<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>مزید ٹیکسوں کا بوجھ!(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-01/11238</link><pubDate>Mon, 01 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-01/11238</guid><description>آئندہ مالی سال کا بجٹ بھی آئی ایم ایف کی شرائط سے جکڑا ہوا معلوم ہوتا ہے جس میں حکومت کی بنیادی دلچسپی عوام کو معاشی آسانیاں بہم پہنچانے کے بجائے مالیاتی ادارے کی تجاویز اورشرائط کی تعمیل میں نظر آتی ہے۔ حالیہ دنوں تواتر سے ایسے شواہد سامنے آ رہے ہیں جو آنے والے بجٹ اور معاشی فیصلہ سازی میں آئی ایم ایف کے گہرے عمل دخل اور اثرو رسوخ کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اس سلسلے کی تازہ مثال جنرل سیلز ٹیکس کی معیاری شرح کو 18 فیصد سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے کی تجویز ہے جس کا مقصد آئندہ مالی سال کیلئے ریونیو کی بلند شرح کے حصول کو یقینی بنانے میں آسانی پیدا کرنا بتایا جاتا ہے۔ جی ایس ٹی میں ایک فیصد اضافے سے خیال کیا جا رہا ہے کہ ریونیو کی مد میں 250 سے 300 ارب روپے زیادہ حاصل ہو سکتے ہیں‘ مگر یہ اضافہ شہریوں پر اضافی مالی بوجھ اور مہنگائی میں اضافے کی قیمت پر ہو گا۔ جنرل سیلز ٹیکس پہلے ہی خوراک سمیت سبھی اشیائے ضروریہ پر لاگو ہے اور عام آدمی کی جیب پر اس کا اچھا خاصا بوجھ ہے۔

ضرورت تو اس بات کی تھی کہ حکومت کم از کم دودھ سمیت خوراک کے بنیادی اجزا اور ادویات پر جی ایس ٹی کی شرح میں کمی کرتی تاکہ مہنگائی میں کچھ کمی آتی۔ ان حالات میں جی ایس ٹی میں اضافے کا مطالبہ سراسر غیر منطقی اور اضافی ہے‘ جس کی نہ تو معاشی حالات اجازت دیتے ہیں اور نہ ہی اس کی کوئی گنجائش نظر آتی ہے۔ یہ غیر حقیقی اقدامات جو لوگوں کی معیشت کو کمزور کریں گے‘ آئی ایم ایف کے ریونیو اہداف میں اضافے کے نتائج ہیں۔ ریونیو میں اضافے کیلئے ضروری تھا کہ ایف بی آر کے نظام میں وہ بنیادی اصلاحات کی جاتیں جن سے اس ادارے کی صلاحیت میں اضافہ ہوتا‘ مگر اس پر کام کرنے اور ٹیکس چوری کے رخنے بند کرنے کے بجائے ہر سال پہلے سے لاگو ٹیکسوں میں اضافے کی روایت برقرار ہے۔ جی ایس ٹی میں اضافے کا مطالبہ اس کی واضح مثال ہے۔ اس سے قبل پٹرولیم لیوی اور دیگر ٹیکسوں کی شرح میں اضافے بھی یہی ثابت کرتے ہیں کہ ریونیو اہداف پورے کرنے کیلئے ٹیکس کا دائرہ کار بڑھانے کے بجائے ٹیکس کی شرح بڑھانے پر اکتفا کیا جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ معیشت کا ایک محدود حصہ تو ٹیکسوں کے انتہائی بوجھ تلے پس رہا ہے جبکہ ایک بڑا حصہ بدستور ٹیکس نیٹ سے باہر ہے۔
حالیہ برسوں میں ٹیکسوں وصولیوں میں بہت بڑا اضافہ ہوا۔ 2021ء سے 2025ء تک ٹیکس وصولی 4764.3 ارب سے بڑھ کر 11744.29 ارب روپے تک پہنچ گئی اور رواں سال ایف بی آر کا ٹیکس وصولی کا ہدف 14307 ارب روپے تھا جسے بعد میں کم کر کے 13979 ارب روپے کیا گیا۔ رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ کے دوران پٹرولیم لیوی کی مد میں1205 ارب روپے جمع کئے گئے۔ آئندہ مالی سال کے لیے ٹیکس ریونیو کا  ہدف 15267 ارب روپے تجویز کیا گیا ہے‘ اور اس اضافی ہدف کو پورا کرنے کے لیے اگر صارفین پر جی ایس ٹی اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے جیسی تجاویز زیر غور ہیں تو یہ معیشت کے لیے کوئی احسن اقدام نہیں۔ ریونیو کے اہداف میں اضافے کے لیے معیشت کا مکمل طور پر دستاویزی ہونا اور ہر شعبے سے ٹیکس وصول کیا جانا ناگزیر ہے۔
اگر چند ایک بندھے ٹکے شعبے ہی ٹیکس کے دائرہ کار میں رہیں یا وہ صارفین جنہیں توانائی اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر مزید سے مزید تر ٹیکسوں کا بوجھ اٹھانا پڑے تو یہ ٹیکس اہداف میں اضافے کا کوئی مناسب طریقہ نہیں۔ ٹیکس میں مساوات کا تقاضا ہے کہ اس کا اثر یکساں ہو نہ کہ کسی ایک یا چند ایک شعبے ہی اس کے سزاوار ٹھہریں۔ اس طرح ٹیکس وصولی بھی معیشت کے حجم کے مطابق ہونی چاہیے نہ کہ حکومتی ضروریات کے حساب سے۔ پاکستان کی معیشت میں ٹیکس وصولی کی گنجائش موجود ہے مگر اس کے لیے ٹیکس نظام کی اصلاح ناگزیر ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ٹیکس خسارہ یا غیر حقیقی ہدف؟(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-01/11237</link><pubDate>Mon, 01 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-01/11237</guid><description>فیڈرل بورڈ آف ریونیو رواں مالی سال کے دوران اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔ مئی کے مہینے میں 184 ارب اور رواں مالی سال کے پہلے 11 ماہ (جولائی تا مئی) میں 868 ارب روپے کا مجموعی ٹیکس خساہ محکمے کی کارکردگی پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔ یہ صورتحال اس وقت مزید تشویشناک ہو جاتی ہے جب علم ہوتا ہے کہ مالی سال میں کوئی ایک مہینہ بھی ایسا نہیں گزرا جب ٹیکس وصولی کا ہدف کامیابی سے پورا کیا گیا ہو۔ مالی سال کے آخری ماہ یعنی جون میں سالانہ ٹیکس ہدف کو پورا کرنا لگ بھگ ناممکن ہو چکا کیونکہ 13979 ارب کے سالانہ ہدف تک پہنچنے کیلئے ایک مہینے میں 2752 ارب روپے کی ٹیکس وصولی درکار ہے جو موجودہ نظام کی استعداد سے باہر ہے۔ ٹیکس اہداف میں مسلسل ناکامی کے بعد حکومت کو اس سنگین مسئلے پر اب سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔

یا تو سالانہ ٹیکس اہداف کا تعین ملکی معیشت اور محکمے کی اصل استعداد کو دیکھ کر حقیقت پسندانہ بنیادوں پر کیا جائے یا پھر سب سے پہلے فرسودہ ٹیکس نظام میں بنیادی اصلاحات پر توجہ دی جائے۔ ٹیکس چوری کے راستے بند اور غیر دستاویزی معیشت کو ٹیکس نیٹ میں لائے بغیر ٹیکس ریونیو میں اضافہ کرنا اور ملکی معیشت کو پائیدار بنیاد فراہم کرنا ممکن نہیں۔ رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان اور تنخواہ دار طبقے پر مزید بوجھ ڈالنے یا پٹرولیم لیوی جیسے بالواسطہ ہتھکنڈوں سے ٹیکس خسارے کو عارضی طور پر چھپانے کی پالیسی اب مزید نہیں چل سکتی۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بجلی ریلیف ناگزیر(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-01/11236</link><pubDate>Mon, 01 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-01/11236</guid><description>وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کا کہنا ہے کہ شعبہ توانائی میں اصلاحات کے مثبت نتائج سامنے آ رہے‘ گھریلو صارفین کیلئے 16 فیصد اور پروٹیکٹڈ صارفین کے بلوں میں 32 فیصد کمی کی گئی‘ مجموعی طور پر 527 ارب روپے کی سبسڈی دی جا رہی ہے‘ آئی پی پیز معاہدوں پر نظرثانی سے 3500 ارب روپے کی بچت ہوئی۔ ملک میں بجلی کی قیمتوں کا مسئلہ کئی برسوں سے وبال بنا ہوا ہے اور تمام تر حکومتی اقدامات اور دعوئوں کے باوجود عوام اور صنعتوں پر اس کا بوجھ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ چار برسوں کے دوران متعدد رعایتوں‘ پیکیجز اور سبسڈیز کا اعلان کیا گیا لیکن عملاً فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ‘ سرچارجز اور دیگر اضافی ٹیکسوں کے ذریعے بجلی کے نرخ مسلسل بڑھائے جا رہے ہیں۔

