<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>پاک افغان تعلقات اور دہشت گردی(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-11-02/11686</link><pubDate>Mon, 02 Nov 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-11-02/11686</guid><description>ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے افغان عبوری حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر انہوں نے پاکستان کیخلاف کام کرنے والی دہشت گرد تنظیموں کی پشت پناہی اور حمایت بند نہ کی تو انہیں اس کی سنگین قیمت چکانا پڑے گی۔ برطانوی نیوز ایجنسی کو انٹرویو میں ترجمان پاک فوج نے واضح کیا کہ پاکستان افغانستان سے کسی رعایت کا طلبگار نہیں بلکہ صرف یہ مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کیخلاف استعمال ہونے سے روکے۔ پاکستان گزشتہ سوا پانچ برس سے کابل انتظامیہ کو ان کی سرزمین پر موجود کالعدم تنظیموں کیخلاف کارروائی کیلئے بارہا یاد دہانی کراتا آ رہا ہے‘ اس ضمن میں ہر ممکن سفارتی چینل استعمال کیا گیا‘ متعدد سماجی و سیاسی‘ انتظامی و حکومتی وفود بھی افغانستان گئے لیکن ان تمام تر سفارتی کوششوں کا جواب سرد مہری اور جھوٹے وعدوں کے سوا کچھ نہیں ملا۔ پاکستان کے صبر کا پیمانہ اب لبریز ہو چکا ہے اور افغان حکومت کو دو ٹوک انداز میں یہ باور کرایا جا رہا ہے کہ اگر اب بھی اس نے اس مسئلے کو سنجیدگی سے حل کرنے کی طرف قدم نہ بڑھایا تو اس کے سنگین مضمرات ہو سکتے ہیں۔ افغانستان سے پاکستان میں دہشت گردی ایک مسلمہ حقیقت ہے اور کابل کی عبوری حکومت اب اس سے انکار نہیں کر سکتی۔ دو روز قبل جی ٹونٹی کے وزرائے خارجہ اجلاس میں امریکی وزیر خارجہ نے بھی اس حقیقت کو تسلیم کیا اور سرحد پار سے دہشت گردی پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔

پاکستانی دفتر خارجہ نے امریکہ وزیر خارجہ کے بیان کا گرمجوشی سے خیر مقدم کرتے ہوئے عالمی برادری سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ وہ سرحد پار سے کام کرنے والے دہشت گردوں کیخلاف ٹھوس اور مربوط اقدامات کیلئے کابل پر دباؤ بڑھائے۔ یہ پیشرفت اس بات کا بھی اظہار ہے کہ پاکستان کا مؤقف اب عالمی سطح پر بھی تسلیم کیا جا رہا ہے کہ افغانستان میں موجود سکیورٹی خلا نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے امن کیلئے ایک بڑا خطرہ بن چکا ہے۔ پاکستان کے مؤقف کو تسلیم کیے جانے کے پیچھے مسلسل سفارتی کوششوں اور ان ڈوزیئرز کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا جنہوں نے یہ ثابت کیا کہ ریاستِ پاکستان کی سالمیت کیخلاف کام کرنے والی دہشت گرد تنظیمیں دراصل پاکستان کیخلاف کام کرنے والی بھارتی پراکسیز ہیں۔
نئی دہلی طویل عرصے سے افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کیلئے ایک لانچنگ پیڈ کے طور پر استعمال کرتا چلا آ رہا ہے۔ سابق افغان حکومتوں میں این ڈی ایس اور را کا گٹھ جوڑ ایک کھلی حقیقت تھا اور اب کابل میں حکومت کی تبدیلی کے باوجود‘ بھارت براستہ افغانستان اپنے اثر و رسوخ اور مالی معاونت کے ذریعے پاکستان میں انتشار پھیلانے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ افغان عبوری انتظامیہ کی جانب سے ان دہشت گردوں کو جدید ترین ہتھیار‘ مالی وسائل اور محفوظ پناہ گاہیں فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ وہ پاکستان کو نقصان پہنچا سکیں۔ اب دفترِ خارجہ اور عسکری قیادت‘ دونوں نے یہ واضح کر دیا ہے کہ کابل کیساتھ کسی بھی بامعنی مذاکرات یا مستقبل کے ورکنگ ریلیشن شپ کیلئے لازم ہے کہ افغان حکام سب سے پہلے اپنی سرزمین سے سرگرم دہشت گرد گروہوں کیخلاف ٹھوس عملی کارروائیاں کریں۔ اب زبانی جمع خرچ اور کھوکھلے وعدے قابلِ قبول نہیں ہوں گے۔ جب تک سرحد پار سے دراندازی کو روکنے کیلئے عملی اقدامات نہیں کیے جاتے تب تک دونوں ملکوں کے سیاسی و تجارتی تعلقات میں کسی بڑی پیشرفت کا امکان نہیں ہے۔
اگر کابل انتظامیہ اب بھی بھارتی پراکسیز اور دہشت گردوں کی پشت پناہی جاری رکھتی ہے تو پاکستان اپنے دفاع کیلئے تمام آپشنز استعمال کرنے کا پورا حق محفوظ رکھتا ہے۔ عالمی برادری کو بھی چاہیے کہ وہ دہشت گردی کے اس گلوبل خطرے کیخلاف دوٹوک حکمت عملی اپنائے کیونکہ یہ معاملہ صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ اس خطے اور پوری دنیا کی سلامتی سے جڑا ہوا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>جی 24 کی سربراہی(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-11-02/11685</link><pubDate>Mon, 02 Nov 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-11-02/11685</guid><description>پاکستان کا ترقی پذیر ممالک کے بین الحکومتی گروپ جی 24 کی سربراہی سنبھالنا بلاشبہ ایک اہم سفارتی اور معاشی پیش رفت ہے۔ ایسے وقت میں جب دنیا کی معیشت جغرافیائی سیاسی کشیدگی‘ قرضوں کے بڑھتے بوجھ‘ موسمیاتی تبدیلیوں اور عالمی مالیاتی عدم توازن جیسے چیلنجز سے دوچار ہے‘ پاکستان کو ترقی پذیر ممالک کی اجتماعی آواز کی قیادت کا موقع ملنا خوش آئند ہے۔ اس گروپ کا بنیادی مقصد ترقی پذیر ممالک کے درمیان معاشی اور مالیاتی معاملات پر مشترکہ مؤقف تشکیل دینا اور عالمی مالیاتی اداروں‘ بالخصوص آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک میں انکے مفادات کا مؤثر دفاع کرنا ہے۔ اس گروپ میں پاکستان کے علاوہ بھارت‘ ایران‘برازیل‘ ارجنٹائن‘ جنوبی افریقہ‘ نائیجیریا‘ مصر اور دیگر افریقی‘ ایشیائی اور لاطینی امریکی ممالک شامل ہیں۔

عالمی مالیاتی نظام میں پالیسی سازی اور فیصلہ سازی پر ترقی یافتہ معیشتوں کا اثرورسوخ نسبتاً زیادہ ہے۔ ترقی پذیر ممالک طویل عرصے سے عالمی مالیاتی اداروں میں اپنے حصص‘ ووٹنگ پاور اور نمائندگی میں اضافے کا مطالبہ کرتے آ رہے ہیں۔ پاکستان اب اس مطالبے کو اجتماعی سطح پر آگے بڑھانے‘ عالمی معاشی مباحث میں اپنا کردار منوانے اور اہم عالمی فورمز پر ترقی پذیر ممالک کے مسائل کو اجاگر کرنے کی پوزیشن میں ہوگا۔ بلاشبہ جی 24 کی سربراہی پاکستان کیلئے ایک اہم موقع ہے۔ حکومت کو اس سفارتی کامیابی کو ملک کیلئے دیرپا عالمی اعتماد میں اضافے کیلئے استعمال کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھنی چاہیے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ایچ آئی وی کا پھیلاؤ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-11-02/11684</link><pubDate>Mon, 02 Nov 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-11-02/11684</guid><description>وفاقی وزارتِ صحت کی جانب سے قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے اعدادوشمار کے مطابق جنوری 2025ء سے جون 2026ء تک ملک بھر میں 3900 بچے ایچ آئی وی پازیٹو رجسٹر ہوئے۔ ان میں سب سے زیادہ 1915 کیسز سندھ جبکہ 1765 پنجاب میں رپورٹ ہوئے ہیں۔ بچوں میں بڑے پیمانے پر ایڈز کا پھیلاؤ انتہائی تشویشناک ہے۔ بچوں میں انفیکشن کی ممکنہ وجوہات میں آلودہ طبی آلات‘ استعمال شدہ سرنجوں کا دوبارہ استعمال اور غیرمحفوظ خون کی منتقلی شامل ہیں۔ 2019ء میں لاڑکانہ میں رپورٹ ہونیوالے 876ایڈز کیسوں میں 401 متاثرہ بچوں پر ہونیوالی سائنسی تحقیق میں غیرمحفوظ انجکشن اور طبی طریقوں کو انفیکشن کے ممکنہ ذرائع قرار دیا گیا تھا۔

