<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>بلوچستان میں سکیورٹی چیلنجز اور عزمِ نو(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-09/11345</link><pubDate>Thu, 09 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-09/11345</guid><description>ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کی گزشتہ روز کی پریس کانفرنس میں ملک کی سکیورٹی صورتحال خصوصاً بلوچستان میں ابھرتے چیلنجز اور ریاستی عزم کو مدلل انداز میں واضح کیا گیا۔ ترجمان پاک فوج نے بتایا کہ گزشتہ چار روز کے دوران بلوچستان میں دہشت گردی کے تین بڑے واقعات میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں نے معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا‘ تاہم بلوچستان کے بہادر عوام اور سکیورٹی اہلکاروں نے جرأت و بہادری سے ان کا مقابلہ کیا۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کے مطابق مختلف کارروائیوں میں پولیس کے 27جوان‘ 11 فوجی اہلکار اور چار عام شہری شہید ہوئے اور جوابی کارروائیوں اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں 54 دہشتگرد مارے گئے۔ بلوچستان میں خون کی ہولی کھیلنے والا دشمن کون ہے‘ اس حوالے سے دو رائے نہیں اور نہ ہی دشمن کے مذموم مقاصد اور محرکات ڈھکے چھپے ہیں۔ یہ ایک مصدقہ حقیقت ہے کہ دہشتگردی کے ہر واقعے کے پیچھے بھارت ہے۔ اہداف اور طریقۂ واردات میں فرق ہو سکتا ہے مگر ان واقعات کے ذمہ داروں کے مقاصد ایک ہی ہیں؛ پاکستان کی ترقی کی راہیں روکنا‘ سماج میں خوف پیدا کرنا اور دفاعی قوت کو کمزور کرنا۔ دراصل معرکہ حق کے بعد سے بھارت نے اپنی ہزیمت کا مداوا پاکستان میں بدامنی کو فروغ دینے میں تلاش کیا ہے۔

یہ باتیں بھارت کے سکیورٹی اداروں اور مبینہ تھنک ٹینکس سے منسلک افراد برملا تسلیم کر چکے ہیں۔ بلوچستان کی جغرافیائی ہیئت ایسی ہے کہ بھارتی فنڈڈ دہشتگردوں کیلئے گھات لگا کر حملہ کرنا اور پہاڑوں میں مورچے بنا کر چھپنا آسان ہے‘ تاہم پاک فوج کی شبانہ روز محنت اور روزانہ کی بنیاد پر جاری انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز سے دہشتگردی کے خطرات میں خاصی کمی آئی ہے۔ ایک ملکی سکیورٹی تھنک ٹینک کی حالیہ رپورٹ کے مطابق رواں سال کی دوسری سہ ماہی میں (اپریل تا جون) بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے اور مجموعی طور پر 94 واقعات رپورٹ ہوئے‘ جو کُل ملکی واقعات کا 35فیصد ہیں۔ اسی طرح پُرتشدد واقعات میں جانی نقصان‘ جو پہلی سہ ماہی میں 443 تھا‘ دوسری سہ ماہی میں کم ہو کر 265 تک آ گیا۔ یہ اعداد وشمار ریاستی رِٹ کی بحالی کیلئے دفاعی اداروں کی مؤثر حکمت عملی کی دلیل ہیں۔ دشمن کی فنڈنگ میں تیزی کے باوجود ہمارے سکیورٹی اداروں کے فولادی عزم نے دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملا دیا ہے اور انہی مایوس کن حالات میں دہشتگرد اب شہری آبادیوں پر شب خون مارنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
تاہم اب عوام بھی سکیورٹی اداروں کے شانہ بشانہ دشمن کیخلاف لڑ رہے ہیں جیسے منگی ڈیم اور ہنہ اوڑک پر دہشتگردوں کے حملوں کے جواب میں بہادر عوام نے دہشت گردوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور ہنہ اوڑک کا علاقہ خالی کرا لیا۔ جب ریاستی اداروں اور عوام میں رشتہ اتنا مضبوط ہو جائے تو دنیا کی کوئی طاقت انہیں زیر نہیں کر سکتی۔ گزشتہ روز نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی سے خطاب کرتے ہوئے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے غالباً اسی جانب اشارہ کیا کہ جنگیں میڈیا کی بیان بازی یا سیاسی نعروں سے نہیں بلکہ ایمان‘ اتحاد اور نظم و ضبط سے جیتی جاتی ہیں۔ فیلڈ مارشل نے واضح کیا کہ ملکی افواج ہر قسم کے چیلنج سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔ یہ ریاستی عزم کا واضح اظہار ہے کہ سرحدوں کے اندر یا باہر سے ہونے والی کسی بھی مہم جوئی کا جواب اب اسی زبان میں دیا جائے گا جو دشمن کو سمجھ آتی ہے۔
سکیورٹی انتظام بہتر بنانے کے علاوہ ہمیں اس حقیقت کو بھی مان کر چلنا ہو گا کہ حالات کو بہتر بنانے کیلئے وسائل کی بہتر تقسیم بھی از حد ضروری ہے کیونکہ محرومیوں کیساتھ مسائل کا حل ممکن نہیں۔ خوش آئند بات ہے کہ بلوچستان میں ترقیاتی منصوبے تکمیل کے مراحل میں ہیں‘ ضروری ہے کہ اس ترقی کے مثبت اثرات جلد از جلد عام آمی کی زندگی میں بھی نظر آئیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>نیشنل پاپولیشن کونسل(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-09/11344</link><pubDate>Thu, 09 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-09/11344</guid><description>وفاقی حکومت نے ملک میں تیزی سے بڑھتی آبادی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے 16رکنی نیشنل پاپولیشن کونسل قائم کی ہے جس کا مقصد قومی سطح پر آبادی سے متعلق ترجیحات طے کرنا‘ وفاق اور صوبوں کے درمیان مؤثر رابطہ‘ نیشنل پاپولیشن سٹیبلائزیشن پروگرام پر عمل درآمد اور آبادی کے رجحانات کی مسلسل نگرانی کرنا بتایا گیا ہے۔ پاکستان اس وقت آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے۔ ملکی آبادی میں سالانہ تقریباً 2.55 فیصد کی شرح سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اگر آبادی میں اضافہ اسی رفتار سے جاری رہا تو شہریوں کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنا مزید دشوار ہو جائے گا؛ چنانچہ عوام کو زندگی کی بہتر سہولتیں مہیا کرنے کے لیے آبادی کی شرح کو کنٹرول کرنا حکومت کے لیے ایسا چیلنج ہے جس پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جا سکتا۔

تاہم حقیقت یہ ہے کہ آبادی میں استحکام صرف سرکاری پالیسیوں سے ممکن نہیں‘ اس کے لیے خاندانی منصوبہ بندی کی سہولتوں تک عوام کی آسان رسائی‘ بنیادی مراکزِ صحت میں ضروری ادویات اور تربیت یافتہ عملے کی دستیابی‘ خواتین کی تعلیم اور انہیں بااختیار بنانے کے اقدامات‘ ماں اور بچے کی صحت کے پروگراموں میں بہتری اور عوامی آگاہی مہمات جیسے اقدامات ناگزیر ہیں۔  اگر حکومت بہبودِ آبادی کو ایک سیاسی نعرہ بنانے کے بجائے واضح اہداف‘ مؤثر اختیارات اور سخت نگرانی کے ساتھ کام کرتی ہے تو ہی یہ اقدام مستقبل میں قومی ترقی کی بنیاد بن سکتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>آبی گزرگاہوں میں تجاوزات(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-09/11343</link><pubDate>Thu, 09 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-09/11343</guid><description>سپارکو کی تازہ سیٹیلائٹ نگرانی نے ایک نہایت تشویشناک صورتحال کی نشاندہی کی ہے کہ گلگت بلتستان میں خطرناک  گلیشیائی جھیلوں کی تعداد 131تک پہنچ چکی ہے جو کسی بھی وقت پھٹ کر شدید سیلاب کا سبب بن سکتی ہیں۔ زیادہ پریشانی کی بات یہ ہے کہ گلگت کے قریب آبی گزرگاہوں کے اطراف گزشتہ ایک دہائی کے دوران تجاوزات اور غیرقانونی تعمیرات میں اضافے سے قدرتی آبی راستے سکڑ چکے ہیں اور پانی اور ملبے کے شدید ریلے کو سنبھالنے کے قابل نہیں رہے جس کا نتیجہ گلوف کی صورت میں بستیوں‘ زرعی زمینوں‘ بنیادی ڈھانچے اور قیمتی جانوں کے ضیاع کی صورت میں نکلے گا۔ قدرتی آبی گزرگاہوں‘ ندی نالوں‘ دریاؤں کے پاٹ اور سیلابی میدانوں میں غیرقانونی تعمیرات برسوں سے ایک سنگین مسئلہ بنی ہوئی ہیں۔