بجلی کی قیمتیں عام صارفین کیلئے ہی نہیں‘ صنعتی اور زرعی شعبے کیلئے بھی تباہ کن ثابت ہو رہی ہیں۔ مہنگی بجلی کی وجہ سے پیداواری لاگت اس حد تک بڑھ چکی کہ ملکی مصنوعات عالمی مارکیٹ میں مسابقت کی صلاحیت کھو رہی ہیں اور برآمدات گراوٹ کا شکار ہیں۔ حکومت جب تک مسئلے کی جڑ تک نہیں پہنچے گی تب تک حل کی امید عبث ہے۔ اگر کپیسٹی پیمنٹس اور فرسودہ انفراسٹرکچر‘ لائن لاسز اور بجلی چوری جیسے خساروں کا نزلہ عوام پر ہی گرتا رہا تو نہ صرف بجلی کی قیمت صارفین کی پہنچ سے باہر ہو جائے گی بلکہ یہ مہنگی توانائی ملکی معیشت کو بھی ٹھپ کر دے گی۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>جدید انسان کا تہذیبی المیہ(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-06-01/52038/71140043</link><pubDate>Mon, 01 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-06-01/52038/71140043</guid><description>امریکہ بزعمِ خویش تہذیب کا مرکز ہے۔ صدر ٹرمپ اس کی نمائندگی کرتے ہیں۔ کیا کوئی شخص بقائمی ہوش وحواس انہیں ایک مہذب آدمی قرار دے سکتا ہے؟کچھ دیر کے لیے ایڈورڈ سعید کی &#39;اورینٹل ازم‘ کو یاد کیجیے۔ ان کا کہنا تھا کہ مغرب نے ہمیشہ برتری کے مقام پر کھڑے ہو کر مشرق کو دیکھا ہے۔ ایک طرف مہذب لوگ ہیں اور دوسری طرف غیر مہذب۔ یہ اندازِ نظر سامراجی قوتوں کا ہتھیار بنا جسے انہوں نے مشرقی اقوام پر غلبے کے لیے استعمال کیا۔ مشرقی اقوام ان کے نزدیک اس قابل نہیں تھیں کہ کوئی سیاسی نظام وضع کر سکتیں یا مغربی معیار پر مہذب کہلوانے کی مستحق قرار پاتیں۔ انہیں کیا خبر کہ بنیادی انسانی حقوق کیا ہوتے ہیں۔ جمہوریت کس چڑیا کا نام ہے۔ فنونِ لطیفہ کیا ہیں۔ اگر سعید کی &#39;کلچر اور سامراجیت‘ کو بھی ساتھ شامل کر لیں تو اس مقدمے کے دلائل مکمل ہو جاتے ہیں۔ ایڈورڈ سعید کے ساتھ ہنٹنگٹن اور فوکو یاما کو بھی یاد کر لیں۔ یہ کہا گیا کہ مغرب تہذیبی ارتقا کی انتہا کو چھو رہا ہے۔ انسان نے وہ مراحل طے کر لیے جو اسے کامل بناتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کے بارے میں یہ لکھا گیا: یہ معاشرے اس قابل کہاں کہ جمہوریت جیسے نازک تصورات کے متحمل ہو سکیں۔ تہذیب کے نازک آبگینے ان غیر مہذب ہاتھوں میں جا کر ٹوٹ سکتے ہیں۔ ایڈورڈ سعید کی یہ کتاب کم وبیش نصف صدی پہلے لکھی گئی تھی۔ آج کا امریکی صدر اس تہذیب کا نمائندہ ہے۔ کیا یہ شخصیت مہذب کہلوانے کی مستحق ہے؟ایک بات کا اعتراف تو کرنا پڑتا ہے۔ گزشتہ چند صدیوں میں تہذیبی عمل‘ اگر کہیں آگے بڑھا ہے تو وہ مغرب ہی ہے۔ یہ محض ٹیکنالوجی کا معاملہ نہیں۔ ادب اور فنونِ لطیفہ نے بھی ایسے ایسے نمونے تخلیق کیے ہیں کہ لوگ انگشت بدنداں رہ جاتے ہیں۔ صرف عمارات کو دیکھ لیجیے۔ تعمیرات کی دنیا میں اتنے مکاتبِ فکر پائے جاتے ہیں کہ انسانی جمالیات کو مبہوت کر دیں۔ طب میں مغرب نے وہ کمالات دکھائے ہیں کہ آدمی حیرت میں ڈوب جائے۔ سماجی رویوں میں جو بہتری آئی ہے‘ اس کا اعتراف بھی ہم پر لازم ہے۔ صاف ستھرے شہر اور پُرامن معاشرہ۔ اس میں شبہ نہیں کہ انحرافات بھی بہت ہیں مگر حکم کُل پر لگایا جا تا ہے‘ جزئیات پر نہیں۔سوال مگر یہ ہے کہ ڈونلد ٹرمپ اگر اس تہذیب کا نمائندہ ہے تو وہ سچ اور جھوٹ میں کیوں تمیز نہیں کرتا؟ مغرب نے اگر غلامی ختم کر دی تو ٹرمپ دوسری اقوام کو غلام کیوں بنانا چاہتا ہے؟ وہ فلسطینی اور ایرانی بچوں کی معصومیت کو اس بے رحمی سے کیسے کچل سکتا ہے؟ پھر یہ معاملہ کسی فردِ واحد کا نہیں ہے۔ عراق کے بچوں پر جب امریکہ نے دودھ بند کیا تھا تو اس وقت ٹرمپ کو کوئی نہیں جانتا تھا۔ وہ جارج بش کا دور تھا۔ امریکہ کے تمام صدر اتنے بے رحم کیوں ہوتے ہیں؟ وہ آخر کس تہذیب کے نمائندہ ہیں؟ ایک طرف رحمِ مادر میں بچے کی جان بچائی جا رہی ہے اور دوسری طرف قتلِ عام کی سر پرستی کی جا رہی ہے۔ ایک طرف جانوروں کے حقوق کی مہم اٹھائی جا رہی ہے اور دوسری طرف انسانوں کے تمام حقوق کی نفی ہو رہی ہے۔ یہ کیسی تہذیب ہے جو اتنے بڑے بڑے تضادات کے ساتھ زندہ ہے؟اب ایک نظر مشرق پر ڈالیے۔ مذہب یا ما بعد الطبیعات اس کی ایک بڑی تہذیبی قوت ہے۔ مذہب کے علمبرداروں نے مگر دنیا کے ساتھ کیا کیا؟ یہ خودکش حملے کس کی ایجاد ہیں؟ انسانی سروں سے فٹ بال کون کھیلتا رہا ہے؟ بھوک اور افلاس کس کے صحن میں بسیرا کرتے ہیں؟ عورتوں کو کون انسان ماننے کے لیے تیار نہیں؟ مغرب نے اپنے سماجی دائرے میں ایک تہذیب کو مجسم کیا‘ مشرق تو یہ بھی نہیں کر سکا۔ اس کا اندروں بھی چنگیز سے تاریک تر ہے۔ مغرب کی طرح مشرق کا عموم یہی ہے۔ انسانی جان کی کوئی قیمت ہے نہ اس کی حرمت کی۔ بھوک برہنہ رقص کر رہی ہے اور حکمران اسلحہ جمع کر رہے ہیں۔ انسان سوچتا ہے: کیا ان میں عقل نہیں؟ کیا ان کے سینے میں دل نہیں؟ایک استثنا مگر مشرق ومغرب میں ہے۔ مغرب میں سکینڈے نیوین ممالک ہیں۔ یہاں لوگ انسانوں کی قدر کرتے ہیں۔ ان کے بنیادی حقوق محفوظ ہیں۔ مذہبی تعصبات نہیں ہیں۔ انسان کی بحیثیت انسان قدر کی جاتی ہے۔ یہ صحیح معنوں میں فلاحی ریاستیں ہیں۔ ان کے ہمسایے بھی ان سے خوش ہیں اور عوام بھی۔ اسی طرح مشرق میں سنگاپور جیسے ممالک ہیں۔ نہ کسی پر قبضے کی خواہش ہے اور نہ کسی کو تنگ کرنے کا منصوبہ۔ ساری توجہ عوام کی بہبود اور اپنی ترقی پر ہے۔ کوئی نعرہ نہ کوئی جذباتی کھیل۔ نہ نظریاتی سرحدوں کا بکھیڑا نہ کسی مذہب کا تعصب۔ سوال یہ ہے کہ عموم کے برخلاف یہ تہذیب کے جزیرے کیسے وجود میں آئے؟ فساد کے ماحول میں امن کہاں سے آیا؟ کیا اس کا تعلق جغرافیے سے ہے؟ کیا یہ تصورِ حیات کا فرق ہے؟ کیا اس کا تعلق تاریخ سے ہے؟ہم ان سوالات کے جوابات تلاش کر سکتے ہیں مگر میرا کہنا یہ ہے کہ سارا مسئلہ سوچ اور تصورِ حیات کا ہے۔ ہم نے دیکھا کہ لوگ تاریخ کے شکنجے سے باہر نکلے۔ یورپی ممالک نے پرانی دشمنیوں کو دیس نکالا دے دیا۔ لوگ جہالت سے نکلے جیسے سنگاپور اور چین۔ لوگوں نے مستقبل کی طرف نگاہ کی اور ساری توانیاں تعمیر میں صرف کر دیں جیسے ملائیشیا۔ ہم جیسے لوگ مگر یہ نہیں کر سکے۔ قائداعظم کے بعد ہمیں کوئی ایسی قیادت میسر نہ آ سکی جو تاریخ وجغرافیے کی قید سے نکلتی اور ترقی کی اڑان بھرتی۔ نواز شریف صاحب نے کوشش کی مگر پر کاٹ دیے گئے۔ اب لگتا ہے وہ قید سے مانوس ہو گئے ہیں۔تہذیب کا راستہ تو امن اور سلامتی کا راستہ ہے۔ امریکہ کی سیاسی قیادت کو سمجھنا ہو گا کہ یہ دو رخا پن اب نہیں چل سکے گا۔ ایران امریکہ جنگ کا جتنا نقصان مغربی تہذیب کو پہنچا ہے‘ اس کا اندازہ ان لوگوں کو ہو چکا جو سوچتے ہیں۔ یہ مغربی تہذیب مسیحیت کو اپنا جزو سمجھتی ہے۔ مسیحی قیادت مگر اس سیاسی قیادت کی ہم نوائی پر آمادہ نہیں۔ وہ جان چکی کہ اس کا ساتھ دینے کا مطلب مذہب کی ساکھ کو برباد کرنا ہے۔ ادب اور فنونِ لطیفہ کے لوگ بھی اس سیاسی قیادت کو اپنا نمائندہ قرار دینے پر آمادہ نہیں۔ اگر چہ اس نے دیر لگائی مگر اب یہ تہذیب اپنے ہی خنجر سے خودکشی پر آمادہ ہے۔ اس خنجر کا نام ٹرمپ ہے۔مقدور ہو تو میں فوکو یاما سے پوچھوں کہ کیا یہی وہ آخری آدمی ہے جس کے ظہور کی خوشخبری آپ نے سنائی تھی؟ یہ اچھا ہے کہ انہیں اپنی غلطی کا احساس ہو گیا۔ ورنہ علم کی دنیا میں ٹرمپ کے بعد ان کی کیا ساکھ رہ جاتی؟ واقعہ یہ ہے کہ تہذیبیں اپنوں ہی کے ہاتھوں دم توڑتی ہیں۔ مسلم تہذیب کو مسلم راہنماؤں نے برباد کیا اور اس کارِ خیر کو آج بھی ثواب سمجھ کر سر انجام دے رہے ہیں۔ آج مہذب کہلوانے کا حق اسی کو حاصل ہے جو زبانِ حال سے تہذیب کی نمائندگی کرے گا۔ جو اپنے عمل سے انسانی حقوق کی پاسداری کا ثبوت فراہم کرے گا۔ جو جنگ کے خلاف‘ اور امن کا نمائندہ ہو گا۔ جو اس کے برخلاف عمل کرے گا‘ وہ اپنی تہذیبی کامیابیوں کو گہنا دے گا۔ کیا مغرب صدر ٹرمپ کو اپنی تہذہب کا نمائندہ قرار دے سکتا ہے؟ کیا وہ اپنے طے کردہ معیارات پر انہیں مہذب کہہ سکتا ہے۔ یہی سوالات مسلمانوں کی مذہبی‘ سیاسی اور سماجی قیادت کے بارے میں بھی اٹھ رہے ہیں۔ کیا انہیں مسلم تہذیب کا نمائندہ کہا جا سکتا ہے؟</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>لاہور اور تاریخی شناخت(رسول بخش رئیس)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-06-01/52039/81817289</link><pubDate>Mon, 01 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-06-01/52039/81817289</guid><description>اس مضمون کا عنوان تو &#39;&#39;عقل کے ناخن لو‘‘ سوچا تھا مگر محسوس کیا کہ یہ محاورہ عمومی ذہن پر گراں گزر سکتا ہے۔ بات دراصل عقل کے ناخن لینے والی ہی ہے۔ اگر گہرائی میں جاتے ہیں تو تھوڑی بہت کوشش کرکے خود معلوم کر لیں کہ بات تو عقل سے کام لینے کی ہے  مگر جب عقل جواب دے جائے یا ہم یا اسے خود ہی جواب دے کر رخصت کر دیں تو احمقانہ فیصلے صادر ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ ذاتی زندگی میں انسان عقل‘ تدبیر اور دانش کو چھوڑ کر جذبات سے مغلوب ہو جائے تو کچھ لوگ اسے گمراہ کہتے ہیں۔ مطلب یہ کہ وہ اپنے معمول کے راستے سے ہٹ کر کہیں ادھر اُدھر گم ہو گیا ہے۔ دنیا میں تاریخ‘ تاریخی شناخت کی اہمیت اور قومی ثقافتی پہچان سے متعلق لوگ گہری وابستگی رکھتے ہیں۔ اُن ممالک میں جہاں پرانی روایات کی پاسداری تاریخی حوالوں کی صداقت اور صدیوں سے قائم جگہوں‘ عمارتوں اور گلی کوچوں سے محبت کا رشتہ قائم ہوتا ہے وہاں کچھ بدلنے کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔ اپنے تضادات دیکھیں کہ ایک طرف ہم وادیٔ سندھ کی قدیمی تہذیب کے وارث بننے کی کوشش میں رہتے ہیں اور دوسری طرف اس خطے کے صدیوں پرانے نشانات اور تختیوں کو مٹا کر انہیں اپنے نام کرنے سے گریز نہیں کرتے۔ دیگر مسلم ممالک جن میں مصر‘ شام‘ عراق اور ایران شامل ہیں‘ نے پرانی تہذیبوں کی رکھوالی کی ہے۔ قبل ازاسلام کی تاریخ‘ شناخت اور بڑے کرداروں‘ فلسفیوں‘ شاعروں‘ ادیبوں اور اُن کے کارناموں کو محفوظ رکھا ہے۔ مغرب میں برطانیہ کی مثال دیں تو رشک آتا ہے۔ میرے خیال میں کسی اور کے کارناموں کو سیاسی طاقت ہاتھ آنے کے بعد چھین کر اپنے ناموں سے منسوب کرنا دراصل اُن زعما کی شان کے خلاف ہے جن کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد اُن کے کارناموں کے کتبے ہم فیتے کاٹ کر لگاتے رہے ہیں۔میں یقین اور بھرپور اعتماد سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر لاہور کا کوئی حکمران لارنس گارڈنز کو قائداعظم محمد علی جناح کی زندگی میں باغِ جناح کانام دیتا تو تہذیب‘ تمیز اور اخلاقیات کے محض چند جملوں سے قائد ہمیشہ کے لیے اس کا منہ بند کر دیتے۔ یہ باغ اُس انگریز گورنر کی یاد کے طور پر زندہ رہنا چاہیے اس لیے کہ یہ صرف اُسی کا حق ہے۔ صرف نام ہی تو ہے‘ اس کی یا برطانیہ کی ملکیت تو نہیں۔ وہ تو اپنے زمانے میں ہی اپنے آبائی ملک میں جا کر آسودۂ خاک ہوا۔ ذہنی انتشار اور جذباتیت کا اثر ہمارے سیاسی لوگوں ‘ نوکر شاہی اور رجعت پسندوں پر اتنا ہے کہ اکثر و بیشتر عقل کی بات سننے کے لیے ہی تیار نہیں ہوتے۔ کچھ دیگر نوآبادیاتی ممالک میں بھی قومیت پسندی منفی انداز میں زوروں پر ہے۔ یہ وبا بھارت میں شروع ہوئی یا ہمارے ہاں‘ اس کے بارے کچھ زیادہ جانکاری نہیں مگر یہ جذباتیت اور انتہا پسندی کی آگ پورے خطے کو جھلسا رہی ہے۔ وہاں بھی انگریزی اور مغلیہ دور کی تاریخی شناخت کو اب تھوک کے حساب سے ختم کیا جا رہا ہے۔ وہاں جب مغل اور ان سے پہلے کے مسلم بادشاہوں کے دور کے نشانات مٹتے ہیں تو ہم احتجاج کرتے ہیں۔ وہاں بھی مؤرخ اور معقول لوگ تاریخی نشانات مٹانے کی مخالفت میں آواز اٹھاتے ہیں۔ ہمارے ہاں تو مختلف ادوار میں سب کچھ الٹا کرنے میں ریکارڈ ہی قائم کر دیے گئے۔ بات لاہور کی کرنا چاہتا ہوں مگر تمہیداً کچھ اور جگہوں کا سرسری ذکر ضروری ہے۔ تھرپار کر سندھ میں واقع عمر کوٹ شہر کا نام تو سنا ہوگا۔ جب ہم نے تیسری چوتھی جماعت میں تاریخ اور جغرافیہ پڑھا تو اس قدیمی شہر کا نام &#39;&#39;امر کوٹ‘‘ تھا۔ میرا اپنا آبائی قصبہ بھی امر کوٹ سے عمر کوٹ بن چکا ہے۔ یہ ہندو آبادی کا ایک چھوٹا سا قصبہ تھا‘ انہوں نے ہی آباد کیا تو گمان یہی ہے کہ اس کا نام امر کوٹ ہوگا‘ جو بعد میں عمر کوٹ ہو گیا۔اسی طرح بلوچستان میں ایک مشہور جگہ تھی جسے ہندو باغ کہا جاتا تھا۔ اب اُسے مسلم باغ کا نام دیا گیا ہے۔ اپنی نسلی‘ مذہبی اور سماجی شناختوں اور سیاسی قائدین سے آپ کو محبت ہے تو نئے شہر‘ نئے باغات‘ نئی عمارتیں اور نئے ادارے قائم کریں۔ میرا نہیں خیال کہ مذہبی روایت یا اخلاقیات ایسی چھینا جھپٹی کی اجازت دے سکتی ہیں۔ لاہور ہماری پہلی اور آخری محبت ہے۔ جہاں بھی ہم رہیں‘ بیشک اسلام آباد &#39;&#39;دی بیوٹی فل‘‘ میں! لیکن دل لاہور ہی میں اٹکا ہوا ہے۔ ذہنی‘ شخصی‘ عملی اور پیشہ ورانہ تشکیل وہاں ہوئی اور ہمارے اکثر پیارے‘ مخلص دوست وہیں رہتے ہیں۔ لاہور کی تعمیرات اور شناخت پر جب بھی وہاں کے اپنوں نے ضربیں لگائیں تو وہ ہمارے دل پر لگیں۔ سب لاہوری مایوسی میں آنسو بہاتے‘ افسردگی میں کھو جاتے اور بے بسی پر روتے رہتے۔ یہ سب کچھ اُس وقت دیکھا جب لاہور کے حکمران خاندان نے اورنج ٹرین چلانے کی غرض سے میلوں طویل بدنما پُل تعمیر کرنے کا منصوبہ شروع کیا۔ ہم روتے پیٹتے رہ گئے۔ ایک اور مثال آپ کو دیتا ہوں۔ اگر کسی شخص کو لاہور کو جدید بنانے کا کریڈٹ تاریخ دے گی تو وہ سر گنگا رام ہیں۔ آج اکثر لوگ گنگا رام ہسپتال کے حوالے سے انہیں جانتے ہوں گے‘ کسی اور وقت پر چھوڑتے ہیں کہ انہوں نے کیا کچھ نہ کیا اور لاہوری ان سے کس قدر محبت رکھتے ہیں۔ دکھ کی بات تو یہ ہے کہ ہماری تاریخ کے اُس بڑے آدمی کے نام پر وفاقی دارالحکومت میں کوئی ایونیو تو دور کی بات کوئی سڑک تک نہیں۔ اپنا مطالعہ تو محدود ہے مگر جو کچھ سوانح حیات کے زمرے میں پڑھا ہے‘ سرگنگا رام کی سوانح سے زیادہ دلگداز نظر سے نہیں گزری۔