<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>صحت اور قومی ترجیحات(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-31/11497</link><pubDate>Mon, 31 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-31/11497</guid><description>صحت کسی ملک کی معاشی اور سماجی ترقی کی بنیادی ضرورت ہے لیکن ملکِ عزیز میں صحت کا شعبہ حکومتی ترجیحات میں دکھائی نہیں دیتا۔ حکومت کی جانب سے صحت پر انتہائی کم اخراجات اس کا ایک ثبوت ہیں۔ اکنامک سروے 2025-26ء کے مطابق صحت پر پاکستان کے قومی اخراجات جی ڈی پی کا 0.8فیصد ہیں جو کہ خطے کے دیگر ممالک سے انتہائی کم ہیں۔ ورلڈ بینک کے مطابق پاکستان میں صحت کے فی کس اخراجات.49 30 ڈالر ہیں جبکہ بنگلہ دیش میں 53.46 ڈالر‘ نیپال میں تقریباً 84 ڈالر‘ بھارت میں 84.69 ڈالر اور سری لنکا میں 134.24 ڈالر۔ یہ اعداد وشمار واضح کرتے ہیں کہ پاکستان میں صحت کا شعبہ قومی ترجیحات میں کس مقام پر ہے۔ صحت جیسے اہم ترین شعبے پر کم سرکاری اخراجات کا سب سے نمایاں اثر سرکاری ہسپتالوں اور بنیادی مراکزِ صحت کی حالتِ زار میں جھلکتا ہے جہاں عمارتوں کی تعمیر ومرمت‘ جدید طبی آلات کی فراہمی‘ ضروری ادویات‘ تشخیصی سہولتوں اور دیگر بنیادی وسائل کی دستیابی بحرانی صورتحال میں رہتی ہیں۔ حکومت کی جانب سے صحت کے شعبے پر کم اخراجات کی وجہ سے عوام کیلئے ذاتی طبی اخراجات غیر معمولی طور پر بڑھ چکے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں علاج کیلئے اپنی جیب سے ادا کئے جانے والے اخراجات 60 سے 70 فیصدکے درمیان ہیں۔

یہ صورتحال کم آمدنی والے کنبوں کیلئے بطور خاص تشویشناک ہے جہاں کسی فرد کی بیماری‘ حادثہ یا کوئی طبی پیچیدگی پورے خاندان کے مالی توازن کو بگاڑ دیتی ہے۔ بہت سے خاندان علاج کے اخراجات کو پورا کرنے کیلئے قرض لینے اور اثاثے فروخت کرنے پر مجبور ہو تے ہیں اور بہت سے مالی مشکلات کے باعث علاج نامکمل چھوڑنے پر مجبور ہوتے ہیں ۔ ورلڈ بینک کے مطابق پاکستان میں صحت پر اپنی جیب سے کئے جانے والے اخراجات لوگوں کو غربت کی طرف دھکیلنے کا اہم سبب بنتے ہیں۔ جب کوئی خاندان اپنی آمدنی کا بڑا حصہ علاج پر خرچ کرتا ہے تو خوراک‘ تعلیم‘ رہائش اور دیگر بنیادی ضروریات کیلئے وسائل کم ہو جاتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے صحت پر کم سرمایہ کاری کے اثرات دیہی اور پسماندہ علاقوں پر مزید شدت کے سامنے سامنے آتے ہیں کیونکہ دور دراز علاقوں میں صحت کے مراکز‘ ڈاکٹرز‘ تشخیصی سہولیات اور ادویات کا مسئلہ عوام کو طویل سفر اور مہنگے پرائیویٹ علاج پر مجبور کرتا ہے۔ صحت کی ناقص سہولتوں کا ایک بڑا معاشی اثر انسانی ترقی میں کمی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ بیمار کارکن کام سے غیر حاضر رہتے ہیں‘ بچوں کی تعلیم متاثر ہوتی ہے اور خاندانوں کی آمدنی کم ہوتی ہے‘ یوں صحت کے شعبے میں کم سرمایہ کاری بالآخر غربت‘ کم پیداوار اور سست معاشی ترقی کا سبب بنتی ہے۔ صحتمند آبادی کسی بھی ملک کے انسانی سرمائے کی بنیاد ہوتی ہے؛ چنانچہ صحت پر خرچ کو مستقبل کی معاشی ترقی پر سرمایہ کاری سمجھنا چاہیے۔
قومی ترقی کی مضبوط بنیاد صحت اور تعلیم پر سرمایہ کاری سے ر کھی جاتی ہے مگر ہمارے ہاں یہ دونوں شعبے نہ اقوام متحدہ کے معیار پر پورا اترتے ہیں اور نہ علاقائی ممالک کے ساتھ برابری قائم کرتے ہیں۔ تاہم مسئلے کا حل صرف بجٹ بڑھانے سے ممکن نہیں۔ اضافی وسائل کے ساتھ ساتھ بہتر مینجمنٹ‘ شفافیت‘ نگرانی اور جوابدہی بھی ضروری ہیں۔ اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں پیش آنے والا حالیہ سانحہ یہ ثابت کرتا ہے کہ مالی وسائل کے ساتھ اگر مؤثر نگرانی اور جوابدہی نہ ہو تو صرف روپیہ ان مسائل کا ازالہ نہیں کر سکتا جو ہمارے نظام کی ناکامیوں کے بنیادی اسباب ہیں۔ بجٹ کے اعداد وشمار بڑھانے کے ساتھ ساتھ ملک میں ایک ایسا مؤثر اور جوابدہ نظام تشکیل دینا بھی ضروری ہے جو ہر شہری کو بروقت‘ معیاری اور قابلِ استطاعت علاج فراہم کر سکے۔ یہی صحتمند‘ پیداواری اور مضبوط پاکستان کی بنیاد بن سکتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>شدید حبس میں لوڈشیڈنگ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-31/11496</link><pubDate>Mon, 31 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-31/11496</guid><description>شدید گرمی اور حبس کے اس موسم میں ملک بھر میں چھ سے سولہ گھنٹوں کی طویل لوڈشیڈنگ نے عوام کو ذہنی اور جسمانی اذیت میں مبتلا کر رکھا ہے۔ پاور ڈویژن کے مطابق لوڈشیڈنگ کی وجہ آر ایل این جی کارگو کی آمد میں تاخیر ہے۔ بالفاظ دیگر یہ بحران ناقص منصوبہ بندی‘ ایندھن کی غیر مربوط ترسیل اور فرسودہ انرجی انفراسٹرکچر کا شاخسانہ ہے‘ جس کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ اگرچہ دن کے اوقات میں سولر انرجی کے باعث لوڈشیڈنگ کی شدت میں کچھ کمی آتی ہے لیکن سورج ڈھلتے ہی‘ جب عوام کو سکون اور نیند کی ضرورت ہوتی ہے‘ غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا طویل سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ دیہی اور زیادہ لائن لاسز والے علاقوں میں صورتحال کہیں زیادہ ابتر ہے۔ ہر سال موسمِ گرما سے قبل حکومت کی جانب سے ریلیف کا دعویٰ کیا جاتا ہے لیکن جونہی گرمی کی شدت بڑھتی ہے‘ طویل لوڈشیڈنگ کا دورانیہ تمام دعوے غلط ثابت کر دیتا ہے۔

حکومت کو اس بحران کو مستقبل کے حوالے سے پائیدار تبدیلی کا پیش خیمہ بناتے ہوئے توانائی سیکٹر کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ نیپرا رپورٹس کے مطابق پاکستان میں 17 سے 18 فیصد تک بجلی ترسیل کے دوران ضائع ہو جاتی ہے جبکہ دنیا میں یہ اوسط محض پانچ سے آٹھ فیصد تک ہے۔ اگر ترسیلی نظام کو بہتر بنا لیا جائے تو شارٹ فال کم کیا جا سکتا ہے۔ لائن لاسز کم کرنے اور گرڈ اَپ گریڈیشن سے حالیہ بحران کا حل نکالا جا سکتا ہے۔ پائیدار حل کیلئے درآمدی ایندھن کے بجائے سستے اور متبادل توانائی ذرائع کا پیداواری حصہ بڑھانا چاہیے ۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بچوں کا جنسی استحصال(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-31/11495</link><pubDate>Mon, 31 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-31/11495</guid><description>ملک میں بچوں کے خلاف بڑھتے جرائم‘ بالخصوص جنسی استحصال کے لرزہ خیز واقعات خوفناک حد تک بڑھ چکے ہیں ۔ گزشتہ دو روز کے دوران راولپنڈی‘ گجرات اور چکوال سے کم عمر بچیوں کے ساتھ زیادتی کے کم از کم تین واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں جبکہ رواں ماہ بچوں کے جنسی استحصال کے رپورٹ شدہ واقعات کی تعداد 14 ہے۔ ایک غیرسرکاری تنظیم کی رپورٹ کے مطابق رواں سال کی پہلی ششماہی میں بچوں کے جنسی استحصال کے 1015 جبکہ 2025ء میں 3250سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے۔ تشویشناک امر یہ ہے کہ تقریباً 45 فیصد واقعات میں ملزمان متاثرہ بچوں کے جاننے والے تھے۔ یہ حقیقت والدین کیلئے ایک واضح تنبیہ ہے کہ بچوں کے معاملے میں کسی قریبی شخص پر بھی اندھا اعتماد نہ کیا جائے۔

