<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>طاقتور پارلیمان اور سیاسی مفاہمت(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-30/11677</link><pubDate>Fri, 30 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-30/11677</guid><description>پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے تحریک انصاف کو پارلیمان میں سیاسی کردار ادا کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ پارلیمان طاقتور ہے تو ہم سب طاقتور ہیں۔ یہ موجودہ سیاسی و آئینی بحران کا وہ حل ہے جس کی طرف بڑھے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ ایسے وقت میں جب سیاست دھڑے بندی‘ محاذ آرائی اور عدم برداشت کا شکار نظر آتی ہے‘ اس گمبھیر ماحول میں پارلیمان کی بالادستی پر اصرار دراصل اُس جمہوری فلسفے کی یاددہانی ہے جس پر ملک کے سیاسی نظام کی بنیاد رکھی ہوئی ہے۔ کسی بھی جمہوری معاشرے میں تمام پیچیدہ مسائل کا حتمی‘ قانونی اور پائیدار حل صرف اور صرف عوامی نمائندوں کے سب سے معتبر ایوان یعنی پارلیمان کے اندر ہی نکالا جاتا ہے۔ ہماری سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی پارلیمان کو کمزور کیا گیا یا اسکے اختیارات کو پسِ پشت ڈال کر فیصلے ایوان سے باہر کیے گئے‘ جمہوری نظام اور ملکی سیاست کو سخت ٹھیس پہنچی۔ آج اگر پاکستان اقتصادی‘ سکیورٹی اور مختلف سیاسی بحرانوں کی دلدل میں پھنسا ہوا ہے تو اس کی بڑی وجہ پارلیمان کو کمزور بنانے کا وہ رویہ ہے جو خود سیاستدانوں کا پیدا کردہ ہے۔ جب سیاسی جماعتیں عوامی مسائل پر قانون سازی اور بحث کیلئے ایوان کا رخ کرنے کے بجائے عدالتوں‘ سڑکوں یا دیگر حلقوں کی طرف دیکھنا شروع کر دیتی ہیں تو پارلیمان کی اہمیت خود بخود کم ہونے لگتی ہے۔

یہ ایک صائب مشورہ ہے کہ انتخابی اصلاحات سمیت تمام مسائل پر پارلیمان میں بیٹھ کر بہتری کی کوشش کی جائے۔ اگر اپوزیشن ملک میں حقیقی تبدیلی اور عوامی حقوق کی پاسداری چاہتی ہے تو اسے پارلیمانی کمیٹیوں کا حصہ بن کر اپنا مؤثر سیاسی کردار ادا کرنا چاہیے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں اپنی انا‘ ذاتی عناد اور وقتی سیاسی مفادات سے اوپر اٹھ کر‘ بامقصد مذاکرات کی طرف بڑھیں۔ جمہوریت تو نام ہی مکالمے اور سمجھوتے کا ہے۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ کوئی بھی جمہوری نظام تب تک کامیابی سے نہیں چل سکتا جب تک حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تعمیری بات چیت کے دروازے کھلے نہ ہوں۔ ہماری بدقسمتی کہ یہاں اقتدار میں آنے والی ہر جماعت اپوزیشن کو دیوار سے لگانے اور اپوزیشن حکومتوں کو گرانے کے مشن پر کاربند رہی۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف ملکی جمہوریت کی بنیادیں کھودنے کا سبب بنا بلکہ معیشت و معاشرت کے بیشتر مسائل اسی سیاسی بحران کے پیداکردہ ہیں۔ اپوزیشن کو یہ سمجھنا ہوگا کہ حکومتیں گرانے کی کوششیں درحقیقت ملکی معیشت کو نقصان پہنچاتی ہیں اور سکیورٹی مسائل کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہیں۔
اس لیے احتجاجی سیاست کو پارلیمانی حدود کے اندر لا کر اس کے اثرات کو محدود بنانا چاہیے۔ معاشی استحکام ہو‘ مہنگائی کا مسئلہ ہو‘ دہشت گردی کا بڑھتا ہوا چیلنج ہو یا صوبائی خود مختاری اور وسائل کی تقسیم کا معاملہ‘ ان تمام سنجیدہ موضوعات پر طویل مدتی اور پائیدار پالیسیاں صرف پارلیمان کے اندر ہی بنائی جا سکتی ہیں۔ جب تک تمام سیاسی قوتیں ایک میز پر بیٹھ کر ملکی مفاد میں اکٹھی نہیں ہوتیں‘تب تک کوئی بھی حکومت ملکی مسائل کا پائیدار حل نہیں نکال سکتی۔ بیرونی سرمایہ کار اور عالمی ادارے اسی ملک پر اعتماد کرتے ہیں جہاں کی پارلیمان مضبوط ہو اور پالیسیوں میں تسلسل پایا جائے۔ سیاسی مسائل کو ہوا دے کر گروہی اور انفرادی مفادات تو حاصل کیے جا سکتے ہیں مگر اس سے ملک و قوم کا کوئی بھلا نہیں ہو سکتا۔ سیاسی حریفوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ سیاسی مسائل کی موجودہ دلدل سے نکلنے کا واحد راستہ مذاکرات اور مفاہمت سے ہوکر جاتا ہے۔ اس سے جتنا بھی گریز کریں‘ یہ اتنی ہی بار اور اتنی ہی شدت کے ساتھ سامنے آئے گا۔ جب گھوم پھر کر اسی راستے پر آنا ہے تو ابھی سے کیوں نہیں؟ اگر حکومت اور اپوزیشن پارلیمان کو حقیقی معنوں میں قانون سازی اور سنجیدہ مکالمے کا مرکز بنا لیں تو اکثر قومی مسائل دنوں میں حل ہو سکتے ہیں۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>فضائی آلودگی کی معاشی قیمت(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-30/11676</link><pubDate>Fri, 30 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-30/11676</guid><description>وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی مصدق ملک نے کہا ہے کہ فضائی آلودگی کے باعث ملکی معیشت کو سالانہ جی ڈی پی کے 6.5 فیصد کے برابر معاشی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ مالی سال 2025-26ء میں جی ڈی پی کا حجم تقریباً 126.9 ٹریلین روپے رہا‘ اس حساب سے فضائی آلودگی کا تخمینہ شدہ سالانہ معاشی نقصان 8200 ارب روپے سے تجاوز کر جاتا ہے۔ یہ حقیقت اس امر کی عکاس ہے کہ آلودہ فضا محض ماحولیاتی مسئلہ نہیں رہی بلکہ ملکی معیشت کیلئے بھی سنگین خطرہ بن چکی ہے۔ اس موقع پر وفاقی وزیر نے صاف ہوا کے شعبے میں کام کرنے والے سٹارٹ اپس کی معاونت کیلئے ایک کروڑ ڈالر کا فنڈ قائم کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ یہ اقدام اپنی جگہ اہم لیکن اصل ضرورت ایسی ٹیکنالوجی کی ترویج کے ساتھ ساتھ آلودگی پیدا کرنے والے عوامل کا خاتمہ بھی ہے۔ ہوا صاف کرنے والے آلات مخصوص مقامات پر تو مددگار ثابت ہو سکتے ہیں لیکن کروڑوں شہریوں کو فضائی آلودگی سے پاک ماحول فراہم کرنے کا متبادل نہیں بن سکتا۔

ملک میں فضائی آلودگی کے بنیادی اسباب میں بے ہنگم ٹریفک‘صنعتی دھواں‘ ناقص ایندھن‘ فصلوں کی باقیات اور کچرا جلانا‘ تعمیراتی گردوغبار اور سڑکوں کی دھول وغیرہ شامل ہیں۔ جب تک آلودگی کے پیداواری اسباب پر قابو نہیں پایا جاتا‘ وقتی انتظامات یا نمائشی اقدامات سے نہ شہریوں کی صحت محفوظ بنائے جا سکتی ہے اور نہ ہی معیشت کو پہنچنے والے بھاری نقصان کا ازالہ ممکن ہوسکتا ہے۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ایمبولینس حادثہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-30/11675</link><pubDate>Fri, 30 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-30/11675</guid><description>سندھ کے ضلع تھرپارکر میں ایک ایمبولینس میں آکسیجن سلنڈر پھٹنے سے لگنے والی آگ سے دس افراد جاں بحق جبکہ تین شدید زخمی ہو گئے۔اس واقعے نے کئی بنیادی سوالات کھڑے کیے ہیں۔ کیا آکسیجن سلنڈر کی بروقت جانچ کی گئی تھی؟ کیا اسے سنبھالنے والا عملہ مطلوبہ تربیت رکھتا تھا؟ اور کیا ایمبولینس میں آتشزدگی سے بچاؤ کے ضروری انتظامات موجود تھے؟ یہ سانحہ ملک بھر میں ایمبولینس سروس کے مجموعی معیار کا جائزہ لینے کی ضرورت بھی اجاگر کرتا ہے۔ بالخصوص سرکاری ہسپتالوں کی ایمبولینسوں میں گاڑیوں کی فٹنس‘ طبی آلات کی دستیابی‘ بروقت مرمت اور تربیت یافتہ عملے کی تعیناتی جیسے معاملات خصوصی توجہ چاہتے ہیں۔

