<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>مذاکرات کی ناکامی(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-05/11604</link><pubDate>Mon, 05 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-05/11604</guid><description> وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ اپوزیشن کی مذاکراتی کمیٹی نے خلوصِ نیت سے مذاکرات کئے‘ بہت اچھا معاہدہ تیار ہوا مگر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے مذاکرات سبوتاژ کر دیے۔ وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ اپوزیشن مذاکراتی کمیٹی کے اراکین کا شکریہ ادا کرتا ہوں‘ بہت اچھا معاہدہ تیار ہوا تھا‘ صدرِ مملکت کو دکھانے کیلئے بھی گیا‘ وزیراعظم کو بھی تمام صورتحال سے آگاہ کیا‘ ایک دو چیزوں پر اختلاف تھا لیکن 99 فیصد چیزوں پر اتفاق ہو چکا تھا لیکن بدقسمتی سے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے مذاکرات سبوتاژ کیے۔ حکومتی مذاکراتی ٹیم کی رکن پیپلز پارٹی کی رہنما سینیٹر شیری رحمان کے مطابق رات ساڑھے آٹھ بجے تک تقریباً تمام معاملات طے ہو چکے تھے‘ ساڑھے آٹھ کے بعد پشاور حکومت نے نئی شرائط رکھنا شروع کر دیں۔ بقول ان کے‘ سیاسی اعتماد اور استحکام قائم کرنے کا اہم موقع ضائع ہوگیا‘ 25 سالہ پارلیمانی زندگی میں ایسا موقع ضائع ہوتے نہیں دیکھا۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان یہ مذاکراتی عمل طویل مدت کے بعد مگر نہایت حساس ماحول میں شروع ہوا تھا۔

اگر یہ مذاکراتی عمل کامیاب ہونے کی خوشخبری ملتی تو ملکِ عزیز کیلئے یہ سیاسی پیشرفت غیر معمولی ثابت ہو سکتی تھی۔ ایسے وقت میں جب ملک میں پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے خدشات طاری تھے حکومت اور سیاسی قیادت میں نتیجہ خیز بات چیت اور تنازعات کے حل کی صورت سیاسی قیادت پر عوامی اعتماد میں اضافے کا سبب بنتی اور ملک کیلئے بے یقینی کی فضا صاف ہوتی۔ مگر اسے بدقسمتی ہی کہا جا سکتا ہے کہ ایسی کوئی خوشخبری اسلام آباد کی اس بیٹھک سے برآمد نہیں ہو سکی۔ اس سلسلے میں خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے تعاون نہ کرنے کی اطلاعات مایوس کن ہیں۔ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کو اس امر کا ادراک ہونا چاہیے کہ سیاست میں احتجاج ہی سب کچھ نہیں۔ سیاسی جماعتیں ہنگامہ آرائی سے کچھ حاصل نہیں کر سکتیں۔ جو ملتا ہے وہ مفاہمت‘ ہم آہنگی اور پُرامن جمہوری راستوں سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ہو سکتا ہے کسی جماعت کی سٹریٹ پاور یا قوتِ انتشار کی وجہ سے کسی خاص وقت میں حکومتیں یا ادارے مصلحتاً کمپرومائز کرنے اور پیچھے ہٹنے پر تیار ہو جائیں مگر یہ پسپائی مستقل اور پائیدار نہیں ہوتی۔
اس کا ردعمل بہت شدید اور اس کے نتائج تکلیف دہ ہوتے ہیں۔ اس لیے کم از کم سیاسی جماعتوں کو یہ زیب نہیں دیتا کہ بات چیت کے امکانات کو لات مار کر احتجاج اور دھونس کا راستہ اختیار کر لیں۔ سیاسی دانش اسی کا نام ہے کہ امکانات کے کمزور دھاگے کو بھی ٹوٹنے نہ دیا جائے۔ ایک فریق اسے کھینچتا ہے تو دوسرا ڈھیل پیدا کرے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس مذاکراتی عمل کے انجام کی جو کہانی بیان کی‘ تشویشناک ہے اور بارِ الزام خیبر پختونخوا حکومت پر آتا ہے۔ صوبائی حکومت اس مذاکراتی عمل کی جانب کسی سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے کے بجائے صوبے کے جنوبی اضلاع سے اسی لانگ مارچ پر بضد نظر آ رہی ہے جس کو روکنے کیلئے سیاسی بات چیت کا ڈول ڈالا گیا تھا۔ اس عمل میں خود پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر کی تگ و دو سے انکار ممکن نہیں۔ اگر انہوں نے حالیہ کچھ دنوں میں مذاکراتی عزم نہ دکھایا ہوتا تو ممکن نہیں تھا کہ اس بیٹھک کا اہتمام ہو پاتا۔
مگر جیسا کہ مذاکراتی کمیٹی کے حکومتی اراکین اور غیر جانبدار حلقوں کا کہنا ہے‘ خیبر پختونخوا کے نوجوان وزیراعلیٰ سیاسی تحمل کا مظاہرہ نہیں کر پائے۔ سیاستدان لمبی دوڑ کا گھوڑا ہوتا ہے مگر مسٹر آفریدی کی سوجھ بوجھ نے یہ ثابت نہیں کیا۔ اس مذاکراتی عمل کی ناکامی تکلیف دہ ہے مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں جانب کی سیاسی قیادت اس رکاوٹ کو عبور کر نے کی کوششیں ترک نہ کرے۔ اس ناکامی کو ایک کوشش کی ناکامی سمجھ کر کے مذاکراتی عزم کو برقرار رکھتے ہوئے بات چیت کو ازسر نو شروع کیا جائے‘ کیونکہ سیاسی مفاہمت کا کوئی متبادل نہیں اور مکالمہ ہی اس کا واحد راستہ ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>غذائی عدم تحفظ کی سنگین صورتحال(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-05/11603</link><pubDate>Mon, 05 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-05/11603</guid><description>عالمی ادارہ برائے خوراک و زراعت کی پاکستان کے زرعی اور غذائی نظام کے حوالے سے ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اکثریتی آبادی غذائی عدم تحفظ کا شکار ہے اور 60 فیصد سے زائد آبادی صحت بخش اور غذائیت سے بھرپور خوراک خریدنے کی مالی سکت کھو چکی ہے۔ ایک ایسا ملک جو بنیادی طور پر زرعی ہے‘ وہاں کی اکثریتی آبادی کا غذائی عدم تحفظ کا شکار ہونا حکومتی پالیسیوں اور ترجیحات پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اس بحران کی جڑیں ہمارے زرعی ڈھانچے کی فرسودگی اور بڑھتی ہوئی معاشی ناہمواری میں بھی پیوست ہیں۔ عالمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق ملک میں پانچ سال سے کم عمر کے تقریباً 40 فیصد بچے سٹنٹنگ یعنی غذائی قلت کے سبب جسمانی و ذہنی عدم نشوونما کا شکار ہیں۔

موسمیاتی تبدیلیاں‘ تباہ کن سیلاب‘ جدید بیجوں اور ٹیکنالوجی کی عدم دستیابی اور استحصال وہ عوامل ہیں جنہوں نے کسانوں کو بدحال اور عام آدمی کیلئے دو وقت کی روٹی کو خواب بنا دیا ہے۔ یہ رپورٹ اربابِ اختیار کیلئے ایک حد فاصل ہونی چاہیے اور اب روایتی اقدامات سے آگے بڑھ کر جامع اور مستقل زرعی اصلاحات کا آغاز کیا جانا چاہیے۔ جدید آبپاشی کے طریقوں اور بائیو ٹیکنالوجی کا فروغ‘ دالوں‘ پھلوں اور سبزیوں کی پیداوار بڑھانے کیلئے سستے قرضے ناگزیر ہیں۔ اگر اب بھی ہم نے اپنے غذائی اور زرعی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار نہ کیا تو اس کے اثرات صرف یہیں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ خدشہ ہے کہ آنے والی نسلیں بھی جسمانی و ذہنی طور پر کمزور ہوں گی۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سندھ طاس معاہدہ اور آبی جارحیت(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-05/11602</link><pubDate>Mon, 05 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-05/11602</guid><description>اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں ’’آبی انصاف اور موسمیاتی تنوع‘‘ کے عنوان منعقدہ خصوصی نشست نے سندھ طاس معاہدے کی سنگین صورتحال پر عالمی برادری کی توجہ مبذول کرائی ہے۔ عالمی ماہرین نے متنبہ کیا کہ بھارت کی جانب سے چھ دہائیوں پر محیط تاریخی آبی معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے یا التوا میں ڈالنے کا فیصلہ جنوبی ایشیا کی آبی سلامتی کیلئے بہت بڑا خطرہ بن چکا ہے۔ پانی کو سیاسی مقاصد کیلئے بطور ہتھیار استعمال کرنا محض ایک سفارتی تنازع نہیں بلکہ پاکستان کے کروڑوں عوام کے خلاف ایک جنگی اقدام ہے۔ عالمی ماہرین متفق ہیں کہ سندھ طاس معاہدے میں اسے معطل کرنے یا یکطرفہ اقدمات کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔

