<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>مشرق وسطیٰ نئے بحران کا شکار(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-09/11261</link><pubDate>Tue, 09 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-09/11261</guid><description>ایران اور اسرائیل میں کشیدگی کے حالیہ واقعات پر پاکستان سمیت دنیا بھر میں تشویش کا اظہار کیا گیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے مشرقِ وسطیٰ میں تشدد میں اضافے پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ایک ٹویٹر بیان میں کہا ہے کہ خطے میں بڑھتی کشیدگی غیر مستحکم جنگ بندی کے خطرات کو اجاگر کر رہی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی فریقین پر حملے بند کرنے کیلئے زور دیا ہے۔ ٹرُتھ سوشل پر ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ امن کے قیام کیلئے حتمی مذاکرات جاری ہیں مگر یہ عمل جہالت یا حماقت سے متاثر ہو سکتا ہے۔ صدر ٹرمپ کا خدشہ بے جا نہیں۔ امریکہ اور ایران میں قیامِ امن کی کوششیں نازک مرحلے میں ہیں‘ جنہیں اسرائیل ایران کشیدگی سے نقصان کا اندیشہ ہے۔ امریکہ اور ایران میں پیغامات کا سلسلہ جاری ہے اور معاہدے کی مختلف صورتیں زیر غور ہیں‘ تاہم اسرائیل کی انتہا پسندی اور ایران کے ردِعمل سے معاملات بگڑ بھی سکتے ہیں؛ چنانچہ اس صورتحال میں امریکہ اور ایران کو زیادہ تحمل اور دور اندیشی سے کام لیتے ہوئے یقینی بنانا ہو گا کہ وہ اسرائیل کی اس چال میں آنے سے بچ جائیں جو مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کا خاتمہ نہیں چاہتا اور اسکی آڑ میں امریکی چھتری تلے اپنے ناپاک منصوبوں کو آگے بڑھانے کا موقع تلاش کر رہا ہے۔

امریکہ ایران جنگ بندی کے بعد لبنان کیخلاف بڑھتی ہوئی اسرائیلی جارحیت واضح ثبوت ہے کہ اسرائیل کسی نہ کسی طرح جنگ بھڑکائے رکھنا چاہتا ہے اور نہیں چاہتا کہ امریکہ اس دلدل سے نکلے۔ امریکہ ایران جنگ بندی کے وقفے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسرائیل کی لبنان کے خلاف جارحیت میں تیزی آتی چلی گئی اور حالیہ دنوں اس کی شدت میں مزید اضافہ ہوا۔ اس دوران شہری آبادیوں پر صہیونی حملوں سے عام شہریوں کے جانی اور مالی نقصان کے واقعات میں المناک اضافہ ہوا۔ اسرائیل کی اس جارحانہ کارروائی سے واضح نظر آ رہا ہے کہ وہ ایسے حالات پیدا کرنا چاہتا ہے جو امریکہ ایران امن کوششوں کو پٹڑی سے اتار دیں اور خطہ وسیع کشیدگی کا شکار ہو جائے۔ صہیونی ریاست کے یہ عزائم امریکہ‘ مشرقِ وسطیٰ اور دنیا بھر کے مفادات کیلئے خطرہ ہیں۔ توانائی کی دولت سے مالا مال اس خطے کی عالمی معیشت اور ترقی کیلئے کیا اہمیت ہے یہ آبنائے ہرمز کی بندش اور توانائی اور دیگر وسائل کی سپلائی کی رکاوٹوں سے ظاہر ہو چکا ہے۔ اس اہم خطے میں اسرائیل اگر کشیدگی کو ہوا دیتا‘ پھوٹ ڈالتا اور دشمنیاں پیدا کرتا ہے تو اس کا نقصان خود امریکہ کو بھی ہے اور باقی دنیا کو بھی۔
اس المناک صورتحال سے بچنے کیلئے ضروری ہے کہ اسرائیل کو لگام دی جائے‘ بصورت دیگر مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کا قیام خواب وخیال ہی رہے گا۔ تاہم ایران اور امریکہ میں ممکنہ امن معاہدے کے باوجود اگر اسرائیل کی علاقائی جارحانہ پالیسی میں تبدیلی نہیں آتی تو مشرقِ وسطیٰ میں امن کا قیام مشکل ہی نہیں ناممکن ہو جائے گا اور یہ کشیدگی جو اس وقت خلیج فارس تک محدود ہے‘ بحیرہ احمر تک پھیل سکتی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کیلئے امریکہ اور اسرائیل میں تعلقات کی مساوات پر نظر ثانی ضروری ہو چکی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اسرائیلی وزیراعظم کے ساتھ تندوتلخ ٹیلی فونک گفتگوسے بظاہر ایسا لگتا ہے کہ شاید کسی سطح پر واشنگٹن میں یہ سوچ پیدا ہو چکی ہے۔ مگر ہر چیز جو پیدا ہوتی ہے اس کا پروان چڑھنا ایک ارتقائی عمل کا مرہون منت ہوتا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ صہیونی ریاست کے باب میں امریکی پالیسی میں وقت کس قسم کی تبدیلیاں لے کر آتا ہے۔
مگر اس میں دو رائے نہیں کہ امریکہ اگر صہیونی ریاست کی تمام تر جارحیت کے باوجود اس کیساتھ کھڑا رہے گا اور صہیونی ریاست سے کوئی باز پرس نہیں ہوتی تو مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں۔ اس تناظر میں امریکہ ایران امن معاہدے کی ضرورت مزید بڑھ جاتی ہے تاکہ اسرائیل کی علاقائی جارحیت کی روک تھام کیلئے امریکہ کو قائل کرنا آسان ہو سکے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بچت میں کمی کے اسباب(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-09/11260</link><pubDate>Tue, 09 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-09/11260</guid><description>پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کی ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں قومی بچت کی شرح گزشتہ 30 برس کی کم ترین سطح یعنی 6.4 فیصد تک گر چکی ہے۔ 1992ء میں یہ شرح تقریباً 17.4 فیصد تھی۔بچت میںکمی محض معاشی اشاریہ نہیں بلکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ معیشت کا اندرونی توازن بگڑ چکا ہے۔ کم بچت براہِ راست سرمایہ کاری کے بحران کو جنم دیتی ہے جس کے نتیجے میں ملک بار بار بیرونی قرضوں اور آئی ایم ایف پروگراموں پر انحصار کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ تاہم اس پورے مسئلے کا سب سے اہم اور زمینی پہلو عام آدمی کی زندگی سے جڑا ہوا ہے۔ جب آمدن کا بڑا حصہ کرائے‘ بجلی‘ گیس‘ خوراک اور علاج جیسے بنیادی اخراجات میں ہی صرف ہو جائے تو عام آدمی کیلئے بچت ناممکن حد تک مشکل عمل بن جاتی ہے۔

