<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>دہشت گردی کے خلاف غیر متزلزل عزم(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-11-06/11698</link><pubDate>Fri, 06 Nov 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-11-06/11698</guid><description>چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ بدلتے ہوئے سکیورٹی خطرات اور نئے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے مسلسل تربیت‘ مقامی سطح پر صلاحیتوں کی ترقی اور آپریشنل تیاریوں پر غیر متزلزل توجہ ضروری ہے۔ ایس ایس جی ہیڈ کوارٹرز تربیلا کا دورہ کرتے ہوئے فیلڈ مارشل نے دفاعی صلاحیتوں کا جائزہ لیا اور مادرِ وطن کے دفاع میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنیوالے اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اس وقت پاکستان کو کثیر جہتی سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے۔ اگر ہم گزشتہ ربع صدی کا جائزہ لیں تو یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جتنی بھاری قیمت چکائی ہے‘ دنیا کی کسی دوسری قوم نے نہیں چکائی۔ نائن الیون کے بعد جب ملک میں دہشت گردی کا پھیلائو شروع ہوا تو کوئی شہر‘ کوئی علاقہ اس عفریت کے چنگل سے آزاد نہ تھا۔ تاہم پاک فوج نے راہِ راست‘ راہِ نجات‘ ضربِ عضب‘ ردالفساد اور اب عزمِ استحکام جیسے فوجی آپریشنز کے ذریعے ملک کا کھویا ہوا امن بحال کیا۔ اس جدوجہد میں فوج کے افسران اور جوانوں نے اپنے خون سے ملک کی مٹی سے وفا کا حق ادا کیا۔ یہ ان بے لوث قربانیوں کا ہی نتیجہ ہے کہ کبھی ملک کے طول و عرض میں روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے دھماکے اور بے گناہ شہریوں کی شہادتیں کنٹرول میں آئیں اور ریاست نے ان تمام علاقوں پر اپنی رِٹ بحال کی جن پر عسکریت پسندوں نے اپنا تسلط جما رکھا تھا۔ لیکن دہشت گردی ایک ایسا ناسور ہے جو اپنی شکلیں بدلتا رہتا ہے اور موجودہ دور میں اسکی ایک نئی شکل مغربی سرحدوں سے دراندازی کی صورت میں نمودار ہو رہی ہے۔ افغانستان میں حکومت کی تبدیلی کے بعد یہ امید کی جا رہی تھی کہ پاکستان کی مغربی سرحد پر امن قائم ہوگا اور دوحہ معاہدے کے تحت افغان سرزمین کو پاکستان کیخلاف استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔ لیکن بدقسمتی سے زمینی حقائق اسکے برعکس ثابت ہوئے۔ افغانستان کی جانب سے پاکستان کو درپیش خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ کالعدم تنظیمیں اور دہشت گرد گروہ افغان سر زمین پر محفوظ پناہ گاہیں قائم کیے ہوئے ہیں جہاں سے وہ پاکستان کے اندر حملوں کی منصوبہ بندی کرتے رہتے ہیں۔ گزشتہ روز بھی کُرم میں دہشتگردوں نے دراندازی کی کوشش کی جسے ناکام بنا دیا گیا۔ سکیورٹی فورسز کی جانب سے دہشتگردوں کو روکنے پر افغان طالبان نے بلا اشتعال فائرنگ کی تاہم سکیورٹی فورسز نے فوری جوابی ردعمل کے ذریعے افغان طالبان کی جارحیت کا فوری‘ مؤثر اور منہ توڑ جواب دیا۔ یہ واقعہ اس جارحانہ رویے کا تسلسل ہے جو سرحد پار سے مسلسل دکھایا جا رہا ہے۔ جب افغان فوج کی چوکیاں دہشتگردوں کو کور فائر فراہم کریں تو یہ دو ریاستوں کے درمیان سرحدی خودمختاری کی خلاف ورزی کا سنگین معاملہ بن جاتا ہے۔ پاکستان جو روزانہ کی بنیاد پر دہشتگردی کے خاتمے کیلئے اوسطاً 194 آپریشنز کر رہا ہے‘ اسکے تحمل اور خاموشی کو کمزوری سمجھنے کی غلطی نہ کی جائے۔ افغانستان کو بار بار یہ باور کرایا جا رہا ہے مگر محسوس ہوتا ہے کہ سطحی فکر و نظر کی حامل قیادت کوئی بڑا سبق سیکھے بغیر باز آنیوالی نہیں ہے۔ پاکستان اپنا عزم واضح کر چکا ہے کہ دفاعِ وطن پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کیا جائے گا اور کسی بھی حد تک جایا جائے گا۔ تاہم آج کا دشمن صرف سرحد کے پار موجود نہیں ہے بلکہ وہ سوشل میڈیا‘ پروپیگنڈا اور سائبر حملوں کے ذریعے بھی عوام اور ریاست بالخصوص دفاعی اداروں کے درمیان خلیج پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسلئے آپریشنل تیاری میں نظریاتی اور نفسیاتی دفاع بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ عسکری دفاع۔ فوج فرنٹ لائن پر لڑ کر دشمن کا راستہ روک سکتی ہے لیکن اپنی صفوں کی صفائی ہمیں خود کرنی ہے۔ دہشتگردی کے ناسور کا مکمل خاتمہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک پوری قوم دفاعی اداروں کے شانہ بشانہ موجود نہ ہو۔ غیر متزلزل عزم اور فولادی تیاری ہی ملکی و سماجی استحکام کی ضمانت بن سکتی ہے۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پنجاب میں بلدیاتی انتخابات(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-11-06/11697</link><pubDate>Fri, 06 Nov 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-11-06/11697</guid><description>الیکشن کمیشن نے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کی تاریخ تبدیل کرنے کی صوبائی حکومت کی درخواست منظور کرتے ہوئے صوبے میں سات فروری 2027ء سے مرحلہ وار انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سے قبل الیکشن کمیشن نے 15 دسمبر 2026ء سے 15 جنوری 2027ء کے دوران انتخابات کرانے پر اتفاق کیا تھا‘ تاہم صوبائی حکومت نے شدید سردی‘ دھند اور انتظامی مشکلات کا حوالہ دیتے ہوئے 20 جنوری کے بعد انتخابات کرانے کی درخواست کی‘ جسے منظور کر لیا گیا۔ اب اسے مزید آگے نہیں بڑھانا چاہیے۔ پنجاب میں آخری بلدیاتی انتخابات 2015میں منعقد ہوئے تھے۔ گزشتہ پانچ برسوں میں الیکشن کمیشن صوبے میں انتخابات کیلئے متعدد مرتبہ انتخابی پروگرام جاری کر چکا لیکن کبھی قانون میں تبدیلی‘ کبھی حلقہ بندیوں اور کبھی انتظامی وجوہات کی بنا پر انتخابی عمل آگے نہ بڑھ سکا۔  بلدیاتی ادارے عوام کے روزمرہ مسائل کے حل میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ ان اداروں کی عدم موجودگی میں شہریوں کے چھوٹے چھوٹے مسائل بھی صوبائی حکومت اور انتظامیہ کے رحم و کرم پر رہتے ہیں۔ اب جبکہ الیکشن کمیشن نے سات فروری 2027ء کی تاریخ مقرر کر دی ہے‘ صوبائی حکومت اور انتظامیہ کو چاہیے کہ اسے حتمی تصور کرتے ہوئے انتخابی عمل کیلئے تمام ضروری انتظامات بروقت مکمل کریں۔ الیکشن کمیشن کو اب اپنے آئینی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے انتخابات کا بروقت اور شفاف انعقاد یقینی بنانا ہوگا۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پاکپتن بس حادثہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-11-06/11696</link><pubDate>Fri, 06 Nov 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-11-06/11696</guid><description>گزشتہ روز پاکپتن میں بس اور ٹریلر کے درمیان خوفناک تصادم کے نتیجے میں 10سے زائد افراد جاں بحق جبکہ 30سے زائد زخمی ہو گئے۔ ملک میں بڑھتے ٹریفک حادثات حکام کی فوری توجہ کے متقاضی ہیں۔ ریسکیو حکام کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق اکتوبر کے مہینے میں پنجاب میں 44 ہزار 797 ٹریفک حادثات رپورٹ ہوئے‘ جن میں 464 افراد جاں بحق اور 23 ہزار 543 شدید زخمی ہوئے۔ ٹریفک حادثات کی بڑی وجوہات میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی‘ تیز رفتاری‘ ڈرائیوروں کی لاپروائی‘ گاڑیوں کی ناقص حالت اور سڑکوں کی خستہ حالی شامل ہیں۔ بالخصوص مسافر بسوں کے حادثات میں تیز رفتاری اور ڈرائیوروں کی تھکن اہم عوامل ہیں۔ ٹریفک حادثات کی روک تھام کیلئے ٹریفک قوانین پر بلاامتیاز سختی سے عمل درآمد کیساتھ ساتھ پبلک ٹرانسپورٹ اور مال بردار گاڑیوں کی فٹنس کی باقاعدہ جانچ یقینی بنائی جائے۔ کمرشل ڈرائیوروں کیلئے تربیت اور طبی معائنے کیساتھ ڈرائیونگ کے اوقات اور لازمی آرام کا دورانیہ بھی مقرر کیا جائے۔ دوسری جانب خستہ حال سڑکوں کی مرمت‘ خطرناک موڑوں پر حفاظتی انتظامات‘ مناسب روشنی‘ واضح سائن بورڈز اور حادثات کے زیادہ خطرے والے مقامات کی نشاندہی بھی حادثات کی شرح کو نیچے لانے میں مدد دے سکتی ہے۔ 
