<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>وزیراعظم کا دورۂ چین(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-26/11226</link><pubDate>Tue, 26 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-26/11226</guid><description>وزیراعظم شہباز شریف کے دورۂ چین کے دوران دونوں ملکوں کی دوستی کے رشتے اور تزویراتی شراکت داری کو مضبوط تر بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ پاکستان اور چین کی 75سالہ دوستی‘ گہرے اعتماد اور دیرپا تعاون سے جو منفرد رشتہ قائم ہوا ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ یہ احساس چینی قیادت کے تاثرات میں بھی اسی طرح موجود ہے جس طرح پاکستان میں ہے۔ پاکستانی قیادت کے ساتھ ملاقات میں چینی صدر شی جن پنگ کے الفاظ اس دوستی کے جذبے کی سچی عکاسی کرتے ہیں۔ گزشتہ روز ہونیوالی اس ملاقات میں چینی صدر کا کہنا تھا کہ چین اور پاکستان نے افہام و تفہیم‘ اعتماد اور تعاون کی بنیاد پر ناقابلِ شکست روایتی دوستی قائم کی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پون صدی کی اس دوستی میں پاکستان اور چین نے ایک دوسرے کو سمجھا‘ ایک دوسرے پر بھروسا کیا اور ایک دوسرے کی حمایت کی۔ وزیراعظم شہباز شریف کے دورے میں پاکستان اور چین میں زراعت‘ تعلیم‘ سائنس و ٹیکنالوجی‘ انسانی وسائل کی ترقی اور ماحولیاتی تبدیلی سمیت مختلف شعبوں میں متعدد معاہدوں اور یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔

پاکستان اور چین کے برادرانہ تعلق کے معاشی امکانات لامحدود ہیں اور پاکستان کئی حوالوں سے ان سے استفادہ کر سکتا ہے۔ مثلاً شعبۂ زراعت میں چین نے جو انقلاب برپا کیے‘ اپنے قابلِ کاشت رقبہ کو جس طرح کثیر جہتی مقاصد کیلئے قابلِ استعمال بنانے کے طریقے رائج کیے ہیں‘ فصلوں کی پیداوار میں جو اضافہ کیا ہے اور بیماریوں سے نمٹنے کیلئے جو حکمت عملی استعمال کی ہے‘ ہمارے زراعت کے شعبے کیلئے چینی زراعت کا ایک ایک پہلو سیکھنے اور تعاون سے فائدہ اٹھانے کا تقاضا کرتا ہے۔ چین زرعی پیداوار اور خوراک کی ایک بڑی منڈی بھی ہے اور اس حوالے سے پاکستان کو یہ اضافی سہولت حاصل ہے کہ فاصلے کی کمی اور باہمی تعلقات کی گہرائی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان چین میں اپنی زرعی پیداوار اور خوراک کی مصنوعات کی کھپت میں نمایاں اضافہ کر سکتا ہے۔ چینی منڈی کی طلب کو سمجھنے اور اس کو پورا کرنے کیلئے زرعی شعبے پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کا سورج بھی اب چین سے طلوع ہوتا ہے۔ جدید ترین کمپیوٹر ٹیکنالوجی‘ آرٹیفیشل انٹیلی جنس‘ فزکس‘ میڈیکل اور دیگر سائنسی علوم میں چین کی ترقی محیر العقول ہے‘ اور ہمارے لیے دعوتِ فکر۔
پاکستان کیلئے ان مواقع سے فائدہ اٹھانے میں کئی طرح سے آسانیاں ہیں؛ چنانچہ ضروری ہے کہ ان مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جائے۔ نوجوان ریسرچرز اور سائنسدانوں کو چینی علمی و تحقیقی اداروں میں سیکھنے کے مواقع بہم پہنچانا حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ اس سلسلے میں پچھلے کچھ عرصے میں کام ہوا ہے مگر اس کو بڑھانے کی اشد ضرورت ہے۔ چین کی معیشت کی ترقی میں صرف کارخانوں کا نہیں وہاں کے کاروباری اداروں اور چھوٹی اور درمیانی صنعتوں اور کاروباروں کا اہم ترین کردار ہے۔ چینی اور پاکستانی کاروباری طبقات میں باہمی ربط اور ہم آہنگی پاکستان میں کاروباری ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ چین کی صنعتوں کو پاکستان لانے کی ضرورت و اہمیت بھی محتاجِ بیان نہیں۔ چین کی صنعتیں جنوب مشرقی ایشیا کے کئی ممالک میں پھیل چکی اور وہاں کی صنعتی ترقی کی قوتِ محرکہ کا کردار ادا کر رہی ہیں۔ اس سلسلے میں ویتنام ایک بڑی مثال ہے۔ پاکستان میں چینی صنعتوں کو لانے سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور برآمدات میں اضافہ ہو گا۔ یہی دو ملکی معیشت کی نمو کے بنیادی تقاضے ہیں۔
سی پیک کے تحت ملک بھر میں شاہراہوں کے جال بچھ گئے‘ پل تعمیر ہو گئے اور آمدورفت ملک کے طول و عرض میں محفوظ اور آسان ہوئی مگر سی پیک کیساتھ منسلک ترقی کا خواب اس وقت تک شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا جب تک کہ سپیشل اکنامک زونز میں صنعتی رونقیں نہیں بڑھائی جاتیں۔ اس کیلئے ترجیحی بنیادوں پرکام کرنے کی ضرورت ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>عید‘ صفائی اور شہری ذمہ داری(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-26/11225</link><pubDate>Tue, 26 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-26/11225</guid><description>ہر سال عیدالاضحی کے موقع پر لاکھوں جانوروں کی قربانی کے باعث صفائی ستھرائی کا ایک بڑا چیلنج سامنے آتا ہے۔ اگرچہ حالیہ برسوں میں صوبائی حکومتوں نے عیدالاضحی پر آلائشیں بروقت ٹھکانے لگانے اور خصوصی صفائی مہمات شروع کرنے جیسے اقدامات پر توجہ دی ہے تاہم اس پورے عمل کی کامیابی صرف حکومتی کوششوں سے ممکن نہیں بلکہ شہریوں کی ذمہ دارانہ شرکت بھی ناگزیر ہے۔ بدقسمتی سے ہر سال یہ منظر دیکھنے میں آتا ہے کہ بعض لوگ شہری انتظامیہ کی جانب سے مقرر کردہ طریقۂ کار پر عمل کرنے کے بجائے آلائشیں گلیوں‘ سڑکوں‘ نالوں اور خالی پلاٹوں میں پھینک دیتے ہیں یوں شدید تعفن پھیلتا ہے‘ ماحول آلودہ ہوتا ہے اور مختلف بیماریاں پھیلنے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔

شہریوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے گلی محلوں اور سڑکوں کی صفائی ستھرائی کا خیال بھی بالکل اسی طرح رکھنا چاہیے جیسے وہ اپنے گھروں کی صفائی کا خیال رکھتے ہیں۔ شہری عیدالاضحی کے موقع پر بالخصوص اور عام دنوں میں بالعموم اپنے گلی محلوں اور سڑکوں کی صفائی ستھرائی کا خیال رکھیں تو ہمارے شہر دنوں میں مزید خوبصورت بن سکتے ہیں۔ اگر عیدالاضحی کے دنوں میں حکومت اور عوام دونوں اپنی اپنی ذمہ داریاں احساس کیساتھ ادا کریں تو نہ صرف شہروں کو تعفن اور آلودگی سے بچایا جا سکتا ہے بلکہ عید کی خوشیوں کو بھی ایک صحت مند‘ پاکیزہ اور مہذب ماحول میں برقرار رکھا جا سکتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>خوردنی تیل کی درآمدات(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-26/11224</link><pubDate>Tue, 26 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-26/11224</guid><description>ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان خوردنی تیل درآمد کرنے والا دنیا کا چوتھا بڑا ملک بن چکا ہے۔ رواں مالی سال کے پہلے دس مہینوں میں تین ارب 31کروڑ ڈالر کا خوردنی تیل درآمد کیا جا چکا ہے۔ گزشتہ مالی سال کے دوران خوردنی تیل کی درآمد پر تین ارب 40کروڑ ڈالر صرف ہوئے جبکہ چھ سال کے دوران خوردنی تیل کا درآمدی بل تقریباً دوگنا ہو چکا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف زرِمبادلہ کے ذخائر پر شدید دباؤ ڈال رہی بلکہ ہماری زرعی پالیسیوں کی کمزوری کو بھی بے نقاب کرتی ہے۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور یہاں کے موسمی حالات بھی تیل دار فصلوں کی پیداوار کیلئے موزوں ہیں مگر اسکے باوجود ملکی ضرورت کا صرف 15 فیصد خوردنی تیل مقامی سطح پر پیدا کیا جا رہا ہے۔

