<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>پاک سعودی تعلقات کا نیا باب(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-07/11431</link><pubDate>Fri, 07 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-07/11431</guid><description>وزیراعظم شہباز شریف کا دورۂ سعودی عرب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مشرق وسطیٰ کا خطہ انتہائی اہم‘ حساس اور تلاطم خیز دور سے گزر رہا ہے۔ وزارتِ خارجہ کے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم کا یہ دورہ محض ایک روایتی خیر سگالی کا دورہ نہیں بلکہ یہ دوطرفہ تزویراتی تعاون‘ اقتصادی شراکت داری کو نئی بلندیوں تک لے جانے اور علاقائی امن کے استحکام کیلئے ایک گہرا اور دوررس سفارتی قدم ہے۔ وزیراعظم کے ہمراہ اعلیٰ سطح کے سرکاری اور عسکری وفد کی موجودگی اس امر کی غماز ہے کہ پاکستان برادر ملک کیساتھ اپنے تعلقات کو کس قدر اہمیت دیتا ہے اور دونوں ریاستیں ہر سطح پر رابطوں کو مزید مستحکم کرنے کیلئے کس قدر پُرعزم ہیں۔ جب ہم موجودہ علاقائی صورتحال کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ خلیجی خطے میں سکیورٹی کے نئے چیلنجز سر اٹھا رہے ہیں اور عالمی سطح پر سیاسی اور معاشی محور تبدیل ہو رہے ہیں۔ ایسے میں پاکستان اور سعودی عرب کا باہمی مشاورت کا عمل نہ صرف دونوں ممالک کے مفاد میں ہے بلکہ پورے خطے کے امن کی ضمانت بھی ہے۔ حالیہ عرصے میں دونوں برادر ممالک کے مابین دفاعی اور معاشی شعبوں میں جو پیشرفت ہوئی ہے‘ اس نے دوطرفہ تعلقات کو ایک نئی روح بخشی ہے۔

خصوصاً دفاعی اور سٹرٹیجک معاہدے اور سکیورٹی کے شعبے میں گہرا ہوتا تعاون اس بات کا بیّن ثبوت ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے دفاع اور سلامتی کو اپنی سلامتی کا درجہ دیتے ہیں۔ خطے میں امن وامان کی بحالی‘ سمندری تجارت کے راستوں کے تحفظ اور معاشی راہداریوں کو محفوظ بنانے کیلئے جو مشترکہ کوششیں جاری ہیں‘ اس دورے میں ان پر بھی تفصیلی غور کیا جائے گا۔ دونوں ملکوں نے ایران اور عمان کے مابین آبنائے ہرمز سے متعلق معاہدے کو حتمی شکل دینے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس سے قبل امریکہ اور ایران مذاکرات کیلئے بھی دونوں ملکوں کی قیادت نے بھرپور کوشش کی تھی۔ پاکستان کے ترقیاتی سفر اور موجودہ معاشی حالات میں سعودی عرب کا مثبت کردار اور برادرانہ تعاون کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ مشکل ترین اقتصادی ادوار میں سعودی عرب نے ایک سچے اور مخلص برادر ملک کی طرح پاکستان کی مالی مشکلات کو کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ سعودی قیادت کی طرف سے فراہم کردہ مالی معاونت‘ ڈپازٹس کے تسلسل نے پاکستان کو معاشی گرداب سے نکلنے اور مالیاتی استحکام کی طرف بڑھنے میں مدد دی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کے اس دورے کا ایک اہم ہدف دوطرفہ معاشی تعاون کو مزید وسعت دینا اور پاکستان میں سعودی سرمایہ کاری لانے کے عمل کو تیز کرنا ہے۔ پاکستان کے اندر مختلف شعبوں بشمول مائننگ‘ زراعت‘ توانائی‘ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں سعودی سرمایہ کاروں کیلئے وسیع مواقع موجود ہیں۔ دونوں ممالک کے مابین طے پانے والے اقتصادی تعاون کے سمجھوتوں کو عملی شکل دینے اور ان کے ثمرات عامۃ الناس تک پہنچانے کا یہ بہترین وقت ہے۔ علاقائی سیاست اور سفارتی محاذ پر بھی اس دورے کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ خطے میں امن کے قیام کیلئے پاکستان ایک مصالحانہ اور مثبت کردار ادا کرتا آیا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات‘ خلیجی ریاستوں کے باہمی امور اور عالمی سطح پر ابھرتی ہوئی معاشی وسیاسی صف بندیوں کے تناظر میں پاکستان اور سعودی عرب کا نقطہ نظر ہم آہنگ ہے اور یہ دورہ اس بات کا اعادہ ہے کہ جغرافیائی تغیرات کے باوجود پاک سعودی تعلقات کی بنیادیں وقت کی ہر آزمائش پر پورا اترتی آئی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں ممالک میں طے پانے والے معاشی‘ تجارتی‘ دفاعی اور سفارتی فیصلوں پر ان کی روح کے مطابق فوری عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے‘ اس سے نہ صرف دوطرفہ تعلقات کے نئے ابواب رقم ہوں گے بلکہ خطے کے کروڑوں عوام کیلئے امن‘ ترقی اور خوشحالی کے ایک نئے اور روشن دور کا آغاز بھی ہوگا۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>تجارتی خسارے میں اضافہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-07/11430</link><pubDate>Fri, 07 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-07/11430</guid><description>وفاقی ادارۂ شماریات کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے مہینے‘ جولائی میں ملک کا تجارتی خسارہ سالانہ بنیاد پر 25 فیصد سے زائد اضافے کیساتھ تین ارب 95کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا‘ جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی مہینے میں یہ خسارہ تین ارب 15کروڑ ڈالر تھا۔ اگرچہ جولائی میں برآمدات سالانہ بنیادوں پر تقریباً 10 فیصد بڑھ کر دو ارب 94کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں مگر اس دوران درآمدات میں ہونے والا تقریباً 18فیصد اضافہ برآمدات کی رفتار پر بھاری پڑ گیا۔ ملکی معیشت طویل عرصے سے درآمدی انحصار کا شکار ہے۔ توانائی‘ صنعتی خام مال‘ مشینری اور زرعی شعبے کیلئے درکار آلات کی بڑی مقدار بیرونِ ملک سے منگوائی جاتی ہے۔

اسی طرح اگر برآمدات کا زیادہ تر انحصار چند شعبوں تک محدود رہے گا تو عالمی منڈی میں قیمتوں‘ طلب یا جغرافیائی سیاسی تبدیلیوں کا اثر براہِ راست قومی معیشت پر پڑے گا۔ اس لیے برآمدی بنیاد کو وسعت دینا ناگزیر ہے تاکہ انجینئرنگ‘ آئی ٹی‘ فارماسیوٹیکل‘ زرعی ویلیو ایڈڈ مصنوعات اور دیگر برآمدی شعبے بھی مضبوط ہوں۔ تجارتی خسارے میں اضافے سے حکومتی پالیسیوں کا تعلق بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ توانائی کی بلند لاگت‘ ٹیکسوں کا پیچیدہ نظام‘ خام مال کی مہنگی دستیابی‘ بلند مالیاتی لاگت اور غیر یقینی پالیسی ماحول پاکستانی صنعت کی مسابقت کو متاثر کرتے ہیں۔ لہٰذا تجارتی خسارے میں کمی کیلئے حکومت کو سستی توانائی کی متواتر فراہمی‘ برآمدی صنعت کیلئے آسان مالی سہولتوں‘ درآمدی متبادل صنعتوں کے فروغ اور پالیسی تسلسل کو یقینی بنانا ہو گا۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بچوں کے خلاف بڑھتے جرائم(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-07/11429</link><pubDate>Fri, 07 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-07/11429</guid><description>بچوں کے تحفظ کیلئے کام کرنے والی ایک تنظیم کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق ملک میں رواں سال جنوری سے جون تک بچوں کے خلاف جرائم کے 1914مقدمات رپورٹ ہوئے‘ جن میں 80 فیصد واقعات پنجاب میں رونما ہوئے۔ یہ اعداد و شمار حکومت‘ متعلقہ اداروں‘ والدین اور پورے معاشرے کیلئے لمحہ فکریہ ہیں۔ رپورٹ کا سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ 43 فیصد واقعات میں ملزمان متاثرہ بچوں کے واقف کار تھے جبکہ 45 فیصد واقعات بچوں کے اپنے گھروں میں پیش آئے۔ یہ اعداد و شمار اس غلط فہمی کو ختم کرنے کیلئے کافی ہونے چاہئیں کہ خطرہ صرف باہر یا اجنبی افراد سے ہوتا ہے۔