کچھ ہفتے پہلے جب یہ پڑھا کہ نواز شریف صاحب نے لاہور کے تاریخ دانوں‘ ثقافتی میدان کے شہسواروں‘ ماہرینِ تعمیرات اور دیگر احباب کو بلا کر متفقہ فیصلہ کیا کہ لاہور کی تاریخی شناخت اور ورثے کو بحال کیا جائے گا تو ہمارا دل باغ باغ ہو گیا۔ پندرہ کے قریب علاقوں اور سڑکوں کا نام بحال کرنے کا فیصلہ ہوا۔ ہماری آنکھیں‘ کان اور دل ابھی تک کرشن نگر‘ دھرم پورہ‘ سنت نگر‘ لکشمی چوک‘ جین مندر‘ رام گلی‘ کوئنز روڈ‘ لارنس روڈ‘ ایمرسن روڈ‘ ٹیمپل روڈ سے مانوس ہیں۔ نجانے کب سے ایمرسن روڈ شاہراہ عبدالحمید بن بدیس ٹھہری ہے۔ آپ کو شاید معلوم ہو‘ مجھے کچھ معلوم نہ تھا۔ ابھی گوگل کرکے دیکھا تو پتا چلا کہ یہ چودھویں صدی میں الجزائر کے کوئی مصلح تھے۔ اس متفقہ فیصلے کے بعد اگلا قدم صرف تختیاں بدلنا تھا‘ مگر وہی ہوا جو ایک طبقہ مذہب اور وطنیت کے نام پر تاریخ مسخ کرتا آیا ہے۔ یہ میرے الفاظ نہیں ایک انگریزی اخبار کی رپورٹ کا ترجمہ کر رہا ہوں &#39;&#39;کچھ عناصر کی مخالفت کے بعد حکومت پنجاب کی لاہور ورثہ بحالی اتھارٹی نے تاریخی ناموں کی بحالی کا فیصلہ مؤخر کردیا ہے‘‘۔ اس اتھارٹی کے سربراہ میاں نواز شریف خود ہیں۔ یہ بات دل کو لگی ہے کہ میاں صاحب آخرکار خود لاہور کے تاریخی ورثے اور شناخت کو بحال کرنے میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ سنا ہے کہ نیلا گنبد کا علاقہ اب تجاوزات سے پاک ہو گیا ہے۔ اسی طرح پرانے لاہور کے ارد گرد قدیمی باغوں کو بھی بحال ہونا چاہیے۔ اب بادامی باغ میں کوئی درخت نہیں‘ حدنگاہ تک بسیں‘ ورکشاپس اور گندگی کے ڈھیر ہیں۔ ہر شہر اور صوبے کے تاریخی ورثے کی بحالی کی ضرورت ہے کہ وہی اصل ہے‘ باقی سب نقلی اور جعلی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_33241568.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بجٹ 2026-27ء اور ملکی معیشت(میاں عمران احمد)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mian-imran-ahmad/2026-06-01/52040/43817170</link><pubDate>Mon, 01 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mian-imran-ahmad/2026-06-01/52040/43817170</guid><description>وفاقی بجٹ 2026-27ء سے پہلے حکومت کی جانب سے برآمد کنندگان پر عائد ایک فیصد ایڈوانس ٹیکس ختم کرنے کی تجویز سامنے آ رہی ہے۔ بظاہر یہ فیصلہ برآمدی شعبے کے لیے مثبت قدم دکھائی دیتا ہے لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا صرف ایک فیصد ٹیکس کا خاتمہ برآمدات کو حقیقی معنوں میں سہارا دے سکتا ہے؟ مالی سال 2024-25ء کے دوران پاکستان کی برآمدات تقریباً 33 ارب ڈالر تک پہنچیں جن میں ٹیکسٹائل سیکٹر کا حصہ 16 سے 17 ارب ڈالر کے درمیان تھا۔ حکومت برآمدی شعبے کو کچھ نہ کچھ ریلیف دینے پر غور کر رہی ہے لیکن ایک فیصد ایڈوانس ٹیکس ان کے ورکنگ کیپٹل کو متاثر کرتا ہے کیونکہ یہ ٹیکس منافع ہونے یا نہ ہونے سے قطع نظر ایکسپورٹ آمدن پر وصول کیا جاتا ہے۔ گزشتہ دو مالی سالوں کے دوران برآمد کنندگان نے تقریباً 200 ارب روپے اضافی ایڈوانس ٹیکس کی مد میں ادا کیے ہیں۔ اگر حکومت یہ ٹیکس ختم کرتی ہے تو برآمدی شعبے کو تقریباً 100 ارب روپے کا ریلیف مل سکتا ہے۔ تاہم یہ ریلیف اس وقت محدود محسوس ہو سکتا ہے جب زیر التوا ٹیکس ریفنڈز کی مالیت 327 ارب روپے سے تجاوز کر چکی ہو۔ تاہم اصل مسئلہ صرف ٹیکس نہیں بلکہ پیداواری لاگت ہے۔ پاکستان میں صنعتی بجلی کی قیمت تقریباً 11.5 سینٹ فی یونٹ ہے جبکہ بھارت میں 6.3 سینٹ‘ ویتنام میں 8 سینٹ اور ازبکستان میں صرف 5 سینٹ کے قریب ہے۔ اسی طرح پاکستان میں صنعتی گیس کی قیمت تقریباً 13.5 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو ہے جبکہ بھارت اور ویتنام میں یہ 6 سے 7 ڈالر کے درمیان ہے۔ جب توانائی کی لاگت ہی مدمقابل ممالک سے دُگنی ہو گی تو صرف ایک فیصد ٹیکس ختم کرنے سے مسئلے کا مکمل حل کیسے ممکن ہے؟ برآمد کنندگان کے مطابق پاکستان میں برآمد کنندگان پر کارپوریٹ ٹیکس‘ سپر ٹیکس‘ ایڈوانس ٹیکس‘ ود ہولڈنگ ٹیکس‘ ورکرز ویلفیئر فنڈ‘ ورکرز پرافٹ پارٹیسپیشن فنڈ اور دیگر قانونی واجبات کو ملا کر مؤثر ٹیکس بوجھ تقریباً 68 فیصد سے تجاوز کر جاتا ہے جو خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ ویتنام میں کارپوریٹ ٹیکس تقریباً 20 فیصد‘ بنگلہ دیش میں 22.5 سے 27.5 فیصد جبکہ بھارت میں 26 سے 34 فیصد کے درمیان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ممالک اپنی برآمدات میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں جبکہ پاکستان عالمی منڈی میں اپنی مسابقت برقرار رکھنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔ برآمد کنندگان کی جانب سے فائنل ٹیکس رجیم کی بحالی‘ سپر ٹیکس کے خاتمے‘ کم از کم ٹرن اوور ٹیکس میں کمی اور توانائی نرخوں میں نمایاں کمی جیسے مطالبات سامنے آئے ہیں۔ لیکن موجودہ مالی حالات اور آئی ایم ایف پروگرام کی پابندیوں کے باعث حکومت کے لیے ان تمام مطالبات کو تسلیم کرنا آسان دکھائی نہیں دیتا۔ پاکستان کی برآمدات کو محض ریلیف پیکیجز کی نہیں بلکہ ایک جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے کیونکہ عالمی منڈی میں مقابلہ ٹیکسوں سے نہیں بلکہ لاگت‘ رفتار‘ معیار اور پالیسی کے تسلسل سے جیتا جاتا ہے۔ اگر حکومت نے یہ بنیادی اصلاحات نہ کیں تو ایک فیصد ٹیکس کا خاتمہ خبروں کی سرخی تو بن جائے لیکن شاید برآمدات میں وہ اصطلاحات نہ لا سکے جس کی ملکی معیشت کو ضرورت ہے۔اسی طرح بجٹ سے پہلے حکومت ایک ایسے فیصلے پر غور کر رہی ہے جس کے اثرات نہ صرف تیل کے شعبے بلکہ پوری معیشت پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ حکومت امریکہ ایران جنگ کے دوران تیل کی قیمتوں میں اضافے سے حاصل ہونے والے غیر معمولی منافع‘ جسے ونڈ فال گین کہا جاتا ہے‘ پر ٹیکس عائد کرنے یا یہ رقم واپس صارفین تک پہنچانے کے مختلف آپشنز کا جائزہ لے رہی ہے۔ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ریفائنریوں نے حالیہ جنگی صورتحال کے دوران تقریباً 130 ارب روپے کا اضافی منافع حاصل کیا ہے جس میں سے 72 ارب روپے صرف آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے حصے میں آئے ہیں۔ ایک اہم تجویز 20 فیصد ونڈ فال گین ٹیکس کی ہے۔ اگر یہ ٹیکس نافذ ہوتا ہے تو حکومت کو تقریباً 26 ارب روپے اضافی آمدن حاصل ہو سکتی ہے۔ حکومت اس رقم کو براہ راست صارفین کو ریلیف دینے یا دیگر ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کرنے کے امکانات کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔ 26 ارب روپے سے حکومت تقریباً دو لاکھ طلبہ کو چار سالہ اعلیٰ تعلیم کے وظائف فراہم کر سکتی ہے یا کئی سو بنیادی طبی مراکز قائم کر سکتی ہے۔ ترقیاتی منصوبوں میں لگانے سے زیادہ بہتر فیصلہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں براہ راست کمی بھی ہو سکتا ہے۔ عوامی سطح پر یہ بہتر فیصلہ ہو سکتا ہے لیکن سرمایہ کاری کا شعبہ شاید اسے سپورٹ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ برطانیہ‘ اٹلی اور یورپی یونین کے بعض دیگر ممالک بھی توانائی کمپنیوں پر ونڈ فال ٹیکس عائد کر چکے ہیں۔ برطانیہ نے 2022ء میں توانائی کمپنیوں پر 25 فیصد اضافی ٹیکس لگایا تھا جسے بعد میں بڑھا کر 35 فیصد کر دیا گیا۔ اس سے حکومت کو اربوں پاؤنڈ حاصل ہوئے اور عوام کو توانائی بلوں میں ریلیف فراہم کیا گیا۔ موجودہ حالات میں پاکستان کے عوام کو بھی ریلیف فراہم کرنا ناگزیر دکھائی دیتا ہے۔پاکستان کی معیشت کو درپیش چیلنجز کے درمیان فری لانسنگ ایسا شعبہ ہے جو خاموشی سے نہ صرف روزگار پیدا کر رہا ہے بلکہ انتہائی کم لاگت سے ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ بھی کما رہا ہے۔ مالی سال 2025-26ء کے پہلے دس ماہ میں پاکستانی فری لانسرز 95 کروڑ ڈالر سے زائد زرمبادلہ ملک میں لائے جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 49 فیصد زیادہ ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ رجسٹرڈ آئی ٹی اور فری لانسرز پر صرف 0.25 فیصد ٹیکس ہے۔ نئے بجٹ میں اس شرح اور ٹیکس پالیسی کو تبدیل کرنے کے امکانات ہیں۔ پاکستان سافٹ ویئر ہائوسز ایسوسی ایشن نے بجٹ تجاویز دی ہیں کہ ایسے افراد جو حقیقت میں بیرونِ ملک کمپنیوں کے مستقل ملازم ہیں لیکن خود کو فری لانسر ظاہر کرکے 0.25 فیصد ٹیکس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں ان کے لیے الگ ٹیکس نظام متعارف کرایا جائے۔ امکان ہے کہ اس حوالے سے بجٹ میں کوئی فیصلہ سامنے آ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ اطلاعات ہیں کہ وفاقی حکومت نے بجٹ 2026-27ء میں پانچ سالہ ٹیرف اصلاحاتی منصوبے کے دوسرے مرحلے کا اعلان کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت 3149 ٹیرف لائنز پر اضافی کسٹمز ڈیوٹی میں کمی اور تقریباً 1950 ٹیرف لائنز پر ریگولیٹری ڈیوٹی کی زیادہ سے زیادہ شرح 50 فیصد سے کم کرکے 20 فیصد کرسکتی ہے۔ اس اقدام سے صنعتی شعبے کو تقریباً 200 ارب روپے کا ریلیف ملنے کی توقع ہے۔پاکستان میں کئی صنعتیں برسوں سے بلند درآمدی ڈیوٹیوں کے سہارے چل رہی ہیں۔ آٹو موبل‘ سٹیل‘ کیمیکلز‘ پلاسٹک اور بعض ٹیکسٹائل شعبوں پر مؤثر ٹیرف بعض اوقات 100 سے 150 فیصد تک پہنچ جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مقامی صنعتوں کو تو تحفظ ملا لیکن صارفین کو مہنگی اشیا خریدنا پڑیں اور برآمدات عالمی سطح پر مسابقت حاصل نہ کر سکیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ 25 کروڑ آبادی والے پاکستان کی سالانہ برآمدات اب بھی تقریباً 35 ارب ڈالر کے لگ بھگ ہیں جبکہ ویتنام 400 ارب ڈالر سے زیادہ اور بنگلہ دیش 60 ارب ڈالر سے زائد کی برآمدات کر رہا ہے۔ پاکستان میں درآمدی گاڑیوں پر 100 فیصد کسٹمز ڈیوٹی اور 50 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد ہونے کے باعث مجموعی ڈیوٹی 150 فیصد تک پہنچ جاتی ہے۔ نئی تجاویز کے تحت یہ شرح کم ہو کر تقریباً 70 فیصد رہ سکتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی‘ صارفین کے لیے زیادہ آپشنز اور مقامی کمپنیوں کے لیے معیار بہتر بنانے اور برآمدات بڑھانے کا دباؤ پیدا ہو سکتا ہے۔ چین‘ ویتنام‘ ملائیشیا اور بنگلہ دیش نے عالمی منڈی میں کامیابی اس وقت حاصل کی جب انہوں نے خام مال سستا کیا۔ پاکستانی حکومت کو بھی اسی راستے کا انتخاب کرنا ہو گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/212_71532147.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>28ویں ترمیم کی بازگشت(کنور دلشاد)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/kunwar-mohammad-dilshad/2026-06-01/52041/35676869</link><pubDate>Mon, 01 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/kunwar-mohammad-dilshad/2026-06-01/52041/35676869</guid><description>ملک کے سیاسی منظرنامے پر اس وقت 28ویں ترمیم کی بازگشت حاوی ہے۔ سیاسی حلقوں میں آج کل یہی موضوعِ گفتگو ہے۔ شنید ہے کہ آصف علی زرداری‘ نواز شریف اور محمود خان اچکزئی‘ سبھی کی سوچ یہی ہے کہ 18ویں ترمیم کو برقرار رکھا جائے کیونکہ موجودہ آئینی ڈھانچے میں صوبائی خودمختاری کی جھلک صاف دکھائی دیتی ہے۔ ذاتی اطلاعات کی حد تک میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ پاکستان کی بڑی تینوں سیاسی جماعتوں میں یک نکاتی ایجنڈے پر مفاہمت ہو گئی ہے کہ 28ویں ترمیم کو فی الحال مؤخر کر دیا جائے۔ اس مفاہمت کو آگے بڑھانے کے لیے دو بڑی سیاسی جماعتوں نے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ اور صوبے کے گورنر کو بھی ایک پیج پر کھڑا کر دیا ہے۔ دوسری جانب بعض حلقوں میں یہ سوچ غالب دکھائی دیتی ہے کہ مزید تاخیر سے 28ویں ترمیم کی روح متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ 28ویں ترمیم کے خدوخال کو متنازع بنانے کے لیے سیاسی اشرافیہ نے باقاعدہ مہم شروع کر رکھی ہے۔اگر 28ویں آئینی ترمیم کے اہم نکات کی بات کی جائے تو مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس کے ذریعے صدارتی یا نیم صدارتی نظام کا نفاذ عمل میں لایا جاسکتا ہے۔ پورے ملک کو ایک مربوط قوم میں تبدیل کیا جائے گا۔ صحت‘ تعلیم اور آبادی کو مشترکہ وفاقی وصوبائی امور قرار دینا‘ قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کی ازسر نو تشکیل اور بلدیاتی نظام کو وفاق کے زیر انتظام لا کر ملک میں ایک مربوط بلدیاتی سسٹم نافذ کرنا اس ترمیم کے اہم نکات ہیں۔ اس آئینی ترمیم کے ذریعے کراچی اور گوادر کو وفاقی علاقے قرار دیا جاسکتا ہے اور آئین کے آرٹیکل 239 میں ترمیم کر کے نئے صوبے بنانے کے لیے صوبائی اسمبلیوں کے اختیارات وفاق کو سونپ دیے جائیں گے اور وفاقی آئینی عدالت کو کسی بھی صوبے میں گورنر راج نافذ کرنے کا اختیار دینے اور تمام صوبائی سول سروسز کو ضم کر کے ایک متحدہ سول سروس قائم کر کے 1973ء کی طرز پر اُن انتظامی اصلاحات کو بروئے کار لایا جائے گا جو وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے نافذ کی تھیں۔ پرانے بیورو کریٹس کو ریٹائر کر کے ماہر افسران کی خدمات حاصل کرنا اور ووٹ ڈالنے کی کم از کم عمر 25 سال کرنا بھی اس ترمیم کے اہم نکات ہوں گے۔ بعض ایسے افراد جنہوں نے اعلیٰ اشرافیہ کی معاونت سے قوم کے ذہنوں کو اپنی گرفت میں لیا ہوا ہے‘ وہ 28ویں ترمیم کے حوالے سے ابہام پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس کے لیے بلاجواز اور من گھڑت قسم کی باتیں پھیلائی جا رہی ہیں۔ مثلاً یہ کہ صدر آصف علی زرداری 28ویں ترمیم کی شدید مزاحمت کریں گے۔ ایسی باتیں تواتر سے دہرائی جا رہی ہیں اور انہیں مرچ مسالا لگا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ اگر صدر زرداری کے سیاسی پس منظر کو دیکھا جائے تو انہوں نے کبھی بھی مزاحمت کی پالیسی نہیں اپنائی۔ وہ ہمیشہ سے مفاہمت پسند سیاسی شخصیت رہے ہیں‘ لہٰذا ان کی طرف سے کچھ رعایت حاصل کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے مگر مزاحمت کے کوئی آثار نہیں۔ البتہ یہ حقیقت ہے کہ کراچی کو وفاق کا حصہ بنانے سے سندھ میں پیپلز پارٹی کا سیاسی اثر ورسوخ متاثر ہو سکتا ہے اور اس سے میرپور خاص‘ حیدرآباد اور اندرون سندھ کے کئی اضلاع اپنی سیاسی قوت کو بڑھائیں گے۔ تاہم دیکھا جائے تو کراچی اور گوادر کو مالدیپ کی طرز پر خوبصورت سیاحتی مقام کی حیثیت حاصل ہو سکتی ہے۔ گوادر کے اردگرد نہایت خوبصورت سمندر موجود ہے جو انڈونیشیا کے جزیرے بالی کی مانند بڑا سیاحتی‘ صنعتی اور ثقافتی مقام بن جائے گا۔ گوادر بین الاقوامی شہر بننے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔پرنس رحیم آغا خان بھی گوادر میں نئے ترقیاتی منصوبوں میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ عالمی منظر نامے پر نظر دوڑائی جائے تو پاکستان کی ثالثی کوششوں سے امریکہ اور ایران کافی قریب آگئے ہیں اور ان کے مابین نئی تجاویز پر اتفاق ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔امکان ہے کہ دونوں ملک عنقریب امن معاہدے کا اعلان کریں گے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے امریکہ اور ایران کے اختلافات دور کرانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے مصالحت کار کے طور پر حتمی ڈرافٹ تیار کرنے میں بھی مدد کی۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمزکے مطابق معاہدے کا مسودہ حتمی منظوری کے لیے دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت کو بھجوا دیا گیا ہے۔ ایران سے بات چیت کے دوران ثالثوں کے امریکہ سے بھی رابطے ہوئے۔ ایران جوہری معاملات پر رعایت دینے کے لیے تیار ہو گیا ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق اس ڈیل سے تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ ہو جائے گا۔ ایران اور امریکہ میں مفاہمت کے بعد فیلڈ مارشل ملک کے اندرونی معاملات بالخصوص گورننس اور وفاقی اور صوبائی حکومتوں میں کرپشن اور اقربا پروری جیسے معاملات پر توجہ دیں۔ 28ویں ترمیم کے ذریعے صوبوں سے چند اہم شعبہ جات واپس وفاق کو دینے کا مقصد گورننس کو بہتر بنانا اور کرپشن کی روک تھام ہی ہے۔ اسی طرح نئے این ایف سی ایوارڈ کے تحت وفاق کو مالی طور پر مضبوط بنایا جائے گا۔ آج کے ڈیجیٹل دور میں نوجوانوں کی آواز‘ مسائل اور خیالات کو مؤثر انداز میں سامنے لانے کے لیے ڈیجیٹل بیداری یا ایک مضبوط ڈیجیٹل موومنٹ وقت کی اہم ضرورت بنتی جا رہی ہے۔ دنیا بھر میں سوشل میڈیا اب محض تفریح کے لیے نہیں استعمال ہو رہا بلکہ یہ عوامی رائے‘ احتساب‘ شعور اور تبدیلی کا طاقتور ذریعہ بن چکا ہے۔ نوجوان وڈیوز اور ڈیجیٹل مہمات کے ذریعے اپنے جذبات اور مسائل پوری دنیا تک پہنچا سکتے ہیں۔ پاکستان میں مہنگائی‘ بیروزگاری‘ تعلیم‘ انصاف‘ ٹیکنالوجی اور نوجوانوں کے لیے مواقع جیسے موضوعات پر مثبت‘ ذمہ دار اور شعور پر مبنی ڈیجیٹل آواز معاشرے میں بڑی تبدیلی لا سکتی ہے۔ دنیا بھر کے میڈیا نے بھارت کی &#39;&#39;کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ کو سیاسی مذاق کے طور نہیں بلکہ نوجوانوں کے غصے‘ بیروزگاری اور سیاسی مایوسی کی علامت کے طور پر دیکھا ہے۔ رائٹرز‘ دی گارڈین‘ اے بی سی نیوز اور فنانشل ٹائمز سمیت تقریباً سبھی عالمی اداروں نے اس پر لکھا ہے کہ یہ مہم جنوبی ایشیا کے جین زی نوجوانوں کی آواز بنتی جا رہی ہے‘ جو مہنگائی‘ ملازمتوں کی کمی اور سیاسی ماحول سے ناراض ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا نے اس بات کو خاص طور پر نمایاں کیا ہے کہ ایک طنزیہ تحریک چند دنوں میں کروڑوں فالوورز تک پہنچ گئی اور اس نے روایتی سیاست کو ہلا کر رکھ دیا۔ کئی رپورٹس میں اسے ڈیجیٹل بغاوت اور نوجوانوں کا خاموش احتجاج بھی قرار دیا گیا ہے۔ بعض حلقوں نے اسے حکومت مخالف آن لائن مزاحمتی تحریک کہا ہے۔ جین زی دماغ صرف رونا دھونا یا سوال کرنا نہیں جانتا بلکہ وہ مسائل کا حل نکالنا بھی جانتا ہے۔ یہ وہ نسل ہے جو اگر خون کے آنسو روتی ہے تو نظام کو آئینہ بھی دکھاتی ہے۔ اگر یہ اپنی اصل طاقت پر آ جائے تو فرسودہ سوچ اور پرانے نظام ہلا کر رکھ سکتی ہے۔ جین زی صرف سوشل میڈیا پر ہی مصروف نہیں رہتی بلکہ وقت آنے پر پورا منظر بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ لہٰذا تیزی سے بدلتے ڈیجیٹل دور میں نوجوانوں کی آواز‘ مسائل اور خیالات کو مؤثر انداز میں سامنے لانے کے لیے پاکستان میں ڈیجیٹل بیداری اور مضبوط ڈیجیٹل تحریک وقت کی اہم ضرورت ہے۔ </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_15667905.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ان کو دیکھیں کہ ان سے بات کریں(سعود عثمانی )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-06-01/52042/52042105</link><pubDate>Mon, 01 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-06-01/52042/52042105</guid><description> صحت اور فراغت کے ساتھ سیاحت بھی مل جائے تو گویا تین حسین دیویاں آپ پر مہربان ہو گئیں۔ رات کو گہری نیند کی دیوی بھی مجھ پر مہربان رہی تھی۔ احسان اکبر کی باکمال نظم &#39;&#39;ایک دابی پور کماد کی‘‘ کے مصرعے کیسے ہر جگہ یاد آتے ہیں۔ &#39;&#39;اک پوری نیند کی شانتی تری کجلے والی لہر‘‘۔ ہوٹل کا ناشتہ بھرپور تھا اور اس میں مسافر کی شکم سیری کا سامان تھا۔ ہماری کوشش تھی کہ آج کا دن ضائع نہ ہو‘ رات آٹھ بجے ڈھاکہ واپسی کی فلائٹ تھی‘ اس لیے یہ دن ممکن حد تک چٹاگانگ کی ہریالی‘ پھولوں‘ پیڑوں اور ہواؤں کے ساتھ گزارنا لازمی تھا۔ سعود میاں! زمین کے اس ٹکڑے پر دوبارہ آنے کا وقت ملے نہ ملے‘ یہ فراغت یہ صحت پھر میسر ہو نہ ہو گی‘ کشید کر لو جو کشید کر سکتے ہو۔ہوٹل کو خیرباد کہہ کر خوشبو کشید کرنے نکل کھڑے ہوئے۔ سامان ساتھ رکھا کہ ہمیں شام کو سیدھا ایئر پورٹ پہنچنا تھا۔ چٹاگانگ نیم پہاڑی علاقہ لگا۔ کافی حصہ میدانی لیکن یہیں سے چھوٹی سرسبز پہاڑیوں کا وہ سلسلہ شروع ہوتا ہے جو چٹاگانگ ہل ٹریکٹ کی صورت میں بھارتی سرحد سے جا ملتا ہے۔ بٹالی ہلز کا علاقہ شہر کے اندر ہے۔ اسے جلیبی ہلز بھی کہا جاتا ہے‘ اس لیے کہ اس کا گھومتا ہوا راستہ یہی یاد دلاتا ہے۔ یہاں پہلے ہمیں سینٹرل ریلوے بلڈنگ یعنی سی آر بی جانا تھا۔ اس قدیم علاقے میں اب بھی وہ ریلوے دفاتر‘ ہسپتال اور رہائشی عمارتیں موجود ہیں جو انگریز دور میں 1897ء کے لگ بھگ بنائی گئیں۔ یہ چٹاگانگ کی قدیم ترین عمارتوں میں سے ہیں۔ اترتے ہی اردگرد بہت سے غیر معمولی بڑے‘ قدیم اور چھتنار درختوں کی موجودگی کا احساس ہوا۔  اتنے اونچے گھنے درخت عام طور پر دیکھے نہیں جاتے اور ان کے تنے اور شاخیں کہتی تھیں کہ یہ کم از کم سو ڈیڑھ سو سال پرانے ہیں۔ بعد میں کہیں پڑھا کہ یہ سریس یا شریش(Albiziak) ہیں اور ایک زمانے میں شریش میلہ بھی یہیں لگتا تھا۔ اس وقت بھی کچھ ملنگ ان کے سائے تلے بیٹھے تھے۔ درختوں کے بیچ سے سورج کی کرنیں چھن کر آتی تھیں۔ ہم ایک چھوٹی سی پہاڑی پر چالیس پچاس سیڑھیاں چڑھے اور سی آر بی ہمارے سامنے تھی۔ سرخ رنگ کی عمارت نوآبادیاتی دور کی یادگار تھی‘ لاہور میں ریلوے سٹیشن اور ریلوے ہیڈ کوارٹرز کی یاد دلاتی ہوئی! چٹاگانگ سے لاہور تک ایک طرزِ تعمیر‘ ایک ہی رنگ والی عمارتیں‘ جیسے جڑواں بہنیں ہوں۔ اس پہاڑی پر بھی گھنے درخت جابجا تھے۔ ان کی چھائوں خنک تھی اور ہوا تالی بجاتے پتوں سے سرسراتی ہوئی گزرتی تو لگتا کہ  درخت باہم سرگوشیاں کر رہے ہیں۔ عمارت آباد تھی۔ ایک سو تیس سال پہلے یہاں گورے بیٹھتے تھے اور گہرے رنگ کے مقامی ان کی ماتحتی میں چٹاگانگ کو لوہے کی پٹڑیوں کے ذریعے پورے ہندوستان سے جوڑتے تھے۔ گورے نے اپنا راج سمیٹا اور بنگالی ان کی کرسیوں پر بیٹھ گئے۔ جنہوں نے یہ عمارتیں بنائی ہوں گی‘ اب کوئی ان کا نشان بھی نہیں جانتا۔ جانے کہاں کس مٹی میں پڑے ہیں‘ کوئی کتبہ ہے بھی یا نہیں۔ شریش کے پیڑو! سچ ہے &#39;انسان سے زیادہ درختو ں کی عمر ہے‘۔ہم پھر سے چٹاگانگ کی سڑکوں پر رواں تھے۔ اب ہمیں شہرسے باہر قریب 15 کلومیٹر دور بھٹیاری جانا تھا۔ سیدھی میدانی سڑک آہستہ آہستہ بل کھاکر بتدریج پہاڑی راستے میں تبدیل ہوتی گئی۔ پُرہجو م ٹریفک پسپا ہوا اور شہر کی آوازیں پچھڑتی گئیں۔ ہم ایک لہراتے راستے پر چڑھائی کی طرف جا رہے تھے جہاں سبزہ‘ درخت‘ سکون اور سکوت اسے خوابناک بناتے تھے۔ ہم چلتے گئے۔ دائیں طرف ایک ریسٹورنٹ کا بورڈ آیا لیکن ابھی اور اوپر جانا تھا۔ درختوں کے سائے پوری سڑک پر پھیلے ہوئے تھے اور ہلکی ٹھنڈ لگنے لگی تھی۔ ہمیشہ کی طرح دور سے سڑک بند لگتی تھی اور آگے بڑھنے پر راستہ دیتی جاتی۔ سڑک ہو یا زندگی‘ دونوں کا مزاج‘ دونوں کا انداز ایک ہے۔ ایک چیک پوسٹ آئی اور بتایا گیا کہ آگے گاڑی کا داخلہ ممنوع ہے۔ یہ بھٹیاری ہلز تھی جو بنگلہ دیش آرمی کے کنٹرول میں ہے۔ ہمسفر نے نگران سے بات چیت کی اور بتایا کہ پاکستان سے مہمان ہیں۔ ذرا سے تردد کے بعد اجازت ملی اور ہم مزید ایک دو کلومیٹر آگے کے لیے چل پڑے۔ میں سڑک کی خوبصورتی میں محو تھاکہ گاڑی رک گئی۔ ہمیں یہیں اترنا تھا۔ اترا تو یقین نہیں آیا کہ اتنی بلندی پر ایسی بڑی جھیل بھی ہو سکتی ہے۔ بائیں طرف ایک بڑی جھیل تھی جو ہمارے سامنے اور پیچھے لمبائی میں دور تک پھیلی ہوئی تھی۔ سڑک کی دوسری طرف بھی اسی جھیل کا ایک حصہ تھا۔ اس پہاڑی سڑک پر جہاں ہم کھڑے تھے‘ سڑک کنارے گھنے درخت اور پودے تھے۔ سڑک کے دونوں طرف گہرائی تھی اور کافی نیچے سبز پانی جو دھوپ میں پارے کی طرح چمکتا تھا۔ میں نے سڑک کنارے سنگ میل پڑھا جو بتاتا تھا کہ یہاں سے ہاٹ ہزاری بہت قریب ہے۔ ہمارے بائیںہاتھ جھیل کی طرف اترنے کا راستہ اور سیڑھیاں تھیں۔ یہاں دو فوجی کھڑے تھے۔ پچاس کے قریب سیڑھیاں اتر کر پانی میں لکڑی کا ایک خوبصورت پلیٹ فارم تھا جس کے ساتھ کئی کشتیاں اور موٹر بوٹس کھڑی تھیں۔ ہم سے ایک فوجی نے ٹکٹ مانگے جو پیش کر دیے گئے۔ پھر اس نے مجھ سے بنگالی میں کچھ کہا۔ میرا سوالیہ چہرہ دیکھ کر اس نے حذیفہ سے پوچھا کہ کیا یہ غیر ملکی ہے؟ کہاں سے ہے؟ یہ جان کر کہ میں پاکستانی ہوں وہ خوش ہوا اور مصافحے کیلئے ہاتھ بڑھایا۔ پھر اس نے ایک غیر متوقع جملہ کہا: &#39;&#39;پاکستان ہمارا بھائی ہے، بھارت بھی ہمارا بھائی ہے‘‘۔ مجھے سمجھ نہیں آیا کہ اس نے بھارت کا ذکر کیوں کیا۔ ابھی ہم بات کر ہی رہے تھے کہ دوسرا فوجی وہاں سے چلا گیا۔ اس کے ذرا دور جاتے ہی اُس فوجی نے میرا ہاتھ پکڑا اور کہا &#39;&#39;پاکستان ہمارا سگا بھائی ہے‘ یہ میرے ساتھ ہندو فوجی ہے اس لیے مجھے بھارت کا نام بھی لینا پڑا لیکن یہ مجبوری تھی‘ اب وہ نہیں تو بتاتا ہوں کہ ہم صرف پاکستان کو اپنا بھائی سمجھتے ہیں۔ ہم پاکستانی کرکٹ ٹیم کو بہت پسندکرتے ہیں۔ جب میری تعیناتی سوڈان میں امن مشن میں ہوئی تھی تو کوئی ہمارا خیال نہیں کرتا تھا صرف پاکستانی فوجی ہماری مدد کرتے تھے‘‘۔ بنگلہ دیش میں ایک پاکستانی جب یہ جملے سنے گا تو اس کا سینہ فخر سے چوڑا کیوں نہیں ہو گا۔ اس نے ساتھ تصویر کھنچوانے سے منع کیا لیکن بعد میں اس شرط پر کھنچوا لی کہ اسے سوشل میڈیا پر نہیں لگایا جائے گا نہ اس کا نام ذکر کیا جائے گا۔جھیل میں پانی ہلکا ہلکا چلتا تھا لیکن رکے ہوئے پانی کی بو نہیں تھی۔ ہم سیڑھیاں اتر کر پلیٹ فارم پر پہنچے۔ سامنے آبی پودے تھے جنہوں نے پانی کا کچھ حصہ ڈھک رکھا تھا۔ انہی کے بیچ کہیں کہیں کنول کے پھول نظر آتے تھے۔ موٹر بوٹ والے سے بات ہوئی اور ہم کشتی میں بیٹھ گئے‘ جس نے ہمیں آدھ گھنٹہ جھیل کی سیر کرانی تھی۔ جھیل کی چوڑائی زیادہ نہیں تھی لیکن لمبائی اتنی کہ تیس منٹ بعد بھی ہم اس کی حد تک نہیں پہنچ سکے۔ کناروں پر سبزے کی اتنی بہتات تھی کہ لگتا تھا یہ قدم بڑھا کر پانی میں اُتر آئے گا۔ کشتی والے نے اشارہ کیا اور ہم نے ایک بڑا لدھرکسی طرف جاتا دیکھا۔ کئی جگہ بڑی مچھلیاں بھی نظر آئیں۔ دور کنارے کے گھاس کے تختوں پر کئی جگہ مچھلی پکڑنے والے اپنی ڈوریاں پانی میں ڈالے بیٹھے تھے۔ بھٹیاری کی اس جھیل میں گزرے وقت کی یہ کشمکش یاد رہے گی کہ ہم اس مختصر وقت میں وڈیوز بنائیں‘ تصویریں کھینچیں یا سب ایک طرف رکھ دیں اورگہرے لمبے سانس لے کر شاداب ہوا کو روح میں اتار لیں۔ اس منظر کو دل میں محفوظ کریں یا تصویروں میں؟ یہ بڑا سوال تھا۔ سعود میاں! فراق کو بھی تو یہی سوال پیش آیا تھا:وہ مخاطب بھی ہیں قریب بھی ہیںان کو دیکھیں کہ ان سے بات کریں</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_81278520.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>تقویٰ کی اہمیت اور ثمرات(علامہ ابتسام الہٰی ظہیر )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-06-01/52043/47189239</link><pubDate>Mon, 01 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-06-01/52043/47189239</guid><description>قرآن مجید کے مطالعہ سے علم ہوتا ہے کہ انسان کی تخلیق کا بنیادی مقصد اللہ تبارک وتعالیٰ کی بندگی کو بجا لانا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الذاریات کی آیت: 56 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;میں نے جنات اور انسانوں کو محض اسی لیے پیدا کیا ہے کہ وہ صرف میری عبادت کریں‘‘۔ انسان کو عبادات میں دوام اور تسلسل اختیار کرنا چاہیے اور بلاناغہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی بندگی کو بجا لانا چاہیے۔ اس حوالے سے اللہ تبارک وتعالیٰ نے بعض ایسی عبادات مقرر کی ہیں جو انسان بلاناغہ ادا کرتا ہے‘ جن میں نماز پنجگانہ اور نوافل وغیرہ شامل ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے بعض ایسے ایام بھی مقرر کیے ہیں جن میں اللہ تبارک وتعالیٰ کی عبادت اور بندگی کو پہلے سے بڑھ کر بجا لانے کی کوشش کی جانی چاہیے۔ رمضان المبارک کے مہینے میں روزے رکھ کر‘ ایام ذی الحجہ میں کثرت کے ساتھ ذکر اذکار کر کے اور اسی طرح 10 ذو الحجہ کو قربانی کرکے اللہ کی قربت کو تلاش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کی عبادات کرنے کے جو مقاصد قرآن مجید نے بیان کیے ہیں ان میں سے ایک اہم مقصد تقویٰ کا حصول ہے۔