<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>ایران امریکہ معاملات کی حساسیت(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-19/11117</link><pubDate>Sun, 19 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-19/11117</guid><description>ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات ایک ایسے نازک موڑ پر آ کھڑے ہوئے ہیں جہاں ہر قدم نہایت سوچ سمجھ کر اٹھانے کی ضرورت ہے۔ جمعہ کے روز ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو کھولنا ایک اہم قدم تصور کیا جا رہا تھا جس کے مثبت اثرات تیل کی قیمتوں میں کمی کی صورت میں فوری سامنے آنا شروع ہو گئے۔ تاہم ایران کی جانب سے آبنائے کی دوبارہ بندش نے دنیا کو پہلے جیسے اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس فیصلے کی وجہ یہ بتائی گئی کہ امریکہ نے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں اور ایران کی بحری ناکہ بندی کو برقرار رکھا ہے ۔ایران کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ جب تک امریکہ جہازوں کی آمدورفت کو پوری آزادی کیساتھ بحال نہیں کرتا اس وقت تک آبنائے ہرمز کی نگرانی سخت رہے گی۔یہ صورتحال ایران اور امریکہ کے مابین اعتماد کے بحران کی عکاسی کرتی ہے۔ اگرچہ دونوں فریق مذاکرات کی پیش رفت کیلئے امید ظاہر کرتے ہیں مگر ایک دوسرے پر پوری طرح اعتماد کرنے کو تیار دکھائی نہیں دیتے یا مذاکراتی عمل میں دوسرے فریق کے مقابلے میں مضبوط پوزیشن کے تاثر کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔

مذاکراتی عمل میں ایسا ہونا حیران کن نہیں مگر کوشش یہ ہونی چاہیے کہ ایسی صورتحال مذاکرات کے عمل کی راہ میں رکاوٹ نہ بنے۔ اس کیلئے فریقین کو تحمل‘ بردباری اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہو گا اور ایسے بیانات اور لب و لہجے سے گریز کی ضرورت ہو گی جو امن کے عمل کو خطرے میں ڈالنے کا سبب بن سکتا ہو۔کسی بھی معاہدے کی کامیابی کا دارومدار صرف دستاویزی نکات پر نہیں بلکہ اس اعتماد پر ہوتا ہے جو فریقین ایک دوسرے پر کرتے ہیں۔ اگر ایک فریق کو یہ محسوس ہو کہ دوسرا اپنی پالیسیوں یا مطالبات میں بار بار تبدیلی لا رہا ہے تو اس سے نہ صرف بداعتمادی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ مذاکرات کا عمل بھی تعطل کا شکار ہو سکتا ہے۔ ایران کی جانب سے یہ مطالبہ اسی پس منظر میں سامنے آیا ہے کہ امریکہ اپنے مؤقف میں تسلسل برقرار رکھے اور بار بار ردوبدل سے گریز کرے۔ یہ مطالبہ بظاہر سادہ نظر آتا ہے مگر اس کی اہمیت انتہائی بنیادی ہے کیونکہ مستقل مزاجی ہی اعتماد سازی کی پہلی شرط ہوتی ہے۔ایران امریکہ مذاکرات اور جنگ بندی کیلئے پاکستان کی سفارتی کوششیں قابلِ ذکر ہیںجن کی بدولت فریقین کو عارضی جنگ بندی اور مذاکرات کے عمل میں مصروف کرنا ممکن ہوا ہے۔
تاہم یہ احسن کوششیں اسی صورت نتیجہ خیز ثابت ہو سکتی ہیں جب ایران اور امریکہ سنجیدگی اور ذمہ داری کے ساتھ مذاکرات کو مستقل حل کے طور پر دیکھیں اور سوشل میڈیا کی بیان بازی کے بجائے سنجیدہ سفارتکاری کی طرف توجہ کریں۔ ایران اور امریکہ کو پائیدار امن کے قیام کیلئے اپنے رویوں میں لچک‘ سنجیدگی اور مستقل مزاجی پیدا کرنا ہوگی۔ یہی وہ عوامل ہیں جو کسی بھی پیچیدہ تنازع کو حل کرنے میں کلیدی کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اس سنجیدگی کیساتھ اگر موجودہ پیشرفت کو درست سمت میں آگے بڑھایا گیا تو امید کی جا سکتی ہے کہ آنے والا مذاکراتی دور نہ صرف ان دونوں ملکوں بلکہ پورے خطے کیلئے استحکام اور خوشحالی کی نئی راہیں کھول سکتا ہے۔ہمیں یہ بھی مان کر چلنا ہو گا کہ ان دونوں ممالک کے درمیان عدم اعتماد کی خلیج گہری رہی ہے اور اسی وجہ سے ہر پیشرفت کو پائیدار شکل دینا ایک بڑا چیلنج بن جاتا ہے؛ چنانچہ بات چیت کا عمل طول کھینچتا ہے اور اس دوران کئی نشیب و فراز آتے ہیں۔ معاملات کی حساسیت کی نوعیت بھی کچھ اس طرح کی ہے کہ ان کو طے کرنا وقت طلب ہے۔2015 ء میں ہونے والے عالمی جوہری معاہدے کی مثال سامنے ہے کہ اس کو 20 ماہ کی طویل گفت و شنید کے بعد طے کیا جاسکا تھا۔
اس تناظر میں مذاکرات کے موجودہ عمل کی ممکنہ رفتار کا اندازہ لگانا آسان ہونا چاہیے۔ تاہم ایران اور امریکہ کو اس حقیقت کا احساس ہونا چاہیے کہ دونوں میں امن اور ہم آہنگی علاقائی اور عالمی امن اور ترقی کیلئے کس قدر اہم ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ڈیزل سستا، کرایے برقرار(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-19/11116</link><pubDate>Sun, 19 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-19/11116</guid><description>آٹھ روز کے دوران ڈیزل کی قیمت میں 167روپے فی لٹر کی نمایاں کمی ملک میں مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے کی سمت ایک مثبت اشارہ ثابت ہو سکتی تھی۔ تاہم زمینی حقیقت یہ ہے کہ اس کمی کے باوجود گڈز ٹرانسپورٹرز کی جانب سے کرایوں میں کوئی کمی نہیں کی گئی‘ اور ان کے نرخ بدستور اسی سطح پر برقرار ہیں جس سطح پر وہ اس وقت پہنچ گئے تھے جب ڈیزل کی قیمت 520 روپے فی لٹر تھی۔ ٹرانسپورٹ لاگت اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر براہِ راست اثر انداز ہوتی ہے۔ جب سامان کی ترسیل مہنگی ہوتی ہے تو اس کے اثرات فوری طور پر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔

ہمارے ہاں یہ روش جڑ پکڑ چکی ہے کہ جیسے ہی پٹرولیم مصنوعات کی قیمت بڑھتی ہے‘ ٹرانسپورٹرز کرایوں میں فوری اضافہ کر دیتے ہیں‘ لیکن اس کے برعکس جب تیل کی قیمتیں کم ہوتی ہیں تو اس کمی کا فائدہ عام صارف تک منتقل نہیں کیا جاتا۔اس لیے حکومت کو محض تیل کی قیمتوں میں کمی یا اضافے کے اعلان تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ ایک واضح پالیسی فریم ورک کے تحت یہ یقینی بنانا چاہیے کہ ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا اثر ٹرانسپورٹ کرایوں پر منصفانہ اور شفاف انداز میں منتقل ہو۔ اس مقصد کیلئے  ٹرانسپورٹ سیکٹر کی مؤثر نگرانی اور قیمتوں کے تعین کا مربوط نظام ناگزیر ہے۔ اگر یہ عدم توازن برقرار رہا تو پٹرولیم قیمتوں میں کمی کے باوجود مہنگائی کا طوفان کم نہیں ہو گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ناقص حفاظتی اقدامات(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-19/11115</link><pubDate>Sun, 19 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-19/11115</guid><description>اگلے روز کراچی میں گٹر کی صفائی کے دوران تین مزدور زہریلی گیس کے باعث جان کی بازی ہار گئے۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں‘ سینیٹری ورکرز کے حقوق کیلئے کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم کے مطابق ملک میں ہر سال 100کے قریب سینیٹری ورکرز مین ہول کے حادثات میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ ٹیکنالوجی کے اس جدید دور میں‘ جب اس مقصد کیلئے دنیا بھر میں مشینیں استعمال ہوتی ہیں‘ ہمارے ہاں اب بھی گٹروں کی دستی صفائی کا نظام رائج ہے‘ اور اس میں بھی حفاظتی اقدامات کو بروئے کار نہیں لایا جاتا۔

