<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>معرکۂ حق اور قومی عزم(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-11/11181</link><pubDate>Mon, 11 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-11/11181</guid><description>چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے جی ایچ کیو میں معرکۂ حق کی یاد میں منعقدہ خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف دو ممالک کے درمیان جنگ نہ تھی‘ دو نظریات کے مابین فیصلہ کن معرکہ تھا جس میں باطل کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔ فیلڈ مارشل نے دہشت گردی کا ثابت قدمی سے مقابلہ کرنے والے عوام‘ افواجِ پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بہادر اہلکاروں کو خراجِ تحسین پیش کیا اور اس عزم کو دہرایا کہ ہر بے گناہ پاکستانی کے خون کا حساب لیا جائے گا اور یہ جنگ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رہے گی۔ انہوں نے افغانستان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سرزمین پر قائم دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور مراکز کا مکمل خاتمہ یقینی بنائے۔ معرکۂ حق کی یاد میں پاکستان مانومنٹ پر منعقدہ تقریب سے وزیراعظم شہباز شریف نے مسلح افواج کی قیادت‘ چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر‘ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو اور پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

معرکۂ حق کے ثمرات کو یاد کیا جائے تو ان میں اہم ترین یہ ہے کہ اس عظیم فتح کے احساس نے پاکستان کواس فضا سے نکلنے میں مدد کی جو ایک طویل عرصے سے ہمارے قومی منظر پر طاری تھی۔ دہشت گردی اور معاشی مسائل میں گھرا ہوا پاکستان عالمی اور علاقائی سطح پر وہ کردار ادا نہیں کر پا رہا تھا جو پاکستان کا دنیا کے اس حصے میں بنتا ہے۔ معرکۂ حق کی برکت سے پاکستان کے سر سے وہ سائے چھٹ گئے اور اس کے بعد علاقائی اور عالمی سطح پر ملکِ عزیز کا مقام ومرتبہ ایک نئی شان سے اُبھر کر دنیا کے سامنے آیا۔ بھارت کو شکست فاش سے دوچار کرنے کے بعد اس سال دفاعی حوالے سے دوسری بڑی پیشرفت سرحد کے ادھر اور اُدھر دہشت گردوں کے خلاف پاکستان کی فیصلہ کن کارروائیاں ہیں۔ پاکستان عرصہ دراز سے افغانستان کی جانب سے دہشت گردی کے نشانے پر تھا اور افغان عبوری حکومت کو ہر طرح سے اتمام حجت کی گئی مگر افغانستان نے پاکستان کے مطالبات کو مان کر نہیں دیا اور دہشت گردی کے واقعات شدت اختیار کرتے چلے گئے۔ اس صورتحال میں پاکستان کی جانب سے جو دفاعی اقدامات کئے گئے ان کے اثرات جلد ہی سامنے آنا شروع ہو گئے‘ اور جیسا کہ فیلڈ مارشل نے اپنے خطاب میں کہا‘ پاکستان دہشتگردی سے نمٹنے میں پہلے سے کہیں زیادہ پُرعزم اور مؤثر ثابت ہو رہا ہے۔
بھارت کیلئے یہ دوسری بڑی شکست ہے جو مئی 2025ء کے بعد اسے پاکستان کے ہاتھوں اٹھانا پڑی۔ اب اصل چیلنج داخلی مسائل سے نمٹنے کا ہے اور ان میں سب سے اہم معاشی مسئلہ ہے۔ پاکستان نوجوان اکثریتی آبادی والا ملک ہے‘ جو ایک موقع بھی ہے اور چیلنج بھی۔ اگر روزگار اور ترقی کے امکانات ہوں تو موقع بصورتِ دیگر چیلنج۔ نوجوان نسل کو تعلیم وتربیت اور روزگار کے مواقع فراہم کر نے کیلئے سرمایہ کاری اور صنعتکاری کی ضرورت ہے۔ سی پیک کی بدولت پاکستان عالمی ترقی کے ایک روشن مستقبل کا حصہ دار ہے تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک میں صنعتکاری اور سرمایہ کاری کے مواقع بڑھائے جائیں۔ اسی سے روزگار فراہم ہوگا‘ لوگوں کی معاشی حالت سنبھلے گی اور سماجی اطمینان پیدا ہوگا۔ مقام شکر ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ اور پہچان میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ ایک برس پہلے اگر دنیا میں معرکہ حق کی عسکری فتح یابیوں کے چرچے تھے تو آج امریکہ اور ایران میں کلیدی ثالث کے طور پر ملکِ عزیز عالمی توجہ کا مرکز ہے۔
پاکستان کو قدرت نے بے پناہ مواقع عطا کئے ہیں۔ زرخیز زمین‘ باصلاحیت افرادی قوت‘ معدنی وسائل اور بے مثال جغرافیہ۔ ان صلاحیتوں کو معاشی امکانات میں تبدیل کرنا ہو گا تا کہ آئندہ برس جب ہم معرکۂ حق کا دن منا رہے ہوں تو ہمارے سامنے معاشی کارناموں کی ایک فہرست بھی ہو جو اس عرصے میں ہم نے سرانجام دیے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بنوں میں دہشت گردی(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-11/11180</link><pubDate>Mon, 11 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-11/11180</guid><description>ہفتے کو رات گئے ضلع بنوں میں پولیس چوکی پر دہشت گردوں کے بارودی کار حملے میں 15 اہلکار شہید ہو گئے۔ دہشت گردی کا یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ شکست خوردہ دہشتگرد ریاست کے امن وامان کو چیلنج کر رہے ہیں۔ خیبر پختونخوا دہشتگردی سے سب سے متاثرہ صوبہ ہے‘ جہاں سکیورٹی ادارے اور شہری روزانہ کی بنیاد پر قربانیاں دے رہے ہیں۔ جغرافیائی محل وقوع اور افغان سرحد کے پار سے ہونے والی مداخلت نے اس خطے کو دہشت گردوں کی آماجگاہ بنانے کی کوشش کی لیکن سکیورٹی فورسز کی کامیاب حکمت عملی سے دہشت گرد اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ یہ بات سب پر عیاں ہے کہ دہشت گردی کسی ایک علاقے کا نہیں بلکہ ایک مشترکہ قومی مسئلہ ہے جس کے سدباب کیلئے سب کو ایک پیج پر آنا ہو گا۔

ان بزدلانہ حملوں سے یہ بات بھی ظاہر ہوتی ہے کہ دہشت گرد اب پسپا ہو رہے ہیں اور رات کے اندھیرے میں حملے کر کے اپنی موجودگی کا احساس دلانا چاہتے ہیں۔ پولیس اور سکیورٹی اداروں نے دہشت گردی کے خلاف جس طرح فرنٹ لائن حفاظتی حصار کا کردار ادا کیا ہے‘ وہ قابلِ ستائش ہے۔ ضروری یہ کہ اس ناسور کے مکمل سدباب کیلئے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں تیزی لائی جائے اور دہشت گردوں کے سہولت کاروں کا بھی خاتمہ کیا جائے۔ دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ بیانیے کی بھی جنگ ہے جس میں پوری قوم کو متحد ہو کر شرپسند عناصر کو یہ پیغام دینا ہوگا کہ ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>گندم پالیسی اور مشکلات(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-11/11179</link><pubDate>Mon, 11 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-11/11179</guid><description>پنجاب میں گندم کی خریداری سے متعلق نئی خریداری پالیسی ثمرات سے محروم نظر آ رہی ہے۔ صوبائی حکومت نے گندم کی خریداری نجی شعبے کے حوالے کی تھی جس کا بنیادی مقصد گندم کی خریداری اور سبسڈی سے متعلق 680 ارب روپے کے بوجھ کو کم کرنا تھا‘ تاہم گیارہ نامزد فرموں میں سے کم از کم نو نے تاحال گندم خریداری کا آغاز نہیں کیا‘ وجہ ہے بینکوں سے قرضے کے حصول میں مشکلات اور بلند شرح سود‘ جس نے نجی خریداروں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔ ایسے میں کسان دوبارہ مڈل مین اور آڑھتیوں کے رحم و کرم پر ہیں اور اپنی فصل سرکاری نرخ سے کم پر بیچنے میں مجبور ہیں۔ حکومت نے گندم کی امدادی قیمت 3500 روپے فی من مقرر کر رکھی ہے اور اوپن مارکیٹ میں ریٹ 3700 روپے کے لگ بھگ ہے مگر فائدہ سارا مڈل مین اٹھا رہا ہے۔

