<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>پائیدار امن کی جانب پیش رفت(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-18/11114</link><pubDate>Sat, 18 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-18/11114</guid><description>ایران کی جانب سے تجارتی جہازوں کے لیے آبنائے ہرمز کھولے جانے کا فیصلہ خوش آئند ہے اور ایران امریکہ معاملات میں پیش رفت کا واضح اشارہ ہے صدر ڈونلڈ ٹرمپ حالیہ دنوں کئی بار جس کا عندیہ دے چکے ہیں۔ آبنائے ہرمز کو عالمی تجارت خاص طور پر توانائی کی نقل و حرکت میں غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ اٹھائیس فروری کو ایرا ن پر امریکی اور اسرائیلی حملے کے بعد اس گزر گاہ کی بندش سے تیل اور گیس کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ گزشتہ روزاس آبنائے کے کھلنے کے اعلان کے ساتھ ہی عالمی منڈیوں میں تیل کے نرخ گرنا شروع ہو گئے اور دو روز پہلے کے مقابلے میں قیمتیں 13فیصد تک کم ہو گئیں۔ سٹاک مارکیٹوں پر بھی اس کے مثبت اثرات سامنے آ رہے ہیں۔ ایران کے اس اقدام سے ایران امریکہ معاہدے کی راہ سے ایک اوربڑی رکاوٹ دور ہو گئی ہے؛ چنانچہ صدر ٹرمپ کا شکریہ ایران کہنا بر محل ہے۔ اگر معاملات اسی طرح آگے بڑھتے رہے تو ایران امریکہ معاہدے کی راہ میں عملاً کوئی مشکل نظر نہیں آتی اور شرقِ اوسط میں امن کا قیام مزید یقینی ہو جاتا ہے۔

اس دوران لبنان میں اسرائیل کی جانب سے جاری حملے روکے جانے کا اعلان اور دس روزہ جنگ بندی بھی خطے کی مجموعی صورتحال میں ٹھہراؤ اور قیا م امن کی جانب پیش رفت کا سبب بنے گی۔ اس صورتحال میں امریکہ اور ایران کو اعتماد سازی کے مزید اقدامات کی ضرورت ہے اور اس سے بھی اہم یہ کہ ایسے اقدامات سے بچنا ہو گا جو باہمی اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کا سبب بنیں۔ مقامِ شکر ہے کہ اب تک کی پیش رفت درست سمت میں ہے مگر حتمی معاہدے اور ایک دوسرے کے دل میں اپنی بات اتارنے اور اپنے حق میں زیادہ رعایتیں حاصل کرنے کے لیے اعتماد کی سطح کو مزید بلند کرنا ہو گا۔ ایران اور امریکہ کو اس سطح پر لانے میں پاکستان کا مثبت اور بھر پور کردار تاریخ کا حصہ بن چکا ہے‘ جسے فراموش نہیں کیا جاسکے گا۔ جنگ بندی کے اعلان کے لیے فریقین کو راضی کرنے سے لے کر اسلام آباد مذاکرات کے اہتمام تک کی پیش رفت کی نظیر حالیہ کئی دہائیوں میں نہیں ملتی۔ ایران اور امریکہ کی نصف صدی کی تاریخ اختلافات اور عدم اعتماد سے عبارت ہے۔ ایسے فریقین کو ایک میز پر لا بٹھانا آسان کام نہیں‘ اور وہ بھی چھ ہفتوں سے جاری جنگ کے سرے پر۔ اس کے لیے پاکستان کی قیادت نے جو کچھ کیا‘ فریقین کو راضی کرنے کے لیے جو حکمت عملی اپنائی اس کی کامیابی اظہر من الشمس ہے۔
امریکی نائب صدر اور ایرانی سپیکر پارلیمان کے دورے اور مذاکرات کے پہلے دور سے فریقین کو ایک دوسرے کی پوزیشن کو بہتر طور پر سمجھنے کا موقع ملا‘ بعد ازاں رابطوں اور فیلڈ مارشل سیدعاصم منیر کے دورۂ ایران سے مزید پیش رفت ممکن ہوئی۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کا اعلان اسی کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے۔ آج اگر اس کی بدولت دنیا میں توانائی کی قیمتوں میں نمایاں کمی اور سٹاک مارکیٹس میں نمو ہے تو اس کے لیے دنیا کو پاکستان کا شکر گزار ہونا چاہیے۔ ایران امریکہ جنگ بندی اور امن کی راہ ہموار کر نے کے لیے پاکستان نے جو کردار ادا کیا ہے اس نے مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے امکانات پیداکر دیے ہیں۔ دنیا کے اس اہم ترین خطے کا آپسی اور بیرونی کشیدگیوں میں الجھنا علاقائی اور عالمی امن‘ اقتصاد اور ترقی کے لیے بڑا سنجیدہ خطرہ ہے۔ ایران امریکہ جنگ بندی اور امن معاہدہ‘ جس کے امکانات اب بڑی حد تک واضح ہو چکے ہیں‘ ایران اور عرب ریاستوں کے تعلقات میں بھی اصلاح کا محرک بن سکتا ہے۔ جب معاملات امریکہ کے ساتھ طے ہو سکتے ہیں تو جی سی سی کے ساتھ کیا مشکل ہو گی۔ اس تناظر میں خلیجی خطے کا مستقبل پُرامن‘ ترقی یافتہ اور روشن دکھائی دیتا ہے۔ جس کے ثمرات سے پوری دنیا کو فائدہ حاصل ہو گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مفت بجلی کی سہولت ختم(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-18/11113</link><pubDate>Sat, 18 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-18/11113</guid><description>پاور ڈویژن کی جانب سے پاور سیکٹر کے گریڈ 17سے 22تک کے ملازمین کو دی جانے والی مفت بجلی کی سہولت کا خاتمہ  حکومتی کفایت شعاری مہم سے ہم آہنگ اقدام ہے اورتوانائی کے شعبے کے خسارے کو کم کرنے کی جانب ایک عملی پیشرفت۔ ایک اندازے کے مطابق گریڈ 17سے 22تک کے افسران کو سالانہ تقریباً سات کروڑ پچاس لاکھ یونٹس بجلی مفت فراہم کی جاتی ہے‘ جس کی مالیت تقریباًساڑھے چار ارب روپے بنتی ہے۔ حالیہ فیصلے کے بعد قومی خزانے پر پڑنے والا یہ اضافی بوجھ ختم ہو جائے گا۔ اس اقدام سے ادارہ جاتی شفافیت اور مالی نظم و ضبط کو بھی فروغ ملے گا جو کسی بھی معیشت کی بہتری کیلئے ناگزیر ہے۔ بجلی کے نرخوں میں مسلسل اضافے کے باعث یہ عام شہری کی قوتِ خرید سے باہر ہو چکی ہے‘ ایسے میں مخصوص طبقات کو مفت بجلی کی فراہمی معاشرتی عدم توازن کو مزید گہرا کرتی ہے۔

اس فیصلے سے نہ صرف حکومت کے مالی بوجھ میں کمی آئے گی بلکہ ایک حد تک سماجی مساوات کی بحالی بھی ممکن ہو سکے گی۔ اصلاحات کا یہ عمل یہاں رکنا نہیں چاہیے۔ حکومت کو دیگر سرکاری اداروں میں دی جانے والی بھاری مراعات اور سبسڈیز کا بھی ازسرِنو جائزہ لینا ہوگا۔ غیر ضروری اخراجات میں کمی‘ شفافیت میں اضافہ اور وسائل کے مؤثر استعمال کے بغیر معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار نہیں کیا جا سکتا۔ اگر حکومت اسی تسلسل کے ساتھ جرأتمندانہ فیصلے کرتی رہی تو نہ صرف معیشت مستحکم ہوگی بلکہ حکومت پر عوام کا اعتماد بھی بحال ہو سکے گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مہنگائی مستقل مسئلہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-18/11112</link><pubDate>Sat, 18 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-18/11112</guid><description>حکومت کی طرف سے مہنگائی پر قابو پانے کے دعوؤں کے باوجود ہر ہفتے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ وفاقی ادارۂ شماریات کے مطابق گزشتہ ہفتے کے دوران 17 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے سے ہفتہ وار مہنگائی کی شرح میں سالانہ بنیادوں پر 12 فیصد سے زائد اضافہ ہوا۔ گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے‘ جب سے ایران امریکہ جنگ کے باعث پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ‘ عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں۔ اس دوران پٹرول‘ ڈیزل‘ گیس‘ بجلی‘ ٹرانسپورٹ کرایوں اور تمام اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے باعث غریب عوام کیلئے جسم و جان کا رشتہ برقرار رکھنا مشکل ہو چکا ہے۔ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے حکومت کو نہ صرف مارکیٹ میکانزم پر گرفت مضبوط کرنا ہو گی بلکہ کم آمدنی والے طبقے کی قوتِ خرید میں اضافے کے اقدامات بھی کرناہوں گے۔

