<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>لانگ مارچ مؤخر!(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-26/11577</link><pubDate>Sat, 26 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-26/11577</guid><description>پاکستان تحریک انصاف کا 27 ستمبر کا لانگ مارچ ملتوی کیے جانے کی اطلاعات خوش آئند ہیں۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے مطابق سیاسی کمیٹی کے اجلاس میں متفقہ طور پر لانگ مارچ کی تاریخ چار اکتوبر مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پی ٹی آئی کے اس متوقع احتجاج کے پیشِ نظر حکومت کی جانب سے اسلام آباد اور گرد ونواح میں سخت رکاوٹی اقدامات کیے گئے ہیں۔ سڑکوں پر جابجا رکاوٹیں اور دوسری تدابیر کی وجہ سے آمدورفت میں مشکلات شہریوں کیلئے پریشانی کا سبب بن رہی ہیں۔ دوسری جانب احتجاج کے ملکی معیشت پر جو منفی اثرات ہیں وہ بھی کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ وفاقی وزیر خزانہ نے کچھ روز پہلے یومیہ 120 ارب روپے کے نقصان کا تخمینہ پیش کیا تھا۔ یہ ایک غیر معمولی حجم ہے‘ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اس کا نصف بلکہ تیسرا حصہ بھی برداشت نہیں کر سکتا۔ ایسی صورتحال میں جب عالمی حالات و واقعات اور ملکی معاشی صورتحال کے باعث مہنگائی پہلے ہی انتہائی بلند سطح پر ہے اور قوتِ خرید سکڑ چکی ہے‘ احتجاج کی سیاست کے اثرات عوامی معیشت کیلئے تباہ کن ثابت ہو تے ہیں۔ داخلی صورتحال‘ خاص طور پر امن وامان کے مسائل بھی اس کی اجازت نہیں دیتے کہ ملک میں ایسا ماحول پیدا ہو جس کی آڑ میں ملک دشمن عناصر کو تخریب کاری اور دہشت گردی کا موقع ملے؛ چنانچہ پی ٹی آئی کا مارچ ملتوی کیے جانے کا فیصلہ خوش آئند اور قومی مفاد میں ہے اور یہ ایسا امکان پیدا کرتا ہے جس سے سیاسی انتشار کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>صنعتی شعبے کی زبوں حالی(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-26/11574</link><pubDate>Sat, 26 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-26/11574</guid><description>وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے فیصل آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شہر کے مسلسل سکڑتے صنعتی شعبے پر تشویش کا اظہار کیا۔ اسی موقع پر انہوں نے 2035ء تک ملک کو ایک ہزار ارب ڈالر کی معیشت بنانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔یہ حقیقت ہے کہ کوئی ملک مضبوط صنعتی بنیاد کے بغیر پائیدار معاشی ترقی حاصل نہیں کر سکتا۔ رواں برس جنوری میں سامنے آنے والی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس فیصل آباد میں 150 سے زائد صنعتی یونٹس بند ہوئے‘ جس سے تقریباً ڈیڑھ لاکھ افراد روزگار سے محروم ہو گئے۔ ملک میں ٹیکسٹائل سمیت صنعتی شعبے کو مجموعی طور پر درپیش مسائل کسی سے پوشیدہ نہیں۔ مہنگی بجلی اور گیس‘ بلند ٹیکس‘ خام مال کی بڑھتی لاگت‘ پالیسیوں میں غیر یقینی اور توانائی کی قیمتوں میں بار بار تبدیلیاں پاکستانی مصنوعات کی عالمی مسابقت متاثر کر رہی ہیں۔
</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مہنگائی اور عام آدمی(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-26/11572</link><pubDate>Sat, 26 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-26/11572</guid><description>وفاقی ادارۂ شماریات کی حالیہ رپورٹ کے مطابق ایک ہفتے کے دوران ڈیزل‘ پٹرول‘ ایل پی جی‘ بجلی‘ آٹا‘ دودھ اور پیاز سمیت 20 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جبکہ مہنگائی کی شرح تقریباً 12 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ مہنگائی میں مسلسل اضافہ سماجی بے چینی میں روز بروز اضافے کا سبب بھی بن رہا ہے۔ کم آمدنی والے گھرانے اپنی آمدن کا بڑا حصہ خوراک‘ بجلی‘ گیس‘ ایندھن وغیرہ پر صرف کرتے ہیں۔ چنانچہ ان اشیا کی قیمتوں میں معمولی اضافہ بھی ان کے بجٹ میں معمولی نہیں رہتا؛ اور وہ خوراک کے معیار‘ بچوں کی تعلیم‘ علاج یا دیگر ضروریات میں کٹوتی پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے اثرات اپنی جگہ‘ اندرون ملک کمزور رسد‘ ذخیرہ اندوزی‘ مصنوعی قلت‘ منڈیوں کی کمزور نگرانی اور توانائی کے بلند اخراجات جیسے عوامل بھی مہنگائی میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔
</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سید مودودی اور اکیسویں صدی کی ٹریجڈی(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-09-26/52730/94649678</link><pubDate>Sat, 26 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-09-26/52730/94649678</guid><description>مولانا ابوالکلام آزاد کا انقلابِ حال‘ سید مودودی کے نزدیک اہلِ اسلام کیلئے بیسویں صدی کی سب سے بڑی ٹریجڈی تھی۔ یہ المیہ ان کیلئے اتنا شدید تھا کہ ایک ایسا &#39;جملہ معترضہ‘ شدتِ الم سے بے اختیار ان کے قلم سے بہہ نکلا‘ سید کا اسلوبِ نگارش جس سے مانوس نہیں تھا۔میرا سوال ہے: اکیسویں صدی کے مسلمانوں کی سب سے بڑی ٹریجڈی کیا ہے؟ مولانا آزاد کا انقلابِ حال کیا تھا؟ اس کا جواب مولانا مودودی نے اس &#39;جملہ معترضہ‘ میں دیا ہے جو دکھ کے گہرے احساس کے ساتھ ان کے قلم سے نکلا: &#39;&#39;یہ شخص وہ تھا جس سے ہم شیخ احمد مجدد سر ہندی اور شاہ اسماعیل شہید کی جانشینی کے متوقع تھے‘ جو کبھی اسلامی نظامِ جماعت کا سب سے بڑا داعی تھا‘ جس نے برسوں مسلمانوں کو وحدت و مرکزیت کی دعوت دی‘ جو کسی زمانے میں ہم کو تلقین کیا کرتا تھا کہ &#39;&#39;جماعتی زندگی کی معصیت کا تخم (یعنی نظامِ جماعت کا نہ ہونا) ایسا تخمِ ہلاکت ہے جو فوراً بربادی کا پھل لاتا ہے اور پوری قوم کی قوم تباہ ہو جاتی ہے‘‘۔ مسلمانوں کی بدقسمتی کہ بالآخر وہ امت کے پراگندہ سروں سے چوسر کھیلنے نکلا اور اس نے تمام ہندوستان کو یہ تماشا دکھایا کہ اس قوم کے چیدہ اور سربر آوردہ لوگ بھی کتنے ذلیل‘ کتنے بودے کریکٹر کے لوگ ہیں‘ کس آسانی کے ساتھ ان کو آپس میں لڑا یا جا سکتا ہے اور کس بے شرمی کے ساتھ یہ لیلائے وزارت کے پیچھے اس پارٹی سے اُس پارٹی میں اور اُس سے اس میں منتقل ہو جاتے ہیں‘‘۔اس &#39;جملہ معترضہ‘ کا سادہ مفہوم یہ ہے کہ جو شخص ہندوستان میں مسلمانوں کو مجتمع کر کے اس سرزمین پر حاکمیتِ الٰہیہ کے قیام کیلئے نکلا تھا‘ اس نے متحدہ قومیت کا پرچم تھاما اور مہاتما گاندھی کے ہاتھوں پر بیعت کر لی۔ نکلے تھے امام الہند بننے اور بن گئے گاندھی جی کے مقتدی۔ مولانا مودودی نے اس کی تلافی اس طرح کرنا چاہی کہ حکومتِ الٰہیہ کا علم اٹھایا اور اسلامی جماعت کے قیام کیلئے &#39;جماعت اسلامی‘ قائم کی اور اسلامی ریاست برپا کرنے نکل کھڑے ہوئے۔ اس سفر میں بہت سے پڑاؤ آئے۔ کہیں ایسا مقام بھی آیا جہاں سے مسلمانوں کیلئے اکیسویں صدی کی ٹریجڈی کا آغاز ہوتا ہے۔مولانا مودودی کو مولانا آزاد کا نقشِ ثانی کہا جاتا ہے۔ سید مودودی کے فکر اور اندازِ تحریر‘ دونوں پر مولانا آزاد کے اثرات ہیں۔ دونوں میں ایک اور مماثلت بھی ہے۔ دونوں خوش ذوق تھے اور خوش اطوار بھی۔ انسانی اخلاق کا اعلیٰ نمونہ۔ مولانا آزاد کے بارے میں مولانا مودودی نے کہا: &#39;&#39;وہ اُن حضرات میں سے تھے جو گالیاں سنتے تو ہیں لیکن کبھی کوئی ان کی زبان سے کسی کیلئے گالی نہیں سنتا‘‘۔ سید صاحب کے بارے میں جاوید احمد صاحب غامدی نے لکھا: &#39;&#39;ان کے حسنِ طبیعت میں حسنِ فطرت کی جھلک تھی‘‘۔ دونوں کے علم و فضل کا معاملہ بھی ایسا تھا کہ ان کی ہمسری کا دعویٰ تو کیا جا سکتا ہے‘ اس کو ثابت کرنے کیلئے فرہاد کا جگر چاہیے۔ کوئی &#39;ترجمان القرآن‘ جیسی تفسیر لکھے تو مانیں۔ کوئی &#39;تفہیم القرآن‘ جیسے بیس صفحات ہی رقم کر دے تو جانیں۔ ان دونوں شخصیات نے اس امت کو بہت کچھ دیا۔ علم‘ سماج‘ سیاست‘ سب پر اثرات ڈالے اور ان کو اپنے رنگ میں رنگ دیا۔ دونوں میں ایک اور مناسبت بھی تھی۔ ایک کا انقلابِ حال بیسویں صدی کی سب سے بڑی ٹریجڈی بنا اور دوسرے کا فکری ورثہ اکیسویں صدی کی۔اکیسویں صدی میں ایک اندازِ نظر نے مسلم ذہن کو اپنی گرفت میں لے لیا۔ اسلام کا سیاسی غلبہ مسلمان کا فریضہ اور مطمح نظر ٹھیرا۔ سماج کے بجائے ریاست اس کی توجہ کا مرکز بنی۔ اس نے اپنی نشاۃ ثانیہ کو سیاسی مہم جوئی میں تلاش کیا۔ سید مودودی کے علم اور قلم نے اس کیلئے فکری سرمایہ فراہم کیا۔ دین &#39;سٹیٹ‘ کا مترادف بن گیا۔ مسلمانوں کی ذہانتیں اور مخلصانہ کاوشیں اسلامی ریاست کے قیام کی جدوجہد میں کھپ گئیں۔ گوہرِ مراد ہاتھ نہ آیا تو مایوسی نے آ گھیرا۔ مایوسی کا اظہار ہمیشہ انتہا پسندانہ ہوتا ہے۔ سید صاحب تو ووٹ کے قائل تھے مگر ان کے فکر سے بالواسطہ یا بلا واسطہ‘ سیراب ہونے والے ووٹ تک نہیں رکے۔ ووٹ سے اسلامی ریاست قائم نہ ہو سکی تو بندوق سے برپا کرنے کی سعی کی گئی۔ زمین فساد سے بھر گئی۔ کیا مسلم حکمران اور کیا عوام‘ سب طاغوت کا مصداق بنے اور ان کو واجب القتل قرار دے دیا گیا۔ مسلمان معاشرے مقتل بن گئے۔ یہ اہلِ اسلام کیلئے اکیسویں صدی کی سب سے بڑی ٹریجڈی تھی۔سید مودودی کی علمی مسند خالی رہی۔ ان کے خوشہ چین ان سے آگے نہ سوچ سکے۔ انہوں نے اسلام کے سیاسی غلبے کیلئے تجدیدِ دین کو بھی ضروری قرار دیا تھا۔ یہ بھاری پتھر اٹھانے کیلئے ان کی جماعت سے کوئی نہ اٹھا۔ مجتہد فی المذہب پیدا ہوئے مگر وہ بھی ایک دو۔ تیسری نسل میں یہ باب بھی بند ہو گیا۔ فکری مسائل کا سامنا ہوا تو سید مودودی کی جماعت‘ باجماعت‘ اہلِ دیوبند کی چوکھٹ پہ جا سرنگوں ہوئی۔ یہ اس ٹریجڈی کا ایک پہلو ہے کہ دارالعلوم دیوبند‘ جہاں ردِ مودودیت کورس پڑھائے جا رہے ہیں‘ وہیں اس فکر کے متوسلین آبِ حیات تلاش کر رہے ہیں۔ اتنے سادہ تو شاید میر بھی نہ تھے۔سید مودودی ان لوگوں میں تھے جو صرف مقلد پیدا نہیں کرتے‘ علم کا جہانِ نو آباد کر سکتے ہیں۔ ایسا جہاں جس میں نئے معارف اور نئے علوم کی پرورش ہوتی ہے۔ نئے چمن آباد ہوتے ہیں جہاں روش روش پہ رنگا رنگ پھول کھلتے ہیں۔ یہ ابنِ تیمیہ‘ شاہ ولی اللہ‘ اقبال اور حمید الدین فراہی جیسوں کے جہاں ہیں۔ ان سب نے سر راہ گزر ایک ایک چراغ روشن کر دیا۔ لوگ آئیں گے اور حسبِ ذوق ان کی روشنی میں اپنا راستہ تلاش کریں گے۔ جیسے ابن تیمیہ اور شاہ ولی اللہ کے چراغ سے ابوالکلام اور سید مودودی نے اپنی دنیا روشن کی مگر ان سے مختلف راہِ علم و عمل کا انتخاب کیا۔ سید مودودی کے چراغ کو ابوالکلام کے چراغ سے روغن ملا۔ اسی کی روشنی میں انہوں نے وہ &#39;جملہ معترضہ‘ لکھا جسے شدتِ الم نے بے اختیار جنم دیا۔ یہ وہ الم ہے جو گہری محبت سے اس وقت جنم لیتا ہے جب مایوسی غلبہ پا لیتی ہے۔ فکر کے چراغ کا معاملہ یہ ہے کہ وہ خارج سے روغن نہیں لیتا۔ یہ اپنے لہو کو روغن بناتا ہے۔ جب تک اس میں لہو موجود ہے اس کو کوئی بجھا نہیں سکتا۔ فکرِ مودودی کا چراغ روشن ہے اور لو دے رہا ہے۔ اس لو سے وہ علم جنم لے سکتا ہے جو نئی دنیاؤں کا پتا دے۔ ایسی دنیا جس میں ریاست کے بجائے سماج توجہ کا مرکز بنے اور مسلمان ذہانتیں علم کا رخ کریں۔ اپنی اخلاقی اور علمی برتری کو ثابت کریں۔ اس روایت کا احیا کریں جس نے انہیں زمانے میں معزز بنایا۔ مولانا مودودی کے لٹریچر میں یہ راستہ موجود ہے جو اس فکری تسلسل کو برقرار رکھ سکتا ہے۔ جیسے شاہ ولی اللہ کے راستے پر چلتے ہوئے انہوں نے ایک نیا راستہ دریافت کیا۔ علم صرف تقلید سے نہیں‘ اجتہاد سے آگے بڑھتا ہے۔ بصورتِ دیگر ہر صدی ایک نئے المیے کو جنم دے گی۔ میرا احساس ہے کہ سید مودودی کے جانشین ان صفوں میں ہیں‘ جو اُن کے فکری ناقد ہوتے ہوئے بھی انہیں اپنی قابلِ فخر روایت کا حصہ مانتے ہیں۔ جیسے سید مودودی خود مولانا آزاد کے ناقد مگر ان کا علمی تسلسل ہیں۔ یہی لوگ ہیں جو اکیسویں صدی کی ٹریجڈی کا مداوا کر سکتے ہیں۔(سید مودودی 22 ستمبر 1979ء کو دنیا سے رخصت ہوئے اور 26 ستمبر کو لاہور میں آسودہ خاک ہوئے۔ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے)</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>قرضے انج ای نئیں چڑھدے(خالد مسعود خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-09-26/52731/20036401</link><pubDate>Sat, 26 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-09-26/52731/20036401</guid><description>ساٹھ کی دہائی میں جرمنی جیسے ملک کو قرضہ دینے والا پاکستان آخر اس حال میں کیسے پہنچا کہ اب اس کی سرکار صرف کارِ سرکار چلانے کیلئے در در قرض کی صدائیں بلند کرتی پھر رہی ہے۔ قرضہ دینے والے ملک سے لے کر قرضہ لینے والی ریاست تک کا ہمارا یہ سفر ایک داستانِ عبرت ہے۔ تاہم اس داستان میں زیادہ اسرار اور پیچیدگیاں بہرحال نہیں ہیں۔ ہم اس حالت تک کیسے پہنچے؟ اسے سمجھنا کوئی ایسا مسئلہ نہیں کہ سائنسدان طلب کیے جائیں‘ ماہرینِ معاشیات کی کانفرنس بلائی جائے‘ کوئی فال نکالی جائے‘ کوئی استخارہ کیا جائے‘ بھاری مشاہرے پر کنسلٹنٹ رکھے جائیں یا آج کل کے رائج علم مطلق یعنی آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی مدد لی جائے۔ یہ معاشیات کا سادہ سا قانون ہے کہ اسے معاشیات کے مضمون یا نام سے قطعاً لاعلم اور ناواقف اَن پڑھ مزدور‘ کوئی گھریلو خاتون یا چھوٹا سا بچہ بھی سمجھتا ہے کہ جب اس کا خرچ اس کی آمدنی سے بڑھ جائے گا تو اسے آمدنی اور خرچ کے اس باہمی فرق کو پورا کرنے کیلئے کسی سے قرض لینا پڑے گا یا اُدھار پر سودا سلف خریدنا پڑے گا۔ نوکری پیشہ بندہ اپنے ادارے یا کمپنی سے ایڈوانس لے گا‘ گھر کی روٹی ہانڈی کیلئے ساتھ والے کریانہ فروش سے ادھار پر آٹا دال لے گا یا ادھر اُدھر ہاتھ پاؤں مار کر جائز ناجائز پیدا گیری کر کے اپنے اوپر والے اخراجات پورے کرے گا۔ ہم بڑی سطح پر یہی کچھ کر رہے ہیں۔دوسروں کو قرض دینے والی اچھی مالی حیثیت سے لے کر قرض مانگنے والی حالت تک کے سفر میں دو میں سے کوئی ایک یا دونوں وجوہات ہو سکتی ہیں۔ پہلی یہ کہ ہم نے وقت کے ساتھ بڑھتی ہوئی ضروریات کے مطابق اپنی آمدنی میں اضافہ نہیں کیا یا دوسری یہ کہ ہم نے اپنے روز افزوں بڑھتے ہوئے غیر ضروری اخراجات کو اپنی مالی حیثیت کے مطابق کنٹرول نہیں کیا۔ تیسری وجہ ان پہلی دونوں وجوہات کا مشترکہ مجموعہ ہے جو سب سے خوفناک ہے۔ ہم اسی تیسری وجہ کے باعث ہر دوسرے دن کسی عالمی مالی ادارے کے دروازے پر جھولی پھیلائے پہنچ جاتے ہیں۔ کبھی کسی شاہ کے در پر مؤخر ادائیگیوں والے پٹرول کی عرضی لے کر حاضر ہو جاتے ہیں۔ اگر آپ کی آمدنی کم اور اخراجات زیادہ ہیں تو آپ کو اس فرق کو پورا کرنے کیلئے کہیں سے قرض لینا پڑے گا۔ اگر اگلے ماہ پھر یہی حساب رہے کہ اخراجات اور آمدنی کا باہمی فرق گزشتہ ماہ کی نسبت مزید بڑھ چکا ہو تو آپ کو پچھلے ماہ کی نسبت اس ماہ زیادہ قرضہ لینا پڑے گا۔ یہ سلسلہ اگر اسی طرح جاری رہے تو ہر آنے والے مہینے کا قرضہ پچھلے مہینے سے زیادہ ہوتا جائے گا۔ ہمارے ساتھ یہی ہوا! ہماری آمدنی کم اور اخراجات زیادہ تھے اور سال بہ سال ہماری آمدنی میں اضافے کی نسبت ہمارے اخراجات میں اضافہ زیادہ تھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ہمیں ہر سال اپنا یہ خسارہ پورا کرنے کیلئے گزشتہ سال کی نسبت زیادہ قرض درکار تھا۔ اب صورتحال یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ ہر نئے لیے جانے والے قرض کا بیشتر حصہ پرانے قرض کی ادائیگی اور اس کی سود کی مد میں چلا جاتا ہے۔ یعنی اب قرضہ لینے کے تین پہلو ہیں: گزشتہ قرضوں کی ادائیگی‘ ان قرضوں پر سود کی ادائیگی اور موجودہ آمدنی اور اخراجات کے فرق کو پورا کرنے کیلئے درکار مزید قرضہ۔آمدنی اگر زیادہ نہ بڑھ رہی ہو اور اس کی کوئی صورت بھی دکھائی نہ دے رہی ہو تو سمجھداری کا تقاضا یہ ہے کہ اپنے اخراجات کم کیے جائیں لیکن ہمارے حکمرانوں کی ساری توجہ ملک کی حالت کو بہتر کرنے کے بجائے اپنی ذاتی حالت کو بہتر کرنے پر مرتکز ہے۔ پرانی کہانی کے مطابق ایک فقیر بادشاہ بن گیا تو اس کی زندگی کا مطمح نظر صرف حلوہ کھانا تھا۔ ملک برباد ہوا تو اس نے اپنی گدڑی اٹھائی اور چل دیا۔ ہمارے حکمران اس ملک کے سنگھاسن پر موج میلہ کرنے کیلئے بیٹھے ہوئے ہیں۔ اور یہ موج میلہ کیا ہوتا ہے؟ ملک گلے گلے تک قرضے میں ڈوبا ہو‘ ہر مہینے آئی ایم ایف کے در پر دستک دینی پڑتی ہو‘ ہر سال امانت پر رکھوائے گئے دوستوں کے پیسوں کو ری شیڈول کرانا ہو‘ ہر چوتھے مہینے &#39;یا شیخ ادھار پر تیل دے دو‘ کی درخواست کرنی ہو اور حکمران لگژری جہازوں‘ چارٹرڈ فلائٹس اور خصوصی پروازوں سے نیچے نہ اتر رہے ہوں تو اسے موج میلہ کہتے ہیں۔ جس وزیراعظم نے اپنے کپڑے بیچ کر اس ملک کے قرضے اتارنے تھے اور غریب کی حالت بہتر کرنی تھی وہ وزیراعظم ہمارے کپڑے بیچ کر خصوصی پرواز میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرنے کیلئے امریکہ پہنچے ہوئے ہیں۔ انہوں نے یہ درویشانہ سفر صرف اقوام متحدہ سے خطاب جیسے بے مقصد کام کیلئے ہی نہیں کیا بلکہ انہوں نے اس دوران ہماری مالی مشکلات کو کم کرنے کیلئے آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا سے بھی ملاقات کی ہے۔قومیں کیسے ترقی کرتی ہیں اور قومیں کس طرح مانگنے والوں کی قطار میں کھڑی ہوتی ہیں اس کے لیے میں پاکستان کا موازنہ ساٹھ اور ستر کی دہائی تک پاکستان سے تکنیکی اور صنعتی مدد و رہنمائی مانگنے والے ملک چین سے نہیں کروں گا بلکہ میں پاکستان کا موازنہ پاکستان ہی سے‘ میرا مطلب ہے 1971ء تک پاکستان کا حصہ رہنے والے آج کے بنگلہ دیش سے کروں گا۔ 16 دسمبر 1971ء کو سقوط ڈھاکہ سے پہلے ہم مغربی پاکستانیوں کا خیال تھا کہ بنگلہ دیش یعنی مشرقی پاکستان ہماری معیشت پر بوجھ ہے‘ وہاں ہر سال آنے والا سیلاب مغربی پاکستان کی ساری آمدنی کھا جاتا ہے‘ بھوکے بنگالی ہماری گندم اور کپاس اُچک لیتے ہیں‘ مشرقی پاکستان سے سوائے پٹ سن کے مغربی پاکستان کو کچھ بھی نہیں ملتا‘ مشرقی پاکستان کی آبادی مغربی پاکستان سے زیادہ ہے اور وہ مغربی پاکستان کے وسائل رگڑ جاتا ہے۔ ذرا آج کی صورتحال دیکھیں۔1971ء میں مغربی پاکستان کی آبادی چھ کروڑ جبکہ مشرقی پاکستان کی آبادی سات کروڑ کے لگ بھگ تھی۔ آج مغربی پاکستان کی آبادی چھبیس کروڑ جبکہ بنگلہ دیش کی آبادی سترہ کروڑ ہے۔ یعنی بنگلہ دیش نے اس دوران اپنی معیشت کو بہتر اور مستحکم کرنے کیلئے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ اپنی بے تحاشا بڑھتی ہوئی آبادی کو کنٹرول کیا جبکہ ہم نے مشترکہ پاکستان کی آبادی میں سے بنگلہ دیش کے نکل جانے کے بعد یہ کوشش تھی کہ بنگلہ دیش کے چلے جانے کے بعد ہماری آبادی کا جو بلند شملہ سرنگوں ہوا ہے اسے دوبارہ اونچا کرنے کی غرض سے دن دگنی اور رات چوگنی کوشش کرتے ہوئے اس خلا کو پورا کیا جائے۔ اگر میں چند سطروں میں نہایت مختصر انداز میں آج پاکستان اور بنگلہ دیش کا حالیہ معاشی موازنہ کروں تو صورتحال یہ ہے کہ پاکستان کا جی ڈی پی 452 ارب ڈالر جبکہ بنگلہ دیش کا جی ڈی پی 510 ارب ڈالر ہے۔ ہماری جی ڈی پی کی شرح نمو 3.7 فیصد جبکہ بنگلہ دیش کی 4.7 فیصد ہے۔ ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر 21.4 ارب ڈالر جبکہ بنگلہ دیش کے 36.3 ارب ڈالر ہیں۔ پاکستان کی کل برآمدات 30 ارب ڈالر ہیں جبکہ بنگلہ دیش کی برآمدات 55 ارب ڈالر ہیں۔ پاکستان پر کل قرضہ 138ارب ڈالر ہے جبکہ بنگلہ دیش کا کل قرضہ 102 ارب ڈالر ہے۔ پاکستان کی فی کس سالانہ آمدنی 1500 ڈالر ہے جبکہ بنگلہ دیش کی فی کس آمدنی 2500 ڈالر ہے۔ آپ اندازہ کریں ہم سے زیادہ آبادی والا مشرقی پاکستان اب ہم سے کہیں کم آبادی کا حامل بنگلہ دیش ہے۔ بنگلہ دیش کی جی ڈی پی ہم سے بہت بہتر ہے‘ برآمدات ہم سے 83 فیصد زیادہ ہیں‘ قرضے ہماری نسبت کم ہیں‘ فی کس آمدنی ہم سے زیادہ ہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ ہمارے وزیراعظم شہباز شریف امریکہ جانے کے لیے اپنے انتہائی مختصر وفد کے ہمراہ ایک خصوصی طیارے میں جبکہ بنگلہ دیش کے وزیراعظم طارق رحمان اپنے وفد کے ہمراہ ٹرکش ایئرلائن کی کمرشل فلائٹ پر امریکہ گئے ہیں۔ قرضے انج ای نئیں چڑھدے‘ بڑی محنت کرنی پیندی اے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90500073.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>حیات و موت میں کچھ ایسا فاصلہ بھی نہیں(ڈاکٹر حسین احمد پراچہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-09-26/52732/54483555</link><pubDate>Sat, 26 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-09-26/52732/54483555</guid><description>عملِ خیر کے خزانے لٹانے والی عظیم شخصیات کی پیشانیوں پر‘ بقول ڈاکٹر خورشید رضوی لکھا ہوتا ہے:نہ جانے کب نہ رہیں ہم، ہمیں غنیمت جان؍ حیات و موت میں کچھ ایسا فاصلہ بھی نہیںکتنا فاصلہ؟ بس ایک قدم یا ایک لمحے کا فاصلہ۔ حافظ محمد ادریس سابق نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان سے درویش کا پرانا بلکہ بہت پرانا محبت و احترام کا رشتہ تھا۔ حافظ صاحب نے 1960ء کی دہائی کے اواخر اور 1970ء کی دہائی کے اوائل میں گورنمنٹ کالج لاہور اور پنجاب یونیورسٹی سے اعلیٰ ڈگریاں اس شان سے حاصل کیں کہ انہوں نے ہر امتحان میں پہلی پوزیشنیں اور گولڈ میڈل حاصل کیے۔ جناب حافظ محمد ادریس اُن خوش قسمت لوگوں میں سے تھے کہ جنہیں اوائلِ شباب بلکہ لڑکپن سے ہی اپنی منزل اور اس کی طرف جانے والے راستے کا شعور نصیب ہو جاتا ہے۔ آٹھ دہائیاں قبل گجرات کے ایک قصبے میں انہوں نے آنکھ کھولی تھی اور صرف نو سال کی عمر میں مکمل قرآن پاک حفظ کر لیا۔ تب سے لے کر دمِ واپسیں تک حافظ صاحب نے قرآنِ پاک کے ساتھ اپنی قلبی وابستگی قائم و دائم رکھی۔بعض دوستوں کا کہنا ہے کہ مولانا شاہ احمد نورانی کے بعد حافظ محمد ادریس وہ خوش نصیب تھے کہ جو نو سال کی عمر سے لے کر 81سال کی عمر تک ہر رمضان المبارک میں نمازِ تراویح میں قرآن سناتے رہے۔ حافظ صاحب نے عربی زبان میں ماسٹرز کر رکھا تھا۔ عربی زبان و ادب کی لطافتوں کا شناور جب قرآن سمجھتے ہوئے پڑھتا ہے تو پیچھے مقتدی بھی وجد و کیف محسوس کرتے ہیں۔ حافظ صاحب نے زمانہ طالب علمی میں مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی کی کتب کے مطالعے اور ان کی شخصیت سے اکتسابِ فیض کرتے ہوئے دل و نگاہ سے اُن کی بیعت کرلی تھی۔ حافظ صاحب 1970ء میں پنجاب یونیورسٹی یونین کے صدر منتخب ہو گئے تھے مگر بوجوہ اس کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہو رہا تھا۔ حافظ صاحب تو احترامِ استاد ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اس وقت کے وائس چانسلر علامہ علاء الدین صدیقی سے درخواست گزار تھے کہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا جائے مگر اس موقع پر اُن کے ہمراہ جانے والے بعض جوشیلے طلبہ نے کچھ احتجاجی لب و لہجہ اختیار کیا جب یہ خبر اخبارات میں شائع ہوئی تو ملک میں نئی نئی مارشل لاء حکومت نے اپنی دھاک بٹھانے کیلئے حافظ صاحب سمیت ان طلبہ کو پسِ دیوارِ زنداں بھیج دیا۔ حافظ صاحب نے الگ سے اپنی صفائی نہ دی اور اپنے دوستوں کے احتجاجی رویے کی ذمہ داری بھی قبول کی۔ حافظ محمد ادریس (مرحوم لکھنے کو دل نہیں مانتا) ایک نہیں کئی شخصیات کا امتزاج تھے۔ وہ رنگا رنگ پھولوں کا ایک حسین و جمیل گلدستہ تھے۔ حیرت تو یہ ہوتی ہے کہ بڑی بڑی جماعتی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ وہ تصنیف و تالیف کا اتنا بڑا خزانہ ساری زندگی لٹاتے رہے۔ ان کی 70سے زیادہ تصانیف ہیں۔ یوں تو ہر کتاب دینی علم و حکمت کا انمول اثاثہ ہے مگر سات جلدوں میں سیرتِ محمد مصطفیﷺ کی اثر انگیزی منفرد ہے۔ اُن کی زیادہ تر کتب سیرت صحابہ و صحابیات پر ہیں۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ حافظ صاحب کو حوضِ کوثر پر ساقیِ کوثر کے ہاتھوں سیراب ہونے کا شرف نصیب فرمائے‘ آمین!1974ء کے اواخر میں سعودی وزارتِ تعلیم میں تدریسی فرائض کی انجام دہی کیلئے میں جدہ پہنچا۔ انہی دنوں حافظ محمد ادریس اسلامک فاؤنڈیشن کے صدر کی حیثیت سے نیروبی روانہ ہونے کیلئے جدہ آئے ہوئے تھے۔ راؤ محمد اختر صاحب نے مولانا مودودیؒ کی ہدایت کے مطابق 1960ء کی دہائی میں ہی‘ اس دور کے امیر جماعت اسلامی کراچی چودھری غلام محمد صاحب اور پروفیسر خورشید احمد کی رہنمائی میں افریقہ کی بلالی دنیا کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کرنے اور وہاں کی نژادِ نو کو قرآنِ پاک کی تعلیمات سے روشناس کرانے اور عیسائی مشنریوں کے چنگل سے بچانے کیلئے فاؤنڈیشن قائم کی تھی۔ 1970ء میں فوت ہونے والے چودھری غلام محمد نے افریقہ میں قرآن پاک کو سواحلی زبان میں ترجمہ کروایا تھا۔ حافظ صاحب راؤ محمد اختر صاحب کے ساتھ مل کر ایک دہائی سے اوپر افریقہ میں انتھک خدمات انجام دینے اور رمضان المبارک میں وہاں قرآن پاک سنانے کے بعد 1985ء میں پاکستان واپس آئے تو پھر تقریباً 40برس تک یہاں جماعت اسلامی کی طرف سے سپرد کردہ ذمہ داریوں کو بطریق احسن انجام دیتے رہے۔ وہ 1991ء سے 2003ء تک امیر جماعت اسلامی صوبہ پنجاب رہے‘ اس کے بعد وہ دو مرتبہ نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان رہے۔ وہ جماعت اسلامی کے تحقیقی مرکز ادارۂ معارفِ اسلامی کے ڈائریکٹر بھی رہے۔ وہ ادب‘ تحقیق و تصنیف اور صحافت سے بھی گہرا شغف رکھتے تھے۔ روزنامہ دنیا کے ادارتی صفحات پر دس برس سے دینی‘ سیاسی‘ تاریخی اور سوانحی نوعیت کے اثر انگیز کالم لکھتے رہے۔ ان کے قارئین کا ایک وسیع حلقہ تھا۔ منصورہ میں اپنے خطباتِ جمعہ‘ جماعت اسلامی کے اجتماعات‘ اپنی تصنیفات کے صفحات اور اپنے کالموں میں حافظ صاحب ہمیشہ صبر و استقامت کی تلقین کرتے رہے۔2015ء میں یہ درویش یونیورسٹی آف سرگودھا میں پروفیسری کے علاوہ کئی انتظامی ذمہ داریاں بھی ادا کر رہا تھا۔ اُس زمانے میں ڈاکٹر ہارون ادریس جرمنی سے پی ایچ ڈی کر کے اسی یونیورسٹی میں چیف لائبریرین تھے۔ ڈاکٹر ہارون اپنے حسن اخلاق و حسن تعاون کی بنا پر طلبہ و اساتذہ میں بے حد مقبول تھے۔ میرا وہ بہت احترام کرتے تھے۔ 2021ء میں ڈاکٹر ہارون کووڈ کی زد میں آ گئے۔ وہ تقریباً سوا ماہ تک پی اے ایف ہسپتال سرگودھا میں وینٹی لیٹر پر رہے۔ ڈاکٹر ہارون کی وفات سے صرف ایک روز پہلے چھ جولائی 2021ء کو ہسپتال کے کمرے میں حافظ صاحب نے بیمار بیٹے کا ماتھا چوما اور کہا: بیٹے! تم سے محبت کرنے والوں اور تمہاری صحت یابی کیلئے دعا کرنے والوں کی اتنی بڑی تعداد دیکھ کر میں اپنے رب کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ہارون ہوش میں تھا مگر بول نہیں سکتا تھا۔ باپ کا اندازِ محبت و شفقت دیکھ کر اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس نے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھائے۔ اسکے لب ہلنے لگے۔ گویا اپنے باپ کیساتھ مل کر وہ بھی اپنے رب کا شکر ادا کر رہا ہو۔ پھر ہونی ہو کر رہی۔ اگلے روز سات جولائی 2021ء کو ہارون اپنے رب کے حضور حاضر ہو گیا۔ بیٹے باپ کے جنازے کو کندھا دیں تو یہ ایک روٹین کی بات ہے مگر جب کسی باپ کو اپنے جوان بیٹے کے جنازے کو کندھا دینا پڑے تو حقیقی معنوں میں اس پر کئی قیامتیں ٹوٹ پڑتی ہیں۔ حافظ صاحب کو اس جان لیوا مرحلے سے گزرنا پڑا۔ میں نے منصورہ لاہور میں ہارون کے جنازے کے بعد حافظ ادریس صاحب سے تعزیت کی تو انہوں نے کہا میرے رب کی امانت تھی‘ اس نے واپس لے لی۔ ہم ہر حال میں اپنے رب کی حمد و ثنا بیان کرتے اور راضی برضا ہیں۔یادِ رفتگاں حافظ صاحب کا خاص موضوع تھا۔ وہ جماعت اسلامی کی معروف ہی نہیں بعض غیر معروف شخصیات کے محاسن اُن کی وفات کے بعد اپنے مضامین میں بیان کرتے رہے۔ جماعت اسلامی کے مرکز منصورہ لاہور کے مرکزی دفاتر اور وہاں کی جامع مسجد میں حافظ ادریس صاحب کو ہر لحظہ مشغول و معروف دیکھ کر کبھی یہ گمان بھی نہ گزرتا تھا کہ وہ بھی اچانک کسی لمحے &#39;&#39;رفتگاں‘‘ ہو جائیں گے۔ میں نے گزشتہ نصف صدی کے دوران جب بھی حافظ صاحب کو دیکھا تو ہمیشہ اُن کے لبوں پر مسکراہٹ اور اُن کی زبان پر کسی ہلکے پھلکے مذاق کے ساتھ دیکھا۔ وہ اس حدیث کی عملی تصویر بھی تھے اور تفسیر بھی کہ تمہارے بھائی کیلئے تمہاری مسکراہٹ صدقہ ہے۔ ان کی شخصیت کا یہ مسکراتا پہلو سب کیلئے تھا۔ اسلامی عقیدے کے مطابق موت فنا کا نہیں زندگی کے دوسرے فیز کا نام ہے۔ حافظ ادریس صاحب اس دنیا سے چلے گئے ہیں مگر اُن کی باتیں‘ اُن کی تحریریں اور ان کی یادیں ہمیشہ ہمارے دلوں میں گلوں کی طرح مہکتی رہیں گی... رفتید ولے نہ از دل ما۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_70033906.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مالِ مفت دل بے رحم(افتخار احمد سندھو)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/iktakhar-ahmed-sandhu/2026-09-26/52733/38373291</link><pubDate>Sat, 26 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/iktakhar-ahmed-sandhu/2026-09-26/52733/38373291</guid><description>دین اسلام کی رُو سے کوئی بھی حکمران ریاست کا ایک روپیہ بھی اپنی ذاتی تشہیر کے اوپر خرچ نہیں کر سکتا۔ اللہ پاک جب کسی کو اقتدار دیتا ہے تو اس سے دو چیزوں کا سختی سے مطالبہ کرتا ہے۔ پہلی چیز عدل ہے اور دوسری چیز امانت امانتداروں کے سپرد کرنا۔ اقتدار کسی بھی حکمران کے پاس اللہ تعالیٰ کی امانت ہوتا ہے اور امانت میں خیانت کرنے والا اللہ کے حضور جوابدہ ہو گا۔ پاکستان میں عدل وانصاف اور امانتداری کا کیا حال ہے وہ ہم سب کے سامنے روزِ روشن کی طرح عیاں ہے۔ ہمارے حکمرانوں سے تو بنگلہ دیش کے وزیراعظم ہی اچھے نکلے ہیں کہ انہوں نے حکومتی تشہیری مواد پر اپنی تصاویر کے استعمال پر پابندی لگا دی ہے۔ انہوں نے یہ فیصلہ اپنی رہائشگاہ کے قریب لگے بل بورڈز پر لگی تصاویر کو دیکھنے کے بعد کیا اور از خود یہ بل بورڈز فوری طور پر ہٹانے کا حکم بھی دیا۔ دوسری طرف ہمارے حکمرانوں کا باوا آدم ہی نرالا ہے۔ غریب عوام کے پیسے ذاتی تشہیر پر خرچ کر رہے ہیں اور عوامی منصوبوں کو اپنے نام سے منسوب کر رہے ہیں۔ ہمارے ملک کے مقتدر طبقات نے عوام کو بیوقوف بنا رکھا ہے‘ وہ چاہتے ہیں کہ عوام ہمیشہ کی طرح ان کی خدمت کرتے رہیں اور وہ ان پر مسلط رہیں۔ بدقسمتی سے ارضِ وطن کی مٹی سے وفاداروں کو غدار بتایا اور بنایا جا رہا ہے اور نااہل لوگوں کو ملک وقوم پر مسلط کیا گیا ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے بڑے انگریزوں کے وفادار اور نوکر تھے۔ بقول شاعر:مٹی سے وفادار کو غدار بنا کریہ کس کو مسلط کیا حقدار بنا کرانگریز کے نوکر تھے جو صدیوں سے لایا گیا ہے ان لوگوں کو سردار بنا کراس امر میں کوئی شک نہیں کہ حکمرانوں کی طرف سے ذاتی تشہیر کیلئے سرکاری خزانے کا بیدردی سے استعمال کیا جاتا رہا ہے اور کیا جا رہا ہے۔ راوی بتاتے ہیں کہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے اتنے پیسے صوبے میں تعلیم کوعام کرنے پر خرچ نہیں کیے تھے جنتی رقم انہوں نے &#39;&#39;پڑھا لکھا پنجاب‘‘ کے نام پر اپنی ذاتی تشہیر پر لٹا دی۔ پنجاب کا غریب بچہ پڑھ تو نہ سکا؛ البتہ چودھری پرویز الٰہی نے اپنی اور چودھری خاندان کی خوب مشہوری کی۔ اور تو اور سابق برائے نام بلکہ گمنام وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے بھی بہتی گنگا میں خوب ہاتھ دھوئے اور ذاتی تشہیر کیلئے سرکاری خزانے کو جی بھر کر استعمال کیا جبکہ عوامی اور فلاحی کام ایک ٹکے کا بھی نہیں کیا۔بد قسمتی سے ذاتی تشہیر ایک نفسیاتی مرض بن چکا ہے جو ہمارے ملک کے اکثر حکمرانوں میں بدرجہ اتم موجود ہے‘ لیکن ہمارا کوئی حکمران اس مرض کا علاج کرانے کے لیے تیار نہیں ہے۔ ذاتی تشہیر کے حوالے سے موجودہ حکمرانوں نے اپنے پیشروؤں کو پیچھے چھوڑ دیا۔ اس میدان میں ان کا دور تک بلکہ بہت دور تک کوئی مقابل نہیں۔ سرکاری خرچ پر کمپنی کی خوب مشہوری ہو رہی ہے۔ بل بورڈوں سے لے کر بسوں تک اور فروٹ کی ریڑھیوں سے لے کر کوڑے کرکٹ کے کنٹینروں پر اپنی اور والد گرامی کی تصاویر آیزاں ہیں۔ ملک بھر کے سینئر صحافیوں کی جانب سے اس حوالے سے شدید اعتراضات اٹھائے جا رہے ہیں اور یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ ذاتی تشہیر کے لیے سرکاری خزانے کا بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے۔اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد حالات بہت مختلف ہو چکے ہیں۔ صوبے کئی ایک معاملات میں خودمختار ہو چکے ہیں۔ صوبہ پنجاب کو وفاق کی وجہ سے اس سال کے بجٹ میں بڑے کٹ کا سامنا کرنا پڑا ہے لیکن اس کے باوجود بعض اہم شعبوں میں بھاری فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف نے اپنے سیاسی کیریئر کے آغاز میں ہی بڑے ترقیاتی منصوبوں‘ ہسپتالوں اور پارکوں کو اپنے اور شریف خاندان کے ناموں سے منسوب کر کے ایک نئی بحث چھیڑ دی جس پر صوبے کے عوام اور سیاسی مخالفین کی جانب سے تنقید کے خوب نشتر چلائے جا رہے ہیں۔بلاشبہ حکمرانوں کی ذاتی تشہیر پر جو پیسہ لگ رہا ہے وہ عوام کی طر ف سے دیے گئے ٹیکس کا پیسہ ہے۔ عوام کھانے پینے سے لے کر پہننے تک ہر چیز پر حکومت کو ٹیکس دے رہے ہیں اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کے مطابق ٹیکس کے پیسے پر ذاتی تشہیر غیر قانونی ہے۔ سپریم کورٹ نے سرکاری خزانے سے ذاتی تشہیر کو غیر آئینی قراردے رکھا ہے۔ اس سب کے باوجود سرکاری فنڈز کا ضیاع دھڑلے سے جاری ہے۔ اور حلوائی کی دکان پر دادا جی کی فاتحہ پڑھی جا رہی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہونے کی بدولت وزیراعلیٰ پنجاب کے پاس وزیراعظم پاکستان سے بھی زیادہ صوابدیدی فنڈز ہیں‘ وہ جہاں چاہیں خرچ کریں‘ بیشک راہ چلتی کسی بیوہ کو دے دیں یا پھر کمپنی کی مشہوری پر لگا دیں‘ انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں۔ ایک خاتون وکیل نے ہائیکورٹ میں جاکر اس حوالے سے پوچھنے کی کوشش کی تو بیچاری عدالت سے ڈانٹ کھا بیٹھی بلکہ بھاری بھرکم جرمانہ بھی کروا بیٹھی اور درخواست بھی خارج کر دی گئی۔ یہ ہمارے ملک میں عدل وانصاف کا حال کہ حکمرانوں کی فضول خرچیوں کے حوالے سے سوال کرنے والوں کو ڈانٹ پلا کر اور جرمانہ کر کے خاموش کرا دیا جاتا ہے تاکہ دوبارہ کوئی یہ جرأت نہ کر سکے۔دوسری طرف سندھ حکومت کی بدانتظامی کے باعث صوبہ سندھ میں حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ کراچی جیسا روشنیوں کا شہر جرائم کے اندھیروں میں ڈوبا ہوا ہے۔ شہر میں سٹریٹ کرائم کی بڑھتی ہوئی وارداتوں اور جان و مال کے عدم تحفظ کی وجہ سے ایک ویل سیٹلڈ پی ایچ ڈی ہولڈر ڈاکٹر بھی بار بار لٹنے کے بعد ذہنی اذیت کا شکار ہو کر ملک چھوڑنے پر مجبور ہو گیا۔ کراچی کے سٹریٹ کرائمز پر قابو پانے میں پیپلز پارٹی کی ناکامی پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے۔ بلکہ جتنی بھی تنقید کی جائے کم ہے۔ پیپلز پارٹی اور زرداری اینڈ کمپنی کے حوالے سے یہ بات زبان زد عام تھی کہ کھاتے ہی ہیں‘ لگاتے کچھ نہیں جبکہ شریفوں کے بارے میں ان کے چاہنے والے کہتے تھے کہ کھاتے ہیں تو لگاتے بھی ہیں۔ مگر یہ بات اب روزِ روشن کی طرح واضح ہو چکی ہے کہ لگاتے ہیں مگر ذاتی تشہیر پر۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی پر توہین عدالت کی کارروائی کی جائے‘ تشہیری فنڈز کی مکمل آڈٹ رپورٹ طلب کی جائے اور ذاتی تشہیر کیلئے خرچ کی گئی رقم واپس لی جائے‘ عدالت سرکاری فنڈز سے ذاتی تشہیر کے اخراجات کی وصولی کیلئے فوری طور پر کارروائی اور تمام سرکاری منصوبوں اور عمارات سے تشہیری مواد کو ہٹانے کا حکم دے۔ اور اگر کسی نے اپنی کمپنی کی مشہوری کرنی ہے تو اپنی جیب سے کرے عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے ہرگز نہیں۔ اپنے پیسوں سے بنائے گئے منصوبے کا جو مرضی نام رکھیں کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا لیکن عوام کے پیسوں سے بنائے گئے منصوبوں کو خود سے منسوب نہ کریں۔ ہمارے حکمران اپنے امراض کے علاج کیلئے بیرون ملک جاسکتے ہیں تو وہاں جاکر یہ بھی دیکھیں کہ کسی ملک کا حکمران سرکاری پیسوں سے ذاتی تشہیر کا سوچ بھی نہیں سکتا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/228_40817243.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>نظام، عوام اور تبدیلی(جویریہ صدیق )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/javeria-siddique/2026-09-26/52734/16849193</link><pubDate>Sat, 26 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/javeria-siddique/2026-09-26/52734/16849193</guid><description>کچھ لوگ تبدیلی کے خمیر کے ساتھ جنم لیتے ہیں اور کسی جدوجہد کا حصہ بن کر اس کو کامیاب بنا دیتے ہیں۔ کچھ خوش نصیب اس تبدیلی کو دیکھنے کیلئے زندہ رہتے ہیں اور کچھ امید کی لو جلا کر دنیا سے چلے جاتے ہیں۔ مگر ان کے افکار اور نقش قدم پر چلتے ہوئے دوسرے لوگ انقلاب کا سورج دیکھ ہی لیتے ہیں۔ ان کا کیا ہوا کام صدیوں تک لوگوں کے کام آتا ہے اور آنے والی نسلوں کیلئے مشعلِ راہ ثابت ہوتا ہے۔ کچھ میدان میں عملاً جدوجہد کرتے ہیں‘ کچھ لکھ کر اور بول کر لوگوں کے ذہنوں میں انقلاب برپا کر تے ہیں۔ ہمارے سامنے بہت سی مثالیں موجود ہیں۔ علامہ اقبال عظیم شاعر اور فلسفی جنہوں نے اپنے کلام سے مسلمانانِ برصغیر میں بیداری کی لہر پیدا کی۔ انہوں نے ہی پاکستان کا خواب دیکھا حالانکہ اس وقت بظاہر یہ ناممکن تھا مگر ایک طویل جدوجہد کے بعد آج ہم انہی کے خواب کی تعبیر میں جی رہے ہیں۔ کارل مارکس ایک فلسفی اور انقلابی تھے۔ انہوں نے برملا کہا کہ انسانی تاریخ دو مخالف طبقات پر مشتمل ہے؛ جس میں ایک طرف بورژوا (سرمایہ دار) ہیں جو استحصال کرتے ہیں اور دوسری طرف پرولتاریہ (محنت کش) جن کا استحصال ہوتا ہے۔ اسی طرح چے گویرا انقلاب کی ایک بڑی علامت بنے‘ جن کی ٹوپی والی تصویر آج بھی بہت مشہور ہے۔ انہوں نے فیدل کاسترو کے ساتھ مل کر کیوبا میں آمر باٹسٹا کی حکومت گرائی اور بعد ازاں جنگ کے دوران بولیویا میں مارے گئے۔ دوسری طرف نیلسن منڈیلا کو دیکھیں۔ ان کی جدوجہد جنوبی افریقہ میں نسل پرستی کے خلاف تھی۔ انہوں نے 27 سال تک جیل کاٹی۔ رہائی کے بعد انہوں نے کسی سے کوئی بدلہ نہیں لیا بلکہ امن کا پرچار کیا۔ وہ اپنے ملک کے پہلے سیاہ فام صدر بنے اور امن کا نوبیل انعام بھی جیتا۔ کچھ لوگوں کی جدوجہد پُرامن تھی اور کچھ کی خون آلود۔بھگت سنگھ کو کون بھول سکتا ہے‘ جو صرف 23سال کی عمر میں پھانسی چڑھ گیا۔ وہ پنجاب کا بیٹا تھا ‘ لائل پور کے قریب ایک گاؤں میں پیدا ہوا۔ آزادی کی تمنا اور انقلاب اس کے خون میں تھا۔ سانحہ جلیانوالا باغ نے اس کی زندگی بدل دی۔ وہ گاندھی جی کے عدم تشدد کے فلسفے سے متفق نہیں تھا۔ 1928ء میں بھگت سنگھ نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر برطانوی سامراج کے افسر جان سینڈرز کو قتل کیا تھا اور 1929ء میں دہلی کی اسمبلی میں بم پھینکے۔ اس وقت وہاں ہندوستانی مزدوروں کے خلاف ایک کالا قانون بن رہا تھا۔ بم پھینکے کے بعد تمام افراد نے خود گرفتاری پیش کی اور انہیں 1931ء میں پھانسی دے دی گئی‘ تاہم وہ تاریخ میں امر ہوگئے۔ روزا لکسمبرگ ایک لکھاری اور انقلابی تھیں۔ انہوں نے مزدوروں کے حقوق اور جمہوریت کیلئے جدوجہد کی اور ان کو پہلی عالمی جنگ کے دوران قتل کر دیا گیا۔ مائوزے تنگ نے چین میں کسانوں کو ساتھ ملا کر 20 سال تک جدوجہد کی اور 1949ء میں انقلاب برپا کرکے چین کو سپر پاور بنانے کی بنیاد رکھی۔اگر ہم اسلامی تاریخ کی بات کریں تو ایک طرف شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے قرآن کریم کا پہلی بار فارسی میں ترجمہ کر کے اور اپنے خطوط‘ خطبات اور کتب کے ذریعے لوگوں میں انقلاب کی فکر کی شمع جلائی وہیں ان کی طرف سے احمد شاہ ابدالی کو ہندوستان بلانے کیلئے خط لکھنا بھی تاریخی حلقوں میں ایک معروف بحث ہے۔ شاہ ولی اللہ کو ہندوستان میں اسلامی انقلاب کا فکری بانی سمجھا جاتا ہے۔ ٹیپو سلطان‘ میسور کے فرمانروا‘ جنہوں نے انگریزوں کو ناکوں چنے چبوائے وہ بھی ہندوستان میں اسلامی انقلاب کے خواہاں تھے۔ وہ بہادری سے لڑتے ہوئے سرنگاپٹم میں شہید ہوئے اور انگریزوں کو ان کا اتنا خوف تھا کہ شہادت کے بعد ان کے جسدِ خاکی کے قریب جانے سے بھی کتراتے رہے۔ 1979ء میں امام خمینی اور ان کے ساتھی ایران میں اسلامی انقلاب لائے جو اب تک برقرار ہے۔حالیہ تاریخ میں بھی بہت سے ممالک کو تبدیلی کی تحریکوں کا سامنا کرنا پڑا اور اکثر تحریکیں آمر حکمرانوں یا ان کی پالیسیوں کے خلاف تھیں۔ تیونس میں 2011ء سے عرب بہار کی شروعات ہوئی جب ایک ریڑھی بان بوعزیزی نے پولیس کے ظلم سے تنگ آکر خود سوزی کر لی۔ اس کے بعد احتجاج کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا اور 23 سال تک حکومت کرنے والے آمر زین العابدین کو ملک چھوڑ کر بھاگنا پڑا۔ تیونس کے بعد مصر میں انقلاب آیا اور حسنی مبارک کو استعفیٰ دینا پڑا۔ اس کے بعد یوکرین میں بھی ایک انقلاب آیا جس کے بعد 2014ء میں روس اور یوکرین کی جنگ شروع ہو گئی۔ سوڈان میں روٹی کی قیمت بڑھنے پر ایک لڑکی آلاء صلاح سفید کپڑوں میں ملبوس‘ ایک گاڑی پر کھڑے ہوکر نعرے لگا رہی تھی۔ وہ انقلاب کی علامت بن گئی اور 30 سال سے حکومت کرنے والا عمر البشیر 2018ء میں حکومت سے محروم ہوگیا۔ اسی طرح 2019ء میں ہانگ کانگ میں چھتری والا انقلاب آیا جس میں بیس لاکھ افراد نے شرکت کی۔ 2022ء میں سری لنکا میں پٹرول‘ بجلی کی قلت اور ملک کے دیوالیہ ہونے پر عوامی انقلاب آیا اور صدر راجا پاکسے کو ملک چھوڑنا پڑا۔ جولائی 2024ء میں بنگلہ دیش کے طالبعلم سڑکوں پر نکل آئے اور انہوں نے حسینہ واجد کی طویل آمریت کا خاتمہ کیا۔ 2025ء میں نیپال میں جین زی کا انقلاب آیا اور وزیراعظم اولی شرما کو استعفیٰ دینا پڑا۔ 2026ء میں بھارت میں چیف جسٹس سوریا کانت نے بیروزگار نوجوانوں کو کاکروچ اور پیراسائٹ کہا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ نوجوانوں کو نوکری نہیں ملتی اور وہ سوشل میڈیا پر انقلابی بن کر سب پر حملہ کرنے لگتے ہیں۔ اگلے روز ایک نوجوان ابھیجیت دیپکے نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ اگر سارے کاکروچ اکٹھے ہو جائیں تو کیا ہو گا۔ اس نے سوشل میڈیا پر ہی کاکروچ جنتا پارٹی کی بنیاد رکھی اور اس کے فالوورز کی تعداد چند ہفتوں میں ہی دو کروڑ سے تجاوز کر گئی۔ جب یہ مظاہرہ کرنے بیٹھے تو بی جے پی کے وزیر تعلیم کا استعفیٰ لے کر ہی اٹھے۔بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ حالات سے تنگ ایک طبقہ پاکستان میں بھی بڑی تبدیلی چاہتا ہے مگر ایسا ہو نہیں پا رہا۔ پاکستانی نوجوان نسل بہت ہوشیار ہے لیکن یہاں تبدیلی کیوں نہیں آتی؟ اس کی وجہ بظاہر یہ ہے کہ پاکستان کے حالات قدرے مختلف ہیں۔ مہنگائی بڑھتی جارہی ہے‘ لیوی اور ٹیکس عوام کی کمر توڑ رہے ہیں لیکن تنقیدی پوسٹ کرنے پر حکومت کے بنائے ہوئے قوانین جیل کی سیر کروا دیتے ہیں۔ جمہوری معاشروں میں یہ نہیں ہوتا کہ وسائل کی تقسیم کرنے کے بجائے بجٹ اپنی نمود و نمائش پر لگا دیے جائیں۔ نہ ہی جمہوریت اس رعونت کی اجازت دیتی ہے کہ جس میں آپ کسی کو جوابدہ نہ ہوں۔ تمام عوامی نمائندے عوام کو جوابدہ ہوتے ہیں مگر ہمارے ہاں آئی ایم ایف کے نام سے ہر چیز کا بوجھ عوام پر ڈالا جا رہا ہے لیکن حیران کن طور پر آئی ایم ایف کو ٹیکس دہندگان کے خرچے پر اشرافیہ کے لائف سٹائل پر اعتراض نہیں۔ حکمران امیر تر ہو رہے اور عوام غریب تر اور ملک کو چلانے کیلئے قرض لیا جا رہا ہے۔ اس حال میں نظام میں بہتری کی کیا امید کی جا سکتی ہے۔ پمز ہسپتال میں چودہ بچے زندہ جل گئے‘ کسی نے ذمہ داری قبول کرتے ہوئے استعفیٰ دیا؟</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_38020467.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>شیخ عبدالقادر جیلانی نوّراللہ مرقدہٗ… (2)(مفتی منیب الرحمٰن )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-09-26/52735/78218447</link><pubDate>Sat, 26 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-09-26/52735/78218447</guid><description>(2) آپ لکھتے ہیں: &#39;&#39;اولیاء اللہ کے نزدیک اللہ کے سوا کو ئی حاکم ہے اور نہ کوئی قادر ہے‘ وہی عطا کرنے والا اور وہی روکنے والا ہے‘ وہی بالذات ضرر دینے والا ہے اور وہی نفع دینے والا ہے‘ اس کے سوا موت وحیات دینے والا کوئی نہیں ہے‘ پس اللہ کے نیک بندے شرک کے بوجھ اور مشقت سے آزادی اور راحت میں ہوتے ہیں‘‘ (الفتح الربانی)۔(3) ارشاد فرمایا: &#39;&#39;اے فرزند! تو ہر عمل صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کیلئے کر‘ کیونکہ غیر اللہ کیلئے تیرا عمل کرنا (باطنی) کفر ہے اور مخلوق کی خاطر کسی چیز کو ترک کر دینا محض ریاکاری ہے۔ جو انسان اس باریک حقیقت سے ناآشنا ہے اور غیر کیلئے دوڑ دھوپ کر رہا ہے‘ وہ اپنی نفسانی ہوس کا اسیر ہے۔ افسوس ہے تجھ پر! تو اپنی زبان سے لا الٰہ کا اقرار کرکے غیر اللہ کی مکمل اور حتمی نفی کرتا ہے اور پھر اِلا اللہ کہہ کر صرف اللہ کی ذاتِ واحد کا مطلق اثبات کرتا ہے‘ لیکن جب تیرا دل اللہ کو چھوڑ کسی دوسرے پر تکیہ اور بھروسا کر بیٹھتا ہے تو تُو اپنے اس اثبات میں جھوٹا ثابت ہو جاتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ اللہ کے سوا جس پر تُو نے تکیہ کیا‘ وہی تیرا معبود بن گیا‘‘ (الفتح الربانی)۔