<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>سیاسی تنائو اور امنِ عامہ کا مسئلہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-29/11586</link><pubDate>Tue, 29 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-29/11586</guid><description>خیبر پختونخوا میں بڑھتا ہوا سیاسی تناؤ صوبے کے انتظامی معاملات اور امن و امان کی صورتحال پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ ایسے وقت میں جب ملک کا شمال مغربی صوبہ سکیورٹی کے شدید چیلنجز سے نبرد آزما ہے‘ سیاسی محاذ آرائی اور احتجاجی سیاست نے گورننس کی ترجیحات کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ کسی بھی حکومت کیلئے عوام کے جان و مال کا تحفظ اس کی بنیادی ذمہ داری ہوتی ہے اور اس کیلئے مضبوط انتظامی گرفت اور مسلسل توجہ درکار ہوتی ہے۔ تاہم رواں سال خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات انتظامی ذمہ داریوں سے غفلت کی طرف اشارہ کر تے ہیں۔ وفاقی حکومت کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق رواں سال یکم جنوری سے اب تک صوبے میں 680 دہشت گردی کے حملے ہو چکے ہیں جو گزشتہ سال کے دوران اسی مدت میں ہونے والے 508 حملوں سے 33.9 فیصد زیادہ ہیں۔ یہ اعدد و شمار واضح کرتے ہیں کہ شرپسند عناصر صوبے کے امن کو سبوتاژ کرنے کیلئے مسلسل سرگرم ہیں۔ ان حملوں کا سب سے بڑا نشانہ ہماری فرنٹ لائن فورسز بن رہی ہیں۔ رواں سال کی پہلی ششماہی کے دوران خیبر پختونخوا میں 122 پولیس اہلکار دہشت گردی کے سبب شہید ہو چکے ہیں۔ گزشتہ سال اسی مدت کے دوران یہ تعداد 63تھی۔

یعنی پولیس اہلکاروں کی شہادتوں میں 93.7 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یہ غیر معمولی جانی نقصان جہاں صوبے کے امنِ عامہ کو لاحق خطرات کی نشاندہی کر رہا ہے وہیں افسوسناک امر یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جس سیاسی پشت پناہی‘ توجہ اور یکسوئی کی ضرورت ہے وہ سیاسی تناؤ کی نذر ہو رہی ہے۔ جو صوبہ دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہ ہے اور گزشتہ دو دہائیوں سے اس عفریت سے نبرد آزما ہے‘ وہاں صوبائی ایپکس کمیٹی کا پہلا اجلاس وزیراعلیٰ کے عہدہ سنبھالنے کے 112 دن بعد طلب کیا گیا۔ صوبے کی انتظامی نگرانی‘ شہریوں کو ریلیف فراہم کرنا اور امن عامہ کو بہتر بنانا صوبائی حکومت کی اولین اور بنیادی ذمہ داری ہے مگر سکیورٹی کے اس قدر سنگین حالات میں بھی صوبائی قیادت کی توجہ انتظامی معاملات سے زیادہ سیاسی معاملات اور وفاق کے ساتھ جاری محاذ آرائی پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔ جب صوبے کی اعلیٰ انتظامی قیادت کا بیشتر وقت اور توانائیاں سیاسی حکمت عملی میں صرف ہوں گی تو امن و امان کی مانیٹرنگ اور سرکاری اداروں کی کارکردگی کے جائزے کے امور کا متاثر ہونا فطری امر ہے۔ اس وقت پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے نہ صرف حکومت کی بھرپور توجہ اور سٹرٹیجک رہنمائی کی ضرورت ہے بلکہ فنڈز اور جدید حربی آلات بھی درکار ہیں۔
اگرچہ وفاق کی جانب سے صوبائی حکومت کو دانستہ بدانتظامی کا ذمہ دار قرار دیا جا رہا ہے مگر سیاسی الزامات سے ہٹ کر اگر خالصتاً انتظامی نظر سے دیکھا جائے تو یہ بات عیاں ہے کہ اس وقت خیبر پختونخوا کو فعال اور بھرپور انتظامی توجہ کی ضرورت ہے۔ سکیورٹی کے لحاظ سے حساس (ضم شدہ قبائلی اور سرحدی) اضلاع میں انتظامی خلا کو پُر کرنا‘ پولیس اور سی ٹی ڈی کی استعدادِ کار کو بڑھانا اور انٹیلی جنس شیئرنگ کو مضبوط بنانا ایسے کام ہیں جو صوبائی حکومت کی بھرپور توجہ کے متقاضی ہیں۔ دہشت گردی ایک قومی مسئلہ ہے جس سے نمٹنے کیلئے وفاقی اداروں اور صوبائی حکومت کے درمیان مثالی ہم آہنگی ناگزیر ہے۔ جب دونوں اطراف سیاسی تناؤ پایا جاتا ہو تو انتظامی اور سکیورٹی امور میں پیشہ ورانہ تعاون کی فضا متاثر ہونے کا خدشہ بعید از قیاس نہیں۔ ہمارا دشمن اسی خلا کا فائدہ اٹھا رہا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت اپنی آئینی مہ داریوں کا ادراک کرتے ہوئے اپنی ترجیحات کا ازسرِ نو تعین کرے۔ سکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو ثمرآور اور صوبے کو دوبارہ امن کا گہوارہ بنانے کیلئے ضروری ہے کہ اس وقت سیاسی مفادات کو تیاگ کر تمام تر توجہ گورننس اور امنِ عامہ پر مرکوز کی جائے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>آبی قلت کے خدشات(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-29/11585</link><pubDate>Tue, 29 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-29/11585</guid><description>یکم اکتوبر سے شروع ہونیوالے ربیع سیزن کے دوران گزشتہ برس کے مقابلے میں تقریباً 25فیصد آبی قلت کا اندازہ لگایا جارہا ہے ۔ اس کی بڑی وجہ ملک کے دو بڑے ڈیموں میں پانی کی کمی ہے۔ گزشتہ برس ربیع سیزن کے آغاز پر تربیلا اور منگلا ڈیم میں تقریباً 13ملین ایکڑ فٹ پانی موجود تھا جبکہ اس سال یہ ذخیرہ ساڑھے نو ملین ایکڑ فٹ سے بھی نیچے آ چکا ہے۔ آبی ذخائر میں کمی کی بڑی وجوہ میں دریائی بہاؤ میں کمی‘ خصوصاً دریائے جہلم میں کم پانی‘ اور خریف سیزن کے دوران ان ڈیموں سے نسبتاً زیادہ اخراج شامل ہے۔ ربیع کی سب سے اہم فصل گندم ہے۔ 25فیصد آبی قلت کے باعث گندم کی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ گزشتہ ربیع سیزن میں پانی کی قلت نہیں تھی اس کے باوجود ملک میں مقررہ ہدف کے مقابلے میں گندم کی پیداوار میں دو ملین ٹن سے زائد کی کمی دیکھی گئی تھی جس کی وجہ سے حکومت کو اب گندم درآمد کرنا پڑ رہی ہے۔

لیکن اس بار آبی قلت اس بحران کو مزید گہرا کر سکتی ہے۔ اسلئے حکومت کو کسی نئے بحران کا انتظار کرنے کے بجائے ابھی سے گندم کیلئے ہنگامی آبپاشی منصوبہ بنانا چاہیے۔ ارسا اور صوبائی محکمہ آبپاشی کو مشترکہ طور پر ضلع وار پانی کی دستیابی اور گندم کے زیر کاشت رقبے کا تخمینہ تیار کرنا چاہیے تاکہ محدود پانی کو زیادہ اہم اور زیادہ پیداواری علاقوں تک منصفانہ انداز میں پہنچایا جا سکے۔ اسی طرح حکومت کو کاشتکاروں کو کم پانی میں بہتر پیداوار دینے والی گندم کی منظور شدہ اقسام‘ لیزر لینڈ لیولنگ اور جدید آبپاشی کیلئے فوری معاونت بھی کرنی چاہیے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>موسمی فلو یا کورونا؟(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-29/11584</link><pubDate>Tue, 29 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-29/11584</guid><description>لاہور کے چھ سرکاری ہسپتالوں میں ایک ہی دن فلو‘ چیسٹ انفیکشن اور کورونا جیسی علامات کیساتھ دو ہزار سے زائد مریضوں کی آمد صحتِ عامہ کے حوالے سے غیرمعمولی صورتحال کی نشاندہی کرتی ہے۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ ایسے مریضوں کی کورونا ٹیسٹنگ کے دوران مثبت کیسز بھی سامنے آ رہے ہیں۔ اگرچہ محض ان اعدادوشمار کی بنیاد پر کسی بڑے وبائی بحران کا اعلان نہیں کیا جا سکتا تاہم یہ صورتحال بروقت احتیاط اور پیشگی تیاری کی متقاضی ضرور ہے۔حکومت کو چاہیے کہ سرکاری ہسپتالوں میں فلو اور سانس کی بیماریوں کیلئے علیحدہ سکریننگ اور ریپڈ ٹیسٹنگ کاؤنٹرز مکمل استعداد کیساتھ فعال کیے جائیں تاکہ مریض کو بروقت معلوم ہو سکے کہ اسے کورونا ہے‘ انفلوئنزا ہے یا کوئی دوسری سانس کی بیماری۔

