<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ اور ٹیکس خسارہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-01/11153</link><pubDate>Fri, 01 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-01/11153</guid><description>مشرقِ وسطیٰ کے بحران کے سبب تیل کی مسلسل بڑھتی عالمی قیمتیں ملکی زرِمبادلہ پر بھاری بوجھ ثابت ہو رہی ہیں۔ پاکستان کی معیشت اس وقت ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں عالمی حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے مالیاتی توازن اور عوامی فلاح کا تحفظ ایک کڑا چیلنج بن چکا ہے۔ ان حالات میں بڑھتا ٹیکس خسارہ حکومت کیلئے دہرا امتحان ثابت ہو رہا ہے۔ رواں مالی سال کے دس ماہ کے دوران فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو تقریباً 700ارب روپے کے ٹیکس خسارے کا سامنا ہے‘ جو معاشی حکمت عملی اور ٹیکس وصولی کے نظام پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔ یہ صورتحال اس گہرے سٹرکچرل بحران کو مزید نمایاں کرتی ہے جس میں ہمارا ٹیکس نظام دہائیوں سے جکڑا ہوا ہے۔ رواں مالی سال کے بجٹ میں ایف بی آر محصولات کا مجموعی ہدف 14ہزار 131ارب روپے مقرر کیا گیا تھا‘ گزشتہ برس دسمبر میں اس ہدف کو کم کر کے 13ہزار 979ارب روپے مقرر کیا گیا جبکہ امسال مارچ میں آئی ایم ایف کیساتھ ورچوئل مذاکرات میں اس ہدف کو دوبارہ کم کرتے ہوئے 13 ہزار 450 ارب روپے رکھا گیا‘ مگر یہ بھی پورا ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔ جولائی سے اپریل ( 10 ماہ ) کے دوران 10 ہزار 910 ارب روپے کا ٹیکس ہدف مقرر تھا مگر اب تک تقریباً 10200 ارب روپے ہی جمع ہو سکا ہے۔ اپریل میں 1029 ارب روپے کے مقابلے ٹیکس وصولی تقریباً 900 ارب روپے رہی۔ جب بلاواسطہ ٹیکس وصول کرنے میں ناکامی ہو تو حکومت کا آسان ہدف بالواسطہ ٹیکس اور وہ شعبے بن جاتے ہیں جو پہلے ہی دستاویزی معیشت کا حصہ ہوں۔

ٹیکس اہداف کو پورا کرنے کیلئے سپر ٹیکس اور ایڈوانس ٹیکس کا بڑھتا ہوا بوجھ کارپوریٹ سیکٹر اور صنعتوں سے سرمائے کے اخراج کا باعث بن رہا ہے جبکہ ٹیکس خسارے کا دوسرا آسان حل یعنی بالواسطہ ٹیکسز میں تمام تر بوجھ عام آدمی پر منتقل ہوتا ہے‘ جو زیادہ تشویشناک پہلو ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان میں ٹیکس وصولی کا نظام منصفانہ نہیں۔ جب حکومتی اخراجات اور ٹیکس اہداف پورا کرنے کیلئے پٹرولیم مصنوعات پر لیوی اور دیگر بالواسطہ ٹیکسوں میں اضافہ کیا جاتا ہے تو اس کا براہِ راست اثر عام آدمی پر پڑتا ہے جبکہ مہنگائی کی ایسی لہر اٹھتی ہے جس میں سب سے زیادہ وہی طبقہ پِستا ہے‘ جو سب سے کم حیثیت کا حامل ہو۔ یہ بالواسطہ ٹیکسوں ہی کا نتیجہ ہے کہ آج ملک میں پٹرول کی قیمتیں تاریخی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں‘ جس نے مہنگائی کا ایسا طوفان کھڑا کیا ہے۔ عالمی سطح پر مسلمہ اصول یہی ہے کہ پائیدار ٹیکس نظام بالواسطہ کے بجائے بلاواسطہ ٹیکسوں پر انحصار کرتا ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے پاکستان کے ٹیکس نظام پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ آئی ایم ایف کا یہ مؤقف ریکارڈ پر ہے کہ پاکستان کا ٹیکس نظام انتہائی پیچیدہ‘ غیر منصفانہ اور مراعات یافتہ طبقے کو زیادہ تحفظ دینے والا ہے۔
عالمی اداروں کی جانب سے بارہا یہ تجویز دی گئی کہ پٹرول اور بجلی پر بالواسطہ ٹیکس بڑھانے کے بجائے حکومت دولتمند طبقے کو ٹیکس نیٹ میں لائے اور ٹیکس چوری روکنے کیلئے سخت انتظامی اقدامات کیے جائیں۔ جب تک ریٹیل‘ رئیل اسٹیٹ اور زراعت جیسے بڑے شعبوں سے کماحقہٗ ٹیکس وصول نہیں کیا جائے گا‘ محصولات کے اہداف حاصل نہیں ہو سکیں گے۔ ٹیکس کی شرح بڑھانے سے ریونیو نہیں بڑھتا بلکہ اس کیلئے ٹیکس بیس کو وسیع کرنا ضروری ہے۔ مسلسل بڑھتا ٹیکس خسارہ اس بات کا بھی اشارہ ہے کہ عوام اور کاروباری طبقے کی قوتِ خرید اب جواب دے چکی ہے۔ لہٰذا وقت آ گیا ہے کہ حکومت عارضی اقدامات کے بجائے اپنی ترجیحات کو درست کرے اور ٹیکس وصولی کے نظام میں ضروری اصلاحات میں مزید تاخیر نہ کرے۔ اگر اب بھی بالواسطہ ٹیکسوں اور لیوی جیسے سہاروں سے معیشت کو چلانے کی کوشش کی گئی تو نہ صرف معاشی بحران بڑھے گا بلکہ بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ عوامی غصے اور سماجی اضطراب کو بھی ہوا دے گا۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>وسطیٰ ایشیا کیلئے نئی تجارتی گزرگاہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-01/11152</link><pubDate>Fri, 01 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-01/11152</guid><description>پاکستان نے سوست بارڈر سے چین کے راستے وسط ایشیا تک براہِ راست زمینی تجارت کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔ اس نئی راہداری سے پہلی تجارتی کھیپ کامیابی سے کرغزستان پہنچائی جا چکی۔ بدلتے ہوئے علاقائی و عالمی تجارتی منظرنامے میں یہ قدم نہ صرف پاکستان کی جغرافیائی اہمیت کو اجاگر کرتا بلکہ اسے ایک فعال تجارتی راہداری میں تبدیل کرنے کی سنجیدہ کوشش بھی ہے۔ اس نئی تجارتی گزرگاہ کے پاکستان کو کثیر جہتی فوائد حاصل ہوں گے۔ سب سے پہلے یہ ملک کی برآمدی منڈیوں کو وسعت دے گی جس سے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ممکن ہوگا۔ دوم‘ یہ پاکستان کو علاقائی تجارت میں ایک کلیدی کھلاڑی کے طور پر ابھار سکتی ہے‘ خاص طور پر ایسے وقت میں جب پوری دنیا میں نئی عالمی سپلائی چینز ترتیب دی جا رہی ہیں۔ سوم‘ زمینی راستے کے باعث ترسیل کے اخراجات میں نمایاں کمی اور وقت کی بچت ہو گی جو برآمد کنندگان کیلئے مسابقتی برتری کا باعث بنے گی۔

پاکستان وسطی ایشیائی ریاستوں کو زرعی اجناس‘ فارماسیوٹیکل مصنوعات‘ ٹیکسٹائل اور حلال فوڈ برآمد کر سکتا ہے‘ جبکہ وسطی ایشیا سے گیس‘ تیل‘ معدنیات‘ کپاس اور صنعتی خام مال درآمد کر سکتا ہے۔ یوں یہ تجارتی راہداری دوطرفہ معاشی انضمام کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے‘ لیکن اس سے بھرپور فائدہ اٹھانے کیلئے مربوط حکمت عملی‘ انفراسٹرکچر کی مزید بہتری‘ اور برآمدی شعبے کی استعداد بڑھانا ناگزیر ہے۔ درست سمت میں پیش رفت سے یہ نیا تجارتی راستہ ملکی معیشت کیلئے گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ہیپاٹائٹس کا پھیلاؤ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-01/11151</link><pubDate>Fri, 01 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-01/11151</guid><description>عالمی ادارۂ صحت کی جانب سے جاری کردہ گلوبل ہیپاٹائٹس رپورٹ 2026ء کے مطابق پاکستان ہیپاٹائٹس سی کے پھیلاؤ کے اعتبار سے دنیا میں پہلے نمبر پر آ چکا ہے۔ یہ صورتحال صحتِ عامہ کے ایک وسیع بحران کی نشاندہی کرتی ہے۔ ملک میں اس وقت تقریباً ایک کروڑ افراد ہیپاٹائٹس سی کا شکار ہیں جبکہ ہر سال 37ہزار سے زائد افراد اس مرض کے باعث جان کی بازی ہار دیتے ہیں۔ ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہیپاٹائٹس کے تیزی سے پھیلاؤ کی بنیادی وجوہات میں استعمال شدہ سرنجوں کا بار بار استعمال‘ اتائیوں کی بھرمار اور رسمی و غیر رسمی طبی نظام میں انفیکشن کنٹرول پروٹوکولز پر عملدرآمد نہ ہونا شامل ہیں۔

