<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>دہشت گردی کے خلاف سیاسی تعاون(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-19/11644</link><pubDate>Mon, 19 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-19/11644</guid><description>پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے گزشتہ روز سانحہ کارساز کی برسی کے موقع پر دہشت گردی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے فیصلوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو متنازع نہ بنایا جائے ۔ ملکِ عزیز میں دہشت گردی کا المیہ سنگین صورت اختیار کر چکا ہے۔ ملک کا مغربی نصف کئی سال سے خونریزی کا سامنا کر رہا ہے ۔ یہ صورتحال جہاں شہریوں کی جان و مال کیلئے سنگین خطرہ ہے وہیں معاشی ترقی کے امکانات کیلئے بھی بڑی رکاوٹ ہے۔ جب دہشتگردی زدہ علاقوں میں جان ومال کے خطرات اس قدر ہوں گے تو معمول کے مطابق اقتصادی سرگرمیوں کا جاری رہنا ممکن نہیں۔ ملک کے ان حصوں کو اس خوفناک صورتحال سے نکالنا قومی ذ مہ داری ہے‘ مگر بدقسمتی سے جب بھی اس مسئلے کی جانب توجہ دی جاتی ہے تو سیاسی اور قبائلی سطح پر کئی طرح کی رکاوٹیں اٹھ کھڑی ہوتی ہیں۔ اس رویے نے دہشتگردی کے خلاف اقدامات کیلئے مشکلات پیدا کی ہیں ۔ خیبر پختونخوا کے حالات اس حوالے سے زیادہ تشویش کا باعث ہیں جہاں صوبائی اور وفاقی حکومت کے سیاسی اختلافات میں دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں پر پوری توجہ نہیں دی جا سکی‘نتیجتاً دہشت گردوں کو پھیلنے اور خونریزی کے واقعات کو بڑھنے کا موقع ملا۔

خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور  ایمر جنسی لگانے کے فیصلے کا یہی جواز پیش کیا گیا کہ انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات میں وفاقی حکومت کو صوبائی حکومت سے مطلوبہ تعاون نہیں مل سکا۔ ان باتو ں کو محض سیاسی دعوے کہہ کر رد نہیں کیا جا سکتا۔ کوئی شک نہیں کہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت اور وفاق میں اختلافات سیاسی تھے مگر اس کا اثر صوبے کے انتظامی معاملات خاص طور پر دہشتگردی کی صورتحال پر بھی پڑا۔ دہشت گردی کے خطرات بلوچستان میں بھی ہیں مگر حکومت بلوچستان نے وفاق کے ساتھ مفاہمت اور تعلق کار کو بنا کر رکھا ہے؛ چنانچہ فنڈز سے لے کر عملی کارروائیوں تک بلوچستان میں دہشت گردی کے مقابلے میں وہ رکاوٹیں سامنے نہیں آئیں‘ نہ ہی قبائلی اور سیاسی سطح پر ایسے اختلافات پیدا ہوئے جن کا سامنا خیبر پختونخوا میں کرنا پڑا۔ بلاول بھٹو زرداری نے بجا کہا ہے کہ جب تک دہشتگردی کا مقابلہ مل کر نہیں کریں گے کامیاب نہیں ہوں گے۔ یہ الفاظ سیاسی قیادت کیلئے دعوتِ فکر ہیں جو آج بھی دہشت گردی کے خلاف اقدامات کو سیاسی رنگ دینے سے باز نہیں آ رہی۔ گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد سے نت نئی کہانیاں سننے کو مل رہی ہیں‘ جن کا مقصد بظاہر عوام میں شبہات پیدا کرنے کے سوا کچھ نہیں۔
لیکن اس صورتحال کا فائدہ دہشت گردوں کو ملے گا اور نقصان پاکستان کا ہو گا۔ ملک کی سیاسی قیادت کو حالات کے آئینے سے واقعات کو دیکھنا چاہیے اور اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کرنا چاہیے۔ سیاسی قیادت دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بہت اہم فریق ہے‘ مگر اصل مسئلہ سیاسی جماعتوں کی کیمسٹری میں دکھائی دے رہا ہے۔ سیاسی جماعتیں پارلیمانی منزل کی ہم سفر ہوتی ہیں مگر ہمارے ہاں سیاسی جماعتوں میں یکجہتی کے جذبے کا فقدان قومی مفاہمت میں بڑی رکاوٹ بن رہا ہے۔ سیاسی جماعتوں کو اس کیفیت سے نکلنے کی ضرورت ہے تا کہ قومی ہم آہنگی کا ماحول بن سکے جو دہشت گردی کے انسداد اور قومی ترقی کے فیصلوں میں سیاسی شراکت داری کیلئے بے حد اہم ہے۔ ملک کے اہم فیصلوں پر سیاسی تصدیق کی مہر ہونی چاہیے مگر یہ اسی صورت ممکن ہے جب سیاسی جماعتیں ٹیم ورک کا جذبہ پیدا کریں‘ خود اعتمادی کا ثبوت دیں اور قومی فیصلوں میں شامل ہونے کی اہمیت کو سمجھیں۔ صرف الزام در الزام اور شکوہ و شکایات سے تو کوئی قومی خدمت انجام نہیں دی جا سکتی‘ نہ ہی خطرات کا ازالہ کیا جا سکتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>غذائی برآمدات اور چیلنجز(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-19/11643</link><pubDate>Mon, 19 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-19/11643</guid><description>رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر) میں خام غذائی برآمدات کا حجم 25 فیصد اضافے کے بعد ایک ارب 38 کروڑ ڈالر تک پہنچنا ایک خوش آئند پیشرفت ہے۔ اس اضافے کا 83 فیصد حصہ چاول پر مبنی ہے جس نے نہ صرف قومی معیشت کو ایک سہارا فراہم کیا بلکہ گزشتہ برسوں کے منفی رجحان کا بھی خاتمہ کیا۔ تاہم تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ برآمدات میں اضافے کے باوجودجولائی تا ستمبر غذائی درآمدات کا حجم دو ارب 33 کروڑ ڈالر رہا۔ اگرچہ پام آئل اور دالوں کی درآمد میں کمی آئی مگر چائے (25 فیصد اضافہ)اور ڈیری مصنوعات نے رہی سہی کسر پوری کر دی۔ بدلتے عالمی حالات اور تجارتی بندشیں اس معاملے کو مزید سنگین بنا رہی ہیں۔

جغرافیائی طور پر پاکستان ایسے خطے میں واقع ہے جہاں جنوبی ایشیا سے وسطی ایشیا تک زمینی تجارت کے وسیع مواقع موجود ہیں لیکن سیاسی تنائو اور سکیورٹی مسائل کے سبب سرحدی راستوں کی بندش اور سمگلنگ نے علاقائی تجارت کو مفلوج کر دیا ہے۔ بھارت اور افغانستان کے بعد اب ایران کے ساتھ تجارتی بارڈر بند ہونے کی وجہ سے نہ صرف سستی اشیا کی درآمد مشکل ہو گئی ہے بلکہ پاکستانی برآمدات کی وسطی ایشیائی ممالک تک رسائی بھی محدود ہو گئی ہے۔ حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ پائیدار معاشی ترقی کیلئے چند منڈیوں اور چند ایک اجناس پر انحصار کافی نہیں‘ وقت کا تقاضا ہے کہ برآمدات کو متنوع اور علاقائی تجارتی سفارتکاری کو فعال بنایا جائے۔ نیز زراعت کو جدید خطوط پر استوار کر کے زرعی اجناس میں خود کفالت حاصل کی جائے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پاکستان کا خلائی مشن(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-19/11642</link><pubDate>Mon, 19 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-19/11642</guid><description>وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان کا پہلا خلا باز 25 نومبر کو چین کے خلائی مرکز سے خلا میں جائے گا اور پاکستان کا ہدف 2035ء تک چاند پر لینڈنگ ہے۔ پہلے پاکستانی خلا باز کی آئندہ ماہ خلا میں روانگی نہ صرف خلائی شعبے میں طویل ملکی جمود توڑنے کا سبب بنے گی بلکہ یہ نئی نسل کیلئے بھی ایک تحریک ثابت ہو گی۔ 1961ء میں پورے براعظم ایشیا میں سب سے پہلے پاکستان نے سپارکو کے نام سے خودمختار اور باقاعدہ خلائی ادارے کی بنیاد رکھی تھی مگر پینسٹھ برس کے بعد بھی پاکستان خلا میں سیٹیلائٹ اور خلاباز کو بھیجنے کیلئے دوست ملک چین کی مدد کا محتاج ہے۔

