<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>مستحکم پاکستان کی بنیاد(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-07/11518</link><pubDate>Mon, 07 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-07/11518</guid><description>وزیراعظم شہباز شریف کے یومِ دفاع کے موقع پر جاری کئے گئے خصوصی پیغام میں اس امر کی نشاندہی کی گئی کہ جہالت‘ غربت اور پسماندگی کا خاتمہ ملک کا سب سے بڑا چیلنج ہے۔ اس میں دو رائے نہیں‘ نیز یہ بھی واضح ہے کہ پر امن‘ مستحکم اور معاشی طور پر مضبوط پاکستان ہی ہماری حقیقی طاقت بن سکتا ہے‘ مگر اس کیلئے محض اعلانات کافی نہیں بلکہ مستقل اور مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ پاکستان علاقائی اور عالمی سطح پر امن واستحکام کیلئے بھرپور کردار ادا کر رہا ہے۔ ایک ذمہ دار ریاست کی حیثیت سے پاکستان نے خطے میں امن وسلامتی کیلئے تعاون‘ مکالمے اور مشترکہ اقدامات کو ہمیشہ ترجیح دی ہے اور مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ بھی علاقائی سلامتی میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے کردار اور برادر ممالک کے ساتھ اجتماعی دفاع وباہمی سلامتی کے عزم کا مظہر ہے۔ تاہم بیرونی محاذ پر فعال کردار کے ساتھ ساتھ داخلی سطح پر سماجی وسیاسی استحکام اور انفرادی واجتماعی ترقی کو قومی ترجیحات میں سرفہرست رکھنا ہو گا۔

اس وقت سماجی اور افرادی ترقی کی صورتحال کا ذکر کیا جائے تو یہ کوئی اچھی تصویر پیش نہیں کرتی۔ پاکستان میں تعلیم اور صحت پر حکومتی اخراجات خطے کے ممالک کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہیں۔ ڈھائی کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں‘ جبکہ بچوں میں غذائی قلت اور سٹنٹنگ ایک سنگین قومی مسئلہ بن چکی ہے۔بیروزگاری کی شرح 2020-21ء اور 2024-25ء کے درمیان 6.3 فیصد سے بڑھ کر 6.9 فیصد ہو گئی۔ خواتین اور نوجوانوں کو بیروزگاری کی بلند ترین سطح کا سامنا ہے۔نوجوانوں (15 تا 24 سال) کی بیروزگاری 12.5 فیصد ہے اور خواتین میں یہ شرح 13 فیصدسے زیادہ ہے۔ یہ محض اعداد و شمار نہیں بلکہ ملک کے مستقبل کی تصویر ہیں۔ جو قوم اپنے بچوں کو معیاری تعلیم‘ صحت اور بنیادی سہولتیں اور نوجوانوں کو روزگار فراہم نہ کر سکے اس کیلئے طویل المدت معاشی اور سماجی ترقی کا سفر مشکل ہو جاتا ہے۔ امن وامان کی صورتحال اور قانون کی حکمرانی بھی قومی ترقی کیلئے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
سرمایہ کاری‘ صنعت اور کاروبار اسی ماحول میں فروغ پاتے ہیں جہاں قانون سب کیلئے برابر ہو‘ ادارے مؤثر ہوں اور شہری خود کو محفوظ سمجھیں۔ ہمارے ہاں بدقسمتی سے انتظامی کمزوریاں اور پالیسیوں کا عدم تسلسل معاشی سرگرمیوں کی راہ میں بڑی رکاوٹ ثابت ہو رہا ہے۔ توانائی کی بلند قیمتیں صنعتی اور گھریلو صارفین دونوں کیلئے غیر معمولی مسئلہ بن چکی ہیں۔ بجلی‘ گیس اور تیل پر عائد بھاری ٹیکس اور دیگر اخراجات مجموعی لاگت میں اضافہ کرتے ہیں جس سے پاکستان میں صنعتی پیداواری لاگت کئی مسابقتی ممالک کے مقابلے میں زیادہ ہو جاتی ہے۔ جب مقامی صنعتی پیداوار مہنگی ہو گی تو عالمی منڈی میں پاکستانی مصنوعات کیلئے مقابلہ کرنا مشکل ہو گا۔ برآمدات میں اضافہ اور صنعتی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب توانائی کی لاگت‘ ٹیکس نظام اور کاروباری ماحول کو حقیقت پسندانہ بنیادوں پر بہتر بنایا جائے۔
پاکستان کو غربت‘ مہنگائی‘ بیروزگاری‘ کمزور حکمرانی اور معاشی پسماندگی کے خلاف پُرعزم جدوجہد کی ضرورت ہے۔ اس کیلئے حکومت کو تعلیم‘ صحت‘ صاف پانی‘ امن وامان‘ قانون کی حکمرانی‘ توانائی کی قیمتوں اور صنعتی شعبوں میں واضح اہداف مقرر کرنا ہوں گے۔ صرف تقریروں اور وعدوں سے ملک مضبوط ہو سکتا تو یہ مسائل سرے سے موجود ہی نہ ہوتے۔ آج ہم جس صورتحال میں ہیں‘ مزید وقت ضائع نہیں کیا جا سکتا۔ قوم کو نتائج چاہئیں۔ اگر حقیقی معنوں میں قومی ترقی کو یقینی بنانا ہے تو حکومت‘ سیاسی قیادت‘ اداروں اور معاشرے سب کو اپنے اپنے حصے کی ذمہ داری ادا کرنا ہو گی۔ مضبوط دفاع کے ساتھ مضبوط معیشت‘ معیاری تعلیم‘ بہتر صحت‘ قانون کی حکمرانی اور خوشحال شہری ہی ناقابلِ تسخیر پاکستان کی بنیاد بن سکتے ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>دہشت گردی کے خلاف عزم(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-07/11517</link><pubDate>Mon, 07 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-07/11517</guid><description>خیبر پختونخوا کے اضلاع کوہاٹ‘ ڈیرہ اسماعیل خان اور شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز نے مختلف کارروائیوں میں بھارتی حمایت یافتہ 11 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ شمالی وزیرستان میں دراندازی کی کوشش کرنے والے دس دہشت گردوں کو بھی کیفر کردار تک پہنچایا گیا۔ بلوچستان میں بھی دہشت گردی کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کامیابی سے جاری ہیں اور حالیہ دنوں میں 48 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔ امن و امان کے قیام کے لیے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ ایک ملکی تھنک ٹینک کی ماہانہ رپورٹ کے مطابق رواں سال اگست میں دہشت گردی کے حملوں کی تعداد 199 رہی‘ جو جولائی میں 144 حملوں کے مقابلے میں 38 فیصد زیادہ ہے۔ تاہم حملوں کی تعداد بڑھنے کے باوجود جانی نقصان میں کمی سکیورٹی اداروں کی کامیاب حکمت عملی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

مغربی سرحدی علاقوں میں دہشتگردی کا ایک بڑا سبب ان کا افغانستان سے ملحق ہونا ہے‘ جہاں دہشت گردوں کو ہر طرح کی مالی اور مادی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ عسکری سطح پر سکیورٹی فورسز بے پناہ قربانیاں دے کر دہشت گردوں کا صفایا کر رہی ہیں لیکن پائیدار امن کیلئے محض عسکری طاقت کافی نہیں ہے۔ دہشتگردی کے خلاف پختہ عزم اب سفارتی‘ سیاسی اور سماجی سطح پر بھی نظر آنا چاہیے۔ جب تک پوری قوم اور سیاسی قیادت مل کر داخلی محاذ کو مضبوط نہیں بنائیں گے بیرونی سازشوں اور سرحد پار سے ہونے والی دہشتگردی کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں ہو سکے گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مہنگائی کا دبائو برقرار(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-07/11516</link><pubDate>Mon, 07 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-07/11516</guid><description>پاکستان میں مہنگائی کا گراف بلند تر ہوتا جا رہا ہے جس نے عوام کی کمر دہری کر کے رکھ دی ہے۔ ادارہ شماریات کی ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق مہنگائی کی شرح 0.65 فیصد اضافے کے بعد 8.35 فیصد پر پہنچ گئی ہے۔ ایک ہفتے کے دوران آٹا‘ گوشت اور سبزیوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔ غریب کی بنیادی خوراک کہلانے والا پیاز ایک ہفتے میں 26 فیصد اور سالانہ بنیادوں پر 162 فیصد مہنگا ہوا۔اہم بات یہ ہے کہ ماہانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح دہرے ہندسے میں داخل ہو چکی اور اگست میں شرح گرانی 11.1 فیصد ریکارڈ کی گئی جو گزشتہ سال اگست کی شرح 3.1 فیصد اور گزشہ ماہ (جولائی) کی شرح 9.2 فیصد سے نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ اس بے لگام مہنگائی کے بنیادی اسباب ڈھکے چھپے نہیں۔ پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتیں گرانی کی لہر کا سب سے بڑا سبب ہیں۔

