<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>پاکستان کا امن مشن(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-16/11108</link><pubDate>Thu, 16 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-16/11108</guid><description>وزیراعظم شہباز شریف کا حالیہ دورۂ سعودی عرب اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دورۂ ایران ایسے وقت میں ہو ا ہے جب پوری دنیا کی نظریں مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے بدلتے سیاسی و عسکری منظرنامے پر ہیں۔ان اعلیٰ سطحی دوروں کے پسِ منظر میں وہ گہری تزویراتی کوششیں کارفرما ہیں جن کا مقصد دہائیوں پر محیط علاقائی کشیدگی کا خاتمہ اور پائیدار امن کا قیام ہے۔ چالیس روزہ ایران امریکہ جنگ کے بعد کسی بھی اعلیٰ سطحی غیر ملکی وفد کا یہ پہلا دورۂ تہران ہے‘ جو بطور ثالث پاکستان کے کردار کو تقویت دیتا اور مستقل جنگ بندی کی کوششوں کو اجاگر کرتا ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستانی وفد کا دورۂ تہران مصالحتی کوششوں کا حصہ ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ اس امر کی تصدیق کر چکی ہے کہ پاکستان کے ذریعے امریکہ کو پیغامات بھیجنے اور وصولی کا سلسلہ جاری ہے اور آئندہ ہفتے اسلام آباد ایک بار پھر مذاکرات کی میزبانی کرے گا۔ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت بالخصوص فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا یہ دورہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ اسلام آبادتہران اور واشنگٹن میں تناؤ کو کم کرنے کے لیے پوری طرح متحرک ہو چکا ہے۔

اب یہ بھی واضح ہو چکا کہ 11 اپریل کو اسلام آباد میں 21گھنٹے کی طویل نشست محض ایک ملاقات نہیں تھی بلکہ طرفین کو ایک دوسرے کا مؤقف گہرائی تک سمجھنے کا موقع فراہم کرنے کی سنجیدہ کوشش تھی‘ جس نے برف کو کافی حد تک پگھلا دیا ہے۔ اس موقع پر ایرانی حکام کی جانب سے اگلے مذاکراتی دور کو مستقل جنگ بندی کی سمت قدم قرار دینا اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان کہ ایران کے ساتھ جنگ جلد ختم ہونے والی ہے‘ اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ پاکستان کی غیر جانبدارانہ اور مصالحانہ کوششیں رنگ لا رہی ہیں اور فریقین میں باہمی اعتماد بحال ہو رہا ہے۔ امریکی صدر کا انداز یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ امریکی انتظامیہ اس نتیجے پر پہنچ چکی ہے کہ طاقت کا  استعمال مسائل کے حل کی ضمانت نہیں دے سکتا‘ مستقل جنگ بندی اور پائیدار امن معاہدے کے لیے فریقین کا مذاکرات کی میز پر بیٹھنا ناگزیر ہے۔ دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کی جانب سے اس امر کے اشارے بھی مل رہے کہ بیشتر اختلافی معاملات پر اتفاقِ رائے ہو چکا اور چند تکنیکی یا جزوی معاملات ہی اب باقی ہیں۔
اگر اس نازک موڑ پر تھوڑی مزید لچک دکھائی جائے اور فریقین اپنے مؤقف سے ذراسا پیچھے ہٹ کر درمیانی راستہ نکالنے کی کوشش کریں تو آئندہ ہفتے اسلام آباد میں مذاکرات کے دوسرے دورمیں مستقل جنگ بندی اور پائیدار امن معاہدے کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو سکتا ہے جس سے مشرق وسطیٰ کے خطے کا مستقبل جڑا ہوا ہے۔ ایران اور امریکہ میں 47 سال سے جاری کشیدگی نے دونوں ملکوں کے تعلقات اور مفادات کو متاثر کیا اور اس کے اثرات اُس پورے خطے اور عالمی معیشت پر بھی پڑے ۔ اب پانچ دہائیوں کی مخاصمت کے بعد ان دونوں ملکوں کا مذاکرات کی میز پر دیرینہ مسائل کو سلجھانا ایک چیلنج ہے لیکن بڑی سے بڑی جنگوں کا اختتام بھی آخرکار مذاکرات کی میز پر ہوتا ہے۔
اس وقت چین‘ روس‘ برطانیہ اور ترکیہ سمیت دنیا کے بڑی طاقتیں مشرقِ وسطیٰ میں طویل مدتی استحکام کے لیے متحرک ہیں کیونکہ سمندری تجارتی راستوں کی حفاظت اور عالمی توانائی کی رسد کا تسلسل اس خطے کے امن سے جڑا ہوا ہے۔ ان قوتوں کا تعاون اور پاکستان کی ثالثی اور مصالحتی سعی اس امن عمل کو وہ اخلاقی اور سیاسی قوت فراہم کر رہی ہے جو ماضی کی کوششوں میں مفقود تھی۔ دنیا کی نظریں اب بھی اسلام آباد اور مذاکرات کے اگلے مرحلے پر ہیں جہاں سے قیام امن کی نوید دنیا میں ترقی و خوشحالی کے ایک نئے دور کا آغاز کر سکتی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پاک ایران ٹرانزٹ کوریڈور(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-16/11107</link><pubDate>Thu, 16 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-16/11107</guid><description>حکومت نے پاک ایران ٹرانزٹ کوریڈور کا باضابطہ آغاز کرتے ہوئے اس راستے سے تاشقند کیلئے گوشت کی پہلی کھیپ روانہ کی ہے۔ اس کوریڈور سے برآمدی سامان پہلے گوادر کے گبد ٹرمینل سے ایران اور پھر وہاں سے آگے وسط ایشیا کے ممالک تک پہنچے گا۔ یہ نیا تجارتی راستہ پاکستان‘ ایران اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے درمیان تجارتی روابط کو مضبوط بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کوریڈور سے ٹی آئی آر نظام کے تحت سامان کی ترسیل سے سرحدی رکاوٹوں اور ترسیلی وقت میں نمایاں کمی آئے گی‘ جس کا براہِ راست فائدہ برآمد کنندگان کو ہو گا۔ وسطی ایشیا کی منڈیاں پاکستانی مصنوعات خصوصاً زرعی اور غذائی اشیا کیلئے وسیع مواقع فراہم کرتی ہیں‘ اور یہ نیا راستہ ان مواقع تک رسائی کو نہایت آسان بنا سکتا ہے۔

تاہم اس کوریڈور کی کامیابی کیلئے مربوط اور مسلسل اقدامات کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے سرحدی انفراسٹرکچر کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہو گا تاکہ سامان کی ترسیل میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ آئے۔ کسٹمز کے نظام کو مزید ڈیجیٹل اور شفاف بنانا بھی ضروری ہے۔ اسی طرح ایران اور وسطی ایشیائی ممالک کیساتھ تجارتی معاہدوں کو مزید فعال اور سہل بنانا ہوگا۔ اس کیساتھ کولڈ چین لاجسٹکس‘ ویئر ہاؤسنگ اور ٹرانسپورٹ نیٹ ورک میں سرمایہ کاری وقت کی اہم ضرورت ہے۔ پاک ایران ٹرانزٹ کوریڈور کا آغاز بلاشبہ ایک اہم سنگ میل ہے مگر اصل کامیابی اس وقت حاصل ہوگی جب اسے ایک پائیدار‘ مؤثر اور وسیع البنیاد تجارتی نظام میں تبدیل کیا جائے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ایڈز پھیلاؤ کی وجوہات(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-16/11106</link><pubDate>Thu, 16 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-16/11106</guid><description>ایک خبر کے مطابق سندھ میں رواں برس کے پہلے تین مہینوں میں ایچ آئی وی کے 894 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔ رواں ماہ کے آغاز میں قومی اسمبلی میں پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں 84 ہزار 400 سے زائد افراد ایچ آئی وی میں مبتلا ہیں۔ تونسہ کے ایک سرکاری ہسپتال میں استعمال شدہ سرنجوں کے ذریعے بچوں کو انجکشن لگانے کے انکشاف نے اس مرض کے پھیلاؤ کی ایک بڑی وجہ کو بے نقاب کیا ہے۔ تونسہ میں نومبر 2024ء سے اکتوبر 2025ء کے دوران 331 بچے ایچ آئی وی میں مبتلا ہوئے جن میں سے نصف کیسز کو استعمال شدہ سرنجوں سے جوڑا گیا۔ اس شدید مجرمانہ غفلت کے باوجود حکومتی اقدامات محض رسمی بیانات تک محدود رہے‘ جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ کئی ماہ بعد بھی اس ہسپتال میں استعمال شدہ سرنجوں کے بار بار استعمال کے شواہد سامنے آ رہے ہیں۔

