<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>کپیسٹی پیمنٹس کا ناقابلِ برداشت بوجھ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-30/11407</link><pubDate>Thu, 30 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-30/11407</guid><description>پاکستان میں توانائی کا شعبہ ایک ایسے پیچیدہ بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے جس نے ملک کی صنعتی ترقی‘ تجارتی مسابقت اور عام آدمی کے سکون کو تہ وبالا کر کے رکھ دیا ہے۔ اس مسئلے کا سب سے ہولناک مظہر کپیسٹی پیمنٹس یا پیداواری صلاحیت کے عوض کی جانے والی وہ ادائیگیاں ہیں جو بجلی کے کارخانوں کو‘ انکی پیداوار سے ہٹ کر محض پیداواری استعداد کی بنیاد پر کی جاتی ہیں۔ یہ پالیسی‘ جو ماضی کی غلطیوں اور دور رس مضمرات سے عدم آگاہی کا شاخسانہ ہے‘ آج ملکی معیشت کی جڑوں میں بیٹھ چکی ہے اور ریاست کے مالیاتی ڈھانچے کو اندر سے کھوکھلا کر رہی ہے۔ حالیہ اعداد و شمار اس المیے کی ہولناکی کو واضح کرنے کیلئے کافی ہیں جن کے مطابق حکومت نے پانچ سالوں کے دوران (مالی سال 2022ء سے مالی سال 2026ء کے مارچ تک) مجموعی طور پر بجلی کی پیداواری کمپنیوں کو 13ہزار 397 ارب روپے سے زائد کی ادائیگیاں کی ہیں جن میں صرف 6121ارب روپے رقم بجلی کی اصل قیمت تھی جبکہ 7275 ارب روپے سے زائد رقم کپیسٹی پیمنٹس کی مد میں ادا کی گئی۔ یعنی تقریباً 26 ارب ڈالر بجلی گھروں کو اُس بجلی کی مد میں ادا کیے گئے جو انہوں نے پیدا ہی نہیں کی۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ کپیسٹی پیمنٹ کا سالانہ حجم اب پانچ ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔ یہ وہ رقم ہے جو تعلیم‘ صحت اور انفراسٹرکچر سمیت دیگر ناگزیر منصوبوں پر خرچ ہونی چاہیے تھی مگر توانائی کے ان معاہدوں کی نذر ہو گئی جن میں ملک و قوم کے مفادات کو یکسر نظر انداز کیا گیا۔

یہیں تک بس نہیں! اب بجلی کی اصل پیداواری قیمت سے کہیں زیادہ اس کے کپیسٹی اخراجات ہو چکے ہیں۔ اکنامک سروے  2026 ء کے مطابق ملک میں بجلی کی طلب 22ہزار میگا واٹ کے لگ بھگ جبکہ بجلی کے انسٹالڈ منصوبوں کی کپیسٹی 42ہزار میگاواٹ سے زائد ہے۔ یعنی صارفین اُس 20 ہزار میگاواٹ کا بل بھی دیتے جو استعمال نہیں کرتے۔ ستمبر 2024ء میں وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے توانائی نے تسلیم کیا تھا کہ بجلی صارفین تقریباً 19روپے فی یونٹ کپیسٹی پیمنٹس کی مد میں ادا کر رہے۔ اس مہنگی بجلی نے صارفین پر ہی اضافی بوجھ نہیں لادا بلکہ صنعتوں کو بھی ٹھپ کر کے رکھ دیا ہے۔ آج مہنگی بجلی پاکستان کے صنعتی و پیداواری شعبے کی جڑوں میں بیٹھ چکی ہے۔ عالمی مارکیٹ میں پاکستانی مصنوعات محض اسلئے مسابقت سے باہر ہو رہی ہیں کہ یہاں بجلی کی قیمت خطے کے دوسرے ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ جب صنعتوں کو مسلسل ناقابلِ برداشت بجلی کے بل ادا کرنا پڑیں تو پیداواری لاگت آسمان کو چھونے لگتی اور کارخانے بند ہونے لگتے ہیں جس سے بیروزگاری کا ایسا طوفان امڈتا ہے۔ کوئی بھی ملک اس وقت تک ترقی کی منزلیں طے نہیں کر سکتا جب تک اسکی صنعتوں کو سستی اور بلاتعطل توانائی فراہم نہ کی جائے۔
پاکستان میں یہ مسئلہ اب معاشی بقا کا بھی مسئلہ بن چکا ہے۔ حیران کن امر یہ ہے کہ 2019ء سے اس گمبھیر مسئلے کو حل کرنے کیلئے جتن کیے جا رہے ہیں‘ پہلے ڈالر ادائیگیوں کو ملکی کرنسی میں تبدیل اور ایک ریٹ پر فکس کیا گیا‘ پھر مختلف کمیٹیاں اور ٹاسک فورسز قائم کی گئیں‘ نجی بجلی گھروں کے ساتھ معاہدوں پر نظر ثانی کی گئی اور قوم کو سالانہ سینکڑوں ارب روپے کی بچت کی نوید بھی سنائی گئی مگر حالیہ اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے کہ خرابی کا پرنالہ وہیں کا وہیں ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ حکومت تمام معاہدوں کا ازسرنو باریک بینی سے جائزہ لے اور کپیسٹی پیمنٹس کے جھنجھٹ سے ہمیشہ کیلئے نجات دلائے۔ ملک کے روشن معاشی مستقبل کیلئے یہ ناگزیر ہے کہ تمام تر دباؤ سے بالاتر ہو کر ایسا طویل مدتی توانائی پلان بنایا جائے جو عوام اور صنعت دوست ہو۔ جب تک کپیسٹی پیمنٹس کے گمبھیر مسئلے کا پائیدار حل نہیں نکالا جاتا تب تک ملک میں بجلی سستی ہونے کا کوئی امکان نہیں اور ہر سال ہزاروں ارب اسی طرح اندھے کنویں میں گرتے رہیں گے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>این ڈی ایم اے کا انتباہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-30/11406</link><pubDate>Thu, 30 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-30/11406</guid><description>این ڈی ایم اے نے رواں ہفتے سے پانچ اگست تک‘ مون سون کے نئے سلسلے کے دوران ملک کے مختلف علاقوں میں فلیش فلڈ‘ لینڈ سلائیڈنگ اور شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ کا انتباہ جاری کیا ہے۔ اگرچہ متعلقہ اداروں کی جانب سے بروقت وارننگ ایک مثبت اقدام ہے تاہم اصل ضرورت عملی اقدامات کی ہے۔پنجاب میں پہلے ہی ضلع شیخوپورہ‘ نارووال اور سیالکوٹ میں برساتی نالوں کے بپھرنے سے سینکڑوں دیہات زیرِ آب آ چکے اور ہزاروں ایکڑ فصلیں متاثر ہوئی ہیں۔ یہ صورتحال ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کو آشکار کرتی ہے کہ تقریباً ہر سال سیلاب سے متاثر ہونے کے باوجود ہمارے ہاں آج بھی آفات سے قبل تیاری‘ خطرات کی روک تھام اور بنیادی انفراسٹرکچر کی مضبوطی کو وہ اہمیت نہیں دی جاتی جس کی اشد ضرورت ہے۔

اگر برساتی نالوں کی بروقت نگرانی کی جاتی‘ انکے کمزور پشتوں کی مرمت کی جاتی اور پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ بننے والی تعمیرات کو پہلے ہی ہٹا دیا جاتا تو موجودہ نقصان کی شدت یقینا کم کی جا سکتی تھی۔ این ڈی ایم اے کے تازہ انتباہ کے پیشِ نظر صوبائی حکومتوں کو نہ صرف برساتی نالوں کے حفاظتی بند مضبوط کرنے کی طرف توجہ دینی چاہیے بلکہ شہری علاقوں کو اربن فلڈنگ سے بچانے کیلئے بھی ڈرینج سسٹم اور سیوریج لائنوں کی ہنگامی صفائی‘ نکاسی آب کے پمپنگ سٹیشنوں کو مکمل فعال رکھنا‘ حساس نشیبی علاقوں کی مسلسل نگرانی‘ ریسکیو اداروں کی پیشگی تعیناتی‘ جدید وارننگ سسٹم کا مؤثر استعمال جیسے فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>غفلت کا خمیازہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-30/11405</link><pubDate>Thu, 30 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-30/11405</guid><description>ایک خبر کے مطابق سندھ میں گزشتہ تقریباً ایک دہائی کے دوران ایڈز کے چار بڑے آؤٹ بریکس ہوئے جن میں تقریباً 1300 سے زائد افراد‘ جن میں زیادہ تعداد بچوں کی ہے‘ ایچ آئی وی سے متاثر ہوئے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان تمام واقعات میں قدرِ مشترک پائی جاتی ہے جو کہ غیر محفوظ طبی طریقہ کار‘ انفیکشن کنٹرول کی ناکامی‘ حفاظتی اصولوں کی خلاف ورزی اور نگرانی کا کمزور نظام ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ان اسباب کا آج مکمل تدارک ہو چکا ہے؟ بدقسمتی سے جواب نفی میں ہے۔ اگرچہ حکومت نے غیر معیاری سرنجوں پر پابندی‘ آٹو ڈس ایبل سرنجوں کے فروغ‘ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی اور بعض نئے انتظامی اقدامات کا اعلان کیا ہے لیکن زمینی سطح پر یہ بنیادی مسائل اب بھی موجود ہیں۔

