<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>آبنائے ہرمز کی بندش، اثرا ت اور خدشات(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-06/11428</link><pubDate>Thu, 06 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-06/11428</guid><description>دنیا میں توانائی کی اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کے معاملے پر ایران اور عمان میں معاہدہ اور خلیج فارس کی تنگنائے کو دوبارہ کھولنے پر اتفاق عالمی امن و استحکام کے تناظر میں ایک مثبت پیشرفت ہے۔ عالمی میڈیا کے مطابق فریقین میں آبنائے ہرمز کو عارضی انتظام کے تحت 60 روز کیلئے کھولنے پر اتفاق ہوا ہے۔ عبوری انتظام کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر کسی قسم کی فیس عائد نہیں کی جائے گی اور فریقین 30 دن کے اندر آبنائے ہرمز کے مرکزی راستے سے بارودی سرنگوں کو ہٹائیں گے۔ آبنائے ہرمز دنیا میں توانائی کی رسد کی اہم ترین بحری گزرگاہ ہے۔ کویت‘ متحدہ عرب امارات‘ قطر اور عراق سے تیل و گیس برآمد کرنے کا یہ واحد بحری راستہ ہے۔ سعودی عرب کی بڑی آئل ریفائنریاں اور تیل ذخائر بھی مشرقی خطے (الشرقیہ) میں خلیج فارس کیساتھ واقع ہیں۔ اس طرح یہ دنیا بھر کی کل پٹرولیم رسد کے تقریباً 20 فیصد اور بحری توانائی رسد کے ایک تہائی حصے کی واحد گزرگاہ ہے۔ خلیجی ممالک خصوصاً قطر سے ایل این جی بھی اسی راستے کے ذریعے دنیا کو سپلائی ہوتی۔28 فروری کو ایران پر امریکہ و اسرائیل کے مشترکہ حملے سے قبل یہاں سے اوسطاً ہر روز 140 سے 150 مال بردار بحری جہاز اور آئل ٹینکر گزرتے تھے مگر خلیج فارس میں کشیدگی کے باعث نہ صرف یہ گزرگاہ غیر محفوظ ہو گئی بلکہ متحارب ملکوں کی جانب سے اس کی ناکہ بندی نے دنیا میں توانائی کے ایسے بحران کو جنم دیا جس نے گلوبل اکانومی کو ہلا کر رکھ دیا۔

انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے سربراہ نے اس بحران کو 1970ء کے عشرے کے آئل شاکس اور 2022ء میں یوکرین جنگ کے باعث یورپ میں گیس بحران کے مجموعی اثرات سے بھی زیادہ سنگین قرار دیا۔ نہ صرف خام تیل کی قیمتوں میں 50 سے 60 فیصد تک اضافہ ہوا بلکہ مال برداری‘ شپنگ اور انشورنس پریمیم کے اخراجات بھی کئی گنا تک بڑھ گئے‘ جس کے اثرات لامحالہ پوری دنیا پر مرتب ہوئے اور کمزور معیشتوں کو ان عالمی جھٹکوں کی بھاری قیمت چکانا پڑی۔ چونکہ دنیا میں نائٹروجن اور سلفر پر مبنی کھادوں کی بحری رسد کا ایک تہائی بھی اسی آبنائے سے گزرتا ہے‘ لہٰذا فوڈ سکیورٹی کے مسائل بھی جنم لینے لگے۔ عالمی ادارۂ خوراک و زراعت خبردار کر چکا کہ کھاد مہنگی ہونے اور اس کی قلت کے اثرات رواں سال کے آخر اور آئندہ سال گندم‘ چاول اور مکئی کی کم پیداوار کی صورت میں سامنے آ سکتے ہیں۔ پاکستان کی معیشت اور سماج پر آبنائے ہرمز کی بندش کے جو اثرات ہیں وہ ظاہر و باہر ہیں۔ وسط فروری سے اب تک پٹرول کی قیمت میں 70 روپے اور ڈیزل کی قیمت میں 110 روپے فی لیٹر سے زائد کا اضافہ ہو چکا ہے۔ اس سے عام آدمی کی قوتِ خرید بالکل جواب دے چکی ہے۔ افراطِ زر کی شرح‘ جو فروری میں سات فیصد تھی‘ اب 9.2 فیصد پہ پہنچ چکی ہے۔
ربڑ‘ پلاسٹک اور دیگر پیٹرو کیمیکلز کی درآمدات متاثر ہونے سے صنعتی و پیدواری شعبے پر جو اثرات پڑے ہیں‘ وہ الگ معاملہ ہے۔ اگرچہ دنیا بالخصوص کمزور معیشتوں کے حامل ممالک آبنائے ہرمز کی بندش کی بھاری قیمت چکا رہے لیکن اگر یہ معاملہ طول پکڑتا ہے تو پوری دنیا ایسے بحران کا شکار ہو سکتی ہے‘ جس سے اثرات سے نکلنے کیلئے کئی دہائیاں درکار ہوں گی۔ لہٰذا ان حالات میں یہ امر خوش آئند ہے کہ پاکستان‘ قطر اور سعودی عرب کی ثالثی کوششوں سے عمان اور ایران کا نہ صرف آبنائے ہرمز کی بحالی کیلئے ایک فریم ورک پر اتفاق ہو گیا ہے بلکہ فریقین نے اس تنگنائے سے بارودی سرنگیں ہٹانے کا عزم بھی ظاہر کیا ہے۔ اگرچہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی فوری بحالی کی تردید کی گئی تاہم امید ہے کہ اب جبکہ اس کارِ خیر کیلئے کمرِ ہمت باندھ لی گئی ہے‘ آبنائے ہرمز کی بندش کا مکمل خاتمہ بھی جلد ہو جائے گا۔ اس سے یہ بھی اجاگر ہوتا ہے کہ امن اور مذاکرات کا راستہ خواہ کتنا ہی پیچیدہ اور دشوار ہو‘ مگر انسانیت کے مفاد کی یہی واحد صورت ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سیلابی خطرات، پیشگی تیاری ضروری(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-06/11427</link><pubDate>Thu, 06 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-06/11427</guid><description>فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن نے بھارت کی جانب سے بگلیہار ڈیم سے دریائے چناب میں پانی چھوڑے جانے کے بعد ہیڈ مرالہ کے مقام پر سیلاب کا الرٹ جاری کیا ہے۔ بھارت نے تین روز قبل بھی دریائے چناب میں پانی چھوڑا تھا جبکہ یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آئندہ دنوں میں بھارت مزید پانی ہیڈ مرالہ کی جانب چھوڑ سکتا ہے‘ جس سے دریائے چناب میں بہاؤ مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ اس صورتحال کے پیشِ نظر صوبائی حکومت‘ ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کو ممکنہ طور پر متاثرہ علاقوں میں پیشگی حفاظتی اقدامات یقینی بنانا ہوں گے۔ دوسری جانب چترال میں گلیشیر پھٹنے‘ کلاؤڈ برسٹ اور موسلادھار بارشوں سے آنے والے شدید سیلاب کے باعث دو افراد جاں بحق ہوئے جبکہ درجنوں مکانات‘ دکانیں اور گاڑیاں سیلابی ریلوں کی نذر ہو گئیں۔

گزشتہ چند برسوں کے دوران درجہ حرارت میں اضافے کے باعث گلیشیرز کے تیز پگھلاؤ اور گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔یہ صورتحال طویل مدتی منصوبہ بندی کی متقاضی ہے۔ ضروری ہے کہ متعلقہ ادارے خطرناک گلیشیائی جھیلوں کی مسلسل نگرانی کریں‘ پیشگی وارننگ سسٹم کو مزید مؤثر بنائیں‘ حساس علاقوں میں حفاظتی انفراسٹرکچر کو مضبوط کریں اور سیلابی خطرات کے دوران سیاحوں کی آمدورفت کو ضرورت کے مطابق محدود کریں تاکہ جانی نقصان کم سے کم ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ مقامی آبادی کی آگاہی اور انخلا کی مشقوں پر بھی خصوصی توجہ دی جانی چاہیے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ریبیز: حکومتی غفلت کب تک(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-06/11426</link><pubDate>Thu, 06 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-06/11426</guid><description>گزشتہ روز لاہور میں ریبیز سے متاثرہ ایک اور شہری جان کی بازی ہار گیا۔ پچھلے ایک مہینے کے دوران صوبائی دارالحکومت میں آوارہ کتے کے کاٹنے کے باعث تین افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ ملک میں لاکھوں کی تعداد میں آوارہ کتوں کے باعث ریبیز کا خطرہ تشویشناک حد تک بڑھ چکا ہے۔ رواں برس اپریل میں لاہور ہائیکورٹ میں جمع کرائی گئی ایک رپورٹ کے مطابق جنوری 2024ء سے مارچ 2026ء تک پنجاب بھر میں 514589 افراد کتے کے کاٹنے کا شکار ہوئے جبکہ صرف لاہور میں 18054کیس رپورٹ ہوئے۔ اتنے خطرناک حالات کے باوجود حکومتی سطح پر وہ سنجیدگی دکھائی نہیں دیتی جس کی یہ صورتحال متقاضی ہے۔ شہروں اور دیہی علاقوں میں آوارہ کتوں کی آبادی پر مؤثر کنٹرول کیلئے کوئی منظم اور مستقل مہم نظر نہیں آتی۔

