<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>گڈ گورننس اورنئے صوبے(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-02/11416</link><pubDate>Sun, 02 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-02/11416</guid><description>ملک میں گڈگورننس اور نئے انتظامی یونٹس کی تشکیل کا مطالبہ زور پکڑ چکا ہے۔ پچھلے کچھ عرصے میں اس حوالے سے سیاسی‘ عوامی اور رائے ساز حلقوں میں تواتر سے گفتگو ہوئی اور نئے انتظامی یونٹس کی ضرورت و اہمیت کا مقدمہ مؤثر طور پرسامنے آیا۔ صورتحال یہ ہے کہ اس وقت قومی سطح پر شاید ہی کسی دوسرے تصور کو اتنی توجہ حاصل ہو ئی ہو جتنی کہ نئے انتظامی یونٹس کی تشکیل کے تصور کو حاصل ہے۔ عوام اور سیاسی حلقوں کو اس حقیقت کا اچھی طرح اندازہ ہے کہ ملک کے انتظامی خدوخال کو وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ ملکِ عزیز کے صوبوں کا غیر معمولی حجم اچھی حکمرانی کیلئے ایک بنیادی رکاوٹ رہا ہے ۔ حکمرانی جتنی عوام کے قریب ہو گی اتنی ہی مؤثر اور نتیجہ خیز ہو گی لیکن ہمارے ہاں چاروں صو بوں کا بے کراںپھیلاؤ اس میں مانع ہے‘ جو حجم میں دنیا کے ڈیڑھ سو سے زائد ممالک سے بڑے ہیں۔ صوبوں کے غیر معمولی پھیلاؤ کی وجہ سے حکمرانی کا نظام اپنی بساط سے کہیں زیادہ پھیل چکا ہے اور اسکے نتیجے میں مؤثر حکمرانی ناممکن ہو چکی ہے۔

ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرنا چاہیے اورعقل سلیم کا تقاضا بھی یہی ہے کہ بڑی ذمہ داریوں کی بہتر ادائیگی کیلئے انہیں تقسیم کیا جاتا ہے‘ مگر ہماری سیاسی جماعتیں اس حقیقت کو سمجھنے میں غلط فہمی کا شکار رہیں‘ اختیارات اور وسائل کو اپنے قبضہ میں رکھنے پر اصرار کیا اور تقسیم اختیارات پر آمادہ نہیں ہوئیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں اور عوام میں ایک فاصلہ رہا۔ اختیارات اور وسائل پر قبضے کی ضد نے سیاسی جماعتوں کو عوامی وابستگی سے محروم رکھا۔سیاسی جماعتیں نے صوبوں کو انتظامی بنیادوں پر چھوٹے یونٹس میں تقسیم کردیا ہوتا اور ہر یونٹ اپنے آپ میں ایک صوبے کی طرح وسائل اور اختیارات کا حامل قرار پاتا تو یہ مسائل نہ ہوتے۔ عوامی ‘معاشی اور سماجی تقاضوں کوالتوا میں ڈال کر سیاسی جماعتوں نے آبادی اور رقبے پر اپنی سیاسی پکڑ برقرار رکھی مگر بنیادی مطالبات کو ہمیشہ کیلئے سرد خانے میں نہیں ڈالا جا سکتا۔انتظامی تقسیم اور وسائل کی منصفانہ منتقلی بھی اسی قسم کا جائز اور منطقی مطالبہ ہے۔ اس سلسلے میں لیت و لعل حکمرانی کے ابہام ‘ عوامی محرومیوں میں اضافے اورملکی سطح پر عدم استحکام کا سبب بنے گا۔
اٹھارہویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو مالا مال کر دیا گیا مگر صوبائی عوام ان وسائل کی منصفانہ تقسیم سے محروم رہ گئے ‘ اسکا نتیجہ یہ ہے کہ صوبائی سطح پر محرومیوں میں اضافہ ہوا ۔ حکمرانوں کی ترجیحات اور رہیں اور عوامی مطالبات اور ترقی کے تقاضے کچھ اور۔ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو وسائل مہیا کرنے کا منشا یہ تھا کہ اسکے ثمرات عوام تک منتقل ہوں گے مگر آج صوبوں میں افلاس‘ بے روزگاری‘ تعلیم اور صحت کی ابتر صورتحال یہ واضح کیے دیتی ہے کہ پچھلے سولہ برسوں میں صوبوں کو اضافی مالی وسائل فراہم کرنے کے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو ئے۔ ہمارے ملک میں اچھی حکمرانی بدستور سب سے بڑا سوال ہے۔ ملکی آبادی میں نوجوانوں کی اکثریت ہے مگر انکی ترقی کے وسائل دستیاب نہیں۔ اس محرومی نے صرف آج کی نسل کو نہیں آنیوالی نسلوں کو اور پاکستان کے مستقبل کو بھی داؤ پر لگا دیا ہے۔
اب کوئی وجہ نہیں کہ اس خود فراموشی کو مزید طاری رکھیں اور غیر پیداواری اور اصراف پہ مبنی سیاسی منصوبوں کو ترقی کی علامت فرض کر کے اسی محویت میںرہیں۔یہ ملک کے نوجوان کی نبض پر ہاتھ رکھنے‘ اسکے دل کی آواز سننے اور دوسروں کی مثالوں سے عبرت پکڑنے کا وقت ہے۔ ہمارے خطے کے بہت سے ممالک کے غیر معمولی حالات بذات ِخو د خبردار کررہے کہ ہم سنبھل جائیں اور ملک و قوم کیلئے اچھی حکمرانی یقینی بنائیں‘ بصورت دیگر خربوزہ خربوزے کو دیکھ کر رنگ پکڑتا ہے۔ ہمارے باب میں اچھی حکمرانی کا نسخہ بنیادی طور پر دو عوامل پر مبنی ہے‘ اختیارات کی تقسیم اور وسائل کی منصفانہ منتقلی ۔ ان اقدامات سے شروع کریں تو درست سمت میں سفر شروع ہو سکتا ہے اور خوشحالی کی منزل قریب آسکتی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>اشیائے ضروریہ مزید مہنگی(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-02/11415</link><pubDate>Sun, 02 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-02/11415</guid><description>وفاقی ادارۂ شماریات کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ہفتے کے دوران 27 اشیائے ضروریہ مزید مہنگی ہوئیں جبکہ مہنگائی کی مجموعی شرح بھی نو فیصد سے زائد رہی۔ مزیدمہنگی ہونے والی اشیا میں پٹرول‘ڈیزل‘ پیاز‘ ٹماٹر‘ آٹا‘ ایل پی جی‘ دالیں اور بناسپتی گھی جیسی اہم اشیائے ضروریہ بھی شامل ہیں۔ ملک میں مہنگائی صرف طلب و رسد کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں عدم استحکام کا نتیجہ ہے۔ زرعی مداخل مہنگے ہونے سے غذائی اجناس کی لاگت بڑھ جاتی ہے‘ اسی طرح ایندھن مہنگا ہونے سے فیکٹری مصنوعات مہنگی ہو جاتی ہیں‘ اور دکاندار اپنے اخراجات اضافی قیمت کی صورت میں صارفین سے وصول کرتا ہے یوں مہنگائی کا ایک سلسلہ چل نکلتا ہے۔ اس مسئلے کا دوسرا رخ عوامی قوتِ خرید میں مسلسل کمی ہے۔

تنخواہ دار طبقہ‘ دیہاڑی دار مزدور اور محدود آمدنی والے خاندان سب سے زیادہ متاثر ہیں کیونکہ انکی آمدنی گراوٹ کا شکار ہے جبکہ اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ یہی صورتحال رہی تو متوسط طبقہ مزید سکڑ جائے گا۔ جب تک پیداواری لاگت میں کمی نہیں کی جاتی‘ ناجائز منافع خوری اور مصنوعی قلت کا خاتمہ یقینی نہیں بنایا جاتامہنگائی کی شرح میں کمی کا کوئی امکان نہیں۔ لہٰذا حکومت کو سستی توانائی کی فراہمی اور سرکاری نرخوں پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانا چاہیے۔اسی طرح کم آمدنی والے طبقات کیلئے ہدفی ریلیف‘ سستے بازاروں اور سماجی تحفظ کے پروگراموں کو بھی مزید مؤثر بنانا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>برآمدات، عملی اقدامات کی ضرورت(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-02/11414</link><pubDate>Sun, 02 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-02/11414</guid><description>وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی نے جولائی کی ڈویلپمنٹ آؤٹ لُک کے اجرا کے موقع پر کہا ہے کہ پاکستان کو چھ فیصد  معاشی شرح نمو کے حصول کیلئے 2035ء تک برآمدات کو 100 ارب ڈالر تک لے جانا ہو گا۔وزیر منصوبہ بندی بجا کہتے ہیں ‘ برآمدات معاشی ترقی کا بنیادی ذریعہ ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ملک میں موجود معاشی حالات اس بلند ہدف کے حصول کیلئے سازگار ہیں؟ مالی سال 2025-26ء کے دوران حکومت نے برآمدات کا ہدف 35ارب 28کروڑ ڈالر مقرر کیا تھا لیکن برآمدات بمشکل 30ارب ڈالر کی ہو سکیں ۔ یہ رفتار اس منزل کے مقابلے میں انتہائی سست ہے جس کا تعین 2035ء کیلئے کیا جا رہا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ملک کا برآمدی شعبہ متعدد مسائل میں گھرا ہوا ہے۔