جب بچے اپنے ہی گھروں یا قریبی حلقوں میں غیر محفوظ ہوں تو یہ پورے معاشرے کے اخلاقی اور سماجی ڈھانچے پر ایک سنگین سوالیہ نشان ہے۔ ضروری ہے کہ بچوں کیخلاف جرائم کے مقدمات کی خصوصی عدالتوں کے ذریعے فوری سماعت یقینی بنائی جائے اور مجرموں کو بلاامتیاز سخت سزا دی جائے تاکہ قانون کی عملداری قائم ہو اور دوسروں کیلئے بھی عبرت کا سامان پیدا ہو۔ والدین کی ذمہ داری بھی پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ بچوں کو محض مالی سہولتیں فراہم کرنا کافی نہیں بلکہ ان کیساتھ اعتماد کا رشتہ قائم کرنا‘ انکی روزمرہ سرگرمیوں اور دوستوں پر مناسب نظر رکھنا اور ذاتی حدود اور خطرناک صورتحال سے آگاہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پاکستانی وزیراعظم بمقابلہ برطانوی وزیراعظم(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-08-07/52435/79496772</link><pubDate>Fri, 07 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-08-07/52435/79496772</guid><description>اگرچہ وفاقی وزیر داخلہ نے عوامی اور حکومتی ردِعمل آنے کے بعد اپنی بات سے رجوع کر لیا ہے اور اپنے تئیں انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کو پانچ سال پورے کرنے کی نوید دے دی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ بہت سے لوگوں کو لگے کہ خطرہ ٹل گیا ہے اور جو ایک بیان سے پورے ملک میں سیاسی ہیجان برپا ہوگیا تھا‘ وہ ختم ہوگیا ہے۔ لیکن کیا اب ملک کو دوبارہ وہی سیاسی ٹھہرائو نصیب ہو سکے گا جو پچھلے چار سال سے میسر تھا؟ خیر‘ اس پر بات کرتے ہیں کہ شہباز شریف پانچ سال پورے کرنے والے پہلے وزیراعظم ہوں گے یا وہ بھی 1985ء کے بعد‘ اب تک درجن بھر وزرائے اعظم کی طرح وقت سے پہلے ہی عہدہ چھوڑ دیں گے یا چھوڑنے پر مجبور کر دیے جائیں گے؟ آپ نے ایک چیز نوٹ کی ہے کہ ہمارے ہاں اگر وزیراعظم کی کرسی کو ذرا سا بھی خطرہ ہو تو لگتا ہے آسمان گرنے والا ہے۔ قیامت بس آئی چاہتی ہے۔ بھارت میں بارہ سال سے وزیراعظم چلے آ رہے مودی کے خلاف چند دن مظاہرہ ہوا تو ایسا لگا کہ اگر مودی کو ہٹا دیا گیا تو بھارت میں قیامت آ جائے گی۔ مودی ہے تو بھارت ہے۔ یہ وہ خیال ہے جو بیشثر بھارتیوں کے ذہن میں ڈال دیا گیا ہے کہ مودی کے بغیر آپ کی زندگی کا کوئی تصور تک نہیں کیونکہ مودی ہے تو ممکن ہے۔پاکستان میں دیکھیں تو ایک وفاقی وزیر کے بیان نے یہاں وہ ہلچل مچائی کہ لگا شہباز شریف اب گئے کہ کب گئے‘ اور اگر چلے گئے تو پھر ملک کا کیا بنے گا؟ ہمارے ہاں بھی وہ سراسمیگی پھیل گئی جو چند دن پہلے تک بھارت میں پھیلی ہوئی تھی۔ مزے کی بات ہے کہ جو سیاسی افراتفری ہمارے ہاں چار مارشل لاء ادوار کے بعد کسی چھوٹی سی بات پر پھیل جاتی ہے‘ وہ بھارت میں بغیر مارشل لاء لگے پھیل جاتی ہے۔ اس بات پر ہمارا فخر بنتا ہے کہ جہاں ہم مارشل لاء کے ساتھ پہنچے ہیں‘ وہاں بھارت بغیر مارشل لاء کے پہنچ  چکا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ایسی صورتحال دنیا کے دیگر ملکوں میں کیوں نظر نہیں آتی؟ جاپان‘ اٹلی یا فرانس کو ایک لمحے کیلئے چھوڑ کر اگر سیدھا برطانیہ چلیں تو معاملہ سمجھنے میں آسانی رہے گی۔ برطانیہ کی مثال دینا اس لیے بھی ضروری ہے کہ اسے مدر آف ڈیمو کریسی کہا جاتا ہے‘ جہاں سے باقی دنیا نے جمہوریت سیکھی۔ اندازہ کریں کہ صرف دس برسوں میں برطانیہ میں ساتواں وزیراعظم حلف لے چکا ہے۔ وہاں کوئی ہنگامہ نہیں ہوا۔ کسی کو نہیں لگا کہ وزیراعظم جا رہا ہے تو اب کیا ہو گا‘ ہمارا کیا بنے گا؟ دس برسوں میں سات وزیراعظم کوئی معمولی بات نہیں۔ اس سے آپ برطانیہ کے سیاسی اور گورننس نظام کے استحکام کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہاں اس وقت کیا صورتحال ہے اور برطانیہ کس طرح کے سیاسی اور معاشی بحران کا سامنا کر رہا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو دس برسوں میں ایک وزیراعظم کا اوسط اقتدار سوا سال بنتا ہے۔ پاکستان اس لحاظ سے بہتر رہا ہے کہ یہاں دس برسوں میں نواز شریف کو ہٹانے کے بعد (شاہد خاقان عباسی‘ عمران خان‘ شہباز شریف) چوتھا وزیراعظم حکمرانی کر رہا ہے۔ وزیراعظم کی مدت کے حوالے سے ہم نسبتاً بہتر رہے ہیں۔ ہمارے ہاں اوسطاً ایک وزیراعظم کا دور کم از کم ڈھائی سال بنتا ہے جبکہ برطانیہ میں ٹونی بلیئر کے بعد کی اوسط سال‘ دو سال ہی بنتی ہے۔ البتہ برطانیہ میں کوئی بم نہیں گر رہا۔ وہاں ایسے وزیراعظم تبدیل ہوئے ہیں جیسے ہمارے ہاں موسم بدلتے ہیں۔ ہر موسم کا نیا وزیراعظم۔ برطانیہ میں کیوں کوئی سیاسی بحران پیدا نہیں ہوتا اور سب کچھ نارمل چلتا رہتا ہے‘ اس کی چند وجوہات ہیں۔ ان کا جمہوری نظام سینکڑوں برس پرانا ہے۔ وزیراعظم یا پارلیمنٹ بدلتی رہے گی لیکن اس نظام کو چلانے والے ادارے موجود ہیں اور وہاں کوئی &#39;&#39;پسندیدہ امیدوار‘‘ بھی نہیں ہوتا جس کیلئے پاور گیم شروع ہو جائے۔ وہاں وزیراعظم کا انتخاب اس کی پارلیمانی پارٹی کرتی ہے۔ باقاعدہ ووٹنگ ہوتی ہے کہ نیا پارٹی لیڈر کون ہو گا‘ جو وزیراعظم بنے گا۔ ووٹنگ کی بنیاد پر ہی وہاں وزیراعظم بنتے اور ہٹائے جاتے ہیں۔ پھر ان کے ہاں وزیراعظم کا اپنا یا بچوں کا کاروبار نہیں ہوتا‘ نہ ہی شوگر ملیں یا بجلی گھر ہوتے ہیں کہ اگر ہٹ گئے یا استعفیٰ دے دیا تو پھر ہم سب کے کاروبار اور بچوں کا کیا ہو گا۔ ان کے رشتہ دار بھی حکومت کا حصہ نہیں ہوتے‘ لہٰذا اتنا کچھ دائو پر نہیں ہوتا کہ اب ہر قیمت پر وزیراعظم رہنا یا تخت سے چپکے رہنا ہے۔ وہاں وزیراعظم کے پاس اتنے صوابدیدی اختیارات بھی نہیں ہیں کہ وہ جو چاہے بادشاہ کی طرح کر گزرے۔ وہاں تو سیکرٹری داخلہ اگر وزارتِ داخلہ سے بیرونِ ملک سے آنے والی اپنے بچوں کی آیا کے ویزے کا پتا کر لے تو اسے بھی مداخلت قرار دے کر اس سے استعفیٰ لے لیا جاتا ہے یا میڈیا میں شور مچنے پر وہ خود ہی استعفیٰ دے دیتی ہے۔ ایجوکیشن سیکرٹری کا بچہ اگر ٹیوشن پڑھ رہا ہو تو اس بات پر ہی اسے استعفیٰ دینا پڑ جاتا ہے۔مجھے یاد ہے کہ جب لندن میں تھا تو وہاں اکثر دوست لندن میں رہنے کے فوائد گنواتے تھے۔ میں انہیں مذاق میں کہتا کہ کیا ٹونی بلیئر سے آپ کی دوستی ہو تو وہ آپ کو بغیر ٹیسٹ ڈرائیونگ لائسنس بنوا کر دے سکتا ہے؟ وہ ہنس کر کہتے: اس کی اپنی بیوی پیشیاں بھگت رہی ہے کہ وہ بغیر ٹکٹ ٹرین پر سوار ہو گئی اور جب پکڑی گئی تو کہا: ٹکٹ مشین کام نہیں کر رہی تھی۔ لیکن ریلوے حکام نے کہا کہ وہ غلط بیانی سے کام لے رہی ہے۔ سٹیشن پر ٹکٹ مشین کام کر رہی تھی‘ اس نے خود ٹکٹ نہیں لی۔ یہاں وزیراعظم کی اپنی بیوی کی جان پر بنی ہوئی ہے اور تم کہتے ہو کہ ہمیں بغیر ٹیسٹ کے ڈرائیونگ لائسنس بنوا دے۔ اس پر میں نے کہا کہ پھر ایسے ملک میں رہنے کا کیا فائدہ جہاں وزیراعظم کی بیوی بھی ٹکٹ کی معمولی بات پر پیشیاں بھگت رہی ہو۔ہمارے ہاں کوئی بھی وزیراعظم بنتا ہے تو وہ پارلیمانی پارٹی کے ووٹ سے نہیں بنتا۔ وہ خود ہی اپنی اپائنٹمنٹ کرتا ہے اور اس سے پہلے وہ کئی برس خفیہ ملاقاتیں‘ قسمیں کھانے اور گارنٹیاں دینے کے بعد خدا خدا کر کے وزیراعظم بنتا ہے۔ پھر وہ اپنے بچوں اور فیملی ممبران یا سسرالیوں کو بھی اقتدار میں لے آتا ہے‘ اس کے بچے شوگر ملیں‘ بجلی گھر‘ کارخانے‘ دودھ دہی کا بزنس شروع کر دیتے ہیں۔ لمبا مال کماتے ہیں۔ وہ یاروں‘ دوستوں یا خوشامدیوں اور اپنے ڈونرز کو وزیر بنا دیتا ہے اور اس کی توجہ ملک کی معیشت یا لوگوں کی حالت بہتر کرنے سے زیادہ اپنے فیملی بزنس کی ترقی ہوتا ہے یا بچوں کے کاروبار کو سیٹل کرنے پر‘ یا پھر مخالفین کو فکس کرنے پر۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی حکمرانوں کے اپنے کاروبار اور کارخانے تو ترقی کر رہے ہیں‘ منافع دے رہے ہیں لیکن ملک معاشی تنزلی کا شکار ہے۔ یہاں اکثر کند ذہن اور بیکار لوگوں کو بڑے بڑے عہدے دے دیے جاتے ہیں تاکہ ہمیشہ وفادار رہیں کیونکہ ذہین لوگ زیادہ وفادار نہیں ثابت ہوتے۔ اس لیے یہاں وزیراعظم اپنی کرسی سے ہر قیمت پر چمٹا رہنا چاہتا ہے کہ اس کے‘ خاندان کے اور دوستوں کے بہت سارے مفادات اس سے جڑے ہوتے ہیں۔ برسوں کی تپسیا اور منت ترلے کے بعد تو وہ وزیراعظم بنتا ہے تو ہٹائے جانے کی صورت میں آگے جیل یا اندھیرا نظر آتا ہے‘ لہٰذا استعفیٰ دینا بھیانک خواب لگتا ہے۔ مغرب میں وزیراعظم کے ایسے ذاتی‘ خاندانی یا کاروباری مسائل یا مفادات نہیں ہوتے لہٰذا وہ خراب ہونے کے بجائے خود کو پارٹی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے ہیں کہ جو آپ کو منظور‘ وہی مجھے منظور۔ رکھنا ہے تو جی بسم اللہ‘ ورنہ کسی اور کو لے آئیں۔ہمارے ہاں خان صاحب نے تین سال جیل میں رہنا پسند کر لیا‘ ڈیڑھ سال اپوزیشن میں بیٹھنا منظور نہیں کیا۔ شہباز شریف نے بھی اپنی کارکردگی کو اپنے وزیر کی زبانی ایکسپوز اور سرِعام احتساب کرانا منظور کر لیا لیکن وزیراعظم کی کرسی نہیں چھوڑی۔ یہی فرق ہے ہمارے اور برطانوی وزرائے اعظم میں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کشمیری جماعتیں کہاں گئیں؟(رسول بخش رئیس)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-08-07/52436/34263472</link><pubDate>Fri, 07 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-08-07/52436/34263472</guid><description>آج کل آزاد جموں وکشمیر میں مرحلہ وار انتخابات ہو رہے ہیں۔ دو مراحل ہو چکے اور ابھی ایک مرحلہ باقی ہے۔ پہلے تو اس مرحلہ واریت کی ہمیں کچھ سمجھ نہیں آ رہی۔ جنہوں نے یہ منصوبہ بنایا وہ بھی زیادہ تر اس کے فوائد کے بارے میں خاموش ہیں۔ شاید حالات کے پیشِ نظر یہ خدشہ محسوس ہو رہا تھاکہ ایک ساتھ‘ ایک دن ان کا انعقاد مشکلات میں اضافہ کر سکتا ہے۔ چلیں مان لیتے ہیں کہ وہاں کی صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے ایسا کرنا ضروری تھا‘ مگر جن ممالک میں آبادی اور رقبے کی وسعت کی وجہ سے یہ طریقِ کار اپنایا جاتا ہے‘ وہاں انتخابات کے نتائج کا اعلان اُس وقت ہوتا ہے جب تمام مراحل پایہ تکمیل تک پہنچ جاتے ہیں۔ اُس کیلئے دن مقرر ہوتے ہیں‘ اور اس دوران ان باکسوں کی اس قدر حفاظت کی جاتی ہے جس طرح بڑے خزانوں میں رکھے ہوئے سونے‘ چاندی اور جواہرات کی۔ وہاں لوگوں اور سیاسی جماعتوں کو اعتماد ہوتا ہے کہ ان مراحل سے گزرتے ہوئے کوئی رات کے اندھیرے میں ان ڈبوں کی حرمت پامال نہیں کرے گا۔ ہم اپنی انتخابی تاریخ کے بارے میں کیا کہیں کہ چند نامور اور بڑے حکمرانوں کی چالبازیوں اور ہوسِ اقتدار نے انتخابات پر اعتماد پیدا ہی نہیں ہونے دیا۔ اس لیے ہر ہارنے والی پارٹی دھاندلی کا شور مچاتی ہے‘ اور جہاں کہیں اس پارٹی کو موقع ملتا ہے‘ تو وہ خود بھی کوئی کسر نہیں چھوڑتی۔ یہاں ایسی پارٹیوں کی تاریخ اور جغرافیہ کی مثالیں دینا شروع کریں تو بار بار دو موروثی خاندانی سیاسی جماعتوں کا نام آئے گا۔ کون سی پارٹیاں ہیں‘ یہ ہم آپ کی تخیلاتی صلاحیت پر چھوڑتے ہیں۔ اب تو ان پارٹیوں نے بزور طاقت اور وسائل آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو بھی اپنی سلطنتوں میں شامل کر لیا ہے۔ ایک وقت تھا کہ یہ سب کشمیر کے علاقے تھے اور جس میں کبھی مقبوضہ جموں وکشمیر بھی شامل تھا۔آزاد کشمیر کے موجودہ انتخابات میں ہمیں کشمیری سیاسی جماعتیں کہیں دکھائی نہیں دیں۔ لاڑکانہ اور رائیونڈ والوں کے ساتھ اب ایک نوزائیدہ پارٹی کا جھنڈا بھی وہاں پہنچا ہوا ہے جس کی وجہ شہرت کبھی کوئی نظریہ‘ سیاست یا سماجی خدمات نہیں رہی۔ سیاست کا جھنڈا ان کے لیے کیوں ضروری ہے‘ اس بارے میں راوی کو خاموش ہی رہنا چاہیے۔ کچھ لائن آف کنٹرول کے دوسری طرف کی تاریخ کو دیکھ لیتے کہ وہاں کیا ہوا تھا۔ 1980ء کی دہائی سے پہلے وہاں کشمیری راج تھا۔ فاروق عبداللہ کی نیشنل کانفرنس ذرا کمزور ہوئی تو بجائے اس کے کہ وہ کشمیر کی داخلی سیاسی جماعتوں سے اتحاد کرتی‘ وہ کانگریس کے ساتھ مل گئی۔ وہ بھی کافی نہیں تھا۔ وہاں دھاندلی کرنا پڑی کیونکہ حریت کانفرنس کا حمایت یافتہ اتحاد جیت رہا تھا۔ وہ دھاندلی پھر مقبوضہ کشمیر میں مزاحمت اور نئی جدوجہد کی ابتدا بنی‘ اور حالات آج تک وہاں معمول پر نہیں آ سکے۔ جو کچھ ہمارے حصے کے کشمیر یعنی آزاد کشمیر میں گزشتہ چند مہینوں میں ہوا‘ دل میں خوف بڑھ گیا ہے۔ یہاں ایک وقت تھا جب آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس وہاں راج کرتی تھی۔ سردار عبدالقیوم کمال کے آدمی تھے۔ مجھے انہیں قریب سے دیکھنے کا اس وقت اتفاق ہوا جب انہیں اپنے کولمبیا یونیورسٹی (نیویارک) کے سالوں میں وہاں سکالرز اور طلبہ سے خطاب کرنے کی دعوت دی۔ ایک ایسے مجمع میں جہاں تقریباً سبھی مخالفین تھے‘ دلیل‘ تحمل اور تاریخی حوالوں سے کشمیر کے پُرامن سیاسی حل کی بات کی‘ جو شاید ہی کسی نے اس خوبصورت انداز میں کبھی کی ہو۔ کشمیر کی تاریخ‘ ثقافت اور سیاست پر یوسف بچ صاحب‘ جو پاکستان کے سفیر رہ چکے تھے‘ کو بھی وہاں خطاب کرنے کی دعوت دی گئی تھی۔ کچھ اور بھی ہیں جن کا نام یہاں لینا ضروری نہیں۔ کشمیر کے مسائل کو میں نے کشمیریوں کو ہی دنیا کے سامنے بہتر طریقے سے رکھتے دیکھا ہے۔ جن دو ناموں کا ذکر کیا ہے‘ وہ میرے نزدیک چلتی پھرتی تاریخ اور تحریک تھے۔امان اللہ خان بھی بہت گہرے‘ سلجھے ہوئے اور کشمیریت کے جذبے سے لبریز رہنما تھے۔ ایک وقت تھا کہ ان کی پارٹی کشمیر لبریشن فرنٹ‘ دونوں جانب دلوں کو گرماتی تھی۔ کچھ ایسے واقعات ہوئے کہ ان کی آواز بھی دبتی چلی گئی۔ کافی عرصہ خاموش رہے اور پھر اللہ کو پیارے ہو گئے۔ عجیب بات ہے کہ ہم ایک طرف تو یومِ استحصال کشمیر منا رہے ہیں اور دوسری طرف آزاد کشمیر کے انتخابات میں کوئی کشمیری جماعت تک نظرنہیں آ رہی۔ اب کشمیریوں کی قیادت بھی دو موروثی خاندانوں نے سنبھال لی ہے‘ جن کے اپنے صوبوں میں‘ جہاں ان کی نصف صدی سے حکومتیں ہیں‘ کروڑوں بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ اندرون سندھ میں تو آپ رات کو گھر سے باہر نہیں نکل سکتے۔ کراچی میں سڑکیں‘ ہسپتال‘ تجاوزات اور پانی کی فراہمی کی صورت حال دیکھیں تو قحط زدہ افریقی ممالک کا گمان گزرتا ہے۔ تاریخی طور پر کشمیر اور گلگت بلتستان کے لوگوں میں تعلیم اور سماجی ترقی ملک کے دیگر حصو ں کی نسبت کہیں زیادہ ہے۔ بہتر ہوتا کہ پورے ملک کی قیادت ایسے ہی ہاتھوں میں ہوتی۔ جب باہر سے ہیرا پھیری‘ دخل اندازی اور سیاسی استحصال ہو گا تو پھر ردعمل بھی آپ نے دیکھ لیا۔ یہ جو کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی ہے‘ میرے نزدیک اس سیاسی خلا کو پُر کرنے کی عوامی کاوش تھی جو کشمیری سیاسی جماعتوں کو کمزور اور پھر معدوم کرنے کی وجہ سے پیدا ہوا۔ دکھ کی بات ہے کہ تشدد کو روکنے کے لیے سیاسی مکالمہ جاری نہ رہ سکا۔ کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور ایسا سیاسی گھائو لگا ہے کہ حالات معمول پر لانے میں شاید بہت وقت لگے۔ میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ مظاہرین کا یہ مطالبہ کہ مہاجرین کی بارہ نشستیں آزاد کشمیر کو لوٹائی جائیں‘ درست ہے۔ اگرچہ طریقہ کار پر بات ہو سکتی ہے‘ جیسے وہاں کی سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ یہ کام منتخب اسمبلی ہی کر سکتی ہے‘ کسی ایگزیکٹو آرڈر یا احتجاجوں سے نہیں ہو سکتا۔ قانون ساز اسمبلی کی چوتھائی سیٹیں پنجاب اور سندھ کے حکمرانوں کے پاس چلی گئیں تو آزاد کشمیر میں حکومتیں بنانے اورگرانے میں وہ اپنا ہاتھ کیوں نہیں دکھائیں گے؟ یہی تو وہ کرتے آئے ہیں۔ ایسی جادوگری وہ گلگت بلتستان اور ملک کے دیگر حصوں خصوصاً بلوچستان میں بھی دکھاتے آئے ہیں۔ آپ بلوچستان کے حالات سے کچھ سیکھ سکتے تھے کہ جہاں موروثیوں کی ہیرا پھیری اور سیاسی خریدو فروخت کو کھلی چھٹی ملی‘ وہاں عشروں تک حالات ٹھیک نہیں ہو سکے۔ کشمیری خود مختاری‘ حقوق اور نمائندگی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ جب نہ ان کی کوئی سیاسی جماعت سامنے ہے اور نہ کوئی رہنما‘ اور جو دو موروثی سیاسی جماعتوں کا جھنڈ ا لہرا کر وہاں حکومت بنانے کے خواہاں ہیں‘ وہ شاید بگڑے ہوئے حالات کا مقابلہ نہ کر سکیں۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ ہارنے (یا ان کے مطابق ہرائی جانے) والی پارٹی دھاندلی اور الٹی گنتی کی تسبیح پڑھ رہی ہے۔ جب دو بڑے سیاسی کھلاڑی آزاد کشمیر میں جا کر اپنی نئی سیاسی جنگ لڑیں گے تو وہاں کشمیریوں کے ذہنوں میں انتخابات کی قدر اور احترام کیا ہو گا۔ آزاد کشمیر‘ گلگت بلتستان اور بلوچستان میں ضرورت تو اس بات کی تھی کہ وہاں کی علاقائی سیاسی جماعتوں اور قیادت کو ابھرنے کا موقع دیا جاتا اور ان کی رائے اور ووٹ کو بھی عزت ملتی۔ سب کچھ بگاڑ کے ہمارے اہلِ اقتدار کہتے ہیں کہ نظام نہیں چل رہا۔ حضور! یہ کیا فرما رہے ہیں کہ نظام ٹھیک نہیں چل رہا! اس کا پہیہ جام ہو چکا۔ دور جانے کی ضرورت نہیں‘ حکمران اپنے حال احوال پر نظر ڈال کر دیکھ لیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_33241568.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سسٹم واقعی ناکام ہو چکا؟(کنور دلشاد)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/kunwar-mohammad-dilshad/2026-08-07/52437/87489641</link><pubDate>Fri, 07 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/kunwar-mohammad-dilshad/2026-08-07/52437/87489641</guid><description>&#39;&#39; پاکستان کا موجودہ سسٹم مسائل حل نہیں کرسکتا‘ ہم جس نظام میں رہ رہے ہیں وہ تباہ ہوچکا ہے‘ کوئی مانے یا نہ مانے سسٹم گرچکا ہے‘ یہ نظام چلتا رہا تو ہم 10 سال بعد ہی انہی مسائل پر بات کر رہے ہوں گے‘ سسٹم کو ری سیٹ کیے بغیر مسائل حل نہیں ہوں گے‘‘۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے 30 جولائی کو اکنامک سمٹ میں دیے گئے اس بیان کے بعد سے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد‘ دانشوروں حتیٰ کہ حکومتی اراکین کی جانب سے بھی موجودہ انتظامی ڈھانچے پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ملکی تاریخ میں اکثر اوقات ایسے بیانات سامنے آتے ہیں جو بظاہر روزمرہ کی سیاست کا حصہ محسوس ہوتے ہیں لیکن وقت گزرنے کے ساتھ وہ ریاستی پالیسی‘ آئینی ارتقا اور قومی مستقبل سے متعلق ایک بڑی بحث میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں ملک میں مزید انتظامی یونٹس بنانے اور موجودہ وفاقی ڈھانچے پر نظرثانی کے حوالے سے سامنے آنے والی آرا بھی اسی نوعیت کی دکھائی دیتی ہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ کی جانب سے اس موضوع کو قومی سطح پر اٹھانا‘ اس کے بعد سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی جانب سے انتظامی اصلاحات کی ضرورت پر زور دینا اور پھر متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی قیادت کی جانب سے اس مؤقف کی حمایت کرنا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ معاملہ اب محض ایک سیاسی بیان نہیں رہا بلکہ ایک سنجیدہ قومی مکالمے کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔ملک کی مختلف سیاسی جماعتیں‘ جو اکثر ایک دوسرے سے شدید اختلاف رکھتی ہیں‘ اگر ایک بنیادی انتظامی مسئلے پر یکساں نوعیت کی گفتگو کر رہی ہیں تو اس کے پس منظر اور ممکنہ نتائج کا غیر جانبدارانہ تجزیہ ناگزیر ہو جاتا ہے۔ کیا یہ صرف بہتر طرزِ حکمرانی کی ضرورت کا اظہار ہے؟ کیا یہ بڑھتی آبادی‘ شہری پھیلاؤ اور انتظامی مشکلات کا اعتراف ہے؟ یا یہ وفاقی ڈھانچے میں مستقبل کی کسی بڑی آئینی اور انتظامی اصلاح کا ابتدائی اشارہ ہے؟یہی وہ سوالات ہیں جو اس بحث کو غیر معمولی بنا دیتے ہیں۔ پاکستان میں نئے صوبوں یا انتظامی اکائیوں کی بحث نئی نہیں۔ جنوبی پنجاب‘ ہزارہ‘ کراچی‘ پوٹھوہار اور دیگر علاقوں کے حوالے سے مختلف ادوار میں نئے صوبے بنانے کے حوالے سے مطالبات سامنے آتے رہے ہیں لیکن یہ مطالبات کبھی بھی ایک جامع قومی انتظامی اصلاحاتی پروگرام کی شکل اختیار نہیں کر سکے۔ اس مرتبہ فرق یہ ہے کہ بحث صرف نئے صوبوں کے قیام تک محدود نہیں بلکہ پورے وفاقی اور انتظامی نظام کی افادیت‘ گورننس کی صلاحیت اور عوام تک ریاست کی مؤثر رسائی پر مرکوز ہوتی جا رہی ہے۔ اس بحث کو تاریخی تناظر میں بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد ملک کے انتظامی ڈھانچے میں مختلف ادوار میں تبدیلی آتی رہی۔ 1955ء میں ون یونٹ کے نفاذ کے ذریعے مغربی پاکستان کی تمام اکائیوں کو ایک انتظامی یونٹ میں ضم کر دیا گیا‘ جسے 1956ء کے دستور میں آئینی ضمانت بھی مل گئی۔ ون یونٹ کی پشت پر مقتدرہ تھی اور تاریخی ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ آئیڈیا 1954ء میں جنرل ایوب خان نے بطور وزیر دفاع پیش کیا تھا‘ جسے 1956ء کے دستور کا حصہ بنا دیا گیا اور اسے وحدتِ پاکستان کے تصور کے طور پر پیش کیا گیا لیکن یہ تجربہ کارگرثابت نہ ہوا۔ صدر ایوب خان کی حکومت کے زوال کے بعد جنرل یحییٰ خان نے مارشل لاء آرڈر کے تحت جولائی 1970ء میں ون یونٹ کا خاتمہ کر کے پنجاب‘ سندھ‘ سرحد اور بلوچستان پر مشتمل موجودہ چار صوبوں پر مشتمل انتظامی ڈھانچہ بحال کر دیا۔ اُس وقت ملک کی آبادی چھ سے سات کروڑ تھی جبکہ آج ملک کی آبادی 25 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ یعنی موجودہ صوبائی ڈھانچہ ایک ایسی آبادی کیلئے تشکیل دیا گیا تھا جو آج کی آبادی کے مقابلے میں محض پچیس سے تیس فیصد تھی لیکن گزشتہ نصف صدی کے دوران آبادی میں غیر معمولی اضافے کے باوجود انتظامی ڈھانچے کے بنیادی خدوخال تقریباً وہی ہیں۔