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بربریت،سکردو سے ملتان تک(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-11-06/52976/28018640</link><pubDate>Fri, 06 Nov 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-11-06/52976/28018640</guid><description> حیرانی ہوتی ہے کہ ہم انسان کیوں نہیں بدلتے اور کیوں سب کچھ دہراتے رہتے ہیں۔ یہ کسی ایک انسان کی بات نہیں ہو رہی‘ نہ ہی صرف آج کے انسانوں کے بارے میں یہ جملہ کہہ رہا ہوں۔ میں ہزاروں سال پہلے کے انسانوں کے بارے میں بھی یہی رائے رکھتا ہوں جو آج کے انسان کے بارے میں ہے کہ انسانی مزاج‘ طبیعت اور فطرت نہیں بدلتی اور وہ سب کچھ فطرت کے زیرِ اثر دہراتا رہتا ہے۔ مجھے قابلِ احترام لکھاری ہارون الرشید کے کالم کی بات یاد آتی ہے جو وہ قرآن پاک سے اخذ کرتے تھے کہ انسان اپنی افتادِ طبع پر زندگی گزارتا ہے۔ مطلب یہ کہ انسان اپنی پیدائشی فطرت کے خلاف نہیں جاتا۔ جو فطرت اس کے اندر قدرت نے ڈال دی ہے‘ وہ اب اس کا قیدی ہے‘ اور رہے گا۔جب جدید دور میں اس تھیوری پر آپ کچھ کچھ یقین کرنے لگتے ہیں کہ انسانی فطرت کو اپنے قابو میں لایا جا سکتا ہے تو عین اسی وقت سکردو میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ ہوتا ہے کہ نوجوان میاں بیوی کو ان کے دو چھوٹے چھوٹے بچوں سمیت گھر میں ذبح کر دیا جاتا ہے اور یہ ظلم کرنے والے لڑکی کے اپنے گھر والے ہیں۔ وجہ یہ تھی کہ لڑکی نے چند سال قبل اپنی مرضی سے شادی کر لی تھی‘ جس سے اب اس کے دو بچے بھی ہو چکے تھے۔ گھر والے شادی پر راضی نہ تھے اور انتظار کرتے رہے کہ کب موقع ملے کہ وہ اپنی بچی اور اس کے خاوند کو بچوں سمیت قتل کردیں۔ اب ذرا تصور کریں کہ ماں کے سامنے اس کے دو بچے ذبح کیے گئے‘ پھر ماں کو ذبح کیا گیا اور پھر خاوند گھر آیا تو اسے بھی ذبح کر دیا گیا۔ پھر کہتا ہوں کہ ذبح کرنے والے غیر نہیں‘ لڑکی کے بھائی اور عزیز تھے۔ اس سے بڑی بربریت کیا ہو سکتی ہے جو دکھائی گئی کہ انسان کی فطرت اس سے کیا کیا گھناؤنے کام کرا دیتی ہے۔ابھی میں سکردو والے واقعے پر افسردہ بلکہ پریشان تھا کہ اب ملتان سے خبر آئی ہے کہ وہاں ایک نوجوان نے اپنی ماں اور دو چھوٹی بہنوں کو پٹرول چھڑک کر جلا دیا۔ اس ہولناک واقعے کی تفصیلات کیلئے ملتان میں اپنے صحافی دوست شکیل انجم کو فون کیا تو دل مزید دکھی ہوا کہ انسان کیسے ایک لمحے میں حیوان بن جاتے ہیں۔ جب انسانی سفاکی کی یہ کہانیاں سنتا ہوں تو مجھے ڈارون کی ارتقائی تھیوری جھوٹی لگنے لگتی ہے کہ انسان ارتقائی عمل کے نتیجے میں یہاں تک پہنچا ہے۔ جانور اس عمل کا ساتھ نہ دے سکے تو جنگلوں میں رہ گئے۔ جب ایسی بربریت کی داستانیں سنتے ہیں تو احساس ہوتا ہے کہ ہم انسان آج تک جنگلوں اور غاروں میں رہتے ہیں۔ وہی بربریت اور وحشیانہ پن ہمارے اندر آج بھی موجود ہے۔ بس موقع ملنے کی دیر ہے‘ وہ ایک لمحے میں اچھل کر باہر نکل آتا ہے۔ماضی میں جنگجو فتح پانے کے بعد انسانی کھوپڑیوں کے مینار کھڑے کرتے تھے۔ ہم اس دور کو وحشیوں کا دور سمجھتے ہیں اور آج تک اس عمل سے نفرت کرتے ہیں۔ لیکن پھر میں نے پڑھا کہ یہ اُس دور کا رواج تھا کہ بربریت پھیلانے والوں کو یہ سزائیں دی جاتی تھیں جو میدانوں میں تباہی اور بربادی کرتے تھے۔ اگر یہ کام نہ کیے جاتے تو وہ لوگ ان کی کھوپڑیوں کے مینار کھڑے کر دیتے۔ تاتاریوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ گاؤں کے گاؤں جلاتے‘ دہشت پھیلاتے اور ان کی دہشت ان سے پہلے سفر کرتی تھی۔ مخالفین بغیر جنگیں لڑے قلعے ان کے حوالے کر دیتے تھے کہ اگر مزاحمت کی تو وہ بدترین موت کا شکار ہوں گے۔ اس بربریت اور دہشت نے انہیں دنیا کو فتح کرنے میں بہت مدد دی کہ ان کے حملوں سے پہلے ہی ان کی وحشت سے لوگوں کے حوصلے پست ہو جاتے تھے۔ اس بربریت سے وہ دنیا بھر کو آگ لگاتے چلے گئے اور آخرکار بغداد جا پہنچے‘ جہاں عباسیوں کے آخری خلیفہ مستعصم باللہ کو ایک بوری میں بند کر کے تشدد کیا اور مار ڈالا۔ اس طرح کی بربریت آپ کو یورپ میں بھی ملتی ہے‘ جہاں رومن کو باربیرینز کا سامنا تھا جو رومن سلطنت کیلئے ایک مستقل دردِ سر تھے اور سرحدی علاقوں میں بربریت پھیلاتے تھے۔ بربریت انسانوں کا ایک مہلک ہتھیار رہی ہے کہ جو جتنا ظالم‘ بے حس‘ لہو کا پیاسا اور جنونی ہو گا‘ لوگ اس سے اتنا ہی ڈریں گے‘ اس کا سامنا یا مقابلہ نہیں کر پائیں گے‘ آسانی سے اس کے آگے ہتھیار ڈال دیں گے اور جو نہیں ڈالیں گے‘ انہیں عبرت کا نشان بنایا جائے گا یا نیزے پر سر لٹکا رہے گا تاکہ آتے جاتے سب عبرت پکڑیں۔ اس طاقت اور دہشت کے ذریعے ہی انسانوں نے اپنے جیسے انسانوں کو غلام بنایا‘ ان پر حکومت کی اور آج تک کرتے آ رہے ہیں۔اگرچہ وقت کے ساتھ جمہوری کلچر اور سوچ نے اس بربریت کو قابو میں لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے‘ خصوصاً انگریزوں نے جمہوری نظام دے کر اس خون ریزی کو ختم کیا جس نے بادشاہت سے جنم لیا تھا۔ ترکوں کے ہاں تو خونیں روایت تھی کہ بادشاہ کے مرتے ہی بڑا بیٹا بادشاہ بنتا اور اس کا پہلا کام سب چھوٹے بھائیوں کا سر قلم کرانا ہوتا تھا تاکہ کل کو کوئی بھائی بغاوت نہ کر سکے۔ اگر کوئی بادشاہ قتل کرنے سے ہچکچاہٹ سے کام لیتا تو اسے سمجھایا جاتا کہ یہ ریاست اور عوام کیلئے بہتر ہے‘ ورنہ بھائی زندہ رہے تو عدم استحکام رہے گا۔ یوں استحکام کے نام پر بھائیوں کے ہاتھوں بھائی قتل ہوتے رہے۔ تاہم یہ خونی روایت سلطان احمد اول (1603ء تا 1617ء) نے ڈھائی سو سال کے بعد ختم کی۔ جب وہ بادشاہ بنا تو اس نے اپنے بھائیوں کو قتل کرانے سے انکار کر دیا۔ اس سے پہلے یہ خونیں شاہی رسم سلطان محمد دوم نے شروع کی تھی‘ جب اس نے بادشاہ بنتے ہی ایک رات میں اپنے 19 بھائیوں کو قتل کرا دیا تھا‘ جن میں چھوٹے چھوٹے بچے بھی شامل تھے۔ ان سب کو گلا گھونٹ کر مارا گیا تھا۔ سلطان احمد اول دراصل بادشاہ محمد سوم کا بیٹا تھا۔ اس نے بادشاہ بن کر اپنے چھوٹے بھائی مصطفی کو قتل کرانے سے انکار کر کے اس رسم کو ختم کیا تھا۔ بربریت کی یہ داستانیں آپ کو یہاں ہندوستان میں سلطنتِ دہلی پر تین سو سال تک مسلم بادشاہوں میں بھی ملتی ہیں۔ انہوں نے بھی جنگیں لڑیں‘ شاہی خاندان کے بچوں کو قتل کیا تاکہ کل کو کوئی وارث باقی نہ رہے۔ وہ بھی صرف دس سال حکمرانی کیلئے‘ کیونکہ اوسطاً ایک بادشاہ دس سال ہی دلّی پر حاکم رہا۔ میں نے جب سلاطینِ دہلی کی تاریخ پڑھی تو جہاں میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے وہیں یہ احساس بھی ہوا کہ سوا تین سو سالوں میں کل 33بادشاہ دلّی پر حکمران رہے اور ان میں سے صرف تین بادشاہ ایسے تھے جنہوں نے خون خرابے اور بربریت سے گریز کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انہی کا دورِ حکمرانی سب سے کم تھا۔ جو جتنا ظالم تھا‘ اس کا دور اتنا لمبا رہا۔یہ بربریت انسان صدیوں سے اٹھائے پھرتا ہے۔ وقت کے ساتھ یقینا اس میں کمی آئی ہے لیکن جنگیں آج بھی ہو رہی ہیں‘ ہزاروں لوگ اور بچے آج بھی مارے جا رہے ہیں‘ جیسے غزہ میں ہوا۔ سکردو میںباپ اور بھائی جا کر اپنی بیٹی‘ اس کے خاوند اور دو بچوں کو آج بھی ذبح کر تے اور خون کی ہولی کھیل کر دلی سکون پاتے ہیں۔ آج بھی ملتان میں نوجوان بیٹا ماں اور دو بہنوں کو غیرت کے نام پر آگ لگا کر ان کی چیخیں سنتے ہوئے سکون محسوس کرتا اور اپنی جھوٹی انا اور غیرت کو انسانی خون پلا کر اس کی پیاس بجھاتا ہے۔ یہ الگ بات کہ کچھ دن بعد وہ خود ہی تھانے پیش ہو جاتا ہے کہ مجھے ماں اور بہنوں کی چیخیں سونے نہیں دیتیں۔ ایسے مجرم کو عمر بھر وہ چیخیں سننے دیں اور عمر قید کی سزا دیں‘ نہ کہ سی سی ڈی کے حوالے کریں۔ یہ موت سے بڑی سزا ہے‘ جو اسے سونے نہیں دے رہی۔ اسے یہ سزا بھگتنے دیں ۔ بات ایک ہی ہے۔ انسان ہزاروں سال سے بربریت پسند تھا اور آج بھی ہے‘ چاہے وہ بربریت سکردو یا ملتان میں ہو‘ جو ذرا سا موقع ملتے ہی پوری دہشت سے باہر نکل آتی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>افراد کے ہاتھوں…(رسول بخش رئیس)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-11-06/52977/21365005</link><pubDate>Fri, 06 Nov 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-11-06/52977/21365005</guid><description>کچھ لوگوں کو آپ نے ضرور یہ کہتے سنا ہو گا کہ تقدیر پہلے سے لکھی جا چکی ہے۔ ہم نے کبھی ایسی باتوں پر توجہ نہیں دی‘ نہ ہی عملی طور پر کسی کو تقدیر کے ہاتھوں مجبور ہو کر ہاتھ پر ہاتھ دھرے زندگی گزارتے دیکھا ہے۔ ایسا کرنا تو شکست خوردگی کی علامت ہے۔ ہاں جب کچھ بنانے کی کاوش کے باوجود بے بس ہو جائیں تو کسی کو تسلی دینے کیلئے &#39;&#39;بس تقدیر ہی ایسی تھی‘‘ بطور محاورہ استعمال کر لیتے ہیں۔ ہمارا دل ہمیشہ اُن کے ساتھ دھڑکتا ہے جن کا یقین ہے کہ تقدیر ہاتھوں کی لکیروں میں پوشیدہ نہیں‘ جسے دقیانوسی دست شناسوں کی مدد سے تلاش کرکے اس کی جھلک وہ پہلے سے دیکھنا چاہتے ہیں‘ وہ تو آپ کے ہاتھوں کی طاقت میں ہے۔ ہم نے لوگوں کو اپنی زندگی میں تقدیریں اپنے ہاتھوں سے بدلتے دیکھا ہے۔ فکر بلند تھی‘ ہمت کے پَر لگائے اور جن منزلوں کی طرف وہ اڑنا چاہتے تھے‘ پرواز کر گئے۔ بلکہ ان کی نظروں میں آخری منزل کا کوئی امکان تک نہ تھا۔ تھا تو صرف اگلی منزل کا‘ اور پھر اس سے اگلی منزل تک حرکت میں رہے۔ اپنی ذات پر یقین ہو تو کون ہے جو کانگریس وومین الہان عمر اور نومنتخب سینیٹر عبدالرحمن محمد السید (عبدل السید) نہیں بن سکتا؟ سیاست کے میدان میں ایک شرط اور بھی ہے: جمہوریت‘ آئین کی بالادستی‘ قانون کی حکمرانی اور مساوی شہری حقوق۔ اگر یہ ان کے ملک صومالیہ میں ہوتے تو کوئی ان کا نام تک نہ سنتا‘ آواز تو دور کی بات ہے۔ السید کے والد مصر سے تعلیم کی غرض سے امریکہ آئے تھے اور وہیں کے ہو کر رہ گئے۔ مصر ہو‘ پاکستان‘ ایران یا ہماری تہذیبی روایات سے میل کھانے والا کوئی اور ملک‘ ریاست اور اجتماعی وسائل جن میں سیاست‘ معیشت‘ ادارے اور سماجی غلبہ شامل ہیں‘ مقتدر طبقات ہاتھوں میں اس مضبوطی سے پکڑے ہوئے ہیں کہ آپ صرف خاموشی سے زندگی گزاریں‘ یا پھر اپنی روح کا سودا کر کے گماشتوں میں شامل ہو کر موقع کی مناسبت سے کچھ نہ کچھ طاقت سمیٹ لیں۔ ہمارے ملکوں میں بنیادی انسانی قدریں تو دور کی بات ہے‘ عام بنیادی اخلاقیات کا بھی جنازہ نکل چکا ہے‘ تو یہاں سے اہل اور قابل سیاسی قیادت کیسے ابھر کر سامنے آئے؟امریکہ کے وسط مدت کے انتخابات کے نتائج اب کھل کر دنیا کی آنکھوں کے سامنے ناچ رہے ہیں اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا منہ چڑا رہے ہیں۔ سیاسی نظام جس میں نظم کے ساتھ طاقت فرد کے ہاتھ میں ہو‘ وہ ایک ہی ہے‘ جسے ہم جمہوریت کہتے ہیں۔ اس کا مطلب بھی جمہور یا عوام کی طاقت ہے‘ کہ اس نظریے میں طاقت اور حکومتی اقتدار کی کنجی ان کے ہاتھوں میں ہے۔ یہ بات ماننا پڑتی ہے کہ جمہوری سیاست پر اعتماد میں کمی مغربی ممالک میں دیکھنے میں آئی ہے‘ مگر یہ نظام ہی ایسا ہے کہ اگلے انتخابات میں اونچ نیچ اور عدم توازن کو ٹھیک کر کے لوگوں کا یقین بحال کر دیتا ہے۔ سیاسی رسہ کشی‘ جھگڑوں اور تقسیم اور تفریق کا حل جمہوریت میں‘ شفاف انتخابات میں رکھا گیا ہے۔ آپس میں اسمبلیوں میں اکٹھے رہنے‘ بنیادی مسائل کے حل کیلئے کوئی اتفاق پیدا کرنے میں ناکامی کی صورت اور اقتدار کی آئینی جائزیت کی گتھی سلجھانے کیلئے صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ انتخابات آزاد اور شفاف ہوں۔ امریکہ کی بات بعد میں کرتے ہیں۔ ہنگری‘ پولینڈ‘ سپین اور سربیا میں لوگوں نے حکومت کی پالیسیوں کے خلاف مظاہرے کیے تو جمہوری روح کو برقرار رکھنے کیلئے ماضی قریب میں حکمرانوں نے نئے انتخابات کا فیصلہ کر کے اقتدار نومنتخب نمائندوں کے حوالے کر دیا اور خود حزبِ اختلاف کی بینچوں پر بیٹھ گئے۔ نیپال اور بنگلہ دیش تو ہمارے خطے میں ہیں۔ سیاسی امن اور عوام کا حکومت پر اعتماد حاصل کرنے کیلئے آپ ہی بتائیں‘ اس کے علاوہ اور کیا سہل اور پُرامن طریقہ ہو سکتا ہے؟امریکی جمہوریت اور سیاست پر پوری دنیا کی نظر رہتی ہے‘ کہ اس سے جمہوری تحریکیں پوری دنیا میں رنگ پکڑتی ہیں اور وہاں اگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ جیسا کوئی آ جائے‘ تو پھر آپ نے دیکھا ہو گا کہ کچھ گماشتے کیسے آمریت کی تاویلیں گھڑنا شروع کر دیتے ہیں۔ میرے نزدیک یورپ ہی جدید جمہوریت کی جائے پیدائش ہے‘ مگر اس کی پرورش‘ آبیاری اور اپنائیت ہر اس دور دراز کے ملک میں ہوئی ہے جہاں سیاسی قیادت اپنی ریاست اور قوم سازی کے عمل میں اس کی اقدار کے ساتھ جڑی رہی۔ آخر میں تو پوری قوم ہی نوازی گئی‘ کہ استحکام‘ ترقی اور خوشحالی باہمی افہام وتفہیم اور اقتدار کی شراکت ہی سے ممکن ہے‘ جو صرف جمہوری نظام پیدا کر سکتا ہے۔ دیگر میں تو صرف جمہوریت کی پیوندکاری کی جاتی ہے‘ مگر مزاج آمرانہ‘ روش جاگیردارانہ اور انتخابی ہیرا پھیریاں ہوں تو اہل‘ عقلمند اور حکمرانی کے اوصاف کے حامل مرد و خواتین مخصوص خاندانوں میں ہی پیدا ہو سکتے ہیں۔ اصل میں لوگ انہیں مانتے تو نہیں‘ مگر وہ اپنے سماجی غلبے یا پھر اپنے سے بھی طاقتوروں کی سرپرستی سے &#39;&#39;منتخب‘‘ ہوتے رہنے کی سند حاصل کر لیتے ہیں۔ اس لیے لندن کے میئر صادق خان اور نیویارک کے میئر زہران ممدانی کے لیے ہمارے ملکوں میں کوئی جگہ نہیں۔ ان کی اپنی صلاحیتیں اور بلند پروازی کے خواب اپنی جگہ‘ مگر وہ ایک جمہوری نظام کی پیداوار ہیں جو اپنی قیادت نئی سے نئی‘ تازہ سے تازہ لا کر عوام کے ذہنوں میں اپنی افادیت اور طاقت قائم رکھتا ہے۔حالیہ امریکی انتخابات میں اگرچہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نام بیلٹ پیپر پر نہیں تھا مگر ان کی سیاست‘ پالیسیاں اور حکومتی کارکردگی کیلئے یہ ریفرنڈم ضرور تھا۔ امریکی تاریخ میں عوام میں مقبول صدر اپنی جماعت کے امیدواروں کی کامیابی کیلئے اہم عنصر ہوتا ہے‘ اور اس طرح عدم مقبولیت ان کو لے ڈوبتی ہے۔ جہاں جہاں زور و شور سے صدر ٹرمپ نے کسی امیدوار کی حمایت میں جلسوں سے خطاب کیا ہے‘ وہ اتنی ہی زور سے عوام نے نیچے گرائے ہیں۔ الہان عمر اور عبدل السید کا نام انتخابات کی تاریخ اور امریکی سیاست میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔ دونوں نے کھل کر اسرائیل کی غزہ میں نسل کشی کی مخالفت کی‘ زوردار بیانات دیے اور جلسوں میں شریک رہے۔ مخالفین اور دور دراز کی ریاستوں کی اسرائیلی حمایتی لابیوں نے ان کے خلاف مہم میں پیسہ پانی کی طرح بہایا‘ مگر کچھ بھی عوام کی منشا کے خلاف کام نہ آ سکا۔ یہاں تک کہ امریکی صدر نے برملا السید کو گیارہ ستمبر کے المیے اور انتہا پسندوں سے جوڑنے کے مضحکہ خیز بیانات دیے۔ انتخابات سے ایک دن پہلے ان کے حلقے سے ڈیمو کریٹک پارٹی کے رہنما نے اپنی پارٹی سے بغاوت کرکے مخالف امیدوار کی حمایت کا اعلان کر دیا۔ اس پر تو ٹرمپ بھی بغلیں بجا رہے تھے۔ عوام کی طاقت جمہوریت میں جب مان لی جائے تو پہلی اور آخری طاقت وہی ہوتی ہے۔ پیسہ‘ پروپیگنڈا اور کیچڑ اچھالنے سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا۔ کوئی مانے یا نہ مانے‘ ایران کے خلاف اسرائیلی اور امریکی جنگ نے امریکہ کے انتخابات کو براہ راست متاثر کیا ہے۔ بنیادی مسائل جن میں بڑھتی ہوئی مہنگائی‘ معیارِ زندگی برقرار رکھنے کی استعداد میں قدرے کمی اور اقلیتوں کے خلاف زہر افشانی شامل ہے‘ نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ پوری دنیا میں گرانی اور انرجی کے بحران کو ایران کے خلاف جنگ سے علیحدہ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ ڈیموکریٹک پارٹی کی تاریخی فتح نے امریکہ میں آدھی رجیم تو تبدیل کر دی ہے‘ باقی اگلے انتخابات میں ہو جائے گی۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_33241568.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>امریکہ: مڈٹرم انتخابات کے بعد…(1)(ڈاکٹر رشید احمد خاں)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr-rasheed-ahmad-khan/2026-11-06/52978/31910745</link><pubDate>Fri, 06 Nov 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr-rasheed-ahmad-khan/2026-11-06/52978/31910745</guid><description>امریکہ کے مڈٹرم انتخابات کے نتائج کے بارے میں تقریباً متفقہ رائے یہی تھی کہ ان میں صدر ٹرمپ کی جماعت‘ ریپبلکن پارٹی کو ڈیموکریٹک پارٹی کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ تقریباً ہر منتخب امریکی صدر کی مدتِ صدارت کے ابتدائی دو سال مکمل ہونے کے بعد ہونے والے کانگریس کے وسط مدتی انتخابات میں ان کی جماعت کو پہلے سے کم ووٹ ملتے ہیں۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی صدارت کے پہلے دو سال کے دوران متعدد ایسے متنازع اقدامات کیے کہ امریکی رائے عامہ کا ایک بڑا حصہ ان سے سخت اختلاف کرنے لگا۔ ان میں ایران جنگ بھی شامل تھی۔امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں کے حالیہ انتخابات کے نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے سینیٹ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما چک شومر نے کہا کہ &#39;&#39;امریکی عوام آج تک یہ بات سمجھ نہیں پائے کہ ان کا ملک ایران کے خلاف کیوں جنگ کر رہا ہے؟ صدر ٹرمپ نے اس کی کبھی وضاحت نہیں کی‘ بلکہ وہ ہر روز اپنا بیان بدل لیتے ہیں‘‘۔ ایران جنگ کی وجہ سے توانائی کا بحران پیدا ہوا اور اس سے سب سے زیادہ امریکی عوام متاثر ہوئے‘ کیونکہ امریکہ دنیا میں سب سے زیادہ توانائی استعمال کرنے والا ملک ہے۔ توانائی کی قیمتیں بڑھیں تو باقی ضروریاتِ زندگی بھی مہنگی ہو گئیں‘ جس سے صدر ٹرمپ کی عوامی مقبولیت کا گراف تیزی سے نیچے آیا۔ لیکن کانگریس کے دونوں ایوانوں‘ ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ‘ اور ان کیساتھ امریکی ریاستوں کے گورنروں کے انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کے امیدواروں کو ایسی شکست ہوئی جو صدر ٹرمپ کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھی۔ ان کو زعم تھا کہ پورے امریکہ میں ان کا کوئی ثانی نہیں اور وہ امریکی عوام میں بہت مقبول ہیں۔ اس لیے وہ جو بھی قدم اٹھائیں گے‘ خواہ وہ امریکی اقدار اور مروجہ عالمی قوانین کے خلاف ہی کیوں نہ ہو‘ امریکی عوام اس کی حمایت کریں گے۔ اس زعم میں انہوں نے دو بار (جون 2025ء اور فروری 2026ء میں) اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملہ کیا اور اب ہر روز پہلے سے زیادہ تباہ کن حملے کی دھمکی دیتے ہیں‘ حالانکہ ممتاز دانشور اور ماہرینِ قانون‘ جن میں امریکی شخصیات بھی شامل ہیں‘ ایران امریکہ جنگ کو بلاجواز‘ غیر قانونی اور بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی قرار دے چکے ہیں۔امیگریشن اور ٹیرف کے مسئلے پر صدر ٹرمپ نے محض سیاسی مفاد حاصل کرنے کیلئے ایسی سخت گیر پالیسی اختیار کی کہ خود امریکہ کے اندر بنیادی انسانی حقوق کے دفاع کیلئے کام کرنے والی تنظیموں نے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا‘ مگر صدر ٹرمپ کا رویہ اتنا رعونت آمیز تھا کہ نائب صدر جے ڈی وینس کے مطابق‘ جب ریپبلکن پارٹی کے بعض پرانے اور تجربہ کار رہنماؤں نے کہا کہ پارٹی غلط سمت میں جا رہی ہے تو ٹرمپ نے ان کی بات سنی اَن سنی کر دی۔ بلکہ ایسے لوگوں کو انہوں نے سائیڈ لائن کر کے نئے اور نوجوان افراد کو اپنے قریبی حلقے میں شامل کر لیا‘ جنہیں امریکہ کی سیاست اور اسکے محرکات کا کوئی علم نہیں تھا‘ اور صدر ٹرمپ انہی کے مشوروں اور آرا پر عمل کرتے رہے۔ ایک تبصرہ نگار کے مطابق صدر ٹرمپ کو ایسے لوگ پسند ہیں جو خوشامدی ہوں اور ہر وقت انہیں یقین دلاتے رہیں کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں‘ ٹھیک کر رہے ہیں۔ انہیں اپنے بارے میں ناقابلِ تسخیر اور قسمت کا دھنی ہونے کا اتنا یقین ہے کہ ان کا خیال تھا کہ اگر وہ مٹی کو بھی ہاتھ لگائیں گے تو وہ سونا بن جائے گی۔ اسی زعم میں انہوں نے ملک کی تین اہم ریاستوں‘ ساؤتھ کیرولائنا‘ نارتھ کیرولائنا اور ٹیکساس میں اپنی مرضی کے امیدواروں کو کھڑا کیا مگر وہ عوام میں غیر مقبول تھے اس لیے ہار گئے۔ اسی طرح مشی گن میں عبدالرحمن محمد السید کو ہرانے کیلئے صدر ٹرمپ خود میدان میں آ گئے اور ڈیموکریٹک امیدوار کو جہادی‘ دہشت گردوں کا ساتھی‘ انتہا پسند خیالات کا حامی اور کمیونسٹ کہہ کر ووٹروں کو ان سے دور بھگانے کی کوشش کی۔ بے تحاشا ڈالر خرچ کیے لیکن  عبدالرحمن السید پھر بھی جیت گیا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ جب انتخابات کا پانسہ پلٹنے کیلئے صدر ٹرمپ خود میدان میں آ گئے اور امیدواروں کے ساتھ جلوسوں میں شرکت کرنے لگے تو 2024ء کے برعکس‘ ان کی موجودگی کے باوجود بہت کم لوگوں نے جلوسوں میں شرکت کی‘ اور جنہوں نے شرکت کی ان میں بھی کوئی جوش و خروش دکھائی نہیں دیا۔ وہیں سے یہ ظاہر ہو گیا تھا کہ ریپبلکن پارٹی کے امیدواروں کی جیت بہت مشکل ہے اور ووٹنگ کے روز جب ریپبلکن پارٹی کے ووٹرز گھروں سے باہر نہ نکلے تو یہ خدشہ سچ ثابت ہو گیا۔ نائب صدر جے ڈی وینس کے مطابق حیران کن بات یہ تھی کہ 2024ء میں جن لوگوں نے صدر ٹرمپ کو ووٹ دیا تھا‘ انہوں نے اس دفعہ ڈیموکریٹک امیدواروں کو ووٹ دیا کیونکہ وہ صدر ٹرمپ سے ناراض تھے۔ان کی ناراضی کی کیا وجوہات ہیں؟ اس سوال کے علاوہ دو اور اہم سوالات پر اس وقت بحث جاری ہے اور وہ سوال ہیں؛ اگلے دو سال میں صدر ٹرمپ کی پالیسی اور کارکردگی کیسی رہے گی؟ اور کیا ایران کے ساتھ جنگ بند ہو جائے گی؟ جہاں تک پہلے سوال کا تعلق ہے اس کے جواب میں اکثر لوگوں کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کی صدارت کے یہ آخری دو سال کانگریس کے ساتھ لڑائی جھگڑوں میں ہی گزریں گے اور انہیں اپنی مدتِ صدارت کے پہلے دو برسوں کی طرح کسی بڑی مہم جوئی کا موقع نہیں مل سکے گا کیونکہ ڈیموکریٹک پارٹی کے سینئر رہنماؤں نے واضح کر دیا ہے کہ کانگریس کے دونوں ایوانوں کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد وہ گزشتہ دو برسوں اور اس سے پہلے کی پوری مدت کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے کیے گئے خلافِ قانون اقدامات اور کانگریس کے حقوق کو نظر انداز کرنے کے معاملات کی تحقیقات کرائیں گے اور صدر ٹرمپ کو عدالت کے کٹہرے میں لائیں گے۔ اس کیلئے جس قسم کی قانون سازی کی ضرورت پیش آئے گی‘ وہ بھی کی جائے گی۔ اس خدشے کا احساس کرتے ہوئے صدر ٹرمپ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ اگر ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے کانگریس میں &#39;&#39;نامناسب قانون سازی‘‘ کی گئی تو وہ ان بلوں کو ویٹو کر دیں گے۔ امریکہ کے سیاسی اور آئینی نظام میں صدر کو غیر معمولی اختیارات دیے گئے ہیں۔ ان میں ایک اختیار ویٹو کا ہے‘ جس کے تحت کانگریس کی طرف سے منظور کردہ بل پر صدر اپنے دستخط کرنے سے انکار کر سکتے ہیں‘ جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ وہ کسی بھی بل کو ویٹو کر سکتے ہیں۔ کانگریس صدر کے اس ویٹو کو ختم کر سکتی ہے مگر اس کیلئے ضروری ہے کہ کانگریس کے دونوں ایوان‘ ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ‘ علیحدہ علیحدہ اس بل کو دو تہائی اکثریت سے منظور کریں۔ اس وقت ڈیموکریٹک پارٹی کو کسی بھی ایوان میں دو تہائی اکثریت حاصل نہیں ہے اس لیے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کرنے کے باوجود ڈیموکریٹک پارٹی صدر ٹرمپ کے ویٹو کو اوورٹرن کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ دوسرا راستہ دونوں پارٹیوں کا مصالحت کے ماحول میں مل جل کر ملک کے معاملات چلانے کا ہے۔ صدر ٹرمپ نے انتخابات کے نتائج آنے کے فوراً بعد اعلان کیا کہ وہ ڈیموکریٹک پارٹی کے ساتھ مل جل کر چلنے کیلئے تیار ہیں‘ مگر ڈیموکریٹک پارٹی کا رویہ مختلف ہے۔ امریکی میڈیا اور ڈیموکریٹک پارٹی کے قریبی حلقوں نے انکشاف کیا ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی ٹرمپ فیملی کے کاروباروں کی تحقیقات کا ارادہ رکھتی ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے مطابق ٹرمپ فیملی کے ارکان بدعنوانی میں ملوث ہیں۔ اسکے علاوہ اگر ڈیموکریٹک پارٹی کانگریس میں اپنی اکثریت کے بل بوتے پر صدر ٹرمپ کی مدتِ صدارت کے پہلے دو برسوں میںICE (یو ایس امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ) کی سرگرمیوں کو روکنے اور محکمہ صحت میں کیے گئے اقدامات کو منسوخ کرنے کی کوشش کرے گی تو صدر ٹرمپ اور کانگریس کے مابین چپقلش ناگزیر ہو جائے گی۔ (جاری)</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90264263.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>افسران اور دہری شہریت(جاوید حفیظ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/javed-hafiz/2026-11-06/52979/23231568</link><pubDate>Fri, 06 Nov 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/javed-hafiz/2026-11-06/52979/23231568</guid><description>چند ماہ قبل وزیر دفاع خواجہ آصف نے اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ بہت سارے پاکستانی بیورو کریٹس دہری شہریت رکھتے ہیں۔ اس وقت کئی لوگوں کا خیال تھا کہ وزیر دفاع کا یہ بیان سیاسی نوعیت کا ہے۔ شاید کسی افسر سے ناراضی کے سبب وہ دل کی بھڑاس نکال رہے ہوں لیکن بعد میں ثابت ہوا کہ وزیر دفاع نے بے پرکی نہیں اڑائی تھی۔ ان کے بیان میں کچھ صداقت ضرور تھی۔سرکاری افسران کی دہری شہریت کا مسئلہ اگلے روز سینیٹ کی ایک قائمہ کمیٹی میں پوری شد و مد سے زیر بحث آیا۔ سینیٹر محترمہ سعدیہ عباسی اس میں پیش پیش تھیں۔ پتا چلا کہ تمام بیورو کریٹس سے ان کی شہریت سے متعلق تفصیلات مانگی گئی ہیں‘ اب تک گیارہ سو کا جواب آیا ہے اور ان میں سے 95 دہری شہریت کے حامل ہیں۔ مطلب ان گیارہ سو میں سے نو فیصد دو کشتیوں کے سوار ہیں اور ان کی وفاداریاں منقسم ہیں۔میرا تجسس بڑھا اور میں نے کچھ تحقیق کی تو پتا چلا کہ دہری شہریت کے باب میں ٹیکس اکٹھا کرنے والے محکمے کے افسران پیش پیش ہے۔ 16 سینئر افسران دہری شہریت کے حامل ہیںجبکہ محکمے کے ڈیڑھ سو سے زائد افسران کے جواب کا انتظار ہے۔ ایک وقت تھا کہ کہا جاتا تھا کہ زیادہ تر فارن سروس کے لوگ ہی بیرونِ ملک سکونت اختیار کرتے ہیں لیکن اب لگتا ہے کہ فارن سروس والے پیچھے رہ گئے ہیں۔ میں خود فارن سروس کا حصہ رہا ہوں‘ مجھے ان سفارتکاروں کا علم ہے جو ریٹائر ہو کر بیرونِ ملک مقیم ہیں۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ دوسرے محکمے اب آگے نکل چکے ہیں اور مزے کی بات ہے کہ پاکستانی قانون کے مطابق سول سرونٹس کیلئے دہری شہریت حاصل کرنے میں کوئی ممانعت نہیں ہے۔ کسی اور ملک کی شہریت حاصل کرنے کے عمومی طور پر دو طریقے ہیں۔ اول تو یہ کہ کوئی عزیز آپ کو سپانسر کرے اور آپ مجوزہ مدت اس ملک میں قیام کریں۔ شمالی امریکہ میں اس پراسیس کو پورا کرنے کیلئے پانچ سال کے عرصہ میں تین سال وہاں رہنا لازمی ہے۔ ظاہر ہے کہ سول سرونٹس کیلئے اتنا لمبا عرصہ ملک سے باہر رہنا ممکن نہیں ہوتا۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ ایک مقررہ رقم اس ملک میں انویسٹ کی جائے۔ پرتگال کا پاسپورٹ لینے کیلئے تقریباً پانچ لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کی شرط ہے جبکہ ترکیہ کی شہریت کیلئے چار لاکھ ڈالر انویسٹ کرنا پڑتے ہیں۔ مطلب یہ کہ پرتگال کی شہریت کیلئے چودہ کروڑ روپے چاہئیں۔ اس طرح کی ثروت عمومی طور پر ان محکموں میں ہی میسر ہو سکتی ہے جہاں کرپشن کے موقع وافر ہوں۔ ایک سینئر ریٹائرڈ افسر کا ایک کلپ ایک عرصے سے سوشل میڈیا پر زیر گردش ہے جس میں انہوں نے متعلقہ محکمے کے افسران کی ہوشربا ثروت کا کھل کر ذکر کیا ہے۔ موصوف سٹیٹ بینک کے گورنر بھی رہے ہیں‘ لہٰذا ان کی بات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس محکمے میں یقینا ایماندار افسر بھی ہوں گے لیکن وہ سولہ افسران‘ جو دولت کے بل بوتے پر دہری شہریت لے چکے ہیں‘ ان ایماندار افسران کو ضرور احمق سمجھتے ہوں گے۔ اگر محصولات جمع کرنے والے افسر سو فیصد ایماندار ہوں تو ہمارے قومی کشکول کا سائز کچھ تو کم ہو ہی سکتا ہے! مگر ہمارا احتساب کا نظام بہت کمزور ہے‘ یا اسے جان بوجھ کر کمزور کر دیا گیا ہے۔ مثلاً پچاس کروڑ سے کم کی کرپشن نیب کیلئے قابلِ دست اندازی جرم نہیں۔  انڈیا میں دہری شہریت رکھنے کی کسی کو اجازت نہیں۔ جونہی کوئی انڈین کسی اور ملک کی شہریت لیتا ہے‘ وہ انڈین شہریت کھو دیتا ہے اور ساتھ ہی وہ انڈیا میں ووٹ دینے کا حق بھی کھو بیٹھتا ہے۔ چین میں بھی دہری شہریت کا نظام سرے سے موجود ہی نہیں۔ البتہ چند سال پہلے چین میں دلچسپ صورتحال پیش آئی۔ کئی چینی سرکاری افسران کے بیوی بچے تعلیم کی غرض سے مستقل طور پر ملک سے باہر مقیم تھے۔ حکومت نے محسوس کیا کہ ایسے افسران میں کرپشن کا رجحان زیادہ ہے۔ جن افسروں پر یہ الزام ثابت ہو گیا انہیں قرار واقعی سزائیں دی گئیں۔ پاکستان میں 2014ء میں ایک بل قومی اسمبلی میں پیش ہوا کہ دہری شہریت رکھنے والے افسروں کو گریڈ 19 سے آگے پروموشن نہ دی جائے لیکن یہ قانون آج تک نہیں بن سکا‘ اور یہ امر باعثِ حیرت ہے۔ میں نے اپنے ایک باخبر دوست سے استفسار کیا تو کہنے لگے کہ سیاستدان بیورو کریسی سے بنا کر رکھتے ہیں اور کئی سیاستدانوں کی جائیداد باہر ہے‘ کچھ کے تو بیوی بچے بھی ملک سے باہر ہیں۔ اس پر مجھے سینیٹر سعدیہ عباسی کی بات یاد آ گئی کہ ایم این اے اور ایم پی اے پر تو دہری شہریت کا قانون لاگو ہوتا ہے مگر حکومتی مشیروں پر نہیں۔ ہم سب مل جل کر ایک دوسرے کے عیب چھپاتے رہتے ہیں مگر یہ ملی بھگت ریاست کو نقصان پہنچاتی ہے۔مجھے یاد ہے کہ 2014ء میں ہمارے آڈیٹرجنرل دہری شہریت رکھتے تھے۔ چند روز میڈیا نے چائے کی پیالی میں طوفان ضرور اٹھایا مگر پھر بات آئی گئی ہو گئی۔ اس سے پہلے یہ راز افشا ہوا تھا کہ قصرِ صدارت کی سرکاری ترجمان (محترمہ فرح ناز اصفہانی) امریکی نیشنیلٹی رکھتی ہیں اور یہ بات خود امریکی وزارتِ خارجہ نے بتائی تھی۔ اس وقت وہ قومی اسمبلی کی ممبر بھی تھیں اور اس راز کے افشا ہونے کے بعد انہیں اسمبلی سے مجبوراً استعفیٰ دینا پڑا۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے پاس تمام اخراجات کی تفصیلات ہوتی ہیں‘ اور ان میں چند اخراجات ایسے بھی ہوتے ہیں جو انتہائی حساس نوعیت کے ہوتے ہیں۔ یہ تمام انفارمیشن اس افسر کی دسترس میں تھی‘ جس نے شمالی امریکہ کے ایک ملک کی وفاداری کا حلف اٹھایا ہوا تھا اور پاکستان میں ایک اہم آئینی عہدے پر بھی براجمان تھا۔ایک اور دلچسپ واقعہ یاد آ رہا ہے۔ وزیراعظم بینظیر بھٹو کے دوسرے دور میں فارن سروس کے ایک افسر کو کینیڈا کیلئے سفیر نامزد کیا گیا۔ موصوف لیٹرل انٹری کے طفیل فارن سروس میں آئے تھے۔ سفارتی پوسٹ پر جانے سے قبل میزبان حکومت کی منظوری ضروری ہوتی ہے۔ سفیر موصوف کے کاغذات جب کافی دیر حکومت کینیڈا کی منظوری کے منتظر رہے تو اسلام آباد کی طرف سے تاخیر کے بارے میں استفسار کیا گیا۔ جواب دلچسپ تھا۔ اوٹاوا کی طرف سے اطلاع ملی کہ جس شخص کو آپ نے ہائی کمشنر کیلئے نامزد کیا ہے اس نے کینیڈین شہریت کیلئے اپلائی کیا ہوا ہے۔ یہ بڑی عجیب وغریب صورتحال تھی۔ بالآخر کینیڈین حکومت نے اس شرط پر منظوری دی کہ جب تک موصوف کینیڈا میں پاکستان کے ہائی کمشنر رہیں گے ان کی درخواست زیر التوا رہے گی۔ حکومت میں کچھ حمیت ہوتی تو پہلے اس افسر سے استفسار کرتی کہ تم نے ہمیں کیوں نہیں بتایا کہ کینیڈا کی شہریت کیلئے اپلائی کیا ہوا ہے‘ ہم تمہیں کسی اور ملک کیلئے نامزد کر دیتے اور اس سبکی کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ لیکن افسر موصوف نے بھی ڈھٹائی دکھائی اور حکومت کی غیرت نے بھی جوش نہیں مارا۔حمیت نام تھا جس کا گئی تیمور کے گھر سےمیری دانست میں دہری شہریت والے شخص کی ملک سے وفاداری کم ہو جاتی ہے۔ دوسرا‘ اس کے ذہن میں یہ زعم بھی آ جاتا ہے کہ اگر کوئی غلط کام کرکے اس پر کوئی کیس بنا تو وہ آرام سے دوسرے ملک منتقل ہو سکتا ہے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ 2002ء میں جکارتہ میں حکومت پاکستان کی قیمتی پراپرٹی اور تقریباً بیس کنال زمین سفیر موصوف نے فارن آفس کی اجازت اور اشتہاری کارروائی کے بغیر بیچ دی تھی۔ ان سفیر صاحب کی پیدائش برطانیہ کی تھی اور اس وجہ سے وہ وہاں کی نیشنیلٹی حاصل کرنے کے مجاز تھے۔ اس ڈیل کی وجہ سے حکومتِ پاکستان کو بھاری نقصان ہوا۔ موصوف کا مؤقف تھا کہ انہوں نے بیچنے کی اجازت پرویز مشرف سے لی تھی۔ جن افسران نے بیرونِ ملک سرمایہ کاری کرکے نیشنیلٹی لی ہے‘ وہ اربوں روپے کا سرمایہ باہر منتقل کر چکے ہیں اور پاکستان میں سروس بھی کر رہے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ سرکاری افسران کیلئے دہری شہریت کا دروازہ ہمیشہ کیلئے بند کیا جائے۔وزیراعظم صاحب! یہ کام آپ کر گزریں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_85338835.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مٹی کی چادر اوڑھے نگینے(اسد طاہر جپہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/asad-tahir-jappa-/2026-11-06/52980/55308092</link><pubDate>Fri, 06 Nov 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/asad-tahir-jappa-/2026-11-06/52980/55308092</guid><description>چالیس برس گزر گئے... چالیس برس! جب میں یہ عدد لکھتا ہوں تو میرے اپنے ہاتھ کانپ جاتے ہیں۔ چالیس برس پہلے ہمارے والد گرامی اس دنیا سے رخصت ہوئے تھے۔ مجھے آج تک وہ شام یاد ہے جب گھر کے صحن میں حسبِ معمول ہم سب پاکستان ٹیلی ویژن پر خبرنامہ دیکھ رہے تھے۔ خبرنامہ ختم ہوتے ہی والد گرامی نے سینے میں درد کی شکایت کی اور گھر میں موجود ابتدائی طبی امداد کی کچھ ادویات طلب کیں‘ مگر افاقہ نہ ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے چند لمحوں میں وہ اپنے رب کے حضور پیش ہو گئے۔ یوں رنگ و نور سے تاباں وہ درخشندہ چہرہ ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گیا اور ہماری زندگی کی خوشیاں ہم سے روٹھ گئیں۔ میں اُس وقت اتنا کم عمر تھا کہ موت کا مطلب بھی پوری طرح نہیں جانتا تھا۔ مجھے لگا تھا کہ ابا جی سو گئے ہیں‘ ابھی اٹھ جائیں گے‘ چھوٹے بھائیوں کو کندھے پر بٹھائیں گے اور بازار لے جائیں گے۔ لیکن وہ ایسی ابدی نیند سو چکے تھے جس سے آج تک کوئی نہیں جاگا۔ چالیس سال سے میں اسی نیند کے ٹوٹنے کا انتظار کر رہا ہوں اور ان کی راہ تکتے تکتے میری منتظر نگاہیں پتھرا گئی ہیں۔ ان کی اچانک موت کے بعد ہماری والدہ ماجدہ نے درد و الم میں ڈوبتی ہماری کشتی کو آنسوؤں کے گرداب سے نکال کر زندگی کے حسین نظاروں کی طرف دھکیلنا شروع کیا۔ والدہ محترمہ نے خزاں رُت میں ہمیں بہاروں کے حصار میں رکھا اور خود زمانے کی تند و تیز ہواؤں کا مقابلہ کیا۔اور پھر تین سال پہلے... ہم سات بھائیوں کی جنت‘ ہماری والدہ محترمہ نے بھی اسی راہِ عدم کو اختیار کیا جس کے ہم مسافر ہیں۔ اگر باپ کی موت بچپن کی یتیمی ہے تو ماں کی موت بڑھاپے کی یتیمی ہے۔ باپ جاتا ہے تو سر سے سائبان اٹھ جاتا ہے‘ ماں جاتی ہے تو دل سے قرار روٹھ جاتا ہے۔ والدہ کے جنازے پر میں نے پہلی بار خود کو مکمل طور پر یتیم محسوس کیا۔ پچاس سال کا ہو کر بھی اس قبر پر بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رویا‘ کیونکہ اس قبر میں میری ماں کے ساتھ میرا بچپن‘ میرے خواب اور ان سے وابستہ خوشیاں بھی دفن ہو رہی تھیں۔زندگی اور موت کا یہ فلسفہ کتنا ظالم ہے۔ زندگی عارضی مہمان ہے‘ جبکہ موت ایک اٹل حقیقت ہے جس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ ہم ساری زندگی گھر بناتے‘ جائیدادیں جوڑتے اور نام کمانے میں لگے رہتے ہیں‘ لیکن موت کا ایک جھونکا سب کچھ اڑا لے جاتا ہے۔ میرے والد نے ہمارے لیے نجانے کتنے خواب دیکھے ہوں گے‘ لیکن موت نے انہیں مہلت ہی نہ دی۔ ہماری جان سے پیاری ماں نے اپنی ساری زندگی ہمیں دے دی‘ اپنا آرام اور خواہشیں ہم پر نچھاور کر دیں‘ مگر وقت آنے پر وہ بھی خالی ہاتھ اسی مٹی میں جا کر ہمیشہ کے لیے سو گئیں۔گزشتہ اتوار جب ہم بھائیوں نے ان دونوں کی اجتماعی دعائے مغفرت کا اہتمام کیا تو میرا دل غم سے پھٹ رہا تھا۔ دعا کے الفاظ وہی تھے لیکن میری آنکھوں کے سامنے دو قبریں تھیں۔ ایک چالیس سال پرانی قبر‘ جس کا کتبہ دھندلا پڑ چکا ہے‘ اور دوسری نئی قبر‘ جس کی مٹی ابھی کچھ گیلی ہے۔ باپ اور ماں چند گز کے فاصلے پر مٹی کی چادر اوڑھے سو رہے ہیں۔ والدہ ماجدہ کی تیسری برسی کا سب سے کربناک منظر قبرستان میں پیش آیا‘ جسے ہمارے بچوں نے تخلیق کیا۔ والدہ محترمہ کا اپنے پوتے پوتیوں سے رشتہ محض رشتہ نہیں بلکہ روح کا بندھن تھا۔ وہ ان کے لیے جاگتی‘ سوتی اور جیتی تھیں۔ جب کوئی بچہ بیمار پڑ جاتا تو وہ ساری رات اس کی صحت و سلامتی کے لیے قرآن پڑھتیں اور اس کے ماتھے پر اپنا ٹھنڈا ہاتھ رکھتیں۔ انہوں نے ان معصوموں کو ایسی محبت دی کہ آج وہ زخم بن کر ان کے دلوں میں رس رہی ہے۔ اس مرتبہ اجتماعی دعائے مغفرت کے روز جب تمام بچے قبرستان گئے تو میرے آنسو رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ ان ننھے ہاتھوں میں گلاب کے تازہ پھول تھے۔ انہوں نے دادی جان کی قبر پر پھول نہیں چڑھائے‘ گویا اپنے دل نکال کر رکھ دیے۔ ایک پوتی قبر کے کتبے سے لپٹ کر سسک رہی تھی &#39;&#39;دادی اماں! آپ ہمیں چھوڑ کر کیوں چلی گئیں؟‘‘ ایک پوتا قبر کی مٹی کو چوم رہا تھا‘ جیسے وہ مٹی نہیں بلکہ اس کی دادی کے قدموں کی خاک ہو۔ وہ سب اب بھی اس انتظار میں ہیں کہ شاید دادی اماں کل واپس آ جائیں گی‘ انہیں پھر کہانی سنائیں گی اور لوریاں دیں گی۔ پھر وہی بچے چند قدم آگے بڑھ کر اپنے دادا کی قبر پر جا کھڑے ہوئے‘ جن کی گود میں کبھی بیٹھے نہیںاور جنہیں انہوں نے کبھی دیکھا تک نہیں۔ ایک دادا جو اپنے خون کو دیکھنے کی حسرت دل میں لیے چلا گیا اور پوتے پوتیاں اپنی دادا کی شفقت سے محروم رہ گئے۔ انہوں نے اس قبر پر بھی پھول رکھے اور فاتحہ پڑھی۔ خون بول رہا تھا۔ مٹی میں سوئے دادا اور مٹی پر کھڑے پوتوں پوتیوں کے درمیان چالیس سال کا فاصلہ ایک لمحے میں ختم ہو گیا۔ میں نے سوچا‘ کاش میرے والد دیکھتے کہ ان کے وہ پوتے پوتیاں‘ جنہیں انہوں نے کبھی نہیں دیکھا‘ ان کی قبر پر کھڑے ان کے لیے بارگاہِ الٰہی میں دعا کر رہے ہیں۔اسی لمحے میرے بھتیجے ضرار حیدر نے ایک وڈیو بنائی۔ وہ ایک چیخ اور نوحہ تھا۔ اس کمسن بچے نے اپنی دادی کو جس کرب سے یاد کیا‘ اس کی آواز کی لرزش اور آنسو سن کر کلیجہ پھٹ جاتا ہے۔ وہ کہہ رہا تھا &#39;&#39;دادی اماں! گھر خالی ہو گیا ہے‘ آپ کے بغیر سب کچھ ادھورا ہے‘‘۔ وہ سچ کہہ رہا تھا۔ ماں کے بغیر گھر گھر نہیں رہتا‘ صرف مکان رہ جاتا ہے۔ ہماری والدہ ماجدہ اور بچوں کی دادی اماں کے بغیر صحن میں وہ ہنسی نہیں گونجتی‘ نہ وہ خوشبو آتی ہے۔ والدین اور اولاد کا رشتہ اس کائنات کا سب سے گہرا راز ہے۔ ماں باپ اپنی اولاد کے لیے جیتے ہیں اور ان کے چلے جانے کے بعد اولاد ساری زندگی ان کی یاد میں تڑپتی ہے۔ باپ کی انگلی پکڑ کر چلنا سیکھنے والا بچہ جوان ہو کر اسی باپ کی چارپائی کو کندھا دیتا ہے۔ ماں کی گود میں سونے والا بچہ بڑا ہو کر اسی ماں کو قبر کی گود میں سلا دیتا ہے۔ یہی زندگی کا فلسفہ اور موت کا دستور ہے۔ آنے والا ہر شخص جانے کے لیے آتا ہے۔ جانے کتنے غم ہیں زمانے میں لیکن ماں باپ کے بچھڑنے کا غم سب سے بڑا اور یہ گھاؤ سب سے گہرا ہے۔ یہ وہ غم ہے جو گھر گھر میں بسیرا کیے ہوئے ہے۔کسی کے دل میں باپ کی ڈانٹ کی یاد ہے جو آج دعا لگتی ہے‘ تو کسی کے کانوں میں ماں کی لوری گونجتی ہے جو اب کہیں سنائی نہیں دیتی۔اسلام آباد ایئر پورٹ پر برطانیہ کی پرواز کے انتظار میں بیٹھا میں سوچ رہا ہوں کہ ماں باپ کی موجودگی سے قیمتی کوئی نعمت اور ان کے چھن جانے سے بڑا کوئی غم نہیں۔ اگر وہ زندہ ہیں تو ان کے پاس بیٹھیں‘ ان کے ہاتھ چومیں‘ ان کے پاؤں دابیں‘ ان سے باتیں کریں اور ان کی دعائیں لیں‘ اس سے پہلے کہ وہ ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جائیں اور آپ کے ہاتھ میں صرف پھول رہ جائیں‘ اور سامنے مٹی کا ڈھیر ہو۔ جن کے والدین اس دنیا سے جا چکے ہیں‘ وہ انہیں اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں کیونکہ آپ کے آنسوؤں اور دعا کے سوا اب انہیں کوئی تحفہ نہیں پہنچتا۔اللہ کریم ہمارے والد گرامی‘ جنہیں اس دنیا سے گئے چالیس برس ہو گئے‘ اور والدہ محترمہ‘ جو تین سال پہلے رخصت ہوئیں‘ دونوں کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کی قبروں کو تاحدِ نگاہ وسیع کر دے۔ جن جن کے پیارے مٹی کی چادر اوڑھے ہمیشہ کے لیے آسودۂ خاک ہو گئے‘ اللہ کریم ان تمام مرحومین کی کامل مغفرت فرمائے اور ان کے لواحقین کو صبر عطا فرمائے‘ کیونکہ صبر و رضا ہی ہمیں زندہ رکھے ہوئے ہیں‘ ورنہ یہ غم تو ہمیں کب کا مار چکا ہوتا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_34710710.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>قرآن کریم، سائنس اور امن و امان(امیر حمزہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ameer-hamza/2026-11-06/52981/69110844</link><pubDate>Fri, 06 Nov 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ameer-hamza/2026-11-06/52981/69110844</guid><description>اللہ تعالیٰ نے اپنی آخری الہامی کتاب قرآن مجید میں ایک صورت نازل فرمائی جس کا نام &#39;&#39;الانبیاء‘‘ ہے۔ اس کا آغاز ہی اس خبر سے کیا گیا ہے کہ انسانیت کے حساب کا وقت قریب آ گیا ہے جبکہ ان کی صورتحال یہ ہے کہ دنیا کی زینت نے انہیں ایسا بے خبر کر دیا ہے کہ وہ اپنے حساب سے غافل ہو کر کہیں اور توجہ کیے ہوئے ہیں۔ اسی سورت کے آخر پر کائناتی نظام کو لپیٹ کر ختم کرنے کی اطلاع دی گئی ہے۔ مزید برآں! شروع میں سب سے پہلے آخری رسول حضرت محمد کریمﷺ کا ذکر کیا گیا ہے اور جو لوگ حضور عالیشانﷺ کے بارے میں توہین آمیز رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں انہیں بربادیوں کی تنبیہ کی گئی ہے۔قارئین کرام! آج کی دنیا سائنس اور ٹیکنالوجی سے حاصل ہونے والی آسائشوں کی دنیا ہے۔ یہ سائنسی علم سے حاصل ہونے والی سپرمیسی کے ذریعے رعب جمانے کی دنیا ہے۔ کمزوروں کو مٹا دینے کی دھمکیاں دینے کی دنیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو ایک ایسے علم کی خبر دیتے ہیں جو نہ تورات میں ملے گا‘ نہ انجیل میں اور نہ ہی بائبل میں موجود دیگر صحیفوں میں۔ نہ ہندوئوں کی ویدوں میں اور نہ ہی پارسیوں کی کتاب میں۔ نہ ہی یونان و روم اور چین وہند کے فلسفیوں اور حکما کے خزینوں میں ایسا علم ملے گا جو علم اور جو خبر اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری رسول حضور کریمﷺ پر قرآن کی صورت میں نازل فرمائی۔ اب اس آیت کا ترجمہ ملاحظہ ہو۔ فرمایا: &#39;&#39;یہ لوگ جو (میرے حبیبﷺ اور ان پر نازل ہونے والے قرآن کا) انکار کرتے چلے آ رہے ہیں‘ کیا دیکھ نہیں چکے کہ تمام آسمان اور زمین (ایک نکتے پر) باہم ملے ہوئے تھے۔ اور ہم نے ان دونوں کو پھاڑ ڈالا اور تمام جاندار چیزیں ہم نے پانی سے بنائیں۔ پھر یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے‘‘ (الانبیاء: 30)یاد رہے کہ یہاں اللہ تعالیٰ نے &#39;&#39;رتق‘‘ کا لفظ استعمال فرمایا‘ جس کے معنی &#39;&#39;ملا ہوا‘‘ ہوتے ہیں۔ اس کے بعد اگلا لفظ &#39;&#39;ف‘‘ سے شروع ہوتا ہے۔ گرامر میں یہ &#39;&#39;ف‘‘ فجائیہ ہے؛ یعنی عدم سے جونہی یک نکتگی یعنی singularity وجود میں آئی تو ہم نے اسے پھاڑ ڈالا۔ اس کیلئے لفظ &#39;&#39; فتق‘‘ استعمال ہوا۔ لوگو! اسی کا نام آج کی سائنس میں &#39;&#39;بگ بینگ‘‘ ہے؛ یعنی ایک عظیم کائناتی دھماکا‘ جس سے یہ تمام کائنات وجود میں آئی۔ پیغام یہ ہے کہ جو علمی حقیقت میرے آخری رسولﷺ نے ساڑھے چودہ سو سال قبل بتا دی‘ ساتھ ہی یہ بھی بتلا دیا کہ مذکورہ سائنسی حقیقت کا انکشاف (لیبارٹریز اور آبزرویڑیز کے ذریعے) وہ لوگ کریں گے جو (آخری رسولﷺ اور آخری الہامی کتاب کے) منکر ہوں گے۔ بلکہ ایسے بھی ہوں گے جو خالقِ کائنات کے بھی منکر ہوں گے۔ اتنا بڑا انکشاف آخری رسول حضرت محمد کریمﷺ پر قرآن کی صورت میں نازل ہوا تو یہ اس بات کا اعلان تھا کہ اللہ کی بات کو ماننا پڑے گا کہ میں ایک اللہ ہی برحق ہوں۔ میری کتاب بھی برحق ہے اور میرے آخری رسول حضرت محمدﷺ بھی برحق ہیں۔ عربی گرامر کے نکتے کی اگلی بات یہ ہے کہ &#39;&#39;فتق‘‘ کے بعد &#39;&#39;ن‘‘ آ رہا ہے۔ اس میں عظمت و کبریائی کا سمندر پنہاں ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتے ہیں کہ: &#39;&#39;ہم نے ان دونوں کو پھاڑا‘‘۔ اللہ کی قسم! یہاں حرف &#39;&#39;ن‘‘ ایک ایسا کلہاڑا ہے‘ دلیل کا ایسا نیو کلیئر ویپن ہے جس نے الحاد اور زندیقیت کے پرخچے اڑا کر رکھ دیے ہیں۔سورۃ الانبیاء کی اسی آیت کا اب آخری حصہ ملاحظہ کرتے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں: &#39;&#39;ہم نے پانی سے ہر جاندار کو زندگی کا حامل بنا دیا‘ کیا اب بھی یہ ایمان نہ لائیں گے‘‘۔ لائیو سائنس نامی ادارے نے 11مارچ 2025ء کو بگ بینگ کے حوالے سے ایک ریسرچ جاری کی تھی جسے جونا تھامپسن نے ایک آرٹیکل کی شکل میں شائع کیا۔ اس کا ایک جملہ ملاحظہ ہو:Nearly all hydrogen atoms in the universe formed during the bigbang.یعنی کائنات میں ہائیڈروجن کے تقریباً تمام آئٹمز بگ بینگ کے دوران بن چکے تھے۔جی ہاں! ہائیڈرون وہ گیس ہے جس کے بارے میں امریکہ کے خلائی ادارے ناسا نے کہا کہ  As old as the big bang یعنی ہائیڈروجن گیس اتنی ہی پرانی ہے جتنا بگ بینگ پرانا ہے۔ اسی طرح چھ اکتوبر 2026ء کو ایک برطانوی ادارے نے اپنی رپورٹ میں کہا: ہائیڈروجن کے آئٹمز 13.8 ارب سال پرانے ہیں۔ انگریزی کا جملہ یہاں باکمال ہے‘ ملاحظہ ہو: Made in the big bang۔ یعنی ہائیڈرجن گیس بگ بینگ میں (یعنی اس کے اندر) معرضِ وجود میں آئی۔ یعنی پہلی چیز جو وجود میں آئی وہ ہائیڈروجن تھی۔ یاد رہے! ہائیڈروجن میں &#39;&#39;ایک الیکٹران اور ایک پروٹان‘‘ ہوتا ہے۔ یہ گیس دو ایٹموں سے بنی ہے‘ اسی لیے اسے H2 کہا جاتا ہے۔ اس کے اندر جوڑا موجود ہے۔ لوگو! اللہ تعالیٰ نے ایسے ہی عربی زبان میں قرآن مجید نازل نہیں فرمایا۔ مذکورہ آیت میں &#39;&#39;مآء‘‘ کا جو لفظ ہے اس کے الف پر &#39;مد‘ ہے۔ اسے لمبا کرکے پڑھا جاتا ہے۔ اسے صوتی حسن یعنی آواز کی خوبصورتی کہا جاتا ہے۔ مطلب یہ کہ دھماکے میں پانی کا بڑا حصہ وجود میں آ گیا۔ اس کے بعد &#39;&#39;کوارکس‘‘ وجود میں آئے۔ یہ ابتدائی ذرات یا ویوز تھیں۔ آگے چل کر ایک پراسیس کے ذریعے ان سے آکسیجن وجود میں آئی۔ تب پانی کا وجود مکمل ہو گیا۔پانی کی یہ جو ابتدائی صورت ہے اس کو ہم سامنے رکھ کر ختم المرسلینﷺ کا فرمان دیکھیں۔ حضور کریمﷺ نے فرمایا: &#39;&#39;میں اس وقت سے اللہ کے ہاں نبی ہوں جب آدم علیہ السلام روح اور جسد کے درمیان تھے‘‘ (مسند احمد‘ مستدرک حاکم‘ اسنادہٗ صحیح)۔ یاد رہے! جسد سے مراد ایسا وجود ہے جس میں روح نہ ہو۔ یعنی حضرت آدم علیہ السلام کا جسد تب بھی موجود تھا اور ہمارے پیارے نبی کریمﷺ اس وقت بھی نبی تھے‘ رسول تھے‘ ختم المرسلین اور رحمۃ للعالمین تھے۔ دکھ اور افسوس کی بات ہے کہ آج &#39;&#39;خاتم الانبیاء‘‘ کا کلمہ پڑھنے والوں پر ایٹم بم اور ہائیڈروجن گیس کی ایسی زہریلی اقسام استعمال کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں جس سے ایران کے گرد کے تمام مسلم ممالک بھی تباہی کا شکار ہوں گے۔ سعودی عرب سمیت گلف ممالک اور ان کے علاوہ آذربائیجان‘ ترکیہ‘ افغانستان اور پاکستان بھی متاثر ہوں گے۔ بعد ازاں یہ تباہی کی لہر مشرق میں بھارت اور مغرب اور شمال میں یورپ اور روسی علاقوں کو لپیٹ میں لیتی جائے گی۔ چیچنیا اور داغستان بھی لپیٹ میں آ جائیں گے۔ آج کی دنیا گلوبل ویلیج ہے۔ ساری انسانیت حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد ہے۔ یہ اولاد پوری دنیا میں خلط ملط ہے۔ اسرائیل کے اندر بھی 20 لاکھ مسلمان ہیں۔ بھارت میں مسلمان 25 کروڑ سے زیادہ ہیں۔ اسی طرح پاکستان میں ہندو برادری بھی رہتی ہے۔ ہر ملک کے لوگ دنیا کے ہر ملک میں موجود ہیں۔ اس وقت پاکستان ہی وہ ملک ہے جو سعودی عرب‘ قطر اور ترکیہ کو ساتھ لے کر دن رات کوشاں ہے کہ انسانیت اس بربادی سے بچ جائے۔ بربادی کا سوچنے والوں کے لیے کیا خوب انتباہ ہے۔ قرآن مجید نے فرمایا: &#39;&#39;جب ایسے (متکبر اور فسادی) کو کہا جاتا ہے کہ اللہ سے ڈر جائو تو اسے( تکبر کا حامل) گھمنڈی گناہ جکڑ لیتا ہے۔ ایسے شخص کے لیے جہنم کافی ہے اور وہاں کا (بچھونا اور) مسکن انتہائی برباد کن ہے‘‘ (البقرہ: 206)۔ اے مولا کریم! پاک وطن کو اندرونی استحکام عطا فرما۔ پاکستان کی کاوشوں کے ہاتھوں دنیا بھر کی انسانیت کو امن کا گلستان بنا دے‘ آمین!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_68712266.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>