<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>سیاست کا امتحان(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-04/11601</link><pubDate>Sun, 04 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-04/11601</guid><description>ہفتے کے روز حکومت اور اپوزیشن کے دوسرے مذاکراتی دور کا باقاعدہ اعلامیہ اگرچہ رات گئے تک سامنے نہیں آ سکا تاہم سیاسی حلقوں سے سامنے آ رہی اطلاعات میں مثبت خبروں اور بریک تھرو کا تاثر دیا گیا۔ حکومت اور اپوزیشن‘ دونوں اطراف سے یہ امید دلائی گئی کہ سیاسی معاملات سیاسی فورم پر ہی حل ہوں گے اور احتجاج کی نوبت نہیں آئے گی۔ ایسے وقت میں جب پاکستان کی معیشت نازک ترین دور سے گزر رہی ہے اور عوام مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں‘ سیاسی درجہ حرارت میں غیر معمولی حدت اور احتجاج کا تاثر کسی بھی طرح ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔ سیاسی مسائل کا حل ہمیشہ سیاسی ایوانوں میں ہی نکلنا چاہیے۔ ماضی کا تجربہ بتاتا ہے کہ جب بھی سیاستدان اپنے مسائل پارلیمنٹ اور مذاکراتی میز کے بجائے سڑکوں پر لائے یا غیر آئینی طریقوں کے ذریعے حل کرنے کی کوشش میں لگ گئے تو سب سے زیادہ ٹھیس جمہوریت اور خود سیاسی نظام کو پہنچی۔ اگر موجودہ تعطل کا حل پُرامن اور جمہوری طریقے سے نکالا گیا تو نہ صرف سیاسی ہیجان کا خاتمہ ہو گا بلکہ ملک کا جمہوری اور پارلیمانی نظام بھی مزید مضبوط اور معتبر ہو کر ابھرے گا۔ مذاکرات کے اس دوسرے دور میں جو سب سے بڑی رکاوٹ نظر آئی‘ وہ دونوں اطراف کیلئے فیس سیونگ یعنی اپنی سیاسی ساکھ بچانے کا مسئلہ ہے۔

حکومت اور اپوزیشن‘ دونوں ہی اس وقت ایک ایسی پوزیشن پر کھڑے ہیں جہاں وہ مذاکرات کا اختتام محض اپنی فتح کے اعلان پر چاہتے ہیں۔ فیس سیونگ کی یہ دوڑ اکثر فریقین کو سیاست میں لچک دکھانے سے روکتی ہے‘ نتیجتاً وہ معاملات جو طے پا چکے ہوتے ہیں‘ وہ بھی چھوٹی چھوٹی باتوں پر کٹھنائی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ہمارے اربابِ حل و عقد کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سیاست افہام و تفہیم اور کچھ لو اور کچھ دو کی پالیسی کا نام ہے۔ بڑے مقاصد کو چھوٹی چھوٹی باتوں یا جھوٹی انا پر قربان نہیں کیا جا سکتا۔ گزشتہ روز مذاکراتی نشست میں دونوں اطراف سے ایک دوسرے کے رہنمائوں کے ٹویٹس کو لے کر بداعتمادی پیدا ہوئی۔ اس وقت جبکہ مذاکرات کا عمل ایک حساس مرحلے میں داخل ہو چکا ہے تو ضروری ہے کہ دونوں کیمپوں میں موجود ہارڈ لائنرز کو پچھلی صفوں میں رکھا جائے اور کوئی ایسی بات‘ ایسی غیر ضروری بیان بازی نہ کی جائے جو معاملات کو سبوتاژ کرے یا دوبارہ تلخی کی طرف دھکیلے۔ اس سے بچنے کیلئے طرفین کی اعلیٰ قیادت پر مشتمل ایک ورکنگ کمیٹی قائم کی جا سکتی ہے جو تمام معاملات کی نگرانی کرے اور بداعتمادی کا تدارک کرے۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ حکومت ہو یا اپوزیشن‘ دونوں اطراف کچھ ایسی آوازیں موجود ہیں جن کا سیاسی وجود ہی محاذ آرائی اور اشتعال انگیزی پر قائم ہے۔ یہ عناصر کسی بھی قسم کی مصالحت کو اپنی سیاسی موت یا شکست سے تعبیر کرتے ہیں۔
لہٰذا اگر سیاسی قیادت واقعی ملک کو بحران سے نکالنا چاہتی ہے تو ان عناصر کو سائیڈ لائن کرنا اور انہیں خاموش کرانا پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔ جب تک اعتدال پسند رہنماؤں کو آگے بڑھ کر فیصلے کرنے کا موقع نہیں دیا جائے گا تب تک سیاسی تلخیوں میں کمی لانا ممکن نہیں ہوگا۔ جہاں سب کی نظریں اس وقت مذاکرات کی کامیابی پر مرکوز ہیں‘ وہیں یہ سوال بھی پیشِ نظر ہے کہ مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں کیا ہو گا۔ سماجی انتشار اور معاشی انحطاط جو پہلے ہی خطرناک سطح پر ہے‘ یقینا اس میں مزید اضافہ ہوگا۔ سیاسی بے یقینی کی صورت میں معاشی روانی کو زک پہنچے گی جس کا براہِ راست اثر عام آدمی پر پڑے گا۔ آج پاکستان کی سیاسی قیادت کے سامنے سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ اگر اس سیاسی تناؤ اور حدت میں فوری کمی نہ آ سکی تو یہ سلسلہ آخر کہاں جا کر تھمے گا؟ لہٰذا یہ معاملہ سیاسی قیادت اور اس کی بصیرت کیلئے بھی بڑا امتحان ہے کہ وہ اپنے مسائل کو مل بیٹھ کر حل کر سکتے ہیں یا نہیں۔ جو اپنے معاملات خود حل نہ کر سکیں ملک و قوم کے مسائل کے حل کی امید ان سے کیونکر وابستہ کی جا سکتی ہے؟</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بھارتی فورسز کی اشتعال انگیزی(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-04/11600</link><pubDate>Sun, 04 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-04/11600</guid><description>بھارتی بارڈر سکیورٹی فورس کی جانب سے بیدیاں سیکٹر میں دو پاکستانی شہریوں کو فائرنگ کرکے قتل کرنے کا واقعہ بھارت کے مسلسل اشتعال انگیز رویے کی ایک اور سنگین مثال ہے۔ اس اشتعال انگیزی پر وزارتِ خارجہ نے بھارتی ناظم الامور کو طلب کرکے باضابطہ احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ دفتر خارجہ کے مطابق بی ایس ایف اہلکاروں نے نہتے شہریوں کیخلاف بلااشتعال اور مہلک طاقت استعمال کی‘ جو سراسر بلاجواز اور انتہائی غیر متناسب تھی۔ پاکستان نے مقتولین کو ’’درانداز‘‘ قرار دینے کی بھارتی کوشش بھی واضح طور پر مسترد کردی ہے۔ معرکۂ حق میں شکست کے بعد بھارتی حکومت اور اس کی افواج کی بوکھلاہٹ مختلف صورتوں میں سامنے آتی رہی ہے۔ اپنی خفت مٹانے کیلئے کبھی آبی وسائل کو دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے‘ کبھی پاکستان پر دہشتگردی کے بے بنیاد الزامات عائد کیے جاتے ہیں اور اب سرحدی علاقوں میں نہتے پاکستانی شہری بھارتی فورسز کے ہیجان کا نشانہ بن رہے ہیں۔

دفتر خارجہ نے بجا طور پر اس واقعے کو بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے بین الاقوامی قانون کے تحت شہریوں کے تحفظ کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ سرحد پر کشیدگی اپنی جگہ مگر نہتے شہریوں پر فائرنگ کے اس واقعے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بھارت معرکہ حق میں اپنی شکست کو ایسی وحشت و بہیمیت کے پیچھے نہیں چھپا سکتا۔ اسے بنیادی انسانی حقوق‘عالمی قوانین اور سرحدی امور سے متعلق طے شدہ طریقۂ کار کی پابندی کرنا ہی ہوگی۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>گندم کی امدادی قیمت!(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-04/11599</link><pubDate>Sun, 04 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-04/11599</guid><description>قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق نے آئندہ ربیع سیزن کیلئے گندم کی کم از کم امدادی قیمت پانچ ہزار روپے فی من یا اس سے زائد مقرر کرنے اور ملک بھر کے کسانوں کیلئے سبسڈی کا یکساں نظام وضع کرنے کی سفارش کی ہے۔ پاکستان میں گندم قومی غذائی تحفظ کی بنیاد ہے۔ اس کے باوجود حکومت کی پالیسی میں تسلسل نہ ہونے‘ بروقت فیصلے نہ کیے جانے اور ذخیرہ و مارکیٹ کے کمزور انتظام کی وجہ سے تقریباً ہر سال کسی نہ کسی شکل میں گندم اور آٹے کا بحران سامنے آتا ہے۔ رواں سال بھی گندم کی کٹائی کو زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا کہ مارکیٹ میں قلت اور قیمتوں کے حوالے سے مسائل پیدا ہونے لگے اور حکومت کو ساڑھے سات لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کرنا پڑا۔