رواں سال 31 اگست کو عالمی ثالثی عدالت نے متفقہ طور پر اس معاہدے کی قانونی حیثیت اور فعالیت کو برقرار رکھنے کا فیصلہ دیا‘ مگر نئی دہلی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ مذکورہ نشست میں خبردار کیا گیا کہ دو جوہری طاقتوں کے درمیان یہ تنازع علاقائی امن کو تباہ کر سکتا ہے۔ لہٰذا اب عالمی برادری اورمعاہدے کے ضامن کے طور پر عالمی بینک کو آگے بڑھ کر عملی کردار ادا کرنا اور بھارت کو بین الاقوامی قوانین اور عدالتی فیصلوں کو تسلیم کرنے پر مجبور کرنا ہو گا کیونکہ سندھ طاس معاہدے کا تحفظ محض ایک آبی معاہدے کا نہیں‘ بلکہ خطے کے کروڑوں انسانوں کی بقا کا معاملہ ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مذاکرات ناکام کیوں ہوتے ہیں؟(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-10-05/52784/83870769</link><pubDate>Mon, 05 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-10-05/52784/83870769</guid><description>عقلِ عام رکھنے والوں کی بستی میں‘ یہ کیسے ممکن ہے کہ اجتماعی مسائل کا کوئی حل تلاش نہ کیا جا سکے؟مفادات کا ٹکراؤ انسانی زندگی کا ناگزیر حصہ ہے۔ اس سے مفر نہیں۔ مفادات کی کشمکش کس شعبۂ حیات میں نہیں ہوتی؟ کاروبار کی دنیا میں کیا ٹکراؤ نہیں ہو تا؟ فنونِ لطیفہ میں کیا مقابلہ بازی نہیں ہوتی؟ دنیا میں ہر میدان‘ میدانِ کارزار ہے۔ ہمارے ہاں بھی ہے۔ جہاں عقلِ عام کی حکمرانی ہو‘ وہاں کھیل کے آداب طے ہو جاتے ہیں۔ سب کو موقع دیا جاتا ہے اور پھر قانونِ فطرت کے مطابق‘ جو جس کے حصے میں آتا ہے‘ اسے مل جاتا ہے۔ لازم نہیں کہ سب معاملات انصاف کے مطابق طے ہوں۔ بے شمار عوامل مل کر فیصلہ کرتے ہیں کہ کس کو کیا ملنا ہے۔ عقلِ عام کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ ان فیصلوں کو مان لیا جائے۔ یہ فیصلے دائمی نہیں ہوتے‘ وقت کے ساتھ بدلتے ہیں۔ اگر آج وقت نے الف کے حق میں فیصلہ دیا ہے تو کل اس کا انتخاب جیم بھی ہو سکتا ہے۔ کشمکش کبھی ختم نہیں ہوتی۔ عقلِ عام کی حکمرانی ہو تو سماج کو نقصان پہنچائے بغیر سب کو کچھ نہ کچھ مل جاتا ہے۔ہم عام طور پر تمام شعبہ ہائے حیات میں اس اصول کو مانتے ہیں۔ انحرافات ہوتے ہیں اور ان سے المیے بھی جنم لیتے ہیں لیکن بالعموم عقلِ عام ہی کی حکمرانی مانی جاتی ہے۔ فنکاروں میں مفادات کا ٹکراؤ ہوتا ہے۔ تاجروں میں بھی ہوتا ہے۔ کم ہی ایسا ہوا ہے کہ اس کا انجام کسی تصادم پر ہوا ہو۔ اس ملک میں بہت سی کمپنیاں سیمنٹ بناتی ہیں۔ سب مارکیٹ میں اپنا حصہ بڑھانے کی کو شش میں لگی رہتی ہیں مگر دوسرے کے وجود کو تسلیم بھی کرتی ہیں۔ اس طرح سب کو ان کا حصہ مل جاتا ہے۔ کوئی خسارے میں نہیں رہتا۔ یہ سب سیاست میں کیوں نہیں ہوتا؟ یہاں عقلِ عام کی حکمرانی کیوں نہیں ہوتی؟ یہاں معاملات تصادم کی طرف کیوں بڑھتے ہیں؟اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ جب سیاست میں ایسے عناصر آ جاتے ہیں جو سیاست کے مفہوم سے ناواقف ہوتے ہیں تو پھر کھیل بگڑ جاتا ہے۔ جب لوگ یہ چاہتے ہیں کہ دوسرے کا وجود مٹ جائے اور تنہا ان کا اقتدار قائم ہو تو عقلِ عام اس مطالبے کو مسترد کر دیتی ہے۔ اس سے اضطراب پیدا ہوتا ہے۔ ماحول خراب ہوتا ہے اور بعض اوقات کھیل سب کے ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔ ملک متاثر ہوتے ہیں اور عوام بھی۔ جب تک معاملات اُن کے ہاتھ میں رہتے ہیں جو سیاست کو سمجھتے ہیں‘ کشمکش جاری رہتی ہے مگر تعطل نہیں پیدا ہوتا۔ مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی ایک دوسرے کی حریف ہیں۔ ان کے مابین مفادات کا ٹکراؤ آج بھی موجود ہے۔ مستقل میں بھی دونوں‘ جانتے ہیں کہ ایک دوسرے کے مدِمقابل ہوں گے۔ دونوں کے پاس وزارتِ عظمیٰ کا ایک ایک امیدوار موجود ہے۔ دونوں ایک دوسرے کو پچھاڑنا چاہتے ہیں۔ دونوں مگر سیاست کو جانتے ہیں۔ ان کو معلوم ہے کہ کہاں ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر چلنا ہے اور کہاں برسرِ پیکار ہونا ہے۔ ان کے درمیان یہ کشمکش جاری ہے اور ملک کا نظام بھی چل رہا ہے۔تحریک انصاف میں جو سیاست کو سمجھتے ہیں‘ وہ عقلِ عام سے کام لیتے ہیں۔ اگر آج پی ٹی آئی کے پاس کچھ ہے تو وہ عقلِ عام کے اسی استعمال کا نتیجہ ہے۔ ان کے پاس ایک صوبے کی حکومت ہے۔ اسی حکومت نے انہیں یہ حیثیت دی ہے کہ ریاست ان کے ساتھ مذاکرات کرتی ہے۔ اسی حکومت کو بنیاد بنا کر‘ وہ سیاست میں اپنے مقاصد کی آبیاری کر سکتے ہیں۔ اگر کل وہ انتخابی نتائج کو تسلیم کر نے سے عملاً انکار کر دیتے تو آج در بدر ہوتے۔ صوبائی حکومت ہوتی نہ پارلیمنٹ میں نمائندگی۔ وہ چاہیں تو اپنی کارکردگی سے پورے ملک کے عوام کو اپنی طرف متوجہ کر سکتے ہیں۔ انہیں سیاست نے ایک موقع فراہم کر دیا ہے۔ اس کا تعلق اب عقلِ عام کے ساتھ ہے کہ وہ اس موقع سے کتنا اور کیسے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اس وقت مگر صورتِ حال یہ ہے کہ وہ عقلِ عام کہیں کار فرما دکھائی نہیں دے رہی۔ جو عقل کی بات کرتا ہے‘ اس کو دیوار سے لگا دیا جاتا ہے۔عقلِ عام کا تقاضا ہے کہ تحریک انصاف کو جو کچھ میسر ہے وہ اس کی حفاظت کرے اور موجود مواقع کو اپنے حق میں استعمال کرے۔ عقل کہتی ہے کوئی ریاست کسی سیاسی یا مذہبی قوت کو یہ اجازت نہیں دے گی کہ وہ نظمِ مملکت کو مفلوج کر دے۔ کوئی ریاست یہ برداشت نہیں کر سکتی کہ اس کے دارالحکومت میں انتشار ہو ۔ وہ اس کے معمولات کو برقرار رکھنے کے لیے کسی حد تک جا سکتی ہے۔ یہ صرف پاکستان کی بات نہیں‘ اس معاملے میں ہر ملک کا رویہ یہی ہو گا۔ کیا امریکہ اجازت دے گا کہ واشنگٹن بند ہو جائے؟ کیا ریاض‘ تہران‘ پیرس‘ کوالالمپور‘ انقرہ یا دنیا کے کسی ملک کے دارالحکومت میں‘ کاروبارِ زندگی کو روکا جا سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ دارالحکومت کے امن کے لیے ایک ریاست کچھ بھی کر سکتی ہے۔ مسلمانوں کی تاریخ کو اگر غیر مذہبی نظر سے دیکھا جائے تومعلوم کیا جا سکتا ہے کہ ریاست کہاں تک جا سکتی ہے۔تحریک انصاف میں اگر عقلِ عام کی حکمرانی ہوتی تو وہ اس بات کا ادراک کرتے ہوئے‘ حکومت سے مذاکرات کرتی اور اس کے بدلے میں وہ مواقع حاصل کرتی جو اس کے لیے سیاسی سفر کو آسان بنا دیتے۔ مثال کے طور پر وہ اسلام آباد کے ساتھ لاہور ‘ فیصل آباد‘ کراچی اور دوسرے شہروں میں جلسوں کا مطالبہ کرتی۔ آنے والے انتخابات کے طریقہ کار کی بات کرتی۔ عمران خان سے رابطے کا راستہ نکالتی۔ اڑھائی برس بعد لازماً انتخابات ہونے ہیں۔ دو اڑھائی سال کا دور‘ سیاست میں کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ بے شمار راستے تھے جو ایک دھرنے سے دستبردار ہو کر کھلوائے جا سکتے تھے۔ تحریک انصاف کو یہ ثابت کرنے کا موقع ملا تھا کہ وہ خود کو ایک سیاسی قوت کے طور پر منواتی جو سیاسی عمل پر یقین رکھتی ہے اور اس تاثر کو زائل کرنے کی کوشش کرتی کہ وہ تصادم پر آمادہ ایک گروہ ہے۔تحریک انصاف کی قیادت مگر مذاکرات سے یہ فائدہ نہ اٹھا سکی۔ اس نے ایک بار پھر خود کو بند گلی میں دھکیل دیا ہے۔ لگتا ہے وہ صوبائی حکومت سمیت‘ بہت سے موجود مواقع بھی گنوا بیٹھے گی۔ تحریک انصاف کا نظم‘ جتنا باقی ہے‘ وہ بھی نہیں رہے گا۔ اس سوچ کے لیے مگر عقلِ عام کی حکمرانی ضروری ہے۔ اس بات کا ادراک کہیں نہیں کہ ریاست کے ساتھ ٹکراؤ کا انجام کبھی اچھا نہیں ہوتا۔ یہ سیاست کا پہلا سبق ہے۔ تحریک انصاف کا یہ کلچر بن چکا ہے کہ عقل کی ہر بات کی مذمت کرنی ہے اور اگر خود پارٹی کی صفوں میں کوئی عقلِ عام کی دہائی دے تو اسے دیوار سے لگا دینا چاہیے۔ سہیل آفریدی صاحب نے کئی بار اس طرف آنا چاہا۔ نظام کا حصہ ہوتے ہوئے انہیں معلوم ہے کہ ریاست کے ساتھ ٹکراؤ کی پالیسی کا نقصان سیاسی جماعتوں ہی کو ہوتا ہے۔ ان کو بھی مگر اس جانب نہیں آنے دیا گیا۔ انہیں بھی یہ گمان ہوا کہ پارٹی میں خود کو زندہ رکھنے کا راستہ یہی ہے کہ تصادم کی راہ پر چلا جائے۔میرا تاثر ہے کہ یہ تحریک انصاف کے پاس آخری موقع ہے کہ وہ اس نظام سے اپنے لیے خیر کشید کر ے۔ وقت شاید پھر یہ موقع ارزاں نہ کرے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بے تدبیری یا کچھ اور؟(رسول بخش رئیس)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-10-05/52785/78485264</link><pubDate>Mon, 05 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-10-05/52785/78485264</guid><description>سیاست روزِ اول سے تدبیر اور حکمت کی محتاج ہے۔ اب ہم اس بحث میں نہیں پڑتے کہ وہ روزِ اول کب تھا۔ سیاست کے سب بنیادی اسباق کا تعلق قدیم یونان کے افکار‘ نظریات‘ فلسفوں اور سیاست کے مختلف رنگوں سے ہے۔ حکمت سب کا مرکزی نکتہ رہی ہے۔ اخلاقیات نے کبھی سیاست کا دامن نہیں چھوڑا اور نہ ہی سیاست نے اخلاقیات کو کوڑے دان میں پھینکا۔ یہ دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ مختلف ممالک میں مختلف وقتوں میں اور ہر نوع کے حکمرانوں نے اخلاقیات کو پامال تو ضرور کیا ہے مگر اس کے نتائج کچھ مختلف نہیں نکلے۔ اخلاقیات کی سیاسی فلسفوں میں تشریح روزمرہ کے رویوں سے نہیں بلکہ سیاست کے آداب‘ سلیقے‘ اقدار جو کسی آئین کی روح ہوتی ہیں‘ سے سند پاتی ہے۔ جس نے دانائی اور سیاسی اخلاقیات کو ترک کرکے من مانی کی‘ تاریخ میں اس کا انجام ڈھونڈنا کوئی مشکل کام نہیں۔ سیاست میں جذبات کا دخل بچکانہ فعل سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا۔ بس خیالات کا طوفان‘ جس میں آندھی کی سی طاقت تو آپ دیکھ سکتے ہیں مگر روشنی ہوتی ہے نہ کوئی آگے بڑھنے کا راستہ۔ یہ سطور لکھتے وقت خیبر پختونخوا کے دو وزرائے اعلیٰ ‘ علی امین گنڈاپورا اور موجودہ‘ محمد سہیل آفریدی صاحب ذہن میں آتے ہیں ۔ معلوم نہیں یہ ان کی اپنی سوچ رہی ہے یا انہیں کہیں سے ٹاسک ملتا رہا ہے کہ پوری تیاری کرو‘ لوگوں کو جمع کرو اور جو سواری مل جائے‘ اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کرو۔ ہم کئی بار لکھ چکے ہیں کہ لانگ یا شارٹ مارچوں سے نہ ماضی میں کچھ حاصل ہوا ہے اور نہ اب ممکن ہے۔ مقصد تصادم ہے اور ایسی لڑائیاں کم از کم لانگ مارچوں سے نہیں جیتی جا سکتیں۔ لانگ مارچوں کے جواز کے لیے سیاسی مواد ہمیشہ سے موجود رہا ہے۔ گزشتہ ایک مضمون میں پندرہ مارچوں کی طرف آپ کی توجہ مبذول کرا چکا ہوں ‘ اگرچہ پندرہویں نمبر کا جماعت اسلامی کا مارچ بھی ہوا میں معلق ہے۔ سولہویں کا آغاز یا انجام ہونے کو ہے۔ یہاں تحریک انصاف کے مطالبات کی جائزیت پر بحث مقصود نہیں۔ جیسا کہ عرض کیا‘ جلسے جلسوں اور تحریکوں کے لیے کسی بھی اینٹ کو اٹھائیں‘ اس کے نیچے آپ کو ان کے حق میں دلیل مل جائے گی۔ میری رائے ان لوگوں سے مختلف نہیں جو کہتے ہیں اور جنہیں یقین بھی ہے کہ انتخابات میں درجہ اول کی ہیری پھری اور سینہ زوری ہوئی تھی۔ بانی اور تحریک کے دیگر رہنمائوں کے خلاف مقدمات کی بھرمار اور پھر عدالتوں کے فیصلوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی کسی سے پوشیدہ ہے اور نہ ہی کوئی غیر سیاسی اور غیر جانبدار آدمی ایسی جارحانہ کارروائیوں کی حمایت کر سکتا ہے۔ کسی سیاسی رہنما کو قید تنہائی میں رکھنا‘ جیسا کہ اکثر خبروں میں آتا رہتا ہے‘ یا قریبی رشتہ داروں‘ پارٹی کے عہدیداروں اور یہاں تک کہ وکلا تک کو ملنے کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنا منتقم مزاجی کی غمازی کرتا ہے۔ قانون کے مطابق کارروائی بھی اگر بدنیتی پر مبنی ہو یا مقدمات جھوٹے ہوں تو یہ سب آمرانہ رویوں اور ریاستی جبر کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ یہی وہ مواد ہے جو تحریک انصاف لوگوں میں جذبات ابھارنے اور انہیں سڑکوں پر لانے کے لیے استعمال کر سکتی ہے۔ سیاسی تصادم کی فضا پیدا کرنے میں اگرچہ ذمہ داری کا تعین کرنا ہماری تاریخ میں بظاہر مشکل رہا ہے مگر اتنا مشکل بھی نہیں۔ حالات کو خراب کرنے میں ہمیشہ حکومتِ وقت کی دھونس‘ دھاندلی اور غیر جمہوری رویہ اور حزب اختلاف کے ساتھ کبھی نامناسب تو کبھی ظالمانہ برتاؤ بنیادی وجہ رہا ہے۔ موجودہ وفاقی حکومت اور اس کے سیاسی اتحادی بشمول پیپلز پارٹی‘ مانیں نہ مانیں سیاسی دال جو گزشتہ انتخابات میں تیار ہوئی اور جس میں بعد میں &#39;&#39;متفقہ‘‘ آئینی ترامیم کے مسالا جات سیاسی ذائقہ حسبِ شوق رکھنے کے لیے استعمال کیے گئے ہیں‘ اس میں کچھ کالا کسی کی نظر سے اوجھل نہیں رہا۔ اقتدار اور موروثی سیاست کے کئی ایسے ادوار ہم پہلے بھی دیکھ چکے ہیں مگر اس مرتبہ صورت حال بہت مختلف ہے۔ ہمارے تغیر پذیر سماجی ڈھانچے‘ معیشت کی خرابی‘ آبادی کے پھیلاؤ‘ سکڑتے ہوئے وسائل اور آبادی میں نوجوانوں کے بڑھتے ہوئے تناسب نے جس انداز میں سیاسی حرکیات کو متاثر کیا ہے اس کا ادراک ہمارے حکمران طبقات کو شاید نہیں۔ اب بھی ایسا لگتا ہے کہ ان سب تبدیلیوں کے باوجود ان کے ذہنی رجحانات نصف صدی پرانے ہیں۔ معذرت کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ نہ ان میں وہ فکری صلاحیت ہے نہ تدبیر کا ہنر‘ اور نہ ہی ان سیاسی جماعتوں نے ایسے ادارے قائم کیے ہیں جو انہیں سماجی تبدیلیوں اور عام فکری رویوں پر اپنی چھاپ سے آگاہ کر سکیں۔ سب سیاسی لکیر کے فقیر معلوم ہوتے ہیں۔ بیشک منہ ٹیڑھا کرکے انگریزی بھی بول لیں۔ اب بات یہ ہے کہ سیاست نارمل نہ ہو‘ حالات اور حکمرانوں کے مزاج بگڑے ہوں اور یہاں تک کہ آئین اور عدلیہ کے فیصلوں کا احترام نہ رہے تو حزب اختلاف اور عوام پھر کیا کریں؟ مزاحمت جس میں دھرنے اور لانگ مارچ شامل ہیں اور یہاں تک کہ حکومت کی برخاستگی کے ردعمل میں مسلح جدوجہد بھی ہم نے دیکھی ہے۔ دکھ کی بات ہے کہ نہ ہمارے حکمرانوں اور حکومتوں نے کچھ گزرے وقتوں اپنے جیسے گرجتے برستے اہلِ اقتدار کے انجام سے سبق سیکھا اور نہ نئی سیاسی مزاحمت کو سڑکوں اور دھرنوں میں تبدیل کرنے والوں نے۔ مینڈک گول کنویں میں چکر لگاتے اپنی زندگیاں گنواتے رہتے ہیں۔پوری قوم نہ جانے کب سے تماشائی ہے۔ یہ درویش تو فطری اور پیدائشی طور پر تماشائی ہے‘ مگر اتنا ڈرپوک کہ جہاں لانگ مارچوں اور جلسوں کے لیے میدان سجتا ہے‘ گھر میں محبوس ہو جاتا ہے اور اگر کہیں سے کنٹینر کھسکا ہوا ہو تو شہر سے راہِ فرار اختیار کرنے میں ہی عافیت گردانتا ہے۔ سیاست نارمل نہیں مگر حزبِ اختلاف کا ردعمل بھی نارمل نہیں۔ کوئی ان صاحبانِ بصیرت اور جہاندیدہ لوگوں سے پوچھے کہ آپ اسلام آباد پر چڑھائی کرکے کیا حاصل کر لیں گے۔ مزاحمت کے طور طریقے اور اس کا فکری اسلوب اور تاریخ کی گواہی ان کے حق میں درکار ہو تو کچھ تاریخ کی کتابیں کھول کر دیکھ لیں۔ عام لوگوں کی زندگیوں اور ان کے روزمرہ کے کاموں‘ کاروبار اور آمدو رفت میں خلل ڈالنا کہاں کا انصاف ہے؟ ہماری تاریخ کے بڑے بڑے سیاست بازوں اور سیاسی فنکاروں نے اپنی سیاست کو چمکانے کے لیے نوجوانوں کے جذبات کو ابھار کر انہیں خطرات کی آگ میں دھکیلنے سے گریز نہیں کیا۔ طالب علمی کے زمانے سے دیکھتا آیا ہوں کہ کیسے بیچارے غریب خاندانوں کے بچے تشدد کی سیاست کی نذر ہو گئے۔ اب بھی ہو رہے ہیں۔ کم از کم مرکزی دھارے کی سیاست کے کھلاڑیوں کو نوجوانوں کی جان بخشی کرنی چاہیے۔ سب کو معلوم ہے کہ اگر وہ اسلام آباد پر یلغار کریں گے تو آگے دوسرے بھی تیار بیٹھے ہیں۔ زیادہ امید تو نہیں کہ حالات اس نہج تک پہنچیں گے مگر نعرہ بازی‘ جذباتیت اور مبینہ ناانصافیوں کو انصاف کے اپنے یک رخی رنگ میں رنگنے کی کاوش حکمرانوں کی کوتاہ بینی اور خود غرضی کی سیاست سے کچھ کم نہیں۔ گزشتہ تین دنوں میں جو مذاکرات ہوئے ہم امید لگائے بیٹھے تھے کہ دونوں جانب سے حکمت اور دور اندیشی کا شاید مظاہرہ کیا جائے گا اور ہو سکتا ہے آخری وقت تک مارچ کرنے والے دریا کے اُس پار نعرہ بازی کرنے اور اپنی فتح کا اعلان کرنے پر اکتفا کریں۔ دوسری صورت میں آنے والے واقعات کے بارے میں لکھنے سے قلم معذور ہے مگر خطرات کے بادل اسلام آباد کی فضائوں میں منڈلا رہے ہیں۔ سب کے لیے عقل اور حکمت سے کام لینے کی دعا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_33241568.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ایمرجنسی، گورنر راج اور صدارتی راج(کنور دلشاد)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/kunwar-mohammad-dilshad/2026-10-05/52786/30229935</link><pubDate>Mon, 05 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/kunwar-mohammad-dilshad/2026-10-05/52786/30229935</guid><description> خیبر پختونخوا حکومت کو لے کر اس وقت شدید تحفظات پیدا ہو چکے ہیں۔ اگر ایک صوبائی حکومت وفاق کیلئے دردِ سر والی صورتحال پیدا کر دے اور آئین کے مطابق نہ چلے تو آئین کا آرٹیکل 247 صوبائی اسمبلی اور حکومت کے اختیارات سلب کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ صوبائی حکومت اسے کسی طور چیلنج نہیں کر سکتی۔ اسی آرٹیکل کے سہارے مئی 1993ء میں صدر غلام اسحاق خان نے پنجاب حکومت کے خلاف ایکشن لیتے ہوئے گورنر چودھری الطاف حسین کو پنجاب میں ایڈمنسٹریٹر مقرر کر کے رینجرز کو اختیارات سونپ دیے تھے۔ آئین کے آرٹیکل 232 میں ایمرجنسی کے نفاذ کیلئے جو شرائط بیان کی گئی ہیں‘ فی الحال صوبے میں ایسا ماحول نظر نہیں آ رہا۔پاکستان میں ایمرجنسی کی تاریخ بڑی کربناک رہی ہے۔ 1971ء میں جنگ اور مشرقی پاکستان کے بحران کے حوالے سے 30 نومبر 1971ء کو ملک میں ایمرجنسی کا اعلان کیا گیا تھا جو جنگی حالات کے تناظر میں تھی۔ 1973ء کے آئین میں آرٹیکل 280 کے ذریعے اس پرانی ایمرجنسی کو نئے آئینی نظام کے تحت جاری تصور کیا گیا۔ 28 مئی 1998ء کو ایٹمی دھماکوں کے بعد قومی سلامتی اور بیرونی دباؤ کے تناظر میں آرٹیکل 232 کے تحت ملک میں ایمرجنسی نافذ کی گئی تھی۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے20 جون 1998ء کو اس کی منظوری دی تھی۔ 12 اکتوبر 1999ء کو مشرف کے مارشل لاء کے بعد 14 اکتوبر کو ایمرجنسی کا اعلان کیا گیا مگر یہ آرٹیکل 232 والی آئینی ایمرجنسی نہیں تھی۔ عبوری دستور آرڈر کے ذریعے آئین کو عملاً معطل کر دیا گیا تھا‘ لہٰذا 1998ء کی ایمرجنسی کو ہی 1999ء کے احکامات کے تحت جاری رکھا گیا۔ نومبر 2007ء میں صدر پرویز مشرف نے دہشت گردی‘ ریاستی اداروں پر حملوں اور عدلیہ کے ساتھ شدید کشیدگی کی وجوہات بیان کرتے ہوئے ایمرجنسی نافذ کی۔ اس اقدام کے ساتھ آئین کو معطل کر دیا گیا اور پی سی او جاری ہوا جس کے تحت عدلیہ کے ججز سے نئے حلف لیے گئے۔ یہ ایمرجنسی 15 دسمبر 2007ء کو ختم کی گئی۔ اس ایمرجنسی کے دوران 14 نومبر کو قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیاں اپنی آئینی مدت پوری کرنے پر تحلیل کر دی گئیں اور الیکشن کمیشن آف پاکستان نے عام انتخابات کرانے کے لیے 22 نومبرکو الیکشن شیڈول جاری کیا۔آئین کا آرٹیکل 232 جنگ یا بیرونی جارحیت کی صورت میں ایمرجنسی کے نفاذ کی اجازت دیتا ہے۔ اگر داخلی بدامنی صوبائی حکومت کے قابو سے باہر ہو تو موجودہ آئین کے تحت متعلقہ صوبائی اسمبلی کی قرارداد بھی درکار ہے؛ البتہ اگر صدر خود اقدام کریں تو معاملہ مقررہ مدت میں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے سامنے منظوری کیلئے پیش کرنا ہوتا ہے۔ ایمرجنسی کے دوران وفاق کو صوبائی معاملات میں معمول سے زیادہ قانون سازی کے اختیارات مل جاتے ہیں جبکہ آرٹیکل 233 بعض بنیادی حقوق کو مخصوص حالات میں محدود یا معطل کرنے کی گنجائش دیتا ہے۔ تاہم ایمرجنسی‘ گورنر راج یا صدارتی راج کے بجائے سیاستدانوں اور مقتدرہ کو ماضی کی غلطیوں سے سیکھ کر آگے بڑھنا ہوگا۔ جو غلط ہوا‘ اسے تسلیم کیا جائے۔ جو درست کرنا ہے اسے مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہیے۔ آئین کو بنیاد بنا کر عوام کے حالات اور معیشت کو پہلی ترجیح دی جائے اور ایک نئے سیاسی و معاشی سفر کا آغاز کیا جائے۔اس وقت وزارت اطلاعات و نشریات میں تجربہ کار تجزیہ کاروں کا فقدان ہے اور موجودہ افراد ماضی کے تجربات سے نابلد نظر آتے ہیں۔ الطاف گوہر‘ قدرت اللہ شہاب‘ جمیل الدین عالی اور 1965ء کی جنگ کے دوران سیکرٹری اطلاعات منیر حسین جیسی شخصیات عنقا ہیں۔ ڈس انفارمیشن سے عوام میں حکومت کے خلاف بداعتمادی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ گورنر راج یا ایمرجنسی کا نفاذ اگر آئین کے آرٹیکل 232 کے مطابق ہوتا ہے تو پھر آئین کے آرٹیکل 233 کو بھی نافذ کرنا پڑے گا جس کے تحت بنیادی حقوق پر مشتمل آرٹیکلز اور شقیں معطل ہو جائیں گی۔ اس سے وزیراعلیٰ بھی معطل ہو جائے گا‘ تمام انتظامی اختیارات اس سے واپس لے لیے جائیں گے‘ صوبائی اسمبلی بھی معطل تصور کی جائے گی اور اس دوران اسمبلی کا اجلاس بلانے کے اختیارات بھی معطل ہو جائیں گے۔ گورنر؍ سپیکر صوبائی اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کے اختیارات سے محروم ہو جائیں گے۔ صوبائی اسمبلی برقرار رہے گی لیکن اجلاس طلب نہیں کیا جا سکے گا۔ انتظامی اختیارات وفاقی حکومت کا نامزد گورنر ہی استعمال کر سکے گا۔ گورنر راج کے بعد عملاً تمام اختیارات صدرِ مملکت کو منتقل ہو جاتے ہیں جیسا کہ مارچ 1973ء‘ 1976ء اور فروری 2009ء سمیت دیگر مواقع پر ہوا جب گورنر راج نافذ ہوتے رہے۔ لیکن اٹھارہویں ترمیم نے صوبوں کو مکمل خود مختاری دی ہے‘ جس کی وجہ سے آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج لگانا نہایت پیچیدہ عمل ہے۔ البتہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے حالات کے پیش نظر آرٹیکل 232 کے تحت ملک میں ایمرجنسی لگانے کا راستہ کھلا ہے۔ مختصراً یہ کہ آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت وفاق اپنی جانب سے گورنر نامزد کرے گا اور موجودہ گورنر فارغ ہو جائیں گے۔دیکھا جائے تو اس وقت ملک میں نیشنل ایمرجنسی کا جواز نہیں بنتا۔ صدر پرویز مشرف نے 3 نومبر 2007ء کو بطور آرمی چیف‘ کور کمانڈرز کانفرنس کی منظوری کے بعد ملک میں نیشنل ایمرجنسی لگائی تھی اور اس اقدام نے آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت ان پر مقدمہ چلانے کی راہ ہموار کر دی تھی۔ حالانک بعد ازاں بطور صدر انہوں نے کابینہ سے منظوری لی تھی‘ قومی اسمبلی سے بھی توثیق کرائی تھی اور سپریم کورٹ نے بھی اس کی توثیق کر دی تھی لیکن ان کے زوال کے بعد وزارتِ داخلہ کی سفارش پر مشرف کے خلاف آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت مقدمہ دائر کر دیا گیا۔ چودھری نثار علی خان مشرف کو محفوظ راستہ دینے کیلئے کوشاں رہے اور بعد ازاں مشرف خاموشی سے ملک سے باہر چلے گئے۔ ان کی عدم موجودگی میں مقدمہ کی کارروائی جاری رہی اور دسمبر 2019ء میں جسٹس وقار احمد سیٹھ کی سربراہی میں خصوصی عدالت نے سزائے موت کا فیصلہ سنایا تاہم جنوری 2020ء میں لاہور ہائیکورٹ نے یہ سزا معطل کر دی۔ جنوری 2024ء میں قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو معطل کر کے سزائے موت کے فیصلے کو بحال کر دیا‘ تاہم اس وقت تک طبعی طور پر مشرف وفات پا چکے تھے۔حقیقت یہ ہے کہ 18ویں ترمیم کے بعد وزرائے اعلیٰ آئینی طور پر مضبوط ہوئے ہیں اور وفاق کا اثر و رسوخ برائے نام رہ گیا ہے۔ تاہم وفاقی وزرا کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ صوبائی حکومت کی رخصتی کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ خیال کیا جا رہا تھا کہ مذاکرات میں کوئی بریک تھرو ہو جائے گا اور معاملات اس نہج تک نہیں پہنچیں گے مگر یکایک صورتحال تبدیل ہو گئی ہے۔ وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں میں ایسے افراد موجود ہیں جو اشتعال پھیلا کر اپنے مفادات کا تحفظ چاہتے ہیں۔ اگر گرینڈ مذاکرات ہوں تو تمام معاملات سلجھ سکتے ہیں لہٰذا مثبت فیصلوں سے عوام کو سیاسی بحران سے نکالنا ہوگا۔ بعض وزرا اپنے سیاسی بیانیے سے مقتدرہ کیلئے پریشانی کا باعث بن رہے ہیں۔ مقتدرہ مارچ 2027ء سے پہلے صوبوں کا معاملہ حل کرنا چاہتی ہے جبکہ اندرونی خبروں کے مطابق محسن نقوی اب تک صدر زرداری کو قائل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ زرداری صاحب نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے حوالے سے اپنے موقف پر قائم ہیں اور سندھ کے قوم پرستوں کی تحریک انہیں خائف کیے ہوئے ہے۔ ان حالات میں لانگ مارچ تحریک انصاف اور ریاست سمیت کسی کے مفاد میں نہیں ہے۔ وزیراعظم کو خود پشاور جا کر مفاہمت کی راہ نکالنا ہو گی۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_15667905.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>تجارتی خسارہ، کپاس اور مہنگائی(میاں عمران احمد)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mian-imran-ahmad/2026-10-05/52787/43689219</link><pubDate>Mon, 05 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mian-imran-ahmad/2026-10-05/52787/43689219</guid><description>ستمبر میں حکومت کی ٹیکس وصولیوں میں مثبت پیش رفت ہوئی۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ستمبر میں تقریباً 1343ارب روپے ٹیکس جمع کیا ہے جو گزشتہ سال ستمبر کے مقابلے میں تقریباً 11 فیصد اور ماہانہ ہدف سے 15 ارب روپے زیادہ ہے۔ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر) میں ایف بی آر کی وصولی تقریباً 3066 ارب روپے رہی جو 3053 ارب روپے کے مقررہ ہدف سے تقریباً 13 ارب روپے زیادہ ہے۔ صنعتی شعبے کے ابتدائی اعداد وشمار بھی بحالی کی امید پیدا کرتے ہیں۔ ستمبر میں لارج سکیل مینو فیکچرنگ کے اعداد وشمار ابھی جاری نہیں کیے گئے تاہم جولائی میں لارج سکیل مینو فیکچرنگ کی پیداوار سالانہ بنیادوں پر 3.03 فیصد اور ماہانہ بنیادوں پر 9.51 فیصد بڑھی۔ جولائی میں گاڑیوں کی پیداوار 57.01 فیصد‘ ٹرانسپورٹ آلات :40.22 فیصد‘ تمباکو: 35.82 فیصد اور تیار ملبوسات کی پیداوار 22.03 فیصد بڑھی اور امید کی جا رہی ہے کہ ستمبر کی رپورٹ میں مزید بہتری سامنے آئے گی۔ ملکی برآمدات میں تقریباً 17.5 فیصد اضافہ رپورٹ کیا گیا ہے۔ حکومت اس اضافے کو ایک بڑی کامیابی کے طور پر پیش کر رہی ہے۔ بلاشبہ برآمدات میں اضافہ کسی بھی ملک کیلئے خوش آئند خبر ہوتی ہے کیونکہ اس سے زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے‘ صنعتوں کو فروغ ملتا ہے اور روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں لیکن صرف ایک پہلو دیکھ کر معیشت کا جائزہ نہیں لیا جا سکتا۔ اصل سوال یہ ہے کہ برآمدات کے مقابلے میں درآمدات کہاں کھڑی ہیں اور ملک کا مجموعی تجارتی توازن کس سمت جا رہا ہے۔ رواں سال ستمبر میں ملکی برآمدات 2.94 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں جو گزشتہ سال کے اسی مہینے کے 2.50 ارب ڈالر کے مقابلے میں 17.6 فیصد زیادہ ہیں۔ بظاہر یہ ایک حوصلہ افزا پیش رفت ہے‘ تاہم اسی دوران درآمدات 5.85 ارب ڈالر سے بڑھ کر 6.49 ارب ڈالر ہو گئیں اور درآمدی بل میں 11 فیصد سے زائد اضافہ ہوا۔ نتیجتاً تجارتی خسارہ 3.35 ارب ڈالر سے بڑھ کر 3.56 ارب ڈالر ہو گیا‘ یعنی سالانہ بنیاد پر تقریباً چھ فیصد اضافہ ہوا۔ اگر پہلی سہ ماہی کا جائزہ لیا جائے تو تصویر مزید واضح ہو جاتی ہے۔ جولائی سے ستمبر تک ملکی برآمدات گزشتہ سال کی 7.59 ارب ڈالر کے مقابلے میں 8.42 ارب ڈالر رہیں‘ یعنی ان میں تقریباً 11 فیصد اضافہ ہوا۔ لیکن اسی عرصے میں تجارتی خسارہ 9.37 ارب ڈالر سے بڑھ کر 10.79 ارب ڈالر ہو گیا‘ یعنی خسارے میں 15 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا۔ برآمدات میں اضافے کے فوائد کو درآمدات کا بڑھتا حجم متاثر کر رہا ہے۔ پہلی سہ ماہی میں تقریباً گیارہ ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ ایک وارننگ ہے۔ اگر یہی رفتار رہی تو مالی سال کے اختتام تک تجارتی خسارہ چالیس ارب ڈالر سے بھی زائد ہو سکتا ہے اور اس کے اثرات زرمبادلہ کے ذخائر‘ روپے کی قدر اور مستقبل کی معاشی پالیسیوں پر پڑ سکتے ہیں۔ستمبر 2026ء میں ملک میں مہنگائی کی شرح 10.3 فیصد تک پہنچ گئی ہے‘ جو سٹیٹ بینک کے پانچ سے سات فیصد کے ہدف سے نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ اگست 2026ء میں مہنگائی 11.1 فیصد تھی‘ ستمبر میں اس میں معمولی کمی ضرور آئی لیکن قیمتوں میں اضافے کی رفتار اب بھی ڈبل فگر میں ہے۔ جولائی اور اگست کے دوران اوسط مہنگائی تقریباً 10.2 فیصد رہی جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں یہ شرح تقریباً 3.6 فیصد تھی۔ ایک سال کے دوران مہنگائی کے دباؤ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ دوسری جانب سٹیٹ بینک نے ستمبر میں پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر برقرار رکھا ہے حالانکہ عالمی اداروں کی جانب سے شرح سود بڑھانے کیلئے دباؤ موجود تھا۔ شرح سود شاید اس لیے نہیں بڑھائی گئی تاکہ مہنگائی پر قابو پانے میں مدد مل سکے۔ یہ فیصلہ آسان نہیں تھا کیونکہ ایک طرف مہنگائی کو قابو میں رکھنا ضروری ہے اور دوسری طرف بلند شرح سود معاشی سرگرمیوں کو محدود کر سکتی ہے۔ پہلے ہی اگست میں خوراک اور مشروبات کی قیمتوں میں سالانہ بنیادوں پر تقریباً 13.9 فیصد اضافہ ہو چکا ہے جبکہ ٹرانسپورٹ کے شعبے میں مہنگائی 20.2 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ جب خوراک‘ ٹرانسپورٹ‘ بجلی‘ گیس اور دیگر بنیادی ضروریات کے اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہو تو صرف یہ کہنا کہ مجموعی مہنگائی گزشتہ ماہ کے مقابلے میں کچھ کم ہوئی ہے‘ عوام کے مسائل کو حل نہیں کر سکتا۔رواں سال کے شروع میں کپاس کی فصل کے بارے میں اچھی امیدیں پیدا ہوئی تھیں۔ جولائی اور اگست میں جننگ فیکٹریوں میں کپاس کی آمد گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 27 فیصد زیادہ تھی جس سے توقع کی جا رہی تھی کہ اس سال پیداوار میں 10 سے 15 فیصد اضافہ ہو سکتا ہے لیکن ستمبر کے آخر تک یہ امیدیں کمزور پڑ گئیں کیونکہ 30 ستمبر تک کپاس کی 32 لاکھ گانٹھیں جننگ فیکٹریوں تک پہنچیں۔ گزشتہ سال اسی تاریخ تک 30 لاکھ گانٹھیں آئی تھیں۔ اس طرح یہ اضافہ صرف 5.39 فیصد رہا۔ یعنی ایک ماہ پہلے جو اضافہ 27 فیصد کے قریب تھا وہ ستمبر کے آخر تک صرف 5.39 فیصد رہ گیا۔ 16 سے 30 ستمبر کے دوران تقریباً آٹھ لاکھ 19 ہزار گانٹھیں کپاس جننگ فیکٹریوں تک پہنچ پائیں جبکہ اس مدت میں تقریباً گیارہ لاکھ گانٹھوں کی آمد متوقع تھی۔ یعنی توقع سے تقریباً دو لاکھ 80 ہزار گانٹھیں کم آئیں۔ شدید گرمی اس کی ایک بڑی وجہ ہو سکتی ہے۔ کپاس کی آمد میں کمی کا اثر اس کی قیمت پر پڑ سکتا ہے۔ 30 ستمبر تک جنرز کے پاس غیر فروخت شدہ تقریباً 3 لاکھ 85 ہزار گانٹھیں موجود تھیں جبکہ گزشتہ سال یہ مقدار تقریباً 5 لاکھ 40 ہزار گانٹھیں تھی۔ اگر آئندہ چند ہفتوں میں نئی کپاس کی آمد یونہی کم رہی تو ملوں کو اپنی ضرورت پوری کرنے کیلئے زیادہ قیمت ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔ادھرآبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل میں رکاوٹ نے عالمی منڈی کو دباؤ میں رکھا ہوا ہے۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق اس بحران کے دوران رکن ممالک اب تک اپنے سٹرٹیجک ذخائر سے تقریباً 325 ملین بیرل تیل اور پٹرولیم مصنوعات جاری کر چکے ہیں جبکہ مارچ میں مجموعی طور پر 400 ملین بیرل جاری کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ یعنی اعلان کردہ ذخائرکا 80 فیصد سے زیادہ حصہ پہلے ہی استعمال ہو چکا ہے اور اس کے باوجود عالمی مارکیٹ میں ڈیزل کی سپلائی پر دباؤ برقرار ہے۔ اب جی سیون ممالک نے عالمی توانائی ایجنسی کے ساتھ مل کر مزید 100 ملین بیرل خام تیل اور پٹرولیم مصنوعات اگلے چار ماہ کے دوران مارکیٹ میں لانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ ڈیزل کی ایک بڑی مقدار پہلے 20 دن میں جاری کی جائے گی۔ موجودہ صورتحال میں پاکستان کیلئے بھی ایک مثبت پہلو موجود ہے۔ اگر عالمی توانائی ایجنسی اور جی سیون کے ہنگامی ذخائر سے تیل مارکیٹ میں آتا ہے تو عالمی سپلائی کے دباؤ میں کچھ کمی آ سکتی ہے۔ لیکن مسئلے کا مستقل حل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک آبنائے ہرمز کے ذریعے معمول کی عالمی ترسیل بحال نہیں ہوتی۔ پاکستان کے لیے اس بحران کا زیادہ خطرناک پہلو ایل این جی ہے۔ قطر اور متحدہ عرب امارات سے آنے والی ایل این جی کا تقریباً 19 فیصد آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔ پاکستان‘ بھارت اور بنگلہ دیش اپنی ایل این جی درآمدات کا تقریباً دو تہائی اسی راستے سے حاصل کرتے ہیں۔ پاکستان میں بجلی کی پیداوار میں گیس سے چلنے والے پلانٹس کا حصہ 25 فیصد سے زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ سرد موسم میں گیس کا استعمال مزید بڑھ جاتا ہے‘ اس لیے ہرمز کی بندش گیس کی قیمت مزید بڑھا سکتی ہے اور بجلی کی پیداوار‘ صنعتی سرگرمیوں اور فرٹیلائزر سیکٹر پر بھی دباؤ بڑھا سکتی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/212_71532147.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>برطانیہ کا شرمناک ماضی(نسیم احمد باجوہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/naseem-ahmed-bajwa/2026-10-05/52788/66348809</link><pubDate>Mon, 05 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/naseem-ahmed-bajwa/2026-10-05/52788/66348809</guid><description>14 ستمبر 2026ء کو برطانیہ کے معتبر جریدے &#39;&#39;گارڈین‘‘ کے صفحہ اول پر جو خبر مین لیڈ کے طور پر چھپی اُس سے برطانیہ میں ایک  قسم کا زلزلہ آگیا۔ صحافیوں کی ایک تفتیشی ٹیم نے (کنگز کالج لندن کے پروفیسر William Pettigrew کی سربراہی میں) برسوں کی چھان بین اور تحقیق کے بعد ایک تہلکہ خیز رپورٹ مرتب کی جو ہمیں یہ بتاتی ہے کہ کس طرح صدیوں تک برطانوی پارلیمنٹ کے اراکین‘ برطانیہ کا شاہی خاندان‘ اشرافیہ اور کلیسا کے بڑے پادری افریقہ سے لاکھوں افراد کو جبری غلام بنا کر انہیں جبری مشقت کیلئے امریکہ اور جزائر غرب الہند لے جاتے رہے۔ یہ رپورٹ مرتب کرنے میں تین سال لگے ہیں۔ غلاموں کو افریقہ سے امریکہ؍ جزائر غرب الہند (ویسٹ انڈیز) زبردستی پہنچانے کا مکروہ اور ننگ انسانیت کاروبار 1560ء سے لے کر 1807ء (میں خلافِ قانون قرار دیے جانے) تک جاری رہا۔ افریقہ کے مغربی ساحلی ممالک مثلاً گھانا اور نائیجیریا سے جن مردوں‘ عورتوں اور بچوں کو گرفتار کر کے غلام بنایا گیا اور اٹلانٹک سمندر کے دوسری جانب پہنچایا گیا اُن کی کل تعداد 30 لاکھ سے زائد تھی۔ حیرت اور شرم کا مقام یہ ہے کہ ڈھائی سو سالہ اس دور میں متعدد برطانوی بادشاہ اور ملکائیں غلاموں کی نقل و حمل کرنے والی برطانوی  کاروباری کمپنیوں کے بڑے حصہ دار تھے۔ برطانوی پارلیمان کے 100 سے زائد اراکین کے نام حصہ داروں کی فہرست میں شامل ہیں۔ بینک آف انگلینڈ (جو برطانوی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے) کے درجنوں ڈائریکٹر مذکورہ کمپنیوں کے حصہ دار تھے۔ اس فہرست میں ایک ہزار سے زیادہ &#39;&#39;معزز‘‘ اور اشرافیہ سے تعلق رکھنے والی خواتین کے نام بھی شامل ہیں۔ جس انکشاف نے سب لوگوں کے سر شرم سے جھکا دیے وہ یہ کہ چرچ آف انگلینڈ کے 45 عالی مرتبت پادری بھی اس کاروبار میں بڑے حصہ دار تھے۔ مذکورہ رپورٹ میں تمام مغربی یورپی ممالک (مثلاً فرانس‘ ہالینڈ‘ سپین اور پرتگال) سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ بھی غلاموں کے کاروبار میں ملوث افراد کی تفصیلات برسرِ عام لائیں تاکہ پتا چل سکے کہ ان کی مجرمانہ کارروائی کا دائرہ کتنا وسیع تھا۔ جزائر غرب الہند میں لائے گئے ان غلاموں کے پڑپوتوں نے ایک انجمن بنائی ہے جو سالہا سال سے برطانوی حکومت سے ہرجانے کا مطالبہ کرتی چلی آ رہی ہے۔ برطانوی حکومت ہرجانے کی ادائیگی سے اب تک اس بے حد کمزور بنیاد پر انکار کرتی آئی ہے کہ جب غلاموں کی نقل و حمل کا کاروبار ہو رہا تھا اس وقت یہ بالکل قانونی تھا اور کسی قانونی کاروباری کارروائی کو کسی طور پر جرم قرار نہیں دیا جا سکتا۔ رواں سال ستمبر کے آغاز میں بھی برطانیہ کے بادشاہ (چارلس دوم) کے سامنے ایک عرضداشت پیش کی گئی  جس میں یہ مطالبہ کیا گیا کہ پریوی کونسل (جو برطانیہ میں ایک اعلیٰ ترین قانونی اپیلوں کی سماعت کا مجاز ادارہ ہے) ہرجانے کی ادائیگی کے مسئلہ پر غور کرے اور منصفانہ فیصلہ کرے۔غلاموں کا کاروبار کرنے والے کئی لوگ اس انسانیت سوز کارروائی سے اتنے امیر ہو گئے کہ انہوں نے بڑی رقوم تعلیمی اداروں کو  بطور عطیہ دیں اور ان کا شکریہ ادا کرنے کیلئے تعلیمی اداروں سمیت مختلف مقامات پر ان کے مجسمے ایستادہ کیے گئے۔ برطانیہ کی کئی بندرگاہیں‘ جہاں سے غلاموں کو امریکہ لے جانے کیلئے بحری جہاز روانہ ہوتے تھے‘ وہاں بھی ان &#39;مہربان‘ اور &#39;سخی‘ افراد کے مجسمے نصب ہیں اور آج بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ گزشتہ چند سالوں میں ایسے کئی مجسمے غضبناک مظاہرین کے احتجاج کا نشانہ بھی بنے ہیں۔ لوگوں کو زبردستی غلام بنانے اور پھر فروخت کرنے کی کارروائی کی ذمہ دار تجارتی کمپنیوں کے بڑے حصہ داروں میں برطانیہ کے بادشاہ جیمز دوم (آخری رومن کیتھولک بادشاہ)‘ موسیقی کی دنیا کے بے تاج بادشاہ جارج فریڈرک ہینڈل‘ انسانی حقوق کے بڑے علمبردار اور فلاسفر جان لاک کے علاوہ لندن کے شاہکار گرجا گھر سینٹ پال کا نقشہ تیار کرنے والے ماہرِ تعمیرات سر کرسٹوفر وارن  کا نام بھی شامل ہے۔ محققین نے اس راز سے بھی پردہ اٹھایا ہے کہ انگلینڈ کی ملکہ الزبتھ اول اور اس کے قریبی مشیر Plymouth بندرگاہ سے بحری سفر کرنے والے ملاحوں کے سردار جان ہاکنز کو برطانیہ کی سرکاری بحریہ (رائل نیوی) کے جہاز فراہم کرتے تھے تاکہ وہ غلاموں کو افریقہ سے پکڑ کر امریکہ پہنچائے اور ملنے والے منافع میں سے انہیں بھی حصہ دے۔غلاموں کی تجارت کرنے والے سولہویں صدی میں ایک قدم آگے بڑھ کر جزائر غرب الہند میں گنے کی وسیع پیمانے پر کاشت کرنے لگے‘ جہاں ان غلاموں سے جبری مشقت لی جاتی تھی۔ غلام پکڑنے اور منزل پر پہنچانے کے کاروبار میں ملوث لوگوں کی کل تعداد ساڑھے دس ہزار تھی اور ان کے سردار کا نام ایڈورڈ کولسٹن تھا۔ کچھ سال قبل تک اس شخص کو برطانیہ میں ایک انسان دوست اور رفاہی کام کرنے والے شخص کی حیثیت سے جانا جانا تھا۔ اس نے اتنے تعلیمی اداروں کو عطیات دیے کہ برسٹل کے شہریوں نے عقیدت کے اظہار کے طور پر بندرگاہ پر اس کا مجسمہ نصب کر دیا‘ جو 2020ء میں ایک زبردست مظاہرے کے دوران سمندر میں گرا دیا گیا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ فروخت شدہ غلاموں کے ہاں جب بچے پیدا ہوتے تو وہ پیدائشی طور پر غلام سمجھے جاتے تھے اور بڑے ہو کر اپنے ماں باپ کی طرح جبری مشقت کرنے میں اپنی زندگی گزار دیتے تھے۔ ان غلاموں سے جو دو فصلیں اُگانے کیلئے بیگار میں کام لیا جاتا تھا وہ تھیں تمباکو اور گنا۔ تمباکو سے سگریٹ اور گنے سے چینی بنانے کیلئے فصلوں کی پیداوار کو برطانیہ کے کارخانوں میں لایا جاتا تھا۔ برطانیہ کی سرکاری بحریہ اس مکروہ دھندے میں ملوث بحری جہازوں کی حفاظت کرتی تھی۔ غلاموں کے ایک بڑے تاجر‘ جس کا نام رابرٹ Heysham تھا‘ وہ تقریباً نو ہزار افراد کو غلام بنا کر سفر پر روانہ ہوا مگر 1350 افراد سفر کی صعوبتوں کی تاب نہ لا کر راستے میں مر گئے۔ جونہی جہاز کے کپتان کو کسی غلام کی موت کی خبر ملتی تو وہ حکم دیتا کہ اس کی میت کو اُٹھا کر سمندر میں غرق کر دیا جائے۔ جب برطانوی پارلیمنٹ کے Wilber Force جیسے انسان دوست اور نیک دل شخص کی اَنتھک کوششوں سے غلاموں کی تجارت کو خلافِ قانون قرار دیا گیا تو غلاموں کی تجارت سے منسلک امیر تاجروں کو (1833ء میں) 20 کروڑ پائونڈ کی خطیر رقم بطور معاوضہ سرکاری خزانے سے ادا کی گئی۔ یہ رقم آج کے حساب سے ڈھائی ارب پائونڈ بنتی ہے۔ تاریخی ریکارڈ میں ایک شیطان صفت شخص کا بھی ذکر ہے‘ جس کا نام James Laroche تھا جو 1770ء میں اپنی وفات تک 105 بحری جہازوں کا مالک تھا‘ اور ان جہازوں کا واحد کام افریقہ سے غلاموں کو پکڑکر امریکہ پہنچانا تھا۔ اس نے 30 ہزار سے زائد افراد کو غلام بنا کر فروخت کیا۔ مارچ 2026 ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے گھانا کے صدر کی پیش کردہ قرارداد کو منظور کرتے ہوئے فیصلہ سنایا کہ ڈھائی سو سال تک جاری رہنے والی یہ کارروائی انسانیت کی سب سے بڑی توہین اور سنگین جرم تھا۔ برطانوی حکومت نے بہانہ بنا کر اس ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔بھلا ہو پروفیسر Brooke Newman کا کہ جنہوں نے سب سے The Crown&#39;s Silence نامی کتاب لکھ کر لوگوں کی آنکھیں کھولنے کی کوشش کی۔ کالم نگار نے برطانیہ میں دس برس اعلیٰ تعلیمی اداروں میں پڑھایا اور 30 سال قانون کی پریکٹس کی۔ ان ساٹھ برسوں میں یہ دیکھا ہے کہ انگریزوں میں نہ فرشتوں کی کمی ہے اور نہ شیطانوں کی۔ برطانوی تاریخ کے تمام بڑے جرائم پر انگریز مؤرخین نے بہت اچھی تحقیقی کتابیں لکھ کر حق گوئی کا فرض ادا کیا ہے۔ ان میں سب سے بڑا نام ایرک Hobsbawm کا ہے۔ علوم مشرق کے ماہرین میں بھی بہت سے نام ستاروں کی طرح جگمگاتے ہیں‘ جن میں پچھلی صدی میں پروفیسر آربری اور پروفیسر آرنلڈ بڑے ممتاز تھے۔ پروفیسر آرنلڈ علامہ اقبال کے استاد بھی تھے اور ان کی وفات پر اقبال نے &#39;&#39;نالۂ فراق‘‘ کے نام سے ایک کمال کی نظم لکھی ۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_32258580.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>تقویٰ کی اہمیت اور فوائد(علامہ ابتسام الہٰی ظہیر )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-10-05/52789/11600880</link><pubDate>Mon, 05 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-10-05/52789/11600880</guid><description>انسان اپنی زندگی میں مختلف طرح کے کام کرتا ہے۔ لوگوں کی بڑی تعداد اس دوران اللہ تبارک وتعالیٰ کے خوف کو نظر انداز کر دیتی ہے۔ انسان کی نظر بالعموم اپنے اہداف کی تکمیل اور فوائد کے حصول پر ہوتی ہے اور وہ اس حقیقت کو فراموش کر دیتا ہے کہ وہ اپنے اعمال کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کے سامنے جوابدہ ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کی خشیت کو مدنظر رکھ کر اپنے آپ کو گناہوں سے بچانا بہت بڑا عمل ہے۔ شریعت میں ایسے اعمال کی بجا آوری جس میں دل‘ زبان اور اعمال کو اللہ تبارک وتعالیٰ کی خشیت کو مدنظر رکھ کر استعمال کیا جائے اور اپنے آپ کو گناہوں سے بچایا جائے‘ تقویٰ کہلاتا ہے۔ جب ہم کتاب وسنت کا مطالعہ کرتے ہیں تو یہ بات سمجھ آتی ہے کہ تقویٰ کو اختیار کرنے کے بہت زیادہ فوائد ہیں جن میں سے چند اہم درج ذیل ہیں:1۔ تقویٰ انسان کو معزز بناتا ہے: دنیا کا ہر انسان عزت کا طلبگار ہے۔ قرآن مجید سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ حقیقی عزت تقویٰ اختیار کرنے میں ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الحجرات کی آیت: 13 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں مختلف قوموں اور قبیلوں میں اس لیے بنایا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ بیشک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ متقی ہے‘‘۔2۔ تقویٰ مشکلات سے نکلنے کا راستہ: مصائب اور مشکلات سے پاک زندگی ہر انسان کو پسند ہے۔ قرآن مجید یہ بتلاتا ہے کہ تقویٰ کی وجہ سے مشکلات دور ہوتی ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الطلاق کی آیات: 2 تا 3 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;اور جو اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے نکلنے کی راہ بنا دیتا ہے۔ اور اسے وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا‘‘۔3۔ تقویٰ کے ذریعے معاملات میں آسانی: ہر انسان اپنے امور میں آسانی چاہتا ہے۔ سورۃ الطلاق کی آیت: 4 میں تقویٰ کے ساتھ خاص طور پر اللہ کی طرف سے آسانی پیدا کرنے کا ذکر ہے: &#39;&#39;اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے‘ اللہ اس کے لیے اس کے کام میں آسانی پیدا فرما دیتا ہے‘‘۔4۔ تقویٰ سے گناہ مٹتے اور اجر بڑھتا ہے: تقویٰ کی وجہ سے اللہ تبارک وتعالیٰ انسان کے گناہوں کو مٹا دیتے اور اس کے اجر کو بڑھا دیتے ہیں۔ سورۃ الطلاق کی آیت: 5 میں ارشاد ہوا: &#39;&#39;اور جو شخص اللہ سے ڈرے گا‘ اللہ اس کی برائیاں اس سے دور کر دے گا اور اس کے لیے اجر کو بہت بڑا کر دے گا‘‘۔ 5۔ اللہ تقویٰ اختیار کرنے والوں کے ساتھ ہے: جب انسان تقویٰ کو اختیار کرتا تو اس کو اللہ تبارک وتعالیٰ کی معیت حاصل ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ سورۃ النحل کی آیت: 128 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;بیشک اللہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور جو احسان کرنے والے ہیں‘‘۔6۔ تقویٰ کی وجہ سے غم اور خوف دور ہو جاتے ہیں: اللہ تبارک وتعالیٰ سورۂ یونس کی آیات: 62 تا 63 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;سن لو! بیشک اللہ کے دوستوں پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور تقویٰ اختیار کرتے رہے‘‘۔ ان آیات مبارکہ میں اولیاء اللہ کی دو علامات بتلائی گئی ہیں کہ وہ ایمان اور تقویٰ والے ہوتے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ان کے خوف اور غموں کو دور فرما دیتے ہیں۔ اس سے اگلی آیت مبارکہ میں اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;ان کے لیے دنیا کی زندگی میں بھی خوشخبری ہے اور آخرت میں بھی۔ اللہ کی باتوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی‘ یہی بہت بڑی کامیابی ہے‘‘۔6۔ تقویٰ ہی حقیقی کامیابی ہے: قرآن مجید سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ تقویٰ کامیابی کی اساس ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ البقرہ کی آیت: 189میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;اور اللہ سے ڈرو تاکہ تم کامیاب ہو جائو‘‘۔7۔ تقویٰ اخروی کامیابی کا سبب: تقویٰ کا سب سے بڑا نتیجہ آخرت کی کامیابی ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۂ آل عمران کی آیت: 133 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;اور اپنے رب کی مغفرت اور اس جنت کی طرف دوڑو جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین کے برابر ہے‘ جو متقی لوگوں کے لیے تیار کی گئی ہے‘‘۔قرآن مجیدکی آیات مبارکہ کے ساتھ ساتھ احادیثِ طیبہ میں بھی تقویٰ کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ اس حوالے سے چند اہم نکات درج ذیل ہیں:1۔ تقویٰ کا مرکز انسان کا دل ہے: احادیث مبارکہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ تقویٰ کا مرکز انسان کا دل ہے۔ صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: &#39;&#39;تقویٰ یہاں ہے‘‘ اور آپﷺ نے اپنے سینے کی طرف تین بار اشارہ کیا۔2۔ تقویٰ کی وجہ سے انسان مشتبہ چیزوں سے بچ جاتا ہے: کتاب و سنت کے مطالعے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ انسان جب متقی بن جاتا ہے تو وہ فقط حرام سے اجتناب نہیں کرتا بلکہ مشتبہ چیزوں سے بھی دور رہتا ہے۔ اس حوالے سے صحیح بخاری میں حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے آنحضرتﷺ کو فرماتے ہوئے سنا &#39;&#39;حلال کھلا ہوا ہے اور حرام بھی عیاں ہے اور ان دونوں کے درمیان بعض چیزیں شبہ کی ہیں جن کو بہت لوگ نہیں جانتے (کہ حلال ہیں یا حرام) پھر جو کوئی شبہ کی چیزوں سے بھی بچ گیا اس نے اپنے دین اور عزت کو بچا لیا اور جو کوئی ان شبہ کی چیزوں میں پڑ گیا اس کی مثال اُس چرواہے کی ہے جو (محفوظ شاہی) چراگاہ کے آس پاس اپنے جانوروں کو چرائے۔ قریب ہے کہ وہ کبھی اس چراگاہ کے اندر گھس جائے (اور شاہی مجرم قرار پائے)۔ سن لو! ہر بادشاہ کی ایک چراگاہ ہوتی ہے۔ اللہ کی چراگاہ اس کی زمین پر حرام چیزیں ہیں۔ (پس ان سے بچو اور) سن لو! بدن میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے جب وہ درست ہو گا سارا بدن درست ہو گا اور جہاں وہ بگڑا سارا بدن بگڑ گیا۔ سن لو وہ ٹکڑا آدمی کا دل ہے‘‘۔3۔ تقویٰ ہر جگہ اختیار کرنا چاہیے: احادیثِ مبارکہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ تقویٰ کا تقاضا یہ ہے کہ تقویٰ ہر جگہ اختیار کیا جائے۔ اس حوالے سے جامع ترمذی میں حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے مجھ سے فرمایا: &#39;&#39;جہاں بھی رہو اللہ سے ڈرو‘ برائی کے بعد (جو تم سے ہو جائے) بھلائی کرو‘ وہ برائی کو مٹا دے گی اور لوگوں کے ساتھ حسنِ اخلاق سے پیش آئو‘‘۔ اس حوالے سے اہم بات یہ ہے کہ انسان تنہائی میں اللہ تبارک وتعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرے۔ تنہائی میں جو شخص تقویٰ اختیار نہیں کرتا‘ اس کی نیکیاں ضائع ہو جاتی ہیں۔ اس حوالے سے سنن ابن ماجہ میں حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا &#39;&#39;میں اپنی امت کے ان افراد کو ضرور پہچان لوں گا جو قیامت کے دن تہامہ کے پہاڑوں جیسی سفید (روشن) نیکیاں لے کر حاضر ہوں گے تو اللہ عزوجل ان (نیکیوں کو) بکھرے ہوئے غبار میں تبدیل کر دے گا‘‘۔ حضرت ثوبانؓ نے عرض کیا: اللہ کے رسولﷺ! ان کی صفات بیان فرما دیجیے۔ ان (کی خرابیوں) کو ہمارے لیے واضح کر دیجیے۔ ایسا نہ ہو کہ ہم ان میں شامل ہو جائیں اور ہمیں پتا بھی نہ چلے۔ آپﷺ نے فرمایا &#39;&#39;وہ تمہارے بھائی ہیں اور تمہاری جنس سے ہیں اور رات کی عبادت کا حصہ حاصل کرتے ہیں جس طرح تم کرتے ہو۔ لیکن وہ ایسے لوگ ہیں کہ انہیں جب تنہائی میں اللہ کے حرام کردہ گناہوں کا موقع ملتا ہے تو ان کا ارتکاب کر لیتے ہیں‘‘۔مذکورہ بالا آیاتِ مبارکہ اور احادیثِ طیبہ سے تقویٰ کی اہمیت اور فوائد واضح ہو جاتے ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کو تقویٰ والی زندگی اختیار کرنے کی توفیق دے تاکہ ہم دنیا وآخرت کی بھلائیوں کو سمیٹ سکیں‘ آمین!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_19740082.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>