<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>آبادی میں اضافے کے اثرات(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-11/11351</link><pubDate>Sat, 11 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-11/11351</guid><description>گیارہ جولائی کو عالمی یوم آبادی منایا جاتا ہے اور اس مناسبت سے ہمارے لیے بڑھتی آبادی اور اس کے مسائل پر غور کرنے کا مناسب موقع ہے۔ آبادی کا حجم کسی ملک میں معیارِ زندگی‘ سماجی ترقی اور نمو کے امکانات کے ساتھ گہرا تعلق رکھتا ہے۔ دستیاب وسائل کی تقسیم جتنے نفوس میں ہو گی ہر ایک کا حصہ کم ہوتا جائے گا اور کم وسائل کیساتھ پروان چڑھنے والی آبادی کی صلاحیتوں پر اسکے اثرات ہوں گے۔ یہ اصول صحت‘ تعلیم‘ روزگار کے مواقع ‘ شہری سہولیات غرض زندگی کے ہر شعبے پر مؤثر ہے اور اس کا اندازہ کسی ملک میں انسانی ترقی کی شرح (ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس) سے بخوبی کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان آبادی کے لحاظ سے اس وقت دنیا میں پانچویں نمبر پر ہے۔ 2023ء کی مردم شماری کے مطابق ملک کی آبادی 24کروڑ 14لاکھ تھی اور 2017ء میں 20کروڑ 76 لاکھ۔ یعنی آبادی میں 2.55 فیصد سالانہ کے حساب سے اضافہ ہوا‘ اور اسی شرح کو مدنظر رکھا جائے تو آبادی میں سالانہ 61لاکھ نفوس کا اضافہ ہو رہا ہے اور 2023ء سے اب تک آبادی ایک کروڑ 90 لاکھ مزید بڑھ چکی ہے۔ یہ تیز ترین اضافہ آبادی کے لحاظ سے دنیا میں پاکستان کے درجے کو بڑی تیزی سے بڑھا رہا ہے۔

عالمی آبادی میں پاکستان کے اوپر کے چاروں ممالک میں آبادی میں اضافے کی شرح سالانہ ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ یونائیٹڈ نیشنز پاپولیشن فنڈ نے 2023ء کی ایک رپورٹ میں تخمینہ لگایا تھا کہ 2050ء تک پاکستان کی آبادی 40کروڑ سے تجاوز کر جائے گی۔ آبادی میں غیر معمولی اضافے کے معیارِ زندگی پر منفی اثرات شدت کیساتھ سامنے آ رہے ہیں۔ انسانی ترقی کے حالیہ اعداد وشمار سے پتا چلتا ہے کہ پاکستان 193ممالک میں 168 ویں نمبر پر ہے جو 35 سال کی کم ترین سطح ہے۔ ملک میں بڑھتی ہوئی غربت‘ بیروزگاری‘ وسائل کی کمی اورزندگی کی آسائشوں کی کمیابی کا آبادی میں غیر معمولی اضافے سے براہِ راست اور قریبی تعلق ہے۔ پچھلی ایک سے ڈیڑھ دہائی کے دوران ملک کے تقریباً سبھی بڑے شہروں اور بیشتر دیہی علاقوں کے پھیلاؤ کا حیران کن رجحان دیکھا گیا۔ بڑھتی آبادی اور وسائل کی کمی اندرون ملک نقل مکانی کے رجحان میں بھی اضافے کا سبب بنی اور دیہی علاقوں یا چھوٹے شہروں سے بڑے شہروں کی جانب انتقالِ آبادی کا رجحان شدت اختیار کر گیا۔ اسکے اثرات شہروں میں وسائل اور سہولتوں کے علاوہ امن وامان کی صورتحال پر بھی مرتب ہوئے۔ شہری سہولتوں پر دباؤ کئی گنا بڑھ گیا‘ نتیجتاً ان سہولتوں کے معیار کا متاثر ہونا قدرتی امر تھا۔
آبادی میں بے تحاشا اضافے کے اثرات کا یہ اثر بھی ہوا کہ عوامی فلاح وبہبود پر قومی اخراجات افسوسناک حد تک کم ہیں۔ صرف صحت اور تعلیم پر فی کس اخراجات کو دیکھ لینا کافی ہو گا۔ پاکستان صحت پر فی کس سالانہ 31ڈالر اور تعلیم پر 11ڈالرخرچ کرتا ہے‘ یہ اخراجات جنوبی ایشیا میں سب سے کم ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ ان مسائل کے اصل سبب یعنی آبادی میں بے تحاشا اضافے کو کیونکر کنٹرول کیا جائے۔ اس سلسلے میں پاکستان کو اپنی مثالوں ہی سے سیکھنا چاہیے۔ پاکستان ان چند ممالک میں سے ایک تھا جنہوں نے 1960ء کی دہائی میں آبادی میں اضافے کے اثرات کا ادراک کیا اور آبادی کی منصوبہ بندی کیلئے پالیسیاں بنائیں اور اقدامات شروع کیے۔ مگر اُسوقت سے اب تک آبادی چھ گنا بڑھ چکی ہے۔ آبادی کی منصوبہ بندی کی پالیسیوں کے مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہونے کی کئی وجوہات ہیں۔
جب تک ان رکاوٹوں کا تعین کر کے ان کے ازالے کا یقینی بندوبست نہیں کیا جاتا آبادی میں اضافے کی شرح کی روک تھام ممکن نہیں۔ آبادی میں اضافے کی موجودہ رفتار کے ساتھ ہم تباہ کن صورتحال کی جانب بڑھ رہے ہیں‘ اس میں دو رائے نہیں مگر سوال یہ ہے کہ اس پر قابو پانے کی کیا تدبیر ہونی چاہیے؟ یہ قومی اہمیت کا سوال ہے اور مستقبل میں پاکستان اور پاکستانی قوم کی ترقی کا بہت حد تک دارو مدار اس پر ہوگا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ٹیوشن سنٹرز‘ بچوں کا تحفظ ناگزیر(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-11/11350</link><pubDate>Sat, 11 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-11/11350</guid><description>ابھی کاہنہ میں پیش آنے والے افسوسناک حادثے کو دو ہفتے بھی نہیں گزرے تھے کہ لاہور کے علاقے اچھرہ میں ایک ٹیوشن سنٹر میں 12 سالہ طالبہ کی پُراسرار موت نے ایک بار پھر ٹیوشن سنٹروں میں بچوں کی حفاظت سے متعلق سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں ٹیوشن سنٹرز کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے لیکن ان کی اکثریت کسی مؤثر سرکاری نگرانی‘ رجسٹریشن یا حفاظتی معیار کی پابند نہیں۔ والدین اپنے بچوں کو بہتر تعلیم کی امید میں ان مراکز پر بھیجتے ہیں مگر انہیں یہ یقین بھی ہونا چاہیے کہ وہاں انکی جان و مال اور عزت و وقار محفوظ ہیں۔ ضروری ہے کہ حکومت‘ ضلعی انتظامیہ‘ محکمہ تعلیم اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مل کر ٹیوشن سنٹروں کیلئے واضح اور قابلِ عمل ایس او پیز مرتب کریں۔

ٹیوشن سنٹرز کی رجسٹریشن لازمی قرار دی جائے جسے عمارت کے معیاری ہونے کیساتھ ساتھ بچوں کیلئے بنیادی حفاظتی تقاضوں سے مشروط کیا جائے۔ تعلیمی مراکز میں بچوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہونا باعثِ تشویش ہے۔ اچھرہ اور کاہنہ جیسے افسوسناک واقعات کو محض ایک اور خبر سمجھ کر فراموش کرنے کے بجائے انہیں اصلاحِ احوال کا موقع بنایا جانا چاہیے۔ اگر آج مؤثر قانون سازی‘ سخت نگرانی اور عملی اقدامات نہ کیے گئے تو کل کسی اور خاندان کو اسی کرب سے گزرنا پڑ سکتا ہے۔ بچوں کا تحفظ ریاست‘ اداروں اور معاشرے سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور اس ذمہ داری کی ادائیگی میں مزید تاخیر کی گنجائش نہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مہنگائی کا نہ تھمنے والا سلسلہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-11/11349</link><pubDate>Sat, 11 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-11/11349</guid><description> مہنگائی پر قابو پانے کے حکومتی دعوؤں کے باوجود زمینی حقائق اسکے برعکس ہیں۔ وفاقی ادارۂ شماریات کے مطابق 9 جولائی کو ختم ہونے والے کاروباری ہفتے کے دوران 22 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ ہفتہ وار مہنگائی کی شرح بھی تقریباً 12 فیصد رہی۔ یہ اعداد و شمار اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مہنگائی کے بوجھ تلے دبے عوام کو تاحال کوئی حقیقی ریلیف نہیں مل سکا۔ ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا فائدہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی کی صورت میں عام صارف تک کیوں نہیں پہنچا؟ یہ ایسا سوال ہے جس کا جواب متعلقہ اداروں اور حکومتی ذمہ داران کو دینا چاہیے۔

حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ تین ہفتوں کے دوران نہ تو ٹرانسپورٹ کرایوں میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہونے والی کمی کے تناسب سے خاطر خواہ کمی آئی ہے اور نہ ہی روزمرہ استعمال کی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کوئی نمایاں کمی آئی ہے۔ ملک میں پرائس کنٹرول‘ صارفین کے تحفظ اور ناجائز منافع خوری کی روک تھام کیلئے متعدد سرکاری محکمے اور قوانین موجود ہیں مگر اس سب کے باوجود عوام کو ریلیف میسر نہیں آ رہا۔ اس وقت سب سے زیادہ متاثر وہ طبقہ ہے جس کی آمدن محدود اور اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔  ضروری ہے کہ حکومت محض اعلانات تک محدود رہنے کے بجائے متعلقہ اداروں کو عملی اقدامات کا پابند کرے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>’زمانۂ حاضر کا انسان ‘(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-07-11/52273/36384970</link><pubDate>Sat, 11 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-07-11/52273/36384970</guid><description>علامہ اقبال نے &#39;زمانۂ حاضر‘ کے انسان کا المیہ بیان کیا ہے:ڈھونڈنے والا ستاروں کی گزر گاہوں کااپنے افکار کی دنیا میں سفر کر نہ سکاعلامہ اقبال کے &#39;دورِ حاضر‘ کو گزرے ایک صدی بیت گئی۔ انہوں نے اپنے عہد کا شہر آشوب لکھا ہے۔ میں جب دورِ حاضر کو دیکھتا ہوں تو اس دور کے انسان کا المیہ بھی یہی ہے۔ گویا حالاتِ حاضرہ کو کئی سال ہو گئے۔ اقبال تو خیر ایک بڑے فکری پس منظر میں اس المیے کو دیکھ رہے ہیں‘ میں اسے زمان و مکان کے اعتبار سے ایک محدود دائرے میں مشاہدہ کر رہا ہوں۔ یہ مکان پاکستان ہے اور انسان میں ہوں‘ آپ ہیں‘ ہم سب ہیں۔ ہم جو ایوانِ اقتدار میں بیٹھے ہوئے ہیں یا ہم جو خاک نشین ہیں‘ جنہیں عرفِ عام میں عوام کہا جاتا ہے۔ہم نے عالمی جنگ رکوا دی۔ یہ معمولی واقعہ نہیں ہے۔ ہمارے مقام کا اعتراف کرنے والے بہت ہیں اور حاسدین کی بھی کمی  نہیں۔ دشمن انگشت بدنداں ہیں کہ ہم جسے دیوار کے ساتھ لگانا چاہتے تھے‘ وہ اُن کے سامنے دیوار بن گیا ہے۔ اُن کواپنا راستہ بند ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ اس کامیابی پر جشن کا سماں ہے۔ ایران اور امریکہ اگر چہ جارحانہ موڈ سے نہیں نکلے اور خدشات کے بادل بدستور آسمانِ خلیج پہ منڈلا رہے ہیں مگر اس سے ہماری کامیابی کا تاثر کم نہیں ہوا۔ ہم نے جو حاصل کرنا تھا کر لیا۔ اب تو سننے میں آ رہا ہے کہ ہم لیبیا کے متحارب گروہوں میں بھی صلح کرائیں گے۔ ایسا ہوتا ہے تو یہ بھی بڑی کامیابی ہو گی۔ یہ نیک شگون ہے کہ لوگ پاکستانی قیادت کی بات کو وزن دے رہے ہیں اور اس کا احترام کرتے ہیں۔حیرت مگر یہ ہے کہ ساری دنیا میں امن قائم کرنے والوں کے اپنے گھر کا منظر پریشان کن ہے۔ یہاں فساد ہے اور فسادی قوتیں گرفت میں نہیں آ رہی ہیں۔ بلوچستان میں پولیس والے اس سرزمین کی حفاظت میں جان کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں۔ پاک فوج کے جوان قربان ہو رہے ہیں۔ ان میں سے ایک ایک آدمی انمول ہے۔ ان کے اہلِ خانہ کو ریاست کچھ پیسے دے دیتی ہے۔ یہ اچھا ہے کہ کفالت بہرحال ریاست کی ذمہ داری ہے۔ یہ مگر اس جان کا مداوا نہیں جو چلی گئی اور اس کے گھر والے اب کبھی اپنے محبوب کا چہرہ نہ دیکھ سکیں گے۔ معلوم نہیں کہ محض ایک سال میں کتنے گھروں کے چراغ بجھ گئے۔ ہم دنیا کا فساد ختم کرانے نکلے ہیں مگر ہمارے اپنے گھر کا فساد ختم ہونے کو نہیں آ رہا۔آزاد کشمیر کو دیکھ لیں۔ میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ آزاد کشمیر سے ایسی آوازیں اٹھیں گی۔ شکایت کہاں نہیں ہوتی مگر کیا اس وجہ سے ہم گھر کی بنیادوں میں بارود رکھ دیتے ہیں؟ آزاد کشمیر میں ایک سے زیادہ نظریاتی دھارے موجود رہے ہیں۔ ایسی کیفیت مگر کبھی دیکھنے میں نہیں آئی کہ اس آزاد فضا کو کسی نے مقبوضہ بنا دیا ہو۔ راولپنڈی میں مَیں نے ان جماعتوں کے دفاتر دیکھے ہیں اور شاید اب بھی موجود ہوں جو خود مختار کشمیر کی حامی ہیں۔وہ اپنی بات پوری آزادی سے کہتے تھے‘ جلسے کر تے تھے۔ نہ انہیں کبھی جان و مال کے خطرے کا احساس ہوا نہ دوسروں نے انہیں اجنبی سمجھا۔ اب ہم جو کچھ دیکھ رہے ہیں یہ نیا ہے۔ محض چند سیٹوں کے معاملے پر ایسی زبان اور پھر تشدد کی ایسی لہر؟ کہاں ہے وہ قوم جس کی قیادت عالمی تنازعات حل کروا رہی ہے مگر اس چھوٹے سے مسئلے کو حل نہیں کر سکی؟ ایک طرف ستاروں کی گزرگاہوں پرگھوڑے دوڑ رہے ہیں اور دوسری طرف قوم کی شاہراہ حیات سونی پڑی ہے۔سیاسی مسائل بھی اپنی جگہ ہیں۔ ایک جماعت ہے جس کے ساتھ معاملات حل ہونے کو نہیں آ رہے۔ اس کی تنظیم ناکام ہو چکی اور وہ کوئی احتجاج منظم کرنے کی قدرت نہیں رکھتی۔ یہ حکومت کی کامیاب حکمتِ عملی کا نتیجہ ہے۔ اس کامیابی پر داد وصول کیجیے مگر مسئلہ  تو موجود ہے۔ نہ اس کے بیانیے کو شکست دی جا سکی ہے نہ اس جماعت سے وابستہ عوام کو قائل کیا جا سکا۔ حکومت کی بنیاد ایک سیاسی قوت پرہوتی ہے۔ وہ قوت کہاں ہے؟ سچ پوچھئے تو کہیں نہیں ہے۔ سیاست دم توڑ چکی۔ ملک میں اس وقت کوئی سیاست نہیں ہو رہی۔ سیاست مکالمے سے عبارت ہوتی ہے۔ یہ مل بیٹھ کر مسائل حل کرنے کا نام ہے۔ سیاست جنگ کا متبادل ہے جو انسان نے بڑی محنت سے دریافت کیا۔ ہم جو ایران اور امریکہ جیسی دشمن اور عشروں سے متحارب قوتوں کو ایک میز پر بٹھانے میں کامیاب ہوئے ہیں‘ ملک کے اندر ایسی میز کیوں نہیں بنا سکے جس کے گرد سب سیاستدان بیٹھ جائیں۔ ہم نے ایران اور امریکہ میں مذاکرات کروا کر جادو کر دیا۔ یہ جادو ملک کے اندر کیوں نہ کر سکے؟ جادو کی یہ چھڑی ملک کے اندر کیوں کام نہیں کرتی؟ کیا سبب ہے کہ ہم شدید دشمنوں کو تو مکالمے پر آمادہ کر لیتے ہیں مگر ملک کی سیاسی جماعتوں میں مکالمہ نہیں کروا سکتے؟ گھر عذاب اور باہر ثواب۔ہمارا یہ المیہ پرانا ہے۔ بھٹو صاحب تیسری دنیا کو اکٹھا کرنا چاہتے تھے مگر ملک میں اپوزیشن کی جگہ جیل ہی رہی۔ قومی اتحاد کے ساتھ مذاکراتی عمل نتیجہ خیز نہ ہو سکا۔ عمران خان صاحب بھی اردوان اور مہاتیر محمد سے مل کر اسلامی بلاک بنانے چلے تھے مگر جب تک وزیراعظم رہے ایک بار بھی اپوزیشن سے بات نہیں کی۔ آج بھی یہ تسلسل برقرار ہے۔ سب مذہبی جماعتیں امتِ مسلمہ کے اتحاد کا واویلا کر تیں اور مسلم حکمرانوں کو کوستی ہیں۔ اپنا حال یہ ہے کہ ایک مسلک کی وابستگان تو گنے جا سکتے ہیں‘ ان کی جماعتیں نہیں۔ اس لیے میں اس سوال کو دہرانے پر مجبور ہوں کہ امت کو جمع کرانے والے پاکستانی قوم کو کیوں جمع نہیں کر سکے؟ دنیا میں برسرِ پیکار قوتوں کو ایک میز پر بٹھانے والے مقامی سیاسی قائدین کو کیوں ایک کمرے میں اکٹھا نہیں کر سکتے؟ علامہ اقبال نے دورِ حاضر کے اس انسان کے المیے کو کئی اسالیب میں بیان کیا ہے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں:جس نے سورج کی شعاعوں کو گرفتار کیازندگی کی شبِ تاریک سحر کر نہ سکاواقعہ یہ ہے کہ اصل کامیابی خود کو مسخر کرنا ہے۔ اپنی اَنا پر فتح پانا ہے۔ اپنے مفاد سے بلند تر ہو کر دیکھنا ہے۔ اپنا تزکیہ کرنا ہے۔ ہم ان فصیلوں کی قید میں ہیں۔ ہم خارج کو مفتوح کرنے میں اب تک کامیاب ہیں مگر اپنے داخل میں بیٹھے اپنے مخالف پر فتح نہیں پا سکے۔ ہمارا اصل کام یہ نہیں کہ ہم نے دنیا سے فساد ختم کرنا ہے‘ ہمارا اصل امتحان یہ ہے کہ ہم نے پاکستان کو امن کا گھر بنانا ہے۔ ہم نے ستاروں کی گزر گاہوں پر گھوڑے نہیں دوڑانے‘ اپنے افکار کی دنیا میں پیش قدمی کرنی ہے۔ انہیں سنوارنا ہے۔ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ پاکستان میں امن اور اس کا استحکام ہے۔ ایسا پاکستان جہاں ایک دوسرے کی شکایات کا ازالہ ہو۔ ایک دوسرے پر اعتماد ہو۔ اس کے بعد ہم مل کر ان قوتوں کا مقابلہ کریں جو خارج میں ہیں اور پاکستان کے امن کو برباد کرنا چاہتی ہیں۔ سورج کی شعاعوں کو ضرور قید کیجیے مگر پہلے پاکستان کی شبِ تاریک کی سحر کیجیے۔ یہاں سحر طلوع ہوئی تو پھر آسانی سے ساری دنیا کو روشن کر سکیں گے۔ کتنا عجیب ہو گا کہ گھر میں لوڈ شیڈنگ ہو اور ہم دنیا کو روشن کرنے چل پڑیں۔ </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ریڈ کارڈ، ٹرمپ، فٹبال اور ناصر گوندل کی نظم(خالد مسعود خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-07-11/52274/37108096</link><pubDate>Sat, 11 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-07-11/52274/37108096</guid><description>میں گزشتہ دو دن سے برادر بزرگ اعجاز احمد کے پاس امریکی ریاست جارجیا کے شہر اٹلانٹا کے نواح میں ایک چھوٹے سے شہر میں ہوں۔ گزشتہ روز میں اور برادر بزرگ اٹلانٹا ڈاؤن ٹاؤن سے ہوتے ہوئے واپس آ رہے تھے‘ سڑکوں پر خلافِ معمول زیادہ رش اور چہل پہل دکھائی دے رہی تھی۔ برادرِ بزرگ نے بتایا کہ آج اٹلانٹا میں مصر اور ارجنٹائن کے درمیان ورلڈ کپ کا پری کوارٹر فائنل میچ ہے۔ اس میچ کا سن کر مجھے فوری طور پہ بوسنیا و ہرزیگووینا اور امریکہ کا میچ یاد آ گیا۔ اس میچ میں ریفری نے فاؤل کھیلے جانے پر امریکہ کے کھلاڑی فلارن بالوگن کو ریڈ کارڈ دکھا کر اسے اگلے میچ کیلئے معطل کر دیا۔ فیلڈ گیمز میں فاؤل کی نوعیت کے اعتبار سے مختلف کارڈ ہیں جو ریفری اس فاؤل کی نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے کھلاڑی کو دکھاتا ہے۔ ریفری نے امریکی کھلاڑی کو اگلے میچ میں شرکت سے روک دیا۔ کھیل میں فاؤل پر ریفری کی جانب سے سزا ملنا‘ اس پورے منظر نامے کا حصہ ہے۔ کھیل میں یہ سب چیزیں کسی طور بھی غیر معمولی نہیں ہیں اور یہ اس ورلڈ کپ کا پہلا ریڈ کارڈ بھی نہیں تھا۔ فیفا ورلڈ کپ 2026ء میں مختلف ٹیموں کے مختلف کھلاڑیوں کو مورخہ 8 جولائی تک مجموعی طور پر تیرہ ریڈ کارڈ دکھائے جا چکے ہیں۔ میکسیکو اور جنوبی افریقہ کے درمیان ہونے والے افتتاحی میچ میں تین ریڈ کارڈز دکھائے گئے جو کسی بھی ورلڈ کپ کے افتتاحی میچ میں ریڈ کارڈز دکھانے کا ریکارڈ ہے۔ امریکی کھلاڑی کو دکھایا جانے والا یہ ریڈ کارڈ اس ٹورنامنٹ کا ساتواں ریڈ کارڈ تھا۔ اس ریڈ کارڈ کے بعد یہ امریکی کھلاڑی اپنا اگلا میچ نہیں کھیل سکتا تھا۔ امریکی صدر ٹرمپ نے نئی تارخ رقم کرتے ہوئے امریکی ٹیم کے کھلاڑی کو ریفری کی جانب سے ریڈ کارڈ دکھانے کو &#39;&#39;بہت خراب فیصلہ‘‘ قرار دیا اور اس سلسلے میں مداخلت کرتے ہوئے فیفا کے صدر گیانی انفانٹیو کو فون کر کے یہ معطلی منسوخ کرنے کا کہا جس پر فیفا کی ڈسپلنری کمیٹی نے امریکی کھلاڑی کی اگلے میچ کی معطلی مؤخر کر کے اسے بلجیم کے ساتھ اگلا میچ کھیلنے کا اہل قرار دے دیا۔ یہ اور بات کہ امریکی ٹیم پھر بھی بلجیم کے خلاف اپنا میچ ایک کے مقابلے میں چار گول سے ہار گئی۔کھیل کے مبصرین‘ ماہرین اور سابقہ کھلاڑی اسے فیفا کی غیر جانبداری اور شفافیت پر کاری وار قرار دے رہے ہیں۔ اس فیصلے پر بلجیم کی فٹبال فیڈریشن نے احتجاج کرتے ہوئے اسے مقابلے کی شفافیت کی خلاف ورزی قرار دیا۔ سابق کھلاڑیوں‘ کوچز اور فٹبال حکام نے کہا کہ اگر ریڈ کارڈ کی معطلی سیاسی دباؤ کی وجہ سے ختم کی جا سکتی ہے تو مستقبل میں فیفا کے نظم وضبط کے نظام پر اعتماد کم ہو جائے گا۔اہالیانِ اٹلانٹا کیلئے مصر اور ارجنٹائن کی فٹبال ٹیمیں پردیسی کی حیثیت رکھتی تھیں اس تمام گہماگہمی کے باوجود وہ جوش وخروش اور ہنگامہ مفقود تھا جو اس مسافر نے بیس پچیس سال قبل گلاسگو میں دو ازلی حریف فٹبال ٹیموں سیلٹک (Celtic) اور رینجرز کے درمیان میچ کے خاتمے کے بعد شدید مارکٹائی کی صورت میں دیکھا تھا۔ یہ ہنگامہ آرائی کئی گھنٹوں جاری رہی۔ یہاں اٹلانٹا میں ایسی صورتحال نہیں تھی‘ تاہم گہماگہمی ایسی تھی جو پہلے کبھی دکھائی نہیں دی تھی۔ اس میچ میں بھی بعض فیصلوں نے خاصی بدمزگی پیدا کی۔ پہلے ہاف میں مصر کے گول کیپر نے میسی کی پنلٹی کک روک کر میسی کے جادو کی ہوا نکال دی۔ میچ ختم ہونے سے گیارہ منٹ پہلے تک مصر صفر کے مقابلے میں دو گول سے جیت رہا تھا حالانکہ اس دوران مصر کا ایک گول VAR( وڈیو اسسٹ ریفری) نے سرے سے نو گول کر دیا‘ وگرنہ مصر یہ مقابلہ تین صفر سے جیت رہا ہوتا۔ میچ کے ختم ہونے سے چند منٹ پہلے تک لگ رہا تھا کہ دفاعی ورلڈ چیمپئن ارجنٹائن شاید کوارٹر فائنل تک بھی رسائی حاصل نہیں کر پائے‘ لیکن ایک چمتکار ہوا اور میچ کی اختتامی سیٹی بجنے سے قبل ارجنٹائن نے دو گول کر کے مقابلہ برابر کر دیا۔ اضافی وقت کے دوران ارجنٹائن نے تیسرا گول کر کے فیصلہ کن برتری حاصل کر لی۔ لیکن یہ میچ کئی نامقبول‘ متنازع اور یکطرفہ فیصلوں کے باعث اس ورلڈ کپ کا سب سے متنازع اور زیر بحث رہنے والا مقابلہ بن گیا ہے۔ بہت سے ماہرین اور ناقدین کے بقول فیفا ارجنٹائن کو ہر حال میں میدان میں رکھنا چاہتی تھی اور کم از کم دو فیصلے ایسے تھے کہ جنہوں نے ٹورنامنٹ کی ساری غیر جانبداری اور شفافیت پر سنگین سوال اٹھا دیے ہیں۔صدر ٹرمپ کے کمنٹس اور فیفا کے صدر کو کی جانے والی کال کے بارے میں برادر بزرگ سے سوال کیا تو انہوں نے آگے سے مسکرا کر کہا: یہ بندہ ہمیں جگہ جگہ ذلیل و رسوا کرا رہا ہے۔ میں نے بھی جواباً ہنس کر کہا کہ آپ امریکہ والے ویسے تو ہم بیچارے پاکستانیوں سے کسی بھی موضوع پر قابو نہیں آتے۔ اللہ بھلا کرے اس صدر کا جس کے طفیل آپ اب اسی طرح لاجواب ہو جاتے ہیں جس طرح عمران خان کے زمانے میں‘ جب پی ٹی آئی کا کوئی بندہ کسی کے قابو میں نہ آئے تو اس سے عثمان بزدار کی بطور وزیراعلیٰ پنجاب تعیناتی کے میرٹ کا پوچھ لیتے تھے تو بڑے سے بڑا طرم خان بھی لاجواب ہو جاتا تھا۔ بالکل اسی طرح اب ہم جیسے ہی صدر ٹرمپ کا معاملہ چھیڑتے ہیں‘ آپ لوگوں کی بولتی بند ہو جاتی ہے۔ باقی کالم چھوڑیں۔ مجھے اس ریڈ کارڈ‘ ٹرمپ اور فٹبال سے اپنے عزیز دوست ڈاکٹر ناصر گوندل کی ایک تازہ بہ تازہ نظم یاد آ گئی۔ پڑھیں اور لطف لیں۔ ورلڈ کپہمیشہ کی طرح؍ اس بار بھی جو کھیل کھیلا جا رہا ہے؍ اگرچہ عالمی ہے کھیل لیکن؍ کسی صورت بھی ہم اس کھیل کا حصہ نہیں ہیں؍ مگر اس کھیل میں جو گیند کھیلا جا رہا ہے؍ وہ میرے ہاتھ کا جوڑا ہوا ہے؍ کسی بازار میں اخبار میں ٹی وی کے پردے پر؍ جہاں پر بھی نظر آئے تو ہم سب کو دکھاتے ہیں؍ ہم اس کے ساتھ اپنے آپ کی فوٹو بناتے ہیں؍ ذرا پہلے کی ہے یہ بات اس میں؍ مرے اپنے مویشی مال کا چمڑہ لگا تھا؍ یہ بخیے بھی مرے ہی ہاتھ کے ٹانکے ہوئے تھے؍ مگر ہر چیز اپنی اصل سے اب ہٹ کے بنتی ہے؍ ہے اب چمڑہ بھی مصنوعی؍ کوئی دھاگا کوئی ٹانکا نہیں ہے؍ ہے اس کی جنس اب پولی یورتھرین؍ مناسب آنچ کا شعلہ دکھایا؍ ذرا پگھلا کے ٹکڑوں کو ملایا؍ ہے اب تیار ایڈیڈاس ٹری اینڈا؍ لگا اندر بلیڈر ہے ربر کا؍ اور اس فٹ بال میں اک چِپ لگی ہے؍ لگائی ہے کہاں پہ کس نے ٹھوکر؍ ہر اک ضربِ خفی ضربِ شدید؍ حسابِ ہر کساں اس میں برابر؍ اسے ٹھوکر لگائیں تو مناسب طور ہر حرکت میں آتا ہے؍ کھلاڑی سے ہمیشہ ایک دو گز اور آگے بھاگتا ہے؍ حریفوں کا ہدف کہ اس کو وہ پیروں سے ماریں؍ اُسے دشمن کے آنگن میں اتاریں؍ یہ مصنوعات کی حد تک نہیں ہے؍ میں خود فٹ بال بننے میں مہارتِ خاص رکھتا ہوں؍ مجھے جتنی لگیں ضربیں مرا خاصہ ہے میں اتنی ہی شدت سے اچھلتا ہوں؍ میں ہر میدان میں تیار ہوں فٹ بال بننے میں؍ مجھے فٹ بال بننے میں بڑی محنت لگی ہے؍ ذرا ٹھوکر مجھے مارو؍ تمہارے ساتھ بھاگوں گا؍ بھگائو گے مجھے جتنا؍ میں اس سے تیز بھاگوں گا؍ مجھے ہاتھوں میں نہ لینا؍ بڑا نقصان ہوتا ہے؍ مجھے پیروں تلے رکھنا؍ مجھے پیروں میں رہنے کا بڑا ہے تجربہ؍ اکثر وہیں پر کھیلنے والے؍ جھگڑتے ہیں کہ؍ پیروں سے مجھے ماریں؍ مجھے دشمن کے آنگن میں اتاریں؍ علامت ہی کی ہو لیکن؍ ہے یہ اک عالمی جنگ؍ جہاں پڑتا ہے رن گھمسان کا؍ ہمیں فٹ بال کے اس کھیل میں فٹ بال بُننا ہے؍ ہمیں فٹ بال کے اس کھیل میں فٹ بال بننا ہے؍ کوئی ہم سے نہیں بہتر؍ یہاں فٹ بال بننے میں؍ کوئی ہم سے نہیں بہتر؍ یہاں فٹ بال بننے میں</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90500073.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>غلط امریکی مفروضے(ڈاکٹر حسین احمد پراچہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-07-11/52275/81251984</link><pubDate>Sat, 11 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-07-11/52275/81251984</guid><description>جو قوم زندگی کی جتنی تمنائی ہو اور اس سے کہیں بڑھ کر اپنے دفاع کیلئے موت کی شیدائی ہو اسے بڑی سے بڑی طاقت بھی شکست نہیں دے سکتی۔ 28فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملہ کرنے سے پہلے دونوں ملکوں کے ایران کے بارے میں جو اندازے اور مفروضے تھے وہ سب کے سب غلط ثابت ہوئے۔ ایک مفروضہ یہ تھا کہ ادھر ایران پر بمباری کا آغاز ہو گا اور اُدھر ایران میں رجیم چینج کیلئے مظاہرے شروع ہو جائیں گے۔ داخلی اختلافات کے شعلوں کو سوشل میڈیا پر بھڑکایا جائے گا اور یوں آناً فاناً سارا ایران نفرت کی اس آگ کی لپیٹ میں آ جائے گا۔ لیکن ایران نے اس جنگ میں اپنے میزائلوں اور ڈرونز سے ایف 35 طیاروں جیسا کام لیا۔ ایرانی حکومت نے جنگی حکمت عملی اور مزاحمت کی شاندار پالیسی سے کام لیتے ہوئے ایک طرف آبنائے ہرمز کو بند کر دیا اور دوسری طرف عرب ممالک میں موجود امریکی اڈوں پر میزائلوں کی بارش کر دی اور اسرائیل کے اندر بھی میزائلوں سے تابڑ توڑحملے کیے۔ خیال یہ کیا جارہا تھا کہ امریکی حکومت کو اس نظریاتی قوت کے بارے میں بخوبی علم ہوگا جو تقریباً نصف صدی سے ایرانی قیادت اور عوام کی روح میں جاری و ساری ہے۔سنی شیعہ کی تقسیم سے بلند ہو کر جب علامہ اقبال اور سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے ہندوستان میں اور حسن البنا نے مصر میں اجتہادی کارنامہ سرانجام دیا اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو یہ پیغام دیا کہ اسلام محض عبادات اور تقویٰ و پرہیزگاری کا نام نہیں بلکہ مسلم ملکوں کے اندر خدا ئے بزرگ و برتر کے اقتدارِ اعلیٰ کے قیام کا نام ہے۔ بعد ازاں 1963ء سے آیت اللہ خمینی نے بھی اسی اجتہادی نظریے کو آگے بڑھاتے ہوئے شیعہ اصولِ فقہ کے مطابق اسلامی جمہوری حکومت کا تصور یہ کہہ کر ایرانیوں کے سامنے پیش کیا کہ بے شک اللہ کے نزدیک ایک ہی سچا دین ہے اور وہ اسلام ہے۔ یہی وہ اجتہادی کارنامہ تھا جس سے مغربی خوفزدہ ہونے لگی اور عامۃ المسلمین کو اس انقلابی فکر سے بچانے کیلئے طرح طرح کی تدبیریں کرنے لگے۔ سیّد علی حسینی خامنہ ای نجف اشرف سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد قم میں روح اللہ خمینی کے قریب ترین شاگردوں میں شامل ہو گئے۔ 1979ء کے اسلامی انقلاب کے بعد جنوری 1980ء کے الیکشن میں منتخب ہونے والے پہلے ایرانی پریذیڈنٹ ابوالحسن بنی صدر اور امام خمینی کے درمیان تصور ِجمہوریت کی تشریح میں کئی طرح کے اشکالات و اختلافات پیدا ہوئے تو سیّد علی خامنہ ای نے ایران کی سیاسی تاریخ کے اس اہم موڑ پر امام خمینی کا کھل کر ساتھ دیا۔ یوں بنی صدر کو دو سال کے بعد ہی مواخذہ کے ذریعے منصبِ صدارت سے فارغ کر دیا گیا۔ ان کے بعد 1981ء سے لے کر 1989ء تک سیّد علی خامنہ ای ایران کے منتخب صدر رہے۔ وہ 1989ء سے اپنی شہادت تک ایران کے سپریم لیڈر رہے۔ سپریم لیڈر فوج کا کمانڈر انچیف اور عدالتی و نشریاتی اداروں کا محافظ ہوتا ہے۔ ایران میں فیصلے پارلیمنٹ اور دانشِ فقیہ مل کر کرتے ہیں۔ کون سا ایسا ملک ہے کہ جس میں سیاسی اختلافات نہیں ہوتے۔ یقینا ایران میں بھی شہریوں کی مختصر تعداد کو حکومتی پالیسیوں سے اختلافات تھے مگر ایک بھی ایسا ایرانی نہ تھا جو اِن اختلافات کی بنا پر حملہ آوروں سے ساز باز کرتا۔28فروری کو سیّد علی خامنہ ای اور اُن کے اہلِ خانہ کی شہادت کے بعد کروڑوں ایرانی یکجان سو قالب کی سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گئے۔ امریکی و اسرائیلی حملوں کے جواب میں نہ صرف ایران ڈٹا رہا بلکہ اسے واضح برتری حاصل ہوئی۔ اسی برتری کی بنا پر ہی ڈونلڈ ٹرمپ جنگ بندی اور خطے میں پائیدار امن کیلئے معاہدہ کرنے پر رضامند ہوا۔ صدر ٹرمپ کی آنکھیں تو جنگ اور اس دوران ایرانی قوم کے مثالی اتحاد اور جنگی پرفارمنس سے ہی کھل جانی چاہیے تھیں اور معلوم ہو جانا چاہیے تھا کہ اس اتحاد کے پیچھے وہ نظریاتی قوت پوری طرح کارفرما ہے جو ایران کے اسلامی انقلاب کی بنیاد اور اس کے دستوری و سیاسی نظام کی تشکیل میں پوری طرح موجزن تھی۔ مگر محسوس یوں ہوتا ہے کہ صدر ٹرمپ نظری و سیاسی منظرنامے کو نہ جانتے تھے اور نہ ہی انہوں نے اسے جاننے کی کوشش کی۔ سیّد علی خامنہ ای کے اعلیٰ دینی و سیاسی مراتب پر طویل عرصے تک فائز رہنے‘ ان کی امام خمینی سے انتہائی قربت اور پھر ان کے مرتبۂ شہادت کی بنا پر ان کے جنازے کا سرکاری اعزاز کے ساتھ چھ روزہ پروگرام ترتیب دیا گیا۔ تین جولائی کو جنازے کے جلوس کا آغاز تہران سے ہوا جس میں لاکھوں لوگوں نے شرکت کی۔ ہر کوئی آیت اللہ خامنہ ای کے تابوت کو ایک نظر دیکھنے کیلئے بے تاب تھا۔ یہاں سے سید علی خامنہ ای کا تابوت ایران کے دینی مرکز قم لے جایا گیا۔ یہاں بھی لوگوں کے جم غفیر نے اللہ کی رحمت کی طرف سفر کرنے والے شہید کیلئے اظہارِ عقیدت و محبت کیا۔ اس کے بعد سیّد علی خامنہ ای کی میت کو عراق میں نجف اشرف میں حضرت علیؓ اور کربلا میں امام حسینؓ کے روضہ مبارک پر لے جایا گیا۔ ان دونوں مقامات پر بھی لاکھوں لوگوں نے سید علی خامنہ ای کے تابوت کے ساتھ جانے والے جلوسوں میں شرکت کی اور نمازِ جنازہ ادا کی۔ اظہارِ عقیدت کے دوران لاکھوں ایرانیوں اور عراقیوں کو روتا دیکھ کر صدر ٹرمپ نے کہا کہ مجھے معلوم نہ تھا کہ لوگ رہبرِ اعلیٰ کیلئے اتنی پُرجوش عقیدت رکھتے ہیں۔ امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ مجھے لوگوں کے اپنے رہنما کیلئے آنسو دیکھ کر حیرت ہوئی۔ اصل حیرت تو امریکی صدر کو یہ ہوئی کہ اہلِ ایران کے بارے میں ان کے سارے مفروضے اور اندازے غلط ثابت ہوئے۔نو جولائی کو آیت اللہ علی خامنہ ای کا تابوت ایران کے شہر مشہد میں روضۂ امام رضا پر لایا گیاجہاں نمازِ جنازہ ادا کی گئی۔ نہ صرف ایران کے دوسرے شہروں بلکہ کئی ممالک سے شہید آیت اللہ کو الوداع کہنے کیلئے سوگواران آئے ہوئے تھے۔ یوں چھ روز کے دوران کروڑوں لوگوں نے سید علی خامنہ ای کے ساتھ اپنی قلبی و روحانی وابستگی کے ساتھ ساتھ ان کی حکومت کے ساتھ اپنی سیاسی وابستگی کا اظہار کیا اور امریکہ سمیت ساری دنیا کو پیغام دیا کہ ایرانی پرچم کے تلے ہم ایک ہیں۔ یوں فہم و فراست کی وہ شمع جو 19 اپریل 1939ء کو اس دنیا میں وارد ہوئی تھی وہ اپنے علم و عرفان سے ایک دنیا کو منور اور اپنے لہو کے چراغوں سے اپنی قوم کو شجاعت و شہادت کا سبق ازبر کرا کے نو جولائی 2026ء کو مشہد میں ایک مطمئن روح کی حیثیت سے اپنی ابدی آرام گاہ میں اُتر گئی۔ جن دنوں جنازے کا جلوس اپنے اختتامی مرحلے کی طرف گامزن تھے اُنہی دنوں میں امریکہ نے ایران پر حملے شروع کر دیے۔ امریکہ کا موقف یہ ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں دو خلیجی تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنایا تھا۔ امریکہ نے ایران میں 90اہداف پر حملے کیے جن میں ریلوے لائن جیسے شہری مقامات بھی شامل ہیں۔ جواباً ایران نے بحرین‘ کویت اور اردن میں امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کیے۔ یوں جواب الجواب سے ایک بار پھر اسلام آباد ایم او یو کا وجود خطرے میں پڑ گیا ہے۔ دونوں ممالک خطے میں امن چاہتے ہیں تو پھر اس کے تقاضوں کو بھی پورا کریں۔آج عرب دنیا پہلے جیسی نہیں وہ اب ایران کے ساتھ مل کر خطے میں امن کا قیام اور امریکی چھاتے سے گلوخلاصی چاہتی ہے۔ ایران امریکہ معاہدے کے ساتھ غزہ اور لبنان کا امن بھی جڑا ہوا ہے۔ دنیا ٹرمپ کے نہیں ایران کے ساتھ کھڑی ہے۔ اس لیے ایران کو خطے میں پائیدار امن کیلئے زیادہ صبر و تحمل اور حکمت و تدبر سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ ایران ناقابل شکست اس لیے ہے کہ ساری قوم سیسہ پلائی دیوار بن کر ایک ساتھ کھڑی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_70033906.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کاہنہ حادثے کا ذمہ دار کون؟(افتخار احمد سندھو)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/iktakhar-ahmed-sandhu/2026-07-11/52276/63933050</link><pubDate>Sat, 11 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/iktakhar-ahmed-sandhu/2026-07-11/52276/63933050</guid><description>ایک غریب گھرانے کا واحد کفیل اچانک روزگار چھن جانے سے بیمار ہو گیا اور اس کی اہلیہ لوگوں کے گھروں میں کام کاج کرکے خاندان کا پیٹ پال رہی تھی کیونکہ گھر میں نوبت فاقوں تک پہنچ چکی تھی ۔ پھر ایک دن بچوں کے بیمار والد کا انتقال ہو گیا تو کسی صاحبِ ثروت نے ان کے گھر کھانا بھیجا‘ بچوں نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا‘ اور وہ ایک دوسرے سے پوچھنے لگے کہ اب ایسا اچھا کھانا ہمیں کب نصیب ہو گا کیونکہ کھانے میں ملنے والی بریانی میں چاول کم اور گوشت زیادہ تھا۔ ان بچوں میں سے ایک بچے نے فی البدیہہ کہا کہ جب امی فوت ہوں گی۔ارباں ہتھ کرن مزدوریرزق حلال نئیں پیندی پوریکجھ کھاندے نے گھیو دی چوریاوکھا ہو گیا لینا ساہ‘ اللہ میاں تھلے آوزیراعلیٰ پنجاب نے اعلان کیا ہے کہ وہ کاہنہ ٹیوشن سنٹر حادثے میں جاں بحق ہونے والے بچوں کی موت کے ذمہ داروں کو معاف نہیں کریں گی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ان بچوں کی موت کا ذمہ دار کون ہے‘ وہ یا ان کی سیاسی جماعت‘ کیونکہ پنجاب میں گزشتہ چالیس برسوں کے دوران سب سے زیادہ مسلم لیگ (ن) بلکہ شریف خاندان کی حکومت رہی ہے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کی روشن مثال ہمارے سامنے ہے‘ ان کی اہلیہ محترمہ کے والد بھی حکمران تھے۔ ان کے دو بھائی بھی خلیفہ تھے‘ ان کے دادا بھی خلیفہ رہے تھے۔ جب حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒکو خلافت ملی تو انہوں نے سب کچھ لوگوں میں تقسیم کر دیا کہ اس سب پر عوام کا حق ہے۔ یہ پنجاب کے حکمرانوں کیلئے بھی سنہری موقع ہے کہ خود کو عمر بن عبدالعزیزؒ کا حقیقی جانشین ثابت کریں اور حکومتی وسائل عوام پر خرچ کریں۔کاہنہ ٹیوشن سنٹر میں پڑھانے والی خاتون کے سسرنے ساری زندگی محنت مزدوری کر کے تین چار مرلے کا گھر بنایا تھا‘ جس میں تین کمرے تھے۔ تین بچوں کی شادی ہو چکی تھی‘ ان کے پاس ایک ایک کمرہ تھا۔ ٹیوشن پڑھانے والی خاتون کا خاوند چونکہ ایک حکومتی آپریشن کے دوران فروٹ والی ریڑھی سے محروم ہو گیا تھا اور فروٹ والی سرکاری ریڑھی بھی اس کو نہ مل سکی‘ اس لیے یہ خاتون اپنا گھر چلانے کیلئے بچوں سے دو دو سو‘ تین تین سو روپے لے کر ان کو ٹیوشن پڑھا رہی تھی۔ اس طرح کوئی آٹھ نو ہزار روپے جمع ہو جاتے تھے جس سے ان کا گھر بمشکل چل رہا تھا۔ حالانکہ اس علاقے میں محکمہ اوقاف کی کئی کنال زمین بے آباد پڑی ہے جو اس خاتون جیسے خاندانوں میں تقسیم کی جا سکتی ہے‘ لیکن ایسا کیوں ہو گا؟لوگ قبروں پہ شمعیں جلاتے رہےزندہ لوگوں کے گھر میں اندھیرا رہااب کاہنہ حادثے کے بعد سے پولیس اُس خاتون اور اس کے اہلِ خانہ کے پیچھے پڑی ہوئی ہے۔ تمام محکمے اس علاقے میں جھونک دیے گئے ہیں‘ ایل ڈے اے سے لے کر واسا ‘ٹیپا اور لیسکو تک کے اہلکار وہیں مصروف ہیں۔ سڑکیں صاف ہو رہی ہیں‘ پانی کا نکاس یقینی بنایا جا رہا ہے۔ پولیس والوں نے تو وہاں مستقل ڈیرے ڈال لیے ہیں کہ پتا نہیں کب کوئی اعلیٰ حکومتی شخصیت وہاں کا دورہ کر لے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کوئی بھی حادثہ رونما ہونے کے بعد ہی سرکاری محکمے اورمخیر حضرات جائے وقوعہ پر کیوں پہنچتے ہیں‘ اس سے پہلے حالات کا جائزہ کیوں نہیں لیا جاتا۔ جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا کہ ایک غریب کے مرنے کے بعد ہی اس کے گھر کھانا کیوں پہنچتا ہے‘ پہلے کیوں نہیں؟حادثات کے بعد جتنے مرضی نوٹسز لے لیے جائیں‘ مگرحقیقت یہی ہے کہ ہمارے اصل مسائل غربت‘ جہالت‘ بے روزگاری اور مہنگائی ہیں۔ کاہنہ میں اب اس خاتون ٹیچر پر مقدمہ بھی بنا دیا گیا۔ خاوند کی بے روزگاری‘ غربت اور مہنگائی سے لڑنے والی اب تھانوں اور عدالتوں میں دھکے کھائے گی‘ اور آخر میں حاصل کیا ہو گا؟ مختصر بات یہی ہے کہ جب تک غربت‘ جہالت‘ بیروزگاری اور مہنگائی کے مسائل حل نہیں ہوں گے‘ چھتیں گرتی رہیں گی‘ غریب مرتے رہیں گے‘ آپ کس کس کو گرفتار کریں گے؟ اگر حکومت عوام کیلئے کچھ کرنا چاہتی ہے تو ملک سے غربت اور مہنگائی کا خاتمہ کرے‘ لوگوں سے روزگار چھیننے کے بجائے روزگار کے مواقع بڑھائے‘ عوام کو شعور دے۔ بیماری کو جڑ سے پکڑنا چاہیے۔ جب آپ لوگوں کو روزگار کے مواقع دیں گے تو ان کے گھر خود بخود ٹھیک ہو جائیں گے۔ یہ با ت صد فیصد درست ہے کہ حکمرانوں کی آنیاں جانیاں اخبارکا پیٹ تو بھر سکتی ہیں‘ زمین پر کوئی تبدیلی نہیں لا سکتیں۔اصل مسئلہ چھتوں کے گرنے یا نوٹس لینے کا نہیں بلکہ غربت‘ جہالت‘ بے روزگاری اور مہنگائی کا ہے۔ جب ایک استاد محض تین سو روپے ماہانہ فی بچہ لے کر تعلیم دینے کی کوشش کر رہی تھی تو اس پر مقدمہ بنا دینا کہاں کا انصاف ہے؟ یہ ریاست اور معاشرے کی اجتماعی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو محفوظ چھت‘ روزگار اور معیاری تعلیم فراہم کرے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب تک غربت اور جہالت کا خاتمہ نہیں ہو گا‘ ایسے حادثات بار بار ہوتے رہیں گے اور غریب ہی ان کا شکار بنتے رہیں گے۔ حکومت کو چاہیے کہ دکھاوے کے اقدامات کے بجائے عوامی مسائل کی جڑ پر ہاتھ ڈالے۔ روزگار کے مواقع بڑھائے تاکہ لوگ اپنے گھروں کو بہتر بنا سکیں اور محفوظ زندگی گزار سکیں۔ اگر حکومت عوام کو روزگار دے گی تو ان کے گھر خودبخود ٹھیک ہو جائیں گے۔ محض گرفتاریوں اور مقدمات سے نہ غربت ختم ہو گی نہ جہالت‘ بلکہ یہ مسائل مزید بڑھیں گے۔ اصل حل یہی ہے کہ ریاست عوامی فلاح کو ترجیح دے اور غربت کے خلاف عملی اقدامات کرے۔ جو حکومت کا کام ہے وہ یہ باہمت خاتون کر رہی تھی‘ حکومت کو تو اس کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے اور مستقبل کا ایسا لائحہ عمل طے کرنا چاہیے کہ ایسے حادثات سے بچا جا سکے اور غریب کا بچہ بھی سستی تعلیم حاصل کر سکے۔ حکومت وقت کو بوسیدہ گھروں کی مرمت خود کرانی چاہیے۔سب خرابیوں کی جڑ کرپٹ نظام ہے۔ تعلیم شعور پیدا کرتی ہے‘ اس لیے جہالت حکمرانوں کواچھی لگتی ہے اور شعور اشرافیہ کی موت ہے۔ غریبوں کے نام پر اشرافیہ اقتدار میں آکر مزے لوٹتی ہے۔ اشرافیہ کی لٹ مار کی وجہ سے ہی غربت ہے‘ اس لیے تمام بیماریوں کی جڑ اشرافیہ ہے۔ حکومت پر بھی ان حالات کی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے‘ سرکاری سکولوں میں تعلیم کا معیار کیوں اچھا نہیں کیا جاتا تاکہ بچے ٹیوشن پڑھنے ہی نہ جائیں؟ سرکاری سکولوں کا حال یہ ہے کہ بیشتر سکولوں میں بچوں کی تعداد کے تناسب سے اساتذہ دستیاب نہیں ہیں اور نجی سکول غریب آدمی کی پہنچ سے باہر ہیں۔ حکمران اپنی مراعات پر تو کھلے دل سے پیسے خرچ کرتے ہیں مگر تعلیم کیلئے حسبِ ضرورت خرچ کرتے۔ یہ کسی ٹیوشن سنٹر یا سکول کی چھت نہیں گری‘ یہ اس سسٹم کی چھت گری ہے جہاں تقریباً ہر محکمہ خراب چل رہا ہے۔ حکمران قوم کے بچوں کو اچھی اور معیاری تعلیم ہی مہیا کر دیں‘ وہ با شعور ہو کر خود ہی ملک کا نظام درست کر لیں گے۔ ٹیوشن سنٹر بند کروا کے عوام کو کیا پیغام دینے کی کوشش کی جا رہی ہے؟ اگر اس مکان کی چھت رات کو گرتی اور صرف اس خاندان کے بچے متاثر ہوتے تو کیا پھر بھی مقدمہ درج ہوتا‘ اگر ہوتا تو کس پر اور کیوں؟ اس غریب خاندان کے خلاف کارروائی کرنے والوں کو خدا کا خوف کرنا چاہیے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/228_40817243.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سنگلاخ سرزمین پر اُگنے والا پھول(نسیم احمد باجوہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/naseem-ahmed-bajwa/2026-07-11/52277/66971865</link><pubDate>Sat, 11 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/naseem-ahmed-bajwa/2026-07-11/52277/66971865</guid><description>آج ذکر کوہاٹ کی سنگلاخ سرزمین پر اُگنے والے اس پھول کا کہ جس کی خوشبو سے ا ویران چمن مہک اٹھا۔ یہ ویرانی ایوبی آمریت کی وجہ سے تھی۔ لکھنے اور بولنے بلکہ ترقی پسند خطوط پر سوچنے اور عوام دوستی کے خواب دیکھنے پر بھی پابندی عائد تھی۔ شاہی فرمان جاری کر دیا جائے تو حکم کی تعمیل کرتے ہوئے ہر حالت میں رقص کرنا ہوگا چاہے‘ بقول جالب‘ زنجیر پہن کر کیا جائے۔ آدابِ شہنشاہی سے واقفیت نہیں تو شاہی قلعہ لاہور کی &#39;درسگاہ‘ میں جاکر یہ آداب سیکھنے ہوں گے۔ حسن ناصر سے لے کر نذیر عباسی تک‘ باقی بلوچ سے لے کر ضمیر قریشی تک‘ کتنی ہی داستانیں ہیں‘کہاں تک بیان کی جائیں۔ بعد ازاں بھٹو دور میں بھی یہ تسلسل برقرار رہا اور خواجہ رفیق اور ڈاکٹر نذیر احمد سے لے کر لیاقت باغ راولپنڈی میں نیپ کے پُرامن جلسے پر فائرنگ تک‘ کیا کچھ پیش نہیں آیا۔ یہ تھا تو جبر‘ گھٹن اور حبس کا موسم‘ جو پورے ایک عشرے پر محیط تھا اور اس میں روشنی کی واحد کرن جو نظر آتی ہے‘ وہ لاہور ہائیکورٹ سے پھوٹی۔ یہی وہ امید کی کرن تھی جو لاکھوں چہروں پر مسکراہٹ لائی اور لاکھوں دلوں سے مایوسی کی تاریکی کو ہٹایا۔ لطیف مزاج اور سنجیدگی کا کمال امتزاج۔ اہلِ وطن کی بڑی تعداد کو نہ صرف اپنی شگفتگی‘ تازگی‘ بے ساختہ پن اور معصومیت سے ہنسایا بلکہ ان کو غور وفکر کی دعوت بھی دی۔ 1958ء سے 1968ء تک‘ پہلے مارشل لاء کے دس سال میں سارے سیاستدان (جو پہلے ہی عوام سے بہت دور ہو چکے تھے) زیر عتاب تھے۔ حمید نظامی‘ الطاف حسین‘ مظہر علی خان اور آئی ایچ برنی کے علاوہ سبھی اخبار نویس منقارِ زیر پر تھے۔ بار ایسوسی ایشنز بھی خاموش تھیں۔ جابر سلطان کے سامنے کلمۂ حق کہنے کے اہل افراد یا مفرور تھے یا دبک گئے تھے۔ کچھ کسی نہ کسی حیثیت میں آمر مطلق کے مددگار یا سہولت کار بن گئے تھے۔ مثلاً قدرت اللہ شہاب کا بنایا ہوا رائٹرز گلڈ‘ جسے رائٹرزگلٹ بھی کہا جاتا تھا۔ اسی طرح مادرِ ملت کے خلاف ایوب خان کی صدارتی مہم میں حنیف رامے کا اُن کا سیکرٹری برائے نشر و اشاعت بن جانا۔ایسے میں جس نے تاریخ کی صدا پر حکمِ اذاں کیلئے لبیک کہا وہ تھے مغربی پاکستان ہائیکورٹ کے جج (اور پھر چیف جسٹس) محمد ر ستم (ایم آر) کیانی۔ رستم کیانی اکتوبر 1902ء میں کوہاٹ کے ایک گائوں شاہ پور میں (خان بہادر) عبدالصمد کیانی کے گھر پیدا ہوئے۔ پہلے ان کا نام جالندھر خان کیانی رکھا گیا مگر یہ بچہ جب بڑا ہوا تو اس نے والدین کی اجازت سے اپنا نام محمد رستم کیانی رکھ لیا۔ وہ خود بتاتے تھے کہ نویں جماعت کے ایک بچے نے انہیں خط لکھ کر پوچھا کہ ایم آر سے کیا اخذ کیا جائے؟ کیا آپ محمد رمضان ہیں یا ملک رنجیت۔ جواب میں کیانی صاحب نے لکھا کہ وہ نہ ملک رنجیت ہیں نہ محمد رمضان بلکہ ایم آر سے مراد محمد رستم ہے۔ ان کے نام میں شامل رستم سے یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ وہ کوئی قوی ہیکل شخص تھے‘ اس کے برعکس وہ دبلے پتلے‘ پست قد انسان تھے۔ ان کا ایک بھائی ایوب خان کے دور میں وزیر بنا اور دوسرا بھائی ڈی آئی جی پولیس کی حیثیت سے ریٹائر ہوا۔رستم کیانی نے اپنا تعلیمی سفر شاہ پور گورنمنٹ سکول سے شروع کیا۔ 1916-17ء میں اسلامیہ ہائی سکول سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ انٹر کی تعلیم ایڈورڈ کالج پشاور میں حاصل کرنے کے بعد گورنمنٹ کالج لاہور میں داخل ہوئے اور فارسی میں بی اے آنرز کیا۔ پھر انگریزی ادب میں ماسٹرز کی ڈگری اعزاز کے ساتھ حاصل کی اور انڈین سول سروس (ICS) میں شامل ہوئے‘ جس کی بدولت 1923ء تا 1926ء برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی میں پڑھائی کی اور 1927ء میں برطانیہ سے واپس آکر شعبۂ قانون کے انتظامی عہدوں پر خدمات انجام دینے لگے۔ 1938ء میں اُن کا سول سروس کے انتظامی شعبہ سے عدلیہ میں تبادلہ کر دیا گیا۔ اگلے گیارہ برس وہ سیشن جج رہے۔ 1940ء کے لگ بھگ ڈیرہ غازی خان میں بطور سیشن جج تعینات ہوئے۔ دیگر افسران کی طرح انہیں موسم گرما ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی مقام فورٹ منرو میں گزارنے کی سہولت حاصل تھی۔ انہی سالوں میں میرے والد‘ جو تونسہ میں میڈیکل آفیسر تھے‘ کو چار ماہ کیلئے فورٹ منرو‘ وہاں مقیم انگریز اور دیسی افسروں کو طبی سہولتیں فراہم کرنے کیلئے بھیجا گیا۔ ابا جی بتاتے تھے کہ کیانی صاحب ہمارے پڑوسی تھے اور دمہ کے مستقل مرض میں مبتلا تھے اس لیے تقریباً ہر روز ہمارے گھر آتے تھے۔ اس وقت مضمون نگار کی عمر تین‘ چار برس تھی۔ مجھے نہ ہِل سٹیشن یاد ہے اور نہ کیانی صاحب۔ تاہم ان سے میری اگلی ملاقات 18 برس بعد لاہور میں ہوئی جب میں ایم اے او کالج لاہور کی سٹوڈنٹس یونین کا صدر تھا اور وہ ہائیکورٹ کے جج۔ میں اُنہیں کالج میں ایک بڑی تقریب میں شرکت کی دعوت دینے کیلئے ہائیکورٹ ملنے گیا۔ اُنہوں نے عدالتی وقت کے بعد‘ دوپہر میں مجھے بلایا۔ یہ ملاقات میری توقع سے دگنی طویل ہوئی۔ وہ بڑی محبت سے پیش آئے۔ میں نے انہیں فورٹ منرو یاد دلایا تو وہ کہنے لگے کہ انہیں نہ صرف اپنا ڈاکٹر بلکہ اس کے دونوں بیٹے (میں اور میرا بھائی) اچھی طرح یاد ہیں۔ اس وقت کا ناقابلِ علاج مرض (دمہ) اور دل کا کوئی پوشیدہ مرض 60 برس کی عمر میں کیانی صاحب کی ناگہانی وفات کا موجب بنا۔ وہ اکتوبر 1962ء میں ریٹائر ہوئے اور اگلے ہی مہینے مشرقی اور مغربی پاکستان میں اپنے لاکھوں مداحوں کو سوگوار چھوڑ کر اُس جہان چلے گئے جہاں ایک دن ہم سب کو جانا ہے۔ جسٹس کیانی کے ایک مشہور کیس کا میں پہلے بھی اپنے ایک کالم میں ذکر کر چکا ہوں۔ افسانہ نگار قمر یورش ایک بے حد جذباتی شخص تھے‘ اُنہوں نے ایک جلسہ میں تقریر کرتے ہوئے نفیس خلیلی کا ایک شعر &#39;&#39;دیکھتا کیا ہے میرے منہ کی طرف؍ قائداعظم کا پاکستان دیکھ‘‘ اتنی بار پڑھا کہ اُن پر حکومتِ وقت کے خلاف نفرت پھیلانے کے جرم کا مقدمہ ہو گیا۔ وکیل صفائی محمود علی قصوری تھے اور جج تھے جسٹس کیانی۔ اُنہوں نے وکیلوں کو دلائل دینے کی بھی زحمت نہ دی اور ہنستے ہوئے قمر یورش کو بری کر دیا۔ جسٹس کیانی کی ساری کتابیں کمال کی ہیں۔ افکارِ پریشان‘ The Whole Truth‘A Judge May Laugh‘ Half Truth‘ Not the Whole Truth اور Some More Truth۔ جب لاہور ہائیکورٹ کا چیف جسٹس ریٹائرمنٹ کے قریب پہنچا تو اسے دستور کے مطابق سپریم کورٹ کا جج نہ بنایا گیا۔ کیانی صاحب کو ایک تقریب میں تقریر کے لیے بلایا گیا۔ اس تقریب میں گورنر نواب آف کالا باغ بھی موجود تھے۔ جسٹس کیانی نے کہا: میں تقریر کرنے کے بجائے صرف تین جملے ادا کروں گا۔ میرے بعد نواب کالا باغ تقریر کریں گے۔ وہ آج کے مہمانِ خصوصی ہیں۔ وہ اپنی تقریر میں عوام کو سبز باغ دکھائیں گے۔ سب سے زیادہ محظوظ خود نواب صاحب ہوئے اور لوگوں نے غالباً پہلی بار اُن کے رعب دار چہرے پر مسکراہٹ دیکھی۔ جن تقریبات میں کیانی صاحب تقریر کرتے تھے‘ وہ قوسِ قزح کے رنگوں سے مزین اور پھلجھڑی کی طرح ظرافت کی چنگاریاں چار سو بکھیرتی تھیں۔ ڈاکٹر سلیم اختر نے &#39;&#39;اُردو ادب کی مختصر ترین تاریخ‘‘ لکھی تو اُس میں جسٹس کیانی کے بارے میں اپنی رائے ظاہر کرتے ہوئے کہا &#39;&#39;اُنہوں نے اپنی تقاریر میں حکومت‘ معاشرے اور خامیوں پر طنز تو کیا کی لیکن مزاح کے پردے میں‘ اس لیے ان کا طنزو مزاح کو جنم دیتا ہے اور مزاح تبسمِ زیر لب کو۔ جسٹس کیانی نے مزاحیہ تقریر کو اُردو ادب میں بطور ایک صنف متعارف کرایا‘‘۔کوہاٹ کی سرزمین ہی جسٹس کیانی کی آخری آرام گاہ بنی۔ بقول اقبال: سبزہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے اور آسمان تری لحد پر شبنم افشانی کرے‘ مگر کیا سبزہ اور آسمان کو یہ کام سونپ کر ہم اپنی ذمہ داری سے فارغ ہو گئے؟ بدقسمتی سے ہم انہیں بھول چکے‘ ان کی تحریروں اور تقریروں کو بھی۔ ان دھندلاتی یادوں کا حاصلِ کلام یہ ہے کہ اعلیٰ اقدار سے گہری وابستگی نے اُن کی صدق بیانی کو شرفِ دوام بخشا‘ وہ پہلے کی طرح آج بھی سدا بہار ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_32258580.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>جب پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں!(مفتی منیب الرحمٰن )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-07-11/52278/56815797</link><pubDate>Sat, 11 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-07-11/52278/56815797</guid><description>ایک کالم میں پاکستان کی تاریخ کا احاطہ ناممکن ہے۔ میں نے 1961ء میں میٹرک کیا‘ 1962ء کے اوائل میں لاہور آیا اور 19 دسمبر 1964ء کو کراچی آمد ہوئی۔ 1960ء کے عشرے کے نصفِ آخر سے پاکستان کی تاریخ کو شعوری طور پر دیکھا اور سمجھا ہے۔ اس عرصے میں کئی حکمرانوں کا دور دیکھا‘ صدر ایوب خان کے زوال کے بعد بھٹو صاحب کا عروج ہوا‘ درمیان میں جنرل یحییٰ خان کا منحوس دور آیا‘ اس میں پاکستان دولخت ہو گیا۔ پھر ذوالفقار علی بھٹو مرحوم پہلے سول چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر‘ پھر عبوری آئین کے تحت صدر بنے اور 1973ء کے جمہوری آئین کے بعد اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیراعظم بنے۔ بھٹو شاید پاکستان کے سب سے پڑھے لکھے‘ ذہین اور متحرک حکمران تھے۔ معاشی ترقی کے اعتبار سے دیکھیں تو پاکستان میں میگا پروجیکٹ یا تو ایوب خان کے تربیلا اور منگلا ڈیم ہیں یا نواز شریف کے موٹرویز ہیں۔ ایوب خان کے دور میں پاکستان صنعتی ترقی کے دور میں داخل ہو رہا تھا اور کہا جاتا ہے کہ جنوبی کوریا بھی پاکستانی ماڈل کو اپنانے جا رہا تھا‘ مگر بھٹو مرحوم کے صنعتوں کو قومیانے کے فیصلے نے پاکستان کی صنعتی ترقی کو بریک لگا دی‘ بلکہ ریورس گیئر لگ گئی۔ اس کے بعد جنرل ضیاالحق نے گیارہ سال اور پھر جنرل پرویز مشرف نو سال تک مُطلَقُ العِنان حکومت کی۔ لیکن ان کے کھاتے میں پاکستان میں ایک بھی قابلِ ذکر میگا پروجیکٹ نہیں ہے‘ حالانکہ اول کے دور میں جہادِ افغانستان اور ثانی کے دور میں امریکہ کی &#39;&#39;وار آن ٹیرر‘‘ کا فرنٹ لائن شراکت دار ہونے کے سبب ڈالروں کی برسات ہوتی رہی‘ مگر پاکستان کی معیشت کو اُن کے سبب دائمی استحکام نصیب نہیں ہوا‘ بلکہ رشوت‘ منشیات‘ اسلحے کی فراوانی اور مسلّح گروہوں کی تشکیل نے ملک میں امن واستحکام کو شدیدنقصان پہنچایا۔1960-80ء کا دور نظریاتی آویزش کا دور تھا‘ تعلیم یافتہ اور باشعور لوگ دائیں بائیں بازو اور سرخ وسبز کی بحثوں میں الجھے ہوئے تھے‘ کسی پر امریکہ اور استعمار کا ایجنٹ ہونے کی پھبتی کسی جاتی تھی اور کسی پر کمیونسٹ اور سوشلسٹ ہونے کا فتویٰ لگایا جاتا تھا۔ یونیورسٹیوں میں بھی جب تک یونینیں رہیں‘ نظریاتی بحثیں جاری رہیں‘ طلبہ اور اساتذہ دونوں میں نظریاتی تقسیم کا رنگ نمایاں تھا‘ لیکن اب ہم غور کرتے ہیں تو اس وقت کی نظریاتی آویزش کا دور بعد کی لسانی اور قومی عصبیتوں پر مبنی سیاست سے بدرجہا بہتر تھا۔ نظریاتی بحثیں ہوتی تھیں‘ دلیل اور استدلال کا رنگ غالب ہوتا تھا‘ مگر بعد میں اس کی جگہ کلاشنکوف اور تشدد نے لے لی۔ ایسے سیاسی قائدین آئے کہ جو اپنے پرستار تھے‘ خود ہی عابد اور خود ہی معبود‘ عُجب وتکبر انتہا کو چھو رہا تھا اور ایسے ماحول میں علمی اور نظریاتی بحثوں کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔ایسے میں بھٹو صاحب اسلامی سوشلزم کا نعرہ لگا کر آئے‘ اپنی نظریاتی جہت کے اظہار کیلئے وہ مائوزے تنگ سٹائل کا کوٹ پہنتے تھے۔ نظریہ بھی جب معقولیت اور دلیل و استدلال کی حدوں کو پھلانگ کر عصبیت کی لپیٹ میں آ جائے تو فکری توازن درہم برہم ہو جاتا ہے‘ اس لیے بھٹو صاحب سے دائیں بازو والوں اور دین دار طبقات کی نفرت انتہا پر تھی۔ اگر کوئی پوچھے کہ بھٹو کے زوال کا سب سے بڑا سبب کیا ہے‘ تو میں کہوں گا کہ انہیں اپنے اندر کے جاگیردار نے شکست دی‘ وہ مخالفت کو ادنیٰ درجے میں بھی برداشت کرنے کیلئے تیار نہ تھے۔ لہٰذا متضاد نظریات کی حامل تمام سیاسی جماعتیں ان کے مقابل یکجا ہو گئیں۔ نو جماعتوں پر مشتمل پاکستان قومی اتحاد وجود میں آیا‘ بھٹو مخالف تحریک کا نعرہ نظامِ مصطفی قرار پایا‘ حالانکہ نیشنل عوامی پارٹی اور اس جیسی دیگر قوم پرست اور لبرل جماعتوں کو اس نعرے سے کوئی مناسبت نہیں تھی۔ الغرض &#39;&#39;کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا بھان متی نے کنبہ جوڑا‘‘ کا منظر تھا۔ پی این اے کی تحریک آخرکار بھٹو صاحب کے زوال اور جنرل ضیاالحق کے مارشل لاء پر منتج ہوئی۔ پاکستان میں سب سے پہلا ایٹمی بجلی گھر توکراچی میں صدر ایوب خان کے دور میں بنا تھا لیکن یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ پاکستان کے ایٹمی قوت بننے کی بنیاد بھٹو مرحوم نے ڈالی‘ پھر اس کے بعد آنے والے تمام حکمرانوں نے اسے تمام تر مشکلات کے باوجود جاری رکھا۔ سوویت یونین کے خلاف برپا جہادِ افغانستان کے نتیجے میں امریکہ اور اہلِ مغرب کو صرفِ نظر کرنا پڑا‘ کیونکہ اُس وقت اُن کی اولین ترجیح سوویت یونین کا زوال تھی‘ تاہم ایٹمی دھماکے کا اعزاز 28 مئی 1998ء کو اُس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کے حصے میں آیا۔لیکن اب ہم پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں تو اسلامی اور جمہوری اقدار کے اعتبار سے ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کا کردار سب سے نمایاں ہے‘ حالانکہ اُس وقت انہیں نابغۂ شر کے طور پر پیش کیا جاتا تھا۔ صوبۂ سندھ کے اردو سپیکنگ طبقے میں نفرت کا سبب لسانی ایکٹ‘ نیز سرکاری ملازمتوں اور پیشہ ورانہ تعلیم میں کوٹہ سسٹم کا نفاذ تھا‘ اس میں اُن کے چچا زاد بھائی ممتاز علی بھٹو کا کردار نمایاں تھا۔ اس ایکٹ نے نفرتوں کا بیج بویا‘ کراچی اور اندرونِ سندھ لسانی تصادم ہوا‘ صوبۂ سندھ کا اردو سپیکنگ طبقہ آج تک اُسے بھلا نہیں پایا۔ پس جمہوری طریقے سے 1973ء کے متفقہ آئین پر تمام سیاسی جماعتوں کو متفق کرنا بھٹو مرحوم کا بڑا تاریخی کارنامہ تھا‘ اس کیلئے وہ بجا طور پر تحسین کے مستحق ہیں۔ اس آئین پر نواب خیر بخش مری کے سوا اُس وقت کی پارلیمنٹ کے تمام اراکین کے دستخط ثبت ہیں۔ یہی وہ دستاویز ہے جس نے پاکستان کو متحد کر رکھا ہے اور ایک وفاقی ڈھانچے میں سب شامل ہیں۔ بعد کو جنرل ضیاالحق اور جنرل پرویز مشرف نے اس آئین کو معطل توکیا‘ لیکن منسوخ کرنے کی جسارت نہ کر سکے‘ ملک وقوم کی بدقسمتی ہے کہ ہماری سپریم کورٹ نے ان دونوں آمروں کو آئین میں ترمیم کے اختیارات دیے اور یہ ان عدالتوں کا واضح طور پر غیر آئینی اقدام تھا۔ سو آئین شکنی میں ہماری عدالتیں بھی آمروں کی شریکِ کار رہی ہیں۔ یہ ہماری عدلیہ کا وہ شرمناک باب ہے کہ جس پر وہ آج بھی افتخار نہیں کر سکتے۔ بھٹو مرحوم کا بڑا کارنامہ اس آئین میں قرآن وسنّت کی بالادستی کی دفعات اور 7 ستمبر 1974ء کو دوسری آئینی ترمیم کی متفقہ منظوری تھی‘ جس میں عقیدۂ ختم نبوت کو آئین میں دائمی طور پر تحفظ ملا اور منکرینِ ختمِ نبوت کو خارج از اسلام قرار دیا گیا۔ اُس وقت کی پارلیمنٹ میں موجود علماء کا بھی اس میں بہت بڑا کردار تھا۔ اسلامی جمہوریۂ پاکستان کے صدر اور وزیراعظم کے حلَف نامے میں عقیدۂ ختمِ نبوت کو شامل کیا گیا۔ پیپلز پارٹی کے بائیں بازو کے سیکولر لبرل عناصر سب کا تب بھی یہ خیال تھا اور آج بھی ہے کہ بھٹو نے یہ کام دبائو میں کیا‘ مگر اُس وقت اپوزیشن اتنی مضبوط نہیں تھی۔ ہمارا حسنِ ظن ہے کہ بھٹو مرحوم نے شرحِ صدر سے یہ کارنامہ انجام دیا ہوگا اور امید کی جا سکتی ہے کہ یہ آخرت میں ان کی نجات کا باعث بن سکتا ہے۔ ہمیں افسوس ہے کہ بعد کے حکمرانوں نے نظامِ حکومت میں اس پر پوری معنویت کے ساتھ عمل نہیں کیا۔ بھٹو مرحوم کا ایک بڑاکارنامہ بیت المقدس کی آتش زنی کے ردعمل میں امتِ مسلمہ کی متفقہ حکمت عملی طے کرنے کیلئے 22 تا 24 فروری 1974ء کو لاہور میں اسلامی سربراہ کانفرنس کا انعقاد تھا‘ اسی کے نتیجے میں اسلامی کانفرنس کی تنظیم وجود میں آئی‘ اس میں شاہ فیصل اور کرنل معمر قذافی کا بھی بڑا کردار تھا۔ اُس وقت یہ تاثر پیدا ہوا تھا کہ مسلم ممالک اپنے مطالبات کو قوت بخشنے کیلئے تیل کو آلے کے طور پربھی استعمال کرسکتے ہیں۔ عجب اتفاق ہے کہ اسلامی سربراہ کانفرنس کے انعقاد کیلئے کلیدی کردار کرنے والے یہ تینوں حکمران اپنی طبعی موت نہیں مرے۔ یہ ادارہ جن امیدوں اور آرزوئوں کے ساتھ قائم ہوا تھا‘ اُن پر پورا نہ اتر سکا‘ البتہ اُس کا ایک ڈھانچہ اب بھی موجود ہے‘ کبھی کبھاراس کا اجلاس بھی منعقد ہو جاتا ہے‘ لیکن حقیقت یہ ہے: &#39;&#39;ہرچند کہیں کہ ہے، نہیں ہے‘‘۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_61172381.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>