جب تک توانائی کی لاگت کم نہیں ہوتی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں استحکام لانا مشکل ہے۔ موجودہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ حکومت بجلی و پٹرول کی قیمتوں پر ٹیکسوں کا بوجھ کم کرے۔ علاوہ ازیں مارکیٹ کمیٹیوں کو فعال کرنا اور ناجائز منافع خوری کے خلاف اقدامات مارکیٹ نظم کو برقرار رکھنے کیلئے اپنی جگہ ضروری ہیں۔ اگر اب بھی ہنگامی بنیادوں پر فیصلے نہ کیے گئے تو مہنگائی کا بڑھتا معاشی بوجھ ایک بڑے سماجی بحران میں بدل سکتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>عوام یا اعیان؟(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-09-07/52616/83027873</link><pubDate>Mon, 07 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-09-07/52616/83027873</guid><description>&#39;&#39;ملک میں نئے صوبے بنیں گے‘‘... یہ کس کا فیصلہ ہے؟ عوام کا یا اعیان کا؟ یہ سوچ کہاں سے اٹھی؟ عوام سے‘ جو اعیان تک گئی یا اعیانی حلقوں سے اٹھی اور عوام تک گئی؟ اہم تر سوال یہی ہے۔ اس سے طے ہوگا کہ ہمارا سیاسی نظام جمہوری ہے یا اعیانی۔سیاست کی گہرائی کو‘ افسوس کہ کم لوگ ماپ سکے۔ کسی نے خیال کیا کہ اسے ڈگریوں سے ناپا جائے۔ فیصلہ سنایا کہ جس نے بی اے کا امتحان پاس کیا ہو گا‘ وہی انتخابات میں حصہ لینے کا اہل ہے۔ تجربے نے بتایا کہ یہ خیالِ خام تھا۔ &#39;سیاست‘ کا ڈگری سے کوئی تعلق نہیں۔ کسی نے فتویٰ دیا کہ &#39;متقی‘ لوگ اسمبلی میں جائیں گے تو نظام پاکیزہ ہو جائے گا۔ تقویٰ کو ناپنے کے لیے آئین میں دفعہ 62‘ 63 کا اضافہ کر دیا گیا۔ اس کا نتیجہ بھی وہی رہا۔ کسی نے تجویز پیش کی: غیر جماعتی انتخابات کرائے جائیں تو صالحین اسمبلی تک پہنچیں گے۔ یہ کر کے دیکھا تو معلوم ہوا کہ کوئی فرق نہیں پڑا۔ ایک فارمولا کبھی دوسرا فارمولا۔ کسی نے یہ نہ سوچا کہ پہلی اینٹ ٹیڑھی ہو تو دیوار کو ثریا تک لے جائیں‘ ٹیڑھی ہی رہے گی۔&#39;سیاست‘ معاملہ فہمی کی خداداد صلاحیت ہے۔ یہ انسانی نفسیات اور رویوں کا علم ہے۔ یہ سماج کی تہ در تہ بُنت کو جاننا ہے۔ یہ واقعات کے پسِ پردہ‘ اُن کے اسباب کا ادراک ہے۔ یہ دور اندیشی ہے جو مستقبل کی خبر دے سکتی ہے۔ یہ سکھاتی ہے کہ سندھ کو اسی لاٹھی سے نہیں ہانکا جا سکتا جس سے پنجاب کو چلایا جاتا ہے۔ بلوچستان کو کے پی پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ تاریخ اور جغرافیے کا فرق‘ رویوں اور شخصیتوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ &#39;سیاستدان‘ وہی ہوتا ہے جس کا خمیر ان تما م عناصر کو تجربے کے روغن میں گوند کر بنتا ہے۔ تعلیم‘ علم اور مطالعہ سے اس میں نکھار آتا جاتا ہے۔ تعلیم سے مگر یہ خمیر پیدا نہیں کیا جا سکتا۔ کسی خاص شعبے کی مہارت‘ سیاست کو سمجھنے کے لیے کفایت نہیں کرتی۔ آکسفورڈ یا ہاورڈ کی ڈگری تزئین وآرائش کے کام تو آ سکتی ہے‘ شخصیت میں بنیادی خواص پیدا نہیں کر سکتی۔ کیمبرج اور آکسفورڈ میں تو اہلِ سیاست کو سمجھنے پر پی ایچ ڈی کی ڈگری دی جاتی ہے۔ہر آدمی جانتا ہے کہ آج ملک آئی پی پیز کے شکنجے میں ہے۔ بجلی مہنگی ہے اور ظلم یہ کہ بجلی کے بند کارخانوں کا کرایہ بھی عوام کو دینا پڑ رہا ہے۔ اس کا ایک آسان حل موجود ہے: پانی سے بجلی پیدا کرنا۔ اگر کالا باغ ڈیم بن جائے تو سب دلدر دور ہو جائیں۔ سندھ یا کے پی میں بعض سیاستدانوں کو اعتراض ہے۔ پنجاب میں تو کسی کو اعتراض نہیں۔ پھر کیا سبب ہے کہ پنجاب سے آنے والے وزرائے اعظم اس جانب کوئی قدم نہ اٹھا سکے؟ نواز شریف صاحب نے اس کا اعلان کیا مگر الٹے پاؤں لوٹ گئے۔ کیوں؟ ذوالفقار علی بھٹو نے چودھری ظہور الٰہی کو بلوچستان کی جیل کے لیے روانہ کیا اور وہاں کے حکمران اکبر بگٹی کو انہیں ٹھکانے لگانے کو کہا۔ بگٹی نے یہ نہیں کیا۔ کیوں؟ جنرل مشرف کے دور میں‘ خود اکبر بگٹی قتل ہو گئے۔ معلوم ہے کہ ریاستِ پاکستان کو اس کی کیا قیمت ادا کرنا پڑی؟جو بات مجھے معلوم ہے‘ کیا حکومتوں کو معلوم نہیں تھی؟ کیا انہیں بجلی مہنگی کر کے گالیاں کھانے کا شوق ہے؟ ان سوالات کا ایک ہی جواب ہے: سیاست۔ سیاست سکھاتی ہے کہ کالا باغ بنانے سے ملک کو بجلی سستی مل جائے گی مگر فیڈریشن کو خطرات لاحق ہو جائیں گے۔ دو صوبوں کو ناراض کر کے ریاست کو یکجا نہیں رکھا جا سکتا۔ مہنگی بجلی سے پہنچنے والا نقصان اٹھایا جا سکتا مگر فیڈریشن کو داؤ پر نہیں لگایا جا سکتا۔ اکبر بگتی جانتے تھے کہ پنجاب کے سیاستدان کو بلوچستان میں قتل کرنے سے ملک کی یکجہتی پر کیا اثر پڑسکتا ہے۔ وہ اس لیے جانتے تھے کہ سیاستدان تھے۔ پرویز مشرف سیاستدان نہیں تھے۔ وہ نہیں جان پائے کہ اکبر بگٹی کے قتل سے ریاست کی سالمیت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچے گا۔ میں تواتر سے لکھتا رہا ہوں کہ جب کسی کو سیاسی عصبیت حاصل ہو جائے تو اس کے خلاف قانون اُس طرح حرکت میں نہیں آ سکتا جس طرح عام آدمی کے خلاف متحرک ہوتا ہے۔ اگر وہ مجرم ہو تو بھی سزا نہیں دی جاتی کہ بعض اوقات ریاست اس کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ مجیب الرحمن اگرتلہ سازش میں شریک تھے یا نہیں‘ اس سے قطع نظر‘ ان کو سزا دینے کی ایک قیمت تھی جو ریاست کو چکانا پڑی۔ بھٹو کی پھانسی کی بھی ایک قیمت تھی‘ اگرچہ نواب محمد احمد کے قاتل کے بارے میں ابھی تک شکوک موجود ہیں۔ عمران خان صاحب کے بارے میں بہت سے مقدمات‘ بظاہرلگتا ہے کہ پوری طرح ثابت ہیں مگر انہیں سزا دینا اس لیے مشکل ہے کہ انہیں سیاسی عصبیت حاصل ہے۔ سیاست یہ سمجھاتی ہے کہ جب کسی کو سیاسی عصبیت حاصل ہو جائے تو ہر جرم ایک سیاسی زاویہ اختیار کر لیتا ہے۔نئے صوبے بننے چاہئیں یا نہیں‘ یہ علمی سوال ہے اور اس کے ساتھ اس کا تعلق سیاست سے بھی ہے۔ علم یہ کہتا ہے کہ انتظامی یونٹ جتنا چھوٹا ہوگا‘ گورننس اتنی بہتر ہو گی۔ سیاست یہ کہتی ہے کہ سندھ میں ایک جماعت ایسی ہے جو فیڈریشن کے ساتھ چلتی اور عوام میں رسوخ بھی رکھتی ہے۔ اگر اس کو ناراض کیا جائے گا تو یہ فیڈریشن کے لیے نیک شگون نہیں۔ طاقت یہ کہتی ہے کہ وہی فیصلہ کرے گی۔ اگر اس کی نظر میں یہ فیصلہ درست ہے تو وہ کر گزرے گی۔ طاقت کا مطلب قوتِ نافذہ کا ہونا ہے۔ طاقت اپنے فیصلے نافذ کرنے کی قدرت رکھتی ہے۔ جیسے اکبر بگٹی قتل ہو گئے اور بھٹو پھانسی چڑھ گئے مگرکوئی روک نہیں سکا۔ طاقت کے برخلاف‘ سیاست سماج کی بُنت کو سمجھتی ہے۔ وہ انسانی نفسیات کو جانتی ہے۔ اسے معلوم ہے کہ بعض فیصلے نافذ ہو جاتے ہیں مگرانسانی نفسیات پر ایسا اثر چھوڑ جاتے ہیں جو آنے والے وقت میں آتش فشاں بن کر پھٹ سکتا ہے۔ سیاست یہ سمجھتی ہے کہ فیصلہ وہی کرنا چاہیے جس کو عوام قبول کریں۔ جب وہ قبول کر لیتے ہیں تو اس کی تنفیذ آسان ہو جاتی ہے۔ ذمہ دار مناصب پر بیٹھے سمجھدار لوگ اپنی رائے عوام پر مسلط نہیں کرتے‘ ان کی رائے کو نافذ کرتے ہیں۔ اگر ان کی نظر میں کوئی فیصلہ ناگزیر ہو تو اس کے نفاذ سے پہلے‘ عوام میں آگہی کی مہم چلاتے ہیں۔ وہ اس وقت کا انتظار کرتے ہیں جب عوام اور اعیان میں اتفاق رائے پیدا ہو جائے۔عقلِ عام اور تاریخ‘ دونوں کا فیصلہ ہے کہ بہتر گورننس کے لیے انتظامی یونٹ کو چھوٹا ہونا چاہیے۔ اس وقت اس کے دو ماڈل موجود ہیں۔ ایک لوکل باڈیز کا خودمختار نظام۔ صوبے باقی رہیں مگر صوبائی حکومت کے اختیارات مقامی حکومتوں کو منتقل ہو جائیں۔ اس پر بھی مزاحمت ہو گی مگر یہ وہ حل ہے جس پر سب کو قائل کیا جا سکتا ہے۔ دوسرا ماڈل نئے صوبوں کا قیام ہے جس کی مخالفت ہو رہی ہے۔ عقل کہتی ہے کہ فیصلہ &#39;سیاست‘ کو کرنا چاہیے اور سیاست دم توڑ رہی ہے۔ یہ نیک شگون نہیں ہے۔ سیاست ہی میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ مسائل کا قابلِ قبول حل تلاش کر سکتی ہے۔ سیاست‘ سیاسی جماعتوں کے دم سے زندہ رہتی ہے۔ انہیں اس طرح دیوار سے نہ لگایا جائے کہ سیاست ہی ختم ہو جائے۔ سیاست کا متبادل ڈگری بن سکتی ہے نہ طاقت۔ سیاسی جماعتوں کی قیادت کو بھی اپنے تنِ خاکی میں جاں پیدا کرنی چاہیے۔ ان کی کارکردگی مایوس کن ہے۔ سیاست صرف اقتدار کی خواہش اور اس کے لیے کوشش کا نام نہیں۔ یہ آدرش ہے‘ ایثار ہے اور کردار ہے۔ اگر یہ باقی ہیں تو سیاسی جماعتیں زندہ ہیں۔ بصورتِ دیگر فیصلہ عوام نہیں‘ اعیان کریں گے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>یہ ہو گا کیسے؟(رسول بخش رئیس)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-09-07/52617/62431339</link><pubDate>Mon, 07 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-09-07/52617/62431339</guid><description> جنرل پرویز مشرف نے پاکستان پیپلز پارٹی سے خفیہ معاہدہ کیا تو ایک شرط تمام پرانے مقدمات ختم کرنے کی تھی۔ اس کے لیے ضروری سمجھا گیا کہ آئین میں کچھ ترامیم کی جائیں اور ساتھ ہی عدلیہ کے پَر کاٹنا بھی لازمی تھا۔ ایمرجنسی کا نفاذ ہوا اور ایک دن عدالتِ عالیہ کے جج صاحبان کو گھروں میں بند کر دیا گیا۔ سب تفصیلات آپ کو معلوم ہیں اور اب تاریخ کا حصہ ہیں۔ عدلیہ کو بحال اور حاکمینِ وقت سے آزاد کرانے کی تحریک چلی تو ملک کی کوئی ایسی جمہوریت پسند تنظیم نہ تھی جس نے اس میں حصہ نہ ڈالا ہو۔ میڈیا نے تو بڑھ چڑھ کر حصہ لیا‘ کالے کوٹ والے تب بپھرے ہوئے تھے اور کچھ جامعات کے طلبہ اور اساتذہ بھی آگے آگے تھے۔ زمین پر تو عوام و خواص بہت کچھ کر رہے تھے مگر بڑے حاکم کچھ کرنے کیلئے تیار نہ تھے۔ محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد سیاسی حالات نے اچانک رخ بدلا اور آصف علی زرداری نہ صرف صدر بلکہ سیاسی میدان کے بڑے شہسوار کے طور پر ابھر کر آ چکے تھے۔ انہوں نے وزیراعظم کا عہدہ موجودہ چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کے سپرد کر کے سکھ اور چین کی بانسری بجانا شروع کر دی۔ جمہوریت کی بحالی کے بعد بھی عدلیہ بحال نہیں ہو پائی تھی۔ تحریک اُسی طرح چل رہی تھی۔ تقریباً ایک سال ہونے کو تھا۔ یہ درویش شروع دن سے عدلیہ کی بحالی کے حق میں تھا اور ایمرجنسی کے نفاذ کے اگلے دن اپنی جامعہ میں بلاخوف وخطر طلبہ اور اساتذہ کا ایک جلوس بھی منظم کیا۔ اس کے بعد اساتذہ روز شام کے وقت آئین‘ جمہوریت اور عدلیہ کی بحالی کیلئے ایک مختصر جلسہ کرتے۔ سینکڑوں طلبہ اس میں شرکت کرتے۔ ہم سب لوگ غیر سیاسی تھے‘ کسی تنظیم یا جماعت سے کوئی تعلق نہ تھا۔اصل سوال لیکن یہ تھا کہ عدلیہ کے تمام ججز جنہیں نوکری سے نکال دیا گیا تھا‘ کو بحال کیسے کیا جائے گا۔ زرداری صاحب اور یوسف رضا گیلانی ایسا کرنے کیلئے تیار نہ تھے۔ جسٹس جواد ایس خواجہ ‘ جنہوں نے اکتوبر 1999ء میں مشرف حکومت کی طرف سے جاری عبوری حکم کے تحت دوبارہ حلف اٹھانے سے انکار کیا تھا‘ وہ بھی ہمارے ساتھ اسی جامعہ میں پڑھا رہے تھے۔ ان سے تقریباً روزانہ ملاقات ہوتی۔ کافی کا پہلا گھونٹ حلق میں انڈیلنے سے پہلے میرا سوال ہوتا &#39;&#39;خواجہ صاحب! اب ایک سال ہو چلا ہے‘ عدلیہ بحال کیسے ہو گی؟‘‘ ہر دفعہ وہ ایک ہی جواب دیتے: &#39;&#39;یہ تو مجھے پتا نہیں کہ کیسے ہو گی مگر ہو گی ضرور‘‘۔ موسمِ بہار کے پہلے مہینوں کے وہ دو چار دن اچھی طرح یاد ہیں جب پنجاب میں گیلانی؍ زرداری حکومت نے گورنر راج لگایا ہوا تھا اور نواز شریف صاحب ماڈل ٹائون لاہور سے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کیلئے نکلے۔ مال روڈ پر اس صبح جو واقعات پیش آئے ان کے عکس آج بھی ذہن میں محفوظ ہیں۔ کبھی پولیس کا غلبہ تو کبھی لیگیوں کی یلغار۔ شام کے بعد خبریں آنے لگیں کہ میاں صاحب نے راوی کا پُل پارکر لیا ہے اور اب گوجرانوالہ کی طرف رواں دواں ہیں۔ رات کو وہاں شاید قیام کیا اور ہم بھی اگلی صبح کے انتظار میں چادر تان کر سو رہے تھے۔ اب معلوم نہیں کس نے جگا کر کہا کہ عدلیہ کی بحالی کا حکم جاری ہو گیا ہے۔ ہم اسی وقت گھر سے نکل کر ججز کالونی کی طرف تماشا دیکھنے کیلئے روانہ ہو گئے۔ ہزاروں لوگوں کا مجمع تھا۔ کیسے ہوا‘ کس نے کروایا‘ مگر عدلیہ بحال ہو گئی۔ اور جو بعد میں ہوا‘ اور ہوتا رہا‘ اور اب ہو رہا ہے‘ اس سے ہمارا کوئی سروکار نہیں۔ اس بارے میں اب تو بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اور تاریخ کا حصہ ہے۔ اس تاریخی واقعے کی دھندلی سی تصویر آپ کو اس لیے دکھائی ہے کہ آج کل ایک انتہائی اہم بلکہ اگر نظام کی تبدیلی کی بات کہیں تو بہترہو گا‘ کی باتیں ہو رہی ہیں۔ بلکہ بات بہت آگے بڑھ چکی ہے۔ یہ کہا جارہا ہے کہ نظام ملک کی آزادی سے لے کر آج تک ٹھیک نہیں چل رہا‘ اس کو ٹھیک کرنا ملکی بقا اور خوشحالی کا تقاضا ہے۔ ایک عرصہ سے نظام کی ناکامی کی باتیں ہو رہی ہیں‘ اکثر بند دروازوں میں۔ اب تو بلی تھیلے سے باہر نکل کر میائوں میائوں کر رہی ہے۔ بات مگر وہی کہ نئے صوبے یا صوبوں کے اندر صوبوں کی طرح کی انتظامی اکائیاں بنیں گی کیسے؟ملک فکری اور سیاسی انتشار کا شکار تو طویل عرصے سے ہے۔ ہم نے اپنے اصلی آبائی علاقے کے ادب‘ فلسفوں اور تاریخ کو دریافت کر کے کچھ اور شناخت پیدا کرنے کی کاوشیں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ اب ایک عجیب مخمصہ ہماری بحثوں کا حصہ بن چکا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ اگر آپ آئین کے مطابق صوبے بناتے ہیں تو اُسی صورت بن سکتے ہیں جب آپ ہر صوبے اور مرکز میں دو تہائی اکثریت والی پارٹی اقتدار میں لے آئیں۔ پہلے تو صوبے کی اسمبلی دو تہائی اکثریت سے وہ کرے اور پھر قومی اسمبلی اور سینیٹ دو تہائی اکثریت سے آئین میں تبدیلی کر کے ریاستی تنظیمِ نو کریں۔ اب آپ بات سمجھ جائیں کہ جب سندھ اور پنجاب کے حکمران گھرانے کہتے ہیں کہ صوبے بنانے کا طریقہ تو آئین میں موجود ہے تو اس کا مطلب یہی ہے کہ وہ سامنے ٹرک جا رہا ہے اور اس کی بتی کے پیچھے دوڑتے رہیں۔ نہ ٹرک کی کوئی منزل اور نہ دوڑنے والوں کی۔ عام فہم معنوں میں اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نہیں کرتے۔ (ن) لیگ والوں کے بڑوں نے بلکہ بڑے میاں صاحب نے ابھی تک خاموشی اختیار کی ہوئی ہے مگر انکار مہنگا پڑنے کے خوف سے ہمیشہ کی طرح قومی مفاد کے تقاضے سامنے رکھ کر کوئی مثبت فیصلہ کر سکتے ہیں۔ اصل مسئلہ پیپلز پارٹی کا ہے۔ صوبہ سندھ پر اس نے ایک عرصہ سے اقتدار کے جو پنجے گاڑے ہوئے ہیں‘ اسے نہ تو ڈھیلا کرنے کے لیے تیار ہے نہ اوپر والوں کی سرپرستی کے بغیر یہ ممکن ہے‘ اور نہ ہی سندھ کے اندر صوبے اور انتظامی اکائیاں بنوا کر وہ صوبے کے اقتدار پر قابض رہ سکتی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری اور آصف علی زرداری صاحب لندن میں صلاح مشورے کر رہے ہیں‘ طویل نشستیں ہو رہی ہیں۔ دوسری طرف سے پیغام پہنچائے جا رہے ہیں کہ ہمیں جلدی ہے۔ ان کے سیاسی کارندوں کے سخت بیانات کا اشارہ ہے کہ وہ تصادم کیلئے تیار ہیں۔ اس بارے میں آخری فیصلہ زرداری صاحب ہی کریں گے۔اوپر والوں کی بھی کچھ سمجھ نہیں آ رہی۔ ایک دو آدمی جو اس کام پر لگائے ہوئے ہیں‘ وہ کہتے ہیں کہ اتنی گہری تبدیلی کیلئے قومی اتفاقِ رائے ہونا ضروری ہے۔ اگلی سانس میں ہی فرماتے ہیں کہ عوام کی رائے کو اس بارے میں رد نہیں کیا جا سکتا۔ پھر نظام کی خرابیوں اور ناکامیوں کا ڈھنڈورا پیٹتے پیٹتے اعلان کرتے ہیں کہ جلد ہی سب کو مل کر بیٹھنا اور اس مسئلے کا حل نکالنا ہوگا۔ قومی اتفاق کی تاریخ کو دیکھنا ہو تو کالاباغ ڈیم کی تاریخ کو دیکھ لیں۔ نہ نصف صدی میں اتفاق ہوا اور نہ اگلی نصف صدی میں ہوتا نظر آتا ہے۔ نئے صوبوں اور اکائیوں کے بارے میں بھی میرا تو خیال یہی ہے کہ جو لوگ اس وقت اسمبلیوں میں اکثریتی جماعتیں ہیں‘ وہ اٹھارہویں ترمیم کی برکات سمیٹنے کے بعد‘ صوبوں کے اندرتقسیم کوکیسے تسلیم کریں گے؟ وہ تو پھوٹی کوڑی بھی اضلاع اور دیہی کونسلوں کو دینے کیلئے تیار نہ ہوں گے۔ ایک رائے تو یہ ہے کہ جس طرح گزشتہ چار سالوں میں دو سیاسی گھرانے اور ان کے گماشتے اپنے مفاد میں آئین و قانون میں تبدیلیاں کرتے آئے ہیں‘ اب بھی ملک کے مفاد میں بڑی تبدیلی کرنے کیلئے تیار ہو جائیں۔ میرا خیال اس کے برعکس ہے۔ عین ممکن ہے کہ اپنی سیاست اور اقتدار کو بچانے کیلئے ایک بار پھر وہ اکٹھے ہو جائیں اور کھل کر نئے صوبوں کی مخالفت کریں۔ ایسی صورت میں اوپر والے پھر کیا کریں گے؟ قومی اتفاقِ رائے کا‘ کالا باغ ڈیم کی طرح انتظار کریں گے یا عدلیہ بحالی کی تحریک کی طرح کوئی دوسرا راستہ اختیار کریں گے؟ ہم کتنی خوش قسمت قوم ہیں کہ زمینی مخلوق بیشک بھوک سے مر رہی ہو‘ سیاسی کھیل تماشے جاری رہتے ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_33241568.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>برآمدات، شمسی توانائی اور ایم ایل ون(میاں عمران احمد)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mian-imran-ahmad/2026-09-07/52618/34601320</link><pubDate>Mon, 07 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mian-imran-ahmad/2026-09-07/52618/34601320</guid><description>ملکی معیشت میں برآمدات کو ہمیشہ بنیادی اہمیت حاصل رہی ہے اور اسے فروغ دینے کیلئے سرکاری سطح پر سہولتیں دیے جانے کی روایت بھی پرانی ہے۔ حکومت نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو برآمدی انشورنس کی سہولت فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کیلئے تین ارب روپے کا رسک پول قائم کیا گیا ہے جس کے ذریعے کاروباری اداروں خصوصاً سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایس ایم ایز) کی رسائی برآمدی کریڈٹ انشورنس تک بہتر بنائی جائے گی۔ چھوٹے کاروباروں کیلئے یہ سہولت اس لیے اہم ہے کہ بیرونِ ملک مال فروخت کرتے وقت ادائیگی میں تاخیر یا عدم ادائیگی جیسے خطرات ان کیلئے بڑے مالی نقصان کا سبب بن سکتے ہیں۔ تین ارب روپے کا رسک پول بظاہر مجموعی معیشت کے مقابلے میں ایک معمولی رقم ہے لیکن اگر اس کے ذریعے نجی شعبے کو زیادہ برآمدی سرگرمیوں کی طرف لایا جا سکے تو اس کا معاشی اثر کئی گنا بڑھ سکتا ہے۔ اگر انشورنس کی سہولت کاروباری اداروں کو پہلے سے زیادہ ایکسپورٹ آرڈر لینے میں مدد فراہم کرتی ہے تو اس سے پیداوار‘ ٹرانسپورٹ‘ پیکیجنگ اور روزگار سمیت کئی شعبے متحرک ہو سکتے ہیں۔ اس حوالے سے ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ محسوس ہوتا ہے کہ حکومت برآمدات بڑھانے کیلئے صرف مالی معاونت ہی نہیں بلکہ ادارہ جاتی اصلاحات پر بھی توجہ دے رہی ہے۔ لیکن کامیابی کا اصل پیمانہ صرف تین ارب روپے کی رقم نہیں ہو سکتی‘ کامیابی کا درست حساب اسی وقت لگایا جا سکتا ہے جب یہ نتائج سامنے آئیں کہ اس سہولت سے کتنے برآمد کنندگان نے فائدہ اٹھایا‘ برآمدی حجم میں کتنا اضافہ ہوا اور کتنے چھوٹے کاروبار عالمی منڈی میں مستقل جگہ بنانے میں کامیاب ہو سکے۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ برآمدات کو چند روایتی شعبوں تک محدود رکھنے کے بجائے ٹیکسٹائل‘ زرعی مصنوعات‘ آئی ٹی‘ انجینئرنگ‘ کھیلوں کا سامان اور دیگر شعبوں میں نئی منڈیاں تلاش کی جائیں۔ اگر ایس ایم ایز کو انشورنس‘ آسان قرضوں‘ جدید ٹیکنالوجی اور عالمی مارکیٹنگ کی سہولتیں فراہم کی جائیں تو برآمدات میں نمایاں اضافہ ممکن بنایا جا سکتا ہے۔بجلی کے بڑھتے ہوئے مسائل اور مہنگی توانائی کے باعث عوام کا رجحان شمسی توانائی کی طرف تیزی سے بڑھا ہے۔ ایسے میں وفاقی حکومت کی جانب سے زیرِ التوا نیٹ میٹرنگ درخواستوں کو نمٹانے کے فیصلے کے بہتر نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ نیٹ میٹرنگ کی 11 ہزار 695 زیر التوا درخواستوں کو حل کرنے کا عمل شروع کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر 16 ہزار 654 درخواستیں زیرِ التوا تھیں‘ اب 11 ہزار سے زائد کو حل کرنے کا اعلان کیا جا رہا ہے۔ یہ شرح تقریباً 70 فیصد بنتی ہیں‘ یعنی ہر 10 میں سے سات درخواستیں اب کلیئر ہو چکی ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ پاکستان انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنی نے کلیئر ہونے والی درخواستوں کے صارفین سے وٹس ایپ‘ اس ایم ایس اور دیگر ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے رابطہ شروع کر دیا ہے اور درخواستوں کی جلد منظوری یا مزید کارروائی کیلئے کسی فرد‘ ایجنٹ یا درمیانی شخص کو کوئی فیس یا رقم ادا کرنے سے منع کیا جا رہا ہے۔ حکومت کی عوامی معاملات میں اس سطح تک دلچسپی سے فراڈ کے امکانات کم ہو سکتے ہیں لیکن اس کی ذمہ داری صرف زیرِ التوا درخواستیں نمٹانے تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ شمسی توانائی میں سرمایہ کاری کرنے والے شہریوں کو ایک ایسا نظام درکار ہے جو واضح‘ مستحکم اور قابلِ پیش گوئی ہو۔ اگر قوانین بار بار تبدیل ہوتے رہیں یا درخواستوں کی کارروائی میں طویل تاخیر ہو تو عوام کا اعتماد متاثر ہو سکتا ہے۔ شمسی توانائی پاکستان کیلئے صرف بجلی پیدا کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ توانائی کے درآمدی بوجھ کو کم کرنے‘ صارفین کو متبادل توانائی فراہم کرنے اور ماحول کو بہتر بنانے کا ایک اہم راستہ بھی بن سکتی ہے۔خلیجی ممالک پاکستان کیلئے اہم تجارتی شراکت دار ہیں۔ سعودی عرب‘ متحدہ عرب امارات‘ قطر‘ کویت اور بحرین کے ساتھ پاکستان کی تجارت میں توانائی‘ خوراک‘ ٹیکسٹائل اور دیگر مصنوعات کا اہم کردار ہے۔ رواں مالی سال کے پہلے ماہ (جولائی) میں خلیجی ممالک کے ساتھ پاکستان کا تجارتی خسارہ تقریباً 25 فیصد کم ہو کر تقریباً 1.2 ارب ڈالر رہ گیا۔ اس کی بنیادی وجہ برآمدات میں معمولی اضافہ اور درآمدات میں نمایاں کمی ہے۔ اس عرصے میں پاکستان کی خلیجی ممالک کو برآمدات تقریباً تین فیصد بڑھیں جبکہ درآمدات میں تقریباً 20 فیصد تک کمی آئی۔ بظاہر یہ اعداد چھوٹے ہیں لیکن پاکستان کیلئے درآمدی بل میں کمی کا براہِ راست اثر زرمبادلہ کے ذخائر پر پڑتا ہے۔ متحدہ عرب امارات پاکستان کیلئے ایک اہم منڈی کے طور پر سامنے آیا ہے۔ وہاں پاکستانی برآمدات میں تقریباً آٹھ فیصد اضافہ ہوا ہے۔ سعودی عرب کو برآمدات میں چھ فیصد جبکہ اردن کو برآمدات میں تقریباً 12 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ پاکستانی مصنوعات کیلئے ان منڈیوں میں مزید جگہ پیدا کی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ درآمدات میں تقریباً 20 فیصد کمی کی بڑی وجہ توانائی کی خریداری میں کمی ہے۔ توانائی کی درآمدات کے بل میں تقریباً 30 کروڑ ڈالر کی کمی ہوئی ہے۔ مگر درآمدات کم ہونا ہمیشہ اچھی خبر نہیں ہوتا‘اگر درآمدات اس لیے کم ہوں کہ ملک میں توانائی کی طلب پوری ہو رہی ہے‘ مقامی پیداوار بڑھ رہی ہے یا متبادل توانائی استعمال ہو رہی ہے تو یہ مثبت تبدیلی ہے لیکن اگر درآمدات میں کمی کاروباری سرگرمیوں یا توانائی کی ضرورت کم ہونے کی وجہ سے ہو تو صورتحال مختلف ہو سکتی ہے۔ اس لیے حکومت کو صرف درآمدات میں کمی کے بجائے اس کمی کی وجہ پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔پاکستان میں بڑے ترقیاتی منصوبوں کی طویل تاریخ ہے۔ ہر حکومت کچھ ایسے منصوبے پیش کرتی ہے جنہیں ملکی معیشت کیلئے گیم چینجر قرار دیا جاتا ہے۔ موٹرویزاور سی پیک کے بعد اب مین لائن ون منصوبہ قومی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ بلاشبہ پاکستان کو جدید ریلوے نظام کی ضرورت ہے۔ ایم ایل ون کراچی سے پشاور تک تقریباً 1872 کلومیٹر ریلوے لائن کی اَپ گریڈیشن کا منصوبہ ہے۔ یہ پاکستان ریلوے کا سب سے اہم روٹ ہے جہاں سے ملک کی تقریباً 75 فیصد مسافر اور مال بردار ریلوے ٹریفک گزرتی ہے۔ اس منصوبے کے تحت ٹرینوں کی رفتار 65 سے 110 کلومیٹر فی گھنٹہ سے بڑھا کر 160 کلومیٹر فی گھنٹہ تک کرنے کی تجویز ہے۔ ورلڈ بینک کے مطابق نقل وحمل اور لاجسٹکس کے شعبے کی خامیاں پاکستان کی معیشت کو سالانہ جی ڈی پی کے چار سے چھ فیصد تک نقصان پہنچاتی ہیں۔ یعنی اگر ملکی معیشت کا حجم 410 ارب ڈالر تصور کیا جائے تو یہ نقصان سالانہ 16 سے 25 ارب ڈالر تک ہے۔ کئی سالوں سے اس منصوبے پر عملدرآمد کے اعلانات کیے جا رہے ہیں لیکن ایک بڑا مسئلہ لاگت میں تبدیلی ہے۔ منصوبے کی لاگت مسلسل تبدیل ہوتی رہی ہے۔ کبھی اسے 6.8 ارب ڈالر تو کبھی 9.2 ارب ڈالر قرار دیا گیا۔ بعض تخمینوں میں یہ 9.85 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔ پاکستان پہلے ہی 85 کھرب روپے سے زائد کے سرکاری قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے جبکہ مالی سال 2026-27ء کے بجٹ میں صرف سود کی ادائیگیوں کیلئے 8045 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان ایک اور بڑے قرضے کا متحمل ہو سکتا ہے وہ بھی ایک ایسے منصوبے کیلئے جس کے نتائج اور لاگت بھی واضح نہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/212_71532147.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>صوبے۔ من صوبے …(2)(سعود عثمانی )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-09-07/52619/35556860</link><pubDate>Mon, 07 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-09-07/52619/35556860</guid><description>جیسے جیسے نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کی بحث آگے بڑھ رہی ہے‘ اس میں تندی اور تیزی آتی جا رہی ہے اور سیاسی جماعتوں کی پوزیشن بھی واضح ہوتی جا رہی ہے۔ پیپلز پارٹی نے سندھ اسمبلی میں تند وتیز تقریریں کر کے‘ سندھ تقسیم نہ ہونے دینے کی قرارداد منظور کرکے اور قومی اسمبلی کو تنبیہ کرکے ایک واضح مؤقف دیا ہے جو پہلے بھی ڈھکا چھپا نہیں تھا۔ زرداری صاحب حسبِ روایت‘ بیرونِ ملک جا کر بیٹھ گئے ہیں‘ ان کے قائم مقام کے طور پر یوسف رضا گیلانی موجود ہیں۔ لندن میں پیغامات جا رہے اور وہاں سے جواب آ رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی نے کئی مواقع پر جنوبی پنجاب صوبے کی حمایت کی ہے لیکن سندھ کے معاملے میں اس کا مؤقف اور ہے۔ پس پردہ ہوتے ہوئے بھی کچھ پس پردہ نہیں ہے۔ میڈیا پر اکثر نامور صحافی اندر کی خبروں کا دعویٰ کرتے ہوئے مستقبل بینی کر رہے ہیں۔ محسن نقوی صاحب نے لندن سے واپسی کے بعد لاہور میں ایک مذاکرے میں گفتگو کی ہے۔ یہ نظام کی ناکامی کی اطلاع کے بعد ان کی پہلی عوامی گفتگو ہے۔ کہتے ہیں کہ میری نوکری رہے نہ رہے لیکن نئے انتظامی یونٹس بن کر رہیں گے۔ آپ کی اور میری رائے کی کوئی حیثیت نہیں‘ عوام کی رائے کی حیثیت ہے۔ عوام کی رائے؟ یعنی ریفرنڈم؟ انہوں نے کہا کہ شمالی پنجاب‘ جنوبی سندھ وغیرہ کہہ لینے سے صوبوں کی شناخت کیسے ختم ہو جائے گی؟ شناخت تو ختم کرنی ہی نہیں۔ انہوں نے یہ معقول بات کہی کہ قومی اتفاقِ رائے سے فیصلے ہونے چاہئیں۔(ن) لیگ کے مؤقف کی طرف آتے ہیں۔ بظاہر ان کا انداز یہ لگتا ہے کہ ابھی کوئی بیانیہ جاری نہ کیا جائے۔ پیپلز پارٹی اور مقتدرہ کو آمنے سامنے آنے دیا جائے‘ خواہ مخواہ ہم کیوں دھکے مکے کھائیں۔ دیکھتے جائیں کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھ رہا ہے۔ جب واضح مؤقف اپنانے کا مرحلہ آئے گا اس وقت دیکھا جائے گا۔ لیکن اکا دکا وزیر اس معاملے پر بات کر رہے ہیں۔ منصوبہ بندی کے وفاقی وزیر احسن اقبال نے 12 سے 15 نئے صوبوں یا تقریباً 160 بااختیار ضلعی حکومتیں قائم کرنے کی تجویز دی ہے۔ خواجہ آصف نے پیپلز پارٹی اور اس کی کارکردگی پر ٹاک شو میں کڑی تنقید کی ہے۔ نواز شریف اور شہباز شریف نے اب تک اس معاملے پر لب کشائی نہیں کی۔ مسلم لیگ (ن) کیلئے نئے صوبوں کا سوال کافی پیچیدہ ہے‘ خصوصاً پنجاب کے حوالے سے۔ تاریخی طور پر مسلم لیگ (ن) نے جنوبی پنجاب اور بہاولپور کے حوالے سے مختلف ادوار میں حمایت یا قراردادوں کا راستہ اختیار کیا لیکن عملی سطح پر یہ مسئلہ کبھی مکمل حل تک نہیں پہنچ سکا۔ مسلم لیگ (ن) کیلئے فائدہ یہ ہو سکتا ہے کہ اگر وہ انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کی منظم حمایت کرتی ہے تو اسے پنجاب کے دور دراز علاقوں میں اپنی سیاسی ساکھ بہتر بنانے کا موقع مل سکتا ہے۔ خصوصاً جنوبی پنجاب میں یہ اقدام طویل عرصے سے موجود احساسِ محرومی کو کم کر سکتا ہے۔ لیکن نقصان بھی بڑا ہے! پنجاب مسلم لیگ (ن) کا سب سے مضبوط سیاسی قلعہ ہے۔ پنجاب کے اندر نئے یونٹس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ نئے وزرائے اعلیٰ‘ گورنر‘ صوبائی اسمبلیاں‘ بیورو کریسی اور نئے سیاسی مراکز وجود میں آئیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک بڑے صوبے پر قائم سیاسی اثر ورسوخ متعدد مراکز میں تقسیم ہو جائے گا۔ شریف خاندان پنجاب پر طویل عرصے سے حاکم رہا ہے۔ یہ طاقت نئے صوبوں کی صورت میں بہت کم رہ جائے گی۔ ہزارہ کو ایک الگ صوبے کی حیثیت دینے کی آوازیں بھی اٹھتی رہی ہیں۔ اگر نئے صوبے بنے تو (ن) لیگ کا ایک اور مضبوط علاقہ ہاتھ سے جا سکتا ہے۔ نئے صوبوں کی صورت میں مقامی طاقتور سیاسی افراد (ن) لیگ کی مرکزیت سے باہر جا سکتے ہیں۔ اس لیے مسلم لیگ (ن) کیلئے یہ سوال صرف انتظامی اصلاح کا نہیں بلکہ اپنی تاریخی سیاسی طاقت کی ازسرنو تقسیم کا بھی ہے۔ اگرچہ بحیثیت سیاسی جماعت (ن) لیگ کو سیاسی نقصان ہو سکتا ہے لیکن اس اکھاڑ پچھاڑ میں یہ بھی ممکن ہے کہ (ن) لیگ سندھ‘ کے پی اور بلوچستان میں کچھ طاقت حاصل کر لے؛ چنانچہ تیل دیکھو اور تیل کی دھار دیکھو ہی اس وقت ان کا اصل مؤقف ہے۔ لہٰذا مسلم لیگ مقتدرہ اور اس کی مخالف اور حامی جماعتوں سے الگ کھڑی نظر آتی ہے۔ نہ وہ ایم کیو ایم کی طرح کھل کر نئے صوبوں کی حمایت کر رہی ہے نہ پیپلز پارٹی کی طرح مخالفانہ بیانات دے رہی ہے۔ پنجاب اسمبلی نے ابھی تک اس سلسلے میں کوئی بحث نہیں کی۔ وجہ یہی ہے کہ ابھی چپ رہنے کا حکم ہے۔ جب بولنے کا اشارہ ہو گا سب بول پڑیں گے۔ایم کیو ایم کو احساس ہے کہ سندھ کے شہری حلقے پیپلز پارٹی سے نالاں ہیں‘ خاص طور پر کراچی۔ یہی اس کا ووٹ بینک ہے؛ چنانچہ وہ پیپلز پارٹی کے ساتھ کھڑی نہیں ہو سکتی۔ ان کی طرف سے کراچی کو الگ صوبے کی حیثیت دینے کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے۔ سندھ اسمبلی میں ان کی طرف سے اُس قرارداد کی مخالفت کی گئی جو حال ہی میں منظور ہوئی ہے۔ خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال‘ دونوں کے بیانات ریکارڈ پر ہیں کہ کسی صوبے کی جغرافیائی حدود بدلنا مقصد نہیں بلکہ انتظامی اصلاحات اور نچلی سطح تک اختیارات کی منتقلی اصل معاملہ ہے جو موجودہ نظام میں ایک مسئلہ بنا ہوا ہے۔ یہ مطالبہ عوامی حلقوں کی حمایت حاصل نہ کرتا اگر سندھ میں پیپلز پارٹی کی متواتر 18 سالہ حکومتی کارکردگی بہتر ہوتی۔ پیپلز پارٹی کے پاس کسی بھی شعبے میں اپنی کارکردگی دکھانے کی کوئی چیز نہیں ہے؛ چنانچہ کارکردگی کی عدم موجودگی میں اس کے پاس وہی کارڈ رہ جاتا ہے جو وہ اب تک کھیل رہے ہیں۔ بہرحال ایم کیو ایم کو ایک طرف شہری عوام کی حمایت مل سکتی ہے‘ دوسری طرف وہ فیصلہ سازوں کے مؤقف کے ساتھ کھڑی رہے گی۔جماعت اسلامی بھی محتاط بیانات دے رہی ہے۔ جناب نعیم الرحمن نے سوالات کے جواب میں یہی کہا کہ آئین کے مطابق عمل ہونا چاہیے اور نچلی سطح پر اختیارات منتقل ہونے ضروری ہیں۔ انہوں نے صوبوں کے بننے یا نہ بننے کے معاملے پر کوئی واضح جواب دینے سے گریز کیا۔ بظاہر ان کے ہاں ابھی کسی مؤقف پر اتفاق نہیں ہو سکا‘ یا وہ بھی (ن) لیگ کی طرح کنارے پر کھڑے ہوکر دنگل دیکھنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ جب میدان میں اترنا پڑے گا تب دیکھیں گے۔ سندھ میں نئے صوبے بننے کا فائدہ انہیں یقینا پہنچ سکتا ہے کیونکہ ان کا یہی مؤقف رہا ہے کہ سندھ کی حکومت اور میئرشپ انہیں دی گئی جنہیں ووٹ پڑا ہی نہیں۔ البتہ جماعت اسلامی کو صرف سندھ ہی نہیں پورے ملک میں اپنے مؤقف کا دفاع کرنا ہوگا اس لیے وہ ابھی واضح پوزیشن لینے سے گریزاں ہے۔پی ٹی آئی نے بھی ابھی تک کوئی واضح پوزیشن نہیں لی۔ اس کے منشور میں نئے صوبوں کو اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور مرکزیت کم کرنے سے جوڑا گیا ہے اور تحریک انصاف کیلئے پنجاب اور خیبر پختونخوا‘ دونوں جگہ سیاسی امکانات موجود ہیں کہ طاقتور سیاسی خاندانوں کی اجارہ داری صوبوں میں کسی حد تک کم ہو سکتی ہے۔ پی ٹی آئی ہزارہ صوبے کی حمایت بھی کرتی آئی ہے۔ اس سے انہیں کچھ فائدے ملنے کا امکان ہے‘ لیکن وہ چاہے گی کہ اپنی حمایت کو بانی پی ٹی آئی کی رہائی سے مشروط کرے۔ اگر انہیں صوبہ سازی محض سیاسی انجینئرنگ کا ایک نیا حربہ محسوس ہوئی تو وہ اسے اپنے خلاف استعمال ہونے والی حکمت عملی بھی قرار دے سکتی ہے۔مگراصل مسئلہ یہ ہے کہ نئے انتظامی یونٹس کے بارے میں اب تک کوئی باضابطہ منصوبہ سامنے نہیں آیا۔ کتنے یونٹس بنیں گے‘ سربراہ کیا کہلائے گا‘ اختیارات کیا ہوں گے‘ وغیرہ۔ جب تک یہ معاملات واضح نہ ہوں‘ اندھیرے میں بحث چلتی رہے گی۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_81278520.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ملکی تاریخ کے چند اہم واقعات(نسیم احمد باجوہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/naseem-ahmed-bajwa/2026-09-07/52620/36037419</link><pubDate>Mon, 07 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/naseem-ahmed-bajwa/2026-09-07/52620/36037419</guid><description>میں اپنی اس کوتاہی پر معافی کا طلبگار ہوں کہ طویل سوچ بچار کے بعد بھی میں حتمی طور پر نہیں کہہ سکتا کہ پاکستان کی 79سالہ تاریخ میں وہ کون سے واقعات ہیں جو ہمارا سر فخر سے بلند کرنے یا شرم سے جھکا دینے کا موجب بنے۔ پہلے اوّل الذکر واقعات دیکھ لیتے ہیں‘ جو میرے ذہن میں‘ یادوں کی گرد میں بھی ستاروں کی طرح روشن اور درخشندہ ہیں۔٭ 14 اگست 1947ء کو قائداعظم نے دو عہدوں کا حلف اٹھانا تھا۔ ایک تھا پاکستان کے سربراہِ مملکت کا اور دوسرا تھا دستور ساز اسمبلی کے صدر کا۔ قائداعظم ایوان میں تشریف لائے اور اُس کرسی پر بیٹھ گئے جو وہاں ان کے لیے رکھی گئی تھی۔ پاکستان کے پہلے چیف جسٹس سر میاں عبد الرشید نے قائداعظم سے حلف لینا تھا۔ وہ قائداعظم کے پاس گئے اور اُن کے کان میں سرگوشی کی کہ آپ اس کرسی پر اُس وقت بیٹھنے کے مجاز ہوں گے جب آپ کی حلف برادری کی کارروائی مکمل ہو چکی ہو گی۔ قائداعظم فوراً سے پیشتر اُٹھے اور اراکین اسمبلی کے لیے رکھی گئی ایک کرسی پر بیٹھ گئے۔ یہ تھی ہماری اصول پسندی کی وہ معراج جس کے بعد ہمارا زوال کی طرف سفر شروع ہوا۔٭ 1961ء میں وزارتِ قانون کا سب سے بڑا افسر (وفاقی سیکرٹری) ایک انگریز تھا‘ نام تھا سر ایڈورڈ سنیلسن۔ سول سروس اکیڈمی میں اپنی ایک تقریر میں اُس نے کہا کہ ہائیکورٹ کے جج صاحبان جس طرح حکومت کے خلاف دائر کردہ رِٹ پٹیشن کی سماعت کر کے اپنے اختیارات کو غیر ذمہ دارانہ طور پر استعمال کر رہے ہیں اس سے حکومت کیلئے انتظامی مشینری کو بطریق احسن چلانا بہت مشکل ہو گیا ہے۔ اگلے دن یہ تقریر اخباروں میں چھپی تو ہائیکورٹ نے وفاقی سیکرٹری کو توہینِ عدالت کا نوٹس بھیج دیا۔ ملزم کی بدقسمتی کہ مقدمے کی کارروائی جس جج کو سونپی گئی وہ بھی ایک انگریز تھا‘ جسٹس جے ایم آرکسن (J.M. Orcheson)۔ اُنہوں نے فیصلہ سنایا کہ ملزم توہینِ عدالت کا مرتکب ہوا ہے اور اسے عدالت برخاست ہو جانے تک (بمشکل ایک منٹ کی) قید کی سزا سنائی گئی۔ سزا یافتہ ہونے کا نتیجہ یہ نکلا کہ سر ایڈورڈ کو مستعفی ہونا پڑا اور وہ اپنی پنشن سے بھی محروم ہو گیا۔ مارشل لاء کے زمانے میں بھی ہائیکورٹ نے اپنی برتری کا پرچم بلند کرتے ہوئے فیصلے میں لکھا کہ ملک کا قانون وہی ہوگا اور قانون میں لکھے ہوئے الفاظ کا مطلب ہوگا جو عدالت عالیہ کی تشریح کے مطابق ہوگا۔