سب سے بڑا مسئلہ توانائی کی بلند قیمتیں ہیں جو پیداواری لاگت میں اضافہ کرتی ہیں جس کے نتیجے میں پاکستانی مصنوعات عالمی منڈی میں حریف ممالک کے مقابلے میں مہنگی پڑتی ہیں۔ دوسری جانب پالیسیوں میں بار بار تبدیلی‘ صنعت اور تجارت سے متعلق غیر یقینی ماحول اور پیچیدہ و بھاری ٹیکس نظام سرمایہ کار اور برآمد کنندہ دونوں کے اعتماد کو متاثر کرتے ہیں۔ پاکستان کیلئے چھ فیصد پائیدار شرح نمو اور 100 ارب ڈالر برآمدات کا ہدف یقینا ناممکن نہیں لیکن اس کیلئے بیانات سے زیادہ اصلاحات‘پالیسی تسلسل اور عملی اقدامات درکار ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>محسن نقوی ’’زندہ باد‘‘(مجیب الرحمٰن شامی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mujeeb-ur-rehman-shami/2026-08-02/52405/40504687</link><pubDate>Sun, 02 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mujeeb-ur-rehman-shami/2026-08-02/52405/40504687</guid><description>برادرِ عزیز محسن نقوی کو اس بات کی داد بہرحال دی جانی چاہیے کہ انہوں نے اس راز کو &#39;&#39;طشت ازبام‘‘ کر دیا ہے جو ایک عرصے سے مخصوص مقامات پر موضوعِ بحث تھا۔ میاں عامر محمود اپنی تمام تر دانش اور حکمت کے ساتھ دلائل پر دلائل دیتے جا رہے تھے کہ پاکستان کے چار صوبوںسے مزید کئی صوبے نکال لینے چاہئیں۔ بڑے صوبے مسائل کو حل کرنے کے بجائے خود ایک مسئلہ بن گئے ہیں۔انہوں نے اہلِ دانش و صحافت کے مختلف اجتماعات میں اپنا مقدمہ پیش کیا‘ڈاکٹر پروفیسر عبدالرحمن کی معیت میں کئی یونیورسٹیوں کے اساتذہ اور طلبہ تک پہنچے‘ کراچی سے پشاور تک اپنی آواز اٹھائی کہ حکمرانی کو  بہتر بنانا ہے تو چھوٹے صوبے بنائو‘اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرو‘ عوام کو اپنی تقدیر آپ بنانے دو۔اس سے پہلے حضرت مولانا ظفر احمد انصاری مرحوم‘ شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی کے ساتھ مل کر مزید صوبے بنانے کی تجویز پوری دھوم دھام سے پیش کر چکے تھے۔ جنرل محمد ضیا الحق نے اپنے صدارتی اور جرنیلی اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے 1985ء کے انتخابات سے پہلے ایک کمیشن قائم کیا تھا‘ جس کی ذمہ داری تھی کہ وہ دستور کو مزید اسلامی اور عوامی بنانے کیلئے تجاویز پیش کرے۔آل انڈیا مسلم لیگ کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل مولانا ظفر احمد انصاری اس کے سربراہ بنائے گئے تھے۔ حضرت مولانا قراردادِ مقاصد سے لے کر1973ء کے دستور کی منظوری تک ہماری مقننہ اور انتظامیہ یا مقتدرہ کہہ لیجیے کی حرکات و سکنات کے نہ صرف عینی شاہد تھے بلکہ حسبِ توفیق شریک کار بھی رہ چکے تھے۔ وہ 1970ء کے انتخابات میں کراچی سے رکن قومی اسمبلی بن کر اسلام آباد پہنچے۔آزاد امیدوار کے طور پر الیکشن لڑا لیکن جماعت اسلامی نے اُن کا بھرپور ساتھ دیا۔ جمعیت العلمائے پاکستان نے ان کا راستہ روکنے کی بہت کوشش کی لیکن اس کی ایک نہ چلی۔مولانا شاہ احمد نورانی نے اس دوران مولانا انصاری کی &#39;&#39;مولانائیت‘‘ کو یہ کہہ کر چیلنج کیا تھا کہ وہ کس مدرسے کے سند یافتہ ہیں‘انہیں مولانا کس نے بنایا ہے؟ انصاری صاحب الٰہ آباد یونیورسٹی کے ایل ایل بی تھے لیکن اپنے علم و فضل کی بدولت بڑے بڑے مولویوں پر بھاری پڑ جاتے تھے۔ مولانا شبیر احمد عثمانی‘مولانا ظفر احمد عثمانی اور مولانا مفتی محمد شفیع جیسے اکابرین کے ساتھ مل کر بلکہ ان کو اپنی انگلی پکڑا کر جمعیت العلمائے اسلام کی بنیاد رکھ کر جمعیت العلمائے ہند کے قلعے میں شگاف ڈال چکے تھے‘ انہوں نے ترت جواب دیا کہ میں اُسی یونیورسٹی کا سند یافتہ ہوں جس کی سند پر حسرت موہانی اور ظفر علی خان مولانا کہلاتے تھے‘اس کا جواب نورانی میاں کے پاس نہیں تھا سو وہ ادھر اُدھر جھانک کر رہ گئے۔انصاری صاحب نے1973ء کے دستور کی تیاری میں بھرپور حصہ لیا تھا‘بھٹو صاحب اور ان کے مخالفین کے درمیان اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی کامیاب کوشش کی تھی۔ ان کی بے غرضی اور بے نفسی نے جہاں بھٹو صاحب کا اعتماد حاصل کر لیا تھا وہاں مولانا مودودی ؒ سے ان کے گہرے تعلقات بھی رنگ لے آئے تھے۔ انہی مولانا انصاری کی جنرل ضیا الحق سے بھی گاڑھی چھننے لگی‘ انہوں نے1973ء کے معطل شدہ دستور کی &#39;&#39;مرمت‘‘ کا کام حضرت کے سپرد کر دیا‘ کئی چھوٹے بڑے دانشوروں کو ملا کر انہی کی سربراہی میں کمیشن قائم کرنے کا فرمان جاری ہو گیا۔ کمیشن نے غور و خوض کے بعد رپورٹ پیش کی تو غیر جماعتی سیاست اور نئے صوبے بنانے کی تجویز پیش کر دی۔ انتظامی بنیادوں پر (غالباً) اٹھارہ حصوں میں چاروں صوبوں کو بانٹ دینے کا مشورہ دیا گیا تھا۔ جنرل ضیا الحق غیر جماعتی انتخابات تو کرا گزرے لیکن نئے صوبے بنانے کا حوصلہ نہ ہوا۔ ایم آر ڈی کی تحریک ان کے خلاف شروع ہو چکی تھی اور لگ رہا تھا کہ معاملات پر ان کی گرفت ڈھیلی پڑ گئی ہے۔ انہوں نے ایڈیٹروںکے ایک محدود گروپ کو مشاورت کیلئے طلب فرمایا۔ میر خلیل الرحمن‘ مجید نظامی‘ الطاف حسن قریشی‘ معظم علی‘انقلاب ماتری اور مصطفی صادق صاحبان کے نام تو مجھے یاد ہیں‘ ہو سکتا ہے ایک دو اصحاب اور بھی ہوں۔ مجھے بھی اذنِ باریابی مل گیا۔ نئے صوبوں کے قیام پر بات شروع ہوئی تو وہاں موجود بزرگوں نے یہ کہہ کر جھٹک دیا کہ بہت دیر ہو چکی۔اب یہ &#39;&#39;پنگا‘‘ نہ لیجئے انتخابات کرایئے اور جان کی امان پایئے‘ میںخاموش بیٹھا سنتا رہا۔جب سب اپنی بات کر چکے تو عرض کیا کہ اگر اللہ میاں آپ کو یہ &#39;&#39;آپشن‘‘ دے کہ آپ ایک ہزار کام کر لیجئے یا ایک بڑا کام کر گزریئے‘ تو آپ کو یہ جواب دینا چاہیے کہ میں صرف ایک کام کروںگا‘ وہ یہ کہ چار صوبوں میں سے مزید کئی صوبے نکال لوں گا۔ بس اس ایک کام کی توفیق مجھے عطا فرما دیجئے۔مزید عرض کیا گیا کہ ہمارے صوبے ہمارے جسد ِ قومی کی بنیاد میں رکھے ہوئے ٹائم بم ہیں‘ جو کسی بھی وقت (یا بے وقت) پھٹیں گے اور ہمیں پھاڑ کر رکھ دیں گے۔اس پر سناٹا چھا گیا۔ بزرگانِ کرام حیرت سے میری طرف دیکھنے لگے۔ جنرل صاحب نے ٹھنڈی سانس بھری اور بولے:کوئی بندۂ خدا آئے تو یہ کام کرے۔ میرے منہ سے بے ساختہ نکلا‘ آپ ہی بندے بن جائیں۔۔۔ لیکن جنرل صاحب میں یہ حوصلہ نہیں رہا تھا کہ صوبوں کی حدود میں ردو بدل کر سکیں۔ ان کا مارشل لاء بوڑھا ہو چکا تھا۔غیر جماعتی بنیادوں پر انتخابات ہوئے‘ منتخب ہو کر آنے والوں نے سیاسی جماعتوں کو کام کرنے کی اجازت دے دی‘ مارشل لاء اُٹھا لیا گیا اور جنرل ضیا ایوانِ صدر میںاُداس بیٹھے ماضی کو یاد کرتے رہے: ڈبویا مجھ کو ہونے نے‘ نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا۔