گزشتہ برس اور اس سے قبل 2022ء کے تباہ کن سیلابوں نے بھی ثابت کیا تھا کہ دریا برد علاقوں اور قدرتی گزرگاہوں پر قائم تجاوزات سب سے زیادہ نقصان اٹھاتی ہیں‘ مگر اس خوفناک تجربے سے بھی سبق نہیں سیکھا گیا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ گلگت بلتستان اور متعلقہ حکومتیں گلوف کے ممکنہ خطرات کے پیشِ نظر آبی گزرگاہوں میں قائم تجاوزات کے خاتمے کے لیے فوری اور مؤثر کارروائی کریں اور آبی تجازوات کے مستقل خاتمے کے لیے جامع لائحہ عمل تشکیل دیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ناجائز رزق سے پلی ہوئی اولاد …(2)(محمد اظہارالحق)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-07-09/52261/38482603</link><pubDate>Thu, 09 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-07-09/52261/38482603</guid><description>ناجائز آمدنی سے پلی بڑھی اولاد کبھی بھی اُس اولاد کی طرح نہیں ہو سکتی جس کی پرورش حلال اور طیب آمدنی سے ہوئی ہو! اس فرق کو جاننے اور جانچنے کیلئے چشمِ بینا‘ غور وفکر اور تحقیقی طرزِ فکر درکار ہے۔ ایک استاد کی تحقیق دیکھیے۔رسول شاہ صاحب کا تعلق اصلاً قندھار سے ہے۔ کراچی میں 45 برس انہوں نے ایک تعلیمی ادارے میں پڑھایا۔ انہیں قدرت نے ایسا ذہن دیا کہ وہ طالب علم کے طور اطوار‘ مجلسی آداب‘ عادات‘ ذہانت اور کارکردگی دیکھ کر متجسس ہو جاتے تھے‘ اس کے والدین سے مل کر ان کی آمدنی کی نوعیت معلوم کرتے تھے اور پھر بچے کی شخصیت پر حلال یا حرام کے اثر پر غور کرتے تھے۔ انہی کی زبانی سنیے &#39;&#39;حرام کمائی کے بداثرات بچوں میں ضرور نظر آ جاتے ہیں۔ اب کچھ ایسے کیسز کی طرف آتے ہیں جہاں ہمارا نظریہ یا فارمولا کام نہیں کرتا۔ والد کی حرام کمائی کے باوجود بچے میں ایسے اوصاف پائے جاتے ہیں جو کہ حیران کن ہوتے ہیں۔ ایسے تمام واقعات میں دراصل کچھ اور عناصر کار فرما ہوتے ہیں جیسا کہ وقت‘ اندازِ تجزیہ اور دیگر جن کو ہم نظر انداز کرتے ہیں یا صحیح طور پر تجزیہ کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے۔ آئیے ان باتوں کو ایک دو مثالوں سے واضح کرتے ہیں۔ ایک بچہ بہت ہی خوش اخلاق تھا‘ اور پڑھائی میں بھی ٹھیک ٹھاک ذہین ہونے کی وجہ سے جلد ہی اساتذہ میں پسندیدگی کی نظروں سے دیکھا جانے لگا اور میں والدین سے ملاقات کے اشتیاق میں مبتلا ہو گیا کہ دیکھوں کیسے والدین ہوں گے۔ والدہ سے تو کبھی ملاقات نہ ہو سکی کیونکہ وہ پردے کی وجہ سے گھر تک محدود تھیں مگر والد سے مل کر سخت مایوسی ہوئی۔ نہایت ہی زود رنج‘ متکبر شخص جو سکول کے درو دیوار تک سے شاکی نظر آتا تھا۔ مزید کریدنے پر پتا چلا کہ ایک سرکاری محکمہ میں افسر ہیں اور بطور راشی افسر کے بدنام ہیں۔ اس قدر رشوت لیتے ہیں کہ بنگلوں‘ زرعی زمینوں اور گاڑیوں کی کوئی حد ہے نہ حساب۔ سب سے زیادہ دکھ اس بات کا ہوا کہ میرا فارمولا کاملاً ناکام ہو گیا تھا۔ لیکن یہاں وقت کی ضرورت تھی۔ بچہ ابھی ساتویں جماعت میں تھا۔ وقت گزرتا گیا اور جیسے جیسے بچے کی عمر اور جماعت میں ترقی آتی گئی ویسے ویسے اس کی تعلیمی اور اخلاقی درجہ بندیاں گرتی گئیں۔ کالج تک پہنچتے پہنچتے وہ‘ وہی بن گیا تھا جس کی توقع تھی۔ ایک اور بچے کا ذکر دلچسپی سے خالی نہ ہو گا۔ یہ بچہ پڑھائی میں اوسط درجے کا اور عجیب دھیمے مزاج کا تھا۔ والد صاحب نے حلال وحرام ہر طرح سے دولت کا انبار لگا رکھا تھا۔ اس بچے کا دھیما اور پُروقار مزاج اور اس کے والد کی کمائی ایک دوسرے سے مطابقت نہیں رکھتے تھے۔ ایک دن اس دھیمے مزاج کا بھرم بھی جاتا رہا اور جب یہ آتش فشاں پھٹا تو اگلا پچھلا سارا حساب برابر کردیا اور وہ طوفانِ بدتمیزی اس بچے نے برپا کیا کہ الامان والحفیظ‘‘۔دہائیوں پہلے جب بانو قدسیہ نے اپنے ناول &#39;&#39;راجہ گدھ‘‘ میں کہا کہ اکل حلال یا اکل حرام انسان کے جسم اور جسمانی نظام پر بھی اثر کرتا ہے تو اس پر کافی لے دے ہوئی۔ کچھ نے اس نظریے کو دقیانوسیت سے جوڑا اور کچھ نے مذہبی کہہ کر نظر انداز کیا۔ مگر اب سائنس بھی مان رہی ہے کہ جینز بہت بڑا عامل ہیں۔ میں اس موضوع پر سوچ رہا تھا کہ عزیزِ گرامی جناب حسنین جمال سے بات ہوئی۔ کمال کے لکھاری ہیں۔ ہمارے موضوع کے حوالے سے ان کی ایک تحریر دلچسپ اور منطقی ہے۔وہ لکھتے ہیں &#39;&#39; رشتہ خاندان دیکھ کے کرنا چاہیے‘ ایک اور بات بزرگوں کی سائنسی طور پہ ثابت ہو گئی۔ جب اخبار پڑھنا شروع کیا تو اس میں ایک دن اشتہار دیکھا کہ جرمن شیفرڈ برائے فروخت‘ ساتھ اس کے آباؤ اجداد کی مکمل فہرست‘ بلڈ لائن کی تفصیل... وہ چیز کلک ہوئی لیکن کمزور ترین درجے کی‘ ایویں میں نے سر جھٹکا اور کام پہ لگ گیا۔ اس کے بعد نیٹ آ گیا‘ کوئی فلم دیکھی جس میں گھوڑوں کی ریس کا قصہ تھا‘ اب اس میں ایک سے ایک نجیب الطرفین گھوڑا‘ صرف چیمپئن گھوڑے کی نسل مخصوص بندوں کے ہاتھ میں رکھنے کیلئے وہ جنگ پڑی کہ الامان۔ اب سر جھٹکنا مشکل ہوتا گیا۔ اب میرے سامنے یہ سوال تھا کہ بھئی جب کتے اور گھوڑے تک حسبی نسبی اور نسلی ہیں‘ جب مرغے بھی اصیل ہیں تو انسانوں میں بھی کوئی نہ کوئی تو رولا ہو گا جس کی وجہ سے خاندانوں میں بزرگ کیدو بن کے بیٹھے ہوتے تھے۔ پھر سیکشوئل سلیکشن کا نظریہ بھی لے آئی ایوولوشنری سائنس‘ جو کہتا ہے کہ انسان اپنے شریکِ حیات کا انتخاب فطری طور پر صحت‘ ذہانت‘ سماجی حیثیت یا وسائل وغیرہ دیکھتے ہوئے کرتا ہے اور یہ انتخاب اس کی اگلی نسل کی جینیاتی خصوصیات پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اب مجھے بتائیں کہ اگر ڈارون یہ کہتا ہے کہ والدین سے اولاد میں وراثتی خوبیاں منتقل ہو رہی ہیں تو کیا وہ &#39;خاندان‘ دیکھنے کی بات نہیں کر رہا؟‘‘۔حسنین جمال کی ملاقات ڈاکٹر قرۃ العین قریشی سے ہوتی ہے جو لمز میں پڑھاتی ہیں۔ ان کی پی ایچ ڈی ایپی جنیٹکس (Epigenetics) میں ہے جس کا موضوع ہے کہ ایک انسان کے جینز پر کس طرح اس کا ماحول‘ اس کی اپنی عادتیں‘ اس کے خاندان کا رہن سہن اور اس کا شہر یا گاؤں اثر انداز ہوتے ہیں۔ تو پھر خود سوچیے۔ اگر جینز پر ماحول اور خاندان کا رہن سہن اثر انداز ہوتا ہے تو حلال یا حرام کمائی بھی تو ماحول اور خاندان کے رہن سہن کا حصہ ہے۔ ہر دو ا کے ساتھ ایک کاغذ ہوتا ہے جس پر دوا کے منفی اثرات درج ہوتے ہیں۔ ہم جو کچھ کھاتے پیتے اور پہنتے ہیں‘ اس کا اثر ہماری صحت اور ہمارے طرزِ عمل پر پڑتا ہے۔ ہم کسی کی مدد کرتے ہیں‘ صدقہ دیتے ہیں یا فلاحی کام کرتے ہیں تو ہمارے دماغ میں موجود ہارمون‘ جسے ڈوپامین کہتے ہیں‘ فعال ہو جاتا ہے اور ہمیں خوشی محسوس ہوتی ہے۔ ہم کسی کو معاف کرتے ہیں تو تازہ ترین تحقیق کی رُو سے جسم پر اس قدر مثبت اثرات پڑتے ہیں کہ بلڈ پریشر کم ہو جاتا ہے۔ دل دھڑکنے کی رفتار بہتر ہو جاتی ہے۔ خفقان اور ذہنی دباؤ کم ہو جاتا ہے اور نیند بہتر آنے لگتی ہے۔ مجموعی طور پر ہماری جسمانی اور ذہنی صحت پر خوشگوار اثرات پڑتے ہیں۔ اس کے بر عکس جب ہم دل میں دشمنی پالتے ہیں‘ انتقام لینے کا سوچتے ہیں اور غیظ وغضب میں رہتے ہیں تو ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ جسم کے اندر ایک ہارمون جسے کورسٹول (Coristol) کہتے ہیں‘ بڑھ جاتا ہے جس سے کئی بیماریاں لاحق ہوتی ہیں۔ بالکل اسی طرح حلال کمائی والے کی زندگی میں ذہنی پریشانی کم ہوتی ہے۔ ناجائز کمائی والے کے دل میں ایک کھٹکا ہمیشہ رہتا ہے کہ پکڑا نہ جاؤں۔ وہ ناجائز کمائی کے ذرائع اور تفصیلات کو اپنے بیوی بچوں اور والدین سے مسلسل پوشیدہ رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس سے ذہنی دباؤ بڑھتا ہے۔ زندگی میں اطمینان نہیں رہتا۔ فیملی کے سامنے وہ فخر وانبساط سے کبھی بھی دعویٰ نہیں کر سکتا کہ اس نے محنت سے اور خون پسینے کی کمائی سے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلائی اور پھر ان  کی شادیاں کیں۔ مالِ حرام سے اولاد عیاشیوں میں پڑ جاتی ہے۔ اندھی آمدنی‘ وہ بھی بغیر محنت کے‘ اولاد کو بگاڑ دیتی ہے۔ قمار بازی‘ شراب نوشی‘ منشیات کا استعمال‘ زنا‘ حرام مال کا منطقی نتیجہ ہوتا ہے۔ ایک صاحب جو ساری ملازمت کے دوران حرام کمائی والی پوسٹوں سے چمٹے رہے‘ میرے سامنے ایک ایسی مصیبت میں پڑ گئے جس نے ان کے سارے پیسے کو برباد کر کے رکھ دیا۔ ان کے اکلوتے بیٹے کی صحبت بری تھی۔ اس نے ایک دوست کو قتل کر دیا۔ باپ کی زندگی تہمت بن کر رہ گئی۔ اپنے ارد گرد دیکھیے۔ میڈیا کی خبروں پر غور کیجیے۔ کیا آپ کو ناجائز مال کے شاخسانے نہیں نظر آ رہے؟ (ختم)</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_57182973.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>صدر ٹرمپ اور ہمارے حکمران(خالد مسعود خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-07-09/52262/21455890</link><pubDate>Thu, 09 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-07-09/52262/21455890</guid><description>پاکستان کے روایتی اور امریکہ کے غیرروایتی سیاستدانوں کی حرکتیں بالکل ایک جیسی ہیں۔ پاکستانی روایتی سیاستدانوں سے میری مراد عشروں سے خاندانی طور پر سیاسی پارٹیوں اور ان کے ذریعے اقتدار پر قابض خاندان اور افراد ہیں۔ اس میں کسی پارٹی کی کوئی تخصیص نہیں۔ ایک آدھ جماعت کو چھوڑ کر باقی تمام سیاسی جماعتوں میں‘ خواہ وہ جمہوریت کا جتنا بھی دعویٰ کیوں نہ کریں‘ کوئی جمہوریت نہیں۔ مسلم لیگ (ن)‘ مسلم لیگ (ق)‘ پاکستان پیپلز پارٹی‘ جمعیت علمائے اسلام اور عوامی نیشنل پارٹی‘ یہ تمام پارٹیاں دو دو‘ تین تین پشتوں سے ایک ہی خاندان کے قبضہ قدرت میں ہیں۔ جب سے یہ لوگ اور پارٹیاں اقتدار میں آئی ہیں‘ چھوٹی موٹی چیزیں تو رہیں ایک طرف سرکاری اداروں‘ عمارتوں‘ کھیل کے میدانوں‘ ہسپتالوں‘ یونیورسٹیوں‘ کالجوں اور دیگر اسی قسم کے عوام کے ٹیکس سے بننے والے حکومتی پراجیکٹس کے نام اپنے اپنے بزرگوں‘ بچوں حتیٰ کہ اپنے رشتہ داروں کے نام پر رکھنے کی ایک مضبوط روایت ہمارے ہاں موجود ہے۔ مغربی ممالک میں ایسی صورتحال کہیں دکھائی نہیں دیتی۔ اس مسافر نے دنیا کے بہت سے ممالک گھومے ہیں لیکن کہیں بھی کسی حاضر صدر‘ وزیراعظم‘ پارلیمنٹیرینز‘ گورنرز‘ سینیٹرز یا دیگر پبلک آفس کے حامل افراد کی کوئی افتتاحی یا تکمیل کی تختی لگی ہوئی نہیں دیکھی۔ ممکن ہے ایسی کوئی تختی میری نظر سے رہ گئی ہو لیکن جتنا میں سڑکوں‘ گلیوں‘ بازاروں‘ پارکوں اور شہروں میں گھوما ہوں اگر کوئی ایسی نمایاں چیز لگی ہوتی تو یقینا دکھائی دیتی۔ ادھر امریکہ اور یورپ میں کھلاڑیوں‘ فنکاروں‘ ادیبوں‘ دانشوروں اور کسی شعبے میں نمایاں مقام رکھنے والے افراد کے نام پر ایسی تختیاں‘ مجسمے اور پلیٹیں دکھائی دیتی ہیں۔ ہاں البتہ سابقہ صدور یا سابقہ وزرائے اعظم جن کی بہت نمایاں خدمات ہیں‘ اس سلسلے میں ان کا نام کئی جگہ پر دکھائی دیتا ہے۔ لیکن حاضر سروس حکمرانوں کی تختیاں‘ مجسمے یا سنگ مرمر کی کتبے کہیں دکھائی نہیں دیتے۔ تاہم اب امریکہ میں غیر روایتی یا غیرسیاسی پس منظر کا حامل صدر ٹرمپ تقریباً وہی کچھ کر رہا ہے جو ہمارے ہاں روایتی‘ قدیمی خاندانی سیاستدان کر رہے ہیں۔ یہ ٹرمپ کا آخری دور ہے اور وہ اس دور کو اپنے نام کی تشہیر کی خاطر آئندہ نسل کو دکھانے کی غرض سے بہت سے مقامات‘ اداروں اور دیگر جگہوں پر اپنے نام کی مہر ثبت کرنا چاہتا ہے۔ کچھ میں اسے ناکامی ہوئی ہے اور کچھ میں جزوی کامیابی بھی ملی ہے۔ لیکن دوسری طرف امریکی قانون اور عدالتیں اس سلسلے میں کافی فعال ہیں اور صدر ٹرمپ کے ایسے تمام خلاف از قانون اقدامات کا سدباب کر رہی ہیں۔ باوجود اس کے کہ امریکن سپریم کورٹ کے نو میں سے چھ جج ریپبلکن ہیں۔ ریپبلکن سے مراد یہ نہیں کہ یہ جج ریپبلکن پارٹی کے رکن یا رہنما ہیں بلکہ ان کی تعیناتی ریپبلکن دورِ اقتدار میں ہوئی ہے اور حالیہ برسر اقتدار پارٹی کے صدور کے فائز کردہ جج ہیں۔ تاہم ان کی تقرری کے پیشِ نظر ان کی عدالتی خدمات اور بطور لبرل یا قدامت پسند نظریات ضرور ہوتے ہیں۔ امریکی سپریم کورٹ کے موجودہ نو ججوں میں سے چھ جج بمعہ چیف جسٹس ریپبلکن ہیں اور تین جج  ڈیموکریٹ ہیں۔ لیکن اس واضح تقسیم کے باوجود بہرحال قانون اور آئین کی کسی حد تک پاسداری ہو رہی ہے۔ صدر ٹرمپ نے جان ایف کینیڈی سنٹر فار پرفارمنگ آرٹ کا نام تبدیل کر کے اسکا نام جان ایف کینیڈی ٹرمپ سنٹر فار پرفارمنگ آرٹ کر دیا‘ تاہم نام کی اس تبدیلی کو عدالت نے مسترد کر دیا اور کہا کہ سرکاری عمارت کا نام باقاعدہ قانون سازی کے بغیر تبدیل نہیں کیا جا سکتا‘ لہٰذا اس کا نام دوبارہ جان ایف کینیڈی سنٹر فار پرفارمنگ آرٹ کر دیا جائے‘ اور وہ کر دیا گیا ہے۔ امریکی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کے اس ایگزیکٹو آرڈر کو بھی خلافِ قانون قرار دے کر منسوخ کر دیا ہے جس میں صدر  ٹرمپ نے امریکہ میں پیدا ہونیوالے غیر امریکی شہریوں کے بچوں کی امریکی شہریت کو ختم کرنے کا حکمنامہ جاری کیا تھا۔ جن چھ ججوں نے اس حکم کو منسوخ کیا ان میں سے دو جج وہ تھے جن کا تقرر خود صدر ٹرمپ نے اپنی پہلی ٹرم کے دوران کیا تھا۔ اسی طرح صدر ٹرمپ نے پاسپورٹ پر اپنی تصویر چھاپنے کا ارادہ ظاہر کیا اور اس میں صدر کو بہرحال جزوی کامیابی ہوئی اور واشنگٹن پاسپورٹ ایجنسی نے امریکہ کی آزادی کی 250ویں سالگرہ کے حوالے سے ایک یادگاری پاسپورٹ جاری کرنے کا اعلان کیا ہے جس پر صدر ٹرمپ کی تصویر ہو گی۔ لیکن یہ مستقل پاسپورٹ نہیں ہو گا۔ یہ اسی سال محدود تعداد میں یادگاری پاسپورٹ جاری کیے جائیں گے۔ جیسے یادگاری سکے جاری کیے جاتے ہیں۔ یہ پاسپورٹ عام امریکی پاسپورٹ کی جگہ نہیں لے رہا بلکہ صرف ایک خصوصی یادگاری ایڈیشن ہے جسے محدود مدت اور محدود تعداد میں جاری کیا جا رہا ہے۔ جبکہ عام درخواست دہندگان کو بدستور روایتی ڈیزائن والا پاسپورٹ ملتا رہے گا۔ یہ یادگاری سکوں کی مانند صرف ایک خاص تعداد میں ہی جاری ہوں گے اور اس کے بعد یہ سلسلہ بند ہو جائے گا۔ اسی طرح صدر ٹرمپ نے پام بیچ ایئرپورٹ کا نام وہاں کی قانون ساز اسمبلی کی منظوری سے ٹرمپ انٹرنیشنل ایئرپورٹ رکھوا لیا ہے۔ اسی طرح صدر ٹرمپ نے امریکہ کی آزادی کے 250 سال مکمل ہونے کو جواز بناتے ہوئے 250 ڈالر کا اپنی تصویر والا نوٹ جاری کروانے کا ارادہ بھی کیا اور اس سلسلے میں کوشش بھی کی۔ لیکن یہ منظور نہ ہو سکا کیونکہ روایتی طور پر امریکہ کی کسی بھی ایسی شخصیت کی نوٹ پر تصویر نہیں چھپ سکتی جو زندہ ہے۔ یہ محض روایتی معاملہ نہیں بلکہ اس سلسلے میں امریکی کانگریس اور سینیٹ نے باقاعدہ قانون سازی کی ہوئی ہے۔ امریکہ میں سات مختلف مالیت کے نوٹ ہیں۔ ایک ڈالر کے نوٹ پر جارج واشنگٹن کی تصویر ہے جو امریکہ کے پہلے صدر اور جنگ آزادی کے سپہ سالار تھے۔ دو ڈالر کے نوٹ پر امریکی صدر تھامس جیفرسن کی تصویر ہے جو &#39;&#39;یونائیٹڈ سٹیٹ ڈیکلیریشن آف انڈیپنڈنس‘‘ کا مرکزی مصنف تھا۔ پانچ ڈالر کے نوٹ پر سابق امریکی صدر ابراہم لنکن کی تصویر ہے۔ جو امریکی خانہ جنگی کے دوران صدر تھے اور اس دوران غلامی کے خاتمے اور ملک کو متحد رکھنے میں کلیدی کردار انجام دیا۔ دس ڈالر کے نوٹ پر الیگزینڈر ہملٹن کی تصویر ہے جو امریکی صدر نہیں تھے بلکہ امریکی مالیاتی نظام‘ قومی بینک اور محکمۂ خزانہ کی بنیاد رکھنے والے اہم رہنما تھے۔ بیس ڈالر کے نوٹ پر ساتویں امریکی صدر اور جنگی ہیرو اینڈریو جیکسن کی تصویر ہے۔ 50ڈالر کے نوٹ پر یونین فوج کے کمانڈر اور بعد ازاں صدر بننے والے یولیسز ایس گرانٹ کی تصویر ہے۔ جبکہ سو ڈالر کے نوٹ پر بینجمن فرینکلن کی تصویر ہے جو امریکہ صدر نہیں بلکہ سائنسدان‘ سفارتکار‘ موجد اور امریکہ کے بانی رہنماؤں میں شامل تھے۔ یعنی سات مختلف مالیت کے کرنسی نوٹوں کی تصاویر میں دو شخص امریکی صدر نہیں تھے۔ تاہم جن پانچ امریکی صدور کی تصاویر کرنسی نوٹوں پر چھپی ہیں‘ وہ کسی نہ کسی حوالے سے امریکی تاریخ میں نمایاں مقام کے حامل تھے۔ 1866ء میں امریکی کانگریس نے یہ قانون پاس کر دیا کہ کسی زندہ شخص کی تصویر امریکی کرنسی نوٹ پر نہیں چھپ سکتی۔ اس قانون کو بنے 160 سال گزر چکے اور اس پر سختی سے عمل کیا جا رہا ہے۔ اس دوران کسی صدر نے کرنسی نوٹوں پر اپنی تصویر شائع کروانے کی کوشش نہیں کی۔ ہاں! البتہ صدرٹرمپ کو اس سلسلے میں استثنیٰ ہے۔ ہمارے ہاں یا تو از خود نوٹس کو مذاق بنا کر رکھ دیا گیا یا اب اس کا دروازہ تقریباً بند کر کے رکھ دیا گیا ہے۔ یعنی اعتدال کی صورتحال کبھی بھی نہیں رہی۔ پہلے ایسی تختیاں صرف سنگ بنیاد یا افتتاح کے سلسلے میں لگتی تھیں تاہم اب یہ معاملہ کہیں آگے نکل گیا ہے اور اب ہمارے حکمرانوں نے سرکاری اداروں‘ ہسپتالوں‘ عمارتوں‘ تعلیمی اداروں اور عوامی مفادِ عامہ کی جگہوں کے نام اپنے نام پر‘ اپنے ابا جی کے نام پر‘ اپنی والدہ محترمہ کے نام پر رکھنے کی بدعت ایجاد کر دی ہے اور اب اس قسم کے ناموں کا جمعہ بازار لگ گیا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90500073.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>صدر ٹرمپ کی حیرت اور ایرانیوں کے آنسو(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-07-09/52263/55805140</link><pubDate>Thu, 09 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-07-09/52263/55805140</guid><description>صدر ٹرمپ کو حیرت ہے کہ ایرانیوں کی آنکھوں میں آنسو کیوں ہیں۔ مجھے عالمی طاقت کے راہنما کی بصیرت اور معلومات پر حیرت ہے کہ جسے اتنے سادہ سوال کا جواب معلوم نہیں۔ اگر معلوم ہوتا تو وہ کبھی ایران پر حملہ نہ کرتا۔ایران کا انقلاب نصف صدی سے امریکی جامعات اور تھنک ٹینکس کی تحقیق کا موضوع ہے۔ روح اللہ خمینی صاحب کی کتب مدتوں پہلے ترجمہ ہو چکی تھیں۔ ان کے خطبات پر مشتمل کتاب &#39;حکومتِ اسلامی‘ 1970ء میں شائع ہو چکی تھی۔ اس میں انہوں نے اپنا سیاسی فکر اور عزائم دونوں بیان کر دیے تھے۔ مشرقِ وسطیٰ کی اسلامی تحریکوں بالخصوص الاخوان المسلمون کے بعد سب سے زیادہ  تحقیق ایران کے انقلاب پر ہوئی۔ اس کا سبب یہ تھا کہ مشرقِ وسطیٰ سے امریکی مفادات براہِ راست وابستہ تھے۔ &#39;سیاسی اسلام ‘ کی اصلاح کو مقبول بنانے کیلئے ایران کا انقلاب حوالہ بنا۔ ایران کی تاریخ‘ تہذیب‘ اس کے نظریاتی خدو خال‘ شخصیات‘ ایک ایک پہلو پر تحقیق ہوئی۔ مشرقِ وسطیٰ میں اس کے کردار پر نہیں معلوم کتنی عالمی کانفرنسیں منعقد ہوئیں۔ ایران نصف صدی سے امریکہ کی خارجہ پالیسی کا مرکز ہے۔ ایران آٹھ سال عراق کے ساتھ نبرد آز ما رہا۔ صدام حسین کے پیچھے جو کوئی تھا اس کے پیچھے امریکہ تھا۔ اس کا تو کوئی امکان نہیں کہ انہوں نے سیاست یا کسی بھی موضوع پر کبھی کوئی کتاب پڑھی ہو لیکن یہ دور انہوں نے بچشمِ سر دیکھا۔ اچنبھا ہے کہ اس کے باوصف انہیں ایرانیوں کے آنسوؤں پر حیرت ہے۔یہ محض ایران کا معاملہ نہیں۔ آئیڈیالوجی جب طاقت کے حصول کا آلہ بنتی ہے تو پھر ایک ایسی قوت وجود میں آتی ہے جس کا مقابلہ  کرنا آسان نہیں ہوتا۔ جب مذہب آئیڈیالوجی بن جاتا ہے تو پھر معاملہ سنگین تر ہو جاتا ہے۔ آئیڈیالوجی کا تجربہ اہلِ مغرب کو اشتراکیت کی صورت میں ہوا۔ امریکہ نے اس کے خلاف جو جنگ لڑی اس میں اسے نظریاتی محاذ پر پسپائی کا سامنا کر نا پڑا۔ اس میں شبہ نہیں کہ اس نے ایک کامیاب معاشی نظام وضع کر لیا لیکن یہ حقیقت پسندانہ تھا‘ رومانوی نہیں تھا۔ آئیڈیالوجی ایک رومان کا نام ہے اور انسان کی فطرت یہ ہے کہ رومان کی طرف لپکتا ہے۔ اشتراکیت ایک رومان تھا۔ امریکہ نے اس کمی کو &#39;اسلامی آئیڈیالوجی‘ سے پورا کرنا چاہا۔ مشرقِ وسطیٰ میں یہ کوشش کی گئی کہ &#39;سیاسی اسلام‘ کو اشتراکیت کے مدِ مقابل لا کھڑا کیا جائے۔ اسے سیاسی اسلام سے اس وقت اس سے زیادہ دلچسپی نہ تھی کہ یہ سرمایہ داری کی نظریاتی کمزوری کا مداوا بن جائے۔ امریکہ نے بہت کامیابی کے ساتھ سیاسی اسلام کو اشتراکیت سے لڑا دیا۔ اسلام پسندوں کو امریکہ نوازی کا طعنہ سننا پڑا‘ در آں حالیکہ امریکہ کو اسلام پسندوں سے کوئی ہمدردی تھی نہ اسلام پسندوں کو امریکہ سے۔اس آئیڈیالوجی کو آخری مرتبہ افغانستان میں استعمال کیا گیا۔ یہاں &#39;سیاسی اسلام‘ نے قتال کی تعبیر اختیار کر لی جبکہ اپنے تشکیلی دور میں یہ ایک طرزِ حیات کا نام تھا۔ افغان جہاد کے بعد امریکہ کو خیال ہوا کہ &#39;سیاسی اسلام‘ سے جو کچھ کشید کیا جا سکتا تھا‘ کر لیا گیا۔ اس نے اسے تاریخ کے کوڑے دان کے حوالے کر دیا۔ آئیڈیالوجی کی تفہیم کے باب میں یہ اس کی بڑی غلطی تھی۔ نظریہ آسانی سے  نہیں مرتا اور اگر مذہبی ہو تو کبھی نہیں۔ اس امریکی غلطی کی سزا امریکہ سمیت ساری دنیا نے بھگتی۔ یہ &#39;سنی سیاسی اسلام‘ کا قصہ ہے۔ شیعہ سیاسی اسلام ابھی عالمی منظر نامے پر نمایاں نہیں ہوا تھا۔ رضا شاہ پہلوی کا ایران امریکہ کی جیب میں تھا جس کا کسی آئیڈیالوجی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔&#39;شیعہ سیاسی اسلام‘ سے امریکہ کا پالا 1979ء میں پڑا جب ایران میں اس آئیڈیالوجی کے ماننے والے برسرِ اقتدار آئے۔ سنی سیاسی اسلام کے برعکس شیعہ اسلام کا تو جنم ہی بطور سیاسی آئیڈیالوجی ہوا۔ یہ ایک سیاسی تحریک تھی جو اسلام کے صدرِ اوّل میں پیدا ہوئی۔ ہمیشہ اقلیت میں رہی مگر اس نے مشکلات میں بھی زندہ رہنے کا ہنر سیکھا۔ زیادہ تر ادوار میں یہ ایک منفعلانہ مزاحمت (Passive Resistance) کی تحریک رہی۔ اس کا امتیاز یہ تھا کہ اس نے مظلومیت کو اپنی طاقت بنا لیا۔ &#39;شہادت‘ ایک  حکمتِ عملی کا عنوان بن گئی۔ حادثۂ کربلا کو بطور استعارہ اس کامیابی سے استعمال کیا گیا کہ سنی اسلام میں بھی اگر کسی کو سیاسی اسلام کے حق میں دلیل لانا پڑی تو اس استعارے سے سب سے زیادہ مدد لی گئی۔ اب بات کی تفہیم کیلئے علامہ اقبال‘ مولانا ابوالکلام آزاد اور مولانا مودودی کی شاعری اور نثر دیکھ لیجیے۔ واقعۂ کربلا جب استعارہ بنا اور اسے سنی اور شیعہ دونوں نے قبول کر لیا تو پھر مسلمانوں کی تاریخ ہی نہیں اس کے علوم کی بھی تشکیلِ نو ہو گئی۔دورِ جدید میں شیعہ اسلام کی اس قوت (Potential) کو خمینی صاحب نے دریافت کیا۔ انہوں نے نہ صرف آئیڈیالوجی کا بطور سیاسی قوت احیا کیا‘ جسے اشتراکیت کھو چکی تھی بلکہ اس کے ساتھ ایک خطۂ زمین کو اس کی عملی حقیقت بنانے کیلئے بھی جد و جہد کی۔ یہ کام کیسے ہوا اور اس کے نتائج کیا نکلے‘ اس کا ایک مظہر ایرانی انقلاب تھا اور دوسرا آیت اللہ خامنہ ای کا جنازہ۔ ایران کی قیادت جانتی تھی کہ یہ مظلومانہ شہادت کیا برگ و بار لا سکتی ہے۔ کربلا کا استعارہ ان کے سامنے تھا۔ انہوں نے تدفین کو کئی ماہ مؤخر کیا اور اس وقت کا انتظار کیا جب اس شہادت اور مظلومیت میں چھپی قوت پوری طرح نمودار نہ ہو جائے۔ وہ وقت آیا تو ان کی تدفین کا فیصلہ کر لیا۔ میرا تاثر ہے کہ جناب خامنہ ای کی شہادت اور جنازے نے ایرانی انقلاب سے زیادہ خطے‘ مسلم دنیا اور عالمی سیاست کو متاثر کیا ہے۔ حجاز کی طرح عراق اور ایران بھی اب نئے مراکز کے طور پر ابھر رہے ہیں جو مذہب و سیاست کا مرکز ہوں گے۔ امریکی صدر کو حملے سے پہلے جو بریفنگ دی گئی ہو گی مجھے یقین ہے کہ اس میں یہ سب کچھ بتایا گیا ہو گا۔ ممکنہ نتائج کے بارے میں آگاہ کیا گیا ہوگا۔ اس بات کی تصدیق ان خبروں سے بھی ہوتی ہے جو حملے کے آغاز میں سامنے آئیں۔ ان کے مطابق تمام ایجنسیوں نے انہیں سٹرٹیجک حوالوں سے بتایا کہ کیا کیا چیلنجز متوقع ہیں۔ جیسے آبنائے ہرمز کی اہمیت۔ پورا امکان ہے کہ انہیں ایرانی قوم کی نظریاتی مزاحمتی قوت کے بارے میں بتایا گیا ہو گا۔ خامنہ ای کئی کتابوں کے مصنف تھے۔ &#39;250سالہ انسان‘ میں انہوں نے نبی کریمﷺ کے بعد امامت کی پوری تاریخ بیان کرتے ہوئے اسے اپنے نظریاتی مشن کے ساتھ جوڑ دیا ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے بتایا ہے کہ نبوت و امامت کی تاریخ اور آخری امام کی آمد کے مابین ایرانی انقلاب کی کیا حیثیت ہے۔ یہ دور محض انتظار کا دور نہیں۔ ہم نے وہ سٹیج تیار کرنا ہے جو امام مہدی کے ظہور کیلئے ضروری ہے۔ &#39;&#39;ہمارا انقلاب درحقیقت اس عظیم ہدف اور انقلاب کا پیش خیمہ‘ مقدمہ اور اس راہ میں ایک بڑا اقدام ہے ... اگر ہم نے یہ قدم نہ اٹھایا ہوتا یقینا حضرت ولی العصر کا ظہور تاخیر کا شکار ہو سکتا تھا‘‘۔یہ سب لکھا ہوا موجود ہے۔ کچھ خفیہ نہیں۔ خمینی صاحب تو یہ بھی واضح کر چکے ہیں کہ اب تقیہ کا دور بھی ختم ہو گیا۔ اس کا تعلق کمزوری سے تھا اور اب ہم کمزور نہیں ہیں۔ اگر یہ سب باتیں امریکی صدر کو حملے سے پہلے معلوم نہیں تھیں تو انہیں اپنی بصیرت اور معلومات کی کمی کا ماتم کر نا چاہیے نہ کہ ایرانیوں کے آنسوؤں پر اظہارِ حیرت۔اس ماتم میں تو اب امریکی ریاست کے تمام ذمہ داران کو شریک ہو نا چاہیے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>زندان(عمران یعقوب خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-07-09/52264/42124510</link><pubDate>Thu, 09 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-07-09/52264/42124510</guid><description>سپریم کورٹ آف پاکستان کی میزبانی میں منعقدہ جیل اصلاحات کانفرنس اربابِ بست و کشاد کی جیلوں کے معاملات کی طرف توجہ مبذول کرانے کی ایک احسن کاوش تھی۔ کانفرنس کے اعلامیے میں قرار دیا گیا کہ جیلوں کے مسائل نہ صرف جیلوں کے انتظام و انصرام کو متاثر کرتے ہیں بلکہ انصاف تک رسائی‘ عوامی تحفظ‘ انسانی وقار اور قانون کی حکمرانی پر بھی منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ بامعنی اور پائیدار جیل اصلاحات کے لیے انتظامیہ‘ عدلیہ اور مقننہ کے درمیان مربوط اور مشترکہ اقدامات ناگزیر ہیں۔ اعلامیے میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ جیل اصلاحات محض انتظامی ضرورت نہیں بلکہ آئینی‘ انسانی اور عوامی تحفظ کا تقاضا بھی ہیں اور تمام متعلقہ اداروں کو مل کر ایک ایسا جیل نظام تشکیل دینے کیلئے کام کرنا چاہیے جو قانونی‘ انسانی اور بحالی کے اصولوں پر مبنی ہو۔جیلیں معاشرے میں اصلاح لانے کیلئے بنائی گئی تھیں۔ شروع میں ہو سکتا ہے ایسا ہوا بھی ہو لیکن بعد میں حالات خراب ہوتے چلے گئے۔ جیلیں اصلاح کے اداروں کے بجائے عقوبت خانوں میں تبدیل ہو گئیں‘ جہاں مخالفین کو اذیتوں میں مبتلا کیا جانے لگا۔ آج جیلیں بہت سے مسائل کا شکار ہیں جن کے حل پر توجہ دی جانی چاہیے۔ آبادی کے ساتھ ساتھ سماج میں جرائم کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے‘ اس لیے قیدیوں کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے۔ وقت کے ساتھ جیلوں کی تعداد نہیں بڑھائی گئی جس کے باعث جیلوں میں قیدیوں کی تعداد مقررہ گنجائش سے کہیں زیادہ ہے۔ جیلوں میں قیدیوں کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ گنجائش میں کمی کے علاوہ انصاف کی فراہمی کا سست نظام بھی ہے۔ جیلوں میں بڑی تعداد میں ایسے قیدی موجود ہیں جن کے مقدمات برسوں سے عدالتوں میں زیر التوا ہیں اور وہ بغیر کسی سزا کے قید کاٹ رہے ہوتے ہیں۔ قیدیوں کی ایک خاصی بڑی تعداد غربت کے باعث اچھے وکیل نہیں کر پاتی چنانچہ ان کی انصاف تک فراہمی سست روی کا شکار رہتی ہے۔قیدی ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ بنیادی انسانی حقوق سے بھی محروم ہو چکا ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ جیلوں میں قیدیوں کے انسانی حقوق کا اس طرح خیال نہیں رکھا جاتا جس طرح رکھا جانا چاہیے۔ قیدیوں کا ایک شکوہ یہ ہے کہ انہیں ملنے والی خوراک غیر معیاری اور ناکافی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ جیلوں میں پینے کے صاف پانی‘ بیت الخلا کی صفائی اور وینٹی لیشن کے انتظامات بھی نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں جس کی وجہ سے بیماریاں پھیلتی ہیں۔ جیلوں میں مبینہ طور پر رشوت ستانی عام ہے۔ امیر اور بااثر قیدی پیسے کے بل بوتے پر تمام تر سہولتیں حاصل کر لیتے ہیں جبکہ غریب قیدی بنیادی سہولتوں سے بھی محروم رہتے ہیں۔ جیلوں میں طبی سہولتوں کا بھی فقدان رہتا ہے۔ جیلوں میں قیدیوں کی تفریح کا خاص خیال نہیں رکھا جاتا‘ چنانچہ جیل کے اندر کا ماحول اور انجانے مستقبل کا خوف قیدیوں کو بعض اوقات ذہنی اور نفسیاتی مریض بنا دیتا ہے۔یہ ایسے مسائل ہیں جن کو حکومتیں اور حکمران ہی حل کر سکتے ہیں کیونکہ ملک یا صوبے کے انتظامی معاملات انہی کے ہاتھوں میں ہوتے ہیں‘ اور یہ بھی سب کی جانی مانی حقیقت ہے کہ جمہوری نظام حکومت میں زیادہ تر سیاستدان اور سیاسی پارٹیاں ہی حکومتیں بناتے اور چلاتے ہیں۔ سیاست میں یہ بات ایک محاورہ بن چکی ہے کہ جو جیل نہیں گیا وہ کبھی لیڈر نہیں بن سکتا۔ اب اندازہ لگائیے کہ کون سا بڑا سیاستدان ہے جو جیل میں نہیں رہا۔ 1948ء میں عبدالغفار خان المعروف باچا خان کو ریاست کے خلاف بیان بازی کے جرم میں گرفتار کر کے کوہاٹ جیل میں قید کیا گیا۔ 60ء کی دہائی میں وہ راولپنڈی ڈسٹرکٹ جیل میں قید رہے۔ نوابزادہ نصراللہ خاں نے جنرل ضیاالحق کے دور میں سینٹرل جیل لاہور میں قید کاٹی۔ وہ اپنے گھر پر نظر بند بھی رکھے گئے۔ بانی جماعت اسلامی سید ابوالاعلیٰ مودودی 1953ء میں عدالتی سزا کے بعد سینٹرل جیل لاہور میں قید رہے۔ ذوالفقار علی بھٹو ضیاالحق کے دور میں پہلے مری کے ایک ریسٹ ہاؤس میں نظر بند رہے پھر انہیں ڈسٹرکٹ جیل راولپنڈی میں رکھا گیا اور اسی جیل سے ملحق پھانسی گھاٹ میں انہیں پھانسی دی گئی۔ بیگم نصرت بھٹو کراچی سینٹرل جیل میں قید رہیں۔ بینظیر بھٹو کو سکھر سینٹرل جیل میں قید میں رکھا گیا۔ دونوں ماں بیٹی گھر پر نظر بند بھی رہیں۔ ضیا دور میں نواب اکبر بگٹی کو مچھ جیل میں قید میں رکھا گیا تھا۔ 90ء کی دہائی میں آصف علی زرداری سینٹرل جیل کراچی اور کوٹ لکھپت جیل لاہور میں قید رہے۔ مشرف دور میں یوسف رضا گیلانی نے اڈیالہ جیل راولپنڈی میں قید کاٹی۔ نواز شریف مشرف دور میں اٹک قلعے اور اڈیالہ جیل میں قید رہے۔ پاناما لیکس کے فیصلے کے بعد انہیں کوٹ لکھپت جیل لاہور اور اڈیالہ جیل میں بھی قید رکھا گیا۔ شہباز شریف بھی مشرف دور میں اڈیالہ جیل میں قید رہے۔ مریم نواز کو کوٹ لکھپت جیل لاہور میں رکھا گیا۔ عمران خان گزشتہ تقریباً تین برسوں سے‘ پہلے اٹک اور اب اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔مذکورہ بالا سیاستدانوں میں سے کچھ وفات پا چکے اور باقیوں میں سے ماسوائے عمران خان کے‘ بیشتر اب حکومت کا حصہ ہیں جیسے نواز شریف‘ شہباز شریف‘ آصف علی زرداری‘ مریم نواز‘ یوسف رضا گیلانی۔ میرا سوال یہ ہے کہ عملی طور پر جیل کی اذیتیں جھیلنے والوں کو کیا یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ جیلوں کے نظام میں کون کون سی اصلاحات کی جانی چاہئیں اور کیا کیا اقدامات کیے جانے چاہئیں جن سے قیدیوں کے مسائل اور تکالیف میں کمی لائی جا سکے؟ جو رہنما جیلیں کاٹ چکے ہیں انہیں تو برسر اقتدار آنے کے بعد سب سے پہلے جیلوں میں اصلاحات کے لیے کام کرنا چاہیے تھا‘ لیکن افسوس کہ ایسا نہیں کیا گیا۔ ہاں ایک مثال ضرور موجود ہے جس کا میں چشم دید گواہ بھی ہوں۔ حمزہ شہباز 30 اپریل 2022ء کو وزیراعلیٰ پنجاب کا حلف اٹھانے کے بعد سب سے پہلے کوٹ لکھپت جیل گئے تھے۔ یہ رمضان کا مہینہ تھا‘ چنانچہ انہوں نے افطاری قیدیوں کے ساتھ کی اور ان سے ان کے مسائل دریافت کیے۔ میری اطلاع کے مطابق انہوں نے اس ایک جیل میں معاملات کو ٹھیک کرنے کے لیے بہت سے اقدامات اور فیصلے کیے تھے۔ میں تقابل یا موازنہ نہیں کر رہا لیکن جیل کی اذیتیں سہنے والوں میں سے  کسی اور نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ یہ نہیں سوچا کہ دورانِ قید جن تکالیف کا سامنا انہوں نے کیا‘ باقی قیدی بھی انہی تکالیف سے گزر رہے ہوں گے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وہ جیلوں کے نظام کو ایسا مؤثر بنا دیتے کہ نہ صرف قیدیوں کو ان کے پورے حقوق مل پاتے بلکہ مقدمات کا سامنا کرنے والے قیدیوں کی انصاف تک رسائی بھی سہل اور آسان ہو چکی ہوتی بلکہ اس حوالے سے ایک خود کار سسٹم وجود میں آ چکا ہوتا۔گزشتہ روز ہونے والی کانفرنس میں شرکا نے جیل اصلاحات کے سلسلے میں جن خیالات کا اظہار کیا اور بعد ازاں جو اعلامیہ جاری کیا گیا‘ ان میں پیش کردہ تجاویز گراں قدر ہیں لیکن میرے خیال میں یہ تجاویز پیش کرنے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی اگر قید کی سختیاں برداشت کرنے والے ہمارے سیاسی رہنما جیل اصلاحات کو اپنی ذمہ دار ی سمجھتے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_58350786.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>آخری دم تک اپنے مورچے میں ڈٹا رہنے والا وارث میر(بشیر ریاض)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/basheer-riaz/2026-07-09/52265/14533241</link><pubDate>Thu, 09 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/basheer-riaz/2026-07-09/52265/14533241</guid><description>9 جولائی 1987ء پاکستان کی صحافتی اور جمہوری تاریخ کا ایک ایسا المناک دن ہے جب معروف دانشور‘ صحافی اور ترقی پسند مفکر پروفیسر وارث میر پُراسرار حالات میں صرف 48 برس کی عمر میں اچانک انتقال کر گئے۔ آمریت کے خلاف بیباکی سے جمہوریت کی جنگ لڑنے والے وارث میر کی بے وقت موت نے پاکستان میں آزادیٔ اظہار اور روشن خیالی کے ایک مضبوط علمبردار کو خاموش کر دیا۔ اگرچہ ان کے انتقال کو کئی دہائیاں گزر چکیں لیکن آج بھی ان کی تحریریں پڑھنے والا محسوس کرتا ہے کہ جیسے وہ آج کے پاکستان ہی کے حالات پر قلم اٹھا رہے ہوں۔پروفیسر وارث میر پنجاب یونیورسٹی لاہور کے شعبۂ ابلاغیات کے ممتاز استاد تھے۔ وہ ایسے دور میں لکھ رہے تھے جب پاکستان میں جنرل ضیاء الحق کی آمریت اپنے عروج پر تھی۔ آئین معطل تھا‘ سیاسی جماعتوں پر پابندیاں تھیں‘ اخبارات سخت سنسرشپ کا شکار تھے‘ صحافیوں کو کوڑے مارے جا رہے تھے‘ اختلافِ رائے کو غداری سمجھا جاتا تھا اور سرکاری ذرائع ابلاغ کے ذریعے ایک مخصوص بیانیہ پوری قوم پر مسلط کیا جا رہا تھا۔ ایسے ماحول میں سچ لکھنا صرف ایک صحافتی عمل نہیں بلکہ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر میدان میں اترنے کے مترادف تھا۔ پروفیسر وارث میر ان چند لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے خوف کے اس ماحول میں خاموش رہنے سے انکار کر دیا۔ وہ سمجھتے تھے کہ ایک حقیقی دانشور اپنے عہد کے مسائل سے نظریں نہیں چرا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک لکھنے والا صرف اپنے زمانے کے لیے نہیں لکھتا بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی تاریخ مرتب کرتا ہے۔ وہ سوال اٹھاتے تھے کہ جب صحافی کو سچ لکھنے کی اجازت ہی نہ ہو تو تاریخ کی درست تصویر آخر کیسے محفوظ رہے گی؟1977ء میں بھٹو حکومت کو برطرف کر کے مارشل لاء نافذ کرنے والے جنرل ضیاء الحق کے دور میں سرکاری پروپیگنڈے کے ذریعے یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ پاکستان کے قیام کا اصل مقصد ایک مخصوص مذہبی ریاست کا قیام تھا۔ سرکار کے درباری دانشور یہ تاثر دینے میں مصروف تھے کہ ضیا جنتا کی تمام پالیسیاں اسلام کے عین مطابق ہیں۔ لیکن وارث میر نے کلمہ حق بلند کرتے ہوئے اس سرکاری بیانیے کو علمی دلائل‘ تاریخی شواہد اور اسلامی تعلیمات کے حوالے دے کر چیلنج کیا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ عوام دشمن اور امتیازی قوانین کو شریعت بل کے نام پر اسلامی قرار دینا تاریخ کو مسخ کرنے کے علاوہ خود اسلامی تعلیمات کے ساتھ بھی ناانصافی ہے۔ ان کے نزدیک اسلام انصاف‘ مساوات‘ انسانی وقار اور آزادی کا دین ہے‘ نہ کہ جبر‘ آمریت اور پابندیوں کا۔پروفیسر وارث میر کی سب سے نمایاں خدمات میں خواتین کے حقوق کے حوالے سے ان کا تاریخی سلسلہ مضامین &#39;&#39;کیا عورت آدھی ہے؟‘‘ شامل ہے‘ جو ان کے وفات کے بعد کتابی صورت میں شائع ہوا۔ اس میں انہوں نے شریعت بل کے ان قوانین کا مدلل تجزیہ کیا جن کے ذریعے عورت کو مرد کے مقابلے میں کمتر اور آدھا انسان قرار دینے کی کوشش کی جا رہی تھی‘ خصوصاً قانون شہادت کے قانون کو انہوں نے اسلامی تعلیمات اور تاریخی حقائق کی روشنی میں تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ جنرل ایوب خان کے دور کے خاندانی قوانین کئی حوالوں سے اسلامی روح سے زیادہ قریب تھے‘ بہ نسبت اس سخت گیر شرعی قوانین کے جنہیں کہ ضیاء الحق کی بغل بچہ ایک اسلامی جماعت کی حمایت سے نافذ کرنے کی کوشش کی گئی۔وارث میر عورت کے سماجی‘ تعلیمی اور معاشی حقوق کے بھی مضبوط حامی تھے۔ انہوں نے تعلیم یافتہ اور ملازمت پیشہ خواتین کے حق میں کھل کر لکھا اور اس سوچ کی مخالفت کی جو عورت کو صرف چار دیواری تک محدود کرنا چاہتی تھی۔ ان کی دلائل پر مبنی تحریروں نے ضیا دور میں مذہب کے ٹھیکے دار بن جانے والے رجعت پسند حلقوں کو سخت نالاں کر دیا، چنانچہ انہیں ردعمل میں سخت نتائج بھی بھگتنا پڑے مگر وہ اپنے مؤقف پر ثابت قدم رہے۔خواتین کے حقوق کے علاوہ انہوں نے آزادیٔ صحافت‘ سیکولر فکر‘ لبرل ازم‘ جمہوریت‘ آمریت‘ بنیادی انسانی حقوق‘ آئینی بالادستی‘ غیر جماعتی انتخابات‘ ریفرنڈم‘ آئینی ترامیم اور سیاسی آزادیوں جیسے حساس موضوعات پر بھی بے خوف ہو کر قلم اٹھایا۔ ان کی ہر تحریر تحقیق اور منطقی استدلال کا حسین امتزاج ہوتی تھی۔ ان کا مقصد محض تنقید کرنا نہیں بلکہ پاکستانی معاشرے میں عقلی اور علمی مکالمے کی روایت کو فروغ دینا تھا۔1985ء سے جولائی 1987ء میں اپنی اچانک وفات تک‘ وارث میر مسلسل زور دیتے رہے کہ ترقی یافتہ معاشروں کی بنیاد انسانی حقوق‘ شہری آزادیوں‘ قانون کی حکمرانی اور آزاد فکر پر استوار ہوتی ہے۔ وہ مسلمانوں کو جدید سائنسی علوم کے حصول‘ تنقیدی سوچ اپنانے اور جذباتیت کے بجائے عقل وتحقیق کی بنیاد پر فیصلے کرنے کی تلقین کرتے تھے۔ ان کی تحریروں میں بار بار یہی پیغام ملتا ہے کہ قوم صرف نعروں سے نہیں بلکہ علم‘ تحقیق اور آزاد فکر سے ترقی کرتی ہے۔ ضیا آمریت اور اس کے حامی دائیں بازو کے حلقے وارث میر کی ان تحریروں پر سیخ پا ہوئے تو انہیں پنجاب یونیورسٹی میں مختلف طریقوں سے ہراساں کیا جانے لگا۔ انہیں شعبہ صحافت کی چیئرمین شپ سے ہٹا دیا گیا۔ اس کے بعد انہیں ذہنی دباؤ میں لانے کے لیے ان کے سولہ سالہ بیٹے کے خلاف قتل کا جھوٹا مقدمہ درج کرا دیا گیا‘ جو بعد میں بے بنیاد ثابت ہوا، مگر تب تک وارث میر اگلے جہاں رخصت ہو چکے تھے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ ان کے مخالفین انہیں مار تو سکتے ہیں لیکن جھکا نہیں سکتے۔ پروفیسر وارث میر اپنی ایک تحریر میں یونانی اساطیر کے کردار پرومیتھیئس کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ &#39;&#39;گدھ تبھی کسی کا دل نوچیں گے جب اس کے پاس دل ہوگا‘‘۔ یہ الفاظ گویا ان کی اپنی زندگی کی تصویر بن گئے۔ انہوں نے اپنے ضمیر‘ اپنے قلم اور نظریات کا سودا کرنے سے انکار کیا اور اس کی بھاری قیمت ادا کی۔9 جولائی 1987ء کو ان کا پُراسرار حالات میں اچانک انتقال ہو گیا۔ ان کی وفات کے اسباب پر مختلف آرا سامنے آتی رہی ہیں‘ تاہم یہ ناقابل تردید حقیقت ہے کہ وہ آخری دم تک آمریت‘ فکری جمود‘ انتہا پسندی اور ناانصافی کے خلاف علمی محاذ پر سرگرم رہے۔ اسی لیے یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ پروفیسر وارث میر آمریت کے خلاف جنگ لڑتے ہوئے اپنے مورچے میں ہی شہید ہو گئے لیکن جمہوریت دشمنوں کے خلاف ہتھیار ڈالنے سے انکاری رہے۔پروفیسر وارث میر صرف ایک استاد یا صحافی نہیں تھے بلکہ ایک مکمل عہد تھے۔ وہ اپنے نظریات کی عملی تصویر تھے۔ انہوں نے جمہوریت‘ آئین‘ انسانی آزادی‘ خواتین کے حقوق‘ صحافتی آزادی اور روشن خیال معاشرے کے لیے اپنی پوری زندگی وقف کر دی۔ ان کا قلم کبھی آمریت کے سامنے نہیں جھکا اور نہ ہی وہ کسی مصلحت کا شکار ہوئے۔ پاکستان کی تاریخ میں ایسے دانشور کم پیدا ہوئے ہیں جنہوں نے اپنے ضمیر‘ اپنی فکر اور اپنے نظریات کی خاطر ہر قسم کی قربانی دی ہو۔ وارث میر انہی نایاب شخصیات میں شامل ہیں۔ ان کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ سچ بولنے اور حق لکھنے کی قیمت ضرور ادا کرنا پڑتی ہے مگر ایسے لوگ وقت گزرنے کے ساتھ فراموش نہیں ہوتے بلکہ تاریخ انہیں ہمیشہ عزت اور احترام کے ساتھ یاد رکھتی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_78376548.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>فلسفی بیوروکریٹ!(مفتی منیب الرحمٰن )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-07-09/52266/38915859</link><pubDate>Thu, 09 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-07-09/52266/38915859</guid><description>ایک وقت تھا کہ بیورو کریسی میں ذہین ترین لوگ آتے تھے‘ برطانوی دور میں انڈین سول سروس کیلئے چنائو کا معیاری نظام تھا‘ اس میں سے کچھ افرادی اثاثہ تقسیم کے بعد پاکستان کے حصے میں آیا۔ پھر پاکستان میں 1954ء میں سول سروس آف پاکستان کا نظام قائم ہوا‘ یہ بھی کافی حد تک معیاری تھا۔ آئی سی ایس اور سی ایس پی کیڈر میں آنے والے بعض بیورو کریٹ نے کتابیں لکھیں‘ افسانے لکھے‘ انہیں سماجی تاریخ کا بھی شعور تھا‘ ان کی کتابیں آج بھی ایک مقام رکھتی ہیں۔ دراصل اس وقت سائنس‘ ٹیکنالوجی اور طب کی تعلیم کا اتنا رواج نہیں تھا‘ لہٰذا ذہین لوگ آرٹس کی تعلیم حاصل کرتے تھے اور مقابلے کا امتحان پاس کر کے سول سروس میں آتے تھے۔ وہ کافی حد تک ادب‘ تاریخ‘ نفسیات‘ علم السیاسۃ‘ سماجی علوم‘ معیشت اور قانون کو سمجھتے تھے جو ملک کے نظام کو چلانے کیلئے ضروری ہیں‘ یہی وجہ ہے کہ جدید دور میں علم السیاسۃ کو سائنس قرار دیا گیا ہے۔ مگر جب سائنس‘ ٹیکنالوجی‘ طب اور دیگر جدید علوم کا رواج ہوا تو ذہین لوگ اپنے معاشی مستقبل کو محفوظ کرنے کیلئے ان شعبوں میں تعلیم حاصل کرنے لگے تاکہ روزگار کے مواقع مل سکیں‘ لیکن ان کا سماجی علوم سے دورکا واسطہ بھی نہیں تھا۔ پھر انجینئرنگ اور میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے کے بعدکچھ لوگ سول سروس کا رخ کرنے لگے‘ اس سے نقصان یہ ہوا کہ انجینئرنگ‘ سائنس اور طب کی تعلیم پر ملک کے جو وسائل خرچ ہوئے‘ وہ رائیگاں گئے۔ یہ لوگ ادب‘ تاریخ‘ معیشت اور سماجی علوم سے بالکل نابلد ہوتے ہیں‘ مقابلے کے امتحانات کی تیاریوں کیلئے مخصوص نصابی کتابیں پڑھتے ہیں‘ اس مقصد کیلئے قائم خصوصی تعلیمی مراکز میں داخلہ لیتے ہیں اور رٹ کر امتحان پاس کر لیتے ہیں۔ سماجی علوم اور آدابِ حکمرانی کیلئے علم اور مطالعے کی جو گہرائی اور گیرائی درکار ہوتی ہے‘ وہ اس سے محروم ہوتے ہیں۔ صرف محدود سوچ اور لگے بندھے طریقۂ کار کے مطابق فائلوں سے کھیلنا‘ چلتے ہوئے نظام میں رکاوٹیں ڈالنا‘ قواعد وضوابط کی بندھنوں کو بدعنوانی کیلئے استعمال کرنا ہی ان کی مہارت ہوتی ہے۔ اس لیے یہ شعبہ بھی ایک طرح سے بانجھ ہو چکا ہے‘ ایجاد واختراع کا ملکہ ان کے پاس نہیں ہوتا۔ اس کا نتیجہ ہے کہ قومی بجٹ بھی ہمیں عالمی مالیاتی اداروں کے بابو بنا کر دیتے ہیں اور پھر وہی اس کی نگرانی کرتے ہیں۔ انہیں صرف اعداد وشمار اور آمد وخرچ کے گوشوارے برابر کرنے کا کام آتا ہے‘ اُن کا عوام کے مسائل ومصائب سے کچھ لینا دینا نہیں ہوتا۔ لہٰذا اس کا عوامی ردِّعمل اور جھٹکے سیاسی حکمرانوں کو برداشت کرنے پڑتے ہیں‘ لیکن فیصلوں میں ان کا عمل دخل کم ہوتا ہے۔ سچ یہ ہے کہ وہ بصیرت کے حامل بھی نہیں ہوتے۔سطورِ بالا لکھنے کی نوبت اسلئے آئی کہ &#39;&#39;وفاقی ادارۂ محصولات‘‘ کے چیئرمین جناب راشد محمود لنگڑیال کے چند کالم نظر سے گزرے‘ انہوں نے جناب سہیل وڑائچ کے انداز میں استعارات اور تلمیحات کے ذریعے ہمارے قومی اور اقتصادی مسائل پر تبصرہ کیا۔ وہ چونکہ محض تماش بیں نہیں ہیں‘ بلکہ نظام کے اندر فیصلہ ساز مسند پر فائز ہیں‘ انہیں پانی کی گہرائی کا بھی خوب اندازہ ہے‘ لہٰذا ان سے زیادہ ملکی معیشت کو لاحق امراض کا ادراک کسی کو نہیں ہو سکتا۔ ہمیں یہ جان کرخوشی ہوئی کہ انہیں ہماری تاریخ اور ماضی کے ادبی سرمائے کے مطالعے کا بھی ذوق ہے‘ ہمارے سابق بیورو کریٹ ایسے ہی ہوتے تھے۔ منجھے ہوئے بیورو کریٹ سابق صدر غلام اسحاق خان نے 1993ء میں جب نواز شریف کی حکومت کو معزول کیا‘ پھر سپریم کورٹ نے اُنہیں بحال کیا تو اخبار نویس نے اُن سے سوال کیا کہ اب آپکا لائحۂ عمل کیا ہو گا‘ انہوں نے جواب میں علامہ اقبال کاایک فارسی شعر پڑھا: (مفہومی ترجمہ) &#39;&#39;یہ گمان نہ کر کہ شراب خانے کا ذخیرہ ختم ہو چکا ہے‘ بلکہ ابھی ہزار قسم کی شراب انگور کی رگوں میں موجود ہے جسے تاحال کسی نے کشید نہیں کیا‘‘۔ انکی مراد یہ تھی کہ اب بھی میں کافی کارگر چالیں چل سکتا ہوں‘ لہٰذا مت سمجھو کہ میں فارغ ہوکر بیٹھ گیا ہوں۔ پس انجامِ کار وہ خود بھی اقتدار سے فارغ ہوئے اور نواز شریف کو بھی اقتدار سے رخصت کر کے دم لیا‘ اس جنگ میں دونوں چاروں شانے چت گرے۔شیخ مصلح الدین سعدی کو آپ حکیم الامت کا لقب دے سکتے ہیں کہ انہوں نے اپنی کتابوں گلستان اور بوستان میں معیاری ادب تخلیق کیا اور گلستان میں سبق آموز حکایات لکھ کر ان سے نتائج اخذ کیے تاکہ پڑھنے والے سبق حاصل کریں‘ اُن میں حکمرانوں کیلئے بھی بہت سبق ہیں۔ ایسے ہی سبق آموز اشعار مولانا روم کی مثنوی میں ہیں۔ مولانا جامی نے مثنوی کی بابت بجا طور پر کہا: &#39;&#39;مثنوی ومولوی ومعنوی؍ ہست قرآں در زبان پہلوی‘‘۔ علامہ اقبال مولانا روم کو اپنا مرشد قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں: (مفہومی ترجمہ) &#39;&#39;مجھے دیکھو! ہندوستان میں مجھ جیسا کوئی اور نہیں پائو گے‘ برہمن زادہ ہوں مگر رومی اورشمس تبریز ی کا رمز آشنا ہوں‘‘۔  انہوں نے کہا: &#39;&#39;نہ اٹھا پھر کوئی رومی عجم کے لالہ زاروں سے؍ وہی آب وگلِ ایراں‘ وہی تبریز ہے ساقی‘‘۔ مزید کہا: &#39;&#39;فطرتِ سلیم رکھنے والے پیر خواب میں تشریف لائے‘ فارسی زبان میں قرآن لکھنے والے نے فرمایا: اے اہلِ عشق کے دیوانے‘ ہو سکے تو عشق کی خالص شراب کے بھی دوگھونٹ پی لے‘‘۔چنانچہ راشد محمود لنگڑیال نے لکھا: &#39;&#39;تحفظِ اطفال‘‘ کی تحریک چلانے والے اُن ڈھائی کروڑ بچوں کا رونا رورہے ہیں جو سکول سے باہر ہیں‘ حالانکہ اصل نوحہ خوانی تو اُن لگ بھگ چھ کروڑ بچوں کی کرنی چاہیے جو سکولوں کے اندر ہیں۔ عمارتیں‘ اساتذہ‘ کتب خانے‘ تجربہ گاہیں سب کچھ ہیں‘ 92فیصد میں بیت الخلا اور 82فیصد میں صاف پانی بھی ہے‘ کھربوں روپے کا بجٹ بھی ہے‘ لیکن تعلیم نہیں ہے‘‘۔ اس موقع پر انہوں نے ایک نحوی اور کشتی کے ملّاح کا مکالمہ پیش کیا: &#39;&#39;نحوی نے کشتی میں بیٹھتے ہی ازراہِ تکبر ملّاح سے پوچھا: تُو نے نحو پڑھی ہے‘ اس نے کہا: نہیں‘ نحوی بولا: &#39;&#39;تیری تو آدھی عمر اکارت گئی‘‘۔ کچھ دیر کے بعد کشتی موجوں کے بھنور میں ڈولنے لگی تو ملاح نے پلٹ کر نحوی سے پوچھا: &#39;&#39;تجھے تیرنا آتا ہے‘‘۔ اس نے کہا: &#39;&#39;نہیں‘‘۔ ملاح نے کہا: &#39;&#39;تیری تو ساری عمر اکارت گئی‘‘۔ یعنی تعلیم کے کھاتے میں سرکار کے کھرب ہا کھرب روپے خرچ ہونے کے باوجود علم صفر ہے۔ اسناد اور ڈگریاں تو ہیں‘ لیکن علم نہیں ہے‘ علم کے بازار میں انکا کوئی خریدار نہیں ہے۔ حالانکہ عام نجی سکولوں کی بہ نسبت سرکاری سکولوں کے اساتذہ کے مشاہرے پانچ تا دس گنا زیادہ ہیں‘ اسکے برعکس اشرافیہ کیلئے قائم سکولوں کی فیسیں ناقابلِ تصور اورعام لوگوں کی پہنچ سے دور ہیں‘ لہٰذاذہانت ودانش گلی کوچوں میں رُل رہی ہے۔ انہوں نے اس عقاب کی سرگزشت لکھی جو بادشاہ کی کلائی سے اڑ کر بڑھیا کی کٹیا میں آ بیٹھا تھا۔ بڑھیا کو اس پر پیار آیا‘ اسے حسین بنانے کیلئے اس نے قینچی سے اسکی چونچ اور ناخن تراش دیے۔ پس وہ شکار سے روزی حاصل کرنے سے محروم ہو گیا۔ وہ لکھتے ہیں: &#39;&#39;یہی سلوک ہماری ریاست نے صنعت کیساتھ کیا‘ اسے چھوئی موئی کا پودا بنا لیا‘ اسکے استحصال اور من پسند منافع کیلئے 65 فیصد تک درآمدی محصولات لگا دیے‘ صنعتوں کا منافع سو فیصد تک جا پہنچا اور چونکہ انہیں نازنیں بنا کر اختراع وایجاد کی صلاحیت‘ مسابقت کی اہلیت اور حقیقت پسندی سے محروم کر دیا گیا‘ لہٰذا وہ عالمی مسابقت کے قابل ہی نہ رہیں‘‘۔ اسکے برعکس انہوں نے ویتنام کی مثال دی کہ انکی برآمدات ایک ارب ڈالر سے 470 ارب ڈالر تک جا پہنچیں۔ مسرور انور نے کہا تھا: &#39;&#39;اک ستم اور میری جاں‘ ابھی جاں باقی ہے؍ دل میں اب تک تیری اُلفت کا نشاں باقی ہے‘‘۔انہوں نے بتایا: برآمدی صنعتوں کو ٹیکس میں جو چھوٹ اور مراعات دی گئی ہیں‘ اُن پر تحدید وتوازن کا کوئی نظام نہیں ہے‘ صنعتکار ٹیکس میں چھوٹ برآمد کیلئے لیتے ہیں اور پھر وہی مال برآمد ہونے کے بجائے مقامی مارکیٹوں میں فروخت ہوتا ہے‘ حالانکہ اس کیلئے سائنٹیفک نظام وضع کیا جا سکتا ہے۔ چھوٹ فیکٹری سے نکلنے والے مال پر نہ دی جائے‘ بلکہ اُس مال پر دی جائے جو کسٹم سے بیرونِ ملک ترسیل کیلئے نکلے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_61172381.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>