<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>معاہدۂ مکہ اور مسلم دنیا(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-09/11437</link><pubDate>Sun, 09 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-09/11437</guid><description>اسلامی تعاون تنظیم( او آئی سی) کے سیکرٹری جنرل حسین ابراہیم طہٰ نے پاکستان‘ سعودی عرب اور ترکیہ کے مشترکہ دفاعی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے اہم سٹریٹجک قدم قرار دیا اور کہا ہے کہ یہ معاہدہ خطے اور پوری مسلم دنیا میں سلامتی اور استحکام کیلئے ایک بنیادی ستون ثابت ہو سکتا ہے۔ او آئی سی کے سربراہ کا یہ مؤقف اس اہم معاہدے کو مسلم دنیا کی سلامتی کے وسیع تناظر میں دیکھنے کی دعوت دیتا ہے۔ او آئی سی کے رکن ممالک کیلئے اس معاہدے کا سب سے بڑا ممکنہ فائدہ اجتماعی سلامتی کے تصور کو مضبوط کرنا ہے۔ مسلم ممالک کو مختلف نوعیت کے خطرات درپیش رہے ہیں۔ کہیں دہشت گردی‘ کہیں سرحدی تنازعات اور کہیں سیاسی عدم استحکام اور بیرونی دباؤ سلامتی کیلئے چیلنج بنا ہوا ہے۔ ایسے حالات میں مسلم دنیا کے تین اہم ممالک کا مشترکہ دفاعی معاہدہ مسلم دنیا کے دیگر ممالک کیلئے بھی تعاون کا ایک ماڈل پیش کرتا ہے۔ دوسرا اہم فائدہ دفاعی ٹیکنالوجی اور مہارت کا تبادلہ ہے۔ ترکیہ نے ڈرونز‘ دفاعی صنعت اور جدید فوجی ٹیکنالوجی کے میدان میں نمایاں پیش رفت کی ہے‘ پاکستان‘ مسلم دنیا کی واحد ایٹمی طاقت‘ طویل عرصے سے مختلف نوعیت کے دفاعی اور جنگی تجربات کا حامل ہے جبکہ سعودی عرب کے پاس وسیع مالی وسائل اور جدید دفاعی سازوسامان تک رسائی ہے۔

ان صلاحیتوں کو باہمی تعاون کے ذریعے یکجا کیا جائے تو مسلم ممالک دفاعی شعبے میں خود انحصاری حاصل کر سکتے ہیں۔ اس معاہدے کا تیسرا اہم پہلو انٹیلی جنس اور سکیورٹی تعاون ہے۔ آج کے دور میں جنگ صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہی۔ دہشت گرد تنظیمیں‘ سائبر حملے‘ منظم جرائم اور دیگر غیر روایتی خطرات ریاستوں کی سلامتی کو متاثر کر رہے ہیں۔ اگر مسلم ممالک کے درمیان معلومات کے تبادلے اور سکیورٹی تعاون کا مؤثر نظام قائم ہو تو دہشت گردی اور دیگر مشترکہ خطرات کا مقابلہ بہتر انداز میں کیا جا سکتا ہے۔ یہ معاہدہ مسلم ممالک کے درمیان اعتماد سازی میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ او آئی سی کا سب سے بڑا مسئلہ یہ رہا ہے کہ اس کے رکن ممالک کی تعداد تو بہت زیادہ ہے لیکن مشترکہ عملی اقدامات نسبتاً کم دکھائی دیتے ہیں۔ پاکستان‘ سعودی عرب اور ترکیہ کا دفاعی تعاون دوسرے مسلم ممالک کیلئے بھی باہمی تعاون کی ترغیب بن سکتا ہے۔ یوں او آئی سی ایک ایسے پلیٹ فارم میں تبدیل ہو سکتی ہے جہاں رکن ممالک صرف سیاسی بیانات تک محدود نہ رہیں بلکہ عملی شعبوں میں بھی ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوں۔
او آئی سی کیلئے اس معاہدے سے ایک اور اہم سبق یہ ہے کہ مسلم دنیا اپنی اجتماعی سلامتی کیلئے اپنے اندر موجود صلاحیتوں کو استعمال کر سکتی ہے۔ پاکستان کی افرادی اور دفاعی صلاحیت‘ ترکیہ کی ٹیکنالوجی اور دفاعی صنعت اور سعودی عرب کی معاشی طاقت ایک دوسرے کی تکمیل کر سکتی ہیں۔ یہی تصور مستقبل میں دیگر مسلم ممالک کے درمیان بھی مختلف شعبوں میں تعاون کی بنیاد بن سکتا ہے۔ مکہ مکرمہ کی مقدس سر زمین پر تین سرکردہ مسلم ممالک میں طے پانے والے اس معاہدے کو وسیع تر مسلم مفاد‘ باہمی اعتماد اور مشترکہ سلامتی کے اصولوں کے تحت آگے بڑھایا جائے تو یہ او آئی سی کے رکن ممالک کیلئے جامع تزویراتی تعاون کی بنیاد بن سکتا ہے۔ اب اصل ذمہ داری او آئی سی اور اس کے رکن ممالک پر عائد ہوتی ہے کہ اس موقع کو محض سفارتی پیش رفت تک محدود نہ رہنے دیں۔ پاکستان‘ سعودی عرب اور ترکیہ اپنے دفاعی تعاون کو شفاف‘ مؤثر اور ادارہ جاتی انداز میں آگے بڑھائیں اور دوسرے مسلم ممالک کو بھی مناسب مواقع فراہم کیے جائیں تو یہ معاہدہ وہ بنیادی ستون ثابت ہو سکتا ہے جس کا ذکر او آئی سی کے سیکرٹری جنرل نے کیا ہے۔ مسلم دنیا کو آج ایسے ہی عملی اتحاد کی ضرورت ہے جو اس کی سلامتی‘ خود انحصاری اور عالمی سطح پر اجتماعی آواز کو مضبوط بنا سکے۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>دہشت گردی کے خلاف جدوجہد(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-09/11436</link><pubDate>Sun, 09 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-09/11436</guid><description>سکیورٹی فورسز نے گزشتہ روز ہنگو میں انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی کے دوران فتنہ الخوارج کے سات دہشت گردوں کو ہلاک کیا‘ تاہم اس کارروائی میں پاک فوج کے نوجوان افسر کیپٹن حمزہ مادرِ وطن پر قربان ہوگئے۔ دوسری جانب بلوچستان میں جاری آپریشن ردالفتنہ 3 میں فتنہ الہندوستان کے تین دہشت گرد بھی ہلاک کیے گئے۔ یہ کارروائیاں اس امر کا واضح ثبوت ہیں کہ ملک کی سکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خلاف پوری قوت اور عزم کے ساتھ برسرپیکار ہیں ۔دہشت گردی قومی سلامتی کے لیے بڑاچیلنج بن چکی ہے۔ سکیورٹی امور سے متعلق ایک تھنک ٹینک کی رپورٹ کے مطابق جولائی رواں سال کا اب تک کا سب سے خونریز مہینہ ثابت ہوا۔

جس میں دہشت گردی کے مختلف واقعات 205 افراد شہید ہوئے جن میں 112سکیورٹی اہلکار بھی شامل تھے‘ جبکہ انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں میں 401 دہشت گرد مارے گئے۔ ایک ہی مہینے میں 401 دہشت گردوں کا خاتمہ بلاشبہ سکیورٹی آپریشنز کی مؤثریت کا مظہر ہے لیکن یہی اعدادوشمار خطرے کی شدت اور اس کے پھیلاؤ کی گہرائی بھی ظاہر کرتے ہیں۔اس صورتحال کا تقاضا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف ایک جامع قومی حکمتِ عملی تشکیل دی جائے۔ دہشت گردوں کی طرف سے جدید جنگی ٹیکنالوجی اور ڈرونز کا استعمال اور نئے نئے طریقہ واردات اس امر کے متقاضی ہیں کہ انسدادِ دہشت گردی کا نظام بھی اسی رفتار سے جدید بنایا جائے۔ 
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>گڈز ٹرانسپورٹ کی ہڑتال(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-09/11435</link><pubDate>Sun, 09 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-09/11435</guid><description>گڈز ٹرانسپورٹروں کی تنظیم نے حکومت کو کچھ مطالبات پیش کیے تھے جو منظور نہ کیے جانے پر ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ گڈز ٹرانسپورٹرز کے مطالبات میں ڈیزل کی قیمتوں میں کمی‘ ایکسل لوڈ کی یکساں پالیسی اور غیر ضروری چالانوں کا خاتمہ شامل ہے۔ مہنگا ایندھن اور ٹیکسوں کا بوجھ واقعی ٹرانسپورٹ کے اخراجات پر اثر انداز ہوتا ہے تاہم ٹرانسپورٹرز کے بعض مطالبات ایسے ہیں جن کا تعلق سڑکوں کی حفاظت‘ انفراسٹرکچر کی پائیداری اور قانونی و انتظامی نظام سے ہے۔ حکومت کو اوورلوڈنگ کی اجازت تو ہر گز نہیں دینی چاہیے‘ایکسل لوڈ کی حدیں سڑکوں اور پلوں کی برداشت‘ گاڑیوں کی ساخت اور ٹریفک سیفٹی کو مدنظر رکھ کر ہی مقرر کی جاتی ہیں البتہ جائز مطالبات کو ضرور قبول کرنا چاہیے ۔