اس کے مقابلے میں بھارت کا خلائی ادارہ سپارکو کے آٹھ برس بعد قائم ہوا تھا اور وہ 2014ء میں مریخ کے مدار اور 2023ء میں چاند کے جنوبی قطب تک پہنچنے والے پہلے ملک کا اعزاز حاصل کر چکا۔ آج دفاع سے لیکر انٹرنیٹ‘ موسمیاتی تغیرات اور زراعت تک ہر شے سیٹیلائٹس کی محتاج ہے۔ اگر ہماری حکومتیں اپنے خلائی ادارے کو ضروری سہولتیں فراہم کرتیں اور خلا کی تسخیر کو اہم قومی مقاصد میں شامل کرتیں تو یقینا سپارکو آج اس میدان میں سرخیل ہوتا۔ دیر آید درست آید! ماضی کی اس غفلت کو اب مستقبل کے اہداف کیلئے ایک سبق بنانے کی ضرورت ہے اور یاد رکھنا چاہیے کہ مربوط سرمایہ کاری اور ٹھوس لگن کے بغیر اس میدان میں ہم اپنی صلاحیتیں نہیں منوا سکتے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سیرت فیسٹیول اور ملک محمد احمد(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-10-19/52868/39987264</link><pubDate>Mon, 19 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-10-19/52868/39987264</guid><description>ملک محمد احمد خان صاحب نے مجھے تو حیران کر دیا۔ چند دن پہلے اسلام آباد میں تیسرے انٹرنیشنل سیرت فیسٹیول کا انعقاد ہوا۔ قومی رحمۃ للعالمین و خاتم النبیین اتھارٹی نے اس کا اہتمام کیا۔ تین برسوں میں یہ فیسٹیول‘ اللہ کے فضل وکرم سے سیرت کا سب سے بڑا تہوار بن چکا ہے۔ حسبِ روایت‘ اس سال دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس اس کا سب سے اہم حصہ تھی۔ کانفرنس کے لیے جس موضوع کا انتخاب کیا گیا تھا وہ آج کی فکری ضرویات کو پورا کر رہا تھا۔ &#39;اقوامِ عالم کے مابین ہم سیرت النبیﷺ کی روشنی میں پُل کیسے تعمیر کر سکتے ہیں؟‘ اس پر تین زبانوں میں‘ ایک سو سے زیادہ مقالات پڑھے گئے۔ اقوامِ متحدہ کے ہوتے ہوئے‘ دنیا سے جنگیں ختم ہو سکیں نہ طاقتور کا ہاتھ روکا جا سکا۔ محققین نے بتایا کہ عالمگیر امن اسی وقت میسر آ سکتا ہے جب یہ تعلقات اس ہدایت کے تابع ہو جائیں جو اللہ کے آخری رسول سیدنا محمدﷺ لے کر آئے۔ تحقیقی مقالات میں اس کے لیے اَن گنت نقلی اور عقلی دلائل فراہم کیے گئے ہیں۔ رحمۃ للعالمین و خاتم النبیین اتھارٹی کا بنیادی فریضہ نبیﷺ کی سیرتِ پاک پر اطلاقی تحقیق ہے تاکہ ہم شخصی اور اجتماعی سطح پر وہ لائحہ عمل مرتب کر سکیں جس کی اساس وہ  تعلیمات ہوں جو قرآن و سنت سے مستنبط ہوں۔ اتھار ٹی اس حوالے سے گراں قدر تحقیقی کتب شائع کر چکی ہے۔ گزشتہ برس اس کی تحقیق کو وزارتِ مذہبی امور کی طرف سے پہلے انعام کا مستحق قرار دیا گیا اور اس برس بھی یہ اعزاز اتھارٹی کو ملا۔ یہ دونوں کتابیں انگریزی زبان میں ہیں۔ اس سال جو تحقیق شائع ہوئی اس کا موضوع شہروں کی منصوبہ بندی و تعمیر ہے۔ آج ہمارے شہر یہ صورت اختیار کر چکے ہیں کہ ان کا انتظام وانصرام مشکل سے مشکل تر ہو رہا ہے۔ ڈاکٹر محمد ریاض محمود صاحب علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں استاد ہیں۔ انہوں نے اپنی تحقیق سے بتایا ہے کہ اگر اس باب میں نبیﷺ کی تعلیمات سامنے ہوں تو شہروں کی منصوبہ بندی کیسے ہونی چاہیے۔ یہ کانفرنس اسی تحقیقی سلسلے کی ایک کڑی تھی۔نئی نسل کی تعلیم و تربیت اور کردار سازی بھی اس اتھارٹی کے بنیادی کاموں میں شامل ہے۔ اس حوالے سے ایک جامع حکمتِ عملی بنائی گئی ہے جسے وفاقی حکومت نے وفاق کے زیرِ انتظام علاقوں میں نافذ کر دیا ہے۔ اس حکمتِ عملی کے پس منظر میں یہ تصور کارفرما ہے کہ اسلامیات یا مذہب کی تعلیم کوئی &#39;مضمون‘ نہیں جسے فزکس اور کیمسٹری کی طرح پڑھایا جا ئے۔ یہ زندگی گزارنے کا ایک ڈھنگ ہے۔ یہ پڑھانے سے زیادہ سکھانے اور اپنانے کا کام ہے۔ یہ سیرت سازی ہے۔ اس کے لیے نبیﷺ کے اسوۂ حسنہ سے بہتر کوئی نمونہ نہیں ہو سکتا۔ رحمۃ للعالمین و خاتم النبیین اتھارٹی نے اس کی روشنی میں 36 ایسی اقدار کو جمع کیا ہے جو آپﷺ کی سیرت سے ماخوذ ہیں۔ یہ حکمتِ عملی اس مقصد کی عملی صورت ہے کہ یہ اقدار‘ ہم کیسے اپنے بچوں کے شخصیت کا حصہ بنا سکتے ہیں۔ اللہ کا شکر ہے کہ صوبوں نے بھی اسے قبول کر لیا ہے اور وہ اس کی علمی صورتوں پر اتھارٹی کی مشاورت سے کام کر رہے ہیں۔ اس سال بھی سیرت فیسٹیول میں ایسی سرگرمیاں رکھی گئی تھی جن کا مقصد نئی نسل کو سیرت کی طرف متوجہ کرنا تھا۔ سیرت کے مختلف ادوار پر تھری ڈی ماڈل بنائے گئے تھے جن میں نبیﷺ کے عہدِ مبارک کا مکہ اور مدینہ دکھائے گئے۔ اس کے ساتھ آپﷺ اور صحابہ کرام کے اسفارِ ہجرت کو نمایاں کیا گیا تھا۔ بچوں کے مابین خطاطی کا مقابلہ بھی کر ایا گیا اور ان کے بنائے ہوئے نمونوں کی نمائش بھی اس فیسٹیول کا حصہ تھی۔ تین دن میں ہزاروں کی تعداد میں بچوں کے ساتھ بڑوں نے ان کو دیکھا۔ ایک کتاب میلہ بھی ان سرگرمیوں میں شامل تھا جس میں سیرت پر سستی کتب میسر تھیں۔ سیرت پر اتھارٹی کی چار نئی کتب کی رونمائی ہوئی۔ نعتیہ مشاعرہ ہوا۔ جناب ریاض مجید اور جناب جلیل عالی سمیت بہت سے نامور شعرا نے نعتیہ کلام سنایا۔ محفل نعت کا انعقادبھی ہوا۔تین دن نبیﷺ کے ذکرِ خیر سے اسلام آباد کی فضائیں مہکتی رہیں۔ اہلِ علم‘ شعرا‘ نعت خوان اور عامۃ الناس کی ایک بڑی تعداد نے اس سے استفادہ کیا۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف صاحب نے اس فیسٹیول کے موقع پر اپنا خصوصی پیغام جاری کیا اور سیرت کی تعلیم کو عام کرنے اور اتھارٹی کے منصوبوں کی تکمیل کے لیے دس کروڑ روپے کی ابتدائی رقم کے ساتھ &#39;سیرت انڈوومنٹ فنڈ‘ بھی قائم کیا۔ نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار نے فیسٹیول کا افتتاح کیا اور وزیراعظم کی طرف سے اس فنڈ کا اعلان کیا۔ سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان اس کی اختتامی نشست کے مہمانِ خصوصی تھے۔ ان کی اس شرکت نے مجھ پر حیرت کا دروازہ کھول دیا۔ملک صاحب اختتامی تقریب میں شرکت کے لیے لاہور سے روانہ ہوئے۔ ابھی ایئرپورٹ کے راستے میں تھے کہ انہیں ایک عزیزہ کے انتقال کی خبر ملی۔ کارواں کا رخ بدل گیا۔ سٹاف کو ہدایت کی گئی کہ ان کی عدم شرکت کے بارے میں میزبان کو اطلاع کر دی جائے۔ خبر ملنے پر پریشانی تو ہوئی لیکن مشیتِ ایزدی کے سامنے کسے دم مارنے کی مجال ہے۔ پریشانی ملک صاحب کو بھی تھی۔ انہیں تسلی نہ ہوئی اور انہوں نے مجھے فون کر کے حادثے کی تفصیل بتائی۔ اس خواہش کا اظہار کیا کہ ممکن ہو تو اس تقریب کو اگلے دن تک ملتوی کر دیا جائے۔ میں نے معذرت پیش کی یہ ممکن نہیں ہو گا کیونکہ ملک بھر سے آئے شرکا رختِ سفر باندھ چکے۔ ملک صاحب نے اس پر کہا کہ وہ عدم شرکت کی تلافی کے لیے کل میرے دفتر آئیں گے۔ میں نے شکریے کے ساتھ منع کیا کہ محض اس مقصد کے لیے لاہور سے اسلام آباد کا سفر مناسب نہیں۔ ہم کچھ وقت بعد کسی تقریب میں ان کو مدعو کریں گے۔ ملک صاحب کا مگر اصرار رہا کہ وہ کل ضرور آئیں گے اور اس پر بات ختم ہو گئی۔تھوڑی دیر بعد ان کے سٹاف کا ایک بار پھر فون آیا۔ اس نے بتایا کہ ملک صاحب متردد ہیں۔ اگر اس تقریب کو مؤخر کرنا ممکن ہو تو وہ جنازے میں شرکت کیے بغیر‘ مرحومہ کے لواحقین سے تعزیت کے بعد‘ سڑک کے ذریعے روانہ ہو جائیں اور راستے میں رکے بغیر تقریب میں شامل ہو جائیں۔ انہیں اس کا شدید احساس ہے کہ انہوں نے وعدہ کر رکھا ہے اور پھر یہ تقریب ہے بھی نبیﷺ کی سیرت پر۔ انہیں اس میں عدم شرکت پر شرمندگی کا احساس ہو رہا ہے۔ میرے پاس کوئی راستہ نہ تھا کہ میں اس تقریب کو مؤخر کر دیتا۔ ملک صاحب تشریف لائے اور اپنا عہد نبھایا۔ میرے لیے یہ ایک نیا اور خوشگوار تجربہ تھا۔ ہمارا جن اہلِ سیاست سے بالعموم پالا پڑتا ہے‘ ان کے ہاں وعدہ نبھانے کی کوئی روایت موجود نہیں‘ الّا ماشاء اللہ۔ اہلِ سیاست ہی پر کیا موقوف‘ ہم بطور قوم اس روایت سے واقف نہیں۔ اس ماحول میں اگر کوئی فرد ایسا مل جائے جو وعدے کو اتنی اہمیت دے تو اس پر حیرت ہوتی ہے۔ ملک صاحب سے تین ملاقاتیں ہوئیں۔ وہ اسمبلی کے ماحول کو اخلاقی قدروں کے تابع بنانے کے بارے میں بہت سنجیدہ ہیں۔ قومی رحمۃ للعالمین و خاتم النبیین اتھارٹی ان کی مشاورت سے ایک تفصیلی پروگرام ترتیب دے رہی ہے‘ جس کی تفصیلات پھر کبھی۔ مجھے ملک صاحب کے اس رویے سے خوشگوار حیرت ہوئی۔ اللہ کرے جلد وہ وقت آئے جب ایسے واقعات ہمارے لیے حیرت کا باعث نہ بنیں‘ معمول بن جائیں۔ ہمیں وعدہ وفا کرنے پر نہیں‘ وعدہ شکنی پر حیرت ہو۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>تعلیمی مشیر یا فراڈیے(رسول بخش رئیس)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-10-19/52869/23598549</link><pubDate>Mon, 19 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-10-19/52869/23598549</guid><description>پہلے تو وضاحت کرتا چلوں کہ اُن مشیروں کی بات نہیں جو حکومت میں عہدوں کا حلف اٹھا رہے ہوتے ہیں۔ ایسے محب وطن‘ دیانتداری اور قومی خدمت کے جذبے سے لبریز مخلص شرفا کو کون فراڈیے کہہ سکتا ہے۔ مبادا کسی کے ذہن کوئی غلط فہمی پیدا ہو‘ اسی لیے مشیر سے پہلے تعلیمی کا لفظ لکھ دیا ہے۔ افسوس‘ صد افسوس کہ ہمارے اعلیٰ تعلیم کے اداروں میں بھی وہ لوگ آ گھسے ہیں جنہیں کہیں اور ہونا چاہیے تھا۔ جامعات میں پوری زندگی گزارنے کے بعد‘ اور آج بھی ایک سرکاری یونیورسٹی سے وابستہ ہونے کے باوجود‘ ان کے بارے میں کچھ لکھنے کو جی نہیں چاہتا۔ کئی وجوہات ہیں‘ مگر جب میں ان میں موجود ہوں تو خود بھی کسی کی تنقیدی گرفت سے اپنے آپ کو مبرا خیال نہیں کرتا۔ اساتذہ کی اب تقریباً تیسری‘ چوتھی نسل جامعات آتی دیکھ رہا ہوں۔ بہرحال مجموعی طور پر وہ سب ہم سے تو بہت بہتر ہیں۔ جامعات کے اقتصادی اور انتظامی معاملات اب اتنے سادہ نہیں رہے‘ نہ ہی اساتذہ خو د کو اُس طرح آزاد سمجھتے ہیں جس طرح ہم کسی زمانے میں تھے۔ انہیں زیادہ تر مشکلات اور مسائل میں گھرا دیکھتا ہوں۔ بیرونی مداخلت کہیں زیادہ ہے۔ طلبہ اور طالبات کی تعداد میں اتنا اضافہ ہوا ہے کہ تعلیم اور تربیت کے ساتھ اُن کی ذہنی نشوو نما کے لیے جامعات کے پاس نہ وسائل ہیں اور نہ ہی تعلیمی مشیر‘ جو انہیں بیرونِ ملک خصوصاً یورپی اور امریکی جامعات میں داخلوں اور سکالرشپس کے بارے میں آگاہی اور معلومات فراہم کر سکیں۔ اس بات کا ادراک ایک عرصے سے تھا مگر جامعات سے متعلقہ مسائل کو ان صفحات پر زیرِ بحث لانے سے شعوری طور پر گریز کیا۔ البتہ جہاں سیمیناروں‘ کانفرنسوں اور باہمی ملاقاتوں کا موقع ملا‘ ان مسائل کو ضرور اٹھایا۔لائبہ اعجاز کا سانحہ ایسے ہی نہیں ہوا‘ ایسے کتنے ہی ہیں‘ جو تعلیمی مشیروں سے لٹتے رہے ہیں انہوں نے ایسا قدم تو نہ اٹھایا‘ مگر نہ جانے کتنے ہوں گے جو مشاورت کی بھاری فیس ادا کرنے کے بعد کہیں دھکے کھا رہے ہوں گے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ طلبہ اور ان کے والدین ان مشیروں کے پاس کیوں جاتے ہیں؟ جواب سادہ ہے: اکثر کے پاس دھن‘ دولت کی کمی نہیں‘ تو کیوں نہ بچوں کو امریکہ اور یورپی یونیورسٹی میں تعلیم دلائی جائے۔ ان میں اکثریت اُن بچوں اور اُن کے والدین کی ہے جو نجی انگریزی میڈیم سکولوں سے انٹرمیڈیٹ کرنے کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے باہر جانا چاہتے ہیں۔ ہر سال ہزاروں کی تعداد میں باہر جا رہے ہیں۔ اس رجحان کی وجہ سے مشیروں کا کاروبار پھیلتا چلا گیا۔ میرے نزدیک مشاورت کی ذمہ داری اُن تعلیمی اداروں کی ہے جہاں سے بچے اپنی ثانوی تعلیم کی سند حاصل کرتے ہیں۔ اچھی طرح اندازہ بھی ہے‘ اور اندر کی خبر بھی کہ مشیرانِ تعلیم کس طرح کی ہیرا پھیریاں کرتے ہیں کہ کسی طرح بھاری رقوم جو بٹوری ہیں‘ وہ کھری ہو جائیں۔ لائبہ اعجاز کا سانحہ اب تک میرے ذہن میں کئی سوال چھوڑ چکا ہے‘ جن کا جواب شاید تحقیق کے بعد ہی سامنے آئے۔ سرکاری اور نجی جامعات میں اساتذہ بیرونِ ملک جامعات میں داخلے کے لیے ہر طالب علم کی رہنمائی کرتے آئے ہیں‘ اور کر رہے ہیں۔ اکثر جامعات اس مقصد کے لیے سیمینارز کراتی ہیں اور باہر کی جامعات کا تعارف کئی حوالوں سے دورانِ تعلیم ہوتا رہتا ہے۔ میرا اپنا تجربہ اور مشاہدہ یہ ہے کہ طلبہ کو خود بھی پتا ہوتا ہے کہ انہوں نے کن جامعات میں اپلائی کرنا ہے۔ ان کی اپنی تعلیمی استعداد انہیں کہاں زیادہ موقع فراہم کرے گی‘ اور کس فیلڈ میں انہیں جانے کی ضرورت ہے۔ اگر کوئی طالب علم کسی بھی جامعہ میں چار سال گزارنے کے بعد باہر کی جامعات کے بارے میں کوئی معلومات حاصل نہیں کر سکتا‘ جبکہ آج کے جدید دور میں تو یہ سب کچھ اپنی سکرینوں پر چند منٹوں سکینڈوں میں حاصل کر سکتے ہیں‘ تو میرے نزدیک وہ باہر کی جامعات میں تعلیم کے لیے ابھی تیار ہی نہیں۔فراڈیے جس میدان میں بھی ہوں‘ اور ہمارا ملک تو ہر نوع کے فراڈیوں کے لیے ہمیشہ زرخیز رہا ہے‘ ان لوگوں کو سبز باغ دکھاتے ہیں جن کی اپنی اہلیت کچھ زیادہ نہیں ہوتی۔ اس لیے تو لائبہ اعجاز کیس کے بارے میں ذہن میں سوالات ہیں کہ وہ تو ایک سٹار طالبہ تھی‘ تو پھر کیسے فراڈیوں کے ہتھے چڑھ گئی؟ پہلے کچھ ذاتی مشاہدے سامنے رکھ کر آپ کو ان فراڈیوں اور ان کے جامعات کے اندر رابطوں کے بارے میں بتا دوں۔ ایک دو سال پہلے کسی سرکاری یونیورسٹی کی جانب سے منعقد کی گئی کانفرنس میں چند دن شرکت کی۔ آخری دن کا ایک سیشن طلبہ کی رہنمائی کے عنوان سے تھا۔ ایک بندہ سوٹ بوٹ کے ساتھ صدارت کر رہا تھا‘ اور کچھ پروفیسر حضرات جو اُسے مدعو کرکے لائے تھے اور تعلق دار تھے‘ تعلیمی مشاورت کی اہمیت کے بارے میں تقاریر فرماتے رہے۔ میری دلچسپی کا مرکز وہ معتبر دکھائی دینے والا شخص تھا۔ اُس نے اپنی کمپنی کے بارے میں بتایاکہ وہ امریکہ‘ کینیڈا‘ آسٹریلیا اور یورپی ممالک میں طالب علموں کو داخلے اور باہنر لوگوں کو مستقل رہائش‘ ملازمت اور شہریت دلوانے کاکام کرتی ہے۔ بعد میں کچھ دیر ملاقات رہی تو اُس نے کئی پروفیسروں کے نام بتائے کہ کس طرح وہ ان کی مدد سے باہر کے ملکوں کی شہریت حاصل کر چکے ہیں۔ میں نے اُسے کہا کہ آپ کی جو کامیابیاں ہیں اس طرح تو ہماری جامعات اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد سے بالکل خالی ہو جائیں گی۔ میں نے سوچا کہ کیوں نہ اُسے مزید کریدا جائے اوراس دھندے کے بارے میں کچھ مزید مفید معلومات اکٹھی کی جائیں۔ بس یوں سمجھیں کہ پیسہ کام کرتا ہے‘ اور حسبِ ضرورت مناسب کاغذات‘ مقالات کی تیاری اور اشاعت‘ اور وسیع تجربے کی سندوں کے حصول تک کی خدمات فراہم کی جاتی ہیں۔ جب ایسا کام کرنے اور کرانے والوں کی کوئی اخلاقیات ہی نہ ہو‘ تو ہم کون ہوتے ہیں ان کے دھندوں اور اُن سے فیضیاب ہونے والوں کے بارے میں بات کرنے والے۔اُن صاحب نے میرا تعارفی کارڈ لیا اور اپنی کمپنی کا وزٹ کرنے کی دعوت دی۔ کچھ دن بعد اُن کا فون آیا کہ اُن کے ایک کلائنٹ کو کسی امریکی جامعہ میں داخلے کے لیے ریفرنس لیٹر لکھ دوں۔ یقین جانیں کہ مجھے یہ جان کر ایک زوردار جھٹکا لگا کہ ہمارے پروفیسر حضرات ایسا کرتے ہوں گے‘ تبھی تو اس نے ایک مختصر ملاقات کے بعد ہی یہ فرمائش کر ڈالی۔ اُسے مختصر جواب دیا کہ بھائی جان! یہ بندہ صرف اپنے طالب علموں کے لیے داخلے کے سفارشی خطوط لکھتا ہے۔ کسی اجنبی کے لیے ایسا لیٹر نہیں لکھتا‘ اور نہ ہی پیشہ ورانہ اخلاقیات ایسا کرنے کی کسی کو اجازت دیتی ہیں۔ یہاں وضاحت کرنا ضروری ہے کہ ہر طالب علم دنیا کے کسی بھی کونے سے خود کسی بھی باہر کی یونیورسٹی میں داخلے کے لیے اپلائی کر سکتا ہے۔ کسی نمائندے یا کسی مشیر یا ایسی کسی کمپنی کی کوئی ضرورت نہیں۔ ہر طالب علم میں اتنی بنیادی اہلیت تو ہوتی ہے‘ اور ہونی چاہیے‘ کہ وہ داخلے کے لیے ضروری کاغذات اور ریفرنس لیٹر حاصل کر سکے۔ عجیب بات ہے کہ جنہوں نے کسی امریکی یا برطانوی یونیورسٹی میں کبھی داخلہ لیا نہ تعلیم حاصل کی‘ وہ داخلوں کے لیے تعلیمی مشیروں کا بزنس کر رہے ہیں۔ ہماری حکومتیں ہمیشہ کی طرح ان دھندوں کے بارے میں لاعلم ہیں۔ خوابِ غفلت سے اُس وقت جاگتی ہیں جب کوئی سانحہ ہو جاتا ہے‘ مگر کچھ دیر بعد سب دوبارہ سو جاتے ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_33241568.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>خیبر پختونخوا اور دہشت گردی(کنور دلشاد)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/kunwar-mohammad-dilshad/2026-10-19/52870/24539766</link><pubDate>Mon, 19 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/kunwar-mohammad-dilshad/2026-10-19/52870/24539766</guid><description>خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد سے یہی تاثرات ابھر رہے ہیں کہ معزول وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی غیر دانشمندانہ حکمت عملی کی وجہ سے وفاقی حکومت کو یہ قدم اٹھانا پڑا۔ گورنر راج کی حد مدت چھ ماہ ہوتی ہے‘ تاہم ایمرجنسی غیر معینہ مدت کے لیے بھی لگائی جا سکتی ہے‘ جب تک کہ امن وامان قائم نہیں ہو جاتا اور دہشت گردی اور ریاست دشمنوں کی سرکوبی نہیں ہو جاتی۔ بادی النظر میں صوبے میں صدارتی راج نافذ العمل ہے‘ گورنر کو محض شیڈو کے طور پر سامنے لایا گیا ہے۔ مشاورتی کونسل کے 11 ارکان کا تقرر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار کی سربراہی میں وفاقی وزرا پر مشتمل کمیٹی صوبے کے معاملات کی نگرانی کرے گی۔ اگرچہ ماضی میں مختلف صوبوں میں گورنر راج نافذ ہوتے رہے ہیں لیکن ایسی دہری حکمت عملی اس سے پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئی۔ 14 اگست 1973ء کو جب نیا آئین نافذ کیا گیا تھا تو وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اسی رات ملک بھر میں ایمرجنسی نافذ کر کے ڈیفنس رولز آف پاکستان نافذ کر دیا تھا جس کے تحت آئین میں درج تمام بنیادی حقوق معطل ہو گئے اور وزیراعظم بھٹو خود ہی تمام اختیارات کا سرچشمہ بن گئے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی نافذ کردہ ایمرجنسی اکتوبر 1977ء میں جنرل ضیاء الحق نے ختم کی تھی اور پھر حیدرآباد ٹربیونل میں قید تمام رہنمائوں بشمول ولی خان‘ خیر بخش مری‘ عطا اللہ مینگل‘ غوث بخش بزنجو‘ سردار شیر مزاری کو رہا کیا گیا تھا۔ ان کے علاوہ وہ تمام سیاسی قیدی جو دلائی کیمپ میں رکھے گئے تھے‘ وہ بھی رہا کیے گئے ۔ جنرل ضیا الحق کے اس اقدام کا ملک بھر کی سول سوسائٹی‘ سیاسی جماعتوں بشمول پیپلز پارٹی کے آزاد خیال رہنمائوں نے خیرمقدم کیا تھا۔ حیران کن طور پر غلام مصطفی کھر نے بھی جنرل ضیا کے اس اقدام پر اطمینان کا اظہار کیا ۔ اس سے پیشتر غلام مصطفی کھر نے جسٹس ذکی الدین پال کے روبرو اپنے چھ ساتھیوں کو دلائی کیمپ میں بھجوانے کے مسٹر بھٹو کے احکامات سامنے لا کر بھٹو کو چارج شیٹ بھی کر دیا تھا۔ لہٰذا اب جو ایمرجنسی صوبہ خیبر پختونخوا میں لگائی گئی ہے اس کے اثرات دیرپا ہوں گے۔ چھ ماہ بعد اگر گورنر راج اٹھایا جاتا ہے تب بھی ایمرجنسی اور آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت صوبہ صدارتی گرفت میں رہے گا۔اس وقت عوام کی یہ بھی خواہش ہے کہ سندھ میں پیپلز پارٹی کے 18 سالہ دورِ حکومت‘ پنجاب میں مسلم لیگ(ن) کے 2008ء سے 2018ء تک کے دورِحکومت اور تحریک انصاف کے خیبر پختونخوا کے بارہ‘ تیرہ سالہ دورِ حکومت کا فرانزک آڈٹ ہونا چاہیے۔ ہر منصوبے کی لاگت‘ فنڈز اور کرپشن کے الزامات کی تحقیقات ہوں تاکہ معلوم ہو سکے کہ عوام کی امانت کہاں خرچ ہوئی اور کہاں ضائع ہوئی۔ ان تحقیقات میں پنجاب حکومت کا مارچ 2024ء سے اب تک کا دور بھی شامل کرنا ہو گا۔ اس کے ساتھ ساتھ جو کام ضروری کرنے کا ہے وہ ملک کے 25 ہزار سول افسران کی دہری شہریت کا معاملہ ہے‘ ان کے خلاف فوری تادیبی کارروائی ہونی چاہیے۔ ملک کو ترقیاتی طور پر صف اول میں لانے‘ معاشی حالات کو بہتر بنانے‘ روزگار کے مواقع اور عوام کی فلاح بہبود کے منصوبوں کو حقیقی رنگ دینے کے لیے اب خیبر پختونخوا کے بعد دیگر صوبوں میں بھی اسی طرز کا ماڈل سامنے آنے کی اطلاعات ہیں۔ دس سے بارہ نئے صوبوں کی تشکیل‘ نہری نظام پر صوبوں کی دسترس کا خاتمہ اور زرعی اصلاحات اور شوگر و گندم مافیا کا خاتمہ کرنے کے لیے آہستہ آہستہ دیگر صوبوں میں بھی ایمرجنسی اور گورنر راج طرز کے اقدامات زیر غور ہیں۔ادھر تحریک انصاف سے متعلق حکومتی حلقوں کا دعویٰ ہے کہ اس کے کئی کارکنان بشمول سزایافتہ رہنما مراد سعید افغانستان میں ہیں۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ مراد سعید افغانستان میں روپوش ہو کر خیبر پختونخوا کی حکومت کو کنٹرول کرتے تھے۔ سہیل آفریدی کو وزیراعلیٰ بنائے جانے میں بھی مراد سعید کا ہاتھ بتایا جاتا ہے کیونکہ عمران خان تو سہیل آفریدی کو جانتے بھی نہیں تھے۔ مذاکرات کی ناکامی میں بھی بنیادی کردار سہیل آفریدی اور مراد سعید کا تھا۔ تاریخی حقائق یہی بتاتے ہیں کہ جب کسی سیاسی تحریک کو دبانے کے لیے سخت ریاستی اقدامات کیے جاتے ہیں تو پارٹی کے جنونی اور مشتعل کارکن تشدد کا راستہ اختیار کر لیتے ہیں۔ جیسا کہ 1979ء میں ہواجب بھٹو کی پھانسی کے بعد &#39;&#39;الذوالفقار‘‘ کے نام سے تشدد پسند تنظیم بنائی گئی۔ اسی طرح اکبر بگتی کی موت کے بعد براہمدغ بگتی اور نواب خیر بخش مری کے بیٹے بیرونِ ملک بیٹھ کر بلوچستان میں بدامنی پھیلا رہے ہیں‘ لہٰذا ان امکانات کو دیکھتے ہوئے پاکستان میں تمام سیاسی مسائل کے حل کے لیے گرینڈ مذاکرات کے ذریعے ریاست کے مفاد میں باعزت قدم اٹھانا ناگزیر ہے۔ اس وقت عالمی حالات کے تناظر میں بھی داخلی سیاسی استحکام کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے اور یہ ملکی معیشت اور استحکام کے لیے بھی ازحد ضروری ہے۔سیاسی تاریخ یہی بتاتی ہے کہ جب کسی جماعت کے سربراہ کو قید کر دیا جائے‘ قیادت منتشر ہو‘ رہنما اور کارکن گرفتار ہوں اور عوام کو بھی خطرات محسوس ہو رہے ہوں تو تحریک ختم نہیں ہو جاتی۔ دیکھا گیا ہے کہ ایسے حالات میں تحریکیں زیر زمین چلی جاتی ہیں یا کسی نئی شکل میں سامنے آتی ہے۔ جیسا کہ پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کو سزائیں ملنے پر پارٹی کے کارکن زیر زمین چلے گئے تھے اور بعد ازاں ایم آر ڈی کی صورت میں بیگم نصرت بھٹو کی قیادت میں پارٹی متحرک ہوئی تھی‘ جس میں اس وقت نمایاں نام نوابزادہ نصراللہ خان کا تھا۔ کسی سیاسی جماعت کو دباؤ میں رکھ کر وقتی طور پر اس کی عوامی سرگرمی محدود کی جا سکتی ہے لیکن احتجاج کی کم ہوتی شدت دیکھ کر یہ اندازہ نہیں کیا جا سکتا کہ اس کی حمایت ختم ہو گئی ہے۔ اس طرح خاموش عوام کو پوشیدہ انقلابی طاقت سمجھنا بھی غلط ہو گا۔ اصل صورتحال جاننے کے لیے حمایت‘ خوف‘ تنظیمی صلاحیت اور سیاسی شرکت کو الگ الگ جانچنا ضروری ہے۔ عوام سوال کر رہے ہیں کہ آخری فیصلہ کن مرحلہ میں روایتی سیاستدانوں کا نظام میں کردار ختم یا محدود کر کے ایسا سیاسی و انتظامی ماڈل بنے جس میں ٹیکنو کریٹس‘ کامیاب کاروباری شخصیات اور باصلاحیت نوجوانوں کو آگے لا کر عوام کو معاشی ترقی اور بدلتے پاکستان کا خواب دکھایا جائے اور ریاستی اداروں کو مضبوط کیا جائے۔دوسری طرف یہ سنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں پرویز خٹک کو گورنر مقرر کیا جا سکتا ہے۔ ان کا وسیع تجربہ ہے۔ صوبے کے سابق وزیراعلیٰ ہیں جبکہ مرکز میں وزیر دفاع کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں۔ ان کا اثر و رسوخ پورے صوبے تک محیط ہے۔ اس وقت خیبر پختونخوا کے حالات پر بھارت اور افغانستان کے ساتھ ساتھ مشرقِ وسطی کے کئی ممالک کی بھی نظریں لگی ہوئی ہیں۔ روس نے بھی اپنے وسیع تر مفادات میں صوبے کے اندرونی معاملات پر نظریں ٹکا رکھی ہیں۔ افغانستان اور بھارت کا نیٹ ورک صوبے کے نوجوانوں کی صفوں میں داخل ہو رہا ہے۔ خیبر پختونخوا کے حالات کو شدید عدم استحکام کی لپیٹ میں لانے کی کوششیں ہو رہی ہیں‘ لہٰذا جتنی جلدی ہو سکے مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی جائے۔ سول حکومت اپنی سیاسی مخاصمت میں مذاکرات کو سبوتاژ کرتی رہے گی‘ بہتر ہے کہ عسکری قیادت کی سربراہی میں گول میز کانفرنس طلب کر کے مسائل کا حل نکالا جائے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_15667905.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ایران تجارت، چینی سرمایہ کاری اور معیشت(میاں عمران احمد)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mian-imran-ahmad/2026-10-19/52871/62890152</link><pubDate>Mon, 19 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mian-imran-ahmad/2026-10-19/52871/62890152</guid><description>پاکستان اور ایران کے درمیان سرحد ایک مرتبہ پھر بند کر دی گئی ہے۔ تمام راستے بند نہیں ہیں لیکن تفتان‘ گبد ریمدان بارڈر بند ہیں جو کہ ایران پاکستان تجارت کے لیے اہم راستے ہیں۔ اس بندش کا سب سے اہم معاشی اثر ایل پی جی کی فراہمی پر پڑ سکتا ہے۔ سرکاری ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ایران کے راستے روزانہ 4000 میٹرک ٹن سے زیادہ ایل پی جی پاکستان درآمد کی جاتی تھی۔ اگر یہ ترسیل طویل عرصے تک معطل رہتی ہے تو متبادل ذرائع سے درآمدات کی لاگت بڑھنے اور مقامی منڈی میں قیمتوں پر دباؤ آنے کا خدشہ ہے۔ یکم سے 8 جون 2026ء کے دوران اسی سرحدی راستے سے تقریباً 17 ہزار 353 میٹرک ٹن ایل پی جی کی 748 گڈز ڈیکلریشنز کلیئر کی گئی تھیں۔ اگر سرحدی بندش طوالت اختیار کر جاتی ہے تو ایل پی جی کی ترسیل‘ ذخیرہ اندوزی کے خدشات اور مقامی منڈی میں قیمتوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ تاہم قیمتوں میں اضافے کی اصل شدت کا انحصار ملکی ذخائر‘ مقامی پیداوار اور متبادل درآمدات کی دستیابی پر ہے۔ پاکستان اور ایران کے درمیان آفیشل تجارت کا حجم تین ارب ڈالر سے زیادہ ہے جبکہ بعض ذرائع کا دعویٰ ہے کہ غیر رسمی تجارت تقریباً 10 ارب ڈالر کے قریب ہے۔ تقریباً 99 فیصد تجارت سڑک کے راستے ہوتی ہے۔ پاکستان ایران کو چاول‘ تل‘ آم‘ کیلا‘ کینو اور دیگر پھلوں کے علاوہ گوشت‘ زندہ جانور‘ کپڑا‘ جراحی اور دندان سازی کے آلات برآمد کرتا ہے۔ چاول پاکستان کی اہم برآمدی اجناس میں شامل ہیں جبکہ پاکستان ایران سے بڑی مقدار میں فوسل فیول‘ ایل پی جی‘ صنعتی خام مال‘ لوہا اور سٹیل‘ پلاسٹک‘ پھل‘ سبزیاں اور دیگر غذائی اجناس درآمد کرتا ہے۔ بارڈر بند ہونے سے ٹیکس آمدن میں کمی ہو سکتی ہے۔ افغانستان بارڈر پہلے ہی بند ہے‘ انڈیا بارڈر بھی بند ہے اور اب ایران بارڈر کی بندش سے مہنگائی مزید بڑھ سکتی ہے۔ پہلے ہی آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے پاکستان میں مہنگائی مزید بڑھنے کے خدشے کا اظہار کر چکے ہیں۔حکومت ہر سال سڑکوں‘ پلوں‘ ہسپتالوں‘ سکولوں‘ عمارتوں اور دیگر ترقیاتی منصوبوں پر کھربوں روپے خرچ کرتی ہے۔ یہ رقم عوام کے ٹیکسوں سے حاصل ہوتی ہے۔ جب سرکاری ٹھیکوں میں کمپنیاں آپس میں مل کر قیمتیں طے کرتی ہیں یا پہلے سے فیصلہ کر لیتی ہیں کہ ٹھیکا کس کو ملنا ہے تو معاملات خرابی کی طرف بڑھنے لگتے ہیں۔ شاید اسی مسئلے سے نمٹنے کے لیے مسابقتی کمیشن نے مصنوعی ذہانت پر مبنی ایک نیا نظام تیار کیا ہے جسے بڈ رِگنگ ڈیٹیکشن سسٹم (BRDS) کا نام دیا گیا ہے۔ اس نظام کا مقصد سرکاری ٹھیکوں کا ریکارڈ جانچنا اور ایسے معاملات کی نشاندہی کرنا ہے جہاں کمپنیوں کے درمیان ممکنہ ملی بھگت کے آثار نظر آئیں۔ یہ ایک بہتر قدم ہے۔ ممکن ہے کہ پہلے سے زیادہ سیکنڈلز سامنے آ جائیں لیکن یہاں ایک بنیادی سوال ہے کہ مسابقتی کمیشن ماضی میں بھی بڑے بڑے سکینڈل سامنے لاتا رہا ہے‘ ان کا کیا نتیجہ نکلا؟ چینی کی صنعت میں مبینہ ملی بھگت کے خلاف 44 ارب روپے کے جرمانے عائد کیے گئے‘ لیکن مقدمات عدالتوں میں چلے گئے اور جرمانوں کی وصولی طویل عرصے تک رکی رہی۔ پولٹری کے شعبے میں بھی قیمتوں کے تعین کے خلاف کارروائی کا معاملہ 2010ء سے قانونی مراحل میں ہے۔ اگر نئے اے آئی نظام سے کسی بڑے ٹھیکے میں ملی بھگت سامنے آتی ہے تو آگے کیا ہو گا؟ کیا تحقیقات مقررہ وقت میں مکمل ہوں گی؟ کیا ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہو گی؟ کیا عائد کیے گئے جرمانے حقیقت میں وصول ہوں گے؟ اور کیا قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ ممکن ہو گا؟ شاید ملک کو اب سکینڈل سامنے لانے سے آگے بڑھ کر ایسے نظام کی ضرورت ہے جس میں تحقیقات‘ فیصلوں اور جرمانوں کی وصولی کا واضح حساب موجود ہو۔ مصنوعی ذہانت مشتبہ معاملات پکڑ سکتی ہے‘ لیکن احتساب اسی وقت مؤثر ہو سکتا ہے جب قانون کے مطابق کارروائی بھی نظر آئے اور عوام کے پیسے کے تحفظ کے قابلِ تصدیق نتائج بھی سامنے آئیں۔ اگر سکینڈل سامنے آنے کے بعد ریکوری اور سزائیں نہ ہوں تو بے ضابطگیاں کم ہونے کے بجائے بڑھنے کے امکانات زیادہ ہو سکتے ہیں۔چین کی الیکٹرک موٹر سائیکل بنانے والی ایک کمپنی کی جانب سے پنجاب میں پیداواری پلانٹ لگانے میں دلچسپی ظاہر کی گئی ہے‘ جو عوامی ضرورت پوری کرنے کے ساتھ پاکستان سے برآمدات کا ارادہ بھی رکھتی ہے۔ یہ ایک اہم صنعتی پیش رفت ہو سکتی ہے۔ مالی سال 2024-25ء کے دوران ملک میں موٹر سائیکلوں اور تین پہیوں والی گاڑیوں کی مجموعی فروخت 15 لاکھ 18 ہزار 752 یونٹس تھی جبکہ مالی سال 2023-24ء میں11 لاکھ 50 ہزار 112۔ ایک سال میں فروخت میں تقریباً 32 فیصد اضافہ ہوا۔ مالی سال 2025-26ء کے پہلے نو ماہ‘ یعنی جولائی سے مارچ تک‘ موٹر سائیکلوں اور تین پہیوں والی گاڑیوں کی فروخت 14 لاکھ 29 ہزار 501 یونٹس رہی۔ پاکستان میں موٹر سائیکلوں کی مارکیٹ وسیع پیداواری صلاحیت رکھتی ہے۔ ستمبر 2026ء میں الیکٹرک موٹر سائیکلوں کے تحت تقریباً 37 لاکھ ڈالر کی درآمدات ریکارڈ کی گئی ہیں جو اگست میں تقریباً 24 لاکھ ڈالر تھیں۔ بڑھتی ہوئی ڈیمانڈ سرمایہ کاروں کے لیے سنہری موقع ہو سکتا ہے۔ اگر موٹر سائیکلوں کی مارکیٹ کا ایک حصہ الیکٹرک موٹر سائیکلوں کی طرف منتقل ہوتا ہے تو مقامی اور غیر ملکی کمپنیوں کے لیے سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ لیکن پاکستان کو اصل فائدہ اسی صورت میں حاصل ہوگا جب مقامی صنعت کو اس کی ٹیکنالوجی‘ سپلائی چین اور عالمی مارکیٹ تک رسائی مل سکے۔ الیکٹرک گاڑیوں کے شعبے میں مقامی مینوفیکچرنگ کے لیے 57 سے زیادہ مقامی مینوفیکچرنگ سرٹیفکیٹ جاری کیے جا چکے ہیں جبکہ الیکٹرک موٹر سائیکلوں اور رکشوں میں مقامی سطح پر پرزہ سازی کا تناسب 90 فیصد سے زیادہ رکھا گیا ہے۔ مزید لائسنس جاری کرنے کے بہتر نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔حکومت نے اسلام آباد کو 31 دسمبر 2026ء تک پلاسٹک فری بنانے کا ہدف مقرر کیا ہے اور متبادل کے طور پر شیشے کی بوتلوں کے استعمال پر زور دیا جا رہا ہے۔ ماحول کی بہتری‘ فضائی آلودگی اور صحت کی بہتری کے لیے یہ بہتر فیصلہ ہو سکتا ہے لیکن تقریباً دو ماہ میں اس پر عمل درآمد کرنا آسان نہیں ہے۔ اس کے علاوہ معاشی لحاظ سے اس معاملے کی اہمیت کافی زیادہ ہے۔ ملک میں سالانہ تقریباً چار ارب سے زیادہ پی ای ٹی بوتلیں استعمال ہوتی ہیں اور پی ای ٹی بوتلوں پر پابندی سے وفاقی حکومت کو کم از کم 10 ارب روپے کی ٹیکس آمدن کا نقصان پہنچ سکتا ہے۔ حکومت کو بھی معلوم کرنا چاہیے کہ مشروبات کی صنعت‘ بوتلیں تیار کرنے والے ادارے‘ پیکیجنگ سپلائرز اور ری سائیکلنگ کے کاروبار قومی خزانے میں کتنا حصہ ڈالتے ہیں اور مجوزہ پابندی سے ٹیکس محصولات میں کمی کا متبادل کیا تیار کیا گیا ہے؟ ملک میں پی ای ٹی بوتلوں کا کاروبار زیادہ تر ملٹی نیشنل کمپنیاں کرتی ہیں۔ پہلے ہی بیرونی سرمایہ کاری ایک چیلنج بنی ہوئی ہے‘ اگر سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں نہ لیا گیا تو بداعتمادی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اتنے مختصر عرصے میں نئی مشینری امپورٹ کرنا‘ اسے انسٹال کرنا اور مطلوبہ نتائج حاصل کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/212_71532147.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>تہہِ محرابِ مسجد سو گیا کون؟(نسیم احمد باجوہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/naseem-ahmed-bajwa/2026-10-19/52872/64319348</link><pubDate>Mon, 19 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/naseem-ahmed-bajwa/2026-10-19/52872/64319348</guid><description>یہ وہ سوال ہے جو اقبال نے شیخِ حرم سے پوچھا تھا۔ سو سال گزر گئے مگر ابھی تک یہ سوال جواب طلب ہے۔ اگر ہم غور کریں تو پتا چلتا ہے کہ مسجد کا ادارہ ہماری سماجی اور معاشرتی زندگی کا مرکز و محور ہے۔ خلافت راشدہ کے چالیس برس نکال دیں تو ہمیں یہ بے حد المناک صورت نظر آتی ہے کہ یہ ادارہ قریباً ڈیڑھ ہزار سال سے مفلوج ہے۔ اس کا زندگی کے تمام مسائل (مسجد کی چار دیواری کے باہر کے مسائل) سے کوئی تعلق واسطہ نہیں۔ کتنی بدقسمتی ہے کہ اسلام نے ہمیں مسجد کی شکل میں جو بہترین تحفہ دیا ہم نے اُسے محض ایک عبادت گاہ بنا دیا۔ عبادت تو ہمہ وقت جاری رہتی ہے‘ مسجد کا مقام عبادت گاہ سے کہیں زیادہ بلند‘ متحرک‘ جاندار‘ Vibrant اور اعلیٰ و ارفع ہے۔ اگر ہم اپنے ٹوٹے پھوٹے سماج کی بہتری‘ اصلاح اور مرمت چاہتے ہیں تو ہمیں مسجد کو وہی مقام دینا ہوگا جو اس کا اصل اور بنیادی کردار ہے۔ اور یہ وہی کردار ہے جو جسم میں دل کا ہوتا ہے۔جب مدینہ منورہ میں پہلی مسجد بنی تو وہ کمرۂ عدالت بھی تھی‘ ایوانِ اقتدار بھی تھی‘ جہاں سارے مسلمان اکٹھے ہو کر تمام فیصلے کرتے تھے اور وہ حکومت کا صدر مقام بھی تھی جہاں حضور کریمﷺ غیر ملکی سفیروں سے ملاقات فرماتے تھے۔ مدینہ میں قائم شدہ اسلامی ریاست کا سارا کاروبار مسجد نبوی کے گرد ہی گھومتا تھا۔ بعد ازاں خلفائے راشدین بھی اپنے آپ کو احتساب اور جوابدہی اور شفاف حکمرانی کو یقینی بنانے کے لیے خود کے مسجد میں لوگوں کے سامنے پیش کرتے تھے۔ دینِ اسلام دنیا میں ایک قابلِ صد فخر عوامی انقلاب لے کر آیا مگر بعد ازاں اموی اور عباسی دورِ ملوکیت ردّ انقلاب کی صورت میں ہمارے اُوپر نازل ہوئے۔ ڈیڑھ ہزار برس ہونے کو ہیں مگر یہ Counter Revolution ہم پر آج بھی مسلط ہے۔ آئیے ہم مسجد کو وہی بلند اور مرکزی مقام دلوانے کی کوشش کریں جس کے لیے یہ ادارہ معرضِ وجود میں لایا گیا تھا۔ یہ وہ منفرد مقام ہے جو گرجا گھر‘ مندر یا یہودیوں کی عبادت گاہ (کنیسا) کو حاصل نہیں۔ وہ محض عبادت گاہیں ہیں‘ اُن عبادت گاہوں کا بیرونی دنیا سے کوئی واسطہ نہیں۔ ان کے برعکس مسجد محض ایک عبادت گاہ نہیں بلکہ یہ مسلم معاشرے کا مرکز و محور ہے۔ مساجد کے بارے میں صورت حال کو سدھارنے کے لیے میری گزارشات یہ ہیں: ہم مسجد کے اندر نمازیوں کی چنی ہوئی 15 سے 20 افراد کی مجلس عاملہ (ایکشن کمیٹی) بنائیں جس کے ہفتہ وار اجلاس ہوں۔ امام صاحب اس کے سیکرٹری ہوں۔ یہ کمیٹی محلے کی صفائی کی ذمہ دار ہو۔ اہل محلہ کی حفاظت کی ذمہ دار ہو۔ پرانے ٹھیکری پہرہ کو پھر سے متعارف کرایا جائے۔ اہلِ محلہ کے درمیان جھگڑوں اور تنازعات کو (پنجایت بنا کر) خوش اسلوبی اور خیر سگالی سے حل کیا جائے۔ مسجد کو تعلیم بالغاں اور دیگر فنون (خصوصاً کمپیوٹر) سکھانے کے لیے استعمال کیا جائے۔ محلہ کی مساجد میں خواتین کے لیے ہفتہ میں ایک دن مختص کیا جائے‘ جب خواتین اور بچے مسجد میں عبادت کریں‘ مل کر کھانا پکائیں اور سماجی میل جول بڑھائیں۔ قدرتی آفات کا مقابلہ کرنے کے لیے اہل محلہ مل کر حفاظتی تدابیر اختیار کریں۔ اُن بیماروں کے علاج کا بندوبست کیا جائے جو اپنا یا اہل خانہ کا علاج کرانے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ محلے کا ہر بچہ سکول جاتا اور پڑھتا لکھتا ہو۔ جو والدین اپنے بچوں کی فیس ادا نہیں کر سکتے اُن کی مدد کا انتظام کیا جائے۔ اہل محلہ ایک رفاہی فنڈ اکٹھا کریں‘ جو ضرورت مندوں کی مدد کرنے کے کام آئے امام صاحب کو اس کا خزانچی بنایا جا سکتا ہے۔ ہر نمازی اگر اس فنڈ میں ہر روز پانچ دس روپے بھی چندہ دے تو ماہانہ اچھی خاصی رقم اکٹھی ہو سکتی ہے۔ نکاح کی مقدس رسم کو مسجد میں ادا کرنے کا سلسلہ زندہ کیا جائے۔ نوزائیدہ بچوں کے کان میں اذان بھی اُنہیں مسجد میں لا کر دی جائے۔ (مسیحی مذہب کے تمام افراد اپنے بچوں کی Baptism کی رسم گرجا گھر میں ادا کرتے ہیں)۔ خوشی اور غمی کی تقریبات میں مسجد کمیٹی ایک دوسرے‘ خصوصاً غریب افراد کا ہاتھ بٹانے کا اہتمام کرے۔ عیدیں اور دیگر تہواروں پر مسجد میں دیگیں پکوا کر تقسیم کی جائیں اور مسجد تمام نمازیوں کی میزبان بنے۔ ہر نمازی ایک حلف اٹھائے اور عملاً اس حلف کی پاسداری کرے۔ اس حلف نامے میں یہ نکات شامل ہوں:میں قانون پسند ہوں۔ قانون کا احترام کرنے اور قانون کی حکمرانی قائم کرنے کا عہد۔ اپنے حصے کا ٹیکس ادا کرنے کا عہد۔میں مساوات پسند ہوں۔ پاکستان میں رہنے والوں کا تعلق جس بھی مذہب‘ فرقہ‘ ذات‘ پات‘ قبیلہ‘ صنف‘ پیشہ اور فقہ سے ہو‘ ان کی آمدنی کم ہو یا زیادہ‘ وہ کوئی بھی زبان بولتے ہوں‘ انسانی حقوق کے اعتبار سے وہ سب برابر ہیں۔ (ہر قسم کا امتیازی سلوک قابلِ مذمت ہے)۔ سب لوگوں سے مساویانہ سلوک کرنے کا عہد۔ خاص طور پر اقتدار اور دولت سے محروم طبقوں اور عورتوں کو برابری کے حقوق دلانے کا عہد۔میں صفائی پسند ہوں۔ اپنے اردگرد کے علاقوں کو صاف رکھنے‘ آلودگی کو ختم کرنے‘ پاک سرزمین کو سرسبز بنانے‘ ہریالی بڑھانے‘ درختوں اور پھولوں کو اُگانے اور اُن کی حفاظت کرنے کا عہد۔میں دیانت دار ہوں۔ رشوت‘ بدعنوانی‘ بددیانتی اور دھوکا دہی سے پرہیز کرنے کا عہد۔ (یہی برائیاں قوموں کو دیمک کی طرح کھا جاتی ہیں)۔میں جمہوریت پسند ہوں۔ ہر سطح پر جمہور کی بالادستی قائم کرنے‘ دیہات‘ تحصیل اور ضلع کی سطح پر عوام کو زیادہ سے زیادہ بااختیار بنانے‘ اختیارات پر مرکزی اور صوبائی اجارہ داری ختم کرنے اور بڑے شہروں اور اضلاع کو خودمختار بنانے کا عہد۔میں روشن خیال ہوں۔ جدید دور کے تقاضوں اور اپنی قدیم تہذیبی روایات کے مابین توازن قائم کرنے کا عہد۔ توہم پرستی‘ جادو جنات‘ جعلی پیروں اور نجومیوں سے دور رہنے کا عہد۔ علامہ اقبال اور عظیم صوفی شاعروں کا کلام باقاعدگی سے پڑھنے کا عہد۔میں امن پسند ہوں۔ اپنے گھر کے اندر امن‘ اپنی بستی میں امن‘ اپنے ملک میں امن اور پڑوسی ممالک کے ساتھ امن قائم رکھنے کا عہد۔میں انسان دوست ہوں۔ اپنے ذہن کو ہر قسم کے تعصبات سے پاک کرنے‘ دوسرے فرقوں اور مذاہب کا احترام کرنے کا عہد۔ دوسرے مذاہب اور فرقوں کے خلاف ایک لفظ بھی نہ بولنے کا عہد۔ ان کا دل نہ دکھانے اور انہیں اپنے مسلک پر قائم رہنے کا حق دینے کا عہد۔ فرقہ پرستی اور فرقوں کے درمیان نفرت اور تشدد ختم کرنے کے لیے بلاتفریق تمام مساجد میں نماز پڑھنے کا عہد۔میں انصاف پسند ہوں۔ اپنے گھر کے اندر انصاف‘ اپنی بستی میں انصاف‘ اپنے ملک میں انصاف‘ دنیا بھر میں انصاف قائم کرنے اور انصاف کی حمایت کا عہد۔میں سادگی پسند ہوں۔ فضول خرچی اور دکھاوے اور دوسروں پر رعب ڈالنے کے لیے جعلی اور فرضی شان و شوکت کے اظہار سے پرہیز کا عہد۔میں احتساب پسند ہوں۔ ہر بااختیار شخص‘ ہر قومی ادارے کا احتساب‘ بڑے سرکاری افسروں کے صوابدیدی اختیارات کے خاتمے کے لیے جدوجہد کرنے کا عہد۔ خیر خواہوں‘ دوستوں اور عزیزوں کو اپنا احتساب کرنے کا حق دینے کا عہد۔ اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کے احتساب کا فرض دیانت داری سے ادا کرنے کا عہد۔میں ترقی پسند ہوں۔ غربت‘ جہالت‘ بیروزگاری‘ کسانوں‘ مزدوروں اور نچلے و متوسط طبقے کے استحصال کے خلاف جدوجہد کرنے کا عہد۔ سامراج نواز معاشی پالیسیوں‘ اربوںکھربوں کی لوٹ کھسوٹ‘ مہنگائی میں مسلسل اضافے‘ بڑھتی غربت‘ گرتے ہوئے معیارِ زندگی‘ محصولات کے انتہائی ناقص اور عوام دشمن نظام کے خلاف جہدوجہد کرنے کا عہد۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_32258580.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>زندگی کی حقیقت(علامہ ابتسام الہٰی ظہیر )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-10-19/52873/66861782</link><pubDate>Mon, 19 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-10-19/52873/66861782</guid><description>عبدالمنان خانیوال سے تعلق رکھنے والا ایک صالح نوجوان ہے جو کئی برس سے مختلف کاموں میں میرا معاون ہے۔ سفروں کے دوران گاڑی چلانے کے ساتھ ساتھ گھر بار کے بہت سے چھوٹے موٹے کاموں میں بھی وہ ہاتھ بٹاتا رہتا ہے۔ ان دنوں وہ اس بات سے خوش تھا کہ نومبر کے پہلے ہفتے میں اس کے نکاح کی تقریب رکھی گئی تھی اور اس کے لیے وہ اپنی بساط کے مطابق تیاری کرنے میں مشغول تھا۔ پرسوں شام کو اس نے مجھے بتایا کہ اس کے والد کی طبیعت خراب ہے‘ انہیں سانس کا دیرینہ مسئلہ ہے‘ اس وقت ان کو سانس رک رک کر آ رہا ہے اور وہ ان کی خبرگیری کے لیے اپنے گھر جانا چاہتا ہے۔ عبدالمنان ابھی اپنے گھر جانے کی تیاری کر رہا تھا کہ اس بات کی اطلاع ملی کہ اس کے والد اس دنیائے فانی سے کوچ کر گئے ہیں۔ گھر سے دور انسان کو جب اس بات کی اطلاع موصول ہوتی ہے کہ اس کے والد یا کوئی قریبی عزیز دنیا سے رخصت ہو گیا ہے تو یہ بات اسے بہت زیادہ تشویش اور صدمے میں مبتلا کر دیتی ہے۔ اس دوران ہر شخص کے لیے اپنی منزل پر پہنچنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ عبدالمنان کی رندھی ہوئی آواز سے اس کے دکھ کا اندازہ کرنا کچھ مشکل نہ تھا۔ عبدالمنان اپنے گائوں روانہ ہو گیا۔ اگلے دن اڑھائی بجے خانیوال کے نواحی گائوں میں اس کے والد کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی اور ان کو سپردِ خاک کر دیا گیا۔زندگی اسی طرح کے اتار چڑھائو کا نام ہے۔ اس واقعہ کے بعد ماضی کے بہت سے واقعات میرے دماغ کی سکرین پر چلنا شروع ہو گئے۔ معین اختر ایک ملنسار‘ خوش گو‘ خوش مزاج اور صاحبِ حیثیت نوجوان تھا۔ ہم گورنمنٹ کالج لاہور میں اکٹھے پڑھتے رہے۔ اس کی طبیعت میں ایک خاص قسم کی شگفتگی پائی جاتی تھی اور وہ اپنی زندہ دلی کی وجہ سے جس مجلس میں بھی موجود ہوتا‘ اس مجلس کی نگاہوں اور توجہات کا مرکز بن جاتا تھا۔ آج سے کچھ برس پہلے اچانک اطلاع ملی کہ معین اختر گاڑی چلاتے ہوئے ہارٹ اٹیک کا شکار ہوا اور ہسپتال پہنچنے کے بعد زیادہ دیر زندہ نہ رہ سکا اور اس دنیائے فانی سے کوچ کر گیا۔ جوانی میں معین اختر کی اس دنیائے فانی سے رحلت نے مجھے بہت زیادہ صدمے سے دوچار کر دیا اور مجھے ماضی کے بہت سے واقعات یاد آنے لگے کہ وہ کتنے جوش اور جذبے سے زندگی کے معمولات میں حصہ لیا کرتا تھا اور اساتذہ اور دوستوں کے ساتھ کتنی خوش دلی سے وقت گزارا کرتا تھا۔ اس بات کو دل تسلیم نہیں کرتا تھا کہ وہ زندہ دل انسان کس طرح آناً فاناً زندگی کی بازی ہار گیا۔محمد عمران میرے بچپن کے دوست ہیں۔ ان کے والد ایک کامیاب تاجر تھے اور اپنے امور پر مکمل گرفت رکھتے تھے۔ محمد عمران کچھ برس پہلے چین کے ایک تجارتی سفر کے لیے گھر سے دور تھے کہ اچانک مجھے ان کی کال موصول ہوئی کہ ان کے والدِ ماجد اس دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں۔ محمد عمران کی خواہش تھی کہ میں ان کے والد کا جنازہ پڑھائوں۔ ان کے لیے والد کی اچانک رحلت یقینا بہت بڑے صدمے کا باعث تھی۔ میں جب ان کا جنازہ پڑھانے کیلئے پہنچا تو دیکھا کہ ہر آنکھ اشکبار تھی اور ہر شخص ایک سرپرست اور محبت کرنے والے انسان کی رخصتی کو دل کی گہرائیوں سے محسوس کر رہا تھا۔اسی طرح میرے دماغ کی سکرین پر والد مرحوم علامہ احسان الٰہی ظہیر کی جدائی کا واقعہ بھی چلنا شروع ہو گیا۔ میں بورڈ کا میٹرک کا امتحان دے رہا تھا کہ اچانک اطلاع ملی کہ مینارِ پاکستان سے ملحق راوی روڈ پر جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے والدصاحب ایک دھماکے میں زخمی ہو گئے ہیں۔ ان کو علاج کیلئے میو ہسپتال لے جایا گیا۔ اس دوران ان کے قریبی ساتھی اور رفیق حبیب الرحمن یزدانی‘ عبدالخالق قدوسی اور محمد خان نجیب اس دنیا ئے فانی سے کوچ کر گئے۔ بعد ازاں علاج کیلئے والد صاحب کو سعودی عرب میں ریاض کے ملٹری ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے وہ اس دنیائے فانی سے کوچ کر گئے۔ والد صاحب جواں ہمت‘ پُرعزم اور زندگی سے بھرپور شخصیت تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو خطابت اور تحریر کی بہت سی صلاحیتوں سے نواز رکھا تھا۔ ملک کے دینی اور سیاسی طبقات میں انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ ان کی اچانک رحلت یقینا معتقدین اور اہلِ خانہ کیلئے بہت بڑے صدمے کا باعث تھی۔ میں برسہا برس تک ہر خوشی اور غمی کے موقع پر والد صاحب کی جدائی کے صدمے کو محسوس کرتا رہا۔ آپ کی رحلت کو ابھی پانچ برس بھی نہیں گزرے تھے کہ والدہ مرحومہ بھی اس دنیائے فانی سے کوچ کر گئیں۔ والد اور والدہ کی جدائی کے بعد زندگی کے کئی سال نہایت مشکل میں گزرے۔ اس عرصے میں بہت سے دوست احباب اور واقف کار اس دنیائے فانی سے رخصت ہوتے رہے۔ گزشتہ برس عزیز بھائی‘ دوست اور ہم زلف عبدالرئوف اس دنیائے فانی سے کوچ کر گئے۔ یہ فقط میرا معاملہ نہیں بلکہ اس دنیا میں جو بھی آیا ہے‘ اس کو اس دنیائے فانی سے جانا پڑے گا۔ لیکن نجانے کیا وجہ ہے کہ بہت سے لوگ جنازوں کو اٹھتا اور میتوں کو قبر میں اترتا دیکھ کر بھی یہ سمجھتے ہیں کہ شاید وہ ہمیشہ اس دنیا میں رہیں گے۔ دنیا کی کشش اور مال و دولت کی محبت انسان کو موت سے غافل کیے رکھتی ہے‘ لیکن موت کے لمحات اور اس کا وقت ہر انسان پر آ کر رہتا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ اس حقیقت کو سورۃ التکاثر میں کچھ یوں بیان فرماتے ہیں: &#39;&#39;زیادتی کی چاہت نے تمہیں غافل کر دیا۔ یہاں تک کہ تم قبرستان جا پہنچے۔ ہرگز نہیں! تم عنقریب معلوم کر لو گے۔ ہرگز نہیں! پھر تمہیں جلد علم ہو جائے گا۔ ہرگز نہیں! اگر تم یقینی طور پر جان لو۔ تو بیشک تم جہنم دیکھ لو گے۔ اور تم اسے یقین کی آنکھ سے دیکھ لو گے۔ پھر اس دن تم سے ضرور بالضرور نعمتوں کا سوال ہوگا‘‘۔انسان تو یہ سمجھتا ہے کہ دنیا کا حسن‘ رعنائیاں اور نعمتیں بہت دلآویز اور دل نشین ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ دنیا کی زندگی عارضی اور فانی جبکہ آخرت بہت بہتر اور باقی رہنے والی ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الاعلیٰ کی آیات: 15 تا 19 میں اس حقیقت کو کچھ یوں بیان فرماتے ہیں: &#39;&#39;اور جس نے اپنے رب کا نام یاد رکھا اور نماز پڑھتا رہا۔ لیکن تم تو دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو۔ اور آخرت بہت بہتر اور بہت بقا والی ہے۔ یہ باتیں پہلی کتابوں میں بھی ہیں۔ (یعنی) ابراہیم اور موسیٰ کی کتابوں میں‘‘۔ موت سے فرار ممکن نہیں اور موت کے بعد کامیابی اسی شخص کو حاصل ہو گی جو آخرت کے لیے اپنے آپ کو تیار کیے رکھے گا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس حقیقت کو سورۂ آلِ عمران کی آیت: 185 میں کچھ یوں بیان فرمایا: &#39;&#39;ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے اور قیامت کے دن تم اپنے بدلے پورے پورے دیے جائو گے؛ پس جو شخص آگ سے ہٹا دیا جائے اور جنت میں داخل کر دیا جائے بیشک وہ کامیاب ہوگیا، اور دنیا کی زندگی تو صرف دھوکے کی جنس ہے‘‘۔ ہر انسان کو زمین پر ایک وقت گزار کر تہہ خاک جانا ہوگا۔ دنیا میں کوئی شخص ایسا نہیں آیا جسے اس زمین پر دوام حاصل ہوا ہو۔ چنانچہ انسانوں کو زندگانی کی حقیقت کو سمجھتے ہوئے اپنی سمت کو درست کرنا چاہیے اور اس زندگی میں ہی آخرت کی تیاری کر لینی چاہیے۔ زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں اور کسی لمحے بھی انسان کو اس دنیائے فانی سے جانا پڑ سکتا ہے اور موت کے بعد انسان کا منصب‘ مال اور عہدہ اس کے کسی کام نہیں آئے گا۔ موت کے بعد انسان کے کام اس کا ایمان اور عمل صالح ہی آئیں گے۔ دعا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں زندگی کی حقیقت کو سمجھنے اور ابھی سے آخرت کی تیاری کرنے کی توفیق دے‘ آمین!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_19740082.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>