<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>اسلام آباد، امیدوں کا محور(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-21/11123</link><pubDate>Tue, 21 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-21/11123</guid><description>اسلام آباد میں ایران اور امریکہ دوسرے مذاکراتی دور کی تیاریوں اور امریکہ کے اعلیٰ سطحی وفد کی آمد کی خبروں نے پوری دنیا کی نظریں پاکستان کے دارالحکومت پر ٹکا دی ہیں جہاں دو ایسے حریفوں کو مذاکرات کی میز پر بٹھانے کی کوشش کی جا رہی ہے جن کے تعلقات کی تاریخ تلخیوں اور بداعتمادی سے بھری پڑی ہے۔ مذاکرات کے دوسرے دور کے حوالے سے اسلام آباد کی سفارتی کوششیں اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات اس امید کو تقویت دے رہے ہیں کہ شاید اس بار بات چیت کا سلسلہ مستقل امن اور کسی دیرپا معاہدے تک پہنچ جائے۔ بین الاقوامی برادری بھی دنیا میں پائیدار امن واستحکام کی خواہاں ہے کیونکہ جنگوں اور تنازعات نے عالمی معیشت کو اس نہج پر لا کھڑا کیا ہے کہ جہاں اب مزید کسی مہم جوئی کی گنجائش انسانی بقا کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ اس تناظر میں روس کی جانب سے ثالثی کی پیشکش اور چین کا یہ اعلان کہ وہ اس نازک مرحلے پر اپنا تعمیری کردار جاری رکھے گا‘ ایک مثبت پیش رفت ہے۔ تاہم جہاں ایک طرف سفارت کاری کے امکانات روشن ہو رہے ہیں وہیں دوسری طرف کچھ ایسے اقدامات بھی سامنے آئے ہیں جو مفاہمتی عمل کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہیں۔

سوموار کو خلیج عمان میں ایران کے ایک تجارتی جہاز پر امریکی قبضے کے واقعے نے مذاکرات کے ماحول کو متاثر کیا ہے۔ اس طرح کے جارحانہ اقدامات اس اعتماد کو ٹھیس پہنچاتے ہیں جو ثالثی کی کوششوں سے بصد مشکل بحال کیا جا رہا ہے۔ اس واقعے سے معاملات بگڑنے کا سخت اندیشہ پیدا ہوا ہے اور تہران میں اس حوالے سے پائے جانے والے جذبات نے مذاکرات کے دوسرے دور میں ایرانی وفد کی شرکت پر سوالیہ نشان لگا دیا۔ امریکی میڈیا کے مطابق امریکہ سے وفد منگل کو واشنگٹن سے اسلام آباد کیلئے روانہ ہو گا اور مذاکرات کا دوسرا دور بدھ کو اسلام آباد میں ہو گا۔ یہی وہ دن ہے جب جنگ بندی کی میعاد ختم ہو رہی ہے اور پوری دنیا ایک پائیدار امن معاہدے کی خواہاں ہے کیونکہ موجودہ صورتحال میں عالمی معیشت کی نبض جنگ بندی کے معاہدے سے جڑی ہے۔ معاشی ماہرین متنبہ کر رہے ہیں کہ اگر خلیج فارس میں کشیدگی برقرار رہتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں دوبارہ بڑھ سکتی ہیں جس کے نتیجے میں عالمی افراطِ زر میں دو سے تین فیصد تک کا مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
اگر فریقین میں نیا امن معاہدہ طے نہیں پاتا تو انشورنس کے اخراجات میں اضافے اور طویل بحری راستوں کی وجہ سے عالمی سپلائی چین متاثر ہونے کے علاوہ روزانہ اربوں ڈالر کا نقصان بھی اٹھانا پڑے گا۔ لہٰذا پائیدار امن معاہدہ اب عالمی معیشت کی بقا کیلئے ناگزیر ہو چکا ہے۔ ان حالات پاکستان اور ایران کے وزرائے خارجہ میں ٹیلی فونک رابطہ اور پاکستان کی جانب سے مکالمے کی فوری ضرورت کا اظہار اس دیرینہ مؤقف کا اعادہ ہے کہ مسائل کا پائیدار حل مذاکرات میں پنہاں ہے۔ امید کی جا تی ہے کہ ایرانی وفد مذاکرات کے دوسرے دور میں ضرور شریک ہوگا‘ تاہم ضروری ہے کہ امریکہ کی جانب سے غیر ضروری دباؤ کی وہ پالیسی جو مفاہمتی ماحول کو متاثر کر رہی ہے‘ ترک کی جائے۔ تاریخ گواہ ہے کہ دباؤ کی سیاست نے کبھی پائیدار حل فراہم نہیں کیا بلکہ اس سے دشمنی کی آگ مزید بھڑکی ہے۔ علاقائی استحکام کا اصل راز بقائے باہمی کے اصول میں مضمر ہے۔
اسلام آباد میں جاری کوششوں کا محور یہی ہے کہ فریقین ایک دوسرے کے تحفظات کو سمجھیں اور برابری کی بنیاد پر بات چیت کو آگے بڑھائیں۔ سفارتی عمل کو نتیجہ خیز بنانے کیلئے جارحانہ بیانات اور اشتعال انگیزی سے گریز لازمی ہے تاکہ باہمی اعتماد کو فروغ دیا جا سکے۔ اسلام آباد نے امن کا ایک اور سنہرا موقع فراہم کیا ہے جہاں فریقین اپنے اختلافات کے پائیدار حل سے ایک نئے دور کا آغاز کر سکتے ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>تجارتی خسارہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-21/11122</link><pubDate>Tue, 21 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-21/11122</guid><description>وفاقی ادارۂ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی نو ماہ کے دوران تجارتی خسارہ سالانہ بنیادوں پر تقریباً 23فیصد اضافے کے ساتھ 28ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ اس عرصے کے دوران درآمدات کا مجموعی حجم تقریباً 50 ارب 54کروڑ ڈالر تک جا پہنچا جبکہ برآمدات اس کے مقابلے میں محض 22ارب 73کروڑ ڈالر رہیں۔ یہ صورتحال اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ معیشت کا پیداواری ڈھانچہ اب بھی درآمدی انحصار سے باہر نہیں نکل سکا۔ اس دوران صرف موبائل فونز اور ٹرانسپورٹ سیکٹر کی درآمدات پر چار ارب 35کروڑ ڈالر سے زائد خرچ ہوئے‘ جو غیر ضروری یا کم ترجیحی درآمدات کے زمرے میں آتے ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہماری برآمدات محدود مصنوعات اور چند مخصوص منڈیوں تک مرکوز ہیں جبکہ درآمدات کا دائرہ وسیع اور تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

لہٰذا حکومت کو ایک مربوط اور طویل مدتی تجارتی پالیسی تشکیل دینی چاہیے۔ برآمدات بڑھانے کیلئے ٹیکسٹائل کے ساتھ ساتھ آئی ٹی‘ انجینئرنگ‘ فارماسیوٹیکل اور دیگر شعبوں کو خصوصی مراعات اور سہولتیں فراہم کی جائیں تاکہ وہ عالمی منڈی میں مسابقت پیدا کر سکیں۔ حکومت کو برآمدی بنیاد کو وسیع اور متنوع بنانا ہوگا‘ پیداواری لاگت کم کرنا ہوگی اور پالیسیوں میں تسلسل لانا ہوگا۔ بصورت دیگر تجارتی خسارہ نہ صرف بڑھتا رہے گا بلکہ زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ ڈال کر معاشی استحکام کو بھی خطرے سے دوچار کر دے گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پولیو، مربوط حکمت عملی ناگزیر(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-21/11121</link><pubDate>Tue, 21 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-21/11121</guid><description>رواں سال کی دوسری ملک گیر انسدادِ پولیو مہم میں تین لاکھ سے زائد بچے پولیو کے حفاظتی قطروں سے محروم رہے ہیں۔ قبل ازیں فروری میں بھی دس لاکھ سے زائد بچے پولیو قطروں سے محروم رہ گئے تھے‘ جبکہ 53 ہزار سے زائد کیسز میں والدین نے خود ویکسین پلانے سے انکار کیا۔ پولیو ورکرز سخت موسمی حالات‘ دور دراز علاقوں تک رسائی کی مشکلات اور سکیورٹی خدشات کے باوجود اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے گھر گھر پہنچتے ہیں‘ اس کے باوجود اگر ہر بچے تک ویکسین نہیں پہنچ پا رہی تو متعلقہ حکام کو ان بنیادی رکاوٹوں کی نشاندہی اور ان کے مؤثر حل پر توجہ دینا ہو گی جو بچوں کی پولیو ویکسین کی راہ میں حائل ہیں۔ ان رکاوٹوں میں سب سے سنگین مسئلہ شدت پسندی اور سکیورٹی خدشات ہیں۔

