<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>گورنر راج اور ایمرجنسی(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-12/11624</link><pubDate>Mon, 12 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-12/11624</guid><description>خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ ملک کی سیاسی تاریخ کا ایک اہم موڑ ہے۔ وفاقی حکومت نے صوبے میں امن وامان کی بگڑتی صورتحال اور دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات کی ضرورت کو اس فیصلے کی بنیادی وجہ قرار دیا ہے۔ صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے وزیراعظم کی سفارش پر آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت اس اقدام کی منظوری دی ہے جس کے نتیجے میں صوبائی حکومت کے اختیارات گورنر خیبر پختونخوا کو منتقل ہو گئے۔ وفاقی حکمنامے کے تحت گورنر وفاقی حکومت کی جانب سے صوبائی حکومت کے امور انجام دیں گے‘ انہیں گیارہ رکنی مشاورتی کونسل کی معاونت حاصل ہو گی۔ گزشتہ روز مشاورتی کونسل کے پہلے اجلاس میں گورنر خیبر پختونخوا نے اس عزم کا اظہار کیا کہ باہمی تعاون اور مؤثر تجاویز کے ذریعے صوبے کو درپیش مسائل کے حل اور عوام کی بہتری کیلئے کردار ادا کیا جائے گا۔ خیبر پختونخوا کئی برسوں سے دہشت گردی‘ بدامنی اور سکیورٹی کے سنگین مسائل کا شکار ہے۔ مارچ 2024ء اور ستمبر 2026ء کے درمیان خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں 195 فیصد اضافہ ہوا۔

ایسے حالات میں اگر صوبائی حکومت بھی اپنا کردار ادا کرنے میں ناکام رہے تو ریاست کو شہریوں کی جان ومال کا تحفظ یقینی بنانے کیلئے آگے آنا تھا۔ انہی حالات کو تصور میں رکھتے ہوئے آئین پاکستان کے خالقوں نے آئین میں ایمرجنسی اور گورنر راج کی گنجائش رکھی تاکہ ریاست کے اندر بگاڑ پیدا ہونے سے روکنے کیلئے ریاست ضروری اقدامات کر سکے۔ تاہم یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ ان مسائل کا پائیدار حل ثابت ہو گا؟ وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ صوبائی حکومت دہشتگردی کے خلاف جنگ میں مطلوبہ تعاون نہیں کر رہی تھی‘ لیکن گورنر راج کے نفاذ کے بعد وفاقی حکومت کو وہ فیصلہ کن اقدامات کرنا ہوں گے جن کے اثرات خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے واقعات میں کمی کی صورت میں سامنے آئیں۔ کسی صوبے میں دہشت گردی کا خطرہ بڑھ جائے اور صوبائی حکومت کا وفاق کے ساتھ مؤثر تعاون نہ ہو تو ریاستی رٹ کی بحالی کیلئے وفاقی حکومت مداخلت کر سکتی ہے‘ تاہم ناقدین یہ خدشہ ظاہر کرتے ہیں کہ منتخب صوبائی حکومت کو معطل کرنے سے جمہوری عمل کمزور ہوگا اور سیاسی اختلافات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔
دونوں پہلوؤں کو سامنے رکھتے ہوئے یہ کہنا بجا ہے کہ خیبر پختونخوا کیلئے اس غیر معمولی فیصلے کا سب سے اہم امتحان اس کے عملی نتائج ہوں گے۔ اگر گورنر راج کے دوران دہشتگردی میں کمی‘ شہریوں کے تحفظ میں بہتری‘ پولیس کی استعداد میں اضافے اور انتظامی نظم ونسق کی بہتری کیلئے ٹھوس اقدامات کیے جاتے ہیں تو اس فیصلے کی افادیت کو ثابت کرنے کیلئے کسی دوسری دلیل کی ضرورت نہیں ہو گی۔ دہشتگردی کے خلاف کامیاب اور نتیجہ خیز کارروائیوں کیلئے مقامی آبادی کا اعتماد حاصل کرنا‘ متاثرہ خاندانوں کی بحالی اور نوجوانوں کیلئے مواقع پیدا کرنا ضروری ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبائی انتظامی مشینری دہشتگردی کے اشاریوں میں کمی یقینی بنائے۔ کسی بھی ریاست کی مضبوطی کا انحصار قانون کی حکمرانی‘ عوامی اعتماد اور جمہوری اداروں کے استحکام پر ہوتا ہے۔
خیبر پختونخوا میں امن کا قیام قومی ضرورت ہے‘ لیکن اس مقصد کے حصول کے لیے آئینی ضمانتوں اور شہری حقوق کا تحفظ بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ گورنر راج اور ایمرجنسی کی کامیابی کا اصل معیار یہ نہیں ہو گا کہ اختیارات کس کے ہاتھ میں ہیں بلکہ یہ کہ ان اقدامات سے دہشت گردی میں کس حد تک کمی آئی اور عوام کے تحفظ اور جمہوری نظام کی مضبوطی میں کیا پیشرفت ہوئی۔ پاکستان کو ایسی حکمت عملی درکار ہے جو امن بھی قائم کرے‘ آئین کی بالادستی بھی برقرار رکھے اور وفاق اور صوبوں کے درمیان اعتماد کو تقویت بھی دے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پولیو کا چیلنج برقرار(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-12/11623</link><pubDate>Mon, 12 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-12/11623</guid><description>پنجاب ایمرجنسی آپریشن سنٹر کی جانب سے صوبے میں ستمبر کے آخری ہفتے میں منعقدہ پولیو مہم کی کارکردگی کا جائزہ لینے اور پولیو قطروں سے محروم رہ جانے والے بچوں کی نشاندہی کرکے انہیں قطرے پلانے کیلئے 11اضلاع میں خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ ان ٹیموں کو یونین کونسل کی سطح پر مہم کی کارکردگی جانچنے‘ اعداد و شمار کی درستی اور شفافیت یقینی بنانے‘ ویکسین کے استعمال اور ضیاع کی نگرانی بہتر کرنے اور فیلڈ سرگرمیوں کی مؤثر نگرانی کے احکامات بھی دیے گئے ہیں۔ اس اقدام کی اصل اہمیت اُس وقت سامنے آئے گی جب ان ہدایات پر عملدرآمد ہو گا۔ملک میں پولیو کے خاتمے کیلئے گزشتہ تین دہائیوں سے جاری کوششوں کے باوجود اس موذی مرض سے مکمل نجات حاصل نہ کر پانا لمحہ فکریہ ہے۔ رواں سال اب تک پولیو کے چھ کیسز سامنے آ چکے ہیں‘ جن میں پانچ خیبرپختونخوا سے رپورٹ ہوئے۔

خیبرپختونخوا میں بھی پولیو کے حوالے سے ہائی رِسک اضلاع میں خصوصی ٹیمیں تشکیل دے کر قطروں سے محروم بچوں کی نشاندہی‘ ویکسی نیشن کی تصدیق اور مہمات کی نگرانی کا مؤثر نظام قائم کیا جانا چاہیے۔ والدین میں آگاہی پیدا کرنے اور پولیو ورکرز کو تحفظ فراہم کرنے کے اقدامات بھی اس حکمت عملی کا حصہ ہونے چاہئیں۔ پولیو کا خاتمہ صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کے ساتھ والدین اور معاشرے کو بھی اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>تعلیمی سکالرشپ فراڈ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-12/11622</link><pubDate>Mon, 12 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-12/11622</guid><description>اسلام آباد میں گولڈ میڈلسٹ طالبہ کی خودکشی کے واقعے نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ امریکی یونیورسٹی میں داخلے اور سکالرشپ کے نام پر لاکھوں روپے کے فراڈ کا شکار ہونے کے بعد‘ ہونہار طالبہ نے دلبرداشتہ ہو کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ فراڈ کا مرکزی ملزم قانون نافذ کرنے والے اداروں کی گرفت میں آ چکا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ انتظامیہ کارروائی کیلئے کسی سانحے کی منتظر کیوں رہتی ہے؟ تعلیمی کنسلٹنسی کی آڑ میں فراڈ کا یہ پہلا واقعہ نہیں ‘ اسلام آباد اور سیالکوٹ سے سٹوڈنٹ ویزا فراڈ کیس میں کئی گرفتاریاں ہوئی ہیں۔ملک بھر میں سینکڑوں غیر رجسٹرڈ ایجنٹس متحرک ہیں جو طلبہ کو بیرونِ ملک داخلے کا جھانسہ دے کر سالانہ کروڑوں روپے ہڑپ کر جاتے ہیں۔

