<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>نیا بحران، نئے خدشات(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-13/11536</link><pubDate>Sun, 13 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-13/11536</guid><description>امریکہ ایران تنازع مشرق وسطیٰ کیلئے تشویش کا باعث تھا ہی مگر یمن میں حوثیوں کی جانب سے بحیرہ احمر کی اہم پوزیشنوں پر قبضے سے خطے میں ایک نئے بحران کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ حوثی فورسز نے بحیرہ احمر کی اہم بندرگاہ مُخا پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد باب المندب کی آبی گزرگاہ میں واقع وہ آخری دو جزیرے بھی اپنے قبضے میں لے لیے ہیں جو اَب تک ان کے کنٹرول سے باہر تھے۔ اس صورتحال کے اثرات محض یمن یا مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت خصوصاً توانائی کی عالمی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات موجود ہیں۔ آبنائے ہرمز کے بعد باب المندب دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتا ہے۔ بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور بحر ہند سے ملانے والی یہ آبی گزرگاہ نہ صرف تیل اور دیگر توانائی کے ذرائع کی ترسیل کیلئے اہم ہے بلکہ ایشیا‘ یورپ اور دیگر خطوں کے درمیان عالمی تجارت کیلئے بھی بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ باب المندب میں رکاوٹ کا مطلب نہر سویز کی جانب جانے والی تجارت کے ایک اہم راستے کو خطرہ ہے۔ دوسری جانب سعودی عرب کی ایک اہم تیل پائپ لائن کو حالیہ حملوں کے بعد بند کیے جانے کی اطلاعات نے عالمی توانائی کی  منڈیوں میں تشویش بڑھا دی ہے۔

تقریباً 1200 کلومیٹر طویل یہ پائپ لائن سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں واقع ابقیق آئل فیلڈ سے مغربی ساحل پر واقع بندرگاہ ینبع تک جاتی ہے۔ آبنائے ہرمز میں ممکنہ رکاوٹ کے تناظر میں اس پائپ لائن کی اہمیت مزید بڑھ گئی تھی اور جنگ کے آغاز کے بعد اسکے ذریعے تیل کی ترسیل میں نمایاں اضافہ ہوا۔ توانائی کی ترسیل کے متبادل راستے بھی حملوں یا عدم تحفظ کا شکار ہونے لگیں تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں غیرمعمولی اتار چڑھاؤ اور سپلائی کے بحران کا خطرہ بعید از قیاس نہیں۔ پاکستان نے سعودی پائپ لائن پر حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے انہیں علاقائی امن‘ سلامتی اور استحکام کیلئے سنگین خطرہ قرار دیا ہے اور سعودی عرب کی خودمختاری‘ علاقائی سالمیت‘ سلامتی اور خوشحالی کیلئے غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ بحیرہ احمر میں پیدا ہونیوالی تازہ صورتحال تقاضا کرتی ہے کہ امریکہ ایران تنازع کے مستقل اور یقینی خاتمے کیلئے عالمی برادری کو اب پہلے سے زیادہ سنجیدہ کوششیں  بروئے کار لانی چاہئیں۔ آبنائے ہرمز اور باب المندب‘ دونوں اہم بحری گزرگاہوں پر کسی بھی طویل رکاوٹ کے اثرات صرف متعلقہ ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی تجارت اور توانائی کی منڈیوں کو اس سے شدید دھچکا پہنچنے کا خطرہ ہے۔
ایسے حالات میں پاکستان کی ثالثی میں ہونے والا امریکہ ایران جنگ بندی معاہدہ متحارب فریقوں کے درمیان مذاکرات اور پائیدار امن کی جانب پیشرفت کیلئے ایک اہم راستہ فراہم کر سکتا ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا یہ کہنا بھی قابلِ غور ہے کہ اگر امریکہ ایران کی ناکہ بندی اور جارحیت ختم کر دے تو آبنائے ہرمز کھولی جا سکتی ہے۔ ایرانی صدر کے اس بیان کو کشیدگی کم کرنے کیلئے سفارتی امکان کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ ایران اور امریکہ کے تنازع نے پہلے ہی دنیا کو بے پناہ معاشی نقصان پہنچایا ہے۔ جیسا کہ چینی صدر شی جن پنگ نے گزشتہ روز نئی دہلی میں برکس اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ نے خطے کے عوام کو شدید نقصانات پہنچائے‘ اور یہ جنگ عالمی برادری کے مشترکہ مفادات میں نہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ عالمی برادری اس جنگ کے خاتمے کیلئے مشترکہ اور سنجیدہ سفارتی کوششیں کرے۔
اگر آبنائے ہرمز اور باب المندب جیسے عالمی تجارت کے اہم راستے مسلسل کشیدگی کی زد میں رہے تو اسکے معاشی مضمرات کسی ایک خطے یا ملک تک محدود نہیں رہیں گے۔ دنیا کو ایسے وسیع تر معاشی بحران سے بچنے کیلئے مشترکہ‘ سنجیدہ اور مخلصانہ کوششوں کی اشد ضرورت ہے‘ اسکا واحد راستہ مذاکرات‘ سفارتکاری اور پائیدار امن ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ٹیسٹ سیریز میں وائٹ واش(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-13/11535</link><pubDate>Sun, 13 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-13/11535</guid><description>انگلینڈ نے گزشتہ روز تین ٹیسٹ میچز کی سیریز کے آخری میچ میں پاکستان کو آٹھ وکٹوں سے شکست دے کر نہ صرف سیریز  اپنے نام کر لی بلکہ تاریخ میں پہلی بار پاکستان کو اپنی سرزمین پر ٹیسٹ سیریز میں وائٹ واش کیا۔ انگلینڈ کے ہاتھوں تاریخی وائٹ واش محض ایک سیریز کی شکست نہیں بلکہ قومی کرکٹ کے نظام کیلئے ایک سنجیدہ انتباہ ہے۔ قومی ٹیم بیٹنگ‘ باؤلنگ اور فیلڈنگ‘ کسی بھی شعبے میں میزبان ٹیم کا مقابلہ کرنے کے قابل نظر نہیں آئی۔ ایک میچ یا ایک سیریز کی شکست کو محض خراب دن قرار دیا جا سکتا ہے‘ لیکن جب مسلسل ناکامی کا سامنا کرنا پڑے تو پھر معاملے کا سنجیدہ جائزہ لینا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ پاکستان کی  ٹیسٹ فارمیٹ میں پرفارمنس گزشتہ کچھ برسوں سے انتہائی ناقص رہی ہے جبکہ 1992ء کے بعد کوئی ون ڈے ورلڈ کپ اور 2009ء کے بعد کوئی ٹی20 ورلڈ کپ نہیں جیت سکا۔

حکومت کرکٹ کو دیگر کھیلوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ توجہ اور وسائل فراہم کرتی ہے‘ ایسے میں یہ سوال بجا طور پر اٹھتا ہے کہ اگر وسائل کی کوئی کمی نہیں تو پھر نتائج کیوں نہیں آ رہے؟ کرکٹ انتظامیہ کو شکست کے بعد محض کھلاڑی تبدیل کرنے کے بجائے سلیکشن‘ کوچنگ‘ ڈومیسٹک کرکٹ اور فٹنس کے پورے نظام کا ازسرنو جائزہ لینا ہوگا۔ اسی طرح کھلاڑیوں کو ٹیم میں صرف میرٹ کی بنیاد پر جگہ دی جائے۔ جن شعبوں میں کھلاڑیوں کی تربیت اور تیاری میں خامیاں ہیں انہیں دور کیا جائے۔ اگر اب بھی اصلاحات نہ کی گئیں تو مستقبل میں مزید ایسی ناکامیوں کا منہ دیکھنا پڑ سکتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پٹرولیم قیمتیں اور عوامی مشکلات(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-13/11534</link><pubDate>Sun, 13 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-13/11534</guid><description>گزشتہ پانچ روز کے دوران پٹرول کی قیمت میں 30 اور ڈیزل کی قیمت میں 25 روپے فی لٹر سے زائد اضافے کی وجہ سے پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹ مالکان نے کرایوں میں 15فیصد تک اضافہ کر دیا ہے۔ ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافے کا مطلب یہ ہے کہ کھیت سے منڈی‘ اور منڈی سے دکانوں اور گھروں تک پہنچنے والی اشیائے خور و نوش کی قیمتوں پر بھی اضافی بوجھ منتقل ہو گا۔ نتیجتاً عوام کو مزید مہنگائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پٹرولیم مصنوعات معیشت کے تقریباً ہر شعبے کی بنیاد ہیں۔ ڈیزل مہنگا ہونے سے صنعتی شعبے میں خام مال‘ تیار مصنوعات اور مشینری کی نقل و حمل مہنگی ہوتی ہے‘ جس سے پیداواری لاگت بڑھتی اور بالآخر صارف کو زیادہ قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔

زرعی شعبہ میں بھی ٹریکٹر‘ ٹیوب ویل‘ ہارویسٹر اور زرعی اجناس کی ترسیل سب ایندھن کے نرخوں سے متاثر ہوتے ہیں؛ چنانچہ مہنگا ڈیزل کسان کی لاگت اور صارف کی خوراک‘ دونوں کو متاثر کرتا ہے۔ اس صورتحال میں عام آدمی ہر طرف سے دباؤ میں ہے۔ اشیائے خورونوش اس کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں‘ بجلی کے بل پہلے ہی بجٹ نچوڑ رہے ہیں اور اب روزمرہ سفر بھی مزید مہنگا ہو رہا ہے۔ حکومت اگر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کا پورا بوجھ خود برداشت نہیں کر سکتی تو کم از کم اس مرحلے پر پٹرولیم لیوی‘ مارجنز اور دیگر محصولات میں عارضی کمی ضرور کرے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>اپنا اپنا کام(مجیب الرحمٰن شامی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mujeeb-ur-rehman-shami/2026-09-13/52652/16112479</link><pubDate>Sun, 13 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mujeeb-ur-rehman-shami/2026-09-13/52652/16112479</guid><description>11ستمبر کو قائداعظم محمد علی جناح کی 78ویں برسی عقیدت و احترام سے منائی گئی۔ جنابِ صدر اور جنابِ وزیراعظم نے خصوصی پیغامات جاری کیے جن میں قائد کے سنہری اصولوں اتحاد‘ ایمان اور تنظیم سے وابستگی کا عہد دہرایا گیا اور قوم کو یقین دلایا گیا کہ پاکستان کو ایک اسلامی فلاحی اور جمہوری مملکت بنانے کا سفر جاری رہے گا۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے بھی اپنے اپنے انداز اور الفاظ میں قائد کے تصورات کے مطابق پاکستان کی تعمیر کا عہد کیا۔ چھوٹے بڑے شہروں میں‘ کئی چھوٹے بڑے اجتماعات ہوئے جن میں پاکستان کو ایک مثالی جمہوریت بنانے کا عہد کیا گیا۔ مختلف مقررین نے اپنے سامعین کو گرمایا اور آگے بڑھنے کے لیے اُکسایا۔ ادارہ نظریۂ پاکستان کے زیر اہتمام &#39;ایوانِِ قائداعظم‘ میں کہ یہ لاہور شہر میں تعمیر ہونے والا سب سے وسیع قومی ایوان ہے‘ تحریک پاکستان کے نامور کارکن میاں فاروق الطاف کے زیر صدارت ایک بڑا جلسہ ہوا جس میں نوجوانوں کی کثیر تعداد شریک تھی۔ ایک بڑی یونیورسٹی کے بڑے پروفیسر ڈاکٹر عابد شیروانی نے اس سے خطاب کرتے ہوئے قائد کا یہ فرمان پُرزور انداز میں دہرایا &#39;&#39;کام‘ کام اور کام‘‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم سب کو کام کرنے کی عادت ڈالنی چاہیے۔ قائداعظم آخری سانس تک‘ بیماری کے باوجود کام کرتے رہے۔ پاکستان کی تعمیرکیلئے ہر شخص کو کام میں جت جانا ہوگا۔ ان کی تائید کرتے ہوئے عرض کیا گیا کہ یہ تو درست ہے کہ قائد نے کام‘ کام اور کام کرنے پر زور دیا تھا لیکن اس کے ساتھ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ہر شخص اور ہر ادارے کو اپنا اپنا کام کرنا ہے۔ دستورِ پاکستان نے جس کی جو ذمہ داری متعین کی ہے‘ اس کے مطابق اس کو محنت کرنی ہے اگر الف کا کام ب اور ب کا کام ج کرنے لگے گا تو پھر سب کام چوپٹ ہو جائیں گے۔ پاکستان میں ماشاء اللہ ہم نے بہت کچھ حاصل کیا ہے‘ اپنے سے کئی گنا بڑے حملہ آور کے دانت کھٹے کرکے اپنا لوہا منوایا ہے۔ ہماری دفاعی صلاحیت کے سب معترف ہیں۔ افواجِ پاکستان کو دنیا کی بہترین افواج میں شمار کیا جاتا ہے۔ پاکستان عالمِ اسلام کی واحد ایٹمی طاقت ہے۔ حالیہ ایران امریکہ جنگ میں اس کی سفارتی صلاحیتوں نے بھی اپنے آپ کو منوایا ہے۔ ترکیہ اور سعودیہ کے ساتھ طے پانے والا دفاعی الائنس دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ عالمِ اسلام میں اتحاد اور یگانگت کی ایک نئی لہر اُبھر رہی ہے۔ اس معاہدے کو وسعت دے کر عالمِ اسلام کے اتحاد کے دیرینہ خواب کی تعبیر تلاش کی جا سکتی ہے۔ علامہ اقبالؒ نے برسوں پہلے واضح کر دیا تھا کہ سلطنتِ عثمانیہ کے خاتمے کے بعد اب عالمِ اسلام کا اتحاد مختلف ممالک کی آزادی اور خود مختاری کا تحفظ کرتے ہوئے ہی ممکن ہو گا گویا ان کی &#39;&#39;اقوام متحدہ‘‘ قائم کر کے ان کے درمیان تعاون کو فروغ دیا جا سکے گا۔ پاکستان‘ سعودیہ اور ترکیہ نے ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر یہ اعلان کر دیا ہے کہ ان میں سے کسی ایک پر حملہ دوسرے پر حملہ سمجھا جائے گا۔ اس طرح ایک ایسا دفاعی حصار قائم کیا گیا ہے‘ جو کسی بھی حملہ آور کو حملہ کرنے سے پہلے سو بار سوچنے پر مجبور کرے گا۔ جوں جوں مسلمان ملک اس لڑی میں خود کو پروتے جائیں گے‘ ان کے اثر و رسوخ اور صلاحیتوں میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔ ان سب کامرانیوں اور کامیابیوں کے باوجود پاکستان اپنے داخلی مسائل پر قابو پانے میں کامیاب نہیں ہو رہا۔ بکھری ہوئی سیاست بہت کچھ بکھیر دینے پر تلی نظر آتی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ ہم سب اپنا اپنا کام نہیں کر رہے‘ دوسروں کے کام میں مداخلت کو فرضِ اولین سمجھ بیٹھے ہیں۔ ہمارے اہلِ سیاست کو بھی اس کا ادراک کرنا چاہیے اور ان کو بھی جن کو سیاست سے الگ رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔ہماری حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تعلقات کار قائم نہیں ہو پاتے‘ دونوں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں لگے رہتے ہیں۔ وزیراعظم نام کی مخلوق کی عجب درگت بنائی گئی ہے۔ اس کیلئے جیل یاترا لازم قرار دے دی گئی ہے۔ کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے۔ ایوانِ وزیراعظم سے نکلنے (یا نکالے جانے) والے ہر شخص کو حوالۂ زنداں کرنا ہماری سیاست کا بنیادی اصول قرار پایا ہے۔ زنداں خانے سے ایوانِ اقتدار تک پہنچنے کا راستہ بھی مسدود نہیں ہوا۔ جیو اور جینے دو کی گردان تو بہت کی جاتی ہے لیکن اس پر عمل دکھائی نہیں دیتا۔ قائد کی ساری جدوجہد آئین اور قانون کے دائرے میں رہی‘ اسی لیے انہوں نے قید و بند کا مزہ نہیں چکھا۔ ان کے قائم کردہ ملک میں آئین اور قانون کے تحت زندگی منظم نہیں ہو گی تو چین نصیب نہیں ہو گا۔آئین سے ماوراء اقدامات تجویز کرنا اور ان کے ذریعے فلاح کا راستہ تلاش کرنا ایک ایسی بدعت ہے جس نے ہمیں ماضی میں شدید نقصان پہنچایا ہے‘ یہ روش برقرار رہی تو مستقبل بھی خطرات سے دوچار ہو سکتا ہے۔ ہر مسئلے کا حل آئین کے اندر رہتے ہوئے تلاش کرنا ہمارا قومی شعار ہونا چاہیے۔ ڈاکٹر مکان کا نقشہ نہیں بنا سکتا اور آرکیٹیکٹ کسی مرض کا علاج نہیں کر سکتا۔ معدہ جگر کی جگہ اور جگر دل کی جگہ نہیں لگایا جا سکتا۔ سارے اعضا اپنا اپنا کام کریں گے تو سب کا کام چلتا رہے گا۔ ایک دوسرے کی جگہ لینے کی کوشش عجیب الخلقت بچوں کو تو جنم دے سکتی ہے‘ کوئی مایہ ناز مخلوق تخلیق نہیں کر سکتی۔ اپنا اپنا کام کیجئے اور آگے بڑھتے جائیے۔ صدیوں کا تجربہ یہی بتا رہا ہے جس کا کام اسی کو ساجھے اور کرے تو ٹھینگا باجے۔&#39;&#39;عجز عاجزانہ‘‘جناب عابد حسین قریشی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے طور پر ریٹائر ہوئے لیکن اس کے بعد قلم کے محاذ پر دادِ فراست دینے لگے۔ ایک جج کے طور پر تو ان کی توجہ کا مرکز وہ مقدمات تھے جن کا فیصلہ انہیں کرنا ہوتا تھا۔ ان کی معاملہ فہمی اور عدل گستری کا چرچا ہوا‘ دور و نزدیک‘ ان کو جانا اور مانا جانے لگا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد ان کا قلم فراٹے بھرنے لگا۔ &#39;&#39;عدل بیتی‘‘ کے زیر عنوان خود نوشت چھپی تو پھر کالموں کا مجموعہ &#39;&#39;تجاہلِ عادلانہ‘‘ منظر عام پر آ گیا۔ ان کا شمار بڑے ادیبوں اور کالم نگاروں میں ہونے لگا۔ اب &#39;&#39;عجز عاجزانہ‘‘ کے زیر عنوان ان کی تازہ تصنیف نے مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کر دیے ہیں۔ قرآن‘ صاحبِ قرآن اور اہلِ بیت کے حوالے سے انہوں نے جو کچھ لکھ ڈالا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے اس کی لذت اس کے مطالعے میں ہے۔ رسول اللہﷺ کی شان میں وہ الفاظ جو اُن کے قلم سے نکلے ہیں‘ بڑی بڑی کتابوں پر بھاری ہیں۔ عاشقانِ رسولﷺ کے لیے یہ تحفۂ خاص ہے: ؎ اللہ اگر توفیق نہ دے انسان کے بس کاکام نہیں۔ چند الفاظ کا لطف اٹھائیے اور اپنے آپ کو معطر کیجئے: &#39;&#39;ایک عام انسان اور انسانِ کامل میں بنیادی فرق ہی کردار کی پختگی‘ عمل کی طاقت‘ صبر کی توفیق‘ شکر کی چاشنی‘ عجز و انکسار کی رعنائی‘سوچ و فکر کی پاکیزگی‘ بصیرت کی گہرائی‘ دیانت و امانت کی چھاپ اور صداقت کی رعنائی میں پنہاں اور پوشیدہ ہے۔ ان ساری خوبیوں اور صفات سے مرصع اس کائنات میں ایک ہی ہستی ہے کہ جن کی حیاتِ مبارکہ کا ایک ایک لمحہ تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہو کر پوری آب و تاب کے ساتھ جگمگا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو پوری کائنات میں یگانہ اور عدیم النظیر بنایا اور صدفِ ادکان کو آپ جیسا موتی آج تک نصیب نہیں ہوا‘‘۔(یہ کالم روزنامہ &#39;&#39;پاکستان‘‘ اور روزنامہ &#39;&#39;دنیا‘‘ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_37052987.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>برادروں کا حال کچھ اچھا نہیں(ایاز امیر)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-09-13/52653/55512524</link><pubDate>Sun, 13 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-09-13/52653/55512524</guid><description>سچ تو یہ ہے کہ جو ممالک بھی اس ایران پھڈے میں شامل ہوئے پچھتا رہے ہوں گے کہ یہ حرکت کیوں کی۔ سوائے اسرائیل کے جو مسلمان ممالک کی افراتفری دیکھ کر خوش ہو رہا ہو گا۔ جمعرات کو جب حوثیوں نے ساحلِ بحیرہ احمر کے ساتھ جنوب کی طرف چڑھائی کی تو اُس دن ولی عہد سعودیہ نے صدر ٹرمپ کو دو مرتبہ ٹیلی فون کال کی۔ فوجی مدد مانگ رہے تھے کہ حوثیوں کی چڑھائی روکنے کیلئے اُن کے دستوں پر بمباری کی جائے۔ یہ دن بھی آنا تھا کہ امریکی صدر نے انکار کر دیا اور خبریں یہ ہیں کہ صدر ٹرمپ نے کہا کہ نشانوں کی نشاندہی کریں گے لیکن حملے آپ خود کرئیے‘ ساز و سامان اور لڑاکا جہاز آپ کے پاس ہیں‘ انہیں استعمال میں لائیے۔ سینٹکام کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر سعودی عرب آئے اور جو تسلیاں دے سکتے تھے وہ ضرور دی ہوں گی لیکن برادر ملک کو تسلیوں سے کچھ زیادہ چاہیے تھا اور وہ اُنہیں نہیں مل رہا تھا۔سی این این نے رپورٹ کیا ہے کہ حوثی چڑھائی شروع ہوئی تو سعودیوں کے حمایتی یمنی فضائی حملوں کی درخواست کرتے رہے اور برادر ملک کی طرف سے ایک حملہ بھی نہ ہو سکا۔ حوثی فوج آگے آتی رہی اور سعودیہ کے حمایتی یمنی دستے پسپا ہوتے رہے اور بکھرتے گئے۔ بحیرہ احمر پر واقع مُخا کی بندرگاہ حوثی قبضے میں آئی‘ پھر جمعہ کے روز جزیرہ پیرم جو کہ باب المندب کے عین درمیان میں واقع ہے‘ وہ بھی حوثیوں کے قبضے میں آ گیا۔ سعودی حمایتیوں کو امریکی مدد پہنچی نہ سعودیوں سے کچھ حاصل ہو سکا۔ تقریباً دو سو امریکی ایڈوائزر سعودیہ میں موجود ہیں لیکن جب یہ اہم لڑائی ہو رہی تھی وہ کسی کام نہ آئے۔ امریکی سعودیہ اتحاد کی بنیاد یہ تھی کہ سعودی عرب اپنے تیل کی قیمت ڈالروں میں متعین کرے گا اور سعودیہ کی حفاظت امریکہ بہم پہنچائے گا۔ ایران پر حملے کے نتیجے میں یہ بنیاد تو ہوا میں تحلیل ہو گئی۔ اندر کی رپورٹ تو کسی کے پاس نہیں ہے لیکن یہ تصور کرنا مشکل نہیں کہ محلات کی اونچی دیواروں کے پیچھے کس قسم کی پریشانی ہو گی۔ اس تازہ ترین لڑائی کی وجہ سے عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمت پھر سے 105ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر رہی ہے۔ لیکن قیمتوں کے علاوہ برادر ملکوں میں تیل کی دولت کی بنا پر جو ایک گھمنڈ کی کیفیت طاری تھی وہ بھی ہوا میں اُڑ گئی ہے۔ کہاں وہ مناظر کہ دورۂ قطر‘ یو اے ای اور سعودیہ پر صدر ٹرمپ کے استقبال کی خاطر عرب سربراہان بچھے جا رہے تھے اور کہاں اب کی صورتحال کہ فوجی امداد کی درخواست کی جا رہی ہے اور وائٹ ہاؤس کی طرف سے نہ میں جواب مل رہا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ ایران کو کچھ نہیں ہو رہا۔ بہت نقصان برداشت کیا ہے اور امریکی ناکہ بندی کی وجہ سے ایران اپنا تیل نہیں بھیج پا رہا۔ ایران کی معاشی مشکلات میں بہت اضافہ ہوا ہے۔ لیکن ایرانی قوم یہ سب کچھ برداشت کر رہی ہے اور امریکہ کے سامنے ڈٹی ہوئی ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ کسی قسم کی جارحیت ایران نے شروع نہیں کی تھی‘ جارحیت تو اُس پر ٹھونسی گئی۔ حملے ہوئے صفِ اوّل کی ساری قیادت ماری گئی اور پھر سخت ترین ہوائی حملے ایرانی شہروں اور مختلف تنصیبات پر ہوئے۔ جواب میں ایران نے جو کچھ کیا مجبوراً کیا‘ اپنی بقا اور اپنے دفاع میں کیا۔ یہ تو امریکی اور اسرائیلی مفروضے غلط ثابت ہوئے تو امریکہ مصیبت میں پھنس گیا اور نکلنے کا راستہ اب نہیں مل رہا۔ لیکن برادروں کو بھی دیکھا جائے‘ اُن کے بھی کیا شاہانہ مفروضے تھے کہ امریکی فوجی اڈے ہوں گے تو ہمارا دفاع ناقابلِ تسخیر ہو گا۔ اس سوچ کا تو ایسا بھانڈا پھوٹا ہے کہ برادر بھی سوچتے ہوں گے کہ کس شے پر تکیہ کیا۔حوثی کامیابیوں سے چند روز پہلے ایران نے جو میزائل حملے اُردن میں الازرق فوجی اڈے پر کیے میزائلوں کی پوری ایک یلغار تھی جسے روکنے کیلئے امریکیوں نے 30سے 40پیٹریاٹ میزائل استعمال کیے۔ ایک پیٹریاٹ میزائل کی قیمت تقریباً اڑھائی ملین ڈالر ہے۔ 30‘ 40 میزائلوں کا خود اندازہ کیجئے کہ حساب کیا بنتا ہے۔ اس کے باوجود کئی ایرانی میزائل نشانوں پر لگے اور مغربی میڈیا میں خبریں ہیں کہ امریکی جہازوں کو نقصان پہنچا اور ایک A-10جہاز تو ناکارہ ہو گیا۔ چند دن پہلے ایرانی میزائل ایک امریکی بحری جہاز کے اوپر پھٹے۔ یعنی جان بوجھ کر رینج وہ رکھی گئی کہ جہاز تک نہ پہنچیں تاکہ بات پھر آگے نہ بڑھ جائے۔ لیکن اتنا تو امریکیوں کو باور کرا دیا کہ آپ کے بحری جہاز ہماری پہنچ میں ہیں۔ برادر سعودیوں کا تیل آبنائے ہرمز کی طرف تو بند ہے۔ وہاں سے کوئی برآمد نہیں ہو رہا۔ اُس کے متبادل میں پائپ لائن کے ذریعے بندرگارہ ینبع کو تیل پہنچایا جا رہا تھا جو کہ باب المندب کے ذریعے سے مشرقی راستوں پر جا رہا تھا۔ حوثیوں کا کنٹرول اب باب المندب پر تقریباً مکمل سمجھا جائے۔ اُنہوں نے باقاعدہ اعلان بھی کر دیا ہے کہ دنیا کے دیگر جہازوں کی آمد و رفت پر کوئی پابندی نہیں‘ پابندی ہے تو صرف سعودی جہازوں کیلئے۔ یعنی آبنائے ہرمز کا جو متبادل راستہ تھا وہ بھی خطرے کی زد میں آ گیا ہے۔ مزید براں جو مشرق سے مغرب تیل پائپ لائن ہے اُس پر حملہ ہوا ہے جس کی وجہ سے اُس میں آگ بھڑک اُٹھی ہے۔ اس کے نتیجے میں سعودی حکام کی طرف سے خود اعلان ہوا ہے کہ پائپ لائن کو بند کر دیا گیا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ 1990ء سے لے کر آج تک یعنی چھتیس برسوں میں سعودیہ کی تیل کی پروڈکشن سب سے کم سطح پر آ گئی ہے۔ سعودیوں کے حوثیوں سے تعلقات تو پہلے سے خراب ہیں‘ لیکن 2022ء سے ایک جنگ بندی کی کیفیت چل رہی تھی۔ جولائی میں آیت اللہ خامنہ ای کے جنازہ کے موقع پر ایک ایرانی جہاز حوثیوں کے ایک وفد کو صنعا ائیر پورٹ واپس چھوڑنے آیا تو اُس کے بعد ایئر پورٹ اور رن وے پر سعودی ہوائی حملے کیے گئے۔ اس واقعہ سے جنگ کا یہ نیا راؤنڈ شروع ہوا۔ جس کے نتیجے میں برادر سعودیوں کو یہ ساری ہزیمت اٹھانی پڑ رہی ہے۔اس موقع پر مکہ دفاعی معاہدے پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں کہ معاہدہ کہاں گیا اور اُس کی شرائط کیا ہیں۔ جب معاہدے پر دستخط ہوئے تھے تو بڑا چرچا تھا کہ ایک بہت بڑا کارنامہ انجام پایا ہے۔ اب جب برادر ملک دباؤ میں ہے تو معاہدے کے خدوخال کسی واضح شکل میں نظر نہیں آ رہے۔ ہمارے دفتر خارجہ کی طرف سے یہ وضاحت آئی ہے کہ معاہدہ ابھی تک آپریشنلائز نہیں ہوا‘ یعنی عمل درآمد کے مراحل ابھی باقی ہیں۔ لیکن شروع کی مبارکبادوں سے تو لگتا تھا کہ جیسے کوئی نیٹو طرز کا معاہدہ عمل میں آ گیا ہے۔ چند دنوں بعد شاید مزید پوزیشن واضح ہو جائے لیکن فی الحال تو قیاس آرائیاں ہی ہیں۔ وہ نکتہ کب آئے گا جب سارے برادر ملک دل سے جان جائیں کہ امریکی دوستی ہمیں مہنگی پڑی ہے‘ اس بارے میں کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ فی الحال برادر ممالک تذبذب کا شکار ہیں‘ امریکی دوستی کی افادیت آزما بھی چکے پر شاید کچھ واضح فیصلہ کرنے کی ہمت نہیں پڑ رہی۔ البتہ اتنا عیاں ہے کہ جنگ سے پہلے کی صورتحال برقرار نہ رہ سکے گی۔ ایک دو نہیں خطے میں سارے کے سارے امریکی اڈے ایرانی میزائلوں اور ڈرونوں کا نشانہ بنے۔ امریکہ کا بھاری نقصان ہوا ہے۔ اتنا تو کوئی کم عقل بھی دیکھ سکتا ہے کہ جو اپنی حفاطت نہ کر سکے اُنہوں نے اوروں کی کیا کرنی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_80573045.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>خوشونت سنگھ کی اخلاقی جرأت کا امتحان(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-09-13/52654/61606228</link><pubDate>Sun, 13 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-09-13/52654/61606228</guid><description> مان لیا قانون‘قاعدہ اور اصول اہم ہوتے ہیں اور انسانوں کے معاشرے پر یہ سب راج کرتے ہیں لیکن میری زندگی کا جو چھوٹا موٹا تجربہ ہے اس کے مطابق انسان کی سب سے بڑی خوبی اس کی اخلاقی برتری ہوتی ہے۔ قانون بہت سے قاتلوں کو سزائے موت دیتا ہے لیکن بعض دفعہ مقتول کا خاندان انسانی بنیادوں پر قاتل کو معاف بھی کر دیتا ہے۔ اس طرح اگر پاکستانیوں کو یاد ہو تو 1987ء کے کرکٹ ورلڈ کپ کے ایک کوارٹر فائنل میں‘ جو پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان کھیلا جارہا تھا‘ فاسٹ باؤلر کورٹنی واش نے بھی اخلاقی بنیادوں پر وہ میچ جیت لیا تھا چاہے ویسٹ انڈیز ہار گیا تھا۔ آخری اوورز تھے اور عبدالقادر کریز پر تھے۔ وہ بال پھینکے جانے سے پہلے ہی باؤلنگ سائیڈ سے دوڑ پڑے۔ کورٹنی واش بال پھینکتے ہوئے رک گئے اور عبدالقادر تقریباً پچ کے درمیان تک پہنچ چکے تھے۔ وہ چاہتے تو آؤٹ کر سکتے تھے کہ وہ کریز سے بہت دور تھے لیکن کورٹنی کی کرکٹ اخلاقیات نے اجازت نہ دی کہ وہ میچ کے اس اہم ترین موڑ پر کسی کھلاڑی کو اپنی باؤلنگ کے بجائے ٹیکنکل بنیادوں پر آؤٹ کریں۔ بعد میں  عبدالقادر نے ہی اسے چھکے مارے اور پاکستان سیمی فائنل میں پہنچ گیا۔ مجھے نہیں پتہ کہ اس کے ساتھی کھلاڑیوں نے کورٹنی واش کو کیا کہا ہو گا۔ میچ پاکستان جیت گیا تھا مگر دل کورٹنی واش جیت گیا۔ وہ میچ میں نے ٹی وی پر لائیو دیکھا ہوا تھا اور میری زندگی کا یہ پہلا بڑا سبق تھا کہ قانون قاعدہ یا اصول سب کچھ نہیں ہوتے۔ اخلاقی برتری سب پر بھاری ہوتی ہے۔ یہ سب باتیں مجھے دو تین حالیہ واقعات سے یاد آرہی ہیں۔ ابھی افغان میڈیکل سٹوڈنٹس کو پی ایم ڈی سی نے پاکستان کے میڈیکل کالجز سے نکالنے کا جو نوٹیفکیشن جاری کیا ہے اس پر ملا جلا ردِعمل سامنے آیا۔ ان طالب علموں کو کچھ سال پہلے پاکستانی حکومت سکالرشپ پر لائی تھی اور اب بدلتے حالات میں کابل حکومت کے ساتھ ایشوز کی وجہ سے انہیں کہا گیا ہے کہ واپس جائیں۔ اس پر دو آراء تھیں۔ ایک وہی پاپولر رائے کہ افغانوں نے پاکستان کو اپنے احسانات کا بدلہ نہیں دیا لہٰذایہاں کوئی افغان نظر نہیں آنا چاہیے۔ وہی ریاست جو پچاس برسوں تک افغانوں کو اپنی دفاعی حکمت عملی کا اہم جزو سمجھتی رہی اور انہیں اس معاشرے کا حصہ بنایا وہ اب اس نتیجہ پر پہنچ گئی ہے کہ چند افغان سٹوڈنٹس جو پاکستان میں ڈاکٹر بن رہے ہیں وہ بھی ہمیں قبول نہیں۔ میرے لیے یہ چیز بہت خوشگوار تھی کہ بہت سے پاکستانیوں نے اس فیصلے کو غیراخلاقی قرار دیااور ان کا کہنا تھا کہ ان سب کو اگر بلایا ہے‘ایڈمیشن دیا ہے تو اب انہیں تعلیم مکمل کرنے دیں۔ لیکن کچھ ایسے بھی ہیں جنہوں نے الٹا ان لوگوں کو برا بھلا کہا جنہوں نے ان طالبعلموں کیلئے آواز اٹھائی۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ دس برس قبل پاکستان کے چند سابق سیکرٹری خارجہ نے ایک مشترکہ مضمون ڈان اخبار میں لکھا تھا جس میں نئی خارجہ پالیسی گائیڈ لائنز دی گئی تھیں کہ پاکستان کو بدلتے ہوئے حالات میں طالبان سے ہٹ کر افغانستان میں دیگر قوموں اور طبقات سے بھی روابط رکھنے چاہئیں۔ ان کا مشورہ تھا کہ پاکستان کو افغانستان میں پڑھے لکھے اور جدید طبقات کے ساتھ روابط رکھنے چاہئیں۔ یہ دس برس پہلے کی بات ہے اور اب وہی ہوا ہے کہ وہی طالبان جو وی آئی پی بن کر اپنے خاندانوں سمیت ہمارے ہاں رہے‘ آج وہ ہمارے دشمن ہیں۔ ہم بھول گئے کہ ان طالبان کو ہم ہی اگست 2021ء میں کابل چھوڑ کر آئے اور اگلے دن ہمارے ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید ہوٹل میں چائے پینے پہنچے ہوئے تھے اور آج ہم ان کا نام تک نہیں سننا چاہتے۔ کچھ قصور ہمارا بھی ہے کہ ہم نے افغانستان میں سارا وزن ایک ہی پلڑے میں ڈال دیا تھا۔ وہاں کے پروگریسو اور جدید طبقات سے ہمیں چڑ تھی۔ اب بھی ہم ان پڑھے لکھے افغان ڈاکٹروں کو اپنا مستقل دشمن بنا کر افغانستان بھیجنا چاہتے ہیں۔ ویسے طالبان پر اس سے کیا اثر پڑے گا؟ یہ بیس پچیس ڈاکٹرز کابل جا کر طالبان حکومت کا کیا بگاڑ لیں گے اگر ہم نکال بھی دیں؟ اس دفعہ ہم کمزور وِکٹ پر کھڑے ہیں۔ بعض دفعہ اخلاقی قوت کتنی بڑی فورس ہوتی ہے اس کا اندازہ ایک اہم واقعہ سے لگا سکتے ہیں جو آپ کو حیران کن لگے گا۔ کچھ دن پہلے خوشونت سنگھ کی ایک شاندار کتاب پڑھ رہا تھا جو بڑی مشکلوں سے میرے لاہوری صحافی دوست عبدالستار خان نے اپنے دوست کے ذریعے تلاش کر کے دی۔ وہ پورے پاکستان میں کہیں سے نہیں مل رہی تھی۔ The Good, the Bad and the Ridiculous میں خوشونت سنگھ نے بیسویں صدی کی اہم شخصیات کے کمال کے خاکے لکھے ہیں۔ مختصراً لیکن چند صفحات میں ان کی شخصیات کوپورا سامنے لے آئے۔ ان میں قائداعظم‘ جواہرلعل نہرو‘ اندرا گاندھی‘ سنجے گاندھی‘ فیض احمد فیض‘ مدر ٹریسا اور دیگر شامل ہیں۔ اس میں ایک باب اندرا گاندھی پر بھی ہے۔ اس تحریر سے لگتا ہے خوشونت سنگھ اندرا گاندھی کو پسند نہیں کرتے تھے یا ان کی رائے اچھی نہ تھی۔ انہوں نے کچھ سخت الفاظ بھی استعمال کیے ہیں۔ اب زرا خوشونت سنگھ کی اخلاقی جرأت ملاحظہ فرمائیں۔ وہ ہفت روزہ میگزین کے ایڈیٹر تھے۔ اُن کی ملاقات وزیراعظم اندرا گاندھی سے ہوئی۔ اُس وقت بنگلہ دیش کو بنے کچھ عرصہ ہوا تھا اور وہ بھارت کی مقبول ترین وزیراعظم تھیں جو پاکستان کو شکست دے چکی تھیں۔ نوے ہزار پاکستانی ‘سویلین اور فوجی قید میں تھے۔ خوشنونت سنگھ نے اندرا گاندھی سے کہا کہ آپ پاکستان کے نوے ہزار قیدی واپس کر دیں۔ جنگ ختم ہوگئی ہے اب انہیں قید رکھنے کا کوئی اخلاقی جواز باقی نہیں رہ گیا۔ اندرا گاندھی جو بہت سخت مزاج کی حامل تھیں وہ یہ سن کر بھڑک گئیں اور کہا کہ مجھے آپ کے اس اخلاقی بھاشن کی ضرورت نہیں۔ آپ کو سیاست کا کچھ علم نہیں ہے۔ اب یہ ایک رپورٹر کی اخلاقی جرأت تھی جو اُس نے دکھائی تھی ‘جس کے خیال میں اخلاقیات کا تقاضا تھا کہ اب پاکستان کے قیدی واپس بھیجے جائیں۔ یہ ذہن میں رکھیں خوشونت سنگھ یہ گفتگو اُس وقت بھارتی وزیراعظم سے کررہے تھے جب پورے بھارت میں ابھی جشن جاری تھا۔ اندرا کو دیوی کی طرح پوجا جارہا تھا اور کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ کوئی صحافی اسے منہ پر جنگی اخلاقیات کا سبق دے گا۔ اندرا کو یہ بات پسند نہیں آئی اور خوشونت سنگھ کو بھی پتہ تھا کہ اندرا ایسی باتوں کو دل میں رکھتی ہیں اور اب شاید انہیں اس کے کچھ نتائج کا سامنا تو کرنا پڑے گا۔ تاہم خوشونت سنگھ نے وہی کہا جو اُن کے خیال میں کہنا چاہیے تھا۔ بھارتی عوام کیا سوچ رہے تھے اس سے ہٹ کر انہوں نے اخلاقیات کو اہمیت دی۔ خوشونت سنگھ کا خیال تھا کہ اب اندرا اسے نیگیٹو لسٹ میں رکھے گی لیکن کچھ عرصے کے بعد کسی فنکشن میں خوشونت سنگھ بھی موجود تھے اور وہاں اندرا گاندھی بھی آئی ہوئی تھیں۔ انہوں نے خوشونت سنگھ کو دیکھا تو ان سے ملیں اور اچھے طریقے سے بات کی جس پر خوشونت سنگھ کو خوشگوار حیرت ہوئی۔ اس کا مطلب تھا کہ اس دن خوشونت سنگھ کی وہ پاکستانی جنگی قیدی کے حوالے سے کی گئی بات کا کچھ نہ کچھ اثر ہوا تھا۔ یہی واقعہ میں نے اپنے دوستوں غلام حیدر‘ طاہر خوشنود اور امجد صدیق کو اس جمعہ کے روز اپنی ہفتہ وار بیٹھک میں سنایا تو طاہر نے بڑی خوبصورت بات کی کہ گل کر دینی چاہیدی اے ‘کی پتہ کس ویلے کس تے اثر کر جائے۔ ہوسکتا ہے اس وقت اسے برا لگے لیکن بعد میں وہ اس پر سوچے تو اسے وہی بات مناسب لگے۔ہوسکتا ہے جب بھٹو اور اندرا گاندھی کے درمیان شملہ معاہدہ ہورہا تھا اور بھٹو نے نوے ہزار قیدی واپس مانگے تو اندرا گاندھی کے ذہن کے کسی کونے میں خوشونت سنگھ کی وہ بات موجود ہو کہ پاکستان کو فوجی واپس کردیں۔ انہیں اب قید رکھنے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں ۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>نئی سیاسی صف بندی(رشید صافی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-09-13/52655/29251458</link><pubDate>Sun, 13 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-09-13/52655/29251458</guid><description>پاکستان کے سیاسی منظرنامے میں ایک بار پھر غیر معمولی تلاطم اور تحرک محسوس کیا جا رہا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کی تدریجی صف بندی‘ جماعت اسلامی کا مسلسل عوامی تحرک‘ پاکستان تحریک انصاف کی احتجاجی مہم اور جمعیت علمائے اسلام کی بدلتی سیاسی حکمت عملی ملکی سیاست کو ایک اہم مرحلے میں داخل کر چکی ہے۔ اس وقت ملک کو درپیش شدید اقتصادی دباؤ بالخصوص پٹرولیم مصنوعات کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں سے متاثرہ عوام کے مسائل کو سیاسی مقاصد کیلئے مشترکہ پلیٹ فارم پر یکجا کیا جا رہا ہے۔ اس تناظر میں حکومتی صفوں میں بڑھتے ہوئے سیاسی دباؤ کا ادراک اور اپوزیشن کو پارلیمانی وآئینی ذرائع سے مصروف رکھنے کی کوششیں‘ ریاست کے داخلی استحکام اور سیاسی درجہ حرارت کو کنٹرول کرنے میں بنیادی اور کلیدی حیثیت اختیار کر چکی ہیں۔ جماعت اسلامی نے بظاہر عوامی مسائل‘ خاص طور پر عام شہریوں پر پڑنے والے معاشی بوجھ کو احتجاج کا جواز بنایا۔ ملک کے مختلف شہروں میں ایک ماہ سے جاری دھرنوں اور مظاہروں کا رخ اب آہستہ آہستہ اقتدار کے مرکز اسلام آباد کی طرف ہو رہا ہے۔ جماعت اسلامی کے اس احتجاج کا مرکزی نقطہ پٹرولیم لیوی کا خاتمہ اور مقامی سطح پر پیدا ہونے والے خام تیل کے طریقہ کار اور اس کے نرخوں میں اصلاحات لانا ہے۔ جماعت اسلامی کے مذاکراتی نمائندوں کے مطابق اگر مقامی سطح پر پیدا ہونے والے تیل کے نرخوں کے نظام میں پائے جانے والے نقائص کو دور کیا جائے تو قومی خزانے اورعوام کو تقریباً ایک سو بیس ارب روپے کی خطیر بچت فراہم کی جا سکتی ہے۔ عوامی نظر سے دیکھا جائے تو جماعت اسلامی کا یہ مؤقف منطق پر مبنی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مولانا فضل الرحمن سمیت دیگر اپوزیشن رہنماؤں نے جماعت اسلامی کی اس تحریک کی اخلاقی اور سیاسی حمایت کی ہے کیونکہ عوامی معاشی مسائل وہ مشترکہ راستے ہیں جہاں تمام سیاسی دھڑے بلا جھجک اتفاقِ رائے پیدا کر سکتے ہیں۔ جب حکومت اپنے انتظامی اور معاشی فیصلوں میں عدم توازن کا شکار ہوتی ہے‘ اپوزیشن جماعتیں الگ الگ بینر تلے شروع ہونے والی تحریکوں کو ایک مقصد کیلئے یکجا کر لیتی ہیں۔ اس وقت بھی اپوزیشن کی صف بندی اسی روایتی کلیے کے تحت آگے بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔ ستمبر کے آخری ایام میں پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے دی جانے والی احتجاجی کال نے سیاسی ماحول میں تناؤ کو تقویت دی ہے۔ دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن ایک منجھے ہوئے سیاسی کھلاڑی کی حیثیت سے حالات کی نبض پر ہاتھ رکھے ہوئے ہیں۔ اگرچہ وہ جماعت اسلامی کے احتجاج کو عوامی حقوق کی جنگ قرار دے رہے ہیں لیکن ان کی عملی اور تدبیری شمولیت حکومتی دباؤ میں بے پناہ اضافہ کر سکتی ہے۔ اگر جماعت اسلامی کا پہلے سے جاری احتجاج‘ تحریک انصاف کے جلسے جلوس اور جے یوآئی کی سٹریٹ پاور مل جاتی ہے تو یہ سہ فریقی اتحاد حکومت کیلئے سنگین انتظامی اور سیاسی چیلنج کا روپ دھار سکتا ہے۔سیاسی انتشار اور اپوزیشن کے اس ممکنہ احتجاج کا بروقت ادراک کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے دفاعی سیاست کے بجائے پیش رفت کی پالیسی اپنانے کے اشارے دیے گئے ہیں۔ اس ضمن میں چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے دیگر اراکین کی تعیناتی کا معلق معاملہ ایک اہم اور مثبت پیش رفت کے طور پر سامنے آیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اپوزیشن کو یقین دلایا ہے کہ آئینی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے مشاورت کا عمل مکمل شفافیت سے کیا جائے گا۔ پاکستان میں ماضی قریب کے انتخابات اور اہم تقرریوں پر اٹھنے والے سوالات اور تحفظات کے پیش نظر الیکشن کمیشن میں شفافیت اور آئینی طریقہ کار کی پیروی سیاسی استحکام کی ضامن ہے۔ الیکشن کمیشن کو تمام فریقوں کیلئے قابلِ قبول بنانا اپوزیشن کے بنیادی تحفظات کو دور کر سکتا ہے جس سے حکومت کو سیاسی محاذ پر تناؤ میں کمی اور ماحول کو معتدل بنانے کا موقع مل سکے گا۔موجودہ سیاسی ہلچل اور اپوزیشن کی صف بندی کا ایک نہایت اہم پہلو پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی رہائی اور ممکنہ ریلیف کا حصول ہے۔ پی ٹی آئی جانتی ہے کہ اپوزیشن کا احتجاج عدالتی فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہو سکتا لہٰذا حکمت عملی  کا رخ سیاسی مصالحت اور درمیانی راستے کی تلاش کی طرف موڑنے کی کوششیں جاری ہیں۔ تحریک انصاف کی موجودہ قیادت ‘ حکومت او ریاست ممکنہ طور پر ایک ایسا درمیانی راستہ تلاش کر سکتے ہیں جس میں طبی بنیادوں اور علاج کا جواز پیش  کر کے خان صاحب کیلئے ریلیف حاصل کیا جا سکے۔ اس قسم کا فارمولا دونوں فریقوں کو سیاسی طور پر فیس سیونگ فراہم کرتا ہے۔ حکومت یہ مؤقف اختیار کر سکتی ہے کہ اس نے کوئی سیاسی سمجھوتہ یا این آر او نہیں دیا بلکہ انسانی ہمدردی اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے طبی سہولت دی ہے جبکہ تحریک انصاف اس ریلیف کو اپنے سیاسی دباؤ اور عوامی تحریک کی بڑی کامیابی کے طور پر پیش کر سکتی ہے۔ مزید یہ کہ علاج کی آڑ میں اگر سیاسی ملاقاتوں اور مشاورت کا سلسلہ بحال ہوتا ہے تو اس سے خان صاحب کی سیاسی سرگرمیاں ایک نیا رخ اختیار کر سکتی ہیں۔تاہم خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات شفیع جان کی جانب سے جتھے کے بل پر نظام کو گرانے کی جو بات کی گئی ہے نہ تو اس کی حمایت کی جا سکتی ہے اور نہ ہی عوامی احتجاج کو طاقت کے زور پر روکنے کو سپورٹ کیا جا سکتا ہے۔ اسلام آباد میں فیض آباد کے قریب ٹریفک پولیس کے آفس میں کنٹینرز کو جمع کیا جا رہا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومت احتجاج کو روکنے کی تیاری کر رہا ہے۔پولیٹکل سائنس کا بنیادی اصول ہے کہ سٹریٹ پاور اور عوامی احتجاج کو کچلنے کیلئے طاقت کا استعمال ہمیشہ حکومتوں کے اپنے خلاف جاتا ہے۔ اگر حکومت نے اپوزیشن کے مشترکہ احتجاج کو طاقت کے زور پر دبانے کی کوشش کی تو یہ ایک ایسی سنگین سیاسی غلطی ہو گی جو اپوزیشن کو وہ سب کچھ حاصل کرنے کا موقع فراہم کر دے گی جو وہ محض احتجاج سے حاصل کرنے میں ناکام رہتی۔ شہریوں کے بنیادی معاشی مطالبات پر طاقت کا بے جا استعمال عوام کی ہمدردیاں اپوزیشن کے پلڑے میں ڈال دے گا جس کے نتیجے میں حکومت کو نہ صرف داخلی سطح پر سخت ناہمواری اور عوامی غصے کا سامنا کرنا پڑے گا۔پی ٹی آئی کو پچھلے کچھ عرصہ کے دوران احتجاج میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تاہم اس بار اپوزیشن کا احتجاج ماضی سے کس قدر مختلف ہے اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ آنے والے دنوں میں حکومت اور اپوزیشن میں سے کون سا فریق زیادہ لچکدار‘ دانشمندانہ اور دور اندیش حکمت عملی اپناتا ہے۔ جماعت اسلامی کا بظاہر عوامی فلاح اور معاشی ریلیف کیلئے شروع ہونے والا احتجاج ایک محدود تحرک نہیں رہا بلکہ پورے اپوزیشن دھڑے کیلئے ایک سیاسی محرک بن چکا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں اس وقت ایک ایسے مرحلے پر پہنچ چکے ہیں جہاں کسی بھی فریق کی ایک معمولی سی غلطی یا بے تدبیری ملک کو شدید ترین سیاسی بحران کی طرف دھکیل سکتی ہے‘ یا پھر پائیدار سیاسی مصالحت کا راستہ ہموار کر سکتی ہے۔آنے والے ہفتے اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ آیا پاکستان کی سیاست روایتی محاذآرائی اور ٹکراؤ کا شکار رہتی ہے یا پھر سیاسی بصیرت اور تدبر کے ذریعے ایک نئے‘ متوازن اور مستحکم سیاسی دور کاآغاز ہوتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/222_48272610.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>لا نینا سے ایل نینو تک(عمران یعقوب خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-09-13/52656/62860696</link><pubDate>Sun, 13 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-09-13/52656/62860696</guid><description>آپ نے محسوس کیا کہ ساون کے مہینے میں ہر دوسرے روز بارش ہو جاتی تھی‘ کبھی کبھی تو روزانہ‘ لیکن جب سے بھادوں شروع ہوا ہے بارشوں کا یہ سلسلہ اچانک تھم سا گیا ہے۔ ملک کے بالائی علاقوں میں بارشیں ہو رہی ہیں جیسے راولپنڈی‘ اسلام آباد اور کچھ دوسرے مقامات‘ لیکن شدید بارشوں کیلئے مشہور بھادوں کے مہینے میں باقی ملک سوکھا پڑا ہے حالانکہ ابنِ انشا نے کہا تھا:پھاگن کا نہیں بادل جو چار گھڑی برسےبرکھا ہے یہ بھادوں کی برسے تو بڑی برسےماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جلد مزید بارشیں نہ ہوئیں تو ربیع کی فصلوں کی آب پاشی کیلئے پانی کی قلت یقینی ہو جائے گی۔ کیا آپ جانتے ہیں اس کی وجہ کیا ہے؟ موسمی تبدیلیوں کا ایک نیا بڑا‘ بھیانک‘ گہرے اثرات والا رخ‘ بحرالکاہل میں رونما ہونے والا بڑا موسمیاتی تغیر۔بحرالکاہل روئے ارض پر سب سے بڑا سمندر ہے۔ اتنا بڑا کہ دنیا کے تمام براعظم اگر اکٹھے ایک دوسرے کے ساتھ ملا کر بچھا دیے جائیں تو بحرالکاہل ان کے کل رقبے سے بھی بڑا ہے۔ زمین پر جتنا بھی پانی موجود ہے اس کا آدھے سے زیادہ بحرالکاہل میں پایا جاتا ہے۔ اس سمندر میں دنیا کے تین سب سے گہرے مقامات موجود ہیں‘ رونگا ٹرینچ‘ ماریانا ٹرینچ اور فلپین ٹرینچ۔ یہ سمندر زمین کے ایک تہائی رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ اس کی وسعت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ سمندر ایشیا پوائنٹ سے ساؤتھ امریکہ پوائنٹ تک پھیلا ہوا ہے‘ کم و بیش 19ہزار کلو میڑ وسیع۔ یہ سمندر بظاہر بڑا پُرسکون رہتا ہے‘ اسی لیے اسے بحرالکاہل کہا جاتا ہے۔ اس کے باوجود پانی کا اتنا بڑا حجم رکھنے کی وجہ سے یہ سمندر دنیا بھر کے موسموں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اس سمندر کی وجہ سے پیدا ہونے والی دو موسمی کیفیتوں کو ایل نینو (Elnino) اور لا نینا (La nina) کا نام دیا جاتا ہے۔