<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>خیبر پختونخوا، کوآرڈی نیشن عزم اور چیلنجز(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-20/11647</link><pubDate>Tue, 20 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-20/11647</guid><description>گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ وفاق کے ساتھ چلیں گے‘ سب صوبوں کے ساتھ ایک پیج پر ہوں گے۔ ایسے وقت میں جب خیبر پختونخوا‘ بالخصوص یہاں کی قبائلی پٹی اور جنوبی اضلاع متعدد سکیورٹی چیلنجز سے نبرد آزما ہیں‘ وفاق اور صوبے کے مابین ہم آہنگی کا یہ عزم مسائل کے حل کی طرف ایک بڑا قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ اس وقت صوبے کو انتظامی مسائل کے حوالے سے وفاق اور متعلقہ اداروں کیساتھ کوآرڈی نیشن کو بہتر بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ این ایف سی ایوارڈ میں قبائلی اضلاع کے فنڈز کا مسئلہ ہو‘ بجلی اور گیس چوری کا مسئلہ ہو یا آٹے کی ترسیل کا معاملہ‘ ماضی قریب میں ہر معاملے میں صوبائی انتظامیہ اور وفاق میں محاذ آرائی کا بہانہ بنا۔یوں وہ مسائل جو بہ آسانی مل بیٹھ کر حل ہو سکتے تھے‘ سیاسی آویزش اور کشیدگی کی نذر ہوگئے۔ اب صوبے کے نئے انتظامی ذمہ داران کو سیاسی مہلت اور وفاق سے مفاہمت کی فضا کا فائدہ اٹھاتے ہوئے صوبے کے حقیقی مسائل کی طرف توجہ دینی چاہیے اور روایتی سیاسی بیان بازی اور پوائنٹ سکورنگ کے بجائے عملی اقدامات پر زور دینا چاہیے۔ خیبر پختونخوا بالخصوص مغربی اضلاع کے عوام طویل عرصے سے انتظامی عدم توجہی کا خمیازہ بھگت رہے ہیں‘ اس لیے اس خطے کو نئے عزم کے ساتھ عملی تبدیلی کا پیش خیمہ بننا چاہیے۔

خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع اس وقت شدید پسماندگی کا شکار ہیں‘ جہاں تعلیم‘ صحت‘ انفراسٹرکچر اور روزگار کی اشد ضرورت ہے۔ 2018ء میں قبائلی علاقوں کے صوبے میں ضم ہونے کے بعد امید تھی کہ مرکزی دھارے میں شامل ہونے سے یہاں کے معیارِ زندگی میں بہتری آئے گی۔ قبائلی عوام سے دس سالہ ترقیاتی پلان کے تحت ایک ہزار ارب روپے کے فنڈز اور بنیادی اصلاحات کے وعدے بھی کیے گئے‘ مگروہ آج تک وفاق اور صوبے کے مابین فنڈز کی منتقلی کے تنازعات کے مابین جھول رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ترقی کا رخ قبائلی علاقوں کی طرف نہ موڑنا ہی ان علاقوں میں شدت پسندی‘ بد امنی اور دہشت گردی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ کسی معاشرے میں نوجوانوں کو تعلیم اور فنی تربیت‘ صحت کی بنیادی سہولتیں اور باوقار روزگار کے مواقع میسر نہیں ہوں گے تو وہ شرپسند عناصر کے پروپیگنڈا اور انتہا پسندی کا آسان ہدف بنتے رہیں گے۔ قبائلی اضلاع کی پائیدار بحالی کیلئے لازم ہے کہ انہیں ملکی ترقی کا مرکز بنایا جائے اوروہاں فوری ایسے اقدامات کیے جائیں جن کے ثمرات عام آدمی تک پہنچتے نظر آئیں۔ اس سلسلے میں مقامی آبادی کا یہ مطالبہ زمینی حقائق سے مطابقت رکھتا ہے کہ ضم شدہ قبائلی اضلاع کیلئے ٹیکس رعایت‘ جو مرحلہ وار ختم کی جا رہی ہے‘ اس میں توسیع کی جانی چاہیے۔ قبائلی اضلاع اس وقت ایک عبوری دور سے گزر رہے ہیں جہاں دہائیوں کی جنگ اور بدامنی نے مقامی معیشت اور تجارتی ڈھانچے کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے‘ ایسے پسماندہ خطے پر یکلخت بھاری ٹیکسز نافذ کر دینا وہاں کی تباہ حال انڈسٹری اور معیشت کو مزید پیچھے دھکیلنے کے مترادف ہوگا۔
وفاق کو یہ بھی چاہیے کہ خیبر پختونخوا کو محض ایک سکیورٹی مسئلے کے طور پر نہیں بلکہ انتظامی بحران سے دوچار خطے کے طور پر دیکھے۔ یہاں سکیورٹی کے اکثر مسائل کی جڑ ہمیں انتظامی بحران میں ملتی ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ سکیورٹی اقدامات‘ ٹارگٹڈ آپریشنز سے امن و امان کی صورتحال میں بہتری آتی ہے اور گزشتہ دو دہائیوں کی تاریخ اس کی شاہد ہے‘ لیکن مسئلے کا مستقل اور پائیدار حل سیاسی و جمہوری عمل کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ عوام کے دلوں کو جیتنے اور انہیں قومی دھارے میں شامل کرنے کیلئے مکالمے‘ سماجی انصاف اور سیاسی اداروں کی مضبوطی کی ضرورت ہوتی ہے۔ وفاق اور صوبے کے مابین نئی کوآرڈی نیشن کا اصل امتحان اب یہی ہوگا کہ درپیش مسائل میں کتنی کمی آتی ہے اور عوام کو کتنا ریلیف ملتا ہے۔ </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>دہشت گردی کا عفریت(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-20/11646</link><pubDate>Tue, 20 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-20/11646</guid><description>گزشتہ روز بلوچستان کے مختلف اضلاع میں سکیورٹی فورسز کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران فتنہ الہندستان کے 12 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا جبکہ گوادر میں کلیئرنس آپریشن کے دوران پاک فوج کے میجر وجاہت وحید جام شہادت نوش کر گئے۔ میجر وجاہت وحید کی قربانی اس جدوجہد کی یاد تازہ کرتی ہے جو ہمارے جوان ملک کی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ کیلئے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ دہشت گردی قومی سلامتی کیلئے ایک سنگین چیلنج بن چکی ہے۔ بالخصوص بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے مسلسل واقعات پوری قوم کیلئے باعثِ تشویش ہیں۔ سکیورٹی امور سے متعلق ایک تھنک ٹینک کی رپورٹ کے مطابق ستمبر میں دہشت گردی کے 225 واقعات میں سکیورٹی فورسز اور عام شہریوں سمیت 259 افراد شہید ہوئے جبکہ انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں میں 280 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔

مجموعی طور پر 56 اضلاع دہشت گرد حملوں سے متاثر ہوئے اور تقریباً 59فیصد حملے بلوچستان میں ہوئے۔ ایک مہینے میں 280 دہشتگردوں کا خاتمہ سکیورٹی فورسز کی عملی کارکردگی کا بڑا ثبوت ہے‘ لیکن دوسری جانب حملوں کی تعداد‘ جغرافیائی پھیلاؤ اور جانی نقصان کے اعدادوشمار خطرے کی شدت اور اس کی گہرائی کو واضح کرتے ہیں۔ اس لیے دہشت گردی کے نیٹ ورکس‘ ان کے سہولت کاروں‘ مالی وسائل اور افرادی قوت کی فراہمی کے ذرائع کا مؤثر سدباب ناگزیر ہے۔ شہدا کی قربانیوں کا حقیقی تقاضا یہی ہے کہ پاکستان کودہشت گردی سے پاک کیا جائے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مہنگائی اور منافع خوری(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-20/11645</link><pubDate>Tue, 20 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-20/11645</guid><description>مہنگائی پر قابو پانے کے حکومتی دعوؤں کے باوجود ملک میں مہنگائی اور ناجائز منافع خوری کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ ملک میں انسدادِ گرانی کمیٹیوں‘ پرائس کنٹرول مجسٹریٹس اور انفورسمنٹ فورسز کی موجودگی کے باوجود سرکاری نرخ ناموں کی خلاف ورزی جاری ہے۔ خبروں کے مطابق اتوار کے روز لاہور میں ٹماٹر سرکاری نرخ 130کے بجائے 150 روپے‘ پیاز 190 کے بجائے 220 روپے‘ سبز مرچ 120 کے بجائے 150 روپے اور پھول گوبھی 120 کے بجائے 150 روپے فی کلو فروخت ہوتی رہی۔ یہی صورتحال دیگر سبزیوں اور پھلوں کی بھی ہے‘ جبکہ گھی اور خوردنی تیل بھی 20روپے فی کلو تک مہنگے کر دیے گئے ہیں۔ یوں عام آدمی کیلئے خوراک کا حصول بتدریج مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ اگر سرکاری نرخ ناموں پر عمل درآمد یقینی نہیں بنایا جا سکتا تو ان کے اجرا اور قیمتوں کی نگرانی کیلئے قائم نظام کی افادیت کیا ہے؟