پنجاب آج ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے‘ جس کی آبادی تقریباً 12 کروڑ ہے‘ جو دنیا کے کئی ممالک کی مجموعی آبادی سے بھی زیادہ ہے۔ کیا اتنی بڑی آبادی کو ایک ہی صوبائی حکومت کے ذریعے یکساں مؤثر اور بروقت خدمات فراہم کرنا ممکن ہے؟ کیا جنوبی پنجاب‘ وسطی پنجاب‘ شمالی پنجاب اور خطۂ پوٹھوہار جیسے مختلف جغرافیائی خطوں کی ضروریات کا مؤثر خیال ایک ہی انتظامی ڈھانچہ رکھ سکتا ہے؟ یہ سوال کسی صوبے کی تقسیم یا لسانی سیاست کا نہیں بلکہ بہتر طرزِ حکمرانی‘ انتظامی استعداد اور عوام تک مؤثر رسائی کا ہے۔ اسی طرح سندھ‘ خیبر پختونخوا اور بلوچستان بھی اپنے اپنے مخصوص انتظامی ڈھانچے‘ جغرافیائی اور سماجی چیلنجز رکھتے ہیں۔ کراچی جیسے بڑے شہری مرکز کے مسائل‘ بلوچستان کا وسیع رقبہ اور خیبر پختونخوا کے پہاڑی و سرحدی علاقوں کی ضروریات اس امر کی متقاضی ہیں کہ پورے ملک کے انتظامی ڈھانچے کا غیر جانبدارانہ بنیادوں پر ازسرِنو جائزہ لیا جائے۔ تاہم اس پوری بحث کو صرف نئے صوبوں کے قیام تک محدود کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ اصل مسئلہ بہتر طرزِ حکمرانی (گڈ گورننس)‘ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی‘ مضبوط بلدیاتی نظام‘ مالیاتی خودمختاری‘ جدید انتظامی ڈھانچے اور جوابدہ ریاستی اداروں کا قیام ہے۔ اگر یہ مقاصد موجودہ ڈھانچے میں جامع اصلاحات کے ذریعے حاصل کیے جا سکتے ہیں تو اس امکان پر بھی سنجیدگی سے غور و خوض ہونا چاہیے۔ اگر نئے انتظامی یونٹس عوام کو بہتر خدمات فراہم کرنے کا زیادہ مؤثر ذریعہ ثابت ہوتے ہیں تو اس امکان کا بھی کھلے ذہن سے جائزہ لیا جانا چاہیے۔ گزشتہ دو دہائیوں میں ملک نے آئینی اور انتظامی سطح پر کئی اہم اصلاحات متعارف کرائیں‘ جن میں صوبائی خودمختاری میں اضافہ اور اختیارات کی منتقلی بھی شامل ہے۔ تاہم بنیادی سوال آج بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ تعلیم‘ صحت‘ پینے کے صاف پانی‘ امن و امان اور بنیادی سرکاری خدمات کی فراہمی میں اگر اب بھی نمایاں کمزوریاں موجود ہیں تو مطلب انتظامی ڈھانچے کا غیر جانبدارانہ جائزہ لینے کی ضرورت اب بھی برقرار ہے۔ اسی طرح یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ مضبوط اور بااختیار بلدیاتی نظام کسی بھی جدید ریاست کی بنیاد ہوتا ہے۔ اگر مقامی حکومتیں مالی‘ انتظامی اور قانونی اختیارات سے محروم رہیں تو صرف نئے صوبے یا انتظامی یونٹس قائم کر دینے سے عوامی مسائل کا مکمل حل ممکن نہیں۔ اس لیے انتظامی اصلاحات کا عمل وفاق‘ صوبوں اور مقامی حکومتوں تینوں سطحوں پر بیک وقت آگے بڑھنا چاہیے۔دنیا کے متعدد وفاقی ممالک نے وقت کے ساتھ اپنی انتظامی ساخت میں تبدیلیاں کی ہیں تاکہ بڑھتی ہوئی آبادی‘ علاقائی ضروریات اور بہتر طرزِ حکمرانی کے تقاضوں سے ہم آہنگ رہا جا سکے۔اس معاملے کا ایک مضبوط آئینی اور مالیاتی پہلو بھی ہے۔ اگر مستقبل میں نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام کی طرف پیشرفت ہوتی ہے تو آئینی ترمیم‘ متعلقہ صوبائی اسمبلیوں کی رائے‘ قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ‘ وسائل کی تقسیم‘ سینیٹ میں نمائندگی‘ سرکاری اداروں کی تنظیم اور ترقیاتی وسائل کی منصفانہ تقسیم جیسے معاملات پر وسیع قومی اتفاقِ رائے ناگزیر ہوگا۔ پارلیمنٹ‘ مشترکہ مفادات کونسل‘ آئینی ماہرین‘ انتظامی ماہرین اور پالیسی اداروں کے ذریعے اس پر سنجیدہ غور کیا جانا چاہیے۔وقت کا تقاضا ہے کہ پارلیمنٹ ایک قومی کمیشن برائے انتظامی اصلاحات تشکیل دے جس میں آئینی‘ انتظامی‘ معاشی اور شماریاتی ماہرین‘ سابق سول سرونٹس‘ تمام صوبوں کے نمائندے اور تمام بڑی سیاسی جماعتیں شامل ہوں۔ یہ کمیشن جذبات‘ سیاسی نعروں اور وقتی مفادات سے بالاتر ہو کر ملک کی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے سفارشات مرتب کرے۔ مضبوط وفاق کا مطلب صرف مضبوط مرکز نہیں ہوتا بلکہ ایسا انتظامی نظام ہوتا ہے جو عوام کے قریب ہو‘ بروقت فیصلے کر سکے اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنائے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_15667905.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کچے میں امن کی بحالی(اسد طاہر جپہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/asad-tahir-jappa-/2026-08-07/52438/62192553</link><pubDate>Fri, 07 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/asad-tahir-jappa-/2026-08-07/52438/62192553</guid><description>گزشتہ چند روز سے سوشل میڈیا پر ایک وڈیو وائرل ہے جس میں رات گئے کچے کے علاقے میں رحیم یار خان کے ڈپٹی کمشنر مقامی لوگوں کے ہجوم میں کرکٹ کھیلتے نظر آتے ہیں۔ وہ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کے ہمراہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے منعقد ہونے والے فلڈ لائٹ کرکٹ ٹورنامنٹ کی اختتامی تقریب میں شرکت کیلئے وہاں پہنچے تھے۔ ان افسران نے مل کر جس جرأت و بہادری اور فہم و فراست سے کچے کے علاقے میں دہائیوں سے قائم ڈاکو راج کا خاتمہ ممکن کر دکھایا ہے وہ بلاشبہ لائقِ تحسین ہے۔ یہ وہی کچے کا علاقہ ہے جہاں دن کی روشنی میں جانا محال تھا اور جو دہائیوں تک ڈاکوؤں کی محفوظ پناہ گاہ بنا رہا‘ اب وہاں امن و آشتی کا دور دورہ ہے اور زندگی کی تمام رونقیں اور رعنائیاں لوٹ آئی ہیں۔ گزشتہ سات ماہ میں سنگین نوعیت کے جرم کی ایک بھی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی جو ایک فقید المثال کامیابی ہے جس کا سہرا بلاشبہ وزیراعلیٰ پنجاب کے سر ہے۔ یہاں امنِ عامہ کی بحالی میں دیگر ریاستی اداروں کا بھرپور تعاون اور اشتراکِ عمل بھی قابلِ تحسین رہا ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے کچے میں دو ہفتوں پر مشتمل فلڈ لائٹ کرکٹ ٹورنامنٹ منعقد کروا کر مقامی لوگوں پر زندگی کے نئے دروازے کھولے ہیں۔ پسماندگی‘ جہالت اور جرائم سے عبارت اس علاقے میں کرکٹ میچ کے دوران قمقمے دیکھ کر دل میں امید و آرزو کے جانے کتنے چراغ روشن ہوئے ہیں۔کچے کا علاقہ ڈاکوؤں کی محفوظ پناہ گاہ کس طرح بنا یہ سوال اہم ہے۔ پاکستان میں یہ اصطلاح بنیادی طور پر دریائے سندھ‘ چناب‘ جہلم اور ستلج کے کناروں پر واقع نشیبی علاقوں کیلئے استعمال ہوتی ہے۔ مگر سب سے بدنام اور خوفناک کچے کا علاقہ جنوبی پنجاب اور شمالی سندھ کی وہ پٹی ہے جو پنجاب کے تین اضلاع رحیم یار خان‘ راجن پور اور مظفرگڑھ سے شروع ہو کر سندھ میں گھوٹکی‘ کشموراور شکارپور تک جاتی ہے۔ یہاں زمین زرعی اور ہموار نہیں بلکہ مسلسل کٹاؤ‘ بارشوں اور سیلابی ریلوں کے باعث دریا ہر سال راستہ بدلتا رہتا ہے‘ اس لیے وہاں نہ سڑکیں بن پائیں اور نہ تھانے قائم کیے جا سکے۔ ان دور افتادہ علاقوں میں سگنلز کی عدم دستیابی کے باعث موبائل فونز بھی کام نہیں کرتے اور تمام راستے بھول بھلیاں ہیں۔ لہٰذا ان مخصوص جغرافیائی خد و خال اور زمینی حقائق کے پیشِ نظر یہ علاقہ گزشتہ کئی دہائیوں سے ڈاکوؤں کیلئے ایک فطری پناہ گاہ بن گیا۔