے اسی پر بس نہیں کی بلکہ سوشل میڈیا پر اپنی تصویر کے ساتھ اس کارنامے کے بینر چھپوا کر داد وصول کرنا شروع کر دی کہ کتنا بڑا کارنامہ سرانجام دیا گیا ہے۔ میں نے سارا واقعہ اپنے ملتان کے دوست ناصر محمود شیخ کی فیس بک وال پر پڑھا اور دیکھا تو افسوس ہوا کہ پولیس کا مشکوک ایف آئی آر پر چھاپہ‘ ہوٹل مالکان کی حیران کن گرفتاری‘ پھر گرفتار خاتون کی سوشل میڈیا پر تصویریں اور پھر ایس ایچ او کی بڑھکیں۔ میں نے اس پر کچھ سخت لکھا تو پنجاب حکومت ایکشن میں آئی اور ایس ایچ او کو معطل کر دیا گیا اور انکوائری شروع ہو گئی۔ میں نے وزیر داخلہ محسن نقوی صاحب کو ٹویٹر (ایکس) پر اس ایس ایچ او کی بڑھکوں والا بینر ٹیگ کر کے لکھا کہ آپ نے کہا تھا کہ بلوچستان کا مسئلہ ایک ایس ایچ او کی مار ہے‘ آپ دو سال سے جس ایس ایچ او کو ڈھونڈ رہے تھے وہ ملتان میں مل گیا ہے۔ اس پر میرے اپنے ملتانیوں نے میرے خلاف پوسٹیں لگانا شروع کر دیں کہ اس کو کیا مسئلہ ہے۔ انہوں نے وہی بات لکھی جو 1993ء سے سنتا آ رہا ہوں کہ اس کا کوئی ذاتی انٹرسٹ ہو گا۔ ایک اور صاحب‘ جو اچھے خاصے سمجھدار ہیں اور لاہور پولیس میں لیگل سائیڈ پر ہیں‘ انہوں نے بھی یہی فرمایا کہ انہیں اس میں میرا کوئی ذاتی انٹرسٹ لگتا ہے۔ وہ اس بات پر خفا تھے کہ میں اس سٹوری کا فالو اَپ کیوں کر رہا تھا‘ اس سے کیا نتیجہ نکالنا ہے؟ ماشاء اللہ! یہ سوچ ہے جو نوجوان کالج یونیورسٹیوں سے پڑھ کر نکلے ہیں۔مجھے صحافت میں فالو اَپ کی عادت دی نیوز کے ہمارے ایڈیٹر فہد حسین نے ڈالی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ سٹوری دینا کوئی بڑی بات نہیں‘ سب رپورٹرز دیتے ہیں۔ اصل بات ہے کہ خبر کو مرنے نہ دیں۔ اسے فالو اَپ کرتے رہیں۔ فہد حسین کی اس فالو اَپ سپورٹ کی وجہ سے دی نیوز کے دور میں بڑے بڑے کام ہوئے۔ ہڑپہ‘ ساہیوال کے قدیم آثار کے قریب کمرشل کھدائی ہو رہی تھی‘ وہ ہمارے فالو اَپ سے رکی۔ فیصل آباد کا سونیا ناز کیس دو تین ماہ فالو اَپ کیا تو ہی طاقتور پولیس افسران کی گرفتاری اور انہیں سزائیں ہوئیں۔ پاکستان اور بھارت کے سینکڑوں قیدی جو ایک دوسرے کی جیلوں میں کئی دہائیوں سے رُل رہے تھے‘ ان کی خبریں دینے اور فالو اَپ سے رہا کرایا۔ فہد حسین نے کبھی نہیں پوچھا کہ تمہارا کیا انٹرسٹ ہے کہ فالو اپ کر رہے ہو بلکہ ہمیشہ حوصلہ افزائی کی۔ شاہین صہبائی‘ محمد مالک‘ سلیم بخاری سب نے فالو اَپ کی حوصلہ افزائی کی۔ میرے ذہن میں درجنوں ایسی سٹوریز آ رہی ہیں جو میں نے بریک کیں‘ جس میں پولیس یا بڑے حکام ملوث تھے اور مظلوم لوگوں کو ریلیف ملا تو ان کے ٹائوٹس نے ہمیشہ کردار کشی کرنے کی کوشش کی اور یہی سوال اٹھایا کہ تمہارا ذاتی انٹرسٹ کیا ہے۔ پہلے حیران ہوتا تھا کہ میرا کیا ذاتی انٹرسٹ ہو سکتا ہے‘ محض یہ کہ مظلوموں کی مدد ہو‘ بڑے بدمعاشوں کا احتساب ہو اور بڑھکیں مارنے والے جو دوسروں کو قانون کے نام پر سرعام ذلیل کرتے‘ اپنے اختیار کا غلط استعمال کرتے‘ عام لوگوں پر ظلم کرتے اور خود کو بھگوان سمجھتے ہیں‘ وہ خود بھی ذرا قدرت کی طرف سے وہی ذائقہ چکھیں کہ جب آپ خود اونٹ کی طرح پہاڑ تلے آتے ہیں تو کیسا محسوس ہوتا ہے۔ یہی میرا ذاتی انٹرسٹ ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پاکستان کے نوجوان: تقدیر نہیں، نظام کی تشکیل کا مسئلہ(شاہد صدیقی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-siddiqui/2026-08-19/52510/99438496</link><pubDate>Wed, 19 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-siddiqui/2026-08-19/52510/99438496</guid><description>2023ء کی ڈیجیٹل مردم شماری کے مطابق پاکستان کی تقریباً 79 فیصد آبادی کی عمر 40 سال سے کم ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں سے اس حقیقت کو ایک ممکنہ &#39;&#39;آبادیاتی منافع‘‘ کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے‘ یہ امید دلائی جاتی رہی ہے کہ نوجوان آبادی پاکستان کی سب سے بڑی طاقت بنے گی اور ایک نوجوان ملک اپنے نسبتاً عمر رسیدہ ہمسایوں سے آگے نکل جائے گا۔ لیکن جس آبادیاتی منافع (Demographic Dividend) کا انتظار تھا‘ وہ ابھی تک سامنے نہیں آیا۔ اس کے برعکس ہمارے سامنے نوجوانوں کی ایک ایسی نسل ہے جس نے مواقع کو اپنے سامنے سے گزرتے دیکھا ہے۔بنیادی نکتہ یہ ہے کہ پاکستان کے نوجوان یونہی نامساعد حالات کا شکار نہیں ہوئے بلکہ یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں اور اداروں کی پالیسیوں وترجیحات نے انہیں مسلسل نظر انداز کیا ہے۔ مسئلہ نوجوانوں میں صلاحیت یا امنگ کی کمی کا نہیں بلکہ اس سیاسی‘ معاشی اور تعلیمی نظام کا ہے جو نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو اپنے اندر سمونے کیلئے کبھی تیار ہی نہیں کیا گیا۔ روزگار کے اعداد وشمار اس صورتحال کو واضح کرتے ہیں۔ پاکستان ادارۂ شماریات کے لیبر فورس سروے 2024-25ء کے مطابق 15 سے 24 سال کے نوجوانوں میں بیروزگاری کی شرح 12.6 فیصد تک پہنچ گئی ہے‘ جو چار سال پہلے 11.1 فیصد تھی۔ 15 سے 29 سال کے نوجوانوں میں یہ شرح 10.3 فیصد سے بڑھ کر 11.5 فیصد ہو گئی ہے۔ اسی عرصے میں مجموعی بیروزگاری 6.3 فیصد سے بڑھ کر 6.9 فیصد ہو گئی جبکہ اکنامک سروے 2025-26ء نے اسے 7.1 فیصد قرار دیا ہے۔ اس دوران ملک کی لیبر فورس میں تقریباً ایک کروڑ 40 لاکھ افراد کا اضافہ ہوا اور یہ 8 کروڑ 56 لاکھ تک پہنچ گئی‘ لیکن روزگار کے نئے مواقع اس رفتار سے پیدا نہیں ہوئے۔ خواتین کی صورتحال مزید تشویشناک ہے۔ خواتین میں بیروزگاری 8.9 فیصد سے بڑھ کر 9.7 فیصد ہو گئی ہے۔ ہماری معیشت اپنی بڑھتی ہوئی افرادی قوت کو روزگار فراہم نہیں کر پا رہی اور اس کی سب سے بھاری قیمت نوجوان ادا کر رہے ہیں۔ دیکھا جائے تو اس بحران کی ایک بڑی وجہ ہمارا تعلیمی نظام ہے۔ تقریباً ڈھائی کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں جبکہ پاکستان ایجوکیشن سٹیٹسٹکس رپورٹ 2023-24ء کے مطابق سکول میں داخل ہونے والوں کی ایک بڑی تعداد پرائمری سے مڈل تک پہنچتے پہنچتے تعلیم چھوڑ دیتی ہے۔ دوسری طرف تعلیم پر سرکاری اخراجات مسلسل کم ہوئے ہیں۔ 2018-19ء میں تعلیم پر جی ڈی پی کا دو فیصد خرچ کیا جا رہا تھا‘ جو 2020-21ء میں 1.4 فیصد اور 2024-25ء میں صرف 0.8 فیصد رہ گیا۔ اکنامک سروے کے مطابق ایک سال میں تعلیم پر اخراجات 899.6 ارب روپے سے کم ہوکر 356.5 ارب روپے رہ گئے‘ یعنی ایک سال میں 60 فیصد سے زیادہ کمی۔ لیکن مسئلہ صرف وسائل کی کمی تک محدود نہیں‘ ہمارے بیشتر سکول آج بھی معلومات کی ترسیل کو تعلیم سمجھتے ہیں۔ نوجوانوں میں تجزیاتی فکر‘ تخلیقی صلاحیت‘ سوال اٹھانے کی جرأت اور مسائل حل کرنے کی مہارت پیدا کرنے کے بجائے ہمارا امتحانی نظام یادداشت اور رٹنے کی صلاحیت کو انعام دیتا ہے۔ پالیسی ساز ان مسائل سے بے خبر نہیں‘ اصل مسئلہ یہ ہے کہ تعلیم کو کبھی وہ ترجیح نہیں دی گئی جس کی وہ مستحق تھی۔یہ ایک تشویشناک صورتحال ہے کیونکہ دنیا میں کام اور روزگار کی نوعیت تیزی سے بدل رہی ہے۔ ورلڈ اکنامک فورم کی &#39;&#39;فیوچر آف جابز رپورٹ 2023ء‘‘ کے مطابق آئندہ پانچ برسوں میں دنیا میں تقریباً 6 کروڑ 90 لاکھ نئی ملازمتیں پیدا ہونے جبکہ 8 کروڑ 30 لاکھ ملازمتیں ختم ہونے کی توقع ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2027ء تک کارکنوں کی تقریباً 44 فیصد مہارتیں متاثر ہوں گی اور لگ بھگ 60 فیصد افرادی قوت کو نئی مہارتیں سیکھنے کی ضرورت ہو گی۔ پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ ہم بڑی حد تک نوجوانوں کو ان ملازمتوں کیلئے تیار کر رہے ہیں جو ختم ہو رہی ہیں‘ جبکہ اُن نئی ملازمتوں کیلئے تیاری نہ ہونے کے برابر ہے جو ان کی جگہ لے رہی ہیں۔دنیا کے بعض ممالک نے‘ جنہیں پاکستان جیسی ہی نوجوان آبادی میسر تھی‘ اس موقع کو ضائع نہیں ہونے دیا۔ بنگلہ دیش اور ویتنام نے برآمدات پر مبنی صنعتی شعبے قائم کیے جنہوں نے لاکھوں کم ہنرمند نوجوانوں کو روزگار دیا۔ بعد میں تعلیم اور مہارتوں میں بہتری کے ساتھ یہ ممالک زیادہ قدر والی صنعتوں کی طرف بڑھے۔ پاکستان کو بھی ایسا بلکہ شاید اس سے زیادہ موقع ملا‘ لیکن ہم نہ مطلوبہ صنعتی بنیاد قائم کر سکے اور نہ ہی ایسا تعلیمی نظام بنا سکے جو معیشت کی بدلتی ضروریات سے ہم آہنگ ہو۔ نوجوان آبادی خود بخود آبادیاتی منافع میں تبدیل نہیں ہوتی‘ اس کیلئے ریاست کو شعوری منصوبہ بندی اور مسلسل سرمایہ کاری کرنا پڑتی ہے۔روزگار کی فراہمی میں ناکامی کے اثرات صرف بیروزگار افراد تک محدود نہیں رہتے۔ جب ایک معیشت اپنے نوجوانوں کو روزگار نہیں دیتی تو وہ ان کی پرورش اور تعلیم پر خرچ کیے گئے وسائل کا ممکنہ فائدہ بھی کھو دیتی ہے۔ اسی طرح مایوسی بھی جگہ بنانے لگتی ہے۔ غیر رسمی روزگار‘ غیر قانونی طور پر بیرونِ ملک جانا‘ شہری زندگی سے لاتعلقی اور ایسی آوازوں کی طرف رغبت جو نوجوانوں کو ان کی محرومی کی کوئی توجیہ فراہم کرتی ہوں۔ جس ملک میں ہر دس میں سے تقریباً آٹھ افراد کی عمر 40 سال سے کم ہو اور ان کی بڑی تعداد باعزت روزگار سے محروم ہو‘ وہاں یہ محض معیشت کا مسئلہ نہیں رہتا‘ بلکہ یہ محرومی معاشی ترقی‘ سماجی استحکام اور معاشرتی ہم آہنگی کیلئے بھی ایک ساختی خطرہ بن جاتی ہے۔ البتہ امکانات کا دروازہ ابھی بند نہیں ہوا۔ ڈیجیٹل اکانومی نے پاکستانی نوجوانوں کیلئے فری لانسنگ‘ آن لائن اور ڈیجیٹل خدمات کے ذریعے آمدنی کے نئے راستے کھولے ہیں۔ اسی طرح گرین اکانومی میں قابل تجدید توانائی اور ماحولیاتی انتظام کے شعبوں میں روزگار کے امکانات بڑھ رہے ہیں۔ خواتین کی لیبر فورس میں شرکت جو دنیا کی کم ترین شرحوں میں شامل ہے‘ پاکستان کیلئے معاشی ترقی کا شاید سب سے بڑا غیر استعمال شدہ اثاثہ ہے۔ لیکن اس کیلئے خواتین کی نقل وحرکت‘ تحفظ‘ بچوں کی نگہداشت اور کام کی جگہ پر امتیازی رویوں جیسی رکاوٹوں کو عملی طور پر دور کرنا ہوگا۔یہ امکانات اپنی جگہ اہم ہیں لیکن یہ بحران خود بخود ختم نہیں ہو گا۔ اس کیلئے ایسا تعلیمی نظام درکار ہے جو یادداشت کے بجائے تجزیاتی سوچ‘ تخلیقی صلاحیت اور ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ ہو۔ تعلیم کیلئے مالی وسائل کو بتدریج اس معیار کے قریب لانا ہوگا جسے ہم ایک طویل عرصے سے نظرانداز کرتے آ رہے ہیں۔ نئی مہارتیں سکھانے کیلئے ایسے ادارہ جاتی انتظامات کی ضرورت ہے جن میں صنعت اور آجر بھی شریک ہوں تاکہ تربیت مستقبل کی معاشی ضروریات سے ہم آہنگ ہو سکے۔ اس سوچ کو بھی بدلنے کی ضرورت ہے کہ فنی اور پیشہ ورانہ تعلیم اُن طلبہ کا ثانوی راستہ ہے جو روایتی تعلیم میں کامیاب نہیں ہو سکے‘ اس کے برعکس اسے باعزت‘ معیاری اور مناسب وسائل سے آراستہ راستہ بنانا ہو گا جو نوجوانوں کو ہنرمند روزگار تک پہنچائے۔ پاکستان کے نوجوانوں کی محرومی کسی پیدائشی کمزوری‘ صلاحیت کی کمی یا امنگوں کے فقدان کا نتیجہ نہیں بلکہ ان فیصلوں کا مجموعی نتیجہ ہے جو گزرے برسوں میں ہم نے کیے ہیں: تعلیم پر کتنا خرچ کرنا ہے! معیشت کو کس انداز میں تشکیل دینا ہے! کن لوگوں کیلئے مواقع پیدا کرنے ہیں اور کن کو نظر انداز کرنا ہے! مایوسی کی اس خاکستر میں امید کی چنگاری بھی پوشیدہ ہے۔ اگر غلط فیصلے ہمیں یہاں تک لائے ہیں تو بہتر فیصلے ہمیں یہاں سے نکال بھی سکتے ہیں۔ پاکستان کے پاس آج بھی حقیقی آبادیاتی منافع حاصل کرنے کیلئے ضروری انسانی سرمایہ موجود ہے۔ جس چیز کی کمی رہی ہے وہ ایک ایسا نظام تعمیر کرنے کا سیاسی عزم ہے‘ جو نوجوانوں کی صلاحیت کو تعلیم‘ ہنر‘ روزگار اور قومی ترقی میں تبدیل کر سکے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_21538475.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>نئے صوبوں کی تشکیل اور سیاسی جماعتیں(سلمان غنی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/salman-ghani/2026-08-19/52511/52111934</link><pubDate>Wed, 19 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/salman-ghani/2026-08-19/52511/52111934</guid><description>ملک میں نئے صوبوں کی تشکیل کی اہمیت اس لیے ہے کہ موجودہ انتظامی ڈھانچہ‘ بڑھتی آبادی اور وسیع رقبے کے حامل صوبے‘ بڑھتی ہوئی عوامی ضروریات کے مقابلے میں مؤثر حکمرانی کے تقاضے پورے کرنے میں ناکام ثابت ہو رہا ہے۔ نئے صوبوں کی ضرورت کا احساس اس لیے بھی ہوا کہ 18ویں ترمیم کے ذریعے وفاق سے صوبوں کو اختیارات اور وسائل ملے لیکن اضلاع کو منتقلی نہ ہونے کے باعث احساسِ محرومی اور بے چینی بڑھی۔ خصوصاً یہ احساس بڑھتا گیاکہ وسائل اور ترقیاتی منصوبوں کا بڑا حصہ بڑے شہروں تک محدود رہتا ہے اور دور دراز کے اضلاع تعمیر و ترقی کے عمل سے محروم رہتے ہیں۔ ماہرین کا مؤقف ہے کہ بلدیاتی سسٹم اور انتظامیہ کے فیصلے اگر مقامی سطح پر ہوں تو جوابدہی اور نگرانی نسبتاً آسان ہو سکتی ہے اور عوام کی زندگیوں میں اطمینان آ سکتا ہے۔لیکن نئے صوبے کسی سیاسی نعرے کیلئے نہیںگورننس کی ضرورت کے تحت بننے چاہئیں۔تاہم صرف نئے صوبوں کی حد بندی کافی نہیں‘ اداروں‘ کو اختیارات اور مرکزا ور صوبوں کے تعلقاتِ کار کو بھی حقیقت پسندانہ بنانا ہوگا۔ یہ جائزہ لینا ضروری ہے کہ نئی تقسیم عوام کو بہتر سہولتیں‘ انصاف اور گورننس فراہم کر سکے۔ مختلف طبقات کے نمائندگان‘ اراکینِ پارلیمنٹ اور ماہرین بھی سمجھتے ہیں کہ اسے گورننس ریفارمز کے قومی ایجنڈا کا حصہ بنانا چاہیے لیکن سوال یہ ہے کہ بڑی سیاسی جماعتیں نئے صوبوں کے عمل سے کیوں پہلو تہی کرتی ہیں؟انہیں جواب دینا ہوگا کہ وہ جمہوریت کی علمبردار ہونے کے باوجود بنیادی جمہوری اداروں اور مقامی حکومتوں کے سسٹم سے گریزاں کیوں ہیں؟انہوں نے اپنی آئینی‘ قانونی اور سیاسی ذمہ داری کیوں پوری نہیں کی؟ملک کی تقریباً تمام بڑی سیاسی جماعتیں اپنے منشور میں بلدیاتی سسٹم کو مؤثر‘ فعال اور بااختیار بنانے کا دعویٰ اور ہر الیکشن سے پہلے بلدیاتی انتخابات کرانے کا وعدہ کرتی ہیں لیکن برسراقتدار آنے کے بعد اسے ترجیح نہیں دیتیں۔ ماضی میں بلدیاتی انتخابات میں بڑا کردار عدالت عظمیٰ اور الیکشن کمیشن کا رہا جن کے دباؤ میں سیاسی حکومتوں کو پیش رفت کرنا پڑی۔ اگر انتخابات کرا بھی دیے گئے تو سیاسی حکومتوں نے منتخب باڈیز کو اختیارات اور وسائل تفوض کرنے میں لیت و لعل سے کام لیا۔ غیر جمہوری ادوار کی تمام تر خرابیوں کے باوجود انہوں نے عوامی نمائندگی کو یقینی بنانے کیلئے اگر اسمبلیوں کے انتخابات سے گریز بھی برتا تو بلدیاتی انتخابات کرانے اور ان کے ذریعہ ترقیاتی عمل اور عوام کے مسائل کے حل کی کوشش کی۔ اس ضمن میں پرویز مشرف کے ڈسٹرکٹ گورنمنٹ سسٹم کی مثال دی جا سکتی ہے۔ اب بھی بڑی جماعتوں کے ذمہ داران مؤثر بلدیاتی سسٹم کی بات تو کرتے نظر آتے ہیں مگر اپنی اپنی حکومتوں کے کردار سے صرفِ نظر برتتے ہیں۔بڑی جماعتوں کا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ نئے صوبوں کے قیام سے شاید اس لیے گریزاں ہیں کہ یہ معاملہ صرف انتظامی اصلاح کا نہیں بلکہ ان کیلئے اقتدار‘ انتخابی سیاست اور وسائل کی تقسیم کا سوال بھی بن سکتا ہے۔ نئے صوبے بننے سے نئی اسمبلیاں‘ وزرائے اعلیٰ‘ گورنرز‘ بیورو کریسی اور سیاسی عہدے وجود میں آئیں گے اور جماعتوں کے اندر طاقت کا توازن تبدیل ہو گا۔نئی نشستیں‘ نئی حلقہ بندیاں اور نئی سیاسی صف بندیاں وجود میں آئیں گی۔ نئے صوبوں کی تشکیل سے مقامی سیاسی رہنماؤں کو متعلقہ صوبوں میں بڑی ذمہ داریاں مل سکتی ہیں؛چنانچہ بڑی جماعتیں نئے صوبوں کے سیاسی نتائج کو سمجھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ جب تک انہیں یقین نہ ہو کہ ان کی سیاسی مفادات محفوظ ہیں‘ وہ پیش رفت سے گریزاں رہیں گی۔ اصل امتحان یہی ہے کہ سیاسی جماعتیں نئے صوبوں کو گورننس‘ انتظامی سہولت اور عوامی مسائل کے حل کے طور پر دیکھیں اور قومی و عوامی مفاد کو ترجیح دیں۔جوں جوں نئے صوبوں کی بحث سنجیدگی اختیار کرتی جا رہی ہے‘ سیاسی جماعتیں گومگو کی صورتحال سے دوچار ہیں۔ وہ براہِ راست مخالفت بھی نہیں کرنا چاہتیں مگر اس سے بچنے کیلئے ہاتھ پاؤں مارتی بھی دکھائی دے رہی ہیں۔ مسلم لیگ (ن) حکمران جماعت کے طور پر کسی باقاعدہ مؤقف سے گریزاں ہے جبکہ پیپلزپارٹی سندھ کی تقسیم کو ہضم کرنے کو تیار نہیں۔ ایم کیو ایم کھلے دل سے نئے صوبوں کے قیام کیلئے سرگرم عمل ہے اور اس کی لیڈرشپ نے نئے صوبوں کے اعلان کی حمایت کے ساتھ اس مقصد کیلئے سپریم کورٹ میں جانے کا اعلان بھی کیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ آبادی کے لحاظ سے نئے صوبے وقت کی ضرورت ہیں اور سندھ میں نئے صوبے بنانے کا مقدمہ سب سے زیادہ مضبوط ہے۔ ایم کیو ایم کے مطابق موجودہ صوبے لسانی بنیادوں پر بنائے گئے تھے اور نئے صوبوں کی تقسیم ملک کی نہیں‘ اختیارات اور وسائل کی تقسیم ہے۔ تحریک انصاف بھی نئے صوبوں کے حوالے سے گرین سگنل دیتی نظر آ رہی ہے اور تاثر ہے کہ وہ اپنی لیڈرشپ کے ریلیف اور سیاسی کردار کیلئے نئے صوبوں کی حمایت کر سکتی ہے۔ جماعت اسلامی بھی نئے صوبوں کی حامی ہے اور اس حوالے سے فیصلہ پارلیمنٹ کے ذریعہ کرنے کی حامی ہے۔