<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>انتظامی طرزِ نو اور بہتر حکمرانی(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-23/11478</link><pubDate>Sun, 23 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-23/11478</guid><description>چیئرمین پنجاب گروپ آف کالجز‘ ماہر تعلیم اور سابق ضلع ناظم لاہور میاں عامر محمود نے گزشتہ روزلاہور میں ’’میرا صوبہ‘ میرا نظام‘‘آگاہی مہم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بجا طور پر اس جانب توجہ دلائی کہ ہمیں حکمران بدلنے کے بجائے نظام بدلنا ہوگا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک کو درپیش مسائل پر جب بھی بحث ہوتی ہے تو عموماً سیاسی جماعتوں کی کارکردگی یا حکومتوں کی ناکامی پر مرکوز ہو جاتی ہے۔ اچھی قیادت اور مؤثر حکومت یقینا کسی بھی ملک کی ترقی کیلئے ضروری ہیں مگر پاکستان میں گزشتہ پون صدی کے دوران مختلف سیاسی نظام اور حکمران آئے لیکن انتظامی کمزوریاں‘ علاقائی محرومی‘ وسائل کی غیرمساوی تقسیم اور عوام سے حکومت کا  فاصلہ برقرار رہا۔ اس لیے اب وقت آ گیا ہے کہ مسئلے کو صرف سیاسی نہیں انتظامی زاویے سے بھی دیکھا جائے۔ دنیا کے ہر ملک نے آبادی بڑھنے کیساتھ اپنے انتظامی یونٹس کی تعداد میں اضافہ کیا مگر ہمارا ملک شاید واحد مثال ہے کہ قیام پاکستان کے وقت سے اب تک آبادی میں سات گنا اضافہ ہو گیا مگرصوبوں کی تعداد وہی کی وہی ہے۔ ہمارے ہاں نئے صوبوں کی تشکیل  کی راہ میں سیاسی رکاوٹیں ڈالی گئیں اور شبہات پیدا کئے گئے۔ ایک بڑا مغالطہ یہ پیدا کیا گیا کہ نئے صوبے بنانے سے اخراجات میں اضافہ ہو جائے گا حالانکہ صوبے چھوٹے ہونے سے بیوروکریسی کی تعداد کم ہو جائے گی۔

بڑے صوبوں کیلئے اضافی بیوروکریسی اور دیگر لوازمات کی ضرورت پڑتی ہے‘ جب بڑے صوبے کئی چھوٹے یونٹس میں تقسیم ہو جائیں گے تو ان اضافی اخراجات کی ضرورت نہیں رہے گی۔ سب سے بڑا فرق یہ آئے گا کہ صوبوں کے مالی وسائل ان صوبے میں تشکیل پانے والے سبھی انتظامی یونٹس میں طے شدہ فارمولے کے مطابق تقسیم ہوں گے۔ اس طرح صوبوں کے وہ علاقے جو دور دراز ہیں اور حکومتی ترجیحات میں اوپر  نہیں آ سکے انہیں بھی وسائل میسر آئیں گے‘ مقامی سطح پر ترقی ہو گی اور محرومیوں کا خاتمہ ممکن ہو گا۔ پاکستان کے نوجوان بھی اصلاحات کے متقاضی ہیں۔ نوجوان ملک کی اکثریتی آبادی پر مشتمل ہیں اور جمہوری اصول یہ ہے کہ اکثریتی آبادی کو نظامِ حکومت میں ترجیحی شراکت داری ملے مگر ہمارے نوجوان کسی کی ترجیحات میں نہیں۔ اس صورتحال نے نوجوانوں کو مایوسی اور محرومی کے احساس سے دوچار کیا ہے۔ حکومتیں نہ ان کیلئے حسبِ ضرورت روزگار کے مواقع پیدا کر سکتی ہیں اور نہ تعلیم و تربیت کے وافر مواقع۔ اور المیہ یہ کہ نوجوانوں کیلئے سیاست میں جگہ بنانے کی گنجائش اور امکانات بھی نہ ہونے کے برابر ہیں۔
صوبائی اور وفاقی سیاست تو عام آدمی کے بس کا روگ نہیں‘ عام آدمی صرف مقامی سطح کے سیاسی دھارے میں پاؤں رکھنے کا سوچ سکتا ہے مگر ہمارے ہاں بلدیاتی انتخابات نہ باقاعدہ ہیں اور نہ انہیں وہ اہمیت حاصل ہے جو اس نظامِ حکومت کو ہونی چاہیے۔ شاید ہی کسی سیاسی حکومت نے بلدیاتی انتخابات معمول کے مطابق کروائے ہوں اور وسائل اور اختیارات منتخب نمائندوں کو سونپے ہوں۔ اٹھارہویں آئینی ترمیم میں صوبوں کو صرف مالی وسائل اور اختیارات نہیں ملے تھے ان پر کچھ آئینی ذمہ داریاں بھی ڈالی گئی تھیں‘ مقامی حکومت کا نظام قائم کرنا اور سیاسی‘ انتظامی اور مالی اختیارات اور ذمہ داریو ں کی منتقلی۔  مگر یہ سب نہیں ہو سکا۔ مالی وسائل صوبوں کو مل گئے مگر آگے منتقل نہ ہوئے۔
صوبے این ایف سی کی تو بات کرتے ہیں مگر پی ایف سی کا نہ کہیں ذکر ہے نہ کسی کو خبر ہے۔ اس صورتحال میں چھوٹے صوبے اور بلدیاتی حکومتوں کا مؤثر نظام وقت کی اہم ضرورت ہے۔ صرف یہی ایک طریقہ ہے ملک کو اچھی گورننس دینے کا۔ بہترین مستقبل اچھی گورننس کے بغیر ممکن نہیں اور بہترین گورننس کیلئے انتظامی ڈھانچے پر توجہ دینا ہو گی۔ یہی اگلی نسلوں کی خوشحالی اور ترقی کی بنیاد ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>غیر قانونی کال سنٹرز کا جال(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-23/11477</link><pubDate>Sun, 23 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-23/11477</guid><description>اسلام آباد میں ایک غیر قانونی کال سنٹر سے سائبر فراڈ میں ملوث 284غیر ملکیوں کی گرفتاری کے بعد حکومت نے ملک بھر میں غیر قانونی کال سنٹرز کیخلاف گرینڈ آپریشن کا فیصلہ کیا ہے۔ خبروں کے مطابق گرفتار غیر ملکی سادہ لوح شہریوں کو سائبر فراڈ‘ بلیک میلنگ اور سرمایہ کاری کے نام پر لوٹ رہے تھے۔ جبکہ بعض آن لائن فحش مواد کے عالمی نیٹ ورک سے بھی وابستہ تھے۔ یہ صورتحال پاکستان کیلئے بدنامی کا باعث ہے۔ ایک طرف سادہ لوح شہریوں کا مالی استحصال کیا جا رہا ہے‘ دوسری طرف ایسے منظم جرائم ملک کے عالمی تشخص کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ اگران منظم جرائم پیشہ گروہوں کی وجہ سے ملک کو سائبر جرائم کیلئے محفوظ پناہ گاہ سمجھا جانے لگا تو اس سے بیرونی سرمایہ کاری اور ڈیجیٹل معیشت متاثر ہوسکتی ہے۔

گرینڈ آپریشن صرف چھاپوں‘ گرفتاریوں اور مقدمات تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ گرفتار غیر ملکی ملزمان کیخلاف قانون کے مطابق کارروائی مکمل کرکے انہیں فارن کنٹرول لسٹ میں شامل کیا جائے اور انکے ممالک کو بھی انکے جرائم سے آگاہ کرکے کارروائی کا مطالبہ کیا جائے۔ تاہم سب سے اہم کام انکے مقامی سہولت کاروں اور اصل سرپرستوں کو بے نقاب کرنا ہے۔ یہ بات ناقابلِ فہم ہے کہ سینکڑوں غیر ملکی یہاں بڑے پیمانے پر کال سنٹر قائم کریں اور کسی مقامی معاونت کے بغیر طویل عرصے تک یہ سرگرمیاں جاری رکھیں۔ یہ آپریشن اسی وقت کامیاب ہو گااس پورے جرائم پیشہ نیٹ ورک کی جڑیں کاٹ دی جائیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>زراعت کی بحالی، معیشت کی بحالی(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-23/11476</link><pubDate>Sun, 23 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-23/11476</guid><description>وزیراعظم شہباز شریف نے زرعی شعبے کی اصلاحات اور حکومت کے پالیسی اقدامات پر عملدرآمد کے جائزہ اجلاس میں فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کیلئے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کسانوں کو معاونت فراہم کرنے کا کہا ہے۔ زراعت جیسے بنیادی شعبے کیلئے یہ اعلان خوش آئند ہے تاہم اصل کام اعلانات نہیں بلکہ ان پر مؤثر اور شفاف عملدرآمد ہے۔ زراعت ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ جی ڈی پی میں زرعی شعبے کا حصہ 23.44 فیصدہے اور ملکی لیبر فورس کا تقریباً 37.4 فیصد اس شعبے سے وابستہ ہے۔ اسکے باوجود گزشتہ مالی سال میں اسکی شرح نمو 2.89 فیصد رہی۔ کروڑوں پاکستانیوں کے روزگار اور غذائی تحفظ کا بنیادی ذریعہ ہونے کے باوجود یہ شعبہ زبوں حالی کا شکار ہے۔