کچے کے علاقے میں ڈاکو راج کو تین ادوار میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ پہلا دور 1960-90ء کی تین دہائیوں پر محیط ہے جس میں روایتی ڈاکو زیادہ تر برادری اور قبائلی جھگڑوں میں الجھ کر زمین‘ پانی اور عزت کے تنازع پر قتل و غارت گری کرتے تو مقتول کا خاندان انتقام کیلئے کچے میں چلا جاتا۔ ان کا مقصد مخالفین سے بدلہ اور درکار وسائل کیلئے لوٹ مار ہوتا۔ مگر چونکہ ہتھیار پرانے اور روایتی تھے تو مقامی سطح پر پولیس نمٹ لیتی تھی۔ دوسرا دور 2000-15ء کے دورانیہ پر مشتمل ہے جب کچے میں جدید اسلحہ پہنچا۔ ڈاکوؤں کے کئی گینگ منظم ہوئے اور ان میں جدید ترین اسلحہ کی دوڑ شروع ہوئی جس میں AK-47 اور راکٹ لا نچر تک شامل تھے۔ اب ڈاکو صرف انتقام کیلئے نہیں بلکہ بھتہ‘ اغوا برائے تاوان‘ کار چوری کیلئے سرگرم ہوگئے اور جرم کو دھندہ بنا لیا۔ انہوں نے کھلم کھلا ریاست کو للکارا اور اپنی عدالت لگائی۔ تیسرا دور 2016ء سے شروع ہو کر ماضی قریب تک برقرار رہا جس میں ڈاکوؤں نے جدید ٹیکنالوجی‘ موبائل فون اور سوشل میڈیا کا بھرپور استعمال کیا۔ ڈرون سے پولیس کی نقل و حرکت دیکھنا‘ موبائل فونز پر تاوان مانگنا اور وڈیو بنا کر  دھمکیاں دینا ڈاکوؤں کا معمول بن گیا۔ چند ڈاکوؤں نے اپنے سوشل میڈیا چینلز بھی بنا ڈالے۔ اغوا برائے تاوان سب سے بڑا مسئلہ بن گیا کیونکہ ڈاکو صاحبِ حیثیت کسانوں‘ تاجروں‘ ٹرانسپورٹرز کو اٹھا کر کچے میں لے جاتے اور 50 لاکھ سے پانچ کروڑ تک تاوان کے عوض رہا کرتے۔بدقسمتی سے کچے میں پولیس آپریشن ہمیشہ سے مشکل رہا ہے کیونکہ پولیس کو علاقے کا پوری طرح علم نہیں تھا جبکہ ڈاکو وہاں پیدا ہوئے اور وہ اس علاقے کی تمام بھول بھلیوں سے واقف تھے۔ پولیس کے پاس ٹیکنالوجی نہ ہونے کے برابر تھی اور جب وہ کچے کے علاقے میں آپریشن کیلئے آگے بڑھتے تو ریڈیو سگنل تک نہیں آتے تھے‘ ڈاکوؤں اور پولیس کے مابین کئی مرتبہ خوفناک مڈ بھیڑ ہوئی۔ 2014ء میں راجن پور آپریشن کے دوران ڈاکوؤں نے گھات لگا کر پولیس وین پر راکٹ مارے جس کے نتیجے میں بارہ پولیس اہلکار شہید ہوئے۔ اسی طرح 2021ء میں گھوٹکی کے واقعے میں دو سب انسپکٹرز سمیت سات پولیس والوں نے جامِ شہادت نوش کیا۔ 2024ء میں ڈاکوؤں نے رحیم یار خان پولیس کے بارہ اہلکاروں کو یرغمال بنا لیا جن کی بازیابی کیلئے فوج کو بھی بلانا پڑا جبکہ اس آپریشن کے دوران چار جوان شہید ہو گئے۔ ان پولیس مقابلوں میں درجنوں جوان اور افسران شہید ہوئے۔ ہر شہادت کے بعد حکومت آپریشن کرتی جس کے نتیجے میں دس بیس ڈاکو مارے جاتے جبکہ باقی دریا پار کر کے دوسرے ضلع میں چلے جاتے کیونکہ کچے کا وسیع و عریض علاقہ لگ بھگ پانچ ہزار مربع کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2000ء سے لے کر 2025ء تک رحیم یار خان میں شامل کچے کے علاقے میں مجموعی طور پر اغوا اور اغوا برائے تاوان کے 560جبکہ قتل کے 407مقدمات درج ہوئے مگر رواں سال میں اب تک اغوا یا اغوا برائے تاوان کا ایک بھی مقدمہ درج نہیں ہوا۔ یہ قابلِ تحسین کامیابی یقینا پنجاب کی مضبوط قیادت اور ریاستی اداروں کے بھرپور تعاون کا منہ بولتا ثبوت ہے جس کی بدولت ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ جنوبی پنجاب کے کچے کے علاقوں میں اب کوئی نو گو ایریا نہیں رہا اور وہاں ریاست کی رِٹ مکمل طور پر بحال ہو چکی ہے۔خوش آئند امر یہ ہے کہ حکومت پنجاب نے رحیم یار خان اور راجن پور میں شامل کچے کے علاقوں کی از سر نو تعمیر و ترقی اور معاشی خوشحالی کیلئے ایک مربوط اور جامع پروگرام ترتیب دیا ہے جس کے تحت 108کلومیٹر سولنگ جبکہ 144کلومیٹر پر مشتمل 27نئی پختہ سڑکوں کی تعمیر شامل ہے۔ تعلیم کے شعبہ میں 65سکولوں کو اَپ گریڈ کیا جارہا ہے اور 16نئے سکولوں کے قیام کے ساتھ ساتھ خواتین کیلئے دو نئے کالج بھی تعمیر کیے جا رہے ہیں۔ علاوہ ازیں 300 طلبہ کو تعلیمی وظائف اور لیپ ٹاپ کا خصوصی کوٹہ جبکہ 1000مقامی خواتین کے روزگار کیلئے لائیو سٹاک کارڈز کا اجرا کیا جارہا ہے۔ اس کے علاوہ کچے میں امن و امان قائم رکھنے کیلئے پولیس کو جدید ترین ٹیکنالوجی‘ سولر پاورڈ ڈرونز‘ نائٹ ویژن کیمروں اور بکتر بند گاڑیوں کی فراہمی یقینی بنائی گئی ہے۔ مزید برآں سیف سٹی منصوبے کا دائرہ کار کچے کے علاقوں تک بڑھایا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ کچے میں نادرا‘ ٹرانسپورٹ‘ موبائل ہیلتھ کلینکس‘ لیبارٹریز اور ویٹرنری ہسپتال کی سہولتوں کی فراہمی پر کام شروع کردیا گیا ہے۔ دوسری طرف ضلعی انتظامیہ نے مقامی تاجروں اور مخیر حضرات کے تعاون سے کچے سے تعلق رکھنے والے کئی افراد کو باعزت روزگار کمانے کیلئے درکار سرمایہ اور وسائل فراہم کر دیے ہیں۔ جو کل تک ریاست کو للکارتے ہوئے مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث تھے وہ اب رکشہ ڈرائیور‘ چکن شاپ اور دیگر چھوٹے کاروباری امور میں مصروف ہو گئے ہیں۔ اُنہی میں سے ایک شخص ایک نجی سکول قائم کرکے مقامی بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کررہا ہے۔ یہ تبدیلی کے حیرت انگیز سفر کی ابتدا ہے مگر ابھی ایک طویل سفر باقی ہے۔ اگست کا مہینہ شروع ہوتے ہی جہاں ملک بھر میں یوم آزادی کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں وہاں صوبائی حکومت کچے میں امن کی بحالی اور مقامی لوگوں کو پسماندگی اور خوف سے آزادی دلانے میں پُرعزم نظر آتی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_34710710.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>نئے صوبوں کی بحث(جویریہ صدیق )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/javeria-siddique/2026-08-07/52439/59221464</link><pubDate>Fri, 07 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/javeria-siddique/2026-08-07/52439/59221464</guid><description>پاکستان میں بہت عرصے سے یہ بحث جاری ہے کہ یہاں اب نئے صوبوں کا قیام ناگزیر ہو چکا ہے۔ اس بحث نے حالیہ دنوں میں ایک بار پھر سر اٹھایا ہے اور مردوزن‘ بزرگ اور جین زی سبھی اس پر بات کر رہے ہیں۔ لیکن ایک بڑا سوال یہ ہے کہ کیا نئے انتظامی یونٹس واقعی ملک کیلئے کارآمد ہوں گے یا صرف اشرافیہ کیلئے مزید آسودگی‘ طاقت اور عہدوں کا سبب بنیں گے؟کسی بھی ملک میں ریاستیں اور صوبے مل کر مرکزی حکومت کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ ملک کا آئین اختیارات اور وسائل کو تقسیم کرتا ہے۔ اس طرح تمام تر امور مل کر آئینی طور پر چلائے جاتے ہیں۔ وفاق‘ صوبے اور ریاستیں اسمبلیوں میں نئے قوانین بناتے ہیں اور پرانے قوانین میں تجدید بھی کرتے ہیں۔ صوبے کا انتظامی سربراہ وزیراعلیٰ ہوتا ہے اور وہاں وفاق کا نمائندہ گورنر ہوتا ہے۔ وفاق اور صوبے ملکی اداروں کے ساتھ مل کر ملکی دفاع‘ امورِ خارجہ‘ تعلیم‘ صحت‘ تجارت‘ لاء اینڈ آرڈر‘ زراعت‘ مقامی ترقی‘ تعمیرات اور دیگر امور کو چلاتے ہیں۔عالمی سطح پر دیکھا جائے تو فلپائن دنیا میں سب سے زیادہ‘82صوبوں کا حامل ملک ہے۔ اتنے زیادہ صوبے ہونے کی وجہ کیا ہے؟ فلپائن دنیا کا دوسرا بڑا جزیرہ نما ملک ہے جو 7500 سے زائد جزیروں پر مشتمل ہے۔ فلپائن میں مقامی حکومت کو مضبوط کرنے کا اختیار صوبوں کے پاس ہے۔ فلپائن کی آبادی 11 کروڑ سے زائد ہے اور انتظامی طور پر وہاں تین تہیں ہیں‘ ان میں 82 صوبے‘ 17 ریجن اور ایک مرکزی حکومت شامل ہے۔ ہر صوبے کا اپنا گورنر‘ بجٹ اور قوانین ہیں۔ صوبوں کو ہر کام کیلئے مرکزی حکومت کی طرف نہیں دیکھنا پڑتا۔ اس انتظامی تقسیم سے اس جزیرہ نما ملک کو چلانے میں بہت آسانی پیدا ہوئی ہے۔ اسی طرح بھارت کی آبادی تقریباً ایک ارب 47کروڑ ہے اور وہاں کل 36 یونٹ ہیں‘ جن میں 28 ریاستیں اور 8 یونین ٹیریٹریز ہیں۔ راجستھان رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑی اور گوا سب سے چھوٹی ریاست ہے جبکہ آبادی کے لحاظ سے اُترپردیش 24 کروڑ آبادی کے ساتھ سب سے بڑی ریاست ہے۔ بھارت میں 1947ء میں 17 صوبے اور 565 شاہی ریاستیں تھیں لیکن آزادی کے بعد تمام شاہی ریاستیں ختم کر دی گئیں۔ اسی طرح روس کی آبادی تقریباً 14کروڑ 30لاکھ ہے اور یہ 89 علاقوں پر مشتمل فیڈریشن ہے۔ چین کی آبادی ایک ارب 41کروڑ ہے اور وہاں 34 انتظامی یونٹس ہیں جن میں 23صوبے‘ چار میونسپلٹیز‘ پانچ خودمختار اور دو خصوصی انتظامی ریجن شامل ہیں۔ جاپان میں 47 اور کینیڈا میں 10 صوبے ہیں۔پاکستان کی بات کریں تو ملکِ عزیز کی آبادی 24کروڑ سے زائد ہے جبکہ یہاں چار صوبے‘ دو انتظامی ریاستیں اور ایک وفاقی دارالحکومت ہے۔  بلوچستان رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ جبکہ پنجاب آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے جس کی آبادی تقریباً 12 کروڑ ہے۔ ملکی آبادی میں ہر سال تقریباً 2.55 فیصد کی شرح سے اضافہ ہو رہا۔ نصف آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یہ نوجوان سیاسی طور پر بہت باشعور ہیں اور اپنے حق کیلئے آواز بھی اٹھا رہے ہیں۔ اگرچہ اس وقت ملک میں کئی بحران سر اٹھائے ہوئے ہیں لیکن خوش آئند امر یہ ہے کہ ان کے حل کی طرف بھی توجہ دی جا رہی ہے۔ ملک کی بدحال معیشت اس وقت سب سے بڑا حل طلب مسئلہ ہے۔ اس پر گفت و شنید ہو رہی ہے کہ کیا کیا جائے۔ ایک حل یہ بھی سامنے آیا کہ نئے صوبے بنا کر اختیارات کی مزید تقسیم کر دی جائے‘ شاید یوں حالات بہتری کی طرف گامزن ہوں۔ جب سے وفاقی وزیر داخلہ کی طرف سے یہ بیان سامنے آیا ہے کہ ملک کا موجودہ نظام ناکارہ ہو چکا ہے‘ سیاسی میدان میں مزید بے چینی پیدا ہوئی ہے۔ لیکن میں سمجھتی ہوں کہ فی الحال سیاسی منظرنامہ تبدیل نہیں ہونے والا‘ کیونکہ اگر ایسا ہونا ہوتا تو یہ تبدیلی آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات میں بھی نظر آتی مگر ایسا نہیں ہوا۔ نتائج وہی آئے جن کی بازگشت تھی۔ تاہم یہ اشارے ضرور مل رہے ہیں کہ کچھ چہرے شاید تبدیل ہو جائیں۔ جب تک ملک میں جمہوریت تسلسل کے ساتھ کام نہیں کرے گی‘ پائیدار حقیقی تبدیلی نہیں آسکتی۔ وزیراعظم کی کرسی جب تک مضبوط اور پائیدار نہیں ہوگی‘ نظام ٹھیک نہیں ہو سکتا۔ ہمیں اپنی جمہوریت کو اقربا پروری‘ موروثیت اور کرپشن سے پاک کرنا ہوگا۔ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال کا جائزہ لیں تو ایک سیاسی جماعت کے لیڈران جیل میں ہیں اور اس جماعت کو کئی مشکلات کا سامنا ہے۔ دوسری طرف حکومت کو ہر طرح کی سپورٹ حاصل ہے۔ اگرچہ حالیہ کچھ عرصہ میں ملک نے سفارتی سطح پر کافی کامیابیاں سمیٹی ہیں‘ دنیا میں نام پیدا کیا مگر اس کے ثمرات ملک کی معیشت‘ جمہوریت اور آزادیٔ رائے تک نہیں پہنچے۔ بلوچستان اور آزاد کشمیر میں معاملات کو سیاسی طور پر حل کرنا چاہیے۔ تاہم حکومت کا دھیان صرف اس جانب ہے کہ کس نے کیا ٹویٹ کیا‘ کس کے خلاف کیا کارروائی ہو سکتی ہے۔ یہ آمرانہ روش کسی طور درست نہیں۔ دنیا کے مہذب ممالک میں معاملات افہام و تفہیم اور مذاکرات سے حل کیے جاتے ہیں۔ اگر ہم ملک میں تبدیلی چاہتے ہیں تو گورننس کے فارمولے کو بھی تھوڑا تبدیل کرنا ہوگا۔ سب سے پہلے ہمیں مقامی حکومتوں کو اختیارات دینا ہوں گے۔ بظاہر جمہوری کہلانے والی جماعتیں بار بار مقامی حکومتوں کی راہ میں رکاوٹ کیوں بنتی ہیں؟ ہمیں مقامی حکومتوںاور طلبہ تنظیموں کی اشد ضرورت ہے تاکہ سیاست میں نئے چہرے سامنے آئیں۔ پہلے لیڈرز جامعات میں جنم لیتے تھے‘ مقامی حکومتوں کے ذریعے عوام سے نکل کر نئے لیڈر سامنے آتے تھے‘ اب قحط الرجال ہے۔ ہمیں سب سے پہلے لوکل گورنمنٹ سسٹم کی ضرورت ہے جس میں ضلعی کونسل‘ میٹروپولیٹن کارپوریشن‘ تحصیل کونسل‘ ٹاؤن میونسپل کارپوریشن‘ یونین کونسل اور ویلیج کونسل کو فعال کرنا ضروری ہے۔ مقامی حکومتیں عوام کیلئے براہِ راست کام کرتی ہیں۔ اگر ان کو اختیار اور مناسب بجٹ دیا جائے تو عوام کے مسائل مقامی سطح پر ہی حل ہو سکتے ہیں اور نئی قیادت بھی سامنے آ سکتی ہے۔ جو لوگ اس وقت نئے صوبوں کے حامی ہیں‘ ان کے مطابق صرف اصلاحات سے مسائل حل نہیں ہوں گے‘ نئے صوبے اور انتظامی یونٹس ناگزیر ہیں۔ نئے صوبوں کے حامی جنوبی پنجاب میں ایک سرائیکی صوبہ دیکھنا چاہتے ہیں‘ کے پی میں ہزارہ صوبہ اور سندھ میں کراچی صوبہ اس وقت سب سے زیادہ زیر بحث ہیں۔ بلوچستان میں بھی مزید صوبے بنانے کی بحث جاری ہے۔ صوبوں کی حمایت کرنے والوں کے مطابق اس حوالے سے پارلیمنٹ سے قرارداد پاس کرانے کے علاوہ صوبوں میں ریفرنڈم بھی ہونا چاہیے تاکہ عوام اپنی رائے کا اظہار کر سکیں۔ ناقدین کے مطابق نئے انتظامی یونٹس قومی خزانے پر محض بوجھ بنیں گے۔ ہر صوبے کو اپنا اپنا بجٹ چاہیے ہوگا۔ نئی قیادت عوام کے بجائے نئے صوبے کا بجٹ مہنگی گاڑیوں یا دفاتر کی تزئین و آرائش پر خرچ نہ کر دے۔ احتساب اور انصاف کا عمل کیسے کام کرے گا؟ دوسرا اس سے لسانیت یا صوبائی تعصب کے ابھرنے کا خطرہ ہے۔ چولستان کینال کے معاملے پر سندھی قوم پرستوں کا شدید ردِعمل اور پیپلز پارٹی کی مخالفت سب کو یاد ہوگی۔ اسی طرح کالا باغ ڈیم کے نام پر وہ انڈس ڈیلٹا کا ذکر لے آتے ہیں۔ پی پی پی سندھ کی تقسیم کی حامی نہیں۔ اس وقت ضرورت ہے کہ پہلے معیشت کو ٹریک پر لایا جائے۔ اس کے بعد عوام کی ذہن سازی کی جائے اور پھر نئے صوبوں کی طرف بڑھا جا سکتا ہے۔ اگر سیاسی عدم استحکام میں کمی آ جائے اور معیشت کا پہیہ چل پڑے تب نئے صوبوں کا قیام عمل میں لایا جا سکے گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_38020467.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پاکستان اِک سائبان…(امیر حمزہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ameer-hamza/2026-08-07/52440/29914510</link><pubDate>Fri, 07 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ameer-hamza/2026-08-07/52440/29914510</guid><description>اللہ تعالیٰ کے انعامات میں سے ایک بہت بڑی نعمت قیادت کی نعمت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ نعمت برصغیر کے مسلمانوں کو قائداعظم کی صورت میں عطا فرمائی۔ علامہ اقبال کی درخواست پر جناب محمد علی جناح نے مسلم لیگ کی قیادت سنبھالی تو1929ء میں اہلِ اسلام کے الگ وطن کیلئے 14نکات برطانوی راج کے سامنے پیش کیے۔ برطانیہ اس وقت دنیا کی سپر پاور تھی۔ ان نکات کو منوانے کیلئے قائداعظم نے برصغیر کے مسلمانوں کو منظم کیا اور ان کی قیادت کی۔ ان کی یکجہتی اور اتحاد کو &#39;بنیانٌ مرصوص‘ بنایا اور صبرو استقلال کے ساتھ متواتر 18سالہ جدوجہد سے پاکستان حاصل کیا۔ کیسی باکمال قیادت تھی قائداعظم کی کہ ان اٹھارہ سالوں میں‘ پہلے تین سال چھوڑ کر فلسطین کی آزادی کی جدوجہد کو بھی اپنے مطالبات میں شامل کر لیا۔ یوں پندرہ سال متواتر فلسطین کیلئے جدوجہد بھی حضرت قائداعظم کی قیادت کا کمال و جمال ہے۔ اس کے بعد آج تک چھوٹی موٹی غلطیوں سے قطع نظر‘ پاک وطن کی قیادت مجموعی طور پر قائداعظم کے نقش قدم پر چلتی آ رہی ہے۔ اس کی تازہ مثال حالیہ خلیجی جنگ ہے۔ پاک وطن کی قیادت نے بھرپور کردار ادا کیا‘ عرب قیادت نے پاکستان کی گزارش کو قبولیت دی اور جنگ کے قریب نہ گئے۔ پاک وطن نے ایران اور امریکہ کے درمیان چودہ نکات کی یادداشت تیار کرائی۔ یہ دراصل حضرت قائداعظم کی بصیرت کو خراجِ تحسین تھا کہ اگر امریکہ سمیت تمام فریق ان چودہ نکات پر چلتے رہے‘ تھوڑی بہت کمی بیشی کو برداشت کرتے رہے تو امن کی شاہراہ پر چل پڑیں گے۔ الحمدللہ! امن کی یہ شاہراہ آج بھی اسلام آباد تک رواں دواں ہے۔ یاد رہے! ایران کا اعلیٰ سطحی وفد جب اسلام آباد آیا تھا تو وزیراعظم شہبازشریف نے اپنی چھتری کا سایہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے سر پر کیا تو پیہم عزم یہی تھا کہ چودہ نکات کی لاج خطے کو امن کی خلعت پہنا دے۔ &#39;&#39;سایۂ خدائے ذوالجلال‘‘ ہمارے قومی ترانے کا آخری جملہ ہے۔ پاک وطن اس سائے کی آخری حد تک پاسبانی کرے گا‘ ان شاء اللہ!1946ء میں سعودی عرب کے بانی شاہ عبدالعزیز آل سعود حکمران تھے اور شاہ فیصل مرحوم سعودی عرب کے وزیر خارجہ تھے۔ قائداعظم کی ہدایت پر ایم اے اصفہانی کی قیادت میں مسلم لیگ کا وفد امریکہ کے دورے پر گیا۔ ایم اے اصفہانی کو اقوام متحدہ میں پاکستان کا مقدمہ پیش کرنے کا موقع نہ ملا تو شاہ فیصل نے نیویارک کے روز ویلٹ ہوٹل میں دنیا بھر کے نمائندوں کو عشائیہ دیا۔ تب ایم اے اصفہانی نے وہاں پاکستان کے وجود کا مقدمہ پیش کیا۔ پاکستان کیلئے یہ بین الاقوامی موقع سعودی عرب نے بنایا اور شاہ فیصل نے قیام پاکستان کی جدوجہد کا سائبان قائداعظم کے وفد کے سر پر پھیلا دیا۔ آج پاکستان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ سرزمین حرمین کا پاسبان بن کر کھڑا ہے۔ وہ خلیج فارس اور بحر احمر کے خطے کے مسلمانوں کی باہمی غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کوشش کر رہا ہے کیونکہ اگر مسلمان( اللہ نہ کرے) آپس میں لڑ پڑے تو گریٹر اسرائیل کا خواب بیداری کی سرزمین پر سفر شروع کر دے گا۔ پاک وطن اسرائیلی توسیع کے مذموم منصوبے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ چنانچہ میں بے ساختہ کہوں گا: اے میرے پاک وطن!تجھ پر سایہ خدائے ذوالجلال سدا رہے اور یہ سایہ خلیجی دنیا کو امن اور اتحاد کا سائبان فراہم کرتا رہے‘ آمین!غزوۂ احزاب ایسا غزوہ ہے کہ اللہ کے آخری رسول حضور کریمﷺ کی اس میں حکمتِ عملی دنیا بھر کے حکمرانوں کیلئے بہترین نمونہ ہے۔ اللہ کے رسولﷺ نے اپنے راز دار اور معتمد خاص حضرت حذیفہ بن یمانؓ کو حکم دیا کہ مکہ سے آئے لشکر کی خبر لے کر آئیں کہ وہ کس حال میں ہیں؟ ساتھ ہی نصیحت فرمائی کہ انہیں میرے خلاف بھڑکا نہ دینا‘ یعنی کوئی ایسا کام نہ کرنا کہ وہ بھاگتے ہوئے مشتعل ہو جائیں اور ہم پر چڑھائی کر دیں۔ وہ دس ہزار کا لشکر 25 روزہ ناکام محاصرے کے بعد ایک نئی مصیبت کا شکار ہو چکا تھا۔ چنانچہ حضرت حذیفہؓ اہلِ مکہ کے لشکر میں گئے۔ لشکری شدید سرد طوفان سے گھبرا کر بھاگ رہے تھے۔ لشکر کے سالار ابوسفیان تھے۔ گھبراہٹ میں وہ اپنے اونٹ کے گھٹنے کی رسی بھی نہ کھول سکے۔ حضرت حذیفہؓ بتاتے ہیں کہ جب ابوسفیان رسی کھولنے لگا تو اس کی کمر میری جانب تھی‘ میں نے تیر کمان میں رکھا اور چلانے ہی لگا تھا کہ حضورﷺ کی نصیحت یاد آ گئی؛ چنانچہ میں رک گیا اور تیر اپنے ترکش میں ڈال لیا۔ پس ثابت ہوا کہ بھاگتے دشمن کو راستہ دینا چاہیے جبکہ وہ طاقتور بھی ہو۔ آج کی حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کے جنوبی اور شمالی‘ دونوں براعظموں کے ممالک نے اس کا ساتھ نہیں دیا۔ یورپ اور آسٹریلیا وغیرہ نے بھی ساتھ نہیں دیا۔ ثابت ہوا کہ انسانیت جارحیت نہیں‘ امن چاہتی ہے۔ پاک وطن کی خوبی رہ رہ کر یاد آتی ہے کہ وہ اپنی برتری کے مواقع پر راستے دینے کا کام کرتا چلا آ رہا ہے۔ ابھی کل کی بات ہے کہ بنیانٌ مرصوص والوں نے شکست دی تو انڈیا بھاگ کھڑا ہوا۔ پاکستان نے اسے بھاگنے دیا۔ ہمارے شاہین چاہتے تو ستر طیارے گرا سکتے تھے مگر سات کے قریب گرا لیے تو اسی پر اکتفا کر لیا کہ انڈیا بھی ایک ایٹمی پاور ہے‘ اسے راستہ دے دو۔پاکستان اپنی ملٹری قوت کے ساتھ خلیج  میں پہلے ہی موجود ہے۔ وہ پاسبانِ حرمین شریفین ہے۔ یہ موجودگی امن کا سائبان ہے۔ چند دن قبل 43 ملکوں کے وفود ریاض میں اکٹھے ہوئے۔ یہ عزم کیا گیا کہ بحر احمر کا آبی راستہ کھلا رہے۔ پاک وطن اس اجتماع میں مصالحت کار ہونے کی حیثیت سے خصوصی اہمیت کا حامل تھا۔ دنیا بھر کے اہلِ اسلام کی خواہش اور امید ہے کہ پاکستان اسی قسم کا اجتماع خلیج فارس کے دونوں کناروں پر آباد ممالک کا بھی کرائے کہ جس کے ایک جانب ایران ہے اور دوسری جانب سعودی عرب‘ عراق‘ کویت‘ بحرین‘ قطر‘ متحدہ عرب امارات اور عمان۔ اس کے بعد ان سب کا باہم معاہدہ ہو جائے۔ بحر احمر اور خلیج والے پاک وطن کے سائبان تلے باہم مل جائیں۔ یمن کے سب دھڑے بھی اس کی چھائوں تلے آ جائیں۔ اس کے بعد یہی سائبان جنوبی لبنان اور غزہ پر توجہ مبذول کر لے تو مشرقِ وسطیٰ امن کا علمبردار خطہ بن جائے گا‘ ان شاء اللہ تعالیٰ! پاکستان یہ صلاحیت رکھتا ہے کہ یہ سارے مبارک کام کر کے امریکہ کو بھی فیس سیونگ دینے کا بندوبست کر لے۔ پاک وطن کی تاریخ ایسے تجربات اور حوصلوں سے بھری پڑی ہے۔ سوویت روس جب افغانستان میں آیا تو چند سالوں میں اس کے تین صدور برزنیف‘ آندروپوف اور چرننکو فوت ہو گئے۔ صدر ضیاء الحق مرحوم سب کی آخری رسومات میں شامل ہوتے رہے‘ حالانکہ وہ ان کی جارحیت کے خلاف لڑنے والوں میں شامل تھے۔روسی فوج کے انخلا کا وقت آیا تو اس انداز سے سرخ آرمی کو رخصت کیا گیا کہ حیرتان کے راستے ترمذ (ازبکستان) جاتی اس فوج پر ایک بھی حملہ نہ ہوا۔امریکہ نے 20 سال افغان میں لڑتے ہوئے گزارے۔ پاکستان نے دوحہ مذاکرات میں بھرپور کردار ادا کیا؛ چنانچہ معاہدہ طے پا گیا۔ جب امریکی فوج یہاں سے نکلی تو امن کے ساتھ ان کے انخلا کو یقینی بنایا گیا۔ ساتھ ساتھ وہ لوگ جو امریکی فوج کے ساتھ تعاون کر رہے تھے‘ انہیں پاکستان میں ٹھہرایا گیا۔ فتح مکہ کا سبق کابل کے نئے حکمرانوں کو یاد کرایا گیا۔ ایران اور پاکستان باہم پڑوسی ہیں۔ پاکستان اپنے آس پڑوس میں جنگ نہیں چاہتا۔ میرے پاک وطن کی تاریخ یہی بتاتی ہے کہ اس کا پُرامن سائبان سب کیلئے میسر بھی ہے اور آسان بھی ہے۔ یہ سائبان اپنے سائے کو وسیع کرتا چلا گیا تو پُرامن انسانیت پکار اٹھے گی کہ امن کا سب سے بڑا عالمی انعام‘ جس کا نام &#39;نوبیل‘ ہے وہ پاکستان کے ماتھے کا جھومر بننا چاہیے۔ اس کیلئے ہم سب کو اپنے پاک وطن کے استحکام کیلئے &#39;بنیانٌ مرصوص‘ بننا ہوگا‘ تب ہم کہہ سکیں گے: پاکستان پر سایۂ خدائے ذوالجلال کیوں نہ ہو کہ اس کی اساس &#39;&#39; لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_68712266.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>