اس خصوصی انتظام سے مریض کا علاج زیادہ درست ہو گا اور دوسرے مریضوں اور طبی عملے میں منتقلی کا خطرہ بھی کم کیا جا سکے گا۔ دوسرا سرکاری ہسپتالوں سے کورونا کے مشتبہ اور مثبت کیسوں کے موصول ہونیوالے اعدادوشمار کا مرکزی سطح پر تجزیہ کیا جائے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ مریضوں کی تعداد کس رفتار سے بڑھ رہی‘ کون سے علاقے زیادہ متاثر ہیں اور بیماری کی شدت کیا ہے۔ بروقت ٹیسٹنگ‘ مسلسل نگرانی‘ مناسب طبی وسائل اور عوامی رہنمائی کے ذریعے موجودہ صورتحال کو بڑے صحتِ عامہ کے بحران میں تبدیل ہونے سے روکا جا سکتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>واہ! تارکینِ وطن! واہ!(محمد اظہارالحق)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-09-29/52748/88948020</link><pubDate>Tue, 29 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-09-29/52748/88948020</guid><description>اُن دنوں میں وفاقی وزارتِ ثقافت میں تعینات تھا۔ ثقافتی طائفہ لے کر ہم لوگ امریکہ گئے۔ نیویارک ریاست کا دارالحکومت البنی (Albany) ہے۔ ایک خوبصورت‘ صاف ستھرا شہر! نیویارک شہر سے اڑھائی تین گھنٹے کی ڈرائیو پر! وہاں کے ایک معزز‘ صاحبِ حیثیت پاکستانی تارکِ وطن نے ہمیں کھانے پر مدعو کیا۔ شہر کی سیر بھی کرائی۔ دعوت سے فارغ ہوئے تو وہ مجھے ایک طرف لے گئے اور کہنے لگے: آپ وزارتِ ثقافت میں ہیں‘ کچھ ایسا کیجیے کہ مجھے تمغۂ حسنِ کارکردگی یا کوئی اور اعزاز مل جائے۔ چند لمحے تو مجھے حیرت پر قابو پانے میں لگے۔ پھر انہیں بتایا کہ میں سرکاری مشینری کا ایک عام سا پرزہ ہوں‘ اس کیلئے آپ کوئی بڑی شخصیت پکڑیے۔ پھر میں نے پوچھا کہ اعزازات مختلف فنون‘ پیشوں اور خدمات کے حوالے سے دیے جاتے ہیں‘ آپ کس حوالے سے اعزاز لینا چاہتے ہیں؟ یاد نہیں انہوں نے کیا جواب دیا۔یہ واقعہ مجھے ایک حالیہ خبر پڑھ کر یاد آیا۔ کون سی خبر؟ یہ آگے چل کر بتاتا ہوں۔ اس سے پہلے یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ سب نہیں لیکن تارکینِ وطن کی اچھی خاصی تعداد وہ ہے جو پاکستان کو کچھ دینے کے بجائے پاکستان سے کچھ لینا چاہتے ہیں۔ کوئی یہاں آکر گورنر لگنا چاہتا ہے‘ کوئی وزیر بننا چاہتا ہے‘ کوئی کسی ادارے کا سربراہ یا کارپوریشن کا ایم ڈی تعینات ہونا چاہتا ہے۔ پاکستان کا کوئی حکمران باہر جائے تو اس سے سچی بات کرنے کے بجائے ان کا زور اس کی خدمت اور خوشامد پر ہوتا ہے۔ عمران خان اقتدار میں آئے تو بیرونِ ملک سے بہت سے افراد آکر ان کے ساتھ وابستہ ہو گئے۔ کوئی وزیر لگ گیا‘ کوئی کسی اور طاقتور پوسٹ پر براجمان ہو گیا۔ خان پر کڑا وقت آیا تو یہ چُوری خور مجنوں سارے بیرونِ ملک بھاگ گئے اور اپنی اپنی استراحت گاہوں میں نیم دراز ہو گئے۔ (حکمران مردم شناس نہ ہو تو یہی ہوتا ہے)۔ پوری پوری زندگی باہر گزارنے کے بعد ان تارکین وطن کی سوچ کا معیار یہی ہوتا ہے کہ واپس جا کر گورنر یا وزیر لگ جائیں یا کوئی اعزاز مل جائے۔ ڈاکٹر اس سے مستثنیٰ ہیں۔ بیرونِ ملک مقیم بہت سے ڈاکٹر پاکستان کے ہسپتالوں اور میڈیکل کالجوں کی دیکھ بھال کرنے کی کوششوں میں لگے رہتے ہیں۔ایک عجیب بات نوٹ کرنے والی یہ ہے کہ ہمارے تارکین وطن کئی دہائیوں سے ترقی یافتہ جمہوری ملکوں میں قیام پذیر ہیں۔ اپنے اپنے نئے وطن کی جمہوری قدروں سے استفادہ کر رہے ہیں۔ رات دن دیکھتے ہیں کہ امریکہ‘ یورپ اور آسٹریلیا میں حکمرانوں کیلئے کوئی ہٹو بچو نہیں ہوتا‘ روٹ نہیں لگتے‘ ٹریفک نہیں بند کی جاتی‘ حکمرانوں کی اولاد اور رشتہ داروں کیلئے کوئی پروٹوکول نہیں ہوتا۔ لیکن جب دورے پر آئے ہوئے پاکستانی حکمرانوں کو یہ تارکین وطن ملتے ہیں تو ہاتھ باندھے‘ ماتحتوں کی طرح‘ جی سر‘ جی سر کے سوا کچھ نہیں کہتے۔ تازہ خبر یہ ہے کہ &#39;&#39;وزیراعظم شہباز شریف سے امریکہ میں مقیم پاکستانی نوجوانوں کے وفد نے ملاقات کی... وزیراعظم نے نوجوانوں کو مختلف شعبہ جات میں بہتری کیلئے تجاویز دینے اور پاکستان کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کی دعوت دی‘‘۔ اب یہ معلوم نہیں کہ امریکہ میں مقیم لاکھوں پاکستانیوں اور نیویارک میں مقیم ہزاروں پاکستانیوں میں سے اُن پاکستانیوں کو کون منتخب کرتا ہے جو وزیراعظم پاکستان سے ملاقات کرتے ہیں! پاکستانی حکمرانوں کی روایت تو یہی ہے کہ ملاقات میں یا پریس کانفرنس میں سب &#39;&#39;اپنے بندے‘‘ ہوں۔ تصویر دیکھ کر لگتا ہے کہ سب مؤدب بیٹھے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ پاکستانی‘ نوجوان ہیں یا کاروباری حضرات‘ کیا نہیں جانتے کہ پاکستان میں کیا ہو رہا ہے؟ یہ وزیراعظم سے کیوں نہیں پوچھتے کہ اگر بنگلہ دیش کا وزیراعظم اور کئی اور زیادہ امیر ممالک کے سربراہان‘ عام کمرشل فلائٹ سے سفر کرتے ہیں تو آپ کیوں نہیں کرتے؟ اگر پرانا جہاز اب بھی استعمال ہو رہا ہے تو چیف منسٹر صاحبہ نے بارہ ارب کا نیا جہاز کیوں خریدا ہے؟ اور کیا جمہوری ملکوں میں سرکاری کارندے اور وزیر اس طرح بات کرتے ہیں کہ ہاں خریدا ہے! اور آئندہ بھی سفر کریں گے! اگر امریکہ میں مقیم یہ پاکستانی‘ پاکستانی عوام کے حق میں بات نہیں کر سکتے تو کیا یہ وزیراعظم کو اپنی شکلیں دکھانے اور وعظ سننے کیلئے جاتے ہیں؟ حکومت پاکستان ان کا کیا بگاڑ سکتی ہے؟ یا پھر یہ تارکین وطن صرف اپنی شو شا‘ پھوں پھاں اور ٹھوں ٹھاہ کیلئے پاکستانی حکمرانوں سے ملنے جاتے ہیں کہ تصویر کھنچوائیں گے اور واہ واہ ہو گی۔ کیوں نہیں پوچھتے کہ اربوں روپے ہر ماہ آئی پی پیز کو کیوں دیے جا رہے ہیں جبکہ وہ بجلی صفر پیدا کر رہے ہیں؟ کیوں نہیں پوچھتے کہ پٹرول پر لیوی کس خوشی میں لی جا رہی ہے؟ کیوں نہیں پوچھتے کہ ریٹائرڈ منصفوں کو لاکھوں روپے اور مفت بجلی‘ گیس اور پٹرول کیوں دیے جا رہے ہیں؟ اگر امریکہ میں رہ کر پاکستان کا غم ستا رہا ہے تو کھل کر بات کرو۔ گر یہ نہیں تو بابا پھر سب کہانیاں ہیں!اور وزیراعظم امریکہ میں مقیم ان پاکستانیوں سے &#39;&#39;بھرپور کردار‘‘ ادا کرنے کا کہنے کے بجائے یہ کیوں نہیں کہتے کہ آکر اصل پاکستان کی حالت دیکھو! آؤ اور ہمارے قصبے اور ہمارے گاؤں دیکھو۔ آ کر لاہور‘ کراچی اور اسلام آباد کے بجائے مانسہرہ‘ مردان‘ فتح جنگ‘ ڈی جی خان‘ بہاولنگر‘ شکارپور اور لاڑکانہ جیسے شہر اور قصبے دیکھو۔ پاکستان آکر گداگروں کی تعداد دیکھو! آکر پوچھو کہ ہر ماہ کتنی گاڑیاں چوری ہوتی ہیں اورکتنے ڈاکے پڑتے ہیں اور پولیس پر ہر ماہ کتنے ارب روپے خرچ ہو رہے ہیں؟نیو یارک میں پاکستانی وفد نے‘ وزیراعظم کی قیادت میں بنگلہ دیش کے وزیراعظم جناب طارق رحمان اور ان کی ٹیم سے ملاقات کی۔ مجھے یقین ہے کہ قیمتی سوٹوں اور دیدہ زیب نکٹائیوں میں ملبوس پاکستانی وفد کے ارکان نے دل ہی دل میں وزیر اعظم طارق رحمان کا ٹھٹھا اڑایا ہو گا کہ اس احمق کو دیکھو‘ یہ عام کمرشل پرواز میں آیا ہے۔ اگر ہمارے وفد کا بس چلتا تو ضرور یہ نصیحت کرتا کہ میاں برخوردار!! یہ سادگی یہ کفایت شعاری چھوڑو۔ اقتدار میں ہو تو کچھ عیاشی کر لو۔ بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست!امریکہ کے اس دورے میں ہمارے وزیراعظم نے آئی ایم ایف کی سربراہ سے بھی ملاقات کی! اس ملاقات کا ذکر پڑھ کر ہمیں پنجابی زبان کے نامور ادیب جناب نجم حسین سید کی لکھی ہوئی ایک کہانی یاد آ رہی ہے۔ ایک غریب عورت تھانے میں زمین پر بیٹھی ہوئی تھی۔ تھانے والوں نے مار مار کر اس کا برا حال کر رکھا تھا۔ لباس تار تار ہو چکا تھا۔ چہر ے سے خون بہہ رہا تھا۔ بدن زخموں سے چور تھا۔ تھانے کے ساتھ گلی تھی۔ وہاں سے مولوی صاحب گزر رہے تھے۔ ان کی نظر غریب عورت پر پڑی تو فوراً جلال میں آ گئے &#39;&#39;بدبخت! سر کیوں ننگا ہے؟ دوپٹے سے سر ڈھانکو! جانتی نہیں ننگے سر رہنا کتنا بڑا گناہ ہے!‘‘۔ مجھے یقین ہے کہ آئی ایم ایف کی سربراہ اس بات پر خوش ہوئی ہو گی کہ پٹرول کے ہر لیٹر میں لیوی کا بوجھ شامل ہے۔ اس نے یہ ہدایت بھی دی ہوگی کہ بجلی‘ پانی اور گیس کے بلوں کو اور بھی بھاری کرو تاکہ عوام کی کمر دہری ہو جائے۔ نرخ بالا کُن کہ ارزانی ہنوز! اس نے یہ ہدایت بھی دی ہو گی کہ تنخواہوں اور پنشنوں میں سالانہ اضافہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ لیکن وہ یہ کبھی نہیں پوچھے گی کہ ارکانِ پارلیمنٹ کی تنخواہیں اور مراعات کتنی ہیں؟ چارٹرڈ جہازوں پر سالانہ کتنے ارب روپے اٹھ جاتے ہیں؟ ایوانِ صدر اور وزیراعظم کے دفتر کا بجٹ اتنا زیادہ کیوں ہے؟ اور کئی اور سوالات!! ناصر کاظمی یاد آ گئے:کتنی مردم شناس ہے دنیامنحرف بے حیا ہمِیں سے ہوئی</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_57182973.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>چھوٹی موٹی رقم مارنا دیوثوں کا کام ہے(خالد مسعود خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-09-29/52749/60960293</link><pubDate>Tue, 29 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-09-29/52749/60960293</guid><description>مزے سے اچھی بھلی کافی پی رہے تھے‘ اچانک کھوکھر نے مجھ سے پوچھا: یہ اسلام آباد میں کیا ہو رہا ہے؟ میں نے کہا: فی الحال تو کچھ بھی نہیں ہو رہا۔ کھوکھر کہنے لگا: میرا مطلب یہ ہے کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے اور تمہارا کیا خیال ہے اب آگے کیا ہو گا؟ میں نے کہا: غیب کی باتیں تو اللہ ہی جانتا ہے‘ اس لکھاری کے پاس تو کوئی چڑیا ہے اور نہ ہی کوئی طوطا۔ اسلام آباد کو چھوڑو‘ میں تمہیں ایک واقعہ سناتا ہوں‘ اللہ جانے اس واقعے کا اس صورتحال سے کوئی تعلق ہے یا نہیں لیکن بس ایسے ہی یاد آ گیا ہے‘ اب یاد آ گیا تو میں نے سوچا آپ کو سنا دوں۔ایک کثیر المنزلہ رہائشی عمارت تھی۔ مغرب میں لوگ ہماری طرح بہت زیادہ پھیلاؤ میں نہیں جاتے بلکہ اونچائی کی طرف تعمیرات کرتے ہیں تاکہ زمین کا بہتر اور کم سے کم استعمال کیا جا سکے‘ بہ نسبت اس کے کہ پھیلاؤ میں مکان بنائے جائیں اور زمین کا ضیاع کیا جائے۔ اس عمارت کی دوسری منزل پر ایک شخص رہتا تھا۔ وہ شخص رات گئے دیر سے آتا تھا۔ اس کی ایک بُری عادت تھی کہ وہ رات واپس آ کر اپنے جوتے اس طرح اتارتا کہ ایک جوتا اتارتا اور اسے دھاڑ سے زمین پر دے مارتا‘ پھر دوسرا جوتا اتارتا اور اسی طرح زور سے زمین پر دے مارتا۔ اس کے بعد کپڑے بدلتا اور سو جاتا۔ کچھ عرصہ بعد اس کی نچلی منزل پر عین اس کے گھر کے نیچے رہنے والے پڑوسی نے اس سے کہا کہ اگر میں آپ کو ایک بات کہوں تو آپ برا تو نہیں منائیں گے؟ اس نے کہا: نہیں نہیں‘ بھلا اس بُرا منانے کی کیا بات ہے‘ کہیے جو کہنا ہے۔ نچلی منزل والے پڑوسی نے کہا: آپ رات گئے دیر سے آتے ہیں اور آپ کا کام اس طرح ہے کہ آپ صبح دیر سے اٹھتے ہیں‘ جبکہ مجھے صبح جلدی کام پر جانا ہوتا ہے۔ آپ آدھی رات کو آتے ہیں‘ آ کر جوتے اتار کے زور زور سے فرش پر مارتے ہیں‘ اس سے میری آنکھ کھل جاتی ہے۔ مجھے نیند کے سلسلے میں مسئلہ ہے کہ دوبارہ نیند آنے میں گھنٹہ‘ ڈیڑھ گھنٹہ لگ جاتا ہے۔ میری آپ سے درخواست ہے‘ اگر برا نہ منائیں تو یہ جوتے آرام سے اتار کر رکھ دیا کریں۔ وہ شخص کافی شرمندہ ہوا اور اس نے اپنی گزشتہ کوتاہی پر معذرت کی اور کہنے لگا: مجھے بالکل اندازہ نہیں ہوا کہ واقعی یہ لکڑی کی چھتوں والے گھر ہیں اور میں جب اس کے فرش پر زور سے جوتا مارتا ہوں تو نیچے واقعتاً بہت زیادہ آواز آتی ہو گی۔ آپ میری پچھلی تمام زیادتیوں کی معافی دیجیے‘ میں اب آئندہ سے محتاط رہوں گا اور آپ کو شکایت نہیں ہو گی۔وہ رات کو آیا اور اس نے حسبِ عادت جوتا اتارا اور زور سے زمین پر دے مارا۔ پہلا جوتا مارتے ہی اسے خیال آیا کہ میں نے تو آج صبح ہی اپنے نیچے والے پڑوسی سے وعدہ کیا تھا کہ میں آئندہ محتاط رہوں گا اور یہ حرکت دوبارہ نہیں کروں گا۔ دل ہی دل میں شرمندہ ہوتے ہوئے اس نے آرام سے دوسرا جوتا اتارا اور بڑی احتیاط سے ایک طرف رکھ دیا۔ اگلی صبح اپنی رات کی غلطی پر معذرت کرنے کیلئے اس نے صبح صبح نیچے جاکر پڑوسی کی گھنٹی بجائی۔ وہ باہر آیا تو اس کی آنکھیں نیند سے بوجھل تھیں۔ اس نے نیچے والے پڑوسی کو کہا: معاف کیجیے جناب! اپنی بُری عادت کے ہاتھوں مجبور میں گزشتہ رات ایک جوتا اسی طرح غلطی سے مار بیٹھا تھا‘ تاہم مجھے اپنی غلطی کا فوراً ہی احساس ہو گیا تو میں نے اپنا دوسرا جوتا احتیاط سے اتار کے رکھ دیا۔ اس کے پڑوسی نے تھکی ہوئی آواز میں کہا: جناب! اگر آپ دوسرا جوتا بھی ساتھ ہی مار دیتے تو میں اس کے بعد سو تو جاتا‘ میں تو اس انتظار میں صبح تک جاگتا رہا کہ آپ دوسرا جوتا مار لیں اور میں اس کے بعد آرام سے سو سکوں۔ یہ قصہ سنا کر میں نے کہا: کھوکھر صاحب! میرا خیال ہے آپ کو پی ٹی آئی کی جانب سے لانگ مارچ مؤخر کرنے کے بعد اسلام آباد کی صورتحال سمجھ میں آ گئی ہو گی۔ کھوکھر نے زور سے قہقہہ لگایا اور میز پر زور سے ہاتھ مار کر کہنے لگا: اس صورتحال کی اس سے زیادہ اچھی منظر کشی ہو ہی نہیں سکتی۔گزشتہ رات کامران نے پوچھا کہ اسلام آباد میں لگے کنٹینروں کا یومیہ بیس ہزار روپے فی کنٹینر کے حساب سے کتنا کرایہ بنا ہوگا؟ میں نے کہا: تم نے مرشدی مشتاق یوسفی کی کتاب آبِ گم میں خان صاحب کی شادی کا واقعہ تو پڑھا ہی ہوگا۔ خان صاحب کے نکاح کے وقت حق مہر کا جھگڑا شروع ہوا‘ لڑکی والوں کی طرف سے ایک لاکھ روپے کا مطالبہ تھا جبکہ دلہا والے مبلغ بتیس روپے حق مہر پر بضد تھے۔ راڑ رولا زیادہ بڑھا تو خان صاحب کو خدشہ پیدا ہوا کہ ان کا نکاح کھنڈت میں پڑ رہا ہے۔ انہوں نے سہرا ہٹا کر بآواز بلند کہا: میں تو پانچ لاکھ کا مہر باندھوں گا۔ ماموں کے شور مچانے پر خان صاحب نے کہا &#39;&#39;اگر مجھے نادہندہ ہی ہونا ہے تو بڑی رقم ماروں گا‘ چھوٹی رقم مارنا رزیلوں اور دیوثوں کا کام ہے‘‘۔ برادرم! فکر ان کو ہوتی ہے جنہوں نے پیسے دینے ہوتے ہیں۔ یہ موٹی رقم بنتی ہے کوئی چھوٹی موٹی نہیں کہ اسے مار کر حکومت اپنا شمار رزیلوں اور دیوثوں میں کروائے۔