جب یہ گفتگو ہو رہی تھی‘ مارشل لاء نافذ تھا‘ آئین سے چھیڑ چھاڑ کرنے کا حق بھی اس نے حاصل کر رکھا تھا‘ لیکن اب معاملہ مختلف ہے۔ آئین نافذ العمل ہے۔اس میں صوبے بنانے کا جو طریق کار درج ہے اسے نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔ جنرل ضیا الحق کی رخصتی کے کئی برس بعد جناب آصف علی زرداری اور جناب نواز شریف کی قیادت میں ساری جماعتیں مل کر اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے دستور کا حلیہ بدل چکی ہیں۔ صوبائی خود مختاری کے نام پر صوبوں کو مالا مال کر دیا گیا ہے۔ وفاق عملاً ایک &#39;&#39;یتیم خانہ‘‘ بن کر رہ گیا ہے جس میں وزیراعظم اور اس کی کابینہ پرورش پا رہی ہے۔ صوبوں کو تو بہت کچھ دے دیا گیا لیکن صوبوں نے اضلاع اور تحصیلوں کو کچھ نہیں دیا۔ پاکستان دنیا کا واحد جمہوری ملک ہے جہاں مقامی حکومتیں موجود نہیں ہیں۔ بلدیاتی اداروں کا وجود تک گوارا نہیں کیا جاتا۔اسے یکسر صوبائی معاملہ بنا دیا گیا ہے‘ کسی صوبے میں بلدیاتی ادارے موجود بھی ہیں تو بے اختیار اور بے سروپا۔سب سے بڑے صوبے پنجاب میں کئی برس سے ان کے قیام کی نوبت ہی نہیں آئی۔ اب جبکہ اختیارات کی نچلی سطح تک تقسیم کی ضرورت کا احساس شدید سے شدید تر ہوتا جا رہا ہے‘نئے صوبوں کے متبادل کے طور پر مقامی حکومتوں کے قیام کی تجویز پیش کی جا رہی ہے۔ کان ادھر سے پکڑا جائے یا اُدھر سے‘ اختیارات عوام تک پہنچنے چاہئیں۔یہ کام سیاسی جماعتوں کو کرنا ہو گا‘ پارلیمنٹ کو اس کی ذمہ داری لینا ہو گی‘ محسن نقوی سے برادرم حفیظ اللہ نیازی لاکھ استعفے کا مطالبہ کرتے رہیں‘انہوں نے پتے کی بات کہہ دی ہے۔اپنے کان آپ ہی پکڑ لو‘ وگرنہ انہیں کھینچ دیا جائے گا‘ گردن سلامت رہی تو بھی کان جوں کے توں نہیں رہیں گے۔ محسن نقوی زندہ باد‘ ظفر علی خان کہاں یاد آ گئے   ؎نکل جاتی ہو سچی بات جس کے منہ سے مستی میں؍ فقیہ مصلحت بیں سے وہ رند بادہ خوار اچھا (یہ کالم روزنامہ &#39;&#39;پاکستان‘‘ اور روزنامہ &#39;&#39;دنیا‘‘ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_37052987.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>اصل مفہوم سمجھنا کچھ زیادہ مشکل نہیں(ایاز امیر)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-08-02/52406/97627841</link><pubDate>Sun, 02 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-08-02/52406/97627841</guid><description>قلمدانِ داخلہ رکھنے والے اتنے معصوم نہیں‘ جہاندیدہ انسان ہیں سب سمجھتے ہیں۔ یہ نظام کے زمین بوس ہونے والی بات ایسے ہی نہیںکہہ دی ‘ مقصد کیا تھا ایسی بات کرنے کا اُسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ گڈ اور بیڈ گورننس کی تکرار تو یہاں ہمیشہ رہتی ہے۔ اقتدار میں بیٹھے آپ ہیں‘ سب کچھ آپ کے اختیار میں ہے اور آئینہ ٔحالات بھی آپ ہی دکھا رہے ہیں۔ لیکن جیسے عرض کیا ایسے تیر ویسے ہی نہیں چلائے جاتے۔ پھر بات کیا ہے؟ کس ماجرے کا یہ پیش خیمہ ہے؟ پاکستان کی حکومتی صورتحال اس وقت کچھ عجیب ہے۔ ایک نمائشی یا ظاہری اقتدار ہے اور ایک اصل اقتدار ۔ صدر اور وزیراعظم ظاہری اقتدار کی واضح نشانیاں ہیں۔ کہاں اصل اقتدار ہے وہ ہم سب سمجھتے ہیں۔ 2022ء سے یہ صورتحال چل رہی ہے‘ یعنی تین سال پرمحیط یہ عرصہ ہے ۔ لیکن زیادہ دیر چلنا اس کا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ اصل طاقت کہیں اور ہو اور ظاہری نمود مختلف ہو ایسے بندوبست کا لمبے عرصے تک چلنا دن بدن محال ہوتا جاتا ہے۔ ہمارے یہاں اس صورتحال کا تین سال تک برقرار رہنا بھی ایک عجوبہ ہے۔ اور اگر اب کچھ رونما ہونے والا ہے تو اُس کے بارے میں یہی کہا جائے گا کہ بڑی دیرکر دی مہرباں آتے آتے۔ صاف بات کرنا مشکل ہے ‘ لہٰذا پھونک پھونک کے الفاظ کا چناؤ کرنا پڑتا ہے۔ ایک مثال دے کر بات تھوڑی واضح ہو سکتی ہے۔ پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالا تو طاقت کے اصل مرکز ظاہر ہے وہ تھے۔ لیکن صدرِ محترم رفیق تارڑ تھے۔ کچھ عرصہ تو یہ صورتحال رہی لیکن آگرہ سربراہی اجلاس کے لیے جب پرویز مشرف جانے لگے تو کھسر پھسر شروع ہو ئی کہ پروٹوکول کے مسائل پیدا ہوتے ہیں جس کے لیے ضروری ہو گیا ہے کہ صورتحال تھوڑی واضح کر د ی جائے۔ صدرِ محترم کو پیغام پہنچا کہ برائے مہربانی ایوانِ صدر خالی کیا جائے۔ پرویز مشرف ایوانِ صدر خود آئے‘ صدرِ محترم کو کار تک چھوڑنے آئے‘ سلوٹ مارا اور وہاں سے وہ  رخصت ہوگئے۔ آگرہ گئے تو چیف ایگزیکٹو کے طور پر نہیں بلکہ صدرِ ریاست کی حیثیت سے۔ آئین اُس وقت عملًا کوڑے دان میں پڑا ہوا تھا اس لیے جو کچھ کیا گیا وہ کرنا آسان تھا۔ نہ کسی پارلیمنٹ کی منظوری چاہیے تھی نہ کسی انتخاب کے جھنجھٹ میں پڑنے کی کوئی ضرورت تھی۔ اشارہ ہوا اور رفیق تارڑ کار میں بیٹھے لاہور رخصت ہو گئے۔ اب معاملہ ذرا مختلف ہے۔ جس شکل میں بھی آئین رہ گیا ہے موجود تو ہے۔ اسے معطل نہیں کیا گیا۔ یعنی کچھ ہونا ہے یا کچھ کرنا ہے توآئین کو سامنے رکھ کر ہی کرنا پڑے گا۔ زرداری صاحب نے صدر کا حلف مارچ 2024ء میں لیا تھا‘ جس کا مطلب ہے کہ اُن کی مدتِ صدارت 2029ء تک جاتی ہے۔ آئین کے ساتھ کچھ اور نہیں ہوتا اور زرداری صاحب کی مرضی شامل نہ ہو تو محض اشاروں سے کام شاید نہ چلے۔لہٰذا جو فائر کیے جا رہے ہیں‘ جو گڈ گورننس کی باتیں ہو رہی ہیں‘ جو نظام کے زمین بوس ہونے کی نوید سنائی گئی ہے اور جو انتظامی ری سیٹ کی بات کی جا رہی ہے یہ سب ایک ماحول بنانے کی کوشش ہے اور مقصد اس کا یہ ہے کہ ظاہر اور باطن کا فرق جو تقریباً اڑھائی پونے تین سال برقرار رہا ہے اُسے اب ختم کر دیا جائے تاکہ جو اصل میں ہے وہی چیز باہر سے نظر آئے۔ اس سے زیادہ کیا کہا جائے۔ لیکن سمجھدار لوگوں کے لیے بات سمجھنا کوئی اتنا مشکل نہیں۔ اکتوبر 1958ء میں سکندر مرزا نے مارشل لاء کا نفاذ کیا اور چیف مارشل لا ء ایڈمنسٹریٹر کوئی اور بنا ۔ یہ غیر فطری بندوبست تھا اور بیس اکیس دن سے زیادہ نہ چل سکا۔ یہاں تو پھر بھی ظاہر اور باطن کا فرق تین سال تک رہا ہے۔ اسے (ن) لیگ کی خوش بختی سمجھئے کہ کچھ نہ پلے ہوتے ہوئے بھی تین چار سال کی عیاشی کر گئے ہیں۔ جو اپنی سیٹیں جیت نہ سکے وزارتِ عظمیٰ اور صوبائی وزارتِ اعلیٰ کے عہدے سنبھالے ہوئے ہیں۔ دورے ہو رہے ہیں‘ اقتدار کے مزے جیسے بھی ہیں لیے جا رہے ہیں۔ یہ سب کچھ ہوا تو مہربانیوں کی وجہ سے ہوا۔ لیکن اس سے زیادہ طول اس بندوبست کو دیا نہیں جا سکتا تھا۔ اصل فیصلے کہیں اور سے آ رہے ہوں اور نمودو نمائش اور قسم کی ہو‘ وزیر داخلہ نے یہ وارننگ فائر ماراہے کہ یہ بندوبست مزید نہیں چلنے کا اور وقت آن پہنچا ہے اسے ری سیٹ کرنے کا۔ نظام کا زمین بوس ہونا دراصل اشارہ ہے اس طرف کہ یہ ظاہر اور باطن کانظام اس سے زیادہ نہیں چل سکتا۔ مسئلہ البتہ یہ ہے کہ جو کچھ مزاجِ یار میںہے خوش اسلوبی اور رضامندی سے ہو جائے ورنہ وہ ریڈ لائن کراس کرنے کی بات آ جاتی ہے جس ریڈلائن کا ذکر وزیر داخلہ کی تقریر میں موجود ہے۔