یورپی اور امریکی سٹوڈنٹ ویزوں کے کڑے معیار نے ان فراڈیوں کیلئے مزید سازگار ماحول پیدا کر دیا ہے اور یہ طلبہ کی مجبوری کا فائدہ اٹھا کر جعلی دستاویز کا سہارا لیتے ہیں۔ ضرورت ہے کہ نہ صرف ایف آئی اے ایسے فراڈ تعلیمی ایجنٹس کے خلاف گرینڈ آپریشن کا آغاز کرے بلکہ ایچ ای سی کو بھی چاہیے کہ وہ منظور شدہ کنسلٹنٹس کی فہرست کو عام کرے اور ایک آن لائن پورٹل بنایا جائے جہاں پہ ایڈمیشن لیٹرز کی تصدیق کی جا سکے۔ حکومت کو اس کیس کو ایک ٹیسٹ کیس بنانا ہو گا تاکہ آئندہ کوئی بھی دھوکے باز کسی طالبعلم کے مستقبل اور اس کی زندگی سے کھیلنے کی جرأت نہ کر سکے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>تحریک انصاف کا عزم شہادت(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-10-12/52826/45789860</link><pubDate>Mon, 12 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-10-12/52826/45789860</guid><description>وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ وہی ہوا جس سے بچا جا سکتا تھا۔معاملہ سیاست کا نہیں ‘سلامتی کا تھا۔ وفاقی حکومت کا مطالبہ تھا کہ صوبہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اس کاہم رکاب ہو۔ صوبائی حکومت اس پر آمادہ نہ ہوئی۔ اسے اندازہ تھا کہ ریاست اس سے کم پر راضی نہیں ہو گی۔ شہادت کا یہ ایک اچھا موقع تھا۔ اسے ضائع نہیں کیا گیا۔ اب پی ٹی آئی اس سسٹم کا حصہ نہیں رہی۔ میرا اندازہ ہے کہ اگلے مرحلے میں وہ قومی اسمبلی سے بھی استعفیٰ دے سکتی ہے۔ اس کے بعد اسے وہ یکسوئی میسر آ سکتی ہے ‘ایک انقلابی سوچ جس کا مطالبہ کرتی ہے۔طالبان اور دہشت گردی کے باب میں یہ دو بیانیوں کا اختلاف تھا۔ عسکریت پسندوں کے بارے میں عمران خان صاحب ہمیشہ سے نرم گوشہ رکھتے تھے۔ انہیں اس کا جواب بھی اسی جذبے سے ملا۔ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف واحد سیاسی جماعت ہے جو آزادی کے ساتھ اپنی سرگرمیاں جاری رکھ سکتی ہے۔ ابھی جن علاقوں سے اس کے جلوس گزرے‘ جمعیت علمائے اسلام سمیت کوئی جماعت یہ ہمت نہیں کر سکتی کہ ان علاقوں میں کوئی جلسہ ہی کرے۔ تحریک انصاف نے ماضی میں اس &#39;ہم آہنگی‘سے بھرپور سیاسی فائدہ اٹھایا‘ جب انتخابی مہم میں اسے کسی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ اسی سیاسی ضرورت نے اسے مجبور کیا کہ وہ دہشت گردی کے معاملے میں مرکز سے اختلاف کرے۔ یہ نوشتہ دیوار تھا کہ اگر مرکز سے تعاون نہ کیا گیا تو اس کی حکومت باقی نہیں رہے گی۔ اس لیے میرا خیال ہے کہ یہ شہادت مجبوری میں نہیں‘ سیاسی حکمت عملی کے تحت اپنی مرضی سے قبول کی گئی۔ سوال یہ کہ کیا یہ حکمت عملی کامیاب رہے گی؟تحریک انصاف عمران خان صاحب کی گرفتاری کے بعد‘ ہر طرح کی مرکزیت سے محروم ہے۔ کوئی ایک سیاسی نظم ہے نہ کوئی ایک نقطہ نظر۔ صرف کے پی میں دیکھیں تو سہیل آفریدی صاحب اور علی امین گنڈاپور صاحب کا اختلاف ظاہر و باہر ہے۔ اسی طرح بیرسٹر گوہر صاحب کا اندازِ نظر‘ علیمہ خان صاحبہ سے مختلف ہے۔ صوبائی حکومت کے خاتمے کے بعد اب دو امکانات ہیں۔ ایک یہ کہ سب ایک ہو جائیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اب ان کے پاس کھونے کے لیے کچھ باقی نہیں۔ سب مل کر اُس وقت کا انتظار کریں جب حالات کروٹ لیں اور ان کے لیے سازگار ہو جائیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ تحریک انصاف دو دھڑوں میں منقسم ہو جائے۔ انقلابی اور سیاسی۔ سیاسی دھڑے کو سسٹم کا حصہ بنا دیا جائے اور یوں صوبے اور مرکز میں موجود خلیج ختم ہو جائے۔دوسری صورت کی کامیابی اس لیے خارج از امکان ہے کہ سیاسی گروہ کوعمران خان صاحب کی تائید میسر نہیں آئے گی۔ اس تائید سے محرومی کے بعد تحریک انصاف کے نام سے کوئی سیاسی گروہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔ پہلی صورت اختیار کرنے کے لیے ضروری ہے کہ پارٹی کے پاس سرفروشوں کا کوئی گروہ موجود ہو۔ ہمیں معلوم ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ اس وقت بھی ہم جو سرگرمی دیکھ رہے ہیں وہ صرف کے پی میں ہے۔ اب ایسا نہیں ہے کہ دوسرے صوبوں میں تحریک انصاف کی ہمدرد موجود نہیں۔ موجود ہیں‘ لیکن سرفروش نہیں ہیں۔ احتجاج کے لیے خود کو کسی خطرے میں ڈالنے کے لیے تیار نہیں۔ اب کے پی میں بھی تحریک انصاف کا کارکن ویسی ہی آزمائش سے دوچار ہو گا‘ جس سے دوسروں صوبوں کا کارکن گزر رہا ہے۔ اب اس کے پاس صوبائی حکومت کا سائبان موجود نہیں۔ اب پولیس اسی طرح متحرک ہوئی‘ جس طرح دوسرے صوبوں میں ہے‘ اگر یہ تجزیہ درست ہے تو کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ تحریک انصاف اب ایک بند گلی میں ہے‘ جہاں سے نکلنے کے لیے اس کے پاس کوئی راستہ نہیں۔اس سوال کا جواب دینا اس مرحلے پر ممکن نہیں۔ اس کا جواب بآسانی اثبات میں دیا جا سکتاتھا‘ اگر عمران خان صاحب کو سیاسی عصبیت حاصل نہ ہوتی۔ یہ عصبیت اپنی جگہ موجود ہے۔ یہ انتخابی قوت کی صورت میں ظہور کر سکتی ہے‘ لیکن یہ اس وقت ہو گا جب انتخابات کا موقع آئے گا۔ اس میں ابھی اڑھائی سال پڑے ہیں۔ مجھے اب صرف ایک راستہ دکھائی دیتا ہے‘ جو تحریک انصاف کو منزل تک پہنچا سکتا ہے۔ یہ راستہ صبر ہے۔ عمران خان صاحب جیل میں رہیں اور تحریک انصاف مظلومیت کا عَلم لے کر کھڑی رہے۔ حکومت اور ریاست کے لیے یہ صورت قابلِ قبول ہو گی۔ اس کا فوری چیلنج یہ ہے کہ اس نظام کو فوری خطرات سے محفوظ رکھا جائے۔ اسے آنے والے اڑھائی برس میں اپنی افادیت ثابت کرنی ہے تاکہ اگلے عام انتخابات میں سرخرو ہو سکے۔ایک اور منظر نامہ بھی متوقع ہے۔ یہ جمعیت علمائے اسلام اور تحریک انصاف کا اتحاد ہے۔ اسد قیصر صاحب جیسے سیاسی سوچ رکھنے والے رہنما ابھی سے اس کے لیے متحرک ہو رہے ہیں کہ وہ تحریک انصاف کی سیاسی قیادت کو اس اتحاد کے لیے آمادہ کر سکیں۔ یہ واضح ہے کہ اگر آج کوئی ایسا اتحاد وجود میں آتا ہے تو اس کی قیادت مولانا فضل الرحمن کے پاس رہے گی۔ یہ بات تحریک انصاف کے عام کارکن کیلئے قابل قبول نہیں ہو گی۔ علامہ راجا ناصر عباس صاحب کو بھی نہیں۔ اس لیے ایسا اتحاد شاید وجود میں نہ آ سکے۔جماعت اسلامی کی مخالفت البتہ قابلِ فہم نہیں۔ انہیں تو اس کھیل سے دور ہی رہنا چاہیے۔وہ عوامی مسائل کی سیاست کر رہے ہیں اور یہی ان کے مفاد میں ہے۔معاملہ اگر صرف (ن) لیگ کا ہوتا تو ایک وسیع تر اتحاد وجود میں آ سکتا تھا۔ مگر اب ریاست بھی ایک فریق ہے‘ کیونکہ فوج اور پولیس کے جوان دہشت گردی کے خلاف صفِ اول میں کھڑے اور جانوں کی قربانی دے رہے ہیں۔ اس جنگ میں ریاست کی مخالفت کرکے کوئی سیاسی قوت اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکتی۔ اس لیے اب تحریک انصاف کے لیے اپنا سیاسی وجود برقرار رکھنا آسان نہیں ہو گا۔ اس کے لیے ایک کھڑکی کھلی تھی جسے اس نے بند کر دیا۔ یہ شہادت شاید اس کے لیے کسی کام نہ آ سکے۔