<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>عام آدمی کا مسئلہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-02/11241</link><pubDate>Tue, 02 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-02/11241</guid><description>پاکستان معدنی وسائل‘ زرعی پیداوار‘ نوجوان اکثریتی آبادی‘ جغرافیائی اہمیت اور بڑی آبادی ہونے کے ناتے بڑی منڈی کا حامل ملک ہے۔ مگر ملکی معیشت میں وہ اٹھان پیدا نہیں ہو سکی جو اصولی طور پر ان اسباب کے نتیجے میں ہونی چاہیے تھی۔ بادی النظر میں مسئلہ وسائل کا نہیں ناقص تقسیم‘ بدانتظامی اور پالیسیوں کے عدم تسلسل کا ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے اعداد وشمار اس حقیقت کو مزید واضح کریں گے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد وشمار کے مطابق 2021ء میں ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں 4764 ارب روپے تھیں جو 2025ء تک بڑھ کر تقریباً 11744ارب روپے تک پہنچ گئیں۔ یعنی اس دوران قومی خزانے میں تقریباً سات ہزار ارب روپے کا اضافی ٹیکس جمع ہوا جبکہ نان ٹیکس ریونیو 1505ارب روپے سے بڑھ کر 5056 ارب روپے تک پہنچ گیا اور سیلز ٹیکس1990ارب روپے سے بڑھ کر 3901 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ یہ اضافہ کسی معمولی معیشت میں ممکن نہیں ہوتا۔ اگر ملک واقعی وسائل سے محروم ہوتا تو اتنی بڑی مالیاتی وسعت پیدا نہ ہو سکتی۔ مگر سوال یہ ہے کہ جب ٹیکس وصولیوں میں اتنا نمایاں اضافہ ہوا تو عوام کی زندگی میں بہتری کیوں نہیں آئی؟ عام شہری آج بھی مہنگائی‘ بیروز گاری‘ صحت اور تعلیم کے ناقص نظام اور بنیادی سہولتوں کی کمی کا شکار کیوں ہے؟

ملک میں مہنگائی کی شرح اس وقت 11.7 فیصد تک پہنچ چکی ہے جبکہ 2021ء میں یہ 8.6 فیصد تھی۔ 2021ء سے 2025ء کے دوران بیروزگاری کی شرح بھی 6.3 فیصدسے بڑھ کر 6.9 فیصد تک پہنچ گئی۔ آخر کیا وجہ ہے کہ پانچ برسوں میں حکومتی محصولات میں 146.5فیصد اضافے کے باوجود عوام کے حالات نہیں بدلے‘ معاشی دلدر بدستور بلکہ پہلے سے زیادہ ہیں۔ اس کا جواب حکومتی اخراجات کے ماڈل میں ہے۔ وفاقی بجٹ کا بڑا حصہ ترقیاتی منصوبوں کے بجائے قرضوں کے سود‘ انتظامی اخراجات اور غیر پیداواری مدات میں صرف ہو جاتا ہے نتیجتاً تعلیم‘ صحت‘ توانائی‘ تحقیق‘ ٹیکنالوجی اور صنعتی ترقی کیلئے محدود وسائل بچتے ہیں۔ یہاں تعلیم پر سرکاری اخراجات کا ذکر برمحل ہوگا جسکے بارے ایک رپورٹ کہتی ہے کہ گزشتہ پانچ برسوں سے اخراجات میں اضافے کے بجائے کمی کا رجحان ہے۔ 2019-20ء میں تعلیمی اخراجات جی ڈی پی کا 1.9فیصد تھے جو 2020-21ء میں کم ہو کر 1.4فیصد ہو گئے‘ 2021-22 ء میں ان میں عارضی طور پر اضافہ ہوا مگر 2022-23ء میں دوبارہ 1.5 فیصد پر آ گئے جبکہ 2024-25ء کے پہلے نو ماہ کے دوران یہ اخراجات جی ڈی پی کے 0.8 فیصد کے برابر تھے۔ یعنی ریونیو میں اضافے کے اثرات عوام کو منتقل ہونے کے شواہد ڈھونڈنا کارِ حاصل ہے۔ ایک اور مسئلہ ٹیکس کے بوجھ کی غیر مساوی تقسیم کا ہے۔
ٹیکس نیٹ میں شامل افراد اور شعبوں کی تعداد محدود ہے جبکہ بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ عام صارفین پر منتقل کر دیا جاتا ہے جسکے نتیجے میں بجلی‘ گیس‘ پٹرول اور روزمرہ استعمال کی اشیا مہنگی ہوتی ہیں تو اسکا سب سے زیادہ اثر متوسط اور کم آمدنی والے طبقے پر پڑتا ہے۔ ہمارے ہاں ٹیکس چھوٹ اور مراعات کی مالیت کھربوں روپے تک پہنچ چکی ہے جو قومی خزانے کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچاتی ہیں۔ اگر ٹیکس نظام کو منصفانہ بنایا جائے اور چوری کے امکانات کا سدباب کیا جائے تو ریاست کو کہیں زیادہ وسائل دستیاب ہو سکتے ہیں۔ مگر جب تک سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر نہیں ہوتی‘ غیر ضروری اخراجات کم نہیں کیے جاتے اور وسائل کو انسانی ترقی پر خرچ نہیں کیا جاتا تب تک محض زیادہ ٹیکس وصول کرنا عوام کی مشکلات کم نہیں کر سکے گا اور نہ ہی قومی ترقی کی رفتار میں مطلوبہ اضافہ ممکن ہے۔ ملکی معیشت میں صلاحیت کی کمی نہیں‘ ضرورت شفاف حکمرانی‘ پالیسی تسلسل اور قومی وسائل کے دانشمندانہ استعمال اور حقیقی کفایت شعاری اختیار کر نے کی ہے۔ کیا آنے والے بجٹ میں اس حوالے سے اصلاح کے کوئی اقدامات ہوں گے؟</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بلند ترین مہنگائی(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-02/11240</link><pubDate>Tue, 02 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-02/11240</guid><description>وفاقی ادارۂ شماریات کے مطابق مئی میں افراطِ زر کی شرح 11.7 فیصد تک پہنچ گئی ہے جو گزشتہ 23 ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایک سال کے دوران ٹرانسپورٹ کرایے 37 فیصد‘ ہاؤسنگ‘ پانی‘ بجلی‘ گیس اور ایندھن 17 فیصد‘ خوراک 8 فیصد‘ تعلیم 8.37 فیصد اور صحت کی سہولتیں 7.54 فیصد مہنگی ہو چکی ہیں۔ یہ صورتحال عام آدمی کی قوتِ خرید کو مسلسل کمزور کر رہی ہے۔ گوکہ مہنگائی میں اضافے کے پس منظر میں عالمی اور علاقائی عوامل کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا‘ تاہم تمام ذمہ داری بیرونی عوامل پر نہیں ڈالی جا سکتی۔ حکومتی بدانتظامی‘ کمزور نگرانی‘ ذخیرہ اندوزی پر قابو پانے میں ناکامی اور پٹرولیم مصنوعات پر بھاری لیوی اور ٹیکسوں نے مہنگائی کو بڑھاوا دیا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ پورے معاشی نظام کو متاثر کرتا ہے۔

جب ایندھن مہنگا ہوتا ہے تو ٹرانسپورٹ‘ زراعت‘ صنعت اور اشیائے خورونوش سب کی لاگت بڑھ جاتی ہے۔ آج متوسط اور کم آمدنی والا طبقہ اپنی آمدن اور اخراجات کے مابین بڑھتی ہوئی خلیج سے پریشان ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی اور دیگر بالواسطہ ٹیکسوں میں فوری کمی کرے‘ ناجائز منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف مؤثر کارروائی اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو قابو میں لانے کیلئے ہنگامی اقدامات کرے۔ اگر فوری سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو بڑھتی ہوئی قیمتیں نہ صرف عوامی مشکلات میں مزید اضافہ کریں گی بلکہ معاشی استحکام‘ سماجی ہم آہنگی اور حکومتی ساکھ کیلئے بھی ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>موسمیاتی بقا کا چیلنج(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-02/11239</link><pubDate>Tue, 02 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-02/11239</guid><description>ورلڈ بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق 2030ء تک جنوبی ایشیا کی تقریباً 90 فیصد آبادی شدید گرمی کی لہر سے دوچار ہو سکتی ہے۔ پاکستان اس بحران کے مرکز میں کھڑا ہے‘ جہاں ملتان‘ بہاولنگر‘ جیکب آباد‘ لاڑکانہ‘ سکھر اور دادو سمیت نو اضلاع میں شدید حدت کے باعث ناقابلِ رہائش حالات پیدا ہو نے کا اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے۔بڑھتا ہوا درجہ حرارت‘ طویل ہیٹ ویوز‘ پانی کی قلت‘ شہروں کا بے ہنگم پھیلاؤ اور کمزور ماحولیاتی منصوبہ بندی ان خطرات کو دو چند کرنے کا باعث بن رہے ہیں۔ اگرچہ خطرے کا یہ نشان اب زیادہ دور نہیں‘ تاہم ماہرین کے مطابق اگر حکومت اور عوام مشترکہ حکمت عملی اپنائیں تو آنیوالے چار برس فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس ضمن میں حکومتی سطح پر فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔

شہروں میں اربن ہیٹ آئی لینڈ اثر کم کرنے کیلئے بڑے پیمانے پر شجرکاری‘ پارکس اور گرین کوریڈورز کی بحالی ضروری ہے۔ اسی طرح عمارتوں اور انفراسٹرکچر کو 50 ڈگری سینٹی گریڈ جیسے شدید درجہ حرارت کے مطابق ڈھالنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ عوامی سطح پر بھی رویوں میں تبدیلی ناگزیر ہے۔  پاکستان کوکم کاربن اخراج کے باوجود موسمیاتی تبدیلی کے شدید اثرات کا سامنا ہے۔  لہٰذا بین الاقوامی برادری کی ذمہ داری ہے کہ  پاکستان کو کلائمیٹ فنانس تک آسان رسائی‘ ٹیکنالوجی کی منتقلی اور ڈیزاسٹر ریزیلینس منصوبوں میں تعاون یقینی بنائے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بابے جنہیں خود نوشت لازماً لکھنی چاہیے(محمد اظہارالحق)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-06-02/52044/40497724</link><pubDate>Tue, 02 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-06-02/52044/40497724</guid><description>خود نوشت کے حوالے سے اہم ترین بابے مجیب الرحمن شامی ہیں!!وہ جو فرنگی زبان میں کہتے ہیں In the middle of it‘ یعنی ہنگاموں کے درمیان رہنا‘ تو شامی صاحب کم از کم پچپن‘ ساٹھ برس سے صحافتی اور سیاسی ہنگاموں کے درمیان جی رہے ہیں۔ ان سے اختلاف کیا جا سکتا ہے۔ مجھے بھی ہے۔ خاص کر ضیا الحق کے عہد کے حوالے سے۔ ٹی وی ٹاک شوز میں اس موضوع پر ان سے کھل کر اختلاف کا اظہار کرتا رہا۔ دسترخوان کی طرح ان کا دل بھی بڑا ہے۔ اختلافِ رائے کو محبت اور مسکراہٹ کے ساتھ برداشت کرتے ہیں۔ اختلاف کے باوجود اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ وہ بے شمار واقعات و حالات کے گواہ ہیں۔ ان کا مطالعہ اور معلومات حیران کن ہیں۔ جب بھی تاریخ اور سیاست کے ضمن میں مشکل پیش آئے تو ان سے پوچھتا ہوں اور وہ ایک سیکنڈ میں اس طرح رہنمائی کرتے ہیں جیسے اسی کی تیاری کر کے بیٹھے ہوئے تھے۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ یہ زحمت انہیں رات گئے دیتا ہوں۔شامی صاحب کی خود نوشت پاکستان کی تاریخ‘ سیاست اور شخصیات کا انسائیکلو پیڈیا ہو گی۔ اس میں بے پناہ معلومات ہوں گی۔ بھٹو صاحب کے زمانے میں معتوب رہے۔ جنرل ضیا کا انہیں قرب حاصل رہا۔ شریف فیملی سے ان کے سیاسی اور ذاتی روابط ہیں۔ زندگی جیسے عہد ساز اور طوفانی جریدے کے مدیر رہے۔ قومی ڈائجسٹ کئی دہائیوں سے نکال رہے ہیں۔ ایک روزنامے کی ایڈیٹر شپ اس کے علاوہ ہے۔ ایسے شخص کی خود نوشت معلومات کا خزانہ نہیں ہو گی تو کیا ہو گی؟ وہ بہادری کی طرح اپنے خیالات اور آرا سے رجوع بھی کر سکتے ہیں۔ اگر میں بھول نہیں رہا تو مظفر محمد علی مرحوم کو دیے گئے ایک طویل انٹر ویو میں مشرقی پاکستان کے حوالے سے انہوں نے اپنے خیالات سے برملا رجوع کیا۔ کچھ دوسرے صاحبان کی طرح‘ جن کا نام شامی صاحب کے نام کے ساتھ ‘ بدقسمتی سے‘ بریکٹ کیا جاتا ہے‘ شامی صاحب نے تذبذب‘ آئیں بائیں شائیں اور مذبذبین بین ذلک لا الی ھؤلاء ولا الیھؤلا کی صورت حال اپنے اوپر کبھی طاری نہیں کی۔ظاہر ہے خود نوشت لکھنے پر انہیں‘ یا کسی کو بھی مجبور نہیں کیا جا سکتا۔مگر نہ لکھنے کی صورت میں وہ قومی تاریخ کے طالب علموں کا نقصان کریں گے۔ میں یہ کہنے کی جسارت نہیں کر سکتا کہ وہ کتمانِ حق کے مرتکب ہوں گے۔ مگر بڑے بڑے سیاستدانوں اور اس میدان کے کھڑپینچوں کے بارے میں ان کی معلومات تحیر خیز ہیں جو صفحۂ قرطاس پر منتقل ہوں تو ٹھہرے ہوئے پانیوں میں بلا کا ارتعاش پیدا کریں گی۔ ہم تو‘ بقول سعدی یہی عرض کر سکتے ہیں کہ: خیری کُن ای فلان و غنیمت شمار عمر!!!دوسرے بابا جی جنہیں خود نوشت لکھنی چاہیے‘ عطا الحق قاسمی ہیں۔ کچھ حصے وہ لکھ بھی چکے ہیں۔ جیسے وزیر آباد میں قیام کے بارے میں کئی قسطیں چھپ چکی ہیں۔ اپنی زندگی کے کچھ دیگر ٹکڑوں پر بھی وہ لکھتے رہے ہیں۔ یعنی اگر وہ خود نوشت لکھنا شروع کریں گے تو بہت سا کام انہیں کیا ہوا مل جائے گا۔ بس اسے زمانی لحاظ سے ترتیب دینا ہو گا۔ ہاں بہت سے اضافے کرنا ہوں گے۔ ادیبوں اور شاعروں کے بارے میں جو کچھ وہ جانتے ہیں اور جن پہلوئوں کے بارے میں وہ جانتے ہیں ‘ شاید ہی کوئی اور جانتا ہو۔ پھر پیرایۂ بیان جکڑ لینے والا! سبحان اللہ!! ایک بار مجھے ایک واقعہ سنا رہے تھے جو اُس وقت پیش آیا جب بھارت میں‘ وہ اور ضمیر جعفری مرحوم ہوٹل کے ایک ہی کمرے میں قیام فرما تھے۔ جی چاہتا تھا وہ بولتے رہیں اور میں سنتا رہوں۔ بہت سے شاعر شَرَبَ یَشرِبُ کے درمیان ہی نہیں‘ دورانِ سفر بھی بے نقاب ہوتے ہیں۔ عطا صاحب بے شمار &#39;&#39;بے نقابیوں‘‘ کے عینی شاہد ہیں۔ وہ ڈرنے والے ہیں نہیں لیکن اگر خوفِ فسادِ خلق سے بچنا چاہیں تو نام تبدیل کر سکتے ہیں یا اشاروں میں نشاندہی کر سکتے ہیں۔ ان کی خود نوشت ادب کی نہیں مگر ادیبوں کی ایسی تاریخ ہو گی جس میں عبرت کا سامان بھی ہو گا اور چٹخارہ بھی ہو گا۔ دعا ہے کہ ان کا دل اس کام کی طرف مائل ہو۔ دعا کے علاوہ اور تو کوئی چارۂ کار نہیں! تیسرے بابا جی جنہیں خود نوشت لازماً لکھنی چاہیے‘ افتخار عارف ہیں۔ نہیں معلوم کچھ اور احباب نے کبھی انہیں کہا یا نہیں مگر میں نے کئی بار ان کی خدمت میں اس حوالے سے عرض گزاری کی۔ ادیبوں اور شاعروں کے متعلق ان کی ذاتی معلومات بے شمار ہیں اور بے پناہ ہیں۔ وہ پاکستان آنے سے پہلے تعلیم مکمل کر چکے تھے۔ بھارت‘ خاص طور پر لکھنؤ کے حوالے سے ان کے پاس اطلاعات کا قابلِ رشک ذخیرہ ہے۔ پھر وہ الیکٹرانک میڈیا میں اہم مناصب پر رہے۔ لندن میں طویل قیام رہا۔ شاید ہی کوئی پاکستانی یا بھارتی ادیب ہو جو وہاں ان کے پاس نہ آیا ہو۔ ان کے پاس مشاہدات کا بہت بڑا انبار ہے۔ یوں سمجھیے ایسا خرمن ہے جس میں کئی طرح کے خوشے ہیں۔ جب بھی کسی ادبی علمی شخصیت کے بارے میں ان سے پوچھا‘ ان کی معلومات نے حیران کر دیا۔ اس میں شک نہیں کہ ان کی صحت کے مسائل ہیں۔ اگر لکھنا ان کے لیے فقدانِ راحت کا سبب ہے تو وہ کسی بھی نیازمند کو ڈکٹیٹ کرا سکتے ہیں۔ ان کی خود نوشت ایک انتہائی قیمتی مخزن ہو گی۔کاش وہ اس کارِ خیر پر آمادہ ہو جائیں۔ مستنصر حسین تارڑ صاحب کی کئی تصانیف ان کی خود نوشت بھی ہیں۔ خود نوشت شعیب بن عزیز کو بھی لکھنی چاہیے۔ یہ بابا جی متعدد وزرائے اعلیٰ کے قریبی مشیر رہے ہیں۔ ڈی جی پی آر پنجاب میں سربراہ سمیت کئی حیثیتوں میں کام کیا۔ انہوں نے دیکھا کہ لباس ہائے فاخرہ کے نیچے کون کون برہنہ ہے اور کس کس کے لیے عزتِ نفس پرِ کاہ کی حیثیت نہیں رکھتی۔ یہ معلومات قوم کی امانت ہیں جو قلم بند ہونی چاہئیں۔ ادیبوں شاعروں کے نہاں خانے بھی ان کے سامنے وا تھے۔ مگر جو بابا جی بیسیوں احِبّا کے پُرزور‘ مسلسل‘ اصرار اور مار کٹائی کے باوجود ابھی تک شعری مجموعہ ترتیب دینے پر آمادہ نہیں ہوئے‘ ان کا خود نوشت لکھنا معجزہ ہی ہو گا۔ مگر ہم خواہش تو کر ہی سکتے ہیں! اب کچھ بابیوں کا بیان ہو جائے۔ آپا کشور ناہید اپنی کتھا لکھ چکیں۔ ان کی کئی اور کتابوں میں بھی خود نوشت کے ٹکڑے موجود ہیں۔ شہرت سے گریزاں پروین قادر آغا کی خود نوشت انتہائی دلچسپ ہو گی۔ اس کی کئی وجوہ ہیں۔ ان کا تعلق اُس لاہور سے ہے جو فصیل کے اندر تھا۔ وہ سر شیخ عبد القادر کی سگی پوتی ہیں۔ شیخ عبد القادر تقسیم سے پہلے کئی بلند مناصب پر فائز رہے۔ مگر ان کا بہت بڑا منصب یہ تھا کہ انہوں نے بانگ درا کا دیباچہ لکھا۔ ادبی جریدہ مخزن کا اجرا انہوں نے 1901ء میں کیا۔ علامہ اقبال سمیت بر صغیر کے چوٹی کے ادیبوں اور شاعروں کی تخلیقات مخزن میں چھپتی رہیں۔ جسٹس منظور قادر ‘ پروین قادر آغا کے سگے چچا تھے۔ آغا صاحبہ کی خود نوشت کا جو حصہ ان کے خاندان کی تاریخ اور حالات پر مشتمل ہو گا‘ وہ ادب اور تاریخ کے شائقین کیلئے خوانِ یغما سے کم نہ ہو گا۔ پروین قادر آغا سول سروس کے بلند ترین مناصب پر فائز رہیں۔ انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی کی نائب صدر رہیں۔ ریٹائر منٹ کے بعد بیسیوں ٹرسٹ اور فلاحی ادارے چلا رہی ہیں۔ میری ناقص معلومات کی رُو سے پاکستان سول سروس سے وابستہ کسی خاتون نے ابھی تک خود نوشت نہیں لکھی۔ وہ وفاقی سیکرٹری بھی رہیں۔ ان کی خود نوشت‘ اگر وہ لکھیں تو کئی پہلوؤں سے اپنی نوعیت کی منفرد تصنیف ہو گی۔ جس زمانے میں انہوں نے سول سروس میں شمولیت اختیار کی‘ خواتین کی تعداد سول سروس میں آٹے میں نمک سے بھی کم تھی۔ اس حوالے سے ان کے تجربات بہت کچھ بتائیں گے! گفتنی بھی ناگفتنی بھی!!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_57182973.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ابراہم ا کارڈ، بے وقت کی راگنی(جاوید حفیظ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/javed-hafiz/2026-06-02/52045/31415828</link><pubDate>Tue, 02 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/javed-hafiz/2026-06-02/52045/31415828</guid><description>2020ء کے آغاز میں صدر ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے کی داغ بیل ڈالی۔ وجہ تسمیہ اس طرح سمجھ آتی ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو یہودی‘ عیسائی اور مسلمان تینوں مانتے ہیں‘ اس مقدس ہستی کے دو بیٹوں کی آل اولاد سے یہ مذاہب تشکیل پائے‘ گویا حضرت ابراہیم علیہ السلام ان سماوی مذاہب کے مابین ایک مشترک اور مقدس شخصیت ہیں۔ یہ مذہبی علامت کا بڑا ذہین استعمال تھا۔ صدر ٹرمپ کی پہلی مدتِ صدارت اختتام کے قریب تھی جب متحدہ عرب امارات اور بحرین ابراہم اکارڈ میں شمولیت پر رضامند ہوئے۔ اس اہم پیشرفت میں صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر پیش پیش تھے۔ موصوف اسرائیل کے ساتھ گہرے تعلقات رکھتے ہیں اور وہاں سرمایہ کاری بھی کرتے رہتے ہیں۔ عرب ممالک میں یہ احساس جنم لے رہا تھا کہ جنگوں کے ذریعے ہم فلسطینیوں کے حقوق حاصل نہیں کر سکے بلکہ ہر جنگ کے نتیجے میں اسرائیل مضبوط تر حریف کی شکل میں سامنے آیا لہٰذا اسرائیل سے صلح کر لی جائے‘ سفارتی اور تجارتی تعلقات قائم کیے جائیں۔ اسرائیل سے سرمایہ کاری آئے گی‘ سیاح آئیں گے‘ تجارت ہو گی اور ہم اسرائیل کی اعلیٰ ٹیکنالوجی سے مستفید ہوں گے۔ عرب امارات اور بحرین کے بعد مراکش بھی ابراہم اکارڈ میں شامل ہو گیا۔ بدلے میں امریکہ نے مغربی صحارا کے تنازع میں مراکش کی حمایت شروع کر دی‘ یعنی الجزائر کی پوزیشن کو رد کر دیا۔ یہ ایک الگ موضوع ہے جس پر پھر کبھی بات ہو گی۔2020ء میں جب ابراہم اکارڈ ہوئے تو صورتحال مختلف تھی۔ تب غزہ کی جنگ نہیں ہوئی تھی اور نہ ہی ایران اور لبنان پر بمباری ہوئی تھی۔ اسرائیل اور اس کے وزیراعظم کے خلاف جو نفرت آج مسلم ممالک میں ہے‘ تب قدرے کم تھی‘ لہٰذا اس بات کو عالم اسلام میں بادل نخواستہ اس طرح سے قبول کر لیا گیا کہ متحدہ عرب امارات‘ بحرین اور مراکش آزاد ممالک ہیں‘ انہوں نے یہ فیصلہ اپنی قومی مصلحتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے ملک کے بہترین مفاد میں کیا ہو گا۔ اب چند روز قبل صدر ٹرمپ نے آٹھ مسلم ممالک کے سربراہان سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور کہا کہ آپ آٹھوں ممالک کیلئے لازمی ہے کہ ابراہم اکارڈ میں شامل ہو جائیں۔ لگتا تھا کہ موصوف زمینی حقائق سے خاصے منقطع ہیں۔ پھر اپنی کیبنٹ میٹنگ میں انہوں نے کہا: I think they owe it to us۔ یعنی ان ممالک پر لازم ہے کہ ہمارے لیے یہ کام کریں۔ مجھے حیرانی اس بات پر تھی کہ آٹھ ممالک میں سے ترکیہ‘ مصر‘ متحدہ عرب امارات اور اردن وغیرہ تو اسرائیل کو تسلیم کر چکے ہیں‘ تو پھر ان کو ابراہم اکارڈ میں شمولیت کا کیوں کہا جا رہا ہے۔ ریسرچ کے بعد پتا چلا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے اور ابراہم اکارڈ میں شامل ہونے میں بڑا فرق ہے۔ مثلاً مصر‘ ترکیہ اور اردن اسرائیل کو تسلیم کرنے کے باوجود دو ریاستی حل کی بات کرتے ہیں جبکہ ابراہم اکارڈ کا مطلب ہے کہ اسرائیل کو نہ صرف تسلیم کریں بلکہ اس کے ساتھ شیر وشکر ہو جائیں‘ فلسطینی حقوق کی بات بھول جائیں۔ جب صدر ٹرمپ نے ٹیلی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ابراہم اکارڈ میں شرکت کو لازمی قرار دیا تو سامعین پر مکمل خاموشی بلکہ سکتے کی کیفیت طاری ہو گئی۔ تمام مسلم لیڈر حیران تھے کہ یہ بے وقت کی راگنی کیوں چھیڑی جا رہی ہے۔ صدر ٹرمپ یہ توقع کر رہے تھے کہ جب ایران کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط ہوں تو ساتھ ہی یہ آٹھ ممالک اسرائیل کے ساتھ ابراہم اکارڈ سائن کر دیں۔ یہ ایک ناممکن سا خیال ہے‘ اور پھر یہ کہنا کہ ہم نے ان ممالک کیلئے اتنا کچھ کیا ہے اب ان کا فرض بنتا ہے کہ ہماری بات مانیں۔ میں سوچ میں پڑ گیا کہ امریکہ نے مسلم ممالک کیلئے کیا کیا ہے؟ جب اسرائیل غزہ میں قتلِ عام کر رہا تھا تو اسے امریکہ کی مکمل حمایت حاصل تھی۔ امریکہ نے خود بمباری کرکے تقریباً تین ہزار بے گناہ ایرانیوں کو شہید کیا۔ ان کا کیا قصور تھا‘ وہ تو ایرانی حکومت کے لوگ بھی نہیں تھے۔ شاید یہ حکم صادر کرتے وقت صدر ٹرمپ کے ذہن میں ہوگا کہ یہ کمزور اور تابع فرمان قسم کے ممالک میری بات فوراً مان جائیں گے۔ تاہم اگلے ہی روز سعودی عرب کا بیان آ گیا کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات نارمل کرنے کیلئے ہم اپنی پرانی شرط پر قائم ہیں کہ فلسطینیوں کو حقِ خود ارادیت دیا جائے اور جب تک دو ریاستی حل کی جانب ٹھوس پیشرفت نہیں ہو گی‘ اسرائیل کیساتھ تعلقات قائم کرنے کی بات نہیں ہو سکتی۔ اس طرح سعودی عرب نے صدر ٹرمپ کی تجویز کو ماننے سے انکار کردیا۔ پاکستان کے وزیر دفاع نے اسمبلی میں بیان دیا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنا پاکستان کی نظریاتی اساس کے خلاف ہے‘ ہمارا مؤقف ہے کہ 1967ء کی سرحدوں کی بنیاد پر فلسطینی ریاست قائم کی جائے‘ جس کا دارالحکومت القدس ہو۔صدر ٹرمپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ بالآخر ایران کو بھی ابراہم اکارڈ میں شامل کر لیا جائے گا۔ میرے خیال میں موصوف زمینی حقائق سے کٹے ہوئے ہیں کیونکہ یہ سارا پلان خیالی پلائو سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ اندریں حالات ایران اسرائیل کو تسلیم کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ چند سال پہلے تک میں خود اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے کے حق میں تھا بشرطیکہ اسرائیل فلسطینی حقوق کی مکمل پاسداری کرے مگر اب ایسا لگتا ہے کہ گریٹر اسرائیل کے خبط میں مبتلا نیتن یاہو حکومت ایسا کبھی نہیں کرے گی۔ اب اسرائیل کے پاس یزہاک رابین اور شامیر جیسے معتدل مزاج لیڈر نہیں ہیں۔ موجودہ اسرائیلی حکومت صہیونی سوچ کے تابع ہے۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے لکھا ہے: صدر ٹرمپ کی تجویز نے پورے مڈل ایسٹ کو ششدر کر دیا ہے۔ میری رائے میں صدر ٹرمپ چونکہ اس لایعنی جنگ سے کچھ حاصل نہیں کر پائے لہٰذا انہوں نے اپنے تئیں ایک آخری کوشش کی کہ میں ان ملکوں کو ابراہم اکارڈ میں لا کر اپنے ووٹروں کو بتا سکوں گا کہ دیکھو میں نے کتنا کچھ حاصل کر لیا ہے‘ لیکن: اے بسا آرزو کہ خاک شدہ۔ عرب ٹی وی چینلز پر گزشتہ تین ماہ سے بے سود خلیجی جنگ کے بارے میں تبصرے جاری ہیں۔ میں خود درجنوں مرتبہ ان تبصروں میں حصہ لے چکا ہوں۔ صدر ٹرمپ کی اس انوکھی تجویز پر ایک عرب مبصر نے کہا کہ اس جنگ کو شروع کرنے کا عرب ممالک نے نہیں کہا تھا مگر صدر ٹرمپ یہ تاثر دے رہے ہیں کہ ہمیں انکا احسان مند ہونا چاہیے۔اور تو اور اسرائیلی حکومت نے بھی صدر ٹرمپ کی تجویز کے حق میں کوئی بیان نہیں دیا‘ اس کی وجہ یہ نہیں کہ اسرائیلی حکومت کو یہ تجویز پسند نہیں آئی بلکہ اصل وجہ یہ ہو گی کہ صدر ٹرمپ کا مسلم ممالک سے یہ بے وقت مطالبہ بہت ہی اچانک اور &#39;نان سٹارٹر‘ تھا؛ یعنی بات آگے بڑھ ہی نہیں سکتی تھی۔ کوئی بھی مسلم ملک اس وقت ابراہم اکارڈ کا حصہ بننے کا خطرہ مول نہیں لے سکتا۔ مسلم عوام غصے سے بھرے پڑے ہیں۔ یہ جنگ خود امریکہ میں غیر مقبول ہو رہی ہے اور امریکہ میں اسرائیل کی مقبولیت بھی کم ہوئی ہے۔ عرب ممالک تو شروع سے اس جنگ کے مخالف تھے۔ امریکہ اور اسرائیل کی ہٹ دھرمی سے وہ کراس فائر میں پھنس گئے۔ آبنائے ہرمز بند ہونے سے ان کی تجارت ختم ہو کر رہ گئی‘ سیاحت پر بُرا اثر پڑا‘ بین الاقوامی پروازیں سخت متاثر ہوئیں۔ اسرائیل کی ایما پر لڑی گئی اس جنگ نے بہت کچھ ملیا میٹ کر دیا ہے۔ خود خلیجی ممالک کو یہ احساس ہو رہا ہے کہ جس امریکی عسکری چھتری کو وہ اپنا مضبوط دفاع سمجھ رہے تھے اس کی انہیں بھاری قیمت چکانا پڑی ہے۔ اب انہیں اپنے دفاع کیلئے مقامی حل تلاش کرنا ہوں گے کہ سات سمندر پار بیٹھی سپر پاور عرب ممالک سے کہیں زیادہ اسرائیل کی حلیف ہے۔اگر پاکستان کی بات کریں تو مصالحتی کردار کو اگرچہ کئی چیلنجز درپیش ہیں لیکن پوری دنیا میں ہمارا امیج بہت بہتر ہوا ہے۔ اب پاکستان ایک امن پسند اور صلح جُو ملک کے طور پر ابھرا ہے اور اس کے کردار اور انتھک کوشش کو سارے عالم میں سراہا جا رہا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_85338835.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>گلگت بلتستان میں انتخابات(ڈاکٹر حسین احمد پراچہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-06-02/52046/53898908</link><pubDate>Tue, 02 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-06-02/52046/53898908</guid><description>ایسا بے مثال حسنِ انتظام تو صرف وطنِ عزیز ہی میں ہو سکتا ہے کہ جہاں کسی ایک سیاستدان کو اندرونِ ملک کسی خاص منزل کی طرف سفر سے روکنے کیلئے ہزاروں لوگوں کو اندرون اور بیرونِ ملک پرواز نہ کرنے دیا جائے۔ مطلوبہ سیاستدان کے ساتھ دیگر مسافروں کو بھی ایئر پورٹ نہ پہنچنے دیا گیا۔ہفتے کے روز پریشان حال مسافروں کو بچوں اور بوڑھوں سمیت 40‘ 45ڈگری سینٹی گریڈ کی تپتی دھوپ اور شعلے اگلتے سورج تلے اور انگارہ بنی سڑکوں پر رکشوں اور موٹر سائیکلوں پر جھلسنے دیا گیا۔ رکن قومی اسمبلی اور سابق سپیکر اسد قیصر نے انتظامیہ سے اپیل کی کہ چاہے انہیں سکردو نہ روانہ ہونے دیا جائے مگر باقی مسافروں کو تو محرومِ سفر نہ کیا جائے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر جو وڈیو جاری کی  اس میں اسلام آباد ایئر پورٹ کی طرف جانے والی قریبی سڑک پر کھڑی گاڑیوں کی تاحد نگاہ قطار دیکھی جا سکتی ہے۔ پی ٹی آئی کے قائدین کے مطابق انہیں گلگت بلتستان انتخابی مہم میں حصہ لینے سے روکنے کیلئے یہ ساری کارروائی کی گئی تاہم اسد عمر اور مصطفی نواز کھوکھر کے علاوہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق بھی اس ٹریفک جام میں پھنسے رہ گئے۔ وہ بھی انتخابی مہم میں حصہ لینے کیلئے گلگت جا رہے تھے۔ ان کی پرواز بھی مِس ہو گئی۔ خواجہ صاحب نے اپنی حکومت کی اس &#39;&#39;بلاضرورت‘‘ کارروائی پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ سابق وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق شہیدِ جمہوریت خواجہ محمد رفیق کے فرزند ارجمند ہیں۔ اس لیے سچی بات ان کے منہ سے نکل ہی جاتی ہے۔ آج کل بطورِ خاص وہ کلمۂ حق کہہ گزرنے کی شہرت رکھتے ہیں۔ خواجہ سعد رفیق سے پرانی یاد اللہ ہے۔ کھل کر تو وہ بات نہیں کرتے مگر ان کی باتوں سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ ان کا سیاسی نقطۂ نظر ان کی جماعت کی پالیسی سے مختلف ہے۔گلگت‘ سکردو‘ ہنزہ وغیرہ کی بلند بالا چوٹیوں اور سرسبز وادیوں کے حسن و جمال کے قصے زبانِ زد خاص و عام رہتے ہیں مگر وہاں کے حکومتی و انتظامی معاملات کے بارے میں کم ہی لوگ جانتے ہیں۔ گلگت بلتستان پاکستان کے زیر انتظام علاقہ ہے۔ 1840ء سے پہلے گلگت اور بلتستان مختلف ریاستوں میں بٹے ہوئے تھے۔ اس وقت ہنزہ اور نگر وغیرہ الگ خود مختار ریاستیں تھیں۔ گلگت بلتستان کہ جس کی آسمان کو چھوتی ہوئی چوٹیوں کو دیکھنے کیلئے پاکستان سمیت دنیا بھر سے سیّاح آتے اور ربِّ کائنات کی اس بے نظیر تخلیق کی خوب داد دیتے ہیں۔ اگرچہ گلگت بلتستان پاکستان کے زیر انتظام ایک خود مختار علاقہ ہے مگر ابھی تک یہ باقاعدہ دستوری صوبہ نہیں۔ گویا یہ سرزمین بے آئین ہے۔گلگت بلتستان میں تین انتظامی ڈویژنز ہیں۔ گلگت ڈویژن میں گلگت کے علاوہ ہنزہ‘ نگر اور غذر شامل ہیں۔ بلتستان ڈویژن میں سکردو‘ گھانچے اور شگر وغیرہ شامل ہیں۔ جبکہ تیسرے ڈویژن میں میں دیامر‘ استور‘ داریل اور تانگیر کے علاقے آتے ہیں۔ یہ پاکستان کے شمال میں واقع انتہائی خوبصورت علاقہ ہے۔ یہ علاقہ نیلگوں جھیلوں‘ دریاؤں‘ آبشاروں‘ اونچے پہاڑوں‘ برف پوش چوٹیوں اور چشموں پر مشتمل ہے۔ دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو بھی گلگت بلتستان کے ضلع شگر میں ہے۔ اس کی بلندی سطح سمندر سے 8611میٹر ہے جو ماؤنٹ ایورسٹ سے صرف 237 میٹر کم ہے۔ لگے ہاتھ آپ کو یہ بھی بتا دوں کہ قراقرم ہائی وے دنیا کا آٹھواں عجوبہ کہلاتی ہے۔ قراقرم ہائی وے کی لمبائی 1300کلومیٹر ہے جو حسن ابدال سے شروع ہو کر چین کے علاقے کاشغر پر ختم ہوتی ہے۔