<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>ترسیلاتِ زر، مضبوط معیشت کی بنیاد(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-11/11443</link><pubDate>Tue, 11 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-11/11443</guid><description>رواں مالی سال کے پہلے مہینے (جولائی) کے دوران ترسیلاتِ زر میں سالانہ بنیادوں پر 13فیصد اضافہ ہوا۔ جولائی میں تین ارب 60 کروڑ ڈالر سمندر پار پاکستانی کارکنوں نے بھیجے‘ جن میں سب سے زیادہ‘ 91 کروڑ 40 لاکھ ڈالر سعودی عرب اور 73 کروڑ 70 لاکھ ڈالر متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ارسال کیے گئے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ملکی معیشت کے استحکام میں سمندر پار پاکستانیوں کے مثبت کردار کو لائقِ تحسین قرار دیا ہے۔ چند سال قبل تک سمندر پار پاکستانیوں کی ترسیلات برآمدات کے بعد زرِمبادلہ کا دوسرا بڑا ذریعہ تھیں مگر حالیہ چند برس میں ان کے حجم میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور اس نے ملکی معیشت کو بڑا سہارا فراہم کیا ہے۔ ایک دہائی قبل کا جائزہ لیں تو مالی سال 2016ء میں برآمدات 21 ارب 70 کروڑ ڈالر جبکہ ترسیلاتِ زر کا حجم 19ارب 73 کروڑ ڈالر تھا۔ لیکن مالی سال 2026ء میں سمندر پار کارکنوں کی ترسیلات41 ارب 60 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں جبکہ برآمدات کا حجم 30 ارب 80 کروڑ ڈالر رہا۔ یعنی دس سال میں ترسیلاتِ زر میں 110 فیصد اضافہ ہواجبکہ برآمدات میں نمو کی شرح صرف 41 فیصد رہی۔ آج ترسیلاتِ زر کا حجم مجموعی قومی پیداوار کا لگ بھگ دس فیصد ہے۔

یہ صورتحال معیشت کیلئے نہ صرف ایک مضبوط سہارا بلکہ مژدۂ جانفزا ہے کیونکہ صنعتی اور پیداواری شعبے کی کمزوریوں اور توانائی کے مسائل کی وجہ سے برآمدات میں سرِدست بڑا اضافہ ممکن نظر نہیں آتا؛ چنانچہ ترسیلاتِ زر پر ملکی معیشت کا انحصار مزید بڑھ جاتا ہے۔ حالیہ چند برسوں میں اس شعبے نے جس طرح اپنی نمو سے اپنی حیثیت منوائی ہے‘ یہ دیگر شعبہ جات کیلئے ایک قابلِ تقلید مثال ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اس میں حکومتی پالیسیوں کا عمل دخل تقریباً نہ ہونے کے برابر رہا ہے بلکہ کئی اہم مواقع حکومتی سست روی اور عدم توجہی کے سبب ضائع کر دیے گئے‘ تاہم اب صورتحال بدل رہی ہے۔ اب حکومت کو بھی احساس ہو چکا کہ ہنرمند اور نوجوان افرادی قوت کو بیرونِ ملک کام کے مواقع حاصل کرنے کے قابل بنانے میں حکومتی کردار خاصا فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ خلیجی ممالک‘ جہاں مقیم اوور سیز پاکستانی ہر سال 20سے 22ارب ڈالر بھیج رہے‘ ہمارے لیے ایک بڑا معاشی موقع ثابت ہو سکتے ہیں۔ سٹیٹ بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ پانچ برس میں 55فیصد سے زائد ترسیلاتِ زر جی سی سی ممالک سے موصول ہوئیں۔ اب بدلتے عالمی حالات اور خلیج میں پاکستان کے بڑھتے تزویراتی رسوخ نے ہمیں نئے معاشی مواقع فراہم کیے ہیں‘ لہٰذا ان سے بھرپور استفادہ کیا جانا چاہیے۔
حکومت اگر افرادی قوت کی برآمد بڑھانے کے معاہدات کرے تو پاکستانی ہنرمندوں کیلئے دنیا میں باعزت روزگار کمانے کے دروازے کھل سکتے ہیں۔ آج بھی باصلاحیت ہنرمند نوجوانوں کی طلب کم نہیں ہوئی اور پاکستان اس خلا کو بہ آسانی پورا کر سکتا ہے‘ کیونکہ اس کی دو تہائی سے زائد آبادی تیس برس سے کم عمر نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ بلاشبہ یہ نوجوان آبادی ملک کیلئے بیش بہا خزانہ ثابت ہو سکتی ہے اگر اس افرادی قوت کی مناسب تعلیم وتربیت کا اہتمام کیا جائے اور انہیں بیرونِ ملک ملازمتیں حاصل کرنے میں مدد دی جائے۔ اس راہ میں حائل رکاوٹوں کو بھی دور کیا جانا چاہیے۔ ہمیں نوجوانوں کی تعلیم وتربیت اور عالمی مارکیٹ کی طلب کے مطابق افرادی قوت کی تیاری پر توجہ دینی چاہیے۔ سرکاری اور نجی شعبے میں ہنر اور تربیت کے کئی ادارے پہلے سے موجود ہیں مگر ان کی تعداد نہایت محدود‘ نیز جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگی کا بڑا خلا موجود ہے۔ حکومت کو اس سلسلے میں آگے آنا ہو گا تاکہ مارکیٹ کی طلب کے مطابق نوجوانوں کو تعلیم وتربیت کے مواقع میسر آ سکیں اور انہیں بہتر رہنمائی اور مدد فراہم کی جا سکے۔ ترسیلاتِ زر قومی معیشت کا ایک مضبوط ستون ہیں مگر اس ستون کو پائیدار اور مزید مضبوط بنانے کیلئے سائنسی و تکنیکی بنیادوں پر کام کرنا ہو گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بجلی مزید مہنگی ؟(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-11/11442</link><pubDate>Tue, 11 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-11/11442</guid><description>ایک خبر کے مطابق بجلی تقسیم کار کمپنیوں نے نیپرا کو رواں برس کی دوسری سہ ماہی کی فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں فی یونٹ بجلی کی قیمت میں ایک روپے کے قریب اضافے کی درخواست کی ہے‘ جس سے صارفین پر 23ارب روپے سے زائد کا اضافی بوجھ پڑے گا۔ دوسری جانب صارفین کو رواں سال کی پہلی سہ ماہی کی فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں ملنے والا تقریباً دو روپے فی یونٹ ریلیف بھی رواں ماہ ختم ہو جائے گا۔ یوں صارفین کو نہ صرف موجودہ ریلیف سے محروم کیا جارہا ہے بلکہ خدشہ ہے کہ دوسری سہ ماہی کی ایڈجسٹمنٹ کے نام پر اضافی بوجھ بھی ڈال دیا جائے گا۔ بجلی کی قیمت پہلے ہی عام آدمی کی قوتِ خرید سے باہر ہے۔ گھریلو صارفین کے مختلف سلیبز کیلئے بجلی کی قیمت 33 سے 75 روپے فی یونٹ تک پہنچ چکی ہے جبکہ بل میں مختلف سرچارجز‘ ٹیکسز اور ایڈجسٹمنٹس شامل ہونے کے بعد حقیقی مالی بوجھ مزید بڑھ جاتا ہے۔

مہنگی بجلی صنعتی پیداوار کی لاگت بھی بڑھاتی ہے جس سے پاکستانی مصنوعات عالمی منڈی میں مسابقت کھوتی ہیں۔ نتیجتاً برآمدات‘ صنعتی سرگرمی‘ روزگار اور معاشی نمو متاثر ہوتی ہے۔ اس لیے مہنگی بجلی معیشت کا بنیادی مسئلہ بن چکی ہے۔ نیپرا کو چاہیے کہ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے صارفین پر مزید بوجھ ڈالنے کی درخواست کا انتہائی محتاط جائزہ لے اور ایسے اخراجات صارفین کو منتقل کرنے سے گریز کرے جن کا تعلق نظام کی انتظامی ناکامیوں سے ہو۔ صارفین کو سستی اور بلاتعطل بجلی کی فراہمی کیلئے حکومت کو بجلی سیکٹر میں دیرپا اصلاحات کرنا ہوں گی۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ایل پی جی، حکومتی رِٹ کا سوال(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-11/11441</link><pubDate>Tue, 11 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-11/11441</guid><description>اوگرا کی جانب سے ایل پی جی کی قیمت 254 روپے فی کلو مقرر کی گئی تاہم ملک کے مختلف شہروں میں یہ 380 سے 450 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہی ہے۔ یہ محض منافع خوری نہیں حکومتی نگرانی اور پرائس کنٹرول کے نظام پر بھی بڑا سوال ہے۔ ایل پی جی اب محض متبادل ایندھن نہیں رہی بلکہ قدرتی گیس کی قلت کے باعث گھروں اور صنعتوں کی روزمرہ ضرورت بن چکی ہے۔ ایل پی جی پر ہونے والی منافع خوری سے سب سے زیادہ متاثر عام اور کم آمدنی والا طبقہ ہو رہا ہے۔ ایک طرف شہری سوئی گیس کے بل ادا کر رہے ہیں اور دوسری طرف گیس کی عدم دستیابی یا کم پریشر کے باعث ایل پی جی خریدنے پر مجبور ہیں۔ یوں ایک ہی ضرورت کیلئے دہرا مالی بوجھ عوام پر منتقل ہو رہا ہے۔

