<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>استحکامِ پاکستان کا ناگزیر تقاضا(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-20/11208</link><pubDate>Wed, 20 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-20/11208</guid><description>چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ پراکسیز اور منفی پروپیگنڈے کے ذریعے پاکستان کی ترقی کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کرنے والی دشمن قوتیں ناکام ہوں گی۔ کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ میں زیرِ تربیت افسران اور فیکلٹی ممبران سے خطاب کرتے ہوئے فیلڈ مارشل نے دفاعی افواج کے درمیان ہم آہنگی اور مستقبل کے جنگی چیلنجز سے باخبر رہنے کی اہمیت پر زور دیا۔ موجودہ دور میں ملک و قوم کو درپیش خطرات کے تناظر میں فیلڈ مارشل کا خطاب ایک جامع اور دوررس قومی گائیڈ لائن کی حیثیت رکھتا ہے۔ چیف آف ڈیفنس فورسز کا یہ کہنا کہ منفی پروپیگنڈا اور بیرونی دہشتگردی کے ذریعے پاکستان کی ترقی کا راستہ کسی صورت نہیں روکا جا سکتا‘دراصل اُن علاقائی اور عالمی قوتوں کیلئے دوٹوک پیغام ہے جو پاکستان کے خلاف پراکسی وار‘ ڈِس انفارمیشن اور داخلی خلفشار جیسے حربوں میں ملوث ہیں۔یہ حقیقت ڈھکی چھپی نہیں کہ پاکستان کے خلاف ان منفی مہمات کے پیچھے کون ہیں‘ اہم بات یہ ہے کہ ریاستی مشینری‘ خاص طور پر افواجِ پاکستان ان خطرات سے بخوبی آگاہ ہیں اور بروقت اور مؤثر حکمت عملی کے ذریعے ان کا مقابلہ کر رہی ہیں۔ تاہم وقت کا تقاضا یہ بھی ہے کہ ہم داخلی سیاسی خلفشار سے نکل کر ایک متحد قوم کے طور پر دنیا کو یہ پیغام دیں کہ پاکستان ایک باوقار‘ خودمختار اور ناقابلِ تسخیر ملک ہے۔

اس کیلئے ضروری ہے کہ قومی سطح پر ہم آہنگی کو فروغ دیا جائے اور جو شکوے شکایتیں ہیں انہیں مل بیٹھ کر دور کیا جائے۔ اس وقت پاکستان کو ہائبرڈ وارفیئر کا سامنا ہے۔ گزشتہ برس مئی میں بدترین عسکری ہزیمت اٹھانے والا دشمن حربی میدان میں پسپائی اختیار کرنے کے بعد اب پراکسیز اور منفی پروپیگنڈے کے گھٹیا حربوں کو قوت فراہم کر رہا ہے۔ یہ اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ ہزیمت خوردہ دشمن پاکستان کی دفاعی طاقت کا براہِ راست سامنا کرنے کی جرأت کھو چکا ہے اسلئے وہ ڈیجیٹل دہشتگردی اور من گھڑت بیانیوں کے ذریعے عوامی ذہنوں کو پراگندہ کرنے اور ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے درپے ہے۔ تاہم یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ منفی ہتھکنڈوں اور پروپیگنڈے کی عمر بہت مختصر ہوتی ہے اور ٹھوس حقائق کے سامنے وہ ریت کا گھروندا ثابت ہوتے ہیں‘ لہٰذا فیک نیوز سے نمٹنے کیلئے ضروری ہے کہ ذرائع ابلاغ کے مستند پلیٹ فارمز کو تقویت فراہم کی جائے اور ڈِس انفارمیشن کا مقابلہ مستند خبروں اور بااعتبار ذرائع ابلاغ کو آسانیاں بہم پہنچا کر کیا جائے۔ عسکری میدان کی فتوحات کو برقرار رکھنے اور دشمن کی پراکسیز کی بیخ کنی کیلئے پوری قوم کو فکری طور پر بیدار ہونا چاہیے تاکہ دشمن کے منفی حربوں کو ناکام بنایا جا سکے۔
یہ جدید دور کی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ملک کا دفاع عسکری قوت یا دفاعی اقدامات تک محدود نہیں ہوتا ‘ یہ ایک کثیر جہتی عمل ہے جو داخلی اطمینان‘ عوام دوست حکمت عملیوں اور بہترین طرزِ حکمرانی سے منسلک ہوتا ہے۔ چیف آف ڈیفنس فورسز نے اپنے خطاب میں ترقی اور سکیورٹی کے اسی باہمی تعلق کو اجاگر کیا ہے کہ پائیدار ترقی کے حصول کیلئے مؤثر سکیورٹی اقدامات اولین شرط ہے مگر ان اقدامات کو عوام دوست پالیسیوں اور گڈ گورننس کی پشت پناہی حاصل ہونی چاہیے۔ عسکری ادارے ملک میں امن وامان کو فروغ دے سکتے اور سرحدی دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنا سکتے ہیں مگر معیشت کو سنبھالنا‘ ریاستی مشینری کو فعال کرنا‘ عدالتی و قانونی نظام کو بہتر بنانا اور روزمرہ کے مسائل کو حل کرنا خالصتاً سول اداروں کا کام ہے۔ لہٰذا حکومت اور سول اداروں کو بھی اپنی ذمہ داریوں کا ادراک ہونا چاہیے ۔
ایسی پالیسیاں وضع کرنا ہوں گی جن سے عام آدمی کو ریلیف ملے‘ انصاف کی فراہمی آسان ہو اور میرٹ کی بالادستی قائم ہو۔ سماجی و معاشی بہتری اور ریاست اورعوام کے تعلق کو مضبوط بنانا قومی سلامتی پالیسی کا ناگزیر تقاضا  ہے۔ جب عوام میں ریاستی تحفظ کا احساس مضبوط ہو گا تو از خود وہ ملکی دفاع میں بنیانٌ مرصوص کا کردار ادا کریں گے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>عالمی عدالت کا فیصلہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-20/11207</link><pubDate>Wed, 20 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-20/11207</guid><description>ہیگ کی عالمی ثالثی عدالت نے سندھ طاس معاہدے پر پاکستان کے مؤقف کو جائز اور بین الاقوامی قانون کے عین مطابق قرار دیاہے۔ فیصلے کے مطابق سندھ طاس معاہدہ عالمی بینک کی ضمانت کے تحت قائم بین الاقوامی معاہدہ ہے جسے بھارت یکطرفہ طور پر معطل نہیں کر سکتا۔ فیصلے میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت مغربی دریاؤں پر قائم پن بجلی منصوبوں کے حوالے سے بھارت کو اپنے ڈیزائن اور منصوبہ بندی میں معاہدے کی طے شدہ حدود کا مکمل خیال رکھنا ہوگا‘ بھارت اپنی صوابدید پر پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ نہیں کر سکتا۔ یہ فیصلہ پاکستان کے اس مؤقف کی تائید کرتا ہے کہ آبی وسائل کے انتظام میں قدرتی بہاؤ اور ڈاؤن سٹریم تحفظ جیسے اہم نکات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

امید ہے کہ یہ فیصلہ بھارت کی جانب سے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے عزائم کی راہ روکنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔مگر کسی بھی بین الاقوامی فیصلے کی اصل اہمیت اسکے نفاذ میں مضمر ہوتی ہے۔ ثالثی عدالت سمیت دیگر عالمی اداروں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس فیصلے پر عملدرآمد کی نگرانی کریں تاکہ آبی تنازعات کو محاذ آرائی میں تبدیل ہونے سے روکا جاسکے اور کروڑوں پاکستانیوں  کیلئے آبی سلامتی کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے۔ عالمی عدالت کایہ فیصلہ محض پاکستان کی ایک قانونی جیت نہیں بلکہ ایک وسیع تر اصول کی توثیق ہے کہ مشترکہ آبی وسائل پر خودمختاری نہیں بلکہ اشتراک‘ شفافیت اور معاہداتی پابندی ہی پائیدار راستہ ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سرمایہ کاری میں کمی(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-20/11206</link><pubDate>Wed, 20 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-20/11206</guid><description>سٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے دس ماہ کے دوران ملک میں ایک ارب 40 کروڑ ڈالر کی براہِ راست بیرونی سرمایہ کاری کی گئی جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں یہ حجم دو ارب چار کروڑ ڈالرتھا۔ سرمایہ کاری میں کمی کی بنیادی وجوہات میں غیر یقینی معاشی پالیسیاں‘ پیچیدہ ٹیکس نظام‘ انتظامی رکاوٹیں‘ سیاسی بے یقینی اور توانائی کی بلند قیمتیں شامل ہیں۔ ملک میں بجلی‘ گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں خطے کے کئی ملکوں سے زیادہ ہیں۔ بنگلہ دیش‘ ویتنام اور بھارت میں صنعتوں کو نسبتاً سستی توانائی دستیاب ہے جبکہ پاکستان میں صنعتکار مہنگی بجلی اور بلند شرحِ سود کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں‘ یہ بیرونی سرمایہ کاری میں کمی کی ایک بڑی وجہ ہے۔

