<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>شنگھائی تعاون تنظیم اور مسائل کا حل(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-02/11503</link><pubDate>Wed, 02 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-02/11503</guid><description>کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پانی اس خطے کی لائف لائن ہے اور کسی بھی ملک کو اسے بطور سیاسی ہتھیار استعمال کرنے کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک روز قبل ہی بین الاقوامی ثالثی عدالت نے سندھ طاس معاہدے کی بالادستی کو تسلیم کرتے ہوئے بھارت کو کہا ہے کہ وہ اس معاہدے کی پابندی کرے۔ پانی پر سیاست یا اسے بطور ہتھیار استعمال کرنا ایسا خطرناک رجحان ہے جو نہ صرف کروڑوں افراد کی زندگیوں‘ زراعت اور خوراک کے تحفظ کو خطرے میں ڈالتا بلکہ یہ دو جوہری ممالک کے درمیان ہولناک جنگ کا نقطۂ آغاز بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ وزیراعظم نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ باہمی مسائل کے حل کیلئے بین الاقوامی معاہدوں پر ان کی روح کے مطابق عملدرآمد ہونا چاہیے‘ کیونکہ ان معاہدوں کا احترام ہی خطے کو کسی بڑے انسانی اور ماحولیاتی المیے سے بچا سکتا ہے۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ پائیدار امن اور علاقائی استحکام کے بغیر دنیا کا کوئی بھی خطہ ترقی نہیں کر سکتا۔

شنگھائی تعاون تنظیم کا بنیادی فلسفہ ہی یہ ہے کہ جب تک علاقائی اور رکن ممالک کے درمیان پائیدار امن قائم نہیں ہوگا‘ تب تک باہمی تجارت‘ سرمایہ کاری اور ترقی کا خواب ادھورا رہے گا۔ موجودہ دور میں ریاستی چیلنجز کی نوعیت یکسر تبدیل ہو چکی ہے۔ آج کے دور میں ماحولیاتی مسائل‘ سرحدی تنازعات‘ تجارت ‘ سمگلنگ‘ انسدادِ دہشت گردی اور پانی سمیت متعدد ایسے معاملات ہیں جن میں تمام ممالک اپنے ہمسایوں پر انحصار کرتے ہیں۔ کوئی بھی ملک باقی دنیا سے کٹ کر یا تنہائی میں نہیں رہ سکتا۔ جب خطے کے تمام ممالک باہمی انحصار کی اس حقیقت کو تسلیم کریں اور ایک دوسرے کی خودمختاری کا احترام کرتے ہوئے آگے بڑھیں‘ تبھی پائیدار ترقی کے سفر کا آغاز ہو سکتا ہے۔ اگرچہ مختلف ملکوں کے مابین سرحدی و دیگر مسائل موجود ہیں تاہم ان پیچیدہ اور سنگین مسائل کا حل مذاکرات اور سفارتکاری میں پنہاں ہے۔ پائیدار امن واستحکام کیلئے عالمی معاہدوں پر ان کی روح کے مطابق عمل کرنا چاہیے۔ مسائل خواہ کتنے ہی دیرینہ اور پیچیدہ کیوں نہ ہوں‘ بامقصد اور سنجیدہ مذاکرات کے ذریعے انہیں حل کیا جا سکتا ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کا پلیٹ فارم رکن ممالک کو یہی موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ میز پر بیٹھیں‘ ایک دوسرے کے تحفظات کو سنیں اور بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے منصفانہ حل تلاش کریں۔
اگر شنگھائی تعاون تنظیم کی ساخت اور اسکے اثر و رسوخ کا جائزہ لیا جائے تو یہ بلاک غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ چار ایٹمی ریاستوں؛ چین‘ روس‘ پاکستان اور بھارت سمیت دس مستقل ممالک پر مشتمل یہ بلاک دنیا کی سب سے بڑی آبادی اور عالمی معیشت کے ایک چوتھائی حصے کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس بلاک کے اثر و رسوخ کا تقاضا ہے کہ اسے عالمی امن اور اقتصادی تعاون کیلئے ایک تعمیری قوت کے طور پر بروئے کار لایا جائے۔ اس ضمن میں پاکستان کی ایک بڑی سفارتی کامیابی یہ ہے کہ ایس سی او سربراہانِ مملکت کونسل کی صدارت آئندہ سال کیلئے پاکستان نے سنبھال لی ہے۔ یہ پیشرفت پاکستان کے بڑھتے ہوئے بین الاقوامی اور سفارتی قد کا واضح ثبوت ہے۔ صدارت کا یہ منصب پاکستان کو یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ اگلے ایک سال تک تنظیم کے ایجنڈے کی سمت کا تعین کرے‘ علاقائی روابط کو فروغ دے اور بیلٹ اینڈ روڈ جیسے منصوبوں کے ذریعے یوریشیائی رابطوں کے وژن کو عملی جامہ پہنائے۔بھارت سمیت تمام رکن ممالک کیلئے یہ ایک بڑا موقع ہے کہ وہ روایتی دشمنیوں اور یکطرفہ اقدامات کو ترک کر کے ایک ایسے نئے دور کا آغاز کریں جہاں قانون کی بالادستی اور باہمی معاہدوں کا احترام ہو۔ ترقی کا سفر تبھی طے کیا جا سکتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>اربن فلڈنگ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-02/11502</link><pubDate>Wed, 02 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-02/11502</guid><description>اسلام آباد اور راولپنڈی کے شہریوں کو ایک بار پھر اربن فلڈنگ کا سامنا ہے‘ گزشتہ روز چند گھنٹوں کی بارش کے بعد متعدد آبادیاں زیرِ آب آگئیں‘ پانی گھروں اور دکانوں میں داخل ہوگیا‘ اور سڑکیں ندی نالوں کا منظر پیش کرنے لگیں۔ اس ابتر صورتحال کے باعث رین ایمرجنسی نافذ کرنا پڑی۔ جڑواں شہروں کو تقریباً ہر سال مون سون میں اربن فلڈنگ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ گزشتہ برس بھی مون سون میں ان شہروں کے متعدد علاقے زیرِ آب آئے تھے‘ مگر اس تجربے سے کوئی سبق نہیں سیکھا گیا۔ نہ نکاسی آب کے نظام میں مطلوبہ بہتری لائی گئی‘ نہ برساتی نالوں کی گنجائش بڑھانے کیلئے کوئی جامع منصوبہ سامنے آیا اور نہ ہی نشیبی علاقوں میں مستقل بنیادوں پر ایسے اقدامات کیے گئے جن سے بارش کے بعد پانی جمع نہ ہوسکے۔ موسمیاتی تبدیلیوں اور بارشوں کی شدت نے اس مسئلے کی سنگینی میں مزید اضافہ کردیا ہے۔

بارشوں کے موسمی پیٹرن تبدیل ہونے سے مختصر دورانیے میں غیر معمولی بارش اور اچانک سیلاب اب ایک مستقل خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ایسے حالات میں پرانے انتظامی طریقہ کار‘ محدود نکاسی آب کے نظام اور بارش کے بعد کے ہنگامی اقدامات پر انحصار کافی نہیں۔ حکومت کوچاہیے کہ برساتی نالوں اور نکاسی آب کے نظام کا جامع سروے‘ پانی کے قدرتی راستوں کی بحالی‘ آبی گزرگاہوں میں تجاوزات کا خاتمہ اور واٹر ڈرینج نیٹ ورک کی استعداد میں اضافہ یقینی بنایا جائے۔ اس ضمن میں بااختیار بلدیاتی حکومتیں ہی کلیدی کردار ادا کرسکتی ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مزید سانحات کا انتظار ؟(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-02/11501</link><pubDate>Wed, 02 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-02/11501</guid><description>پمز کے بعد لاہور اور کراچی کے بڑے سرکاری ہسپتالوں میں بھی فائر سیفٹی کے ناقص انتظامات کے انکشافات اس امر کا ثبوت ہیں کہ یہ مسئلہ کسی ایک ہسپتال‘ شہر یا صوبے تک محدود نہیں بلکہ ایک وسیع انتظامی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق لاہور کے 19 بڑے سرکاری ہسپتالوں میں 65 فائر ہائیڈرنٹس درکار ہیں مگر صرف 29 نصب ہیں۔ بعض ہسپتالوں میں ایک بھی فائر ہائیڈرنٹ موجود نہیں۔ سندھ کے 22سرکاری ہسپتالوں کی فائر سیفٹی رپورٹ بھی خطرے کی نشاندہی کر رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق کراچی میں 1750 بستروں کے سول ہسپتال میں فائر الارم اور واٹر سپرنکلرز موجود نہیں جبکہ بجلی کی وائرنگ بھی مرمت طلب ہے۔