دوسری جانب متعدد سرکاری ہسپتالوں میں اینٹی ریبیز ویکسین کی عدم دستیابی بھی متاثرہ افراد کی جانوں کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔ ریبیزکی علامات ظاہر ہونے کے بعد بچنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر رہ جاتے ہیں‘ اس لیے بروقت علاج ہی واحد مؤثر دفاع ہے۔ ضروری ہے کہ آوارہ کتوں کی رجسٹریشن‘ ویکسی نیشن اور افزائشِ نسل پر قابو پانے کے پروگرام بلاتاخیر شروع کیے جائیں۔ اس کیساتھ تمام ضلعی اور تحصیل ہسپتالوں میں اینٹی ریبیز ویکسین کی بلا تعطل فراہمی بھی یقینی بنائی جائے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>یورپی سمندروں میں ڈوبتے پاکستانی(محمد اظہارالحق)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-08-06/52429/19126178</link><pubDate>Thu, 06 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-08-06/52429/19126178</guid><description>ایک چراغ ہے جو شہر میں جل رہا ہے۔ روشنی بکھیر رہا ہے۔ اور وہ ہے آپا کشور ناہید کا وجود!جب بھی آپا کے دفتر میں جاتا ہوں دو چیزیں ضرور ملتی ہیں۔ عمدہ چائے اور ان کی شاعری کا تازہ مجموعہ!! علالت اور ضُعف کے باوجود ہر روز اپنی بوطیق میں ضرور آتی ہیں۔ ملاقاتیوں کیلئے یہ جگہ‘ ان کے گھر کی نسبت‘ آسان ہے۔ یہیں ان کے فین بھی آتے ہیں۔ ان کی تخلیقات پر کام کرنے والے طلبہ اور طالبات بھی اور ان کے دوست بھی! مجھ جیسے نیازمند بھی! سوچتا ہوں عمر کے جس حصے میں مَیں ہوں‘ مجھے تم کہہ کر مخاطب کرنے والے‘ ڈانٹنے والے کتنے رہ گئے ہیں!! ظفر اقبال صاحب کو فون کروں تو بسم اللہ کہہ کر جواب دیتے ہیں۔ دادی جان یاد آ جاتی ہیں۔ جب بھی گاؤں‘ گھر میں داخل ہوتے تھے‘ بسم اللہ بسم اللہ کہنا شروع کر دیتی تھیں۔ آپا کے دفتر میں جیسے ہی قدم رکھتا ہوں‘ کہتی ہیں &#39;&#39;تم نے تو پچھلے ہفتے آنا تھا‘ کہاں رہ گئے تھے؟‘‘۔ کھانے کا وقت ہو تو کھانے میں شریک کر تی ہیں۔ اب ان میں وہ ہمت نہیں رہی ورنہ اس شہر میں جتنی ضیافتیں ہم نے ان کی قیام گاہ پر اڑائی ہیں اور کہیں بھی نہیں میسر آئیں! شب دیگ اور دیگر پکوان اپنے ہاتھ سے پکاتی تھیں۔ روٹیاں پودینے والی‘ کبھی پیاز والی‘ کبھی پالک والی! احباب سے ملاقات بھی ہو جاتی تھی۔ ادبی گفتگو بھی ہوتی تھی۔ شاعری بھی سنتے اور سناتے تھے۔ پہلے فراق کو دیکھا ہوتا اب تو بہت کم بولیں ہیں! 88‘89ء کا زمانہ نہیں بھولتا۔ وہ ماہنامہ ماہِ نو کی ایڈیٹر تھیں۔ رفیق خاور کے بعد ماہِ نو نے کوئی سنہری دور دیکھا ہے تو وہ یہی دور تھا۔ ڈانٹ کر شاعری اور نثر لکھواتی تھیں اور محبت سے چھاپتی تھیں۔ دو جلدوں میں ضخیم نمبر نکالا جو ماہِ نو میں چھپنے والی گزشتہ تخلیقات کے انتخاب پر مشتمل تھا۔ لکھنے والوں کی ہینڈ رائٹنگ کے نمونے بھی اس میں شامل تھے۔ مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ میری تحریر کا عکس بھی اس میں موجود ہے۔کشور ناہید افتادگانِ خاک کیلئے ہمیشہ لکھتی رہیں۔ اب بھی لکھ رہی ہیں۔ ان کا تازہ مجموعہ کلام &#39;&#39;عمر مجھے لکھتی ہے‘‘ اُن نظموں سے بھرا ہے جو انہوں نے فلسطین اور غزہ کے مقتولوں اور بے کس پاکستانیوں کیلئے کہی ہیں۔ چند نظمیں دیکھیے۔مسلم اُمّہ!آج سے آدھا برس پہلے؍ غزہ کے بچے؍ دھوپ میں نہاتے؍ اور چاندنی میں کھیلتے تھے؍ اب تو قلم کو بھی حجاب آتا ہے؍ یہ دیکھتے اور لکھتے ہوئے؍ کہ دن رات کفن اور بے کفن؍ خون آشام شب و روز!؍ یہ وہ وادی ہے جسے فیض نے وادیٔ سینا کہا تھا؍ فیض نے تو فلسطینی بچوں کو لوریاں بھی دی تھیں؍ اب چنیدہ بچ جانے والوں کو تو فرصتِ نوحہ گری بھی نہیں؍ اب نہ پرندوں کی چہچہاہٹ نہ بچوں کی گلکاریاں نہ منبر نہ مسجد نہ کوئی دہلیز؍ ساری دنیا میں ساری نسلوں کے لوگ سلامتی کونسل کو جھنجھوڑ رہے ہیں؍ مگر فرعون‘ یاہو اور امریکی مہرہ من مانی کر رہے ہیں؍ اب تو خود اسرائیل کے نوجوان بچی کھچی انسانیت کو بچانے کیلئے سڑکوں پر ہیں؍ ستائیس رمضان کو سب مرد و زن مسجد اقصیٰ میں سجدہ ریز ہیں؍ دیکھو یاسر عرفات! تم علیحدہ فلسطینی مملکت کا نقشہ بناتے‘ بار بار‘ مصالحتی ورقوں کو سنبھالتے؍ سورج کے ساتھ غروب ہو گئے ہو؍ مگر ارضِ فلسطین کے بیٹے بیٹیاں محمود درویش کے اشعار دہراتے؍ اپنی سرزمین کو ہمیشہ کیلئے زندہ رکھیں گےنوم چومسکی! آپ کہاں ہیں؟مجھے بار بار دریائے فرات جھنجھوڑ رہا ہے؍ وہاں بھی ظالموں نے آلِ رسول پر پانی بند کیا تھا؍ اور اب آلِ رسول کے جان نثاروں پر غزہ میں‘ پانی کے ٹینکوں پر‘ بم گرائے جا رہے ہیں؍ کہ کہیں خشک لب تر نہ ہو جائیں؍ کہیں جاں بلب زخمی بچے زندگی میں واپس نہ آ جائیں؍ حاملہ عورتیں خدا سے اپنے ہونے والے بچوں کی زندگی کی بھیک مانگ رہی ہیں؍ ظالم کے ٹینک آخر میں ہسپتالوں تک میں داخل ہو گئے ہیں؍ زخموں اور درد سے بلبلاتے بچوں کی مسیحائی کرتے ڈاکٹروں کو بھی خون میں نہلا دیا گیا ہے؍ غزہ کی ریت میں ہر طرف نوزائدہ بچوں کے قبرستان ہیں؍ یہاں نہ تو کوئی شجر نہ پرندہ نہ سایہ نہ وہ پیشانیاں؍ جو مسجد اقصیٰ کے صحن میں سجدہ ریز ہوں؍ جس وقت آلِ رسول پر ظلم کی انتہا کر دی گئی تھی؍ وہاں بھی بستیوں میں ایسی خاموشی تھی جیسے اربوں مسلمانوں کے بے روح اعلامیے سن کر؍ دنیا بھر میں ہر رنگ و نسل کے لوگ دہائی دے رہے ہیں؍ خدا نیتن یاہو اور ٹرمپ کی بربریت کو آسمان پر لکھ رہا ہے؍ اور فلسطینیوں کا نام نہاد رہبر مشورے کر رہا ہےسمندروں میں ڈوبنے والے پاکستانی(1) ارسطو نے تمہیں فتح یاب ہونے کے گُر سکھائے تھے؍ صدیوں پہلے تم نے دنیا کی بڑی بڑی سلطنتوں کو زیر کیا؍ اور سکندر اعظم کہلائے؍ پورس کو شکست دینے کے بعد نہ جانے تمہارے جی میں کیا آئی؍ پہلے تو پورس کو اس کی سلطنت واپس کی پھر اپنے جوانوں کو کوچ کا حکم دیا؍ تم بیمار تھے سپہ سالاروں کو کہا؍ میری وفات کے بعد میرے ہاتھ کفن سے باہر رکھنا کہ دنیا دیکھے؍ حکومت‘ دولت اور مسیحائی بے اعتباری کی منزلیں ہیں؍ تم مقدونیہ جاتے ہوئے سوچ رہے تھے شاید میں اپنی ماں سے ملنے تک زندہ نہ رہوں (2) سکندر اعظم! تم بتیس سال کی عمر میں سب کچھ حاصل کر کے بھی نامطمئن تھے؍ پاکستان کے غریبوں کے بچے کچھ بھی حاصل کیے بغیر؍ سب کچھ حاصل کرنے کے سراب میں؍ انسانی سمگلروں کے شکنجے میں پھنس گئے؍ ان کی بے تابی کو بڑھانے کیلئے وہ ملکوں ملکوں کی وڈیوز دکھاتے ہوئے؍ ہر دفعہ رقم بڑھانے کا مطالبہ کرتے ہیں؍ قافلے کی گاؤں بھر میں اتنی گونج تھی کہ بچوں والوں نے بھی؍ بیوی کے زیور اور زمین بیچ دی؍ وہ خوابوں کا بستہ اٹھائے؍ اپنی سوچوں کی گھم گھیریوں میں لپٹے‘ بزرگوں