مہنگے بیج‘ کھاد‘ زرعی ادویات‘ بجلی‘ ڈیزل اور مشینری نے پیداواری لاگت بہت زیادہ بڑھا دی جبکہ کسان کو اپنی پیداوار کی مناسب قیمت کے حصول کیلئے بھی مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ زراعت کی بحالی کیلئے حکومت کو سستے اور معیاری زرعی مداخل کی فراہمی یقینی بنانا ہوگی۔ پرانے اور ناقص بیجوں‘ روایتی طریقہ کاشت‘ جدید زرعی ٹیکنالوجی سے محدود استفادہ اور کمزور زرعی توسیعی نظام کی وجہ سے ہماری پیداواری صلاحیت محدود ہے۔ حکومت کو زرعی تحقیقاتی اداروں کو فعال بنانا ہوگا تاکہ زراعت کو حقیقی معنوں میں ترقی دی اور پیداوار بڑھائی جا سکے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>’’مولو مصلّی‘‘ کی آواز(مجیب الرحمٰن شامی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mujeeb-ur-rehman-shami/2026-08-23/52532/63726518</link><pubDate>Sun, 23 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mujeeb-ur-rehman-shami/2026-08-23/52532/63726518</guid><description>اس بات کو ثابت کرنے کے لیے تو کسی دلیل یا ثبوت کی ضرورت نہیں‘ ہر شخص اسے جانتا اور مانتا ہے کہ ڈاکٹر امجد ثاقب ہزاروں‘ لاکھوں‘ کروڑوں نہیں‘ اربوں میں ایک ہیں۔ پوری دنیا میں ایک۔ اپنی مثال آپ اور اپنا جواب آپ۔ پنجاب کے ایک چھوٹے سے قصبے کمالیہ میں پیدا ہونے والے اس شخص نے وہ کر دکھایا ہے جو کوئی اور نہیں کر سکا۔ قرضِ حسنہ کا جو پروگرام وہ چلا رہے ہیں اور اسے چلانے کے لیے &#39;&#39;اخوت‘‘ کی جو تحریک انہوں نے برپا کی ہے‘ یا یہ کہیے کہ &#39;&#39;اخوت‘‘ نام کے ادارے کو جنم دیا ہے‘ اس کا کوئی موازنہ کسی دوسرے ادارے یا تحریک سے نہیں ہو سکتا۔ پاکستان کو یہ شرف حاصل ہوا ہے کہ اس کے ایک شہری نے بلاسود قرض  کے ذریعے لاکھوں گھرانوں کی تقدیر بدل ڈالی ہے۔ انہیں غربت کے اندھیروں سے نکالا اور پُرامید شہری بنایا ہے‘ جن میں سے کئی اب اخوت کے ڈونر بن چکے ہیں۔ڈاکٹر صاحب نے جو لاکھوں گھرانوں میں اربوں روپے تقسیم کیے ہیں اور کرتے چلے جا رہے ہیں یہ انہیں کسی آئی ایم ایف یا ورلڈ بینک نے فراہم نہیں کیے۔ کسی بین الاقوامی ڈونر ایجنسی کے سامنے انہوں نے ہاتھ نہیں پھیلایا۔ اپنے ذاتی وسائل بھی ایسے نہیں تھے کہ وہ یہ انبار جمع کر سکتے۔ وہ سونے یا چاندی کا چمچ منہ میں لے کر نہیں پیدا ہوئے‘ ایک عام سے گھر میں آنکھ کھولی‘ ایک عام سے کاشتکار گھرانے میں عام سے بچے کی طرح پلے بڑھے۔ ایک عام سے سکول میں پڑھے۔ ان کے گھر میں تو بجلی بھی نہیں تھی کہ اس نعمت سے پاکستان پوری طرح آشنا نہیں ہوا تھا۔ پنکھا اور ریڈیو تو دور کی بات ہے۔ پیدل سکول جاتے اور پیدل واپس آتے۔ کتابیں پڑھنے کا البتہ شوق تھا‘ انہی کو دوست بنایا اور انہی کی صحبت میں شب و روز گزارنے لگے۔ نصابی کتابیں پڑھیں اور غیرنصابی کتابوں کا مطالعہ بھی کرتے چلے گئے۔ میٹرک کا امتحان پاس کیا تو گورنمنٹ کالج لاہور جا پہنچے‘ وہاں علامہ اقبالؒؒ کی خوشبو چار سُو پھیلی ہوئی تھی کہ اسی درسگاہ میں وہ پڑھے تھے‘ اور کچھ عرصہ پڑھایا بھی تھا۔ اقبالؒ کو پڑھتے پڑھتے اقبال مند ہو گئے۔ گورنمنٹ کالج سے نکلے تو کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج پہنچے‘ باقاعدہ ڈاکٹر بن گئے‘ مقابلے کے امتحان میں بیٹھے تو اسے پاس کر لیا۔ سول سروس جائن کر لی‘ بین الاقوامی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع بھی ملا لیکن سب کچھ مل جانے کے باوجود تشنگی برقرار تھی‘ چین نہیں آ رہا تھا۔ اپنے لیے تو بہت کچھ کر لیا‘ حال ہی نہیں مستقبل بھی محفوظ ہو گیا۔ حکم چلانے کے لیے &#39;&#39;محکوم‘‘ بھی مل گئے لیکن بے قراری کو قرار نہیں تھا‘ اپنے لیے تو سب کرتے ہیں‘ کچھ مختلف کرنا چاہیے‘ اقبالؒ کا یہ شعر دماغ میں چپکا ہوا تھا ؎ ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھےآتے ہیں جو کام دوسروں کےاُنہیں رہ رہ کر وہ چھوٹا سا جگنو یاد آتا تھا‘ جو بلبل کی آہ و زاری سن کر بول اٹھا تھا:حاضر ہوں مدد کو جان و دل سےکیڑا ہوں اگرچہ میں ذرا ساکیا غم ہے جو رات ہے اندھیریمیں راہ میں روشنی کروں گااللہ نے دی ہے مجھ کو مشعلچمکا کے مجھے دِیا بنایاانہوں نے اپنے دل کی مشعل جلانے اور اندھیروں کے خلاف جان لڑانے کا فیصلہ کر لیا۔ ہجرت کے بعد رسول اللہﷺ نے مہاجرین اور انصار کے درمیان جو رشتہ &#39;&#39;مواخات‘‘ قائم کیا تھا‘ ایک کو ایک کا بھائی بنا دیا تھا۔ کم وسیلہ مہاجرین کی معیشت ان کے انصار بھائیوں کی معیشت سے منسلک کر دی تھی۔ مہاجرین اپنے پاؤں پر کھڑے ہوتے گئے تھے‘ انہوں نے سوچا کہ باوسیلہ پاکستانیوں کو اس طرف راغب کیا جائے۔ وہ اپنے وسائل کا کچھ حصہ اپنے کمزور بھائیوں کے لیے وقف کریں‘ وہ انہیں بلاسود قرض کی صورت فراہم کیا جائے‘ قرض کی یہ رقم گردش میں رہے گی‘ ایک کے بعد ایک استفادہ کرتا چلا جائے گا۔ یوں اخوت کے قرضِ حسنہ پروگرام کی بنیاد رکھ دی گئی‘ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے پاکستانی اس میں حصہ ڈالتے ہیں۔ مدینہ کی ریاست اسلامی جمہوریہ پاکستان کے لیے روشنی بن گئی ہے۔ڈاکٹر صاحب کردار کے ساتھ ساتھ گفتار کے غازی بھی ہیں‘ ان کا قلم بھی موتی بکھیرتا ہے۔ &#39;&#39;مولو مصلّی‘‘ کے نام سے شائع ہونے والا ان کی کہانیوں کا مجموعہ ان لوگوں سے ہماری ملاقات کراتا ہے جو ہمارے اردگرد پھیلے ہوئے ہیں‘ ہم ان سے روزانہ کہیں نہ  کہیں ملتے ہیں لیکن ہم میں سے بہت کم ان کے دل میں جھانکتے اور ان کا سر اپنے کندھے پر رکھ کر ان کی کہانی سنتے ہیں‘ ان کے شریکِ غم ہوتے ہیں‘ ان کے دل پر ہاتھ رکھتے ہیں۔ &#39;&#39;مولو مصلّی‘‘ کون ہے اور کہاں رہتا ہے‘ ڈاکٹر صاحب کی زبانی سنیے: &#39;&#39;بہت عرصہ پہلے کی بات ہے ایک بار کچھ پولیس افسروں نے ایک گھر کی تلاشی لینا چاہی تو جواب ملا یہ چودھریوں کا گھر ہے‘ کسی مولو مصلّی کا نہیں۔ اس پر پولیس افسران نے ہاتھ جوڑے‘ معافی مانگی اور یہ کہہ کر واپس لوٹ آئے کہ ہمیں علم نہ تھا کہ یہ چودھریوں کا گھر ہے‘ مولو مصلّی کا گھر ہوتا تو کب کے داخل ہو چکے ہوتے۔ مولو مصلّی جس کا یہاں ذکرہوا‘ کون بدنصیب ہے‘ اس کے گھر میں اور چودھریوں کے گھر میں کیا فرق ہے‘ کیا اس کی ماں بہن اور چودھریوں کی ماں بہن برابر نہیں۔ مولو مصلّی کے گھر میں پولیس بلا دریغ گھس سکتی ہے لیکن چودھریوں کے گھر پر دستک دے تو ان کے محافظ سینہ تان کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اس خبر میں صدیوں سے جاری اس ظلم کی ایک جھلک ملتی ہے جو آج کروڑوں مولو مصلیوں کا مقدر بن چکا ہے‘‘۔ ڈاکٹر امجد ثاقب مولو مصلّی کو چودھری اور چودھری کو مولو مصلّی تو شاید نہیں بنانا چاہتے لیکن دونوں کی عزت‘ جان اور مال کو ایک ہی ترازو میں ضرور تولنا چاہتے ہیں۔ قانون کی نظر میں دونوں کو چودھری ہونا چاہیے اور دونوں کو مصلّی بھی۔ امیرالمومنین ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے الفاظ میں: &#39;&#39;جو تم میں سے کمزور ہے وہ میرے نزدیک طاقتور ہے‘ جب تک میں اس کو اس کا حق دلا نہ دوں اور جو طاقتور ہے وہ میرے نزدیک کمزور ہے‘ جب تک کہ میں اس سے دوسرے کا حق واپس نہ لے لوں‘‘۔پاکستان اسی لیے بنایا گیا تھا کہ یہاں مولو مصلّی اور چودھری میں کوئی فرق نہیں ہو گا‘ دونوں ایک ہی مسجد میں نماز پڑھیں گے‘ ایک ہی چار پائی پر بیٹھ کر حقہ پئیں گے اور ایک ہی دستر خوان پر بیٹھ کر روٹی کھا سکیں گے۔ دونوں کے بچے ایک ہی سکول میں تعلیم حاصل کریں گے‘ ان کے لیے ایک ہی ہسپتال ہو گا‘ ایک سے مواقع ان کو میسر ہوں گے اور اپنی اپنی زندگی گزار کر وہ ایک ہی مٹی میں میٹھی نیند سو جائیں گے۔ ڈاکٹر امجد ثاقب مولو مصلّی اور اس جیسے دوسرے افتادگانِ خاک کی کہانیاں ہمیں سنا کر یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ کیا ہم نے وہ پاکستان بنا لیا ہے جس کا خواب دیکھا اور دکھایا گیا تھا۔ اگر جواب نفی میں ہے تو پھر آرام سے کیوں بیٹھا جائے۔ڈاکٹر صاحب اس منزل کی طرف قدم بڑھا رہے ہیں۔ آئیے ہم بھی ان کے ساتھ مل جائیں‘ کئی مولو مصلّی‘ دوست محمد موچی‘ محمد دین اور اللہ دتے ہمارا انتظار کر رہے ہیں۔ شناخت اور توقیر سے محروم ٹرانس جینڈر‘ اور روندی ہوئی عورتیں ہماری راہ تک رہی ہیں۔  ایسے عالم میں قیام اور آرام حرام ہے‘ حرام ہے اور حرام ہے۔ (اولڈ راونیز ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام ڈاکٹر امجد ثاقب کی کتاب &#39;&#39;مولو مصلّی ‘‘ کی تقریب پذیرائی میں پڑھا گیا)۔(یہ کالم روزنامہ &#39;&#39;پاکستان‘‘ اور روزنامہ &#39;&#39;دنیا‘‘ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_37052987.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>اتنی مختصر کہاں غم کی شام(ایاز امیر)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-08-23/52533/62681048</link><pubDate>Sun, 23 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-08-23/52533/62681048</guid><description>کیسی نفسیاتی حالت قوم کی بن گئی ہے کہ ہر ٹرک کی بتی کے پیچھے لگ جاتی ہے۔ ہسپتال منتقلی کا ناٹک صرف پی ٹی آئی سے نہیں ہوا بلکہ پوری قوم سے ہوا کیونکہ سب ہی اس بات میں آ گئے تھے کہ سپریم کورٹ کا حکم آیا ہے تو ضرور کچھ نہ کچھ بات ہو گی۔ ہسپتال منتقلی بھی ہو جائے گی اور شاید معتوب جماعت کے اچھے دن آنے والے ہیں۔ تجزیہ کاروں کی صرف اب کھیپ نہیں رہی یوٹیوب کی مہربانی سے اب تو ایک پوری فوج تیار ہو چکی ہے۔ کچھ دن یہ فوج بھی اسی کام پر لگی رہی کہ بس اب کچھ بڑا ہونے والا ہے۔ لیکن جو ہوا اور جس انداز سے ہوا وہ قوم کیلئے ایک سبق ہے۔ بنیادی سبق یہ کہ جب تک کوئی سیاسی زلزلہ نہ آئے سیاسی حقیقتیں جوں کی توں رہتی ہیں۔ اقتدار کا اصل کیا ہے اور اقتدار کی نمائش کیا ہے سب کو پتا ہے۔ گو واضح مجبوریوں کی وجہ سے سب کچھ بیان نہیں کیا جا سکتا۔ جو اصل اقتدار ہے اُس کا بنیادی تضاد کس سے ہے؟ اڈیالہ کے قیدی سے اور اُس کی جماعت سے۔ جماعت سے بھی اس لیے کہ مخصوص قیدی کی جماعت ہے‘ نہیں تو جس قسم کی باقی قیادت ہے وہ اصل اقتدار کیلئے کوئی مسئلہ نہیں۔ یہ کوئی انقلابی جماعت تو ہے نہیں‘ لیڈر کی وجہ سے جماعت کا ایک مخصوص حلیہ بن گیا تھا جو کہ اصل والوں کی آنکھ میں کھٹکتا ہے۔ دوسری بڑی حقیقت ملک کی یہ ہے کہ ہمارے ہاں اقتدار کسی کے سامنے جوابدہ نہیں ‘ کسی کے تابع نہیں۔ ایسے میں حکم سپریم کورٹ کا چلنا تھا یا اقتدار کے مالکوں کا؟ لہٰذا وہی کچھ ہوا جو مالکوں کی مرضی اور منشا کے مطابق تھا۔ لیکن قوم بھٹک گئی۔ بتی اُسے دکھائی گئی اور اُس کے پیچھے لگ گئی۔ لیکن اب قوم ہوش میں آ گئی ہو گی کہ بنیادی حقیقتیں جوں کی توں ہیں اور اُن میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ نہ اقتدار والوں کی سوچ میں کوئی تبدیلی آئی ہے۔ ڈاکٹر عظمیٰ کا رونا‘ جو اُن کے ساتھ بیتی اُس پوری روداد کا بیان کرنا۔ پمز میں کیسے ایک کمرے میں بٹھایا گیا پھر کسی اور کمرے میں لے جایا گیا۔ سرسری سا معائنہ‘ ہسپتال کے راستے اندھیرے میں ڈوبے ہوئے۔ کہاں یہ حقیقت اور کہاں وہ خیالی منظر کہ شفا میں رکھا جائے گا اور دیکھ بھال ہو گی۔ ڈاکٹر عظمیٰ بہت کچھ کہہ گئیں جو میری دانست میں اُنہیں نہیں کہنا چاہیے تھا۔ ذہنی ٹارچر کا بار بار ذکر‘ یہ کہنا کہ تنہائی کی وجہ سے ذہنی اضطراب اور بلڈ پریشر کا بڑھ جانا‘ بار بار کے اس ذکر کی کیا ضرورت تھی؟ یہ سن کر اہلِ ستم کی خوشیوں کی انتہا نہ رہی ہو گی۔ اہلِ ستم کیلئے ڈاکٹر عظمیٰ کا رونا اور ذہنی ٹارچر کا ذکر کرنا اس امر کی تصدیق ہو گی کہ جو کچھ کیا جا رہا ہے کامیاب ثابت ہو رہا ہے۔ پھر مصر کے صدر مرسی کا ذکر کہ اسی طریقے سے درِ زنداں ان کی زندگی ختم ہوئی‘ میرے خیال میں بالکل ہی نامناسب تھا۔ کیونکہ جہاں یہ سن کر ہمدردی رکھنے والوں کے دل بوجھل ہوئے ہوں گے اہلِ ستم تو شادماں ہوں گے۔ اپنے جذبات پر کچھ ضبط کرنا چاہیے تھا۔ عجیب جماعت ہے‘ کوئی تو لیڈر وہاں ہوتا ڈاکٹر عظمیٰ کو بتانے کیلئے کہ کتنا کہا جائے اور کن پہلوؤں کو زبان پر نہ لایا جائے۔ پھر یہ کہنا کہ میں نے اُن سے کہا کہ ان سب کو دیکھ لیں گے‘ یہ تو پھر غیر محتاط گفتگو ہو گئی اور اس وقت معتوب جماعت کو اگر کچھ چاہیے وہ احتیاط اور دانش ہے۔پھر یہ جو روش ہے کہ ہر موقع پر کسی تحریک کا ذکر کرنا۔ احتجاج اور تحریک کے کتنے اعلان ہوئے‘ اُن سے حاصل کیا ہوا؟ جس کا یہ مطلب نہیں کہ حوصلے پست ہو جائیں اور جدوجہد ترک کر دی جائے۔ لیکن اتنا تو دیکھا جائے کہ کس موقع پر کیا کرنا ہے اور کیا کارگر ثابت ہو سکتا ہے۔ اقتدار کی اصل نوعیت سب جانتے ہیں۔ ظاہری حکومتیں کتنی بااختیار ہیں اور ان کی اپنی طاقت کیا ہے وہ بھی سب پر واضح ہے۔ پشاور سے کوئی جلوس نکلے تو جیسا کہ کئی بار دیکھا جا چکا ہے وہ ایک حد تک ہی آگے پہنچ پاتا ہے اور پھر واپسی کا سامان باندھنا پڑتا ہے۔ جب صورتحال ایسی ہو جیسا کہ اس وقت پاکستان میں ہے تو مجبوریوں کا ادراک ہونا چاہیے تاکہ جدوجہد تو جاری رہے لیکن دیوار میں سر نہ مارا جائے۔ حکمت اور معاملہ فہمی کی ضرورت ہے تاکہ جس صورتحال میں جماعت پھنس چکی ہے اس سے نکلنے کا کوئی راستہ نظر آئے۔ اتنی بات تو سمجھی جائے کہ جو کچھ ذوالفقار علی بھٹو ضیا رجیم کیلئے تھے وہی کچھ اڈیالہ کے قیدی موجودہ صورتحال میں ہیں۔ انگریزی کا لفظ ہے Existenceیعنی وجود۔ یہ وجود کی جنگ ہے‘ یا تم یا ہم۔ جہاں یہ صورتحال ہو وہاں ارادے لمبے ہو جاتے ہیں۔ صدر مرسی والی بات تھی صحیح میرا اعتراض تو صرف یہ ہے کہ صحیح ہونے کے باوجود اُس کا ذکر غیر دانشمندانہ تھا۔ ایوب خان کا دور لمبا تھا‘ ضیا الحق کا اُس سے بھی کچھ زیادہ۔ مشرف کا اتنا کم نہ تھا اور جیسا کہ نظر آ رہا ہے موجودہ دور کسی لحاظ سے بھی اختصار کی نوید نہیں دے رہا۔ ہوتا یہ ہے کہ اقتدار کا تختہ اُلٹ جائے جیسا کہ بھٹو کے ساتھ ہوا اور ہمارے سامنے عمران کے ساتھ ہوا ہے تو سیاسی حرارت اتنی پیدا ہوتی ہے اور دھول اتنی اُٹھتی ہے کہ آگے کچھ صحیح نظر نہیں آتا۔ بھٹو کے ساتھ یہ ہوا اور یہاں بھی یہی ہوا۔ بہرحال سوچ بچار کی ضرورت ہے۔ پاکستانی سیاست کی ہمیشہ کمزوری رہی ہے کہ سیاستدانوں کی سوچ کچھ زیادہ ہی وکیلانہ بن جاتی ہے۔ آئین اور قانون کا کمبل کچھ زیادہ ہی سروں پر چڑھا لیا جاتا ہے۔ جانتے ہوئے کہ ہماری ریاست میں آئین اور قانون کی حیثیت کیا ہے۔ ذوالفقارعلی بھٹو نے سپریم کورٹ کا راستہ نہیں اپنایا تھا؟ چار روز وہاں خود اپنی وکالت کی‘ کیا حاصل ہوا اُنہیں؟ اس ہسپتال ڈرامہ کے بعد ڈاکٹر عظمیٰ کی طرف سے توہینِ عدالت کی کارروائی سپریم کورٹ میں کی جا رہی ہے۔ ضرور کرنی چاہیے لیکن اس سے حاصل کیا ہو گا؟ تحریک والوں کو آپس میں بیٹھ کر کچھ سوچ بچار کرنی چاہیے۔ اور بات بات پر یہ جو ایک دوسرے پر الزام تراشیوں کا سلسلہ ہے کہیں تو ختم ہو۔ مشکل صورتحال کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ سب سے بڑی اور مقبول جماعت کو دوسرے لیڈروں کا سہارا لینا پڑ رہا ہے۔ اُن لیڈروں کی نیت پر کوئی شک نہیں لیکن پی ٹی آئی کیلئے وہ کچھ حاصل نہیں کر سکتے۔ کے پی کے میں پی ٹی آئی کی اپنی حکومت ہے۔ وہ ویسے بھی حساس صوبہ ہے‘ زوروں سے وہاں شورش برپا ہے۔ المیہ دیکھیں پی ٹی آئی کا کہ سیاسی سوچ کے حامل جو لوگ ہونے چاہئیں اُس کے پاس نہیں ہیں۔ اس لیے جماعت مارے مارے پھر رہی ہے۔ جہاں تک بہنوں کا تعلق ہے وہ قصور وار نہیں ٹھہرائی جا سکتیں کیونکہ اُنہوں نے تو جذباتی باتیں ہی کرنی ہیں۔ فی الحال تو اتنا ہی ہو جائے کہ کتب‘ اخبارات اور ٹی وی کی رسائی بحال ہو‘ ملاقاتیں کھل جائیں۔ ہجوم نہ ہو نہ وکلا کی لائنیں ہوں۔ ایک دو وکیل ہفتہ وار ملیں‘ بہنیں مل سکیں اندرونِ جیل بشریٰ بی بی کے حالات میں بھی کچھ نرمی آئے۔ باہر جو ہونا ہے ہوتا رہے۔ اٹھائیسویں ترمیم آئے‘ نیا سیاسی ڈھانچہ سامنے آئے۔ لیکن اندر کے حالات کچھ بہتر ہوں۔ یار زندہ صحبت باقی۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_80573045.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مذاق بنام سرکار(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-08-23/52534/46034186</link><pubDate>Sun, 23 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-08-23/52534/46034186</guid><description> ہمارے بھائی رضوان خان عمران خان کو پسند کرتے ہیں اور ان کے بارے میں فکر مند رہتے ہیں۔ مجھے اکثر وہ کراچی کے حالات بتاتے رہتے ہیں کہ یہاں بزنس مین اور دیگر طبقات کیا سوچتے ہیں اور وہ کیوں موجودہ سیاستدانوں میں عمران خان کو بہتر سمجھتے ہیں۔ یقینی طور پر ہر پاکستانی اپنے اپنے انداز میں ملک سے پیار کرتا اور اس کی بہتری کیلئے سوچتا ہے۔ خیر‘ انہوں نے مجھے ایئرپورٹ سے پِک کیا تو وہی روایتی سوال کیا جو ہم سب پاکستانی ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے۔ جمعہ کی رات عمران خان کی ہسپتال منتقلی کی کہانی چل رہی تھی اور ہفتہ کو صبح سویرے انہیں واپس جیل بھی بھجوا دیا گیا تھا‘ تو مجھے لگا وہ شاید اس بارے میں پوچھ رہے ہیں۔ تو میں نے کہا: رضوان بھائی خان صاحب کے حامیوں کے ساتھ تو پرینک ہی ہو گیا ہے۔ مجھے پتہ نہ تھا کہ انہیں ابھی خبر نہیں ملی کہ خان صاحب کو واپس جیل بھیج دیا گیا ہے۔ کچھ دیر بعد گاڑی میں کوئی اور بات ہوئی تو میں نے انہیں یہ ساری روداد تفصیل سے سنائی جس پر اُن کو جو جھٹکا لگا اسے شاید وہ بڑے عرصے تک نہ بھلا سکیں۔ کہنے لگے‘ اب مجھے سمجھ آئی کہ آپ نے کیوں کہا تھا کہ پی ٹی آئی والوں کے ساتھ پرینک ہو گیا ہے۔ مجھے خیال آیا کہ انسان کی اپنی خواہشات ہی اسے دھوکہ دیتی ہیں یا دھوکہ کھانے پر قائل کرتی ہیں۔ یہ پرینک ہمارے ساتھ کوئی اور نہیں کرتا‘ ہم خود کرتے ہیں جب دوسرے لوگ ہماری خواہشات کے ساتھ کھیلتے ہیں۔ ہماری خواہشات ہی ہمیں مضبوط کرتی اور یہی کمزور بھی کرتی ہیں۔ مجھے ڈاکٹر ظفر الطاف یاد آئے جو کہا کرتے تھے کہ کرکٹ میں جس کھلاڑی کا جو ایریا مضبوط ہوتا ہے‘ وہی اس کی سب سے بڑی کمزوری بھی ہوتی ہے۔ اپنی بات سمجھانے کیلئے وہ کہتے تھے کہ جس کھلاڑی کا کَور ڈرائیو بہت زبردست ہو گا تو مخالف ٹیم کا تھوڑا سا ہوشیار باؤلر یا کپتان اس کو وہیں پر کَور میں ہی آؤٹ کرائے گا۔ کھلاڑی کو خود پر بہت زیادہ اعتماد ہوتا ہے کہ میرے کَور ڈرائیو کا کوئی مقابلہ نہیں اور گولی کی رفتار سے گیند کَور سے نکلتی ہے اور کسی کھلاڑی کو اپنی جگہ سے ہلنے کا وقت نہیں ملتا‘ لیکن کسی دن کوئی اچھا فیلڈر اسی جگہ گیند کو کیچ کرلیتا ہے۔عمران خان اور اُن کے حامیوں کے ساتھ بھی یہی ہوا ہے۔ حکومت نے تاثر دیا کہ خان صاحب کو شفا ہسپتال شفٹ کر دیا گیا ہے لیکن صبح اُٹھے تو پتہ چلا کہ وہ دوبارہ جیل بھیج دیے گئے ہیں۔ لوگ حیرت اور صدمے کا شکار ہوئے کہ حکومت نے یہ کیا کر دیا۔ پی ٹی آئی جو بڑی مطمئن تھی کہ اب خان صاحب کم از کم اگلی پیشی تک ہسپتال میں رہیں گے اور پارٹی کو اب ہسپتال سے وہ چلا سکیں گے‘ پتہ چلا حکومت تو مذاق کر رہی تھی۔ یہ پہلا اور آخری موقع نہیں ہے کہ کسی حکومتِ وقت نے اپنے مخالف سیاستدانوں کے ساتھ پرینک کیا ہو۔ مجھے حکومت کا جو پہلا پرینک یاد پڑتا ہے وہ 2005ء میں کیا گیا تھا‘ جب آصف علی زرداری کو اُس وقت کی مقتدرہ نے کہانی ڈالی کہ اگر وہ دبئی سے لاہور واپس لوٹ کر وہاں اپنے ورکرز کے ساتھ بڑا شو کر سکیں تو وہ پرویز مشرف سے اسمبلیاں تڑوا کر نئے الیکشن کرا کر بینظیر بھٹو کو وزیراعظم بنوا دیں گے۔ ذہن میں رکھیں کہ آصف علی زرداری ابھی نئے نئے ڈیل کے بعد جیل سے صحت کی خرابی کی بنیاد پر دبئی گئے تھے۔ جیل میں ان کی مقتدرہ کے نمائندوں سے ملاقاتیں ہوتی رہتی تھیں جنہوں نے زرداری صاحب کو یہ کہانیاں ڈالی تھیں۔ زرداری صاحب نے وہ سب کہانیاں دبئی جا کر بینظیر بھٹو کو بیچیں۔ بی بی کو یقین نہ تھا لیکن زرداری صاحب کا یقین دیکھ کر انہیں موقع دیا کہ چلیں آپ مقتدرہ کو آزما لیں۔ زرداری صاحب دبئی سے پاکستانی صحافیوں کا جہاز بھر کر لاہور کیلئے اڑے اورساتھ ہی پورے ملک سے جیالوں کو لاہور پہنچنے کی کال دے دی۔ ان کا جہاز ایئر پورٹ پر لینڈ کیا ہی تھا کہ ایس پی لاہور کیپٹن مبین اندر آئے۔ زرداری صاحب کو کہا کہ صاحب میرے ساتھ چلیں‘ اور زرداری صاحب چپ چاپ ساتھ چل دیے۔ کیپٹن مبین نے زرداری صاحب کو جہاز کے باہر کھڑی گاڑی میں بٹھایا اور چلتے بنے۔ اور یوں زرداری صاحب کا انقلاب ایئرپورٹ پر ہی ختم ہو گیا۔ یعنی ان کے ساتھ پرینک ہو چکا تھا۔ زرداری صاحب نے گھر پہنچ کر ناشتہ کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ہمارے ساتھ پرینک ہو گیا‘ ورکرز لاہور نہ آئیں‘ جو جہاں ہے وہیں دھرنا دے یا گھر لوٹ جائے۔ اس کے چند روز بعد زرداری صاحب واپس دبئی چلے گئے اور چار سال کے بعد بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد پاکستان لوٹے تھے۔ میں اس پرینک کا گواہ ہوں۔اس طرح کا ایک پرینک میاں نواز شریف کے ساتھ بھی ہوا۔ دس ستمبر 2007ء کو انہوں نے لندن سے اپنے ساتھیوں اور صحافیوں کو ساتھ لیا کہ وہ جلاوطنی ختم کر کے پرویز مشرف کے رجیم کی مرضی کے خلاف وطن واپس لوٹ رہے تھے۔ ایئرپورٹ پر میں نے خود میاں صاحب کے ایک ترجمان کو انہیں کہتے سنا کہ پاکستان میں لوگ اس طرح آپ کا انتظار کر رہے ہیں جیسے ایران میں امام خمینی کا کیا گیا تھا۔ آپ پاکستان میں خمینی جیسا انقلاب لانے جا رہے ہیں۔ لاکھوں لوگ آپ کو ایئر پورٹ سے کندھوں پر بیٹھا کر رائیونڈ لے جائیں گے۔ پرویز مشرف کی حکومت آپ کا راستہ نہیں روک سکے گی۔ میاں نواز شریف بھی اپنی پارٹی قیادت کو زرداری صاحب کی طرح کال دے چکے تھے کہ وہ بندے ایئر پورٹ پر لائیں۔ جہاز پاکستانی حدود میں داخل ہوا تو نواز شریف صاحب نے جہاز کے اندر سے سیٹیلائٹ فون سے اپنی جماعت کے لیڈروں کو فون کرکے جاننا چاہا کہ کتنے لوگ ان کا انتظار کر رہے ہیں۔ سب کے فون بند ملے۔ میاں صاحب کو اس وقت پتہ چل گیا کہ انقلاب آنے سے پہلے ہی ختم ہو گیا ہے۔ ایئرپورٹ پر بندہ‘ نہ بندے کی ذات۔ پولیس نے نواز شریف صاحب کو پکڑا اور لے جا کر جدہ کیلئے تیار ایک اور جہاز میں بٹھا دیا۔ میاں نواز شریف‘ جنہیں بتایا گیا تھا کہ لاکھوں لوگ انہیں تمام رکاوٹیں توڑ کر کندھوں پر بیٹھا کر رائیونڈ چھوڑ آئیں گے‘ وہ اس وقت جدہ جا رہے تھے۔ میں اس واقعہ کا عینی شاہد ہوں۔ نواز شریف کے ساتھ بھی پرینک ہو چکا تھا۔اسی طرح کا ایک پرینک پرویز مشرف کے ساتھ بھی ہوا۔ وہ پاکستان چھوڑنے کے بعد دبئی میں رہائش پذیر تھے تو کسی نے ان کا فیس بک پر پیج بنا دیا۔ فیس بک پاکستان میں اس وقت نیا نیا پاپولر ہو رہا تھا۔ لوگوں نے پیج کو فالو کرنا شروع کر دیا۔ فالورز کی تعداد بڑھتے بڑھتے دس لاکھ تک پہنچ گئی‘ جو اُس زمانے میں بہت بڑی بات تھی۔ پرویز مشرف کو لگا کہ وہ تو پاکستان میں بہت مقبول ہیں کہ اس وقت کوئی ایسا فیس بک پیج نہ تھا جس کے دس لاکھ فالورز ہوں۔ پیج پر مشرف صاحب کی باتیں اور کلپس شیئر کیے جاتے تو نوجوان لڑکے لڑکیاں اس پر کمنٹس کرتے اور کچھ کہتے کہ وہ پاکستان کے اصلی بہادر جنرل اور حکمران تھے‘ جنہیں وہ مِس کرتے ہیں۔ یہ بھی کہ وہ زرداری اور شریفوں کی جمہوری حکومت سے تنگ ہیں اور ان کو دوبارہ پاکستان کو لیڈ کرنے کی ریکویسٹ کرنے لگے۔ یوں دھیرے دھیرے پرویز مشرف کو یقین ہو گیا کہ قوم انہیں دبئی بھیج کر پچھتا رہی ہے۔ انہیں پاکستان واپس جانا چاہیے۔ مقتدرہ کو اس پروگرام کا پتہ چلا تو ایلچی بھیجے کہ واپس نہ آئیں۔ مسئلہ ہو گا۔ مشرف صاحب نہ مانے۔ کراچی ایئرپورٹ پر اترے تو پوچھا کدھر ہیں میرے لاکھوں نوجوان؟ وہ ایئر پورٹ کے باہر میرا انتظار کر رہے ہیں۔ باہر نکلے تو بمشکل چند سو لوگ موجود تھے۔ پرویز مشرف کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ دس لاکھ فالورز میں سے صرف چند سو انہیں ویلکم کرنے آئے ہیں۔ پرویز مشرف نے مڑ کر ادھر اُدھر دیکھا۔ تب انہیں احساس ہوا کہ ان کے ساتھ بھی پرینک ہو چکا تھا۔ عمران خان‘ آصف علی زرداری‘ میاں نواز شریف یا پرویز مشرف کے ساتھ پرینک کسی اور نے نہیں کیا تھا‘ یہ پرینک ان کی حکمرانی کرنے کی خواہش نے کیا تھا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سیاسی غلطیوں کا خراج(رشید صافی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-08-23/52535/65504137</link><pubDate>Sun, 23 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-08-23/52535/65504137</guid><description>بانی تحریک انصاف عمران خان کی صحت اور ان کی طبی دیکھ بھال کا معاملہ جس طرح سے ملکی سیاست کے مرکز میں آیا ہے‘ اس نے نہ صرف قانونی و انتظامی بحث کو جنم دیا ہے بلکہ جمہوریت کی اخلاقی اقدار اور بنیادی انسانی رشتوں پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ پی ٹی آئی کی قیادت کو گلہ ہے کہ حکومت ان کے قائد کی صحت اور علاج میں غفلت اور عدم تعاون کی مرتکب ہے‘ جبکہ حکومت کی جانب سے یہ مؤقف پیش کیا جا رہا ہے کہ تمام اقدامات قانون‘ سکیورٹی کے خدشات اور انتظامی تقاضوں کے مطابق کیے جا رہے ہیں۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کشیدگی اس وقت شدت اختیار کر گئی جب سپریم کورٹ نے عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے اور اگلی سماعت تک وہاں ان کا جامع طبی معائنہ اور دیکھ بھال یقینی بنانے کی ہدایت جاری کی۔ پی ٹی آئی کا اعتراض یہ ہے کہ حکومت نے نہ صرف اپنے طور پر ابتدا سے ہی ان کی صحت کی نگہداشت میں کوتاہی برتی اور جب سپریم کورٹ آف پاکستان نے انہیں نجی ہسپتال میں داخل کرانے کا حکم صادر کیا تو اس کی بھی پاسداری نہیں کی گئی۔ پی ٹی آئی کے مطابق عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال لے جانے کے بجائے پمز لے جایا گیا اور سرسری معائنے کے بعد دوبارہ اڈیالہ جیل بھیج دیا گیا۔ تحریک انصاف کے رہنماؤں نے اس طرزِ عمل کو عدالتی احکامات کی صریحاً خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے حکومت کے خلاف توہینِ عدالت کی درخواست دائر کر دی ہے۔ دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی رہائش گاہ پر اپوزیشن کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں بانی پی ٹی آئی کی صحت پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب طے شدہ احتجاج اور لانگ مارچ کے فیصلے کو ہر صورت برقرار رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔تاہم حکومت کا یہ کہنا ہے کہ شفا ہسپتال کے باہر امن و امان کی صورت حال کی خرابی یا عوامی ہجوم کو روکنا ریاست کی اولیں ذمہ داری تھی۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ عمران خان کی ہسپتال منتقلی کی خبریں عام ہوتے ہی شفا انٹرنیشنل ہسپتال کے اطراف میں پی ٹی آئی کے کارکنان کی بڑی تعداد جمع ہونا شروع ہو گئی تھی جس سے ہسپتال کے مریضوں کی آمدورفت متاثر ہونے کا خدشہ تھا بلکہ سکیورٹی کے خطرات بھی جنم لے رہے تھے۔ اسی بنیاد پر حکمت عملی میں تبدیلی کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی کو پمز ہسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے ان کا مکمل طبی معائنہ کیا۔ حکومت کے مطابق معائنے کی رپورٹ میں جب ان کی صحت کو تسلی بخش اور مستحکم پایا گیا تو انہیں تمام تر قانونی و حفاظتی تدابیر کے ساتھ واپس اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا۔ حکومت کے نزدیک عدالتی حکم کو پورا کیا گیا ہے اور اسے توہینِ عدالت یا غفلت سے تعبیر کرنا سیاسی بلیک میلنگ کے مترادف ہے۔ جب سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا تو ملک کے سیاسی اور صحافتی حلقوں میں پس پردہ &#39;&#39;ڈیل‘‘ کی قیاس آرائیاں گردش کرنے لگیں۔ ان قیاس آرائیوں کی وجہ پاکستان کی سیاسی تاریخ ہے کیونکہ جب بھی کسی سیاسی قیدی کی صحت کا معاملہ سامنے آتاہے یا اسے جیل سے ہسپتال منتقل کیا جاتا ہے تو عوام اور تجزیہ کار اسے طبی ضرورت کے بجائے کسی ممکنہ این آر او یا پس پردہ سمجھوتے کا نتیجہ سمجھتے ہیں۔ ماضی میں بھی ایسے متعدد واقعات دیکھنے کو ملے جہاں ہسپتال منتقلی سیاسی سمجھوتوں کا نقطۂ آغاز ثابت ہوئی۔ تاہم جب عمران خان کو پمز میں معائنے کے بعد دوبارہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچا دیا گیا تو ڈیل کی قیاس آرائیاں دم توڑ گئیں۔تکنیکی اور قانونی باریکیوں سے قطع نظر عوامی حلقوں میں عمران خان کے لیے ہمدردی کے جذبات پیدا ہوئے ہیں۔ بلاشبہ یہ موقع حکومت نے خود فراہم کیا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی قائد کو حالتِ قید میں طبی سہولیات سے محروم یا قانونی کشمکش کا شکار دکھایا جاتا ہے‘ اس کی مظلومیت کا تاثر ابھرتا ہے جو عوامی جذبات کو ابھارنے کا سبب بنتا ہے۔ اگرچہ یہ درست ہے کہ ماضی میں عمران خان اور ان کی جماعت نے اپنے سیاسی مخالفین کی بیماری پر تضحیک آمیز رویہ اپنایا لیکن اخلاقی اور انسانی بنیادوں پر یہ طرزِ عمل کل بھی غلط تھا اور آج بھی کوئی وہی رویہ دہراتا ہے تو وہ بھی یکساں طور پر قابلِ مذمت اور غلط کہلائے گا۔ سیاسی اختلاف اپنی جگہ لیکن بیماری جیسے معاملات کو سیاست سے بالاتر ہونا چاہیے۔ کسی بھی شہری یا سیاسی رہنما کو علاج اور بنیادی سہولیات میسر ہونی چاہئیں جو اس کی جان کی حفاظت کے لیے ناگزیر ہیں۔ جب پی ٹی آئی کے کارکنان یا قائدین نے ماضی میں محترمہ کلثوم نواز کی بیماری کا تمسخر اڑایا تو اس وقت سماجی حلقوں نے اس کی مخالفت کی تھی کیونکہ ہمارا معاشرتی ڈھانچہ اور اسلامی اقدار بیماری پر تضحیک کو اخلاقی اور انسانی اصولوں کے منافی قرار دیتی ہیں۔ آج اگر مسلم لیگ (ن) کے رہنما بانی پی ٹی آئی کی صحت کو طنز یا تمسخر کا نشانہ بنائیں گے تو یہ بھی اسی معیار پر اخلاقی تنزلی شمار ہو گی۔ یہ خوش آئند اور سراہنے کے قابل امر ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے سنجیدہ اور مدبر رہنماؤں نے عمران خان کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے۔ یہی اعلیٰ جمہوری روایت‘ تہذیب اور انسانی اقدار کا تقاضا ہے کہ ہم سیاسی مخالفت اور انسانی احترام کی حدِ فاصل کو کبھی پامال نہ ہونے دیں۔سیاسی جماعتیں کیوں بھول جاتی ہیں کہ جب ماضی میں میاں نواز شریف کی بیماری کا تمسخر اڑانے کی کوشش کی گئی تو اس وقت تضحیک کا نتیجہ یہ نکلا کہ عوام کے دلوں میں ان کے لیے ہمدردی کی لہر پیدا ہوئی اور حکومت کو انہیں بیرونِ ملک علاج کی اجازت دینا پڑی۔ اگر آج کے حالات کا مشاہدہ کیا جائے تو تاریخ ایک بار پھر خود کو دہراتی دکھائی دے رہی ہے۔ عمران خان کے لیے بھی عوامی اور سماجی سطح پر ہمدردی کا احساس پیدا ہو رہا ہے۔ وہ پاکستان تحریک انصاف جو مسلسل سیاسی و انتظامی سختیوں کے باعث تقریباً آئسولیشن کا شکار ہو چکی تھی‘ اسے بانی پی ٹی آئی کی صحت کے معاملے نے ایک بار پھر سے متحرک ہونے اور اپنے سیاسی بیانیے کو جلا بخشنے کا موقع فراہم کر دیا ہے۔ اس صورتحال کے نتیجے میں حکومت کے لیے آنے والے دنوں میں دو بڑے محاذوں پر سنگین مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ پہلا محاذ قانونی جنگ کا ہے۔ بیماری اور انسانی حقوق کے نازک موضوع پر جب بھی عدالتی جنگ چھیڑی جائے گی تو اخلاقی اور قانونی ہمدردیاں پی ٹی آئی کے حق میں ہوں گی جس کا انہیں سیاسی فائدہ بھی ہو گا۔ دوسرا محاذ ملکی سطح پر احتجاج ہے۔ پی ٹی آئی جو پچھلے کچھ عرصے سے اندرونی خلفشار اور انتظامی دباؤ کی وجہ سے سڑکوں پر نکلنے یا مؤثر احتجاج کرنے کی پوزیشن میں نظر نہیں آ رہی تھی‘ اب عمران خان کی صحت کا معاملہ پی ٹی آئی کارکنان کے لیے ایک جذباتی مہمیز بن چکا ہے جو انہیں ایک بار پھر لانگ مارچ اور 27ستمبر کے احتجاج کے لیے اُکسا رہا ہے۔ سیاست کا بنیادی اصول ہے کہ سیاسی غلطیوں کی قیمت سود سمیت ادا کرنی پڑتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ تاریخ کے اس موڑ پر کون سا فریق غلطی کا مرتکب ہو رہا ہے اور آنے والے وقت میں اس سیاسی غلطی کا خراج کس کو ادا کرنا پڑے گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/222_48272610.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ہسپتال منتقلی کا حکم اور سازشی تھیوریاں(عمران یعقوب خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-08-23/52536/34193661</link><pubDate>Sun, 23 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-08-23/52536/34193661</guid><description>بانی پی ٹی آئی عمران خان ہسپتال لے جائے گئے لیکن اُس ہسپتال نہیں جہاں لے جانے کا حکم عدالت نے دیا تھا بلکہ ایک دوسرے ہسپتال۔ اس پر تحریک انصاف مُصر ہے کہ حکومت توہینِ عدالت کی مرتکب ہوئی ہے۔ تحریک انصاف نے اس سلسلے میں سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست بھی دائر کر دی ہے۔ بانی پی ٹی آئی ہسپتال لے جائے گئے اور پھر واپس جیل پہنچا دیے گئے۔ اس پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں کہ عدالت نے ان کے صرف چیک اَپ کا حکم دیا تھا یا انہیں ہسپتال میں رکھنے کیلئے کہا تھا؟ معاملہ جتنے منہ اتنی باتیں والا ہو تو پھر سازشی تھیوریاں بھی جنم لیتی ہیں اور یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ ہمارا ملک سازشی تھیوریوں کے حوالے سے خاصا خود کفیل ہے۔ کہیں کوئی چھوٹا سا واقعہ بھی رو نما ہو جائے تو سازشی تھیوریاں تیار کرنے والی فیکٹریوں کے دہانے کھل جاتے ہیں اور پھر امکانات‘ اندیشوں اور خدشات پر مبنی تھیوریوں کی لائن لگ جاتی ہے۔عدالت کی جانب سے عمران خان کو ہسپتال منتقل کرنے کے حکم کے بعد بھی بہت سی افواہیں یا سازشی تھیوریاں پیش کی جا رہی ہیں۔ آئیے ان تھیوریوں پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔ پہلی تھیوری: کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ عمران خان کو علاج کے حوالے سے ریلیف دینے کا مقصد حکمران جماعتوں پر آئین میں اٹھائیسوں ترمیم کیلئے دباؤ بڑھانا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ اٹھائیسویں آئینی ترمیم میں ملک میں نئے صوبوں کے قیام اور نئے انتظامی ڈھانچے کی تجاویز شامل ہیں یعنی ملک کو انتظامی اکائیوں میں تقسیم کرنے سمیت اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کا جامع فریم ورک پیش کیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس کیلئے کسی کو بھی دباؤ ڈالنے کی ضرورت کیوں پیش آئے گی؟دوسری تھیوری وفاقی حکومت کی سوچ پر مبنی ہے اور حکومت نے اس سوچ کے تحت ہسپتال منتقل کرنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی درخواست دائر کرائی جو سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس کی جانب سے اعتراض لگا کر واپس کر دی گئی۔ حکومت نے نظر ثانی درخواست پھر جمع کرا دی ۔ وفاقی حکومت کی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ عدالت نے فیصلہ کرتے ہوئے ملک میں قیدیوں کی ہسپتال منتقلی سے متعلق جیل قوانین میں درج طریق کار کو مد نظر نہیں رکھا جس کے باعث منصفانہ ٹرائل اور مقررہ قانونی طریق کار کے تقاضے پورے نہیں ہوئے۔ حکومت کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے عبوری مرحلے پر درخواست گزار (سابق وزیراعظم) کو سنے بغیر ایسا حتمی نوعیت کا ریلیف دیا گیا ہے جس کے باعث مساوی سلوک کے آئینی اصول متاثر ہو سکتے ہیں۔ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر نے جیل قواعد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ کسی بھی قیدی کا علاج سرکاری ہسپتال میں کیا جانا لازم ہے‘ اِلا یہ کہ میڈیکل بورڈ یہ قرار دے کہ مطلوبہ طبی سہولت سرکاری ہسپتال میں دستیاب نہیں ہے۔ یہ حکومت کی تھیوری ہے۔ اس پر عدالت کیا جواب دیتی ہے‘ اس کیلئے کچھ انتظار کرنا پڑے گا۔تیسری سازشی تھیوری یہ ہے کہ عمران خان بہت زیادہ بیمار ہیں اور انہیں ہسپتال منتقل کرنے کا حکم اس لیے دیا گیا ہے کہ اگر خدانخواستہ انہیں کچھ ہو جائے تو اس کی ذمہ داری حکومت پر نہ آئے کہ اس نے انہیں جیل سے باہر نہیں آنے دیا۔ چوتھی سازشی تھیوری یہ گردش میں ہے کہ ہسپتال منتقلی کا مقصد دراصل علاج کی آڑ میں عمران خان کو سخت سکیورٹی حصار سے نکالنا یا کسی محفوظ مقام پر منتقل کرنا ہے۔ پانچویں سازشی تھیوری یہ ہے کہ ان کی ہسپتال منتقلی کے پیچھے کوئی خفیہ ڈیل یا بیک ڈور رابطے کارفرما ہیں تاکہ عمران خان کو سیاست سے وقتی طور پر دور کر کے ملک میں جاری سیاسی کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔جمعرات کے روز وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے اپوزیشن کو ایک بار پھر مذاکرات کی دعوت دیے جانے کے بعد اس تھیوری کو زیادہ شدومد کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے۔ چھٹی سازشی تھیوری یہ ہے کہ عمران خان کی مبینہ خراب صحت کو جواز بنا کر ان کے حامیوں اور عوام میں ہمدردی کی لہر پیدا کی جا رہی ہے تاکہ تحریک انصاف کیلئے سڑکوں پر نکلنے یا احتجاج کی کوئی نئی تحریک چلانا آسان ہو جائے۔ اس طرح پی ٹی آئی کا ایک بار پھر ناطقہ بند کیا جائے یا پھر اسے سیاسی دھارے میں شامل ہونے کا موقع فراہم کیا جائے۔ ساتویں سازشی تھیوری یہ گردش کر رہی ہے کہ بالآخر یہ احساس کر لیا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے‘ اس لیے انہیں ہسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ سنا کر اس زیادتی کا ازالہ کیا گیا ہے۔ آٹھویں سازشی تھیوری یہ تھی کہ بانی پی ٹی آئی کو ہسپتال منتقل کرنے کا معاملہ دراصل عمران خان کو مکمل ریلیف فراہم کرنے کی طرف پہلا قدم ہے اور اب وہ ہسپتال سے صحت یاب ہو کر گھر جائیں گے یا کہیں اور منتقل ہو جائیں گے یا کر دیے جائیں گے۔ نویں سازشی تھیوری یہ ہے کہ جون میں جولائی اور اگست کو حکومت کی تبدیلی کے لیے اہم قرار دینے کی خبریں سچ ثابت ہونا شروع ہو گئی ہیں اور بانی پی ٹی آئی کو ریلیف دے کر اقتدار کی تبدیلی کے کام کا آغاز کر دیا گیا ہے اور اگست کا مہینہ اس حوالے سے اہم بن گیا ہے۔ دسویں سازشی تھیوری یہ ہے کہ عمران خان کو صحت یاب ہونے کے بعد بالرضا یا بالجبر بیرونِ ملک شفٹ کر دیا جائے گا۔سب دیکھ رہے ہیں کہ ان میں سے زیادہ تر سازشی تھیوریاں غلط ثابت ہوئی ہیں اور بانی پی ٹی آئی کسی محفوظ مقام پر تو منتقل نہیں ہوئے‘ واپس جیل پہنچا دیے گئے ہیں۔ آگے کیا ہوتا ہے‘ یہ بعد میں پتا چلے گا۔ البتہ ایک بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے نے سیاسی اور عوامی حلقوں اور اقتدار کے ایوانوں میں گہری ہلچل پیدا کر دی ہے۔ چار سُو کھلبلی سی مچی نظر آتی ہے اور آس پاس بکھرے ہوئے سوالات ہی سوالات‘ جن کے جوابات کسی کے پاس نہیں ہیں سوائے اُن کے جو اربابِ بست و کشاد ہیں۔ حتیٰ کہ حکومتی ایوانوں میں بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ کیا ہوا ہے اور کیا ہونے جا رہا ہے۔ کیا ملک میں واقعی کوئی بڑی تبدیلی آنے والی ہے۔ آئیے ان سوالات کے جواب وقت پر چھوڑ دیتے ہیں۔میں صرف اتنا عرض کرنا چاہوں گا کہ ہمارا ملک غالباً جمہوری سیاست سے متشدد سیاست کے دور میں داخل ہو چکا ہے۔ جمہوری سیاست میں دلیل اور اصولوں کی بنیاد پر بات کی جاتی ہے جبکہ متشدد سیاست میں جمہوری اصولوں اور مکالمے کے بجائے طاقت‘ دباؤ اور احتجاجی تحریکوں کا سہارا لیا جاتا ہے۔ ہمارے یہاں مخالفین کو ملک دشمن یا غدار سمجھنے کا بیانیہ عام ہو چکا ہے جس سے کارکنوں میں جذباتی اور جسمانی تشدد کی فضا پروان چڑھتی ہے۔ متشدد سیاست کے نتیجے میں ملک میں سیاسی عدم استحکام بڑھتا ہے‘ معاشی ترقی رک جاتی ہے اور جمہوری اقدار کمزور ہوتی ہیں‘ عوام کا نظام پر اعتماد متزلزل ہوتا ہے اور بین الاقوامی سطح پر ملک کا تشخص متاثر ہوتا ہے۔یہ بھی مان لینا چاہیے کہ سیاست کو متشدد کرنے میں گھڑی جانے والی سازشی تھیوریوں کا بھی بڑا ہاتھ ہوتا ہے۔ سازشی تھیوری بات کو بتنگڑ بنا دیتی ہے۔ معاملات حساس نوعیت کے ہوں تو سازشی تھیوریاں جلتی پر تیل کا کام دیتی ہیں جبکہ حالات متقاضی ہیں کہ نفرت اور اختلافات کی جلتی آگ کو بجھایا جائے۔ اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ سازشی تھیوریوں کے بارے باعلم ضرور رہا جائے لیکن ان پر توجہ کم ہی دی جائے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_58350786.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>عالمی بساط پر پاکستان اپنی چال خود چلے گا ؟(محمد عبداللہ حمید گل)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-abdullah-hameed-gull/2026-08-23/52537/93320636</link><pubDate>Sun, 23 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-abdullah-hameed-gull/2026-08-23/52537/93320636</guid><description>آج میں اپنے کالم میں ایسے ایک سوال پر بات کرنا چاہتا ہوں جس کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی ہے کہ جو آنیوالے برسوں میں ملک کی خارجہ پالیسی‘ معیشت اور قومی سلامتی کی سمت متعین کر سکتا ہے اور یہ بھی طے کرے گا کہ پاکستان امریکہ کیساتھ ہو گا یا چین کیساتھ‘ یا عالمی طاقتوں کی کشمکش میں عالمی بساط پر مہرہ بنے گا‘ یا امریکہ‘ چین‘ سعودی عرب‘ ترکیہ‘ ایران سمیت وسطی ایشیائی ریاستوں سے بہترین تعلقات استوار کرتے ہوئے اپنی جغرافیائی‘ معاشی اور سفارتی تزویراتی اہمیت کو استعمال کرتے ہوئے اپنی چال خود چلے گا۔ ایک جانب چین ہے جس کیساتھ پاکستان کے گہرے دفاعی و معاشی تعلقات ہیں۔ دوسری جانب امریکہ پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے جبکہ عالمی مالیاتی اداروں میں واشنگٹن کا اثرورسوخ نمایاں ہے اور ہماری معیشت مغربی مالیاتی نظام سے جڑی ہے اور ایسے میں امریکہ اور چین میں سے ایک کو مکمل طور پر نظر انداز کرنا آسان نہیں۔ میرے نزدیک پاکستان کے مستقبل کا بہترین راستہ کسی ایک عالمی کیمپ میں شمولیت نہیں بلکہ قرضوں‘ مالی امداد سے باہر نکل کر ایک ایسا Regional Connectivity Hub بننا ہے جو جنوبی ایشیا‘ وسطی ایشیا‘ مغربی ایشیا اور بیجنگ کو تجارت‘ توانائی و آمدورفت کے ذریعے آپس میں جوڑ دے۔ اگر پاکستان اس میں کامیاب ہو گیا تو بڑی فوج اور نیوکلیئر صلاحیت کیساتھ ساتھ ملک کی جغرافیائی پوزیشن بھی معاشی ہتھیار بن جائے گی۔ دنیا کے نقشے پر پاکستان کی پوزیشن دیکھی جائے تو اس کی اہمیت واضح ہو جاتی ہے۔ مشرق میں بھارت‘ شمال میں چین‘ مغرب میں افغانستان اور ایران‘ جنوب میں بحیرۂ عرب اور بحر ہند واقع ہیں۔ اسی سمندری راستے کے ذریعے مشرقِ وسطیٰ اور عالمی توانائی کی منڈیاں پاکستان سے جڑی ہوئی ہیں۔ یہ جغرافیہ پاکستان کیلئے غیرمعمولی معاشی موقع پیدا کرتا ہے۔ چین کو بحر ہند تک رسائی‘ وسطی ایشیائی ممالک کو گرم پانیوں تک راستہ‘ جنوبی ایشیا کو وسطی اور مغربی ایشیا سے جوڑنے کے امکانات اسی جغرافیے میں موجود ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان ابھی تک اپنی اس جغرافیائی اہمیت کو معاشی فائدے میں تبدیل نہیں کر سکا۔ اس کی سب سے نمایاں مثال سی پیک ہے۔ سی پیک کاشغر کو گوادر سے ملاتا ہے اور چین کیلئے بحر ہند تک ایک اہم راستہ ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق سی پیک کے تحت پاکستان میں تقریباً 30ارب ڈالر کی چینی سرمایہ کاری ہو چکی ہے جبکہ مجموعی منصوبہ بندی میں توانائی‘ انفراسٹرکچر‘ زراعت‘ خصوصی اقتصادی زون اور دیگر بڑے پراجیکٹ شامل ہیں۔ تاہم اصل گیم سی پیک تک محدود نہیں رہی۔ اگر پاکستان سی پیک کے نارتھ ساؤتھ کو ایسٹ ویسٹ کوریڈور سے جوڑ دے تو وسطی ایشیا سے افغانستان اور پاکستان کے ذریعے بحر ہند تک ایک نیا ٹریڈ روٹ بن سکتا ہے جس سے ازبکستان اور تاجکستان جیسے لینڈ لاکڈ ممالک بھی عالمی منڈیوں تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ یہاں ٹرانس افغان ریلوے منصوبہ اہم ہے۔ پاک افغان سکیورٹی کشیدگی اور دہشت گردی اس خواب کی تکمیل میں بڑی رکاوٹ ہے۔ نتیجتاً سنٹرل ایشیائی ریاستیں متبادل کے طور پر ایران اور یوریشین روٹس پر توجہ دے رہی ہیں۔ ہمارا ایک اہم مسئلہ توانائی بھی ہے۔ پاکستان اپنی بنیادی توانائی کی ضرورت کا تقریباً نصف درآمد کرتا ہے اور صرف ایک برس میں انرجی درآمدات پر 16ارب ڈالر خرچ کر چکا ہے۔ ایسے میں اگر پاکستان وسطی ایشیا‘ ایران اور دیگر ہمسایہ خطوں سے توانائی کے قابلِ عمل کوریڈورز قائم کرنے میں کامیاب ہو جائے تو وہ صرف اپنی توانائی کی ضروریات پوری نہیں کرے گا بلکہ مستقبل میں ایک اہم انرجی ٹرانزٹ سٹیٹ بھی بن سکتا ہے۔ اسی تناظر میں TAPI‘ CASA-1000اور ایران پاکستان گیس پائپ لائن جیسے منصوبے اہمیت رکھتے ہیں۔ پاک ایران گیس پائپ لائن سستی گیس کیساتھ ساتھ پاکستان کے مغربی حصے کیلئے انرجی سکیورٹی کا ایک بڑا ذریعہ بن سکتی ہے تاہم اس پائپ لائن منصوبے کے راستے میں جیوپالیٹکس حائل ہے۔ ایک طرف پاکستان کی توانائی کی ضروریات ہیں اور دوسری طرف ایران پر امریکی پابندیاں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اصل Dilemma ہے۔چین پاکستان کیلuے تجارت‘ دفاع‘ انفراسٹرکچر اور سرمایہ کاری کے حوالے سے اہم ہے جبکہ امریکہ پاکستان کی بڑی برآمدی منڈیوں میں شامل ہونے کیساتھ ساتھ عالمی مالیاتی نظام میں بھی اہم کردار رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ خلیجی ممالک پاکستان کیلئے توانائی‘ سرمایہ کاری‘ قرضوں کے رول اوور اور پاکستانی افرادی قوت و ترسیلاتِ زر کے حوالے سے اہم ہیں‘ لہٰذا پاکستان اگر مکمل طور پر کسی ایک عالمی کیمپ میں چلا جاتا ہے تو دوسرے کیمپ کیساتھ موجود معاشی مراسم متاثر ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے پاکستان کو سٹرٹیجک توازن کی پالیسی اختیار کرنا ہو گی۔ چین کے ساتھ سی پیک اور دفاعی تعاون جاری رکھتے ہوئے امریکہ کے ساتھ تجارت‘ سرمایہ کاری‘ انسدادِ دہشت گردی‘ ٹیکنالوجی اور دیگر معاشی شعبوں میں تعاون بڑھایا جا سکتا ہے۔ اسی طرح سعودی عرب‘ متحدہ عرب امارات‘ ترکیہ‘ ایران اور وسطی ایشیائی ریاستوں کیساتھ بھی پاکستان کو اپنے تعلقات کو معاشی بنیادوں پر مزید مضبوط کرنا ہو گا۔ یہاں پاکستان کیلئے ایک نیا موقع Critical Mineralsکی صورت میں سامنے آ سکتا ہے۔ دنیا اس وقت سیمی کنڈکٹرز‘ مصنوعی ذہانت‘ فائیو جی اور جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں امریکہ اور چین کے درمیان شدید مسابقت دیکھ رہی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کی دوڑ میں اہم معدنیات اورRare Earth Elementsکی اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان امریکہ کے مابین Rare Earth اورCriticle Minerals میں ایک معاہدہ طے پایا ہے۔ اگر اس شعبے میں امریکی سرمایہ کاری میں کامیابی ہوئی تو معدنی وسائل پاکستان کی خارجہ پالیسی اور معیشت دونوں کے لیے نئی سٹرٹیجک اہمیت پیدا کر سکتے ہیں۔ مستقبل کی کامیاب پالیسی شاید یہی ہو کہ پاکستان چین سے انفراسٹرکچر اور ٹیکنالوجی حاصل کرے‘ امریکہ سے مارکیٹس اور سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرے‘ خلیجی ممالک سے سرمایہ اور توانائی کے شعبے میں شراکت داری بڑھائے‘ ترکیہ کے ساتھ دفاعی اور صنعتی تعاون کو وسعت دے اور وسطی ایشیا کے ساتھ تجارت و توانائی کے نئے راستے کھولے۔ اس کیساتھ پاکستان کی سکیورٹی اہمیت بھی برقرار رہے گی۔ افغانستان میں دہشت گردی‘ داعش خراسان‘ القاعدہ اور دیگر شدت پسند عناصر کے خطرات نے پاکستان‘ چین اور امریکہ سمیت خطے کے متعدد ممالک کے مفادات کو بعض معاملات میں ایک دوسرے کے قریب رکھا ہے۔ پاکستان انسدادِ دہشت گردی کے میدان میں اپنی صلاحیتوں کو سفارتی اہمیت میں تبدیل کر سکتا ہے تاہم اس کیلئے ضروری ہے کہ سکیورٹی پالیسی کیساتھ ساتھ معاشی اور سیاسی استحکام بھی پیدا کیا جائے۔مشرق وسطیٰ میں پاکستان کی سفارتی سرگرمیاں بھی اس کیلئے ایک موقع ہیں۔ سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ بڑھتا ہوا دفاعی تعاون‘ ایران کے ساتھ تعلقات اور خطے میں ثالثی یا رابطہ کاری کی کوششیں پاکستان کو ایک مڈل پاور کے طور پر پیش کر سکتی ہیں جو مختلف طاقتوں کے درمیان رابطے کا کردار ادا کرے۔ لیکن کیا پاکستان واقعی ایک مڈل پاور بن سکتا ہے؟ جواب ہے ہاں‘ پاکستان کے پاس جغرافیائی محل وقوع‘ بڑی آبادی‘ نوجوان افرادی قوت‘ مضبوط عسکری صلاحیت‘ ایٹمی طاقت اور سفارتی تجربہ موجود ہے۔ لیکن ان تمام صلاحیتوں کو حقیقی عالمی اثر و رسوخ میں تبدیل کرنے کیلئے ایک مضبوط معیشت بنیادی ضرورت ہے۔ خارجہ پالیسی میں مکمل Strategic Autonomy کے حصول کیلئے پاکستان کی اصل جنگ واشنگٹن یا بیجنگ کے درمیان انتخاب کی جنگ نہیں بلکہ اپنی معیشت کو مضبوط بنانے کی جنگ ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_62843609.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>