حالیہ مہم کے دوران ہنگو اور ڈیرہ مراد جمالی میں پولیو ٹیموں پر حملے ہوئے جن میں دو پولیس اہلکار جان کی بازی ہار گئے جبکہ بنوں میں تین پولیو ورکرز کو اغوا بھی کیا گیا۔ ایسے واقعات نہ صرف پولیو مہم کی رفتار کو متاثر کرتے بلکہ فیلڈ ورکرز کے حوصلے پر بھی منفی اثر ڈالتے ہیں۔ دوسری بڑی رکاوٹ عوامی سطح پر شعور کی کمی ہے۔ یہ صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ آگاہی مہمات کو مزید مؤثر‘ مقامی روایات اور سماجی تناظر سے ہم آہنگ بنایا جائے اور پولیو مہمات کے دوران سکیورٹی انتظامات کو مزید سخت کیا جائے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بے دین ولد الف دین اور طبیب(محمد اظہارالحق)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-04-21/51804/18550538</link><pubDate>Tue, 21 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-04-21/51804/18550538</guid><description>ایسا نہیں تھا کہ وہ دیندار نہیں تھے۔ اصل میں ان کے والد صاحب کا اسم گرامی الف دین تھا۔ چونکہ الف کے بعد &#39;&#39;بے‘‘ کا حرف آتا ہے اس لیے ان کا نام بے دین رکھا گیا۔اچھے بھلے تھے۔ چند ہفتے پہلے پیٹ میں درد ہوا۔ طبیب کے پاس لے جائے گئے۔ اس نے تشخیص کی کہ دردِ قولنج ہے۔ دوا دی مگر ساتھ ہی بتایا کہ ذہنی دباؤ (سٹریس) میں ہیں۔ شاید کوئی صدمہ پہنچا ہے۔ گھر والے حیران تھے کہ کیسا صدمہ؟ کون سا صدمہ؟ بے دین صاحب کی زندگی تو ایک آئیڈیل زندگی تھی۔ قدرت نے سب کچھ دیا تھا اور چھپڑ پھاڑ کر دیا تھا۔ بے دین صاحب تو ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے پاکستان سے خوب خوب فائدہ اٹھایا تھا۔ مٹی کو ایسی کمال بددیانتی سے ہاتھ لگاتے تھے کہ سونا بن جاتی تھی۔ سرکاری محکموں سے ٹھیکے لینا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔ ٹھیکہ جس کام کیلئے لیتے تھے‘ وہ کام ہو نہ ہو‘ بِل سر کار کو لحیم شحیم قسم کا بھیجتے تھے۔ بیسیوں ان کے کاروبار تھے۔ ہر کاروبار جیسے سونے کی کان تھا اور ہر کاروبار میں دیانتداری سے پرہیز کرتے تھے۔ کسی شے کی زندگی میں کمی نہ تھی۔ فکر تھا نہ فاقہ! طبیب نے جب سٹریس کا بتایا تو گھر والے حیران ہوئے کہ یہ کس چڑیا کا نام ہے۔ سٹریس‘ ٹینشن‘ غم‘ فکر اور ذہنی دباؤ کے الفاظ نہ صرف بے دین صاحب کی لغت میں نہیں تھے‘ بلکہ پورا گھرانہ ان سے ناآشنا تھا۔ چنانچہ گھر والوں نے طبیب پر واضح کر دیا کہ تشخیص درست نہ تھی۔ بے دین صاحب تو قریبی عزیزوں کی بھی موت کی خبر سنتے ہی سیاہ شیشوں والا چشمہ لگا لیتے تھے۔ مگر طبیب کا بھی پچاس سالہ تجربہ تھا۔ وہ تو بیمار کے اندر آنے سے لے کر بیٹھنے تک کے وقفے ہی میں بیماری کا اندازہ لگا لیتا تھا۔ اس نے لواحقین کو کہا کہ آپ کے نہ ماننے سے حقیقت نہیں بدل سکتی۔ بیماری سٹریس ہی کا شاخسانہ ہے۔ تاہم نفسیاتی تسلی کیلئے اس نے چند بے ضرر سی ادویات تجویز کر دیں۔کچھ دن آرام سے گزر گئے۔ پھر ایک دن بے دین صاحب کو اسہال کی شکایت ہونے لگی۔ طبیب نے بدل بدل کر ادویات آزمائیں۔ وہ بار بار گھر والوں کو بتاتا کہ کچھ ہے جو انہیں ذہنی طور پر پریشان کر رہا ہے۔ اگر یہ بات درست تھی تو گھر والے اس سے مکمل طور پر لاعلم تھے۔ بے دین صاحب اور ان کی بیگم صاحبہ کی خوابگاہیں الگ الگ تھیں۔ ایسا نہیں تھا کہ باہمی اور ازدواجی تعلقات سرد تھے۔ بے دین صاحب کا نظریہ یہ تھا کہ ٹھاٹ سے رہا جائے۔جب دولت بے حساب ہے تو کمرے بہت سے ہونے چاہئیں۔ کبھی کبھی تو سوچتے تھے کہ محلات بہت سے ہوں اور وہ اور بیوی بچے سب‘ الگ الگ‘ اپنے اپنے محل میں رہیں۔ ہر محل میں خدام کی ریل پیل ہو! بتانے کا مقصد یہ ہے کہ بے دین صاحب کی خوابگاہ الگ تھی۔ طبیب نے ایک عجیب بات کہی۔ اس نے کہا کہ ان کی خوابگاہ میں کیمرہ لگوائیں اور دو ہفتے بعد اس کی فوٹیج طبیب کو دکھائی جائے۔ یہ دو ہفتے بھی بہت بھاری گزرے۔ بے دین صاحب کو وجع المفاصل کا عارضہ لاحق ہو گیا۔ یرقان نے حملہ کر دیا۔ ضیق النفس کی تکلیف شروع ہو گئی۔ خفقان ہونے لگا۔ اختلاجِ قلب نے برا حال کر دیا۔خون‘ بلغم‘ اور صفرا کے عدم توازن نے مالیخولیا کی کیفیت پیدا کر دی۔ جیسے یہ سب کچھ ناکافی تھا‘ مرگی کے دورے بھی پڑنے لگے!!دو ہفتے گزر گئے۔ فوٹیج طبیب صاحب کی خدمت میں پیش کی گئی۔ وہ رات طبیب صاحب نے فوٹیج دیکھنے میں گزاری۔ دوسرے دن لواحقین کو بلایا اور کہا کہ جو تشخیص انہوں نے کی تھی‘ وہ درست نکلی۔ پھر طبیب صاحب نے لواحقین کو بٹھایا اور ان کے سامنے فوٹیج چلا دی۔ کیمرے نے دکھایا کہ بے دین صاحب اپنی سجی سجائی‘ وسیع‘ خوابگاہ میں آرام دہ کرسی پر تشریف فرما ہیں۔ سامنے پوری دیوار کے سائز کا ٹیلی ویژن تھا۔ خبریں چل رہی تھیں۔ بے دین صاحب انہماک سے خبریں سن رہے تھے۔ساتھ انواع و اقسام کے مشروبات رکھے تھے۔ خشک اور تازہ پھلوں کی ٹوکریاں پڑی تھیں۔ ملازم کافی یا چائے لانے کیلئے حکم کے منتظر تھے۔ بے دین صاحب کی نظر ٹی وی سکرین پر تھی۔ اچانک بے دین صاحب نے مٹھیاں بھینچ لیں۔ گلے کی رگیں تن گئیں۔ ناک جیسے ٹیڑھی ہونے لگی۔ منہ سے جھاگ نکلنے لگی۔سامنے سکرین پر خبر چل رہی تھی کہ امریکہ اور ایران دونوں پاکستان میں مذاکرات کرنے پر رضامند ہو گئے ہیں۔ جتنی دیر تک اس خبر کی تفصیل چلتی رہی‘ بے دین صاحب کی حالت غیر ہی رہی۔ جیسے ہی یہ خبر ختم ہوئی‘ وہ ٹھیک ہو گئے۔ پھر دوسرے دن کی فوٹیج دیکھی گئی۔ جیسے ہی خبر چلی کہ پوری دنیا میں پاکستان کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ پاکستان سفارت کاری کے میدان میں کامیابی کے جھنڈے گاڑ رہا ہے‘ بے دین صاحب پر اسہال کا حملہ ہوا اور آفتابہ لیے بیت الخلا کو بھاگے۔ تمام دنوں کی فوٹیج سے یہ معلوم ہوا کہ پاکستان کی کامیابی کی خبر سن کر بے دین صاحب شدید ذہنی تناؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے پاکستانی آرمی چیف اور وزیراعظم کی تعریف کی تو بے دین صاحب پر مرگی کا دورہ پڑ گیا۔ ایران کی اہم شخصیت نے ٹویٹ پر &#39;&#39;پاکستان زندہ باد‘‘ لکھا تو بے دین صاحب شدت ِغم سے بے ہوش ہو گئے۔ ساری فوٹیج دیکھ کر لواحقین کو ماننا پڑا کہ طبیب کی تشخیص درست تھی۔ سارا مسئلہ تناؤ کا تھا۔طبیب نے بے دین صاحب کو سامنے بٹھا لیا اور پوچھا کہ آپ پاکستانی ہو کر بھی پاکستان کی تعریف سن سکتے ہیں نہ کامیابی دیکھ سکتے ہیں۔ آخر ایسا کیوں ہے؟ آپ جو کچھ بھی ہیں‘ پاکستان کی وجہ سے ہیں۔جس معیارِ زندگی سے آپ اور آپ کا خاندان لطف اندوز ہو رہا ہے‘ وہ پاکستان ہی کے دم سے ہے۔ اس کے باوجود پاکستان کی تعریف سن کر آپ کو آگ کیوں لگ جاتی ہے۔ کبھی مرگی پڑ جاتی ہے تو کبھی قولنج کا درد لاحق ہو جاتا ہے۔ آپ کو تو فخر کرنا چاہیے کہ اس وقت ساری دنیا کی نظریں پاکستان پر ہیں اور جو کام اقوام متحدہ سمیت کوئی ملک نہ کر سکا‘ الحمدللہ پاکستان کر دکھا رہا ہے۔ بے دین صاحب سنتے رہے۔ طبیب بول چکا تو بے دین صاحب گویا ہوئے: صاحب! آپ میرے معالج ہیں! میں آپ سے جھوٹ بولوں گا نہ گھما پھرا کر بات کروں گا!! میرا تعلق ایک خاص گروہ سے ہے۔ یہ وہی گروہ ہے جسے بہت سے لوگ کلٹ کا نام دیتے ہیں اور آپ بخوبی جانتے ہیں کہ cult کے لوگ ایک کرشماتی رہنما کی کٹر پیروی کرتے ہیں۔ ان کے عقائد‘ ان کی پسند ناپسند سب کچھ ایک ہی شخص کے گرد گھومتا ہے۔ ہمارے نزدیک پاکستان پہلے نہیں‘ ہمارا لیڈر پہلے ہے۔ ہماری وفاداری ملک کے ساتھ نہیں‘ ایک شخصیت کے ساتھ ہے۔ اس شخصیت میں ہزار برائیاں‘ ہزار کمزوریاں سہی‘ ہمیں وہ برائیاں اور وہ کمزوریاں نظر نہیں آتیں۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ ایک شخص کی پرستش نے ہمیں اندھا بھی کر دیا ہے‘ بہرا بھی اور سوچنے کی صلاحیت سے بھی محروم کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں پاکستان کی ہر خوبی‘ برائی نظر آتی ہے اور اپنے گروہ کے سرخیل کی ہر برائی خوبی دکھائی دیتی ہے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ بھارت بھی پاکستان کی کامیابیوں کو کھلے دل سے تسلیم نہیں کرتا! اس لیے ہم اس معاملے میں بھارت کے ساتھ ہیں۔ یہ بات درست ہے۔ پاکستان کی کابیابیوں پر جلنے بُھننے کے حوالے سے ہم اور بھارت ایک ہی پیج پر ہیں۔ مانا کہ پاکستان کے وزیراعظم اور چیف آف ڈیفنس فورسز نے پاکستان کی عزت میں اضافہ کیا ہے مگر ہم مجبور ہیں۔ ہمیں جو بات رٹائی گئی ہے ہم نے اسی کی گردان کرنی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_57182973.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مرنے چلے تو سطوتِ قاتل کا خوف کیا(خالد مسعود خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-04-21/51805/53479471</link><pubDate>Tue, 21 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-04-21/51805/53479471</guid><description>خیال بڑی مزیدار چیز ہے۔ یہ کسی بھی وقت‘ کہیں بھی اور کسی بھی چیز کے متعلق آ سکتا ہے۔ خیال میں آسانی یہ ہے کہ اس سے رجوع بھی کیا جا سکتا ہے اور اس سے دستبردار بھی ہوا جا سکتا ہے۔ خیال کوئی ایسی ناقابلِ تنسیخ شے نہیں کر اس پر بلاوجہ جم کر کھڑا ہوا جائے۔ سمجھدار لوگ اپنے خیالات کو منجمد کرنے کے بجائے آبِ رواں کی صورت رکھتے ہیں۔ دوسروں سے سیکھتے ہیں اور اپنے خیال کے گھوڑے پر دانش کے مراحل طے کرتے رہتے ہیں۔ اسی طرح کسی کے خیال سے اختلاف بھی کیا جا سکتا ہے اور اتفاق بھی کیا جا سکتا ہے‘ فی الوقت ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملے کے بعد مختلف الخیال لوگ خیال کے اپنے اپنے گھوڑے دوڑا رہے ہیں۔ کوئی اسے امریکی شکست سے تعبیر کر رہا ہے تو کوئی اسے ایران کی تباہی سے منسلک کر رہا ہے۔ کوئی ایران کو بہادر کہہ رہا ہے اور کسی کا خیال ہے کہ ایران حماقت آمیز دلیری کا مظاہرہ کر رہا ہے جو سراسر نقصان اور گھاٹے  کا سودا ہے۔ اس مؤقف کے داعیوں کا کہنا ہے کہ بعض اوقات مصلحت آمیز پسپائی حماقت آمیز بہادری سے بہت بہتر ہوتی ہے۔ ملک وقوم‘ عوام‘ رہائشی علاقے‘ ذرائع آمد ورفت‘ مواصلات اور اہم تنصیبات کو بچانا بعض اوقات انا کی بنیاد پر تباہی برداشت کرنے سے بدرجہا بہتر ہوتی ہے۔ یہ مؤقف بظاہر اپنے اندر وزن رکھتا ہے۔ اس میں دانشمندی بھی دکھائی دیتی ہے‘ عقلی اور منطقی تجزیے بھی اس بات کو سہارا دیتے ہیں اور دل ودماغ بھی اس نقطۂ نظر سے اتفاق کرتے ہیں۔ لیکن یہ تمام عقلی تجزیے‘ منطقی نتائج‘ دل ودماغ کے فیصلے‘ تاریخ کے اسباق اور دانشوروں کے سارے خیالات میرے نزدیک اس وقت بے معنی اور بیکار ہو جاتے ہیں جب میں ایران بمقابلہ امریکہ واسرائیل کے معاملات کو سامنے رکھتے ہوئے غور کرتا ہوں۔ کچھ لوگ اس نقطۂ نظر کے حامی ہیں کہ ایران کو ان حالات میں احمقانہ بہادری‘ قومی انا پرستی‘ نقصان دہ دلیری اور طاقت کے اعتبار سے انتہائی غیر متوازن جنگ لڑ کر ناقابلِ تلافی نقصان اٹھانے کے بجائے حکمت آمیز پسپائی‘ مصلحت پسند مراجعت اور دانشمندانہ معافی تلافی سے معاملات کو بگڑنے سے اور ملک کو تباہی سے بچا لینا چاہیے تھا۔ بظاہر یہ نقطۂ نظر دل کی تاروں کو  چھو لیتا اور عقل کو بھی متاثر کرتا ہے لیکن معاملات اپنی طے شدہ عقلی اور منطقی حدود میں ہوں تو ہی ان چیزوں سے اتفاق کیا جا سکتا ہے‘ تاہم مقابلے میں کسی قسم کے قانون‘ اخلاق اور انسانیت سے عاری اسرائیل ہو اور وعدوں ومعاہدوں کو جوتے کی نوک پر رکھنے والا امریکہ ہو تو معاملہ اتنا آسان نہیں رہ جاتا۔ اسرائیل اور امریکہ فی الوقت صرف ایک بات پر یقین رکھتے ہیں اور وہ ہے جس کی لاٹھی اُس کی بھینس۔ فی الوقت لاٹھی امریکہ کے ہاتھ میں ہے اور باقی سارا عالم بھینس ہے جسے امریکہ بلاجواز ہانکنے پر بضد ہے‘ تو اَب اس کا کیا علاج ہے؟سوال یہ ہے کہ ایران کو ایسی صورتحال میں کیا کرنا چاہیے تھا؟ اگر ایران وہ سب کچھ کر بھی لیتا جو روزانہ کی بنیاد پر نئی نئی دھمکیوں کی صورت میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی مطالبات کی پٹاری میں سے نکال رہے ہیں تو ایران کی پسپائی‘ مراجعت اور معافی تلافی کہاں جا کے ٹھہرتی؟ امریکہ کے مطالبات اور اسرائیلی خواہشات کس جگہ پر جا کر دم لیتیں؟ یہ ایسا سوال ہے جو میں ایران کی حماقت آمیز بہادری کے مقابلے میں دانشمندانہ پسپائی کے علمبرداروں سے پوچھنا چاہتا ہوں۔ ایران سے ایٹم بم بنانے سے دستبرداری والا معاملہ مکمل ایٹمی صلاحیت بشمول سول ایٹمی استعمال سے محرومی تک پہنچ جاتا۔ پھر امریکہ بہادر ایرانی ایٹمی ری ایکٹرز کی تلفی یا دستبرداری کی شرط لگا دیتا۔ پھر لانگ رینج میزائل پروگرام کے خاتمے سے شروع ہونیوالا معاملہ عام میزائل پروگرام کے مکمل خاتمے تک پہنچ جاتا۔ اس کے بعد رجیم چینج کا مسئلہ آن کھڑا ہوتا۔ اس کے بعد امریکہ اس جنگ (جو اُس نے از خود بلاوجہ اور بلاجواز ایران پر مسلط کی تھی) میں ہونے والے اپنے نقصانات کی زرِ تلافی مانگ لیتا۔ اس نے سب سے پہلے ایران کے پہلے سے منجمد شدہ اثاثوں کو اس مد میں باقاعدہ ہضم کرنا تھا اور باقی &#39;&#39;نقصان‘‘ ایرانی تیل بیچ کر پورا کرنا تھا۔ پھر عالمی تیل کی تجارت کو ایرانی حکومت کی جانب سے مستقبل میں پیش آنے والے خطرات سے بچانے کیلئے جزیرہ خارگ اور آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنے اور تیل کی فروخت پر امریکی کنٹرول کا مطالبہ داغ دینا تھا۔ اور یہ کوئی خیال کا گھوڑا نہیں جو فضول میں دوڑایا جا رہا ہے‘ امریکہ یہ سب کچھ عراق اور لیبیا میں کر چکا ہے۔ ایران کو اقتصادی اور دفاعی حوالوں سے مکمل طور پر بے دست وپا کرنے اور بھیڑ کا میمنا بنانے کے بعد اسرائیل کو بھیڑیے کی طرح ایران پر دوبارہ چھوڑ دیا جاتا۔ امریکہ نے بڑی آسانی سے کہہ دینا تھا کہ وہ اسرائیلی جارحیت کو روکنے کا کسی طور ذمہ دار نہیں ہے۔جب آپ کے لامتناہی مطالبات اور فرمائشوں کی فہرست کسی اختتام سے محروم ہو تو بھلا وہاں انا کی دستبرداری‘ قومی حمیت پر سودے بازی اور مصلحت آمیز پسپائی کا سفر کہاں اختتام پذیر ہو سکتا ہے؟ 2015ء کے مذاکرات ایران امریکہ کے  درمیان آسٹریا کے شہر ویانا میں ہوئے۔ اس میں ایران نے چھ عالمی طاقتوں امریکہ‘ روس‘ چین‘ برطانیہ‘ فرانس اور جرمنی کے ساتھ اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں ایک معاہدے پر دستخط کر دیے تاہم 8 مئی 2018ء کو اُس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے سے ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے سے مستقل طور پر نہیں روکا جا سکتا۔ انہوں نے اس معاہدے کو &#39;ناقص‘ اور &#39;یکطرفہ‘ قرار دیتے ہوئے ختم کرنے کا اعلان کر دیا اور ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کر دیں۔ اس سے بھی پہلے 1979ء کے ایرانی انقلاب کے بعد تہران میں امریکی سفارتخانے میں 52 امریکی یرغمالیوں کی رہائی کو یقینی بنانے اور اس بحران کو حل کرنے کیلئے 1981ء میں تیسرے فریق کے طور پر الجزائر میں امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ ہوا تھا۔ امریکہ نے باضابطہ عہد کیا کہ وہ ایران کے داخلی معاملات میں سیاسی یا فوجی طور پر مداخلت نہیں کرے گا۔ دونوں ممالک کے درمیان مالی تنازعات کو حل کرنے کیلئے نیدرلینڈز کے شہر دی ہیگ میں &#39;ایران امریکہ کلیمز ٹربیونل‘ قائم کیا گیا۔ امریکہ نے ایران کے منجمد کیے گئے تقریباً آٹھ ارب ڈالر کے اثاثے بحال کرنے کا وعدہ کیا‘ لیکن وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہو گیا۔جون 2025ء میں ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری معاملات کی غرض سے مذاکرات چل ہی رہے تھے کہ 21 اور 22 جون کی درمیانی شب امریکہ نے تین ایرانی شہروں اصفہان‘ نطنز اور فردو کی جوہری تنصیبات پر 125کے لگ بھگ طیاروں کے ساتھ جن میں سات عدد B-2 سٹیلتھ بمبار اور آبدوز سے داغے گئے ٹوماہاک میزائل تھے‘ حملہ کر دیا۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے ایران کے ایٹم بم کے حصول کا خواب چکنا چور کر دیا ہے اور ایران اب دس سال تک جوہری ہتھیار نہیں بنا سکے گا۔ دس سال تو رہے ایک طرف‘ امریکہ نے عین اسی بہانے کے تحت 28فروری 2026ء کو یعنی صرف آٹھ ماہ بعد ایران کیساتھ مذاکرات کے عین دوران دوبارہ حملہ کر دیا۔ اب بندہ کس سے امن کا معاہدہ کرے‘ کس سے امان طلب کرے‘ کس کے آگے مصلحت آمیز پسپائی اختیار کرے اور کس کس مطالبے کو پورا کرے؟ مطالبات لامتناہی ہوں‘ طاقت کا نشہ ہو اور بندہ اخلاقیات سے عاری ہو تو صلح یا امن کا خواب بذاتِ خود حماقت ہے۔ قتل ہونا مقدر ٹھہرا تو منت زاری کس لیے؟  بقول فیض احمد فیض:مرنے چلے تو سطوتِ قاتل کا خوف کیا؍ اتنا تو ہو کہ باندھنے پائے نہ دست و پا؍ مقتل میں کچھ تو رنگ جمے جشنِ رقص کا؍ رنگیں لہو سے پنجۂ صیاد کچھ تو ہو؍ خوں پر گواہ دامنِ جلاد کچھ تو ہو؍جب خوں بہا طلب کریں بنیاد کچھ تو ہو؍بولو کہ شورِ حشر کی ایجاد کچھ تو ہو؍بولو کہ روزِ عدل کی بنیاد کچھ تو ہو</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90500073.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مشرق کا جنیوا اور مذاکرات(ڈاکٹر حسین احمد پراچہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-04-21/51806/68760250</link><pubDate>Tue, 21 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-04-21/51806/68760250</guid><description>اگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مذاکرات کیلئے جذبۂ بے اختیارِ شوق کو دیکھا جائے تو لگتا ہے کہ وہ بلا تاخیر ایران کے ساتھ کامیاب ڈائیلاگ چاہتے ہیں‘ مگر ان کی دھمکیوں اور طعنوں کو دیکھا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ وہ بنا ہوا کام بگاڑنا چاہتے ہیں۔ مذاکرات کی کامیابی کا ایک راز کاش کوئی ڈونلڈ ٹرمپ کو سمجھا سکے کہ جب تک معاہدۂ امن پر دستخط نہ ہو جائیں اس وقت تک وہ اپنے اوپر &#39;&#39;زبان بندی‘‘ کا حکم لاگو رکھیں۔آج سے تقریباً نوے برس قبل شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؒ نے مستقبل میں جھانکتے ہوئے ایک خواہش کا اظہار کیا تھا جو اَب پوری ہوتی ہوئی ساری دنیا دیکھ رہی ہے۔ یوم اقبالؒ کے موقع پر علامہ کی خواہش یا دعا کو ایک بار پھر یاد کیجئے۔پانی بھی مسخر ہے‘ ہوا بھی ہے مسخرکیا ہو جو نگاہِ فلکِ پپر بدل جائے!دیکھا ہے ملوکیتِ افرنگ نے جو خوابممکن ہے کہ اس خواب کی تعبیر بدل جائے!طہران ہو گر عالمِ مشرق کا جنیواشاید کرۂ ارض کی تقدیر بدل جائے!امریکہ کی قیادت میں مغرب نے پانی اور ہوا کے علاوہ اب افلاک کی تسخیر کا پروگرام بھی بہت پھیلا دیا ہے مگر یہ ساری تسخیرِ کائنات دنیا کا امن و سکون اور انسانیت کی فلاح و بہبود کیلئے نہیں بلکہ اس کی تباہی و بربادی کیلئے ہے۔ نیتن یاہو نے تقریباً دو برس تک غزہ کو امریکی سرپرستی میں کھنڈرات کا ڈھیر بنایا۔ اسرائیلی افواج نے 80 ہزار فلسطینیوں کو شہید اور تقریباً پونے دو لاکھ کو شدید زخمی کیا۔ برنی سینڈرز امریکہ کا انتہائی واجب الاحترام سینیٹر ہے‘ اس نے امریکہ میں خطاب کرتے ہوئے حاضرین کے سامنے اُن 18 ہزار بچوں کی تصاویر پیش کیں جنہیں اسرائیل نے نہایت سفاکی سے شہید کر دیا تھا۔ یہ تصاویر واشنگٹن پوسٹ نے شائع کی ہیں۔ برنی سینڈرز نے امریکی عوام کو جھنجھوڑتے ہوئے بتایا کہ امریکہ نے اس دوران جنگ کیلئے 22 ارب ڈالرز اسرائیل کو دیے۔ براؤن یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق غزہ میں دو سالہ اسرائیلی کشت و خون اور تباہی و بربادی کا 70 فیصد خرچہ امریکہ نے ادا کیا۔ گویا امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسے سے معصوم بچوں کو خاک و خون میں تڑپایا گیا۔ اس بار اسرائیل کے بہلانے پھسلانے پر امریکہ نے ایران پر تقریباً چھ ہفتوں پر مشتمل ایک بے مقصد جنگ مسلط کی۔ اس جنگ میں اسرائیل اور امریکہ دونوں کو منہ کی کھانا پڑی۔ ایران نے اپنے ہوم میڈ میزائلوں سے اسرائیل کے اندر اور خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں پر تباہی مچائی۔ اس جانی و مالی اور معاشی تباہی کو دیکھ کر پاکستان سفارتکاری کیلئے آگے بڑھا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر نے پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی پُرخلوص اور اَنتھک سفارتکاری کو بہت سراہا گیا‘ یوں پاکستان نے امریکی و ایرانی وفود کو 47 برس کے بعد اسلام آباد میں مذاکرات کی میز پر آمنے سامنے لا بٹھایا۔ اس براہ راست ڈائیلاگ میں بہت سے امور پر دو طرفہ اتفاق ہو گیا تھا‘ مگر حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔ اچھی بات یہ کہ گفت و شنید کی ڈور ابھی تک نہیں ٹوٹی۔ اس دوران پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت نے فریقین کے باہمی اختلافات باہمی اتفاق میں بدلنے کیلئے شبانہ روز محنت کی۔ غالب امکان یہی ہے کہ امریکہ اور ایران کے مابین اسلام آباد میں مذاکرات کا دوسرا راؤنڈجلد شروع ہو جائے گا۔اقبال نے عالمِ مشرق کے جنیوا تہران کے علاوہ برصغیر میں ایک اسلامی مملکت کا خواب دیکھا تھا‘ یہ خواب بھی شرمندہ تعبیر ہو چکا ہے اور آج ایٹمی قوت اسلامی جمہوریہ پاکستان سارے جہان کا مرکزِ نگاہ بن چکا ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران ایران پر مسلط کردہ دو امریکی و اسرائیلی جنگوں کے نتیجے میں ایران کو بہت بڑا جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا‘ مگر ایران اور عالم اسلام کو بہت سے ثمرات و فوائد بھی حاصل ہوئے ہیں۔ سب سے پہلا فائدہ تو یہ ہے کہ جس ایران کو بدامنی پھیلانے والی یہ قوتیں ترنوالہ سمجھ رہی تھیں وہ ان کیلئے لوہے کا چنا ثابت ہوا۔ ایران کی اس برتری کو ساری دنیا میں بہت سراہا گیا ہے۔ایک اور فائدہ یہ ہوا کہ ایران کے خلاف اسرائیلی اور امریکی جارحیت کو ساری دنیا نے نہ صرف مسترد کردیا بلکہ اس کی شدید مذمت کی گئی۔ یہ حالیہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ نیٹو اور یورپی یونین سمیت کئی مغربی ممالک نے ایران کے خلاف امریکی جنگ کا حصہ بننے سے انکار کر دیا۔ مغربی دنیا کی رائے عامہ غزہ کے بعد اب ایران کے ساتھ ہے۔ آج یورپ و امریکہ میں کہیں سروے کروا لیں وہاں اکثریت ٹرمپ اور نیتن یاہو کے خلاف اور ایران کے حق میں ہو گی۔ مغرب کی قیادت بھی امریکی و اسرائیلی مظالم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کر رہی ہے۔ مسیحیوں کے سب سے بڑے روحانی پیشوا پوپ لیو نے ڈونلڈ ٹرمپ کو اس ظلم و جارحیت سے باز رہنے کی تلقین کی تو انہوں نے پوپ کو طعنے دیے اور ڈرانے دھمکانے کی کوشش کی مگر پوپ نے اپنے مذہبی و اخلاقی فریضے سے دست کش ہونے سے انکار کردیا۔  ایران پر مسلط کردہ جنگ کا ایک انمول فائدہ یہ بھی ہے کہ تقریباً نصف صدی کے بعد عربوں کو احساس ہو گیا ہے کہ خطے میں ان کا اصل دشمن ایران نہیں اسرائیل ہے۔ یوں عرب و عجم پاکستان کی رفاقت میں بہت قریب آ رہے ہیں۔ہماری دعا ہے کہ جنگ بندی کے اختتام سے قبل مذاکرات کے دوسرے دور کا آغاز ہو جائے۔ ایران کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ محمد باقر قالیباف نے کہا کہ کئی معاملات پر پیشرفت ہوئی ہے مگر ابھی بہت سا فاصلہ باقی ہے۔ یقینا اس فاصلے میں ایٹمی موضوع سرفہرست ہے۔ یورینیم افزودگی بالخصوص پُرامن مقاصد کی خاطر ہر قوم کا استحقاق ہے۔ تاہم ایران کئی بار ایٹم بم نہ بنانے کا اعلان کر چکا ہے۔ اس لیے امریکہ اپنی &#39;&#39; داخلی فیس سیونگ‘‘ کیلئے اس معاملے کو ہرگز نہ الجھائے۔ایران کیلئے دوسرا اہم ترین مسئلہ آبنائے ہرمز کا ہے۔ مذاکرات کے پہلے دور کے بعد ایران نے ساری دنیا کو معاشی عذاب سے نکالنے کیلئے آبنائے ہرمز سے جہازوں کے بآسانی گزرنے کیلئے یہ بحری راستہ کھول دیا۔ اس پر ایران کا شکریہ ادا کرنے کے بجائے امریکہ نے ایرانی بندر گاہوں کی ناکہ بندی کر دی ہے۔ امید ہے کہ دوسرے رائونڈ کے مذاکرات سے قبل امریکہ یہ ناکہ بندی ختم کر دے گا۔ایران کا تیسرا مطالبہ برائے تاوان بھی بالکل جائز ہے۔ کسی ملک پر بے مقصد‘ بلا جواز اور بلا اشتعال جنگ مسلط کرنے والے ملک کو ہر جانہ ادا کرنا پڑتا ہے۔ دوسری جنگ عظیم میں کئی ملکوں کو جارح ممالک کی طرف سے ہرجانہ ادا کرنے کی مثالیں موجود ہیں۔ ایران کے منجمد اثاثوں کو بھی بالآخر ایران کے حوالے کردیا جانا چاہیے۔ یورپ و امریکہ کی رائے عامہ جتنی ایران اور عالم اسلام کے حق میں آج ہے اس سے پہلے کبھی نہ تھی۔ مختلف قدغنوں کے ہوتے ہوئے ایران نے امریکی و اسرائیلی حملوں کا جس جوانمردی سے مقابلہ کیا اس کی دھاک ساری دنیا پر بیٹھ چکی ہے۔جس جرأت و مہارت سے ایران نے جنگ جیتی ہے اس حکمت و دانش سے اسے مذاکرات کی لڑائی بھی جیت لینی چاہیے۔ آج حکم الامت کا ایک نہیں کئی خواب شرمندہِ تعبیر ہونیوالے ہیں۔ امتِ مسلمہ کی وحدت اور تہران کے عالمِ مشرق کا جنیوا بننے کا خواب برادر اسلامی ملک ایران کو پاکستان کی رفاقت میں امنِ عالم اور وحدتِ امت کا یہ سنہری موقع ہرگز ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہیے۔ آج خلدِ بریں میں علامہ اقبالؒ اپنے ان اشعار کی عملی تعبیر دیکھ کر کتنے خوش ہوں گے۔عرب کے سوز میں سازِ عجم ہے؍ حرم کا راز توحیدِ امم ہےتہی وحدت سے ہے اندیشۂ غرب؍ کہ تہذیبِ فرنگی بے حرم ہے</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_70033906.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>قرضوں کی ری سٹرکچرنگ(شاہد کاردار)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-kardar-/2026-04-21/51807/35319593</link><pubDate>Tue, 21 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-kardar-/2026-04-21/51807/35319593</guid><description>حال ہی میں پاکستان نے متحدہ عرب امارات کے تقریباً ساڑھے تین ارب ڈالر کا قرض واپس کرنے کا مشکل فیصلہ کیا کیونکہ اس نے قرض کی مدت میں مزید توسیع کرنے سے انکار کردیا تھا۔ اس ادائیگی میں تین ارب ڈالر سٹیٹ بینک میں رکھے گئے ڈپازٹس اور پچاس کروڑ ڈالر کا دو طرفہ قرض شامل تھا۔ تاہم یہ عمل اس لیے ممکن ہوسکا کہ سعودی عرب نے فوری طور پر مزید تین ارب ڈالر کے ڈپازٹس سٹیٹ بینک آف پاکستان میں بھجوا دیے۔ یوں وقتی طور پر ایک ممکنہ بحران ٹل گیا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ بیرونی اور اندرونی قرضوں کی واپسی پاکستان کے لیے ایک بہت بڑی ذمہ داری اور مسئلہ بن چکی ہے۔ ہر سال قرضوں کی ادائیگی کی وجہ سے ہماری یہ صلاحیت بھی محدود ہوگئی ہے کہ ہم اپنے معمول کے اخراجات بھی پورے کرسکیں۔ اس تشویشناک صورتحال کا ایک سبب تو یہ ہے کہ قرض کی واپسی کی قسط کا حجم بہت بڑا ہوچکا ہے۔ دوسرا‘ اب آئی ایم ایف بھی اس معاملہ پر تشویش ظاہر کر رہا ہے حالانکہ وہ اب بھی ہمارے قرض کو قابلِ برداشت سمجھتا ہے۔ فنڈ کا پاکستان کے جاری پروگرام کی پہلی جائزہ رپورٹ میں کہنا تھا کہ &#39;&#39;خود مختار مالی دباؤ کا مجموعی خطرہ بہت زیادہ ہے‘ جو زیادہ قرض‘مجموعی مالی ضروریات کی زیادتی اور کم زرِ مبادلہ ذخائر کی وجہ سے شدید کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔‘‘کسی بھی حکومت کا قرض لینا کوئی غیرمعمولی بات نہیں بشرطیکہ یہ قرض پیداواری معیشت کیلئے حاصل کیا جائے کیونکہ اس سے متعدد مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ ہمارے معاملے میں اصل مسئلہ یہ ہے کہ فضول اخراجات اور کم ترجیح کے حامل اور ناقص منصوبہ بندی والے منصوبوں کیلئے قرض لیے جاتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ مجموعی سرکاری قرض سرکاری محصولات کے 650فیصد کے برابر ہو چکا ہے‘ جبکہ ایک درجن سے زیادہ تقابلی ممالک کیلئے یہ اوسط 214فیصد ہے۔ اسی طرح ہمارا بیرونی قرض ہماری اشیا اور خدمات کی برآمدات کے 265فیصد کے برابر ہو چکا ہے جبکہ تقابلی ممالک کیلئے یہ اوسط 64فیصد ہے۔آزادی کے بعد پہلے 67برسوں میں جتنا بیرونی قرض لیا گیا تھا پچھلے تقریباً سات برسوں میں یہ دُگنا ہو گیا ہے اور اب تقریباً 138ارب ڈالر (مجموعی قومی پیداوار کا 34 فیصد) تک پہنچ چکا ہے۔ اس قرض کا تقریباً 22 فیصد ایک سال سے کم مدت میں واپس کرنا ہے۔ 32فیصد بیرونی قرض دو سے پانچ برس کے درمیان ادا کرنا ہے اور 22 فیصد دس برس سے زیادہ مدت کیلئے ہے۔ ہماری معیشت مستقبل قریب میں واجب الادا قرضوں  کی ادائیگی کیلئے وسائل پیدا کر لے‘ اس کے امکانات دکھائی نہیں دیتے۔ اس گمبھیر صورتحال میں بہتری کا امکان اس بات پر منحصر ہے کہ قرضوں کو ایسی سطح پر لایا جائے جن کی واپسی کا آسانی سے بندوبست کیا جا سکے۔ سوال یہ ہے کہ اس بیرونی قرض کی ری سٹرکچرنگ کیلئے ممکنہ راستے کیا ہیں؟