اگر فصل کی کٹائی کے فوری بعد کسان کو اپنی محنت کا جائز معاوضہ نہ ملے تو وہ اگلی فصل کی تیاری سے قاصر رہتا ہے۔ حکومت کو نہ صرف گندم پالیسی پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے بلکہ فوری طور پر نجی کمپنیوں کو فعال بنانا اور ان کے مسائل کو حل کرنا بھی ناگزیر ہے۔ اس بات کو بھی یقینی بنانا چاہیے کہ کسان کو اس کی محنت کا پورا معاوضہ ملے کیونکہ کسانوں کی جانب سے گندم روک لینے یا کم قیمت پر فروخت کرنے کے نتیجے میں ذخیرہ اندوزی بڑھے گی‘ جس کا براہِ راست اثر عام آدمی پر پڑے گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مزاحمت: کب‘ کیوں اور کیسے؟(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-05-11/51924/79682677</link><pubDate>Mon, 11 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-05-11/51924/79682677</guid><description>&#39;سٹیٹس کو‘ کی اُن قوتوں کو چیلنج کرنا جو انسانی آزادی اور ارتقا میں مانع اور انسانیت کے لیے باعثِ شر ہیں‘ ایک ناگزیر سماجی ضرورت ہے۔ یہ قوتیں علمی اور فکری ہو سکتی ہیں‘ سماجی اور سیاسی ہو سکتی ہیں‘ مذہبی اور سیکولر ہو سکتی ہیں۔ اسی نسبت سے مزاحمت کی ایک نہیں کئی صورتیں ہیں۔ اس کا تعلق فرد یا گروہ کی سماجی حیثیت کے ساتھ ہے۔ عالم کی مزاحمت‘ علم وفکر کے دائرے میں ہو گی۔ اہلِ سیاست کی سیاست کے دائرے میں۔ ادیب کی ادب کے دائرے میں۔ مزاحمت کی حکمتِ عملی بھی لازم نہیں کہ ایک ہو۔ کبھی اقدام مزاحمت ہے اور کبھی پسپائی۔ مزاحمت جارحانہ ہو سکتی ہے اور منفعلانہ (Passive) بھی۔ اس کا فیصلہ مزاحم اپنے حالات کی رعایت سے کرتا ہے۔انسانی ترقی‘ اس میں شبہ نہیں کہ اسی مزاحمت کی عطا ہے۔ معاشرے جامد ہو جاتے‘ اگر موجود پر اکتفا کر لیتے۔ تبدیلی کی خواہش جو دراصل اس کی ضرورت سے پیدا ہوتی ہے‘ انسان کو مضطرب رکھتی ہے۔ پھر وہ &#39;سٹیٹس کو‘ کو چیلنج کرتا ہے۔ ہر معاشرہ روایت پرست ہوتا ہے لیکن اگر زندہ ہو تو وہ تبدیلی کے امکان کا اعتراف کرتے ہوئے‘ ایسی قوتوں کو جگہ دیتا ہے جو &#39;سٹیٹس کو‘ کے خلاف ہوتی ہیں۔ وہ انہیں موقع دیتا ہے کہ وہ اپنی افادیت ثابت کریں۔ اگر وہ اس میں کامیاب ہو جائیں تو ان کی بات معاشرتی روایت کا حصہ بن جاتی ہے اور اگر ناکام رہیں تو تاریخ کے کوڑے دان کے حوالے ہو جاتی ہیں۔ زندہ معاشروں میں اسے فطری عمل سمجھا جاتا ہے اور روایت پرست بھی اسے قبول کرتے ہیں۔ وہ تبدیلی کی قوتوں کے خلاف مزاحمت کرتے ہیں لیکن سماج کو حق دیتے ہیں کہ وہ خود ردّ وقبولیت کا فیصلہ کرے۔ سماج کبھی روایت پرستوں کے ساتھ کھڑا ہو جاتا ہے اور کبھی نئی آوازوں کے ساتھ۔ جس معاشرے نے اس عمل کو سمجھ لیا‘ وہ ارتقا کے مراحل خوش اسلوبی کے ساتھ طے کرتا جاتا ہے۔ جہاں اس فطری عمل کا شعور نہیں‘ وہاں جدت وقدامت میں تصادم برپا ہو جاتا ہے جو بالآخر معاشرے کی چولیں ہلا دیتا ہے۔ اگر کوئی معاشرہ اس صورتِ حال کا شکار ہو جائے تو پھر اہلِ علم ودانش آگے بڑھ کر اسے راستہ دکھاتے ہیں تاکہ مزاحمت کا عمل کسی تخریبی عمل میں نہ بدل جائے۔ ایسا نہ ہو کہ بہتری کی تمنا میں‘ موجود بھی ضائع ہو جائے۔ دانش کا اصل امتحان یہی ہے۔مسلم تاریخ خیر القرون سے خرابی کی طرف بڑھی۔ یہ فطری تھا۔ رسالت مآبﷺ کا دور سب سے اچھا دور تھا۔ پھر آپ کے صحابہ کا دور۔ دوسرا دور اپنے اختتام کی طرف بڑھا تو فتنے بھی سر اٹھانے لگے۔ ان کے خلاف دو طرح کی مزاحمت ہوئی۔ ایک مزاحمت وہ تھی جو موجود نظام کی اصلاح کے لیے تھی۔ ایک وہ تھی جو اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے تھی۔ دونوں کے نتائج نکلے۔ یہ نتائج اچھے تھے یا برُے‘ اس سے قطع نظر‘ واقعہ یہ ہے کہ امت مسلمہ آج تک ان کی گرفت میں ہے۔ سرِ دست اس کا کوئی امکان نہیں کہ وہ قیامت تک اس سے نکل سکے۔ امام ابن تیمیہ نے &#39;منہاج السنہ‘ میں اس کا محاکمہ کیا ہے۔ خدا اگر توفیق دے تو وہ اہلِ دانش اس کتاب کو ضرور پڑھیں جنہیں تاریخ سازی کے عمل سے دلچسپی ہے۔ میں مختصراً اتنا عرض کر سکتا ہوں کہ شیعہ سنی اور خوارج کا اختلاف اسی عہد کی مزاحمت کا نتیجہ ہے اور ہماری علمی روایت بھی ابتدائی چند صدیوں کی مزاحمت کا حاصل ہے۔میں اگر اس موضوع کو برصغیر کی مسلم تاریخ تک محدود رکھوں تو آج کا نقشہ اُس مزاحمت کا حاصل ہے جو 1857ء کے بعد سامنے آئی۔ اس کا آغاز پہلے ہو چکا تھا لیکن جنگِ آزادی کی ناکامی کے بعد‘ یہ متعین صورتوں میں متشکل ہوئی۔ مسلم اقتدار جب چھن گیا تو مسلم قیادت کو اندازہ ہو گیا کہ اب کچھ باقی نہیں بچے گا۔ نہ تہذیب نہ علم نہ تشخص۔ انہیں بر بادی کے اس عمل کی مزاحمت کرنا تھی۔ مزاحمت کی ایک سوچ نے دارالعلوم دیوبند کی بنیاد رکھی۔ دوسری نے مسلم کالج علی گڑھ کو جنم دیا۔ تیسری صورت انجمن حمایت اسلام تھی۔ چوتھی مسلم لیگ تھی جو مسلمانوں کے سیاسی حقوق کے لیے قائم ہوئی۔ پانچویں وہ تھی جس نے مدرسہ دیوبند سے جنم لیا اور تلوار کے ساتھ غالب قوت سے نبرد آزما ہوئی جن کے ہاتھوں یہ زوال مکمل ہوا۔ اس کی ایک فرع وہ سفارتی مزاحمت بھی تھی جس کا عَلم مولانا عبیداللہ سندھی نے بلند کیا۔ ایک صورت ادب بھی تھی۔ &#39;خطوطِ غالب‘ کو اس کا آغاز کہا جا سکتا ہے لیکن مزاحمتی ادب کی صورت گری الطاف حسین حالی اور اکبر الہ آبادی نے کی۔ اس کا منتہائے کمال علامہ اقبال تھے۔ آج برصغیر میں مسلم تہذیب وسیاست‘ جوکچھ بھی ہے‘ وہ اسی ہمہ جہتی مزاحمت کا حاصل ہے۔قیامِ پاکستان کے بعد &#39; سٹیٹس کو‘ کی کچھ نئی قوتوں نے جنم لیا۔ یہ فکری بھی تھیں اور سیاسی بھی۔ نئی ریاست کی فکری شناخت پر ایک سے زیادہ آرا سامنے آئیں اور ایک دوسرے کے خلاف مزاحم ہوئیں۔ یہ فکری دنیا کا معرکہ تھا۔ یہ معرکہ ادب کے میدان میں بھی لڑا گیا۔ &#39;مزاحمتی ادب‘ ہماری ادبی تاریخ کا مستقل باب ہے جو آج بھی بند نہیں ہوا۔ سیاست میں عوام اور بندوق کے مابین حقِ اقتدار کے لیے ایک معرکہ لڑا گیا۔ بندوق کو غلبہ حاصل ہوا تو اس کے خلاف مزاحمت ہوئی۔ مولانا مودودی‘ نواب زادہ نصر اللہ خان‘ مفتی محمود‘ ذوالفقار علی بھٹو‘ سب اس مزاحمت کی علامتیں ہیں۔ مولانا مودودی نے تو علم وسیاست‘ دونوں میدانوں میں مزاحمت کی۔ انہوں نے یہ جانتے ہوئے مزاحمت کی کہ سیاست کا دائرہ کیا ہے اور علم وفکر کا دائرہ کیا ہے۔ سیاست کس حکمتِ عملی کا تقاضا کرتی ہے اور علم کس لائحہ عمل کا متحمل ہو سکتا ہے۔ ان سب کو اس کی قیمت ادا کرنا پڑی۔ ان کے لیے جیل اور تعزیر کے دروازے کھل گئے۔پاکستان کی تاریخ کے دوسرے دور کا آغاز 1979ء میں ہوا۔ سیاست واقتدار پر غیر جمہوری قوتوں کی گرفت مضبوط ہوئی اور اس کے ساتھ‘ نئے افکار بھی بالجبر مسلط کر دیے گئے۔ ان میں نجی جہاد کا تصور بھی شامل تھا جس کی وجہ سے انتہا پسندگروہ وجود میں آئے اور انہوں نے پاکستانی سماج کے تار وپود بکھیر دیے۔ 1989ء تک یہ سب کچھ‘ ایک حد تک ریاستی کنٹرول میں رہا لیکن اس کے بعد یہ ایک آزاد عمل تھا۔ جس کا دل چاہا‘ اس نے چند جنگجو اکٹھے کیے اور علمِ جہاد اٹھا لیا۔ اس بیانیے کے خلاف مزاحمت کا عَلم جاوید احمد غامدی صاحب نے تنہا اٹھایا۔ انہیں اس کی قیمت ادا کرنا پڑی۔ عزیز ترین رفقا شہید ہوئے۔ ادارہ بند ہو گیا اور جلا وطنی مقدر بنی۔ اس کے با وصف‘ وہ اپنی جگہ کھڑے رہے۔ آج ریاست اور علما‘ سب نے نجی جہاد کے باب میں ان کے مؤقف کو مان لیا ہے۔ یہ الگ بات کہ وہ اب بھی مطعون کیے جاتے ہیں۔ اسی طرح‘ آج عمران خان صاحب بھی مزاحمت کی علامت ہیں۔یہ داخلی سیاست ہو یا عالمی‘ سوال یہ نہیں ہے کہ &#39;سٹیٹس کو‘ کے خلاف مزاحمت کی جائے یا نہ کی جائے۔ سوال یہ ہے کہ یہ مزاحمت کیسے کی جائے؟ اس نکتے پر بحث تحصیلِ حاصل ہے کہ انسانی آزادی اور ترقی کی راہ میں حائل قوتوں کے خلاف مزاحمت ہو گی۔ یہ انسانی فطرت کا تقاضا ہے کہ وہ ظلم کو قبول نہیں کرے گی۔ سوال یہ ہے کہ اس ظلم کے خاتمے کی حکمتِ عملی کیا ہو؟ اگر کوئی چی گویرا کی حکمتِ عملی کا مخالف ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ غیر مسلکی تسلط کے خلاف مزاحمت کا قائل نہیں۔ اہلِ دانش اگر ظلم اور جارحیت کے خلاف نتیجہ خیز حکمتِ عملی کو موضوع بنائیں تواس سے امکان ہے کہ فکری پراگندگی میں کمی آئے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سندھ کے کنارے(رسول بخش رئیس)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-05-11/51925/16419915</link><pubDate>Mon, 11 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-05-11/51925/16419915</guid><description>ہر دریا کی اپنی تاریخ ہے۔ ہزاروں سالوں سے ہمارے دریا تہذیبوں‘ شہروں‘ آبادیوں‘ صنعتوں اور زراعت کی آبیاری کرتے آئے ہیں۔ جو ہم نے وقت کے طاقتور لوگوں کی دانشمندیوں کی نذرکر کے کھو دیے‘ ان کا احساسِ زیاں دل پر بھرپور وار کرتا ہے جب اس قلم کی نوک سے سندھ ضبط تحریر میں آتا ہے۔ بیاس‘ ستلج اور راوی وادیٔ سندھ کی تہذیب کا حصہ تھے۔ ان کا ذکر میرے لیے اہم ہے کہ جہاں ہم نے دریائے سندھ کے کناروں پر آنکھ کھولی وہاں کسی اور دریا کا وجود کبھی تھا اور نہ اب ہے۔ یہ تو جغرافیہ کی کتابیں پڑھنے اور اپنے علاقے سے خانہ بدوشی برائے تعلیم کے بعد معلوم ہوا کہ وہ سب ایک ایک کر کے ہمارے آبائی جنگل سے تقریباً چالیس پچاس میل شمال میں اپنے پانیوں سمیت اپنی شناخت ہمارے دریا میں ضم کرتے ہیں۔ ہماری ہائی سکول کی تعلیم تک جو ہم نے دریائے سندھ کو سال میں کئی بار عبور کر کے حاصل کی‘ آج کل کے موسم میں یہ دریا سمندر کی طرح پھیل جاتا۔ بارشوں کے بعد تو کشتی میں تقریباً پورا دن سخت دھوپ میں گزارنا پڑتا کیونکہ بادبان جنوبی ہوا کے چلنے کے محتاج ہوا کرتے تھے۔ اس وقت نہ ہمارے دریائوں کی تقسیم ہوئی تھی اور نہ ہی دو بڑے پانی کے ذخیرے اپنا وجود رکھتے تھے۔ صدیوں سے موسموں کے بدلنے کے ساتھ پانیوں میں کمی‘ اضافہ اور سیلابوں کا سلسلہ چلتا آ رہا تھا۔ اور پھر اچانک سب کچھ بدل گیا۔ انگریزوں کے زمانے کے نہری نظام نے بہت کچھ بدلا تھا مگر دریائوں کے بہائو میں کوئی بڑی رکاوٹ نہ تھی۔ بیراج بنا کر نہریں نکالی گئیں‘ اگرچہ ہماری طرف پانی کا بہائو اپنے تاریخی انداز میں پھر کبھی پیدا نہ ہو سکا۔ نہری نظام‘ اور بعد میں ڈیمو ں نے ہماری تاریخ اور تہذیب کو ایک نیا رخ دے دیا ہے۔ میرے بس کی بات ہوتی یا ہم جنگلی لوگوں کے جنگلوں میں رہنے کی روایت اور تہذیب کی کوئی قدر ہوتی تو آج جس طرح کی ماحولیاتی تبدیلیاں دیکھ رہے ہیں ان سے ہم بچ سکتے تھے۔ انگریزوں اور ان کے لائے گئے آباد کاروں نے ہمیں جنگلی کہہ کر زمینوں کی ملکیت سے بھی محروم کر دیا کہ یہ زراعت پیشے کے قابل نہیں۔خیر چھوڑیں ان پرانی باتوں کو‘ انہیں یاد کر کے اپنا ہی دل دکھتا ہے۔ ہزاروں سالوں سے رواں دریائوں کے بہائو نے جو زرخیزی پنجاب اور سندھ میں تہہ درتہہ مٹی جمع کر کے پیدا کی ہے وہ آج ہماری معیشت میں مرکزی کردار ادا کر رہی ہے۔ بات اپنے حصے کے دریائے سندھ کی کرنا مقصود ہے کہ یہاں اس کا قدرتی بہائو دیگر جگہوں سے کئی کلومیٹر چوڑا ہے‘ کم از کم بیس سے پچیس کلومیٹر‘ اور کہیں اس سے بھی زیادہ۔ ہم اسے کچا کہتے ہیں جو مختلف چوڑائی میں لیہ سے لے کر سکھر تک چلا جاتا ہے۔ مشرق میں رحیم یار خان اور مغرب میں راجن پور کے اضلاع ہیں۔ کچا تقریباً 150 کلومیٹر طویل ہے۔ برسات کے موسم میں جب دریا کا بہائو ہر طرف پھیل جانے کے بعد سکڑتا ہے تو اکثر مقامی لوگ گندم‘ سرسوں‘ مٹر اور سبزیاں کاشت کرتے ہیں۔ سیلابوں کی اب وہ صورت نہیں رہی جو کبھی تھی۔ اس لیے دریا کا پھیلائو کم ہونے سے لاکھوں ایکڑ زمین اب پکے کے علاقوں کی طرح آباد ہے۔ سولر ٹیوب ویل‘ ٹریکٹر اور دیگر جدید زرعی آلات نے کام آسان کر دیا ہے۔ گزشتہ 40 سالوں میں کچے میں ایک نو آبادیاتی نظام پیدا ہو گیا۔ اس کی بنیادی وجہ زمین کی زرخیزی‘ دریائی پانی کی دستیابی اور گنے کی کاشت ہے۔ تاریخی طور پر یہ علاقہ کپاس کی کاشت کے لیے مشہور تھا۔ ان دونوں اضلاع کے زمیندار سیاستدانوں نے شوگر ملیں لگائیں اور جب ایک نے دیکھا کہ دوسرا اربوں کما رہا ہے تو اس سے دوسروں کو بھی ترغیب ملی۔ یہ سلسلہ یہاں سے شروع ہو کر صوبہ سندھ کے کئی اضلاع تک پھیلا ہوا ہے۔ کچا آباد ہوا‘ زمیندار خوشحال ہوئے تو سرکاری زمینیں جو رکھوں کی صورت پورے پاکستان میں انگریز چھوڑ گئے تھے‘ ان پر کاشتکاری جو ایک عرصے سے جاری تھی‘ اب ان کا قبضہ‘ خرید کرنے یا بزور طاقت کمزوروں کو بے دخل کر کے اپنی ملکیت میں لانے کا نیا سلسلہ چل نکلا۔ کچے کے ڈاکو کچھ وہ بھی تھے جنہوں نے ایسی زمینوں کو ہتھیانے یا اپنا پرانا قبضہ قائم رکھنے کے لیے ہتھیار اٹھائے۔ تاریخی طور پر پُرامن علاقہ تھا‘ یہ درویش اس کا گواہ ہے۔ اکیلا ہی پیدل تقریباً تیس چالیس کلومیٹر سفر دو سال تک جاری رکھا اور کبھی بھی کوئی ناگوار واقعہ پیش نہ آیا۔ کئی عوامل ہیں کچے کے بگاڑ میں۔ یہاں سب کا احاطہ کرنا ناممکن ہے۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ سماجی ترقی جیسے تعلیم‘ صحت‘ سڑکیں اور دیگر سہولتوں کے لحاظ سے ہمیشہ ہمارے حکمرانوں نے اس وسیع وعریض زرخیز اور پیداواری علاقے کو کسی مربوط منصوبہ بندی کا حصہ پہلے کبھی نہیں بنایا۔ لوگ اغوا ہوتے رہے‘ لٹتے رہے‘ مارے بھی گئے اور اپنی جائیدادیں بھی آزادی حاصل کرنے کے لیے برباد کرتے رہے مگر آج تک نہ تو سندھ اور نہ ہی پنجاب کی حکومتیں اس بارے کوئی مستقل حل نکال پائیں۔ دکھ کی بات ہے کہ دریائے سندھ کا کچا جہاں سے سینکڑوں ارب روپوں کی زرعی پیداوار ہوتی ہے‘ اس کی شناخت جدید زراعت نہیں بلکہ ڈاکو ہیں۔ کوئی بالائی پنجاب سے جنوبی حصوں میں جائے تو دوست احباب اور خاندان انتباہ کرتا ہے کہ وہاں تو ڈاکو ہیں‘ اپناخیال رکھنا۔ ہم نے کئی بار پولیس کے آپریشنوں کے بارے میں سنا ہے اور دعوے بھی کامیابی کے ہوئے مگر سیاسی موسموں کی تبدیلی کے ساتھ ڈاکوئوں کی ایک نئی نسل ابھر کر آتی رہی ہے۔اس دفعہ ذرا مختلف ہو رہا ہے۔ آخرکار سندھ اور پنجاب کی حکومتوں اور ان کی انتظامی مشینری نے ڈاکوئوں کو ٹھکانے لگانے کے لیے تعاون سے کام کیا ہے۔ ان کی کوآرڈینیشن کے بغیر کبھی بھی یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔ دوسرے‘ آج کل بڑی جنگوں کے حوالے سے ڈرونز کی شہرت تو دنیا میں پھیل چکی ہے‘ مگر جو کام انہوں نے کچے میں کر دکھایا ہے اس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ کئی اپنے انجام کو پہنچے اور دیگر نے اوپر سے آگ کے گولے پڑتے ہی گھٹنے ٹیکنے شروع کر دیے۔ سینکڑوں گرفتار ہیں‘ سینکڑوں توبہ‘ معافیوں اور ضمانتوں کے بعد گھروں کو لوٹے ہیں۔ پہلی دفعہ پنجاب کی حکومت نے ایک مربوط اور قابلِ عمل پروگرام کچے کے لیے ترتیب دیا ہے۔ ان میں نئے تعلیمی ادارے‘ جو کچھ پہلے سے موجود ہیں‘ ان کی فعالیت‘ صحت کا نظام‘ رابطہ سڑکیں اور سب سے اہم پولیس کی دیگر علاقوں کی طرح وہاں موجودگی شامل ہے۔ جدید ٹیکنالوجی سے اب دور بیٹھ کر بہتر نگرانی تو ہو سکتی ہے مگر جب تک سرکاری زمینوں کی ملکیت کا مسئلہ حل نہیں ہوگا سماجی ترقی کے منصوبے آگے نہیں بڑھیں گے۔ اس علاقے کی محرومیاں اور آبادی کا دبائو ڈاکا زنی کے پیشے کو ہوا دیتے رہیں گے۔ اس مرتبہ فرق یہ بھی ہے کہ کچے کی ترقی کے لیے 23 ارب روپے کی لاگت سے منصوبہ بندی رحیم یار خان اور راجن پور کے اضلاع کی پولیس اور انتظامیہ کے مشورے سے کی گئی ہے۔ جو افسر یہاں فیلڈ میں ہیں اور سماجی ترقی کی اہمیت سے آگاہ ہیں‘ ان کی بات سنی گئی ہے۔ ڈپٹی کمشنر راجن پور سے اس بارے تفصیلی بات ہوئی تو وہ پُرامید نظر آئے اور پُرجوش بھی کہ آنے والے سالوں میں تین بنیادی شعبوں میں بہتری آئے گی‘ امن وامان‘ تعلیم و صحت کی سہولتیں اور ذرائع آمد ورفت کو ایک مضبوط پروگرام میں جوڑ کر استحکام پیدا کیا جائے گا۔ موجودہ پنجاب حکومت پہلے کی حکومتوں کی نسبت بہت فعال‘ ترقی پسند‘ جوشیلی اور سرگرم نظر آتی ہے۔ دیکھیں کچا اور پنجاب آگے چل کر کیسی ترقی کرتے ہیں۔ دنیا امید پر قائم ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_33241568.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>عجیب جنگ تھی!!(بابر اعوان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/babar-awan/2026-05-11/51926/84439767</link><pubDate>Mon, 11 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/babar-awan/2026-05-11/51926/84439767</guid><description>کرّۂ ارض کے جس خطّے میں لوگ غریب ہوں‘ ان کے بُرے نصیب ہوں‘ مقتدر اُن کے رقیب ہوں‘ حالاتِ زندگی مہیب ہوں‘ پھر وہاں پہ جنگ عجیب کیوں نہیں ہو سکتی؟ خوبرو ہیلن آف ٹرائے کے لیے جنگ ایک ہزار سال سے بھی طویل ہو سکتی ہے‘ ہماری تاریخ میں اگر بچہ سقّہ چمڑے کے سکے جاری کر سکتا ہے‘ 8 مئی کے دن پٹرول کی قیمت 414.58 روپے اور ڈیزل کی قیمت  414.58روپے تک بڑھائی جا سکتی ہے‘ تو پھر ایسی دنیا میں اسرائیل‘ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ مظہر العجائب کیوں نہیں؟ چلیے! آپ کو زندہ حقیقتوں کی چلتی پھرتی سیریز دکھاتے ہیں۔ اس سہ فریقی جنگ میں لڑا ایران‘ مار اسرائیل نے کھائی‘ ہار امریکہ کی ہوئی‘ برباد متحدہ عرب امارات ہو گیا‘ جیت چین کی ہوئی‘ عزت ا ہلِ ایران کو ملی‘ بے عزتی انڈیا کی ہوئی اور پٹرول پاکستان میں مہنگے سے مہنگا ہوتا چلا جا رہا ہے۔ ایسے میں لازمی طور پر دھیان الہام وافکار کی طرف جاتا ہے جس میں جوش ملیح آبادی نے خوب توجہ دلائو نوٹس جاری فرما رکھا ہے۔تا بکَے جینے کے منصوبے نہ برتے جائیں گےتا کجا چھلکے سُبو خود سے نہ بھرتے جائیں گےعالمِ انسان ان دنوں نظامِ پاکستان پر حیران وپریشان ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت کرّہِ زمین کے طول وعرض میں صرف یہی ایک ایسا نظام موجود ہے جس میں ریاست کے لیے سب سے بڑے اجنبی کا نام ہے بے چارے عوام۔ عام آدمی کی بے چارگی ہائبرڈ نظام کے لیے کوئی عجب بات نہیں۔ شروع دن سے اس نظام کا ڈیزائن ہی غریب عوام کے ساتھ سنگین سے عجیب ترسلوک کرنے پر چلا آتا ہے۔ عجیب سلوک سے یواے ای کی اوپیک تنظیم سے علیحدگی کی طرف نظر اُٹھتی ہے۔ خاص طور سے سعودی عرب کے معاملے میں اس انخلا کو سرپرائز آف سنچری کہہ لیں کیونکہ اوپیک کا دوسرا نام ہے آرامکو‘ راس تنورہ اور پیٹرو ڈالرز۔ یوا یس بینکنگ کی دنیا میں KSA کو The guardian of petro dollars کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔گزرے مئی کے مہینے میں ایران پر حملے سے پہلے امریکی صدر ٹرمپ کے دورۂ گلف کا ایک عدد سٹاپ یو اے ای بھی تھا۔ اس پریزیڈنشل ٹرپ کے دوران انٹرنیشنل پریس کا کہنا تھا کہ تین عرب ممالک امریکی صدر ٹرمپ کی خوشنودی حاصل کرنے کے  مقابلے میں جتے ہوئے ہیں۔ اسی لیے ایک سے بڑھ کر ایک جدت و حدت اور اعلاناتِ انویسٹمنٹ سے بھرپور استقبال ہوتا چلا گیا۔ ایسا استقبال کسی اور پڑھے لکھے صدرِ امریکہ کے حصے میں پہلے کبھی نہ آیا۔ اسی ورودِ مسعود سے حوصلہ پا کر یو اے ای کی لیڈرشپ نے امریکی دوستی اور تعلقات کے نئے دور کو امتحان میں ڈالنے کا فیصلہ کیا۔ یہاں سے آگے یو اے ای کا عالمی اور علاقائی سطح پر عجیب سفر شروع ہوتا ہے۔ آیئے اس سفر کی ٹریکنگ گلف اور انٹرنیشنل میڈیا میں چھپے ہوئے حقائق کی نشاندہی سے کریں۔یو اے ای نے اوپیک کیوں چھوڑا: ایرانی حملوں کے بعد یو اے ای نے اپنی کرنسی درہم کی گرتی ہوئی مارکیٹ ویلیو کو سہارا دینے کے لیے امریکہ سے کرنسی swap کرنے کی درخواست کر دی جس کے جواب میں امریکہ نے فوری طور پر سعودی عرب کو بھی کرنسی swap منصوبے میں شامل کرنے کا عندیہ دیا۔ خلیجی میڈیا کے باخبر بڑوں کا کہنا ہے کہ یو اے ای کے اوپیک سے نکلنے کی وجہ اس امریکی فیصلے پر مایوسی کا اظہار تھا۔ کچھ دوسرے حلقے اسے diplomatic disaster کا نام بھی دیتے ہیں۔ اس سفارتی  Set back کے نتیجے میں یو اے ای کو ایوی ایشن اور ایئر سپیس کے حوالے سے بہت بڑے جھٹکے لگے۔ ایمریٹس ایئرلائن جو کمرشل ہوا بازی کی دنیا میں کسی ایئر لائن کو بھی مقابلے میں ہرا سکتی تھی‘ شنید ہے کہ سکیورٹی کنسرن کے سبب اس کے لیے سعودی عرب کے اوپر فلائی کرنا روکا جا سکتا ہے۔ نتیجہ یہ ہو گا کہ دبئی سے لندن کی فلائٹ کا ٹائم سات گھنٹے سے بڑھ کر  14گھنٹے تک ہو جائے گا۔ دبئی عالمی ٹورسٹ سپاٹ ہے جس کے لگژری ہوٹلز چلتے ہی بین الاقوامی ٹرانزٹ حَب کی وجہ سے ہیں۔ بدقسمتی سے ان دو مسلم ریاستوں کے مابین تلخی اچانک ہیٹ پکڑ گئی۔البطحا کراسنگ بلاکیڈ کیا ہے؟: اپنے ہاں بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ متحدہ عرب امارات میں شامل تمام ریاستیں 1950ء کے عشرے سے بہت پہلے گرینڈ سلطنتِ عمّان کا حصہ تھیں۔ ان ریاستوں کا مقامی نظم ونسق شارجہ کے اعلیٰ تعلیم یافتہ خاندان &#39;&#39;القاسمی‘‘ کے ذمے تھا‘ جبکہ پوری سلطنتِ عمان کا نظم وگورننس چلانے کے لیے &#39;&#39;نَدوہ‘‘ کا ادارہ قائم تھا۔ 1950ء کے عشرے میں تاجِ برطانیہ کے زیرِ اہتمام ایک کانفرنس یو کے میں منعقد ہوئی۔ جس میں ان چھوٹی ریاستوں کو یونائیٹڈ سٹیٹس میں ضم کیا گیا‘ جس کے ذریعے نیویارک اور انگلینڈ کو خطے کے پانیوں تک مستقل رسائی حاصل ہو گئی۔  مغربی طاقتوں پر ٹوٹل انحصار کا نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ہمارے کُل مستقبل کا انحصار بھی مغربی طاقتوں پر ہے؛ چنانچہ اب ہمارا بجٹ بھی آئی ایم ایف بناتا ہے۔ 25 کروڑ لوگوں پر کتنا ٹیکس لگانا ہے اس کا فیصلہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ نامی بینک کے ملازمین کرتے ہیں۔ ابھی ایک دن پہلے ہائبرڈ سرکار نے بتایا کہ  4.8بلین ڈالر کے قریب دو قسطوں میں پاکستان کو آئی ایم ایف نے مزید قرض دینا ہے‘ جس کے لیے Cost reflecting energy prices یعنی تیل‘ پٹرول‘ ڈیزل‘ بجلی‘ گیس کے نرخوں میں مسلسل اور کنزیومر کی برداشت سے باہر اضافہ کرتے جانا ہے۔ ان قیمتوں میں بڑھوتری کا نتیجہ ٹرانسپورٹ‘ ایگری کلچر‘ فرٹیلائزر‘ کھانے پینے کی چیزوں کی بار برداری اور ضروری اشیا کے ریٹس میں بے ہنگم مہنگائی کا راستہ کھولنا ہے۔ حکومت عوام سے دو نمبری نہیں بلکہ نو نمبری کر رہی ہے۔ افراطِ زر کے طوفان پر پردہ ڈالنے کے لیے تازہ  CPIیعنی کنزیومر پرائس انڈیکس کبھی چھپا لیا جاتا ہے کبھی ملاوٹ ہو جاتی ہے۔ ایسے لگتا ہے جیسے عام آدمی اور اس کی آنے والی نسلوں سے ووٹ نہ دینے کا بدلہ لیا جا رہا ہے۔ عام آدمی کیا اب تو سفید پوش اور خواص بھی شدید ہیجان اور پالیسی سازوں کی بدتمیزی کے طوفان کی زد میں ہیں۔اس کشمکش میں سارے ادیبوں کا ذہن ہےدل کی طرف چلیں کہ ادارے کے پاس جائیںیا جا کے چھپ رہیں کسی شیشے کے قصر میںیا عصرِ انقلاب کے آرے کے پاس جائیں؟</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_42786259.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>آئی ایم ایف ‘ برآمدات اور معیشت(میاں عمران احمد)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mian-imran-ahmad/2026-05-11/51927/97911790</link><pubDate>Mon, 11 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mian-imran-ahmad/2026-05-11/51927/97911790</guid><description>؎پاکستان اور چین تعلقات کے ایک نئے معاشی مرحلے کی نشاندہی کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ماضی میں پاک چین تعلقات زیادہ تر سڑکوں‘ پاور پلانٹس اور بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں تک محدود تھے مگر اب دونوں ممالک سرمایہ کاری‘ صنعت‘ اے آئی ٹیکنالوجی اور مشترکہ کاروبار کی طرف بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں۔ پنجاب میں حکومت کے ساتھ مل کر آرٹی فیشل انٹیلی جنس کے کئی منصوبے شروع کیے گئے ہیں جس سے تعلیم اور زراعت میں جدت کی امید کی جاتی ہے۔ چین سی پیک کو سڑکوں اور بجلی کے منصوبوں تک محدود نہیں رکھنا چاہتا۔ سی پیک 2.0 میں صنعتی زونز‘ زراعت‘ گرین انرجی‘ الیکٹرک گاڑیاں‘ مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر پر توجہ دی جا رہی ہے۔ چین اب تک پاکستان میں تقریباً 26 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کر چکا ہے جس میں توانائی اور ٹرانسپورٹ کے منصوبے شامل ہیں۔ پاکستان کی اصل ضرورت اب ایسی سرمایہ کاری ہے جو مقامی صنعت کو مضبوط کرے اور برآمدات بڑھائے۔ شاید اسی لیے زراعت‘ چائے کی پیداوار‘ پانی صاف کرنے کی ٹیکنالوجی اور صنعتی تعاون سے متعلق متعدد منصوبوں پر کام جاری ہے۔ پاکستان کے لیے زراعت میں چینی ٹیکنالوجی خاص طور پر اہم ہو سکتی ہے۔ پاکستان کی تقریباً 23 فیصد جی ڈی پی زراعت سے وابستہ ہے لیکن فی ایکڑ پیداوار کم ہے۔ اگر جدید چینی زرعی ٹیکنالوجی‘ مشینری اور اے آئی بیسڈ فارمنگ پاکستان میں منتقل ہوتی ہے تو زرعی برآمدات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اسی طرح صنعتی زونز کی کامیابی پاکستان کے لیے فیصلہ کن ہو سکتی ہے۔ اگر چینی کمپنیاں پاکستان میں فیکٹریاں لگاتی ہیں تو نہ صرف روزگار بڑھ سکتا ہے بلکہ پاکستان کو برآمدات میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔دوسری جانب آئی ایم ایف نے پاکستان کے معاشی اصلاحاتی پروگرام کا جائزہ مکمل کرنے کے بعد تقریباً 1.32 ارب ڈالر کی نئی قسط منظور کر لی ہے۔ موجودہ پروگرام کے تحت پاکستان کو ملنے والی مجموعی رقم تقریباً 4.8 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ یہ خبر پاکستان کے لیے ایک بڑا معاشی ریلیف محسوس ہوتی ہے۔ پاکستان نے اس قسط کے حصول کے لیے کئی مشکل مگر ضروری اصلاحات مکمل کی ہیں جن میں ٹیکس پالیسی میں تبدیلیاں‘ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ اور مالیاتی نظم و ضبط شامل ہیں۔ آئی ایم ایف سے قرض کی قسط ملنے پر زرمبادلہ ذخائر میں کچھ بہتری آئی ہے۔ دسمبر 2025ء تک ذخائر 16 ارب ڈالر تک پہنچ گئے جبکہ جون 2025ء میں یہ تقریباً 14.5 ارب ڈالر تھے۔ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے‘ جو اپریل میں 320 ملین ڈالر تک پہنچ گئے۔ یہ اب تک کی بلند ترین ماہانہ سطح ہے۔ برآمدات میں ماہانہ بنیاد پر نو فیصد اور سالانہ بنیاد پر تقریباً 14 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔اس سے روپے پر دباؤ کم اور درآمدی ادائیگیوں میں کچھ بہتری ہو سکتی ہے۔ اسی طرح پاکستان نے چار سال بعد دوبارہ بین الاقوامی کیپٹل مارکیٹس تک رسائی حاصل کرتے ہوئے 750 ملین ڈالر کا یورو بانڈ بھی جاری کیا ہے۔ اپریل میں لارج سکیل مینوفیکچرنگ میں 14فیصد اضافہ ہوا جو پچھلے نو ماہ میں 6.5 فیصد تھا۔ جی ڈی پی کی گروتھ بھی چار فیصد تک رہنے کی توقع ہے جو پچھلے سال 3.1 فیصد تھی۔ ملکی سطح پر معاشی اصلاحات لانے کے لیے وقت درکار ہوتا ہے‘ آئی ایم ایف چاہتا ہے کہ پاکستان اپنے ٹیکس نیٹ کو وسیع کرے‘ خاص طور پر ریٹیل‘ پراپرٹی اور زرعی شعبے کو ٹیکس دائرے میں لائے۔ امید کی جا رہی ہے کہ آنے والے بجٹ میں ان مسائل کو حل کرنے کے لیے بہتر اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ پاکستان کی معیشت اس وقت ایک اہم مرحلے سے گزر رہی ہے۔ موجودہ حالات میں اگر ملک کو مضبوط بنانا ہے تو برآمدات میں مستقل بنیادوں پراضافہ ضروری ہیں۔ صنعتوں کو ترقی دے کر اور پاکستانی مصنوعات کو عالمی منڈی تک پہنچاکر ملکی معیشت کو مضبوط کیا جا سکتا ہے اور حکومت بھی آئندہ بجٹ سے پہلے برآمدات بڑھانے اور صنعتوں کو سہولتیں دینے کے لیے نئی پالیسیوں کا کہہ رہی ہے۔ یہ کام صرف وزارتِ تجارت کی بجائے اکنامک افیئر ڈویژن اور وفاقی وزیر احد چیمہ کو بھی دیا گیا ہے۔ اس سے لگتا ہے کہ وزیراعظم ہاؤس معیشت کے اہم فیصلے خود زیادہ قریب سے دیکھنا چاہتا ہے۔ غیر ملکی ماہرِ معاشیات سٹیفن ڈیرکن کو بھی معاشی ٹیم میں شامل کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ حکومت شاید اب عالمی تجربات سے سیکھ کر معیشت کو بہتر بنانا چاہتی ہے۔ چین‘ جنوبی کوریا‘ ویتنام اور بنگلہ دیش نے برآمدات بڑھا کر اپنی معیشت مضبوط کی ہے۔ شاید انہی ممالک کے ماڈلز پاکستان میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ حکومت کے نئے منصوبے کے مطابق صرف انہی صنعتوں کو زیادہ مراعات دی جا سکتی ہیں جو واقعی اپنی برآمدات بڑھائیں۔ یعنی جتنی زیادہ ایکسپورٹ ہو گی اتنی زیادہ سہولت مل سکتی ہے۔ یہ اپروچ زیادہ قابلِ عمل اور قابلِ قبول ہو سکتی ہے۔ حکومت نے شاید ماضی سے سیکھ لیا ہے کیونکہ ماضی میں کمپنیاں ایکسپورٹس کے نام پر سرکار سے مراعات لیتی رہی ہیں لیکن ایکسپورٹرز مطلوبہ کارکردگی نہیں دکھا سکے۔ اب بھی ایکسپورٹ سیکٹر کو بجلی تقریباً چار روپے یونٹ سستی فراہم کی جا رہی ہے‘ ٹیکس ریفنڈ میں بھی آسانی دی گئی ہے‘ بینکوں سے قرض لینے پر شرح سود میں بھی خصوصی رعایت حاصل ہے۔ حکومت اپنے حصے کا کام کسی حد تک کرتی دکھائی دیتی ہے اگر برآمدکنندگان بھی اپنے حصے کا کام کریں تو ملکی معیشت میں جلد بہتری آسکتی ہے۔ ادھروفاقی حکومت نے ایک مرتبہ پھر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت کم ہونے کے باوجود پاکستان میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے عوام میں اضطراب کی کیفیت ہے۔ عالمی مارکیٹ میں اگر تیل کی قیمت بڑھنے پر حکومت قیمت بڑھائے تو اس پر شاید عوام کو زیادہ اعتراض نہ ہو لیکن جنگ کے نام پر ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو خطے میں سب سے زیادہ بلند سطح پر لے جانا حیران کن ہے۔ امریکہ ایران جنگ کے دوران پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے پاکستان دنیا میں سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ اس مرتبہ پھر تقریباً 14روپے پٹرولیم لیوی بڑھائی گئی ہے۔ حکومتی مؤقف ہے کہ آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق ٹیکس آمدن کے اہداف حاصل نہیں کیے جا سکے اس لیے پٹرولیم لیوی بڑھائیں۔ ممکن ہے کہ آئی ایم ایف کو منانے کی کوئی اور صورتحال نہ بن پا رہی ہو لیکن اس معاملے پر عوام کو اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے۔ عوام کو یہ بتایا جانا چاہیے کہ ایف بی آر اور وزارتِ خزانہ کیا کر رہی ہیں۔ چیئرمین ایف بی آر اپنے ڈپارٹمنٹ کے لیے مراعات لینے کے لیے کافی تگ ودو کرتے دکھائی دیتے ہیں لیکن ٹیکس اہداف حاصل کرنے میں ان کی زیادہ دلچسپی دکھائی نہیں دیتی۔ ایک ڈپارٹمنٹ کی ناکامی کی قیمت 25 کروڑ عوام ادا کر رہے ہیں۔ ملک کی 25 کروڑ آبادی میں سے صرف پچاس لاکھ لوگ ٹیکس فائلر ہیں۔ تاجروں‘ دکانداروں اور رئیل اسٹیٹ سے ٹیکس آمدن سب سے کم ہے جبکہ تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کا سب سے زیادہ بوجھ ہے اور پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں سے زیادہ متاثر تنخواہ دار طبقہ ہی ہو رہا ہے۔ اخراجات بڑھ رہے ہیں لیکن آمدن نہیں بڑھ رہی۔ حکومت کو اس کا نوٹس لینا چاہیے اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم کرنے کی کوئی مؤثر حکمت عملی بنانی چاہیے۔ آئی ایم ایف سے توانائی کی قیمتوں پر مذاکرات کر کے بہتر حل نکالنے کی کوشش کرنی چاہیے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/212_71532147.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>آٹھ۔ صفر(سعود عثمانی )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-05-11/51928/40486993</link><pubDate>Mon, 11 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-05-11/51928/40486993</guid><description>فرض کیجیے انسان کو مستقبل کے واقعا ت کا علم ہوا کرتا تو کیا ہوتا؟ ایک بات تو یقینی ہے‘ بھارت کبھی 7 مئی 2025ء کو پاکستان پر حملہ  نہ کرتا۔ بھارت وہ غلطی کبھی نہ کرتا جس کے زخم وہ اب تک چاٹ رہا ہے۔ یہ زخم ہر سال مزید گہرے ہو جاتے ہیں۔ 6 مئی 2025ء کی رات یاد رہے گی۔ گیارہ بجے کے قریب خبریں اور وڈیوز دیکھتے دیکھتے مجھے نیند آ گئی اور موبائل بھی میرے ہاتھ ہی میں سو گیا۔ ڈیڑھ بجے کے قریب گھر کے ایک فرد کا فون آیا تو جاگتے ہی دل کسی ناگہانی کے اندیشے سے تیز دھڑکنے لگا۔ بھارت کے میزائل حملے کی خبر ملنے کے ساتھ ہی یہ خبر بھی ملی کہ بھارت کے دو جنگی طیارے گرا لیے گئے ہیں۔ اس بہت بڑی خبر کے بعد نیند کسے آ سکتی تھی۔ لحظہ لحظہ نئی خبریں ملنا شروع ہوئیں اور فجر کے وقت تک معلوم ہو گیا کہ لائن آف کنٹرول پر مختلف بھارتی چوکیوں کو تباہ کر دینے کے ساتھ ساتھ پانچ طیارے اور ایک ڈرون مار گرانے کی تصدیق آئی ایس پی آر اور وزرا نے کر دی ہے۔ تمام پاکستانی چینلز اور اخبارات یہی خبریں دے رہے تھے۔ پاکستانی حکام نے بلومبرگ‘ رائٹرز‘ سکائی نیوز اور سی این این کو جس اعتماد کے ساتھ یہ  اطلاعات دیں اس سے معلوم ہوتا تھاکہ یہ خبریں درست ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا گروپس نے یہ خبریں پاکستان کے حوالے سے رات ہی میں شائع کرنا شروع کر دیں‘ اگرچہ ان کی تصدیق کے بارے میں محتاط طرزِ عمل اختیار کیا‘ لیکن ان کا رات ہی میں شائع ہونا ایک طرح سے مصدقہ ہونا تھا۔ لیکن ان سے بھی پہلے آذربائیجان کی خبر رساں ایجنسی دو بھارتی طیارے گرائے جانے کی خبر  دے چکی تھی۔ ترک میڈیا نے بھی یہ خبر نمایاں طور پر شائع کی۔ اُس وقت تک دو طیاروں کی خبر ہی چل رہی تھی۔ بعد میں طیاروں کی تعداد بڑھتی گئی اور پانچ تک پہنچ گئی۔ باقی تفصیلات کی ضرورت نہیں‘ بارہ ماہ پہلے کی باتیں سبھی جانتے ہیں۔لیکن اب یہ تعداد 6-0 سے بڑھ کر 8-0 ہو چکی ہے۔ تینوں مسلح افواج کے نمائندوں نے آپریشن بنیانٌ مرصوص کا ایک سال مکمل ہونے پر جو پریس کانفرنس کی‘ اس میں فضائیہ کے ترجمان نے بتایا کہ چار رافیل‘ ایک سخوئی‘ ایک مگ 29‘ ایک میراج اور ایک  قیمتی اور بڑا ڈرون گرایا گیا‘ جس میں کوئی پائلٹ نہیں ہوتا۔ اس طرح اب یہ تعداد 8 ہوچکی ہے۔ اس سے پہلے فضائیہ نے ان طیاروں کے ٹیل نمبر‘ پائلٹس کے نام اور ان کے سکواڈرنز کی تفصیلات بھی بتائی تھیں اور یہ بھی کہ انہیں کس کس مقام پر گرایا گیا۔ ان میں بیشتر حقائق کی تصدیق آزاد بین الاقوامی میڈیا نے بھی کی اور دفاعی تجزیہ کاروں نے بھی۔ خود بھارت کے باخبر اور سنجیدہ تجزیہ کاروں نے اس کا بار بار اعتراف کیا کہ پاکستان اس جنگ میں فاتح کی حیثیت میں ابھرا۔ بھارت کا گودی میڈیا خواہ کتنا ہی  دانت پیس کر اور کتنی ہی زہر بھری گفتگو کرے‘ یہ حقیقت چھپائے نہیں چھپتی کہ مئی 25ء کے بعد پاکستان ایک بڑی عسکری‘ سفارتی اور بین الاقوامی طاقت بن کر ابھرا ہے‘ خاص طور پر جنوبی ایشیا میں اس نے جو مرکزیت حاصل کر لی ہے وہ کسی کے خواب وخیال میں  بھی نہیں تھی۔ شاید پاکستان کو خود بھی اندازہ نہیں تھا کہ ذرا درخت ہلنے سے اتنے پھل اس کی جھولی میں آ گریں گے۔ معرکہ حق سے اب تک اسے خدا کا خاص فضل وکرم نہ کہا جائے تو اور کیا کہا جائے گا کہ سب اسباب خود بخود پاکستان کے حق میں اکٹھے ہوتے چلے گئے۔پاکستان کو مئی 25ء کے بعد سے اب تک جو سفارتی اور عسکری عروج حاصل ہو رہا ہے‘ جس طرح اس کے اسلحے کی مانگ بڑھ رہی ہے‘ جس طرح قوم کا فوج پر اعتماد بحال ہوا ہے اور جس طرح بھارت کو سفارتی شکست ہوئی ہے اس پر بہت بات کی گئی ہے۔ لیکن کچھ حقائق پر بہت کم بات ہوئی ہے اور ضرورت ہے کہ ان کو اجاگر کیا جائے۔ اسی کے ساتھ ساتھ ان معاملات پر فوجی اور سیاسی عہدیداروں کی تعریف بھی بجا طور پر کی جانی چاہیے۔ اول تو یہ کہ پاکستان نے کسی بھی مرحلے پر تکبر اور گھمنڈ کا مظاہرہ نہیں کیا۔  ایک کھلی فتح کے بعد بھی نہیں! فیلڈ مارشل سے لے کر وزیراعظم اور آئی ایس پی آر کے ترجمان تک ہر ایک نے اسے اللہ کا کرم اور مدد قرار دیا۔ مجھے یاد ہے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایک موقع پر کہا کہ ہم نے اس آپریشن کے دوران اللہ کی غیبی مدد آتے دیکھی۔ پوری جنگ میں اور بعد کے مواقع پر‘ ہر سیاسی یا عسکری عہدیدار نے عزم اور حوصلے کا بھرپور مظاہرہ کیا‘ اور انہیں دیکھ کر قوم کے حوصلے بھی بلند رہے۔ گفتگو کے ساتھ ان کی باڈی لینگوئج بھی بلند عزم کا اظہار کرتی رہی۔ ایک اور قابلِ تعریف بات یہ ہے کہ پاکستان نے سرکاری طور پر حقائق پر پردہ نہیں ڈالا۔ جہاں جو نقصان اور شہادتیں ہوئیں‘ انہیں قبول کیا اور اُسی وقت کیا۔ پاکستان نے جو دشمن کے نقصانات کیے‘ وہ فضائی اور برّی افواج دونوں کے ذریعے تھے۔ فضائیہ نے بہت محتاط طریقے سے یہ دعوے کیے اور ساتھ ہی وہ ثبوت بھی پیش کیے جو آزاد میڈیا کے لیے قابلِ اعتبار تھے۔ ثبوت موجود ہونے کے باوجود ہر لحاظ سے انہیں پرکھنے کیلئے جتنے شواہد درکار تھے‘ ان کے بغیر دعویٰ نہیں کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ مئی 25ء میں جو سکور 6-0 بتایا گیا‘ اب وہ تصدیقی عمل سے گزر کر 8-0 ہے۔ کئی ایسے طیارے‘ جو شدید ڈیمیج ہو کر ناقابلِ استعمال ہو گئے‘ وہ اس سکور میں شامل نہیں۔ برّی افواج نے جن کامیابیوں کے دعوے کیے‘ ان کے ثبوت بھی بہم پہنچائے۔ آئی ایس پی آر اور وزارتِ اطلاعات نے یہ بروقت کام کیا کہ شہری عمارات پر بھارتی حملوں کے 24 گھنٹوں کے اندر بین الاقوامی اور صحافیوں کو بھارتی حملوں کی جگہ کا دورہ کرایا گیا‘ تاکہ وہ دیکھ سکیں کہ یہاں کوئی دہشت گرد گروہ نہیں‘ عام شہری تھے۔ پاکستان کے بھرپور اعتماد کو ساری دنیا نے دیکھا۔ بیانیے کی جنگ میں بھی پاکستان نے برتری حاصل کی۔ بھارت بیشمار ملکوں میں اپنا وفد بھیجنے کے باوجود پاکستان کو زک پہنچانے میں ناکام رہا۔ اس کی بڑی وجہ پاکستان کی پہلگام واقعے پر درست پالیسی تھی جس کا وزن دنیا نے محسوس کیا۔ ویسے بھی دو جوہری طاقتوں کے مابین جنگ کے امکان میں دنیا کسی کی طرفداری سے ڈرتی ہے۔ ہر ملک کی کوشش ہوتی ہے کہ خود کو بچا کر رکھا جائے اور کچھ ایسا نہ کیا جائے جس سے کسی جوہری جنگ کا آغاز ہو جائے۔یہ قابلِ تعریف بات ہے کہ پاکستانی میڈیا‘ جس میں ٹی وی چینلز‘ اخبارات‘ کالم نگار سب شامل ہیں‘ بہت باوقار روپ کے ساتھ سامنے آیا۔ اس نے بڑھکیں مارنے اور جھوٹے دعوے کرنے کا انداز نہیں اپنایا۔ بھارتی میڈیاکے مقابلے میں یہ بہت واضح فرق تھا جس نے پاکستان کو عزت بخشی۔ اسی طرح سوشل میڈیا پربڑی تعداد میں پاکستانیوں نے بڑی عزت مندانہ اور محب وطن سوچ کا مظاہرہ کیا۔ پوری قوم ایک بار پھر دشمن کے خلاف متحد نظر آئی اور افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہوئی۔ یہ وہ تمام باتیں ہیں جنہوں نے مل کر پاکستان کو یہ فتح دلائی اوردنیا کو اپنے اہم ملک ہونے کا احساس دلایا۔ ان باتوں کا ذکر اس لیے بھی ضروری ہے کہ خطرہ ابھی منڈلا رہا ہے۔ یہ اوصاف مزید بہتر اور یکجا کرکے ہم آئندہ بھی سرخروئی حاصل کر سکتے ہیں‘ اس لیے ان کو مضبوط تر کرنے کی ضرورت ہے۔دشمن کوکبھی کمزور نہیں سمجھنا چاہیے‘ خاص طور پر جب وہ دشمنی اور مکاری دونوں میں ثابت شدہ ہو۔ بھارت اس شکست کو زیادہ دیر ٹھنڈے پیٹ برداشت نہیں کر سکتا۔ اب وہ اور راستہ اپنائے گا‘ کوئی اور بہانہ ڈھونڈے گا۔ ہمیں ان شگافوں کو بھی بھرنا ہے جو ممکنہ طور پر ہمارے دفاع میں ہو سکتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ فیصلہ ساز اس سے غافل نہیں ہوں گے اور خدا نخواستہ اگلی کسی جنگ میں ہم 8-0 نہیں‘ بلکہ بڑے فخر سے اس سے کئی گنا بڑا سکور دنیا کودکھا سکیں گے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_81278520.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>دفاعِ وطن(علامہ ابتسام الہٰی ظہیر )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-05-11/51929/39319338</link><pubDate>Mon, 11 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-05-11/51929/39319338</guid><description>پاکستان ایک اسلامی جمہوری ریاست ہے جس کا قیام دو قومی نظریے کی بنیاد پر ہوا تھا۔ قیام پاکستان کے لیے قائداعظم محمد علی جناح‘ علامہ محمد اقبال‘ مولانا محمد علی جوہر‘ مولانا ظفرعلی خان‘ علمائے اسلام اور تمام طبقاتِ زندگی کے لوگوں نے زبردست جدوجہد کی۔ مسلمانانِ برصغیر کی بیداری کے لیے بھرپور انداز سے رابطہ عوام مہم چلائی گئی‘ برصغیر کے طول وعرض میں جلسے‘ جلوس اور اجتماعات کا انعقاد کیا گیا اور مسلمانانِ برصغیر کو ایک علیحدہ وطن کی اہمیت سے آگاہ کیا گیا۔ بالآخر 14 اگست 1947ء کو دنیا کے نقشے پر ایک عظیم اسلامی مملکت پاکستان کے نام سے ابھری۔ اس وطن کے حصول کیلئے ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے اپنے گھر بار اور کھیتوں کھلیانوں کو خیرباد کہا۔ ان عظیم قربانیوں کا مقصد یہ تھا کہ مسلمانانِ برصغیر ایک ایسے ٹکڑے کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں جہاں کتاب وسنت کی عملداری ہو۔قیام پاکستان کے بعد بھارت نے پاکستان کے وجود کو کبھی بھی تسلیم نہیں کیا اور ہمیشہ پاکستان کے خلاف سازشیں کرنے کی کوشش کی۔ ستمبر 1965ء میں پاکستان کے خلاف بھرپور جارحیت کی گئی لیکن عوام اور عسکری اداروں کی یکسوئی کی وجہ سے اللہ تبارک وتعالیٰ نے بھارت کے عزائم کو ناکام بنا دیا اور ملک کا دفاع مزید مضبوط اور مستحکم ہوا۔ 