نجی شعبے میں بھی بعض ایمبولینسیں محض مریضوں کی منتقلی تک محدود رہتی ہیں‘ جہاں دورانِ سفر طبی نگرانی اور ہنگامی امداد کی مناسب سہولت میسر نہیں ہوتی۔ ایمبولینس محض ایک گاڑی نہیں بلکہ ہنگامی طبی نگہداشت کا ابتدائی مرکز ہوتی ہے۔ اس میں نہ صرف محفوظ آکسیجن نظام‘ ابتدائی طبی امداد کا سامان اور مریضوں کو درکار ضروری طبی آلات ہونے چاہئیں بلکہ ان آلات کو درست طریقے سے استعمال کرنے کیلئے تربیت یافتہ اہلکار کی موجودگی بھی ناگزیر ہے۔ متعلقہ حکام کو چاہیے کہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے تمام سرکاری و نجی ایمبولینسوں میں عالمی سطح پر طے شدہ معیارات کی پابندی یقینی بنائیں۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ایک نیا دنگل(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-10-30/52934/34529124</link><pubDate>Fri, 30 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-10-30/52934/34529124</guid><description>مولانا فضل الرحمن‘ خواجہ آصف اور اب محسن نقوی کی یکے بعد دیگرے تقریروں نے اچانک پارلیمنٹ کا سارا ماحول بدل دیا ہے۔ جو پارلیمنٹ بورنگ اور سست دکھائی دیتی تھی اور جہاں کورم تک پورا نہیں ہوتا تھا‘ وہ اچانک زندہ ہو گئی ہے۔ اس تبدیلی کی وجہ تین تقریریں بنی ہیں۔ میں تقریباً ہر پارلیمانی اجلاس میں جاتا ہوں‘ لیکن بڑے عرصے بعد دھواں دھار سیاسی تقریریں سننے کو ملی ہیں۔ ماضی میں اس ایوان میں بڑے بڑے مقرر ہوا کرتے تھے‘ جن کی تقریریں سننے کیلئے ہم صبح سویرے پارلیمنٹ پہنچ جاتے تھے۔ دیر ہو جاتی تو اول پارکنگ میں ہی جگہ نہ ملتی اور پھر پریس گیلری میں کرسی تو کیا‘ کھڑے ہونے کی جگہ بھی نہیں ملتی تھی۔ خصوصاً پرویز مشرف کے دور کی پارلیمنٹ میں بڑے بڑے مقررین تھے‘ جن کی تقریروں سے میرے جیسے رپورٹرز نے بہت کچھ سیکھا‘ جو نئے نئے پارلیمانی رپورٹنگ میں آئے تھے۔ اگلی پارلیمنٹ میں ان میں سے کئی بڑے مقرر دوبارہ نہ پہنچ سکے اور جو پہنچے وہ حکومت میں وزیر بن گئے۔  مشرف اور شوکت عزیز کی حکومتوں پر جن برائیوں کی وجہ سے وہ تنقید کرتے اور تبرے پڑھتے تھے‘ بعد میں انہی نالائقیوں اور سکینڈلز کا وہ دفاع کرنے لگ گئے۔ اس سے اندازہ ہوا کہ ہر دور میں اصل حکمرانی بیوروکریسی ہی کی ہوتی ہے۔ بیوروکریٹس کسی وزیر کو جو لکھ کر دے دیتے ہیں‘ وہ من و عن ایوان میں پڑھ دیتا ہے۔ پہلے شوکت عزیز کے وزیر وہ بریف پڑھتے تھے‘ پھر یوسف رضا گیلانی کی حکومت کے وزرا نے وہی کچھ پڑھ کر سنایا اور بعد میں نواز شریف کے وزرا بھی اسی فیڈرل سیکرٹری کے لکھے ہوئے بریف پر چلتے رہے‘ جو پرویز مشرف‘ شوکت عزیز اور یوسف رضا گیلانی کو لکھ کر دیتا تھا۔ صرف وزیر اور وزیراعظم بدلے‘ سیکرٹری بھی وہی تھا‘ ایشوز اور سکینڈلز بھی وہی تھے اور ان کے جوابات بھی وہی۔ یوں دھیرے دھیرے مجھے اندازہ ہوا کہ اس ملک کی اصل حکمران بیوروکریسی ہے۔ وہ کسی ایشو کو جس نظر سے دیکھتی ہے‘ وہی بات حتمی بن جاتی ہے۔ باقی سب تقریریں ہیں‘ جو ہمارے سیاستدان اور ارکانِ اسمبلی ایوان میں کھل کر کر لیتے ہیں اور کام چلاتے ہیں۔ تاہم وقت کے ساتھ پارلیمنٹ میں ارکان کی دلچسپی ختم ہوتی چلی گئی کیونکہ وزیراعظم خود ایوان میں نہیں آتے تھے۔ آپ کو اچھا لگے یا برا‘ یہ کریڈٹ پیپلز پارٹی کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو دینا پڑے گا کہ وہ واحد وزیراعظم رہے جو اسمبلی کے ہر اجلاس میں موجود ہوتے تھے۔ وہ وقفۂ سوالات میں بھی بیٹھتے اور بعض اوقات وزیر کسی سوال کا مناسب جواب نہ دے پاتا تو گیلانی صاحب خود کھڑے ہو کر اس کی وزارت سے متعلق سوال کا جواب دیتے تھے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا کہ ایوان میں ارکان اور وزرا کی کمی نہ ہوتی اور شاید ہی کبھی کورم کا مسئلہ پیدا ہوتا۔ وزیراعظم ایوان میں موجود ہو تو سب کو موجود رہنا پڑتا ہے۔ وہی ایوان کامیاب اور جمہوری دکھائی دیتا ہے جہاں وزیراعظم بلاناغہ بیٹھے کیونکہ اس سے ایوان کی اتھارٹی اور رعب و دبدبہ قائم ہوتا ہے۔ شاید یوسف رضا گیلانی کی ایوان میں موجودگی کی وجہ ان کا بطور سپیکر سابقہ تجربہ تھا‘ جس کے باعث وہ اپنے کام کو سنجیدگی سے لیتے تھے۔ مگر جب نواز شریف وزیراعظم بنے تو انہوں نے ایوان میں باقاعدگی سے آنے کی روایت توڑ دی۔ انہیں شاید لگا کہ روزانہ آنے جانے سے قدر کم ہو جاتی ہے‘ لہٰذا وہ ایوان کا رخ ہی نہیں کرتے تھے۔ وہ لگ بھگ آٹھ ماہ تک پارلیمنٹ میں نہیں آئے۔ چھ چھ ماہ کابینہ کے اجلاس تک نہیں ہوتے تھے جبکہ وہ بیرونِ ملک دوروں میں مصروف رہتے تھے۔اس کا نقصان یہ ہوا کہ پارلیمنٹ میں وزرا اور ارکان کی دلچسپی ختم ہوتی چلی گئی۔ جب وزیراعظم ہی ایوان میں نہیں آتا تو ارکان کیوں آتے؟ بعض ارکان مبینہ طور پر ایک دوسرے کی جعلی حاضریاں تک لگاتے تھے تاکہ الاؤنس ملتا رہے۔ عمران خان بھی وزیراعظم بن کر نواز شریف کی روش پر چلے اور چھ چھ ماہ ایوان میں نہیں آئے‘ یوں ان کے دور میں بھی پارلیمنٹ بے اثر ہوتی چلی گئی۔ اب شہباز شریف بھی یہی کرتے ہیں۔ گزشتہ پورا سال بھی وہ کم کم ہی پارلیمنٹ میں آئے اور بیرونِ ملک دوروں میں مصروف رہے۔ نتیجتاً پارلیمنٹ کو بھی کوئی سنجیدگی سے نہیں لیتا۔ روز کورم کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے‘ ایوان میں ارکان کی تعداد پوری نہیں ہوتی اور اجلاس گھنٹوں کی تاخیر سے شروع ہوتے ہیں۔ لیکن اچانک اسی بورنگ اور خشک پارلیمنٹ میں اس وقت جان پڑ گئی جب مولانا فضل الرحمن نے پرسوں اسمبلی میں وزیر دفاع خواجہ آصف کو آڑے ہاتھوں لیا۔ خواجہ آصف کو میں ان چند ارکانِ اسمبلی میں شمار کرتا ہوں جن سے کوئی رکن یا لیڈر الجھنے سے پہلے بہت سوچ بچار کرتا ہے۔ وہ ہزار بار سوچتا ہے اور پھر خواجہ صاحب پر تنقید کرتا ہے کیونکہ ان کا جواب انتہائی سخت ہوتا ہے اور وہ مخالف کو گھر تک چھوڑ کر آتے ہیں۔ تاہم عمر ڈھلنے کے ساتھ خواجہ صاحب نے بھی درگزر سے کام لینا شروع کر دیا ہے۔ ان کے ساتھی وزیر حنیف عباسی نے ان پر شدید لفظی حملہ کیا تو انہوں نے جواب نہیں دیا۔ اسی طرح بلاول بھٹو نے کشمیر انتخابات سے پہلے خواجہ صاحب پر بڑے لفظی حملے کیے لیکن وہ خاموش رہے اور جواب دینے سے گریز کیا۔ یہ خواجہ صاحب کی طبیعت کے برعکس تھا کہ کوئی ان پر لفظی حملہ کرے اور وہ سادھو سنت فقیر کی طرح بے پروا ہو کر سنتے رہیں۔ لیکن اس بار لگتا ہے خواجہ صاحب کا صبر جواب دے گیا؛ چنانچہ انہوں نے مولانا فضل الرحمن کی تقریر کو نظرانداز کرنے کے بجائے براہِ راست جوابی حملے کا فیصلہ کیا۔جمعرات کے روز اپنی تقریر میں خواجہ صاحب نے وہ تکلف اور احترام بھی ملحوظِ خاطر نہیں رکھا جو ماضی میں مسلم لیگ (ن) کے ارکان محمود خان اچکزئی اور مولانا فضل الرحمن کے خلاف تقریر کرتے ہوئے روا رکھتے تھے۔ اس بار انہوں نے احترام کو ایک طرف رکھ کر جواب دیا‘ جس سے لگتا ہے کہ اب حکومت کی لڑائی عمران خان کے بجائے براہِ راست مولانا کے ساتھ ہوگی۔ عمران خان درمیان سے ہٹ گئے ہیں یا ہٹا دیے گئے ہیں اور اب رعایتوں کا موسم ختم ہو چکا ہے۔ خواجہ صاحب کی صبح کی جوشیلی تقریر کی گونج ابھی پارلیمنٹ کی گیلریوں میں موجود تھی کہ دوپہر کو وزیر داخلہ محسن نقوی سینیٹ میں پہنچ گئے اور مولانا پر جاری لفظی حملوں کو مزید تیز کردیا۔ محسن نقوی گزشتہ ڈھائی سال میں بہت کم ایوان میں گئے ہیں‘ اس لیے ان کے پاس وہ بے خوفی نہیں تھی جو ایوان میں مخالفین کو دبنگ انداز میں جواب دینے کیلئے درکار ہوتی ہے۔ شاید اسی لیے ان کی تقریر کے دوران ہی جے یو آئی (ف) کے سینیٹر کامران مرتضیٰ اور مولانا عطا الرحمن نے جوابی حملے شروع کر دیے۔ محسن نقوی سخت جواب دینے آئے تھے لیکن چونکہ وہ اس ماحول کے عادی نہیں‘ اس لیے ایسا نہ کر سکے۔ جب انہوں نے دیکھا کہ وہاں موجود مسلم لیگ (ن) کے وزرا اور سینیٹرز اس لڑائی میں غیر جانبدارانہ کردار ادا کر رہے ہیں تو انہوں نے بھی زیادہ دیر بات سے گریز کیا۔ اگرچہ وہ اپنا یہ پیغام پہنچانے میں کامیاب رہے کہ اب مولانا کو ماضی کی طرح مراعات یا رعایت نہیں ملے گی۔ نقوی صاحب کی حمایت میں صرف سینیٹر عابد شیر علی نے شور شرابا کیا‘ لیکن سینیٹر کامران مرتضیٰ اور مولانا عطا الرحمن کے جوابی حملوں نے انہیں کسی حد تک پسپا کر دیا۔ چنانچہ وہ اپنی طویل تقریر مکمل نہ کر سکے اور جلد ہی ایوان سے چلے گئے۔اب ممکن ہے مولانا صاحب آج خواجہ آصف اور محسن نقوی سے دو دو ہاتھ کرنے دوبارہ پارلیمنٹ میں جائیں کیونکہ اب لڑائی بڑھ چکی ہے اور مولانا اس وقت پسپائی افورڈ نہیں کر سکتے۔ دیکھتے ہیں یہ معرکہ کون جیتتا ہے۔ میدان بھی ہے‘ گھوڑا بھی جبکہ تین شاہسوار آمنے سامنے کھڑے ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>انقلابوں کی نوید(رسول بخش رئیس)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-10-30/52935/32290110</link><pubDate>Fri, 30 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-10-30/52935/32290110</guid><description>گھبرانے کی بات نہیں! میں کسی ایسے انقلاب کی پیش بینی نہیں کر رہا جس کے نتیجے میں کسی ملک کے حکمرانوں کے تاج اچھالے جائیں‘ ان کے بارے میں فیصلہ ہم تاریخ پر چھوڑتے ہیں۔ جس انقلاب کی بات میں کر رہا ہوں‘ وہ ابھی آنا نہیں بلکہ آ چکا ہے۔ اس کے اثرات مزید گہرے اور وسیع ہوں گے۔ یہ خالصتاً کاشتکاروں کی فکر انگیزی اور چینیوں کی اختراع کاری اور ان کی صنعتی ترقی کا نتیجہ ہے۔ ہماری حکومتیں بھی اس میں اگر بہت زیادہ حصہ نہیں ڈال سکیں تو کم از کم سہولت کاری کی ہے اور راستے ابھی تک انہوں نے بند نہیں کیے۔ ایسے انقلابوں میں کوئی ترکیب اور منصوبہ بندی نہیں ہوتی۔ نہ اس کی کوئی مرکزی طاقت ہوتی ہے جو اسے اپنے ہاتھ میں رکھ کر اُسے کوئی سمت دے یا اس کی رفتار کے پیڈل پر پائوں رکھے۔ چونکہ خود بھی کاشتکار ہوں‘ اور ملک کے ہر حصے میں جہاں بھی جانا ہو‘ کاشتکاروں سے ملاقاتیں رہتی ہیں‘ لہٰذا کوئی اور موضوع ہمارے لیے اتنا دلچسپ کبھی نہیں ہوتا جتنا درختوں‘ پھلوں‘ سبزیوں اور مختلف فصلوں کی کاشت سے متعلق بات کرنا ہوتا ہے۔ کہیں کوئی کاشت کار ملے تو پہلا سوال یہ ہوتا ہے کہ کیا بوتے ہیں‘ کتنے پھلدار درخت لگائے ہیں‘ باغ ہے یا فصلوں پر گزارہ ہے۔ بڑے زمینداروں اور درمیانے درجے کے کاشت کاروں میں ویسے تو سماجی لحاظ سے زمین آسمان کا فرق ہے‘ مگر سب ایک دوسرے سے سیکھتے ہیں‘ دوسرو ں کے تجربے‘ غلطیوں اور کامیابیوں سے سبق حاصل کرتے ہیں۔ کاشت کاری ہمیشہ سے ایک کھلی درسگاہ کی طرح رہی ہے‘ جہاں کچھ پڑھانے اور سمجھنے کیلئے کسی سند کی ضرورت نہیں۔ صرف تجربہ‘ مہارت‘ لگن‘ زمین سے محبت اور زمین کا رشتہ بڑا استاد بنا دیتے ہیں۔ کتابوں کی زراعت اور باغبانی کے بارے میں اپنی اہمیت‘ اور محدود ذخیرے میں ان کی کمی نہیں‘ مگر عام کاشتکاروں کو دیکھ کر‘ اُن کی باتیں سن کر کہیں زیادہ سیکھا ہے۔صنعتی دور کے مفکرین اور جدید شہروں کی مشینی زندگی کے سحر میں گرفتار دانشوروں نے کسان اور کاشت کار کو دہقان کے ہی معنی دیے۔ اس سے تاثر ملتا ہے کہ وہ زمانہ قدیم کے اندھیروں میں رہ رہا ہے۔ دیہاتی زندگی دنیا کے کسی بھی کونے میں کیوں نہ ہو‘ شہروں کی رونق‘ چکاچوند اور گہما گہمی سے مختلف ہوتی ہے۔ اُس کی رفتار دھیمی معلوم ہوتی ہے مگر سوچ‘ فکر اور زاویۂ نگاہ میں سمندروں کی سی گہرائی ہے۔ اس کا اظہار اس طرح نہیں ہوا‘ یا شاید ہماری زبان اور ابلاغ کی کمزوری ہے کہ سحر کے وقت مشرق سے نور کے چشمے سرسوں کے کھیت پر برسنے اور اس کے اند رکی دنیا کا ایسا بیان نہیں ملتا‘ جیسا شاعر اپنے محبوب کی تعریف میں کرتے آئے ہیں۔ فطرت کے نظاروں کو جس طرح کوئی محسوس کرتا ہے اور اپنی روح کی دنیا میں بسا لیتا ہے‘ وہ کھیتوں کی پگڈنڈیوں پر چلتے مسافروں کو کسی اظہار کی قید سے بھی آزاد کر دیتا ہے۔ کھیت‘ باغ اور زمین کے سینے کو پھاڑ کر اُسے سرسبز کرنے کا کھیل مضبوط ہاتھ‘ بڑے دماغ اور کھلے دل کا متقاضی رہا ہے۔ اکثر آپ کو یاد دلانے کی کوشش کرتا ہوں کہ جب رزق آپ کی میز پر ہو‘ کبھی اُن کے بارے میں بھی سوچ لیا کریں جو جاڑے کی سردیوں اور گرمیوں کی دھوپ میں محنت کر کے پچیس کروڑ آبادی کیلئے کھانے کا انتظام کرتے ہیں۔ کاشت کاروں کی آپ مجبوری سمجھیں گے کہ کئی بار حکومت کی اچانک بدلتی پالیسیوں اور آڑھتیوں کی لوٹ مار کے باوجود گندم‘ دھان اورکپاس کاشت کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ میرے نزدیک یہ ان کا پیشہ ہے‘ اور جو بھی حالات ہیں‘ وہ اپنے نفع نقصان کا خیال کرتے ہوئے کچھ نہ کچھ بوتے ہی رہیں گے۔ فکر نہ کریں‘ خسارے میں رہ کر بھی قوم کو پالتے رہیں گے کہ نسل در نسل ایسا ہی کرتے آئے ہیں۔ملک میں سبز انقلاب آیا ہے‘ اور اس کے اندر کئی انقلاب در انقلاب آ رہے ہیں۔ جی تو چاہتا ہے کہ ایک ایک کرکے سب کے بارے میں لکھوں‘ مگر ہمارے ہاں تو بیانیے بہت مایوس کن ہیں‘ اور عام لوگ اب امید افزا خبروں پر یقین کرنا بھی چھوڑ چکے ہیں۔ اگر ایسے انقلاب کسی اور ملک میں ہوتے تو بڑے بڑے اخباروں کی شہ سرخیوں اور کتابوں کے عنوان ہوتے۔ زیتون‘ کھجور‘ آموں اور (شاید کم کم لوگوں نے نام سنا ہو) آواکاڈو کی کاشت میں بڑی کامیابیوں کی بات پھر کسی وقت پر چھوڑتا ہوں‘ ابھی زراعت میں شمسی توانائی کے انقلاب کے بارے میں کچھ عرض کرنا مقصود ہے۔ اگر کوئی یہ کہے کہ یہ خبر اب پرانی ہو چکی ہے تو بھی غلط نہ ہوگا۔ جس تیزی اور کسی شور وغل کے بغیر یہ تبدیلی آئی ہے‘ اس نے دیہات کی طرف سفر کرنے والوں کو حیران کر دیا ہے۔ اب ڈیزل انجن‘ جسے عام طور پر پیٹر انجن کہا جاتا ہے‘ گزرے وقتوں کی بات بن چکا ہے۔ اس کا استعمال اب بہ امرمجبوری ہی سمجھیں‘ جب اشد ضرورت ہو یا سورج بادلوں کی اوٹ میں چھپ جائے۔ اعداد وشمار کے چکر میں پڑیں تو کوئی بھی تازہ نہیں‘ اور نہ ہی قابلِ اعتبار۔ مگر حقیقت زمین پر آنکھوں کے سامنے موجود ہے۔ لاکھوں ٹیوب ویل شمسی توانائی سے چل رہے ہیں‘ اور اس تعداد میں لاکھوں کا اضافہ ہو رہا ہے۔ صوبائی حکومتوں نے بھی اس میں اپنا حصہ ڈالا ہے‘ مگر یہ پیش کاری اور سرمایہ کاری کاشت کاروں نے خود کی ہے۔ کسان بھی اسی طرح ذہین اور عقل مند ہے جس طرح کسی اور شعبے کا انسان ہو سکتا ہے۔ ریشنل کا انگریزی لفظ کسی خاص نسل‘ جنس یا پیشے کیلئے مختص نہیں۔ میں نے خود زیادہ تر دوسرے کاشتکاروں سے سیکھا ہے۔ اپنے دیہاتی سفروں کے دوران کئی سال پہلے‘ کسی کھیت کے درمیان لگے شمسی پینلوں کو دیکھا تو وہ ایک ایسے شخص کے تھے جس نے کبھی کسی سکول کا دروازہ تک نہیں دیکھا تھا۔ اس کا سکول وہ کھیت ہی تھا۔ پہل کاری اس نے کی‘ یا شاید وہ اکیلا نہیں تھا۔ چھوٹے قصبوں تک اب شمسی توانائی کا کاروبار ایسا پھیلا ہے‘ اور پھیلتا ہی چلا جا رہا ہے کہ وہ وقت دور نہیں جب لوگ بجلی کے میٹر اکھاڑ کر واپس محکموں کی گود میں ڈال دیں گے۔شمسی توانائی زراعت میں زمین سے پانی نکالنے تک محدود نہیں۔ دنیا میں تو اب بڑے بڑے ٹرک اور ٹریکٹر بھی الیکٹرک ہو چکے ہیں‘ تو ہمیں کس بات کا انتظار ہے؟ ہماری حکومتیں ابھی تک متوسط اور اعلیٰ طبقات کی سہولتوں میں اضافے کیلئے برقی گاڑیوں کی پالیسیاں بنائے جا رہی ہیں۔ حضور! توجہ کو موجودہ موٹر سائیکلوں کے کارخانوں کو شمسی توانائی سے چلنے والی سکوٹیوں کی طرف جانے پر مائل کرنا ہے۔ زرعی مشینوں کو بھی شمسی توانائی سے چلایا جا سکتا ہے۔ کاشت کار ہمیشہ دیکھا دیکھی‘ یعنی کسی کے تجربے کی بنیاد پر آگے بڑھتا ہے۔ اگر الیکٹرک ٹریکٹر بازار میں مہیا ہوں‘ دوسرے انہیں استعمال کر رہے ہوں تو کاشتکار اپنی جمع پونجی اس پر لگا دے گا۔ بات تو ترجیحات کی ہے۔ جدید صنعتوں کی اہمیت اپنی جگہ‘ جو وقت کے ساتھ تبدیل ہوتی رہیں گی‘ مگر زراعت تو ہر دور میں زندگی کا سلسلہ برقرار رکھنے کیلئے مرکزی کردار ادا کرتی آئی ہے‘ اور آئندہ بھی کرتی رہے گی۔ حکومتوں کا کام راستہ دکھانا‘ سہولت کاری کرنا اور نئی ٹیکنالوجی کی فراہمی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عام کاشت کار نے پہلے شمسی توانائی میں سرمایہ کاری زراعت میں کی ہے‘ پھر بچت کرکے اپنے گھر میں بھی یہ سہولت حاصل کر رہا ہے۔ اب خدشہ یہ ہے کہ کہیں حکومت سورج کی روشنی پر بھی ٹیکس نہ لاگو کر دے‘ کہ جو معاہدے نجی بجلی گھروں کے ساتھ حکمرانوں نے کیے ہیں‘ انہیں بجلی نہ پیدا کرنے کے عوض بھی ہر سال تقریباً پندرہ سے بیس کھرب روپے دینا پڑتے ہیں۔ یہ انقلاب اسی کے ردِعمل میں ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_33241568.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مشرقِ وسطیٰ، ایک نئے سکیورٹی نظام کی تلاش(ڈاکٹر رشید احمد خاں)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr-rasheed-ahmad-khan/2026-10-30/52936/86187001</link><pubDate>Fri, 30 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr-rasheed-ahmad-khan/2026-10-30/52936/86187001</guid><description>گزشتہ ایک صدی سے مشرقِ وسطیٰ اور خلیج فارس کی قوموں کی قسمت کا فیصلہ خطے سے باہر کے ممالک میں ہوتا چلا آ رہا ہے مگر تہران میں مکہ دفاعی معاہدے کے رکن ممالک پاکستان‘ سعودی عرب اور ترکیہ کے نمائندوں کی ایرانی حکام سے 26 اکتوبر کی ملاقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب ان خطوں کی سلامتی‘ ترقی اور خوشحالی سے متعلق امور ان خطوں کے عوام بالآخر اپنے ہاتھوں میں لینے والے ہیں۔ اگرچہ تاریخی تبدیلی کے اس ناگزیر عمل کا آغاز بہت پہلے ہو چکا تھا تاہم رواں برس فروری میں ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے اور بعد کے حالات نے اسے مہمیز دی ہے۔یورپ کی تین بڑی نوآبادیاتی طاقتوں برطانیہ‘ فرانس اور اٹلی نے پہلی جنگ عظیم میں جرمنی اور اس کے اتحادیوں‘ جن میں سلطنت عثمانیہ بھی شامل تھی‘ کو شکست دینے کے بعد مشرقِ وسطیٰ کے موجودہ سیاسی نقشے کی لکیریں کھینچی تھیں۔ پہلی جنگ عظیم سے پہلے پورا جزیرہ نمائے عرب سلطنت عثمانیہ کا حصہ تھا اور عراق‘ اردن‘ لبنان اور شام کا کوئی انفرادی وجود نہیں تھا‘ تاہم یورپ کی مذکورہ بالا نوآبادیاتی طاقتوں نے سلطنت عثمانیہ کے حصے بخرے کرکے ان ریاستوں کو تخلیق کیا اور پھر 1922ء میں لیگ آف نیشنز کے مینڈیٹ سسٹم کے تحت ان کا کنٹرول حاصل کر لیا۔ یورپی نوآبادیاتی طاقتوں نے مشرقِ وسطیٰ پر اپنے کنٹرول کو ناقابلِ شکست بنانے کیلئے خطے کے اندر اور اس کے باہر‘ وسیع اور طاقتور بحری اور فوجی اڈے قائم کر رکھے تھے‘ خصوصاً برطانیہ‘ جس کے زیر قبضہ علاقوں کا سلسلہ صرف مشرقِ وسطیٰ تک ہی محدود نہیں تھا بلکہ براعظم افریقہ کی مشرقی پٹی اور برصغیر تک پھیلا ہوا تھا۔ دوسری جنگ عظیم میں برطانیہ اور فرانس عسکری اور ساختی لحاظ سے اتنے کمزور ہو گئے کہ ان کی جگہ مشرقِ وسطیٰ کے تحفظ کی ذمہ داری امریکہ نے سنبھال لی۔جس وقت امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ کے تحفظ کی ذمہ داری سنبھالی اس وقت سوویت یونین کے ساتھ اس کی سرد جنگ شروع ہو چکی تھی اور خطے کے بعض ممالک اور مقامی کمیونسٹ پارٹیوں کے ذریعے اس کا اثر و رسوخ پھیل رہا تھا۔ مقامی طور پر مشرقِ وسطیٰ میں مصر کے جمال عبدالناصر کی قیادت میں عرب قوم پرستی خطے میں امریکہ کی بالادستی کیلئے ایک بہت بڑے چیلنج کی حیثیت رکھتی تھی۔ مئی 1948ء میں اسرائیل کے قیام کے اعلان سے مشرقِ وسطیٰ کے امن کیلئے ایک اور بڑا خطرہ پیدا ہوا کیونکہ عرب ممالک نے اجتماعی طور پر یہودی ریاست کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی 1948ء میں عربوں اور اسرائیل کے درمیان پہلی جنگ چھڑ گئی۔ اس لیے امریکہ نے آئندہ جنگوں کے امکانات کو ختم کرنے اور خطے کو ممکنہ روسی حملے سے بچانے کیلئے خطے کے اندر اور باہر نئے فوجی اڈے قائم کیے اور 1955ء میں پاکستان‘ ایران‘ ترکیہ‘ عراق اور برطانیہ پر مشتمل &#39;&#39;معاہدۂ بغداد‘‘ کیا‘ مگر اس معاہدے کے قیام کے بعد صرف ایک سال کے اندر نہر سویز کو قومی ملکیت میں لینے کی بنا پر مصر پر برطانیہ‘ فرانس اور اسرائیل نے مل کر حملہ کر دیا۔1958ء میں عراق کی علیحدگی کے بعد معاہدۂ بغداد کا نیا نام سینٹرل ٹریٹی آرگنائزیشن (سینٹو) رکھ دیا گیا۔ امریکہ کی سرپرستی اور فوجی امداد بدستور جاری رہی‘ مگر خطے کے امن اور تحفظ کیلئے امریکی سرپرستی میں فوجی معاہدوں اور اڈوں پر مشتمل جو نظام قائم کیا گیا تھا وہ آنے والے وقت میں بری طرح ناکام رہا۔ 1967ء اور اسکے بعد 1973-74ء میں عربوں اور اسرائیل کے درمیان جنگوں نے مشرقِ وسطیٰ میں سلامتی کے مسئلے کو اور بھی پیچیدہ بنا دیا۔1979ء میں ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی نے سینٹو کو آخری ضرب لگائی کیونکہ ایران اس کا ایک اہم رکن تھا‘ لیکن امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی طاقت کم نہیں کی بلکہ اس میں مزید اضافہ کرکے اس کے دفاع کیلئے ایک علیحدہ اور براہِ راست اپنے کنٹرول میں ایک دفاعی تنظیم &#39;&#39;سینٹ کام‘‘ قائم کی۔ تاہم ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی حالیہ مشترکہ جنگ میں یہ نظام بھی خطے میں امریکہ کے اتحادی ممالک کو تحفظ دینے میں ناکام رہا۔ اگست 2026ء میں پاکستان‘ سعودی عرب اور ترکیہ پر مشتمل مکہ دفاعی اتحاد کے معرضِ وجود میں آنے کا سبب یہی حقیقت ہے۔ حالیہ جنگ کے دوران جب امریکہ اپنی تمام تر طاقت کے باوجود خلیج فارس کی عرب ریاستوں کو ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں سے نہ بچا سکا تو قطر پہلا ملک تھا جس نے برملا اعتراف کیا کہ اپنے دفاع کیلئے امریکہ پر انحصار نہیں کیا جا سکتا اور خطے کے امن و تحفظ کیلئے باہمی تعاون کے علاوہ ہمسایہ ملک ایران کے ساتھ بھی پُرامن تعلقات قائم کرنا پڑیں گے۔ 26 اکتوبر کو تہران میں مکہ دفاعی معاہدے کے رکن ممالک پاکستان‘ سعودی عرب اور ترکیہ کے نمائندوں کی حیثیت سے بالترتیب فیلڈ مارشل سید عاصم منیر‘ وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور ترکیہ کے انٹیلی جنس چیف ابرہیم قالن کی آمد اور ایرانی حکام سے ملاقات خلیجی ممالک میں جنم لینے والی اس نئی سٹرٹیجک سوچ کا نتیجہ ہے۔ یاد رہے کہ اس ملاقات سے ایک ہفتہ پہلے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے تہران کا دورہ کیا تھا اور ایرانی حکومت کے ترجمان کے مطابق انہوں نے ایرانی قیادت کے ساتھ مکہ دفاعی معاہدے کے نمائندہ رہنماؤں کی ملاقات کی تجویز پیش کی تھی۔ تہران میں مکہ معاہدے کے رہنماؤں سے ملاقات کے بعد ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور روس کے صدر ولادیمیر پوتن کے مابین ماسکو میں ملاقات ہوئی اور اس ملاقات کا مقصد بھی خلیج میں ایران اور امریکہ کے درمیان ایک اور جنگ کے امکانات کو ختم کرنا تھا۔روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاروف بھی اکتوبر کے آغاز میں ایران کا دورہ کر چکے تھے۔ اس کے علاوہ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مصر‘ جس کی پارلیمنٹ نے حوثی قبائل کے میزائلوں اور ڈرون حملوں سے بچانے کیلئے سعودی عرب کو دفاعی نوعیت کی مدد فراہم کرنے کی اجازت دی ہے‘ بھی ایران کے ساتھ رابطے میں ہے اور کسی ایسے معاہدے کی تلاش میں ہے جس کے نتیجے میں یمن کی جنگ مزید شدت اختیار نہ کر سکے۔تازہ ترین اطلاعات کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی کو بھی ایک خط لکھا ہے جس میں ایران اور امریکہ کے مابین مذاکرات کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ علاقائی‘ خصوصاً خلیج عرب کی ریاستیں خطے میں ایک بڑی اور تباہ کن جنگ کو روکنے کی سرتوڑ کوشش کر رہی ہیں۔ روس اور چین‘ جو اگرچہ مشرقِ وسطیٰ سے متصل ممالک نہیں‘ وہ بھی پوری مستعدی کے ساتھ اس سفارتی کوشش کی حمایت کر رہے ہیں۔ لیکن کیا ان تمام تر سفارتی سرگرمیوں اور اعلیٰ سطح کی ملاقاتوں کے نتیجے میں ایران اور امریکہ کے مابین ایک نئی جنگ کا خطرہ ٹل جائے گا؟ مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکہ کے مابین جنگ ناگزیر ہے؛ البتہ حالیہ انتخابات کے نتیجے میں اگر نیتن یاہو اسرائیل کا وزیراعظم نہ رہا تو یہ خطرہ ٹل سکتا ہے کیونکہ جون 2025ء اور فروری 2026ء میں‘ دو بارنیتن یاہو کے مشورے پر ایران پر حملہ کرنے والے ڈونلڈ ٹرمپ پھر سے ایران کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ خلیجی ممالک کو بھی معلوم ہے کہ وہ ٹرمپ کو ایران پر حملہ کرنے سے نہیں روک سکتے کیونکہ پہلے دو مواقع پر بھی ٹرمپ نے اپنے خلیجی اتحادیوں کو اعتماد میں نہیں لیا تھا۔موجودہ سفارتی سرگرمیوں کا ایک بڑا مقصد اس ممکنہ جنگ‘ جس کی امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ پوری تیاری کر چکے ہیں‘ کی شدت کو کم کرنا اور اسے دوسرے ممالک تک پھیلنے سے روکنا ہے۔ مگر جنگ ہو یا نہ ہو‘ نہ صرف خلیج فارس بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کے مسلط کردہ سکیورٹی سسٹم سے ہٹ کر خطے کے ممالک کے درمیان باہمی اعتماد‘ ایک دوسرے کے علاقائی سلامتی کے مفادات کے احترام اور مذاکرات کے ذریعے تنازعات کے حل کے اصول پر مبنی ایک نئے اجتماعی سکیورٹی نظام کی تلاش شروع ہو گئی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90264263.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>وائرل عدالت(اسد طاہر جپہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/asad-tahir-jappa-/2026-10-30/52937/55596834</link><pubDate>Fri, 30 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/asad-tahir-jappa-/2026-10-30/52937/55596834</guid><description>ایک زمانہ تھا جب کسی شخص پر الزام لگتا تو گواہ ڈھونڈے جاتے‘ ثبوت پرکھے جاتے‘ قاضی کے روبرو فریقین کو سنا جاتا اور پھر فیصلہ صادر ہوتا تھا۔ انصاف دیر سے ملتا تھا مگر ملتا ضرور تھا‘ اور سب سے بڑھ کر‘ الزام لگنے سے پہلے انسان کو انسان سمجھا جاتا تھا۔ آج عدالت فیس بک پر لگتی ہے‘ گواہ ٹک ٹاک پر پیش ہوتے ہیں‘ ثبوت وَٹس ایپ کے فارورڈ شدہ پیغام میں ہوتا ہے اور جج ہر وہ شخص ہوتا ہے جس کے ہاتھ میں سمارٹ فون ہے۔ فیصلہ سیکنڈوں میں ہوتا ہے اور سزا عزت و آبرو کی نیلامی‘ کردار کی بدنامی اور خاندان بھر کی رسوائی ہوتی ہے۔ حد تو یہ ہے کہ ملزم کو اپیل کا حق بھی میسر نہیں ہوتا۔ یہ سوشل میڈیا ٹرائل کی وہ اندھیری دنیا ہے جس نے ہمارے معاشرے کو ایسی بھیڑ میں بدل دیا ہے جہاں جس کی آواز سب سے اونچی ہو گی‘ وہی سچا سمجھا جائے گا۔ایسے ماحول میں کسی شریف آدمی کی پگڑی اچھالنا کتنا آسان ہو گیا ہے‘ یہ سب جانتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں پگڑی عزت کی علامت ہے۔ باپ کی پگڑی بیٹے کے سر پر فخر سے رکھی جاتی ہے‘ لیکن سوشل میڈیا نے اسے اچھالنا دنیا کا سب سے آسان کام بنا دیا ہے۔ کسی نامعلوم اکاؤنٹ سے پوسٹ لگتی ہے کہ فلاں صاحب کی خفیہ وڈیو لیک ہو گئی‘ فلاں افسر رشوت لیتے پکڑا گیا ہے یا فلاں استاد کا اپنی فلاں طالبہ سے نازیبا تعلق ہے۔ نہ تحقیق‘ نہ تصدیق اور نہ خبر کا کوئی مصدقہ ذریعہ۔ صرف سنسنی خیز سرخی‘ دھندلی تصویر یا ایڈٹ شدہ آڈیو کلپ۔ پھر ہزاروں لوگ اسے شیئر کرتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے &#39;&#39;مجھے پہلے ہی شک تھا‘‘، کوئی ایسے لوگوں کو بے نقاب کرنے کی حمایت کرتا ہے۔ نیکی کے جذبے سے سرشار ہر شخص شیئر کے بٹن پر کلک اور ٹچ کرکے سمجھتا ہے کہ اس نے معاشرے کی بڑی خدمت کر دی مگر اسے اندازہ نہیں ہوتا کہ ایک کلک یا ایک ٹچ سے اس نے کسی کی عمر بھر کی کمائی ہوئی عزت مٹی میں ملا دی ہے۔مجھے یاد ہے کہ گزشتہ برس ایک ریٹائرڈ ہیڈ ماسٹر کے بارے میں یہ جھوٹی خبر وائرل ہوئی کہ انہوں نے یتیم بچوں کے فنڈ میں خورد برد کی ہے۔ خبر کے ساتھ نہ کوئی دستاویز تھی‘ نہ آڈٹ رپورٹ‘ صرف ایک فیک آئی ڈی کی پوسٹ تھی۔ تین دن میں خبر پورے ضلع میں پھیل گئی۔ جن ہیڈ ماسٹر صاحب نے ساری زندگی اپنے سکول کو دے دی تھی‘ وہ اپنے ہی گاؤں میں نظریں جھکا کر چلنے لگے۔ ان کی بیٹی کی منگنی بھی ٹوٹ گئی۔ بعد میں انکوائری ہوئی تو پتا چلا کہ الزام سو فیصد جھوٹا تھا اور ذاتی رنجش رکھنے والے شخص نے یہ جھوٹ پھیلایا تھا۔ محکمے نے انہیں بے گناہ قرار دے دیا لیکن کیا سوشل میڈیا نے بھی ایسا کیا؟ نہیں! آج بھی گوگل پر ان کا نام سرچ کریں تو وہی جھوٹی خبر سب سے پہلے نظر آتی ہے۔ سرکاری کاغذات پر وہ بے گناہ ہیں مگر سوشل میڈیا کی عدالت میں آج بھی مجرم ہیں۔یہی اصل المیہ ہے۔ سرکاری عدالت ملزم کو جرم ثابت ہونے تک بے گناہ مانتی ہے لیکن ہماری وائرل عدالت جرم ثابت نہ ہونے پر بھی ملزم کو مجرم ہی سمجھتی ہے۔ وائرل ہونا سچ ہونے کی دلیل کب سے بن گیا؟ اس نئے عدالتی نظام کا خطرناک اصول یہ ہے کہ جو چیز جتنی زیادہ وائرل ہو‘ وہ اتنی زیادہ سچی سمجھی جاتی ہے۔ پہلے پوچھا جاتا تھا کہ خبر مصدقہ ذریعے سے ہے یا نہیں‘ اب سوال ہوتا ہے کہ اسے کتنے لوگوں نے دیکھا ہے۔ ایک جھوٹ کو دس لاکھ لوگ دیکھ لیں تو وہ سچ سے زیادہ طاقتور ہو جاتا ہے۔ اس کی وجہ فیک نیوز اور مس انفارمیشن کی وہ منظم انڈسٹری ہے جو اب ایک باقاعدہ کاروبار بن چکی ہے۔ یوٹیوب کے ویوز‘ فیس بک پیج کی ریچ اور ٹک ٹاک فالوورز کیلئے کسی شریف آدمی کی عزت کو ایندھن بنا لیا جاتا ہے۔ ایک ہمدردی بھری کہانی بناؤ‘ اس میں مرچ مسالا لگاؤ‘ روتی ہوئی عورت یا مظلوم بچے کی تصویر لگاؤ اور عنوان ایسا رکھو کہ لوگ اسے دیکھنے اور سننے پر مجبور ہو جائیں: &#39;&#39;آخر اس معصوم کے ساتھ کیا ہوا؟ جان کر آپ کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے‘‘۔ یوں ہمدردی کے نام پر نفرت کا کاروبار چل نکلتا ہے۔مس انفارمیشن فیک نیوز سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ فیک نیوز سراسر جھوٹ ہوتی ہے جبکہ مس انفارمیشن میں آدھا سچ اور آدھا جھوٹ ہوتا ہے۔ کسی کی پرانی تصویر کو نئے واقعے سے جوڑ دیا جاتا ہے یا دس سال پرانے بیان کو توڑ مروڑ کر آج کے تناظر میں پیش کیا جاتا ہے۔ سننے والے کو بات سچی لگتی ہے کیونکہ تصویر اصلی اور آواز اسی شخص کی ہوتی ہے۔ مگر اسے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ سیاق و سباق بدل دیا گیا ہے۔ ہم سب اس جرم میں شریک ہیں۔ شاید آپ سوچیں کہ یہ یوٹیوبرز اور فیک آئی ڈیز کا قصور ہے مگر اس جرم میں ہم سب برابر کے شریک ہیں۔ وہ لمحہ یاد کیجیے جب آپ نے بغیر تصدیق کے کوئی خبر خاندان کے وَٹس ایپ گروپ میں فارورڈ کی‘ کسی کی ذاتی وڈیو دوسروں کو بھیجی یا ایسی پوسٹوں کے کمنٹس میں لکھا کہ ایسے لوگوں کو سرعام پھانسی دینی چاہیے‘ حالانکہ آپ اس شخص کو‘ اس واقعے کی اصل حقیقت کو جانتے تک نہیں تھے۔ہم بھول گئے ہیں کہ اس حوالے سے ہمارے دین نے ہمیں کیا سکھایا ہے۔ قرآن مجید میں واضح حکم ہے: &#39;&#39;اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو اس کی تحقیق کر لیا کرو‘ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم نادانی میں کسی قوم کو نقصان پہنچا بیٹھو‘‘ (سورۃ الحجرات)۔ تحقیق‘ تثبت اور تبین اسلامی صحافت کے بنیادی اصول ہیں مگر آج ہم انہیں فراموش کر چکے ہیں۔ ہم فیک آئی ڈیز کی خبروں پر یقین کرکے فوراً دوسروں کو نقصان پہنچا دیتے ہیں۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ کسی شخص کے جھوٹا ہونے کیلئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ محض سنی سنائی بات آگے بیان کر دے۔ آج ہم سنی سنائی باتوں کے سب سے بڑے نشریاتی ادارے بنے ہوئے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ اس آگ کو کیسے بجھایا جائے؟ کیا اس وائرل عدالت کو بند کیا جا سکتا ہے؟ شاید پوری طرح نہیں! لیکن اس کے قاضیوں‘ یعنی خود کو ضرور سدھارا جا سکتا ہے۔ پہلا اصول ہے کہ رکیں‘ سوچیں اور پھر شیئر کریں۔ سنسنی خیز خبر سامنے آئے تو خود سے تین سوال پوچھیں: کیا اس کا کوئی مصدقہ ذریعہ ہے؟ کیا اس میں دوسرے فریق کا مؤقف شامل ہے؟ اور اگر خبر جھوٹی نکلی تو نقصان کون برداشت کرے گا؟ ان سوالوں کے جواب نہ ہوں تو شیئر کے آپشن سے دور رہیں۔ آپ کا ایک نہ کیا ہوا شیئر کسی کا گھر ٹوٹنے سے بچا سکتا ہے۔ دوسرا اصول یہ ہے کہ قانون کو اپنا کام کرنے دیں۔ کسی نے واقعی جرم کیا ہے تو اس کیلئے قانون‘ عدالتیں اور متعلقہ ادارے موجود ہیں۔ آپ جج نہ بنیں اور گواہ بھی نہ بنیں! جب تک اپنی آنکھوں سے کچھ نہ دیکھا ہو۔ تیسرا اصول یہ ہے کہ متاثرہ شخص کی آواز بنیں۔ کسی بے گناہ کی پگڑی اچھالی جا رہی ہو تو خاموش تماشائی نہ بنیں بلکہ کمنٹس میں پوچھیں: &#39;&#39;اس کا کیا ثبوت ہے؟ کیا واقعہ تصدیق شدہ ہے؟‘‘ یہ ایک سوال وائرل آگ پر پانی کا پہلا چھینٹا ثابت ہو سکتا ہے۔ حکومت کی بھی ذمہ داری ہے کہ سائبر کرائم قوانین کا اطلاق ان لوگوں پر بھی ہو جو دوسروں کی عزت پامال کرکے اپنا کاروبار چمکاتے ہیں۔ فیک نیوز پھیلانے والے پیجز کو بند کرنا اور ان پر بھاری جرمانے عائد کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے کیونکہ یہ عزتوں کا قتل ہے اور قتل سے کم جرم نہیں۔ہمیں ایک مہذب معاشرہ بننا ہے‘ جہاں فیصلے شور سے نہیں شعور سے‘ بھیڑ سے نہیں‘ دلیل سے‘ اور وائرل ہونے سے نہیں‘ حق پر ہونے سے ہوں۔ آئیے! عہد کریں کہ سوشل میڈیا پر جج نہیں ذمہ دار شہری بنیں گے اور کسی کی پگڑی اچھالنے سے پہلے سو بار سوچیں گے‘ کیونکہ اچھلنے والی یہ پگڑی کل کو ہماری بھی ہو سکتی ہے۔ جب ہماری اپنی پگڑی اچھلے گی تب احساس ہوگا کہ ایک کلک اور ایک ٹچ کا بوجھ کتنا بھاری ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سچ بولنے‘ سچ سننے اور سچ پر قائم رہنے کی توفیق دے‘ چاہے وہ وائرل ہو یا نہ ہو۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_34710710.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>Lungs of Islamabad(جویریہ صدیق )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/javeria-siddique/2026-10-30/52938/99641892</link><pubDate>Fri, 30 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/javeria-siddique/2026-10-30/52938/99641892</guid><description>اگر مارگلہ کی پہاڑیاں اسلام آباد کا قلب ہیں تو ایف نائن پارک اس کے پھیپھڑے ہیں۔ تقریباً 750 ایکڑ پر پھیلا یہ وسیع پارک شہر کے وسط میں واقع ہے۔ عوام کیلئے تفریح گاہ ہونے کے ساتھ یہ جانوروں‘ پرندوں‘ حشرات اور نباتات کا مسکن بھی ہے۔ اس کا افتتاح 1992ء میں ہوا اور مقصد اسلام آباد کے گرین کور کو تحفظ دینا تھا۔ پارک کے پانچ گیٹ ہیں جن میں مہران گیٹ جی نائن‘ بولان گیٹ ایف ٹین‘ خیبر گیٹ ای نائن اور راوی گیٹ ایف ایٹ کی طرف واقع ہیں جبکہ گیٹ نمبر پانچ پارک کے مشرقی جانب راوی گیٹ کے قریب ہی ہے۔ اس پارک کا دوسرا نام فاطمہ جناح پارک ہے۔ یہاں بچوں کا پارک‘ بارہ دری‘ جم‘ سوئمنگ پول‘ ریستوران اور آرٹ گیلری بھی موجود ہیں۔ کورونا کے دوران یہاں شہر کا سب سے بڑا ویکسی نیشن سنٹر قائم کیا گیا تھا۔اس لیے اس پارک میں اب مزید تعمیرات کی کوئی گنجائش نہیں بلکہ یہاں گھاس کی باقاعدہ کٹائی‘ واکنگ ٹریکس کی مرمت‘ اضافی لائٹس اور سی سی ٹی وی کیمرے‘ بہتر صفائی‘ بچوں کے پارک میں نئے جھولوں‘ ورزش کے مقامات‘ صاف ستھرے باتھ رومز اور پینے کے پانی جیسی سہولتیں درکار ہیں۔ یہ کافی شاپس یا ڈائننگ کی جگہ نہیں بلکہ فطرت سے لطف اندوز ہونے کا مقام ہے جہاں لوگ دوڑ لگا سکیں‘ واک کریں‘ کرکٹ کھیلیں‘ پرندے دیکھیں اور فوٹوگرافی کریں۔ میں نے یہاں پھولوں‘ تتلیوں‘ پرندوں‘ درختوں اور غروبِ آفتاب کی کئی تصاویر بنائی ہیں۔ یہاں بیٹھ کر آسمان دیکھنا‘ گہری سانسیں لینا اور پودوں‘ پھولوں اور پرندوں سے لطف اندوز ہونا ذہنی سکون دیتا ہے۔اسلام آباد کے متوسط طبقے کیلئے یہ پارک خاص اہمیت رکھتا ہے۔ ہر کوئی گالف کلب‘ مہنگے جم یا پانچ ستارہ ہوٹلوں کا خرچ برداشت نہیں کر سکتا‘ نہ ہی سب کی مہنگے سینما گھروں‘ مالز‘ فٹ بال یا کرکٹ کلبوں تک رسائی ہے۔ پکنک‘ واک‘ دوستوں اور اہلِ خانہ کے ساتھ وقت گزارنے یا شادی کے فوٹو شوٹ کیلئے ایف نائن پارک ایک ایسی عوامی جگہ ہے جہاں داخلے کیلئے پاس یا فیس درکار نہیں۔2024ء میں اس پارک میں بڑے پیمانے پر درخت کاٹے گئے۔ شہریوں کے اعتراض پر کہا گیا کہ صرف وہ درخت کاٹے گئے ہیں جو پولن الرجی پھیلا رہے تھے۔ بعد ازاں شہر کے دیگر حصوں میں بھی بڑے پیمانے پر &#39;شجر کشی‘ کی گئی۔ ورلڈ وائلڈ فنڈ فار نیچر کے مطابق شکرپڑیاں‘ فاطمہ جناح پارک‘ پارک روڈ اور ایچ ایٹ میں تعمیرات اور سڑکوں کیلئے درخت کاٹے گئے۔ صرف ایچ ایٹ سیکٹر میں پانچ ایکڑ جنگل ختم کیا گیا‘ اور اس میں صرف پولن پیدا کرنے والے ہی نہیں بلکہ ہر طرح کے درخت شامل تھے۔ اس سے اسلام آباد کے ماحول پر شدید اثر پڑا اور آلودگی بڑھی۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف کے مطابق مارگلہ انکلیو کی سڑک کیلئے دس سے پندرہ ہیکٹر سبزہ ختم کیا گیا‘ جبکہ ایچ ایٹ میں دو سال کے دوران 1.5 سے 6.5 ہیکٹر تک سبزہ ختم ہوا۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ نئے پودے لگانے کیلئے کوئی خاص اقدامات نہیں کیے گئے۔ اب حکومت نے عندیہ دیا ہے کہ ایف نائن پارک میں نئی تعمیرات کی جائیں گی تاہم کوئی درخت نہیں کاٹا جائے گا۔  اگر یہاں نئی تعمیرات‘ مصنوعی جھیل اور کافی شاپس بنائی جائیں تو درختوں اور قدرتی ماحول کو نقصان پہنچائے بغیر یہ کیسے ممکن ہے؟ میں سمجھتی ہوں کہ ایف نائن پارک کو جیسا ہے‘ ویسا ہی رہنے دینا چاہیے۔ اس کے 750 ایکڑ پر پھیلے جنگل نما ماحول میں بارش کا پانی زمین میں جذب ہو کر زیرِ زمین پانی کی سطح بلند کرنے میں مدد دیتا ہے جبکہ یہاں پیدا ہونے والی آکسیجن شہری مفت استعمال کرتے ہیں‘ اسی لیے اسے اسلام آباد کے پھیپھڑے کہا جاتا ہے۔ یہ زمین خالی یا فالتو نہیں! یہ ان شہریوں کی تفریح گاہ ہے جو مہنگے کلبوں‘ گالف کلبوں اور مالز کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔ اس پارک میں طوطے‘ کوئل‘ چڑیا‘ مینا‘ کبوتر‘ باز‘ چیل‘ کوے‘ بٹیر‘ ہدہد‘ وُڈپیکر‘ سن برڈ اور دیگر پرندے پائے جاتے ہیں جبکہ سرد ممالک سے ہجرت کرکے آنے والے پرندے بھی یہاں آتے ہیں۔ یہاں پائے جانے والے جانوروں میں جنگلی سور‘ لومڑی‘ بندر‘ سانپ‘ گلہریاں‘ بلیاں‘ گیدڑ‘ خرگوش اور کتے شامل ہیں۔ تتلیاں‘ شہد کی مکھیاں‘ بیٹل‘ گراس ہاپر‘ لیڈی برڈ‘ بھڑیں‘ مکڑیاں‘ چیونٹیاں اور دیگر حشرات بھی یہاں موجود ہیں۔ یہ سب ایکو سسٹم اور ماحولیاتی توازن کیلئے ضروری ہیں۔ پارک میں پھول‘ پودے‘ جھاڑیاں‘ بیلیں اور مختلف درخت ہیں جن میں پائن‘ پیپل‘ کچنار‘ املتاس‘ بکائن‘ بلیک بورڈ ٹری‘ پیپر ملبری‘ دھریک‘ انجیر‘ نیم‘ کیکر‘ چنار‘ سفیدہ‘ سنبل‘ مورنگا‘ ربڑ پلانٹ‘ آلوش اور سرو شامل ہیں۔ بوگن ویلیا کی بڑی بڑی بیلوں کے علاوہ گلاب اور چنبیلی بھی بکثرت پائے جاتے ہیں۔موسمیاتی تبدیلیاں اس وقت دنیا کا بڑا چیلنج ہیں۔ کرۂ ارض کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے‘ گلیشیرز پگھلنے سے سیلاب آ رہے ہیں اور ہم ہر ایک دو سال بعد سیلاب کا سامنا کرتے ہیں۔ ایسے حالات میں گرین کور ختم کرکے کافی شاپس یا عمارتیں بنانا درست ہوگا؟ اسلام آباد میں آلودگی اب اتنی بڑھ گئی ہے کہ ماحولیاتی ماہرین کی طرف سے شہریوں کو کھڑکیاں بند رکھنے‘ الرجی یا دمے کے مریضوں کو ماسک پہننے اور ایئر پیوریفائر چلانے کا مشورہ دیا جا رہا ہے۔ آلودگی کے حوالے سے ملتان‘ پشاور‘ لاہور‘ فیصل آباد اور گوجرانوالہ بھی قابلِ ذکر ہیں۔ اسلام آباد میں ایف سیون‘ ای الیون اور ایف ایٹ آلودگی سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں شامل ہیں۔ شہر کا موسمیاتی توازن حد سے زیادہ تعمیرات کے باعث ہی بگڑا ہے؛ گرمی شدید‘ سردیاں مختصر اور بارشیں کم ہوگئی ہیں‘ مگر اشرافیہ اب بھی کنکریٹ اور سیمنٹ سے آگے دیکھنے کو تیار نہیں۔اگر ایف نائن پارک کیلئے کچھ کرنا ہے تو وہاں پھلدار درخت لگائے جائیں تاکہ شہری ان کے پھل مفت توڑ کر کھا سکیں۔ پائن‘ کچنار‘ زیتون‘ انجیر‘ مالٹا‘ بیر‘ لوکاٹ‘ آڑو‘ میٹھا‘ فالسہ‘ لیموں‘ جامن‘ شہتوت‘ گلِ نیلم‘ دیودار اور چیڑ کے علاوہ پیپل‘ برگد‘ شیشم‘ گل مہر اور نیم جیسے درخت لگائے جائیں۔ ورنہ دیسی درخت صرف کتابوں میں ہی رہ جائیں گے۔ یہ درخت گرمی برداشت کرتے اور کم پانی استعمال کرتے ہیں۔ انگور کی بیلیں بھی لگائی جا سکتی ہیں۔ شہریوں کو بھی اپنے گھروں میں پودے لگانے چاہئیں۔ گھروں میں جگہ کم ہو تو املتاس‘ گل مہر‘ کچنار‘ امرود‘ مالٹا اور لیموں لگائے جا سکتے ہیں۔ اگر حکومت آمدنی بڑھانا چاہتی ہے تو پارک میں نئی تعمیرات کے بجائے پہلے سے موجود عمارتیں استعمال کرے۔ پارک کو سرسبز رہنے دیا جائے اور مزید درخت نہ کاٹے جائیں۔ شہر میں سفیدہ‘ پیپر ملبری‘ جنگلی توت‘ کونوکارپس اور پام لگانے سے گریز کیا جائے۔ اگر ایف نائن پارک کا حال بھی ایچ ایٹ‘ شکرپڑیاں اور راول ڈیم جیسا ہوگیا تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔ایف نائن پارک اسلام آباد کا سب سے بڑا کاربن سنک ہے۔ جنگل کاٹنے سے زیرِ زمین پانی ختم ہونے کا خطرہ ہے‘ کیونکہ پارک بارش کا پانی جذب کرتا ہے۔ جی نائن‘ ایف ایٹ اور ایف ٹین میں زیر زمین پانی کی سطح پہلے ہی سینکڑوں فٹ نیچے جا چکی ہے۔ درخت کٹنے سے پرندے‘ جانور‘ حشرات وغیرہ یہاں سے رخصت ہوجائیں گے‘ جس سے مقامی ایکولوجی تباہ ہوگی۔ گرمی مزید بڑھے گی‘ درخت کٹنے سے فطری تنوع بھی متاثر ہو گا۔  درخت کم ہوں گے تو پولن الرجی‘ دمہ اور پھیپھڑوں کے امراض میں مزید اضافہ ہوگا۔ اگر شہری سانس لینا چاہتے ہیں تو اسلام آباد کے پھیپھڑوں کا تحفظ ضروری ہے۔ چیڑ کا درخت بالغ ہونے میں پچاس سال لیتا ہے جبکہ اسے کاٹنے میں صرف ایک گھنٹہ لگتا ہے۔ چیڑ کے درخت اسلام آباد کا درجہ حرارت کم رکھنے کیلئے بہت اہم ہیں۔ شہر میں اب تعمیرات کا سلسلہ روک کر اس کے گرین کور کو بچایا جانا چاہیے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_38020467.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>دماغی سائنس اور امن کا جہان(امیر حمزہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ameer-hamza/2026-10-30/52939/80366731</link><pubDate>Fri, 30 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ameer-hamza/2026-10-30/52939/80366731</guid><description>اللہ تعالیٰ کی آخری الہامی کتاب قرآن مجید آگاہ فرماتی ہے کہ تمام جانداروں کے دماغ اللہ تعالیٰ کے کنٹرول میں ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کے آخری رسول حضرت محمد کریمﷺ کی صحیح مسلم میں ایک حدیث شریف ہے کہ آدم علیہ السلام کی تمام اولاد کے دل رحمان کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے سامنے یہ دل ایسے ہی ہیں جیسے ایک دل ہو۔ اللہ تعالیٰ جیسے چاہتے ہیں ان دلوں کا رخ متعین فرما دیتے ہیں۔قارئین کرام! دماغ پر ریسرچ کرتے ہوئے آسٹریلیا کی ایک یونیورسٹی کی ریسرچ میرے سامنے آئی ہے۔ اس یونیورسٹی کا نام Queensland ہے۔ اسی یونیورسٹی میں دماغی ریسرچ کا بھی ایک ادارہ ہے۔ اس ادارے نے بالغ انسانی دماغ کے نیورونز کی تعداد ایک سو ارب یعنی ایک کھرب کے قریب بتائی ہے۔ جیسا کہ پچھلے کالم میں راقم نے عرض کیا تھا کہ یہ تعداد ویسے تو 86 ارب بتائی جاتی ہے مگر یہ ایک کھرب بھی ہو سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا انعام کہ جب میں مزید ریسرچ کرنے بیٹھا تو وہی ایک کھرب کی تعداد سامنے آ گئی۔ یوں سمجھیے کہ انسانی دماغ میں ایک کھرب درخت ہیں۔ یہ گھنے جنگلات ہیں‘ اُن ایک کھرب درختوں کے جو مختلف اقسام کے ہیں۔ ایک جملہ ملاحظہ ہو جسے کوئینز لینڈ برین انسٹیٹیوٹ نے اپنی ریسرچ کے آغاز میں تحریر کیا ہے:Neurons are the fundamental units of the brain and nervous system, they are responsible for receiving sensory input from the external world.ترجمہ: دماغی خلیات دماغ اور اعصابی نظام کے بنیادی اجزا ہیں۔ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ باہر کی دنیا سے حسّی معلومات کو حاصل کریں۔جی ہاں! ثابت ہوا کہ دماغی شعور کا تعلق ایسا نہیں کہ وہ نیورونز کی پیداوار ہو بلکہ یہ نیورونز شعوری معلومات حاصل کرتے ہیں تو ہماری اس دنیا سے باہر‘ کسی اور جہان سے حاصل کرتے ہیں۔ جی ہاں! یہ وہ جہان ہے جس کا ذکر حدیث شریف میں آیا ہے۔ ایسا جہان کہ جہاں دماغی اور قلبی کنٹرول اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ اللہ کے نہ ماننے والوں کی بات غلط ہے جو مادہ پرستی کی ذہنیت کے ساتھ انسانی روح کا انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ایک کھرب نیورونز سے ہی شعور پیدا ہوتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں وہ اپنے وجود ہی کو اپنا خالق سمجھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنی آخری الہامی کتاب قرآن مجید میں ایسے لوگوں سے پوچھتے ہیں: &#39;&#39;کیا وہ بغیر کسی شے کے پیدا کر دیے گئے ہیں‘ یا (پھر ایسا ہے کہ) اپنے خالق وہ خود ہی بن گئے ہیں‘‘ (الطور: 35)۔اللہ اللہ! یہ لوگ سائنس کا سہارا لے کر لوگوں کو ملحد بناتے ہیں مگر آج جدید ترین سائنس یہ اعلان کر رہی ہے کہ دماغ ایک Receiver ہے۔ بالکل اسی طرح جس طرح ریڈیو یا ٹی وی اپنے چینل کے ساتھ ٹیون ہوتا ہے اور ٹی وی سٹیشن سے نشر ہونے والی معلومات کو ریسو کر کے نشتر کر دیتا ہے۔ اگر کوئی یہ سمجھے کہ ٹی وی یا ریڈیو کا جو ڈھانچہ ہے‘ اس کے اندر جو بجلی کا سرکٹ ہے وہی معلومات بنا بنا کر سنا اور دکھا رہا ہے تو ایسے شخص کو علم سے بے خبر ہی کہا جائے گا۔ خدا اور خالق کے وجود کے منکر بھی ایسے ہی بے خبر ہیں۔کمپیوٹر کے نظام میں مجرموں (ہیکرز) کی بھی ایک دنیا ہے‘ وہ اس میں گھستے ہیں‘ کسی کے اکائونٹ کا پاس کوڈ معلوم کرکے اس پر قبضہ کر لیتے ہیں اور ڈاکا زنی کا ارتکاب کرتے ہیں۔ ایسے ہی جناتی شیطان‘ حضور کریمﷺ کے فرمان کے مطابق‘ انسان کے جسم میں خون کی طرح دوڑتا ہیں۔ یہ کبھی انسانی دماغ میں بیٹھ کر وسوسے پیدا کرتا ہے‘ کبھی دل میں بیٹھ کر یہ کام کرتا ہے۔ چونکہ شیطان انرجی کی ایک قسم ہے لہٰذا وہ انسانی جسم کے باہر سے بھی دماغ اور دل میں وسوسے پیدا کر لیتا ہے اور انسان کو بُری راہوں پر لگا دیتا ہے۔ وساوس کی اس ڈاکا زنی سے بچنے کے لیے زندگی کا پاکیزہ ہونا بہت ضروری ہے۔ پانچ وقت کی نماز فرض ہے۔ وہی نماز حاصلِ نماز ہے جس کا ترجمہ آتا ہو۔ مکمل اور کامل دھیان اپنے خالق اپنے مالک‘ اللہ کی طرف ہو۔ انسان لوگوں کے حقوق کا پاسبان بننے والا ہو۔ دوسروں کے دکھوں کو سہنے والا ہو مگر خود دکھ دینے والا نہ ہو۔ ماں باپ کا فرمانبردار ہو۔ الفت و محبت والا ہو۔ اپنے زیرنگیں لوگوں کو معاف کر دینے والا ہو۔ اخلاق اور کردار میں بلند ہو۔ ایسے شخص کے گرد ایک نورانی دائرہ اور ہالہ بن جاتا ہے۔ قرآن مجید نے اسے &#39;&#39;حجاب مستور‘‘ کہا ہے۔ اس دائرے کے اندر ابلیسی انرجی کا سرایت کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ وساوس کے ذریعے دماغی اور قلبی خلیات اور نیورونز کو متاثر کرنا مشکل ترین امر بن جاتا ہے۔ اگر کہیں غفلت کی وجہ سے کچھ اثر ہو جائے تو قرآن مجید کی تلاوت اور حضور نبی کریمﷺ کے بتائے ہوئے اذکار سے انسان واپس اپنی فطری حالت پر آ جاتا ہے۔اسی حوالے سے قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: &#39;&#39;اور اگر شیطان کی طرف سے تمہارے دل میں کسی طرح کا وسوسہ پیدا ہو تو اللہ سے پناہ مانگو‘ بے شک وہ سننے والا (اور) سب کچھ جاننے والا ہے۔ جو لوگ پرہیزگار ہیں جب ان کو شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ پیدا ہوتا ہے وہ چونک پڑتے ہیں اور (دل کی آنکھیں کھول کر) دیکھنے لگتے ہیں‘‘ (الاعراف:200 تا 201) ۔ رسول کریمﷺ کا صحیح بخاری میں فرمان ہے کہ &#39;&#39;بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کے دلوں میں پیدا ہونے والے وسوسوں کو معاف فرما دیا ہے‘ جب تک کہ وہ ان پر عمل نہ کریں یا انہیں زبان پر نہ لائیں‘‘۔آخر پر پاک وطن کی قیادت کو سلام کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو جو شیطانی انرجی کی اکساہٹوں سے آگ بگولہ ہوتے ہیں اور انسانیت کو تباہ کن بارود کا نشانہ بنائے ہوئے ہیں‘ ان کے منصوبوں کو میرے دیس کی قیادت نے ناکام بنا ڈالا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ایک صفاتی نام &#39;&#39;السلام‘‘ ہے۔ یعنی سلامتی دینے والا۔ اس صفاتی نام کو ماننے والا انسان دنیا کی تمام انسانیت کو سلامتی دینے کی کوشش کرے گا۔ اللہ تعالیٰ کا ایک صفاتی نام &#39;&#39;المؤمن‘‘ ہے۔ یعنی امن و امان دینے والا۔ وہ بندہ جو مومن ہے وہ اپنے المؤمن خالق کی رضا کے لیے انسانیت کو امن دینے کے لیے کوشاں رہتا ہے۔ اس کے دماغ اور دل میں جو مثبت لہریں اٹھ رہی ہیں‘ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے چل رہی ہیں۔ درمیان میں کسی شیطانی انرجی کو گھسنے کا یارا نہیں ہوتا۔ الحمدللہ! میرے دیس کی قیادت مسلسل اور لگاتار انسانی امن کے لیے کوشاں ہے۔ اب پھر پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے سعودی وزیر دفاع جناب شہزادہ خالد بن سلمان کو اور ترکیے کے انٹیلی جنس چیف ابرہیم قالن کو ساتھ لیا اور سیدھے ایران تشریف لے گئے۔ امن کی فاختہ ان شاء اللہ بے خوف ہو کر اڑے گی۔ خلیجی خطے میں بھی اور باقی سارے جہان میں بھی۔ دعا ہے اللہ تعالیٰ امن کی فیلڈ میں پاسبانِ حرمین شریفین مملکتِ پاکستان کو مزید عزتوں‘ عظمتوں اور سرفرازیوں سے ہمکنار فرمائے‘ آمین!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_68712266.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>