سب سے پہلے یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ قرض کی ری سٹرکچرنگ ایک پیچیدہ عمل ہے۔ اس کیلئے کوئی فوری ہنگامی حل یا مختصر راستہ موجود نہیں۔ قرض کی واپسی میں رعایت حاصل کرنا عموماً ایک تلخ تجربہ ہوتا ہے جس میں تکلیف دہ پالیسی اقدامات کرنا پڑتے ہیں‘ خاص طور پر ایسے اقدامات جو کم آمدن والے گھرانوں کیلئے مشکل ثابت ہوتے ہیں۔ دنیا میں تقریباً 30کم آمدنی والے ممالک بھاری قرض کے چنگل میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ان میں سے اب تک کم و بیش بارہ ممالک نے ری سٹرکچرنگ کی کوشش کی ہے۔ ان کی  قرض خواہوں کے ساتھ بات چیت کم و بیش ایک سال سے زیادہ عرصے تک جاری رہی۔ زیمبیا کی مثال ہمارے لیے سبق آموز ہے جہاں دو برس کے بعد صرف 34فیصد قرض کی تنظیمِ نو کیلئے معاہدہ ہوا‘ لیکن اس شرط پر کہ قرض دینے والی نجی پارٹیاں بھی ایسا نقصان برداشت کرنے پر رضامند ہوں۔غیر ملکی واجب الادا ادائیگیوں کی تین شکلیں ہیں: غیر ملکی قرضے بشمول ڈپازٹس‘ غیرملکی سرمایہ کاری (جیسے آئی پی پیز)‘ اور کرنسی کا تبادلہ یا کرنسی سویپ‘ جو اس وقت صرف چینی کرنسی یوآن میں ہے اور یہ بھی قرض کی ایک شکل ہے۔ ہمارے بیرونی حکومتی اور حکومت کے ضمانت یافتہ قرض کا نصف سے زیادہ حصہ کثیر فریقی اداروں یعنی آئی ایم ایف‘ ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کا ہے۔ اس  قرض کا ایک بڑا حصہ رعایتی شرح سود پر ہے۔ اس وجہ سے ہمیں ان اداروں کا قرض سب سے پہلے واپس کرنا ہوتا ہے۔ ان قرضوں کی واپسی موجودہ نظام کے تحت مؤخر نہیں کی جا سکتی۔ مجموعی بیرونی قرض میں دو طرفہ غیرملکی قرض (بشمول ڈپازٹس) کا حصہ تقریباً 40فیصد ہے‘ یعنی ایسے قرضے جن کا لین دین پاکستان اور کسی دوسرے ملک کے درمیان براہِ راست ہوا۔ اس کے بعد سات فیصد کمرشل قرض باقی رہ جاتا ہے۔ دو طرفہ چینی قرضوں کی شرائط و ضوابط مکمل طور پر شفاف نہیں۔ اب تک چین ادائیگی کا وقت  آنے پر قرض کی تجدید کرتا رہا ہے (تقریباً آٹھ ارب امریکی ڈالر) لیکن وہ اپنے قرضوں پر نقصان قبول کرنے کیلئے تیار نہیں  لگتا۔ ایک اور پیچیدگی یہ ہے کہ چینی قرض دینے والے اداروں کو کس زمرے میں رکھا جائے: انہیں قرض کہا جائے یا سرمایہ کاری۔ یہ ایک پیچیدہ معاملہ ہے کہ کرنسی تبادلوں اور سٹیٹ بینک میں چین اور سعودی عرب کے ڈپازٹس کے معاملے میں ترجیحی درجہ بندی کے اصول کو کیسے لاگو کیا جائے۔ مزید برآں‘ یہ واضح نہیں کہ حکومت کے ضمانت یافتہ نجی سرمایہ کاری کے معاہدوں (مثلاً بجلی پیدا کرنے والے آئی پی پیز) کو قرض دہندگان کی درجہ بندی میں کس درجے پر رکھا جائے‘ یعنی پہلے ڈپازٹس رکھنے والوں کو ادائیگیاں کرنا ہیں یا سرمایہ کاری کرنے والوں کو۔سری لنکا کے حالیہ قرض کی تنظیمِ نو کے تجربے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بڑے قرض دہندگان کے ساتھ مساوی سلوک کے اصول پر عمل  کرنا ضروری ہے‘ یعنی آئی ایم ایف کے قرض کی پائیداری کے اصول کے مطابق سب قرض دینے والوں کو نقصان برداشت کرنے کے عمل میں شریک ہونا ہوگا۔ اس لیے بھی ملک کا آئی ایم ایف کے پروگرام میں موجود ہونا ضروری ہے۔ تاہم‘ بیرونی قرض میں کمی یا اس کی تنظیمِ نو کیلئے کوشش کرنے کے قابل ہونے کیلئے بھی قرض دہندگان کے سامنے ایک مؤثر مقدمہ پیش کرنا ہو گا‘ اور اس کے لیے ضروری ہوگا کہ (الف) بطور پیشگی شرط ہم اپنی دیرینہ بنیادی اصلاحات کا منصوبہ پیش کریں جسے ہم نافذ کریں گے تاکہ قرض دہندگان کو یہ دکھایا جا سکے کہ ہم پُرعزم ہیں کہ ایسے حالات دوبارہ پیش نہ آئیں جن کے سبب قرض میں رعایت کی ضرورت پیش آتی ہے۔ (ب) اسی نوعیت کی اصلاحات اندرونی قرض کی ری سٹرکچرنگ کیلئے بھی کرنا ہوں گی۔اندرونی قرض کا معاملہ بیرونی قرض جتنا ہی سنگین ہے۔ اس قرض پر سود کی ادائیگی کیلئے سالانہ بجٹ میں مختص رقوم کا 90فیصد استعمال ہو جاتا ہے۔ اس کام کیلئے مجموعی قومی پیداوار کے سات فیصد سے زیادہ بنیادی بچت درکار ہوتی ہے۔ چونکہ بینک ایک دیوالیہ قرض لینے والی پارٹی (یعنی حکومت) کو سب سے زیادہ قرض دیتے ہیں‘ اس لیے انہیں بھی اس بوجھ کو برداشت کرنا ہوگا۔ اس قرض میں کمی کیلئے ایک تدریجی حکمتِ عملی درکار ہوگی۔ یہ کام کرنے کیلئے افراطِ زر سے کم شرحِ سود‘ مثلاً دو سال کیلئے سود کی ادائیگی پر پابندی یا معطلی‘ مدتِ ادائیگی میں توسیع‘ حتیٰ کہ قرض کی اصل رقم میں کچھ کمی شامل ہو سکتی ہے۔ اصل رقم میں نمایاں کمی سے بینکوں کے سرمائے کی بنیاد کمزور ہو جائے گی‘ اس بنیاد کی بحالی کیلئے ممکنہ طور پر انہیں رعایتی شرحوں پر قرض دینا ہوگا یا؍اور سٹیٹ بینک کے ان احتیاطی ضوابط میں عارضی نرمی کرنا ہو گی جو سرمائے کی کفایت (یعنی بینک کم سے کم کتنا سرمایہ اپنے پاس لازمی رکھیں)سے متعلق ہیں۔ آخری آپشن اگرچہ آئیڈیل نہیں‘ لیکن یہ ہو سکتا ہے کہ بینکوں کی آمدن پر زیادہ شرح سے ٹیکس عائد کر دیا جائے۔آخر میں کہنا چاہوں گا کہ معیشت کو درپیش سنگین چیلنجز کے پیش نظر اہلِ اقتدار کے پاس ایسی حکمتِ عملی بنانے کیلئے گنجائش کم ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_78012569.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>اسلام آباد پھر مرکزِ نگاہ(رشید صافی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-04-21/51808/36515888</link><pubDate>Tue, 21 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-04-21/51808/36515888</guid><description>مغربی معاشروں کی یہ روایت رہی ہے کہ وہ حقائق کو تسلیم کرنے میں اگرچہ وقت لیتے ہیں مگر جب سچائی آشکار ہو جائے تو اس کا اعتراف کرنے میں بخل سے کام نہیں لیتے۔ آج مغرب کے تھنک ٹینکس اور پالیسی ساز ادارے اس حقیقت کو تسلیم کر چکے ہیں کہ پاکستان امن کا داعی ہے اور ماضی میں پاکستان کے خلاف جو گرد اڑائی گئی تھی اس کا حقیقت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں تھا۔ مغربی دنیا کا یہ اعتراف محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ اس عالمی اعتماد کی بازگشت ہے جو پاکستان نے اپنی مستقل مزاجی اور ٹھوس پالیسیوں سے حاصل کیا ہے۔ اس کامیابی کا کریڈٹ موجودہ قیادت کو جاتا ہے۔ اس وقت حکومت اور عسکری قیادت کے مابین جو مثالی اتفاقِ رائے ہمیں دیکھنے کو مل رہا ہے وہ پاکستان کی سیاسی اوردفاعی تاریخ کا ایک درخشاں باب ہے۔ قومی قیادت میں اس نوعیت کی ہم آہنگی وقت کی اہم ضرورت تھی کیونکہ جب سیاسی اور عسکری قیادت کے پیشِ نظر صرف ملکی وقار ہو تو ریاست ایک ناقابلِ تسخیر قوت بن کر ابھرتی ہے۔ سیاسی امور کو فی الوقت پس پردہ رکھ کر ریاست کو ترجیح بنانا ایک ایسی تزویراتی بصیرت ہے جس نے پاکستان کے دشمنوں کو حیران کر دیا ہے۔22 اپریل 2025ء کو پہلگام کے فالس فلیگ آپریشن کے بعد شروع ہونے والا سفارتی سفر آج اپنی پوری آب وتاب کے ساتھ جاری ہے اور مسلسل ایسی کامیابیاں سمیٹ رہا ہے جن کا تصور چند سال پہلے ناممکن نظر آتا تھا۔ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں‘ چند برس پہلے تک ہمیں عالمی فورمز پر خود کو سچا ثابت کرنے کے لیے صفائیاں پیش کرنا پڑتی تھیں لیکن آج صورتحال یہ ہے کہ دنیا ہمارے کہے ہوئے کو حرفِ آخر سمجھ رہی ہے۔ دنیا کی بڑی طاقتیں اب برملا اعتراف کر رہی ہیں کہ انہیں علاقائی اور عالمی مسائل کے حل کے لیے صرف پاکستان کی قیادت پر اعتماد ہے۔ اس غیر معمولی کامیابی کے پیچھے اگرچہ برسوں کی ریاضت اور حکمتِ عملی کارفرما ہے تاہم اس محنت کا حقیقی پھل ہمیں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں مل رہا ہے۔ پاکستان ہمیشہ سے امن کا علمبردار رہا ہے مگر اس بار فرق یہ ہے کہ پاکستان کی ان کوششوں کو دنیا اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے اور اس کا ادراک عالمی دارالحکومتوں کے ایوانوں میں ہو رہا ہے۔ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے دوسرے مرحلے کی سرگرمیاں اس وقت اسلام آباد میں جاری ہیں۔ اگرچہ پہلے مرحلے میں فریقین نے کسی حتمی معاہدے پر دستخط نہیں کیے تھے لیکن اُس دور کا سب سے بڑا نتیجہ یہ نکلا کہ دونوں فریق ایک بار پھر اسلام آباد کی میزبانی میں ملنے والے ہیں۔ سفارتی حلقوں میں قوی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس بار کوئی بریک تھرو یا معاہدہ طے پا جائے گا لیکن اگر بات اگلے مرحلے تک جاتی ہے تو بھی اسے ناکامی نہیں سمجھنا چاہیے۔ بین الاقوامی مذاکرات کار اس حقیقت سے واقف ہیں کہ سفارت کاری ایک ارتقائی عمل ہے جس میں صبر اور تسلسل کامیابی کی کنجی ہے۔ قارئین یاد کر سکیں تو زلمے خلیل زاد نے امریکہ اور افغانستان کے مابین مذاکرات کے لیے کس قدر طویل جدوجہد کی تھی اور دوحہ میں جتنی نشستیں ہوئی تھیں‘ ان کا کوئی حساب نہیں مگر انجام کار ایک حتمی معاہدہ وجود میں آیا۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ایران اور امریکہ کے پیچیدہ معاملات محض ایک دو نشستوں میں حل ہو جائیں گے وہ شاید عملی میدان کی مشکلات اور دہائیوں پر محیط بداعتمادی کو نظر انداز کر رہے ہیں۔پاکستان کی عسکری اور سول قیادت کے حالیہ دوروں اور سفارتی کوششوں سے یہ تاثر ابھرا تھا کہ شاید معاملات طے پانے کے قریب ہیں مگر عالمی سیاست کی بساط پر فریقین کی جانب سے اکثر ایسے بیانات یا اقدامات سامنے آ تے ہیں جو اتفاقِ رائے کی راہ میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ مذاکراتی عمل کی روح یہ تقاضا کرتی ہے کہ اس دوران جارحانہ بیانات سے مکمل گریز کیا جائے لیکن بدقسمتی سے مشرقِ وسطیٰ کے تناظر میں جارحیت اور تندوتیز جملوں کا تبادلہ جاری رہا ہے‘ جو امن کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے۔ اس کے باوجود اسلام آباد ان تلخیوں کو کم کرنے میں اپنا تاریخی کردار ادا کر رہا ہے۔ خوش آئند ہے کہ امریکی وفد اسلام آباد پہنچ گیا ہے۔ سی این این کے مطابق وائٹ ہائوس نے تصدیق کی ہے کہ نائب صدر جے ڈی وینس‘ سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر ایران کے ساتھ مذاکرات میں شرکت کریں گے۔ ابتدائی طور پر سکیورٹی خدشات کی بنا پر نائب صدر کی آمد پر شکوک و شبہات تھے لیکن امریکی انتظامیہ کا یہ مؤقف رہا کہ نائب صدر اس اہم مشن کا حصہ ہوں گے۔ امریکی صدر نے بھی جے ڈی وینس کے پاکستان آنے کی تصدیق کی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھی پاکستان آنے کی خواہش کا اظہار کیا گیا مگر سکیورٹی ٹیم کی کلیئرنس نہ ملنے کی وجہ سے وہ تاحال اس پروگرام کا حصہ نہیں بن سکے۔ اسی طرح یہ بات بھی سامنے آئی کہ صدر ٹرمپ چاہتے ہیں کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان بھی اسلام آباد آئیں جبکہ ایرانی صدر نے پاکستان آنے کا حتمی فیصلہ نہیں کیا اور اگر ایرانی صدر اسلام آباد نہیں آتے تو شاید صدر ٹرمپ بھی نہ آئیں۔ مذاکرات کیلئے امریکی وفد کی آمد اور شرکا کی تفصیلات سامنے آ چکی ہیں تاہم ایرانی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ ان کا وفد مذاکرات کے اگلے دور کے لیے پاکستان نہیں جائے گا کیونکہ ایک طرف امریکہ مذاکرات کی دعوت دیتا ہے اور دوسری طرف ایرانی اثاثوں اور بحری جہازوں کے خلاف کارروائیاں کر کے کشیدگی میں اضافہ کرتا ہے۔ ایران کے تحفظات بجا ہیں مگر پاکستان پُرامید ہے کہ ایرانی وفد مذاکرات کے دوسرے مرحلے کا حصہ بنے گا۔ایران اور امریکہ کے مابین بعض معاملات پر اگرچہ اختلافات برقرار ہیں لیکن معاہدے کا ہونا ناگزیر ہے کیونکہ اس نہج پر پہنچ کر معاملات اب ریورس نہیں ہو سکتے۔ ایشیائی ممالک کی مالی مشکلات اپنی جگہ اب امریکہ کے اہم اتحادی بشمول متحدہ عرب امارات اس جنگ کو مزید طول دینے کے حق میں نہیں ۔ وال سٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ کے مطابق یو اے ای کے مرکزی بینک کے گورنر خالد محمد بلامہ کی امریکی حکام سے ملاقاتوں میں یہ واضح اشارہ دیا گیا ہے کہ اگر جنگ جاری رہتی ہے اور ڈالر کی قلت پیدا ہوتی ہے تو وہ تیل کی فروخت کے لیے یوآن کا راستہ اختیار کر سکتے ہیں۔ یہ ایک ایسی معاشی دھمکی ہے جو امریکہ کے پائوں کی زنجیر بن چکی ہے۔ واشنگٹن اب یہ جان چکا ہے کہ ایران میں رجیم چینج کا روایتی طریقہ کار کارگر نہیں رہا اور جب تک مذاکرات کے ذریعے کوئی درمیانی راستہ نہیں نکلتا ایران کے خلاف کسی جنگی حربے سے کامیابی کا حصول ناممکن ہے۔ امن کو موقع دینا ہی واحد راستہ ہے۔ اگر اسلام آباد میں مذاکرات کے اس دور کے بعد مزید نشستوں کی ضرورت پڑتی ہے تو 22 اپریل کی جنگ بندی میں توسیع ایک ممکنہ حل ہو گا۔ امریکہ کو بھی اس بات کا احساس ہے کہ ایران پر دوبارہ حملے کی صورت میں جنگ کا دائرہ اتنا پھیل جائے گا کہ اس کے نقصانات انسانی تصور سے باہر ہوں گے۔ اگر دوبارہ حملوں کے باوجود اہداف حاصل نہ ہوئے اور امریکہ کو شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا تو عالمی برادری یہ سوال پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ اٹھائے گی کہ ایران کا انفراسٹرکچر تباہ کر کے اور عالمی معیشت کو بحران سے دو چار کر کے امریکہ نے کیا حاصل کیا؟</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/222_48272610.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>گاہے گاہے باز خواں …(4)(حافظ محمد ادریس)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/hafiz-muhammad-idreess/2026-04-21/51809/56012428</link><pubDate>Tue, 21 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/hafiz-muhammad-idreess/2026-04-21/51809/56012428</guid><description>جنرل امیر عبداللہ خان نیازی سے بعد کے زمانے میں بھی بہت یادگار ملاقاتیں ہوتی رہیں۔ اس سلسلے کی ایک ملاقات لاہور کینٹ میں ایک تقریبِ نکاح میں ہوئی۔ مجھے اس میں جماعت کے بزرگ رکن نواز خان ترین مرحوم نے نکاح پڑھانے کیلئے دعوت دی تھی۔ دلہا ان کے رشتہ داروں میں سے تھا۔ دلہن جنرل نیازی کی نواسی بتائی گئی تھی۔ نواز خان صاحب کے ساتھ جب میں تقریب میں پہنچا تو سٹیج پر جنرل نیازی صاحب اپنی معمول کی شان کے ساتھ تشریف فرما تھے۔ علیک سلیک کے بعد جنرل صاحب کو معلوم ہوا کہ میں جماعت کا کوئی ذمہ دار ہوں تو بہت احترام کے ساتھ پیش آئے۔ پھر انہوں نے اپنے فوجی کیریئر کے بعد سیاسی سفر کا مختصر تذکرہ کیا جب وہ جمعیت علمائے پاکستان میں شامل ہوئے تھے۔ کچھ ہی عرصے کے بعد وہاں سے جی بھر گیا اور جمعیت علمائے پاکستان چھوڑ دی۔ پھر مجھ سے کہنے لگے کہ جماعت اسلامی میں پروفیسر غفور احمد میرے اچھے دوست ہیں مگر انہوں نے میرے ساتھ تعاون نہیں کیا۔ میں نے پوچھاکیا تعاون نہیں کیا؟ کہنے لگے: میں نے ان سے کہا تھاکہ میں جماعت میں آنا چاہتا ہوں مگر شرط یہ ہے کہ مجھے مرکز میں کوئی منصب دیا جائے۔ پروفیسر صاحب نے مجھے مایوس کیا کہ جماعت میں مشروط داخلے کی گنجائش نہیں۔ جنرل صاحب کی بات سن کر مجھے ہنسی آ گئی اور میں نے عرض کیا: جنرل صاحب! پروفیسر صاحب نے بالکل ٹھیک کہا۔ جماعت میں کوئی بھی آدمی اس طرح نہ آیا ہے نہ آئندہ آنے کا امکان ہے۔ جماعت کا طے شدہ اصول وضابطہ ہے‘ اسکے مطابق لوگ آتے ہیں اور جن میں صلاحیت ہوتی ہے وہ آگے بھی بڑھ جاتے ہیں۔ جنرل صاحب کو یہ بات اچھی نہ لگی۔ابھی بارات کے آنے میں کچھ دیر تھی‘ اس لیے مزید باتوں کا تذکرہ شروع ہو گیا۔ اسی دوران انہوں نے کہا کہ جب میں مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر تھا تو جماعت کا ایک لڑکا حکومت کے خلاف تقریر کرنے پر گرفتار ہوا تھا۔ اس کے امتحان کا مسئلہ میرے سامنے آیا تو میں نے اجازت دینے سے انکار کر دیا مگر جماعت کے لوگوں نے مجھے حلف دیا کہ وہ طالبعلم بی اے میں گولڈ میڈلسٹ ہے اور اب اس کا ایم اے کا امتحان ہے کہ اسے پولیس نے ایک کیس میں گرفتار کر لیا ہے۔ آپ بتائیں کہ جماعت والوں کی اس بات میں کتنی صداقت تھی؟ میں نے مسکراتے ہوئے کہا: محترم جنرل صاحب! وہ بات سو فیصد درست تھی۔ ویسے بھی وہ کوئی جھوٹی گواہی نہیں دیتے اور جب ان سے آپ جیسی عظیم شخصیت کی طرف سے حلف لیا جائے گا تو کیسے جھوٹ بولیں گے؟باتوں ہی باتوں میں جنرل صاحب سے میں نے عرض کیا کہ اگر کبھی آپ کی اس طالبعلم سے ملاقات کرا دی جائے تو کیسا رہے؟ کہنے لگے کہ کوئی حرج نہیں‘ مجھ سے رابطہ کر کے ٹائم لے لو اور ملاقات کرا دو۔ اس دوران بارات آ گئی۔ رجسٹرار نے فارم پُر کیے اور نواز ترین صاحب نے اعلان کیاکہ جماعت اسلامی کے صوبائی امیر نکاح پڑھائیں گے۔ نکاح کے بعد کھانے کی میز پر ہم بیٹھے تھے۔ ظاہر ہے نیازی صاحب کو اس طالبعلم کا نام کہاں یاد رہا ہو گا جس کے امتحان میں انہوں نے مدد کی تھی۔ اب میں نے کہا: جنرل صاحب! اگر اس درخواست گزار طالبعلم سے ابھی ملاقات ہو جائے تو کیسا رہے؟ کہنے لگے: وہ یہاں موجود ہے؟ میں نے کہا: نہ صرف موجود ہے بلکہ آپ سے کافی دیر سے ہم کلام ہے۔ اس پر انہوں نے خوشگوار قہقہہ لگایا اور کہا: آپ تو جماعتیے ہیں پھر آپ نے اتنا سسپنس کیوں پیدا کیا؟ میں نے کہا: بس آپ سے کچھ مزید باتیں کرنے کو جی چاہ رہا تھا۔جنرل صاحب نے مجھ سے پوچھا: آپ جماعت میں کیا کام کرتے ہیں؟ میں نے کہا کہ تنظیمی‘ دعوتی‘ تربیتی اور سیاسی امور ومعاملات کے ساتھ کچھ لکھنے پڑھنے کا کام بھی کرتا ہوں اور سیرتِ نبویﷺ‘ سیرتِ صحابہ کرامؓ کے ساتھ افسانہ نویسی اور سفر نامے لکھنا بھی میرا خاص موضوع اور مشغلہ ہے۔ یہ سن کر انہوں نے پوچھا: مؤرخین لکھتے ہیں کہ جنگ موتہ میں تین ہزار مسلمانوں نے ایک لاکھ سے زیادہ رومیوں کو شکست دی تھی۔ کیا آپ بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں؟ میں نے کہا: جی! نہ صرف تسلیم کرتا ہوں بلکہ اس پر میرا ایمان ہے اور حسنِ اتفاق سے میں اُن دنوں سیرت کا یہی حصہ لکھ رہا ہوں جو ان شاء اللہ عنقریب چھپ جائے گا۔ اس پر انہوں نے کہا: میرے نزدیک یہ ناممکن ہے اور میں اس پر کچھ لکھنا چاہتا ہوں۔ میں نے کہا: ضرور لکھیں! آپ اپنی تحریر لکھ کر مجھے بھی عنایت فرمائیے گا اور میں اپنی معروضات آپ کی خدمت میں پیش کر دوں گا۔ میں نے &#39;&#39;رسولِ رحمتﷺ تلواروں کے سائے میں‘‘ کی پانچ جلدوں میں تمام غزوات اور اہم جنگوں خصوصاً جنگِ موتہ کا تفصیلاً ذکر کیا ہے مگر جنرل صاحب کو غالباً لکھنے کا موقع نہ ملا کہ اس ملاقات کے کچھ عرصے بعد یکم فروری 2002ء کو 89 سال کی عمر میں وہ اس دنیائے فانی سے کوچ کر گئے‘ اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔ میری کتاب رسولِ رحمتﷺ تلواروں کے سائے میں (جلد سوم) میں جنگِ موتہ کا تذکرہ ہے۔ میں نے اس کتاب کا ابتدائی مسودہ تو 2003ء میں تیار کر لیا تھا مگر مصروفیات کی وجہ سے اسے حتمی شکل دینے میں مزید کچھ سال لگ گئے۔ پھر اس کی طباعت میں بھی تاخیر ہوتی رہی تاآنکہ کتاب کا پہلا ایڈیشن 2011ء میں شائع ہوا۔ اس مجلس میں اتنی دلچسپ باتیں ہوئی تھیں کہ ان پر میں نے اپنے بعض مضامین میں کچھ روشنی ڈالی‘ جو نیازی صاحب کی زندگی میں مختلف اخبارات ورسائل میں چھپے تھے۔ اسی نشست میں جنرل صاحب کی خدمت میں عرض کیا کہ حضرت خالدؓ بن ولید جنگ میں بطور سپاہی شریک تھے۔ آپؓ نے تینوں سپہ سالاروں حضرت زیدؓ بن حارثہ‘ حضرت جعفرؓ بن ابی طالب اور حضرت عبداللہؓ بن رواحہ کی شہادت کے بعد جب کمان سنبھالی تو حالات واقعی بہت مشکل تھے۔ اللہ کی تائید اور نصرت سے حضرت خالدؓ نے رات کے وقت اہل الرائے صحابہ کرامؓ سے مشاورت کے بعد ایسی حکمت عملی اختیار کی کہ جس سے دشمن کی ہوا اکھڑ گئی۔ حضرت خالدؓ بن ولید نے 500 کے قریب گھڑ سواروں کو چار حصوں میں تقسیم کر کے سب کے کمانڈر مقرر کیے اور فرمایا کہ راتوں رات مختلف سمتوں میں کچھ فاصلے پر چلے جائو۔ صبح جونہی جنگ شروع ہو تو ایک دستہ اپنے کمانڈر کی نگرانی میں گھوڑے دوڑاتا ہوا تکبیر کے نعروں کے ساتھ ہماری مدد کے لیے آ جائے۔ کچھ دیر کے بعد اسی طرح دوسرا دستہ بھی میدانِ جنگ میں آ جائے‘ پھر تیسرا اور آخر میں چوتھا دستہ آئے۔ اس جنگی حکمت عملی نے دشمن کو اتنا ہراساں کر دیا کہ وہ سمجھے عرب سے مسلسل تازہ دم فوجیں چلی آ رہی ہیں۔ پس وہ دم دبا کر بھاگنے پر مجبور ہو گئے۔ میں نے جنرل صاحب کو کہا کہ آپ کو یقینا علم ہو گا کہ صحابہ کرامؓ کی جنگی مہارتیں آنحضورﷺ کی تربیت ہی کی وجہ سے بے مثال تھیں اور ان کی جرأت و بہادری اور ایمان کی مضبوطی بھی ایسی تھی کہ وہ ہتھیار ڈالنا نہیں جانتے تھے۔ یہ الفاظ میری زبان سے نکل گئے تو مجھے احساس ہوا کہ جنرل صاحب اس کا غلط مفہوم سمجھ لیں گے اور شاید غصہ کریں گے حالانکہ میرے ذہن میں ایسا کوئی خیال نہیں تھا مگر اس سے ایسا نتیجہ اخذ کرنے کا جواز بہرحال موجود تھا۔ میری بات مکمل ہونے سے پہلے ہی جنرل صاحب نے فرمایا: تم نے مجھے Taunt کیا یعنی میرا مذاق اڑایا ہے۔ حالانکہ میرے ذہن میں یہ تصور نہیں تھا کہ وہ اس بات کو سقوطِ ڈھاکہ کے معنوں میں لے جائیں گے۔ بہرحال میں نے معذرت کی جس پر انہوں نے کہا: ڈھاکہ میں جو واقعہ ہوا تھا اس کو غلط انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ پھر اپنے فوجی کیریئر کے حوالے سے انہوں نے اپنی بہادری کے بہت سے واقعات سنائے‘ ساتھ ہی کہا کہ مجھے &#39;ٹائیگر‘ کا خطاب دوسری عالمی جنگ کے دوران ملا تھا۔ گفتگو کے کافی حصے مجھے اچھی طرح یاد ہیں مگر طوالت کے خوف سے ان سب کو چھوڑتا ہوں۔ جنرل نیازی مرحوم کے حق میں دعاگو ہوں کہ اللہ ان کی مغفرتِ تامہ فرمائے۔ (جاری)</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_24721193.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>