عوام کی قوتِ خرید میں کمی کا ایک بڑا سبب اقتصادی جمود اور صنعتی شعبے کی زبوں حالی ہے جس کے سبب ملک میں روزگار کے مواقع اور قوتِ خرید میں کمی آئی ہے۔حکومت کو دوطرفہ اقدامات کرنا ہوں گے۔ملک میں صنعت اور کاروبار کے لیے معتدل ماحول فراہم کرنا ہو گا تا کہ لوگوں کی آمدنی بڑھ سکے ‘ دوسری جانب مارکیٹ فورسز کو قانونی دائرہ کار میں لانا ہو گا تا کہ عوام کے استحصال کو روکا جاسکے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ایران عرب معاہدہ کب ہو گا؟(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-04-18/51786/81903209</link><pubDate>Sat, 18 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-04-18/51786/81903209</guid><description>اصل آزمائش باقی ہے اور وہ ہے عرب و ایران کو ایک میز پر بٹھانا۔ اہلِ عرب اور اہلِ فارس میں پُرامن بقائے باہمی کا معاہدہ‘ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کی ضمانت ہے۔ کیا پاکستان اس گھاٹی کو عبور کرنے میں فریقین کا مددگار بن سکتا ہے؟یہ کام امریکہ اور ایران کو ایک معاہدے پر متفق کرنے سے کہیں زیادہ مشکل ہے۔ اس کی جڑیں معاصر سیاست ہی میں نہیں تاریخ میں بھی بہت گہری ہیں۔ امریکہ اور ایران کا اختلاف چند عشروں کو محیط ہے۔ عرب و فارس کا جھگڑا صدیوں پر پھیلا ہوا ہے۔ ابتدا میں دونوں جس اسلام کو مانتے تھے‘ اس کے خدو خال ایک جیسے تھے۔ پھر اختلاف نے امتیازات کو نمایاں کرنا شروع کیا۔ یہاں تک کہ &#39;دو اسلام‘ کا تاثر گہرا ہو گیا۔ غالی گروہوں نے ان امتیازات کو تشخص بنا لیا۔ بات تکفیر تک جا پہنچی۔ یہ سب ایک دن میں نہیں ہوا۔ پہلے جو کچھ کتابوں میں تھا‘ بعد میں چوکوں اور چوراہوں میں آ گیا۔آغاز 21ہجری کو ہوا جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فارس پر حملے کا فیصلہ کیا۔ کہتے ہیں یہی فیصلہ ان کی شہادت کا باعث بنا۔ امام شبلی نعمانی نے &#39;الفاروق‘ میں 21ہجری کے واقعات بیان کرتے ہو ئے لکھا: &#39;&#39;اس وقت تک حضرت عمررضی اللہ عنہ نے ایران کی عام تسخیر کا ارادہ نہیں کیا تھا۔ اب تک جو لڑائیاں ہوئیں وہ صرف اپنے ملک کی حفاظت کے لیے تھیں۔ عراق‘ البتہ ممالکِ محروسہ میں شامل کر لیا گیا تھا لیکن وہ در حقیقت عرب کا ایک حصہ تھا کیونکہ اسلام سے پہلے اس کے ہر حصہ میں عرب آباد تھے۔ عراق سے آگے بڑھ کر جو لڑائیاں ہوئیں وہ عراق کے سلسلہ میں خود بخود پیدا ہوتی گئیں۔ حضرت عمررضی اللہ عنہ خود فرمایا کرتے تھے کہ &#39;&#39;کاش ہمارے اور فارس کے بیچ میں آگ کا پہاڑ ہوتا کہ نہ وہ ہم پر حملہ کر سکتے‘ نہ ہم ان پر چڑھ سکتے‘‘۔لیکن ایرانیوں کو کسی طرح چین نہ آتا تھا۔ وہ ہمیشہ نئی فوجیں تیار کر کے مقابلے پر آتے تھے اور جو ممالک مسلمانوں کے قبضے میں آ چکے تھے‘ وہاں غدر کروا دیا کرتے تھے۔ نہاوند کے معرکے سے حضرت عمررضی اللہ عنہ کو اس پر خیال ہوا اور اکابر صحابہ کو بلا کر پوچھا کہ ممالکِ مفتوحہ میں بار بار بغاوت کیوں ہو جاتی ہے؟ لوگوں نے کہا: جب تک یزد گرد ایران کی حدود سے نکل نہ جائے یہ فتنہ فرو نہیں ہو سکتا کیونکہ جب تک ایرانیوں کا یہ خیال رہے گا کہ تختِ کیان کا وارث موجود ہے‘ اُس وقت تک ان کی امیدیں منقطع نہیں ہو سکتیں۔ اس بنا پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عام لشکر کشی کا ارادہ کیا۔ایرانی تاریخ کا دوسرا دور تب شروع ہوا جب صفوی برسرِ اقتدار آئے۔ اس نے سارا منظر بدل ڈالا۔ اسلام کے دائرے میں رہتے ہوئے‘ ایران نے عربوں سے مختلف تشخص اپنا لیا۔ ایک کا ہیرو دوسرے کا ولن قرار پایا۔ یہ معمولی فرق نہیں تھا۔ قائداعظم نے جب دو قومی نظریے کی وضاحت کی تو اس کی ایک دلیل یہ دی کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے ہیرو الگ الگ ہیں۔ مسلمان کا ہیرو ہندوکا ولن ہے۔ مرورِ زمانہ کے ساتھ اختلافات نمایاں ہوئے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد سعودی عرب میں آنے والے تبدیلی کا مذہبی رنگ گہرا تھا۔ ریاستی سطح پر امام محمد ابن عبدالوہاب کی تعبیرات اور شدت کو اپنا لیا گیا۔ ایران میں انقلاب آیا تو آتش کدہ فارس کی تپش سارے عالمِ عرب میں محسوس ہونے لگی۔ عراق اور ایران کے مابین ہونے والی جنگ اس اختلاف کا ایک مظہر تھی جو آٹھ برس جاری رہی۔ اس پر مستزاد وہ فرقہ وارانہ جنگ و جدل‘ پاکستان بھی جس سے متاثر ہوا۔ ایران اور امریکہ کے تعلقات میں اس طرح کی تاریخ حامل نہیں۔دونوں اطراف سے اختلافات کی اس خلیج کو پاٹنے کی کوششیں بھی ہوئیں۔ ڈاکٹر علی شریعتی نے اہلِ ایران کو توجہ دلائی کہ وہ علوی اور صفوی شیعیت میں امتیاز کریں۔ شیعہ علما نے تحریفِ قرآن کی نسبت کو اعلانیہ مسترد کیا۔ آیت اللہ علی خامنہ ای نے صحابہ اور امہات المومنین کی توہین کو حرام کہا۔ دوسری طرف اہلِ سنت کے سوادِ اعظم نے اہلِ تشیع کی تکفیر کو رد کیا اور عملاً یہ اقلیت کا مؤقف بن کر رہ گیا۔ ان کاوشوں کے باوصف‘ امتیازات پر اصرار باقی ہے بلکہ میرا مشاہدہ ہے کہ ان میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ مجھے پندرہ بیس برس بعد ایک مختلف منظر نامہ دکھائی دیتا ہے‘ جس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے خوف آتا ہے۔ آج اتنی توجہ دلا سکتا ہوں کہ اتحاد کی کوششوں کے باوجود‘ زیرِ زمین پھیلی &#39;فالٹ لائنز‘ کسی وقت زلزلہ برپا کر سکتی ہیں۔ سطحِ زمین پر ان کے اثرات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ ان اسباب کی وجہ سے‘ میں یہ رائے رکھتا ہوں کہ مشرقِ وسطیٰ کا پائیدار امن عرب و ایران کے باہمی تعلقات پر منحصر ہے۔ ان کے درمیان پُرامن بقائے باہمی کا معاہدہ ناگزیر ہے تاکہ عربوں اور ایرانیوں کو ایک دوسرے سے کوئی خطرہ نہ ہو اور انہیں ایک دوسرے سے بچاؤ کیلئے کسی خارجی قوت کی ضرورت نہ رہے۔ اسامہ بن لادن کی حکمتِ عملی سے عدم اتفاق کے باجود ان کا یہ مطالبہ درست تھا کہ امریکہ مشرقِ وسطیٰ سے نکل جائے۔ تاہم انہوں نے اس پہلو کو نظر انداز کیا کہ یہ مطالبہ اسی وقت پورا ہو سکتا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں داخلی سطح پر اتفاق ہو۔ یہی اتفاق آج بھی پائیدار امن کا ضامن ہے۔اس کے لیے چار کام ناگزیر ہیں۔ ایک یہ کہ ایران اپنی تمام پراکسیز بند کرے۔ یہ اسی وقت ممکن ہے جب ایران کی سیاسی قیادت ان ہاتھوں میں ہو جن کے سیاسی شعور کی جڑیں تاریخ کے بجائے عصرِحاضر اور مذہبیات کے بجائے مذہبی اخلاقیات میں ہوں۔ ایران عراق کے ماڈل کو اپنا لے جہاں دینی و سیاسی قیادت کو عملاً الگ رکھا گیا ہے۔ اہلِ مذہب کی طاقت کا انحصار ان کی اخلاقی قوت میں ہے اور یہ ریاستی قوت سے زیادہ ہے۔ سیاسی معاملات اہلِ سیاست کے حوالے ہیں۔ یہ دوسرا کام ہے۔ تیسرا کام یہ ہے کہ عرب امریکہ کے دفاعی حصار سے نجات پائیں۔ پاکستان انہیں ضمانت دے کہ وہ کسی خارجی جارحیت کے خلاف ان کا دفاع کرے گا۔ پاک سعودی دفاعی معاہدے کو پھیلایا جائے اور اس میں ترکیہ اور ایران شامل ہوں۔ چوتھا یہ کہ سب مل کر فلسطینیوں کی خود مختار ریاست کے قیام اورگریٹر اسرائیل کے منصوبے کی ناکامی کے لیے متفقہ حکمتِ عملی اپنائیں۔ایران کے حالات اور تاریخ سے باخبر میرے ایک محترم دوست کی رائے ہے کہ ایران دونوں باتوں پر آمادہ نہیں ہو گا۔ وہاں کے سیاسی نظام کی بنیادیں ولایتِ فقیہ کے تصور میں پیوست ہیں۔ اس نظام کو اب کم و بیش پچاس برس ہونے کو ہے اور یہ جڑ پکڑ چکا۔ اس میں قیادت کی دوئی کے خیال کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ دوسرا یہ کہ ایران حزب اللہ کو کسی صورت میں نہیں چھوڑ سکتا۔ اس مؤقف میں وزن ہے۔ میرا تاثر یہ ہے کہ عربوں اور ایرانیوں کے مابین اعتماد کی بحالی کے بغیر اس خطے میں پائیدار امن نہیں آئے گا۔ اگر رویوں میں بنیادی تبدیلی نہیں آتی تو حالات بھی تبدیل نہیں ہوں گے۔ یہ تبدیلی تدریجاً آئے گی لیکن اس جانب پیش رفت آج سے ہونی چاہیے۔ اگر اہلِ یورپ اور اہلِ کلیسا تاریخ کی گرفت سے نکل کر حال میں جی سکتے ہیں تو اہلِ حرم بھی اس صلاحیت کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔ دیکھیے‘ اس کے لیے ہمیں صدیوں کی ضرورت ہے یا عشروں کی۔ میرا خیال یہ بھی ہے کہ جیسے ہی امریکہ کے ساتھ جنگ ختم ہو گی‘ ایران‘ پاکستان اور دوسرے مسلم ممالک کے داخلی مسائل سر اٹھائیں گے جن میں معاشی مسئلہ سب سے اہم ہے۔ ان کے بارے میں ابھی سے سوچنا ہو گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بے برکتی اور جہانگیر مخلص کا مکالمہ(خالد مسعود خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-04-18/51787/94836404</link><pubDate>Sat, 18 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-04-18/51787/94836404</guid><description>اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے مالا مال اس ملک میں ہر طرف پھیلی ہوئی بے برکتی کا ذمہ دار میں حکمرانوں کو ٹھہرانے کے بجائے یہ کہوں گا کہ یہ ہماری شامتِ اعمال ہے کہ ہم پر اس طرح کے حکمران مسلط کر دیے گئے کہ برکت نامی شے اس ملک سے کوچ کر گئی ہے۔ اس ملک کی اشرافیہ عوام کی جیب کاٹ کر اپنی جیبیں بھرنے کی کوشش کر رہی ہے لیکن افسوس صرف اس بات کا نہیں کہ حکمران عوام کو  لوٹ رہے ہیں‘ یہ دکھ الگ تکلیف دے رہا کہ اس ساری لوٹ مار کے باوجود ہم فُقرے کے فُقرے ہیں اور ملک قرضوں پر چل رہا ہے۔ ملال تو یہ ہے کہ عوام کے کپڑے اتارنے کے باوجود حکومت کے اپنے تن پر بھی کچھ نہیں۔ نہ عوام کے پاس کچھ باقی بچا ہے اور نہ ہی سرکار کی جیب میں کچھ دکھائی دے رہا ہے۔ بے برکتی اسی کو کہتے ہیں کہ کسی کا بھی کچھ نہیں بن رہا۔ لٹنے والے تو خیر سے لٹ ہی رہے ہیں‘ لوٹنے والوں کا بھی حال کچھ کم بُرا نہیں۔ حکمرانوں سے میری مراد اُن کی ذات نہیں بلکہ ریاست کے نمائندگان ہیں۔ وگرنہ ذاتی طور پر حکمران‘ اشرافیہ اور مافیاز کے پو بارہ ہیں۔ یعنی پنجے گھی میں اور سر کڑاہی میں ہے۔میں نے اپنے اس کالم کا یہ ابتدائی حصہ دو قسطوں میں لکھا ہے اور ابھی معلوم نہیں کہ مکمل ہونے تک بجلی کتنی بار جائے گی۔ گزشتہ  ایک گھنٹے کے دوران بجلی دو مرتبہ گئی ہے اور اللہ جانے ابھی مزید کتنی بار جائے گی۔ ابھی کالم لکھنا شروع ہی کیا تھا کہ بجلی چلی گئی۔ کاغذ قلم کو ایک طرف رکھا اور بجلی کی آمد کے انتظار میں بیٹھ گیا۔ آدھ گھنٹے بعد بجلی آئی تو سکھ کا سانس لیا مگر یہ بہرحال میری ہی حماقت تھی کہ میں یہ تصور کرتے ہوئے کہ اب بجلی کم از کم دو چار گھنٹے تو رخِ روشن دکھاتی رہے گی‘ کافی بنا کر پینے بیٹھ گیا۔ اس کے بعد کالم مکمل کرنے کا ارادہ تھا مگر کالم مکمل کرنا تو رہا ایک طرف‘ کافی کا آدھا کپ اندھیرے میں پینا پڑا۔ یہ صرف ملتان کا حال نہیں۔ کسی نے کیا خوب تبصرہ کیا ہے کہ اس وقت ساری دنیا کی نظریں اسلام آباد پر ہیں اور اسلام آباد ہے کہ اس وقت اندھیرے میں ہونے کی وجہ سے کسی کو دکھائی نہیں دے رہا۔بات بے برکتی کی ہو رہی تھی‘ صورتحال یہ ہے کہ ملک کی ہر چھوٹی بڑی سڑک پر چالیس پچاس کلو میٹر کے بعد سرکار کا ٹول پلازہ سڑک سے گاڑی گزارنے کا عوضانہ وصول کر رہا ہے۔ موٹروے پر کار سے لے کر ٹرالر تک ہر سفر پر سینکڑوں نہیں ہزاروں روپے ٹول ٹیکس دے رہے ہیں۔ لاہور‘ اسلام آباد اور پشاور وغیرہ کے ٹول پلازوں پر ٹیکس ادا کرنے والی گاڑیوں کی طویل قطاریں ظاہر کر رہی ہیں کہ سرکار کو اس مد میں کتنی رقم روزانہ وصول ہو رہی ہے۔ لیکن بے برکتی کا یہ عالم ہے کہ یہ سارا ٹیکس وصول کرنے والا ادارہ این ایچ اے یعنی نیشنل ہائی وے اتھارٹی پاکستان کے سرکاری اداروں میں سب سے زیادہ نقصان میں جانے والا ادارہ ہے۔ این ایچ اے کا نقصان پی آئی اے‘ ریلوے‘ سٹیل ملز‘ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں‘ پی ایس او اور اسی طرح کے دیگر سرکاری اداروں میں سب سے زیادہ ہے۔ پی آئی اے اس ملک میں دیگر ہوائی کمپنیوں کے مقابلے میں زیادہ کرایہ لینے کے باوجود خسارے میں ہے۔ پاکستان میں چلنے والی نجی ہوائی کمپنیاں نسبتاً کم کرایہ لینے کے باوجود نفع کما رہی ہیں۔ پاکستان میں بجلی خطے کی سب سے مہنگی بجلی ہے لیکن بے برکتی کا یہ عالم ہے کی فی کلو واٹ جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ قیمت وصول کرنے کے باوجود تقسیم کار کمپنیاں نقصان میں ہیں۔ دس روپے میں سولر یونٹ خرید کر پچاس روپے میں بیچنے کے باوجود کمپنیاں خسارہ اور عوام لوڈ شیڈنگ بھگت رہے ہیں۔ دنیا بھر میں سٹیل بے پناہ منافع بخش کاروبار تصور کیا جاتا ہے۔ بھارت میں مِتل فیملی نے سٹیل کی صنعت سے اربوں روپے کی بزنس ایمپائر کھڑی کر لی ہے۔ سارے ملک کی فولاد کی ضروریات پوری کرنے کیلئے صرف ایک سٹیل ملز تھی جو چلتی تھی تو محض ہاتھی تھی‘ اب بند پڑی ہے تو سفید ہاتھی بن گئی ہے۔ خطے میں سب سے مہنگا تیل ہم پاکستانی خریدتے ہیں اور سرکاری آئل کمپنی ریکارڈ نقصان کر رہی ہے۔ کسی نے کیا خوب سوال کیا کہ ساری دنیا کے ممالک عالمی معاشی اداروں کے قرضدار ہیں۔ ہر ملک اپنا خسارہ قرضے لے کر پورا کر رہا ہے۔ دنیا کی تمام بڑی بڑی معیشتیں قرض پر چل رہی ہیں۔ امریکہ‘ جاپان‘ جرمنی‘ فرانس‘ برطانیہ‘ اٹلی‘ بھارت‘ سنگاپور‘ تائیوان اور کوریا تک قرضوں سے کام چلا رہے ہیں۔ ہم تو رہے ایک طرف‘ صنعتی اور اقتصادی طور پر دنیا کے مضبوط ترین ممالک بھی قرضدار ہیں۔ سوال یہ ہے کہ سب ملک قرضدار ہیں‘ تمام کا بجٹ خسارے میں ہے تو آخر پیسہ کہاں جا رہا ہے؟ہمارا سوال بھی یہی ہے کہ ٹول ٹیکس سب سے زیادہ ہے وصول کرنے والا ادارہ خسارے میں ہے۔ جہاز کی ٹکٹ سب سے مہنگی ہے اور ہوائی کمپنی گھاٹے میں ہے۔ بجلی سب سے مہنگی ہے مگر تقسیم کار کمپنیاں نقصان میں جا رہی ہیں۔ تیل سب سے مہنگا ہے اور تقسیم کار کمپنی دیوالیہ ہونے کے قریب ہے۔ کپڑے عوام کے بھی اُتر رہے ہیں اور سرکار کے تن پر بھی کچھ نہیں۔ عوام لٹ رہے ہیں لیکن حکومت کی جیب میں پھوٹی کوڑی بھی نہیں تو پھر یہ بے برکتی نہیں تو اور کیا ہے؟ حکمرانوں کی نا اہلی‘ نالائقی اور بدنیتی اپنی جگہ لیکن آخر کیا وجہ ہے کہ ہمیں گزشتہ 78سال سے مسلسل اسی قسم کے حکمران نصیب ہو رہے ہیں؟ ایمانداری کی بات ہے کہ ایسے حکمرانوں کا مسلط ہونا ہمارے شامتِ اعمال کا نتیجہ ہے۔ ہم پر ویسے ہی حکمران مسلط کر دیے گئے ہیں جیسے ہمارے کرتوت تھے۔ ہمیں ہماری حرکتوں کی سزا اسی دنیا میں مل رہی ہے۔جیسا کہ میں نے کہا ہے کہ عوام بھی لٹ رہے ہیں اور حکومت کا بھی کچھ نہیں بن رہا۔ ہمارا بھی نقصان ہو رہا ہے اور حکومت بھی فائدے میں نہیں جا رہی۔ اس ساری صورتحال کے تناظر میں نامور سرائیکی شاعر جہانگیر مخلص کا اپنے ایک دوست کے ساتھ ہونے والا مکالمہ یاد آ رہا ہے۔ پہلے یہ مکالمہ اُس کی اصل زبان یعنی سرائیکی میں اور پھر اس کا ترجمہ۔ سعید خان آکھے: مخلص فلانٹراں بندہ میں کنوں تیڈی کتاب گھن گیے تے ولانِسی ڈِتی۔ میں آکھئیم: سعید خان‘ او کتاب کیوں گھِن گیے ناں اوکُوں کتاب پڑھن دی عادت ہے تے نہ ہی او کتاب پڑھ سگدیے۔ سعید خان کوڑیج تے آگھئیس: مخلص‘ کاں جو صابن چاویندے دھمدا تاں نَیں‘ بس نامراد نیں نقصان جو کرناں تھیا۔ (سعید خان نے کہا: مخلص‘ فلاں آدمی مجھ سے تمہاری کتاب لے گیا ہے اور پھر اس نے واپس نہیں کی۔ میں نے کہا: سعید خان وہ کتاب کیوں لے گیا ہے؟ نہ تو اسے کتاب پڑھنے کی عادت ہے اور نہ ہی وہ کتاب پڑھ سکتا ہے۔ سعید خان آگے سے جل کر بولا: مخلص! کوّا جو ہمارا صابن اٹھا کر لے جاتا ہے نہاتا تو نہیں۔ بس نامراد نے ہمارا نقصان کرنا ہوتا ہے)۔میں نے اس مکالمے کو سرائیکی میں کئی بار پڑھا ہے اور ہر بار الگ لطف لیا ہے۔ حالانکہ مجھے علم ہے کہ میں نے ترجمہ درست کیا ہے  لیکن سچ تو یہ ہے کہ اس کا مزہ اصل مکالمے کا عشر عشیر بھی نہیں۔ زمین سے جڑی ہوئی زبانوں کا لفظی ترجمہ تو ہو سکتا ہے لیکن اس لطف کا ترجمہ ممکن نہیں جو اندر تک محسوس ہوتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90500073.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مثالی گاؤں(ڈاکٹر حسین احمد پراچہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-04-18/51788/83807255</link><pubDate>Sat, 18 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-04-18/51788/83807255</guid><description>میری پلکوں میں آویزاں متعدد خوابوں میں سے ایک خواب مثالی گاؤں کا بھی ہے۔ مثالی گاؤں کے بارے میں ہر کسی کی اپنی تعریف ہے۔ میرے نزدیک مثالی گاؤں وہ ہے کہ جس کے باسیوں کو شہری سہولتوں کے ساتھ ساتھ فضائے سبزگوں‘ چمکتی ہوئی دھوپ‘ فضائی و صوتی اور آبی آلودگی سے پاک ماحول میسر ہو۔وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے مثالی دیہات کے فیز ٹُو کا اعلان کرتے ہوئے 7500دیہات کو ماڈل ویلیج بنانے کا اعلان کیا ہے۔ اس پروجیکٹ کے مطابق ان دیہات کے مدتوں سے خراب فلٹریشن پلانٹس کو درست کر کے دوبارہ چالو کرنے یا نئے پلانٹس لگانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ان مثالی دیہات میں سیوریج سسٹم کا بھی انتظام کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ دیہات کے تالابوں یعنی چھپڑوں کی صفائی بھی کی جائے گی۔ اسی طرح ٹیوب ویلوں کو واپڈا بجلی کے بجائے سولر سسٹم پر منتقل کیا جائے گا۔میں نے جب مثالی دیہات کا چرچا سنا تو ذہن میں ایک خیالی تصویر بنا لی۔ یہ خیالی تصویر مذکورہ مثالی گاؤں سے بہت مختلف ہے۔ ذیل میں ہم حقیقی مثالی گاؤں کا ایک نقشہ پیش کر رہے ہیں۔ مثالی گاؤں میں گلیاں پختہ ہوں۔ دیہات اور شہروں کے درمیان رابطے کی سڑکیں اچھی اور محفوظ ہوں۔ دیہات کے اندر زمانوں سے گندے چھپڑ موجود ہیں۔ یہ چھپڑ بیماریوں کی آماجگاہ ہیں۔ بعض اوقات ان میں چھوٹے بچے ڈوب جاتے ہیں۔ ان چھپڑوں کو باقاعدہ سیوریج کے ذریعے گاؤں سے باہر منتقل کیا جانا چاہیے۔میٹرک تک اچھے سرکاری سکول ہر چھوٹے بڑے دیہات میں موجود ہونے چاہئیں۔ صرف ٹیوب ویلز نہیں بلکہ ہر دیہات کو سولر یا بائیو گیس (گوبر انرجی)کے ذریعے رات دن بجلی کی فراہمی کا انتظام کیا جائے۔ میں سرگودھا میں ایسے کاشتکاروں یا زمینداروں کو جانتا ہوں کہ جنہوں نے اپنے ہی گاؤں کے دوسرے افراد کی مدد سے حقیقی معنوں میں بائیو گیس کے ذریعے 24 گھنٹے بجلی کی فراہمی کا معمولی نرخوں میں بندوبست کر دیا ہے۔ دیہات سے متصل ہر قصبے میں کم از کم گریجویشن تک کالج ہونا چاہیے۔ ہر مثالی گاؤں میں میٹرک کے بعد مختلف ہنر سکھانے والے ادارے قائم کیے جائیں۔ اسی طرح لڑکیوں اور لڑکوں کو آئی ٹی کی ٹریننگ دی جائے۔ فری لانس انسٹرکٹر یہاں آ کر انہیں دنیا بھر میں کام کے مواقع حاصل کرنے اور اس میں کامیابی کے طریقوں کی تربیت دیں۔ سب سے بڑھ کر دیہات میں کمیونٹی کی اپنی کمیٹی ہو جس میں خواتین و حضرات شامل ہوں جو اپنے دیہات کو معاشی‘ سماجی‘ تعلیمی اور طبی سہولتوں کے اعتبار سے اپنی مدد آپ کے تحت چار چاند لگا سکیں۔چند سال قبل مجھے برطانیہ سمیت یورپ کے اندر ڈرائیو کرنے کا موقع ملا تھا۔ اس سفر میں میری توجہ کا مرکز شہر نہیں دیہات تھے۔ یہ دیہات کیا تھے تعمیراتی و زرعی حسن کا شاہکار تھے۔ مجال ہے کوئی جانور باڑے سے باہر نظر آئے۔ باڑے کے اندر یوں صفائی تھی جیسے ہماری ایلیٹ کلاس کے شہروں کے اندر لانوں میں ہوتی ہے۔ سوئٹزر لینڈ کے چند دیہات کو دیکھ کر یہمحسوس ہوتا تھا کہ یہ صفحۂ ارضی پر حقیقی دیہات نہیں بلکہ خوبصورت پینٹنگز سجا دی گئی ہیں۔ برطانیہ میں لیک ڈسٹرکٹ کی طرف سفر کرتے ہوئے راستے میں کئی خوبصورت مثالی گاؤں دیکھے۔ ورڈز ورتھ کے لیک ڈسٹرکٹ میں شاعرِ فطرت کا صدیوں پرانا گھر مگر ترو تازہ ڈیفوڈلز کو دیکھ کر یوں محسوس ہوتا تھا کہ جیسے ورڈز ورتھ ابھی اپنے گھر کے کسی جھروکے سے ان پھولوں کو دیکھے گا اور ان کی مدح سرائی شروع کر دے گا۔ &#39;&#39;بورن ویلی‘‘ کے نام کو ہمارے امرا گہرے رنگ کی چاکلیٹ کے نام سے جانتے ہوں گے۔ دراصل بورن ویلی برمنگھم کے اس مثالی گاؤں کا نام ہے جسے اس چاکلیٹ کو بنانے والی مشہور کیڈ بری فیملی نے 19ویں صدی میں تعمیر کیا تھا۔ اس مثالی گاؤں میں جارج اور رچرڈ کیڈبری نے اپنے کارکنوں کو زبردست سہولتیں فراہم کی تھیں۔ اس علاقے کے بہترین کوکا سے چاکلیٹ بنانے کا کام ان کے والد جان نے شروع کیا تھا۔ جب چاکلیٹ کی طلب بہت بڑھی تو دونوں بھائیوں نے برمنگھم سے چند میل کے فاصلے پر بورن ندی کے کنارے 120 ایکڑ پر یہ مثالی گاؤں اپنے کارکنوں کے لیے تعمیر کرایا ۔ کارکن چاکلیٹ فیکٹری میں دل و جان سے محنت کرتے اور مالکان انہیں بہترین رہائشی سہولتوں کے علاوہ منافع میں بھی حصہ دیتے تھے۔ اسی طرح صابن وغیرہ بنانے والی مشہور فرم کے ولیم لیور نے برطانیہ میں لیور پول کے قریب &#39;&#39;سن لائٹ‘‘ کے نام سے 1880ء میں مثالی گاؤں تعمیر کیا تھا۔ ورکرز کے لیے تعمیر کردہ یہ مثالی گاؤں اپنے خوبصورت فنِ تعمیر‘ باغات‘ ثقافتی مراکز‘ سکولوں اور ہسپتال کی بنا پر دور نزدیک ابھی تک خوب پہچانا جاتا ہے۔