6 ستمبر 1965ء کا دن ایک یادگار دن تھا۔ اس دن بھارت کا غرور اور گھمنڈ خاک میں مل گیا اور اس کو یہ بات سمجھ میں آ گئی کہ پاکستانی قوم اپنے دفاع پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کرے گی۔ 1971ء کی جنگ میں بھارت نے پاکستان کو نقصان پہنچایا اور داخلی خلفشار‘ سیاسی عدم استحکام اور لسانی تنازعات کی وجہ سے پاکستان اپنے مشرقی بازو سے محروم ہو گیا۔ 16 دسمبر 1971ء کا دن پاکستان کی تاریخ کا ایک المناک دن تھا جس کی کسک آج بھی ہر محب وطن پاکستانی محسوس کرتا ہے۔ اس کے بعد پاکستان نے اپنے دفاع کو مضبوط کرنے کے لیے مؤثر حکمت عملی اپنائی اور افواج پاکستان اور سائنس دانوں کی مشترکہ کاوشوں سے پاکستان نے جوہری صلاحیت حاصل کر لی جس کی وجہ سے خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے میں آسانی ہوئی۔ 1998ء میں بھارت نے پاکستان کو دبانے کے لیے ایٹمی دھماکے کیے لیکن پاکستان نے ان کا بروقت جواب دیا اور چاغی میں کامیاب ایٹمی دھماکے کرکے بھارت کو یہ پیغام دیا کہ خطے میں اس کی بالادستی کو قبول نہیں کیا جائے گا لیکن بعد ازاں بھی بھارت نے پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لیے بہت سی منصوبہ بندیاں جاری رکھیں اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے بھرپور انداز میں پروپیگنڈا مہمات چلائیں اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ پاکستان دہشت گردی کی پشت پناہی کرتا ہے۔ کشمیر میں چلنے والی تحریک آزادی کے تانے بانے پاکستان سے ملانے اور وہاں پر ہونے والے ہر احتجاج کو پاکستان کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی گئی۔ مسئلہ کشمیر‘ قیام پاکستان کے وقت سے لے کر آج تک حل نہیں ہو سکا۔ کشمیر کے عوام کئی عشروں سے مسلسل بھارت کے جبر اور استبداد کا نشان بنے ہوئے ہیں اور اُن کو ان کی مذہبی اور سیاسی شناخت سے محروم کرنے کی کوششیں بھی جاری وساری رہتی ہیں۔ پاکستان نے کئی بین الاقوامی فورمز پر کشمیر کے مسئلے کو بھرپور طریقے سے اٹھانے کی کوشش کی ہے لیکن اس کے باوجود بھارت کشمیری عوام پر اپنے جبری تسلط کو برقرار رکھنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ 2025ء میں کشمیر میں بعض سیاحوں پر ہونے والی فائرنگ کے واقعات کو بڑھا چڑھا کر پاکستان سے منسوب کر کے بھارت نے ایک مرتبہ پھر پاکستان پر جارحیت کا ارتکاب کرنے کی کوشش کی اور بہاولپور‘ مرید کے اور مظفر آباد میں مساجد پر حملہ کر کے پرُامن شہریوں کو شہید کیا اور اس کو دہشت گردی کے خلاف کارروائی قرار دیا۔ پاکستان کے طول وعرض میں بھارت کی جارحیت کے خلاف ردعمل سامنے آیا اور عوام نے اس پر شدید غم وغصے کا اظہار کیا اور اس بات کی توقع اور امید کی کہ بھارت کے جارحانہ عزائم کا بھرپور انداز میں جواب دیا جائے گا۔ پاکستان نے بھارتی جارحیت کا مؤثر جواب دینے کے لیے کامیاب حکمت عملی تیار کی۔ بھارت کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے اس کی بعض اہم دفاعی تنصیبات پر حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں ایک جنگی کشمکش کی کیفیت پیدا ہو گئی۔ بھارتی فضائیہ نے پاکستان کی اہم تنصیبات پر حملہ کرنے کے لیے بھرپور انداز سے حملہ کرنے کی کوشش کی لیکن اللہ تبارک وتعالیٰ کے فضل و کرم سے پاکستان نے بھارتی جارحیت کا راستہ روکنے کے لیے &#39;&#39;بنیانٌ مرصوص‘‘ آپریشن کے نام سے بھرپور جوابی کارروائی کی جس میں بھارت کے متعدد طیارے تباہ ہو گئے۔ ان طیاروں کی تباہی کے بعد بھارت اس بات کو سمجھ گیا کہ پاکستان کے ساتھ جنگ کسی بھی طور پر اس کے مفاد میں نہیں ہے اور بھارت خود جنگ بندی کی طرف پیش قدمی کرنے پر آمادہ و تیار ہو گیا۔ پاکستان کو دفاعی اعتبار سے مزید تقویت حاصل ہوئی اور دنیائے اسلام میں پاکستان کو ایک مضبوط ریاست کی حیثیت سے تسلیم کیا گیا۔ اس جنگ میں جہاں پاکستان کی افواج نے بھرپور انداز سے بھارتی جارحیت کا جواب دیا وہیں پاکستانی قوم بھی افواج پاکستان کے ساتھ مکمل طور پر ہم آہنگ رہی اور افواج پاکستان کو تمام طبقات سے یہی پیغام موصول ہوا کہ جب وطن کے دفاع کی بات آئے گی‘ اس وقت پوری قوم یکسوئی کے ساتھ عسکری اداروں کے ساتھ کھڑی ہوگی۔آپریشن بنیانٌ مرصوص سے پاکستان کی شناخت میں اضافہ ہوا اور جہاں دنیا بھر میں بسنے والے پاکستانیوں نے اس کارروائی پر خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا وہیں دنیائے اسلام میں بھی اس حوالے سے بھرپور مسرت کا اظہار کیا گیا اور پاکستان کو امت مسلمہ کے ایک مضبوط ملک کی حیثیت سے دنیا بھر سے مبارکبادیں موصول ہوئیں۔ آپریشن بنیانٌ مرصوص نے اس بات کو ایک مرتبہ پھر واضح کیا کہ جب دشمن سے مقابلہ ہو تو اس وقت اللہ تبارک وتعالیٰ پر بھرپور انداز سے توکل کرنا چاہیے اور قلت وکثرت سے بے نیاز ہو کر اللہ تبارک وتعالیٰ کے کلمے کی سربلندی اور مسلم سرزمین کے دفاع کے لیے اپنا کردار بھرپور انداز سے ادا کرنا چاہیے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۃ الانفال کی آیات: 45 اور 46 میں مسلمانوں کی کامیابی کے اصولوں کو بڑے احسن انداز میں کچھ یوں بیان فرمایا ہے: &#39;&#39;اے ایمان والو! جب تم کسی مخالف فوج سے بھڑ جاؤ تو ثابت قدم رہو اور بکثرت اللہ کو یاد کرو تاکہ تمہیں کامیابی حاصل ہو۔ اور اللہ کی اور اس کے رسول کی فرماں برداری کرتے رہو‘ آپس میں اختلاف نہ کرو ورنہ بزدل ہو جاؤ گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی اور صبر و سہارا رکھو‘ یقینا اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے‘‘۔ان آیات مبارکہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جنگوں میں فتح کے لیے اللہ کے ساتھ مضبوط تعلق‘ استقامت‘ صبر اور اتحاد کی ضروت ہوتی ہے۔ اللہ کے فضل وکرم سے بنیانٌ مرصوص آپریشن میں بھی اللہ تبارک وتعالیٰ کے ساتھ تعلق‘ ثابت قدمی‘ اتحاد اور صبر کا عظیم مظاہرہ کیا گیا جس کے نتیجے میں دشمن کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا اور پاکستان کے وقار میں اضافہ ہوا۔ اگر ہم مستقبل میں بھی کامیابی چاہتے ہیں تو ہمیں انہی زریں اصولوں کو ملحوظ خاطر رکھنا ہو گا جس کے نتیجے میں اللہ تبارک وتعالیٰ کے فضل وکرم سے کامیابی وکامرانی حاصل ہو گی۔ پاکستان کا قیام جس بنیاد پر کیا گیا تھا‘ اسی بنیاد پر پاکستان کو آگے بڑھنا چاہیے اور اسلامی جمہوری اقدار کے فروغ کے لیے بھرپور انداز سے کوشش کرنی چاہیے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ پاکستان کی دفاعی صلاحیت کو مزید مضبوط فرمائے اور اس کو اقوام عالم اور عالم اسلام میں بلند مقام عطا فرمائے‘ آمین!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_19740082.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>