(4) تیری اُمیدوں کا محور مخلوق ہے اور تجھے خوف بھی اُسی سے لاحق ہے‘ یاد رکھ! یہی تیرا اپنے رب کے ساتھ شرک (خفی) ہے‘ اگر تجھے کچھ ملے تو تُو بندوں کے قصیدے پڑھتا ہے اور اگر محرومی ہو تو انہی کا شکوہ کرتا ہے‘ یہ روش بھی شرک کا شاخسانہ ہے۔ افسوس! مخلوق کے ہاتھ میں تو کچھ بھی نہیں‘ عطا کرنے اور روکنے کا اصل مالک تو کوئی اور ہے‘ مگر تو توحید کی دولت سے یکسر محروم ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ابتدائی مراحل میں اسباب کا پردہ ہوتا ہے مگر سفر کی انتہا پر صرف مُسبِّب الاسباب کی ذاتِ واحد ہی جلوہ گر نظر آتی ہے۔ تو بس خدا کی توحید پر ثابت قدم رہ‘ وہ تیرے تمام معاملات کی حفاظت فرمائے گا اور تمام بلائوں کا رخ موڑ دے گا۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو گوپھن کے ذریعے آگ میں پھینکا جا رہا تھا تو انہوں نے تمام ظاہری واسطوں اور وسیلوں سے منہ موڑ لیا اور رب کے سوا کسی کی طرف التفات نہ فرمایا‘ اسی لیے رب تعالیٰ نے نمرود کی آگ کو حکم دیا: &#39;&#39;اے آگ! تو ابراہیم پر ٹھنڈک اور سلامتی والی ہو جا‘‘ (الانبیاء: 69)۔ اے اسباب کے پجاریو! تمہارا نفع ونقصان پہنچانے والا‘ تمہارا حاکمِ مطلق اور تمہارا معبودِ برحق صرف ایک ہی ہے‘ کیا تم نے اپنے پروردگار کا یہ فرمان نہیں سُنا: &#39;&#39;پس جو شخص (قیامت کے دن) اپنے رب سے ملاقات کی امید رکھتا ہے‘ اسے چاہیے کہ نیک عمل کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی ایک کو بھی شریک نہ بنائے‘‘ (الکہف: 110)۔(5) &#39;&#39;اے نورِ نظر! اللہ ہی کی ذات سے لو لگا اور غیر اللہ سے تعلق توڑ دے‘ یہ کائنات اسی کا گھر ہے‘ رزق عطا کرنے والا وہی ہے اور ہر مخلوق کی روزی اسی کے علم میں مقدر ہے۔ ملائکہ تیرے رزق کی حفاظت پر مامور ہیں اور خیر و شر کے تمام فیصلے اسی کے دربار سے ہوتے ہیں۔ بندے پر آزمائشوں کے تیر اسی کے حکم سے چلتے ہیں اور جب بندہ تسلیم و رضا کے ساتھ اپنی آنکھیں بند کر کے صبر کا دامن تھام لیتا ہے تو طبیبِ حقیقی قریب آ کر خود اس کے زخمی دل پر مرہم رکھتا ہے اور اس کے تمام مصائب کو راحت سے بدل دیتا ہے‘‘ (الفتح الربانی)۔(6) مرض الموت کے آخری لمحات میں آپ نے اپنے صاحبزادے کو وصیت فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا: &#39;&#39;اے میرے بیٹے! اپنے اوپر اللہ کا تقویٰ اور اس کی اطاعت و بندگی لازم کر لے‘ اس کی ذات کے سوا کائنات میں نہ کسی کا خوف اپنے دل میں بسا اور نہ کسی سے تمنّا و امید رکھ‘ اپنے دل کی ہر حاجت کو اسی کے حضور پیش کر اور اپنی تمام ضرورتیں صرف اور صرف اسی سے مانگ‘ ربِ قدّوس کے سوا کسی غیر پر ہرگز تکیہ نہ کرنا اور تیرا کامل اعتماد اور بھروسا صرف اور صرف اسی کی ذات پر ہونا چاہیے۔ آپ نے تین بار فرمایا: توحید کو لازم پکڑ! کائنات کی تمام عبادتوں کا نچوڑ اور حقیقی روح صرف اور صرف توحید ہی ہے‘‘ (الفتح الربانی)(7) آپ فرماتے ہیں: شرک فقط بت پرستی کا نام نہیں‘ بلکہ خواہشاتِ نفس کی اتباع اور خدائے عزوَجل کے سوا دنیا و آخرت کی کسی چیز کو مطلوبِ حقیقی بنا لینا بھی شرک کے دائرے میں آ جاتا ہے‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ جو کچھ بھی ہے وہ اس کا غیر ہے۔ لہٰذا جب تو اس کے سوا اس کے غیرکی طرف مائل ہو گا تو بلاشبہ تُو نے غیرکو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرایا‘‘ (فتوح الغیب)۔ اے انسان! جب تک مخلوق سے تیرا یہ رشتہ قائم ہے یعنی تو ان کے دستِ بخشش و عطا پر اپنی نگاہیں لگائے ہوئے ہے اور اپنی ضرورتوں کیلئے ان کے دروازوں کے طواف کر رہاہے تو تُو اللہ کے ساتھ مخلوق کو شریک ٹھہرانے کے جرم کا ارتکاب کر رہا ہے‘‘ (فتوح الغیب)۔ فرماتے ہیں: &#39;&#39;اللہ کے سوا ہر شے غیر اللہ ہے‘ خبردار! اللہ کے مقابلے میں کسی غیر کو قبول نہ کرنا‘ کیونکہ اُس نے تجھے خاص اپنے وصال اور بندگی کیلئے پیدا کیا ہے‘ غیر کے ساتھ دل لگا کر اور رب سے منہ موڑ کر اپنے نفس پر ظلم نہ کرو‘ ورنہ تجھے اُس دہکتی ہوئی آگ میں جھونک دے گا جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں‘‘ (فتوح الغیب)۔(8) آپ کا فرمان ہے: &#39;&#39;توحیدِ اِلٰہی کو اپنے قلب وجاں میں اس طرح راسخ کر لے کہ تیرے دل سے مخلوق کا نام ونشان تک مٹ جائے‘ نہ کوئی ایک فرد نظر آئے نہ پوری کائنات‘ کہ توحید کا جلال ما سوا اللہ کے ہر وجود کو فنا کر دیتا ہے اور شفا کا کامل سرچشمہ صرف اور صرف اللہ کی توحید میں ہے‘‘۔ اسی مجلس میں مزید فرماتے ہیں: &#39;&#39;اے فرزند! تیرے باطن کی صفائی کیونکر ممکن ہے جب تُو نے دل میں مخلوق کا شرک بسا رکھا ہے‘ تو کیسے فلاح پائے گا‘ جب تیری ہر رات مخلوق کے در پر سجدہ ریز ہوتی ہے‘ تو اسی سے فریاد کرتا ہے اور اسی کے آگے دامنِ سوال پھیلایا کرتا ہے۔ تیرے دل میں طہارت کیسے آئے جبکہ وہ توحید کی روشنی سے خالی ہے۔ توحید محض نور ہے اور شرک محض تیرگی اور تیرا دل تقویٰ کے ایک ذرے سے بھی محروم ہے۔ افسوس! تو مخلوق کا ہو کر خالق سے محجوب (Veiled) ہو گیا‘ اسباب کا بندہ بن کر سبب بنانے والے سے غافل ہو گیا اور بندوں پر تکیہ کر کے اپنے رب سے دور ہو گیا‘‘ (الفتح الربانی)۔(9) نام نہاد متصوفین کے مکر و فریب کی قلعی کھولتے ہوئے اور شریعت کی سچی اتباع کی بابت آپ فرماتے ہیں: &#39;&#39;صاحبو! (غور کرو) اسلام رو رہا ہے اور ان فاسقوں‘ بدعتیوں‘ گمراہوں اور فریب کا لبادہ اُوڑھنے والے دجّالوںاور ایسی باتوں کا دعویٰ کرنے والوں کے ظلم سے کہ جو اُن میں موجود نہیں ہیں‘ اپنے سر کو تھامے ہوئے فریاد کر رہا ہے۔ذرا اپنے متقدّمین اور نظر کے سامنے والوں کی طرف غور کر جو امر بالمعروف اور نہی عن المنکرکا فریضہ بھی ادا کرتے تھے‘ کھاتے پیتے بھی تھے‘ پھر اچانک اُنہیں اجل نے آ گھیرا اور وہ ایسے ہوگئے گویا کبھی تھے ہی نہیں۔ تیرا دل کس قدر سخت اور پتھر ہو چکا ہے‘ کتا بھی شکار کرنے اور کھیتی‘ مویشی کی نگہبانی ومالک کی حفاظت کرنے میں اپنے مالک کی خیر خواہی کیا کرتا ہے اور اسے دیکھ کر خوشی کے مارے کھلاڑیاں کرتا ہے‘ حالانکہ کہ وہ اس کو شام کے وقت صرف ایک دو نوالے یا ذرا سی مقدار کھانا دیا کرتا ہے اور تو ہر وقت اللہ کی گوناگوں نعمتیں شکم سیر ہوکر کھاتا رہتا ہے‘ مگر ان نعمتوں کے دینے سے جو اس کو مقصود ہے‘ نہ تو اس کو پورا کرتا ہے اور نہ اس کا حق ادا کرتا ہے؛ بلکہ اس کے برعکس اس کا حکم رد کرتا ہے اور اس کی حدودِ شریعت کی حفاظت نہیں کرتا‘‘ (فیوضِ یزدانی)۔ (جاری)</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_61172381.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>