<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>عالمی تیل بحران اور خدشات(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-11/11530</link><pubDate>Fri, 11 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-11/11530</guid><description>عالمی منڈی میں تیل کی قیمت ایک بار پھر سو ڈالر فی بیرل کی  حد عبور کر گئی ہے جس نے تیل کی درآمدات پر انحصار کرنیوالے ممالک بالخصوص پاکستان کی معیشت کیلئے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ دوسری طرف یمن کی حوثی ملیشیا کی جانب سے بحیرۂ احمر کے اہم ساحلی شہر مُخا پر قبضے اور پیش قدمی سے باب المندب کی بحری گزرگاہ بھی عدم تحفظ کا شکار ہوتی نظر آ رہی ہے۔ اس تناظر میں پاکستان‘ جو پہلے ہی معاشی عدم استحکام‘ افراطِ زر اور پٹرولیم بحران کا سامنا کر رہا ہے‘ اس نئی عالمی لہر کے بعد مہنگائی کے ایک نئے گرداب کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ستمبر کے پہلے عشرے میں ہی حکومت پٹرول کی قیمت میں تقریباً25روپے اور ڈیزل کی قیمت میں 22 روپے فی لٹر سے زائد کا اضافہ کر چکی ہے۔ یہ اضافہ صرف پٹرولیم مصنوعات تک ہی محدود نہیں بلکہ اس کا براہِ راست اثر ملک کے غریب اور متوسط طبقے کی جیب‘ قوتِ خرید اور روزمرہ زندگی پر پڑ ے گا۔ ٹرانسپورٹرز کی جانب سے کرایوں میں اضافے کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ مال بردار گاڑیوں پر ایندھن کا بوجھ بڑھنے سے کارخانوں کا خام مال اور دیہی علاقوں سے شہروں تک پہنچنے والی زرعی اجناس سمیت سب کچھ مہنگا ہونے کا خدشہ ہے‘ جس سے بالآخر ملک کا ہر شہری متاثر ہو سکتا ہے۔ موجودہ بحران کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت عام صارف پر دہرا بوجھ ہے۔ ایک طرف بین الاقوامی سیاسی حالات‘ مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات اور سپلائی چین میں رکاوٹیں ہیں‘ جو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو ہوا دینے کا سبب رہی ہیں۔

دوسری طرف داخلی سطح پر پٹرولیم مصنوعات پر عائد بھاری لیوی‘ ٹیکسز اور مختلف ڈیوٹیز کا بوجھ ہے جو عوام کیلئے مسائل کو بڑھانے کا باعث بن رہا ہے۔ اعداد وشمار کے مطابق اس وقت پٹرول کی فی لیٹر لاگت تقریباً 238 روپے ہے‘ تاہم اس کی قیمت فروخت 370 روپے سے زائد ہے۔یعنی پٹرول پر فی لٹر تقریباً 131 روپے جبکہ ڈیزل پر 122 روپے فی لٹر لیوی‘ ٹیکسز‘ ڈیوٹیز اور کمپنیوں اور ڈیلرز کے مارجن کی مد میں وصول کیے جا رہے ہیں۔ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں ایک تہائی سے زائد حصہ لیوی‘ ٹیکسز اور ڈیوٹیز کا ہے۔ حکومت اپنے مالیاتی خسارے اور آئی ایم ایف کے ٹیکس ہدف کو پورا کیلئے پٹرولیم لیوی کو ایک آسان ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہے لیکن اسکی قیمت عوام کو براہِ راست مہنگائی اور افراطِ زر کی صورت میں چکانا پڑتی ہے۔پاکستان جیسا ملک‘ جہاں 45 فیصد سے زائد آبادی خطِ غربت سے نیچے ہے‘ جہاں نصف کے قریب آبادی کو دو وقت کی روٹی بمشکل میسر آ پاتی ہے‘ کیا وہ پٹرول جیسی بنیادی ضرورت پر اس قدر بھاری ٹیکسزکا جواز رکھتا ہے؟ بدلتی جیو پولیٹکل صورتحال اور تیل کے سنگین ہوتے عالمی بحران کے پیش نظر اب ضروری ہو چلا ہے کہ حکومت نہ صرف پٹرولیم مصنوعات پر سے لیوی اور ٹیکسوں کا بوجھ کم کرے بلکہ غریب اور محنت کش طبقے کو مہنگائی کے اثرات سے بچانے کیلئے ٹارگٹڈ سبسڈی سکیم پر غور و خوض کرے۔
آج کے حالات میں جب ڈیزل اور پٹرول عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو رہے ہیں‘ رواں سال اپریل میں جاری کردہ پٹرول سبسڈی سکیم جیسے ریلیف اقدامات کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ حکومت کو اب اس جواز کی اوٹ سے باہر نکلنا ہو گا کہ عالمی منڈی کی قیمتیں اسکے کنٹرول میں نہیں ہیں۔ عالمی مارکیٹ بھلے اس کے دائرہِ اختیار سے باہر ہو لیکن داخلی ٹیکسوں کا نظام اور سبسڈی مکمل طور پر اسکے دستِ اختیار میں ہیں۔ عوام اس وقت شدید معاشی مشکلات کا شکار ہیں اور کاروبار بند ہو رہے ہیں۔ ان حالات میں حکومت کو عوامی ٹرانسپورٹ‘ مال بردار گاڑیوں اور موٹرسائیکل سواروں کیلئے بالخصوص ٹارگٹڈ سبسڈی کا ایک شفاف طریقہ کار وضع کرنا چاہیے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ اس بحران میں ٹیکس اہداف کے بجائے انسانی زندگیوں کے تحفظ کو اپنی اولین ترجیح بنایا جائے۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>صحت کی ناکافی سہولتیں(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-11/11529</link><pubDate>Fri, 11 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-11/11529</guid><description>ایک خبر کے مطابق پنجاب کے 33 ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں میں سے صرف دو میں ایم آر آئی کی سہولت موجود ہے۔ ڈی ایچ کیو ہسپتال ہر ضلع میں بنیادی طبی ضرورتوں کا مرکزی ادارہ ہوتا ہے‘ وہاں ایم آر آئی جیسی اہم سہولت کا فقدان صحت عامہ کے نظام میں موجود بنیادی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ ان ہسپتالوں میں ایم آر آئی کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے عام شہری کو مہنگے نجی تشخیصی مراکز سے یہ ٹیسٹ کرانا پڑتا ہے یا بڑے شہروں‘ بالخصوص لاہور کے سرکاری ہسپتالوں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ یوں نہ صرف مریض اور اسکے اہل خانہ کے سفری و علاج کے اخراجات بڑھتے ہیں بلکہ بڑے سرکاری ہسپتالوں پر غیر ضروری دباؤ بڑھتا ہے۔ حال ہی میں سرکاری ہسپتالوں میں مفت ادویات کی عدم دستیابی‘ مریضوں کے علاج سے متعلق شکایات اور طبی عملے کی کمی جیسے مسائل سامنے آئے ہیں۔

صحت کا شعبہ مجموعی طور پر زبوں حالی کا شکار ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ تمام ڈی ایچ کیو ہسپتالوں میں لازمی طبی سہولتوں کی فراہمی یقینی بنائے۔ ایم آر آئی‘ سی ٹی سکین اور ایمرجنسی سہولتوں کیساتھ دل‘ کینسر‘ فالج‘ گردوں اور دیگر سنگین امراض کیلئے جہاں ضرورت ہو خصوصی یونٹس قائم کیے جائیں۔ صحت کا حقیقی معیار صرف ہسپتالوں کی عمارتیں کھڑی کرنا نہیں بلکہ تمام طبی سہولتوں کی فراہمی سے طے ہوتا ہے تاکہ ہر شہری کو بروقت تشخیص اور معیاری علاج کی سہولتیں اپنے ضلع میں میسر آ سکیں۔ حکومت کو صحت کے شعبے میں اسی بنیادی اصول کو اپنی ترجیح بنانا چاہیے۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کراچی، جرائم بے قابو(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-11/11528</link><pubDate>Fri, 11 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-11/11528</guid><description>کراچی میں سٹریٹ کرائمز کی بڑھتی ہوئی شرح صوبائی حکومت اور متعلقہ اداروں کی فوری توجہ کی متقاضی ہے۔ ایک خبر کے مطابق اگست کے دوران شہر قائد میں قتل کے 44‘ موٹر سائیکل چوری اور چھیننے کے 3180‘ گاڑی چوری کے 140‘ موبائل فون چھیننے کے 1884 اور بھتہ خوری کے آٹھ واقعات رپورٹ ہوئے۔ اس حساب سے کراچی میں اگست کے دوران روزانہ اوسطاً 102سے زائد شہری موٹر سائیکل اور 60 سے زائد موبائل فون سے محروم ہوئے۔ پہلے ہی بے ہنگم آبادی‘ بنیادی سہولتوں کی کمی اور شہری مسائل سے دوچار کراچی میں اگر جان و مال کا تحفظ بھی یقینی نہ ہو تو شہری زندگی مزید مشکل ہو جاتی ہے۔ کراچی محض ملک کا سب سے بڑا شہر نہیں بلکہ معاشی سرگرمیوں کا مرکز بھی ہے۔