حکومت بیانات اور وقتی اقدامات سے آگے بڑھے اور تمام سرکاری و نجی ہسپتالوں میں انفیکشن کنٹرول کے اصولوں پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنوائے اور خلاف ورزی کرنیوالوں کیخلاف فوری اور مؤثر قانونی کارروائی کی جائے۔ غیر قانونی کلینکس اور عطائیوں کیخلاف بلاامتیاز کریک ڈاؤن کیا جائے۔ ساتھ ہی وسیع پیمانے پرعوامی آگاہی مہم بھی ناگزیر ہے تاکہ لوگ ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کے اسباب‘ احتیاطی تدابیر اور بروقت تشخیص کی اہمیت سے آگاہ ہو سکیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>عبد الحلیم شرر کے خلاف مقدمہ چلائیے(محمد اظہارالحق)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-04-16/51774/53818785</link><pubDate>Thu, 16 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-04-16/51774/53818785</guid><description>بحث اس وقت شروع ہوئی جب چنے والے چاولوں کو &#39;&#39;چنا پلاؤ‘‘ کہہ کر پکارا گیا۔ بیٹی سے کہا کہ بیٹے دیکھو! ایک نیم تعلیم یافتہ جاٹ کو پروفیسر کیسے کہہ سکتے ہیں؟ آخر حفظِ مراتب بھی کوئی شے ہے یا نہیں؟ لفٹین کے کندھے پر جرنیل کے ستارے لگ سکتے ہیں نہ کانسٹیبل کو ایس پی کہہ کر پکارا جا سکتا ہے۔ پلاؤ کا ایک خاص مقام ہے جو صدیوں سے چلا آرہا ہے۔ پلاؤ کی جائے پیدائش وسط ایشیا ہے اور اس میں بھی ازبکستان! اور کیا پروٹوکول ہے صاحب پلاؤ کا! ایک تو یہ کہ مہمان آئیں تو گھر کا مرد پلاؤ پکاتا ہے‘ جب تیار ہو جاتا ہے تو سب بیٹھتے ہیں۔ درمیان میں پلاؤ کا برتن رکھا جاتا ہے۔ پلاؤ کی چوٹی کے عین اوپر پکے یا بھُنے ہوئے گوشت کا بہت بڑا ٹکڑا رکھا ہوتا ہے۔ خاندان کا بزرگ ترین شخص اس سے گوشت کاٹ کاٹ کر سب میں تقسیم کرتا ہے۔ پلاؤ کے ساتھ صرف سلاد ہوتا ہے اور نان۔ پلاؤ کھاتے جاتے ہیں اور ساتھ ساتھ روٹی کا نوالہ بھی! بڑی بڑی دعوتوں میں وہاں شرکت کرنے کا موقع ملا جن میں ملک کے اس وقت کے صدر اسلام کریموف بھی موجود تھے۔ سب سے پہلے پھل رکھے جاتے ہیں۔ خشک بھی اور تازہ بھی! (ٹماٹر کو بھی وہاں پھل کا درجہ دیا جاتا ہے)۔ انواع و اقسام کے مشروبات پیش کیے جاتے ہیں۔ پھر کئی قسم کے نان اور سالن! سب سے آخر میں کھانوں کا بادشاہ پلاؤ پیش کیا جاتا ہے۔ بڑی دعوتوں میں ساتھ رقص و سرود بھی چلتا رہتا ہے۔ اور ہاں! پلاؤ کے ساتھ دستر خوان پر اور کوئی پکوان نہیں ہوتا۔ پلاؤ کی موجودگی میں کسی اور پکوان کا دستر خوان پر ہونا پلاؤ کی توہین ہے۔ مگر اندھا کیا جانے بسنت کی بہار! میں جب پلاؤ کی موجودگی میں (بشرطیکہ وہ پلاؤ ہی ہو‘ پلاؤ کے ساتھ مذاق نہ کیا گیا ہو) لوگوں کو روٹی سالن یا کچھ اور کھاتے دیکھتا ہوں تو رونے کو بھی دل کرتا ہے اور ہنسنے کو بھی!برصغیر میں پلاؤ آیا تو کچھ عرصہ تو اس کی اصلیت اور خالص پن برقرار رہا۔ پھر پہلا حملہ اس پر بریانی نے کیا جو اسی کی کوکھ سے نکلی تھی۔ یہ کام بڑے مغلوں کے آخری دور میں ہو چکا تھا۔ تاریخ میں لکھا ہے کہ اورنگزیب کے ایک فرزند کے پاس ایک باورچی تھا۔ یہاں ایک اور بات بھی کر لی جائے۔ باورچی کو &#39;&#39;خانساماں‘‘ نہیں کہنا چاہیے! یہ لفظ اصل میں &#39;&#39;خانِ سامان‘‘ ہے۔ یہ عہدے کا نام تھا جو سلطان ٹیپو کی حکومت میں وزیر کے مرتبے کا تھا‘ یعنی Minister of Provisions ۔منتقم مزاج اور متکبر انگریز سامراج نے بربریت کی حِس کو تسکین پہنچانے کیلئے اپنے کتوں کے نام ٹیپو رکھ دیے۔ حجام کو خلیفہ کا لقب دے دیا اور باورچی کو خانِ سامان کا نام دیا۔ صوبائی گورنر کو مسلمانوں کے دور حکومت میں صوبیدار کہا جاتا تھا۔ اس منصب کی تذلیل کیلئے ادنیٰ درجے کے فوجی اہلکار کو صوبیدار کا نام دے دیا جو سب سے جونیئر افسر‘ یعنی لفٹین کا بھی ماتحت ہوتا ہے۔ کہاں صوبیدار جو صوبے کا گورنر تھا اور کہاں صوبیدار جو لفٹین‘ بلکہ نائب لفٹین کو سیلوٹ کرنے پر مجبور ہے۔ اسی طرح مسلمان شرفا کے لباس کی تذلیل کی گئی۔ شیروانی‘ واسکٹ اور دستار ویٹروں اور ملازموں کو پہنائی گئی۔ اور ہماری ملّی &#39;&#39;غیرت‘‘ دیکھیے کہ آج بھی سرکاری محلات اور ضیافتوں میں خدّام دستار اور شیروانی میں ہوتے ہیں۔ بات دور نکل گئی۔ یہ باورچی جو اورنگزیب کے فرزند کے پاس تھا‘ بریانی بہت اچھی پکاتا تھا۔ اورنگزیب اسے اپنے ہاں لے جانا چاہتا تھا مگر شہزادہ طرح دے گیا۔ بہر طور اورنگزیب جب بھی بیٹے کے پاس آتا تو فرمائش کرتا کہ وہی باورچی بریانی پکائے۔افراد اور اقوام پر برے وقت آتے ہیں۔ ملک زوال کا شکار ہو جاتے ہیں۔ تہذیبیں انحطاط کی نذر ہو جاتی ہیں۔ مگر اس وقت جس دورِ ابتلا سے پلاؤ گزر رہا ہے اس کی مثال شاید ہی کسی اور مخلوق میں مل سکے۔ اہلِ پاکستان کی اکثریت نے پلاؤ میں سرخ مرچ کا اضافہ کر دیا ہے جو ایک قبیح بدعت کے مترادف ہے۔ کہاں وہ پلاؤ جسے کھا کر ایک انگریز نے بمبئی میں اسلام قبول کر لیا تھا اور کہاں آج کا پلاؤ جو پلاؤ ہے نہ بریانی نہ کچھ اور!! ویسے ہم پاکستانیوں نے صرف پلاؤ کی لاش کا مُثلہ نہیں کیا‘ بہت سے ظلم اور بھی ڈھائے ہیں۔ نوڈل کا وہ حشر ہوا ہے یہاں کہ اہلِ چین دیکھ لیں تو کانوں کو ہاتھ لگائیں۔ نوڈل میں مرچیں اور تیل (گھی) ڈال کر اسے چکن کڑاہی اور مٹن کڑاہی کے وزن پر نوڈل کڑاہی بنا کر رکھ دیا ہے۔ پاکستان میں ایک اور بیماری بھی کافی عرصے سے چل رہی ہے۔ ہر شے میں چکن ڈال دیا جاتا ہے۔ شکار پور والوں نے اچار بھی چکن کا بنا ڈالا ہے۔ نوڈل میں بھی چکن۔ سپیگتی میں بھی چکن۔ آلو کے کباب ہیں تو وہ بھی خالص نہیں بلکہ چکن آلود ہیں۔ سرسوں کا ساگ ایک خاص پکوان ہے جو سوغات بھی ہے اور Delicacy بھی‘ مگر ہماری ایک مرحوم عزیزہ اس میں بھی‘ ہمارے احتجاج کے باوجود چکن ڈالتی تھیں۔ خداوندِ قدوس ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائیں۔ کہیں سرسوں کا ساگ ان کا دامن پکڑے انصاف نہ مانگ رہا ہو۔ یہ فارمی (برائلر) چکن تو لگتا ہے بنا ہی ہمارے ملک کیلئے ہے۔ جس طرح ہر روز سٹاک ایکسچینج کے نرخ بتائے جاتے ہیں یا ڈالر کا ریٹ‘ یا سونے کا بھاؤ‘ اسی طرح مرغی کے نرخ کا بھی ہر روزاعلان کیا جاتا ہے۔ سنا ہے یہ کاروبار بھی اب بہت ہی مضبوط ہاتھوں میں ہے (سمجھ تو گئے ہوں گے آپ)۔ نام نہاد افسری کو صیقل کرنے کیلئے جب سٹاف کالج لاہور میں پانچ ماہ کی نظربندی عائد کی گئی تو کئی ہفتوں تک دن کے دونوں کھانوں میں مرغی ہی مرغی دی گئی۔ قریب تھا کہ ہمارے پر نکل آتے ہم نے احتجاج کیا اور ہزار دقّت کے بعد کڑھی پکوائی۔پلاؤ پکانے اورکھانے کیلئے جو ذوق‘ جو متانت اور جو ملائمت درکار ہے وہ آج کے دور میں کہاں میسر ہے؟ محب عارفی نے کہا تھا:شریعت خس و خار ہی کی چلے گیعلم رنگ و بو کے نکلتے رہیں گےرواں ہر طرف ذوقِ پستی رہے گابلندی کے چشمے اُبلتے رہیں گےپلاؤ میں مٹر ڈالیں تو مٹر پلاؤ‘ سبزی ڈالیں تو سبزی پلاؤ!! کبھی چنا پلاؤ! قربِ قیامت کی نشانیاں ہیں۔ جب نیل گائے شیر کے بچوں کی اتالیق مقرر ہو نے لگے‘ جب سقے‘ حلال خور‘ دھوبی‘ آبدار‘ اردلی‘ سائیس‘ پیادے‘ داروغے‘ کفش بردار‘ شہزادوں کے ساتھ سنہری‘ بلند‘ مسندوں پر بیٹھنے لگیں تو سمجھو کہ صور پھونکا جانے لگا ہے۔ جس پلاؤ کی آج توہین ہو رہی ہے‘ اس نے وہ دن بھی دیکھے ہیں جب لکھنؤ کے حکمران کا پلاؤ 34 سیر گوشت میں پکایا جاتا تھا۔ سات طرح کے پلاؤ پکتے تھے۔ گلزار پلاؤ‘ نور پلاؤ‘ موتی پلاؤ‘ چنبیلی پلاؤ اور بہت سے اور بھی! ایک دعوت میں جس میں خود نواب واجد علی شاہ نے شرکت کی‘ کُل ستر قسم کے چاول تھے۔ عبد الحلیم شرر نے اپنی معرکہ آرا تصنیف &#39;&#39;گزشتہ لکھنؤ‘‘ میں کمال کا فقرہ لکھا ہے کہ &#39;&#39;اعلیٰ درجے کے پلاؤ کے مقابل بریانی‘ نفاست پسند لوگوں کی نظر میں‘ بہت ہی لدھڑ اور بدنما غذا ہے‘‘۔ بریانی کے شیدائیوں پر لازم ہے کہ عبد الحلیم شرر کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں۔ بقول ظفر اقبال:دیکھ رہ جائے نہ حسرت کوئی دل میں تیرےشور کر اور بہت‘ خاک اُڑا اور بہتموت کے بعد بھی پلاؤ ہی کام آتا ہے۔ اکبر الہ آبادی نے کہا تھا:بتاؤں آپ کو مرنے کے بعد کیا ہو گا؍ پلاؤ کھائیں گے احباب فاتحہ ہو گااکبر الہ آبادی کہنا یہ چاہتے ہیں کہ بریانی یا چنوں والے چاول پکے تو مرنے والے کو سکون نصیب نہیں ہو گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_57182973.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ہم اور ہمارا کاسۂ گدائی(خالد مسعود خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-04-16/51775/12833661</link><pubDate>Thu, 16 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-04-16/51775/12833661</guid><description>گداگری کی بھی عجب مصیبتیں ہیں‘ جیسے جیسے گداگر کا سوشل سٹیٹس بلند ہوتا جاتا ہے اس کی مجبوریوں میں بھی اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ گلی محلے میں‘ سڑک پر‘ کسی چوک یا کسی مارکیٹ میں کھڑا ہوا گداگر آپ سے خیرات مانگتا ہے‘ اگر آپ اسے خیرات دینے سے انکار کر دیں تو یہ اس کی صوابدید ہے کہ وہ خوش دلی سے اپنی راہ لے‘ آپ پر ملامتی نگاہ ڈالے اور چلا جائے۔ یا انکار کے باوجود آپ کو دعا دے یا پھر منہ میں بڑبڑاتے ہوئے آپ کے بارے میں اپنے دلی جذبات کا اظہار کرے اور اپنی راہ لے۔ اس لحاظ سے اس عام تام گداگر کو خیرات ملنے یا نہ ملنے کی صورت میں اپنے دلی جذبات کا اظہار کرنے کی کھلی چھوٹ اور آزادی ہے۔ ریاستی گداگری میں بہت سے سفارتی و غیرسفارتی معاملات‘ مختلف معاشی مجبوریاں اور بہت سی دیگر ناگفتنی رکاوٹیں آپ کو اپنے دلی جذبات کا اظہار بھی نہیں کرنے دیتیں۔ دل میں پیچ و تاب کھانے کے باوجود آپ چہرے پر مسکراہٹ رکھتے ہیں‘ لہجہ نرم رکھتے ہیں اور بیانات میں شیرینی استعمال کرتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں آپ سراسر منافقت کرتے ہوئے دل میں کچھ اور زبان پر کچھ رکھتے ہیں۔ یو اے ای والے ساڑھے تین ارب ڈالر کی واپسی والا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ اخبارات آج بھی یہی لکھتے ہیں کہ ایک دوست ملک کی جانب سے قرض کی واپسی کے مطالبے کے بعد پاکستان کو دو دیگر دوست ممالک(سعودی عرب، قطر) نے مالی مشکل سے نکلنے کیلئے قریب پانچ ارب ڈالر کی فوری مالی امداد کی پیشکش کی ہے۔ اس امداد سے مراد کوئی مفت رقم نہیں بلکہ زرِ مبادلہ کے ذخائر کو بہتر کرنے کی غرض سے ادھار پر دی جانے والی ویسی ہی رقم ہے جیسی رقم پاکستان اب یو اے ای کو واپس ادا کر رہا ہے۔ متوقع طور پر ملنے والے ان پانچ ارب ڈالر میں سے تین ارب ڈالر کی تو سعودی عرب نے یقین دہانی بھی کروا دی ہے۔ باقی دو ارب ڈالر کا بندوبست بھی ہو جائے گا۔ان پانچ ارب ڈالر میں سے ساڑھے تین ارب ڈالر تو اس قرض کی ادائیگی میں چلے جائیں گے جو ہم نے یو اے ای کو دینا ہے۔ تاہم اس لین دین میں جہاں قومی خزانہ ساڑھے تین ارب کی جگہ پانچ ارب لے کر ڈیڑھ ارب ڈالر کے فائدے میں رہے گا وہیں قرضوں کی دلدل میں ڈوبا ہوا ملک مزید ڈیڑھ ارب ڈالر کے بوجھ تلے آ جائے گا۔ کیا عجب مجبوریاں ہیں کہ ہم کھل کر یہ بھی نہیں بتا سکتے کہ اس برے وقت پر جب پوری دنیا معاشی شکنجے میں پس رہی ہے‘ ایسے میں اچانک ہی ان ساڑھے تین ارب ڈالر کی واپسی کا تقاضا کیا معنی رکھتا ہے۔ یہ کہنا کہ یو اے ای کی جانب سے قرض کی واپسی کا تقاضا کوئی زیادتی ہے‘ بذاتِ خود زیادتی ہوگا۔ قرض کی رقم واپس کرنا جہاں قرض لینے والے کا فرض ہے وہیں قرض کی واپسی کا تقاضا کرنا قرض دینے والے کا حق ہے۔ سو یو اے ای نے اپنے اس حق کا استعمال کیا جس پر اخلاقی اور قانونی طور پر قرض واپس کرنے والے کو واویلا کرنے کا نہ تو حق ہے اور نہ ہی اسے ایسا کرنا چاہیے۔ تاہم چیزیں اپنی ٹائم لائن اور وقت کے اعتبار سے بری یا بھلی ہو جاتی ہیں ایسے وقت میں جبکہ اچھے بھلے اقتصادی طور پر مستحکم ممالک بھی تنگی اور پریشانی کا شکار ہیں‘ ہم جیسے ہما شما تو کسی قطار میں ہی نہیں۔ عشروں سے اقتصادی طور پر برے حالوں کا شکار پاکستان جو اپنے خسارے کے بجٹ کے باعث اپنی آمدن اور خرچ میں فرق کو قرضے لے کر پورا کرتا چلا آ رہا ہے‘ حالیہ عالمی صورتحال کے باعث مزید مشکلات کا شکار تھا اور ایسے میں دوستوں کو ہماری مدد نہ سہی‘ کم از کم ہمیں مزید مشکل میں بھی نہیں ڈالنا چاہیے تھا لیکن ہمیں مشکل میں ڈالا گیا۔ ہمارے عزیز دوست میاں غفار نے ایک بار ایک واقعہ سنایا کہ ان کی کالج میں کسی لڑکے سے دوستی ہو گئی‘ جو جلد ہی گہری دوستی میں بدل گئی۔ ممکن ہے کہ ابھی اس دوستی میں مزید گہرائی پیدا ہوتی اور یہ گہری دوستی لنگوٹیے پن اور بھائی چارے میں بدل جاتی‘ ایک روز اس نئے دوست نے میاں کو کہا کہ میرے والد صاحب نے مجھے تین نصیحتیں کی ہیں۔ پہلی یہ کہ جب تمہارے کسی دوست کی کسی سے لڑائی ہو جائے تم نے وہاں سے خاموشی سے کھسک جانا ہے۔ دوسری یہ کہ صورتحال خواہ کیسی بھی کیوں نہ ہو تم نے اپنے کسی دوست کو ادھار نہیں دینا کیونکہ ادھار محبت کی قینچی ہے اس لیے دوستی برقرار رکھنے کیلئے ادھار کو درمیان سے نکالنا پڑے گا۔ تیسری بات یہ کہ اگر تمہارا دوست کبھی رات کے وقت آ کر تمہارا دروازہ کھٹکھٹائے تو نہ صرف یہ کہ تم نے دروازہ نہیں کھولنا بلکہ اس کو گھر میں اپنی موجودگی کا احساس بھی نہیں ہونے دینا۔ میاں کہتا ہے کہ میں نے سوچا کہ یہ کیسا دوست ہے جو دوستی کا دعویدار تو ہے مگر کسی مشکل میں‘ مصیبت میں‘ لڑائی میں اور میری معاشی تنگی میں میرے ساتھ نہیں ہے۔ میاں غفار کہتا ہے کہ میرے تو دماغ کا فیوز اُڑ گیا‘ میں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اس کو ایک زور دار طمانچہ رسید کیا اور اس کے بعد اس لڑکے سے کبھی کوئی تعلق نہ رکھا۔ جیسا کہ میں نے پہلے کہا ہے کہ عام گداگر اور عام آدمی کو بہت سی سہولتیں حاصل ہیں۔ میاں غفار بھی ہماری طرح کا عام آدمی ہے۔ اس نے جب اپنے نام نہاد دوست کی تین باتیں سنیں تو جو اس کے جی میں آیا اس نے اس کا برملا اظہار کرتے ہوئے اس کو طمانچہ مار کر اپنے دلی جذبات کو ٹھنڈا کیا۔ ایک عام آدمی کی حیثیت سے اسے یہ سہولت حاصل تھی جو اس نے استعمال کی لیکن ہمیں بحیثیت ریاست ایسی کوئی سہولت میسر نہیں ہے۔ عام آدمی ہونے کے جہاں بہت سے نقصانات ہیں وہاں کچھ فوائد بھی ہیں۔ ہماری مجبوری یہ ہے کہ یو اے ای میں سترہ لاکھ کے لگ بھگ پاکستانی کام کرتے ہیں اور یہ ورکر وہاں سے اوسطاً 700سے 800 ملین ڈالر ماہانہ جو تقریباً آٹھ سے نو ارب ڈالر سالانہ بنتے ہیں‘ پاکستان بھجواتے ہیں۔ ہماری حکومتیں اس صورتحال میں کوئی رسک نہیں لے سکتیں۔ انہیں علم ہے کہ بیک جنبش قلم بلا وجہ بتائے پاکستانیوں کے ویزے بند کرنے والا ہمارا یہ دوست ملک ایسی کسی ناخوشگوار صورتحال میں ایک حکم کے ذریعے ان سترہ اٹھارہ لاکھ پاکستانیوں کو ڈی پورٹ کر دے گا۔ مجبوریوں کا یہ عالم ہے کہ ہم تو واپسی کے مطالبے پر ادھر ادھر سے مانگ تانگ کر یہ قرض بروقت ادا کرنے کی تگ و دو میں لگے ہوئے ہیں لیکن ہم یہ نہیں کر سکتے کہ یو اے ای سے 2005ء میں پی ٹی سی ایل کے 26 فیصد حصص کی 2.6ارب ڈالر میں فروخت کی رقم کے بقایا 800 ملین ڈالر ہی وصول کر لیں یا اس قرض کی رقم میں سے منہا ہی کروا لیں۔ 2005ء سے واجب الادا یہ آٹھ سو ملین ڈالر آج کے حساب سے صرف افراطِ زر کو شامل کرکے ایک ارب پچیس کروڑ ڈالر بن جاتے ہیں۔ اگر اس آٹھ سو ملین پر وہی چھ فیصد کمپاؤنڈ سود لگائیں جو یو اے ای ہم سے اپنے قرض والے ڈپازٹ پر لے رہا تھا تو یہ رقم اڑھائی ارب ڈالر سے زیادہ بن جاتی ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ مجبوریوں نے زبان بند اور ہاتھ باندھ رکھے ہیں ۔میں گزشتہ تیس سال کے دوران بارہا یو اے ای جا چکا ہوں اور ان تیس سالوں میں پاکستان اور پاکستانیوں کی عزت کے سمتِ معکوس کی جانب ہونے والے سفر کا عینی شاہد ہوں۔ کبھی وہاں پاکستانی روپیہ بھی چلتا تھا اور پاکستان کا &#39;&#39;سکہ‘‘ بھی قائم تھا۔ پھر آہستہ آہستہ سب کچھ ختم ہو گیا۔ امارات ایئر لائن اور اتصالات کو پی آئی اے اور پی ٹی سی ایل کے ماہروں اور انجینئروں نے چلایا اور پھر اسی اتصالات نے پی ٹی سی ایل کو خرید لیا اور امارات ایئر لائن نے پی آئی اے کو کئی نوری سال پیچھے چھوڑ دیا۔ فرق صرف اخلاص کا ہے وگرنہ ہم پاکستانی صلاحیتوں میں کسی سے کم نہیں۔ نہ ہمارے حکمرانوں کو ملک سے کوئی غرض ہے اور نہ ہمیں ہی اس ملک کے مستقبل کی کوئی فکر ہے۔ سو ہم ہیں اور ہمارا کاسۂ گدائی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90500073.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پاکستان کو کیا ملا؟(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-04-16/51776/74772386</link><pubDate>Thu, 16 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-04-16/51776/74772386</guid><description>&#39;&#39;... مگر اس سے پاکستان کو کیا ملا؟ کیا اب پٹرول سستا ہو جائے گا؟ کیا پاکستانی برآمدات میں اضافہ ہو جائے گا؟ کیا مہنگائی کم ہو جائے گی؟‘‘ان سوالات کی لغویت اتنی ظاہر و باہر ہے کہ ایک بالغ نظر سماج میں ان کو زیرِ بحث آنا ہی نہیں چاہیے۔ خوش ذوق قارئین سے معذرت کے ساتھ مجھے انہیں موضوع بنانا پڑا کہ یہ سوالات یہاں اٹھائے گئے ہیں اور ایک بڑی تعداد اس کو دانش کی ایک مثال  قرار دیتے ہوئے دُہرا رہی ہے۔ یہ حالات کا جبر ہے کہ ہمیں بعض اوقات ایسے موضوعات پر قلم اٹھانا پڑتا ہے جو اس کے مستحق نہیں ہوتے کہ کسی سنجیدہ فورم پر زیرِ بحث آئیں۔دنیا میں باعزت مقام کیلئے ریاستیں کروڑوں ڈالر خرچ کرتی ہیں۔ صرف امریکہ کے بااثر حلقوں میں اپنی ساکھ کو بہتر بنانا اب سفارتی ضرورت بن چکا۔ امریکی صدر کی زبان سے ایک آدھ توصیفی جملہ سننے کیلئے پاکستان جیسے ممالک لابنگ فرمز کو لاکھوں ڈالر  ادا کرتے ہیں۔ محض یہ تاثر کہ امریکہ کا جھکاؤ آپ کی طرف ہے‘ آپ کیلئے مواقع سے مملو ایک دنیا کا دروازہ کھول دیتا ہے۔ امریکہ  کا اشارہ ہو تو آئی ایم ایف اور عالمی بینک کی تجوریوں کے دروازے آپ کیلئے کھل جاتے ہیں۔ یہ صرف امریکہ کے ساتھ خاص نہیں۔ ہر اُس قوت کا التفات آپ کی ضرورت ہے جو دنیاکے فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس مقصد کیلئے ریاستیں ہی نہیں سیاسی جماعتیں بھی پیسہ خرچ کرتی ہیں۔ گزرے کل جب امریکی کانگرس کے کچھ اراکین نے عمران خان صاحب کی رہائی اور تحریکِ انصاف کے حق میں آواز اٹھائی تو یہ خد مت فی سبیل اللہ سرانجام نہیں دی گئی۔ اس پر لاکھوں ڈالر خرچ کرنا پڑے۔ صدر ٹرمپ سے تحریک انصاف کی وابستہ توقعات کا سبب بھی یہی تھا۔اس ثالثی سے پاکستان کو جو کچھ ملا‘ یہ لاکھوں ڈالرصرف کرنے سے بھی نہ ملتا۔ امریکی صدر کم و بیش روزانہ پاکستان کے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کا تذکرہ کرتے ہیں اور تعریف کے ساتھ۔ مذاکرات کا اگلا مرحلہ بھی اسلام آباد میں ہونے کی بات ہو رہی ہے۔ یہ  آپ پر عالمی قوتوں کے بھروسے کا اعلان ہے۔ اس سے آپ کی ساکھ بنتی ہے۔ یہ ساکھ ہی ہے جس سے معاشی و سیاسی امکانات پیدا ہوتے ہیں۔ لوگ آپ کی ضمانت دینے پر آمادہ ہوتے ہیں۔ عالمی معیشت نقد ادائیگی سے نہیں‘ ضمانتوں سے چلتی ہے۔ ساکھ بنتی ہے تو بند دروازے کھلتے چلے جاتے ہیں۔ کاروبار آگے بڑھتا ہے اور باہمی تعلقات بھی۔ہم صدر ٹرمپ کو برا بھلا کہتے ہیں اور صحیح کہتے ہیں۔ ان کی شخصیت میں اتنے خلا ہیں جو انہیں ناقابلِ بھروسہ ثابت کرتے ہیں۔ اس کے باوصف وہ دنیا کی واحد سپر پاور امریکہ کے صدر ہیں۔ ان کا کہیں جانا ایک واقعہ ہے۔ ان کی ایک ٹویٹ سے عالمی تجارت کے مراکز اوپر نیچے ہو جاتے ہیں۔ جب یہ بات پھیلتی ہے کہ وہ پاکستان کے دورے پر آ رہے ہیں تو اس سے سیاست‘ معیشت‘ ہر شے متاثر ہوتی ہے۔ بھارت کی تلملاہٹ کا سبب یہی ہے۔ دنیا کی نظریں پاکستان پر لگی ہیں۔ اسلام آباد کا نام ساری دنیا میں گونجنے لگا ہے۔ عام آدمی سوال کرتا ہے: یہ پاکستان کہاں ہے جہاں تیسری عالمی جنگ روکنے کیلئے عالمی قیادت سر جوڑ کر بیٹھی ہے؟ یہ سوال اپنے اندر یہ جواب لیے ہوئے ہے کہ یہ کوئی اہم ملک ہے جس کو باہم متحارب قوتوں کا اعتماد حاصل ہے۔پاکستان کو حاصل ہونے والے اس مقام نے بھارت کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون گرا دیا ہے۔ وہ یہ ثابت کرنے کی سر توڑ  کوشش کر رہا تھا کہ پاکستان دہشت گردی کا مرکز ہے۔ یہاں عالمی دہشت گردوں کو پناہ ملتی ہے۔ دنیا کے دوسرے ممالک میں ہونے والے بعض افسوسناک واقعات سے اس مقدمے کو تقویت ملی جن میں پاکستانیوں کا نام آیا۔ اس سے پاکستان دباؤ کا شکار ہوا۔ پاکستان کی ساکھ پر سوالات اٹھنے لگے۔ پاکستان کے پاسپورٹ کو مشکوک سمجھا جانے لگا۔ لوگ پاکستان میں سرمایہ کاری سے گریزاں ہونے لگے۔ پاکستانی معیشت مسائل کا شکار ہو گئی۔ ہم اس بحث میں نہیں پڑتے کہ یہ تاثر درست تھا یا غلط لیکن یہ  بھارت کی کامیابی تھی۔ وہ دنیا کو یہ باور کرانا چاہتا تھا کہ پاکستان دہشت گردی کا مرکز ہے اور بھارت امن کا علم بردار۔ اس کے پروپیگنڈا کے زیرِ اثر مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم اور بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک پس منظر میں چلے گئے۔ سرمایہ کار بھارت کا رخ کرنے لگے اوروہ اس کے معاشی ثمرات سمیٹنے لگا۔آج صورتحال بدل رہی ہے۔ پاکستان وہ ملک ہے جو عالمی جنگ روکنے کا سبب بن رہا ہے۔ جو دنیا کو امن کا پیغام دے رہا ہے۔ جو لاکھوں انسانوں کی جان بچانے کیلئے اگلے محاذوں پر سرگرم ہے۔ امریکہ اور ایران پاکستان کے اس کردار کو تسلیم کر رہے ہیں۔ اس کا بدیہی نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان کے بارے میں دہشت گردوں کے حامی ہونے کا تاثر دم توڑ رہا ہے۔ ٹرمپ جیسی مشکل شخصیت کو جنگ بندی پر آمادہ کرنا آسان نہیں تھا۔ پاکستانی قیادت نے ان کی نفسیاتی ساخت کا ادراک کرتے ہوئے ان کے ساتھ معاملہ  کیا اور وہ اس میں کامیاب رہے۔ طاقت کے سامنے اخلاقیات کے مباحث بے معنی ہیں۔ اسے راہ پر لگانے کیلئے بصیرت اور حکمت کی ضرورت ہوتی ہے اور پاکستان نے انہی سے کام لیا۔بالغ نظر قارئین کے سامنے یہ مقدمہ رکھنا‘ میں جانتا ہوں کہ تحصیلِ حاصل ہے۔ پاکستان کو اس سے کیا ملا‘ اس سوال کا جواب اتنا بدیہی اور واضح ہے کہ اس پر الفاظ اور وقت ضائع کرنا عقل مندی نہیں۔ لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ یہاں لوگوں کو پیش پا افتادہ حقائق کی طرف متوجہ کرنا پڑتا ہے۔ جو باتیں عقلِ عام کے استعمال سے معلوم ہو سکتی ہیں‘ وہ نظروں سے اوجھل ہو جاتی ہیں۔ لوگ انہیں دیکھنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔ جیسے آنکھوں کے سامنے کوئی حجاب آ جائے۔ پھر وہ سوال کرتے ہیں: پاکستان کو کیا ملا؟ کیا پٹرول سستا ہو گیا؟ کیا معیشت سنبھل گئی؟پاکستان نے اگر اسی بصیرت کا مظاہرہ جاری رکھا تو ان سوالات کے نقد جواب بھی جلد سامنے آئیں گے۔ اگر پاکستان امریکہ کو  اس دلدل سے نکالنے میں معاون بنتا ہے تو امید کی جا سکتی ہے کہ ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن اور پٹرول کی خریداری پر پاکستان کو پابندیوں سے استثنا مل جائے۔ اس سے ہمارا بنیادی مسئلہ حل ہو جائے گا جو صنعت کو آگے بڑھانے میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ پٹرول اورگیس سستے ہو گئے تو مہنگائی کا جن قابو میں آ جائے گا۔ اس کے علاوہ بھی کئی فوائد ہیں جو آج ہمارے لیے اَن دیکھے ہیں مگر عنقریب ہم کھلی آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔ یہ دنیا اسی طرح آگے بڑھتی ہے۔مواقع اور امکانات کبھی آپ کے دروازے پر دستک دیتے ہیں اور کبھی آپ ان کو تلاش کرتے ہیں۔ ہر چیلنج اپنے ساتھ امکان رکھتا ہے۔ صدر ٹرمپ یورپ سے دور ہوئے۔ چین اور روس سے پہلے ہی دوری تھی۔ سعودی عرب اور خلیج کے دوسرے ممالک اس جنگ میں فریق بن چکے تھے۔ ٹرمپ اور ایران کسی کی طرف ثالثی کیلئے دیکھ رہے تھے کہ جنگ کے اختتام کیلئے ثالث ناگزیر ہوتا ہے۔ پاکستان کو موقع ملا اور اس نے آگے بڑھ کراس کا ہاتھ تھام لیا۔ مواقع اسی طرح انفرادی اور اجتماعی سطح پر دستک دیتے ہیں۔ ہمارا  کام ان کا خیر مقدم کرنا ہے۔ پاکستان کو موقع ملا کہ وہ اپنی ساکھ کے بارے میں پھیلے تاثر کو بدلے اور اس نے اس موقع کو ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ یہ خوشی کا موقع ہے‘ ماتم کا نہیں۔ امید کا مقام ہے‘ مایوسی کا نہیں۔ ہمیں بہت کچھ ملا ہے۔ یہ دیکھنے کیلئے دیدۂ بینا ضروری ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ٹرمپ پاکستان آ رہے ہیں؟(عمران یعقوب خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-04-16/51777/31445458</link><pubDate>Thu, 16 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-04-16/51777/31445458</guid><description>خبر یہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نہ صرف ایران کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے تیار ہیں بلکہ اس مقصد کے لیے پاکستان آنے پر بھی آمادہ ہو سکتے ہیں۔ یہ مذاکرات ایک بار پھر پاکستان میں ہوں گے اور اگلے ایک دو دن میں شروع ہو سکتے ہیں۔ ایسے موقع پر ذہن میں پہلا سوال یہی آتا ہے کہ آیا یہ مرحلہ نتیجہ خیز ثابت ہو گا؟ میری پیش گوئی یہ ہے کہ اگر ایران اور امریکہ مذاکرات کے پہلے مرحلے میں معاہدے کے خاصے قریب پہنچ چکے تھے تو عین ممکن ہے کہ اس بار معاہدہ طے پا جائے۔ معاملہ پھر وہی ہے کہ ایران کو یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ اس کے سارے مطالبات امریکہ تسلیم کر لے گانہ  ہی امریکہ کو اس خام خیالی میں رہنا چاہیے۔ ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکہ کے حد سے زیادہ مطالبات کی وجہ سے تہران نے سرنڈر کرنے سے انکار کر دیا تھا اور گزشتہ ہفتے ہونے والے مذاکرات کی ناکامی کی یہی سب سے بڑی وجہ تھی‘ بصورت دیگر مذاکرات کا وہ مرحلہ بھی کامیاب ہو سکتا تھا۔ اسی تناظر میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ  مذاکرات کے لیے تیار ہیں لیکن سرنڈر کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش ناکام ہو گی۔ ممکن ہے ایران اپنے ایٹمی پروگرام پر کچھ عرصہ کے لیے سمجھوتا کر لے۔ امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے یورینیم کی افزودگی پانچ سال تک معطل کرنے کی تجویز پیش کی تھی لیکن امریکہ نے ایران کی یہ پیشکش مسترد کر دی تھی۔ غیر ملکی اخبار لکھتا ہے کہ امریکہ ایران کو یورینیم کی افزودگی 20 سال تک معطل کرنے پر اصرار کر رہا ہے۔ یہ امکان بھی ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کو عالمی تجارت کے لیے غیر مشروط طور پر کھول دے۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ ایران اپنے جنگی نقصانات کے ازالے کا تقاضا واپس لے لے لیکن  دو تین چیزیں ایسی ہیں جن پر ایران کے لیے کمپرومائز کرنا شاید ممکن نہ ہو۔ ان میں سب سے پہلا معاملہ ہے لبنان پر اسرائیلی حملوں کا روکا جانا ہے۔ اس حوالے سے بات چیت ہو تو رہی ہے لیکن نیتن یاہو کی وجہ سے اس بات چیت کی کامیابی کے امکانات کم نظر آتے ہیں۔ دوسرا ایران اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام پر کوئی سمجھوتا کرنے کے لیے تیار نہیں ہو گا کیونکہ حالیہ جنگ میں یہی میزائل ایران کے لیے سب سے بڑا اثاثہ ثابت ہوئے ہیں۔ ایران کے لیے یہ ممکن نہیں ہو گا کہ وہ اپنے ہاتھ کاٹ کے امریکہ کے حوالے کر دے اور اس کے بعد اسرائیل پورے مشرقِ وسطیٰ میں دندناتا پھرے۔یہ حقیقت ہے کہ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے والے فریق اپنی ساری شرطیں منوا کر نہیں اٹھتے بلکہ ان میں سے کچھ ہی فریقِ مخالف کے لیے قابلِ قبول ہوتی ہیں اور انہی پر اتفاقِ رائے کرنا پڑتا ہے یعنی فریقین کی شرائط بڑی لیکن مارجن محدود ہوتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ جب معاملات بے حد پیچیدہ ہوں اور فریقین کے تقاضے ضرورت سے زیادہ بڑے ہوں تو پھر ایک نشست میں یا دو دنوں کے مذاکرات میں مسائل کا حل نکلنا مشکل ہوتا ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس مذاکرات کے سلسلے کو مکمل طور پر ختم کر کے یہاں سے نہیں گئے بلکہ انہوں نے یہ کہا کہ ہم ایک بہت سادہ تجویز چھوڑ کر جا رہے ہیں جو ہماری حتمی اور بہترین آفر ہے‘ ہم دیکھتے ہیں کہ آیا ایران اسے مانتا ہے یا نہیں۔ ان کے اس ایک جملے سے یہ تاثر ملتا ہے کہ امریکہ کی جانب سے ایران کو پیشکش کی گئی ہے اور اب اس پر جواب کا انتظار کیا جائے گا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ  کی جانب سے مذاکرات کے دوسرے مرحلے پر آمادگی نے اس موہوم امید کو ٹھوس یقین میں بدل دیا ہے۔اقوام متحدہ کا ادارہ دنیا سے Might is right کے جنگلی قانون کو ختم کرنے کے لیے بنایا گیا تھالیکن 80 برسوں میں جنگل کے اس قانون کو تبدیل نہیں کیا جا سکا۔ اس کی ایک وجہ تو پانچ ممالک کو حاصل ویٹو کا اختیار ہے۔ اس اختیار کا مطلب اس کے سوا اور کوئی نہیں ہو سکتا کہ یہی پانچ اقوام یا ممالک دنیا کی تقدیر کا فیصلہ کریں گے اور اگر انہیں کوئی بات یا کوئی قانون پسند نہیں آتا تو وہ بیک جنبش قلم اس کو مسترد کر سکتے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا کو مائٹ از رائٹ کی ایک نئی شکل دکھائی ہے۔ عالمی قوانین کو نہ ماننا‘ اقوام متحدہ کی کوئی حیثیت نہ دینا‘ عالمی عدالت کے فیصلے تسلیم نہ کرنا‘ نیٹو کو ختم کرنے کی باتیں‘گرین لینڈ پر قبضے کی خواہش‘ کینیڈا کو امریکہ کا حصہ بنانے کی باتیں اور وینزویلا پر حملہ‘ ایسا طرزِ عمل اس سے پہلے شاید ہٹلر کے زمانے میں مشاہدے میں آیا تھا اور اس کے بعد اب۔ کیا ایسے طرزِ عمل کے بعد عالمی امن کے برقرار رہنے کی امید کی جا سکتی ہے؟واپس مذاکرات کی طرف آتے ہیں۔ سینئر صحافی حامد میر نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خواہش ہے کہ وہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے پاکستان آئیں لیکن انہوں نے اسلام آباد آنے کے لیے ایک شرط بھی رکھی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جو بات چیت چل رہی ہے اس میں بہت سے بین الاقوامی معاہدے بھی شامل ہیں اور بین الاقوامی ماہرین ان معاہدوں کو سامنے رکھ کر معاہدوں کا ڈرافٹ تیار کرتے ہیں‘ اور ایسے بہت سے ماہرین امریکہ‘ ایران اور دیگر سٹیک ہولڈرز کی طرف سے پاکستان میں موجود ہیں۔ حامد میر صاحب کے اس بیان کی روشنی میں کیا یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ ایران اور امریکہ اس بار ایک جامع معاہدے پر پہنچنے میں کامیاب ہو جائیں گے؟ جیسا کہ پہلے عرض کیا‘ مجھے اس کی امید ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا یہ بیان میرے اور حامد میر کے تجزیے کی توثیق کرتا نظر آتا ہے کہ ٹرمپ چاہتے ہیں ایران سے چھوٹی نہیں جامع ڈیل ہو۔یہ حقیقت ہے کہ ایران کی جنگ نے جنگوں کو نئے معنی دیے ہیں۔ اب کوئی بھی ملک کسی دوسرے ملک پر حملے سے قبل شاید سو بار سوچے گا۔ لیکن کیا اب دنیا سے جنگوں کا مکمل خاتمہ ممکن ہو سکے گا؟ میرا خیال ہے کہ نہیں‘ جب تک مساوات پر مبنی عالمی فیصلے نہیں ہوں گے اور جب تک &#39;میں نہ مانوں‘ والا رویہ تبدیل نہیں ہو گا‘ جنگوں کے خدشات باقی رہیں گے۔ مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں ہونے والی بات چیت کے نتیجے میں اللہ کرے کہ معاہدہ ہو جائے تاکہ جنگ کی وجہ سے عالمی برادری کو جن خطرات اور خدشات کا سامنا ہے‘ وہ دور ہو جائیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ سوچنے کی ضرورت پہلے کی نسبت بڑھ چکی ہے کہ کبھی دنیا کو پائیدار امن والی جگہ بنایا جا سکے گا؟ یہاں مساوات قائم ہو سکے گی؟ یہاں میرٹ پر فیصلے ہو سکیں گے؟گزشتہ روز صدر ٹرمپ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ایران کے ساتھ جنگ ختم ہونے کے قریب ہے۔ ایسا ہو جائے تو بہت اچھی بات ہو گی‘ لیکن میرے خیال میں اس کا انحصار اس بات پر ہو گا کہ ایران اور امریکہ مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں کتنی لچک کا مظاہرہ کرتے ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_58350786.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>اسلام آباد مذاکرات ، پاکستان کی سفارتی فتح(کنور دلشاد)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/kunwar-mohammad-dilshad/2026-04-16/51778/52179077</link><pubDate>Thu, 16 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/kunwar-mohammad-dilshad/2026-04-16/51778/52179077</guid><description>اسلام آباد مذاکرات کے لیے ہفتہ 11 اپریل کو آنے والے ایرانی وفد کا حجم اور اس کی ساخت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ایران مذاکرات کو منطقی نتیجے پر پہنچانے کے لیے سنجیدہ ہے اور وہ مکمل اختیار اور سنجیدگی کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنے کے ارادے سے آئے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ 80 کے لگ بھگ اراکین پر مشتمل اس وفد میں 26 سے زائد معاشی‘ سیاسی اور سکیورٹی امور کے ماہرین تھے۔ اتنے بڑے اور ماہرین پر مشتمل وفد سے اس بات کا عندیہ ملتا ہے کہ مذاکرات ابتدائی مرحلے پر محض امکانات جانچنے یا فضا کو پرکھنے کے لیے نہیں بلکہ کسی ممکنہ معاہدے کے آخری مراحل میں داخل ہو چکے ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے مابین اس حد تک پیش رفت ہو چکی ہو جس کا ابھی اندازہ نہیں لگایا جا رہا۔ خاص طور پر حالیہ ہفتوں میں پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے پس پردہ رابطوں کے دوران ٹرمپ کے لہجے اور رویے میں 180 ڈگری تبدیلی اور براہِ راست مذاکرات سے یہ بات واضح ہے کہ بہت سے معاملات پر اتفاق ہو چکا ہے اور اسلام آباد میں دونوں ممالک کے مذاکرات معنی خیز ہوئے۔ تاہم اس کے باوجود جب تک باقاعدہ اعلامیہ سامنے نہ آ جائے کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا۔ البتہ ایک بات یقینی طور پر کہی جا سکتی ہے کہ پاکستان نے خود کو منوانے کیلئے ایک ناقابلِ یقین کام کیا ہے۔ یہ اسکے عروج کا نقطہ آغاز ہے۔ گزشتہ روز وزیراعظم سعودی عرب اور قطر کے دورے پر روانہ ہوئے جہاں جدہ ایئر پورٹ پر ان کا پُرتپاک استقبال کیا گیا۔ دوسری جانب فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیر داخلہ نے تہران کا دورہ کیا‘ جہاں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ان کا استقبال کیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل کا دورہ مصالحتی کوششوں کا حصہ ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ ایران پاکستان کے ذریعے امریکہ کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ کر رہا ہے اور اسی سلسلے میں وہ پاکستانی وفد کی میزبانی کر رہا ہے۔ ایرانی حکام نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ مذاکرات کا دوسرا دور آئندہ چند دنوں میں (اگلے بدھ کو شاید) اسلام آباد میں متوقع ہے۔ سفارتی رابطوں میں تیزی اور پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کے ہنگامی دوروں سے یہ بات واضح ہوتی جا رہی ہے کہ ایران اور امریکہ میں برف کافی حد تک پگھل چکی ہے‘ فریقین بیشتر معاملات پر اتفاقِ رائے کر چکے ہیں اور مستقل امن معاہدہ اب چند ہاتھ کی دوری پر رہ گیا ہے۔ بھلے فریقین میں کوئی پائیدار معاہدہ نہ ہو‘ تب بھی امریکہ اور ایران جیسے حریفوں کو اسلام آباد میں اکٹھا کرنا پاکستان کی بڑی کامیابی اور ایک تاریخی سفارتی فتح ہے۔پاکستان کی بیورو کریسی‘ جسے ریاست کا اہم ترین پرزہ کہا جاتا ہے‘ آج ایک ایسے تضاد سے گھری ہوئی ہے جہاں وفاداری اور مفاد آمنے سامنے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل سپریم کورٹ میں پیش کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق 22 ہزار سے زائد اعلیٰ سرکاری افسران دہری شہریت رکھتے ہیں۔ اب یہ تعداد مزید بڑھ چکی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ دہری شہریت کیوں ہے‘ سوال یہ ہے کہ یہ سب کچھ کیسے ممکن ہوا؟ ایک طرف آفیسر اس ملک کے آئین کی پاسداری کا حلف اٹھاتا ہے اور دوسری طرف وہی آفیسرامریکہ یا یورپی ممالک کا پاسپورٹ رکھتا ہے۔ اگر ہم ایک حقیقت پسندانہ جائزہ لیں تو گریڈ 17 سے گریڈ 22 تک کے افسران کی آمدن ہی اتنی نہیں کہ ان کے بچے بیرونِ ملک مہنگی یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کر سکیں‘ ان کے خاندان امریکہ یا یورپ میں سکونت اختیار کر سکیں۔ مگر ان کی جائیدادیں پاکستان میں بھی ہیں اور باہر بھی‘ تو پھر سیدھا سوال یہ ہے کہ یہ پیسہ کہاں سے آ رہا ہے؟ کیا یہ سب کچھ تنخواہ سے ممکن ہے؟ یا کمیشن‘ کرپشن‘ اختیارات کے ناجائز استعمال اور اندرونی ملی بھگت کا نتیجہ ہے؟ تشویشناک پہلو یہ نہیں کہ افسران نے دہری شہریت لے رکھی ہے‘ اصل خطرہ یہ ہے کہ حساس اداروں میں بھی اس قسم کے افسران تعینات ہو جاتے ہیں‘ یہی قومی مستقبل اور وسائل کی تقسیم کے فیصلے کرتے ہیں۔ یہ صرف مفاد کا ٹکراؤ نہیں بلکہ ریاستی سلامتی کا سوال ہے‘ لہٰذا ضروری ہے کہ سروس رولز میں ترامیم کر کے دہری شہریت کے حامل افسران کو ملازمت سے ڈِسمس کیا جائے اور ان کی جائیدادیں بھی ضبط کی جائیں۔ اب کچھ ذکر سابق چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) قاضی محمد فاروق کا جن کا گزشتہ دنوں انتقال ہوا۔ مقام استعجاب ہے کہ ان کے انتقال کی خبر کو میڈیا نے بھی نظرانداز کیا اور حکومتی سطح پر بھی تعزیت کا کوئی پیغام نظر نہیں آیا۔ قاضی محمد فاروق سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج اور پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس بھی رہے مگر حیران کن طور پر اُن کے انتقال پر سپریم کورٹ اور پشاور ہائیکورٹ نے بھی خاموشی اختیار کیے رکھی۔18 اگست 2008ء کو جب پرویز مشرف شدید دبائو کے سبب صدارتی منصب سے مستعفی ہو گئے تو آصف علی زرداری پیپلز پارٹی حکومت کے مضبوط صدارتی امیدوار کے طور پر سامنے آئے۔ اسی دوران بعض بااثر شخصیات نے معروف ماہر قانون ڈاکٹر فاروق حسن کی خدمات حاصل کیں اور ان کے ذریعے زرداری صاحب کی صحت کے حوالے سے اہم دستاویزات حاصل کر کے الیکشن کمیشن آف پاکستان میں جمع کرا یں جن کے پیش نظر چیف الیکشن کمشنر سے استدعا کی گئی کہ انہیں صدارتی انتخاب کیلئے موزوں قرار نہ دیا جائے۔ میں نے بطور سیکرٹری الیکشن کمیشن یہ دستاویزات چیف الیکشن کمشنر کو اپنے نوٹ کے ہمراہ پیش کر دیں۔ چیف الیکشن کمشنر نے سرسری معائنہ کرنے کے بعد مجھے بریف کیا کہ اگر کاغذاتِ نامزدگی کی جانچ پڑتال کے دوران ان کے مدمقابل امیدواروں کے وکلا نے یہی دستاویزات پیش کیں تو وہ آئین و قانون کے مطابق اس کو ریکارڈ کا حصہ بنا کر فیصلہ لکھیں گے۔ اگر مخالفین نے اعتراض نہ کیا تو ان دستاویزات کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہو گی۔ مسلم لیگ (ق) کے امیدوار مشاہد حسین سید اور مسلم لیگ (ن) کے امیدوار سعید الزمان صدیقی تھے۔ حکومت کو بھی کاغذاتِ نامزدگی مسترد ہو جانے کا خوف تھا لہٰذا مخدوم امین فہیم نے کورنگ امیدوار کے طور پر کاغذاتِ نامزدگی جمع کرا رکھے تھے۔ پنجاب کی ایک اہم سیاسی شخصیت نے بڑی رازداری سے ڈاکٹر فاروق کو میدان میں اتارا تھا مگر صدارتی کاغذاتِ نامزدگی کی جانچ پڑتال سے دو روز پیشتر ڈاکٹر فاروق حسن اس بنا پر لاتعلق ہو گئے کہ اہم سیاسی شخصیت نے ان کی فیس دینے سے انکار کردیا تھا لہٰذا ان کا وکالت نامہ واپس لے لیا گیا۔ بعد ازاں اُس سیاسی شخصیت سے آصف علی زرداری کی مفاہمت ہوگئی اور ان کے کاغذاتِ نامزدگی پر کسی نے اعتراض نہیں کیا یوں چیف الیکشن کمشنر قاضی فاروق کو ان کے کاغذاتِ نامزدگی منظور کرنا پڑے۔ ڈاکٹر فاروق حسن نے بعد ازاں مجھے بتایا کہ جس شخصیت نے بین الاقوامی میڈیکل رپورٹس حاصل کر کے زرداری صاحب کو نااہل قرار دلوانا تھا وہ اُس وقت کے مقتدرہ حلقوں کے دباؤ میں آ گئی تھی کیونکہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد آصف علی زرداری کو صدارتی منصب پر لانا وقت کی اہم ضرورت تھی۔ اگر میڈیکل رپورٹس کو مدنظر رکھتے ہوئے زرداری صاحب کو صدارتی الیکشن کے لیے نااہل قرار دے دیا جاتا تو آئین کے تحت اس فیصلے کو کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا تھا اور لامحالہ مخدوم امین فہیم ہی حکومت کے صدارتی امیدوار ہوتے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_15667905.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>اسلام آباد معاہدہ!(مفتی منیب الرحمٰن )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-04-16/51779/26606957</link><pubDate>Thu, 16 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-04-16/51779/26606957</guid><description>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس کے بیانات سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ امریکہ اور ایران کے مابین مستقل جنگ بندی کا معاہدہ قریب ہے اور ممکن طور پر اس ہفتے کے اختتام تک اس پر اسلام آباد میں دستخط ہو سکتے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ 11 اپریل کو اسلام آباد میں امریکی اور ایرانی اعلیٰ سطحی وفود کے درمیان 21 گھنٹے کے طویل دورانیے پر مشتمل اجلاس کے بعد فریقین کے درمیان معاہدے کو حتمی شکل دینے کیلئے بالواسطہ رابطہ رہا ہے اور شاید یہ رابطہ اور معاہدے کے نکات پر اتفاقِ رائے کیلئے سلسلۂ جنبانی پاکستان کے توسط سے ہی جاری رہا ہے اور کچھ لو اور کچھ دو کے بعد دونوں فریق ایک مشترکہ اعلامیے پر متفق ہوگئے ہیں۔ 1979ء میں انقلابِ ایران کے 47 سال بعد امریکہ اور ایران کا روبرو بیٹھنا بجائے خود پاکستانی قیادت کی &#39;&#39;سیاسی کرامت‘‘ تھی ورنہ پہلے کوئی اس کی بابت سوچ بھی نہیں سکتا تھا کیونکہ امریکہ اور اسرائیل ایران کے اور ایران اسرائیل کے خاتمے کے درپے تھا۔ انگریزی میں کہتے ہیں: Where there&#39;s a will, there&#39;s a way۔ یعنی &#39;&#39;جہاں چاہ وہاں راہ‘‘۔ امریکہ اور اسرائیل نے چند گھنٹوں یا چند دنوں میں ایران کو مکمل طور پر فتح کرنے یا حکومت تبدیل کرنے یا نیست ونابود کرنے کا جو خواب دیکھا تھا‘ وہ دیوانے کا خواب ثابت ہوا۔ فانی بدایونی نے کہا تھا:اک معمہ ہے‘ سمجھنے کا‘ نہ سمجھانے کا زندگی کاہے کو ہے‘ خواب ہے دیوانے کاپاکستان کو مئی 2025ء کے بعد الحمدللہ سفارتی میدان میں کامیابیاں ملتی رہی ہیں‘ اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ مزید یہ کہ یہ ایسا اعزاز نہیں ہے کہ جس کا مدعی خود دعویٰ کرے بلکہ دنیا نے اسے تسلیم بھی کیا ہے اور اس کی تحسین بھی کی ہے اور اس سے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی سیاسی بصیرت اور قدوقامت میں اضافہ ہوا ہے۔ایرانی مطالبات کے اہم نکات یہ ہیں: (1) ایران میزائل سازی کی صنعت سے ہرگز دستبردار نہیں ہوگا کیونکہ اپنے ملک کا دفاع ہر قوم کا بنیادی حق ہے۔ (2) 1979ء کے انقلاب کے بعد ایران کے جو اثاثے امریکہ اور بعض دیگر ممالک میں ناجائز طور پرمنجمد کر دیے گئے تھے‘ انہیں واگزار کیا جائے‘ نیز امریکہ اور اسرائیل کی ایران پر مسلّط کردہ حالیہ جنگ کے نتیجے میں جو بے پناہ نقصانات ہوئے ہیں‘ ان کی تلافی کی جائے تاکہ تباہ شدہ ڈھانچے کی تعمیرِ نو ہو سکے۔ (3) آئندہ کیلئے ایسی پابندیاں عائد نہ کرنے کا عہد کیا جائے۔ (4) جنگ بندی جامع ہو اور ایران کے اتحادیوں یعنی لبنان کے حزب اللہ‘ یمن کے حوثیوں اور عراق میں ایران نواز گروپوں پر بمباری کا سلسلہ یکسر موقوف کیا جائے۔ (5) ایران سول مقاصد کیلئے یورینیم افزدوگی سے مکمل طور پر دستبردار نہیں ہوگا۔ (6) عالمی سطح پر یہ ضمانت دی جائے کہ ایک بار جنگ بندی کا معاہدہ ہونے کے بعد دوبارہ یکطرفہ طور پر ایران پر حملہ نہیں کیا جائے گا۔ (7) امریکہ شرقِ اوسط اور خلیجی ممالک سے اپنے فوجی اڈے ختم کرے کیونکہ ایران کے نزدیک یہ اڈے ایران کے خلاف کارروائیوں کیلئے بنائے گئے ہیں اور اسی کے خلاف استعمال ہوں گے۔ (8) آبنائے ہرمز پر ایران کا حق تسلیم کیا جائے۔ (لیکن شاید یہ حق عالمی برادری تسلیم نہ کرے‘ ورنہ ایسی آبنائیں کئی خطوں میں ہیں)۔بادی النظر میں ایران کے یہ مطالبات جائز ہیں‘ مگر خطے کے دیگر ممالک کو امریکی فوجی اڈے ختم کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ اگر وہ خوشدلی سے اور ایران کے ساتھ پُرامن بقائے باہمی کے جذبے کے ساتھ خود اپنے اپنے ملکوں سے امریکی اڈے ختم کر دیں تو یہ احسن بات ہو گی۔ بہتر یہی ہو گا کہ خلیجی ممالک پاکستان‘ ترکیے اور مصر کو ملا کر نیٹو کی طرز پر ایک دفاعی اتحاد بنائیں‘ پھر اسرائیل ان پر یکطرفہ طور پرحملہ کرنے کی جسارت نہیں کر سکے گا اور امریکہ بھی یہ دعویٰ نہیں کر سکے گا کہ ان ممالک کی بادشاہتیں ہماری وجہ سے قائم ہیں اور ہمارے بغیر یہ ایک ہفتہ بھی ٹھہر نہیں سکتیں۔ وقت نے بتایا کہ جب ایران پر اسرائیل اور امریکہ نے جنگ مسلط کی اور ایران نے جواباً خلیجی ممالک میں قائم امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا تو امریکی فوجی ان اڈوں کو خالی کر کے ہوٹلوں اور نجی عمارتوں میں منتقل ہوگئے اور خلیجی ممالک کے دفاع کا امریکی دعویٰ دھرے کا دھرا رہ گیا۔یورینیم افزودگی کو عالمی سطح پر ایک حد تک رکھنے کی صورت یہ ہے کہ ایک عالمی چارٹر منظور کیا جائے کہ کوئی ملک سول مقاصد کیلئے یورینیم کو کس حد تک افزودہ کرسکتا ہے‘ پھر اس کا اطلاق اسرائیل سمیت سب ممالک پر ہونا چاہیے‘ کیونکہ ابھی تک اسرائیل نے ایٹمی صلاحیت کا حامل ہونے کا دعویٰ نہیں کیا‘ لہٰذا یہ پابندی اسرائیل پر بھی ہونی چاہیے‘ ایران پر یکطرفہ پابندی عائد کرنا مناسب نہیں ہے۔ امریکہ کے بنیادی مطالبات یہ ہیں: (1) ایران یورینیم افزودگی سے مکمل طور پر دستبردار ہو جائے اور آئندہ بھی اس میدان میں داخل ہونے کی جستجو نہ کرے۔ (2) ایران آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی تجارت کیلئے کھول دے اور ماضی کی طرح اسے آزاد عالمی بحری تجارتی گزرگاہ قرار دیا جائے۔ (3) ایران اپنے میزائل پروگرام کو محدود کرے تاکہ وہ اسرائیل کیلئے خطرہ نہ رہے‘ نیز امریکہ یہ بھی چاہتا ہے کہ ایرا ن کو ایسے آلات حاصل کرنے پر بھی پابندی ہو جن سے وہ بین البراعظم میزائل تیار کر سکے۔ (4) ایران بیرونِ ملک اپنے حمایتی گروہوں یمن کے حوثیوں‘ لبنان کے حزب اللہ اور عراق وشام کے گروہوں کی حمایت سے دستبردار ہو جائے۔جنگی تاوان ادا کرنے کا کام تو خود امریکہ نے شروع کیا تھا۔ 1991ء میں پہلے ساری عالمی برادری کے احتجاج کو نظر انداز کرکے عراق پر حملہ کیا اور پھر اس کے تیل کے کاروبار پر قبضہ کر کے اپنی مسلّط کردہ جنگ کے نقصانات کا تاوان وصول کیا؛ چنانچہ ٹرمپ نے گزشتہ دنوں کہا تھا &#39;&#39;میں چاہتا ہوں کہ عرب ممالک جنگ کا خرچ برداشت کریں‘‘۔ اس طرح امریکہ کیلئے معیشت کا ایک نیا شعبہ وجود میں آئے گا کہ خود ہی دنیا کے دفاعی لحاظ سے کمزور ممالک پر جنگ مسلّط کرے اور پھر ان انتہائی مہنگی جنگوں کا تاوان بھی انہی ممالک سے وصول کرے‘ جبکہ ایران جارح نہیں ہے بلکہ جارحیت کا شکار ہوا ہے‘ لہٰذا اُس کا جنگی تاوان کا مطالبہ جائز ہے۔ اگر جامع معاہدہ وجود میں آتا ہے تو آبنائے ہرمز کا کھل جانا بعید از امکان نہیں ہے‘ مگر اس کیلئے امریکہ کو طاقت کی پوزیشن سے اتر کر برابر کی سطح پر معاملات طے کرنا ہوں گے کہ یکطرفہ طور پر اپنی شرائط مسلّط نہ کرے‘ بلکہ عالمی ثالثوں کے درمیان بیٹھ کر ایک متوازن حل نکالا جائے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایران یہ سمجھتا ہے کہ اس نے بے پناہ نقصانات برداشت کر لیے ہیں‘ اب اس کا حق بنتا ہے کہ برابری کی سطح پر بات کی جائے اور اپنے حقوق پر سمجھوتا نہ کیا جائے ۔ فارسی کا لفظ &#39;&#39;سیماب‘‘ سیم اور آب سے مرکب ہے‘ اسکے لفظی معنی ہیں: &#39;&#39;چاندی کا پانی‘‘ اور اصطلاحی معنی ہیں: &#39;&#39;پارہ‘‘۔ پارہ ایسا مائع ہے جو چاندی کی طرح چمکدار ہوتا ہے کیونکہ اس میں ٹھیرائو نہیں ہوتا بلکہ ہر آن متحرک رہتا ہے۔ سو جس شخص کے مزاج میں ٹھیرائو‘ قرار اور استقلال نہ ہو اُسے سیماب صفت کہتے ہیں‘ جیسے اردو کا محاورہ ہے: &#39;&#39;گھڑی میں تولہ‘ گھڑی میں ماشہ‘‘ ایسے شخص کو متلوِّن مزاج بھی کہتے ہیں۔ اس سے مراد ایسا شخص ہے جو مستقل مزاج نہ ہو‘ ہر لمحے اپنا مؤقف بدلتا رہتا ہو‘ ایسے ہی شخص کو انگریزی میں Unpredictable کہا جاتا ہے اور ٹرمپ حد درجے &#39;&#39;سیماب صفت‘‘ ہے۔ رات کو ایک بات ٹویٹ کرتا ہے اور صبح اسکے برعکس موقف اختیار کر لیتا ہے‘ پس ایسے شخص کے قول وقرار پر اعتبار کرنا حد درجے دشوار ہوتا ہے اور خطرات کا باعث بنتا ہے۔ اگرچہ ٹرمپ کے حالیہ رویے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ شاید مذاکرات کے نتیجے میں ایران اور امریکہ کسی قابلِ قبول اور قابلِ عمل حل پر متفق ہو جائیں‘ بشرطیکہ امریکہ کے اندر اسرائیل نواز حلقوں کی مدد سے اسرائیل ان مصالحتی کوششوں کو سبوتاژ نہ کرے‘ کیونکہ یہ جنگ دنیا کے بیشتر ممالک کیلئے تباہ کن ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_61172381.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>