<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>بجٹ 2026-27ء: توقعات اور اثرات(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-13/11272</link><pubDate>Sat, 13 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-13/11272</guid><description>وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے 18 ہزار 771 ارب روپے کا وفاقی بجٹ برائے مالی سال 2026-27ء پیش کر دیا ہے‘ جس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافہ اور تنخواہ دار طبقے کیلئے ٹیکس سلیب میں تبدیلی کی گئی ہے۔ بجٹ کے اہم نکات کی بات کی جائے تو آئندہ مالی سال کے بجٹ کا حجم گزشتہ سال کی نسبت تقریباً 6.8 فیصد زیادہ ہے‘ جس میں قرضوں اور سود کی ادائیگیوں کیلئے 8054 ارب روپے‘ دفاعی بجٹ کیلئے 3000 ارب روپے اور وفاقی ترقیاتی بجٹ کیلئے 1000 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے جبکہ بجٹ خسارہ 7020ارب ہے‘ جو گزشتہ سال کے 7501ارب کی نسبت 6.4 فیصد کم ہے۔ نامکمل معاشی اہداف‘ بیرونی ادائیگیوں کے بوجھ تلے دبی معیشت اور زرِمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دینے کی مسلسل تگ ودو میں مالی سال 2027ء کا جو بجٹ پیش کیا گیا ہے‘ اس پر مختلف طبقات کی جانب سے مختلف آرا کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اگرچہ تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ اور تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کی شرح کم کرنے سے تنخواہ دار طبقے‘ جو کئی سالوں سے سب سے زیادہ ٹیکس بوجھ کا سامنا کر رہا تھا‘ کو کچھ ریلیف ملا ہے‘ تاہم ماہانہ پچاس ہزار روپے آمدن کی انکم ٹیکس حد میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ دو سال بعد کم از کم اجرت میں بھی اضافہ کیا گیا ہے اور دس فیصد اضافے کے بعد 40 ہزار 700 روپے مقرر کرنے کی تجویز ہے۔ اگر بجٹ کے دیگر نکات کا جائزہ لیا جائے تو آبی تحفظ کے منصوبوں پر سرمایہ کاری میں کمی آئی ہے۔

آبی وسائل کیلئے 103ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے‘ جو گزشتہ برس 133 ارب روپے تھے۔ دیگر منصوبوں میں مہمند ڈیم کیلئے 22 ارب‘ داسو ہائیڈرو پاور منصوبے کیلئے 21 ارب‘ دیامیر بھاشا ڈیم کیلئے 14ارب اور کراچی کے فور منصوبے کیلئے 10 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ ایسے وقت میں جب پاکستان کو ماحولیاتی تبدیلیوں کے تباہ کن اثرات کا سامنا ہے اور بارشوں کا دورانیہ سکڑنے کے سبب آبی قلت کے مسائل شدید تر ہو رہے ہیں‘آبی منصوبوں میں کم سرمایہ کاری حیران کن ہے۔ دوسری جانب جاری مال سال کے ابتدائی گیارہ ماہ میں 868ارب روپے کے خسارے کے تناظر میں ایف بی آر کے محصولات میں آٹھ فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے۔ جاری مالی سال میں ایف بی آر گیارہ ماہ میں 11227 ارب روپے ہی جمع کر سکا‘ اب آئندہ مالی سال میں15 ہزار 264 ارب روپے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ گزشتہ پانچ برس سے مسلسل ٹیکس خسارے کے تناظر میں یہ ہدف کتنا حقیقی و عملی ثابت ہو گا‘ یہ ایک بڑا سوال ہے۔ جائیداد کی فروخت پر ٹیکس 5.5 فیصد سے کم کر کے 2.75 فیصد کرنے اور فائلرز کیلئے جائیداد کی خرید پر ٹیکس 2.5 فیصد سے کم کر کے 1.5 فیصد کرنے سے تعمیراتی شعبے میں بہتری آنے کے امکانات ہیں۔
بڑی صنعتوں اور برآمدات کو فروغ دینے کیلئے سپر ٹیکس کے خاتمے اور برآمدی آمدن پر ٹیکس وصولی کی شرح دو فیصد سے کم کر کے 1.25 فیصد کرنے کی تجویز بھی خوش آئند ہے۔ بجٹ کا ایک قابلِ ذکر نکتہ یہ ہے کہ اقتصادی ترقی کی شرح نمو کا ہدف چار فیصد رکھا گیا ہے جو گزشتہ سال کے 4.2 فیصد ہدف کے مقابلے میں کم ہے۔ محسوس ہوتا ہے کہ پالیسی ساز مشرقِ وسطیٰ کے بحران سے پیدا ہونے والے بیرونی چیلنجز کے تناظر میں معاشی استحکام برقرار رکھنے کے خواہاں ہیں اور اسی لیے بڑے اہداف کے بجائے سست رو مگر تسلسل کی پالیسی پر گامزن رہنا چاہتے ہیں۔ وفاقی وزیر خزانہ کی جانب سے جو بجٹ پیش کیا گیا اس پر 15 جون سے بحث کا آغاز ہونے اور بجٹ سیشن 29 جون تک جاری رہنے کا امکان ہے۔ اس دوران اتحادی جماعتوں کے علاوہ اپوزیشن کی جانب سے بھی ترامیم و تجاویز پیش کی جائیں گی۔ حکومت کو ان تجاویز کے ساتھ ساتھ متعلقہ شعبوں کے سٹیک ہولڈرز کو بھی اعتماد میں لینا چاہیے تاکہ آئندہ مالی سال کیلئے ایک قابلِ عمل میزانیہ بنایا جا سکے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بجٹ‘ دعوے اورحقیقت(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-13/11271</link><pubDate>Sat, 13 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-13/11271</guid><description> وفاقی وزیر خزانہ کی بجٹ تقریر کے مطابق نئے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس میں ریلیف‘ کینسر اور دیگر سنگین امراض کی ادویات کے خام مال پر کسٹمز ڈیوٹی کے خاتمے‘ تنخواہوں اور پنشن میں اضافے اور ایکسپورٹ انکم پر عائد ڈویلپمنٹ سرچارج کے خاتمے سمیت مثبت اور معیشت کے لیے خوش آئند تجاویز شامل ہیں۔ بلاشبہ یہ اقدامات اپنی جگہ اہم ہیں تاہم کسی بھی بجٹ کی کامیابی یا عوام دوستی کا اصل پیمانہ بجٹ تقریر کے اعلانات نہیں بلکہ عوام کی عملی زندگی میں آنے والی بہتری ہوتی ہے۔ اس حوالے سے حکومت کی جانب سے جاری کردہ اقتصادی سروے 2025-26ء ایک ایسی دستاویز ہے جو گزشتہ مالی سال کی معاشی و سماجی کارکردگی کا عکس پیش کرتی ہے۔ حکومت کی جانب سے گزشتہ مالی سال کے بجٹ کو بھی عوام دوست قرار دیا گیا تھا لیکن اقتصادی سروے کے اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے کہ عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ ہوا۔ سب سے تشویشناک پہلو بے روزگاری اور غربت کا ہے۔ اقتصادی سروے کے مطابق مالی سال 2025-26ء میں بے روزگاری کی شرح 6.3 فیصد سے بڑھ کر 7.1 فیصد جبکہ غربت کی شرح 28.9فیصد تک پہنچ گئی ہے جو مالی سال 2018-19ء میں 21.9فیصد تھی۔

اسی طرح سروے کے مطابق پاکستانی عوام نے مہنگائی کے باعث چھ برس پہلے کے مقابلے میں گندم‘ چاول‘ دالوں‘ دودھ اور گوشت کا استعمال کم کر دیا ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں پہلے ہی غذائی قلت اور بچوں میں نشوونما کی کمی ایک سنگین مسئلہ ہے‘ پروٹین اور غذائیت سے بھرپور اشیا کے استعمال میں کمی مستقبل میں صحت کے مزید بحرانوں کو جنم دے سکتی ہے۔ تعلیم کے شعبے کی صورتحال بھی کسی طور حوصلہ افزا نہیں۔ اقتصادی سروے کے مطابق گزشتہ مالی سال میں تعلیم پر اخراجات جی ڈی پی کے 0.8 فیصد رہے جبکہ رواں مالی سال کیلئے یہ شرح مزید کم ہو کر تقریباً 0.75 فیصد کی سطح پر آ گئی ہے۔ دنیا کی کوئی بھی قوم تعلیم میں سرمایہ کاری کے بغیر ترقی کی منازل طے نہیں کر سکتی۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں صورتحال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔ صحت کا شعبہ بھی حکومتی ترجیحات میں پس منظر میں دکھائی دیتا ہے جس پر اخراجات جی ڈی پی کے ایک فیصد سے بھی کم ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ رواں مالی سال حکومتی ریلیف صرف اعلانات تک محدود رہا ہے۔