محکمہ لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ کی جانب سے گٹروں کی صفائی کرنیوالے ورکرز کیلئے گیس ماسک‘ آکسیجن سلنڈر‘ وینٹی لیشن سسٹم اور حفاظتی سوٹ سمیت 17حفاظتی آلات کو لازمی قرار دیا گیا ہے لیکن عملی طور پر ان ورکرز کو حفاظتی سامان کے طور پر صرف ایک رسی فراہم کی جاتی ہے۔ یہ صورتحال فوری اور سخت اقدامات کی متقاضی ہے۔ انسانی جان کی حفاظت سب سے مقدم ہے‘ اسلئے گٹروں کی دستی صفائی پر مکمل پابندی عائد کی جانی چاہیے اور اسے جدید سکشن‘ جیٹنگ اور روبوٹک مشینوں سے تبدیل کیا جانا چاہیے۔ اگر کسی مجبوری کے تحت لائن کی دستی صفائی ضروری ہو تو گٹر مینوں کو مکمل حفاظتی کِٹ فراہم کی جانی چاہیے۔ حفاظتی قواعد پر عملدرآمد نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ حکام کیخلاف سخت کارروائی بھی ناگزیر ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>دل کے کھلے دروازے(مجیب الرحمٰن شامی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mujeeb-ur-rehman-shami/2026-04-19/51792/16069401</link><pubDate>Sun, 19 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mujeeb-ur-rehman-shami/2026-04-19/51792/16069401</guid><description>امریکہ اور ایران کے درمیان رابطے جاری ہیں۔ امید کی کرنیں اپنا آپ دکھا رہی ہیں۔ پاکستان کی سفارتکاری عروج پر ہے۔  صدر ڈونلڈ ٹرمپ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا ڈنکا بجا رہے ہیں تو ایران بھی پاکستان کے ترانے گا ر ہا ہے۔ فیلڈ مارشل نے ایرانی رہنماؤں سے بامعنی مذاکرات کیے ہیں اور حالات کا رُخ بدل ڈالا ہے۔ امریکہ نے اسرائیل کو لبنان میں جنگ بندی پر مجبور کیا تو ایران نے آبنائے ہرمز کو کھول دیا۔ پوری دنیا میں امید اور اطمینان کی لہر دوڑ گئی۔ اسلام آباد میں مذاکرات کا دوسرا دور شروع ہونے کو ہے۔ صدر ٹرمپ اور ایرانی رہنماؤں کے درمیان بیان بازی جاری ہے۔ ایک دوسرے سے اختلاف بھی کیا جا رہا ہے‘ اپنی اپنی بات پر اصرار بھی ہو رہا ہے لیکن بات چیت جاری رکھنے پر بھی اتفاق ہے۔ ڈیڈ لاک پیدا نہیں ہوا۔ تفصیلی معاہدے پر غور و خوض جاری ہے۔ صدر ٹرمپ دستخط کرنے کیلئے اسلام آباد آنے پر تیار دکھائی دے رہے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا ہے کہ پاکستان واحد ثالث ہے اس کے ذریعے بات آگے بڑھ رہی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف سعودی عرب اور قطر سے ہوتے ہوئے ترکیہ پہنچے اور وہاں سے گھر لوٹے ہیں۔ پاکستان کا نام ہر طرف گونج رہا ہے۔ اسے  حروفِ تحسین سے نوازا جا رہا ہے۔ اور تو اور انڈیا میں بھی پاکستان کا اعتراف کرنے والی آوازیں اُٹھ رہی ہیں۔ قیام امن کیلئے اس کے کردار کو سراہا جا رہا ہے کہ یہ خود بھارت کے مفاد میں بھی ہے۔ جنگ مستقل طور پر بند ہو گی‘ امن بحال ہو گا تو بھارتی معیشت بھی بحال ہو گی‘ وہاں کے لوگ بھی اطمینان کا سانس لے سکیں گے۔ہر پاکستانی کیا ہر اُس شخص کی دعا ہے کہ مذاکرات کامیاب ہوں‘ جو امن کا متلاشی ہے۔ مصالحت اور مفاہمت میں پاکستان کے کردار نے پوری قوم کو سربلند کیا ہے۔ گزشتہ آٹھ عشروں میں سفارتی محاذ پر ایسی رفعتیں اس کے حصے میں نہیں آئیں جو اَب دیکھنے میں آ رہی ہیں۔ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت اور اس کے سفارت کاروں نے اپنی مہارت‘ محنت اور لگن کا لوہا منوا لیا ہے۔ پاکستان کی فوج ہی دنیا کی بہترین فوجوں میں شمار نہیں ہوتی اس کے سفارت کار بھی نگاہوں کا مرکز ہیں۔ امید کی جا رہی ہے کہ ایران اور امریکہ آمنے سامنے بیٹھ کر ایسے معاہدے پر متفق ہو جائیںگے جس کے نتیجے میں پائیدار امن قائم ہو سکے گا۔ اس کیلئے امریکہ اور ایران دونوں کو بہت کچھ کرنا پڑے گا۔ اسرائیل پر کڑی نظر رکھنا ہو گی‘ اسے بھی کسی قاعدے اور ضابطے کا پابند بنانا ہو گا۔ اسرائیل نے بین الاقوامی قوانین کی جو مٹی پلید کی ہے‘ اس سے ہر شخص آگاہ ہے۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کو ہوا میں اڑایا ہے۔ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے احکامات کا مذاق بنایا ہے‘ اس کی منہ زوری اور خونریزی نے اسے عالمی رائے عامہ کی نظر میں گرا دیا ہے۔ امریکہ میں بھی سوالات اٹھ رہے ہیں کہ امریکہ پر اپنی مرضی مسلط کرنے کی اجازت کسی اسرائیلی وزیراعظم کو کیونکر دی جا سکتی ہے۔ واضح طور پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ نیتن یاہو نے امریکی صدارت بھی &#39;&#39;سنبھال‘‘ لی ہے۔ صدر ٹرمپ کو ورغلا کر اُن سے وہ کچھ کرا گزرا ہے جو امریکہ کی سبکی اور رسوائی کا سبب بن گیا ہے۔ایران اور امریکہ دونوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایک دوسرے کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانے کے بجائے وسیع تر تناظر میں سوچیں۔ صدر ٹرمپ اور اُن کے حواریوں نے آسمان سر پر اٹھا رکھا ہے کہ ایران کو جوہری طاقت نہیں بننے دیں گے‘ دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ ایران نے کبھی اسے اپنا ہدف قرار ہی نہیں دیا۔ اس کے سپریم لیڈر ایٹم بم کے حصول کو حرام قرار دے چکے ہیں۔ ایران  چیخ چیخ کر یہ اعلان کرتا چلا آ رہا ہے کہ وہ ایٹم بم بنانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ اسے پُرامن مقاصد کیلئے ایٹمی توانائی کا حصول مقصود ہے جو کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت ہر ملک کا حق ہے۔ ایران این پی ٹی پر دستخط کر چکا‘ اس کا پروگرام بین الاقوامی معائنہ کاروں کی نگرانی میں کام کرتا رہا ہے‘ امریکہ نے خود حالات کو بگاڑا اور یک طرفہ اقدامات کے ذریعے ماحول کو پراگندہ کیا ہے۔جوہری صلاحیت کے بارے میں اصولی اتفاقِ رائے کے بعد کسی تنازعے کو سر اٹھانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ فریقین کا مفاد اس میں ہے کہ جزوی تفصیلات کو اتنا بڑھایا نہ جائے کہ اصل مقصد نگاہوں سے اوجھل ہو جائے۔ ایران اور امریکہ دونوں کو اس حوالے سے قابلِ عمل اقدامات تجویز کرنا چاہئیں۔ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت جو معاونت کر رہی ہے‘ وہ سب کے سامنے ہے۔ امید ہے اسلام آباد میں مذاکرات کا نیا دور فیصلہ کن ثابت ہو گا‘ دنیا بھر میں اس پر اطمینان کا سانس لیا جا سکے گا۔ہمارے فیصلہ سازوں کی بین الاقوامی پذیرائی اپنی جگہ‘ قومی سالمیت اور استحکام کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے داخلی مسائل کو بھی اوجھل نہ ہونے دیں۔ معاشی اور سیاسی مشکلات کو کم کرنے کی تدبیر کریں۔ صنعتی ترقی کی رفتار کو تیز کرنے اور سیاسی تناؤ میںکمی لانے کیلئے موثر اقدامات کی فوری ضرورت ہے۔ متحدہ عرب امارات نے قرض کی واپسی کا مطالبہ کر کے جو مشکل پیدا کی تھی‘ سعودی عرب کی معاونت نے اسے آسان کر دیا لیکن ہمیں اپنے مسائل کا مستقل حل دریافت کرنا ہو گا۔ پاکستان نے دفاعی اور عسکری شعبوں میں جو صلاحیت حاصل کی ہے اس نے اسے عالمی کردار ادا کرنے کے قابل بنایا ہے۔ دوست ممالک کے ساتھ مل بیٹھ کر ایسی سرمایہ کاری کے مواقع بھی تلاش کرنا ہوں گے جو ہماری معیشت کو توانا بنا سکیں۔ پاکستان پر اس وقت 140ارب ڈالر کے قریب بیرونی قرضے کا بوجھ ہے۔ سعودی عرب اور بعض دوسرے خلیجی ممالک امریکہ میں کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے اعلانات کرتے رہے ہیں۔ اگر آئندہ پانچ سال میں پاکستان میں ایک کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری کو ممکن بنا دیا جائے تو ہمارے دلدر دور ہو سکتے ہیں۔ اس کیلئے قابلِ عمل منصوبے بنانا ہوںگے‘ سرکاری اور نجی شعبوں کو سر جوڑ کر بیٹھنا ہو گا۔ تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے چند ایسے  قیدیوں نے جو فوجی عدالتوں سے سزا یافتہ ہیں‘ ایک مشترکہ بیان میں ایران اور پاکستان کی کامیابیوں پر مبارکباد دیتے ہوئے قومی سیاست میں بھی مفاہمت کا راستہ اختیار کرنے پر زور دیا ہے۔ بیرسٹر حسان اللہ خان نیازی اور بریگیڈیئر ریٹائرڈ جاوید اکرم سمیت کوٹ لکھپت جیل لاہور میں موجود 19قیدیوں نے امید ظاہر کی ہے کہ مقتدر حلقے ماحول کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اندرون  ملک ایسے ہی مکالمے کے جذبے کو اپنائیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ کوئی بھی ملک اس وقت مضبوط نہیں ہو سکتا جب اس کے عوام  سیاسی طور پر منقسم اور باہمی انتشار کی لپیٹ میں ہوں۔ ممتاز دانشور اور کالم نگار حفیظ اللہ خان نیازی نے یہ بیان جاری کرتے ہوئے لکھا ہے کہ میں اپنی طرف سے پی ٹی آئی کے قیدیوں کے جذبے اور دانائی کو سراہتا ہوں‘ اس امید کے ساتھ کہ &#39;&#39;پاکستان ہمیشہ زندہ باد‘‘ کا نعرہ لگانے والے ان نوجوان آوازوں پر توجہ دیں۔وقت آ گیا ہے کہ اس معاملے میں سنجیدگی سے غور کیا جائے‘ تمام &#39;&#39;سیاسی قیدیوں‘‘ کے معاملات پر نظرثانی ہو‘ پہلے مرحلے میں (کم از کم) عمر رسیدہ اور بیمار افراد پر زنداں کے دروازے کھولے جا سکتے ہیں۔ امریکہ اور ایران اگر خون کے دریا عبور کرنے کے بعد بات چیت پر آمادہ ہو سکتے ہیں تو پاکستانی سیاستدان ایک دوسرے کے لیے دل کے دروازے کیوں نہیں کھول سکتے؟(یہ کالم روزنامہ &#39;&#39;پاکستان‘‘ اور روزنامہ &#39;&#39;دنیا‘‘ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_37052987.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>فی الحال اسی پر گزارا کریں(ایاز امیر)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-04-19/51793/52905827</link><pubDate>Sun, 19 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-04-19/51793/52905827</guid><description>مذاکرات کے حوالے سے پوری دنیا میں پاکستان کا ڈنکا خوب بجا ہے اور فیلڈ مارشل اور وزیراعظم کی پذیرائی ہوئی ہے۔ صدر ٹرمپ تو اچھے لفظوں میں ذکر کرتے ہی ہیں‘ اوروں نے بھی کیا ہے۔ یہ ہمارے لیے باعث ِفخر ہے اور پاکستان کی سفارتی کارکردگی دیکھ کر دل خوش ہوتا ہے۔ باقی مسائل اپنی جگہ ہیں اور رہیں گے۔ بجلی کی کمی ستائے گی‘ مہنگائی کا بوجھ اٹھانا پڑے گا‘ نالائقیاں جو ہماری اجتماعی زندگی کا حصہ ہیں وہ جاری رہیں گی کیونکہ ہم نے اصلاحِ احوال تو کرنی نہیں۔ لیکن فی الحال پاکستان کا نام جو عالمی اعتبار سے لیا جا رہا ہے اُسی پر خوش ہونا چاہیے۔ جیسے عرض کیا جو مسائل ہیں وہ تو رہیں گے۔ اور یاد آیا ہمارا کشکول نہیں ٹوٹے گا‘ وہ اجتماعی زندگی کا اٹوٹ اَنگ بن چکا ہے۔ایران امریکہ جنگ کے تناظر میں ایک بات بڑی شدت سے سمجھ آتی ہے کہ مضبوط فوج اور مضبوط دفاعی اداروں کے بغیر آج کل کی دنیا میں جینا مشکل ہے۔ خاص کر کے اس خطے میں جہاں ہمارا وجود ہے۔ ہم جیسے کئی سمجھتے تھے کہ گو ایٹمی صلاحیت حاصل کرنا اچھی بات ہے لیکن ایٹمی دھماکے نہیں کرنے چاہیے تھے۔ وقت نے ثابت کیا ہے کہ یہ رائے غلط تھی‘ اور اُس وقت دھماکے کرنا ہی مناسب تھا۔ ہم جیسے یہ رائے بھی رکھتے تھے کہ دفاعی امور پر زیادہ خرچہ نہیں ہونا چاہیے لیکن حالات بتاتے ہیں کہ پاکستان جیسا ملک جس میں اور بہت کمزوریاں ہیں اس کیلئے مضبوط دفاعی نظام ناگزیر ضرورت ہے۔ دورِ جدید کی  جنگوں نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ بغیر طاقتور ایئر فورس کے پاکستان جیسے ملکوں کا جینا محال ہے۔ شکر ہے کہ ہمارے پاس ایک مضبوط ایئر فورس ہے اور ہمارے پائلٹ اپنی صلاحیتوں کے حوالے سے کسی ایئر فورس سے کم نہیں۔ یہ اور بات ہے کہ جب دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط رکھنا ہو اور ایٹمی صلاحیت پر بھی قادر ہونا ضروری سمجھا جائے تو جس ملک کے مالی وسائل محدود ہوں اسے دیگر اللے تللوں سے پرہیز کرنی چاہیے۔ دیگر عیاشیوں پر کنٹرول کرنا چاہیے۔ لیکن پاکستان کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ دفاعی صلاحیت پر تو ہم نے پیسے خرچنے ہیں کیونکہ اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں‘ لیکن ساتھ ہی ہم نے دیگر اللے تللے بھی جاری رکھنے ہیں۔ امورِ ریاست میں جو کفایت شعاری کا تصور ہونا چاہیے وہ ہماری سمجھ اور پہنچ سے  باہر لگتا ہے۔ انڈسٹریل صلاحیت ہماری ویسے ہی بہت محدود ہے‘ زراعت ہماری پیچھے ہے‘ اتنی آبادی ہونے کے باوجود ہماری معیشت کی وہ پروڈکٹو کیپسٹی نہیںجو کہ ہونی چاہیے۔ لیکن ساتھ ہی ہم نے قسم کھا رکھی ہے کہ امورِ ریاست میں فضول خرچی ضرور کرنی ہے اور ریاست کی فضول عیاشیوں میں کوئی کمی نہیں لانی۔ یہ بھی تہیہ ہمارا لگتا ہے کہ صحتِ عامہ اور تعلیمِ عامہ کو ملکی امور میں ترجیح نہیں دینی۔ایران کی مثال لے لیں‘ ان کا تعلیمی نظام اور اس نظام کی بدولت ان کے ریسرچ انسٹیٹیوٹ ہم سے کہیں آگے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سالہا سال امریکی پابندیوں کے باوجود وہ اتنا مؤثر میزائل اور ڈرون نظام قائم کر سکے۔ ان کے سارے میزائل سسٹم اپنے ہیں۔ کہاں پہاڑوں کے نیچے انہوں نے میزائل اور ڈرون تنصیبات قائم کیں‘ اتنے مضبوط اور گہرے کہ وحشیانہ اسرائیلی اور امریکی بمباری وہاں تک اثر نہ دکھا سکی۔ ایران کی تباہی بہت ہوئی ہے اس سے تو کوئی انکار نہیں لیکن کھڑے تو ہیں‘ جیسے اسرائیلی اور امریکی توقع رکھ رہے تھے ٹوٹے تو نہیں۔ اور جو مذاکرات ہو رہے ہیں وہ برابری کی سطح پر کر رہے ہیں اور کوشش ان کی یہی ہے کہ ان مذاکرات میں زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کر سکیں۔ ہم نے ایٹم بم بنا لیا اور گزرے وقتوں سے زیادہ اب سمجھ آتی ہے کہ یہ کوئی چھوٹا کارنامہ نہ تھا۔ ایئر فورس اور فوج بھی ہماری مضبوط ہے۔ لیکن ہر کوئی مانے گا کہ ملکی ترقی کے حوالے سے جو ہماری ترجیحات ہونی چاہئیں اور جو زور ہمیں تعلیم اور صحت عامہ پر لگانا چاہیے‘ ایسا ہم نہیں کر سکے۔ ہماری اجتماعی زندگی میں رشوت‘ بددیانتی اور اقربا پروری جیسی لعنتیں ہیں ان پر جو توجہ دینی چاہیے کبھی نہ دی اور نہ دیں گے۔ بہرحال ایسی باتیں ہوتی رہیں گی‘ ابھی تو دعا کرنی چاہیے کہ ہماری کوششیں رنگ لائیں اور اس کمبخت بے مقصد جنگ کا کوئی دیرپا حل نکل آئے۔ حالات وہاں خراب رہے تو ہماری معیشت کا کام پورا ہو جائے گا۔ صدر ٹرمپ نے ماری جھک ہے اور باقی دنیا کو تو چھوڑیے ہم جو باہر کے تیل اور باہر کی گیس پر گزارا کرتے ہیں ہمیں بھاری قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے۔