مہنگائی کی بلند سطح نے حقیقی قوتِ خرید کو کم کر دیا ہے جبکہ اجرتوں میں اضافہ اس رفتار سے نہیں ہوا جس سے بچت کے امکانات پیدا ہو سکیں۔ نتیجتاً شہری روزمرہ اخراجات اور مالی دباؤ کے درمیان ایک مستقل توازن کی جنگ لڑ رہے ہیں۔مہنگائی پر قابو اور حقیقی اجرتوں میں اضافے کے بغیر بچت کا کلچر فروغ نہیں پا سکتا۔ لہٰذا حکومت کو عام آدمی کی آمدن میں اضافے کیلئے اقدامات کرنا ہوں گے۔ اگر بچت کے گرتے ہوئے رجحان کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو اس کے اثرات صرف معاشی اشاریوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عام آدمی کی مالی سلامتی‘ سماجی استحکام اور مستقبل کی منصوبہ بندی بھی متاثر ہو گی۔ </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سپر ال نینو‘ خطرے کی گھنٹی(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-09/11259</link><pubDate>Tue, 09 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-09/11259</guid><description>عالمی ادارۂ موسمیات (ڈبلیو ایم او) کی حالیہ گلوبل سیزنل اَپ ڈیٹ پاکستان کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس سال اگست تک ’’سپر ال نینو‘‘ کے امکانات 80 فیصد تک پہنچ سکتے ہیں جس کے نتیجے میں پاکستان کو دہری موسمی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ سپر ال نینو کے باعث ملک کے جنوبی علاقوں میں درجہ حرارت 52 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے جس سے شدید گرمی‘ خشک سالی اور ہیٹ سٹروک جیسے خطرات بڑھ جائیں گے جبکہ شمالی علاقوں میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے سے اچانک اور شدید سیلابی ریلوں کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔ یہ ممکنہ صورتحال ملک کے انفراسٹرکچر اور ناقص واٹر مینجمنٹ سسٹم کیلئے کڑا امتحان ہوگی۔پاکستان عالمی موسمیاتی خطرات سے شدید متاثرہے۔

یہاں کبھی غیر متوقع اور بے وقت بارشیں تباہ کن سیلابوں کا باعث بنتی ہیں تو کبھی طویل خشک سالی زرعی معیشت کو جکڑ لیتی ہے۔ شدید ہیٹ ویوز معمول بنتی جا رہی ہیں جبکہ درجہ حرارت میں اضافہ انسانی زندگی‘ صحت اور معیشت کیلئے سنگین چیلنج بن چکا ہے۔اس صورتحال میں محض وقتی اقدامات کافی نہیں۔ ملک کو جامع اور طویل مدتی موسمیاتی پالیسی کی ضرورت ہے جس میں پانی کے ذخائر بڑھانے‘ جدید ارلی وارننگ سسٹم کو مؤثر بنانے‘ شہری منصوبہ بندی کو موسمیاتی حقائق سے ہم آہنگ کرنے اور جنگلات کے تحفظ جیسے اقدامات کو ترجیح دی جائے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>قانون اور چہیتے Gogetter(محمد اظہارالحق)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-06-09/52087/48767993</link><pubDate>Tue, 09 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-06-09/52087/48767993</guid><description>مجھے عزیز ِ گرامی رؤف کلاسرا سے اختلاف ہے!انہوں نے ایک سابق وزیراعظم کا ذکر کیا ہے جنہوں نے چین کے دورے میں ایک پریس کانفرنس کی اور اعلان کیا کہ انہیں ایسے سینئر افسران نہیں چاہئیں جو ہر بات پر قانون سمجھانے بیٹھ جائیں بلکہ انہیں ایسے نوجوان افسران درکار ہیں جو Go Getters ہوں۔ کلاسرا نے‘ جو اس پریس کانفرنس میں موجود تھے‘ قانون شکنی کے اس مائنڈ سیٹ اور اس رجحان کی مذمت کی ہے۔ کلاسرا ان پاکستانیوں میں سے ہیں جو قانون پر عمل درآمد چاہتے ہیں اور قانون کی حرمت کی بات کرتے ہیں! اسی بات سے تو مجھے اختلاف ہے۔ سابق وزیراعظم قانون‘ ضابطے‘ رُول‘ ریگولیشن کو ناپسند کرتے ہیں۔ میں بھی ناپسند کرتا ہوں۔ یقین جانیے مجھے ٹریفک کی سرخ بتی سے نفرت ہے۔ سڑک کے بائیں طرف گاڑی چلانا مجھے ہرگز پسند نہیں۔ آخر ٹرینیں اور جہاز وقت ہی پر کیوں روانہ ہوں؟ جب بھی سابق وزیراعظم اور مجھ جیسا انارکسٹ بلکہ Nihilist حکم دے تو ٹرینیں چل پڑیں‘ جہاز لینڈ کریں‘ بازار بند ہو جائیں‘ سکول اتوار کو کھلیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ختم ہو جائیں۔ پنجابی میں کہتے ہیں: عقل نہ ہووے تے موجاں ای موجاں۔ یہ محاورہ یکسر غلط ہے۔ اصل محاورہ ہے: قانون نہ ہووے تے موجاں ای موجاں۔ بلکہ قانون ہو بھی تو یہی سمجھنا چاہیے کہ قانون کا کوئی وجود نہیں‘ بس مزے ہی مزے ہیں‘ جو چاہیں کیجیے۔ باتھ روم پر سرکاری خزانے سے لاکھوں لگا دیجیے۔ محلات کی چار دیواریاں بیت المال سے بنوائیے۔ قومی ایئر لائن کا جہاز ہفتوں لندن میں منتظر رکھیے۔ وزارتِ عظمیٰ کے دوران بے تحاشا بیرونی دورے کیجیے۔ مہینوں اسمبلی میں رونمائی فرمائیے نہ کابینہ اجلاس ہی طلب کیجیے۔ جی چاہے تو ہر روز ایف بی آر کے نئے ایس آر او جاری کروائیے اور دو دن کے بعد منسوخ کرا دیجیے۔ بقول ظفر اقبال:دیکھ رہ جائے نہ حسرت کوئی دل میں تیرےشور کر اور بہت خاک اُڑا اور بہتبنی غسّان کی سلطنت عرب کی شمالی سرحد پر واقع تھی اور قیصرِ روم کی باجگزار تھی۔ جبلہ بن ایہم اس ریاست کا آخری بادشاہ تھا۔ مسلمانوں کی پے درپے فتوحات دیکھ کر اس نے دور اندیشی سے کام لیا اور مسلمان ہو جانے کا فیصلہ کیا۔ وہ بہت کروفر اور پروٹوکول کے ساتھ مدینہ منورہ آیا۔ بہت سے سوار ساتھ تھے جو بہترین لباس پہنے تھے۔ یہ امیر المومنین عمر فاروقؓ کا دور تھا۔ ان کے ہاتھ پر وہ مسلمان ہوا۔ یہ حج کا موسم تھا۔ اس نے بھی امیر المومنین کے ساتھ مکہ کا سفر کیا اور حج کیا۔ عرب کے متکبر اور گردن بلند سرداروں کی طرح اس کے قیمتی تہمد کے آخری کنارے زمین کو چھو رہے تھے۔ طواف کے دوران ایک بدو کا پاؤں اس کے تہمد پر آ گیا۔ جبلہ بن ایہم جلال میں آ گیا۔ اس نے بدھو کو اتنے زور سے چانٹا مارا کہ بدو کا دانت ٹوٹ گیا۔ کچھ روایات میں ہے کہ اس کی نکسیر پھوٹ پڑی۔ بدو نے امیر المومنین کی عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا۔ آپؓ نے اسے طلب کیا اور پوچھ گچھ کی۔ اس نے کہا: ہاں میں نے تھپڑ مارا کیونکہ میں بادشاہ ہوں اور وہ ایک عامی!! امیر المومنین نے فرمایا: مسلمان ہونے کے بعد تم اور بدو برابر ہو۔ یہاں برتری صرف تقویٰ کی بنیاد پر ہے۔ اب یا تو وہ بدو تمہیں معاف کرے یا تمہیں ویسا ہی تھپڑ مارے! اس نے جواب دیا کہ ایسا ہے تو میں اسلام ترک کر کے دوبارہ عیسائی ہو جاؤں گا۔ آپؓ نے فرمایا: ایسا کروگے تو ارتداد کے جرم میں تمہاری گردن اڑا دی جائے گی۔ یہ سن کر جبلہ کے ہوش اڑ گئے۔ اس نے سوچنے کے لیے مہلت مانگی۔ آپ نے بدو کی اجازت سے اسے رات کی مہلت دی۔ وہ اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ راتوں رات فرار ہو گیا اور رومیوں کے پاس جا کر دوبارہ عیسائی ہو گیا۔ کاش اس وقت ہمارے سابق وزیراعظم کی رائے کے مطابق وہاں کوئی نوجوان بیورو کریٹ موجود ہوتا تو امیر المومنین کی خدمت میں عرض کرتا کہ اتنی بڑی سلطنت کا بادشاہ ہمارے ہاتھ آیا ہے‘ قانون کو چھوڑیے اور معاملے کو دبا دیجیے۔ خود نبی اکرمﷺ قانون کے سامنے کسی مصلحت کو خاطر میں نہیں لاتے تھے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ بہت بڑے معزز‘ ایلیٹ قبیلے کی خاتون نے چوری کی جس کی سزا ہاتھ کاٹنا تھا۔ بہت سفارشیں آئیں۔ سیاسی دباؤ پڑا مگر آپﷺ نے فرمایا کہ فاطمہ بنت محمد بھی چوری کرتی تو ضرور اس کا ہاتھ کاٹا جاتا۔ اور امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے تو قانون کی پاسداری میں بہت بڑے نقصان کی پروا نہ کی۔ یہ زمانہ امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے لیے بڑا ہی سخت اور آزمائشوں والا تھا۔ ہر طرف سے دشمنوں سے گھرے ہوئے تھے۔ اپنے چچا زاد بھائی ابن عباسؓ کو بصرہ کا گورنر مقرر کیا۔ انہوں نے بیت المال سے رقم لی اور پھر واپس نہیں کر رہے تھے۔ ابو الاسود نے جو مالیات کے انچارج تھے‘ امیر المومنین کو صورتحال سے آگاہ کیا۔ اگر کوئی &#39;&#39;نوجوان Gogetter افسر‘‘ اس وقت امیر المومنین کا پرنسپل سیکرٹری ہوتا تو مشورہ دیتا کہ امیر المومنین!! قانون کو چھوڑیے‘ حالات خراب ہیں‘ شام کی حکومت آپ کے اقتدار کے درپے ہے۔ ایسے میں حامیوں کی آپ کو سخت ضرورت ہے۔ مگر امیر المومنین کے لیے قانون کی عملداری ان کی حکومت سے زیادہ اہم تھی۔ آپؓ نے اپنے چچا زاد کا اتنا کڑا محاسبہ کیا کہ وہ بیت المال سے بہت کچھ لے کر‘ گورنری چھوڑ کر‘ بلا اجازت مکہ چلے گئے۔ (تفصیل کے لیے دیکھیے ڈاکٹر طہٰ حسین کی تصنیف‘ حضرت علیؓ تاریخ وسیاست کی روشنی میں)یہ تو عہدِ رسالت اور عہدِ خلافت راشدہ کی باتیں ہیں۔ قائداعظم قانون کو کتنی اہمیت دیتے تھے؟ کاش حکمران قائداعظم کی سوانح حیات ہی پڑھ لیتے! زیارت میں جو نرس ان کی خدمت پر مامور تھی‘ اس نے استدعا کی کہ اس کا تبادلہ فلاں جگہ کرایا جائے۔ ہائے افسوس!! نہ ہوا اُس وقت کوئیGogetter قائداعظم کے پاس! کہتا: سر! آپ بس اشارہ کیجیے‘ تبادلہ ہو جائے گا۔ مگر قائد نے صاف کہہ دیا کہ یہ وزارتِ صحت کا دائرہ اختیار ہے۔ آپ نے مرض الموت میں بھی قانون توڑنے سے انکار کر دیا۔ وہ قانون کے کتنے شدید پابند تھے‘ اس کا اندازہ جس نے لگانا ہو امریکہ میں پاکستان کے سفیر مرزا ابو الحسن اصفہانی سے قائداعظم کی مراسلت اُس جہاز کی خریداری کے متعلق پڑھ لے جو حکومت کو مشرقی پاکستان آنے جانے کے لیے مجبوراً خریدنا تھا۔ یہ مراسلت حیران کن ہے۔ قائداعظم کی پوری کوشش تھی کہ جہاز پر کم سے کم پیسہ خرچ ہو۔ وہ ایک ایک بات کی تفصیل پوچھتے ہیں۔ ان کے لیے سرکاری خزانے سے رقم خرچ کرنا ایک آزمائش سے کم نہ تھا۔ اس کے مقابلے میں آج ایک صوبائی حکومت انتہائی قیمتی‘ پُرتعیش اور پُرشکوہ جہاز خریدتی ہے۔ زیارت ہی میں قائداعظم کی حالت کم خوری کی وجہ سے بگڑتی جا رہی ہے۔ ان کے لیے پنجاب سے وہ باورچی منگوایا جاتا ہے جو بمبئی میں ان کے ہاں کام کرتا تھا۔ اس کا تیار کیا ہوا کھانا وہ رغبت سے کھاتے ہیں‘ کھانے کے بعد پوچھتے ہیں کہ یہ کھانا کس نے بنایا ہے؟ ان کی بہن بتاتی ہیں کہ پنجاب سے بلائے گئے ان کے پسندیدہ باورچی نے! جب بتایا جاتا ہے کہ باورچی کے آنے کے اخراجات پنجاب حکومت نے اٹھائے ہیں تو وہ ناراض ہوتے ہیں۔ متعلقہ فائل منگوا کر اس پر لکھتے ہیں &#39;&#39;گورنر جنرل کی پسند کا باورچی اور کھانا فراہم کرنا حکومت کے کسی ادارے کا کام نہیں ہے‘‘۔ پھر وہ اپنی جیب سے اخراجات کی رقم ادا کر کے باورچی کو واپس بھیج دیتے ہیں!! کتنا فرق ہے قائد اور آج کے بے پروا‘عاقبت نااندیش حکمرانوں کے درمیان!! جتنا آسمان اور زمین کے درمیان ہے!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_57182973.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>اٹھائیسویں ترمیم، بجٹ اور شاہ جی کی مسکراہٹ(خالد مسعود خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-06-09/52088/14169087</link><pubDate>Tue, 09 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-06-09/52088/14169087</guid><description>اس ملک میں جس بات کی تردید کی جائے سمجھ لیں کہ دال میں کچھ نہ کچھ کالا ہے اور اگر یہ تردید زیادہ شدومد اور زور و شور سے کی جائے تو سمجھ لیں کہ صرف دال میں کچھ کالا ہی نہیں بلکہ ساری دال ہی کالی ہے۔ ایسا ہی کچھ آج کل اٹھائیسویں ترمیم کے حوالے سے چل رہا ہے۔ ساری سر کار اس ترمیم پر لگی بھی ہوئی ہے اور تردید بھی چل رہی ہے۔ ووٹ ڈالنے کی عمر 25سال کرنے‘ کراچی اور گوادر کو وفاق کے سپرد کرنے‘ نئے صوبے بنانے کیلئے آئین میں موجود طریقہ کار میں تبدیلی اور اٹھارہویں ترمیم میں وفاق سے صوبوں کو منتقل کی جانے والی کچھ وزارتوں کو دوبارہ وفاق کے زیر انتظام کرنے کی خبریں اور ان کی تردیدیں مسلسل چل رہی ہیں‘ تاحال مقابلہ برابر ہے۔بقول ایک دوست کے پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کی ساری جمہوریت نوازی اور بہادری کے نعرے اُس وقت ٹھس ہو جائیں گے جب لگامیں تھامنے والے لگاموں کو جھٹکا دیں گے۔ ہر دو پارٹیاں اپنے لوکل قسم کے معاملات اور چھوٹی چھوٹی شرائط پر راضی ہو جائیں گی۔ اسی دوست کا کہنا ہے کہ درج بالا مجوزہ ترمیمات میں سے کئی ایک صرف اور صرف بہانے کیلئے اور بعد ازاں دیگر معاملات پر کمپرو مائز کروانے کیلئے اچھالی جا رہی ہیں۔ ویسے بھی پیپلز پارٹی کو صرف سندھ کی حد تک اپنے ووٹر کو مطمئن رکھنے اور اپنے معاملاتِ دیگراں کو سیدھے سبھاؤ چلانے کے علاوہ اور کچھ درکار نہیں اور فیصلہ ساز یہ فیصلہ کیے بیٹھے ہیں کہ موت دکھا کر بخار قبول کرنے والا فارمولا چلانا ہے اور وہ خیر سے چل بھی جائے گا۔جی بی میں بھلا فارم 47 استعمال کرنے میں کیا چیز مانع تھی؟ سر کار‘ میرا مطلب ہے اصل سرکار اگر اس بار بھی فارم 47جاری کرنا چاہتی تو اسے بھلا کون روک سکتا تھا؟ لیکن اگر جی بی حکومت پیپلز پارٹی کو مل بھی جائے تو کسی کی صحت پر کیا فرق پڑتا ہے۔ اس لیے اس معاملے میں پیپلز پارٹی کو دی جانے والی ڈھیل یا ڈیل سے حالات مرضی کے مطابق چل جائیں تو کیا فرق پڑتا ہے۔ سو صورتحال کچھ لو اور کچھ دو کے اصولوں کے عین مطابق چل رہی ہے اور راوی مستقبل میں بھی چین لکھتا ہے۔ پیپلز پارٹی ہمیشہ ہی 1973ء کا آئین بنانے کا کریڈٹ لیتی ہے اور سننے والے اس بات سے کسی حد تک متاثر بھی ہوتے ہیں لیکن بہت کم لوگ اس بات سے آگاہ ہیں کہ اس آئین کی شکل تبدیل کرنے کا عمل بھی پیپلز پارٹی کے دور میں ہی شروع ہو گیا تھا اور آئینِ پاکستان میں پہلی سات ترامیم خود ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ حکومت میں ہو گئی تھیں۔ اس کے بعد کی جانے والی اکثر ترمیموں کو پیپلز پارٹی کی مکمل حمایت حاصل رہی۔ خود اٹھارہویں ترمیم‘ جو آج کل زیادہ زیر بحث ہے‘ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے مابین مکمل مفاہمت کے نتیجے میں پاس ہوئی اور اس ترمیم میں ہر دو فریقین اپنے تئیں اپنی اپنی جگہ پر فائدے میں رہے۔ وسائل کے استعمال اور مختلف محکموں اور وزارتوں کی وفاق سے صوبائی حکومتوں کو منتقلی کا سب سے زیادہ فائدہ پیپلز پارٹی کو ہوا‘ جو صرف ایک صوبے میں اپنی حکومت اور اس حوالے سے صوبائی معاملات میں خود مختاری کے باعث نہ صرف خوش تھی بلکہ حقیقی طور پر بھی دور رس صوبائی فوائد کی سب سے بڑی بینی فشری تھی جبکہ مسلم لیگ (ن) کو صرف یہ ایک فائدہ ہوا کہ انہوں نے وزیراعظم بننے کیلئے زیادہ سے زیادہ دو بار کی پابندی ختم کروا کر میاں نواز شریف کیلئے تیسری اور اس سے اگلی بار بھی وزیراعظم بننے کی راہ ہموار کر لی۔ کل تک اس ترمیم کے نقارے بجانے والی مسلم لیگ (ن) کو بعد ازاں احساس ہوا کہ اس ترمیم سے صوبائی حکومتوں کو تو مالی طور پر بہت فائدہ ہوا مگر وفاقی حکومت کے کپڑے اُتر گئے۔ وفاق میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت ہے اور اس ترمیم سے سب سے زیادہ نقصان بھی اسی کو ہوا ہے۔ مبینہ طور پروفاقی حکومت نے این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کے حصے میں 1.7 ٹریلین روپے کی کمی کا مطالبہ کیا تھا۔پنجاب اور وفاق میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت ہے اسے تو اس ہیر پھیر اور ٹوپیوں کی تبدیلی سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا لیکن سندھ پر اس کے اثرات یقینا پڑیں گے۔ مجوزہ ترمیم میں این ایف سی میں فنڈز کی تقسیم بھی دوبارہ سے کرنے کی باتیں چل رہی ہیں۔ صورتحال یہ ہے کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد وفاقی حکومت کا ہاتھ بہت تنگ پڑ گیا ہے۔ وفاقی حکومت نے گزشتہ سال جولائی سے مئی 2026ء تک دس ماہ کے دوران مجموعی طور پر بینکوں سے 3.5 ٹریلین یعنی 3500 ارب رو پے قرضہ لیا ہے۔ ہم ہر روز سنتے ہیں کہ ملک کے معاشی حالات بہتری کی طرف جا رہے ہیں جبکہ صورتحال یہ ہے کہ ایک طرف حکومت آئی ایم ایف کی منتیں کر رہی ہے اور دوسری طرف ملکی بینکوں سے بے تحاشا قرض لے کر کام چلا رہی ہے۔ اس صورتحال میں معاشی بہتری کے دعوے بالکل ویسے ہی ہیں جیسا کہ چچا غالب‘ جو ہمہ وقت گلے گلے تک قرض میں ڈوبے ہونے کے باوجود فرماتے تھے کہقرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاںرنگ لاوے گے ہماری فاقہ مستی ایک دننہ چچا غالب کی فاقہ مستی رنگ لائی اور نہ ہی ہمیں اپنی سرکار کی معاشی حالت بہتر ہونے کی کوئی امید ہے۔ادھر بجٹ کی عجب گھڑمس مچی ہوئی ہے۔ تین فریقوں کے درمیان عجیب و غریب قسم کی کھینچا تانی جاری ہے۔ حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان تو خیر سے کئی معاملات پر اختلاف موجود ہے ہی‘ اب اس میں پیپلز پارٹی بھی شامل ہو گئی ہے۔ بجٹ کی تاریخ بھی اسی سے طے نہیں ہو پا رہی۔ مہنگائی تاریخی ریکارڈ قائم کر رہی ہے اور عوام کی قوتِ خرید روز بروز نیچے آرہی ہے۔ بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کے بارے میں شنید ہے کہ دس سے پندرہ فیصد اضافے کی تجاویز ہیں لیکن بقول شاہ جی‘ سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں اضافے کے بارے میں کوئی پکی بات نہیں کہی جا سکتی کیونکہ ممکن ہے کہ اس مد میں آئی ایم ایف اعتراض کر دے اور جب آئی ایم ایف نے اعتراض کر دیا تو پھر بھلا حکومت کیلئے یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ آئی ایم ایف کے اعتراض کے بعد سرکاری ملازموں کی تنخواہ میں اضافہ کر سکے۔ لہٰذا اس معاملے کو تو ابھی زیرِ غور ہی سمجھیں۔ لیکن حیرانی کی بات یہ ہے کہ آئی ایم ایف سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں دس پندرہ فیصد اضافے پر تو اعتراض کردیتا ہے‘ لیکن ارکانِ اسمبلی اور عدلیہ وغیرہ کی تنخواہوں میں کئی کئی گنا اضافے پر کوئی اعتراض نہیں کرتا۔ شاہ جی یہ سن کر مسکرائے اور کہنے لگے کہ تم بھی بھولے بادشاہ ہو۔ اعتراض اُس پر لگتا ہے جو اجازت طلب کرے۔ بھلا جو آپ سے اجازت ہی نہیں مانگ رہا آپ اس پر اعتراض کیسے کر سکتے ہیں۔ ارکانِ اسمبلی اپنی تنخواہوں میں‘ اپنے الاؤنسز میں اور دیگر سہولتوں میں جب خود ہی اضافہ کر لیتے ہیں اور انہیں کسی سے پوچھنے کی ضرورت ہی نہیں تو ان پر اعتراض بھلا کیسے ہو سکتا ہے؟ یہی کلیہ عدلیہ سے متعلق تنخواہوں میں اضافے پر منطبق کیا جا سکتا ہے۔بجٹ اور مجوزہ اٹھائیسویں ترمیم کے مسئلے پر حکومت اور پیپلز پارٹی میں جاری نورا کشتی بالآخر ریفری کی سیٹی بجانے پر ختم ہو جائے گی اور سب کچھ حسبِ منشا ہو جائے گا۔ میں نے پوچھا: شاہ جی ریفری کون ہے اور سب کچھ کس کی حسبِ منشا ہو جائے گا؟ شاہ جی نے جواباً صرف مسکرا کر دکھا دیا۔ مجھے تو اس کھچرے پن والی مسکراہٹ سے کچھ سمجھ نہیں آیا۔ اب میں شاہ جی کی مسکراہٹ کے بارے میں کس سے پوچھوں ؟ میری ہر مشکل خود شاہ جی آسان کرتے ہیں اب جبکہ وہ خود مشکل پیدا کر رہے ہیں تو میں اس کا حل کس سے دریافت کروں؟</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90500073.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>آزاد جموں و کشمیر اور مہاجرین کی سیٹیں(ڈاکٹر حسین احمد پراچہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-06-09/52089/81857974</link><pubDate>Tue, 09 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-06-09/52089/81857974</guid><description>ملکی سیاسی معاملات کے بارے میں ہمارا فارمولا بڑا سادہ ہے‘ جہاں بات ڈائیلاگ کی ہو وہاں دل شاد اور جہاں معاملہ پکڑ دھکڑ اور دھن دھونس کا ہو وہاں دل ناشاد ہو جاتا ہے۔