<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>بچوںکے خلاف بڑھتے جرائم(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-25/11306</link><pubDate>Thu, 25 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-25/11306</guid><description>گزشتہ دو روز کے دوران سرگودھا‘ فیصل آباد‘ کراچی اور پشاور میں چار کم سن بچوں کو مبینہ طور پر جنسی زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا۔ بچوں کے خلاف بڑھتے جرائم انتہائی تشویشناک ہیں۔ بچوں کے تحفظ کیلئے کام کرنے والی ایک تنظیم کی رپورٹ کے مطابق 2025ء میں ملک بھر سے بچوں کے خلاف جرائم کے 3630 واقعات رپورٹ ہوئے۔ ان میں سے 2003 واقعات جنسی استحصال سے متعلق تھے جبکہ جنسی استحصال کے سب سے زیادہ‘ 77 فیصد واقعات پنجاب سے رپورٹ ہوئے۔ یہ اعداد و شمار حکام کیلئے چشم کشا ہونے چاہئیں‘ لیکن افسوس کہ صورتحال کی سنگینی کے باوجود بچوں کے تحفظ کیلئے وہ سنجیدگی دکھائی نہیں دیتی جس کی ضرورت ہے۔ اگرچہ بعض واقعات میں فوری گرفتاریاں عمل میں آتی ہیں لیکن محض گرفتاریوں سے مسئلہ حل نہیں ہوتا۔

بچوں کے خلاف جرائم کے مرتکب افراد کو سخت سزائیں دینا بھی ناگزیر ہے تاکہ ان درندہ صفت عناصر کی حوصلہ شکنی ہو سکے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قانون نافذ کرنیوالے ادارے بچوں کے تحفظ کیلئے مؤثر حکمت عملی اختیار کریں۔ چائلڈ پروٹیکشن نظام کو فعال بنایا جائے اور جنسی استحصال کے مقدمات کے فوری فیصلوں کیلئے خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں۔ والدین کو بھی چاہیے کہ بچوں کو ذاتی تحفظ سے متعلق بنیادی آگاہی دیں اور اپنے بچوں کے معاملات میں کسی پر اندھا اعتماد نہ کریں کیونکہ مذکورہ رپورٹ کے مطابق جنسی استحصال کے 1667‘ یعنی 80 فیصد سے زائد کیسوں میں ملزمان قریبی رشتہ دار تھے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>اسلام آباد میں آتشزدگی(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-25/11305</link><pubDate>Thu, 25 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-25/11305</guid><description>منگل کی شب وفاقی دارالحکومت کے سیکٹر ایچ نائن میں قائم اتوار بازار میں آتشزدگی سے 350سے زائد دکانیں جل گئیں۔ انتظامیہ کے مطابق آگ لگنے کی حتمی وجہ کا تعین نہیں ہو سکا اور اس حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔ اس بازار میں آتشزدگی کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران یہ بازار بار بار آگ کی لپیٹ میں آتا رہا ہے۔ اگست 2017 ء میں لگنے والی آگ سے تقریباً 550 دکانیں جل گئیں‘ جولائی 2018ء میں 110‘ اکتوبر 2019ء میں 300‘ دسمبر 2022ء میں 133 اور جولائی 2024ء میں تقریباً 700 دکانیں آگ کی نذر ہو گئیں۔ اب 2026ء میں ایک بار پھر سینکڑوں دکانوں کا جل جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ بازار میںفائر سیفٹی سے بچاؤ کے قواعد پر عملدرآمد نہیں ہو رہا۔

ضروری ہے کہ حالیہ واقعے کے بعد بازار کی تمام برقی تنصیبات کا جامع آڈٹ کرایا جائے اور غیر معیاری وائرنگ‘ جو شارٹ سرکٹ کا سبب بنتی ہے‘ فوری طور پر تبدیل کی جائے۔ ہر دکان پر آگ بجھانے کے آلات لازمی قرار دیے جائیں۔ انتظامیہ کو باقاعدہ فائر سیفٹی انسپکشن اور قواعد کی سختی سے پابندی یقینی بنانا ہوگی۔دکانداروں کو بھی چاہیے کہ احتیاطی تدابیر لازمی اپنائیں۔ بازار میں بار بار لگنے والی آگ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ ایک انتظامی اور حفاظتی مسئلہ ہے۔ اگر اب بھی سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تومستقبل میں پھر آتشزدگی ہو سکتی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>