بعض دوسرے ہسپتالوں میں آگ بجھانیوالے آلات ناکافی یا خراب ہیں‘ فائر ڈرلز باقاعدگی سے نہیں ہوتیں اور کئی مقامات پر فائر سیفٹی کا بنیادی ڈیٹا تک موجود نہیں۔ پمز کا سانحہ صوبائی حکومتوں‘ محکمہ صحت اور ہسپتالوں کی انتظامیہ کی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہونا چاہیے۔ پمز جیسے سانحہ سے محفوظ رہنے کیلئے ضروری ہے کہ تمام ہسپتالوں کا آزادانہ فائر سیفٹی آڈٹ کرایا جائے‘ فائر الارم‘ سپرنکلرز‘ ہائیڈرنٹس اور آگ بجھانے والے آلات کی دستیابی کے ساتھ بجلی کی وائرنگ‘ ہنگامی راستوں اور دھوئیں کے اخراج کے نظام کا بھی باقاعدہ معائنہ ضروری ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بور کرنے والے موضوعات(ایاز امیر)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-09-02/52586/96218872</link><pubDate>Wed, 02 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-09-02/52586/96218872</guid><description>زمانہ تھا جب عرب لیگ نامی تنظیم ہوا کرتی تھی لیکن ایک تو اُمہ کی حالت اور دوسرا تنظیم کی کارکردگی ایسی رہی کہ ذکر آنے پر بیزاری ہونے لگتی۔ اب وہ تنظیم پتا نہیں کہاں خاک نشین ہو چکی ہے اور شکر کی بات ہے کہ اب اُس کا ذکر کہیں سننے کو نہیں ملتا۔ اسلامی کانفرنس کے چرچے بھی ایک زمانے میں تھے‘ خاص طور پر جب 1973ء کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد تب کے مسلم سربراہان کو اتنی ہمت ہوئی کہ تیل کی ترسیل بند کر دی۔ لیکن پھر برادر ملکوں میں تبدیلیاں آئیں اور امریکہ کی طرف جھکاؤ کچھ زیادہ ہونے لگا۔ جس کا ایک نتیجہ یہ نکلا کہ اسلامی کانفرنس تنظیم کہیں موجود ہو گی لیکن ذکر اُس کا کہیں زیادہ نہیں ہوتا۔ ایک نئے معاہدے پر حال ہی میں دستخط ہوئے ہیں لیکن ظاہر ہے اُس کے بارے میں کچھ زیادہ بات کرنا مناسب نہ ہوگا۔ ایک نہایت ہی بور موضوع ہماری کرکٹ کا ہے۔ ہمارے کھلاڑیوں کا اللہ نگہبان ہو لیکن جس تسلسل سے وہ رسوائیاں سمیٹتے ہیں اب تو وہ کسی چھترول کے قابل بھی نہیں رہے۔ لیکن میڈیا ان کی خبروں کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا لہٰذا ان کی کہانیاں عوام الناس کو بھی برداشت کرنی پڑتی ہیں۔ایک انگریزی معاصر میں خبر چھپی ہے کہ اس کمبخت جنگ کی وجہ سے جو نہ صحیح طرح سے بھڑک رہی ہے نہ ختم ہونے کا نام لے رہی ہے‘ دبئی میں پراپرٹی کا کاروبار بُری طرح متاثر ہوا ہے۔ جنگ کی وجہ سے اس کاروبار کی چمک جا چکی ہے۔ اور اس کی وجہ سے پاکستان سے وابستہ کالا دھن جو دبئی میں سالوں سے انویسٹ ہوتا رہا ہے اب وہ واپسی کے راستے ڈھونڈ رہا ہے۔ سرمائے کی اس واپسی سے کراچی کے مخصوص سیکٹروں میں پراپرٹی کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور کیونکہ جنگ جاری ہے اور امریکہ کو ناکامی سامنا ہے تو اس صورتحال کے جلد تبدیل ہونے کے کوئی امکان نہیں۔ یعنی دبئی میں پراپرٹی کاروبار کی حالت مندی ہی رہے گی۔ پاکستان میں یہ غلط فہمی رہی ہے کہ دبئی کا مطلب چوڑی شاہراہیں اور اونچی بلڈنگیں ہیں۔ شاہراہ کوئی بن گئی اور کھجور کے درخت لگ گئے تو سمجھتے ہیں کہ دبئی کی تقلید ہو رہی ہے حالانکہ دبئی کا مطلب ایک خاص ذہنی اور سوشل ماحول ہے جس میں رہتے ہوئے وہاں کے شیخوں نے ترقی کی منزلیں طے کی ہیں اور دبئی اور ابوظہبی کو دنیا کا ایک اہم تجارتی اور کمرشل سنٹر بنایا ہے۔ اس ترقی میں پاکستان کا کردار بھی رہا ہے‘ نہ صرف لیبر کی صورت میں بلکہ ثقافت کے لحاظ سے بھی۔ جہاں دبئی کی کشش کی وجہ سے دنیا بھر کے ثقافتی کاروانوں نے وہاں اپنا پڑاؤ بنایا پاکستان کے اہلِ ثقافت کا بھی اس عمل میں بڑا حصہ رہا۔ دبئی کے اچھے دنوں میں یوں لگتا تھا کہ لاہور کے پورے محلے دبئی منتقل ہو گئے ہیں۔ دبئی سے تعلق ایک قسم کا سرٹیفکیٹ بھی بن گیا کہ جس کا آنا جانا وہاں نہیں ہے اُس کی ثقافتی حیثیت کچھ زیادہ نہیں۔ اب جب دبئی کے حالات ذرا خراب ہو رہے ہیں‘ دبئی ایئر پورٹ کی وہ چہل پہل نہیں رہی‘ ہوٹل ویران ہیں‘ سیاحوں کا آنا جانا تقریباً ختم ہو گیا ہے‘ تو جہاں پورے ماحول پر اثر پڑ رہا ہے کیسے ہو سکتا ہے کہ پاکستان سے تعلق رکھنے والے اہلِ ثقافت پر کوئی اثر نہ پڑا ہو۔ جس طرح سے کالا دھن واپس آ رہا ہے‘ نائٹ کلبوں اور ہوٹلوں کے بزنس کم ہونے سے اہلِ ثقافت بھی واپسی کے راستوں کا سوچ سکتے ہیں۔ اس صورتحال کو غنیمت سمجھنا چاہیے۔ ثقافت کی اس ہجرت سے جو رونقیں یہاں برباد ہوئیں وہ پھر بحال ہو سکتی ہیں۔ ویران محلے پھر آباد ہو سکتے ہیں۔ جو ٹیلنٹ یہاں سے گیا‘ اس کی اصلی جگہ تو یہاں ہے۔ اس لیے جیسے عرض کیا‘ بڑا موقع ہے اگر کوئی سمجھنے کیلئے تیار ہو۔ہمارے ہاں معاشی ترقی کی کہانیاں سب زبانی جمع خرچ ہے۔ زرعی ملک اپنے آپ کو کہتے ہیں اور گندم اور دالیں باہر سے منگواتے ہیں۔ فیکٹریاں یہاں لگنی کوئی نہیں‘ تیل کے ذخائر دریافت نہیں ہونے۔ چوکیداری کیلئے یہاں ہمیشہ تیاری رہتی ہے لیکن ایسی کوئی صورتحال نہیں کہ نام نہاد افغان جہاد کی طرح پھر سے ڈالروں کی ریل پیل شروع ہو۔ لہٰذا کریں وہ جس کی گنجائش موجود ہے۔ وعظ و نصیحت بہت ہو چکے۔ نظریے کی اونچی دیواریں اتنی کھڑی کی گئیں کہ مزید کی ضرورت نہیں رہی۔ اس سے جہاں ہم پہنچے ہیں اور قوم کی جو حالت بنی ہے وہ ہمارے سامنے ہے۔ پارسا ہم بہت ہو گئے مزید پارسائی کی جگہ  نہیں رہی۔ اب کچھ عقل سے کام لیا جائے‘ سانس لینا اس معاشرے میں تھوڑا آسان ہو جائے۔ یہ ناکے لگانے کا کلچر جس کی وجہ سے پولیس کے ہاتھوں لاچار لوگوں کی تذلیل ہوتی ہے ایسی روشیں ختم کی جائیں۔ مردِ حق مردِ مومن کو گئے عرصہ ہو چکا ہے۔ اب اُس دور کے چند قوانین جن کی وجہ سے اس معاشرے کا گلا گھونٹا گیا اُن پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ ایسا کرنے کی ہمت حکمرانوں میں نہیں ہو گی لیکن ان قوانین کا بے جا اور تکلیف پہنچانے والا اطلاق تو نرم کیا جا سکتا ہے۔ پولیس کی تربیت ہو سکتی ہے۔ عوام کو تنگ کرنے کا ماحول جو اس محکمے میں بنا ہو اہے اُس کے بارے میں کچھ کیا جا سکتا ہے۔ عجیب صورتحال ہے کہ پارسائی اور نصیحت کے نام پر اس معاشرے میں دو نمبری کو فروغ ملا ہوا ہے۔ منافقت کو تو دیکھیں‘ پورا معاشرہ اس میں دُھلا ہوا لگتا ہے۔اڈیالہ میں بند مخصوص قیدی سے تکلیف ہے‘ یہ بات سمجھ آتی ہے۔ ہر ایک کی نفسیات عوام کے سامنے ہے لیکن اس ملک کے کسان سے کیا دشمنی ہے؟ حکمرانوں کو کوئی احساس نہیں کہ پچھلے دو تین سالوں میں اس ملک کے کسان کے ساتھ کیا ہوا ہے۔ نتیجہ ہمارے سامنے ہے‘ گندم کی درآمد کی سوچ بچار ہو رہی ہے۔ کسان بیچارہ کرے کیا‘ زراعت کے خرچے اُس کی پہنچ سے باہر ہو چکے ہیں۔ انڈسٹری کی حالت ویسے ہی پتلی ہے اور جب زراعت بھی آپ سے نہیں چلائی جا رہی تو پھر وہ کریں جو کر سکتے ہیں۔ طاؤس و رباب پر جو خواہ مخواہ کی سختیاں ہیں وہی ذرا نرم کریں۔ لوگوں کو روزگار نہیں دے سکتے‘ مہنگائی پر قابو نہیں پا سکتے‘ پھر ذاتی آزادیوں پر اتنے پہرے لگانے کی کیا تُک بنتی ہے۔ ایک تو ریاستی نااہلی اور اُس کے ساتھ یہ بے جا کی تھانیداری۔وہ گانا کیا ہے کہ یار کا چہرہ نظر آئے تو عید ہو گی۔ ہمارے عید کے دن گزر چکے لیکن پھر بھی خیال آتا ہے کہ دو نمبری اس معاشرے میں ذرا کم ہو تو ہم اُسے عید ہی سمجھیں گے۔ بھلا ہو لندن اور گلاسگو میں ہمارے بیٹھے دوستوں کا کہ خیال رکھتے ہیں۔ کوئی اعتبار والا مسافر اُس دیس سے آئے تو وہا ں کی سوغات پہنچ جاتی ہیں۔ سوچتا ہوں کہ وہ تو لے آئے سوغات‘ اُس کے بدلے ہم کیا دے سکتے ہیں؟ چکوال کی مونگ پھلی اور پہلوان کی ریوڑی۔ پارسائی کے نام پر یہ حالت ایک اچھے بھلے معاشرے کی ہم نے بنا ڈالی۔ میری عمر کے لوگوں کی بدقسمتی ہے کہ ہم نے پرانا پاکستان دیکھا ہوا ہے۔ مساجد آباد ہیں لیکن منافقت کے اتنے سودے نہ بکتے تھے۔ جس نے مسجد جانا ہوتا وہاں جاتا جس نے شب کہیں اور گزارنی ہوتی ایسا کر سکتا تھا۔ معاشرے میں ایک رکھ رکھاؤ اور رواداری کا ماحول تھا۔ نعرے تب بھی لگتے تھے لیکن اتنے فضول کے نعرے نہ تھے جو کہ بعد کا معمول بن گیا۔ کون یہاں اصلاح لائے گا؟ کہاں سے کچھ بہتری کی ابتدا ہو سکتی ہے؟</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_80573045.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>152ارب کہاں خرچ ہو ں گے؟(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-09-02/52587/40568300</link><pubDate>Wed, 02 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-09-02/52587/40568300</guid><description> پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر پلوشہ خان اُن پارلیمنٹرینز میں سے ہیں جنہیں پچھلے کئی برسوں سے لوگوں کے حقوق کیلئے حکومتوں‘ طاقتور لوگوں اور بیوروکریسی سے لڑتے دیکھا ہے۔ یہ شاید ان کا مزاج ہے کہ وہ غلط باتوں کو برداشت نہیں کر پاتیں اور اکثر ان کے سینیٹ کمیٹیوں کے اجلاس میں پھڈے ہو جاتے ہیں۔ انہیں برسوں سے سینیٹ اور کمیٹی اجلاسوں میں سنا ہے۔ ان کی وجہ سے بڑی بڑی سٹوریز بھی سامنے آئی ہیں۔ چند ماہ پہلے انہوں نے ہی وفاقی وزارت برائے آئی ٹی کا مضحکہ خیز ٹاور بل روکا تھا کیونکہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وہی چیئرپرسن ہیں۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ یہ بل قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی سے کلیئر ہو کر اسمبلی سے پاس بھی ہوگیا تھا۔ یہ سینیٹر پلوشہ خان ہی تھیں جنہوں نے اس بل کو کمیٹی میں پڑھا تو حیران رہ گئیں کہ یہ کیسا قانون بنایا جارہا ہے جس میں عوام کے ملکیتی حقوق ایک لحاظ سے ٹیلی کام کمپنیوں کو دیے جارہے ہیں۔ اس اجلاس میں ان کا (ن) لیگ کے سینیٹر افنان اللہ اور سینیٹر سعدیہ عباسی نے بھی ساتھ دیا۔ سینیٹر پلوشہ نے فوراً بلاول بھٹو کو واٹس ایپ میسج کیا اور انہیں بتایا اور بلاول بھٹو نے بھی اس بل کی سنگینی کو سمجھا اور پلوشہ کو کہا کہ اسے فوراً روک دیں۔ یوں اس پر بڑا شور شرابہ ہوا کہ ایسا بل بھلا قومی اسمبلی سے کیسے پاس ہوگیا تھا۔ اب بتایا جارہا ہے کہ وہ پرانا متنازع بل حکومت سینیٹ سے واپس لے کر نیا بل پارلیمنٹ میں لا رہی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے  کہ وہ اس بل کو کیسے بیلنس کر کے لاتی ہے کہ ٹیلی کام کمپنیاں اور عوام دونوں اس سے مطمئن ہوں اور دونوں کو لگے کہ ان کے حقوق کا تحفظ کیا گیا ہے ‘کیونکہ سابقہ متنازع بل تو سارے کا سارا ٹیلی کام کمپنیوں کیلئے ہی بنایا گیا تھا اور جس نے بھی پڑھا وہ حیران ہوا کہ یہاں تو پاکستانیوں کی جائیدادوں پر قبضے کا قانونی حق دیا جارہا تھا خصوصاً اس سے ہاؤسنگ سوسائٹیز نے بہت متاثر ہونا تھا۔اسی طرح یہ سینیٹر پلوشہ خان ہی تھیں جنہوں نے پچھلے سال سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت میں سب کی توجہ اس طرف دلائی کہ پمز ہسپتال کے معاملات بہت خراب ہیں اور وہاں گروپنگ اور پاور سٹرگل کی وجہ سے حالات بہت خراب ہیں اور کسی وقت بھی وہاں کوئی بڑا مسئلہ کھڑا ہوسکتا ہے۔ اس پر سینیٹر پلوشہ کو پمز کے پندرہ بیس ڈاکٹروں نے اپروچ کیا جو وہاں ہسپتال کے حالات بتانا چاہ رہے تھے۔ پلوشہ خان نے ان ڈاکٹروں کو کمیٹی اجلاس میں بلوا لیا تاکہ وہ ہیلتھ کمیٹی میں اپنے سارے خدشات سامنے رکھ سکیں  لیکن جونہی پمز کے اعلیٰ حکام کو علم ہوا تو انہوں نے اس کمیٹی میں موجود سینیٹرز میں ایسی لابنگ کی کہ الٹا سینیٹرز نے ان ڈاکٹرز کو شٹ اَپ کالز اور بے عزت کر کے کمیٹی سے واپس جانے پر مجبور کیا۔ ان ڈاکٹروں پر ہی الزامات لگائے گئے۔ سینیٹر پلوشہ نے کمیٹی  ممبران کا یہ حیران کن رویہ دیکھ کر استعفیٰ دے دیا تھا کہ اس کمیٹی میں اگر عوامی مسائل پر سینیٹرز کا یہ رویہ ہے تو میں اس کی ممبر نہیں رہ سکتی۔اب مزے کی بات ہے کہ سینیٹ کی وہی قائمہ کمیٹی پمز پہنچی ہوئی تھی تاکہ ہسپتال میں بچوں کے جاں بحق ہونے پر انکوائری اور حکام سے جواب طلبی کرسکے۔ جب پمز کے ڈاکٹرز ہسپتال میں پھیلی بدانتظامی اور گروپنگ کا ایشو لے کر پارلیمنٹ ہاؤس گئے تھے تو انہیں ذلیل کیا گیا اور اب جبکہ جس بات کا خدشہ تھا وہ ہوچکا تو کمیٹی ممبران زور شور سے وہاں بول رہے تھے کہ یہ کیسے ہوا؟ میری اپنے ٹی وی شو میں سینیٹر پلوشہ سے اس پر بھی بات ہورہی تھی کہ ہمارے سویلین اداروں کے پاس ایسی صلاحیت اور قابلیت کی کیوں کمی ہے جو آپ کو سی ایم ایچ اور ملٹری ہسپتال یا پی اے ایف‘ یا پھر اے ایف آئی سی میں نظر آتی ہے؟ اگر دیکھا جائے تو سرکاری اور ان فوجی ہسپتالوں کا بجٹ یا ان کے سربراہوں کی تنخواہیں اور مراعات ایک جیسی ہیں۔ پھر پرفارمنس میں اتنا بڑا فرق کیوں؟ابھی سی ڈی اے نے اس سال 152ارب روپے کا بجٹ اسلام آباد کیلئے منظور کیا ہے۔ پچھلے سال 90ارب تھا۔ جی ہاں‘ آپ نے درست پڑھا ہے‘ اس سال کا بجٹ 152 ارب روپے ہے اور اسلام آباد صرف 24 کلومیٹر کا شہر ہے۔ یہاں سینکڑوں افسران بیٹھے ہیں‘ بڑے بڑے قابل بیوروکریٹس اور وزیروں کی پوری فوج‘ لیکن ایک وزیر صاحب فرماتے ہیں کہ کسی کے بس میں پمز ہسپتال چلانا یا ٹھیک کرنا نہیں ہے۔ جی ہاں‘ یہ بات ایک وفاقی وزیر کہہ رہا ہے جس کا کام ہی ان ہسپتالوں کو ٹھیک رکھنا اور قابل لوگوں کو  وہاں لگانا ہے تاکہ وہ عوام کو سہولتیں دے سکیں۔ لیکن 24کلومیٹر‘ جہاں اس وقت پچاس‘ ساٹھ وزیر اور مشیر ہیں‘ ان کا کہنا ہے کہ یہ ہسپتال ان کے بس سے باہر ہے۔ اگر آپ سے ایک ہسپتال نہیں چلایا جارہا تو آپ ملک کیسے چلا رہے ہیں۔یہ بات طے ہے کہ جہاں بھی کوئی سفارش پر بڑا عہدہ لیتا ہے تو وہ اس ادارے کو اوپر لے جانے کے بجائے الٹا سب کام چھوڑ دیتا ہے‘ تاکہ سفارشی کی عزت ہو کہ اُس کے ہوتے ہوئے مجھے کام کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ اسے اس ادارے میں اپنی چودھراہٹ کی زیادہ فکر ہوتی ہے ۔ اور پھر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جو میرٹ پر کسی ادارے کا سربراہ لگ جائے تو وہ بھی اس زعم اور تکبر سے نہیں نکل پاتا کہ وہ تو میرٹ پر لگا ہے۔ وہ کسی کی سفارش پر نہیں لگا‘ لہٰذا وہ کسی کا محتاج یا مقروض نہیں ہے۔ وہ جو جی چاہے گا کرے گا۔  وہ زیادہ بدتمیز نکلے گا۔ یوں سفارشی اور میرٹ والے اپنے اپنے زعم میں اکثر ناکام ہوتے ہیں۔ دونوں اُس Delicate Line کا دھیان نہیں رکھ پاتے جو ان انتظامی عہدوں کیلئے ضروری ہوتی ہے۔ آپ اکثر ان سفارشی اور میرٹ والوں کو مغرور پائیں گے۔ ایک کو سفارش کا غرور تو دوسرے کو قابلیت اور میرٹ کا تکبر۔ اب آپ بتائیں کہ آپ کہاں سے نارمل لوگ لائیں جو ان اداروں کو پروفیشنل انداز میں چلائیں؟