جب روزوں کی فرضیت کا ذکر ہوا تو اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ البقرہ کی آیت: 183 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;اے ایمان والو! تم پر روزے رکھنا فرض کیا گیا جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو‘‘۔ جہاں حج کی فرضیت اور ادائیگی کا ذکر آیا تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کیلئے زادِ راہ کو تیار کرنے کا حکم دیا اور پھر بہترین زادِراہ تقویٰ کو قرار دیا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ اس حقیقت کو سورۃ البقرہ کی آیت:  197میں کچھ یوں بیان فرماتے ہیں: &#39;&#39;حج کے مہینے مقرر ہیں اس لیے جو شخص ان میں حج کا عزم کر لے وہ اپنی بیوی سے میل ملاپ کرنے‘ گناہ کرنے اور لڑائی جھگڑے کرنے سے بچتا رہے‘ تم جو نیکی کرو گے اس سے اللہ باخبر ہے اور اپنے ساتھ سفر کا خرچ لے لیا کرو‘ سب سے بہتر توشہ اللہ کا ڈر ہے اور اے عقلمندو! مجھ سے ڈرتے رہا کرو‘‘۔ اس آیت مبارکہ پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کو حج کے دوران اہلِ ایمان سے جو باتیں مطلوب ہیں‘ ان میں سے ایک اہم تقویٰ کا حصول ہے۔ اسی طرح جب قربانی جیسے عظیم عمل کو انجام دینے کا وقت آیا تو اس وقت بھی اللہ تبارک وتعالیٰ نے تقویٰ کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الحج کی آیت: 37 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;اللہ کو قربانیوں کے گوشت نہیں پہنچتے نہ اس کے خون بلکہ اسے تو تمہارے دل کی پرہیزگاری پہنچتی ہے۔ اسی طرح اللہ نے ان جانوروں کو تمہارے مطیع کر دیا ہے کہ تم اس کی رہنمائی کے شکریے میں اس کی بڑائیاں بیان کرو‘ اور نیک لوگوں کو خوشخبری سنا دیجیے‘‘۔قرآن مجید میں دیگر بہت سے معاملات میں بھی تقویٰ کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔ چنانچہ ہمیں اللہ تبارک وتعالیٰ کا تقویٰ حاصل کرنے کی بھرپور جدوجہد کرنی چاہیے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید میں کامیابی کے مختلف اسباب کا ذکر کیا جن میں سے ایک بڑا سبب تقویٰ کو قرار دیا گیا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ البقرہ کی آیت: 189 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;لوگ آپ سے چاند کے بارے میں سوال کرتے ہیں آپ کہہ دیجیے کہ یہ لوگوں (کی عبادت) کے وقتوں اور حج کے موسم کے لیے ہے (احرام کی حالت میں) اور گھروں کے پیچھے سے تمہارا آنا کچھ نیکی نہیں‘ بلکہ نیکی والا وہ ہے جو متقی ہو۔ اور گھروں میں تو دروازوں میں سے آیا کرواور اللہ سے ڈرتے رہو‘ تاکہ تم کامیاب ہو جائو‘‘۔ اس آیت مبارکہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ انسان جب متقی بن جاتا ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ اسے کامیابیوں سے ہمکنار کر دیتے ہیں۔ جب ہم قرآن مجید کا مطالعہ کرتے ہیں تو اس میں بہت سی ایسی کامیابیوں کا ذکر ملتا ہے جو انسان کو تقویٰ کی وجہ سے حاصل ہوتی ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ان کامیابیوں کو قرآن مجید کے مختلف مقامات پر بیان فرماتے ہیں‘ جن میں سے چند اہم درج ذیل ہیں:1۔ تنگیوں کا دور ہونا اور فراواں رزق کا مل جانا: جب انسان تقویٰ اختیار کرتا ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ اس کی تنگیوں کو دور فرما دیتے اور اس کو فراواں رزق عطا فرماتے ہیں۔ سورۃ الطلاق کی آیات: 2 تا 3 میں ارشاد ہوا &#39;&#39;اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے چھٹکارے کی شکل نکال دیتا ہے۔اور اسے ایسی جگہ سے روزی دیتا ہے جس کا اسے گمان بھی نہ ہو‘‘۔2۔ معاملات میں آسانیاں: جب انسان متقی بن جاتا ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ اس کے جملہ معاملات کو اس کے لیے آسان بنا دیتے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الطلاق کی آیت: 4 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;اور جو شخص اللہ سے ڈرے گا اللہ اس کے (ہر) کام میں آسانی کر دے گا‘‘۔3۔ گناہوں کی معافی اور اجر کا بڑھ جانا: جب انسان تقویٰ کے حصول کی کوشش کرتا ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ اس کے گناہوں کو معاف کر دیتے اور اس کے اجر کو بڑھا دیتے ہیں۔ سورۃ الطلاق کی آیت: 5 میں ارشاد ہوا: &#39;&#39;اور جو شخص اللہ سے ڈرے گا اللہ اس کے گناہ مٹا دے گا اور اسے بڑا بھاری اجر عطا کرے گا‘‘۔4۔ اللہ کی نظروں میں معزز ہو جانا: جب انسان متقی بن جاتا ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ اس کے حسب‘ نسب‘ مال اور وسائل سے قطع نظر اس کو اپنی نظروں میں معزز اور مکرم بنا لیتے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الحجرات کی آیت: 13 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;اے لوگو! ہم نے تم سب کو ایک (ہی) مرد وعورت سے پیدا کیا ہے اور اس لیے کہ تم آپس میں ایک دوسرے کو پہچانو (تمہارے) کنبے اور قبیلے بنا دیے ہیں‘ اللہ کے نزدیک تم سب میں باعزت وہ ہے جو سب سے زیادہ ڈرنے والا ہے۔ یقین مانو کہ اللہ دانا اور باخبر ہے‘‘۔5۔ فرق کی کسوٹی: جب انسان متقی بن جاتا ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ اس کو حق وباطل میں فرق کرنے کی کسوٹی فراہم کر دیتے ہیں اور اس پر اپنا فضل عظیم فرما دیتے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الانفال کی آیت: 29 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;اے ایمان والو! اگر تم اللہ سے ڈرتے رہو گے تو اللہ تمہیں ایک فیصلہ کی چیز دے گا اور تم سے تمہارے گناہ دور کر دے گا اور تمہیں بخش دے گا اور اللہ بڑے فضل والا ہے‘‘۔6۔ بستیوں کیلئے برکات کا مل جانا: اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید میں ان بستیوں کا ذکر کیا جو اپنی سرکشی اور نافرمانی کی وجہ سے اللہ کے غضب کا نشانہ بنیں۔ ان بستیوں کی ہلاکت کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیںکہ اگر ان بستیوں کے رہنے والے حقیقت میں ایمان اور تقویٰ کے راستے کو اختیار کر لیتے تو اللہ ان کے لیے زمین و آسمان سے برکات کو کھول دیتے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الاعراف کی آیت: 96 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;اور اگر ان بستیوں کے رہنے والے ایمان لے آتے اور پرہیزگاری اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکتیں کھول دیتے لیکن انہوں نے تکذیب کی تو ہم نے ان کے اعمال کی وجہ سے ان کو پکڑ لیا‘‘۔ مذکورہ بالا آیات سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ انسان کو اپنی زندگی میں تقویٰ کے حصول کے لیے ہر وقت کوشاں رہنا چاہیے۔ اگر وہ حقیقت میں متقی بن جائے گا تو اللہ تبارک وتعالیٰ اسے دنیا اور آخرت کی کامیابیاں عطا فرمائیں گے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو تقویٰ والی زندگی اختیار کرنے کی توفیق دے‘ آمین!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_19740082.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>