<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>کشیدگی اور بے یقینی(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-13/11357</link><pubDate>Mon, 13 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-13/11357</guid><description>امریکہ اور ایران میں کشیدگی کے تازہ واقعات کے بعد مشرق وسطیٰ کی صورتحال میں بے یقینی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ کشیدگی جو چند روز پہلے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہاز پر ایران کے مبینہ حملے کے بعد ایرانی بندرگاہوں سمیت متعدد مقامات پر امریکی حملوں کے بعد شروع ہوئی اب تک خاصی شدت اختیار کر چکی ہے اور گزشتہ روز دونوں فریقوں نے ایک دوسرے کے کئی اہم ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا اور آبنائے ہرمز کی بندش یا اس اہم آبی گزرگاہ کے کھلے ہونے کے حوالے سے متضاد خبریں آتی رہیں۔ جون کے آخر میں امریکہ اور ایران میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط اور سوئٹزرلینڈ میں مذاکرات کے بعد امید کی جا رہی تھی کہ طرفین کھلے دل اور خلوص کے ساتھ تکنیکی سطح کے مذاکرات کے مرحلے میں داخل ہوں گے اور امن معاہدے کی جانب پیشرفت ہو گی۔ مگر فریقین کا عدم اعتماد قدم قدم پر رکاوٹ بنتا دکھائی دیتا ہے اور یہ صورتحال اس امن عمل کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ بادی النظر میں فریقین امن عمل میں شامل ہونے کے باوجود ایک دوسرے کیلئے تلخیوں پر قابو نہیں پا سکے اور اس سے بڑی بدقسمتی یہ کہ فریقین میں براہ راست رابطے کا ایسا کوئی ذریعہ نہیں جو ہنگامی حالات میں بروئے کار آ سکے۔

برگن سٹاک‘ سوئٹزرلینڈ میں واشنگٹن اور تہران کے حکام کے درمیان ملاقات میں دونوں فریقوں کے درمیان براہ راست فوجی رابطے پر اتفاق ہوا تھا اور آبنائے ہرمز میں فریقین کے مابین مواصلاتی رابطے کا نظام قائم کئے جانے کا بھی سنا تھا مگر حالیہ دنوں کے واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ فریقین میں اعتماد کا بحران بدستور موجود ہے اور براہ راست رابطے کا بظاہر کوئی ذریعہ بروئے کار نہیں۔ ایران اور امریکہ میں جنگ بندی اور امن کی جانب پیشرفت پر دنیا بھر میں خوشی کا اظہار کیا گیا اور عالمی معیشت نے سکھ کا سانس لیاتھا۔ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخطوں اور سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات کے بعد تیل کی قیمتوں میں تیزی سے کمی آنے لگی اور کچھ ہی روز میں قیمتیں امریکہ ایران جنگ سے پہلے کی سطح تک آ گئیں۔ مگر کشیدگی‘ تصادم اور بے یقینی کے موجودہ ماحول میں قیمتیں ایک بار پھر 76 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہیں‘ جو گزشتہ ہفتے سے کم از کم پانچ ڈالر فی بیرل زیادہ ہیں۔ ایران اور امریکہ کو چاہیے کہ اس کشیدہ صورتحال پر قابو پانے اور بحران کو سمیٹنے کی کوشش کریں۔ پوری دنیا اور خطہ تو ان ممالک کی طرف دیکھ ہی رہا‘ ان ممالک کے عوام بھی ان کی طرف دیکھ رہے کہ وہ بھی اس بحران کے شدت اختیار کرنے کے متحمل نہیں اور نہ ہی خطے کے ممالک اس پنجہ آزمائی کے منفی اثرات سے محفوظ ہیں۔
آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز پر فائرنگ کو جواز قرار دے کر امریکہ نے ایران کو نشانہ بنایا اور جوابی کارروائی میں ایران کی جانب سے خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں اور ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ حالات مشرق وسطیٰ کے خطے کیلئے بے پناہ تشویش اور عدم استحکام کی علامت ہیں۔ توانائی کے وسائل سے مالا مال یہ خطہ جو دنیا کے اس حصے میں عالمی معیشت کے محور کی حیثیت بھی رکھتا ہے‘ آخر کب تک اس مڈ بھیڑ کے رحم و کرم پر رہے گا۔ اس صورتحال کا یقینی اور پائیدار حل نکلنا چاہیے اور فی الفور نکلنا چاہیے۔ مفاہمتی یادداشت اس سلسلے میں بہترین نقشہ راہ اور لائحہ عمل فراہم کرتی ہے۔ اگر فریقین اس کے نکات کا احترام کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ ایک دوسرے پر جھپٹنے کی نوبت آئے۔ بظاہر دونوں جانب سے بے احتیاطی ہوئی ہے اور اسکے بھیانک نتائج سب کے سامنے ہیں۔ ضروری ہے کہ اس کشیدگی کو یہیں روکا جائے اور فریقین اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنی ذمہ داریوں اور وعدوں کی پاسداری کریں۔ ایران اور امریکہ کو بلاتاخیر مذاکرات کے عمل کو بحال کرنا اور جنگ بندی کی خلاف ورزیوں سے اجتناب کرنا چاہیے۔ صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکنے کے لیے یہ اقدامات جتنے جلد ہوں اتنا اچھا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مزدوروں کا بہیمانہ قتل(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-13/11356</link><pubDate>Mon, 13 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-13/11356</guid><description>بلوچستان کے علاقے ماشکیل میں پانچ مزدوروں کا بہیمانہ قتل ان دلخراش اور بزدلانہ کارروائیوں کا تسلسل ہے جس کا نشانہ طویل عرصے سے غریب اور غیر مقامی افراد بنتے آ رہے ہیں۔ روزگار کی تلاش میں اپنے گھر بار سے دور محنت مزدوری کرنے والے بے گناہوں کا خون بہانا کسی بھی معاشرے میں قابلِ قبول نہیں۔ مذکورہ واقعے پر وزیراعلیٰ بلوچستان کا یہ کہنا مبنی بر حقیقت ہے کہ یہ کسی مخصوص زبان یا صوبائیت پر نہیں بلکہ براہِ راست پاکستانیت پر حملہ ہے۔ دہشت گردوں کا مقصد قومی یکجہتی کو نشانہ بنانا اور بلوچستان میں امن و امان کے حوالے سے منفی تاثر اجاگر کرنا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ سکیورٹی فورسز کے جاری آپریشنز اور پے درپے ناکامیوں کے بعد یہ بزدل عناصر جب ریاست کے مضبوط دفاعی حصار کا مقابلہ کرنے کی سکت کھو بیٹھتے ہیں تو اپنی بقا اور سنسنی پھیلانے کیلئے نہتے اور بے بس افراد کو نشانہ بنانا شروع کر دیتے ہیں۔

یہ بزدلی اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشتگرد اب آخری سانسیں لے رہے ہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے آگے بڑھ کر ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔ آپریشن شعبان کو مزید مؤثر‘ منظم اور وسیع انداز میں پھیلایا جائے۔ دشوار گزار اور دور دراز سرحدی علاقوں میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کی رفتار تیز کی جائے اور دہشت گردوں کے نیٹ ورک‘ ان کے سہولت کاروں اور مالی معاونت کرنے والے عناصر کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ صوبے میں امن و امان کی بحالی ہی ان شہدا کے لہو کا اصل مداوا ہو سکتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>آلودہ سرنج سکینڈل(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-13/11355</link><pubDate>Mon, 13 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-13/11355</guid><description>کراچی کے آلودہ سرنج سکینڈل میں تحقیقاتی ٹیم نے ڈاکٹروں سمیت طبی عملے کے 37 افراد کے خلاف محکمانہ کارروائی کی سفارش کی ہے جن کی سنگین غفلت کے باعث78 بچے ایچ آئی وی کے موذی مرض میں مبتلا ہو گئے۔ تحقیقاتی رپورٹ میں انفیکشن سے بچائو اور کنٹرول کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ قبل ازیں ضلع تونسہ میں ایسا ہی ایک سیکنڈل سامنے آیا تھا جس میں 300 سے زائد بچے ایچ آئی وی جیسے موذی مرض میں مبتلا ہو گئے تھے۔ یہ واقعات انفرادی لاپروائی نہیں بلکہ طبی نظام کے کھوکھلے پن کی عکاسی کرتے ہیں۔ ایک ہی سرنج کا متعدد بار استعمال کوئی نادانی نہیں بلکہ اپنے پیشے سے غداری اور انسانی زندگیوں سے کھلواڑ کے مترادف ہے۔ہسپتالوں میں انفیکشن کنٹرول کے بنیادی اصولوں کو پامال کرنا ایک معمول بن چکا ہے۔