اس حوالے سے حکومت اور متعلقہ اداروں کو بھی ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہو گا۔ اگرچہ ملک میں بچوں کے تحفظ کیلئے قوانین اور ادارہ جاتی ڈھانچہ موجود ہے‘ مگر سوال یہ ہے کہ ان کا عملی اثر کہاں ہے؟ اکثر ملزمان شواہد کی عدم دستیابی یا کمزور تفتیش پر سستے چھوٹ جاتے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ بچوں سے متعلق مقدمات کیلئے پولیس میں خصوصی یونٹس‘ فوری ایف آئی آر‘ جدید فرانزک سہولتوں‘ تیز رفتار تفتیش اور مقدمات کے بروقت فیصلوں کو یقینی بنائے۔ نیز گھر‘ سکول‘ میڈیا‘ مذہبی و سماجی اداروں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>حادثہ اور مذہب(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-08-31/52574/19213825</link><pubDate>Mon, 31 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-08-31/52574/19213825</guid><description>مذہب کا ایک المیہ یہ ہے کہ اسے وکیل اچھے ملے نہ ناقد۔اکثروکیل وہ ہیں جو موکل کا مقدمہ سمجھ ہی نہ سکے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنا مقدمہ لکھ کر بیان کر دیا۔ وکیلوں نے مگر اپنی تاویلات سے اس کو پاژند بنا دیا۔ ناقدین کا معاملہ یہ رہا کہ انہوں نے مذہب کو سمجھنے کے لیے‘ موکل کے بجائے وکلا سے رجوع کیا۔ مذہب زبانِ حال سے‘ اعلانِ برأت کر تا رہا۔ پرانے ادوار میں جب ایسی صورت پیش آتی تو نیا پیغمبر آ کر مذہب کا مقدمہ واضح کر دیتا۔ جیسے بنی اسرائیل میں مذہب کے وکیلوں نے خود ساختہ افکار کو اللہ کا مذہب بنا کر پیش کیا تو سید نا مسیح علیہ السلام نے آ کر سب گرد وغبار کو جھاڑ دیا اور مذہب کا اصل چہرہ سامنے لے آئے۔ ختمِ نبوت کے بعد‘ اب اس کا امکان باقی نہیں رہا۔ اس میں کیا شبہ ہے کہ خدا کا کلام محفوظ ہے اوراس کے آخری پیغمبرﷺ کی سنت بھی۔ ناقدین مگر وکیلوں کی بات ہی کو مذہب سمجھتے اور اس کو آئے دن کٹہرے میں لا کھڑا کرتے ہیں۔ یہ سب کیسے ہوتا ہے‘ ہم اس کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پمز کا حادثہ اس بحث کا پس منظر ہے۔ ارشاد ہوا: ناروے میں تو یہ نہیں ہوتا‘ پاکستان ہی میں ہوتا ہے۔ کیا وہاں کا خدا کوئی اور ہے اور یہاں کا کوئی اور؟ اگر خدا ایک ہے تو پاکستان میں ہونے والے حادثات کو خدا کی سکیم کے تناظر میں سمجھنے کے بجائے‘ ناروے کی طرح‘ انسانی سکیم کے تحت سمجھا جائے۔ خدا کی سکیم‘ انسانوں کا تراشا ہوا افسانہ ہے۔ در اصل یہ سب انسانی تدبیر کی کارفرمائی ہے اور ان واقعات کو اسی حوالے سے سمجھا جائے۔ جب ہم اسے خدا کی سکیم قرار دے کر‘ جزا و سزا کو آخرت پر موقوف کر دیتے ہیں تو سوال کا دروازہ بند کر دیتے ہیں۔ &#39;&#39;اگر ہم یہ کہتے ہیں کہ اس ظلم کا جواب آخرت میں ہے تو ہم نے سوال بند کر دیا۔ اگر ہم یہ کہتے ہیں کہ اس ظلم کی وجہ پرانی وائرنگ اور ناقص انتظام ہے تو ہم نے سوال کھول دیا۔ یہ دونوں جواب ایک ہی وقت میں نہیں دیے جا سکتے کیونکہ ایک ذمہ داری کو آسمان کی طرف بھیجتا ہے اور دوسرا زمین پر واپس لاتا ہے۔ ہم نے دونوں کو ملا کر ایک تیسری چیز بنا لی ہے‘ ایک ایسا معجون جس میں مذہب کی ساری تسلی ہے اور دنیاوی نظام کی کوئی سختی نہیں‘‘۔گزارش ہے کہ یہ &#39;معجون‘ کب آسمان سے اترا؟ یہ مذہب کی کس کتاب میں لکھا ہے؟ مذہب نے کب کہا کہ اس دنیا میں ہونے والے جرائم کے لیے‘ یہاں جزا وسزا کا کوئی نظام نہیں ہوگا؟ جب اللہ کے رسولﷺ بنفسِ نفیس اس زمین پر موجود تھے اور ایک ریاست کے حکمران تھے‘ کیا اُس وقت جزا وسزا کا کوئی نظام نہیں تھا؟ کیا اُس وقت مجرموں کو سزا نہیں دی جاتی تھی؟ کیا اُس وقت معاملات کو آخرت کے لیے مؤخر کر دیا جاتا تھا؟ کیا اُس دور میں دنیاوی نظام کی کوئی سختی نہیں تھی؟ کیا سیدنا عمرؓ کا درہ محض ایک افسانہ ہے؟قرآن مجید نے نہ صرف لوگوں کو پابند کیا ہے کہ وہ انصاف پر قائم رہیں بلکہ بعض جرائم کی متعین سزائیں بھی تجویز کر دی ہیں کہ جب اللہ پر ایمان رکھنے والوں کو زمین پر اقتدار ملے تو وہ انہیں نافذ کریں۔ یہی نہیں‘ اس نے انسانی جان‘ مال اور عزت کی حرمت کو مذہب کے بنیادی مقدمے کے طور پر پیش کیا ہے۔ قرآن مجید نے بتایا ہے کہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔ اللہ کے آخری رسولﷺ نے اس کو موکد کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جان کی حرمت بیت اللہ کی حرمت سے زیادہ ہے۔ کالم کی تنگ دامنی مانع نہ ہوتی تو میں قرآن مجید کی آیات کو یہاں نقل کرتا جو اس دنیا میں جزا وسزا کے باب میں مذہب کی تعلیم کو واضح کرتی ہیں۔ اگر پاکستان میں انسانی جان کی قدر نہیں تو اس کا ذمہ دار مذہب نہیں ہے۔ خدا کا یہ قانون ناروے کے لیے بھی اور پاکستان کے لیے بھی ہے۔ جو لوگ پمز ہسپتال میں پیش آنے والے حادثے کے ذمہ دار ہیں‘ انہیں سزا دینا دین کا تقاضا ہے۔ اگر حکمران ایسا نہیں کریں گے تو وہ خدا کے مجرم ٹھیریں گے۔اب آئیے اُن واقعات کی طرف‘ جہاں ہم ایک حادثے کی ذمہ داری کسی انسان پر نہیں ڈال سکے۔ اس باب میں کہا گیا: &#39;&#39;اگر حادثات محض &#39;یاددہانی‘ ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ ایک زلزلے میں دبے ہوئے بچے کو پیغام رسانی کا ذریعہ بنایا گیا۔ یہ مؤقف خدا کو بچانے کے لیے اس کے انصاف کو قربان کر دیتا ہے‘‘۔ یہاں بھی اعتراض اٹھاتے ہوئے مذہب کے مقدمے کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ مذہب کا مقدمہ یہ ہے کہ یہ دنیا اللہ تعالیٰ نے جزا وسزا کے لیے نہیں‘ آزمائش کے لیے بنائی ہے۔ وہ انسانوں کو خوف‘ بھوک‘ املاک کے نقصان‘ اولاد کے دکھ سے آزمائے گا۔ وہ یہاں ظالموں کو ڈھیل بھی دے گا۔ اس دنیا میں ظالم اور مظلوم دونوں آزمائش سے گزر رہے ہیں۔ جب آزمائش کا یہ دور ختم ہو جائے گا تو ایک نئی دنیا آباد کی جائے گی۔ اس دنیا میں انسانوں کو اُن اعمال کی بنیاد پر‘ جو انہوں نے یہاں سرانجام دیے‘ سزا یا جزا سے نوازا جائے گا۔ اس دنیا کے بارے میں اللہ کی ایک سنت ہے۔ اس نے یہاں انصاف کا وعدہ نہیں کیا‘ ایک یومِ حساب کا وعدہ ضرور کیا ہے۔ آخرت کا یہ تصور نہ تو زمان و مکان سے ماورا ہے اور نہ ہی ناقابلِ فہم۔ جس خدا نے یہ کائنات بنائی ہے‘ وہ اس کو نئی صورت دے دے گا۔ قرآن مجید کے مطابق وہ اس زمین آسمان کو‘ نئے زمین و آسمان سے بدل دے گا۔ یہ زمان و مکان سے متصادم کوئی تصور ہے نہ عقل سے۔اب ہم اصل اعتراض کی طرف لوٹتے ہیں۔ اس زمین پر پیش آنے والے واقعات‘ اگر تمام تر انسانی سکیم سے متعلق مانے جائیں تو بھی یہ امکان باقی رہتا ہے کہ مجرموں کو سزا نہ ملے۔ اس لیے عقل کا تقاضا ہے کہ ایک ایسی دنیا وجود میں آئے جہاں انصاف کی فراہمی میں کوئی شک وشبہ نہ ہو۔ جہاں یقین کا وہ درجہ میسر ہو کہ ہاتھ ا ور پاؤں بول اٹھیں۔ دنیا میں اگر کسی کو اچھے عمل کا اجر نہیں ملتا یا کسی مظلوم کو سزا نہیں ملتی تو اسے مطمئن رہنا چاہیے کہ ایسا دن ضرور آئے گا جب انصاف ہوگا۔ اس دن کی یاددہانی کے لیے اللہ تعالیٰ اہتمام کرتا ہے۔ یہ واقعات خدا کی قدرت کا ظہور ہیں۔ یہ زبانِ حال سے بتاتے ہیں کہ جو نیپال میں ہوا‘ اسی طرح پوری زمین پر ہو گا۔ یہ اگر قیامتِ صغریٰ ہے تو ایسی ہی ایک قیامتِ کبریٰ بھی آئے گی۔یہ دنیا کے نظامِ حیات میں موجود خلا کا واحد جواب ہے جو صرف اورصرف مذہب دیتا ہے۔ میرے علم میں اس سوال کا کوئی انسانی جواب نہیں دیا گیا کہ زلزلے کیوں آتے ہیں‘ وائرس کیوں پھیلتا ہے‘ مرنے کے بعد کیا ہو گا؟ اگر یہ میری کم علمی ہے تو میں اُن کا شکرگزار ہوں گا جو اس کا مداوا کریں گے۔ میری گزارش یہ ہے کہ کوئی اختلاف کرے یا اتفاق‘ ان کا جواب صرف مذہب کے پاس ہے۔ جن سوالات کے جواب عقلِ عام سے مل سکیں‘ ان کے لیے منطق کی ضرورت نہیں ہوتی۔ فلسفہ اور کلام کا ایک نقص یہ بھی ہے کہ بعض اوقات عقلِ عام کے لیے حجاب بن جاتے ہیں۔ اس لیے مذہب کا بنیادی مقدمہ عقلی ہے‘ فلسفیانہ یا کلامی نہیں۔مذہب کے ناقدین سے بس اتنی درخواست ہے کہ وہ ہما شما سے مذہب کو جاننے کے بجائے‘ اسے براہ راست اللہ کی کتاب سے جانیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>یہ بھی انسان ہیں(رسول بخش رئیس)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-08-31/52575/71078033</link><pubDate>Mon, 31 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-08-31/52575/71078033</guid><description>دھتکارے ہوئے لوگوں کو کئی رنگوں میں اور کئی جگہوں پر دیکھتا ہوں تو دل کڑھتا ہے اور ساتھ سوال بھی اٹھاتا ہے کہ اس کا ذمہ دار کون ہے؟ آپ بھی انہیں ادھر اُدھر گھومتے‘ قبرستانوں میں پڑے‘ چوراہوں اور بازاروں میں مانگتے اور خصوصاً پارکوں میں پڑے دیکھتے ہوں گے۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے ایک قریبی پارک میں صبح سویرے سیر کے لیے جانا روز کا معمول ہے۔ کئی سالوں سے دیکھ رہا ہوں کہ نشے کے عادی افراد‘ جن میں مرد اور عورتیں دونوں شامل ہیں‘ کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ کوڑے کرکٹ کا انبار لگائے‘ کچھ تو بنچوں پر گھوڑے بیچ کر سو رہے ہوتے ہیں‘ لیکن زیادہ تر چار پانچ کی ٹولیوں میں جھاڑیوں میں چوکڑی مارے یا راستوں کے قریب درختوں کے ساتھ‘ سورج نکلنے سے بھی پہلے‘ آگ جلائے‘ سگریٹوں میں سفید رنگ کا سفوف بھر کر کش لگا رہے ہوتے ہیں۔ بعض اوقات کوئی اکیلا شخص اس معمول کی کارروائی میں مصروف نظر آتا ہے۔ اکثریت ان میں نوجوانوں کی ہے‘ کچھ پکی عمر کے بھی ہیں۔ ان کے بدن اور کپڑوں کی بدبو وہاں چلنے پھرنے والے دور تک محسوس کر سکتے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مہینوں تک نہ وہ کپڑے دھو تے ہیں اور نہ نہانے کی زحمت گوارا کرتے ہیں۔ پارکوں کے کونوں میں جو غلاظت‘ گندگی اور تعفن ہے‘ اس کا ذکر نہ ہی کریں تو بہتر ہے۔ یہ اسلام آباد کی بات کر رہا ہوں جسے اہلِ اقتدار خوبصورت کہہ کر کالونیوں پر کالونیاں پھیلائے جا رہے ہیں۔ صبح ہوتے ہی چند ایک کہیں سے وارد ہوتے جاتے ہیں۔ اُن کے ساتھ چھوٹے بچے بھی ہوتے ہیں۔ تقریباً یہ سب لوگ بے گھر ہیں۔ جہاں جگہ ملے سو جاتے ہیں۔ دن بھر بھیک مانگتے رہتے ہیں تاکہ نشے کے لوازمات خرید کیے جائیں۔ہمارا تھوڑا مشاہدہ ہے مگر زیادہ تر دیہات میں لوگوں سے بات کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ نشے کی عادت دور دراز کے علاقوں تک پھیل چکی ہے۔ شاید ہی کوئی چھوٹا قصبہ یا گائوں رہ گیا ہو جہاں تک منشیات فروشوں کی رسائی نہ ہو۔ عجیب بات ہے کہ دیہات میں عام آدمی کو بھی پتا ہے کہ اس دھندے میں کون ملوث ہے اور ان کا کون سرپرست ہے مگر پولیس کو کچھ معلوم نہیں ہوتا۔ یا دوسرے معنوں میں‘ اس بے خبری کے کچھ فوائد ہو سکتے ہیں۔ شہروں میں تو پنکی‘ پنکو‘ رنگو‘ ڈھگو کام کرتے ہیں اور ان کے ہاتھ لمبے اور جیبیں گہری ہوتی ہیں۔ حکومتیں بدلیں‘ وزرائے اعظم آئیں جائیں‘ جمہوریت ہو یا کوئی اور نظام‘ اور بازاروں میں کاروبار ماند پڑے یا چمکے‘ منشیات فروشی کا دھندا دن دگنی رات چوگنی ترقی کر رہا ہے۔ اس وقت تقریباً 70 سے 80 لاکھ کے قریب منشیات کے عادی لوگوں کی تعداد کا تخمینہ ہے‘ جس میں ہر سال 40 ہزار کا اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ تعداد کُل آبادی کا کوئی چھ فیصد ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ خیبر پختونخوا میں ہے جہاں 11 فیصد کے قریب نشے کے عادی ہیں۔ جو آنکھوں دیکھا حال دہائیوں پہلے کوئٹہ کے وسط میں بہتے حبیب نالے کے اندر جا کر دیکھا‘ اسے کوئی جہنم کہے تو بے جا نہ ہو گا۔ اس کا احوال کسی اگلے مضمون میں لکھوں گا۔ شہادت کے طور پر تصویریں اب بھی میرے پاس موجود ہیں۔ شاید اب حالات مختلف ہوں‘ مگر لوگوں سے پوچھتا رہتا ہوں تو یہی کہتے ہیں کہ اب حالات زیادہ خراب ہیں۔ انسانوں کو نشے کی عادت ڈال کر ان کی زندگیوں اور خاندانوں کو تباہ کرنے سے بڑا کوئی اور جرم معاشرے کے خلاف ہو نہیں سکتا۔ دنیا کے سب ممالک منشیات فروشی کو انسانیت‘ ریاست اور معاشرے کے خلاف ایک بھیانک جرم خیال کرتے ہیں اور ایسے مجرموں کو بلا تامل پھانسیوں پر لٹکاتے ہیں۔اس کی بنیادی وجہ لکھنے اور اس کو کھول کر بیان کرنے سے دل گھبراتا ہے۔ ہمارے پڑوس میں افغانستان ہے‘ جسے پوری دنیا نارکو سٹیٹ کہتی ہے‘ جس کا مطلب ہے نشہ باز ریاست۔ سنا ہے طالبان کی حکومت نے اس پر کچھ کنٹرول قائم کیا ہے۔ عالمی اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ کمی واقع ہوئی ہے۔ مسئلہ اب صرف افیون اور ہیروئن کا نہیں بلکہ کیمیائی طریقے سے تیار کی جانے والی منشیات کا ہے‘ جو ہمارے ملک میں پھیلتی جا رہی ہیں۔ یہاں اس کاروبار کی وسعت کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ اس کا حجم دو ارب ڈالر کے قریب بتایا جاتا ہے۔ ہر سال اتنا بڑا کاروبار ہوتا ہے تو یہ خون پسینے کی کمائی کچھ اہم لوگوں کی جیبوں‘ کھاتوں‘ کاروباروں اور جائیدادوں میں جاتی ہو گی۔ ہوا میں تو یہ رقم تحلیل ہونے سے رہی۔ اس بارے میں جو چند کتابیں‘ تحقیقی مضامین ‘ اخباروں اور رسائل میں مضامین پڑھے ہیں‘ ان سے بہت کچھ معلوم ہوا ہے۔ ہر صوبے میں‘ خصوصاً بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں سردار‘ ملک اور دیگر شرفا‘ جنہوں نے سیاسی لبادے بھی اوڑھ رکھے ہیں اور ان کا نام لینا خطرے سے خالی نہیں‘ وہ اس میں ملوث ہیں۔ آپ کو اس بارے میں کوئی شوقِ جستجو ہے تو خود پورا کر لیں۔ اس درویش کا اپنی جان خطرے میں ڈالنے کا کوئی ارادہ نہیں۔جتنا منظم‘ مرتب اور مؤثر منشیات فروشی کا کاروبار ہے‘ شاید ہی کوئی اور بڑی سے بڑی کارپوریشن ان جیسا نظام بنا اور چلا سکے۔ میں نے تو نشئیوں کو نچلی سطح پر خریدنے‘ آپس میں بیچنے کی صورت میں ایک پارک کے اندر کئی سالوں سے دیکھا ہے۔ کبھی کبھار ایک دو مسٹنڈے‘ جو اپنے اپنے علاقوں میں اجارہ داری پر پہرہ دیتے ہیں‘ ہاتھ میں پکڑے فون سے کھیلتے ادھر آ نکلتے ہیں۔ نشئیوں میں اپنے پرچون فروشوں کو اکٹھا کرتے ہیں‘ ان کے مسائل اس طرح سن رہے ہوتے ہیں جیسے کوئی وضع دار سیاستدان اپنے ڈیرے پر سائلین کا حساب کتاب کر کے رخصت ہوتا ہے۔کچھ عورتیں اور بزرگ قسم کے ایجنٹ ان کے لیے زیادہ کارآمد ہیں۔ لوگوں کو ان پر شک نہیں گزرتا۔ چونکہ میں اپنی واک کے چکر مکمل کرتے وقت آنکھ چرا کر ہلکی پھلکی جاسوسی کرتا رہتا ہوں‘ اس لیے آپ مجھے چشم دید گواہ سمجھ سکتے ہیں۔ ذاتی طور پر نشئیوں کے ساتھ میرے تعلقات اس طرح کے ہیں جن کی آپ اچھے ہمسایوں سے توقع کر سکتے ہیں۔ میرا تھوڑا سا گلہ یہ ہے کہ پارک کی تقریباً 40 فیصد لوہے کی باڑ آہستہ آہستہ اکھاڑ کر بیچ چکے ہیں۔ کسی سرکاری آدمی تک فریاد بذریعہ فون پہنچائی تو اس نے کہا: &#39;&#39;بابا! کس چکر میں پڑے ہو، ملک میں بہت بے روزگاری ہے‘‘۔ ایک دفعہ ایک جدید اور جدت پسند نوجوان نے میرے ان ہمسایوں کو نشہ کرتے دیکھ کر پولیس کو بلا لیا۔ زیادہ تر تو بھاگ گئے‘ مگر ایک لڑکا اور ایک بابا مع مالِ ممنوعہ ہاتھ آ گئے۔ پولیس اپنی وین میں بٹھا کر لے گئی مگر آدھے گھنٹے بعد ہی وہ واپس آ گئے۔ پولیس والے بھی تنگ ہیں۔ کہتے ہیں‘ انہیں تھانے میں رکھیں تو دیواروں پر سر مارتے ہیں اور ہم انکوائریاں بھگتنے کے لیے تیار نہیں۔ میں نے ایک دیہاتی طریقہ سوچ رکھا ہے۔ بابوں کا ایک گروپ صبح کے وقت پارک میں آتا ہے۔ اگر وہ نشہ کرتے نظر آ جائیں تو بابوں کو اکساتا ہوں۔ صرف اتنا کہتا ہوں: &#39;&#39;دیکھو‘ ہمارے وطن عزیز اور پارک میں کیا ہو رہا ہے‘‘۔ بابے باجماعت جو ہاتھ میں آ جائے‘ لے کر ان کے پیچھے ایسے پڑتے ہیں کہ یہ دیکھ کر مجھے اپنے زمانے کا پولیس کا لاٹھی چارج یاد آ جاتا ہے۔ کیا بات ہے اقتدار کے نشے کی کہ اہلِ اقتدار اس کاروبار سے آنکھیں چرانا ہی بہتر سمجھتے ہیں‘ مبادا کچھ کرنا پڑ جائے اور خواہ مخواہ کی بدمزگی ہو۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_33241568.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>قرض، ای وی پالیسی اور سستا ڈیزل(میاں عمران احمد)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mian-imran-ahmad/2026-08-31/52576/37863588</link><pubDate>Mon, 31 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mian-imran-ahmad/2026-08-31/52576/37863588</guid><description>حکومت نے اعلان کیا ہے کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے ذمے واجب الادا 1200 ارب روپے کا قرض مقررہ مدت سے پہلے ادا کر دیا گیا ہے۔ یہ پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی قبل از وقت قرض ادائیگی قرار دی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ میعاد سے قبل ادا کیے گئے مجموعی ملکی قرض کی مالیت 5920 ارب روپے سے تجاوز کرگئی ہے۔ اس وقت پاکستان کی معیشت کے چند اشاریے بہتری کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ مالی سال 2025ء میں ملک نے تقریباً 1.9 ارب ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس حاصل کیا۔ ترسیلاتِ زر 38 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں جبکہ زرمبادلہ کے مجموعی ذخائر 20 ارب ڈالر سے اوپر پہنچ گئے۔ مہنگائی جو 2023ء میں 30 فیصد سے اوپر جا چکی تھی‘ اب سنگل ڈیجٹ میں آ چکی ہے۔ یہی وہ عوامل ہیں جنہوں نے حکومت کو قرضوں کے انتظام میں کچھ گنجائش فراہم کی ہے۔ بظاہر یہ ایک بڑی کامیابی ہے‘ تاہم اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان واقعی قرضوں کے بوجھ سے نکل رہا ہے یا صرف قرضوں کے ڈھانچے میں تبدیلی آ رہی ہے؟ پاکستان کا مجموعی ریاستی قرض اس وقت تقریباً 76 سے 80 ٹریلین روپے ہے‘ جو پانچ برس قبل تک تقریباً 55 ٹریلین روپے تھا۔ یعنی پانچ برسوں میں قومی قرضوں میں 20 ٹریلین روپے سے زیادہ کا اضافہ ہوا ہے۔ مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں صرف سود اور اصل زر کی ادائیگیوں کیلئے 8045 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں‘ جو وفاقی بجٹ کا سب سے بڑا خرچ ہے۔ اصل کامیابی اس دن ہو گی جب بجٹ کا سب سے بڑا خرچ قرضوں اور سود کی ادائیگی کے بجائے تعلیم‘ صحت‘ صنعت اور روزگار کی مد میں ہو گا۔ تبھی کہا جا سکے گا کہ ملک قرضوں کے بوجھ سے نکلنے کی راہ پر گامزن ہو گیا ہے۔ تاہم اس کیلئے برآمدات بڑھانا ہوں گی‘ ٹیکس نیٹ وسیع کرنا ہوگا‘ سرکاری اداروں کے نقصانات کم کرنا ہوں گے اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات لانا ہوں گی۔ بصورت دیگر حکومت قرض واپس کرنے کی خبروں پر خوشیاں مناتی رہے گی اور حقیقتاً مجموعی قرض کا پہاڑ اپنی جگہ برقرار رہے گا۔حکومت چاہتی ہے کہ 2030ء تک نئی فروخت ہونے والی گاڑیوں میں 30 فیصد الیکٹرک گاڑیاں ہوں‘ اس مقصد کیلئے 22 لاکھ سے زائد الیکٹرک گاڑیوں‘ بائیکس اور رکشوں کو سڑکوں پر لانے اور تین ہزار چارجنگ سٹیشن قائم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ نئی الیکٹرک وہیکل پالیسی بظاہر بہت پُرکشش نظر آتی ہے لیکن پالیسی اعلانات اور زمینی حقائق کے مابین ایک بڑا خلا دکھائی دے رہا ہے۔ حکومت نے اگلے تقریباً ساڑھے چار سال میں تین ہزار چارجنگ سٹیشن لگانے کا ہدف مقرر کیا ہے جبکہ اس وقت ہزاروں پٹرول پمپس موجود ہیں اور ان کا نیٹ ورک ملک کے تقریباً ہر شہر اور قصبے تک پھیلا ہوا ہے۔ اس کے مقابلے میں چارجنگ نیٹ ورک ابھی ابتدائی مرحلے میں بھی داخل نہیں ہو سکا۔ رواں مالی سال میں Pakistan Accelerated Vehicle Electrification پروگرام کیلئے صرف نو ارب روپے مختص کیے گئے‘ جس کے ذریعے تقریباً ایک لاکھ 16 ہزار الیکٹرک بائیکس اور تین ہزار ای رکشوں کو سبسڈی دی جانی ہے۔ دوسری طرف پالیسی کا مجموعی ہدف 2030ء تک 22 لاکھ سے زائد الیکٹرک وہیکل متعارف کرانا ہے۔ مطلوبہ ہدف حاصل کرنے کیلئے موجودہ سرمایہ کاری ناکافی دکھائی دیتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ پہلے مرحلے میں دو لاکھ 69 ہزار سے زائد درخواستیں موصول ہونے کے باوجود صرف 40 ہزار درخواست گزاروں کو منتخب کیا گیا۔ حکومت لاکھوں گاڑیوں کو بجلی پر منتقل کرنا چاہتی ہے لیکن ملک کا پاور سیکٹر تقریباً 2400 ارب روپے کے گردشی قرضے‘ مہنگی بجلی اور ترسیلی نقصانات جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ اگر لاکھوں گاڑیاں رات کے اوقات میں چارج ہونا شروع ہو جائیں تو کیا موجودہ گرڈ اس اضافی بوجھ کو برداشت کر سکتا ہے؟ پارلیمانی کمیٹیوں میں بھی چارجنگ نیٹ ورک اور بجلی کی دستیابی کے بارے میں سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ جب تک چارجنگ انفراسٹرکچر‘ بجلی کی مسلسل فراہمی‘ مقامی بیٹری انڈسٹری‘ فنانسنگ اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی شمولیت کے مسائل حل نہیں ہوتے‘ تب تک 30 فیصد الیکٹرک گاڑیوں کا ہدف ایک پالیسی دستاویز تو ہو سکتا ہے مگر عملاً سڑکوں پر اس کی جھلک نظر آنا مشکل ہے۔اس دوران ایک خوش آئند خبر یہ آئی ہے کہ رواں سال جولائی میں حکومت نے ہائی سپیڈ ڈیزل کا ایک لیٹر بھی درآمد نہیں کیا۔ گزشتہ تین برسوں میں یہ پہلی مرتبہ ہوا کہ مقامی ریفائنریوں کی پیداوار ملکی طلب پوری کرنے کیلئے کافی ثابت ہوئی۔ اس سے قبل آخری مرتبہ جولائی 2023ء میں پاکستان نے صفر ڈیزل درآمدات کی تھیں۔ بظاہر یہ چھوٹی خبر ہے مگر اس کے معاشی اثرات بہت بڑے ہو سکتے ہیں۔ جولائی 2026ء میں ہائی سپیڈ ڈیزل کی مقامی کھپت تقریباً چھ لاکھ ٹن رہی جبکہ مقامی ریفائنریوں نے پانچ لاکھ ٹن سے زائد ڈیزل پیدا کیا اور دستیاب ذخائر کے ذریعے پوری طلب پوری کی گئی۔ یہی وجہ تھی کہ کسی درآمدی کارگو کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ جولائی میں درآمدات نہ ہونے سے ملک کو تقریباً 120 ملین ڈالر تک کے زرمبادلہ کی بچت ہوئی۔ جولائی میں ڈیزل کی فروخت میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا اور سالانہ بنیادوں پر 19 فیصد جبکہ ماہانہ بنیادوں پر 25 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ جولائی کے اعداد وشمار ظاہر کرتے ہیں کہ اگر مناسب پالیسی سپورٹ اور خام تیل کی دستیابی برقرار رہے تو مقامی ریفائنریاں ملکی ضروریات کا بڑا حصہ پورا کر سکتی ہیں۔ جولائی میں مشرقِ وسطیٰ سے درآمدی پریمیم زیادہ تھے جس کے باعث بیرون ملک سے ڈیزل منگوانا نسبتاً مہنگا پڑ رہا تھا۔ اگر عالمی سطح پر قیمتیں کم ہو جائیں یا مقامی پیداوار میں کمی آ جائے تو درآمدات دوبارہ شروع ہو سکتی ہیں۔ پاکستان سٹیٹ آئل کا ایک درآمدی ڈیزل کارگو آئندہ مہینوں کیلئے پہلے ہی شیڈول کیا جا چکا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے دباؤ میں آ گئی ہے۔ ڈیزل کی مقامی پیداوار بڑھنے کے باعث حکومت ڈیزل کی قیمتوں میں واضح کمی کا ارادہ رکھتی تھی اور اس حوالے سے اطلاعات بھی شیئر کی جا رہی تھیں لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ سوال یہ ہے کہ مقامی سطح پر ڈیزل کی پیداوار بڑھنے سے عوام کو سستا ڈیزل کب ملے گا؟دوسری جانب آئی ایم ایف کا جائزہ مشن آئندہ ماہ پاکستان آئے گا۔ یہ سات ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت پروگرام کا چوتھا جائزہ ہوگا۔ دورے کی حتمی تاریخ ابھی طے نہیں ہوئی۔ پاکستان اور آئی ایم ایف کے مابین اختلافات اب صرف ٹیکس‘ بجلی‘ بجٹ خسارے اور زرمبادلہ کے ذخائر تک محدود نہیں رہے بلکہ معاملہ سرکاری ٹھیکوں تک بھی پہنچ چکا ہے۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا سرکاری اداروں کو بغیر مسابقتی بولی کے براہ راست اربوں روپے کے ٹھیکے دیے جا سکتے ہیں یا انہیں بھی نجی کمپنیوں کی طرح اوپن بِڈ میں حصہ لینا چاہیے؟ حکومت چاہتی ہے کہ بعض حالات میں سرکاری اداروں کو براہ راست ٹھیکے دینے کی گنجائش برقرار رہے جبکہ آئی ایم ایف کا مؤقف ہے کہ سرکاری اداروں کو محض سرکاری ملکیت کی بنیاد پر ترجیح نہیں دی جانی چاہیے۔ آئی ایم ایف کے نزدیک بغیر مقابلے کے معاہدے صرف غیر معمولی حالات میں ہونے چاہئیں اور حکومت کو یہ بھی واضح کرنا چاہیے کہ ایسا معاہدہ کرنے کی ضرورت کیونکر پیش آئی۔ مسئلہ کسی سرکاری ادارے کو ٹھیکہ دینے کا نہیں بلکہ ٹھیکہ دینے کے طریقہ کار کا ہے۔ اگر کوئی سرکاری کمپنی کسی نجی کمپنی سے کم قیمت اور بہتر معیار پر کام کر سکتی ہے تو اسے ضرور کام ملنا چاہیے لیکن صرف اس لیے وہ سرکاری ادارہ ہے‘ اسے ٹھیکہ نہیں ملنا چاہیے بلکہ اسے بھی مقابلے میں اپنی اہلیت ثابت کرنی چاہیے۔ اگر وہ نجی کمپنیوں سے کم بولی لگا کر ٹھیکہ حاصل کرتی ہے تو اس سے نہ صرف سرکاری ادارے کی کارکردگی ثابت ہو گی بلکہ قومی خزانے کی بچت بھی ممکن ہو سکے گی۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/212_71532147.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کچھ اشک بار تصویریں(سعود عثمانی )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-08-31/52577/14523679</link><pubDate>Mon, 31 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-08-31/52577/14523679</guid><description>میں بے علم‘ بے عمل نبی آخر الزماںﷺ کی سیرتِ طیبہ پر کیا بات کر سکتا ہوں‘ کیا درس دے سکتا ہوں۔ میرے پاس کچھ بھی نہیں لیکن میں یہ تو بتا سکتا ہوں کہ سیرت کے واقعات پڑھتے ہوئے دل کس طرح درد سے چھلکنے لگتا ہے اور میری آنکھیں کس طرح جھلملاتی ہیں۔ اس مختصر تحریر میں آپ بھی یہ تصویریں دیکھ لیجیے۔قریش کے بڑے سردار جنابِ ابوطالب پر بے پناہ دباؤ ڈال کر گئے ہیں اور مشفق ومہربان چچا آپﷺ سے کہہ رہے ہیں: بھتیجے! تمہاری قوم کے لوگ میرے پاس آئے تھے اور ایسی ایسی باتیں کہہ گئے ہیں۔ اب مجھ پر اور خود اپنے آپ پر رحم کرو اور اس معاملے میں مجھ پر اتنا بوجھ نہ ڈالو جو میرے بس سے باہر ہے۔ تاریخ نے جواب کے جو کلمات محفوظ کیے وہ آج بھی پڑھ لیں تو آنکھیں چھلک اٹھتی ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا: چچا جان! اللہ کی قسم‘ اگر یہ لوگ میرے دائیں ہاتھ پر سورج اور بائیں ہاتھ پر چاند رکھ دیں کہ میں اس کام کو چھوڑ دوں‘ تو نہیں چھوڑوں گا۔ یہاں تک کہ یا تو اللہ اسے غالب کر دے اور یا میں اسی راہ میں فنا ہو جاؤں۔ پھر آپﷺ کی آنکھیں اشکبار ہو گئیں۔ آپﷺ رو پڑے اور اُٹھ گئے۔ واپس ہونے لگے تو چچا نے پکارا۔ سامنے تشریف لائے تو کہا: بھتیجے! جاؤ جو چاہے کہو‘ خدا کی قسم میں تمہیں کبھی بھی کسی بھی وجہ سے نہیں چھوڑ سکتا۔ پھر جنابِ ابوطالب نے یہ اشعار کہے &#39;&#39;اللہ کی قسم! وہ لوگ تمہارے پاس اپنی جمعیت سمیت بھی ہرگز ہرگز نہیں پہنچ سکتے‘ یہاں تک کہ میں مٹی میں دفن کر دیا جاؤں۔ تم اپنی بات کھلم کھلا کہو۔ تم پر کوئی قدغن نہیں۔ تم خوش ہو جاؤ اور تمہاری آنکھیں اس سے ٹھنڈی ہو جائیں‘‘۔ہجرت ہے اور غارِ ثور ہے۔ خون کے پیاسے غار کے باہر کھڑے ہیں۔ حضرت ابوبکرؓ کہتے ہیں: اے اللہ کے نبیﷺ! ان میں سے کوئی شخص محض اپنی نگاہ نیچی کر دے تو ہمیں دیکھ لے گا۔ آپﷺ نے فرمایا: ابوبکر! اُن دو آدمیوں کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جن کا تیسرا اللہ ہے۔ (صحیح بخاری) حضرت ابوبکر صدیقؓ نے فرمایا: ہم لوگ (غار سے نکل کر) رات بھر اور دن میں دوپہر تک چلتے رہے۔ جب ٹھیک دوپہر کا وقت ہو گیا‘ راستہ خالی ہو گیا اور کوئی گزرنے والا نہ رہا تو ہمیں ایک لمبی چٹان دکھائی دی جس کے سائے پر دھوپ نہیں آئی تھی۔ ہم وہیں اُتر پڑے۔ میں نے اپنے ہاتھ سے نبیﷺ کے سونے کے لیے ایک جگہ برابر کی اور اس پر ایک پوستین بچھا کر گزارش کی کہ اے اللہ کے رسولﷺ آپ سو جائیں اور میں آپ کے گرد و پیش کی دیکھ بھال کر لیتا ہوں۔ آپﷺ سو گئے اور میں آپ کے گرد و پیش کی دیکھ بھال کے لیے نکلا۔ اچانک کیا دیکھتا ہوں کہ ایک چرواہا اپنی بکریاں لیے چٹان کی جانب چلا آ رہا ہے۔ وہ بھی اس چٹان سے وہی چاہتا تھا جو ہم نے چاہا تھا۔ میں نے اس سے کہا: اے جوان تم کس کے آدمی ہو؟ اس نے مکہ یا مدینہ کے کسی آدمی کا ذکر کیا۔ میں نے کہا: تمہاری بکریوں میں کچھ دودھ ہے؟ اس نے کہا: ہاں۔ میں نے کہا: دوہ سکتا ہوں؟ اس نے کہا: ہاں! اور ایک بکری پکڑ لی۔ میں نے کہا: ذرا تھن کو مٹی‘ بال اور تنکے وغیرہ سے صاف کر لو۔ پھر اس نے ایک قاب میں تھوڑا سا دودھ دوہا اور میرے پاس ایک چرمی لوٹا تھا جو میں نے رسول اللہﷺ کے پینے اور وضو کرنے کے لیے رکھ لیا تھا۔ میں نبیﷺ کے پاس آیا لیکن گوارا نہ ہوا کہ آپ کو بیدار کروں؛ چنانچہ جب آپ بیدار ہوئے تو میں آپﷺ کے پاس آیا اور دودھ پر پانی انڈیلا یہاں تک کہ اس کا نچلا حصہ ٹھنڈا ہو گیا۔ اس کے بعد میں نے کہا: اے اللہ کے رسولﷺ پی لیجیے۔ آپ نے پیا یہاں تک کہ میں خوش ہو گیا۔ پھر آپﷺ نے فرمایا: کیا ابھی کوچ کا وقت نہیں ہوا؟ میں نے کہا: کیوں نہیں۔ اس کے بعد ہم لوگ چل پڑے۔ (صحیح بخاری)ابو عزہ جمحی کو بدر میں گرفتار کیے جانے کے بعد اس کے فقر اور لڑکیوں کی کثرت کے سبب اس شرط پر بلا عوض چھوڑ دیا گیا کہ وہ رسول اللہﷺ کے خلاف کسی سے تعاون نہیں کرے گا لیکن اس شخص نے وعدہ خلافی اور عہد شکنی کی اور اپنے اشعار کے ذریعے نبیﷺ اور صحابہ کرامؓ کے خلاف لوگوں کے جذبات کو بھڑکایا‘ پھر مسلمانوں سے لڑنے کے لیے خود بھی جنگِ احد میں آیا۔ غزوہ احد کے بعد جب یہ گرفتار کر کے رسول اللہﷺ کی خدمت میں لایا گیا تو کہنے لگا: محمد! میری لغزش سے درگزر کریں۔ مجھ پر احسان کر دیں اور میری بچیوں کی خاطر مجھے چھوڑ دیں۔ میں عہد کرتا ہوں کہ اب دوبارہ ایسی حرکت نہیں کروں گا۔ نبیﷺ نے فرمایا: اب یہ نہیں ہو سکتا کہ تم مکے جا کر اپنے رخسار پر ہاتھ پھیرو اور کہو کہ میں نے محمد کو دو مرتبہ دھوکا دیا۔ مومن ایک سوراخ سے دو مرتبہ نہیں ڈسا جا سکتا۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہﷺ مدینہ تشریف لائے تو حضرت ابوبکرؓ اور حضرت بلالؓ کو بخار آ گیا۔ میں نے دریافت کیا کہ ابا جان آپ کا کیا حال ہے اور اے بلال! آپ کا کیا حال ہے؟ وہ فرماتی ہیں کہ جب حضرت ابوبکرؓ کو بخار آتا تو یہ شعر پڑھتے &#39;&#39;ہر آدمی سے اس کے اہل کے اندر صبح بخیر کہا جاتا ہے حالانکہ موت اس کے جوتے کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہے‘‘۔ اور حضرت بلالؓ کی حالت کچھ سنبھلتی تو وہ اپنی دردناک آواز بلند کرتے اور کہتے &#39;&#39;کاش میں جانتا کہ کوئی رات وادی (مکہ) میں گزار سکوں گا اور میرے گرد اِذخِر اور جلیل (گھاس) ہوں گی۔ اور کیا کسی دن مجنہ کے چشمے پر وارد ہو سکوں گا اور مجھے شامہ اور طفیل (پہاڑ) دکھلائی پڑیں گے‘‘۔حضرت خبیبؓ کو کفارِ مکہ نے دھوکے سے گرفتار کر لیا تھا۔ جب انہیں اپنی شہادت کا یقین ہو گیا تو انہوں نے یہ شعر فی البدیہہ کہے: &#39;&#39;لوگ میرے گرد گروہ در گروہ جمع ہو گئے ہیں‘ اپنے قبائل کو چڑھا لائے ہیں اور سارا مجمع جمع کر لیا ہے۔ اپنے بیٹوں اور عورتوں کو بھی قریب لے آئے ہیں اور مجھے ایک لمبے مضبوط تنے کے قریب کر دیا گیا ہے۔ میں اپنی بے وطنی و بے کسی کا شکوہ اور اپنی قتل گاہ کے پاس گروہوں کی جمع کردہ آفات کی فریاد اللہ ہی سے کر رہا ہوں۔ اے عرش والے! میرے خلاف دشمنوں کے جو ارادے ہیں اس پر مجھے صبر دے۔ انہوں نے مجھے بوٹی بوٹی کر دیا ہے اور میری خوراک بری ہو گئی ہے۔ انہوں نے مجھے کفر کا اختیار دیا ہے حالانکہ موت اس سے کمتر اور آسان ہے۔ میری آنکھیں آنسو کے بغیر امڈ آئیں۔ میں مسلمان مارا جاؤں تو مجھے پروا نہیں کہ اللہ کی راہ میں کس پہلو پر قتل ہوں گا۔ یہ تو اللہ کی ذات کے لیے ہے اور وہ چاہے تو بوٹی بوٹی کٹے ہوئے اعضاکے جوڑ جوڑ میں برکت دے‘‘۔ اس کے بعد کفار نے حضرت خبیبؓ سے کہا: کیا تمہیں یہ بات پسند آئے گی کہ تمہارے بدلے محمد ہمارے پاس ہوتے‘ ہم ان کی گردن مارتے اور تم اپنے اہل وعیال میں رہتے؟ (العیاد باللہ) انہوں نے کہا: نہیں۔ واللہ مجھے تو یہ بھی گوارا نہیں کہ میں اپنے اہل وعیال میں رہوں اور اس کے بدلے محمدﷺ کو جہاں آپ ہیں‘ وہیں رہتے ہوئے کانٹا چبھ جائے اور وہ آپﷺ کو تکلیف دے۔ اس کے بعد مشرکین نے انہیں سولی پر لٹکا دیا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_81278520.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مکہ معاہدہ پر مکالمہ(جاوید حفیظ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/javed-hafiz/2026-08-31/52578/81894357</link><pubDate>Mon, 31 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/javed-hafiz/2026-08-31/52578/81894357</guid><description>چند روز پہلے مجھے قطر کے الجزیرہ ٹی وی سے فون آیا کہ ہم مکہ معاہدے پر طویل دورانیے کا ٹاک شو کرنا چاہ رہے ہیں‘ پروگرام میں سعودی عرب‘ ترکیہ اور پاکستان کا ایک ایک نمائندہ ہوگا‘ ہماری خواہش ہے کہ پاکستان کی نمائندگی آپ کریں۔ چینل والوں نے متعلقہ موضوع پر عربی میں ایک بیک گرائونڈ پیپر تمام شرکا کو بھیجا تھا‘ ایئرپورٹ پر بیٹھ کر وہ پڑھتا رہا‘ پھر ایک پاکستانی ڈاکٹر مل گئے جو کئی سالوں سے دوجہ میں جاب کر رہے۔ ان سے قطر کے بارے میں مفید معلومات ملیں۔وہ انگلینڈ میں بھی کام کر چکے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ آپ نے یورپ پر قطر کو کیوں ترجیح دی؟ کہنے لگے کہ قطر کا ماحول اسلامی ہے لہٰذا میں نے اپنی فیملی اور بچوں کی خاطر قطر کا انتخاب کیا۔ استفسار کیا کہ جنگ کا معیشت اور میڈیکل شعبے پر کیا اثر پڑا ہے؟ کہنے لگے کہ اکانومی پر منفی اثرات ضرور مرتب ہوئے لیکن اب حالات نارمل ہو رہے ہیں‘ البتہ کچھ مغربی ممالک کے لوگ واپس چلے گئے ہیں‘ لہٰذا کچھ ہسپتال ڈاکٹروں کی تعداد کم کر رہے ہیں۔ وہ خود بھی اسلام آباد میں ایک کلینک بنا رہے ہیں تاکہ اگر قطر میں جاب ختم ہو تو پاکستان میں کام کر سکیں۔ قطر ایئر ویز کا پاکستانی نمائندہ خوش اخلاق تھا۔ پوچھا کہ آپ دوجہ کس کام سے جا رہے ہیں؟ میں نے مقصد بتایا تو کہنے لگا کہ آپ ملک کی نمائندگی کیلئے جا رہے ہیں‘ میں آپ کو سپیشل سیٹ دے رہا ہوں۔ سیٹ واقعی اچھی تھی‘ صرف دو کرسیاں تھیں جہاں میں اور ایک معمر یورپی خاتون بیٹھی تھیں۔ وہ خوش اخلاق تھیں اور باتیں کرنا چاہتی تھیں لیکن انگریزی خاصی کمزور تھی‘ تعلق سپین سے تھا۔ مجھے صرف اتنا سمجھ آیا کہ پاکستان سیاحت کی غرض سے آئی تھیں اور شمالی علاقوں کی سیر کرکے آئی ہیں۔ کہنے لگیں کہ پاکستان بہت خوبصورت ملک ہے‘ میرا دل خوش ہو گیا ہے۔قطر کا رقبہ اور آبادی دونوں مختصر ہیں۔ قدرتی گیس کے وسیع ذخائر ہیں لہٰذا فی کس آمدنی کے اعتبار سے دنیا کے ٹاپ دس ممالک میں شامل ہے۔ دوجہ کی سڑکیں‘ عمارتیں اور انفراسٹرکچر عالمی معیار کا ہے۔ 