<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>افغان دراندازی کا مسکت جواب(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-25/11571</link><pubDate>Fri, 25 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-25/11571</guid><description>پاکستان نے افغانستان سے ہونیوالی فضائی دراندازی کا بروقت اور دندان شکن جواب دیتے ہوئے گزشتہ روز افغان سرزمین پر ڈرون ذخیرہ کرنے اور انہیں لانچ کرنے والے دس اہم ٹھکانوں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔ 23ستمبر کو افغان سرزمین سے پاکستان میں آٹھ ڈرون لانچ کیے گئے تھے تاہم پاکستان کے فضائی دفاعی نظام نے تمام درانداز ڈرونز کا بروقت سراغ لگا کر انہیں ٹریک کیا اور متعین اہداف تک پہنچنے سے قبل ہی انہیں ناکارہ بنا کر افغان حملے کی کوشش کو زائل کر دیا۔ مگر یہ اقدام یہیں تک محدود نہیں رہا۔ چوبیس گھنٹوں سے بھی کم وقت میں اپنے دفاع کے حق کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان نے افغانستان میں ایسے دس مقامات کی نشاندہی کی جہاں سے یہ ڈرونز لانچ کیے گئے یا جہاں ڈرون ذخیرہ کیے جاتے تھے۔ پاکستان کے محدود نوعیت کے حملوں نے صرف ان مخصوص اہداف کو نشانہ بنایا جو پاکستان کے خلاف ہونے والے حملوں کی کوششوں سے براہِ راست منسلک تھے۔ یہ تزویراتی اقدام پاکستان کی جانب سے نہ صرف اپنی خودمختاری‘ جغرافیائی حدود اور معصوم شہریوں کے تحفظ کے مصمم عزم کا اظہار ہے بلکہ اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ پاکستان کی دفاعی صلاحیتیں ناقابلِ تسخیر اور انٹیلی جنس نیٹ ورک کس قدر بیدار ہے۔

اسلام آباد کی جانب سے دو ٹوک انداز میں افغانستان کو یہ پیغام پہنچا دیا گیا ہے کہ اگر افغانستان کی عبوری انتظامیہ یا وہاں موجود دہشت گرد گروہوں نے پاکستان کی سالمیت کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھا تو اس کے نتائج کہیں زیادہ سنگین اور عبرتناک ہوں گے۔ اگر ماضی کا جائزہ لیا جائے تو یہ مسلمہ تاریخی حقیقت ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ ایک ذمہ دار اور پُرامن پڑوسی کا کردار ادا کیا ہے لیکن کابل کی جانب سے پاکستان کی سفارتی بردباری اور صبر کو نہ صرف کمزوری پہ محمول کیا جاتا رہا بلکہ بار بار یہ فاش غلطیاں دہرائی گئیں۔ گزشتہ سال بھی اکتوبر میں افغانستان کی جانب سے پاکستان کی سرحدوں پر کھلم کھلا حملے اور ڈرون حملوں کی بزدلانہ کوششیں کی گئی تھیں جنہیں پاکستانی فوج نے کمالِ مہارت سے ناکام بنا دیا۔ بعد ازاں دونوں ملکوں کے اعلیٰ حکام میں متعدد نشستیں بھی ہوئیں مگر افغان عبوری انتظامیہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے کی تحریری ضمانت دینے میں ناکام رہی جس کے سبب کشیدگی میں کمی نہ آ سکی۔پاکستان نے ہمیشہ یہ واضح کیا ہے کہ پاکستان کسی توسیع پسندانہ سوچ کا حامل نہیں بلکہ خطے میں امن کے قیام کا خواہاں ہے؛ البتہ اپنے گھر کی حفاظت کرنا بخوبی جانتا ہے۔ اگر کابل حکومت نے اب بھی کوئی سبق نہ سیکھا اور اپنے جارحانہ رویے پر قائم رہی تو تمام تر سنگین اثرات اور مضمرات کی تمام تر ذمہ داری اس پر عائد ہو گی۔ پاکستان کے صبر کا پیمانہ اب لبریز ہو چکا! ریاستِ پاکستان اب مزید کسی رعایت یا نرمی کی کوئی گنجائش نہیں رکھتی۔
وقت کا تقاضا ہے کہ افغان قیادت ہوش کے ناخن لے اور اپنی سرزمین پر جاری پاکستان کیخلاف تمام تر مخاصمانہ سرگرمیوں‘ دہشت گردوں کی پشت پناہی اور دراندازی کی کوششوں کو فی الفور بند کرے۔ کابل کو یاد رکھنا چاہیے کہ دوحہ معاہدے کے تحت وہ اس بات کا پابند ہے کہ اس کی سرزمین کسی دوسرے ملک کیخلاف دہشت گردی یا سکیورٹی خطرات پیدا کرنے کیلئے استعمال نہ ہو۔ اگر افغانستان خطے میں امن اور اپنے عوام کیلئے خوشحالی چاہتا ہے تو اسے دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی چھوڑ کر ایک ذمہ دار ریاست کا ثبوت دینا ہو گا‘ ورنہ پاکستان کو چھیڑنے کی افغان مہم جوئی اس کے اپنے وجود کیلئے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ 
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>لوڈشیڈنگ، مستقل حل درکار(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-25/11570</link><pubDate>Fri, 25 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-25/11570</guid><description>لاہور سمیت ملک کے مختلف شہروں میں ایک بار پھر رات کے اوقات میں چار سے پانچ گھنٹے تک غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے اس کی بنیادی وجہ رات کے وقت طلب میں اضافے کو قرار دیا جا رہا ہے۔ دن کے اوقات میں شمسی توانائی کے باعث گرڈ پر طلب نسبتاً کم رہتی ہے مگر شام ڈھلتے ہی سولر سسٹم کی پیداوار کم ہونے سے طلب بڑھ جاتی ہے اور نظام پر دباؤ آ جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ بحران کو محض طلب میں اضافے یا پیداوار میں کمی سے تعبیر کرنا مسئلے کی اصل نوعیت کو نظرانداز کرنا ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران ملک میں بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں طلب سے زیادہ اضافہ کیا گیا‘ مگر ہر جگہ اسی تناسب سے ترسیل اور تقسیم کا نظام مضبوط نہیں کیا گیا۔

دوسری طرف مہنگی بجلی نے صارفین کو سولر کی طرف منتقل ہونے پر مجبور کیا ہے۔ یوں گرڈ کی فروخت کم ہونے کیساتھ مقررہ اخراجات نسبتاً کم یونٹس پر تقسیم ہوتے ہیں اور مسئلہ مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ سولر توانائی مسئلے کی وجہ ہے۔ حقیقت میں قابلِ تجدید توانائی ملک کیلئے ایک اہم موقع ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سولر کو گرڈ کے مقابل کھڑا کرنے کے بجائے ایک مربوط توانائی نظام کا حصہ بنایا جائے۔ لوڈشیڈنگ کا مستقل خاتمہ محض مزید زیادہ بجلی پیدا کرنے سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے بہتر منصوبہ بندی‘ مضبوط ترسیل‘ محفوظ تقسیم‘ مؤثر نگرانی اور جدید توانائی ٹیکنالوجی کو باہم مربوط کرنا ہو گا۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بڑھتے جرائم(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-25/11569</link><pubDate>Fri, 25 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-25/11569</guid><description>سندھ پولیس کے ریکارڈ کے مطابق صوبے بھر کے تھانوں میں مختلف جرائم میں ملوث مفرور اور اشتہاری ملزمان کی مجموعی تعداد 77 ہزار سے زائد ہو چکی ہے‘ جبکہ صرف رواں سال کے دوران مفرور ملزمان کی تعداد میں 20 ہزار سے زائد اضافہ ہوا ہے۔ اتنی بڑی تعداد میں مفرور اور اشتہاری ملزمان کا آزادانہ گھومنا معاشرے کیلئے سنگین خطرہ ہے۔ ایسے افراد نہ صرف دوبارہ جرائم میں ملوث ہوسکتے بلکہ اپنے گروہوں‘ سہولت کاروں اور جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے ذریعے قانون کی عملداری کو کمزور بنا سکتے ہیں۔ محکمہ داخلہ کی سٹینڈنگ کمیٹی میں پیش کیے گئے یہ اعداد و شمار صوبہ سندھ میں جرائم کی سنگینی کو واضح کرتے ہیں کہ رواں سال کے دوران سندھ میں 1100سے زائد افراد قتل ہوچکے‘ جبکہ ڈکیتی‘ راہزنی‘ گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی چوری جیسے جرائم بھی بڑی تعداد میں رپورٹ ہوئے ہیں۔

