<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>بجلی کادائمی مسئلہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-07/11339</link><pubDate>Tue, 07 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-07/11339</guid><description>گرمی کی شدت کے ساتھ بڑھتی ہوئی لوڈشیڈنگ ان دنوں عوام کے لیے شدید اذیت کا سبب بن رہی ہے۔ لوڈشیڈنگ کی شکایات ملک بھر سے آ رہی ہیں۔ کہیں کم کہیں زیادہ۔ کہیں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور کہیں ٹرانسفارمر کی خرابی یا دیگر نقائص کی وجہ سے کئی کئی دن سے بجلی بند رہنے کی شکایات ہیں۔ ملک میں پچھلے چند برسوں کے دوران بجلی کی انسٹالڈ کپیسٹی میں نمایاں اضافہ ہوا۔ اتنا زیادہ کہ بجلی کی پیداواری صلاحیت ہماری قومی ضرورت سے دو گنا سے بھی زیادہ ہو چکی ہے اور اس اضافی غیر استعمال شدہ پیداواری صلاحیت کی مد میں اضافی ادائیگیوں کا مسئلہ بجلی کی مزید مہنگائی کا سبب ہے۔ دوسری جانب حالیہ برسوں میں مہنگی بجلی سے بچاؤ کی خاطر صنعتی اور گھریلو صارفین میں سولر انرجی کے رجحان میں نمایاںاضافہ ہوا۔ پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ فار ایکوئٹیبل ڈویلپمنٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق سولر جنریشن کپیسٹی ملک کی مجموعی طلب سے تجاوز کر چکی ہے۔ ملک میں 50 گیگا واٹ کی مجموعی کپیسٹی کے سولر پینلز درآمد کیے گئے ہیں جبکہ موسم گرما کی پیک ڈیمانڈ 33 گیگا واٹ تک ہوتی ہے۔ اسی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بجلی کے 77 فیصد صارفین اب بنیادی طور پر سولر سسٹم پر انحصار کرتے ہیں جبکہ صرف 23فیصد توانائی کی ضروریات کیلئے کلی طور پر نیشنل گرڈ کے مرہونِ منت ہیں۔

ملک میں سولر انرجی کے غیر معمولی رجحان کی بنیادی وجہ بجلی کی مہنگائی اور عدم دستیابی ہے کیونکہ گزشتہ لگ بھگ تین برسوں میں بجلی کی قیمتوں میں 150فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ملک میں سولر انرجی کے انقلاب اور صارفین کی بجلی کے معاملے میں خود انحصاری کو ملک میں بجلی کے شعبے کیلئے بڑی سہولت ثابت ہونا چاہیے تھا اور قومی گرڈ پر موجود بوجھ میں 70 فیصد سے زائد کمی کے نتیجے میں بجلی کی سپلائی کے معاملات میں بہتری آنی چاہیے تھی جبکہ بجلی کی اضافی پیداوار کو کھپانے کیلئے بجلی کا شعبہ تگ ودو کرتا نظر آنا چاہیے تھا مگر یہاں اس کے برعکس صورتحال نظر آتی ہے۔ موسم گرما کے پیک آورز میں بجلی کی بندش کے جو مسائل ماضی میں تھے آج بھی اسی طرح ہیں۔ بڑے شہروں میں جہاں سولر انرجی کی وجہ سے دن کے اوقات میں نیشنل گرڈ کی سپلائی پر لوڈ میں نمایاں کمی آتی ہے یہاں دن کے اوقات میں نسبتاً کم مگر راتوں کو شہری علاقوں میں گھنٹوں بجلی کی بندش کی شکایات ہیں۔ جہاں تک دیہی علاقوں کی بات ہے تو کیا دن اور کیا رات‘ بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ معمول ہے اور صارفین کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔ یہ صورتحال ان لوگوں کیلئے بھی سولر انرجی میں پناہ ڈھونڈنے کی ترغیب بلکہ مجبوری ثابت ہو رہی ہے جو اَب تک کسی وجہ سے صرف قومی گرڈ پر انحصارکیے ہوئے تھے۔
پچھلے کچھ برسوں میں ملک میں نئے بجلی گھر لگانے اور پیداواری صلاحیت کو بڑھانے پر زور رہا‘ یہ سوچے بغیر کہ اس توانائی کو صارفین تک پہنچانا کیسے ہے اور اس کی کھپت کیسے ہو گی۔ ملک میں ہر نوع کے جدید پاور ہاؤسز لگ گئے مگر ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن کا نیٹ ورک وہی دہائیوں پرانا ہے۔ نئی ٹرانسمیشن لائنیں اور صارفین تک بجلی کی ترسیل کا مضبوط نظام قائم کرنے پر ہمارے ہاں نہ ہونے کے برابر کام ہوا نتیجتاً ہلکی آندھی‘ معمولی بارش اور معمول سے قدرے زیادہ لوڈ ہمارے ہاں پہروں بجلی کی بندش کا سبب بن سکتا ہے۔ گرمی کے موسم میں ٹرانسفارمر خراب ہو جانا معمول ہے اور گلی گلی ٹرالی میں نصب متبادل ٹرانسفارمر کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ دور دراز علاقو ں اور دیہات میں یہ سہولت بھی میسر نہیں‘ اس لیے وہاں ٹرانسفارمر کی خرابی ہفتوں بجلی کی بندش کا سبب بن سکتی ہے۔ فی زمانہ ہم جن مسائل سے جھُوجھ رہے ہیں‘ جدید تو کیا ہمارے جیسے ترقی پذیر معاشرے برسوں پہلے ان سے نکل چکے ہیں۔ بجلی کی آوت جاوت اور بے پناہ مہنگی بجلی وہاں کا مسئلہ نہیں مگر یہاں کا ہے اور پوری شدت سے ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>دہشت گردی کے واقعات(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-07/11338</link><pubDate>Tue, 07 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-07/11338</guid><description>ایک سکیورٹی ادارے کی رپورٹ کے مطابق 2026ء کی پہلی ششماہی میں ملک بھر میں دہشتگردی کے 447 واقعات میں 685افراد شہید اور 808 زخمی ہوئے‘ جبکہ شہدا میں 249 سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔ اس دوران مختلف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں 902 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔ خیبرپختونخوا اور بلوچستان دہشتگردانہ کارروائیوں کا مرکز رہے۔ خیبرپختونخوا میں بنوں‘ لکی مروت‘ باجوڑ‘ شمالی وزیرستان اور ڈیرہ اسماعیل خان سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع رہے جبکہ بلوچستان میں کوئٹہ‘ چاغی‘ واشک‘ کیچ اور گوادر دہشت گردوں کے اہم اہداف بنے۔ یہ صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ پورے صوبے کو ایک ہی نظر سے دیکھنے کے بجائے ضلع وار سکیورٹی حکمتِ عملی ترتیب دی جائے۔ جہاں خطرہ زیادہ ہے وہاں وسائل‘ نفری‘ انٹیلی جنس اور جدید ٹیکنالوجی کی فراہمی بھی اسی تناسب سے ہونی چاہیے۔

اسی طرح صرف چھ ماہ میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ڈھائی سو سکیورٹی اہلکاروں کی قربانیوں کا تقاضا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد میں فوری اور نمایاں اضافہ کیا جائے۔ اگرچہ وفاق اور تمام صوبوں نے رواں مالی سال کے بجٹ میں امن و امان کے قیام کیلئے بڑے پیمانے پر فنڈز مختص کیے ہیں لیکن اصل امتحان ان رقوم کے شفاف‘ بروقت اور نتیجہ خیز استعمال کا ہے۔ بدلتے ہوئے خطرات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ قومی انسدادِ دہشت گردی حکمتِ عملی کو بھی نئے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>جننگ سیکٹر کی مشکلات(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-07/11337</link><pubDate>Tue, 07 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-07/11337</guid><description>ملکی معیشت میں کپاس اور ٹیکسٹائل کا شعبہ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے مگر اس وقت یہ پورا شعبہ ایسے بحران کی لپیٹ میں ہے جس کے اثرات صرف کسان یا صنعتکار تک محدود نہیں بلکہ اس سے برآمدات‘ روزگار اور زرِمبادلہ کے ذخائر بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ کاٹن جننگ سیکٹر پر عائد 18 فیصد سیلز ٹیکس اور شدید موسمی حالات کے باعث رواں سیزن کپاس کا معیار گرنے سے روئی کی قیمتوں میں ریکارڈ کمی آئی ہے‘ جس کے نتیجے میں سندھ اور پنجاب کے بڑے کاٹن زونز میں جننگ فیکٹریاں سیزن شروع ہونے کے صرف ایک ماہ بعد ہی بند ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ جننگ فیکٹریاں کپاس سے ٹیکسٹائل صنعت تک پوری سپلائی چین کی بنیادی کڑی ہیں۔