2022ء کے فٹ بال ورلڈ کپ کی تیاری میں متعدد نئے سٹیڈیم اور ہوٹلز تعمیر ہوئے۔ جدید دوحہ کی فلک بوس عمارتیں دبئی کی ہائی رائز بلڈنگز کی یاد دلاتی ہیں۔ ہم تینوں مہمانوں کو میریٹ ہوٹل میں ٹھہرایا گیا جو 43 منازل پر مشتمل ہے۔ ایئرپورٹ سے ہوٹل کی جانب جاتے ہوئے ڈرائیور سے کچھ بات چیت ہوئی‘ اس کا تعلق کینیا سے تھا ۔ پوچھا کہ جنگ کے اثرات عمومی طور پر کیسے رہے؟ کہنے لگا کہ جنگ کے دوران تو سڑکیں اور شاپنگ مال خالی خالی لگتے تھے لیکن اب رونقیں واپس آ رہی ہیں۔ جنگ کے جاب مارکیٹ پر اثرات کا دریافت کیا تو کہنے لگا کہ چند کمپنیوں نے تنخواہیں کم کی ہیں‘ پھر کہا کہ چینل میں کام کرکے خوش ہے کہ یہ لوگ ورکرز کی عزت کرتے ہیں۔ اس نے بتایا کہ آفس میں ایک ہی کیفے ٹیریا ہے جہاں اینکر ہو یا ڈرائیور‘ سب اکٹھے کھانا کھاتے ہیں۔ پھر بتایا کہ یہاں کا ایک منفی پوائنٹ بھی ہے اور وہ ہے موسم۔ جولائی‘ اگست میں خلیجی ممالک میں سخت گرمی پڑتی ہے‘ تب مجھے نیروبی بہت یاد آتا ہے کیونکہ وہاں موسم پورا سال معتدل رہتا ہے۔ ہوٹل پہنچے تو بتایا گیا کہ جلد ہی سٹوڈیو پہنچنا ہے۔ جلدی سے تیار ہو کر چینل پہنچے۔ وہاں ترکیہ سے آئے ہوئے جاہد طوز سے ملاقات ہوئی۔ جاہد بین الاقوامی امور کے ماہر ہیں‘ سابق نائب وزیراعظم کے مشیر رہے ہیں‘ آج کل ایک نیوز ایجنسی میں کام کر رہے ہیں‘ عربی روانی سے بولتے ہیں۔ سعودی عرب سے ڈاکٹر سلیمان العقیلی کو بلایا گیا تھا۔ صحافت کا طویل تجربہ رکھتے ہیں‘ معروف سعودی اخبار&#39; الوطن‘ کے ایڈیٹر رہے ہیں۔ پروگرام کے اینکر عثمان فرخ تھے‘ جن کا تعلق اریٹریا سے ہے اور پندرہ سال سے الجزیرہ سے وابستہ ہیں۔ عثمان نے ہمارا استقبال کرنے کے بعد کہا کہ پورا پروگرام غیر رسمی یعنی Casual انداز میں ہوگا لہٰذا ہم سب ریلیکس اور بغیر ٹائی کے نظر آئیں گے تاکہ یہ لگے کہ ہم دوستانہ طریقے سے گپ شپ میں مصروف ہیں۔ پروگرام کے آغاز میں اینکر نے مکہ معاہدے کے حوالے سے چند بے لاگ سوالات کئے۔ اس کا کہنا تھا کہ تینوں ملکوں کا کوئی مشترکہ دشمن نہیں ہے اور نہ ہی اعلانِ مکہ اس امر کی وضاحت کرتا ہے کہ یہ ممالک کس کے خلاف لڑیں گے۔ سب کا ملتا جلتا جواب تھا کہ یہ اتحاد کسی ایک ملک کے خلاف نہیں بلکہ ہر اُس ملک کے خلاف ہے جو علاقائی امن کو تباہ کرنا چاہتا ہے۔ پھر اینکر نے سینٹو کا حوالہ دیا کہ وہاں بھی مشترکہ دشمن غیر واضح تھا‘ ہر ممبر ملک کی اپنی تاویل تھی مثلاً بھارت پاکستان کا دشمن تھا لیکن باقی ممالک کا رویہ بھارت کے بارے میں مختلف تھا اور یہی مبہم صورتحال سینٹو کے خاتمے پر منتج ہوئی۔ پھر اینکر نے سعودی مبصر سے سوال کیا کہ آپ کے ملک کے بھارت کے ساتھ دوستانہ تعلقات ہیں‘ اگر انڈیا اور پاکستان کی جنگ ہوتی ہے تو کیا آپ پاکستان کا ساتھ دیں گے؟ ڈاکٹر سلیمان کا جواب تھا کہ ہمارا انڈیا کے ساتھ اقتصادی تعاون ضرور ہے لیکن کوئی عسکری معاہدہ نہیں ہے لہٰذا ہم مکہ معاہدے پر عمل کریں گے۔اینکر نے مجھ سے پوچھا کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے‘ کیا پاکستان سعودی عرب اور ترکیہ کو بوقت ضرورت ایٹمی دفاع مہیا کرے گا؟ میرا جواب تھا کہ ایٹمی ہتھیار استعمال کے لیے نہیں ہوتے بلکہ امن کی ضمانت ہوتے ہیں کیونکہ یہ بڑی جنگوں کو روکتے ہیں۔ پاکستان نے حالتِ جنگ میں بھی انڈیا کے خلاف ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کا نہیں سوچا۔ البتہ معاہدۂ مکہ کے بعد ترکیہ اور سعودی عرب کے خلاف جارحانہ عزائم رکھنے والا کوئی بھی ملک حملہ کرنے میں محتاط ہوگا کیونکہ یہ دونوں ممالک اب دفاعی طور پر پاکستان سے منسلک ہیں اور پاکستان ایٹمی قوت ہے۔ سب مبصرین نے یک زبان ہو کر کہا کہ معاہدۂ مکہ کسی بھی ملک پر حملہ کرنے کے لیے نہیں بنایا گیا بلکہ یہ جنگوں کو روکنے کا منصوبہ اور امن کی طرف ایک بڑا قدم ہے۔ تینوں ملک مل کر عسکری اور اقتصادی تعاون سے ایک ایسی قوت کے طور پر ابھریں گے جس کے خلاف کوئی جارحیت کا سوچ بھی نہ سکے۔ترکیہ کے مبصر کا کہنا تھا کہ ہمارا ملک ہتھیاروں کی صنعت میں 90 فیصد تک خودکفیل ہے‘ ہم سعودی عرب اور پاکستان کے ساتھ مل کر اسلحے کی فیکٹریاں لگا سکتے ہیں‘ ترکیہ جنگی جہاز اور ڈرون بناتا ہے اور نیٹو کی ٹیکنالوجی اسے حاصل ہے۔ سعودی نمائندے کا کہنا تھا کہ ہم 2030ء تک ہتھیاروں کی صنعت میں 50 فیصد خودکفالت کا ہدف رکھتے ہیں۔ مجھ سے پوچھا گیا کہ اگر کوئی سٹیٹ یا نان سٹیٹ ایکٹر سعودی عرب پر حملے کرے تو کیا پاکستان مدد کے لیے آئے گا؟ میں نے اثبات میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہر پاکستانی حرمین کا دفاع کرنے کے لیے دل وجان سے حاضر ہے۔اگلے روز واپسی کا سفر تھا۔ میں دوحہ ایئرپورٹ پر پیدل چل رہا تھا کہ فری شٹل سروس نے سوار ہونے کی دعوت دی۔ میں نے شکریہ ادا کرتے ہوئے انکار کر دیا۔ اسّی سال کا ضرور ہو گیا ہوں لیکن پیدل دینے میں ابھی تک کوئی دشواری نہیں‘ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_85338835.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ختمِ نبوت کانفرنس(علامہ ابتسام الہٰی ظہیر )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-08-31/52579/97132137</link><pubDate>Mon, 31 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-08-31/52579/97132137</guid><description> سید عطا اللہ شاہ بخاری بر صغیر کے عظیم رہنما‘ بے مثل خطیب اور بلند پایہ عالم دین تھے۔ انہوں نے برصغیر کے مسلمانوں کی بیداری میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اگر سید عطا اللہ شاہ بخاری کی خدمات کا جائزہ لیا جائے تو ان کی خدمات دو بنیادی نکات کے گرد گھومتی ہیں۔ انہوں نے تحریک آزادی کیلئے نمایاں کردار ادا کیا‘ برصغیر کے طول وعرض میں بڑے بڑے اجتماعات سے خطاب کر کے لوگوں کو انگریز سامراج سے آزادی حاصل کرنے کیلئے متحرک کیا۔ ان کی دوسری اہم خدمت یہ ہے کہ انہوں نے تحریک ختم نبوت میں مثالی کردار ادا کیا۔ انہوں نے 1934ء میں تحریک ختم نبوت کو منظم کرنے کیلئے اپنے سفر کا آغاز قادیان سے کیا۔ 29 دسمبر 1929ء کو انہوں نے مجلس احرارِ اسلام کی بنیاد رکھی اور اس کے بانی رہنما کی حیثیت سے برصغیر کے طول وعرض میں بہت سے اسفار کیے۔ انہوں نے مجلس احرار اور ختم نبوت کے پیغام کو برصغیر کے طول وعرض میں پھیلانے کیلئے اپنی زندگی کو وقف کیے رکھا۔ شاہ صاحب کو اپنی جرأتِ اظہار اور بے باکی کی وجہ سے قید وبندکی صعوبتوں کو بھی برداشت کرنا پڑا اور تاریخی دستاویزات کے مطابق وہ تقریباً ساڑھے بارہ برس تک قید وبند میں رہے۔سید عطا اللہ شاہ بخاری کی رحلت کے بعد مجلس احرارِ اسلام نے اس مشن کو آگے بڑھانے کیلئے اپنے آپ کو منظم رکھا۔ چناب نگر میں مجلس احرارِ اسلام کے زیر اہتمام ہر سال 11 اور 12 ربیع الاوّل کو دو روزہ سالانہ کانفرنس کا انعقاد کیا جاتا ہے جس میں ملک بھر سے جید اور نامور علما کو مدعو کیا جاتا ہے۔ مجھے بھی گزشتہ برسوں کے دوران اس کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی جاتی رہی لیکن دیگر بہت سی مصروفیات اس کانفرنس میں شرکت کے راستے میں حائل ہوتی رہیں۔ اس سال جب مجھ سے عطا اللہ شاہ بخاری کے نواسے اور مجلس احرارِ اسلام کے امیر سید کفیل شاہ بخاری اور نائب امیر عبداللطیف چیمہ نے رابطہ کیا تو میں نے کانفرنس میں شرکت کی ہامی بھر لی۔11 ربیع الاول کو عشا کی نماز کے بعد قرآن وسنہ موومنٹ چنیوٹ کے چیئرمین مدثر رحمانی‘ فیصل آباد کے چیئرمین ڈاکٹر طاہر مصدق اور دیگر احباب کے ہمراہ میں جب مسجد احرار چناب نگر پہنچا تو وہاں کفیل شاہ بخاری نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ بھرپور انداز سے ہمارا استقبال کیا۔ کفیل شاہ بخاری نے عطا اللہ شاہ بخاری کی خطابت اور ان کی جرأت کے بہت سے واقعات بیان کیے۔ اس موقع پر والد گرامی علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید کے ملک بھر میں ختم نبوت اور دیگر موضوعات پر خطابات کے حوالے سے بھی سیر حاصل گفتگو ہوئی۔ کفیل شاہ صاحب نے بتلایا کہ والد گرامی جب ملتان تشریف لاتے تو وہ بڑے شوق سے ان کا خطاب سننے کیلئے جاتے تھے۔ کانفرنس سے جید علما کرام ختم نبوت کے موضوع پر اپنے اپنے انداز میں اظہارِ خیال کرتے رہے۔ مجھے بھی اس موقع پر اپنے خیالات کے اظہار کا موقع ملا۔ میں نے جن گزارشات کو سامعین کے سامنے رکھا‘ ان کو کچھ ترامیم اور اضافے کے ساتھ قارئین کی نذر کرنا چاہتا ہوں:اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام کو مختلف علاقوں اور اقوام کی رہنمائی کیلئے مبعوث کیا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کو اپنی قوم کی رہنمائی کیلئے‘ حضرت ہود علیہ السلام کو قوم عاد کی رہنمائی کیلئے‘ حضرت صالح علیہ السلام کو قوم ثمود کی رہنمائی کیلئے اور حضرت شعیب علیہ السلام کو قوم مدین کی رہنمائی کیلئے مبعوث کیا۔ اسی طرح حضرت لوط علیہ السلام قوم سدوم کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیتے رہے۔ حضرت موسیٰ‘ حضرت ہارون‘ حضرت دائود‘حضرت سلیمان‘ حضرت زکریا‘ حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام نے بنی اسرائیل کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیا لیکن جب نبی کریمﷺ کو مبعوث کیا گیا تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۃ الاعراف کی آیت: 158 میں آپﷺ کی رسالت و نبوت کی جامعیت کا اظہار فرمایا: &#39;&#39;آپ کہہ دیجئے کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف اس اللہ کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں‘‘۔ اسی طرح اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۂ سبا کی آیت: 28 میں اس حقیقت کو کچھ یوں بیان فرمایا: &#39;&#39;ہم نے آپ کو تمام لوگوں کے لیے خوشخبریاں سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے‘ ہاں مگر (یہ صحیح ہے) کہ لوگوں کی اکثریت بے علم ہے‘‘۔ چونکہ نبی کریمﷺ جمیع انسانیت کے مقتدا ہیں‘ اس لیے آپﷺ پر اللہ تبارک وتعالیٰ نے رسالت ونبوت کے سلسلے کو ہر اعتبار سے تمام فرما دیا اور سورۃ الاحزاب کی آیت: 40 میں اس امر کا اعلان فرما دیا: &#39;&#39;محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں بلکہ وہ اللہ کے رسول ہیں اور سب انبیا کے آخر میں (سلسلۂ نبوت ختم کرنے والے) ہیں‘‘۔عقیدۂ ختم نبوت کے حوالے سے چند اہم احادیث درج ذیل ہیں:صحیح بخاری وصحیح مسلم‘ مسند احمد اور سنن الکبریٰ للبیہقی میں حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول کریمﷺ نے فرمایا: میری اور سابق انبیاء کرام کی مثال ایسی ہے کہ جیسے ایک شخص نے ایک خوبصورت گھر بنایا مگر ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ خالی چھوڑ دی۔ لوگ اس گھرکو دیکھ کر اس کی خوبصورتی پر تعجب کرتے ہیں‘ مگر کہتے ہیں کہ کیا خوب ہو اگر (وہ آخری) اینٹ بھی اپنی جگہ پر لگا دی جائے‘ پس میں وہ اینٹ ہوں اور میں آخری نبی ہوں۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ &#39;&#39;قیامت اُس وقت تک نہیں آئے گی جب تک تیس بڑے کذاب نہیں آئیں گے اور ان میں سے ہر ایک کا یہ دعویٰ ہوگا کہ وہ اللہ کا رسول ہے‘‘۔ صحیح بخاری میں حضرت سعدؓ سے روایت ہے کہ &#39;&#39;رسول اللہﷺ جب جنگ تبوک کیلئے نکلے تو آپﷺ نے حضرت علیؓ کو مدینہ میں اپنا نائب مقررکیا۔ حضرت علیؓ نے عرض کی کہ (میں تو میدانِ جنگ کا سوار ہوں) کیا آپ مجھے بچوں اور عورتوں کے پاس چھوڑکر جانا چاہتے ہیں؟ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا: اے علی! کیا آپ اس بات پر خوش نہیں کہ آپ کو مجھ سے وہی نسبت ہو جو موسیٰ کو ہارون علیہما السلام سے تھی‘ مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں‘‘۔ صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ &#39;&#39;بنی اسرائیل پر انبیاء کرام حکومت کرتے اور ان کی رہنمائی بھی کرتے رہے۔ جب ایک نبی کا انتقال ہو جاتا تو دوسرا نبی ان کی جگہ لے لیتا۔ میرے بعدکوئی نبی تو نہیں ہوگا؛ تاہم خلفا ہوں گے اور تعداد میں بہت ہوں گے‘‘۔ سنن ترمذی میں حدیث ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا &#39;&#39;میرے بعد تیس بڑے جھوٹے آئیں گے اور ان میں سے ہر ایک کا یہ دعویٰ ہوگا کہ وہ نبی ہے جبکہ میں خاتم النبیین ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں‘‘۔ قرآن مجید کی آیاتِ بینات اور احادیث طیبہ میں گو اس مسئلے کو بڑی وضاحت سے بیان کر دیا گیا لیکن بدقسمتی سے نبی کریمﷺ کے عہد مبارک سے لے کر آج تک بہت سے لوگ نبوت کا جھوٹا دعوی کرتے رہے اور ہر دعویٰ کرنے والا ناکام ونامراد رہا۔ پاکستان میں منکرین ختم نبوت کو دائرۂ اسلام سے خارج قرار دلانے کیلئے علماء کرام نے بہت محنتیں کیں اور مختلف ادوار میں مختلف طرح کی تحریکیں چلائی گئیں لیکن اس کو قانونی حیثیت دلانے کا موقع اُس وقت آیا جب 7 ستمبر 1974ء کو پاکستان کی قومی اسمبلی نے اس بات کو طے کر دیا کہ جو نبی کریمﷺ کی ختم نبوت کا منکر ہے‘ وہ دائرہِ اسلام سے خارج ہے۔ بعد میں اس فیصلے کو قانونی حوالے کے طور پہ دنیا کے مختلف ممالک میں پیش کیا جاتا رہا۔ نبی کریمﷺ کی ختم نبوت کی چوکھٹ کے تحفظ کیلئے جس طرح علمائے اسلام اپنا کردار ادا کرتے رہے‘ آج پھر اسی جذبے کے ساتھ اس عقیدے کو عام کرنے کی بھرپور انداز سے کوشش کی جانی چاہیے اور یہ بات دنیا کے سامنے رکھنی چاہیے کہ نبی کریمﷺ کی حرمت اور آپﷺ کی ختم نبوت پر امت کسی قسم کا سمجھوتا کرنے کیلئے تیار نہیں۔ عوام نے علما کرام کے خطابات کو بڑی توجہ سے سنا اور یوں احرار ختم نبوت کانفرنس اپنے جلو میں بہت سی یادوں کو لیے مکمل ہوئی۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_19740082.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>