گڈز ٹرانسپورٹ کا پہیہ زیادہ دیر رکا تو اس کے اثرات سپلائی چین کو متاثر کر سکتے ہیں۔ ملک کی معاشی سرگرمی میں گڈز ٹرانسپورٹ بنیادی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ اشیائے خورونوش‘ پٹرولیم مصنوعات‘ صنعتی خام مال اور روزمرہ استعمال کی دوسری اشیا گڈز ٹرانسپورٹ کے ذریعے ہی ملک کے ایک حصے سے دوسرے حصے تک پہنچتی ہیں‘ لہٰذاٹرانسپورٹرز کے جائز مطالبات پر بلا تاخیر غور کرنا چاہیے جبکہ سڑکوں کی حفاظت‘ اوورلوڈنگ اور ٹیکس قوانین سے متعلق جن معاملات میں قومی مفاد وابستہ ہے‘ ان کا بھی کوئی متبادل قابلِ عمل حل تلاش کیا جانا چاہیے۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>معاہدۂ مکہ کے بعد(مجیب الرحمٰن شامی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mujeeb-ur-rehman-shami/2026-08-09/52447/78684986</link><pubDate>Sun, 09 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mujeeb-ur-rehman-shami/2026-08-09/52447/78684986</guid><description>مکہ مکرمہ سے خبر آئی کہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی دعوت پر ان کے قصر الصفا میں پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان اکٹھے ہوئے‘ اور ایک معاہدے پر دستخط کر دیے۔ خانہ کعبہ کے زیر سایہ طے پانے والا یہ &#39;&#39;مکہ دفاعی معاہدہ‘‘ تینوں ملکوں کو یکجان کر دے گا‘ کسی ایک پر بھی کوئی مسلح حملہ تینوں پر حملہ تصور ہو گا۔ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان اور سعودیہ کے درمیان تو دفاعی معاہدہ کب کا ہو چکا تھا‘ وہ یکجان دو قالب تھے ہی‘ اب ترکیہ کا قالب بھی ان کے ساتھ مل گیا ہے۔ اس موقع پر جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس معاہدے کا مقصد کسی بھی جارحیت کے خلاف اجتماعی دفاع کو مضبوط بنانا ہے۔ اس کے ذریعے تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے تمام شعبوں کو مزید وسعت دے کر مضبوط بنایا جائے گا۔ تینوں رہنماؤں نے دستخطوں کے بعد گرم جوشی سے ایک دوسرے سے مصافحہ کیا‘ اور انتہائی خوشگوار ماحول میں غیررسمی جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے دعا کی کہ حرمین شریفین کے سائے تلے طے پانے والا یہ تاریخی معاہدہ آنے والی نسلوں کیلئے امن و استحکام کی ڈھال ثابت ہو۔ اس موقع پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی وزیراعظم کے شانہ بشانہ موجود تھے۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار‘ وزیر دفاع خواجہ آصف‘ وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ اور معاونِ خصوصی طارق فاطمی کو بھی اس تاریخی لمحے کا حصہ بننے کی سعادت نصیب ہوئی۔ پُرجوش اور باصلاحیت وزیر اطلاعات نے تو بعدازاں ایک ملی نغمہ بھی جاری کر دیا: ایک اللہ، ایک رسولؐ، ایک قرآن، ایک کلمہ، ایک قبلہ، ایک پہچان... ترکیہ، سعودیہ، پاکستان... ملک بھر میں اس کی گونج سنائی دی یا یہ کہیے کہ درو دیوار اس سے گونج اٹھے۔ اہلِ نظر کو علامہ اقبالؒ بھی یاد آ گئے ؎مسلماں کو مسلماں کر دیا طوفانِ مغرب نےتلاطم ہائے دریا ہی سے ہے گوہر کی سیرابیاس میں کوئی شک نہیں کہ پورے پاکستان میں اس پر مسرت کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ترکیہ اور سعودی عرب سے بھی ایسی ہی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ تینوں ملکوں کے درمیان مثالی دوستانہ تعلقات رہے ہیں۔ پہلی جنگ عظیم میں شکست کے بعد سلطنتِ عثمانیہ کا شیرازہ منتشر ہوا۔ فاتحین نے اس بڑی سلطنت کو نسلی‘ لسانی اور اپنی نفسانی ضروریات کے تحت ٹکڑے ٹکڑے کر دیا تو عالمِ اسلام ناپسندیدہ صورتحال سے دوچار ہو گیا۔ اس کے اثرات اور نتائج اب تک بھگتے جا رہے ہیں۔ برصغیر کے مسلمانوں نے اپنا الگ وطن (پاکستان) حاصل کیا تو بیداری کی ایک نئی لہر شروع ہوئی۔ عالمِ اسلام میں بھی اتحاد کا جذبہ توانا ہوتا گیا۔ ترکیہ نے اپنا اسلامی تشخص بحال کیا‘ سعودی عرب نے اپنے آپ کو منظم اور مستحکم کیا‘ تو پاکستان نے بھی اپنے جوہر آزمانا شروع کر دیے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نام سے قائم ہونے والی ریاست کو ابتدا میں بہت مشکلات سے گزرنا پڑا‘ اس کے باوجود اس نے اپنے آپ کو سنبھالا‘ اور کم و بیش آٹھ دہائیاں گزرنے کے بعد اپنی دفاعی قوت کا لوہا دنیا بھر سے منوا لیا۔ پاکستان کی فوج دنیا کی بہترین افواج میں شمار ہوتی ہے۔ دفاعی پیداوار میں بھی اس نے محیر العقول کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ سائنس اور ٹیکنالوجی سے بھی اپنے آپ کو مسلّح کیا ہے۔ چند ہی ماہ پیشتر بھارتی جارحیت کا جس طرح جواب دیا گیا‘ اس نے پاکستان کی دفاعی صلاحیت کی دھاک بٹھا دی ہے۔ ایران اور امریکہ کی جنگ میں بھی پاکستان کی سفارتی صلاحیتوں نے کمال کر دکھایا‘ اور عشروں کے دشمنوں کو ایک میز پر لا بٹھایا۔ ترکیہ رجب طیب اردوان کے زیر قیادت ترقی کی نئی منزلیں طے کر رہا ہے۔ اس کی معیشت توانا ہے اور دفاعی پیداوار میں اس کی ترقی روز افزوں ہے۔ سعودی عرب شہزادہ محمد بن سلمان کے زیر قیادت تعمیر و ترقی کے نئے سفر کا آغاز کر چکا ہے۔ یہ قدرتی وسائل کی دولت سے مالا مال ہے‘ اسے للچائی ہوئی نظروں سے دیکھنے والے بھی کم نہیں ہیں لیکن یہ حُسنِ تدبیر اور تدبر کی ڈھال کو مضبوط سے مضبوط تر بنا ر ہا ہے۔تینوں ملکوں کے درمیان ہونے والا یہ معاہدہ نہ صرف تینوں ملکوں کو نیا اعتماد بخشے گا بلکہ ان کے ہمسایہ دوسرے ممالک کو بھی احساسِ تحفظ دے گا۔ اس معاہدے میں شمولیت کے دروازے کھلے ہیں‘ اگر مزید ممالک بھی شریک ہوئے تو یہ &#39;&#39;نیٹو‘‘ کی طرز پر سب کو تحفظ فراہم کر سکے گا۔ نیٹو‘ یورپی ممالک کے مشترکہ دفاع کا نام ہے‘ اسی طرح عالمِ اسلام کے بیشتر ممالک ایک لڑی میں پروئے جا سکتے ہیں۔ ترکیہ کے صدر اردوان نے بجا کہا ہے کہ یہ معاہدہ کسی کے خلاف نہیں ہے۔ اس کے باوجود اسرائیل اور بھارتی نیتاؤں کے ماتھے پر بَل پڑ گئے ہیں‘ اور تو اور ایک ایرانی رکن پارلیمنٹ بھی بوکھلا گئے ہیں۔ سعودی عرب کو تلقین کر رہے ہیں کہ دفاع مضبوط بنانے کیلئے اپنے آپ کو مضبوط بنانا ہو گا۔ ان حضرت کی تکلیف کا سبب سمجھ میں نہیں آیا کہ اس معاہدے کے دروازے ایران پر بھی کھلے ہیں‘ وہ چاہے تو اپنے ہمسایوں کے ساتھ اعتماد کے نئے رشتے قائم کر سکتا ہے۔ اسرائیل اور بھارت کے عزائم اگر جارحانہ نہ ہوں تو انہیں بھی پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ اگر وہ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کریں‘ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی قراردادوں پر عمل کرنے کیلئے تیار ہوں‘ دوسروں کو جینے کا حق دیں اور اپنی حدود تک اپنے آپ کو محدود کر لیں تو انہیں بھی اطمینان سے سانس لینے کا موقع مل سکتا ہے۔