( ن) لیگ نے اسی تنخواہ پر کام کرنا ہے۔ اُن کی طرف سے کوئی پرابلم نہیں ہے۔ دلوں کا جلنا اور بات ہے لیکن مخاصمت نام کی چیز وہاں سے کوئی نہیں آ سکتی۔ مسئلہ ایوانِ صدر کا ہے کہ جناب رفیق تارڑ کی طرح خوش و خرم طریقے سے خالی ہوتا ہے یا نہیں۔ باہمی رضامندی ہوئی پھر تو کوئی بات نہیں اور اُس میں بھی وزیر داخلہ کا کلیدی رول ہوگا کیونکہ جنابِ صدر کے بہت قریب رہے ہیں اور جہاں موجودہ تعلق ہے وہ بھی دنیاجانتی ہے۔ مطلب یہ کہ اصل اقتدار کی خواہش ہوگی کہ یہ سب کچھ اچھے طریقے سے ہو جائے اور کچھ زیادہ نہ کرنا پڑے۔ اصل امتحان تو یہ ہے کہ جنابِ صدر کو اس راستے پر کیسے لایا جائے۔ باقی سب ثانوی باتیں ہیں۔ لیکن ایوانِ صدر کی مرضی بھی حاصل کرنی ہو اور سندھ کو مزیدصوبوں کی شکل میں تقسیم بھی کرنا‘ یہ مشکل ہو جائے گا۔ اس پیرائے میں کچھ اور بات کی جائے تو قیاس کے زمرے میں آئے گی لہٰذا اس سے اجتناب ہی بہتر ہے۔ بہرحال مصر کا ماڈل سامنے رکھنا چاہیے۔ عبدالفتح السیسی پہلے کیا تھے‘ کیا عہدہ رکھتے تھے اور اب کیا ہیں۔ اقتدار کی ایک اپنی منطق ہوتی ہے اور جیسا کہ اوپر ذکرہو چکا ہے پاکستان کا موجودہ حکومتی بندوبست اقتدار کی اس منطق کے خلاف ہے۔ حکمران جماعت (ن) لیگ ہے۔ یہ کہاں سے حکمران جماعت بن گئی؟ کہاںسے ان کا مینڈیٹ آیا‘ کس نے ان کو مینڈیٹ دیا ؟ اسحاق ڈار جو نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ بنے ہوئے ہیں ان کی انتخابی حیثیت کیا ہے؟ سچ تو یہ ہے کہ ان سب کے ساتھ مہربانی کچھ زیادہ ہی ہو ئی ہے۔ حالات کا تقاضا تھا یا ان کی خوش قسمتی۔ لیکن اب یہ سلسلہ ختم ہونے جا رہا ہے۔ جس کا یہ مطلب نہیں کہ مکمل چھٹی ہو رہی ہے بالکل نہیں لیکن غیر منطقی مہربانیوں کا دور شاید اختتام کو پہنچ رہا ہے۔ لیکن وہ سندھ والا مسئلہ رہے گا‘ اس کے بارے میں دیکھتے ہیں کیاہوتا ہے۔ باقی گڈگورننس اور دوسری باتیں ان سب کو فی الحال ٹرک کی بتی ہی سمجھنا چاہیے ۔ قصہ مختصر یہ کہ( ن) لیگ اپنی جائز حیثیت پر آ جائے گی‘ پیپلز پارٹی اپنی حیثیت سے زیادہ حاصل کرنے کی کوشش کرے گی اور پاکستان کے اصل مسائل جوں کے توں رہیں گے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_80573045.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>نیا انقلاب پھر آن پہنچا(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-08-02/52407/50444664</link><pubDate>Sun, 02 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-08-02/52407/50444664</guid><description>پچھلے دنوں جب بھارت میں کاکروچ جنتا پارٹی کا مظاہرہ جاری تھا تو پاکستانیوں نے یہ سوال پوچھنا شروع کر دیا کہ آخر پاکستان میں نوجوان سڑکوں پر اکٹھے ہو کر مظاہرے کیوں نہیں کرتے؟ اس سوال کے پیچھے صرف انڈیا کا نوجوان نہیں تھا بلکہ اس سے پہلے بنگلہ دیش اور نیپال میں بھی نوجوانوں نے وہاں کی حکومتوں کا تختہ الٹ دیا تھا۔ سوال میں وزن تھا۔ آخر اسی خطے کے تین ملکوں میں نوجوان حکومتوں کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے لیکن پاکستان کا نوجوان باہر کیوں نہیں نکلتا؟ اگرچہ ہر ملک میں نوجوانوں کے باہر نکلنے کی وجوہات مختلف ہیں۔بنگلہ دیش کے طالب علم اس لیے باہر نکلے تھے کیونکہ انہیں نوکریاں نہیں مل رہی تھیں۔ بنگلہ دیش میں 30فیصد سرکاری نوکریاں 1971ء میں حکومت کا ساتھ دینے والے خاندانوں کے نوجوان لے اڑتے تھے۔ 1971ء کے بعد کئی نسلیں جوان ہوئیں خصوصاً وہ جنہوں نے وہ دور نہیں دیکھا لہٰذا وہ خود کو اس جذباتی ماحول میں محسوس نہیں کرتے جیسے اُن کے آباؤاجداد کرتے تھے اور ایک وابستگی رکھتے تھے۔ آج کا نوجوان اپنے مسائل کا حل چاہتا ہے۔ یوں جاب کوٹہ کے خلاف مظاہرہ حسینہ واجد کے خلاف احتجاجی تحریک میں بدلا۔ حکومت نے تشدد کیا تو بات بڑھتی گئی اور بتایا جاتا ہے کہ اس تحریک میں تقریباً 1400 طالب علم مارے گئے۔ اب جس تحریک میں لہو شامل ہو جائے وہ پھر مشکل سے ہی رکتی ہے۔ یہی کچھ بنگلہ دیش میں ہوا اور انجام ہمارے سامنے ہے۔ ایک اور اہم فیکٹر حسینہ واجد کا سولہ برس اقتدار میں رہنا تھا۔ اس دوران انہوں نے مخالفین کا جینا حرام کر دیا‘ انہیں پھانسیاں لگائیں‘ جیلوں میں ڈالا اور عوام پر سختیاں کیں۔ آخری الیکشن میں تو ان کی پارٹی کے علاوہ شاید ہی کوئی اور بندہ پارلیمنٹ کا ممبر بنا ہو۔ ساری پارلیمنٹ ہی دھاندلی کر کے لے آئیں۔مجھے یاد ہے‘ 2008ء کے الیکشن میں ڈھاکہ میں تھا اور کروڑوں بنگالی حسینہ واجد کیلئے پاگل ہو رہے تھے‘ اور دو سال پہلے وہ دن بھی دیکھا جب وہی بنگالی وزیراعظم ہاؤس میں گھس کر ہر شے تہس نہس کر رہے تھے۔ شیخ مجیب الرحمن کے گھر میں تباہی مچا رہے تھے۔ حسینہ واجد مسلسل سولہ برس سے اقتدار میں تھیں۔ آج کے دور میں آپ کتنے ہی اچھے کیوں نہ ہوں‘ تین چار سال کے بعد لوگ آپ کا چہرہ دیکھ کر تنگ آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ لوگ کبھی اپنی زندگیوں سے مطمئن نہیں ہوتے۔ ان کی خواہشات کا سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔ وہ بہتر سے بہتر چاہتے ہیں اور جب وہ اپنی مرضی کی زندگی نہیں جی پاتے تو پھر حکمرانوں کو ہی اس کا ذمہ دار سمجھنا شروع کر دیتے ہیں۔ یوں آپ کا مسلسل اقتدار میں رہنا ہی عوام میں آپ کیلئے ناپسندیدگی کے جذبات پیدا کر دیتا ہے۔ یہ بات بہت کم حکمران سمجھ پاتے ہیں کہ جتنا طویل عرصہ وہ پاور میں رہیں گے عوام کو ان کے اندر اتنی زیادہ خامیاں نظر آنا شروع ہو جائیں گی۔ لوگ اپنے چھوٹے چھوٹے مسائل کا ذمہ دار بھی آپ کو ٹھہرائیں گے۔ یہی کچھ حسینہ واجد کیساتھ ہوا‘ جو سیاسی وزیراعظم سے زیادہ ایک بدترین آمر کی شکل اختیار کر چکی تھیں کہ سولہ سال حکمرانی سے بھی ان کا دل نہ بھرا تھا اور تقریباً 1400 طالب علم مروا کر بھارت فرار ہو گئیں۔ وہی حسینہ واجد جو 2008ء میں بنگالی عوام کیلئے مسیحا بن کر لندن سے وزیراعظم بننے آئی تھیں‘ اس وقت انہیں بنگلہ دیش میں نفرت کا نشان سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح جب نیپال میں نوجوانوں نے دیکھا کہ ان کے حکمرانوں کے بچے بیرونِ ملک پڑھ رہے ہیں اور شہزادوں اور شہزادیوں کی سی زندگی گزار رہے ہیں تو انہیں اپنے مسائل کے ذمہ دار یہی حکمران لگے۔ جب انہوں نے فیس بک اور انسٹاگرام پر حکمرانوں کے بچوں کی تصویریں دیکھیں تو وہ اُٹھ کھڑے ہوئے۔ وجہ وہاں بھی وہی تھی کہ نوجوان مسلسل ایک ہی چہرہ دیکھ کر بیزار ہو جاتے ہیں اور پھر کوئی بھی چھوٹی سی تصویر‘ کمنٹ یا جاب کوٹہ پورے حکمران خاندان کو جلا دیتا ہے۔ نیپال میں حکومت نے سوشل میڈیا پر پابندی لگائی تو نوجوانوں کو لگا کہ ایک تو ہمیں نوکریاں نہیں مل رہیں‘ اپنے بچے بیرونِ ملک عیاشیاں کر رہے ہیں‘ اقربا پروری عروج پر ہے لیکن ہمارے لیے سوشل میڈیا تک بین ہے تو پھر وہ باہر نکل کھڑے ہوئے۔ اگر نوجوانوں کو سوشل میڈیا پر اپنے خیالات یا ویوز کے اظہار کا موقع ملتا رہتا تو شاید نیپال میں اتنی بڑی بغاوت نہ کرتے۔ جب آپ انسان پر پابندیاں لگاتے ہیں کہ ظلم بھی ہوگا‘ ناانصافی بھی ہوگی‘ عیاشی بھی ہوگی لیکن آپ بول بھی نہیں سکتے تو پھر ایک مرحلے پر ریاست یا اداروں کا خوف لوگ اتار پھینکتے ہیں۔ یقین نہیں آتا تو بھارتی وزیراعظم مودی کا حشر دیکھ لیں‘ جس نے پوری دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ کون سوچ سکتا تھا کہ وزیراعظم مودی جسے اُن کے اَند بھگت بھگوان کا درجہ دے چکے تھے‘ اس سے نوجوان نسل اتنی نفرت کرتی ہے۔ طالب علموں کے احتجاج میں جس طرح کے الفاظ مودی کیلئے استعمال کیے گئے ‘ شاید ہی ایسے الفاظ کسی اور وزیراعظم یا سیاستدان کے حصے میں آئے ہوں۔ وہاں بھی وجہ وہی بنی جو بنگلہ دیش میں تھی۔ فرق یہ تھا کہ بنگلہ دیش میں طالب علموں کا مسئلہ جاب کوٹہ تھا تو انڈیا میں مقابلے اور داخلہ امتحان میں پیپر لیک تھا۔ پھر بھارت اور بنگلہ دیش میں مشترکہ وجہ حکومتی سختیاں اور دونوں کا طویل اقتدار میں رہنا تھا۔ بھارت میں ہر سال 20 لاکھ طالب علم داخلے یا مقابلے کا امتحان دیتے ہیں۔ پھر بھارت میں نوجوانوں کی آبادی 37کروڑ ہے اور یہ وہاں کی مڈل کلاس کے بچے ہیں‘ جو اپنی زندگیاں انہی داخلوں اور امتحان سے بدلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یوں یہ پورے ہندوستان کا مشترکہ مسئلہ  بن گیا اور اوپر سے مودی 2047ء تک کا پلان بنا کر بیٹھا ہوا ہے۔ یوں طویل اقتدار ہی حسینہ واجد اور مودی کا دشمن بنا۔ مودی اب شاید ہی ٹک پائیں۔ ایک دفعہ لوگوں کا خوف اُتر گیا ہے‘ اب یہ سلسلہ نہیں رکے گا۔ وہاں بی جے پی کو اپنا وزیراعظم 2029ء سے پہلے تبدیل کرنا پڑے گا۔ مودی کا Larger than Life امیج تباہ ہو چکا ہے۔اگرچہ پاکستان میں بھی نوجوانوں کے مسائل ملتے جلتے ہیں۔ وہی شریف‘ زرداری خاندان اور ان کے بچے‘ ان کے فرنٹ مین‘ ان کے یار دوست اور اشرافیہ کا راج ہے۔ وہی لوٹ مار آپ کو یہاں بھی نظر آتی ہے۔ نوجوان یہاں کا بھی مایوس ہے۔ وہ کوشش کر کے باہر جانا چاہتا ہے۔ تاہم اب بھی داخلوں یا مقابلے کے امتحان میں یہاں پیپر لیک نہیں ہوتے۔ کبھی کبھار اِکا دکا پیپر لیک ہونے  کی خبریں ملک کے کسی چھوٹے بڑے شہر سے آ جاتی ہیں لیکن کوئی بہت بڑا سکینڈل نہیں آتا۔ اس سے ہٹ کر پاکستانی فیصلہ سازوں نے ایک فیصلہ کر رکھا ہے کہ اس سے پہلے کہ لوگ انقلاب کا سوچیں ہم خود ہی سافٹ انقلاب لے آتے ہیں تاکہ ناراض نوجوانوں  کو گھر سے نکلنے کا موقع ہی نہ ملے۔ انہیں لگے کہ جو وہ سوچ رہے تھے وہ پہلے ہی ہو گیا ہے اور ان کے مسائل کے ذمہ داروں کو سزا مل گئی ہے یا انہیں اقتدار سے نکال دیا گیا ہے۔ اب کچھ دن انتظار کرتے ہیں‘ نیا سیٹ اَپ یا وزیراعظم کیا کرتا ہے۔ یوں اندر ابھرنے والا جوش یا غصہ وزیراعظم کو برطرف یا جیل میں دیکھ کر ٹھنڈا پڑ جاتا ہے۔ مقتدرہ ہر دفعہ نئی امید دے دیتی ہے۔ 1985ء سے دیکھیں‘ کس وزیراعظم نے پانچ سال پورے کیے ہیں؟ ڈھائی‘ تین‘ چار سال بعد چھٹی۔ جلاوطنی‘ جیل یا نااہلی‘ یا نئی پارلیمنٹ‘ نیا وزیراعظم... سب خوش کہ اب اچھے دن آئیں گے۔اب کے اچھے دنوں کی نوید وزیر داخلہ محسن نقوی نے سنا ئی ہے۔ ہماری مقتدرہ سمجھ دار گھریلو خاتون کی طرح جانتی ہے کہ کچن میں چولہے پر سلگتے پریشر ککر میں کتنی بھاپ جمع ہو چکی ہے‘ اب سیٹی کی آواز تیز ہو گئی ہے‘ اب پریشر ککر کے نٹ بولٹ ڈھیلے کر کے بھاپ نکلنے دینی ہے ورنہ یہ پورا کچن اڑا دے گا۔ مقتدرہ ہر ڈھائی تین سال بعد وزیراعظم کو نااہل‘ برطرف‘ جیل یا جلاوطن کر کے بھاپ نکال دیتی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ازکارِ رفتہ انتظامی ڈھانچے سے نجات(رشید صافی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-08-02/52408/87174976</link><pubDate>Sun, 02 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-08-02/52408/87174976</guid><description>پاکستان جس ہمہ جہت بحران کی زد میں ہے اس کا سبب محض معاشی تنگ دستی یا سیاسی عدم استحکام نہیں بلکہ ریاست کے اس فرسودہ اور ازکارِ رفتہ انتظامی ڈھانچے میں ملتا ہے جو اپنے وزن سے خود بیٹھ رہا ہے۔ 1947ء میں جب پاکستان وجود میں آیا تو آبادی کا حجم‘ جغرافیائی حدود اور انتظامی تقاضے آج کے مقابلے میں بالکل مختلف تھے مگر دہائیاں گزرنے اور آبادی میں کئی گنا اضافے کے باوجود ہم اُسی پرانے انتظامی نظام کو گھسیٹنے پر بضد ہیں۔ نتائج ہمارے سامنے ہیں کہ عوام کے بنیادی مسائل کے حل میں مسلسل ناکامی اور ایک ایسا سسٹم جو اَب مکمل طور پر جمود کا شکار ہو چکا ہے۔ اس تناظر میں انتظامی ری سیٹ اور  نئے انتظامی یونٹس کا قیام اب محض سیاسی یا تکنیکی بحث نہیں رہی بلکہ یہ پاکستان کی بقا‘ پائیدار گورننس اور ریاستی ہم آہنگی کی بنیادی شرط بن چکی ہے۔ دنیا میڈیا گروپ کے چیئرمین میاں عامر محمود صاحب وہ پہلی دردِ دل رکھنے والی شخصیت ہیں جنہوں نے بہت پہلے اس کمزور ہوتے ریاستی نظام کی حساسیت کو محسوس کر لیا تھا۔ وہ ایک طویل عرصے سے نئے انتظامی یونٹس کی تشکیل پر زور دیتے آ رہے ہیں۔ ان کا مؤقف خالصتاً گورننس‘ انتظامی سہولت اور عوام کی دہلیز تک اختیارات کی منتقلی کے فلسفے پر قائم ہے۔ میاں عامر محمود صاحب کا یہ استدلال منطق کی کسوٹی پر پورا اترتا ہے کہ پنجاب جیسے وسیع صوبے کو ایک مرکزی سیکرٹریٹ سے چلانا خام خیالی ہے۔ جب تک عام شہری کو اپنے معمولی نوعیت کے مسائل کے لیے دور دراز علاقوں سے اُٹھ کر صوبائی دارالحکومت آنا پڑے گا تب تک گورننس کا تصور صرف کاغذوں تک محدود رہے گا۔ اُن کا ویژن یہ ہے کہ انتظامی صلاحیت کا ارتقاتبھی ممکن ہے جب اختیارات نچلے طبقے تک منتقل ہوں اور فیصلے عوام کی دہلیز پر کیے جائیں۔ آج  جب ریاستی ادارے اور سیاسی قیادت بھی اس نقطے پر متفق ہو رہی ہے تو یہ میاں عامر محمود صاحب کے اُس دیرینہ مؤقف کی حقیقت کا اعتراف ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ریاست کا انتظامی ڈھانچہ اس کی آبادی کے متناسب ہونا چاہیے‘ لیکن پاکستان کے اعداد و شمار ایک بھیانک تضاد کی نشاندہی کرتے ہیں۔ 1951ء کی مردم شماری کے مطابق پنجاب کی آبادی بمشکل دو کروڑ‘ سندھ کی 60 لاکھ‘ خیبرپختونخوا کی 58 لاکھ اور بلوچستان کی 11 لاکھ تھی۔ آج پاکستان کی مجموعی آبادی 25 کروڑ کی حد عبور کر چکی ہے جبکہ اکیلے پنجاب کی آبادی تقریباً 13 کروڑ سے متجاوز ہے۔ 1972ء میں ملکی آبادی سات سے آٹھ کروڑ تھی مگر آج کئی گنا اضافے کے بعد بھی صوبائی تقسیم کا نقشہ وہی ہے۔ ملک کے غیر ترقیاتی اخراجات 6800 ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں‘ مگر حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اتنے بڑے وسائل کے باوجود عوام کو بنیادی سہولیات میسر نہیں۔ یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ مسائل کی وجہ مالی وسائل کی کمی نہیں بلکہ ان کو استعمال کرنے والے غیر مؤثر سانچے کا ہونا ہے۔ ایک صوبائی حکومت کے لیے کروڑوں شہریوں کا نظام سنبھالنا انسانی طاقت سے باہر ہو چکا ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے ملک کی بااثر سیاسی شخصیات نے بھی اس حقیقت کو  تسلیم کرنا شروع کر دیا ہے کہ موجودہ سسٹم اپنی افادیت کھو چکا ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد میں منعقدہ پہلی &#39;&#39;پاکستان اکنامک سمٹ‘‘ میں ایک تلخ لیکن حقیقت پسندانہ تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم جس نظام میں رہ رہے ہیں وہ تباہ ہو چکا ہے‘ کوئی مانے یا نہ مانے‘ سسٹم گر چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ ڈھانچہ یوں ہی چلتا رہا تو ہم 10 سال بعد بھی انہی مسائل پر سر جوڑ کر بیٹھے ہوں گے‘ سسٹم کو ری سیٹ کیے بغیر حالات نہیں بدل سکتے۔ محسن نقوی کا یہ اعتراف اس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ طرزِ حکمرانی اپنا وقت پورا کر چکا ہے۔ جمہوریت میں کئی انتظامی ماڈلز موجود ہیں لیکن ہم ایک ہی ناکام نظام کو گھسیٹنے پر بضد ہیں۔عسکری قیادت اور دیگر سیاسی رہنما بھی اب اسی ریاستی ضرورت پر آواز بلند کر رہے ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے بھی اس بات پر زور دیا کہ آبادی کے بے پناہ اضافے کے بعد ملکی سلامتی کا براہِ راست تعلق انتظامی اصلاحات سے ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر ملک کی پائیداری کے لیے انتظامی ری سیٹ کی ضرورت ہے تو وہ ہونا چاہیے۔ ترجمان پاک فوج چاہتے تو اس سوال کو نظر انداز بھی کر سکتے تھے وہ یہ بھی مؤقف اختیار کر سکتے تھے کہ یہ سیاسی معاملہ ہے مگر انہوں نے انتظامی یونٹس کے قیام پر اپنی رائے دے کر واضح کر دیا کہ ریاستی ادارے بھی سسٹم کی خرابی کا ادراک کر چکے ہیں۔ استحکام پاکستان پارٹی کے صدر اور وفاقی وزیر عبدالعلیم خان نے اس معاملے پر تجویز پیش کی کہ پاکستان کے ہر صوبے کو انتظامی بنیادوں پر کم از کم تین تین حصوں میں تقسیم کر دینا چاہیے۔ یہ تجاویز اس بات کا مظہر ہیں کہ ہر صوبے کی تقسیم خود اس صوبے کے عوام کے بہترین مفاد میں ہے۔ اگر ہم پچھلے دو یا تین جمہوری ادوار کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیں تو سیاسی جماعتوں کے رویے میں ایک طرح کی تبدیلی کو محسوس کیا جا سکتا ہے۔ 2022ء میں جب پی ڈی ایم نے اُس وقت کی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی تو 14 کے قریب سیاسی جماعتیں اکٹھی تھیں۔ اُس  وقت کی تقاریر ریکارڈ کا حصہ ہیں جن میں دعویٰ کیا جاتا تھا کہ حکومت بدلتے ہی معیشت سمیت تمام مسائل چند ماہ میں حل کر دیے جائیں گے۔ اسی جوش و خروش کا مظاہرہ 2024ء کے عام انتخابات میں بھی دیکھنے کو ملا۔ مگراب صورتحال مختلف ہے اور تمام سیاسی جماعتیں ناکامیوں کا ملبہ ایک دوسرے پر ڈال رہی ہیں۔ یہ صورتحال ایسے ہی برقرار رہی تو سیاسی جماعتیں اقتدار سے دور بھاگنے لگیں گی۔ اسی کو &#39;سسٹم کی ناکامی‘ کہتے ہیں۔ جب موجودہ قوانین‘ دائرہ کار اور ادارے حکمرانوں کو کام کرنے کی گنجائش ہی نہ دیں تو سیاسی قیادت کی کوششوں کے باوجود نتائج صفر نکلتے ہیں۔پاکستان اس وقت ایسے معاشی و انتظامی چیلنج سے گزر رہا ہے جہاں پرانے طریقوں کو دہرانے یا روایتی پالیسیوں پر تکیہ  کرنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہا۔ چیئرمین دنیا میڈیا گروپ میاں عامر محمود صاحب نے کچھ عرصہ پہلے جس حقیقت کا ادراک کر لیا تھا‘ وہ آج قومی بیانیہ بن چکا ہے۔ محسن نقوی اور عسکری قیادت کے بیانات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ اب فیصلہ سازوں کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں۔ اس سے پہلے کہ یہ فرسودہ نظام مزید تباہی کا باعث بنے‘ ہمیں گورننس کی بہتری کے لیے نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی طرف فوری اور عملی قدم اٹھانا ہو گا۔ نئے انتظامی یونٹس کا قیام محض جغرافیائی لکیریں کھینچنا نہیں‘ بلکہ پاکستان کی مضبوطی‘ بقا اور عوام کی خوشحالی کا واحد اور ناگزیر راستہ ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/222_48272610.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سائبر کرائمز اور انسانی سمگلنگ(عمران یعقوب خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-08-02/52409/57487978</link><pubDate>Sun, 02 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-08-02/52409/57487978</guid><description>عالمی ادارۂ مہاجرت آئی او ایم (The International Organization for Migration) نے ایک انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا بھر میں انفرادی انسانی ٹریفکنگ میں اضافہ ہو رہا ہے اور تیزی سے پھیلتی ہوئی اربوں ڈالر مالیت کی یہ مجرمانہ صنعت ملازمت کے متلاشی افراد کو سائبر جرائم میں ملوث کر رہی ہے۔ انتباہ میں کہا گیا ہے کہ ملازمت کا اشتہار مجرمانہ نیٹ ورک کا پردہ بھی ہو سکتا ہے اور کمپیوٹر پر ایک کلک کسی شخص کو خطرناک حالات میں دھکیل سکتا ہے۔ ہر سال لاکھوں افراد کو ملازمت کا جھانسہ دے کر بیرونِ ملک سمگل کیا جاتا ہے جہاں جبری طور پر وہ آن لائن دھوکہ دہی کی کارروائیوں میں استعمال ہوتے ہیں۔ ہم ہر سال کئی بار یہ سنتے اور خبریں پڑھتے ہیں کہ فلاں سمندر میں انسانوں سے بھری لانچ یا چھوٹی کشتی ڈوب گئی اور اتنے مسافر جاں بحق ہو گئے‘ اتنوں کو بچا لیا گیا‘ اتنوں کی تلاش جاری ہے۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو مختلف ممالک سے اچھے روزگار اور اچھے مستقبل کے لیے امیر ملکوں کی جانب عازمِ سفر ہوتے ہیں۔ ان میں سے کچھ  کو منزل ملتی ہے اور کچھ تاریک راہوں میں مارے جاتے ہیں۔ انفرادی انسانی سمگلنگ اس سے ملتی جلتی لیکن الگ نوعیت کی ہوتی ہے۔ اس گھناو ٔنے جرم کے مختلف زاویے اور متفرق جہتیں ہیں۔ جنسی استحصال کے لیے انسانی سمگلنگ سر فہرست ہے۔ انٹرنیشنل جسٹس مشن کے مطابق جنسی استحصال کے لیے ہونے والی انسانی سمگلنگ میں سالانہ17 لاکھ بچوں کا استحصال کیا جاتا ہے اور اس قبیح دھندے سے ہر سال 324.5 بلین ڈالر کا کاروبار ہوتا ہے۔ اس مقصد کے لیے بچوں کو اغوا کیا جاتا ہے اور خواتین کو مختلف تراغیب دے کر سمگل کیا جاتا ہے۔ سمگل کیے گئے افراد سے زبردستی‘ بغیر معاوضے یا کم اجرت پر سخت مشقت لی جاتی ہے۔ اینٹوں کے بھٹوں‘ فیکٹریوں‘ کھیتوں اور گھریلو ملازم کے طور پر ان کا استحصال کیا جاتا ہے۔ اعضا کی غیر قانونی پیوند کاری کا بھیانک کاروبار بھی سمگل شدہ افراد کے اعضا سے ہی کیا جاتا ہے۔ غریب اور بے بس افراد کو لالچ دے کر یا اغوا کر کے ان کے اہم جسمانی اعضا نکال لیے جاتے ہیں‘ غیر قانونی طور پر فروخت کیے جاتے ہیں اور اس فرد کو مرنے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے جس میں سے یہ اعضا نکالے گئے ہوتے ہیں۔ جبری شادیاں بھی انسانی سمگلنگ کا ایک زاویہ ہیں۔ پھر سمگل کیے گئے بچوں اور معذور افراد کا استحصال کر کے انہیں بھیک مانگنے‘ چوری کرنے یا غیر قانونی سرگرمیوں (جیسے منشیات کی ترسیل) پر مجبور کیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ سمگلنگ بھی شامل ہے جس میں لوگ اپنی مرضی سے ایجنٹوں کو پیسے دے کر سرحد پار کرتے ہیں اور جس کا ذکر درج بالا سطور میں کر چکا ہوں۔