یہ صورتحال اس امر کا ثبوت ہے کہ زرعی شعبے کو قومی معیشت کی بنیاد بنانے کے دعوؤں کے باوجود اس کی سمت درست انداز میں متعین نہیں کی جا سکی۔ اگرچہ حکومت نے 2035ء تک خوردنی تیل کی ضروریات کا 70فیصد مقامی سطح پر پیدا کرنے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے‘ مگر محض اعلانات سے یہ خواب حقیقت میں تبدیل نہیں ہو سکتا۔ اس کیلئے عملی اقدامات‘ مستقل مزاجی اور مربوط زرعی حکمت عملی ناگزیر ہے۔ اگر حکومت واقعی خوردنی تیل کی درآمدات میں کمی چاہتی ہے تو اسے سورج مکھی‘ کینولا ‘ سویا بین اور دیگر تیل دار فصلوں کی کاشت کو قومی ترجیح بنانا ہو گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>قیامت جو سوشل میڈیا ڈھا رہا ہے(محمد اظہارالحق)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-05-26/52014/80897101</link><pubDate>Tue, 26 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-05-26/52014/80897101</guid><description>ہمارے ایک دوست ہیں شہاب ہاشمی۔ پاکستان نیوی کے بلند منصب سے ریٹائر ہوئے۔ کچھ عرصہ فرانس میں رہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد اس حوالے سے انہوں نے ایک کتاب لکھی جس کا عنوان ہے &#39;&#39;آنکھوں دیکھا جھوٹ‘‘۔ یوں تو ساری کتاب ہی گدگدی کرنے والی ہے مگر ایک فقرہ بھولتا نہیں‘ جو کچھ اس طرح کا ہے کہ فرانس میں کوئی گاڑی ہارن نہیں بجاتی مگر جب بھی ہارن بجا کسی پاکستانی پر ہی بجا۔ یہ فقرہ آج پھر یوں یاد آ رہا ہے کہ مغرب نے جو جو ایجادات کیں‘ ان کے فائدے بھی ہیں مگر نقصانات جتنے بھی ہیں وہ پاکستان ہی میں ظاہر ہوئے۔ لاؤڈ سپیکر کی مثال لے لیجیے۔ کسی اور مسلم ملک میں لاؤڈ سپیکر اس طرح شتر بے مہار نہیں ثابت ہوا جس طرح پاکستان میں ہوا ہے۔ تفصیل اس کی ہم سب کو معلوم ہے۔ انٹرنیٹ اور یوٹیوب کے حوالے سے ہمارے ملک کو جو اعزاز بخشا گیا ہے اس پر سینہ کوبی کرنے کو جی چاہتا ہے۔ وہ یہ کہ نامناسب مواد دیکھنے میں پاکستان کا پہلا نمبر ہے۔ ہمارے اس انداز پر بھی فدا ہو نے کو جی چاہتا ہے کہ شروع میں تو ہم اکثر‘ نئی ایجاد کو &#39;&#39;نظریاتی‘‘ بنیاد پر رد کرتے ہیں پھر کچھ عرصہ بعد‘ اسے یوں اپناتے ہیں جیسے یہ صرف ہمارے لیے وجود میں لائی گئی ہے۔ &#39;مردہ بولے نہیں‘ بولے تو کفن پھاڑے‘ والا معاملہ ہو جاتا ہے۔سوشل میڈیا کے فوائد بھی یقینا ہیں مگر اس کے جو منفی پہلو ہیں انہوں نے ہمارے معاشرے کو تار تار کر دیا ہے۔ مہلک ترین نقصان اس کا یہ ہوا ہے کہ مسلکی اور فقہی اختلافات پر جو بحثیں صرف اہلِ علم تک محدود تھیں وہ اب گلیوں کے تھڑوں پر آ گئی ہیں۔ مذہبی جلسوں میں بھی وہی لوگ جاتے تھے جنہیں واعظین کی تقریروں میں دلچسپی ہوتی تھی۔ سوشل میڈیا نے یہ ساری حدیں توڑ دی ہیں۔ اینٹیں ڈھونے والے مزدور سے لے کر رکشا ڈرائیور تک ہر کوئی ایسا مواد فارورڈ کر رہا ہے جس میں مسلک کی بنیاد پر زہرِ ہلاہل بھرا ہوا ہے۔ خود ساختہ روایات کو مقدس ناموں سے منسوب کیا جا رہا ہے۔ واعظین کی تو جیسے چاندی ہو گئی ہے۔ اختلافات بھی پھیلا رہے ہیں اور ڈالر بھی سمیٹ رہے ہیں۔ کسی کا سارا زور اس بات پر ہے کہ زیادہ سے زیادہ شادیاں کرو اور مسلمانوں کی آبادی بڑھاؤ۔ ساتھ طریقہ واردات بھی بتایا جاتا ہے‘ مثلاً پہلے جھوٹا اعلان کرو کہ میں نے دوسری (یا تیسری) شادی کر رکھی ہے۔ اس پر ظاہر ہے کہ طوفان اُٹھے گا۔ اگر طوفان اس قدر شدید ہے کہ سنبھال نہیں سکو گے تو شادی نہ کرو لیکن اگر طوفان سنبھل جاتا ہے تو پھر شادی کر لو۔ دوسرے لفظوں میں جھوٹ بولنے اور دھوکا دینے کی باقاعدہ تعلیم دی جا رہی ہے وہ بھی مذہب کے نام پر!! اسی طرح ایک یوٹیوبر حضرت فخر سے کہتے ہیں کہ ہم تو بات ہی اختلافی مسائل پر کرتے ہیں۔ گویا &#39;&#39;فی سبیل اللہ فساد‘‘ والی بات پر مُہرِ تصدیق ثبت کر دی۔ معاشرے کو باقاعدہ تقسیم کیا جا رہا ہے اور اسے کارنامے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ فراغت اور نکماپن اس ملک میں اتنا ہے کہ ان مسلکی اور فقہی اختلافات کو ہوا دینے والے یوٹیوبر حضرات کو سننے والے لاکھوں میں ہیں۔ لوگ کام کرنے کے بجائے ایسا مواد سننے اور پھیلانے پر لگے رہیں گے تو ملک میں ترقی خاک ہو گی؟دوسرا نقصان سوشل میڈیا کا‘ جو معاشرے کو تاخت وتاراج کر رہا ہے‘ یہ ہے کہ جرائم اور ناجائز تعلقات کی خبریں اور تفصیلات گھر گھر پہنچ رہی ہیں اور ایک ایک شرمناک واقعہ کی تفصیلات ہفتوں‘ اور بعض دفعہ مہینوں لوگوں کے کانوں میں انڈیلی جاتی ہیں۔ جس قسم کے واقعات کی خبریں پہلے شرفا بہو بیٹیوں سے چھپاتے تھے اب ببانگِ دہل سنائی جا رہی ہیں۔ اب ایکٹریس اور (ن) لیگی ایم پی اے کا جو بکھیڑا ہے اس پر وی لاگرز نے کیا کیا دکان چمکائی ہے! دو سو پچاس وی لاگ تو اس موضوع پر میں نے خود گِنے ہیں‘ اس کے بعد میری ہمت جواب دے گئی۔ چسکے لے لے کر درست اور غلط تفصیلات بیان کی جا رہی ہیں۔ جگالی کی جا رہی ہے۔ اچھے بھلے بظاہر متین وی لاگرز نے بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے۔ چند بہت ہی سنجیدہ وی لاگرز کو (جو بہت کم تعداد میں ہیں) چھوڑ کر‘ وی لاگرز کی اکثریت کسی قسم کی مقصدیت سے عاری ہے۔ یہ دکانداری ہے‘ اور بھائی! دکانداری کا واحد مقصد مال کی فروخت اور منافع کی کثرت ہے۔ پاکستان میں تو ویسے بھی تاجر مال کا نقص بتانے کے روادار کبھی نہیں رہے۔ آپ اس ملک کی حالت پر آہیں بھرنے کے علاوہ کر بھی کیا سکتے ہیں جہاں ایکٹریس اور ایم پی اے کے متعلق سینکڑوں وی لاگ گردش کر رہے ہیں اور دبی زبان میں اور اشاروں اشاروں میں ایسے ایسے بے حیا سوالات اٹھائے جا رہے ہیں جن کا جواب‘ ایک زمانے میں گھر کی چار دیواری میں دینا یا سننا ناممکن تھا۔ ظاہر ہے یہاں بھی ان کا ذکر کرنا کم از کم اس کالم نگار کیلئے ممکن نہیں! یہ بات اور بھی حیران کن ہے کہ ایم پی اے صاحب کا ماضی‘ مبینہ طور پر گردوں کے ناجائز کاروبار سے مزین ہے۔ عمران خان سے لے کر پنجاب کی وزیراعلیٰ اور ملک کے وزیراعظم تک سب کے ساتھ ان کی تصویریں سوشل میڈیا پر گردش میں ہیں۔ سروے کیا جائے تو لمحۂ موجود میں ایکٹریس اور ایم پی اے کی شہرت آسمان پر ہے۔ نواب مصطفی خان شیفتہؔ کیا غضب کا شعر کہہ گئے:ہم طالبِ شہرت ہیں ہمیں ننگ سے کیا کامبدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گاپھر پنکی کا معاملہ لے لیجیے۔ کراچی کے ساحل سے طوفان اٹھا جس نے پورے ملک کو اپنی بے برکت آغوش میں لے لیا۔ وی لاگرز کی ایک بار پھر پانچوں گھی میں اور سر کڑاہی میں تھا۔ گھر گھر‘ دکان دکان‘ محفل محفل پنکی کا تذکرہ تھا۔ اس کی بہادری‘ اس کے اعصاب کی مضبوطی‘ اس کی چالبازیاں‘ اس کا نیٹ ورک‘ اس کی پی آر ان تمام &#39;&#39;خوبیوں‘‘ کا ذکر خوب خوب ہوا۔ کم از کم جرائم پیشہ افراد کی وہ ضرور آئیڈیل بن گئی ہو گی۔ قدرت شکر خورے کو شکر ہی دیتی ہے۔ سوشل میڈیا کے سورماؤں کو ایک کے بعد ایک گرم موضوع ایسا مل ہی جاتا ہے جس سے بھاپ اُٹھ رہی ہوتی ہے۔ رہا سوسائٹی کے فیبرک کا لِیر لِیر ہو جانا‘ تو ہوتا رہے۔ ڈالر کی برسات ہو رہی ہے تو اس کے مقابلے میں اقدار کی کیا حیثیت ہے! میری بلا سے بُوم رہے یا ہما رہے!ادھر سے ٹی وی ڈرامے خاندانی نظام کی اینٹ سے اینٹ بجا رہے ہیں۔ محبت کی شادی‘ طلاق‘ دوسری شادی‘ شادی کے بعد معاشقے‘ ٹوٹے ہوئے کنبے‘ دو پاٹوں کے بیچ پِستے بچے‘ ساس‘ بہو‘ دیورانی کی سازشیں‘ بس یہی وہ دائرہ ہے جس کے اندر ہمارے ڈرامے گھوم رہے ہیں۔ پرائیویٹ پروڈکشن کا مقصد صرف اور صرف پیسہ کمانا ہے۔ پڑوس کے ملک میں ایسے ایسے ڈرامے بنے ہیں کہ رشک آتا ہے۔ گلزار کی تخلیق &#39;&#39;غالب‘‘ ہی لے لیجیے۔ کتنا عظیم الشان کام ہے۔ غالب کو اُن لوگوں سے بھی روشناس کرا دیا جن کا شاعری اور ادب سے دور دور کا واسطہ نہ تھا۔ کیا زندہ جاوید کارنامہ ہے۔ جتنی بار دیکھیے‘ نیا لگتا ہے۔ (ہم میں سے اکثر کو تو یہ بھی نہیں معلوم کہ گلزار دینہ کے ہیں) ٹی وی سیریز &#39;&#39;کہکشاں‘‘ کا تو جواب ہی نہیں۔ اس میں چھ شعرا کی زندگی اور شاعری کا تذکرہ ڈرامے کی صورت میں کیا گیا ہے۔ فراق گورکھپوری‘ حسرت موہانی‘ مخدوم محی الدین‘ جگر مراد آبادی ‘ جوش ملیح آبادی اور مجاز لکھنوی! کُل اٹھارہ ایپی سوڈ ہیں۔ ہر ایپی سوڈ میں کمال کی کشش‘ گہرائی اور تاثیر ہے۔ ادھر ہم ٹی وی کو رو رہے تھے کہ سوشل میڈیا نے للکار کر کہا:پاپوش کی کیا فکر ہے دستار سنبھالوپایاب ہے جو موج‘ گزر جائے گی سر سے</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_57182973.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سرکار کا سونا اور جاگنا(خالد مسعود خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-05-26/52015/59956346</link><pubDate>Tue, 26 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-05-26/52015/59956346</guid><description>گزشتہ سال سرکار نے 3900روپے فی من گندم خریدنے کا اعلان تو کر دیا لیکن جب فصل کٹی تو علم ہوا کہ 3900روپے فی من گندم کی خریداری کا اعلان کرنے والی حکومت پنجاب کے پاس اپنی دیگر گوناگوں مصروفیات کی بنا پر گندم کی خریداری جیسا عامیانہ کام کرنے کیلئے فرصت نہیں ہے۔ کاشتکار کا المیہ یہ ہے کہ نہ تو اُس کے پاس سٹوریج کا کوئی باقاعدہ انتظام ہے اور نہ ہی وہ اپنی فصل کو کھلے کھیت میں موسم کے حوالے کر سکتا ہے۔ سرکار نے جیسے ہی خریداری کے وعدے سے ہاتھ کھینچا‘ فلور ملز مالکان‘ آڑھتی‘ ذخیرہ اندوز اور انویسٹر میدانِ عمل میں کود پڑے۔ پنجابی کی ایک کہاوت ہے &#39;&#39;چوراں دے کپڑے تے ڈانگاں دے گز‘‘ یعنی کپڑا چوری شدہ ہو تو خریدے والا اس کی پیمائش اپنے خود ساختہ گزوں میں کرتا ہے۔ کھیت میں پڑی لاوارث گندم کی خریداری کیلئے مارکیٹ میں موجود لٹیرے خریداروں نے ایکا کر لیا۔ گندم کا ریٹ گر کر 2000روپے من تک آ گیا۔ سیزن کے اختتام پر حساب کیا تو معلوم ہوا کہ کاشتکار کو اپنی فصل پر اوسطاً 2200روپے من ملے۔ اس قیمت فروخت پر کاشتکار کی لاگت بھی پوری نہ ہوئی۔ یہ ان کاشتکاروں کی بات ہو رہی ہے جنہوں نے گندم اپنی زمین پر کاشت کی تھی جن کاشتکاروں نے زمین ٹھیکے پر لے کر گندم کاشت کی تھی اُن کا نقصان ناقابلِ برداشت تھا۔ گندم کے کاشتکار کے لٹنے پر حکومتی بزرجمہروں نے خوشخبری سنائی کہ گندم کی کم قیمت پر خریداری سے کاشتکار تو متاثر ہوا ہے لیکن سستی گندم کی خریداری کے مثبت اثرات سے پورا ملک فائدہ اٹھائے گا اور عوام کو سستا آٹا دستیاب ہوگا۔ ویسے تو یہ تبصرہ ہی نہایت دلدوز‘ نامعقول اور احمقانہ تھا تاہم تھوڑے ہی عرصے کے بعد یہ دعویٰ بھی ہوا ہو گیا۔ کاشتکار سے اونے پونے داموں خریدی گئی گندم ملز مالکان‘ آڑھتیوں‘ ذخیرہ اندوزوں اور سرمایہ کاروں کے گوداموں سے پسائی کیلئے نکلی تو اس کی قیمت چار ہزار روپے فی من کے لگ بھگ ہو گئی۔ یعنی کاشتکار سے دو ہزار روپے فی من خریدی گئی گندم چار ہزار روپے من اور اس سے تیار ہونے والا آٹا جب بازار میں آیا تب اس کی قیمت پانچ ہزار روپے فی من سے بھی زیادہ ہو چکی تھی۔ یعنی نہ کاشتکار کو اس کی محنت کا معاوضہ ملا اور نہ ہی عوام کو سستا آٹا میسر آیا۔ البتہ گندم کی ذخیرہ اندوزی کرنے والے لوگوں کو چند ہی ماہ میں لگ بھگ دو ہزار روپے فی من کا نفع ہو گیا۔اس سال سرکار نے گندم کی خریداری وغیرہ سے اپنا پلہ صاف چھڑاتے ہوئے ایک نیا نظام وضع کیا۔ کیونکہ اب موجودہ حکومت ہر معاملے میں ہائبرڈ نظام کی دلی اور دماغی طور پر قائل ہو چکی ہے اس لیے انہوں نے ہر مسئلے کا حل ہائبرڈ نظام میں ڈھونڈ لیا ہے۔ ماضی کے برعکس پنجاب حکومت نے اس سال کاشتکار سے گندم خریدنے کا ٹنٹنا ہی سرے سے ختم کر دیا۔ پہلے صوبائی حکومت پنجاب فوڈ ڈپارٹمنٹ اور وفاقی حکومت پاسکو کے ذریعے گندم کی امدادی قیمت پر خریداری کیلئے مارکیٹ میں آ جاتی تھیں۔ سرکاری ادارے گو کہ ساری گندم نہیں خریدتے تھے‘ تاہم سب سے بڑے خریدار ہونے کی وجہ سے مارکیٹ لیڈر ہوتے تھے اور ان کی جانب سے امدادی قیمت پر خریداری کی وجہ سے مارکیٹ میں گندم کی قیمت کسی حد تک مستحکم رہتی تھی۔ مقابلے کی فضا میں گندم کی خرید کا کم از کم ریٹ طے ہو جاتا تھا اور جب تک صوبائی اور وفاقی محکمے مارکیٹ میں موجود رہتے تھے ملز مالکان‘ آڑھتی‘ پرائیویٹ انویسٹر اور بیوپاری انکی پیروی کرنے پر مجبور تھے۔ گزشتہ سال اُن کو کھلی چھوٹ مل گئی اور گندم کی قیمت کو مارکیٹ میں مستحکم رکھنے والے میکانزم کی غیر موجودگی نے کاشتکاروں کا دھڑن تختہ کر دیا۔ یہ تو مختصراً گزشتہ سال کی واردات تھی اب ہم ذرا اس سال کا جائزہ لیتے ہیں۔اٹھارہویں ترمیم کو بہانہ بناتے ہوئے‘ جس کے تحت زراعت اب وفاقی نہیں صوبائی معاملہ ہے‘ حکومت نے پاسکو کا پکا بندوبست کرتے ہوئے‘ بستر ہی لپیٹ دیا۔ باقی بچے ہوئے پنجاب فوڈ ڈپارٹمنٹ نے جو ملک بھر میں گندم کا سب سے بڑا خریدار ہوتا تھا‘ امسال خود گندم خریدنے کے بجائے 11 یا 12 پرائیویٹ پارٹیوں کو اس کام کا ٹھیکہ یا اجازت دے دی۔ ان پرائیویٹ پارٹیوں کو سہولت فراہم کرتے ہوئے پنجاب حکومت نے فوڈ ڈپارٹمنٹ کے گندم ذخیرہ کرنے والے تمام گودام مفت الاٹ کر دیے۔ مزید برآں انہیں گندم کی خریداری کیلئے بار دانے کی مفت فراہمی جیسی سہولت بھی عطا کر دی۔ گزشتہ سال کی نسبت اس سال دیگر تمام اشیائے صرف کی طرح گندم کے پیداواری مداخل کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ ہو چکا تھا لیکن حکومت نے‘ جو اَب خود خریدار نہیں تھی‘ اپنے منتخب کردہ پرائیویٹ خریداروں کو فائدہ پہنچانے کی غرض سے گندم کا ریٹ 3500 روپے فی 40 کلوگرام مقرر کر دیا جو پچھلے سال کی قیمت سے 400 روپے کم تھا۔ صورتحال یہ ہے کہ سندھ میں گندم کی اوسط پیداوار گزشتہ سال کی نسبت کچھ بہتر ہے‘ پنجاب میں بھی بالکل آخری دنوں میں جنوبی پنجاب میں ہونے والی تباہ کن ژالہ باری اور بارشوں میں گندم کی فصل کو کافی نقصان پہنچایا‘ تاہم دیگر علاقوں میں بہتر اوسط پیداوار کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ گندم کی کل ملکی پیداوار میں بہت زیادہ کمی نہیں آئی۔ ابھی تک کل ملکی پیداوار کے حتمی اعدادو شمار سامنے نہیں آئے تاہم فصلات کے بارے میں بہتر علم رکھنے والے ایک دوست کا خیال ہے کہ امسال گندم کی پیداوار کم وبیش گزشتہ سال جتنی ہی ہوئی ہے۔گزشتہ سال گندم کے کاشتکار کو سرکار نے بیچ منجھدار بے آسرا چھوڑ دیا۔ اس کسمپرسی کے عالم میں آڑھتیوں‘ انویسٹروں‘ ملز مالکان اور ذخیرہ اندوزوں نے پہلے کاشتکار کو اور بعد ازاں عوام کو جی بھر کر لوٹا۔ اس سال سرکار نے گندم کی قیمتِ خرید 3500 روپے فی چالیس کلو گرام مقرر کر دی۔ اندازہ لگائیں کہ گزشتہ صرف ایک سال میں پٹرول اور دیگر اشیائے صرف بشمول زرعی مداخل کے‘ تقریباً ہر چیز کی قیمت دو گنا نہیں تو ڈیڑھ گنا بڑھ چکی ہے مگر سرکار نے گندم کی قیمت گزشتہ سال کی نسبت دس فیصد کم مقرر کر دی۔ بارہ تیرہ ارب روپے جہازپر خرچ کئے جاسکتے ہیں مگرایسے معاملات میں بچت یاد آجاتی ہے۔اس سال ان چنیدہ بااختیار کمپنیوں کو گندم کے کاشتکار کے استحصال کا سرکاری اجازت نامہ عطا کرتے ہوئے گندم کے کاشتکاروں پر چھوڑ دیا گیا۔ تاہم ان سرکاری مقرر کردہ پرائیویٹ کمپنیوں کے متحرک ہونے سے پہلے ہی فریق ثانی یعنی آڑھتی‘ ملز مالکان‘ انویسٹرز اور گندم ذخیرہ کرنے والے جیب میں نوٹ ڈال کر مارکیٹ میں آگئے اور گندم کا مارکیٹ ریٹ سرکاری ریٹ سے اوپر چلا گیا۔ اس مافیا کے میدان میں آنے اور گندم خریدنے میں سبقت لے جانے کے کئی دوررس منفی نتائج کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے تاہم اس سے کم از کم کاشتکار کو تو چار پیسے زیادہ مل رہے تھے۔ اپنے نامعقول مقرر کردہ ریٹ پر خریداری میں ناکامی پر مارکیٹ بیسڈ اکانومی کی دعویدار سرکار کے پیٹ میں اپنی مقرر کردہ پرائیویٹ کمپنیوں کے درد کا مروڑ اٹھنا شروع ہو گیا اور اس نے کاشتکار سے زیادہ قیمت میں خرید کردہ گندم کی پکڑ دھکڑ کرتے ہوئے اس کی نقل وحمل کرنے والے ٹرکوں کو پکڑنا اور ایسی خرید کردہ گندم کے گوداموں پر چھاپے مارنے شروع کر دیے۔گزشتہ سال جب یہی مافیا کاشتکار کی گندم 3900 کے بجائے 2200 روپے میں خرید کر لُوٹ رہا تھا سرکار سب کچھ دیکھ کر خوش اور مطمئن تھی۔ اب جب کاشتکار کو گندم کا ریٹ 3500 کے بجائے 3800 ملنا شروع ہوا تو سرکار متحرک ہو گئی۔ المیہ یہ ہے کہ جاگنے کا وقت ہو تو سرکار سو جاتی ہے اور سونے کے وقت پر بلاوجہ جاگ پڑتی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90500073.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>آج کا عظیم دن(ڈاکٹر حسین احمد پراچہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-05-26/52016/41900076</link><pubDate>Tue, 26 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-05-26/52016/41900076</guid><description>ایسا حسنِ اتفاق شاذ و نادر ہی ہوتا ہے کہ چاند کے اعتبار سے سارے عالمِ اسلام میں عیدالفطر یا عیدالاضحی ایک ہی دن ہو۔ اس بار ساری دنیا میں ذوالحج کی تاریخیں یکساں ہیں۔ لہٰذا 27 مئی کو سارے جہاں میں عیدالاضحی منائی جائے گی۔ آج 26 مئی کو میدانِ عرفات کی فضائیں لبیک اللھم لبیک لبیک لاشریک لک لبیک کی صداؤں سے گونج رہی ہیں۔ حاضر ہوں اے اللہ میں حاضر ہوں‘ تیرا کوئی شریک نہیں میں حاضر ہوں۔ اس صدائے حاضری کی لذت اور کشش ایسی ہے کہ جسے محسوس تو کیا جا سکتا ہے مگر بیان نہیں کیا جا سکتا۔ اللہ نے مجھے تقریباً تین چار دہائیاں قبل بارہا حج کی سعادت بخشی تھی۔ تب ارضِ مقدس میں مقیم لوگوں کو اپنی گاڑیوں کے ذریعے حج کرنے کی سہولت حاصل تھی۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا کہ لبیک اللھم لبیک کے نغمۂ بے خودی میں کچھ ایسی کشش ہے کہ آج بھی حجاج کرام کی کو سکرین پر میدانِ عرفات میں یہ صدائے حاضری و حضوری بلند کرتے سنتا ہوں تو دلِ بیتاب تڑپ اٹھتا ہے اور جی چاہتا ہے کہ اُڑ کر وہاں پہنچوں اور لبیک اللھم لبیک کی گونج میں اپنی صدا بھی شامل کر دوں۔ عرفات میں ہی جبل الرحمت ہے جہاں کھڑے ہو کر محسنِ انسانیتﷺ نے آخری حج کے موقع پر خطبۃ الوداع پیش کیا تھا۔ حج کے منظر نامے کی ایک جھلک دیکھ لیجیے۔ اس بار فریضۂ حج کی ادائیگی کیلئے باہر سے تقریباً 16 لاکھ عازمین حج حاضر ہوئے ہیں جبکہ تقریباً دو لاکھ کی تعداد مقامی سعودی اور وہاں مقیم غیرملکی باشندوں کی ہے۔ اس بار حجاج کے تحفظ کیلئے سعودی وزارتِ دفاع نے خصوصی انتظامات کیے ہیں۔ خانۂ کعبہ سے وادیٔ منیٰ کا فاصلہ تقریباً آٹھ کلو میٹر ہے۔ منیٰ کو عارضی خیمہ بستی بھی کہا جاتا ہے۔ یہاں حجاج کرام آٹھ ذوالحج کے روز پہنچتے اور وہاں شب بھر قیام کرتے اور نو ذوالحج کے روز علی الصباح میدانِ عرفات کیلئے روانہ ہو جاتے ہیں۔ منیٰ سے عرفات کا فاصلہ تقریباً بارہ کلو میٹر ہے۔ وہاں سے نو ذوالحج کے روز حجاج کرام غروبِ آفتاب کے فوراً بعد میدانِ مزدلفہ کیلئے واپسی اختیار کرتے ہیں۔ عرفات سے مزدلفہ تقریباً نو کلو میٹر دور ہے۔ 10ذوالحج کو حجاج کرام مزدلفہ سے واپس منیٰ آ جاتے ہیں جو وہاں سے تقریباً پانچ کلو میٹر کی مسافت پر واقع ہے۔ آج وحدتِ ملت کا پُرکیف نظارہ ایک خاص لطف دے رہا ہے۔ مسلمانانِ عالم دہائیوں سے نہیں بلکہ کئی صدیوں سے اتحادِ امت کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں اور اس کیلئے نغمے بھی الاپ رہے ہیں۔ مرشد اقبال نے بڑے جذب و سوز سے کہا تھا:ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیےنیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغراس وحدتِ امت کیلئے مختلف ادوار میں کوششیں ہوئی ہیں۔ مگر ہر بار ایسا ہی محسوس ہوا کہ بقول فردوسی: نشستند و گفتند و برخاستند سے بات آگے نہیں بڑھی۔ گزشتہ ڈیڑھ دو برس سے صہیونی اسرائیل نے غزہ کے فلسطینیوں پر بم برسائے‘ ہزاروں کو شہید کیا اور لاکھوں بچوں کو خاک و خون میں تڑپایا۔دوسری طرف امریکہ اور اسرائیل نے ایرانیوں پر شب و روز بمباری کی۔ غیروں نے سازشوں کے ذریعے مسلمانوں کو آپس میں لڑانے اور مسالک کے اختلافات کو ہوا دے کر باہم دست و گریباں کرانے کی کوششیں بھی کیں۔ مگر اس بار ایران کے شیعہ اور خلیج کے سنی ان سازشوں اور سازشیوں کو اچھی طرح پہچان گئے اور صہیونیوں کے دام میں گرفتار ہونے سے محفوظ رہے۔ پاکستان نے بھی رات دن کی بھاگ دوڑ سے وحدتِ امت میں کسی طرح کی دراڑیں نہیں پڑنے دیں۔ پاکستان کے عسکری اور سیاسی قائدین کی شٹل ڈپلومیسی‘ ایران کے متعدد دورے اور دوطرفہ ملاقاتیں رنگ لے آئی ہیں‘ تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کے صبح شام بدلتے ہوئے مزاج کے بارے میں حتمی طور پر کچھ کہنا مشکل ہے۔ وقوفِ عرفات حج کا رکنِ اعظم ہے۔ یقینا میدانِ عرفات میں حجاج کرام خطے میں امن کے قیام اور امریکہ ایران معاہدے کی کامیابی کیلئے بھی دست بدعا ہوں گے۔ اگر توقعات کے مطابق معاہدے کے بعد سعودی عرب‘ ایران‘ پاکستان اور ترکیہ کا عملی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو یہ اتحادِ امتِ مسلمہ کی طرف بہت بڑی پیشرفت ہوگا۔ آج میدانِ عرفات میں دنیا بھر کی قوموں سے تعلق رکھنے والوں کا ایک عظیم اجتماع حیران کن ہے۔ لاکھوں حجاج کرام یکجہتی کے ساتھ‘ ہم خیالی و ہم آہنگی کے ساتھ‘ پاک جذبات اور پاک اعمال کے ساتھ یکسو اور یک رُو ہو کر ربّ ذوالجلال کے سامنے سر بسجود ہیں۔ یقینا امتِ مسلمہ کا یہ عظیم الشان اجتماع اتحادِ امت اور امن و استقرار کیلئے گڑ گڑا کر دعائیں کرے گا تو ربِ کائنات اُن کی دعاؤں کو شرفِ قبولیت بخشے گا۔ نو ذوالحج دس ہجری کو محسنِ انسانیتﷺ نے میدانِ عرفات کے جبل الرحمت پر کھڑے ہو کر اپنے آخری خطبے میں انسانیت کا منشور پیش کیا تھا۔ اولادِ آدم کی مساواتِ انسانی کا اعلان کرتے ہوئے اللہ کے آخری نبیﷺ نے فرمایا کہ کسی عرب کو کسی عجمی پر کوئی فوقیت حاصل نہیں اور نہ کسی عجمی کو کسی عرب پر‘ نہ کالا گورے سے افضل ہے اور نہ گورا کالے سے۔ ہاں! بزرگی اور فضیلت کا کوئی معیار ہے تو وہ تقویٰ ہے۔ آپﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ انسان سارے ہی آدم کی اولاد ہیں اور آدم مٹی سے بنائے گئے۔ آپﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ لوگو! تمہارے خون و مال اور عزتیں ہمیشہ کیلئے ایک دوسرے پر قطعاً حرام کر دی گئی ہیں۔ اللہ کے رسولﷺ نے ریاست کے حقوق‘ قانون کی حکمرانی‘ اللہ کی طرف سے انسانوں پر عائد کردہ حقوق و فرائض اور ہر کسی کیلئے انصاف کے حق کا اعلان کیا۔ آج ایک بار پھر دنیا کی ایک بڑی طاقت عدل و انصاف‘ تہذیب و تمدن اور آسمانی و زمینی اخلاقیات کو پس پشت ڈال کر پتھر کے زمانے میں انسانیت کو دھکیلنے پر تلی ہوئی ہے۔ ایسے حالات میں کرہّ ارض کے دو ارب مسلمانوں پر یہ فریضہ عائد ہوتا ہے کہ وہ بڑی طاقتوں‘ عالمی عدالتوں‘ سیاست کے ایوانوں اور ساری دنیا کے انسانوں کو یہ باور کرائیں کہ تقریباً آج سے ساڑھے چودہ سو سال پہلے ہادیٔ اعظمﷺ نے انسانیت کے حقوق و فرائض متعین کئے تھے۔ آج امتِ مسلمہ کے حکمرانوں‘ دانشوروں‘ سفارتکاروں اور صحافیوں کا فرض ہے کہ وہ من مانی کرنے والے جابر حکمرانوں کو باور کرائیں کہ دوسرے ملکوں پر چڑھ دوڑنے اور وہاں کشت و خون کا بازار گرم کرنے کا ظالمانہ مشغلہ ختم کریں۔ مولانا سیّد ابوالاعلیٰ مودودی نے لکھا تھا اور بارہا یہ حقیقت اپنے خطبات میں بھی بیان کی تھی کہ حکیم و دانا خالق دو جہاں نے ایسا بے نظیر انتظام کر دیا ہے کہ ان شاء اللہ قیامت تک اسلام کی عالمگیر تحریک مٹ نہیں سکتی۔ دنیا کے حالات خواہ کتنے ہی بگڑ جائیں مگر یہ کعبہ کا مرکز اسلامی دنیا کے جسم میں کچھ اس طرح رکھ دیا گیا ہے کہ جب تک دل حرکت کرتا رہے‘ آدمی مر نہیں سکتا۔ خواہ بیماریوں سے جسم کتنا ہی زار و نزار ہو جائے مگر جب تک دل کا مرکز قائم ہو جسم بھی کام کرتا رہتا ہے۔ آج آپ ٹیلی ویژن پر بچشم خود نظارہ کریں گے کہ دنیا کے کونے کونے سے اپنے مرکز کی طرف آئے ہوئے مسلمانوں کے رنگ مختلف‘ اُن کی شکلیں مختلف‘ اُن کی زبانیں مختلف مگر اُن کا دو چادروں پر مشتمل ایک ہی یونیفارم ہے۔ سب کا ایک قبلہ اور سب اللہ اکبر کے حکم پر رکوع و سجود کرتے ہیں۔ آج تقریباً اٹھارہ لاکھ حجاج کرام اپنی جبین نیاز میں تڑپتے ہوئے سجدوں کو میدانِ عرفات کی مٹی کے ذریعے ربِ ذوالجلال کے دربار میں پیش کر رہے ہیں۔ آج یوم عرفہ ہے‘ امتِ مسلمہ کے سالانہ عظیم الشان اجتماع کا دن ہے۔ آج ربِ ذوالجلال کی شانِ کبریائی کا دن ہے۔ آج محمد مصطفیﷺ کے عرفات میں ارشاد کردہ خطبے کی ساری دنیا کو یاد دہانی کا دن ہے۔ آج عظیم دن ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_70033906.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>آئی ایم ایف پر انحصار کی وجوہات(شاہد کاردار)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-kardar-/2026-05-26/52017/65655184</link><pubDate>Tue, 26 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-kardar-/2026-05-26/52017/65655184</guid><description>ہر چند ماہ بعد پاکستانی حکام اور ان کے ہمنوا ایک گھسا پٹا نعرہ لگاتے ہیں کہ پاکستان کو کسی بھی طرح آئی ایم ایف کو چھوڑ دینا چاہیے۔ اس ہدف کو حاصل کرنے کی خاطر جو الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں وہ بھی لوگ کئی بار سُن چکے ہیں‘ یعنی برآمدات‘ پیداوار میں اضافہ‘ انسانی وسائل‘ ٹیکنالوجی‘ گورننس وغیرہ۔ ان الفاظ کو اس طرح پیش کیا جاتا ہے جیسے یہ مسئلے کا حل ہوں۔ گویا ان الفاظ سے آئی ایم ایف سے آزادی کا راستہ متعین ہو جائے گا۔ اس ساری گفتگو میں جو بات کبھی موجود نہیں ہوتی وہ یہ ہے کہ منزل تک پہنچنے کا راستہ کیا ہے‘ یعنی کس راستے پر چل کر منزل تک پہنچنا ہے؟ اس گفتگو میں ان ٹھوس پالیسی اقدامات یا ادارہ جاتی تبدیلیوں کا ذکر بہت ہی کم کیا جاتا ہے جن کی مدد سے اس مقصد کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔ یہ نعرہ لگانے والوں کی خواہشات ہی ان کا ہدف بن جاتی ہیں۔ ان نعروں کے جو نتائج نکلنے ہیں ان کو اصلاحات سمجھ لیا جاتا ہے اور اصلاحات کا عمل محض باتوں تک محدود رہ جاتا ہے۔اکثر یہ غلطی کی جاتی ہے کہ آئی ایم ایف کو چھوڑنے کے نام نہاد &#39;&#39;منصوبوں‘‘ میں اپنی خواہشات کو ہی طریقِ کار سمجھ لیا جاتا ہے۔ یہ کہنا کہ برآمدات بڑھنی چاہئیں کوئی پالیسی نہیں۔ یہ مطالبہ کرنا کہ اداروں کے درمیان بہتر ہم آہنگی ہونی چاہیے کوئی حکمتِ عملی نہیں۔ یہ تو مطلوبہ نتائج ہیں‘ طریقہ کار نہیں۔ اصل سوال زیادہ چبھتا ہوا ہے اور وہ یہ کہ کون کون سی مخصوص تبدیلیاں کی جائیں جو آنے والے دنوں میں ہمارا رویہ اور طرزِ عمل بدل دیں؟یہ الجھن‘ یہ کنفیوژن اتفاقی نہیں ہے۔ بات یہ نہیں کہ پاکستان اس لیے بار بار آئی ایم ایف کے دروازے پر جاتا ہے کہ اس کے پاس خیالات کی کمی ہے۔ بلکہ وہ اس کے پاس اس لیے جاتا ہے کہ اس کا معاشی نظام ہی ایسا ہے جس میں لازمی طور پر بیرونی ادائیگیوں کے توازن کا بحران پیدا ہوتا رہتا ہے۔ آئی ایم ایف پر انحصار کوئی ٹیکنیکل ناکامی نہیں ہے۔ یہ انحصار ایک مخصوص پولیٹکل اکانومی کا نتیجہ ہے۔ اس کی وجہ سے آئی ایم ایف پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ اس بات کی آسانی سے پیش گوئی کی جا سکتی ہے کہ آئی ایم ایف کے پاس جانا ہی پڑے گا کیونکہ پولیٹکل اکانومی کا مروجہ نظام حکومت کے ذریعے ناجائز مراعات لینے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے جبکہ معیشت میں نئے لوگوں‘ نئے خیالات کو آنے سے روکتا ہے۔ یہ پولیٹکل اکانومی نظام پر قابض طاقتور لوگوں کو محفوظ بناتی ہے‘ توانائی (بجلی‘ پٹرول‘ گیس) کی غیر حقیقی‘ مسخ شدہ قیمتیں مقرر کرتی ہے‘ برآمدات پر بالواسطہ ٹیکسوں کی بھرمار کرتی ہے اور قواعد وضوابط کی پابندی کے بجائے صوابدید اور من مانی پر انحصار کرتی ہے۔ اگر آئی ایم ایف کو چھوڑنا ہو تو محض اس سے آزادی کا نعرہ لگا کر اسے نہیں چھوڑ سکتے۔ اگر واقعی آئی ایم ایف پروگرامز سے نکلنا ہے تو اپنے گھر میں اس نظام کو تبدیل کرنا ہو گا جو بار بار وہ مالی خلا پیدا کرتا ہے جس کی وجہ سے بار بار آئی ایم ایف کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑتا ہے۔کسی ملک کو آئی ایم ایف کے پاس اس صورت میں جانا پڑتا ہے جب معیشت کے تین معاملات ایک ساتھ پیدا ہو جائیں: زرِ مبادلہ کی آمدنی بیرونی خلا کو پُر کرنے میں ناکام ہو جائے‘ بجٹ کے مالی خسارے نوٹ چھاپ کر یا سخت شرائط والے قرض لے کر پورے کیے جائیں اور معیشت پر اعتماد زمین بوس ہو جائے‘ جس کی وجہ سے ملک عالمی سرمایہ کی منڈیوں سے کٹ جائے۔ پاکستان بار بار اس صورتحال کا اس لیے شکار نہیں ہوتا کہ یہ اس کی بدقسمتی ہے بلکہ وجہ یہ ہے کہ پاکستان ایسی ریاست ہے جو پوری سرگرمی سے غلط رعایتوں کی ترغیبات دے کر (خصوصاً تجارت کے ذریعے) پیداواری صلاحیت اور معاشی نمو کو نیچے دھکیل دیتی ہے۔ اس کا نتیجہ ایسی معیشت کی شکل میں نکلتا ہے جو ساخت کے اعتبار سے کمزور ہے‘ جو وقتاً فوقتاً زرمبادلہ سے محروم ہو جاتی ہے اور اس پر اعتماد ختم ہو جاتا ہے۔ اس صورتحال سے نکلنے کا آغاز اس طرح ہو گا کہ ہم یہ وہم چھوڑ دیں کہ معیشت کو ٹھیک کرنے کیلئے صرف منصوبہ بندی ہی کافی ہے۔ بہت عرصہ ہو گیا کہ ہم نے یہ تصور کیا ہوا ہے کہ معاشی ترقی اور نمو پنج سالہ‘ دس سالہ منصوبوں‘ پراجیکٹس اور کانفرنسوں کے ذریعے حاصل کی جا سکتی ہے۔ اسی دوران اصل میں ہوتا یہ ہے کہ حقیقی معیشت لوٹ کھسوٹ پر مبنی ٹیکس کے نظام‘ صوابدیدی اجازت ناموں‘ مسخ شدہ قیمتوں (اصل قیمت کو بگاڑ کر) اور ریگولیشن کے بوجھ تلے دبتی چلی جاتی ہے۔ حکومت کا یہ طرزِ عمل اس بات کا عکاس ہے کہ ریاست کو مارکیٹ پر اعتماد نہیں اور اسے مبالغہ کی حد تک یہ یقین ہے کہ وہ معیشت کو خود سے چلانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔معاشی نمو صرف بہتر منصوبوں سے نہیں آتی۔ یہ تب ہوتی ہے جب کاروباری ادارے سرکاری اجازت ناموں کی بھیک کے بغیر کام شروع کر سکیں۔ اپنے کاروبار کو وسعت دے سکیں‘ اپنی بنائی ہوئی چیز کو برآمد کر سکیں‘ لوگوں کو ملازم رکھ سکیں اور سرمایہ کاری کر سکیں‘ یعنی مقابلہ پر مبنی ایک آزاد ماحول ہو‘ یقینی صورتحال ہو اور قواعد پر مبنی نظام ہو۔ سرکاری اجازت ناموں‘ ریگولیشن والے ماحول میں آئی ایم ایف پر انحصار ہی جنم لیتا ہے‘ اور یہی وہ چیز ہے جسے ٹھیک کرکے آئی ایم یف کو چھوڑا جا سکتا ہے۔اصلاح کا آغاز توانائی (بجلی اور گیس) کے شعبوں سے ہونا چاہیے کیونکہ یہی وہ شعبہ ہے جہاں ہر آئی ایم ایف پروگرام بالآخر ناکام ہو جاتا ہے۔ پاکستان میں توانائی کا بحران صلاحیت کا مسئلہ نہیں ہے۔ یہ پالیسی‘ قیمت طے کرنے اور نظم ونسق کی ناکامی کا معاملہ ہے۔ سرکاری نااہلی کی سزا صارفین اور ٹیکس دینے والوں کو توانائی کی غیر یقینی فراہمی اور مسخ شدہ (بگڑی ہوئی) قیمتوں کی صورت میں ملتی ہے۔ اس شعبے کو ٹکڑوں میں بٹے ہوئے تقریباً دو درجن ادارے کسی ہم آہنگی کے بغیر چلا رہے ہیں۔ اس شعبہ میں پالیسی بے ربط ہے‘ یعنی یقینی مقررہ منافع‘ بے معنی رعایتیں اور سیاسی فیصلے۔ یہ بے ربطگی اور کمزور مینجمنٹ قیمتوں کے ڈھانچے کو بگاڑتی اور سرکاری نااہلی کو تحفظ دیتی ہے۔ بجلی‘ گیس کی تقسیم کار کمپنیاں نقصانات اور چوری چکاری پر کسی کو جواب دہ نہیں۔اس عمل کے کیا نتائج نکلیں گے ان کی آسانی سے پیش گوئی کی جا سکتی ہے۔ سرمایہ کاری کے غلط اشاریے‘ کھپت میں کمی اور سولر انرجی کی گرتی ہوئی قیمت کے باعث صارفین کا سرکاری گرڈ کو تیزی سے چھوڑنا اور نہ ختم ہونے والا گردشی قرض جو بجٹ کے ایک نیم مالی خسارے کی طرح ہوتا ہے اور بالآخر مہنگائی‘ قرض یا آئی ایم ایف کی شرائط کی صورت اختیار کرلیتا ہے‘ اس کا حل نہ مزید رعایتیں ہیں نہ عارضی بیل آؤٹ پیکیجز۔ اس کا حل قواعد پر مبنی قیمتوں کا تعین ہے۔ شفافیت پر مبنی اور لاگت کے عکاس نرخ‘ خودکار رد وبدل کا میکانزم اور گورننس کے ایسے معاہدے جنہیں نافذ کیا جا سکے۔ غریبوں کو تحفظ دینا ہو تو انہیں براہ راست‘ ٹارگٹڈ سبسڈی دی جائے نہ کہ مسخ شدہ نرخ متعین کرکے جو پورے نظام کو دیوالیہ کر دیں۔ (اس مضمون میں ڈاکٹر ندیم الحق کی معاونت شامل تھی)</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_78012569.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>داخلی سلامتی کا منفرد ماڈل(رشید صافی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-05-26/52018/81049142</link><pubDate>Tue, 26 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-05-26/52018/81049142</guid><description>ساڑھے سات دہائیوں پر مشتمل پاک چین تعلقات میں یہ سوال بہت اہمیت کا حامل ہے کہ دو طرفہ تجارت میں پاکستان کا حصہ کیا ہے؟ سادہ الفاظ میں اسے یوں بیان کیا جا سکتا ہے کہ پاکستان چین سے درآمد تو بہت کچھ کرتا ہے مگر چین کو برآمد کیا کرتا ہے؟ اس سوال کے ضمن میں عام تاثر یہ ہے کہ ایک عالمی معاشی طاقت‘ جو پوری دنیا کو مصنوعات اور ٹیکنالوجی سپلائی کرتی ہے‘ اسے پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک سے بھلا کیا مل سکتا ہے۔ لیکن بین الاقوامی معاشیات کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ کوئی بھی ملک خواہ وہ کتنا ہی خودکفیل اور ترقی یافتہ کیوں نہ ہو‘ ہر چیز میں خودکفیل نہیں ہو سکتا اسے دوسرے ممالک سے کسی نہ کسی چیز کی ضرورت رہتی ہے۔ چین اپنی توانائی کی ضروریات کیلئے خلیج اور ایران پر انحصار کرتا ہے۔ اسی طرح اپنی ڈیڑھ ارب کے قریب آبادی کی غذائی ضروریات پوری کرنے کیلئے سالانہ تقریباً 100 ارب ڈالر کی زرعی اشیا درآمد کرتا ہے۔ پاکستان بہترین زرعی نظام‘ نہری نیٹ ورک اور زرخیز زمین کا حامل ملک ہے‘ جو اگر جدید خطوط پر استوار ہو تو چین کی وسیع زرعی ضروریات کو پورا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کے دورۂ چین میں اس سلسلے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ وزیراعظم نے پاک چین بزنس ٹو بزنس انویسٹمنٹ فورم سے خطاب میں اس سوال کا عملی جواب فراہم کیا ہے۔ حکومت نے اگلے پانچ سے سات برس میں چین کے ساتھ زرعی تجارت کا حجم 10ارب ڈالر سالانہ تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ وزیراعظم کے دورۂ چین کے دوران دونوں ملکوں کی نجی اور سرکاری کمپنیوں کے مابین سات ارب ڈالر سے زائد کے تجارتی معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط ہوئے ہیں۔ وزیراعظم نے چینی کمپنیوں کو اپنی صنعتیں پاکستان منتقل کرنے کی دعوت دی ہے اور کراچی میں چھ ہزار ایکڑ پر محیط ورلڈ کلاس سپیشل اکنامک زون کے قیام کا اعلان کیا ہے‘ جہاں سرمایہ کاروں کو وَن ونڈو آپریشن اور ریڈ کارپٹ ٹریٹمنٹ کے ذریعے بیورو کریٹک رکاوٹوں سے پاک ماحول فراہم کیا جائے گا۔ یہ اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان اب امداد یا قرضوں پر انحصار کرنے کے بجائے باہمی تجارتی فوائد کی بنیاد پر تعلقات استوار کر رہا ہے۔یہ حقیقت ہے کہ پاکستان میں تقریباً ہر دور میں حکومتوں نے فوری نوعیت کے بحرانوں سے نمٹنے کیلئے دوست ممالک اور عالمی مالیاتی اداروں سے قرضے لینے کی پالیسی اپنائی۔ مگر اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ملک بتدریج قرضوں کے ایسے جال میں پھنس گیا جہاں نئے قرضے پرانے قرضوں کی اقساط چکانے کیلئے لیے جانے لگے۔ اس پورے عمل میں یہ سٹریٹجک پلاننگ غائب رہی کہ ان قرضوں کو پیداواری شعبوں میں لگا کر کیسے لوٹایا جائے گا۔ تاہم موٹروے جیسے منصوبے ایک مثال ہیں جن کی تعمیر اگرچہ قرض سے ہوئی لیکن ان میں ٹول ٹیکس اور تجارتی سرگرمیوں کے ذریعے قرض اتارنے کا ایک خودکار اور پائیدار نظام موجود تھا۔ چند برسوں میں موٹروے نے نہ صرف اپنا قرض اتار دیا بلکہ آج یہ قومی اثاثہ اور معاشی محور بن چکی ہے کیونکہ بنیادی انفراسٹرکچر اور شاہراہوں کے نیٹ ورک کے بغیر کوئی بھی قوم ترقی کی منازل طے نہیں کر سکتی۔ اسی مائنڈ سیٹ کے تحت چین نے سی پیک کے تحت پاکستان کو ایسے طویل مدتی اور تزویراتی منصوبے دیے جو ملک کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں۔ گوادر پورٹ کو فعال اور کامیاب بنانے کیلئے ملک کے طول وعرض میں اقتصادی زونز کا ایک جال بچھایا جا رہا ہے۔ سی پیک کا پہلا مرحلہ بنیادی طور پر توانائی اور سڑکوں کے نیٹ ورک کی تعمیر پر مشتمل تھا جبکہ اس کا دوسرا مرحلہ صنعتی ترقی‘ زرعی جدت اور خصوصی اکنامک زونز کے قیام پر مرکوز ہے۔ یہ وہ کٹھن لیکن ناگزیر راستہ ہے جس پر چل کر پاکستان اقتصادی طور پر خودکفیل ہو سکتا ہے۔ قوموں کا مستقبل عارضی بیساکھیوں سے نہیں بلکہ طویل مدتی معاشی اصلاحات سے عبارت ہوتا ہے۔چین کی بے مثال معاشی اور شہری ترقی جہاں دنیا کیلئے حیران کن ہے وہاں اس کا داخلی سلامتی کا ماڈل ایسا شاہکار ہے جس کا اعتراف عالمی سطح پر بھی کیا جاتا ہے۔ ڈیڑھ ارب سے زائد آبادی پر مشتمل اتنے بڑے جغرافیائی خطے میں امن وامان قائم کرنا اور جرائم کی شرح کو تقریباً صفر تک لے آنا کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے۔ چین کا داخلی سلامتی کا ماڈل محض طاقت کے بے دریغ استعمال پر مبنی نہیں بلکہ یہ جدید ٹیکنالوجی‘ سماجی نظم وضبط اور عوامی بہبود کا مربوط امتزاج ہے۔ چین کے داخلی سلامتی ماڈل کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اول‘ سمارٹ اور تکنیکی نگرانی۔ چین نے دنیا کا سب سے ایڈوانسڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور کیمروں کا نیٹ ورک قائم کیا ہے۔ ہر گلی‘ چوک اور عوامی مقامات پر نصب یہ کیمرے نہ صرف چہروں کی شناخت کی صلاحیت رکھتے ہیں بلکہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کو جرم کے وقوع پذیر ہونے سے پہلے پکڑ لیتے ہیں۔ دوم‘ کمیونٹی پر مبنی پولیسنگ۔ چینی شہروں اور قصبوں کو چھوٹے چھوٹے گرڈز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ہر گرڈ میں مقامی نمائندے اور سکیورٹی اہلکار موجود ہوتے ہیں جو اپنے علاقے کے لوگوں کے روزمرہ مسائل‘ تنازعات اور کسی بھی غیر معمولی تبدیلی پر نظر رکھتے ہیں۔ اس سے جرائم پیشہ عناصر کو چھپنے کی جگہ نہیں ملتی۔ سوم‘ معاشی انصاف اور قانون کی بالادستی۔ چین کی ترقی کا سب سے بڑا راز یہ ہے کہ وہاں قانون سب کیلئے برابر ہے۔ چاہے کوئی بڑا سرمایہ دار ہو‘ بیورو کریٹ ہو یا عام شہری۔ قانون کی خلاف ورزی پر سزا یقینی ہے۔ اس کے ساتھ ہی چین نے غربت کا خاتمہ کر کے جرائم کی سب سے بڑی وجہ یعنی معاشی مجبوری کو جڑ سے ختم کر دیا ہے۔ جب لوگوں کے پاس روزگار اور بنیادی سہولتیں موجود ہوں تو جرائم کی طرف رجحان خود بخود کم ہو جاتا ہے۔چین کے اس سکیورٹی ماڈل کی کامیابی کا سب سے بڑا ثبوت وہاں کے شہریوں اور غیر ملکی سیاحوں کا غیر معمولی سطح کا اطمینان ہے۔ چین کا دورہ کرنے والا کوئی بھی شخص اس بات کی گواہی دے سکتا ہے کہ وہاں خواتین‘ بچے اور غیر ملکی سیاح رات کے کسی بھی پہر‘ کسی بھی شہر کی سڑکوں پر بلا خوف وخطر گھوم سکتے ہیں۔ سیاحوں کے اطمینان کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اگر کوئی شخص چین کے کسی ریلوے سٹیشن‘ پارک یا ہوٹل میں اپنا قیمتی سامان‘ لیپ ٹاپ یا پرس بھول جائے تو وہ گھنٹوں بعد بھی واپس جا کر اسے اسی حالت میں وہاں پا ئے گا۔ لوگوں کو یہ یقین ہوتا ہے کہ کوئی ان کا سامان نہیں چرائے گا کیونکہ چوری کرنے والے کا پکڑا جانا اور سخت سزا پانا تقریباً سو فیصد یقینی ہوتا ہے۔ ڈیڑھ ارب آبادی کے ملک میں کاروبار کیلئے ایسا پُرامن اور سازگار ماحول فراہم کرنا ہی وہ بنیادی وجہ ہے جس نے چین کو دنیا کی سب سے بڑی مینوفیکچرنگ حب بنا دیا ہے۔ اس کے برعکس پاکستان طویل عرصے سے داخلی سلامتی کے شدید چیلنجز سے دوچار ہے۔ پاکستان میں امن وامان کی صورتحال نے ملک کے اندرونی ماحول کو سرمایہ کاری کیلئے انتہائی مشکل بنا دیا ہے۔ ہمیں اس تلخ حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ اگر ہم ملک میں معاشی خوشحالی اور بیرونی سرمائے کی منتقلی چاہتے ہیں تو ہمیں سب سے پہلے اپنے داخلی سلامتی کے ماڈل کو یکسر تبدیل کرنا ہو گا۔ بیرونی سرمایہ کاروں کو پاکستان آنے پر قائل کرنے کیلئے سیمینارز سے کہیں زیادہ اہم اور بنیادی کام یہ ہے کہ ہم اپنے مقامی سرمایہ کاروں‘ تاجروں اور صنعت کاروں کو تحفظ فراہم کریں۔ جب ہمارا مقامی تاجر مطمئن اور پُرامن ماحول میں کاروبار کرے گا تو اس کی کامیابی کو دیکھ کر بیرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد خود بخود بحال ہو جائے گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/222_48272610.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مارشل لاء دور میں سٹوڈنٹ یونین کے الیکشن…(2)(حافظ محمد ادریس)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/hafiz-muhammad-idreess/2026-05-26/52019/43474108</link><pubDate>Tue, 26 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/hafiz-muhammad-idreess/2026-05-26/52019/43474108</guid><description> ترقی پسندوں نے ایک تیر سے دو شکار کرنے کا ارادہ باندھا تھا مگر وہ دو شکار تو نہ کر سکے‘ تاہم ایک شکار بڑی کامیابی سے کر لے گئے‘ جو اُن کے لیے کافی دور تک نتیجہ خیز ثابت ہوا۔ وہ جمعیت کو جامعہ پنجاب میں شکست تو نہ دے سکے مگر جہانگیر بدر جیسے باہمت  طالبعلم رہنما کو اپنے حلقے میں پوری طرح شامل کر لیا۔ جہانگیر بدر جب اُن کے حلقے میں شامل ہو گئے تو انہیں بڑا پروٹوکول دیا گیا اور انہوں نے بھی وفاداری بشرطِ استواری اصل ایمان ہے کے مصداق ساری زندگی پیپلز پارٹی کی نذر کر دی۔ غالب نے کیا خوب کہا تھا:وفاداری بشرطِ استواری اصل ایمان ہےمرے بت خانے میں تو کعبے میں گاڑو برہمن کواُس وقت تک جو غیر جانبدارانہ پوزیشن تھی اس کے مطابق اگر سارے امیدوار سنجیدگی سے انتخاب لڑتے تو جمعیت بغیر کسی مشکل کے واضح اکثریت حاصل کر کے کامیاب ہوتی۔ جہانگیر بدر کو ہیلے کالج سے اکثریت ملنے کی توقع تھی‘ اس کے علاوہ کسی شعبے میں ان کو دیگر امیدواروں کی موجودگی میں شاید قابلِ ذکر ووٹ نہ ملتے۔ بہرحال ہمارے مدمقابل باقی سب امیدواروں سے زیادہ ووٹ جہانگیر بدر ہی لے سکتے تھے۔ جہانگیر بدر ہیلے کالج کے صدر رہ چکے تھے اور اب لاء کالج میں (ایل ایل بی) فائنل ایئر کے طالب علم تھے۔زمینی صورت حال یہ تھی کہ ایک تو ہیلے کالج میں بدر صاحب کا بڑا مضبوط گروپ تھا جس کا روایتی نام &#39;&#39;پاوا پارٹی‘‘ تھا۔ دوسرا‘ ہیلے  کالج کے عام طلبہ کو یہ باور کرایا گیا کہ ان کی تعداد یونیورسٹی کے کسی بھی دوسرے شعبے سے کہیں زیادہ ہے‘ مگر ان کا کوئی نمائندہ جامعہ پنجاب کی یونین میں بطور صدر کبھی کھڑا نہیں ہوا۔ اب ان کا ایک سابق طالبعلم اور سابق صدر ہیلے کالج یونین اس الیکشن میں کھڑا ہوا ہے تو اسے کامیاب بھی ہونا چاہیے۔ یہ کالج کی عزت کا سوال ہے۔ &#39;پاوا پارٹی‘ کا ہیلے کالج پر بڑا تسلط تھا اور کالج میں عام طلبہ کو ہراساں کرنے کی شکایات بھی ملتی رہتی تھیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ابتدائی کلاسوں کے نئے اور سادہ لوح طلبہ ان کے  تعصبانہ نعرے سے بھی کسی حد تک مسحور تھے۔پردوں کے پیچھے بیٹھ کر مہروں کی چالیں بدلنے والوں نے رائو عثمان‘ خواجہ سلیم‘ شاہد محمود ندیم‘ امتیاز عالم شاہ اور ادریس کھٹانہ کو  جہانگیر بدر کے حق میں بٹھا دیا۔ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں متفقہ طور پر جہانگیر بدر کی غیر مشروط حمایت کا اعلان ہوا۔ اگرچہ ادریس کھٹانہ نے آخری دنوں میں گڑبڑ کرنے کی کوشش کی اور اپنے کاغذات داخل کرا دیے مگر انہیں &#39;&#39;غائب‘‘ کرا دیا گیا۔ یہ بھی بڑا دلچسپ افسانہ ہے‘ مگر ہم اسے فی الحال نہیں چھیڑتے۔ &#39;&#39;طلبہ تحریکیں‘‘ میں افتخار فیروز مرحوم اور کئی دیگر طلبہ رہنمائوں نے اپنے مضامین میں اس پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔ مذکورہ ناموں کے علاوہ باقی کے جو ایک آدھ امیدوار میدان میں رہ گئے‘ ان میں سے  کوئی بھی کسی شمار میں نہ تھا‘ وہ محض نمائشی نام تھے۔&#39;بڑے دماغوں‘ نے تمام قابلِ ذکر امیدواروں کے درمیان جو سمجھوتا کرایا تھا اس سے وہ بڑے خوش تھے۔ ایک تو ان کی جھوٹی امید بندھ گئی تھی کہ ہمیں شکست ہو جائے گی اور دوسرا‘ انہوں نے سوچا تھا کہ اس طرح جہانگیر بدر ہمیشہ کے لیے ان کے حاشیہ بردار بن جائیں گے۔ ان کی دوسری امید جیسا کہ پہلے بھی اشارۃً تذکرہ ہوا ہے مکمل طور پر بر آئی اور جہانگیر بدر مرحوم نے واقعتاً آخری وقت تک ہر بھلے اور برے وقت میں بھٹو مرحوم اور ان کی پارٹی سے وفاداری نبھائی۔ اس کے نتیجے میں پارٹی نے بھی انہیں ایم این اے‘ سینیٹر اور وفاقی وزیر کے علاوہ پارٹی کے اعلیٰ تنظیمی عہدوں (جنرل سیکرٹری) سے نوازا۔ اللہ مرحوم کی مغفرت فرمائے۔بارک اللہ خان صاحب اس الیکشن میں اپنے ذاتی فیصلے کے علاوہ ہمارے ہی بعض مہربانوں اور سابق جمعیتی ساتھیوں کے کہنے سننے کی بنا پر کھڑے ہوئے تھے مگر وہ پرانا دور‘ جب خان صاحب نے یونیورسٹی کے در و دیوار ہلا کر رکھ دیے تھے‘ یقینا اس نئے دور سے قطعاً مختلف تھا۔ گفت وشنید جاری رہی۔ تنظیمی مشاورت کے مطابق ایک شام ہمارا ایک وفد مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی سے بھی ان کے دفتر ذیلدار پارک اچھرہ میں ملا۔ مولانا سے ہماری ملاقاتیں اکثر ہوتی رہتی تھیں اور وہ جس شفقت ومحبت سے ہمارا استقبال کیا کرتے تھے‘ وہ کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔اس شام جب ہم مولانا سے ملنے کے لیے ان کے دارالمطالعہ کے باہر پہنچے تو میں نے اپنے دوستوں سے کہا: جب بھی ہم مولانا  محترم سے کسی مسئلے پر رہنمائی کے لیے ملتے تھے تو ہمیشہ میں ہی مولانا محترم سے بات چیت کا آغاز کیا کرتا تھا اور زیادہ تر مولانا مجھ ہی سے مخاطب ہوتے تھے مگر آج میں مولانا سے کچھ نہیں کہوں گا۔ اب آپ لوگوں ہی کو بات کرنا ہو گی۔ عبدالوحید سلیمانی‘ منیر راحت‘ زاہد بخاری اور عبدالجبار قریشی کے ہمراہ میں مولانا محترم کے سامنے بیٹھا تھا۔ وہ ملاقات واقعی بڑی یادگار تھی۔ ساتھیوں نے مولانا کے سامنے ساری صورت حال رکھی۔ مولانا کا یہ کمال تھا کہ وہ روزانہ کے اخبارات میں سے مفید مطلب خبریں ہر روز پڑھتے اور انہیں مارکر کے ساتھ ہائی لائٹ کر کے اخبار کے ساتھ اپنے ذہن میں بھی محفوظ کر لیتے۔ اس موضوع پر جو کچھ اخبارات میں چھپ چکا تھا مولانا اس سے پوری طرح باخبر تھے۔ ساتھیوں کی زبانی صورتحال سن کر سید مودودیؒ نے اس موقع پر جو کچھ ارشاد  فرمایا وہ ہمارے لیے بڑا ہی حوصلہ افزا تھا۔ انہوں نے کہا: خان صاحب کو اب کیا شوق چڑھا (یا چرایا) ہے کہ اتنے عرصے کے بعد پھر سٹوڈنٹس یونین کے انتخاب میں کود پڑے ہیں۔ گفتگو کے آخر میں انہوں نے کہا کہ آپ لوگوں نے جمعیت کے اجتماع میں جو کچھ فیصلہ کیا ہے وہ بالکل درست ہے اور میں اجتماعیت کے اس فیصلے پر مطمئن ہوں۔ آپ اپنی مہم پُرامن طریقے سے منظم انداز میں چلائیں۔ اللہ برکت عطا فرمائے گا۔مولانا محترم سے ہم اکثر پیچیدہ معاملات میں رہنمائی حاصل کرتے رہتے تھے‘ اس شام تمام دوست مولانا کے کمرے سے نکلے تو طمانیت قلب کی دولت کے ساتھ عزم وہمت کے ہتھیار سے بھی لیس تھے۔ اس واقعہ سے کچھ ہی دن قبل دو جرائد &#39; نصرت‘ اور &#39;ترجمان اسلام‘ نے ہمارے خلاف ایک مسموم اور مذموم مہم شروع کی تھی۔ ایک مضمون میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ جمعیت نے جامعہ پنجاب کے انتخاب میں جو امیدوار کھڑا کیا ہے وہ دراصل اچھرے کا ایجنٹ ہے اور حوالے کے طور پر لکھا گیا کہ &#39;&#39;حافظ ادریس کو مودودی نے اپنا روحانی فرزند قرار دیا ہے‘‘۔اپنے معمول اور فطرت کے مطابق مخالفین نے بالکل جھوٹ گھڑ کے یہ زہر پھیلانے کی کوشش کی۔ اصل صورتِ واقعہ یوں تھی کہ مولانا مرحوم کی عصری نشستوں میں سے ایک نشست میں کسی صاحب نے وہ سوال دہرایا جو مولانا سے بار بار پوچھا جاتا تھا۔ سوال تھا مولانا کی اولاد اور ان کے تحریک میں کردار اور شمولیت کے بارے میں‘ مولانا نے طویل جواب دیا جس کا ایک حصہ یہ تھا کہ یہ نوجوان جو میرے سامنے بیٹھے ہیں یہ بھی تو میری اولاد ہیں اور پھر مولانا نے جمعیت کے کارکنان کی طرف اشارہ فرمایا۔ اس پر خوب مرچ مسالے لگائے گئے اور مذکورہ بالا پرچوں نے دل کی بھڑاس نکالی اور سارا نزلہ مجھ پر گرا دیا۔ ا س دور کے یہ دونوں رسالے اس قسم کی پروپیگنڈا خرافات سے پُر ہوتے تھے۔ (جاری)</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_24721193.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>