حقیقی ریلیف تب محسوس ہوتا ہے جب مہنگائی کم ہو‘ روزگار کے مواقع بڑھیں‘ معیاری تعلیم اور صحت کی سہولیات دستیاب ہوں اور عام آدمی اپنی آمدنی سے باعزت طریقے سے خوراک‘ علاج اور بچوں کی تعلیم کے اخراجات پورے کر سکے۔نئے مالی سال کا بجٹ اسی وقت عوام دوست ثابت ہو سکتا ہے جب اس کے نتائج عوام کی زندگی میں واضح طور پر محسوس ہوں۔ اس کیلئے حکومت کو غربت اور بے روزگاری کے خاتمے کو اولین ترجیح بنانا ہو گا‘ عوام کی معاشی سکت کو بڑھانا ہو گا‘ تعلیم کیلئے قومی وسائل میں نمایاں اضافہ کرنا ہوگا اور صحت کے شعبے میں ایسی سرمایہ کاری کرنا ہوگی جو عام آدمی کو معیاری اور سستی طبی سہولیات فراہم کر سکے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>علاقائی دانش کی ضرورت(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-06-13/52111/35749064</link><pubDate>Sat, 13 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-06-13/52111/35749064</guid><description>پاکستان جیسے سماج میں کیا ایسی علمی روایت پنپ سکتی ہے جو قومی ریاست کے تقاضوں سے ماورا‘ علاقائی پس منظر میں مسائل پر اظہارِ خیال کر سکے؟نظریاتی سیاست کے دور میں کسی حد تک یہ ممکن رہا۔ نظریہ چونکہ جغرافیائی سرحدوں سے ماورا ہوتا ہے اس لیے عالمِ انسانیت کو ایک اکائی کے طور پر دیکھتا ہے۔ اشتراکیت کے علمبردار اس تناظر میں کلام کرتے رہے اور اسلامی انقلاب کے داعی بھی۔ نظریاتی وابستگی رکھنے والے چونکہ ہر جگہ موجود ہوتے تھے‘ اس لیے ان کے مابین ایک قرب کا پیدا ہونا فطری تھا۔ اس قرب کی وجہ سے انہیں الزامات کا ہدف بھی بننا پڑتا تھا مگر اکثر ایسے الزامات بے بنیاد ہوتے تھے۔ اس نظریاتی کشمکش میں‘ پاکستان کے اشتراکیت پسند سوویت یونین کے قریب تھے۔ انہیں روس نواز کہا جاتا تھا‘ خاص طور پر اُس وقت جب پاکستان میں ریاست کا مؤقف روس مخالف تھا۔ اسی طرح جماعت اسلامی اخوان کے ساتھ قربت محسوس کرتی تھی اور یہ بات پاکستان اور مصر کی حکومتوں کو پسند نہیں تھی۔ ایران کے مذہبی طبقے سے اسی طرح کی ہم آہنگی کا اظہار کرنے پر جماعت اسلامی کے ماہنامہ &#39;ترجمان القرآن‘ کی اشاعت پر 1960ء کی دہائی میں چند ماہ کے لیے پابندی لگا دی گئی تھی۔آج بھی جہاں اس سیاست کا کوئی اثر باقی ہے وہاں اس کے آثار دیکھے جا سکتے ہیں۔ ایران کے لیے جماعت اسلامی کا والہانہ پن اسی کا مظہر ہے۔ پاکستان کے اہلِ تشیع بھی خود کو ایران سے قریب تر محسوس کرتے ہیں۔ لازم نہیں کہ ان سب کے مفادات ایران کے ساتھ وابستہ ہوں۔ یہ نظریاتی ہم آہنگی ہے جو انہیں ایک دوسرے کے قریب کرتی ہے اور اس محبت میں وہ کچھ دیر کے لیے خود کو ان جغرافیائی سر حدوں سے آزاد محسوس کرتے ہیں جو قومی ریاست نے قائم کی ہیں۔ یہی معاملہ ہم افغانستان کے ساتھ بھی دیکھتے ہیں۔ یہاں ایسے لوگ موجود ہیں جو پاکستان کو غلط اور افغان طالبان کے مؤقف کو درست سمجھتے ہیں۔ یہ الگ بات کہ وہ اس کا اعلانیہ اظہار نہیں کر پاتے۔قومی ریاست سے وابستگی‘ کیا اس بات کو لازم کرتی ہے کہ ریاست کے مؤقف پر نقد نہ کیا جائے؟ کیا یہ حب الوطنی کے خلاف ہے؟ اگر ایک ریاست کا شہری یہ سمجھتا ہے کہ ریاست حق بجانب نہیں ہے تو کیا وہ اس کے خلاف بات نہیں کر سکتا؟ میں اس باب میں پہلے بھی ارون دھتی رائے کا حوالہ دے چکا ہوں۔ وہ بھارت کی ریاست پر نقد کرتی ہیں اور اس کے بدلے میں انہیں سزا بھی ملتی ہے۔ پاکستان میں پرویز ہود بائی جیسے چند نفوس ہیں جو اسی طرح کی باتیں کرتے ہیں۔ وہ اس اصولی مؤقف کے حامی ہیں کہ دنیا ایٹمی ہتھیاروں سے پاک ہو۔ اس حوالے سے وہ امریکہ اور بھارت ہی پر نہیں‘ ریاستِ پاکستان پر بھی تنقید کرتے ہیں۔ تاہم‘ ہم جانتے ہیں کہ اکثریت ان کے بارے میں کیا رائے رکھتی ہے۔ قومی ریاستوں میں بالعموم ریاست یا ریاستی پالیسی پر تنقید کو گوارا نہیں کیا جاتا۔امریکہ اور بر طانیہ وغیرہ میں مگر معاملہ یہ نہیں ہے۔ وہاں ایسی کتابیں لکھی جا سکتی ہیں جن میں امریکی اور برطانوی حکمتِ عملی پر تنقید ہوتی ہے۔ عراق پر امریکی حملے کے خلاف امریکہ میں احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ وہاں ایسی دانش پنپ سکتی ہے جو امریکہ کی جغرافیائی حدوں کی قید میں نہ ہو۔ چومسکی اس کی ایک مثال ہیں۔ کیا امریکہ ایک قومی ریاست نہیں ہے؟ کیا وہاں حب الوطنی کا کوئی جذبہ نہیں پایا جاتا؟ کیا ریاست کی حکمتِ عملی پر تنقید حب الوطنی سے متصادم ہے؟ علامہ ا قبال کیا اسی جانب متوجہ کرنا چاہتے تھے جب انہوں نے کہا: ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے؟ سب سے بڑا چیلنج تو ایک عالمِ دین کے لیے ہے۔ دین کا پیغام تو یہ ہے کہ انصاف کی بات کی جائے‘ چاہے یہ اولاد اور دیگر وابستگیوں کے مفادات کے لیے نقصان دہ ہو۔ دین ایک آفاقی تصور ہے اور ماورائے رنگ و نسل‘ ملک و وطن‘ انسانیت کے لیے ہدایت کا پیغام ہے۔ مسلمان علما آج امریکہ‘ بھارت اور روس جیسے ممالک کے شہری ہیں۔ امریکہ میں تو قدرے آزادی ہے‘ کیا بھارت میں وہ انصاف کے ساتھ کھڑے رہ سکتے ہیں؟جنوبی ایشیا اس وقت مسائل کی زد میں ہے۔ بھارت میں غربت اور افلاس ہے۔ وہاں کے ادارے بھی تباہ حال ہیں۔ ٹی وی ڈرامے اور فلمیں ہر سماج کی معاشرت کے عکاس ہوتے ہیں۔ ان سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ وہاں کا تھانہ کچہری ہمارے ان اداروں سے مختلف نہیں۔ افغانستان میں بھوک اور افلاس نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ بنگلہ دیش کا حال بھی اچھا نہیں۔ اس کے باوصف بھارت اپنے عوام کے مسائل کے حل کو ترجیح دینے کے بجائے‘ اسلحہ جمع کرتا رہتا ہے۔ اس کا نتیجہ ہے کہ پاکستان جیسا ملک بھی جواباً ایسا کرنے پر مجبور ہے۔ افغانستان روس سے دفاعی معاہدے کر رہا ہے حالانکہ عقل کا تقاضا ہے کہ وہ پاکستان سے تعلقات کو بہتر بنائے اور ہمسایہ ممالک سے ان امور پر بات کرے جن کا تعلق رفاہِ عامہ سے ہے۔آج اس خطے میں ایسی دانش نہیں پائی جاتی جو علاقائی سطح کا وژن رکھتی ہو اور خطے کے مجموعی مفاد میں سوچتی ہو۔ کوئی ایسا نظریہ سامنے نہیں آ رہا جو ایک ارب سے زیادہ آبادی کے مجموعی مفاد سے پھوٹا ہو۔ بیسویں صدی میں ایسے لوگ موجود تھے جو اس حوالے سوچتے تھے۔ تیسری دنیا‘ غیر جانبدار دنیا‘ علاقائی تعاون کی تنظیمیں‘ ترقی پذیر ممالک کا اتحاد‘ افریشیا‘ کئی تصورات تھے جنہیں ذوالفقار علی بھٹو اورسہارتو جیسے لوگ پیش کر رہے تھے۔ وہ دور فکری اعتبار سے زیادہ توانا تھا۔ اس کی بنیادیں اگرچہ نظریاتی تھیں لیکن یہ تصورات قومی ریاست سے ماورا‘ خطے کی سطح پر انسانی اجتماع کی دعوت دے رہے تھے۔ سوچ یہی تھی کہ علاقے میں امن ہو اور سب مل کر عوام کے بھلے کی سوچیں۔ اگر پاکستان‘ بھارت اور افغانستان میں دوستی ہو تو اس سے یہ علاقہ کبھی غذائی قلت کا شکار نہ ہو اور کھانے پینے کی اشیا سستی ہو جائیں۔