<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>پائیدار امن کی بنیاد(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-24/11220</link><pubDate>Sun, 24 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-24/11220</guid><description>فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دورۂ تہران انتہائی نتیجہ خیز ثابت ہوا ہے۔ اس دوران ہونے والی اعلیٰ سطحی ملاقاتوں میں خطے میں امن و استحکام کے فروغ اور حتمی معاہدے تک پہنچنے کیلئے جاری مشاورتی عمل کو تیز کرنے پر توجہ مرکوز رہی اور ایران امریکہ سفارتی کوششوں میں پیش رفت سامنے آئی۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے گزشتہ روز ایک انٹرویو میں اس بات کی تصدیق کی کہ پاکستان کی ثالثی میں جاری مذاکرات کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کو حتمی شکل دینے کے مرحلے میں ہیں۔ امریکی سیکرٹری خارجہ مارکو روبیو نے بھی سفارتی پیش رفت کا اشارہ دیا ہے‘ جبکہ نیو یارک ٹائمز نے گزشتہ روز ثالثی کی کوششوں میں شامل ایک سینئر اہلکار کے حوالے سے یہ خبر دی کہ امریکہ اور ایران معاہدے کے قریب دکھائی دے رہے ہیں۔ دنیا کی نظریں بجا طور پر ایران اور امریکہ کے مابین امن کوششوں پر مرکوز ہیں۔

یہ حقیقت ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات پوری عالمی معیشت اور علاقائی سلامتی پر مرتب ہو رہے ہیں۔ تیل‘ گیس‘ کھاد اور دیگر اہم مصنوعات کی پیداوار میں کمی اور قیمتوں میں اضافہ‘ عالمی منڈیوں میں بے یقینی‘ سرمایہ کاری میں کمی اور تجارتی راستوں کے متاثر ہونے جیسے خطرات دنیا کے سامنے ہیں۔ اس صورتحال میں پاکستان کی ذمہ دارانہ‘ پُرعزم اور متحرک سفارتکاری اور قیام امن کی کوششیں لائقِ تحسین ہیں۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دورۂ تہران اس تناظر میں خاص اہمیت کا حامل ہے۔ یہ دورہ اس بات کا مظہر تھا کہ پاکستان اپنے قومی مفادات ہی نہیں خطے کے امن اور استحکام کیلئے بھی خلوصِ نیت کے ساتھ متحرک کردار ادا کرنے پر یقین رکھتا ہے۔ پاکستان کے اس عمل نے علاقائی سطح پر پاکستان کی اہمیت‘ ذمہ داریوں کے احساس اور قائدانہ کردار کو مؤثر طور پر ثابت کیا ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورۂ تہران میں ہونے والی اعلیٰ سطحی ملاقاتیں اور ان کے نتیجے میں ہونے والی پیش رفت یہ ثابت کرتی ہے کہ پاکستان علاقائی اعتماد سازی میں مؤثر کردار ادا کرنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔ اور یہ کردار پاکستان کی علاقائی لیڈر شپ کا بھی تعین کرتا ہے۔
امریکہ ایران مذاکرات میں پاکستان کی ثالثی کے کردار کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ پاکستان نے متوازن اور غیرجانبدار مؤقف اختیار کیا ؛ چنانچہ امریکہ اور ایران ہی نہیں عالمی سطح پر بھی پاکستان کی اس سفارتی کاوش کو قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ وقت کا تقاضا یہی ہے کہ ایران اور امریکہ تحمل‘ تدبر اور لچک کا مظاہرہ کرتے ہوئے امن معاہدے تک پہنچیں کیونکہ طاقت کے استعمال سے وقتی برتری تو حاصل کی جا سکتی ہے مگر دیرپا امن مذاکرات ہی سے ممکن ہے۔ اگر اس تنازعے کے فریق دانشمندی کا مظاہرہ کریں تو نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کا خطہ اس بحران سے بچ سکتا ہے بلکہ عالمی معیشت کو بھی اس کے خاطر خواہ فوائد حاصل ہوں گے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورۂ تہران سے وابستہ امیدیں اس لیے بھی اہم ہیں کہ یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا جب دنیا ایک نئے بحران کے دہانے پر کھڑی تھی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حالیہ دنوں ایران پر دوبارہ حملوں کی دھمکیوں سے یہ اندیشہ شدت اختیار کر چکا تھا کہ اپریل کے وسط سے جاری امن کوششیں کسی نئی محاذ آرائی کی نذر نہ ہو جائیں۔
خدانخواستہ ایسا ہوتا تو مستقبل قریب میں پائیدار امن کے امکان کو شدید دھچکا پہنچتا ۔ اس بحرانی صورتحال میں پاکستان کی قیادت کے مؤثر اور دانشمندانہ کردار نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ پاکستان امن‘ استحکام اور سفارتکاری کے راستے پر یقین رکھتا ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ یہ کوششیں خطے میں کشیدگی کم کرنے اور ایک پائیدار امن کی بنیاد رکھنے میں مددگار ثابت ہوں گی۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>عید سے قبل مہنگائی کا زور(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-24/11219</link><pubDate>Sun, 24 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-24/11219</guid><description>وفاقی ادارۂ شماریات کے تازہ اعداد و شمار نے ایک بار پھر یہ حقیقت آشکار کر دی ہے کہ مہنگائی کے خاتمے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے حکومتی دعوے زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔ گزشتہ ہفتے کے دوران 26اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کے باعث ہفتہ وار مہنگائی کی شرح 14.47 فیصد تک جا پہنچی۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے آٹا‘دالیں‘ اور کوکنگ آئل سمیت کئی بنیادی اشیائے خور و نوش مہنگی ہوئیں۔ یہ اشیا روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ ہیں اسلئے انکی قیمتوں میں اضافہ براہِ راست عام آدمی کے گھریلو بجٹ کو متاثر کرتا ہے۔ ہر عید اور تہوار کے موقع پر عوام کو ناجائز منافع خوری کا عذاب بھی جھیلنا پڑتا ہے۔ بیوپاری‘ ذخیرہ اندوز اور منافع خور عناصر عوامی ضرورت کو اپنی کمائی کا ذریعہ بنا لیتے ہیں جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں۔

یہ صورتحال اس امر کی غماز ہے کہ پرائس کنٹرولنگ کا حکومتی میکانزم تقریباً ناکام ہو چکا ہے۔ بازاروں میں ہر دکاندار اپنی مرضی کا نرخ وصول کر رہا ہے اور صارف بے بسی کی تصویر بنا ہوا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ متوسط اور کم آمدنی والے طبقات کیلئے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ضروری ہے کہ پرائس کنٹرولنگ کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے‘ ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے اور بازاروں میں سرکاری نرخ ناموں پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ عوام کی معاشی سکت بڑھانے کیلئے تنخواہوں اور اجرتوں میں اضافہ بھی ناگزیر ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کپاس کی پیداوار ؟(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-24/11218</link><pubDate>Sun, 24 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-24/11218</guid><description>رواں سال ملک میں کپاس کی پیداوار چار دہائیوں کی کم ترین سطح پر رہنے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس سال کپاس کی پیداوار 55لاکھ گانٹھ تک رہے گی۔ کپاس کی پیداوار میں یہ کمی اتفاقیہ نہیں بلکہ برسوں پر محیط پالیسی غفلت‘ کمزور حکمت عملی اور زرعی شعبے کو ترجیحات میں مسلسل پیچھے رکھنے کا نتیجہ ہے۔ ٹیکسٹائل ملک کا کلیدی برآمدی شعبہ ہے‘ اس کے باوجود اس کے خام مال یعنی کپاس کی پیداوار میں اس قدر شدید کمی نہ صرف حیران کن ہے بلکہ معاشی خود انحصاری کے دعوؤں پر بھی سوال اٹھاتی ہے۔ کپاس کی پیداوار میں مسلسل کمی میں سب سے اہم عنصر زرعی مداخل کی بڑھتی ہوئی لاگت ہے جس نے کاشتکار کیلئے کپاس کی کاشت کو غیر منافع بخش بنا دیا ہے۔