٭ تمیز الدین کیس میں سندھ ہائیکورٹ کا درخواست دہندہ (دستور ساز اسمبلی کے سپیکر مولوی تمیز الدین) کے حق میں فیصلہ بھی ہمارا سر فخر سے بلند کرنے کا باعث بنا۔ اس بینچ کا سربراہ بھی ایک انگریز جج تھا۔ بدقسمتی سے اس فیصلے کو جسٹس منیر کی وفاقی عدالت نے مسترد کر کے گورنر جنرل کے (دستور ساز اسمبلی کو تحلیل کرنے کے) اختیار کو قانونی جواز کے بجائے &#39;&#39;نظریہ ضرورت‘‘ کے تحت شرفِ قبولیت بخشا۔ سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ جتنا قابلِ تعریف ہے‘ وفاقی عدالت کا فیصلہ اُتنا ہی متنازع اور قابلِ مذمت ہے۔ اگر مؤخر الذکر واقعات کو دیکھیں تو سنگین غلطیوں کی ہمالیہ پہاڑ جتنی لمبی فہرست نظر آتی ہے اور مضمون کی محدود جگہ سب کا ذکر کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔ یقینا سب سے بڑا المیہ تو 1971ء میں مغربی پاکستان کی ایک بڑی سیاسی جماعت اور چار پانچ کے ٹولے (جس کا سربراہ یحییٰ خان تھا) کی عوامی لیگ کے چھ نکات کو تسلیم کر کے ملکی وحدت کو قائم رکھنے کے بجائے مشرقی پاکستان پر چڑھائی کی حکمت عملی تھی۔ ملک کے قیام کے محض 24 سال کے اندر اسے اپنے سب سے بڑے قومی سانحے سے گزرنا پڑا۔ ٭مارشل لاء کا تاریک دور ہماری تاریخ کے 30 برس لے گیا۔ ٭کشکولِ گدائی لے کر 25 بار آئی ایم ایف کے پاس جانا اور وطنِ عزیز کو اربوں ڈالروں کا مقروض بنانا۔٭پاکستان سٹیل مل‘ پی آئی اے اور ریلوے کو (کرپشن کی بدولت) نفع بخش سے خسارے میں چلنے والے ادارے بنا دینا۔ ٭قوتِ اُخوتِ عوام‘ قانون کی حکمرانی‘ آئین اور انسانی حقوق کے احترام کے اُصولوں کو بار بار پامال کرنا۔ ٭عدلیہ پر شدید دبائو ڈال کر ایک سیاسی لیڈر (ذوالفقار علی بھٹو) کو سزائے موت دینا۔ ٭غیر ملکی ایما پر افغانستان کی جنگ میں (حلیف بن کر) شامل ہونا اور جنگ کو سرحدوں کے اندر لے آنا۔ ٭1997ء میں سپریم کورٹ (جو اُس وقت کے وزیراعظم کے خلاف ایک مقدمے کی سماعت کر رہی تھی) پر دھاوا بولنا اور ججوں کو ہراساں کرنا۔ جسٹس سجاد علی شاہ اُس وقت چیف جسٹس آف پاکستان تھے‘ انہوں نے اور ان کے ساتھی جج صاحبان نے کمرہِ عدالت سے بھاگ کر اپنی جان بچائی۔ 2010ء میں اپنی اہلیہ کے ہمراہ میں پاکستان گیا تو واپسی پر کراچی رکے۔ کراچی کے ایک سینئر وکیل‘ سالم سلیم انصاری کا بھلا ہو کہ وہ جسٹس سجاد علی شاہ سے ملانے لے گئے۔ شاہ جی اور اُن کی بیگم صاحبہ روایتی خوش اخلاقی سے ملے۔ جب اس انتہائی تکلیف دہ واقعے کا ذکر چھڑا تو شاہ جی نے بڑی دکھی آواز میں کہا کہ اگر خواتین نہ بیٹھی ہوتیں تو میں آپ کو وہ مغلظات بھی سناتا جو حملہ آور ججوں کو سنا رہے تھے۔ یہ سن کر کر ہم کس قدر شرمندہ ہوئے‘ اس کا اندازہ بھی نہیں لگایا جا سکتا۔ شاہ جی کے گھر سے سر جھکائے باہر نکلے تو خیال آیاکہ آج تک سب سے انوکھی بات کون سی سنی ہے؟قیام پاکستان سے لے کر (خوشی اور افتخار کے گنتی کے چند واقعات کے علاوہ) اب تک ہم مستقل طور پر سرنگوں ہیں۔ کچھ &#39;اہلِ نظر‘ برسوں سے پاک سرزمین پر یومِ حساب کی مبارک گھڑی آجانے کی بشارت سنا رہے ہیں مگر میری آنکھیں تو 79 برس سے یہ خواب دیکھتے دیکھتے تھک ہار کر بوڑھی ہو چکی ہیں۔اب جسٹس سجاد علی شاہ کا مختصر تعارف۔ 17 فروری 1933ء کو صوفیا کی سرزمین سندھ کے ایک قانون دان گھرانے میں پیدا ہوئے۔ قانون کی پہلی ڈگری کراچی کے ایس ایم لاء کالج سے حاصل کی۔ والدین نے بیرسٹر بن جانے کیلئے لندن بھیجا اور بھاری تعلیمی اخراجات برداشت کیے۔ 1959ء میں وکالت شروع کی اور جلد ہی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج بنا دیے گئے۔ 1977ء میں سپریم کورٹ کے رجسٹرار اور 1987ء میں سندھ ہائیکورٹ کے جج بنے۔ 13 دسمبر 1989ء کو سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس بنے اور اس عہدہ پر ایک سال (4 نومبر 1990ء تک) فائز رہے۔ اس کے بعد سپریم کورٹ کے جج بنا دیے گئے۔ 1994ء میں نسیم حسن شاہ چیف جسٹس کے عہدے سے ریٹائر ہوئے تو سب سے سینئر جج جسٹس سعد سعود جان تھے مگر وزیراعظم بینظیر بھٹو نے سجاد علی شاہ کو چیف جسٹس بنا دیا۔ 4 جون 1994ء سے لے کر 2 دسمبر 1997ء تک چیف جسٹس آف پاکستان رہے۔1997ء میں اُس وقت کے وزیراعظم کے خلاف کرپشن اور توہین عدالت کے مقدمے کے سماعت کے دوران عدالت میں پیش آنے والے واقعات سے سب بخوبی علم ہیں۔ مختصراً یہ کہ پہلے سپریم کورٹ پر دھاوا بول کر مقدمے کی سماعت سے روکا گیا بعد ازاں اعلیٰ عدلیہ کے ججوں پر اتنا دبائو ڈالا گیا کہ اُنہوں نے چیف جسٹس کے خلاف علمِ بغاوت بلند کر دیا۔ جسٹس اجمل میاں جسٹس سجاد علی شاہ کے جانشین بنے۔ ایک قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ 1992ء میں سپریم کورٹ کے جج بننے کے بعد ایک اہم آئینی مقدمے کا فیصلہ کرتے ہوئے سجاد علی شاہ واحد جج تھے‘ جس نے صدر غلام اسحاق خان کے ہاتھوں وزیراعظم بینظیر بھٹو کی برطرفی کے حکم کو غلط قرار دیا مگر جب 1996ء میں صدر فاروق لغاری نے بدعنوانی اور نااہلی کی بنا پر بینظیر بھٹو کی حکومت کو برطرف کیا تو اُنہوں نے اس فیصلے کو درست قرار دیا۔ ایک اہم بات یہ ہے کہ سجاد علی شاہ کے بیٹے‘ اویس شاہ کو جولائی 2016ء میں اغوا کر لیا گیا۔ پاک فوج کی ایک کارروائی میں اسے خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک سے برآمد کیا گیا۔ اغوا کنندگان اس کارروائی میں ہلاک ہو گئے۔ </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_32258580.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>جغرافیے اور نظریات کا دفاع(علامہ ابتسام الہٰی ظہیر )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-09-07/52621/76664836</link><pubDate>Mon, 07 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-09-07/52621/76664836</guid><description>کسی بھی ریاست کے دفاع کے حوالے سے اس کے جغرافیے اور نظریات کے دفاع کی اہمیت بیک وقت اور غیر معمولی ہے۔ اگر جغرافیے کا دفاع صحیح طریقے سے نہ ہو سکے تو ریاست کمزور ہو جاتی ہے اور اکثر اس کا وجود خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ اسی طرح اگر ریاست کے نظریات خطرے میں پڑ جائیں تو اس صورت میں بھی ریاست غیر مستحکم ہو جاتی ہے۔ چنانچہ پوری قوم کو پاکستان کے جغرافیے اور نظریات کے دفاع کیلئے ہر وقت مستعد رہنا چاہیے اور اس حوالے سے اپنی تاریخ سے بھی آگاہ رہنا چاہیے کہ ہم نے کس انداز سے مختلف ادوار میں اپنے جغرافیے اور نظریات کا دفاع کیا۔6 ستمبر 1965ء کا دن اس اعتبار سے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے کہ لاہور اور سیالکوٹ سیکٹر میں ہمارے دیرینہ دشمن بھارت نے دراندازی کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ اس دراندازی کو روکنے کیلئے افواج پاکستان نے بھرپور جرأت اور استقامت کا مظاہرہ کیا اور پوری قوم نے بھی فوج کی مکمل تائید کی۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کے فضل وکرم سے بھارتی حملہ مکمل طور پر پسپا کر دیا گیا اور پاکستان نے یہ بات ثابت کر دی کہ وطن کے دفاع کیلئے پاکستان کے عسکری ادارے اور عوام ہر طرح کی قربانیاں دینے کیلئے آمادہ وتیار ہیں۔ دینِ اسلام نے اسلامی سرحدوں کی حفاظت کو بہت زیادہ اہمیت دی ہے اور سورۃ الانفال میں دشمن کے مقابلے پر تیار رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اسلامی سرحدوں کے دفاع کے حوالے سے چند اہم احادیث درج ذیل ہیں:1: صحیح بخاری میں حضرت سہلؓ بن سعد سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا &#39;&#39;اللہ کے راستے میں دشمن سے ملی ہوئی سرحد پر ایک دن کا پہرہ دنیا وما فیہا سے بڑھ کر ہے‘ جنت میں کسی کیلئے ایک کوڑے جتنی جگہ دنیا وما فیہا سے بڑھ کر ہے اور جو شخص اللہ کے راستے میں شام کو چلے یا صبح کو‘ تو وہ دنیا وما فیہا سے بہتر ہے‘‘۔ 2: صحیح مسلم میں حضرت سلمانؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا &#39;&#39;ایک دن اور ایک رات سرحد پر پہرہ دینا ایک ماہ کے روزوں اور قیام سے بہتر ہے اور اگر (پہرہ دینے والا اسی دوران) فوت ہو گیا تو اس کا وہ عمل جو وہ کر رہا تھا‘ (آئندہ بھی) جاری رہے گا‘ اس کیلئے اس کا رزق جاری کیا جائے گا اور وہ (قبر میں سوالات کے) امتحان لینے والے سے محفوظ رہے گا‘‘۔ 3: سنن ابودائود میں حضرت فضالہؓ بن عبید سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا &#39;&#39;ہر مرنے والے کا عمل (اس کے مرنے پر) ختم ہو جاتا ہے مگر مورچہ بند‘ کہ اس کا عمل قیامت تک کیلئے بڑھتا رہتا ہے اور وہ قبر کے عذاب (یا منکر نکیر کے سوال جواب) سے امن میں رہتا ہے‘‘۔ 4: جامع ترمذی میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے سنا &#39;&#39;دو آنکھوں کو جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی: ایک وہ آنکھ جو اللہ کے ڈر سے تر ہوئی ہو اور ایک وہ آنکھ جس نے راہِ جہاد میں پہرہ دیتے ہوئے رات گزاری ہو‘‘۔ نبی کریمﷺ خود بھی اسلامی سرحدوں کے دفاع میں غیر معمولی دلچسپی رکھتے تھے۔ صحیح بخاری میں حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ &#39;&#39;ایک مرتبہ رات کے وقت اہلِ مدینہ گھبرا گئے کیونکہ ایک آواز سنائی دی تھی۔ حضرت ابوطلحہؓ کے ایک گھوڑے پر‘ جس کی پیٹھ ننگی تھی‘ رسول کریمﷺ حقیقت حال معلوم کرنے کیلئے تنہا اطرافِ مدینہ میں سب سے آگے تشریف لے گئے۔ پھر آپﷺ واپس آ کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ملے تو تلوار آپﷺ کی گردن میں لٹک رہی تھی اور آپ فرما رہے تھے کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں‘ گھبرانے کی کوئی بات نہیں‘‘۔اگر کتاب وسنت کی تعلیمات پر غور وفکر کیا جائے تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ 6 ستمبر کو افواج پاکستان نے جو کردار ادا کیا وہ درحقیقت کتاب وسنت کے عین مطابق تھا۔ 1965ء کے بعد بھی پاکستان کے دفاع کو مختلف طرح کے چیلنجز لاحق رہے لیکن اللہ کے فضل وکرم سے پاکستان نے ان چیلنجز کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ 28 مئی 1998ء کو پاکستان نے جوہری توانائی کو حاصل کر کے اپنے دفاع کو بہت زیادہ مضبوط اور مستحکم کر لیا۔ گزشتہ برس آپریشن بنیانٌ مرصوص اور معرکہ حق کے دوران بھی پاکستان نے اس بات کو ثابت کیا کہ دفاعِ وطن کے حوالے سے ریاست ہر طرح کے چیلنجز سے عہدہ برآ ہونے کیلئے تیار ہے۔6 ستمبر کے ساتھ ساتھ 7 ستمبر کا دن اس اعتبار سے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کے فضل وکرم سے 1974ء میں اس دن پاکستان کی قومی اسمبلی نے نبی کریمﷺ کی ختم نبوت کو آئینی اور قانونی حیثیت دی تھی۔ یہ عقیدہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہﷺ سے بالکل واضح تھا۔ جب نبی کریمﷺ کو مبعوث کیا گیا تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۃ الاعراف کی آیت: 158 میں آپﷺ کی رسالت ونبوت کی جامعیت کا اظہار فرما دیا: &#39;&#39;آپ کہہ دیجئے کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف اس اللہ کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں‘‘۔ چونکہ نبی کریمﷺ جمیع انسانیت کے مقتدا ہیں‘ اس لیے آپﷺ پر اللہ تبارک وتعالیٰ نے رسالت ونبوت کے سلسلے کو ہر اعتبار سے تمام فرما دیا اور سورۃ الاحزاب کی آیت: 40 میں اس امر کا اعلان فرما دیا: &#39;&#39;محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں بلکہ وہ اللہ کے رسول ہیں اور سب انبیا کے آخر میں (سلسلۂ نبوت کو ختم کرنے والے) ہیں‘‘۔ قرآن مجید کی کلی آیات کے ساتھ ساتھ بہت سی احادیث میں بھی عقیدۂ ختم نبوت کے حوالے سے وضاحت کی گئی ہے جن میں سے چند اہم درج ذیل ہیں:صحیح بخاری وصحیح مسلم‘ مسند احمد اور سنن الکبریٰ للبیہقی میں حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول کریمﷺ نے فرمایا: میری اور سابق انبیاء کرام کی مثال ایسی ہے کہ جیسے ایک شخص نے ایک خوبصورت گھر بنایا مگر ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ خالی چھوڑ دی۔ لوگ اس گھرکو دیکھ کر اس کی خوبصورتی پر تعجب کرتے ہیں‘ مگر کہتے ہیں کہ کیا خوب ہو اگر (وہ آخری) اینٹ بھی اپنی جگہ پر لگا دی جائے‘ پس میں وہ اینٹ ہوں اور میں آخری نبی ہوں۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ &#39;&#39;قیامت اُس وقت تک نہیں آئے گی جب تک تیس بڑے کذاب نہیں آئیں گے اور ان میں سے ہر ایک کا یہ دعویٰ ہوگا کہ وہ اللہ کا رسول ہے‘‘۔ صحیح بخاری میں حضرت سعدؓ سے روایت ہے کہ &#39;&#39;رسول اللہﷺ جب جنگ تبوک کیلئے نکلے تو حضرت علیؓ کو مدینہ میں اپنا نائب مقررکیا۔ حضرت علیؓ نے عرض کی کہ (میں تو میدانِ جنگ کا سوار ہوں) کیا آپ مجھے بچوں اور عورتوں کے پاس چھوڑکر جانا چاہتے ہیں؟ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا: اے علی! کیا آپ اس بات پر خوش نہیں کہ آپ کو مجھ سے وہی نسبت ہو جو موسیٰ کو ہارون (علیہما السلام) سے تھی‘ مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں‘‘۔ صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ &#39;&#39;بنی اسرائیل پر انبیاء کرام حکومت کرتے اور ان کی رہنمائی بھی کرتے رہے۔ جب ایک نبی کا انتقال ہو جاتا تو دوسرا نبی ان کی جگہ لے لیتا۔ میرے بعدکوئی نبی تو نہیں ہو گا؛ تاہم خلفا ہوں گے اور تعداد میں بہت ہوں گے‘‘۔گو اس عقیدے کی شرعی اور علمی حیثیت واضح تھی لیکن پاکستان کی قومی اسمبلی نے جو فیصلہ کیا وہ آئینی اعتبار سے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے اور دنیا کے بہت سے ممالک میں اس کو بطور حوالہ پیش کر کے ختم نبوت کے منکروں کو دائرہِ اسلام سے خارج قرار دیا گیا۔ آئین پاکستان میں ختم نبوت کے ساتھ ساتھ حرمت رسول اللہﷺ کے تحفظ کی شقیں بھی شامل ہیں۔ بعض عناصر ان شقوں کو تبدیل کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں لیکن دینی طبقات‘ مذہبی جماعتوں اور علمائے کرام کی محنتوں کی وجہ سے ان کی یہ سازشیں ناکام ہو جاتی ہیں اور اہلِ پاکستان اس عزم کا بھرپور طریقے سے اظہار کرتے رہتے ہیں کہ وطن کے جغرافیے اور نظریات کے دفاع کیلئے پوری قوم ہمیشہ یکجا رہے گی‘ ان شاء اللہ!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_19740082.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>