<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>معاشی استحکام اورنمو(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-14/11275</link><pubDate>Sun, 14 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-14/11275</guid><description>وزیر خزانہ محمد اورنگ زیب نے پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ حکومت نے دستیاب مالی گنجائش کو ترقی کے فروغ کیلئے استعمال کیا ہے اور یہ بجٹ معاشی ترقی کے حصول میں کلیدی کردار ادا کرے گا‘ ہم معاشی ترقی کی طرف چل پڑے ہیں‘ معیشت درست سمت میں گامزن ہے‘اب ہم معاشی استحکام سے گروتھ کی جانب بڑھیں گے۔ مالی سال 2026-27ء کے بجٹ کے حوالے سے وزیر خزانہ کا دعویٰ توجہ طلب ہے۔ بجٹ میں رئیل اسٹیٹ‘ کاروباراور برآمدات کے شعبوں کیلئے مثالی مراعات کا اعلان کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر جائیدار کی خریدو فروخت پر وِد ہولڈنگ ٹیکس میں 50سے 80فیصدکمی اور جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹرانزیکشن لاگت میں کمی کو رئیل اسٹیٹ کے شعبے کیلئے نمایاں ریلیف قرار دیا جا سکتا ہے جس کے اثرات مارکیٹ سرگرمیوں میں اضافے کی صورت میں سامنے آنے چاہئیں۔ ان مراعات کے نتیجے میں تعمیراتی شعبے کی سرگرمیوں میں اضافہ ہو گا‘ جو درجنوں چھوٹے بڑے شعبوں کے ساتھ منسلک ہے۔ یوں امید کی جاتی ہے کہ ملک میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہو گا اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

اس طرح برآمد کنندگان کو سپر ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دینا اور آئی ٹی کی برآمدات پر ٹیکس کی 0.25فیصد شرح کو جون 2029ء تک توسیع دینا‘ ایسے فیصلے ہیں جو ملک کو کاروبار دوست اور سرمایہ کاری کیلئے پُرکشش منزل بنانے میں مدد کرسکتے ہیں۔ ان اقدامات کو کافی قرار نہیں دیا جاسکتاکیونکہ اس خطے میں دیگر ممالک اس سے زیادہ سہولتیں دے رہے ہیں مگر یہ درست سمت میں پیشرفت یقینا حوصلہ افزا ہے اور معاشی نمو کیلئے معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ تاہم معیشت کے متعدد شعبے اب بھی ایسے ہیں جو محرومی کا شکار ہیں۔ ان میں زراعت کا شعبہ قابلِ ذکر ہے جس کا ذکر وزیر خزانہ نے پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس میں بھی کیا ۔ بجٹ میں اس شعبے کیلئے بھی کئی مراعات کا اعلان کیا گیا ہے جیسا کہ زرعی مشینری پر کسٹمز اور ریگولیٹری ڈیوٹی صفر اور زراعت کیلئے قرضوں کے حجم میں اضافے کی تجویز۔اس سے ممکن ہے زراعت کی نمو پر مثبت اثر پڑے مگر زراعت کو معیشت کا مضبوط بازوبنانے کیلئے اس سے کہیں زیادہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ پاکستان کا کسان کمزور مالی حیثیت ‘ جدید تکنیکی وسائل کی کمیابی اور جدید رجحانات سے کم آگاہی کا شکار ہے ۔ اس کا نتیجہ ہمیں ہر سال خوراک کے شعبے میں بڑھتی ہوئی درآمدات کی صورت میں دیکھنا پڑتا ہے۔
یہ شعبہ ٹیکسٹائل جیسے کلیدی برآمدی شعبے کی ترقی کا ضامن بھی بن سکتا ہے اور خوراک کی برآمدات میں نمایاں اضافے سے ملک کو سالانہ اربوں ڈالر کی یافت ہو سکتی ہے‘ بشرطیکہ زراعت کو ترقی یافتہ بنیادوں پراستوار کیا جائے۔ کسانوں کیلئے قرضوں کے حجم میں قدرے اضافہ کافی نہیں‘ زراعت کو معیشت کی مضبوط بنیاد بنانے کیلئے ٹھوس اور جامع حکمت عملی اور اقدامات کی ضرورت ہے۔ مجموعی طور پر اس بجٹ میںمعاشی نمو کا پوٹینشل موجود ہے‘ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت ان مراعات کی فراہمی اور انکے نتائج کے حصول کو یقینی بنانے کیلئے کمرِ ہمت باندھ لے۔ ٹیکس کو چند ایک شعبوں پر مرکوز رکھنے کے بجائے اس دائرے کو وسیع کر نے کے حوالے سے بجٹ میں کئی اقدامات شامل ہیں جیسا کہ چھوٹے دکانداروں پر فکسڈ ٹیکس کا نفاذ ‘ مگراب یہ ذمہ داری ٹیکس وصولی کے اداروں کی ہو گی کہ وصولی کو یقینی بنانے کیلئے قابلِ عمل اور مثالی حکمت عملی وضع کریں۔
مالی سال 2026-27 ء اس حوالے سے ایک مثالی سال ہو گا کہ اسکے دوران ان اقدامات کے نتائج کو پرکھا جائے گا جو حکومت نے مراعات کی صورت میں مختلف شعبوں کو فراہم کی ہیں۔ ان سہولتوں کا اثر زیر بحث مالی سا ل کے دوران ریونیو ‘ برآمدات اور ملازمت کے مواقع میں اضافے کی صورت میں سامنے آنا چاہیے۔ مالی سال 2026-27 ء اس حوالے سے ایک ٹیسٹ کیس ہو گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سیاسی مذاکرات ناگزیر(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-14/11274</link><pubDate>Sun, 14 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-14/11274</guid><description>ملک میں جاری سیاسی کشیدگی‘ معاشی چیلنجز اور سکیورٹی خدشات کے درمیان وزیراعظم شہباز شریف کا اپوزیشن کی جانب مفاہمت کا ہاتھ بڑھانا خوش آئند ہے۔ گزشتہ روز قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کے دوران انہوں نے اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ آئین‘ قانون اور جمہوریت کی بالادستی کیلئے مذاکرات ضروری ہیں۔ بلاشبہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بامعنی مکالمہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ حالیہ برسوں میں باہمی رابطے کے فقدان نے سیاست میں جو زہر گھولا ہے اس کے منفی اثرات ملکی حالات و واقعات سے ظاہر و باہر ہیں۔ داخلی تقسیم نہ صرف شدت پسند عناصر کو فائدہ پہنچاتی بلکہ ریاستی اداروں کی توجہ بھی بنیادی ترقیاتی اور اصلاحاتی ایجنڈے سے ہٹا دیتی ہے۔

موجودہ علاقائی صورتحال اور اندرونی سکیورٹی چیلنجز کے تناظر میں حکومت اور اپوزیشن کا مل بیٹھنا ناگزیر ہے۔ تاہم صرف مذاکرات کی دعوت کافی نہیں ہوتی ضروری ہے کہ اس دعوت کو سنجیدہ اور بامقصد عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔ فریقین کو اپنے اپنے مؤقف میں لچک پیدا کرنی ہو گی اور ذاتی یا جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر قومی مفاد کو ترجیح دینا ہو گی۔ ملک کو آج جس سیاسی‘ معاشی اور سکیورٹی صورتِ حال کا سامنا ہے اس میں اتفاقِ رائے اور قومی یکجہتی کسی بھی سیاسی کامیابی سے زیادہ اہم ہیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو ملک کو استحکام‘ ترقی اور پائیدار جمہوریت کی جانب لے جا سکتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ریبیز کے واقعات(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-14/11273</link><pubDate>Sun, 14 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-14/11273</guid><description>گزشتہ روز کراچی میں ریبیز سے متاثرہ ایک اور مریض دم توڑ گیا۔ رواں سال کراچی میںریبیز سے لقمۂ اجل بننے والا یہ  14واں مریض تھا‘ جبکہ سندھ میں رواں سال اپریل تک کتے کے کاٹے کے 85ہزار سے زیادہ واقعات رپورٹ ہو ئے ۔ پنجاب میں صورتحال اس سے کہیں زیادہ سنگین ہے جہاں لاہور ہائی کورٹ میں جمع کرائی گئی ایک رپورٹ کے مطابق جنوری 2024ء سے مارچ 2026ء کے دوران 5 لاکھ 14 ہزار سے زائد افراد ڈاگ بائٹ کا شکار ہوئے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ مسئلہ کسی ایک صوبے یا شہر تک محدود نہیں بلکہ ایک قومی سطح کی تشویش بن چکا ہے۔ سگ گزیدگی کے بڑھتے واقعات میں اصل مسئلہ آوارہ کتوں کی بڑھتی آبادی ہی نہیں ان سے نمٹنے کیلئے مربوط اور مستقل حکمتِ عملی کا فقدان بھی ہے۔