حکومت کو ملک بھر میں سرکاری نرخوں کا عملی نفاذ یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ مانیٹرنگ کا مؤثر طریقہ کار بھی وضع کرنا چاہیے۔ غیرقانونی فلنگ سٹیشنز کے خلاف بھی بلاامتیاز کارروائی ضروری ہے‘ جس طرح پٹرول اور ڈیزل کی فروخت کیلئے لائسنس یافتہ اور رجسٹرڈ پٹرول پمپس کا باقاعدہ نظام موجود ہے‘ اسی طرز پر ایل پی جی کیلئے بھی ایک مربوط‘ شفاف اور قابلِ نگرانی ڈسٹری بیوشن میکانزم تشکیل دیا جانا چاہیے۔ صرف مجاز اور رجسٹرڈ مراکز سے فروخت اور باقاعدہ انسپکشن ہی اس شعبے میں منافع خوری‘ ذخیرہ اندوزی اور غیرمحفوظ فلنگ کا راستہ روک سکتے ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ہم کھرب پتی کیسے ہوئے؟(محمد اظہارالحق)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-08-11/52459/88230615</link><pubDate>Tue, 11 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-08-11/52459/88230615</guid><description>کس احمق نے یہ فارمولا گھڑا تھا کہ 40سال کی عمر تک اگر آپ امیر نہیں ہو سکے تو اس کے بعد امیر ہونے کا کوئی امکان نہیں!خوش بختی کا ستارہ کسی بھی وقت پیشانی پر جگمگا سکتا ہے۔ قدرت کیلئے چھپر پھاڑنا کون سا مشکل ہے۔ یہی ہمارے ساتھ ہوا۔ ہم میاں بیوی نے ساری زندگی تنخواہ کا بجٹ بناتے‘ کفایت کرتے اور اپنا پیٹ کاٹ کر بچوں کی ضروریات پوری کرتے گزار دی۔ پنڈی سے مری جانا کون سا مشکل ہے ‘ اس کیلئے بھی پلاننگ کرتے سال پر سال گزر جاتے تھے۔ بچوں کی فرمائشیں پوری نہ کر سکنے پر ہمارا کلیجہ کٹ کٹ جاتا تھا۔ ایک طرف سے ادھار چکاتے تو دوسری طرف چڑھ جاتا۔ یاد نہیں کہ کسی عید پر ہم میاں بیوی نے نیا لباس پہنا ہو۔ پھل خریدتے تو سبزی کیلئے کچھ نہ بچتا۔ سبزی لیتے تو پھل رہ جاتے۔ گوشت کیلئے بڑی عید کا انتظار رہتا۔ یہ تھے ہمارے حالات! ہر حال میں پروردگار کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ جسے تیسے بھی دن گزرے‘ الحمدللہ بچے پڑھ لکھ گئے۔ دو کمروں پر چھت بھی ڈال لی۔اب جب ہم میاں بیوی ستر سے اوپر کے ہو گئے ہیں تو قسمت نے اچانک پلٹا کھایا ہے۔ یہ خوشخبری ایک دن صبح صبح ایک دوست نے فون پر دی۔ مجھے تو یقین ہی نہ آیا کہ اس عمر میں ہم کھرب پتی ہو سکتے ہیں۔ میں نے اپنی چٹکی لی کہ ہوش میں ہوں یا نہیں۔ خبر سچی تھی‘ اور میں سن کر بھی ہوش میں تھا۔ مگر گڑ بڑ یہ ہوئی کہ گھر آکر اہلیہ کو بتایا تو وہ سنتے ہی بے ہوش ہو گئیں۔ لینے کے دینے پڑ گئے۔ چہرے پر پانی چھڑکا۔ ہسپتال لے جانا پڑا۔ ڈاکٹر نے معائنہ کرنے کے بعد بتایا کہ انہوں نے کوئی ایسی خبر سنی ہے جو ناقابلِ یقین ہے۔ جوش‘ مسرت اور ہیجان کی وجہ سے ان کے حواس پر حملہ ہوا ہے۔ خیر! اللہ نے کرم کیا اور چند گھنٹے ہسپتال میں رہنے کے بعد‘ وہ تندرست حالت میں گھر واپس آ گئیں۔ اب اصل کام ان کی واپسی کے بعد شروع ہوا۔ دولت کی یہ بے تحاشا لیکن غیرمتوقع آمد ہمارے اعصاب اور ہماری ذہانت کیلئے امتحان تھی۔ زندگی بھر کی حسرتوں اور ارمانوں کی ہم نے تلافی کرنا تھی۔ سب سے پہلے ہم نے گاڑی خریدی۔ یہ مرسڈیز کا تازہ ترین ماڈل تھا۔ ہم نے اخبار میں اشتہار دے کر ایک مشاق ڈرائیور کو ملازم رکھ لیا۔ اسے ایک بارعب وردی بھی دلوائی۔ اگلا منطقی مرحلہ اپنے جھونپڑی نما مکان سے نجات حاصل کرنا تھا۔ اس کیلئے ہم نے امیر ترین آبادیوں کا تفصیلی سروے کیا۔ لاہور اور کراچی بھی گئے۔ بالآخر ہمیں تین محل پسند آئے۔ ایک کراچی کی بہترین جگہ &#39;&#39;زمزمہ‘‘ میں تھا۔ یہ چار کنال میں تھا۔ اس میں سوئمنگ پول بھی تھا۔ فرنیچر کا ٹھیکہ ہم نے ملک کی مشہور کمپنی کو دیا جس نے اطالوی سازو سامان سے محل کو آراستہ کر دیا۔ دوسرا محل لاہور میں خریدا۔ یہ ہم نے ایک مشہور سیاستدان کے محل کے مقابلے میں آراستہ کیا۔ سو کنال کے اس محل میں پانچ سو افراد کے بیٹھنے کیلئے ایک ہال بھی تھا۔ اس میں پانچ گیراج تھے۔ بیس باتھ روم تھے اور بیس ہی خواب گاہیں تھی۔ تیسرا محل ہم نے اسلام آباد میں خریدا۔ اس کے تہہ خانے میں پانچ بیڈ روم تھے۔ ملازموں کیلئے اس میں دس کمرے تھے۔ گراؤنڈ فلور سارا بیڈمنٹن کھیلنے کیلئے وقف تھا۔ پہلی منزل پر ہم نے باغ بنوایا۔ یہ بابل کے معلق باغات (Hanging Gardens of Babylon) کا جواب تھا۔ ہمیں یقین تھا کہ اس محل کو دنیا کا آٹھواں عجوبہ قرار دیا جائے گا۔ اب چونکہ ہمیں اکثرو بیشتر کراچی‘ لاہور‘ اسلام آباد آنا جانا تھا اس لیے ہم نے ایک جہاز بھی خرید لیا۔ملک کے اندر اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے بعد ہم نے دوسرے ملکوں کا رخ کیا۔ ہم نے فیصلہ کیا کہ ہر بچے کو کسی ٹاپ کلاس ترقی یافتہ ملک میں مقیم کریں گے۔ بڑے بیٹے کو ہم نے بہاما میں ایک محل اور ایک یاچ (Yacht) خرید کر دی۔ یہ اس لیے بھی ضروری تھا کہ ہم میاں بیوی کا بھی اکثرو بیشتر بہاما ہی میں قیام کا ارادہ تھا۔ منجھلے بیٹے کو ہم نے لاس اینجلس میں مشہور زمانہ بیورلے ہلز میں مکان خرید کر دیا۔ ہالی وڈ کے بڑے بڑے اداکار اور گلوکارائیں اسی آبادی میں قیام پذیر ہیں۔ سب سے چھوٹے بیٹے کو ہم نے جنوبی اٹلی کے خوبصورت ترین شہر نیپلز میں آباد کیا۔ اس کا محل سمندر کے کنارے ہے۔ ہم میاں بیوی کبھی کبھی وہاں قیام کرتے ہیں اور مناظرِ فطرت سے بہرہ ور ہوتے ہیں۔ رہی بیٹی‘ تو اسے ہم نے بحیرۂ روم میں‘ ہسپانیہ کی حدود میں ایک پورا جزیرہ خرید کر تحفے میں دیا۔ ان جائز خواہشات کو پورا کرنے کے بعد ہم نے بقیہ دولت کا اندازہ لگایا تو ماشاء اللہ اس قدر زیادہ تھی کہ اوپر بیان شدہ محلات وغیرہ خریدنے کے بعد یوں لگتا تھا جیسے سمندر میں سے ایک قطرہ کم ہوا ہو۔ اب ہم نے فلاحی کام کی طرف توجہ کی۔ ہم نے ملک بھر سے ایک لاکھ لائق اور ذہین طلبہ و طالبات کا انتخاب کیا اور ان کی تعلیم کے تمام اخراجات اٹھانے کا بند و بست کیا۔ ہم نے یہ انتظام بھی کیا کہ ہر سال ملک کے ایک ہزار طلبہ و طالبات کو آکسفورڈ‘ کیمبرج‘ لندن سکول آف اکنامکس‘ ہارورڈ اور دیگر مشہور یونیورسٹیوں میں داخل کرائیں گے اور فارغ التحصیل ہونے تک تمام اخراجات خود برداشت کریں گے۔اس کے بعد ہم نے مسلم ممالک کی طرف توجہ مبذول کی۔ ہم نے تمام مسلم ممالک میں تعلیم کے فروغ کیلئے ایک بین الاقوامی کمپنی قائم کی۔ اس میں ایک ارب ڈالر کی Seed Moneyڈالی۔ اسے چلانے کیلئے بین الاقوامی شہرت کے حامل بہترین منتظم چنے۔ آج کی تاریخ میں یہ کمپنی دو لاکھ مسلمان لڑکوں اور لڑکیوں کے تعلیمی اخراجات برداشت کر رہی ہے۔ اس کمپنی کا ہیڈ کوارٹر ہم نے سوڈان میں قائم کیا۔ اس کے علاوہ ہم نے پچپن مسلمان ملکوں سے چنے گئے مفلوک الحال افراد کے روزگار کا بھی بندو بست کیا۔الحمد للہ ہم نے مذہبی پہلو کو بھی نظر انداز نہیں کیا۔ ہم نے مدارس کی مدد کیلئے فنڈ قائم کیا۔ ملک بھر کی پرانی اور شکستہ مساجد کی تعمیر نو کا بیڑہ اٹھایا۔ جن مدارس کے پاس اپنی عمارتیں نہیں تھیں‘ انہیں عمارات بنا کر دیں۔ مدارس کے اساتذہ کیلئے رہائشی مکانات تعمیر کیے۔ رمضان المبارک کے دوران مسجد نبوی میں افطار کیلئے سالانہ دس لاکھ ڈالر مختص کیے۔ جو نیک اور پرہیز گار افراد حج اور عمرے کے اخراجات برداشت کرنے کے قابل نہیں ‘ انہیں حرمین شریفین بھیجنے کا انتظام کیا۔ نہ صرف پاکستان سے بلکہ پوری دنیا کے مستحق مسلمان اس مقدس پروگرام میں شامل تھے۔ ہم بچوں کی تفریح سے بھی غافل نہ تھے۔ ہم نے تمام بڑے شہروں میں ڈزنی لینڈ کی طرز پر تفریح گاہیں بنائیں۔ میری اہلیہ نے غریب عورتوں کیلئے ملک میں دستگاری کے پانچ ہزار مراکز قائم کیے۔ ان میں دوپہر کے کھانے کا بندو بست بھی تھا۔ ہر مرکز میں ہر روز ایک بیل ذبح کیا جاتا ہے تاکہ گوشت غریب خواتین کی خوراک کا لازمی حصہ ہو۔مجھے معلوم ہے کہ پڑھنے والے شدید ذہنی کشمکش میں ہوں گے کہ اس نادار کنبے کے پاس یہ لامحدود دولت کہاں سے آئی؟ تو عزیز قارئین! ہم نے چوری کی ہے نہ ڈاکہ ڈالا ہے۔ ہم نے کوئی بینک بھی نہیں لوٹا۔ نہ ہمارے تیل کے کنوئیں ہیں۔ ہم کبھی حکومت کا بھی حصہ نہیں رہے کہ اس قدر دولت کے مالک بن جاتے۔ اصل میں حکومت نے پنشن میں سات فیصد کا اضافہ کیا ہے۔ یہ ساری دولت اسی سات فیصد اضافے کی برکت ہے!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_57182973.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ہم اہلِ ملتان کی استقامتِ جدید(خالد مسعود خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-08-11/52460/79343773</link><pubDate>Tue, 11 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-08-11/52460/79343773</guid><description>ویسے تو ملتان پر بیرونی حملہ آوروں کی جارحیت کی تاریخ اس سے کہیں قدیم ہے‘ تاہم مستند تاریخِ ملتان 326 قبل مسیح میں سکندر اعظم کے حملے سے شروع ہونے والی بربادی کا سلسلہ جو 1848-49ء میں انگریزوں کی جارحیت اور دیوان مولراج کی شکست پر منتج ہوا‘ بیان کرتی ہے کہ تباہی اور بربادی کی اس ڈھائی ہزار سال پر مشتمل مسلسل اور طویل داستان میں 1398ء میں امیر تیمور گورگانی کی قتل وغارت گری اور پھر 1818ء میں سکھوں کی جانب سے ہونیوالی خونریزی جیسے ہولناک سانحات نے ہماری قوتِ برداشت کو اس قدر مضبوط اور مستحکم کر دیا ہے کہ آج ہم چھوٹی موٹی ناانصافی‘ حق تلفی‘ نظام کی خرابی‘ حقوق کی پامالی اور اس نوع کی دیگر زیادتیوں کو نہ صرف برداشت کر لیتے ہیں بلکہ اب تو ہم نے نسبتاً ایسی معمولی باتوں پر احتجاج کرنا بھی تقریباً چھوڑ دیا ہے۔ ہم شاید اب ایسی چیزوں کو من جانب اللہ اپنا مقدر سمجھ کر قبول کر چکے ہیں۔ حکمران کشمیر کا الیکشن جیتنے کیلئے ہماری دس الیکٹرک بسیں کشمیر بھجوا دیں تو ہماری آہ بھی نہیں نکلتی۔ تخت لاہور‘ ملتان ترقیاتی ادارے سے اربوں روپے منگوا کر ڈکار جائے تو ہمارے ہونٹوں پر حرفِ احتجاج نہیں آتا۔ اہلِ شمال ہم اہلِ جنوب کے حقوق سلب کر لیں تو ہم صبر سے کام لیتے ہیں اور اہلِ سیاست ہمیں بیچ کر کھا جائیں تو ہمارے ماتھے پر بل نہیں پڑتا۔ ہمارا ترقیاتی بجٹ ہضم کر لیا جائے ہمیں رائی برابر دکھ نہیں ہوتا اور ہمارے منصوبے دوسرے شہروں میں منتقل کر دیے جائیں تو ہماری صحت پر رتی بھر اثر نہیں پڑتا۔ سارا شہر اکھاڑ کر رکھ دیا جائے تو ہمیں اس کا درد تک محسوس تک نہیں ہوتا۔ بھلا جو شہر درجنوں بار کھنڈر بنا ہو اس شہر کے باسی ایسی چھوٹی موٹی تباہی کو کیا خاطر میں لائیں گے؟ڈیڑھ ماہ قبل ملتان کو جس حالتِ بربادی میں چھوڑ کر گیا تھا واپسی پر شہر عین اسی حالت میں ملا ہے۔ یہ بات درست کہ اس بار یہ ساری تخریب برائے تعمیر ہے لیکن تخریب کی بھی کوئی حد ہونی چاہیے۔ اسے آپ میری خوش فہمی سمجھ لیں یا حماقت‘ میں جب بھی پاکستان سے باہر جاتا ہوں تو اس شہرِ خرابات کو جو مسائل درپیش ہوتے ہیں یا جو خرابیاں آدھ رستے میں رکی ہوتی ہیں‘ میں ان کے بارے میں گمان کرتا ہوں کہ جب واپس آؤں گا تو سب کچھ ٹھیک ہو چکی ہوں گی۔ گزشتہ کئی عشروں سے اسی خوش فہمی یا حماقت کے زیر اثر جب میں واپس پاکستان آتا ہوں تو حالات جوں کے توں بلکہ بعض اوقات تو پہلے سے بھی زیادہ مائل بہ خرابی دکھائی دیتے ہیں۔ یہ بات درست ہے کہ یہ شہرِ ناپرساں پچھلے کچھ عرصے سے نسبتاً بہتری کی طرف مائل ہے۔ کچھ معاملات میں باقاعدہ بہتری کی صورت دکھائی دے رہی ہے۔ چھوٹی چھوٹی خرابیاں جو عرصہ دراز سے ہم پر مسلط تھیں ان کا کچھ نہ کچھ بندوبست ہوا ہے۔ شہر میں ترقیاتی صورتحال کافی حد تک بہتر ہوئی ہے۔ لیکن عشروں پرانا بلکہ میں تو کہوں گا کہ صدیوں پرانا جو ترقیٔ معکوس کا نظام اس شہر پر حاوی ہے وہ ان تمام کاوشوں سے بچ بچا کر اپنا اثر دکھاتا رہتا ہے۔ ملتان کا ایک بڑا انتظامی افسر اس سلسلے میں کافی بھاگ دوڑ‘ تگ ودو اور کاوشیں بھی کر رہا ہے مگر شاید جڑوں تک پہنچی ہوئی محکمہ جاتی خرابیاں ان تمام کوششوں‘ کاوشوں اور تگ ودو پر حاوی ہیں۔ سو صورتحال بعض معاملات میں خاصی دگرگوں ہے۔گلگشت کالونی ملتان کی اولین کالونی تھی جو ایک باقاعدہ منصوبے اور نقشے کے مطابق بنائی گئی۔ بلکہ مجھے یاد پڑتا ہے کہ تب دو باقاعدہ منصوبہ شدہ کالونیاں بنائی گئیں۔ شہر کی ایک سمت میں گلگشت کالونی جبکہ شہر کی دوسری جانب ریلوے لائن کے پار ممتاز آباد کالونی کی تعمیر ہوئی۔ ممتاز آباد کالونی بنیادی طور پر لوئر مڈل طبقے کیلئے ان کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے بنائی گئی جبکہ گلگشت کالونی اَپر مڈل کلاس اور مڈل کلاس طبقے کو مدنظر رکھ کر تعمیر کی گئی۔ گلگشت کالونی میں تب تین چار مختلف بلاک تعمیر کیے گئے۔ بوسن روڈ کے عین اوپر اے بلاک تھا جس میں بعض کوٹھیاں چار کنال بلکہ شاید اس سے بھی زیادہ بڑی تھیں۔ اے بلاک میں پیچھے والی سمت تھوڑے کم رقبے پر مشتمل پلاٹ تھے۔ اس کے بعد بی بلاک تھا‘ اس سے چھوٹا سی بلاک تھا۔ اب مجھے یاد نہیں‘ شاید آخری سرے پر ڈی بلاک بھی موجود تھا۔ یہ کالونی جو &#39;&#39;پھاٹا‘‘ کے زیر انتظام بنائی گئی تھی ملتان کے معززین‘ پڑھے لکھے‘ اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد اور کاروباری حضرات کی اولین ترجیح تھی۔ ایمرسن کالج کے بہت سے اساتذہ اس کالونی کے رہائشی تھے۔ میرے گلگشت ہائی سکول کے استاد مشتاق علی خادم کا گھر گردیزی مارکیٹ کے ساتھ بی بلاک میں تھا۔ کیا شاندار رہائشی کالونی تھی جس میں منصوبے کے مطابق تین مساجد‘ تین کمرشل علاقے جن میں مارکیٹیں تھیں‘ موجود تھے‘ تین عدد پارک اس کالونی کا حصہ تھے۔ پھر اس کالونی کو کمرشلزم کی نظر لگ گئی۔ پھاٹا کا نہ کوئی قانون تھا‘ نہ کوئی ضابطہ تھا اور نہ ہی کوئی نگرانی تھی۔ ساری کالونی آہستہ آہستہ کمرشل ہونا شروع ہو گئی۔ پہلے لوگوں نے گھروں میں دکانیں بنائیں‘ پھر گھر دکانیں بن گئے۔ ایک سرے سے دوسرے سرے تک ساری کالونی مارکیٹ میں تبدیل ہو گئی۔ پوری کالونی میں صرف کمپری ہینسو سکول برائے طالبات کمرشل ہونے سے بچ گیا۔ بصورت دیگر ساری کالونی دکانوں کے جنگل کی شکل اختیار کر گئی۔ اس میں سب سے پوش علاقہ گول باغ کی جنوبی سڑک تھی جس پر ملک کے مشہور برینڈز آنا شروع ہو گئے۔ لوگ اسے ملتان کا ایم ایم عالم روڈ کہتے تھے۔ پھر یہ برینڈ روڈ کے نام سے مشہور ہو گئی۔ فروری 2026ء میں اسکے معاملات کو درست کرنے‘ ٹریفک کا نظام اور پارکنگ کے مسائل کو حل کرنے کیلئے ایک منصوبہ شروع کیا گیا۔ آج چھ ماہ ہو چلے ہیں‘ ساری سڑک کھدی پڑی ہے۔ سارا منصوبہ افسروں اور اداروں کا تختہ مشق بنا ہوا ہے۔ ہر قسم کے کاروبار کا بیڑا غرق اور سارے علاقے کا ستیاناس ہو چکا ہے۔ ڈیڑھ دو مہینے پہلے معاملات کو جس نہج پر چھوڑ کر گیا تھا‘ معاملات ویسے کے ویسے ہیں‘ رتی برابر بہتری دکھائی نہیں دے رہی۔دوسری طرف ناردرن بائی پاس پر سیداں والے چوک سے خانیوال روڈ تک سڑک‘ جسے ملتان ایونیو کا نام دیا گیا ہے‘ اس پر بھی یہی کچھ ہو رہا ہے۔ ملتان کا سب سے قدیم اور گنجان آباد کاروباری اور تجارتی مرکز حسینا گاہی پچھلے چار ماہ سے کھدا پڑا ہے۔ سڑک غائب ہے۔ ہر طرف دھول‘ مٹی اور گڑھے ہیں۔ کوئی کسی چیز کا نہ ذمہ دار ہے نہ اس بری حالت کا کوئی حل ہی نکل رہا ہے۔ لوگوں کے کاروبار پچھلے چار پانچ ماہ سے تباہ ہو چکے ہیں۔ محکموں کا یہ عالم ہے کہ نہ ان کے پاس کام کرنے کی صلاحیت ہے اور نہ ہی کام کرنے کو دل کر رہا ہے۔ عشروں پرانے محکموں کے پاس نہ ان معاملات سے نمٹنے کی کپیسٹی ہے‘ نہ صلاحیت ہے اور نہ ہی نیت ہے۔ ڈیرہ اڈا سے حسن پروانہ روڈ پر کئی ماہ سے سیوریج ڈالی جا رہی ہے اور بس ڈالی ہی جا رہی ہے۔ یہ معاملات تو تکنیکی بھی ہیں جن میں شاید تھوڑی بہت مشکلات بھی ہوں گی لیکن پیر خورشید کالونی کی سڑک پچھلے پانچ ماہ سے زیر تعمیر ہے۔ دو اڑھائی فرلانگ پر مشتمل یہ لنک روڈ گلگشت کالونی کو شہر کی دوسری سمت سے ملانے کا اہم راستہ ہے۔ بااہل سرکاری محکموں سے چار پانچ ماہ میں محض اڑھائی فرلانگ کی چھوٹی سی سڑک مکمل نہیں ہو پا رہی۔اہلِ ملتان کیلئے یہ بربادی اور تباہی بہرحال اس بربادی اور تباہی کے سامنے کچھ بھی نہیں جو وہ صدیوں سے بے رحم امیر تیمور‘ وحشی تاتاریوں‘ ظالم سکھوں اور بے درد انگریزوں کے ہاتھوں بھگت کر صبر کرنا سیکھ گئے گئے ہیں۔ سو صدیوں سے استحصال‘ زیادتی‘ حق تلفی اور ظلم کے شکار اہلِ ملتان اب بھی صبر‘ حوصلہ‘ مستقل مزاجی‘ قوتِ برداشت اور تحمل سے یہ سب کچھ برداشت کر رہے ہیں۔ اہلِ ملتان کی استقامت کی روایت قائم ہے۔ یہ لاہور والی &#39;&#39;سپیڈیں‘‘ ملتان میں کہاں چلی جاتی ہیں۔ادھر آ ستمگر ہنر آزمائیں؍ تُو تیر آزما ہم جگر آزمائیں</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90500073.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>گیارہ اگست 1947ء کا آئینہ(ڈاکٹر حسین احمد پراچہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-08-11/52461/23706800</link><pubDate>Tue, 11 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-08-11/52461/23706800</guid><description>آج 11اگست 2026ء ہے۔ 11 اگست 1947ء کو قیامِ پاکستان کے رسمی اعلان سے تین دن قبل‘ قائداعظم محمد علی جناح نے دستور ساز اسمبلی کے افتتاحی اجلاس میں فی البدیہہ تقریر کی تھی۔ یہ تقریر ایک آئینہ ہے جس میں آج کے پاکستانی حکمران اور سیاستدان اپنا احتساب بھی کر سکتے ہیں اور اپنی کارکردگی کا جائزہ بھی لے سکتے ہیں۔ قائداعظم کے اس تاریخی خطاب کے اہم ترین نکات کو نظر انداز کر کے محض چند جملوں کو سیاق وسباق سے الگ کر کے سیکولرحضرات کنفیوژن پیدا کرتے رہتے ہیں۔ ان حضرات نے دو قومی نظریہ کیخلاف اپنی دکانداری چمکانے کی کوشش کی۔ ہم اس کا بھی تذکرہ کریں گے مگر پہلے اس تاریخی موقع پر قائداعظم کے خطاب کا خلاصہ ملاحظہ کر لیجئے۔قائداعظم نے دستور ساز اسمبلی کے ارکان سے کہا کہ پاکستان میں آپ کی سب سے پہلی ذمہ داری قانون کی بالادستی اور بدعنوانی کا خاتمہ ہے۔ امن وامان کا قیام ازبسکہ ضروری ہے تاکہ عوام کی جان و مال محفوظ رہ سکے۔ اس کے علاوہ انہوں نے رشوت ستانی‘ چور بازاری اور اقربا پروری کو معاشرے کا ناسور قرار دیا۔ انہوں نے بدعنوانی کے ان تمام مظاہر کا آہنی ہاتھوں سے خاتمہ کرنے پر زور دیا۔ چونکہ مسلمانانِ ہند کیلئے ایک علیحدہ وطن حاصل کیا جا رہا تھا تو قائداعظم نے اقلیتوں کے ممکنہ خدشات کا ازالہ کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ریاست میں سب برابر کے شہری ہوں گے۔ آپکو اپنے عقائد کے مطابق مندروں‘ مسجدوں‘ گرجوں اور دیگر عبادتگاہوں میں جانے کی آزادی ہو گی۔ اس موقع پر قائداعظم نے رنگ ونسل کے امتیازات کو پسِ پشت ڈال کر ایک متحد قوم کی حیثیت سے کام کرنے پر زور دیا۔ قائداعظم کے عطا کردہ آئینے میں دیے گئے نکات کا ایک ایک کر کے جائزہ لیتے جائیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ ہم نے فرمانِ قائد کی لاج کہاں تک رکھی ہے۔ جہاں تک قانون کے سپریم ہونے کا تعلق ہے تو اس دنیا سے قائد کے رخصت ہونے کے بعد ہم نے قانون کو بالادست کے بجائے اپنا زیردست بنا لیا۔ ہمارے بالادست طبقات نے قانون کو موم کی ناک بنا لیا اور اسے حسبِ خواہش جدھر چاہا اُدھر موڑ لیا۔ اس سلسلے میں کبھی منتخب ایوانوں پر ہاتھ صاف کیے گئے‘ کبھی اعلیٰ عدالتوں سے حسبِ منشا فیصلے لیے گئے اور کبھی اُن سے لکھے لکھائے فیصلے صادر کرائے گئے۔ اسی طرح ملک کے اکثر شعبوں میں من مانی کی گئی۔ حتیٰ کہ اسی لاقانونیت کی بنا پر ملک دولخت ہو گیا۔ ابھی چند روز پہلے وفاقی وزیر داخلہ نے خود اعتراف کیا کہ موجودہ نظام ناکام ہو چکا ہے۔ اگر یہ نظام مزید دس برس بھی اسی طرح چلتا یا سسکتا رہا تو کوئی پرفارمنس نہیں دکھا پائے گا۔ نظام سے متعلقہ سیاستدان اور ریاستی اداروں کے دیگر سٹیک ہولڈرز 11 اگست 1947ء کے روز بانیٔ پاکستان کے عطا کردہ آئینے میں اپنی اپنی کارکردگی کاجائزہ لیں۔اب آئیے دوسرے نکتے کی طرف جس میں قائداعظم نے بدعنوانی‘ رشوت ستانی چور بازاری اور اقربا پروری کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی تلقین کی تھی۔ اس سلسلے میں تھرڈ پارٹی آڈٹ کروا لیں‘ ملکی اداروں کے اعداد وشمار کا جائزہ لے لیں یا آئی ایم ایف جیسے عالمی اداروں کی رپورٹیں ملاحظہ کر لیں‘ آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ ہم نے بدعنوانی کے ہر شعبے میں عالمی ریکارڈ قائم کیے ہیں۔ ہم ماضی کو ایک طرف رکھتے ہوئے اس سلسلے میں ایک تازہ ترین واقعے کا یہاں ذکر کریں گے۔ یہ روح فرسا بھی ہے اور چشم کشا بھی۔ 7 اگست کو چیئرمین نیب لیفٹیننٹ سینیٹ کی کمیٹی برائے قانون وانصاف میں تشریف لائے۔ اجلاس کے دوران کمیٹی کے چیئرمین اور چیئرمین نیب کے مابین ہونیوالے سوالات و جوابات سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ وطن عزیز کرپشن اور بدعنوانی کے کس درجے میں ہے۔انہوں نے کہا کہ مجھے کرپشن کے سمندر میں پھینک دیا گیا ہے‘ مجھے چار ماہ کا وقت دیا جائے تیل‘ بجلی سمیت سب ٹھیک کر دوں گا‘ بشرطیکہ مجھے اختیار دیں اور ہائی لیول کمیٹی بنائے جائے۔ میرے ہاتھ کھولیں۔ انکا کہنا تھا کہ کرپشن کیسز میں سیاستدان اور گورنمنٹ آفیشلز سب شامل ہیں۔ چیئرمین نیب کی بیان کردہ کرپشن کہانی سن کر چیئرمین کمیٹی اور دیگر ممبران نے کہا کہ آپ کے الفاظ سے تو لگتا ہے کہ پورا ملک ہی کرپٹ ہے۔قائداعظم نے ملک میں امن وامان قائم کرنے کی نصیحت فرمائی تھی مگر بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں بدامنی پر نظر ڈال لیں یا کراچی کی گلیوں میں روزانہ کی بنیاد پر پیر و جواں اور بچوں کو بے دردی سے موت کے گھاٹ اتارنے اور شہریوں کو دن دہاڑے شاہراہوں اور گھروں میں لوٹ لینے کے واقعات کو دیکھیں تو معلوم ہو جائے گا کہ ملک امن کا گہوارہ نہیں‘ بدامنی کی آماجگاہ بن چکا ہے۔ ہم 11 اگست 1947ء کے فرامین قائد کی مسلسل خلاف ورزی کرتے چلے آ رہے ہیں۔ کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں۔