حکومت کو آئندہ ربیع سیزن کیلئے بوائی سے پہلے امدادی قیمت کا اعلان کرنا چاہیے۔ بروقت قیمت کا اعلان کسان کو زیادہ گندم کاشت کرنے کی ترغیب دے گا۔ ہر سال نئی پالیسی‘ نئے اعلانات اور بحران کے بعد ہنگامی فیصلے کسان اور مارکیٹ دونوں میں غیر یقینی پیدا کرتے ہیں۔ اگر پانچ سال تک کیلئے گندم پالیسی واضح اہداف‘ امدادی قیمت‘ یکساں سبسڈی‘ مناسب ذخائر اور صوبائی و وفاقی سطح پر مؤثر رابطہ کاری کے ساتھ نافذ کی جائے تو گندم بحران کے مسئلے کو وقتی کے بجائے مستقل بنیادوں پر حل کرنے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>اپنے ہاتھوں پر اپنا ہی لہو(مجیب الرحمٰن شامی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mujeeb-ur-rehman-shami/2026-10-04/52778/21449588</link><pubDate>Sun, 04 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mujeeb-ur-rehman-shami/2026-10-04/52778/21449588</guid><description>ایوانِ صدر میں ہونے والی ایک بڑی بیٹھک‘ جس کی سربراہی صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کر رہے تھے‘ کے نتیجے میں حکومتی اتحاد اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات شروع ہو چکے ہیں۔ ان کا نتیجہ جو بھی نکلے فی الحال تو اہلِ پاکستان کی بھاری تعداد نے سکھ کا سانس لیا ہے‘ ان کے ہاتھ اس دعا کیلئے اٹھے ہوئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فریقین کو ایک دوسرے کی بات سننے‘ سمجھنے اور آگے بڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ دونوں اپنے اپنے دائرے میں اپنا اپنا کام کرنے پر تیار ہو جائیں۔ پارلیمانی نظام میں اپوزیشن کو محوِ انتظار حکومت (گورنمنٹ اِن ویٹنگ) کہا اور سمجھا جاتا ہے۔ دونوں کے درمیان کسی بھی وقت بینچوں کا تبادلہ ہو سکتا ہے۔ عام انتخابات کے بغیر بھی کسی وزیراعظم کو اپنی جماعت یا (اگر مخلوط حکومت ہو تو) اتحادی جماعتوں کے اعتماد سے محروم ہو کر کرسیٔ اقتدار خالی کرنا پڑ سکتی ہے۔ پارلیمانی جمہوریت کی امّاں جان برطانیہ کو دیکھ لیجیے کہ گزشتہ پانچ سال میں پانچ وزرائے اعظم وہاں دیکھنے کو ملے ہیں۔ بورس جانسن نے ایک سال تین ماہ حکومت کی‘ لِزٹرس نے صرف 49دن‘ رشی سوناک نے ایک سال اور آٹھ ماہ جبکہ کیئر سٹارمر کا ستارہ دو سال بعد ڈوب گیا۔ 20 جولائی سے اینڈی برنہم اقتدار سنبھالے ہوئے ہیں۔ بادشاہت یا آمریت میں حکومت کا ہاتھ سے نکل جانا‘ تباہی اور بربادی کہلا سکتا ہے لیکن جمہوریت اور وہ بھی پارلیمانی جمہوریت میں یہ کوئی انوکھی بات نہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے جب منصب سنبھالا تھا تو تحریک انصاف کو بلاشرکتِ غیرے قومی اسمبلی میں اکثریت کی حمایت حاصل نہیں تھی‘ انہیں مخلوط حکومت بنانا پڑی۔ کولیشن بکھرا تو انہیں اپنے منصب سے ہاتھ دھونا پڑ گئے۔ اس کو انہوں نے اپنے دل کا روگ بنا لیا۔ اگر وہ یہ سوچ لیتے کہ اقتدار میں لانے والے ہی انہیں رخصت کرنے کا سبب بن گئے ہیں تو صبر کا پانی پی لیتے‘ لیکن ان کی &#39;&#39;مافوق الفطرت‘‘ شخصیت یہ صدمہ برداشت نہ کر پائی۔ وہ دن جائے اور آج کا آئے‘ نہ ان کو چین ہے‘ نہ ان کے حامیوں کو۔ وہ گزشتہ تین سال سے حوالۂ زنداں ہیں‘ ان کی اہلیہ محترمہ بھی اسی مشکل سے دوچار ہیں۔ ان کے کئی رفقا اور کارکن بھی کئی کئی سال کی سزا بھگت رہے ہیں۔ مقتدرہ کو اپنا حریف قرار دے کر اس پر چڑھائی کا نتیجہ سامنے ہے۔ اگر اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد کو قسمت کا لکھا سمجھ کر قبول کر لیا جاتا تو وہ دوبارہ کرکٹ کے میدان میں کرکٹ کھیلنے لگ جاتے لیکن انہوں نے ہاکی کھیلنا شروع کر دی‘ نتیجتاً ان کے حریفوں نے بھی &#39;&#39;سٹکس‘‘ ہاتھ میں لے لیں۔ ان پر جو اُفتاد پڑی ہے اسے دیکھ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے‘ ایک بڑی سیاسی جماعت کی درگت بننا جمہوری عمل کیلئے کسی طور نیک فال نہیں لیکن جمہوریت کے نام پر ہر طرح کی دھینگا مشتی کی داد بھی نہیں دی جا سکتی۔ جگہ جگہ بکھرے ہوئے ان کے &#39;پجاری‘ ہر شے کو تاراج اور مسمار کرنا چاہتے تھے۔ ان کا سوشل میڈیا برگیڈ الزام اور دشنام کی حدیں پار کر گیا۔ نتیجتاً وہ ہو رہا ہے جو نہ پاکستان کیلئے اچھا ہے‘ نہ اہلِ اقتدار کیلئے۔خیبرپختونخوا میں نوجوان وزیراعلیٰ سہیل آفریدی شعلے اُگلتے رہتے ہیں۔ انہوں نے اسلام آباد کی طرف &#39;&#39;پُرامن‘‘ لانگ مارچ کا اعلان کیا اور دھمکایا کہ ہم چالیس لاکھ افراد ساتھ لائیں گے۔ بعدازاں تاریخ بدل لی۔ معاملہ ستمبر سے اکتوبر تک جا پہنچا۔ حکومت کو یہ کسی طور منظور نہیں۔ فریقین کے درمیان اب مذاکرات شروع ہو چکے ہیں‘ امید بھری نگاہیں ان کی طرف لگی ہیں۔ پاکستان میں کئی بار اس طرح کے ہنگامے (یا ڈرامے) ہو چکے ہیں۔ تاریخ اُٹھا کر دیکھ لیجیے نام بدل جائیں گے کردار نہیں بدلیں گے۔ اہلِ اقتدار اور اہلِ اختلاف بار بار ایک دوسرے سے ٹکرائے ہیں۔ بار بار ایک دوسرے کا جینا حرام کیا ہے۔ بار بار ایک دوسرے کا گلا گھونٹنے کی کوشش کی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ آج پاکستان وہاں کھڑا ہے جہاں کھڑے ہونے کی کبھی آرزو نہیں کی گئی تھی۔ دفاعی لحاظ سے اپنے آپ کو منوانے کے باوجود‘ اپنے سے کئی گنا بڑے حملہ آور کے دانت کھٹے کرنے‘ دنیا بھر سے اپنی سفارتی صلاحیتوں کی داد پانے کے باوجود ہمارا بال بال قرضوں میں پھنسا ہوا ہے۔ ہماری فی کس آمدنی بھارت اور بنگلہ دیش کے مقابلے میں کم ہو چکی ہے۔ ورلڈ بینک رپورٹ کے مطابق 2024ء میں بھارت کی فی کس آمدنی 2694 ڈالر‘ بنگلہ دیش کی 2593ڈالر جبکہ پاکستان کی 1478ڈالر سالانہ تھی۔ ہمارے اڑھائی کروڑ سے زائد بچے سکولوں سے باہر ہیں جبکہ بنگلہ دیش اور بھارت میں اُن کی آبادی کے تناسب سے ایسے بچوں کی تعداد کہیں کم ہے۔ جہالت کے کوہ ہمالیہ کے نیچے ہم دبتے چلے جا رہے ہیں۔ چین نے ابھی اپنا قومی دن منایا ہے‘ عوامی جمہوریہ چین کی بنیاد یکم اکتوبر 1949ء کو رکھی گئی تھی‘ قیام پاکستان سے دو سال بعد۔ 1950ء میں چین کی فی کس آمدنی 799ڈالر تھی جبکہ پاکستان کی 1025 ڈالر۔ 1990ء تک پاکستان آگے رہا۔ 2000ء میں دونوں کی فی کس آمدنی علی الترتیب 3800 اور 3700 ڈالر تھی‘ قریباً برابر برابر۔ اس کے بعد چین کو گویا پَر لگ گئے۔ 2022ء میں اس کی فی کس آمدنی پاکستان کے مقابلے میں ساڑھے تین گنا ہوئی‘ اب یہ نو گنا ہو چکی ہے۔ ورلڈ بینک کے مطابق چین کی فی کس آمدنی 13 ہزار 862 ڈالر ہے جبکہ پاکستان ابھی پندرہ سو ڈالر کے قریب لڑھکنیاں کھا رہا ہے۔بجلی کے بل بچھوؤں کی طرح کاٹ رہے ہیں۔ خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے جبکہ ہمارے معتبر اور مقتدر حلقے ایک دوسرے کو نوچنے میں لگے ہیں۔ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کو انہوں نے اپنی معراج سمجھ رکھا ہے۔ پاکستان اوپر اُٹھ کر نیچے آیا ہے۔ اگر ہم آزادی کے بعد سے اب تک لڑھکنیاں کھا رہے ہوتے تو سمجھا جاتا کہ ہمارے اندر کوئی جوہر ہی نہیں ہے‘ ہم پستیوں میں دھنسنے کیلئے پیدا ہوئے ہیں لیکن حقائق بالکل مختلف کہانی سناتے ہیں۔ پاکستان کے ابتدائی 25سال بلندیوں کی طرف اڑان بھر رہے تھے جبکہ گزشتہ پچیس سال کی روداد الگ ہے۔ ہمیں بحیثیت قوم سر جوڑ کر بیٹھنا اور اپنے اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنا ہو گا کہ ہم ان حالوں میں کیوں پہنچے ہیں۔ آگے بڑھنے اور اونچا اڑنے کی جو تڑپ اور توانائی ہمارے پیکر خاکی میں موجود ہے‘ اسے بروئے کار آنے کا موقع کیوں نہیں مل رہا۔ ہمارا مجرم کون ہے؟ ہم کس کے ہاتھ پر اپنا لہو تلاش کریں؟ ایک دوسرے کا تعاقب کرنے اور ایک دوسرے کے ہاتھوں کی تلاشی لینے کے بجائے ہر شخص اور ہر ادارہ اپنے اپنے گریبان میں منہ ڈالے‘ اپنے اپنے ہاتھوں کی طرف دیکھے تو کسی اور طرف دیکھنے کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔ اپنے ہاتھوں پر اپنا ہی لہو صاف نظر آ جائے گا۔(یہ کالم روزنامہ &#39;&#39;دنیا‘‘ اور روزنامہ &#39;&#39;پاکستان‘‘ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_37052987.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>امتحاں جو ہیں اُن کا ادراک تو ہو(ایاز امیر)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-10-04/52779/90115194</link><pubDate>Sun, 04 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-10-04/52779/90115194</guid><description>ایران سینہ سپر ہے تو امریکہ سے‘ دنیا کے طاقتور ترین ملک سے۔ نقصان اٹھا رہا ہے پر نقصان پہنچا بھی رہا ہے۔ مقابلہ تو ہوا۔ برادر ملک کہاں اُلجھا ہوا ہے؟ حوثیوں سے‘ اور مقابلہ کرنا مشکل پڑ رہا ہے۔ برادر ملک کا سالانہ دفاعی بجٹ لگ بھگ 80 ارب ڈالر ہے‘ دنیا کا کوئی جدید ترین ہتھیار نہیں جو اسے میسر نہیں۔ اور تو اور امریکہ نے ابھی منظوری دی ہے F35 طیاروں کے سودے کی‘ جس کی مالیت 25 ارب ڈالر ہے۔ اتنے وسائل ہونے کے باوجود میدانِ جنگ میں پلڑاحوثیوں کا بھاری نظر آتا ہے۔ برادر ملک کی تنصیبات پر حملے ہوئے ہیں لیکن اصل جنگ سعودی سرزمین پر نہیں بلکہ یمن میں ہو رہی ہے جہاں ایک طرف سعودی حمایتی ہیں اور دوسری طرف حوثی۔ سعودی حمایتی البتہ حوثیوں کے سامنے پسپا ہو رہے ہیں اور اس کی وجہ سے برادر ملک میں تشویش پھیلی ہوئی ہے کہ پہلے ہی حوثیوں نے بہت علاقہ قبضہ کیا ہے اور اب جو لڑائی ہو رہی ہے شہر &#39;&#39;تعز‘‘ کے گردونواح میں اُس میں حوثی کامیاب ہوئے‘ جیسا کہ لگ رہا ہے کہ وہ ہوں گے‘ تو پھر سعودی حمایتوں کے پاس کچھ نہیں رہے گا۔ اس جنگ نے یہ تلخ حقیقت ظاہر کی ہے کہ تیل کی دولت معنی تو رکھتی ہے لیکن جہاں صرف دولت ہی ہو اور ہمت اور جذبہ دوسری طرف ہو تو حالات کچھ بن نہیں پاتے۔ حوثی برادر ملک پر میزائلوں کے حملے کر رہے ہیں لیکن زمینی حملہ نہیں کیا‘ نہ کریں گے۔ جنگ تو جنوب میں یعنی یمن میں ہو رہی ہے‘ لیکن برادر ملک میں فکر اس بات کی ہے کہ حوثی یمن کے واحد قابض ہو گئے تو سعودی عرب کیلئے ایک ناقابلِ قبول صورتحال پیدا ہو جائے گی۔ برادر امریکی مدد کو دیکھ رہے تھے لیکن صدر ٹرمپ نے F35 کی سیل کی منظوری تو دے دی لیکن جنگ میں خود کچھ کرنے سے انکاری رہے۔ پچھلے ماہ ایک ہی روز سعودی ولی عہد نے وائٹ ہاؤس دوبار فون کیا لیکن صدر ٹرمپ کی طرف سے انکار ہی تھا۔ اور کیسے نہ ہوتا کیونکہ پچھلے سال امریکیوں نے حوثیوں پر بمباری کرکے دیکھ لیا۔ ایک ماہ فضائی بمباری جاری رہی‘ ایک ارب ڈالر کا اسلحہ پھونک دیا گیا‘ اور نتیجہ صفر رہا۔ویسے بھی جہاں امریکہ اپنے ایران کے جھمیلے میں پھنسا ہوا ہے اس نے سعودیوں کی مدد کیا کرنی تھی۔ رہ جاتا ہے مکہ دفاعی معاہدہ تو اس کے تحت کافی شدت سے ترکیہ‘ پاکستان اور سعودی عرب میں بات چیت ہو رہی ہے۔ پاکستان نے تو بڑے زوردار قسم کے بیانات دیے ہیں لیکن مسئلہ تو وہاں یمن کے میدانِ جنگ کا ہے۔ فوجیں برادر ملک کے دفاع کیلئے جائیں بھی تو سعودی سرزمین پر تعینات ہوں گی۔ ایسی تعیناتی سے میدانِ جنگ پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟ ضرورت تو وہاں زمینی بوٹوں کی ہے یعنی ایسی افواج کی جو وہاں زمین پر موجود ہوں اور لڑائی میں حصہ لیں۔ مکہ معاہدے کا مفہوم البتہ انفرادی ملکوں کا دفاع ہے نہ کہ کسی اور ملک میں حملہ آور ہونے کا۔ یہی مسئلہ بنا ہوا ہے برادر ملک کیلئے کہ یمن کی صورتحال کا کیا کیا جائے کیونکہ وہاں تو مسلسل سعودی ہوائی حملوں کے باوجود حوثی آگے بڑھ رہے ہیں اور سعودی حمایتی خاطر خواہ انداز سے مقابلہ نہیں کر پا رہے۔ پاکستان کا معاملہ یہ ہے کہ تمام تر دلیر الفاظ کے باوجود اپنے جھمیلوں میں گھرا ہوا ہے۔ ایک طرف نہیں‘ ہر محاذ کھلا ہوا ہے۔ دونوں مغربی صوبوں خیبرپختونخوا اور بلوچستا ن میں آگ لگی ہوئی ہے۔ مسلح تنظیموں کے ہاتھوں دونوں میں شورش برپا ہے۔ آزاد کشمیر کا علاقہ ہمیشہ پُرامن ہوا کرتا تھا‘ حیرانی ہے کہ وہاں بھی حالات وہ نہیں جو ہونے چاہئیں۔ اندرونی محاذ کا ذکر کیا کرنا‘ سرکار کی نظروں میں جو ناپسندیدہ جماعت ہے اس کا قائد تین سال سے زائد عرصہ سے پسِ زنداں ہے‘ میل ملاقات پر قدغنیں ہیں‘ لیکن جماعت کی طرف سے لانگ مارچ کی کال آئی ہے اور عالم یہ کہ دارالحکومت میں ہر جگہ کنٹینر نظر آتے ہیں۔ معاشی صورتحال وہ ہے جس کا بار بار ذکر کیا کرنا۔ مانگے کے پیسے نہ ہوں تو ریاست کا کام نہ چلے۔ شکر ہے دیارِ غیر میں بیٹھے ہم وطنوں کا جن کے بھیجے گئے زرِمبادلہ سے کچھ کام چل جاتا ہے۔ برادر ملک کے ساتھ تعلقات کی اپنی نوعیت ہے‘ وعدے وعید بھی ظاہر ہے بہت ہوئے ہوں گے لیکن صورتحال کی نزاکت کا بھی تقاضا ہے کہ قدم رکھنا ہے تو پھونک پھونک کر رکھا جائے۔ہر پاکستانی دعا کرے گا کہ برادر ملک کی موجودہ پریشانیاں کم ہوں لیکن پاکستان کے ہاتھ میں کیا ہے؟ ہم کیا کر سکتے ہیں؟ سارا معاملہ خراب تو امریکہ نے کیا ہے جس نے بغیر سوچے سمجھے ایران پر حملہ کیا۔ سمجھا جا رہا تھا کہ حملوں کی تاب نہ لا کر ایران گھٹنے ٹیک دے گا۔ ایسا نہیں ہوا اور برادر ملکوں کے ساتھ پھر وہ ہوا جو اُن کے وہم و گمان میں نہ تھا۔ امریکی اڈے جو تحفظ کی ضمانت سمجھے جاتے تھے ایرانی حملوں میں تباہ ہو گئے۔ آبنائے ہرمز بند ہونے سے برادر ملکوں کی تیل کی ترسیل بند ہو گئی۔ ان کی تنصیبات پر حملے ہوئے۔ یعنی راتوں رات پورے خطے میں آگ لگ گئی۔ اور پھر دور کہیں باب المندب کے اوپر حوثیوں کا حملہ شروع ہوا جس کی وجہ سے برادر ملک کیلئے بڑی نازک صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ برادر ملک کیلئے دعا کرنا تو اپنی جگہ درست لیکن پاکستانی جب حالات پر نظر رکھتے ہیں تو اپنی خیر کیلئے بھی دعا کرتے ہیں۔ ملکی صورتحال ایسی ہے کہ ہر پاکستانی کے دل میں تشویش پیدا ہو رہی ہے۔ حکمران ایسے ہیں کہ ان کے اللے تللے ختم نہیں ہوتے۔ بیرونی دوروں کا بے مقصد سلسلہ جاری ہے۔ وزیراعظم یو این جنرل اسمبلی کو خطاب کرنے اڑان بھرتے ہیں تو آنے جانے میں نصف ماہ لگ جاتا ہے۔ عوام کی نظروں پر پردے تو نہیں پڑے ہوئے۔ حالانکہ بہت کچھ چھپا رہتا ہے مگر بہت سی چیزیں نظر بھی آتی ہیں۔ حکمرانی کے موجودہ انداز سے عوام کا اعتماد کہاں سے پیدا ہونا ہے؟ لوگوں نے محض بیانات سے تو راضی نہیں ہونا۔ اتنا سب کو نظر آ رہا ہے کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے حالات قابو سے باہر ہیں۔ سرکاری ہرکارے کچھ کہتے ہیں تو ان کی گفتگو دھمکی آمیز ہوتی ہے۔ دھمکیوں سے کام چلنا ہوتا تو ہر طرف شانتی ہوتی۔ حالات ایسے ہیں کہ سمجھداری کی بات کہیں سے سنائی نہیں دیتی۔ جہاں اپنے مسائل اتنے گمبھیر ہوں اوروں کے مسائل پھر اوروں کے ہی ہیں۔بِنا کوئی مارچ ہوئے اسلام آباد کا کنٹینروں کے پیچھے محصور ہو جانا مذاق تو ہے لیکن ایک علامت بھی ہے۔ ایسے حکومتی بندوبست کے بارے میں لوگ کیا سوچتے ہوں گے جس کا اعتماد کنٹینروں کے لگ جانے سے جڑا ہوا ہو۔ لوہے کے یہ ڈبے بوکھلاہٹ کی ایک کیفیت کی نشاندہی کرتے ہیں۔ جہاں تک عوامی حمایت کا تعلق ہے سب کو معلوم نہیں کہ یہ بندوبست کن کرشمات سے معرضِ وجود میں آیا؟ چار سال سے زائد کا عرصہ ہو چلا ہے اس انوکھے دور کو۔ معجزے رونما ہوتے اس مدت میں تو بات اور تھی۔ معیشت کے پہیے چلتے‘ قیمتیں کنٹرول میں ہوتیں‘ نوکریوں کی فراوانی ہوتی تو لوگ ماضی کو بھول جاتے۔ لیکن اصل حالات سب کے سامنے ہیں۔ حکومتی کارکردگی دیکھ کر مایوسی کے سایوں نے گہرا ہی ہونا ہے۔ ماضی کے حساب بہت چکا دیے گئے۔ اب آگے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ کچھ نئی سوچ اُبھرے‘ کچھ نئے ارادے بندھیں۔ پرانی راہوں پر ہی چلنا ہے تو پھر وہی ہوتا رہے گا جو اِن چار سالوں میں ہوا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_80573045.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بھارت نے ہم سے کیا سیکھا؟(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-10-04/52780/12987715</link><pubDate>Sun, 04 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-10-04/52780/12987715</guid><description>دنیا اخبار میں دو خبریں ایک ساتھ چھپی ہیں۔ ایک خبر میں لکھا ہے کہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ &#39;&#39;سسٹم ری سیٹ ہونے والا ہے‘‘۔ پھر کہتے ہیں کہ ہم نے ایران سے کیا سیکھا ہے۔ وہ پچھلے کئی ماہ سے مسلسل ایران جا رہے ہیں‘ لہٰذا ان کو ایران کے بارے میں کچھ علم ہے جو شاید ہمیں نہیں ہے۔ اس خبر کے اوپر ایک اور خبر شائع ہوئی: کنٹینرز کی پکڑ دھکڑ سے ملکی معیشت کا پہیہ رک گیا۔ کنٹینرز ڈرائیورز کا پنجاب آنے سے انکار۔ بندرگاہ پر کنٹینروں کا ڈھیر لگ گیا۔ سینکڑوں کی تعداد میں جو کنٹینرز اس وقت اسلام آباد کی ہر سڑک‘ گلی اور نکڑ پر حکومت نے کھڑے کر دیے ہیں‘ ان کا خرچہ ایک ارب روپے سے اوپر نکل گیا ہے۔ اب کراچی کے بجائے اسلام آباد بندرگاہ شہر بن چکا ہے۔ ان دونوں خبروں کا ایک دوسرے سے گہرا تعلق ہے۔ ایک طرف وزیر داخلہ ملکی سسٹم کو ری سیٹ کرنے کی بات کر رہے ہیں اور معاشی ترقی کے سنہرے اصول سمجھا رہے ہیں‘ دوسری طرف ان کی سکیورٹی پالیسی کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اب کوئی ڈرائیور اپنا ٹرک یا کنٹینر پنجاب کی طرف نہیں لے جانا چاہتا۔ اگرچہ وزیر داخلہ یقینا اس سکیورٹی پالیسی کو پی ٹی آئی کے احتجاج اور دھرنوں سے جوڑیں گے کہ وہ پچھلے تین برسوں سے ملکی صورتحال کو بگاڑے ہوئے ہیں۔ اب تک کئی دفعہ اسلام آباد پر چڑھائی کر چکے ہیں‘ جس میں کئی قیمتی جانیں بھی جا چکی ہیں۔ لہٰذا ملک کے دارالحکومت کو کسی جتھے کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ اگر چہ حالات نارمل کرنے ہوں تو عمران خان کو ہسپتال میں علاج کی سہولتوں کے علاوہ ان کی بہنوں کو ملاقات کی اجازت دی جا سکتی ہے تاکہ لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ نہ بنے۔ لیکن حکومت کی وہی ضد کہ یہ پی ٹی آئی کی بلیک میلنگ ہو گی اور اگلی دفعہ وہ کوئی اور مطالبہ منوانے کیلئے نکل پڑیں گے اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ یوں دو بڑوں کی اَنا کا کھیل چل رہا ہے۔ کچھ کا کہنا ہے کہ یہی غلطی کشمیر میں بھی کی تھی‘ جب وہاں سب مطالبات ایک ہی دفعہ تسلیم کر لیے تھے۔ اسکے بعد مظاہرین نے اپنے مطالبات کی نئی فہرست پیش کر دی‘ جو پورے کشمیر میں تحریک کا سبب بنی۔ لہٰذا حکومت وہی کام اب پی ٹی آئی کے ساتھ نہیں کرنا چاہتی کہ وہ ہر دفعہ سڑکوں پر نکلے تاکہ حکومت کو جھکایا جا سکے۔جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے‘ میکاولی نے اپنی کتاب &#39;&#39;دی پرنس‘‘ میں شہزادے کو یہی مشورہ دیا تھا کہ اگر رعایا آپ سے مطالبات کرے تو فوراً ان مطالبات کو تسلیم مت کریں۔ پہلے تو مطالبات اکٹھے ہونے دیں اور وقت گزرنے دیں۔ لوگ جب زیادہ احتجاج کریں تو پھر اُن مطالبات میں سے ایک دو‘ جو زیادہ سنگین نہ ہوں‘ وہ مان لیں‘ لوگ احتجاج ختم کر کے گھروں کو لوٹ جائیں گے اور وہ بڑے عرصے تک دوبارہ مطالبہ نہیں کریں گے کہ ابھی تو بڑی مشکل سے ایک دو مطالبے مانے گئے ہیں۔ اس کا شہزادے کو کہنا تھا کہ اگر تم نے فوراً ان کے سب مطالبات مان لیے تو رعایا ایک دو ہفتوں بعد کچھ اور مطالبات لے کر محل کے باہر مظاہرے کر رہی ہو گی۔ انسانوں کے مسائل اور ایشوز بھلا کب ختم ہوتے ہیں۔ خیر‘ میکاولی کے دور اور آج کے جدید جمہوری ادوار میں بہت فرق ہے۔ لوگ اب رعایا نہیں رہے بلکہ وہ اپنے حکمران خود چنتے ہیں‘ جنہیں وہ اپنے سامنے جوابدہ سمجھتے ہیں‘ ورنہ انہیں نکال پھینکتے ہیں۔ جمہوریت میں احتجاج اور مظاہرے کو وہ آئینی حق سمجھتے ہیں۔ اگرچہ پاکستان یا بھارت جیسے ملکوں میں جمہوریت اب کمزور پڑتی جا رہی ہے‘ جہاں حکمرانوں کا احتساب مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ چلیں‘ پاکستان میں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہاں چار مارشل لاء لگے جس کی وجہ سے سیاست اور سیاستدان‘ اور سب سے بڑھ کر ہمارے ادارے کمزور ہوئے‘ اور یوں دھاندلی اور ووٹ چوری کا رواج شروع ہوا۔ لیکن بھارت کے بارے میں کیا کہیں گے جہاں کوئی مارشل لاء نہیں لگا۔ ہاں‘ دو سال اندرا گاندھی نے ایمرجنسی ضرور لگائی تھی اور اسکے بعد ہونے والے الیکشن میں اپنی سیٹ‘ وزیراعظم ہوتے ہوئے بھی‘ ہار گئی تھی۔ لیکن اس وقت انڈیا میں بھی پُرتشدد مظاہرے ہو رہے ہیں کہ اب وہاں بھی ووٹ چوری اور دھاندلی معمول بن چکی ہے۔ وہاں بھی الیکشن کمیشن پر اب وہی الزامات لگ رہے ہیں جو پاکستان کے الیکشن کمیشن پر ہر دفعہ لگتے رہے ہیں۔ ہمارے ہاں یہ سب کچھ ہو تو سمجھ میں آتا ہے کہ چھوٹا ملک ہے‘ مقتدرہ کی گرفت مضبوط ہے‘ سیاستدانوں کے سیاسی کردار کمزور ہیں‘ چند سیاسی خاندانوں کا کنٹرول ہے اور وہ اداروں کیساتھ مل کر باری باری ووٹ چوری کر لیتے یا کرا لیتے ہیں۔ لیکن انڈیا میں ووٹ کیسے چوری ہو رہے ہیں؟ وہاں یہ رواج کب اور کیسے پڑا؟ ایک وقت تھا جب انڈیا کا الیکشن کمیشن اتنا طاقتور تھا کہ وزیراعظم ہوتے ہوئے بھی اندرا گاندھی اپنی سیٹ ہار گئی تھیں۔ بڑے بڑے وزیراعظم وہاں الیکشن ہارے اور کبھی نہ سنا کہ وہاں دھاندلی ہوئی ہو۔ ہم بھارتی جمہوریت اور سیکولرازم کی مثالیں دیا کرتے تھے لیکن وہاں جب نریندر مودی کے دور میں ہر ریاستی الیکشن بھارتیہ جنتا پارٹی نے جیتنا شروع کیا تو لوگوں کو شک ہونے لگا۔ بھارت میں یہ طنزیہ شعر بڑا مشہور ہوا کہ سرحدوں پر کشیدگی بڑھ گئی ہے‘ کیا کسی ریاست میں چناؤ تو نہیں ہو رہا؟ جب بھی بھارت میں الیکشن ہوا‘ پاکستان انڈیا کے حالات ضرور بگڑے۔ایک دفعہ وزیراعظم عمران خان نے صحافیوں کو بلایا‘ میں بھی شریک تھا۔ کسی نے پاک بھارت مذاکرات کی بات کی تو خان صاحب کہنے لگے کہ ہمارے درمیان جو صلح کرانے کی کوششیں کر رہے ہیں‘ ان کا پیغام ہے کہ ابھی بھارت میں الیکشن ہونے والا ہے‘ وہ ہونے دیں‘ پھر بات چیت کرتے ہیں۔ عمران خان کو یقین تھا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی جیتے گی۔ اگر آپ کو یاد ہو تو انہوں نے وزیراعظم مودی کی پارٹی کیلئے ایک ٹویٹ بھی کیا تھا اور امید ظاہر کی تھی کہ ان کی جیت سے پاکستان اور انڈیا کے مسائل مل بیٹھ کر حل ہوں گے۔ مسائل کیا حل ہونے تھے‘ مودی صاحب نے الٹا آئینی تبدیلیاں کر کے کشمیر کو بھارتی وفاق کا حصہ بنا لیا۔ اب تین دفعہ وزیراعظم بننے کے بعد مودی صاحب کا دل ہی نہیں چاہتا کہ وہ الیکشن ہاریں۔ لہٰذا اب جو ریاستوں میں حالیہ الیکشن ہوئے ہیں‘ خصوصاً بہار اور بنگال میں ان میں انکی پارٹی پر بہت الزامات لگے ہیں۔ اب ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹر نے جو تحقیقاتی سٹوری الیکشن کمیشن آف انڈیا کے بارے میں بریک کی ہے‘ اس نے پورے بھارت کو ہلا کر رکھ دیا ہے کہ کیسے بی جے پی کیلئے چیف الیکشن کمشنر ووٹرز کو دھوکا دے رہے تھے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اب بھارتی نوجوان طالبعلم دوبارہ جنتر منتر پر احتجاج کر رہے ہیں۔ ان طالبعلموں پر پولیس تشدد ہو رہا ہے۔ مظاہرین کو ڈنڈے‘ لاٹھی اور آنسو گیس اور گرفتاریوں سے ڈیل کیا جا رہا ہے۔ میں دوستوں کو ہمیشہ سے کہتا آیا ہوں کہ جب جمہوری ملکوں میں کوئی وزیراعظم کرسی سے چمٹ جائے اور اس کیلئے دھاندلی کرانے پر بھی تل جائے تو تسلی رکھیں‘ پھر وہ زیادہ دیر وزیراعظم نہیں رہ سکتا۔ پاکستان کے علاوہ بنگلہ دیش میں حسینہ واجد کی مثال دی جا سکتی ہے اور اب مودی بھی وہی کچھ کر رہے ہیں۔ حیران ہوں کہ ہم بھارت سے کچھ سیکھ سکے یا نہ سیکھ سکے‘ لیکن بھارتیوں نے ہم سے الیکشن میں دھاندلی ضرور سیکھ لی۔جمہوریت کا اصلی تصور وہی ہے جو 1796ء میں جارج واشنگٹن نے دیا اور تیسری دفعہ امریکہ کا صدر بننے سے انکار کر دیا تھا۔ یاد رکھیں‘ جو سیاستدان ہر قیمت پر دوسری اور تیسری مدت کیلئے وزیراعظم بننے کیلئے مرنے مارنے پر تل جائے گا‘ وہ جمہوریت کی کمزوری اور دھاندلی کا سبب بنے گا۔ ریاست میں تشدد بڑھتا جائے گا۔ اس وزیراعظم کا اپنا انجام بھی اچھا نہیں ہوگا۔ بھٹو صاحب اور حسینہ واجد اس کی کلاسک مثالیں ہیں۔ مجھے تو اب مودی صاحب بھی اسی قطار میں کھڑے نظر آ رہے ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سہیل آفریدی کا کٹھن امتحان(رشید صافی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-10-04/52781/19972153</link><pubDate>Sun, 04 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-10-04/52781/19972153</guid><description>تحریک انصاف کے احتجاج کا اصل مقصد عمران خان کی رہائی ہے‘ اس مقصد کیلئے خیبر پختونخوا کی حکومت سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کی قیادت میں کئی بار کوشش کر چکی ہے۔ ماضی میں کیے گئے احتجاج اور اس کے نتائج اس وقت ہمارا موضوع نہیں‘ تاہم ایک بات واضح ہے کہ احتجاج کی ناکامی کی ذمہ داری سابق وزیراعلیٰ علی امین پر بھی ڈالنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ پی ٹی آئی کے اندر یہ باتیں بھی زبان زدِعام رہیں کہ علی امین گنڈا پور &#39;&#39;اُن‘‘ کا آدمی ہے۔ علی امین گنڈا پور کو ہٹانے کے پیچھے یہی عوامل کارفرما تھے۔ جبکہ سہیل آفریدی کو وزارتِ اعلیٰ کا عہدہ سونپنے کی بڑی وجہ ان کے خان صاحب کیلئے جذبات کے ساتھ ساتھ یہ بھی مقصود تھا کہ علی امین گنڈا پور کے دور میں ہونے والے ناکام احتجاج کے داغ کو دھویا جائے اور ثابت کیا جائے کہ پی ٹی آئی اب بھی کامیاب احتجاج کی پوزیشن میں ہے۔ سو اسی خیال کے پیش نظر اگست 2026ء کے اوائل میں اعلان کیا گیا کہ پی ٹی آئی 27 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کرے گی۔ احتجاج کے اعلان کے ایک ہفتہ بعد ہی سپریم کورٹ سے خان صاحب کو علاج کے نام پر بظاہر ریلیف ملا تو حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان ممکنہ ڈیل کے خبریں گردش کرنے لگیں۔ سپریم کورٹ نے 18اگست 2026ء کو حکم نامہ جاری کیا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے۔ اس عدالتی حکم نامے کی رو سے عمران خان کو 16ستمبر 2026ء یعنی کیس کی اگلی سماعت تک شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں ہی زیر علاج و زیرِ نگہداشت رکھا جانا تھا۔ توقع کی جا رہی تھی کہ خان صاحب کی ہسپتال میں موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سیاسی سرگرمیاں بڑھیں گی اور کشیدگی میں خاتمے کی راہ ہموار ہو گی۔ مگر حکومت کے اقدام نے ان تاثرات پر پانی پھیر دیا کیونکہ خان صاحب کو پمز ہسپتال میں چیک اَپ کے بعد دوبارہ اڈیالہ جیل بھیج دیا گیا اور سیاسی ملاقاتوں کیلئے ایک دو روز بھی میسر نہ آ سکے۔ ظاہر ہے یہ صورتحال پی ٹی آئی کی توقع کے خلاف تھی۔ پی ٹی آئی نے عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر احتجاج ریکارڈ کرایا اور توہین عدالت کا سہارا لیتے ہوئے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی مگر اسے کوئی کامیابی نہ مل سکی۔ نئی پیدا شدہ صورتحال نے پی ٹی آئی میں پائی جانے والی اس سوچ کو تقویت دی کہ اپنا حق احتجاج سے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس مقصد کیلئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے مہم تیز کر دی اور پہلے سندھ کا دورہ کیا۔ کہا جا سکتا ہے کہ سندھ کی سرزمین پر انہیں سیاسی سرگرمیوں کا موقع ملا اور پی ٹی آئی سوشل میڈیا پر یہ تاثر دینے میں کامیاب ہو گئی کہ سندھ کے لوگوں نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا صرف اس وجہ سے بھرپور استقبال کیا کیونکہ وہ خان صاحب کی رہائی کیلئے لوگوں میں بیداری پیدا کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ سندھ کے کامیاب دورے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ انہیں کسی بڑی رکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑا‘ سب کچھ فرینڈلی انداز میں ہوا۔ اسی زعم میں مبتلا سہیل آفریدی نے پنجاب کا دورہ کیا‘ چونکہ لاہور ماضی میں پی ٹی آئی کا گڑھ سمجھا جاتا رہا ہے اور لاہور میں پی ٹی آئی اپنے مضبوط ووٹ بینک کا دعویٰ بھی کرتی رہی ہے اس لیے پی ٹی آئی کو توقع تھی کہ سہیل آفریدی کے پہنچتے ہی پورا لاہور خان صاحب کی محبت میں اُمڈ آئے گا۔ زمینی حقائق مگر اس کے برعکس تھے۔ سہیل آفریدی کو شکوہ ہے کہ انہیں لاہور میں مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا مگر اس سے بھی انکار کی گنجائش نہیں کہ پی ٹی آئی کے لاہوریوں نے سہیل آفریدی کو مایوس کیا۔ سہیل آفریدی لاہور سے واپس لوٹے تو ان کے پاس اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا ہی واحد راستہ بچا تھا تاکہ انہوں نے کارکنوں اور پارٹی سے خان صاحب کی رہائی کیلئے جو وعدہ کر رکھا ہے‘ اسے عملی شکل دی جا سکے۔ یا کم از کم پارٹی کے سامنے سرخرو ہو سکیں کہ ان کے بس میں جو تھا وہ کیا اور کسی مصلحت کا شکار نہیں ہوئے۔ جب سہیل آفریدی اپنے مؤقف پر ڈٹ گئے تو یہاں سے ان کا اصل امتحان شروع ہوا۔ سب سے پہلا امتحان انہیں پارٹی کے اندر شدید مزاحمت‘ اندرونی اختلافات اور احتجاج کے معاملے پر مختلف آرا کی شکل میں کرنا پڑا۔ ذرا تصور کریں کہ احتجاج کی تاریخ سر پر آن کھڑی تھی اور تحریک انصاف کی احتجاج کیلئے کوئی تیاری نہ تھی۔ پھر نہ چاہتے ہوئے بھی انہیں احتجاج کی تاریخ 4اکتوبر تک مؤخر کرنا پڑی۔ احتجاج کی تاریخ میں چند روز کی توسیع تو ہو گئی مگر سہیل آفریدی کے امتحان ابھی باقی تھے۔ صوبے میں تبدیلی کیلئے ممکنہ طور پر گورنر راج یا وزیراعلیٰ کیلئے پی ٹی آئی کی کوئی قابلِ قبول شخصیت کی صورت سہیل آفریدی کا امتحان جاری رہا۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے صوبے میں سکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر آئین کی حدود میں رہتے ہوئے تبدیلی کی تمام تر تیاری کر لی تھی۔ پھر مذاکرات کی راہ ہموار ہوئی۔ حکومت اور اپوزیشن کی 6‘6 رکنی مذاکراتی کمیٹی کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور جمعہ کو ہوا۔ مذاکرات کے پہلے دور کو خوشگوار قرار دیا گیا۔ مذاکرات کا دوسرا دور تادم تحریر شروع نہیں ہوا۔ ادھر جمعہ کے روز کور کمانڈر کانفرنس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کیلئے داخلی استحکام انتہائی اہم ہے‘ کسی بھی جواز پر پُرتشدد انتشار یا 9 مئی جیسے حالات پیدا کرنے کی کوشش سے فیصلہ کن طاقت اور قانون کے ساتھ بلاامتیاز اور بلا جھجھک نمٹا جائے گا۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ مقتدرہ پی ٹی آئی کو پُرتشدد احتجاج کی اجازت دینے کیلئے کسی قیمت پر بھی آمادہ نہیں ہے۔ یہاں یہ بھی ملحوظ خاطر رہے کہ جیسے کسی شہری کو احتجاج کے بنیادی حق سے روکا نہیں جا سکتا ہے اسی طرح کسی بھی گروہ یا جتھے کو پُرتشدد احتجاج کی اجازت نہیں دی جا سکتی ہے۔ پی ٹی آئی کیلئے لمحہ فکریہ ہونا چاہیے کہ اس نے کون سی لکیر عبور کی ہے جس کی وجہ سے وہ احتجاج کے حق سے محروم ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ اسی طرح رانا ثناء اللہ سے منسوب ایک بیان گردش کر رہا ہے کہ عسکری اور سیاسی قیادت نے طے کیا ہے کہ دھرنے اور لانگ مارچ اسلام آباد سے دور ہونے چاہئیں۔ رانا ثناء اللہ نے برملا کہا کہ پی ٹی آئی کو مطالبات کیلئے احتجاج ہی کرنا ہے تو پشاور اور مردان میں کرے۔ اگر کسی کو کوئی مسئلہ ہے تو وہ پشاور‘ کراچی‘ لاہور میں احتجاج کرے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو بطور جماعت پی ٹی آئی کی آزمائشیں کسی حد تک کم ہوئی ہیں مگر سہیل آفریدی کی بطور وزیراعلیٰ مشکلات ختم نہیں ہوئی ہیں۔ یہ اہم پیش رفت ہے کہ اپوزیشن حکومت کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھی ہے‘ ظاہر ہے اس موقع پر دیگر سیاسی امور بھی زیر بحث آئیں گے جیسے مذاکرات کے پہلے دور میں پی ٹی آئی سے احتجاج ختم کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ جبکہ پی ٹی آئی مذاکرات کار عمران خان کیلئے ریلیف حاصل کرنے کے خواہاں ہیں۔ اگر کوشش کے باوجود پی ٹی آئی عمران خان کیلئے ریلیف حاصل کرنے میں ناکام رہتی ہے تو بطور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی مشکلات مزید بڑھ جائیں گی۔ سہیل آفریدی کیلئے ایک طرف عمران خان کی رہائی کا چیلنج ہو گا جبکہ دوسری طرف کارکنوں اور پارٹی قیادت کو اعتماد میں لینا ہو گا۔ وہ اس صورتحال سے کیسے نمٹتے ہیں یہ اہم ہو گا۔ اگر سہیل آفریدی کی حکمت عملی ریاست سے ٹکرانے والی ہوئی تو وہ کھیل کے میدان سے باہر بھی ہو سکتے ہیں‘ یہ فیصلہ انہوں نے کرنا ہے کہ کھیل کے میدان میں موجود رہتے ہوئے حالات کا مقابلہ کرنا ہے یا کھیل کے میدان سے باہر رہ کر محض تماشائی بننا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/222_48272610.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کپاس کی پیاس(عمران یعقوب خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-10-04/52782/97954822</link><pubDate>Sun, 04 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-10-04/52782/97954822</guid><description>آپ نے آج کیا لباس پہنا ہے اور یہ کس چیز سے بنا ہے؟ لوگ کم ہی اس بات پر توجہ دیتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ دنیا بھر کے آٹھ ارب تیس کروڑ افراد روزانہ جو بھی اور جتنے بھی کپڑے پہنتے ہیں‘ ان کپڑوں کے 75 فیصد میں کسی نہ کسی مقدار میں کاٹن یعنی کپاس موجود ہوتی ہے۔ اس طرح کپاس ہماری روزمرہ زندگی اور لباس کا ایک اہم حصہ ہے۔ کپاس ایک قدرتی ریشہ ہے جو کپاس کے پودے سے حاصل کیا جاتا ہے۔ کپاس سے بُنے کپڑے کو سوتی کپڑا کہتے ہیں جو نرم‘ آرام دہ اور ہوادار ہوتا ہے‘ اس لیے خاص طور پر گرم موسم میں ایسے ملبوسات کو پہننا پسند کیا جاتا ہے۔ برصغیر کی شدید گرمیاں کاٹن کے کپڑوں کی مانگ میں اضافے کا سبب ہوتی ہیں۔ کپاس پسینہ جذب کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے‘ جس سے جسم کو نسبتاً ٹھنڈک اور آرام محسوس ہوتا ہے۔کپاس کسی بھی ملک کی معیشت کے لیے اہم ہے۔ کسان کپاس اگاتے ہیں جبکہ ٹیکسٹائل کی صنعت اس سے دھاگا اور کپڑا تیار کر کے روزگار کے مواقع پیدا کرتی ہے۔ ٹیکسٹائل کی برآمدات آج بھی پاکستان کی سب سے بڑی برآمدات ہیں۔ پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات مالی سال 2025ء میں 17ارب89 کروڑ ڈالر تھیں‘ جو جون میں ختم ہونے والے مالی سال (2026ء) میں 17ارب93 کروڑ ڈالر رہیں۔ یوں ٹیکسٹائل کی برآمدات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ کھیت میں اُگنے والی کپاس مختلف مراحل سے گزر کر ہمارے جسم پر پہننے والے خوبصورت کپڑوں کی شکل اختیار کرتی ہے اور ہر مرحلے میں ہزاروں افراد کے لیے روزگار کا سبب بنتی ہے اور بہت سے ترقی پذیر ممالک کی معیشتوں میں نمایاں کردار ادا کرتی ہے۔&#39;&#39;تن ہمہ داغ داغ شد‘ پنبہ کجا کجا نہم‘‘۔ یہ ایک مشہور فارسی ضرب المثل ہے جس کا معنی یہ ہے کہ سارا بدن زخموں سے چھلنی ہو گیا ہے اب روئی کا پھاہا (مرہم) کہاں کہاں رکھوں۔ جب کسی معاملے یا صورت حال میں خرابیاں اتنی زیادہ ہو جائیں کہ ان کی درستی یا اصلاح انسان کے امکان سے باہر ہو جائے تو یہ ضرب المثل بولی جاتی ہے۔ روئی یا کپاس کو فارسی میں پنبہ کہا جاتا ہے۔ پنبہ دہانی کا مطلب منہ میں روئی ٹھونسے ہوئے ہونا ہے۔ پنبہ گوش کے معنی ہیں کان میں روئی دینا۔سات اکتوبر کو کپاس کا عالمی دن منایا جانے والا ہے۔ ویسے بھی یہ کپاس کی برداشت کا موسم ہے۔ سوچا کچھ کسانوں اور کچھ ٹیکسٹائل مل مالکان کی باتیں حکمرانوں کے گوش کزار کر دوں کہ اس میں ملکی معیشت کی ترقی کے ساتھ سب کا فائدہ ہے۔ ملک کے کچھ علاقوں میں کپاس کی چنائی شروع ہو چکی ہے اور چنائی کے سیزن کے اختتام پر پتا چلے گا کہ امسال ملک میں کتنی کپاس پیدا ہوئی۔ پاکستان دنیا میں کپاس پیدا کرنے والا چھٹا بڑا ملک ہے۔ ایشیا میں کپاس کی کتائی (سپننگ) کی تیسری سب سے بڑی صلاحیت پاکستان ہی کے پاس ہے‘ جہاں ہزاروں جننگ اور سپننگ یونٹس کپاس سے ٹیکسٹائل کی مصنوعات تیار کرتے ہیں۔ایک زمانے میں اپنے لائل پور یعنی فیصل آباد کو کھڈیوں اور سپننگ ملوں کا گڑھ کہا جاتا تھا لیکن اب صورت حال ماضی جیسی نہیں رہی۔ معاشیات کا یہ بہت بڑا اصول ہے کہ خام مال کی نسبت تیار شدہ اشیا کی ویلیو کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ ہمارے پاس بہترین موقع ہے کہ زیادہ سے زیادہ کپاس اُگا کر اور ملک میں موجود سپننگ ملوں کے ذریعے اس کپاس کو فنشڈ پروڈکٹس میں تبدیل کر کے قومی معیشت کو جتنا چاہیں فروغ دے لیں‘ لیکن زمینی صورت حال یہ ہے کہ ہمیں اپنی سال بھر کی کپاس کی ضرورت کا بھی ایک بڑا حصہ بیرونِ ملک سے درآمد کرنا پڑتا ہے۔ اس طرح ہمارے تیار کردہ فیبرکس کی پیداواری لاگت بڑھ جاتی ہے اور ہم عالمی منڈی میں کاٹن سے بنی ہوئی سستی اشیا کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں رہتے۔ حکومت کو برآمدات کے فروغ کیلئے روئی کے معیار کو بہتر بنانے کیلئے سنجیدہ اقدامات کرنے چاہئیں اور مناسب پیکنگ اور درست لیبلنگ کو یقینی بنانے کیلئے ایک بھرپور پروگرام شروع کرنا چاہیے۔ خام کپاس برآمد کرنے کے بجائے ٹیکسٹائل انڈسٹری کو جدید خطوط پر استوار کیا جانا چاہیے تاکہ برآمدات کیلئے ویلیو ایڈڈ (اضافی قدر والی) کاٹن مصنوعات کی پیداوار کو فروغ دیا جا سکے۔دنیا بھر میں کپاس کی ملوں میں کھپت کا تناسب عالمی آبادی میں اضافے کے تناسب سے بڑھ رہا ہے۔ کپاس کے حوالے سے طویل مدتی صورت حال زیادہ واضح نہیں ہے‘ جس کی وجہ ریون (Rayon) اور ممکنہ طور پر دیگر مصنوعی ریشوں (Synthatic Fibers) کی جانب سے کپاس کو درپیش سخت مقابلے کا امکان ہے۔ اس کے باوجود اس زمینی حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ کپاس کی ضرورت اور کھپت وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑھے گی‘ کم نہیں ہو گی۔ اس کی وجہ ہے آبادی‘ جو مسلسل بڑھ رہی ہے۔پاکستان کو ملک میں لمبے ریشے والی کپاس اگانے کا بندوبست کرنا چاہیے۔ لمبے اور بڑے ریشے والی کپاس کو انگریزی میں لانگ سٹیپل کاٹن (Long Staple Cotton) یا ایکسٹرا لانگ سٹیپل کاٹن (ELS) کہا جاتا ہے۔ سی آئی لینڈ کپاس (Sea Island Cotton) کو دنیا کی بہترین اور نایاب ترین کپاس مانا جاتا ہے۔ اس کا ریشہ انتہائی لمبا اور ملائم ہوتا ہے۔ اس کے بعد پیما کپاس (Pima/ Supima Cotton) کا نمبر آتا ہے۔ یہ بھی لمبے ریشے والی اعلیٰ ترین قسم ہے جو اپنی مضبوطی اور نرمی کی وجہ سے مشہور ہے۔ تیسرے نمبر پر مصری کپاس (Egyptian Cotton) ہے۔ اس کا شمار بھی دنیا کی قیمتی اور لمبے ریشے والی کپاس میں ہوتا ہے۔ ان تینوں اقسام کی کپاس کے ریشے کی لمبائی عام طور پر 29 ملی میٹر سے 34 ملی میٹر یا اس سے کچھ زائد ہوتی ہے۔ ایسی کپاس سے بننے والا دھاگا زیادہ مضبوط‘ چمکدار اور نرم ہوتا ہے اور یہ دھاگا اعلیٰ معیار کے ملبوسات اور بستر کی چادریں بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ کیا پاکستان میں یہ کپاس کاشت نہیں کی جا سکتی؟پاکستان میں کپاس کے کاشتکار موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو شدت کے ساتھ محسوس کر رہے ہیں کیونکہ غیر متوقع موسمی نمونے اور شدید گرمی فصل کو بری طرح متاثر کر رہی ہے۔ گرمی کا موسم طویل ہو جائے جیسا کہ امسال ہوا ہے‘ تو اس سے حشرات کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے‘ خاص طور پر سفید مکھی اور گلابی بول ورم‘ جس کے نتیجے میں کسان کیڑے مار ادویات پر زیادہ انحصار کرتے ہیں جو پیداواری لاگت بڑھا دیتا ہے۔ اگر محکمہ زراعت اپنا کردار فعال طور پر ادا کرے‘ کاشتکاروں کو کھیت کی سطح پر تکنیکی معاونت فراہم کرے‘ ہر علاقے کے لحاظ سے حشرات کے حملے کی تفصیلات اور کیڑے مار ادویات کے نام‘ ان کے اجزا اور ادویات کی مقدار کی معلومات اپنی ویب سائٹ یا دیگر ذرائع سے فراہم کرے‘ فصل کے موسم کے دوران بیج اور کیڑے مار ادویات کے معیار کی نگرانی کرے‘ فصل پر پھول آنے کے موسم کے دوران کیڑے مار ادویات کے بہتر استعمال کے لیے کاشتکاروں کو کھیت پر تربیت فراہم کرے اور اس کے ساتھ حکومت کھادوں اور حشرات کش ارزاں ادویات کا اہتمام کر دے تو پاکستان میں کپاس کی فی ایکڑ پیداوار بڑھائی جا سکتی ہے۔ کیڑے مار ادویات بنانے والی کمپنیاں اپنے فیلڈ عملے کو تربیت دیں اور فیلڈ عملہ آگے کاشتکاروں کی مناسب رہنمائی کرے تو کپاس کی فصل کو نقصان پہنچانے والے حشرات سے بچایاجا سکتا ہے۔ کیڑے کم ہوں گے تو فصل کی پیداوار بڑھے گی۔ پاکستان میں بیج‘ کھاد‘ کیڑے مار ادویات اور پانی جیسے معیاری زرعی لوازمات کی دستیابی کو بہتر بنا کر اور ان کا موثر‘ دانشمندانہ اور متوازن استعمال یقینی بنا کر کپاس سمیت کسی بھی فصل کی پیداوار میں نمایاں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ عالمی یومِ کپاس‘ کپاس کے شعبے کی پائیداری کو بہتر بنانے اور اسے عالمی ایجنڈے میں مرکزی حیثیت دلانے کے عزم کی تجدید کا ایک بہترین موقع ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_58350786.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>یورپ کانیادفاعی نقشہ(محمد عبداللہ حمید گل)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-abdullah-hameed-gull/2026-10-04/52783/14175079</link><pubDate>Sun, 04 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-abdullah-hameed-gull/2026-10-04/52783/14175079</guid><description>سوویت یونین کے انہدام کو تین دہائیاں گزرنے کے بعد عالمی منظر نامہ ایک بار پھر تبدیلی سے گزر رہا ہے۔ روس‘ یوکرین جنگ نے یورپ کی سلامتی کو براہِ راست متاثر کیا ہے۔ نیٹو کے مشرقی حصے پر دبائو بڑھا ہے۔ یورپ سے امریکی فوجی انخلا کا بڑا سبب واشنگٹن کا اپنی توجہ بحر الکاہل اور ایشیا کی جانب منتقل کرنے کی کوشش ہے جبکہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتے تنازعات نے عالمی طاقتوں کی صف بندی کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ روس اور چین اس بدلتے تناظر میں نئے سفارتی‘ اقتصادی اور تزویراتی مواقع کی تلاش میں ہیں۔ ایران کے ساتھ کشیدگی نے یہ ثابت کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگیں صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں۔ خلیج فارس‘ آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے اہم راستوں میں سے شامل ہیں‘ ان میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ کا براہِ راست اثر یورپی معیشتوں پر بھی پڑتا ہے۔ اس لیے یہ محض امریکی خارجہ پالیسی کا معاملہ نہیں بلکہ توانائی‘ تجارت‘ آبی گزرگاہوں کی سلامتی‘ ہجرت اور دہشت گردی کے خطرات کے باعث یہ معاملہ یورپ کی سلامتی سے بھی جڑا ہوا ہے۔