پنجاب کی اینیمل برتھ کنٹرول پالیسی 2021ء اور سندھ میں جاری پروگرامز کی رفتار‘ وسعت اور تسلسل وہ نتائج پیدا نہیں کر رہے جو زمینی سطح پر درکار ہیں۔ صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ اس مسئلے کو ایک پبلک ہیلتھ ایمرجنسی کے طور پر دیکھیں۔ آوارہ کتوں کی آبادی پر قابو پانے کیلئے سائنسی بنیادوں پر سٹرلائزیشن اور مسلسل مانیٹرنگ ناگزیر ہے۔علاوہ ازیں سرکاری ہسپتالوں میں ریبیز سے بچاؤ کی ویکسین کی فراہمی بھی ناگزیر ہے تاکہ کتے کے کاٹنے کی صورت میں متاثرہ شخص بروقت اینٹی ریبیز ویکسین لگوا سکے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>معیشت‘سیاست اور مفاہمت(مجیب الرحمٰن شامی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mujeeb-ur-rehman-shami/2026-06-14/52117/14094302</link><pubDate>Sun, 14 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mujeeb-ur-rehman-shami/2026-06-14/52117/14094302</guid><description>لیجیے جناب‘ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بالآخر اپنی حکومت کا تیسرا بجٹ (قومی اسمبلی کے سامنے) پیش کرنے کا اعزاز حاصل کر لیا۔ انہوں نے اپنی اتحادی جماعتوں کے قائدین کا فرداً فرداً نام لے کر دل کی اتھاہ گہرائیوں سے ان کا شکریہ ادا کیا کہ جن کی بدولت وہ بجٹ تقریر کرنے کے قابل ہوئے تھے۔ بلاول بھٹو زرداری کے تیور کچھ بگڑے بگڑے سے رہے‘ ایم کیو ایم نے بھی سندھ کے گورنر ہاؤس پر دوبارہ قبضہ کرنے کی کوشش کی لیکن بالآخر نتیجہ وہی نکلا کہ جو نکلنا تھا۔ بلاول کو اسحاق ڈار اور محسن نقوی منا کر ایوان میں لانے میں کامیاب ہو گئے جبکہ ایم کیو ایم وعدۂ فردا پر بہل گئی۔ وزیر خزانہ تو کیا پوری حکومت نشانے پر تھی‘ تبدیلی کے خواب دیکھے اور دکھائے جا رہے تھے‘ ڈرایا جا رہا تھا کہ نہ سیاست حکومت کے قابو میں ہے نہ معیشت۔ کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے لیکن حکومت نے اپنی کارکردگی کا پورے صفحے کا اشتہار اخبارات میں چھپوایا اور ٹی وی سکرینوں پر دکھلایا تو چھکے چھڑانے والوں کے چھکے چھوٹ گئے۔ انہوں نے علی الاعلان اقرار کر لیا کہ اس حکومت کا اقبال بلند ہے‘ اس نے &#39;&#39;نہ کبھی زوال پذیر ہونا ہے نہ اگلی صدی تک اس کے رخصت ہونے کا امکان ہے‘‘۔ انہیں واضح طور پر بتا دیا گیا ہے کہ &#39;&#39;75سال میں آج تک جتنی بھی حکومتیں آئی ہیں‘ ان میں یہ سب سے بہتر ہے۔ آج تک نہ کوئی ایسا وزیراعظم آیا اور نہ آج تک ایسے قابل وزیر بن سکے ہیں‘‘۔ &#39;&#39;موجودہ حکومت اس نظام کے لیے &#39;&#39;ناگزیر‘‘ ہے۔ اگر حکومت گری تو پورا نظام دھڑام سے گر پڑے گا۔ یہ نظام شاخِ نازک پر آشیانے کی طرح ہے۔ موجودہ حکومت اس نظام کے بچاؤ کی آخری ڈھال ہے‘ کوئی بھی نیا تجربہ یا تبدیلی خطرناک ہو گی۔ جب تک یہ نظام ہے اس وقت تک یہی حکومت اور یہی وزیراعظم رہے گا۔ اسی کی معاشی پالیسیاں چلیں گی‘‘۔ سیاست اور صحافت میں کوئی بات حرفِ آخر نہیں ہوتی‘ کسی بھی وقت کچھ بلکہ بہت کچھ بدل سکتا ہے۔ ڈرانے والوں کو بھی ڈرایا جا سکتا ہے اور نہ ڈرنے کا دعویٰ کرنے والے بھی ڈرتے بلکہ کپکپاتے پائے جا سکتے ہیں۔جس کو کہتے ہیں نڈر اس میں ہے ڈر دو بٹا تین(2/3)۔ کسی بھی بحث میں اُلجھے بغیر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہر خرابی کا علاج حکومت کی تبدیلی سے نہیں ہو سکتا کہ حکومت تبدیل ہو جائے تو بھی خرابی جوں کی توں رہتی ہے بلکہ بعض اوقات بڑھ بھی جاتی ہے۔ بعض خرابیاں ایسی ہیں جو حکومتوں سے کہیں زیادہ مضبوط ہیں‘ مختلف حکومتوں نے کئی سال تک ان کی پرورش کی ہے‘ اس لیے یہ ایک‘ دو یا تین سال میں قابو نہیں کی جا سکتیں‘ ان کے لیے تسلسل چاہیے اور ارادہ بھی۔ حکومت کو جان کی امان ملی رہے گی تو وہ خرابیوں سے نبٹنے کا سوچے گی۔ اگر اسے جان کا دھڑکہ لگا رہے گا تو پھر خرابیاں اس سے نبٹ لیں گی۔ برادرم احسن اقبال بار بار کہتے ہیں کہ سیاسی استحکام کے بغیر ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ جناب حفیظ اللہ نیازی بھی دن رات اسی کی گردان کرتے رہتے ہیں۔ سیاسی استحکام نہیں ہو گا تو کچھ بھی نہیں ہو گا لیکن یہی ایک شے ہے جو اُن کو بھاتی نہیں ہے‘ جنہوں نے سارا بوجھ اپنے کاندھوں پر (بزعم خود) اُٹھا رکھا ہے۔عمران خان جب کہتے تھے کہ مجھے حکومت سے نکالا گیا تو میں بے حد &#39;&#39;خطرے ناک‘‘ ہو جاؤں گا تو سننے والوں کو یقین نہیں آتا تھا لیکن ان کے اقتدار کے خاتمے کے بعد جو کچھ ہوا بلکہ ہوتا چلا آ رہا ہے اسے سنبھالنا یا سمیٹنا ممکن نہیں ہو پا رہا۔ یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ شہباز شریف بھی اقتدار سے رخصت ہو کر ایسے ہی &#39;&#39;خطرے ناک‘‘ ہو جائیں گے لیکن یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ ان سا کوئی ڈھونڈے سے نہیں ملے گا۔ امیر مینائی کا شعر سنیے اور دل کو تھام لیجیے:سب حسیں ہیں زاہدوں کو ناپسنداب کوئی حور آئے گی ان کے لیے؟جو ہونا ہے وہ ہوتا رہے‘ فی الحال سامنے کی بات یہ ہے کہ وزیر خزانہ نے جو بجٹ پیش کیا ہے اس میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا۔ تنخواہ داروں اور برآمد کنندگان کا بوجھ کم کیا گیا ہے۔ دو ہزار ارب کے محصولات مزید اکٹھا کرنے کی نوید سنائی گئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ معیشت مستحکم ہو چکی ہے‘ اب ترقی کی طرف توجہ ہو گی اور پاکستان اپنی مشکلات پر قابو پاتا چلا جائے گا۔ ہماری معیشت کی جو درگت بنی ہے وہ ایک ماہ یا ایک سال میں تو بنی نہیں۔ اس لیے ایک‘ دو یا تین سال میں وہ سب کچھ حاصل نہیں کیا جا سکتا جس کی تمنا ہر دل میں ہے۔ زرعی اور صنعتی ترقی کی شرح تیز تر ہو جائے‘ برآمدات بڑھ جائیں‘ سرمایہ کار فوج در فوج آئیں‘ آبادی پر قابو پا لیا جائے‘ بے روزگاری کا خاتمہ ہو جائے‘ ٹیکس کی شرح کم ہو‘ بجلی سستی ہو جائے۔ ہماری معیشت فراٹے بھرنے لگے اور فی کس آمدنی میں سینکڑوں نہیں ہزاروں ڈالر کا اضافہ ہو جائے۔ یہ خواب ہم سب کی آنکھوں میں بسے ہیں لیکن تعبیر کے لیے استحکام اور تسلسل ضروری ہے۔وزیر خزانہ نے درست کہا ہے یہ بجٹ ایسے موقع پر پیش کیا جا رہا ہے جب پاکستان اپنے عوام اور دنیا کی نظر میں ایک ایسے ملک کی حیثیت اختیار کر چکا ہے جس کی آواز سنی جاتی ہے اور جس سے دوستی کی خواہش کی جاتی ہے۔ ان کے بقول: &#39;&#39;یہ تبدیلی اتفاقاً نہیں آئی‘ اس کا آغاز گزشتہ برس مئی میں ہوا جب بھارتی جارحیت کو پاکستان کی جانب سے ایسا جواب ملا کہ پوری دنیا کو نوٹس لینا پڑا‘ ہماری مسلح افواج نے دشمن کو ایسا منہ توڑ جواب دیا کہ وہ چند ہی گھنٹوں میں اَمن کی بات کرنے پر مجبور ہوا۔ یہ کامیابی دہائیوں کی پیشہ ورانہ تربیت اور تیاری کا نتیجہ تھی۔ آج دنیا پاکستانی دفاعی قوت کی معترف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری فضاؤں کا تحفظ کرنے والے فائٹر جیٹس کو کئی ممالک اپنی فضائیہ میں شامل کرنے کے لیے رابطے میں ہیں۔ ہماری دفاعی صنعت قیمتی زرِ مبادلہ کمانے کا بھی ایک ذریعہ بن چکی ہے‘‘۔ وزیر خزانہ یہ بھی بتا رہے تھے کہ: &#39;&#39;دفاعی قوت نے نہ صرف خطے بلکہ دنیا بھر میں ہماری &#39;سٹرٹیجک پارٹنر شپ‘ کا نقشہ نئے سرے سے ترتیب دیا ہے‘‘۔ موجودہ دور کی ایک خطرناک ترین جنگ کے دوران امریکہ اور ایران نے پاکستان پر اعتماد کرتے ہوئے اسے اپنے درمیان ایک ثالث کے طور پر قبول کیا۔ پاکستان نے اس کردار کو بخوبی انجام دینے کے لیے انتہائی مخلصانہ کوششیں کی ہیں جو آج بھی جاری ہیں۔وزیر خزانہ کی تقریر کے فوراً بعد وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا کہ ایران اور امریکہ مفاہمت کے قریب پہنچ گئے ہیں اور کسی بھی وقت ان کے درمیان سمجھوتہ باقاعدہ شکل اختیار کر سکتا ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ نے بھی اس کی تائید کرتے ہوئے یہ خبر دی کہ &#39;&#39;اسلام آباد اِکارڈ‘‘ جلد متوقع ہے۔ اس پر پورے پاکستان میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ اس کے ساتھ ہی یہ تمنا بھی بیدار ہوئی کہ پاکستان کی زیرک سیاسی اور فوجی قیادت اگر امریکہ اور ایران جیسے جانی دشمنوںکے درمیان معاہدہ کرا سکتی ہے تو اپنے ملک میں احتجاجی سیاست میں مبتلا اہلِ سیاست کے ساتھ مکالمے کا آغاز کیوں نہیں کر سکتی۔ ورلڈکپ جیتنے والے ہوم گرائونڈ پر بھی تو جوہر دکھائیں تاکہ سیاسی عمل مضبوط ہو‘سیاسی استحکام نصیب ہو اور معیشت کی گاڑی آگے بڑھتی‘ بڑھتی‘ بڑھتی اور بڑھتی چلی جائے۔ معیشت‘ سیاست اور مفاہمت کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا‘ نہ ہی کرنا چاہیے۔ (یہ کالم روزنامہ &#39;&#39;پاکستان‘‘ اور روزنامہ &#39;&#39;دنیا‘‘ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_37052987.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>زبانِ ترش کا مقصد بھی کچھ ہو(ایاز امیر)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-06-14/52118/63044772</link><pubDate>Sun, 14 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-06-14/52118/63044772</guid><description>ہمسائے ہمارے چار ہیں لیکن بڑے ہمسائے دو ہی ہیں: ہندوستان اور افغانستان۔ دونوں سے معاملات خراب ہیں اور کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جاتا کہ مزید خراب نہ ہوں۔ہمسایوں میں ہونا تو یہ چاہیے کہ مسئلے مسائل ہوں بھی تو کوشش ہو کہ حالات میں بہتری آئے۔ بھاری الفاظ اور الجھا ہوا لہجہ استعمال میں نہ لائیں۔ لیکن کچھ عادت سی بن گئی ہے کہ جہاں نرم لہجے سے بھی کام چل جائے وہاں بھاری لہجے کا استعمال ہی ہوتا ہے۔ کسی کو کون سمجھائے کہ جہاں بہت کچھ تبدیل ہو سکتا ہے جغرافیہ نہیں ہو سکتا۔ ہم لاکھ نہ چاہیں بھی تو جب تک دنیا ہے ہندوستان اور افغانستان ہمارے ہمسائے رہیں گے۔ مسائل جیسے بھی ہوں اُن کی وجہ جو بھی ہو عقل مندی کا تقاضا ہے کہ پُرامن بقائے باہمی کے اصول کے تحت ان سے تعلقات استوار کیے جائیں۔ اتنی بات کہی نہیں کہ ناقدین کے پستول نکل آنے ہیں کہ کیا بکواس کر رہے ہو۔ افغانستان سے دہشت گردی آ رہی ہے اور جہاں تک ہندوستان کا تعلق ہے وہ تو ازلی دشمن ہے۔ دونوں باتیں درست لیکن ہمارا مفاد پھر بھی بقائے باہمی میں ہے۔ ہمسایوں سے الجھنے سے مسائل پیدا ہوتے ہیں‘ قومی توانائیاں بکھرتی ہیں‘ قومی دھیان بکھر جاتا ہے۔ افغانستان سے جو دہشت گردی آ رہی ہے دیکھا جائے تو وہ ہمارے فلسفۂ جہاد کی پیداوار ہے۔ افغانستان میں ہمارے اکابرین سٹریٹجک گہرائی تلاش کرنے نہ نکلتے تو مغربی سرحد پر جو سارا جھمیلا کھڑا ہوا اور جس کی تپش اب ہماری طرف آ رہی ہے پیدا نہ ہوتا۔ تب ہمارے سٹریٹجک دانشوروں کی آنکھیں بند رہیں آج مسئلہ محسوس کر رہے ہیں۔ اس دہشت گردی کا سامنا دیرپا حکمتِ عملی کی بنیاد پر ہی ہو سکتا ہے‘ اس کا کوئی فوری حل نہیں۔ اِکا دُکا فضائی بمباری سے مسئلہ حل ہوتا تو امریکہ نے تو ایران پر اِکا دُکا بمباری نہیں کی ہزاروں فضائی حملے کیے لیکن ایران پھر بھی امریکہ کے تابع خواہش نہیں ہوا۔ طالبان جنہوں نے امریکہ کا 17سال مقابلہ کیا کیا وہ ہماری دو تین یا چار بمباریوں سے تائب ہو جائیں گے؟ وہ گوریلا جنگ کے ماہر ہیں اور وہی طریقہ ہمارے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔ کتنے میزائل ان پر داغے جا سکتے ہیں؟ لہٰذا کچھ سوچ بچار کی ضرورت ہے کہ طالبان کے حوالے سے کیسی حکمت عملی اپنائی جائے۔ سخت رویے اپنائے گئے لیکن ان کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکلا۔ اس لیے شاید تھوڑی سوچ میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ ہندوستان کے حوالے سے اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ وہ ہمارا ازلی دشمن ہے پھر بھی ہمارے مفاد میں ہے کہ ازلی دشمنی کی شدت کو کم کیا جائے۔ ہندوستان دشمنی ایک نعرہ تو ہے‘ بالکل ویسے ہی جیسے پاکستان دشمنی ہندوستان میں سیاسی حوالے سے ایک نعرے کے طور پر استعمال ہوتا ہے لیکن پاکستان کا مفاد تو اس میں نہیں ہے کہ دائمی دشمنی قائم رہے۔ جس کا یہ مطلب نہیں کہ ہمارا دفاع کمزور ہو‘ بالکل نہیں‘ دفاع مضبوط رہے افواج چوکنا رہیں‘ لیکن ایک دوسرے کے دارالحکومتوں میں سفیروں کا نہ ہونا‘ تجارت بند ہو جانی‘ آنا جانا تقریباً رک جانا‘ ہندوستان کے فائدے میں یہ بات ہو سکتی ہے پاکستان کے فائدے میں ہرگز نہیں۔ لہٰذا جہاں سفارتکاری کے اتنے جوہر دیگر مقامات پر دکھائے گئے ہیں کچھ جوہرِ سفارتکاری مشرقی سمت کی طرف بھی روا رکھا جائے تاکہ اس فضول کی کشیدگی میں کچھ تو کمی آئے۔ لڑاکا طیارے اور ٹینک اور میزائل بالکل تیار رہیں لیکن کھنچے ہوئے حالات میں کچھ کمی آئے۔ ممالک میں مسائل رہتے ہیں لیکن سلسلۂ تعلقات ختم نہیں ہوتا۔ عجیب کیفیت ہے کہ یہاںبات بات پر جذبات کا پارا چڑھ جاتا ہے۔ ہندوستان کی حکمران جماعت کا وتیرہ ہے پاکستان کو برا بھلا کہنا‘ انہیں ایسا کرنے دیں۔ پاکستان کے نام پر ان کے ٹی وی اینکروں کے منہ سے جھاگ نکلتی ہے تو ایسا ہوتا رہے۔ ایسے مناظر دیکھ کر کچھ مزہ لیا جائے۔ اپنا رویہ تو میچور رہے۔ یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ سرحد کے اُس پار ہر اُوٹ پٹانگ کے بیان کا جواب دینا ضروری نہیں سمجھنا چاہیے۔ ہر لایعنی کا جواب سخت الفاظ سے دیا جائے تو اپنا قد بڑھ نہیں جاتا۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ جہاں فوجی طاقت کا استعمال ضروری ہو وہاں اسے بروئے کار لانا چاہیے۔ لیکن ہمارا اپنا تجربہ اتنا تو بتاتا ہے کہ جہاں مسائل گمبھیر اور الجھے ہوئے ہوں وہاں محض عسکری ذریعوں سے کام نہیں چلتا۔ یہ ٹی ٹی پی والا مسئلہ ایسا ہی ایک الجھا ہوا مسئلہ ہے اور اس کے حل کیلئے ایک بڑی جامع اور مفصل حکمت عملی کی ضرورت ہے جس میں طاقت کے استعمال کے ساتھ ساتھ سیاسی اور سفارتی حکمت عملی کے مرتب ہونے پر بھی غور کیا جائے۔ فی الوقت تو یہ ہے کہ خیبرپختونخوا کے وسیع علاقوں میں صورتحال گمبھیر ہے اور اس کے ساتھ بلوچستان کی صورتحال بھی ویسی ہی ہے۔ ہرگز یہ استدعا نہیں کہ ہماری وجہ سے یہ سارے محاذ کھلے ہیں۔ لیکن اتنے محاذوں کا بیک وقت کھلنا‘ چاہے وجوہات جو بھی ہوں‘ ریاستِ پاکستان کیلئے اچھا تو نہیں۔ کب سے ہماری فورسز سرحدوں اور متاثرہ علاقوں میں ڈپلائے ہیں۔ شہادتیں روزمرہ کی خبریں بن رہی ہیں اور فی الحال حالات کی سنگینی میں کوئی بہتری نظر نہیں آتی۔ پھر جو اَب آزاد کشمیر میں معاملات پیدا ہوئے ہیں‘ ان پر مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ اتنا کہنا ہی کافی ہے کہ ان سارے معاملات میں سیاسی سوچ کو آگے لانے کی ضرورت ہے۔ریاستِ پاکستان کوئی کمزور ریاست نہیں۔ ہمارے معاشی اور سماجی مسائل ہوں گے لیکن دفاعی ادارے دفاعِ وطن کے تقاضے پورے کرنے کی صلاحیت بھرپور انداز میں رکھتے ہیں۔ مسئلہ یہ نہیں ہے‘ مسئلہ یہ ہے کہ دفاعی طاقت تو نپولین اور ہٹلر کی بھی بہت تھی۔ لیکن سیاسی سوچ کی کمی واقع ہوئی‘ اہداف تعین کرنے میں غلطی ہوئی۔ اندازہ نہ لگایا جا سکاکہ کیا کر سکتے ہیں اور کیا کرنا اُن کیلئے ممکن نہیں۔ امریکہ کے پاس کوئی طاقت کی کمی ہے؟ لیکن ملاحظہ ہو کہ کیسے ایران جنگ میں جاکر پھنس گیا۔ اہداف اپنے لیے کچھ زیادہ ہی متعین کر لیے۔ لیکن جیسا کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ طاقت کے بھرپور استعمال کے باوجود ایک بھی ہدف پورا نہ ہوا اور اب اس جنگ سے فرار ہونے کیلئے صدر ٹرمپ اور ان کے مشیروں کی بے قراری تو دیکھی جائے۔ امریکہ بڑا ملک ہے اس کے جھمیلے بھی بڑے ہیں۔ ہمارے وسائل اور صلاحیتیں محدود ہیں لیکن اپنے سے بڑے جھمیلوں کا سامنا ہے۔ دانش کا اب کچھ سہارا لیا جائے۔یہ خیال بھی رہے کہ پچھلے سال پاکستان پر حملہ کرکے ہندوستان نے غلطی کی تھی۔ طیاروں کی کارکردگی سے زیادہ ہندوستان کی سوچ مار کھا گئی کہ آسانی سے پاکستان پر فوجی برتری حاصل کر لی جائے گی۔ دوبارہ براہِ راست حملے کی غلطی شاید نہ ہو۔ ہندوستان کی حکمت عملی بالواسطہ ہو گی جیسا کہ پانی کے مسئلے پر عندیہ مل رہا ہے۔ وہ کیا ان کے کسی وزیر نے کہا کہ پانی کی ایک بوند پاکستان کو نہیں جانے دیں گے۔ اس زاویے پر نظر رکھنی چاہیے۔ ہندوستان نے اتنے ڈیم بنائے ہیں ہمارے ڈیم کہاں ہیں؟ ایک نیلم جہلم ڈیم پر ہاتھ رکھا تھا اور اس کا بھی جو ہم سے کھلواڑ ہوا وہ ایک الگ کہانی ہے۔ کسی کی کوئی جوابدہی ہوئی کوئی احتساب؟ بہرحال سامانِ حرب تو ہمارا ہے ہی لیکن جنگی مستعدی کے کئی زاویے سمجھے جاتے ہیں۔ سامانِ حرب کے ساتھ معاشی استقامت ہو جو کہ ریاستِ پاکستان کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_80573045.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ایک سوتیلی ماں کی کہانی(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-06-14/52119/81513388</link><pubDate>Sun, 14 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-06-14/52119/81513388</guid><description>کچھ دن پہلے اپنی کتابوں کی جھاڑ پونچھ شروع کی تو چند ایسی شاندار کتابیں سامنے آئیں جو خرید تو لی تھیں لیکن ابھی پڑھ نہ سکا تھا۔ اکثر ہوتا ہے کوئی کتاب اچھی لگی تو خرید لی کہ یہ نہ ہو دوبارہ نہ ملے‘ وقت ملا تو پڑھ لیں گے۔ پھر کتابیں اکٹھی ہو جاتی ہیں جو پڑھنے سے رہ جاتی ہیں۔ اب اس کام کیلئے حافظ خضر صاحب کو رکھ لیا ہے کہ میرے لائبریری نما گھر میں ان سب کتابوں کا دھیان رکھیں۔ میری کتابیں اکثر بکھری ہوتی ہیں‘ کچھ بیڈ پر میرے ساتھ تو کچھ بیڈ کے نیچے۔ ایک دن ڈاکٹر بابر اعوان صاحب پوڈ کاسٹ کیلئے گھر تشریف لائے تو ادھر اُدھر رکھی کتابیں دیکھ کر میری خوب کلاس لی۔ خیر ان کی اس کلاس کے بعد کچھ کتابوں کی ترتیب کا دھیان کیا۔ اس سے پہلے سپر مارکیٹ میں بک سٹور پر جانا ہوتا تھا‘ وہاں برسوں سے حافظ خضر صاحب کو دیکھ رہا تھا۔ تلہ گنگ سے تعلق رکھنے والے حافظ صاحب برسوں سے وہیں کام کررہے تھے۔ سادہ سا مخلص انسان جس کی شخصیت دور سے بتائے کہ وہ بے ضرر ہے۔ اکثر گاہکوں کا کتابوں کا تھیلا اٹھا کر گاڑی تک چھوڑ آتے۔ کسی نے ٹپ دے دی اور کسی نے نہ دی۔ مجھے یاد پڑتا ہے انہوں نے مجھے سب رنگ کی سلسلہ وار کہانی بازی گر کے سات حصے ڈھونڈ کر لا دیے۔ خیر ایک دن گیا تو غمگین کھڑے تھے۔ پتہ چلا نوکری اچانک ختم کردی گئی ہے۔ بیس برس کی نوکری کے بعد مالک کے بیٹے نے دکان سنبھالتے ہی انہیں نکال دیا تھا۔ مجھے بڑا دکھ ہواکہ اس بڑھاپے کی عمر میں جب آپ نے ان لوگوں کا خیال رکھنا ہوتا ہے جنہوں نے آپ کے باپ کے ساتھ برسوں کام کیا ہو آپ نے چند ہزار روپے بچانے کیلئے انہیں فارغ کر دیا۔ خیر انہیں گلے لگایا اور کہا: کل سے آپ میرے ساتھ میرے دفتر میں کام کریں گے۔ ہمارے قابلِ احترام دوست ہارون الرشید صاحب کا ایک جملہ یاد آیا کہ امیر بندے کو پیسوں کی ضرورت ایک غریب سے زیادہ ہوتی ہے۔ غریب کم پیسوں میں بھی مطمئن اور خوش رہ سکتا ہے‘ امیر بندے کیلئے اربوں بھی کم پڑ جاتے ہیں۔ خیر اب وہ میری کتابیں سنبھالتے ہیں۔ انہوں نے جس طرح کتابوں کو خوبصورت انداز میں ترتیب دیا ہے وہ کمال ہے۔ میں نے انہیں کہا: خضر صاحب ناراض نہ ہوں تو مجھے کہنے دیں آپ سادہ سے مخلص انسان لگتے ہیں لیکن آپ جس نفاست اور خوبصورتی سے اَنتھک کام کرتے ہیں مجھے اس کا اندازہ نہ تھا۔ آپ کا میرے ساتھ کام کرنا میرے لیے خوش نصیبی ہے کہ آپ جیسا بندہ کتنی خاموشی سے بغیر شور شرابہ کیے کتنا خوبصورت کام کرتا ہے اور مزے کی بات ہے آپ داد کے طلب گار بھی نہیں ۔ خیر ان کتابوں سے ایک بڑی شاندار کتاب برآمد ہوئی اور مجھے شرمندگی ہوئی کہ اتنی خوبصورت کتاب بھی دیگر کتابوں کے ساتھ غائب ہو گئی تھی۔ جب میں نے اس کتاب کو پڑھنا شروع کیا تو پڑھتا ہی چلا گیا۔ یہ ہندوستان کے بڑے فلم میکر‘ ہدایت کار اور کہانی نویس ستیا جیت رے کی بیگم صاحبہ Bijoya Ray کی لکھی ہوئی آپ بیتی ہے۔ یہ انہوں نے 84برس کی عمر میں لکھی جب اُن کے لیجنڈ شوہر‘ جنہیں آسکر ایوارڈ بھی ملا تھا‘ کو فوت ہوئے عرصہ گزر گیا تھا۔ یہ انہوں نے بنگالی زبان میں لکھی تھی جسے بعد میں انگریزی میں ترجمہ کیا گیا۔ اس خود نوشت کا نام ہے Manik and I: My Life with Satyajit Ray۔ یہ دونوں میاں بیوی کزن تھے اور جس بچپن کی کہانی انہوں نے لکھی ہے وہ آپ کے دل کو چھُو جائے۔ انگریز دور کے بنگال کے جس ماحول کی عکاسی کی گئی ہے وہ آپ کو اپنی گرفت سے باہر نہیں نکلنے دیتا۔ ہم سنتے تھے کہ دو کزنز میں پیار محبت ہو جاتا ہے‘ شادی بھی ہو جاتی ہے لیکن کچھ عرصے کے بعد وہ محبت کہیں غائب ہو جاتی ہے اور دونوں کزنز پھر اپنے خاندان کے بزرگوں کے برسوں سے چلے آئے جھگڑوں اور طعنوں اور شریکے میں پھنس کر رہ جاتے ہیں اور اکثر یہ شادیاں ہر وقت لڑائی جھگڑے کا شکار ہو جاتی ہیں‘ لیکن اس کہانی کو پڑھ کر آپ کو یقین آتا ہے کہ کزنز کی محبت کیا رنگ لاتی ہے۔ اس غیرمعمولی انسان کی سرگزشت میں بہت سارے خوبصورت واقعات ایسے ہیں جو آپ کو اپنے سحر میں قید کر لیتے ہیں۔ ایک واقعہ ایسا ہے جس نے مجھے بھی گرفت میں لے لیا۔ ہمارے ہاں کہانیوں‘ فلموں اور حقیقی زندگی میں سوتیلی ماں کا کردار بڑا بھیانک دکھایا گیا ہے۔ میں اکثر حیران ہوتا ہوں کہ ماں تو ماں ہوتی ہے۔ اگر ایک عورت ایک مرد کو اپنا سکتی ہے تو اس کے کسی اور عورت سے پیدا کیے گئے بچے کو کیوں نہیں۔ اتنا ظلم کیوں۔ اسے اپنا بچہ سگا اور خاوند کا بچہ بُرا کیوں لگتا ہے؟ میں نے اس کتاب میں ایک ایسی سوتیلی ماں کی کہانی پڑھی ہے کہ یقین نہیں آتا۔ وہ لکھتی ہیں‘ اُن کے والد بہت قابل تھے‘ یونیورسٹی میں سکینڈ پوزیشن لی اور سترہ سال کی عمر میں وہ انگلینڈ چلے گئے۔ مصنفہ کے دادا چاہتے تھے کہ ان کا بیٹا برٹش دور میں انڈین سول سروس کا امتحان دے لیکن  انگلینڈ پہنچ کر انہیں سانس کا مرض لاحق ہو گیا یوں اُن کا باپ امتحان نہ دے سکتا تھا۔ امتحان صرف پیپرز کا نہیں تھا جسمانی اور میڈیکل امتحان بھی پاس کرنا تھا جو اَب ممکن نہ تھا۔ تعلیم کے علاوہ گھڑ سواری‘ ایتھلیٹ‘ سوئمنگ بھی ضروری تھے اور ان کے والد کیلئے سانس کی بیماری کی وجہ سے یہ سب کچھ مشکل تھا۔ آخرکار مصنفہ کے والد نے بیرسٹر بننے کا فیصلہ کیا اور بار کا امتحان پاس کیا۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے باپ کے تمام تر منت ترلے کے باوجود ہندوستان لوٹنے سے انکار کر دیا۔ وہ لکھتی ہیں کہ اس دوران ان کا باپ تھیٹر کا رسیا بن چکا تھا اور وہ شیشے کے آگے کھڑا ہو کر گھنٹوں شیکسپیئر کے ڈراموں کے ڈائیلاگ دہراتا رہتا تھا۔ وہ تھیڑ کا اداکار بننا چاہتا تھا۔ یہ سن کر مصنفہ کے دادا کو تپ چڑھی کہ ان کا بیٹا کس چکر میں پڑ گیا ہے۔ مصنفہ لکھتی ہیں‘ ان کے باپ کی ماں ان کی پیدائش کے وقت فوت ہو گئی تھی۔ ان کے دادا نے دوسری شادی کر لی۔ اگرچہ وہ سوتیلی تھی لیکن اس نے اپنے خاوند کے بیٹے کو بہت پیار دیا جیسے اپنے سگے بیٹے سے کیا جاتا ہے۔ اس کے اپنے بھی چھ بچے پیدا ہوئے لیکن اس نے اس بچے کو بھی اپنا بچہ سمجھا۔ جب باپ نے دیکھا کہ بیٹا لندن سے واپس نہیں آرہا‘ جہاں اسے  رہتے دس برس ہو گئے تھے تو اس نے بیٹے کو لندن مزید پیسے نہ بھیجنے کا فیصلہ کر لیا۔ اس پر اس سوتیلی ماں نے اپنے خاوند کو منع کیا‘ بہت سمجھایا اور ٹھنڈا کیا کہ وہ اپنے بیٹے کو پیسے بھیجنا بند نہ کرے۔ اسے بتایا کہ وہ قابل بچہ ہے‘ وہ کوئی بھی کام ڈھونڈ کر وہاں پیسے کما لے گا اور پھر وہ کبھی ہندوستان واپس نہیں آئے گا۔ تم پیسے بھیجتے رہو‘ کوئی نہ کوئی تعلق‘ رابطہ رہنے دو چاہے پیسوں کا ہی کیوں نہ ہو۔ انتظار کرتے رہو‘ وہ ایک دن لوٹ آئے گا۔ وہی ہوا اپنے باپ کے پیسے پر لندن رہتے ہوئے ایک دن اُس کے ضمیر پر کچھ بوجھ پڑا تو وہ دس برس کے بعد لندن چھوڑ کر ہندوستان اپنے گھر لوٹ آیا۔ کچھ دنوں کے بعد اُس کی مصنفہ کی ماں سے دارجیلنگ میں ملاقات اور شادی ہوئی جس سے 1917ء میں پٹنہ میں مصنفہ پیدا ہوئی جس کی برسوں بعد 1949ء میں ستیا جیت رے سے شادی ہوئی۔ایک سوتیلی ماں کی سمجھداری ایک بیٹے کو ہندوستان واپس لے آئی تھی۔ ایک باپ کو دس سال کے بعد بیٹا واپس مل گیا تھا۔ یہ خوبصورت داستان پڑھتے ہوئے مجھے تھامس ہارڈی کا ناول The Return of the Native یاد آیا جس کا امیر ہیرو یوبرائٹ پیرس کی زندگی سے بیزار ہو کر اپنے گاؤں لوٹ آیا تھا جہاں ایک اور محبت کہیں یا ٹریجڈی خوبصورت یوسٹیشیا کی شکل میں اس کا انتظار کر رہی تھی۔ اگرچہ ہارڈی کے ناول کے ہیرو اور مصنفہ کے والد کی لَو سٹوریز کا انجام مختلف ہوا۔ دس سال کے بعد ایک زمین زادہ اپنی سوتیلی ماں کی سمجھداری کی وجہ سے ہندوستان لوٹ آیا تھا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>حسرتوں کا بجٹ(رشید صافی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-06-14/52120/88975167</link><pubDate>Sun, 14 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-06-14/52120/88975167</guid><description>نئے مالی سال کا وفاقی بجٹ موجودہ حکومت کا تیسرا بجٹ ہے مگر درحقیقت ملک کے عوام کی اکثریت اسے پانچواں بجٹ سمجھتی ہے۔ اس عوامی تاثر کی وجہ یہ ہے کہ سابقہ پی ڈی ایم حکومت کے دور میں جو دو بجٹ پیش کیے گئے تھے انہیں ترتیب دینے والی سیاسی جماعتیں ہی آج بھی اقتدار کے ایوانوں میں براجمان ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عوام اس بجٹ کو اسی پانچ سالہ تسلسل کی ایک کڑی کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ موجودہ بجٹ کے خدوخال پر نظر ڈالیں تو یہ احساس ہوتا ہے کہ حکومت نے معیشت کے کچھ مخصوص شعبوں کو متحرک کرنے کے لیے چند جرأت مندانہ اور قابلِ ستائش فیصلے کیے ہیں‘ ان میں ایک ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی صنعت کے حوالے سے ہے۔ ٹیکسٹائل کی مشینری پر سے امپورٹ ڈیوٹی کے خاتمے نے نہ صرف اس شعبے کی درآمدات میں 21فیصد کااضافہ کیا بلکہ ملکی مینوفیکچرنگ کی صلاحیت کو بھی تحریک دی۔ اس طرح کاروباری برادری کو 120 ارب روپے کا جو براہِ راست ریلیف منتقل ہوا وہ برآمدات پر مبنی معیشت کے فروغ کے لیے سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ اسی طرح توانائی کا بحران جو طویل عرصے سے ملکی معیشت کے گلے کا طوق بنا ہوا ہے‘ کے حوالے سے آئی پی پیز کے ساتھ ہونے والے حالیہ مذاکرات اہمیت کے حامل ہیں۔ ماضی کے ان مہنگے معاہدوں پر نظر ثانی کے نتیجے میں 3700ارب روپے کی بچت کے اقدامات اور بجلی کے شعبے میں 143 ارب روپے کی بچت حکومت کی معاشی سفارتکاری اور انتظامی گرفت کی بڑی کامیابی کہی جا سکتی ہے۔ یہ بچتیں مستقبل میں پیداواری لاگت کو کم کرنے میں کردار ادا کریں گی۔ ٹیکنالوجی کے اس جدید دور میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے کو معیشت کا ہر اوّل دستہ تسلیم کرتے ہوئے آئی ٹی برآمدات پر عائد 0.25فیصد رعایتی ٹیکس کی سہولت میں مزید تین سال کی توسیع کرنا دور اندیش فیصلہ ہے۔ یہ اقدام باصلاحیت نوجوانوں اور فری لانسرز کو عالمی مارکیٹ میں مسابقت کے بہتر مواقع فراہم کرے گا اور ملک کے لیے قیمتی زرِمبادلہ کمانے کا مستقل ذریعہ بنے گا۔ کسانوں اور چھوٹے کاروباری افراد کے لیے 300ارب روپے کے قرضوں پر مشتمل پانچ نئی سکیمیں متعارف کروانا‘ جن سے ساڑھے سات لاکھ چھوٹے کسان مستفید ہوں گے‘ دیہی معیشت اور زرعی پیداوار کی افزائش کا باعث بن سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ تنخواہ دار طبقے کے مخصوص سلیبز کے انکم ٹیکس اور سپر ٹیکس کی شرح میں کی جانے والی ترامیم بھی کاروباری برادری اور مڈل کلاس کو یہ تاثر دیتی ہیں کہ حکومت معاشی نمو کے لیے نجی شعبے کی شراکت داری کو اہمیت دے رہی ہے۔موجودہ بجٹ میں ملکی دفاع اور خدمات کے لیے 3000ارب روپے کی خطیر رقم مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ فوجی پنشن کی مد میں 822ارب روپے الگ سے رکھے گئے ہیں۔ پاکستان جیسے جیو سٹریٹجک پوزیشن پر واقع ملک کے لیے مضبوط دفاعی بجٹ  ناگزیر ہے۔ خود مختاری اور سالمیت کا تحفظ کسی بھی ریاست کی اولین ذمہ داری ہوتی ہے۔ جہاں یہ اقدامات خوش آئند ہیں وہیں بجٹ کے کچھ مزید حقائق کو مدنظر رکھنا بھی ضروری ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ حکومت رواں برس بھی اپنے زیادہ تر اہم معاشی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ یہ ناکامی اس بات کی غماز ہے کہ ہماری معیشت کے سٹرکچرل نقائص اس قدر گہرے ہیں کہ سطحی اقدامات ان کا علاج کرنے سے قاصر ہیں۔ بجٹ کا سب سے فکر مندی والا پہلو ماضی کے قرضوں پر سود کی ادائیگی کا وہ حجم ہے جو ملکی معیشت کی شہ رگ کو دبا رہا ہے۔ مجموعی اخراجات کے تخمینے میں سے  8054ارب روپے سود کی ادائیگی کی نذر ہو جائیں گے۔ جب کسی ملک کی آمدن کا سب سے بڑا حصہ قرضوں کے سود کو چکانے میں صرف ہو جائے اور دوسرا بڑا حصہ جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت پر تو اس ریاست کے پاس اپنے عوام کی ترقی‘ تعلیم‘ صحت اور فلاح و بہبود کے لیے صرف حسرتیں اور قرض کے نئے کشکول ہی بچتے ہیں۔ حکومت نے جی ڈی پی کی شرح نمو کا ہدف 4 فیصد اور مہنگائی کی شرح کو 8.2فیصد تک رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے‘ یہ موجودہ معاشی تناظر میں ایک خواب سے زیادہ کچھ نظر نہیںآتا۔ ایسے ماحول میں جہاں پٹرولیم لیوی کے ذریعے عوام سے 1727ارب روپے نکالنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہو‘ وہاں مہنگائی کو سنگل ڈیجٹ پر رکھنا معجزے سے کم نہ ہو گا۔ حکومت نے خدمات‘ صنعت اور زراعت کے شعبوں میں روزگار کے 20لاکھ نئے مواقع پیدا کرنے کا مژدہ تو سنایا ہے لیکن جب تک توانائی کی قیمتیں مستحکم نہیں ہوتیں اور شرح سود میں نمایاں کمی نہیںآتی‘ نجی شعبے کے لیے نئے روزگار کے اتنے مواقع پیدا کرنا کٹھن دکھائی دیتا ہے۔طویل مدتی معاشی حکمت عملی کی تشکیل میں دیرپا حل پنہاں ہے‘ جس کا محور خود کفالت اور خود انحصاری ہونا چاہیے۔ عارضی ریلیف اور بیرونی بیساکھیوں کے سہارے چلنے والی معیشت کبھی وقار کے ساتھ زندہ نہیں رہ سکتی۔ اس مقصد کے لیے ہمیں روایتی معاشی ڈگر سے ہٹ کر کٹھن‘ انقلابی اور غیر مقبول فیصلے کرنا ہوں گے۔ سب سے پہلے ملک کے ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا اب بقا کا مسئلہ بن چکا ہے۔ یہ کب تک ممکن ہو گا کہ ملک کا تنخواہ دار طبقہ اور چند رجسٹرڈ صنعتیں ہی ٹیکس کا سارا بوجھ اٹھاتی رہیں جبکہ تاجر برادری ٹیکس نیٹ سے باہر رہے؟ جب تک غیر دستاویزی اور بااثر شعبوں کو ٹیکس کے دائرہ کار میں نہیں لایا جاتا تب تک بجٹ خسارے پر قابو پانا مشکل رہے گا۔ دوسرا اہم قدم ملکی برآمدات میں تنوع اور ان کی قدر میں اضافہ ہے۔ ہم اب بھی روایتی کپاس اور چاول کی برآمدات پر تکیہ کیے ہوئے ہیںجبکہ دنیا نالج بیسڈ اکانومی اور ڈیجیٹل سروسز کی طرف منتقل ہو چکی ہے۔آئی ٹی سیکٹر‘ زراعت اور دفاعی پیداوار کو مربوط کر کے ہم اپنے برآمدی حجم کو چند سالوں میں دگنا کر سکتے ہیں جس سے بیرونی قرضوں پر انحصار خود بخود کم ہو جائے گا۔ بجٹ کی شکل میں معاشی دستاویز دراصل ایک سنگ میل ہے جہاں ہمیں برسوں کے آزمودہ ماڈل کو خیرباد کہہ کر معاشی آزادی کی نئی بنیاد رکھنی ہو گی۔ خود انحصاری کا راستہ اگرچہ کٹھن ہے لیکن کشکول اٹھائے رکھنے سے ہزار درجہ بہتر ہے۔ معاشی خودمختاری کے بغیر اقتدارکا دعویٰ محض ایک لفاظی ہے جس کی تاریخ میں کوئی وقعت نہیں۔ حالات اب کسی نیم دلانہ فیصلے کی اجازت نہیں دیتے۔ فیصلہ سازوں کو اب اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہو گا کہ کشکول اور وقار کبھی ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ وقت آگیا ہے کہ وقتی پناہ گاہوں کی تلاش چھوڑ کر سچ کا سامنا کیا جائے اورآنے والی نسلوں کو قرضوں کے اس لامتناہی چکر سے نجات دلانے کے لیے معاشی خودمختاری کے لیے سفر شروع کیا جائے‘ چاہے وہ سفرکٹھن اور طویل ہی کیوں نہ ہو۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/222_48272610.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>وفاقی بجٹ: ایک طائرانہ جائزہ(عمران یعقوب خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-06-14/52121/99035131</link><pubDate>Sun, 14 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-06-14/52121/99035131</guid><description>قومی بجٹ کسی بھی ملک کی معاشی سمت اور حکومتی ترجیحات کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ بجٹ معاشی استحکام‘ مالیاتی نظم و ضبط‘ ترقیاتی منصوبوں کے فروغ اور عوامی فلاح و بہبود کے مقاصد کے تحت ترتیب دیا جاتا ہے۔ وفاقی بجٹ پیش کر دیا گیا۔ سب جان چکے کہ کیا چیز مہنگی ہوئی اور کس کی قیمت میں کمی کے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔ مالی سال 2026-27ء کا وفاقی بجٹ ایک ایسے وقت میں پیش کیا گیا ہے جب پاکستان کی معیشت کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔ 18771ارب روپے کے اس بجٹ میں مختلف شعبوں کیلئے فنڈز مختص کیے گئے ہیں‘ لیکن ظاہر ہے کہ مزید کی گنجائش ہمیشہ باقی رہتی ہے۔ بجٹ میں آئندہ مالی سال کیلئے معاشی ترقی کی شرح چار فیصد مقرر کی گئی ہے جبکہ افراطِ زر کو تقریباً 8.2فیصد تک محدود رکھنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ یہ اہداف اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ حکومت اقتصادی سرگرمیوں میں اضافہ اور مہنگائی پر قابو پانے کی کوشش میں ہے‘ لیکن یہ طے ہے کہ حکومت کی جانب سے ان دونوں عوامل کی مسلسل مانیٹرنگ کے بغیر یہ اہداف حاصل نہیں کیے جا سکیں گے۔ بجٹ میں ٹیکس وصولیوں کیلئے بڑے اہداف مقرر کیے گئے ہیں لیکن یہ سوچنا ہو گا کہ موجودہ مالی‘ معاشی‘ اقتصادی‘ تجارتی‘ کاروباری اور عالمی حالات میں یہ ہدف پورا ہو سکے گا؟ اگر حکومت کاروباری اور تجارتی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کرے اور توانائی کے ذرائع کی قیمتوں کا گراف نیچے لائے تو یہ ہدف خود بخود پورا ہو سکتا ہے۔ اس مقصد کیلئے ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے‘ ٹیکس چوری کی روک تھام اور ڈیجیٹل نظام کے فروغ پر توجہ مرکوز کرنا ہو گی۔ اس کیلئے ٹیکس نظام میں شفافیت پیدا کر کے قومی خزانے کو مستحکم بنانا بھی ناگزیر ہے۔ ان اقدامات کے بغیر بھی ٹیکس وصولی کا ہدف پورا ہونا ممکن نہ ہو گا۔بجٹ سے ایک دن پہلے پیش کی گئی اقتصادی سروے رپورٹ تو سب کچھ ٹھیک ہونے کا اشارہ دیتی ہے۔ لگتا ہے ہر شعبہ ہی ترقی کر رہا ہے۔ بجٹ کو دیکھنے سے پہلے ایک اُچٹتی نظر اقتصادی سروے رپورٹ پر کہ اقتصادی سروے گزرے مالی سال کی کارکردگی بیان کرتا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مون سون کی شدید بارشوں‘ امریکہ کی جانب سے دنیا کے مختلف ممالک پر ٹیرف کے نفاذ کی وجہ سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی پھر بھی حکومت بحرانوں سے نبرد آزما ہونے میں کامیاب رہی اور معاشی ترقی کی شرح نمو 3.7فیصد رہی‘ توقع تھی جو چار فیصد سے زائد رہے گی۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پیدا نہ ہوتی تو جی ڈی پی گروتھ چار فیصد سے اوپر جاتی۔ رپورٹ بتاتی ہے کہ پاکستانی معیشت کا حجم 452ارب ڈالر سے اوپر چلا گیا ہے جبکہ فی کس اوسط سالانہ آمدن 1751ڈالر سے بڑھ کر 1901ڈالر ہو گئی ہے۔ غربت تو پہلے کی نسبت بڑھتی جا رہی ہے۔ وزیر خزانہ کے مطابق پٹرولیم سیکٹر میں پانچ فیصد گروتھ ہوئی۔ جولائی تا مارچ کرنٹ اکاؤنٹ 72ملین ڈالر مثبت رہا۔ زرعی شعبے کی شرح نمو 2.89فیصد رہی۔ سپورٹس کی برآمدات تین ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں۔ آئی ٹی برآمدات چار ارب 50 کروڑ ڈالر تک پہنچ جائیں گی۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں گدھوں کی تعداد میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے‘ لائیو سٹاک یعنی مال مویشی کے شعبے کی شرح نمو 3.75فیصد رہی ہے جبکہ اس کا ہدف 4.2 فیصد تھا۔ حیرت اس بات کی ہے کہ ان ساری معاشی پیش رفتوں کے باوجود ملک میں غربت بڑھتی جا رہی ہے اور لوگوں کے مالی حالات ویسے نظر نہیں آتے جیسے چند سال پہلے تھے۔اب بات کرتے ہیں آئندہ مالی سال کے بجٹ کی۔ اس کی تفصیلات اور اعداد و شمار آپ کے سامنے آ چکے ہیں‘ اس لیے ان پر بات کرنے کے بجائے ہم طے کیے گئے اہداف کے زمینی حقائق سے تال میل کھانے یا نہ کھانے پر بات کریں گے۔ آئندہ مالی سال میں تنخواہ دار طبقے کیلئے تین ریلیف دیے جا رہے ہیں: ایک تو ان کی تنخواہوں میں سات فیصد اضافہ کیا گیا ہے جو اگرچہ تیزی سے بڑھتی ہوئی مہنگائی کے مطابق تو نہیں لیکن اس سے ان کا مالی سانس کچھ نہ کچھ ضرور بحال ہو گا۔ دوسرا وفاقی حکومت نے تنخواہ دار طبقے پر عائد سرچارج ختم کر دیا ہے اور تیسرا‘ ٹیکس میں ریلیف دینے کیلئے چار سلیبز کی تجویز پیش کی ہے جس کے تحت آئندہ مالی سال سے تنخواہ دار طبقے کیلئے ٹیکس شرح میں کمی کر دی گئی ہے۔ بجٹ میں دوسرا بڑا اقدام فائلرز کیلئے جائیداد کی خرید و فروخت پر وِد ہولڈنگ ٹیکس کی شرح میں نمایاں کمی کا ہے۔ بجٹ تجاویز کے مطابق فائلرز کیلئے جائیداد خریداری پر وِدہولڈنگ ٹیکس 2.5فیصد سے کم کر کے 1.25فیصد جبکہ نان فائلرز کیلئے جائیداد کی فروخت پر وِد ہولڈنگ ٹیکس 5.5سے کم کر کے 2.75فیصد کردیا گیا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس سے ریئل اسٹیٹ کے بزنس کو ایک بار پھر بوم ملے گا اور اس شعبے میں کاروباری سرگرمیاں تیز ہو جائیں گی۔ بجٹ میں کسانوں کیلئے 300ارب کے قرضے‘ صنعت اور تجارت کیلئے 6.6ارب روپے‘ صحت کیلئے 25.1ارب روپے‘ اعلیٰ تعلیم کیلئے 46ارب روپے اور سائنس اور ٹیکنالوجی کیلئے الگ سے 3.6ارب روپے رکھے ہیں جبکہ دانش سکولوں کیلئے 26.3ارب روپے مختص کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ ان تجاویز کو دستیاب وسائل میں بہترین کاوش قرار دیا جا سکتا ہے۔قومی بجٹ میں ترقیاتی منصوبوں کو بھی خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کیلئے ایک ہزار ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ان فنڈز کو بنیادی ڈھانچے‘ سڑکوں‘ توانائی‘ پانی کے ذخائر‘ تعلیم‘ صحت اور دیگر ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کیا جائے گا۔ تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی کی بنیاد ہوتی ہے‘ اسی لیے بجٹ میں جدید تعلیمی سہولیات‘ ڈیجیٹل لرننگ‘ تکنیکی تعلیم اور نوجوانوں کی مہارتوں میں اضافے کے منصوبے شامل کیے گئے ہیں۔ یہ مہارتیں ایسی ہیں کہ ملک بھی اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے اور نوجوان یہ مہارتیں حاصل کر کے بیرونِ ملک جا کر پیسہ کمانے کا اپنا خواب بھی پورا کر سکتے ہیں۔ بجٹ میں زرعی پیداوار میں اضافے‘ جدید زرعی ٹیکنالوجی کے استعمال‘ آبپاشی کے نظام کی بہتری اور زرعی قرضوں کی فراہمی پر توجہ دی گئی ہے۔ اس کوشش کا مقصد زرعی شعبے میں مزید مضبوطی لانا اور غذائی تحفظ کو یقینی بنانا ہے لیکن گزشتہ روز ہی کسانوں کے ایک نمائندے سے بات ہوئی تو وہ کہہ رہا تھا کہ کسانوں کو سستے قرضے نہیں چاہئیں بلکہ سستے زرعی لوازمات اور پیدا کی گئی فصلوں کی اچھی قیمت چاہیے۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ بھارت میںکھادیں کیوں سستی ہیں اور یہاں کیوں مہنگی ہیں؟ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت میں کسانوں کو سستی بجلی فراہم کی جاتی ہے لیکن یہاں زرعی شعبے کیلئے بجلی مہنگی ترین ہے۔ میری درخواست ہے کہ جب پارلیمنٹ میں بجٹ پر بحث شروع ہو تو زرعی شعبے کے حوالے سے اٹھائے گئے ان سوالات کے جواب تلاش کرنے کی بھی کوشش کی جائے۔آخر میں مَیں یہ ضرور کہنا چاہوں گا کہ ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کیلئے کوششیں ضرور ہونی چاہئیں کہ یہ قومی بقا کا سوال ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ بھی سوچنا چاہیے کہ حالات آخر اس حد تک کیسے اور کیوں پہنچ گئے کہ ہمیں بار بار آئی ایم ایف سے رجوع کرنا اور اس کی کڑی شرائط پر عمل کرنا پڑتا ہے۔ جب تک اس بارے میں سنجیدہ سوچ بچار نہیں ہو گی معاشی بحران کی گرداب سے نجات ناممکن ہو گی۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_58350786.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بھارت ایشیا کا اسرائیل(محمد عبداللہ حمید گل)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-abdullah-hameed-gull/2026-06-14/52122/72680039</link><pubDate>Sun, 14 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-abdullah-hameed-gull/2026-06-14/52122/72680039</guid><description>بھارت اور اسرائیل کے درمیان ایک قدرِ مشترک مسلم دشمنی ہے۔ دونوں ہی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف فاشسٹ پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں۔ آر ایس ایس کے پرچارک نریندر مودی کے ادوارِ اقتدار میں دونوں ممالک کی دوستی بھی عروج پر پہنچ چکی ہے۔ اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ مسلمانوں کے قاتل نریندر مودی نے نیتن یاہو کی متنازع پالیسیوں پر مبارک باد دیتے ہوئے تل ابیب کی پارلیمنٹ &#39;&#39;کنیسٹ‘‘ میں کھڑے ہو کر اسرائیل کو فادر لینڈ قرار دیا۔ اسرائیل نے اگر گریٹر اسرائیل کے خواب کی تکمیل کیلئے غزہ کو کھنڈر بنا دیا ہے‘ پورے فلسطین پر قبضے کیلئے مظلوم فلسطینیوں کا لہو بہایا ہے اور ایران و لبنان میں اپنے توسیع پسندانہ عزائم کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کیلئے بدترین جارحیت کا مظاہرہ کر رہا ہے تو دوسری جانب مودی نے بھی مقبوضہ کشمیر کو ایک زندان میں تبدیل کر دیا ہے۔ کشمیریوں کے جذبۂ حریت کو دبانے کیلئے چپے چپے پر فوج تعینات ہے۔ کشمیریوں کے انسانی حقوق سلب کرتے ہوئے ان پر متعدد قدغنیں عائد کر دی گئی ہیں۔ جس طرح فلسطین کی سرزمین سے مسلمانوں کے علیحدہ تشخص کے خاتمے کیلئے یہودی بستیاں آباد کی جا رہی ہیں بالکل اسی طرح مقبوضہ کشمیر کے خصوصی درجے کے ضامن آرٹیکلز 35-A اور 370 کو ختم کر کے اسے بھی ہڑپ لیا گیا اور اب یہاں کی مسلم آبادی کا اکثریتی تناسب تبدیل کرنے کیلئے غیر کشمیری ہندوؤں کو بسانے کی خاطر دھڑا دھڑ رجسٹریشن کی جا رہی ہے۔ اسرائیل ایک ناجائز اور جبر پر قائم ریاست ہے جس کا قیام فلسطینیوں کی اراضی ہتھیا کر ایک سازش کے تحت عمل میں لایا گیا تھا۔برطانیہ‘ امریکہ اور بھارت اسرائیل کی سرپرستی کر رہے ہیں جبکہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت صہیونی فوجی طاقت کے بل بوتے پر جابرانہ قبضے اور جارحانہ تسلط کو مستحکم کرنے کیلئے مظلوم اور نہتے کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہا ہے۔ اگر ہنود و یہود کا یہ گٹھ جوڑ کشمیر اور فلسطین میں اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب ہو گیا‘ جو کہ کسی حد تک ہو بھی چکا ہے‘تو کشمیر و فلسطین کے مسلمانوں کیلئے یہ خطرے کی گھنٹی ہے کہ برمی مسلمانوں کی طرح دربدری اور ٹھوکریں ان کا مقدر بن جائیں گی۔بھارت اور غاصب اسرائیل کے تعلقات بہت دیرینہ ہیں۔ 1947ء میں اگرچہ بھارت نے فلسطین کی تقسیم کے خلاف ووٹ دیا تھا‘ جو بعد میں اس کی منافقت کے طور پر سامنے آیا کیونکہ 1949ء میں بھارت نے خود اپنے ہی فیصلے کے خلاف اسرائیل کی حمایت میں ووٹ دے دیا۔ سنگھ پریوار شروع سے ہی اسرائیل کا حامی تھا اور آخرکار 1950ء میں بھارت نے اسرائیل کو باقاعدہ تسلیم کر لیا۔اسرائیل پورے مشرقِ وسطیٰ پر تسلط قائم کرنے کے ناپاک منصوبے کی تکمیل کیلئے مسلسل سرگرمِ عمل ہے اور اس مقصد میں اسے امریکہ کی آشیر باد حاصل ہے جس کا بدترین نمونہ دنیا غزہ میں دیکھ چکی ہے۔ اسی طرح مودی اور آر ایس ایس کے اَکھنڈ  بھارت کے نقشے میں پاکستان سمیت نیپال‘ بھوٹان‘ بنگلہ دیش اور سری لنکاکے علاقے بھی شامل ہیں‘ اسی لیے ان ممالک میں ہندو بنیے کی مداخلت کا سلسلہ جاری ہے۔ اس پس منظر میں بھارت کو &#39;&#39;ایشیا کا اسرائیل‘‘ قرار دیا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ بالی وڈ اور بھارتی میڈیا عالمی سطح پر ایک طاقتور اور مستحکم بھارت کی تصویر پیش کرتے ہیں مگر یہ زمینی حقائق کی مکمل عکاسی نہیں کرتا۔بھارت کا اپنے قیام سے ہی تقریباً ہر ہمسایہ ملک کے ساتھ کسی نہ کسی نوعیت کا تنازع موجود رہا ہے جس نے پورے خطے کو عدم استحکام کی کیفیت میں مبتلا رکھا ہوا ہے۔ پاکستان کے ساتھ کشیدہ تعلقات اس کی سب سے واضح مثال ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان چار بڑی جنگیں ہو چکی ہیں اور سرحدی تنازعات آج بھی برقرار ہیں۔ فالس فلیگ آپریشن پہلگام سے مئی 2025ء میں آپریشن سیندور تک کے واقعات‘ جن میں بھارت کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا‘ سندھ طاس معاہدے کی معطلی‘ پاکستانی دریاؤں پر ڈیموں کی  تعمیر اور عسکری کارروائیوں نے نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو متاثر کیا بلکہ پورے خطے کے امن کو بھی خطرے میں ڈال رکھا ہے۔  گلگت سے لے کر آزاد کشمیر تک بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ بے نقاب ہو چکا ہے۔ بلوچستان میں دہشت گردی سمیت آزاد کشمیر میں کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے حالیہ دنگا فساد نے بھارتی پراکسی وار کو عیاں کر دیا ہے۔ چین کے ساتھ بھی بھارت کے تعلقات کسی حد تک اسی نوعیت کے ہیں۔ 1962ء کی جنگ‘ 2020ء کا گلوان تصادم اور لداخ میں جاری تنازع اس کی مثالیں ہیں۔ نیپال‘ بنگلہ دیش اور سری لنکا جیسے ممالک کے اندر بھی بھارتی بدنامِ زمانہ ایجنسی &#39;&#39;را‘‘ کے مذموم سلسلے جاری ہیں۔ نیپال کے ساتھ سرحدی تنازعات اور آئینی اختلافات کی وجہ سے 2015ء کی ناکہ بندی کے دوران ملک کو سپلائی میں شدید خلل کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بھوٹان کے ساتھ دفاعی معاہدہ‘ جو وہاں ہندوستانی فوجی موجودگی کی اجازت دیتا ہے‘ جیسا کہ 2017ء کے ڈوکلام تعطل کے دوران دیکھا گیا۔ بنگلہ دیش کے ساتھ پانی کی تقسیم کے مسائل‘ حسینہ واجد کو پناہ دینا اور سری لنکا میں ماضی کی فوجی مداخلت‘ یہ سب عوامل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم سے علاقائی امن کو مسلسل خطرات لاحق ہیں۔ اس تمام صورتحال میں ایک اہم پہلو بھارت کا بیانیہ ہے جس میں وہ خود کو ایک ایسے ملک کے طور پر پیش کرتا ہے جو مسلسل بیرونی خطرات کا شکار ہے۔ یہ بیانیہ اسے نہ صرف داخلی سطح پر عوامی حمایت فراہم کرتا بلکہ عالمی سطح پر بھی ہمدردی حاصل کرنے میں مدد دیتا ہے۔ یہ طرزِ عمل Cry-Wolf Diplomacy کہلاتا ہے‘ جہاں جھوٹے اور من گھڑت واقعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے تاکہ پالیسی اقدامات کو جواز فراہم کیا جا سکے اور پھر بین الاقوامی فورمز سے رجوع کرتے ہوئے‘ خصوصاً پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرانے کی پوری کوشش کی جاتی ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں بھارت اور اسرائیل کے درمیان مماثلت کی بات کی جاتی ہے۔ دونوں ممالک اپنے نام نہاد سکیورٹی خدشات کو بنیاد بنا کر سخت پالیسیوں کو اپناتے ہیں اور اس کی آڑ میں متنازع علاقوں بالخصوص مقبوضہ کشمیر میں ظلم کی انتہا کر دیتے ہیں۔ دونوں عالمی طاقتوں خصوصاً امریکہ کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک اپنے بیانیے میں &#39;&#39;وجودی خطرے‘‘ کو نمایاں رکھتے ہیں‘ جو اُن کی خارجہ اور دفاعی پالیسیوں کا اہم ستون ہے۔موجودہ حالات کے تناظر میں بھارت کی سفارتی تنہائی بڑھتی جا رہی ہے جو اس کے اس دعوے کو کمزور کرتی ہے کہ وہ جنوبی ایشیا کی بڑی قوت ہے۔ اگر بھارت اپنی علاقائی پالیسیوں پر نظرِ ثانی نہیں کرتا‘ دوطرفہ مذاکرات کو ترجیح نہیں دیتا اور طاقت و دھونس کے استعمال کے بجائے اعتماد سازی کی جانب نہیں بڑھتا تو خطے میں امن و استحکام کی راہیں مسدود ہو جائیں گی۔ تاہم ہندوستان کی موجودہ علاقائی حکمتِ عملی کا چکر تنازعات‘ الزام تراشی‘ سفارتی شور اور جھوٹے بیانیے پر مشتمل ہے۔مودی کا ہندوستان اب چمکدار نہیں رہا۔ آپریشن بنیانٌ مرصوص نے ہندوتوا حکومت کا مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے۔ بھارت اقلیتوں کیلئے جہنم بن چکا ہے اور وہاں بسنے والے مسلمان ہندو راشٹریہ کے نقشے سے باہر ہیں۔ گرو گوالکر کے ہندو راشٹر منصوبے میں واضح طور پر درج ہے کہ ہندو سماج (سمپورن سماج) میں مسلمانوں کو جگہ دینا ممکن ہی نہیں۔ 1947ء سے لے کر آج تک ہندوستان کے نام نہاد سیکولر ازم نے بھارت کی اصل تصویر پر جو پردہ ڈال رکھا تھا وہ اب اٹھ چکا ہے اور حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو رہی ہے۔ مسلمانوں سے کہا جاتا ہے کہ اگر بھارت میں رہنا ہے تو &#39;&#39;جے ماتا‘‘ کے نعرے لگاؤ۔ یہ تمام باتیں اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ ہندوستان استبدادی قوم پرستی اور مذہبی فاشزم کی سمت بڑھ رہا ہے۔ بھارت ثقافتی جبر‘ سیاسی استحصال‘ معاشی ناانصافی اور سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں انسانی حقوق کی پامالیوں کے باعث ایک خوفناک جمہوریہ میں تبدیل ہو چکا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_62843609.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>