بندرگاہوں‘ صنعت‘ تجارت اور کاروباری سرگرمیوں کے باعث ملکی معیشت میں اس شہر کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ عالمی سطح پر بھی پاکستان کے کاروباری ماحول اور سرمایہ کاری کے امکانات کا جائزہ لیتے وقت کراچی کی صورتحال خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔ لہٰذا صوبائی حکومت‘ کراچی کی ضلعی انتظامیہ‘ پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کو اس مسئلے پر باہمی تعاون سے ایک جامع حکمت عملی ترتیب دینی چاہیے۔ اس ضمن میں سیف سٹی نظام کو مؤثر‘ فعال اور نتیجہ خیز بنانا ہوگا تاکہ روشنیوں کے شہر کے باسی خوف کے بجائے اعتماد کیساتھ زندگی گزار سکیں۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>اب ہم روتے کیوں ہیں؟(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-09-11/52640/93680556</link><pubDate>Fri, 11 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-09-11/52640/93680556</guid><description>لاہور میں سینئر تجزیہ کار مجیب الرحمن شامی صاحب کے گھر ہمیشہ غیرمعمولی مہمان نوازی ہوتی ہے۔ مجھے بھی دو تین مواقع پر ان محفلوں میں شرکت کا موقع ملا‘ جہاں مہمان نوازی کا خوب لطف لیا وہیں بہت اعلیٰ قسم کی گفتگو بھی سننے کو ملی۔ بہت کم لوگ رہ گئے ہیں جو اپنے گھر پر محفلیں سجا کر یار دوستوں کو بلاتے ہیں‘ جہاں کھلی گپ شپ ہوتی ہے اور بہت کچھ سیکھنے کو ملتاہے۔ اسلام آباد میں ایسی محفلیں سجانے والے اب نہیں رہے۔ہمارے پیارے دوست ارشد شریف بہت مہمان نواز تھے۔ ہر ویک اینڈ پر دوستوں کی محفل سجانا ان کا شغل تھا۔ ڈاکٹر ظفر الطاف تو روز لنچ پر محفل سجاتے تھے اور اگر دس بارہ سے کم مہمان ہوتے تو انہیں کھانا ہضم نہ ہوتا تھا۔ ان کے ہاں اور ہی کلاس کے لوگوں سے ملاقات ہوتی تھی‘ اور میں نے وہاں سے بہت فیض پایا۔ پھر ہمارے سینیٹر انور بیگ تھے جو شہر کی سوشل لائف کی جان تھے۔ سفارتکاروں سے ان کے تعلقات تھے اور ہر ہفتے گھر پر کوئی نہ کوئی پارٹی ہوتی اور اسلام آباد کا Who is Who موجود ہوتا۔ میرے یہ تینوں عزیز دوست سب رونقیں‘ محفلیں اور دوستیاں اپنے ساتھ لے گئے۔ شاید اگلے جہان میں بھی یہ محفلیں سجاتے ہوں مگر ہمارے جیسے ان کے بغیر اداس اور تنہا ہیں۔ اسلام آباد اب اجنبی اور اجاڑ سا لگتا ہے۔ ہاں! میجر عامر نے پختونوں کی مہمان نوازی کی روایات کا بھرم رکھا ہوا ہے اور ان کے ہاں بھی مہمان نوازی کا اپنا لیول ہے۔ آج کل وہ عمرہ پر گئے ہوئے ہیں۔ قبل ازیں وہ بیمار تھے‘ کچھ ان کے خاندانی صدمات‘ لہٰذا بڑے دنوں سے ان سے بھی نہیں مل پایا۔کچھ دن پہلے برادرحفیظ اللہ نیازی کا فون آیا کہ مشتاق صاحب امریکہ سے آئے ہوئے ہیں‘ فارم ہاؤس پر لنچ ہے‘ کچھ دوست آ رہے ہیں‘ آپ نے بھی آنا ہے۔ میں نے کچھ کہنے کی کوشش کی کہ اسلام آباد سے لاہور اور وہ بھی لنچ کیلئے‘ اوپر سے اسی روز میرا لائیو ٹی وی شو بھی ہے۔ وہ بولے: تمہیں لوکیشن بھیج رہا ہوں‘ کل دوپہر 12:45 پر پہنچ جانا۔ میں ہیلو ہیلو کرتا رہ گیا۔ کچھ دیر بعد لوکیشن آ گئی۔ میں سر پکڑ کر بیٹھ گیا کہ اب کیا کروں۔ کرنا کیا تھا‘ اگلے روز ساڑھے بارہ بجے لوکیشن پر پہنچ گیا۔ چونکہ ابھی پندرہ منٹ باقی تھے‘ لہٰذا ایک قریبی عمارت کے سائے میں گاڑی کھڑی کی تاکہ چند منٹ یہیں گزار کر جاؤں۔ اسی دوران ایک گارڈ آیا اور کہا کہ جس عمارت کے سائے میں آپ گاڑی میں بیٹھے ہیں‘ یہ گرلز ہاسٹل ہے۔ شکر ہے کسی نے پہچان نہیں لیا! ورنہ خوب باتیں ہوتیں کہ اس صحافی کے کام چیک کریں‘ اسلام آباد سے چلا اور لاہور میں گرلز ہاسٹل کے باہر گاڑی میں بیٹھا &#39;&#39;کسی‘‘ کا انتظار کر رہا ہے۔ آج کل ہر کسی کے ہاتھ میں موبائل فون ہے‘ بس نکالا اور کلپ ریکارڈ کر کے چڑھا دیا سوشل میڈیا پر کہ دیکھیں اسلام آباد کا اینکر لاہور میں گرلز ہاسٹل کے باہر پُراسرار سرگرمیوں میں ملوث پایا گیا۔ خیر گارڈ سے معذرت کی اور گاڑی آگے بڑھا دی۔ یہ نتیجہ تھا وقت سے پہلے پہنچنے کا!جب فارم ہائوس پر پہنچا تو نیازی صاحب غائب اور اندر صرف مشتاق بھائی اور خالد بھائی موجود تھے۔ خیر وہاں لمبی محفل اور زبردست مہمان نوازی ہماری منتظر تھی۔ مجیب الرحمن شامی صاحب نے حسبِ روایت خوبصورت گفتگو کی اور ان کے بلند قہقہے محفل کو گرماتے رہے۔ کہیں کہیں سنجیدہ گفتگو کا تڑکا بھی لگا دیتے۔ اخوت کے ڈاکٹر امجد ثاقب‘ جو دل و جان سے محنت اور کام کرنے والے بندے ہیں‘ بھی مدعو تھے۔ وہ ملک کے بہترین لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے دوسروں کے بچوں کا مستقبل بہتر بنانے کیلئے بہت کام اور محنت کی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان میں جن چند لوگوں نے عوامی بھلائی اور فلاح کیلئے بہترین کام کیا ہے‘ ان میں امجد ثاقب بہت نمایاں ہیں۔ عثمان بزدار کے دور میں ان کا ایک مشیر ڈاکٹر صاحب کے خلاف کیس تیار کرنے کی کوششوں میں لگا ہوا تھا۔ ہم چند صحافیوں کو اسلام آباد میں بریفنگ دی گئی کہ یہ بھی غلط کام ہوا‘ فلاں کام بھی غلط ہوا۔ وہ انہیں فکس کرنا چاہتا تھا۔ میں کافی دیر تک سنتا رہا اور پھر کہا کہ امجد ثاقب صاحب نے اس ملک کے غریبوں کیلئے بہت کچھ کیا ہے۔ اگر صوبائی یا وفاقی حکومتوں نے ان کی تنظیم کو فنڈنگ کی ہے اور اب آڈٹ رپورٹ کے بقول کچھ ضائع ہوا ہے تو اتنا مارجن دے دیا کریں۔ آپ کے بابوز اور سیاستدانوں نے تو اتنی اَنی مچائی ہوئی ہے کہ اصل فنڈز کا صرف پندرہ فیصد ہی عام آدمی تک پہنچتا ہے اور باقی وہ آپس میں مل بانٹ کر کھا جاتے ہیں۔ ڈاکٹر امجد ثاقب بہت بڑی تنظیم چلا رہے ہیں جس میں سینکڑوں لوگ کام کرتے ہیں‘ اگر کچھ ایسا ہے جس کا آڈٹ رپورٹ میں ذکر ہوا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ اس تنظیم کے سارے کاموں کو برا کہہ کر نشانے پر رکھ لیں۔ اگر ہر ایک کو ان باتوں پر لٹکانا شروع کر دیا تو کون اس معاشرے میں کام کرے گا؟ ان کے قرضوں کی ریکوری کا ریٹ سب سے زیادہ ہے‘ وہ لوگوں کو بلاسود اور محض شخصی ضمانت پر قرض دے کر ان کی زندگیاں بہتر بنا رہے ہیں۔ میری چند منٹ کی &#39;دانشوری‘ سے وہ کچھ قائل ہو گئے۔ میرا اُن صاحب سے ذاتی تعلق بھی اچھا تھا لہٰذا درخواست کی کہ ایسے کام نہ کریں۔ ان کی مہربانی کہ مقدمہ وغیرہ قائم نہ ہوا۔ڈاکٹر امجد ثاقب شکایت کر رہے تھے کہ میڈیا اچھے کاموں کی تشہیر نہیں کرتا اور تادیر بہت سارے اچھے کام‘ جو پنجاب حکومت کے تعاون سے ہو رہے ہیں‘ وہ ان کی تفصیلات سناتے رہے جو واقعی قابلِ ستائش ہیں۔ میں نے کہاکہ اب ہر شخص ایک میڈیا اونر ہے۔ آپ چینلز یا وی لاگرز کے محتاج کیوں ہیں؟ اپنی الگ سے سوشل میڈیا ٹیم بنائیں جو ٹویٹر‘ فیس بک اور انسٹا گرام پر کلپ بنا کر شیئر کیا کرے۔ وہ بتانے لگے کہ ان کا یہ شعبہ بھی کام کر رہا ہے۔ اس محفل سے اور بھی بہت کچھ سیکھنے اور سمجھنے کو ملا۔اس کے علاوہ ایک محفل مجیب الرحمن شامی صاحب نے لاہور میں سجائی جس میں مولانا فضل الرحمن بھی شریک ہوئے۔ مولانا صاحب نے وہاں بہت ساری باتیں کیں اور ایک بات نے سب کو چونکا دیا۔ اس بات کے راوی ہمارے سینئر اینکر دوست فواد احمد ہیں‘ جو وہاں موجود تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ مولانا صاحب نے بتایا کہ ان کے علاقے‘ ڈیرہ اسماعیل خان میں حکومتی رِٹ نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔ رات کو طالبان کا راج ہوتا ہے‘ اب تو وہ بھتہ بھی لیتے ہیں اور مولانا صاحب کے عزیزوں سے بھی بھتہ مانگتے ہیں۔ یہ وہ بات ہے جس پر سب کو چونک جانا چاہیے۔پاکستان میں جن کو طالبان کا گاڈ فادر سمجھا جاتا تھا‘ ان میں جنرل نصیراللہ بابر کے بعد مولانا فضل الرحمن ہی تھے۔ مولانا سمیع الحق بھی اس فہرست میں شامل تھے کہ بیشتر طالبان ان کے مدرسے کے شاگرد رہے۔ جب طالبان افغانستان میں یہی ظلم و ستم کر رہے تھے تو ہم انہیں حق پر سمجھتے تھے‘ اب جب وہ اپنے پرانے سرپرستوں سے بھتہ مانگ رہے ہیں تو وہ ریاست سے شکایت کر رہے ہیں کہ رِٹ ختم ہوگئی ہے۔ مجھے یاد ہے کہ انگریزی اخباروں کی چند خواتین کالم نگار یہ کہہ کر افغان طالبان کا دفاع کرتی تھیں کہ وہ ہماری سٹرٹیجک گہرائی کا حصہ ہیں۔ جب طالبان سوات پہنچے تو وہ خواتین اسلام آباد میں ان کے خلاف مارچ میں شریک تھیں۔ ہمیں طالبان سے کبھی مسئلہ نہیں رہا۔ جب تک وہ افغانستان میں بربادی کرتے رہے‘ ہم نے انہیں ہر قسم کی سپورٹ دی۔ اب بھی ہماری شکایت بس یہ ہے کہ وہ یہ سب کچھ ہمارے ہاں نہ کریں۔ مولانا صاحب کو اب احساس ہوا ہے جب ان کا اپنا علاقہ غیر محفوظ ہوا ہے‘ ورنہ طالبان تو یہ کام برسوں سے کر رہے ہیں اور تب سب ان کی حمایت کرتے تھے‘ پھر بھلا اب ہم کیوں روتے ہیں؟</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کرے کوئی بھرے کوئی!(رسول بخش رئیس)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-09-11/52641/36866828</link><pubDate>Fri, 11 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-09-11/52641/36866828</guid><description>اس زمانے میں جب اہلِ اقتدار اور ان کے حواریوں سے اختلاف کرنا آسان نہیں رہا‘ ایک گزارش تہہ دل سے کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔ خبریں پڑھ کر پہلے سے اداس دل مزید اداس ہو گیا ہے۔ سمجھ نہیں آتی کہ ایسے بے رحمانہ فیصلے کون اور کہاں بیٹھ کر کرتا ہے کہ ان تمام افغان طالب علموں کو‘ جو ہمارے میڈیکل کالجز اور یونیورسٹیوں میں پڑھ رہے ہیں‘ فوراً ملک بدر کر کے طالبان کے افغانستان بھیج دیا جائے۔ نہیں معلوم کہ ان کی تعداد کتنی ہے‘ سینکڑوں میں تو ضرور ہو گی۔ یہ ناگوار خبر پڑھ کر میرا دھیان فوراً نصف صدی قبل اپنے طالب علمی کے دور کی طرف چلا گیا۔ سوچتا ہوں کہ اگر امریکہ اور پاکستان کے تعلقات‘ جو تب اتنے دوستانہ نہیں رہے تھے اور ہمارے اوپر ہر نوع کی پابندیاں تھیں‘ کے نتیجے میں امریکی صدر یہ حکم دیتا کہ سب پاکستانیوں کو امریکی جامعات سے نکال باہر کیا جائے اور انہیں اپنے ملک روانہ کر دیا جائے تو اپنے اوپر کیا بیتتی۔ معلوم تو ایسا ہوتا ہے کہ میڈیکل کے شعبے کے یہ طلبہ مہاجر خاندانوں میں سے ہیں‘ جو یہیں پیدا ہوئے‘ یہیں بڑے ہوئے اور ہمارے ہی تعلیمی اداروں میں اچھی کارکردگی کی بنا پر میڈیکل کالجز میں داخل ہوئے۔ ہو سکتا ہے کہ وہاں طالبان کی یلغار اور قبضے کے بعد جو صورتحال بنی‘ اس سے بچنے کیلئے لاکھوں میں جو افغان ہمارے ملک میں آئے‘ وہ ان میں سے ہوں۔ افغانستان کے رہنے والے بھی کابل میں ہمارے سفارتخانے کے ذریعے ہزاروں کی تعداد میں پاکستانی تعلیمی اداروں میں تعلیم کی غرض سے آتے رہے ہیں۔ اب اچانک ایسا فیصلہ کرتے ہوئے ان بچوں اور بچیوں کو پیشہ ورانہ تعلیم پوری کرنے سے محروم کرنا ایک غیرمعمولی فیصلہ ہے۔ ان طلبہ کا نہ طالبان سے کوئی تعلق ہے نہ ہی کسی سیاسی کشمکش سے۔دنیا میں کئی ممالک ہیں جن کے درمیان جنگیں ہوئیں‘ باہمی تعلقات تلخ رہے مگر کم ہی ایسے ہوں گے جنہوں نے دشمن ملک پر غصے کو اپنے ملک کے تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم طالب علموں پر نکالا ہو۔ طالبان کی پالیسیوں کی وجہ سے ہمارے اس ملک سے تعلقات بہت کشیدہ ہیں۔ یہ درست ہے کہ ان کی نگرانی اور اعانت میں وہاں دہشت گردوں کے اڈے قائم ہیں‘ جو آئے روز ہمارے ملک کے اندر حملے کرتے رہتے ہیں۔ افغانستان کے اندر جا کر بھی ہم نے ان کے ٹھکانوں کو کئی بار نشانہ بنایا ہے اور آئندہ بھی ایسا ہو گا۔ ملک کی سلامتی اور علاقائی استحکام کے پیشِ نظر یہ سب کچھ درست ہے۔ طالبان رجیم دنیا کی واحد عبوری حکومت ہے جو چھ سال سے جاری ہے‘ اور دنیا کے کسی ملک نے اسے باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا۔ اس پر ہر طرف سے پابندیاں ہیں‘ سوائے چین اور روس کی طرف سے کچھ تجارت کے۔ باہر کے راستے ہم نے اور ایران نے ان کیلئے بند کر رکھے ہیں‘ اور یہ بند ہی رہیں گے‘ جب تک وہ دہشت گردوں کی پشت پناہی سے تائب ہو کر ایک نارمل حکومت کے نارمل کارندے کے طور پر دنیا کے سامنے خود کو ثابت نہیں کرتے۔ صرف ہم نہیں بلکہ پورا مغرب اور مشرق‘ جنوب و شمال انہیں ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ یہاں کچھ دیگر اس نوعیت کی مملکتیں ہیں جہاں بزور طاقت اقتدار پر قبضہ جما کر مذہبی اور نظریاتی ریاست قائم ہے۔ حکمران جو بھی ظلم اپنے شہریوں سے کرتے رہیں‘ وہ بے بسی سے سہتے رہتے ہیں۔ سب کو معلوم ہے کہ افغانستان میں پانچویں جماعت کے بعد بچیوں کی تعلیم پر پابندی ہے۔ جامعات اور میڈیکل کالجز بند ہیں‘ ان میں درس و تدریس کیلئے آئے تعلیم یافتہ اساتذہ اب ملک چھوڑ کر کہیں اور جا کر آباد ہو گئے ہیں۔ اس وقت افغانستان کے حکمران وہاں کے باشندوں کیلئے بے شمار مصائب اور مشکلات کا موجب ہیں۔ جب تک وہ طاقت میں ہیں ان کی رجعت پسندی‘ قبائلی اور ہٹ دھرم قیادت افغانوں پر ظلم کے پہاڑ ڈھاتی رہے گی۔ دنیا خاموش تماشائی ہے اور ساتھ ہی طالبان کو کمزور کرنے اور سزا دینے کیلئے اقتصادی‘ تجارتی اور دیگر پابندیاں لگا کر سب افغانوں کو سزا دے رہی ہے۔ ہم بھی ایسا ہی کر رہے ہیں‘ مگر اس سزا کا دائرہ میڈیکل اور دیگر شعبوں کے افغان طلبہ تک پھیلانا مناسب معلوم نہیں ہوتا۔یاد رکھیں! تاریخ تو بدلتی رہتی ہے‘ اور سب سے زیادہ اور تیزی سے اگر کسی ملک کی تاریخ بدلی ہے‘ اور وہ بھی ہماری سرحدوں کے ساتھ‘ تو وہ افغانستان ہے۔ ایک دن ضرور آئے گا‘ کچھ کہہ نہیں سکتے کہ کب‘ جب ایسے لوگ وہاں تختِ کابل پر براجمان رہیں گے اور نہ ہی قندھار ان کی پناہ گاہ ہو گا۔ وہاں سے خبریں آ رہی ہیں کہ افغان متحدہ محاذ نے کارروائیاں کرنا شروع کر دی ہیں۔ میں تو افغان شہریوں کو کسی ملک سے زبردستی نکالنے کو بھی قابلِ اعتراض خیال کرتا ہوں‘ مگر ان بیچارے سٹوڈنٹس کا کیریئر قلم کی نوک سے چند سطریں لکھ کر یوں برباد کرنا انسانی قدروں کی پامالی سے کم نہیں۔ خدانخواستہ‘ اگر ہم نکال کر انہیں طالبان کے افغانستان میں دھکیل بھی دیں تو اکثریت کہیں نہ کہیں اپنی تعلیم مکمل کر ہی لے گی۔ اب خود سوچیں کہ ان کے دلوں میں ہمارے ملک کیلئے کتنی محبت رہ جائے گی؟ ہمیں افغانستان کے بارے میں ایسے فیصلے کرنے سے گریز کرنا چاہیے جس سے انسانی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہو جائے‘ خصوصاً جس سے وہاں کے جدید اور پیشہ ور علوم کے طالب علموں کا مستقبل تاریک ہونے کا خدشہ ہو۔ افغانستان بھی رہے گا‘ ہم بھی اور ہماری آبادیاں بھی‘ اور ہمارے تاریخی اور ثقافتی رشتے بھی۔ ایسا کام کم از کم ہم کیوں کریں کہ جوان نسل کے دل میں ہمارے خلاف نفرت کے بیج بو دیے جائیں؟ ایسے ہنگامی فیصلوں کے برعکس ہم نے دیکھا ہے کہ ریاست ہمسایہ ممالک کے طالب علموں کو رعایتی سہولتیں‘ جیسے سکالرشپ دے کر ترجیحی بنیادوں پر اپنے تعلیمی اداروں میں جگہ دیتی ہے۔ اسے کہتے ہیں ثقافتی سفارت کاری۔گزشتہ برسوں میں طالبان حکومت کی بے رحمانہ پالیسیوں اور دہشت گردوں کی حمایت کے ردِعمل میں ہم نے ایسے فیصلے کرنے سے گریز نہیں کیا جس کی زد میں عام افغان آتے ہیں۔ اس بارے میں جس احتیاط اور تدبر کی ضرورت تھی‘ وہ ہماری حکومت نے نہیں دکھائی۔ مجھے نہیں معلوم کہ یہ غیر ضروری فیصلہ واپس ہو سکتا ہے یا نہیں‘ مگر طالبان حکومت کی پالیسی کی سطح پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ ان کا جبر و قہر افغانوں پر اسی طرح قائم رہے گا۔ ایسے میں میڈیکل کے سٹوڈنٹس کو نکال کر ان کی نفرت کو ہم مزید بڑھنے کا موقع دینے کے علاوہ کچھ اور حاصل نہیں کر سکیں گے۔ ہم بڑا ملک ہیں اور ہمارے وسائل بھی محدود نہیں۔ مسائل اگر ہیں تو وہ ہمارے حکمرانوں کی بے قاعدگیوں کی وجہ سے ہیں۔ ہم افغانستان کے طالبان حکمرانوں کی دہشت گردوں سے چاہت کے باوجود اپنا دل بڑا رکھنے کی گنجائش رکھتے ہیں۔ ان کی طرف سے ہماری ریاست اور معاشرے کے خلاف کھلی اور خفیہ جنگ ایک المیہ ہے‘ جس سے کسی کو انکار ہے اور نہ ہی کوئی ایسا پاکستانی ہے جس کا دل زخمی نہ ہو کہ ہزاروں کی تعداد میں ہمارے عام لوگ‘ پولیس اور سب سے بڑھ کر فوج کے جوان شہید اور زخمی ہوئے ہیں اور اب بھی خطرات کی زد میں ہیں۔ افغان سٹوڈنٹس اور ان کی اپنے اداروں میں تعلیم کو طالبان کیساتھ جوڑنا اور انہیں صرف افغان ہونے کی بنیاد پر ایسے ناگوار حالات سے دوچار کرنا دور رس حکمتِ عملی نہیں ہے۔ طالبان کے ہاتھوں افغانستان کے لوگ سخت مشکلات کا شکار ہیں۔ یہ سب گزشتہ پچاس سال کی جنگوں کے نتائج ہیں جن میں کچھ نہ کچھ ہمارا بھی ہاتھ رہا ہے۔ نہ وہ سرد جنگ‘ بڑی طاقتوں کا کھیل ہوتا‘ نہ ہماری فرنٹ لائن ہوتی‘ اور نہ ہی آج افغانستان پر طالبان کا غلبہ ہوتا۔ ان کی زیادتیوں کے برعکس ہمیں انسانی اقدار‘ ہمسائیگی‘ اچھے سلوک اور خیرسگالی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ اسے مستقبل کی معاشرتی سرمایہ کاری کہتے ہیں۔ افغان طلبہ کو نکال کر ہم نے اپنا سرمایہ دائو پر لگا دیا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_33241568.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>یہودی آبادکاروں کے خلاف برطانیہ کا اقدام(ڈاکٹر رشید احمد خاں)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr-rasheed-ahmad-khan/2026-09-11/52642/16288919</link><pubDate>Fri, 11 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr-rasheed-ahmad-khan/2026-09-11/52642/16288919</guid><description>برطانیہ نے دریائے اردن کے مغربی کنارے پر آباد فلسطینیوں کی نسل کشی کے الزام پر یہودی آباد کاروں پر اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے منگل کے روز پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں &#39;ہاؤس آف کامنز‘ میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری نظروں کے سامنے مغربی کنارے پر رہنے والے فلسطینیوں کو یہودی آبادکار بدترین تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں‘ حکومت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ یہودی آبادکاروں کی یہ دہشت گردی صریح نسل کشی ہے اور سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ اسرائیلی حکومت نے نہ صرف اس ظلم سے آنکھیں بند کر رکھی ہیں بلکہ اس جرم میں برابر کی شریک ہے‘ کیونکہ حکام ایسے واقعات کو نہ صرف نظر انداز کرتے ہیں بلکہ موقع پر پہنچ کر غیر قانونی اور غیر انسانی کارروائیوں میں یہودی آبادکاروں کا ساتھ دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ناانصافی پر ہم خاموش نہیں رہ سکتے‘ اس لیے برطانیہ مغربی کنارے پر غیر قانونی بستیوں میں رہنے والے یہودی آبادکاروں کی تیار کردہ اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کر رہا ہے۔ ان پابندیوں کا اطلاق ان تمام افراد اور اداروں پر ہوگا جو مغربی کنارے پر نئی غیر قانونی یہودی بستیوں کی تعمیر میں مالی یا دیگر قسم کی مدد فراہم کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی برطانوی وزیر خارجہ نے کہا کہ حکومت واضح کر دینا چاہتی ہے کہ ان کی نظر میں دریائے اردن کے مغربی کنارے‘ جہاں تیس لاکھ کے قریب فلسطینی آباد ہیں‘ پر اسرائیلی قبضہ غیر قانونی ہے اور یہ کہ مشرقِ وسطیٰ کے بنیادی مسئلے کا حل یہودیوں اور فلسطینیوں کیلئے دو علیحدہ اور الگ الگ‘ مگر آزاد اور خودمختار ریاستوں کے قیام میں مضمر ہے۔ برطانوی وزیر خارجہ نے یہ بھی اعلان کیا کہ یورپی یونین میں شامل دیگر ممالک بھی برطانیہ کے ساتھ مل کر ان جرائم میں ملوث انتہا پسند یہودی آبادکاروں کے خلاف پابندیاں نافذ کریں گے۔ برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم نے بھی وزیر خارجہ کے بیان کی تائید کرتے ہوئے مغربی کنارے کے انتہاپسند یہودی آبادکاروں کے خلاف اقتصادی پابندیوں کی حمایت کی۔ پارلیمنٹ میں بیان دیتے ہوئے انہوں نے کہا &#39;&#39;جب لوگوں کو زبردستی اُنکے گھروں سے بے دخل کیا جا رہا ہو‘ انہیں بلاوجہ ہراساں کیا جا رہا ہو تو ہم ہمیشہ مظلوم کیساتھ کھڑے ہوں گے اور انکی مدد میں ہر ممکن قدم اٹھائیں گے‘‘۔ تاریخ کی ستم ظریفی دیکھیے کہ وہی برطانیہ جس نے 1917ء میں بالفور معاہدہ کر کے فلسطین میں یہودی آباد کاروں کیلئے دروازے کھول کر 1948ء میں غیر قانونی صہیونی ریاست کے قیام کی راہ ہموار کی تھی اور تاریخ کی سب سے بڑی ناانصافی کا ارتکاب کیا تھا‘ اس ملک کا وزیراعظم آج اپنی پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر انصاف کا ساتھ دینے کا اعلان کر رہا ہے۔ اسے کہتے ہیں قومی اور صرف قومی مفادات کی جنگ۔ 1917ء میں فلسطین میں ایک یہودی &#39;&#39;نیشنل ہوم‘‘ کے قیام کے حق میں بالفور ڈیکلریشن جاری کرنے سے بہت پہلے برطانیہ مشرقِ وسطیٰ اور اس سے آگے ہندوستان اور مشرقی افریقہ میں اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے نئے اڈے کے قیام کا فیصلہ کر چکا تھا‘ کیونکہ مصر میں وفد پارٹی کی سربراہی میں عرب قوم پرستی کی ابھرتی لہر کے سامنے اسکے قدم اکھڑ چکے تھے۔ فلسطین اُس وقت سلطنتِ عثمانیہ کا حصہ تھا۔ پہلی عالمی جنگ میں ترکی نے اتحادی طاقتوں (برطانیہ اور فرانس) کیخلاف جرمنی کا ساتھ دیا تھا۔ اس جنگ میں ترکی کو شکست سے برطانیہ کو یہودیوں کی مدد کیساتھ فلسطین پر قبضہ کرنے کا موقع مل گیا‘ جسے بعد میں لیگ آف نیشنز کے مینڈیٹ میں تبدیل کر دیا گیا۔ یہ مینڈیٹ مئی 1948ء تک جاری رہا۔ مینڈیٹ کے اس 30 سالہ (1918ء تا 1948ء) عرصے کے دوران برطانوی حکومت نے ہر وہ اقدام کیا جسکے نتیجے میں کُل آبادی کا ایک تہائی سے بھی کم ہونے کے باوجود یہودیوں کو فلسطینی علاقے میں اپنی ریاست قائم کرنے کا موقع ملا۔ اب 100 سال سے بھی زیادہ عرصہ گزر جانے کے بعد برطانیہ کو فلسطین میں ظلم وناانصافی کے وہ مناظر دکھائی دے رہے ہیں جن سے عربوں کے علاوہ یہودی دانشوروں نے بھی برطانیہ اور صہیونیوں کو متنبہ کیا تھا۔برطانیہ میں اس وقت لیبر پارٹی کی حکومت ہے۔ لیبر پارٹی کو کنزرویٹو پارٹی کے مقابلے میں اسرائیل کا زیادہ حامی سمجھا جاتا ہے۔ تاہم لیبر پارٹی کے موجودہ وزیراعظم نے نہ صرف غزہ بلکہ مغربی کنارے پر آباد فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم کی کھل کر مخالفت کرتے ہوئے انہیں &#39;&#39;نسل کشی‘‘ کے مترادف قرار دیا بلکہ انہیں روکنے کیلئے صہیونی آبادکاروں پر اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ برطانیہ کے علاوہ دیگر یورپی ممالک اور کینیڈا نے بھی برطانیہ کا ساتھ دیتے ہوئے فلسطینیوں پر حملہ آور مغربی کنارے کے یہودی آبادکاروں پر دباؤ ڈالنے کیلئے اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ البتہ امریکہ نے اس عمل میں شامل ہونے سے انکار کر دیا ہے۔ اسلئے یہ معلوم کرنا دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا کہ برطانیہ‘ کینیڈا اور یورپی یونین کے دیگر ممالک یہ اقدامات کرنے پر کیوں سرگرم نظر آتے ہیں؟ اس کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ایک یہ کہ اکتوبر 2023ء سے اسرائیل نے غزہ میں اور انتہاپسند یہودی آبادکاروں کی مدد سے مغربی کنارے پر فلسطینیوں کے خلاف ظلم‘ ناانصافی اور بربریت کی ایسی داستانیں رقم کی ہیں کہ پوری دنیا میں اسرائیل کی مذمت کی جا رہی ہے۔ برطانیہ‘ فرانس‘ جرمنی اور اٹلی میں لاکھوں افراد پر مشتمل احتجاجی جلوسوں میں اسرائیل سے تجارتی روابط ختم اور ہتھیاروں کی سپلائی بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ احتجاجی جلوسوں اور جلسوں کا یہ سلسلہ تاحال جاری ہے اور یورپ کے بعد ان ممالک کی حکومتوں‘ خصوصاً برطانیہ اور جرمنی‘ جو اسرائیل کو ہتھیاروں کی سپلائی جاری رکھے ہوئے ہیں‘ پر اس پالیسی پر نظرثانی کرنے کیلئے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ اسرائیل کو بے لگام چھوڑ کر یورپی ممالک مشرقِ وسطیٰ اور اس سے آگے جنوب اور جنوب مشرقی ایشیا میں سرمایہ کاری اور تجارت کی صورت میں صدیوں سے موجود اپنے اثاثہ جات کو خطرے میں نہیں ڈال سکتے۔ مشرقِ وسطیٰ کیساتھ امریکہ کا براہِ راست عسکری اور اقتصادی تعلق تو تیل کی دریافت کے بعد شروع ہوا مگر یورپی ممالک کے مشرقِ وسطیٰ کیساتھ تعلقات کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے۔ حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وسط انیسویں صدی کی منرو ڈاکٹرائن (1823ء) کو اپنے خارجہ تعلقات کا جس طرح سے دوبارہ محور بنایا ہے اور اپنے ہمسایہ ممالک مثلاً کینیڈا کو بھی بھاری ٹیرف کا نشانہ بنایا ہے‘ متبادل تجارتی پارٹنرز کی تلاش میں اب یورپ کیلئے مشرقِ وسطیٰ اور اس سے آگے جنوب اور جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک کی اہمیت میں اضافہ ہو گیا ہے۔مغربی کنارے اور غزہ میں گزشتہ تقریباً تین برسوں سے بنیادی انسانی قوانین کی خلاف ورزی بلکہ کھلے عام نسل کشی اور قتلِ عام کا ارتکاب ایک ایسا جرم ہے جس پر کوئی انسان خاموش نہیں رہ سکتا۔ برطانیہ سے پہلے اقوامِ متحدہ کا انسانی حقوق کا ادارہ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل وغیرہ اپنی رپورٹس میں غزہ اور مغربی کنارے کی تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال پر تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔ ان رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ان تمام غیر قانونی اور غیر انسانی اقدامات کے پیچھے اسرائیل کا یہ منصوبہ ہے کہ عربوں پر فلسطین کی زمین تنگ کر کے اور غیر قانونی یہودی آبادکاروں کی تعداد بڑھا کر خطے میں فلسطینی ریاست کے قیام کا امکان یکسر ختم کر دیا جائے۔ اسرائیلی وزیر خزانہ بیزلیل سموٹرچ اوسلو معاہدے کے تحت دو ریاستی حل کو ختم کرنے کا اعلان کر چکے ہیں۔ ان حالات میں برطانیہ کی طرف سے دو ریاستی حل کی مکمل حمایت اور انتہا پسند یہودی آبادکاروں پر اقتصادی پابندیوں کا اعلان ایک خوش آئند اقدام ہے‘ جس کا بشمول پاکستان آٹھ مسلم ممالک نے خیرمقدم کیا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90264263.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>خود ساختہ مشیرانِ اعلیٰ(اسد طاہر جپہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/asad-tahir-jappa-/2026-09-11/52643/80536200</link><pubDate>Fri, 11 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/asad-tahir-jappa-/2026-09-11/52643/80536200</guid><description>وطن عزیز میں مہنگائی کے طوفان کے باوجود دو چیزیں اب بھی بالکل مفت ہیں۔ ایک آکسیجن‘ اور دوسرا مشورہ۔ فرق صرف اتنا ہے کہ آکسیجن رب العالمین کی طرف سے عطا کیا گیا انعام ہے اور زندگی کی ضمانت ہے جبکہ مفت مشورہ ہمارے ارد گرد موجود لوگوں کی طرف سے لیا گیا از خود نوٹس ہے جو ہم سے پوچھے بغیر لیا جاتا ہے اور جس کا مقصد ہماری بہتری نہیں بربادی ہوتا ہے۔ ہمارا معاشرہ ایک ایسا بازار ہے جہاں ہر شخص پیدائشی ڈاکٹر بھی ہے‘ انجینئر بھی‘ مفتی بھی‘ معاشی ماہر بھی‘ مستند حکیم بھی‘ ماہرِ نفسیات بھی اور کرکٹ اور فٹ بال کا کوچ بھی۔ ہاں‘ بس ڈگری نہیں ہے اور ڈگری کی ضرورت بھی نہیں کیونکہ مشورہ دینے کیلئے قابلیت نہیں‘ محض فراغت درکار ہوتی ہے اور دوسروں کے معاملات میں ٹانگ اڑانے کیلئے ہمارے پاس بہت وقت ہے۔ ہر دوسرا شخص اپنی مہارت اور تجربات کے بنیاد پر مشیر سے ترقی پا کر مشیر اعلیٰ کے درجے پر فائز ہو چکا ہے۔ البتہ مشیران کی کئی اقسام اور درجے موجود ہیں۔ روزمرہ زندگی میں آپ کا ان سب سے ضرور واسطہ پڑا ہو گا۔سب سے پہلے خاندانی مشیر اعلیٰ کا ذکر لازم ہے جو دراصل ہر خاندان میں چاچے‘ ماموں اور دیگر صورتوں میں موجود ہوتا ہے۔ وہ ہر شادی‘ فوتیدگی‘ کاروبار اور تعلیم کے معاملے میں مع مشورہ موجود ہوتا ہے۔ اس لیے آپ جب بھی کچھ کرنا شروع کریں گے تو وہ علم و حکمت سے بھری زبنیل آپ کے سامنے ضرور کھولے گا۔ آپ نے ابھی بی اے میں داخلہ لینے کا سوچا ہی ہو گا کہ وہ کہیں گے بیٹا انجینئرنگ کرو‘ آگے اس کا بہت سکوپ ہے۔ آپ نے کاروبار کا ارادہ کیا تو فوراً اعلان جاری ہو گا کہ ملکی معیشت کا برا حال ہے‘ مارکیٹ میں مندے کا رجحان چل رہا ہے اس لیے چند ماہ میں آپ کا کاروبار بند ہو جائے گا‘ اس سے بہتر ہے نوکری کر لو۔ ہر مفت مشورے کیلئے اس کے پاس سند کا صرف ایک جملہ ہے کہ میں نے دنیا دیکھی ہے! حالانکہ عملی طور پر شاید اس نے ساتھ والا گاؤں بھی نہ دیکھا ہو۔ البتہ یہ ممکن ہے کہ وہ دنیا کو چشمِ باطن سے دیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہو اور یہ راز لوگوں پر عیاں نہ ہو پایا ہو۔ مشیرِ اعلیٰ کی دوسری قسم فیس بکی ماہرین کی ہے۔ یہ حضرات صبح نو بجے گڈ مارننگ کی پوسٹ لگا کر دن کا آغاز کرتے ہیں اور رات نو بجے غزہ کی خارجہ پالیسی پر آٹھ پیراگراف کا تجزیہ جھاڑ رہے ہوتے ہیں۔ آپ نے انہیں اپنی بیماری بتائیں تو گوگل سے نسخہ پیش کرتے ہیں کہ ادرک اور شہد پی لیں‘ اس سے کینسر بھی ٹھیک ہو جاتا ہے۔ مشیر اعلیٰ کی تیسری قسم نفسیاتی ڈاکٹر کہلاتی ہے جس کی نمائندگی محلے کی آنٹیاں کرتی ہیں۔ آپ پچیس برس کی عمر میں کنوارے ہیں تو یہ ان کا مسئلہ ہے۔ اٹھائیس برس میں شادی کر لی تو اتنی جلدی کس بات کی؟ پہلے کیریئر مستحکم کریں‘ شادی تو ہو ہی جاتی ہے؟ شادی کے بعد بچہ پیدا نہیں ہوا تو یہ ان مشیران اعلیٰ کیلئے بڑا سنگین مسئلہ ہے۔ ایک بچہ پیدا کیا تو کہا جاتا ہے اکلوتا خراب ہو جائے گا‘ مزید کوشش جاری رکھیں۔ اگر تواتر کے ساتھ دو بچے پیدا کر لیے تو کہہ دیتے ہیں کہ ان کے پاس تو آبادی بڑھانے کے علاوہ اور کوئی کام نہیں۔ ان کا واحد مشن آپ کے ہر فیصلے میں سے کیڑے نکالنا اور پھر اپنے پلّے سے آپ کی زندگی میں نئے کیڑے ڈالنا ہے۔ چوتھی قسم کاروباری گرو کی ہے۔ غالب امکان اس بات کا ہے کہ انہوں نے خود کبھی کوئی کاروبار نہیں کیا ہو اور زندگی میں ان کی اپنی ایک دکان بھی نہ چلی ہو۔ اگر آپ ریسٹورنٹ کھولیں تو وہ بتائیں گے مینو غلط ہے‘ لوکیشن ٹھیک نہیں‘ سٹاف چور ہے۔ اگر نوکری کریں تو کہیں گے آپ خوا ہ مخواہ غلامی کر رہے ہو‘ اپنا کام کرو۔ اور اگر اپنا کام کریں تو فوراً کہیں گے اس میں رِسک بہت ہے‘ سرکاری نوکری بہتر تھی۔ حاصلِ کلام یہ کہ آپ جو بھی کریں ان کی نظر میں غلط ہے۔مشیران کی پانچویں قسم مذہبی ٹھیکیدار ہیں۔ آپ کوئی اچھا عمل کریں تو ان کی نظر میں نمائش ہے۔ اپنی نیکیوں کو ظاہر کریں تو ریاکاری اور پوشیدہ رکھیں تو آپ دین سے دور ہیں۔ حج کیا تو دکھاوا ہے‘ نہ کیا تو فرض چھوڑ دیا۔ مسجد میں نماز پڑھنے چلے جائیں تو آپ کے ننگے سر ہونے پر اعتراض کر دیں گے۔ نماز کے بعد یہ مشیران آپ کو ایسے عمل کے مضمرات اور دوزخ کے عذاب سے ڈرانے کی ذمہ داری بھی ضرور سرانجام دیں گے۔ گویا جنت اور دوزخ کا داخلی دروازہ انہی کے پاس ہے۔ مشیران کی چھٹی قسم خاموش قاتل ہے‘ اس صف میں ساس‘ نند اور بھابھی وغیرہ شامل ہیں۔ یہ ڈائریکٹ مشورہ نہیں دیتیں‘ طنز کے نشتر چلاتی ہیں۔ ان کا طریقۂ واردات کچھ یوں ہوتا ہے کہ بہو نے آج سالن میں بہت نمک ڈال دیا ہے‘ خیر کوئی بات نہیں! نئی نئی ہے۔ چائے میں دودھ کم اور پانی ذرا زیادہ ڈال دیا ہے جس سے چائے کا وہ مزہ نہیں آیا جس طرح کی چائے میں خود بناتی ہوں۔ ہم تو اپنے کچن کو ہمیشہ صاف شفاف رکھتے ہیں مگر اب ہر وقت گندے برتنوں کا ڈھیر لگا رہتا ہے۔ آج کل کی لڑکیاں ان چیزوں پر کہاں دھیان دیتی ہیں کیونکہ انہیں اپنے موبائل فون سے ہی فرصت نہیں ملتی۔ ان تمام تر تندو تیز جملوں کا مطلب صاف اور مقصد واضح ہوتا ہے کہ بہو کو یہ باور کرایا جائے تم ایک ناکام اور نااہل عورت ہو۔ مشیران اعلیٰ کی آخری قسم پیشہ ور نقاد کی ہے جو ہر کامیاب کہانی کا جنازہ پڑھتے ہیں۔ آپ نے کہا یوٹیوب چینل شروع کیا ہے تو جواب آئے گا پاکستان میں بھلا کون دیکھتا ہے۔ سی ایس ایس کی تیاری کا ذکر کیا تو فوراً فرمائیں گے کہ میاں یہاں سیٹیں پہلے ہی بِک جاتی ہیں‘ یہ سارا ڈھونگ فضول ہے‘ آپ اپنا وقت مت برباد کریں۔ ان کا مقصد صرف ایک ہے‘ آپ کا حوصلہ پست کرنا اور اس امکان کو رد کرنا کہ کہیں آپ کامیاب ہو کر ان سے آگے نہ نکل جائیں۔  مگر سب سے اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم مفت مشورہ دیتے کیوں ہیں؟ اس سوال کے پیچھے تین نفسیاتی محرکات کارفرما ہیں۔ سب سے اولین تو فراغت ہے۔ ہمارے ہاں بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جن کے پاس کرنے کو کوئی کام نہیں۔ وہ دوسروں کے معاملات میں مداخلت کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ لوگوں کی ذاتی زندگی سے لے کر ملکی معیشت اور عالمی سطح کے حالاتِ حاضرہ پر تبصرے اور جائزے ان کا پسندیدہ مشغلہ بن جاتا ہے۔ فلاں کا بیٹا کیا کر رہا ہے‘ فلاں کی شادی کیوں نہیں ہو رہی اور فلاں کی بیٹی کو طلاق کیوں ہو گئی‘ یہ سوالات ان کی گفتگو کا محور و مرکز ہوتے ہیں۔ دراصل جب دماغ خالی ہو اور کثیر وقت عام میسر ہو تو وہ دوسروں کے معاملات سے بھر جاتا ہے۔ دوسری بڑی وجہ برتری کا احساس ہے۔ مشورہ دینے سے انسان کو وقتی تسکین ملتی ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ میں تم سے زیادہ سمجھدار ہوں۔ اگر آپ ناکام ہو جائیں تو وہ سینہ تان کر کہہ سکے گا کہ میں نے پہلے ہی کہا تھا۔ یہ بغیر محنت کے بڑا بننے کا سستا طریقہ ہے۔ تیسری بڑی وجہ حسد کا زہر ہے۔ آپ ترقی کر رہے ہیں تو حاسد کو تکلیف ہوتی ہے۔ وہ براہِ راست روک نہیں سکتا لہٰذا مفت مشورے کی آڑ میں روڑے اٹکاتا ہے۔ رِسک نہ لو کا مطلب ہوتا ہے کہ کہیں تم کامیاب نہ ہو جائو۔ لوگ کیا کہیں گے کا مطلب ہوتا ہے کہ درحقیقت میں خود اندر جل رہا ہوں۔ آخر میں ان تمام مشیرانِ اعلیٰ کی خدمت میں ایک مفت مشورہ میں بھی دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ اگر آپ دوسروں کی زندگیوں میں بے جا مداخلت کے بجائے اس سے آدھا وقت اپنے معاملات کی درستی پر صرف کر لیں تو آپ کی زندگی گلزار بن جائے اور یقینی طور پر دوسروں کی بھی‘ جن کی زندگی میں آپ ٹانگ اڑاتے رہتے ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_34710710.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کرپشن کے خلاف مہم(آصف عفان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/asif-afan-/2026-09-11/52644/90505289</link><pubDate>Fri, 11 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/asif-afan-/2026-09-11/52644/90505289</guid><description>صوبوں کی تقسیم پر سبھی سٹیک ہولڈرز اپنے اپنے محاذ پر نہ صرف ڈٹے ہوئے ہیں بلکہ لفظی گولہ باری بھی برابر جاری ہے۔ وزیر باتدبیر نے تو حتمی اعلامیہ جاری کر ڈالا ہے کہ ان کی نوکری رہے نہ رہے صوبوں کی تقسیم ہو کر رہے گی۔ جبکہ اردوان‘ صادق خان اور ممدانی کے ساشے پیک بھی مارکیٹ میں آ گئے ہیں۔ ادھر فریال تالپور نے ارکانِ سندھ اسمبلی کو روزِ محشر بینظیر بھٹو کو جوابدہی سے ڈراتے ہوئے باور کرایا ہے کہ قیامت کے دن محترمہ نے اگر گریبان پکڑ کر پوچھ لیا تو کیا جواب دو گے۔ گویا رنگین اور سنگین صورتحال پر خوب دانشوری کے علاوہ دور کی کوڑیاں بھی لائی جا رہی ہیں۔ ایک کوڑی کے مطابق صوبوں کا منصوبہ غیرمنظم لانچنگ کی وجہ سے قبل از وقت ہی متنازع بن چکا ہے یعنی لوہار کا ہتھوڑا مارنے سے کہیں بہتر تھا کہ سنار کی نازک ہتھوڑی مستعار لے آتے‘ رائے عامہ ہموار کرنے کیلئے عجلت کے بجائے سافٹ انٹری ڈالی جا سکتی تھی‘ لیکن جلد بازی کی موجودہ پالیسی نے اہداف کو دھندلا سا کر ڈالا ہے۔ دبے اختلافات زبان پر آکر کہیں للکار بن چکے ہیں تو کہیں صاف انکار سے گریزاں آئیں بائیں شائیں کرتے اور ڈنگ ٹپاتے نظر آرہے ہیں۔ملک بھر کے وسیع و عریض صوبائی راج واڑوں میں ان سبھی کی جان اس طرح اَٹکی ہوئی ہے کہ تقسیم کا تصور ہی حکمرانوں کی نیندیں اڑائے ہوئے ہے۔ کوئی بے چینی اور بوکھلاہٹ کمال مہارت سے چھپائے اداکاری کرتا نظر آرہا ہے تو کوئی ضبط کی حدیں پار کرتے ہوئے جوش میں ہوش گنوائے ہوئے ہے جبکہ پریشانی سب کی یکساں ہے۔ پیپلز پارٹی سندھ کے ایوانوں سے لے کر روزمرہ بیانوں تک مزاحمت پر آمادہ ہے تو مسلم لیگ(ن) صاف چھپتے بھی نہیں اور سامنے آتے بھی نہیں کے مصداق محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ البتہ سینیٹر رانا ثناء اللہ کوئی نادر موقع ضائع نہیں کرتے اور اکثر ٹاک شوز میں کریز سے نکل کر چوکا چھکا لگا ڈالتے ہیں۔ وزیر باتدبیر کا یہ کہنا معنی خیز سے کہیں زیادہ تعجب خیز ہے کہ میں اب پیچھے نہیں ہٹوں گا۔ سمجھنے والے سمجھ گئے اور جو نہ سمجھے وہ اَناڑی ہے۔ایک طرف ملک میں نظام کی تباہی اور طرزِ حکمرانی پر کڑے سوال اٹھتے چلے جا رہے ہیں‘ دوسری طرف تختِ پنجاب نے کرپشن کے خلاف گرینڈ آپریشن شروع کر ڈالا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب زیرو ٹالرنس کے ساتھ کرپشن کو جڑ سے اکھاڑنے کا ٹاسک دے چکی ہیں۔ ہنرمندانِ انسدادِ بدعنوانی و رشوت ستانی میدانِ عمل میں آ چکے ہیں۔ آئے روز کہیں رنگے ہاتھوں پکڑے جا رہے ہیں تو کہیں مخبری اور نشاندہی پر۔ حکومتی چیمپئنز کی طے شدہ پالیسی کے تحت ہونے والی ان سبھی کارروائیوں کی جمع تفریق کریں تو کرپٹ سرکاری ملازمین کا دائرہ سپاہی سے ہوتا ہوا تھوڑا اوپر تک جاتا ہے تو دوسری طرف پٹواری اور کلرکوں سے ہوتا ہوا ماتحت افسران کے گرد ہی گھومتا ہے۔ گویا ایک خاص سطح سے اوپر کرپشن کا گمان خارج از امکان تصور کیا جا رہا ہے؛ یعنی سبھی بڑے بابو افسر شاہی کے ٹائٹل کے ساتھ نہ صرف شاداں اور محفوظ ہیں بلکہ کرپشن کے خلاف ہراول دستہ بھی بنے ہوئے ہیں۔کرپشن کے خلاف حالیہ کارروائیوں کے بارے میں رنگ برنگی باتیں سامنے آرہی ہیں جبکہ ہنی ٹریپ کے الزامات بھی برملا لگائے جا رہے ہیں۔ پولیس نے بھی دھکے سے رشوت دینے والے کو نہ صرف دھر لیا ہے بلکہ مقدمہ بھی درج ہو چکا ہے۔ ناکوں اور پٹرولنگ کے دوران عوام کو ہراساں اور پریشان کر کے عوام سے چائے پانی طلب کرنے والے ہوں یا تھانوں میں داد رسی اور من چاہی تفتیش کے نام پر رشوت لینے والے‘ دیگر سرکاری محکموں میں فائلوں کو پہیے لگانے کے نام پر جیبیں بھرنے والے ہوں یا روزمرّہ کے جائز کاموں کو روک کر سائلین کی جیبیں کاٹنے والے‘ جہاں یہ سب قابلِ مذمت اور باعثِ شرم ہیں وہاں ان سبھی کے اعلیٰ افسران کی نگرانی اور گورننس بھی کٹہرے میں کھڑی نظر آتی ہے۔ یہ کیسی افسر شاہی ہے جو اپنی ناک کے نیچے ہونے والی لوٹ مار اور مار دھاڑ سے بے خبر اور بے نیاز رہتی ہے۔ دوسری طرف یہ معمہ ہمیشہ حل طلب رہا ہے کہ قصبوں اور دیہات سمیت چھوٹے بڑے شہروں کی کم مایہ بستیوں سے نکل کر افسر شاہی کا حصہ بننے والے بابوؤں کا ہوشربا حال ان کے ماضی (بشمول سماجی و مالی پس منظر) سے منہ چڑانے کے باوجود احتسابی اداروں اور کرتا دھرتائوں کو دکھائی کیوں نہیں دیتا؟ یہ سوال بھی جواب کی تلاش میں زمانوں سے بھٹک رہا ہے کہ مقابلے کا امتحان پاس کر کے میدانِ عمل میں آنے والے چند افراد ابتدائی چند برسوں میں ہی مالامال کیسے ہو جاتے ہیں؟ ان کا رہن سہن ہو یا تام جھام اور ٹھاٹ باٹ‘ بچوں کی مہنگی ترین تعلیم سے لے کر سیر و تفریح اور غیر ملکی دورے تک‘ یہ سب دستیاب وسائل اور تنخواہ میں کیونکر ممکن ہیں۔ پرتگال سمیت دیگر ممالک میں شہریت لے کر مال اسباب منتقل کرنے کے قصے کیونکر زبان زدِ عام ہیں۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے تو اسمبلی کے فلور پر جوشِ خطابت میں ان بابوؤں کے سبھی پرچے آؤٹ کر ڈالے تھے لیکن حکومتی ایوانوں سمیت احتسابی ادارے کونے جھانک کر ہی رہ گئے۔ وزیر دفاع نے ان کے کالے دھن اور غیر ملکی شہریت کے کچے چٹھے کھول ڈالے تھے جبکہ درجنوں بابو تو غیر ملکی زوجیت کے چکر میں مملکتِ خداداد کی قومی سلامتی سے متصادم ایڈونچر بھی کر چکے ہیں لیکن مجال ہے کہ کسی ذمہ دار کے کان پر جوں بھی رینگی ہو۔ انسدادِ کرپشن پر مامور بڑے صاحبان سے التماس ہے کہ جانے مانے اور نامی گرامی اہداف خوف اور بے چینی کے بجائے پُرسکون اور اطمینان سے کیوں پھر رہے ہیں؟ یعنی ایک قلمدان خوف کی علامت ہے تو دوسرے قلمدان کے کرتے دھرتے کڑے سوالات اور سنگین الزامات کے باوجود محض اس لیے بے نیاز دکھائی دیتے ہیں کہ سر پر چھتر چھایا قائم ہے۔ گویا بڑی چھتری کے تلے کرپشن کا تصور بھی محال ہے۔ اس تھوڑ ے کو زیادہ اور خط کو تار سمجھیں۔ دوسری طرف آئی جی پنجاب نے میڈم چیف منسٹر کے وژن سے ترغیب پکڑے ہوئے پولیس میں انٹرنل اکاؤنٹیبلٹی کے شعبے کی تنظیم نو کا فیصلہ کرتے ہوئے افسران کے خلاف شکایت پر شفاف اور خودمختار احتساب کا عندیہ دیا ہے۔ آئی جی پنجاب کی نیت اور ارادہ بجا! لیکن یہ سوال تقویت پکڑتا دکھائی دیتا ہے کہ زیرو ٹالرنس کی تلوار تلے صوبے بھر کے تفتیشی افسران چالانوں کی مد میں بھاری نذرانے کس فنڈ سے ادا کریں گے جبکہ مقدمات کی تفتیش کے اخراجات کیلئے بھی سینٹرل پولیس آفس بس ٹوکن اور برائے نام ہی مالی معاونت کرتا ہے۔ رائج طریقہ کار کے مطابق مذکورہ اخراجات کا بوجھ ہمیشہ سے سائل کی جیب پر ڈالا جاتا ہے وہ بھلے مدعی ہو یا ملزم۔ یاد رہے! پنجاب بھر میں لاکھوں مقدمات کے تفتیشی چالانوں کا سالانہ نذرانہ اربوں کھربوں تک جا پہنچتا ہے اور عدم ادائیگی کی صورت میں پراسیکیوشن کا محکمہ چالان وصول کرنے کے بجائے الٹا تفتیشی کے گلے میں طوق بنا کر ڈال دیتا ہے۔ جبری کرپشن کا یہ دروازہ جب تک کھلا ہے پولیس میں احتساب اور انصاف محض بیانوں اور اجلاس میں ہی دکھائی اور سنائی دے گا‘ یعنی کرپشن واحد آپشن۔ ویسے تھانوں کی تزئین وآرائش پر خرچ ہونے والی رقومات کا بھی فرانزک آڈٹ کرائیں تو انٹرنل اکاؤنٹیبلیٹی کو ٹیسٹ کیس میسر آسکتا ہے۔ نہ مانے تو کر کے دیکھ۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_65560900.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>راستہ اور رہنما(امیر حمزہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ameer-hamza/2026-09-11/52645/52029532</link><pubDate>Fri, 11 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ameer-hamza/2026-09-11/52645/52029532</guid><description>اللہ تعالیٰ کی حکمت اور قدرت کہ میری زندگی کا پہلا غیر ملکی سفر ایران کا تھا‘ یہ اس لیے بھی تھا کہ میں نے اپنے شہر ننکانہ کی بلدیاتی لائبریری میں &#39;&#39;تاریخِ ایران‘‘ پڑھ رکھی تھی۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ پڑوسی ملک ہونے کی وجہ سے اخراجات کم تھے؛ چنانچہ آج سے کوئی 35 سال قبل زمینی راستے سے ایران پہنچ گیا۔ دنیا گھومنے کا شوق تھا۔ &#39;&#39;اصفہان نصف جہان‘‘ کا تاریخی خاکہ ذہن میں تھا۔ حضرت سلمان فارسیؓ کا وہ سفر دل ودماغ میں نقش تھا جس کا آغاز اصفہان سے ہوا تھا۔ امام احمد بن حنبل‘ ابن ہشام اور امام بیہقی حضرت سلمان فارسیؓ کا جو واقعہ اپنی کتابوں میں لائے ہیں وہ ایک سچے راہبر کی تلاش کا واقعہ ہے۔ یہ راہِ حق کی تلاش کا واقعہ ہے۔ بے لوث رہنما کو ڈھونڈنے کی ایک لازوال داستان ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے حضرت سلمان فارسیؓ کا ایمان افروز واقعہ تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ اختصار کچھ یوں ہے کہ اصفہان کی ایک نواحی بستی میں حضرت سلمان فارسیؓ کا والد کاشتکاری کرتا تھا۔ فرماتے ہیں کہ میرا والد مجھ سے بے پناہ محبت کرتا تھا‘ جس طرح جوانی چڑھتی دوشیزہ کو سنبھال کر گھر میں رکھا جاتا ہے‘ میرا والد اس طرح مجھے اپنی نگاہوں سے دور نہ ہونے دیتا تھا۔ میں اپنے مجوسی مذہب کی پیروی میں آگ کو جلائے رکھتا تھا۔ میرے والد نے تعمیرات کا کام شروع کیا تو میری ذمہ داری اُن ملازمین پر لگا دی گئی جو کھیتی باڑی کر رہے تھے۔ میں پہلے دن اپنی زرعی زمین کی جانب گیا تو راستے میں گرجے کے پاس سے گزرتے ہوئے کچھ آوازیں سنیں۔ لوگوں سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ یہ نصرانی لوگ ہیں‘ یہ اپنی عبادت کر رہے ہیں۔ میں اندر گیا تو ان کی عبادت کا طریقہ اچھا لگا۔ دعائوں کا انداز خوب لگا۔ شام تک میں یہیں بیٹھا رہا۔ اس دوران میرا باپ مجھے تلاش کرتا رہا۔ جب رات کو گھر گیا تو باپ نے پوچھا کہ سارا دن کہاں گزارا؟ میں نے تفصیل بتا دی اور کہا کہ ان کا دین ہمارے دین سے بہتر ہے۔ باپ نے نفی میں جواب دیا۔ میں نے عرض کی کہ اللہ کی قسم! ہمارا دین انکے دین سے بہتر نہیں ہے۔ یہ لوگ اللہ ہی کی عبادت کرتے ہیں‘ اسی سے دعائیں مانگتے ہیں‘ اسی کیلئے نماز ادا کرتے ہیں جبکہ ہم لوگ آگ کی عبادت کرتے ہیں‘ اپنے ہاتھ سے آگ روشن کرتے ہیں اور جب اسے چھوڑ دیتے ہیں تو وہ مر (بجھ) جاتی ہے۔ میری یہ گفتگو باپ نے سنی تو مجھ سے ڈر گیا کہ یہ اپنے دین پر نہیں رہے گا۔ اس نے میرے پائوں میں لوہے کی بیڑیاں ڈال دیں اور گھر میں ہی قید کر دیا۔ میں نے نصاریٰ کی طرف پیغام بھیجا کہ جس دین پر میں نے تمہیں دیکھا وہ کہاں ملے گا؟ جواب آیا کہ مُلکِ شام میں ملے گا۔ پھر پیغام رسانی سے طے ہوا کہ جب کوئی تجارتی قافلہ شام کیلئے آیا تو ہم اطلاع کردیں گے۔ جب وہ وقت آیا تو میں نے زنجیریں توڑیں اور تاجروں کے قافلے کیساتھ شام پہنچ گیا۔ جس شہر میں پڑائو کیا وہاں کے لوگوں سے پوچھا کہ آپ مسیحی لوگوں کا سب سے بڑا روحانی عالم کہاں ملے گا؟ اسے اُسقف (بشپ) کہا جاتا تھا۔ میں انکے بتانے پر اُس عالم کے گرجے میں چلا گیا اور اس کیساتھ خادم بن کر رہنے لگا۔اس کیساتھ رہتے ہوئے چند سال گزرے تو معلوم ہوا کہ یہ تو بدترین انسان ہے‘ یہ لوگوں سے صدقے اور خیرات کا مال اکٹھا کرتا ہے مگر مسکینوں اور ضرورتمندوں پر خرچ نہیں کرتا۔ لوگوں کی نگاہوں میں یہ خیرخواہ اور مقدس انسان جب فوت ہوا تو لوگ اس کی تدفین کو جمع ہوئے۔ میں نے اس نام نہاد عالم کی حقیقت انہیں بتلائی تو انہوں نے ثبوت مانگا۔ میں نے سونے چاندی سے بھری سات عدد بوریاں ان کے سامنے رکھ دیں۔ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! اس کو ہم دفن نہیں کریں گے۔ انہوں نے اس کی لاش کو لکڑی کی سولی پر نصب کیا اور پتھروں سے مارا۔ قارئین کرام! راہ حق کے متلاشی کا کردار ملاحظہ ہو کہ نوجوان کے دل میں یہ بوریاں کیا داخل ہونا تھیں‘ یہ تو اس کے ہاتھوں میں ہو کر بھی کوسوں دور تھیں۔ جی ہاں! جو دنیا کے مال کی بوریاں چھوڑ کر چلا گیا اس جیسے لوگوں کا تذکرہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کیا۔ مومنوں کو مخاطب کرکے انتباہ کیا۔ فرمایا: اے ایمان والو! بہت سارے عالم اور درویش لوگوں کا مال فریب کارانہ طریقوں سے کھاتے ہیں‘ اللہ کی راہ سے اپنے (غلط کردار کی وجہ سے) لوگوں کو روکنے کا باعث بنتے ہیں‘ یہ لوگ جو سونا چاندی کو خزانہ بنا لیتے ہیں‘ اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے‘ (میرے رسول!) ایسے لوگوں کو دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دو۔ وہ دن (آنے والا ہے) کہ جہنم کی آگ میں اس خزانے کو تپایا جائے گا اور ان کی پیشانیوں‘ پہلوئوں اور کمروں کو داغا جائے گا‘ (کہا جائے گا) یہ ہے وہ جسے خزانہ بنا کر تم لوگ جمع کرتے تھے‘ (اب) اپنے جمع کیے ہوئے خزانوں کا مزہ چکھو‘‘ (التوبہ: 34 تا 35)۔ مطلب یہ کہ معمولی سا مال خرچ کرتے تھے اور باقی ہڑپ کر جاتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو زندگی میں توبہ کی توفیق عطا فرمائے۔واقعے کو اب اختصار سے بیان کرتے ہیں۔ حضرت سلمان فارسیؓ بتاتے ہیں کہ مذکورہ راہب کی جگہ جس راہب نے سنبھالی وہ انتہائی نیک اور دیانتدار تھا۔ یہ مقدس بزرگ جب فوت ہونے لگا تو اس نے اپنے نوجوان شاگرد یعنی حضرت سلمانؓ کو موصل شہر کے ایک بزرگ کے بارے میں بتلایا۔ یہ بھی بہت اللہ والے تھے۔ وہ فوت ہونے لگے تو نصیبین کے نیک عالم اور بزرگ کے بارے بتایا۔ یہ صاحبِ کردار بزرگ فوت ہونے لگے تو انہوں نے عموریہ کے بزرگ کے بارے میں بتایا۔ عموریہ کے نیک بزرگ فوت ہونے لگے تو انہوں نے بائبل کی روشنی میں بتایا کہ اب آخری نبی کی تشریف آوری کا زمانہ قریب ہے‘ وہ نبی حرم (مکی) میں پیدا ہوں گے اور جس زمین کی طرف ہجرت کریں گے وہ دو حروں کے درمیان ہے‘ زمین ویران (بنجر) ہو گی مگر کھجوروں کے درختوں سے معمور ہو گی۔ بزرگ نے بتایا کہ اس نبی کی نشانی یہ ہے کہ انکے دونوں کندھوں کے درمیان مُہر نبوت ہو گی۔ وہ ہدیہ کھائیں گے مگر صدقہ نہیں کھائیں گے۔ حضرت سلمان فارسیؓ اب آخری نبی کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔ ختم المرسلینﷺ تک پہنچنے کی راہیں کٹھن ہو گئیں۔ انہیں غلام بنا لیا گیا اور غلامی در غلامی میں بکتے ہوئے آخرکار مدینہ پہنچ ہی گئے مگر ابھی ایک یہودی کی غلامی میں تھے۔ کھجور کے درخت پر کھجوریں توڑتے ہوئے حضورﷺ کی مدینہ آمد کا سنا تو اس قدر خوش ہوئے کہ گرتے ہوئے گھنی شاخوں میں اٹک گئے۔ نیچے یہودی مالک کھڑا تھا‘ اس نے طمانچہ دے مارا۔ آمدِ مصطفیﷺ کی خبر پہ غلام کی مسرت ناقابلِ بیان تھی۔ حضرت سلمانؓ کھجوریں لے کر حضورﷺ کی خدمت میں پہنچے اور عرض کی کہ یہ صدقہ لایا ہوں۔ حضورﷺ نے ساتھیوں کو دیں مگر خود نہیں تناول فرمایا۔ دوسرے دن حاضر ہوئے تو ہدیہ پیش کیا۔ حضورﷺنے خود بھی تناول فرمایا اور ساتھیوں کو بھی کھلایا۔غرض حضور مصطفیﷺ کی غلامی میں پہنچنے کی یہ ہے وہ راہ جو مشکلات کے پہاڑوں اور سنگلاخ وادیوں سے بھری پڑی ہے۔ قارئین کرام! رہنما بھی دیکھو‘ رہنمائی کی راہ بھی دیکھو اور راہ پر چلنے والا بھی دیکھو۔ راہ یہی اختیار کر لو! اس کے خدوخال طے کر دو‘ قوم کے سامنے رکھ دو۔ سب سے پہلے بے لاگ عدل کی حامل عدلیہ دو۔ تمام سول اداروں کو کرپشن سے پاک کرو۔ ہم سب کے رب کریم نے پاک وطن کی افواج کو عزتوں سے نوازا ہے۔ فتح کی فرحت انگیز خبر سے ہمارے دل ودماغ کو پُرمسرت بنایا ہے۔ مکہ معاہدہ سے 25 کروڑ عوام کی عزتوں کو رفعتوں کا تاج پہنایا ہے۔ ضرورت ہے کہ اس حقیقت کی کہ اب ملک کا اندرونی نظام مستحکم کرکے پاک وطن کو لازوال عزت کی خلعت کے پہناوے کا بندوبست کیا جائے۔ اس کیلئے بلدیاتی نظام اس طرح کا لایا جائے جو عوام کو سہولت دے۔ یہ کام کر لیا جائے تو نئی پڑھی لکھی قیادت سامنے آ جائے گی۔ پھر صوبوں یا انتظامی یونٹس کی آگاہی مہم چلائی جائے۔ محترم میاں عامر محمود کا کردار قابلِ تحسین ہے۔ اس کردار کو دلائل وبراہین کے ہتھیاروں سے مزید لیس کرکے جنگجویانہ مہم بنایا جائے۔ سب کو ملا کر چلا جائے تو ان شاء اللہ ترقی کی منزل زیادہ دور نہیں۔ پاک وطن پائندہ باد!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_68712266.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>