مجھے یاد آ رہا ہے کہ چند سال پہلے صحافی سجاد کریم انجم ایک معاصر میں تاریخ کا جھروکا لکھا کرتے تھے اور انہوں نے &#39;&#39;سفاکانہ تجارت‘‘ کے عنوان سے کالموں کی ایک پوری سیریز لکھی جس میں انہوں نے بتایا تھا کہ کس طرح پُرانے زمانوں میں یورپ کے طاقتور گروہ افریقہ اور دوسرے ملحقہ علاقوں پر حملے  کرتے تھے‘ بستیوں کی بستیاں اجاڑ دیتے تھے اور بچ جانے والوں کو غلام بنا کر اپنے ساتھ یورپ لے جاتے تھے اور ان سے بیگار لیتے تھے۔ انہوں نے لکھا کہ ان غلاموں سے صبح پو پھٹنے سے لے کر رات کا اندھیرا چھانے تک یعنی چودہ چودہ گھنٹے بغیر وقفے کے کام لیا جاتا تھا اور بیمار اور بوڑھے افراد کو بھی نہیں بخشا جاتا تھا۔ آقاؤں کے سخت قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو کڑی سزائیں دی جاتی تھیں۔ ان غلاموں کو جتھوں کی صورت میں رسیوں سے باندھ کر ایک سے دوسری جگہ منتقل کیا جاتا تھا۔ ان کے منہ پر آہنی خول چڑھائے جاتے تھے۔ انہیں زنجیریں پہنائی جاتی تھیں۔ انہیں ہتھکڑیاں لگائی جاتی تھیں اور اپنی نشانی رکھنے کے لیے ان کے جسم داغے جاتے تھے۔ انہیں ایک چڈی کے ساتھ زیادہ تر برہنہ رکھا جاتا تھا اور موسم کے مطابق مناسب کپڑے بھی فراہم نہیں کیے جاتے تھے۔ پرانے زمانے میں جہاز رانی کے لیے ظاہر ہے انجن استعمال نہیں ہوتے تھے۔ انجنوں کی جگہ ان زر خرید غلاموں کو چپو دے کر بٹھایا جاتا تھا۔ جب سینکڑوں غلام ایک ہی بار میں چپوں چلاتے تو بڑے بڑے جہاز بھی طوفانی رفتار سے آگے بڑھتے تھے۔ ان غلاموں کو جنگوں میں چارے کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا تھا۔ ان غلاموں کی منڈیاں لگتی تھیں جہاں ان کی کھلے عام خریدوفروخت ہوتی تھی‘ اور بلاشبہ ان غلاموں کا جنسی استحصال بھی کیا جاتا تھا۔ کہا یہ جاتا ہے کہ دنیا سے انسانی سمگلنگ کا خاتمہ ہو چکا ہے لیکن میرے خیال میں یہ حقیقت نہیں ہے۔ آج کے دور کی انسانی سمگلنگ کو جدید دور کی غلامی قرار دیا جائے تو غلط نہ ہو گا۔ اس میں کسی بھی شخص کو استحصال یا ذاتی فائدے کے لیے دھوکے‘ دھمکی یا زبردستی کے ذریعے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے مطابق 27.6 ملین خواتین‘ مرد اور بچے اس وقت دنیا بھر میں غلامی جیسی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ یہ سب کچھ اس جدید‘ ترقی یافتہ‘ لبرل اور انسانی حقوق کی علم بردار دنیا میں ہو رہا ہے‘ سب کی نظروں کے سامنے‘ سب کی ناک کے عین نیچے۔یو ٹیوب پر ایسی ویڈیو ز مل جائیں گی جن میں نوجوان آپ بیتی سناتے نظر آتے ہیں کہ کس طرح انہیں نوکری کا جھانسہ دے کر بیرون ملک بلایا گیا اور پھر کسی ایسے بیگار کیمپ میں پہنچا دیا گیا جہاں آن لائن فراڈ ہوتے ہیں۔ جس طرح ڈنکی لگا کر باہر جانا آسان نہیں‘ جان جوکھوں کا کام ہے اور ایسی زیادہ تر کوششیں ناکام جاتی ہیں‘ اسی طرح آن لائن نوکریوں کی آفر بھی اب ایک مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ کوئی پتا نہیں چلتا کہ ان میں حقیقی کون ہے اور فیک کون۔ اب ترقی پذیر ممالک میں معیشتوں کے جو حال چل رہے ہیں‘ ان کو پیش نظر رکھ کر ہر بندے کی خواہش ہوتی ہے کہ آگے بڑھے‘ اچھی جاب کرے‘ بیرونِ ملک جائے اور زیادہ کمائے تاکہ آسودہ زندگی بسر کر سکے۔ یہ خواہش بعض اوقات انسان کو مشکل میں ڈال دیتی ہے۔ لینے کے دینے پڑ جاتے ہیں۔ کئی بار جان پہ بھی بن آتی ہے۔قصہ مختصر یہ کہ انسان کے ہاتھوں انسان‘ اقوام کے ہاتھوں اقوام‘ افراد کے ہاتھوں افراد کے استحصال کا جو سلسلہ قدیم زمانوں میں تھا مختلف شکلوں میںوہ آج بھی جاری ہے۔ کہیں براہِ راست فراڈ ہو رہے ہیں تو کہیںآن لائن۔ ایسے میں لوگوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے ڈاکومنٹس اور ذاتی معلومات کو زیادہ سے زیادہ پوشیدہ رکھیں اور صرف اشد اور ناگزیر ضرورت کے تحت ہی کسی کے ساتھ شیئر کریں۔ ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق اس وقت پاکستان میں سائبر حملے اور آن لائن فراڈ عروج پر ہیں۔ حالیہ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ملک میں سائبر کرائم میں اضافہ ہوا ہے اور سال کے دوران سرکاری محکموں پر 400 سے زائد سائبر حملوں کی کوششیں کی گئی ہیں۔ ایک رپورٹ بتاتی ہے کہ پاکستان میں سائبر کرائمز میں 35فیصد اضافہ ہوا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آن لائن فراڈوں سے بچنے کے لیے کیا جائے کیونکہ یہ فراڈ اکاؤنٹ سے پیسے نکلوانے سے لے کر انسانی سمگلنگ تک ہر جگہ پھیلے ہوئے ہیں۔ میرے خیال میں احتیاط ہی اس مسئلے کا واحد حل ہو سکتی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_58350786.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مشرقِ وسطیٰ بحران اور بڑھتی ہوئی تقسیم(محمد عبداللہ حمید گل)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-abdullah-hameed-gull/2026-08-02/52410/94658221</link><pubDate>Sun, 02 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-abdullah-hameed-gull/2026-08-02/52410/94658221</guid><description>مشرقِ وسطیٰ ایک مرتبہ پھر عالمی سیاست کا مرکز بن چکا ہے۔ غزہ کی جنگ سے شروع ہونے والی کشیدگی اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں اس کے اثرات صرف اسرائیل‘ ایران یا عرب دنیا تک محدود نہیں بلکہ امریکہ‘ یورپ‘ روس‘ چین اور دیگر بڑی طاقتوں کی خارجہ پالیسیوں‘ عسکری حکمتِ عملی اور معاشی مفادات پر بھی نمایاں طور پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ کئی دہائیوں سے قائم مغربی اتحاد جسے سرد جنگ کے بعد عالمی سلامتی کی بنیاد سمجھا جاتا تھا‘ اب پہلے جیسا مضبوط دکھائی نہیں دیتا۔ امریکہ اور یورپ کے درمیان مشرقِ وسطیٰ کے بارے میں پالیسی اختلافات مسلسل گہرے ہو رہے ہیں۔ متعدد یورپی ممالک اسرائیل کی فوجی کارروائیوں اور غزہ میں انسانی بحران پر کھلے عام تشویش کا اظہار کر رہے ہیں جبکہ واشنگٹن بدستور اسرائیل کی سلامتی کو اپنی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون قرار دیتا ہے۔ یہی اختلافات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ٹرانس اٹلانٹک اتحاد میں ٹوٹ پھوٹ اب پہلے سے کہیں زیادہ واضح ہو چکی ہے۔سرد جنگ کے دوران نیٹو نے سوویت یونین کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے امریکہ کے عسکری ونگ کے طور پر کام کیا۔ 1991ء میں سوویت یونین کے زوال کے بعد اس اتحاد نے بیرونِ ملک فوجی کارروائیوں اور بحرانوں کے انتظام کے ذریعے اپنے کردار کو نئی شکل دی۔ تاہم آج مشرقِ وسطیٰ کے حوالے سے بڑھتے ہوئے اختلافات صرف بیانات تک محدود نہیں بلکہ مستقبل کی مغربی سلامتی کی حکمتِ عملی پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ نیٹو کے کئی رکن ممالک بھی خطے میں کسی نئی فوجی مہم کا حصہ بننے سے گریزاں دکھائی دیتے ہیں کیونکہ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ وسیع علاقائی جنگ توانائی کی رسد‘ عالمی تجارت اور یورپی معیشت کیلئے سنگین خطرات پیدا کر سکتی ہے۔