وزیر خزانہ نے فرمایا ہے کہ ایک روز کی کاروباری بندش سے ملک کا ایک سو بیس ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے۔ اتنی بڑی رقم کا سن کر ایک اور واقعہ یاد آ گیا۔ ایک شخص ایک ہوٹل میں بیٹھا شربت پی رہا تھا‘ اس کے سامنے نہایت اعلیٰ اور مہنگے قسم کے شربت کی بوتل رکھی تھی۔ سامنے والی میز پر بیٹھا ہوا ایک رضاکار قسم کا خدائی خدمتگار اس کے پاس آیا اور کہنے لگا: جناب! اگر آپ کے چند منٹ لے لوں تو آپ برا تو نہیں منائیں گے؟ اس شخص نے نہایت خوش اخلاقی سے مسکراتے ہوئے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا اور کہنے لگا: اس میں برا منانے کی کیا بات ہے‘ تشریف رکھیں۔ پھر شائستگی سے پوچھا کہ کیا وہ اس کیلئے شربت منگوائے؟ اس شخص نے انکار میں سر ہلاتے ہوئے منع کیا اور کہنے لگا کہ میں شربت پینے والوں پر اس کی وجہ سے پڑنے والے معاشی اثرات پر تحقیق کر رہا ہوں۔ اگر آپ اجازت دیں تو میں آپ سے ایک دو سوالات کرنا چاہتا ہوں۔ اس نے شربت کا ایک گھونٹ بھرتے ہوئے کہا کہ پوچھیے۔ سوال کیا کہ آپ کتنے عرصے سے شربت پی رہے ہیں؟ اس نے جواب دیا کہ گزشتہ تقریباً چالیس سال سے۔ پھر پوچھا کہ آپ کون سا شربت پسند کرتے ہیں۔ اس نے بتایا کہ وہ فلاں کمپنی کا شربت پیتا ہے۔ اگلا سوال پوچھا کہ روزانہ کتنے گلاس شربت پیتے ہیں۔ اس نے جواب دیا کہ میں روزانہ تین چار گلاس پیتا ہوں۔ سوال کیا شربت کی ایک بوتل کی کیا قیمت ہے؟ جواب ملا کہ اس کی قیمت تقریباً اسّی ڈالر ہے۔ سوال کرنے والے نے اپنے فون پر کیلکولیٹر سے حساب کر کے بتایا کہ وہ گزشتہ چالیس سال کے دوران گیارہ لاکھ 68 ہزار ڈالر کا شربت پی چکا ہے۔ پھر اسے سمجھانے کے انداز میں کہنے لگا: سر! اگر آپ یہ سارے پیسے بچا لیتے تو اس رقم سے وہ سامنے والی بلڈنگ خرید سکتے تھے۔ یہ بات سن کر اس شخص نے مسکرا کر شربت کا ایک بڑا سا گھونٹ بھرا اور اس سے پوچھا کہ کیا وہ بھی اس سے ایک دو سوال پوچھ سکتا ہے۔ اجازت پاکر اس نے سوال کیا کہ کیا وہ شربت پیتا ہے؟ اس شخص نے جواب دیا کہ نہیں ۔ اگلا سوال پوچھا: آپ نے شربت نہ پی کر جو بچت کی ہے کیا اس سے آپ نے سامنے والی بلڈنگ جیسی کوئی عمارت خریدی ہے؟ جواب میں انکار سن کر اس پہلے شخص نے دوبارہ شربت کی ایک چسکی لی‘ پھر تھوڑا آگے جھکا اور آہستہ سے بولا: لیکن! وہ سامنے والی بلڈنگ میری ہی ہے۔ میرا سوال صرف اتنا ہے اگر ہڑتالیں نہ کرنے کے کارن ہمیں روزانہ واقعی ایک سو بیس ارب روپے بچ رہے ہیں تو پھر ہماری بلڈنگ کہاں ہے؟</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90500073.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>اجتماعی دانش(ڈاکٹر حسین احمد پراچہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-09-29/52750/89947478</link><pubDate>Tue, 29 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-09-29/52750/89947478</guid><description>ایک دو روز پہلے والے‘ ویک اینڈ پر چند اہلِ علم و دانش احباب نے لاہور میں ہمارے غریب خانے کو رونق بخشی۔ خوب نشست رہی۔ مختلف نقطہ ہائے نظر کو سننے کا موقع ملا مگر ایک نکتے پر اجماعِ احباب تھا۔ وہ نکتہ کیا تھا‘ اس کا ہم کالم کے آخر میں ذکر کریں گے۔ان احباب میں بعض بڑی یونیورسٹیوں کے نامور اساتذہ‘ ایک اخبار کے ایڈیٹر‘ ممتاز کالم نگار و اینکر اور اکّا دکّا سیاستدان بھی تھے۔ اس دوران میں تو میزبان ہونے کے ناتے ایک اچھا سامع بن کر دانشوروں کی آراء سنتا رہا۔ جہاں اتنے ماہرینِ گفتگو اپنی سخنرانی سے محفل کو خرد افروزی کا درس دے رہے ہوں وہاں کوئی سامع بھی تو ہونا چاہیے۔ سوچا کہ اپنے قارئین کو بھی اس محفل میں شریک کر لیا جائے‘ جس میں عالمی منظر نامے سے لے کر علاقائی امن و امان اور پاکستان کے تشویشناک داخلی حالات پر احباب نے کھل کر گفتگو کی۔ اس محفل کی اچھی بات یہ تھی کہ اہلِ علم نے واقعات پر کم اور اُن کے اسباب اور حل پر زیادہ توجہ دی۔ یو این او کی جنرل اسمبلی کے حوالے سے شرکا ئے مجلس کا اتفاق تھا کہ یہ ادارہ محض ایک سالانہ ڈیبیٹنگ سوسائٹی بن کر رہ گیا ہے۔ جس ملک یا سپر پاور کا دل چاہتا ہے اور اپنے مفادات کی خاطر دوسرے ملک پر چڑھ دوڑتا ہے‘ اور اس لشکر کشی اور بمباری کو اپنا حق سمجھتا ہے۔ یہ تو اقوام متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی ہے۔ جب معاملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پہنچتا ہے تو وہاں حملہ آور یا اس کے حواری ویٹو پاور استعمال کر کے اپنے خلاف قرارداد بھی پاس نہیں ہونے دیتے۔ احباب نے پاکستان کے اس مؤقف کو سراہا کہ سلامتی کونسل میں ویٹو کا طریق کار یکسر ختم ہونا چاہیے تاکہ حق و انصاف سے فیصلے ہو سکیں۔اہلِ محفل نے پاکستان کی شٹل ڈپلومیسی اور امریکہ اور ایران کو ایک میز پر لانے‘ آپس میں بات چیت کرنے اور اسلام آباد ایم او یو پر دستخط کروانے کے سارے عمل کی بھی بہت تعریف کی۔ اس وقت دونوں ملکوں کے مذاکرات ڈوب ڈوب کر ابھری ناؤ کا منظر پیش کر رہے ہیں‘ تاہم سب اہلِ فکر و نظر کی یہ رائے تھی کہ پاکستان کو مذاکرات کے عمل سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے اور انہیں کامیاب کرانے کیلئے مزید تگ و دو کرنی چاہیے۔ دوستوں نے یو این او میں وزیراعظم شہباز شریف کی تقریر کے مندرجات پر بھی گفتگو کی۔ خاص طور پر ان کی تقریر کا یہ نکتہ اہم تھا کہ مکہ دفاعی اتحاد علاقائی امن کا ضامن ہے۔ گفتگو کے دوران اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ پاکستان ایران کے ذریعے سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی کو ختم کرائے۔ اس کے علاوہ احباب کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان کے توسط سے عرب ممالک اور ایران آپس میں قریب آ رہے تھے۔ اس ضمن میں پاکستان اپنی تگ و دو کو تیز تر کرے۔ یہ بہترین موقع ہے کہ ان ریاستوں کو قائل کیا جائے کہ تم سب کا دفاع باہمی اتفاق و اتحاد میں مضمر ہے۔تمام شرکائے محفل اس بات پر نہایت آزردہ اور رنجیدہ تھے کہ اسرائیل اہلِ غزہ کی دو اڑھائی برس تک نسل کشی کرتا رہا اور تقریباً دو ارب آبادی والے 57مسلم ممالک اسے روک نہیں سکے۔ دوستوں کا کہنا تھا کہ غزہ کی چوبیس‘ پچیس لاکھ آبادی میں سے تقریباً ایک لاکھ کا قتلِ عام‘ جن میں ہزاروں بچے بھی شامل ہیں‘ نہایت درد ناک اور افسوسناک ہے۔ تقریباً پونے دو لاکھ زخمی ہیں۔ عوامی سطح پر تو سارے یورپ و امریکہ میں صہیونی حکومت اور نیتن یاہو کی قیادت کی سخت مذمت کی جاتی رہی۔ نیتن یاہو کی یو این او جنرل اسمبلی میں حالیہ تقریر کے دوران 77 سے زائد ممالک کے واک آؤٹ سے بھی ثابت ہو گیا کہ اسرائیل کی انسانیت سوز پالیسیوں اور غزہ میں قتلِ عام کو شدید نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اکثر دوستوں کا یہ خیال تھا کہ پاکستان سمیت تمام مسلم ممالک کو‘ بالخصوص مکہ دفاعی معاہدے کے فورم سے ارضِ فلسطین پر اسرائیلی حملوں اور اس کے غاصبانہ قبضوں کو اپنی ریڈ لائن قرار دینا چاہیے۔عالمی و علاقائی حالات کے تجزیوں کے بعد بات اپنے گھر‘ پاکستان کی طرف مڑ گئی۔ گزشتہ کئی برسوں سے آئے روز خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ہونے والی دہشت گردانہ اور ظالمانہ وارداتوں پر ہر کوئی شدید دکھ اور کرب محسوس کرتا ہے۔ سکیورٹی فورسز ان وارداتوں کے خاتمے کیلئے مسلح کارروائیاں کر رہی ہیں مگر ابھی تک سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کا مکمل طور پر قلع قمع نہیں کیا جا سکا۔ احباب نے گزشتہ چند ہفتوں کے تناظر میں بڑھتے ہوئے سیاسی و معاشی عدم استحکام کا بھی جائزہ لیا۔ اس کے بعد ساری گفتگو اس بات پر مرتکز رہی کہ ہم اس عدم استحکام سے نجات کیسے حاصل کر سکتے ہیں؟ تقریباً دو تین ہفتوں سے وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا سے اسلام آباد آنے والے لانگ مارچ کا راستہ روکنے کیلئے اسلام آباد کو کنٹینروں کا شہر بنا دیا ہے۔ دیوارِ چین کی طرح یہاں کنٹینروں کی دیواریں اور فصیلیں جگہ جگہ کھڑی کر دی گئیں تاکہ احتجاج کرنے والے یہاں نہ پہنچ سکیں۔ احتجاج کرنے والوں کا کہنا ہے کہ جب حکومتی ایوان بات سننے سے انکار کرتے ہیں تو پھر اظہارِ تمنا و التجا کیلئے سڑکوں اور شاہراہوں پر آنا پڑتا ہے۔ گزشتہ آٹھ دس روز سے حکومت نے پشاور سے اسلام آباد آنے والی موٹر وے اور جی ٹی روڈ دونوں کو بند کر رکھا ہے۔ ایسی &#39;&#39;احتیاطی حکمت عملی‘‘ بھی حیران کن ہے کہ جس کے نفاذ سے عام بندے کی زندگی بھی اجیرن ہو جائے۔ جب دونوں طرف سپلائی کی آمد و رفت رک جاتی ہے تو زندگی کی نبض ڈوبنے لگتی ہے۔ حالات کی اسی سنگینی کے پیش نظر وزیراعظم نے بیرونِ ملک سے ریل کے ذریعے ڈیزل پشاور پہنچانے کی ہدایت جاری کی۔ تاہم تحریک انصاف نے 27ستمبر کا دھرنا ملتوی کر کے چار اکتوبر کو اسلام آباد آنے کی نئی تاریخ دے دی اور خود مذاکرات کی پیشکش کی۔ مگر ایسے ایسے دانشمند وزرا بھی ہیں ‘ جو جلتی پر پانی ڈالنے کے بجائے پٹرول ڈالتے اور کہتے ہیں کہ ہمت ہے تو آؤ لانگ مارچ کرو۔ تبادلۂ خیال کی اس دوستانہ نشست کے خلاصۂ کلام کا اہم ترین نکتہ یہ تھا کہ قدرت نے پاکستان کے شانوں پر ثالثی اور صلح جوئی کی جو ذمہ داری ڈالی ہے اسے کماحقہٗ انجام تک پہنچنا چاہیے۔ غزہ اور دیگر ارضِ فلسطین و لبنان میں لگی ہوئی آگ کو بجھایا جائے۔ اہلِ فلسطین اللہ کے بعد اہلِ پاکستان سے امید لگائے بیٹھے ہیں۔ شہباز شریف نے جنرل اسمبلی میں اپنے خطاب کے دوران جس دل سوزی کے ساتھ غزہ کے شہید بچوں کا ذکر کیا ہے اسے عربی ترجمے کے ساتھ فلسطین کے سرکاری و غیر سرکاری میڈیا میں شیئر کیا جا رہا ہے۔ اہلِ فکر و نظر نے قرضوں پر چلنے والی پاکستانی معیشت پر بھی بے حد تشویش کا اظہار کیا۔ حکمران قرضوں کی مے پر مست ہیں۔ وہ شاہانہ اخراجات کر رہے ہیں۔ پرانی فیکٹریاں بند ہو رہی ہیں جبکہ نئی قائم نہیں ہو رہیں۔ بیرونی سرمایہ کاری آ نہیں رہی ملک کے اندر سے ہو نہیں رہی۔ عام آدمی زندہ کیسے ہے‘ یہ کسی کرشمے سے کم نہیں۔ تعلیم یافتہ نوجوان مایوس ہیں کیونکہ حکومت کے پاس ملازمتیں نہیں اور نجی سیکٹر پھیلنے کے بجائے سکڑ رہا ہے۔معیشت کے پھلنے پھولنے کیلئے سازگار سیاسی فضا اور عدل و انصاف اور قانون کی حکمرانی بنیادی شرائط کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس نشست کے شرکا کی رائے میں حکومت اور تحریک انصاف ضد چھوڑیں‘ بیٹھ کر مذاکرات کریں۔ پہل ہمیشہ ریاست کرتی ہے۔ پیپلز پارٹی حکومت کو گورنر راج کا راستہ نہ دکھائے‘ بات بڑھی تو دور تک جائے گی۔ حکومت اَنا کے زعم سے نکلے‘ پی ٹی آئی ہر طرح کے مخمصے کو خیرباد کہے اور کھلے دل کے ساتھ مذاکرات کرے۔ یکبارگی سب کچھ حاصل ہونا ممکن نہیں‘ جب ملاقات ہوگی‘ بات آگے بڑھے گی تو اور کھل جائیں گے دو چار ملاقاتوں میں۔ میں نے کالم کے آغاز میں عرض کیا تھا کہ ایک نکتے پر اجماع احباب تھا وہ یہ کہ &#39;&#39;اجتماعی دانش‘‘ سے نکلنے والا حل دیرپا ہوتا ہے اور سب کیلئے قابلِ قبول بھی۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_70033906.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>غیر بینکاری مالیاتی ادارے کمزور کیوں؟(شاہد کاردار)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-kardar-/2026-09-29/52751/19920844</link><pubDate>Tue, 29 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-kardar-/2026-09-29/52751/19920844</guid><description>ہم نے مالیاتی نظام سے متعلق گزشتہ مضمون میں دیکھا تھا کہ پاکستان کے اس میدان پر کمرشل بینکوں کا غلبہ ہے جبکہ غیر بینکاری مالیاتی ادارے جیسے سٹاک مارکیٹ‘ میوچل فنڈز‘ پنشن فنڈز وغیرہ کا مارکیٹ میں حصہ بہت کم ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ حکومت ہے جو ہر سال بینکوں سے بھاری قرض لیتی ہے اور خود بھی قومی بچت ایسی سکیموں کے ذریعے سرمایہ اکٹھا کرتی ہے۔ کاروباری اداروں کیلئے سٹاک مارکیٹ سے سرمایہ اکٹھا کرنا ایک پیچیدہ عمل ہے جبکہ بینکوں سے قرض لینا نسبتاً آسان۔ ہمارے مالیاتی نظام کے بینکوں کی طرف جھکاؤ کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستان میں ایسی ریگولیشنز نافذ ہیں جو مالیاتی اداروں کے درمیان مقابلے کو مشکل بنا دیتی ہیں۔ پاکستان کے ریگولیٹرز بینکوں کو ادائیگی کے قابل (سالوینٹ)‘ وافر لیکویڈیٹی کے حامل اور محفوظ رکھنے میں خاصی حد تک کامیاب رہے ہیں‘ لیکن یہی ریگولیٹری ڈھانچہ ایسے ادارے بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکا جو بینکوں کا مقابلہ کر سکیں۔ دوسروں کی رقم پر بڑے پیمانے کا رِسک لینے والے اداروں (جیسے بینک) کیلئے بھاری سرمایہ رکھنے کی شرائط جائز ہو سکتی ہیں لیکن بینکوں کیلئے بنائی گئی شرائط کو مخصوص شعبوں میں کام کرنے والے مالیاتی اداروں پر لاگو کرنے سے ان کو ناقابلِ برداشت اخراجات کرنا پڑتے ہیں اور یہ نئے اداروں کے مارکیٹ میں داخلے میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ میوچل فنڈز اس مسئلے کی واضح مثال ہیں۔ یہ فنڈز لوگوں سے بینکوں کی طرح ڈپازٹس وصول نہیں کر سکتے۔ انہیں لوگوں کو قائل کرنا پڑتا ہے کہ وہ اپنی بچت ان فنڈز میں لگائیں یا انہیں ایکویٹی کے ذریعے سرمایہ اکٹھا کرنا پڑتا ہے۔ ایک راستہ یہ بھی ہے کہ وہ بینکوں سے قرضہ لیں اور یہ قرض اکثر تجارتی شرح سود پر حاصل ہوتا ہے۔ اس وجہ سے اگر وہ شرح سود بڑھا کر کسی پارٹی کو قرض دیں تو یہ اتنا آسان نہیں۔ اگر وہ شرح سود نہ بڑھائیں تو انہیں اپنے منافع کا مارجن کم کرنا پڑے گا۔ ایک اور مسئلہ ہے کہ ایسے مالیاتی پراڈکٹس جن میں بینک اور کیپٹل مارکیٹ دونوں شامل ہوں‘ ان کیلئے دو اداروں کی منظوری درکار ہوتی ہے‘ سٹیٹ بینک آف پاکستان اور سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن۔ جب کسی کام میں دو ریگولیٹری ادارے ملوث ہوں تو نئی مصنوعات تیار کرنے کی رفتار سست پڑ جاتی ہے اور یہ عمل پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ قواعد صارفین کے تحفظ کیلئے بنائے جاتے ہیں لیکن اگر انہیں ناقص انداز میں ترتیب دیا جائے تو وہ صارفین کے بجائے موجودہ بڑے کھلاڑیوں (یعنی بینکوں) کو تحفظ دینے لگتے ہیں۔ اس کہانی کا سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ بینکوں نے اس صورتحال کے ردِعمل میں کیا اقدامات کیے ہیں۔ ہوا یہ کہ بینکوں نے دیگر مالیاتی اداروں سے مسابقت کرنے کے بجائے اکثر ایسے مالیاتی ادارے خود ہی قائم کر لیے۔ بینکوں نے انہیں خرید لیا یا ان پر کنٹرول حاصل کر لیا۔ اس وقت بہت سی بڑی اثاثہ جاتی مینجمنٹ کمپنیاں‘ انشورنس کمپنیاں اور میوچل فنڈز بینکوں کی ملکیت میں ہیں یا ان کے کنٹرول میں ہیں؛ چنانچہ بینک اور دیگر مالیاتی ادارے بظاہر حریف نظر آتے ہیں لیکن درحقیقت کئی مالیاتی ادارے بینکوں ہی کا حصہ ہیں۔ اس سے حقیقی مقابلہ پیدا کیے بغیر یہ تاثر پیدا ہو جاتا ہے کہ لوگوں کے پاس چوائس موجود ہے‘ مثلاً میوچل فنڈز لوگوں کی بچت حاصل کرکے اس رقم کو سرمایہ کاری میں لگاتے ہیں لیکن میوچل فنڈز کی 80 فیصد سے زیادہ سرمایہ کاری بینکوں میں جمع رقوم‘ حکومت کے قلیل مدتی ٹریژری بلز یا حکومت کی سرپرستی میں جاری کیے گئے سکوک بانڈز میں لگی ہوئی ہے؛ چنانچہ بڑی مقدار میں سرمایہ بالآخر دوبارہ حکومت کے پاس یا بینکاری نظام میں واپس چلا جاتا ہے۔ یوں بینکوں کا اس بات پر کنٹرول رہتا ہے کہ رقم کون جمع کرتا ہے‘ اسے کہاں لگایا جاتا ہے اور بالآخر اسے کون حاصل کرتا ہے۔پاکستان کے مالیاتی نگران ادارے بجا طور پر یہ خیال رکھتے ہیں کہ سب سے پہلے مالیاتی اداروں کی ادائیگی کی صلاحیت دیکھی جائے۔ ان کے پاس نقد رقم کی دستیابی کو جانچا جائے۔ ریگولیٹری ادارے صارفین کے تحفظ اور پورے مالیاتی نظام کو لاحق خطرات کے بارے میں سوچتے ہیں۔ یہ سب امور نہایت اہم ہیں لیکن ان کے نتیجے میں ہمارے پاس ایک مستحکم بینکاری نظام تو موجود ہے‘ لیکن مالیاتی نظام ابھی تک غیر ترقی یافتہ ہے۔ اچھے ریگولیٹر کو ان دو قسم کے احتیاطی تقاضوں پر مبنی اقدامات میں فرق کرنا چاہیے۔ ایک تو وہ شرائط ہیں جو صارفین کے تحفظ کیلئے ضروری ہیں اور دوسری وہ شرائط ہیں جن کی وجہ سے ریگولیٹری تقاضے پورا کرنے کے اخراجات بہت بڑھ جاتے ہیں اور وہ نئے اداروں کے مالیاتی مارکیٹ میں داخلہ کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ پھر بینکوں کو سٹیٹ بینک کی پشت پناہی بھی حاصل ہے۔ اس میں رعایتی قرض کی سہولت اور ہنگامی نقدی کی سہولت کی حدیں بھی شامل ہیں۔ یہ سہولتیں صرف بینکوں کیلئے دستیاب ہیں جبکہ غیر بینکاری مالیاتی اداروں کو ایک ایسے بکھرے ہوئے اور غیر ترقی یافتہ نظام کے تحت کام کرنا پڑتا ہے جس میں ڈپازٹس رکھنے کی اجازت نہیں۔ مزید برآں‘ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران ان اداروں کیلئے ریگولیٹری ڈھانچے میں کئی بار تبدیلیاں کی گئیں لیکن یہ اب تک ایک مستحکم اور جامع نظام کی شکل اختیار نہیں کر سکا۔ اس کے برعکس‘ بینکاری سے متعلق ریگولیشن کو اس لحاظ سے برتری حاصل ہے کہ ایک طویل عرصے سے مستحکم ریگولیٹری ڈھانچہ موجود ہے جس کی بدولت اس میں ریگولیٹری پیش بینی کا عنصر پیدا ہو چکا ہے۔ریگولیٹری میدان باضابطہ طور پر ہموار ہو سکتا ہے لیکن معاشی میدان ہموار نہیں کیونکہ ایک دوسرے سے مقابلہ کرنے والے مالیاتی ادارے وسیع تر معنوں میں ایک جیسی (یا قابلِ موازنہ) معاشی شرائط پر کام نہیں کر رہے۔ ریگولیشن میں یہ خلا غیر بینکاری اداروں کو ادارہ جاتی ڈپازٹرز کیلئے فطری طور پر زیادہ پُرخطر بنا دیتا ہے۔ اس وجہ سے بڑے کاروباری صارفین کمرشل بینکوں کی جانب جانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان مزید غیر بینکاری مالیاتی اداروں کو زیادہ تعداد میں اجازت نامے تو جاری کر رہا ہے لیکن یہ عمل بامعنی مسابقت پیدا کرنے کے حوالے سے بہت کم نتیجہ خیز ثابت ہوا ہے۔ جہاں تک صارف کا تعلق ہے‘ اسے اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ اس کی رقم کو قانونی طور پر ڈپازٹس کہا جائے یا میوچل فنڈز میں سرمایہ کاری یا حکومت کے قومی بچت کا سرٹیفکیٹ سمجھا جائے۔ وہ محض اپنی بچت کو منافع کیلئے مختص کرتا ہے۔اصل خرابی کیا ہے؟ پاکستان کے مالیاتی نظام پر صرف اس لیے بینکوں کا غلبہ نہیں ہے کہ یہ باقی سب اداروں سے بہتر ہیں‘ بلکہ یہ اس لیے حاوی ہیں کہ پورا نظام انہیں دوسروں کی نسبت زیادہ فوائد فراہم کرتا ہے۔ حکومت کو بڑی مقدار میں قرض لینے کی ضرورت ہوتی ہے اور بینک اس کا سب سے آسان ذریعہ ہیں۔ کاروباری اداروں کیلئے شیئرز یا بانڈز کی مارکیٹس سے رقم حاصل کرنے کے مقابلے میں بینکوں سے قرض لینا آسان ہے۔ پنشن اور بیمہ فنڈز چھوٹے ہیں‘ کیپٹل مارکیٹس کمزور ہیں اور بعض اوقات ریگولیشنز نئے مالیاتی اداروں کیلئے مسابقت کرنا مہنگا اور مشکل بنا دیتے ہیں۔ نتیجہ ایک ایسا نظام ہے جس میں بہت سے مالیاتی ادارے موجود ہیں لیکن اس میدان میں بینک بدستور سب سے طاقتور کھلاڑی ہیں۔ اس مسئلے کا حل محض مزید مالیاتی ادارے قائم کرنا نہیں ہے۔ پاکستان کو ایسے نظام کی ضرورت ہے جس میں مختلف اقسام کے مالیاتی ادارے منصفانہ بنیادوں پر مقابلہ کر سکیں۔ قواعد کا انحصار اس بات پر ہونا چاہیے کہ کوئی ادارہ کیا رسک مول لیتا ہے نہ کہ محض اس بات پر کہ اسے بینک‘ میوچل فنڈ یا کسی اور قسم کا مالیاتی ادارہ کہا جاتا ہے۔ ہدف سادہ ہونا چاہیے: لوگوں اور کاروباری اداروں کے پاس یہ حقیقی اختیار ہونا چاہیے کہ وہ اپنی بچت کہاں رکھیں اور منافع کہاں سے حاصل کریں۔ جب تک ایسا نہیں ہوتا پاکستان کے پاس کاغذ پر تو مالیاتی ادارے موجود رہیں گے لیکن حقیقت میں ایک ہی غالب کھلاڑی ہوگا یعنی بینک۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_78012569.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>طالبان کے الزامات اور حقائق(رشید صافی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-09-29/52752/14050587</link><pubDate>Tue, 29 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-09-29/52752/14050587</guid><description>افغان طالبان نے پاک افغان سرحد سے متصل افغان صوبوں کنڑ اور نورستان میں اپنے سرحدی محافظوں پر ہونے والے حملوں کا الزام پاکستان پر عائد کیا ہے۔ افغان حکام کا دعویٰ ہے کہ سرحدی اہلکاروں کو نشانہ بنانے والے عناصر کو پاکستان کی سرپرستی حاصل ہے۔ اس الزام کیلئے افغان طالبان کے پاس اس کے سوا کوئی منطق نہیں کہ نورستان اور کنڑ کا علاقہ پاکستان کے ضلع چترال سے متصل ہے۔ کسی بھی ملک کی سرحدی جغرافیائی قربت کو بغیر کسی شواہد کے مجرمانہ سہولت کاری کا نام دینا بین الاقوامی تعلقات کے بنیادی اصولوں اور عقل و منطق کے خلاف ہے۔ افغان طالبان کا پاکستان پر عسکریت پسندوں کی حمایت کا یہ الزام مکمل طور پر مضحکہ خیز اور الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مترادف ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ پاکستان دہائیوں سے افغانستان سے ہونے والی دہشت گردی کا سب سے زیادہ متاثر ہے۔ پاکستان کا یہ واضح مؤقف رہا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان اور خطے کے دیگر ممالک کے خلاف دہشت گردی کیلئے استعمال ہو رہی ہے۔ پاکستان نہ صرف زبانی طور پر یہ بات کہتا رہا بلکہ عالمی برادری اور اقوام متحدہ جیسے بین الاقوامی اداروں کے سامنے اس کے شواہد بھی پیش کر چکا ہے اور دنیا پاکستان کے مؤقف کو تسلیم کرتی ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی رپورٹس بھی اس بات کی شاہد ہیں کہ افغان طالبان کی حکومت کی اجازت اور معاونت سے افغانستان میں مختلف عالمی اور علاقائی دہشت گرد تنظیمیں آزادانہ طور پر متحرک ہیں۔ ان رپورٹس میں نشاندہی کی گئی ہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی‘ داعش خراسان اور القاعدہ جیسے خطرے کا باعث بننے والے گروہ افغان سرزمین پر نہ صرف موجود ہیں بلکہ طالبان فورسز کے ساتھ داعش جیسے شدت پسند گروہوں کی آئے دن خونریز جھڑپیں بھی ہوتی رہتی ہیں۔ ان حقائق کی روشنی میں یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ افغان طالبان کا اپنے ملک کے تمام علاقوں اور سکیورٹی پر مکمل کنٹرول نہیں ہے۔طالبان حکومت کو درپیش سکیورٹی چیلنجز میں سے ایک ان کے اپنے ہی ملک کی سیاسی اور عسکری اپوزیشن ہے جس کی ایک مثال افغانستان فریڈم فرنٹ (اے ایف ایف) ہے۔ یہ تنظیم زیادہ تر سابق افغان حکومت کے فوجی اہلکاروں پر مشتمل ہے جس کی قیادت سابق افغان آرمی کے جوائنٹ چیف آف سٹاف جنرل یاسین ضیا کر رہے ہیں۔ جنرل یاسین ضیا نے باقاعدہ طور پر طالبان کے خلاف مسلح جدوجہد کا آغاز کر رکھا ہے اور ان کی تنظیم افغانستان کے اندر طالبان فورسز کو نشانہ بنا رہی ہے۔ افغان طالبان کے خلاف برسرپیکار اس مسلح گروہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی کنڑ اور نورستان کے سرحدی علاقوں میں طالبان فورسز کے ساتھ ہونے والی جھڑپوں میں پانچ طالبان جنگجو مارے گئے جبکہ 10 زخمی ہوئے۔ افغانستان فریڈم فرنٹ اس سے پہلے جولائی اور اگست میں بھی افغانستان کے مختلف صوبوں میں طالبان پر متعدد حملوں کی باضابطہ ذمہ داری قبول کر چکی ہے۔ جب ایک افغان مسلح تنظیم خود ان حملوں کی ذمہ داری قبول کر رہی ہے تو اس کے باوجود افغان طالبان کا اپنی سرزمین کی اندرونی لڑائی کا ملبہ پاکستان پر ڈالنا سراسر بے بنیاد اور حقائق کو چھپانے کی کوشش ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ افغان طالبان اپنی اندرونی سکیورٹی ناکامیوں اور افغانستان فریڈم فرنٹ کی جانب سے بڑھتے ہوئے حملوں کو چھپانے کیلئے پاکستان پر الزام تراشی کر رہے ہیں۔ اس بات کا واضح ثبوت یہ ہے کہ مسلح تصادم کے بعد طالبان نے جن حملہ آوروں کو گرفتار کر کے ان سے تفتیش کی ہے‘ ان سب نے اعتراف کیا ہے کہ ان کا تعلق افغانستان کے مختلف اضلاع سے ہے۔ جب گرفتار ہونے والے افراد خود اعتراف کر رہے ہیں کہ وہ افغان شہری ہیں اور ان کی وڈیوز بھی موجود ہیں توپاکستان پر مداخلت کا الزام لگانا ایک ناکام سیاسی ڈرامے کے سوا کچھ نہیں۔ پاکستان نے افغان طالبان کے اس غیر ذمہ دارانہ رویے اور سرحدی خلاف ورزیوں پر انتہائی سخت اور واضح سفارتی ردِعمل دیا ہے۔ 23 ستمبر کو پاکستان نے افغان فضائی حدو د کی خلاف ورزی اور افغان سرزمین سے پاکستان کے اندر ہونے والے حالیہ دہشت گردی کے واقعات پر طالبان حکومت کو احتجاجی مراسلہ بھیجا۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان کی وزارتِ اطلاعات و نشریات نے افغان حکام کی جانب سے سابق افغان اہلکاروں کی پاکستان میں بھرتی یا تربیت اور داعش سمیت کسی بھی دہشت گرد گروہ کی سہولت کاری کے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ وزارتِ اطلاعات کے مطابق افغان حکومت کی جانب سے پاکستان پر عائد کیے گئے کسی بھی الزام کا کوئی قابلِ تصدیق ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ افغان طالبان اپنے ان دعووں کے حق میں نہ تو کوئی شناختی دستاویزات‘ نہ پاسپورٹ‘ نہ کمیونیکیشن ریکارڈز اور نہ ہی کوئی فرانزک شواہد فراہم کر سکے ہیں۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی مبہم اور غیرتصدیق شدہ وڈیوز کا پاکستان کے ساتھ کسی قسم کا کوئی تعلق ثابت نہیں ہوتا۔ اقوام متحدہ کی رپورٹس بھی اس بات کو دہراتی ہیں کہ اصل مسئلہ افغانستان کی سرحد کے اندر موجود دہشت گرد تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہیں اور ان کی سرگرمیاں ہیں۔ وفاقی وزارتِ اطلاعات نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ افغان سرزمین پر آزادانہ طور پر سرگرم دہشت گرد گروہ پاکستان سمیت پورے خطے کی سلامتی کیلئے مستقل خطرہ ہیں۔ یہ بات باعثِ تعجب ہے کہ جو طالبان حکومت خود مختلف دہشت گرد گروہوں کو اپنی سرزمین پر تحفظ اور پناہ فراہم کر رہی ہے‘ وہ اُلٹا پاکستان پر دہشت گردی کی حمایت کا الزام لگا رہی ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ ایک ذمہ دار ہمسایے کا کردار ادا کیا ہے‘ مگر طالبان حکومت کی طرف سے بغیر ثبوت الزامات کی سیاست دوطرفہ تعلقات کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ان زمینی حقائق‘ قانونی شواہد اور افغان حکومت کے اپنے بیانات اور وڈیوز کا جائزہ لینے کے بعد ایک عام قاری پر یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ پاکستان اس تمام معاملے میں مکمل طور پر حق پر ہے۔ نورستان اور کنڑ میں ہونے والے حملے افغان طالبان کے اپنے اندرونی مخالفین نے کیے ہیں جن سے نمٹنے میں طالبان حکومت خود ناکام ہو چکی ہے۔ افغان طالبان کو چاہیے کہ اپنی اندرونی کمزوریوں کا الزام پاکستان کو دینے کے بجائے اپنی سرزمین سے مسلح گروہوں کا بلا تفریق خاتمہ کریں‘ جو بلاشبہ دونوں ممالک کیلئے خطرے کی علامت بن چکے ہیں۔ افغان طالبان کو چاہیے کہ وہ حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے صورتحال کا پاکستان کے نقطۂ نظر سے جائزہ لیں۔ آج جن سکیورٹی خدشات اور بحران سے وہ نبرد آزما ہیں‘ پاکستان کی سکیورٹی فورسز اور عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے سرحد پار سے ہونے والی اسی دہشت گردی اور بے یقینی کا مسلسل سامنا کر رہے ہیں۔ افغان طالبان جب تک زمینی حقائق کو تسلیم کرنے کے بجائے انکار کی پالیسی پر کاربند رہیں گے‘ ان کا ملک بدامنی اور عدم استحکام کے گرداب سے نہیں نکل سکے گا۔ طالبان حکومت کو یہ ادراک کرنا ہو گا کہ عسکریت پسند اور شدت پسند گروہوں کو پناہ یا تحفظ فراہم کرنے کا براہِ راست نتیجہ خود اپنے ہی ملک کی سلامتی کو داؤ پر لگانا ہے‘ کیونکہ پڑوسی ریاست میں دراندازی اور بدامنی کی سرپرستی کر کے کوئی بھی ملک اپنے گھر میں امن اور ترقی کے اہداف حاصل نہیں کر سکتا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/222_48272610.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پاکستان،مکہ معاہدہ اور حوثی(جاوید حفیظ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/javed-hafiz/2026-09-29/52753/37866135</link><pubDate>Tue, 29 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/javed-hafiz/2026-09-29/52753/37866135</guid><description>جزیرہ نما عرب کے جنوب میں ملک یمن واقع ہے جو تاریخی حیثیت کا حامل ہے۔ حجازِ مقدس سے تجارتی قافلے گرمیوں میں شمال کی جانب یعنی شام جاتے تھے اور سردیوں میں جنوب یعنی یمن کی طرف۔ قرآن کریم میں بھی ان قافلوں کا ذکر ہے۔ عام روایت ہے کہ زمانۂ قدیم میں یمن میں پانی کا بہت بڑا ڈیم ٹوٹا تو سیلابی کیفیت پیدا ہو گئی۔ بہت سے لوگ ہجرت کرکے شمال کی جانب چلے گئے۔ آج بھی خلیجی ممالک میں بہت سے لوگ آپ کو ایسے ملیں گے جن کے آباؤ اجداد صدیوں پہلے ہجرت کرکے یمن سے آئے تھے۔ دنیا کی اولین کثیر المنزلہ عمارتیں یمن میں تعمیر ہوئیں‘ ان عمارتوں میں نہ سیمنٹ استعمال ہوا نہ سریا‘ اور نہ ہی اُس وقت کوئی ہیوی مشینری تھی۔یمن کا رقبہ تقریباً پانچ لاکھ مربع کلو میٹر اور آبادی تقریباً چار کروڑ ہے۔ اگرچہ یہاں 1990ء کی دہائی میں تیل اور گیس کے ذخائر دریافت ہوگئے تھے لیکن یمن آج بھی دنیا کے غریب ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ بڑی وجہ ملک میں طویل عرصے سے جاری خانہ جنگی ہے۔ یمن کی 65فیصد آبادی سُنی ہے‘ جو شافعی مسلک کا اتباع کرتی ہے۔ 35فیصد زیدی شیعہ ہیں‘ ان کی وجہ تسمیہ حضرت زید ابن علی ہیں جو اُن کے پانچویں امام ہیں۔ یمن کے زیدی شیعہ‘ جنہیں جمع کے صیغے میں زیود بھی کہا جاتا ہے‘ شافعی مسلک کے خاصے قریب ہیں۔ میں 1988ء میں تین ہفتوں کیلئے یمن گیا تھا۔ اچھی بات یہ دیکھی کہ وہاں شیعہ سنُی اکٹھے نماز پڑھتے تھے۔یمن میں طویل عرصہ تک زیدی امام حکمران رہے۔ امامت کا دور 1962ء تک چلا‘ جب امام محمد البدر کے خلاف فوجی بغاوت ہوئی۔ مصر نے باغیوں کی حمایت میں اپنے پچاس ہزار فوجی یمن بھیج دیے۔ 1967ء میں عرب اسرائیل جنگ شروع ہوئی تو مصر نے اپنی فوج یمن سے واپس بلا لی۔ مصر اپنا ہدف‘ یعنی فوجی حکومت کو مستحکم کرنا‘ حاصل نہ کر سکا۔ اسی لیے یمن کو مصر کا ویتنام بھی کہا جاتا ہے۔یمنی زیدیوں کے ہاں امامت کا تصور اثنا عشری مسلک سے ذرا مختلف ہے۔ زیود کی پریکٹس میں کوئی بھی سادات سے متعلق شخص امام یعنی حکمران بن سکتا ہے؛ البتہ دو شرائط ضروری ہیں۔ اوّل یہ کہ اس کے کردار اور تقویٰ کے بارے میں کسی کو شک نہ ہو‘ دوم یہ کہ اس شخص میں ظلم کی مزاحمت کرنے کا جذبہ موجود ہو۔ یمنی زیود کا خیال ہے کہ ان کے موجودہ لیڈر عبدالمالک حوثی ان شرائط کو پورا کرتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ 1960ء کی دہائی میں سعودی عرب نے امامت کا ساتھ دیا تھا۔ امام محمد البدر کو سعودی حمایت حاصل رہی جبکہ مصر مخالف کیمپ میں تھا۔ یمن کو کچھ لوگ عرب دنیا کا افغانستان بھی کہتے ہیں۔ دونوں ملکوں میں غربت ضرور ہے لیکن یمنی بھی جنگجو قسم کے لوگ ہیں‘ ہر یمنی کے پاس بندوق یا پستول ضرور ہوتا ہے۔ غریب سے غریب یمنی کے پاس بھی خنجر تو لازمی ہوتا ہے۔1988ء میں جب میں نے تین ہفتے عدن میں گزارے تو ملک دو حصوں میں تقسیم تھا۔ عدن جنوبی یمن کا دارالحکومت تھا۔ 1986ء کی سول وار کے نشانات نظر آتے تھے۔ جنوبی یمن مکمل طور پر سوشلسٹ تھا۔ وہاں چند سو اشخاص پر مشتمل پاکستانی کمیونٹی بھی تھی جن کی دکانیں اور کاروبار سوشلسٹ حکومت نے اپنی تحویل میں لے لیے تھے اور یہ اس امید پر بیٹھے تھے کہ کبھی تو نجکاری ہو گی اور انہیں ان کی جائیداد واپس ملے گی۔ مجھے جنوبی یمن کے لوگ مذہب سے خاصے دور لگے۔ مساجد میں حاضری خاصی کم ہوتی تھی‘ شراب عام دستیاب تھی‘ بڑے ریستورانوں کے مینو میں لحمِ خنزیر کی ڈشز بھی مذکور تھیں۔ اور اب آتے ہیں موجودہ زمانے کی جانب۔ جب عرب سپرنگ کے شعلے یمن پہنچے تو صدر علی عبداللہ صالح نے سعودی عرب میں پناہ لی۔ 2015ء میں حوثی باغیوں نے دارالحکومت صنعا پر قبضہ کر لیا۔ چند عرب ممالک نے یمن میں فوجیں اتار دیں۔ پاکستان سے بھی اپنی فوج یمن بھیجنے کا کہا گیا لیکن ہماری حکومت نے پارلیمنٹ کی سفارش پر فوج بھیجنے سے معذرت کر لی اور میرے خیال میں یہ بہت اچھا فیصلہ تھا۔ اوّل تو یہ ہماری پرانی پالیسی کا عکاس تھا کہ پاکستان مسلم ممالک کی باہمی جنگوں میں فریق نہیں بنے گا۔ دوم یہ کہ فیصلہ ہماری پارلیمان کا تھا جس کا کہنا تھا کہ ہمیں یمن کی جنگ میں کودنے کے بجائے وہاں صلح کرانی چاہیے۔ جن عرب ممالک نے 2015ء میں یمن میں اپنی فوجیں بھیجیں وہ بھی اپنے اہداف حاصل نہ کر سکے بلکہ حوثی باغیوں کی طاقت میں اضافہ ہوتا رہا۔اب آتے ہیں مکہ دفاعی معاہدے کی طرف‘ جس کی ہر کوئی اپنی اپنی سمجھ کے مطابق تاویل کر رہا ہے۔ مکہ مکرمہ کی جانب ڈرون گئے تو حوثی ملیشیا نے بیان دیا کہ ہمارا اس میں کوئی ہاتھ نہیں۔ کچھ لوگوں نے بیان دیا کہ سعودی عرب پر حملہ ہوا تو ترکیہ اور پاکستان جنگ میں نہیں کودے۔ دراصل یہ لوگ نہ مکہ معاہدے کی نوعیت کو سمجھے ہیں اور نہ ہی اس کی اہمیت کو۔ یہ تین اہم مسلم ممالک کے مابین ایک مدافعتی معاہدہ ہے جو طویل مدت کا ہے۔ تینوں ممالک حربی‘ اقتصادی اور سیاسی تعاون کے ذریعے اس لیول پر پہنچنا چاہتے ہیں کہ کسی کو ان کے خلاف جارحیت کی ہمت نہ ہو۔مکہ مکرمہ کی جانب ڈرون بھیجے گئے تو پاکستان اور ترکیہ دونوں نے سخت مذمت کی اور سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ مکہ معاہدہ پر تنقید کا جواب دیتے ہوئے ترکیہ کے وزیر خارجہ حاقان فیدان نے کہا کہ دفاعی معاہدے پر تنقید بے جا ہے۔ یمن کا تنازع بہت پرانا ہے اور ساتھ ہی کہا کہ نیٹو نے گزشتہ پچاس سال میں آرٹیکل پانچ صرف ایک مرتبہ استعمال کیا ہے۔ یاد رہے کہ نیٹو کا آرٹیکل پانچ یہ کہتا ہے کہ ایک ممبر ملک پر حملہ تمام ممبران پر حملہ تصور ہو گا۔ بڑے دفاعی معاہدے جنگیں روکنے کیلئے ہوتے ہیں جنگوں کو فروغ دینے کیلئے نہیں۔ایک عرصے تک یہ خیال تھا کہ حوثی ملیشیا کا اثر و رسوخ دارالحکومت صنعا اور ارد گرد کے پہاڑی علاقے تک محدود ہے لیکن اب مزید علاقے ان کے کنٹرول میں آ گئے ہیں اور پچھلے چند ہفتوں میں جنوبی یمن کے چند اہم اور حساس علاقے حوثی ملیشیا کے زیر تسلط آ گئے ہیں۔ یہ ملیشیا اپنے لیے انصار اللہ کا نام استعمال کر تی ہے کیونکہ حوثی ایک قبیلے کا نام ہے اور اس ملیشیا کے اہداف اب وسیع تر ہو چکے ہیں۔ یہ گروہ صرف ایک قبیلے یا مسلک تک محدود نہیں رہنا چاہتا بلکہ یمن کے دوسرے قبائل اور مسالک کے لوگوں کو بھی اپنی طرف مائل کر رہا ہے۔دوسری جانب یمن کی وہ حکومت ہے جس کے لیڈر رشاد العلیمی ہیں۔ رشاد کا زیادہ وقت سعودی عرب میں گزرتا ہے۔ اس حکومت کو دنیا تسلیم کرتی ہے مگر اس کے زیادہ ممبر یمن سے باہر ہیں جبکہ انصار اللہ یمن کے اندر ہے اور عوام سے رابطے میں رہتے ہیں۔ رشاد العلیمی کی حکومت آج کل جنوبی یمن میں ایئرفورس سے حملے کر رہی ہے لیکن زمینی کنٹرول انصار اللہ کے پاس ہے۔ تسلیم شدہ حکومت کی کمزوری اور عوام میں عدم وجود سے باغی ملیشیا کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔ باب المندب پر کنٹرول کے بعد یہ نان سٹیٹ ایکٹر مزید اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔ امریکہ جیسی انٹرنیشنل پاور نے ان سے سلطنتِ عمان کے ذریعہ مذاکرات کیے ہیں۔ پاکستان کا 2015ء میں یمن میں فوج نہ بھیجنے کا فیصلہ صائب تھا اور آج بھی میرا مشورہ یہی ہو گا کہ حرمین کا دل و جان سے دفاع کریں لیکن یمن کے اندر کسی مہم جوئی کا حصہ نہ بنیں۔ یاد رہے کہ یمن کو مصر کا ویتنام کہا جاتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_85338835.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>