خصوصی طور پر تعمیر کردہ دیہات کے علاوہ بھی برطانیہ اور یورپ کے دیگر ممالک کے دیہات میں بھی زندگی کی تمام شہری سہولتیں اٹھارہویں صدی کے اواخر اور انیسویں صدی کے اوائل سے موجود ہیں۔ یورپ کے دیہات بالعموم عافیت کدے سمجھے جاتے ہیں۔ اس لیے شہروں میں مقیم وہاں کی ایلیٹ کلاس بالعموم ویک اینڈ اپنے کنٹری ہومز میں گزارنے کو ترجیح دیتی ہے۔ اسکے برعکس اگر ہمارے شہروں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ چھ گھنٹے اور دیہات میں دس سے بارہ گھنٹے ہوتی ہے تو پھر کون دیہات میں جانے پر آمادہ ہوگا۔حکومت پنجاب نے صاف پانی اور سیوریج کی سہولتوں کی فراہمی سے کام کا آغاز تو کیا ہے مگر مثالی گاؤں اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔ مثالی دیہات بنانے کیلئے بہت سے کام ضروری ہیں۔ سب سے پہلا کام تو یہ ہے کہ ماڈل ویلیج کو نورِ علم سے منور کیا جائے۔ میٹرک تک ہر بچے اور بچی کو لازمی زیورِ تعلیم سے آراستہ کیا جائے۔ جہالت ہمارے سر سبز و شاداب دیہات کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ گاؤں بڑا ہو یا چھوٹا‘ وہاں میٹرک تک لڑکوں اور لڑکیوں کیلئے بہترین سرکاری سکولوں کی موجودگی ازبسکہ ضروری ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ ان دیہات کے مثالی سکولوں کے فارغ التحصیل طلبہ و طالبات جب اعلیٰ تعلیم کیلئے لاہور کے اداروں میں پہنچتے تو پروفیسرز اُن کی پرفارمنس اور قابلیت کی بہت تعریف کیا کرتے تھے مگر اب حکومتوں کی شب و روز بدلتی ہوئی پالیسیوں نے دیہی سکولوں کا حلیہ بگاڑ دیا ہے۔ میٹرک تک تعلیم کے علاوہ ٹیکنیکل ایجوکیشن اور دورِ جدید کے مطابق آئی ٹی کی تعلیم و تربیت کا بندوبست بھی ہونا چاہیے۔ دیہات میں جدید زراعت کی تربیت کے علاوہ فوڈ پروسیسنگ‘ سمال انڈسٹریز کیلئے زمین اور سود سے پاک قرضوں اور تربیت کا انتظام بھی ہونا چاہیے۔کئی برس قبل قرطبہ سے غرناطہ جاتے ہوئے دیکھا کہ ہر چھوٹے بڑے گاؤں میں زیتون پروسینگ کی فیکٹریاں کام کر رہی تھیں۔ یہ فیکٹریاں سپین کے خوش ذائقہ زیتون بوتلوں میں بند کر کے کئی ملکوں کو برآمد کرتی ہیں۔ طرح طرح کے دستکاری یونٹس بھی دیہات کے گھر گھر میں ہونے چاہئیں۔ اس طالبعلم نے دوسرے ملکوں کے سٹوروں میں کہیں کہیں پاکستانی دستکاریوں کے نمونے دیکھے‘ انہیں مزید پھیلانے کی ضرورت ہے۔ ایک منظم طریقے سے سمال انڈسٹری کو دیہات میں خوب پھیلایا جا سکتاہے۔ دیہات میں بطور خاص نوجوانوں کیلئے کھیلوں کے میدان ہونے چاہئیں جن میں صحتمند مقابلوں کے رحجان کو زیادہ سے زیادہ پروان چڑھایا جائے۔ دیہات میں گڈ گورننس اور ہر یونین کونسل کی منتخب لوکل حکومت کا ہونا دیہی ترقی کیلئے بہت ضروری ہے۔ اگر دیہات میں تعلیمی و طبی اور روزگار کی سہولتیں اور جان و مال کا تحفظ ہوگا تو پھر دیہات سے شہروں کی طرف نقل مکانی کے رجحان میں واضح کمی آئے گی۔ جب تک دیہات میں باہمی تعاون سے ایک خود کار اور خود کفیل کلچر قائم نہیں ہوتا اس وقت تک حقیقی مثالی گاؤں وجود میں نہیں آ سکتا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_70033906.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کیا امریکہ مذاکرات کے ذریعے سمجھوتا چاہتا ہے؟(ڈاکٹر رشید احمد خاں)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr-rasheed-ahmad-khan/2026-04-18/51789/44312333</link><pubDate>Sat, 18 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr-rasheed-ahmad-khan/2026-04-18/51789/44312333</guid><description>اپریل کے پہلے ہفتے میں اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے مذاکرات کے بعد خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ 21اپریل کو پندرہ روزہ جنگ بندی کی میعاد ختم ہونے پر فریقین میں جنگ دوبارہ شروع ہو جائے گی مگر صدر ٹرمپ کے اس بیان کے بعد کہ مذاکرات کا دوسرا راؤنڈ جلد شروع ہو سکتا ہے‘ خطے میں امن کی ٹوٹتی ہوئی امیدوں کو کچھ سہارا ملا ہے۔ اگرچہ اس بارے میں کوئی باضابطہ تاریخ اب تک سامنے نہیں آئی مگر ایران اور امریکہ‘ دونوں کی جانب سے آئندہ چند دنوں میں دوبارہ اسلام آباد میں مذاکرات کا عندیہ دیا گیا ہے۔ دوسری جانب لبنان اور اسرائیل میں بھی 10دن کیلئے جنگ بندی کا معاہدہ ہو چکا ہے۔ادھر امریکی بحریہ نے 13 اپریل سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔ (گزشتہ روز ایران نے جنگ بندی کی باقی مدت کے لیے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کا اعلان کر دیا ہے) مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ پر فریقین کی طرف سے آمادگی کو خوش آمدید کہا جا رہا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان 40 روزہ جنگ نے عالمی معیشت خصوصاً تیل اور گیس کی مارکیٹ کو شدید متاثرکیا ہے۔ اگر جنگ بندی میں توسیع نہ ہو سکی اور دوبارہ جنگ چھڑ گئی تو عالمی معیشت کو 1930ء کی کساد بازاری سے بھی بدتر صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ چین‘ جاپان اور جنوبی کوریا جیسے بڑے صنعتی ممالک جو اپنی توانائی کی ضروریات کا بیشتر حصہ خلیج فارس اور مشرق وسطیٰ سے تیل اور گیس درآمد کر کے پورا کرتے ہیں‘ کو زیادہ مشکلات درپیش ہوں گی۔چین اپنی توانائی کی ضروریات کا 50 سے 60 فیصد ایران اور خلیج فارس کے دیگر ممالک قطر‘ کویت‘ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب سے آبنائے ہرمز اور باب المندب کے راستے درآمد کرتا ہے۔ چین نے مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ طویل المیعاد بنیادوں پر تجارتی اور معاشی تعلقات کو دیرپا اور مستحکم بنانے کے لیے 200 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ چین ایران کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے اور ایران کے خام تیل کے 90فیصد حصے کا خریدار ہے۔ اس لیے وہ امریکہ اور ایران کے مابین جنگ بندی اور متنازع مسائل کے حل کیلئے خاموشی مگر غیر معمولی مستعدی سے سرگرم ہے۔ بعض حلقوں کی جانب سے یہ بھی دعویٰ کیا جا رہا کہ اسلام آباد مذاکرات میں شرکت کیلئے چین نے ہی ایران کو پاکستان کے ذریعے خصوصی طور پر پیغام بھیجا تھا۔ مذاکرات پر آمادگی کے ساتھ امریکہ کی طرف سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا بھی فیصلہ سامنے آیا جس کا ایک مقصد یہ بتایا جاتا ہے کہ صدر ٹرمپ کی رائے میں اس طرح چین امریکہ کی شرائط پر سمجھوتا کرنے کیلئے ایران پر دباؤ ڈالے گا۔لیکن یہ قیاس آرائی حقیقت پر مبنی معلوم نہیں ہوتی۔ چین ان ممالک میں شامل ہے جنہوں نے 28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے کو غیر قانونی اور بین الاقوامی قانون کے منافی قرار دیا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں آبنائے ہرمز کو کھلوانے کیلئے طاقت کے استعمال کا مینڈیٹ حاصل کرنے کیلئے خلیجی ممالک کی طرف سے پیش کردہ قرارداد کو چین اور روس کی جانب سے ویٹو کرنے سے ثابت ہو جاتا ہے کہ چین ایران کی طرف سے مزاحمتی کارروائیوں کو حق بجانب سمجھتا ہے۔