انفیکشن کنٹرول کے سخت معیارات‘ محفوظ سرنجوں اور خون کی لازمی جانچ‘ غیر رجسٹرڈ کلینکس کے خلاف بلاامتیاز کارروائی‘ ایچ آئی وی کی وسیع پیمانے پر سکریننگ اور عوامی آگاہی کی مہمات کے بغیر اس مرض سے چھٹکارا حاصل کرنا ممکن نہیں۔ شہری بھی اس ذمہ داری سے مبرا نہیں۔ انہیں ہر انجکشن کیلئے نئی سرنج کے استعمال پر اصرار کرنا چاہیے‘ صرف مستند طبی مراکز سے علاج کرانا چاہیے‘ غیر ضروری انجکشن لگوانے سے گریز کرنا چاہیے اور ضرورت پڑنے پر ایچ آئی وی ٹیسٹ کرانے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرنی چاہیے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>اللہ بس باقی ہوس(محمد اظہارالحق)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-07-30/52387/11710938</link><pubDate>Thu, 30 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-07-30/52387/11710938</guid><description>&#39;&#39;میرے پاس وڈیوز آئیں۔ سوال کیا جا رہا ہے کہ ہم نے یعنی بھارتی پنجاب نے گیارہ سو کروڑ کا تھرمل پلانٹ خریدا۔ پاکستانی پنجاب کی مکھ منتری نے گیارہ سو کروڑ کا جہاز لیا۔ تو پھر فائدہ کس کو ہوا؟‘‘۔ یہ انتہائی احمقانہ سوال بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ جناب بھگونت مان کا ہے۔ جواب بچے کو بھی معلوم ہے کہ فائدہ پاکستانی پنجاب کی مکھ منتری کو ہوا۔ عوام کو ترجیح دینا‘ دیانتداری‘ پبلک کی فلاح و بہبود‘ یہ سب کتابی باتیں ہیں۔ ہاں! کسی زمانے میں یہ درست تھا مگر اب زمانہ بدل چکا ہے۔ اب گیدڑ کی سو سالہ زندگی شیر کی ایک دن کی زندگی سے کئی گنا بہتر ہے۔ اب اصول اسے کہتے ہیں جس سے کچھ وصول ہو۔ عقل مندی اسی میں ہے کہ اقتدار اور اختیار ملے تو پہلے اپنے ذاتی آرام و آسائش کا خیال رکھو۔ پھر اپنے پیاروں کا۔ پھر خاندان بھر کا۔ اس کے بعد بھی قدرت موقع دیے رکھے اور رسی دراز رہے تو اپنے قبیلے‘ ذات برادری کا۔ عوام کی باری اس کے بعد آتی ہے۔ یہ بھارتی پنجاب کے مکھ منتری مجھے مکمل غیرعقل مند لگ رہے ہیں۔ ان کی حرکت دیکھیے کہ مکھ منتری بنتے ہی وی آئی پی کلچر پر حملہ کر دیا۔ 122سابق ممبرانِ اسمبلی اور وزرا سے پولیس پروٹوکول ہٹوا دیا۔ 384پولیس اہلکاروں کو‘ جو اُن گردن بلندوں کی سکیورٹی پر مامور تھے‘ واپس اپنے اصل محکموں میں بھیج دیا۔ ساتھ ہی یہ کہا کہ پولیس عوام کے کاموں کیلئے ہے نہ کہ وی آئی پی کی حفاظت کیلئے۔ کر لیا نا اتنے سارے سیاستدانوں کو اپنے خلاف! کل ان سے کام پڑ گیا تو بھائی صاحب کیا کریں گے؟ اس کے مقابلے میں ہمارے پنجاب کی وزیراعلیٰ زیادہ حقیقت پسند اور Pragmatic ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے ان کے صاحبزادے کہیں جا رہے تھے۔ آگے پیچھے پروٹوکول کی گاڑیاں تھیں۔ ایک گاڑی سے ٹریفک قانون کی خلاف ورزی سرزد ہوئی تو ٹریفک پولیس نے اس کا چالان کر دیا۔ قانون کی اس &#39;&#39;پاسداری‘‘ پر وزیراعلیٰ نے پولیس کی تعریف کی اور &#39;&#39;عوام‘‘ نے بھی۔ بات واقعی قابلِ تعریف تھی کہ وزیراعلیٰ کے صاحبزادے کی پروٹوکول گاڑی کو بھی قانون نے معاف نہیں کیا۔ یہ گاڑی میڈیا کے مطابق صاحبزادے کے سکیورٹی پروٹوکول کا محض حصہ تھی۔ اس کا مطلب ہے کہ گاڑیاں اس ڈیوٹی پر اور بھی مامور ہوں گی۔ یعنی کئی گاڑیاں! یہاں یہ سوال اٹھتا تھا کہ کیا ایک ایسا شخص‘ جس کے پاس کوئی سرکاری عہدہ نہیں ہے‘ اس سرکاری پروٹوکول کا حقدار ہے جس کے اخراجات سرکاری خزانہ برداشت کر رہا ہو؟ ظاہر ہے کہ نہیں! کسی بھی ترقی یافتہ ملک میں کسی حکمران کی اولاد کو سرکاری پروٹوکول نہیں ملتا کیونکہ وہ تو ایک عام شہری ہے۔ لوگوں کو متاثر کرنے کیلئے چالان کرنے والی پولیس کی تعریف کا فائدہ یہ ہوا کہ &#39;&#39;عقلمند‘‘ عوام نے خوب واہ واہ کی۔ یہ کسی نے نہ پوچھا کہ بھئی! سرکاری پروٹوکول گاڑیاں ایک عام شہری کو فراہم کیوں کی گئیں؟ اس کے مقابلے میں مغرب کے بے وقوف حکمرانوں کا رویہ نوٹ کیجیے۔ مارگریٹ تھیچر جب برطانیہ کی وزیراعظم تھیں تو کسی سے اپنا دکھ شیئر کیا کہ وہ اپنے پوتوں پوتیوں کے ہجر میں بے قرار رہتی ہیں جو امریکہ میں رہ رہے تھے۔ تھیچر کا بیٹا بزنس مین تھا۔ دی ٹائمز لندن کے مطابق تھیچر نے بیٹے کو اپنے ہاتھ سے لکھا ہوا تعارفی خط دیا جو بیٹے نے عمان کے سربراہ کو پیش کیا۔ وہاں تھیچر کے بیٹے کو بزنس کے مواقع ملے۔ تھیچر نے بیٹے کو حکم دیا کہ برطانیہ چھوڑ کر امریکہ چلا جائے تاکہ حکومت کو اس کی مدد کرنے کا طعنہ نہ ملے! ہے ناں حماقت!! ہمارے حکمرانوں کے اعزہ و اقارب اپنے مقتدر رشتہ داروں کا خوب خوب فائدہ اٹھاتے ہیں اور کروڑوں اربوں کماتے ہیں!!!وزیراعظم کے صاحبزادے جناب حمزہ شہباز شریف بھی اکھاڑے میں اُتر چکے ہیں۔ انہیں وزیراعظم کے دفتر میں چھٹے فلور پر آفس دیا گیا ہے۔ جانشینی کی جنگ پاکستانی سیاست میں ہمہ وقت جاری رہتی ہے۔ افضل منہاس کا شعر یاد آگیا اگرچہ اس کا پورا اطلاق یہاں ہو بھی نہیں ہو رہا:وہ جنگ زرگری ہے کہ محشر بپا ہواہر شخص ایک عمر سے اگلی صفوں میں ہےپاکستانی جمہوریت کا نشانِ امتیاز یہ ہے کہ اقتدار نسل در نسل چلتا ہے۔ اقتدار سے مراد صرف حکومت نہیں پارٹی کی سیادت بھی ہے۔ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ اصل سرداری تو پارٹی کی قیادت ہی میں مخفی ہے۔ اقتدار اس سرداری کا ایک چھوٹا سا کرشمہ ہے۔ پارٹی کی قیادت یہاں موروثی ہے۔ جوان قیادت کے سامنے سفید سر‘ عمر رسیدہ‘ باراں دیدہ سیاستدان جب خمیدہ سروں کے ساتھ ریشہ خطمی ہوتے ہیں تو جمہوریت کا مزہ ہی آجاتا ہے۔ مریم نواز‘ بلاول اور مولانا اسعد محمود پہلے ہی میدان میں ہیں۔ مونس الٰہی اگرچہ پیش منظر سے ہٹے ہوئے ہیں مگر جانشینی ان کی محفوظ ہے۔ رکشوں کے پیچھے عجیب و غریب جملے لکھے ہوتے ہیں جن میں سے اکثر عامیانہ ہو چکے ہیں۔ ایک دوست نے ایک رکشے کے پیچھے جو فقرہ لکھا دیکھا وہ عجیب تر تھا اور کثیر الاستعمال! &#39;&#39;نیز انجن ادھر بھی نیا ہے‘‘۔ لگتا ہے صاحبزادے کو میدان میں اتارنے سے پہلے یہ کہا گیا ہو گا کہ &#39;&#39;نیز انجن ادھر بھی نیا ہے‘‘! ہمارے ایک دوست نے‘ جنہیں اصل جمہوریت کا بقول کسے ہیضہ ہے‘ اس خبر کا بہت برا منایا۔ کہنے لگے: حمزہ شہباز آخر کس حیثیت میں وزیراعظم کے دفتر میں فرو کش ہوں گے؟ ان کے پاس تو کوئی سرکاری عہدہ نہیں۔ ایسا تو موروثی بادشاہتوں میں ہوتا ہے۔ پہلے ہی وزیراعظم کے دائیں بائیں &#39;&#39;نامنتخب‘‘ حضرات کا حصار بندھا ہے۔ میں نے اس دوست کو غور سے دیکھا اور ہنسا! کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ یورپ یا آسٹریلیا میں بیٹھے ہیں۔ اس دوست کی خدمت میں عرض کیا کہ آپ کل شام کو تو پیدا نہیں ہوئے کہ پاکستانی جمہوریت سے ناواقف ہوں۔ دیکھ نہیں رہے کہ کئی دہائیوں سے پارٹیوں پر اور حکومتوں پر خاندانوں کا قبضہ ہے۔ اگر مریم نواز‘ اسعد محمود اور بلاول اپنے اپنے والدِ گرامی کے جانشین ہو سکتے ہیں تو بہتی گنگا میں حمزہ کیوں نہ ہاتھ دھوئے؟ اس دوست کو شورش کاشمیری کا یہ شعر بھی یاد دلایا:یار لوگوں کو شکایت ہے کہ نافرمان لوگخاندانوں سے الجھنے آ گئے شیطان لوگیہ خاندان مضبوط بنیادوں پر کھڑے ہیں۔ ان بنیادوں میں زمانوں کا سیمنٹ اور بجری بھری ہے۔ رعایا منتظر ہے کہ چشم فلک اگلا منظر کیا دکھاتی ہے؟ کون وزیراعظم ہو گا؟ کس کا نورِ نظر ہو گا یا کس کا جگر گوشہ ہو گی؟ جو بھی ہو گا یا ہو گی خاندان ہی میں سے ہو گا یا ہو گی۔رگوں میں دوڑتا پھرتا ہے عجز صدیوں کارعیت آج بھی اک بادشاہ مانگتی ہےمیرے اس مدلل جواب سے دوست کے جمہوری ہیضے کو افاقہ ہوا تو اس نے ایک اور اعتراض جَڑ دیا۔ کہنے لگا: آزاد کشمیر کے حوالے سے میاں نواز شریف صاحب کیلئے مناسب نہیں تھا کہ وہ خود بلاول کو مخاطب کرتے۔ اس کام کیلئے مریم موزوں تھیں یا پارٹی کا کوئی اور رکن! اور تین بار وزیراعظم رہنے کے بعد بڑے میاں صاحب کا &#39;&#39;لاہور ہیری ٹیج ایریا ریوائیول بورڈ‘‘ کی سربراہی قبول کر لینا بھی عجیب بات ہے۔ قانونی طور پر وہ اب چیف منسٹر‘ متعلقہ وزیر اور متعلقہ سیکرٹری کے ماتحت ہوں گے۔ میں نے اپنے دوست کو جواب دیا کہ میاں صاحب ذہنی طور پر اپنے آپ کو لاہور ہی کا حکمران سمجھتے رہے۔ ان کے چار ہی تو ٹھکانے ہیں۔ لاہور‘ مری‘ لندن اور جنیوا!!! اللہ بس باقی ہوس۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_57182973.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>چھ سال پرانی ملاقات کی تازہ صورتحال …(1)(خالد مسعود خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-07-30/52388/16099450</link><pubDate>Thu, 30 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-07-30/52388/16099450</guid><description>قارئین! یہ فقیر سرکار دربار اور حکمرانوں سے حتی الامکان حد تک بچ بچا کر زندگی گزار رہا ہے کہ ان سے ملنا ایک کارِ لاحاصل کے سوا کچھ بھی نہیں اور اب اس قلمکار کے پاس ضائع کرنے کیلئے تھوڑا سا بھی وقت باقی نہیں بچا۔ کالم لکھنا چونکہ اس عاجز کا پیشہ ہے اور اسے نبھانا بہرحال مجبوری ہے‘ تاہم سوشل میڈیا کے عروج کے اس دور میں بھی یہ درویش فیس بک‘ ٹویٹر اور انسٹاگرام جیسی قباحتوں سے بچ بچا کر زندگی کے بقیہ دن اپنی مرضی مطابق بسر کر رہا ہے۔ سوشل میڈیا کو قباحت قرار دینا محض میرا ذاتی تبصرہ ہے‘ سوشل میڈیا سے جڑے حضرات اس جملے کو دل پر مت لیں۔ مجھے سوشل میڈیا سے اپنی لاتعلقی پر نہ تو کوئی فخر ہے اور نہ ہی دکھ‘ شرمندگی یا افسوس ہی ہے۔ بس یہ میرا اختیار کردہ طرزِ زندگی ہے جس سے میں خوش بھی ہوں اور مطمئن بھی۔ یہ فقیر اداروں کے راستوں سے ناآشنا ہونے کے باعث معلومات کے مستند ذرائع سے محروم ہے۔ اسکے پاس نہ کوئی چڑیا ہے اور نہ ہی کوئی پیغام رساں کبوتر ۔ ان گلیوں کے بہت سے راہیوں کو ذلیل وخوار ہوتے دیکھ کر اپنی اس لاتعلقی اور دوری پر بڑا اطمینان ہوتا ہے کہ ایسی دوستی اور دشمنی دونوں باعثِ آزار ہیں اور اللہ اس سے محفوظ ہی رکھے۔یہ تب کا ذکر ہے جب وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار اس قلم گھسیٹ کی مسلسل تنقید کی زد میں تھے۔ ظاہر ہے تسلسل سے لکھے جانے والے میرے تنقیدی کالموں کے باعث ہمارے باہمی تعلقات‘ جو سرے سے موجود ہی نہیں تھے (میرے حساب سے) خاصے خراب ہو گئے۔ یہ جو میں نے تعلقات کی خرابی کے زمرے میں &#39;&#39;میرے حساب سے‘‘ لکھا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ میں ہی تھا جو سرکار کے‘ میرا مطلب ہے کہ عثمان بزدار کے خلاف لکھے جا رہا تھا۔ جواباً دوسری طرف عثمان بزدار مجھ سے ملاقات کے خواہاں تھے اور کسی نہ کسی درمیانی رابطے کے ذریعے اس کی کوشش میں مصروف تھے۔ میں عثمان بزدار کی ملاقات کی خواہش اور کوشش کے بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتا اور نہ ہی اپنے خیال کا گھوڑا دوڑانا چاہتا ہوں۔ اب جبکہ وہ منظرنامے سے غائب ہیں میں اسے منفی رنگ دینے کے بجائے مثبت انداز میں لیتے ہوئے یہ کہوں گا کہ عثمان بزدار نے میری مسلسل تنقید اور ملاقات سے انکار کے باوجود بڑے دل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی کوششیں جاری رکھیں اور دو تین دوستوں کی وساطت سے بالآخر ہماری ملاقات طے پا ہی گئی۔ اس میں سب سے زیادہ حصہ بہت ہی شاندار انسان اور دوست خواجہ جلال الدین رومی مرحوم کا تھا جس کی بات سے انکار میرے لیے مشکل تھا۔مجھے ملاقات کی تاریخ پوری صحت کے ساتھ تو یاد نہیں تاہم یہ ستمبر 2020ء کی غالباً دو یا تین تاریخ تھی۔ یہ ملاقات سرکٹ ہاؤس ملتان میں ہوئی۔ میں نے گفتگو کا آغاز ہی اس بات سے کیا کہ میری ان پر تنقید کسی ذاتی گلے شکوے یا ناراضی کے بجائے مکمل طور پر ان کی صوبائی حکومت کی مجموعی کارکردگی کی بنیاد پر ہے اور اس کے کپتان ہونے کی حیثیت سے وہ اس تنقید کا براہِ راست نشانہ ہیں۔ تاہم میں نے کالم اپنی پوری نیک نیتی کے ساتھ اپنے بہترین علم کو بروئے کار لاتے ہوئے لکھے ہیں اور میں اپنی تمام تحریروں کی ذمہ داری لیتا ہوں۔ عثمان بزدار مسکرائے‘ پھر کہنے لگے: مجھے آپ کی بات سے اتفاق ہے۔ اس کے بعد گفتگو کا رخ ایمرسن کالج اور بہاء الدین زکریا یونیورسٹی کی طرف مڑ گیا‘ یہ وہ دو تعلیمی ادارے ہیں جہاں عثمان بزدار میرے جونیئر کی حیثیت سے زیر تعلیم رہے۔ ہماری گفتگو سرائیکی میں تھی اس لیے تکلف کا پردہ جلد ہی درمیان میں سے نکل گیا۔میں نے اس ملاقات میں عثمان بزدار کو ملتان کو درپیش چند نمایاں مسائل اور عوامی بہبود کے کاموں پر چند منٹ کا نہایت جامع سا اختصاریہ دیا اور نو پوائنٹس پر مشتمل ایک مختصر سی یادداشت انکے ہاتھ میں پکڑا دی۔ اس فہرست میں ملتان تا ہیڈ محمد والا روڈ کو دو رویہ کرنے‘ ملتان سرکلر روڈ کو کشادہ کرنے‘ نشتر ہسپتال کے مینٹیننس بجٹ کو ڈھائی لاکھ روپے سالانہ سے بڑھانے‘ 67 سال (تب) پرانے ہسپتال کی خستہ عمارت کے تباہ شدہ باتھ رومز کی بحالی‘ وہاں پارکنگ کی بدترین صورتحال کو بہتر کرنے کیلئے پارکنگ پلازہ کی تعمیر‘ پبلک لائبریری قلعہ کہنہ قاسم باغ کی تزئینِ نو اور بحالی‘ ملتان میں جمخانہ کلب کی تعمیر‘ کپاس کے پتا لپیٹ وائرس سے پاک اور محفوظ بیج کی تیاری اور ملتان انسٹیٹیوٹ آف نیو کلیئر میڈیسن اینڈ ریڈیو تھراپی میں پیٹ سکینر کی تنصیب جیسے مطالبات تھے۔ ذاتی طور پر میراان میں سے سوائے جم خانہ کلب کی متوقع ممبر شپ کے‘ کسی چیز سے بالواسطہ یا بلاواسطہ کوئی مفاد وابستہ نہ تھا۔ عثمان بزدار نے میری ساری باتوں سے اتفاق کرتے ہوئے ان پر جلد از جلد عملدرآمد کا وعدہ کیا۔ یہ ملاقات ون آن ون طے پائی تھی۔ اس دوران فوٹو گرافر اندر آنے لگا تو میں نے کہا کہ یہ تیسرا آدمی کیسے اندر آ رہا ہے ؟ وزیراعلیٰ نے اسے باہر جانے کا اشارہ کیا۔ باہر ملاقاتیوں کا ہجوم تھا۔ میں نے اجازت لی اور رخصت سے قبل ایک بار پھر تاکید کی کہ ملتان کے یہ جائز مسائل وزیراعلیٰ کی نظرِ کرم کے منتظر ہیں۔ قریب چھ سال پرانا یہ سارا واقعہ مجھے اس طرح یاد آیا کہ ملتان میں پیٹ سکین (Positron Emission Tomography) کی اشد ضرورت تھی۔ اس کا اندازہ مجھے اس روز ہوا جب میں اپنے ایک نہایت عزیز دوست کو درپیش ایک مسئلے کی تشخیص کیلئے اپنے بہت پیارے دوست اور اپنی فیلڈ میں مہارت تامہ رکھنے والے نیوکلیئر میڈیسن فزیشن ڈاکٹردرصبیح کے پاس لے کر گیا۔ انہوں نے چیک اَپ کے بعد اپنی تشخیص لکھتے ہوئے کہا کہ میں ممکنہ حد تک جو نتائج اخذ کر سکتا تھا‘ وہ کیے ہیں تاہم معاملات مزید باریک بینی کے متقاضی ہیں لیکن مشکل یہ ہے کہ جسم کی جس جگہ پر یہ مسئلہ ہے وہاں تک رسائی اور نتیجے کیلئے پیٹ سکین کرنا نہایت ضروری ہے۔ میں نے پوچھا: یہ پیٹ سکین کیا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ یہ انتہائی جدید سکینر دراصل کینسر کا ابتدائی سٹیج پر سراغ لگانے کیلئے استعمال ہوتا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ سکینر ادھر کس کے پاس ہے ؟ وہ کہنے لگے: یہ ملتان میں تو نہیں ہے تاہم ہمارے قریب ترین یہ سہولت صرف لاہور میں میسر ہے۔ دوسری طرف یہ کراچی میں ہے۔ یعنی لاہور اور کراچی کے درمیان راوی اس سہولت سے محرومی لکھتا ہے۔ معلوم ہوا کہ اس سکینر کی خرید اور تنصیب کیلئے تقریباً دو ارب روپے درکار ہیں‘ جبکہ اسے نصب کرنے‘ چلانے‘ اور پھر چلتا رکھنے کیلئے نیوکلیئر میڈیسن کے ماہرین کا مکمل بنیادی ڈھانچہ لازمی ہے اور یہ اس سکینر کے سازو سامان پر اٹھنے والے اخراجات کے علاوہ ہے۔ ڈاکٹر درصبیح سے تفصیلی گفتگو کے بعد اپنے اس دوست کو لاہور لے جانے کا فیصلہ کیا اور اگلے روز لاہور میں شیخ زائد ہسپتال سے متصل &#39;&#39;انمول‘‘ (انسٹیٹیوٹ آف نیوکلیئر میڈیسن اینڈ اونکولوجی لاہور) والوں سے ٹیسٹ کا ٹائم لیا اور دوسرے روز میں اس کے ساتھ لاہور روانہ ہو گیا۔ وہ معاملہ تو اللہ کے فضل سے بخیر وخوبی حل ہو گیا مگر میرے ذہن میں یہ بات پھنس گئی کہ پورے جنوبی پنجاب میں کینسر کو اس کی ابتدائی سٹیج پر معلوم کرنے کی سہولت میسر نہیں اور پہلے سے ہی انتہائی مہنگے ٹیسٹ کیلئے سفری‘ رہائشی اور دیگر اخراجات کی صورت میں کتنے لوگ اسے برداشت کر سکتے ہوں گے؟ غربت اور پسماندگی کے شکار اس سارے خطے کیلئے مقامی طور پر یہ سہولت میسر ہونی چاہیے۔ سردار عثمان بزدار سے ملاقات کا موقع بنا تو میرے دماغ میں پیٹ سکینر کی گھنٹی بجی۔ مجھے خیال آیا کیا خبر میرے مالک کو مجھ سے اس خطے کے لوگوں کی آسانیوں کیلئے کام لینا مقصود ہو۔ یہ خیال آیا تو میں نے یہ مسئلہ بھی وزیراعلیٰ کے سامنے رکھنے کا ارادہ کیا اور اپنی تحریری تجاویز میں یہ معاملہ بھی شامل کر لیا۔ مجھے یقین تھا کہ میں اپنی مرضی کے برخلاف اگر عثمان بزدار سے مل رہا ہوں تو یقینا اس میں خطے کے لوگوں کی بہتری پنہاں ہو گی۔ (جاری)</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90500073.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مزاحمت اور تشدد(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-07-30/52389/32027919</link><pubDate>Thu, 30 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-07-30/52389/32027919</guid><description>مزاحمت اور تشدد ہم معنی نہیں ہیں۔ یہ بات اگر پاکستان میں درست ہے تو بھارت میں بھی درست ہے۔ مشرقِ وسطیٰ ہو یا افریقہ‘ اس کا اطلاق دنیا کے ہر خطے پر ہوتا ہے۔ہم فلسطین سے لے کر مقبوضہ کشمیر تک ہر پُرتشدد تحریک کے حامی ہیں لیکن جب بات گھرکی ہوتی ہے تو خاموشی کے حصار میں پناہ لے لیتے ہیں۔ اگر کبھی اس چادر کو سرکا کر‘ ایک آنکھ سے باہر کا منظر دیکھتے اور پھر زبان کھولتے ہیں تو ریاست کے فضائل و برکات بیان کرتے ہیں۔ اس کے خلاف کھڑا ہو نے کے مضمرات پر گفتگو فرماتے ہیں اور پھر اسی چادرِ عافیت کو اوڑھ لیتے ہیں جو بسا اوقات ریاست ہی کی عطا ہوتی ہے۔بارِ دگر عرض ہے کہ مزاحمت اور تشدد کو اگر کسی نے ہم آہنگ قرار دیا ہے تو وہ بیسویں صدی میں اٹھنے والی انقلابی تحریکیں ہیں‘ جو نظریاتی تھیں۔ اس میں سرخ و سبز کا کوئی امتیاز نہیں۔ انقلابی سوچ میں خود سے کئی گنا بڑی طاقت سے ٹکرا جانا مزاحمت کا اعلیٰ ترین مظہر قرار پایا۔ شہادت کو مطلوب و مقصود بنا لیا گیا۔ موت کو زندگی سے زیادہ گلیمرائز کیا گیا۔ جہاں جہالت غالب رہی‘ وہاں یہ بیانیہ انتہاؤں کو چھونے لگا۔ اگر یہ لوگ کچھ پڑھ لکھ گئے تو انہوں نے جدید ٹیکنالوجی کو انہی مقاصد کیلئے استعمال کیا۔ نیورو سائنسز کی ڈگری کے ساتھ القاعدہ کے کیمپ جا پہنچے۔ میں حیران ہوتا ہوں جب لندن اور دوسرے ترقی یافتہ شہروں میں بیٹھے ہمارے کشمیری بھائی پُرتشدد رویوں کی تحسین کر رہے ہوتے ہیں۔ سادہ سی بات ہے کہ سر حد کے اُس طرف اگر بھارت بیٹھا ہے‘ جہاں ہمارے کشمیری بھائی پہلے ہی حالتِ جنگ میں ہیں اور ہر کشمیری کا دل کسی نہ کسی شہید کی یاد کا مسکن ہے توکیا یہ عقل کی بات ہے کہ ریاستِ پاکستان کے خلاف نفرت آمیز بیانیے کو فروغ دیا جائے؟ کیا کشمیریوں کا مفاد اسی میں ہے؟ کیا سرحد کے دونوں اطراف بیٹھی کشمیری قیادت کا کام شہادتوں کے سرٹیفکیٹ بانٹنا ہے؟ کیا اسمبلی کی چند نشستوں کیلئے لاشیں گرانا ضروری تھا؟ کیا اس مقصد کو پُرامن طریقے سے حاصل نہیں کیا جا سکتا تھا؟ کیا آزاد کشمیر میں سیاسی عمل معطل ہو چکا تھا؟ کیا وہاں سیاسی جماعتیں نہیں ہیں؟ کیا وہاں انتخابات نہیں ہو رہے؟ جب سیاسی عمل جاری ہے تو اس کا سہارا کیوں نہیں لیا گیا؟ اس سے مطالبہ تسلیم کرانے میں دیر ہو جاتی لیکن لاشیں تو نہ گرتیں۔ جو نوجوان اس آگ میں جھونک دیے گئے‘ کیا ان کو پھر سے زندہ کرنا کسی انسان کے بس میں ہے؟ جس گھر کا چراغ بجھ گیا‘ کیا وہاں کبھی چراغاں ہو سکے گا؟ اگر ان سوالات پر پہلے غور کر لیا جاتا تو آج آزاد کشمیر اس صورتحال سے دو چار نہ ہوتا جس نے ہم سب کو اداس کر دیا ہے۔ کاش ریاست بھی اس معاملے کو سیاست کی نظر سے دیکھتی۔ شرپسندوں اور ان کی باتوں میں آنے والے سادہ شہریوں میں تمیز کرتی۔ کاش کشمیر کی سیاسی قیادت اپنا کردار ادا کرتی۔ جب کسی قوم کے پاس صرف &#39;کاش‘ کا لفظ رہ جائے تو یہ اس بات کا اظہار ہے کہ حالات اس کے قابو میں نہیں ہیں۔اہلِ کشمیر کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے مطالبات کیلئے آواز اٹھائیں۔ ان کے بہت سے مطالبات تسلیم بھی کیے گئے۔ جو باقی تھے وہ بھی مان لیے جاتے۔ مسئلہ مگر اس انقلابی سوچ نے پیدا کیا جو مزاحمت اور تشدد میں فرق نہیں کرتی اور جس کا خیال ہے کہ انقلاب کیلئے خون دینا پڑتا ہے۔ آتشِ نمرود میں سوچے سمجھے بغیر کود جانا عزیمت قرار پاتا ہے۔ اس میں پھر کم علمی کا دخل ہے جو آتشِ نمرود کو سمجھ سکی نہ حکمِ خداوند ی کی علت کو اور نہ شاعرِ مشرق کی بصیرت کو۔ سوال مگر یہ بھی ہے کہ چند نشستوں سے کون سا انقلاب آ جانا تھا؟ انقلابی نفسیات میں مگر سوچنا منع ہے۔ ایسے سوالات کو انقلاب سے غداری سمجھا جاتا ہے‘ اس لیے کوئی نہیں اٹھاتا۔