اب آئیے اس نکتے کی طرف ہمارے سیکولر دانشور جس سے اپنی مرضی کا مطلب نکالنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ بانیٔ پاکستان نے 11اگست کی تقریر میں دیگر اہم باتوں کے علاوہ یہ بھی فرمایا تھا کہ آپ مندروں‘ مساجد یا کسی بھی عبادتگاہ میں جانے کیلئے بالکل آزاد ہوں گے۔ قائداعظم کا یہ فرمان میثاقِ مدینہ کے عین مطابق ہے‘ جسے دنیا کے پہلے تحریری آئین کی حیثیت حاصل ہے۔ ممتاز اسلامی مفکر ڈاکٹر حمید اللہ کے بقول میثاقِ مدینہ میں مدینہ کے تمام شہریوں کو مذہب سے قطع نظر برابر کے شہری حقوق دیے گئے تھے۔ 11اگست 1947ء سے پہلے اور اس کے بعد بانیٔ پاکستان کی تقاریر کو جمع کیا جائے تو الم نشرح ہو جائے گا کہ قیامِ پاکستان سے پہلے اور بعد‘ درجنوں بار قائداعظم نے نوزائیدہ ریاست کو ایک ماڈرن اسلامی جمہوری سٹیٹ بنانے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔ قائد کے نزدیک اسلامی اور جمہوری اصولوں میں کوئی تضاد نہیں تھا۔ قائد کے بہت سے ہمعصر اور اُن کے بعد آنے والے اسلامی سکالرز نے اسلامی نظام کی اسی تشریح کو روحِ اسلام کے مطابق قرار دیا ہے۔ بانیٔ پاکستان نے اپنی تقریروں میں کبھی بھی سیکولر ازم کا لفظ استعمال نہیں کیا۔ نوجوانوں کے اذہان میں تشکیک کے کانٹے بونے اور دو قومی نظریے کے بارے میں کنفیوژن پیدا کرنے کیلئے کچھ افراد سعیٔ لاحاصل کرتے رہتے ہیں۔ تاہم آج کے نوجوان بیدار مغز ہیں اور وہ رات دن بھارت میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے ساتھ حکومت اور انتہاپسند ہندو تنظیموں کا غیر انسانی سلوک دیکھتے ہیں تو انہیں حق الیقین ہو جاتا ہے کہ پاکستان ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ قائداعظم کی تقاریر میں اسلامی جمہوری نظام کی اصطلاح بار بار استعمال کی گئی ہے۔ کالم کی تنگ دامانی کے سبب یہاں بانیٔ پاکستان کی صرف ایک تقریر سے چند سطور پیش کر رہا ہوں: نومبر 1945ء میں قائداعظم نے پشاور میں دو ٹوک انداز میں کہا تھا: &#39;&#39;آپ نے سپاسنامے میں مجھ سے پوچھا کہ پاکستان میں کون سا قانون ہو گا۔ مجھے آپ کے سوال پر بہت افسوس ہے۔ مسلمانوں کا ایک خدا‘ ایک رسول اور ایک کتاب ہے۔ اسلام ہی پاکستان کے قانون کی بنیاد ہو گا اور پاکستان میں کوئی قانون اسلام کے خلاف نہیں ہوگا‘‘۔ قائداعظم کے 11 اگست 1947ء کے عطا کردہ آئینے میں پاکستانی حکمران‘ سیاستدان‘ مقتدر حلقے‘ بیورو کریٹس اور عوام اپنا اپنا جائزہ لیں تو معلوم ہو جائے گا کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔ ان آٹھ دہائیوں میں فرامین قائد کی مسلسل خلاف ورزیاں کر کے ہم نے کیا کیا نقصانات اٹھائے ہیں۔ آدھا ملک گنوا کر 1973ء میں پاکستان کے سیاستدان ایک ایسا آئین بنانے میں کامیاب ہو گئے جو خاصی حد تک قائد کے وژن کے مطابق ہے۔ اللہ نے پاکستان کو خارجہ امور میں بڑی کامیابی عطا فرمائی ہے۔ آج 11اگست 2026ء کو اگر ہم من حیث القوم 11اگست 1947ء کے آئینے میں اپنا جائزہ لے کر فرامین قائد پر دل و جان سے عملدرآمد کا عہد کرلیں تو خُلد میں قائد کی روح فرحاں و شاداں ہو سکتی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_70033906.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>شرح مبادلہ کی قدر کا تعاقب(شاہد کاردار)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-kardar-/2026-08-11/52462/74185438</link><pubDate>Tue, 11 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-kardar-/2026-08-11/52462/74185438</guid><description>پاکستان کا معاشی بحث مباحثہ اب بھی فرسودہ اصطلاحات میں جکڑا ہوا ہے۔ جب بھی روپیہ کمزور ہوتا ہے تو شور مچ جاتا ہے کہ روپے کی قدر مزید کم ہو گئی۔ مبصرین پوچھنے لگتے ہیں کہ روپے کی قدر میں کمی کتنی جلد ہونے والی ہے۔ پالیسی ساز اس بات پر بحث کرتے ہیں کہ کرنسی کی ڈالر کے مقابلے میں شرح مبادلہ کا دفاع کیا جانا چاہیے یا اسے مضبوط بنایا جانا چاہیے۔ گویا ان کے نزدیک شرح مبادلہ محض پالیسی کا ایک آلہ ہے جبکہ حقیقت یہ نہیں۔ بحث مباحثہ کی یہ زبان خود ایک ایسے دور سے تعلق رکھتی ہے جو بڑی حد تک ستر کی دہائی کے اوائل میں ختم ہو گیا تھا۔ آج بیشتر ممالک اپنی کرنسیوں کو نسبتاً آزادانہ حرکت کرنے دیتے ہیں۔ جب کسی معیشت میں خطرناک حد تک عدم توازن پیدا ہو جائے تو زیادہ تباہ کن بحران سے بچنے کیلئے کرنسی کو لازماً خود کو ہم آہنگ کرنا پڑتا ہے جیسا کہ پاکستان کی اپنی تاریخ بارہا ظاہر کرتی ہے۔ کرنسی کی شرح مبادلہ کوئی انتظامی فیصلہ نہیں ہوتی۔ یہ ایک ملک کی کرنسی کی دوسرے ملک کی کرنسی کے مقابلے میں بازاری قیمت ہوتی ہے۔ یہ قدر کئی عوامل سے طے پاتی ہے جیسے ملکی افراطِ زر کا تجارتی شراکت دار ممالک کے افراطِ زر سے تقابل‘ سود کی شرحوں کا فرق‘ پیداواری صلاحیت‘ آمدنی سے زیادہ حکومتی اخراجات‘ بیرونی ادائیگیوں کا توازن‘ سرمایہ کے بہاؤ اور زرمبادلہ کے ذخائر کی صورتحال۔ سب سے بڑھ کر یہ قدر اس توقع سے تشکیل پاتی ہے کہ کاروباری حلقے سمجھتے ہیں کہ مستقبل میں معیشت کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ روپیہ اس لیے کمزور نہیں ہوتا کہ پالیسی ساز اسے کمزور کرنے کا فیصلہ کر لیتے ہیں۔ یہ اس لیے کمزور ہوتا ہے کہ ملک کے معاشی فیصلوں کے سبب موجودہ شرح مبادلہ کو برقرار رکھنا ناممکن ہو جاتا ہے۔مرکزی بینک اس صورتحال کو مختلف طریقوں سے سنبھالنے کی کوشش کرتے ہیں‘ جیسے مقررہ شرح مبادلہ‘ کرنسی کو مینج کرکے آزاد چھوڑنا یا مکمل آزاد چھوڑنا۔ ہر طریقہ اپنی الگ مالی ومعاشی پابندیاں عائد کرتا ہے لیکن کوئی بھی طریقہ حکومت کو یہ اجازت نہیں دیتا کہ وہ پہلے وسیع تر معاشی تصویر کو درست کیے بغیر شرحِ مبادلہ پر قابو پا لے۔ پاکستان میں مختلف انتظامات کیے جاتے رہے لیکن کبھی بھی کسی ایک انتظام کو مستقل اختیار نہیں کیا گیا۔ کبھی شرحِ مبادلہ کو سختی سے قابو میں رکھا گیا‘ کبھی اسے بتدریج کمزور ہونے دیا گیا‘ کبھی انتظامی پابندیوں کے ذریعے روکا گیا اور کبھی صرف آئی ایم ایف کی معاونت سے چلنے والے پروگراموں کے تحت اس میں رد وبدل کیا گیا۔ یہ کوئی مربوط حکمتِ عملی نہیں بلکہ بار بار آنے والے بحرانوں کے جواب میں وقتی اور غیر منظم اقدامات ہیں۔ لوگ اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ روپے کی کمزوری ہی پاکستان کی برآمدات میں مشکلات کی بنیادی وجہ ہے۔ حقیقت میں مسابقت کا تعین کرنے والے عوامل کچھ اور ہیں۔ پاکستان کے برآمد کنندگان کو شرحِ مبادلہ کے مقابلے میں کہیں زیادہ سنگین ساختی رکاوٹوں کا سامنا ہے مثلاً مہنگی اور غیر یقینی توانائی‘ زیادہ ٹیکسز‘ غیر متوقع اور پیچیدہ ریگولیشنز‘ بحری نقل وحمل کا فرسودہ نظام اور کسٹم کی غیر مؤثر کارروائیاں۔ روپے کی قدر میں معمولی کمی اس درجے کی ساختی رکاوٹوں کا ازالہ نہیں کر سکتی۔ شرحِ مبادلہ بیماری نہیں بلکہ معیشت کے چلائے جانے کے انداز کی ایک علامت ہے۔ شرحِ مبادلہ کے استحکام کا انحصار انتظامی مداخلت پر نہیں ہوتا بلکہ اس کیلئے پالیسی پر اعتماد ہونا ضروری ہے۔ مسلسل مالیاتی خسارے‘ جنہیں قرض لے کر پورا کیا جائے‘ افراطِ زر کو ہوا دیتے‘ اعتماد کو مجروح کرتے ہیں۔ بالآخر شرحِ مبادلہ اس قابل نہیں رہتی کہ ایک سطح پر رہ سکے۔ مصنوعی طور پر مضبوط کرنسی کو سہارا دینے سے صرف یہ ہوتا ہے کہ ضروری اصلاح کا عمل مؤخر ہو جاتا ہے اور بالآخر اس عمل کی قیمت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ ماہرینِ معاشیات ایک نسبتاً پیچیدہ اصطلاح &#39;&#39;حقیقی مؤثر شرحِ مبادلہ‘‘ کا ذکر کرتے رہتے ہیں۔ یہ دراصل ایک تشخیصی آلہ ہے جو افراطِ زر کو مدنظر رکھتے ہوئے قیمتوں کا اس کے تجارتی شراکت داروں کی قیمتوں سے موازنہ کرتا ہے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ آیا روپیہ مجموعی طور پر اپنی حقیقی قدر سے زیادہ مہنگا ہے یا سستا۔ یہ کوئی جادوئی پیمانہ نہیں جو آپ کو روپے کی درست قیمت بتا دے خصوصاً اس وقت جب حکومت تجارت اور درآمدی قواعد میں بہت زیادہ مداخلت کر رہی ہو۔ اس کی افادیت کا انحصار معیشت کی ساخت پر بھی ہوتا ہے۔ جہاں تجارت آزاد ہو اور قیمتیں منڈی کی قوتوں کے مطابق حرکت کریں وہاں یہ پیمانہ مفید رہتا ہے لیکن جہاں تحفظ دینے والی پالیسیاں‘ درآمدی پابندیاں اور انتظامی ضابطے بڑے پیمانہ پر موجود ہوں وہاں اس کی اہمیت کم ہو جاتی ہے۔ شرحِ مبادلہ کی نسبت معیشت کی مقابلہ کرنے کی صلاحیت کا تعین ٹیکسز‘ اجازت ناموں کی شرائط‘ کسٹم میں تاخیر اور ریگولیٹری رکاوٹوں سے کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ حکومتیں عارضی طور پر ٹیکسز‘ زرِ مبادلہ پر پابندیوں‘ متعدد شرحِ مبادلہ یا درآمدی پابندیوں کے ذریعے حقیقی مؤثر شرحِ مبادلہ کو متاثر کر سکتی ہیں۔ ایسے اقدامات وقتی طور پر کرنسی پر دباؤ کم کر سکتے ہیں لیکن وہ مقابلہ کرنے کی بنیادی صلاحیت کو بہتر نہیں بناتے۔ اس کے بجائے وہ زرمبادلہ کی قلت پیدا کرتے اور سرکاری اور بازاری شرحِ مبادلہ کے درمیان فرق کو بڑھا دیتے ہیں۔ملک کئی مرتبہ ایک ہی چکر سے گزرا ہے: شرحِ مبادلہ کا حقیقی قدر سے زیادہ ہونا‘ ذخائر میں کمی‘ درآمدی پابندیاں‘ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی معاونت‘ روپے کی قدر میں کمی اور پھر اگلے بحران سے پہلے عارضی استحکام۔ اسکے بعد اصلاح کا اقدام خوف وہراس اور روپے کی بڑی قدر میں کمی کے ذریعے سامنے آیا۔ ہر مرحلے کو کرنسی کا بحران قرار دیا گیا حالانکہ اگر شرحِ مبادلہ کو مارکیٹ کے مطابق حرکت کرنے دیا جاتا تو بتدریج اصلاح ممکن ہوتی اور بحرانوں کی شدت کم رہتی۔ شرحِ مبادلہ نے صرف ان بنیادی کمزوریوں کو بے نقاب کیا جو بروقت مالیاتی اور ساختی عدم اصلاحات کا نتیجہ تھیں۔ انصاف کی بات یہ ہے کہ آج کے حالات ماضی کے بحرانوں سے مختلف ہیں۔ کرنٹ اکاؤنٹ کا توازن مجموعی طور پر برقرار ہے‘ ذخائر مستحکم ہو چکے ہیں‘ سرکاری اور غیر سرکاری شرحِ مبادلہ کے درمیان فرق بڑی حد تک ختم ہو گیا ہے اور درآمد و برآمد کنندگان کو غیر ملکی زر مبادلہ حاصل کرنے میں نمایاں رکاوٹوں کا سامنا نہیں ہے۔ لیکن اس استحکام کو بنیادی معاشی حالت میں پائیدار بہتری سمجھنا غلطی ہوگا۔ اس استحکام کو جن عوامل نے سہارا دیا ہوا ہے ان میں غیر معمولی حد تک مضبوط ترسیلاتِ زر‘ مسلسل بیرونی قرضے‘ غیر ملکی قرضوں کی مدت میں توسیع‘ کمزور معاشی سرگرمی کے باعث درآمدی طلب میں کمی‘ بلند افراطِ زر کے نتیجے میں گھریلو طلب کے دباؤ میں کمی اور مرکزی بینک کی جانب سے زرِ مبادلہ کے کاروبار سے وابستہ اداروں کو ترسیلاتِ زر باضابطہ بینکاری نظام میں جمع کرانے کی ہدایات۔ ان تمام عوامل کی وجہ سے روپے پر دباؤ کم ہو جاتا ہے لیکن ان سے ملک کی ساختی کمزوریاں ختم نہیں ہو جاتیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ فی کس آمدنی میں اضافہ نہیں ہو رہا اور سرمایہ کاری کا جی ڈی پی سے تناسب اب بھی کم ہے۔ اگر پاکستان شرحِ مبادلہ کا دیرپا استحکام چاہتا ہے تو ترجیحات بالکل واضح ہیں‘ وہ یہ کہ مالیاتی نظم وضبط بحال کیا جائے‘ افراطِ زر کم کیا جائے‘ سرکاری ملکیتی اداروں میں اصلاحات کی جائیں‘ تجارتی تحفظ کم کیا جائے‘ توانائی کی قیمتوں کو معقول بنایا جائے‘ پیداواری صلاحیت میں اضافہ کیا جائے‘ نقل وحمل کے نظام کو جدید بنایا جائے اور ریگولیٹری ماحول کو زیادہ قابلِ پیش گوئی بنایا جائے۔ یہی اصلاحات روپیہ کے استحکام کا تعین کریں گی نہ کہ شرحِ مبادلہ کو قابو میں رکھنے کی کوششیں۔ شرحِ مبادلہ بیماری نہیں یہ محض تھرمامیٹر ہے لہٰذا اس کو توڑ دینے سے بخار ختم نہیں ہوتا۔ اسی طرح اس کی پیمائش کو بدل دینے سے مریض کی حالت تبدیل نہیں ہو جاتی۔ روپیہ صرف اُس معیشت کی عکاسی کرتا ہے جو ہم نے تشکیل دی۔ جب تک معیشت زیادہ مسابقتی اور مالیاتی اعتبار سے زیادہ منظم نہیں بنے گی بالآخر مارکیٹ کی قوتیں ہی طے کریں گی کہ شرحِ مبادلہ کہاں جا کر مستحکم ہو گی۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_78012569.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>افغان رویہ: انحراف اور الزامات(رشید صافی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-08-11/52463/42301991</link><pubDate>Tue, 11 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-08-11/52463/42301991</guid><description>افغانستان گزشتہ نصف صدی سے سیاسی انارکی‘ مسلح تصادم اور اندرونی خلفشار کا شکار ہے۔ اس مسلسل بے چینی اور کشیدگی کا سب سے بڑا محرک وہ طاقتور عسکری اور سیاسی دھڑے ہیں جو افغان سرزمین کو اپنے کنٹرول اور خودمختاری کیلئے استعمال کرتے رہے ہیں۔ افغانستان کا مسئلہ صرف ایک حکومت یا نظریے کا نہیں بلکہ طاقت کے ان متعدد مراکز کا ہے جو ریاست کے اندر متوازی ریاستیں قائم کیے ہوئے ہیں۔ یہ مسلح گروہ نظریاتی بنیادوں پر اس قدر منظم ہیں کہ مرکزی حکومت کی کمزوری کا فائدہ اٹھا کر جب چاہیں پورے ملک کو عدم استحکام سے دوچار کر دیتے ہیں۔ افغانستان کے موجودہ عسکری اور سیاسی منظرنامے کو سمجھنے کیلئے ان مسلح دھڑوں کی ساخت اور ان کی حکمتِ عملی کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ طالبان نے اگرچہ اگست 2021ء میں کابل پر قابض ہو کر اپنی حکومت کا اعلان کیا لیکن ان کا غلبہ کبھی بھی مکمل یا ہمہ گیر ثابت نہیں ہو سکا۔ طالبان کے اندر بھی یکسانیت کا فقدان ہے‘ ایک طرف قندھار کا روایتی اور سخت گیر مذہبی دھڑا ہے جو ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کی قیادت میں پالیسیاں طے کرتا ہے‘ جبکہ دوسری طرف حقانی نیٹ ورک ہے جس کی قیادت سراج الدین حقانی کے پاس ہے۔ حقانی نیٹ ورک نہ صرف عسکری لحاظ سے انتہائی سٹرٹیجک صلاحیتوں کا حامل ہے بلکہ وہ طالبان حکومت کے اندر رہتے ہوئے بھی ایک نیم خود مختار اور انتہائی بااثر قوت کے طور پر کام کرتا ہے۔ ان دونوں داخلی گروہوں کے درمیان ویژن اور سفارتی ترجیحات کا فرق اکثر پالیسیوں کے تضاد کی شکل میں سامنے آتا ہے۔طالبان کے اقتدار کو سب سے بڑا سیاسی اور عسکری چیلنج شمالی اتحاد نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (این آر ایف )سے ہے۔ یہ گروپ پنج شیر‘ اندراب اور بدخشاں کے پہاڑی علاقوں میں اپنا عسکری وجود برقرار رکھے ہوئے ہے۔ احمد مسعود سابق افغان مزاحمتی رہنما احمد شاہ مسعود کے بیٹے ہیں۔ وہ این آر ایف کی قیادت کر رہے ہیں۔ این آر ایف طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت کرنے والی سب سے نمایاں تنظیموں میں شمار ہوتی ہے۔ علی میثم نظری این آر ایف کے اہم سیاسی اور سفارتی چہرہ ہیں۔ وہ بیرون ملک این آر ایف کی نمائندگی کرتے اور طالبان کے مقابلے میں ایک سیاسی متبادل کیلئے بین الاقوامی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسی طرح جنرل یاسین ضیا سابق افغان فوج کے چیف آف جنرل سٹاف اور سابق نائب وزیر دفاع رہ چکے ہیں۔ وہ افغانستان فریڈم فرنٹ (اے ایف ایف) کی قیادت کرتے ہیں۔ اے ایف ایف طالبان کے خلاف مسلح کارروائیوں میں سرگرم گروہوں میں شامل ہے۔ ازبک آبادی کے بااثر عسکری قائدین عبدالملک رشید دوستم اور ان کے حامی شمال میں اپنی کھوئی ہوئی طاقت کی بحالی کیلئے مسلسل کوشاں ہیں۔ ازبک عسکریت پسند دہائیوں سے افغانستان کے شمالی اضلاع میں ایک مضبوط قوت رہے ہیں اور وہ طالبان کی پشتون غالب پالیسیوں کو اپنے وجود کیلئے خطرہ تصور کرتے ہیں۔ دوسری جانب عطا محمد نور اور دیگر اہم رہنماؤں کی زیرِ قیادت قائم جمعیت اسلامی کے متوازی دھڑے بھی سیاسی اور عسکری سطح پر فعال ہیں‘ جو افغان اقتدار میں غیرپشتون اقوام کی مساوی شرکت کے داعی ہیں۔ ان روایتی عسکری تنظیموں کے علاوہ داعش خراسان کی شکل میں بڑا خطرہ موجود ہے۔ داعش خراسان نہ صرف طالبان کے مذہبی و سیاسی بیانیے کو کھلم کھلا چیلنج کرتی ہے بلکہ اس نے کابل اور اہم صوبوں میں سفارت خانوں‘ اقلیتوں اور طالبان حکام پر حملے کرکے اپنے اثر و رسوخ کا ثبوت دیا ہے۔ یہ تنظیم طالبان سے ناراض جنگجوؤں اور بیرونی شدت پسندوں کو اپنے ساتھ ملا کر خطے کیلئے ایک انتہائی شدید سکیورٹی رِسک بن چکی ہے۔ اس کیساتھ ساتھ ٹی ٹی پی اور دیگر علاقائی شدت پسند گروہوں کی افغانستان میں موجودگی نے مسئلے کو مزید الجھا دیا ہے۔ یہ تمام دھڑے نہ صرف ایک دوسرے کا وجود تسلیم کرنے سے انکاری ہیں بلکہ ان میں سے ہر ایک خود کو افغانستان کی حکمرانی کا حقیقی حقدار گردانتا ہے۔ ان دھڑوں کے پاس اربوں ڈالر کے ہتھیاروں تک رسائی ہے جس کی بنا پر وہ جب چاہیں مرکزی نظام کیلئے معاشی‘ سفارتی اور سکیورٹی بحران پیدا کر سکتے ہیں۔ طالبان کے دوسرے دورِ اقتدار کی شروعات پر یہ امید کی جا رہی تھی کہ وہ 1990ء کے پہلے دور کی غلطیوں اور خامیوں سے سبق سیکھیں گے۔ یہ گمان تھا کہ اس بار توجہ عوامی فلاح‘ انسانی حقوق‘ تعلیم اور اقتصادی بحالی جیسے بنیادی مسائل پر مرکوز کی جائے گی‘ جیسا کہ ان کے حامی اکثر مثالیں دیا کرتے تھے مگر گزشتہ چند برسوں کے واقعات نے ان امیدوں اور اندازوں کو یکسر غلط ثابت کر دیا ہے۔ نہ صرف یہ کہ عوام کو بنیادی سہولتیں اور شہری آزادیاں میسر نہیں آئیں‘ بلکہ اپوزیشن کو مکمل طور پر دیوار سے لگانے کی پالیسی نے اندرونی تصادم اور خانہ جنگی کے خطرات کو دوبارہ بڑھا دیا ہے۔ افغانستان کے لوگوں کے بارے عمومی خیال ہے کہ نہ تو وہاں کے لوگ کسی بیرونی طاقت کے تسلط کو قبول کرتے ہیں اور نہ ہی ان کے اندرونی دھڑے آپس میں کسی ایک نقطے پر متفق ہو پاتے ہیں۔ یہی المیہ ہے جس نے اس ملک کو دہائیوں سے بحرانوں کی دلدل میں دھکیل رکھا ہے۔ خطے کی سلامتی‘ بالخصوص پاک افغان تعلقات کے حوالے سے پاکستان کا یہ مؤقف رہا ہے کہ افغان سرزمین مسلسل پاکستان کیخلاف سرحدی پار دہشتگردی اور تخریبی کارروائیوں کیلئے استعمال ہو رہی ہے۔ پاکستان نے اس اہم معاملے کو حل کرنے کیلئے مسلسل سفارتی اور سیاسی کوششیں کیں۔ متعدد اعلیٰ سطحی وفود نے کابل کے دورے کیے اور طالبان قیادت کو ٹھوس شواہد فراہم کرتے ہوئے ان کیساتھ بار بار مذاکرات کیے تاہم افغان طالبان کا رویہ اس اہم ترین مسئلے پر مسلسل عدم توجہی اور عدم سنجیدگی پر مبنی رہا ہے۔ تحفظات اور خدشات تو پاکستان کے بجا تھے‘ لیکن صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہو گئی جب افغان حکام نے پاکستان کے جائز مطالبات کا حل نکالنے کے بجائے الٹا پاکستان پر ہی افغانستان میں اسلحہ سمگل کرنے کا الزام عائد کر دیا۔ افغان طالبان کی انٹیلی جنس فورسز نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ملک کے مشرقی علاقے میں 74 عدد ہتھیار تحویل میں لیے ہیں اور یہ الزام لگایا کہ یہ پاکستان سے افغان سرزمین پر تخریب کاری پھیلانے کی غرض سے سمگل کیے گئے تھے۔ افغان رویہ انحراف سے بڑھ کر الزام تراشی تک جا پہنچا ہے‘ لیکن پاکستان نے افغان حکومت کے اس دعوے کو بے بنیاد اور حقائق کے بالکل منافی قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔اگست 2021 ء میں جب امریکی اور اتحادی افواج نے افغانستان سے انخلا کیا تو وہ تقریباً سات ارب ڈالر سے زائد مالیت کا جدید ترین عسکری سامان وہیں چھوڑ گئیں۔ اسکے علاوہ افغانستان میں سوویت یونین کیخلاف جنگ کے دور کے بکھرے ہوئے ہتھیاروں کے بھی بے شمار ذخائر اب بھی ہر عام و خاص کے ہاتھ میں ہیں۔ امریکی اور سوویت دور کے اتنے بڑے عسکری ذخائر کی موجودگی میں محض چند ہتھیاروں کو پاکستان سے منسوب کرنے کی کوششیں نہ صرف مضحکہ خیز ہیں بلکہ یہ افغان حکومت کی اس ناکامی کا اعتراف ہے کہ وہ اپنے ملک کے اندر اسلحے کی خرید و فروخت اور بلیک مارکیٹ پر قابو پانے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ پاکستان کا ہمیشہ سے یہی مطالبہ رہا ہے کہ افغان طالبان رجیم ان وعدوں کی پاسداری کرے جو انہوں نے دوحہ معاہدے میں عالمی برادری سے کیے تھے۔ ان کا بنیادی فرض یہ ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان یا کسی بھی دوسرے پڑوسی ملک کے خلاف عسکریت پسندی کیلئے استعمال نہ ہونے دیں۔ افغان حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنی حدود میں موجود دہشت گرد تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہوں اور ان کی آپریشنل صلاحیتوں کو ختم کرنے کیلئے مؤثر اقدامات کرے۔ اگر افغان طالبان نے اپنی پالیسیوں کا ازسرِنو جائزہ نہ لیا اور ان مسلح دھڑوں کو لگام نہ دی تو اس کے اثرات صرف پڑوسی ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ خود افغانستان کا قومی وجود اور اس کی داخلی سلامتی کو خطرات لاحق ہو جائیں گے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/222_48272610.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بسکہ ہوں غالبؔ اسیری میں بھی آتش زیر پا(حافظ محمد ادریس)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/hafiz-muhammad-idreess/2026-08-11/52464/11797476</link><pubDate>Tue, 11 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/hafiz-muhammad-idreess/2026-08-11/52464/11797476</guid><description>ساہیوال جیل میں مجھے جس وارڈ میں قید کیا گیا وہاں ایسی تنہائی اور ویرانی تھی کہ کوئی پرندہ بھی پَر نہیں مار سکتا تھا۔ جیل سے کبھی خوف محسوس نہیں ہوا مگر اس تنہائی نے ایک عجیب سوہانِ روح میں مبتلا کر دیا تھا۔ اللہ تعالیٰ کا یہ بہت بڑا کرم ہے کہ بچپن ہی سے بزرگوں کی تربیت اور گھریلو ماحول کی وجہ سے اس طرح کی کیفیات میں ہمیشہ قرآن کریم کی تلاوت اور مسنون دعائوں سے دل لگا کر اللہ کی نصرت طلب کی ہے۔ سینے میں قرآن محفوظ ہونا ایک نعمتِ غیر مترقبہ ہے۔ کھانا لے کر آنے والے کارندے بھی بات چیت نہ کرتے تھے۔ البتہ ایک جیل افسر جو نوجوان تھے‘ وہ آئے تو انہوں نے ایک دو منٹ کیلئے نرمی سے باتیں کیں اور پھر خدا حافظ کہہ کر واپس چلے گئے۔ اس افسر کا نام شاید &#39;مہر جہانگیر‘ تھا۔ انہوں نے خود اپنا تعارف کرایا۔ وہ اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ جیل تھے۔ میں نے ان سے کچھ کہنا چاہا تو انہوں نے کہا: خدا حافظ! پھر ملیں گے۔ اگلے روز وہ دوبارہ آئے اور معمول کا دورہ کرتے ہوئے دو تین منٹ میں حال احوال معلوم کر کے چلے گئے۔ تیسرے روز ان کی آمد پر میں تقریباً اس بات سے مایوس تھا کہ ان سے کوئی بات ہو سکے مگر  خلافِ معمول انہوں نے حال احوال پوچھنے کے بعد مزید سوالات بھی کیے‘ جن میں تعلیم‘ آبائی علاقہ‘ خاندانی پس منظر اور پنجاب یونیورسٹی کے انتخابات کو موضوع بنایا گیا۔ مختصر الفاظ میں بارہ پندرہ منٹ باہمی گفتگو ہوئی۔ میں نے قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھی تو وہ مسکرائے اور کہنے لگے کہ فکر نہ کریں‘ چند دنوں میں یہ مرحلہ ختم ہو جائے گا اور جیل کے کسی دوسرے حصے میں منتقل کر دیا جائے گا۔  میں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ اس سے سخت جگہ بھی جیل میں کوئی ہے؟ جواب ملا کہ ہاں ہے! مگر آپ کو آسان جگہ پر ہی شفٹ کیا جائے گا۔ اگلے روز اس گوشۂ تنہائی سے نکال کر جس حصے میں مجھے لے جایا گیا اس کا نام &#39;&#39;قصوری چکیاں‘‘ تھا۔ ان چکیوں کا تعلق ضلع قصور سے نہیں بلکہ جیل میں بڑے قصور یا جرم کرنے والوں کے حوالے سے یہ نام دیا گیا تھا۔ جیل کی باقی بیرکوں کے مقابلے میں قصوری چکیوں میں زیادہ پابندیوں سے گزرنا پڑتا تھا۔ تاہم آہستہ آہستہ ماحول سے مانوسیت پیدا ہو گئی اور جیل حکام سے اچھے تعلقات کی وجہ سے پابندیاں بھی بتدریج نرم ہونے لگیں۔ اس احاطے میں چالیس چکیاں تھی اور تقریباً 80‘ 85 قیدی بند تھے۔ پہلے دن یہاں آنے پر معلوم ہوا کہ خطرناک قیدیوں‘ جاسوسوں اور منشیات کا دھندہ کرنے والے اسیران کو یہاں رکھا جاتا ہے۔ ہر چکی میں یا تو ایک قیدی ہوتا یا تین‘ دو قیدی کسی چکی میں بند نہیں کیے جاتے تھے۔ اگلے روز صبح آٹھ بجے اعلان ہوا کہ سب لوگ اپنی اپنی چکیوں میں چلے جائیں &#39;&#39;معائنہ‘‘ آ رہا ہے۔ معائنہ بھی جیل کی خاص اصطلاح ہے۔ تھوڑی دیر کے بعد جیل پروٹوکول اور ضوابط کے مطابق &#39;&#39;باملاحظہ باہوشیار‘‘ کی صدا کے ساتھ بیرونی دروازہ کھلا اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل اور دیگر اہلکار آئے۔ میری چکی کے باہر آ کر افسر موصوف نے میرا نام پوچھا۔ پھر حکم دیا کہ قید بامشقت کے قیدی کی حیثیت سے مجھے مشقت کرنا پڑے گی۔ مشقت یہ تھی کہ پرانے کمبل ادھیڑ کر ان کے دھاگے نکالنے اور ان کے گچھے بنانے ہوں گے۔ میں نے عرض کیا کہ میں ماسٹرز ڈگری ہولڈر ہوں‘ مجھے میرے مناسب حال مشقت دی جائے تو کر لوں گا۔ انہوں نے سنی اَن سنی کر دی۔ میری بات سن کر معائنے کے بعض اہلکار اور پرانے قیدی تعجب کے ساتھ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ شاید سوچ رہے تھے کہ اب اس نئے &#39;&#39;مہمان‘‘ کی گت بنے گی۔ اس حکم کے فوراً بعد بوسیدہ اونی کمبل میری چکی کے سامنے رکھ دیے گئے۔ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ اور ان کا عملہ آگے بڑھ گئے۔ اگلی شام جیل کے ملازمین اونی دھاگے حاصل کرنے کیلئے آئے تو دیکھا کہ کمبل جوں کے توں وہاں پڑے تھے۔ انہوں نے وجہ پوچھی تو میں نے صاف کہا کہ میں تعلیم یافتہ فرد ہوں‘ میں ایسی مشقت کروں گا جو میری تعلیم کے مطابق ہو‘ مثلاً قیدیوں کو پڑھانا‘ جیل خانے کی لائبریری کو منظم کرنا یا لکھنے پڑھنے کا کوئی دوسرا کام جس کی جیل کے اندر ضرورت ہو۔ اس کے علاوہ کوئی مشقت میرے لیے ممکن نہیں۔ مجھے دھمکیاں دی گئیں مگر مجھے کوئی پروا نہیں تھی۔ آخر جیل کا عملہ کمبل اٹھا کر لے گیا۔ اس وقت تک اہلکار اور پرانے قیدی‘ جو منشی کہلاتے تھے‘ سبھی میرے لیے اجنبی تھے۔ جب بعد میں وہ مجھ سے بہت مانوس ہوئے تو اس پہلے دن کے بارے میں مختلف انداز میں اظہارِ خیال کیا کرتے تھے۔ ایک قیدی فضل کریم شاد‘ جو بعد میں میرے لیے اخبار لے کر آیا کرتے تھے‘ کہنے لگے کہ آپ نے مشقت سے انکار کیا تو میرا خیال تھا کہ سپرنٹنڈنٹ جیل اپنی غضبناک طبیعت کی وجہ سے آگ بگولہ ہو جائیں گے اور آپ کو سخت سزا دیں گے۔ میں فکرمند تھا کہ یہ ایک دبلا پتلا نوجوان ہے۔ اس بے چارے کی ہڈی پسلی ایک ہو جائے گی مگر حیران رہ گیا جب انہوں اپنے عملے سے کہا کہ یہ &#39;جماعتیا‘ ہے‘ اسے ڈرانا دھمکانا ممکن نہیں‘ اسے اس کے حال پر چھوڑ دو۔بعد میں جیل حکام کی طرف سے مجھے لائبریری کو منظم کرنے کا کام سونپا گیا۔ میں نے لائبریری میں حالات کا معائنہ کیا اور پندرہ دن میں ہی سب کتب کی عنوانات و موضوعات کے مطابق نئی فہرست مرتب کر لی اور رجسٹر پر بوسیدہ کتابوں کی تفصیل بھی الگ سے لکھ دی۔ اس عمل کی تکمیل کے بعد روزانہ تو نہیں‘ البتہ کبھی کبھار لائبریری میں جا کر چیک کرتا کہ قیدیوں نے مطالعہ کیلئے جو کتب حاصل کی ہیں وہ مقررہ وقت (پانچ دنوں) کے اندر واپس کی ہیں یا نہیں۔ دو قیدی مستقل طور پر یہاں خدمات سر انجام دیتے تھے۔ میں نے کچھ نئی کتب منگوانے کیلئے ایک فہرست مرتب کر کے دفتر میں ارسال کی۔ کچھ عرصے کے بعد اس فہرست کے مطابق چند ایک کتب کا لائبریری میں اضافہ ہو گیا۔ ان میں &#39;&#39;خطبات‘‘ اور &#39;&#39;دینیات‘‘ خاص طور پر قابلِ ذکر تھیں۔ساہیوال کے تنظیمی اور جماعت کے ساتھی وقتاً فوقتاً مجھ سے ملاقات کیلئے آتے رہتے تھے۔ اُس زمانے میں جمعیت طلبہ کے ناظم رائو محمد طاہر ساہیوال سے تھے۔ کئی دیگر رفقا بھی جیل میں آتے اور ملاقات کر کے باہر کی بہت سی خبریں سنا دیتے۔ جماعت کے ساتھیوں میں سے ایک مرتبہ پیر محمد اشرف‘ چودھری بشیر احمد اور سید منور بخاری بھی ملاقات کیلئے آئے۔ میں نے ان کو بتایا کہ اللہ کے فضل سے اب جیل میں ماحول خاصا سازگار اور دوستانہ ہو گیا ہے۔ سرکاری کارندوں اور پرانے قیدیوں کے ساتھ نہ صرف دوستی ہو گئی ہے بلکہ ان کو تحریک اسلامی سے متعارف کرانے کا کام بھی شروع ہو گیا ہے۔ اُس زمانے میں جماعت اسلامی کا نام تو کئی لوگوں نے سن رکھا تھا مگر اس کی دعوت سے زیادہ لوگ واقف نہیں تھے۔ بعض قیدیوں کے بارے میں اندازہ ہوتا تھا کہ وہ خاصے ذہین ہیں‘ ان پر کچھ کام کیا جائے تو ان کی زندگیاں بدل سکتی ہیں۔ایک قیدی کا تعلق ضلع جہلم کے ایک گائوں سے تھا۔ وہ ڈکیتی کے کیس میں چودہ سال قید بامشقت بھگت رہا تھا۔ سگریٹ نوشی اور وہ بھی &#39;بھرا ہوا‘ اس کا مشغلہ تھا۔ مجھے سگریٹ نوشی سے بہت شدید اذیت پہنچتی۔ میں نے اس سے سگریٹ چھوڑنے کا کہا۔ یہ سن کر اس نے جواب دیا کہ میں آپ کے پاس آنا اور اپنی ذمہ داری چھوڑنا تو قبول کر سکتا ہوں مگر سگریٹ چھوڑنا میرے لیے ممکن نہیں۔ میں نے حکمت کے تحت کہا کہ کوئی بات نہیں‘ آپ آتے رہیں اور سگریٹ بھی پیتے رہیں۔ سگریٹ کے دھوئیں سے مجھے ہمیشہ سے شدید نفرت رہی ہے۔ بچپن میں بزرگوں کی محفل میں بیٹھتا تھا جس میں حقہ لازمی ہوتا تھا۔ میں ہمیشہ ذرا فاصلے پر ہی رہتا تھا۔ حالانکہ حقے اور سگریٹ میں بہت فرق ہے۔ حقے کا دھواں پانی میں سے ہو کر آتا ہے گویا کہ وہ دھلا ہوا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے اُس وقت امام حسن البنا شہید کی سیرت سے یہ سبق سکھایا کہ اصلاح کیلئے کسی شخص کو اپنے سے دور کرنے کی بجائے اپنے سے قریب کرنا ضروری ہوتا ہے۔ مجھے یقین تھا کہ اصلاح اسی راستے سے ہو گی۔ الحمدللہ! اللہ نے مجھے مایوس نہیں کیا۔ </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_24721193.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>