<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>وسائل اور ترقیاتی منصوبہ بندی کا مسئلہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-03/11244</link><pubDate>Wed, 03 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-03/11244</guid><description>وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے اگلے روزسالانہ منصوبہ بندی رابطہ کمیٹی (اے پی سی سی) کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ نئے مالی سال میں 4097 ارب روپے کی پراجیکٹ ڈیمانڈ کے مقابلے میں پی ایس ڈی پی کی مد میں 1126 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں‘ اس طرح حکومت کو مالی سال 2026-27ء میں تقریباً 300 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبوں کو مؤخر کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کا ترقیاتی بجٹ ضروریات سے کم ہے جس سے منصوبوں کی بروقت تکمیل مشکل ہو گئی ہے اور منصوبہ بندی کے عمل کیلئے ایک سنگین چیلنج ہے۔ ملک کی ترقی عوامی فلاحی منصوبوں میں حکومتی اخراجات پر مدار کرتی ہے لیکن جب ترقی کے منصوبوں کیلئے مطلوبہ رقوم مختص نہ کی جائیں تو اسکے دو طرح سے منفی نتائج سامنے آتے ہیں۔ اوّل یہ کہ عوام ان ترقیاتی منصوبوں کے فوائد سے محروم رہتے اور ان منصوبوں سے ملکی ترقی کے جو امکانات وابستہ ہوتے ہیں وہ عملی صورت اختیار نہیں کر پاتے۔

دوسری جانب اس تاخیر کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ منصوبوں کی لاگت بڑھتی چلی جاتی ہے اور ہمارے ہاں شاید ہی کوئی ترقیاتی منصوبہ ہو جو اپنی تخمینہ مدت اور معینہ لاگت میں مکمل ہوا ہو۔ ملک بھر میں صوبائی اور وفاقی انتظامات میں ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر کی بے شمار کہانیاں موجود ہیں۔ مثال کے طور پر کراچی کو پانی کی سپلائی کا منصوبہ کے فور‘ جو 12 سال پہلے 25 ارب روپے میں مکمل ہو جانا تھا مگر مسلسل تاخیر کے شکار اس منصوبے کی لاگت کا تخمینہ اب 200 ارب روپے سے بڑھ چکا ہے اور آنے والے وقت میں یہ لاگت مزید بڑھنا خارج از امکان نہیں کیونکہ افراطِ زر میں اضافے کا سلسلہ تھمتا دکھائی نہیں دے رہا۔ اسی طرح دیگر اہم ترین نوعیت کے منصوبے بھی برسوں بلکہ دہائیوں تاخیر کا شکار ہوتے چلے جاتے ہیں اور ان کی تخمینہ لاگت بڑھتی چلی جاتی ہے۔ اس سلسلے میں تربیلا ڈیم کی توسیع اور پن بجلی کے متعدد منصوبے قابلِ ذکر ہیں جن کی تاخیر سے دہرا نقصان ہوا۔ اس صورتحال میں ضروری ہے کہ اہم ترین نوعیت کے قومی ترقیاتی منصوبوں کیلئے ترجیحی ضابطہ کار بنایا جائے۔
مالیاتی مشکلات اپنی جگہ مگر قومی سطح پر حکمت عملی کے ساتھ کام کیا جائے تو ان مشکلات سے نمٹنا اتنا مشکل نہیں ہو گا۔ ضروری یہ ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کیلئے مالی وسائل کی فراہمی ان کی اہمیت اور افادیت کے تناظر میں ہونی چاہیے۔ ہمارے ہاں دیکھا گیا ہے کہ بہت سے انتہائی اہمیت کے منصوبے دہائیوں التوا کا شکار رہتے ہیں اور ان پر کام رک رک کر چلتا ہے جبکہ اسی دوران بعض ایسے منصوبے جن کی افادیت کم ہوتی ہے‘ انہیں ترجیحات میں سرفہرست رکھا جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ قومی وسائل اکثر ایسے منصوبوں کی نذر ہو جاتے ہیں جن کا حقیقی معنوں میں کوئی فائدہ نہیں ہوتا یا وہ ایسے لازمی نوعیت کے منصوبے نہیں ہوتے کہ وسائل کی فراہمی میں انہیں ترجیح دی جائے۔ اگر اس حوالے سے ایک اصول وضع کر لیا جائے اور اس پر سختی سے عمل کیا جائے تو مالی وسائل یقینی طور پر انہی منصوبوں پر صرف ہوں گے جن کی قومی اہمیت اور افادیت زیادہ ہے۔
اس طرح نہ صرف مالی وسائل کا ضیاع روکا جا سکتا ہے بلکہ ضروری نوعیت کے منصوبوں کی جلد تکمیل سے عوام کو بھی بڑی سہولت میسر آئے گی۔ اس سلسلے میں وفاق اور صوبوں کی سطح پر بھی مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ اٹھارہویں ترمیم کے تحت مالی وسائل کا بڑا حصہ صوبوں کو منتقل ہو جاتا ہے لہٰذا صوبائی حکومتیں اگر مالیاتی نظم وضبط پر توجہ دیں تو موجودہ وسائل ہی کو مؤثر انداز میں استعمال کر کے زیادہ عملی نتائج حاصل کر سکتی ہیں۔ اس کے ساتھ مانیٹرنگ اور احتساب کے کڑے نظام اور بھاری مراعات کے بجائے حقیقی محکمانہ اصلاحات سے ان مسائل کا ازالہ ہو سکتا ہے جنہوں نے صوبوں کے اربوں روپے کے ترقیاتی بجٹ کے ثمرات کو عوام تک منتقل ہونے سے روک رکھا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کاروباری اعتماد میں کمی(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-03/11243</link><pubDate>Wed, 03 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-03/11243</guid><description>اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے بزنس کانفیڈنس انڈیکس کے مطابق 2026ء کی دوسری سہ ماہی کے دوران کاروباری اعتماد میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔اس اشاریے کے مطابق صرف تین ماہ کے دوران مجموعی کاروباری اعتماد 22فیصد سے کم ہو کر 13 فیصد پر آگیا۔ رپورٹ کے مطابق 70 سے 80 فیصد کاروباری ادارے یا تو نئی سرمایہ کاری کے فیصلے مؤخر کر رہے ہیں یا ان پر نظرثانی کرنے پر مجبور ہیں۔ سرمایہ کاری کے رجحانات میں یہ جمود معیشت کے مستقبل کیلئے خطرناک اشارہ ہے۔ کاروباری اعتماد میں کمی کی بنیادی وجوہات میں مہنگائی میں اضافہ‘ ایندھن کی قیمتوں کا دباؤ‘ مشرقِ وسطیٰ کی جغرافیائی کشیدگی کے اثرات‘ سپلائی چین میں رکاوٹیں اور پالیسیوں کا عدم تسلسل شامل ہیں۔ ان عوامل نے نہ صرف کاروباری لاگت کو بڑھایا ہے بلکہ مستقبل کی منصوبہ بندی کو بھی غیر یقینی بنا دیا ہے۔

کاروباری اعتماد میں اس کمی کے اثرات معیشت کے ہر شعبے پر مرتب ہوں گے۔ جب سرمایہ کاری رک جائے گی تو پیداوار اور روزگار کے مواقع میں کمی اور حکومتی آمدنی میں دباؤ جیسے مسائل شدت اختیار کریں گے۔ اگر بروقت اصلاحی اقدامات نہ کیے گئے تو نہ صرف سرمایہ کاری کا بحران مزید گہرا ہوگا بلکہ اس کے اثرات طویل المدتی اور دیرپا بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔ ضروری ہے کہ حکومت فوری طور پر اعتماد سازی کے اقدامات کرے تاکہ معیشت کو استحکام اور کاروباری ماحول کو نئی زندگی فراہم کی جا سکے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>المناک ٹریفک حادثات(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-03/11242</link><pubDate>Wed, 03 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-03/11242</guid><description>پنجاب ایمرجنسی سروسز ڈپارٹمنٹ کے مطابق گزشتہ ماہ صوبے میں 43ہزار سے زائد ٹریفک حادثات میں 434افراد جاں بحق اور 23ہزار سے زائد زخمی ہوئے۔ یعنی ہر روز ٹریفک حادثات میں اوسطاً 14افراد جاں بحق اور 740سے زائد زخمی ہوئے۔ بڑھتے ٹریفک حادثات ایک سنگین المیہ بن چکے ہیں۔ ایشین ٹرانسپورٹ آبزرویٹری کے مطابق پاکستان میں اوسطاً ہر 19منٹ میں ایک شخص ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہو رہا ہے۔ عوام کی کثیر تعداد کا ہر روز حادثات کا شکار ہونا یقینا نظام میں خرابیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔سگنلز کی خلاف ورزی‘ تیز رفتاری‘ غلط اوور ٹیکنگ اور بغیر ہیلمٹ یا سیٹ بیلٹ کے غیر محتاط ڈرائیونگ کو معمولی خلاف ورزی سمجھا جاتا ہے اور یہی غیر ذمہ دارانہ رویہ حادثات کا سبب بنتاہے۔ اگلے روز اسلام آباد میں دو ریس لگاتی گاڑیوں نے آٹھ افراد کو کچل دیا۔