بیرونی سرمایہ کاری میں اضافے کیلئے توانائی کی قیمتوں میں کمی‘ ٹیکسوں میں سہولت‘ صنعتی شعبے کیلئے خصوصی مراعات اور سرمایہ کار دوست ماحول یقینی بنانا ہوگا۔ اس کیساتھ ساتھ امن و امان کی صورتحال اور حکومتی اداروں کی کارکردگی بہتر بنانا بھی ضروری ہے۔ ملک میں صنعتی زونز کی صورت میں صنعتوں کیلئے بنیادی انفراسٹرکچر موجود ہے مگر مہنگی توانائی ‘ بلند شرح سود‘ امن و امان کے مسائل اور سرمایہ کاری کی راہ کی دیگر رکاوٹیں بیرونی سرمایہ کاری کیلئے سد راہ ہیں۔سرمایہ کاری اور صنعتکاری کیلئے پُر کشش ماحول بنانے کیلئے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>محترمہ کی ادا جو اچھی لگی(ایاز امیر)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-05-20/51978/89728077</link><pubDate>Wed, 20 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-05-20/51978/89728077</guid><description>اپنے بارے میں یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ دھر لیے جائیں اور 48 یا 72 گھنٹے زیر حراست رہیں تو کوئی بھی بیان دینے کے لیے تیار ہو جائیں۔ سفید کاغذ ہمارے سامنے رکھنے کی دیر ہو اور فوراً سے پہلے ہم دستخط کر دیں۔ یہ اس لیے کہہ رہے ہیں کہ اپنی ہمت کا اندازہ ہے۔ اس لیے حیرانی ہوئی یہ دیکھ کر کہ انمول پنکی نامی خاتون کو عدالت میں پیش کیا گیا اور کس دھڑلے سے اس نے بولنے کی کوشش کی۔ مناظر دیکھ کر لگا یوں کہ کراچی کی آدھی پولیس انتظامیہ اسے چپ کرانے کی کوشش میں ہے اور خاتون اپنی آواز بلند کرنے میں لگی ہوئی ہے۔ پولیس کے جوانوں نے یہ تماشا بھی لگایا کہ پنکی نے آواز نکالی اور انہوں نے ہو ہو کرنا شروع کر دیا تاکہ اس کی بات کی سمجھ نہ آئے۔ پہلی پیشی پر بنی گالہ کا بھی کہیں ذکر ہوا کہ مجھ سے پتا نہیں کس قسم کے بیان دلوانے کی کوشش کی گئی۔ الزام پنکی پر کوکین کی سپلائی کرنے کا ہے اور بنی گالہ کا ذکر شاید اس ضمن میں آیا۔ ہم ہوتے تو بنی گالہ چھوڑ کر شمالی کوریا کے کسی شخص کے خلاف بیان دینے کا کہا جاتا تو دیر نہ کرتے۔سنا ہے کہ خاص طبقات میں کوکین کا استعمال پاکستان میں خاصا عام ہے۔ دیگر اشیا کے بارے میں تو کچھ نہ کہیں گے لیکن کوکین اور اس قسم کی چیزوں سے کبھی آشنائی نہیں رہی۔ اخلاقی بنیادوں پر نہیں‘ یہ واضح کرنا ضروری ہے‘ بلکہ کئی چیزیں طبیعت کو بھاتی ہیں اور کئی ناگوار لگتی ہیں۔ یہ وضاحت اس لیے ضروری سمجھ رہے ہیں کہ یہ نہ سمجھا جائے کہ کوکین کی مبینہ سپلائی کے ضمن میں ہماری کوئی ہمدردی ہو سکتی ہے۔ بہرحال کچھ شک اس امر سے ابھرتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں یہ لازم نہیں کہ جو نظر آتا ہے وہ ہی حقیقت ہو۔ جس طریقے سے انمول پنکی کا سکینڈل منظرِعام پر آیا اور خبروں کی زینت بنایا گیا قدرتی طور پر سوال اٹھتا ہے کہ اس کے پیچھے کوئی اور مسئلہ تو نہیں؟جس طریقے سے انمول پنکی کی پہلی پیشی ہوئی اور ایک دم سے شور اٹھا کہ دیکھیں بغیر ہتھکڑی اسے لے جایا جا رہا ہے اور پولیس اسے پروٹوکول دے رہی ہے حالانکہ ہماری گناہگار آنکھوں نے ان تصاویر میں کوئی پروٹوکول نام کی چیز نہیں دیکھی‘ تو شک گزرا کہ اس طرح یہ مسئلہ کیوں پیش کیا جا رہا ہے؟ پھر تواتر سے خبریں آئیں کہ کوکین سپلائی کرنے کے دھندے کی کوئی بہت ہی بڑی کردار ہیں اور ان کے گاہکوں کی بہت لمبی چوڑی فہرست ہے اور ان کا کاروبار لاہور سے کراچی تک پھیلا ہوا ہے۔ سب باتیں ہم مان گئے لیکن کچھ دھڑکا سا دل میں محسوس ہوا یہ پڑھ کر کہ انمول پنکی نے لاہور میں کہیں 45 ہزار ماہانہ پر گھر لیا ہوا تھا۔ ہم سمجھے تھے کہ اتنی بڑی ڈرگ ملکہ ہیں تو کوٹھیاں کہیں پوش علاقوں میں ہوں گی‘ چمکیلی گاڑیوں کی قطار ہو گی‘ کلاشنکوفیں اٹھائے کالی وردیوں میں ملبوس محافظ ہوں گے۔ 45 ہزار ماہانہ کا سن کر یوں سمجھیے دل بیٹھ گیا کہ کیسی ڈرگ ملکہ اور کیسا اس کا دھندا۔ ویسے بھی سارے الزامات درست ہوں تب بھی اتنی تشہیر اور آہ و بکا کی کیا ضرورت؟دھندے مختلف ہماری سرزمین پر چلتے ہی ہیں‘ یہ کوئی نئی بات تو نہیں۔ شبِ غم کی جو خاص دوا مانی جاتی ہے اس کا دھندا وسیع پیمانے پر مملکت کے ہر بڑے شہر میں پایا جاتا ہے۔ کوئی چھاپے نہیں پڑتے کوئی سرخیاں نہیں بنتیں کیونکہ بڑے منظم اور شریفانہ طریقے سے یہ دھندے چلائے جاتے ہیں۔ مبینہ طور پر متعلقہ حکام کو منتھلیاں پہنچتی رہتی ہیں اور شرفا کے کام میں کوئی خلل نہیں پڑتا۔ یہ تو بے چارے چھوٹے پیمانے کے وارداتیے پولیس کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔ یہ تصاویر اور خبریں تو ہم سب نے دیکھی ہیں کہ کسی تھانے میں تھانیدار صاحب اور کچھ ساتھ اہلکار میز کے پیچھے بیٹھے ہیں‘ میز پر بوتلوں کی ایک لائن ہے اور کمرے کے دائیں بائیں سڑیل قسم کے مشتبے کھڑے ہیں۔ بڑے لوگ جو اِن دھندوں میں ملوث پائے جاتے ہیں وہ کبھی تھانوں کی زینت نہیں بنتے۔ پنکی کے بارے ہم نہیں کہہ سکتے کہ اس کہانی کے پیچھے کیا ہے اور اتنی تشہیر کا مقصد کیا ہے۔ یعنی سامنے تو ہم پنکی کو دیکھ رہے ہوں لیکن اصلی ٹارگٹ اس سارے ماجرے کا پتا نہیں کیا یا کون ہو۔تھوڑی زیادہ عمر کے لوگوں کو یاد ہو گا کہ میاں نواز شریف کی دوسری وزارتِ عظمیٰ میں مولانا سمیع الحق مرحوم سینیٹ میں ایک تقریر کر بیٹھے جو (ن) لیگ حکومت پر گراں گزری۔ کیا دیکھتے ہیں کہ اگلے ہی روز ایک انگریزی معاصر میں ایک سنسنی خیز خبر چھپی کہ میڈم طاہرہ نامی ایک خاتون ہیں جو اسلام آباد میں اونچے لیول کا قحبہ خانہ چلاتی ہیں اور ان کے گاہکو ں میں کئی بڑے نام شامل ہیں اور اشارہ مولانا مرحوم کی طرف کیا گیا۔ سکینڈل کو ایسا اچھالا گیا اور اس میں وہ وہ تفصیلات بیان کی گئیں کہ کردار کشی کی حد ہو گئی۔ مولانا خبر کی تردید کرتے بھی تو کیا کرتے کیونکہ جب اتنا شور اٹھے تو تردید یا انکار بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے۔ حکمران جماعت نے جو وقتی فائدہ اٹھانا تھا وہ اٹھا لیا اور کسی کو کوئی ندامت محسوس نہ ہوئی کہ ایک سیاسی مقصد پورا کرنے کے لیے اتنا گھناؤنا ہتھکنڈا استعمال کیا گیا۔ دلچسپ بات البتہ یہ ہے کہ اس دن سے لے کے آج تک یہ نہ معلوم ہو سکا کہ وہ قحبہ خانہ کس پتے پر چلتا تھا اور میڈم طاہرہ کون تھیں یا اصل میں تھیں بھی یا نہیں۔ یاد پڑتا ہے کہ چند دوستوں سے ہم نے پوچھا کہ میڈم طاہرہ کا ایڈریس تو پتا چلے‘ لیکن اس کا کوئی جواب نہ مل سکا۔انمول پنکی کی حقیقت جو بھی ہو ہم تو اس کی ہمت کو دیکھ رہے ہیں۔ ہماری گناہگار آنکھوں نے تو یہ دیکھا ہے کہ دباؤ پڑنے پر بڑے بڑے رستم سرنگوں ہو جاتے ہیں۔ ایسے بھی ہیں جو اپنے مؤقف پر ڈٹے رہتے ہیں لیکن اکثریت ہمارے جیسوں کی ہوتی ہے کہ دباؤ پڑا یا زیر حراست ہوئے تو ہر چیز ماننے کو تیار ہو گئے۔ پنکی کا کتنے روز کا جسمانی ریمانڈ ہوا ہے؟ پولیس جسمانی ریمانڈ مانگے جا رہی ہے اور متعلقہ جج یا مجسٹریٹ بھی بہت سخی ثابت ہو رہے ہیں کہ ریمانڈ دیے جا رہے ہیں۔ لیکن منظر ہمارے سامنے ہے کہ پنکی ٹوٹی نہیں اور کسی شمالی کوریا قسم کا بیان نہیں دے رہی۔ کل کیا ہو‘ نہیں کہہ سکتے لیکن اب تک تو بڑے بڑوں سے پنکی کی ہمت زیادہ دکھائی دیتی ہے۔اس سارے افسانے سے تو وہ روداد یاد آتی ہے جو سعید مہدی کی حالیہ کتاب میں درج ہے۔ لکھتے ہیں کہ جب انڈر ٹریننگ اسسٹنٹ کمشنر ملتان میں تھے تو تب کے کمشنر کے خلاف ایک انکوائری ہو گئی۔ یحییٰ خان کے مارشل لاء کا زمانہ تھا۔ کمشنر صاحب کے خلاف جنہوں نے گواہیاں دیں وہ سب ان کے ماتحت افسر رہ چکے تھے۔ یعنی انہیں کوئی شرم نہ آئی کہ اپنے سابقہ باس کے خلاف گواہی دے رہے ہیں۔ کمشنر صاحب کو گانوں کی محفلوں کا شوق تھا اور اس ضمن میں مشہور گلوکاراؤں اقبال بانو اور ثریا ملتانیکر کو بھی انکوائری میں بلایا گیا۔ ان دونوں خواتین نے کمشنر صاحب کے خلاف ایک لفظ کہنے سے انکار کر دیا۔ بڑے بڑوں کا کردار ہمارے سامنے ہے۔ بڑے بڑوں کے جھوٹ ہمارے سامنے ہیں۔ کردار کے حوالے سے اقبال بانو یا ثریا ملتانیکر کا مقابلہ ہمارے نام نہاد بڑے لوگ کیا کریں گے؟</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_80573045.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>اندرا گاندھی اور وزیراعظم ہائوس کی ایمبولنس… (2)(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-05-20/51979/37046410</link><pubDate>Wed, 20 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-05-20/51979/37046410</guid><description>یہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ بھارتی وزیراعظم کی رہائشگاہ پر کوئی ڈاکٹر یا ایمبولینس نہیں ہوگی۔ ایمرجنسی کسی بھی وقت ہو سکتی ہے۔ یہ اس لیے بھی اہم بات تھی کہ امرتسر میں گولڈن ٹیمپل پر فوجی چڑھائی کے بعد اندرا گاندھی اور ان کے خاندان کو روزانہ دھمکیاں مل رہی تھیں۔ گزشتہ رات اندرا گاندھی کی اُڑیسہ جلسے سے جلد بازی میں دہلی واپسی کی وجہ ان کے پوتے پوتی کی گاڑی کا حادثہ تھا جسے ان دھمکیوں سے جوڑا جارہا تھا لیکن اس کے باوجود وزیراعظم ہائوس میں سکیورٹی‘ ایمبولینس‘ بلڈ سپلائی یا خصوصی میڈیکل ٹیم کچھ بھی نہیں تھا۔ ان اہم ایشوز پر کبھی کسی نے توجہ ہی نہیں دی۔ یہی وجہ تھی کہ اب سونیا گاندھی اپنی زخمی ساس کو اندرا گاندھی کے سیکرٹری کی مدد سے ایمبیسڈر گاڑی میں ڈال کر ہسپتال لے جارہی تھیں۔ جب لہولہان اندرا کو گاڑی میں لے کر آل انڈیا انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز پہنچے تو وہاں ان کا سامنا جونیئر ڈاکٹرز سے ہوا‘ جن کے باقاعدہ ہاتھ پائوں پھول گئے کہ ملک کی وزیراعظم خون میں لت پت ان کے سامنے پڑی تھی۔ جب تک ان کے سینئرز وہاں پہنچے‘ اندرا گاندھی کو ہارٹ؍ لَنگ بائی پاس مشین پر ڈالا جا چکا تھااور انہیں خون لگایا جا رہا تھا۔ ڈاکٹروں نے اندرا گاندھی کو دوپہر دو بج کر بیس منٹ تک مردہ قرار نہیں دیا تھا۔ تاہم یہ طے تھا جب انہیں ہسپتال لایا گیا تھا تو طبی طور پر ان کی موت ہوچکی تھی۔ ہسپتال کے ایم ایس نے بعد میں کہا کہ اندرا گاندھی کے جسم میں بیس گولیاں لگی تھیں۔ ان گولیوں نے وزیراعظم کے جگر‘ گردوں‘ بازوئوں او ر جسم کے دائیں حصوں کو بری طرح نشانہ بنایا تھا۔ اگرچہ اندرا گاندھی کی موت ہوچکی تھی لیکن آل انڈیا ریڈیو کو ابھی تک سرکاری طور پر یہ اجازت نہیں تھی کہ وہ یہ خبر نشر کر سکے۔ شام چھ بجے ریڈیو کو کہا گیا کہ اب وہ یہ خبر نشر کر سکتے ہیں۔ جب ریڈیو سے یہ خبر نشر کی گئی تو اس سے پانچ گھنٹے پہلے ہی لاکھوں بھارتیوں کو بی بی سی‘ لوکل نیوز ایجنسی اور دیگر نیوز اداروں سے علم ہوچکا تھا کہ وزیراعظم کو قتل کر دیا گیا ہے۔ باقی بھارتیوں کو چھوڑیں کہ انہیں بی بی سی سے پتا چلا‘ وزیراعظم کے بیٹے راجیو گاندھی کو بھی بی بی سی کی خبر سے اپنی ماں کے قتل کا علم ہوا‘ جو اس وقت کلکتہ سے دور ایک علاقے میں اپنی پارٹی کانگریس کیلئے الیکشن مہم چلا رہے تھے۔ ایک پولیس پارٹی نے ان کے جلوس کو راستے میں روکا اور انہیں کہا گیا کہ وہ فوراً دہلی پہنچیں کیونکہ وہاں کچھ بہت خطرناک ہوا ہے۔ راجیو گاندھی کو ہیلی پیڈ کی طرف لے جایا گیا جہاں سے انہیں کلکتہ ایئرپورٹ پر لایا گیا۔ وہاں راجیو گاندھی نے حالات جاننے کیلئے بی بی سی ریڈیو ورلڈ سروس کی ساڑھے بارہ بجے کی خبریں سنیں جہاں ستیش جیکب یہ رپورٹ دے رہے تھے کہ اندرا گاندھی کی حالت بہت خراب ہے۔ تھوڑی دیر کے بعد ستیش جیکب نے لندن میں بی بی سی ہیڈکوارٹر کو یہ خبر کنفرم کی کہ بھارت کی وزیراعظم اندرا گاندھی ہلاک ہوگئی ہیں۔ راجیو گاندھی کلکتہ سے نیو دہلی فلائٹ لے کر پہنچے جہاں ایئرپورٹ پر ان کے سب سے قریبی دوست اور فلم سٹار امتیابھ بچن نے انہیں ریسو کیا۔ امیتابھ بچن نے بعد میں بتایا کہ راجیو گاندھی جونہی جہاز سے باہر نکل کر ان سے ملے تو سب سے پہلا سوال یہ پوچھا کہ ان کی بیوی اور بچے خیریت سے ہیں ؟ پھر انہوں نے سکیورٹی کا پوچھا۔ راجیو گاندھی ایئرپورٹ سے سیدھا ہسپتال پہنچے جہاں ان کی ماں کی میت رکھی تھی۔ جب ہسپتال کے گیٹ پر پہنچے تو وہاں بہت رش تھا۔ بڑی تعداد میں لوگ وہاں پہنچے ہوئے تھے۔ راجیو گاندھی کیلئے ہسپتال کے اندر جانا مشکل ہورہا تھا۔ اچانک راجیو نے اپنے ساتھ موجود امیتابھ بچن سے ان کی بیماری کے بارے پوچھا اور کہا: تم خود کیسے ہو ؟ کیسی طبیعت ہے تمہاری؟ راجیو امتیابھ بچن کو بتانے لگا کہ جب میں کلکتہ میں تھا تو وہاں ایک بندہ انہیں ملا جس نے کہا کہ اس کے پاس تمہاری بیماری کا علاج ہے‘ میں چاہتا ہوں کہ تم اس بندے سے ملو‘میں تمہیں اس کے بارے بتائوں گا۔ مارک ٹلی راجیو کے بارے میں لکھتا ہے کہ اس کی شخصیت کی خوبصورتی دیکھیں کہ ماں قاتلانہ حملے میں ہلاک ہوچکی ہے‘ وہ ہسپتال کے گیٹ پر عوام کے رش کی وجہ سے اندر نہیں جا پا رہا لیکن اسے کو اس حالت میں بھی اپنے دوست امتیابھ بچن کی بیماری اور علاج کی فکر تھی اور اس کا وہ اپنے تئیں علاج ڈھونڈ لایا تھا۔ راجیو گاندھی کی اس ایک بات نے مارک ٹلی کو بہت متاثر کیا۔ اندرا گاندھی جو تیسری دفعہ وزیراعظم بنی تھیں‘ وہ قتل ہونے والی پہلی بھارتی وزیراعظم تھیں۔ اگرچہ اپنے باپ جواہر لال نہرو کی طرح ان کی موت بھی بطور وزیراعظم ہی ہوئی تھی۔ لال بہادر شاستری بھی اس وقت وزیراعظم تھے جب 65ء کی جنگ کے بعد جنرل ایوب کے ساتھ معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد وہ اسی رات تاشقند میں انتقال کر گئے تھے۔ جب نہرو اور شاستری کی وفات ہوئی تو ان کی جگہ فوری طور پر سینئر وزیر کو نگران وزیراعظم کا چارج دیا گیا تاکہ پارٹی کو نیا وزیراعظم منتخب کرنے کا موقع مل سکے۔تاہم اس دفعہ سینئر کانگریس لیڈر پرناب مکھرجی‘ جو کلکتہ کی الیکشن مہم میں راجیو گاندھی کے ساتھ تھے‘ انہوں نے فوراً فیصلہ کیا کہ اس روایت کو توڑ کر فوری طور پر 39 سالہ سابق پائلٹ راجیو گاندھی کو وزیراعظم بنایا جائے۔ اسی شام دربار ہال میں سکھ صدر گیانی ذیل سنگھ نے راجیو گاندھی سے ایوانِ صدر میں نئے وزیراعظم کا حلف لیا۔ اگرچہ اپوزیشن راہنمائوں نے اس روایت کو توڑنے پر شدید تنقید کی لیکن بعد میں ثابت ہو گیا کہ یہ درست فیصلہ تھا۔ اندراگاندھی نے وزیراعظم ہوتے ہوئے کسی کو اوپر نہیں ابھرنے دیا کہ جس کا قد کاٹھ اتنا بڑا ہوتا کہ وہ اس خطرناک اور غیر یقینی صورتحال میں ملک کو سنبھال پاتا۔ ملک میں استحکام قائم رکھنے کا اُس وقت ایک ہی حل تھا کہ نہرو خاندان ہی کے کسی ممبر کو وزیراعظم بنا دیا جائے۔ اگرچہ راجیو گاندھی کے پاس اُس وقت کوئی سرکاری عہدہ یا وزارت نہ تھی لیکن ان کی ایک خاصیت ایسی تھی جو ملک چلانے کیلئے پورے بھارت میں کسی اور کے پاس نہیں تھی اور وہ تھی نہرو خاندان کا فرزند ہونا۔ سیاسی وراثت کا اکلوتا وارث۔ جب اندرا گاندھی کی ہلاکت کی خبر پھیلی تو اسی شام نیو دہلی میں سکھوں کا قتلِ عام شروع ہو گیا۔ دو سکھ گارڈز نے اندرا کو قتل کیا تھا لہٰذا انتقام کے طور پر ہندوئوں نے سکھوں کو مارنا شروع کر دیا۔ دو سے تین ہزار سکھ اس دوران مارے گئے‘ ان کے گھر جلائے گئے۔ نیو دہلی میں دو دن تک خون کی ہولی کھیلی گئی۔ کانگریس پارٹی کے ورکرز جھتے بنا کر سڑکوں اور گلیوں میں مسلح ہو کر پھرتے اور جو سکھ نظر آتا اسے کاٹ ڈالتے۔ بعض جگہوں پر تو پولیس نے بھی ان کے ساتھ مل کر سکھوں کا قتلِ عام کیا۔ سکھوں کو ٹرینوں سے اتار کر قتل کیا گیا‘( وہی مناظر جو 1947ء میں نظر آئے تھے)۔ افواہیں پھیلائی گئیں کہ سکھ اندرا گاندھی کے قتل پر جشن منا رہے تھے۔ اگرچہ کچھ جگہوں پر سکھوں نے مٹھائی بھی بانٹی۔ ایک ٹرین پنجاب سے دہلی پہنچی تو اس میں سکھوں کی لاشیں بھری تھیں۔ بعد میں حکومت نے تسلیم کیا کہ 2717 سکھ مارے گئے‘ جن میں 2150 صرف نیو دہلی کے فسادات میں مارے گئے۔ باہر سے لا کر دہلی میں سکھوں کو مارا گیا۔ بعض سکھوں کو لوکل ہندوئوں نے گھروں میں پناہ دے کر ان کی جان بچائی۔سکھوں کا دہلی میں قتل عام جاری تھا کہ راجیو گاندھی کو بتایا گیا کہ انہیں فوری کچھ کرنا ہوگا ورنہ پورا دہلی جلا دیا جائے گا اور کوئی سکھ نہیں بچے گا۔ راجیو گاندھی کی ماں کی میت ابھی وہیں رکھی تھی اور آخری رسومات ہونے والی تھیں‘ جب یہ پیغام ملا۔ یہ اندرا گاندھی کے قتل کا چوتھا روز تھا اور ہر طرف موت کا راج تھا۔ راجیو نے کچھ دیر سوچا اور اچانک اٹھ کھڑا ہوا اور بولا: آئو چلیں۔ (جاری)</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>آتشِ رفتہ(شاہد صدیقی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-siddiqui/2026-05-20/51980/32224691</link><pubDate>Wed, 20 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-siddiqui/2026-05-20/51980/32224691</guid><description>یہ اُن دنوں کی بات ہے جب میں کالج میں پڑھتا تھا۔ اُن دنوں تفریح کے ذرائع بہت کم تھے اور میری تفریح تو صرف کتابوں اور رسالوں تک محدود تھی۔ اُس زمانے کے ڈائجسٹوں میں اردو ڈائجسٹ اور سیارہ ڈائجسٹ نمایاں تھے۔ انہی دنوں سید قاسم محمود نے اپنی شاہکار کتابوں کی اشاعت کا آغاز کیا تھا اور اشاعتی حلقوں میں ہلچل سی مچ گئی تھی۔ شاہکار کتابوں کی سیریز میں قاسم محمود معروف ادیبوں کی کتابیں شائع کرتے۔ ہر ہفتے ایک نئی کتاب شائع ہوتی۔ شاہکار کتابیں کتابی سائز‘ پاکٹ سائز اور میگزین سائز میں شائع ہوتیں۔ اس سیریز میں کیسی کیسی کتابیں شائع ہوئیں۔ اس اشاعتی انقلاب کی خاص بات یہ تھی کہ شاہکار کتابوں کی قیمتیں بہت کم ہوتی تھیں۔ تقریباً ایک تہائی! اب ہمارے لیے کتاب خریدنا مشکل نہ رہا تھا۔ اسی سیریز میں جمیلہ ہاشمی کا ناولٹ آتشِ رفتہ شائع ہوا۔ یہ میرا جمیلہ ہاشمی سے پہلا تعارف تھا۔ اس کے بعد منصور حلاج کے حوالے سے ان کا ناول دشتِ سوس شائع ہوا اور اردو دان طبقے میں خاصا مقبول ہوا۔ خاص طور پر اس کی ڈِکشن کا بڑا چرچا ہوا جس میں ایک خاص نغمگی اور غنائیت تھی۔ شاید اس لیے جمیلہ ہاشمی نے اس کا نام دشتِ سوس (ایک غنائیہ) رکھا تھا۔ اس بات کو کئی برس بیت گئے۔پھر 2013ء آ گیا جب مجھے ایک ورکشاپ کے سلسلے میں نیپال جانے کا اتفاق ہوا۔ ورکشاپ کے شرکا میں اور لوگوں کے علاوہ معروف تجزیہ کار اور مصنفہ عائشہ صدیقہ بھی تھی۔ ہم ایک ہفتہ نیپال میں رہے‘ اس دوران اکیڈیمک سیشنز کے علاوہ نیپال کے سیاحتی مقامات کی سیر بھی کی۔ یہ ایک یادگار وقت تھا۔ ایک دن ہم لنچ کر رہے تھے۔ میری میز پر عائشہ بیٹھی تھیں۔ باتوں باتوں میں اردو ادب کا ذکر آگیا اور پھر آتشِ رفتہ اور دشتِ سوس کی مصنفہ جمیلہ ہاشمی کا تذکرہ۔ عائشہ جمیلہ ہاشمی کے ذکر پر مسکرائیں اور مجھے کہنے لگیں: آپ کو معلوم ہے جمیلہ ہاشمی میری والدہ تھیں۔ یہ میرے لیے ایک انکشاف تھا۔ میں سوچنے لگا کہ کیسا اتفاق ہے کہ ماں بیٹی دونوں اپنی پُر اثر تحریروں کے حوالے سے پہچانی جاتی ہیں۔ تب میں نے عائشہ کو بتایا کہ کس طرح آتشِ رفتہ نے مجھے جمیلہ ہاشمی سے متعارف کرایا۔ یوں تو عائشہ سے تعارف پہلے سے تھا لیکن اب جمیلہ ہاشمی کا بھی حوالہ نکل آیا تھا۔ یوں عائشہ کی شخصیت میرے لیے اور محترم ہو گئی۔ پھر عائشہ طویل عرصے کیلئے پاکستان سے باہر چلی گئیں۔اب تو ان سے ملے ایک مدت ہو گئی ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ زندگی کے راستے بھی کتنے بے ترتیب سے ہوتے ہیں۔ کچھ پتا نہیں چلتا اگلے موڑ پہ کیا ہو جائے۔ تب ایک دن اچانک جمیلہ ہاشمی کی یاد نے پھر سے میرے پہلو میں سر اٹھایا۔ اُس روز میں یونیورسٹی سے گھر پہنچا تو ایک پیکٹ میرا انتظار کر رہا تھا۔ کھول کر دیکھا تو یہ جمیلہ ہاشمی کے ناولٹ آتشِ رفتہ کا نیا ایڈیشن تھا ۔یہ پیکٹ مجھے کسی دوست نے بھیجا تھا۔ آتشِ رفتہ مجھے اُس دور میں لے گیا جب میں راولپنڈی کے گورڈن کالج میں پڑھتا تھا اور جب پہلے پہل میں جمیلہ ہاشمی سے متعارف ہوا تھا۔ وہ بھی کیا دن تھے آتشِ رفتہ کی کہانی نے ایک عرصے تک مجھے اپنے حصار میں لیے رکھا۔ اور آج مدت کے بعد میں یہ کہانی پھر سے پڑھ رہا تھا۔آتشِ رفتہ کی کہانی کیا ہے۔ ایک مٹتی ہوئی تہذیب کی داستان ہے جو چار نسلوں پر پھیلی ہوئی ہے۔ جس میں محبت‘ جبر‘ انتقام‘ روایت‘ یادداشت‘ وقت اور تجدید کے موضوعات شامل ہیں۔ بظاہر یہ ایک سادہ سی کہانی ہے لیکن علامتوں کے آئینوں میں معانی عکس در عکس نمودار ہوتے ہیں‘ یوں &#39;آتشِ رفتہ‘ کی کہانی ایک عام کہانی نہیں رہتی بلکہ ایک خاص فکری متن میں بدل جاتی ہے۔ آتشِ رفتہ ایک ایسی آگ ہے جو بظاہر تو بجھ چکی ہے مگر اس کی تپش اور حرارت ایک اضطراب کی شکل میں باقی ہے۔ آتشِ رفتہ کی علامت ایک طرف تو انفرادی زندگیوں کا احاطہ کرتی ہے جن میں کردار اپنی گزری ہوئی زندگی کے واقعات کو یاد کرتے ہیں اور دوسری سطح پر یہ ایک مٹتی ہوئی تہذیب کی داستان ہے جس کی راکھ وقت کے آتش دان میں ابھی تک سلگ رہی ہے۔ ناول کی ڈکشن میں ایک خاص طرح کی نغمگی اور لطافت ہے جو جمیلہ ہاشمی کے اسلوب کا اختصاص ہے۔ ناول کے امیجز‘ تشبیہات اور استعارے پنجاب کی دیہی زندگی کے گرد و پیش سے کشید کیے گئے ہیں جو کہانی کی تفہیم میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ناول کی ایک اہم جہت اس کے جیتے جاگتے کردار ہیں جو زندگی سے ٹوٹ کر پیار کرتے ہیں‘ لیکن داخلی کشمکش اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ناول کا مرکزی کردار دلدار سنگھ ہے جس کے باپ کو قتل کے الزام میں پھانسی ہو جاتی ہے اور جس کی دادی اس دن کا انتظار کر رہی ہے جب وہ جوان ہو کر سردار امرسنگھ سے اپنے باپ کا بدلہ لے گا۔ دوسری طرف دیپو (کلدیپ کور) کا کردار ہے جو سردار امر سنگھ کی بیٹی ہے اور جس کا سراپا دلدار سنگھ کی آنکھوں میں بس گیا ہے۔ دلدار سنگھ کی دادی کرتار کور بھی ناول کاایک اہم کردارہے جو تمام تر سماجی دباؤ کے باوجود ایک پدر شاہی معاشرے میں پوری جرأت اور بے خوفی سے زندگی اپنی شرائط پر جینا چاہتی ہے۔ ناول کی کہانی Non-linear انداز میں آگے بڑھتی ہے اور مسلسل ماضی اور حال کے درمیان سفر کرتی ہے۔ دلدار سنگھ‘ جو اس کہانی کا راوی بھی ہے‘ کہانی سناتے سناتے ایک مقام پر خود سامع بن جاتا ہے اور اس کی دادی راوی کا روپ دھار لیتی ہے۔ یوں دادی اور بچوں کے درمیان مکالمے سے ایک طرف کہانی کی گرہیں تہہ در تہہ کھلتی ہیں اور دوسری طرف کہانی کے کچھ نادیدہ گوشوں کے بارے میں تجسّس بڑھ جاتا ہے۔ ناول میں وقت اور یادداشت اہم کردار ادا کرتے ہیں اور ماضی کے مٹتے ہوئے واقعات جو دادی کی یادداشت میں زندہ ہیں‘ کہانی کے میڈیم کے ذریعے نئی نسل تک پہنچتے ہیں۔ مجموعی طور پر &#39;آتشِ رفتہ‘ ماضی کے جھٹپٹے میں انفرادی اور اجتماعی یادداشت اور شناخت کی بازیافت کی کہانی ہے جسے جمیلہ ہاشمی کے سحرانگیز اسلوب نے امر بنا دیا ہے۔آج مدت بعد آتشِ رفتہ کی کہانی پڑھ کر مجھے اس کی ایک نئی تفہیم ملی۔ مجھے یوں لگا کہ میں بھی ایک آتشِ رفتہ کا اسیر ہوں۔ وہ آگ جو کب کی سرد ہو چکی ہے لیکن جس کے خاکستر میں چنگاریاں اب بھی باقی ہیں۔ وہ بھی کیا زمانہ تھا جب میں گورڈن  کالج میں پڑھتا تھا۔ راولپنڈی کے چائے خانے ہماری آماجگاہ ہو اکرتے تھے۔ جب راولپنڈی بینک روڈ پر ہم پہروں بے مقصد گھومتے رہے تھے۔ جب دھوپ ڈھل جاتی تو ہم گورڈن کالج کے عقب میں کالج روڈ پر واقع زمزم ہوٹل میں بیٹھا کرتے تھے جہاں ہوٹل کے باہر ایک قدیم سایہ دار درخت کے نیچے لکڑی کی کرسیاں اور میز بچھے ہوتے اور جہاں چائے کانچ کے چھوٹے چھوٹے گلاسوں میں ملا کرتی تھی۔ اب نہ زمزم ہوٹل رہا اور نہ وہاں بیٹھنے والے۔ کالج روڈ جو کبھی ایک پُرسکون سڑک ہوا کرتی تھی اب ایک مصروف تجارتی مرکز بن گئی ہے۔ یوں لگتا ہے کہ ماضی سے جڑی سب چیزیں وقت کے غبار میں چھپ گئی ہیں۔ آج جمیلہ ہاشمی کے ناولٹ آتشِ رفتہ نے ماضی کے بند دریچے کھول دیے ہیں اور میں تصور کے گلی کوچوں میں ہر چیز کو حیرت سے دیکھ رہا ہوں اور سوچتا ہوں کہ کیا واقعی میں کبھی ان منظروں کا حصہ تھا؟</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_21538475.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>وزیر داخلہ کا دورۂ ایران، ٹائمنگ اہم کیوں؟(سلمان غنی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/salman-ghani/2026-05-20/51981/48276445</link><pubDate>Wed, 20 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/salman-ghani/2026-05-20/51981/48276445</guid><description>وزیر داخلہ محسن نقوی کے دورۂ ایران کو اس کی ٹائمنگ اور مقاصد کے حوالے سے سفارتی منظرنامے پراہم قرار دیا جا رہا ہے۔ وزیر داخلہ کی ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان‘ اپنے ہم منصب اسکندر مومنی اور وزیر خارجہ عباس عراقچی سمیت اہم حکومتی ذمہ داران سے ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ سفارتی حلقوں میں اس دورے کو امریکہ ایران مذاکرات کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ پاکستان کی بھرپور کوشش ہے کہ امریکہ اور ایران کے مابین تنائو کی کیفیت ختم ہو اور مذاکراتی عمل کی بحالی کے ساتھ معاملات نتیجہ خیزی کی جانب بڑھیں۔ وزیر داخلہ کے دورۂ ایران سے مثبت اثرات ظاہر ہونا شروع ہوئے ہیں۔ ایک طرف ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے تصدیق کی کہ مذاکرات کیلئے امریکی پیغامات آئے ہیں‘ دوسری طرف ایرانی قیادت جنگ بندی اور مذاکراتی عمل کے حوالے سے پاکستانی کردار کی تعریف کرتی نظر آتی ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے محسن نقوی سے ملاقات میں جنگ بندی اور امریکہ ایران تنازع کے پُرامن حل کیلئے پاکستانی لیڈرشپ خاص طور پر وزیراعظم شہبازشریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کی سفارتی کوششیں خطے میں پائیدار امن کے قیام میں اہم کردار ادا کریں گی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران مسئلے کے پُرامن حل کا خواہاں ہے اور اس ضمن میں پاکستانی کردار کو سراہتا اور اسے ممکنہ تعاون فراہم کرتا نظر آتا ہے۔ ایرانی صدر نے یہ بھی کہا کہ اسلامی ممالک کے درمیان اتحاد خطے سے باہر کے ممالک کی مداخلت کے امکانات کم کر سکتا ہے اور اسلامی ممالک کے درمیان ہم آہنگی اور اتحاد دیرپا امن واستحکام کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ جنگی صورتحال میں ایران اور پاکستان پہلے سے زیادہ قریب آئے ہیں اور یہ دونوں ممالک کے مابین مضبوط تعلقات کا اچھا موقع ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی ایرانی قیادت سے ملاقاتوں کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے اسے خطے میں امن واستحکام کی کوششوں کے حوالے سے اہم قرار دیا۔ مذکورہ ملاقات میں امن اور جنگ بندی کے خاتمے کے حوالے سے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کردار کا خصوصی ذکر ہوا۔ قبل ازیں پاکستانی سپہ سالار نے خود تہران کا دورہ کیا تھا اور ان کے اس دورے کے بعد تہران نے امریکہ ایران مذاکراتی عمل میں مثبت طرزِ عمل کا مظاہرہ کیا تھا۔ اب نئے پیدا شدہ حالات میں وزیر داخلہ کے دورے کو اُس دورے کا فالو اَپ اور تسلسل قرار دیا جا رہا ہے۔ اگرچہ ایرانی وزیر خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ کی جانب سے مذاکراتی عمل کی بحالی کے پیغامات آئے ہیں لیکن اطلاعات ہیں کہ ایران نے پاکستان کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ہم پاکستان کے ثالثی عمل کو تسلیم کرتے ہیں اور اس کی نتیجہ خیزی کے حوالے سے جو بھی ممکن ہوا کریں گے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کی لیڈرشپ نے امریکہ اوراسرائیلی حملے کے بعد نہ صرف جارحیت کی مذمت کی بلکہ مسائل کے سیاسی حل کیلئے عملاً کوشاں بھی رہے۔ اسی سبب امریکہ اور ایران مذاکرات کیلئے تیار ہوئے۔پاک ایران تعلقات کی تاریخ دیکھی جائے تو ماضی قریب تک پاکستان سے ہمسائیگی کے باوجود ایران کا جھکائو بھارت کی طرف رہا لیکن ایران پر حملے کے بعد پاکستان نے ایران کے ساتھ برادرانہ رویہ اختیار کیا ۔ پاکستان کے اس طرزِ عمل کے جواب میں ایرانی لیڈرشپ کا رویہ بھی مثبت رہا۔ اب بھی جب کشیدگی اورتنائو نے پورے خطے کو غیر یقینی کیفیت میں ڈال رکھا ہے تو پاکستان کوششیں کر رہا ہے کہ وہ کسی ایک فریق کا ساتھی بننے کے بجائے توازن کی پالیسی اختیار کرے اور تنازع کے حل کی جانب پیشرفت ہو۔ وزیر داخلہ کے دورۂ تہران کو اسی سفارتی توازن کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔ بلاشبہ حالیہ مہینوں میں پاکستان نے خود کو ایک ذمہ دار علاقائی ریاست کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے‘ خاص طور پر ایران اور عرب ممالک کے درمیان توازن قائم کرنے میں پاکستان نے مثبت کردار ادا کیا جسے متعلقہ ممالک بھی تسلیم کرتے ہیں۔ پاکستان کے عملی کردار کو دیکھا جائے تو یہ صرف امریکہ اور ایران کے مابین ہی نہیں ایران اور عرب ممالک کے درمیان بھی پُل کا کردار ادا کر رہا ہے۔ جہاں تک چین کے کردار کا تعلق ہے تو اس حوالے سے ایک بات واضح ہے کہ وہ جنگوں کا قطعی حامی نہیں۔ نئی پیدا شدہ صورتحال میں بھی اس کی ترجیح ہے کہ معاملات مذاکرات سے طے ہوں۔ ثالثی کی کوششوں میں چین کی موجودگی صاف محسوس کی جا سکتی ہے۔ چین یہی چاہتا ہے کہ خطے میں استحکام ہو کیونکہ سی پیک‘ ایرانی توانائی اور علاقائی تجارت سب اس سے جڑے ہوئے ہیں۔ وزیر داخلہ محسن نقوی جو قومی سلامتی کے اہم معاملات سے بھی منسلک ہیں‘ کے دورے کو سرحدی وعلاقائی سکیورٹی اور داخلی امن سے بھی جوڑا جا رہا ہے‘ لہٰذا یہ محض ایک سفارتی دورہ نہیں بلکہ سکیورٹی ڈپلومیسی کا حصہ ہے۔ پاکستان ایران کے ساتھ مضبوط روابط کے ذریعے شاید یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ وہ خطے میں کسی ممکنہ تصادم سے خود کو دور رکھتے ہوئے ثالثی یا کم از کم رابطہ کار کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ممکن ہے کہ وزیر داخلہ کے دورۂ تہران سے امریکہ ایران مذاکرات پر فوری براہ راست اثرات کم ہوں لیکن بالواسطہ طور پر اس دورے کی اہمیت برقرار ہے اور عالمی اور علاقاتی سطح پر بڑا واضح تاثر ہے کہ پاکستان ثالثی کے عمل پر خاموش نہیں بلکہ سرگرمِ عمل ہے اور اس چیلنج میں سرخرو ہونا چاہتا ہے۔ اگر پاکستان ایران کے ساتھ سیاسی روابط مضبوط کرتا ہے تو اس سے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کو تقویت ملے گی اور امریکہ بھی اس وقت مکمل محاذ آرائی کے بجائے کنٹرولڈ انگیجمنٹ کی حکمت عملی اختیار کئے نظر آتا ہے۔ اس لیے پاکستان کا متوازن کردار واشنگٹن کیلئے مکمل طور پر منفی نہیں ہوگا بلکہ اگر یہ کہا جائے تو حقیقت کے زیادہ قریب ہوگا کہ امریکہ پاکستان کی کوششوں اور کاوشوں کو مسائل کے حل میں صحت مند رجحان کے طور پر دیکھتا ہے‘ جس کی بڑی مثال گزشتہ دنوں امریکی چینل کی جانب سے ایرانی طیاروں کی نور خان ایئربیس پر موجودگی کو جواز بنا کر پاکستان کی مذاکراتی اور ثالثی کوششوں سے متعلق کنفیوژن پھیلانے کی کوشش ہے جس کے فوری بعد خود صدر ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کے ثالثی اور سفارتی کردار کو سراہتے ہوئے پاکستان کے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی تعریف کی گئی۔ مطلب یہ کہ شاید صدر ٹرمپ بھی امریکہ ایران مذاکراتی عمل میں کوئی ڈیڈلاک نہیں چاہتے اور پاکستان کے ثالثی عمل کو سراہتے نظر آتے ہیں۔ حقیقت یہی ہے کہ پاکستان ایک طرف امریکہ اور دوسری طرف ایران اور چین کے ساتھ اپنے مضبوط تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے ایک مؤثر رابطہ کار ریاست بننے کی کوشش کر  رہا ہے اور سمجھتا ہے کہ اگر امریکہ ایران مذاکرات میں تعطل آئے تو اسلام آباد محدود سفارتی سہولت کاری کر سکتا ہے۔ بظاہر امریکہ اور ایران کے مابین مطالبات اور شرائط پر بظاہر بات آگے نہیں بڑھ رہی اور فریقین اپنے اپنے مؤقف پر کاربند دکھائی دیتے ہیں لیکن پاکستان کی بھرپور کوشش ہے کہ اس کیفیت کا خاتمہ ہو اور فریقین کیلئے قابلِ قبول حل نکل سکے۔وزیر اعظم شہبازشریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اس تنازع کے حل کیلئے اہم قوتوں خصوصاً امریکہ‘ چین اور روس کے محاذ پر سرگرم دکھائی دے رہے ہیں۔ مشرق وسطیٰ خصوصاً سعودی عرب کا محاذ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار جبکہ ایران کا محاذ وزیر داخلہ محسن نقوی کے سپرد ہے۔ مطلب یہ کہ علاقائی استحکام اور پاکستان کی ثالثی کی نتیجہ خیزی کیلئے سب اپنے اپنے محاذ پر نتائج کی فراہمی کیلئے فعال نظر آ رہے ہیں۔ کیا پاکستان ان کوششوں میں کامیاب رہے گا‘ اس حوالے سے آئندہ چند روز اہم ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/230_37874475.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>اٹھائیسویں ترمیم اور اشرافیہ کا ریلیف(محمد حسن رضا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-hasan-raza/2026-05-20/51982/60971702</link><pubDate>Wed, 20 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-hasan-raza/2026-05-20/51982/60971702</guid><description>وطنِ عزیز میں معیشت اب صرف اعداد و شمار کا کھیل نہیں رہی بلکہ یہ عوام کے اعصاب کا امتحان بن چکی ہے۔ وہ عوام جنہیں ہر بجٹ میں &#39;&#39;ریلیف‘‘ کے خواب دکھائے جاتے ہیں‘ آج آٹے‘ بجلی‘ گیس‘ ادویات‘ سکول فیس‘ کرایے اور پٹرول کے درمیان پِس رہے ہیں۔ دوسری طرف وہ طبقہ ہے جسے ہر بحران میں رعایت ملتی ہے‘ ہر ایمرجنسی میں استثنیٰ‘ ہر قانون میں راستہ‘ ہر ٹیکس میں چھوٹ اور ہر احتساب میں ریلیف۔ آئی ایم ایف نے مالی سال 2025-26ء کیلئے پاکستان کی جی ڈی پی گروتھ 3.6فیصد رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔ حکومت نے فوراً تالیاں بجائیں کہ دیکھیں معیشت سنبھل رہی ہے۔ نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی نے 3.7فیصد کا تخمینہ بھی منظور کردیا۔ مگر اصل کہانی تب شروع ہوئی جب آئی ایم ایف نے مالی سال 2026-27ء کیلئے گروتھ ریٹ 3.5فیصد بتا دیا۔ سوال یہ ہے کہ یہ سب کس ملک میں ہو رہا ہے؟ اسی ملک میں جہاں کھاد کی شدید قلت کا خطرہ ہے‘ جہاں بجلی کی لوڈشیڈنگ عوام کی زندگیاں اجیرن بنا رہی ہے‘ جہاں صنعت پہلے ہی بمشکل سانس لے رہی ہے‘اندیشہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال نے طول کھینچا تو مالی سال 2026-27ء میں گروتھ 2.5فیصد تک گر سکتی ہے۔ اس کا سیدھا مطلب یہ ہو گا کہ فی کس آمدنی مزید سکڑے گی اور بیروزگاری نو فیصد سے بھی اوپر جا سکتی ہے۔ مگر حیرت ہے کہ اقتدار کے ایوانوں میں اب بھی جشنِ استحکام کی تقریبات چل رہی ہیں جبکہ مہنگائی میں مسلسل اضافہ جاری ہے۔ رواں برس فروری میں افراطِ زر سات فیصد تھی‘ جو مارچ میں 7.3 اور اپریل میں 10.9 فیصد تک پہنچ گئی۔ اس کے باوجود عوام کو بتایا جارہا ہے کہ مہنگائی قابو میں آگئی ہے۔ اگر یہ قابو ہے تو بے قابو صورتحال کیسی ہو گی؟بجلی کے شعبے کو دیکھ لیجیے۔ نیپرا کے ریکارڈ کے مطابق صرف جولائی 2017ء سے جون 2025ء تک نجی پاور پلانٹس کو کپیسٹی چارجزکی مد میں 8623ارب روپے ادا کیے گئے۔ یعنی عوام بجلی استعمال کریں یا نہ کریں بجلی گھر مال بناتے رہیں گے۔ ڈالرز میں یہ رقم 30ارب ڈالرز سے زائد بنتی ہے۔ اب ذرا یہ موازنہ دیکھیے۔ حکومت کی اپنی اکنامک سروے رپورٹ کہتی ہے کہ 101آئی پی پیز سے کل 35ارب ڈالر کی غیرملکی سرمایہ کاری آئی۔ یعنی عوام نے پلانٹس لگانے والوں کو تقریباً سرمایہ کاری کے برابر رقم واپس کردی مگر پھر بھی بجلی مہنگی ہے‘ لوڈشیڈنگ ختم نہیں ہوئی اور گردشی قرضہ بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ یہ چارجز کون ادا کررہا ہے؟ وہ آدمی جو صبح موٹر سائیکل میں دو سو کا پٹرول ڈلوا کر روزی کی تلاش میں نکلتا ہے۔ وہ خاتون جو بچوں کا دودھ کم کرکے بجلی کا بل دیتی ہے۔ وہ باپ جسے بچوں کی سکول فیس اور اپنی دوا کے درمیان انتخاب کرنا پڑتا ہے۔ مگر جن کیلئے یہ پورا نظام بنایا گیا‘ ان پر ہاتھ ڈالنے کی ہمت کسی میں نہیں۔ چیئرمین ایف بی آر خود کہہ چکے کہ ملک کا امیر ترین پانچ فیصد طبقہ تقریباً 1600ارب روپے کا ٹیکس چوری کرتا ہے مگر ہر بجٹ میں ٹیکس کس پر لگتا ہے؟ تنخواہ دار طبقے پر‘ بجلی کے بل پر‘ پٹرول پر‘ موبائل بلز پر‘ کھانے پینے پر‘ دوائیوں پر۔ بڑے لوگ آج بھی محفوظ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ دو مالی سالوں میں وفاقی حکومت نے تقریباً 4975ارب روپے کے ٹیکس استثنیٰ دیے۔ انکم ٹیکس میں 1022ارب‘ سیلز ٹیکس میں 2757ارب‘ کسٹمز ڈیوٹی میں 1195ارب روپے کی رعایتیں۔ اور یہ رعایتیں کس کیلئے تھیں؟ غریب کیلئے؟ نہیں۔ بڑے سرمایہ داروں کیلئے‘ طاقتور گروپس کیلئے‘ ان لوگوں کیلئے جو پہلے ہی ہر حکومت کا &#39;&#39;محفوظ سرمایہ‘‘ ہوتے ہیں۔ اور دوسری طرف غریب آدمی کیلئے صرف ایک جملہ: مزید قربانی دیں‘ ملک مشکل میں ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ مالی سال 2003-04ء سے لے کر مالی سال 2025-26ء کے پہلے دس ماہ تک ایف بی آر عوام کی جیبوں سے تقریباً 84ٹریلین روپے نکال چکا ہے۔ مالی سال2003-04ء میں ٹیکس وصولی 521ارب تھی‘ جبکہ مالی سال 2024-25ء میں یہ بڑھ کر 11ہزار 744ارب روپے تک جا پہنچی۔ یعنی صرف 22سال میں عوام سے وصول کیے جانے والے ٹیکس تقریباً 23گنا بڑھ گئے‘ مگر سوال یہ ہے کہ بدلے میں ملا کیا؟ تعلیم اور صحت کی ابتر سہولتیں؟ روزگار نایاب؟ اور قرضہ؟ مارچ 2026ء تک ملک پر قرض 97ہزار 307ارب روپے تک پہنچ گیا۔ صرف ایک سال میں 7533ارب روپے کا اضافہ۔ اس سب کے درمیان غیر ملکی سرمایہ کاری کا حال تو اور بھی خطرناک ہے۔ سٹیٹ بینک کے مطابق جولائی 2025ء سے اپریل 2026ء تک کل غیر ملکی سرمایہ کاری ایک ارب 41 کروڑ ڈالر رہی جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ دو ارب چار کروڑڈالر تھی۔ سرمایہ کاری میں اس مسلسل کمی کے باوجود حکومت اب بھی &#39;&#39;معاشی استحکام‘‘ کا راگ الاپ رہی ہے۔اب سوال یہ ہے کہ جب معیشت دباؤ میں ہو‘ عوام غصے میں ہوں‘ مہنگائی اور بیروزگاری بڑھ رہی ہو‘ سیاسی ماحول بھی غیر یقینی ہو تو اقتدار کے ایوانوں میں سب سے زیادہ گفتگو کس چیز پر ہورہی ہے؟ جواب ہے: 28ویں ترمیم! جی ہاں وہی 28ویں ترمیم جس کیلئے کئی ماہ سے خاموشی سے تیاری جاری ہے۔ میری اطلاعات کے مطابق یہ ترمیم فروری میں ہی آگے بڑھ جانی تھی مگر ایران امریکہ کشیدگی اور خطے کی صورتحال نے معاملہ سست کردیا۔ اب بجٹ کے فوراً بعد اسے لانے کی تیاری ہورہی ہے۔ اور اس بار ماحول پہلے سے مختلف ہے۔ پیغام صاف ہے کہ جو ساتھ نہیں چلے گا اس کی فائل چلے گی۔ سیاسی حلقوں میں یہ باتیں کھل کر ہونے لگی ہیں کہ آنے والے دنوں میں مختلف شخصیات‘ جماعتوں اور اہم سیاسی کرداروں کی فائلیں منظر عام پر آسکتی ہیں۔ کرپشن سکینڈلز‘ مالی بے ضابطگیاں‘ پرانی انکوائریاں‘ غیر اعلانیہ اثاثے‘ سب کچھ۔ کراچی اس نئی بساط کا بڑا مرکز بنتا جا رہا ہے۔ میئر کراچی کے خلاف عدم اعتماد کی باتیں اب صرف افواہیں نہیں رہیں۔ بعض حلقوں میں یہ بھی زیر بحث ہے کہ اگر سیاسی حالات بدلے تو ایم کیو ایم کا میئر آ سکتا ہے۔ شہر میں ایک بڑے افسر کی تبدیلی ہو چکی ہے اور جو نیا افسر آیا ہے اسے &#39;سخت گیر‘، &#39;میرٹ پسند‘ اور &#39;ایکشن مین‘ کہا جا رہا ہے۔ کراچی کے انتظامی ڈھانچے میں تبدیلیوں کے اشارے واضح ہیں۔ مختیارکاروں سے لے کر ضلعی انتظامیہ تک پیغام پہنچایا جارہا ہے کہ کسی بھی گروپ یا سیاسی دھڑے کی پشت پناہی برداشت نہیں ہو گی۔ مگر اصل دلچسپ بحث نئی نسل کے اندر ہے۔ ایک طرف وہ نوجوان چہرے ہیں جو کہتے ہیں کہ جو ہو گیا سو ہو گیا اب مزید ترمیم نہیں ہونی چاہیے‘ مزید طاقت کا ارتکاز ملک کو خطرناک سمت میں لے جائے گا۔ دوسری طرف وہ پرانے سیاسی دماغ ہیں جو سمجھاتے ہیں کہ ٹکراؤ سے نظام ٹوٹتا ہے‘ استحکام ضروری ہے‘ سمجھوتا ہی سیاست ہے۔ ایک اور بحث بھی پس منظر میں چل رہی ہے وہ ہے کراچی اور گوادر کا مستقبل۔ بعض حلقے یہ تجویز دے رہے ہیں کہ گوادر کو براہِ راست وفاقی کنٹرول میں لایا جائے۔ کراچی کا نام بھی گفتگو میں آتا ہے مگر وہاں سیاسی ردِعمل بہت شدید ہو سکتا ہے۔ اس لیے بعض لوگوں کا خیال ہے کہ فوری طور پر گوادر پر زیادہ توجہ دی جائے گی۔ اگر ایسا ہوا تو صوبائی خودمختاری‘ وسائل‘ بندرگاہی کنٹرول اور سکیورٹی کے سوالات ایک نئے بحران کو جنم دے سکتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا 28ویں ترمیم واقعی صرف آئینی ترمیم ہو گی یا پھر طاقت‘ معیشت‘ سیاست‘ احتساب‘ میڈیا‘ صوبائی اختیارات اور ریاستی کنٹرول کے ایک نئے باب کا آغاز ہو گی؟ کیونکہ اس وقت پاکستان میں سب کچھ بدل رہا ہے۔ صرف غریب آدمی کی قسمت نہیں بدل رہی۔ اس کیلئے آج بھی آٹا مہنگا ہے‘ گیس غائب ہے‘ لائٹ جلتی نہیں مگر بل آتا ہے اور حکمران اسے اب بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ &#39;&#39;ملک مشکل میں ہے، قربانی دو‘‘ مگر سوال اب بھی وہی ہے۔ قربانی صرف غریب ہی کیوں دے؟</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/229_33941343.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>حضرت ابراہیم علیہ السلام کی حیاتِ مبارکہ(علامہ ابتسام الہٰی ظہیر )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-05-20/51983/75662656</link><pubDate>Wed, 20 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-05-20/51983/75662656</guid><description> دنیا میں سب سے بلند مقام اللہ تبارک و تعالیٰ نے انبیاء کرام علیہم السلام کو عطا کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان پر اللہ تبارک وتعالیٰ کی وحی کا نزول ہوتا رہا۔ انبیاء کرام علیہم السلام میں صاحبِ شریعت رسل اللہ کا مقام انتہائی بلند ہے اور صاحبِ شریعت رسل اللہ میں سے اولو العزم رسول یعنی حضرت نوح‘ حضرت ابراہیم‘ حضرت موسیٰ‘ حضرت عیسیٰ علیہم السلام اور رسول اللہﷺ کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے کائنات میں منفرد شان عطا کی ہے۔ جہاں اللہ تبارک وتعالیٰ نے نبی کریمﷺ کے اسوہ کو ہمارے لیے اسوۂ کامل بنا دیا وہیں اللہ تبارک وتعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی کو بھی ہمارے لیے اسوۂ حسنہ قرار دیا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ اس حقیقت کو سورۃ الممتحنہ کی آیت: 4 میں کچھ یوں بیان فرماتے ہیں: &#39;&#39;(مسلمانو!) تمہارے لیے ابراہیم میں اور ان کے ساتھیوں (کی زندگی) میں بہترین نمونہ ہے‘‘۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ذات کو اسوۂ حسنہ بنانے کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تبارک وتعالیٰ کے احکامات کی تعمیل کے لیے غیر معمولی قربانیاں دیں۔ آپ علیہ السلام نے جوانی میں ہی بتوں کی حقیقت کو واضح فرما دیا۔ اس واقعہ کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۃ الانبیاء کی آیات: 51 تا 70 میں کچھ یوں بیان فرمایا &#39;&#39;اور یقینا ہم نے اس سے پہلے ابراہیم کو اس کی سمجھ بوجھ بخشی تھی‘ اور ہم اس کے احوال سے بخوبی واقف تھے۔ جب اس نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے کہا کہ یہ مورتیاں‘ جن کے تم مجاور بنے بیٹھے ہو‘ کیا ہیں؟ سب نے جواب دیا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو انہی کی عبادت کرتے ہوئے پایا۔ (ابراہیم نے) کہا: پھر تو تم اور تمہارے باپ دادا سبھی یقینا کھلی گمراہی میں مبتلا رہے۔ وہ کہنے لگے: کیا آپ ہمارے پاس سچ مچ حق لائے ہیں یا یونہی مذاق کر رہے ہیں۔ (ابراہیم نے) کہا: نہیں! درحقیقت تم سب کا پروردگار تو وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا مالک ہے‘ جس نے انہیں پیدا کیا ہے‘ میں تو اسی بات کا گواہ (اور قائل) ہوں۔ اور اللہ کی قسم! میں تمہارے ان معبودوں کے ساتھ جب تم علیحدہ پیٹھ پھیر کر چل دو گے‘ ایک چال چلوں گا۔ پس انہوں نے ان سب کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے‘ ہاں صرف بڑے بت کو چھوڑ دیا۔ یہ بھی اس لیے کہ وہ سب اس کی طرف ہی لوٹیں۔ (قوم کے لوگ جب واپس آئے تو) کہنے لگے کہ ہمارے خدائوں کے ساتھ یہ (سلوک) کس نے کیا؟ ایسا شخص تو یقینا ظالموں میں سے ہے۔ (کچھ افراد) بولے: ہم نے ایک نوجوان کو ان کا تذکرہ کرتے ہوئے سنا تھا‘ جسے ابراہیم کہا جاتا ہے۔ سب نے کہا: اچھا‘ اسے مجمع میں لوگوں کی نگاہوں کے سامنے لائو تاکہ سب دیکھیں۔ کہنے لگے: اے ابراہیم کیا تُو نے ہی ہمارے خدائوں کے ساتھ یہ حرکت کی ہے؟ ابراہیم نے جواب دیا: بلکہ اس کام کو ان کے بڑے (بت)نے کیا ہے‘ تم اپنے خدائوں سے ہی پوچھ لو اگر یہ بولتے چالتے ہوں۔ پس یہ لوگ اپنے دلوں میں قائل ہو گئے اور کہنے لگے: واقعی ظالم تو تم (خود) ہی ہو۔ پھر (شرمندگی سے) اپنے سروں کے بل اوندھے ہو گئے (اور کہنے لگے کہ) یہ تو تجھے بھی معلوم ہے کہ یہ بولنے چالنے والے نہیں۔ (ابراہیم نے) کہا: افسوس! کیا تم اللہ کے علاوہ ان کی عبادت کرتے ہو جو نہ تمہیں کچھ بھی نفع پہنچا سکیں نہ نقصان۔ تف ہے تم پر اور اُن پر جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو۔ کیا تمہیں اتنی سی عقل بھی نہیں؟ کہنے لگے کہ اسے جلا دو اور اپنے خدائوں کی مدد کرو‘ اگر تمہیں کچھ کرنا ہی ہے۔ ہم نے فرمایا: اے آگ! تُو ٹھنڈی پڑ جا اور ابراہیم کے لیے سلامتی (اور آرام کی چیز) بن جا! گو کہ انہوں نے ابراہیم کا برا چاہا‘ لیکن ہم نے انہیں ہی خسارے والا بنا دیا‘‘۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جہاں بتوں کی بے بسی اور بے وقعتی کو واضح کیا وہیں آپ علیہ السلام نے اجرام سماویہ کی حقیقت کو بھی واضح فرما دیا۔ اس واقعہ کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۃ الانعام کی آیات: 75 تا 79 میں کچھ یوں بیان فرمایا &#39;&#39;اور ہم نے ایسے ہی طور پر ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کے عجائبات دکھلائے تاکہ وہ کامل یقین کرنے والوں میں سے ہو جائیں۔ پھر جب رات کی تاریکی ان پر چھا گئی تو انہوں نے ایک ستارہ دیکھا اور کہا کہ یہ میرا رب ہے مگر جب وہ غروب ہو گیا تو کہا کہ میں غروب ہو جانے والوں سے محبت نہیں رکھتا۔ پھر جب چاند کو دیکھا‘ چمکتا ہوا‘ تو فرمایا کہ یہ میرا رب ہے لیکن جب وہ غروب ہو گیا تو کہا کہ اگر مجھ کو میرے رب نے ہدایت نہ دی تو میں راستہ گم کرنے والے لوگوں میں شامل ہو جائوں گا۔ پھر جب آفتاب کو دیکھا خوب چمکتا ہوا‘ تو فرمایا کہ یہ میرا رب ہے‘ یہ تو سب سے بڑا ہے۔ پھر جب وہ بھی غروب ہو گیا تو کہا: بیشک میں تمہارے شرک سے بیزار ہوں۔ میں اپنا رخ اُس کی طرف کرتا ہوں جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا‘ یکسو ہو کر‘ اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں‘‘۔ابراہیم علیہ السلام کے دور کا حاکم نمرود اپنے آپ کو رب اور الٰہ قرار دیتا تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دربارِ نمرود میں پہنچ کر اس کی حقیقت کو بڑے مدلل انداز میں واضح فرما دیا۔ اس واقعہ کو اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ البقرہ کی آیت: 258 میں کچھ یوں بیان فرماتے ہیں: &#39;&#39;کیا تو نے اُسے نہیں دیکھا جو سلطنت پا کر ابراہیم سے اس کے رب کے بارے میں جھگڑ رہا تھا۔ جب ابراہیم نے کہا کہ میرا رب تو وہ ہے جو جِلاتا ہے اور مارتا ہے‘ (تو) وہ کہنے لگا: میں بھی جِلاتا اور مارتا ہوں‘ ابراہیم نے کہا: اللہ سورج کو مشرق کی طرف سے لے آتا ہے تُو اسے مغرب کی جانب سے لے آ۔ اب تو وہ کافر بھونچکا رہ گیا‘ اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا‘‘۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے عداوتوں اور مخالفتوں کا مقابلہ بڑی خندہ پیشانی کے ساتھ کیا اور اللہ تبارک وتعالیٰ کی محبت کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے پر بھی ہمیشہ آمادہ وتیار رہے۔ آپ علیہ السلام کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے بڑھاپے میں حضرت اسماعیل علیہ السلام جیسا فرمانبردار بیٹا عطا کیا۔ جب حضرت اسماعیل علیہ السلام کچھ دوڑ دھوپ کے قابل ہوئے تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کو خواب کے ذریعے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کا حکم دیا۔ اس واقعہ کو اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الصافات کی آیات: 99 تا 107 میں کچھ یوں بیان فرماتے ہیں: &#39;&#39;اور اس (ابراہیم) نے کہا: میں تو ہجرت کر کے اپنے پروردگار کی طرف جانے والا ہوں۔ وہ ضرور میری رہنمائی کرے گا۔ اے میرے رب! مجھے نیک بخت اولاد عطا فرما۔ تو ہم نے اسے ایک بردبار بچے کی بشارت دی۔ پھر جب وہ (بچہ) اتنی عمر کو پہنچا کہ اس کے ساتھ چلے پھرے‘ تو اس (ابراہیم) نے کہا: میرے پیارے بچے! میں خواب میں اپنے آپ کو تجھے ذبح کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔ اب تُو بتا کہ تیری کیا رائے ہے؟ بیٹے نے جواب دیا کہ ابا! جو حکم ہوا ہے اسے بجا لائیے ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔ غرض جب دونوں مطیع ہو گئے اور اس نے (باپ نے) اس کو (بیٹے کو) پیشانی کے بل گرا دیا۔ تو ہم نے آواز دی کہ اے ابراہیم! یقینا تُو نے اپنے خواب کو سچا کر دکھایا‘ بیشک ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں۔ درحقیقت یہ کھلا امتحان تھا۔ اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے فدیہ میں دے دیا‘‘۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کا طرزِ زندگی اہلِ ایمان کے لیے ایک نمونے کی حیثیت رکھتا ہے کہ جب اللہ تبارک وتعالیٰ کے ساتھ انسان کی وابستگی ہو جائے تو اس کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے نقش قدم پہ چلتے ہوئے اپنی وابستگی کو پوری طرح واضح کرنا چاہیے۔ دعا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سیرت پر چلنے کی توفیق دے‘ آمین!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_19740082.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>