امید کی جانی چاہیے کہ تینوں ممالک کے درمیان اشتراک معاشی شعبے میں بھی آگے بڑھے گا اور تینوں کیلئے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ پاکستان پر لازم ہے کہ وہ اپنا گھر درست کرے‘ داخلی استحکام کے حصول کیلئے کوشاں ہو اور تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر &#39;&#39;معاشی معرکہ حق‘‘ جیتنے کیلئے قابلِ عمل منصوبے بنائے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے سر سہرا باندھیے یا شہباز شریف کے‘ یا دونوں کے سر ملا لیجیے‘ مقامِ شکر یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے سر نہیں آ رہے‘ سر جوڑ کر بیٹھے نظر آتے ہیں۔ صنعتکار اور تاجر فیلڈ مارشل کی طرف دیکھ رہے ہیں‘ وزیراعظم کو آگے بڑھ کر ان کی توجہ حاصل کرنی چاہیے وگرنہ محسن نقوی ایک اور تقریر کر گزریں گے۔&#39;&#39;نیازی برادران‘‘ کی رنجشیںایک اچھی بلکہ بہت ہی اچھی خبر یہ ہے کہ جناب حفیظ اللہ نیازی نے جناب عمران خان سے اپنی رنجش کے خاتمے کا اعلان کر دیا ہے۔ عمران خان حفیظ اللہ کے چچا زاد ہیں اور برادرِ نسبتی بھی۔ دونوں کے درمیان گہرے تعلقات رہے ہیں‘ حفیظ اللہ اگرچہ باقاعدہ تحریک انصاف میں شامل نہیں ہوئے لیکن اس کے قیام و انصرام میں ان کا حصہ بہت بڑا تھا۔ جاوید ہاشمی اور شاہ محمود قریشی جیسے جنوں کو اُن ہی نے تحریک انصاف کی بوتل میں بند کیا۔ یہ الگ بات کہ بعدازاں خود ہی اس بوتل کا ڈھکن کھول دیا۔ 2013ء کے انتخابات میں &#39;&#39;نیازی برادران‘‘ یعنی عمران احمد خان نیازی اور حفیظ اللہ خان نیازی میں رنجشیں پیدا ہوئیں تو بڑھتے بڑھتے فاصلوں میں تبدیل ہو گئیں۔ جناب حفیظ‘ حسان خان نیازی کے والد اور نورین خان نیازی کے شوہر ہیں تاہم وہ الگ راستے پر چل نکلے۔ اب جبکہ عمران خان آزمائش میں مبتلا ہیں‘ انہوں نے سفید جھنڈا لہرا دیا ہے۔ اپنی رنجش ختم کر دی ہے۔ یہ ایک قابلِ تقلید مثال ہے‘ اہلِ سیاست کیلئے بھی اور اہلِ اقتدار کیلئے بھی۔ اپنے اپنے گریبان میں جھانکنا سب کیلئے مفید ہو گا؎نہ تھی حال کی جب ہمیں اپنے خبر‘ رہے دیکھتے اوروں کے عیب و ہنرپڑی اپنی برائیوں پر جو نظر تو نگاہ میں کوئی برا نہ رہا(یہ کالم روزنامہ &#39;&#39;پاکستان‘‘ اور روزنامہ &#39;&#39;دنیا‘‘ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_37052987.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>خطرہ تو پتا چلے کہاں سے(ایاز امیر)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-08-09/52448/47044211</link><pubDate>Sun, 09 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-08-09/52448/47044211</guid><description>معاہدہ درست ہوا ہے لیکن اتنا تو پوچھا جا سکتا ہے کہ حملے کا خطرہ کہاں سے ہے۔نہ صرف کہاں سے بلکہ کس کو ہے؟ترکیہ کے بارے میں اسرائیل میں باتیں ہوتی رہتی ہیں لیکن کوئی حملے کا خطرہ نہیں۔ اسرائیل تو لگا ہوا ہے خونریزی کرنے غزہ اور لبنان میں۔ ترکیہ کی طرف اُس نے نہیں جانا۔ پاکستان کو خطرات لاحق ہیں لیکن وہ اندرونی ہیں۔شورش ہے لیکن ساری شورش سرحدوں کے بیچ میں ہے۔ باہر سے معاونت ہوتی ہوگی لیکن آگ کے شعلے تو اندرون بھڑک رہے ہیں۔ لہٰذا جن خطرات کا پاکستان کو سامنا ہے اُن سے نمٹنے کیلئے ترکیہ اور سعودی عرب نے ہماری مدد کو نہیں آنا۔ہاں‘ یہاں کچھ امداد کی امید تو ہوگی۔ البتہ خطرات کے حوالے سے رہ جاتا ہے معاملہ سعودی عرب کا۔ اس کو خطرہ کہاں سے ہے اور کس سے ؟تاریخ پر نظر دوڑائیں تو سمجھ آتی ہے کہ اب تک تو امریکہ محافظِ اعلیٰ سعودی عرب کا بنا ہوا تھا اور شاہ عبدالعزیز سے لے کر اب تک ہمارے برادر سعودیوں نے امریکی حفاظت کو ہی مکمل سمجھا ہوا تھا۔ حفاظت کا بھانڈا تو ایران نے پھوڑا اور وہ بھی اس حالیہ جنگ میں۔ ایران پر اسرائیلی اور امریکی حملے ہوئے‘ حملوں میں امریکی اڈے جو اس خطے میں پھیلے ہوئے ہیں اُن کو استعمال کیا گیا۔ حملوں کے جواب میں ایران نے نہ صرف اسرائیل پر میزائل داغے بلکہ علاقے میں تمام امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا اور تیل اور دوسرے ٹھکانوں پہ بھی حملے کیے۔ ایران نے لگی لپٹی سے کام نہیں لیا بلکہ واضح کیا کہ خطے کے اڈے ہمارے خلاف استعمال ہوئے تو ہم نے جواب ضرور دینا ہے۔ اس کے ساتھ ہی آبنائے ہرمز کو ایران نے بند کر دیا جس سے خلیج فارس سے تیل اور گیس کی ترسیل بند ہو گئی۔ یعنی مسئلے کی جڑ تو امریکی اور اسرائیلی حملے تھے۔ وہ ایران پرنہ ہوتے تو ایران کی طرف سے جوابی کارروائی نہ ہوتی۔ اور برادر عرب ممالک ٹارگٹ نہ بنتے۔لیکن جی سی سی کے کسی ملک نے امریکی اور اسرائیلی حملے کے خلاف آواز نہ اٹھائی۔ نہ یہ کہا کہ ہمارے ملکوں میں امریکی اڈوں کو ایران کے خلاف استعمال نہ کیا جائے۔ ایران نے جوابی کارروائی کی تو سارے ممالک تلملا اُٹھے کہ یہ کیا غضب ہو گیا او رایران اس جارحیت کا مرتکب کیوں ہو رہا ہے۔ اب بھی بات کرنے کی تو یہ ہے کہ برادر ملکوں کی طرف سے امریکہ کو کہا جائے کہ حضور آپ کی حفاظت اور آپ کے اڈوں کا بہت شکریہ۔ اب برائے مہربانی ہمیں ہمارے حال پر چھوڑیے‘ اپنی حفاظت کا بندوبست ہم خود کر لیں گے۔ لیکن عجیب معاملہ ہے کہ امریکہ کی وجہ سے برادر ملکوں کو خطرات لاحق ہوئے لیکن پھر بھی امریکہ سے جان چھڑانے کا ارادہ نہیں بن رہا۔ اس مخمصے کا علاج کیا ہے؟ جب کمزوری ارادوں میں گھر کر جائے تو کون سی دوا کام آ سکتی ہے؟ مطلب تو پھر یہ نکلا کہ کوئی نہ کوئی خطرہ کہیں سے ہے تو ایران سے ہے۔ حوثیوں سے بھی خطرہ ہے جن پر ہاتھ ایران کا ہے۔ لیکن ایران سے کوئی خطرہ ہے تو اسے صحیح سیاق و سباق میں دیکھنا چاہیے۔ ایران کی طرف سے تبھی کچھ ہو سکتا ہے اگر وہ پھر سے حملوں کا نشانہ بنے۔ یہ بات تو واضح ہے خطے اور پوری دنیا میں کہ ایران کی تنصیبات پر حملہ ہوا تو ایران نے آس پاس حملے کرنے ہیں۔ ضرورت تو پھر اس امر کی ہونی چاہیے کہ سعودی عرب اپنا اثرورسوخ بروئے کار لاتے ہوئے امریکہ کو ہوش مندی کی نصیحت کرے تاکہ امریکہ کی طرف سے کچھ مزید بیوقوفی اور جارحیت سرزد نہ ہو۔ حیرت تو اس بات پر بھی ہونی چاہیے کہ برادر جی سی سی ممالک مل کر امریکہ کو متنبہ کرنے سے گریزاں ہیں کہ جارحیت بہت ہو گئی امریکہ اب اپنے گھوڑوں کو لگام دے تاکہ خلیج فارس کے علاقے میں امن کی بحالی ہو سکے۔ امن تباہ کر نے والا امریکہ لیکن جس انداز سے برادر ملکوں کو امریکہ سے مخاطب ہونا چاہیے ایسا وہ نہیں کر رہے ۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے خود امریکہ میں رائے عامہ کا اکثریتی حصہ نالاں ہو رہا ہے۔ ایران جنگ کی مخالفت امریکہ میں بہت بڑھ چکی ہے۔ پہلی دفعہ یہ دیکھنے میں آ رہا ہے کہ امریکی سیاست میں اسرائیل کے خلاف نفرت بڑھ رہی ہے۔ لیکن حیرانی کی بات ہے کہ جو ہمت مسلم ممالک کو دکھانی چاہیے اُس کے آثار نظر نہیں آتے۔ کچھ کرنا تو دور کی بات ہے مذمتی الفاظ بھی ادا نہیں ہوتے۔ اس کا کیا کیا جائے؟ امریکہ سے حاصل کچھ نہیں ہو رہا۔ امریکہ اپنے اڈوں کی حفاظت کرنے میں ناکام رہاہے۔ اُس نے برادر ملکوں کی حفاظت کیا کرنی ہے۔ مزید براں جیسا کہ خبریں آ رہی ہیں امریکہ کے میزائل شکن ہتھیار کم پڑ رہے ہیں۔ ایران کے خلاف پیٹریاٹ اور ٹوماہاک میزائل کچھ زیادہ ہی استعمال ہو گئے لیکن پھر بھی مقاصد حاصل نہ ہوئے۔ آبنائے ہرمز بدستور ایرانی کنٹرول میں ہے اور جو بات چیت ایران اور عمان کے درمیان ہو رہی ہے اُن سے عندیہ یہ مل رہا ہے کہ کنٹرول ایران اور عمان کے پاس ہی رہے گا۔ اس بات پر بھی سوچ بچار ہو رہی ہے کہ جہازوں سے ٹول لیا جائے یا نہیں۔ان اقدامات کو دیکھتے ہوئے صدر ٹرمپ غصے سے بھرے جا رہے ہیں لیکن دانت پیسنے کے سوا کر بھی کیا سکتے ہیں۔ انتہا کی بمباری ہو چکی لیکن ایران نہیں جھکا اور صدر ٹرمپ سمجھ نہیں پا رہے کہ ایرانی مزاحمت کا ماجرا کیا ہے۔ امریکہ ایران کشیدگی کم کرنے میں پاکستان کا ثالثی کردار اہم رہا‘ اس سے پاکستان کے سفارتی قد کاٹھ میں بھی اضافہ ہوا۔ پاکستان کے لیے یہ بھی اچھا ہے کہ یہ سہ فریقی دفاعی معاہدہ ہو گیا۔ اس سے کچھ امید پیدا ہونی چاہیے کہ معاشی لحاظ سے پاکستان کو کچھ فائدہ پہنچ جائے۔ لیکن جہاں پاکستان بیرونی محاذوں پر اتنا سرگرم عمل نظر آتا ہے کچھ دھیان داخلی حالات پر بھی ہو۔ لگتا تو بہت اچھا ہے جب اچھے سوٹوں میں ملبوس وزیراعظم سعودی ولی عہد اور ترکیہ کے صدر کے ساتھ کھڑے ہوں اور دفاعی معاہدے پر دستخط ہو رہے ہوں لیکن دھڑکتے دلوں کا دھڑکنا بڑھ جاتا ہے جب مغربی صوبوں کی صورتحال پر نظر جاتی ہے۔ کچھ تویہاں مداوا ہو‘ کچھ شورشوں اور خلفشاروں کی شدت میں کمی آئے۔بیرونی ثالثی بہت اچھی لیکن کچھ اندرونی ثالثی بھی ہو جائے۔ گھر میں چین نہیں تو باہر کے چین کو کیا کریں۔ مزید کیا کہیں؟ کھل کے بات کرنا آسان نہیں۔ راہیں مشکل ہو گئی ہیں۔ حالات جو ہیں تشویش کا باعث بنے ہوئے ہیں۔ اب تو جس سے بات کریں پریشانی کا پیغام سننے کو ملتا ہے۔ منزل کیا تھی‘ آنکھوں سے کہاں اوجھل ہوگئی؟ حالات پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔ یہ کیسے ممکن ہوگا‘ کون کرے گا؟مسیحا کہاں گُم ہوگئے۔ </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_80573045.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کوا‘ نیکلس اور سانپ(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-08-09/52449/73898330</link><pubDate>Sun, 09 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-08-09/52449/73898330</guid><description>یہ بحث بہت پرانی ہے کہ عقل بڑی یا بھینس۔ کسی کا جسمانی طور پر طاقتور ہونا زیادہ اہم ہے یا اس کی ذہانت اہم ہے؟ وقت بدلنے کیساتھ ساتھ طاقت کا تصور بدلتا رہا ہے۔ ذہانت بھی اپنے رنگ دکھاتی رہی ہے۔ اگرچہ قدیم زمانوں کی کہانیاں پڑھیں تو ایک بات مشترکہ ملتی ہے کہ بادشاہ یا قبیلے کے سردار کا جسمانی طور پر طاقتور ہونا ضروری ہے۔ اکثر ہم بچوں کی کہانیوں میں پڑھتے ہیں کہ بادشاہ اپنی بیٹیوں کی شادی ایسے نوجوانوں سے کرتے تھے جو جسمانی طور پر مضبوط ہوتے تھے۔ وہ زمانے ہی ایسے تھے کہ انسانی معاشروں کو حفاظت کیلئے اپنے سے زیادہ بہادر اور طاقتور بندہ چاہیے ہوتا تھا جو انہیں آفات اور حملوں سے بچا سکے۔ آپ ڈھائی تین ہزار سال پرانا یونانی ڈرامہ کنگ ایڈی پس پڑھیں تو اس میں جو اجنبی شہر میں داخل ہوتا ہے وہ اسے ہی بادشاہ بنا دیتے ہیں کیونکہ ان کا اپنا بادشاہ شکار کھیلنے گیا تھا اور واپس نہیں لوٹا۔ شہر پر آفتوں نے حملہ کر رکھا تھا‘ انہیں لگا یہ نوجوان تگڑا ہے‘ انہیں آفات سے بچائے گا۔ خیر‘ وہ الگ کہانی ہے کہ اس کا انجام کیا ہوا۔ کچھ سمجھدار اور ذہین لوگ جسمانی سے زیادہ ذہنی طاقت کے حامی رہے اور انہوں نے ان ایشوز پر کتابیں بھی لکھیں۔ ان میں The Art of War بہت مشہور ہے، پھر میکاولی کی The Prince ہے‘ اور پھر Meditations کا اپنا الگ مقام ہے جو رومن جنرل Marcus Aurelius نے لکھی تھی۔ اسے پڑھنے سے پتا چلتا ہے کہ انسان ہر دور میں عقل اور ذہن کو کیسے سمجھ داری سے استعمال کرنے پر یقین رکھتا تھا۔آج کل میں عربی میں لکھی گئی اس طرح کی کہانیاں پڑھ رہا ہوں جن کا نام ہے Fables of Bidpai۔ کہا جاتا ہے کہ سینکڑوں برس پرانی یہ کہانیاں دراصل سنسکرت میں لکھی گئی تھیں لیکن بعد میں عرب ورلڈ تک پہنچیں تو عربی اور فارسی زبان میں ڈھل گئیں۔ انہیں بڑے عرصے کے بعد انگریزی زبان میں ترجمہ کیا گیا اور یوں یہ پوری دنیا تک پہنچیں۔ میں نے خود آکسفورڈ یونیورسٹی کی آن لائن لائبریری سے پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کر کے اس کو پرنٹ کرا کے کتابی شکل دلوا کر پڑھنا شروع کیا ہے تو الگ ہی دنیا میرے اوپر عیاں ہونا شروع ہوگئی ہے۔ ایک روایت کے مطابق یہ کہانیاں ایک انڈین فلاسفر برہمن بدھپائی نے لکھی تھیں جو قدیم انڈیا کے ایک ظالم بادشاہ Dabshalim کا مشیر تھا۔ ان کہانیوں کے ذریعے اس نے بادشاہ کو سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ اسے کیسے ایک اچھے‘ سمجھ دار اور نرم دل بادشاہ کی طرح اپنی رعایا پر حکومت کرنی چاہیے۔ کہا جاتا ہے کہ جب اس کی مشہوری ایران کے بادشاہ خسرو کے دربار تک پہنچی تو اس نے اپنا اہم مشیر انڈیا بھیجا کہ اس کی ایک کاپی ایران لے آؤ اور پھر اس کا ترجمہ کیا گیا۔ کہا جاتا ہے یہ ترجمہ 750ء میں کیا گیا جبکہ سنسکرت اور مڈل پرشین زبانوں میں ان کہانیوں کا مسودہ غائب ہوگیا۔ پھر اس کا ترجمہ عربی زبان میں ہوا تھا جو میسر تھا‘ جہاں سے دو سو سال پہلے اس کا انگریزی میں ترجمہ کیا گیا۔یہ کہانیاں دراصل دو کرداروں کی باہمی گفتگو پر مشتمل ہیں اور یہ کہانیاں جانوروں کے منہ سے سنائی گئی ہیں۔ جانور ان کہانیوں کے ذریعے حکمران کے اچھے کردار‘ اخلاقی سبق‘ فیصلوں کے اچھے برے اثرات کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں۔ اس میں ایک شیر ہے جو جنگل کا بادشاہ ہے اور ساتھ دو کردار گیڈر ہیں جو کہانیاں سناتے رہتے ہیں جن کے نام Kalila اور Dimna ہیں۔ ایک دن ان میں بحث ہوگئی کہ جسمانی طور پر طاقتور جانور کا مقابلہ کیسے کیا جاسکتا ہے۔ جس پر دمنہ بولا: تم جسمانی طاقت کو سامنے رکھ کر نتیجہ اخذ کررہے ہو لیکن یہ ضروری نہیں ہوتا کہ جسمانی طور پر طاقتور ہی جیتے۔ اگر آپ کے پاس ذہانت اور ہنر ہے تو آپ وہاں بھی کامیاب ہوسکتے ہیں جہاں طاقت ہار جاتی ہے۔ اس نے کہانی سنانی شروع کی کہ ایک کوے نے کیسے ایک سانپ سے اپنا بدلہ لیا۔ ایک کوے (مادہ) نے ایک پہاڑی پر اپنا گھونسلا بنا رکھا تھا لیکن اس کے قریب سانپ کا بھی بل موجود تھا۔ جونہی کوے کے بچے ہوئے تو ایک دن سانپ آیا اور اس کے بچوں کو کھا گیا۔ اس پر کوا بہت گہرے صدمے کا شکار ہوا۔ وہ گیدڑ کے پاس گیا جو اس کا پرانا دوست تھا اور اس سے مشورہ کیا کہ وہ سوچ رہا ہے کہ جب سانپ سو رہا ہو تو وہ جا کر اپنی چونچ سے اس کی آنکھیں ہی نوچ کر نکال دے اور اسے مار ڈالے۔