ان سے بات کریں تو وہ کہتے ہیں کہ 1998ء میں جب اسلام آباد کی آبادی آٹھ لاکھ تھی تو بھی شہر کا مرکزی ہسپتال یہی پمز تھا۔ آج اٹھائیس برس کے بعد آبادی پچیس‘ تیس لاکھ ہوگئی ہے تو بھی وہی ہسپتال ہے۔ الٹا وہ کہتے ہیں کہ خیبر پختونخوا سے بھی مریض بڑی تعداد میں پمز ریفر کیے جاتے ہیں۔ وہ الگ سے ہسپتال پر بوجھ ہیں۔ خیبر پختونخوا میں حکومت پر  کوئی دباؤ نہیں ہے کہ وہ آبادی بڑھنے کے ساتھ اپنے صوبے میں جدید سہولتوں اور قابل ڈاکٹروں سے بھرے ہسپتال کھولے تاکہ وہاں کے مریضوں کو اسلام آباد نہ آنا پڑے۔دوسری طرف اسلام آباد میں نئے ہسپتال بنانے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ بہتر ہوتا کہ کھنہ پل‘ فتح جنگ اور بہارہ کہو جیسے علاقوں میں نئے ہسپتال بنائے جاتے تاکہ ان علاقوں سے جو مریض اتنا لمبا سفر کر کے اسلام آباد شہر میں آتے ہیں‘ وہ اپنے قریب ہی علاج کرا سکیں اور سب سے بڑھ کر پمز اور پولی کلینک پر سے دباؤ کم ہو۔ ہمارے ہاں صرف ترقی ایک ہی کام میں ہورہی ہے اور وہ ہے نئی  نئی ہاؤسنگ سوسائٹیز یا پھر اسلام آباد میں اربوں روپے انڈر پاسز اور فلائی اوورز پر ضائع کیے جارہے ہیں۔ اب تو لگتا ہے اسلام  آباد میں تو ہر گلی محلے کی سڑک پر انڈر پاس بن رہا ہے اور شہر کا کل ایریا چوبیس کلومیٹر سے بھی کم ہے۔ یہ چوبیس کلومیٹر تو پورے وفاق کا رقبہ ہے جبکہ شہر کا ریڈیئس تو شاید دس کلومیٹر سے بھی کم ہوگا۔اب آپ بتائیں کہ آپ چوبیس کلومیٹر کے اس چھوٹے سے شہر میں 152 ارب روپے ایک سال میں کیسے اور کہاں خرچ کریں گے۔ پھر خواجہ آصف کہتے ہیں کہ پاکستانی بیوروکریٹس بیرونِ ملک جائیدادیں خرید رہے ہیں۔ اب 152 ارب روپے کہیں تو خرچ کرنے ہیں کیونکہ اسلام آباد جیسے چھوٹے سے شہر میں تو یہ رقم ایک سال میں خرچ کرنا مشکل ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>راولپنڈی کا ٹینچ بھاٹا: ایک قدیم یاد کا سفر … (2)(شاہد صدیقی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-siddiqui/2026-09-02/52588/19628693</link><pubDate>Wed, 02 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-siddiqui/2026-09-02/52588/19628693</guid><description>ہم ٹینچ بھاٹا میں شہتوت والے جس گھر میں رہ رہے تھے وہاں بجلی نہیں تھی اور صرف دو کمرے تھے۔ ایک دن ظفر ماموں نے گھر آ کر بتایا کہ ٹینچ بھاٹا میں ہی ایک اور گھر کرایہ پر مل رہا ہے۔وہ کشادہ بھی ہے‘ گھر میں بجلی بھی ہے اور گھر کے بالکل قریب ایک مسجد بھی ہے۔ اس گھرکے مالک کوئی مرزا صاحب تھے۔ ان کا پورا نام اب یاد نہیں۔ اس گھر سے بھی جڑی ہوئی بہت سی یادیں ہیں۔ 22نمبر سے ٹینچ بھاٹا کی طرف جاتے ہوئے یہ گھر بائیں ہاتھ ایک گلی میں آتا تھا۔ آج مدتوں بعد میں یہاں آیا ۔ اتوار کی صبح ہونے کی وجہ سے سڑک خالی تھی اور ہماری گاڑی سڑک پر رینگ رہی تھی۔ میری نظریں بائیں ہاتھ وہ گلی تلاش کر رہی تھیں جہاں مسجد تھی اور جس کے قریب ہمارا گھر تھا۔ اُس وقت میں پرائمری سکول میں پڑھتا تھا۔ آج ایک طویل عرصے کے بعد یہاں آ کر مجھے یوں لگا جیسے سب کچھ بدل گیا ہے۔ ہمارے گھر والی وہ گلی بازار کے ساتھ ساتھ بنی بہت سی دکانوں اور گلیوں میں کھو چکی تھی۔ تب اچانک دائیں ہاتھ مجھے اقبال ہوٹل والی جگہ دکھائی دی۔ مجھے یاد آیا اقبال ہوٹل ہمارے گھر کے قریب واقع تھا۔ اس ہوٹل کی جگہ اب کوئی اور کاروباری مرکز بن گیا ہے۔ میں نے علی سے گاڑی روکنے کو کہا اور ایک دکاندار سے پوچھا کہ کیا وہ مسجد والی گلی کی نشاندہی کر سکتا ہے۔ اس نے ہنس کر کہا کہ یہاں تو ہر گلی میں مسجد ہے۔ میں نے کہا کہ وہ مسجد گلی کے شروع میں ہی دائیں ہاتھ تھی۔ اس نے ایک گلی کی طرف اشارہ کیا جو اقبال ہوٹل کے قریب ہی تھی۔ میں دھڑکتے دل سے گلی کے اندر داخل ہوا تو دائیں ہاتھ مسجد کا مانوس مینار نظر آیا۔ وہ گلی جو اُس زمانے میں بہت کشادہ نظر  آتی تھی اب تنگ سی لگ رہی تھی‘ شاید ایسا ہی ہوتا ہے وہ چیزیں جو بچپن میں بڑی لگتی ہیں ایک عرصے بعد انہیں دیکھیں تو وہی چھوٹی نظر آتی ہیں۔ مگر ایک چیز جو اتنے برسوں میں نہیں بدلی تھی وہ گلی کے اوپر بجلی کے اُلجھے ہوئے تار تھے۔ مسجد کے ساتھ ہی دائیں ہاتھ ہمارا گھر تھا۔ پہلا دروازہ ڈرائنگ روم کا تھا اور دوسرا دروازہ گھر کا مرکزی راستہ تھا۔ یہ اتوار کا دن تھا اور صبح کا وقت۔ گلی بالکل خالی پڑی تھی۔ میں گھر کے دروازے کے سامنے کھڑا ہو گیا اور بیتے ہوئے دن آنکھیں جھپکاتے ہوئے میرے آس پاس آ گئے۔ اسی گھر میں ایک عجیب واقعہ پیش آیا تھا۔ ایک روز جب ہم سب صبح سویرے اپنے اپنے کاموں پر چلے گئے تھے اور صرف والدہ اور میری بہن گھر پر تھی۔ والدہ کسی کام سے ڈرائنگ روم میں گئیں تو دھک سے رہ گئیں۔ ڈرائنگ روم کا سارا فرنیچر غائب تھا اور ڈرائنگ روم سائیں سائیں کر رہا تھا۔ وہ تیزی سے واپس آئیں اور میری بہن کو سارا ماجرا سنایا۔ وہ دونوں دوبارہ ڈرائنگ روم پہنچیں تو دیکھا کہ سارا فرنیچر اپنی جگہ پر تھا۔ ہر چیز اسی طرح اپنی جگہ پر ہی تھی۔ اس دن کے بعد والدہ کو یقین ہو گیا کہ اس گھر میں ضرور کوئی پُر اسرار مخلوق رہتی ہے۔ ہم اسی گھر میں تھے جب اعجاز بھائی کو میٹرک کے بعد پشاور روڈ پر واقع پو لی ٹیکنیک کالج میں داخل کرا دیا گیا۔ یہ تین سال کا کورس‘ فنی تربیت کا پروگرام تھا‘ جس میں مختلف ٹیکنالوجیز میں سے کسی ایک کا انتخاب کیا جا سکتا تھا۔ اسی دوران پولی ٹیکنیک کالج میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جسے میں کبھی نہ بھلا پاؤں گا۔ ایک روز اعجاز بھائی کالج سے دیر تک گھر نہ پہنچے تو ہمیں تشویش ہوئی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب نہ گھر میں ٹیلی فون تھا اور نہ ہی کمیونیکیشن کے دوسرے ذرائع۔ ہم سب کو طرح طرح کے خدشات بے چین کر رہے تھے۔ آخر کار رات کے وقت اعجاز بھائی گھر میں داخل ہوئے۔ ان کے بال بکھرے ہوئے تھے اور آنکھوں میں ایک عجیب سا خوف تھا۔ انہیں دیکھ کر ہماری جان میں جان آئی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی آنکھوں کے سامنے فرسٹ ایئر کا ایک طالب علم عبدالحمید‘ جس کی عمر صرف 17 برس تھی‘ پولیس کی فائرنگ سے شہید ہو گیا ہے۔اس واقعے کا پس منظر یہ تھا کہ پولی ٹیکنیک کالج کے طلبہ ایک ٹرپ پر لنڈی کوتل گئے ہوئے تھے۔ واپسی پر اٹک کے قریب انہیں کسٹمز حکام نے روکا۔ طلبہ کے مطابق ان سے بدتمیزی کی گئی جس سے طلبہ بپھر گئے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ذوالفقار علی بھٹو ایوب خان کی کابینہ سے الگ ہو کر عوام میں آ گئے تھے۔ وہ خاص طور پر طلبہ میں بہت مقبول تھے۔ تمام تعلیمی اداروں میں ایک بے چینی پھیلی ہوئی تھی اور طلبہ مظاہرے کر رہے تھے۔ اُس روز بھی دو مظاہرے تھے‘ ایک پولی ٹیکنیک میں اور ایک راولپنڈی کے انٹر کانٹی نینٹل ہوٹل کے سامنے۔ دونوں جگہ طلبہ کی خواہش تھی کہ بھٹو صاحب وہاں آئیں اور ان سے خطاب کریں۔ بھٹو صاحب نے پولی ٹیکنیک کالج جانے کا فیصلہ کیا‘ جہاں پولیس نے ان کی کار کو گھیر لیا۔ بھٹو صاحب نے گاڑی کا دروازہ کھولا اور اپنی گاڑی کے بونٹ پر کھڑے ہو کر طلبہ سے خطاب شروع کر دیا۔ اسی دوران عبدالحمید‘ جو عین سڑک کے درمیان تھا‘ پولیس کی گولی سے لڑکھڑا کر نیچے گرا اور موقع پر ہی دم توڑ گیا۔ وہ 17 سال کا نوجوان تھا۔ یہی شہادت صدر ایوب کے خلاف عوامی تحریک کا نقطۂ آغاز بن گئی۔ آج ایک مدت بعد ٹینچ بھاٹا کا یہ گھر دیکھ کر مجھے وہ بھولا بسرا دن یاد آ گیا۔ مجھے یاد آیا کہ شاید اسی گلی میں ایک ڈاکٹر کامران ہوا کرتے تھے۔ یوں تو وہ کمپاؤنڈر تھے لیکن ڈاکٹر کہلاتے تھے۔ ان کے کلینک پر خوب رش ہوا کرتا تھا۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ مین روڈ پر قریب ہی ڈاکٹر جہانگیر کا کلینک تھا جو باقاعدہ ایم بی بی ایس ڈاکٹر تھے لیکن اس کلینک پر بہت کم لوگ جاتے تھے۔ میں کتنی ہی دیر اپنے گھر کے سامنے کھڑا رہا۔ پھر علی کی آواز نے مجھے چونکا دیا اور میں ماضی سے حال کی دنیا میں واپس آ گیا۔ میں گاڑی میں بیٹھ گیا۔ علی نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی اور گاڑی دھیرے دھیرے ٹینچ بھاٹا کی مرکزی سڑک پر آگے بڑھنے لگی۔ علی نے گاڑی چلاتے ہوئے میری طرف دیکھے بغیر پوچھا کہ یہ ٹینچ بھاٹا کے نام کی کیا کہانی ہے؟ علی لاہور کا رہنے والا ہے اور ٹینچ بھاٹا پہلی بار آیا تھا۔ میں نے ہنستے ہوئے کہا کہ اس نام کی ایک نہیں کئی کہانیاں ہیں۔ ایک کہانی یہ ہے کہ بھا ٹا کا لفظ بھٹہ کی ایک تبدیل شدہ شکل ہے۔ کسی زمانے میں یہاں اینٹوں کے بھٹے ہوا کرتے تھے جہاں وسیع پیمانے پر اینٹیں بنائی جاتی تھیں۔ تب راولپنڈی میں چھاؤنی کی عمارتیں تعمیر ہو رہی تھیں جن کیلئے اینٹوں کی ضرورت تھی۔ اینٹیں بنانے کیلئے مٹی کی ضرورت ہوتی ہے اور ان دنوں ٹینچ بھاٹا میں جگہ جگہ کھدائی ہوتی تھی۔ اس مٹی سے اینٹیں بنتی تھیں اور پھر کچی اینٹوں کو بھٹے کی آگ میں پکایا جاتا تھا۔ یوں بھٹہ کا لفظ وقت کے ساتھ ساتھ بدلتے ہوئے بھاٹا بن گیا۔ کہانی کے مطابق مٹی کھودنے کے بعد زمین پر خندقیں (Trenches)بن جاتی تھیں۔ کہتے ہیں Trenches کا لفظ وقت کے ساتھ ساتھ ٹینچ بن گیا۔ یوں ٹینچ بھاٹا کا نام وجود میں آیا۔میں نے علی کو بتایا کہ کبھی ٹینچ بھاٹا کی اس سڑک پر لال رنگ کی خوبصورت ڈبل ڈیکر بسیں چلا کرتی تھیں۔ جن میں سفر کرنے والے سکول اور کالج کے طلبہ کیلئے خاص رعایت تھی۔ انہیں صرف اپنا سٹوڈنٹ کارڈ دکھانا ہوتا تھا۔ میں نے ڈبل ڈیکر بس میں کئی بار سفر کیا تھا۔ ہم جب بھی ڈبل ڈیکر بس میں سفر کرتے ہماری خواہش ہوتی کہ بس کی اوپر والی منزل پر جا کر بیٹھیں‘ جہاں سے ٹینچ بھاٹا کے ارد گردکے مناظر دور دور تک صاف نظر آتے تھے۔ (جاری)</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_21538475.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بلدیاتی انتخابات ، امکانات؟(سلمان غنی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/salman-ghani/2026-09-02/52589/65330383</link><pubDate>Wed, 02 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/salman-ghani/2026-09-02/52589/65330383</guid><description>پنجاب حکومت کی جانب سے الیکشن کمیشن کو رواں سال کے آخر تک بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کی یقین دہانی کرائی گئی ہے جس کے بعد غیراعلانیہ طور پر بلدیاتی انتخابات کیلئے تیاریاں شروع ہو گئی ہیں۔ تاحال یہ فیصلہ نہیں ہو سکا کہ بلدیاتی انتخابات جماعتی بنیادوں پر ہوں گے یا غیر جماعتی بنیادوں پرمگر سیاسی جماعتوں کی تیاریوں سے لگتا ہے کہ وہ ان انتخابات میں دلچسپی رکھتی ہیں۔ بلدیاتی امور کے ماہرین پنجاب حکومت کی جانب سے الیکشن کمیشن کو 15دسمبر سے 15جنوری کے درمیان انتخابی عمل مکمل کرانے کی یقین دہانی پر اطمینان ظاہر کرتے ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ بلدیاتی سسٹم کو فعال‘ منظم ‘ مضبوط اور منتخب اراکین کو بااختیار بنانے کیلئے خاصی گنجائش موجود ہے۔ حکومت کو بلدیاتی ایکٹ میں ترامیم کرنی چاہئیں تاکہ اسے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنایا جا سکے۔اطلاعات کے مطابق پنجاب میں بلدیاتی انتخاب مرحلہ وار ہو گا۔ الیکشن کمیشن نے اس حوالے سے حکومت پنجاب کی تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے قابلِ عمل تجاویز طلب کی ہیں تاکہ ان کی روشنی میں شیڈول کو حتمی شکل دی جا سکے۔ پنجاب حکومت نے بلدیاتی انتخابات کیلئے بجٹ مختص کر رکھا ہے تاہم اس کا مرکز سے مطالبہ تھا کہ وفاق اس کیلئے بجٹ فراہم کرے۔ کیا وفاق مالیاتی مدد دے سکے گا‘ فی الحال ایسا ممکن نظر نہیں آتا کیونکہ وفاقی حکومت پہلے ہی مالیاتی بحران کا شکار ہے اور اس پوزیشن میں نہیں کہ کسی صوبے کو بلدیاتی انتخابات کیلئے بجٹ دے سکے۔ 18ویں ترمیم کے بعد صوبوں کے پاس وسائل بھی ہیں اور اختیارات بھی۔ گزشتہ سال پنجاب میں سیلابی صورتحال کے دوران وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا یہی کہنا تھا کہ صوبہ اپنے وسائل پر انحصار کرتے ہوئے سیلاب زدگان کی مدد اور بحالی کیلئے اقدامات کرے گا۔اگر سیاسی محاذ پر نظر دوڑائی جائے تو اس وقت ملک بھر میں نئے صوبوں کی تشکیل کے حوالے سے بحث عروج پر ہے۔ ماہرین ملک میں گورننس کو یقینی بنانے خصوصاً مقامی سطح پر عوامی مسائل کے حل اور انصاف کی فراہمی کیلئے نئے صوبوں کو ناگزیر قرار دیتے نظر آتے ہیں۔ بڑی سیاسی جماعتیں تحفظات کے باوجود براہِ راست اس کی مخالفت نہیں کر رہیں۔ اگر سیاسی جماعتوں نے ذمہ دارانہ کردار ادا کرتے ہوئے اختیارات اور وسائل کو وفاق سے صوبوں اور پھر مقامی حکومتوں تک منتقل کیا ہوتا تو شاید نئے صوبوں کی تحریک زور نہ پکڑتی۔ ملک بھر میں عمومی رائے ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنے انتخابی منشور میں بلدیاتی سسٹم مضبوط بنانے‘ انتخابات کرانے اور اختیارات نچلی سطح پر منتقل کرنے کے دعوے تو کرتی ہیں لیکن اقتدار میں آنے کے بعد اپنے سیاسی مفادات کو صوبائی حکومتوں‘ وسائل اور اختیارات سے جوڑ لیتی ہیں اور بلدیاتی انتخابات کی اہم ضرورت سے انحراف کرتی ہیں۔ اس ضمن میں کسی بڑی سیاسی جماعت کا کردار اچھا نہیں رہا۔ سیاسی جماعتیں اپنے اقتدار کو دوام دینے کیلئے اراکینِ اسمبلی کو ساتھ ملانے پر اکتفا کرتی ہیں جبکہ اراکینِ اسمبلی اپنے علاقوں میں ترقیاتی عمل میں کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہوتے ہوئے بھی بلدیاتی سسٹم کو بروئے کار نہیں آنے دیتے۔ ماہرین متفق ہیں کہ منظم‘ فعال اور مستحکم بلدیاتی سسٹم ملک کی بڑی ضرورت ہے جس سے سیاسی قوتوں اور صوبائی حکومتوں نے انحراف کیا۔ آج اسی بنیاد پر ملک بھر میں نئے صوبوں کی بات ہو رہی ہے۔ پنجاب میں نئے انتظامی یونٹس کے مطالبے کے بعد بلدیاتی انتخابات کا انعقاد بھی بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ عمومی رائے ہے کہ پنجاب حکومت کی بلدیاتی انتخابات میں اچانک دلچسپی کی ایک بڑی وجہ نئے صوبوں کی تشکیل کا معاملہ بھی ہے اور سیاسی جماعتیں بلدیاتی انتخابات کو بنیاد بنا کر نئے صوبوں کی تحریک سے جان چھڑانا چاہتی ہیں۔آئین پاکستان کے آرٹیکل 140-A میں مقامی حکومتوں کی سیاسی‘ انتظامی اور مالیاتی خودمختاری پر زور دیا گیا ہے اور مضبوط بلدیاتی سسٹم کو ناگزیر قرار دیا گیا ہے‘ لیکن بلدیاتی انتخابات کو مطلوبہ آئینی تحفظ نہ ملنے کے باعث صوبائی حکومتیں اس کا فائدہ اٹھاتی نظر آتی ہیں۔ بھارت میں اسمبلیوں کے انتخابات کے ساتھ بلدیاتی انتخابات کو بھی آئینی تحفظ حاصل ہے اور وہاں تسلسل کے ساتھ بلدیاتی انتخابات ہوتے ہیں۔ اسی لیے ماہرین تجویز دے رہے ہیں کہ بلدیاتی انتخابات کو آئینی تحفظ دیا جائے۔ بعض کی تجویز ہے کہ این ایف سی سے صوبوں کو دیے جانے والے وسائل کے ساتھ براہِ راست اضلاع کو بھی وسائل فراہم کیے جائیں تاکہ مقامی سطح پر ترقیاتی عمل اور دیگر مسائل حل کیے جا سکیں۔ ایک تجویز یہ بھی ہے کہ ملک بھر میں ایک جیسا بلدیاتی نظام نافذ کیا جائے اور ایک جیسا قانون ہو تاکہ صوبائی حکومتیں انتخابی عمل سے انحراف نہ کر سکیں۔ تاہم کہا جاتا ہے کہ یہ 18ویں ترمیم سے انحراف ہو گا کیونکہ اس ترمیم کے تحت بلدیاتی اداروں کا معاملہ صوبائی حکومتوں کے پاس ہے۔ اب دیکھنا ہو گا کہ حکومت پنجاب کب اپنا مکمل شیڈول اور ہوم ورک کرکے الیکشن کمیشن کو جمع کرواتی ہے اور کب الیکشن کمیشن اسے منظور کرکے انتخابی شیڈول جاری کرتا ہے‘ کیونکہ انتخابات سے 45 دن قبل شیڈول جاری کرنا ہوتا ہے۔دوسری جانب جماعت اسلامی اور تحریک انصاف نے پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025ء کو ہائیکورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے‘ اگر عدالت نے ان پٹیشنز پر کوئی فیصلہ دے دیا تو ایک بار پھر تاخیر ہو سکتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کے باعث صوبوں میں گورننس متاثر ہوئی ہے اور بار بار یقین دہانی کے باوجود لوکل گورنمنٹ کے انتخابات نہ ہونا صوبائی حکومتوں کی ناکامی کے زمرے میں آتا ہے۔ پنجاب حکومت کا مؤقف ہے کہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025ء کی منظوری اپوزیشن سمیت سول سوسائٹی کو اعتماد میں لے کر کی گئی اور اسی بنیاد پر اسے متفقہ طور پر اسمبلی سے منظور کرایا گیا۔ اب دیکھنا ہو گا کہ پنجاب حکومت مجوزہ شیڈول کے تحت بلدیاتی انتخابات یقینی بنا پاتی ہے یا نہیں۔ بعض سیاسی جماعتوں کو خدشہ ہے کہ موجودہ حالات میں انتخابات کا انعقاد آسان نہیں اور تاخیری حربے اختیار کیے جا سکتے ہیں۔دوسری جانب الیکشن کمیشن نے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کیلئے تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ انتخابی عملے کی تربیت اور بیلٹ پیپرز کی ٹریننگ کا کام شروع ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ الیکشن کمیشن نے پنجاب حکومت کی یقین دہانی کے بعد یہ عمل شروع کیا ہے‘ لہٰذا بلدیاتی انتخابات کے عمل سے باہر نکلنا حکومت کیلئے آسان نہیں ہو گا۔  سیاسی حالات اور زمینی حقائق کا جائزہ لیا جائے تو ایک عام تاثر یہ بھی ہے کہ جمہوریت اب عوام کیلئے اور عوام کے ذریعے ہونے کے بجائے اشرافیہ اور اس کے مفادات کے گرد گھومتی نظر آ رہی ہے۔ اس صورتحال کو تبدیل کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ مقامی حکومتوں کے انتخابات نئے لوگوں کو آگے لانے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ عوام اور سیاسی جماعتوں میں عدم وابستگی کے رجحان کے خاتمے کیلئے بھی ضروری ہے کہ بلدیاتی انتخابی عمل یقینی بنایا جائے تاکہ سیاسی جماعتوں اور ان کے ذمہ داران کو معلوم ہو کہ مسائل زدہ عوام کس حال میں ہیں اور ان کے سلگتے مسائل کیا ہیں۔عام آدمی ایسے خلا میں زندگی بسر کر رہا ہے جہاں اسے اوپر بیٹھے لوگوں تک رسائی حاصل ہے اور نہ ہی ان سے رابطے کا کوئی ذریعہ۔ اس صورتحال نے عوام اور ریاست کے درمیان تعلق کو کمزور کرکے ایک خوفناک خلا پیدا کیا ہے۔ لہٰذا وقت کی آواز یہی ہے کہ مقامی حکومتوں کا سسٹم وجود میں لایا جائے‘ اس کی ایک مقررہ مدتِ اقتدار یقینی بنائی جائے اور کسی کو اختیار نہ ہو کہ وہ ان حکومتوں کو مدتِ اقتدار سے پہلے ختم کرے۔ بیوروکریسی کو یونین‘ ضلع‘ میونسپل اور شہر کی سطح پر منتخب نمائندوں کے ماتحت اور جوابدہ بنایا جائے۔ خودمختاری اور مسلسل احتساب کا ایسا نظام قائم کیا جائے جو یقینی بنائے کہ یہ وسائل سیاسی فنڈز کے طور پر صرف ہونے کے بجائے عوام کی بھلائی پر استعمال ہوں۔ دنیا بھر میں یہی ماڈل نافذ ہیں‘ ان سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ حقیقی جمہوریت یہی ہے‘ اس پر کاربند ہونا چاہیے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/230_37874475.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>نظام کی تباہی کی چارج شیٹ(محمد حسن رضا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-hasan-raza/2026-09-02/52590/34652431</link><pubDate>Wed, 02 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-hasan-raza/2026-09-02/52590/34652431</guid><description>کچھ سانحات پر کالم نہیں نوحے لکھے جاتے ہیں‘ جذبات کا اظہار نہیں کرنا پڑتا‘ یہ خود چھلک جاتے ہیں۔ اسلام آباد کے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کی نرسری میں چودہ نومولود بچوں کی موت بھی ایسا ہی سانحہ ہے۔ بچے دنیا میں آئے تو والدین نے خوشیاں منائیں‘ مٹھائیاں بانٹیں لیکن انہیں کیا معلوم تھا کہ ان کی یہ چند روزہ خوشیاں جلد سوگ میں اور مبارکبادیں تعزیت میں بدل جائیں گی۔ یہ بچے کسی زلزلے‘ جنگ یا دہشت گرد حملے میں جاں بحق نہیں ہوئے یہ وفاقی دارالحکومت کے قلب‘ اقتدار کے ایوانوں سے چند کلومیٹر دور‘ ملک کے ایک بڑے سرکاری ہسپتال میں جان سے گئے ۔ جہاں زندگی بچائی جانی تھی‘ وہی جگہ موت کی کھائی بن گئی۔ جس نرسری میں آکسیجن‘ انکیوبیٹر اور تربیت یافتہ عملہ ہونا چاہیے تھا وہاں آگ بجھانے کا بندوبست اور محفوظ انخلا کا نظام موجود نہیں تھا۔ ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق یہ سانحہ سنگین ادارہ جاتی غفلت کا نتیجہ ہے۔ حادثہ وہ ہوتا ہے جس کا اندازہ نہ ہو‘ جس خطرے کی پہلے سے اطلاع مل چکی ہو‘ خامیاں تحریری طور پر سامنے آچکی ہوں اور پھر بھی کچھ نہ کیا جائے‘ اسے حادثہ نہیں بلکہ مجرمانہ غفلت کہا جاتا ہے۔ انکوائری کمیٹی کی عبوری رپورٹ کا ایک جملہ پورے نظام کا پوسٹ مارٹم ہے۔ آگ بھڑکنے کے بعد تقریباً دو منٹ میں نرسری کا ماحول تباہ کن حد تک بگڑ گیا۔ صرف دو منٹ! جن بچوں نے چلنا تو دور‘ ابھی سر اٹھانا بھی نہیں سیکھا تھا‘ انہیں بچانے کیلئے دو منٹ کا وقت تھا‘ مگر نہ عملی مشق‘ نہ مؤثرالارم‘ نہ واضح کمانڈ اور نہ محفوظ راستے۔ رپورٹ کے مطابق بعض ہنگامی راستے بند تھے اور کچھ میں رکاوٹیں تھیں۔ امدادی اہلکاروں کو مقفل دروازے توڑنے پڑے۔ ہسپتال کے 13 ایس او پیز میں آگ یا ہنگامی صورتحال کا ذکر صرف دو ذیلی حصوں میں تھا۔ کسی نے طے ہی نہیں کیا کہ آگ لگنے کی صورت میں الارم کون بجائے گا‘ ریسکیو کو کون بلائے گا‘ کمانڈ کون سنبھالے گا‘ دروازے کون کھولے گا اور ان مریضوں؍ بچوں کو کون اٹھائے گا جو خود چل پھر نہیں سکتے۔ یہاں یہ حقیقت بھی واضح ہونی چاہیے کہ سی سی ٹی وی کے مطابق موقع پر موجود نرسوں‘ ڈاکٹر اور سکیورٹی اہلکاروں نے بچوں کو بچانے کی کوشش کی۔ ایک  نرس شعلوں میں داخل ہوئی‘ ایک بچے کو نکالا اور دوبارہ اندر جانے کی کوشش بھی کی لہٰذا پوری ذمہ داری چند ملازمین کے سر ڈال کر  بڑے افسران‘ وزارت اور حکومت کو بری نہیں کیا جا سکتا۔ اصل سوال یہ نہیں کہ آگ لگنے کے بعد کس نے کتنی کوشش کی‘ اصل سوال یہ ہے کہ آگ لگنے سے پہلے ذمہ داروں نے کیا کیا؟ انتظامی و ہنگامی معاملات کسی نرس‘ ڈاکٹر یا گارڈ کی انفرادی بہادری پر چھوڑ دینا مینجمنٹ نہیں‘ انتظامی دیوالیہ پن ہے۔سب سے شرمناک حقیقت یہ ہے کہ پمز کو خطرے کی پیشگی گھنٹی سنائی جا چکی تھی۔ 6 جولائی کو خواتین کے نرسنگ ہاسٹل میں آگ لگی  تھی‘ اس کے بعد فائر الارم‘ بجلی کے نظام‘ ہنگامی راستوں‘ عملے کی تربیت اور ریکارڈ میں خامیوں کی نشاندہی ہوئی مگر 25 اگست یعنی نرسری سانحے سے صرف ایک دن پہلے‘ انکوائری رپورٹ نامکمل ہونے کے باعث درست کرنے کیلئے لوٹائی جا رہی تھی۔ فائل میزوں پر گھومتی رہی‘ نوٹ لکھے جاتے رہے‘ اعتراضات لگتے رہے اور اگلی صبح چودہ بچے جان سے چلے گئے۔ آگ 26 اگست کو  لگی مگر اس کا ایندھن برسوں سے سرکاری فائلوں‘ ناقص نگرانی اور افسرانہ بے حسی میں جمع ہو رہا تھا۔ یہ پہلا واقعہ نہیں ہے‘ جون 2012ء میں لاہور کے سروسز ہسپتال میں آگ لگنے سے کم از کم چار نومولود جاں بحق اور 17 جھلس گئے۔ جنوری 2020ء میں کراچی کے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ میں انکیوبیٹر میں آگ لگنے سے نومولود بچی جاں بحق ہو گئی۔ مئی 2023ء میں لاہور کے چلڈرن ہسپتال کی نرسری میں آتشزدگی سے ایک نومولود جاں بحق اور دوسرا جھلس گیا۔ جون 2024ء میں ساہیوال ٹیچنگ ہسپتال کے بچوں کے وارڈ میں ایئرکنڈیشننگ نظام کے شارٹ سرکٹ کے باعث گیارہ بچے جان سے گئے۔ پھر اگست 2026ء میں پمز میں چودہ نومولود بچے جاں بحق ہوگئے۔ ہر سانحے کے بعد نوٹس‘ کمیٹی اور انکوائری ہوئی‘ مگر کسی رپورٹ نے اگلی آگ کا راستہ نہ روکا۔چودہ کا عدد وزیراعظم شہباز شریف کے سیاسی سفر کا ایک حیرت انگیز حوالہ بھی بنتا جا رہا ہے۔ آخر چودہ کا عدد ان کے اقتدار پر اتنا بھاری کیوں ہے؟ 17 جون 2014ء کو شہباز شریف وزیراعلیٰ پنجاب تھے تو اس وقت ماڈل ٹائون میں پولیس فائرنگ سے دو خواتین سمیت 14 افراد جاں بحق ہو ئے۔ اکتوبر 2018ء میں وہ مبینہ طور پر 14 ارب روپے کے آشیانہ اقبال ہائوسنگ کرپشن مقدمے میں گرفتار ہوئے‘ بعد میں عدالت نے انہیں اور دیگر ملزمان کو بری کر دیا۔ اسی آشیانہ مقدمے میں 16 اکتوبر 2018ء کو ان کے جسمانی ریمانڈ میں 14 روز کی توسیع ہوئی۔ 14 اپریل 2021ء کو لاہور ہائیکورٹ نے منی لانڈرنگ مقدمے میں شہباز شریف کی ضمانت منظور کی‘ یعنی مشکل عدالتی سفر میں ریلیف بھی 14 تاریخ کو ملا۔ اپریل 2022ء میں شہباز شریف کے خلاف منی لانڈرنگ مقدمے کی رقم بعض ابتدائی رپورٹس میں تقریباً 14 ارب روپے بتائی گئی اگرچہ بعد کی عدالتی رپورٹنگ میں اسے 16 ارب روپے کہا گیا تاہم بعد ازاں الزامات بے بنیاد قرار پائے اور وہ بری ہو گئے۔ 24 مئی 2026ء کو شہباز شریف کی وزارتِ عظمیٰ میں کوئٹہ میں ٹرین کے قریب دہشت گرد حملے نے 14 جانیں لے لیں۔ 2 اگست 2026ء کو سوات کے علاقے کبل میں امن کیلئے جمع شہریوں کے قریب خودکش حملہ ہوا اور 14 افراد جاں بحق ہو گئے۔ 26 اگست کو پمز کی نرسری میں 14 نومولود بچے جان سے گئے۔ یہ تمام واقعات الگ الگ نوعیت کے ہیں۔ آشیانہ ہائوسنگ اور منی لانڈرنگ کے مقدمات میں شہباز شریف بری ہو چکے ہیں۔ دہشت گرد حملوں کی براہِ راست ذمہ داری وزیراعظم پر عائد نہیں کی جا سکتی۔ لہٰذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ عدد چودہ کے یہ حوالے کسی بدشگونی کا ثبوت نہیں‘ یہ محض ایک غیر معمولی اتفاق اور حکمرانی کا علامتی سوال ہیں۔ تاہم اگر کچھ عدد کسی حکمران کے سامنے اتنی مرتبہ آن کھڑے ہوں تو انہیں مکمل طور پر نظرانداز کرنا بھی مشکل ہوتا ہے۔ مسلم لیگ کے حامی شہباز شریف کو ایک بہترین ایڈمنسٹریٹر  قرار دیتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ وہ ملک کیلئے دن رات محنت کرتے‘ گھنٹوں اجلاس کرتے‘ افسران سے سخت بازپرس کرتے اور قومی نقصان پر دکھی‘ بلکہ بعض اوقات آبدیدہ بھی ہو جاتے ہیں۔ بڑی حد تک ان کے مخالفین بھی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ وہ فائل پڑھتے‘ منصوبے کی تفصیل پوچھتے اور کام مکمل کرانے کیلئے دبائو ڈالتے ہیں۔ پمز کے چودہ بچوں کا سانحہ یقینا انہیں اندر سے پریشان کیے ہوئے ہے لیکن یہی پریشانی ان کیلئے اصل امتحان ہے۔ بظاہر کوئی قاتل نہیں مگر چودہ بچوں کا خون پورے نظام کے ہاتھوں سے ٹپک  رہا ہے۔ محض چودہ کا عدد ہی وزیراعظم کا پیچھا نہیں کر رہا‘ بار بار ناکام ہونے والا نظام‘ ادھورا احتساب اور شہریوں کی غیر محفوظ زندگیاں بھی ان کا تعاقب کر رہی ہیں۔ ان کیلئے اس تعاقب سے نکلنے کا راستہ موجود ہے؛ پمز کے چودہ بچوں کا مقدمہ رسمی نہیں حقیقی معنوں میں لڑیں! ذمہ داری نیچے سے اوپر لے کر جائیں۔ رپورٹ‘ سزا اور اصلاح کو انجام تک پہنچائیں اور ملک کے ہر ہسپتال کا آزادانہ فائر و سیفٹی آڈٹ کرائیں۔ اگر ایسا ہو گیا تو چودہ کا عدد صرف سانحات کا استعارہ نہیں رہے گا بلکہ یہ بدلے ہوئے نظام کی بنیاد بھی بن سکتا ہے۔ لیکن اگر اس مرتبہ بھی نوٹس‘ کمیٹی‘ معطلی اور معاوضے کے بعد فائل بند کر دی گئی تو پمز کی نرسری میں صرف بچے نہیں‘ حکومت کی ترجیحات‘ بیورو کریسی کی اہلیت اور ریاست کی ذمہ داری بھی شعلوں میں جل کر راکھ ہوگئی۔ قائداعظم کے چودہ نکات نے قوم کو منزل کا راستہ دکھایا تھا‘ ہمارے سانحات میں چودہ کا عدد نظام کی گمشدہ سمت بتا رہا ہے۔ تب چودہ کا عدد حقوق‘ تحفظ اور امید کی علامت تھا اور آج یہ عدد غفلت‘ ادھورے احتساب اور ریاستی ناکامی کی چارج شیٹ بنتا جا رہا ہے!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/229_33941343.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بے راہ روی کی روک تھام(علامہ ابتسام الہٰی ظہیر )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-09-02/52591/93462807</link><pubDate>Wed, 02 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-09-02/52591/93462807</guid><description>ہمارے معاشرے میں آئے روز بے راہ روی کے سنگین اور ہولناک واقعات سننے کو ملتے رہتے ہیں۔ کئی مرتبہ چھوٹی عمر کے بچے‘ بچیوں کے ساتھ برائی کا ارتکاب کیا جاتا ہے اور اکثر درندہ صفت افراد اپنی ہوس پوری کرنے کے بعد معصوم بچوں کو قتل تک کر دیتے ہیں۔ اسی طرح معاشرے میں خواتین کے اغوا کے واقعات بھی رپورٹ ہوتے رہتے ہیں۔ ان واقعات کو پڑھنے‘ سننے کے بعد ہر سلیم الطبع انسان تکلیف میں مبتلا ہو جاتا ہے اور اپنے بچے بچیوں اور اہلِ خانہ کے تحفظ کے حوالے سے تشویش کا شکار ہو جاتا ہے۔ بے راہ روی کے خاتمے کیلئے کتاب وسنت میں بہت سی اہم تدابیر بتلائی گئی ہیں‘ بالخصوص سورۃ النور میں اس حوالے سے تفصیلی احکامات بیان کیے گئے ہیں جن میں سے چند اہم درج ذیل ہیں:1۔ نگاہوں کو جھکانے کا حکم: اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۃ النور میں مردوں اور عورتوں‘ دونوں کو نگاہوں کو جھکا کے رکھنے کا حکم دیا ہے۔ سورۃ النور کی آیت: 30 میں اللہ تبارک وتعالیٰ مردوں کو حکم دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;مسلمان مردوں سے کہہ دیں کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی پاکدامنی کی حفاظت کریں‘‘۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کو بھی اپنی نگاہوں کو جھکا کے رکھنے کا حکم دیا ہے۔ سورۃ النور کی آیت: 31 میں ارشاد ہوا: &#39;&#39;مسلمان عورتوں سے کہہ دیں کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت کی حفاظت کریں‘‘۔2۔ خواتین کو پردے کا حکم: اللہ تبارک وتعالیٰ نے جہاں مرد وزن کو نگاہیں جھکا کے رکھنے کا حکم دیا‘ وہیں خواتین کو پردے کی تلقین بھی کی۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ النور کی آیت: 31 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں‘ سوائے اس کے جو ظاہر ہے اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رہیں‘ اور اپنی آرائش کو کسی کے سامنے ظاہر نہ کریں‘ سوائے اپنے خاوندوں کے یا اپنے والد کے یا اپنے خسر کے یا اپنے لڑکوں کے یا اپنے خاوند کے لڑکوں کے یا اپنے بھائیوں کے یا اپنے بھتیجوں کے یا اپنے بھانجوں کے یا اپنے میل جول کی عورتوں کے یا غلاموں کے یا ایسے نوکر چاکر مردوں کے جو شہوت والے نہ ہوں یا ایسے بچوں کے جو عورتوں کے پردے کی باتوں سے مطلع نہیں‘‘۔3۔ خواتین کو چال میں اعتدال کا حکم: اللہ تبارک وتعالیٰ نے جہاں خواتین کو پردے کا حکم دیا وہیں ان کو اپنی چال میں متانت اختیار کرنے کا بھی حکم دیا تاکہ زمین پر زور سے قدم مارنے کی وجہ سے لوگ ان کی طرف متوجہ نہ ہوں یا ان کے پائوں میں پہنے ہوئے زیور کی آواز ظاہر نہ ہو۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ النور کی آیت: 31 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;اور اس طرح زور زور سے پائوں مار کر نہ چلیں کہ ان کی پوشیدہ زینت معلوم ہو جائے‘‘۔ 4۔ فحاشی کو تحریک دینے کی مذمت: معاشرے میں بہت سے ایسے لوگ ہیں جو فحاشی کی نشر واشاعت کیلئے مستعد رہتے ہیں اور فحش مواد کو مسلم معاشرے میں پھیلانے میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے۔ فحش اور گندے مواد کے اثرات انسانوں کے ذہنوں پر مرتب ہوتے ہیں جس کے نتیجے میں معاشرے میں بے راہ روی پھیلتی ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ایسے لوگوں کو شدید انداز سے تنبیہ کرتے ہوئے سورۃ النور کی آیت: 19 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;جو لوگ مسلمانوں میں بے حیائی پھیلانے کے آرزو مند رہتے ہیں ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے‘‘۔5۔ قحبہ گری کی روک تھام: اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید میں جسم فروشی کا دھندا کرنے کی شدید انداز میں مذمت کی ہے اور ساتھ ہی ساتھ اس بات کو بھی واضح کیا ہے کسی معاشی یا معاشرتی مجبوری کی وجہ سے جن عورتوں کو اس پر مجبور کیا جاتا ہے‘ اللہ تعالیٰ ان کے گناہوں پر ان سے مواخذہ نہیں کرے گا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ النور کی آیت: 33 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;تمہاری جو لونڈیاں پاکدامن رہنا چاہتی ہیں انہیں دنیا کی زندگی کے فائدے کی غرض سے بدکاری پر مجبور نہ کرو اور جو انہیں مجبور کر دے تو اللہ ان پر جبر کے بعد بخش دینے والا اور مہربانی کرنے والا ہے‘‘6۔ غیر شادی شدہ مردوں اور عورتوں کے نکاح کا حکم: قرآن مجید نے بے نکاح مردوں اور عورتوں کے نکاح کا حکم دیا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ النور کی آیت: 32 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;تم میں سے جو مرد عورت بے نکاح کے ہوں ان کا نکاح کر دو اور اپنے نیک بخت غلام اور لونڈیوں کا بھی‘‘۔ اس حوالے سے ان کی مفلسی کو ان کے راستے میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے‘ اس لیے کہ آیت: 32 میں یہ بھی ارشاد ہوا کہ &#39;&#39;اگر وہ مفلس ہوں گے تو اللہ انہیں اپنے فضل سے غنی بنا دے گا‘ اللہ کشادگی والا اور علم والا ہے‘‘۔7۔ معاشی استحکام کی طلب میں نکاح مؤخر کرنے والوں کیلئے پاک دامنی کا حکم: جو لوگ معاشی استحکام کے حصول کیلئے اپنے نکاح کو مؤخر کرتے ہیں‘ قرآن مجید میں انہیں اپنے کردار کا تحفظ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ النور کی آیت: 33 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;اور ان لوگوں کو پاکدامن رہنا چاہیے جو اپنا نکاح کرنے کا مقدور نہیں رکھتے یہاں تک کہ اللہ انہیں اپنے فضل سے مالدار بنا دے‘‘۔8۔ اپنے علاوہ کسی بھی گھر میں داخل ہونے سے پہلے اجازت لینے کا حکم: جب انسان اپنے گھر کے علاوہ کسی اور گھر میں داخل ہو تو اس کو اجازت کے بغیر داخل نہیں ہونا چاہیے۔ اس لیے کہ اس طرح انسان بدنظری یا کسی فتنے کا شکار ہو سکتا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ النور کی آیت: 27 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;اے ایمان والو! اپنے گھروں کے سوا اور گھروں میں نہ جائو جب تک کہ اجازت نہ لے لو اور وہاں کے رہنے والوں کو سلام نہ کر لو‘‘۔9۔ خلوت کے اوقات کے آداب: گھر میں آرام کے اوقات میں ماتحتوں اور کم عمر بچوں کو اجازت کے بغیر رہائشی کمروں میں داخل نہیں ہونا چاہیے‘ اس سے ان کے ذہن پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ النور کی آیت: 58 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;ایمان والو! تم سے تمہاری ملکیت کے غلاموں کو اور انہیں بھی جو تم میں سے بلوغت کو نہ پہنچے ہوں (اپنے آنے کی) تین وقتوں میں اجازت حاصل کرنا ضروری ہے۔ نمازِ فجر سے پہلے اور ظہر کے وقت جبکہ تم اپنے کپڑے اتار رکھتے ہو اور عشا کی نماز کے بعد‘ یہ تینوں وقت تمہاری (خلوت اور) پردہ کے ہیں‘‘۔10۔ جھوٹی تہمت لگانے والوں کیلئے سخت سزا: جب انسان معاشرے میں کسی پر جھوٹی تہمت لگاتا ہے اور اپنے دعوے کے ثبوت کیلئے چار گواہ پیش نہیں کرتا تو ایسے شخص کو حدِّ قذف یعنی 80 کوڑوں کی سزا ملنی چاہیے تاکہ معاشرے میں افواہ سازی کی وجہ سے برائی کی نشر واشاعت نہ ہو۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ النور کی آیات: 4 تا 5 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;جو لوگ پاکدامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگائیں پھر چار گواہ نہ پیش کر سکیں تو انہیں اسّی کوڑے لگائو اور کبھی بھی ان کی گواہی قبول نہ کرو‘ یہ فاسق لوگ ہیں۔ ہاں! جو لوگ اس کے بعد توبہ اور اصلاح کر لیں تو اللہ بخشنے والا اور مہربانی کرنے والا ہے‘‘۔11۔ جرم ثابت ہونے پر سزا: اسلام میں اگر بدکاری کے حوالے سے چار شہادتیں موصول ہو جائیں تو مجرم کڑی سزا کا حقدار ہوتا ہے۔ غیر شادی شدہ شخص کو قرآن کے حکم کے مطابق سو کوڑوں اور شادی شدہ افراد کو احادیث کے مطابق حدِ رجم کی سزا ملنی چاہیے۔ اسی طرح جو لوگ معصوم بچے بچیوں کے ساتھ برائی کا ارتکاب کرتے ہیں‘ انہیں فساد فی الارض کے تحت سنگین سزائیں دی جانی چاہئیں تاکہ ان سزائوں کی وجہ سے معاشرے کے وہ طبقات عبرت حاصل کریں جن کے ذہن میں منفی خیالات یا ارادے پنپ رہے ہوں۔اگر مذکورہ بالا تدابیر پر عمل کر لیا جائے تو معاشرے میں برائی اور بدکرداری کی روک تھام ممکن بنائی جا سکتی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_19740082.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>