روس یوکرین جنگ نے یورپ کے سامنے ایک بڑا سوال کھڑا کیا جسے سرد جنگ کے خاتمے کے بعد بڑی حد تک پس پشت ڈال دیا گیا تھا۔ وہ یہ کہ یورپ اپنے تحفظ کیلئے خود کتنا تیار ہے؟ نیٹو اب مشرقی حصار مضبوط کر رہا ہے‘ یورپی ممالک دفاعی بجٹ بڑھا رہے ہیں‘ دفاعی صنعت کو توسیع دی جا رہی ہے اور امریکہ یورپ میں اپنی فوجی موجودگی پر نظرِ ثانی کر رہا ہے۔ پہلے مرحلے میں اس نے رواں سال مئی میں جرمنی سے پانچ ہزار فوجیوں کی واپسی کا اعلان کیا اور پھر پولینڈ میں چار ہزار فوجیوں کی تعیناتی کے منصوبے کو مؤخر کر دیا۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یورپ کا نیا دفاعی نقشہ محض فوجی اڈوں اور سرحدوں تک محدود نہیں ہوگا۔ یہ عالمی طاقتوں کی بدلتی صف بندیوں‘ روس یوکرین جنگ‘ نیٹو کی نئی ترجیحات سمیت امریکہ کے بدلتے فوجی کردار پر مشتمل ہو گا۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکہ نے یورپ کے مختلف ممالک میں نہ صرف اپنی فوجیں تعینات کیں بلکہ نیٹو کے دفاعی سٹرکچر کو اپنی عسکری قوت‘ انٹیلی جنس‘ فضائی صلاحیت اور لاجسٹک نظام سے سہارا دیا۔ اب منظر نامہ تبدیل ہو رہا ہے۔ آنے والے برسوں میں یورپ کیلئے صرف روسی خطرے کا چیلنج نہیں رہا بلکہ بڑا چیلنج یہ ہے کہ یورپ امریکہ کی ممکنہ فوجی واپسی سمیت دیگر ملٹری منصوبوں میں کمی کے تناظر میں اپنے دفاعی ڈھانچے کو کس حد تک مربوط کر سکتا ہے؟یورپ کے نئے دفاعی نقشے میں اب ایک بنیادی تبدیلی یہ آئی ہے کہ مغربی یورپ کی نسبت مشرقی یورپ کے دفاع کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ پولینڈ‘ بالٹک ریاستیں‘ فن لینڈ اور بحیرہ اسود کا خطہ مستقبل کی دفاعی منصوبہ بندی میں مرکزی حیثیت اختیار کر رہا ہے۔ اگرچہ امریکہ اب بھی نیٹو کی عسکری بنیاد کا اہم حصہ ہے‘ مگر یورپی اتحادیوں پر فوجی اخراجات کے زیادہ حصے کیلئے دبائو بڑھ رہا ہے۔ یہی یورپ کے دفاعی نقشے کو سرد جنگ کے بعد کے نقشے سے مختلف بنا رہا ہے۔ یوکرین جنگ اب صرف ایک جنگی محاذ نہیں بلکہ مستقبل کی یورپ کی دفاعی حکمتِ عملی کا اہم حوالہ بن چکا ہے۔ اس جنگ نے یورپی ملکوں کو یہ سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ اگر انہیں طویل عرصے تک کسی بڑے فوجی بحران کا سامنا کرنا پڑے تو انکے پاس کتنے وسائل‘ ذخائر اور کتنی پیداواری صلاحیت ہے۔ یوکرین کو فراہم کی جانے والی مغربی عسکری امداد بھی اسی وسیع تر دفاعی حکمت عملی کا حصہ ہے‘ جو اس بات کی بھی عکاس ہے کہ یوکرین کا مسئلہ صرف کیف اور ماسکو کے مابین کا تنازع نہیں بلکہ یورپ کی اپنی سلامتی بھی اس پر منحصر ہے۔ روس یوکرین جنگ نے یورپی سکیورٹی کے پرانے تصورات کو چیلنج کرنے کے ساتھ ساتھ نیٹو کے دفاعی ڈھانچے‘ یورپی ممالک کی عسکری ترجیحات اور امریکہ کے فوجی کردار کے بارے میں بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ یوکرین جنگ کا مستقبل یورپ کے نئے دفاعی نقشے سے براہ راست جڑا ہوا ہے۔ جنگ کے دوران یورپی ممالک نے یوکرین کو ہتھیار‘ فوجی و مالی امداد اور وسائل فراہم کیے۔ نیٹو کے مطابق رواں برس اب تک اتحادی ممالک نے یوکرین کے لیے 70 ارب یورو کے ملٹری فنڈز کی فراہمی کا وعدہ کیا جبکہ یورپ اور کینیڈا اس فنڈز کا بڑا حصہ فراہم کر چکے ہیں۔برسلز میں یورپی وزرائے دفاع کے اجلاس کے موقع پر یورپی کمیشن کی نائب صدر اور یورپی یونین کی خارجہ پالیسی چیف کایا کالاس نے خبردار کیا کہ یورپ کو 2030ء کے دفاعی اہداف کو پورا کرنے کیلئے خود کو تیزی سے اور زیادہ مؤثر انداز میں مسلح کرنے کی ضرورت ہے۔ انکے مطابق روس امن کے قیام میں دلچسپی نہیں رکھتا لہٰذا یورپ کو اپنے دفاعی نقطۂ نظر میں فیصلہ کن تبدیلی لانا ہو گی۔ کایا کالاس کا کہنا تھا کہ یورپی ممالک نے روس کی جانب سے درپیش خطرات کے پیشِ نظر ایک نئے &#39;ایمرجنسی سکیورٹی پروٹوکول‘ پر بات چیت کا آغاز کر دیا ہے۔ مجوزہ پروٹوکول کا مقصد ان واقعات پر فوری ردِعمل دینا ہے جو نیٹو کے آرٹیکل پانچ کے تحت مسلح حملے کے زمرے میں نہ آتے ہوں تاہم وہ یورپی سلامتی کیلئے خطرہ ہوں۔ لہٰذا اس صورتحال میں یہ دیکھا جائے گا کہ اس حملے کے خلاف فوری طور پر کون سے ذرائع اور اقدامات استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ کایا کالاس کا مزید کہنا تھا کہ یورپی یونین یوکرین کے مقبوضہ علاقوں میں انسانی امداد پہنچانے کی کوشش کر رہی ہے اور یوکرین کو اپنے دفاع میں مدد فراہم کرنے کا سلسلہ بھی جاری رکھے گی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ یورپی یونین روس کے خلاف اب تک کی سب سے بڑی پابندیوں کی فہرست پر بھی کام کر رہی ہے۔سرد جنگ کے بعد سے یورپ نے اپنی معاشی و سماجی ترقی کو ترجیح دی مگر حالیہ تنازع نے اس کو دوبارہ دفاع‘ عدم تحفظ اور فوجی تیاریوں کی طرف دھکیل دیا ہے۔ نیٹو کی موجودگی‘ فضائی نگرانی‘ میزائل و ڈرون ٹیکنالوجی اور دیگر اہم فوجی لاجسٹکس کو اب مرکزی حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔ یہاں سوال یہ بھی ہے کہ کیا یورپ اب امریکہ کے سائے سے باہر نکل رہا ہے؟ کیا یورپ نئے دفاعی دور میں داخل ہو رہا ہے؟ گزشتہ سات دہائیوں سے نیٹو یورپ کی اجتماعی سکیورٹی کا ضامن رہا ہے اور اسکے آرٹیکل پانچ کے تحت اس اتحاد میں شامل کسی ایک رکن ملک پر حملہ تمام اتحادیوں پر حملہ تصور ہو گا۔ 2025ء کے ہیگ اجلاس میں نیٹو ممالک نے 2035ء تک دفاعی اخراجات جی ڈی پی کے پانچ فیصد تک لے جانے کا عہد کیا‘ جس میں 3.5 فیصد بنیادی ڈیفنس ضروریات کیلئے مختص کرنے کا ہدف مقرر کیاگیا۔ نیٹو کے مطابق یورپی اتحادیوں اور کینیڈا نے گزشتہ سال عسکری سرمایہ کاری بڑھائی اور مجموعی اخراجات میں 2024ء کے مقابلے میں 2025ء میں 139 ارب ڈالر سے زائد کا اضافہ ہوا۔ یہ اعداد وشمار اس بات کی علامت ہیں کہ یورپ اب امریکہ پر انحصار کم کرتے ہوئے اپنی فوجی صلاحیت بڑھانے کی کوشش میں ہے۔ دفاعی اخراجات کا مسئلہ اپنی جگہ اہم ہے مگر نیٹو کے حوالے سے یہ سوال زیادہ اہمیت رکھتا ہے کہ کیا موجودہ عالمی صورتحال میں یورپ اور امریکہ ایک مشترکہ سکیورٹی تصور پر متفق ہو سکتے ہیں؟ جہاں ایک طرف امریکہ میں نیٹو کے کردار پر سیاسی تقسیم بڑھ رہی ہے‘ وہیں یورپ میں واشنگٹن کی پالیسی خصوصاً مڈل ایسٹ اور روس کے حوالے سے پالیسی مختلف سطحوں پر اختلافات کا سبب بن رہی ہے۔ نیٹو کے سامنے اصل چیلنج یہی ہے کہ وہ ہرمز اور بحیرۂ اسود کو دو الگ الگ جغرافیائی مسائل سمجھنے کے بجائے ایک وسیع تر سکیورٹی کے تناظر میں دیکھے۔ یوکرین روس جنگ‘ ایران کی فوجی قوت‘ بحری تجارت‘ آبی گزرگاہوں میں کشیدگی‘ مشرق وسطیٰ میں نئی علاقائی صف بندی کو عالمی قوتوں کی مسابقت نے ایک دوسرے کیساتھ جوڑ دیا ہے۔ اب یورپ کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ اپنی سکیورٹی کو امریکی ضمانت کیساتھ وابستہ رکھے یا اپنی سفارتی‘ عسکری و اقتصادی صلاحیتوں کو زیادہ منظم انداز میں استعمال کرے۔ ہرمز سے بحیرہ اسود تک بڑھتے بحران نے اس سوال کو مزید اہم بنا دیا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_62843609.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>