گزشتہ برس کراچی کے ایک ہسپتال میں بھی طبی غفلت کے باعث تقریباً 80بچے ایڈز میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ حکومت اور محکمہ صحت کو چاہیے کہ تمام سرکاری و نجی ہسپتالوں‘ کلینکس اور زچگی مراکز میں انفیکشن کنٹرول کے ضوابط پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں۔ ہر مریض کیلئے نئی‘ جراثیم سے پاک سرنج اور سوئی کے استعمال کی پابندی پر بہرصورت عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ آخر کب تک معصوم بچے طبی غفلت اور انتظامی نااہلی کی قیمت اپنی زندگیوں سے ادا کرتے رہیں گے؟ بچوں کو محفوظ طبی سہولتیں فراہم کرنا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>یہی زندگی ہے(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-11-02/52952/71820987</link><pubDate>Mon, 02 Nov 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-11-02/52952/71820987</guid><description>سنیچر کو لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں سہ فریقی کرکٹ ٹورنامنٹ کا فائنل کھیلا گیا۔ یہاں کم و بیش 35 ہزار تماشائیوں کے لیے گنجائش ہے۔ سٹیڈیم کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ تماشائیوں کا جوش و خروش دیدنی تھا۔ ایک ایک بال اور ایک ایک چوکے چھکے پہ داد دی جا رہی تھی۔ آپ اگر میچ دیکھنے سٹیڈیم نہیں گئے تو ٹی وی پہ ضرور دیکھا ہو گا۔ یہ کالم میں آپ کو یہ بتانے کے لیے نہیں لکھ رہا۔ میں نے یہ تمہید ایک اور مقصد کے لیے باندھی ہے۔ہمارے ہاں جب کرکٹ میچ ہوتا ہے‘ سارا شہر ایک اضطراب میں مبتلا کر دیا جاتا ہے۔ ٹریفک درہم برہم ہو جاتی ہے۔ جو سفر آدھ گھنٹے میں طے ہوتا ہے‘ میچ کی وجہ سے ایک گھنٹہ لے لیتا ہے۔ یہ ایک تکلیف دہ صورتحال ہوتی ہے جس کا ہم سب کو سامنا کرنا پڑتا ہے۔ عام آدمی متاثر ہوتا ہے اور اس کا اظہار بھی کرتا ہے۔ پھر مہنگائی بھی ہے۔ لوگ اس وجہ سے بھی پریشان ہیں۔ ان کے پاس تفریح کے لیے وقت ہے نہ سرمایہ۔ یہی نہیں‘ لاہور میں قیدی نمبر 804 کے مداح بھی کم نہیں۔ ان کا غصہ اور ناراضی بھی ہے۔ اک عمومی تبصرہ یہ بھی سننے کو ملتا ہے کہ &#39;حالات بہت خراب ہیں‘۔ سوال یہ ہے کہ اس مہنگائی میں اور ان خراب حالات میں‘ یہ 35 ہزار افراد کون تھے؟ یہ کہاں سے آئے؟ کیا ان میں سے کوئی مہنگائی سے متاثر نہیں ہوا؟ کیا ان میں عمران خان صاحب کے مداح شامل نہیں تھے؟ کیا یہ ٹریفک کے مسائل سے دوچار نہیں ہوتے جو میچ کی وجہ سے شہر میں پیدا ہو جاتے ہیں؟ظاہر ہے کہ ان سوالات کے جواب نفی میں ہیں۔ جو میچ دیکھنے آئے‘ ان میں مہنگائی سے متاثر ہونے والے سب سے زیادہ تھے۔ خان صاحب کے چاہنے والے بھی کم نہیں ہوں گے۔ وہ بھی ہوں گے جو ہر مجلس میں حالات کی خرابی کا رونا روتے ہیں۔ یہ سب اپنے خیالات میں سچے ہوں گے۔ مہنگائی یقینا ہے۔ حالات بھی اطمینان بخش نہیں۔ اس کے باوصف وہ جوش کہاں سے آیا جو میچ کے دوران میں دکھائی دیا؟ اس خوشی کا ماخذ کیا ہے جس سے یہ تماشائی سرشار تھے؟ اس کا جواب ہے: اسی کا نام زندگی ہے۔زندگی ہمہ رنگ ہوتی ہے۔ خوشی اور غم‘ دھوپ اور چھاؤں‘ یہ سب ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ ہم مہنگائی سے پریشان ہوتے ہیں لیکن کچھ پیسے پس انداز کر کے‘ میچ کا ٹکٹ بھی خرید لیتے ہیں۔ ہم حکومت کے مخالف ہوتے ہیں لیکن محسن نقوی صاحب کے بنائے ہوئے کرکٹ سٹرکچر سے بھی وابستہ ہوتے ہیں۔ ہمیں عمران خان کی قید کا دکھ ہو سکتا ہے مگر ہم فخر زمان اور عرفات منہاس کی بلے بازی سے بھی لطف اندوز ہوتے ہیں۔ ہم عمر بھر زندگی کے مختلف بلکہ متضاد چہرے دیکھتے اور ان کے ساتھ نباہ کرتے ہیں مگر کبھی شعوری طور پر اس عمل کو سمجھتے نہیں۔ جب ہم تجزیہ کرنے بیٹھتے ہیں توہم میں یک رخا پن آ جاتا ہے۔گزشتہ دنوں جب خیبرپختونخوا دہشت گرد حملوں کے زد میں تھا تو ایک مؤقف سامنے آیا: &#39;خیبرپختونخوا میں لوگ مر رہے ہیں اور پنجاب میں شادیاں ہو رہی ہیں‘۔ اس سے یہ نتیجہ برآمد ہوا کہ پنجاب میں لوگوں کو خیبرپختونخوا کے حالات سے کوئی دلچسپی نہیں۔ یہ اسی یک رخے پن کا اظہار تھا۔کوئی پوچھے: کیا اس دوران میں خیبرپختونخوا میں شادیاں نہیں ہو رہی تھیں؟ بلوچستان میں حالات اچھے نہیں لیکن کیا وہاں لوگ شادیاں نہیں کرتے؟ اگر ایک طرف لوگ مر رہے ہیں تو دوسری طرف انسان پیدا بھی ہو رہے ہیں۔ زندگی ان متضاد رنگوں کے ساتھ آگے بڑھتی ہے۔ اگر ہم اس کو شعوری سطح پر جان سکیں تو ہمارے بہت سے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ زندگی کے بارے میں ہمارا زاویۂ نظر بدل سکتا ہے۔کچھ لوگ اپنے مفادات کے لیے سماج میں لکیریں کھینچ دیتے ہیں۔ کبھی مذہب کے نام پر‘ کبھی سیاست کے عنوان سے اور کبھی رنگ و نسل کی بنیاد پر۔ مذہبی اختلاف ایک حقیقت ہے۔ سیاست میں نقطہ ہائے نظر کا پایا جانا بھی کوئی عجوبہ نہیں۔ دنیا میں مختلف رنگوں اور نسلوں کے لوگ رہتے ہیں۔ اگر ہم اس اختلافِ رنگ و نسل کو ایک امرِ واقعہ سمجھ کر آگے بڑھیں تو اس سے کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوتا۔ اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ ہم دوسروں کے وجود کو تسلیم کریں اور یہ مانیں کہ دوسرا اختلاف کے باوجود‘ اپنی شناخت کے ساتھ مخلص ہو سکتا ہے۔پچھلے دنوں ہم نے دیکھا کہ سیاست میں ایک تلخی در آئی۔ مولانا فضل الرحمن جلال میں تھے اور ان کے مخالفین نے بھی جواباً وہی لب و لہجہ اپنایا۔ ہم جانتے ہیں کہ ماضی میں یہ سب ایک سٹیج پر ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے کھڑے تھے۔ مستقبل میں بھی اس کا پورا امکان موجود ہے کہ ہم یہ منظر پھر دیکھیں۔ کیا ان تجربہ کار لوگوں کو اس کا ادراک نہیں ہے؟ اگر ہے تو یہ انتہا پسندانہ مؤقف کیوں؟ لہجے میں اتنی تلخی کیوں؟ پھر یہ کہ کارکن بھی لیڈر کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں۔ جیسے انہوں نے اپنی عقل کو ان کے پاس گروی رکھ دیا ہے۔ ان کو بھی سوال کرنا چاہیے کہ آج انہیں جن کے خلاف بھڑکایا جا رہا ہے‘ کل ان کے حق میں مہم چلانے پر مجبور تو نہیں کیا جائے گا؟ آج کا مذہب فروش آپ کا اتحادی ہوکر دین کا سچا خادم کیسے بن جاتا ہے؟ اگر عوام کی شعوری سطح بلند ہو تو یہ سوال ضرور اٹھائیں۔زندگی کا معاملہ یہ ہے کہ اس میں حرکت ہے۔ درست تر الفاظ میں حرکت ہی زندگی کا ثبوت ہے۔ حرکت کا مطلب ارتقا ہے۔ ہر لحظہ ہماری کیفیت بدلتی ہے۔ ہم ایک مقام پر کھڑے نہیں ہوتے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ہم جس زمان و مکان کی حدود میں رہتے ہیں‘ وہ متحرک ہے۔ وقت ایک ہوتے ہوئے بھی حال سے ماضی میں بدل رہا ہے۔ ہمیں اس کے مطابق متحرک ہونا ہے۔ ہم حرکت میں ہوتے ہوئے بھی اس کا شعور نہیں رکھتے۔ جب زمین متحرک ہے تو ہم ثابت کیسے ہو سکتے ہیں؟ جب وقت بدل رہا ہے تو ہم ایک ہی جگہ کیسے کھڑے رہ سکتے ہیں؟ یہ حرکت بقا کے اسباب پر بھی اثر انداز ہو رہی ہے۔ ہم جبلی تقاضے کے تحت اپنی بقا کے لیے حالات کی تبدیلی کو قبول کرتے ہیں۔ سردی آتی ہے تو کمبل اوڑھ لیتے ہیں۔ گرمی آتی ہے تو اتار دیتے ہیں۔ حرکت کا یہ تصور اگر ہمارے شعور کا حصہ بن جائے تو زندگی کے مختلف واقعات میں ہمیں تضاد کے بجائے ایک ہم آہنگی دکھائی دینے لگے گی۔ پھر ان واقعات کی تفہیم ہمارے لیے آسان ہو جائے گی جن کی وجہ سے ہم مضطرب رہتے ہیں۔آج مہنگائی ہے۔ ہم اس کا گلہ کریں گے۔ لیکن اس کے ساتھ کچھ پیسے بچا کر کبھی میچ دیکھنے چلے جائیں گے اور کبھی بچوں کو آئس کریم کھلانے لے جائیں گے۔ ہم اپنے مسلک پر قائم رہیں گے اور دوسروں کو بھی اس کا موقع دیں گے کہ وہ اپنے مسلک پر کھڑے رہیں۔ ہم ٹریفک کے رش سے پریشان ہوں گے مگر اس کے ساتھ شہر میں ہونے والے میچ سے حظ بھی اٹھائیں گے۔ ہم کسی عزیز کے مرنے پر روئیں گے اور کسی رشتہ دار کی شادی پر بھنگڑا بھی ڈالیں گے۔ ہم کسی سے سیاسی اختلاف رکھیں گے اور اس کی خوشی غمی میں شریک بھی ہوں گے۔ اسی کا نام زندگی ہے۔ ہم سب یہی کرتے ہیں مگر لا شعوری طور پر۔ اگر شعوری سطح پر ہم اس کا ادارک کر سکیں تو ان لوگوں کے بہکاوے میں نہ آئیں جو اپنے مفادات کے لیے ہمیں سوچنے نہیں دیتے۔ آپ اس موضوع پر سوچ کے تو دیکھیں!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>گدھے سے کاکروچوں تک(رسول بخش رئیس)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-11-02/52953/38356060</link><pubDate>Mon, 02 Nov 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-11-02/52953/38356060</guid><description>ہمارے ہاں تو گدھے کو آپ گاڑی کھینچتے اور بار برداری کی مشقت کرتے اور ڈنڈے کھاتے دیکھتے ہیں‘ اور اسے جفا کش لیکن کم عقل خیال کیا جاتا ہے۔ دوسری طرف ہاتھی کو صرف کسی بچے کھچے سرکس یا چڑیا گھروں میں دیکھا جا سکتا ہے۔ عجیب بات ہے کہ جو گھر چڑیوں کے لیے بنائے گئے تھے‘ وہاں دنیا کے دیگر ملکوں سے خرید کر لائے گئے ہاتھیوں کے لیے بھی گنجائش نکل آتی ہے۔ مگر امریکہ میں یہ دونوں جانور دو بڑی سیاسی جماعتوں کے شناختی نشان سمجھے جاتے ہیں۔ انہی جانوروں کو سامنے رکھ کر امریکی رائے دہندگان اگلی سیاسی مدت کے لیے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں تو سیاسی جماعتیں انتخابات کے دوران اپنے لیے کچھ مخصوص نشانات الاٹ کراتی ہیں‘ جو اکثر کے من پسند ہوتے ہیں۔ لیکن وہ جماعتیں جو راندۂ درگاہ ہوتی ہیں‘ انہیں صاحبانِ اقتدار اپنی مرضی سے نشانات تجویز کرتے ہیں۔ اگر ناراضی خطرے کے نشانات سے بھی آگے بڑھ جائے تو پھر بے نشان ہی انتخابی اکھاڑے میں اترنا پڑتا ہے۔ امریکی سیاسی جماعتیں تاریخ میں دو ہی غالب رہی ہیں اور اب بھی ایسا ہی ہے۔ ڈیموکریٹک اور ریپبلکن پارٹی۔ کئی نئی سیاسی جماعتیں بنیں‘ میدان میں اتریں‘ کئی بار کوشش کی گئی کہ تیسری کی گنجائش بھی نکلے مگر کچھ وہاں کا نظام اور ضوابط ہی ایسے ہیں کہ سب زور آزمائی کرنے کے بعد باقی جماعتیں وقت کے بہتے سمندر میں کھو گئیں۔ انتخابی نظام کے ساتھ بر وقت‘ شفاف اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد جہاں کہیں بھی ہم نے تواتر سے دیکھا‘ وہاں آہستہ آہستہ دو انتخابی اتحاد یا پھر دو سیاسی جماعتیں عوام کی نظروں میں ایک دوسرے کے متبادل کے طور پر ابھرتی رہیں۔ جمہوریت ہو یا سیاست یا اجتماعی زندگی کا کوئی اور شعبہ‘ تاریخ کی اہمیت زندہ قوموں اور معاشروں کی پہچان رہی ہے۔ اور اسی طرح کسی فرد یا گروہ کی سیاسی شناخت جو فطری طور پر بنے‘ اس کی بھی جاذبیت‘ کشش‘ اعتبار اور اہمیت اپنی جگہ ہے۔ اس کی ایک تازہ مثال بھارت میں ابھرتی کاکروچ جنتا پارٹی کی ہے۔ کاکروچ کا نام تو مخالفین نے دیا مگر نوجوانوں نے اسے اپنے سینے پر لیبل کی طرح سجا کر باقاعدہ اسے اپنی شناختی علامت بنا لیا۔ سنا ہے کہ کاکروچوں کو آپ بھلے مہلک سے مہلک سپرے کرکے تلف کرتے رہیں‘ وہ موسم بدلتے ہی پھر کہیں نہ کہیں سے نکل آتے ہیں۔ اب ہمارے خطے میں یہ سیاسی تحریک کی طاقت کا استعارہ بن چکا ہے۔ گدھے کا لیبل بھی مخالفین نے 1828ء کے انتخابات میں عوامی جمہوریت کے علمبردار صدارتی امیدوار اینڈریو جیکسن کو دیا تھا۔ جیکسن نہ صرف عوام کی طاقت کی بات کرتا تھا بلکہ انہیں اس وقت کی سیاسی اسٹیبلشمنٹ کی کرپشن اور بے قاعدگیوں کے خلاف متحرک بھی کرتا تھا۔ ایک دفعہ بدعنوانی کا شکار ہونے کے اور الیکشن‘ جس کا فیصلہ آخر میں کانگریس نے کیا تھا‘ ہارنے کے بعد دو مرتبہ وہ صدر بنے اور تاریخ میں سیاست کو حقیقی جمہوری رخ دینے والوں میں اپنا نام ہمیشہ کے لیے لکھوا گئے۔ جیکسن کے مخالف نے تو انہیں گدھے کی گالی دی تھی مگر انہوں نے جواب میں گالی دینے کے بجائے اپنے انتخابی پوسٹروں پر گدھے کی تصویریں چھپوائیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ ان کا انتخابی نشان بن گیا اور پھر گدھے نے ایسی دولتیاں ماریں کہ مخالفین کو خاک چاٹنا پڑی۔ کوئی بھی صدارتی امیدوار بذاتِ خود تو پارٹی نہیں ہوتا‘ جس طرح ہمارے ہاں مورثی سیاست کے کرشمے آپ دیکھتے رہتے ہیں۔ ڈیموکریٹ پارٹی نے بھی اپنے طور پر ایسی کوئی کاوش نہ کی کہ وہ گدھے کو اپنا نشان بناتے۔ یہ کارنامہ ایک کارٹونسٹ اور صحافی تھامس ناسٹ کا ہے۔ آپ اسے انیسویں صدی کے عظیم خاکہ نگاروں میں شمار کر سکتے ہیں۔ اس کی زندگی اور کام پر درجنوں کتابیں لکھی گئی ہیں۔ اس نے ڈیموکریٹک پارٹی کو اس کی سیاسی حماقتوں کی وجہ سے گدھے کی صورت اپنے کارٹونوں میں پیش کرنا شروع کیا تو صدر اینڈریو جیکسن کی تقلید کرتے ہوئے پارٹی نے اسے اپنی سیاسی شناخت بنا لیا۔ آج کے سیاسی دور میں یہ گدھے والی پارٹی ترقی پسند‘ آزاد خیال اور کسی حد تک سماجی انصاف کی سیاست اور فلسفوں کی علمبردار ہے۔ اگر منگل کے دن مڈٹرم انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ میں اکثریت حاصل کرتی ہے تو اخباروں اور رسائل میں آپ گدھے کو ہوا میں دولتیاں مارتے دیکھیں گے‘ بصورت دیگر آنسو بہاتے اور خستہ حالت میں دیکھیں گے۔ سیاسی شناخت انفرادی ہو یا اجتماعی‘ معروضی حالات اور اپنی ترجیحات کی روشنی میں بنتی ہے‘ پسند اپنی اپنی مگر کوئی عصری یا تاریخی حوالے کا ہونا ضروری ہے۔ کاکروچوں کی طرف سے ذرا توجہ ہٹا کر اقتدار میں آنے والی ریپبلکن پارٹی کے ہاتھی کی بات بھی کر لیتے ہیں۔ یہ کارنامہ بھی تھامس ناسٹ کا ہے۔ امریکی خانہ جنگی کے شروع میں 1864ء میں مرکزی سرکار کی فوجوں کی جنوبی ریاستوں کی علیحدگی کے خلاف کامیابیوں کی تشہیر کے لیے اس نے چنگھاڑتے روندتے ہاتھی کی شکل میں دکھایا تھا۔ اس کا ایک سیاق و سباق بھی تھا کہ اس زمانے میں جنگ اور لڑائیوں کے بارے میں عام لوگوں کی گفتگو میں کہا جاتا تھا کہ میں ہاتھیوں کو میدان میں آتے دیکھ رہا ہوں۔ جب ریپبلکن پارٹی کو علیحدگی پسندوں کے خلاف اس خوفناک خانہ جنگی میں فتح ہوئی تو اس نے ہاتھی کو اپنی سیاسی شناخت بنا لیا۔ منگل کے روز ہونے والے انتخابات کا ہمیں بدھ کی شام تک پتا چل سکے گا کہ اہلِ فیل میدان مارتے ہیں یا اہلِ حمار۔اپنے قومی تناظر کی بات تو نہیں کرتا مگر علاقائی اور زیادہ تر یورپی ممالک میں نوجوانوں کی تحریکیں زور پکڑ رہی ہیں۔ سیاسی نظاموں‘ اہلِ اقتدار اور روایتی سیاسی جماعتوں پر ان کا اعتبار اور اعتماد ختم ہو چکا ہے۔ میرے نزدیک سب کاکروچوں کی مانند ہیں‘ ادھر مار پڑتی ہے‘ ادھر سر پر پٹیاں باندھ کر کہیں اور کونے کھدرے سے نکل آتے ہیں۔ بنگلہ دیش‘ نیپال اور حال ہی میں سربیا میں وہ انتخابات کروا کر حکمرانوں کا تختہ الٹنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ فرانس کی سیاسی آگ کے شعلے اب اٹلی‘ پرتگال‘ پولینڈ اور جرمنی میں بھی بڑھتی ہوئی سردی میں سیاسی درجہ حرارت بڑھا رہے ہیں۔ سیاست اور اہلِ سیاست پر جب اعتبار ان کی غلط سلط پالیسیوں‘ لوٹ مار اور ہر نوع کی مبینہ بدعنوانیوں کی وجہ سے اٹھ جائے تو بیشک وہ کچھ آوازیں دبا کر اور کچھ کے منہ میں کچھ ڈال کر اپنے فرشتے ہونے کے ثبوت بنواتے اور حمایتی بیانیے ارزاں کرواتے رہیں‘ لیکن عوامی مقبولیت اور عمومی جائزیت کے پرندے کبھی لوٹ کر واپس نہیں آتے۔ پھر ایک ہی ہتھیار رہ جاتا ہے کہ وہ کس طرح ریاستی اقتدار کے چھاتے کے اندر پناہ لے کر اپنی جگہ پر قائم رہیں۔ جہاں یہ پناہ نہیں مل سکتی‘ وہاں پھر انتخابات کرانا پڑتے ہیں‘ اور ہم نے ہمیشہ دیکھا ہے کہ اہلِ اقتدار کی سیاست ایسی غائب ہوتی ہے جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔ بھارت کے نوجوانوں نے جس طرح کاکروچ کو اپنی تحریک کی علامت بنایا ہے‘ اس کے اثرات مختلف صورتوں میں‘ دنیا کے دیگر حصوں میں بھی آپ دیکھیں گے۔ دو جنگوں کی اثرات کے علاوہ انرجی کے بحران اور مہنگائی نے ایسا سیاسی ماحول پیدا کر دیا ہے جو ایسے نم دار بارشی موسم کی طرح ہے جب کاکروچ اپنی مونچھوں پر ہاتھ پھیر کر اپنی آمد اور طاقت کا اعلان کر رہے ہوتے ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_33241568.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ٹیکس اہداف، نیا بینکنگ نظام اور معیشت(میاں عمران احمد)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mian-imran-ahmad/2026-11-02/52954/92055886</link><pubDate>Mon, 02 Nov 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mian-imran-ahmad/2026-11-02/52954/92055886</guid><description>پاکستان کی معیشت کو اس وقت جن بڑے چیلنجز کا سامنا ہے ان میں ٹیکس وصولیوں میں اضافہ اور حکومتی آمدن کے ذرائع کو وسیع کرنا انتہائی اہم ہیں۔ جولائی سے اکتوبر کے دوران ایف بی آر نے 4 ہزار 89 ارب روپے ٹیکس جمع کیا جبکہ اس مدت کا ہدف چار ہزار 185 ارب روپے تھا؛ یعنی چار ماہ میں 96 ارب روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ ابتدائی اعداد وشمار میں یہ کمی 124 ارب روپے تھی لیکن اکتوبر کے آخری روز ٹیکس گوشواروں کے ساتھ موصول ہونے والی ادائیگیوں اور دیگر وصولیوں کے بعد مجموعی شارٹ فال کم ہو کر 96 ارب روپے رہ گیا۔ گزشتہ سال اسی عرصے میں 3 ہزار 840 ارب روپے جمع کیے گئے تھے۔ اس لحاظ سے رواں سال ٹیکس وصولیوں میں تقریباً 6.5 فیصد اضافہ ہوا لیکن مسئلہ یہ ہے کہ سالانہ ہدف حاصل کرنے کیلئے تقریباً 17.4 فیصد اضافے کی ضرورت ہے۔ یعنی ٹیکس وصولیوں میں اضافہ ضرور ہوا لیکن مطلوبہ رفتار ہدف سے خاصی کم ہے۔ اکتوبر میں تقریباً 1003 ارب روپے ٹیکس جمع ہوا جبکہ اس ماہ کا ہدف 1132ارب روپے تھا۔ یوں اکتوبر میں 129 ارب روپے کا شارٹ فال رہا۔ اگرچہ گزشتہ سال اکتوبر کے مقابلے میں وصولیوں میں تقریباً پانچ فیصد اضافہ ہوا لیکن یہ اضافہ مقررہ ہدف پورا کرنے کیلئے کافی نہیں ہے۔ ان حالات میں ٹیکس گوشوارے جمع نہ کرانے والے افراد اور کمپنیوں نے ایکسٹینشن فائل کی ہے اور ایف بی آر اکثریت کو ایکسٹینشن دینے سے گریزاں ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر سالانہ ٹیکس ریٹرنز فائل کرنے والے مہینے میں ہی ٹیکس اہداف حاصل نہیں ہو رہے تو بقیہ مہینوں میں بہتری کی توقع کس طرح کی جا سکتی ہے۔پاکستان اور خلیجی (جی سی سی) ممالک میں تجارتی تعلقات کو مضبوط بنانے کیلئے آزاد تجارتی معاہدے کی کوششیں تیز ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔ سعودی عرب کے نئے سفیر ڈاکٹر راجح بن طامی البقمی اور وفاقی وزیر تجارت کے درمیان ملاقات میں اس معاہدے پر جلد پیشرفت اور دو طرفہ تجارت بڑھانے کے حوالے سے بات چیت سے تجارت کے نئے دروازے کھلنے کی امید ہے۔ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان تجارت کا جائزہ لیا جائے تو مالی سال 2024-25ء کے اعدادوشمار کے مطابق اس مالی سال میں مشرقِ وسطیٰ سے درآمدات تقریباً 17ارب ڈالر اور برآمدات تین ارب 10 کروڑ ڈالر رہیں جس کے مطابق تجارتی خسارہ تقریباً 13 ارب 97 کروڑ ڈالر سے زائد تھا۔ مالی سال 2024-25ء میں مشرقِ وسطیٰ کو پاکستانی برآمدات میں 1.52 فیصد کمی ہوئی‘ جو مالی سال 2023-24ء میں تین ارب 15 کروڑ ڈالر تھیں۔ اس کے برعکس درآمدات 5.64 فیصد اضافے سے 17 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں۔ پاکستان اور جی سی سی ممالک کے درمیان تجارتی معاہدے کی کوششیں نئی نہیں ہیں۔ اگست 2004ء میں اقتصادی تعاون کا فریم ورک معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت آزاد تجارتی معاہدے کی راہ ہموار کی گئی۔ 2006ء اور 2008ء میں مذاکرات کے ابتدائی ادوار ہوئے تاہم 2009ء میں یہ عمل تعطل کا شکار ہو گیا۔ جنوری 2021ء میں دوبارہ مذاکرات کی کوششیں ہوئیں اور 2022ء اور 2023ء میں مذاکرات کے مزید ادوار ہوئے اور ستمبر 2023ء میں ریاض میں آخری مذاکراتی دور ہوا۔ اب حکومت پاکستان اس معاہدے پر جلد دستخط کرنے کی خواہشمند ہے۔ پاکستان چاول‘ گوشت‘ آم‘ کینو‘ کھجور‘ سبزیاں اور دیگر زرعی مصنوعات برآمد کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اگر حکومت برآمد کنندگان کو طویل مدتی سپلائی معاہدوں‘ جدید کولڈ سٹوریج‘ بہتر پیکنگ‘ حلال سرٹیفکیشن اور بین الاقوامی معیار کی سہولتیں فراہم کرے تو پاکستانی زرعی مصنوعات کی برآمدات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ سعودی عرب کا وژن 2030ء بھی پاکستانی کاروباری اداروں کیلئے نئے مواقع پیدا کر سکتا ہے۔اس وقت ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے کے باعث گیس کا بحران سنگین ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ پاکستان کی ایل پی جی ضروریات کا بڑا حصہ درآمدات سے پورا ہوتا ہے اور اس پر بڑھتا درآمدی انحصار قومی توانائی سلامتی کے لیے بڑا چیلنج بنتا دکھائی دے رہا ہے۔ مالی سال 2024-25ء میں 17 لاکھ 36 ہزار ٹن سے زائد ایل پی جی درآمد کی گئی جس پر تقریباً 294 ارب 60 کروڑ روپے خرچ ہوئے۔ جون 2026ء کے ایک سروے کے مطابق ملک کی سالانہ طلب تقریباً 28 لاکھ ٹن تک پہنچنے کا تخمینہ ہے۔ اس وقت عالمی سطح پر بھی خطرات بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں۔ 2025ء میں دنیا کی ایل پی جی کی تقریباً 30 فیصد سمندری برآمدات آبنائے ہرمز سے گزریں جبکہ مارچ 2026ء میں اس راستے سے ایل پی جی کی ترسیل تقریباً 80 فیصد کم ہوگئی۔ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی یا اہم بحری راستوں کی بندش پاکستان جیسے درآمدات پر انحصار کرنے والے ممالک کیلئے مشکلات مزید بڑھا سکتی ہے۔ دوسرا بڑا مسئلہ حکومت کی مقرر کردہ قیمتوں اور مارکیٹ میں وصول کی جانے والی رقم میں نمایاں فرق کا ہے۔ اوگرا نے نومبر 2026ء کے لیے ایل پی جی کی سرکاری قیمت تقریباً 294 روپے فی کلو مقرر کی ہے جو اکتوبر کے مقابلے میں 14 روپے 73 پیسے زیادہ ہے۔ مگر بعض علاقوں میں یہ گیس 600 سے 700 روپے فی کلو تک فروخت کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ قیمتوں کے تعین کے ساتھ ساتھ مارکیٹ کی نگرانی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ان حالات میں مجوزہ ایل پی جی پالیسی خاصی اہم ہے۔ حکومتی سطح پر سرکاری اداروں کو درآمدات اور قیمتوں کے تعین میں زیادہ کردار دینے کی تجویز زیر غور ہے جس پر نجی مارکیٹنگ کمپنیوں نے تحفظات ظاہر کیے ہیں۔ وزیراعظم کی جانب سے پالیسی کا جائزہ لینے کیلئے کمیٹی قائم کرنا ایک مثبت قدم ہے لیکن حقیقی ضرورت اس بات کی ہے کہ پالیسی میں شفافیت‘ مسابقت اور رسد کے تسلسل کو یقینی بنایا جائے۔ سرکاری اداروں کی شمولیت اسی وقت فائدہ دے سکتی ہے جب ان کے پاس بروقت درآمدات‘ ذخیرہ کرنے اور تقسیم کرنے کی عملی صلاحیت موجود ہو۔اس وقت پاکستان کے مالیاتی نظام میں ایک بڑی تبدیلی کی بنیاد رکھی جا رہی ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے اوپن بینکنگ ریگولیشنز کا مسودہ عوامی مشاورت کیلئے جاری کرنا محض بینکاری کے طریقہ کار میں تبدیلی نہیں بلکہ ملک کے ڈیجیٹل مالیاتی نظام کو ایک نئے دور میں داخل کرنے کی کوشش ہے۔ اوپن بینکنگ کا مطلب ہے کہ بینک صارف کے مالیاتی ڈیٹا پر مکمل اجارہ داری نہیں رکھے گا بلکہ صارف کی اجازت سے یہ معلومات دوسرے مجاز اداروں تک پہنچ سکیں گی۔ اگر کسی شخص کے تین مختلف بینکوں میں اکاؤنٹس ہیں تو اوپن بینکنگ میں ایک ڈیجیٹل ایپ کے ذریعے وہ اپنے تمام اکاؤنٹس کی مجموعی مالی صورتحال دیکھ سکتا ہے۔ اسی طرح کوئی چھوٹا کاروباری شخص اپنے بینک اکاؤنٹ کی ٹرانزیکشن ہسٹری کی بنیاد پر کسی مالیاتی ادارے سے قرض حاصل کرنے کی درخواست دے سکتا ہے۔ برطانیہ میں اوپن بینکنگ نے مالیاتی شعبے میں نئی خدمات کیلئے راستہ کھولا ہے۔ برطانیہ کی فنانشل کنڈیکٹ اتھارٹی کے مطابق 2025ء میں برطانیہ میں اوپن بینکنگ کے فعال صارفین کی تعداد 16 ملین سے تجاوز کر گئی اور اوپن بینکنگ ادائیگیوں میں ایک سال کے دوران 53 فیصد اضافہ ہوا۔ برطانیہ میں اس نظام کے ذریعے صارفین اور چھوٹے کاروباروں کو اپنے بینک اکاؤنٹس کی معلومات مجاز تھرڈ پارٹی اداروں کے ساتھ شیئر کرنے اور متبادل ادائیگی کی سہولتیں استعمال کرنے کا موقع ملا۔ پاکستان کے لیے یہ تجربہ اس لحاظ سے اہم ہو سکتا ہے کہ اوپن بینکنگ کے ذریعے بینکنگ مارکیٹ میں نئے کاروباری ماڈلز اور مسابقت کے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ اس میں ڈیٹا سکیورٹی کو کس قدر یقینی بنایا جاتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/212_71532147.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>دہلی کا حوضِ خاص اور لاہور سے محبت(نسیم احمد باجوہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/naseem-ahmed-bajwa/2026-11-02/52955/65063149</link><pubDate>Mon, 02 Nov 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/naseem-ahmed-bajwa/2026-11-02/52955/65063149</guid><description>برطانیہ کے مؤقر اور معتبر روزنامہ گارڈین نے فروری میں اپنے قارئین سے دہلی کے ایک ایسے محلے کا تعارف کرایا جو کتابوں کی دکانوں‘ چائے خانوں‘ آرٹ گیلریوں اور فنونِ لطیفہ کے دوسرے مظاہروں سے مالا مال ہے۔ نام ہے حوضِ خاص۔ کالم نگار کی طرح‘ جن لوگوں نے اردو ادب کا تھوڑا بہت مطالعہ کر رکھا ہے وہ حوضِ خاص کے نام سے اچھی طرح واقف ہوں گے۔ غالباً غالب کے نادر روزگار خطوط میں بھی کسی جگہ حوضِ خاص کا ذکر آتا ہے۔ صد افسوس میں کئی بار دہلی جانے کے باوجود حوضِ خاص کی سیر و سیاحت سے ہمیشہ محروم رہا۔ جو دوچار دن ملتے تھے وہ اپنی وکیلانہ مصروفیات‘ غالب سے لے کر حضرت نظام الدین اولیاء اور امیر خسرو کے مزارات پر حاضری دینے‘ لال قلعہ کی سیر اور جامعہ مسجد کی زیارت اور چاندنی چوک میں دنیا کے سب سے مزیدار گول گپے کھانے میں اس طرح پلک جھپکتے گزر جاتے تھے کہ لگتا تھا کہ جیسے یہ سب ایک خواب تھا۔ ایک بار ایسا ہوا کہ ایک مہربان خاتون نے میری مادری زبان‘ پنجابی سے میری گہری عقیدت اور محبت دیکھ کر مجھے پیشکش کی کہ وہ مجھے پنجابی کی شہرہ آفاق شاعرہ امرتا پریتم کے گھر لے جائیں گی جہاں وہ عظیم شاعرہ نہ صرف مجھے اپنی سب سے مشہور نظم &#39;&#39;اج آکھاں وارث شاہ نوں‘‘ خود سنائیں گی بلکہ اپنے ہاتھو ں سے کشمیری چائے بنا کر بھی پلائیں گی۔ میری میزبان خاتون بار بار کوشش کے باوجود میرے وزٹ کے دوران ملاقات کا دن اور وقت طے نہ کر سکیں۔ بدقسمتی سے ان دنوں امرتا پریتم کی صحت اچھی نہ تھی اور انہیں بار بار ہسپتالوں کے چکر لگانا پڑتے تھے۔ میں اگلے سال پھر دہلی گیا مگر تب تک پنجاب کی یہ قابلِ فخر بیٹی جو پہلے گوجرانوالہ سے ہجرت کر کے دہلی گئی تھی‘ اب دہلی سے اتنی دور جا چکی تھی جہاں اس کی روح ابد تک سکھ کی نیند سوئے گی۔ امرتا کو اس کا پریتم جو اس جہاں میں نہ ملا‘ شاید اگلے جہان میں مل گیا ہو۔ چار سُو پھولوں کی پتیاں‘ مدھر گیتوں کی دھنیں‘ گوجرانوالہ کی خوبصورت یادیں۔ ان کے رفیق حیات کا یہ مزاحیہ جملہ آخر سچ نکلا کہ امرتا ہر وقت صرف مجھے ڈرانے کیلئے اپنی موت کا ذکر کرتی ہے مگر اس کا مرنے ورنے کا نہ ارادہ ہے اور نہ پروگرام۔ شاید وہ یہ نہ جانتا تھا کہ مرجانے کیلئے نہ ارادے کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ پروگرام کی۔ امرتا کا ذکر یوں آیا کہ وہ حوضِ خاص کے پاس رہتی تھیں۔ آخر کار میں ہاتھ ملتا رہا گیا۔ نہ امرتا پریتم کا دیدار ہوا اور نہ حوضِ خاص کا۔ میری نظر میں تو خاص بات یہ تھی کہ اس محلہ کے پاس امرتا رہتی تھیں۔ بس ایک حوضِ خاص ہے جو رہ گیا۔ میری نظر میں تو صرف حوض ہی باقی ہے۔ خاص تو خواب و خیال ہوا۔ گارڈین میں حوضِ خاص کا تذکرہ میرے لیے تھوڑے سے حسد اور بہت سارے رشک کا باعث بنا۔ اچھی بات یہ ہے کہ یہ کیفیت چند لمحوں میں ختم ہو گئی۔نیو سٹیٹس مین برطانیہ میں بائیں بازو کا ایک قابلِ احترام‘ قدیم اور قابل تعریف ہفت روزہ ہے‘ اس کے ایک شمارہ میں میرے بیٹے بیرسٹر علی کے دوست Peter Oborne کا لاہور پر مضمون پڑھا تو دل خوشی سے باغ باغ ہو گیا۔ یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ برطانیہ میں ایسے بااثر انگریزوں کی تعداد کئی ہزاروں میں ہے جو تمام منفی پروپیگنڈا کے باوجود پاکستان سے دل و جان سے محبت کرتے ہیں اور اردو شاعری کے عشاقِ نامراد کی طرح اس محبت کو دل کے نہاں خانوں میں چھپاکر نہیں رکھتے بلکہ اس کا ہر موقع پر کھلم کھلا اظہار کرتے اور اس پر فخر بھی کرتے ہیں۔ پیٹر کا شمار اس قبیلہ کے سرداروں میںکیا جا سکتا ہے۔ اس نے پاکستانی کرکٹ اور اس کی تاریخ اور اس کے کھیلنے والوں پر Wounded Tigers کے نام سے جو کمال کی کتاب لکھی ہے اس کا ذکر میں اپنے ایک پرانے کالم میںکر چکا ہوں۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ پاکستان میں اس کتاب کا اردو ترجمہ ہو چکا ہے۔ اب ہم چلتے ہیں پیٹر کی بقیہ تحریر کی طرف۔چند برس قبل پیٹر الحمرا ہال لاہور میں ہونے والے ادبی میلے میں حصہ لینے خاص طور پر پاکستان گیا تھا۔ اس میلے میں نہ صرف مشاعرے ہوئے اور ادبی محفلیں سجائی گئیں بلکہ موسیقی اور رقص کے علاوہ تاریخ‘ سیاست اور سماجی علوم پر درجنوں مذاکرے بھی منعقد کیے گئے۔ امریکہ کی ایک چوٹی کی یونیورسٹی میں پڑھانے والی پاکستانی مورخ خاتون عائشہ جلال بھی ان نامور شخصیات میں شامل تھیں جن کی شرکت نے اس ادبی میلہ کو چار چاند لگائے۔ لاہور کے اس وِزٹ کے بعد سے پیٹر اندرون لاہور کے حسن کی تعریف میں قصیدے لکھتا نہیں تھکتا۔ وہ باغ جناح کی اس گراؤنڈ میں کرکٹ کھیلنے بھی گیا جہاں پاکستان اوّلین دنوں میں ٹیسٹ میچ کھیلتا تھا۔ بہت کم لوگوں کو علم ہو گا کہ پاکستانی کرکٹ باغ جناح کے گہوارے میں پل کر جوان ہوئی۔پیٹر پاکستانی کھانوں کا بہت بڑا مداح ہے اور لاہور میں اسے اپنے اس رسوائے زمانہ چٹخورے پن کے مظاہرے کے بے پناہ مواقع ملے۔ ادبی میلے کے غیرملکی مہمانوں کے اعزاز میں گورنر ہاؤس کے 80 ایکڑوں میں پھیلے باغ کے وسط میں ایک یادگار ڈنر کا اہتمام بھی کیا گیا تھا۔ پیٹر برطانیہ کے معروف روزنامہ ٹیلیگراف سے بہت عرصہ وابستہ رہ کر ایک اصولی اختلاف کی بنیاد پر مستعفی ہوگیا تھا۔ پیٹر نے ادبی میلہ میں ہونے والی جس تقریب کا خاص طور پر بطور تعریف ذکر کیا وہ سرگودھا کے ایک گاؤں ہڈالی (جو مٹھ ٹوانہ اور جوہر آباد کا پڑوسی ہے) میں پیدا ہونے والے اور تقسیم ملک کے بعد ہندوستان چلے جانے والے شہرہ آفاق ادیب خوشونت سنگھ کی یاد میں منعقد کی گئی تھی۔ 1971ء کی جنگ کے بعد مشرقی پاکستان سے ہزاروں افراد بھارت کی قید میں چلے گئے تو ان دنوں خوشونت سنگھ کی بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی سے ملاقات ہوئی۔ خوشونت سنگھ نے وزیراعظم سے درخواست کی کہ وہ پاکستانی قیدیوں کو جلد از جلد رہا کر دیں تو ہمسایہ ممالک میں خیر سگالی کا جذبہ پیدا ہوگا۔ اندرا گاندھی نے اس مشورے کا برا مناتے ہوئے کہا کہ انہیں خوشونت سنگھ سے اخلاقیات پر درس لینے کی کوئی ضرورت نہیں۔ وہ نہیں جانتی تھیں کہ سرگودھا کا ایک اکھڑ اور بے خوف سکھ سردار آگے سے انہیں یہ جواب دے گا کہ آپ کو اپنی اخلاقی سطح بلند کرنے کیلئے جو بھی موقع ملے اسے آپ کو گنوانا نہیں چاہیے۔ ادبی میلے کے دوران پیٹر کے اَن گنت مداحوں نے اس کی بہادری اور اپنے ضمیر کی آواز سننے کی بھی تعریف کی۔ وہ اس بنیاد پر کہ وہ چاہتا تو بہ آسانی خاموش رہ سکتا تھا مگر اپنے اخبار کے مالکان کی بے اصولی اس سے برداشت نہ ہو سکی۔ اور اس نے اُس بڑے عہدے کو احتجاجاً چھوڑ دیا جس کے خواب عام لوگ عمر بھر دیکھتے ہیں۔ پیٹر نے اپنے سر پر بہادری کے پھولوں کا تاج پہننے سے انکار کرتے ہوئے لکھا کہ بہادر تو پاکستان کے صحافی ہیں جہاں بیس برسوں کے اندر پچاس صحافی شہید ہو چکے ہیں۔ جنوبی امریکہ کے ملک کولمبیا میں 40اور روس میں 56قتل ہونے والے صحافی اس اسم صفت کے اصل مستحق ہیں۔ بقول فیض:یہ خونِ خاک نشیناں تھا رزقِ خاک ہوا</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_32258580.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پہاڑی چوٹی اورکانچ کا چبوترہ(سعود عثمانی )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-11-02/52956/83919279</link><pubDate>Mon, 02 Nov 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-11-02/52956/83919279</guid><description>پہاڑی جنگلوں میں رات کی آسیبی دلکش اور پُرہیبت ہوتی ہے۔ ان دونوں کے ساتھ تیز دریا‘ تند ہوا اور گرتی بارش کا شور بھی شامل کر لیں۔ میں رات کا کھانا کھا کر کمرے میں واپس آ چکا تھا۔ نیند آنکھوں سے دور تھی اور ایک اجنبی جگہ پر ایک اجنبی کے سینے پر پائوں دھرتی رات قدم قدم اور لمحہ لمحہ گزر رہی تھی۔ کھلے دریچے سے آتی خنک ہوا اچھی لگ رہی تھی۔ نیند ابھی کہیں دور تھی لیکن اچھی اور پُرسکون نیند اس لیے بھی ضروری تھی کہ اگلی صبح اس علاقے میں گھومنے پھرنے کیلئے میرا تازہ دم ہونا لازمی تھا۔ترکی کے کوجا ایلی (Kocaeli) صوبے کے ضلع کرتے پے (Kartepe) میں الا بالک وادی کا یہ گائوںسامانلی پہاڑ کے دامن اور ڈھلوانوں پر بسی ہوئی ایک چھوٹی سی بستی ہے۔ ساپانجا جھیل اور معشوقیے شہر 20 کلومیٹر نیچے میدان میں ہیں۔ دریا‘ گھنے پہاڑی جنگلات‘ ندیوں‘ 20 سے زائد چھوٹی آبشاروں اور پھلدار درختوں کی بہتات نے اس بستی کو غیر معمولی قدرتی خوبصورتی عطا کر رکھی ہے۔ بڑے شہروں سے دور خالص ہوا اور خوشگوار موسم اس حسن میں اضافہ کرتے ہیں۔ استنبول سے قریب‘ یعنی تین گھنٹے کی مسافت پر ہونا بھی سیاحوں کیلئے کشش کی ایک بڑی وجہ ہے۔ تاریخی طور پر یہ کاکیشین مہاجروں کا بسایا ہوا گائوں تھا جو مراد بے کی قیادت میں 1864ء میں آباد ہوا۔ پہاڑی بستی ہونے کی وجہ سے یہاں سردی بھی بہت ہوتی ہے اور برف بھی کافی پڑتی ہے۔ سردیوں میں درجہ حرارت صفر سے نیچے جبکہ گرمیوں میںعام طور پر 15 سے 20 ڈگری سینٹی گریڈ رہتا ہے۔ ترک حکومت نے اسے پُرکشش سیاحتی مقام بنانے کیلئے کافی اقدامات کیے ہیں۔ یہاں زپ لائن بنائی گئی ہے‘ قریب ہی ایک جنگلی حیات کا پارک بنایا گیا ہے۔ ٹرامپولین (Trampoline) اور دیگر کھیلوں کا انتظام بھی ہے اور قریبی پہاڑوں پر 40 منٹ کا ایک ٹور بھی ہوتا ہے۔ پہاڑی چوٹی پر شیشے کا ایک ٹیرس بھی بنایا گیا ہے۔ ہائیکنگ وغیرہ کا انتظام ہے اور ایڈونچر پسند سیاحو ں کیلئے کئی دلچسپیاں موجود ہیں۔ لیکن ان سبھی کا تعلق گرمیوں سے ہے۔ برفانی موسم میں یہ بستی برف اوڑھ کر چھ ماہ کی نیند سو جاتی ہے۔ سب معلومات کے بعد میں فیصلہ کر چکا تھا کہ مجھے اگلے دن کہاں جانا ہے۔اگلی صبح سورج کی کھلکھلاتی کرنیں دریچے سے اندر داخل ہوئیں۔ کئی دن کی بارشوں کے بعد ایک شفاف اور جگمگاتی صبح دیکھنا اچھا لگ رہا تھا۔ میں تیار ہو کر ناشتے کیلئے ہال میں آیا جہاں روایتی ترک ناشتہ میرا منتظر تھا ۔برصغیر میں ناشتے میں کھیرے‘ ککڑی‘ ٹماٹر‘ لیموں‘ سلاد وغیرہ کا تصور ہی نہیں لیکن روایتی ترک ناشتے کے یہ اہم جزو ہیں۔ سبز اور سیاہ زیتون‘ مکھن‘ پنیر‘ شہد‘ ڈبل روٹی‘ آپ کی پسند کے مطابق آملیٹ‘ ابلے ہوئے یا تلے ہوئے انڈے بھی ساتھ ہوتے ہیں۔ جس چیز نے میری توجہ اپنی طرف کھینچ لی وہ ترک چائے کا میز پر سجا ہوا بندوبست تھا۔ میں نے اس کے بارے میں پہلے بھی سنا تھا لیکن دیکھنے کا یہ پہلا موقع تھا۔ میز پر چائے کا یہ سیٹ چاندی کے رنگ کے تین حصوں پر مشتمل تھا۔ نیچے ایک خوبصورت انگیٹھی‘ جس میں آگ جلتی تھی لیکن انگارے باہر نہیں آ سکتے تھے۔ اس کے اوپر اسی سائز کا ایک جگ جس میں پانی ابل رہا تھا اور ا س کے اوپر عنابی ترک چائے کی کیتلی جس میں گرم چائے لبالب بھری تھی۔ انگیٹھی اور ابلتا پانی مل کر چائے مسلسل گرم رکھتے ہیں۔ آپ کیتلی اٹھائیں اور شیشے کے فنجان میں چائے انڈیل کر کیتلی دوبارہ ابلتے پانی پر رکھ دیں۔ جتنی بار چاہیے‘ چائے گرم ہی ملے گی۔ میں نے حسنِ ذوق کو داد دی۔ کیسا اچھا‘ عملی اور آسان طریقہ تھا۔ کیا یہ ہمارے ہاں نہیں اپنایا جاسکتا؟ شاید کبھی کسی کو اس کا خیال آئے اور اس کا چلن برصغیر میں بھی ہو جائے۔ایک گھنٹے کے بعد میں مقامی ڈرائیور کے ساتھ سرسبز درختوں سے ڈھکے پہاڑی راستے پر اُس پہاڑی چوٹی کی طرف جا رہا تھا جہاں شیشے کا ٹیرس ہے اور جس کی خوبصورت تصویریں میں پہلے دیکھ چکا تھا۔ ایک پہاڑی لومڑی دائیں طرف کی جھاڑیوں سے نمودار ہوئی‘ ایک لمحہ ٹھٹک کر رکی اور پھر تیزی سے سڑک پار کرتی ہوئی دوسری طرف چلی گئی۔ اس علاقے میں کالا ریچھ‘ بھیڑیے‘ گیدڑ اور لومڑیوں سمیت بہت سی جنگلی حیات موجود ہیں اور سردیوں میں یہ جانور نیچے اترتے ہوئے شہروں اور بستیوں تک آ جاتے ہیں۔پہاڑی چڑھائی ہو یا اترائی‘ میرے لیے گاڑی کا سفر ہمیشہ صبر آزما ہوتا ہے۔ بچپن سے میرا مسئلہ ہے کہ پہاڑی چکراتے راستوں پر سر چکرانے لگتا ہے اور متلی کی کیفیت شروع ہو جاتی ہے۔ اگر پیٹ بھرا ہو تو مسئلہ دُگنا ہو جاتا ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ میں خود ڈرائیو کر رہا ہوں تو یہ کیفیت بہت کم ہوتی ہے یا نہیں ہوتی۔ گلاس ٹیرس قریب 20 منٹ کے فاصلے پر تھا۔ ہم وہاں پہنچے اور یہ میرے تصور سے الگ جگہ نکلی۔ ایک کھلی پارکنگ میں گاڑی کھڑی کر کے ہم سیڑھیاں چڑھے۔ ٹکٹ خریدا اور پندرہ بیس سیڑھیاں مزید چڑھ کر ایک راستے پر آ گئے جہاں دائیں بائیں دکانیں تھیں۔ ان صاف ستھری خوبصورت دکانوں میں چائے‘ برگر‘ کھانا‘ کافی‘ سووینیئرز‘ سب موجود تھے۔ ایک طرف واش رومز تھے۔ اس راستے سے اوپر پھر سیڑھیاں تھیں۔ میں اوپر پہنچا‘ ایک قدم بڑھایا اور میں گلاس ٹیرس پر تھا۔ ایک بہت بڑا ٹیرس‘ جس کے دو تین لیول اور حصے تھے۔ کئی سیاح پہلے سے موجود تھے۔ ہم پہاڑی چوٹیوں کے برابر بلندی پر تھے۔ چاروں طرف ٹیرس کی ریلنگ کے پار نیچے گہری کھائیوں کے سوا کچھ بھی نہیں تھا۔ جس پہاڑی چوٹی پر ہم تھے وہاں کے تمام درخت بھی نیچے دکھائی دیتے تھے۔ معلوم نہیں یہ ٹیرس اس بلندی پر کس طرح بنایا گیا تھا۔ بظاہر مصنوعی سہاروں کے ذریعے کانچ کا یہ چبوترہ ہوا میں معلق تھا۔ اوپر آسمان‘ سامنے جنگلوں سے ڈھکی پہاڑی چوٹیاں‘ نیچے حد نظر تک صرف خلا۔ اس ٹیرس کا فرش مضبوط شیشے کا تھا۔ سورج نے اپنی ترچھی کرنوںسے پورا منظر جگمگا رکھا تھا۔ ہم ہوا میں معلق اس چبوترے پر تصویریں بناتے‘ کافی پیتے‘ چلتے پھرتے رہے۔ یہ لمحے کمیاب تھے اور جلد ختم ہونے والے بھی۔ کوشش تھی کہ اس وقت کو آنکھوں کے ذریعے دل میں اتار کر ہمیشہ کیلئے محفوظ کر لیں۔ ہمارے نیچے بھی بادل تھے اور سامنے پہاڑوں کی گھاٹیوں سے بھی بادل اٹھتے نظر آتے تھے۔ ابھی گیارہ بجے کا وقت تھا لیکن کبھی کبھی یہ بادل سورج کے چہرے پر نقاب ڈال کر شام کا ملگجا رنگ اور جھٹپٹا منظر پیدا کر دیتے تھے۔ دھوپ چھائوں کا یہ کھیل جاری تھا۔ پہاڑوں اور وادیوں میں پرچھائیاں ایک دوسرے کے پیچھے بھاگتیں اور کبھی کھیل یکدم ختم ہو جاتا۔ چاروں طرف پہاڑ‘ لیکن ایک سمت میں ایک درہ تھا جس کے پار میدان میں دور نیچے‘ شہر اور اس کے قریب ساپانجا جھیل کا نیلا پانی جھلملاتا تھا۔ میں ٹیرس پر اس درے کی طرف چلا گیا۔ درے کے پار وادی میں دھوپ چمکتی تھی اور گھروں کی سرخ چھتیں روشن تھیں۔ یہ اس گلاس ٹیرس کا سب سے خوبصورت منظر تھا جسے کوئی وڈیو‘ کوئی تصویر قید نہیں کر سکتی تھی۔ میں نے دور نیلی جھیل اور اس کے قریب شہر کو دیکھا۔ ساپانجا! میں تیرے اور تیری وادیوں کے حسن کی تلاش میں یہاں آیا ہوا ہوں۔ میں لاہور میں رہ کر تیرے خواب دیکھتا تھا اور اب تیرے پاس ہوں تو مجھے لاہور ایک خواب کی طرح یاد آ رہا ہے۔ انسانی فطرت کو نہ کسی راستے پر قرار‘ نہ کسی مقام پر سکون ہوتا ہے۔ مجھے دو دن بعد ان پہاڑوں سے اترنا ہے‘ تیرے پہلو میں پہنچنا ہے اور پھر وہاں سے استنبول۔ گلاس ٹیرس سے نہ استنبول نظر آ رہا ہے نہ ہزاروں میل دور فاصلے پر میرا گھر۔ یہ سب فاصلے اور وقت کی دھند کے پار کہیں چھپے ہوئے ہیں۔ مجھے اسی دھند کی دیوار چیر کر لاہور پہنچنا ہے۔ پتا نہیںاب زندگی کبھی دوبارہ یہ منظر دیکھنے کی مہلت دے گی یا نہیں۔ معشوقیے! تو بہت حسین‘ بہت خوبصورت ہے! لیکن میری زندگی میں کچھ جگہیں تجھ سے بھی زیادہ حسین ہیں۔ تجھے ان کے نام بتائوں؟ میرا لاہور اور میرا گھر۔ (ختم)</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_81278520.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>شکرگزاری(علامہ ابتسام الہٰی ظہیر )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-11-02/52957/48050310</link><pubDate>Mon, 02 Nov 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-11-02/52957/48050310</guid><description>اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسان کو بہت سی نعمتوں سے نواز رکھا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۂ ابراہیم کی آیت: 34 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;اور اگر تم اللہ کی نعمت کو گننا چاہو تو انہیں شمار بھی نہیں کر سکتے، یقینا انسان بڑا ہی بے انصاف اور ناشکرا ہے‘‘۔ اسی طرح سورۃ النحل کی آیت: 53 میں ارشاد ہوا: &#39;&#39; تمہارے پاس جتنی بھی نعمتیں ہیں سب اسی کی دی ہوئی ہیں، اب بھی جب تمہیں کوئی مصیبت پیش آ جائے تو اسی کی طرف نالہ و فریاد کرتے ہو‘‘۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۃ الرحمن میں متعدد دفعہ انسان وجنات کو مخاطب ہو کر یہ بات کہی کہ &#39;&#39;پس تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلائو گے‘‘۔نعمتوں کی ناشکری اللہ تبارک وتعالیٰ کی ناراضی کو دعوت دیتی ہے اور انسان کی بہت سی نعمتیں ناشکری کے سبب چھن جاتی ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ النحل کی آیت: 112 میں ایک بستی کا ذکر کرتے ہیں جس کی نعمتیں اللہ تبارک وتعالیٰ کی ناشکری کی وجہ سے چھن گئی تھیں۔ ارشاد ہوا: &#39;&#39;اللہ اس بستی کی مثال بیان فرماتا ہے جو پورے امن واطمینان سے تھی، اس کی روزی اس کے پاس بافراغت ہر جگہ سے چلی آ رہی تھی۔ پھر اس نے اللہ کی نعمتوں کا کفر کیا تو اللہ نے اسے بھوک اور ڈر کا مزہ چکھایا جو بدلہ تھا ان کے کرتوتوں کا‘‘۔ اس کے مدمقابل جب انسان اللہ تبارک وتعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرتا ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ اپنی نعمتوں کو بڑھا دیتے ہیں۔ سورۂ ابراہیم کی آیت: 7 میں ارشاد ہوا: &#39;&#39;اور جب تمہارے پروردگار نے تمہیں آگاہ کر دیا کہ اگر تم شکر گزاری کرو گے تو بیشک میں تمہیں زیادہ دوں گا اور اگر تم ناشکری کرو گے تو یقینا میرا عذاب بہت سخت ہے‘‘۔ قرآن مجید کے مطالعے سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ اگر زمین پر بسنے والے تمام لوگ اللہ تبارک وتعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری کریں تو بھی اللہ تبارک وتعالیٰ کو اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔ سورۂ ابراہیم کی آیت: 8 میں ارشاد ہوا: &#39;&#39;موسیٰ نے کہا کہ اگر تم سب اور روئے زمین کے تمام انسان اللہ کی ناشکری کریں تو بھی اللہ بے نیاز اور لائقِ تعریف ہے‘‘۔ کتاب وسنت کے مطالعہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ شکر گزاری کے تین درجے ہیں۔ دل سے اللہ تبارک وتعالیٰ کی نعمتوں کا اعتراف کہ میرے پاس جو کچھ بھی موجود ہے وہ سب اللہ تبارک وتعالیٰ کا دیا ہوا‘ اسی کا عطا کردہ ہے۔ یہ شکرگزاری کا پہلا درجہ ہے۔ زبان سے اللہ تبارک وتعالیٰ کی نعمتوں کا اظہار اور کلماتِ شکر یعنی الحمدللہ جیسے کلمات کی ادائیگی‘ یہ شکر گزاری کا دوسرا درجہ ہے۔ جوارح سے اللہ تبارک وتعالیٰ کی نعمتوں کو تسلیم کرنا یعنی اللہ تبارک وتعالیٰ کے احکامات کے مطابق عمل کرنا شکر گزاری کا تیسرا درجہ ہے۔بعض لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں پر اللہ تبارک وتعالیٰ کی ناشکری پر آمادہ وتیار ہو جاتے ہیں۔ اس کے مدمقابل ہر دور میں ایسے لوگ بھی رہے ہیں جنہوں نے مختلف تکالیف سے گزرنے کے باوجود اللہ تبارک وتعالیٰ کی شکر گزاری کے راستے کو برقرار رکھا اور ہر تکلیف اور ہر مشکل موقع پر بھی اللہ کی حمد وثنا کرتے رہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید میں حضرت نوح علیہ السلام کو اپنا شکرگزار بندہ قرار دیا۔ اس لیے کہ وہ نو سو سال سے زائد عرصہ تک دعوتِ توحید کی وجہ سے مختلف تکالیف اور مصائب کو برداشت کرتے رہے لیکن آپ علیہ السلام نے اللہ کی عطا پر شکرگزاری کو اختیار کیے رکھا۔ انبیاء کرام علیہم السلام کے بعد بھی بہت سے نیک لوگ انبیاء کرام علیہم السلام کی اتباع کرتے ہوئے ہر دکھ اور تکالیف کے دوران اللہ تبارک وتعالیٰ کے شکرگزار بندے بن کر رہے۔ اس حوالے سے جامع ترمذی میں حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا &#39;&#39;جب بندے کا (کوئی) بچہ فوت ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے پوچھتا ہے: تم نے میرے بندے کے بیٹے کی روح قبض کر لی؟ تو وہ کہتے ہیں: ہاں۔ پھر فرماتا ہے: تم نے اس کے دل کا پھل لے لیا؟ وہ کہتے ہیں: ہاں۔ تو اللہ تعالیٰ پوچھتا ہے: میرے بندے نے کیا کہا؟ وہ کہتے ہیں: اس نے تیری حمد بیان کی اور انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے کے لیے جنت میں ایک گھر بنا دو اور اس کا نام بیت الحمد رکھو‘‘۔الحمدللہ کے ذکر کو اپنی زبان سے ادا کرنا بہت زیادہ فضیلت والا کام ہے۔ اس حوالے سے صحیح مسلم میں حضرت ابومالک اشعریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا &#39;&#39;پاکیزگی نصف ایمان ہے۔ الحمدللہ ترازو کو بھر دیتا ہے۔ سبحان اللہ اور الحمدللہ آسمانوں سے زمین تک کی وسعت کو بھر دیتے ہیں۔ نماز نور ہے۔ صدقہ دلیل ہے۔ صبر روشنی ہے۔ قرآن تمہارے حق میں یا تمہارے خلاف حجت ہے۔ ہر انسان دن کا آغاز کرتا ہے تو (کچھ اعمال کے عوض) اپنا سودا کرتا ہے، پھر یا تو خود کو آزاد کرنے والا ہوتا ہے یا خود کو تباہ کرنے والا‘‘۔صحابہ کرام اور اہلِ بیت عظام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہر حالت میں اللہ تبارک وتعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کیا کرتے تھے۔ اس حوالے سے جناب عبداللہ بن مبارک نے اپنی کتاب الزہد میں زید بن وہب جہنی سے ایک اثر نقل کیا ہے کہ &#39;&#39;حضرت علی رضی اللہ عنہ ایک دن ہمارے پاس تشریف لائے۔ آپ نے دو موٹے کپڑے پہن رکھے تھے اور آپ کی ازار پر کپڑے کا پیوند لگا ہوا تھا۔ ایک اعرابی نے کہا کہ آپ اس سے بہتر لباس پہنیں۔ آپؓ نے جواب دیا: میں یہ لباس اس لیے پہنتا ہوں کہ یہ تکبر سے دور رکھنے والا‘ نماز کے لیے بہتر اور اہلِ ایمان کے لیے قابلِ اقتدا نمونہ ہے‘‘۔ اسی طرح شیخ سعدی نے اپنی مشہور کتاب گلستان میں اپنے حوالے سے ایک بڑا مؤثر واقعہ بیان کیا ہے۔ کہتے ہیں کہ &#39;&#39;میں نے کبھی حالات کی تنگ دستی کی شکایت نہیں کی اور نہ ہی کبھی زمانے کے ناہموار رویے پر میرا دل ملول ہوا‘ سوائے ایک واقعہ کے کہ ایک بار میرے پاؤں ننگے تھے اور میرے پاس جوتے خریدنے کی استطاعت نہیں تھی۔ اسی حالت میں دلی رنج اور غم کے ساتھ میں کوفہ کی جامع مسجد میں داخل ہوا۔ وہاں میں نے ایک ایسے شخص کو دیکھا جس کے دونوں پاؤں ہی نہیں تھے (یعنی وہ معذور تھا)۔ یہ منظر دیکھتے ہی میں نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کیا اور اپنے پاس جوتے نہ ہونے پر صبر کیا اور سمجھ گیا کہ جوتے نہ ہونا پاؤں نہ ہونے سے کہیں بہتر ہے‘‘۔ اسی طرح آپ اپنی کتاب گلستان میں ایک اور دلوں کو چھو جانے والے واقعہ نقل کرتے ہیں کہ ایک بادشاہ کسی عابد و زاہد درویش کے پاس گیا اور اس سے پوچھا کہ آپ نامساعد اور تنگ دستی کی حالت میں بھی اتنے مطمئن اور شکر گزار کیسے رہتے ہیں؟ درویش نے مسکرا کر جواب دیا: بادشاہ سلامت! دنیا کا حال یہ ہے کہ جب رات ہوتی ہے تو میں بھی اپنے ٹوٹے ہوئے بوریا (چٹائی) پر سوتا ہوں اور آپ اپنے شاہی ململ کے بستر پر سوتے ہیں۔ اس وقت نہ آپ کو اپنے تاج وتخت کی خبر ہوتی ہے اور نہ مجھے اپنی غربت ومفلسی کی۔ صبح جب آنکھ کھلتی ہے تو میرے پاس کھانے کے لیے خشک روٹی کا ایک ٹکڑا ہوتا ہے لیکن میں اس پر بھی اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کیونکہ میں اپنے مالک کا غلام ہوں‘ اس کی دی ہوئی روزی کھاتا ہوں اور مجھ پر ہزاروں لوگوں کی دیکھ بھال یا سلطنت کا بوجھ نہیں ہے۔ہم میں سے ہر شخص کے پاس اللہ تبارک وتعالیٰ کی عطا کردہ بہت سی نعمتیں موجود ہیں۔ چنانچہ ہمیں دوسروں کے پاس موجود نعمتوں کو دیکھ کر کڑھنے کے بجائے اپنے پاس موجود اللہ تبارک وتعالیٰ کی عطا کردہ بہت سی مادی اور روحانی نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہونا چاہیے۔ کئی مرتبہ انسان جن نعمتوں کو معمولی سمجھتا ہے حقیقت میں وہ نعمتیں بہت زیادہ قیمتی ہوتی ہیں جن کا ادراک اُس وقت ہوتا ہے جب انسان کسی حادثے‘ کسی بیماری یا گردشِ دوراں کی وجہ سے اُن نعمتوں سے محروم ہوجاتا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کو کثرت سے اپنا شکر ادا کرنے کی توفیق دے‘ آمین!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_19740082.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>