سرد جنگ کے خاتمے کے بعد امریکہ اور یورپ عالمی سیاست میں ایک ہی صف میں کھڑے دکھائی دیتے تھے مگر موجودہ منظرنامے نے اس تاثر کو خاصا کمزور کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سفارتکاری اور جنگ کے درمیان توازن قائم رکھنا مغربی حکومتوں کیلئے ایک مشکل آزمائش بنتا جا رہا ہے۔ کئی ممالک نے واشنگٹن سے مطالبہ کیا کہ اسرائیل کو اسلحے کی فراہمی معطل کی جائے جبکہ بعض ممالک نے اپنے فضائی اور بحری راستوں سے فوجی سامان کی ترسیل کو محدود کر دیا ہے۔ یہ اختلافات جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ حکومت میں سامنے آنا شروع ہوئے تھے اب پہلے سے کہیں زیادہ گہرے ہو چکے ہیں۔ ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں شرکت یا آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی کوششوں میں تعاون سے متعدد یورپی حکومتوں اور نیٹو کے رکن ممالک کی ہچکچاہٹ اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ واشنگٹن اور اس کے روایتی اتحادیوں کے درمیان تزویراتی فاصلے میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے۔ کانگریس‘ ریپبلکن اور ڈیموکریٹ قیادت حتیٰ کہ امریکی انتظامیہ کے مختلف حلقوں میں بھی ایران اور مشرقِ وسطیٰ کے حوالے سے مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں۔ نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی کہا ہے کہ امریکہ کو طاقت کے ذریعے دیگر ممالک کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔ اس وقت امریکہ اور اسرائیل کے درمیان تزویراتی تعلقات کی نوعیت اور اسرائیل کو فراہم کی جانے والی امریکی مالی و عسکری امداد کے بارے میں بھی نئی بحث چھڑ چکی ہے۔ ناقدین کے مطابق اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی غیر مشروط حمایت نے عالمی سطح پر امریکہ کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے اور مڈل ایسٹ میں ایک غیر جانبدار ثالث کے طور پر اس کی حیثیت کو کمزور کیا ہے۔امریکی ایوانِ نمائندگان سے مالی سال 2027ء کے نیشنل ڈیفنس آتھرائزیشن ایکٹ (NDAA) کا معمولی اکثریت سے منظور ہونا بھی امریکی سیاست میں بڑھتی ہوئی تقسیم کی عکاسی کرتا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں اسرائیل کو بین الاقوامی مذمت سے بچانے کیلئے امریکہ کی جانب سے بار بار ویٹو کا استعمال بھی اس کیلئے تنقید میں اضافے کا باعث بنا ہے۔ اسرائیل کے اندرونی سیاسی اختلافات بھی سامنے آ رہے ہیں۔نیتن یاہو اور اس کی اتحادی حکومت جہاں فوجی کارروائیوں کی حامی ہے وہیں اپوزیشن جماعتیں‘ سول سوسائٹی اور یرغمالیوں کے اہلِ خانہ مذاکرات کے ذریعے مسئلے کے حل اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ایران اس وقت داخلی اور خارجی چیلنجز سے نبرد آزما ہے۔ قیادت‘ سلامتی کے معاملات اور مستقبل کی حکمتِ عملی کے حوالے سے مختلف تجزیے سامنے آ رہے ہیں تاہم ان میں سے متعدد دعوے مکمل طور پر تصدیق شدہ نہیں ہیں۔ اسکے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ ایران پر اقتصادی پابندیوں‘ سفارتی دباؤ اور عسکری خطرات کے باوجود اسکی علاقائی حکمتِ عملی کے آگے امریکہ جھکنے پر مجبور ہوا۔ افسوس ‘ خلیجی ممالک میں یکجہتی کا فقدان پایا جا رہا ہے۔ 2020ء کے &#39; ابراہیمی معاہدوں‘ نے خطے کی سیاسی صف بندی کو تبدیل کر دیا جس کے تحت متحدہ عرب امارات اور بحرین نے اسرائیل کیساتھ تعلقات معمول پر لاتے ہوئے واشنگٹن کیساتھ اپنی تزویراتی شراکت داری کو مزید وسعت دی۔ متحدہ عرب امارات نے بیک وقت اسرائیل اور بھارت کیساتھ اپنے تزویراتی تعلقات مضبوط کیے اور ایک نسبتاً آزاد خارجہ پالیسی اختیار کی ہے۔ یمن‘ سوڈان‘ صومالیہ اور لیبیا جیسے علاقائی تنازعات میں امارات کا کردار مختلف رہا جس سے عرب دنیا کے اندر نئے اختلافات نے جنم لیا۔ یہی وجہ ہے کہ خلیجی خطہ اب ایک ہی سیاسی مؤقف کے بجائے اپنے اپنے مفادات کے مطابق فیصلے کرتا دکھائی دیتا ہے۔البتہ معاشی طور پر یہ جنگ پوری دنیا کیلئے ایک ڈراؤنا خواب بن چکی ہے۔ آبنائے ہرمز‘ جہاں سے دنیا کی 20سے 25 فیصد خام تیل کی سپلائی گزرتی ہے اب ایک مستقل میدانِ جنگ میں بدل چکی ہے۔ آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی کیلئے غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ اگر ان بحری راستوں میں طویل رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو تیل کی قیمتوں میں اضافہ‘ مہنگائی اور عالمی معاشی سست روی جیسے مسائل شدت اختیار کر سکتے ہیں۔سوال یہ بھی ہے کہ کیا یہ عالمی و علاقائی رقابتیں جنوبی ایشیا تک پھیل چکی ہیں؟ اس میں دو آرا نہیں کہ پاکستان کے خلاف سرگرم دہشت گرد گروہوں کی بیرونی سرپرستی‘ گوادر بندرگاہ اور سی پیک کو نقصان پہنچانے کی سازشیں اور بلوچستان میں مسلسل بدامنی بڑی طاقتوں کی نئی &#39;&#39;گریٹ گیم‘‘ کا حصہ ہیں۔ ایسی صورتحال میں اسلام آباد کیلئے متوازن‘ محتاط اور فعال سفارتکاری ناگزیر ہے؛ چنانچہ داخلی استحکام‘ اقتصادی اصلاحات‘ توانائی کے متبادل ذرائع اور قومی سلامتی کے اداروں کی استعداد میں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ملک کو اس وقت توانائی‘ سرحدی سلامتی اور علاقائی استحکام جیسے اہم چیلنجز بھی درپیش ہیں اس لیے کسی بھی وسیع جنگ کے اثرات براہِ راست قومی سلامتی پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ تاہم خلیجی خطے کے اندر بڑھتی ہوئی تقسیم نے امریکہ‘ اسرائیل اور بھارت جیسی بیرونی طاقتوں کو اپنے تزویراتی مفادات کے حصول کیلئے نسبتاً زیادہ مواقع فراہم کیے ہیں۔موجودہ بحران کا ایک اور اہم پہلو اطلاعاتی جنگ ہے۔ آج روایتی جنگ کے ساتھ ساتھ معلومات اور بیانیے کی جنگ بھی شدت اختیار کر چکی ہے۔ بلاشبہ مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے دور میں داخل ہو چکا ہے جہاں طاقت کا توازن تبدیل ہو رہا ہے۔ عالمی اتحاد نئے سرے سے تشکیل پا رہے ہیں اور سفارتکاری کے روایتی اصول بھی نئے امتحان سے گزر رہے ہیں۔ اگر عالمی طاقتیں تحمل‘ سیاسی بصیرت اور مذاکرات کو ترجیح دیتی ہیں تو اس جنگ کو روکا جا سکتا ہے۔ تاریخ کے تلخ تجربات سے سبق سیکھتے ہوئے تحمل‘ تدبر اور مکالمے کو ترجیح دی جائے تو نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا ایک بڑے بحران سے محفوظ رہ سکتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا دنیا ایک اور طویل اور تباہ کن علاقائی جنگ کی متحمل ہو سکتی ہے یا عالمی قیادت بروقت دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سفارتکاری کو طاقت پر ترجیح دے گی؟</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_62843609.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>