کھاد‘ بیج‘ زرعی ادویات اور آبپاشی کے بڑھتے اخراجات کے مقابلے میں کپاس کی آمدنی میں کمی نے کسان کو کپاس کے بجائے دیگر زیادہ منافع بخش فصلوں کی طرف رخ کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ حکومت کی زرعی پالیسیوں میں تسلسل اور حقیقت پسندی کا فقدان بھی اس صورتحال کا ذمہ دار ہے۔ کپاس کی پیداوار بڑھانے کیلئے زرعی مداخل کی لاگت میں کمی‘ معیاری بیجوں کی دستیابی‘ جدید زرعی تحقیق اور کسان کو مالی تحفظ فراہم کرنا ناگزیر ہے۔ کپاس کے شعبے کی بحالی اب محض ایک زرعی ضرورت نہیں بلکہ قومی اقتصادی بقا کا مسئلہ بن چکی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مٹی میں چراغ(مجیب الرحمٰن شامی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mujeeb-ur-rehman-shami/2026-05-24/52002/61171950</link><pubDate>Sun, 24 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mujeeb-ur-rehman-shami/2026-05-24/52002/61171950</guid><description>ہفتے کا دن تھا‘ مئی کی سولہ تاریخ‘ شام کے پانچ بجنے والے تھے۔ میں بمع اہل و عیال لاہور کے ایکسپو سنٹر جا رہا تھا۔ میرے پوتے ارسل شامی کی سکول کانووکیشن تھی۔ ہال سے چند قدم کا فاصلہ ہو گا کہ فون کی گھنٹی بجی۔ ڈاکٹر محسن کی آواز سنائی دے رہی تھی: &#39;&#39;الطاف صاحب کافی کریٹیکلی اِل ہو گئے ہیں‘ ان کو نمونیہ ہے‘ دونوں پھیپھڑوں میں آکسیجن بہت گر رہی ہے‘ 74پر ہے۔ آکسیجن لگانے کے بعد وہ کوئی 85کے قریب آئی ہے۔ یورین آؤٹ پُٹ بھی ان کا ڈراپ ہوا ہے۔ بلڈ پریشر کم ہے۔ کتھڈرال ڈالنے لگے ہیں۔ شوگر بہت اوپر چلی گئی تھی‘ چار سو۔ میں نے دو دن پہلے انسولین اور اینٹی بائیوٹیک وغیرہ شروع کرا دی تھیں۔ چچا کافی ڈاؤن ہیں۔ ابھی تک تو بڑے بڑے انسیڈینٹس سے نکل آئے ہیں‘ یہ میرا خیال ہے کہ وَن آف دی میجر چیلنجز ہے۔ دیکھیے اس میں سے نکلتے ہیں یا چیزیں مختلف ہوتی ہیں۔ میں نے سوچا آپ کو اَپ ڈیٹ دے دوں‘‘۔ ڈاکٹر محسن الطاف صاحب کے بھتیجے اور ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی کے نورِ نظر ہیں۔ کئی سال آئر لینڈ میں رہنے کے بعد وطن لوٹے ہیں‘ انہی کے زیر نگرانی الطاف صاحب کے شب و روز بسر ہو رہے تھے۔ فروری کے آخری دنوں میں ان پر فالج کا حملہ ہوا تھا‘ چند روز ہسپتال میں رہے‘ کبھی آنکھیں کھول دیتے‘ آواز کا جواب بھی دیتے‘ سر ہلا دیتے لیکن غشی کی سی کیفیت طاری رہتی۔ بالآخر طے ہوا کہ انہیں گھر منتقل کر دیا جائے۔ ان کے کمرے کو ڈاکٹر محسن ہی کی ہدایات کے مطابق ایک چھوٹے سے ہسپتال میں تبدیل کر دیا گیا۔ بیٹے کامران اور پوتے افنان اور ایغان دن رات تیمار داری میں مصروف رہتے۔ اٹینڈنٹس کی خدمات بھی حاصل کر لی گئیں۔ صحت کبھی بحال ہوتی نظر آتی‘ کبھی امید کا دامن چھوٹ جاتا۔ احباب آتے اور ان کی ایک جھلک دیکھ کر دل کو مطمئن کر لیتے۔ حفیظ اللہ نیازی پل پل کی خبر رکھتے۔ محسن اعجاز وقتاً فوقتاً ان کی صحت کے بارے میں بلیٹن جاری کرتے رہتے تھے۔ جب بھی اَپ ڈیٹ دیتے دعاؤں میں تیزی آ جاتی۔تقریب میں ڈاکٹر امجد ثاقب مہمانِ خصوصی تھے۔ انہوں نے اپنی تحریک &#39;&#39;اخوت‘‘ کا تعارف نوجوان طالب علموں اور ان کے والدین سے کرانا شروع کیا تو ہر طرف خاموشی چھا گئی۔ چھوٹے چھوٹے قرضوں سے غربت ختم کرنے کا تجربہ حیرت انگیز تھا۔ ہزاروں روپے ماہانہ فیس ادا کر کے تعلیم حاصل کرنے والوں کو بتایا جا رہا تھا کہ دس‘ بیس‘ تیس‘ چالیس ہزار روپے کے بلا سود قرض ایک پورے خاندان کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔ 40لاکھ گھرانوں کو غربت کی دلدل سے نکالا جا چکا ہے۔ اربوں روپے کے قرض جاری کیے گئے ہیں جن کی واپسی 99فیصد ہے۔ قرض لینے والے نہ صرف قرض واپس کر رہے ہیں بلکہ دوسروں کو قرض دینے کے لیے ایثار بھی کرتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب پاکستانی قوم کی دیانت اور ہمت کی جو تصویر کھینچ رہے تھے اس نے سننے والوں کو مبہوت کر رکھا تھا۔ وہ بتا رہے تھے کہ ان کا قائم کردہ اخوت کالج اب یونیورسٹی کی شکل اختیار کر رہا ہے۔ چارٹر مل چکا ہے۔ ملک بھر سے ذہین بچے یہاں لائے جاتے ہیں‘ جو دن رات یہاں رہتے ہیں۔ دوسرے تعلیمی اداروں میں فیس ہر ماہ وصول کی جاتی ہے لیکن اس ادارے میں تعلیم پہلے دی جا رہی ہے‘ فیس بعد میں وصول کی جائے گی۔ بچے جب فارغ التحصیل ہو کر عملی زندگی میں قدم رکھیں گے تو فیس ادا کرنا شروع کریں گے‘ جو اُن جیسے دوسرے طالب علموں کے کام آئے گی۔تقریب کے دوران ہی فون کی گھنٹی پھر بجی۔ عزیزم کامران الطاف انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھ رہے تھے۔ الطاف صاحب رخصت ہو چکے تھے۔ دل کو بصد مشکل سنبھالتے ہوئے اپنے داماد محمد نوشاد علی کے ہمراہ جوہر ٹاؤن کا رُخ کیا‘ ان کی رہائش گاہ پہنچے اور اہلِ خانہ کے غم میں شریک ہو گئے۔ ماہنامہ &#39;&#39;اردو ڈائجسٹ‘‘ کے ایڈیٹر طیب اعجاز قریشی سوات میں تھے۔ ان کا فون آیا تو باہمی مشاورت کے بعد طے ہوا کہ کل بعد از نمازِ ظہر جامعہ اشرفیہ میں نمازِ جنازہ ادا کی جائے۔ مولانا مجیب الرحمن انقلابی سے رابطہ ہوا۔ انہوں نے فوراً انتظامات کی ذمہ داری سنبھال لی۔ مولانا اسعد عبید سے بات کی تو انہوں نے بھی آنکھیں بچھا دیں۔ الطاف صاحب کا جامعہ اشرفیہ سے خاص تعلق تھا۔ مولانا عبیداللہ‘ مولانا عبدالرحمن اور مولانا فضل الرحیم سب اللہ کو پیارے ہو چکے لیکن ان کے فرزندانِ ارجمند ان کی روایات کی پاسداری کر رہے ہیں۔ بتایا گیا کہ جامعہ میں عازمینِ حج کی تربیت کا پروگرام جاری ہے‘ وہ بھاری تعداد میں یہاں موجود ہیں‘ نمازِ جنازہ میں ان کی شرکت بھی باعثِ رحمت ہو گی۔ انتقال کی خبر چار سُو پھیل گئی۔ اپنے عہد کا سب سے بڑا اخبار نویس 96 برس اس دنیا میں گزار کر وہاں جا چکا تھا جہاں ہم سب کو جانا ہے‘ لیکن واپس کسی کو نہیں آنا۔ اتوار‘ 17مئی کو بعد از نمازِ ظہر حضرت مولانا یوسف خان نے نمازِ جنازہ کی امامت کی۔ نماز سے پہلے مرحوم کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا۔ احباب اور نیاز مند امڈے چلے آ رہے تھے۔ ہزاروں آنکھیں ان کے آخری دیدار کے لیے بے تاب تھیں۔ سابق گورنر پنجاب چودھری سرور‘ لیاقت بلوچ‘ پراچہ برادران‘ احسن اقبال‘ سعد رفیق‘ عطاء اللہ تارڑ افسردہ تھے۔ اخبار نویسوں کا جمِ غفیر بھی موجود تھا۔ نمازِ جنازہ کی ادائیگی کے بعد انہیں میانی صاحب کے قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔ وہ اپنے مرحوم اعزہ کے درمیان جا بسے   ؎اندر بھی زمیں کے روشنی ہومٹی میں چراغ رکھ دیا ہےالطاف صاحب ایک فرد نہیں ادارہ تھے‘ ایک تحریک تھے‘ ایک عہد تھے بلکہ عہد ساز تھے۔ انہوں نے اپنا زمانہ آپ بنایا‘ ان کے قلم نے دلوں پر حکمرانی کی۔ ان جیسا دوسرا کوئی موجود نہیں تھا۔ وہ ماہنامہ &#39;&#39;اردو ڈائجسٹ‘‘ کے ایڈیٹر تھے لیکن بڑے بڑے روزناموں کے ایڈیٹر ان کے سامنے بونے تھے۔ انہوں نے اپنے قارئین کی تربیت کی‘ انہیں بات کہنے کا سلیقہ سکھایا۔ تہذیب اور شائستگی سے اپنے خیالات کا اظہار کرنے کی مثال قائم کی۔ درجنوں اخبار نویس ان کے سائے میں پلے اور بڑھے۔ وہ بلاخوف اپنے خیالات کا اظہار کرتے رہے۔ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں لیکن راستہ نہیں بدلا۔ بھٹو دور میں ان کا قلم تلوار بنا رہا۔ مارشل لاء کے تحت قید ہوئے تو فوجی عدالت کو تسلیم کرنے اور اس میں صفائی پیش کرنے سے انکار کر دیا۔ مجھے طویل عرصہ ان کی رفاقت کا شرف حاصل رہا۔ ہفت روزہ &#39;&#39;زندگی‘‘ نے ان ہی کے زیر نگرانی اشاعت کا آغاز کیا تھا۔ ان ہی کے سائے میں میری ادارت پروان چڑھی۔ انہوں نے اپنے برادر بزرگ ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی سے مل کر ملتان سے روزنامہ &#39;&#39;جسارت‘‘ کا اجرا بھی کیا۔ علی برادران کے بعد قریشی برادران آنکھوں کا تارا بنے رہے۔ وہ اپنے دفتر میں بیٹھ کر خیالی پلاؤ نہیں پکاتے تھے۔ جگہ جگہ جاتے‘ لوگوں سے ملتے‘ واقعات کی چھان پھٹک کرتے‘ حالات کی تہہ میں اُترتے اور پھر حقائق اپنے قارئین تک پہنچاتے۔ انہیں حکومتِ پاکستان نے ہلالِ امتیاز عطا کیا اور ستارۂ امتیاز بھی۔ لیکن ان کا نشانِ امتیاز یہ تھا کہ ان کے قارئین ان پر اعتماد کرتے تھے۔ وہ صحافت کا وقار تھے اور اعتبار بھی۔ ان کے ساتھ تعلق کی کہانی اتنی طویل ہے کہ ایک کالم میں سمٹ نہیں سکتی۔ یہ تذکرہ جاری رہے گا۔ اہلِ قلم انہیں یاد کرتے رہیں گے‘ ان کی باتیں دہراتے رہیں گے۔ میڈیا بھائیوں کو ان کے لہجے‘ ان کے استقلال اور متانت کی یاد دلاتے رہیں گے‘ انہیں سلام پیش کرتے رہیں گے۔(یہ کالم روزنامہ &#39;&#39;پاکستان‘‘ اور روزنامہ &#39;&#39;دنیا‘‘ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_37052987.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>امریکہ کو مروڑ پڑ رہے ہیں(ایاز امیر)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-05-24/52003/65692066</link><pubDate>Sun, 24 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-05-24/52003/65692066</guid><description>مروڑ اس لیے کہ ایران گھٹنے نہیں ٹیک رہا‘ امریکہ کے سامنے لیٹ نہیں رہا‘ امریکہ کی ہر لایعنی بات کو مان نہیں رہا۔ اس لیے  وہ نادر شخصیت جو وائٹ ہاؤس میں براجمان ہے ‘ دانت پیس رہی ہے۔ اس کا بس نہیں چل رہا نہیں کہ ایران کو نیست و نابود کردے۔ اسرائیل کی کیا بات کرنا وہ تو شرارت پہ تلا ہوا ہے اور امریکہ کو اس جنگ میں گھسیٹ کر اپنا مفاد پورا کر رہا ہے۔ مسئلہ تو امریکہ کا بنا ہوا ہے اور امریکہ کی وجہ سے ساری دنیا کا مسئلہ بن گیا ہے کیونکہ تیل اور گیس کی قیمتیں اوپر چڑھ گئی ہیں۔ یہ معاشی ٹیکہ ساری دنیا کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ بیوقوفی کے نتائج سے نکلنے کے لیے امریکہ تکیہ کس پر کر رہا ہے؟ پاکستان پر‘ لیکن پاکستان کا مسئلہ یہ ہے کہ نیک نیتی سے ثالثی کر سکتا ہے‘ ایران کے گھٹنے ٹِکوا نہیں سکتا۔ ایرانی ہماری بات سُن رہے ہیں لیکن ہماری باتوں کی وجہ سے اُنہوں نے زمین پر ڈھیر تو نہیں ہونا۔ لہٰذا امریکی صدر دانت پیسے جا رہا ہے۔ گھمنڈ تب کام آتا ہے جب آپ کی بات چلے‘ آپ کے ہتھکنڈے بارآور ثابت ہوں۔ یہاں مسئلہ یہ ہے کہ بغیر وجہ کے‘ بغیر اشتعال کے امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ تو کر دیا‘ اس امید پر کہ ایران کی اسلامی ریاست ڈھیر ہو جائے گی اور امریکہ جو چاہے اس کے ساتھ کر سکے گا۔ ایسا ہوا نہیں‘ ایرانیوں نے حملے سہہ لیے‘ تباہی مول لے لی لیکن ڈٹے رہے اور امریکہ کے سامنے سرنگوں نہیں ہوئے۔ صرف یہ نہیں انہوں نے پورے گلف میں تباہی پھیلا دی اور علاقے میں ہر امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنایا۔ تباہی سہہ لی‘ نقصان اٹھایا‘ لیکن تباہی امریکہ‘ اسرائیل اور خطے میں امریکن اتحادیوں کو بھی پہنچائی۔ یہاں تک ہی نہیں بلکہ ایران نے آبنائے ہرمز کا گلا گھونٹ دیا اور اس ایک اقدام کے اثرات پوری دنیا تک پھیل گئے۔ اور امریکہ کا انوکھا صدر دھمکیاں دیتا اور دانت پیستا رہ گیا۔ آج تک صورتحال یہی ہے کہ صدر ٹرمپ پریشانی میں پھنسے ہوئے ہیں‘ دھمکیاں دیے جا رہے ہیں لیکن اپنے پیدا کردہ مخمصے سے نکلنے کا راستہ نہیں مل رہا۔ پاکستان کی ثالثی پر زور ہے کہ کچھ کرو‘ ہم کر بھی رہے ہیں‘ لیکن اگر امریکی میزائل اور بمبار ایران کو سرنڈر نہیں کرا سکے تو ہماری نیک نیتی کی وجہ سے تو ایران نے ہتھیار نہیں ڈالنے۔چڑھائی کی کوئی وجہ ہو یا نہ ہو چڑھائی کرنے والے کی چڑھائی کامیاب نہ ہو تو پیچھے ہٹنا پڑتا ہے۔ امریکہ کی چڑھائی کامیاب نہیں ہوئی‘ سچ تو یہ ہے کہ اس کے دانت کھٹے پڑ گئے ہیں‘ لیکن مسئلہ یہ بنا ہوا ہے کہ امریکہ اپنی بیوقوفی سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں۔ وجہ وہی پرانی ہے کہ پیچھے ہٹے تو ناک کٹ جائے گی‘ دنیا کیا کہے گی‘ امریکہ میں خود عوام کیا کہیں گے کہ کچھ حاصل  نہیں ہوا تو جھک مارنے کی ضرورت کیا تھی۔ اس سبکی کے ڈر سے وائٹ ہاؤس مفلوج الحال ہو گیا ہے۔ ایران کے ہاتھوں سبکی ہو بھی گئی لیکن عقل کی بات ماننے کے لیے تیار نہیں کیونکہ ناک کٹ جائے گی۔ مسئلہ ناک کا بنا ہوا ہے‘ پاکستان کو چھوڑیے کوئی حکیم لقمان بھی اس بیماری کا علاج کیا کرے؟ ایرانی کیا کہہ رہے ہیں؟ کہ جنگ ختم کرو اور جنگ بندی کا مطلب ہے ہر محاذ پر جنگ ختم ہو بشمول جنوبی لبنان کے۔ یعنی امن کی ایک شرط یہ ہے کہ صدر ٹرمپ اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کو لگام دیں۔ دوسرا ایرانی یہ کہہ رہے ہیں کہ یورینیم افزودگی کی ایک حد تک پابندی کے لیے وہ تیار ہیں۔ 2015ء کا جو معاہدہ تھا اس میں افزودگی پر پابندی 3.67 فیصد کی تھی۔ اتنی افزودگی سے نیوکلیئر ہتھیار نہیں بن سکتا۔ اب بھی وہ ایسا ہی کرنے کو تیار ہیں لیکن افزودہ یورینیم جو اُن کے پاس ہے اسے امریکہ کے حوالے کرنے کے لیے تیار نہیں۔ یعنی نیوکلیئر معاملے پر ایرانی ہر لچک دکھانے کو تیار ہیں لیکن اپنا منہ کالا کرنے کے لیے تیار نہیں۔ امریکہ اس بات پر مُصر ہے کہ گو اس کی چڑھائی کامیاب نہیں ہوئی‘ گو حملے کے مقاصد پورے نہیں ہوئے‘ پھر بھی ایران اپنا منہ کالا کرے اورامریکہ کے ہاتھوں بے عزت ہونے کے لیے تیار ہو ۔ ایرانی اس بات سے انکار کر رہے ہیں۔ کہہ رہے ہیں کہ جو جنگ کی صورت میں آپ حاصل نہیں کر سکے مذاکرات کی میز پر تو ہم آپ کو دے نہیں سکتے۔ اس پر امریکی مزید دانت پیسنے لگ جاتے ہیں۔ ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ ایرانی کہہ رہے ہیں کہ آبنائے ہرمز سے آمدورفت شروع ہو لیکن اس گزرگاہ پر ایران کا کنٹرول رہے گا۔ یعنی ایران یہ بات تسلیم کروانا چاہتا ہے کہ آبنائے ہرمز پر حاکمیت (Sovereignty) ایران کی ہے۔ اس بے وجہ کی جنگ کا سب سے بڑا نتیجہ یہی تو نکلا ہے کہ آبنائے ہرمز پر حاکمیت ایران کی قائم ہو گئی ہے۔ یعنی جو مسئلہ پہلے تھا ہی نہیں امریکہ نے اس جنگ کی وجہ سے مسئلہ بنا دیا ہے۔ اور اب امریکی شور مچا رہے ہیں کہ آبنائے ہرمز سے آمدورفت پر کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے۔ اِن سے کوئی پوچھے کہ آپ کے حملے سے پہلے تو کوئی رکاوٹ نہیں تھی‘ آپ نے ایسی صورتحال کیوں پیدا کی کہ ایرانی حاکمیت کی صورت میں رکاوٹ بن گئی؟ یعنی پنگا لیا تو اس کے نتائج اب بھگتو۔ ساتھ ایرانی یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ہم سے رعایت مانگ رہے ہیں تو اپنی طرف سے بھی کچھ رعایت دیں۔ ایرانی تیل کی تجارت پر معاشی پابندیاں ختم کریں اور جو ہمارے منجمد اثاثے ہیں ان کو ہمارے حوالے کریں۔ اس پر بھی امریکہ خفگی میں مبتلا ہے۔ ان عقلمندوں سے کوئی پوچھے کہ پنگا آپ کا‘ جارحیت آپ کی‘ مذموم عزائم آپ کے‘ ایرانی قیادت پر قاتلانہ حملے آپ کے‘ اور یہ سب جب کامیاب نہیں ہوئے تو بیوقوفی کے مطالبات بھی آپ کے۔ ایران کا حشر وہ ہوتا جو ونیزویلا کا ہوا پھر آپ اپنی مرضی کرتے۔ ایران پر حکم چلاتے‘ من مانیاں کرتے۔ پرانے حساب چکاتے۔ اسلامی ریاست کو بے عزت کرتے۔ جب ایسا آپ کر نہیں سکے پھر تو کچھ لچک آپ پر لازم ہو جاتی ہے۔ ابھی تک ایسی لچک کی منطق کو ماننے کے لیے امریکہ تیار نہیں لیکن عارضی معاہدہ کوئی ہوتا ہے تو امریکہ کو نہ چاہتے ہوئے بھی لچک دکھانی پڑے گی۔ کڑوا گھونٹ نگلنا پڑے گا۔ بھلے بعد میں فتح کے ڈھول پیٹے جائیں کہ ہم نے سب کچھ حاصل کر لیا ہے۔ دروغ گوئی اور افسانہ تراشی میں امریکی صدر ویسے بھی بہت ماہر ہیں۔ کچھ یہاں مہارت زیادہ دکھانی پڑے گی کیونکہ دنیا پر واضح ہو گیا ہے کہ ایران حملے کے نتیجے میں امریکہ کا پلڑا کمزور پڑ گیا ہے اور اپنی بات منوانے میں وہ ناکام رہا ہے۔کسی معاہدے کی خاطر پاکستانی قیادت تو لگی ہوئی ہے اور اس کے کردار کا اعتراف ہر کوئی کر رہا ہے۔ لیکن جہاں امریکی مطالبات حقیقت پسندی سے اتنے دور ہوں وہاں پاکستان کیا کر سکتا ہے؟ امریکی صدر کو کیسے کہا جائے کہ حضور ذرا اپنی حماقت کو کم کیجئے اور اگر آپ ایسا کریں تو جھٹکے میں امن معاہدہ تشکیل پا جائے۔ لیکن ٹرمپ اپنے ہی ہوا کے گھوڑوں پر سوار ہیں‘ لیکن ایک نئی بات ہے کہ وائٹ ہاؤس میں بھی احساس بڑھ رہا ہے کہ جتنا جلد اس بلنڈر سے نکلا جائے اتنا صدر ٹرمپ کے لیے بہتر ہے۔ بس ناک کی بات رہ گئی ہے کہ جیسا بھی معاہدہ ہو امریکی پبلک کے سامنے اسے فتح کی صورت میں کیسے پیش کیا جائے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_80573045.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>A Few Good Men(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-05-24/52004/36119914</link><pubDate>Sun, 24 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-05-24/52004/36119914</guid><description>مجھے جو انگریزی فلمیں بہت پسند ہیں اور جنہیں میں کئی بار دیکھ چکا ہوں‘ اور اب بھی اگر کیبل پر لگی ہوئی ہوں تو پورے اہتمام کے ساتھ ایسے بیٹھ کر دیکھتا ہوں جیسے پہلی دفعہ دیکھ رہا ہوں‘ ان میں ٹام کروز اور ڈیمی مور کی A Few Good Men شامل ہے۔ مجھے جب بھی کوئی ایسا شخص ملتا ہے جس کی سوچ‘ ذہانت یا کام مجھے اچھا لگے تو میرے ذہن میں اسی فلم کا خیال ابھرتا ہے اور دل میں اس کے لیے عزت بڑھ جاتی ہے۔ پھر ایک بھارتی فلم کا ڈائیلاگ یاد آتا ہے کہ جب اپنا بچہ تکلیف میں ہو تو جانور بھی کانپ اٹھتے ہیں اور اس کے لیے جو بن پڑے وہ کرتے ہیں۔ اصل انسانیت تو یہی ہے کہ آپ دوسرے کے بچوں کے لیے بھی اتنا ہی درد اور خیال رکھیں جتنا اپنے بچوں کے لیے رکھتے ہیں۔یہ سب خیالات میرے ذہن میں برطانیہ سے آئے عبدالرزاق ساجد سے ملاقات کے دوران ابھرے۔ان سے ہماری ملاقات میجر عامر کے گھر پر ہوئی۔ گھر کیا کہیے وہ تو دوستوں کا ٹھکانہ ہے‘ ایک مہربان سرائے ہے جہاں ہر قسم‘ نسل‘ زبان اور رنگ کے بے تحاشا مسافر آپ کو ملتے ہیں۔ وہاں کا ماحول دیکھ کر مجھے اکبر بادشاہ کا دور یاد آتا ہے جہاں کسی کا مذہب‘ زبان‘ شکل‘ نسب‘ نسل‘ امارت یا غربت اہم نہیں تھے۔ نہ کوئی برتر تھا نہ کمتر‘ سب برابر تھے۔ میجر عامر کے گھر بھی سب برابر اور اس سرائے کے پختون میزبان کے لیے اہم ہوتے ہیں۔ اس طرح کا ماحول مجھے میجر عامر سے پہلے اپنے گاؤں والے گھر کا لگتا تھا‘ اور پھر اسلام آباد میں ڈاکٹر ظفر الطاف کا گھر بھی اسی کیفیت کا حامل تھا۔جب میری شادی ہوئی تو سردی کا موسم تھا۔ بیگم صاحبہ ہمارے گاؤں والے گھر آئیں تو وہاں نعیم بھائی اماں کی پرانی چھوٹی سی کوٹھی (باورچی خانہ) میں لکڑیوں کی آگ جلا کر پورے گاؤں کے لوگوں‘ جن میں خواتین اور مرد سبھی شامل تھے‘ کے ساتھ گپیں لگا رہے تھے۔ سلگتی لکڑیاں‘ سگریٹ اور حقے کا دھواں‘ اوپر سے چائے کے دور چل رہے تھے۔ غریب‘ امیر سب برابر تھے۔ وہ پریشان ہو کر واپس آئیں اور مجھ سے پوچھا: یہ سب کیا چل رہا ہے؟ اس کا مطلب تھا کہ نعیم بھائی اور یہ ہجوم... میں نے کہا: محترمہ ہم بچپن سے یہی دیکھتے آئے ہیں۔ یہ اکبر بادشاہ کا دربار ہے۔ یہاں سب برابر ہیں‘ امیر غریب‘ قصائی‘ میراثی‘ کوٹانہ‘ مہر‘ ملک یا خان‘ سب برابر۔ آپ یا تو اس دربار میں شامل ہو جائیں‘ حقہ پی لیں‘ چائے کے دور میں بیٹھ جائیں یا پھر اپنے کمرے میں رہیں لیکن ہمارے بادشاہ سلامت (نعیم بھائی) کو سیدھا کرنے کی کوشش نہ کریں۔ وہ اپنی زندگی اسی طرح جیتے ہیں‘ وہ ان غریبوں میں خوش رہتے ہیں‘ وہ ان سے پیار کرتے ہیں اور یہ ان سے۔یہی احساسات مجھے ڈاکٹر ظفر الطاف کے ہاں بھی دوپہر کے کھانے پر محسوس ہوتے تھے۔ وہ لوگوں کو کھانا کھلا کر خوش ہوتے تھے۔ صبح سویرے اٹھ کر بلیک کافی پینے کے بعد وہ اخبارات پڑھتے اور اپنی لائبریری کی کتابوں میں گم ہو جاتے۔ ایسے کتاب دوست شاید ہی دیکھنے کو ملیں۔ گیارہ بجے وہ خود خانِ ساماں کے ساتھ کھڑے ہو کر مختلف طرح کے سوپ تیار کرواتے‘ پھر زبردست کھانا تیار ہوتا۔ وہ سب دوستوں کو فون کرتے کہ بھائی جان آ جائیں‘ تندور سے گرم گرم روٹیاں منگوائی جاتیں اور وہ خود ہر دوست‘ کولیگ یا سابقہ ماتحت کی پلیٹ میں سوپ اور سالن ڈالتے اور ان کا چہرہ خوشی سے چمک اٹھتا۔ اگر اچانک مزید مہمان آ جاتے اور سالن کم پڑنے کا کوئی خدشہ ہوتا تو وہ خود پیاز کے ساتھ روٹی کھا لیتے تاکہ مہمان کو شرمندگی نہ ہو۔ یا مہمانوں کے جانے کے بعد انڈہ پیاز بنا کر کھا لیتے۔ اٹھارہ سال تک یہ سلسلہ ان کی وفات تک جاری رہا۔ کیا کیا محفلیں ہوتی تھیں‘ کیسے کیسے بڑے لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔ امیر ہو یا غریب‘ بڑا افسر ہو یا ماتحت‘ سب اس دسترخوان پر برابر تھے۔ وہ بھی مجھے اکبر بادشاہ کا دربار یا دسترخوان لگتا تھا۔ڈاکٹر صاحب کا دل بھی بادشاہوں جیسا تھا۔ اب اسلام آباد میں یہی ماحول میجر عامر کے ہاں دیکھنے کو ملتا ہے جہاں کم از کم ایک وقت میں درجن بھر مہمان ضرور ہوتے ہیں۔ بعض اوقات حیرت ہوتی ہے کہ ایک روایتی پختون کا دل اور جیب اتنی کشادہ کیسے ہو سکتی ہے۔ لگتا ہے جو کمائی ہوتی ہے وہ سب کھانے پلانے پر خرچ ہو جاتی ہے۔ ہر وقت کوئی نہ کوئی مہمان آ رہا ہوتا ہے یا جا رہا ہوتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جس دن مہمان نہ ہو وہ اور ان کی بیگم صاحبہ (ہماری بہن) افسردہ ہو جاتے ہیں۔ اگر کچھ دن غیر حاضری ہو جائے تو اس پختون کا فون آتا ہے: بدبختو کدھر ہو؟ ہم یہاں دسترخوان اور دل سجائے بیٹھے ہیں۔ میجر عامر کے گھر بھی بڑے بڑے لوگوں کو دیکھا اور کم حیثیت لوگوں کو بھی۔ اگر ان کے ڈرائنگ روم میں آنے والی شخصیات کا ذکر شروع کیا جائے تو یقین کرنا مشکل ہو جائے۔ لیکن ان کا خاص وصف یہ ہے کہ وہ کمزور دوستوں کا ذکر ہمیشہ زیادہ کرتے ہیں‘ کبھی بڑائی یا نمائش نہیں کرتے۔ وہ اپنے اکلوتے بیٹے عمار خان کو دوستوں کی خدمت پر مامور رکھتے ہیں جو سب کے سامنے نہایت ادب سے خدمت کرتا ہے۔ یہ وہ اکلوتا بیٹا ہے جسے لاڈ پیار سے بگاڑا نہیں گیا بلکہ اس کی عاجزی اور انکساری پر رشک آتا ہے۔ والدین نے بچوں کی تربیت کیسے کرنی ہے‘ یہ سیکھنا ہو تو عمار سے ملاقات کافی ہے۔چند دن پہلے میجر عامر کا فون آیا: &#39;&#39;رؤف بھائی کدھر ہو؟ بڑے دن ہو گئے آپ کا چکر نہیں لگا۔ آج رات برطانیہ سے ایک دوست آئے ہوئے ہیں‘ آپ کو ان سے ملوانا ہے۔ کچھ اور دوست بھی آ رہے ہیں‘ آ جائیں اچھی گپ شپ ہو جائے گی‘‘۔ وہاں عبدالرزاق ساجد سے ملاقات ہوئی۔ ان کا تفصیلی تعارف ہوا تو دل میں ان کے لیے عزت بڑھ گئی۔ اس محفل میں ہمارے دوست سلیم صافی‘ اعلیٰ پائے کے لکھاری اور صحافی سجاد اظہر‘ چھوٹے بھائی سہیل اقبال بھٹی‘ طارق عزیز‘ نواز کھرل‘ میجر صاحب کے پرانے دوست ائیر کموڈور ایف ایس بھٹی اور کوئٹہ سے خان آف قلات کی فیملی سے تعلق رکھنے والے صحافی شہزادہ ذوالفقار بھی موجود تھے۔ میجر عامر عبدالرزاق صاحب کے بارے میں بتا رہے تھے کہ کس طرح انہوں نے لاہور میں ایک جدید فلاحی ہسپتال قائم کیا ‘ اب اسلام آباد؍راولپنڈی میں بھی ہسپتال بنانے پر آمادہ ہیں۔ میجر عامر کی یہ خوبی ہے کہ وہ دوستوں کی اچھی باتیں ہمیشہ آگے پہنچاتے ہیں۔ اگر کوئی آپ کے بارے میں پیٹھ پیچھے تعریف کرے تو وہ ضرور بتاتے ہیں۔ منفی باتیں نہیں بتاتے۔ اکثر لوگ اتنے کنجوس ہوتے ہیں کہ تعریف سن کر بھی آگے نہیں پہنچاتے مگر شکایت فوراً کر دیتے ہیں۔ہمارے دوست طارق عزیز کو ابھی چند دن پہلے ریاستی ایوارڈ ملا ہے۔ اس لیے جب وہ اندر آئے تو میجر عامر نے کہا: ‘‘آپ کو مبارکباد دینی ہے یا افسوس کرنا ہے؟&#39;&#39; اس پر قہقہہ لگ گیا کیونکہ جس طرح ایوارڈ کا حال ہوا ہے‘ اب جو مستحق ہیں وہ بھی چھپتے پھرتے ہیں۔ میجر عامر بھی ہمارے پیارے ملتانی ڈاکٹر انوار احمد کی طرح ہیں کہ بندہ بھلے مکمل طور پر ضائع ہو جائے لیکن جملہ  ضائع نہیں ہونا چاہیے۔ بندہ تو دوسرا بھی مل جاتا ہے مگر جملہ اگر ایک بار ضائع ہو جائے تو پھر اس جیسا کہاں سے آئے گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>دو محاذوں پر شکست(رشید صافی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-05-24/52005/94116940</link><pubDate>Sun, 24 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-05-24/52005/94116940</guid><description>امن کی میز پر جو فیصلے قلم کی نوک سے طے پا سکتے ہیں‘ وہ شمشیر و سنان کی جنگوں سے کبھی حاصل نہیں ہوتے۔ مشرقِ وسطیٰ کے بحران نے اس نظریے کی حقانیت پر ایک بار پھر مہر تصدیق ثبت کی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ایران کے خلاف چھیڑی جانے والی اصل جنگ اسرائیل کی تھی‘ جس نے دانستہ طور پر امریکی اثر و رسوخ اور عسکری طاقت کو اپنے ذاتی مقاصد کی بھٹی میں جھونکنے کے لیے اس دلدل میں دھکیلا۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی سچ ہے جسے دنیا کا ہر باشعور ذہن تسلیم کرتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ جنگ کے پیدا کردہ عالمی بحران میں پاکستان روزِ اول سے مظلوم فلسطینیوں کے حقوق کا اخلاقی و سیاسی وکیل رہا ہے اور اسی مضبوط اصولی بنیاد کے باعث اسلام آباد نے آج تک اسرائیل کے وجود کو تسلیم نہیں کیا۔ جب اسرائیل نے ایران کی خودمختاری پر شب خون مارا تو پاکستان نے نہ صرف اس جارحیت کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی‘ بلکہ یہیں سے پاکستان کی مدبرانہ سفارتی جدوجہد کا آغاز بھی ہوا۔ پاکستان نے جنگ کا فریق بنے بغیر عالمی فورمز پر ایسی سفارت کاری کا مظاہرہ کیا کہ بین الاقوامی امور کے ماہرین بھی اس بصیرت پر حیران رہ گئے۔ دنیا جانتی ہے کہ اسرائیل نے مئی 2025ء کی پاک بھارت جنگ میں بھارت کا ساتھ دیا‘ پاکستان پر جن ڈرونز سے حملے کیے گئے وہ اسرائیلی ساختہ تھے۔ مطلب یہ کہ اسرائیل نے درپردہ پاکستان کو نقصان پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کی۔ مگر آج صورتحال یہ ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو عالمی تنہائی کا شکار ہیں۔ وہ اپنے مغربی اتحادیوں کے سامنے شکوہ کناں ہیں کہ اسرائیل اپنے اتحادیوں کے ہاں مقبولیت کھو رہا ہے۔ یہ حقیقت بھی ہے کیونکہ یورپی ممالک کے عوام اور وہاں کی حکومتیں اب اسرائیلی مہم جوئی کی سرِعام مذمت کر رہی ہیں۔ اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل کی بظاہر حمایت کرتے دکھائی دیتے ہیں لیکن ڈیموکریٹس میں بالخصوص اسرائیل کے اقدامات کے خلاف گہرا منفی تاثر پایا جاتا ہے۔ اپنی عالمی رسوائی کو چھپانے کے لیے نیتن یاہو نے اب اس ناکامی کا ملبہ پاکستان پر گرا دیا ہے اور یہ مضحکہ خیز دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان اسرائیل کے خلاف ایک منظم عالمی مہم چلا رہا ہے۔ تاہم دنیا جانتی ہے کہ نیتن یاہو کی حکومت کو بدنام کرنے کے لیے کسی بیرونی مہم کی ضرورت ہی نہیں‘ ان کا اپنا ہر وحشیانہ قدم ان کے چہرے سے نقاب الٹ رہا ہے۔غزہ اس وقت تاریخ کے بدترین انسانی المیے کی آماجگاہ بنا ہوا ہے جہاں 80ہزار سے زائد معصوم جانیں لقمہ اجل بن چکی ہیں‘ ہزاروں افراد معذور ہو چکے ہیں اور لاکھوں انسانوں کو دانستہ طور پر فاقہ کشی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ جب عالمی برادری کی طرف سے خوراک اور ادویات پہنچانے کی کوششیں کی گئیں تو اسرائیلی حکام نے اس بنیادی امداد کو بھی سنگدلی سے روک  دیا۔ اسی گھٹن کے ماحول میں &#39;&#39;عالمی صمود فلوٹیلا‘‘ نے جنم لیا‘ جس کا واحد مقصد محصور اور بے بس شہریوں تک زندگی کی رمق پہنچانا تھا مگر سفاکیت کی انتہا دیکھیے کہ اس پُرامن مشن پر مامور عالمی رضا کاروں کو تضحیک آمیز طریقے سے گرفتار کر کے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ عموماً ایسے مظالم دنیا کی نظروں سے اوجھل رہ جاتے ہیں مگر مکافاتِ عمل کا اصول اٹل ہے اور جب قدرت کسی ظالم کی گرفت کا فیصلہ کرتی ہے تو اس کا بندوبست اس کے اپنے ہی گھر سے ہوتا ہے۔ اسرائیل کے انتہا پسند وزیرِ قومی سلامتی اتمار بن گویر نے اپنی دانست میں دنیا پر عبرت کا رعب جمانے کے لیے سوشل میڈیا پر ایک وڈیو پوسٹ کی‘ جس کا عنوان تھا &#39;&#39;اسرائیل میں خوش آمدید‘‘۔ اس وڈیو میں انہیں ایک حراستی مرکز کا معائنہ کرتے ہوئے دکھایا گیا جہاں  فلوٹیلا کے انسانی حقوق کے کارکنوں کو قید کیا گیا تھا۔ وڈیو کے مناظر نے عالمی ضمیر کو ہلا کر رکھ دیا‘ تمام بین الاقوامی رضا کاروں کو زمین پر گھٹنوں کے بل بٹھایا گیا تھا‘ ان کے ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے تھے اور ایک اسرائیلی اہلکار کو ایک خاتون امدادی کارکن کو بالوں سے پکڑ کر زمین پر پچھاڑتے ہوئے دیکھا جا سکتا تھا‘ جبکہ بن گویر خود اسرائیلی پرچم لہراتے ہوئے اپنے اہلکاروں کی اس بربریت پر پیٹھ تھپتھپا رہے تھے۔ بن گویر کے طرف سے رضا کاروں کے ساتھ تضحیک آمیز عمل کو  فخریہ انداز میں پیش کیا گیا مگر اس سے اسرائیل کا وہ کریہہ چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب ہو گیا جو اَب تک پروپیگنڈا کے پردوں میں چھپا ہوا تھا۔ مسلم ممالک تو اسرائیل کے وحشیانہ اقدامات سے پہلے ہی واقف تھے اب یورپ بھی حقیقت سے آشنا ہو رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وڈیو کے وائرل ہوتے ہی پوری دنیا میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی‘ یہاں تک کہ خود اسرائیل کے اندر سے اس کی مذمت کی جا رہی ہے۔ اسرائیل کے مظالم کھلی کتاب کی طرح دنیا کے سامنے عیاں ہیں اور  نیتن یاہو تلملاتے ہوئے اپنی بدنامی کا ملبہ پاکستان پر ڈال رہا ہے۔کیا دنیا اسرائیلی الزامات کو تسلیم کرے گی؟ ہرگز نہیں۔ دنیا پاکستان کے مفاہمانہ کردار کو تسلیم کر چکی ہے۔ امریکہ اور یوریی ممالک پاکستان کی امن کے لیے کوششوں کو سراہ رہے ہیں۔ پاکستان کی سول و عسکری قیادت کے لیے تہنیتی پیغامات جاری کیے جا رہے ہیں۔ اس کے مقابلے میں جن ممالک نے جارحیت اور انتشار کا راستہ اختیار کیا‘ دنیا انہیں مسترد کر چکی ہے۔ پاکستان  کی عالمی امن کے لیے کوششوں کا ہی نتیجہ ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ حتمی معاہدے کے قریب ہے۔ اس مقصد کے لیے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایران کے اہم ترین دورے پر ہیں جہاں ایران کی اعلیٰ قیادت سے ان کی ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ شنید ہے کہ فریقین کے درمیان اکثر نکات پر اتفاق رائے ہو چکا ہے۔ صرف افزودہ یورینیم کی حوالگی کے معاملے پر اتفاق رائے ہونا باقی ہے۔ امریکہ افزودہ یورینیم اپنی تحویل میں لینا چاہتا ہے جبکہ ایرانی قیادت سمجھتی ہے کہ افزودہ یورینیم  کو چھوڑ کر باقی معاملات طے کر لیے جائیں۔ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ متوقع طور پر افزودہ یورینیم روس یا چین کے  حوالے کی جا سکتی ہے۔ اس تناظر میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دورہ اہم سمجھا جا رہا ہے۔ تادم تحریر فیلڈ مارشل کے دورۂ ایران سے جو خبریں سامنے آئی ہیں وہ حوصلہ افزا ہیں۔ امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو بھی فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورۂ ایران سے پُرامید ہیں کہ حتمی معاہدہ طے پا جائے گا۔ تاہم امریکی قیادت بالا دستی کا تاثر بھی قائم کیے ہوئے ہے کہ اگر اس بار بھی حتمی معاہدہ طے نہیں پاتا ہے تو ایران حملوں کے لیے تیار رہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے موجودہ ملکی حالات اور  ہنگامی صورتحال کے پیش نظر رواں ہفتے کے آخر میں ہونے والی اپنے بیٹے کی شادی کی تقریب میں بھی شرکت نہ کرنے کا  فیصلہ کیا ہے۔ اسرائیل بھی یہی چاہتا ہے کہ کم از کم وہ امریکی حمایت کے ساتھ ایران پر ایک بار بڑا حملہ کرے۔ اس مقصد کے لیے اسرائیلی لابی ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے۔ اگر پاکستان کی سفارتی کوششیں بارآور ہوتی ہیں تو امریکی حملوں کی نوبت نہیں آئے گی یوں اسرائیل کو ایک محاذ پر نہیں بلکہ کئی محاذوں پر شکست ہو گی اور اسرائیل کی اس تاریخی شکست میں پاکستان کی سفارتکاری کا اہم کردار ہو گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/222_48272610.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سکھائے کس نے اسماعیل کو آدابِ فرزندی(عمران یعقوب خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-05-24/52006/98313160</link><pubDate>Sun, 24 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-05-24/52006/98313160</guid><description>اس میں کیا شک کہ انسانی زندگی کا مقصد اطاعتِ الٰہی ہے اور اطاعتِ الٰہی کیفیتِ تقویٰ کے بغیر ممکن نہیں‘ جبکہ کیفیتِ تقویٰ قربانی کے بغیر حاصل نہیں ہوتی‘ لہٰذا طے پایا کہ اطاعتِ الٰہی کے لیے قربانی ناگزیر ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم ایسی قربانی  کر پاتے ہیں جو ہمیں کیفیتِ تقویٰ اور اطاعتِ الٰہی کی منزل سے ہمکنار کر دے؟فیس بک پر درج ذیل طنزیہ اور سوالیہ سٹیٹس پڑھا تو میں سُن ہو کر رہ گیا: صرف قربانی کا جانور بے عیب ہونا چاہیے‘ باقی قربانی کرنے والا جھوٹا‘ منافق‘ فراڈیا‘ سود خور اور حرام خور بھی ہو تو چلے گا؟واقعی اچھے سے اچھا جانور خرید کر اور اس کی قربانی کر کے ہم یہ سوچتے ہیں کہ ایک فرض ادا ہو گیا لیکن یہ نہیں سوچتے کہ جن ذرائع سے یہ جانور خریدا گیا ہے‘ وہ کیا ہیں۔ معیار تو وہ ہے جو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قائم کیا تھا۔ آپؓ کے ایک قول کا مفہوم یہ ہے: اگر میری عملداری (حکمرانی) میں دریائے دجلہ یا فرات کے کنارے پیاس یا بھوک سے کوئی کتا بھی مر جائے تو مجھے ڈر ہے کہ اللہ کی عدالت میں اس کی باز پرس (جواب دہی) مجھ سے ہو گی۔ اب خود ہی سوچ لیں کہ ہم میں سے کتنے اس نازک معیار پر پورا اترتے ہیں۔ صبح سے شام تک پتا نہیں کتنی بار غیبت ہو جاتی ہے‘ کتنی بار جانے انجانے جھوٹ بولتے ہیں‘ دوسروں کا حق مارتے ہیں‘ کم تولتے ہیں‘ رشوت اور کرپشن سے اپنا دامن آلودہ کرتے ہیں اور پھر پاکی ٔداماں کے دعویدار بھی رہتے ہیں۔ یہ حدیث صحیح مسلم میں درج ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی اکرمﷺ سے روایت کی کہ آپﷺ نے فرمایا: جنت میں ایسی قومیں (امتیں جماعتیں) داخل ہوں گی جن کے دل پرندوں (چڑیوں) کے دلوں کی طرح (نرم اور لطیف) ہوں گے۔ یعنی ایسے لوگ جو کسی کی تکلیف پر تڑپ اٹھیں‘ کسی کو مصیبت میں دیکھ کر برداشت نہ  کر سکیں‘ ان کے پاس کوئی کمزور آدمی آئے تو اس سے سخت بات کرتے ہوئے وہ لرز اٹھیں‘ وہی جنت کے اہل قرار پائیں گے۔ دل پر ہاتھ رکھ کر سوچئے کیا ہمارے دل ایسے ہیں؟قربانی کے جانور کا بے عیب ہونا بنیادی شرط ہے یعنی اسے صحت مند اور تندرست ہونا چاہیے۔ شریعت کے مطابق صرف ظاہری خوبصورتی نہیں بلکہ جانور کا کسی ایسے نمایاں نقص سے پاک ہونا بھی لازم ہے جو اس کی مجموعی صحت یا گوشت کی مقدار کو کم کر دے۔ ہم سب ان باتوں کا خاص خیال رکھتے ہیں اور خریدنے سے پہلے جانور کا خوب جائزہ لیتے ہیں لیکن یہ نہیں دیکھتے کہ جیب میں اس خریداری کے لیے جو پیسے رکھے ہیں وہ رشوت کے ہیں‘ کرپشن کا نتیجہ ہیں‘ ناجائز منافع خوری کا حاصل ہیں یا ذخیرہ اندوزی سے کمائے گئے ہیں۔ الکتاب کی ایک آیت کا مفہوم یوں ہے: اللہ کے ہاں ہرگز نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں اور نہ ان کے خون‘ البتہ تمہاری طرف سے پرہیزگاری اس کی بارگاہ تک پہنچتی ہے۔ اب رشوت‘ کرپشن‘ ذخیرہ اندوزی اور نا جائز منافع خوری سے تو پرہیزگاری کبھی پیدا نہیں ہو سکتی لہٰذا قربانی دل سے کیجیے اور حلال طریقے سے کمائے گئے پیسوں سے‘ تاکہ پروردگارِ عالم کی بارگاہ میں منظور اور مقبول ہو۔ہو یہ رہا ہے کہ ہم قربانی کے لیے نقائص سے پاک جانور کا انتخاب تو کرتے ہیں لیکن اپنے باطنی نقائص دور کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔ ہم قربانی کے لیے لنگڑے جانور کو منتخب نہیں کرتے اور خریدنے سے پہلے اسے باقاعدہ چلا کر دیکھتے ہیں لیکن یہ نہیں سوچتے کہ نماز کے لیے مسجد جاتے ہوئے ہمارے گھٹنے کیوں درد کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ  قربانی کے لیے منتخب کیا گیا جانور کانا یا نابینا بھی نہ ہو لیکن دنیاوی مقاصد کے لیے اللہ کے احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ذرہ برابر نہیں سوچتے۔ ہم قربانی کے لیے ٹوٹے ہوئے سینگ اور کٹے ہوئے کانوں والا جانور بھی منتخب نہیں کرتے  لیکن خود مسجد سے اذان کی آواز بلند ہونے کے باوجود شیطان کے پیروکار بنے رہتے ہیں‘ جواز گھڑتے ہیں اور دین کے احکامات ایک کان سے سنتے اور دوسرے کان سے نکال دیتے ہیں۔ ہم قربانی کے لیے بیمار جانور کا انتخاب بھی نہیں کرتے لیکن خود شرک‘ بدعات‘ نفاق اور فرقہ پرستی وغیرہ کی بیماریوں میں مبتلا رہتے ہیں۔ ہم قربانی تو کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کو خوش کرنے کے لیے لیکن پھر رانیں بھوننا اور چانپیں تحفے میں دینا شروع کر دیتے ہیں جبکہ حقیقی حق دار ہمارے دروازوں کی چوکھٹ پر ایک ایک بوٹی کو ترستے رہتے ہیں۔ عیدالاضحی کا مقصد تو جذبۂ قربانی کو بیدار کرنا اور اپنی عزیز تر چیز (مراد بہترین اور بے عیب جانور) کو حکمِ ربانی کے مطابق رضائے الٰہی کے حصول کے لیے پیش کرنے کا حوصلہ پیدا کرنا ہے۔ اسی کو قربانی کہتے ہیں۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ اپنی حیات کے تمام شعبوں میں اپنی خواہشات پر ربِ کائنات کے احکامات کو ترجیح دی جائے۔ کیا سال کے باقی دنوں میں بھی ہم میں یہ جذبہ برقرار رہتا ہے؟ایک روز امیرالمومنین حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جلیل القدر صحابی حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ تقویٰ کا کیا مفہوم ہے؟ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: امیرالمومنین آپ کا کبھی کسی ایسی پگڈنڈی سے گزر ہوا جس کے دونوں طرف خاردار جھاڑیاں ہوں؟ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا: جی ہاں ہوا ہے۔ اس پر حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے پوچھا: آپ ایسی جگہ سے کیسے گزرتے ہو؟ امیرالمومنین نے فرمایا: سنبھل سنبھل کے پاؤں رکھتا ہوں اور دامن کو سمیٹ کر رکھتا ہوں کہ دائیں بائیں کچھ الجھ کر نہ رہ جائے۔ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: بس اسی احتیاط اور بچ بچاؤ کا نام تقویٰ ہے۔اب یہ ہم پر ہے کہ دنیا کی آلائشوں اور آزمائشوں کی خاردار جھاڑیوں سے بچ بچا کر کیسے گزرتے ہیں کہ تقویٰ برقرار رہے اور ہماری قربانیاں مقبول اور قبول ہو جائیں۔ تو آئیے اس بار ظاہری ہی نہیں باطنی طور پر بھی عیب سے پاک قربانی کرنے کی کوشش کریں۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ مسلمانوں میں تقویٰ کی وہ روح پیدا کی جائے جو اصل دین ہے‘ اصل عبادت ہے اور روحِ قربانی ہے۔ تقویٰ کا مفہوم یہ ہے: ہر کام میں اپنے پروردگار کی نا فرمانی اور ناراضگی سے بچتے رہنا اور اس کام کو مسرت و شادمانی اور خوش دلی سے انجام دینا جو پروردگار کی رضا جوئی اور خوشنودی کا باعث ہو۔یہ فیضانِ نظر تھا یا مکتب کی کرامت تھیسکھائے کس نے اسماعیل کو آدابِ فرزندیکاش ہمیں بھی کوئی ویسا ہی فیضانِ نظر مل جائے‘ کوئی ویسا ہی مکتب میسر آ جائے تاکہ ہم بھی قربانی کے حقیقی معانی و مطالب سے آشنا و آگاہ ہو جائیں اور ہماری قربانیاں محض دکھاوے کی قربانیاں نہ رہیں۔ آمین۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_58350786.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پاک چین 75سالہ دوستی کا روشن سفر(محمد عبداللہ حمید گل)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-abdullah-hameed-gull/2026-05-24/52007/16079827</link><pubDate>Sun, 24 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-abdullah-hameed-gull/2026-05-24/52007/16079827</guid><description>آہنی برادرز پاکستان اور چین کی ہمالیہ سے بلند‘ شہد سے میٹھی اور سمندروں سے گہری دوستی کے سفر کو 75برس مکمل ہو چکے ہیں۔ طویل خانہ جنگی کے بعد یکم اکتوبر 1949ء کو عوامی جمہوریہ چین نے آزادی حاصل کی۔ اس کے بعد چین مختلف مراحل سے گزرتا اور ترقی کی منازل طے کرتا ہوا آج معاشی اعتبار سے دنیا کی بڑی طاقت بن چکا ہے۔ ماؤزے تنگ کو جدید چین کا بانی سمجھا جاتا ہے۔ چین کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں ان کا کردار انتہائی اہم رہا۔ اُس دور میں چینی عوام افیون کے نشے کی لت میں مبتلا تھے لیکن  ماؤ زے تنگ نے اپنی قوم کو اس عادت سے نجات دلائی اور اسے دنیا کی محنتی اقوام میں شامل کر دیا۔ چین کے عظیم رہنما ماؤزے  تنگ نے دارالحکومت بیجنگ کے مرکز میں واقع تھیان من کے مرکزی دروازے کے چبوترے پر کھڑے ہو کر عوامی جمہوریہ چین کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ اس اعلان کے بعد پاکستان وہ پہلا ملک تھا جس نے چین کی نئی حیثیت کو تسلیم کیا۔ اس کے دو برس بعد 21 مئی 1951ء کو پاکستان اور چین کے درمیان باقاعدہ سفارتی تعلقات قائم ہوئے۔چین کے لیے اقوام متحدہ کی رکنیت حاصل کرنے میں پاکستان کی کوششیں سب سے نمایاں تھیں۔ آج چین اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ویٹو کے حق کا حامل ہے۔ مغرب کی مخاصمت کے باعث چین دو عشروں تک اقوام متحدہ میں اپنے جائز حق سے محروم رہا۔ اس ضمن میں 25اکتوبر 1971ء کا دن چین کی سفارتی تاریخ میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسی روز اقوام متحدہ کی جنرل  اسمبلی نے بھاری اکثریت سے چین کی مراعات بحال کیں۔ اقوام متحدہ میں چین کی یہ غیرمعمولی کامیابی اسے چھوٹے اور کمزور ممالک کے تحفظ کے لیے ایک مؤثر آواز کے طور پر سامنے لائی۔ تاہم چین کو عالمی تنہائی سے نکالنے اور بین الاقوامی معاملات میں متحرک کردار دلانے میں پاکستان کے کردار سے انکار ممکن نہیں۔ دوسری جانب 1965ء کی جنگ سے لے کر آپریشن بنیانٌ مرصوص تک چین نے ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کا بھرپور ساتھ نبھایا۔ اس نے ہمیشہ غیرمشروط دوستی کا ثبوت دیا اور کبھی پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کی۔ پاکستان کو معاشی اور دفاعی لحاظ سے مضبوط بنانے میں بھی چین کا کردار کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ اہم رہا ہے۔ مسئلہ کشمیر پر بھی چین مسلسل پاکستان کے دیرینہ اور اصولی مؤقف کی دوٹوک حمایت کرتا آ رہا ہے اور پاکستان کی جغرافیائی وحدت اور سلامتی کو اپنی خارجہ پالیسی کا اہم ستون تصور کرتا ہے۔1962ء میں بھارت اور چین کے درمیان جنگ ہوئی جس میں چین کا پلّہ بھاری رہا۔ 28اکتوبر 1962ء کو امریکی صدر جان ایف کینیڈی نے صدر ایوب خان کے نام ایک اہم پیغام بھیجا کہ بھارت پر چین کا حملہ دراصل پورے جنوبی ایشیا پر حملے کے مترادف سمجھا جائے۔ پاکستان نے اس موقع پر نہایت محتاط جواب دیا کہ جب تک مسئلہ کشمیر حل طلب ہے‘ بھارت کے لیے امریکہ کی بھاری فوجی امداد پاکستان کے لیے باعثِ تشویش رہے گی۔ امریکی دباؤ کے باوجود پاکستان نے چین کی مخالفت سے اجتناب کیا۔ یہ فیصلہ امریکہ کو پسند نہ آیا اور اس نے پاکستان پر مختلف نوعیت کا دباؤ بڑھانا شروع کر دیا۔ مارچ 1964ء میں چین اور پاکستان کے درمیان شاہراہ ریشم کی تعمیر کا معاہدہ ہوا اور جون 1964ء میں امریکہ نے پاکستان کو دی جانے والی امداد روک دی‘  مگر پاکستان نے اس کی پروا نہ کی اور پاک چین دوستی کے سفر کو جاری رکھا۔ آج بھی پاک چین دوستی کا سبق یہی ہے کہ تعلقات برابری کی بنیاد پر استوار ہونے چاہئیں۔ پاکستان کو امریکہ‘ مغرب یا کسی دوسرے ملک کا دست نگر بن کر نہیں رہنا چاہیے۔بھارت‘ جو اپنی برتری کے زعم میں مبتلا تھا‘ کو ستمبر 1965ء کی جنگ کے بعد پاک چین دوستی کی حقیقی اہمیت کا اندازہ ہوا۔ اس موقع پر امریکہ اور اس کے یورپی اتحادیوں نے پاکستان کی معاشی امداد بند کر دی جبکہ پاکستان کو اسلحے کی فراہمی بھی روک دی گئی۔ اس کے برعکس چین نے نہ صرف پاکستان کی مالی امداد میں اضافہ کیا بلکہ فوجی تعاون بھی بڑھا دیا۔ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کے جہاز کوہ قراقرم کے اوپر سے صرف مسافروں کو ہی نہیں لے جاتے تھے بلکہ ان کے ذریعے فوجی سازوسامان بھی پاکستان پہنچنے لگا۔ جب بھارت نے پاکستان پر دباؤ بڑھایا تو چین نے اسے سخت پیغام دیا کہ باز رہے‘ ورنہ 1962ء کی جنگ کی طرزکی کارروائی پھر کی جا سکتی ہے۔ چین کے اس دوٹوک مؤقف کے بعد بھارت نے فوراً اپنے رویے میں لچک پیدا کر لی۔پاک چین دوستی آگے چل کر نئے امکانات کا موجب بنی۔ ویتنام جنگ میں اپنی شکست اور چین اور روس کے درمیان بڑھتی  کشیدگی کے پیشِ نظر امریکہ نے جب چین سے تعلقات بہتر بنانے کا فیصلہ کیا تو اس مقصد کے لیے اس نے چین کے قریبی دوست پاکستان سے مدد طلب کی اور یوں امریکہ اور چین کے درمیان پاکستان ایک پل بن گیا۔ 1971ء کی پاک بھارت جنگ میں  مشرقی پاکستان الگ ہو کر بنگلہ دیش بن گیا۔ اس موقع پر امریکہ نے کھلی بے وفائی کا مظاہرہ کیا تاہم چین نے اس وقت تک بنگلہ دیش کو اقوام متحدہ کی رکنیت حاصل نہیں کرنے دی جب تک تمام جنگی قیدیوں کو رہا نہیں کر دیا گیا۔ چین کے سابق صدر ہو جِن تاؤ نے اپنے دورۂ اسلام آباد کے موقع پر کہا تھا: &#39;&#39;پاک چین دوستی نہ صرف سمندر سے گہری اور ہمالیہ سے بلند ہے بلکہ یہ شہد سے زیادہ شیریں ہے‘‘۔ 22 تا 23 مئی 2013ء کو اپنے دورۂ پاکستان کے دوران چینی وزیراعظم نے اس مثالی دوستی کو &#39;&#39;سونے سے زیادہ قیمتی اثاثہ‘‘ قرار دیا۔ چینی صدر شی جن پنگ کے دورے کے بعد پاک چین سفارتی‘ معاشی‘ دفاعی اور تزویراتی تعاون کو نئی جہت ملی اور دونوں ممالک نے دنیا کی پہلی &#39;&#39;آل ویدر سٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ‘‘ قائم کی۔ اسی دوران عظیم الشان انقلابی منصوبے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹیو کی بنیاد رکھی گئی۔ کورونا جیسے جان لیوا مرض سے بچاؤ کے لیے پاکستان کو ویکسین کی فراہمی بلاشبہ چین کی پاکستان سے بے مثال دوستی کا عملی اظہار تھا۔ چین کی جدوجہد اور ترقی ہمارے لیے ایک رول ماڈل کی حیثیت رکھتی ہے۔بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے بہت پہلے یہ اندازہ لگا لیا تھا کہ جب پاکستان وجود میں آئے گا اور دوسری جانب چین کی کمیونسٹ پارٹی بھی اپنے مقاصد میں کامیاب ہو جائے گی تو دونوں ملکوں میں سٹریٹجک تعلقات کا باقاعدہ آغاز کیا جائے گا۔ اسی مقصد کے تحت قائداعظم نے آل انڈیا مسلم لیگ کا ایک وفد بھی چیئرمین ماؤ زے تنگ کے پاس بھیجا تھا۔ دنیا نے دیکھا کہ ان 75 برسوں میں اس رشتے میں کبھی کوئی دراڑ نہیں آئی اور یہ تعلق ہمیشہ کی طرح مضبوط اور پائیدار رہا۔ خوش آئند امر یہ ہے کہ پاکستان اور چین کا یہ عظیم رشتہ کبھی بھی عالمی اور علاقائی تبدیلیوں کے تابع نہیں رہا۔چین کی ترقی کا سب سے اہم راز یہ ہے کہ وہاں آنے والے تمام رہنماؤں نے اپنی پالیسیوں کے ذریعے ملک کو ترقی کی نئی راہوں پر گامزن کیا۔ ساتھ ہی یہ کوشش بھی جاری رکھی گئی کہ چین کی ترقی پسندانہ پالیسیاں جمود کا شکار نہ ہوں تاکہ نئے چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ چین آج اس مقام پر کھڑا ہے۔ چین نے عالمی اور علاقائی تناظر میں سفارتی میدان میں بھی نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ &#39;&#39;وَن بیلٹ وَن روڈ‘‘ مشترکہ مفاد کی ایک شاندار مثال ہے جس سے خطے میں امن‘ استحکام اور ترقی کو فروغ ملے گا۔ پاک چین سٹریٹجک اتحاد نہ صرف خطے کا جغرافیائی توازن تبدیل کر رہا ہے بلکہ بھارتی بالادستی کے خواب کو بھی چکنا چور کر چکا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_62843609.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>