اس خطے کی سیاسی جماعتوں اور عوامی و سماجی تنظیموں نے کئی سالوں سے گلگت بلتستان کو پاکستان کا باقاعدہ صوبہ بنانے یا اسے واضح دستوری سٹیٹس دینے کا مطالبہ کر رکھا ہے مگر ابھی تک اس سلسلے میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ 2020ء کے انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف دو تہائی اکثریت سے گلگت بلتستان کا انتخاب جیت گئی تھی۔ اب نئے انتخابات کیلئے اس خطے کی 33نشستوں کیلئے انتخابی مہم زوروں پر ہے۔ پی ٹی آئی‘ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان انتخابی معرکہ زور شور سے برپا ہونے کی توقعات کی جا رہی ہیں۔ اس وقت بعض رپورٹوں کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے امیر مقام اور دیگر کئی وزراء اور عہدیدار انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔ جبکہ پی ٹی آئی ترجمان کے بقول اس پارٹی کی انتخابی مہم اس کے میدان میں اترنے والے امیدوار خود ہی جوش و خروش سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ تحریک انصاف کے قائدین کا کہنا ہے کہ اس کے مرکزی رہنماؤں کو اوّل تو اس انتخابی معرکہ آرائی سے دور رکھا جا رہا ہے اور اگر اُن میں سے کوئی وہاں پہنچ جاتا ہے تو پھر اسے صوبہ بدر کر دیا جاتا ہے۔ تحریک انصاف کے صوبائی صدر اور قومی اسمبلی کے رکن جنید اکبر ایک سنجیدہ شخصیت کا تاثر رکھتے ہیں۔ انہیں بھی گلگت‘ سکردو اور ہنزہ وغیرہ میں ووٹروں سے ہمکلام ہونے کا موقع نہیں دیا گیا اور صوبہ چھوڑنے کا حکم دیا گیا۔گلگت بلتستان کے الیکشن کمشنر راجہ شہباز خان کا کہنا ہے کہ وہ تمام جماعتوں پر انتخابی ضابطۂ اخلاق کا یکساں نفاذ کر رہے ہیں۔ انہوں نے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پر انتخابی عمل میں مداخلت کا الزام لگایا ہے۔ سات جون کو گلگت بلتستان میں 24 براہ راست انتخابی سیٹوں کیلئے پولنگ ہو گی۔ چھ خواتین کی نشستیں ہیں اور تین ٹیکنو کریٹس کی سیٹیں ہیں۔ اس طرح یہ 33 رکنی یک ایوانی پارلیمنٹ ہے۔ اس سے پہلے 2020ء میں جو انتخابات ہوئے تھے اس میں پاکستان تحریک انصاف کو آزاد ارکان کی حمایت اور خواتین اور ٹیکنو کریٹس کی مخصوص نشستیں ملا کر 22 سیٹیں حاصل ہوئی تھیں گویا اُن کی دو تہائی اکثریت تھی۔ نومبر 2025ء میں گلگت بلتستان اسمبلی نے اپنی مدتِ مقررہ مکمل کر لی تھی۔ ضابطے کے مطابق نئے انتخابات جنوری 2026ء میں ہونے تھے مگر اُن دنوں اس سارے پہاڑی خطے میں شدید برفباری ہو رہی تھی اور سردی ناقابلِ برداشت تھی۔ اس لیے انتخابات ملتوی کیے گئے اور اب سات جون کو خوشگوار موسم میں انتخابات ہو رہے۔ جنید اکبر‘ اسد قیصر‘ مصطفی نواز کھوکھر اور علامہ راجہ ناصر عباس نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی فضا کو موسمی فضا کی طرح خوشگوار بنائے۔ اس وقت گلگت بلتستان میں نگران حکومت نے انتظامات سنبھال رکھے ہیں۔ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے چیف جسٹس سپریم اپیلٹ کورٹ گلگت بلتستان سے اپیل کی ہے وہ چیف الیکشن کمشنر کو اس اہم خطے میں آزادانہ و منصفانہ انتخابات کرانے کا پابند کریں۔ گلگت بلتستان میں پاکستان کے دوسرے صوبوں کی نسبت شرح خواندگی بہت بلند ہے۔ وہاں دینی تعلیم ہو یا عام رائج دنیاوی ایجوکیشن‘ دونوں اقسام کا معیار بہت اونچا ہے۔ ماضی میں ہم نے وہاں مقیم رہنے والے پروفیسروں‘ دانشوروں اور صحافیوں وغیرہ سے سن رکھا ہے کہ یہ نہایت باشعور لوگوں کی کمیونٹی ہے۔ حکومتِ وقت ان کے شعور پر مکمل اعتماد کرے اور صاف شفاف انتخابات کو یقینی بنائے تاکہ اگلے عام انتخابات کیلئے حکومتی ساکھ مضبوط ہو سکے۔مصطفی نواز اور اسد قیصر جیسے سینئر سیاستدانوں کا کہنا ہے کہ اس وقت ملک کو سیاست و معیشت اور عوام الناس کو خوفناک مہنگائی کی شکل میں جو ناقابلِ بیان مسائل درپیش ہیں ان کا صرف اور صرف ایک حل ہے کہ حکومت اپوزیشن کے ساتھ افہام و تفہیم کا راستہ اپنائے اور اس کا آغاز گلگت بلتستان کے فیئر اینڈ فری انتخابات سے ہو۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_70033906.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>آئی ایم ایف سے نکلنے کا حقیقی راستہ(شاہد کاردار)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-kardar-/2026-06-02/52047/42674246</link><pubDate>Tue, 02 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-kardar-/2026-06-02/52047/42674246</guid><description>پاکستان بار بار پیدا ہونے والے معاشی بحرانوں کی وجہ سے اب تک 24 بار آئی ایم ایف سے قرض لے چکا ہے‘ جسے تکنیکی زبان میں فنڈ پروگرام میں شامل ہونا کہا جاتا ہے۔ کئی مرتبہ یہ اعلان کیا گیا کہ یہ ہمارا آخری پروگرام ہوگا اور اس کے بعد ہمیں آئی ایم ایف کے پاس جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی لیکن حقیقت یہ ہے کہ آج تک ایسے اقدامات نہیں کیے گئے جن سے ان وجوہات کا خاتمہ ہو سکے جو ملک کو بار بار مالی بحران کی طرف دھکیلتی ہیں اور ہمیں سخت شرائط پر قرض لینے پر مجبور کر دیتی ہیں۔ہمارے مسلسل مالی بحران کی ایک بڑی وجہ ٹیکس کا ناقص نظام ہے۔ اس میں نہ صرف نظام کا کمزور ڈھانچہ بلکہ ٹیکس کی شرحیں بھی شامل ہیں۔ پاکستان کا ٹیکس نظام مختلف اداروں اور ایجنسیوں میں تقسیم ہے۔ ہر صوبے میں ٹیکس کی شرحیں مختلف ہیں جبکہ وفاق اور صوبے کئی ایک جیسے ٹیکس الگ الگ شرحوں پر وصول کرتے ہیں۔ عوام کو اس نظام پر اعتماد نہیں رہا۔ یہ ایک ایسا نظام بن چکا ہے جس میں بے شمار رعایتیں‘ من مانیاں اور سخت گیر نفاذ شامل ہیں۔ حکام کی توجہ زیادہ تر انہی لوگوں پر رہتی ہے جو پہلے ہی ٹیکس نیٹ میں شامل ہیں جبکہ ٹیکس چوری کرنے والوں کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کی جاتی۔ ٹیکس کی شرحیں بڑھانے اور سختی کرنے سے لوگ ٹیکس نظام کا حصہ نہیں بنیں گے۔ سزا اور دباؤ پر مبنی‘ـ غیر یقینی اور غیر متوقع ٹیکس نظام رسمی معیشت کو سکڑنے پر مجبور کرتا ہے۔ اس کے برعکس غیر رسمی اور غیر دستاویزی معیشت کو فروغ ملتا ہے‘ نتیجتاً ٹیکس قوانین پر عملدرآمد کمزور ہوجاتا ہے اور سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔ معاشی ترقی کیلئے ایسا ٹیکس نظام ضروری ہے جو سادہ‘ قابلِ فہم اور پیشگی اندازہ لگانے کے قابل ہو۔ اس میں ٹیکس کی شرحیں کم ہوں مگراس کا دائرہ وسیع تاکہ آمدنی کے تمام ذرائع کے ساتھ یکساں سلوک کیا جا سکے۔ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کیلئے ٹیکس چھوٹ کی روایت ختم کرنا ہوگی۔ ٹیکس وصولی اور نفاذ کے پورے نظام کو ڈیجیٹل بنایا جائے اور ان شعبوں کو بھی ٹیکس نیٹ میں لایا جائے جو اَب تک اس سے باہر ہیں۔ ایک اور بڑا مسئلہ بے قابو سرکاری اخراجات ہیں۔ ہر سال حکومت کے اخراجات اس کی آمدن سے زیادہ ہو جاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ ریاست بہت زیادہ ترقیاتی سرمایہ کاری کرتی ہے بلکہ اس لیے کہ اخراجات کو آمدن کے مطابق محدود نہیں کیا جاتا۔ وفاق اور صوبوں میں بیوروکریسی کی تنخواہوں میں مسلسل اضافے سے اخراجات بہت بڑھ چکے ہیں۔ یہ اضافہ افراطِ زر کی شرح سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ سرکاری گاڑیوں کے بیڑے‘ پُرتعیش رہائشگاہیں‘ شاندار دفاتر‘ بیرونِ ملک دورے اور صوابدیدی بجٹ بھی اخراجات میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔ اٹھارہویں ترمیم کے بعد بھی وفاق کے پاس 40 سے زائد ڈویژنز اور 400 منسلک ادارے ہیں جن میں تقریباً 12 لاکھ ملازمین کام کرتے ہیں۔ بیوروکریسی کا موجودہ حجم تقریباً دو تہائی تک کم کرنا ہوگا اور نئی بھرتیوں پر پابندی عائد کرنا ہوگی۔ایک اور سنگین مسئلہ سرکاری ملکیتی کاروباری ادارے ہیں۔ ان کے مجموعی نقصانات چھ ہزار ارب روپے سے تجاوز کر چکے ہیں۔ حکومت بار بار انہیں مالی سہارا دیتی رہی ہے لیکن اس کے باوجود ان کے نقصانات میں ہر سال تقریباً ایک ہزار ارب روپے کا اضافہ ہو جاتا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر اداروں کی نجکاری بھی ممکن نہیں کیونکہ یا تو ان کا بنیادی مقصد ختم ہو چکا ہے یا وہ کاروباری لحاظ سے قابلِ عمل نہیں رہے۔ ایسے اداروں کو بند کرنا ہوگا۔ وفاقی ترقیاتی پروگرام (PSDP) بھی مالی مسائل میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ اس کے تحت اکثر ترقیاتی منصوبے سیاسی تشہیر اور نمائش کیلئے جلد بازی میں شروع کر دیے جاتے ہیں۔ ان کی لاگت‘ افادیت اور مستقبل کے اخراجات کا مناسب جائزہ نہیں لیا جاتا۔ نئے منصوبوں پر سخت پابندی ہونی چاہیے اور صرف وہی منصوبے مکمل کیے جائیں جن سے زیادہ معاشی فائدہ متوقع ہو۔ کم ترجیحی منصوبوں پر ہونے والے اخراجات کو مزید بڑھانے کے بجائے ان وسائل کا رخ تعلیم‘ صحت‘ عدالتی نظام‘ ریگولیٹری اصلاحات اور تجارت میں آسانی پیدا کرنے کی طرف موڑنا چاہیے۔تجارتی پالیسی بھی معاشی بحران کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ پاکستان کا عالمی ویلیو چین سے تعلق بہت کمزور ہے۔ ملک کے بیشتر صنعتی ادارے غیر مؤثر انداز میں کام کر رہے ہیں۔ انہیں ٹیرف اور غیر ٹیرف رکاوٹوں کے ذریعے تحفظ فراہم کیا جاتا ہے‘ جن میں ایس آر اوز‘ رعایتی خام مال‘ یقینی منافع اور صوابدیدی پابندیاں شامل ہیں۔ اس کا بوجھ برآمد کنندگان پر پڑتا ہے کیونکہ انہیں مہنگا خام مال‘ غیر موزوں ایکسچینج ریٹ‘ ری فنڈز میں تاخیر اور غیر یقینی پالیسیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ برآمدات پر مبنی معاشی ترقی کیلئے سادہ ٹیرف نظام‘ صوابدیدی اختیارات کا خاتمہ‘ مسابقتی ایکسچینج ریٹ اور خودکار ریفنڈ سسٹم ضروری ہے۔ لابنگ کے بجائے مقابلے اور مسابقت کے ماحول کو فروغ دینا ہوگا۔ آئی ایم ایف پر انحصار ختم کرنے کیلئے ضروری ہے کہ آزاد‘ کھلی اور مسابقتی منڈیوں کو فروغ دیا جائے۔ تحفظ اور کنٹرول پر مبنی نظام نے کوئی مثبت نتائج نہیں دیے بلکہ اس نے نااہلی کو بڑھایا ہے۔ سب سے مؤثر ہتھیار مسابقت ہے نہ کہ مصنوعی تحفظ۔ جب حکومت انتظامی بنیادوں پر بجلی‘ گیس‘ پٹرول‘ زرِ مبادلہ کی شرح‘ شرح سود یا اجناس کی قیمتیں مقرر کرتی ہے تو مارکیٹ کی معلومات کی جگہ صوابدید اور من مانی لے لیتی ہے۔ اس کے نتیجے میں قلت‘ وسائل کی غلط تقسیم اور ناجائز منافع خوری جنم لیتی ہے۔ قیمتیں دراصل معیشت کو سمت دینے والے اشارے ہوتے ہیں۔ انہیں مصنوعی طور پر دبانے سے مسئلہ وقتی طور پر چھپ جاتا ہے لیکن اس کا نتیجہ بعد میں مہنگائی‘ قرضوں یا آئی ایم ایف پروگراموں کی صورت میں بھگتنا پڑتا ہے۔درج بالا اصلاحات کامیاب نہیں ہوں گی اگر کاروبار میں نئے لوگوں کے داخلے کی راہ میں رکاوٹیں برقرار رہیں۔ حکومتی پالیسیاں اکثر معاشی ترقی کی سب سے بڑی دشمن ثابت ہوتی ہیں۔ نئے کاروبار کیلئے لائسنس‘ این او سیز‘ سرکاری معائنے اور مختلف اجازت نامے ایک سو سے زائد ریگولیٹری اداروں کے کنٹرول میں ہیں۔ اس ماحول میں سرکاری اداروں تک رسائی پیداوار اور کاروبار سے زیادہ اہم بن جاتی ہے۔ پاکستان میں باصلاحیت کاروباری افراد کی کمی نہیں۔ اصل مسئلہ ایسے اداروں اور نظام کا ہے جو انہیں ترقی کرنے‘ پیداوار بڑھانے اور برآمدات میں اضافہ کرنے سے روکتے ہیں۔ معاشی پالیسی کا بنیادی مقصد سرمایہ کاری میں تیزی لانا اور کاروباری اداروں کو اس قابل بنانا ہونا چاہیے کہ وہ ترقی کریں‘ سٹاک مارکیٹ میں لسٹڈ ہوں اور عالمی منڈیوں سے جڑ سکیں۔ سٹاک مارکیٹ میں شامل کمپنیاں شفافیت‘ بہتر نظم و نسق‘ طویل مدتی سرمایہ کاری اور زیادہ پیداوار کو فروغ دیتی ہیں۔ یہ خصوصیات غیر رسمی یا مصنوعی تحفظ پر چلنے والے اداروں میں پیدا نہیں ہوتیں۔ معاشی استحکام کا پائیدار راستہ وسیع پیمانے پر پیداوار‘ رسمی معیشت کے فروغ اور معاہدوں کے قابلِ اعتماد نفاذ سے گزرتا ہے۔ اسی لیے عدالتی اصلاحات بھی معاشی اصلاحات کا لازمی حصہ ہیں۔ ایسے معاہدے جن پر عملدرآمد میں دہائیاں لگ جائیں سرمایہ کاروں کو دور بھگا دیتے ہیں۔ سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے ضروری ہے کہ تجارتی تنازعات کے حل کیلئے ایک قابلِ اعتماد اور مقررہ مدت میں فیصلہ دینے والا عدالتی نظام موجود ہو۔مختصراً یہ کہ آئی ایم ایف پاکستان کے مسائل کی وجہ نہیں بلکہ وہ ایک آڈیٹر کی طرح ہے جو نقصان ہونے کے بعد آتا ہے۔ آئی ایم ایف سے نجات حاصل کرنا کوئی جذباتی نعرہ یا قوم پرستی کا مظاہرہ نہیں بلکہ صلاحیت اور اہلیت کا امتحان ہے۔ جب تک پاکستان خواہشات کو پالیسی‘ منصوبوں کو ترغیبات اور تقریروں کو اصلاحات سمجھنے کی غلطی کرتا رہے گا‘ تب تک وہ آئی ایم ایف سے نجات کے اعلانات بھی کرتا رہے گا اور اگلے پروگرام پر دستخط بھی کرتا رہے گا۔ (اس آرٹیکل میں ڈاکٹر ندیم الحق کی معاونت شامل رہی)</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_78012569.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پی ٹی آئی میں فیصلہ ساز کون؟(رشید صافی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-06-02/52048/75946687</link><pubDate>Tue, 02 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-06-02/52048/75946687</guid><description>جمہوری معاشروں میں سیاسی جماعتیں محض چند شخصیات کے اکٹھ کا نام نہیں بلکہ وہ ایک مربوط نظریے‘ مضبوط تنظیمی ڈھانچے اور مسلسل فیصلہ سازی کے نظام پر قائم ہوتی ہیں۔ سیاسیات کا مسلمہ اصول ہے کہ جو جماعتیں ایک کرشماتی شخصیت کے گرد طواف کرتی ہیں اس شخصیت کی عدم موجودگی یا سیاسی منظرنامے سے دوری کے باعث داخلی بحرانوں کا شکار ہو جاتی ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف اس وقت جس تنظیمی انتشار‘ دھڑے بندی اور خلفشار سے گزر رہی ہے وہ متبادل قیادت کے اسی فقدان اور ادارہ جاتی کمزوری کا مظہر ہے۔ بانی تحریک انصاف عمران خان کی قید کے بعد جماعت کا شیرازہ جس طرح بکھرتا دکھائی دے رہا ہے وہ یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ جب کسی جماعت میں اختیارات کا سرچشمہ صرف ایک ذات تک محدود ہو تو بحران کے وقت پوری قیادت تذبذب اور داخلی خلفشار کا شکار ہو جاتی ہے۔ تحریک انصاف کا سب سے بڑا المیہ فیصلہ سازی کا وہ ابہام ہے جو پارٹی کو مفلوج کیے ہوئے ہے۔ خان صاحب کی جیل منتقلی کے بعد یہ سوال پوری شدت سے ابھرا کہ پارٹی کے اندر حتمی فیصلہ ساز کون ہے؟ آئینی اور قانونی طور پر بیرسٹر گوہر علی خان پارٹی کے چیئرمین کے عہدے پر متمکن ہیں لیکن سچ یہ ہے کہ ان کے پاس فیصلوں کا حقیقی اختیار موجود نہیں۔ وہ ہر چھوٹے بڑے فیصلے کے لیے عمران خان سے رجوع کے پابند ہیں۔ اس طرزِ عمل نے جماعت کے اندر عجیب صورتحال پیدا کر دی ہے۔ ایک طرف تو یہ تاثر ابھرتا ہے کہ پارٹی میں کوئی ایک بھی متبادل فیصلہ ساز نہیں جو بحرانی کیفیت میں جرأت مندانہ اور فوری فیصلے کر سکے۔ دوسری طرف یہ دکھائی دیتا ہے کہ ہر دوسرا رہنما خود کو حتمی فیصلہ ساز سمجھ رہا ہے۔ جب کسی جماعت میں تنظیمی نظم وضبط برقرار رکھنے والی شخصیت موجود نہ ہو تو فیصلوں کا فقدان نہیں بلکہ بھرمار ہو جاتی ہے‘ جہاں ہر دھڑا اپنے فیصلے کو بانی تحریک کی منشا قرار دے کر نافذ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ صورتحال پارٹی کو کسی مربوط سیاسی حکمت عملی کی طرف لے جانے کے بجائے داخلی خلفشار کی دلدل میں دھکیل دیتی ہے۔ پی ٹی آئی کے داخلی انتشار کی ایک واضح جھلک خیبر پختونخوا کے پارلیمانی اجلاس میں دیکھنے کو ملی جہاں پارٹی کی حکومت ہونے کے باوجود اختلافات اور دھڑے بندی کھل کر سامنے آ گئی۔ سی ایم ہائوس پشاور میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی صدارت میں ہونے والا اجلاس یکجہتی کا پیغام دینے کے بجائے پارٹی کے اندر خلیج کو نمایاں کر گیا۔ 92اراکین پر مشتمل پارلیمانی پارٹی کے اس اہم اجلاس میں اراکین کی حاضری کے حوالے سے متضاد دعوے یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ اندرونی طور پر سب ٹھیک نہیں ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق 30 سے زائد اراکین نے بائیکاٹ کیا اور 52 سے 55 اراکین اجلاس میں شریک ہوئے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے اس تعداد کو 75 بتایا جا رہا ہے۔ تعداد کا یہ تنازع اپنی جگہ لیکن اس اجلاس میں ایک بڑا دھچکا سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی عدم شرکت تھی جس نے پارٹی کے اندر طاقت کے مراکز کے ٹکرائو کو اندرونی سطح سے نکال کر میڈیا کی زینت بنا دیا۔ اس عدم شرکت اور اراکین کی نمایاں تعداد کے غائب ہونے پر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی برہمی فطری تھی تاہم اس واقعے نے یہ بھی ثابت کر دیا کہ صوبائی سطح پر کوئی ایسی متبادل قیادت موجود نہیں جس کے ایک اشارے پر پوری پارلیمانی پارٹی متحد ہو سکے۔ سیاسی جماعتوں میں جب وزارتوں کی تقسیم‘ عہدوں کی بندر بانٹ اور ذاتی مفادات نظریے پر حاوی ہو جائیں تو پارلیمانی گروپوں کا شیرازہ بکھرنا طے ہوتا ہے۔ خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع کے اراکین وزارتیں نہ ملنے پر ناراضی اور مایوسی کا شکار ہیں اور یہ اقتدار پسندی متبادل اور مستحکم قیادت کی عدم موجودگی میں مزید گہری ہوتی جا رہی ہے۔ماضی میں سیاسی رکھ رکھائو اور روایات کی پاسداری کی جاتی تھی‘ تاہم جدید ٹیکنالوجی نے سیاسی جماعتوں کے اندرونی فیصلوں اور لڑائیوں کو جس طرح بے نقاب کیا ہے‘ اس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ پارلیمانی پارٹی کے وٹس ایپ گروپ میں ہونے والی سخت گفتگو لیک ہونے سے صوبے کی سیاسی فضا میں بھونچال برپا ہو گیا ہے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے گروپ میں بھیجا گیا مبینہ پیغام ایک سیاسی شکوہ نہیں بلکہ اپنی جماعت کے رہنمائوں پر ایک سنگین چارج شیٹ ہے۔ انہوں نے &#39;&#39;پارٹی کے اندر کے سالار‘‘ اور &#39;&#39;پارٹی کے باہر کے سالار‘‘ کے گٹھ جوڑ کا تذکرہ کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا کہ پارٹی کے ایک رہنما نے مبینہ طور پر 27 اراکین اسمبلی کو توڑ کر پی ٹی آئی حکومت گرانے کا وعدہ کر رکھا ہے۔ وزیراعلیٰ کے ان الزامات نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ علی امین گنڈاپور نے نام لیے بغیر الزامات لگانے پر شدید ردعمل ظاہر کیا اور کہا کہ اگر کوئی عمران خان کے خلاف سازش کر رہا ہے تو اس کا نام لیا جانا چاہیے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ صوبہ آپ سے کنٹرول نہیں ہوتا تو دوسروں پر الزام لگا رہے ہیں‘ پارٹی رہنمائوں میں غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹنا درست نہیں ہے۔ پارٹی رہنمائوں کا یہ مکالمہ ظاہر کرتا ہے کہ جماعت کے اندر عدم اعتماد پھیل چکا ہے۔ جب صوبائی سطح کی قیادت ایک دوسرے پر سازش کے الزامات عائد کر رہی ہو تو کارکنان اور عوام میں پارٹی کے تشخص کو ناقابل تلافی نقصان پہنچتا ہے۔ اگرچہ بعد میں آفیشل بیانات کے ذریعے اس تلخی کو چھپانے کی کوشش کی گئی اور صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان نے اسے معمولی بات قرار دے کر ٹالنا چاہا لیکن ساتھ ہی مبینہ فارورڈ بلاک کو یہ دھمکی دینا کہ ان پر خیبر پختونخوا کی زمین تنگ کر دی جائے گی‘ اس بات کا ثبوت ہے کہ اندرونی تقسیم محض وہم نہیں بلکہ کھلی حقیقت ہے۔تحریک انصاف کا داخلی بحران صرف خیبر پختونخوا تک محدود نہیں ہیں بلکہ اس کا دائرہ کار مرکزی تنظیمی ڈھانچے تک پھیلا ہوا ہے۔ پارٹی کے سابق سینئر نائب صدر شیر افضل مروت کے بیانات نے اس کشمکش کو مزید بے نقاب کیا ہے۔ انہوں نے پارٹی کی حکمت عملی‘ تنظیمی فیصلوں اور قیادت کی صلاحیتوں پر سخت سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کا یہ کہنا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران پارٹی کو منظم کرنے کے بجائے داخلی اختلافات اور ناقص فیصلوں کی نذر کر دیا گیا‘ ایک ایسا سچ ہے جسے کارکن بھی محسوس کر رہے ہیں۔ شیر افضل مروت کا یہ دعویٰ چشم کشا ہے کہ دو سالوں میں عوام‘ کارکنان‘ بانی تحریک اور خود ملک کا وقت ضائع کیا گیا اور تین مرتبہ عمران خان کی رہائی کے مواقع ملنے کے باوجود کمزور سیاسی حکمت عملی اور احتجاجی سیاست کے فقدان کی وجہ سے وہ مواقع گنوا دیے گئے۔ ان کا سب سے بڑا اعتراض پارٹی امور پر غیر منتخب افراد اور خاندانی اثر ورسوخ کے بڑھتے ہوئے سائے پر ہے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں بانی تحریک کی ہمشیرہ اور بیرون ملک مقیم یوٹیوبرز کے اثر ورسوخ کو تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام عائد کیا کہ وراثت کی اس جنگ میں اختلافی مگر مخلص آوازوں کو دبایا جا رہا ہے۔ جب سیاسی جماعتوں کی فیصلہ سازی کا اختیار تجربہ کار رہنماؤں اور مخلص کارکنوں کے بجائے خاندان یا سوشل میڈیا کے ہاتھ میں چلا جائے تو خلفشار اور داخلی تضاد اس جماعت کا مقدر بن جاتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/222_48272610.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مارشل لاء دور میں طلبہ یونین کے انتخابات… (3)(حافظ محمد ادریس)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/hafiz-muhammad-idreess/2026-06-02/52049/96961306</link><pubDate>Tue, 02 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/hafiz-muhammad-idreess/2026-06-02/52049/96961306</guid><description>مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی سے ملاقات کے بعد اسی رات ہم بارک اللہ خان صاحب سے ملے اور انہیں مولانا کی گفتگو من وعن سنا دی۔ بات چیت سننے کے بعد بارک اللہ خاں کچھ سوچ میں پڑ گئے۔ اس سلسلۂ جنبانی کے دوران یہ پہلا موقع تھا کہ میں نے خاں صاحب کو یوں گہری سوچ میں ڈوبا ہوا پایا۔ کہنے لگے &#39;&#39;مجھے آج رات مزید سوچنے دو کل اس موضوع پر فائنل بات کریں گے‘‘۔ اگلے دن ظہر کی نماز کے بعد ان سے ہماری ملاقات ہوئی۔ خان صاحب نے تجویز پیش کی کہ جمعیت دو نمائندے (حلقہ احباب میں سے یا اپنے ہم خیال غیر جمعیتی اور غیر طالبعلم افراد میں سے) مقرر کرے اور اسی طرح دو نمائندے خان صاحب مقرر کریں گے۔ پانچواں آدمی ایسا ہو گا جس پر دونوں فریق متفق ہو جائیں‘ پھر معاملہ اس پانچ رکنی کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ پانچواں آدمی کمیٹی کا سربراہ ہو گا اور آراء برابر ہونے کی صورت میں اس کو فیصلہ کن ووٹ ڈالنے کا حق ہو گا۔ اگرچہ یہ تجویز خاصی معقول تھی مگر ایک جانب فردِ واحد تھا اور دوسری طرف پوری تنظیم۔ بہرحال بغیر کسی لمبی چوڑی بحث کے ہم نے دو منٹ کے لیے آپس میں مشورہ کیا اور بارک اللہ خان کی تجویز منظور کر لی۔ اپنے مقابلے پر مخالفین کے متحد ہو جانے کے بعد اور وہ بھی دائیں بازو کے ایک امیدوار (جہانگیر بدر) پر‘ اب ہم ہر قیمت پر خان صاحب کو اپنے ساتھ ملانا چاہتے تھے۔ ہمیں یقین تھا کہ جو بھی کمیٹی بنے گی اس کا فیصلہ درست ہو گا۔ خان صاحب سے گلے مل کر ہم لوگ اپنے دفتر چلے گئے اور اس روز جاری کی گئی خبروں اور بیانات کی تفصیل معلوم کی۔خان صاحب نے دو نام تجویزکیے۔ پروفیسر عثمان غنی اور (آقا) بیدار ملک۔ عثمان غنی (مرحوم) میرے سگے تایا زاد تھے‘ وہ جمعیت کی طرف سے 1960-61ء میں انجمن طلبہ جامعہ پنجاب کے صدر تھے۔ وہ لاہور جمعیت کے کئی سال رکن اور غالباً ایک بار ناظم بھی رہ چکے تھے۔ بیدار ملک جمعیت کے سابق رکن تھے۔ جمعیت کی طرف سے جو دو نام پیش کیے گئے وہ تھے: محمد اسماعیل چودھری (ایڈووکیٹ) اور رانا نذر الرحمن خان۔ یہ دونوں حضرات بھی جمعیت کے سابقین میں سے تھے۔ جماعت اسلامی کے بزرگ رکن مرکزی مجلس شوریٰ اور امیر جماعت اسلامی لاہور چودھری غلام جیلانی بی اے‘ جو ہفت روزہ جریدے ایشیا کے مدیر تھے‘ متفقہ طور پر ثالث یا سربراہ کمیٹی چنے گئے۔ کمیٹی کا اجلاس بعد نماز عشاء چودھری اسماعیل کی رہائش گاہ مزنگ روڈ پر منعقد ہونا طے پایا۔پروگرام کے مطابق فریقین اور اراکین کمیٹی جائے مقررہ پر بروقت پہنچ گئے۔ بند کمرے میں کمیٹی کا اجلاس شروع ہونے سے قبل خان صاحب اور جمعیت کے نمائندے نے ایک عہد نامے پر دستخط کیے کہ کمیٹی جو بھی فیصلہ کرے گی انہیں بہرصورت قابلِ قبول ہو گا۔ بند کمرے میں دیر تک اجلاس جاری رہا۔ فریقین شدت سے ڈرائنگ روم میں انتظار کر رہے تھے کہ کیا فیصلہ سامنے آتا ہے۔ باہر موسم شدید سرد تھا جبکہ کمرے کے اندر بھی سردی کا احساس ہو رہا تھا۔ چار پانچ گھنٹوں کے بعد آدھی رات کے قریب سربراہ کمیٹی کی قیادت میں ارکان باہر آئے اور لکھا ہوا فیصلہ پڑھ کر سنایا گیا۔ فیصلہ سننے سے قبل عجیب کیفیت تھی۔ لوگ سانس روکے فیصلہ سننے کے لیے گوش بر آواز تھے۔ چودھری غلام جیلانی صاحب نے فیصلہ پڑھ کر سنایا جس کے مطابق کمیٹی نے طے کیا تھا کہ بارک اللہ خان اسلامی جمعیت طلبہ کے نامزد نمائندے کے حق میں الیکشن سے دستبردار ہو جائیں اور جمعیت کی انتخابی مہم میں حصہ لیں۔فیصلہ سننے کے بعد خان صاحب کے چہرے پر میں نے مایوسی کے آثار دیکھے مگر ایک ہی لمحے میں خان صاحب نے اس کیفیت پر قابو پا لیا اور بڑے تپاک سے اٹھ کر مجھ سے گلے ملے اور اعلان کیا کہ انہیں کمیٹی کا فیصلہ دل وجان سے منظور ہے۔ اس لمحے خان صاحب کی عظمت دوبالا ہو گئی‘ اور بعد میں انتخابی مہم میں بھی انہوں نے ثابت کر دیا کہ وہ فیصلہ انہیں دل وجان سے قبول تھا۔ خان صاحب نے بڑی تندہی سے ہمارے ساتھ اس مہم میں حصہ لیا۔ اگلے روز اخبارات میں اس فیصلے کی خبر چھپی تو ہمارے مخالف فریق کو خاصی تشویش اور فکر مندی لاحق ہو گئی جبکہ پورے ملک میں ہمارے اتحادی حلقوں کے اندر خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ اللہ تمام مرحومین کے درجات بلند فرمائے۔ قارئین کی دلچسپی کے لیے یہ بھی ریکارڈ پر آ جائے کہ جمعیت اور خان صاحب کے مقرر کردہ نمائندوں نے اپنے اپنے امیدوار کے حق میں دلائل دیے اور ووٹ ڈالے تھے۔ فیصلہ صدر کمیٹی چودھری غلام جیلانی صاحب کے کاسٹنگ ووٹ سے ہوا۔ یہ راز بھی خان صاحب اور جمعیت کے نمائندے کے استفسار کے جواب میں سامنے آیا۔ چودھری غلام جیلانی صاحب نے راز افشا کرنے سے صاف انکار کر دیا مگر زیادہ اصرار کے ساتھ پوچھنے پر چودھری اسماعیل صاحب نے صدر صاحب اور ارکان سے اجازت لے کر بتا دیا کہ فیصلہ صدر کمیٹی کے کاسٹنگ ووٹ سے ہوا۔ ظاہر ہے کہ فریقین کے مقرر کردہ نمائندوں نے اپنے اپنے امیدواروں کے حق ہی میں رائے دینا تھی۔انتخابی مہم بڑی دلچسپ تھی مگر اعصاب شکن بھی۔ کم وبیش ایک ماہ کی مہم کے بعد انتخابات ہوئے‘ جمعیت نے اگرچہ کسی بھی دوسری پوسٹ کے لیے تنظیم میں سے اپنے نمائندے کھڑے نہیں کیے تھے تاہم بعد میں گفت وشنید کے نتیجے میں ہمارا پورا پینل بن گیا جس کے مطابق سیکرٹری کے لیے حفیظ خان‘ نائب صدارت کے لیے تنویر عباس تابش اور خواتین کمیٹی کے لیے سائرہ کریم کی حمایت کا فیصلہ ہوا۔ باقی سیٹوں کے لیے بھی مختلف امیدواروں کے بارے میں ترجیحی ترتیب طے ہوئی مگر اب ان کے بارے میں مجھے تفصیلات یاد نہیں۔ غالباً ڈپٹی سیکرٹری کے لیے جس امیدوار کو پینل میں رکھا گیا اس کا نام عثمان غنی تھا۔ اس مہم کے دوران پیش آنے والے یادگار واقعات میں سے چند ایک واقعات کا تذکرہ کرنا چاہتا ہوں۔جامعہ پنجاب اور دیگر تعلیمی اداروں میں مخالفین جمعیت کے خلاف تو کچھ نہ کچھ کہہ سکتے تھے کیونکہ مدمقابل امیدواروں پر تنقید بلکہ تنقیص ہمارے ہاں کا ایک معمول ہے البتہ مولانا مودودی کی ذات کو نشانۂ تضحیک بنانا ازحد غیر مہذب اور اخلاق سے گری ہوئی حرکت تھی۔ ہمارے مخالفین بدزبانی کی حدوں میں داخل ہو کر سید مودودی کی ذات پر رکیک حملے کرتے تھے۔ جمعیت کے کارکنان کو &#39;&#39;مودودیے‘‘ کہہ کر چڑایا جاتا تھا۔ اس کے جواب میں جمعیت کے کارکنان بھٹو مخالف نعرے بازی کرتے۔ انہی الیکشن میں ہمارے مخالفین نے یہ نعرہ ایجاد کیا: ایک مودودی‘ سو یہودی۔ اس کے علاوہ &#39;&#39;سرخ ہے سرخ ہے، ایشیا سرخ ہے‘‘ کا نعرہ بھی ان انتخابات میں گونجنا شروع ہوا۔ ایک دن میں نے اپنی تقریر میں کہا: ایک مودودی‘ دنیا بھر کے یہودی‘ پھر بھی غالب ہے مودودی۔ چند دن ہمارے حلقے میں یہ فقرے نعرے بن کر گونجے تو پھر مخالفین نے یہ نعرہ ترک کر دیا۔ ان کے دوسرے نعرے کے جواب میں &#39;&#39;سبز ہے سبز ہے ایشیا سبز ہے‘‘ کا نعرہ لگایا گیا۔ اسی میں اضافہ کرتے ہوئے کہا گیا: سبز ہے، گنبدِ رسولؐ سے، چادرِ بتولؓ سے، سبز ہے سبز ہے، ایشیا سبز ہے! ہمارے نعروں کی گونج مخالفین سے کہیں زیادہ بلند ہوتی اور اکثر عجیب منظر دیکھنے کو ملتا۔ جب وہ &#39;&#39;سرخ ہے سرخ ہے ایشیا‘‘ پر پہنچتے تو جمعیت کے ساتھیوں کی آواز گونجتی &#39;&#39;سبز ہے‘‘۔ اس سے یہ نعرہ یوں ریکارڈ ہوتا &#39;&#39;سرخ ہے سرخ ہے ایشیا سبز ہے‘‘۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_24721193.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>