یہ صورتحال صوبائی حکومت اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات اٹھاتی ہے۔ شہریوں کا تحفظ‘ قانون کی بالادستی اور مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لانا کسی بھی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔ صوبائی حکومت کو چاہیے کہ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنیوالے اداروں کو جدید وسائل‘ مطلوبہ نفری‘ جدید ٹیکنالوجی‘ فرانزک سہولتیں اور بہتر تربیت فراہم کرے تاکہ جرائم کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>میجر عامر کا غصہ(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-09-25/52724/34581024</link><pubDate>Fri, 25 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-09-25/52724/34581024</guid><description>میں میجر عامر کو اکثر کہتا ہوں کہ اس عہدے پر ہزاروں افراد نے سروس کی اور ریٹائر ہوئے‘ لیکن وہ واحد ہیں کہ جب ان کا نام لیا جاتا ہے تو سب کو علم ہوتا ہے کہ کس میجر عامر کا ذکر ہو رہا ہے۔میرے خالو بھی میجر تھے۔ میجر نواز ملک‘ اور کیا کمال کی خوبصورت اور دبنگ شخصیت کے مالک تھے۔ کلرکہار کے قریب کرولی گاؤں سے ان کا تعلق تھا۔ وہ ہمارے خاندان اور علاقے میں اپنے اصل نام کے بجائے میجر صاحب کے نام سے ہی جانے جاتے تھے۔ اُن جیسا کتاب بین اور مقناطیسی شخصیت کا حامل کوئی اور بندہ شاید ہی میں نے زندگی میں دیکھا ہو۔ ان کے ہمارے گاؤں اور پورے علاقے پر بہت احسانات ہیں۔ یہ دونوں میجرز میری زندگی میں اہم رہے اور دونوں کی اپنی اپنی جگہ اور الگ الگ شخصیات ہیں۔ میجر (ر) عامر کبھی کبھار ملکی حالات پر کڑھتے ہیں تو ایک لمبا سا وائس نوٹ بھیج دیتے ہیں‘ جس میں کھل کر دل کی بھڑاس نکالتے ہیں۔ وہ ذہین انسان ہیں۔ آئی ایس آئی میں تعیناتی کے دنوں میں وہ متنازع بھی رہے اور آج تک کئی سوالات و جوابات کا خندہ پیشانی سے سامنا کرتے ہیں۔ میری ان سے کئی دفعہ بحث بھی ہو جاتی ہے۔ ان کے پاس معلومات کا بڑا خزانہ ہے اور اسے استعمال کرنے کا فن بھی وہ جانتے ہیں۔ مجھے ان کی یادداشت پر رشک آتا ہے۔ مجال ہے چھوٹی سی بات بھی ان کے حافظے سے نکلی ہو۔ ان کے بعد ایسی رشک بھری یادداشت میں نے ملتان کے پیارے ڈاکٹر انوار احمد کی دیکھی۔ انہیں اس عمر میں بھی ماضی کے واقعات پوری تفصیل کے ساتھ یاد ہیں۔ جن لوگوں کی یادداشت بہت تیز ہوتی ہے وہ بہت دلچسپ ہوتے ہیں۔ ان کے پاس سامعین کو سنانے کیلئے بہت سے واقعات ہوتے ہیں اور وہ ایسے دلچسپ کہ جو آپ کو کبھی بور نہ ہونے دیں۔ ہمارے پیارے ڈاکٹر ظفر الطاف کا حافظہ بھی کمال کا تھا۔میجر عامر جب حالیہ دنوں میں عمرہ کر کے واپس آئے تو کچھ دوست مبارک دینے ان کے گھر گئے۔ وہاں رات گئے تک محفل جمی رہی۔ ڈاکٹر بابر اعوان‘ سابق کمشنر اسلام آباد طارق پیرزادہ‘ حامد کرزئی اور اشرف غنی ادوار کے افغان سفیر‘ سلیم صافی‘ قیصر بٹ‘ عبداللہ بابر اعوان اور عمار خان اس محفل میں شریک تھے۔ جس محفل میں بابر اعوان اور میجر عامر ہوں وہاں گفتگو تیز‘ تیکھی اور دلچسپ ہوتی ہے۔ میرے جیسے جو سننے پر یقین رکھتے ہیں‘ کو بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔ اُس رات بھی یہی ہوا۔ بہت گرم سرد بحث رہی۔ اس بیٹھک کا احوال میں پھر کسی وقت کہ بہت ساری باتیں ہیں جو میرے خیال میں قارئین تک پہنچنی چاہئیں‘ تاہم اس وقت مسئلہ اسلام آباد کا‘ جو محاصرے میں ہے۔ اتنی بڑی تعداد میں کنٹینرز سے شہر کو بھر دیا گیا ہے اور خوف و ہراس کی ایسی صورتحال ہے کہ بندہ حیران ہوتا ہے کہ حکومتیں بھلا ایسے بھی خوفزدہ ہوتی ہیں؟ میجر عامر نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ ایسا خوف و ہراس تو پاک بھارت جنگ میں بھی نہیں تھا جیسا اب نظر آ رہا ہے۔ لگتا ہے کہ اسلام آباد میں کوئی بہت ہی بڑا کام ہونے والا ہے۔میجر عامر نے مجھے دو تین وائس نوٹس بھیجے جو میرے خیال میں موجودہ صورتحال میں بہت اہم ہیں اور اس سے آپ کو صورتحال کو سمجھنے میں آسانی ہو سکتی ہے کہ اسلام آباد اور اس کے گردونواح میں کیا ہو رہا ہے۔ وہ حیران ہیں کہ ایک طرف اسلام آباد ہائیکورٹ نے صاف احکام جاری کیے کہ سڑکیں بند نہیں ہوں گی‘ لیکن دوسری جانب حکومت نے تقریباً پورا ملک بند کر دیا ہے۔ اسلام آباد کو خیبرپختونخوا سے کاٹ دیا گیا ہے۔ ایبٹ آباد‘ ہزارہ‘ پشاور‘ صوابی اور مردان سے ہزاروں لوگ اپنے کام کے سلسلے میں وفاقی دارالحکومت آتے ہیں۔ ظاہر ہے سپریم کورٹ بھی اِدھر ہے‘ شریعت کورٹ بھی ادھر ہے۔ یہاں بڑے ہسپتال ہیں‘ جہاں ہزاروں لوگ علاج کیلئے آتے ہیں۔ سب سے بڑی بات کہ پنجاب کو بھی اسلام آباد سے کاٹ دیا گیا ہے۔ اب سوال تو بنتا ہے کہ اُس عدالتی فیصلے کا کیا جس میں کہا گیا تھا کہ اسلام آباد کی سڑکیں بند نہیں کی جائیں گی۔ اتنی بڑی آبادی کو بنیادی سہولتوں سے محروم کرنا‘ باقی ملک سے کاٹنا‘ یہ کیسی حکمرانی ہے کہ ایک آدمی اعلان کرے کہ وہ اسلام آباد جلوس لے کر آ رہا ہے اور حکومت کنٹینر کھڑے کرکے پورے ملک کو اس کی سزا دینا شروع کر دے۔ لانگ مارچ کیلئے تو 27 ستمبر کا اعلان ہوا لیکن ابھی سے یہ عالم ہے کہ پشاور سے اسلام آباد اخبارات نہیں آ سکے۔ اگر جلوس آ رہا ہے تو آنے دو۔ کل کو اگر اسلام آباد؍ پنڈی سے کوئی جلوس برآمد ہوا تو اس کو کیسے روکیں گے؟ مطلب یہ ہے کہ اسلام آباد کو باقی صوبوں سے کیوں کاٹ دیا گیا ہے؟ خیبرپختونخوا سے کیوں کاٹ دیا ہے؟ اٹک سے کیوں کاٹ دیا ہے؟ ہزارہ سے کیوں کاٹ دیا ہے؟ شہریوں کیلئے یہ بہت بڑے مسائل ہیں۔ مثلاً خدانخواستہ اگر ان دنوں ایمرجنسی میں مجھے گاؤں جانا پڑ جائے تو میں نہیں جا سکتا۔ وہاں کوئی بیمار ہو جائے‘ کوئی فوت ہو جائے تو میں عیادت یا جنازے کیلئے نہیں جا سکتا۔ میرا قصور صرف یہ ہے کہ میں خیبر پختونخوا کا یا اٹک کا رہنے والا ہوں؟ یہ کون سا طریقہ ہے کہ آپ صوبوں کو وفاق سے کاٹ دیں؟میجر عامر کا کہنا ہے کہ پتا نہیں کن لوگوں کے حوالے ہے یہ حکومت۔ یہ بدنصیبی ہے کہ ہم ایسے عہد میں جی رہے ہیں۔ میں نے انہیں جواب دیا کہ اکثر سیاستدان‘ میڈیا‘ اینکرز اور کالم نگار بلکہ سول سوسائٹی بھی سمجھتی تھی کہ شہباز شریف ایک بہترین وزیراعظم بنیں گے۔ نواز شریف وزیراعظم بن کر اداروں سے الجھ جاتے ہیں جبکہ شہباز شریف سب کو ساتھ لے کر چلنا جانتے ہیں۔ اب پتا چل رہا ہے کہ ان کے دور میں معاملات مقتدرہ کے ساتھ تو اچھے ہیں لیکن سیاست‘ پارلیمنٹ‘ گورننس اور اتھارٹی کہیں غائب ہو گئی ہے۔ حتیٰ کہ ان کی اپنی کابینہ اب ان کی اتھارٹی پر سوال کرتی نظر آتی ہے‘ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی کمانڈ کمزور پڑ رہی ہے۔ اگر کسی وقت آپ وزیروں کی گفتگو اور ٹویٹس پر غور کریں تو اندازہ ہو جائے گا کہ حکومت کی وہ رِٹ اور اتھارٹی کہاں ہے‘ جس کی بات میجر عامر کر رہے ہیں۔ یہ بات بھی طے ہے کہ لوگ خود بھی اس کے ذمہ دار ہیں۔ ہر چند دن کے بعد کوئی نہ کوئی پارٹی اپنے ورکرز کو لے کر اسلام آباد کی طرف چل پڑتی ہے۔ حکومت خندقیں کھود دیتی ہے‘ سڑکیں اکھاڑ دیتی ہے‘ انٹرنیٹ بند کر دیتی ہے‘ ہزاروں سپاہی دوسرے اضلاع سے منگوا کر سکول بند کر کے وہاں انہیں ٹھہرا دیتی ہے۔ ان کے کھانے پینے پر کروڑوں روپے الگ سے لگتے ہیں۔ یہ سب خرچہ عوام کی جیب سے پورا کیا جاتا ہے۔ ابھی دیکھ لیں کہ چالیس کروڑ روپے صرف کنٹینرز کا خرچہ بتایا جا رہا ہے اور کنٹینرز ایسوسی ایشن کا نمائندہ میڈیا پر کہہ رہا تھا کہ انہیں تو ایک روپیہ نہیں ملا۔ اپریل 2022ء میں جو کنٹینرز لگے تھے‘ ان کا کرایہ 21 کروڑ روپے بنا تھا‘ باقی اخراجات الگ تھے۔ اب کی دفعہ کنٹینرز کی تعداد ہزاروں تک پہنچ گئی ہے۔ لگتا ہے کہ یہ اسلام آباد نہیں بلکہ ایک بندرگاہ ہے‘ جہاں ہزاروں کنٹینرز امپورٹ ایکسپورٹ کیلئے اپنی باری کے انتظار میں کھڑے ہیں۔پی ٹی آئی کچھ کر پائے گی یا نہیں لیکن وزیر داخلہ نے دس دن پہلے ہی پورے شہر کو لاک کر کے چابی جیب میں ڈالی اور ایران کے دورے پر نکل گئے۔ اب اسلام آباد کے رہائشی جانیں اور ان کے حالات۔ اچھا خاصا شہر تھا‘ کبھی ہزاروں درخت تو کبھی جنگل کاٹ کر اور کبھی گرین بیلٹس اکھاڑ کر اور کبھی بیکار کی کھدائیاں کر کے اس کا بیڑہ غرق کر دیا گیا ہے۔ اس وقت شہر کی حالت دیکھ کر لگ رہا ہے کہ حکمران اس سوچ پر کاربند ہیں کہ آگ لگے بستی میں‘ ہم اپنی مستی میں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>جب حالات ایسے ہوں(رسول بخش رئیس)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-09-25/52725/20428597</link><pubDate>Fri, 25 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-09-25/52725/20428597</guid><description>آج کے دور میں ریاستیں اپنے محدود جغرافیائی دائرے میں رہتی ہیں اور ایک آئینی نظام کے سائے میں سانس لیتی اور جیتی جاگتی ہیں۔ اب تو سرحدیں بھی اس طرح نہیں رہیں جو کبھی ہوا کرتی تھیں۔ شاید در اندازی کرنے والوں اور غیرقانونی تارکینِ وطن کو کہیں نہ کہیں رکاوٹیں ڈال کر واپس بھیجا جا سکے‘ لیکن خبروں اور اطلاعات کو روکنا تو درکنار‘ محدود کرنا بھی کسی کے بس میں نہیں۔ دنیا ہمیں اچھی طرح دیکھ رہی ہے۔ آج ہم پوری دنیا کو سینکڑوں ٹی وی چینلوں‘ انٹرنیٹ کے رنگوں اور رنگینیوں‘ اور آن لائن اخباروں اور رسالوں کی رسائی حاصل کر کے ہر وقت دیکھ اور سن سکتے ہیں۔ اس بارے میں زیادہ تمہید کی ضرورت نہیں کہ ہم دنیا کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ ہماری سرحدوں سے باہر‘ قریبی علاقوں اور ملکوں میں جو کچھ ہو رہا ہے اور مزید ہونے کی جو اطلاعات ہیں‘ ہم اپنی قومی اور انفرادی زندگی میں اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ افغانستان سے دہشت گردی کی یلغاراورکچھ اور ممالک میں دہشت گردوں کے سرغنوں کے محفوظ ٹھکانوں سے کون واقف نہیں؟ کئی برسوں سے ہمارے سلامتی کے ادارے اور عام شہری ان کی زد میں ہیں۔ معاشی نقصانات کا اندازہ دہشت گردی کے خلاف جنگ سے لے کر اب تک‘ سینکڑوں ارب ڈالر میں ہے۔ معاشرے پر نفسیاتی‘ معاشی اور سماجی اثرات‘ خصوصاً سرحدی علاقوں میں مرتب ہوئے ہیں۔ وہ گہرے زخموں کی طرح شاید بہت دیر تک رِستے رہیں۔ ایران کے خلاف اسرائیلی اور امریکی جنگ ابھی تک ختم نہیں ہوئی‘ اور نہ ہی ایران کی طرف سے علاقے میں امریکہ کے اتحادیوں کے خلاف شدید ردِعمل‘ جو مختلف صورتوں میں ہے‘ رکنے کا نام لے رہا ہے۔ غزہ میں جو ہم نے اور پوری دنیا نے بے بسی کی حالت میں اسرائیل کی طرف سے فلسطینیوں کی نسل کشی کو دیکھا ہے‘ شاید اس کا اثر اور دکھ پوری زندگی زائل نہ ہو سکے۔اگر ہم کسی دوسرے عالمی سطح کے بحران‘ جیسا کہ روس کی یوکرین کے خلاف پانچ سال سے جاری جنگ اور اس کے معاشی اثرات کو بھی اکٹھا کر کے دیکھیں تو ایسا لگتا ہے کہ ہماری سیاست اور حکمرانوں کی روش میں کوئی فرق نہیں آیا۔ اندرونی طور پر ایک طرف ہمیں دہشت گردی‘ بڑھتی ہوئی لاقانونیت‘ آبادی کے خطرناک پھیلاؤ اور اس کے نتیجے میں غربت کا سامنا ہے‘ اور دوسری طرف ہمارے سب سیاسی کرم فرما کرسی مضبوط کرنے اور بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کا پرانا کھیل کھیلنے میں مصروف ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ہمارے حکمرانوں نے کبھی اپنی‘ نہ دوسروں کی تاریخ سے‘ نہ ہی بدلتے ہوئے عالمی حالات سے کچھ واقفیت حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ تیل کے بڑھتے ہوئے عالمی بحران اور خلیج کی جنگ کی وجہ سے حالات خطرناک صورتحال اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ کئی دہائیوں سے ہماری قومی طاقت چند ہاتھوں میں رہی ہے‘ اور وہی چند ہاتھ معتبر بھی تھے‘ مفکر بھی‘ رہبر بھی اور مشعلِ راہ بھی۔ نتائج کے بارے میں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں‘ آپ سب کچھ اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہے ہیں۔ حکمران اپنے طاقت کے کھیل تماشے میں‘ ایوب خان کی حکومت کے بعد سے اتنا مصروف رہے ہیں کہ ہوش ہی نہیں رہا کہ آبادی کا بلا روک ٹوک پھیلاؤ کیسے معاشرے اور کیسی معیشت کو جنم دے سکتا ہے۔ اس آمر سے لاکھ اختلاف سہی مگر ایوب خان‘ جس کے خلاف سب سے پہلے جلوس ہماری نسل کے طلبہ نے نکالے تھے‘ اس زمانے میں ملک میں منصوبہ بندی صرف خاندانوں کو محدود کرنے تک نہ تھی بلکہ قومی زندگی کے ہر شعبے میں رائج ہوئی۔ ایک دہائی میں بہت کچھ ہمارے ملک اور قوم نے کر دکھایا۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا‘ وہ مداری کے کھیل تماشے ہی تھے۔ نعرہ بازی آسمان کو چھوتی رہی اور زمین میں ہمارے ملک کی سمت بگڑتی رہی۔ کہاں چار کروڑ اور کہاں 25کروڑ؟ ہم نہ پانی‘ نہ زمین میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ بس زور اس بات پر ہے: غلہ زیادہ پیدا کرو۔ غلہ ہمارے کاشتکار جب زیادہ پیدا کرتے ہیں تو کوئی خریدار نہیں ملتا۔ حکمرانوں کے وارے نیارے ہو جاتے ہیں جب غلے کی کمی ہو‘ جیسے چینی بھی کبھی برآمد اور کبھی درآمد ہوتی رہی ہے۔ یہ ہے ہماری منصوبہ بندی! یہ صرف آج اور اس حکومت کی بات نہیں‘ 56سال پیچھے چلے جائیں‘ اور اس کے بعد کے سیاسی کرشموں‘ چال بازیوں‘ پرانے اور نئے سیاسی فنکاروں اور کٹھ پتلی تماشے کے ماہروں کے کارنامے آپ کے سامنے کھل کر آ جائیں گے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے اہلِ اقتدار کنویں کے مینڈک کی طرح اس سے باہر نہیں نکل سکے۔ اب تو غلطی بھی کوئی غلطی نہیں رہی کہ سب کچھ جان بوجھ کر کرتے ہیں اور ساتھ للکارتے ہیں کہ ہاں! کیا ہے‘ ہماری مرضی! آپ نے جو کرنا ہے کر لیں! اس کو کوئی تکبر کی انتہا نہ کہے تو آپ ہی بتائیں اور کیا کہے؟ یہ جو سرکاری ہوائی جہاز میں برطانیہ جانے کا معاملہ ہے‘ جو کچھ اندر کھاتے اس ملک میں ہو رہا ہے‘ اس کے مقابلے میں کوئی بڑا واقعہ نہیں‘ مگر یہ اس لیے عوام کے ذہنوں میں ابھرا ہے کہ یہ طاقت کی سیاست کا ایک عکس ہے جسے عوامی میڈیا کی ہواؤں نے ہر طرف پہنچا دیا ہے۔ صوبوں کو اٹھارہویں ترمیم کی بندر بانٹ سے جس قدر فیضیاب کیا گیا‘  سرکاری سطح پر ایسے ارتکازِ زر اور طاقت کی مثال کسی وفاقی نظام میں نہیں ملتی۔ بہت مؤثر بیانیہ مرکز کی طاقت کے خلاف دہائیوں سے لسانی گروہوں کی طرف سے چل رہا تھا۔ اس سے موروثی سیاسی خاندانوں نے آئین کو آمریت کے اثرات سے پاک صاف کرنے کے بہانے اپنے اپنے صوبوں میں معاشی اور سیاسی آمریت پیدا کرنے کی کامیاب منصوبہ بندی کی۔ اس ترمیم کے بعد ایسا لگتا ہے کہ ملک میں ایک نہیں‘ پانچ طاقت کے مراکز قائم ہیں۔وطن عزیز کے معروضی حالات ایسے ہی ہیں‘ مگر ان کے تناظر میں ہمیں تو قومی یا سیاسی مفاہمت کی کوئی پالیسی نظر نہیں آ رہی۔ کچھ موسم بدلتے ہی سب حزبِ اختلاف والے‘ اور وہ بھی جن کا دھیان نہ کرپشن پر جاتا ہے اور نہ ہی دیگر اہم قومی امور پر‘ اسلام آباد پر چڑھائی کرنے کیلئے تیار بیٹھے ہیں۔ نہ حکمرانوں کے رویے میں کوئی لچک ہے‘ نہ دوسروں کی سیاسی مہم جوئی میں کوئی فرق یا امید کی تمنا۔ ماضی کے کچھ حالات‘ جن کا ذکر اوپر کیا گیا ہے‘ اور ہمارے قریبی علاقے میں جنگ اور اس کے دور رس اثرات کا تقاضا تو یہ ہے کہ سب مل کر بیٹھیں‘ کچھ ملک اور عوام کا سوچیں۔ ابھی تو معلوم نہیں کہ آگے چل کر امریکہ‘ ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف کیا کرنا ہے‘ اور کوئی سمجھوتا ہوتا ہے کہ جنگ جاری رہتی ہے۔ پوری دنیا متاثر ہو رہی ہے اور سب سے زیادہ بھاری اثرات کھانے پینے کی اشیا سے لے کر پٹرول تک ہیں۔ مدبر قیادت کی یہی نشانی ہے کہ وہ حکومتی اتحاد میں ہو یا حزبِ اختلاف کی جماعتوں میں‘ حالات کی نزاکت کو سمجھتی ہے اور اپنے محدود مفادات سے نکل کر عام لوگوں کی زندگیوں کو آسودہ اور ملک کو ترقی کی راہ پر ڈالتی ہے۔ دنیا تو ہمیں دیکھ کر حیران ہوتی ہے کہ ایک طرف روزانہ دہشت گرد ہماری پولیس اور سلامتی کے اداروں کے افسروں اور جوانوں پر حملے کر رہے ہیں تو دوسری طرف ہم کنٹینروں کو میدان میں رکھ کر ایک دوسرے کو اکھاڑنے پچھاڑنے کی تیاریوں میں ہیں۔ دونوں طرف کے لیڈر ایسے حالات میں گھر سے بھی نہیں نکلتے‘ عوام کو ایک دوسرے پر پتھراؤ اور دنگا فساد کرنے پر لگا دیتے ہیں۔ پولیس اہلکار بھی تو عوام میں سے ہیں۔ ایسے قومی‘ علاقائی اور عالمی حالات میں تباہی‘ تصادم اور لانگ مارچوں کا لامتناہی سلسلہ اپنے سیاستدانوں کے بارے میں بہت کچھ بتاتا ہے۔ لگتا ہے کہ ہم عوام ان کے اصل کھیل میں بے بس ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_33241568.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سعودی عرب اور حوثیوں کے مابین کشیدگی …(3)(ڈاکٹر رشید احمد خاں)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr-rasheed-ahmad-khan/2026-09-25/52726/15860337</link><pubDate>Fri, 25 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr-rasheed-ahmad-khan/2026-09-25/52726/15860337</guid><description>یمن میں ایک طرف حوثی جنگجوؤں اور سعودی عرب کے مابین ہوائی حملوں‘ میزائلوں اور ڈرونز کے ساتھ جنگ جاری ہے اور دوسری طرف حوثی قبائل نے یمن کے دو مرکزی شہروں‘ طائز اور مارب پر قبضہ کرنے کیلئے نیا محاذ کھول دیا ہے۔ مبصرین کی رائے میں اگر یمن کے ان دو شہروں پر حوثیوں کا قبضہ ہو گیا تو یمن کے باقی حصے اور عدن پر حوثیوں کے قبضے کی راہ ہموار ہو جائے گی۔ سعودی عرب حوثیوں کی اس پیش قدمی کو روکنے کیلئے ہوائی حملے اور توپوں سے گولہ باری کر رہا ہے‘ لیکن 2015ء سے 2022ء کے دوران حوثی باغیوں پر فضائی بمباری‘ جس میں امریکی بمباری بھی شامل ہے‘ کے تجربے کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ اس کا کوئی بڑا نتیجہ برآمد نہیں ہوگا۔ البتہ یمن کی سرکاری فوجوں نے بحیرہ احمر کے ساحل کے ساتھ اہم مقامات‘ جن میں بندرگاہ المخا بھی شامل ہے‘ کو آزاد کرانے کیلئے ایک نیا محاذ کھولا ہے۔ تاہم حال ہی میں یمن کی سرکاری فوجیں جس طرح حوثیوں کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوئی ہیں‘ اس کے پیشِ نظر سرکاری افواج حوثیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں کو واپس لیتیں نظر نہیں آتیں؛ البتہ دونوں میں گھمسان کی جنگ کا خدشہ ہے‘ کیونکہ اونچائی پر ہونے کی وجہ سے مرکزی یمن کے یہ علاقے بحیرہ احمر کے ساحل اور آبنائے باب المندب کے تحفظ کیلئے انتہائی اہم ہیں۔سعودی عرب اپنی فوجیں یمن میں داخل نہیں کرنا چاہتا اور امریکہ اس کی حمایت میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر بمباری نہیں کرنا چاہتا۔ برطانیہ اور فرانس کی طرح وہ سعودی عرب کو صرف انٹیلی جنس‘ لاجسٹک اور دیگر تکنیکی امداد فراہم کرنا چاہتا ہے۔ یمن کی سرکاری افواج بیرونی امداد کے بغیر حوثیوں کو پیچھے نہیں دھکیل سکتیں‘ بلکہ مبصرین کا اندازہ ہے کہ حوثی جنگجو‘ جو پہلے ہی یمن کے دارالحکومت صنعا پر قابض ہیں‘ سرکاری افواج کو شکست دے کر اب نئے مرکزی مقام عدن پر قابض ہو جائیں گے۔ اس طرح حوثیوں کو نہ صرف جنوبی یمن اور باب المندب پر پورا کنٹرول حاصل ہو جائے گا‘ بلکہ سعودی عرب کے حمایت یافتہ صدر راشد کی حکومت کے زیرِ قبضہ شمالی یمن کا علاقہ دو حصوں میں تقسیم ہو جائے گا۔ اس صورتحال میں سب سے زیادہ خطرہ سعودی عرب کو درپیش ہوگا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ حوثیوں کی برق رفتاری سے پیش قدمی کے باوجود سعودی عرب نے مکہ دفاعی معاہدے کو فعال کرنے کے بجائے امریکہ اور یورپی طاقتوں سے اپیل کی‘ مگر سب نے عملی طور پر یمن کی خانہ جنگی میں مداخلت سے انکار کر دیا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اگر امریکہ یا یورپی ممالک مداخلت کرتے تو خدشہ ہے کہ حوثی آبنائے باب المندب کو ہر قسم کی جہاز رانی کیلئے بند کر دیں گے۔ اس اقدام کے نتیجے میں تیل کی عالمی قیمت‘ جو پہلے ہی آبنائے ہرمز کے بند ہونے سے بحران کا شکار ہے‘ آسمان کو چھونے لگے گی۔ حوثیوں نے اس حوالے سے پہلے ہی اعلان کر رکھا ہے کہ آبنائے باب المندب سوائے سعودی عرب کے‘ باقی ہر ملک کے بحری جہازوں کیلئے کھلی ہے۔ یہاں تک کہ عمان میں امریکیوں کے ساتھ ایک ملاقات میں حوثیوں نے یقین دلایا کہ وہ امریکی جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔ اس طرح یورپی ممالک بھی حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کا ساتھ دے کر بحیرہ احمر کے راستے اپنی کھربوںیورو کی تجارت کو خطرے میں ڈالنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ اس وقت یمن کی صورتحال پر جتنے بھی تبصرے اور تجزیے ہو رہے ہیں‘ ان سب میں سعودی عرب جو دنیا کا سب سے بڑا تیل برآمد کرنے والا ملک ہے اور جس نے کھربوں ڈالر کے امریکی ہتھیار خرید رکھے ہیں‘ کو ایک بے بس اور تنہا ملک کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے‘ کیونکہ وہ اپنی سرحدوں پر منڈلاتے ہوئے خطرے کا مؤثر طور پر مقابلہ نہیں کر پا رہا۔ مکہ دفاعی معاہدہ ابھی پوری طرح آپریشنل نہیں ہوا۔ اگرچہ وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایک بیان میں کہا تھا کہ مکہ معاہدہ فعال ہو سکتا ہے اور پاکستان کی قیادت نے بھی کھل کر سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ سعودی عرب کی مدد میں پاکستان کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ ترکیہ نے بھی سعودی عرب کی بعض ضروریات پوری کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ تبصرہ کاروں کی رائے میں یہ ضروریات ڈرونز اور میزائل ہو سکتے ہیں‘ جن کو ترکیہ بڑی تعداد میں بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے‘ لیکن سعودی عرب کے پاس ہتھیاروں کی کمی نہیں۔ اصل مسئلہ ان ہتھیاروں کو میدانِ جنگ میں دشمن کے خلاف استعمال کرنے والوں کی کمی ہے‘ جسے اپنے دفاع پر سالانہ 80 بلین ڈالر سے زیادہ خرچ کرنے والا سعودی عرب اپنے ذرائع سے دور نہیں کر سکتا۔ اس لیے ہر طرف سے مایوس ہو کر سعودی عرب کی نظریں پاکستان پر ہیں۔ جیسا کہ پہلے بیان کیا ہوا کہ اپنے برادر ملک کے تحفظ اور بقا کے لیے پاکستان کسی بھی اقدام سے گریز نہیں کرے گا۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کے حوالے سے ایک اہم بات یہ ہے کہ دونوں ملک مکہ دفاعی معاہدہ کا ہی حصہ نہیں‘ بلکہ ان کے مابین ایک دوطرفہ سٹرٹیجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ بھی ہے‘ جس پر دونوں ملکوں نے 17 ستمبر 2025ء کو دستخط کیے تھے۔ اس معاہدے کے تحت دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کے خلاف جارحیت پر ساتھ دینے کا عہد کیا تھا‘ جبکہ رواں سال 7اگست کو طے پا جانے والے مکہ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان‘ سعودی عرب اور ترکیہ ایک دوسرے پر مسلح حملے کو اپنے اوپر حملہ تصور کریں گے۔ مگر دونوں معاہدوں میں یہ نہیں بتایا گیا کہ جارحیت اور مسلح حملے کے خلاف ردِعمل انفرادی ہوگا یا اجتماعی اور یہ کہ اس کا کیا طریقۂ کار ہوگا۔ خاص طور پر مکہ دفاعی معاہدے کے تحت مسلح حملے کی صورت میں ردِعمل کا کیا میکانزم ہوگا‘ کیونکہ تینوں ملک مختلف خطوں سے تعلق رکھتے ہیں اور تینوں کا دشمن الگ الگ ہے‘ جبکہ کسی دفاعی محاصرے کے مؤثر ہونے کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ ان کا دشمن مشترکہ ہو۔ان دو دفاعی معاہدوں کے علاوہ پاکستان اور سعودی عرب انٹرنیشنل میری ٹائم ڈیفنس تنظیم کے بانی ارکان بھی ہیں۔ اس تنظیم میں بحیرہ احمر اور بحرِ ہند سے تعلق رکھنے والے اور ممالک بھی شامل ہیں۔ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاع اور سکیورٹی کے شعبوں میں تعاون 1960ء کی دہائی سے چلا آ رہا ہے۔ اِس وقت بھی سعودی عرب میں پاکستان آرمی‘ ایئر فورس اور بحریہ سے تعلق رکھنے والے 8000 فوجی موجود ہیں‘ مگر ان کی ذمہ داریاں تربیت‘ لاجسٹک سپورٹ اور اندرونی تحفظ تک محدود چلی آ رہی ہیں۔اب تک پاکستان نے کسی عرب ملک کی حمایت میں کسی دوسرے عرب یا غیر عرب ملک کی زمین پر اپنے فوجی دستے داخل نہیں کیے اور اس پالیسی پر سختی سے عمل کیا ہے۔ اس حوالے سے 2015ء میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی درخواست پر یمن میں اپنی فوجیں بھیجنے سے انکار کو بطور مثال پیش کیا جا سکتا ہے۔ اب بھی پاکستان کی رائے عامہ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کی باہمی جنگ میں پاکستان کی شرکت کے خلاف ہے۔ اگرچہ مکہ مکرمہ پر حوثیوں کے مبینہ ڈرون حملے اور سعودی عرب کی توانائی کے انفراسٹرکچر کو ٹارگٹ بنانے کی رپورٹس نے سعودی عرب کی براہِ راست مدد کرنے کی راہ ہموار کر دی ہے مگر اس بات کا بھی خدشہ ہے کہ اگر پاکستان نے یمن کی خانہ جنگی میں کوئی عملی اقدام کیا تو ایران کے ساتھ ہمارے تعلقات کو نقصان پہنچے گا اور اس سے ایک ایسی دلدل میں پھنس سکتا ہے جس سے باہر نکلنا مشکل ہو۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90264263.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>یورپ بدل رہا ہے!(اسد طاہر جپہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/asad-tahir-jappa-/2026-09-25/52727/54782602</link><pubDate>Fri, 25 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/asad-tahir-jappa-/2026-09-25/52727/54782602</guid><description>جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا کو اپنا صوبہ بنانے اور اس کی مصنوعات پر پچاس فیصد ٹیرف عائد کرنے کی دھمکیاں دیں تو دراصل امریکہ نے اپنے ہی اتحادی کو یورپ کی طرف دھکیل دیا تھا۔ کیا اب بدلتا ہوا یورپ ایک نئے عالمی نظام کیلئے کوشاں ہے؟ یہ ایک بڑا سوال ہے اور آج ہم اس کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ گزشتہ دنوں جب فرانسیسی شہر سٹراسبرگ میں یورپی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے کہا کہ یورپ اور کینیڈا اکٹھے زیادہ مضبوط ہیں تو وہ صرف دو فریقوں کی بات نہیں کر رہے تھے‘ وہ دوسری عالمی جنگ کے بعد تشکیل پانے والے پورے مغربی نظام کی قبر پر کتبہ لگا رہے تھے۔ دوسری طرف جب ایک لاکھ سے زائد لوگ برطانوی پارلیمنٹ سے کہتے ہیں کہ ہمیں واپس یورپ میں لے جاؤ‘ تو وہ بریگزٹ نہیں بلکہ امریکی قیادت والے دور کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان دونوں اقدامات کے دور رس اثرات مرتب ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ سب سے بڑا سیاسی اثر یہ ہے کہ اب مغرب کی تعریف بدل رہی ہے۔ 1949ء سے مغرب کا مطلب تھا: امریکہ‘ یورپ بشمول برطانیہ اور کینیڈا۔ نیٹو اس کی فوجی قوت کا اظہار تھا۔ اب امریکہ خود اس اتحاد پر ٹیرف لگا رہا ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے کینیڈا کو امریکہ کی 51ویں ریاست کہنے اور کینیڈا اور یورپ پر بڑے ٹیرف لگانے کی دھمکی نے نیٹو کے مشترکہ دفاع کے آرٹیکل پانچ سے زیادہ طاقتور آرٹیکل کو جنم دیا ہے اور اس کا نام ہے بداعتمادی۔کیا کینیڈا اور یورپ مل کر طاقت کا ایک تیسرا ستون بنا پائیں گے؟ کینیڈین وزیراعظم کارنی نے خود کہا کہ ہم تیسرا بلاک نہیں بننا چاہتے‘ جو محض بہتر اخلاق کے ساتھ بڑی طاقتوں کی نقل کرے۔ لیکن حقیقت میں وہی بن رہا ہے۔ یورپی کمیشن کی سربراہ اُرسُلا وان ڈیر لین نے اسے مشترکہ خوشحالی اور اقتصادی زون کا نام دیا ہے‘ جس میں مشترکہ اسلحہ سازی‘ ٹیکنالوجی اتحاد اور اے آئی وغیرہ پر کام شامل ہے۔ یہ نیٹو کا متبادل نہیں بلکہ نیٹو کے اندر ایک ایسا نیا گروپ ہے جس میں امریکہ کو شامل نہیں کیا گیا۔ یورپ میں اب یہ جملہ عام ہے کہ امریکہ کے بغیر بھی یورپ کی دفاعی خودمختاری ممکن بنائی جا سکتی ہے۔ دوسری طرف برطانیہ کیلئے یہ سیاسی خودکشی سے واپسی کا راستہ ہے۔ اگر لیبر حکومت نے نوجوان اورتعلیم و تربیت‘ کھیلوں اور تربیت کے ایکسچینج پروگرام (Erasmus) کا راستہ کھول دیا تو 2029ء کے الیکشن تک یورپی یونین میں واپسی کا ایشو برطانیہ کی سب سے بڑی سیاسی بحث بن جائے گا۔ اس کا مطلب سکاٹ لینڈ کی آزادی کی تحریک کا کمزور ہونا بھی ہے کیونکہ سکاٹ لینڈ یورپی یونین کا حصہ رہنا چاہتا تھا۔ علاوہ ازیں نایاب معدنیات اور توانائی کی نئی سپلائی چین سب سے اہم اور فوری اثر ہے۔ آج دنیا کی معیشت دو چیزوں پر چلتی ہے: بیٹری اور چپ۔ دونوں کی تیاری کیلئے 34 نایاب معدنیات چاہئیں۔ چین اس وقت ان معدنیات کی 70 فیصد پراسیسنگ پر قابض ہے۔ امریکہ نے کینیڈا پر ٹیرف لگا کر اپنے لیے یہ راستہ بند کر دیا ہے۔ کینیڈا کے پاس یہ تمام 34 معدنیات موجود ہیں۔ دنیا کا تیسرا بڑا یورینیم‘ دوسرا بڑا نکل‘ چوتھا بڑا کوبالٹ ذخیرہ کینیڈا کے پاس ہیں۔ مارک کارنی نے اب یورپ کو پیشکش کی ہے کہ کینیڈا مارکیٹ اور ریسرچ کے عوض یورپ کو خام مال دینے کیلئے تیار ہے۔وزیراعظم کارنی کے خطاب میں ایک چھوٹا سا جملہ تھا جسے میڈیا نے نظر انداز کر دیا۔ وہ یہ کہ ہمارے نوجوان ایک دوسرے کے ہاں رہ سکیں‘ کام کر سکیں‘ پڑھ سکیں۔ دراصل یہ یوتھ ایکسپیرینس سکیم اور ایراسمس کی واپسی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اگلے پانچ سال میں ایک لاکھ کینیڈین نوجوان یورپ میں اور ایک لاکھ یورپی نوجوان کینیڈا میں کام کریں گے۔ برطانوی نوجوان جو بریگزٹ کے بعد یورپ میں کام نہیں کر سکتے تھے‘ اب دوبارہ برلن اور پیرس جا سکیں گے۔ لندن کے ہسپتالوں اور تعمیرات کے شعبے میں جو ایک لاکھ 40 ہزار یورپی ورکرز کم ہوئے ہیں اور جن کا ذکر لندن کے میئر صادق خان نے بھی کیا ہے‘ وہ واپس آ سکیں گے۔ اسے برین ڈرین نہیں بلکہ مغرب کی نئی برین سرکولیشن کہا جا سکتا ہے۔سٹراسبرگ میں یورپی پارلیمنٹ میں کینیڈین وزیراعظم نے جو تقریر کی‘ اس نے دوسری عالمی جنگ کے بعد کے عالمی نظام کی سب سے بڑی دراڑ کو دنیا کے سامنے کھول دیا ہے۔ یہ تقریر صرف ایک تقریر نہیں تھی‘ یہ ایک اعلان تھا کہ مغرب اب ایک نہیں رہا۔ اس سے قبل 16 ستمبر کو یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لین نے اپنے سالانہ سٹیٹ آف دی یونین خطاب میں اعلان کیا کہ یورپ کینیڈا کے ساتھ تعلقات کو اعلیٰ ترین سطح پر لے جانا چاہتا ہے اور وہ کینیڈا کو یورپی یونین کا پہلا ایسوسی ایٹ ممبر بنانے کا دروازہ کھولنا چاہتی ہیں۔ یہ لفظ یورپی تاریخ میں پہلی بار استعمال ہوا۔ یورپی معاہدوں میں &#39;&#39;ایسوسی ایٹ ممبر‘‘ جیسی کوئی چیز سرے سے موجود نہیں تھی۔ کسی زمانے میں جرمنی نے یہ اصطلاح یوکرین کیلئے سوچی تھی مگر کبھی نافذ نہ ہو سکی۔ اگلے ہی دن 17ستمبر کو کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی پارلیمنٹ میں داخل ہوئے تو ان کا ایسا شاندار استقبال ہوا کہ جیسا یورپ نے کبھی کسی غیر یورپی لیڈر کا نہیں کیا تھا۔ایک رکن تو کینیڈا کی ہاکی جرسی پہن کر آیا۔صدر ٹرمپ کی کینیڈا کو دھمکیاں اسے سٹراسبرگ لے گئیں۔ اس طرح ٹرمپ نے اپنے ہی پڑوسی اور ایک بڑے حلیف کو یورپ کی گود میں دھکیل دیا۔ ادھر لندن میں اب ایک نیا سیاسی زلزلہ برپا ہے۔ بریگزٹ کو ریورس گیئر لگ چکا ہے۔ برطانیہ نے 2016ء میں 51.9 فیصد ووٹوں سے یورپی یونین کو چھوڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔ مگر گزشتہ دس سال میں صورتحال الٹ چکی ہے۔ پارلیمنٹ کی ویب سائٹ پر یورپی یونین میں دوبارہ شمولیت کیلئے ایک درخواست دائر ہوئی‘ جس پر ایک لاکھ سے زائد دستخط ہو چکے ہیں۔ برطانوی قانون کے مطابق ایک لاکھ سے زیادہ دستخط ہو جانے پر پارلیمنٹ کو اس ایشو پر بحث کرنا پڑتی ہے۔ اب 12 اکتوبر کو ہاؤس آف کامنز میں باضابطہ طور پر بریگزٹ کو واپس لینے پر بحث ہونے جا رہی ہے۔ یہ دس سال میں پہلی بار ہوگا کہ پارلیمنٹ میں کھلے عام &#39;&#39;ری جوائن‘‘ کا لفظ گونجے گا۔ یہ صرف ایک درخواست نہیں‘ ایک تازہ سروے کے مطابق 61 فیصد برطانوی عوام اب یورپی یونین میں واپس جانا چاہتے ہیں‘ جو آج تک کی بلند ترین شرح ہے۔ لندن کے مئیر صادق خان نے ایک اطالوی اخبار کو انٹرویو میں پانچ نکاتی منصوبہ پیش کیا ہے۔ لیبر پارٹی اس ایشو کو شاید اگلے الیکشن کے منشور میں شامل کرے۔ وزیراعظم اینڈی برنہم‘ جو جولائی میں وزیراعظم بنے‘ ان سے اقوام متحدہ جاتے ہوئے جب صحافیوں نے پوچھا کہ کیا آپ اگلے الیکشن منشور میں یورپی یونین میں واپسی کا وعدہ شامل کریں گے تو انکار کے بجائے ان کا کہنا تھا کہ یہ سوال کسی اور دن کیلئے ہے۔ برطانوی وزیر برائے یورپی امور نے بھی ہاؤس آف کامنز میں یہ یقین دہانی کرانے سے انکار کر دیا کہ برطانیہ دوبارہ یورپی یونین میں شامل نہیں ہو گا۔ وجہ صاف ہے‘ برطانوی معیشت چیخ رہی ہے۔ برطانیہ کا بجٹ نگران ادارہ او بی آر کہتا ہے کہ بریگزٹ کے سبب برطانیہ کی طویل مدتی پیداوار 4فیصد کم رہے گی اور درآمدات و برآمدات 15 فیصد کم ہو چکی ہیں۔یورپ بدل رہا ہے۔ اب یہ 1990ء والا یورپ نہیں رہا جہاں امریکہ محافظ تھا اور یورپ اس کا بازار۔ اب یہ ایک نیا یورپ ہے جو مجبوری میں خود مختار ہو رہا ہے۔ یہ نیا اتحاد نظریاتی ہے‘ تجارتی نہیں۔ وزیراعظم کارنی نے اپنی تقریر میں بار بار کہا کہ ہم قانون کی حکمرانی‘ انسانی وقار اور جمہوریت کے دفاع کیلئے اکٹھے ہو رہے ہیں۔ یہ امریکہ اور چین‘ دونوں کیلئے پیغام ہے کہ دنیا میں ایک تیسرا فریق بھی ہے‘ یہ بدلتا ہوا یورپ ہے۔ خودمختار ہوتا ہوا یورپ۔ اب یورپ امریکہ کے سائے سے نکل کر اپنی کہانی خود لکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_34710710.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کرسیِ شفا(آصف عفان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/asif-afan-/2026-09-25/52728/32848250</link><pubDate>Fri, 25 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/asif-afan-/2026-09-25/52728/32848250</guid><description>میدان لگ چکا ہے‘ کہیں للکاروں کی بازگشت ہے تو کہیں انتباہی بیان جاری ہیں‘ کھیل تو وہی پرانا ہے لیکن کھلاڑیوں کی پوزیشن تبدیل ہے۔ اسی طرح شکار اور شکاری بھی بدل چکے ہیں۔ جو کبھی زندان میں تھے‘ اب ایوانوں میں براجمان ہیں اور ایوانوں میں موجیں مارنے والے زندانوں کے باسی بن چکے ہیں۔ ماضی کی غلطیوں سمیت سبھی بدعتیں کئی اضافوں کے ساتھ دہرائی جا رہی ہیں۔ تحریک انصاف اپنے دورِ حکومت میں اصل کام چھوڑ کر انتقام کی جس بھٹی کو بغض اور عناد کے ایندھن سے بھڑکاتی رہی آج خود بھی انہی شعلوں کی لپیٹ میں ہے۔ البتہ سسٹم میں نقب لگا کر اَسیری کی آڑ میں لمبا ریلیف لینے والے‘ تحریک انصاف کے اسیروں کی عمر اور بیماری کا لحاظ کرنے سے نہ صرف انکاری ہیں بلکہ لڑکھڑاتی ٹانگوں اور کانپتے ہاتھوں کے ساتھ وہیل چیئرز پر عدالتوں میں پیشیوں پر آنے والے سبھی اسیر زندان سے ایوان میں آتے ہی بھلے چنگے ہو کر ایسے بھاگے پھرتے ہیں جیسے کرسی میں شفا ہو۔حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے تحریک انصاف کو واضح اور دوٹوک پیغام دے چکے ہیں کہ قانون ہاتھ میں لینے والے ہوں یا عوام کے معمولاتِ زندگی میں خلل ڈالنے والے‘ سبھی کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔ دوسری طرف احتجاجی کال سے کئی روز قبل ہی شہرِ اقتدار کے داخلی راستوں کو سبھی خاص و عام کے لیے بند کر کے اہم شاہراہوں پر سینکڑوں کنٹینرز اور رکاوٹیں کھڑی کرنے کے اقدامات پر قانون اور انسانی حقوق کے ادارے خاموش ہیں۔ یہ کہنا بھی ہرگز بے جا نہ ہو گا کہ عملی طور پر حکومت وہ سبھی کچھ کیے چلی جا رہی ہے جس کا اندیشہ تحریک انصاف سے لاحق ہے‘ یعنی تحریک انصاف احتجاجی کال دے کر اسلام آباد بند کر دے گی اور شہر کا کاروبارِ زندگی معطل ہو کر رہ جائے گا۔ پیش بندی کے نام پر سبھی حکومتی اقدامات عین وہی منظر پیش کرتے نظر آرہے ہیں جو مظاہرین تو شاید کر بھی نہ پاتے۔ ایسے میں تحریک انصاف کو تو شکرگزار ہونا چاہیے کہ احتجاجی کال سے جڑے آدھے سے کہیں زیادہ کام جو ڈنڈے‘ لاٹھیاں اور آنسوگیس کے شیل استعمال کر بھی ان سے نہ ہو پاتے وہ حکومت نے خود ہی کر ڈالے ہیں۔ شہر بند کر ڈالا‘ راستے مسدود کر ڈالے‘ تعلیمی ادارے بند کر کے کاروبارِ زندگی بھی معطل کر ڈالا۔ اب رہی بات تقریروں‘ بیانوں اور اعلامیوں کی‘ اس کیلئے تو ٹیکنالوجی سے بھی استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ جو پیغام ٹیکنالوجی کے ذریعے گھر گھر پہنچایا جا سکتا ہے اس کیلئے عوام کے جان و مال کو خطرے میں ڈالنا کہاں کی عقلمندی ہے۔ جب حکومت انہیں غیرمعمولی طور پر سنجیدہ لے رہی ہے تو پھر خود کو ہلکے میں لینا کفرانِ نعمت ہے‘ اس مرتبہ احتجاجی کال کو &#39;&#39;سمارٹ کال‘‘ کا نام دے کر حکومتی وسائل سے بصد شکریہ اہداف دریافت کریں۔ سرکار خود تعاون پر آمادہ ہو تو مارچ کی کیا ضرورت ہے؟ نو مئی سمیت دیگر احتجاجی کالز کی جمع تفریق کریں تو حاصل ناقابلِ تلافی خسارہ ہی نکلتا ہے۔ مزید خساروں کے بجائے حکومتی تعاون کی قدر کرتے ہوئے سلیقے اور مہارت سے لگائے گئے ڈھیروں کنٹینرز کو ویلیو ایڈیشن سمجھیں‘ ملک بھر میں جہازی سائز سکرینوں پر پشاور سمیت کسی محفوظ مقام سے وہ سبھی کچھ دکھایا اور سنایا جا سکتا ہے جو احتجاجی کال کے دوران ہرگز ممکن نہیں۔ ایسے میں تحریک انصاف کارکنوں کو ایک بار پھر اپنے مفادات کا ایندھن کیوں بنانے جا رہی ہے۔ حکومتی وسائل اور نفری مخصوص مقامات پر اکٹھی کی جا رہی ہے‘ انہیں اپنے انتظار کی سولی پہ لٹکائے رکھنا ہی بہترین آئینہ ہے۔ میدان سڑکوں‘ چوراہوں اور گلیوں کا نام نہیں ہوتا اصل میدان عوام کا ذہن اور توجہ ہے جو کم و بیش فتح ہو چکے ہیں۔ قتل و غارت‘ مارکٹائی کے بعد لاشوں اور زخمیوں پر سیاست اور پوائنٹ سکورنگ کی بدعت کے بینی فشری سبھی نیتا کارکن فروش ہی ثابت ہوئے ہیں۔ ماضی قریب و بعید کے سبھی واقعات کے نقطے ملائیں تو بننے والی اشکال میں سبھی کے چہرے واضح اور بخوبی پہنچانے جا سکتے ہیں۔ کس کی قربانیوں کا تاوان کس نے وصول کیا؟ دورِ ایوبی کے خلاف تحریک ہو یا بھٹو کے خلاف پاکستان قومی اتحاد‘ ضیا آمریت میں ایم آر ڈی کی جدوجہد ہو یا نواز شریف تحریک نجات اور بینظیر کا لانگ مارچ‘ مشرف دور میں وکلا تحریک ہو یا سانحہ کارساز اور لیاقت باغ‘ تحریک انصاف کے طویل دھرنے ہوں یا سانحہ ماڈل ٹاؤن‘ مجھے کیوں نکالا مارچ اور ریلیاں ہوں یا تحریک انصاف کی حالیہ چار سالہ مزاحمت اور جدوجہد کا جائزہ لیں تو منزل انہیںملی جو شریکِ سفر نہ تھے اور جو شریکِ سفر رہے انہیں منزل سے پہلے ہی بھٹکا دیا گیا یا لڑھکا دیا گیا۔ اکثر کیسز میں تو سنگِ میل آنکھ کا دھوکا بنا کر نشانِ منزل بھی بدلا جاتا رہا۔راج نیتی کی اس جادو نگری میں آج بھی ایسے کئی چہرے اور کردار ماضی کی بدعتوں کا تسلسل اور توسیع بنے نت نئے کرتب دکھا رہے ہیں۔ ان بازی گروں کے گرد کہیں تماش بین اکٹھے ہیں تو کہیں شائقین‘ اپنی موجودگی کا احساس دلانے کیلئے کوئی تالیاں بجا بجا کر نہال ہے تو کوئی بغلیں بجا بجا کر بے حال۔ نامعلوم اہلیت اور صفر کارکردگی کا یہ کوٹہ ہر دور میں کوٹ کوٹ کر پورا کیا جاتا رہا ہے۔ ماضی کے سبھی ادوار سے لے کر لمحۂ موجود تک حکمران اپنے سر چڑھے مصاحبین کے علاوہ ان سبھی کرداروں کا بوجھ بھی بخوشی اٹھاتے رہے ہیں جو بوجوہ اور بہ امر مجبوری ان پر لادے جاتے رہے ہیں۔ میرٹ اور گورننس کے پرچارک عمران خان کی کابینہ میں دو درجن سے زائد غیر منتخب ارکان امورِ مملکت میں پیش پیش رہے۔ حکمرانی کا محور انتقام‘ بغض‘ عناد کو اس طرح بنا ڈالا کہ صبح شام زبانوں سے شعلے اگلتے دکھائی دیتے تھے۔ مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی کو دورِ زوال میں زندہ رکھنے سے لے کر دوبارہ اقتدار میں لانے کے سبھی اسباب و جواز کا کریڈٹ بھی بجا طور پر تحریک انصاف کی سابقہ حکومت کو جاتا ہے۔ وفاقی حکومت سے نکالے جانے کے بعد پنجاب اور کے پی کی حکومتیں عمران خان کیلئے بہت بڑی ڈھال اور طاقت کی حیثیت رکھتی تھیں لیکن موصوف نے بھری تھالی کو ایسی لات ماری کہ آج بھی اس کی قیمت چکا رہے ہیں۔ تعجب ہے! حکومتِ وقت ماضی کے ادوار کے نشیب و فراز سے لے کر تغیر و تبدل کے سبھی واقعات اور زندہ مناظر سے بدستور نظریں چرا رہی ہے۔ نو مرتبہ وزارتِ اعلیٰ اور چھ مرتبہ وزارتِ عظمیٰ جیسے عالمی ریکارڈ کی حامل جماعت سے بہتر کون جانتا ہے کہ ایوان سے زندان اور زندان سے ایوان کا سفر چٹکیوں میں طے ہوتا ہے‘ یعنی سوتے ایوان میں ہیں تو اٹھتے زندان میں ہیں۔ یہ سفر اس جماعت نے کتنی بار جھیلا ہے‘ قید و بند کی صعوبتوں سے لے کر جلاوطنی اور پیاروں کے جنازوں کو کندھا دینے سے بھی ترسا دیے گئے۔ ان سبھی تلخ تجربات کے باوجود یہ مان اور گمان ناقابلِ فہم ہے۔ راج نیتی کا بے رحم کھیل پل بھر میں نصیب اس طرح بدل ڈالتا ہے کہ صبح کے تخت نشیں شام کو مجرم بھی ٹھہرا دیے جاتے ہیں۔ یاد رہے! عمران خان کی غلطیوں کا بینی فشری ہونا خوش قسمتی تو ہو سکتا ہے لیکن ان غلطیوں کو دہرا کر ہمیشہ بینی فشری بنے رہنا ہرگز ممکن نہیں۔ خیال رہے! ریلیف اور انصاف سے گریز اور انکار کہیں تقویت کا باعث تو نہیں بن رہا‘ ایسے میں بزرگوار ظفر اقبال کا شعر پیش خدمت ہے: خود کو ترتیب دیا آخرِ کار ازسرِ نوزندگی میں تیرا انکار بہت کام آیا</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_65560900.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>عرب، وَیل اور شَر(امیر حمزہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ameer-hamza/2026-09-25/52729/69491631</link><pubDate>Fri, 25 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ameer-hamza/2026-09-25/52729/69491631</guid><description>ڈاکٹر مصطفی کمال محمود‘ جو امراضِ سینہ کے ڈاکٹر تھے۔ سکالر‘ ریسرچر‘ محقق اور تحقیقی کتب کے مصنف بھی تھے‘ 88 سال کی عمر پا کر 2009ء میں مصر میں فوت ہوئے۔ عربی زبان میں ان کا ایک لیکچر سنا تو ان کا کہنا تھاکہ تمام انسانیت کے ماں باپ کی زبان عربی ہے۔ انہوں نے دنیا کی بڑی زبانوں کی مثالیں دیں کہ وہ کب وجود میں آئیں اور ان کے ماخذ الفاظ عربی زبان سے لیے گئے ہیں۔ مثال کے طور پر انگریزی میں شوگر ہے تو یہ لفظ عربی کے لفظ &#39;&#39;سُکر‘‘ سے لیا گیا ہے۔لوگو! زبانیں بنتی رہیں اور مٹتی رہیں۔ آج سے کوئی بارہ تیرہ سو سال قبل سارے یورپ میں لاطینی یا رومن زبان پھیلی ہوئی تھی۔ ان کی مٹی سے اطالوی‘ ہسپانوی اور فرانسیسی وغیرہ وجود میں آئیں۔ عربی زبان آج بھی قائم ہے اور قرآن کریم کی زبان قیامت تک اس زمین پر قائم رہے گی۔ جی ہاں! سارا جہاں عربی ہے۔ اس بڑے عالمی دائرے کو اگر پھیلایا جائے تو دنیا بھر کا ہر وہ شخص عربی ہے جو عربی بولتا ہے۔ اس دائرے کو مزید پھیلائیں تو ہر وہ شخص عربی ہے جو قرآن مجید کی تلاوت کرتا ہے۔ اس دائرے کے رقبے میں آ جائیں تو سوڈان‘ مصر‘ لیبیا‘ تیونس‘ الجزائر‘ مراکش اور موریطانیہ سمیت براعظم افریقہ کے کئی ممالک عربی زبان بولنے والے ہیں۔ عرب دنیا کی طرف دیکھیں تو یمن‘ عمان‘ متحدہ عرب امارات‘ بحرین‘ قطر‘ کویت‘ عراق‘ شام‘ لبنان‘ اردن اور فلسطین عرب ممالک ہیں۔ آخر پر اب اس دیس کی بات کہ جس کا نام سعودی عرب ہے اور اس سرزمین میں حرمین شریفین کا وہ مقدس اور مطہر قطعہ ارضی ہے جہاں حضور ختم المرسلینﷺ تشریف لائے اور اسی سرزمین سے اپنے اللہ کے ہاں تشریف لے گئے۔ ہمارے پڑوسی ملک ایران کے صوبے خوزستان کی زبان بھی عربی ہے اور ترکیہ کے شہر انطاکیہ کی زبان بھی عربی ہے۔ آئیے اب اللہ کے رسولﷺ کا ایک فرمان‘ جو عربوں کے بارے میں ہے‘ ملاحظہ کرتے ہیں: &#39;&#39;ام المومنین حصرت زینب بنت جحشؓ بتاتی ہیں کہ اللہ کے رسولﷺ نیند سے بیدار ہوئے تو آپﷺ کا چہرہ مبارک سرخ تھا۔ آپﷺ نے &#39;&#39;لا الہ الا اللہ‘‘ پڑھا اور فرمایا: عربوں کیلئے &#39;&#39;وَیل‘‘ ہے اس شر کی وجہ سے جو قریب آ گیا ہے۔ آج یاجوج و ماجوج کی دیوار میں اتنے دائرے کے برابر شگاف پڑ گیا ہے۔ (بخاری و مسلم)۔ حضرت زینب بنت جحشؓ 5ھ میں اُم المومنین کے شرف سے مشرف ہوئیں اور حضرت عمر فاروقؓ کے دورِ خلافت کے آخری زمانے میں اپنے اللہ کے پاس چلی گئیں۔ معلوم ہوتا ہے ام المومنین نے فتح مکہ کے قریب حضورﷺ کا مذکورہ فرمان روایت فرمایا ہے۔ حضرت عمر فاروقؓ کے بعد اسلامی تاریخ اپنی تابناکی کے ساتھ ساتھ فتنوں یعنی آزمائشوں سے بھی بھری پڑی ہے۔ دونوں باتوں میں اہم ترین کردار عربوں کا ہے‘ اور یہ گزشتہ چودہ سو سالوں کو گھیرے میں لیے ہوئے ہے۔ یہ آج بھی جاری ہے اور یاجوج ماجوج کے خروج تک جاری رہے گا۔ یاد رہے! کسی ایک ملک یا چند ملکوں کو نشانہ بنا کر مذکورہ حدیث کا انطباق کرنا نہ صرف غلط بلکہ زیادتی ہے۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ ایسا کرنا فرقہ واریت کو ہوا دینا اور فتنوں کی آبیاری کرنا ہے۔ ہمیں عرب دنیا کے سارے دائروں کو سامنے رکھ کر خیر خواہانہ اور اصلاحی بات کرنا ہو گی۔ یاد رکھیں! جوں جوں فتنے بڑھیں گے‘ یاجوج ماجوج کی دیوار کا دائرہ بھی وسیع ہوتا چلا جائے گا۔مذکورہ حدیث میں دوسرا لفظ &#39;&#39;وَیل‘‘ ہے اس کا معنی ہلاکت و بربادی ہے۔ قرآن مجیدکی سورۃ الھمزہ‘‘ کا آغاز بھی وَیل‘‘ کے لفظ سے ہوتا ہے۔ فرمایا: ہلاکت و بربادی ہے ہر اس شخص کیلئے جو بہت زیادہ طعنے دینے والا ہے‘ بہت زیادہ عیب نکالنے والا (نقائص ڈھونڈنے‘ الزامات کی بوچھاڑ کرنے والا) ہے۔ وَیل کا لفظ صحیح مسلم &#39;&#39;کتاب الایمان‘‘ میں اس طرح آیا ہے: اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا &#39;&#39;جب کوئی شخص قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے سجدے کے مقام پر آتا ہے اور (اللہ کے آگے) سجدے میں گر جاتا ہے تو شیطان یہ دیکھتا ہے تو دور ہٹ کر رونا شروع کردیتا ہے اور &#39;&#39;یا وَیلۃ‘‘ (ہائے افسوس) کہہ کر کہتا ہے: آدم کے بیٹے کو سجدے کا حکم ہوا وہ سجدے کرنے لگ گیا اور جنت کا مالک بن گیا۔ مجھے سجدے کا حکم ہوا تو میں نے انکار کر دیا اور جہنم میرا ٹھکانہ بن گیا۔ اللہ اللہ! حرمین کی سرزمین دنیا بھر کے اہلِ اسلام کے سجدوں سے معمور اور شاد آباد ہے۔ حکمت و دانش کے حامل اہلِ علم کا کام ہے کہ وہ غلطیوں اور کوتاہیوں کی ناصحانہ انداز سے نشاندہی کریں اور احسن انداز سے دعوت دیں نہ کہ طعنہ زنی اور عیب چینی کریں۔ پھر مزید ظلم یہ کہ فتوے لگائیں۔ اس سے بڑا ظلم یہ کہ ایمان و اسلام کے دائرے کو اپنے کنٹرول میں لے لیں اور جس کو چاہیں اندر کر لیں جس کو چاہیں باہر نکال دیں۔ اللہ کی پناہ ایسے عمل سے جو فتنہ پرداز بن جائے۔آج سے سو‘ دو سو سال قبل مسلمانوں کی حالت یہ تھی کہ ان کی سب سے بڑی حکمرانی &#39;&#39;خلافت عثمانیہ‘‘ تھی۔ دوسری بڑی بادشاہت ہندوستان میں &#39;&#39;مغلیہ سلطنت‘‘ تھی۔ تیسری حکمرانی ایران میں قاجار تھی۔ تینوں یکے بعد دیگرے یورپی طاقتوں کے ہاتھوں بے بس ہو گئیں۔ جب یہ گرتی چلی گئیں تو جنگ عظیم اول اور دوم میں یہی طاقتیں آپس میں لڑیں۔ وہ علاقے جو مسلمان تھے‘ مگر یورپی طاقتوں کے ہاتھوں میں تھے وہاں کے مجبور مسلمان یورپی طاقتوں کے فوجی بن کر ان کے مخالفوں سے لڑتے رہے۔ دوسری عالمی جنگ 1945ء میں ختم ہوئی تو 1947ء میں پاکستان معرضِ وجود میں آیا۔ 1975ء تک مسلم اور دیگر ممالک آزاد ہوتے رہے۔ یہ ممالک پورے طور پر آزاد نہ تھے کیونکہ ان ملکوں میں حکمرانی کا نظام کھڑا کرنا کوئی آسان کام نہ تھا۔ مزید برآں! یہ ممالک اب ایک نئے بین الاقوامی نظام کا حصہ تھے۔ پرانے طاقتور آقائوں کے ساتھ چلنا اور اپنے ممالک کے مفاد میں ممکن حد تک کمپرومائز کرنا‘ یہ سب مجبوریاں تھیں۔ یہ مجبوریاں صرف مسلمانوں کی نہ تھیں جاپان‘ کوریا‘ ہانگ کانگ‘ تائیوان‘ جنوبی امریکہ کے ممالک اور افریقی ممالک بھی ان مجبوریوں میں تاحال شامل ہیں۔ صورتحال یہ ہو گئی کہ کہیں کہیں شاید حکمران ان مجبوریوں میں کچھ زیادہ ہی آگے چلے گئے مگر تیز طبیعت اپوزیشن رہنما حکمرانوں پہ بے جا تنقید پر اُتر آئے۔ دانشور کچھ زیادہ ہی طعن پر اتر آئے۔ بعض مذہبی لوگ بھی حدیں پار کرنے لگ گئے۔ اس صورتحال نے بعض ممالک کو اندرونی طور پر خلفشار کا شکار کر دیا۔امام جمال الدینؒ اپنی شہرہ آفاق عربی ڈکشنری &#39;&#39;لسان العرب‘‘ میں &#39;&#39;وَیل‘‘ کا معنی آغاز میں ہی &#39;&#39;حُلولُ الشر‘‘ لائے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ شر یعنی فساد کسی شے میں داخل ہو کر اس کا حصہ بن جائے۔ سادہ لفظوں میں عرض کروں تو پانی کے گلاس میں سفید زہر ملایا جائے تو دیکھنے میں وہ پانی ہو گا مگر اس کے اثرات زہریلے بن جائیں گے۔ موجودہ حالات جو جنگوں کے حالات ہیں‘ ان حالات میں پاکستان وہ ملک ہے جس نے خلیجی خطے کے ممالک کے درمیان صلح و صفائی کا لازوال کردار ادا کیا۔ عالمی سطح پر بھی کردار ادا کیا۔ اب آگے بڑھ کر مکہ دفاعی معاہدہ بھی ہو گیا جس میں قوت کے ساتھ ساتھ باقی علاقائی اور دیگر مسلم ممالک نے بھی شامل ہونا ہے مگر یمن کے دو متحارب فریقوں میں سے ایک نے سعودی عرب پر حملے تیز کر دیے۔ سعودی عرب نے پہلے ہی بڑے حوصلے سے کام لیا ہے۔ جناب محمد بن سلمان نے شدید عالمی دبائو کے باوجود ابراہم اکارڈ کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہ کیا۔ مگر سعودی عرب پر دونوں اطراف سے سمندروں کے دروازے بند کرنے کے بعد تیل کی پائپ لائن بھی تین جگہوں سے اڑا دی گئی ہے۔ پینے کا پانی بھی دھمکیوں کی زد میں آنے لگ گیا ہے۔ افسوس! پاکستان کو صلح و صفائی کا موقع بھی نہ دیا گیا۔ &#39;&#39;وَیل‘‘ کا معنی تعجب اور حیرت بھی ہے۔ مندرجہ بالا صورتحال پر ہر کلمہ گو حیرت و تعجب میں ہے۔ وہ مسلمانوں کے مابین لڑائی نہیں‘ اتحاد چاہتا ہے۔ اے اللہ کریم! تسبیح کے دانوں کی طرح مسلم ممالک کو &#39;میثاق مکہ‘ کی مٹھی میں کر دے‘ آمین!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_68712266.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>