لا نینا اور ایل نینو ایک دوسرے سے جڑے ہوئے موسمی حالات ہیں۔ عام تصور یہ ہے کہ اگر لا نینا نہ ہو تو پھر بحرالکاہل میں ایل نینو موجود ہوتا ہے اور اس کے برعکس بھی۔ اگر ایل نینو اور لانینا متوازن ہوں تو روائے ارض کے موسمی حالات بھی متوازن رہتے ہیں۔ لا نینا ایسا موسمی رجحان ہے جو ایل نینو سدرن آسلیشن (The El Nino Southern Oscillation) کا حصہ ہے جو بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی حصوں میں سمندری پانی کے درجہ حرارت کے غیر معمولی طور پر ٹھنڈا ہونے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ یہ صورتحال عالمی موسم پر اثر انداز ہوتی ہے‘ کیونکہ سمندری درجہ حرارت فضا کے دباؤ اور ہواؤں کے طویل و عریض سسٹمز کو متاثر کرتا ہے اور یہ دونوں عوامل یعنی ہوا اور اس کا دباؤ موسموں کو کنٹرول کرتے ہیں۔ لا نینا عام طور پر ایل نینو (جس میں بحرالکاہل کا پانی نارمل سے زیادہ گرم ہو جاتا ہے) کے برعکس ہوتا ہے اور اس کے اثرات بھی مختلف خطوں میں مختلف ہوتے ہیں۔ یہ بات دلچسپی سے خالی نہ ہو گی کہ لا نینا ایک ہسپانوی لفظ ہے جس کے معنی ہیں چھوٹی لڑکی اور ایل نینو بھی ایک ہسپانوی لفظ ہے جس کے معنی ہیں چھوٹا لڑکا۔ از راہِ تفنن کہا جا سکتا ہے کہ یہ چھوٹی لڑکی اور چھوٹے لڑکے کے مابین چلنے والی کشمکش ہے جو دنیا بھر کے موسموں پر اثر انداز ہوتی ہے۔لیکن یہ تفنن والی بات نہیں‘ معاملہ سنجیدہ ہے کیونکہ اس بار جو ایل نینو ہمارے موسموں پر اثر انداز ہو رہا ہے وہ کوئی عام ایل نینو نہیں‘ سپر ایل نینو ہے جسے نیو یارک ٹائمز نے لوگوں کے حوالے سے گاڈزیلا ایل نینو کا نام دیا ہے۔ پیش گوئی کرنے والے ماڈلز کے مطابق یہ ایک ریکارڈ ساز ایل نینو بن سکتا ہے‘ اور اس بات کا واضح ثبوت موجود تھا کہ سمندر ایک ایسی غیر معمولی صورتحال میں داخل ہو چکا ہے۔ اقوام متحدہ کی وارننگ کے مطابق یہ گزشتہ 70 برسوں میں سب سے طاقتور ایل نینو ہے اور ممکنہ طور پر ایک ہزار سالوں میں سب سے وسیع اثرات رکھنے والا موسمی تغیر۔ انسان کی پیدا کردہ موسمیاتی شدت کو اس جاری ایل نینو کے اثرات میں جمع یا اکٹھا کیا جائے تو 2027ء ریکارڈ پر موجود تاریخ کا سب سے گرم سال بننے والا ہے اور اس کے نتیجے میں دنیا کے درجہ حرارت میں مجموعی طور پر ایک بڑا اضافہ ہونے والا ہے جو روئے ارض کے موسمیات کو طویل عرصے کیلئے تبدیل کر دے گا۔ ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن (WMO) کے مطابق ستمبر‘ اکتوبر‘ نومبر 2026ء میں ایل نینو اپنی سو فیصد حشر سامانیوں کے ساتھ موجود رہے گا جبکہ اس دوران لا نینو یا ایل نینو سدرن آسلیشن نیوٹرل کی موجودگی کے آثار صفر فیصد‘ یعنی بالکل معدوم ہوں گے۔ ماہرینِ موسمیات نے امسال اپریل میں ہی خبردار کر دیا تھا کہ رواں سال دنیا بھر کی طرح پاکستان کو بھی سپر ایل نینو کے ممکنہ اثرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے‘ جس کے باعث موسم کے معمولات میں نمایاں تبدیلیاں متوقع ہیں۔ تب محکمہ موسمیات نے بتایا تھا کہ اگست اور ستمبر کے دوران ایل نینو شدت اختیار کر کے سپر ایل نینو میں تبدیل ہو سکتا ہے اور اس صورتحال کے باعث خشک سالی‘ ہیٹ ویوز اور محسوس کیے جانے والے درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ ہو گا۔ یہ پیش گوئی سچ ثابت ہو رہی ہے۔جاری ایل نینو کے ممالک اور براعظموں پر کیسے بھیانک اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اس کی ایک جھلک آپ کو دکھانا چاہتا ہوں۔ جنوبی افریقہ‘ جنوب مشرقی ایشیا‘ شمالی امریکہ کا جنوبی حصہ‘ انڈونیشیا اور آسٹریلیا میں شدید خشک سالی پیدا ہو سکتی ہے اور ان خطوں میں واقع جنگلوں میں آتشزدگیوں کے واقعات بڑھ سکتے ہیں۔ کچھ اثرات تو ظاہر ہونا بھی شروع ہو چکے ہیں جیسے پاکستان میں برسات کے موسم میں بارشوں میں انتہائی کمی۔ پھر بحر اوقیانوس (Atlantic Ocean) میں یہ سمندری طوفانوں (Hurricanes) کا موسم لیکن وہاں خاموشی چھائی ہوئی ہے جبکہ بحرالکاہل‘ جو عام طور پر خاموش رہتا ہے‘ میں سنمدری طوفانوں کی بھرمار ہو رہی ہے۔ ابھی اگست کے اواخر اور ستمبر کے شروع میں بحرالکاہل میں تین بڑے سمندری طوفان ختم ہوئے ہیں‘ لوویل (Lowell)‘ کارینا (Karina) اور میری (Marie) جبکہ کئی مزید سمندری طوفان بنتے نظر آ رہے ہیں۔ دوسری تبدیلی یہ ہے کہ جنوبی افریقہ‘ جنوب مشرقی ایشیا‘ شمالی امریکہ کے جنوبی حصے‘ انڈونیشیا اور آسٹریلیا کے برعکس مشرقی افریقہ‘ جنوبی امریکہ کے کچھ علاقوں میں طوفانی موسم نظر آئے گا‘ شدید بارشیں ہو سکتی ہیں اور وہاں شدید سیلابوں کا خطرہ بھی ہے۔ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ اس سپر ایل نینوکے پاکستان پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ایک اثر تو میں نے کالم کے آغاز میں بتا دیا کہ بھادوں میں بارشیں کم ہو رہی ہیں اور آنے مہینوں میں بارشیں مزید کم ہونے کا اندیشہ ہے۔ بارشیں کم ہوں گی تو ربیع کی فصلوں کیلئے پانی کم دستیاب ہو گا۔ آبپاشی کیلئے پانی نہیں ہو گا تو زرعی پیداوار کم ہو گی۔ ہم پہلے ہی اپنی خوراک کا ایک بڑا حصہ دوسرے ممالک سے درآمد کرتے ہیں۔ یہ نئی صورتحال ہمارے خوراک کے حوالے سے درآمدی بل کو بڑھا دے گی جس کا بوجھ ظاہر ہے زرمبادلہ کے ذخائر پر پڑے گا۔ سپر ایل نینو کا اثر کم از کم سات آٹھ ماہ تو ضرور رہے گا‘ اس لیے اربابِ بست و کشاد کو ہر طرح کی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے فوری منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے۔ موسم کے تیور تیزی سے بدل رہے ہیں۔ حکومتی سطح پر دعوے تو بڑے بلند بانگ کیے جاتے ہیں لیکن سوچنے کی ضرورت ہے کہ کیا ایک سپر ایل نینو کا مقابلہ کرنے کیلئے ہم واقعی تیار ہیں؟</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_58350786.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ایک چیلنج کیوں ؟(محمد عبداللہ حمید گل)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-abdullah-hameed-gull/2026-09-13/52657/43305265</link><pubDate>Sun, 13 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-abdullah-hameed-gull/2026-09-13/52657/43305265</guid><description>افواجِ پاکستان 2002ء سے غیر ملکی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے برسرِ پیکار ہیں‘ جو ملک کی خودمختاری‘ سلامتی اور علاقائی سالمیت کے لیے ایک وجودی خطرہ بن چکا ہے۔ یہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز کی بے پناہ قربانیوں اور جدوجہد کا ہی ثمر ہے کہ ہمارا دشمن اپنے مذموم مقاصد کے حصول میں ناکام رہا‘ تاہم اس دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ کی قیمت پاکستان نے تقریباً ایک لاکھ قیمتی انسانی جانوں اور 150ارب ڈالر سے زائد کے مالی نقصان کی صورت میں ادا کی جبکہ قوم کو شدید نفسیاتی دباؤ کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ لیکن ان قربانیوں اور انسدادِ دہشت گردی کی سینکڑوں کارروائیوں کے باوجود خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کا چیلنج آج بھی موجود ہے جبکہ 2025ء اور رواں سال خاص طور پر زیادہ خون ریز ثابت ہوئے ہیں اور روزانہ دہشت گرد حملوں اور جانی نقصانات کی افسوسناک اطلاعات سامنے آتی رہتی ہیں۔ بنیادی سوال وہی ہے کہ اتنے برسوں سے جاری انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کے باوجود ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ کیوں نہیں ہو سکا؟ لمحۂ فکریہ تو یہ ہے کہ اس ضمن میں ماضی کی عسکری قیادت پر یہ الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ یہ پاکستان کی جنگ نہیں تھی بلکہ واشنگٹن سے ڈکٹیشن لی گئی اور اس سے باہر نکلنے کے لیے صحیح حکمتِ عملی وضع نہ کی جا سکی۔ بعض حلقے سیاسی حکومتوں کو افغانستان سے تعلقات کے بگاڑ کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔ ایک طرف ان کا اعتراض ہے کہ پاکستان نے کابل سے دوستی کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے‘ دوسری جانب یہی طالبان کے خلاف محدود فضائی حملوں کے ساتھ زمینی کارروائیوں کی حمایت بھی کرتے نظر آتے ہیں۔پاکستان تقریباً چار دہائیوں سے افغانستان میں عدم استحکام کے براہِ راست اثرات کا شکار ہے۔ اگست 2021ء میں طالبان حکومت کے آنے کے بعد پاکستان نے بڑی حد تک افغانستان کے ساتھ تحمل و مصالحت کی پالیسی اختیار کیے رکھی۔ حالانکہ افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا‘ تاہم اس دوران پاکستان کو مشرق و مغرب‘ دونوں جانب سے دو محاذوں کا سامنا تھا۔ افغان سرزمین کسی پڑوسی ملک کے خلاف استعمال نہ ہو‘ یہ صرف پاکستان کا نہیں پورے خطے کے امن کا تقاضا ہے۔ ہر گزرتے وقت کے ساتھ دہشت گردی کی نوعیت بھی بدلتی گئی ہے۔ پہلے دہشت گردوں کے بڑے منظم گروہ اور واضح ٹھکانے بڑا خطرہ تھے اب چھوٹے سیل‘ سلیپر نیٹ ورکس‘ مقامی سہولت کار‘ جدید مواصلاتی ذرائع اور سرحد پار روابط اس خطرے کو مزید پیچیدہ بناتے ہیں۔ ٹی ٹی پی کی سرگرمیوں میں اضافہ اور افغانستان میں موجود دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں نے پاکستان کے لیے خطرات بڑھائے۔ افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت کے مخاصمانہ رویے نے امن عمل کو شدید دھچکا پہنچایا۔ دوحہ معاہدے پر عمل درآمد نہ ہونے پر وقتاً فوقتاً ہونے والے مذاکرات طالبان کی ہٹ دھرمی سے نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکے۔ دوسری جانب اب پاکستان کو بھی اپنی افغان پالیسی میں جذبات کے بجائے مستقل قومی مفاد‘ واضح اہداف اور قابلِ پیمائش نتائج کو بنیاد بنانا ہوگا۔ بلوچستان کا مسئلہ دیکھا جائے تو دہشت گردی کے ساتھ گورننس کے حوالے سے بھی مزید پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے۔ یہاں جغرافیہ‘ طویل فاصلے‘ کم آبادی‘ سرحدی پھیلاؤ‘ قبائلی اثرات‘ معاشی محرومیاں اور سیاسی مسائل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔بی ایل اے سمیت مختلف دہشت گرد تنظیموں کی کارروائیوں نے صورتحال کو سنگین بنایا ہے۔ ان دہشت گرد گروہوں کی بیرونی مالی و دیگر معاونت کے خلاف سفارتی اور قانونی محاذ پر مؤثر کارروائی ضروری ہے‘ لیکن اس کے ساتھ ایک دوسرا پہلو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بلوچستان میں مستقل امن کے لیے سکیورٹی آپریشن کے ساتھ ترقی‘ روزگار‘ تعلیم‘ صحت‘ مؤثر مقامی حکومت‘ سیاسی شمولیت اور قانون کی حکمرانی کو بھی یقینی بنانا ہوگا۔ دہشت گردی کے خاتمے میں ناکامی کی ایک بڑی وجہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد نہ ہونا ہے۔2015ء میں نیشنل ایکشن پلان کو دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف ایک جامع قومی فریم ورک کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ اس میں دہشت گردی کے ساتھ ساتھ نفرت انگیز تقاریر‘ دہشت گردوں کی مالی سپورٹ‘ انتہا پسندانہ نیٹ ورکس اور سہولت کاروں کے خلاف کارروائی کی شقیں بھی موجود ہیں۔ اگر دہشت گرد کو میدان میں شکست دے دی جائے مگر اس کا مالیاتی نیٹ ورک قائم رہے‘ سہولت کار آزاد رہیں‘ پروپیگنڈا جاری رہے اور نئی بھرتیاں ہوتی رہیں تو دہشت گردی کا مسئلہ ختم نہیں ہوگا۔ افسوس اس پلان کی تمام شقوں پر عمل کرنے میں ہماری حکومتیں ناکام رہیں۔ سیاسی اختلاف اپنی جگہ مگر قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے دہشت گردی جیسے اہم ایشو کو سیاسی تقسیم سے محفوظ رکھنا اشد ضروری ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کا اختلاف جمہوریت کا حصہ ہے۔ ریاستی اداروں کی کارکردگی پر سوال اٹھانا بھی جمہوری حق ہے مگر اس کے لیے ثبوت‘ دلیل اور تعمیری متبادل پالیسی ضروری ہے۔ دوسری طرف ریاستی اداروں کو بھی اپنی کارروائیوں میں قانون‘ شفافیت اور پیشہ ورانہ معیار کو مقدم رکھنا ہو گا۔ عوام کا اعتماد کسی بھی انسدادِ دہشت گردی مہم کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے اہم ٹی ٹی پی‘ بی ایل اے اور دیگر گروہوں کو بیرونی عناصر سے مالی‘ لاجسٹک یا انٹیلی جنس معاونت کے حوالے سے موجود شواہد عالمی سطح پر مؤثر انداز میں اقوامِ عالم کے سامنے پیش کرنا ہوں گے۔ پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف عالمی بیانیے میں محض ردِعمل دینے والے ملک کے بجائے شواہد اور سفارت کاری کے ذریعے اپنا مقدمہ پیش کرنے والے ملک کا کردار اختیار کرنا ہوگا۔پاکستان نے دہائیوں تک لاکھوں افغان شہریوں کی میزبانی کی۔ یہ ایک بڑا انسانی اور معاشی بوجھ بھی تھا اور ایک اہم انسانی ذمہ داری بھی‘ لیکن سکیورٹی کے موجودہ حالات میں غیر قانونی آمد و رفت‘ جعلی دستاویزات اور دہشت گرد نیٹ ورکس کی سہولت کاری کے معاملات کو یوں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ دہشت گرد تنظیموں نے جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانا شروع کر دیا ہے۔ ڈرونز‘ خفیہ مواصلات‘ سوشل میڈیا‘ آن لائن پروپیگنڈا اور جدید مالیاتی ذرائع نے دہشت گردی کے خطرے کو نئی شکل دی ہے۔ گزشتہ کالموں میں بھی یہ باور کرایا گیا کہ پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف ایسی طویل المدتی پالیسی تشکیل دینے کی ضرورت ہے جو حکومتوں کی تبدیلی سے تبدیل نہ ہو۔ نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد‘ نیکٹا اور انسدادِ دہشت گردی کے اداروں کو مضبوط بنانا‘ پولیس کو جدید بنانا‘ سرحدی نظام کو مزید مؤثر کرنا‘ دہشت گردوں کے مالیاتی نیٹ ورکس ختم کرنا اور وفاق و صوبوں کے درمیان حقیقی رابطہ قائم کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں معاشی و سماجی ترقی کو سکیورٹی پالیسی کا حصہ بنانا ہوگا۔ پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے اس جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں‘ اب ریاست کے باقی ستونوں کو بھی سنجیدگی دکھانا ہوگی۔ یہ صرف دہشت گردی کے خلاف جنگ نہیں یہ ریاستی رِٹ‘ قومی سلامتی‘ خودمختاری‘ سیاسی استحکام اور پاکستان کے مستقبل کی جنگ ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_62843609.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>