پانچ جون کو آزاد جموں و کشمیر سے خبر آئی تھی کہ وہاں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ 9 جون کو جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے پہیہ جام ہڑتال کی کال دے رکھی تھی۔ حکومتِ آزاد کشمیر کی جانب سے اس احتجاجی پروگرام کو سختی سے روکنے کا اعلان کر دیا گیا۔ اس سختی کی ابتدا بھی ہو چکی ہے اور حکومت نے کریک ڈاؤن کرتے ہوئے صرف 18گھنٹوں میں جوائنٹ کمیٹی کے 72 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس آزاد کشمیر کی ہو یا پاکستان کی‘ اسے بس اوپر کا اشارہ درکار ہوتا ہے باقی ان کے پاس بنی بنائی کہانی اور کارروائی تیار ہوتی ہے۔ آزاد کشمیر پولیس نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ارکان کے قبضے سے اسلحہ‘ مواصلاتی آلات‘ مشکوک دستاویزات اور امنِ عامہ کو متاثر کرنے والے منصوبوں کا مواد بھی برآمد کر لیا ہے۔ وفاقی وزارتِ داخلہ کی طرف سے 14 ہزار پولیس اور رینجرز اہلکار آزاد کشمیر بھیجے جا رہے ہیں۔ بقول وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فیصل ممتاز راٹھور کے‘ اب بھی ہم بیک ڈور چینل کے ذریعے جوائنٹ کمیٹی سے بات چیت کی کوشش کر رہے ہیں۔جب کبھی کشمیر کے بارے میں معلومات غیر واضح ہوں تو ہم حقیقتِ حال جاننے کیلئے ممتاز کشمیری رہنما اور سابق رکن آزاد جموں و کشمیر اسمبلی جناب عبدالرشید ترابی سے رابطہ کرتے ہیں۔ کشمیر کاز کو پاکستان اور بیرونِ پاکستان اجاگر کرنے میں ترابی صاحب گزشتہ کئی دہائیوں سے نہایت جرأت مندانہ اور اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ وہ نہایت دیانت داری کے ساتھ حالاتِ حاضرہ اور ان کا پس منظر بیان کر دیتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بلاشبہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے ماضی میں عوام کی ترجمانی کرتے ہوئے اکتوبر کی تحریک میں حکومت سے اکثر مطالبات تسلیم کروا لیے تھے تاہم کشمیری مہاجرین کی 12سیٹوں کا خاتمہ ایک دستوری معاملہ ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس کا فیصلہ عوامی تحریک کے بجائے پارلیمنٹ میں ہونا چاہیے۔ ترابی صاحب نے یہ بھی بتایا کہ چند روز پہلے وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے جولائی میں منعقد ہونے والے انتخابات کے سلسلے میں آل پارٹیز کانفرنس بلائی تھی۔ انہوں نے اس کانفرنس میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ذمہ داران کو بھی مدعو کیا تھا مگر انہوں نے اس میں شرکت نہیں کی اور پہیہ جام ہڑتال کی کال واپس لینے سے انکار کر دیا۔مہاجرین کی 12سیٹوں کا معاملہ کیا ہے؟ کشمیری معاملات پر مختلف تحقیقی اداروں کی رپورٹوں کے مطابق 1950ء کی دہائی میں آزاد جموں و کشمیر کی کوئی باقاعدہ اسمبلی نہ تھی۔ اُس وقت ایک صدر مختلف حکومتی انتظامات کے ذریعے آزاد جموں و کشمیر کے معاملات کو چلاتا تھا۔ 1960ء کی دہائی پاکستان میں ایوب خان کی بنیادی جمہوریتوں کا زمانہ تھا۔ آزاد کشمیر سٹیٹ کونسل 24ارکان پر مشتمل تھی۔ ان میں 12ممبرز پاکستان کے مختلف شہروں میں مقیم مہاجرین منتخب کرتے تھے جبکہ باقی 12ارکان آزاد جموں و کشمیر کے لوگ چنتے تھے۔ یہ نظام مختلف تبدیلیوں کے ساتھ 1960ء کی دہائی میں جاری رہا۔ 1970ء میں آزاد جموں و کشمیر ایکٹ میں ایک تبدیلی کی گئی جس کے مطابق وَن مین وَن ووٹ کے اصول کو آزاد جموں و کشمیر میں بھی تسلیم کر لیا گیا۔ 1974ء کے عبوری دستوری ایکٹ کے مطابق بننے والی اسمبلی کیلئے پاکستان کے مختلف شہروں میں مقیم کشمیری مہاجرین کیلئے بھی 12سیٹیں مختص کی گئیں۔ اب آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی 53 سیٹوں پر مشتمل ہے۔ ان میں سے 45 جنرل سیٹوں پر براہِ راست انتخاب ہونا ہے‘ 33 سیٹوں پر اے جے کے میں اور باقی 12 سیٹوں پر پاکستان میں۔ ہماری معلومات کے مطابق مہاجرین کی ان 12 میں سے دس سیٹیں پنجاب میں‘ ایک سندھ اور ایک خیبر پختونخوا میں ہے۔ خواتین کی پانچ سیٹیں‘ ٹیکنو کریٹ کی ایک‘ علماو مشائخ کی ایک اور سمندر پار کشمیریوں کی ایک سیٹ ریزرو ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کشمیری مہاجرین کی 12 سیٹیں ملک کی بڑی سیاسی پارٹیوں کے زیر اثر ہیں۔ آزاد کشمیر کے اندر تو کسی حد تک آزادانہ انتخابات ہوتے ہیں مگر مہاجرین کی سیٹوں پر ہونے والی انتخابات کی شفافیت پر ملک کے اندر ہونے والے دیگر انتخابات کی طرح سوالیہ نشان ہے۔ سردست اس انتخابی دھاندلی کے تدارک کی ضرورت ہے۔ البتہ مہاجرین کی سیٹوں کا خاتمہ کسی &#39;&#39;عوامی تحریک‘‘ کے ذریعے ایک دشوار کام ہے کیونکہ ان سیٹوں کا خاتمہ قانون ساز اسمبلی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ آزاد کشمیر صدارتی ریفرنس پر وہاں کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق مہاجرین کی بارہ سیٹوں کو دستوری تحفظ حاصل ہے۔ اس لیے ان سیٹوں کے خاتمے یا ان میں رد و بدل قانون ساز اسمبلی ہی کر سکتی ہے۔ سپریم کورٹ نے پُرامن احتجاج کا حق تسلیم کرتے ہوئے روزمرہ زندگی میں خلل ڈالنے اور بدامنی پھیلانے کے ہر پروگرام کو مسترد کر دیا ہے۔ سات جون کو راولا کوٹ میں کچھ شرپسندوں کی فائرنگ سے چار پولیس اہلکار شہید ہوگئے ۔ موجودہ صورتحال آزاد جموں و کشمیر اور پاکستان کے سیاستدانوں اور وفاقی حکومت کے ذمہ داران کی عقل و دانش اور معاملہ فہمی کا امتحان ہے۔ وفاقی وزیر پارلیمانی امورطارق فضل چودھری سے پرانی یاد اللہ ہے۔ موصوف کی کوشش معاملات سنوارنے کی ہوتی ہے بگاڑنے کی نہیں۔ یہ بھی دیکھنے کی ضرورت ہے کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی آڑ میں کون سے شرپسند سرگرم عمل ہیں۔ آزاد کشمیر میں قانونی و دستوری تقاضے کے مطابق انتخابات کا اعلان ہو چکا ہے۔ 9 جون سے 19 جون تک کاغذاتِ نامزدگی قبول کیے جائیں گے اور 27 جولائی کو انتخابات ہوں گے۔ پاکستانی انتخابات کی طرح آزاد کشمیر میں پولنگ کے دوران اور نتائج کی حسبِ خواہش ترتیب و تبدیلی تو شاید خاصی دشوار ہو گی البتہ پری پول دھاندلی اور سیاسی جوڑ توڑ شروع ہو چکا ہے۔ باخبر کشمیری سیاستدانوں کے بقول ایوانِ صدر میں پیپلز پارٹی نے اور مسلم لیگ (ن) نے وزیراعظم ہاؤس میں کشمیری مورچہ سنبھال لیا ہے اور کشمیر کے انتخابات سے حسب منشا نتائج حاصل کرنے کیلئے ہر طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرنے پر غور جاری ہے۔دو اہم نکات کی بنا پر آزاد کشمیر ایک نہایت حساس علاقہ ہے۔ پہلا نکتہ تو یہ ہے کہ آزاد کشمیر میں قانون کی بالادستی اور جمہوریت کی سربلندی ایک ایک ایسا ماڈل ہونا چاہئے کہ جسے دیکھ کر مقبوضہ کشمیر کے کشمیری یک جان دو قالب ہونے اور پاکستان کے قریب آنے کیلئے مزید بے قرار ہو جائیں اور انہیں فیصلے پے مزید اطمینان قلب حاصل ہو۔ دوسرا نکتہ یہ ہے کہ آزاد کشمیر ایک سیاحتی مقام ہے۔ گرمیوں میں وہاں ملکی و غیر ملکی سیاح بڑی تعداد میں آتے ہیں۔ سیاحت کے ساتھ آزاد کشمیر کی معیشت جڑی ہوئی ہے۔ پرامن جمہوری احتجاجی تحریک کو طاقت کے بل بوتے پر روکنے کا کلچر کسی طرح بھی مناسب نہیں۔ طاقت کا استعمال ایک اعتبار سے سیاست اور سیاستدانوں کی ناکامی کا ثبوت ہوتا ہے۔ آزاد کشمیر میں صاف شفاف انتخاب شیڈول کے مطابق ہونا چاہیے۔ تاہم تمام سیاستدانوں پر مشتمل ایک مذاکراتی ٹیم منتخب کی جائے جو جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی والوں سے مذاکرات کرے اور انہیں افہام و تفہیم کے راستے پر لائے۔ نیز یہ کمیٹی آزاد کشمیر الیکشن کمیشن کے ساتھ مل کر انتخابی عمل کو دھاندلی سے پاک رکھنے کی یقین دہانی حاصل کرے۔ بالخصوص پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کی سیٹوں پر انتخاب کو ہر دھاندلی سے محفوظ رکھے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_70033906.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>روپے کی قدرمقرر کرنے کے نقصانات(شاہد کاردار)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-kardar-/2026-06-09/52090/55309075</link><pubDate>Tue, 09 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-kardar-/2026-06-09/52090/55309075</guid><description>حالیہ برسوں میں پاکستان کی زرِ مبادلہ کی مارکیٹ میں ایک عجیب صورتحال دکھائی دی۔ روپیہ بظاہر &#39;&#39;مستحکم‘‘ نظر آیا‘ سرکاری ذخائر میں اضافہ ہوا اور ڈالر کی غیر قانونی مارکیٹ پہلے کی نسبت سکڑ گئی۔ ظاہری طور پر سب کچھ پُرسکون دکھائی دیتا ہے لیکن اس سکون کے پیچھے معیشت کمزور ہے۔ برآمدات نہیں بڑھ رہیں اور صنعتیں اعتماد کھو رہی ہیں‘ لہٰذا اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ اچھی معاشی حکمتِ عملی ہے یا صرف حکام کا چالاکی پہ مبنی کنٹرول؟پاکستان ماضی میں کم از کم چھ بار زرِ مبادلہ کی بڑی بحرانی کیفیتوں کا سامنا کر چکا ہے۔ ان تکلیف دہ تجربات کے باوجود سٹیٹ بینک اب بھی روپے کی قدر کو قابو میں رکھنے پر بہت زیادہ توجہ دے رہا ہے۔ 2023ء اور 2026ء کے درمیان حکام واقعی کرنسی کو مستحکم کرنے اور ذخائر بڑھانے میں کامیاب ہوئے لیکن یہ استحکام مضبوط معیشت یا بڑھتی ہوئی برآمدات کے باعث نہیں آیا‘ بلکہ سرکاری پابندیوں اور غیر ملکی کرنسی تک رسائی محدود کئے جانے کے نتیجے میں پیدا ہوا۔ آج پاکستان میں عملی طور پر زرِ مبادلہ کی دو مارکیٹیں موجود ہیں۔ ایک سرکاری اور دوسری غیر رسمی۔ یہ صورتحال اس لیے موجود ہے کیونکہ ملک طویل عرصہ سے روپے کی قدر کو قابو میں رکھنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ سرکاری مارکیٹ پر سٹیٹ بینک آف پاکستان کی سخت نگرانی ہے۔ وہ برآمدات اور ترسیلاتِ زر سے آنے والی غیر ملکی کرنسی کا ایک حصہ اپنے کنٹرول میں لیتا ہے اور بینکوں کو بتاتا ہے کہ وہ درآمدات کے لیے کتنی رقم (زرمبادلہ) استعمال کر سکتے ہیں۔ گاہے گاہے لیٹرز آف کریڈٹ (ایل سیز) کھولنے پر پابندیاں بھی لگائی جاتی ہیں۔ خاص طور پر اُن اشیا کیلئے جو &#39;&#39;غیر ضروری‘‘ سمجھی جاتی ہیں۔ اس سے ڈالر کی طلب کم ہو جاتی ہے اور زرمبادلہ کی شرح کو مصنوعی طور پر مستحکم رکھنے میں مدد ملتی ہے۔استحکام کا یہ تاثر اس لیے اور بھی مضبوط ہو جاتا ہے کہ ترسیلاتِ زر بڑھ رہی ہیں۔ گزشتہ دو برسوں میں بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں نے پہلے سے زیادہ رقوم ملک میں بھیجی ہیں لیکن اس کہانی کو لازماً کامیابی کی کہانی نہیں کہا جا سکتا۔ درحقیقت یہ کہانی ملکی معیشت کے مسائل کی عکاسی کرتی ہے۔ بہت سے پاکستانی ملک چھوڑ رہے ہیں کیونکہ انہیں وطن میں اچھے مواقع نہیں مل رہے۔ اسی دوران مہنگائی نے پاکستان میں خاندانوں کی زندگی زیادہ مشکل بنا دی ہے اس لیے انہیں بیرونِ ملک سے زیادہ مدد کی ضرورت ہے۔ بعض صورتوں میں وہ خاندان جو بیرونِ ملک رہ رہے تھے‘ واپس پاکستان آ گئے ہیں۔ اس وجہ سے گھر کے کمانے والے مرکزی کردار پر مالی بوجھ بڑھ گیا ہے اور اسے زیادہ رقم وطن بھیجنا پڑ رہی ہے۔ یہ ترسیلاتِ زر ملک کو سہارا تو دے رہی ہیں لیکن ان کی بنیاد معاشی مشکلات ہیں‘ معاشی ترقی نہیں۔دوسری طرف ڈالر کی طلب میں کمی آئی ہے۔ سرمائے کی بیرونِ ملک منتقل ہونے کی رفتار‘ یعنی وہ رقم جو ٹیکس چوری‘ بدعنوانی یا غیر قانونی سرگرمیوں کے باعث ملک سے باہر جاتی ہے‘ کم ہو گئی ہے کیونکہ بین الاقوامی نگرانی زیادہ سخت ہو چکی ہے۔ سمگلنگ اور درآمدات کی کم قیمت ظاہر کرنے کے رجحان میں بھی کسی حد تک کمی آئی ہے‘ جزوی طور پر اس لیے کہ کمزور معاشی صورتحال کی وجہ سے لوگوں نے اخراجات کم کر دیے ہیں۔ مہنگی گاڑیوں‘ مشہور برانڈز کی اشیا یا تعلیم اور سیاحت کیلئے بیرونِ ملک سفر میں کمی آئی ہے کیونکہ مہنگائی زیادہ ہے اور روپیہ کمزور ہوا ہے۔ اس کے بجائے پاکستان کے اندر سیاحت کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے اور لوگ مقامی یونیورسٹیوں پر زیادہ انحصار کرنے لگے ہیں۔ لیکن یہ تبدیلیاں معاشی بہتری کی نہیں معاشی سست روی کی علامات ہیں۔حکومت نے غیر ملکی اشیا کی طلب کم کرنے کیلئے درآمدی ڈیوٹیاں بھی بڑھائی ہیں (جو حال ہی میں معمولی سی کم کر دی گئی ہیں)۔ درآمدات کو مہنگا بنا کر حکومت نے ڈالروں کے ملک سے اخراج کو کم کرنے اور زرمبادلہ کی شرح پر دباؤ گھٹانے کی کوشش کی ہے‘ تاہم یہ کوئی طویل مدتی حل نہیں۔ اگرچہ اس سے وقتی طور پر درآمدات کم ہو سکتی ہیں لیکن اس سے ان مقامی کاروباروں کے اخراجات بھی بڑھ جاتے ہیں جو درآمد شدہ خام مال پر انحصار کرتے ہیں۔ اس سے پاکستانی مصنوعات کی عالمی منڈیوں میں مسابقتی اہلیت کم ہو جاتی ہے اور معیشت میں غیر مؤثر طرزِ عمل کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ اسی دوران سٹیٹ بینک نے زرمبادلہ کے کاروبار سے وابستہ افراد پر پابندیاں عائد کی ہیں اور سرکاری ادارے جیسے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) غیر رسمی مارکیٹ کو قابو میں رکھنے کیلئے چھاپے مارتے ہیں اس سے نظم وضبط کا ایک تاثر پیدا ہوتا ہے لیکن یہ نظم وضبط حقیقی معاشی اصلاحات پر مبنی نہیں۔ بعض صورتوں میں ایسی کارروائیاں بدعنوانی کو بھی جنم دے سکتی ہیں۔ مجموعی طور پر یہ نظام کمزور ہے اور اس کا انحصار مضبوط پالیسیوں کے بجائے زیادہ تر کنٹرول پر ہے۔ ان پالیسیوں کے دفاع میں سٹیٹ بینک اکثر حقیقی مؤثر زرمبادلہ شرح کا حوالہ دیتا ہے اور بعض اوقات دعویٰ کرتا ہے کہ یہ شرح ظاہر کرتی ہے کہ روپیہ اپنی اصل قدر سے کم ہے۔ تاہم موجودہ صورتحال میں یہ پیمانہ زیادہ اہمیت نہیں رکھتا۔ جب تجارت پر کچھ پابندیاں ہوں‘ درآمدات محدود ہوں اور قیمتیں مسخ شدہ ہوں تو ایسے اشاریے حقیقت کی درست عکاسی نہیں کرتے۔ اگر مارکیٹ کو آزادانہ طور پر کام کرنے دیا جائے تو روپے کی اصل قدر واضح ہو جائے گی۔ آج پاکستان کے پاس حقیقی استحکام نہیں بلکہ ایک عارضی وقفہ ہے۔ روپے کی مضبوطی زیادہ پیداوار‘ مؤثریت یا مضبوط برآمدات سے نہیں آئی بلکہ یہ مختلف پابندیوں اور غیر ملکی کرنسی تک رسائی محدود کرنے کا نتیجہ ہے۔ ایکسپورٹرز کو بڑھتے ہوئے اخراجات‘ سامان کی ترسیل میں تاخیر‘ ٹیکس واپسی میں رکاوٹوں اور خام مال کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔ اسی دوران یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ بین الاقوامی خریدار وں کا پاکستان پر ایک قابلِ اعتماد تجارتی شراکت دار کے طور پر بھروسا کم ہوا ہے۔ ملک آگے نہیں بڑھ رہا بلکہ جمود کا شکار ہے۔ اصل مسئلہ یہ نہیں کہ روپیہ اس طرح مستحکم رکھا جا سکتا ہے یا نہیں‘ اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس قسم کا استحکام معیشت کیلئے مفید ہے؟ جتنا زیادہ یہ مصنوعی نظام جاری رہے گا اتنا ہی اس کی وجہ سے صنعتوں کو نقصان پہنچے گا‘ سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہو گی اور ایک ناگزیر بحران وقتی طور پر مؤخر ہو جائے گا۔ یہ حقیقی معاشی نظم ونسق نہیں بلکہ زیادہ تر ایک دکھاوا ہے۔ اگر پاکستان حقیقی اور پائیدار معاشی استحکام چاہتا ہے تو اسے بنیادی امور پر توجہ دینا ہو گی۔غیر ملکی زرمبادلہ کی مارکیٹ کو زیادہ کھلا اور شفاف بنایا جانا چاہیے۔ ایکسپورٹرز کو حقیقی مدد درکار ہے جیسے قابلِ اعتماد اور بین الاقوامی نرخوں کی مناسبت سے بجلی اور گیس کی فراہمی‘ خام مال تک رسائی‘ بروقت ٹیکس ریفنڈز‘ بیرونی تجارت کو آسان کرنے اور فروغ دینے کیلئے بہتر تجارتی خدمات‘ مؤثر سپلائی کا نظام اور ایسے آسان اور واضح ریگولیشنز جو غیر یقینی نہ ہوں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ سٹیٹ بینک کو پابندیوں پر انحصار کرنے کے بجائے شفاف انداز میں کام کرنا چاہیے۔ زرمبادلہ کی شرح کو مستحکم کرنے کا سب سے مؤثر طریقہ مضبوط سرکاری مالیاتی نظام ہے۔ اس کا مطلب ہے غیر ضروری حکومتی اخراجات کو کم کرنا اور ایک منصفانہ اور شفاف ٹیکس نظام قائم کرنا۔ اگر حکومت اپنے فضول اخراجات پورے کرنے کیلئے قرض لینے اور نوٹ چھاپنے پر کم انحصار کرے گی تو کرنسی پر دباؤ کم ہوگا۔ مضبوط مالیاتی پوزیشن سے اعتماد پیدا ہوتا ہے‘ مہنگائی کم ہوتی ہے اور غیر ملکی کرنسی کی ضرورت کم ہو جاتی ہے۔ اس سے وقتی پابندیوں کے مقابلے میں زیادہ مستحکم اور پائیدار معیشت وجود میں آتی ہے۔ جب تک ایسی تبدیلیاں نہیں کی جاتیں‘ روپیہ ایک ایسے گھر کی مانند رہے گا جو ریت پر تعمیر کیا گیا ہو‘ اور جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ ریت زیادہ دیر اپنی جگہ پر نہیں ٹھہرتی۔ (اس مضمون میں ڈاکٹر ندیم الحق کی معاونت شامل ہے)</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_78012569.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بیساکھیوں کا مرہون منت مینڈیٹ(رشید صافی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-06-09/52091/26181383</link><pubDate>Tue, 09 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-06-09/52091/26181383</guid><description>گلگت بلتستان کے چوتھے عام انتخابات کا عمل مکمل ہو چکا ہے۔ اتوارکو ہونے والے انتخابات کے ابتدائی اور غیر حتمی نتائج نے ملکی سیاسی منظر نامے پر کسی یکطرفہ فتح کا علم بلند کرنے کے بجائے منقسم مینڈیٹ کی مہر ثبت کر دی ہے۔ اب سب سے بڑا اور کلیدی سوال یہ ابھر رہا ہے کہ بکھرے ہوئے سیاسی مہروں‘ منقسم آرا اور متضاد نظریات کے ساتھ اگلی حکومت کا تاج آخر کس کے سر سجے گا؟ اقتدار کی اس نئی بساط کو گہرائی سے پرکھنے کیلئے سب سے پہلے ایوان کی عددی ساخت اور حکومت سازی کے مروجہ فارمولے کو باریک بینی سے سمجھنا ضروری ہے۔ گلگت بلتستان کی قانون ساز اسمبلی 33نشستوں پر مشتمل ہے۔ ان 33 نشستوں میں سے 24جنرل نشستیں ہیں جن پر عوام براہِ راست اپنا حق رائے دہی استعمال کرتے ہوئے اپنے نمائندے منتخب کرتے ہیں اور یہی 24نشستیں اصل سیاسی میدانِ جنگ قرار دی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ ایوان میں خواتین کیلئے چھ نشستیں جبکہ مختلف شعبہ ہائے زندگی کے ماہرین یعنی ٹیکنوکریٹس کیلئے تین نشستیں مخصوص کی گئی ہیں‘ جو سیاسی جماعتوں کو ان کی جیتی گئی جنرل سیٹوں کے تناسب سے سونپی جاتی ہیں۔ یوں کل ملا کر یہ 33نشستیں بنتی ہیں جو اس خطے کی قسمت کا فیصلہ کرتی ہیں۔ گلگت بلتستان کی اسمبلی میں حکومت بنانے اور اقتدار کا ہما اپنے سر پر بٹھانے کیلئے مجموعی طور پر کم از کم 17ارکان کی واضح حمایت درکار ہوتی ہے۔ نشستوں کی اس منصفانہ تقسیم کے مروجہ طریقہ کار کے مطابق جنرل نشستوں کے نتائج حکومت سازی کے پورے عمل میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں‘ یعنی اگر کوئی سیاسی جماعت یا مضبوط اتحاد 24 جنرل نشستوں میں سے صرف 13نشستیں اپنے نام کرنے میں کامیاب ہو جائے تو وہ مخصوص نشستوں کی متناسب تقسیم کے بعد ایوان میں اکثریت حاصل کرنے کی مستحکم پوزیشن میں آ جاتا ہے۔ لیکن اگر کسی ایک جماعت کو عوام کی طرف سے واضح اکثریت حاصل نہ ہو پائے تو دو یا دو سے زیادہ جماعتیں اپنے اختلافات کو پس پشت ڈال کر ایک مشترکہ نظریے یا مفاد کے تحت اتحادی حکومت قائم کرتی ہیں۔ سادہ الفاظ میں یوں کہیے کہ اس 33رکنی ایوان میں جس بھی جماعت یا مختلف جماعتوں کے سیاسی اتحاد کے پاس کم از کم 17 ارکان کی عددی حمایت موجود ہو گی‘ اسے آئینی طور پر حکومت بنانے کا حق حاصل ہو جائے گا‘ جس کے بعد ایوان کے تمام منتخب اراکین کثرتِ رائے سے قائدِ ایوان یعنی وزیراعلیٰ کا انتخاب عمل میں لائیں گے جو بعد ازاں اپنے صوابدیدی اختیارات استعمال کرتے ہوئے خطے کا نظام چلانے کیلئے اپنی نئی کابینہ تشکیل دے گا۔گلگت بلتستان کی سیاسی تاریخ دیکھیں تو وفاقی حکومت نے 2009ء میں &#39;&#39;گلگت بلتستان امپاورمنٹ اینڈ سیلف گورننس آرڈر‘‘ کے اقدام کے تحت پہلی بار خطے میںصوبائی طرز کی اسمبلی‘ گورنر کا منصب اور وزارتِ اعلیٰ کا پارلیمانی نظام متعارف کرایا تھا۔یہ خصوصی آئینی و انتظامی درجہ ملنے کے بعد سے اب تک یہ گلگت بلتستان کے چوتھے عام انتخابات ہیں۔ اس خوبصورت خطے پر اب تک ملک کی تینوں بڑی سیاسی جماعتوں یعنی پاکستان پیپلز پارٹی‘ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریک انصاف کو حکومت کرنے کا موقع ملا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سید مہدی شاہ 2009ء کے پہلے عام انتخابات کے نتیجے میں اس خطے کے پہلے منتخب وزیراعلیٰ بنے تھے۔ اس کے بعد جب سیاسی ہواؤں نے رخ بدلا تو 2015ء میں مسلم لیگ (ن) کے حافظ حفیظ الرحمن نے وزارت اعلیٰ کا حلف اٹھایا۔ ان دونوں وزرائے اعلیٰ نے کٹھن حالات کے باوجود اپنی پانچ پانچ سالہ آئینی مدت پوری کی اور جمہوری تسلسل کو برقرار رکھا۔ البتہ جب پاکستان تحریک انصاف کے خالد خورشید خان 2020ء کے انتخابات کے نتیجے میں گلگت بلتستان کے تیسرے وزیراعلیٰ منتخب ہوئے تو سیاسی منظرنامہ بدلا اوروہ پانچ سالہ مدت پوری نہ کر سکے ۔ انہیں 2023ء میں جعلی ڈگری کیس میں عدالت کی طرف سے نااہل ہونے کے باعث اپنا عہدہ چھوڑنا پڑا۔ خالد خورشید خان کی اچانک نااہلی نے اس خطے میں ایک عارضی سیاسی بحران کو جنم دیا جس کے بعد پی ٹی آئی کے اندر سے ابھرنے والے ایک فارورڈ بلاک کے سرکردہ رہنما حاجی گلبر خان نے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے اشتراک سے مخلوط حکومت تشکیل دی اور نومبر 2025ء تک وزارتِ اعلیٰ کا ہما اپنے سر سجائے رکھا۔ نومبر 2025ء میں اس اسمبلی کی آئینی مدت ختم ہونے اور تحلیل ہونے کے بعد سے اب تک جسٹس (ریٹائرڈ) یار محمد خان نگران وزیراعلیٰ کے طور پر اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں اور انہی کی نگرانی میں سات جون کو گلگت بلتستان کے چوتھے عام انتخابات کا انعقاد ہوا۔گلگت بلتستان انتخابات 2026ء کے تادم تحریر موصول ہونے والے ابتدائی‘ غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج پر اگر طائرانہ نظر ڈالی جائے تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ کوئی بھی واحد سیاسی پارٹی ایوان میں اتنی سادہ اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی کہ وہ تن تنہا حکومت قائم کرنے کا دعویٰ کر سکے۔ اقتدار کی اس مسند تک پہنچنے کیلئے اب ہر جیتنے والی جماعت کی یہ مجبوری بن چکی ہے کہ وہ یا تو دیگر حریف جماعتوں کے ساتھ اتحاد قائم کرے یا پھر انتخابی دنگل میں آزاد حیثیت سے جیتنے والے مہروں کو بھاری مراعات کے عوض اپنے ساتھ ملانے کی تگ و دو کرے۔ اب تک کے موصول ہونے والے غیر حتمی نتائج کے مطابق ان 24جنرل نشستوں میں سے 10 نشستیں اپنے نام کر کے پاکستان پیپلز پارٹی سب سے بڑی اکثریتی قوت بن کر ابھری ہے جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) بہت پیچھے ہے‘ تاہم خوش آئند امر یہ ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے پیپلزپارٹی کو گلگت بلتستان میں اکثریتی پارٹی بننے پر مبارکباد پیش کی ہے۔ اس کے علاوہ پانچ نشستوں پر آزاد امیدواروں نے میدان مار لیا ہے‘ جس نے پورے انتخابی نقشے کو سنسنی خیز بنا دیا ہے۔ اگرچہ حتمی سرکاری نتائج کے باقاعدہ جاری ہونے تک ان اعداد و شمار میں معمولی ردو بدل یا تکنیکی تبدیلی کی گنجائش کو رد نہیں کیا جا سکتا مگر یہ بات اب طے ہو چکی ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے اس الیکشن میں سب سے بڑی اکثریتی جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے۔اگر آزاد امیدوار اپنا وزن پیپلزپارٹی کے پلڑے میں ڈالتے ہیں تو وہ حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہو گی۔ البتہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کو حکومت بنانے کیلئے جوڑ توڑ کی ضرورت ہوگی۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ جس مصلحت آمیز انداز میں وفاق کے اندر پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی مل کر حکومت کر رہی ہیں‘ بالکل اسی طرز اور مفاہمت پر گلگت بلتستان میں بھی حکومت سازی کا کوئی درمیانی اور قابلِ قبول فارمولا طے پا سکتا ہے۔ لیکن غور طلب امر یہ ہے کہ گلگت بلتستان کے موجودہ الیکشن ہوں یا اس سے قبل فروری 2024ء میں ہونے والے ملک کے عام قومی انتخابات‘ کوئی بھی بڑی سیاسی جماعت سادہ اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔گلگت بلتستان میں کل 400 سے زائد امیدواروں میں 272 امیدوار آزاد حیثیت سے الیکشن میں شامل تھے‘ کامیابی کے لحاظ سے آزاد امیدوار دوسری پوزیشن پر آ رہے ہیں۔ مطلب یہ کہ ووٹرز نے سیاسی جماعتوں کے بجائے بڑی تعداد میں آزاد امیدواروں پر اعتماد کیا ہے۔یہ ملک کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں کی قیادت کیلئے لمحہ فکریہ سے کم نہیں ۔ بالخصوص وہ جماعتیں جو ماضی میں بھاری اکثریت یا دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کی دعویدار ہیں۔ آخر وہ اپنے روایتی ووٹ بینک کو بچانے اور عوام کا اعتماد بحال رکھنے میں اس قدر ناکام کیوں رہی ہیں؟ </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/222_48272610.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>