آج اس خطے کی ضرورت ہے کہ یہاں اسی طرح کی دانش پیدا ہو جو قومی ریاست سے ماورا‘ علاقائی مسائل کو ہدف بنائے اور اس کا ایسا حل تجویز کرے جو انصاف کے تقاضوں کے مطابق اورقیامِ امن کے لیے ہو۔ جو ملکوں کے مابین دشمنی کی نہیں‘ بقائے باہمی کی بات کرے۔ جو عوام کی ترقی کو موضوع بنائے۔ جو باہمی تجارت کے فروغ کی بات کرے۔ میں جانتا ہوں یہ ایک مشکل کام ہے۔ انسان کی فطرت بدلی ہے نہ طاقت کی حرکیات۔ موجودہ حالات میں یہ دیوانے کا خواب ہے۔ اس کے باوصف یہ آواز ضرور اٹھنی چاہیے۔ ایک سادہ مؤقف ہے: مسئلہ کشمیر کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے۔ سوال یہ ہے کہ اس کو قبول کرنے میں کیا عذر مانع ہے؟ پانی کی تقسیم میں باہمی معاہدوں کا احترام ہونا چاہیے۔ اس کو قبول کرنے میں کیا رکاوٹ ہے؟ کسی ملک کی سرزمین دوسرے ملک میں دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ اس مؤقف کو سمجھنے میں کیا پیچیدگی ہے؟پاکستان میں‘ اس سوچ کے ابھرنے کے لیے حالات زیادہ سازگار ہیں۔ ہم مسلمان ہیں اور بحیثیت پاکستانی بھی‘ علاقائی معاملات میں ہمارا مؤقف قرینِ انصاف ہے۔ ہم انصاف کی بات کریں تو ہمیں ان رکاوٹوں کا کم سامنا کرنا پڑے گا جو قومی ریاست کی پیدا کردہ ہیں۔ تاہم اگر کوئی ایک آدھ رکاوٹ ہو بھی تو امکان ہے کہ حکمت کے ساتھ اسے دور کیا جا سکتا ہے۔ اس خطے کے عوام بھی &#39;سٹیٹس کو‘ سے تنگ آ چکے۔ آزاد کشمیر کے حالات اسی فرسٹریشن کا اظہار ہیں۔ بھارت میں بھی اضطراب ہے۔ امن کی بات کا عوامی سطح پر خیر مقدم ہو گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سارا ملک ہی ای لائسنس پر چل رہا ہے(خالد مسعود خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-06-13/52112/74311405</link><pubDate>Sat, 13 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-06-13/52112/74311405</guid><description>دو تین روز قبل ایڈیشل آئی جی ساؤتھ پنجاب نے ملتان ریجن میں بننے والے ڈرائیونگ لائسنسوں پر ٹریفک پولیس کی جانب سے عائد کردہ میڈیکل فیس کو پانچ سو سے کم کر کے تین سو روپے کرنے کا حکم دے کر اس رقم کو چالیس فیصد کم کرکے اس مد میں وصول ہونے والی رقم میں جو گھاٹا ڈالا ہے اس کے اثرات عام آدمی پر مثبت جبکہ لائسنس بنانے پر فائز سٹاف کیلئے نہایت منفی ثابت ہوئے ہیں۔ اب ان سے روزانہ کی بنیاد پر آمدنی میں کمی پر پوچھ تاچھ ہوسکتی ہے۔ قصہ یوں ہے کہ نئے ڈرائیونگ لائسنس کے حصول یا پرانے ڈرائیونگ لائسنس کی تجدید کیلئے ڈرائیور کی جسمانی و ذہنی صحت کا جائزہ لینے کی غرض سے میڈیکل فٹنس سرٹیفکیٹ اس سارے طریقۂ کار کا لازمہ ہے۔ جب میں نے پہلی بار 1978ء میں اپنا موٹرسائیکل کا ڈرائیونگ لائسنس بنوایا تو اس کیلئے میڈیکل فٹنس سرٹیفکیٹ ایمرسن کالج کے ڈاکٹر قدرت اللہ سے بنوایا۔ ڈاکٹر صاحب نے اچھی جان پہچان‘ جو ظاہر ہے اسی کالج میں عرصہ دراز سے لائبریرین کے فرائض سرانجام دینے والے میرے والد مرحوم کی وجہ سے تھی‘ کے باوجود میری اچھی طرح چھان پھٹک کی۔ سامنے دیوار پر لگے ہوئے انگریزی حروفِ تہجی اور گنتی والے چارٹ کو پہلے دونوں آنکھوں سے اور پھر باری باری ایک آنکھ پر ہاتھ رکھ کر پڑھوایا اور ڈرائیونگ کیلئے درکار صحت کے معیار پر پورا اترنے کا یقین کرنے کے بعد میڈیکل فٹنس سرٹیفکیٹ جاری کردیا۔ اس میڈیکل سرٹیفکیٹ کو ڈرائیونگ لائسنس فارم کے ساتھ منسلک کیا۔ فارم پُر کیا‘ اس پر ڈاکخانے سے لیکر ٹکٹیں لگائیں اور ٹریفک آفس میں جمع کروا دیا۔ چند روز بعد ایک سرخ رنگ کی چھوٹی سی پاکٹ سائز کاپی مل گئی۔ تب کمپیوٹر وغیرہ کا کسی نے یہاں نام بھی نہیں سنا تھا۔ کاپی میں لائسنس ہولڈر کے سارے کوائف ہاتھ سے لکھ کر درج کیے جاتے تھے۔ایک عدد تصویر ہوتی تھی جس پر لگی ہوئی مہر کا آدھا حصہ تصویر پر جبکہ باقی حصہ نیچے کاپی کے کاغذ پر ہوتا تھا۔ کاپی کے کافی سارے صفحات خالی ہوتے تھے جن پر آنے والے سالوں میں تجدید کی غرض سے ٹکٹیں لگائی جاتی تھیں۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے اس پر کُل خرچہ شاید ساٹھ روپے آیا تھا۔ سالانہ تجدید کی فیس تب دس روپے تھی۔ اس کاپی والے لائسنس پر بعد ازاں کار بھی درج ہو گئی۔ کمپیوٹرائزڈ ڈرائیونگ لائسنس بننے سے پہلے آخری بار اس کاپی والے لائسنس کی تجدید کروائی تو تین سال کی فیس ایک سو کچھ روپے تھی۔اب گزشتہ دنوں لائسنس کی تجدید کرائی ہے تو تین سالہ فیس کی مد میں مبلغ 8595 روپے بذریعہ بینک ایپ پنجاب پولیس کو ادا کیے جبکہ میڈیکل سرٹیفکیٹ کی مد میں پانچ سو روپے نقد ادا کیے۔ سالانہ تقریباً اڑھائی ہزار روپے تجدیدی فیس کے علاوہ دیگر چھوٹے موٹے اخراجات کے ساتھ مجھے تین سالہ ڈرائیونگ لائسنس کی تجدید کے سلسلے میں اوسطاً سالانہ 2865 روپے ادا کرنا پڑے۔ یہ پیسے سرکار کو‘ جبکہ مبلغ پانچ سو روپے بمد میڈیکل سرٹیفکیٹ کا بیشتر حصہ افسرانِ بالا کے صوابدیدی اختیارات کی مد میں چلا گیا۔ اب عمر کے جس حصے میں یہ عاجز ہے وہاں اس کا میڈیکل چیک اَپ ضروری ہو چکا ہے۔ مجھے صاف دکھائی دیتا ہے یا نہیں‘ اس کا فیصلہ ڈاکٹر نے کرنا ہے۔ میں رعشہ کا شکار ہوں یا ابھی تک اس سے محفوظ ہوں یہ بات بھی میڈیکل معائنے ہی سے سامنے آ سکتی ہے۔ مجھے کوئی اور جسمانی یا ذہنی عارضہ تو نہیں جس کے سبب میں محفوظ ڈرائیونگ کرنے کے قابل نہیں رہا اس کا فیصلہ بھی کوئی ڈاکٹر میرا معائنہ کرنے کے بعد ہی کر سکتا ہے۔ لیکن اب یہ سب کچھ محض پانچ سو روپے کے نوٹ کی مار ہے۔ کھڑکی پر بیٹھے اہلکار کو میری ذہنی اور جسمانی حالت سے قطعاً کوئی سروکار نہیں‘ اس کیلئے اہم چیز پانچ سو روپے کا حصول ہے جس کی نہ کوئی رسید تھی اور نہ ہی کوئی ثبوت کہ مجھ سے یہ پیسے وصول کئے گئے ہیں۔ یہ بات درست ہے کہ آج کے بیشتر ڈاکٹر حضرات بھی اسی قسم کا میڈیکل فٹنس سرٹیفکیٹ چند سو روپے کے عوض جاری کر دیتے ہیں لیکن قانون اور جعلسازی کے درمیان جو شرم کا پردہ حائل تھا کم از کم وہ ضرور برقرار رہتا تھا۔ اب پانچ سو روپے نقد وصولی سے یہ مہین سا پردہ بھی رخصت ہو گیا ہے۔ قانون کی عملداری کے دعویدار اور محافظ ادارے کے کار پردازان نے از خود قانون کا مذاق بنایا ہوا ہے اور یہ محض پانچ سو روپے کے عوض کیا جا رہا تھا۔ اب اس پانچ سو روپے فیس کودو سوروپے کم کرکے مبلغ تین سو روپے کر دیا گیا ہے۔ قانون سے مذاق تو بہرحال جاری ہے تاہم اب یہ مذاق سستا ہو گیا ہے۔ چلیں مجھ جیسے سینئر سٹیزن سے میڈیکل سرٹیفکیٹ کا مطالبہ یا اس کے عوض میڈیکل سرٹیفکیٹ کی مد میں پانچ سو یا تین سو روپے کی وصولی خواہ وہ سرکاری کھاتے میں جا رہی ہے یا نہیں جا رہی‘ سے قطع نظر یہ بات زیادہ اہمیت کی حامل ہے کہ نوجوانوں سے میڈیکل سرٹیفکیٹ کی مد میں اس رقم کی زبردستی وصولی کا کیا جواز ہے؟ مورخہ 24 اکتوبر 2025ء کو جاری کردہ ایک سرکاری ایس او پی کے مطابق میڈیکل فٹنس سرٹیفکیٹ فراہم کرنا پچاس سال سے زیادہ عمر کے افراد اور کمرشل ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنے والوں کیلئے لازمی ہے جبکہ پچاس سال سے کم عمر کے نان کمرشل ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنے والوں کیلئے میڈیکل سرٹیفکیٹ کی شرط سرے سے موجود ہی نہیں۔ یعنی پچاس برس سے کم عمر کے حامل افراد میڈیکل چیک اَپ اور سرٹیفکیٹ فراہم کرنے سے مستثنیٰ ہیں لیکن چند اضلاع چھوڑ کر پورے پنجاب میں عمر سے قطع نظر ہر شخص سے میڈیکل سرٹیفکیٹ کی مد میں یہ رقم وصول کی جا رہی ہے اور اس رقم کی مقدار بھی صوابدیدی معاملہ ہے یعنی ہر ضلع میں اس کا مختلف ریٹ ہے۔ضلع ملتان میں ماہانہ اوسطاً دس ہزار لائسنس بنتے ہیں۔ ان میں نئے‘ مثنیٰ اور تجدید والے تمام اقسام کے لائسنس شامل ہیں۔ ملتان کو ہم درمیانے درجے کے شہر میں رکھ لیتے ہیں۔ لاہور‘ راولپنڈی، فیصل آباد اور گوجرانوالہ وغیرہ میں اس سے زیادہ لائسنس بنتے ہیں۔ اگر ہم چھوٹے بڑے شہروں کا اوسط آٹھ ہزار لائسنس ماہانہ بھی لگائیں تو پنجاب کے انتالیس اضلاع میں ہر ماہ اوسطاً تین لاکھ سے زیادہ لائسنس بنتے ہیں۔ میڈیکل سرٹیفکیٹ کی مد میں تین سو روپے وصولی کا اوسط لگائیں تو ماہانہ نو کروڑ روپے صرف اسی ایک مد میں اِدھر اُدھر ہو رہے ہیں۔ اس ملک میں جہاں کرپشن کا سفر کروڑوں کی حدود کو پار کرتا ہوا اربوں میں داخل ہو چکا ہے‘ میڈیکل فٹنس سرٹیفکیٹ والا تین سو یا پانچ سو روپے کا کھانچہ بظاہر معمولی لگتا ہے لیکن جب آپ اجتماعی طور پر اس کا حجم (Volume) دیکھیں تو یہ ماہانہ کروڑوں اور سال کے اختتام تک ایک ارب روپے کے قریب جا پہنچتا ہے۔ میں ایک اصولی مؤقف کی بات کر رہا ہوں کہ ڈرائیونگ لائسنس کیلئے خواہ بھلا ہو یا برا‘ بہرحال ایک طے شدہ طریقۂ کار ہے جسے پورا کیا جانا چاہیے لیکن عملاً یہ ہو رہا ہے کہ بندہ چاہے جسمانی یا ذہنی طور پر معذور ہو‘ اسے دکھائی دیتا ہو یا نہ دیتا ہو‘ وہ پانچ سو روپے متعلقہ اہلکار کو دیتا ہے اور اسے لائسنس جاری ہو جاتا ہے۔ مجھے بالکل علم نہیں کہ میڈیکل سرٹیفکیٹ کے نام پر جو رقم لی جا رہی ہے‘ اس کے بدلے میں واقعی کوئی میڈیکل سرٹیفکیٹ لگایا بھی جا رہا ہے یا نہیں لیکن اگر کوئی چیز سرے سے لگائی ہی نہیں جا رہی تو اس کے پیسے‘ خواہ وہ دو روپے ہی کیوں نہ ہوں‘ سرکاری حیثیت میں اینٹھنا جرم ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ فی الوقت صرف ملتان میں جنوری میں بننے والے لائسنس اپنے منتظروں تک نہیں پہنچے جبکہ پنجاب بھر میں یہ تعداد دس لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ ٹریفک پولیس نے لیٹر جاری کیا ہے کہ اصلی ڈرائیونگ لائسنس کی غیر موجودگی میں ای لائسنس کو ہی اصلی لائسنس تصور کیا جائے۔ جہاں ملک کا باقی سارا نظام بھی ای لائسنس پر چل رہا ہے تو ڈرائیونگ لائسنس نے بھلا کیا قصور کیا تھا کہ اسے یہ درجۂ قبولیت نہ دیا جاتا؟</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90500073.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بھیرہ،پھُلاں دا سہرا(ڈاکٹر حسین احمد پراچہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-06-13/52113/78944876</link><pubDate>Sat, 13 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-06-13/52113/78944876</guid><description>لاہور تا اسلام آباد موٹر وے کے دونوں طرف سبزہ زاروں‘ کھیتوں کھلیانوں‘ مٹیالی پگڈنڈیوں اور قدیم و جدید فارمنگ کے نظاروں نے اس کے حسن کو چار چاند لگا دیے ہیں۔ لاہور‘ اسلام آباد موٹروے کے وسط میں بھیرہ کا دوطرفہ ریسٹ ایریا نہایت آرام دہ اور جدید سہولتوں سے آراستہ ہے۔ اسے موٹروے کا اعجاز ہی کہنا چاہیے کہ آج پنجاب اور خیبر پختونخوا کا شاید ہی کوئی فرد ہو جو بھیرہ کے نام سے ناواقف ہو‘مگر کم ہی لوگ جانتے ہیں کہ &#39;بھیرہ، پُھلاں دا سہرا‘ کی تہذیب اتنی ہی قدیم ہے جتنی وادیٔ سندھ کی۔ دریائے جہلم کے شمالی کنارے پر قدیم بھیرہ کے کھنڈرات و آثار اہلِ نظر کو دعوتِ نظارہ دیتے ہیں۔ حال ہی میں قدیم و جدید بھیرہ کے بارے میں مستند معلومات پر مبنی ایک کتاب &#39;بھیرہ تاریخ و تمدن‘ کے عنوان سے منظر عام پر آئی ہے جو بھیرہ کے حوالے سے معلومات کا خزینہ ہے۔ بھیرہ اپنے محل وقوع کے اعتبار سے ہندوستان پر حملہ کرنے والوں کیلئے شمال مغربی دروازہ یا باب الہند کہلاتا تھا۔ تقسیم ہند سے پہلے بھیرہ کی نیک نامی اور شہرت میں اس شہر کی منفرد تہذیب و تعمیرات‘ مذہبی و عام تعلیمی دراسات‘ صنعت و حرفت اور دستکاریاں اور کاروبار شامل تھے۔ قدیم ترین بھیرہ دریائے جہلم کے شمالی کنارے پر آباد ایک خوشحال شہر تھا جو آرٹ‘ کلچر اور تجارت میں مشہور تھا۔ شمال مغربی افغانوں کے مسلسل حملوں اور دریائے جہلم کے بڑے سیلابوں کے بعد یہ قدیم شہر کھنڈرات میں بدل گیا اور لوگ نقل مکانی پر مجبور ہو گئے۔ موجودہ بھیرہ کے بالمقابل دریائے جہلم کے دوسرے کنارے پر ٹیلوں کی شکل میں اب پرانا بھیرہ موجود ہے جسے بھراڑیاں کہا جاتا ہے۔ موجودہ بھیرہ شیر شاہ سوری کے مختصر عہد میں دریائے جہلم کے مشرقی کنارے پر 1540ء کے بعد آباد ہوا۔ ڈسٹرکٹ جہلم کے گزٹیئر کے مطابق 1540ء میں شیر شاہ سوری نے موجودہ بھیرہ کی تعمیر کی تھی۔ یہ قدیم شہر بھی فصیل کے اندر تعمیر کیا گیا تھا تاہم فصیل کے باہر ایک جامع مسجد تعمیر ہوئی۔ قارئین کیلئے یہ معلومات یقینا حیران کن ہو گی کہ بھیرہ کی تین گنبدی مسجد بادشاہی مسجد لاہور‘ دہلی اور آگرہ سے پہلے تعمیر ہوئی تھی۔ جامع مسجد بھیرہ کو مقامی سرداروں کی خانہ جنگیوں خصوصاً سکھوں کے دور میں بہت نقصان پہنچا۔ بالآخر 1849ء میں انگریزوں کے ہاتھوں شکست کے بعد پنجاب میں سکھوں کی حکومت کاخاتمہ ہو ا اور اُس دور میں علامہ قاضی احمد الدین بگوی نے ایک روحانی بشارت کے تحت لاہور سے آ کر مسجد کے شکستہ اور بے آباد کھنڈرات کی تعمیرِ نو کا عزم کیا۔ مسجد کی مرمت کا کام پرانی طرز کے مسالے سے کیا گیا۔ تقریباً آٹھ سال میں مسجد کے گنبدوں کی تعمیر مکمل ہوئی‘ آب رسانی کا نظام بحال ہوا اور غالباً ڈیڑھ صدی کے بعد مسجد سے اذان کی آواز دوبارہ بلند ہوئی۔ مٹی‘ چونے کے آمیزے اور پختہ اینٹوں کی سب سے قدیم اور پرانے نقشے پر تعمیر شدہ تقریباً 500سالہ پرانی مسجد کی عمارت علیٰ حالہٖ قائم ہے۔کتاب کے مطالعے سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ آٹھویں صدی عیسوی میں مسلم حکمرانوں کی آمد سے پہلے ہندوستان کے ہندو اور بدھ راجاؤں میں تاریخ کا شعور نہیں تھا؛ چنانچہ قبل ازمسیح اور بعد ازمسیح کی کئی صدیوں کی تاریخ گیتوں‘ شعروں‘ قصہ کہانیوں اور مفروضوں پر منحصر ہے۔ کوئی مستند ثقہ مواد دستیاب نہیں۔ شاندار قلعہ روہتاس 16ویں صدی عیسوی میں ضلع جہلم کے دینہ شہر کے قریب شیر شاہ سوری نے ہی تعمیر کرایا تھا۔ سکندر یونانی 327قبل از مسیح میں ہندوستان پر حملہ آور ہوا تھا۔ وہ جب قدیم بھیرہ پہنچا تو شہر کے حاکم نے اطاعت قبول کر لی۔ سکندر نے چند روز بھیرہ میں قیام کیا اور پھر بھیرہ سے کچھ آگے مونگ رسول کے پار اُس کا راجہ پورس سے مقابلہ ہوا تھا۔تذکرہ ہو رہا تھا قدیم بھیرہ کے حکمرانوں کا۔ مغل حکمران اکبر اعظم ایک مہم سے لوٹا تو اس نے دہلی واپس جاتے ہوئے راستے میں بھیرہ قیام کیا اور جن لوگوں نے اس مہم کے دوران مغل بادشاہ کی مدد کی تھی انہیں اپنے پاس بلا کر شرفِ باریابی بخشا اور مال و زر سے نوازا۔ بابر کو بھیرہ میں دریائے جہلم اور اس کے نواح میں کلر کہار کا علاقہ بہت پسند آیا۔ تزک بابری میں بابر لکھتا ہے &#39;&#39;ایک روز دریا میں کشتی رانی اور مے نوشی کے بعد اُس پار گیا (جہاں موجودہ بھیرہ آباد ہے) وہاں باغوں‘ پھلواری اور گنے کے کھیتوں کی سیر کی اور رہٹ کے ذریعے کنویں سے نکلتے ہوئے پانی سے بہت محظوظ ہوا‘‘۔شمال کی طرف سے آنے والے مسلم حکمرانوں اور حملہ آوروں نے بھیرہ میں قیام کیا ہو یا نہ کیا ہو مگر تقریباً وہ سبھی بھیرہ سے گزرے تھے۔ زمانۂ قدیم کے تمام ممتاز سیاح بھیرہ آئے‘ یہاں قیام کیا اور یہاں کی تہذیب و تمدن کے بارے میں خوب لکھا اور شہر کے اہلِ علم اور اہلِ ہنر کی اپنے سفر ناموں میں بہت تعریف کی۔ایک زمانے میں بھیرہ کی تہذیبی کشتی بڑے سیاحوں اور زعما کو کشاں کشاں بھیرہ لاتی تھی۔ آج کا تیز رفتار راستہ روزانہ ہزاروں بلکہ لاکھوں لوگوں کو بھیرہ کے دروازے تک لاتا ہے مگر انہیں شیر شاہ سوری کے بھیرہ میں قدم قدم پر موجود عجائبات اور ہزاروں سال کی تہذیبی کہانی دکھانے اور سنانے کا حکومت کوئی پُرکشش انتظام کر سکی اور نہ ہی اہلِ بھیرہ۔ بھیرہ کے لوگ بڑی بڑی بلندیوں تک پہنچے مگر وہ حکومتِ وقت کے ساتھ مل کر بھیرہ کو حقیقی معنوں میں ایک ٹورسٹ سٹی بنوا سکے نہ منوا سکے۔ حکومت پنجاب نے والڈ سٹی کے تاریخی پروگرام میں بھیرہ کو سب سے اوپر رکھا ہے مگر عملاً اب تک اس تاریخی شہر کی فصیل بحال ہو سکی ہے اور نہ ہی پرانی یادگاروں کو دیکھنے کیلئے گائیڈڈ ٹورز کا بندوبست ہوا ہے۔ البتہ لیفٹیننٹ کرنل (ر) زاہد ممتاز جیسے چند لوگوں نے اپنے ذاتی ذوق شوق سے ماضی کی یادگاروں سے بھیرہ کو بازیاب کیا ہے۔ اسی طرح صاحبزاہ ابرار احمد بگوی نے اس شہر کی قدیم تہذیب و ثقافت کو اجاگر کرنے کیلئے ایک میوزیم قائم کیا ہے۔ بھیرہ میں ٹورسٹ انڈسٹری کے فوری فروغ کی ضرورت ہے۔ یہاں کے تمام ہندو‘ مسلم‘ سکھ اور دیگر آثار کی بحالی اسی شکل میں ہو جیسے وہ صدیوں پہلے تعمیر ہوئے تھے۔ تقسیم برصغیر سے پہلے یہاں 22فیصد ہندو‘ ایک فیصد سکھ اور 77فیصد مسلمان تھے۔ شہر کے باسیوں میں باہمی یگانگت اتنی تھی کہ 1947ء میں سبھی ہندو اور سکھ بحفاظت بھارت روانہ ہوئے کسی کو خراش تک نہ آئی۔ جامع مسجد بھیرہ‘ ریلوے سٹیشن‘ گورنمنٹ ہائی سکول بھیرہ‘ شیش محل‘ مسیت دریائی‘ باؤلی والامندر‘ گوردوارہ‘ آریہ سکول‘ تیری پاٹھ شالا‘ گرلز پرائمری سکول سب مقاماتِ دید ہیں۔میرے بچپن کی یادوں میں چھک چھک کرتے انجن کے ساتھ سر سبز کھیتوں کے بیچوں بیچ آنے والی دیو مالائی گاڑی پریوں کی کہانی کی طرح موجود ہے۔ بھیرہ پہنچنے والی ریل کی سیٹی بجتی تو دل کا جلترنگ بجنے لگتا اور پیاروں کو دور دیسوں کی طرف لے جانے والی ٹرین کی سیٹی بجتی تو دل اداس و غمگین ہو جاتا۔ کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ یہ قدیم و جدید تہذیبوں کو ملانے والی ریل گاڑی کا نہ صرف روٹ ختم کر دیا گیا ہے بلکہ اس کی پٹڑیاں تک اکھاڑ دی گئی ہیں۔ ہماری رائے میں اسی چھک چھک کرتے انجن والی گاڑی کو ایک ٹورسٹ کشش کے طور پر بحال کیا جائے تو اندرون ملک سے ہی نہیں بیرونِ ملک سے بھی لوگ بھیرہ کی سیاحت کیلئے آئیں گے۔ بہرحال ہم مصنف کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے اپنی کتاب کے ذریعے قدیم بھیرہ کی نقاب کشائی کی ہے اور اس تہذیبی اثاثے تک رسائی کا جامع پروگرام بھی بیان کیا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_70033906.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>امریکہ ایران مذاکرات پس و پیش کا شکار(ڈاکٹر رشید احمد خاں)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr-rasheed-ahmad-khan/2026-06-13/52114/65417094</link><pubDate>Sat, 13 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr-rasheed-ahmad-khan/2026-06-13/52114/65417094</guid><description>امریکی صدر کے حکم پر ایران پر نئے فضائی حملوں‘ دھمکیوں اور پھر یکایک پیچھے ہٹ جانے کو ٹرمپ کی ایک اور سفارتی قلابازی قرار دیا جا سکتا ہے۔ 10 جون کو ایران پر حملوں سے دو روز قبل صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ ڈیل پر دستخط ہونے میں محض دو یا تین دن باقی رہ گئے ہیں۔ سی این این کے مطابق اسی گفتگو میں صدر ٹرمپ نے یہ تاثر بھی دیا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ دوبارہ جنگ شروع کرنے پر آمادہ نہیں۔بدھ‘ 10جون کی رات امریکی حملوں میں آبنائے ہرمز کے قرب و جوار میں واقع ایران کے فضائی دفاعی نظام کی تنصیبات اور چند سول انفراسٹرکچر کے مراکز‘ جن میں میٹھے پانی کے ذخائر بھی شامل تھے‘ کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ اگلے حملوں میں امریکہ نے ایران کے وسیع علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہوئے فوجی اور غیر فوجی دونوں نوعیت کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ ایران کے خلاف امریکہ کے پہلے حملے مبینہ طور پر ایران کی جانب سے امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر مار گرائے جانے کے جواب میں کیے گئے تھے جبکہ ایک روز بعد ہونے والے حملوں کا جواز صدر ٹرمپ نے ایران کی جانب سے امریکی شرائط پر مبنی ڈیل پر دستخط کرنے میں تاخیر کو قرار دیا۔ حالانکہ امریکی صدر خود متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ ایران کے ساتھ حتمی ڈیل کی انہیں جلدی نہیں اور وہ ہفتوں تک اس کا انتظار کر سکتے ہیں۔ ان کے اپنے الفاظ میں &#39;&#39;اس قسم کے معاملات طے ہونے میں وقت لگتا ہے‘‘۔ان حملوں سے ایک روز قبل امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اپنے ایک بیان میں ایران اور امریکہ کے درمیان جاری بات چیت کے دوران ایران کے رویے کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران امریکہ کے ساتھ ڈیل مکمل کرنے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہا ہے اور اس نے بڑی معقول تجاویز پیش کی ہیں‘ تاہم انہیں حتمی شکل دینے میں ہفتے نہیں بلکہ مہینے لگ سکتے ہیں۔ لیکن ثابت ہوا کہ ٹرمپ اپنی طبیعت کی بے صبری کے باعث اتنا عرصہ انتظار کرنے کے لیے تیار نہیں اور انہوں نے ایران پر محض یہ الزام عائد کر کے کہ اس نے ڈیل پر دستخط کرنے میں بہت دیر لگا دی ہے‘ حملوں کا حکم دے دیا۔ ان کے بقول ایران کو اس تاخیر کی قیمت چکانا پڑے گی اور یہ قیمت ڈونلڈ ٹرمپ بمباری کی صورت میں وصول کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس معاملے پر بھی دیگر امور کی طرح ٹرمپ متضاد بیانات دے رہے ہیں۔ ایک طرف وہ کہتے ہیں کہ ایران کے ساتھ حتمی معاہدے کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں اور دوسری طرف اسی سانس میں یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ ایران پر حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک ایران امریکی شرائط پر مبنی ڈیل پر دستخط نہیں کرتا۔ سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ اس طرح اپنے مقصد کے حصول میں کامیاب ہو جائے گا؟امریکہ کے ایک ریٹائرڈ جنرل اور سابق اسسٹنٹ سیکرٹری آف سٹیٹ جنرل (ر) مارک کیمٹ نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ اپنی بے صبری کی وجہ سے سفارتی ذرائع سے وہ کامیابی حاصل نہیں کر سکے جو وہ چاہتے تھے کیونکہ ایرانیوں نے نہایت ماہرانہ سفارتکاری کا مظاہرہ کیا۔ اب وہ انہی مقاصد کو طاقت کے بل پر حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ جنرل کیمٹ نے کہا کہ اگرچہ تاریخ میں ایسی مثالیں موجود ہیں جب ایک طاقتور حریف نے اپنے نسبتاً کمزور مدمقابل کو طاقت کے بے دریغ استعمال کے ذریعے مذاکرات کی میز پر لانے میں کامیابی حاصل کی۔ اس کی ایک مثال ویتنام جنگ کے آخری برسوں میں امریکہ کی جانب سے شمالی ویتنام کے دارالحکومت ہنوئی اور ملک کے دیگر علاقوں کو کارپٹ بمبنگ کا نشانہ بنا کر جنیوا مذاکرات (1973ء) میں شرکت پر آمادہ کرنے کی صورت میں موجود ہے‘ مگر یہ کہنا مشکل ہے کہ 53 سال پرانے طریقۂ کار کو آج بھی کامیابی کے ساتھ استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایرانیوں نے ثابت کیا ہے کہ ان میں صبر‘ استقامت اور برداشت کا مادہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے اور انہوں نے ذہنی طور پر خود کو اس صورتحال کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر تیسرے دن دو سے تین مرتبہ یہ کہہ کر کہ ڈیل تقریباً تیار ہے اور اس پر دستخط ہونے والے ہیں‘ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر اچانک حملہ دنیا کے لیے تو باعثِ حیرت ہو سکتا ہے مگر ایرانیوں کے لیے نہیں۔ کیونکہ آٹھ اپریل سے جنگ بندی کے اعلان کے باوجود امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے آبنائے ہرمز میں متعدد خلاف ورزیوں نے ایران کو ٹرمپ کے بارے میں چوکنا کر رکھا ہے اور وہ ٹرمپ انتظامیہ کے ایران پر دوبارہ حملے سے حیران نہیں ہوئے۔ انہیں معلوم تھا کہ یہ حملے کسی بھی وقت ہو سکتے تھے‘ اس لیے انہوں نے اپنے وسائل کے مطابق ان کا مقابلہ کرنے کی تیاری کر رکھی تھی۔جمعرات 11 جون کو بھی ٹرمپ نے ایران پر بڑے حملے کرنے کا اعلان کیا مگر بعد ازاں حملہ منسوخ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ معاہدہ تیار ہے‘ وقت اور جگہ کا اعلان جلد کیا جائے گا۔ سوال یہ ہے کہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کو ساڑھے تین ماہ ہونے کو ہیں لیکن ابھی تک یہ واضح نہیں کہ یہ کس سمت جائے گی اور اس کا انجام کیا ہو گا۔ دوسری جانب اگر ایران امریکی کارروائیوں کا جواب نہیں دیتا تو یہ امریکہ کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے مترادف ہو گا‘ جو ایران کیلئے کسی طور قابلِ قبول نہیں ہو گا۔ اس لیے جنگ میں وقفے کے باوجود جنگ کے دوبارہ آغاز کا خدشہ برقرار رہے گا‘ کیونکہ امریکی وزیر دفاع کے مطابق امریکہ نے اب اپنا مقصد سفارتی زبان کے بجائے بموں کی زبان میں حاصل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اگر امریکہ جنگ بندی ختم کر کے ایران پر حملے کرتا ہے تو اسرائیل بھی دوبارہ ایران پر حملہ آور ہو سکتا ہے جبکہ ایران پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ اس مرتبہ جنگ کا دائرہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ وسیع ہو گا۔ ٹرمپ کی کوشش ہو گی کہ کم سے کم وقت میں اپنا مقصد حاصل کیا جائے‘ اور اس کے لیے ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ طاقت استعمال کی جائے۔ اگر ایران ہمسایہ خلیجی ممالک میں موجود امریکی اڈوں پر شدت سے حملے کرتا ہے اور وہاں سے امریکی طیاروں کو ایران پر حملہ آور ہونے میں مشکلات پیش آتی ہیں تو اسرائیل بھی کسی نہ کسی بہانے جنگ میں کود پڑے گا اور اسرائیل کی شرکت سے جنگ کی نوعیت میں خطرناک تبدیلی آ جائے گی اور یہ جنگ یقینا پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ ابھی تک خوش آئند بات یہ ہے کہ فریقین میں سے کسی نے بھی سفارتی سطح پر بات چیت کے عمل سے علیحدگی کا اعلان نہیں کیا۔ بلکہ صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی اعلیٰ قیادت نے ان سے رابطہ قائم کر کے بمباری روکنے کا کہا۔ اگرچہ ایران نے صدر ٹرمپ کے اس دعوے کی تردید کی ہے مگر تہران میں ایک قطری وفد موجود ہے جو ایران اور امریکہ کے مابین اختلافات کی خلیج پاٹنے کی غرض سے کام کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ صدر ٹرمپ کی جانب سے حالیہ دنوں میں یہ اعتراف بھی کیا گیا کہ پاکستان اپنی مصالحانہ کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ امریکہ نے بغیر کسی اشتعال انگیزی کے ایران کو دوبارہ حملوں کا جو نشانہ بنایا ہے‘ اس سے دونوں ممالک کے مابین بداعتمادی کی وہ خلیج‘ جو پہلے ہی خاصی وسیع تھی‘ مزید گہری ہو گئی ہے۔ نتیجتاً امریکہ اور ایران میں جوہری مسئلے پر اتفاقِ رائے پیدا کرنا مزید مشکل ہو گیا ہے۔بے یقینی کی اس صورتحال کے باعث نہ صرف خلیج فارس اور مشرقِ وسطیٰ بلکہ اس سے ملحقہ خطوں‘ یعنی جنوبی اور وسطی ایشیا میں بھی کشیدگی‘ غیر یقینی اور تصادم کے خدشات موجود رہیں گے جو خطے کے تمام ممالک میں امن‘ استحکام اور معاشی ترقی پر منفی اثرات مرتب کریں گے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90264263.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سارا جھگڑا مفادات کا ہے(افتخار احمد سندھو)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/iktakhar-ahmed-sandhu/2026-06-13/52115/42665925</link><pubDate>Sat, 13 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/iktakhar-ahmed-sandhu/2026-06-13/52115/42665925</guid><description>میں گزشتہ ماہ امریکہ اور کینیڈا کے وزٹ پر تھا۔ ایک ہفتہ امریکہ اور تین ہفتے کینیڈا میں گزرے۔ دوستوں نے تقریبات کا اہتمام کرکے عزت افزائی کی‘ جس پر میں ان کا ممنون بھی ہوں اور شکر گزار بھی۔ مرزا نسیم بیگ کمیونٹی میںہم آہنگی کے علمبردار ہیں۔ 2010ء میں کینیڈا کو اپنا گھر بنانے کے بعد سے مرزا نے گریٹر ٹورنٹو ایریا میں کمیونٹی سروس کے ستون کی حیثیت اختیار کر لی ہے۔ ایک ریٹائرڈ پبلک سروس افسر کے طور پر مرزا نے خود کو طاقتور اور جامع کمیونٹی کی تعمیر کے لیے وقف کر دیا۔ ان کا کام کینیڈا کی اقدار کی بہترین عکاسی کرتا ہے۔ ہمدردی‘ شہری ذمہ داری اور مختلف اقوام میں اتحاد کے لیے گزشتہ پندرہ سالوں میں مرزا بیگ کی شراکتیں نہ صرف وسیع ہوتی رہیں بلکہ گہرا اثر بھی ڈالا۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں گزشتہ برس انہیں کنگ چارلس III کے تاج پوشی تمغہ سے نوازا گیا۔ یہ ایک کینیڈین قومی اعزاز ہے جو اُن لوگوں کو دیا جاتا ہے جنہوں نے ملک کے لیے نمایاں اور دیرپا خدمات انجام دی ہوں۔ ان کی کوششوں نے مختلف پس منظر کے لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب کیا اور کینیڈا کے کثیر الثقافتی جڑائو کو مضبوط بنایا۔ وہ مسی ساگا میں پاکستانی کمیونٹی کے بیرونی امور کے سیکرٹری کے طور پر بھی خدمات انجام دے رہے ہیں‘ جہاں انہوں نے شہریوں کے لیے متعدد اقدامات کی داغ بیل ڈالی ہے۔ بین المذاہب مکالموں سے لے کر کمیونٹی کی فلاح کے لیے چندہ مہم تک‘ ان کی قیادت میں کمیونٹی نے فنڈز جمع کیے‘ پارک کی صفائی کی مہمات منظم کیں اور فوڈ بینک میں باقاعدگی سے حصہ لینے والی کمیونٹی کے طور پر اپنی پہچان بنائی۔ مرزا نسیم بیگ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر کمیونٹی اور پولیس کے تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے کام کرتے ہیں تاکہ بات چیت کو فروغ اور عوامی حفاظت کو بڑھاوا دیں۔ وہ شہری قیادت میں ایک مثال ہیں اور کینیڈا میں ہم آہنگی اور خدمت کے مضبوط حمایتی۔ انہوں نے میرے اعزاز میں مسی ساگا کے ایک ریسٹورنٹ میں عشائیے کا اہتمام کیا۔ معروف ماہر قانون عاطف سہیل بٹ اور جہانزیب ایڈووکیٹ بھی میرے ہمراہ تھے۔ دیگر دوستوں میں کینیڈا کے ممبر پارلیمنٹ دیپک آنند‘ مسز ارونا دیپک‘ پشکار گوئل‘ بشارت ریحان اور میرے ہم نام دوست افتخار چودھری بطور خاص شامل تھے۔افتخار چودھری بھوپال والا ضلع سیالکوٹ سے تعلق رکھتے ہیں اور جی ٹی اے (گریٹر ٹورنٹو ایریا) میں پاکستانی کمیونٹی کے ایک کامیاب بزنس مین ہیں۔ لاہور میں وہ پاور جنریشن کے لیے مشینری کا کاروبار کرتے تھے اور 25سال قبل مسی ساگا منتقل ہو گئے۔ وہاں وہ پاکستانی کمیونٹی میں خاص مقام رکھتے ہیں اور بین الاقوامی تعلقات اور معیشت پر مضبوط گرفت رکھتے ہیں۔ 2023ء میں لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی میں ایک تقریر کے دوران انہوں نے عالمی حالات اور پاکستان کے پوٹینشل کے تناظر میں کہا تھا کہ چند سالوں کے بعد پاکستان کا مستقبل بہت روشن ہے۔ اللہ ان کی زبان مبارک کرے اور پاکستان دن دگنی رات چگنی ترقی کرے۔ اللہ پاک وطن کو شریروں کے شر‘ حاسدوں کے حسد اور لٹیروں کی لوٹ مار سے بچائے اور یہ چمن ہمیشہ ہرا بھرا رہے۔ افتخار چودھری کینیڈا کی کنزروٹیو پارٹی سے رکن پارلیمنٹ کے لیے انتخاب بھی لڑ چکے ہیں اور اگلے انتخابات میں دوبارہ حصہ لیں گے۔ امید ہے کہ کامیاب ہوکر وہ پہلے سے زیادہ انسانیت کی خدمت کریں گے۔ کھانے کے محفل کو شرکا کی گفتگو اور شاعری نے ادبی نشست میں بدل دیا۔ دیپ آنند کے چند اشعار کے بعد بشارت ریحان نے اردو اور پنجابی کلام پیش کیا۔ یہ نشست کئی گھنٹے تک جاری رہی اور تمام شرکا خوب محظوظ ہوئے۔میرے پنجابی دوست جسبیر سنگھ گوپا رائے کینیڈا میں تقریباً بیس سال سے پاکستان کے لیے ٹور اینڈ ٹریولز سروسز فراہم کر رہے ہیں اور پنجابی دوستوں کی خدمت میں دن رات مصروفِ عمل ہیں۔ پاکستانی پنجاب سے کوئی دوست کینیڈا چلاجائے تو وہ پھولے نہیں سماتے اور اس کی مقدور بھر خاطر مدارت کیے بغیر رہ نہیں پاتے۔ ان کے دل کی طرح ان کا دستر خوان بھی بہت کشادہ ہے۔انہیں کینیڈا میں آباد ہوئے تقریباً تین عشرے ہو چلے ہیں‘ اس قبل وہ پانچ سال تک انگلینڈ میں کام کرتے رہے۔ 1991ء میں وہ انگلینڈ اور 1996ء میں کینیڈا گئے۔ جسبیر سنگھ گوپا رائے گزشتہ پینتیس سالوں میں چالیس بار پاکستان کا وزٹ کر چکے ہیں۔ وہ رہتے توکینیڈا میں ہیں لیکن ان کا دل ہمیشہ پاکستان کے ساتھ دھڑکتا ہے۔ کینیڈا کی اکثر محفلوں میں پاکستانی اور انڈین پاکستان اور بھارت کا تقابلی جائزہ لیتے رہتے ہیں اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے بھی کوشاں رہتے ہیں۔ میری کینیڈا میں موجود بھارتی اور پاکستانی دوستوں‘ دانشوروں کے ساتھ جتنی بھی ملاقاتیں ہوئیں ان میں پاکستان اور بھارت کے حالات و معاملات کا بغور جائزہ لیا گیا۔ امریکہ اور کینیڈا‘ دونوں جگہوں پر بہت سے پاکستانی اور بھارتی باشندوں سے تبادلۂ خیالات ہوا تو دونوں ممالک کے لوگ اپنی حکومتوں سے نالاں دکھائی دیے۔ طرفین کے حکمرانوں کو عوام سے کوئی سروکار نہیں‘ سب کو اپنے مفادات کی فکر ہے۔ وہی بات کہ سارا جھگڑا مفادات کا ہےدیارِ غیر میں مقیم تارکین وطن خاص طور پر ادیب‘ شاعر اور دانشور حضرات کو عالم اسلام اور پاکستان کے حالات کے بارے میں بہت متفکر پایا۔ لوگوں کے ذہنوں میں اسلام اور پاکستان کے بارے میں بہت سی غلط فہمیاں ہیں‘ جن کا ازالہ ازحد ضروری ہے۔ صرف قرآن پاک کی تعلیمات سے ان غلط فہمیوں کو رفع کیا جا سکتا ہے اور میں سب دوستوں سے دست بستہ گزارش کرتا ہوں کہ آپ قرآن پاک کا از خود مطالعہ کریں تاکہ ذہنوں میں پائے جانے والے ابہام کو دور کر سکیں۔ اس کیلئے آپ کو کسی کے پاس جانے کی ضرورت نہیں ہے‘ کسی کی مدد اور سہارے کی چنداں ضرورت نہیں۔ بس ترجمے والا قرآن پاک لیں اور اس کا مطالعہ کریں۔ اس پر خود غور و فکر کریں‘ ان شاء اللہ آپ کے دماغ کی گرہیں کھلتی جائیں گی اور بہت سے عقدے وا ہو جائیں گے۔ بقول شاعر:وہ کون سا عقدہ ہے جو وا ہو نہیں سکتاہمت کرے انسان تو کیا ہو نہیں سکتاایک اور شاعر نے اسی تناظر میں کہا تھا:اپاہج اور بھی کر دیں گی یہ بیساکھیاں تجھ کوسہارے آدمی سے استقامت چھین لیتے ہیںمرا پیغام دے دیجے یہ جا کر میرے لشکر کوہوس کے لشکری قوموں سے وحدت چھین لیتے ہیں</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/228_40817243.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی مثالی حکمرانی(مفتی منیب الرحمٰن )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-06-13/52116/67223287</link><pubDate>Sat, 13 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-06-13/52116/67223287</guid><description>امیر المومنین خلیفۃ المسلمین شہیدِ محراب ومنبر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اُمت کے بڑے فقیہ‘ مجتہد اور عالم تھے۔ رسول اللہﷺ نے بارہا آپؓ کے علم وفضل کی شہادت دی‘ احادیث مبارکہ میں ہے: &#39;&#39;نبی کریمﷺنے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے حق بات کو عمر کی زبان اور دل میں رکھ دیا ہے‘‘ (مسند احمد: 9213)۔ (2) &#39;&#39;میں ایک مرتبہ سو رہا تھا کہ میرے سامنے دودھ کا پیالہ لایا گیا‘ میں نے اسے پی لیا یہاں تک کہ سیرابی میرے ناخنوں سے ظاہر ہونے لگی‘ پھر میں نے اپنا بچا ہوا دودھ عمر بن خطاب کو دے دیا‘ صحابہ کرام نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! اس کی تعبیر کیا ہے‘ آپﷺ نے فرمایا: اس کی تعبیر علم ہے‘‘ (بخاری: 82)۔ (3) &#39;&#39;اگر (بفرضِ مُحال) میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر ہوتے‘‘ (ترمذی: 3686)۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو متعدد اُمور میں اوَّلیت کا شرف حاصل ہے: (1) عَلانیہ ہجرت فرمائی‘ (2) امیر المومنین کے لقب سے مشہور ہوئے‘ (3) سنِ ہجری کا آغاز کیا‘(4) نمازِ تراویح باجماعت رائج کی‘ (5) قرآنِ مجید کو جمع کرنے کا مشورہ دیا‘ (6) بوڑھے اور نادار ذمیوں سے جزیہ (ٹیکس) ساقط کیا‘ (7) ہر شخص کیلئے اسلامی فوج میں بھرتی کو لازمی قرار دیا‘ (8) راتوں کو لوگوں کے احوال معلوم کرنے کیلئے گشت کا سلسلہ شروع کیا‘ (9) مجاہدین کے ناموں اور وظائف کیلئے رجسٹر مرتب کیا‘ (10) راستوں میں مسافرخانے اور شہروں میں مہمان خانے تعمیر کرائے‘ (11) جیل خانہ‘ پولیس کا محکمہ اور فوجی چھاؤنیاں قائم کیں‘ (12) نئے شہر بسائے تاکہ بڑے شہروں کی طرف آبادی کا بہائو کم ہو‘ (13) مردم شماری کی تاکہ آبادی کے تناسب سے منصوبہ بندی اور وسائل کی تقسیم ہو۔