جنگ کے ڈھول ابھی پِٹنے ہی شروع ہوئے تھے کہ سمجھ آ گئی کہ تیل اور گیس کی قلت کی وجہ سے لوڈ شیڈنگ شدت سے شروع ہو جائے گی۔ جلدی سے گاؤں کے بنگلے پر سولر لگوا لیے اور پھر چکوال میں بھی ایسا ہی کیا۔ ہمارا دوست جو یہ کام کرتا ہے‘ اس نے بل تو کچھ لمبا ہی دے دیا لیکن سوچا کہ جہاں ساری ریاست قرض کی مے کے فلسفے پر چل رہی ہے ہم بھی اسی فلسفے کو سامنے رکھیں۔ کچھ ادائیگی کر دی ہے اور کچھ کو جیسا کہ ہم سعودی پیسوں سے کرتے ہیں‘ رول اوور کیا ہے۔ ادائیگی ظاہر ہے ہو جائے گی لیکن اتنے میں لوڈ شیڈنگ سے مکمل نجات پا چکے ہیں۔ اب آس پاس پوچھنا پڑتا ہے کہ لوڈ شیڈنگ کتنی ہو رہی ہے اور تب سمجھ آتی ہے کہ ایران پر جھک کا اثر ہم پر کتنا پڑ رہا ہے۔ بجلی کی قلت کا جہاں بندوبست ہو گیا ہے باقی کی اشیائے ضروریہ کا بندوبست ہمارے پاس رہتا ہی ہے۔ اس ضمن میں ہمارے گلاسکو اور لندن کے دوست شاد رہیں‘ ہم فقیروںکا  خیال رکھ لیتے ہیں۔ چکوال میں بھلا ہو نزدیک چھپڑ بازار میں مدینہ ہوٹل کا‘ بڑی عمدہ دال اور سبزی پکتی ہے۔ غریب خانے میں کچھ پکا نہ ہو تو وہاں سے معقول داموں کچھ نہ کچھ مل جاتا ہے۔ عیاشی کا موڈ آئے تو ناشتہ نثار ہوٹل سے آ جاتا ہے۔ نئے ہوٹل بھی یہاں بن گئے لیکن ہمارا تکیہ انہی دو جگہوں پر ہوتا ہے۔ رزق کا وعدہ تو ویسے بھی اوپر والے کا ہے اور رزق کے علاوہ جیسے عرض کیا ادھر اُدھر سے کام ہو جاتا ہے اور یہ بھی ہے کہ کبھی ہمت کرکے خود بھی خرچہ کر لیتے ہیں تاکہ سپلائی اور ڈیمانڈ کے تقاضے پورے رہیں۔ روزمرہ کے استعمال میں ہمارے پاس ہنڈا سٹی ہے جو کہ دیکھا جائے تو چھوٹی گاڑیوں میں شمار ہوتی ہے۔ کئی خیرخواہ پوچھتے ہیں کہ بڑی گاڑی کیوں نہیں رکھتے‘ آپ کو زیادہ جچے گی۔ ان سے کہتے تو کچھ نہیں پر دل میں جواب اٹھتا ہے کہ بڑی گاڑی تمہارے دادا ہمیں لے کر دیں گے؟ پٹرول کی مہنگائی کے ان دنوں میں چھوٹی گاڑی ہی فٹ رہتی ہے۔ کچھ اور دھندا جیسا کہ رئیل اسٹیٹ یا ٹھیکیداری کرتے اور ان کاموں کا کچھ ہنر ہوتا تو اللے تللوں میں ہم بھی بڑی شان سے پڑتے۔ لیکن دال ساگ مل جائے اور شبِ غم کا علاج بھی ہو جائے تو اوپر والے سے اور کیا مانگنا۔ سچ پوچھیے تو ریاست بھی ہماری جیسی سادگی کے اصولوں پر اپنے آپ کو استوار کرے تو جسے ہم مملکتِ خداداد کہتے ہیں اس کے حالات زیادہ نہیں تو کچھ سنور جائیں۔ اور یہ جو کشکول پر کام چلانے کیلئے انحصار کرنا پڑتا ہے اس سے چھٹکارا حاصل ہو جائے۔ لیکن صحیح عیاشی کیلئے کچھ ذوق بھی چاہیے ہوتا ہے۔ جس بلا کا یہ نام ہے وہ کہاں سے میسر ہو گی؟</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_80573045.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بہادری سے بربادی تک(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-04-19/51794/35962684</link><pubDate>Sun, 19 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-04-19/51794/35962684</guid><description>آپ اپنی آنکھیں اور دماغ کھول کر رکھیں تو آپ کو خود بھی احساس ہو جاتا ہے کہ زندگی میں اب کون سا مرحلہ آن پہنچا ہے جہاں رک جانا چاہیے۔ آپ کو کسی دوسرے شخص کی ضرورت نہیں پڑنی چاہیے کہ وہ آپ کو بتائے کہ اب کافی ہو گیا ہے‘ اب یہیں رک جائیں‘ ورنہ آگے بڑی مصیبت انتظار کر رہی ہے۔ مجھے یہ سبق 2002ء میں ملا تھا‘ جب میں ایک انگریزی اخبار میں ایڈیٹر رپورٹنگ تھا۔ روزانہ سکینڈلز اور سٹوریز بریک کرنے کے علاوہ ہفتہ وار کمنٹری بھی کرتا تھا۔ پارلیمنٹ سے بھی رپورٹنگ کر رہا تھا (جو آج بھی کر رہا ہوں)۔ میری تحریریں اکثر سخت تنقید سے بھرپور ہوتی تھیں جنہیں اخبار کی ادارتی پالیسی کے تحت بعض اوقات ایڈٹ کر لیا جاتا تھا۔ وہ پرویز مشرف کا دور تھا‘ لہٰذا مقتدرہ کی سختیاں بھی زیادہ تھیں لیکن اس کے باوجود اخبار کے مالک اور ایڈیٹر بہادری کے ساتھ سکینڈلز اور کمنٹری شائع کر دیتے تھے‘ جس پر شدید ردِعمل بھی آتا تھا۔ایک دن میں نے ضرورت سے کچھ زیادہ ہی سخت سیاسی تبصرہ پارلیمنٹ سے لکھ کر پنڈی ڈیسک بھیجا تو وہاں خالد اختر صاحب‘ جو اُن تمام خبروں اور مواد کو دیکھتے اور ایڈٹ کرتے تھے‘ کا فون آیا۔ خالد اختر نہ صرف سینئر صحافی تھے اور اپنے کام میں مہارت رکھتے تھے بلکہ اس سے بڑھ کر ان کی طبیعت اور مزاج انتہائی عمدہ تھا۔ ایسا ہی مزاج ہمارے سینئر احمد حسن علوی کا بھی تھا‘ جو ہم جیسے جونیئرز کو مسلسل رہنمائی دیتے رہتے تھے۔ یہی کام خالد اختر بھی کرتے تھے۔ میرا پارلیمنٹ سے بھیجا گیا سخت سیاسی تبصرہ پڑھ کر ان کا فون آیا۔ وہ مجھے میرے پہلے نام کے بجائے &#39;&#39;کلاسرے‘‘ کہہ کر بلاتے تھے۔ کہنے لگے &#39;&#39;کلاسرے رپورٹر کو خود بھی معلوم ہونا چاہیے کہ اسے کہاں رکنا ہے۔ مسلسل اور مادر پدر آزادی کی خواہش بھی مناسب نہیں ہوتی۔ یہاں تنقید جمہوری حکومتیں برداشت نہیں کرتیں‘ یہ تو پھر مارشل لا کا دور ہے۔ اگرچہ میں اخباری پالیسی کے تحت آپ کی تحریروں کو جہاں مناسب سمجھتا ہوں ایڈٹ کر لیتا ہوں لیکن میرے خیال میں ایک رپورٹر کو خود بھی علم ہونا چاہیے کہ ان حالات میں کون سی چیز شائع ہو سکتی ہے‘‘۔ خالد اختر کی یہ بات مجھے میری ذاتی زندگی میں بھی کام آئی۔ اگرچہ اس کے بعد بھی میری اور میرے ساتھیوں کی تحریریں سخت مواد سے بھرپور ہوتی تھیں لیکن لکھتے وقت کم از کم یہ بات ذہن میں رہتی تھی کہ انسان کو حالات کا ادراک ہونا چاہیے کہ وہ کہاں کھڑا ہے۔یہ لمبی تمہید مجھے اس وقت ایران کی نئی اور خطرناک صورتحال کو دیکھ کر باندھنی پڑی ہے۔ ایران امریکہ مذاکرات کی کامیابی پر لوگ خوش ہو رہے تھے‘ لیکن یہ خوشی زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی۔ ایران نے پہلے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کیا‘ جس پر پوری دنیا خوش ہوئی۔ ایرانیوں کے پاکستان میں صدر ٹرمپ کے ساتھ ملاقات اور معاہدے کی راہ بھی ہموار ہوتی نظر آئی لیکن اب ایران اور امریکہ کے درمیان نیوکلیئر معاملے پر دوبارہ شدید اختلافات ابھر آئے ہیں۔ پہلے امریکہ یہ پیشکش کر رہا تھا کہ ایران اپنا باقی ماندہ نیوکلیئر مواد اس کے حوالے کر دے تو وہ 20 ارب ڈالر دینے کو تیار ہے لیکن اب دوبارہ جمود طاری ہو گیا ہے۔ ایرانی فوج نے پھر ہرمز کو بند کر دیا ہے حالانکہ ایرانی وزیر خارجہ نے اسے کھولنے کا اعلان کیا تھا۔ کیا ایرانی سیاسی اور فوجی قیادت ان مذاکرات پر ایک صفحے پر نہیں؟ کیا سیاسی قوتیں امریکہ سے ڈیل کرنا چاہتی ہیں جبکہ پاسدارانِ انقلاب اس کے مخالف ہیں؟ یہ ایک نہایت خطرناک صورتحال ہے۔ اسی تناظر میں مَیں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ یہ حق ایرانی قوم کا ہے کہ وہ خود فیصلہ کرے کہ اسے کون سا راستہ اختیار کرنا ہے۔ اگرچہ ان کے فیصلوں کے اثرات پوری دنیا پر پڑ رہے ہیں اور آئندہ بھی پڑیں گے۔ امریکہ میں موجود صحافی دوست انور اقبال کہتے ہیں کہ پاکستان میں بیٹھ کر چائے پیتے ہوئے ایران کی بہادری اور مزاحمت کی تعریف کرنا آسان ہے لیکن جن لوگوں پر گزر رہی ہوتی ہے‘ وہی بہتر جانتے ہیں۔ تاہم کسی بھی ملک کی قیادت کا اپنے ملک کو برباد کرنے یا بچانے میں بہت بڑا کردار ہوتا ہے۔ صرف دو مثالیں پیش کروں گا۔ جنگ عظیم دوم میں جاپان نے پرل ہاربر پر حملے کا فیصلہ کیا۔ کابینہ کے کچھ وزرا اسکے خلاف تھے لیکن حمایتی وزرا نے انہیں بزدل اور وطن دشمن قرار دے دیا اور کہا کہ ہم سمورائی جنگجو جاپانی ہیں‘ ہماری بہادری کی ہزاروں سال پرانی تاریخ ہے۔ امریکہ کی تاریخ ہی کیا ہے‘ محض دو ڈھائی سو سال۔ ( ایران بھی آج یہی مؤقف اختیار کیے ہوئے ہے کہ ہماری ہزاروں سال پرانی تاریخ ہے جبکہ امریکہ کو قائم ہوئے زیادہ عرصہ نہیں ہوا)۔ بالآخر جاپانی بادشاہ کو وزیر اعظم نے راضی کر لیا۔ پرل ہاربر پر حملہ ہوا‘ تین ہزار امریکی مارے گئے۔ جواباً امریکہ نے ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرا دیے۔ امریکہ نے جاپانیوں سے کہا کہ سرنڈر کرو‘ ورنہ تیسرا بم بھی گرایا جائے گا۔ تب بادشاہ کو احساس ہوا کہ پرل ہاربر کے فیصلے نے کتنی بڑی تباہی مچا دی تھی۔ آخرکار بادشاہ نے ریڈیو پر سرنڈر کا اعلان کیا کہ اب کافی ہو چکا ہے۔ وہ اپنی سرخ رنگ کی بادشاہ کیلئے مخصوص شاہی گاڑی میں امریکی سفارتخانے گئے اور جنرل ڈگلس سے مل کر یہ طے کیا کہ اپنے ملک اور عوام کو مزید تباہی سے کیسے بچایا جائے۔ باقی تاریخ ہے۔اسی طرح 2001ء میں جب اسامہ بن لادن نے نیویارک حملوں کی ذمہ داری قبول کی تو امریکہ نے افغانستان سے مطالبہ کیا کہ اسے ہمارے حوالے کر دیں‘ ورنہ افغانستان پر حملہ کیا جائے گا۔ افغان طالبان نے کہا کہ ان کی پشتون ولی انہیں اپنا مہمان امریکہ کے حوالے کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔ نتیجتاً امریکہ افغانستان پر حملہ آور ہوا‘ وہاں لاکھوں لوگ مارے گئے‘ بے گھر ہوئے۔ مُلا عمر خود تو بھاگ نکلے لیکن خواتین اور بچے پاکستان کے کیمپوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ افغانستان آج تک اُس فیصلے کے اثرات سے نہیں نکل پایا۔ امریکہ بیس سال تک وہاں موجود رہا۔ ہم یہاں بیٹھ کر خوش ہوتے رہے کہ افغان لڑ رہے ہیں۔ جب سب کچھ ہو گیا تو امریکہ نے اپنی مرضی سے دوبارہ طالبان کو کابل میں بٹھا دیا‘ اور وہیں سے کھیل دوبارہ شروع ہو گیا جہاں سے ختم ہوا تھا۔ کسی افغان نے اپنے &#39;&#39;مہمان‘‘ سے یہ نہ پوچھا کہ تمہارے پیچھے عالمی طاقت کیوں لگی ہوئی ہے اور تم ہماری سرزمین کو کیوں استعمال کر رہے ہو؟ پشتون ولی بھاری پڑ گئی‘ جس کی قیمت لاکھوں افغانوں نے چکائی اور اب تک چکا رہے ہیں۔آج ایران کو بھی ویسی ہی صورتحال کا سامنا ہے۔ اسے مذاکرات سے جو مل رہا ہے‘ وہ بھی کم نہیں لیکن شاید وہ مزید حاصل کرنے کی خواہش رکھتا ہے۔ پوری دنیا اسے مظلوم سمجھ رہی ہے کہ اس پر حملہ ہوا‘ معصوم ایرانی مارے گئے‘ لہٰذا اسے اپنے اربوں ڈالر واپس ملنے چاہئیں‘ پابندیاں ختم ہونی چاہئیں اور اسے ایک نارمل ملک کے طور پر تجارت کا موقع ملنا چاہیے‘ اور ہم جیسے لوگوں کو بھی کبھی ایران دیکھنے کا موقع ملے۔ یا پھر ایران نیوکلیئر پر وہی مؤقف رکھے جو مُلا عمر نے اسامہ پر رکھ لیا تھا۔ یہ طے ہے کہ دنیا ایران کو نیوکلیئر آپشن رکھنے نہیں دے گی‘ چاہے ہمیں یہ بات پسند ہو یا نہ ہو۔ ایرانی قیادت کو جاپانی بادشاہ کی طرح ایسے فیصلے کرنا ہوں گے جو آنے والی نسلوں کے مفاد میں ہوں۔ انسانی انا اکثر ہماری سمجھ بوجھ پر غالب آ جاتی ہے۔ ایران کیلئے یہ ایک اچھا موقع ہے کہ وہ امریکہ سے ڈیل کر کے ماضی کو دفن کرے اور آگے بڑھے۔ پاکستان بھی ایک حد تک امریکہ پر دباؤ ڈال سکتا ہے لیکن ایسا نہ ہو کہ تھک ہار کر پاکستان بھی پیچھے ہٹ جائے۔جاپان‘ افغانستان اور اب ایران‘ ان تینوں مثالوں میں ایک مشترکہ نام ہے اور وہ ہے امریکہ۔ ضروری نہیں کہ ایک انسان یا قوم اپنا نقصان کر کے ہی سبق سیکھے۔ عقلمند لوگ دوسروں کے تجربات سے سیکھ کر خود کو آزمائشوں میں نہیں ڈالتے۔ بہادری ایک اچھی صفت ہے لیکن کسی مرحلے پر خود رک جانا بھی دانشمندی کہلاتی ہے‘ ورنہ بہادری سے بربادی تک پہنچنے میں زیادہ وقت نہیں لگتا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>شکریہ پاکستان، شکریہ وزیراعظم، شکریہ فیلڈ مارشل!(عمران یعقوب خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-04-19/51795/90623102</link><pubDate>Sun, 19 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-04-19/51795/90623102</guid><description>یہ تین تاریخی فقرے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھولنے کے اعلان کے موقع پر اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر تحریر کیے۔ یہ یادگار فقرے اب تاریخ کا حصہ ہیں۔ اُس تاریخ کا جو وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے حالیہ چند دنوں میں رقم کی ہے۔ امن کے قیام کی ان کاوشوں میں ان کے ساتھ وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی شامل تھے۔ اللہ تعالیٰ کا لاکھوں بار شکر کہ یہ کوششیں بارآور ثابت ہوئیں اور پاکستان ایک سنگین عالمی بحران کو فرو کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔ ان شاء اللہ جلد ہی ایران اور امریکہ کے مابین ایک جامع معاہدہ طے پا جائے گا جس کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کچھ عرصے کے لیے ضرور امن قائم ہو جائے گا اور دنیا کو جنگ کی مختلف طرح کی تباہ کاریوں سے نجات مل جائے گی۔ مستقبل قریب یا بعید میں جب بھی ایران امریکہ جنگ کا ذکر ہو گا پاکستان کا ذکر خود بخود آ جایا کرے گا۔ پاکستان عالمی برادری میں ایک تصفیہ کرانے والے ملک کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔ ہماری لیڈر شپ نے اس امر کا عملی ثبوت دیا ہے کہ ہم جنگ کرنا تو جانتے ہیں لیکن دراصل ہم امن پسند ہیں اور پوری دنیا میں امن چاہتے ہیں۔اس حقیقت سے کوئی چھوٹا بڑا‘ کوئی پڑھا لکھا اور اَن پڑھ بھی انکار نہیں کر سکتا کہ ایران امریکہ جنگ نے دنیا کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا تھا اور اگر یہ کچھ دن مزید جاری رہتی تو پھر ایسے عالمی بحرانوں اور انسانی المیوں نے جنم لینا تھا جن کا مستقبل قریب میں کوئی حل ممکن نہ ہوتا کیونکہ عالمی بحران بڑھتے تو تیزی سے ہیں لیکن ان کے اثرات کم ہونے میں مہینوں اور بعض اوقات برسوں لگ جاتے ہیں۔سبھی جانتے ہیں کہ کم و بیش پونے دو ماہ سے جاری اس جنگ کے نتیجے میں توانائی کا بحران پیدا ہو چکا تھا اور ہر گزرتے دن کے ساتھ شدت اختیار کرتا جا رہا تھا۔ توانائی کا بحران آگے مزید کئی بحرانوں کا باعث بننے والا تھا۔ کل کی خبر یہ ہے کہ ایران نے اپنی داخلی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے تمام پیٹروکیمیکل مصنوعات کی برآمدات کو تا حکمِ ثانی معطل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یاد رہے کہ حالیہ جنگ کے دوران اسرائیل نے ایران میں متعدد پیٹروکیمیکل تنصیبات پر حملے کیے تھے جن میں جنوبی علاقوں عسلویہ اور ماہشہر کی پیٹروکیمیکل تنصیبات بھی شامل ہیں۔ اس کے نتیجے میں ایران کی پیٹروکیمیکل مصنوعات کی پیداوار کم ہو چکی تھی۔ اگر یہ جنگ بند نہ ہوتی‘ اگر آبنائے ہرمز نہ کھلتی‘ اگر ایران اور امریکہ تصفیے کے قریب نہ پہنچ چکے ہوتے تو یہ بات پورے وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ پیٹرو کیمیکل مصنوعات کا بحران پٹرولیم مصنوعات کے بحران سے بڑا اور شدید بحران ثابت ہوتا اور عالمی معیشت کو زیادہ طاقت کے ساتھ ہِٹ کرتا۔ توانائی کا بحران ملوں‘ کارخانوں اور گھریلو صنعتوں کی بندش کا باعث بنتا اور یہ بندش آگے بے روزگاری کے نئے طوفان کا باعث بنتی۔ یہ ایک معاشی حقیقت ہے کہ بے روزگاری ایک الگ نوعیت کی کساد بازاری کا باعث بنتی ہے۔ ابھی دو روز پہلے ہی عالمی مالیاتی فنڈ یعنی آئی ایم ایف نے خبردار کیا تھا کہ ایران کے خلاف جنگ میں مزید شدت اور عالمی تیل منڈیوں میں مسلسل خلل دنیا کو کساد بازاری کے قریب لے جا سکتا ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق بد ترین صورتحال میں توانائی کی منڈیوں کو بار بار جھٹکے لگ سکتے ہیں‘ جس سے عالمی اقتصادی ترقی کی شرح موجودہ 3.1فیصد سے کم ہو کر دو فیصد تک آ سکتی ہے۔ جیسا کہ عرض کیا‘ عالمی کساد بازاری کیا گل کھلاتی ہے‘ اس سے سبھی آگاہ ہیں۔ بہرحال اب ایسے خدشات اور خطرات سے عالمی برادری کو نجات ملنے والی ہے۔ایران امریکہ جنگ اور ان سارے بحرانوں کے ہنگام پاکستان کی تین شخصیات ایسی ہیں جنہوں نے حالات کو درست نہج پر لانے کا بیڑا اٹھایا۔ سب سے پہلے متحارب فریقین یعنی امریکہ اور ایران کے ساتھ رابطے کیے گئے اور انہیں ابتدائی مرحلے میں جنگ بندی پر آمادہ کیا گیا۔ یہ طے تھا کہ جنگ بندی نہ ہوتی تو امریکہ نے ایران پر بڑا حملہ کر دینا تھا جو بڑی تباہی کا باعث بنتا۔ جنگ بندی کے بعد پاکستان نے اسلام آباد میں جنگ کے دونوں بڑے فریقین کو بلایا تا کہ وہ باہمی بات چیت کے ذریعے کسی معاہدے تک پہنچ جائیں۔ بدقسمتی سے یہ مذاکرات کچھ نکات پر فریقین کا اتفاقِ رائے نہ ہونے کی وجہ سے کامیاب نہ ہو سکے۔ کوئی اور ملک ہوتا تو شاید مایوس ہو کر بیٹھ جاتا لیکن وزیراعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے دونوں ملکوں کے مابین بات چیت کا سلسلہ جاری رکھا۔ دونوں رہنما امریکی حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے جبکہ وزیراعظم نے پہلے سعودی عرب اور پھر قطر اور ترکیہ کے دورے کیے اور وہاں کی قیادت کے ساتھ جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال پر تبادلہ خیالات کیا۔ کچھ مشورے بھی ہوئے ہوں گے۔ خود فیلڈ مارشل ایران تشریف لے گئے۔ وہاں انہوں نے صدر مسعود پزشکیان سمیت ایران کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ ملاقاتیں کیں اور انہیں امریکہ کے ساتھ مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانے پر آمادہ کیا۔ ایران کی امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی ایک بڑی شرط یہ تھی کہ لبنان پر اسرائیلی حملے بند کرائے جائیں۔ پاکستان کے کہنے پر صدر ٹرمپ نے نہ صرف یہ حملے بند کرائے بلکہ اسرائیل کو شٹ اَپ کال بھی دی۔ لبنان کے بارے میں الگ پوسٹ میں انہوں نے لکھا: اسرائیل اب لبنان پر بمباری نہیں کرے گا‘ انہیں امریکہ کی طرف سے ایسا کرنے سے روک دیا گیا ہے‘ بس بہت ہو چکا۔ اب یہ طے ہے کہ اگر اسرائیل کی جانب سے لبنان پر دوبارہ حملہ نہ ہوا تو ایران امریکہ جنگ بندی اور معاہدہ بھی پکا رہے گا۔ بینجمن نیتن یاہو کو کنٹرول میں رکھنا صدر ٹرمپ کی ذمہ داری ہو گی‘ حتیٰ کہ ان کے بعد آنے والے صدور کی بھی۔آبنائے ہرمز کا کھلنا اور امریکہ کی جانب سے ایران کے 20ارب ڈالر کے منجمد اثاثے جاری کرنے کا عندیہ اس بات کا اشارہ ہے کہ دونوں ملک ایک بڑے‘ وسیع اور جامع معاہدے کے نزدیک پہنچ چکے ہیں یا یہ معاہدہ ہو چکا ہے اور بس اس کی نوک پلک درست کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر یہ اشارہ درست ہے تو پھر اس خطے اور اپنے ملک پاکستان میں ایک اور تاریخ رقم ہو گی۔ ہو سکتا ہے کہ صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ معاہدے پر دستخط کے لیے پاکستان تشریف لائیں اور اگر ایسا ہوا تو وہ اکیلے نہیں آئیں گے‘ امید ہے کہ ایران کے صدر مسعود پزشکیان‘ سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان‘ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کے ساتھ قطر اور دیگر خلیجی ممالک کی قیادت بھی پاکستان آئے گی۔ اس طرح اسلام آباد ایک اہم عالمی سفارتی مرکز کی شکل اختیار کر جائے گا جہاں بیک وقت کئی اہم عالمی رہنما موجود ہوں گے۔ اس کے نتیجے میں پاکستان پر نہ صرف عالمی اعتماد میں اضافہ ہو گا بلکہ پاکستان کے لیے معاشی اور سفارتی مواقع بھی بڑھ جائیں گے۔ پاکستان کو ایک ایسے ملک کے طور پر دیکھا جانے لگے گا جو صرف سکیورٹی چیلنجز کا سامنا کرنے والا ملک ہی نہیں بلکہ عالمی تنازعات کے حل میں کلیدی کردار ادا کرنے والا ملک بھی ہے۔ ان شاء اللہ۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_58350786.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>وائٹ ہاؤس کا بااثر مہمان(رشید صافی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-04-19/51796/19430333</link><pubDate>Sun, 19 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-04-19/51796/19430333</guid><description>مشرقِ وسطیٰ میں مستقل جنگ بندی کیلئے اسلام آباد ٹاکس کے سیکنڈ راؤنڈ کی تیاری بتاتی ہے کہ پاکستان میں کسی بڑے مہمان کی آمد ہے اس لیے مذاکرات کا دوسرا دور محض ایک سفارتی نشست نہیں بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے بڑھتے ہوئے قد کاٹھ اور ہماری عسکری و سول قیادت کی اس بے مثال بصیرت کا اعتراف ہے جس نے واشنگٹن اور تہران کے فاصلوں کو سمیٹ دیا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ جو دہائیوں سے بارود کے ڈھیر پر کھڑا تھا آج اگر وہاں مستقل جنگ بندی کی نوید سنائی دے رہی ہے تو اس کے پیچھے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جرأت اور پاکستان کی قیادت کی انتھک محنت کارفرما ہے۔ عالمی سفارتکاری میں سب سے مشکل مرحلہ ثالث کے انتخاب کا ہوتا ہے‘ بالخصوص جب فریقین امریکہ اور ایران جیسے پرانے حریف ہوں۔ یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی شاندار فتح ہے کہ دیرینہ حریفوں نے اسلام آباد پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اسے قابلِ بھروسا ثالث تسلیم کیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اچھی خبر اور کسی بڑے سرپرائز کا بیان سامنے آیا ہے‘ امریکی صدر اگر اعتماد کے ساتھ جنگ کے خاتمے کا اشارہ دے رہے ہیں تو اس کے پیچھے پاکستان کی خاموش مگر انتھک سفارتکاری اور بصیرت ہے جس نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا۔ دنیا حیرت زدہ ہے کہ وہ پاکستان‘ جسے کچھ عرصہ پہلے تک معاشی مشکلات کا شکار بتایا جا رہا تھا‘ آج عالمی امن کا ضامن بن کر ابھرا ہے۔ تاریخ ہمیشہ ان لیڈروں کو یاد رکھتی ہے جو بحران کی کوکھ میں جا کر حل تلاش کرتے ہیں۔ ایسے حالات میں جب  دنیا کی بڑی طاقتیں اپنے شہریوں کو ایران سے دور رہنے کی ایڈوائزریز جاری کر رہی تھیں اور تہران کی فضائی حدود کو وار زون قرار دیا جا چکا تھا‘ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا تہران کی سرزمین پر قدم رکھنا ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔ یہ محض ایک فوجی سربراہ کا دورہ نہیں تھا بلکہ ایک مضبوط ریاست کے آہنی ارادے کا اظہار ہے۔ وہ مناظر عالمی میڈیا کی سرخیوں کا حصہ بنے جب ایران کی وہ قیادت جو سکیورٹی خدشات کے باعث زیرِ زمین منتقل ہو چکی تھی‘ ایئرپورٹ پر فیلڈ مارشل سیدعاصم منیر کا استقبال کر رہی تھی۔ یہ والہانہ استقبال اس احترام کا مظہر تھا جو ایران کو پاکستان کی عسکری قیادت کی سچائی اور مخلصانہ ثالثی پر حاصل ہے۔ ایک طرف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر جبکہ دوسری طرف سفارتی محاذ پر وزیر اعظم شہباز شریف نے سعودی عرب‘ قطر‘ ترکیہ کے دورے کر کے عالمی سربراہان کو اعتماد میں لیا۔ پاکستان کی کامیابی ٹیم ورک کی مرہونِ منت ہے۔ پاکستان نے اس پورے عمل میں جس توازن کو برقرار رکھا وہ سیاسیات کے طالب علموں کیلئے ایک کیس سٹڈی ہے۔ ایک طرف امریکہ کے ساتھ تزویراتی شراکت داری اور دوسری طرف برادر اسلامی ملک ایران کے ساتھ دیرینہ تاریخی و ثقافتی تعلقات۔ ان دونوں کے درمیان باریک بین توازن قائم رکھنا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔ پاکستان نے ثابت کیا کہ اس کا ویژن کسی ایک بلاک کا حصہ بننا نہیں بلکہ بلاکس کے درمیان پل کا کردار ادا کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھارت کے سوا پوری دنیا بشمول عرب ممالک اور عالمی طاقتیں پاکستان کی اس کامیابی پر تہنیتی پیغام بھیج رہی ہیں۔ فیلڈ مارشل کے دورہ ٔایران کا فوری اور مثبت نتیجہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کے اعلان کی صورت میں سامنے آیا۔ اس اعلان کے ساتھ ہی عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں تیزی کے ساتھ نیچے آئیں۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی پر عالمی برادری خوش ہے اور پاکستان کی شکر گزار ہے کیونکہ اس کا سہرا بلاشبہ پاکستان کی اعلیٰ سطحی سفارتی کوششوں کے سر جاتا ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور دیگر ایرانی عسکری حکام کے ساتھ فیلڈ مارشل کی ملاقاتوں نے اس اعتماد کو بحال کیا کہ خطے کی خوشحالی صرف اور صرف پُرامن بقائے باہمی میں مضمر ہے۔اسلام آباد میں مذاکرات کے دوسرے دور کیلئے کوئی متعین وقت یا دن تو نہیں بتایا گیا ہے البتہ آثار بتا رہے ہیں کہ اگلے دو  تین روز میں مذاکرات شروع ہو سکتے ہیں۔ ایک امریکی ٹی وی نے ایرانی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور پیر کو پاکستان میں ہو گا۔ تاہم امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق امریکہ نے ایران مذاکرات کے شیڈول کی تصدیق نہیں کی ہے۔ مذاکرات کے پہلے اور دوسرے دور میں فرق یہ ہے کہ پہلے دور میں ہیجانی صورتحال تھی کہ نامعلوم کیا ہوتا ہے‘ لیکن اس بار معاملہ کافی مختلف ہے۔ مذاکرات سے پہلے ہی یہ جملے زباں زدعام ہیں کہ معاملات طے پا چکے ہیں۔ صدرڈ ٹرمپ کا بیان کہ ایک ذہین شخصیت کل وائٹ ہاؤس کا دورہ کرے گی‘ ایسی شخصیت جو اپنے ملک کے بارے میں بھی اور دوسرے ملک بارے میں بھی سوچتی ہے۔ اس موقع پرامریکی صدر نے پاکستان سے اظہارِ  تشکر کیا‘ وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی تعریف میں کہا کہ دونوں عظیم شخصیات ہیں‘ میں ان کا بہت  شکر گزار ہوں۔ امریکی صدر کا یہ بیان عالمی حلقوں میں ارتعاش پیدا کر چکا ہے۔ قرائن بتاتے ہیں کہ ممکنہ طور پر یہ شخصیت پاکستانی ہو سکتی ہیں جس نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان خلیج کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ مذاکرات کے پہلے دور میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس آئے تھے اب اگر صدر ٹرمپ پاکستان کا دورہ کرتے ہیں جس کے امکانات اب روشن نظر آ رہے ہیں تو یہ پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی سفارتی کامیابی ہو گی۔ اسلام آباد ٹاکس کے دوسرے دور کا مقصد محض تحفظات کا اظہار نہیں بلکہ ایک حتمی امن معاہدے کا اعلان ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کی توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ جب فریقین دوبارہ میز پر بیٹھیں تو وہ کسی نئے تنازعے کے بجائے خطے کے امن و خوشحالی کے مشترکہ ایجنڈے پر دستخط کریں۔ پاکستان کی سول اور عسکری قیادت کے درمیان ہم آہنگی نے وہ ماحول فراہم کیا ہے جہاں عالمی طاقتیں اب پاکستان کو ایک ریاست کے طور پر امن کا مرکز دیکھ رہی ہیں۔ پاکستان کی کامیابی کو دیکھ کر دفعتاً خیال آتا ہے کہ یہی وہ پاکستان ہے جس کا ہمارے بزرگوں نے خواب دیکھا تھا۔ پاکستان آج ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں اس کے فیصلے دنیا کے مستقبل پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاک فوج نے اور وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں حکومت نے مل کر ایک ایسی ویژنری لیڈرشپ فراہم کی ہے جس نے پاکستان کو تنہائی سے نکال کر عالمی سفارت کاری کے مرکز میں کھڑا کر دیا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں مستقل امن معاہدے کے بعد پاکستان کے کردار کو سنہری حروف سے لکھا جائے گا کہ جب دنیا تماشائی بنی ہوئی تھی‘ اس وقت پاکستان کے فیلڈ مارشل نے آگ کے دریا کو پار کر کے امن کی شمع روشن کی تھی۔ پاکستان کی یہ سفارتی اور سٹریٹجک کامیابی محض ایک وقتی واقعہ نہیں بلکہ اس پائیدار استحکام کا نقطۂ آغاز ہے جس کی بنیاد اخلاص اور قومی مفاد پر رکھی گئی ہے۔ آج دنیا یہ تسلیم کر رہی ہے کہ خطے میں امن کا خواب پاکستان کے فعال کردار کے بغیر شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/222_48272610.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بدلتا ورلڈ آرڈر اور شمالی کوریا(محمد عبداللہ حمید گل)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-abdullah-hameed-gull/2026-04-19/51797/93936692</link><pubDate>Sun, 19 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-abdullah-hameed-gull/2026-04-19/51797/93936692</guid><description>کِم اِل سنگ (Kim il Sung) نے نو ستمبر 1948ء کو ڈیموکریٹک پیپلز ریپبلک آف کوریا ‘ جسے شمالی کوریا بھی کہا جاتا ہے‘ کی بنیاد رکھی۔ موجودہ حکمران کِم جونگ اُن (Kim Jong Un) کا تعلق کِم خاندان کی تیسری نسل سے ہے جو 2011ء سے شمالی کوریا میں برسراقتدار ہیں۔ کِم جونگ اُن نے 2026ء کے پارلیمانی انتخابات میں بھی بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی ہے۔ کِم جونگ اُن اپنی سخت حکمرانی‘ فوجی طاقت اور عالمی سیاست میں اہم کردار کی وجہ سے دنیا بھر میں جانے جاتے ہیں اور اقتصادی بحرانوں اور مسائل کے باوجود اپنی فوجی قوت کو وقت کے تقاضوں کے مطابق بڑھاتے رہے ہیں۔ شمالی کوریا بیلسٹک میزائلوں سے لے کر ایٹمی بم تک جدید ہتھیاروں سے لیس دنیا کی چوتھی بڑی فوج رکھتا ہے۔ آج شمالی کوریا دنیا کیلئے ایک اہم سٹریٹجک چیلنج بن چکا ہے۔ شمالی کوریا 1991ء سے اقوام متحدہ کا رکن ہے‘ جی سیون اور آسیان سے بھی وابستگی رکھتا ہے۔پندرہویں نو منتخب سپریم اسمبلی کے اجلاس میں کِم جونگ اُن کا حالیہ خطاب محض ایک رسمی تقریر نہیں بلکہ ایک جامع پالیسی دستاویز اور ریاست کے آئندہ پانچ برسوں کے عزائم اور ترجیحات کا آئینہ دار ہے‘ جس میں داخلی استحکام‘ معاشی ترقی‘ دفاعی حکمت عملی اور عالمی سیاست کے حوالے سے واضح سمت متعین کی گئی ہے۔ اس خطاب کا سب سے نمایاں پہلو خود انحصاری کا تصور ہے جسے شمالی کوریا کی بقا اور ترقی کی بنیاد قرار دیا گیا۔ کِم جونگ اُن نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی دباؤ‘ پابندیوں اور معاشی مشکلات کے باوجود ان کا ملک اپنی داخلی قوت کے ذریعے آگے بڑھا ہے۔ یہ بیانیہ نہ صرف داخلی سطح پر عوام کا حوصلہ بلند کرنے کیلئے ہے بلکہ عالمی برادری کو یہ پیغام بھی دیتا ہے کہ شمالی کوریا بیرونی دباؤ کے سامنے جھکنے والا نہیں۔اس خطاب میں ایٹمی پروگرام کے حوالے سے ان کا مؤقف پہلے سے زیادہ سخت اور دوٹوک نظر آیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایٹمی ہتھیار نہ صرف دفاعی ضرورت ہیں بلکہ ریاست کی خودمختاری اور بقا کی ضمانت بھی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق عالمی طاقتوں کی بالادستی نے چھوٹے ممالک کو اپنی حفاظت کیلئے غیر روایتی ذرائع اختیار کرنے پر مجبور کیا ہے۔ اس تناظر میں شمالی کوریا کا ایٹمی پروگرام محض عسکری حکمت عملی نہیں بلکہ ایک سیاسی پیغام بھی ہے۔ اس خطاب میں معاشی میدان کے کئی اہم نکات کو بھی اجاگر کیا گیا۔ صنعتی ترقی‘ زراعت میں بہتری‘ توانائی کے شعبے کی مضبوطی اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کو نئے دورِ حکومت کے منشور میں ترجیحی بنیادوں پر شامل کیا گیا ہے۔ حکومت کی جانب سے عوامی فلاح و بہبود‘ رہائش‘ صحت اور تعلیم کے شعبوں میں بہتری کے دعوے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ریاست اپنی ساکھ کو صرف عسکری طاقت تک محدود نہیں رکھنا چاہتی بلکہ عوامی سطح پر بھی اپنی کارکردگی کو بہتر بنانا چاہتی ہے‘ جبکہ کِم حکومت پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں‘ سیاسی جبر اور عوامی آزادیوں پر پابندی جیسے الزامات بھی لگتے رہے ہیں۔شمالی کوریا کی سرگرمیاں صرف فوجی اور سفارتی محاذ تک محدود نہیں ہیں بلکہ سائبر وار فیئر کے میدان میں بھی وہ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ جدید سائنس اور ٹیکنالوجی‘ خصوصاً مصنوعی ذہانت اور خلائی تحقیق پر زور یہ ظاہر کرتا ہے کہ شمالی کوریا اپنے مخصوص نظریاتی فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے جدید دنیا کی دوڑ میں شامل ہونے کی خواہش بھی رکھتا ہے۔ خارجہ پالیسی میں جنوبی کوریا کے حوالے سے خصوصاً سخت لہجہ اختیار کیا گیا‘ تاہم یہ عندیہ بھی دیا گیا کہ شمالی کوریا عالمی سطح پر اپنے مفادات کے مطابق تعلقات استوار کرنے کا خواہاں ہے۔ کِم جونگ اُن نے اپنی تقریر میں دفاعی اخراجات بڑھانے کا بھی عندیہ دیا کہ 2026ء کے بجٹ کا تقریباً 15.8فیصد دفاع پر خرچ کیا جائے گا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ بدلتی ہوئی عالمی سیاست‘ جہاں طاقت کا توازن تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے‘ وہاں ایسے ممالک کیلئے نئے مواقع بھی پیدا ہو رہے ہیں جو اپنی پوزیشن کو مؤثر طریقے سے استعمال کرنا جانتے ہیں۔اگر کمِ جونگ اُن کے اس خطاب کا گہرائی سے تجزیہ کیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ شمالی کوریا ایک ایسے ماڈل کی طرف بڑھ رہا ہے جس میں معیشت اور عسکری طاقت کو بیک وقت فروغ دیا جا رہا ہے۔ برقی مقناطیسی ہتھیاروں کا نظام اور کاربن فائبر بم شمالی کوریا کی فوج کے خصوصی اثاثے قرار دیے جا رہے ہیں۔ کلسٹر میونیشنز کا استعمال بھی ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے ایک ہی میزائل سے وسیع علاقے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے‘ جس سے دفاعی نظام کی مؤثریت کم ہو جاتی ہے۔ دراصل شمالی کوریا یوکرین اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال سے سبق سیکھ رہا ہے‘ جہاں اسی نوعیت کے ہتھیاروں نے جنگی حکمت عملی کو تبدیل کر دیا ہے۔ یہ حکمت عملی اگرچہ خطرات سے خالی نہیں لیکن موجودہ عالمی حالات میں اسے دفاعی حقیقت پسندی (Defensive Realism) کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔واضح رہے کہ شمالی کوریا نے 2019ء میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ جوہری مذاکرات کی ناکامی کے بعد اپنے جوہری صلاحیت کے حامل میزائل پروگرام کو تیز کر دیا تھا جس کے تحت شمالی کوریا ایشیا میں امریکی اتحادیوں اور امریکی سر زمین کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ کِم جونگ اُن کا یہ خطاب نہ صرف داخلی پالیسیوں کی وضاحت کرتا ہے بلکہ عالمی طاقتوں کیلئے ایک واضح پیغام بھی ہے کہ شمالی کوریا اپنی راہ خود متعین کرے گا‘ چاہے اس کیلئے اسے کتنی ہی مشکلات کا سامنا کیوں نہ کرنا پڑے۔ آنے والے برس اس بات کا تعین کریں گے کہ آیا یہ حکمت عملی شمالی کوریا کو استحکام اور ترقی کی طرف لے جاتی ہے یا مزید تنہائی اور دباؤ کا سبب بنتی ہے۔ شمالی کوریا اور چین کے تعلقات میں حالیہ پیشرفت خاص طور پر قابلِ توجہ ہے۔ چینی وزیر خارجہ کے پیانگ یانگ کے حالیہ دورے نے نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان سفارتی روابط کو مضبوط کیا بلکہ اس بات کا بھی عندیہ دیا کہ یہ تعلقات محض رسمی نہیں بلکہ سٹریٹجک نوعیت اختیار کر چکے ہیں۔ 1961ء کے دفاعی معاہدے کی یاد دہانی اور اسکے تحت باہمی تعاون کو بڑھانے کا اعلان اس بات کی دلیل ہے کہ دونوں ممالک کسی بھی ممکنہ عالمی یا علاقائی تنازع میں ایک دوسرے کیساتھ کھڑے ہونے کیلئے تیار ہیں۔ مزید برآں شمالی کوریا کی جانب سے وَن چائنا پالیسی کی کھل کر حمایت ایک اہم سفارتی پیش رفت ہے جو امریکہ اور اسکے اتحادیوں کیلئے ایک واضح پیغام ہے کہ ایشیا میں طاقت کا توازن تیزی سے بدل رہا ہے۔ شمالی کوریا نے روس اور بیلاروس کیساتھ بھی اپنے تعلقات کو وسعت دی ہے۔ شمالی کوریا کو اگر ایک تسلیم شدہ ایٹمی طاقت کا درجہ مل جاتا ہے تو یہ عالمی سطح پر ایک بڑی تبدیلی ہوگی۔ کیا دنیا ایک نئی سرد جنگ جیسے ماحول کی طرف بڑھ رہی ہے‘ جہاں براہِ راست جنگ کے بجائے سفارتی‘ اقتصادی اور تکنیکی محاذوں پر مقابلہ جاری ہے؟ کورین جزیرہ نما اس بڑی عالمی بساط کا ایک اہم مہرہ بن چکا ہے‘ اور آنے والے دنوں میں یہاں ہونے والی پیش رفت عالمی سیاست کی سمت کا تعین کرے گی۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو کورین جزیرہ نما کی موجودہ صورتحال محض ایک علاقائی مسئلہ نہیں بلکہ ایک بڑے عالمی رجحان کا حصہ ہے۔ دنیا ایک بار پھر دو بڑے بلاکس میں تقسیم ہوتی نظر آ رہی ہے جہاں ایک طرف چین‘ روس‘ شمالی کوریا اور ایران جیسے ممالک ہیں جبکہ دوسری جانب امریکہ اور اس کے اتحادی کھڑے ہیں۔ چین‘ روس‘ شمالی کوریا اور ایران کا یہ ممکنہ اتحاد مغربی طاقتوں کے مقابلے میں ایک متبادل بلاک کے طور پر ابھر سکتا ہے جو عالمی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ہے‘ اور جس کے اثرات نہ صرف عالمی سیاست بلکہ معیشت‘ تجارت اور سکیورٹی کے شعبوں میں بھی نمایاں طور پر محسوس کیے جائیں گے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_62843609.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>