کی دعائیں لینا بھول کر‘ چل پڑے (3) لیبیا کے ساحل پر کشتی بدلی؍ کھانا مانگا‘ پانی مانگا؍ نیا دلاسا‘ ابھی ملے گا؍ پیاسے سمندر میں چھلانگ لگا کر مچھلیوں کے ساتھ لاشیں بنتے دکھائی دیے؍ ساحل پر گورے کھڑے دیکھ رہے تھے اور کالوں کی بدحواسی پر ہنس رہے تھے؍ کوئی دلاسا تھا نہ سہارا (4) سب کے گھروں میں آیت کریمہ کا ختم اور زمین پر مصلّیٰ بچھا تھا؍ ہر گھر میں کئی دن سے کوئی جواب نہ آنے پر خوف کا دھواں بھرا تھا (5) اللہ میاں! تم نے تو ایک فرشتے کو شیطان کہا تھا؍ یہ بھی کہا تھا یہ تمہیں بہکائے گا؍ مگر انسانی ایجنٹوں نے شیطنت کے وہ گل کھلائے کہ اب؍ ہر گھر میں پھوہڑی پڑی ہے؍ ہماری موت کے سودا گر وطن میں ہیں؍ بے وطنوں کے گھروں میں انتظار سے آنکھیں پتھرا رہی ہیں؍ سکندر اعظم! تمہاری زمین نے؍ ہمارے جوانوں کو بے کفن مرنے دیا؍ اور تم خود کفن پہن کر بھی مقدونیہ نہ پہنچ سکےکشور ناہید کی یہ ماتمی نظمیں پڑھ کر میں سوچ رہا تھا کہ ان مرنے اور مارے جانے والوں کی خبریں ہمارے لیے معمول کی خبریں بن چکی ہیں! کتنے ہی پاکستانی ہر مہینے اور شاید ہر ہفتے‘ ہسپانیہ‘ لیبیا‘ اٹلی اور یونان کے سمندروں میں ڈوبتے ہیں! انہیں فریب دینے والے شیطانی عفریت اسی ملک میں دندناتے پھرتے ہیں! ریاست کہاں ہے؟ حکومت کیا کر رہی ہے؟ یہ کیسا ملک ہے جہاں کچھ افراد کا ایک قدم دبئی میں تو دوسرا لندن میں ہوتا ہے‘ نواسے اور پوتے شام برطانیہ میں تو صبح پاکستان میں گزارتے ہیں اور کچھ خوابوں کی گٹھڑی سر پر رکھے‘ غربت سے چھٹکارا پانے کی دھن میں‘ یورپ کے سمندروں میں مچھلیوں کی خوراک بن جاتے ہیں یا کنٹینروں میں دم گھٹنے سے مر جاتے ہیں ! آسمان سے پتھر کیوں نہیں برستے؟ زمین الٹ کیوں نہیں جاتی؟کب تک تری رہ دیکھیں اے قامت جانانہ!کب حشر معیّن ہے تجھ کو تو خبر ہو گی!!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_57182973.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ہم اہلِ ملتان کی استقامتِ قدیم(خالد مسعود خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-08-06/52430/38866649</link><pubDate>Thu, 06 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-08-06/52430/38866649</guid><description>ملتان کی قدامت کے بارے میں مختلف روایات ہیں۔ بعض لوگوں کے نزدیک ملتان گزشتہ سات ہزار سال سے مسلسل آباد شہر ہے۔ تاہم کچھ مورخین اس عرصۂ قدامت سے اختلاف کرتے ہیں‘ لیکن جو لوگ ملتان کی سات ہزار سالہ قدامت سے اختلاف کرتے ہیں وہ بھی اس کی کم از کم پانچ ہزار سالہ معلوم تاریخ اور اس عرصہ میں اس کے مسلسل آباد ہونے سے انکار نہیں کرتے۔ گویا کہ ہم محتاط نقطۂ نظر سے بھی ملتان کی قدامت کی بات کریں تو پانچ ہزار سال پر اتفاقِ رائے پایا جاتا ہے۔ اب اس دو ہزار سال کے جھگڑے میں پڑے بغیر اگر ہم اس پانچ ہزار سالہ قدامت کو بھی مان لیں تو ملتان دنیا کے ان چند آباد شہروں میں شمار ہوتا ہے جو مسلسل ہزاروں سالوں سے روئے ارض پر سینہ تان کر کھڑے ہیں۔دنیا میں جیریکو‘ دمشق‘ حلب‘ سیدون‘ یروشلم اور اس طرح کے چند اور شہر ہیں جو ملتان کی ہمسری کرتے ہیں۔ برصغیر میں ملتان کا ہمعصر شہر صرف ونارسی (بنارس) ہے۔ ملتان نے 326 قبل مسیح میں سکندر اعظم کے حملے کا مقابلہ کیا‘ اس شہر پر قبضے کے دوران ملتانی تیرانداز نے ایک تیر ایسا تاک کر مارا جس نے سکندراعظم کے پھیپھڑوں کو چیرتے ہوئے ایسا کاری زخم لگایا کہ سکندر کے مرنے کی خبر پھیل گئی۔ اپنے سپاہیوں میں پھیلنے والی مایوسی کو رفع کرنے کے لیے سکندر نے دریائے چناب کے کنارے زخمی حالت میں اپنے محبوب گھوڑے بوسیفالس پر سوار ہو کر اپنی سپاہ کو اپنا چہرہ دکھایا تاکہ اس کے حوصلے بلند ہوں۔712ء میں اہلِ ملتان نے پہلے مسلم حملہ آور محمد بن قاسم کا سامنا کیا۔ ملتان نے قرامطیوں کا دور دیکھا اور اس دوران ملتان میں مصر کی فاطمی خلافت کا خطبہ پڑھا گیا۔ بعد ازاں اس شہر قدیم نے محمود غزنوی کے مسلسل حملوں اور قرامطیوں کی حکومت کے خاتمے کو دیکھا۔ ملتان نے تیرہویں صدی عیسوی میں منگولیا سے نکل کر پورے خطے کو تاراج کرتے ہوئے ایشیائے کوچک تک پہنچنے والے خون آشام تاتاریوں کی یلغار کا سامنا کیا۔ اور ایک بار نہیں‘ بلکہ کئی بار ان وحشیوں کو زورِ بازو سے روکا۔ 1225ء سے لے کر 1285ء تک کامل ساٹھ سال منگول وقفوں وقفوں سے ملتان پر حملہ آور رہے۔ ناصرالدین قباچہ کی مزاحمت کے باعث منگول ابتدائی حملوں میں ملتان فتح نہ کر سکے۔ اس دوران مشہور منگول جنرل سالی نویان نے ملتان کی ایک مہم میں منگول لشکر کی قیادت کی۔ 1285ء میں بلبن کا بیٹا شہزادہ محمد ملتان کا دفاع کرتا ہوا منگولوں کے ہاتھوں شہید ہوا۔ ملتان منگولوں سے مستقل طور پر فتح تو نہ ہو سکا مگر ان کے مسلسل حملوں سے اسے بہت نقصان پہنچا۔ 1398ء میں امیر تیمور نے طویل محاصرے اور مزاحمت کے بعد ملتان پر قبضہ کیا۔ امیر تیمور مزاحمت کرنے والوں کو عبرت کا نشان بنانے میں مشہور تھا۔ مزاحمت کے جرم میں اس شہرِ بزرگ میں تباہی‘ قتل وغارت اور بربادی کی داستان اپنی پوری شدت کے ساتھ دہرائی گئی۔ ملتان کو مکمل طور پر تاراج کیا گیا۔ ایسی تباہی ملتان اور اہلِ ملتان نے ہزاروں سال میں کم ہی دیکھی ہو گی جو امیر تیمور کی فتح کے بعد دیکھی۔ مگر ملتان اپنی ثابت قدمی‘ مستقل مزاجی‘ دوبارہ جی اٹھنے کی طاقت‘ سخت جانی اور حوصلے کے طفیل ایک بار پھر اپنی بنیادوں پر استوار ہوا۔ اس کے بعد راوی لنگاہ حکومت کے مختصر سے عرصہ کو امن و آشتی اور سکون کا دور بتاتے ہیں۔ پھر ملتان نے شیرشاہ سوری کی شکل میں ایک اور فاتح کو برداشت کیا۔ 1398ء میں امیر تیمور کے ہاتھوں ہونے والی تباہی کے بعد 1818ء میں نواب مظفر خان کی شہادت کے بعد فاتح سکھ افواج کے ہاتھوں ملتان نے جتنی بڑی تباہی‘ بربادی‘ قتل و غارتگری اور خون ریزی دیکھی اس کی مثال نہیں ملتی۔ سکھ فوجیوں نے ہزاروں نہتے شہریوں کو قتل کیا‘ سارے شہر کو لوٹ لیا گیا‘ بے شمار عورتوں کی عصمت دری کی گئی‘ شہر کے بیشتر علاقے جلا کر خاکستر کر دیے گئے۔ کئی روز بعد جب یہ قصہ ختم ہوا تو شہر لاشوں سے پٹا پڑا تھا۔ یہ ملتان شہر نہیں تھا‘ خاک اور خون کا ڈھیر تھا۔ برصغیر پر حملہ کرنے والے وہ تمام لوگ جو درۂ بولان اور وادیٔ سندھ کی طرف سے آتے‘ ان کے راستے کا پہلا مزاحمتی امتحان ملتان میں ہوتا تھا۔ ملتان اس راستے میں عسکری اور تجارتی حوالوں سے اپنے وقت کا سب سے اہم شہر اور مزاحمت کی علامت تھا۔ جیحوں کے پار‘ ایران‘ افغانستان‘ ماورا النہر اور ایشیائے کوچک سے آنے والے بیشتر حملہ آور اسی راستے سے ہندوستان کے قلب میں داخل ہوئے۔ اس وقت کے ملتان کی وسعت‘ حیثیت اور اہمیت کا اندازہ اس سے لگائیں کہ تاریخ دان پرانے وقتوں میں لاہور کو ملتان کے نواح میں آباد بستی کا درجہ دیتے تھے۔ سفرنامہ ابن بطوطہ میں ملتان کا ذکر ایک بڑے آباد شہر کی حیثیت سے ہے۔ اس وقت اُچ شریف کا تذکرہ لاہور سے زیادہ اہم شہر اور ثقافتی مرکز کے طور پر کیا گیا۔ اس بے رحم دھرتی پر اتنا عرصہ قائم و دائم رہنا اور مسلسل آباد شہر کے طور پر اپنی حیثیت منوانا کچھ آسان نہ تھا۔ اس دوران ملتان نے کشت و خون دیکھا‘ مزاحمت کی تاریخ لکھی‘ بربادی دیکھی‘ لیکن اہلِ ملتان کی اولوالعزمی‘ مستقل مزاجی‘ مزاحمتی طاقت‘ دوبارہ ابھرنے کی سکت‘ مایوس نہ ہونے کی صلاحیت اور سب سے بڑھ کر دوبارہ جی اٹھنے کی طاقت کے طفیل یہ شہر آج بھی دھرتی کے سینے پر سربلند اور سرخرو کھڑا ہے۔صدیوں سے یہ شہر اس بے رحم آسمان کے نیچے قتل و غارت‘ تباہی‘ بربادی‘ اجڑنے اور پھر آباد ہونے کی داستانیں اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے۔ صدیوں کے ان تجربات نے اس شہر کی اجتماعی نفسیات پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ جنگ‘ خونریزی اور مسلسل تباہی انسان کو کبھی ویسا ہی سخت گیر، ظالم اور بے رحم بنا دیتی ہے جیسی سختیوں سے وہ گزرا ہوتا ہے لیکن بعض اوقات اس کا ردِعمل اس کے بالکل برعکس بھی ہوتا ہے۔ انسان جنگ‘ نفرت اور خونریزی سے اس قدر متنفر ہو جاتا ہے کہ وہ محبت‘ امن‘ برداشت اور بقائے باہمی کو اپنا شعار بنا لیتا ہے۔ ہم ملتان والوں نے یہی دوسرا راستہ اختیار کیا۔ ہم نے اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کے بجائے محبت کو اپنا ہتھیار بنایا۔ تلوار کے جواب میں تلوار اٹھانے کے بجائے رواداری کو ترجیح دی‘ اور قتل و غارت کے جواب میں امن‘ اخوت‘ بھائی چارے اور&#39;جیو اور جینے دو‘ کے فلسفے کو اپنایا۔ یہی وہ رویہ ہے جس نے اہلِ ملتان کے مزاج میں نرمی‘ محبت‘ رواداری اور انسان دوستی کو راسخ کیا۔ ہم ریشم دلان ملتان ہیں۔ اسی رویے نے ہمیں صبر‘ حوصلہ‘ مستقل مزاجی‘ قوتِ برداشت اور تحمل عطا کیا۔ لیکن شاید اسی کے ساتھ اس کا ایک منفی پہلو بھی سامنے آیا۔ ہم اپنے حقوق سلب ہونے پر‘ اپنے جائز مطالبات نظرانداز کیے جانے پر اور اپنے استحصال کے باوجود اکثر تصادم کے بجائے خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ کبھی مسکرا کر بات ٹال دیتے ہیں‘ کبھی مصلحت کے تحت برداشت کر لیتے ہیں اور کبھی دل سے نہ سہی‘ بادلِ نخواستہ حالات کو قبول کر لیتے ہیں۔ شاید اسی وجہ سے دوسروں کو بھی ہمارے حقوق غصب کرنے‘ ہمارا استحصال کرنے اور ہماری شرافت سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی عادت سی پڑ گئی ہے۔ تاہم اس سب کے باوجود اہلِ ملتان آج بھی محبت‘ برداشت‘ امن اور رواداری کو اپنی اصل پہچان سمجھتے ہیں اور شاید یہی اس قدیم شہر کی سب سے بڑی طاقت بھی ہے۔ قارئین! حسبِ سابق کہیں سے کہیں نکل گیا۔ لکھنا کچھ اور تھا مگر قلم ایک بار پھر دھوکا دے گیا۔ جو لکھنا تھا اب اگلے کالم میں سپردِ قلم کروں گا‘ تب تک اجازت دیجیے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90500073.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>حماس نے ہتھیار رکھ دیے مگر…(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-08-06/52431/29758957</link><pubDate>Thu, 06 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-08-06/52431/29758957</guid><description>حماس نے غیر مسلح ہونے کا فیصلہ کر لیا۔ کیا اس فیصلے تک پہنچنے کے لیے اسّی ہزار جانوں کی قربانی لازم تھی؟یہ وہ سوال ہے جو پہلو بدل بدل کر‘ ہر حادثے کے بعد‘ ہمارے سامنے آ کھڑا ہوتا ہے۔ ہر حادثے سے پہلے‘ اُس کا انجام نوشتہ دیوار ہوتا ہے۔ کوئی اس کو نہیں پڑھتا۔ جذبات کا ایسا غبار اٹھا دیا جاتا ہے کہ تحریر کیا‘ دیوار ہی نظروں سے اوجھل ہو جاتی ہے۔ جب گھر گھر صفِ ماتم بچھ جاتی ہے تو اس کے بعد دیوار پر لکھی عبارت دکھائی دیتی ہے۔ یہ منظر ہم برسوں سے دیکھ رہے ہیں۔ حالات نے اہلِ فلسطین کو ایک ایسی جگہ لا کھڑا کیا ہے جہاں ان کے پاس کوئی حکمتِ عملی نہیں ہے۔ آج ہمدرد تو بہت ہیں‘ ان کا مددگار کوئی نہیں۔ المیہ در المیہ یہ ہے کہ اس اندازِ فکر پر نظر ثانی کے لیے کوئی آمادہ نہیں جس نے یہ دن دکھائے۔ وہ قیادت بھی کسی کے سامنے جوابدہ نہیں جس نے معاملات کو یہاں تک پہنچایا۔مزاحمت کا لفظ‘ کچھ اس طرح ذہن سے چپک گیا ہے کہ خود اس کے مفہوم پر کوئی غور کے لیے تیار نہیں۔ اگر کوئی توجہ دلائے تو کہا جاتا ہے: &#39;ان کو دیکھو! سبق شاہین بچوں کو دے ر ہے ہیں خاک بازی کا‘۔ اب تو یہ سوچ ایک نفسیاتی عارضہ بن چکی۔ پے درپے حادثات نے ہمیں ذہنی طور پر مفلوج کر دیا ہے۔ اسرائیل جیسی شیطانی قوت کو اس کا اچھی طرح اندازہ ہے۔ وہ ہماری اس بے بسی کو استعمال کرتا اور ہمیں بربادی کی طرف دھکیلتا ہے۔ ہم اس کی باتوں میں آ جاتے اور منزل سے مزید دور ہو جاتے ہیں۔ اب اسی معاہدے ہی کو دیکھ لیں۔ حماس نے ہتھیار رکھنے کا اعلان کر دیا۔ طے یہ ہوا کہ یہ تدریجاً ہوگا۔ ایک طرف حماس غیر مسلح ہو گی اور دوسری طرف اسرائیلی فوجیں غزہ اور اس علاقے کو خالی کرتی جائیں گی۔ اب اسرائیل کہہ رہا ہے ہمیں حماس پر اعتبار نہیں۔ پہلے یہ مکمل غیر مسلح ہو اور اس کے بعد ہماری فوج واپس جائے گی۔ قطر نے اس پر ردِعمل دیا ہے لیکن ہم جانتے ہیں کہ یہ ایک بیان سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ مجھے لگتا ہے حماس غیر مسلح بھی ہو گی اور اسرائیل کی فوج بھی موجود رہے گی۔ کیا یہی حکمتِ عملی فلسطینیوں کی ضرورت تھی؟فلسطین اور ایران کا معاملہ مختلف ہے۔ ایران ایک ریاست ہے۔ اس پر حملہ ہوا اور اس نے بحیثیت ریاست اس کا جواب دیا۔ ایران کے پاس اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔ یہ مقدمہ درست ہے کہ ماضی میں اگر بہتر حکمتِ عملی اپنائی جاتی تو معاملہ یہاں تک نہ پہنچتا۔ اس کے باوصف‘ موجود کشیدگی اس کا جواز نہیں تھی کہ ایران پر حملہ کر دیا جاتا اور اس کے راہنما کو ان کے گھر میں قتل کر دیا جاتا۔ اس کے بعد ایران کو لڑنا ہی تھا۔ یہ وہ مرحلہ ہے جہاں عمل آپ کے ہاتھ میں ہوتا ہے نہ نتیجہ۔ ایران اس مرحلے میں سرخرو رہا۔ اس کو درمیان میں وقفہ ملا کہ وہ حالتِ جنگ سے نکلے جو اس پر تھوپی گئی۔ اس نے اس کا فائدہ نہیں اٹھایا۔ نتیجتاً اسے نقصان اٹھانا پڑا۔اہلِ فلسطین کا معاملہ مگر اس سے بہت مختلف ہے۔ ان کے علاقے پر قبضہ کر کے‘ اسرائیل نام کی ریاست قائم کی گئی۔ یہ فیصلہ حسبِ روایت عالمی قوتوں نے کیا اور اس میں شبہ نہیں کہ یہ فیصلہ غیر منصفانہ تھا۔ اب یہ اہلِ فلسطین نے طے کرنا تھا کہ وہ اس علاقے کو کیسے واپس لیں اورکیا یہ ممکن ہے؟ ایک صورت یہ تھی کہ وہ حالات کا معروضی جائزہ لیتے اور یہ فیصلہ کرتے کہ ہمیں جو کچھ میسر ہے‘ اس کی حفاظت کے ساتھ‘ ہم اپنا مقدمہ اس طرح پیش کریں گے کہ جو حاصل ہے‘ وہ ضائع نہ ہو۔ دوسرا طریقہ یہ تھا کہ قابض اور اس کے سرپرستوں کو للکارا جائے اور میدانِ کارزار سجا کر‘ اپنا حق واپس لینے کی کوشش کی جائے۔ اہلِ فلسطین نے دوسرا راستہ پسند کیا۔ اس راستے پر چلتے چلتے‘ آج معاملہ یہاں تک پہنچا کہ فلسطینیوں کے پاس کچھ نہیں بچا۔ وہ بے بسی کی تصویر بن چکے۔ آج وہ خود کو غیر مسلح کر رہے ہیں مگر اُن کے اس اقدام کی بھی کوئی قدر نہیں کر رہا۔ کیا اب بھی اس حکمتِ عملی کو درست کہا جا سکتا ہے؟جب ہم نے یہ جان لیا کہ دنیا پر طاقت کا حکم چلتا ہے تو طاقت کو کوسنے کے بجائے‘ درست راستہ یہ تھا کہ طاقت حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔ طاقت کی مختلف صورتیں ہیں۔ اس کا تعین حالات کرتے ہیں۔ کبھی علم طاقت ہوتا ہے اور کبھی میزائل۔ ایران ایک ریاست ہے۔ اس کے نزدیک طاقت کا مفہوم کچھ اور ہے۔ حماس یا پی ایل او تنظیمیں ہیں ریاست نہیں۔ ان کے لیے طاقت کا مفہوم مختلف ہو گا۔ سوچنے کی بات ہے کہ ایران اپنی بقا کے لیے تن من دھن کی بازی لگا دیتا ہے مگر فلسطین کے لیے وہ ایک حد سے آگے نہیں جاتا۔ ترکیہ تو اس کے لیے بھی تیار نہیں کہ اسرائیل سے سفارتی تعلقات ہی منقطع کر لے۔ اب ایک صورت یہ ہے کہ آپ مسلم حکمرانوں کی غیرت کے مر جانے پر نوحہ پڑھیں۔ ایک یہ کہ اس کو بطور واقعہ قبول کریں اور پھر کوئی حکمتِ عملی بنائیں۔ اس پر بھی سوچیں کہ چاہنے کے باوجود‘ کیا سبب ہے کہ ترکیہ اسرائیل کے خلاف عملی قدم نہیں اٹھاتا اور ایران بھی اپنی نصرت کو محدود رکھتا ہے۔ مجھے تُرک ا ور ایرانی قیادت کے اخلاص میں شبہ نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا چیز انہیں اسرائیل سے ٹکرا جانے سے روکتی ہے؟ہم اُن کو بے حمیت نہیں کہہ سکتے۔ ایسا ہوتا تو ایران امریکہ جیسی بڑی قوت سے یوں برسرِ پیکار نہ ہوتا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسئلہ حمیت کا نہیں‘ کچھ اور ہے۔ وہ کیا ہے؟ یہی وہ سوال ہے جو کئی سوالات سے جڑا ہوا ہے۔ ایک سوال مزاحمت کی نوعیت کا بھی ہے۔ ان ممالک کی حکمتِ عملی بتا رہی ہے کہ مزاحمت کا فیصلہ حالات کے تابع ہوتا ہے۔ مزاحمت کی ہمیشہ ایک صورت نہیں ہوتی۔ اگر کوئی حماس جیسی تنظیموں کی مخالفت کرتا ہے تو اس کا سبب یہ نہیں کہ وہ مزاحمت کے خلاف ہے یا اسرائیل کا حامی ہے۔ وہ دراصل مزاحمت کا کوئی دوسرا راستہ تجویز کر رہا ہے۔ اقبال جیسا آدمی‘ جو کبوترکو شہباز کے مدمقابل کھڑا کرنا چاہتا ہے‘ یہ تجویز کرتا ہے کہ پہلے کبوتر کے تنِ نازک میں شاہین کا جگر پیدا ہو۔ چمن میں وہ نغمہ گونجے جس کا ترنم کبوتر کو توانا بنائے تاکہ وہ شاہین کا سامنا کر سکے۔افسوس کہ حماس جیسی تنظیموں نے اہلِ فلسطین کو آج ایسی جگہ لا کھڑا کیا کہ ان کی مظلومیت کے باوجود‘ ان کو کہیں سے کوئی عملی مدد نہیں مل سکی۔ اسرائیل کو دنیا نے ایک ظالم قوت مان لیا ہے لیکن اس سے زمینی حقائق تبدیل نہیں ہوئے۔ آج بھی موقع ہے کہ اہلِ فلسطین کی مظلومیت کو قوت بنا کر‘ اس مقدمے کو سیاسی‘ سماجی اور علمی سطح پر لڑا جائے۔ اس سے فوری فائدہ یہ ہو گا کہ فلسطینیوں کا قتلِ عام رک جائے گا۔ یہ کیسا المیہ ہے کہ ایک طرف حماس ہتھیاروں سے دستبردار ہو رہی ہے اور دوسری طرف اسرائیل کی طرف سے فلسطینیوں کا قتلِ عام جاری ہے۔ اتوار کو اسرائیل نے مزید 26 فلسطینیوں کو قتل کیا جن میں بچے بھی شامل تھے۔ یہ اس مزاحمت کا وہ حاصل ہے جو نوشتہ دیوار تھا۔ اس قتلِ عام کو روکنا فلسطینی قیادت کی پہلی ذمہ داری ہے۔ آزادی بعد کا مرحلہ ہے۔ مجھے تو دوریاستی حل بھی اب یک ریاستی حل میں بدلتا دکھائی دے رہا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سسٹم، نیا یا پرانا؟(عمران یعقوب خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-08-06/52432/93454393</link><pubDate>Thu, 06 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-08-06/52432/93454393</guid><description>وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ موجودہ نظام اس حد تک کمزور ہو چکا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آئندہ دس سال بعد بھی ملک انہی مسائل میں گھرا رہے گا‘ اور یہ کہ ملک کی بہتری اور ترقی کے لیے نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کا قیام ناگزیر ہو چکا ہے۔ اس پر ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے جیسے ایک نیا پینڈورا باکس کھل گیا ہو۔ حکومت کے اندر سے بھی ان کے لتے لیے جا رہے ہیں اور اپوزیشن کا تو کام ہی حکومت پر تنقید کرنا ہے۔ کچھ لوگ نئے صوبوں کے قیام کی حمایت میں بول رہے ہیں اور کچھ اس کی مخالفت میں۔ میرے خیال میں وزیر داخلہ نے کوئی نئی یا انوکھی بات نہیں کی‘ سسٹم کے کمزور ہونے اور ڈِلیور نہ کرنے کی باتیں اس سے پہلے بھی ہوتی رہی ہیں اور نئے صوبوں کے قیام کی ضرورت پر بحث قبل ازیں بھی کئی بار ہو چکی ہے۔ملک میں جاری اس بحث میں مجھے دو باتیں سب سے زیادہ اہم معلوم ہوتی ہیں۔ پہلی یہ کہ نظام شروع سے ناکارہ تھا یا پہلے ٹھیک تھا اور اب ناکارہ ہو چکا ہے۔ اگر یہی حقیقت ہے تو پھر اس نظام کو ناکارہ بنانے کا یا چلا نہ پانے کا ذمہ دار کون ہے؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنا اس لیے ضروری ہے کہ جب تک موجودہ نظام کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہ کر لیا جائے اس وقت تک اسے تیاگنے اور نیا سسٹم وضع کرنے پر کام شروع کرنا کارِ لا حاصل ہو گا۔ غلطیوں کا اندازہ ہو گا تو آئندہ والے نظام کو اسقام سے پاک رکھا جا سکے گا۔ اگلی بات کرنے سے پہلے سسٹم یا نظام کا تعین کر لینا اس بحث کو سمجھنے میں مدد دے گا۔نظام (سسٹم) ایسا باقاعدہ طریق کار‘ قوانین یا اصولوں کا مجموعہ ہوتا ہے جس کے تحت کوئی فرد‘ افراد کا مجموعہ یعنی معاشرہ‘ ادارہ‘ اداروں کا مجموعہ‘ ملک یا ممالک کا مجموعہ کام کرتا ہے جیسے حکومتی نظام (ملک چلانے اور عوام کے امور کو منظم کرنے کا ڈھانچہ ہوتا ہے جیسے جمہوریت یا دیگر طرزِ حکومت) معاشرتی نظام‘ معاشی نظام (مال و دولت کی پیداوار‘ تقسیم اور تجارت کا طریق کار جیسے سرمایہ دارانہ یا اسلامی معاشی نظام)۔ تمام جانداروں کے اجسام ایک نظام کے تحت ہی زندہ رہتے اور زندگی گزار پاتے ہیں‘ نظم یا یہ سسٹم نہ ہو تو کوئی بھی جاندار زندہ نہ رہے؛ چنانچہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ چیزوں‘ پرزوں یا افراد کو ایک خاص قرینے اور سلسلے میں جوڑنا نظام کہلاتا ہے (انسان کے جسم کے اندر اعضا کا مل کر کام کرنا جیسے نظامِ تنفس یا نظامِ انہضام)۔ زندگی‘ حکومت یا کاروبار کو چلانے کے طے شدہ اصول اور قاعدے ہوتے ہیں۔ یہ کسی کام کو بہتر طریقے سے سر انجام دینے کا بندوبست ہوتا ہے۔ سورج‘ زمین‘ چاند اور ستارے بھی ایک سسٹم کے تحت ہی برقرار ہیں اور مسلسل حرکت میں ہونے کے باوجود منظم ہیں۔ اس سے بڑے تناظر میں دیکھا جائے تو ایک دوسرے سے اربوں نوری سال کے فاصلے پر گردش کر رہی کائناتیں بھی ایک وسیع تر نظام کے تحت چل رہی ہیں‘ سب سے بڑے نظام کے تحت۔سابق امریکی صدر ابراہم لنکن نے 1863ء میں گیٹزبرگ (Gettysburg) میں اپنے ایک خطاب کے دوران جمہوریت کی تعریف یوں کی تھی کہ طاقت کا اصل سرچشمہ عوام ہیں یعنی عوام کی حکومت‘ عوام کے ذریعے‘ عوام کے لیے۔ عوام کی حکومت کا مطلب یہ ہے کہ حکومت عوام کی مرضی سے بنتی ہے اور ریاست کا حاکم عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوتا ہے۔ قانون سازی اور نظامِ حکومت چلانے کے لیے عوام اپنے نمائندے براہِ راست یا بالواسطہ ووٹ کے ذریعے منتخب کرتے ہیں اور حکومت کی تمام تر پالیسیوں‘ بجٹ اور فیصلوں کا بنیادی مقصد عوام کی فلاح و بہبود‘ انصاف کی فراہمی اور بنیادی حقوق کا تحفظ ہوتا ہے۔ اب نظام یا سسٹم کی اس تعریف کو سامنے رکھیں تو محسوس ہوتا ہے کہ ملک میں رائج جمہوری نظام سے وابستہ توقعات پوری نہیں ہو سکی ہیں۔ یہ توقعات پوری ہوئی ہوتیں تو آج ان عوام کے مسائل مکمل طور پر حل ہو چکے ہوتے اور انہیں اپنے معمولی کام کرانے کے لیے در در کے دھکے نہ کھانے پڑ رہے ہوتے۔ یہاں حالات یہ ہیں لاقانونیت ہے‘ ذخیرہ اندوزی ہے‘ ناجائز منافع خوری‘ اقربا پروری ہے‘ ملاوٹ ہے‘ جھوٹ ہے‘ فریب ہے‘ اختیارات کا ناجائز استعمال ہے‘ کرپشن ہے‘ غربت ہے‘ جہالت ہے‘ رشوت ستانی ہے‘ چوری ہے‘ ڈکیتی ہے‘ منشیات کا استعمال ہے اور ناانصافی ہے۔ اور نہیں ہے تو تحفظ نہیں ہے‘ ایمان داری نہیں ہے‘ اعتماد نہیں ہے‘ برداشت نہیں ہے جبکہ بے حسی کا یہ عالم ہے کہ اگر کسی عام آدمی کا بل زیادہ آ جائے یعنی اووربلنگ ہو جائے تو اس کے لیے بل درست کرانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہو جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پہلے بل ادا کریں‘ اس کے بعد اسے ٹھیک کرانے کے لیے آئیے۔ اگر وہ بل جمع کرانے کے قابل ہوتا تو اس طرح ٹھیک کرانے کے لیے دھکے کھاتا؟ ان ساری چیزوں کے ہوتے ہوئے سسٹم کو کیسے کامیاب قرار دیا جا سکتا ہے؟ چنانچہ یہ بات طے ہو گئی کہ چونکہ یہ نظام عوام کی توقعات پر پورا نہیں اتر سکا اس لیے ناکام اور ناکارہ ہے۔ پاکستان ایک فلاحی مملکت کے طور پر قائم کیا گیا تھا۔ فلاحی مملکت سے مراد ایسی ریاست ہوتی ہے‘ جس میں شہریوں کو ہر طرح کی سہولتیں میسر ہوں۔ جہالت‘ غربت اور ناانصافی کا خاتمہ ہو۔ نیز لوگوں کو اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے مساوی مواقع حاصل ہوں۔ کیا ہم اپنے ملک کو حقیقی فلاحی ریاست بنا پائے ہیں؟دوسری جانب اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ جو نیا نظام وضع کیا جائے گا وہ ڈِلیور کرے گا؟ کیونکہ اس کا کوئی تجربہ کر کے یہ تو ثابت نہیں کیا گیا کہ یہ ضرور ڈِلیور کرے گا۔ ہو سکتا ہے کہ جو نیا نظام وضع کیا جائے وہ پرانے نظام‘ جسے ناکارہ قرار دیا گیا ہے‘ سے بھی زیادہ بیکار ثابت ہو۔ سوال یہ ہے کہ اگر ایسا ہوا تو پھرکیا ہو گا؟ کیا پھر پہلے والے نظام سے رجوع کیا جائے گا یا پھر کوئی تیسرا آپشن تلاش کرنے کی کوشش کی جائے گی؟ اور اگر وہ بھی ناکام ہو گیا تو پھر کیا ہو گا؟میں ذاتی طور پر نئے صوبوں کے قیام کے حق میں ہوں لیکن ضروری ہے کہ صوبوں کی تقسیم سیاسی بنیاد پر نہ ہو بلکہ انتظامی لحاظ سے ہو کہ چھوٹے یونٹس کے معاملات کو سنبھالنا بڑے یونٹس کی نسبت آسان ہوتا ہے۔ جو بندہ لاڑکانہ میں بیٹھا ہوا ہے اسے اپنے ضروری کام کی غرض سے کراچی جانے کی ضرورت نہیں پڑنی چاہیے بلکہ اس کے کام مقامی سطح پر ہونے چاہئیں۔ اس کے مسائل مقامی سطح پر حل ہونے چاہئیں۔ اب یہ سوچنا اربابِ بست و کشاد کا کام ہے کہ اس کے لیے موجودہ ناکارہ نظام کو کارآمد بنایا جانا چاہیے اور بلدیاتی اداروں کو فعال بنایا جانا چاہیے یا پھر نئے صوبے ہی اس مسئلے کا حل ہو سکتے ہیں۔ اس پر بحث کر لینے میں کوئی مضائقہ نہیں لیکن یہ بے حد ضروری ہے کہ جو بھی بات ہو‘ جو بھی بحث ہو وہ پارلیمنٹ کے اندر ہونی چاہیے کیونکہ ملک میں نئی قانون سازی اور پہلے سے ہو چکی قانون سازی میں ترامیم کا مجاز یہی واحد ریاستی ادارہ ہے۔ پارلیمنٹ سے باہر ہونے والے فیصلے مؤثر ثابت نہیں ہوں گے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_58350786.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مصطفی کمال! آپ سے کچھ باتیں(سعود عثمانی )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-08-06/52433/52713800</link><pubDate>Thu, 06 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-08-06/52433/52713800</guid><description>لاہور کے بعد جس شہر نے مجھے سب سے زیادہ برتا وہ کراچی ہے۔ میرے بچپن‘ لڑکپن اور جوانی کی بہت قیمتی ساعتیں اس شہر میں اس طرح گزری ہیں کہ شہر کی سانسوں میں میری سانسیں بھی شامل رہتی تھیں۔ اسی لیے کراچی سے ہونے والے ظلم پر میرا دل ہمیشہ گریہ کرتا رہا ہے۔ اس شہر کے پڑھے لکھے‘ مہذب گھرانوں سے زیادتی پر میں ہمیشہ کڑھتا رہا ہے۔ وہ مصرع ہے نا: ایں مقتول را جز بیگناہی نیست تقصیرے۔ یہ وہ مقتول ہے جس کا جرم اس کی بیگناہی کے سوا کچھ نہیں تھا۔ اہلِ کراچی نے اپنی بے گناہی کی جو سزا بھگتی ہے اور ہنوز بھگت رہے ہیں ان پر میری تکلیف کی گواہ میری بہت سی تحریریں ہیں۔ اس لیے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ کراچی کے مسائل سے میری لاتعلقی ہے۔ لیکن اس کے باوجود بحیثیت سیاسی جماعت ایم کیو ایم سے میری کبھی کوئی توقع اور دلچسپی نہیں رہی۔ اب تک بھی ایسا نہیں جب ایم کیو ایم ایک آسیبی سائے کی گرفت سے بہت سال پہلے باہر آچکی ہے۔ میں اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ ایم کیو ایم میں بہت محنتی‘ مخلص اور دردمند لوگ شامل ہیں جنہیں میں جانتا ہوں اور جنہیں نہیں جانتا‘ خاص طور پر کارکنوں کی صفوں میں لیکن میرا تاثر یہی رہا کہ قیادت سے زیادہ توقع وابستہ نہیں کی جا سکتی۔ ملکی معاملات تو دور کی بات خود کراچی کے بے پناہ مسائل کیلئے بھی۔ ہر توقع میں دو چیزیں حائل رہیں۔ ایم کیو ایم کی مجبوریاں اور اپنی بنائی ہوئی پالیسیاں۔ ایک زمانے میں ایم کیو ایم ایک پریشر گروپ کا کام ضرور کرتی تھی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ دانت اور ناخن بھی کمزور ہوتے گئے۔ اور اب ہم ہر نئے دور میں دیکھتے ہیں کہ ایم کیو ایم ایک دو وزارتوں کے حصول اور قانون سازی کے وقت اپنے ووٹ کسی خاص سمت میں ڈالنے کے سوا کوئی کردار ادا نہیں کرتی۔ آپ میری بات چھوڑیں‘ پورے ملک کی آرا کو ایک طرف رکھیں۔ کراچی کے ایک عام آدمی کا تاثر ہی معلوم کرلیں‘ اندازہ ہوجائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ میری ہمدردیاں دوسری جماعتوں کے بجائے ایم کیو ایم کیلئے زیادہ رہی ہیں۔ اس کہ وجہ یہ ہے کہ ایم کیو ایم بنیادی طور پر متوسط طبقے سے اٹھی تھی اور جس کے رہنما روایتی سیاسی خاندانو ں‘ بڑے صنعتکار اور زمیندار گھرانوں سے نہیں تھے۔ یہ عام گلی محلوں کے لوگ ہیں اور یہ اس لحاظ سے واحد ملکی پارٹی تھی۔ خواب کتنے بھی چکنا چور ہوئے ہوں میں آج بھی سمجھتا ہوں کہ معاشرے میں اگر کوئی انقلابی تبدیلی لا سکتے ہیں تو وہ یہی متوسط گھرانوں کے نوجوان ہیں۔ لیکن اس یقین کے باوجود میں اپنے اس تاثر کی معافی کا طلبگار ہوں کہ ایم کیو ایم کے ترجمانوں میں سے کوئی قومی سطح کا رہنما محسوس نہیں ہوا۔ کبھی ایسا نہیں لگا کہ یہ شخص علاقائی اور مقامی سطح سے اوپر اٹھ کر پورے ملک کیلئے دل میں درد رکھتا ہے یا پوری قوم کیلئے سوچتا ہے۔ چلیے یہ تو بڑے مقاصد ہیں‘ کراچی سمیت سندھ کے شہروں کے مسائل کے حل کی طرف بڑھنے اور نظام کی بہتری کیلئے بھی ان کا کوئی خاص کام نظر نہیں آیا۔اگر ہوا ہوتا تو اس وقت سندھ کی حالت ایسی دگرگوں نظر آتی ؟ اس لیے میرے تحفظات کو سمجھنا مشکل نہیں ہے۔یہ باتیں لکھنے کے بعد اگر میں یہ کہوں کہ میرے نزدیک جناب مصطفی کمال پارٹی کے سب رہنماؤں میں ہمیشہ ایک مختلف آواز محسوس ہوئے تواس سچائی پر بھی یقین کر لیجیے۔ان کیلئے میرے دل میں احترام اور قدر اُس وقت سے ہے جب وہ 2005ء میں محض 34 سال کی عمر میں کراچی کے مئیر بنے اور حقیقت یہی ہے کہ انہوں نے2010ء تک اس وقت کے کراچی کو بدل کر رکھ دیا۔اس سے پہلے عبد الستار افغانی اور نعمت اللہ خان صاحب کی مئیر شپ کی مثالیں دی جاتی تھیں۔اس نیک نام فہرست میں مصطفی کمال کا نام اس طرح شامل ہوا کہ کروڑوں نگاہیں ان پر مرکوز ہوگئیں۔مجھے یقین ہے کہ اگر یہ پانچ سال ان کی زندگی میں نہ آئے ہوتے تو وہ موجودہ مصطفی کمال نہ ہوتے۔میری دلچسپی محض ان کاموں کی وجہ ہی سے نہیں بلکہ ان کے دبنگ اندازِ گفتگو اور ان خیالات کی وجہ سے بھی ہے۔ 2016ء میں ایم کیو ایم سے الگ ہوتے ہوئے انہوں نے بانی اور سابقہ قیادت پر جو سخت تنقید کی تھی وہ بھی لوگوں کو یاد ہوگی۔ اس خوف اور دہشت کے عالم میں یہ باتیں کرنا بہت جرأت کی بات تھی۔مصطفی کمال مقامی اور اندرونی سیاسی مصلحتوں کو سامنے رکھ کر گول مول گفتگو کے عادی نہیں لگتے؛ چنانچہ ان کی بات اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔ قدرے جارحانہ اور لگی لپٹی سمیٹ کر ایک طرف رکھنے کا یہ انداز یقینا ایم کیو ایم کے گلی محلوں کے کارکنوں کے دل میں اترتا ہوگا۔مصطفی کمال کا پاک سرزمین پارٹی کا تجربہ ناکام ہوا تو وہ 2023ء میں ایک بار پھر ایم کیو ایم کا حصہ بن گئے لیکن میرا خیال ہے اس دور نے انہیں بہت سا سبق دے کر سفاک حقیقتوں سے روشناس کرایا۔کل جب پارٹی کارکنوں سے ان کے خطاب کے کلپس اور چیئرمین سمیت بڑے رہنماؤں پر سخت تنقید سن رہاتھا تو میرا احساس تھا کہ وہ پارٹی کا حصہ ہوتے ہوئے بھی حصہ نہیں ہیں۔ پارٹی کے اندر جو اس وقت بہت نمایاں دھڑے بندی ہے اور ایسا لگ رہا ہے کہ ایم کیو ایم دو دھڑوں میں بٹ چکی ہے‘ وہ بڑا امتحان ہے‘ مصطفی کمال کیلئے بھی اور پارٹی کیلئے بھی۔یہ اختلافات کیا ہیں‘ ان کی گہرائی میں نہیں جاتے لیکن بظاہر مسئلہ تو اختیارات ہی کا ہے۔ آئینی اور عملی اختیارات۔خالد مقبول صدیقی سینئر ترین رہنما ہیں۔ آئینی طور پر مستحکم ہیں۔انہیں سینئر قیادت کی حمایت حاصل ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ تمام اہم فیصلے بہادر آباد کی مرکزی قیادت کے ذریعے ہوں۔مصطفی کمال عوامی رابطوں میں آگے ہیں اور بظاہر قیادت کے فیصلوں سے ہم آہنگ نہیں۔وہ زیادہ متحرک‘ عوامی رابطے پر مبنی اور نسبتاً خودمختار اندازِ سیاست اختیار کرتے ہیں۔ رواں برس کے آغاز میں بھی الگ الگ سیاسی جلسوں کی شکل میں کشیدگی صاف نظر آئی تھی اور اس وقت تو یہ خلیج بہت پھیلی ہوئی ہے۔خیر! ایم کیو ایم کی اندرونی سیاست سے میں نہ اتنا واقف ہوں نہ اس پر بات کرنا چاہتا ہوں۔ مجھے جو بات کرنی ہے وہ اور ہے اور وہ بات مجھے مصطفی کمال ہی سے کرنی ہے۔جناب مصطفی کمال صاحب ! ایک خیرخواہ کے طور پر میں سمجھتا ہوں کہ ایم کیو ایم اگر کراچی کے شہریوں میں اپنی حمایت اور طاقت برقرار رکھنا چاہتی ہے تو پارٹی پالیسیوں اور حکمت عملی میں انقلابی تبدیلیوں کی شدید ضرورت ہے۔آپ کراچی سے باہر یا خود کراچی میں کسی سے بھی ایم کیو ایم کے بارے میں تاثر جان لیں‘ وزارتوں‘ عہدوں کے کھیل کی طالب ایسی جماعت کا تاثر ملے گا جسے بوقتِ ضرورت فیصلہ ساز اپنے مہرے کے طور پر استعمال کرسکتے ہیں۔اس تاثر کے ہوتے ہوئے پارٹی کو زیادہ دیر منظر پر نہیں رکھا جا سکتا۔ایم کیو ایم کو اس دائرے سے نکلنے کی شدید ضرورت ہے۔ مصطفی کمال کے سوا کسی اور سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ یہ چلن بدلنے کا کام کرسکتا ہے۔ ایم کیو ایم کا سامنا جماعت اسلامی جیسی ملک گیر اور منظم جماعت سے بھی ہے اور پیپلز پارٹی سے بھی جو ملک کی دو بڑی جماعتوں میں شمار ہوتی ہے۔ جب تک ایم کیو ایم مقامی سطح سے اٹھ کر ایک ملک گیر جماعت کی صورت اختیار نہیں کرتی وہ چھوٹی جماعت ہی شمار ہوتی رہے گی۔مصطفی کمال! ایم کیو ایم ان لوگوں کی اور اس شہر کی نمائندہ ہے جن کے بزرگوں نے پاکستان بنایا تھا اور اس کیلئے لاکھوں قربانیاں دی تھیں۔آپ کراچی کے چپے چپے کو جانتے ہیں۔کیا آپ سے یہ توقع بیکار ہوگی کہ آپ مصلحت کی پالیسیوں کو چھوڑ کرسیٹوں ‘ عہدوں اور وزارتوں کی ترغیبات سے الگ ہوکر‘ پارٹی کو ایک ملک گیر جماعت بنادیں۔ وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا۔ بر وقت فیصلے کیجیے اس سے پہلے کہ وقت آپ کا فیصلہ کردے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_81278520.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>امام احمد رضا اور ردِّ بدعات ومنکَرات(مفتی منیب الرحمٰن )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-08-06/52434/84135286</link><pubDate>Thu, 06 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-08-06/52434/84135286</guid><description>امام احمد رضا قادری اپنے عہد کے عظیم مفسر‘ محدث‘ فقیہ‘ متکلم اور جامع العلوم تھے۔ یہ ستم ظریفی ہے کہ ان کے فتاویٰ جات کے حوالوں کے بغیر مفروضوں کی بنیاد پر ان پرشرک وبدعت اور فروغِ منکَرات کا الزام لگا کر طَعن و تشنیع کا نشانہ بنایا گیا‘ حالانکہ وہ بدعت کو مٹانے والے تھے۔ ذیل میں ہم چند مثالیں پیش کرتے ہیں:اہلسنّت کو قبوری اور قبر پرست کہا جاتا رہا‘ امام احمد رضاقادری لکھتے ہیں: &#39;&#39;مسلمان! اے مسلمان! اے شریعتِ مصطفوی کے تابعِ فرمان! جان کہ سجدہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کیلئے روا نہیں‘ اس کے غیر کو سجدۂ عبادت تو یقینا اجماعاً صریح شرک اور واضح کفر اور سجدۂ تعظیمی یقینا حرام اور گناہِ کبیرہ‘ اس کے کفر ہونے میں علمائے دین کا اختلاف ہے‘ فقہا کی ایک جماعت سے اس کے کفر ہونے کا قول بھی نقل کیا گیا ہے۔ سجدۂ عبادت تو بہت دور کی بات ہے‘ اُنہوں نے سجدۂ تعظیمی کے حرام ہونے پر قرآن وسنت کی نُصوص سے استدلال کرکے &#39;&#39;اَلزُّبْدَۃُ الزَّکِیَّہ لِتَحْرِیْمِ السُّجُوْدِ التَّحِیََّۃ‘‘ کے نام سے ایک باقاعدہ رسالہ لکھا۔ آپ نے فقہِ حنفی کے مُسلّمہ فتاویٰ وائمہ اَحناف کے حوالے سے لکھا: &#39;&#39;عالموں اور بزرگوں کے سامنے زمین چُومنا حرام ہے‘ چومنے والا اور اس پر راضی ہونے والا دونوں گناہگار‘ کیونکہ یہ بت پرستی کے مشابہ ہے‘‘۔ مزید لکھتے ہیں: &#39;&#39;زمین بوسی اگرچہ حقیقتاً سجدہ نہیں ہے‘ کیونکہ سجدے میں زمین پرپیشانی رکھنا ضروری ہے‘ جب سجدۂ تعظیمی بت پرستی کے مشابہ ہونے کے سبب حرام ہے تو سجدۂ عبادت کی حرمت کی سنگینی کا اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے‘ العیاذ باللہ تعالیٰ‘‘۔ مزید لکھتے ہیں: &#39;&#39;مزارات کو سجدۂ تعظیمی یا مزار کے سامنے زمین چومنا حرام اور حدِّ رکوع تک جھکنا ممنوع‘‘۔ وہ لکھتے ہیں: &#39;&#39;سیّد المرسلینﷺ کے روضۂ انور کی زیارت اور سلام کیلئے حاضری کے موقع پر نہ دیوارِ کریم کو ہاتھ لگائے‘ نہ چومے‘ نہ اس سے چمٹے‘ نہ طواف کرے‘ نہ زمین کو چومے کہ یہ سب قبیح بدعات ہیں‘‘۔ شرحِ لُباب کے حوالے سے لکھا: &#39;&#39;رہا مزار کو سجدہ‘ تو وہ حرامِ قطعی ہے‘ زائر جاہلوں کے فعل سے دھوکا نہ کھائے‘ بلکہ باعمل علما کی پیروی کرے۔ مزار کو بوسا دینے‘ چھونے اور چمٹنے میں علما کا اختلاف ہے‘ لیکن شریعت کا محتاط ترین حکم یہ ہے: &#39;&#39;یہ امور ادب کے خلاف ہیں‘ اس لیے ایسی حرکات سے منع کیا جائے‘‘۔ فقہی حوالے کے ساتھ مزید لکھا: &#39;&#39;مزار کو سجدۂ تعظیمی تو درکنار‘ کسی قبر کے سامنے اللہ تعالیٰ کو بھی سجدہ جائز نہیں ہے‘ اگر چہ قبلے کی جانب ہو‘ کیونکہ یہ بت پرستی کے مشابہ ہے۔ قبرستان میں نماز مکروہ‘ کہ اس میں کسی قبر کی طرف رُخ ہو گا اور قبر کی طرف نماز مکروہ ہے؛ البتہ قبرستان میں مسجد یا نماز کاچبوترہ بنا ہو تو اس میں حرج نہیں ہے۔آپ سے اولیائے کرام کے مزارات کے طواف کی بابت سوال ہوا تو لکھا: &#39;&#39;بلاشبہ بیت اللہ کے علاوہ روضۂ رسول سمیت قبروں کا طوافِ تعظیمی ناجائز ہے اور غیر اللہ کو سجدۂ تعظیمی ہماری شریعت میں حرام ہے۔ آپ سے سوال ہوا: بعض وظائف میں آیات اور سورتوں کو الٹ کرکے پڑھنا کیسا ہے؟ آپ نے فرمایا: &#39;&#39;حرام اور شدید ترین حرام‘ کبیرہ اور سخت کبیرہ (گناہ)‘ کفر کے قریب ہے‘ یہ تو درکنار‘ سورتوں کو صرف ترتیب بدل کر پڑھنے کی بابت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں: &#39;&#39;کیا ایسا کرنے والا ڈرتا نہیں کہ اللہ اس کے دل کو اُلٹ دے‘ جبکہ آیات کو بالکل اُلٹ کرکے مُہمل (بے معنیٰ) بنا دینا اس سے بھی زیادہ سنگین بات ہے‘‘۔آج کل دین کے علم سے بے بہرہ جاہل لوگ پیرو مرشِد بنے ہوئے ہیں‘ اپنی جہالت کا جواز اس طرح پیش کرتے ہیں: &#39;&#39;طریقت باطنی اور روحانی اَسرار و رموز کا نام ہے‘ علما تو صرف الفاظ اور ظاہر کو جانتے ہیں‘ ان کے دل نور سے خالی ہیں‘ یعنی وہ طریقت اور شریعت کو ایک دوسرے کی ضد قرار دیتے ہیں۔ امام احمد رضا قادری نے لکھا: &#39;&#39;شریعت اصل ہے اور طریقت اُس کی فرع‘ شریعت منبع ہے اور طریقت اس سے نکلا ہوا دریا‘ طریقت کی جدائی شریعت سے محال و دشوار ہے‘ شریعت ہی پر طریقت کا مدار ہے‘ شریعت ہی حق کو پہچاننے کی کسوٹی اور معیار ہے۔ شریعت ہی وہ راہ ہے جس سے وصول اِلَی اللہ ہے‘ اس کے سوا آدمی جو راہ چلے گا‘ اللہ تعالیٰ کی راہ سے دور پڑے گا‘ طریقت اس راہ کا روشن ٹکڑا ہے‘ طریقت کا شریعت سے جدا ہونا محال ونامناسب ہے۔ طریقت میں جو کچھ منکشف ہوتا ہے‘ شریعتِ مطہرہ ہی کے اتّباع کا صدقہ ہے۔ جس حقیقت کو شریعت رَد فرمائے‘ وہ حقیقت نہیں‘ بے دینی اور زَندقہ ہے‘‘۔لغت میں ہر نئی چیز کو بدعت کہتے ہیں اور شرعی اصطلاح میں &#39;&#39;دین میں ایسی چیز اختراع کرنا جسکی اصل دین میں نہ پائی جائے یا جس سے کسی سنت کی نفی ہو‘ بدعت ہے‘ ہر وہ چیز جو کسی شرعی دلیل کے مُعارِض ہو‘ بدعتِ سَیِّئَۃ ہے‘‘۔ آپ سے سوال ہوا: &#39;&#39;کیا فرضی مزار بنانا‘ اس پر چادر چڑھانا‘ فاتحہ پڑھنا اور اصل مزار کا سا ادب کرنا جائز ہے؟‘‘ آپ نے جواب میں لکھا: &#39;&#39;یہ ناجائز اور بدعت ہے‘ اگر کوئی بزرگ کسی کو خواب میں مزار بنانے کا حکم دے تو ایسے خوابوں کی شرعاً کوئی حیثیت نہیں ہے‘‘۔ بعض لوگ مستحبات میں مشغول ہو کر فرائض کو نظر انداز کر دیتے ہیں‘ آپ نے فتوح الغیب کے حوالے سے لکھا: &#39;&#39;ایسے شخص کی سنتیں اور نوافل قبول نہیں ہیں‘‘۔ آپ سے پوچھا گیا: &#39;&#39;کیا اللہ تعالیٰ کو عاشق اور نبی کریمﷺ کو معشوق کہنا جائز ہے؟‘‘ آپ نے جواب میں لکھا: &#39;&#39;عشق کے معنی اللہ تعالیٰ کیلئے مُحالِ قطعی ہیں‘ قرآن وسنت سے ہرگز یہ ثابت نہیں ہے اور شرعی ثبوت کے بغیر اللہ کیلئے ایسے الفاظ کا استعمال قطعاً منع ہے‘‘ (فتاویٰ رضویہ‘ج: 21‘ ص: 114)۔ کئی لوگوں کی آمدنی حرام کی ہوتی ہے‘ لیکن وہ عاشقِ رسول بن کر محافلِ میلاد منعقد کرتے ہیں‘ لنگر چلاتے ہیں‘ پیسہ لٹاتے ہیں۔ اُنکی بابت آپ سے سوال ہوا‘ آپ نے جواب میں لکھا: &#39;&#39;جو حرام مال پر ایصالِ ثواب کی نیت سے فاتحہ دیتا ہے اور کہتا ہے کہ نبی کریمﷺ قبول فرماتے ہیں‘ اس شخص کا یہ قول صراحتاً غلط اور باطل ہے‘‘ آپ لکھتے ہیں: &#39;&#39;مالِ حرام ہرگز قابلِ قبول نہیں ہے‘ نہ اسے راہِ خدا میں صرف کرنا روا‘ نہ اُس پر ثواب‘بلکہ نرا وبال ہے‘‘۔ قرآنِ کریم میں ہے: &#39;&#39;اور (اللہ کی راہ میں) ایسا گھٹیا مال خرچ کرنے کا ارادہ نہ کرو جسے تم خود چشم پوشی کے بغیر لینے کیلئے تیار نہیں ہوتے‘‘ (البقرہ: 267)۔وعظ وتذکیر نہایت عمدہ بات ہے‘ سنتِ رسول ہے‘ اللہ کے نزدیک پسندیدہ ہے‘ مگر اس کی بنیاد قرآن وحدیث‘ سلَفِ صالحین اور اکابرِ امت کے فرمودات پر ہونی چاہیے۔ ہر دور میں واعظین لوگوں کو اپنی طرف مائل کرنے کیلئے روایتیں‘ قصے اور کہانیاں وضع کرتے رہے ہیں‘ موضوع احادیث پر کتابیں بھی لکھی گئی ہیں۔ صرف مستند اور باحوالہ روایات بیان کرنی چاہئیں۔ لوگوں کے ذوق سے زیادہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولِ مکرّمﷺ کی رضا کو پیشِ نظر رکھنا چاہیے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ لوگوں کو قرآن وسنت سے جوڑ کر رکھا جائے‘ کیونکہ ایک طرف تو لبرل ازم کے نام پر اباحتِ کلی کا ماحول پیدا کیا جا رہا ہے اور دوسری جانب رُشد وہدایت کے منصب پر دین و شریعت کی پابندیوں سے آزاد آوارہ منش لوگ ازخود فائز ہو گئے ہیں‘ اُن کے ہاں بے عملی اور بے راہ روی کا ماحول پروان چڑھ رہا ہے۔ اگر شریعت کی رو سے گرفت کی جائے تو کرائے پر علما دستیاب ہیں جو کہیں نہ کہیں سے کوئی حوالہ نکال لائیں گے۔ امام اہلسنت نے لکھا: &#39;&#39;واعظ کیلئے صحیح العقیدہ اہلسنت ہونا چاہیے‘ اُسے عالم ہونا چاہیے‘ جاہل کا وعظ کرنا ناجائز ہے‘ بلکہ حدیث پاک میں اس کی بابت وعید آئی ہے: &#39;&#39;اللہ تعالیٰ علمِ حق کو یونہی بندوں کے درمیان سے اٹھا نہیں لیتا‘ بلکہ علمائے حق کے اٹھ جانے (اور اُن کا بدل نہ ہونے) کے سبب اللہ تعالیٰ علم کو اٹھا لیتا ہے یہاں تک کہ جب کوئی عالمِ (ربانی) باقی نہ رہے تو لوگ جاہلوں کو اپنا (مذہبی) پیشوا بنا لیتے ہیں‘ پھر لوگ اُن سے شرعی مسائل دریافت کرتے ہیں اور وہ جہل پر مبنی فتوے دیتے ہیں‘ خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں‘‘ (بخاری: 100)۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_61172381.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>