حکومت کو تھوک منڈیوں سے پرچون دکانوں تک قیمتوں کی نگرانی‘ ذخیرہ اندوزی کی روک تھام اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی یقینی بنانا ہو گی۔ جرمانوں کے ساتھ خلاف ورزی کے اعادے پر سخت قانونی اقدامات بھی ضروری ہیں۔ اگر متعلقہ حکام دیانتداری اور سنجیدگی سے اپنے فرائض انجام دیں تو ناجائز منافع خوری پر قابو پایا جا سکتا ہے اور عوام کو حقیقی ریلیف مل سکتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>لائبہ(محمد اظہارالحق)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-10-20/52874/25749534</link><pubDate>Tue, 20 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-10-20/52874/25749534</guid><description>بلند پروازی کا شوق اچھا ہے۔ ہونا چاہیے! مگر مضبوط بال و پر کے ساتھ! پر کمزور ہوں تو نیچے گرنا یقینی ہے۔ ایسے میں عقل مندی یہ ہے کہ اُڑنے کے بجائے زمین پر چل لینا چاہیے!ہم تمام مغربی پاکستانی دوست جب ڈھاکہ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہو کر واپس آئے تو ہمارے ہاتھوں میں‘ اس وقت کے لحاظ سے بہترین ڈگریاں تھیں۔ ڈھاکہ یونیورسٹی کی ریٹنگ‘ عالمی سطح پر قابلِ رشک تھی۔ ہم میں سے اکثر کو برطانیہ اور امریکہ کی کسی بھی ٹاپ کلاس یونیورسٹی میں اعلیٰ تعلیم کے لیے داخلہ مل سکتا تھا۔ مگر ہم میں سے اکثر لوئر مڈل کلاس سے تھے اور کچھ اس سے بھی نیچے!! اگر ہم ضد کرتے کہ ہم نے مزید پڑھنے کے لیے ولایت جانا ہے تو ہمارے والدین کو اپنی زرعی زمینیں اور جائیدادیں بیچنا پڑتیں۔ قرض لینا پڑتا۔ ہماری ماؤں اور بہنوں کو زیور گروی رکھوانے پڑتے۔ تب ہم مل بیٹھے اور ہم نے طے کیا کہ جو قسمت آزمائی بھی کرنی ہے اور جتنی بھی کرنی ہے‘ اپنے ملک میں ہی کریں گے۔ چنانچہ کچھ ہم میں سے سول سروس کے لیے مقابلے کے امتحان میں بیٹھ گئے۔ کچھ نے بینکاری کے شعبے کو اپنا لیا۔کچھ نجی شعبے میں چلے گئے۔ کچھ نے اپنا بزنس شروع کر دیا۔ کچھ محکمۂ تعلیم سے وابستہ ہو گئے۔ قدرت بھی کیا کیا کرشمے دکھاتی ہے۔ ہم میں سے نوّے‘ پچانوے فیصد دوست اپنے اپنے شعبے میں ٹاپ پر پہنچے۔ دوسرے ملکوں میں بھی ذمہ داریاں نبھائیں۔ قابلِ رشک کیریئر بنے۔ ہم نے ملک کی ترقی میں بھی اپنا اپنا حصہ ڈالا۔ یہ سب کچھ حاصل کرنے کے لیے ہم میں سے کسی نے بھی اپنے والدین کو آزمائش میں نہیں ڈالا۔ انہوں نے قرض لیا نہ زمینیں اور مکان بیچے! سب کچھ اسی وطن سے ملا! سب کچھ اسی مٹی سے حاصل کیا۔ ہم تو خیر کس کھیت کی مولی تھے‘ علامہ اقبال سے لے کر ڈاکڑ عبدالسلام اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان تک‘ سب نے جتنی تعلیم ملک کے اندر ممکن تھی‘ ملک کے اندر ہی حاصل کی۔ ایک خاص مقام حاصل کرنے کے بعد یہ حضرات مزید اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرون ملک گئے۔ بھارتی سائنسدان جو بھارت کے ایٹمی اسلحہ کا بابا ہے‘ ڈاکٹر عبدالکلام نے بھی تمام اعلیٰ تعلیم بھارت ہی میں حاصل کی۔بیس سالہ بچی‘ لائبہ اعجاز نے پاکستان کے وفاقی دارالحکومت میں خودکشی کر لی۔ اس دردناک کیس کی تفصیلات ہم سب جانتے ہیں۔ اس نے بی ایس اسلام آباد کی ایک یونیورسٹی سے امتیازی نمبروں سے پاس کیا اور گولڈ میڈل حاصل کیا۔ وہ بلند پروازی کی خواہش رکھتی تھی۔ Ambitious تھی۔ آرزومندی میں کوئی برائی نہیں! سوچ اونچی ہی رکھنی چاہیے۔ ہر انسان کو اپنی تمناؤں کی پرورش کا حق حاصل ہے۔ مگر اس طالبہ کے ساتھ یہ ہوا کہ بدقسمتی نے اس پر تین اطراف سے حملہ کیا! ایسا حملہ جو افسوس! صد افسوس! جان لیوا ثابت ہوا! اس کی پہلی بدقسمتی یہ تھی کہ اس کا والد پڑھا لکھا نہ تھا۔ وہ شیر فروش تھا۔ اس کے دماغ میں یہ بات بالکل نہ آئی کہ وہ کسی تعلیم یافتہ دوست یا رشتہ دار سے مشورہ کرے کہ لائبہ کو باہر بھیجنے کے لیے اسے کیا کرنا چاہیے۔ دوسری بدقسمتی لائبہ کی اس ملک کا ناکارہ نظام تعلیم تھا۔ اس کی یونیورسٹی میں ایک ایسا شعبہ ہونا چاہیے تھا جو طلبہ و طالبات کی بیرونِ ملک جانے کے لیے رہنمائی کرتا اور بھرپور مدد کرتا! اس میں کیا شک ہے کہ اس ملک کا نظام تعلیم فرسودہ‘ یک رُخا اور جدید سہولتوں سے کوسوں دور ہے۔ حیرت ہے کہ اس کے کسی استاد نے اس لائق طالبہ کی رہنمائی نہ کی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ لائبہ نے کسی سے مشورہ کیا ہی نہ ہو! یہ سوال بھی ذہن میں اٹھتا ہے کہ مغربی ممالک کی یونیورسٹیوں کی ہر تفصیل ان کی ویب سائٹ پر موجود ہوتی ہے تو لائبہ نے ویب سائٹس کی ہدایات پر عمل کیوں نہ کیا؟ اور ایک اجنبی پر کیوں بھروسہ کر لیا؟ لائبہ کی تیسری بدقسمتی اس ملک کی پولیس اور نظامِ عدل کا کھوکھلا پن ہے۔ جس بدمعاش نے لائبہ کو دھوکا دیا اور اس کی المناک موت کا سبب بنا‘ وہ ہسٹری شیٹر تھا۔ اس کا ماضی بھی غلیظ اور گھناؤنا تھا۔ اس سے پہلے بھی اس نے لوگوں کے ساتھ فراڈ کیے تھے۔ پولیس کو یہ سب کچھ معلوم تھا۔ اس وحشی جانور کی گردن میں پٹّہ ڈالنا چاہیے تھا اور اسے سلاخوں کے پیچھے ہونا چاہیے تھا مگر وہ بے خوف ہو کر دندناتا پھر رہا تھا یہاں تک کہ اس نے ناگ بن کر ایک قابل بچی کی زندگی کو ڈس لیا۔کاش! بیس سالہ لائبہ کو کوئی سمجھاتا کہ اس کے والدین میں اتنی سکت نہیں کہ وہ اسے‘ اس وقت بیرون ملک بھیج سکیں! کوئی اس کی رہنمائی کرتا کہ مزید تعلیم اسی ملک میں حاصل کرے اور اس وقت کا انتظار کرے جب اسے سکالر شپ ملے گا۔ اس کالم نگار کی معلومات کے مطابق اٹامک انرجی کمیشن جیسے قومی ادارے ایسے لائق طلبہ و طالبات کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور اپنے سایۂ عاطفت میں لے لینے کے بعد اعلیٰ تعلیم کا بہترین انتظام کرتے ہیں! قیاس یہی ہے کہ لائبہ کو کوئی ایسا شخص نہ میسر آیا جو درست رہنمائی کرتا! اس کے غیر تعلیم یافتہ والدین نے اسے باہر کی یونیورسٹی میں بھیجنے کے لیے وہی راستہ اختیار کیا جو اَن پڑھ والدین بیٹوں کو یورپ بھیجنے کے لیے استعمال کرتے ہیں اور عمر بھر کی کمائی دھوکے باز ایجنٹوں کے حوالے کر دیتے ہیں۔ایک بات یقینی ہے۔ لائبہ جیسی بچیوں کی زندگی محفوظ کرنے کے لیے متعلقہ حلقے کچھ بھی نہیں کریں گے۔ یونیورسٹیوں میں طلبہ و طالبات کی رہنمائی کے لیے نئے شعبے قائم نہیں ہوں گے۔ ایچ ای سی جیسے سفید ہاتھی اس معاملے میں ہرگز ممد ثابت نہیں ہوں گے۔ حکومت جو بھی ہو گی جس کی بھی ہو گی‘ اس ضمن میں کوئی قدم نہیں اٹھائے گی۔ حکومتوں کی اولین ترجیح اپنے اقتدار کا دوام ہے۔ کابینہ پر نظر دوڑائیے۔ سطحیت کا ایک سے بڑھ کر ایک نمونہ نظر آئے گا۔ ترکیہ کی کابینہ میں اس وقت سات وزرا پی ایچ ڈی ہیں۔ بھارت کی کابینہ میں بھی سات وزیر پی ایچ ڈی ہیں۔ سنگاپور کی کابینہ میں تین وزیر پی ایچ ڈی ہیں اور باقی میں سے زیادہ تر ہارورڈ‘ کیمبرج اور نیشنل یونیورسٹی جیسے اداروں سے ایم بی اے اور ایم پی اے ہیں۔ جنوبی کوریا کے وزیر خزانہ نے امریکہ سے اقتصادیات میں پی ایچ ڈی کر رکھی ہے۔ سائنس کا وزیر امریکہ سے ایم بی اے اور کوریا سے پی ایچ ڈی ہے۔ وزیر خارجہ عالمی سیاسیات میں پی ایچ ڈی ہے۔ وزیر زراعت بھی‘ جو ایک خاتون ہے‘ پی ایچ ڈی ہے۔ باقی وزرا کی تعلیم چیک نہیں کی۔ پاکستان کی کابینہ میں صرف ڈاکٹر مصدق ملک پی ایچ ڈی ہیں۔ انہوں نے پی ایچ ڈی صحت کے انتظامی امور اور پالیسی میں کی ہے مگر وزارت انہیں موسمیاتی تبدیلی کی دی گئی ہے۔ اگر کوئی اور وزیر بھی پی ایچ ڈی ہے تو کم از کم اس کالم نگار کو نہیں معلوم! اور ہاں! جس مجرم نے لائبہ کے ساتھ گھناؤنا فراڈ کیا ہے اور اس کی موت کا ذمہ دار ہے‘ وہ اس وقت تو قانون کی تحویل میں ہے۔ مگر آپ بھی جانتے ہیں اور میں بھی کہ وہ موت کی سزا سے بچ جائے گا۔ کچھ عرصہ جیل میں رہے گا۔ پھر آزاد ہو جائے گا۔ کسی اور لائبہ کی تلاش میں!!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_57182973.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>1310سال بعد پرتگال پر پاکستانیوں کا ہلہ(خالد مسعود خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-10-20/52875/34222945</link><pubDate>Tue, 20 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-10-20/52875/34222945</guid><description>میرا اپنے دو ہمسفروں کیساتھ ایک زبانی معاہدہ اپنی پوری صحت کیساتھ بخیر وخوبی چل رہا ہے اور معاہدہ یہ ہے کہ دورانِ سفر ہم آپس میں پاکستان کے سیاسی معاملات پر کسی قسم کی کوئی گفتگو نہیں کریں گے۔ بیرونِ ملک رہائش پذیر پاکستانیوں کی اکثریت کی مانند‘ یہ دونوں بھائی بھی عمران خان کے چاہنے والے ہیں اور زبان سے اقرار کیے بغیر خان کو اپنا مرشد مانتے ہیں۔ اگر انکے زبانی دعوے پر یقین کیا جائے تو وہ نیوٹرل ہیں‘ تاہم گفتگو کی جائے تو دو ڈھائی منٹ بعد انکے اندر سے ایک نہایت تگڑا یوتھیا برآمد ہوتا ہے اور معاملات بدمزگی کی جانب کھسکتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ لہٰذا سفر کے دوران ماحول کو خوشگوار رکھنے کیلئے ضروری ہے کہ ان معاملات پر گفتگو نہ کی جائے جہاں دلیل اور عقل کے بجائے جذبات اور عقیدت کو ہتھیار بنایا جائے۔ سو اس معاہدے کے طفیل راوی دورانِ سفر چین لکھتا ہے۔بابر نے مجھے دو تین مختلف اپارٹمنٹس کی لوکیشن اور تصاویر پاکستان بھیجیں۔ ان میں سے ایک اپارٹمنٹ‘ جو تصاویر میں نہ صرف بہت صاف ستھرا دکھائی دیتا تھا بلکہ ہماری ضرورت کے عین مطابق بھی تھا۔ یہ تین انفرادی کمروں پر مشتمل ایک ایسی رہائش گاہ تھی جس میں دو باتھ روم‘ لاؤنج اور کچن موجود تھا۔ شہر کے وسط سے قریب دو کلو میٹر دور مین سڑک سے سو ڈیڑھ سو فٹ ہٹ کر اندر کی جانب واقع یہ اپارٹمنٹ مجھے چار روز رہنے کیلئے انتہائی مناسب نظر آیا تھا۔ رہائشگاہ کا مین سڑک سے تھوڑا ہٹ کر ہونے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ رات بھر سڑک پر رواں ٹریفک کے شور سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔ اس اپارٹمنٹ کی دوسری خوبی یہ تھی کہ باہر سڑک پر نکلتے ہی بس اور ٹرام کا سٹاپ تھا۔ جو ہم جیسے مسافروں کیلئے بہت بڑی آسانی تھی۔ لہٰذا میں نے اس اپارٹمنٹ کو رہنے کیلئے پسند کرتے ہوئے بابر کو بتا دیا‘ اور بابر نے اس کی ادائیگی کر کے معاملہ نپٹا دیا۔ لیکن جب اس اپارٹمنٹ پر پہنچے تو چار فلیٹس پر مشتمل اس عمارت کے مرکزی داخلی دروازے کے عین سامنے نظر پڑی تو میری آدھی خوشی غارت ہو گئی۔ مجھے اندازہ ہوا کہ محض انٹرنیٹ پر موجود نقشے پر رہائشگاہ کی لوکیشن دیکھ کر بھروسہ کرنے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ہر چیز ٹھیک ہے۔ اس عمارت کے بالکل سامنے ایک چھوٹا سا ڈھابہ نما ہوٹل تھا جس کا نام بنی گالا ریسٹورنٹ تھا۔ اس ریسٹورنٹ کے بورڈ پر نظر پڑتے ہی بابر کی آنکھیں چمک اٹھیں‘ صابر کی باچھیں کھل گئیں اور میرا ماتھا ٹھنک گیا۔مجھے پکا یقین تھا کہ ہر دو برادران شاید منہ سے تو کچھ نہیں بولیں گے لیکن بہر حال وہ کھانا یہیں کھانے پر اصرار کریں گے۔ ہم نے اپارٹمنٹ میں جا کر بیگ کھولے‘ کپڑے ہینگروں میں لٹکائے‘ منہ پر پانی کے چھینٹے مار تھوڑا سا تازہ دم ہوئے تو میں نے کوچ کا بگل بجایا۔ صابر کا خیال تھا کہ ابھی کچھ دیر آرام کیا جائے۔ میں نے کہا کہ ہمارے پاس وقت کم ہے اور مقابلہ سخت ہے۔ اگر یہاں آ کر سونا ہی تھا تو میں یہ کام ملتان میں اور تم یہ کام مانچسٹر میں بھی کر سکتے تھے۔ اس کیلئے اتنے لمبے سفر کا تردد کرنے کی بھلا کیا ضرورت تھی؟ ہمارے پاس چار دن ہیں اور ان چار دنوں میں جتنا زیادہ سے زیادہ لزبن دیکھا جا سکتا ہے وہ دیکھا جائے۔ صابر نے کہا کہ گاڑی بھی چلنے سے پہلے پٹرول مانگتی ہے اور مجھے یہ پتہ ہے کہ تم نے ہمیں پیدل چلا چلا کر مارنا ہے۔ ویسے بھی وہ پنجابی کی کہاوت ہے کہ &#39;&#39;پیٹ نہ پئیاں روٹیاں تے سبھے گلاں کھوٹیاں‘‘ اگر آرام نہیں کرنا تو خوار ہونے سے پہلے کھانا کھایا جائے۔ اپارٹمنٹ کے دروازے سے نکلتے ہی بابر کہنے لگا کہ یہ سامنے ریسٹورنٹ ہے‘ اسی پر کھانا کھاتے ہیں۔ پھر خود ہی کہنے لگا کہ ایک تو پاکستانی کھانا ہوگا‘ دوسرا یہ کہ کھانا حلال ہو گا اور تیسری بات یہ کہ بالکل سامنے ہے چلنا بھی نہیں پڑے گا۔ میں نے بجائے بحث کرنے کے ان کو ریسٹورنٹ میں داخل ہونے کا اشارہ کیا اور ان کے پیچھے پیچھے ریسٹورنٹ میں داخل ہو گیا۔ دس ضرب چودہ کا ایک کمرہ تھا جس کے اندر دو فریزر پڑے تھے اور ایک عدد کاؤنٹر بھی تھا۔ میز پر میز اور کرسی پر کرسی چڑھی ہوئی تھی۔ ریسٹورنٹ میں کافی رونق تھی۔ اب میں منتظر تھا کہ کھانا آئے اور پتہ چلے کہ کھانا کیسا ہے۔ کھانا ایک نعمت ہے اور میں اس کے بارے میں منفی رائے دینے سے حتی الامکان حد تک پرہیز کرتا ہوں کہ مجبوری میں جب بھوک لگی ہو اور کھانا نہ مل رہا ہو یا کھانا کھانے کی استطاعت نہ ہو تب پتہ چلتا ہے کہ کھانا کتنی بڑی نعمت ہے خواہ اس کا ذائقہ کچھ بھی ہو۔ لیکن بہر حال اب یہ بھی نہیں ہو سکتا کہ جیب میں پیسے ہوں تھوڑی دور دائیں بائیں کچھ اور ریسٹورنٹ بھی موجود ہوں اور بدذائقہ کھانا کھایا جائے۔ منیر نیازی مرحوم کی ایک نظم ہے &#39;&#39;پہلی بات ہی آخری تھی‘‘۔ سو بنی گالہ ریسٹورنٹ میں یہ پہلا کھانا ہی ہمارا آخری کھانا ثابت ہوا۔ اس کھانے کے بعد دونوں بھائیوں نے بھی ہاتھ کھڑے کر دیے اور کہا اے امیر سفر! آئندہ کھانے کیلئے آپ ہمیں جدھر لے جائیں گے‘ ہم وہیں کھانا کھائیں گے۔لزبن پرتگال کا دارالحکومت ہے تاہم مقامی لوگ اسے لزبن نہیں بلکہ لزبوا کہتے ہیں۔ بالکل ویسے ہی جیسے فرانسیسی پیرس کو پاغی کہتے ہیں۔ سفر خواہ جہاز کا ہی کیوں نہ ہو‘ بہرحال تھکاوٹ تو ہوتی ہے۔ پہلے گھر سے ایئرپورٹ تک کا سفر کرنا‘ پھر ایئرپورٹ پر انٹرنیشنل فلائٹ کی وجہ سے دو ڈھائی گھنٹے پہلے پہنچ کر خوار ہونا‘ پھر جہاز کا سفر‘ پھر جہاز سے اتر کر امیگریشن کی قطاروں میں کھڑے ہونا‘ پاسپورٹ پر ٹھپے لگوانا‘ ٹیکسی تلاش کرنا۔ سو کھانا کھانے کے بعد ہم خلافِ معمول پیدل چلنے کے بجائے تقریباً سو ڈیڑھ سو گز کے فاصلے پر ٹرام سٹیشن پہنچے اور شہر کے مرکز میں پہنچ گئے۔ وہاں کوئی میلہ لگا ہوا تھا یا کوئی کارنیول تھا‘ شہر کے وسط میں ایک کھلے میدان میں جو شہر کے مرکزی چوک کے بالکل ساتھ تھا‘ ایک میلے کا سا سماں تھا۔ وہاں سو ڈیڑھ سو سے بھلا کیا کم سٹال ہوں گے جو وہاں لگے ہوئے تھے۔ پرتگال کے روایتی کھانوں کے علاوہ دنیا بھر کے کھانوں کے سٹال تھے مگر ہم اس سے محروم تھے کہ ان میں حلال کھانے کا کوئی سٹال نہیں تھا۔ مختلف اقسام کے خشک پھل‘ ایسے ایسے پھل خشک کیے ہوئے تھے جن کا پہلے کبھی تصور نہیں تھا۔ وہاں پنیر کی دو تین دکانیں تھیں جن میں طرح طرح اور رنگ رنگ کا پنیر تھا۔ دستکاریوں اور سووینرز کے سٹالز کا تو کوئی حساب ہی نہیں تھا۔ ایک سٹال سے چند سووینرز خرید لیے۔ آگے گئے تو ان سے نسبتاً بہتر اور سستے سووینرز پڑے تھے۔ پہلی خرید پر پچھتانے کے بعد خسارہ کم کرنے کیلئے دو تین مزید خرید لیے اور تھوڑی دیر بعد پھر ملال ہوا۔ اس قسم کا ملال پرتگال کے پورے سفر میں بار بار طاری ہوا مگر میں نے بھی سووینرز خریدنے سے توبہ نہ کی۔ فرانس کے بعد مغرب میں بحرِ اوقیانوس تک یورپ کا جو حصہ نکلا ہوا ہے وہ سپین اور پرتگال پر مشتمل ہے‘ جغرافیہ کی زبان میں اسے جزیرہ نما آئیبریا یا آئیبیریئن پیننسولا کہتے ہیں۔ یہ وہ علاقہ ہے جہاں آٹھویں صدی عیسوی کے آغاز میں مسلمانوں نے فتوحات کا آغاز کیا۔ تب یہ سارا علاقہ مختلف ریاستوں میں بٹا ہوا تھا‘ تاہم ان تمام ریاستوں میں پرتگال نام کا کوئی ملک یا ریاست موجود نہیں تھی۔ پرتگال کی تشکیل بعد میں ہوئی‘ تب یہ علاقہ سپین ہی سمجھا جاتا تھا۔ سپین میں مسلمانوں کی آمد اور فتوحات کی باقاعدہ شروعات 711 عیسوی میں طارق بن زیاد کے جبرالٹر کے راستے سپین میں داخلے سے ہوئی۔ اس وقت جبرالٹر پر راڈرک کے حکومت تھی۔ موجودہ پرتگال کے حوالے سے اگر بات کی جائے تو مسلمان اس علاقے میں تھوڑے عرصے بعد دسویں عیسوی میں فتوحات کا پرچم لہراتے ہوئے داخل ہوئے۔ طارق بن زیاد کے حملے کے 1310سال بعد پاکستان کے بہت سے سیاستدان‘ بیوروکریٹ‘ سرمایہ دار اور دولت مند پرتگال کی شہریت کے حصول کیلئے اس پر ایسے چڑھ دوڑے ہیں کہ اس علاقے پر آٹھویں صدی عیسوی میں مسلمان لشکر کے برق رفتار حملوں کی یاد تازہ ہو گئی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90500073.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پھیلتی جنگ اور ایک باپ کا نوحہ(ڈاکٹر حسین احمد پراچہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-10-20/52876/65900575</link><pubDate>Tue, 20 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-10-20/52876/65900575</guid><description>بات امریکہ‘ ایران جنگ رکوانے کیلئے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ جون 2026ء سے شروع ہوئی تھی۔ تب یہی سمجھا جا رہا تھا کہ اگلے چند دنوں میں جنگ کے پھیلتے شعلے ماند پڑ جائیں گے۔ مگر بات بڑھتے بڑھتے بہت بڑھ گئی ہے۔پہلے سعودی عرب سمیت خلیجی ریاستوں میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور عسکری ٹھکانوں کو ایران نے نشانہ بنایا۔ پھر یمن کے حوثیوں نے سعودی عرب کی فضائیہ کے اڈوں کو ہی نہیں انٹرنیشنل ہوائی اڈوں کوبھی نشانہ بنایا۔ نیز باب المندب کے راستے سعودی تیل کی ترسیل بند کر دی۔ اب گزشتہ کئی روز سے سعودی طیارے حوثیوں کے ٹھکانوں اور اُن کے دارالحکومت صنعا پر بمباری کر رہے ہیں۔ سمندر سے اتحادی افواج حوثیوں پر میزائل برسا رہی ہیں۔ حوثیوں کا روزانہ کی بنیاد پر خاصا جانی نقصان ہو رہا ہے‘ اس لیے انہوں نے شہر شہر اور قریہ قریہ پھیلے ہوئے اپنے رابطہ دفاتر کے ذریعے مزید جوانوں کی بھرتی کو تیز تر کر دیا ہے۔ حوثیوں کا کہنا ہے کہ اُن کے پاس دس لاکھ تربیت یافتہ افراد ہیں۔ اُن کے دعوے کے مطابق ان میں سے اکثریت اپنی جان ہتھیلی پر رکھے ہوئے ہے۔ تازہ خبروں کے مطابق ایک بار پھر حوثیوں نے سعودی عرب پر حملے بڑھا دیے ہیں۔ اتوار کے روز انہوں نے سعودی عرب کے جنوبی شہر نجران پر گولے داغے‘ جن سے کئی شہری زخمی ہوئے۔ اس کے علاوہ ایک سعودی ہیلی کاپٹر مار گرایا گیا۔ ادھر مصری دفاعی کونسل نے فوج سعودی عرب بھیجنے کی منظوری دے دی ہے۔  اس وقت طرح طرح کی خبریں اور افواہیں عالمی و سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں۔ پاکستان اور ایران کا بارڈر بھی بند ہے۔ اتوار کے روز وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور اُن سے خطے کی بدلت ہوئی صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا۔ یہ ہے وہ منظر نامہ جس کی ہم نے آپ کے سامنے ایک مختصر جھلک پیش کی ہے۔ اس وقت سب سے زیادہ خوش اسرائیل اور امریکہ ہیں۔ مسلمان آپس میں دست و گریباں ہیں۔ چند سال پیشتر پرانے سرحدی جھگڑوں کے باوجود یمن اور سعودی عرب شیر و شکر تھے‘ اب ایک دوسرے کے خون کے پیاسے نظر آ رہے ہیں۔ ایسی صورتحال پر نیتن یاہو مسرت کے شادیانے بجا رہا ہو گا کہ مسلمان غزہ اور مغربی کنارے کی صورتحال سے بے خبر اپنے جھگڑوں میں مشغول ہیں اور آزادیٔ فلسطین اور بااختیار فلسطینی ریاست کے قیام کے بجائے آپس کی جنگوں اور دشمنیوں میں الجھے ہوئے ہیں۔ اسرائیل کا خیال ہے کہ سعودی عرب جتنا کمزور ہوگا اتنا ہی جلد وہ کئی دیگر خلیجی ملکوں کی طرح معاہدۂ ابراہیمی کا حصہ بننے پر آمادہ ہو جائے گا۔ صہیونی عناصر یہ تخمینے بھی لگا کر بیٹھے ہوئے ہیں کہ مسلمانوں کی باہمی آویزش اور چپقلش گریٹر اسرائیل کیلئے اُن کا کام آسان کر دے گی۔ 18 اکتوبر کو نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ جناب اسحاق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ کے علاوہ مصری وزیر خارجہ سے بھی آن لائن گفتگو کی۔ اگرچہ پوری طرح اندازہ نہیں کہ دونوں وزرائے خارجہ میں کیا بات ہوئی مگر قرین قیاس یہی ہے کہ خطے کی تیزی سے بدلتی صورتحال اور پھیلتی ہوئی جنگ زیر بحث آئی ہو گی۔سعودی عرب اور حوثیوں کی باہمی آویزش سے بھی بڑھ کر خطے کیلئے جو زیادہ خطرناک بات ہے وہ یہ کہ امریکہ ایک بار پھر ایران پر بھرپور حملوں کی تیاری کر رہا ہے۔ امریکی بحری بیڑا بحر ہند کے سمندروں میں ایران کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اس وقت پاکستان اور ایران کو مل کر ایک طرف سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان اور دوسری طرف امریکہ اور ایران کے درمیان مذکرات کامیابی سے ہمکنار کرانے چاہئیں۔ ایران بھی امریکہ کے خطرناک جنگی ارادوں سے بے خبر نہیں۔ ایسی خبریں بھی آ رہی ہیں کہ ایران اپنے دفاع کیلئے جدید ترین اسلحہ سے‘ پہلے سے کہیں بڑھ کر امریکی حملوں کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے تیار ہے۔ ایران اس اسلحے کی بڑی اور بھاری مقدار خود تیار کر رہا ہے اور اسے چلانے کی مکمل استعداد رکھتا ہے۔ ایران کے نو منتخب وزیر دفاع مہر داد اخلاقی نے اعلان کیا ہے کہ اگر امریکہ نے دوبارہ جارحیت کی تو بھرپور اور حیران کن جواب دیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم کسی ملک پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں نہ قبضہ کرنے کا۔ ہم امریکہ کے ساتھ مذاکرات کیلئے بھی تیار ہیں مگر کوئی ہمیں گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہیں کر سکتا۔ ان دنوں سوشل میڈیا پر مختلف گروپ مسلکی بنیاد پر پراپیگنڈے کو ہوا دے رہے ہیں‘ علمائے کرام کو چاہیے کہ اتحاد بین المسلمین کو نقصان پہنچانے والی افواہوں اور پوسٹوں کا پوری شدت کے ساتھ رد کریں۔ صہیونیوں جیسے امتِ مسلمہ کے حریف کسی ایک مسلک کے نہیں بلکہ سارے مسلمانوں کے دشمن ہیں۔قارئین کو یاد ہوگا کہ رواں سال فروری میں امریکہ اور اسرائیل کی ایران پر مسلط کردہ جنگ کے آغاز میں ہی میناب میں بچوں کے ایک سکول کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس حملے میں سوا سو سے اوپر نو دمیدہ کلیاں اور بن کھلے پھول &#39;&#39;فرزندانِ تہذیب‘‘ کی درندگی نے مسل دیے تھے۔ ان بچوں کی یاد ایک دن کے لیے بھی ایرانی قوم کے حافظے سے محو نہیں ہوئی۔ ان پھولوں کی تصاویر تہران‘ قم‘ مشہد اور میناب وغیرہ کے پارکوں اور دانش گاہوں کی دیواروں پر آویزاں کی گئی ہیں۔ ننھی بچیوں کی یہ تصاویر ایرانی قوم کے جذبۂ شہادت کی علامت ہیں۔ میناب سکول کی ایک ننھی شہید بیٹی کے بارے میں‘ اس کے والد کی طرف سے ڈاکٹر مراد عادل نے ایک نوحہ لکھا ہے۔ اس نوحے کو جو صاحبِ احساس پڑھتا ہے تڑپ جاتا ہے۔ پاکستان کے ادیب‘ شاعر اور ماہر تعلیم ڈاکٹر زاہد منیر عامر (حال مقیم تہران) نے ان اشعار کا اردو میں ترجمہ کیا ہے‘ جس کے لیے ہم ڈاکٹر صاحب کے ممنون ہیں۔ چند فارسی اشعار کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیے:&#39;&#39;اے میری پیاری بیٹی! تیری جدائی سے میرا دل چور ہو گیا ہے۔ ایک بار پھر دنیا میں آ! اور آ کر دیکھ کہ تیری جدائی میں تیرے باپ کا کیا حال ہو گیا ہے۔ میری بیٹی! وہ سر جو تیرے ہوتے ہوئے مانند سرو سرفراز اور سربلند تھا اب دیکھ کہ شدتِ غم سے گلِ بنفشہ کی طرح سرنگونی کا شکار ہے۔ (فارسی شاعری میں بنفشہ کا پھول غم و افسردگی کا استعارہ سمجھا جاتا ہے)۔ بیٹی! مجھے اجازت دو کہ میں تمہیں بتائوں کہ تمہارے بعد میری کیا حالت ہو گئی ہے۔ میں ایک ایسے پرندے کی مانند ہو گیا ہوں جو آسمان کی بلندی پر اڑتے اڑتے اچانک زمین پر آ گرا ہو‘‘۔غزہ کے ہزاروں شہید بچوں کے زندہ بچ جانے والے والدین بھی اسی طرح تڑپ رہے ہیں۔ اللہ مسلم حکمرانوں کو قوت و شوکت اور باہمی اتحاد دے‘ تاکہ مسلمان بچے یوں شہید نہ ہوں اور اُن کے والدین اُن کی جدائی میں نہ تڑپیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_70033906.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>معیشت سے غیر ہم آہنگ سول سروس(شاہد کاردار)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-kardar-/2026-10-20/52877/30802447</link><pubDate>Tue, 20 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-kardar-/2026-10-20/52877/30802447</guid><description>گزشتہ دو مضامین میں ہم نے یہ نظریہ پیش کیا کہ نظام حکومت میں اصلاحات کیلئے سول سروس میں اصلاحات بنیادی حیثیت رکھتی ہیں لیکن ہماری سول سروس کا بدلتے ہوئے زمانہ کے تقاضوں کے مطابق ارتقا نہیں ہو سکا۔ یہ فرسودہ سرکاری مشینری جدید دور کی ضروریات پوری نہیں کرسکتی۔ حکومت کے تقریباً تمام اعلیٰ ترین عہدوں پر ایک جنرلسٹ گروپ یعنی پی اے ایس افسران کی اجارہ داری ہے۔ اس گروپ کا ایک افسر مقابلہ کے ایک امتحان کی بنیاد پر سروس میں داخل ہوتا ہے اور اسے اگلے عہدہ پر ترقی ملتی رہتی ہے حالانکہ وہ کسی مخصوص شعبہ میں مہارت سے محروم ہوتا ہے۔ اس معاملہ کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ موجودہ سول سروس اعلیٰ سطح پر بنائی جانے والی پالیسیوں پر عمل درآمد کرانے میں اکثر و بیشتر ناکام رہتی ہے۔حالت یہ ہے کہ حکومت کی اچھی طرح تشکیل دی گئی پالیسیوں پر بھی عمل درآمد ناقص ہوتا ہے جس کی تین بڑی وجوہات ہیں۔(الف): حکومت سے کسی معاملہ کی منظوری لینے اور دستاویزات کی تصدیق کیلئے بہت زیادہ مراحل ہیں حتیٰ کہ معمول کے معاملات میں بھی۔ (ب): فرسودہ ضوابط اور انتظامی نظام‘ جو نوآبادیاتی دور سے ورثہ میں ملے ہیں یا بعد میں وضع کیے گئے‘ ان کا بہت سختی سے تحفظ کیا جاتا ہے۔ (ج): کام کاج کے ایسے طریقہ کار ہیں جو اعلان کردہ پالیسی سے متصادم ہیں۔ حکومت کے متعدد قواعد و ضوابط اب غیرمتعلق ہو چکے ہیں یا ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔ معیارات اور پیمانے اکثر فرسودہ‘ غیر واضح یا غیر ضروری طور پر سخت ہیں۔ ان کے نتیجہ میں ایسے اخراجات عائد ہوتے ہیں جنہیں کاروباری لوگ مشکل سے برداشت کر سکتے ہیں۔اختیارات کے ارتکاز‘ پیچیدہ طریقہ کار اور مبہم معیارات کی وجہ سے نہ صرف فیصلہ سازی سست ہوجاتی ہے بلکہ سرکاری اہلکاروں کو ناجائز مالی فائدہ حاصل کرنے کے مواقع بھی مل جاتے ہیں۔ یہ انتظامات اس لیے برقرار ہیں کیونکہ وہ معاشی لین دین پر اہلکاروں کا اختیار قائم رکھتے ہیں۔ تاہم حکومتی نظام کو اس بات کی سمجھ نہیں کہ انتظامی قواعد اور سرکاری افسروں کے رویہ کی وجہ سے کاروباری ماحول کس طرح متاثر ہوتا ہے اور کاروباری لوگوں کی کتنی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔زیادہ اہم بات یہ ہے کہ حکومت کے بہت سے فرائض اب متروک یا غیر ضروری ہو چکے ہیں۔ متعدد اداروں کے اختیارات اکثر ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں اور وہ ایک جیسی سرگرمیاں انجام دیتے ہیں۔ اسلام آباد کے بلیو ایریا سے گزرتے ہوئے بے شمار سرکاری دفاتر نظر آتے ہیں جن کے نام خود مختلف حکومتی اداروں کیلئے غیر مانوس ہیں اور انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ یہ ادارے کرتے کیا ہیں۔ 18ویں ترمیم کے بعد اختیارات صوبوں کو منتقل کر دیے گئے لیکن وفاقی حکومت کے حجم میں اس کے مطابق کمی نہیں کی گئی۔ حتیٰ کہ کسی ایک حکومت (وفاقی ہو یا صوبائی) کے اندر بھی متعلقہ فرائض اکثر کئی محکموں اور خودمختار اداروں میں بٹے ہوئے ہیں۔ بعض وزارتوں کی ذمہ داریوں اور ان سے منسلک ایجنسیوں کے فرائض میں فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اختیارات کی اس تقسیم کے نتیجہ میں کارکردگی متاثر ہوتی ہے اور پالیسی میں ہم آہنگی‘ اس پر عملدرآمد اور اداروں کے درمیان باہمی رابطہ کمزور پڑ جاتا ہے۔ اگرچہ ریاستی مشینری کمزور ہوگئی ہے لیکن بااثر نیٹ ورکس اس استحصالی نظام کو جاری و ساری رکھنے کیلئے سرگرم ہیں۔اس پورے ریگولیٹری ڈھانچہ کی بنیاد بیوروکریسی کا یہ یقین ہے کہ مارکیٹ پر بڑی حد تک اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔ بیوروکریسی کو یہ بھی یقین ہے کہ ریاست معاشی سرگرمیوں کو منظم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی اداروں (ڈونرز) نے بھی بعض اوقات مختلف ممالک میں ایک جیسے ادارہ جاتی انتظامات کو فروغ دیا جس سے اس حکومتی رجحان کو تقویت ملی حالانکہ ان ممالک کے حجم‘ صلاحیت اور ادارہ جاتی کلچر میں نمایاں فرق ہے اور یہ بھی ضروری نہیں کہ ان اداروں میں تقرریاں بھی میرٹ کی بنیاد پر ہوں۔ہماری سول سوسائٹی بھی اکثر مارکیٹ کو شک کی نگاہ سے دیکھتی ہے جس سے بیوروکریسی کو ریگولیشنز بنانے کا مزید جواز مل گیا۔ مارکیٹ پر مبنی ترغیبات اور سزاؤں کے نظام کو رائج نہیں کیا گیا بلکہ براہ راست سرکاری کنٹرول کو ترجیح دی گئی۔ پاکستان کی اپنی معاشی ترقی بھی اس طور سے ہوئی جس سے اس حکومتی رجحان کو تقویت ملی۔ وہ اس طرح کہ ابتدا میں ہمارا متوسط طبقہ متحرک اور آزادانہ معاشی ترقی کے عمل کے نتیجہ میں وجود میں نہیں آیا بلکہ اس کی تشکیل بڑی حد تک سرکاری شعبہ میں ملازمت کے ذریعہ ہوئی۔ آج بھی بہت سے لوگ یہ تصور نہیں کرسکتے کہ وہ ریاستی سرپرستی کے بغیر ترقی کرسکتے ہیں۔ وہ ریاست کو ایک کُلی اختیار کا حامل سرپرستی کا ادارہ سمجھتے ہیں جو اس بات کا ذمہ دار ہے کہ انہیں خطرات سے تحفظ دے اور ہر ممکن ضرورت پوری کرے۔ اس سارے عمل کا نتیجہ ہر شعبہ زندگی میں وسیع پیمانہ پر ریاستی مداخلت کی صورت میں نکلا۔ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کی تحقیق کے مطابق حکومت کے ملکیتی اداروں اور خصوصی ریگولیٹری حکم ناموں (ایس آر اوز) کے کلچر کی بنا پر معیشت کا تقریباً 70 فیصد حصہ ریاست کے زیر اثر ہے۔ 120 سے زیادہ ریگولیٹری اداروں اور تجارتی اور کاروباری ریگولیشنز کا ایک پیچیدہ جال موجود ہے جو مارکیٹ کو مسخ کرتا اور کاروبار کرنے کی لاگت میں اضافہ کردیتا ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کا حجم بدستور بڑا ہے‘ وہ مداخلت پسند ہیں اور پوری طرح جوابدہ بھی نہیں۔ حکومتیں خدمت کے بجائے حکمرانی کرنے کی طرف زیادہ مائل ہیں۔ فیصلہ سازی کی مرکزیت اور فرسودہ اور حد سے زیادہ تعداد میں قواعد پر بلاسوچے سمجھے عمل۔ ان دو چیزوں نے مل جل کر معاشی ترقی کے امکانات کو شدید نقصان پہنچایا۔ اس حکمت عملی کے سبب جو ڈھانچہ‘ نظام اور کاروباری طریقہ کار وجود میں آئے ان کا نتیجہ یہ نکلا کہ حکومتی شعبوں میں ضرورت سے زیادہ عملہ بھرتی ہوگیا اور حکومت نے بہت زیادہ ذمہ داریاں سنبھال لیں۔ آج سرکاری شعبہ ریاست کی بنیادی ذمہ داریوں سے کہیں زیادہ فرائض انجام دے رہا ہے جبکہ اسے ایسی بیوروکریسی چلا رہی ہے جو اہلیت کی کمی‘ مبینہ طور پر مسلسل کم ہوتی ہوئی تنخواہوں کے باعث پست حوصلہ‘ بدعنوانی‘ سیاسی مداخلت اور کمزور جوابدہی کا شکار ہے۔ نظام صرف افسروں کی ضروریات اور سہولیات پوری کرنے میں لگا ہوا ہے لیکن عوام کو خدمات مہیا کرنے کی ذمہ داری پوری نہیں کر رہا۔ تعلیم کا شعبہ اس مسئلہ کی واضح مثال ہے۔ پاکستان کی آمدنی کی سطح والے ملک کے لیے تعلیم پر جی ڈی پی کا کم سے کم چار فیصد کے برابر رقم خرچ کرنا معمول سمجھا جاتا ہے لیکن اس کے مقابلہ میں پاکستان حکومت تعلیم کے سرکاری شعبہ پر تقریباً دو فیصد خرچ کرتی ہے (تازہ ترین اعداد وشمار اس سے بھی کم ہیں)۔ گویا تعلیم پر حکومتی اخراجات درکار اخراجات سے تقریباً 2 فیصد پوائنٹ کم ہیں‘ اسکے باوجود پاکستان میں ناخواندہ افراد کی شرح ان ملکوں سے تقریباً 24 فیصد پوائنٹ زیادہ ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ تعلیم پر کم وسائل اور فنڈز خرچ کیے جارہے ہیں بلکہ مسئلہ متعلقہ حکومتی اہلکاروں کی ناقص جوابدہی کا بھی ہے۔ان تمام باتوں کے باوجود اس بات کی سنجیدہ جانچ پڑتال نہیں کی جاتی کہ موجودہ فرائض‘ قواعد و ضوابط اور سرکاری روایات کس حد تک اب موزوں رہ گئے ہیں۔ دنیا میں ٹیکنالوجی تیزی سے بدل رہی ہے‘ بین الاقوامی مارکیٹ کے تقاضے بدلتے جا رہے ہیں‘ میڈیا بہت فعال ہے اور سول سوسائٹی بہت باخبر ہوگئی ہے اور اپنے حقوق پر اصرار کرنے لگی ہے‘ لیکن حکومتی نظام میں جمود کی صورتحال برقرار ہے۔ سول سروس کا نظام اور معاشرہ کے وہ بااثر طبقات کے ساتھ جو پالیسی سازی پر اثر انداز ہوتے ہیں‘ ان دونوں کا اتحاد ہے۔ اس گٹھ جوڑ کا موجودہ نظام کو برقرار رکھنے میں بڑا مفاد وابستہ ہے۔ یہ دونوں فریق بامعنی تبدیلی کی مزاحمت کرتے ہیں۔ اس لیے یہ توقع رکھنا حقیقت پسندانہ نہیں ہوگا کہ موجودہ انتظامی کلچر بنیادی ادارہ جاتی اصلاحات کے بغیر اچانک دیانت داری‘ انصاف‘ غیر جانبداری اور شفافیت اختیار کر لے گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_78012569.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مولانا صاحب پیپلز پارٹی کیلئے اہم کیوں؟(رشید صافی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-10-20/52878/13151817</link><pubDate>Tue, 20 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-10-20/52878/13151817</guid><description>وفاقی حکومت کے لیے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ پاکستان پیپلز پارٹی کی حمایت کے بغیر ممکن نہ تھا۔ اگر ایوانِ زیریں اور ایوانِ بالا میں پیپلز پارٹی وفاق کا ساتھ نہ دیتی تو اس آئینی اقدام کی صدارتی و پارلیمانی توثیق کرانا وفاقی حکومت کے لیے مشکل ہو جاتا۔ پیپلز پارٹی کی حمایت وفاقی حکومت کے لیے تو مددگار ثابت ہوئی مگر پیپلز پارٹی کو اب تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ناقدین یہ اعتراض کر رہے ہیں کہ صدر آصف علی زرداری نے اپنے ادوارِ اقتدار میں مختلف صوبوں میں گورنر راج نافذ کرنے کی ہیٹ ٹرک مکمل کر لی ہے۔ ایک ایسی جماعت کے لیے جو چھ دہائیوں سے آئین کی بالادستی‘ صوبائی خود مختاری اور جمہوریت کی بحالی کے نام پر سیاست کرتی آئی ‘ اس نوعیت کے سوالات کا سامنا کرنا نہ تو آسان ہے اور نہ ہی وہ اس ایمرجنسی کے نفاذ کو زیادہ عرصے تک طول دینے کی متحمل ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس تاثرکو زائل کرنے کے لیے پیپلز پارٹی کی قیادت اب متحرک نظر آتی ہے۔ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں سانحہ کارساز کے شہدا کی برسی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر اپوزیشن دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیے اور وفاق کا ساتھ دے تو خیبر پختونخوا سے ایمرجنسی اور گورنر راج کا فوری خاتمہ ممکن ہو سکتا ہے۔ اسی گفتگو کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس آئینی وسیاسی جمود کو توڑنے‘ ایمرجنسی کے خاتمے اور صوبے میں جمہوری نظام کی بحالی میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔اس میں دو رائے نہیں کہ کسی بھی انتظامی‘ آئینی یا سکیورٹی بحران کا پائیدار اور دیرپا حل جمہوری عمل اور سیاسی مذاکرات میں ہے۔ اگر مولانا فضل الرحمن کے سیاسی اثر و رسوخ اور مصالحتی کوششوں سے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا خاتمہ اور عوامی حکومت کی بحالی ممکن ہوتی ہے تو اس پیش رفت میں ذرہ برابر تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔ مولانا فضل الرحمن خیبر پختونخوا کی جغرافیائی اور سکیورٹی صورتحال سے بخوبی آگاہ ہیں‘ ان کی سیاسی بصیرت زبان زد عام ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ تصادم کے ماحول میں فریقین کے درمیان پُل کا کردار ادا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ تاہم یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسے وقت میں جب مولانا صاحب خود اس آئینی اقدام اور گورنر راج کی شدید الفاظ میں مذمت کر رہے ہیں‘ بلاول بھٹو نے صوبے سے ایمرجنسی کے خاتمے کیلئے آخر انہی کا نام کیوں لیا؟ مولانا صاحب کے علاوہ کوئی اور سیاسی رہنما کیوں نہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ بلاول بھٹو نے مولانا صاحب کا نام لے کر دہرے اور عمیق سیاسی مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ ایک طرف تو انہوں نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ پیپلز پارٹی بذاتِ خود ایمرجنسی یا غیر جمہوری اقدام کی حامی نہیں تھی بلکہ صوبے میں بدامنی اور پُرتشدد عناصر کی واپسی کے باعث پیدا ہونے والی خطرناک صورتحال نے ریاست کو یہ کٹھن قدم اٹھانے پر مجبور کیا۔ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت پر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ نہ صرف صوبے میں انتہا پسندی کو روکنے میں ناکام رہی بلکہ شدت پسند عناصر کی صوبے میں دوبارہ آمد کا ذمہ دار بھی پی ٹی آئی کی پالیسیوں ہی کو قرار دیا جاتا ہے۔اس تناظر میں بلاول بھٹو زرداری نے مولانا فضل الرحمن کو دو پیغامات دینے کی کوشش کی ہے۔ پہلا پیغام یہ ہے کہ پیپلز پارٹی دہشت گردی کی روک تھام اور قومی سلامتی کے معاملے پر وفاق اور ریاستی اداروں کے ساتھ بلا مشروط کھڑی ہے۔ دوسرا پیغام یہ ہے کہ سکیورٹی خدشات کے باوجود وہ صوبے میں جمہوریت کی معطلی کے حق میں نہیں اور عوامی نمائندگی کی بحالی چاہتی ہے۔ صوبے میں کسی بھی پائیدار سیاسی تصفیے یا جمہوری بحالی کے لیے تحریک انصاف کو مذاکراتی عمل کا حصہ بنانا نہایت اہم ہے۔ اس وقت اپوزیشن بالخصوص پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ جس سینئر رہنما کے گہرے اور قابلِ اعتماد سیاسی روابط ہیں وہ مولانا فضل الرحمن ہی ہیں۔ پی ٹی آئی کی قیادت مختلف سیاسی و آئینی بحرانوں کے مواقع پر مولانا کی رہائش گاہ پر حاضری دیتی رہی ہے اور ان سے مشاورت کرتی آئی ہے۔ بلاول بھٹو صوبے میں جمہوری نظام کی بحالی کے تو خواہاں ہیں مگر وہ دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیے پر کسی قسم کا سمجھوتا کرنے پر تیار نہیں۔ تاہم اس سیاسی منظر نامے کا ایک اور پہلو بھی ہے‘ اور وہ ہے نئے صوبوں کی تشکیل کا ایجنڈا۔ یہ وہ نکتہ ہے جہاں پیپلز پارٹی موجودہ وفاقی سیٹ اَپ اور مقتدرہ سے ہٹ کر الگ مؤقف رکھتی ہے کیونکہ وہ کسی صورت سندھ کی تقسیم کی حامی نہیں۔ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ مستقبل میں نئے صوبوں کے قیام کا مطالبہ زور پکڑ سکتا ہے اور اس حساس معاملے پر پارلیمنٹ یا سیاسی میدان میں دیگر جماعتوں کی حمایت کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مولانا فضل الرحمن جیسے اہم اتحادی کو اپنے ساتھ جوڑ کر رکھنا چاہتے ہیں تاکہ بوقتِ ضرورت وہ ان کا دست و بازو بن سکیں۔دوسری جانب مولانا فضل الرحمن موجودہ سیاسی صورتحال کو بخوبی دیکھ رہے ہیں۔ وہ یہ بات بھی بخوبی جانتے ہیں کہ ماضی قریب میں دو بڑی سیاسی جماعتوں نے کس طرح اپنے سیاسی مفادات کی خاطر ان کو استعمال کیا۔ دینی مدارس کی رجسٹریشن اور بینک اکائونٹس کی بحالی اور دیگر انتظامی امور سے متعلق ان سے جو وعدے کیے گئے تھے‘ اقتدار ملتے ہی ان وعدوں کو طاقِ نسیان پر رکھ دیا گیا۔ اس پس منظر کے بعد ایک بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ آنے والے دنوں میں مولانا فضل الرحمن ملک کی سیاسی بساط پر ایک بار پھر انتہائی اہم اور مرکزی کردار بن کر ابھرنے والے ہیں۔ وہ اپنی سیاسی قیمت‘ طاقت اور ساکھ سے نہ صرف آگاہ ہیں بلکہ یہ بھی جانتے ہیں کہ حالات کی تبدیلی کے ساتھ کس وقت‘ کس انداز میں اور کن شرائط پر اپنا سیاسی وزن کس پلڑے میں ڈالنا ہے۔خیبر پختونخوا کی موجودہ صورتحال صرف ایک انتظامی یا سکیورٹی مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ پاکستان کے وفاقی ڈھانچے‘ آئینی توازن اور سیاسی جماعتوں کے باہمی اعتماد کا ایک کڑا امتحان ہے۔ طاقت یا غیر معمولی اقدامات کے ذریعے انتظامی کنٹرول حاصل کرنا وقتی طور پر تو کارآمد ہو سکتا ہے لیکن عوامی بے چینی کو ختم کرنے اور پائیدار امن کے قیام کے لیے صرف سیاسی و جمہوری راستہ ہی کارگر ثابت ہو سکتا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے ایمرجنسی کے خاتمے کے لیے جس عزم کا اظہار کیا ہے یہ تازہ ہوا کا جھونکا ہے‘ اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ اقتدار کی اہم شراکت دار‘ پیپلز پارٹی ایمرجنسی کو طول نہیں دینا چاہتی۔ اگر بلاول بھٹو کی سیاسی حکمتِ عملی اور مولانا فضل الرحمان کے مصالحتی کردار کے نتیجے میں تمام سیاسی فریق کم از کم قومی ایجنڈے پر متفق ہو جاتے ہیں تو خیبر پختونخوا میں آئینی بحران کا خاتمہ ممکن ہو سکتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/222_48272610.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پہاڑوں اور پانیوں کے بیچ(سعود عثمانی )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-10-20/52879/70254915</link><pubDate>Tue, 20 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-10-20/52879/70254915</guid><description>نیند خواہ چند گھنٹوں کی ہو لیکن گہری اور پُرسکون ہو تو جسم سے روح تک شانتی بھر دیتی ہے۔ 28 ستمبر کو ساکاریا کے خوبصورت پُرسکون ہوٹل کی سہ پہر وہ ایسی ہی نیند تھی۔ ایسی گہری نیند‘ جیسے میں برسوں سے نہیں سویا تھا۔ جاگا تو پہلا خیال یہ تھا کہ ساکاریا چھوٹا سا شہر ہے‘ یہاں ریسٹورنٹس اور دکانیں بہت جلد بند ہو جاتی ہوں گی۔ لہٰذا سوچا فوراً اٹھا جائے اور رات کے کھانے کیلئے چلا جائے‘ ورنہ رات میں کھانے کیلئے پچھتاتا رہ جائوں گا۔باہر ہلکی اور تیز بارش ابھی جاری تھی۔ میں نے گوگل میپ پر کچھ طعام گاہیں ڈھونڈ لی تھیں‘ جو بیس منٹ کے پیدل فاصلے پر تھیں۔ بارش میں چلنا مشکل تھا لیکن اس کے سوا کوئی چارہ تھا بھی نہیں۔ نگر نگر گھومنے کے شوق اور اَن دیکھی بستیوں کا دانہ پانی چکھنے کی خواہش میں بادیہ پیمائی تو لازمی ہے۔ میں دور تک چلتا گیا یہاں تک کہ کچھ ریسٹورنٹس کے سائن بورڈ دکھائی دینے لگے۔ یہ چھوٹے بڑے ریسٹورنٹس ترکی کے روایتی کھانوں کے تھے لیکن اپنے مطلب کا کوئی ریسٹورنٹ نہ دیکھ کر مایوسی ہوئی۔ بھوک چمک اٹھی تھی اور جو بھی کچھ میسر تھا‘ اس پر ہی گزارہ کرنا تھا۔ پھر خدا نے مدد کی اور سی فوڈ کا ایک ریسٹورنٹ دیکھتے ہی میری آنکھیں چمک اٹھیں۔ ترکی میں مچھلی کی بے شمار اقسام اور بے شمار ڈشز ہیں۔ برصغیر سے ذائقوں سے کافی مختلف‘ مرچ مسالوں کے بغیر لیکن بہت لذیذ۔ کسی سالن کے بغیر یا باربی کیو سے الگ‘ صرف ابلی ہوئی مچھلی بھی بہت ذائقے دار ہوتی ہے۔ اکثر ڈشز کے ساتھ لذیذ سلاد لازمی ہے۔ سوختہ ٹماٹر یعنی آدھ جلے ہوئے ٹماٹر ان سلادوں کا حصہ ہیں۔ ترکی کی طرح ایران میں بھی اکثر کوئلوں پر بھنے ہوئے ٹماٹر کھانے کے ساتھ پیش کیے جاتے ہیں بلکہ اس کا چلن ایران میں زیادہ ہے۔بچپن سے ایک پہیلی کبھی سلجھائی نہیں جا سکی۔ لگ بھگ پورے ہندوستان‘ پاکستان میں عقیدے کی حد تک یہ بات معروف ہے کہ مچھلی کے ساتھ دودھ یا دودھ سے بنی ہوئی اشیا استعمال نہیں کرنی چاہئیں‘ اس سے برص کا مرض ہو جاتا ہے۔ بچپن سے بہت سے لوگ یہ بات سمجھاتے آئے تھے لیکن ملکوں ملکوں گھومنے کا موقع ملا تو یہ بات کسی اور جگہ نہیں سنی۔ حتیٰ کہ وہ ممالک جہاں مچھلی بہت زیادہ کھائی جاتی ہے‘ وہاں بھی یہ نہیں سنا۔ مثلاً بنگلہ دیش میں بیسیوں طرح کی مچھلی دسترخوان پر ہوتی ہے اور اس کے ساتھ دودھ سے بنی مٹھائیاں بھی۔ بلکہ وہاں تو مچھلی کو دہی کے ساتھ پکانا عام ہے‘ اسے دوئی ماچھ کہتے ہیں۔ جاپان‘ یورپ اور امریکہ میں تو کئی ڈشز ہیں جن میں مچھلی دودھ کے ساتھ بنائی جاتی ہے‘ فش پائی‘ کریمی فش سوپ اور ٹونا میلٹ سینڈوچ‘ جس میں ٹونا مچھلی کے ساتھ پنیر ہوتا ہے۔ یہ محض چند مثالیں ہیں۔ جدید تحقیق کہتی ہے کہ یہ محض دیسی قسم کا وہم ہے کہ مچھلی اور دودھ ملانے سے برص یا جسم پر سفید داغ پڑ جاتے ہیں۔ اور اس وہم کی جڑ آیور ویدک نظریے میں ہے کہ مچھلی گرم اور دودھ خاصیت میں ٹھنڈا ہوتا ہے اور ٹھنڈا گرم ملانے سے نقصان ہوتا ہے۔ رفتہ رفتہ میرے ذہن میں یہ بات پختہ ہوتی گئی کہ یا تو کسی خاص قسم کی مچھلی سے مسئلہ ہوتا ہو گا یا پھر یہ محض وہم ہے۔ لیکن اس دن ساکاریا ریسٹورنٹ میں اپنے لیے ابلی مچھلی اور ترکی لسی آئران کا آرڈر دیا تو انگریزی میں شدبدھ رکھنے والے ویٹر نے منع کر دیا۔ اس نے کہا کہ مچھلی کے ساتھ لسی نہیں پیتے۔ میں اتنی مد ت کے بعد یہ بات ترکی میں سن کر حیران سا ہو گیا۔ ویٹر اپنی بات پر مُصر رہا اور اس کے مشورے کے احترام میں لسی کے بجائے ترکی کا مقامی کولا منگوا لیا۔ یہ محض ایک ہوٹل اور ایک ویٹرکی بات نہیں۔ اسی سفر میں بعد میں کئی جگہ ایسا ہوا کہ آرڈر لینے والے نے ٹرائوٹ مچھلی کے ساتھ آئران سے منع کر دیا۔ گویا ترکی میں بھی یہ بات معروف ہے! اور لوگ اس پر عمل کرتے ہیں۔ کیا یہ بھی مقامی وہم ہے؟ بات کچھ سمجھ نہیں آئی۔ سعود صاحب! اس وقت تحقیق میں مت پڑو۔ سخت بھوک لگ رہی ہے۔ مچھلی‘ سلاد‘ روٹی اور کولا سے انصاف کرو۔ اور شیشے سے باہر گرتی مسلسل بارش کا لطف اٹھائو۔بند دکانوں‘ گرتی بارش اور سنسان سڑکوں سے ہوتا ہوا واپس ہوٹل پہنچا تو پورا بھیگ چکا تھا۔ اب مجھے فکر ہونے لگی تھی۔ خوبصورت شہر بارش میں مزید خوبصورت ہو جاتے ہیں۔ لیکن سیاح اور مسافر کو یہ فکر بھی ہوتی ہے کہ مسلسل بارش میں دیکھنے کی جگہیں کیسے دیکھی جائیں گی۔ میں جب سے ترکی پہنچا تھا‘ بارش میرے ساتھ ساتھ ہر شہر میں چلی آ رہی تھی اور دھوپ دیکھنے کا اتفاق کم ہی ہوا تھا۔ (اس وقت بھی جب میں یہ تحریر لکھ رہا ہوں‘ استنبول سے مسلسل خوفناک بارشوں کی خبریں اور وڈیوز سامنے آرہی ہیں۔ 1985ء کے بعد سے اتنی زیادہ بارشیں نہیں ہوئی تھیں۔ استنبول میں شہری نظام درہم برہم ہے۔ گاڑیاں پانی میں ڈوبی ہوئی ہیں اور کئی اموات کی بھی اطلاعات ہیں۔ خدا کرے کہ جلد سب معمول پر آ جائے)۔ سوچا کل کی کل دیکھی جائے گی‘ اس وقت خنک ہوا اور پانی کے چھینٹوں سے بھیگے جھونکوں میں‘ کھلے دریچے کے ساتھ بستر پر بیٹھ کر وہ ناول دوبارہ شروع کرتے ہیں جو کل سنسنی خیز موڑ پر چھوڑا تھا۔ معلوم نہیں کس وقت کھلی کتاب میرے سینے پر سر رکھ کر سو گئی۔ صبح آنکھ کھلی تو میں تازہ دم تھا۔ رم جھم ابھی جاری تھی۔ ناشتے سے فارغ ہو کر کچھ وقت اگلا پروگرام بنانے کیلئے مل گیا تھا۔ میزبان مجھے لینے آئے تو یہ طے ہوا کہ پہلے سکاریا یونیورسٹی کے وہ شعبے دیکھنے ہیں جو کل نہیں دیکھ سکے تھے۔ ہم الٰہیات کی فیکلٹی میں پہنچے‘ یعنی دینیات اور متعلقہ علوم کی فیکلٹی میں‘ تو اس کے غیر معمولی انتظام اور خوبصورتی نے دل خوش کر دیا۔ بتایا گیا کہ یہاں ہزاروں طلبہ مختلف درجات میں پڑھتے ہیں جن میں طالبات کی اکثریت ہے۔ ڈاکٹر محمود نے اپنے مختلف پروجیکٹس کے بارے میں بتایا۔ یہاں ایک مختلف سا شعبہ موسیقی کے ان آلات سے متعلق بھی تھا جو ہمارے روایتی ذخیرے میں معروف ہیں مثلاً &#39;نے‘ یعنی بانسری اور دف وغیرہ۔ ہم تادیر کتب خانے‘ آڈیٹوریم وغیرہ میں گھومتے رہے۔ مخطوطات کا حصہ خاص طور پر منفرد تھا جہاں ہم نے کافی وقت گزارا۔سکاریا یونیورسٹی کی ڈھلانوں سے اترتے ہوئے ساپانجا جھیل اپنی وسعت کے ساتھ ہمارے سامنے تھی اور اب ہم جھیل سے قریبی ملاقات کیلئے ہی جا رہے تھے۔ ساپانجا جھیل سے ہمیں تیس کلومیٹر دور ایک دوسرے پہاڑی شہر معشوقیے جانا تھا۔ میں نے وہاں ایک ہوٹل میں بکنگ پہلے سے کرا رکھی تھی۔ ڈاکٹر محمود اور ڈاکٹر خلیل کچھ پریشان لگتے تھے۔ معلوم ہوا کہ مسلسل بارشوں سے پہاڑی بستیوں میں سیلاب آئے ہوئے ہیں‘ کئی جگہ سڑکوں پر پانی ہے اور راستے بند ہیں۔ ریڈیو پر بھی مسلسل اعلانات ہو رہے تھے کہ کون سا راستہ اختیار کیا جائے۔ جھیل تک پہنچتے پہنچتے یہ سیلاب سامنے نظر آنے لگے۔ کئی جگہ گھوم کر جانا پڑا اور بالآخر ہم جھیل کے سامنے بنے خوبصورت ریسٹورنٹس تک پہنچ گئے۔ حسنِ ذوق ترکوں پر ختم ہے۔ خوبصورت باغ‘ پھولوں سے بھرے پودے اور بیلیں‘ درمیان میں بنی روشیں‘ باغ کے ایک گوشے میں بنا ریسٹورنٹ جس کی شیشے کی دیوار جھیل کے رخ پر تھی اور سامنے دور تک جھیل کا حسن بارش اور دھند کے پردوں سے رہ رہ کر جھانکتا تھا۔ اس وقت کافی یا چائے کسی چیز کی طلب نہیں تھی‘ طلب تھی تو جھیل کنارے کرسیوں پر بیٹھ کر اس منظر کو دل میں محفوظ کرنے کی۔ ہم رم جھم میں کتنی دیر وہاں بیٹھے‘ کتنا وقت شیشے کی دیوار کے ساتھ میز پر گزارا‘ یہ تفصیلات چھوڑتے ہیں۔ یہ دن دل میں محفوظ ہے‘ اور ہمیشہ رہے گا۔ لیکن اب مزید رکنا ممکن نہیں تھا کہ ہمیں دور جانا تھا۔ گاڑی میں بیٹھے تو نکلنے کے سبھی راستے پانی سے بھرے ہوئے تھے اور وہاں جانا محفوظ نہیں تھا۔ اب ہمیں اس راستے کی تلاش تھی جو ہمیں تیس کلومیٹر دور پہنچا سکے۔ یہی زندگی ہے حضور! ساری زندگی محفوظ راستے کی تلاش میں گزر جاتی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_81278520.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>