ضروری ہے کہ ایسے سنگین واقعات کے ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کر کے دوسروں کیلئے مثال بنایا جائے۔ اگرچہ حالیہ مہینوں میں حکومت نے ٹریفک قوانین پر عملدرآمد یقینی بنانے کیلئے جرمانوں اور سزاؤں میں اضافے جیسے اقدامات کیے ہیں لیکن پھر بھی صورتحال میں کوئی بہتری دکھائی نہیں دیتی۔ اس ضمن میں سخت قانون سازی کیساتھ ساتھ عوامی شعور بیدار کرنا بھی ناگزیر ہے تاکہ انسانی جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>نپولین اور ہٹلر کی کہانی دہرائی جا رہی ہے(ایاز امیر)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-06-03/52050/51895661</link><pubDate>Wed, 03 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-06-03/52050/51895661</guid><description>ڈونلڈ ٹرمپ نپولین یا ہٹلر کے پائے کا لیڈر نہیں لیکن شکست وریخت کی وہی کہانی دہرائی جا رہی ہے۔ ان جیسے لیڈروں کا المیہ یہ ہے کہ اپنی طاقت کی حد بھول جاتے ہیں اور اُنہیں یہ سمجھ نہیں رہتی کہ کہاں جا کے رکنا چاہیے۔ 1812ء تک نپولین یورپ کا بادشاہ تھا۔ سوائے انگلستان کے باقی یورپ اس کے قدموں تلے پڑا ہوا تھا۔ لیکن روس پر حملے کا کیڑا اس کے ذہن میں بیٹھ گیا اور یورپ کی تاریخ میں سب سے بڑی فوج جس کی تعداد لگ بھگ چھ لاکھ تھی‘ لے کر روس پر حملہ آور ہو گیا۔ اور وہاں سے نپولین کے زوال کی داستان شروع ہو گئی۔ہٹلر کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ 1939ء اور 1940ء میں اس کی فتوحات ایسی تھیں کہ پوری دنیا لرزے میں آ گئی۔ ایسی فوج اور جنگ لڑنے کا ایسا طریقہ دنیا نے نہیں دیکھا تھا۔ وہاں تک ہی رہتا تو ہٹلر کو کوئی ہلا نہیں سکتا تھا۔ لیکن اس کی سوچ اور اس کے نظریے میں یہ نکتہ پیوست تھا کہ جرمنی کا تاریخی مشن روس کے وسیع علاقوں پر قبضہ کرنا ہے اور ایسا کرنے سے ہی جرمن قوم کا مستقبل محفوظ ہو سکتا ہے۔ تقریباً تمام قابلِ ذکر جرنیلوں کا مشورہ تھا کہ سوویت یونین پر چڑھائی نہیں کرنی چاہیے لیکن جون 1941ء میں سوویت یونین پر حملہ کر دیا گیا اور گو شروع میں ناقابلِ یقین حد تک جرمن فتوحات کامیاب رہیں۔ اکتوبر اور نومبر میں جب برف پڑنے لگی اور سردی نے میدانِ جنگ پر ڈیرے جمانا شروع کیے تو جرمن ایڈوانس رکنے لگا اور تب ثابت ہو گیا کہ ہٹلر نے جو روس پر حملہ کرکے جوا کھیلا ہے وہ جیت نہیں سکتا۔جیسے عرض کیا ٹرمپ اُس پائے کا لیڈر نہیں لیکن زوال کی حرکت وہی ہو رہی ہے۔ اپنی کاروباری زندگی میں اور پھر سیاست میں اسے کبھی کوئی ناکامی نہیں ہوئی۔ رئیل اسٹیٹ کاروبار میں وقتی طور پر گھاٹا ہوا بھی تو جلد گھاٹا کامیابی میں تبدیل ہو گیا۔ ورثے میں باپ سے دولت ملی تھی‘ اس لیے پوری زندگی ٹرمپ کو کبھی تنگدستی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ پھر رئیل اسٹیٹ کاروبار میں بہت کامیابی دیکھی اور اپنی کاوشوں سے ارب پتی ہو گیا۔ ٹیلی ویژن پر ایک شو کیا تو وہ بہت کامیاب رہا۔ یہ جو مِس ورلڈ کا مقابلۂ حسن ہوتا ہے ٹرمپ نے اُس میں بھی ہاتھ ڈالا اور شہرت اور کامیابی حاصل کی۔ سیاست میں آیا تو بیشتر تجزیہ کار ماننے کو تیار نہ تھے کہ ریپبلکن پارٹی کا نمائندہ ہو جائے گا۔ لیکن ایک بھرے مقابلے میں تمام مخالفین کا حشر ہوا اور ریپبلکن پارٹی کا نمائندہ ٹرمپ ہو گیا۔ میڈیا میں بیشتر آوازیں کہتی تھیں کہ ٹرمپ صدارتی انتخاب نہیں جیت سکتا لیکن اُس نے ہیلری کلنٹن کو ہرا کر دنیا کو حیران کر دیا۔اگلا الیکشن ہارا اور وہ بھی کووڈ کی وجہ سے۔ امریکہ میں یہ رائے پیدا ہو گئی تھی کہ کووڈ کا مقابلہ ٹرمپ ایڈمنسٹریشن نے صحیح طریقے سے نہیں کیا‘ شکست کا باعث یہ خیال بنا۔ لیکن ہار کر بھی ہمت نہ ہاری‘ ریپبلکن پارٹی پر اپنا کنٹرول قائم رکھا اور پھر جب اگلا الیکشن آیا تو جوبائیڈن اپنے بڑھاپے کی نذر ہو گیا اور کملا ہیرس ٹرمپ کی انتخابی یلغار کے سامنے ٹھہر نہ سکی۔الیکشن سے عین پہلے ٹرمپ پر خطرناک قسم کے الزامات لگے۔ ریاستِ جارجیا میں ایک مقدمہ بنا‘ ٹرمپ کو پولیس کے سامنے سرنڈر کرنا پڑا اور جیسا کہ امریکہ میں دستور ہے فالٹن کاؤنٹی جیل میں اس کا فوٹو لیا گیا۔ فوٹو بھی ایسا نکلا جس میں ٹرمپ غصے سے دیکھ رہا ہے‘ فوراً ہی وہ فوٹو امریکہ میں وائرل ہو گیا اور فوٹو کی ٹی شرٹیں ہاتھوں ہاتھ بکنے لگیں۔ نیویارک میں ایک مقدمہ بنا جس میں ٹرمپ پر الزام تھا کہ ایک سیکس ورکر سٹارمی ڈینیئلز کو چپ کرانے کیلئے ایک لاکھ 30 ہزار ڈالر دیے گئے تھے اور اس رقم کو چھپانے کیلئے اپنے ٹیکس ریکارڈ میں گڑبڑ کی گئی تھی۔ عدالت میں ٹرمپ بیٹھے ہوئے تھے اور کچھ ہی دور محترمہ تھیں۔ کوئی اور سیاستدان ہوتا تو اس واقعہ کے بعد غرق ہو جاتا۔ امریکہ میں تو ایسے بھی ہوا ہے کہ کسی کے فحش قسم کے ای میل یا ٹیکسٹ میسج سامنے آئے تو اُسے کانگریس یا کسی اور جگہ سے استعفیٰ دینا پڑا۔ ایسے امریکہ میں بے شمار واقعات ہوئے ہیں کہ تھوڑی سی لغزش سامنے آئی اور بندہ مارا گیا۔ اس لحاظ سے ٹرمپ کی شخصیت جادو کوالٹی کی رہی ہے کہ اُس پر ایسے ایسے فحش الزامات لگے لیکن کوئی ایک الزام بھی اُس کے ساتھ چپک نہیں سکا‘ یعنی سیاسی طور پر اُسے نقصان نہیں پہنچا سکا۔ ایپسٹین فائلز بھی دیکھ لیجئے‘ ٹرمپ کا نام ان فائلز میں ایک یا دو مرتبہ نہیں سینکڑوں بار آیا ہے۔ ایپسٹین کے ساتھ ٹرمپ کی دوستی نہیں باقاعدہ یاری تھی۔ اکٹھے پارٹیوں میں جاتے تھے‘ خواتین کی گواہی ہے کہ ایپسٹین کے دفتر میں ٹرمپ سے ہمارا تعارف ہوا۔ امریکہ کا کوئی اور سیاستدان ہوتا تو ایسے الزامات کے بعد اپنا منہ دکھانے کے قابل نہ رہتا۔ ٹرمپ ہے کہ ایسے الزامات آئے اور ہوا کی مانند تحلیل ہوگئے۔امورِ خارجہ میں بھی کیا کیا وارداتیں ٹرمپ نے نہیں ڈالیں۔ کینیڈا کو برا بھلا کہنا‘ گرین لینڈ پر قبضے کی بات کرنا‘ اوول آفس میں باہر سے آئے مہمانوں کی بے عزتی کرنا‘ یوکرین کے صدر زیلنسکی کو ٹی وی کیمروں کے سامنے دھمکیاں دینا‘ امریکہ کے اتحادیوں کو برا بھلا کہنا۔ ونیزویلا پر چڑھ دوڑنا اور امریکی کمانڈوز کا صدارتی محل پر حملہ کرنا اور ونیزویلا کے صدر اور اُس کی بیگم کو اغوا کرکے نیویارک کی ایک جیل میں پہنچا دینا۔ کیوبا کو دھمکانا اور اُس کی تیل کی ترسیل بند کر دینا۔ یہ سب کچھ ٹرمپ نے کیا اور اُسے روکنے والا کوئی نہ تھا۔ اتحادی بے بس‘ دنیا بے بس۔ تاثر یہ بنا کہ ٹرمپ جو چاہے کر سکتا ہے۔ لیکن برے دن ٹرمپ کے تب شروع ہوئے جب اسرائیل سے مل کر ایران پر حملہ کر دیا۔ اور وہاں سے شکست و ریخت کی داستان شروع ہو گئی۔ ایران میں ٹرمپ ایسا جا کے پھنسا ہے کہ نکلنے کا راستہ نہیں مل رہا۔ بمباری ایران پر اتنی ہوئی‘ اتنے ٹھکانے امریکی میزائلوں اور بموں کے ہدف بنے کہ امریکہ کا میزائلوں کا ذخیرہ کم پڑ گیا ہے۔ ٹوماہاک اور پیٹریاٹ میزائل تو اس جنگ میں ایسے پھونکے گئے کہ خطرناک حد تک میزائلوں کے ذخائر کم پڑ گئے ہیں۔ مقاصد پھر بھی حاصل نہیں ہوئے۔ ایران میں حکومت بدلنے چلے تھے‘ پہلے لیڈر مارے گئے تو اُن سے زیادہ سخت مزاج لیڈر سامنے آ گئے۔ ایران کا نیوکلیئر پروگرام وہیں ہے جہاں پہلے تھا اور جو امریکی اور اسرائیلی کہتے تھے کہ ایران کی ڈرون اور میزائل صلاحیت ختم کر دیں گے وہاں پتا چلا کہ ایران کے پاس اب بھی ہزاروں میزائل اور ڈرون موجود ہیں۔ اگلے روز سی این این کی خبر تھی کہ جو زیر زمین میزائل لانچ کرنے کے ٹھکانے ہیں‘ جن پر حملے ہوئے‘ ایران نے بیشتر کی مرمت کر لی ہے۔ اور آبنائے ہرمز جس کا پہلے کوئی مسئلہ نہیں تھا اور جہاز کھلے اس میں سے گزرتے تھے وہ امریکہ اور ساری دنیا کیلئے نمبر وَن مسئلہ بن گیا ہے۔ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ امریکی بحری جہاز ٹینکروں کو ہرمز سے گزاریں گے‘ ایک دن اعلان کیا دوسرے دن واپس لینا پڑا جب نظر آیا کہ یہ مشق ناممکن لگتی ہے۔امن کی جس یادداشت کی تفصیلات سامنے آئیں امریکہ کے اسرائیل نواز حلقے ٹرمپ پر برس پڑے۔ ٹرمپ کیلئے یہی مسئلہ ہے کہ آبنائے ہرمز تب ہی کھلتا ہے جب ایران کو کچھ رعایتیں دی جائیں۔ ایسی کوئی بات ہوتی ہے تو اسرائیلی لابی ٹرمپ پر حملہ آور ہو جائے گی۔ یہی ٹرمپ کا بڑا مسئلہ ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_80573045.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی موت(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-06-03/52051/85902882</link><pubDate>Wed, 03 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-06-03/52051/85902882</guid><description>پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹیاں بہت اہم بھی ہیں اور دلچسپ بھی‘ بلکہ یوں کہیے کہ میرے جیسے صحافیوں کیلئے یہ خبروں سے بھرپور فورم ہیں۔ اپنی صحافتی زندگی میں مَیں نے پارلیمنٹ اور اسکی درجنوں کمیٹیوں کو ہمیشہ بہت اہم سمجھا ہے۔ درحقیقت انہی کی بدولت مجھے پاکستان‘ پاکستانی گورننس‘ سیاستدانوں اور بیوروکریسی کو سمجھنے کا موقع ملا اور پھر ایسی سمجھ آئی کہ سب سے دل ہی بھر گیا۔وہاں سے ایسی ایسی خبریں اور سکینڈل ڈھونڈ کر نکالے کہ آہستہ آہستہ سب دوستیاں اور تعلقات ختم ہوتے چلے گئے۔ اب تو یہ حالت ہے کہ آدھا اسلام آباد مجھ سے نہیں ملنا چاہتا اور آدھے سے میں نہیں ملنا چاہتا۔ وجہ وہی رپورٹنگ ہے جس کیلئے پارلیمنٹ اور اسکی کمیٹیوں نے 2002ء کے بعد میری بہت مدد کی۔ اگرچہ ہم صحافی جتنا سنجیدہ کمیٹی اجلاسوں کو لیتے ہیں اتنا سنجیدہ تو شاید کبھی حکمرانوں نے بھی نہیں لیا۔ مجھے کبھی سمجھ نہیں آئی کہ کوئی سیاستدان یا رکنِ اسمبلی پارلیمنٹ میں باقاعدگی سے بیٹھے بغیر‘ وقفۂ سوالات کے دوران کارروائی میں حصہ لیے بغیر یا اس سے بھی بڑھ کر اہم کمیٹیوں کا رکن بنے بغیر کیسے ملک کا وزیر یا وزیراعظم بن کر مؤثر کارکردگی دکھا سکتا ہے؟میں کئی مرتبہ لکھ چکا ہوں کہ وزیراعظم یا وزیر بننے کے خواہشمند پارلیمنٹرینز کو پارلیمنٹ میں وقفہ سوالات اور چند اہم کمیٹیوں کی رکنیت ضرور حاصل کرنی چاہیے۔ اگر وہ وزیراعظم بننے کے خواہشمند ہیں تو انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ بیوروکریسی اور گورننس کس بلا کا نام ہے‘ رُولز اور ریگولیشنز کیا ہوتے ہیں‘ فیصلے کیسے کیے جاتے ہیں اور اس ملک میں فراڈ اور سکینڈلز کیسے جنم لیتے ہیں۔ اس سے بھی بڑھ کر ان اجلاسوں میں آپ کو اندازہ ہوتا ہے کہ کون سا بیوروکریٹ قابل اور مضبوط ہے اور کون کلرک سے ترقی کرتے کرتے  کسی نہ کسی طرح گریڈ 22تک پہنچ گیا ہے مگر عملی طور پر نااہل ہے۔ وہ چند کمیٹیاں جن کا مستقبل کے وزیراعظم کو ضرور رکن ہونا چاہیے ان میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی ‘ خارجہ امور‘ فنانس‘ منصوبہ بندی اور داخلہ کی کمیٹیاں شامل ہیں۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں تقریباً 40 وفاقی سیکرٹری پیش ہوتے ہیں اور وہاں افسران کی اصل صلاحیت کا اندازہ ہو جاتا ہے کہ کون کتنے پانی میں ہے۔ میں پرویز مشرف کے دور سے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کور کر رہا ہوں۔ پچیس برس ہونے کو آئے ہیں۔ وہاں میں نے افسران کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔ 2006ء تک افسران کی ایک بہترین کلاس نظر آتی تھی؛ پڑھے لکھے‘ عمدہ انگریزی بولنے والے‘ کتابوں کے شوقین‘ اپنی وزارت کے معاملات پر مکمل گرفت رکھنے والے اور سب سے بڑھ کر پچاس سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ‘ آڈٹ افسران‘ فنانس کے نمائندوں اور میڈیا کی موجودگی میں سخت ترین سوالات کا سامنا کرنے اور ان کا جواب دینے کی صلاحیت رکھنے والے۔ پھر آہستہ آہستہ وہ نسل ریٹائر ہونا شروع ہوئی تو بیوروکریسی میں وہ معیار نہ رہا۔ اب اکثر سیکرٹری بغیر تیاری کے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں آتے اور منت سماجت شروع کر دیتے ہیں کہ مہربانی کرکے آڈٹ پیرا سیٹل کر دیں‘ غلطی ہوگئی‘ معاف کر دیں۔ وہ آڈٹ پیروں کو میرٹ پر نہیں بلکہ سفارش اور منت سماجت کے ذریعے نمٹانا چاہتے۔ اراکین بھی آہستہ آہستہ مہربان ہونا شروع ہو گئے کہ ہمیں بھی سیکرٹری صاحبان سے کام پڑتے ہیں۔ یوں احتساب پس منظر میں چلا گیا اور ذاتی مفادات و ضروریات نے ترجیح حاصل کر لی۔تاہم اس دوران بھی کچھ افسران ایسے تھے جو اپنی سروس کا جھنڈا بلند کیے ہوئے تھے۔ ایک وفاقی سیکرٹری احمد نواز سکھیرا اور دوسرے ظفر محمود تھے۔ایک دن دلچسپ واقعہ پیش آیا۔ اجلاس جاری تھا اور کچھ آڈٹ پیروں پر بحث ہو رہی تھی جن کے بارے میں سیکرٹری ظفر محمود وضاحتیں پیش کر رہے تھے۔ ان میں ایک ایسا فیصلہ بھی شامل تھا جس کی وجہ سے کروڑوں روپے کا نقصان ہوا۔ اس وقت آڈیٹر جنرل آف پاکستان ایک سابق سیکرٹری فنانس تھے۔ وہ ظفر محمود سے سخت سوالات کر رہے تھے اور کمیٹی کے اراکین سے کہہ رہے  تھے کہ اس آڈٹ پیرا کے حوالے سے انکوائری ہونی چاہیے اور یہ طے ہونا چاہیے کہ یہ فیصلہ کس افسر نے کیا۔ ظفر محمود جو اَب تک مختلف انداز میں جوابات دے رہے تھے آخرکار مسکرائے اور آڈیٹر جنرل سے بولے: &#39;&#39;سر! آپ میرے سینئر ہیں‘ اس لیے میں سروس کی روایات کے تحت اپنا دفاع کر رہا تھا لیکن شاید آپ نے غور نہیں کیا کہ یہ آڈٹ پیرا آپ کے اپنے دور کا ہے اور یہ فیصلہ  بھی آپ ہی نے کیا تھا‘ جب آپ اس کرسی پر موجود تھے۔ یہ سُن کر پہلے تو اجلاس کے شرکا کو جیسے سانپ سونگھ گیا‘ پھر ایک زور دار قہقہہ بلند ہوا اور آڈیٹر جنرل شرمندہ ہو کر رہ گئے۔ اسی طرح ایک اور دبنگ افسر جنہیں میں نے قریب سے دیکھا وہ احمد نواز سکھیرا تھے۔ شاید اُس وقت وہ نجکاری کمیشن میں سیکرٹری تھے۔ سینیٹ کی کمیٹی کا اجلاس تھا۔ ایک سینیٹر نے اونچی آواز میں ان پر چڑھائی کرنے کی کوشش کی۔ سکھیرا صاحب کچھ دیر مسکرا کر یہ سنتے رہے لیکن جب انہیں محسوس ہوا کہ سینیٹر صاحب کچھ زیادہ ہی آگے بڑھ رہے ہیں تو اُس راجپوت افسر نے بڑے سکون سے جواب دیا: &#39;&#39;سر! ہم عزت کیلئے نوکری کرتے ہیں‘ ہم آپ کی عزت کرتے ہیں کیونکہ آپ اس قوم کے نمائندے ہیں۔ ہم آپ کو جوابدہ ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ یہاں سب کے سامنے ہم سے اس لہجے میں بات کریں۔ اونچی آواز میں بات کرنا کونسا مشکل کام ہے۔ ہم سب کر سکتے ہیں۔ ہم آپ کی عزت کرتے ہیں اور جواباً آپ سے بھی عزت کی توقع رکھتے ہیں۔ آپ سوال کریں ہم جواب دیں گے لیکن ہمیں ذلیل کرنے کا حق آپ کو نہیں ہے‘‘۔ اس جواب کے بعد اجلاس میں سناٹا چھا گیا۔میرے رپورٹنگ کیریئر میں وہ پہلے افسر تھے جنہوں نے اپنی عزتِ نفس پر سمجھوتا نہیں کیا‘ ورنہ کسی کو اپنے افسر کو اس انداز میں جواب دیتے کم ہی دیکھا ہے۔ اگر آڈیٹر جنرلز کی بات کی جائے تو مشرف دور کے آڈیٹر جنرل منظور صاحب اور بعد ازاں اختر بلند رانا کو میں نے اصولی مؤقف اپناتے دیکھا۔ منظور صاحب پی اے سی کے اراکین کو سفارش یا غلط بنیادوں پر آڈٹ پیرا سیٹل نہیں کرنے دیتے تھے۔ وہ خبردار کرتے تھے کہ اگر آپ نے ان پیروں کے ساتھ انصاف نہ کیا تو میرا آڈیٹر دوبارہ اتنی محنت نہیں کرے گا اور کوئی سکینڈل آپ تک نہیں پہنچ پائے گا۔ اسی طرح اختر بلند رانا نے چیئرمین پی اے سی خورشید شاہ کو ان کے منہ پر کہہ دیا تھا: &#39;&#39;میں نے پچھلی پیپلز پارٹی حکومت اور آپ کی وزارت کے خلاف سو سے زائد رپورٹس کمیٹی میں پیش کرنی ہیں‘ اور آپ ہی آگے کرسی پر بیٹھ کر ان رپورٹس پر جج‘ جیوری اور جلاد کا کردار ادا کریں گے۔ ایسا نہیں ہوگا‘‘۔ وہ پھر خورشید شاہ کی کمیٹی میں نہیں آئے؛ اگرچہ بعد میں مسلم لیگ (ن)‘ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف نے مل کر سپریم جوڈیشل کونسل کی مدد سے انہیں عہدے سے ہٹوا دیا لیکن داد دینی چاہیے اس افسر کو کہ اس نے آڈیٹر جنرل کا عہدہ کھو دیا مگر اصولوں پر سمجھوتا نہیں کیا۔ آج پی اے سی میں جائیں تو پرانے دن یاد آتے ہیں۔ اگرچہ غیرمتوقع طور پر پی ٹی آئی کے جنید اکبر نے پی اے سی کو بہت متحرک کر دیا تھا۔ اللہ بھلا کرے پی ٹی آئی کے بانی کا جنہوں نے جنید اکبر سمیت دیگر پی ٹی آئی اراکین سے استعفے دلوا کر حکومت کا بھلا کر دیا‘ جو جنید اکبر کی وجہ سے خاصی دباؤ میں تھی۔ اب اس کرسی پر وفاقی وزیر طارق فضل چودھری بیٹھ کر انصاف فرماتے ہیں۔ ذرا اندازہ کیجیے آڈٹ رپورٹس بھی حکومت کے خلاف ہیں اور اجلاس کی صدارت بھی حکومت کا ایک وزیر کرتا ہے اور سامنے حکومت ہی کا سیکرٹری بیٹھا ہوتا ہے جس کی وزارت کے خلاف آڈٹ پیروں کی بھرمار ہوتی ہے۔ اب آپ خود اندازہ کر لیجیے کہ وہاں کیسا انصاف ہو رہا ہوگا۔ یہ سب دیکھ کر مجھے پرانے چہرے یاد آتے ہیں جنہوں نے پی اے سی کو ایک مضبوط اور باوقار فورم بنایا تھا‘ ایسا فورم جس سے اوپر سے نیچے تک سب خوفزدہ رہتے تھے مگر موجودہ حکومت کے دور میں یہ اپنی موت آپ مر گیا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ابراہیمی معاہدہ، امریکی مائنڈ سیٹ کا آئینہ دار(سلمان غنی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/salman-ghani/2026-06-03/52053/55134256</link><pubDate>Wed, 03 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/salman-ghani/2026-06-03/52053/55134256</guid><description>امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکراتی عمل کے بعد مفاہمت پر اصولی اتفاق تو ہو گیا لیکن مفاہمتی عمل کی نتیجہ خیزی ممکن نہیں بن پا رہی۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے مخصوص انداز میں ایران پر دباؤ بڑھاتے اور شرائط میں اضافہ کرتے نظر آتے ہیں۔ لیکن جواباً ایران بھی اپنے اصولی مؤقف پر کاربند نظر آ رہا ہے اور کسی طور اپنی آزادی اور خودمختاری پر سمجھوتے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا۔ اس طرح مفاہمتی کوششوں کے باوجود تصادم کا ماحول برقرار ہے۔اُدھر اسرائیل کے عزائم ایران پر تو کارگر نہیں ہوسکے لیکن وہ لبنان اور غزہ پر حملوں میں تیزی لا رہا ہے جبکہ امریکہ اس دوران ایران کو دھمکاتا نظر آ تا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے باہمی مفادات کو ترجیح دیتے ہوئے مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کر رکھی ہے۔ ایران کے حوالے سے امریکی عزائم پورے نہیں ہو پا رہے چنانچہ امریکہ نے اس محاذ پر ہونے والی سبکی سے توجہ ہٹانے کیلئے ابراہم اکارڈ کا پتہ پھینک دیا ہے۔ اس اعلان سے یہ واضح ہو رہا ہے کہ امریکہ کا اصل ایجنڈا کیا ہے اور وہ مسلم ممالک کو کس طرح اس معاہدے کا حصہ بنا کر اسرائیل کے مفادات کا تحفظ چاہتا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اختیار کیے جانے والے اس جارحانہ انداز نے ایک طرف سفارتی حلقوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے تو دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ کے علاقائی اتحاد کو بھی متاثر کیا ہے۔ ایران کے ساتھ امن معاہدے کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے صدر ٹرمپ نے اپنے پرانے مطالبے کو دہرایا کہ مشرقِ وسطیٰ اور دیگر مسلم ممالک اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات معمول پر لائیں اور ابراہم اکارڈ پر دستخط کریں۔ صدر ٹرمپ شاید یہ سمجھتے ہیں کہ ایران کے خلاف ان کے جارحانہ عزائم کے بعد مسلم ممالک دفاعی پوزیشن پر آ گئے ہیں اور امریکہ کے ہر جائز ناجائز مطالبے کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دیں گے، لیکن ابراہم اکارڈ پر دستخطوں کے مطالبے کے بعد مسلم ممالک ایک دوسرے کے قریب آتے نظر آرہے ہیں۔صدر ٹرمپ کی جانب سے اس مطالبے کے وقت نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار امریکہ کے دورے پر تھے جہاں ان کی امریکی ہم منصب مارکو روبیو سے ملاقات ہوئی۔ ملاقات کے بعد ابراہیمی معاہدے سے متعلق سوال کے جواب میں اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ پاکستان اپنے ریاستی مؤقف پر قائم ہے اور ایسے کسی معاہدے پر دستخط آزاد فلسطینی ریاست کے قیام سے مشروط ہیں۔ اس ردِعمل کو فلسطینی کاز سے پاکستان کی سنجیدگی کا مظہر قرار دیا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے بھی واضح کیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کا راستہ فلسطین کے مسئلے کے پائیدار اور منصفانہ حل سے ہو کر گزرتا ہے۔ فلسطین کی آزاد ریاست کا قیام ہی یہاں استحکام کی بنیاد بن سکتا ہے اور اس حوالے سے کوئی دباؤ کارگر نہیں ہو سکتا۔ جہاں تک سعودی عرب کا سوال ہے تو ریاض مسلسل یہ مؤقف دہراتا آ رہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ مکمل سفارتی تعلقات فلسطینی مسئلے کے حل سے مشروط ہیں۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان مختلف مواقع پر کہہ چکے ہیں کہ فلسطینی ریاست کے قیام اور فلسطینیوں کے حقوق کے تحفظ کے بغیر تعلقات کی مکمل بحالی ممکن نہیں۔ اکتوبر 2023ء کے بعد غزہ کی جنگ نے سعودی مؤقف کو مزید سخت کیا اور سعودی عرب نے واضح کر دیا کہ 1967ء کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد فلسطینی ریاست اور مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت تسلیم کیے بغیر اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ عالمِ اسلام میں کسی بھی بڑے مسئلے پر فیصلہ سازی میں سعودی عرب اور پاکستان کا کردار نمایاں سمجھا جاتا ہے‘ اس لیے فلسطین کا معاملہ دونوں ممالک کی خارجہ پالیسی میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب ایک طرف امریکہ کے ساتھ اپنے سٹریٹجک تعلقات برقرار رکھنے پر کاربند ہے تو دوسری طرف فلسطینی کاز سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں۔ پاکستان کا بھی بڑا کریڈٹ ہے کہ اس کی قیادت نے ہمیشہ کشمیر کے ساتھ ساتھ فلسطینی کاز پر بھی مستقل اور واضح مؤقف اختیار کیا ہے۔ موجودہ قیادت‘ خصوصاً وزیراعظم شہباز شریف نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سمیت مختلف عالمی فورمز پر فلسطینی  کاز سے وابستگی کا اظہار کرتے ہوئے دنیا کی توجہ غزہ کی صورتحال کی جانب مبذول کرائی اور اس مسئلے کے حل کو خطے میں پائیدار امن سے جوڑا۔ عالمِ اسلام کے اہم ممالک کا مؤقف واضح ہے کہ فلسطینی ریاست کے قیام کی جانب پیش رفت کے بغیر اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر نہیں آ سکتے۔ اس حوالے سے عالمی طاقتوں خصوصاً امریکہ کو کردار ادا کرنا چاہیے لیکن امریکہ فلسطینی مسئلے کے حل کیلئے حقیقت پسندانہ طرزِ عمل اختیار کرنے کے بجائے اسرائیل کے مفادات کا تحفظ کرتا دکھائی دیتا ہے۔ ابراہم اکارڈ صدر ٹرمپ کے پہلے دورِ حکومت کا ایک اہم منصوبہ تھا جس کے تحت مسئلہ فلسطین کو حل کیے بغیر اسرائیل اور بعض مسلم ممالک کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کی کوشش کی گئی۔ 15 ستمبر 2020ء کومتحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ عبداللہ بن زاید النہیان، بحرینی وزیر خارجہ عبداللطیف بن راشد اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے واشنگٹن میں اس معاہدے پر دستخط کئے۔ بعد ازاں مراکش اور سوڈان کو بھی اس میں شامل کر لیا گیا‘ تاہم یہ دباؤ دیگر بڑے مسلم ممالک پر کارگر ثابت نہ ہو سکا۔اس کی بڑی وجہ صدر ٹرمپ کی وہ پالیسیاں تھیں جن کے تحت انہوں نے امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کرکے واضح طور پر اسرائیل کی حمایت کی۔ اہم مسلم ممالک ڈونلڈ ٹرمپ کے مائنڈ سیٹ سے بخوبی واقف ہیں۔ اسی لیے ابراہم اکارڈ کو ایران کے ساتھ کسی ممکنہ امن معاہدے سے منسلک کرنے کی حالیہ کوشش بھی زیادہ پذیرائی حاصل نہیں کر سکی۔پاکستان‘ قطر اور سعودی عرب نے اس تجویز کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایسے کسی معاہدے کا حصہ بننا مسئلہ فلسطین کے مستقل‘ جامع اور منصفانہ حل سے مشروط ہے۔ جب تک 1967ء کی سرحدوں کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست وجود میں نہیں آتی‘ ایسے کسی معاہدے کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔پاکستانی تناظر میں دیکھا جائے تو بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح اور مفکرِ پاکستان علامہ محمد اقبال فلسطین کے مسئلے پر واضح اور دوٹوک مؤقف رکھتے تھے۔ علامہ اقبال فلسطین کو عالمِ اسلام کا ایک بڑا مسئلہ قرار دیتے تھے جبکہ قائداعظم فلسطینی عربوں کے حقِ خودارادیت کی حمایت کرتے رہے۔ ریاستِ پاکستان کا کریڈٹ ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے اصولی مؤقف پر قائم رہی ہے۔ جہاں تک سعودی عرب‘ قطر اور ترکیہ کا تعلق ہے وہ بھی اس حوالے سے یکسو نظر آتے ہیں کہ فلسطینی حقوق کے واضح حل کے بغیر اسرائیل کے ساتھ تعلقات کا معمول پر آنا مشکل ہے۔ غزہ کی حالیہ صورتحال نے اس عمل کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ عالمی ماہرین بھی تسلیم کرتے ہیں کہ فلسطین کے سوال کو نظر انداز کرکے کوئی بھی علاقائی قیادت وسیع قبولیت حاصل نہیں کر سکتی۔ ابراہیمی معاہدوں کا مستقبل بڑی حد تک فلسطین‘ اسرائیل اور خطے کی مجموعی صورتحال سے جڑا ہوا ہے۔ لہٰذا صدر ٹرمپ کی جانب سے موجودہ حالات میں معاہدۂ ابراہیمی کو ایران کے ساتھ کسی ممکنہ معاہدے سے جوڑنے کی کوشش کو ایک سیاسی حکمتِ عملی تو قرار دیا جا سکتا ہے لیکن عملاً اس پر پیش رفت کے امکانات فی الحال دکھائی نہیں دیتے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/230_37874475.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بجٹ یا عوام کیلئے سالانہ چارج شیٹ(محمد حسن رضا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-hasan-raza/2026-06-03/52054/74786177</link><pubDate>Wed, 03 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-hasan-raza/2026-06-03/52054/74786177</guid><description>ایک بادشاہ کا قصہ ہے کہ اس نے محل کے سامنے کارندے بٹھا دئیے کہ جو بھی گزرے اس سے محصول لیا جائے۔ رعایا نے شور کیا تو بادشاہ نے کہا ملک چلانا ہے۔ پھر اس نے کنوؤں پر ٹیکس لگا دیا‘ بازار میں اشیا پر ٹیکس لگا دیا‘ راستوں پر ٹیکس لگا دیا۔ ایک دن وزیرِ خاص نے پوچھا: حضور! رعایا پریشان ہے‘ ان کے گھروں میں کھانے کو کچھ نہیں۔ بادشاہ نے کہا: چھوڑو‘ محل تو آباد ہے۔ ہماری کہانی بھی کچھ اسی طرح کی ہے۔ یہاں حکومتیں ہر سال بجٹ نہیں بناتیں رعایا پر تاوان عائد کرتی ہیں۔ فرانز کافکا نے کہا تھا‘ بعض نظام ایسے ہوتے ہیں جن میں آدمی جرم جانے بغیر سزا کاٹتا ہے۔ ہمارے ملک کے عام شہریوں کا حال بھی کچھ ایسا ہی ہے۔بجلی ‘گیس‘ پٹرول اور اشیائے خورونوش کی مہنگائی ان کا مقدر بن چکی ہے اور ہر بحران کی قیمت انہی کی جیبوں سے نکالی جاتی ہے۔ وہ بینکوں سے قرضے لے کر معاف نہیں کراتے‘ ٹیکس ایمنسٹی سکیموں سے کالا دھن سفید نہیں کرتے‘ جعلی کمپنیوں کے ذریعے پیسہ باہر نہیں بھیجتے‘ سرکاری ٹھیکوں میں کمیشن نہیں کھاتے‘ چینی اور آٹے کی امپورٹ‘ ایکسپورٹ کا کھیل نہیں کھیلتے‘ مگر ہر بجٹ میں سزا اُنہی کے نام لکھی جاتی ہے۔ وہ نہ سرکاری پروٹوکول میں چلتے ہیں‘ نہ بلٹ پروف گاڑیوں میں‘ نہ مفت بجلی لیتے ہیں‘ نہ مفت پٹرول‘ نہ سرکاری پلاٹ‘ نہ بیرونِ ملک علاج‘ نہ مراعات یافتہ پنشن لیتے ہے۔ پھر بھی جب کبھی ملک معاشی تنگی کا شکار ہوتا ہے تو سب سے پہلے انہی کی قوتِ خرید پر زد پڑتی ہے‘ انہی کے بچوں کی فیس‘ دوائی‘ بجلی اور خوراک پر ٹیکس بڑھایا جاتا ہے۔ طاقتور کے لیے سو طرح کے قانونی راستے نکل آتے ہیں مگرکمزور کیلئے صرف بِل نکلتے ہیں۔ یہاں اشرافیہ بحران میں بھی مراعات لیتی ہے اور عام آدمی استحکام کے نام پر اپنی زندگی گروی رکھ دیتا ہے۔ موبائل بیلنس پر ٹیکس‘ پٹرول پر ٹیکس‘ بجلی اور گیس پر ٹیکس۔ دودھ‘ چینی‘ آٹا‘ چائے‘ صابن‘ کپڑا‘ جوتی‘ دوا‘ ہر چیز پر ٹیکس۔ عوام حکومت کو کئی طرح کے ٹیکس دیتے ہیں‘ تنخواہ دار طبقہ تو براہِ راست ٹیکس دیتا ہے‘ صارف ہر خریداری پر سیلز ٹیکس دیتا ہے‘ گاڑی والا پٹرولیم لیوی دیتا ہے‘ بجلی صارف سرچارج‘ فیول ایڈجسٹمنٹ اور ڈیوٹیز دیتا ہے‘ موبائل صارف وِد ہولڈنگ ٹیکس دیتا ہے‘ کسان کھاد‘ ڈیزل‘ بجلی اور مشینری پر ٹیکس دیتا ہے‘ مگر پھر بھی حکومت کہتی ہے عوام کم ٹیکس دیتے ہیں۔ حالانکہ گزشتہ چار سال میں ایف بی آر نے 34 ہزار 367ارب روپے کے قریب وصولی کی‘ 11 ہزار ارب روپے نان ٹیکس ریونیو‘ 560 ارب روپے رائلٹیز اور فیسوں سے حاصل کیے۔ قرضے الگ! مجموعی طور پر تقریباً 78 ٹریلین روپے ریاست کے ہاتھ آئے لیکن اس عرصے میں اخراجات 105ٹریلین روپے تک پہنچ گئے۔ قرضوں کے سود پر تقریباً 34ٹریلین روپے خرچ ہوئے۔ پنشن پر چار ٹریلین سے زائد‘ حکومتوں کے اخراجات پانچ ٹریلین کے قریب‘ سبسڈیز چار ٹریلین اور سرکاری اداروں کے خساروں پر 6.6 ٹریلین روپے کھپ گئے۔ یہ ملک غریب نہیں‘ خرچ کرنے والے بے رحم ہیں۔ یہ خزانہ خالی نہیں‘ نیت کھوٹی ہے۔ دنیا نے ترقی کیسے کی؟ جنوبی کوریا نے جنگ کے بعد تعلیم‘ صنعت‘ برآمدات اور ٹیکنالوجی کو قومی نصب العین بنایا۔ سنگاپور نے بندرگاہ‘ قانون‘ میرٹ اور شفاف انتظامیہ کو بنیاد بنایا۔ ملائیشیا نے صنعت و زراعت کو جوڑا۔ چین نے کروڑوں لوگوں کو غربت سے نکالا کیونکہ اس نے پیداوار کو نعروں پر ترجیح دی۔ ویتنام نے جنگ کے ملبے سے ایک برآمدی معیشت کھڑی کر دی۔ وہاں حکمرانوں نے قوم کو نعرے نہیں بیچے‘ قوم کو پیداوار کا حصہ بنایا۔ اور ہم! ہم نے قرض کو پالیسی‘ ٹیکس کو اصلاحات‘ مہنگائی کو استحکام اور عوام کی چیخوں کو عارضی مشکلات کا نام دیا۔ یہاں حکمران عوام کیلئے نہیں جیتے۔ یہ اپنے لیے جیتے ہیں‘ اپنے خاندان کیلئے‘ اپنی جماعت کیلئے‘ اپنی اشرافیہ کیلئے‘ اپنے کلب کیلئے‘ اپنے پروٹوکول کیلئے۔ عالیشان سرکاری گھر‘ بڑی گاڑیاں‘ سرکاری پٹرول‘ محافظوں کے قافلے‘ پروٹوکول کی دھول‘ ایئرکنڈیشنڈ اجلاس‘ فائلوں میں ترقی‘ تقریروں میں خوشحالی‘ اور زمین پر عام آدمی کی ٹوٹی کمر۔ مجال ہے کسی نے غریب کیلئے دل سے آواز اٹھائی ہو۔ یہاں ہر ایک کو اپنی پڑی ہے۔ کوئی اگلی پوسٹنگ بچا رہا ہے‘ کوئی اگلا ٹکٹ‘ کوئی اگلا ٹھیکہ‘ کوئی اگلی الاٹمنٹ‘ کوئی اگلی مراعات۔پنجاب کی بات کریں تو کاغذوں میں ترقی کا سمندر ٹھاٹھیں مارتا ہے۔ ہر رپورٹ میں منصوبے‘ ہر پریزنٹیشن میں اصلاحات‘ ہر پریس ریلیز میں عوامی خدمت۔ مگر غریب کا سوال وہی ہے ہسپتال میں دوا کہاں ہے؟ سرکاری سکول میں استاد کہاں ہے؟ صاف پانی کہاں ہے؟ بجلی کا بل کیسے دوں؟ اگر سب کچھ بہتر ہے تو زندگی اتنی مشکل کیوں ہے؟ سندھ میں عشروں سے ایک ہی کہانی دہرائی جاتی ہے۔ کراچی ملک کا معاشی دل ہے مگر نالے‘ پانی‘ ٹرانسپورٹ‘ کچرا اور شہری سہولتیں آج بھی سیاست کی یرغمال ہیں۔ اندرون سندھ غربت کو ووٹ بینک بنایا گیا ہے‘ علاج کو احسان‘ نوکری کو سفارش اور ترقی کو نعرہ۔ وہاں بھی عوام کا نام بہت لیا جاتا ہے‘ عوام  کو دیا کم جاتا ہے۔ ان طرم خان سیاستدانوں کے بیانات سنیں تو یوں لگتا ہے جیسے وہاں دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں مگر حقائق یکسر مختلف ہیں۔ مسائل کے انبار ہیں اور کوئی پرسانِ حال نہیں۔ خیبر پختونخوا میں تبدیلی کے نام پر کئی تجربے ہوئے۔ دعوے بہت ہوئے مگر صوبہ قرض‘ سکیورٹی‘ کمزور ریونیو اور ادارہ جاتی مسائل میں پھنسا ہوا ہے۔ عوام نے نعرے سنے مگر روزگار اور بنیادی سہولتوں کی کمی اپنی جگہ کھڑی رہی۔ بلوچستان تو جیسے ریاستی ترجیحات میں کبھی تھا ہی نہیں۔ معدنیات وہاں کی‘ ساحل وہاں کے‘ محرومیاں وہاں کی اور وعدے اسلام آباد کے۔ ہر بجٹ میں بلوچستان کیلئے بیانات ہوتے ہیں مگر بلوچستان کو بیانات سے زیادہ انصاف چاہیے۔ وفاق سب کو لیکچر دیتا ہے مگر اپنے اخراجات کم نہیں کرتا۔ صوبے وفاق کو الزام دیتے ہیں مگر اپنے اندر اشرافیہ کم نہیں کرتے۔ سب ایک دوسرے کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں اور اس سب کی قیمت عوام ادا کرتے ہیں۔ آئی ایم ایف نے کبھی نہیں کہا کہ بجلی چوروں کو مت پکڑو۔ آئی ایم ایف نے نہیں کہا کہ سمگلنگ جاری رکھو۔ آئی ایم ایف نے نہیں کہا کہ ہول سیل‘ ریٹیل‘ طاقتور صنعتکار‘ زراعت اور بااثر طبقات کو ہاتھ نہ لگاؤ۔ یہ سب ہمارے اپنے فیصلے ہیں۔ ہم کمزوروں سے وصولی اور طاقتوروں سے مفاہمت کرتے ہیں۔بجٹ آئندہ چند روز میں آیا چاہتا ہے۔ پھر کہا جائے گا کہ مشکل فیصلے ناگزیر تھے‘ مگر مشکل فیصلے ہمیشہ عوام کیلئے ہی ناگزیر کیوں ہوتے ہیں؟ کبھی کسی حکمران طبقے کیلئے بھی ناگزیر ہوں۔ کبھی سرکار کیلئے گاڑیوں کی خریداری پر پابندی لگے۔ کبھی پروٹوکول میں کمی آئے۔ کبھی سرکاری رہائش گاہیں کم ہوں۔ کبھی مفت بجلی‘ مفت پٹرول‘ مفت سہولتوں کا حساب لیا جائے۔ کبھی پوچھا جائے کہ ریاست کے خرچ کا پہاڑ عوام کے سینے پر کیوں رکھ دیا گیا ہے؟ یہ بجٹ اگر اسی پرانی کتاب کا نیا باب ہوا تو نتیجہ بھی پرانا ہو گا۔ نئے ٹیکس‘ نئی مہنگائی‘ نئی بے بسی اور پرانی اشرافیہ کی نئی مسکراہٹ۔ پاکستان کو ٹیکس گزار عوام سے نہیں‘ ٹیکس خور نظام سے مسئلہ ہے۔ قوم سے مزید لینے سے پہلے ریاست کو یہ بتانا ہوگا کہ گزشتہ کھربوں روپے کہاں گئے۔ اگر 105 ٹریلین روپے خرچ کرنے کے بعد بھی سکول‘ ہسپتال‘ پانی‘ روزگار اور باعزت زندگی نہیں ملی تو پھر سوال بجٹ کا نہیں‘ حکمرانی کے اخلاقی دیوالیہ پن کا ہے۔ یہ ملک غریب نہیں تھا‘ اسے غریب بنا دیا گیا۔ اور ہر بجٹ اس واردات کی نئی قسط ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/229_33941343.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>خاندانی اختلافات کا خاتمہ(علامہ ابتسام الہٰی ظہیر )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-06-03/52055/70085650</link><pubDate>Wed, 03 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-06-03/52055/70085650</guid><description>منگل کی صبح فجر کی نماز کی ادائیگی کے بعد مسجد سے نکلا تو ایک بزرگ نمازی نے مجھے روک لیا۔ بزرگ نمازی اس بات پر افسردہ تھے کہ (بقول ان کے) ان کی والدہ اپنی زندگی میں اپنے دو بیٹوں کو اضافی جائیداد دے رہی تھیں اور باقی دو بیٹوں کو ان کے حق سے محروم کیا جا رہا تھا۔ بزرگ نمازی اس بات کو بیان کرنے کے دوران بہت زیادہ جذباتی ہو رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں اپنی والدہ کی بے ادبی اور نافرمانی نہیں کرنا چاہتا لیکن اس حق تلفی پر صبر کرنا مشکل ہو چکا ہے۔ اس قسم کے بہت سے واقعات آئے روز سننے کو ملتے رہتے ہیں۔ گو کہ ان واقعات کو بیان کرنے والے کئی مرتبہ اپنے مفاد کے لیے حقائق کو مسخ کر دیتے اور اپنی مرضی کا واقعہ بیان کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ خاندانی اختلافات کی بہت بڑی وجہ وراثت کی تقسیم میں اولاد میں سے بعض کو اضافی مال سے نوازنا اور اولاد کے ایک حصے کو اس سے محروم رکھنا ہے۔ وراثت کے جائز حق سے کسی کو محروم کرنا شریعت کی رو سے جائز نہیں ہے لیکن یہ بات عام دیکھنے میں آتی ہے کہ میراث‘ تحائف اور مال کی تقسیم کے حوالے سے اکثر بے اعتدالی سے کام لیا جاتا ہے اور اولاد کے ایک حصے کو دوسرے حصے کے مقابلے میں زیادہ مال دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ طریقہ کسی بھی طور پر درست نہیں ہے۔اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۃ النساء میں میراث کے اصولوں کو نہایت احسن انداز میں بیان فرمایا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ النساء کی آیات: 11 تا 12 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;اللہ تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں حکم کرتا ہے کہ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہے اور اگر صرف لڑکیاں ہی ہوں اور دو سے زیادہ ہوں تو انہیں مالِ متروکہ کا دو تہائی ملے گا۔ اور اگر ایک ہی لڑکی ہو تو اس کے لیے آدھا ہے اور میت کے ماں باپ میں سے ہر ایک کے لیے اس کے چھوڑے ہوئے مال کا چھٹا حصہ ہے۔ اگر اس (میت) کی اولاد ہو‘ اور اگر اولاد نہ ہو اور ماں باپ وارث ہوتے ہوں تو اس کی ماں کے لیے تیسرا حصہ ہے۔ ہاں اگر میت کے کئی بھائی ہوں تو پھر اس کی ماں کا چھٹا حصہ ہے۔ یہ حصے اس وصیت (کی تکمیل) کے بعد ہیں جو مرنے والا کر گیا ہو یا قرض کی ادائیگی کے بعد۔ تمہارے باپ ہوں یا تمہارے بیٹے‘ تمہیں نہیں معلوم کہ ان میں سے کون تمہیں نفع پہنچانے میں زیادہ قریب ہے۔ یہ حصے اللہ کی طرف سے مقرر کردہ ہیں‘ بیشک اللہ پورے علم اور کامل حکمتوں والا ہے۔ تمہاری بیویاں جو کچھ چھوڑ کر فوت ہو جائیں اور ان کی اولاد نہ ہو تو ترکے میں سے آدھا تمہارا ہے اور اگر ان کی اولاد ہو تو ان کے چھوڑے ہوئے مال میں سے تمہارے لیے چوتھائی حصہ ہے۔ اس وصیت کی ادائیگی کے بعد جو وہ کر گئی ہوں یا قرض کی ادائیگی کے بعد۔ اور جو (ترکہ) تم چھوڑ جائو اس میں ان کے لیے چوتھائی ہے اگر تمہاری اولاد نہ ہو‘ اور اگر تمہاری اولاد ہو تو پھر انہیں تمہارے ترکہ کا آٹھواں حصہ ملے گا۔ اس وصیت کے بعد جو تم کر گئے ہو اور قرض کی ادائیگی کے بعد‘‘۔اسی طرح قرآن مجید نے ایسے شخص کی میراث کے احکامات کو بھی بیان کیا ہے کہ جو بغیر اولاد اور والدین کے فوت ہو جائے۔ ان اصولوں کو تفصیل کے ساتھ بیان کرنے کے بعد اللہ تبارک وتعالیٰ نے سختی کے ساتھ تاکید کی ہے کہ ان احکامات اور اصولوں پر ذمہ داری سے عمل کیا جائے۔ جو ان احکامات پر اچھے طریقے سے عمل کرتا ہے اس کو بشارت سنائی گئی ہے اور جو اس مسئلے میں نافرمانی والے راستے کو اختیار کرتا ہے‘ اس کے بارے میں سخت وعید آئی ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ النساء کی آیات: 13 تا 14 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;یہ حدیں اللہ کی مقرر کی ہوئی ہیں اور جو اللہ کی اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے گا اسے اللہ جنتوں میں لے جائے گا‘ جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں‘ جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ اور جو شخص اللہ کی اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے اور اس کی مقررہ حدوں سے آگے نکلے اسے وہ جہنم میں ڈال دے گا‘ جس میں وہ ہمیشہ رہے گا‘ ایسوں ہی کے لیے رسوا کن عذاب ہے‘‘۔مذکورہ بالا آیات میں احکامِ وراثت پر عمل کرنے والے کو جنت کی خوشخبری سنائی گئی ہے اور اس کے مدمقابل احکاماتِ وراثت سے انحراف کرنے والوں کو جہنم کی وعید سنائی گئی ہے۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ بہت سے لوگ ان واضح احکامات کے ہوتے ہوئے بھی بے اعتدالی سے کام لیتے اور کئی ورثا کی حق تلفی کر جاتے ہیں جبکہ بہت سے ورثا بھی دوسرے ورثا کا حق دینے پر آمادہ وتیار نہیں ہوتے۔ اگر ان آیات پر توجہ دی جائے اور ان کو ذہن میں راسخ کر لیا جائے تو کوئی بھی شخص اپنی اولاد کے ساتھ زیادتی کا مرتکب نہیں ہو سکتا اور ورثا بھی ایک دوسرے کے حق کو غصب کرنے پر آمادہ نہیں ہو ں گے اور بھائی بہن بھی ایک دوسرے کی حق تلفی سے باز رہیں گے۔حق تلفی سے بچنے کے لیے جہاں وراثت کی تقسیم میں انصاف کرنا ازحد ضروری ہے وہیں اپنی زندگی میں مالی وسائل اور تحفے تحائف کی تقسیم کے دوران بھی انصاف سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ اس حوالے سے صحیح مسلم میں حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میرے والد نے اپنے مال میں سے مجھے صدقہ (ہبہ) کیا (یہاں صدقہ ہبہ کے معنی میں ہے) تو میری والدہ عمرہؓ بنت رواحہ نے کہا: میں راضی نہیں ہوں گی یہاں تک کہ تم اللہ کے رسولﷺ کو اس پر گواہ بنا لو۔ میرے والد مجھے لے کر رسول اللہﷺ کے پاس آئے تاکہ آپﷺ کو مجھ پر کیے گئے صدقہ (ہبہ) پر گواہ بنائیں۔ رسول اللہﷺ نے ان سے پوچھا: &#39;&#39;کیا تم نے یہ (سلوک) اپنے تمام بچوں کے ساتھ کیا ہے؟‘‘ انہوں نے جواب دیا: نہیں۔ آپﷺ نے فرمایا: &#39;&#39;تم سب اللہ سے ڈرو اور اپنے بچوں کے مابین عدل کرو‘‘۔ چنانچہ میرے والد واپس آئے اور وہ صدقہ (ہبہ) واپس لے لیا۔ سنن ابی دائود کی روایت میں یہ بھی ہے کہ رسول کریمﷺ نے فرمایا: ان (تمہاری اولاد) کا تمہارے اوپر یہ حق ہے کہ تم ان سب کے درمیان عدل وانصاف کرو جیسا کہ تمہارا حق ان پر یہ ہے کہ وہ تمہارے ساتھ حسنِ سلوک کریں۔جب ہم معاشرے کے رویوں پر غور کرتے ہیں تو اس بات کو سمجھنا کچھ مشکل نہیں کہ بعض لوگ بیٹے اور بیٹیوں کے درمیان تفریق کرتے اور ان کے کھانے پینے‘ رہن سہن اور تعلیم کے حوالے سے ان سے غیر منصفانہ سلوک کرتے ہیں۔ بیٹوں کی تعلیم وتربیت پر خطیر رقم خرچ کی جاتی ہے جبکہ بیٹیوں کی تعلیم وتربیت کے حوالے سے بخل سے کام لیا جاتا ہے۔ بیٹوں کو کئی مرتبہ غیر اخلاقی طرزِ عمل پر چھوٹ دی جاتی ہے جبکہ بیٹیوں کے ساتھ اضافی سختی کی برتی ہے۔ رشتہ کرتے ہوئے بھی بیٹے کی پسند اور رائے کو اہمیت دی جاتی ہے جبکہ بیٹی کی رائے کو شامل کرنا کچھ ضروری نہیں سمجھا جاتا‘ حالانکہ نکاح میں ولی کی رضامندی کے ساتھ ساتھ بیٹی کا رضامند ہونا بھی ضروری ہے۔ یہ تمام رویے کسی بھی طور پر دین اور اخلاقیات سے مطابقت نہیں رکھتے۔ جس طرح بیٹے انسان کی شفقت‘ محبت‘ وسائل اور توجہ کے حقدار ہیں اسی طرح انسان کی بیٹیاں بھی اس کی محبت‘ وسائل اور توجہ کی مستحق ہیں۔ انسان کو اپنی بیٹیوں کے ساتھ بھی حسنِ سلوک اسی طرح کرنا چاہیے جس طرح اپنے بیٹوں کے ساتھ کرتا ہے۔ اگر ان اصول وضوابط پر عمل کرلیا جائے تو معاشرے میں بہت سے خاندانی اختلافات کا خاتمہ ہو سکتا اور معاشرہ امن وسکون کا گہوارہ بن سکتا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں اپنی اولاد کے معاملات میں انصاف کرنے کی توفیق دے‘ آمین!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_19740082.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ستر کی دہائی اور میں(شاہد صدیقی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-siddiqui/2026-06-03/52056/86043508</link><pubDate>Wed, 03 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-siddiqui/2026-06-03/52056/86043508</guid><description>70ء کی دہائی کا آغاز ہی پُر آشوب تھا۔ 1971ء کی جنگ کے نتیجے میں ملک دو لخت ہو گیا۔ تب میں سی بی ٹیکنیکل سکول لال کُرتی میں پڑھ رہا تھا۔ یہ ہر پاکستانی کیلئے ایک دلخراش واقعہ تھا۔ سقوطِ مشرقی پاکستان کے نتیجے میں یحییٰ خان کو اقتدار سے دستبردار ہونا پڑا اور اس کی جگہ مغربی پاکستان میں سب سے زیادہ نشستیں لینے والی پیپلز پارٹی کے سربراہ ذوالفقار علی بھٹو کو اقتدار سونپ دیا گیا۔ بھٹو نے حکومت سنبھالتے ہی چند اہم اقدامات کیے جن میں شملہ معاہدے کے تحت بھارت میں قید جنگی قیدیوں کی رہائی‘ 1973ء میں متفقہ آئین سازی اور اسلامی سربراہی کانفرنس کا انعقاد شامل ہیں۔ بظاہر ملکی حالات وزیراعظم بھٹو کے قابو میں تھے۔ 1974ء میں مَیں میٹرک کر کے سرسید کالج میں آ گیا جو راولپنڈی کی مال روڈ پر واقع تھا۔ اُنہی دنوں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے ملکی سیاست میں بھونچال پیدا کر دیا اور مذہبی جماعتوں کی طرف سے پیپلز پارٹی حکومت پر دباؤ بڑھ گیا۔ یہ واقعہ ربوہ میں قادیانیوں اور طلبہ کے مابین تصادم تھا۔ بھٹو نے اس مسئلے پر غورو خوض کیلئے ایک پارلیمانی کمیٹی قائم کر دی۔ اسمبلی میں طویل بحث کے بعد آخر آئین میں ترمیم کی گئی جس کے بعد آرٹیکل 260(3) کے مطابق ختمِ نبوت پر ایمان نہ رکھنے والے آئینی اور مذہبی لحاظ سے مسلمان نہیں کہلا سکتے۔ یہ ایک دور رس نتائج کا حامل فیصلہ تھا۔ اپوزیشن کے دباؤ کے تحت بھٹو نے ملک بھر میں جمعہ کی چھٹی اور شراب پر پابندی کا بھی اعلان کر دیا۔ان اقدامات کی بدولت بھٹو کو یقین تھا کہ عوام میں ان کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔ اسی خیال کے تحت بھٹو نے اپوزیشن کو سرپرائز دینے کا فیصلہ کیا اور مقررہ وقت سے پیشتر انتخابات کرانے کا اعلان کردیا۔ بظاہر یہ ایک دانشمندانہ فیصلہ تھا لیکن بھٹو کو اندازہ نہیں تھا کہ ان کا یہ فیصلہ ملکی سیاست میں ایک ایسا موڑ ثابت ہو گا جس کے نتیجے میں سب کچھ بدل جائے گا۔ انتخابات میں اپوزیشن نے بھٹو پر دھاندلی کے الزامات عائد کیے اور ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان کر دیا۔ اپوزیشن کی جماعتیں پاکستان نیشنل الائنس (PNA) کے نام سے اکٹھی ہو چکی تھیں۔ ان کا مطالبہ تھا کہ غیرجانبدار عارضی حکومت کے زیرِ انتظام صاف اور شفاف الیکشن کرائے جائیں۔ اس تحریک میں روز بروز شدت آتی گئی اور ملک کے طول و عرض میں مظاہروں اور ہڑتالوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ یہ سب کچھ بھٹو کیلئے غیر متوقع تھا۔ یہ احتجاج جو انتخابات میں دھاندلی سے شروع ہوا تھا جلد ہی مذہبی رنگ اختیار کر گیا اور یہ تحریک‘ تحریکِ نظام مصطفی بن گئی۔ بتدریج مظاہرے پُرتشدد ہونے لگے۔ مظاہروں پر قابو پانے کیلئے فوج کو طلب کر لیا گیا لیکن ایک واقعے میں فوج نے مظاہرین پر گولی چلانے سے انکار کر دیا۔ آخر پانچ جولائی کو حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا اور ملک میں مارشل لاء نافذ ہو گیا۔مجھے یاد ہے کہ ضیاء الحق کی تقریر میں نے راولپنڈی کے صدر بازار میں واقع انک ہوٹل میں سنی جس میں جنرل ضیا الحق نے اعلان کیا تھا کہ انہوں نے وسیع تر قومی مفاد کی خاطر بھٹو حکومت کا تختہ الٹ دیا ہے اور وہ 90 دن میں انتخابات کرا کے حکومت عوامی نمائندوں کے سپرد کر دیں گے۔ کسے معلوم یہ ایک طویل آمرانہ دور کا آغاز تھا۔ اسی دور میں 1979ء کی تعلیمی پالیسی پیش کی گئی جس میں اسلامک ایجوکیشن کے نام سے ایک نیا باب متعارف کرایا گیا اور پالیسی کے ہمراہ ایک تفصیلی Implementation پلان بھی دیا گیا۔ یہ پالیسی جنرل ضیا کے اسلامائزیشن عمل کا حصہ تھی۔ایف ایس سی کا رزلٹ آیا تو میں اچھے نمبروں سے پاس ہو گیا لیکن میڈیکل کالج جانے کیلئے چند نمبروں کی کسر رہ گئی تھی۔ میرے کچھ دوستوں نے ایف ایس سی رپیٹ کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ اُس زمانے میں ایک عام سی بات تھی۔ میں نے سوچا یہ بہتر ہی ہوا کہ میرا داخلہ میڈیکل کالج میں نہ ہوا ورنہ میں کبھی اچھا ڈاکٹر ثابت نہ ہوتا کیونکہ میرا دل سائنس کے بجائے آرٹس کے مضامین میں اٹکا ہوا تھا۔ اب میرے سامنے ایک ہی راستہ تھا کہ میں ایک سال انتظار کرتا اور پھر کسی کالج میں بی اے میں داخلہ لیتا۔ میں اسی سوچ بچار میں تھا کہ کسی نے بتایا کہ بی اے کے امتحانات کی تاریخوں میں تبدیلی کی گئی ہے اور اب یہ امتحانات مقررہ تاریخ سے پہلے ہوں گے اور میں چاہوں تو بی اے کا پرائیویٹ امتحان بھی دے سکتا ہوں۔ امتحان شروع ہونے میں ابھی چھ سات مہینے باقی تھے۔ میں نے سوچا کسی سرکاری کالج میں داخلہ لینے کیلئے ایک سال انتظار کرنے کے بجائے پرائیویٹ بی اے کا امتحان دوں گا۔ ہائی سکول میں میرا ایک ہم جماعت شاہ دین رفیق تھا‘ اس کے والد شیخ اشرف تھے جن کا کالج روڈ پر کیپٹل کالج تھا۔ میں نے اُس کالج میں شام کی کلاسز میں داخلہ لے لیا۔ میرے راولپنڈی کے گھرسے کالج تک کا سفر قریباً 10کلومیٹر تھا۔ میں ہر روز یہ فاصلہ سائیکل پر طے کرتا۔ اتفاق سے ایک ہی علاقے سے ہم تین دوست شام کی کلاسز کیلئے کالج روڈ جاتے تھے۔ واجد شیرازی صحافت سے وابستہ ہوا‘ بعد میں کینیڈا منتقل ہوا اور وہیں سے اس کے انتقال کی خبر آئی۔ شکیل راولپنڈی میں ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہا ہے۔ بی اے میں میرے انگریزی کے استاد شیخ اشرف صاحب تھے۔ شیخ صاحب کا طریقۂ تدریس بہت دلچسپ اورمؤثر ہوتا‘ وہ کوئی نظم پڑھاتے تو شاعر کی زندگی کے دلچسپ پہلوؤں سے بھی آگاہ کرتے۔ ان کی کلاس میں مجھے یوں لگتا تھا کہ مجھ پر سحر طاری ہو گیا ہے۔تدریس کے پیشے کا انتخاب میرا شعوری فیصلہ تھا‘ جو میرے اُن اساتذہ کا مرہونِ منت تھا جنہوں نے مجھے تدریس کی لذت سے آشنا کیا۔ ان میں سرفہرست نام میرے بی اے کے استاد شیخ اشرف صاحب کا ہے۔ تدریس کی ساحری کیا ہوتی ہے‘ اس کا اندازہ پہلی بار مجھے شیخ صاحب کی کلاس میں ہوا۔ وہ نفسِ مضمون اور طالب علموں کی دلچسپی کے مابین توازن قائم رکھنے کا ہنر جانتے تھے۔ ان کی شخصیت میں ایک خاص طرح کی دلآویزی تھی اور وہ ابلاغ کے فن سے پوری طرح سے آشنا تھے۔ انگریزی ادب میں میری دلچسپی ان کی مرہونِ منت ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ استاد کسی مضمون کو بور بھی بنا سکتا ہے اور دلچسپ بھی۔ انگریزی سے مجھے کوئی خاص لگاؤ نہ تھا لیکن شیخ صاحب نے ہمیں اس کا گرویدہ بنا دیا۔ شیخ صاحب کی کلاس میں مَیں نے زندگی کے دو اہم فیصلے کیے۔ پہلا یہ کہ بی اے کے بعد ایم اے انگلش کروں گا اور اور دوسرا یہ کہ شیخ صاحب کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے استاد بنوں گا۔ بی اے کا رزلٹ آیا تو میری فرسٹ کلاس تھی۔ میں نتیجہ سُن کر گھر آیا اور والدہ کو یہ خبر سنائی۔ انہوں نے مجھے گلے سے لگا لیا اور رونے لگیں۔ یہ خوشی کے آنسو تھے جن میں ان کے خوابوں کی تعبیر جھلک رہی تھی۔بی اے کے رزلٹ اور ایم اے کے داخلوں کے درمیان تین چار مہینوں کا وقفہ تھا۔ اُس زمانے میں گورڈن کالج کے انگریزی کے معروف پروفیسر وکٹر مل کالج سے ریٹائر ہو چکے تھے لیکن کالج کے کمپاؤنڈ میں اپنی وسیع رہائش گاہ میں ایم اے انگلش لٹریچر کی کلاس لیتے تھے۔ میں نے وکٹر مل صاحب کی کلاسز اٹینڈکرنا شروع کر دیں۔ ان کی کلاس میں شروع سے آخر تک دلچسپی برقرار رہتی۔ لیکچرکے دوران خوبصورت انگلش بولتے بولتے اچانک وہ کوئی جملہ پنجابی میں ادا کرتے تو ہمیں حیرت ہوتی کہ انہیں پنجابی بھی آتی ہے۔ لیکچرکے دوران کبھی کبھار کوئی قصہ کوئی لطیفہ سنا دیتے‘ جس سے کلاس کا ماحول خوشگوار رہتا۔ میری اگلی منزل گورڈن کالج تھی جہاں سے ایم اے انگلش کرنا میرا خواب تھا۔ (جاری)</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_21538475.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>