مگر بنیادی سوال یہ ہے کہ پیش رفت کب اور کیسے ہوگی اور کیا بڑی جماعتوں کو ساتھ ملایا جا سکے گا؟فیصلہ ساز سمجھتے ہیں کہ اگر ملک میں گورننس یقینی بنانا اور عوام کیلئے انصاف ممکن بنانا ہے تو نئے صوبے بنانا ہوں گے‘ اختیارات کی تقسیم یقینی بنانا ہوگی‘ تبھی پسماندہ علاقوں کو وسائل اور اختیارات کی تقسیم یقینی بنائی جا سکے گی۔ فیصلہ ساز قوتوں نے نئے صوبوں کی تشکیل کے حوالے سے راستہ بنانے کی ذمہ داری بڑی سیاسی قوتوں خصوصاً حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی پر ڈال رکھی ہے لیکن سیاسی قوتیں اپنی صوبائی حکومتوں‘ وسیع اختیارات اور وسائل کے باعث اس عمل سے صرفِ نظر برتتی نظر آ رہی ہیں ۔ انہیں معلوم ہے کہ نئے صوبوں سے اختیارات تقسیم ہوں گے اور ان کی سیاسی گرفت کمزور ہو گی۔ نئے صوبوں کا عمل خالصتاً ایک آئینی عمل ہے اور آئینی طریقہ کار کے مطابق متعلقہ صوبائی اسمبلی سے اس ضمن میں دو تہائی اکثریت حاصل کرنا ہو گی۔ صوبائی اسمبلی کے بعد ترمیم کا بل پارلیمنٹ میں آتا ہے وہاں بھی دو تہائی اکثریت درکار ہے‘ اسمبلی سے منظوری کے بعد یہ صدرِ مملکت کے دستخطوں سے نافذ العمل ہوتا ہے۔ موجودہ اسمبلیوں سے اگرچہ دو تہائی اکثریت حاصل کرنا ممکن دکھائی نہیں دیتا مگر سیاسی جماعتیں محسوس کر رہی ہیں کہ یہ عمل اب روکتے رکتا نظر نہیں آ رہا‘ اس لیے وہ دیکھو اور انتظار کرو کی پالیسی پر گامزن ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ سیاسی جماعتیں تیار نہ ہوں تو ریفرنڈم کا آپشن بھی موجود ہے لیکن اس میں ایوانِ صدر کا کردار اہم اور صدر کی رضامندی ضروری ہے۔نئے صوبے تو ناگزیر ہیں مگر بنیادی فیصلہ سیاسی جماعتوں نے کرنا ہے‘گیند اُن کی کورٹ میں ہے۔اگر وہ سنجیدگی نہیں دکھائیں گی تو کسی اور کو سنجیدگی دکھانا ہوگی‘ اس لیے کہ یہ مسئلہ محض سیاسی اقتدار و اختیار کا نہیں‘ ملک میں گورننس کے عمل کا ہے۔ ملک کو چلانا ہے تو مضبوط نظم و ضبط کی ضروری ہے جو اَب نئے صوبوں کے بغیر ممکن نہیں‘ لہٰذا نئے صوبوں کی تشکیل کے طریقہ کار میں آئندہ چند روز اہم ہیں اور نظر یہ آ رہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) اس حوالے سے لچک دکھا سکتی ہے‘ البتہ پیپلزپارٹی سندھ کی تقسیم کو اپنی ریڈ لائن قرار دیتی نظر آ رہی ہے۔ اگر معاملہ پارلیمنٹ کے ذریعے طے ہوتا ہے تو پھر وہی طریقہ کار ہو سکتا ہے جس کے تحت 26ویں اور 27ویں ترامیم منظور ہوئیں‘ لیکن نئے صوبوں کی تشکیل کے عمل میں ہو سکتا ہے کہ پی ٹی آئی بھی مشروط آمادگی ظاہر کر دے۔ دیکھنا یہ ہو گا کہ کیا حکمران جماعتیں اس لچک کو ہضم کر پائیں گی؟</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/230_37874475.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>