یہی عوامل ملک میں ایچ آئی وی جیسے مہلک مرض کے پھیلاؤ کا بھی سبب بن رہے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ایک جامع حکمت عملی اختیار کرے اور نہ صرف سرکاری بلکہ نجی ہسپتالوں اور کلینکس میں بھی انفیکشن کنٹرول پروٹوکولز پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ ایک سرنج کا ایک بار استعمال‘ خون کی محفوظ منتقلی اور طبی آلات کو جراثیم سے مکمل پاک کرنے جیسے بنیادی اصولوں کو ہر سطح پر نافذ کیا جائے۔ اس کے ساتھ ملک گیر سکریننگ پروگرام‘ سستے اور معیاری علاج کی فراہمی‘ اتائیوں کے خلاف مؤثر کارروائی اور عوامی آگاہی مہمات بھی ملک میں ہیپاٹائٹس کی روک تھام میں موثر ثابت ہو سکتی ہیں۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>دو خاتون سفیروں کی کہانی(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-05-01/51864/65005293</link><pubDate>Fri, 01 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-05-01/51864/65005293</guid><description>ایکس (ٹویٹر) پر ایک دلچسپ ٹویٹ پڑھا تو اس کا سکرین شاٹ لے کر اپنے ایک دوست کو وَٹس ایپ کر دیا‘ جو ایک سرکاری افسر ہیں۔ یہ نسبتاً ایماندار ہیں لہٰذا پاکستان میں ایمانداروں کے ساتھ جو سلوک ہوتا ہے‘ وہ ان کے ساتھ بھی ہوتا ہے۔ ان کو وَٹس ایپ میسج بھیجنے کی وجہ یہ تھی کہ ان سے میری کئی برسوں سے بحث چل رہی ہے کہ اگر بیورو کریسی چاہے تو کرپشن نہیں ہو سکتی۔ سرکاری افسران کی ملی بھگت کے بغیر ایک روپے کی کرپشن کرنا بھی محال ہے‘ بلکہ میں تو انہیں کہتا کہ آپ بڑی بڑی رقوم کو چھوڑیں‘ اگر ایک وزارت کا کلرک یا سیکشن افسر ایک وفاقی وزیر کے انٹرٹینمنٹ الائونس کی منظوری نہ دے تو وزیر صاحب چائے تک نہیں پی سکتے۔ منظوری کے بغیر پئیں گئے تو دو کام ہوں گے: یا تو اپنی جیب سے انہیں چائے اور مہمانوں پر ہوئے اخراجات کا بل دینا ہوگا‘ اگر نہیں دیں گے اور سرکاری خرچے سے پئیں گے تو اسے غیر قانونی سمجھا جائے گا۔ اس پر آڈٹ پیرا بنے گا اور جب آڈیٹر جنرل آف پاکستان وہ آڈٹ پیرا پبلک اکائونٹس کمیٹی کے سامنے پیش کرے گا تو پی اے سی میں بھلے وزیر موصوف خود ہی کیوں نہ بیٹھے ہوں‘ ان کو ریکوری کرانا ہو گی۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ مشرف دور میں ایڈہاک پبلک اکائونٹس کمیٹی بنائی گئی تھی‘ جس کا چیئرمین ایک سابق بیورو کریٹ ایچ یو بیگ کو بنایا گیا تھا اور ان کے ساتھ سابق فیڈرل سیکرٹریز اور کچھ کارپویٹ سیکٹر سے قابل پروفیشنلز تھے۔ جنرل مسعود طلعت بھی تھے۔ اگرچہ وہ سب بیورو کریٹ تھے لیکن مجھے کہنے دیں کہ اس سے بہتر پی اے سی میں نے کبھی نہیں دیکھی۔ پچیس سالوں سے میں پبلک اکائونٹس کمیٹی کور کر رہا ہوں اور اس دوران ایچ یو بیگ کمیٹی؍ ممبران کو سب سے بہتر مانتا ہوں کہ کیا گفتگو اور کیا بحث ہوتی تھی۔ بڑا کچھ سیکھا میں نے ان ممبران سے۔ اُس وقت تو آڈیٹر جنرل بھی دبنگ ہوتے تھے اور ان کا سٹاف بھی۔ اگلے برسوں میں سیاسی حکومتوں کے آتے ہی خوشامدی اور نالائق آڈیٹر جنرل تعینات ہو گئے اور اس ادارے کا بیڑہ غرق ہوتا چلا گیا۔ درمیان میں کچھ عرصہ اختر بلند رانا آئے‘ جنہوں نے اس ادارے کی عزت بڑھائی۔ انہیں بھی ہٹا دیا گیا کیونکہ وہ چودھری نثار‘ خورشید شاہ اور کمیٹی ممبران کو ٹکڑا گئے تھے۔ لیکن وہ جب تک آڈیٹر جنرل رہے‘ انہوں نے پی اے سی ممبران کو دو نمبری نہیں کرنے دی‘ جو اس وقت عروج پر تھی۔ اس کی سزا تو انہوں نے بھگت لی لیکن اپنے ادارے کی ساکھ پر سمجھوتا نہیں کیا۔میری اپنے دوست افسر سے بحث رہتی کہ پاکستانی بیورو کریٹس نہ صرف سیاستدانوں کو کرپشن کا راستہ دکھاتے ہیں بلکہ ان کی مدد بھی کرتے ہیں اور خود بھی بڑا حصہ رکھتے ہیں کیونکہ فائل کی منظوری انہوں نے ہی دینا ہوتی ہے۔ اس لیے تو خواجہ آصف نے کہا تھا کہ پاکستانی بیورو کریٹ پرتگال میں جائیدادیں خرید رہے ہیں۔ اکثر بیورو کریٹس کا خاندانی پس منظر دیکھ لیں‘ زیادہ تر لوئر مڈل کلاس سے یا گائوں کے کسانوں‘ استاد‘ امام مسجد یا کلرک کے بچے ہوں گے۔ اگر وہ چند سالوں کی نوکری کے بعد کینیڈا‘ امریکہ‘ انگلینڈ‘ نیوزی لینڈ‘ آسٹریلیا‘ سپین‘ دبئی یا پرتگال میں جائیدادیں خرید رہے ہیں تو اندازہ ہو جانا چاہیے کہ یہ سارا پیسہ کہاں سے آ رہا ہے۔آپ کو یاد ہو تو گزشتہ سال سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے انکشاف کیا تھا کہ ارکان اسمبلی کیلئے ترقیاتی فنڈ کے نام پر 575 ارب روپیہ مختص کیا گیا۔ اس پر سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ اس میں سے تیس فیصد کمیشن کھایا جاتا ہے۔ مان لیا کہ سب ارکان کمیشن نہیں لیتے‘ لیکن اکثر تو لیتے ہوں گے۔ 160 ارب روپے تک تو کمیشن کی شکل میں انہی لوگوں کی جیبوں میں جا رہا ہو گا۔ آپ پوچھیں گے کہ پیسہ ان کی جیب میں کیسے جاتا ہے‘ انہیں کمیشن دیتا کون ہے؟ اس کمیشن میں صوبائی محکمے یا ڈپٹی کمشنر دفتر مدد کرتا ہے۔ اکثر سیاستدانوں نے اپنے رشتہ داروں یا دوستوں کے نام پر ٹھیکیدار کمپنیاں رجسٹرڈ کرا رکھی ہیں۔ ڈی سی ان ارکان کے کہنے پر ان کی پسندیدہ کمپنی کو ترقیاتی کام کا ٹھیکہ دیتا ہے۔ اگر اپنی کمپنی نہ ہو تو جس ٹھیکیدار کو ٹھیکہ دلوایا جاتا‘ وہ تیس فیصد کمیشن دیتا ہے۔ اس سب کی منظوری مرکزی یا صوبائی حکومت‘ ڈپٹی کمشنر یا متعلقہ محکموں کے افسران دیتے ہیں۔ یہ ذہن میں رکھیں کہ کوئی ممبر اسمبلی خود سے کسی کو ٹھیکہ نہیں دے سکتا۔ یہ سب کام فیڈرل سیکرٹری یا صوبائی سیکرٹری سے لے کر ڈی سی یا صوبائی محکمے کے افسران اپنے دستخطوں سے کرتے ہیں۔ آپ پوچھیں گے کہ ایک سیکرٹری‘ ڈی سی یا سرکاری افسر ایم پی اے یا ایم این اے کے پسندیدہ ٹھیکیدار کو ٹھیکہ دینے سے انکار کر دے تو پھر کیا ہو گا؟ اگر وہ میرٹ پر ٹھیکہ دیتا ہے‘ جو بولی بھی کم دے اور کام بھی معیاری کرے تو اس میں کس کا فائدہ اور کس کا نقصان ہے؟ سارا فائدہ عوام اور ملک کا ہے اور نقصان ان ارکانِ اسمبلی اور ان کے فرنٹ مین ٹھیکیداروں کا ہے‘ جو ایک کروڑ روپے منصوبے کی لاگت پانچ کروڑ بتاتے ہیں اور چار کروڑ خود کھا جاتے ہیں۔ لہٰذا سب کو مرضی کے ڈی سی یا سرکاری افسران درکار ہوتے ہیں‘ جن کے دستخطوں سے کام چلتا رہے۔ آپ کو یاد ہو تو ترکیہ کے بجلی پیدا کرنے والے کرائے کے جہاز کے ساتھ ڈیل کرتے وقت اس وقت کے سیکرٹری واٹر اینڈ پاور نے پیسہ پکڑا تھا۔ بعد میں وہ پکڑا گیا تو نیب سے پلی بارگین کر کے صرف چار کروڑ دے کر گھر چلا گیا۔ چار کروڑ اس لیے کہ اس کی سفارشیں بہت تگڑی تھیں۔ ورنہ ایک سیکرٹری‘ جس کے دستخط سے پانچ سو ملین ڈالر کا کنٹریکٹ سائن ہو رہا ہو‘ وہ چار کروڑ لے گا؟ اس رقم سے تو اسلام آباد میں دس مرلے کا پلاٹ تک نہیں ملتا۔ میں اپنے دوست کو یہی کہتا ہوں کہ اگر بابوز اس ملک کے ہمدرد ہوتے تو خود بھی پرتگال میں جائیدادیں نہ بناتے اور نہ ہی سیاستدانوں کو دنیا کے پانچ براعظموں میں جائیدادیں بنانے میں مدد دیتے۔ وہ دوست کہتا ہے کہ اگر افسر یہ سب نہ کرے تو اس کو ہٹا دیا جائے گا۔ میں کہتا ہوں کہ اگر وہ ایماندار افسر ہے تو اسے کیا مسئلہ؟ تنخواہ‘ سرکاری گاڑی ‘ سرکاری گھر تو پھر بھی ملتا رہے گا۔ اگر اس کی جگہ آنے والا افسر بھی غلط کام نہ کرے‘ اور بالفرض اسے بھی ہٹا دیا جائے تو جب مسلسل تیسرا افسر بھی انکار کرے گا تو بریک لگ جائے گی۔ لیکن یہاں ایک ایماندار کی جگہ دس بے ایمان لائن میں لگے ہیں۔اب آپ کو تجسس ہو گا کہ میں نے کون سا سکرین شاٹ اپنے دوست کو بھیجا تھا۔ وہ سکرین شاٹ امریکہ کی یوکرین میں تعینات خاتون سفیر کا ایک ٹویٹ ہے‘ جو اس نے صدر ٹرمپ کے روس کے ساتھ تعلقات اور یوکرین کو مدد نہ دینے کے خلاف کیا ہے‘ کہ وہ مزید یوکرین میں امریکہ کی نمائندگی نہیں کر سکتی کیونکہ اسے صدر ٹرمپ کی پالیسی سے شدید اختلاف ہے۔ اس ٹویٹ کو امریکہ کی یوکرین میں ایک اور سابق خاتون سفیر نے ری ٹویٹ کر کے کہا کہ میں نے بھی اس لیے سفارت چھوڑ دی تھی کہ مجھے صدر ٹرمپ کی پالیسی پر شدید اعتراضات تھے۔ ان کے بقول وہ صدر ٹرمپ کے &#39;غلط فیصلوں‘ کو ایک خوبصورت پیکنگ کے ساتھ دنیا کو سیل نہیں کر سکتیں‘ لہٰذا انہوں نے گھر جانے کا آپشن چنا۔ یہی میرا مدعا رہا ہے کہ اگر آپ اپنی تنخواہ میں گزارہ کرنے والے افسر ہیں‘ بقول خواجہ آصف وہ افسر نہیں جو پرتگال میں جائیدادیں خرید رہے ہیں‘ تو پھر کرائم پارٹنر بننے کے بجائے اس سیٹ کو چھوڑ دینا بہتر ہونا چاہیے۔ یہی کام ایف بی آئی کے سابق ڈائریکٹر جیمز کومی نے کیا تھا اور اب دو امریکی سفیروں نے کیا ہے۔ اگر ہم خود کرپٹ نہیں اور جس سیٹ پر بیٹھے ہیں‘ وہاں سے ذاتی فائدے نہیں لے رہے‘ تو پھر کیوں کسی کی دولت یا غلط پالیسیوں کو بڑھانے کا ذریعہ بنیں؟ </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ہار جیت کا حساب(رسول بخش رئیس)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-05-01/51865/61241874</link><pubDate>Fri, 01 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-05-01/51865/61241874</guid><description>ایران کے خلاف اسرائیل اور امریکہ کی جنگ جو ابھی ختم تو نہیں ہوئی‘ کچھ دیگر صورتوں میں جاری ہے‘ ایک دن کسی معاہدے پر ضرور ختم ہو گی۔ پس پردہ تجاویز‘ شرائط اور مطالبات کا تبادلہ جاری ہے۔ ثالثی اور میزبانی کا شرف ہمیں حاصل ہوا ہے‘ بات آگے بھی بڑھی ہے اور ہمارا کردار ابھی ختم نہیں ہوا۔ ہمارا مقصد یہ ہے کہ دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ ہم آہنگ رہتے ہوئے جنگ کو ختم کیا جائے تاکہ علاقائی امن اور سلامتی کو بحال کیا جا سکے۔ ایک اور بحث بھی چل نکلی ہے کہ متوسط درجے کی طاقتوں کا آئندہ وقتوں کی تزویراتی بساط پر اثر ونفوذ کتنا بڑھے گا۔ میرے نزدیک ایران کے خلاف جنگ دیکھنے میں ایک تازہ واقعہ ہے مگر یہ ایک طویل کشمکش کا حصہ ہے‘ جو 47 سال قبل ایرانی انقلاب کے بعد شروع ہوئی۔ جنگ کا خاتمہ شاید ابھی وہ سیاسی تضادات ختم نہ کر سکے جو ایران کی انقلابی حکومت کے داخلی نظریات اور بیرونی پالیسیوں کی وجہ سے پیدا ہوئے۔ جس طویل لڑائی کی طرف اشارہ ہے یہ اس ٹکرائو کا نتیجہ ہے جو امریکہ اور اس کے علاقائی حلیفوں کے خلاف پیدا ہوا۔ ایران نے پراکسی گروہوں کو اپنی جارحانہ دفاعی علاقائی حکمت عملی کا اسی طرح حصہ بنایا کہ وہ اسے تزویراتی گہرائی دے سکیں۔ اس کی بنیاد کٹر مسلک‘ فرقہ اور مذہب تھے۔ ملک کے اندر جس طرح متوازی حکومتی نظام بنایا گیا‘ اسی طرح علاقے کے مسلم ممالک میں بھی کچھ ایسی تنظیموں کی حمایت کی گئی جو ایران کے مفادات کے تحفظ میں اپنی حکومتوں پر دبائو ڈال سکیں۔ ظاہر ہے کہ جب ایسی تنظیموں نے اپنی ریاستوں کے اندر اپنے لیے بزور طاقت جہاں کہیں جگہ بنانے کی کوشش کی‘ ان کی حکومتوں نے ایران کو موردِ الزام ٹھہرایا۔ تقریباً سب ایسے ممالک نے ایک نئی صف بندی کی‘ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون بڑھایا اور کچھ امریکہ کے دفاعی حصار کا حصہ بن گئے۔پہلے تو عراق کو ایران کے خلاف تیار کیا گیا اور دونوں ممالک کے مابین ایک خوفناک جنگ آٹھ سال تک جاری رہی۔ دونوں جانب کے لاکھوں لوگ جاں بحق ہوئے۔ اس جنگ کا ایران کی پراکسی پالیسی تشکیل دینے میں بنیادی کردار تھا۔ غیر ریاستی عناصر پر ایران کا انحصار اور بھی بڑھا اور ردِعمل کے طور پر ایران کے خلاف احاطہ بندی کی پالیسیوں میں بھی اسی قدر اضافہ دیکھنے میں آیا۔ جنگ سے پہلے بھی ایران سخت اقتصادی پابندیوں کی زد میں تھا جو دہائیوں سے بڑھتی چلی آ رہی ہیں۔ ایران کو کمزور کرنا اسی طویل کشمکش کا بنیادی مقصد رہا ہے تاکہ اسے اپنی داخلی اور خارجہ پالیسیوں پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کیا جائے۔ ایران کی مذہبی مقتدرہ نے اپنے بیانیوں اور ملک کے کردار کو مزاحمت کے سانچے میں ڈھال رکھا ہے اور ان کے دیگر ملکوں میں حامی بھی زبانوں پر اسی کی تسبیح پڑھتے رہتے ہیں۔ بہت سوں کو یہ بات قابلِ فخر اور دلکش محسوس ہوتی ہے کہ ایران اکیلا وقت کی بڑی طاقت امریکہ اور اس کے حلیفوں کے خلاف کھڑا ہے اور ابھی تک‘ ایک سال کے اندر دو جنگوں کے باوجود اس نے گھٹنے نہیں ٹیکے۔ جذبات میں سموئی باتوں اور زمینی حقیقتوں میں فرق صرف اس وقت محسوس ہوتا ہے جب حالات پر نظر ڈالنے کے لیے معروضیت کا پیمانہ استعمال کیا جائے۔ جنگ کی کیفیت میں تو معروضیت ہر طرف شعلوں اور دھوئیں کی نذر ہو جاتی ہے۔ گزشتہ 47سال میں ایران کا مقابلہ خلیج میں اس کی حریف چھوٹی امارتوں سے کریں تو فرق آپ پر واضح ہو جائے گا۔ ایک طرف کھربوں ڈالر میں سرمایہ کاری ہوئی۔ یہاں تک کہ ریت کے ٹیلوں پر قیمتی برج کھڑے کیے گئے‘ تو دنیا بھر کے امیر لوگ وہ کچھ اپنے نام کرنے کی دوڑ میں ایک دوسرے پر گرتے پڑتے دیکھے گئے۔ لاکھوں لوگ وہاں سیر وتفریح اور خرید وفروخت کے لیے جاتے ہیں۔ ان چھوٹی ریاستوں کے ہوائی اڈے اور فضائی بیڑے اب دنیا میں نمایاں مقام حاصل کر چکے ہیں۔ ذاتی طور پر میں ان کی ترقی اور خوشحالی کا کبھی معترف نہیں رہا مگر یہ سب کچھ ایران کے ساتھ تقابل کے لیے اس لیے زیر بحث ہے کہ معاشی طاقت‘ قومی وقار اور احترام‘ مادہ پرستی کے سرمایہ داری دور میں‘ یہی سکہ رائج الوقت ہے۔ ایران کے اندر کے حالات کا تذکرہ کرنا فی الحال کچھ مناسب نہیں مگر اپنے چند دوروں کے دوران جو دیکھا ہے اس سے تو پتا چلتا ہے کہ باہر بھاگنے کی دوڑ ہے جو ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔اس طویل جنگ اور 40 دنوں کی خون ریزی اور تباہی کے بارے میں ہم وہی پرانی باتیں سنیں گے۔ ہمیشہ کی طرح‘ دونوں جانب فتح کے دعوے ہوں گے۔ ایرانی قیادت اور امریکہ بار بار اپنی کامیابی کے اعلانات دہراتے رہیں گے۔ ہمارے نزدیک جدید جنگیں کوئی جیتتا ہے اور نہ جیت سکتا ہے۔ کامیابی کا معیار بھی وہ نہیں جو پرانے زمانوں میں ہوتا تھا۔ اصل بات یہ ہے کہ آپ اپنے حریف یا حریفوں کو کتنا نقصان پہنچاتے ہیں تاکہ وہ اندر سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائیں اور ایک عرصے تک پھر اٹھ نہ سکیں۔ کہنے کو تو سوویت یونین اور امریکہ افغانستان کو چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ یہ بات درست ہے مگر اس ملک کی حالت دیکھیں۔ جب ریاست اور معاشرہ تباہ ہوئے تو پھر توازن‘ استحکام اور کوئی سمت متعین نہ ہو سکی۔ عراق‘ شام‘ لیبیا‘ یمن اور لبنان کا بھی یہی حال ہے۔ حالیہ جنگ میں ایران کو بہت نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس کی فوج اور پاسداران اپنی سیاسی اور عسکری قیادت تک کا دفاع نہ کرسکے۔ تیاری تو انہوں نے کافی کر رکھی تھی اور جواباً حملے بھی کیے‘ مگر عرب ہمسایہ ممالک پر‘ اور جواز یہ تھا کہ انہوں نے امریکہ کو فوجی اڈے دے رکھے ہیں۔ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ ایران نے اپنے خلاف جنگ کو علاقائی سلامتی کا مسئلہ بنانے اور عالمی معیشت کو نقصان پہنچانے میں کامیابی حاصل کی ہے تاکہ دیگر ریاستیں اس کے خلاف جنگ شروع کرنے والوں کو اس کا موجب قرار دیں۔ لیکن آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی کوشش اور اس کو غیر محفوظ کرنے سے خطرہ یہ ہے کہ دنیا کے بیشتر ممالک ایران کے خلاف صف آرا نہ ہو جائیں۔ابھی امید باقی ہے کہ اسلام آباد سے شروع ہونے والے مذاکرات نتیجہ خیز ہوں گے۔ جنگ بندی میں توسیع کر دی گئی ہے اور دونوں جانب سے اپنی شرائط کو نرم کر کے باہمی سمجھوتا کرنے کی خواہش بھی موجود ہے۔ پھر بھی اعتماد کے ساتھ کچھ کہنا حتمی طور پر مشکل ہے۔ ایران کے حق میں ہرگز نہیں کہ جنگ دوبارہ چھڑ جائے۔ اگر ایسا ہوا تو اسے بہت بڑی تباہی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ آج ایران اکیلا کھڑا جذباتی طور پر تو قابلِ تعریف ہے مگر حقائق کی دنیا میں بہت بڑی کمزوری کا شکار ہے۔ اس کا وہ تزویراتی حصار جو پراکسی گروہوں کی صورت مرتب ہوا تھا‘ تباہ ہو چکا ہے۔ اب حالات ایسے ہیں اور ہوں گے کہ شاید وہ حکمت عملی دوبارہ نہ بنائی جا سکے۔ پس پردہ مذاکرات میں ایک یہ بھی نکتہ ہے۔ ہماری رائے ہمیشہ یہ رہی ہے کہ ایران کبھی بھی جوہری طاقت کو خواب پورا نہیں کر سکے گا۔ بات حق اور استعدادی صلاحیت حاصل کرنے کی نہیں‘ مخالفت میں زور‘ جبر اور عالمی نظام کے توازن کی ہے۔ شاید اپنا بھرم اور ناک رکھنے کے لیے کچھ منوا لے مگر سرخ لکیر کی حد سے اسے پیچھے رکھا جائے گا۔ اس وقت ضروری ہے کہ اس کی بحری ناکہ بندی ختم ہو۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا یہ حربہ جاری رہا تو ایران کے اندر کے حالات بگڑیں گے اور عسکری اور سیاسی قیادت بھی کمزور صورتحال میں تقسیم کا شکار ہو سکتی ہے۔ ایسی جنگوں میں ہار جیت کا حساب کوئی معنی نہیں رکھتا۔ نقصان تو سب کا ہوتا ہے مگر ایک طرف صرف گولہ بارود اور ہتھیاروں کا زیاں اور دوسری طرف معاشرے اور معیشت کی تباہی‘ تو فرق واضح ہے۔ ابھی تک تو ایران کی ثابت قدمی اس کی فتح ہے مگر مزید جنگ اور ناکہ بندی اسے کئی آزمائشوں میں ڈال سکتی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_33241568.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>گوبر ٹیکس کی سپر پاور(بابر اعوان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/babar-awan/2026-05-01/51866/27752449</link><pubDate>Fri, 01 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/babar-awan/2026-05-01/51866/27752449</guid><description>ہمارے اردگرد کے خطے میں واقعات کی رفتار اور نبض پر خلیج کے تجزیہ کاروں اور صحافیوں کا صحیح ہاتھ ہے۔ ساتھ مغرب کے متبادل میڈیا منیجرز بھی خبر بتاتے ہیں‘ خواہش کو خبر ہرگز نہیں بناتے۔ امریکہ اور برطانیہ دونوں ملکوں میں کارپوریٹ میڈیا اصل خبر چھپانے‘ حقائق توڑ مروڑ کر پیش کرنے اور اسرائیل کے خلاف کچھ نہ کہنے کی بنا پر پوسٹ غزہ قتلِ عام اور پوسٹ ایران وار شدید تنقید کی زد میں ہے کیونکہ اب ان کے ہاں انفارمیشن کا سیلاب نہیں بلکہ Flood of dis-information اور ڈکٹیشن کا راج ہے۔ پچھلے چار سال میں پاکستان میں اشتہار بازی کو چھوڑ کر کوئی ایک کامیاب پالیسی‘ کوئی یکا اور تنہا ایسا قومی شعبہ یا راج نیتی کا کوئی ایسا پہلو دریافت نہ ہو سکا جو ملک کے بزنس مین‘ کسان‘ دیہاڑی دار اور وطنِ عزیزکی یُوتھ اکثریت کو امید کے جھوٹے رُوپ درشن کروا سکے۔واقعات نے پاکستان کو کھینچ کر ایسے چوراہے میں کھڑا کر دیا ہے جہاں سے آگے کا راستہ نکالنے کے لیے موجودہ نظام میں کوئی سُدھ بُدھ نظر نہیں آتی۔ اس کے ثبوت ملکی معیشت کے تین پہلو سب کو دکھا رہے ہیں۔پہلا پہلو ہماری فوڈ باسکٹ: اپنے ہاں اہم ترین قومی موضوع‘ شعبۂ زراعت پر اعداد و شمار جمع کرنے کا دو سطح پر بالکل رواج نہیں ہے۔ ایک سرکاری سطح پر زمینی حقائق کو &#39;&#39;بچھو‘‘ سمجھ کر ہاتھ نہیں لگایا جا سکتا۔ ادارہ جاتی نالائقی چھپانے کے لیے بڑے بڑے سرکاری محکموں کے دفتروں میں ریکارڈ جلانے والی آگ بھڑکتی ہے‘ مگر ان محکموں کی کارکردگی‘ اخراجات پر کوئی فرانزک رپورٹ کبھی سامنے نہیں آئی۔ پاکستان زرعی معیشت کا حامل ملک تھا۔ اب زراعت کا جو حال ہے اور کھانے پینے والی زرعی اشیا‘ سبزیوں‘ پھلوں کے نرخ کی جو روزانہ چال ہے اس سے ہر طبقہ بے حال ہے۔ شمالی پاکستان اور بلوچستان میں آبی وسائل کی ناقص منصوبہ بندی‘ زمینداروں کی پتلی معاشی حالت کے علاوہ بہت مہنگی بجلی‘ انتہائی مہنگا ڈیزل‘ اس سے مہنگی کھادیں نایاب ہونے کی وجہ سے ہر جگہ زرعی اجناس کی پیداوار میں روز افزوں کمی ہے۔ آپ مارکیٹ میں بلیو بیری خریدنے جائیں تو وہ افریقہ کی امپورٹ ملتی ہے۔ 600فی کلو روپے والا اچھا سیب نیوزی لینڈ سے منگوایا جا رہا ہے۔ دھنیا اور مرچیں انڈیا سے بلیک راستے سے۔ نہ کوئی زرعی پالیسی نہ غریب کسان اورچھوٹے کاشتکار کے لیے سہولت نہ سبسڈی۔ مگر ہائبرڈ نظام مرکز اور پنجاب کے ایئر کنڈیشنڈ بند کمروں میں بیٹھ کر کاشتکاروں اور کسانوں کے لیے آئی ٹی سکیمیں اور زرعی سہولت کارڈ بنانے کا اعلان کر رہے ہیں۔ اگر ہماری وزارتِ زراعت چین سے کچھ نہ سیکھنے کی قسم توڑنے پر تیار ہو جائے تو ہم سے بعد میں آزاد ہونے والے ملک نے جس طرح کے پھل اور سبزیاں &#39;ایجاد‘ کر لیے ہیں وہ عجوبہ یہاں بھی آ سکتا ہے۔ جبکہ ہماری زراعت کے منیجرز کے لیے سٹیل‘ سریے‘ سیمنٹ اور بجری والے پروجیکٹ &#39;&#39;چندا ماموں‘‘ کی طرح پیارے ہیں۔ ان دنوں کسی نے کسان سے پوچھا کہ آپ کو موجودہ رجیم میں سب سے بڑی سہولت کون سی ملی ہے؟ کسان نے بڑے اعتماد سے جواب دیا: لوڈ شیڈنگ۔ پھر سوال ہوا: وہ کیسے؟ کسان بولا: علامہ اقبال کے بعد اگر کسی نے قوم کو جگایا ہے تو وہ لوڈشیڈنگ ہے۔ ریاست کے پاس باسکٹ تو اب بھی ہے لیکن اس میں ڈالے گئے سارے فوڈ باہر سے امپورٹ ہوتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ اس نظام کا کمال ہے کہ جس نے زرعی معیشت میں چھپی ہوئی گوبر ٹیکس جیسی سپر پاور دریافت کر لی۔ لوگ سوچتے ہیں سورج تو اللہ کا ہے اور اللہ سب کا۔ سولر عوام کے جیب خرچ سے خریدا گیا۔ سولر عام آدمی اپنے گھر کی چھت پر لگاتا ہے‘ چھت بھی اس کی اپنی۔ حیرانی کی بات یہ کہ سورج اللہ کا‘ گھر کی چھت غریب کی‘ سولر بازار سے خریدا ہوا‘ اب اسے لگانے کے لیے وہ نیپرا سے اجازت لے گا‘ اور پھر فیس بھی بھرے گا؟ معاشیات کے باوا آدم ایڈم سمتھ حیات ہوتے تو سولر پینل والی چھت سے لٹک جاتے۔ قومی معیشت کی ترقی کے لیے یہ سارے راز بابائے اکنامکس کے خیال تو کیا خواب میں بھی نہ آ سکے۔ شعبۂ زراعت کا یہ فری فال کون ٹھہرائے گا اس کا جواب اس نظام کے پاس نہیں۔دوسرا پہلو شدید بھوک اور غذائی عدم تحفظ کا انڈیکس: حال ہی میں خوراک کے عدم تحفظ کا شکار ملکوں کی گلوبل رپورٹ آن فوڈ کرائسز برائے 2026ء جاری ہوئی جس میں غذائی عدم تحفظ کا پرائم سنٹر آف گلوبل ہنگر انڈیکس موجود ہے۔ فہرست میں پہلے نمبر پر سوڈان پھر نائیجیریا‘ کانگو‘ افغانستان‘ یمن کے بعد چھٹے نمبر پر پاکستان ہے۔ مختلف اعداد و شمار کے ساتھ یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا کہ پٹرولیم قیمتوں میں بے پناہ‘ بے ہنگم اور ناجائز اضافہ غذائی تحفظ کی صورتحال کو مزید خراب کرنے کا باعث ہے۔تیسرا پہلو بیرونی سرمایہ کاری کا بحران: ہائبرڈ رجیم کی بنیاد رکھتے وقت پاکستانیوں کو جھوٹا خواب دکھایا گیا۔ ایک سال کے عرصے میں سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پاکستان میں لائیں گے۔ معاشی منصوبہ بندی کی غیر موجودگی میں بیرونی سرمایہ کاروں کے عدم اعتماد کو اعتماد میں نہیں بدلا جا سکا‘ جس کے نتیجے میں ہائبرڈ راج میں مارچ2024ء سے فروری 2026ء تک ہر دن اوسطاً 21سے 25ارب روپے قرض میں اضافہ ہو رہا ہے۔ وزارتِ داخلہ اور وزارتِ خزانہ کہتی ہیں کہ پاکستان سے اربوں ڈالر باہر گئے۔ مگر اس پر افسوس کے علاوہ کوئی کارروائی کیوں نہ ہوئی؟ آئی ایم ایف کرپشن کے ان اعداد و شمار کو مسترد کرتا ہے۔ اس کے مطابق 2025ء میں پاکستان میں پانچ ہزار تین سو ارب روپے کی کرپشن ہوئی۔ پنجاب کی سالانہ رپورٹ میں یہ رقم کم کرکے چار سو ارب روپے بتائی گئی۔ ادارۂ شماریات اور سٹیٹ بینک کے مطابق 2025ء میں 25بڑی کمپنیاں پاکستان چھوڑ گئیں۔ ہر سال حکمران‘ اشرافیہ کے کرپشن زدہ فیصلوں کے نتیجے میں 2900ارب بجلی‘180ارب ایل پی جی کی کپیسٹی پیمنٹ میں چلے جاتے ہیں۔ وزیر پٹرولیم کہتے ہیں کہ یہ رقم ہم نہیں لیتے۔ بجلی اور گیس کے بل آپ کی وزارت بھیجتی ہے‘ پھر رقم کون لیتا ہے؟ جو وزارت کی ذمہ داری نہیں لے سکتے وہ ملک کے مستقبل کا ذمہ کیسے لیں گے۔اُٹھ شاہ حسینا ویکھ لے ساڈی بجلی گئی اے بُجھسانوں کنداں ٹکراں وجدیاں ساڈی بوتھی گئی اے سُجھاُٹھ شاہ حسینا ویکھ لے ساڈی وج گئی اے مَتکوئی کُبّا لبھ کے دیو سانوں جیہڑا دیوے سانوں لَتاُٹھ شاہ حسینا ویکھ لے سانوں ظالماں دِتّا رولساڈے گیس دے چُلہے بجھ گئے ساڈی گَڈّی نہیں پٹرولاُٹھ شاہ حسینا سُتیا چُک منہ دے اُتوں لحافاسی ہتھ بن عرضاں کردے ساڈی بھل چک کر دے معاف</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_42786259.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>جاپان کی قومی ترقی اور نظامِ تعلیم(اسد طاہر جپہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/asad-tahir-jappa-/2026-05-01/51867/44295477</link><pubDate>Fri, 01 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/asad-tahir-jappa-/2026-05-01/51867/44295477</guid><description>جاپانی حکومت کی طرف سے بسا اوقات پاکستان کے وفاقی اور صوبائی افسران کو مطالعاتی دورے پر ٹوکیو آنے کی دعوت دی جاتی ہے جس کا مقصد وہاں کے انتظامی ڈھانچے اور گورننس کے نظام کو سمجھنا اور واپس آ کر ان کی قابلِ تقلید مثالوں کو وطن عزیز میں رائج کرنا ہوتا ہے۔ جاپان سے لوٹنے والے کئی افسران سے گفتگو رہی اور انہوں نے جاپانی قوم کے نظم و ضبط‘ وقت کی پابندی‘ صاف گوئی اور عجز و انکسار سے متعلق بہت سے چشم دید واقعات سنائے۔ وہ چشم کشا حقائق پر مبنی تمام باتیں سن کر یوں محسوس ہوا کہ جیسے کسی دیو مالائی دنیا کے قصے کہانیاں سنا رہے ہوں۔ مثلاً جاپان کے سرکاری دفاتر میں سائل کا آنا جانا ناپید ہے اور اسے بہت معیوب عمل سمجھا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عوام کے تمام امور اور معاملات ایک خودکار نظام کے ذریعے نمٹا دیے جاتے ہیں اور سائلین کو تمام تر سہولتیں اور خدمات ان کے گھر کی دہلیز پر ہی فراہم کی جاتی ہیں۔ اگر کسی سرکاری ادارے کے بڑے ہال میں کوئی سائل داخل ہو جائے تو سروس کاؤنٹرز پر موجود سرکاری ملازمین کی جان پر بن آتی ہے اور ان سب کی نگاہیں اس سائل پر مرکوز ہو جاتی ہیں اور یہ سوچ کر ہر ایک کے دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے کہ کہیں وہ سائل اس کے کاؤنٹر کی طرف نہ آجائے۔ جس کاؤنٹر پر سائل جا کر رک جائے تو تمام رفقا کار اس اہلکار کو عجیب نظروں سے دیکھتے ہیں کہ اس کی غفلت اور نااہلی کے باعث ایک سائل کو خود چل کر دفتر آنا پڑا۔ جاپان کے انتظامی نظام اور معاشرتی اقدار میں اس نالائقی کی گنجائش نہیں اور ایسے افراد کا سخت محاسبہ کیا جاتا ہے۔ دوسری طرف عین ممکن ہے کہ وہ متعلقہ افسر یا اہلکار احساسِ ندامت اور خود احتسابی کے دباؤ اور ذہنی تناؤ میں مبتلا ہو کر دفتر سے گھر پہنچ کر خودکشی سے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لے۔ یہی وجہ ہے کہ جاپان میں خودکشی کی شرح کافی زیادہ ہے جس کی ایک بنیادی وجہ ذہنی دباؤ ہے کیونکہ وہاں صحیح غلط اور سچ جھوٹ کی حدِ فاصل واضح ہے اور لوگوں کے اخلاقی معیارات بہت بلند ہیں‘ جن میں ذرا سی اونچ نیچ برداشت کرنا بھی ان کیلئے ناممکن بن جاتا ہے اور وہ خود اپنی جان کا خاتمہ کر لیتے ہیں۔ جاپان میں جرائم کی شرح خطے کے دوسرے ممالک کی نسبت بہت کم ہے اور اس کا شمار محفوظ ترین ممالک میں ہوتا ہے۔ اس کی بڑی وجوہات میں سے ایک معاشی اور سماجی مساوات ہے‘ سب کا معیارِ زندگی تقریباً ایک جیسا ہے۔ قانون کی عملداری سب کیلئے یکساں ہے اور جرم کی صورت میں 99 فیصد تک سزا پانے کے امکانات واضح ہیں۔ تیسری بڑی وجہ اجتماعی سوچ ہے جس کے نتیجے میں جاپان کو جرم سے محفوظ رکھنا مشترکہ ذمہ داری سمجھا جاتا ہے اور یہ ان کی معاشرتی زندگی کا کلیدی جزو ہے۔ اجتماعی سوچ ان کے شہروں کی صفائی ستھرائی میں بھی جھلکتی ہے۔ ٹوکیو جیسے گنجان آباد شہر میں کوئی کوڑے دان نہیں رکھا گیا کیونکہ شہر کی صفائی ہر فرد کی انفرادی ذمہ داری میں شامل ہے۔ وہاں کوئی شخص سڑک پر کچرا نہیں پھینکتا کیونکہ یہ اجتماعی احساسِ ذمہ داری ان کی انفرادی تربیت میں شامل ہے۔ اسی طرح جاپان میں وقت کی پابندی سے متعلق مقررہ وقت سے پانچ منٹ پہلے کا اصول رائج ہے۔ اگر آپ میٹنگ یا تقریب میں مقررہ وقت پر پہنچیں تب بھی آپ لیٹ تصور کیے جاتے ہیں۔ وہاں عملی طور پر لوگ ٹرین کے اوقات کے ساتھ اپنی گھڑیوں کی سوئیاں ملاتے ہیں۔ اگر کبھی کبھار کسی تکنیکی رکاوٹ یا معقول وجہ کے باعث ٹرین ایک آدھ منٹ تاخیر کا شکار ہو جائے تو ڈرائیو سر جھکائے بڑی عاجزی سے باقاعدہ معذرت طلب کرتا ہے۔ ریلوے حکام لوگوں کے سامنے اس تاخیر کی تفصیل بیان کرتے ہیں اور اعلانیہ معذرت کی جاتی ہے۔ علاوہ ازیں ذاتی سطح پر جاپان کے لوگوں میں صاف گوئی اس قدر زیادہ ہے کہ جھوٹ بولنے کا تصور تک نہیں کیا جا سکتا۔ عجزو انکساری ایسی کہ بڑے سے بڑے عہدے پر فائز شخص اپنے کام کاج خود کرتاہے اور وہاں نوکر چاکر رکھنے کا رواج نہیں۔ یہاں پر سب سے اہم سوال یہ ہے کہ جاپان میں یہ اجتماعی سوچ اور انفرادی احساسِ ذمہ داری کیسے پیدا کیا گیا۔ اس کا جواب انتہائی سادہ اور آسان ہے۔ وہ ہے جاپان کا نظامِ تعلیم۔ جاپان میں بچے کو ذہین فطین اور ٹاپر نہیں بلکہ سب سے پہلے ایک اچھا شہری بنایا جاتا ہے۔پہلی سے تیسری جماعت تک کوئی ٹیسٹ نہیں اور نہ ہی کوئی پوزیشن ہے بلکہ وہاں پہلی سے تیسری جماعت تک پڑھائی سے زیادہ شخصیت و کردار کی تعمیر و تشکیل پر کام ہوتا ہے۔ ان کے نظامِ تعلیم کی اساس اس سنہرے اصول پر قائم کی گئی ہے کہ مضبوط اخلاقی معیارات کے بغیر علم کا حصول خطرناک ہے۔ اجتماعی احساس پیدا کرنے کیلئے تعلیمی اداروں میں سے پہلے &#39;&#39;میں‘‘ کی جگہ &#39;&#39;ہم‘‘ کا تصور اجاگر کیا جاتا ہے اور انفرادی کارکردگی کے بجائے بطور کلاس ایک ٹیم کا جذبہ پروان چڑھانے پر زور دیا جاتا ہے۔ ایک بچے کی غلطی پوری کلاس کی ذمہ داری تصور کی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ محنت اور مستقل مزاجی کے ساتھ جہدِ مسلسل پر زور دیا جاتا ہے کہ ہار نہیں ماننی بلکہ کوشش کرتے رہنا ہے۔ صفائی‘ کھیل‘ پڑھائی سب میں سو فیصد دینا ہے۔ تھک ہار کے بیٹھ جانا ان کی لغت میں شامل نہیں۔ اس کے علاوہ بچوں میں دوسروں کا احساس پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور رونے والے بچے کو پوری کلاس چپ کراتی ہے۔ اخلاقیات کا پیریڈ روزانہ کے معمولات میں شامل ہے جس میں استاد مختلف قسم کی سبق آموز کہانیاں سناتے ہوئے اخلاقی تعلیم دیتے ہیں۔ روزانہ کے موضوعات میں ایمانداری‘ وعدہ نبھانا‘ بڑوں کی عزت کرنا اور کوڑا نہ پھینکنا جیسے کلیدی امور شامل کیے جاتے ہیں۔ بچوں میں قائدانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کیلئے پوری کلاس کو چھ سے آٹھ طلبہ و طالبات میں تقسیم کیا جاتا ہے اور ہر گروپ میں ایک لیڈر مقرر کیا جاتا ہے‘ جو ہر ہفتے بدل جاتا ہے تاکہ سب کو یکساں طور پر یہ کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کیا جائے۔ بطور گروپ لیڈر اس کی ذمہ داری میں حاضری لگانا‘ کھانا تقسیم کرنا‘ کمرہ صاف کرنا اور لڑائی جھگڑا سلجھانا شامل ہوتا ہے۔ اس سارے عمل میں جہاں بچوں میں اجتماعی سوچ کو فروغ دیا جاتا ہے وہاں انفرادی تربیت پر بھی نمایاں زور دیا جاتا ہے۔ ہر دن دو بچے کلاس کیپٹن کا رول پرفارم کرتے ہیں جو صبح وائٹ بورڈ صاف کرتے ہیں‘ استاد کے آنے پر سب سے سلام کراتے ہیں اور چھٹی کے وقت سب سے شکریہ استاد کے الفاظ کہلواتے ہیں۔ ہر جمعہ کو کلاس کی صفائی کا مقابلہ ہوتا ہے اور جیتنے والے کو سرٹیفکیٹ ملتا ہے۔ بچے دوپہر کا کھانا کلاس روم میں ہی کھاتے ہیں۔ کھانے کے بعد ہر بچہ اپنی پلیٹ‘ چمچ‘ میز خود صاف کرتا ہے۔ چھٹی سے 10منٹ پہلے پوری کلاس دائرے میں بیٹھتی ہے اور خود احتسابی سے متعلق اس طرح کے سوالات پوچھے جاتے ہیں کہ آج ہم نے کیا اچھا کیا؟ کیا غلطی ہوئی؟ کل کیسے بہتر کریں گے؟ بچے خود بتاتے ہیں‘ آج میں نے فلاں کو دھکا دیا جس پر معذرت کرنا سکھایا جاتا ہے۔تعلیمی اداروں میں چپڑاسی نہیں ہوتا۔ ہر روز 20 منٹ ٹائلٹ‘ راہداری اور کلاس روم بچے خود دھوتے ہیں۔ پرنسپل سمیت تمام سٹاف ممبران بھی بچوں کے ساتھ شامل ہوتے ہیں۔ پہلے تین سال ایک ہی استاد بچوں کے ساتھ رہتا ہے جس دوران وہ بچے کی نفسیات اور اس کے گھر کے حالات سمیت سب جانتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بچے والدین سے زیادہ اپنے استاد کی بات مانتے ہیں۔ والدین ہوم ورک میں مدد نہیں کرتے کیونکہ تعلیمی اداروں میں ہوم ورک میں غلطی کرنا معیوب نہیں سمجھا جاتا بلکہ سیکھنے کے عمل کا لازمی جزو مانا جاتا ہے۔اب آپ تھوڑی دیر کیلئے اپنے نظامِ تعلیم پر توجہ مرکوز کریں اور اس میں نمبروں کی دوڑ اور اس سارے عمل میں جائز وناجائز ہتھکنڈوں کا استعمال‘ بچوں پر پڑنے والے ذہنی دباؤ اور تربیت کے فقدان پر غور کریں تو کردار میں کج روی اور معاشرے میں بڑھتے ہوئے جرائم اور سماجی برائیوں کی وجوہات کو سمجھنا مشکل نہیں رہے گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_34710710.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ننھے منّے ٹرمپ(آصف عفان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/asif-afan-/2026-05-01/51868/46861185</link><pubDate>Fri, 01 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/asif-afan-/2026-05-01/51868/46861185</guid><description>ثالثی کا دوسرا راؤنڈ تمام کوششوں اور سبھی انتظام و انصرام کے باوجود شروع نہ ہو سکا۔ اس مقصد کیلئے فریقین میں اتفاقِ رائے پیدا نہیں ہو سکا۔ ٹرمپ بہادر نے مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کردہ تازہ تصویر سوشل میڈیا پر جاری کر دی جس میں موصوف سیاہ چشمہ لگائے‘ مشین گن اٹھائے ایران کو دھمکا رہے ہیں کہ &#39;&#39;شرافت چھوڑ دی میں نے‘‘۔ ٹرمپ کی افتادِ طبع اور طرزِ حکمرانی کے سبھی پہلوؤں کا جائزہ لیں تو دیدہ دلیری اور سینہ زوری کے سوا کچھ پلے نہیں پڑتا۔ پاکستان کی تمام تر مصالحانہ کوششوں اور بھاگ دوڑ کے باوجود مذاکرات کو بڑی پارٹی کی طرف سے بدستور ڈھٹائی اور ہٹ دھرمی کا سامنا ہے۔ ایران پر پہلے حملے سے لے کر اس کے حیران کن جوابی حملوں کے سبب جہاں پلان اے‘ بی اور سی ناکام ہوئے وہاں ٹرمپ بہادر کا جنون خطے کو جنگ میں جھونکنے کیلئے مستقل پینترے بدل رہا ہے۔ ایسے میں جنگ بندی کو چائے کا وقفہ ہی تصور کرنا چاہیے کیونکہ جہاں جنگ معیشت کا درجہ رکھتی ہو وہاں سارے اصول ضابطے بے معانی اور ان کی خواہش تو ویسے ہی مضحکہ خیز دکھائی دیتی ہے۔ ایسے میں حالات کی سنگینی اور بہتر عکاسی کیلئے اشفاق حسین کے مشہورِ زمانہ اشعار پیشِ خدمت ہیں:بہت مضبوط لوگوں نے کبھی بھی امن کی خواہش نہیں کی ہے؍ کہ خواہش امن کی کمزور لوگوں کی تمنا ہے یہ مجبوروں کی دنیا ہے یہ محکوموں کی بستی ہےمگر مجبوروں کی دنیا میں محکوموں کی بستی میںکبھی جب آگ لگتی ہے تو سارا آسمان رنگین ہوتا ہےزمیں شعلے اُگلتی ہے؍ کبھی کمزور اور محکوم مل کراک نئی تحریک کا آغاز کرتے ہیںپھر اپنی آرزوؤں کے جہانِ نو کا استقبال کرتے ہیںنئی تاریخ ان کی انقلابی داستاں میں رنگ بھرتی ہےیہ اپنی جان دیتے ہیں وہ ان کو زندہ کرتی ہےمگر تاریخ تو تاریخ ہے؍ یہ خود کو دہراتی رہے گیسبھی کمزور اور مظلوم اور محکوم جب انعام پا جاتے ہیںاپنی زندگی میں انقلابِ تازہ کی بنیاد رکھ چکتے ہیںتب ان میں سے کچھ مضبوط تر انسان اپنی تازہ تر طاقت کے ہونٹوں سےنئی تاریخِ ظلم و جبر دہراتے ہیںلیکن ان کی آنکھوں میں حصولِ امن کی خواہش نہیں ہوتیتو کیا یہ صرف کمزوروں کی خواہش ہے؟ان اشعار کے تانے بانے ملائیں تو اس جنگی معیشت سے جا ملتے ہیں جس کے پھیلاؤ اور استحکام کیلئے ٹرمپ بہادر بے چین اور بوکھلائے پھر رہے ہیں جبکہ ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے اور مستقل جنگ بندی کیلئے اپنی تجاویز بذریعہ پاکستان امریکہ تک پہنچا دی ہیں۔ دوسری طرف روسی صدر پوتن نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے پُرتپاک استقبال کے ساتھ سٹرٹیجک تعلقات مضبوط بنانے کے علاوہ امن کیلئے سب کچھ کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کیا ہے کہ جنگ بندی میں توسیع ہماری کوششوں کا نتیجہ ہے اور ہم نے ہمت نہیں ہاری جبکہ امریکہ بدستور کھلی دھمکی دے رہا ہے کہ ایران کیلئے کوئی رعایت نہیں۔ امریکی کانگرس میں بھی نوک جھوک بڑھتے بڑھتے اب جھڑپ کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ صدر اور وزیر دفاع کو جھوٹے ہونے اور دلدل میں پھنسانے کے الزامات کا بھی سامنا ہے۔ کانگرس کے ارکان نے ختم ہوتے اسلحہ کی طرف نشاندہی کرتے ہوئے یہ بھی باور کرایا ہے کہ اب چین کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں رہے۔ اسی طرح پاکستان اور روس کے علاوہ سبھی ممالک کی عملی کوششیں اور امن کی خواہشات ایک طرف اور ٹرمپ بہادر کی تازہ ترین مسلح تصویر دلوں کے بھید بھاؤ سمیت سارا پرچہ ہی آؤٹ کیے ہوئے ہے۔ ایک چینی کہاوت ہے کہ ایک تصویر ہزار الفاظ پر بھاری ہوتی ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے اپنی فرضی تصویر NO MORE MR. NICE GUY! کے کیپشن کے ساتھ جاری کر کے سبھی عالمی کوششوں کو الفاظ اور بیانات کا گورکھ دھندا بنا ڈالا ہے۔ گویا: اس تصویر کو فل سٹاپ اور اشفاق حسین کے اشعار کی تصویری تشریح بھی کہا جاسکتا ہے۔کمال کے اشعار ہیں جو عالمی مضبوط لوگوں سے لے کر مملکت خداداد کے مضبوط اور بااثر لوگوں تک سبھی پر فِٹ بیٹھتے ہیں۔ عالمی سامراج آسان ہدف ممالک کو مجبوروں کی دنیا اور محکوموں کی بستی بنانا چاہتے ہیں جبکہ ہمارے اپنے عوام نما رعایا کو مجبور اور محکوم ہی دیکھنا چاہتے ہیں۔ عالمی سامراج امن کو اپنی معیشت کی ضد تصور کرتا ہے تو ہمارے اپنے امن و امان کا چورن بیچ کر بھی عوام کو بے امان ہی رکھتے ہیں۔ عالمی سامراج مجبور اور ضرورتمند قوموں کو ماچس کی ڈبی سے لے کر خوراک‘ ادویات سمیت دیگر اشیائے ضروریہ کیلئے بھی اپنا ہی محتاج رکھتا ہے جبکہ امور مملکت چلانے کیلئے ناقابلِ برداشت کڑی شرائط کے ساتھ نہ صرف مالی قرضے دیتا ہے بلکہ انہی قرضوں کی قسط ادا کرنے کیلئے مزید قرضوں کے خصوصی پیکیج بھی آفر کرتا ہے اور ہمارے اپنے عوام کی محرومیوں کو ان کا نصیب ثابت کرنے کیلئے کیسے کیسے جواز اور ڈھکوسلے پیش کر تے چلے آرہے ہیں۔ سکولوں سے باہر اور بنیادی تعلیم سے محروم کروڑ ہا بچے ہوں یا پیٹ بھر روٹی اور تن ڈھانپنے سے عاجز عوام‘ سبھی کی بدنصیبی طے شدہ منصوبے اور حکمرانی کا اعجاز ہے۔ اس تمہید اور گردان کا مقصد ٹرمپ کی افتادِ طبع اور ان اشعار کی مارکیٹنگ ہرگز نہیں بلکہ یہ باور کرانا ضروری ہے کہ ٹرمپ امریکی صدر یا محض ایک کردار کا نام نہیں بلکہ ایک کیفیت کا نام ہے جو بے پناہ طاقت‘ اختیار اور بے تحاشا دھن دولت کے علاوہ عالمی غنڈہ گردی کی صورت میں سر کو چڑھ گئی ہے۔ سیانے کہتے ہے: انسان کا مزاج ہی بالآخر اس کا مقدر بن جاتا ہے۔ اسی طرح ٹرمپ کے مزاج نے کرسیٔ صدارت کو سنبھالنے کے بجائے بدستور ہچکولوں پر رکھا ہوا ہے۔ ہمارے ہاں اسی کیفیت کے نقطے ملائیں تو بننے والی شکلیں اور خاکے شمار نہیں کیے جا سکتے جو اختیار اور اقتدار سے لے کر دھونس اور دھاندلی کے زور پر آپے سے باہر ہیں۔ یہ سبھی کردار روزِ اوّل سے لمحۂ موجود تک ہر دور میں کئی اضافوں کے ساتھ اسی کیفیت کے تحت لوکل ٹرمپ بنے ہوئے ہیں۔ ان مقامی ٹرمپوں کو حالاتِ مذکور کے تحت ننھے منھے ٹرمپ بھی کہا جا سکتا ہے جو حصولِ اقتدار سے لے کر طولِ اقتدار تک‘ غریب ماری سے لے کر ماروماری تک‘ مال بنانے سے لے کر نسلیں اور دن سنوارنے تک‘ شکم پروری سے بندہ پروری تک‘ مصاحبین سے معاونین تک‘ اقتدار اور وسائل کے بٹوارے سے لے کر بندر بانٹ تک‘ عوام کو بنیادی ضروریات سے محروم رکھ کر ہوشربا ترقی اور خوشحالیوں کے کوہِ ہمالیہ تک جا پہنچنے کو جائز اور حلال سمجھتے ہیں۔ خاطر جمع رکھیں! جب تک ٹرمپ بہادر اور ان کے پیروکار ننھے منھے ٹرمپ قائم ہیں تب تک گلشن کا کاروبار اُلٹا اور یونہی چلے گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_65560900.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>اللہ کی گھات اور سپر تہذیب(امیر حمزہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ameer-hamza/2026-05-01/51869/57779159</link><pubDate>Fri, 01 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ameer-hamza/2026-05-01/51869/57779159</guid><description>گلستان اسے کہتے ہیں جہاں پھول‘ پودے اور گھاس ایسے ہوں جیسے ایران اور کشمیر کا سبز قالین ہو۔ چاروں طرف سرو کے قد آور درخت ہوں‘ ان درختوں کی اوٹ میں بل کھاتی ہوئی پہاڑی کی بلندی سے آبشار بہہ رہی ہو۔ اس پر چڑھتے سورج کی کرنیں پڑیں تو یوں محسوس ہو جیسے سنہرے رنگ کے غزال چوکڑیاں بھرتے نیچے اُتر رہے ہیں۔ پتھروں سے ٹکراتے پانی کے قطرے اچھلیں تو ایسے لگے جیسے خلیج فارس کے رنگا رنگ موتی اور مرجان فضا میں چمک دکھلاتے اور واپس آبشار کا حصہ بن جاتے ہیں۔ یہی پانی نالہ بن کر گلستان میں چلتا ہے۔ کوئل کُوکُو کرتی ہے تو پرندے اپنی اپنی بولیاں بولتے ہیں۔ جی ہاں! اس مقام پر فجر اور اشراق کے رنگ نرالے اور انوکھے ہیں۔ لوگو! کیا شک ہے مصورِ پاکستان حضرت علامہ اقبال ؒ نے برصغیر کے مقہور مسلمانوں کیلئے جس آزاد وطن کا خواب دیکھا تھا وہ پاکستان ہے۔ اس کے لیے حضرت اقبال ؒ نے کہا تھا:خطر پسند طبیعت کو سازگار نہیں؍ وہ گلستان کہ جہاں گھات میں نہ ہو صیّادقارئین کرام! میں پاکستان کو ختم المرسلین حضرت محمدﷺ کے مبارک قدموں کا نقش سمجھتا ہوں۔ مکہ مکرمہ چلیں‘ اپنے حضورﷺ کے میلادی شہر میں چلیں‘ تو وہاں نہ جھرنے ہیں نہ آبشاریں‘ نہ رنگا رنگ پھول ہیں اور نہ ہی درختوں کی قطاریں مگر یہ ایک گلستاں ہے۔ اس گلستاں اور چمنستاں‘ جس کی حدود کے اندرون کو حرم کہا جاتا ہے‘ یہاں ہر ایک کی جان‘ مال‘ عزت اور آبرو محفوظ ہے۔ یہاں کے پرندوں اور جانوروں کو بھی امان حاصل ہے کہ کوئی ان کا شکار نہیں کر سکتا۔ حضور کریمﷺ نے جب اہلِ مکہ کو &#39;&#39;لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ کی دعوت دی تو مکہ کے سرداروں نے کلمہ طیبہ کو اپنی تہذیب پر نظریاتی حملہ قرار دیا؛ چنانچہ جو جو اقرار کرتا چلا گیا وہ ابوجہل کے ظلم و ستم کا نشانہ بنتا چلا گیا۔ جب یہ ظلم حد سے بڑھنے لگا‘ ستم ناقابلِ برداشت ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے سورۃ الفجر نازل فرمائی۔اللہ تعالیٰ نے فجر کی قسم کھا کر مکہ کے مظلوموں کو اپنے حبیبﷺ کے ذریعے پیغام دیا کہ رات جس قدر بھی اندھیری ہو‘ اس کے اُفق پر سفیدی کا نمودار ہونا طے ہے۔ اسی کا نام فجر ہے۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جفت اور طاق عدد کی قسم اٹھائی‘ یعنی مہینہ 29 راتوں کا ہو یا 30 راتوں کا‘ سب راتیں گزرتی چلی جائیں گی۔ ٹائم قریب آتا چلا جائے گا۔ سورج نکل کے رہے گا۔ آفتاب چمک دکھلا کر رہے گا۔ اشراق کا ٹائم آ کر رہے گا۔ ان قسموں میں اہلِ دانش کیلئے ایک سبق ہے۔ لوگو! اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے سرزمین عرب کی ایسی تین تہذیبوں کا ذکر کیا کہ ان کی عظمت سے سارا جہان واقف تھا۔ پہلی تہذیب عاد قوم کی تہذیب تھی۔ یہ تہذیب &#39;&#39;ربع الخالی‘‘ میں دریافت ہو چکی۔ یہ نہایت دراز قد لوگ تھے۔ دوسری تہذیب ثمود قوم کی تھی جنہوں نے پہاڑ تراش کے اپنے گھر بنائے تھے۔ تیسری فرعونی تہذیب تھی۔ فرمایا: &#39;&#39;(ان تہذیبوں نے اپنے اپنے وقتوں میں) انسانیت کو ظلم کے طغیان وطوفان کی نذر کر دیا۔ ہر سُو دہشت کا راج قائم کر دیا۔ (میرے محبوبﷺ! ذرا دیکھ! پھر تیرے رب نے ان کے ساتھ نبٹنے کا کیسا انداز اختیار کیا) تیرے رب نے ان پر عذاب کا کوڑا دے مارا۔ کوئی شبہ میں نہ رہے (اے میرے حبیبﷺ!) تیرا رب ہر لمحے گھات لگائے ہوئے ہے۔ (الفجر: 11 تا 14‘ مفہوم)جی ہاں! اہلِ مکہ نے جب امن کے گلستان کو اجاڑنا شروع کیا تو پھر وہ دن بھی آیا جب مکہ کی بت پرستانہ تہذیب مٹ رہی تھی‘ بت ٹوٹ رہے تھے۔ کریم رب کے کریم محبوبﷺ نے حضرت بلالؓ کو آواز دی‘ کعبہ کی چھت پر انہوں نے اذان دی۔ یہ اذان اعلان تھا کہ &#39;&#39;حق آ گیا اور باطل مٹ گیا‘‘۔ باطل تہذیب مٹ گئی‘ پُرامن تہذیب غالب آ گئی۔ گلستان آباد ہو گیا‘ چہار سو بادِ نسیم چلنے لگی۔ پرندے چہچہانے لگے۔ کوئل کُوکُو کرنے لگ گئی۔ سب کو معاف کر دیا گیا۔ اللہ اللہ! علامہ اقبالؒ نے جس گلستان کی بات کی‘ وہ گلستان عملی طور پر قائداعظم محمد علی جناحؒ کے ہاتھوں وجود میں آیا۔ اس گلستان میں ایک نگہبان بھی ہے۔ یہ نگہبان اللہ کی برہان ہے۔ اللہ کے رسولﷺ کی کمان ہے۔ اس کا ایک تیر پاک افواج ہیں تو دوسرا تیر 25کروڑ عوام ہیں۔ عوامی تیروں میں علمائے حق کی لِسان ہے تو سچی سیاست کے علمبرداروں کی زبان ہے۔ دیانتدار تجار کی ہوس سے پاک تجارت ہے تو اہلِ قلم کی شفاف صحافت ہے۔ اے اہلِ وطن! ہمیں پاک وطن کی کمان پر بھی نظر رکھنا ہو گی کہ عدل کا تیر سیدھا رہے‘ بیورو کریسی کا تیر بھی سیدھا رہے۔ زندگی کے ہر شعبے کا تیر مستقیم رہے۔ سب مستقیم ہوں گے‘ پاک وطن کے دشمنوں کی گھات میں ایک کمان بن کر رہیں گے۔ اپنے اپنے میدان کے شکاری بن کر رہیں گے۔ ملک کے نگہبان بن کر رہیں گے تو پاکستان نامی گلستان روز بروز شاد وآباد ہوتا چلا جائے گا۔ عزم عالی شان کا شاہکار بنتا چلا جائے گا‘ ان شاء اللہ تعالیٰ۔آج یکم مئی ہے۔ اسی مہینے کے پہلے عشرے میں اَکھنڈ بھارت کے علمبرداروں نے ہم پر یلغار کی‘ ہم سب ایک کمان میں یکجا ہو کر بنیانٌ مرصوص بن گئے۔ جی ہاں! طاقت ہوتے ہوئے بھی ہم حد سے آگے نہیں بڑھے۔ اس کا نام ہے گلستان میں بسنے والی پُرامن تہذیب۔ افغانستان میں ہم نے دو بار قربانیاں دیں تاکہ ہماری پُرامن تہذیب کے پڑوس میں امن رہے۔ ہم نے دور جا کر سارے جہاں کو بھی پُرامن تہذیب کے رنگ میں رنگنے کی کوشش کی۔ بوسنیا اور افریقہ کے کئی ممالک شاہد ہیں۔ اہلِ فلسطین کو دشمن کی تہذیب سے نکال کر پُرامن تہذیب کا حصہ بنانے میں قائداعظمؒ اور ان کے بنائے ہوئے پاک وطن کی جدوجہد کی عمر 95 سال ہو چکی ہے۔ ہندوتوا کی ظالمانہ تہذیب نے اہلِ کشمیر اور بھارت کی اقلیتوں کے ساتھ جو غیر مہذب ظالمانہ رویہ روا رکھا ہوا ہے‘ پاکستان اسے حقوق کی تہذیب میں لانا چاہتا ہے۔ یاد رہے! ساری دنیا میں امریکہ وہ ملک ہے جس نے سب سے پہلے ایٹم بم بنایا۔ اسے تہذیب شکن بم کہا جا سکتا ہے۔ امریکہ نے انسانی تاریخ میں سب سے پہلے اس بم کو جاپان کے دو شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی میں پھینکا۔ دونوں شہروں کی تہذیب پلک جھپکنے میں ختم ہو گئی۔امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تو دھمکی دی کہ ہم ایران کو جہنم بنا دیں گے‘ اس کی تہذیب کو ختم کر دیں گے۔ آغاز میناب شہر کے سکول &#39;&#39;شجرہ طیبہ‘‘ سے کیا گیا۔ اس سکول میں چھ سے بارہ سال کی بچیاں تعلیم حاصل کرتی تھیں۔ حملے کا دن ان کے دستر خوان کا دن تھا۔ طالبات ایک بڑے دستر خوان پر کھانے سجا کر بیٹھی ہی تھیں کہ امریکہ نے میزائل داغ دیا۔ 170کے قریب بچیاں شہید اور زخمی ہو گئیں۔ میناب شہر آبنائے ہرمز کا ساحلی شہر ہے۔ یعنی پیغام یہ تھا کہ خلیج کے تیل کی خاطر تہذیب ختم کی جا سکتی ہے۔ پاکستان نے امن کی کوششوں کو مزید تیز کر دیا۔ لوگو! اللہ تعالیٰ گھات لگائے ہوئے ہے۔ صورتحال یہ ہو گئی کہ صدر ٹرمپ نے ایک میٹنگ میں پریشان ہو کر کہا: اگر میں فتح کا اعلان کرکے خلیج کی دلدل سے نکل آئوں تو کیا یہ بہتر رہے گا؟ یکدم سناٹا چھا گیا۔ پیغام واضح تھا کہ امریکہ ناکام ہو چکا ہے۔ پاکستان کی کوششوں سے سعودی عرب‘ ترکیہ‘ ایران اور خود پاکستان اکٹھے ہو چکے ہیں۔ باہم اعتماد ہے! عمان اور پاکستان باہم مل کر امن کیلئے کوشاں ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی عمان‘ ماسکو کا چکر لگا کر‘ گزشتہ مہینے تین بار پاکستان آ چکے۔ یعنی پاک وطن کا کردار بنیادی ہے۔ ساری دنیا کے دانشور بہرحال یہی کہہ رہے ہیں کہ امریکی تہذیب جس کے بارے اہلِ امریکہ نے کہا تھا کہ اب یہی تہذیب دنیا کو ہمیشہ لیڈ کرے گی‘ وہ اپنی آخری ہچکیوں کی جانب چل پڑی ہے۔ جی ہاں! اللہ گھات لگائے ہوئے ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_68712266.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>