اس کے پاس یہ سیاسی صلاحیت موجود نہیں کہ وہ وفاق کو ایمرجنسی کے خاتمے پر آمادہ کر سکے۔اگر یہ صلاحیت ہوتی تو یہ نوبت ہی کیوں آتی؟اسی لیے یہ کہا جا رہا ہے کہ اسے ہمیشہ کے لیے پی ٹی آئی کی حکومت کے خاتمے کا اعلان سمجھا جائے۔اس سارے قضیے میں ریاست کہاں کھڑی ہے؟ اس اقدام کے بعد‘ اگر صوبے میں دہشت گردی ختم ہو جا تی ہے تو پھر ریاست کے ہاتھ مضبوط ہو جاتے ہیں۔ اگر خدا نخواستہ حالات میں تبدیلی نہیں آتی تو پھر تنقید کا رخ مرکز کی طرف ہو جائے گا۔ اس کے ساتھ یہ بھی اہم ہے کہ نیا سیاسی نظام‘ عوام کو کیا دیتا ہے۔ اگر صحت‘ تعلیم اور دوسرے بنیادی مسائل میں عوام کو بہتری دکھائی دی تو پھر ٹھیراؤ آ جائے گا۔ کہا جا سکتا ہے کہ ریاست نے ایک مشکل فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کی اصابت کا تعلق‘ نئی انتظامیہ کی کارکردگی سے ہے۔ دہشت گردی کا تعلق خارج سے بھی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس داخلی تبدیلی سے امن بحال ہوتا ہے یا نہیں۔ تاریخ یہ ہے کہ غیر سیاسی فیصلے اکثر ریاست کے حق میں نہیں رہے۔ مرکز نے اب وہ ذمہ داری بھی اپنے سر لے لی ہے جو کل تک صوبائی حکومت کے کندھوں پر تھی۔ اب جوابدہ بھی اسے ہی ہونا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پیچھے پہاڑ سامنے دریا(رسول بخش رئیس)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-10-12/52827/67603287</link><pubDate>Mon, 12 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-10-12/52827/67603287</guid><description>اس عنوان کی کہانی ہماری پوری تاریخ پر محیط ہے۔ ہم نجانے کتنی بار پہاڑ اور دریا کے درمیان پھنسے ہیں اور اگر مختصر مدت کے لیے کچھ گھاٹیاں تلاش کرکے نکلے بھی ہیں تو وہ مہلت کچھ زیادہ نہ تھی۔ عام پہاڑوں کی بات نہیں ہو رہی کوہ ہمالیہ سے بھی بلند سیاسی پہاڑ اور وہ سیاسی دریا جن کے کناروں تک پہنچنے کے لیے ہم ابھی تک ترس رہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ سیاست اپنا راستہ خود بناتی ہے مگر وطنِ عزیز میں یہ بنے ہوئے راستوں‘ پکے راستوں کو توڑ پھوڑ کر بلکہ خندقیں کھود کر بند کرتی رہتی ہے۔ سیاست تو فقط ایک طرزِ عمل ہے جو نظریے‘ مفاد‘ سیاسی جماعت‘ قیادت‘ منشور اور ظاہری طور پر ملک اور عوام کی قسمت سنوارنے سے وابستہ ہے۔ لیکن یہ طرزِ عمل عام لوگوں کا نہیں سیاسی اشرافیہ کا ہے جسے آپ حکمران طبقات کہتے ہیں۔ کاروبارِ مملکت ان کے ہاتھ میں رہا ہے۔ وہی سب بحرانوں کے ذمہ دار ہیں۔ عجیب بات ہے کہ ہر دفعہ جب ہم سیاسی حادثات کا شکار ہوتے ہیں اور دلدل میں پھنستے ہیں تو ہماری نظریں انہی پر پڑتی ہیں کہ یہ مل بیٹھیں گے اور کوئی حل نکالیں گے۔ پورے ملک کے لوگ ایک اضطراب اور بے چینی کی کیفیت میں مبتلا ہیں۔ اس کے اسباب بظاہر معاشی اور سماجی معلوم ہوتے ہیں مگر سب کی تہہ میں ساختی نوعیت کی سیاست بازی ہے جو ہمیں بار بار بے یقینی کی صورت حال سے دوچار کرتی آئی ہے۔ سیاسی طرزِ عمل کسی بھی ملک میں ہو‘ اسے نظام کی ساخت سے الگ کرکے نہیں دیکھ سکتے۔ اب نظام کی بنیادی ساخت کے مسائل یہاں چھیڑ کر کسی نصابی کتابی بحث میں الجھنے کا مقصد نہیں۔ سب کو معلوم ہے کہ وہ کیا ہیں‘ کیوں ہیں اور کیونکر ہم ابھی تک حل نہیں کر پائے۔جہاں ریاست ہو گی سیاست بھی ہو گی۔ اور جہاں کسی ایسی حیثیت کو تسلیم نہیں کیا گیا وہاں بھی سیاست ہی ہوتی ہے۔ انسانی معاشروں میں قدیم زمانوں سے لے کر آج تک اس کا معاشرے سے وہی رشتہ ہے جو انسانی جسم اور روح کا ہے۔ سیاسی معاشروں میں جہاں کہیں لوگوں کو آزادی نصیب ہو تو وہاں اُس سے وابستہ سیاسی اور دیگر نوع کے مسائل مفاد ات کے دائمی ٹکرائو سے پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے بانی مفکروں اور سیاستدانوں میں سے ایک تھامس جیفرسن‘ جس نے وہ تاریخی دستاویز لکھی جسے &#39;&#39;اعلانِ آزادی‘‘ کہا جاتا ہے‘ نے لکھا ہے کہ جہاں آزادی ہو گی‘ وہاں کشمکش بھی ہو گی کہ ان کا تعلق آکسیجن اور آگ کا سا ہے۔ اس لیے نظاموں کی ساخت بناتے وقت یہ خیال رکھا جاتا ہے کہ باہمی لڑائی جھگڑے‘ نظریات‘ تضادات اور مختلف آرا کی وجہ سے سیاسی مسائل تو پیدا ہوتے رہیں گے مگر انہیں پُرامن اور بقائے باہمی‘ افہام وتفہیم سے حل کرنے کا طریق کار اس میں موجود ہو۔ کوئی جمہوری ملک موجودہ دور میں آپ نہیں دیکھیں گے جہاں آئے روز مسائل پیدا نہ ہوتے ہوں مگر نظام کے اندر رہتے ہوئے ان کا حال ڈھونڈ لیا جاتا ہے۔ احتجاج بھی ہوتے ہیں‘ تحریکیں بھی چلتی ہیں‘ زبان درازی کا ارتکاب بھی ہوتا ہے مگر آپ سیاستدانوں کو مسلسل اپنی کھودی ہوئی خندقوں اور اپنے سیلابی ریلوں سے بنی دلدل میں پھنسا نہیں دیکھیں گے۔ سب سے بڑا حل انتخابات ہوتے ہیں۔ اس کے بعد پارلیمان کی بالادستی‘ کوئی موروثی سیاست باز دور بیٹھ کر اُسے اشاروں سے نہیں چلا رہا ہوتا۔ روایات اور سیاسی کلچر کے ساتھ ساتھ عوام کے اندر شعور اور پختگی اور دانشور طبقے کی غیر جانبداری بھی اہم عناصر ہیں۔ اگرچہ مختلف جمہوریتوں میں دانشور آزاد رائے کی بھاری قیمت چکاتے رہے ہیں مگر ہمارے جیسے معاشرے میں ایسا کرنا بہت حوصلے کی بات ہے۔ اکثریت نے جو روش ہماری تاریخ میں اختیار کی ہے‘ اس کے بارے میں خاموشی ہی بہتر ہے۔آپ ملک کے سب بحرانوں کو شروع سے لے کر آج تک دیکھ لیں۔ طاقت اور مزاحمت کے کھیل میں دونوں جانب اپنی صلاحیتوں کے بارے میں شدید غلط فہمیاں رہی ہیں۔ نہ طاقت والے دبا سکے اور نہ مزاحمت والے کوئی انقلاب لا سکے۔ بحران در بحران سر اٹھاتے گئے۔ مشرقی پاکستان کے بحران کو دیکھ لیں۔ اس کے سماجی‘ معاشی اور نفسیاتی مسائل سے ہم ابھی نکل نہیں پائے تھے کہ تاریخ کے ایسے انتخابات کرائے گئے کہ دھاندلی کالفظ بھی کمزور معلوم ہوتا ہے۔ زعم یہ تھا کہ حزبِ اختلاف کیا ہے‘ اُسے وہ &#39;&#39;فکس‘‘ کر دیں گے۔ دانشور اور صحافتی ہم نوائوں کی انہیں کمی تھی نہ سیاسی گماشتوں کی۔ انجام وہی ہوا جو اکثر سڑکوں پر بڑی اور تیز رفتار گاڑیوں کے لاپروا ڈرائیوروں کا حادثات کی صورت میں ہوتا ہے۔ میرے خیال میں جنوبی ایشیا کے سب ممالک میں ہمارے حکمران طبقات سے سیاسی آزادی کی سماجی ساخت کے ادراک میں ہمیشہ غلطی سرزد ہوئی ہے۔ یہ تبدیل ہوتے ہوئے معاشروں کا مسئلہ ہے۔ حکمران جن کا تعلق جاگیرداری‘ حسب نسب‘ قبائلی طاقت اور دیگر وسائل سے ہوتا ہے‘ ان میں قدیم اور قرون وسطیٰ کے حکمرانوں کی سی رعونت‘ احساسِ تفاخر اور آمرانہ رویوں کی گہری چھاپ ہوتی ہے۔ دوسری جانب انگریز دور سے لے کر آج تک جدید ترقی کے کئی دھارے تعلیم‘ سائنس‘ ٹیکنالوجی‘ صنعت اور شہری آبادیوں کے پھیلائو کی صورت میں پیدا ہوئے ہیں‘ ان کے فیض سے آزادی کے رجحانات وقت کے ساتھ زور پکڑتے رہے ہیں۔ ہم دیگر کئی تضادات کے حامل نظام کی ساخت کے حوالے سے بات کر سکتے ہیں مگر میرے نزدیک ڈھاکہ‘ کٹھمنڈو‘ آج کل نئی دہلی اور ہمارے کئی شہروں میں نوجوانوں اور سیاسی نظاموں کے پیدا کردہ سیاسی حکمرانوں میں بہت بڑا تضاد ہے۔ اس بارے میں کئی بار اشاروں کنایوں میں یہ درویش بات کرتا رہا ہے۔ جس ملک میں معاشرہ اتنا بگڑ جائے کہ خالص دودھ تلاش کرنا پڑے اور روزانہ خبریں سنیں کہ اتنا دودھ تلف کر دیا گیا ہے‘ وہاں نظاموں میں ملاوٹ‘ کھوٹ‘ حکمرانوں کی من مانیاں اور بدعنوانی کیوں جڑ نہیں پکڑے گی۔ یہ سمجھ لینا آرام دہ صوفے پر لیٹ کر خود کو یقین دلانا ہے کہ کاکروچوں کو فکس کر دیں گے! یہ ممکن نہیں۔ جنہیں اپنے گھروں میں کاکروچوں کی موجودگی کی شکایت ہے‘ وہ طاقتور سپرے کرتے آئے ہیں‘ مگر یہ کہیں نہ کہیں سے سر نکال کر منہ چڑانا شروع کر دیتے ہیں۔اصل مسئلہ تو یہی ہے جس کی وجہ سے سیاسی سمجھوتے نہیں ہوتے‘ اور اگر ہو جائیں تو دیرپا نہیں رہتے۔ کیونکہ سمجھوتے کسی نظام کے طفیلیوں کے درمیان باہمی مفادات سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے۔ یہ بھی بار بار ہوتا آیا ہے‘ میثاق جمہوریت سے لے کر پاکستانی جمہوری تحریک تک‘ جس نے ایک اور تحریک کا جنازہ نکالا‘ ایک ہی کہانی ہے۔ اس تحریک کو چلانے کے لیے کل جماعتی کانفرنس ایک عوامی جماعت نے بلائی اور &#39;&#39;پلان آف ایکشن‘‘ مولانا صاحب نے پریس کانفرنس میں پڑھ کر اپنے حامیوں سے داد وصول کی تھی۔ اب ہمارے محترم دونوں جانب سے قابلِ اعتماد ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس وقت ہماراصرف ایک ہاتھ دعا کے لیے بلند ہو سکتا ہے‘ دوسرا لکھنے میں مصروف ہے کہ مولانا صاحب کو کامیابیاں اور مزید بلند رتبے نصیب ہوں اور وہ تن تنہا اس ملک کو موجودہ بحران سے نکالنے میں کامیاب ہو جائیں ۔ ہمارے بحران در بحرانوں نے جو بلند پہاڑ اور بے کنار دریا ہمارے لیے بنا رکھے ہیں‘ ان کے مقابلے میں ہماری دعائوں میں بھی کوئی اثر نہیں رہا۔ طاقت کا زعم‘ بداعتمادی اور عام لوگوں سے حقارت کا ماحول دوسرے ممالک میں تو کروچوں کے لیے سازگار رہا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_33241568.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کے پی میں داخلی و خارجی چیلنجز(کنور دلشاد)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/kunwar-mohammad-dilshad/2026-10-12/52828/46070087</link><pubDate>Mon, 12 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/kunwar-mohammad-dilshad/2026-10-12/52828/46070087</guid><description>وفاقی حکومت اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے معاملے پر شدید اور سنجیدہ اختلافات موجود تھے۔ ایسی صورتحال میں ہفتے کے روز وزیراعظم شہباز شریف اور صدر آصف علی زرداری کے مابین ایوانِ صدر میں ایک اہم ملاقات ہوئی جس میں مختلف آئینی آپشنز پر غور کیا گیا اور اتوار کو وزیراعظم کی ایڈوئس پر صدرِ مملکت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں آئین پاکستان کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی اور گورنر نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ایوانِ صدر سے جاری اعلامیہ کے مطابق دہشت گردی کے واقعات میں غیر معمولی شدت سے عوام کی جان و مال کو سنگین خطرات لاحق ہیں‘ سرکاری تنصیبات‘ بنیادی ڈھانچے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر دہشت گرد حملوں میں اضافہ ہوا ہے جبکہ صوبائی حکومت دہشت گردی اور لاقانونیت کے مؤثر تدارک کیلئے مطلوبہ عزم اور اقدامات کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہی ہے۔ لہٰذا آرٹیکل 232(1) اور آرٹیکل 234(1) کے تحت صوبے میں ایمرجنسی کا نفاذ عمل میں لایا جا رہا ہے۔ وفاقی حکومت گورنر خیبر پختونخوا کو صوبائی حکومت کے تمام یا بعض امور اپنے اختیار میں لینے کی ہدایت دے سکے گی۔ اعلامیہ کے مطابق صوبائی اسمبلی کے علاوہ صوبے کے دیگر اداروں اور حکام کے تمام یا بعض اختیارات بھی وفاق کی ہدایت پر گورنر استعمال کر سکیں گے۔ وزیراعلیٰ‘ صوبائی وزرا‘ مشیران‘ معاونینِ خصوصی اور ایڈووکیٹ جنرل اپنے عہدے فوری طور پر چھوڑ دیں گے۔ آئین کا آرٹیکل 232(1) ایمرجنسی سے متعلق ہے جبکہ آرٹیکل 234(1) میں گورنر راج کا ذکر ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے ان دونوں کا اطلاق کیا گیا ہے۔ صوبے میں ہنگامی حالت کے نفاذ کیلئے صوبائی اسمبلی کی قرارداد کی ضرورت ہوتی ہے تاہم صدر کی جانب سے اس کا اطلاق ہو تو دس دن کے اندر پارلیمان کے دونوں ایوانوں یعنی قومی اسمبلی اور سینیٹ سے اس کی منظوری لازمی ہے۔ وفاقی کابینہ سے تو اس کی توثیق کرا لی گئی ہے ‘ رواں ہفتے کے دوران قومی اسمبلی اور سینیٹ سے بھی اس کی توثیق کرا لی جائے گی۔پاکستان کو اس وقت سیاسی استحکام کی ضرورت ہے۔ معیشت پہلے ہی قرضوں‘ مہنگائی‘ بیروزگاری‘ مہنگی توانائی اور سرمایہ کاری میں کمی جیسے مسائل کا سامنا کر رہی ہے۔ ایسے ماحول میں مسلسل سیاسی بے چینی کے اثرات صرف ایوانوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ صنعت‘ تجارت اور عام آدمی کی زندگی تک بھی پہنچتے ہیں۔ دیکھا جائے تو اس وقت پوری دنیا ہی غیر معمولی حالات سے گزر رہی ہے۔ بھارت سمیت یورپ کے کئی ملکوں میں احتجاج ہو رہے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی‘ روس اور یوکرین کی جنگ کے اثرات‘ توانائی کا عالمی بحران‘ عالمی تجارت میں تبدیلیاں اور بڑی طاقتوں کی بڑھتی جیو پولیٹکل کشیدگی نے ترقی پذیر ممالک کیلئے مشکلات بڑھا دی ہیں۔ ایسے وقت میں پاکستان کیلئے داخلی سیاسی استحکام محض ایک سیاسی خواہش نہیں بلکہ معاشی ضرورت بھی ہے۔ پاکستان چین کے ساتھ اپنے اقتصادی تعلقات کو آگے بڑھانا چاہتا ہے۔ دوسری جانب افغانستان کی صورتحال سے نبرد آزما ہے۔ بھارت کے ساتھ بھی پیچیدہ تعلقات کا سامنا ہے اور عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ معاشی معاملات بھی جاری ہیں۔ ان تمام معاملات کیلئے ایسا داخلی ماحول ضروری ہے جہاں حکومت اپنی پالیسیوں پر توجہ دے سکے اور سیاسی بحران ہر وقت قومی ایجنڈے پر غالب نہ رہے۔ موجودہ حالات میں مسئلہ احتجاج اور حکومت کے درمیان انتخاب کا نہیں بلکہ دونوں کے درمیان ایک قابلِ عمل توازن پیدا کرنے کا ہے۔اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں تصادم کی جو صورتحال سامنے آ رہی ہے وہ تشویشناک ہے۔ گزشتہ دو ماہ کے دوران ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک‘ پانچ ہزار زخمی جبکہ دو لاکھ کے قریب بے گھر ہو چکے ہیں۔ سعودی ہوائی اڈوں پر حوثیوں کے حملوں سے سعودی عرب بھی غیر یقینی صورتحال سے نبرد آزما ہے اور معاہدہ مکہ سے متعلق ہنگامی اجلاس میں اس معاہدے کو فوری طور پر فعال کرنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ اس کے تحت ترکیہ اور پاکستان کی جانب سے سعودی عرب کو انٹیلی جنس معلومات دی جا رہی ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ احمد شریف چوہدری کے بیان کے مطابق پاکستان کی افواج دہائیوں سے سعودی عرب میں موجود ہیں اور پاکستان کے فوجی دستے عشروں سے سعودی عرب کے اہم جگہوں پر تعینات ہیں۔ تاریخی طور پر دیکھا جائے تو پاکستان اور سعودی عرب کے مابین دفاعی معاہدے 1973ء سے موجود ہیں۔ اس وقت تشویشناک صورتحال یہ ہے کہ یمن لڑائی میں شدت اور حوثیوں کے ریاض اور عدن کے ہوائی اڈوں پر ڈرون اور میزائل حملوں سے سعودی مملکت کو شدید دبائو کا سامنا ہے۔ اگر خلیج کی صورتحال مزید سنگین ہوتی ہے یا طول پکڑتی ہے تو اس کے اثرات پاکستان میں بھی پڑیں گے۔ اگر پاکستان اپنے داخلی سیاسی بحرانوں سے نبرد آزما ہوا تو بیرونی چیلنجز کا سامنا کرنے میں مشکل پیش آ سکتی ہے۔ اگر وفاقی حکومت خیبر پختونخوا کے معاملے میں کچھ صبر کا مظاہرہ کرتی تو شاید گورنر راج اور ایمرجنسی لگانے کی ضرورت پیش نہ آتی کیونکہ سہیل آفریدی پہلے ہی نااہلیت کی زد میں تھے۔ عمر ایوب خان کی سزا کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ان کی خالی کردہ نشست پر جب ضمنی انتخاب کا شیڈول جاری کیا تو عمر ایوب خان کی اہلیہ نے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا۔ ان کے مدمقابل پاکستان مسلم لیگ (ن) کا امیدوار تھا۔ سیاسی طور پر عمر ایوب خان کی اہلیہ کی پوزیشن مضبوط تھی اور صوبے کے ممتاز سیاسی گھرانوں سے ان کی گہری رشتہ داری تھی۔ سہیل آفریدی نے بطور وزیراعلیٰ ان کے جلسے میں شرکت کی جس کی بنا پر الیکشن کمیشن آف پاکستان نے الیکشن ایکٹ 2017ء کی شق 233 کے مطابق ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر ان کو نوٹس جاری کر دیا۔ سہیل آفریدی نے احکامات کو نظرانداز کیا اور جب الیکشن کمیشن نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر الیکشن کمیشن کے روبرو پیش ہونے کا حکم دیا تو سہیل آفریدی نے پشاور ہائیکورٹ میں الیکشن کمیشن کے نوٹس کو چیلنج کر دیا‘ 7 اکتوبر کو پشاور ہائیکورٹ نے سہیل آفریدی کی اپیل خارج کر دی اور الیکشن کمیشن کے موقف کی توثیق کی۔ اب الیکشن کمیشن نے سہیل آفریدی کو طلب کرنے کے لیے دوبارہ نوٹس جاری کر رکھے ہیں اور الیکشن ایکٹ کی دفعہ 234 کی ذیلی دفعہ 4 کے تحت الیکشن کمیشن کے پاس سہیل آفریدی کو نااہل کرنے کے قانونی اختیارات ہیں۔ بادی النظر میں سہیل آفریدی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر کرپٹ پریکٹس کے زمرے میں آ چکے ہیں اور الیکشن کمیشن ان کو نااہل قرار دینے کی پوزیشن میں ہے۔ الیکشن ایکٹ کی دفعہ 232 کے تحت مزید کارروائی کرتے ہوئے ان کو تاحیات نااہل بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔ اگر سہیل آفریدی کو الیکشن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر نااہل قرار دیا جاتا تو پھر صوبائی اسمبلی کے ارکان نئے وزیراعلیٰ کا انتخاب کرتے جس سے شاید سیاسی بحران ٹل جاتا۔ اگر حکومت الیکشن کمیشن کے فیصلے کا انتظار کرتی تو شاید گورنر راج اور ایمرجنسی کی نوبت ہی نہ آتی۔ اب وفاقی حکومت نے اپنا کارڈ کھیل لیا ہے مگر اس کے مسائل ابھی کم نہیں ہوئے۔ ایک طرف خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو دہشت گردی کے چیلنج کا سامنا ہے تو دوسری طرف بھارت آزاد کشمیر میں حالات خراب کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔ اب اگر کوئی بڑی احتجاج لہر اٹھتی ہے تو معاملات وفاقی حکومت کے ہاتھ سے نکل بھی سکتے ہیں۔ </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_15667905.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>گھر قرض سکیم اور غربت(میاں عمران احمد)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mian-imran-ahmad/2026-10-12/52829/78089156</link><pubDate>Mon, 12 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mian-imran-ahmad/2026-10-12/52829/78089156</guid><description>ورلڈ بینک کی ایک حالیہ رپورٹ نے پاکستان میں غربت کے مسئلے کو ایک مرتبہ پھر نمایاں کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ‘ شمالی افریقہ‘ افغانستان اور پاکستان پر مشتمل خطے میں یومیہ تین ڈالر سے کم آمدنی والے انتہائی غریب افراد میں سے 48 فیصد پاکستان میں رہتے ہیں۔ یہاں ایک بات سمجھنا ضروری ہے کہ 48 فیصد کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان کی 48 فیصد آبادی غریب ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ورلڈ بینک کے متعین کردہ خطے میں یومیہ تین ڈالر سے کم آمدنی والے افراد میں تقریباً نصف پاکستان میں ہیں۔ پاکستان کو ورلڈ بینک کے نئے رپورٹنگ خطے میں شامل کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان کی جغرافیائی شناخت یا آمدنی کی درجہ بندی تبدیل ہو گئی ہے۔ پاکستان کی بڑی آبادی کے باعث نئے خطے کے مجموعی اعداد وشمار میں اس کا حصہ نمایاں نظر آنا فطری بات ہے۔ اس لیے 48 فیصد کے عدد کو یہ سمجھ کر نہیں دیکھنا چاہیے کہ اچانک دوسرے ممالک کے غریب افراد پاکستان منتقل ہوگئے ہیں یا یہ کہ اس سے پاکستان میں غربت بڑھ گئی ہے۔ ورلڈ بینک کے مطابق پاکستان میں یومیہ تین ڈالر کی غربت کی حد پر غربت کی شرح مالی سال 2018-19ء سے 2024-25 کے دوران 6.4 فیصد بڑھی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ معاملہ صرف نقشے پر خطے کی تبدیلی کا نہیں بلکہ پاکستان کے اندر غربت میں اضافے کا بھی ہے۔ حکومت کو اس رپورٹ پر صرف علاقائی درجہ بندی کی وضاحت دینے کے بجائے پاکستان میں غربت کی وجوہات اور اس کے حل پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ معاشی استحکام کے دعوئوں کے باوجود عام شہری کی قوتِ خرید کیوں کمزور ہے‘ نوجوانوں کو مناسب روزگار کیوں نہیں مل رہا اور چھوٹے کاروبار کیلئے ترقی کے مواقع کیوں محدود ہیں۔ اگر معاشی ترقی کے فوائد عام آدمی تک نہیں پہنچتے تو مجموعی قومی پیداوار میں اضافہ اس کیلئے زیادہ معنی نہیں رکھتا۔پاکستان میں بینک قرض سے گھر بنانا آسان نہیں ہے۔ کاغذات کی لمبی فہرست پریشانی کا سبب بنتی ہے۔ اب سٹیٹ بینک آف پاکستان نے 9 اکتوبر کو گھر کے لیے قرض دینے کے قواعد میں تبدیلی کی ہے۔ بینک صرف وہی کاغذات حاصل کرنے کے پابند ہوں گے جس کی لسٹ سٹیٹ بینک فراہم کرے گا۔ اپنی مرضی سے بینک کاغذات کا مطالبہ نہیں کر سکیں گے۔ 50 لاکھ روپے تک کے گھر کے قرض کیلئے ایک اور سہولت دی گئی ہے۔ اب بینک مخصوص شرائط کے تحت جائیداد کے سرکاری ریکارڈ میں اپنے حق کا اندراج کر کے بھی قرض دے سکتے ہیں۔ آسان الفاظ میں‘ قرض کی ادائیگی تک سرکاری ریکارڈ میں درج ہوگا کہ اس جائیداد پر بینک کا حق ہے۔ اس طرح پہلے کی طرح ہر معاملے میں جائیداد کو گروی رکھنا ضروری نہیں ہوگا۔ پنجاب حکومت کے گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ اور دوسرے صوبوں میں متعلقہ اداروں کے جاری کردہ اسی طرح کے سرٹیفکیٹس کی بنیاد پر بھی گھر کیلئے قرض لیا جا سکے گا۔ اس کے  علاوہ بینک سولر پینلز‘ انورٹرز اور بیٹریاں خریدنے کے لیے بھی اضافی ضمانت کے بغیر قرض دے سکتے ہیں‘ یا ان آلات کو قرض کی ضمانت بنا سکتے ہیں۔ پاکستان میں گھر خریدنے کیلئے بینکوں سے قرض لینے کا رجحان اب بھی بہت کم ہے۔ ملک میں گھر کے قرضوں کا حجم ملکی معیشت کے صرف 0.3 فیصد کے برابر ہے۔ وزیراعظم اپنا گھر پروگرام کے تحت رواں سال 21 اگست تک ایک لاکھ 43 ہزار 404 درخواستیں موصول ہوئی تھیں جن میں سے 47 ہزار 401 درخواستیں منظور کی گئیں جبکہ تقریباً 41 ارب روپے قرض کی صورت میں لوگوں کو دیے جا چکے ہیں۔ سٹیٹ بینک کی نئی پالیسی سے گھر کے قرض کے لیے کاغذات جمع کرانے کا عمل آسان ہو سکتا ہے لیکن گھر کی قیمت اور قرض کی قسط خود بخود کم نہیں ہو گی۔ حکومت اور بینکوں کو چاہیے کہ قرض کی شرائط آسان بنائیں‘ درخواستوں پر جلد فیصلہ کریں اور ایسی سہولتیں فراہم کریں جن سے کم آمدنی والے خاندان بھی فائدہ اٹھا سکیں۔وزیراعظم شہباز شریف نے حج سیونگ منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔ وزارتِ مذہبی امور‘ وزارتِ خزانہ اور قومی بچت کے اشتراک سے تیار کیے جانے والے اس منصوبے کا مقصد لوگوں کو پہلے سے مالی منصوبہ بندی کا موقع دینا اور مہنگائی کے باعث حج اخراجات میں ہونے والے اضافے کا بوجھ کم کرنے میں مدد دینا ہے۔ اس سکیم میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کا کردار بھی بڑھ سکتا ہے۔ شہری بینک اکاؤنٹ‘ موبائل بینکنگ یا دیگر منظور شدہ ڈیجیٹل ذرائع سے رقم جمع کرا سکیں تو انہیں بار بار دفاتر جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ یہ منصوبہ ملائیشیا کے تابونگ حاجی منصوبے سے لیا گیا ہے‘ جو 1963ء میں شروع ہوا تھا۔ اس کے ذریعے ملائیشیا کی حکومت نے مسلمانوں کو شریعت کے مطابق حج کے لیے رقم جمع کرنے کا منظم ذریعہ فراہم کر رکھا ہے۔ اگر پاکستان ملائیشیا کے تجربے سے سیکھتے ہوئے ایک قابلِ اعتماد نظام قائم کر لیتا ہے تو یہ منصوبہ مستقبل میں لاکھوں خاندانوں کو حج کیلئے منظم بچت کی ترغیب دے گا۔ اس سے نہ صرف لوگوں کو حج کا فریضہ ادا کرنے میں مدد ملے گی بلکہ ملکی معیشت میں کھربوں روپے بھی شامل ہو سکتے ہیں‘ جس سے معیشت کا پہیہ چل سکتا ہے۔پاکستان دنیا میں چاول پیدا کرنے اور برآمد کرنے والے اہم ممالک میں شامل ہے لیکن دو برسوں میں چاول کی برآمدات میں نمایاں کمی نے یہ بڑا سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا پاکستان عالمی منڈی میں اپنی قیمت اور معیار کے مقابلے کی صلاحیت کھو رہا ہے؟ مالی سال 2023-24ء میں پاکستان نے تقریباً 60 لاکھ ٹن چاول برآمد کرکے تین ارب 90 کروڑ ڈالر کمائے۔ یہ ملکی چاول کی برآمدات کے بہترین ادوار میں سے ایک تھا۔ تاہم مالی سال 2024-25ء میں چاول برآمدات کا حجم تقریباً 58 لاکھ ٹن اور آمدنی تین ارب 35 کروڑ ڈالر رہ گئی۔ مالی سال 2025-26ء میں چاول کی برآمدات تقریباً 43 لاکھ ٹن جبکہ حاصل ہونے والی آمدنی تقریباً دو ارب 30 کروڑ ڈالر رہ گئی ہے۔ ایک سال میں برآمدات کے حجم میں تقریباً 26 فیصد اور آمدنی میں تقریباً 32 فیصد کمی آئی۔ یہ کمی ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان کو عالمی منڈی میں اپنی مسابقت برقرار رکھنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ مالی سال 2026-27ء کے ابتدائی اعداد وشمار میں کچھ بہتری سامنے آئی ہے۔ جولائی اور اگست میں چاول کی برآمدات تقریباً چھ لاکھ 58 ہزار 610 ٹن رہی ہیں جن کی مالیت 391 ملین ڈالر کے لگ بھگ ہے۔ گزشتہ سال کے اسی عرصے میں تقریباً پانچ لاکھ 45 ہزار 472 ٹن چاول برآمد ہوئے تھے جن کی مالیت تقریباً 314 ملین ڈالر تھی۔ یوں ابتدائی دو ماہ میں برآمدی آمدنی تقریباً 24.7 فیصد بڑھی ہے۔ باسمتی چاول کی برآمدات کی مالیت بھی بڑھ کر تقریباً 164 ملین ڈالر ہوگئی ہے۔ تاہم صرف دو ماہ کی بہتری کو مکمل بحالی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اصل کامیابی اس وقت ہو گی جب پورے مالی سال کے دوران برآمدات کا حجم اور آمدنی مسلسل بڑھتے رہیں۔ چاول کی برآمدات میں برتری کیلئے شرح سود میں نمایاں کمی کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ عالمی سطح پر پاکستانی باسمتی کی تشہیر اور بھارت کے خلاف جیتے گئے کیسز کے بارے میں معلومات عام کرنے سے بھی بہتر نتائج سامنے آسکتے ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/212_71532147.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سرکے جی، گیبزے، عارفیے(سعود عثمانی )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-10-12/52830/52061708</link><pubDate>Mon, 12 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-10-12/52830/52061708</guid><description>27 ستمبر کو فاتح کے تاریخی علاقے‘ استنبول ترکی میں عنابی ترکی چائے کے گرم گھونٹ بھرتے ہوئے میں سامنے گرتی ہوئی موسلا دھار بارش دیکھ رہا تھا۔ سرکے میں بھیگی سلاد‘ ادرنا کباب اور ترکی لسی نے جسم سے دن بھر کی تھکن اتار کر توانائی بحال کر دی تھی اور اب ترکی چائے جسم میں نشے کی طرح رقص کر رہی تھی۔ قریب ہی سلیمان اعظم کی جامع سلیمانی سے عشا کی اذان بلند ہوئی اور بازگشت پھیلتی چلی گئی۔ میں دن بھر مسلسل چلتا اور جسم کے مختلف جوڑوں سے فریادوں کی صدائیں نظر انداز کرتا رہا تھا۔ استنبول پہاڑیوں پر بسا ہوا شہر ہے اور اونچے نیچے راستوں پر اترنا چڑھنا لازمی ہے۔ دوسری طرف یہ بھی ٹھان رکھی تھی کہ اس بار استنبول میں عوامی یعنی پبلک ٹرانسپورٹ ہی سے سفر کرنا ہے۔ ٹرامز‘ بسوں‘ ٹرینوں اور میٹرو کا نظام ترکی میں بہت اچھا ہے اور اگر آپ ایک بار راستے سمجھ لیں‘ پبلک ٹرانسپورٹ کی بنیاد پر اپنا ہوٹل منتخب کر لیں تو یہ سستاہونے کے ساتھ قابلِ عمل بھی ہے۔ مشورہ یہ ہے کہ سیاح کو ترکی جاتے ہی استنبول کارڈ خرید کر اس میں بیلنس ڈال لینا چاہیے۔ یہ استنبول کارڈ فیریز‘ ٹرامز‘ بسوں اور ٹرینوں سب کیلئے کارآمد ہے اور ہر جگہ نصب مشینوں سے خریدا جا سکتا ہے۔ لیکن صرف اس کارڈ سے تمام مسئلے حل نہیں ہو جاتے۔ میں کل کے سفر کے بارے میں پریشان تھا۔ عرصہ دراز سے یہ طریقہ اختیار کیا ہوا ہے کہ کسی ملک کسی بھی سلسلے میں جانا ہو تو گھومنے پھرنے کیلئے چند دن الگ نکالتا ہوں اور ایسا کوئی علاقہ منتخب کرتا ہوں جو پہلے دیکھا ہوا نہ ہو۔ استنبول‘ برصہ‘ بودرم‘ داتچا‘ مرمریس اور بولو‘ یہ سب علاقے ترکی کے گزشتہ سفروں میں دیکھ رکھے تھے اور اس بار ارادہ تھا کہ ساکاریا‘ ساپانجا جھیل‘ معشوقیے وغیرہ کی حسین جگہیں دیکھی جائیں۔ 27 ستمبر کو وہ کانفرنس ختم ہوئی جس کیلئے استنبول گیا تھا تو میں فاتح کے علاقے میں منتقل ہو گیا اور 28 ستمبر کو ساپانجا جھیل کی طرف جانے کا ارادہ تھا۔دنیا کے سب سے زیادہ سیاحت والے ملکوں میں ترکی چوتھے نمبر پر ہے۔ 2026ء میں 61 ملین بین الاقوامی سیاح ترکی میں سیاحت کے لیے آئے اور ترکی نے تقریبا 57 ارب ڈالر صرف سیاحت سے کمائے ہیں۔ یہ بہت بڑی تعداد اور بہت بڑی رقم ہے۔ استنبول مرکز ہے اس لیے ہوٹل بھی لاتعداد ہیں۔ اس کے باوجود ہوٹلوں میں جگہ نہیں ہے۔ ترکی گزشتہ سالوں میں بہت مہنگا ہو چکا ہے اورچار یا پنج ستارہ جو فیملی کے قیام کیلئے موزوں ہیں‘ 250 سے 400 ڈالرز یومیہ لیتے ہیں۔ تین ستارہ ہوٹل بھی 100 سے 150 ڈالرز کے درمیان ہیں۔ اکیلا آدمی سفر کرے تو 100 ڈالرز یومیہ کا حساب ذہن میں رکھ لے۔ اس سے کم میں اگر ہوٹل ملے تو اگرچہ صاف ستھرا ہوگا اور بنیادی سہولتیں بھی ہوں گی لیکن مسائل بھی ہوں گے۔ ایک بات بہرحال قابلِ تعریف ہے‘ ہوٹل کسی بھی معیار کا ہو‘ صاف ستھرا ہوتا ہے اور بنیادی سہولتیں بھی ملتی ہیں۔ اسی طرح سٹریٹ فوڈ کی طعام گاہیں بھی صاف ستھری ملیں گی۔28 ستمبر کو مجھے ناشتے کے بعد ساپانجا جھیل کی طرف جانا تھا جو استنبول سے بحر اسود یعنی بلیک سی کی طرف جاتے ہوئے تین گھنٹے کے فاصلے پر تھی۔ پرائیویٹ کار بہت مہنگی پڑتی ہے۔ آسان راستہ مرمرا ٹرین کا ہے۔ بحر مرمرا کے نام پر یہ ٹرین استنبول کے مختلف علاقوں کو جوڑتی ہے۔ مرمرا ٹرین گیبزے (Gebze) تک جاتی ہے۔ گیبزے سے عارفیے تک کیلئے دوسری ٹرین لینی پڑے گی جس کی ٹکٹ پہلے سے بک کرانا پڑتی ہے ورنہ جگہ نہیں ملتی۔ فاتح کے علاقے کے قریب مرمرا کے دو سٹیشن تھے۔ ینی کاپے اور سرکے جی۔ میرے ہوٹل سے یہ دونوں سٹیشن کم از کم تین میل دور تھے‘ یعنی سامان کے ساتھ پیدل جانے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ ٹیکسی ہی لینی پڑے گی۔ اور ترکی کی ٹیکسیاں اور ڈرائیور‘ خدا کی پناہ! ہر قسم کی لوٹ مار ہے۔ ہر سیاح ان کی شکایت کرتا نظر آتا ہے۔ ٹیکسی سے بہت زیادہ تیز میٹر‘ میٹر سے اوپر زبردستی رقم کی وصولی‘ دانستہ لمبے راستوں سے گھما کر لے جانا وغیرہ۔ زبان سے ناواقفیت سونے پر سہاگہ۔ آپ کس طرح اور کتنا جھگڑ سکتے ہیں۔ ترکی میں آن لائن ٹیکسی (Bitaksi) قدرے غنیمت ہے لیکن اس میں بھی سختی سے ہدایت ہے کہ ایپلی کیشن سے زائد رقم ہرگز نہ دیں۔ میرے ساتھ ایک بڑا اور ایک چھوٹا بیگ تھے‘ لیپ ٹاپ اس کے علاوہ۔ اس سامان کے ساتھ میں اگلا سفر نہیں کرنا چاہتا تھا۔ کوشش تھی کہ میرا ہوٹل یا قریب کا کوئی ہوٹل پانچ دن کیلئے بڑا بیگ رکھ لے لیکن کوئی بھی ہوٹل کسی بھی طرح راضی نہ ہوا۔ مزید یہ کہ 2 اکتوبر کو میری استنبول واپسی کے دن کسی بھی ہوٹل میں ایک رات کیلئے بھی بکنگ نہیں مل سکی۔ اب سارا سامان لے جانے کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا۔ سرکے جی سٹیشن کیلئے بی ٹیکسی منگوائی تو 350 لیرا ریٹ تھا۔ لیکن موصوف نے آتے ہی 500 لیرا طلب کیے۔ وہ کیوں؟ معلوم نہیں! لیکن زبان غیر میں جھگڑا کون کرے اور کتنی دیر کرے جبکہ ٹرین تک پہنچنا بھی ہو۔ خیر 400 لیرا میں معاملہ طے ہوا اور میں سرکے جی سٹیشن پہنچ گیا۔ لیکن سفر کا مشکل مرحلہ یہی تھا۔ تصور کریں کہ ایک ہاتھ میں 23 کلو کا بیگ‘ دوسرے میں سات کلو کا بیگ۔ گلے میں 5 کلو کا لیپ ٹاپ۔ برقی زینوں سے بلا مبالغہ 500 سیڑھیاں اترنا۔ اور ہاتھوں سے کوئی سہارا لینا ناممکن۔ خیرکرم ہوا کہ زیادہ دقت نہیں ہوئی۔ پھر زیر زمین سٹیشن میں سامان کے ساتھ بہت دور تک پیدل چلنا۔ خیر سعود صاحب! اگر اس کیلئے تیار نہیں تھے تو ادھر آئے کیوں؟ اب برداشت کرو اور حوصلہ بلند رکھو۔مرمرا ٹرین کھچا کھچ بھری ہوئی تھی۔ بیٹھنے کی کیا کھڑے ہونے کی جگہ بھی نہیں تھی۔ کسی طرح سامان کے ساتھ ایک گوشہ پکڑ لیا اور ہلتے جلتے‘ لڑکھڑاتے‘ سنبھلتے کچھ سٹیشن گزر گئے۔ بالآخر جگہ بنی اور نشست بھی مل گئی۔ ٹرین زیر زمین راستوں سے باہرکھلے میں نکلی تو موسلا دھار بارش نے استقبال کیا۔ سامنے نیلا بحر مرمرا تھا اور کھڑکی کے شیشے پر بارش کی بوندیں پھسلتے بچوں کی طرح ایک دوسرے کا تعاقب کرتی تھیں۔ ٹرین کے اندر ایک ترک مرد عورت درد بھری آواز میں پیسے مانگتے اور ایک پلے کارڈ لیے پھرتے تھے۔ ذرا دیر میں ایک سمٹ بیچنے والا نمودار ہوا۔ simit ایک گول چھلا نما ترکی روٹی ہے جس پر تل لگے ہوتے ہیں۔ سٹریٹ فوڈ اور ناشتے کیلئے ہر جگہ نظر آتی ہے۔ چائے کے ساتھ ترکوں کی مرغوب روٹی ہے۔ کچھ ہی دیر میں چائے والا بھی آگیا۔ مجھے اپنے بسوں‘ ٹرینوں میں سودے بیچنے والے یاد آنے لگے۔ مسلسل فکر تھی کہ کہیں گیبزے سٹیشن نکل نہ جائے لیکن قریب بیٹھے نوجوان نے جو انگلش جانتا تھا‘ تسلی دی کہ گیبزے مرمرا ٹرین کا آخری سٹاپ سے اس سے آگے یہ کہیں نہیں جاتی۔گیبزے چھوٹا سا خوبصورت بارش میں بھیگتا شہر تھا۔ بارش میں سٹیشن سے نکل کر قریب ہی دوسری لوکل ٹرین کے سٹیشن جانا پڑا۔ یہ ٹرین یہاں سے عارفیے جائے گی۔ اب ایک اور مسئلہ تھا۔ میں نے کل رات ہی دوپہر دو بجے کی اس ٹرین کی آن لائن بکنگ کی تھی‘ لیکن میں تو گیارہ بجے سے پہلے ہی پہنچ گیا تھا۔ اور اب تین گھنٹے انتظار بھاری پڑ رہا تھا۔ چاہتا تھا کہ کسی طرح میری بکنگ 11 بجے والی تیار ٹرین سے تبدیل ہو جائے اور حال یہ کہ ٹرین گارڈ سے لے کر ٹکٹ کاؤنٹر پر بیٹھی خاتون تک کوئی بھی انگریزی کا ایک لفظ بھی نہیں جانتا تھا۔ کسی طرح اپنی مشکل سمجھائی۔ اس نے بکنگ تبدیل کرنے کے 25 لیرا طلب کیے۔ لیکن اب مشکل یہ کہ کمپیوٹر سسٹم ڈاؤن تھا اور بکنگ مکمل نہیں ہو رہی تھی۔ ٹرین روانہ ہونے میں دو منٹ رہ گئے تو عورت‘ گارڈ اور میں تینوں ہی بہت پریشان اور بے بس کھڑے تھے۔ مسئلہ یوں حل ہوا کہ ایک منٹ پہلے گارڈ نے مجھے میری کوچ اور سیٹ نمبر بتایا۔ عورت نے پیسے واپس کیے اور میں 11 بجے والی ٹرین میں بیٹھ گیا۔ چلو سعود میاں! عارفیے چلتے ہیں شاید وہاں کچھ معرفت مل جائے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_81278520.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>اتحادِ امت(علامہ ابتسام الہٰی ظہیر )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-10-12/52831/40488651</link><pubDate>Mon, 12 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-10-12/52831/40488651</guid><description>ہر دور میں ایسے لوگ رہے ہیں جو اپنے معمولی مفادات کیلئے امت کو تقسیم کرنے کے درپے رہتے ہیں لیکن اللہ تبارک وتعالیٰ کے فضل وکرم سے آج بھی ایسے رہنما موجود ہیں جو امت کو مشترکات پر جمع کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ 10 اکتوبر کو جمعیت علمائے اسلام کے زیر اہتمام کورنگی‘ کراچی میں ایک کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں خیبر پختونخوا کے نمایاں رہنما مفتی کفایت اللہ کے علاوہ مجھے بھی خطاب کی دعوت دی گئی۔ اس موقع پر بہت سے علماء کرام نے خطاب کیا۔ قرآن وسنہ موومنٹ سندھ کے چیئرمین مولانا اختر محمدی نے عوام کے سامنے اتحادِ امت کی اہمیت کو اجاگر کیا اور ان کو متحد ہو کر دین کی نشر واشاعت کی ترغیب دی۔ مفتی کفایت اللہ نے پُرمغز خطاب کیا اور کہا کہ فکری اختلافات کے باوجود امت کے تمام طبقات کو اللہ تبارک وتعالیٰ کے دین کی سربلندی کیلئے کوشاں رہنا چاہیے۔ میں نے اس موقع پر جو گزارشات سامعین کے سامنے رکھیں ان کو کچھ کمی بیشی کے ساتھ قارئین کے سامنے رکھنا چاہتاہوں:اللہ تبارک وتعالیٰ نے مسلمانوں کو فرقہ بندی چھوڑ کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑنے کی دعوت دی ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورہ آلِ عمران کی آیت: 103 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;اللہ کی رسی کو سب مل کر مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو‘‘۔ مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کی توفیق سے اتحاد واتفاق کے ساتھ دین پرمجتمع ہونا چاہیے۔ دینی اعتبار سے امت کو مجتمع کرنے کیلئے مسلمانوں کے پاس جو مشترکات موجود ہیں‘ ان میں سے چند اہم درج ذیل ہیں:1۔ توحید: توحید کا عقیدہ امت کے اتحاد کی سب سے بڑی بنیاد ہے۔ شرق وغرب میں بسنے والے مسلمان‘ اللہ تبارک وتعالیٰ کی الوہیت اور ربوبیت پر متحد ہیں اور ہر باشعور مسلمان اس حقیقت کو سمجھتا ہے کہ کائنات میں اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے؛ چنانچہ توحید اور اس کی دعوت امت کا مشترکہ اثاثہ ہے اور اس بنیاد پر امت کو مجتمع کرنا انتہائی ضروری اور مفید ہے۔ 2۔ قرآن مجید: دنیا بھر کے مسلمان قرآن مجید کو اللہ کی آخری کتاب اور ہدایت کا سرچشمہ سمجھتے ہیں۔ اس کتاب کی حقانیت اور بالادستی پر مسلمانوں کا اتفاق ہے۔ 3۔ ارکانِ اسلام: اللہ تبارک وتعالیٰ کی توحید کیساتھ ساتھ امتِ مسلمہ ارکانِ اسلام پر بھی متحد ہے۔ نماز‘ روزہ‘ حج اور زکوٰۃ کی ادائیگی کے حوالے سے پوری امت کا اتفاق ہے کہ ان کی بجا آوری میں کوتاہی کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔ نبی کریمﷺ کے بعثت سے لے کر آج تک ارکانِ اسلام کی ادائیگی کا سلسلہ بغیر کسی تعطل اور توقف کے جاری و ساری ہے‘ جو امت کے اتحاد کی بہت بڑی بنیاد ہے۔ صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: &#39;&#39;اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر قائم کی گئی ہے۔ اول گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بیشک حضرت محمدﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں اور نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا اور حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا‘‘۔ 4۔ بیت اللہ شریف: بیت اللہ شریف کے قبلہ ہونے پر بھی پوری امت کا اتفاق ہے اور کوئی مسلمان بھی بیت اللہ شریف کے علاوہ کسی اور سمت میں نماز کو ادا کرنے کیلئے تیار نہیں۔5۔ نبی کریمﷺ کی ختمِ نبوت: امت کا نبی کریمﷺ کی ختمِ نبوت پر اتفاق ہے اور امت کا یہ متفقہ عقیدہ ہے کہ نبی کریمﷺ کے بعد کائنات میں کسی بھی نبی کے جلوہ گر ہونے کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔ جب نبی کریمﷺ کو مبعوث کیا گیا تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۃ الاعراف کی آیت: 158 میں آپﷺ کی رسالت ونبوت کی جامعیت کا اظہار فرما دیا: &#39;&#39;آپ کہہ دیجئے کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف اس اللہ کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں‘‘۔ چونکہ نبی کریمﷺ جمیع انسانیت کے مقتدا و پیشوا ہیں اس لیے آپﷺ پر اللہ تبارک وتعالیٰ نے رسالت ونبوت کے سلسلے کو ہر اعتبار سے تمام فرما دیا اور سورۃ الاحزاب کی آیت: 40 میں اس امر کا اعلان فرما دیا: &#39;&#39;محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں بلکہ وہ اللہ کے رسول ہیں اور سب انبیا کے آخر میں (سلسلۂ نبوت کو ختم کرنے والے) ہیں‘‘۔ قرآن مجید کی کُلی آیات کے ساتھ ساتھ بہت سی احادیث میں بھی عقیدۂ ختم نبوت کے حوالے سے وضاحت کی گئی ہے۔ صحیح بخاری و صحیح مسلم‘ مسند احمد اور سنن الکبریٰ للبیہقی میں حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول کریمﷺ نے فرمایا: میری اور سابق انبیاء کرام کی مثال ایسی ہے کہ جیسے ایک شخص نے ایک خوبصورت گھر بنایا مگر ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ خالی چھوڑ دی۔ لوگ اس گھرکو دیکھ کر اس کی خوبصورتی پر تعجب کرتے ہیں‘ مگر کہتے ہیں کہ کیا خوب ہو اگر (وہ آخری) اینٹ بھی اپنی جگہ پر لگا دی جائے‘ پس میں وہ اینٹ ہوں اور میں آخری نبی ہوں۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ &#39;&#39;قیامت اُس وقت تک نہیں آئے گی جب تک تیس بڑے کذاب نہیں آئیں گے اور ان میں سے ہر ایک کا یہ دعویٰ ہوگا کہ وہ اللہ کا رسول ہے‘‘۔ صحیح بخاری میں حضرت سعدؓ سے روایت ہے کہ &#39;&#39;رسول اللہﷺ جب جنگ تبوک کیلئے نکلے تو حضرت علیؓ کو مدینہ میں اپنا نائب مقررکیا۔ حضرت علیؓ نے عرض کی کہ (میں تو میدانِ جنگ کا سوار ہوں) کیا آپ مجھے بچوں اور عورتوں کے پاس چھوڑکر جانا چاہتے ہیں؟ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا: اے علی! کیا آپ اس بات پر خوش نہیں کہ آپ کو مجھ سے وہی نسبت ہو جو موسیٰ کو ہارون (علیہما السلام) سے تھی‘ مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں‘‘۔ صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ &#39;&#39;بنی اسرائیل پر انبیاء کرام حکومت کرتے اور ان کی رہنمائی بھی کرتے رہے۔ جب ایک نبی کا وصال ہو جاتا تو دوسرا نبی ان کی جگہ لے لیتا۔ میرے بعدکوئی نبی تو نہیں ہو گا؛ تاہم خلفا ہوں گے اور تعداد میں بہت ہوں گے‘‘۔6۔ حرمتِ رسول اللہﷺ: نبی کریمﷺ کی حرمت کے دفاع پر بھی امت کا اتفاق ہے اور گستاخی کی کوئی بھی صورت امت کیلئے ناقابلِ قبول ہے۔ پاکستان اس اعتبار سے دنیا کی ایک ممتاز ریاست ہے کہ جہاں حرمتِ رسول پر پہرے داری کو یقینی بنانے کیلئے 295C کا قانون موجود ہے‘ جس کے مطابق شاتم کی سزا موت ہے۔ بعض عناصر کئی مرتبہ اس قانون کو معطل کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں لیکن علما اور دینی طبقات کے اتفاق واتحاد کی وجہ سے وہ اس میں کامیاب نہیں ہو پاتے۔7۔ ناموسِ صحابہ و اہل بیت: نبی کریمﷺ کے صحابہ کرام اور اہل بیتِ عظام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تعظیم بھی امت کا مشترکہ اثاثہ ہے اور امت کے تمام طبقات صحابہ کرام اور اہل بیت عظام کی تعظیم کو اپنے لیے ضروری سمجھتے ہیں۔ 8۔ اللہ تعالیٰ کے دین کی نشر واشاعت اور قیام: اللہ کے دین کی نشر واشاعت اور قیام کیلئے کوشاں رہنے پر بھی امتِ مسلمہ کے جملہ طبقات کا اتفاق ہے اور امت کے دانشمند علما اس بات پر مکمل اتفاق رکھتے ہیں کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کے دین کے نفاذ ہی سے انسانیت کے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ اس حوالے سے پاکستان سمیت دنیا کے بہت سے مسلم ممالک میں آئینی اور دستوری جدوجہد کا سلسلہ جاری و ساری ہے۔امت کے طبقات کے درمیان موجود اختلافات جہاں امت کے مخلص طبقات کیلئے تشویش کا سبب بنتے ہیں وہیں مشترکات پر اتفاق کی وجہ سے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کے امکانات بھی روشن رہتے ہیں۔ اتحادِ امت کیلئے کی جانے والی کاوشیں ہر اعتبار سے قابلِ قدر ہیں اور ان کاوشوں کے نتیجے میں امت کو مجتمع ہو کر اللہ کے دین کی نشرو اشاعت اور پاسبانی کے فرائض کو بطریق احسن انجام دینا چاہیے۔ کانفرنس کے شرکا نے علما کرام کے خطابات کو بڑی دلچسپی اور دلجمعی سے سنا اور مقررین سے مکمل ہم آہنگی کا اظہار کیا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_19740082.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>