گیدڑ نے منع کر دیا کہ یہ کام مت کرنا اور کہا کچھ اور سوچتے ہیں جس میں خطرہ بہت کم ہو اور اگر اس نے وہی کچھ کیا جو ہنس راج نے کیکڑے کے ساتھ کرنے کی کوشش کی تھی تو انجام بھی وہی ہوگا۔ گیدڑ نے اسے کہانی سنائی کہ ہنس راج کا جہاں بسیرا تھا وہاں ایک جھیل تھی۔ وہ وہیں جوان اور بوڑھا ہوا اور اب شکار کرنے کے قابل نہیں رہا تھا۔ وہ بھوکا مرنے سے ڈرتا تھا۔ ایک دن وہاں سے ایک کیکڑا گزرا جس نے ہنس راج کی بری حالت دیکھی تو وجہ پوچھی۔ اس پر ہنس راج نے اسے بتایا کہ وہ پریشان ہے کیونکہ ایک دن اس نے دو مچھیروں کو باتیں کرتے سنا تھا کہ یہاں بہت مچھلیاں ہیں اور وہ اب یہاں سے پکڑا کریں گے۔ اب وہ مچھلیاں پکڑیں گے تو اس کا کیا بنے گا‘ وہ کہاں سے کھائے گا؟ اس پر کیکڑا مچھلیوں کے پاس گیا اور انہیں بتایا کہ اس نے کیا سنا ہے۔ مچھلیوں نے فوراً اپنا ایک ایلچی ہنس راج کی طرف بھیجا کہ آپ مشورہ دیں‘ اب کیا کریں۔ وہ خوف زدہ مچھلیاں بڑے خطرے کا سن کر ہنس راج کا چھوٹا خطرہ بھول گئیں۔ ہنس راج نے مشورہ دیا کہ اس خطرے سے بچنے کا ایک ہی حل ہے کہ وہ یہ جھیل چھوڑ کر ایک اور قریبی جھیل میں شفٹ ہوجائیں جہاں وافر خوراک بھی موجود ہے۔ ساتھ ہی ہنس راج نے ان مچھلیوں کو اپنی خدمات بھی پیش کر دیں کہ وہ انہیں اپنی کمر پر بٹھا کر وہاں ڈراپ کر آئے گا۔ مچھلیاں خوش ہوگئیں۔ یوں اب روزانہ ہنس راج دو مچھلیاں اپنی پیٹھ پر بٹھاتا۔ وہاں سے اڑ کر پہاڑ پر جاتا اور مزے سے مچھلیاں کھاتا۔ ایک دن جب وہ حسبِ معمول دو مچھلیاں لینے آیا تو وہاں کیکڑے سے ملاقات ہوگئی۔ کیکڑے نے کہا یار‘ وہ بھی ان حالات میں خوف زدہ ہے۔ کیا وہ اسے بھی ان مچھلیوں کی طرح اپنی پیٹھ پر بٹھا کر اُس جھیل میں لے جائے گا جہاں وہ روز مچھلیوں کو لے جاتا ہے۔ اس پر ہنس راج نے کہا کیوں نہیں‘ بیٹھ جاؤ میری کمر پر اور اسے بھی وہیں لے گیا جہاں وہ مچھلیوں کو لے جا کر کھاتا تھا۔ جب کیکڑے نے وہاں نیچے مچھلیوں کی ہڈیاں دیکھیں تو اسے اپنے ہنس راج دوست پر شک ہوا تو اس نے ہنس راج کی گردن کو وہیں جکڑ لیا اور اس کا گلا دبا دیا۔ وہاں سے وہ واپس ان مچھلیوں کے پاس گیا جو بچ گئی تھیں اور انہیں بتایا کہ ان کا ہمدرد ہی ان کا قاتل تھا جس سے انہوں نے مشورہ مانگ کر مدد لی تھی‘ اس نے ان سب مچھلیوں کو نگل لیا۔ گیدڑ کہنے لگا: اس کہانی سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ چالاک اور مکار ایک دن خود اپنے جال میں پھنس جاتا ہے۔ گیدڑ نے کہا: میرے ذہن میں منصوبہ ہے جس سے تمہیں نقصان نہ ہوگا اور سانپ سے بدلہ بھی لے سکو گے۔ تم ایسا کرو‘ کسی عورت کے کپڑے کا کچھ حصہ کہیں سے اپنی چونچ میں لے کر لوگوں کے اوپر سے گزرو تاکہ وہ دیکھ سکیں تم اپنی چونچ میں کچھ لے کر جا رہے ہو اور جا کر وہاں گرا دو جہاں سانپ کا گھر ہے۔ وہ لوگ فوراً بھاگیں گے تاکہ کپڑا لے سکیں۔ باقی سانپ کا بندوبست وہ خود کر لیں گے۔ کوے نے یہی کیا۔ ایک دن اس نے ایک عورت کو دیکھا جو گھر کی چھت پر نہا رہی تھی اور کپڑے ایک سائیڈ پر رکھے تھے۔ وہ کوا نیچے گیا اور وہاں رکھا نیکلس اپنی چونچ میں ڈال کر اڑ گیا۔ چند لوگ دیکھ رہے تھے‘ وہ اس کے پیچھے دوڑے۔ کچھ دور ان لوگوں نے کوے کو وہ نیکلس کسی جگہ گراتے دیکھا۔ وہاں پہنچے تو نیکلس سانپ کے قریب پڑا تھا۔ انہوں نے پہلے سانپ کو مارا‘ پھر نیکلس اٹھا کر لے گئے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ(رشید صافی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-08-09/52450/86037879</link><pubDate>Sun, 09 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-08-09/52450/86037879</guid><description>مکہ مکرمہ کے الصفا پیلس میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی اعلیٰ ترین قیادت کا غیر معمولی اجلاس اورمکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ خطے کی سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف، ترک صدر رجب طیب ایردوان اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی اس اعلیٰ سطحی بیٹھک کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کی انتہائی حساسیت اور مکمل راز داری تھی۔ روایتی سفارتی برتاؤ کے برعکس اس تاریخی معاہدے کا ایجنڈا اور پیشگی شیڈول ذرائع ابلاغ پر ظاہر نہیں ہونے دیا گیا۔ یہ امر اس بات کا ثبوت ہے کہ تینوں ممالک ایک ایسے مضبوط دفاعی بلاک کی بنیاد رکھ رہے تھے جس کے خلاف مخاصم اور بدخواہ عناصر کو قبل از وقت کسی قسم کے دباؤ یا سازش کا موقع نہ مل سکے۔ مکہ دفاعی معاہدے کی مکمل تفصیلات ابھی منظر پر نہیں آئی ہیں تاہم معاہدے کا مرکزی اور اہم پوائنٹ وہ شق ہے جس کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر ہونے والے حملے کو تمام ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ یہ دفاعی اصول خطے میں طاقت کے عدم توازن کو ختم کرنے کیلئے ایک آہنی ڈھال کی حیثیت رکھتا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں ابھرتے نئے سکیورٹی چیلنجز، امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے تصادم اور اسرائیل کے جارحانہ اور توسیع پسندانہ عزائم کے پیش نظر اس معاہدے کی افادیت دوچند ہو جاتی ہے۔ مشرق وسطیٰ کی حالیہ خونریز جنگوں نے یہ حقیقت عیاں کر دی ہے کہ انفرادی طور پر قائم سکیورٹی ڈھانچے بڑی طاقتوں کے عزائم کا مقابلہ کرنے میں ناکافی ہیں۔ ایران کی اپنے تنازع میں تنہائی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ جغرافیائی و سیاسی چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے لیے صرف انفرادی قوت پر انحصار کافی نہیں بلکہ ایک مربوط اور قانونی طور پر پابند دفاعی اتحاد ناگزیر ہے۔سہ فریقی اتحاد محض وقتی اقدام نہیں ہے بلکہ مسلم دنیا کی نمایاں طاقتور ترین ملٹری، ٹیکنالوجیکل اور مالیاتی صلاحیتوں کا ایک وسیع تر اتحاد ہے۔ ترکیہ نیٹو کی دوسری سب سے بڑی فوج کا حامل ملک ہے جو اپنی 80فیصد دفاعی ضروریات خود تیار کرتا ہے۔ ترکیہ کے ڈرونز، فضائی ٹیکنالوجی اور بحری جہاز سازی کی صنعت نے اسے عالمی دفاعی مارکیٹ میں ایک اہم قوت بنا دیا ہے۔ پاکستان عالم اسلام کی واحد جوہری طاقت اور تجربہ کار عسکری فورس رکھتا ہے۔ مئی 2025ء میں بھارت کے خلاف پاکستان کی تاریخی فتح کو دنیا نے تسلیم کیا ہے۔ جنگوں میں بالعموم فریقین اپنی مرضی کے دعوے کرتے ہیں اور ہر فریق اپنی فتح کا دعویدار ہوتا ہے مگر مئی 2025 ء کی جنگ میں واحد فاتح پاکستان تھا جس کے شواہد انٹرنیشنل اور غیر جانبدار میڈیا نے دنیا کے سامنے رکھے۔ بھارت کے جدید رافیل طیارے پاکستان نے گرائے‘ مگر امریکی صدر ٹرمپ کئی بار بھارت پر طنز کر چکے ہیں کیا اس سے بڑھ کر پاکستان کی پذیرائی اور بھارت کی رسوائی کی مثال ہو سکتی ہے؟ پاکستان کی مسلح افواج نے دہائیوں سے خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب کو تربیتی، تکنیکی اور دفاعی مشاورت فراہم کی ہے جبکہ سعودی عرب خلیج کا سب سے طاقتور ملک، حرمین شریفین کا پاسبان اور عالمی سطح پر ایندھن کا سب سے بڑا برآمد کنندہ ہے۔ سعودی عرب اس اتحاد کو وہ معاشی استحکام اور تکنیکی سرمایہ کاری فراہم کر سکتا ہے جو جدید دفاعی صنعتوں کیلئے ناگزیر ہوتی ہے۔2023ء میں ریاض اور انقرہ کے درمیان ترک ڈرونز کی خرید و فروخت کا سب سے بڑا معاہدہ اور پاکستان کا تکنیکی تعاون اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ ان ممالک کا آپسی دفاعی اتحاد عملًا کئی برسوں سے پروان چڑھ رہا تھا جسے اب مکہ جوائنٹ ڈیفنس معاہدے کی صورت میں قانونی و روایتی ڈھانچے میں ڈھال دیا گیا ہے۔ اس سہ فریقی بلاک کی تشکیل سے تل ابیب سے لے کر واشنگٹن تک سفارتی چہ مگوئیاں ہو رہی ہیں۔ اسرائیلی قیادت بالخصوص بنیامین نیتن یاہو ماضی میں بھی مسلم بلاک کے قیام کو اپنے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دے چکے ہیں۔ ترکیہ کی جانب سے جدید ترینF-35 سٹیلتھ طیاروں کی خریداری پر اسرائیل کے تحفظات اور اس کے خلاف لابنگ اسی خوف کا مظہر تھی۔ تاہم امریکی صدر ٹرمپ کا یہ ردِعمل کہ &#39;&#39;کوئی ہمیں یہ نہیں بتا سکتا کہ ہمیں کیا بیچنا ہے‘‘۔ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکہ اپنے قومی و معاشی مفادات کو اسرائیل کے یکطرفہ مطالبات پر ترجیح دے رہا ہے۔پاکستان اور ترکیہ دونوں امریکہ کے روایتی اتحادی ہیں اور اس کے باوجود اسرائیل کی توسیع پسندانہ پالیسیوں کے سخت ترین نقاد ہیں۔ سعودی عرب کا اسرائیل سے متعلق مؤقف بھی واضح اور اصولی ہے۔ اس پس منظر میں یہ اتحاد امریکہ کو بھی باور کراتا ہے کہ خطے میں امن قائم رکھنے کے لیے محض ایک ریاست کی سرپرستی کے بجائے متوازن دفاعی طاقتوں کو تسلیم کرنا ہو گا۔مکہ دفاعی معاہدہ صرف جنگوں کے خطرات یا طاقت کے مظاہرے تک محدود نہیں بلکہ اس کا ایک اہم پہلو عالمی امن اور مصالحت کاری ہے۔ پاکستان اور ترکیہ نے حالیہ بحرانوں میں جس سفارت کاری کا مظاہرہ کیا عالمی برادری اس کی معترف ہے۔ امریکہ ‘ ایران جنگ کے خاتمے کیلئے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو عالمی سطح پر پذیرائی ملی۔ اسی طرح غزہ بحران کے حل اور فائر بندی کیلئے ترکیہ کا کلیدی کردار مسلم دنیا میں اس کی حیثیت کو مستحکم کر چکا ہے۔ یہ اتحاد دفاعی صلاحیت کے ساتھ ساتھ سفارتی سطح پر بھی ایک بلاک کے طور پر بات چیت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جس سے عالمی طاقتیں ان کے اجتماعی مؤقف کو نظر انداز نہیں کر سکتیں۔ مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ نے ثابت کر دیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اور جنوب ایشیائی خطے میں طاقت کا ایک نیا توازن جنم لے رہا ہے۔ یہ معاہدہ جنگوں کیلئے نہیں بلکہ جنگ کو روکنے کیلئے مؤثر ذریعہ بنے گا۔ اسرائیل جیسے جارحانہ اور توسیع پسند ممالک اب کمزور بستیوں کو اجاڑنے سے پہلے سوچنے پر مجبور ہوں گے۔ بین الاقوامی تعلقات کے مسلمہ اصولوں کے مطابق جب ممکنہ جارح کو یہ معلوم ہو کہ اس کا مقابلہ انفرادی ریاست کے بجائے ایک ایٹمی، ٹیکنالوجیکل اور معاشی طور پر مستحکم بلاک سے ہو گا تو وہ پیش قدمی سے پہلے سو بار سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ اس معاہدے کے دور رس معاشی اثرات بھی مرتب ہوں گے۔ تینوں ممالک کے درمیان دفاعی پیداوار کی مشترکہ ترسیل‘ مشترکہ فوجی مشقوں اور ٹیکنالوجی کی منتقلی سے اربوں ڈالر کا زرِ مبادلہ بچایا جا سکے گا۔ اس سے خلیج اور ایشیا کے درمیان معاشی راہداریوں کو سکیورٹی کی ضمانت ملے گی جس سے غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ممکن ہو سکے گا۔ مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ دورِ حاضر میں مسلم دنیا کی جیوسٹریٹجک اور سکیورٹی حکمت عملی کا سب سے اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ اتحاد اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ دفاعی اور معاشی خود انحصاری کے بغیر عالمی نقشے پر اپنی خودمختاری کا تحفظ ممکن نہیں ہے۔ اگرچہ کچھ سکیورٹی ماہرین کا خیال ہے کہ اس سے خطے میں تناؤ اور کشیدگی کے نئے باب کھل سکتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اتحاد طاقت اور امن دونوں کی علامت ہوتا ہے۔ یہ پیش بندی خطے کو درپیش غیر متوقع خطرات اور توسیع پسندانہ عزائم کے سامنے ایک ناقابل تسخیر دیوار ثابت ہو گی اوراس اتحاد سے خطے میں پائیدار امن و استحکام کی نئی راہیں ہموار کرے گی۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/222_48272610.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>الٹی گنتی(عمران یعقوب خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-08-09/52451/58052538</link><pubDate>Sun, 09 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-08-09/52451/58052538</guid><description>چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری نے مسلم لیگ (ن) کی وفاقی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس کی الٹی گنتی کا باقاعدہ اعلان کیا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے اگلے روز یہ تک کہا کہ یہ نظام ناکام نہیں تھا، اسے ناکام بنایا گیا ہے، (ن) لیگ کا ایک خاص حصہ ایسا ہے جو اپنی ہی جماعت کے منصوبے ناکام بناتا ہے۔ سابق وفاقی وزیر اور مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما خرم دستگیر کا کہنا ہے کہ اکتوبر تک تمام سیاسی جماعتوں کی الٹی گنتی شروع ہو جائے گی۔ اب کس کی الٹی گنتی شروع ہوتی ہے اور کس کی نہیں، یہ تو وقت آنے پر ہی پتا چلے گا، فی الحال میں ایک فلسفے کی بات کرنے لگا ہوں۔یک خلوی جانداروں سے لے کر کثیر خلوی جانوروں تک زندگی کا متنوع دیدہ و نادیدہ جو بھی میلہ لگا ہوا ہے اسے ایک روز ختم ہونا ہے۔ اس حقیقت کو پروردگارِ عالم نے ایک آیت میں بیان کر دیا ہے جس کا مفہوم یہ ہے: ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے۔ یہ آیت بیان کرتی ہے کہ دنیا کی زندگی دھوکے کا سامان ہے اور اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان جہنم کی آگ سے بچے، جنت میں داخل ہو جہاں موت کا کوئی عمل دخل نہیں اور جہاں ایک ابدی زندگی نیکو کاروں کی منتظر ہے۔ یہ آیت یاد دہانی کراتی ہے کہ موت کے بعد سب کو اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے، مستقل زندگی آخرت کی ہے جہاں اعمال کا پورا بدلہ ملے گا۔ اس آیت مبارکہ کو سامنے رکھ کر غور کیا جائے تو یہ حقیقت مترشح ہوتی ہے کہ ہر ذی روح کی الٹی گنتی اس کی پیدائش کے بعد پہلے لمحے سے شروع ہو جاتی ہے۔ اگر کسی ذی روح کی زندگی سو سال ہے تو پہلے گھنٹے میں اس سو سالہ زندگی کا کاؤنٹ ڈاؤن ایک گھنٹہ کم ہو جاتا ہے۔ لوگ سالگرہیں مناتے ہیں۔ پتا نہیں کیوں مناتے ہیں۔ ایک سال گزرنے کا مطلب تو زندگی کی میعاد میں سے ایک سال کا کم ہو جانا ہوتا ہے۔ لوگ پھر بھی خوشی مناتے ہیں۔ کیا زندگی، چاہے وہ سو سال کی ہی کیوں نہ ہو، میں سے ایک سال کم ہو جانا خوشی کی بات ہے؟جہاں تک مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی 8 فروری 2024ء کے عام انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونے والی اتحادی حکومت کا تعلق ہے تو اس کے قیام کے فوراً بعد سے ہی یہ کہا جانے لگا تھا کہ یہ حکومت چند ہفتوں یا مہینوں میں ختم ہو جائے گی۔ اپوزیشن کی جانب سے، پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا پر شائع اور نشر ہونے والے بیانات میں اور سوشل میڈیا پر ریلزاور وی لاگز کی صورت میں یہ پیش گوئیاں شروع ہو گئیں کہ یہ حکومت اتنے دنوں میں ختم ہو جائے گی۔ پیش گوئیوں کی مدت کبھی 90دن، کبھی چھ ماہ اور کبھی ایک سال طے کی جاتی رہی لیکن پھر ہوتا یہ تھا کہ وہ مدت ختم ہو جاتی رہی اور وزیر اعظم شہباز شریف کی حکومت قائم رہی، جو اَب تک قائم ہے۔ علاوہ ازیں ہر بار جب مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے مابین سیاسی معاملات پر اختلافات پیدا ہوئے تو ٹاک شوز میں سوال اٹھایا اور دہرایا جاتا رہا کہ کیا یہ اختلافات اتحادی حکومت کے خاتمے کا باعث بن سکتے ہیں؟ جب پیش گوئی کی ایک مدت گزر جاتی تو توقعات باندھنے والے نئی مدت کی پیش گوئی کر دیتے رہے لیکن یہ سب کچھ اپوزیشن کی جانب سے کیا جاتا رہا۔یہ پہلا موقع ہے کہ حکومت کی ایک اتحادی جماعت کی جانب سے دوسری اتحادی جماعت مسلم لیگ (ن) کے لیے الٹی گنتی شروع ہونے کی بات کی گئی ہے۔ اگرچہ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کی جانب سے اتحادی حکومت کے خاتمے کی کوئی حتمی تاریخ نہیں دی گئی، پھر بھی ان کے سخت بیانات سے کاؤنٹ ڈاؤن کے آغاز کا تاثر ضرور پیدا ہو رہا ہے۔ تو سوال یہ ہے کہ کیا جلد یا بدیر حکومت کا واقعی خاتمہ ہو جائے گا۔ اگلا سوال یہ ہے کہ اس کے بعد کیا ہو گا؟ آیا نئے انتخابات کرائے جائیں گے یا تحریک عدم اعتماد لا کر اپوزیشن کو حکومت بنانے کی دعوت دی جائے گی جیسا کہ 2022ء میں پی ٹی آئی حکومت کے ساتھ کیا گیا تھا؟ اڑھائی سال پہلے جب اتحادی حکومت بنی تو ایک تھیوری یہ پیش کی گئی تھی کہ اتحادی حکومت کی دونوں بڑی پارٹیاں آدھی آدھی مدت اقتدار سنبھالیں گی یعنی اڑھائی سال مسلم لیگ (ن) اور باقی اڑھائی سال پیپلز پارٹی، اسی لیے پیپلز پارٹی نے حکومت میں شامل ہونے کے باوجود حکومتی عہدے قبول نہیں کیے تھے۔ یہ تھیوری کتنی درست ہے ابھی اس بارے میں وثوق کے ساتھ کچھ نہیں کہا جا سکتا۔اس الٹی گنتی کے بیان کے بعد یہ سوال بھی ذہن میں ابھرتا ہے کہ کیا اب اتحادی حکومت کی دوسری پارٹی اقتدار کے مزے لینے والی ہے؟ پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ اہم اتحادی نے وزیر اعظم کو دھاندلی زدہ قرار دے دیا ہے، ویسے بھی وزیر داخلہ نے سسٹم کے ناکارہ ہونے کا بیان دیا ہے، ایسے میں وزیر اعظم شہباز شریف اعتماد کا ووٹ کھو چکے ہیں، وہ دوبارہ اعتماد کا ووٹ لیں یا پھر سسٹم لپیٹ دیں اور نئے الیکشن کی طرف جایا جائے۔ کیا آنے والے وقت میں اپوزیشن کا یہ مطالبہ شدت اختیار کرنے والا ہے؟یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ الٹی گنتی کس کی شروع ہوئی ہے؟ حکومت کی یا اپوزیشن کی؟ یہ سوال بھی اہم ہے کہ الٹی گنتی کس تناظر میں شروع ہو چکی ہے۔وزیر اعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے تو یہ کہا ہے کہ الٹی گنتی والے خود بھی سیدھے ہو جائیں گے اور ان کی گنتی بھی سیدھی ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ پیپلز پارٹی وفاق میں اسی تنخواہ پر کام کرے گی۔ یعنی وہی بات کہ کچھ بھی نہیں ہونے والا، اتحادی حکومت کے معاملات اگر اڑھائی سال ٹھیک رہے ہیں تو آئندہ بھی ٹھیک ہی رہیں گے۔ایک بنی بنائی حکومت کو کیسے اٹھا کر ایک طرف رکھا جا سکتا ہے۔ اور ایک اہم سوال یہ ہے کہ  نئے صوبے بنانے کی خاطر اتنی بڑی تبدیلی لائی جائے گی؟ ان سوالات کے جواب بھی وقت آنے پر ملیں گے۔ فی الحال یہی کہا جا سکتا ہے کہ جس طرح ہر ذی روح کی پیدائش کے بعد اس کی زندگی کی الٹی گنتی شروع ہو جاتی ہے، اسی طرح برسر اقتدار آنے والی ہر حکومت کی بھی ایک میعاد ہوتی ہے اور حکومت کے قائم ہونے کے ساتھ ہی الٹی گنتی شروع ہو جاتی ہے کہ حکومت نے پانچ برس ہی رہنا ہوتا ہے۔ جانا تو سب نے ہی ہے، جلد یا بدیر۔ تو اگر جانا ہی ہے تو اس پر پریشان ہونے والی کیا بات ہے۔ جو نئی حکومت آئے گی اس کے جانے کا وقت بھی طے ہو چکا ہو گا کہ الٹی گنتی ہر ایک کے ساتھ لگی ہوئی ہے۔ کاؤنٹ ڈاؤن سب کے ساتھ لگا ہوا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اس کاؤنٹ ڈاؤن کی ٹک ٹک کسی کو سنائی نہیں دیتی۔ اسی لیے پتا بھی نہیں چلتا اور وقتِ رخصت آ جاتا ہے۔ جس طرح ایک دن سب کی ٹک ٹک ختم ہو جانی ہے، اسی طرح چائے کی پیالی میں اٹھنے والا پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے مابین اختلافات کا یہ طوفان بھی خود بخود تھم جائے گا۔ خاطر جمع رکھیں!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_58350786.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بلوچستان: تصویر کا دوسرا رخ(محمد عبداللہ حمید گل)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-abdullah-hameed-gull/2026-08-09/52452/47795565</link><pubDate>Sun, 09 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-abdullah-hameed-gull/2026-08-09/52452/47795565</guid><description>بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور یہ ملک کے کل رقبے کا 43.6 فیصد ہے۔ اس صوبے کی سرحد مغرب میں افغانستان اور ایران سے ملتی ہے۔ ملک کی تقریباً 5.94فیصد آبادی اس صوبے میں مقیم ہے۔ یہاں 750کلومیٹر طویل ساحلی پٹی ہے جو دنیا کی سب سے اہم سمندری گزرگاہوں میں سے ایک‘ آبنائے ہرمز کے ساتھ لگتی ہے۔ یہ صوبہ تیل‘ گیس‘ تانبے سمیت متعدد قدرتی وسائل سے مالامال ہے۔ سوئی‘ خاران‘ بولان‘ قلات‘ ژوب‘ کوہلو اور زرغون میں تیل و گیس کے بڑے ذخائر موجود ہیں۔ پاکستان کی 56فیصد گیس کی ضروریات یہیں سے پوری ہوتی ہیں مگر کس قدر تعجب کی بات ہے کہ صوبے کے 36میں سے صرف 20اضلاع کو گیس کی سہولت میسر ہے‘ یہاں تک کہ سوئی سے چار کلومیٹر کے فاصلے پر موجود آبادی بھی اس نعمت سے محروم ہے۔ سندھ کے بعد کوئلے کی پیداوار میں بلوچستان دوسرے نمبر پر ہے۔ دیگر قدرتی معدنیات‘ مثلاً کرومائیٹ‘ جپسم اور ماربل بھی یہاں بڑی مقدار میں پائے جاتے ہیں‘ اس کے باوجود صوبے کے 85فیصد دیہات غربت‘ پسماندگی اور بدحالی کے انتہائی نچلے درجے پر ہیں۔ افسوس کہ قیمتی معدنیات کا حامل یہ صوبہ گزشتہ 79سال سے عدم توجہی کا شکار ہے۔ اگر ان وسائل کا صحیح استعمال کیا جائے تو نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے ملک کی سماجی و اقتصادی حالت بہتر ہو سکتی ہے؛ چنانچہ یہ کہنا بے جا نہیں کہ ملک کی خوشحالی بلوچستان کی خوشحالی سے جڑی ہے۔ اس سے بھی انکار ممکن نہیں کہ بلوچستان شروع ہی سے خراب معاشی حالات کا شکار رہا ہے۔ اگر ایک جانب بھارت اندرونی شورش سے فائدہ اٹھا کر نوجوانوں کو بھڑکانے کیلئے بے دریغ پیسہ استعمال کر رہا ہے تو دوسری جانب مقامی قیادت صوبے کے سماجی و اقتصادی حالات کو بہتر بنانے اور اس کے وسائل کو بروئے کار لانے میں ناکام رہی ہے‘ بلاشبہ جاگیردارانہ اور سرداری نظام نے صوبے کا سیاسی نظام تباہ کر دیا ہے۔بلوچستان کے سرداری نظام کی جڑیں برطانوی نوآبادیاتی دور میں پیوست ہیں۔ انیسویں صدی کے آخر میں برطانوی حکومت نے بلوچستان کے وسیع اور دشوار گزار علاقوں پر براہِ راست سول انتظامیہ قائم کرنے کے بجائے بالواسطہ حکمرانی کی حکمتِ عملی اختیار کی۔ منتخب قبائلی سرداروں کو نواب اور سردار کی سرکاری حیثیت‘ جاگیریں‘ مالی مراعات اور انتظامی اختیارات دیے گئے جبکہ ان سے وفاداری اور امن و امان برقرار رکھنے کی ذمہ داری لی گئی۔ اس پالیسی نے سرداروں کی روایتی حیثیت کو مضبوط سیاسی اور انتظامی طاقت میں تبدیل کر دیا۔ یوں برطانوی راج نے اپنے سرحدی مفادات کو کم خرچ میں محفوظ رکھا مگر اس کے ساتھ ایک ایسا طاقتور طبقہ بھی وجود میں آیا جس کے اثرات آج تک محسوس کیے جاتے ہیں۔ قیامِ پاکستان کے بعد یہ نظام ختم نہ ہو سکا۔ وقت کیساتھ کئی قبائلی سرداروں نے اپنی روایتی قیادت کو سیاسی طاقت میں بدل لیا اور وہ گورنر‘ وزیراعلیٰ‘ وفاقی وزیر اور پارلیمنٹ کی رکنیت جیسے اہم عہدوں تک پہنچے۔ اس دوران بلوچستان کی سیاست بڑی حد تک انہی قبائلی شخصیات کے گرد گھومتی رہی۔ یہ بحث آج بھی جاری ہے کہ آیا اس نظام نے قبائلی روایات کو محفوظ رکھا یا بلوچستان کی سماجی و معاشی ترقی میں رکاوٹ پیدا کی۔ البتہ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ نوآبادیاتی دور کی یہ میراث آج بھی بلوچستان کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر رہی ہے۔ لمحۂ فکریہ تو یہ ہے کہ طاقت‘ زمین اور وسائل چند خاندانوں تک محدود رہے جس کے باعث مضبوط متوسط طبقہ ابھر نہ سکا اور عام شہری معیاری تعلیم‘ صحت‘ روزگار اور مؤثر سیاسی نمائندگی سے محروم رہے۔ بلوچستان کی سیاسی تشکیل بھی تاریخی اعتبار سے منفرد رہی۔ 1947ء میں موجودہ بلوچستان ایک متحدہ صوبہ نہیں تھا بلکہ برٹش بلوچستان اور ریاستِ قلات دو الگ سیاسی اکائیاں تھیں۔ برٹش بلوچستان پاکستان میں شامل ہوا جبکہ ریاستِ قلات نے بعد میں الحاق کیا۔موجودہ صوبہ بلوچستان 1970ء میں ون یونٹ کے خاتمے کے بعد وجود میں آیا۔ یہی تاریخی ارتقا آج بھی صوبے کی سیاست‘ شناخت اور وفاق سے تعلقات پر اثر انداز ہوتا ہے۔ تعلیم کے میدان میں بلوچستان کی ابتدائی صورتحال نہایت کمزور تھی۔ قیامِ پاکستان کے وقت پورے خطے میں تعلیمی اداروں کی تعداد انتہائی کم اور شرح خواندگی چند فیصد تھی۔ گزشتہ کئی دہائیوں میں صورتحال میں نمایاں تبدیلی آئی۔ جامعات‘ میڈیکل کالجز‘ کیڈٹ کالجز‘ سکولوں اور فنی تعلیمی اداروں کا جال بچھایا گیا۔ وفاقی حکومت‘ صوبائی اداروں‘ پاک آرمی اور فرنٹیئر کور کی جانب سے بھی سکالرشپس اور دور دراز علاقوں میں تعلیمی سہولیات فراہم کی گئیں۔ اس میں دو رائے نہیں کہ بلوچستان کے امن و امان کی بحالی اور تعمیر و ترقی میں افواجِ پاکستان کا کردار قابلِ تحسین ہے۔ایک زمینی حقیقت یہ بھی ہے کہ بہت سے دور افتادہ علاقوں تک ترقی کے ثمرات نہیں پہنچ سکے۔ بلوچستان کی سیاست میں سرداروں کا کردار ہمیشہ متنازع رہا ہے۔ بگٹی‘ مری‘ مینگل‘ بزنجو‘ جمالی‘ رند اور رئیسانی جیسے قبائل کی قیادت نے مختلف ادوار میں صوبائی سیاست پر گہرا اثر ڈالا۔ بعض سردار وفاقی نظام کا حصہ بنے جبکہ بعض نے ریاستی پالیسیوں سے اختلاف کرتے ہوئے مزاحمتی سیاست اختیار کی۔ کئی قبائلی رہنماؤں نے اپنے علاقوں میں جدید تعلیم‘ سماجی اصلاحات اور مقامی اداروں کے فروغ پر وہ توجہ نہیں دی جو ترقی کیلئے ضروری تھی۔ دوسری جانب ان رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ بلوچستان کے وسائل سے بھرپور استفادہ تو کیا گیا مگر مقامی آبادی کو اس کا منصفانہ حصہ نہیں ملا اور صوبے کو مسلسل نظرانداز کیا گیا۔ نواب اکبر بگٹی‘ خیر بخش مری اور اختر مینگل جیسے رہنماؤں کے سیاسی سفر اس پیچیدہ تاریخ کی عکاسی کرتے ہیں۔ ایک طرف یہ شخصیات صوبے کی سیاست میں اہم کردار ادا کرتی رہیں تو دوسری جانب وفاق اور صوبے کے تعلقات میں کشیدگی کی علامت بھی بن گئیں۔ بعض سردار جبری گمشدگی اور لاپتہ افراد کے مسئلے کو بھی ناانصافی کے پلڑے میں ڈالتے ہیں۔یہ بھی حقیقت ہے کہ بلوچستان کے بعض علاقوں میں شورش اور علیحدگی پسند سرگرمیوں کے باعث ترقیاتی منصوبے متاثر ہوئے‘ سرمایہ کاری محدود رہی اور عام بلوچ شہری سب سے زیادہ مشکلات کا شکار ہوئے۔ کئی قبائلی رہنما بیرونِ ملک منتقل ہو گئے مگر تنازعات کی انسانی قیمت عام بلوچ عوام نے ادا کی‘ جنہیں غربت‘ بے روزگاری‘ تعلیم اور صحت کی کم سہولتوں جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ دوسری جانب یہ سوال بھی اہم ہے کہ جن شخصیات نے برسوں اقتدار‘ وسائل اور سیاسی اثر و رسوخ اپنے ہاتھ میں رکھا انہوں نے اپنے علاقوں میں کتنی ترقی کی بنیاد رکھی؟ اگر صوبے کی پسماندگی کا تمام تر بوجھ صرف وفاق پر ڈال دیا جائے تو مقامی سیاسی قیادت اور قبائلی اشرافیہ کی ذمہ داری کا سوال بھی اپنی جگہ موجود رہتا ہے۔ اسی طرح اگر تمام مسائل کا سبب صرف سرداری نظام کو قرار دیا جائے تو وفاقی پالیسیوں‘ وسائل کی تقسیم‘ امن و امان اور تاریخی محرومیوں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ بلوچستان کی اصل ضرورت الزام تراشی نہیں بلکہ حقیقت پسندانہ تجزیہ ہے۔ یہ صوبہ نہ صرف ملک کی معاشی ترقی بلکہ علاقائی تجارت اور بحیرہ عرب تک رسائی کے حوالے سے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ اسلئے بلوچستان کے مسائل کا حل صرف سکیورٹی اقدامات یا صرف ترقیاتی منصوبوں میں نہیں بلکہ ایک ایسے جامع سیاسی‘ معاشی اور سماجی فریم ورک میں پوشیدہ ہے جس میں عوامی شمولیت‘ شفاف حکمرانی‘ وسائل کی منصفانہ تقسیم‘ معیاری تعلیم‘ روزگار‘ مقامی حکومتوں کے استحکام اور قانون کی بالادستی کو یکساں اہمیت دی جائے۔ بلوچستان کی داستان صرف محرومی یا وسائل کی کمی نہیں بلکہ اعتماد‘ شراکت داری اور اچھی حکمرانی کی بھی ہے۔ اگر ماضی کی تلخیوں سے سبق سیکھ کر وفاق‘ صوبائی قیادت‘ قبائلی رہنما اور عوام مشترکہ مستقبل کی طرف قدم بڑھائیں تو بلوچستان نہ صرف اپنی تقدیر بدل سکتا ہے بلکہ ملک کی مجموعی ترقی کا سب سے مضبوط ستون بھی بن سکتا ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے سمجھنا اور تسلیم کرنا بہت ضروری ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_62843609.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>