ان کے غیر فعال ہونے سے نہ صرف کسانوں کو اپنی فصل کی مناسب قیمت نہیں ملے گی بلکہ ٹیکسٹائل ملوں کو معیاری خام مال کی فراہمی بھی متاثر ہوگی‘ جس سے پیداواری لاگت‘ برآمدی صلاحیت اور عالمی منڈی میں پاکستانی مصنوعات کی مسابقت مزید کمزور پڑ سکتی ہے۔ ٹیکسٹائل شعبہ‘ جو سالانہ اربوں ڈالر کا زرِمبادلہ کما کر ملکی معیشت کو سہارا دیتا ہے‘ مہنگی توانائی‘ بلند لاگت‘ بھاری ٹیکسوں اور غیر یقینی پالیسیوں کے باعث شدید دباؤ میں ہے۔موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر کاٹن جننگ سیکٹر پر ٹیکسوں کا ازسرنو جائزہ‘ توانائی کے نرخوں میں مسابقتی سطح پر کمی اور کاروباری ماحول میں استحکام ناگزیر ہے۔ </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ناجائز رزق سے پلی ہوئی اولاد(محمد اظہارالحق)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-07-07/52249/51821687</link><pubDate>Tue, 07 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-07-07/52249/51821687</guid><description>کوئی نہ مانے تو اس کی مرضی! کوئی مان لے تو اس کا اپنا فائدہ ہے!! مالِ حرام سے پرورش پانے والی اولاد کبھی بھی نیک نامی کا سبب نہیں بن سکتی۔ پروردگار چاہے تو کسی کو استثنا عطا کر دے! مگر صدیوں کا تجربہ یہی بتاتا ہے۔دو گناہ ایسے ہیں جن کی سزا‘ اکثر و بیشتر‘ دنیا میں بھی ملتی ہے۔ پہلا والدین کی نافرمانی!! میرے پرانے دوست پروفیسر راجہ یعقوب راوی ہیں کہ ان کے قصبے میں‘ جو کوہستانِ نمک کے قصبوں میں ایک قصبہ ہے‘ ایک بدبخت نے بیچ بازار‘ اپنے والد پر ہاتھ اٹھایا۔ وہاں ایک بوڑھا‘ بہت بوڑھا‘ شخص بیٹھا دیکھ رہا تھا۔ حیرت سے اس کی زبان گنگ ہو گئی۔ اس لیے نہیں کہ اس نے بیٹے کو والد پر ہاتھ اٹھاتے دیکھا۔ بلکہ اس لیے کہ اسے ایک واقعہ یاد آ گیا جو اُس نے اوائل شباب میں دیکھا تھا اور اس کی یادداشت پر ایک ڈراؤنے خواب کی طرح نقش تھا۔ اس نے بتایا کہ یہی جگہ تھی۔ بالکل یہی! اُس وقت بازار تھا نہ دکانیں۔ بس کھیت ہی کھیت تھے۔ مگر جگہ یہی تھی! یہیں پر اُس شخص نے‘ جس پر اس کے بیٹے نے ہاتھ اٹھایا‘ اپنے باپ کو مارا تھا۔ حکایت ہے کہ ایک اور بدبخت نے بیٹے کو پرانا‘ بدبودار کمبل دیا کہ جا کر دادا کو دے آؤ۔ بیٹے نے قینچی سے کمبل کا ایک حصہ کاٹ کر اپنے پاس رکھ لیا۔ باپ نے وجہ پوچھی تو بیٹے نے کہا: کل جب آپ بوڑھے ہوں گے تو آپ کو بھی یہی دوں گا۔ اپنے اردگرد دیکھیے۔ بڑی عمر کے لوگوں سے پوچھئے۔ جنہوں نے والدین کی خدمت کی‘ ان کی اولاد نے انہیں خدمت کرتے دیکھا اور خدمت کرنا سیکھ گئے۔ جنہوں نے گستاخیاں کیں‘ والدین کو نظر انداز کیا‘ ان کی اولاد نے گستاخی کرنا اور نظر انداز کرنا سیکھ لیا۔ جَو کاشت کرنے سے گندم نہیں حاصل ہوتی۔ تحقیق کر کے دیکھ لیجیے۔ جو اولاد کے ظلم کا رونا روتے ہیں‘ انہوں نے اپنے والدین کے ساتھ غالباً یہی کچھ کیا ہو گا۔دوسرا گناہ جس کی سزا‘ اکثر وبیشتر دنیا میں بھی ملتی ہے‘ ناجائز آمدنی کا حصول ہے۔ امام غزالی نے لکھا ہے کہ ناجائز مال حاصل کرنا اور اس سے زندگی بسر کرنا ایسا گناہ ہے ‘ اور ایسا روگ! جس کا تدارک کوئی نہیں!! میں ایک شخص کو جانتا ہوں اور بہت قریب سے جانتا ہوں جس کا باپ اس کے لیے بہت کچھ چھوڑ کر مرا۔ ہر بڑے شہر میں جائداد اور پلاٹ!! جس شعبے میں مرحوم کام کرتے تھے وہاں جائداد کی کثرت ذرا بھی باعثِ تعجب نہ تھی۔ ایک دن وہ بندۂ خدا مجھے کہنے لگا &#39;&#39;یار! میرا باپ کتنا بے وقوف تھا کہ پلاٹ دے گیا یہ سوچے بغیر کہ میں بناؤں گا کیسے؟‘‘۔ یہ سُن کر مجھے یوں لگا جیسے ایک دھماکا ہوا ہے اور میں ریزہ ریزہ ہو گیا ہوں۔ ناجائز آمدنی پر پلی ہوئی اولاد ایسے ہی لفظوں سے باپ کو یاد کرے گی۔ میں جس خاندان میں پیدا ہوا اور پھر جس طرح تعلیم کا آغاز ہی فارسی ادب سے ہوا‘ اس کا لامحالہ نتیجہ یہ نکلا کہ ذہن میں Cause and Effect Theory راسخ ہو گئی۔ یعنی سبب اور نتیجے کا نظریہ! ہر کام کا یا ہر واقعہ کا ایک نتیجہ نکلتا ہے۔ عام زندگی کی مثالوں سے آپ اس نظریے کو سمجھ سکتے ہیں۔ آپ دیر تک سوئے رہے۔ یہ سبب ہے۔ نتیجہ یہ کہ آپ کی ٹرین نکل گئی۔ سردی شدید پڑی۔ یہ سبب ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پانی جم گیا۔ بارش نہیں ہوئی۔ یہ سبب ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ گندم کی فصل کمزور رہی۔ گھر میں حرام رزق آیا۔ یہ سبب ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اولاد غلط کار نکلی۔ فارسی ادب اخلاقیات کا منبع ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ بزرگ کہا کرتے تھے اگر کوئی رذیل آپ سے بُرا پیش آتا ہے تو اسے معاف کر دیجیے۔ اس نے کون سا فارسی ادب پڑھا ہے! سعدی گلستان میں کہتے ہیں:عاقبت گرگ زادہ گرگ شود گرچہ با آدمی بزرگ شود بھیڑیا انسانوں میں رہ کر بھی بھیڑیا ہی رہتا ہے۔ مری میں سیب زیادہ ہوتے ہیں۔ میں نے مری کے ایک عقلمند آدمی سے یہ محاورہ سنا کہ &#39;&#39;سیبوں کے سیب ہوتے ہیں‘‘ یعنی سیب کے درخت پر سیب ہی لگیں گے۔ نیک شخص چونکہ اکل حلال پر قناعت کرتا ہے‘ اس لیے اس کی اولاد نیک ہوتی ہے۔ حرام کھانے اور کھلانے والے کی اولاد والدین کی شکرگزار تو کیا ہو گی‘ الٹا طعنہ دے گی کہ باپ نے ہمارے لیے کیا ہی کیا ہے! وہ جو حلال کھاتے ہیں ان کے بعد ان کے بچے باہم دست وگریباں نہیں ہوتے اور ماں باپ کے بعد ان کے لیے دعائیں کرتے ہیں۔ آپ نے دیکھا ہے کہ بڑے بڑے سرمایہ دار اور کاروباری افراد مرتے ہیں تو ان کے بعد سب کچھ تتر بتر ہو جاتا ہے۔ ہر بیٹا اپنا کاروبار الگ کر لیتا ہے اور سب کچھ دھڑام سے زمین پر آ گرتا ہے۔ ہم قطعاً یہ نہیں کہہ رہے کہ ہر امیر اور مقتدر شخص کا مال ناجائز ہوتا ہے مگر سچ یہ ہے کہ کھرب پتی بننے والے اکثر افراد جرم کی سیڑھی پر ہی اوپر چڑھتے ہیں۔ انگریزی کا مشہور محاورہ ہے کہ Behind every great fortune there is a crime کہ ڈھیروں دولت کے پیچھے کوئی نہ کوئی جرم ضرور ہوتا ہے۔ یہ محاورہ‘ ماریو پوزو کے شہرہ آفاق ناول &#39;&#39;گاڈ فادر‘‘ سے منسوب ہے مگر اصل میں یہ بات فرانسیسی ادیب بالزاک نے اپنے مشہور ناول Père Goriot میں کہی تھی جو 1834ء میں شائع ہوا تھا۔ بالزاک نے یہ بات یوں کہی تھی &#39;&#39;جب بہت بڑی کامیابی (دولت) کی منی ٹریل نہ دی جا سکے تو اس کی وجہ ایسا جرم ہوتا ہے جو کبھی سامنے ہی نہیں آیا اس لیے کہ جرم بہت سوچ سمجھ کر کیا گیا تھا‘‘۔اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ ناجائز رزق سے پلی ہوئی اولاد باعثِ ننگ کیسے ثابت ہوتی ہے؟ جو امارت‘ دولت‘ جائداد اسے ورثے میں ملتی ہے‘ لازم نہیں کہ وہ اس سے چھن جائے۔ اس کی دنیاوی حیثیت میں کمی نہیں ہوتی۔ بزنس‘ اقتدار‘ وزارت‘ نشست سب کچھ مل جاتا ہے مگر وہ ایسا کچھ نہ کچھ ضرور کر گزرتا ہے جس سے بدنامی اسے اور پورے خاندان کو رسوا کر دیتی ہے۔ باپ یہی کہے گا کہ &#39;&#39;وہ آزاد ہے۔ بالغ ہے۔ میں اس کے اعمال کا ذمہ دار نہیں‘‘۔ قانونی طور پر وہ درست کہہ رہا ہے۔ قتل بیٹے نے کیا ہے‘ اس نے نہیں۔ قمار بازی میں یا آبرو ریزی میں یا کسی بھی جرم میں اس کا باپ نہیں پکڑا جا سکتا۔ مگر اندازہ لگائیے جب بیٹا یا پوتا جرم میں ملوث ہوتا ہے تو باپ کے پلّے کیا رہ جاتا ہے؟ اس کی بقیہ زندگی لوگوں کی نظروں سے بچنے میں یا صفائی پیش کرنے میں گزر جاتی ہے۔ یہ بھی ضروری نہیں کہ ناجائز آمدنی رشوت کی ہو یا ملاوٹ والے خراب مال کی فروخت سے حاصل ہوئی ہو‘ یا کسی کی زمین ہتھیانے سے آئی ہو یا کسی کی جائداد پر ناجائز قبضہ سے گھر میں آئی ہو‘ ناجائز آمدنی اس طرح بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے کہ انسان اسے ناجائز سمجھتا ہی نہیں! ملازمت پر حق کسی اور کا تھا‘ آپ نے اس کا حق مار کر اپنے بیٹے‘ بھانجے‘ بھتیجے کو ملازمت دلوا دی۔ اس ملازمت سے حاصل ہونے والی آمدنی مشکوک ہو گی اور یہ چوگ بچوں کے منہ میں جائے گی تو خرابی پیدا کرے گی۔ اقتدار میں آکر ناجائز آمدنی سے بچنا آسان نہیں۔ اسی لیے عقلمند لوگ اقتدار سے بھاگتے ہیں۔ بااختیار لوگ‘ انٹرویو لیتے وقت‘ ملازمتیں دیتے وقت‘ جن کی جیبیں پرچیوں سے بھری ہوتی ہیں‘ آگ سے کھیل رہے ہوتے ہیں۔ (جاری)</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_57182973.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>اللہ کے واسطے اب یہ اللہ کا واسطہ ختم کیا جائے(خالد مسعود خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-07-07/52250/68364749</link><pubDate>Tue, 07 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-07-07/52250/68364749</guid><description>میرے ساتھ عجب معاملہ ہے۔ میں جب بھی پاکستان سے باہر جاتا ہوں تو شاہ جی فرماتے ہیں کہ تمہارے جانے کے بعد پاکستان میں خاصا سکون ہو جاتا ہے اور کوئی برُی خبر سننے کو نہیں ملتی‘ تاہم منیب کا خیال اس سے بالکل الٹ ہے۔ اس کا یہ کہنا ہے کہ میں جب بھی پاکستان سے باہر جاتا ہوں‘ پیچھے کوئی نہ کوئی برُی خبر سننے کو ملتی ہے‘ کوئی بڑا واقعہ ہو جاتا ہے۔ اب مجھے سمجھ نہیں آتی کہ دونوں میں سے کون درست کہہ رہا ہے اور کون غلط۔ مجھے اپنے بارے میں نہ تو کوئی خوش فہمی ہے اور نہ کوئی غلط فہمی۔ اس ملک میں ہمہ وقت کوئی نہ کوئی برا واقعہ ہوتا ہی رہتا ہے۔ اب یہ محض اتفاق ہے کہ میں پاکستان سے باہر ہوتا ہوں تو اسے منیب نوٹ کر لیتا ہے اور جب میں پاکستان میں ہوتا ہوں تو اس کو شاہ جی نوٹ کر لیتے ہیں۔ اس سلسلے میں ہر دو افراد کا خیال ایک دوسرے سے بالکل ہی مختلف ہے۔ میرے لیے یہ کسی طور ممکن نہیں کہ میں بیک وقت دونوں کے خیال پر پورا اُتر سکوں۔ اگر میں ان دونوں کی باتوں کو سنجیدگی سے لوں تو منیب کے خیال کے حوالے سے مجھے پاکستان سے کبھی باہر نہیں جانا چاہیے اور ہمہ وقت پاکستان میں رہنا چاہیے‘ جبکہ میرے پاکستان میں رہنے کی صورت میں شاہ جی کا خیال ہے کہ ہر چیز مائل بہ خرابی ہو جائے گی۔ ہر وقت کوئی نہ کوئی برُا واقعہ پیش آتا رہے  گا اور ملک پر کوئی نہ کوئی مصیبت ٹوٹی پڑی رہا کرے گی اس لیے مجھے پاکستان سے باہر ہی رہنا چاہیے۔ اب آپ ہی بتائیں کہ یہ عاجز ہر دو افراد میں سے کس کو اور کیسے مطمئن کرے؟ شاہ جی کو جب بھی بیرونِ پاکستان سے فون کرتا ہوں وہ ہر چیز کے بارے میں اچھی خبر اور ہر طرف امن و سکون کا بتاتے ہیں‘ جبکہ دوسری طرف کسی بھی برے واقعے کی صورت میں منیب کا پیغام آتا ہے کہ مرشد! براہِ کرم جلد واپس آ جاؤ‘ ادھر بہت گڑبڑ ہو گئی ہے۔ میرا تو دماغ پلپلا ہو گیا کہ میں کیا کروں اور کدھر جاؤں؟میرے پیچھے پاکستان میں دو غیرملکی خواتین کے ساتھ زیادتی اور تشدد والا جو واقعہ ہوا ہے‘ اس کے بارے میں منیب کا خیال ہے کہ  اگر میں پاکستان سے باہر نہ جاتا تو یہ واقعہ نہ ہوتا۔ ویسے منیب کے اس خیال بلکہ تیقن پر مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ میں اسے اپنے لیے خراجِ تحسین سمجھوں یا باعثِ رسوائی‘ تاہم دوسری طرف شاہ جی اوّل تو اس واقعے کو کوئی بہت بڑا واقعہ ہی نہیں مان رہے کیونکہ ان کا فرمانا ہے کہ یہاں اس سے بھی برُے اور خراب واقعات ہوتے رہتے ہیں۔ اس واقعے پر بہت زیادہ شور مچنے اور اہمیت حاصل کر جانے کی واحد وجہ یہ ہے کہ متاثرہ خواتین غیرملکی ہیں اور اس سلسلے میں ان کے سفارت خانوں کے دباؤ کی وجہ سے یہ واقعہ اتنی اہمیت حاصل کر گیا ہے وگرنہ پاکستان میں اس قسم کے واقعات اوّل تو سامنے ہی نہیں آتے اور اگر آ ہی جائیں تو دو تین دن میں ہی داخلِ دفتر ہو کر قصۂ پارینہ بن جاتے ہیں۔ خصوصاً جب ایسے کسی واقعے میں کسی زور آور کا بچہ بلونگڑا ملوث ہو۔ پاکستان میں جس مظلوم کے پیچھے کوئی تگڑی طاقت نہیں اسے غائب کر دیا جائے‘ کسی بنتِ حوّا کی عزت لوٹ لی جائے یا کسی مشکوک ملزم کو ماورائے عدالت پولیس مقابلے میں پار کر دیا جائے۔ یہ سارے قصے محض ایک دن کی خبر ہیں اور بس۔ اس حالیہ قصے کا اختتام صدقے کے بکرے کی قربانی پر منتج ہو گا لیکن نظام نہیں بدلے گا۔ شاہ جی نے مجھے فون پر تقریباً ڈانٹتے ہوئے یاد کروایا کہ تم نے اپنے کالم میں کئی بار سی سی ڈی کی جانب سے ملزمان کو ماورائے عدالت اپنی عدالت لگا کر مشکوک مقابلوں میں پار کرنے کے خلاف لکھا تو بھلا اس کا کیا اثر ہوا؟ اس قسم کے دھڑا دھڑ اور اندھا دھند پولیس مقابلوں میں ملزمان ہمیشہ پولیس سے چھڑوانے کیلئے آنے والے اپنے ہی بھائی بندوں کی گولیوں کا شکار ہوتے ہیں اور زیادتی کے مجرموں کا نیفے میں اڑسا ہوا پستول ہر بار چل کر انہیں ناقابلِ تلافی نقصان پہنچاتا ہے۔ یہ ناقابلِ یقین لیکن مسلسل واقعات اندھوں کو بھی صاف دکھائی دیتے ہیں لیکن نظامِ انصاف اور سرکار نہ صرف خاموش ہیں بلکہ اس قسم کے واقعات کو ان کی باقاعدہ آشیرباد حاصل ہے۔ عام آدمی کی بات اور ہے لیکن جب نظام انصاف اور حکمران ایسی باتوں سے صرفِ نظر شروع کر دیں  تو آپ کو یقین کر لینا چاہیے کہ ملک کا سارا نظام عدل یہ بات خود تسلیم کر رہا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے اور حکمران بھی اس بات کو مان چکے ہیں کہ ریاست معاملات کو قانون کے تابع چلانے میں ہاتھ کھڑے کر چکی ہے۔ ہاں! البتہ آسٹریلین شہریت کی حامل نو سالہ ہانیہ خان اگر پولیس گردی کا شکار ہو جائے اور اس کا ملک اس سلسلے میں اپنے شہری کے بہیمانہ قتل کو رزقِ خاک نہ ہونے دے تو بات اور ہے۔ اندازہ کریں پاکستانی نژاد نو سالہ بچی کے خونِ ناحق پر آواز اٹھانے کا فریضہ وہ ادا نہیں کر رہے جہاں اس خاندان کی جڑیں ہیں بلکہ اس کیلئے انصاف کے دعویدار اور طلبگار وہ ہیں جہاں اس خاندان نے ہجرت کی تھی۔ شاہ جی مجھ سے پوچھنے لگے کہ کیا تمہیں جنوری 2019ء میں جی ٹی روڈ پر قادر آباد (ساہیوال) کے نزدیک اپنے بچوں سمیت پولیس کے ہاتھوں مارے جانے والا محمد خلیل یاد ہے؟ یہ مظلوم کریانہ سٹور کا مالک اپنی بیوی نبیلہ اور تیرہ سالہ بیٹی اریبہ کے ہمراہ سی ٹی ڈی کے ہاتھوں مارا گیا تھا‘ اس کا کیا بنا ؟ اس کیس میں جے آئی ٹی بنی جس نے سولہ اہلکاروں کو قتل اور دہشت گردی کا ملزم قرار دیتے ہوئے قانون کے مطابق سزا دینے کا لکھا مگر انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے سب ملزموں کو شک کا فائدہ دے کر بری کر دیا۔ اگر یہ قتل ان اہلکاروں نے نہیں کیا تھا تو پھر ان کے قاتل کون تھے؟ ایسی صورت میں اصل قاتلوں کو تلاش کرنا اور قانون کے  کٹہرے میں لانا بھی تو سی ٹی ڈی کی ذمہ داری تھی۔ اگر یہ سب بے گناہ تھے تو گناہگار کون تھا؟ ریاست ماں ہوتی ہے لیکن یہ کیسی ماں ہے جو ہر بار اپنے بچوں کے قتل پر زور آور قاتلوں کے ساتھ کھڑی ہو جاتی ہے۔ فروری 2021ء میں اسلام آباد کی سرینگر ہائی وے پر ایک تیز رفتار مہنگی گاڑی نے مانسہرہ سے نوکری کا ٹیسٹ دینے کیلئے آنے والے چار سوزوکی سوار نوجوانوں کو کچل کر مار دیا۔ مارنے والی گاڑی کا ڈرائیور مبینہ طور پر خاتون محتسب اعلیٰ کا بیٹا تھا۔ قانونی موشگافیوں اور طاقت کی چکر بازیوں نے سارا منظر نامہ بدل کر رکھ دیا اور مقتولین کے لواحقین نے ملزم کو &#39;&#39;اللہ واسطے‘‘ معاف کر دیا۔ اسی طرح گزشتہ سال کے آخر میں ایک حاضر سروس جج کے کم عمر بیٹے نے دو سکوٹی سوار لڑکیوں کو اپنی گاڑی تلے کچل کر مار دیا۔ بعد ازاں مرنے والیوں کے لواحقین نے حسبِ معمول ملزم کو اللہ کے واسطے معاف کر دیا۔ اس ملک میں اس قسم کے ہر واقعے میں خوں بہا کی رقم اور طاقت کی زور زبردستی کا حسین امتزاج بالآخر ملزموں کو &#39;&#39;اللہ کے واسطے معاف کرنے‘‘ پر اختتام پذیر ہوتا ہے۔ جس ملک میں حکمرانوں‘قانون سازوں‘ محتسبوں اور منصفوں کے بچے جرم کر کے باعزت بری ہو جائیں وہاں قانون کی کسمپرسی‘ عدل کی حالتِ زار اور آئین کی بے توقیری کا اندازہ لگانا ذرا بھی مشکل نہیں۔ کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ ایسے ہر واقعے کے بعد ملزموں  کو اللہ کے واسطے معاف کرنے پر قانونی پابندی لگا دی جائے؟ مرنے والوں کے لواحقین کو ریاست خوں بہا ادا کرے اور صلح کا دروازہ بند کر دیا جائے۔ اللہ کے واسطے اب اللہ کے واسطے پر اس قسم کا دباؤ دے کر معاف کروانے کا سلسلہ ختم کیا جائے۔ ریاست کو چاہیے کہ ماں بن کر دکھائے نہ کہ قاتلوں کی پشتیبان بنے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90500073.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>غیر ملکی خواتین کا اغوا(ڈاکٹر حسین احمد پراچہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-07-07/52251/99078350</link><pubDate>Tue, 07 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-07-07/52251/99078350</guid><description>گزشتہ ہفتے دو غیر ملکی خواتین کو پاکستان آنے کی دعوت دی گئی۔ مدعو کرنے والے شخص نے بنفس نفیس اسلام آباد ایئر پورٹ پر ان خواتین کا استقبال کیا۔ خواتین نے اسلام آباد کے ایک ہوٹل میں دو روز قیام کیا۔ بعد ازاں مبینہ طور پر اس نوجوان نے دیگر تین افراد کے ساتھ مل کر غیر ملکی خواتین کو اغوا کر لیا۔ ان چار پانچ روز کے دوران مہمان خواتین کے ساتھ ہونے والے شرمناک سلوک کی جو کہانی اب تک سامنے آئی ہے‘ اس نے دنیا بھر کے افراد کو یہ پیغام دیا ہے کہجس کو ہو دین و دل عزیز‘ اس کی گلی میں جائے کیوںیہ افسوسناک سٹوری تین چار روز قبل ہی سوشل میڈیا پر آ گئی تھی‘ تاہم اتوار کے روز ڈی آئی جی آپریشنز لاہور نے خاصی تاخیر کے بعد (باعث تاخیر کا پتا نہیں چل سکا)تفصیلات کیساتھ اس افسوسناک واقعے کو کنفرم کیا۔ خواتین میں سے ایک کا تعلق نیدرلینڈز سے اور دوسری کا وینزویلا سے ہے۔ لاہور کے ایک مجسٹریٹ کے سامنے دیے گئے بیان میں نیدرلینڈز سے تعلق رکھنے والی خاتون نے بتایا کہ انہیں اور اُن کی ساتھی کو اسلحہ کے زور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ بیان کے مطابق ملزمان نے انہیں باندھ کر تشدد کیا اور اغوا کاروں نے ان کیساتھ زیادتی بھی کی۔ میڈیکل رپورٹ کے مطابق ایک خاتون کیساتھ زیادتی کی تصدیق ہو گئی ہے۔ ملزمان نے خواتین سے 15لاکھ ڈالر تاوان کا مطالبہ کیا اور ادا نہ کرنے کی صورت میں ان کو قتل کرنے اور انکے جسم کے اعضا فروخت کرنے کی دھمکی بھی دی۔ خواتین کے بیان کے مطابق ملزمان نے ان کے اکاؤنٹ سے 10 ہزار ڈالر اپنے نام منتقل کرائے۔ ڈی آئی جی (آپریشنز) نے یہ بھی بتایا کہ ملزم ڈار کے گھر والوں نے اسے غیر ملکی خواتین کو لاہور ایئر پورٹ پہنچانے پر آمادہ کیا۔ مجسٹریٹ کے سامنے دیے گئے بیان میں غیر ملکی خواتین نے کہا کہ انہوں نے جب محسوس کیا کہ اُنکا اغوا کار میزبان انہیں ایئرپورٹ کے بجائے کہیں اور لے جا رہا ہے تو انہوں نے گاڑی سے کود کر اور شور مچا کر جان بچائی۔ یہ دونوں خواتین عام خواتین نہ تھیں ‘ معزز خاندانوں سے تعلق رکھتی ہیں۔ وہ پہلے سے ملزمان کے ساتھ کرپٹو کے کاروبار میں شامل تھیں۔اُن کے ساتھ لاہور میں جو کچھ ہوا وہ ان کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا۔ غیر ملکی خواتین کے اغوا‘ اُن پر تشدد‘ زیادتی اور اُن کے اکاؤنٹ سے ہزاروں ڈالر نکال لینے اور لاکھوں ڈالر بطور تاوان طلب کرنے کی کہانی سے دنیا بھر میں وہ سرمایہ کار کہ جنہیں پاکستانیوں کے ساتھ مل کر سرمایہ کاری کے بارے میں پہلے ہی تحفظات تھے‘ اُن کے تحفظات میں اس واقعے کے بعد اضافہ ہو ا ہے۔گزشتہ کئی ماہ سے اسلام آباد اور پنجاب جیسے نسبتاً محفوظ علاقوں میں بھی امن عامہ کی حالت مخدوش ہو چکی ہے۔ روزانہ قانون شکنی کا کوئی نہ کوئی افسوسناک واقعہ ہمیں رُلا جاتا ہے۔ اتوار کے روز وفاقی دارالحکومت میں ایک اغواکار کے چنگل سے ایک لڑکی کو بچاتے ہوئے پاک فضائیہ کے گروپ کیپٹن عاصم طارق کو اسلام آباد میں جام شہادت نوش کرنا پڑا۔ روزمرہ کے ان واقعات کی بنا پر پاکستان کا داخلی تاثر یہ ہے کہ یہاں قانون کی حکمرانی نہیں۔ ایلیٹ کلاس اور اُن کی اولادیں اپنے آپ کو ماورائے قانون سمجھتے ہیں۔ ہمارا دنیا میں یہ بھی امیج ہے کہ یہاں عدالتیں آزاد نہیں۔ غیر ملکی خواتین کے اغوا سے یہ تاثر مزید گہرا ہوا ہے کہ پاکستان میں ایک پھل فروش کو ریڑھی آگے پیچھے کھڑی کرنے پر تو ہتھکڑی لگائی جا سکتی ہے مگر ایلیٹ کلاس کے خلاف قانون اس وقت ہی ڈرتے ڈرتے حرکت میں آتا ہے کہ جب کوئی معاملہ طشت ازبام ہو چکا ہو۔ پاکستان کی معیشت اس وقت شدید بحران کا شکار ہے۔ ہماری معیشت کا انحصار آئی ایم ایف کے قرضوں اور چلچلاتی دھوپ میں شدید محنت کر کے ہمارے مزدوروں اور ہنر مندوں کے کمائے ہوئے زرِمبادلہ کی ترسیل پر ہے۔ ہماری برآمدات برائے نام اور ہماری درآمدات بیشمار ہیں۔ ہمیں نئی صنعتوں اور قومی پیداوار‘ نیز روزگار کے وسیع تر مواقع پیدا کرنے کیلئے بیرونی سرمایہ کاری کی شدید ضرورت ہے۔ اس وقت بیرونی سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس کا حجم پاکستان کی قومی پیداوار کے صرف 0.7 فیصد تک محدود ہے۔پاکستان کے بارے میں بیرونی سرمایہ کاروں کے بہت سے تحفظات ہیں۔ بیرونی سرمایہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہاں آئے روز اقتصادی و مالیاتی پالیسیاں بدلتی رہتی ہیں۔ بھاری ٹیکس اور ٹیکسوں کا پیچیدہ نظام بھی سرمایہ کاری کے راستے کی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ بجلی وگیس کے نرخ بہت بلند ہیں۔یہاں کے عدالتی نظام کو بھی سرمایہ کاری کیلئے فیصلہ سازی کے راستے کا ایک کوہِ گراں سمجھا جاتا ہے۔ اسکے علاوہ پاکستان میں امن و امان کی غیر تسلی بخش صورتحال بھی بیرونی سرمایہ کاری کیلئے ایک منفی فیکٹر ہے۔ جس ملک میں سیاسی عدم استحکام ہو وہاں بیرونی سرمایہ کار کاروبار یا کسی صنعت میں سرمایہ لگانے سے گریز کرتے ہیں۔ اُن کا خیال یہ ہوتا ہے کہ اس طرح کے حالات میں ان کا سرمایہ ڈوب بھی سکتا ہے۔ ہم سمجھیں یا نہ سمجھیں مگر دنیا بھر کے صنعت کار و سرمایہ کار اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ معاشی ترقی اور محفوظ سرمایہ کاری کیلئے سیاسی و اقتصادی‘ دونوں طرح کا استحکام ازبسکہ ضروری ہوتا ہے۔ ہمارے وزیراعظم اربوں ڈالر بطور سرمایہ کاری لانے اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے جوق در جوق پاکستان آنے کی نوید سناتے رہتے ہیں۔ گزشتہ سال انہوں نے سعودی عرب کے بڑے صنعتکاروں کے پاکستان میں آئل ریفائنری لگانے اور معدنیات کی صنعت میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے بارے میں خوش خبری سنائی تھی مگر عملاً ابھی تک کچھ نہیں ہوا۔ سعودی عرب میں اعلیٰ پیمانے پر کام کرنے والے بعض باخبر دوستوں سے ہمیں معلوم ہوا تھا کہ جب سعودی وزرا اور صنعتکار پاکستان آتے ہیں تو یہاں کے سرکاری اور پرائیویٹ سیکٹر کے ذمہ داران سے مل کر خاصے مایوس ہوتے ہیں کیونکہ ان کے بقول پاکستانیوں کے پاس نیک تمنائیں اور اپنے قدرتی وسائل پر فخر و انبساط کا وافر ذخیرہ تو ہوتا ہے مگر فنی بنیادوں پر ترتیب دی گئی فزیبلٹی نہیں ہوتی اور نہ ہی کام کیلئے کوئی منصوبہ بندی۔ ہفتہ رفتہ وزیراعظم نے استنبول میں اعلان کیا کہ پاک ترک سالانہ تجارت کا حجم پانچ ارب ڈالر تک لے جائیں گے۔ انہوں نے استنبول میں سرمایہ کاروں اور ترک کمپنیوں کو پاکستان میں توانائی‘ آبی ذخائر‘ زراعت‘ خصوصی اقتصادی زونز کے قیام‘ معدنیات و انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔ تاہم جب ٹیکنیکل کمیٹیوں کی سطح پر بات ہوگی تب معلوم ہوگا کہ کتنے بیرونی سرمایہ کار کتنی بڑی سرمایہ کاری لانے پر آمادہ ہوتے ہیں۔ ہمارے سرکاری اہلکاروں کو بخوبی معلوم ہوگا کہ بیرونی سرمایہ کاروں کے یہاں سرمایہ کاری کرنے کے بارے میں کیا کیا تحفظات ہیں۔ غیر ملکی خواتین کے اغوا کا معاملہ عالمی ایشو بن چکا ہے۔ یہ حکومت کا امتحان ہے کہ وہ جلد سے جلد ملزموں کو‘ چاہے وہ کتنے ہی بااثر کیوں نہ ہوں‘ کیفرِ کردار تک پہنچاتی ہے یا انصاف کے راستے میں روڑے اٹکاتی ہے۔ سینیٹر رانا ثنا اللہ کا یہ کہنا کہ لاہو میں خواتین کے اغوا کا معاملہ مس ہینڈل ہوا‘ بین السطور ملزموں کی وکالت کی کوشش محسوس ہوتا ہے‘ اور یہ باعث تشویش ہے۔ یہ مقامِ فکر ہے کہ ایلیٹ کلاس کے نوجوان ہر لاقانونیت کو اختیار کر کے اسلحہ اور تشدد کے ذریعے جو چاہتے ہیں کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ کوئی انہیں پوچھنے والا نہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ حکمران قانون کے آگے جھکنے کے بجائے اسے اپنے گھر کی لونڈی بنا کر رکھنا چاہتے ہیں۔ ایسا ماحول بیرونی سرمایہ کاری کیلئے فرینڈلی نہیں‘ اَن فرینڈلی ہو جاتا ہے جبکہ ہمیں قرضوں اور کشکولِ گدائی سے نجات کیلئے سخت محنت اور بیرونی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ موجودہ حالات قومی سطح پر قومی میثاقِ معیشت کا تقاضا کرتے ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_70033906.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>لاہور کو جدید شہر کیسے بنایا جائے؟(شاہد کاردار)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-kardar-/2026-07-07/52252/37883955</link><pubDate>Tue, 07 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-kardar-/2026-07-07/52252/37883955</guid><description>ہم نے گزشتہ کالم میں لاہور شہر کے کچھ قیمتی اثاثوں کا ذکر کیا جن کی استعداد سے فائدہ اٹھانا تو درکنار ان کی بیلنس شیٹ بھی نہیں بنائی گئی۔ یہ ایسے شہری اثاثے ہیں جنہیں ترقی دے کر ہم لاہورکو دنیا کے دیگر ترقی یافتہ شہروں کی طرح ایک جدید شہر میں ڈھال سکتے ہیں۔ ایک ایسا شہر جو اپنے مالی وسائل میں خودکفیل ہو گا اور جسے صوبائی حکومت کی نوازشات کی ضرورت نہیں ہو گی کیونکہ اس کی اپنی دولت ہی بہت زیادہ ہے۔ اسی موضوع کو آگے بڑھاتے ہیں۔مال روڈ سے چوبرجی تک پھیلے ہوئے علاقے کو دیکھیں۔ یہ شہر کی سب سے کم استعمال ہونے والی اور کم قیمت سمجھی جانے والی جائیدادوں میں شامل ہے۔ یہ علاقہ تاریخی عمارتوں‘ اہم سفری رابطوں اور تجارتی مراکز کے قریب واقع ہے اور بڑی حد تک یہاں سرکاری دفاتر اور سرکاری ملازمین کیلئے سرکاری رہائشگاہیں واقع ہیں۔ یہاں نوآبادیاتی دور کے بنگلے اور رہائشی علاقوں کے بلاکس ہیں۔ یہ سب کچھ لاہور کی انتہائی اہم محلِ وقوع رکھنے والی زمین پر واقع ہے لیکن اس سے پبلک کو کوئی آمدن نہیں ہوتی۔ اس زمین کی نئی زون بندی کر کے اور مخلوط استعمال (گھریلو اور تجارتی) والی بلند عمارتوں کی تعمیر کی اجازت دے کر بہت دولت پیدا کی جا سکتی ہے۔ اگر یہ کام کر لیے جائیں تو یہاں پر جائیداد کی قیمتیں بڑھ جائیں گی‘ خدمات کا دائرہ وسیع ہوگا‘ نئی معاشی سرگرمیاں شروع ہوں گی اور اردگرد کے بزنس کیلئے لوگوں کی آمدورفت بڑھ جائے گی۔ یوں اس راہداری میں زمین کی قیمت مزید بڑھ جائے گی۔ یہ تبدیلی شہر کی دیگر راہداریوں کیلئے بھی ایک ماڈل بن سکتی ہے۔مارکیٹ کے مطابق کرائے وصول کرنا‘ جائیداد پر منصفانہ ٹیکس نافذ کرنا‘ سرکاری افسران کو مفت اعلیٰ درجے کی دفتری جگہ اور رہائش فراہم کرنے کا سلسلہ ختم کرنا اور کم استعمال شدہ علاقوں کو زیادہ آبادی والے اور موسمیاتی طور پرحساس شہری اضلاع میں تبدیل کرنے سے لاہور کا ٹیکس نیٹ وسیع ہوگا اور اس کی ترقی کیلئے نجی سرمایہ کاری راغب ہو گی۔ یہ کام شہر کیلئے متحرک شہری مرکز کی تشکیل میں مدد دے گا جس کی شہر کو فوری ضرورت ہے۔ اور یہ سب کام تاریخی عمارتوں اور پبلک کیلئے سر سبز پارکس وغیرہ کو چھیڑے یا نقصان پہنچائے بغیر کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح کہ سرکاری دفاتر‘ بشمول سیکرٹریٹ‘ اپنی موجودہ جگہوں پر برقرار رہیں۔ شہر کو چاہیے کہ یا تو ان مقامات پر مکمل پراپرٹی ٹیکس عائد کرے یا ان جگہوں کو بلند وبالا عمارتوں کے کمپلیکس میں تبدیل کر دے۔ بعد میں ان عمارتوں کو‘ انہی سرکاری اداروں کو‘ تجارتی بنیادوں پر کرائے پر دیا جائے۔ دریائے راوی کے کنارے کو استعمال میں لانے کی نمایاں تجارتی اور سیاحتی صلاحیت بھی موجود ہے۔ یہ زمین اس وقت نظر انداز شدہ علاقہ ہے۔ اسے اگر ترقی دی جائے تو وہ معاشی سرگرمیوں کی ایک پھلتی پھولتی راہداری میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ دریا کے کنارے پر کثیر المقاصد منصوبوں کے مواقع موجود ہیں مثلاً تجارتی پلازے‘ دفتری مراکز‘ پرچون دکانیں‘ ہوٹل وغیرہ۔ یوں لاہور کی معیشت میں تنوع پیدا ہو گا جس سے سرمایہ کاری اس کی طرف راغب ہو گی‘ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور آمدنی کے ذرائع بڑھیں گے۔ معیاری انفراسٹرکچر بننے کے بعد یہ علاقہ ترقی پذیر کاروباری ضلع میں تبدیل ہو جائے گا جو پہلے سے موجودعلاقوں کو بھی اوپر اٹھائے گا۔ مجموعی طور پر ایک دلکش اور پائیدار ماحول فراہم ہو جائے گا۔لاہور جیسے شہر کیلئے سیاحت کے مواقع بے حد وسیع ہیں۔ یہاں پہلے ہی شاہی قلعہ‘ بادشاہی مسجد‘ مقبرہ جہانگیر اور شالامار باغ جیسے ثقافتی خزانے موجود ہیں۔ دریا کے کنارے کی ترقی سے پیدل راہداریوں اور ثقافتی تقریبات (میلوں‘ فنونِ لطیفہ کی نمائشوں) کیلئے نئے مقامات مہیا ہو جائیں گے۔ اس سے شہر کی دلکشی میں اضافہ ہو گا۔ پانی پر مبنی تفریح کی سرگرمیوں‘ فوڈ سٹریٹس اور کھیل کے مقامات بننے سے دریا کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کرنے میں مدد ملے گی اور لاہور کی شناخت ایک زندہ دل شہر کے طور پر زیادہ نکھر کر سامنے آئے گی۔ تجارت اور سیاحت کے درمیان اس طرح کی ہم آہنگی سے شہر کا پوٹینشل مزید بڑھ جائے گا اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ سے شہر میں ہوٹلوں کے کاروبار اور تفریحی صنعتوں کو سہارا ملے گا جبکہ سیاحت سے پرچون کاروبار اور خدمات کے شعبوں کو تقویت ملے گی۔ خلاصہ یہ کہ دریائے راوی کے کنارے کی ترقی لاہور کے  شہری منظرنامے کو ازسرنو متعین کر سکتی ہے۔ یہ ترقی شہر کی تصویر کو ایک جدید اور عظیم شہر میں تبدیل کر سکتی ہے جو معاشی ترقی اور ثقافتی توانائی کے درمیان توازن پر قائم ہو۔ لاہور کے پاس اپنے وسائل خود متحرک کرنے‘ اپنے اثاثوں کی مکمل استعداد سے فائدہ اٹھانے اور ان کا انتظام کرنے کا اختیار ہونا چاہیے۔ لاہور کا یہ اختیار پنجاب کے باقی حصوں کیلئے بھی بہت فائدہ مند ثابت ہوگا کیونکہ اس سے کم ترقی یافتہ اضلاع کیلئے فنڈز میسر ہوں گے جہاں ترقیاتی کاموں کی ضرورت کہیں زیادہ ہے اور سرکاری سرمایہ کاری کے نتائج بھی کہیں زیادہ بہتر ہو سکتے ہیں۔اپنے مادی اثاثوں کے علاوہ لاہور کے پاس غیر مادی دولت کا بھی بھرپور ذخیرہ موجود ہے جو شاذ ونادر ہی کسی مالی حساب کتاب میں نظر آتا ہے۔ اس کی جامعات اور تحقیقی ادارے‘ ہنرمند افرادی قوت کا وسیع ذخیرہ‘ اس کی مارکیٹیں اور تجارتی نیٹ ورک‘ اس کی عدالتیں اور قانونی ڈھانچہ‘ اس کا ذرائع ابلاغ کا نظام‘ اس کے ثقافتی ادارے اور بڑھتی ہوئی تخلیقی صنعتیں اس کے غیر مادی اثاثے ہیں۔ اگرچہ ان اثاثوں کی مالی قدر متعین کرنا مشکل ہے لیکن یہ مکمل طور پر حقیقی اثاثے ہیں کوئی خیالی بات نہیں۔ یہ غیر مادی اثاثے معلومات کے بہاؤ کو بہتر اور ادارہ جاتی کارکردگی کو مضبوط بناتے ہیں۔ ان غیر مادی اثاثوں کی وجہ سے شہر کی وہ معاشی توانائی برقرار رہتی ہے جو لاہور کو پنجاب کی معیشت کا انجن بناتی ہے۔ جدید شہر صرف ٹیکسوں کے ذریعے اپنی مالی ضروریات پوری نہیں کرتے۔ کامیاب شہری حکومتیں اپنے شہروں کو معاشی پلیٹ فارم میں تبدیل کر کے آمدن پیدا کرتی ہیں۔ وہ تقریبات‘ سیاحت اور عوامی مقامات کے مؤثر استعمال اور جدید مالی ذرائع کے ذریعے شہری سرگرمیوں کو باقاعدہ طور پر مالی فائدے میں بدلتی ہیں۔ جدید شہری مالیات کا مقصد صرف رقم جمع کرنا نہیں بلکہ ایک ایسا شہر تعمیر کرنا ہوتا ہے جو حقیقی معنوں میں بہتر طور پر کام کرے جہاں شہری خوشی سے رہنا پسند کریں اور جہاں دنیا بھر کے لوگ آنا اور سرمایہ کاری کرنا چاہیں۔پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ یہاں ایسا سرکاری نظام موجود ہے جو اس کے شہروں کو اس نوعیت کی جدید شہری معیشت پیدا کرنے سے منظم طور پر روکتا ہے۔ ان رکاوٹوں میں مختلف سرکاری بندشیں‘ مختلف اداروں سے کسی نہ کسی کام کی اجازت لینا‘ این او سی لینا وغیرہ شامل ہیں۔ آج کا لاہور بنیادی طور پر اشرافیہ کی سہولت کیلئے ترتیب دیا گیا ایک شہر ہے جہاں عام شہری گہری مایوسی کا شکار ہیں کیونکہ انہیں صرف ناقص خدمات وسہولتیں دستیاب ہیں۔ یہ شہر اب بھی بیسویں صدی کے ایک ایسے ماڈل میں پھنسا ہوا ہے جو پوشیدہ ٹیکسوں‘ افسر شاہی کے کنٹرول اور ادارہ جاتی جمود پر مبنی ہے۔ یہ ان اثاثوں سے فائدہ اٹھانے سے قاصر ہے جن پر اس کا وجود قائم ہے۔ جو بات لاہور کیلئے درست ہے‘ وہی پاکستان کے دیگر شہروں پر بھی لاگو ہوتی ہے۔ ایک بااختیار مقامی حکومت ہی اس معاشی ترقی کو ممکن بنا سکتی ہے ۔ ایسی مقامی حکومت جو شفاف اثاثہ جاتی انتظام اور حقیقی مالی خودمختاری پر قائم ہو۔ جب تک پاکستان اپنے شہری مراکز کی استعداد کو استعمال نہیں کرتا اور ایسے پیشہ ور شہری ادارے قائم نہیں کرتا جو اراضی کامؤثر انتظام کر سکیں‘ سیاحت کو فروغ دے سکیں‘ اور جدید آمدنی کے ذرائع استعمال کر سکیں‘ اس وقت تک اس کے شہر مالی طور پر کمزور‘ ثقافتی طور پر مدہم اور عالمی سطح پر غیر نمایاں رہیں گے۔ یہ شہر جو آبادی میں بڑے ہیں لیکن اپنے وجود کے اظہار‘ اپنی آمدن پیدا کرنے اور مواقع کے لحاظ سے افسوسناک حد تک چھوٹے کردیے گئے ہیں۔(اس میں مضمون میں ڈاکٹرندیم الحق کی معاونت شامل تھی)</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_78012569.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ایران کی نظریاتی فتح اور مشرقِ وسطیٰ کا مستقبل(رشید صافی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-07-07/52253/98397098</link><pubDate>Tue, 07 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-07-07/52253/98397098</guid><description>جب کوئی لیڈر اپنی قوم کو نظریاتی اساس پر متحد اور فکری طور پر مستحکم کر دیتا ہے تو وہ قوم محض ایک جغرافیائی اکائی نہیں رہتی بلکہ ایک ناقابلِ تسخیر تحریک میں بدل جاتی ہے۔ دنیا کے سیاسی نقشے پر ابھرنے والی کئی ریاستوں کا وجود اور ان کی بقا مادی طاقت کے بجائے نظریاتی پختگی کی مرہونِ منت رہی ہے۔ آزادی کی طویل جدوجہد ہو‘ خود مختار مملکت کا حصول ہو یا پھر بیرونی جارحیت کے خلاف بقا کی جنگیں‘ ان تمام معرکوں میں حتمی فتح مادی وسائل کی نہیں بلکہ نظریاتی استقامت کی ہوئی ہے۔ فکری مضبوطی قوموں کو وہ داخلی توانائی فراہم کرتی ہے جو انہیں بیرونی دباؤ کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنا دیتی ہے۔ تہران میں ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی الوداعی تقاریب اور جنازے کے تاریخی اجتماع نے عالمی مبصرین کو حیرت زدہ کر دیا ہے۔ ایران کی سڑکوں پر اُمڈ آنے والا عوامی سمندر اس بات کا ٹھوس ثبوت ہے کہ ایرانی عوام اپنے قائد کے بعد ان کے نظریات سے پہلے سے زیادہ مضبوطی کے ساتھ وابستہ ہیں۔ بین الاقوامی منظرنامے پر یہ اجتماع محض ایک سیاسی رہنما کا آخری سفر نہیں تھا بلکہ پورے فکری نظام کے ساتھ عوامی وفاداری کا غیر متزلزل مظاہرہ تھا۔حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ اصل معرکہ آرائی محض عسکری تنصیبات تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ بنیادی طور پر نظریاتی جنگ ہے۔ ایک اہم شخصیت کا بظاہر منظرنامے سے ہٹ جانا سٹرٹیجک نقطۂ نظر سے حریف قوتوں کیلئے وقتی کامیابی ہو سکتا ہے لیکن اگر اس شخصیت کا چھوڑا ہوا نظریہ عوام کے دلوں میں زندہ رہے تو وہ رہنما فکری محاذ پر ہمیشہ کیلئے امر ہو جاتا ہے۔ زمینی اور مادی لحاظ سے ایران کو یقینا بڑے نقصانات کا سامنا کرنا پڑا لیکن سٹرٹیجک اور سیاسی بقا کے اصولوں کے مطابق ایران کی اصل فتح اس کی داخلی استقامت اور فکری یکجہتی میں ہے‘ جس کا مظاہرہ اس کے عوام نے کیا۔ سپریم لیڈر نے اپنی قوم کو جس نظریاتی سانچے میں ڈھالا‘ اس نے داخلی طور پر معاشرے کو اتنا مضبوط کر دیا کہ کسی بھی بیرونی طاقت کیلئے وہاں دراڑیں ڈالنا ناممکن حد تک مشکل ہو چکا ہے۔ اس غیرمعمولی تاریخی موڑ پر ایران کے داخلی منظرنامے پر ایک اور اہم تبدیلی دیکھنے کو ملی ہے۔ جنازے کے اس بڑے اجتماع نے مسلم اُمہ بلکہ دنیا کے سیاسی مبصرین کو بھی حیرت زدہ کر دیا۔ اس مرحلے پر ایران کی وہ سٹرٹیجک اور سیاسی قیادت یکجا ہو کر منظرِ عام پر آئی جو خطے میں جاری کشیدگی اور سکیورٹی پروٹوکولز کے باعث اب تک پسِ منظر میں کام کر رہی تھی۔ اس موقع پر دیے جانے والے بیانات اور سٹرٹیجک اشارے مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل کے سیاسی و عسکری منظرنامے کو سمجھنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ ایران کے آرمی چیف میجر جنرل امیر حاتمی نے انتہائی سخت اور واضح مؤقف اپناتے ہوئے اعلان کیا کہ سابق رہبرِ اعلیٰ کی شہادت اور خطے میں ہدف بنانے کی کارروائیوں کے ذمہ داران کا تعاقب ہر سطح پر کیا جائے گا اور وہ کسی صورت اپنے انجام سے  نہیں بچ سکیں گے۔ یہ بیان اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ عسکری قیادت دفاعی حکمت عملی کے ساتھ ساتھ جارحانہ متبادل پر بھی  مکمل آمادگی رکھتی ہے۔ اسی طرح ایرانی صدر مسعود پزشکیاں نے اپنے سیاسی و آئینی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ شہید رہبرِ اعلیٰ کے مشن کو پوری قوت کے ساتھ جاری رکھیں گے اور عوام سے کیے گئے تمام تر وعدوں کو نبھائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ جس پرچم کی سربلندی کیلئے ایرانی قیادت نے دہائیوں تک جدوجہد کی‘ اسے سرنگوں نہیں ہونے دیا جائے گا۔ ایرانی قیادت کا یہ مؤقف ظاہر کرتا ہے کہ نظام کے کلیدی ستون اپنے نظریے پر قائم ہیں۔شیعہ سیاسی فکر اور ایرانی ثقافت میں علامتی پیغامات کو انتہائی اہمیت حاصل ہے۔ تہران کے امام خمینی مصلیٰ میں جمع ہونے والے لاکھوں سوگواروں کے ہاتھوں میں لہراتے ہوئے سرخ پرچم محض احتجاج کا ذریعہ نہیں تھے بلکہ یہ دنیا کو دیا جانے والا واضح پیغام تھا۔ ایرانی تاریخ اور اسلامی روایات میں سرخ رنگ کا پرچم اس بات کی علامت سمجھا جاتا ہے کہ کسی کا خون ناحق بہایا گیا ہے اور جب تک اس کا قصاص نہ لے لیا جائے یہ پرچم سرنگوں نہیں کیا جاتا۔ ان سرخ پرچموں پر درج نعروں نے اس پورے اجتماع کو شدید جذباتی اور فکری توانائی فراہم کی۔ ان پر طویل عرصے سے مستعمل روایتی نعرہ &#39;&#39;یا لثارات الحسین‘‘ (اے حسین کا بدلہ لینے والو!) نمایاں تھا‘ جو کربلا کے تاریخی پسِ منظر اور مظلومیت کے خلاف اُٹھ کھڑے ہونے کے استعارے کو زندہ کرتا ہے۔ تاہم اس بار  اس روایتی بیانیے کے ساتھ ایک نیا نعرہ &#39;&#39;یا لثارات الخامنہ ای‘‘ (اے خامنہ ای کا بدلہ لینے والو) بھی گونجتا رہا۔ اہلِ تشیع کی سیاسی تاریخ میں یہ نعرہ تاریخی طور پر جنگجوؤں کو مشترکہ ہدف کیلئے متحرک کرنے اور انتقام کیلئے صف آرا کرنے کا سب سے بڑا محرک رہا ہے۔ اب اس نعرے کو اپنے شہید سپریم لیڈر کے نام کے ساتھ جوڑنا اس بات کا اعلان ہے کہ عوام اپنی قیادت کے نقصان کو محض ایک سیاسی سانحہ نہیں سمجھ رہے بلکہ اسے ایک نظریاتی موڑ قرار دے کر حریف طاقتوں سے براہِ راست اور سخت ترین تلافی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ تہران کے اس تعزیتی اجتماع کی ایک اور اہم خاصیت وہاں مختلف نوعیت کے پرچموں کی بیک وقت موجودگی تھی۔ ان سرخ پرچموں کے دوش بدوش جہاں ایران کا قومی پرچم لہرایا جا رہا تھا وہیں پیلے رنگ کے پرچم بھی بڑی تعداد میں موجود تھے جو لبنانی تنظیم حزب اللہ اور خطے میں موجود پورے مزاحمتی بلاک کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان تمام پرچموں کا یکجا ہونا عالمی برادری بالخصوص مغربی اتحاد پر یہ واضح کرنا تھا کہ ایران اور اس کے اتحادی اس بڑے نقصان پر نہ تو خاموش بیٹھیں گے اور نہ ہی ان کے دفاعی نیٹ ورک میں کوئی کمزوری آئی ہے۔ یہ اتحاد ظاہر کرتا ہے کہ علاقائی سطح پر ایران کے نان سٹیٹ و سٹیٹ الائنسز مستحکم اور مکمل رابطے میں ہیں اور کسی بھی بڑی عسکری مہم جوئی کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان بیانات وعلامات سے واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی اور سرد جنگ کا یہ باب اتنی آسانی سے ختم ہونے والا نہیں ہے۔جہاں ایک طرف عوامی سطح پر انتقام اور عسکری کارروائیوں کا دباؤ عروج پر ہے وہیں ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف نے متوازن رخ اختیار۔ باقر قالیباف نے معاملات کو سلجھانے کیلئے سفارتکاری کے دروازے کھلے رکھنے کی ضرورت پر زور دیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کے ساتھ طے پانے والی سابقہ مفاہمتی یادداشتوں پر عملدرآمد موجودہ حالات میں مشکل ضرور ہے لیکن اسے ناممکن قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ایرانی سپیکر کا حقیقت پسندانہ مؤقف اس بات کی علامت ہے کہ ایرانی فیصلہ سازوں کا ایک حصہ اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ میدانِ جنگ میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کا تحفظ اور ان کا منطقی نتیجہ صرف اور صرف میز پر ہونے والی مؤثر سفارتکاری کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو ایران اس وقت دوراہے پر ہے۔ ملک کے اندر جذباتی لہر اور سخت گیر مؤقف رکھنے والوں کی تعداد زیادہ ہے جو فوری انتقام کے خواہاں ہیں لیکن دوسری طرف ایسے حقیقت پسند مدبر بھی موجود ہیں جو بین الاقوامی تعلقات کی نزاکتوں کو سمجھتے ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اندھا دھند عسکری اقدامات اور مسلسل جنگیں ملکوں کو جنگی‘ معاشی تباہی اور داخلی انتشار کی طرف دھکیل دیتی ہیں‘ جیسا کہ ماضی قریب میں افغانستان کے تلخ تجربات سے ثابت ہو چکا ہے۔ اس کے برعکس دانشمندانہ سفارتکاری طویل ترین جنگوں کے ابواب کو بھی بند کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اب یہ ایرانی قیادت پر منحصر ہے کہ آیا وہ عوامی جذبات کی رو میں بہہ کر ملک کو طویل مدتی بحرانوں اور ممکنہ جنگ کی دلدل میں دھکیلتے ہیں یا پھر طاقت کے توازن کو برقرار رکھتے ہوئے سفارتکاری کے ذریعے اپنے قومی مفادات کا تحفظ کر کے ملک کو امن اور معاشی استحکام کا گہوارہ بناتے ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/222_48272610.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کیمپس میں نمازِ جمعہ کی امامت(حافظ محمد ادریس)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/hafiz-muhammad-idreess/2026-07-07/52254/70409406</link><pubDate>Tue, 07 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/hafiz-muhammad-idreess/2026-07-07/52254/70409406</guid><description>چہار جانب سے منفی خبروں کے بیچ یہ طے پایا کہ ہم سب وی سی صاحب کے ہاں جائیں اور ان سے درخواست کریں کہ پریس ریلیز واپس لے لیں۔ تنویر عباس تابش (نائب صدر) کو بھی بلا لیا گیا۔ ہمارا علامہ صاحب کے ہاں جانا اور وہاں پر بدقسمتی سے بعض طلبہ کا اشتعال میں آ جانا ایسا موڑ ثابت ہوا کہ سب کچھ ہی تلپٹ ہو کر رہ گیا۔ ہم سلاخوں کے پیچھے چلے گئے اور یہ واقعہ اس قدر غلط انداز میں اخبارات میں چھپا اور لوگوں نے اسے اس قدر اچھالاکہ ساری حقیقت پروپیگنڈے کے کیچڑ میں دب گئی۔ ہم جیل میں ہونے کی وجہ سے کوئی وضاحت بھی نہ کر سکتے تھے۔ یہ واقعہ جس طرح اخبارات میں چھپا اور جس طرح مولانا مودودیؒ کے سامنے بیان کیا گیا وہ نہایت غلط اور قابلِ افسوس تھا۔ مولانا مرحوم نے اس واقعہ کو سن کر اور اخبارات میں خبریں دیکھ کر ہمارے خلاف جو سخت بیان دیا تھا وہ ریکارڈ میں موجود ہے اور ہمارے خلاف اس کے حوالے دیے جاتے ہیں ۔ البتہ مولانا کو جب ساری صورتحال کا پتا چلا تو انہیں اپنے اس بیان پر افسوس ہوا۔ انہوں نے صفدر علی چودھری کی معرفت جیل میں مجھے پیغام بھیجا کہ وہ اپنے انتہائی عزیز ساتھی (چودھری غلام محمد) کی وفات پر کراچی سے اسی شام واپس آئے تھے اور سخت پریشان تھے اور جس انداز میں ان تک بات پہنچی تھی اس سے انہیں بڑا دکھ ہوا تھا۔ جو کچھ پہلے کہا جا چکا تھا اس پر مزید وضاحتی بیان کی ہم نے کوئی ضرورت نہ سمجھی اور مولانا مرحوم کے شایان شان بھی نہیں تھا کہ اپنے بیان کی تردید کرتے۔ مولانا نے پیغام بھیجا کہ ان کو حقائق کا علم ہو گیا ہے اور میرا اور میرے سب ساتھیوں کا کھانا عید کے دن مولانا کے گھر سے آئے گا۔ ہماری گرفتاری کے تیسرے یا چوتھے روز عید قربان تھی۔ عید کے روز مولانا کے ڈرائیور بابا عبدالغفور کے ساتھ صفدر چودھری صاحب اور محترم فاروق مودودی ہم سب کے لیے پُرتکلف کھانا لے کر آئے جس سے ہمارے علاوہ بعض ساتھی قیدی بھی لطف اندوز ہوئے۔بات ہو رہی تھی علامہ علاء الدین صدیقی صاحب کے گھر جانے کی۔ علامہ صاحب سے ان کے دفتر کے علاوہ بارہا میں ان کے گھر میں بھی مل چکا تھا۔ اس سے قبل دو ملاقاتیں ان کے گھر میں رات ہی کے وقت ہو چکی تھیں۔ ایک مرتبہ تو نیوکیمپس کے کچھ طلبہ کا کوئی ارجنٹ مسئلہ تھا جس کی صحیح نوعیت اس وقت مجھے یاد نہیں۔ دوسری مرتبہ 1969ء کے رمضان میں طلبہ کے ایک وفد کے ہمراہ رات کو علامہ صاحب سے ملا تھا۔ اس مرتبہ جو مسئلہ درپیش تھا وہ مجھے اچھی طرح سے یاد ہے۔ یونیورسٹی (نیوکیمپس) میں ابھی مسجد تعمیر نہ ہوئی تھی‘ نماز جمعہ کا خطبہ، جماعت اور اردو تقریر محترم پروفیسر خالد علوی صاحب کے ذمہ تھی۔ پروفیسر خالد علوی صاحب کا انداز بیاں میٹھا جیسے شہد‘ طرزِ استدلال دل ودماغ کے لیے مؤثر جیسے زمین کے لیے ابرِ رحمت اور زورِ خطابت باطل کے لیے شمشیر برہنہ! ترقی پسند کمیونسٹ طبقات کو یہ خطاب اپنے خلاف نظر آتا تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ جامعہ کے اندر جمعہ کی نماز کے ذریعے مخصوص نظریات کا پرچار کیا جاتا ہے۔ انہوں نے بارہا گڑبڑ کرنے کی کوشش بھی کی مگر کوئی کوشش کامیاب نہ ہو سکی۔ بالآخر انہوں نے وی سی صاحب پر زور ڈالا کہ خالد علوی کا خطاب بند کیا جائے۔ الزام عائد کیا گیا کہ وہ فرقہ وارانہ اور جانبدارانہ تقریر کرتے ہیں۔ چونکہ اس وقت باقاعدہ مسجد نہیں تھی‘ سو اس دبائو کے تحت علامہ صاحب نے علوی صاحب کو خطاب کرنے سے روک دیا۔ یہ ماہِ رمضان کا جمعۃ الوداع تھا جب علوی صاحب کو خطاب سے منع کیا گیا اور عجیب بات یہ کہ ان کی جگہ کوئی متبادل انتظام بھی نہ کیا گیا۔ غالباً یہ سمجھ لیا گیا ہو گا کہ کوئی یہاں باقاعدہ مسجد تو ہے نہیں کہ متبادل انتظام ضروری ہو۔ یہ سوچا گیا ہوگا کہ متبادل انتظام سے یہ بات کھل کر سامنے آ جائے گی کہ علوی صاحب کو قصداً روکا گیا ہے۔ جب وہ نہیں آئیں گے تو سمجھا جائے گا کہ وہ کسی مجبوری کی وجہ سے غیر حاضر ہو گئے۔ وہاں موجود کوئی اور شخص خطبہ پڑھ کے جماعت کرا دے گا یا پھر لوگ کسی اور مسجد میں چلے جائیں گے۔ یونیورسٹی کی جامع مسجد اس وقت تک تعمیر نہ ہوئی تھی۔ ہاسٹلوں میں پانچوں وقت کی نماز باجماعت ادا کرنے کیلئے کچھ بڑے بڑے کمروں میں عارضی مساجد بنائی گئی تھیں۔ ہم ہاسٹل نمبر ایک کی مسجد میں نمازِ تراویح پڑھتے تھے۔جمعرات کی شام کو نیوکیمپس میں افطار کا ایک پروگرام بنایا گیا تھا ۔افطار کے بعد میں نیو کیمپس ہی میں تھا‘ تراویح کے بعد پتا چلا کہ پروفیسر علوی کو خطبۂ جمعہ سے روک دیا گیا ہے۔ مجھے اس بات پر بڑا دکھ ہوا۔ میں نے دوستوں سے کہا کہ کل جمعہ ہے‘ آئو ابھی وی سی صاحب سے جا کر بات کریں۔ ہم اسی وقت علامہ صاحب کی کوٹھی پر پہنچے‘ ان سے ملاقات کی اور صورتحال پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔ علامہ صاحب نے کہا کہ ایسی کوئی بات نہیں! علوی صاحب ہی جمعہ پڑھاتے ہیں اور وہی پڑھائیں گے۔ ان کی زبانی یہ بات سن کر ہم مطمئن ہو گئے اور واپس آ گئے۔ وہ رات میں نے نیوکیمپس ہاسٹل نمبر ایک ہی میں گزاری۔اگلے روز علوی صاحب خلاف معمول نیوکیمپس میں نہ پہنچے‘ حالانکہ وہ ہر جمعہ کو وقت سے پہلے ہی آ جایا کرتے تھے اور سٹوڈنٹس ٹیچر سنٹر (STC) کے کسی دفتر میں بیٹھ جاتے تھے۔ علوی صاحب کی رہائش اونچی مسجد‘ اندرون بھاٹی گیٹ میں تھی۔ ہم نے دو طلبہ کو رکشے پر روانہ کیا اور کہا کہ بھاٹی گیٹ سے ٹیکسی لے کر علوی صاحب کو فوراً ساتھ لے آئیں۔ ہم چشم براہ تھے کہ تقریر کا وقت ہو گیا اور جانے والے ساتھی واپس نہ آئے۔ اس روز ایک تو جمعۃ الوداع تھا جس میں روایتی طور پر مسلمان بڑی تعداد میں آتے ہیں‘ دوسرا ترقی پسندوں کی بن آئی تھی اس لیے وہ بھی دریوں پر براجمان تھے۔ ہنگامی مشاورت کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ میں تقریر شروع کر دوں‘ اگر علوی صاحب آ گئے تو ان کو خطاب کی دعوت دوں گا ورنہ میں ہی خطبہ اور نماز پڑھائوں۔ علوی صاحب کو نہ آنا تھا نہ آئے‘ مجھے ہی سارے فرائض انجام دینا پڑے۔ میرے نشست پر بیٹھنے اور تقریر شروع کرنے کے وقت ایک آدھ شخص نے کچھ کہنا چاہا مگر دیگر نمازیوں نے اسے چپ کرا دیا۔ اس وقت جمعہ کی جماعت کھڑی ہو رہی تھی جب دونوں فرستادگان خالی ہاتھ واپس آئے۔ نماز کے بعد انہوں نے بتایا کہ علوی صاحب نہیں مل سکے‘ نہ اپنے گھر میں تھے اور نہ شعبہ اسلامیات (اولڈ کیمپس) میں۔ معمول یہ تھا کہ ہر جمعہ کو یونیورسٹی کی گاڑی علوی صاحب کو ان کے گھر یا اولڈ کیمپس سے لے کر نیوکیمپس آتی اور نماز کے بعد واپس بھاٹی گیٹ انہیں چھوڑنے کے لیے جاتی تھی۔ اس روز گاڑی وہاں گئی تو سہی مگر معمول کے برعکس علوی صاحب کو علامہ صاحب نے اپنے پاس ہائیکورٹ کے قریب والی مسجد (جامع مسجد شاہ چراغ) میں بلا بھیجا۔ علامہ صاحب مدتِ مدید سے اس مسجد میں جمعہ پڑھایا کرتے تھے۔ ان کا خطاب بلاشبہ بہت دلنشین ہوا کرتا تھا اور لوگ جوق در جوق اس مسجد میں جمعہ پڑھنے آتے تھے۔  ہم دس بارہ طلبہ مسجد شاہ چراغ روانہ ہوئے۔وہاں پہنچے تو نماز ہو چکی تھی‘ البتہ ایک حجرے میں چیدہ چیدہ لوگ بیٹھے تھے اور علوی صاحب پیر مہر علی شاہؒ کا نعتیہ کلام سنا رہے تھے۔ علامہ صاحب نے اشارے سے مجھے قریب بلایا اور اپنے پاس بٹھا لیا۔ علوی صاحب نے اپنے تسلسل‘ سوز و گداز اور خوش الحانی میں فرق نہ آنے دیا۔ البتہ میری طرف دیکھ کر زیر لب عجیب انداز میں مسکرائے‘ اسی مسکراہٹ میں وہ مجھ سے سب کچھ کہہ گئے۔ علامہ صاحب ذہین آدمی تھے اور رات والی گفتگو بھی تازہ تھی‘ فوراً سمجھ گئے کہ ہم کیوں حاضر ہوئے ہیں۔ الفاظ تو مجھے پوری طرح یاد نہیں تاہم مفہوم کچھ یوں تھا کہ جمعۃ الوداع کو نعت خوانی کی محفل بعض دوستوں کی فرمائش پر رکھی گئی تھی جس کیلئے دوستوں نے علوی صاحب کی صوت و لحن میں یہ کلام سننے کی خواہش ظاہر کی۔ علوی صاحب کے نیوکیمپس نہ جانے کی یہ توجیہ ممکن ہے بعض لوگوں کو قائل کرنے والی ہو‘ بہرحال مجھے تو سخت افسوس اور مایوسی ہوئی۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_24721193.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>