ان حالات میں محض قابلِ استعمال سرنجوں پر پابندی لگانے اور نئے قوانین بنانا ہی کافی نہیں ہو گا بلکہ اس رویے کو بھی جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہو گا جو انسانی جانوں کو بے وقعت سمجھتا ہے۔ اگر اب بھی طبی عملے کی کڑی نگرانی‘ پیشہ ورانہ تربیت اور غفلت کے مرتکب عناصر کو سخت سزائیں دینے کا فول پروف نظام وضع نہ کیا گیا تو یہ سلسلہ رکے گا نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان واقعات کو ایک ٹیسٹ کیس سمجھا جائے اور ایسے اقدامات کیے جائیں کہ آئندہ ایسے واقعات کا اعادہ نہ ہو سکے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کیا انسان بدل رہا ہے؟(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-07-13/52285/19857797</link><pubDate>Mon, 13 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-07-13/52285/19857797</guid><description>آدمی بدلتا ہے‘ عمر اور تجربے کے ساتھ۔ وہ خیال کرتا ہے کہ اس کے ساتھ دنیا بھی بدل گئی ہے۔ وہ کل جن باتو ں کا خوگر تھا‘ آج اس کا ذوق ان سے ابا کرتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ دوسروں کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوا ہے۔ یہ سوچ سماج کو‘ دنیا کو سمجھنے میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔مجھ پر ایک دور بیتا ہے جب میں مسلک پرست مذہبی خطیبوں کو سنتا اور ان کی تقریروں سے حظ اٹھاتا تھا۔ یہ ایک چسکا تھا۔ آپ جانتے ہیں کہ چسکا کیا ہوتا ہے۔ ایک عالمِ دین کے گھر پیدا ہونے کا ایک نتیجہ یہ تھاکہ بچپن ہی سے ان مشاغل سے دور رکھا گیا‘ جن کے بارے میں اب سوچتا ہوں کہ سماج کی تفہیم کے لیے ان میں شرکت کتنی ضروری تھی۔ ہمارے گاؤں میں برگد کا ایک پرانا درخت ہے۔ اس کی گھنی چھاؤں شدید گرمی کی دوپہر میں ٹھنڈا سائبان بن جاتی تھی۔ اس کے سائے تلے گاؤں کے مرد آ بیٹھتے۔ معمول کے کام نمٹا کر‘ دوپہر کے کھانے کے بعد‘ اس درخت کے تلے نوجوانوں اور بڑوں کی ٹولیاں بیٹھ جاتیں اور تاش کھیلی جاتی۔ ٹھٹھا مذاق ہوتا اور جب سورج ڈھلنے لگتا تو لوگ گھروں کو روانہ ہو جاتے۔ یہاں تک کہ خاموشی وہاں آ بسیرا کرتی‘ جہاں کچھ دیر پہلے زندگی کے ہنگامے برپا تھے۔بہت دل چاہتا کہ میں بھی ان ہنگاموں میں شامل ہو جاؤں مگر یہاں معاملہ یہ تھا کہ &#39;پر کترنے کو لگی ہیں قینچیاں دیوار پر‘۔ والد گرامی نگرانی کرتے کہ ہم کہیں آنکھ بچا کر نکل نہ جائیں اور اس مجلس سے کچھ ایسا سیکھ آئیں جو ہماری تہذیب کے لیے مضر ہو۔ اس کا ایک نتیجہ یہ نکلا کہ مجھے گالی دینا نہیں آئی۔ آج بھی‘ جب بال سفید ہو گئے‘ میری لغت میں کوئی ایسا لفظ نہیں جسے گالی کہا جائے۔ اس کا نقصان یہ ہوا کہ جب کوئی مجھے گالی دیتا ہے تو میں گونگا بن جاتا ہوں۔ اس معذوری پہ کبھی کبھی غصہ آتا ہے لیکن اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔ مہینوں میں ایک آدھ بار‘ جب والد گرامی کی آنکھ لگ جاتی تو میں آنکھ بچا کر نکل جاتا۔ دل کو دھڑکا لگا رہتا کہ کہیں جاگ نہ جائیں۔ جیسے ہی ظہر ہوتی اور اذان کی آوازکان میں پڑتی‘ بھاگ نکلتے کہ اب انہوں نے لازماً اٹھ جانا ہے۔ وہاں سے آ تو جاتے لیکن &#39;کچھ دل ہی جانتا ہے کہ کس دل سے آئے ہیں‘۔ہمارے ہاں &#39;سانگ‘ کا بھی رواج تھا۔ شادی بیاہ کے موقع پر سانگ لگا کرتے۔ یہ سٹریٹ تھیٹر کی ایک شکل تھی‘ جس میں قدیم رومانوی داستانوں پر اداکاری کی جاتی۔ مرد ہی خواتین کا روپ بھرتے اور &#39;سانگ‘ رچاتے تھے۔ &#39;سانگ‘ رات کو لگتا تھا۔ دور دور کے گاؤں سے لوگ دیکھنے آتے۔ یہ تفریح کا ایک شاندار موقع ہوتا۔ جس دن کوئی سانگ ہوتا‘ والدِ گرامی رات جاگ کر گزارتے کہ کہیں ہم ان کی غفلت سے فائدہ نہ اٹھا لیں۔ ریڈیو گھر میں تھا مگر صبح تلاوت‘ ترجمہ قرآن حکیم اور ہماری زندگی کے ساتھ شاہ بلیغ الدین کی &#39;روشنی‘ کو سنا جاتا۔ میرے بچپن میں مولانا احتشام الحق تھانوی کا درس بہت مقبول تھا۔ شاہ بلیغ الدین کی خطابت نے جو سماں باندھا‘ کان آج تک اس کی لذت کو محسوس کرتے ہیں۔واقعہ یہ ہے کہ کانوں کو بھی لذت کی ضرورت ہوتی ہے۔ عطا اللہ شاہ بخاری اپنے سامعین کو کہا کرتے تھے کہ تم کانوں کے عیاش ہو۔ شاہ صاحب کا تبصرہ غلط نہیں تھا۔ جب کانوں پر موسیقی اور اس طرز کی دیگر عیاشیوں کا دروازہ بند ہو جائے تو مذہبی آدمی کے پاس ایک ہی متبادل ہوتا ہے: مذہبی خطبا وذاکرین کی تقاریر۔ سچ یہ ہے کہ شاہ صاحب اور دیگر مذہبی خطبا نے اسی عیاشی کا اہتمام کیا اور مذہبی لوگوں کو انٹرٹینمنٹ فراہم کی جو اُن کی فطری ضرورت تھی۔ میں بھی ان لوگوں میں شامل تھا جن کے پاس کانوں کی عیاشی کے لیے یہی متبادل موجود تھا۔ من پسند مقرر کی تقریر سننے کے لیے جو صعوبتیں اٹھائی جاتی تھیں‘ ان میں بھی ایک لذت تھی۔ تفصیل پھر کبھی۔یہ ایک دور تھا جو گزر گیا۔ والدِ محترم کی وجہ سے گھر میں جو مذہبی لٹریچر آتا‘ اس میں مولانا ابوالکلام آزاد کی کتب بھی شامل تھیں۔ علامہ اقبال تو تھے ہی۔ اس دور کے لوگ خوش خط تھے۔ میرے والد صاحب نے اپنے ہاتھ سے &#39;ارمغانِ حجاز‘ کو نقل کیا تھا۔ میں نے اسے تبرکاً محفوظ کر لیا ہے۔ اس سے اچھی نظم و نثر سے ایک تعلق‘ ابتدا ہی میں پیدا ہو گیا۔ مولانا مودودی کی کتابیں بھی گھر میں موجود تھیں۔ والد صاحب دیوبندی علما سے قریب تھے مگر وسیع المشرب تھے۔ سب کو پڑھا اور پھر &#39;دبستان شبلی‘ میں آ پناہ لی۔ آخری پڑاؤ جاوید صاحب ہیں۔ یہاں سے اٹھنے کو دل نہیں چاہتا۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ‘ زندگی کے تجربات نے جب ذوق کی آبیاری کے لیے مزید دروازے کھولے تو خطابت سمیت بہت سے معاملات میں سوچ بدلنے لگی۔ جن باتوں سے کل حظ اٹھاتے تھے‘ اب ناقابلِ برداشت ہونے لگیں۔ وہ تقاریر‘ جن کو سننے کے لیے سردی کی طویل راتیں مسجدوں کے ٹھنڈے فرش پر‘ خوش دلی کے ساتھ گزاریں‘ اب مضحکہ خیز لگتی ہیں۔ صرف ان تقایر کا معاملہ نہیں‘ سیاست‘ اور معاشرت کے حوالے سے کل جو باتیں دل کو لبھاتی تھیں‘ آج طبیعت ان کی طرف کچھ رغبت محسوس نہیں کرتی۔ میں جب لوگوں کو ان میں مصروف پاتا ہوں تو حیرت سے سوچتا ہوں: کیسے لوگ ہیں جو ان خرافات میں وقت بر باد کر رہے ہیں۔ پھر یاد آتا ہے کہ میں خود اس دور سے گزر چکا۔ اس وقت تو میں ایسا نہیں سوچتا تھا۔ اس پر سوچتا ہوں کہ اس قضیے کو سمجھنے کی شعوری کوشش کی جانی چاہیے۔