اپنے عُمّال کے بارے میں تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا: &#39;&#39;خدا کی قسم! میں نے اپنے عُمال کو تم پر اس لیے مقرر نہیں کیا کہ وہ تم پر ظلم کریں‘ تمہارے مال چھین لیں‘ میں نے اُنہیں اس غرض سے تم پر مقرر کیا ہے کہ وہ تمہیں دین کی تعلیم دیں اور نبی کریمﷺ کی سنتیں سکھائیں۔ لہٰذا جس شخص کے ساتھ اس کے برعکس سلوک کیا جائے تو وہ فوراً مجھے اطلاع دے۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میںعمر کی جان ہے! میں ضرور انصاف کروں گا اور ظالموں سے قصاص لوںگا۔ یہ سن کر حضرت عمروؓ بن عاص نے عرض کی: امیر المومنین آپ اپنی اس بات پر غور فرمائیں‘جسے آپ عامل بنائیں گے وہ مسلمانوں میں سے ہی ہو گا‘ اگر اس نے رعایا میں سے کسی کی تادیب کی تو کیا آپ اس سے قصاص لیں گے‘ فرمایا:ہاں! قسم بخدا میں اس سے ضرور قصاص لوں گا‘آگاہ ہو جاؤ! کسی مسلمان کو نہ مارنا‘ کسی مسلمان کی تذلیل نہ کرنا‘ اُنہیں فتنے میں مبتلا نہ کرنا‘ اُنہیں سرحدوں پر جمع کرکے نہ رکھنا کہ تم اُنہیں اُن کے بیوی بچوں کے پاس واپس لوٹنے سے روکو‘ اُنہیں اُن کے حقوق پیہم ادا کرتے رہنا‘‘ (مسند احمد: 286)۔ آپؓ کسی شخص کو عامل مقرر کرتے ہوئے اس سے چار باتوں پر حلف لیتے تھے: (1) گھوڑے پر سوار نہ ہونا‘ (2) لباسِ فاخرہ نہ پہننا‘ (3) عمدہ اور اعلیٰ کھانے نہ کھانا‘ (4) اپنے دروازوں کو بند نہ رکھنا اوردربان مقرر نہ کرنا کہ لوگ اپنی حاجتوں کیلئے نہ آسکیں ۔ایک دفعہ حضرت عمرؓ بازار میں جا رہے تھے‘ ایک طرف سے آواز آئی: عمر! کیا عُمّال کیلئے کچھ اصول وضوابط مقرر کرکے تم اپنے آپ کو عذابِ الٰہی سے بچا سکتے ہو‘ تمہیں خبر ہے کہ مصر کا عامل عیاض بن غنم باریک کپڑے پہنتا ہے‘ اس کے دروازے پر دربان مقرر ہے‘ حضرت عمرؓ نے محمد بن مسلمہ کو بلایا اور کہا: عیاض کو جہاں پائو‘ ساتھ لے آؤ۔ محمد بن مسلمہ نے وہاں پہنچ کر دیکھا تو واقعی دروازے پر دربان تھا اور عیاض باریک کپڑے کی قمیص پہنے بیٹھے تھے‘ اسی حالت میں انہیں ساتھ لے کر مدینہ طیبہ آئے۔ حضرت عمرؓ نے وہ قمیص اُتروا کر اون کی قمیص پہنائی اور بکریوں کا ایک ریوڑ منگوا کر حکم دیا: &#39;&#39;انہیں لے جاکر جنگل میں چراؤ‘‘۔ عیاض کو انکار کی مجال نہ تھی‘ لیکن بار بار یہ کہتے: اس سے مر جانا ہی بہتر ہے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: تجھے اس سے عار کیوں ہے‘ تیرے باپ کا نام غنم اسی وجہ سے پڑا تھا کہ وہ بکریاں چراتا تھا‘‘ (ازالۃ الخفاء‘ج: 2‘ص: 252)‘‘۔ حضرت عمرؓ نے حضرت ابوعبیدہؓ کولکھا: اپنے اوپر پانچ باتوں کو لازم کر لو تمہارا دین سلامت رہے گا: (1) جب تمہارے سامنے مقدمے کے فریقین حاضر ہوں تو معتبر لوگوں کی گواہیوں اورپختہ قسموں پرخاص توجہ دو۔ (2 ) کمزوروں کو اپنے قریب بٹھاؤ‘ یہاں تک کہ انہیں بولنے کا حوصلہ ملے اور ان کے دل میں جرأ ت پیدا ہو۔ (3) غریبوںکا خیال رکھو‘ انہیں دیر تک انتظار نہ کراؤ کہ وہ مایوس ہوکر واپس لوٹ جائیں۔ (4) حبِ مال اور نفسانی خواہشات سے اپنے نفس کو محفوظ رکھو۔ (5) حتی الامکان فریقینِ مقدمہ کے درمیان مصالحت کی کوشش کرو‘‘ (کِتَابُ الْخَرَاج لِلْاِمَام اَبیْ یُوسُف‘ ص: 130)۔ آپ کے عہد خلافت میں ایک شخص آپ کی خدمت میں اپنی فریاد لے کر حاضر ہوااورکہا:امیر المومنین ! مصرکے گورنر عمروبن العاص کے بیٹے محمد بن عمرونے میری پشت پر آٹھ کوڑے مارے ہیں‘ وہ کہتا ہے : میں گورنر کا بیٹا ہوں‘آپ نے حکم دیا : محمد بن عمرو کو گرفتار کرکے لائو اور عمروبن العاص کو بھی پیش ہونے کا حکم دیا۔ محمدبن عمرو گرفتار کرکے لائے گئے‘آپ نے اُس سے کہا : گورنر کے بیٹے محمد بن عمروکی پشت پر آٹھ کوڑے مارو‘ اُس شخص نے گورنرکے بیٹے کی پشت پرکوڑے مارے‘ اس کے بعد آ پ نے گورنرمصر عمرو بن عاص کو ایک تاریخی جملہ ارشاد فرمایا: تم نے لوگوں کوکب سے اپنا غلام سمجھناشروع کردیا ہے‘ ان کی ماؤں نے توانہیں آزاد جنا تھا‘‘ (کنز العمال‘ج:12‘ص:660)۔آپؓ ذمیوں کے ساتھ نیک برتاؤ کی تلقین فرمایا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ آپ نے گشت کے دوران ایک دروازے پر ایک ضعیف العمر نابینا دیکھا‘ آپ نے اس کی پشت پر ہاتھ رکھ کر پوچھا: تم اہل کتاب کے کس گروہ سے تعلق رکھتے ہو‘ اس نے جواب دیا: میں یہودی ہوں۔ حضرت عمرؓ نے پوچھا: گداگری کی نوبت کیسے آئی‘ یہودی نے کہا: اس کا سبب جزیہ‘ بڑھاپا اور روزی کی مجبوری ہے۔ یہ سن کر آپ اس کا ہاتھ پکڑ کر گھرلائے‘ اس کی ضرورت پوری کی اور بیت المال کے خازن کو لکھا: اس قسم کے دوسرے حاجت مندوں کی تفتیش کرو‘ یہ انصاف نہیں ہے کہ ہم جوانی میں ان سے جزیہ وصول کریں اور بڑھاپے میں انہیں بھیک مانگنے کیلئے چھوڑ دیں‘ اس کے بعد آپ نے ایسے تمام لوگوں کا جزیہ معاف کرکے وظیفہ بھی مقرر کر دیا‘‘ (کِتَابُ الْخَرَاج‘ ص: 139)۔آپؓ نبی کریمﷺ کے قرابت داروں کا بے حد احترام کرتے اور وظائف میں انہیں ترجیح دیتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب مدائن فتح ہوا تو حضرت عمرؓ نے سارامالِ غنیمت مسجد نبوی میں فرش پر ڈال دیا‘ سب سے پہلے حضرت امام حسنؓ تشریف لائے۔ آپؓ نے انہیں ایک ہزار درہم دیے‘ پھرحضرت حسینؓ تشریف لائے‘ اُنہیں بھی ایک ہزار درہم دیے‘پھر آپ کے بیٹے عبداللہ آئے تو آپ نے اُنہیں پانچ سو درہم دیے‘ اُنہوں نے کہا: امیر المومنین! میں نبی کریمﷺکے عہدِ مبارک میں جوان تھا‘ میں آپ کے ہمراہ جہاد میں شریک ہوتا تھا‘ جبکہ حضرات حسن وحسین اس وقت چھوٹے بچے تھے‘ آپ نے انہیں ہزار درہم دیے اور مجھے صرف پانچ سو‘ میرا حق اُن سے زیادہ ہے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: بیٹے! پہلے وہ فضیلت تو حاصل کرو جو حسنین کریمین کو حاصل ہے‘ پھر مجھ سے ہزار درہم کا مطالبہ کرنا۔ ان کے والد علی المرتضیٰ‘ والدہ فاطمۃ الزہراء‘ نانا رسولِ خداﷺ‘ نانی خدیجۃ الکبریٰ‘ چچا جعفرِ طیار‘ پھوپھی اُم ہانی‘ ماموں ابراہیم بن رسول اللہ اور خالہ رقیہ واُم کلثوم (رضی اللہ عنہم) ہیں‘ یہ سن کر حضرت عبداللہ خاموش ہو گئے‘‘ (اَلرِّیَاضُ النَّضْرَۃ‘ ج: 2‘ ص: 340)‘‘۔حضرت عمرؓ کی فتوحات پر ایک نظر ڈالی جائے تو عقل حیران رہ جاتی ہے۔ آپؓ کے دس سال چار ماہ کے عرصۂ خلافت میں 2251030 مربع میل علاقہ فتح ہوا‘ بڑے بڑے علاقے مثلاً: شام‘ مصر‘ عراق‘ جزیرہ‘ کرمان‘ خراسان‘ خوزستان‘ آرمینیا‘ آذربائیجان اور فارس آپ کے دورِ خلافت میں فتح ہوئے۔ کوفہ‘ بصرہ‘جیزہ‘ فسطاط اور موصل کے نام سے نئے شہر آباد ہوئے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_61172381.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>