ایران امریکہ تنازع کے بارے میں امید کی کرن باقی رہنے کی ایک وجہ یہ ہے کہ فریقین نے اسلام آباد مذاکرات کے پہلے رائونڈ کے بے نتیجہ رہنے کے باوجود روابط منقطع نہیں کیے۔ اس کی تصدیق امریکی اور ایرانی حلقوں نے کی ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ان روابط کو قائم رکھنے میں پاکستان نے بطور ایلچی کلیدی کردار ادا کیا ہے‘ جس کی ایران اور امریکہ دونوں نے تحسین کی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کا دورۂ سعودی عرب اور چیف آف دی ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دورۂ ایران اس کا واضح اشارہ ہے کہ پاکستان ایران امریکہ مذاکراتی دور کو حتمی اور نتیجہ خیز بنانے کیلئے کوشاں ہے۔ بعض خبریں یہ بھی بتاتی ہیں کہ اس سے فریقین کے درمیان خفیہ بات چیت جسے بیک چینل ڈپلومیسی کہتے ہیں‘ کی راہیں کھلی ہیں۔باخبر حلقوں کے مطابق اس وقت تک امریکہ اور ایران کے درمیان سب سے اہم مسئلہ ‘جوہری ہتھیاروں کی تیاری میں کام آنے والی افزودہ یورینیم پر سمجھوتے کی طرف کافی پیشرفت ہو چکی ہے۔ کچھ فاصلہ اگر باقی ہے تو اسے ختم کرنے کیلئے پاکستان کی خدمات حاصل کی جا رہی ہیں۔ فیلڈ مارشل کے دورۂ ایران کو اسی سلسلے کی ایک کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔ لیکن ان سب باتوں کے باوجود باہمی سمجھوتے کیلئے سب سے ضروری چیز یعنی &#39;&#39;اعتماد‘‘ ابھی تک مفقود ہے‘ اور اس کی وجوہات کسی سے پوشیدہ نہیں۔ گزشتہ آٹھ‘ نو ماہ میں ایران دو بار مذاکرات کے دوران امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کا نشانہ بن چکا ہے۔ 28 فروری کو سلطنتِ عمان کی وساطت سے جنیوا میں امریکہ اور ایران کے مابین جو بالواسطہ مذاکرات ہو رہے تھے‘ عمانی وزیر خارجہ بدر بن حمد البوسعیدی کے مطابق ان میں فریقین معاہدے کے بہت قریب پہنچ چکے تھے۔ ایران نے معاہدے کی خاطر ٹرمپ کی اُن شرائط کو بھی مان لیا تھا جو اُس نے 2015ء میں صدر اوباما کے دور میں ہونے والے معاہدے میں تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ یہاں تک کہ ایران کے پاس 65فیصد تک افزودہ یورینیم پر بھی مفاہمت ہو چکی تھی۔ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی(آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹر جنرل رافیل ایم گروسی کے ایک امریکی ٹی وی چینل کے ساتھ انٹرویو کے مطابق اگلے دن اٹامک انرجی ایجنسی کے ٹیکنیکل ایکسپرٹس کا ایک اجلاس بھی ہونے والا تھا مگر امریکہ اور اسرائیل نے اچانک حملہ کرکے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای اور عسکری رہنماؤں کو شہید کر دیا۔ 40 روز کی شدید بمباری کے بعد جب ٹرمپ نے محسوس کیا کہ مزید حملے امریکہ کو مہنگے پڑیں گے تو پندرہ روز کیلئے جنگ بندی قبول کر لی۔ اسلام آباد مذاکرات کے پہلے دور میں امریکہ نے جو وفد بھیجا تھا‘ اُس کی کمپوزیشن سے بہت سے حلقے واشنگٹن کو مذاکرات میں غیر سنجیدہ قرار دے رہے تھے۔ اس کے برعکس ایران پوری تیاری کے ساتھ ایک ایسے وفد کے ہمراہ مذاکرات میں شریک ہوا جس میں امریکہ‘ ایران تنازع کے تمام پہلوؤں کی جانکاری رکھنے والے ماہرین موجود تھے۔ایک اور مسئلہ جس کی وجہ سے ایران کی بدگمانی میں اضافہ ہوتا ہے‘ وہ صدر ٹرمپ کی بدلتی ہوئی ترجیحات ہیں۔ کبھی اُن کے نزدیک امریکہ کا سب سے اہم مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ایران کبھی بھی ایک ایٹمی طاقت نہ بن سکے۔ کبھی کہتے ہیں کہ ایران میں رجیم چینج اصل مقصد تھا۔ کبھی وہ کہتے ہیں کہ ایران کے تیل اور گیس کے کنویں‘ رئیل انفراسٹرکچر‘ پُلوں اور بجلی گھروں کو تباہ کر کے ایران کو واپس پتھر کے زمانے میں دھکیل دیا جائے گا۔ اب آبنائے ہرمز کو ایران کے خلاف حکمت عملی میں مرکزی حیثیت دی جا رہی ہے۔ ان بدلتے ہوئے گول پوسٹس کے پیشِ نظر ایران ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے حلقوں میں یہ سوال پیدا ہو رہا ہے کہ صدر ٹرمپ جوہری مسئلے پر ایران کے ساتھ سمجھوتا چاہتے بھی ہیں یا نہیں۔ کیونکہ اگر اُن کا مقصد ایران کے ساتھ جوہری مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے ایک سمجھوتے کی صورت میں حل کرنا ہوتا تو وہ اپنی پہلی صدارتی مدت میں 2015ء کے معاہدے سے امریکہ کو الگ نہ کرتے۔ امریکی ماہرین کی رائے میں اوباما دور میں طے پانے والا یہ بہترین معاہدہ تھا۔ اگر صدر ٹرمپ مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل نہیں کرنا چاہتے تو پھر آخر وہ چاہتے کیا ہیں؟ اس سوال کا جواب آئندہ کالم میں دینے کی کوشش کی جائے گی۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90264263.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ہماری فاقہ مستی کب رنگ لائے گی(افتخار احمد سندھو)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/iktakhar-ahmed-sandhu/2026-04-18/51790/43671391</link><pubDate>Sat, 18 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/iktakhar-ahmed-sandhu/2026-04-18/51790/43671391</guid><description>اللہ پاک نے پاکستان کو پوری دنیا میں عزت دی ہے۔ دنیا بھر میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کا ڈنکا بج رہا ہے۔ جب یہ تحریر لکھی جا رہی ہے فیلڈ مارشل ایران امریکہ مذاکرات کی کامیابی کے لیے ایران کے دورے پر ہیں اور وزیراعظم شہباز شریف سعودی عرب اور قطر کے کامیاب دورے کے بعد ترکیہ پہنچ چکے ہیں۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے سعودی عرب کے دورے کی کامیابی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ پاکستان کو سعودی عرب کی جانب سے دو ارب ڈالرز فنڈز کی مد میں موصول ہو گئے ہیں۔ سعودی عرب نے پاکستان کو تین ارب ڈالر ڈیپازٹ کرانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ وفاقی وزیرِ خزانہ یہ خوشخبری سناتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ سعودی حکومت کی جانب سے تین ارب ڈالر کی سپورٹ اگلے ہفتے تک ہمیں مل جائے گی۔ پانچ ارب ڈالر کے ڈیپازٹ کے سالانہ رول اوور کے بجائے تین سال کی توسیع ہو جائے گی۔ لہٰذا سعودی حکومت اور ولی عہد محمد بن سلمان کا جتنا بھی شکریہ اداکیا جائے کم ہے۔ لیکن پاکستان کے اندرونی حالات کیا ہیں؟ تصویر کا دوسرا رخ بہت درد ناک اور تشویشناک ہے۔ آئیے آپ کو اس کی ایک جھلک دکھاتا ہوں۔پاکستان کے 25کروڑ افراد میں سے 18کروڑ عوام بیچارے خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ملکی معیشت کی صورتحال یہ ہے کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس موجود زرمبادلہ کے ذخائر 10اپریل کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران ایک ارب 32کروڑ ڈالر کم ہو کر 15ارب آٹھ کروڑ ڈالر رہ گئے۔ ہمیں ملک چلانے کیلئے تیل دنیا سے ادھارلینا پڑ رہا ہے‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ملکی اخراجات ہماری آمدن سے دوگنا ہیں۔ اس وقت حکومت کے اخراجات اتنے زیادہ ہیں کہ یہ ناقابلِ برداشت ہیں۔ ہم آئی ایم ایف کے رحم کرم پر ہیں۔ وفاقی وزیر خزانہ نے یہ مژدہ بھی سنایا کہ پاکستان نے مالی سال 2026ء کے لیے بیرونی فنانسنگ کے انتظامات مکمل کر لیے ہیں۔ آئی ایم ایف کے ساتھ پروگرامز پر سٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا ہے۔ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹیو بورڈ سے منظوری مئی کے اوائل میں متوقع ہے۔ پانڈا‘ یورو اور سکوک بانڈز کے ذریعے بھی فنڈنگ کی حکمت عملی جاری ہے۔ حکمران اپنی عیاشیوں پر اٹھنے والے اخراجات پورے کرنے کے لیے قرض پر قرض لے رہے ہیں۔ بقول مرز غالب:قرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاںرنگ لاوے گی ہماری فاقہ مستی ایک دنبدقسمتی سے قرض پر قرض لینے کے باوجود ہماری فاقہ مستی رنگ نہیں لا رہی۔ ہم روز بروز پیچھے اور نیچے کی طرف سفر کر رہے ہیں۔ نااہلیوں اور اللوں تللوں کے باعث ملکی معیشت مستحکم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک کے سب سے بڑے دشمن اس کی اکانومی کو کمزور کرنے والے ہیں۔ غربت ہے‘ بدانتظامی ہے‘ سب اچھا ہے والا خوشامدی کلچر ہے‘ اقربا پروری ہے‘ سفارش کا کلچر ہے‘ رشوت ہے جس کے باعث یہ ملک بدعنوانی کا گھر بن چکا ہے‘ کیا اس طرح پاکستان چل سکے گا؟ حکمران باہر دنیا میں جتنے مرضی پاپولر ہوں‘ پوری دنیا کے میڈیا‘ ٹی وی چینلز اور اخبارات نیویارک ٹائمز‘ واشنگٹن پوسٹ‘ وال سٹریٹ جرنل‘ اکانومسٹ اور ٹیلی گراف تک میں ان کی ہیڈ لائنز آ رہی ہیں لیکن ملک کے اندرونی حالات‘ واقعی ایک کھلا تضاد ہے۔ ان حالات کو دیکھیں تو دل خون کے آنسو روتا ہے کہ عوام غربت اور مہنگائی میں کس طرح زندہ رہ پائیں گے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا بیان ریکارڈ پر ہے کہ تین چار سالوں میں کتنے پیسے پاکستان سے باہر چلے گئے‘ تین چار سالوں میں مہنگائی کے باعث اشیا کی قیمتیں کہاں پہنچ گئی ہیں۔کنگال ملک نہیں ہوا بلکہ ملک کے عوام ہوئے ہیں۔ اگر ملک کنگال ہوتا تو درجنوں وفاقی وزرا نہ ہوتے اور یہ لوگ بلٹ پروف گاڑیوں میں نہ گھومتے۔ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ قربانیاں عوام دیں اور عیاشیاں ملک کی دو فیصد اشرافیہ کرے۔ کسی نے بالکل ٹھیک کہا ہے کہ اگر ملک کے سارے پہاڑ سونے کے بن جائیں اور دریاؤں میں تیل بہنے لگ جائے تب بھی وہ ملک مقروض ہی رہے گا جہاں شفافیت کا فقدان ہو۔ کرپٹ مافیا کا آپس میں گہرا گٹھ جوڑ ہے۔ یہ لوگ خود تو ٹیکس دیتے نہیں لیکن عوام کے ٹیکسوں سے جمع ہونے والے پیسے پر خوب ہاتھ صاف کر تے ہیں‘ ان کے لیے تو ہر دن عید اور ہر سب شب برأت ہے۔ بجلی مفت‘ پٹرول مفت‘ سرکاری گھر‘ سرکاری گاڑیاں‘ لاکھوں روپے ماہانہ تنخواہ اور بیرونِ ملک دورے پر دورہ۔ ان کی تو موجیں لگی ہوئی ہیں گویا حلوائی کی دکان پر نانا جی کی فاتحہ پڑھی جا رہی ہے۔حکومت نے نو ماہ میں صرف تنخواہ دار طبقے سے 420ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ہے۔ دوسری طرف مہنگائی کا سب سے زیادہ بوجھ بھی اسی طبقے پر پڑا ہے۔ بہت زیادہ ٹیکس شرح کے باوجود معیشت میں بہتری نظر نہیں آرہی کیونکہ آدھے سے زیادہ ٹیکس تو ہمارے افسروں کی فوج ظفر موج کھا جاتی ہے۔ جو پیسے حکومت کے خزانے میں جاتے ہیں ان سے حکومت کے اخراجات پورے نہیں ہو رہے‘ جس کی وجہ سے آئے روز قرض پر قرض لینا پڑتے ہیں۔ ڈویلپمنٹ کے نام پر لوٹ مار جاری ہے‘ تو پھر یہ ملک کیسے چلے گا؟نااہلی کی رہی سہی کسر گیس کے بعد بجلی کی بد ترین لوڈشیڈنگ نے نکال دی ہے۔ ملک میں بجلی کی طلب فی الحال 18ہزار میگا واٹ ہے جبکہ 13500میگا واٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے اور ابھی گرمی کا آغاز ہی ہوا ہے کہ بجلی کا شارٹ فال 4500 میگا واٹ تک پہنچ گیا ہے۔ پہلے پٹرول اور گیس کا رونا تھا اب بجلی بھی میسر نہیں۔ شدید گرمی کے باعث ملک بھر میں آٹھ سے 16 گھنٹے کی طویل لوڈشیڈنگ اور مختلف شہروں میں دن رات بجلی کی عدم فراہمی کے باعث عوام کی زندگیاں اجیرن ہو گئی ہیں۔ مختلف ذرائع سے بجلی کی پیداوار میں پن بجلی 1500 میگا واٹ فراہم کر رہی ہے جبکہ تھرمل ذرائع سے 9250 میگا واٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے۔ سولر پاور پلانٹس 400 میگا واٹ بجلی پیدا کر رہے ہیں اور بیگاس سے بجلی کی پیداوار 200 میگا واٹ تک ہے۔ ونڈ پاور پلانٹس سے 1200 میگا واٹ بجلی حاصل ہو رہی ہے جبکہ نیوکلیئر پاور پلانٹس کی پیداوار 2850 میگا واٹ تک ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اب وہ آئی پی پیز کہاں ہیں جو سردیوں میں بجلی پیدا کیے بغیر اربوں روپے بٹورتے رہے ہیں۔ آج جب گرمی میں عوام کو بجلی کی شدید ضرورت ہے تو یہ کمپنیاں گدھے کے سر سے سینگوں کی طرح غائب ہیں اور غریب عوام کو گرمی کے دنوں میں ان کے حال پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے کہ حکمرانوں کی نااہلی کے باعث ہم نے 78برسوں میں کچھ نہیں سیکھا۔ اور یہ سب کچھ ہماری حکمران اشرافیہ میں شامل نو طبقات کا کیا دھرا ہے۔ یہ طبقات عوام کے خون و پسینے کی کمائی پر پل رہے ہیں اور ان کے گوشت کو گِدھوں کی طرح نوچ کر کھا رہے ہیں۔ ان طبقات پر جب تک ہاتھ نہ ڈالا گیا پاکستان خوشحال ہوتا نظر نہیں آ رہا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/228_40817243.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>حال اور مستقبل کی جنگ!(مفتی منیب الرحمٰن )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-04-18/51791/45980004</link><pubDate>Sat, 18 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-04-18/51791/45980004</guid><description>جنگ کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنی انسان کی تاریخ۔ قدیم زمانے میں جنگیں ڈنڈے سوٹے سے ہوتی تھیں‘ پھر تلوار اور تیر کمان کا دور آیا‘ اس کے بعد منجنیق ایجاد ہوئی اور چلتے چلتے بندوق اور توپ وتفنگ کا دور آیا۔ پھر بکتر بند گاڑیاں اور ٹینک ایجاد ہوئے‘ اس کے بعد بحری جہاز اور جنگی ہوائی جہاز ایجاد ہوئے‘جنہیں جیٹ فائٹر کہا جاتا ہے۔ ابتدائی زمانے میں جنگیں کھلے میدان میں آمنے سامنے ہوتی تھیں اور اپنی طاقت وشجاعت پر ناز کرنے والے سورما &#39;&#39;ھَل مِنْ مُّبَارِزٍ‘‘یعنی کوئی ہے جو مقابل آئے۔ بہزاد لکھنوی نے کہا ہے: اے جذبۂ دل گر میں چاہوں‘ہر چیز مقابل آ جائے؍ منزل کے لیے دو گام چلوں اور سامنے منزل آ جائےپہلے مقابلے برسرِ زمین ہوتے تھے‘ اس لیے شہرِ پناہ‘ قلعے اور فصیلیں بنائی جاتی تھیں تاکہ قلعوں اور فصیلوں کے اندر محفوظ رہ کر دشمن کا مقابلہ کیا جا سکے۔ آج بھی لاہور‘ پشاور‘ ملتان‘ اٹک اور پوٹھوہار کے قلعوں کے نشانات موجود ہیں۔ غزوۂ خیبر کے موقع پر قلعۂ خیبر فتح نہیں ہو رہا تھا تو رسول اللہﷺ نے فرمایا تھا: &#39;&#39;کل میں جھنڈا اُس شخص کے ہاتھ میں دوں گاجس کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ قلعۂ خیبر کو فتح فرمائے گا‘‘ اور پھر فاتحِ خیبر ہونے کا اعزاز شیرِ خدا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نصیب ہوا۔ اُس وقت دشمن کو فتح کرنے کیلئے زمین دشمن کے پائوں سے چھینی جاتی تھی‘ اسی کو آج کل &#39;&#39;Foot on the ground‘‘ یعنی قدم برسرِ زمین کہتے ہیں۔ افغانستان میں پہلے سوویت یونین نے قدم جمائے‘ پھر بے آبرو ہوکر نکلنا پڑا۔ نائن الیون کے بعد امریکہ کی قیادت میں اتحادی افواج نے قدم جمائے‘مگر پھر انہیں بھی بصد سامانِ رسوائی افغانستان سے نکلنا پڑا ۔مئی 2025ء کی پاک بھارت جنگ میں پہل بھارت نے کی مگر دشمن کی سرزمین پر قدم رکھے بغیر پاکستان کی مسلّح افواج نے بھارت کے مقابلے میں فیصلہ کن فتح حاصل کی۔ اس کے بعد ایران پر جون 2025ء میں امریکہ اور اسرائیل نے یلغار کی‘ مگر زمین پر قدم رکھنے کی نوبت نہ آئی۔ 28 فروری 2026ء کو دوبارہ امریکہ واسرائیل نے ایران پر یلغار کی اور پھر 7 اپریل کو دو ہفتے کیلئے جنگ بندی ہوئی‘ مگر زمین پر قدم رکھنے کی نوبت پھر بھی نہیں آئی۔ الغرض اب جنگ سمندروں میں اور فضائوں میں لڑی جائے گی اور زمین سے دور مار میزائل اور راکٹ داغے جائیں گے اور یوں زمین پر قدم رکھے بغیر دشمن ممالک کو تاراج اور تہس نہس کیا جائے گا‘ جیسا کہ ہم نے غزہ اور ایران میں دیکھا اور پھر جواباً ایران نے اسرائیل اور خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات پر ڈرون اور میزائلوں سے حملے کیے۔ الغرض اب زمینی جنگ کی نوبت کم ہی آئے گی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ آنے والے زمانوں میں مصنوعی ذہانت کا استعمال بڑھ جائے اور انسانوں کے بجائے جنگوں میں روبوٹ کا استعمال شروع ہو جائے۔ اب یہ تصور ممکن نظر آتا ہے۔پس آنے والی جنگیں ٹیکنالوجی کی جنگیں ہوں گی‘ اسے ہائی ٹیک کہتے ہیں۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ مختلف ممالک کے  مواصلاتی سیارچے (Satellites) خلائوں میں تیر رہے ہیں اور زمین پر جو بھی تنصیبات‘ میزائل‘ راکٹ لانچرز اور بم ہیں‘ اپنے اہداف تک ٹھیک ٹھیک پہنچنے کیلئے اُن کو رہنمائی انہی مواصلاتی سیارچوں سے ملتی ہے۔ تمام سٹیلائٹ موبائل فون انہی کے ذریعے چل رہے ہیں۔ ان سیارچوں کو مثبت مقاصد کیلئے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے اور جنگی مقاصد کیلئے بھی ان کا استعمال ہو رہا ہے۔ اسی طرح جو راکٹ دشمن کے داغے گئے میزائلوں اور راکٹوں کو فضا میں نشانہ بناکر تباہ کرتے ہیں اور ہدف تک پہنچنے سے روکتے ہیں‘ اُن کی رہنمائی بھی انہی مواصلاتی سیارچوں کے ذریعے ہو رہی ہے۔ انٹرنیٹ کا سارا نظام انہی کے بل پر کامیابی سے چل رہا ہے۔ الغرض سارے جدید تکنیکی وسائنسی نظام اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی نبض انہی سیارچوں کے ذریعے کنٹرول ہوتی ہے۔پس دنیا کی برتر فوجی قوتوں کے درمیان اصل جنگ انہی سیارچوں کو ہدف بناکر گرانا ہو گا‘ کیونکہ اس کے بعد پھر سب زمین پر اتر آئیں گے اور ماضی کی طرح زمینی جنگ کی طرف آنا پڑے گا۔ لہٰذا حقیقی سپر پاور وہی قرار پائے گی جو دشمن کے سارے سیارچوں اور اطلاعاتی نظام کو آنِ واحد میں تباہ وبرباد کر سکے۔ کہا جاتا ہے کہ ایران اپنے سپرسانک میزائلوں کو نشانوں تک پہنچانے اور دشمن کے اہداف کو نشانہ بنانے میں تب کامیاب ہوا جب اُسے روس یا چین کے سیارچوں کے ذریعے معلومات فراہم کی گئیں اور اہداف کا تعین کرنے میں مدد کی گئی‘ واللہ اعلم بالصواب۔سو قرآنِ کریم نے قیامت کی جو علامات بتائی ہیں کہ زمین میں زلزلے آئیں گے‘ زمین اپنا بوجھ باہر نکال پھینکے گی اور اپنے اوپر بیتی ہوئی سب خبریں بتائے گی‘ آنکھیں چندھیا جائیں گی‘ چاند بے نور ہو جائے گا‘ سورج اور چاند یکجا کردیے جائیں گے‘ سورج کی بساطِ نور کو لپیٹ دیا جائے گا‘ ستارے جھڑ جائیں گے‘ پہاڑ دھنی ہوئی روئی کی طرح چلائے جائیں گے‘ سمندر بھڑکا دیے جائیں گے‘ آسمان پھٹ پڑے گا‘ سمندر بہا دیے جائیں گے‘ قبریں کھول دی جائیں گی‘ ہر شخص جان لے گا جو اُس نے آگے بھیجا اور جو پیچھے چھوڑا‘ زمین پھیلادی جائے گی اور جو اُس کے اندر ہے‘ وہ اسے باہر ڈال دے گی اور خالی ہو جائے گی اور اس طرح کی دیگر آیاتِ کریمہ موجود ہیں۔ اللہ جب چاہے گا‘ قیامت برپا ہوجائے گی‘ لیکن جس رفتار سے انسان مہلک اور تباہ کن ہتھیار تیار کر رہے ہیں‘ کوئی بعید نہیں کہ انسانوں کے اپنے ہاتھوں سے قیامت برپا ہو جائے اور یہ دنیا فنا ہو جائے۔ اس وقت وہی طاقت غالب ہے‘ جس کے پاس تباہی اور بربادی کے ہتھیار سب سے زیادہ ہیں ۔ مسابقت کی دوڑ جاری ہے‘ اس وقت اس کی قیادت اہلِ مغرب کے پاس ہے‘ لیکن کوئی بعید نہیں کہ یہ توازن بدل جائے‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: &#39;&#39;ہم (عروج وزوال کے) ان ایام کو لوگوں کے درمیان بدلتے رہتے ہیں‘‘ (آل عمران: 140)۔بعض سائنسدان یہ دعویٰ بھی کرتے رہے ہیں کہ جتنے انسان زمین پر رہے ہیں اور زندہ ہیں یا وفات پا چکے ہیں‘ ان کی آوازوں کی لہریں فضا میں اب بھی موجود ہیں اور ایک وقت آئے گا کہ انسان ان لہروں میں تمیز کر سکے گا اور ان آوازوں کو سن بھی سکے گا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: &#39;&#39;آج ہم اُن کے مونہوں پر مہریں لگا دیں گے‘ اُن کے ہاتھ ہم سے کلام کریں گے اور اُن کے پائوں ان اعمال کی گواہی دیں گے جو وہ دنیا میں کیا کرتے تھے‘‘ (یس: 65) (2) &#39;&#39;اور جس دن اللہ کے دشمنوں کو آگ کی طرف لایا جائے گا‘ پھر ان کو جمع کیا جائے گا حتیٰ کہ جب وہ دوزخ کی آگ تک پہنچ جائیں گے تو اُن کے کان‘ اُن کی آنکھیں اور اُن کی کھالیں اُن کے خلاف اُن کرتوتوں کی گواہی دیں گے جو وہ دنیا میں کیا کرتے تھے‘ وہ (حیرت زدہ ہوکر) اپنی کھالوں سے کہیں گے: تم نے ہمارے خلاف گواہی کیوں دی‘ وہ جواب دیں گی: ہمیں اُسی اللہ نے گویائی بخشی جس نے ہرچیز کو گویا کر دیا اور اُسی نے ان کو پہلی بار پیدا بھی کیا تھا اور تم سب اسی کی طرف لوٹائے جائو گے‘‘ (حم السجدہ: 19 تا 21)۔ الغرض اپنے اعمال واقوال اور حرکات وسکنات کو  محفوظ کرنے کے سامان بھی خود انسان پیدا کر رہا ہے اور حالیہ جنگوں سے ثابت ہوا کہ وہ وقت دور نہیں کہ کسی کی کوئی بات یا کوئی کیفیت یا کوئی حالت دوسروں سے پوشیدہ نہیں رہے گی اور سب کچھ عیاں ہو جائے گا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد ایک عالمی نظام قائم ہوا‘ اقوامِ متحدہ وجود میں آئی‘ پندرہ ارکان پر مشتمل سکیورٹی کونسل میں پانچ مستقل ارکان مقرر کیے گئے اور انہیں حقِ تنسیخ دے دیا گیا۔ یہ امریکہ اور سوویت یونین پر مشتمل دو قطبی (Bipolar) نظام تھا‘ پھر سوویت یونین کے زوال کے بعد یک قطبی (Unipolar) نظام وجود میں آیا اور امریکہ واحد سپر پاور بن گیا۔ اب حالیہ جنگوں کے بعد ایسا لگتا ہے کہ دنیا کثیر القطبی (Multipolar) نظام کی طرف جا رہی ہے اور چین تیزی سے سپر پاور بننے کی طرف گامزن ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_61172381.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>