ہم بدلتے ہیں تو لازم نہیں کہ دنیا بھی ہمارے ساتھ بدل جائے۔ سماج تنوع کے اصول پر کھڑا ہے۔ یہاں ہر رنگ کے لوگ ہیں اور زندگی کی رنگا رنگی انہی کے دم سے ہے۔ میں ایک دنیا سے نکل آیا مگر وہ دنیا آج بھی اُسی طرح آباد ہے۔ آج بھی اسی طرح حیاتی مماتی جھگڑے ہوتے ہیں اور لوگ ان پر مورچہ لگائے ہوئے ہیں۔ آج بھی محرم میں وہ تاریخی بحثیں زندہ ہو جاتی ہیں جو ہمارے بچپن میں ہوا کرتی تھیں۔ آج بھی لوک فنکار ایک روایت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ تبدیلی آئی ہے مگر ایسی نہیں کہ سب کچھ بدل گیا ہو۔ جو کچھ تبدیل ہوا ہے‘ وہ ذرائع ہیں‘ ورنہ انسان آج بھی وہی ہے۔ پہلے وہ پسندیدہ خطیب کی تقریر سننے دور کا سفر کرتا تھا۔ آج اسے یہ سب یوٹیوب پہ گھر میں میسر ہے۔ جو بدلا ہے‘ وہ پیرہن ہے‘ قالب اب بھی وہی ہے۔لہٰذا اگر میں اور آپ بدلے ہیں تو یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ سب بدل گئے ہیں۔ اگر میرے لیے کسی بات کی معنویت باقی نہیں ہے تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ دوسروں کے لیے بھی وہ ایک بے معنی بات ہے۔ واقعات انسان میں فطری ارتقا کی نفی کر رہے ہیں۔ ارتقا جتنا کچھ ہے‘ وہ ایک دائرے میں ہے۔ طاقت کا رویہ آج بھی وہی ہے جو صدیوں پہلے تھا۔ ظلم آج بھی اُسی طرح ہوتا ہے جیسے پہلے ہوتا تھا۔ ارتقا انسان کے طریقہ واردات میں آیا‘ انسان میں نہیں۔ آج بھی سماج میں طبقات ہیں جیسے مدتوں پہلے تھے۔ طبقات صرف معاشی نہیں ہوتے‘ ہر میدان میں ہوتے ہیں۔ کیا موسیقی پسند کرنے والوں کے ایک سے زیادہ طبقات نہیں ہیں؟ ہم چاہتے ہیں کہ ساری دنیا ہماری طرح ہو جائے۔ جب نہیں ہوتی تو ہم کڑھتے ہیں۔ ہمیں اس کیفیت سے نکل آنا چاہیے‘ اگر ہم پُرسکون زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ اللہ نے یہ دنیا ایسے ہی پیدا کی اور اس نے ایسا ہی رہنا ہے۔ یہاں تک کہ صور پھونک دیا جائے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>گلیات اور ایک جنگل(رسول بخش رئیس)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-07-13/52286/76195177</link><pubDate>Mon, 13 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-07-13/52286/76195177</guid><description>لوگوں کو گلیات کی طرف سیرو تفریح کے لیے جاتے دیکھا تو ایسے لگا کہ شاید پورا ملک نقل مکانی کرکے پہاڑوں پر آباد ہونا چاہتا ہے۔ کبھی زندگی میں گاڑیوں‘ بسوں اور ہر طرح کی سواریوں کی اتنی طویل قطار نہیں دیکھی جو پر سوں باڑہ گلی سے واپسی پر دکھائی دی۔ اس میں کوئی مبالغہ آمیزی ہرگز نہیں کہ تقریباً ساڑھے بارہ یا ایک بجے کا وقت تھا اور نتھیا گلی سے لے کر لوئر ٹوپا تک ٹریفک زنجیر کی کڑیوں کی طرح جڑی ہوئی تھی۔ کسی کو معلوم نہ تھا کہ آگے زنجیر کا سرا کہاں پر ہے اور کب تک وہ منزل پر پہنچیں گے۔ بہرحال کہیں کوئی چہرہ اپنے دائیں ہاتھ مخالف سمت کی طرف بے بسی کے عالم میں گاڑی روکے‘ اگلی گاڑی کے کچھ حرکت کرنے کے انتظار میں اپنی طرف نظر آیا۔ اس کے چہرے پر مایوسی اور جوش وجذبے کے ملے جلے تاثر ات نظر کی عینک کے بغیر بھی جلی حروف کی صورت دکھائی دے رہے تھے۔ جی تو چاہتا ہے کہ مری‘ گلیات اور کسی زمانے کے خوبصورت پہاڑی علاقوں کے ہرے بھرے جنگلات‘ دلکش کھلے مناظر اور تنگ مگر ٹریفک کے ہجوم سے پاک سڑکوں پر پیدل سفر کی روداد لکھیں‘ مگر آج کی صورت حال کو دیکھ کر دل کو ٹھیس سی لگتی ہے۔ میرا اس طرح پہلی بار جانا تقریباً تریپن سال پہلے ہوا جب ہم اسلام آباد میں نوکری میں قدم میں جما چکے تھے۔ راولپنڈی سے ہر اتوار ویگن پر سوار ہوتے‘ مری اترتے اور وہاں سے پیدل خیرا گلی تک جاتے۔ ایک دوست ساتھ ہوتے‘ اور ہم وہاں سے پھر واپس مال پر کولڈ کافی پینے کے لیے واپسی کا سفر کرتے۔ ٹریفک تو دور کی بات ہے مقامی لوگ بھی کہیں کہیں پیدل چلتے دکھائی دیتے تھے۔ گائے‘ بکریاں چراتے چرواہے‘ کوئی بزرگ چھڑی اور چھتری ہاتھ میں تھامے یا پھر اکا دکا کوئی ویگن۔ یہ سوزوکیاں جن کی بھرمار اس مرتبہ دیکھی‘ ابھی جاپانیوں نے ایجاد بھی نہیں کی تھیں‘ اور اگر کوئی ایسی چیز بناتے بھی تھے تو وہ ہماری سڑکوں کے نصیب میں نہیں ہوتی تھی۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ہم دنیا کے انتہائی خوبصورت پہاڑی جنگل میں آزاد گھوم پھر رہے ہیں۔ اب سب کچھ بدل گیا ہے۔پہلا صدمہ تو اُس وقت ہوا جب ڈیرھ سال تک باقاعدہ مری کی سیر کی روحانی یادیں دل میں بسائے پینتیس سال قبل اُسی طرح کی ویگن سے پنڈی پوائنٹ پر اتر کر خیرا گلی کی طرف قدم بڑھانے شروع کیے۔ گاڑیوں سے بچتے بچاتے چند فرلانگ ہی مسافت طے کی ہوگی کہ محسوس ہوا کہ پھیپھڑوں میں آکسیجن کے بجائے عربوں کے خالص ڈیزل اور پٹرول کا دھواں بھرنے لگا ہے۔ تب یہ ماسک نما کوئی چیز دیکھی تھی نہ سنی تھی۔ یہ تحفہ تو ہمیں کووڈ نے دیا ہے۔ محسوس ہوا کہ شاید میں کسی اور ملک میں پہنچ گیا ہوں۔ دھویں اور شور شرابے کا چلتے ہوئے مقابلہ کرنے کی ٹھانی تو دل اور پھیپھڑوں کے درمیان ایسی نہ ختم ہونے والی کشیدگی محسوس کی جو ہماری قومی سیاسی زندگی میں جان نہیں چھوڑتی۔ دل کہتا کہ ہمت نہ ہارو‘ قدم بڑھاتے رہو۔ ٹریفک اور دھواں شاید کچھ دیر بعد ختم ہو جائیں گے۔ پھیپھڑوں نے جلد ہی معذوری ظاہر کر دی کہ اب یہ تمہارا انتخاب ہے کہ زندہ واپس جانا چاہتے ہو یا سفر مکمل کرنے کی ضد میں کسی دوسری صورت لوٹنے کا خیال ہے۔ آخرکار چند منٹوں میں ہم نے دل کی خواہش پر ساتھ والی پہاڑی سے ایک بڑا سا پتھر اٹھا کر رکھ لیا اور جنگل میں کوئی پگڈنڈی تلاش کرکے واپسی کی راہ لی۔ مری سے آگے سڑک پر پیدل چلنے سے ہمیشہ کے لیے توبہ کر لی۔ پرسوں جو ہزارہا گاڑیاں دیکھیں تو یقین ہو گیا کہ اتنی ٹریفک میں آپ شاید سانس تو لے سکتے ہیں مگر زہریلے مادوں کے اثرات سے کوئی محفوظ نہ ہو۔ ایک یا چند دنوں میں تو انسانوں‘ پرندوں اور حیوانوں میں صحت کی خرابی تو نظر نہیں آتی‘ مگر زندگی کا دورانیہ سائنس کے مطابق کم ہو جاتا ہے۔ ایسے حالات میں گرمی‘ آبادی کے دباؤ اور ایک طبقے کی خوشحالی نے پہاڑوں میں سیر وتفریح کا رجحان پیدا کیا ہے۔ خیر کوئی ہوشمند انسان تو اس عالم میں وہاں جانے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔اب ہم وہاں نہیں جاتے بلکہ اپنے چھوٹے سے جنگل میں کچھ مزید جھاڑیاں اور درخت لگا کر اپنے ساتھ کچھ اپنے دوست پرندوں کی حفاظت کا انتظام کر لیتے ہیں۔ اس سب کے باوجود گلیات کا روحانی تصور ذہن سے مکمل طور پر محو نہیں ہوا۔ ایک ایسی جگہ ابھی باقی ہے جو پشاور یونیورسٹی کے پاس ہے جو اسے فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے تحفے میں دی تھی۔ اس سے بڑھ کر کسی سربراہ مملکت کا کسی جامعہ کو ہماری تاریخ میں کوئی تحفہ میرے ذہن میں تو نہیں۔ انگریز دور سے باڑہ گلی میں پہاڑوں پر کسی زمانے میں فوجی کیمپ جو ہزاروں ایکڑوں میں قدیم قدرتی جنگلوں کے درمیان گھرا ہوا ہے‘ ڈیرھ صدی سے زیادہ عرصے سے اس کی بیرکیں اسی طرح اسی حالت میں قائم ہیں۔ اس کا کریڈٹ پشاور یونیورسٹی کی انتظامیہ کو جاتا ہے کہ انہوں نے بغیر کسی ترمیم واضافے کے اس موسم گرما کے کیمپس کو اصلی و فطری حالت میں قائم رکھا ہے۔ صدیوں پرانے چیڑ کے درخت سینہ تانے ایک دوسرے سے جڑے آسمان سے باتیں کرتے دیکھنے ہوں تو ضرور ادھر کو جائیں۔ ان درختوں کے اوپر کے سرے کسی بلند جگہ سے دیکھ سکتے ہیں ورنہ آپ کو زمین پر لیٹنا ہو گا۔ شعبہ بین الاقوامی تعلقات‘ پشاور یونیورسٹی نے تقریباً دس سال پہلے سرحدی علاقوں کے بارے میں کانفرنس کی بنیاد رکھی تھی۔ چند دن پہلے اس کا تیسرا ایڈیشن تھا۔ ہمیں جب بھی اس کانفرنس میں بلایا گیا ہم جس طرح پرانے زمانے میں گلیات کی طرف کھنچے چلے جاتے تھے‘ اب بھی خوشی خوشی روانہ ہو جاتے ہیں۔ اس شعبے کے اساتذہ‘ طلبہ اور کے پی کی تقریباً تمام جامعات اس کانفرنس کے لیے تعاون کرتی ہیں۔ اس مرتبہ تو پاکستان کے ہر صوبے اور حصے سے طلبہ اور اساتذہ آئے اور تین دن ایسے مقالات پیش کیے کہ دل خوش ہو گیا۔ آج کے دور کے طلبہ ہوں یا اساتذہ‘ میری نسل کے اساتذہ اور طلبہ سے کئی درجے بہتر ہیں۔ انہیں تحقیق بھی کرنی آتی ہے‘ لکھنا بھی‘ بے دھڑک بولنا بھی‘ اور ان کا علمی جوش و جذبہ بھی قابلِ دید ہے۔ خواہشات تو اپنی ایسی ہیں کہ بس ہر خواہش پہ دم نکلے مگر بامقصد علمی مباحث اور تقریبات میں بیٹھنے اور سننے کی خواہش اپنی عمر کے مقابلے میں اب بھی جوان ہے۔ جنگلوں سے تو ہمیں فطری لگائو ہے اور اگر یہ مباحث ایک گھنے جنگل کے وسط میں ہو رہے ہوں تو ہم یقینا ورلڈ کپ کے میچوں کو دیکھنے کی شدید خواہش کو دبا سکتے ہیں۔ وہاں ایسی کوئی سہولت ممکن نہیں۔ جنگل میں صبح شام اور جب بھی کانفرنس میں کوئی وقفہ ہوا چلتے پھرتے محسوس ہوا کہ ابھی کچھ تو بچا ہوا ہے۔ ہر طرف ٹریلز ہیں۔ اس ماحول پر جتنا فخر کریں کم ہے۔ پشاور یونیورسٹی کے اساتذہ اور کئی عشروں سے اس کی انتظامیہ جس طرح اس قدرتی جنگل کی نگہداشت کر رہی ہے وہ قابل تحسین ہے۔ کاش ہماری نوکر شاہی اور سیاسی لوگ اس سے کچھ سبق حاصل کرتے اور تمام گلیات کو بازاروں‘ پلازوں اور گاڑیوں کے جنگل میں تبدیل نہ کر دیتے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_33241568.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>تیل ذخائر اور عوامی سرمایہ کاری(میاں عمران احمد)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mian-imran-ahmad/2026-07-13/52287/44260053</link><pubDate>Mon, 13 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mian-imran-ahmad/2026-07-13/52287/44260053</guid><description>ملکی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ ایسے منصوبے شروع کیے جائیں جن میں عوام سرمایہ کاری میں دلچسپی لیں۔ پوری دنیا میں ایسے منصوبوں کے نتائج زیادہ بہتر دیکھے گئے ہیں۔ جیسا کہ ملائشیا میں تابونگ حاجی پروگرام ہے‘ جس میں تقریباً ہر ملائیشین شہری سرمایہ کاری کرتا ہے۔ حکومت اس پروگرام کے تحت رقم پوری دنیا کے حلال منصوبوں میں لگاتی ہے۔ اس سے جو منافع آتا ہے وہ بینک اکاؤنٹس میں جمع ہوتا رہتا ہے اور جب حج کے اخراجات کے برابر رقم جمع ہوجاتی ہے توحکومت اس شہری کو حج پر بھیج دیتی ہے۔ آج ملائیشیا کا تابونگ حاجی صرف حج فنڈ نہیں بلکہ ملک کے سب سے بڑے اسلامی مالیاتی اداروں میں سے ایک ہے۔ یہ ادارہ 1963ء میں قائم کیا گیا تھا تاکہ مسلمان شہری شریعت کے مطابق حج کے لیے بچت کر سکیں‘ مگر وقت کے ساتھ یہ ملائیشیا کی معیشت کا ایک اہم ستون بن گیاہے۔ تابونگ حاجی کے تقریباً 97 لاکھ ڈیپازٹرز ہیں اور اس کے زیر انتظام اثاثے 96 ارب رنگٹ (تقریباً 22 ارب ڈالر) سے زیادہ ہیں۔ یہ رقوم ملائیشیا کے مالیاتی نظام میں ایک بڑے سرمایہ جاتی ذخیرے کے طور پر کام کرتی ہیں۔ 2020ء میں مَیں نے پاکستان میں تابونگ حاجی طرز کا منصوبہ شروع کرنے کی جانب توجہ دلائی تھی۔ اس وقت ملائیشیاکا تابونگ حاجی ایکٹ منگوا کر وزارتِ مذہبی امور کو دیا گیا اور اس پر کام تقریباً مکمل ہو چکا تھا۔پھر حکومت بدل گئی۔خوش آئند بات ہے کہ موجودہ حکومت نے اب اس منصوبے کو سنجیدہ لیا ہے اور وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ منگل کو پاکستان کی تاریخ کی پہلی چار سالہ حج پالیسی اور منصوبہ (2027-2030ء) کی منظوری دے دی ہے۔ اس میں مستقبل میں حج کی ادائیگی کے خواہشمند شہریوں کی مالی منصوبہ بندی میں مدد کیلئے شریعت کے مطابق حج بچت سکیم متعارف کرانے کا فیصلہ بھی شامل ہے۔ اس منصوبے کے تحت پاکستانی شہری حج کی رقم قسطوں میں ادا کر سکیں گے اور ان کی رقم سے حلال منصوبوں میں سرمایہ کاری کی جائے گی ‘جس سے حج کیلئے رقم اکٹھی ہو سکتی ہے اور جو پیسہ لوگ گھروں میں رکھ کر جمع کرتے ہیں وہ دستاویزی معیشت کا حصہ بن سکتا ہے۔یہ منصوبہ عوامی سطح پر سرمایہ کاری کا نیا رجحان پیدا کر سکتا ہے۔ توقع ہے کہ یہ منصوبہ ملائیشیا کی طرح پاکستان میں بھی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی بن سکتا ہے۔ مقامی کے علاوہ پاکستان عالمی سرمایہ کاری کے لیے بھی موزوں ملک بنتا دکھائی دے رہا ہے۔ دنیا میں روزانہ تقریباً 10 کروڑ بیرل تیل استعمال ہوتا ہے۔ سعودی عرب‘ متحدہ عرب امارات‘ عراق‘ کویت اور قطر جیسے ممالک دنیا کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہیں۔ دوسری طرف چین دنیا کا دوسرا بڑا تیل صارف ہے جو روزانہ تقریباً ایک کروڑ 60 لاکھ بیرل تیل استعمال کرتا ہے اور اس کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے۔ بھارت روزانہ تقریباً 56 لاکھ بیرل تیل استعمال کرتا ہے جبکہ وسطی ایشیا کی ریاستوں کی بھی توانائی کی ضرورت بڑھ رہی ہے۔ پاکستان ان تمام خطوں کے درمیان واقع ہے۔ مغرب میں خلیجی ممالک ہیں جہاں دنیا کے تقریباً ایک تہائی تیل کی پیداوار ہوتی ہے۔ شمال میں وسطی ایشیا ہے‘ شمال مشرق میں چین ہے اور مشرق میں بھارت ہے۔ یہی محلِ وقوع پاکستان کو ایک منفرد اہمیت دیتا ہے۔آج بڑی توانائی کمپنیاں اور تیل پیدا کرنے والے ممالک ایسے مقامات تلاش کر رہے ہیں جہاں وہ اپنے تیل کے ذخائر محفوظ رکھ سکیں۔ پاکستان کے پاس گوادر‘ حب اور پورٹ قاسم جیسے مقامات موجود ہیں جو اس مقصد کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں۔سعودی آرامکو‘ کویت پٹرولیم‘ قطر انرجی‘ پیٹرو چائنا‘ ویٹول‘ ٹریفیگورا اور ووپاک جیسی بڑی کمپنیاں پاکستان میں تیل ذخیرہ کرنے کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہیں۔ اگر پاکستان صرف 17 ملین بیرل کی ذخیرہ گاہیں تعمیر کرے تو اس منصوبے میں 50 کروڑ سے ایک ارب ڈالر تک کی سرمایہ کاری آ سکتی ہے۔ اس کے علاوہ سٹوریج‘ بندرگاہ کے چارجز اور لاجسٹک خدمات سے سالانہ کروڑوں ڈالر کی آمدنی حاصل ہو سکتی ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے ایک گودام کا مالک سامان کا مالک نہیں ہوتا لیکن کرایہ وصول کرتا ہے۔ سنگاپور اس ماڈل کی سب سے کامیاب مثال ہے۔ سنگاپور کے پاس نہ تیل ہے اور نہ بڑی قدرتی معدنیات لیکن آج وہ دنیا کے اہم توانائی مراکز میں شمار ہوتا ہے کیونکہ اس نے اپنے جغرافیے اور بندرگاہوں کو معاشی طاقت میں تبدیل کیا ہے۔ پاکستان بھی یہ کر سکتا ہے۔ مگر صرف جغرافیہ کافی نہیں ہوتا۔ سرمایہ کار اس وقت آتے ہیں جب انہیں قوانین پر اعتماد ہو۔ پاکستان کو واضح قانونی فریم ورک‘ طویل مدتی پالیسیوں اور سرمایہ کار دوست ماحول کی ضرورت ہے۔ اگر ہر چند سال بعد قوانین تبدیل ہوتے رہیں تو کوئی بھی کمپنی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری نہیں کرے گی۔ اگر پاکستان نے درست فیصلے کیے تو ممکن ہے کہ آنے والے برسوں میں دنیا پاکستان کو خطے کے ایک بڑے توانائی مرکز کے طور پر جانے۔ واشنگٹن میں ہونے والے دو روزہ مذاکرات کے بعد پاکستانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کئی اہم معاملات پر نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور معاہدے کو جلد حتمی شکل دی جا سکتی ہے۔یہ محض ایک تجارتی معاہدہ نہیں بلکہ پاکستان کی معیشت کے لیے ایک گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکہ آج بھی پاکستان کی سب سے بڑی سنگل کنٹری ایکسپورٹ مارکیٹ ہے۔ پاکستان ہر سال پانچ ارب ڈالر سے زائد کی مصنوعات امریکہ کو برآمد کرتا ہے جبکہ دونوں ممالک کے درمیان مجموعی تجارت 2024ء میں تقریباً 10.1 ارب ڈالر تک پہنچ چکی تھی۔ 2025ء میں صرف اشیاکی تجارت کا حجم 8.7 ارب ڈالر رہا‘ جس میں امریکہ نے پاکستان کو 3.3 ارب ڈالر کی مصنوعات برآمد کیں جبکہ پاکستان کی برآمدات 5.4 ارب ڈالر رہیں۔ اگر امریکی ٹیرف میں کمی آتی ہے تو پاکستانی ٹیکسٹائل‘ چاول‘ کھیلوں کا سامان‘ سرجیکل آلات اور آئی ٹی خدمات امریکی مارکیٹ میں مزید جگہ بنا سکتی ہیں۔ تاہم صرف معاہدہ کر لینا کافی نہیں۔ پاکستان کو اپنی پیداواری لاگت کم کرنا ہو گی‘ توانائی کی قیمتوں کو مسابقتی بنانا ہو گا‘ کسٹمز اور ریفنڈ نظام میں اصلاحات لانا ہوں گی اور برآمد کنندگان کو جدید ٹیکنالوجی فراہم کرنا ہو گی۔ اگر اندرونی اصلاحات نہ ہوئیں تو امریکی منڈی تک رسائی کا یہ موقع بھی ماضی کے کئی تجارتی مواقع کی طرح ضائع ہو سکتا ہے۔پاکستان میں پالیسیوں کے تسلسل کا فقدان ہمیشہ سرمایہ کاری کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ رہا ہے۔ گزشتہ چند برسوں سے حکومت ہائبرڈ اور الیکٹرک گاڑیوں کو پاکستان کے مستقبل کی ٹرانسپورٹ قرار دے رہی تھی۔ توانائی کی بچت‘ ماحولیاتی تحفظ‘ درآمدی تیل پر انحصار میں کمی اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے نام پر آٹو کمپنیوں کو نئی سرمایہ کاری کی ترغیب دی گئی۔ کمپنیوں نے اربوں روپے خرچ کرکے ہائبرڈ گاڑیوں کی اسمبلنگ لائنیں لگائیں‘ تکنیکی عملہ تیار کیا‘ ڈیلر نیٹ ورک کو اَپ گریڈ کیا اور نئی مصنوعات پاکستانی مارکیٹ میں متعارف کرائیں۔لیکن اب مالی سال 2026-27ء کے بجٹ میں ہائبرڈ گاڑیوں پر جنرل سیلز ٹیکس 8.5 فیصد سے بڑھا کر 25 فیصد کر دیا گیا ہے۔ سرمایہ کاروں کیلئے سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ نئی آٹو پالیسی 2026-31 ء ابھی تک نافذ نہیں ہو سکی جبکہ پرانی پالیسی 30 جون کو ختم ہو چکی ہے۔ اس غیر یقینی صورتحال میں کمپنیاں نئی سرمایہ کاری کے فیصلوں پر نظرثانی کر سکتی ہیں۔ اگر سرمایہ کاروں کو یہ احساس ہو جائے کہ حکومتی مراعات کسی بھی وقت واپس لی جا سکتی ہیں تو مستقبل میں کوئی بھی کمپنی اربوں روپے کی سرمایہ کاری کرتے وقت کئی بار سوچے گی۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/212_71532147.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>لالچ‘ حرص‘ ہوس(سعود عثمانی )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-07-13/52288/46805575</link><pubDate>Mon, 13 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-07-13/52288/46805575</guid><description>پانچ لاکھ امریکی ڈالر یعنی لگ بھگ 14 کروڑ پاکستانی روپے۔ یہ ہے وہ رقم جس کی وجہ سے ایک معزز‘ پڑھے لکھے اور برسر اقتدار خاندان کی رسوائی ہو رہی ہے۔ اور وہ بھی اسی خاندان کے ایک فرد کے ہاتھوں۔ یعنی اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے۔ نسب باپ کی طرف سے چلتا ہے۔ لیکن اس سارے معاملے میں نوجوان کے باپ کا نام سنائی نہیں دے رہا‘ نہ باپ کے خاندان کا نام۔ یقینا وہ بھی صاحبِ حیثیت اور پڑھے لکھے لوگ ہوں گے۔ لیکن ہر جگہ نام آ رہا ہے صرف ننھیال کا۔ وجہ یہی کہ یہ نامور‘ مالدار‘ معزز‘ اور برسر اقتدار خاندان ہے جو سیاست‘ تجارت اور صنعت میں ایک عرصے سے آسمان پر ہے۔ لیکن 14 کروڑ روپے نے اس خاندان کے نوجوان کا یہ حال کر دیا کہ خاندان اس سے وابستگی بھی ظاہر نہیں کر سکتا۔ یقینا ماں باپ یہی چاہتے ہوں گے کہ ان کا بچہ کسی طرح اس مصیبت سے نکل آئے لیکن نہ وہ کھل کر اپنی تکلیف کا اظہارکر سکتے ہیں‘ نہ مدد کر سکتے ہیں کہ دونوں صورتوں میں مزید رسوائی ان کا مقدر ہو گی۔ ہم لوگ جو دور سے اس معاملے پر افسوس کر رہے ہیں‘ وہ لوگ جو اس واقعے کو مرچ مسالا لگا کر پیش کر رہے ہیں‘ وہ مخالفین جو اپنی سیاسی نفرت کا اظہار اس خاندان کو برا بھلا کہہ کر اپنی بھڑاس نکال رہے ہیں‘ ان سب کے اپنے اپنے خاندان ہیں‘ اپنے بچے ہیں‘ اپنی رشتہ داریاں ہیں۔ خدا کسی پر برا وقت نہ ڈالے۔ برے وقت میں کھل کر کوئی حامی بھی حمایت کرنے سے گریز کرتا ہے کہ وہ بھی لپیٹ میں نہ آ جائے۔ حمایت علی شاعر کا شعر ہے:اس جہاں میں تو اپنا سایا بھیروشنی ہو تو ساتھ چلتا ہےلیکن شاید ماں باپ‘ بھائی بہن (اگر کوئی ہیں) کو کبھی یہ سوچنے کی فرصت ملے کہ کس چیز نے ان کے عزیز کو اس دلدل میں پھنسایا۔ میں سوچ رہا تھا اور آپ کو بھی یہ سوچنے کی دعوت دیتا ہوں کہ کیا 95 فیصد پاکستانی خواہ وہ غیر ملکوں میں مقیم ہوں اور وہیں کماتے ہوں‘ اپنے کسی بیس اکیس سالہ بیٹے کے ہاتھ میں چودہ کروڑ روپے کی رقم دے سکتے ہیں کہ بیٹا! تیری مرضی ہے جو چاہے کر‘ جہاں چاہے پیسہ لگا۔ یہ رقم بڑی ہے۔ 95 فیصد پاکستانی یہ تصور بھی نہیں کر سکتے۔ اکثر پاکستانی تو اس خواب میں ساری عمر مشقت کاٹتے ہیں کہ انہیں اپنی چھت نصیب ہو جائے اور کرائے کے گھروں سے نجات مل جائے۔ 14 کروڑ روپے کے خواب دیکھنا بھی ان کیلئے مشکل ہے۔ اور دوسری طرف پانچ فیصد لوگ وہ ہیں جو بیٹوں کے ہاتھ میں کروڑوں روپے تھما کر دوبارہ پوچھتے بھی نہیں کہ بیٹا! کیا کیا ان پیسوں کا۔ مجھے یقین ہے کہ احمد رضا ڈار کے ہاتھ میں یہ واحد رقم نہیں ہو گی جو اس کی صوابدید پر ہو۔ ہو سکتا ہے اس کے علاوہ بھی بڑی رقوم اس کے پاس ہوں۔ 21 سالہ لڑکے کی تو ابھی تعلیم بھی پوری نہیں ہوتی۔ وہ نوجوان جو ابھی زمانہ طالبعلمی گزار رہا ہے‘ اس کے ہاتھ میں کروڑوں روپے دے کر بھول جانے والے گھرانے نے اس کے ساتھ بھلائی کی ہے یا برائی؟ بات صرف کروڑوں روپے دے کر نوجوان کو آزمائش میں ڈال دینے کی نہیں‘ تربیت کی بھی ہے۔ جو گھرانہ آج آزمائش سے گزر رہا ہے کیا کبھی غور کرے گا کہ اس نے اپنے بچے کی تربیت کیا کی ہے؟ اچھے برے کی تمیز کیا سکھائی ہے؟ کوئی شک نہیں کہ زیادہ سے زیادہ پیسے کمانے کا لالچ ہر انسان کو گھیر لیتا ہے۔ ہر انسان تیزترین‘ آسان ترین طریقے سے پیسہ کمانا چاہتا ہے اور اس میں بہت کم استثنائی مثالیں ملیں گی۔ لیکن یہیں تو خاندانی تربیت کام آتی ہے۔ یہیں تو ماں باپ بچوں کو بتاتے ہیں کہ سب سے اہم بات تیز ترین‘ آسان ترین نہیں‘ اہم ترین بات حلال رزق ہے۔ جائز طریقے سے کمایا ہوا مال ہے۔ جس کی برکت بھی نظر آتی ہے اور خدا نخواستہ دوسری صورت میں نحوست بھی نسل در نسل نمایاں ہوتی ہے۔ جب یہ اہم ترین بات نہ سکول‘ کالج‘ یونیورسٹی میں بتائی جائے‘ نہ گھر میں تو ایک ایسے نوجوان کو یہ کیسے معلوم ہو سکتی ہے جس نے عملی زندگی میں نیا نیا قدم رکھا ہو اور اس کے ہاتھ میں کروڑوں روپے تھما دیے گئے ہوں۔ احمد رضا ڈار یقینا اس معاملے کا مرکزی کردار ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ بڑے ذمہ دار اس کے وہ بڑے ہیں جنہوں نے اسے برے بھلے کی پہچان نہیں سکھائی۔چلیے آپ نے ناز ونعم میں پالے نوجوان کوکروڑوں روپے بھی دے دیے اور اس کے بارے پوچھا نہیں۔ کیا کوئی ماں باپ اس بات سے غافل ہو سکتے ہیں کہ اس کے بیٹے کا اٹھنا بیٹھنا کن دوستوں میں ہے؟ یہ فکر تو ہمارے معاشرے میں معاشی لحاظ سے نچلے اور متوسط گھرانوں تک کو ہوتی ہے۔ ہر ماں اور باپ سے یہ چھپا نہیں رہتا کہ ان کا بچہ کن لوگوں میں اٹھتا بیٹھتا ہے۔ بے شمار بار بچے کو پیار سے سمجھایا جاتا ہے‘ مار پیٹ بھی ہوتی ہے اور ناراضیاں بھی۔ کسی بچے کے غلط اور بدکردار حلقے کی وجہ سے بیٹے کو عاق کرنے تک کی نوبت آ جاتی ہے۔ اخبارات میں ایسے اشتہارات آتے رہتے ہیں جن میں بچوں کو عاق کرنے‘ قطع تعلق کرنے اور جائیداد سے محروم کر دیے جانے کے آخری قدم بھی اٹھا لیے جاتے ہیں۔ جتنا معزز‘ وجیہ اور صاحبِ حیثیت گھرانہ ہوتا ہے‘ اسے اپنی عزت‘ آبرو اور احترام کی فکر مال اور جائیداد سے بڑھ کر ہوتی ہے۔ ہم تو وہ لوگ ہیں جنہیں دستار اپنے سر سے زیادہ عزیز ہوتی تھی لیکن وقت نے چلن ایسا بدلا ہے کہ بڑے بڑے معزز خاندان اور گھرانے اس وقت تک ہوش میں نہیں آتے جب تک پانی سر سے اونچا نہ ہو جائے۔ آپ اسی نوجوان کے دوست دیکھ لیجیے جو ان غیر ملکی خواتین کے حبس بے جا‘ جنسی زیادتی اور انسانیت سوز سلوک میں ملوث ہیں۔ ایک دو پر تو پہلے بھی ایف آئی آرز درج ہیں۔ کیا احمد رضا ڈار کا ایک دوست بھی ایسا نہیں تھا جو اسے سمجھاتا کہ تم یہ سب غلط کر رہے ہو۔ ابھی تو پانچ لاکھ ڈالرز کا نقصان ہوا ہے‘ اگلا نقصان عزت وآبرو کا ہوگا اور تم ایک دلدل میں پھنس جاؤ گے جس سے نکلنے کا راستہ نہیں ملے گا۔ مجھے نہیں لگتا کہ نوجوان کا کوئی ایک دوست بھی ایسا تھا۔سارا کھیل تیز ترین‘ آسان ترین پیسے کے لالچ سے شروع ہوا۔ اور واقعے کے سارے کردار اسی لالچ کے گرد گھومتے نظر آتے ہیں۔ دونوں غیر ملکی خواتین اسی کاروبار سے متعلق ہیں جو آج کل عام ہے‘ جس میں زیادہ سے زیادہ اور جلد سے جلد منافع کا لالچ دے کر شہد سے بنے جال یعنی ہنی ٹریپ میں پھنسایا جاتا ہے۔ ڈار گھرانے کا یہ نوجوان بھی اسی لالچ میں پھنسا۔ پھنسنے کے بعد رقم واپس حاصل کرنے کیلئے وہ دھوکے کا جال بچھاتا ہے اور غیر ملکی خواتین کو جھانسا دیتا ہے کہ اس کے کچھ جاننے والے مزید سرمایہ کاری کیلئے تیار ہیں‘ اس کیلئے پاکستان کا دورہ کریں۔ خواتین اس لالچ میں پاکستان آتی ہیں۔ جن دھوکے بازوں سے انہیں ملوایا جاتا ہے وہ بھی یقینا کسی مالی لالچ میں انہیں یہ دھوکا دے رہے ہیں۔ جو لوگ خواتین کو حبس بے جا میں رکھتے ہیں‘ انہیں بھی لاکھوں روپے کا لالچ ہے۔ یعنی لالچ سے سارا کھیل شروع ہوا اور ہر ہر قدم پر یہی حرص ہر کردارکے ساتھ چلتی ہے۔ خواتین کے ساتھ ان کے ملک کیا کریں گے‘ معلوم نہیں لیکن بظاہر پاکستان کے اندر انہوں نے کسی جرم کا ارتکاب نہیں کیا۔ لیکن باقی سب کردار اسی حرص میں سلاخوں کے پیچھے جاکھڑے ہوئے ہیں۔ ایک کردار کی ٹانگیں ٹوٹ چکی ہیں لیکن اس کا جرم بدستور قابلِ سزا ہے۔لوگ اس گھرانے کے بارے میں طرح طرح کی باتیں کر رہے ہیں۔ جو ہمدردی رکھتے ہیں وہ ان کی خاندانی وجاہت اور نام کے حوالے دے رہے ہیں۔ لیکن خاندانی احترام اور معزز ہونے کی حیثیت اپنی جگہ ‘ مجھے تو یہ پوچھنا ہے کہ ان کی خاندانی تربیت کہاں ہے؟</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_81278520.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>نظام حیدر آباد کے محل کی ٹوٹی ہوئی اینٹ(نسیم احمد باجوہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/naseem-ahmed-bajwa/2026-07-13/52289/79210556</link><pubDate>Mon, 13 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/naseem-ahmed-bajwa/2026-07-13/52289/79210556</guid><description>نہ صرف یہ اینٹ ٹوٹی ہوئی تھی بلکہ اس کا دل بھی بہت دکھی اور ٹوٹا ہوا تھا۔ نام تھا مشتاق احمد خان۔ 1947ء میں جب نظام حیدرآباد نے اُنہیں پاکستان میں اپنا سفیر مقرر کیا تو ان دونوں کو علم نہ تھا کہ جو نازک مگر بے حد اہم سفارتی فریضہ اُن کے ذمہ لگایا جا رہا ہے‘ وہ اسے خوش اسلوبی سے ادا کر پائیں گے یا نہیں۔ 13 ستمبر 1948ء کو حیدرآباد کی آزاد ریاست کی خواہش کو بھارتی افواج کے جارحانہ حملے نے اپنے بے رحم بوٹوں تلے کچل ڈالا۔ بے گناہ اور غیر مسلح افراد کا جس بڑے پیمانے پر قتل عام کیا گیا اُس کی تفصیل لکھنے کی نہ مجھ میں ہمت ہے اور نہ آپ میں پڑھنے کی تاب۔ مشتاق صاحب یہ عظیم صدمہ اپنی آنکھوں سے دیکھنے سے تو بچ گئے مگر ہزاروں میل کا فاصلہ طے کر کے جو تفصیلات ان تک پہنچیں وہ اُنہیں خون کے آنسو رُلا دینے کیلئے کافی تھیں۔ ستم بالائے ستم کہ جب مشتاق صاحب کو سفارتی عہدہ دینے والی مملکت کا وجود ہی ختم ہو گیا اور نظام کی دی ہوئی رقم‘ جو پاکستان کو ہدیہ کی گئی تھی‘ حکومت پاکستان کے حوالے کر کے وہ خود بالکل تہی دست ہو چکے تھے۔ حکومت پاکستان (خصوصاً گورنر جنرل ملک غلام محمد) نے بکمال مہربانی محکمہ ریلوے میں انہیں ملازمت دلوا دی۔ میں اُنہیں 29 فروری 1992ء کو‘ ماڈل ٹائون ڈی بلاک لاہور میں ان کے گھر میں ملا۔ یہ ہماری واحد ملاقات تھی۔ 34 سال پہلے ہونے والی اس ملاقات کی تاریخ ہر گز یاد نہ رہتی مگر یہ اُس کتاب (زوالِ حیدرآباد کی اَن کہی داستان) پر لکھی ہوئی تھی جو مشتاق صاحب نے 1985ء میں لکھی اور پھر اپنے خرچ پر چھپوائی ۔ اُنہوں نے یہ کتاب اس مضمون نگار کو بطور تحفہ دی۔ اس وقت مشتاق صاحب کی عمر 75 برس یا اس سے زائد تھی۔ نحیف ونزار‘ نہ آنکھوں میں چمک اور نہ آواز میں کھنک۔ چھڑی کے سہارے چلتے تھے۔ شریفانہ چہرہ‘ جس میں گزرے 45 برسوں میں اُٹھائی جانے والی صعوبتوں کی پرچھائیاں تھیں۔ تعلیم یافتہ‘ مہذب‘ متین اور نوابی وضع قطع کی شخصیت۔ ملاقات کیلئے بیٹھک میں آئے تو شیروانی میں ملبوس‘ جس کے سب بٹن بند تھے۔ حیدر آبادی پاجامہ اور دیسی جوتی۔ نہ سگریٹ اور نہ حقہ۔ بڑی محبت سے چائے پلائی‘ پلیٹ میں دو چار بسکٹ۔ کمرے میں سادہ فرنیچر۔ قالین کی جگہ دری بچھی ہوئی تھی۔ جب چائے تیار ہو گئی تو بیگم صاحبہ نے دروازے پر دستک دی اور مشتاق صاحب کو ٹرے تھما دی۔ مشتاق احمد خان نے 303 صفحات کی جو کتاب لکھی‘ اس میں 50 صفحات بے حد مفید ضمیموں‘ سرکاری دستاویزات اور خط و کتاب کی نقول پر مشتمل ہیں۔ میں نے جب ان سے ریاستِ حیدرآباد کے کفن میں آخری کیل ٹھونکنے والے کردار (سید قاسم رضوی) سے فروری 1958ء میں لاہور میں اپنے ہاسٹل میں ایک غیر خوشگوار ملاقات کا ذکر کیا تو وہ کچھ دیر خاموشی سے میری طرف دیکھتے رہے اور پھر سر جھکا لیا۔ اس ملاقات کا ماحول اتنا سوگوار تھا کہ لگتا تھا کہ وہ اپنی دکھ بھری‘ خاک و خون سے لتھڑی داستان بیان کرتے کرتے رو پڑیں گے۔ میں نے سوچا کہ اپنے میزبان کی توجہ بھٹکائوں کہ شاید وہ سنبھل جائیں۔ میں نے پوچھا کہ نواب صاحب یہ بتائیے گا کہ یہ جو &#39;&#39;ایل ایدرُوس‘‘ نامی شخص تھا‘ وہ کون تھا؟ ان کا چہرہ کھِل اُٹھا اور کہنے لگے: آپ پہلے شخص ہیں جس نے مجھ سے اس شخص کے بارے میں پوچھا۔ پھر انہوں نے بتایا کہ اس شخص کا اصل نام سیّد احمد تھا‘ وہ ایک عام فوجی افسر تھا مگر درباری سازشوں کا ماہر ہونے کی وجہ سے میجر جنرل اور حیدرآبادی فوج کا کمانڈر بنا دیا گیا اور پھر اپنے لیے یہ مضحکہ خیز نام بطور خطاب چن لیا۔ کوئی نہیں جانتا کہ اس کے کیا معانی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نظام حیدرآباد کو گمراہ کرنے والے چار افراد؍ ادارے تھے۔ (1) حکومتِ پاکستان کے ارباب بست وکشاد (2) حیدر آباد میں انگریز حکومت کے ایجنٹ سر والٹر مانکٹون(Walter Monckton) (3)حیدرآبادی فوج کا کمانڈر (ایل ایدرُوس)‘ جس نے نظام کو یقین دلایا تھا کہ اُس کی کمان میں فوج ممکنہ بھارتی حملے کا کامیابی سے دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے‘ اور یہ دعویٰ بھارتی حملے کے 48 گھنٹوں کے اندر ہی دھول میں مل گیا۔ (4) رضا کار تحریک کا بانی قاسم رضوی۔ البتہ اس کے رضا کار بڑی بہادری سے لڑے اور اپنی استطاعت سے بڑھ کر مزاحمت کرتے کرتے شہید ہو گئے مگر وہ اسلحہ اور تعداد میں اپنے سے کئی گنا بڑی فوج کا مقابلہ نہ کر سکتے تھے۔ ال ایدروس اور قاسم رضوی ہی ہزاروں بہادر سپاہیوں اور رضاکاروں کو موت کے گھاٹ اتار دینے کے ذمہ دار ہیں۔ میرا اگلا سوال ایک پُراسرار کردار کے بارے میں تھا۔ اُس کا نام سڈنی پائول تھا۔ اگست 1947ء میں حیدرآباد جب بدترین گرداب میں پھنس گیا تو وہ کرائے کا سپاہی (Mercenary) بن کر حیدرآباد کو اسلحہ پہنچانے لگا اور بڑی رقوم بھی۔ وہ دنیا بھر سے گولہ بارود جہاز میں بھر کر کراچی لاتا جہاں اس کا آپریشنل بیس تھا‘ پھر وہاں بڑی باقاعدگی سے جہاز حیدرآباد آتے جاتے۔ بھارتی حکومت کو اس کی سرگرمیوں کا بہت بعد میں پتا چلا۔ نواب صاحب نے قدرے خفیہ انداز میں کہا کہ آپ کو یہ ماننے میں دشواری ہوگی مگر سچ کہتا ہوں کہ جب پاکستانی فوج میں اعلیٰ عہدوں پر فائز حیدرآبادی افسروں کو حیدرآباد پر بھارتی حملے کی خبر ملی تو وہ چھٹیاں لے کر حیدرآباد پہنچ گئے اور رضا کارانہ طور پر اپنی خدمات پیش کیں۔ نواب صاحب کو ان مجاہدین میں سے صرف ایک کا نام یاد تھا اور وہ تھے سکندر علی بیگ۔ نواب صاحب نے پھر گفتگو روک کر تمام شہدا کے لیے دعائے مغفرت کی۔ نظام کی دم توڑتی حکومت نے سڈنی پائول کے علاوہ ایک ممتاز پاکستانی کاروباری شخصیت (یوسف ہارون) سے بھی رجوع کیا۔ نواب صاحب کی کتاب کے صفحہ 190 کے مطابق یوسف ہارون کو اُنہوں نے ایک خفیہ پرواز سے حیدرآباد بھجوایا اور اپنے مختصر قیام کے دوران انہوں نے نظام سے خصوصی پروازوں کے ذریعے ضروری سامان بھیجنے کا معاہدہ کیا۔ وقت کی قلت کی وجہ سے کوئی قانونی معاہدہ نہ ہو سکا۔ نواب صاحب کو پنسل سے لکھی ایک یادداشت بھیجی گئی اور انہیں معاہدے کی تکمیل پر پانچ لاکھ پائونڈ کی پہلی قسط ادا کرنا تھی۔ انگلینڈ میں موجود جائیدادوں‘ ان سے نظام کے متعلق خدشات‘ حکومت پاکستان کو ٹرسٹ بنانے کی تجویز اور پھر ٹرسٹ میں نظام حیدرآباد کو ہی شامل نہ کرنا‘ یہ سب باتیں بھی گفتگو کا حصہ رہیں۔ کشمیر میں ریفرنڈم پر سمجھوتا ہو جانے کا مرحلہ آیا تو حیدرآباد کے مسئلے پر اختلاف نے سارا معاملہ بگاڑ دیا۔ قائداعظم نے حیدرآباد میں استصوابِ رائے کی تجویز کو سختی سے مسترد کر دیا۔ 25 سال بعد‘ 27 نومبر 1972ء کو لنڈی کوتل میں بھٹو صاحب نے بطور صدر‘ قبائلی جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ اُنہیں بھارت کے وزیر داخلہ (سردار ولبھ بھائی پٹیل) نے بتایا کہ 1947ء میں بھارت نے پاکستان کو پیشکش کی تھی کہ وہ کشمیر لے لے اور اس کے بدلے حیدرآباد اور جونا گڑھ کی ریاستیں بھارت کو دینے پر آمادہ ہو جائے مگر یہ مطالبہ تسلیم نہیں کیا گیا۔نظام (میر عثمان) نے اپنے ولی عہد (اعظم جاہ) کو ان کی نااہلی کی وجہ سے وراثت سے محروم کرکے اور اپنے پوتے مکرم جاہ (جو اس وقت کیمبرج یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھے) اپنا وارث نامزد کر دیا۔ وہ اپنے دادا کے مقرر کردہ ٹرسٹوں کی نگرانی کرنے کے بجائے آسٹریلیا میں ایک وسیع و عریض فارم لے کر وہاں زراعت کرنے لگا اور قدیم بادشاہت سے ٹریکٹر چلانے کا طویل فاصلہ حوادثِ زمانہ سے مجبور ہو کر اس نے بہت جلد طے کر لیا۔ اسے ہی انقلاب کہتے ہیں۔ یہ وہ آخری الفاظ تھے‘ جن پر ہماری ملاقات ختم ہوئی۔ </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_32258580.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>دینی جماعتوں کا کردار(علامہ ابتسام الہٰی ظہیر )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-07-13/52290/91234319</link><pubDate>Mon, 13 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-07-13/52290/91234319</guid><description>قیام پاکستان سے لے کر آج تک ملک میں دینی جماعتوں کا کردار نمایاں رہا ہے۔ ملک میں دینی جماعتیں بہت سی کامیاب تحریکیں بھی چلا چکی ہیں۔ تحریک ختم نبوت اور تحریک نظام مصطفی میں دینی جماعتوں کے قائدین نے عوام کو بیدار اور متحرک رکھا۔ اس وقت بھی ملک کے طول وعرض میں دینی جماعتیں اور دینی طبقات مختلف موضوعات پر وقفے وقفے سے اہم پروگراموں کا انعقاد کرتے رہتے ہیں۔ حالیہ ایام میں مجھے دو اہم مذہبی تقریبات میں شرکت کرنے کا موقع ملا۔ 5 جولائی کو مرکز قرآن وسنہ لارنس روڈ لاہور پر قرآن وسنہ موومنٹ کی مرکزی مجلس شوریٰ کا اجلاس منعقد ہوا‘ جس میں ملک بھرسے پانچ سو سے زائد ارکانِ شوریٰ نے شرکت کی اور مختلف دینی امور پر سیر حاصل گفتگو کی گئی۔ راقم الحروف کے ساتھ ساتھ اس تقریب سے ڈاکٹر نصیر اختر‘ شیخ الحدیث مولانا محمد شفیق مدنی‘ ڈاکٹر حمزہ مدنی‘ ڈاکٹر شفیق الرحمن زاہد‘ مولانا اختر محمدی‘ پروفیسر سیف الرحمن بٹ‘ قیم الٰہی ظہیر‘ ڈاکٹر طاہر الاسلام عسکری‘ ڈاکٹر فہد اللہ مراد ‘ مولانا ابن بشیر الحسینوی‘ حافظ ندیم ظہیر اور دیگر جید علما نے خطاب کیا۔ اس تقریب میں بہت سے اہم امور پر غور و خوض کیا گیا اور مندرجہ ذیل امور پر اتفاق کیا گیا: مرکزی شوریٰ نے ملکی سلامتی‘ استحکام اور ترقی کے لیے قرآن وسنت کی بالادستی اور آئینِ پاکستان کے دائرے میں رہتے ہوئے اسلامی ودستوری جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ قراردادِ مقاصد میں اللہ تعالیٰ کی حاکمیتِ اعلیٰ کو تسلیم کیا گیا ہے اور آئینِ پاکستان ریاست کو قرآن وسنت کے مطابق قانون سازی کا پابند بناتا ہے۔ اس بات کا بھی اعادہ کیا گیا کہ ملک کی تمام دینی جماعتوں کے ساتھ تعاون‘ مشاورت اور ہم آہنگی کے ذریعے اسلامی اقدار‘ قومی استحکام اور عوامی فلاح کے لیے اپنی آئینی وجمہوری جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔ اجلاس میں مذہبی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کے فروغ پر زور دیتے ہوئے کہا گیا کہ مقدس ہستیوں‘ اہلِ بیتِ اطہار اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا احترام ہر مسلمان کا دینی فریضہ اور قومی ضرورت ہے۔ مرکزی شوریٰ نے مطالبہ کیا کہ صحابہ کرام و اہلِ بیت کی تنقیص‘ توہین یا مذہبی منافرت اور اشتعال انگیزی میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق مؤثر کارروائی کی جائے تاکہ اتحادِ امت اور امنِ عامہ کو نقصان پہنچانے والے رجحانات کی حوصلہ شکنی ہو۔ اجلاس نے دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں‘ بالخصوص اہلِ فلسطین سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیلی مظالم کی شدید مذمت کی۔ شوریٰ نے عالمی برادری‘ اقوامِ متحدہ اور مسلم ممالک پر زور دیا کہ فلسطینی عوام کے جان ومال‘ عزت ووقار اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر عملی اقدامات کیے جائیں۔ مرکزی شوریٰ نے خواتین کو ہراساں کرنے‘ کم سن بچوں کے ساتھ زیادتی‘ تشدد اور دیگر اخلاقی جرائم میں اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہ ایسے سنگین جرائم میں ملوث افراد کو شفاف اور فوری عدالتی کارروائی کے بعد قانون کے مطابق سخت اور عبرتناک سزائیں دی جائیں تاکہ معاشرے میں انصاف‘ امن اور تحفظ کا احساس مضبوط ہو۔ اجلاس میں ملکی معیشت اور توانائی کے بحران پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔ مرکزی شوریٰ نے اس بات پر زور دیا کہ پائیدار معاشی ترقی اور صنعتی استحکام کے لیے توانائی کے بحران پر قابو پانا ناگزیر ہے۔ اجلاس نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پانی‘ شمسی توانائی اور ہوا جیسے قدرتی اور قابلِ تجدید ذرائع سے توانائی پیدا کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ درآمدی ایندھن پر انحصار کم ہو‘ توانائی کی لاگت میں کمی آئے اور ملک توانائی کے شعبے میں خود کفالت کی جانب بڑھ سکے۔ مرکزی شوریٰ نے تنظیمی امور کا تفصیلی جائزہ لیا اور ملک بھر میں تنظیمی ڈھانچے کو مزید فعال اور مضبوط بنانے‘ ہر ضلع میں تنظیمی نیٹ ورک کی تکمیل‘ نوجوانوں‘ خواتین‘ علماء‘ وکلا‘ اساتذہ‘ تاجروں اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو تنظیم کے ساتھ منظم کرنے اور دعوتی و اصلاحی سرگرمیوں کو مزید وسعت دینے کے حوالے سے متعدد اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ عام انتخابات میں بھرپور حصہ لیا جائے گا اور اس مقصد کے لیے دینی و نظریاتی جماعتوں کے ساتھ مشاورت اور باہمی تعاون کو فروغ دیا جائے گا‘ جبکہ ملک بھر سے اہل‘ دیانتدار‘ باصلاحیت اور نظریاتی امیدوار میدان میں اتارے جائیں گے تاکہ جمہوری اور آئینی ذرائع سے پاکستان میں عدل‘ دیانت‘ شفافیت‘ اسلامی اقدار اور قرآن و سنت کی بالادستی کے قیام کی جدوجہد کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔11 جولائی کو جمعیت علمائے اسلام کے زیر اہتمام ضلع قصور کے علاقے پھولنگر میں ایک بڑے جلسہ عام کا انعقاد کیا گیا جس سے مولانا فضل الرحمن‘ مولانا راشد محمود سومرو‘ مولانا نصیر احمد احرار‘ حافظ ہشام الٰہی ظہیر کے علاوہ راقم الحروف کو بھی گفتگو کرنے کا موقع ملا۔ مولانا فضل الرحمن نے تحفظ مدارسِ دینیہ اور عوامی حقوق کے حوالے سے سیر حاصل گفتگو کی۔ اس سے مجمع میں ایک ولولے کی کیفیت پیدا ہو گئی۔ مولانا نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ ملکی معاملات کو آئین اور قانون کے مطابق چلنا چاہیے‘ عوامی رائے کا مکمل احترام کرنا چاہیے اور ملکی مسائل کو طاقت کے بجائے جمہوریت سے حل کرنا چاہیے۔ اس تقریب میں مجھے بھی اپنی گزارشات کو پیش کرنے کا موقع ملا جنہیں کچھ ترامیم اور اضافے کے ساتھ قارئین کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں:پاکستان ایک اسلامی جمہوری ریاست ہے جس کے قیام کے لیے علامہ محمد اقبال‘ قائداعظم محمد علی جناح‘ مولانا محمد علی جوہر‘ مولانا ظفر علی خان اور علمائے اسلام نے زبردست کوشش کی تھی۔ قیام پاکستان کا مقصد ایک اسلامی فلاحی ریاست کا قیام تھا۔ پاکستان میں 1973ء کا متفقہ آئین قرآن وسنت کو سپریم لاء قرار دیتا ہے۔اسی طرح قراردادِ مقاصد میںاللہ تبارک وتعالیٰ کی حاکمیت کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔آئین پاکستان نبی کریمﷺ کی ختم نبوت پر یقین نہ رکھنے والوںکو غیر مسلم قرار دیتا ہے جبکہ حرمت انبیاء کرام علیہم السلام اور حرمت رسول اللہﷺ کیلئے 295 اے اور 295 سی کے قوانین موجود ہیں جو اس بات کی ضمانت دیتے ہیں کہ انبیاء کرام علیہم السلام کی ذاتِ اقدس اور ان کی عظمت پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کیا جا سکتا۔ البتہ پاکستان میں کئی مرتبہ ایسے قوانین بھی سامنے آتے ہیں جو کتاب و سنت کی رو سے ہم آہنگ نہیں ہوتے۔ ان قوانین کے بارے میں عوام الناس کی رہنمائی کرنا اور آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے درست قوانین کے اجرا کی کوشش کرنا مذہبی طبقات کی ذمہ داری ہے۔ پاکستان میںمدارسِ دینیہ اسلام کی عملی نمائندگی کرتے ہیں اور یہاں سے اللہ کے دین کی تعلیم وتدریس کا فریضہ بھی انجام دیا جاتا ہے۔ مدارسِ دینیہ کی حریت اور درست پیغام کی نشر واشاعت کے لیے کوششیں کرنا انتہائی ضروری ہے۔ پاکستان ایک اسلامی مملکت ہے اور امتِ مسلمہ کے مسائل سے اہل پاکستان کو غیر معمولی دلچسپی ہے۔ گزشتہ کچھ سالوں سے کشمیر اور میانمار کے ساتھ فلسطین کا مسئلہ بھی خصوصی اہمیت حاصل کر چکا اور یہاں ہونے والے مظالم امتِ مسلمہ کیلئے تشویش کا سبب ہیں۔ چنانچہ اہلِ فلسطین کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنا ریاستِ پاکستان کی ذمہ داری ہے جبکہ اس حوالے سے عوامی سطح پر بیداری کی مہم چلانا دینی طبقات کی ذمہ داری ہے۔ پاکستان کی سیاست میں مؤثر اور نمایاں کردار ادا کرنے کے لیے دینی جماعتوں کو مشترکات کی بنیاد پر ہم آہنگ ہو کر آگے بڑھنا ہوگا۔ اگر دینی طبقات ہم آہنگی کے ساتھ ملکی سیاست میں کردار ادا کرنے کے لیے آمادہ ہوں تو اس کے ملک کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ماضی میں بھی جب کبھی دینی جماعتوں نے اتفاقِ رائے کے ساتھ سیاسی عمل میں حصہ لیا تو انہیں بہت پذیرائی ملی۔جمعیت علمائے اسلام کے اس جلسے میں شریک عوام کی کثیر تعداد نے مقررین کے خطابات کو بڑی توجہ کے ساتھ سنا اور یوں یہ اجتماع اپنے جلو میں بہت سی یادوں کو لیے مکمل ہوا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_19740082.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>