ان نظریاتی تحریکوں سے روشنی پانے والوں میں مگر ایک طبقہ ایسا ہے جو سوچتا سمجھتا ہے اور جس نے علم سے اپنا ناتا نہیں توڑا۔ اسے یہ احساس ہے کہ جہاں ایک آئینی ریاست موجود ہو وہاں مزاحمت کیلئے پُرتشدد طریقے استعمال نہیں کیے جاتے۔ اس کی ایک مثال بھارتی نوجوان ہیں۔ ان کی قیادت بائیں بازو کے طلبہ و طالبات کر رہے ہیں۔ وہ اگرچہ بھگت سنگھ اور مولانا حسین احمد مدنی کے حوالے دے رہے ہیں مگر یہ جانتے ہیں کہ وہ ایک بدیشی سامراج سے نبرد آزما تھے اور یہ ایک آئینی ریاست کے دائرے میں اپنے حق کیلئے اٹھے ہیں۔ مولانا مدنی بھی آخری دور میں سیاسی جد وجہد ہی کے قائل ہو گئے اور انہوں نے جمعیت علمائے ہند کے محاذ سے سیاسی جنگ لڑی۔ شیخ الہند اور انہیں اندازہ ہو گیا تھا کہ تشدد کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ آج اٹھنے والے نوجوانوں کو اپنی ریاست سے شکایات ہیں اور اس میں شبہ نہیں کہ مودی رجیم فاشسٹ ہے۔ اس کے باوصف انہوں نے تشدد کا راستہ نہیں اپنایا۔آزاد کشمیر میں جو لوگ کھڑے ہوئے ہیں‘ ان کا کوئی نظر یاتی پس منظر نہیں۔ انہیں کچھ خبر نہیں کہ انسانی جان کی کیا قیمت ہے اور ریاست کیا ہوتی ہے۔ پاکستان کی طرح وہاں بھی نیم خواندہ لوگوں نے عوامی جذبات کو بھڑکایا اور اسے شعور کا نام دے دیا۔ اس جذباتیت اور نیم خواندگی کے نتائج ہم ان لاشوں کی صورت میں دیکھ رہے ہیں جس نے ہم سب کو دکھی کردیا ہے۔اس تحریک کا حاصل صرف وہ لاشیں ہیں جنہوں نے کئی گھروں کی فضا کوہمیشہ کیلئے سو گوار بنا دیا ہے۔ان کو اب پاکستانی انقلابیوں کی حمایت بھی میسر نہیں جو مزاحمت اور تشدد کولازم و ملزوم قرار دیتے ہیں۔وہ عافیت کی چادر اوڑھے ریاست کی اہمیت ا ور اس کے فضائل بیان کر رہے ہیں۔سیاست راستہ نکالنے کا نام ہے۔آئین انسان کی سینکڑوں سالہ شعوری تاریخ کا حاصل ہے جس نے لوگوں کویہ بات سکھائی کہ پُرامن اجتماعیت کیلئے ایک عمرانی معاہدے کی ضرورت ہو تی ہے۔جنگ و جدل سے مسائل حل نہیں ہو تے۔اس تہذیبی سفر میں انسانی جان کی حرمت مستحکم ہوئی۔ مذہب اس حرمت کا سب سے بڑا علمبر دار ہے جس نے ناحق ایک جان لینے کو پوری انسانیت کے قتل کے مترادف قرار دیا۔جس نے یہ نصیحت کی کہ صلح کو جنگ پر ترجیح دی جا ئے۔ یہ بات ریاست کیلئے بھی قابلِ غور ہے کہ قوت کا ہونااس کے استعمال کو لازم نہیں کر تا۔ ریاست کا مقصد ہی یہ ہے کہ وہ شہریوں کے جان و مال کی حفاظت کرے۔جرم ہو تو قانون کو حرکت میں لائے تا کہ عام آدمی کو تحفظ کا احساس ہو کہ کوئی ہے جو اسے فتنہ و فساد سے بچا سکتا ہے۔ اہلِ دانش کو سماج کی تربیت کرنا ہو گی کہ جب سیاسی حل کا ایک فیصد امکان بھی موجود ہو‘تشدد اور ریاست سے ٹکراؤ کے راستے کا انتخاب نہیں کرنا چاہیے۔سیاسی جماعتیں ‘ معلوم نہیں ان حالات کے بعد اپنے وجود کیلئے کیا جواز رکھتی ہیں۔کیا ان کا کام صرف انتخابات میں حصہ لینا ہے؟ کیا کشمیر میں اس تصادم کو روکنا ان کا کام نہیں ؟ریاست ہو یا کوئی ایکشن کمیٹی مسائل کا حل مذاکرات اور مکالمے میں ہے‘تصادم میں نہیں۔آزاد کشمیر کی سیاسی جماعتوں کو یہ بات فریقین تک پہنچانی اور انہیں قائل کرنا ہے۔ یہی کام اہلِ دانش کا بھی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کاکروچ جنتا پارٹی کتنی کامیاب رہی؟(عمران یعقوب خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-07-30/52390/72718825</link><pubDate>Thu, 30 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-07-30/52390/72718825</guid><description>ایک وزیر کے استعفے پر اپنا احتجاج ختم کرنے والی کاکروچ جنتا پارٹی جسے اپنی کامیابی قرار دے رہی ہے‘ میری نظر میں وہ اس کی سب سے بڑی ناکامی ہے۔ اس حوالے سے میرا استدلال یہ ہے کہ جب پورے بھارت کے نوجوانوں کی ترجمان یہ پارٹی پورے نظام کو تبدیل کرنے کی استعداد کی حامل ہے تو محض ایک وزیر کے استعفے پر اکتفا کیوں کیا گیا؟ کیا بھارت میں نوجوانوں کو ان کے پورے حقوق ملنا شروع ہو گئے ہیں؟ کیا وہاں اقلیتوں کے ساتھ اکثریتوں کے ناروا سلوک کا سلسلہ ختم ہو گیا ہے؟ کیا بھارت میں عوامی سطح پر میرٹ پوری طرح لاگو ہو گیا ہے؟ کیا بھارت میں سرکاری سطح پر ہونے والی کرپشن کا گراف نیچے آ گیا ہے؟ کیا بھارت میں مودی حکومت کے اللے تللے اور حکمرانوں کی عیش کوشیاں اور عیاشیاں عنقا ہو چکی ہیں؟ کیا بھارت میں غربت و افلاس کا خاتمہ ہو چکا ہے؟ کیا مودی سرکار نے عوام کُش بجٹ بنانا ترک کر دیے ہیں؟ کیا بھارت میں اقربا پروری کا مکمل سد باب کیا جا چکا ہے؟ کیا بھارت میں مہنگائی‘ چور بازاری اور مافیا ازم کا مکمل تدارک کیا جا چکا ہے؟ اگر یہ سب کچھ نہیں ہوا تو پھر کاکروچ جنتا پارٹی کو اپنا احتجاج وسیع کرنا چاہیے تھا یا انقلابی مظاہرے ترک کر کے واپس آ جانا چاہیے تھا؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کیا محض وزیر تعلیم کے مستعفی ہونے سے بھارت میں تعلیمی نظام میں پائی جانے والی کرپشن‘ دو نمبری اور میرٹ کی خلاف ورزیاں بند ہو گئی ہیں؟ کیا ایک وزیر کے استعفیٰ دینے سے اب پرچے آؤٹ ہونا بند ہو جائیں گے؟ کاکروچ جنتا پارٹی اگر پورے نظام کو تبدیل نہیں کر سکتی تھی تو کم از کم بھارت کے تعلیمی نظام میں اصلاحات ہی یقینی بنا لیتی تاکہ آئندہ کوئی پرچہ آؤٹ نہ ہو سکتا‘ آئندہ کوئی تعلیمی شعبے میں میرٹ کی خلاف ورزیاں نہ کر سکتا‘ آئندہ تعلیم سے فارغ ہونے والے تمام بھارتی نوجوانوں کیلئے نوکریوں کا بندوبست ہو سکتا اور آئندہ کوئی بھارتی جج بے روزگاروں کیلئے کاکروچ جیسا غلیظ لفظ استعمال کرنے کی ہمت نہ کر سکتا۔ ایسے جج کو چوراہے پر عوام کے سامنے کھڑا کر کے پوچھا جانا چاہیے کہ اس بڑھتی ہوئی بے روزگاری کا ذمہ دار کون ہے؟ اور جو ذمہ دار ہے یا جو ذمہ دار ہیں بطور ایک منصف کے انہیں انصاف کے کٹہرے میں لانا اس جج کی ذمہ داری ہے یا نہیں؟ یہ کام صرف اور صرف کاکروچ جنتا پارٹی کر سکتی تھی جو نہیں کیا گیا۔رواں ماہ بھارت کے دارالحکومت دہلی میں جنریشن زی اور طالب علموں نے میڈیکل کے لاکھوں طلبہ کو متاثر کرنے والے امتحانی پیپرز کے مسلسل لیک ہونے‘ امتحان کے نتائج منسوخ ہونے پر طلبہ کی خود کشیوں‘ نوجوانوں میں تیزی سے بڑھتی ہوئی بے روزگاری کے خلاف پارلیمنٹ کی طرف مارچ کیا تو احتجاج کا ایک ایسا مومینٹم بن چکا تھا جس میں بھارتی معاشرے کے دیگر طبقات بھی شامل ہو گئے تھے حتیٰ کی وکلا اور بھارتی اداکار بھی اس تحریک کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ احتجاج کا یہ سیلِ رواں مودی حکومت کا سب کچھ بہا لے جاتا‘ لیکن ایک محدود مطالبے کو ہی کافی سمجھ لیا گیا جسے پورا کرنے میں مودی حکومت کو کوئی تامل نہ ہوا۔ یہ بات میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ کسی بھی تحریک کا مومینٹم بار بار نہیں بنتا‘ جب بنا ہو تو اس سے بھرپور استفادہ کیا جانا چاہیے۔ایسا نہیں کہ اس سے پہلے ایسا ہوا نہیں۔ بنے ہوئے بھرپور مومینٹم سے سو فیصد اہداف حاصل کرنے کے معاملات پرانے نہیں ہیں‘ یہ ماضی قریب کی تاریخ کا حصہ ہیں۔ ابھی دو سال بھی نہیں گزرے کہ بنگلہ دیش میں طلبہ نے ایک ایسی بھرپور تحریک چلائی کہ وزیراعظم حسینہ واجد کو ملک سے فرار ہونا پڑا۔ وہاں بھی معاملات بھارت سے مختلف نہیں تھے۔ بنگلہ دیش میں طلبہ تحریک کے بنیادی اسباب میں سرکاری نوکریوں میں 56فیصد مخصوص کوٹہ سرفہرست تھا۔ اس کوٹے کا بڑا حصہ (30 فیصد) 1971ء کی جنگ لڑنے والوں کے اہلِ خانہ کیلئے مختص تھا‘ جس کے باعث میرٹ پر آنے والے نوجوان شدید متاثر اور محروم ہو رہے تھے۔ میرٹ اور اہلیت ہونے کے باوجود اعلیٰ سطح کی نوکریوں تک عام بنگلہ دیشی کی رسائی محدود‘ بے حد محدود بلکہ ناممکن ہو چکی تھی۔ اس بے انصافی کے خلاف احتجاجی تحریک کے دوران سابق وزیراعظم حسینہ واجد کے متنازع بیانات‘ جن میں انہوں نے مظاہرین کو غدار اور رضا کار قرار دیا‘ نے عوام کے جذبات کو مزید مشتعل کر دیا تھا۔ پُرامن طلبہ احتجاج کو کچلنے کیلئے حکومتی جماعت کی طلبہ وِنگ (چھاترا لیگ) اور سکیورٹی اداروں کی جانب سے شدید تشدد کیا گیا‘ آنسو گیس اور گولیوں کے استعمال سے کئی طلبہ ہلاک ہوئے جس سے تحریک مزید پھیل گئی۔ عوامی بے روزگاری اور معاشی بحران بھی اس تحریک کے کامیاب ہونے کی ایک وجہ تھی۔اسی طرح اب سے ایک سال پہلے نیپال میں آٹھ ستمبر 2025ء کو شروع ہونے والی نوجوانوں کی عوامی تحریک کے نتیجے میں وزیراعظم کے پی شرما اولی کو نو ستمبر کو اپنے عہدے سے مستعفی ہونا پڑا تھا۔ ان کے ساتھ وزیر دفاع‘ وزیر داخلہ اور دوسرے وزرا کو بھی اپنے عہدوں سے سبکدوش ہونا پڑا تھا۔ حکومت بر طرف کر دی گئی تھی۔ ہنگاموں کے نتیجے میں مظاہرین نے وزیراعظم ہاؤس‘ پارلیمنٹ اور دوسری سرکاری املاک کو نذرِ آتش کیا تھا‘ توڑ پھوڑ کی تھی اور کئی وزرا کو یرغمال بنا لیا گیا تھا۔اس سے بھی پہلے سری لنکا میں اسی طرح عوامی طاقت کا مظاہرہ کیا گیا تھا۔ 2022ء کے اوائل میں سری لنکا کو بدترین معاشی بحران کا سامنا تھا۔ زرِ مبادلہ کے ذخائر ختم ہونے کے باعث ملک میں ادویات‘ ایندھن اور خوراک کی شدید قلت پیدا ہو چکی تھی۔ بجلی کی طویل لوڈ شیڈنگ اور مہنگائی کے مسلسل طوفانوں نے عام آدمی کی زندگی مفلوج کر کے رکھ دی تھی۔ لاکھوں اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کیلئے مارکیٹ میں روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر تھے۔ عوام کا کہنا تھا کہ راجا پاکسا خاندان کی غلط پالیسیوں اور کرپشن نے ملک کو دیوالیہ ہونے کی حد تک پہنچا دیا ہے‘ چنانچہ مارچ 2022ء میں صدر گوٹابایا راجا پاکسا کی رہائش گاہ کے باہر پُرامن مظاہروں سے اس تحریک کا آغاز ہوا جو پھر جنگل کی آگ کی طرح پھیلتی چلی گئی۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس میں طلبہ‘ کسان‘ مزدور اور عام شہری بھی شامل ہوتے گئے۔ ملک بھر میں ہڑتالیں ہوئیں اور احتجاجیوں کی جانب سے ایک متحدہ اور مشترکہ نعرہ بلند کیا گیا کہ سب کو استعفیٰ دینا ہو گا۔ تحریک چلتی رہی اور زور پکڑتی رہی۔ بالآخر نو جولائی 2022ء کو لاکھوں کی تعداد میں مظاہرین نے تمام رکاوٹیں توڑتے ہوئے دارالحکومت کولمبو میں صدر اور وزیراعظم کی سرکاری رہائش گاہوں پر دھاوا بول دیا۔ مظاہرین کے شدید دباؤ کے باعث صدر گوٹابایا راجا پاکسا پہلے ملک سے فرار ہوئے اور پھر انہوں نے 14جولائی کو سنگا پور سے اپنا استعفیٰ ای میل کے ذریعے بھیجا۔ وزیراعظم رانل وکرما سنگھے نے بھی عہدہ چھوڑ دیا تھا۔اس ساری تمہید کا مقصد یہ بیان کرنا ہے کہ بھارت‘ بنگلہ دیش‘ نیپال‘ سری لنکا اور انڈونیشیا میں یا کسی بھی ملک میں اگر حکمرانوں کے محل محفوظ ہیں تو عوام کی وجہ سے اور وہ حکمرانوں کیلئے غیر محفوظ ہو جاتے ہیں تو اس کی وجہ حکمرانوں کی جانب سے عوام کُش پالیسیاں مرتب کرنا اور اقدامات کرنا ہے۔ یہ ستر اور اسی کا زمانہ نہیں ہے‘ 2026ء چل رہا ہے۔ سوشل میڈیا نے عوام کو ایک نئی طاقت فراہم کر دی ہے۔ اب کچھ بھی خفیہ نہیں رکھا جا سکتا‘ سب کچھ بے نقاب ہو جاتا ہے۔ عوام کو اپنی استبدادی پالیسیوں سے دبانے کی کوشش کرنے والے دوسرے ممالک کے حکمرانوں کیلئے ان عوامی تحریکوں میں سیکھنے کیلئے بہت کچھ پوشیدہ ہے‘ اگر وہ سمجھنے کی کوشش کریں تو!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_58350786.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>جین زی۔ توقعات، خدشات(سعود عثمانی )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-07-30/52391/26492521</link><pubDate>Thu, 30 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-07-30/52391/26492521</guid><description>میں نے پہلا ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر 1997ء میں خریدا تھا۔ پینٹیم ٹو کا یہ نیا کمپیوٹر جدید ترین شمار ہوتا تھا۔ ونڈوز آپریٹنگ سسٹم بھی نیا نیا تھا۔ اسی سال میں نے پہلا موبائل فون لیا تھا اور یہ موبائل فون کی پہلی نسل (فرسٹ جنریشن) تھی۔ اس وقت پاکستان میں انٹرنیٹ بھی نیا نیا متعارف ہوا تھا۔ یادش بخیر! 1997ء ہی میں میرا پہلا شعری مجموعہ &#39;&#39;قوس‘‘ چھپا تھا اور اسے وزیراعظم ادبی ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔ سو 1997ء کافی اہم سال ثابت ہوا۔ اولین نسل کے کمپیوٹر اور موبائل لے کر انٹر نیٹ کی دنیا میں گھومتے ہوئے لگتا تھا کہ اس سال پرانی دنیا ختم ہو گئی اور مستقبل کی نئی دنیا نے جنم لیا ہے۔ یہ بات درست تھی لیکن ایک بات کا وہم وگمان نہیں تھا اور و ہ یہ کہ 1997ء سے 2012ء کے درمیان پیدا ہونے والی نسل جنریشن زی یا جین زی کہلائے گی اور یہ اپنے مزاج میں اوپر کی نسلوں سے اتنی مختلف ہو گی کہ جیسے ایک دنیا ختم ہو گئی ہو اور نئی دنیا نے جنم لیا ہو۔ ویسے تو ہر نسل اوپر کی نسلوں سے مزاج اور خصوصیات میں قدرے مختلف ہوتی ہے لیکن یہاں بات جین زی کی منفرد اوربہت سی خصوصیات والی نسل کی ہے۔ یہ نسل زندگی کے ہر عملی میدان میں یا اُتر چکی یا بس اترنے والی ہے۔ یہاں میری مراد خاص طور پر برصغیر کی جین زی نسل ہے۔لیکن یہ نوجوان یاد رکھیں کہ دنیا مسلسل بدل رہی ہے۔ ابھی دنیا ان کی طرف متوجہ ہے لیکن 2013ء سے 2024ء کے بیچ جنم لینے والی جین الفا اور 2025ء سے 2039ء کے درمیان تازہ ترین جین بیٹا (Beta) ان کے تعاقب میں ہیں اور ان کی دنیائیں بھی جین زی سے بہت الگ ہوں گی۔قدرت نے کسی جاندارکو یہ اختیار نہیں دیا کہ وہ اپنی مرضی کے گھرانے اور اپنی پسند کے زمانے میں پیدا ہو۔ اس زمین پر آنے والے کبھی اپنی پیدائش میں نہ خودمختار تھے‘ نہ ہیں اور نہ ہوں گے۔ یہ بس ایک تسلسل میں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ یہ مت سمجھیے گا کہ چونکہ میں جین زی میں سے نہیں‘ اوپر کی کسی نسل کا نمائندہ ہوں اس لیے نئے لوگوں پر تنقید کرتا ہوں۔ جناب احمد ندیم قاسمی میرے مہربانوں میں سے تھے‘ ان کی زبانی ان کا یہ شعر کئی بار سنا جو یقینا انسانی فطرت ہے کہیہ ارتقا کا چلن تھا کہ ہر زمانے میںپرانے لوگ نئے آدمی سے ڈرتے تھےتو پرانے لوگوں کا نئے آدمی سے ڈرنا اپنی جگہ ایک حقیقت لیکن اس حقیقت کو جانتے مانتے ہوئے بھی یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ اپنے بچوں سے کون ڈرتا ہے۔ مجھ سمیت لاکھوں لوگ جین زی اور بعد کی نسلوں سے محبت کرتے ہیں‘ انہیں اپنے بچے سمجھتے ہیں۔ تمام ماں باپ اپنے بچوں کے خیر خواہ ہوتے ہیں لیکن ان کے ذہنوں میں جو خدشات ہیں وہ بھی بہرحال ایک حقیقت ہیں۔ ماں باپ کا یہ حق چھینا نہیں جا سکتاکہ اپنے بچوں کیلئے جو بہتر سوچتے ہوں‘ اس کا اظہار کریں۔ البتہ اس وقت میرا ڈر بالکل اور طرح کا ہے۔ ہم بہت ہی جذباتی لوگ ہیں۔ کسی کی تعریف کرنے پر آئیں تو کوئی اچھی صفت ایسی نہیں چھوڑتے جو اس میں ثابت نہ کر دیں۔ برا سمجھنے پر آئیں تو کوئی برائی باقی نہیں رہنے دیتے جو اس میں نکال نہ لیں۔ میں ایک معروف بھارتی اداکارہ کا انٹرویو دیکھ رہا تھا جس میں وہ یہی کام کر رہی تھیں۔ ہر برائی جین زی سے اوپر کی نسلوں میں اور ہر اچھائی جین زی میں۔ صرف انہی کی بات نہیں‘ یہ عام چلن بن چکا ہے۔ چنانچہ مجھے لگتا ہے کہ جین زی کے نوجوان بھی اسی پر یقین رکھتے ہیں۔ آج اگر یہ نسل اپنے اوپر تین نسلوں یعنی بے بی بومرز‘ جین ایکس اور ملینیلز کو فرسودہ اور گھسی پٹی نسلیں سمجھتی ہے تو اسے تیار رہنا چاہیے کہ الفا اور بیٹا نسلیں جین زی کو قبول کریں گی یا رد‘ اور کن نئی اصطلاحات کے ساتھ ان پر تنقید ہو گی۔ کیا جین زی کو یہ رد قبول ہوگا؟ ہم سب کو اپنے بچوں کی تعریف کرنا‘ انہیں بڑھاوا دینا‘ حوصلہ دینا اور تھپکی دینا یقینا بہت اچھا لگتا ہے اور یہ بڑوں کی ذمہ داری بھی ہے لیکن ذمہ داری اسی پر ختم نہیں ہو جاتی۔ ان کی رہنمائی کرنا بھی بڑوں کی ذمہ داری ہے۔ اگر اس نسل میں کوئی کمزوری ہے تو پیار اور محبت سے اس کی نشاندہی کرنا بھی ان کا فرض ہے۔ کیا شاباش کے ساتھ ہی‘ یہ فرض ادا کیا جا رہا ہے؟معلوم نہیں ہم اپنے جذباتی پن میں یہ حقیقت کیوں نہیں یاد رکھتے کہ کوئی بھی نسل نہ مکمل اچھی صفات کا مجموعہ ہوتی ہے نہ تمام بری صفات کا۔ ہر دور کے حالات اور دنیا کی رفتار لوگوں کے مزاج اور خصوصیات بناتے ہیں۔ بے بی بومرز‘ جین ایکس اور ملینیلز سب پر یہ اصول پورا اترتا ہے اور یہ جین زی پر بھی صادق آتا ہے۔ یہ نوجوان نہ فرشتے ہیں نہ شیطان۔ ان کا مزاج دو دھاری ہے۔ زمانے کے چلن اور رفتار نے ان کے ذہنوں کی ساخت الگ بنائی ہے لیکن انہیں یاد رہنا چاہیے کہ اسی چلن اور رفتار نے پہلی نسلوں کی ساخت بھی مختلف بنائی تھی۔ جین زی سے متصل اوپر ملینیلز نسل ہے۔ ان کی زندگیوں میں دنیا نے پہلی بار انٹرنیٹ دیکھا اور آپس میں جڑی تھی۔ جین زی نے سمارٹ فون کی دنیا میں آنکھ کھولی لیکن ملینیلز پر انٹرنیٹ نے اتنے اثرات مرتب نہیں کیے جتنے سمارٹ فون نے جین زی پر ڈالے ہیں۔ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ اس دیو نے جو اِن کے ہاتھ میں ہے‘ دراصل انہیں اپنے ہاتھ میں دبوچ رکھا ہے۔ جوناتھن ہائیڈٹ نے اپنی کتاب The Anxious Generation میں اسے &#39;&#39;فون پر پلی بڑھی نسل‘‘ کہا ہے۔ زندگی بہت ہی تیز رفتار ہے سو کوئی نہیں جانتا کہ جب بیٹا نسل جوان ہو گی تو اس کے ہاتھ میں کون سی نئی دنیا ہو گی۔جین زی کی خصوصیات کے اعتراف کیلئے بہت سی باتیں ہیں۔ یہ بے شمار اعلیٰ صفات کی حامل ہے۔ یہ پہلی ڈیجیٹل نسل ہے اور ان کا ڈیجیٹل شعور ہر پچھلی نسل سے بہتر اور آگے ہے۔ سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل دنیا سے باہر ان کی دنیا بہت کم ہے۔ اسی لیے ان کی ذہنی تربیت میں ٹیم ورک‘ وسائل بانٹنے‘ تنوع کا احترام اور نئے خیالات کیلئے کشادگی پائی جاتی ہے۔ اسی طرح ان میں سماجی شعور زیادہ ہے اور تعصبات کم کم۔ یہ سماجی اور طبقاتی خانوں کو ماننے والی نہیں۔ دہلی میں احتجاج میں جب طلبہ نے امتحانی نظام میں شفافیت کے ساتھ ساتھ دلت اور شمال مشرقی طلبہ کیلئے مساوی رسائی کا مطالبہ کیا تو یہ اسی شعوری کشادگی کا ثبوت تھا۔ یہی نہیں جین زی نسل فالوورز کو جوڑ کر اپنا بیانیہ تو بناتی ہے لیکن احتجاج کے بعد جھاڑو اٹھا کر جگہ صاف کرنا بھی جانتی ہے اور یہ عملیت پسندی کی صفت ہے۔ اسی کے ساتھ اس کے مظاہروں میں یہ مجموعی مزاج بھی سامنے آیا کہ سابقہ نسلوں کے مقابلے میں کم تشدد پسند ہے۔ ورنہ اوپر کی نسلوں کو تو ان کے لیڈرز بھی قابو میں نہیں رکھ پاتے تھے۔ جین زی زیادہ خود مختار‘ زیادہ آزاد نسل ہے سو ان کے ذہن میں مستقبل کا تصور بھی پہلوں سے الگ ہے لہٰذا وہ اپنے مستقبل کے بارے میں پریشان اور فکرمند بھی زیادہ ہیں۔ یہ پریشانی بھی انہیں عملیت پسند بناتی ہے۔یہ نوجوان بات گھمانے اور اسے مروڑنے کے بجائے صاف بات کو ترجیح دیتے ہیں‘ خواہ وہ کھردری اور کرخت لگتی ہو۔ یہ پہلی نسلوں کے مقابلے میں گفتگو کے ادب آداب کو اتنی اہمیت نہیں دیتے چنانچہ منہ پھٹ محسوس ہوتے ہیں۔ جین زی کی ایک اہم خصوصیت روایات اور رسم و رواج سے دوری ہے۔ یہ ان کی اچھائی اس لیے ہے کہ بہت سی فضول روایات ہمیں گرفت میں لیے زندگی دشوار بناتی رہتی ہیں۔ لیکن دوسری طرف یہی آزادی ان کی برائی بھی بن جاتی ہے جب وہ مثبت اقدار کو بھی نالی میں پھینک دیتے ہیں۔ جین زی کی اچھائیوں کے بارے میں اور بہت باتیں کی جا سکتی ہیں مگر کالم کا دائرہ تنگ ہے۔ لیکن آئینے کا دوسرا رخ بھی ہے۔ جین زی! کیا آپ لوگ اس دوسرے رخ میں بھی اپنا چہرہ دیکھنے کیلئے تیار ہیں؟ تو پھر اگلے کالم کا انتظار کیجیے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_81278520.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>جناب بلاول بھٹو زرداری کی توجہ کے لیے!(مفتی منیب الرحمٰن )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-07-30/52392/88182001</link><pubDate>Thu, 30 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-07-30/52392/88182001</guid><description>سقوطِ ڈھاکہ کے بعد دسمبر 1971ء میں صوبۂ سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہوئی اور 5جولائی 1975ء تک جاری رہی۔ پھر 1988ء سے 1990ء اور 1993ء سے 1996ء تک کے دورانیوں پر مشتمل پیپلز پارٹی کی حکومت رہی۔ اکیسویں صدی میں 2008ء سے تاحال تسلسل کے ساتھ صوبۂ سندھ پر پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہے۔ لہٰذا پیپلز پارٹی کے پاس یہ جواز نہیں ہے کہ اُسے صوبۂ سندھ میں حکمرانی اور عوام کی خدمت کیلئے مناسب وقت نہیں ملا۔ ہمیں اندازہ ہے کہ بیسویں صدی کے بعض دورانیوں میں ایم کیو ایم نے پیپلز پارٹی کیلئے مشکلات بھی پیدا کیں۔ جنابِ بلاول بھٹو زرداری کے پیپلز پارٹی کا چیئرمین ہونے کے سبب یقینا اُن کی وفاقی سطح پر بھی ذمہ داریاں ہیں۔ اس وقت پاکستان کا منصبِ صدارت اور سینیٹ کے چیئرمین کا عہدہ بھی پیپلز پارٹی کے پاس ہے‘ نیزحال ہی میں گلگت بلتستان میں اُن کی حکومت قائم ہو چکی ہے اور آزاد کشمیر میں بھی تاحال ان کی حکومت قائم ہے۔ قومی سطح کی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ یقینا صوبۂ سندھ کی پوری ذمہ داری پیپلز پارٹی پر عائد ہوتی ہے۔ ہمیں یہ بھی اعتراف ہے کہ پیپلز پارٹی کی کچھ کارکردگی کے مسائل ہیں اور کچھ تاثر (Perception) بھی ہمیشہ منفی رہا ہے۔ ظہیر دہلوی نے کہا ہے:کچھ تو ہوتے ہیں محبت میں جنوں کے آثار ؍ اور کچھ لوگ بھی دیوانہ بنا دیتے ہیںنواب مصطفی خاں شیفتہ نے بھی کہا تھا:ہم طالبِ شہرت ہیں، ہمیں ننگ سے کیا کام ؍ بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گاالغرض بدنامی یا ناقص کارکردگی کے تاثر کو زائل کرنے کیلئے پیپلز پارٹی کچھ زیادہ تگ ودو کرنے کی بھی روادار نہیں ہے۔ صدر زرداری کہا کرتے ہیں: &#39;&#39;ہم تاریخ میں زندہ رہنا چاہتے ہیں‘‘ یعنی اُن کی فہم کے مطابق اُن کی سَمت اور قبلۂ ترجیحات درست ہے اور اس کا فیصلہ تاریخ کرے گی۔ (لفظِ فہم کو شعرا نے مذکر بھی استعمال کیا ہے)۔ یہ بھی کسی حد تک درست ہے کہ پیپلز پارٹی میں تنقید کو برداشت کرنے کا حوصلہ دوسری جماعتوں کی بہ نسبت قدرے زائد ہے۔ ہمیں یہ بھی اعتراف ہے کہ سندھ میں قائم سرکاری ہسپتالوں کے علاوہ حکومت اور نجی مخیِّر اداروں کی شراکت سے صحت کے میدان میں سندھ انسٹیٹیوٹ آف یورالوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن‘ انڈس ہاسپیٹل کراچی اور گمبٹ انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز خیرپور جیسے ادارے قابلِ قدر خدمات انجام دے رہے ہیں اور ان سے پاکستان بھر کے لوگ استفادہ کرتے ہیں۔ ان اداروں میں سب سے زیادہ حصہ قومی اور بین الاقوامی مخیر افراد اور اداروں کا ہے۔ ہمیں یہ بھی اعتراف ہے کہ جنابِ بلاول بھٹو زرداری قومی سطح کی سیاست میں مصروفِ عمل ہیں مگر انہیں حکومتِ سندھ کے معاملات کے سدھار پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ اسے وہ اپنی کارکردگی کے رول ماڈل کی طرح پیش کر سکتے ہیں‘ جیساکہ وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز پنجاب حکومت کی کارکردگی کو پیش کرتی ہیں اور سندھ کو تقابل کی دعوت دیتی ہیں۔ خاص طور پر کراچی یونیورسٹی روڈ کی انتہائی ناقص کارکردگی سندھ حکومت کیلئے ایک طعنہ بن چکی ہے اور اس تاثر کو زائل کرنے کیلئے پیپلز پارٹی یا حکومتِ سندھ کے پاس کوئی جواز نہیں ہے۔ یونیورسٹی روڈ کو &#39;&#39;Bus Rapid Transit‘‘ کہا جاتا ہے۔ اردو میں ہم اسے &#39;&#39;سریع الحرکت ذریعۂ نقل وحمل‘‘ سے تعبیر کر سکتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اس کی اصل تکمیل ملیر ہالٹ سے مزارِ قائد تک ہو گی مگر سرِ دست صفورہ چورنگی سے آگے ڈیفنس سکوائر رائونڈ ابائوٹ سے جیل روڈ تک ہے۔ اس کے ابتدائی معاہدے پر 8 دسمبر 2021ء کو دستخط ہوئے اور 10 مئی 2021ء کو اس پر کام کا آغاز ہوا۔ اسے ابتدائی تخمینے کے مطابق 2023-24ء تک مکمل ہونا تھا مگر ناقص کارکردگی کے سبب یہ منصوبہ تاخیر کا شکار ہوتا رہا ہے۔ ظاہر ہے اس کا سبب ٹھیکیدار کا غلط انتخاب ہو سکتا ہے‘ حالانکہ کسی بڑے منصوبے کا ٹینڈر جاری کرنے سے پہلے خواہشمند ٹھیکیداروں سے پیشگی اہلیت کا ثبوت مانگا جاتا ہے کہ آیا اُن کے کھاتے میں اس درجے کے کوئی بڑے منصوبے ہیں‘ جنہیں انھوں نے عمدہ کارکردگی اور اعلیٰ معیار کے ساتھ بروقت مکمل کیا ہو۔ دوسرا سبب ناقص نگرانی اور واجبات کی بروقت ادائیگی نہ ہونا ہے۔ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ آیا بولی میں حصہ لینے والے ٹھیکیداروں کے پاس مطلوبہ مشینری اور انجینئرنگ کی مہارت موجود ہے کیونکہ کراچی تا حیدرآباد موٹروے اس لیے ناقص رہا کہ ٹینڈر لینے والے ادارے کے پاس یہ تمام لوازمات نہیں تھے۔ لہٰذا دیگر چھوٹے ٹھیکیداروں سے کام لیا گیا اور منصوبہ ناقص رہا۔یہ سب کے علم میں رہے کہ کراچی یونیورسٹی روڈ کا منصوبہ ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے فراہم کردہ قرض سے تعمیر کیا جا رہا ہے۔ ٹھیکیدار کی نااہلی‘ مطلوبہ تعمیراتی سازو سامان اور انجینئرنگ کی مہارت کی عدم دستیابی اور سرکاری اداروں کی ناقص نگرانی کے سبب یہ منصوبہ غیر معمولی تاخیر کا شکار ہوا۔ چنانچہ اب یہ منصوبہ 79 ارب کے ابتدائی تخمینے سے بڑھ کر 103 ارب تک یعنی پانچ سو ملین ڈالر سے چھ سو ملین ڈالر تک پہنچ چکا ہے اور خدا معلوم کہ تکمیل تک اس کی کل مالیت کہاں تک پہنچے گی۔ بہرصورت اس کا مالی بوجھ صوبۂ سندھ کی معیشت پر پڑے گا۔ سابق ٹھیکیدار کو نااہل اور بدعنوان قرار دے کر یہ منصوبہ اپریل 2026ء میں فرنٹیر ورکس آرگنائزیشن کو دیا گیا اور وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ صاحب نے بشارت دی کہ اب نوے دن میں یہ مکمل ہو جائے گا‘ مگر اب نوے دن کا دورانیہ بھی پورا ہو رہا ہے اور اس کی تکمیل کے دور دور تک آثار نہیں ہیں۔ بس اتنا ہوا ہے کہ ٹریفک کی روانی کو قدرے بہتر بنایا گیا ہے۔ کراچی یونیورسٹی روڈ پر دیگر تعلیمی اداروں کے علاوہ چھ یونیورسٹیاں ہیں۔ اسکے علاوہ پوری سڑک کمرشل ہے‘ اس پر ایکسپو سنٹر بھی ہے‘ جس میں ہر سال &#39;&#39;Ideas‘‘ کے نام سے دفاعی سازو سامان اور دیگر مصنوعات کی نمائش ہوتی ہے۔ اس موقع پر دیگر ممالک کے صنعتکار اور حکومتوں کے نمائندے بھی آتے ہیں۔ اسی شاہراہ پر کرکٹ سٹیڈیم کی لنک روڈ اور سوک سنٹر ہے‘ اس میں ادارۂ ترقیات کراچی اور شہری تنظیموں کے دفاتر ہیں۔ اس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ شاہراہ کتنی مصروف اور پُرہجوم ہے۔ اس پر گاڑیوں کے شو روم بھی کثیر تعداد میں ہیں۔ دعوتِ اسلامی کا مرکز فیضانِ مدینہ بھی ہے‘ وغیرہ۔ہمارے ہاں ایک شعار یہ بھی ہے کہ کسی کی کارکردگی پر جائز وجوہ کی بنا پر سوال اٹھایا جائے تو اس کا تحقیقی جواب دینے کے بجائے الزامی جواب دیا جاتا ہے۔ اس سے فرد یا گروہ کی نفسیاتی تسکین تو ہو جاتی ہے لیکن مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ مسئلہ تب حل ہوتا ہے جب کوئی اپنی تقصیر یا کوتاہی کا اعتراف کرے اور تمام دستیاب وسائل کو کام میں لاکر اس کا ازالہ کرے۔ الزامی جواب کی سائنس تو یہ ہے کہ کسی کی چوری کو اپنی چوری‘ کسی کے جرم کو اپنے جرم اور کسی کی ناقص کارکردگی کو اپنی ناقص کارکردگی کا جواز بنائے۔ ہمارے سیاستدان شب وروز یہی کام کرتے ہیں۔ ان کی مثال اس کہاوت کی سی ہے &#39;&#39;ایک شخص نے دوسرے سے کہا: جاٹ رے جاٹ تیرے سر پہ کھاٹ‘‘۔ اس نے جواباً کہا: تیلی رے تیلی تیرے سر پہ کولہو۔ اُسے کہا گیا: حضور! آپ کا مصرع وزن میں نہیں ہے۔ اس نے جواباً کہا: وزن ملے یا نہ ملے‘ کمر تو جھک جائے گی‘‘۔ پس یہی ہمارے سیاستدانوں کا شعار ہے کہ دوسروں کی تنقیص کو اپنی ناقص کارکردگی کا جواز بناتے ہیں۔ یہ د راصل حقائق سے چشم پوشی اور گریز کا راستہ ہے جبکہ کامیابی کا اصل راز حقائق کا سامنا کرنے اور ان کا قابلِ عمل حل پیش کرنے میں مضمر ہے۔ میڈیا میں یہ بھی آیا کہ ٹھیکیدار کو آٹھ ارب روپے پیشگی ادا کر دیے گئے اور اُس نے کام نہیں کیا۔ شاید یہ سوال عدالت میں اٹھایا گیا ہے۔نوٹ: بعض معلومات اور اعداد وشمار ہم نے انٹرنیٹ سے لیے ہیں‘ اس لیے ان کی ذمہ داری ہم پر عائد نہیں ہوتی تاوقتیکہ حکومت سندھ اپنے مصدقہ حقائق پیش کرے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_61172381.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>