<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>تیل کی قیمتیں(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-09/11524</link><pubDate>Wed, 09 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-09/11524</guid><description>پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ غریب اور متوسط طبقے کی معیشت کے لیے تباہ کن ہے۔ منگل کے روز حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 12روپے 90 پیسے کا بھاری اضافہ ایسے وقت میں کر دیا جب عوام پہلے ہی پٹرولیم قیمتوں میں سلسلہ وار اضافے سے ہلکان ہیں۔ توانائی کے وسائل بنیادی ضروریاتِ زندگی کی جنس ہیں۔ جب پٹرول اور ڈیزل مہنگا ہوتا ہے تو ٹرانسپورٹ کے کرایوں سے لے کر سبزیوں‘ دالوں‘ ادویات اور کارخانوں میں بننے والی اشیا اور خدمات کی اجرت تک‘ ہر شے مہنگی ہو جاتی ہے۔ بنیادی ضرورت کی اشیا کی مسلسل بڑھتی قیمتوں کے سبب غریب کی قوتِ خرید ختم ہو چکی ہے اور سفید پوش طبقہ اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔ اس صورتحال کا ایک تشویشناک اور تضاد سے بھرپور پہلو یہ ہے کہ ایک طرف حکومت جماعت اسلامی کے ساتھ پٹرولیم لیوی اور ٹیکسوں میں ریلیف کیلئے مذاکرات کر رہی تھی تو اسی دوران یکلخت پٹرول کی قیمت میں بھاری اضافہ کر دیا گیا۔

اگرچہ قیمتوں میں اضافے کو عالمی مارکیٹ کا ردِعمل قرار دیا جاتا ہے مگر یہ جواز اس وقت عذرِ لنگ ثابت ہوتا ہے جب یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ رواں سال جولائی میں حکومت نے ہائی سپیڈ ڈیزل کا ایک لیٹر بھی درآمد نہیں کیا مگر اسی دوران ڈیزل کی قیمت 311 روپے فی لیٹر سے بڑھ کر 393روپے ہو گئی‘ یعنی تقریباً 82 روپے اضافہ ہوا۔ اس وقت حکومت کسٹمز ڈیوٹی اور دیگر ٹیکسز کی مد میں پٹرول پر 114 روپے جبکہ ڈیزل پر 100روپے فی لیٹر وصول کر رہی جن میں 80روپے کی لیوی بھی شامل ہے۔ ماہرینِ معیشت کے مطابق لیوی کی جائز شرح 40 سے 45 روپے تک ہونی چاہیے مگر حکومت اپنی آمدنی بڑھانے کیلئے پٹرولیم کے محصولات میں مناسب کمی سے انکاری ہے اور اس سلسلے میں آئی ایم ایف کے اعتراضات کا ڈھونگ رچایا جاتا ہے۔ مالی سال2025ء میں 1220 ارب اور مالی سال 2026ء میں 1567 ارب روپے لیوی کی مد میں اکٹھے کیے گئے جبکہ رواں مالی سال کیلئے لیوی کا ہدف 1676ارب روپے رکھا گیا ہے۔
یوں ثابت ہوتا ہے کہ ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی مہنگائی کا تعلق عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ سے کم اور حکومتی مالیاتی وصولیوں سے زیادہ ہے۔ دنیا بھر کی حکومتیں عالمی مارکیٹ میں قیمتیں بڑھنے پر عوام پر ان کے اثرات کو کم سے کم منتقل کرنے کی منصوبہ بندی کرتی ہیں لیکن ملکِ عزیز میں الٹی گنگا بہہ رہی ہے اور عالمی منڈی کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ حکومتی محصولات کی بلند شرح مرے پر سو درے ثابت ہو رہے ہیں۔ یہاں عالمی مارکیٹ کی معمولی لہر کو بھی مقامی مارکیٹ کیلئے ایک بڑے طوفان میں بدل دیا جاتا ہے تاکہ حکومت اپنے ٹیکس خسارے کو غریب عوام کی جیبوں سے پورا کر سکے۔ معیشت کا مطلب صرف زرِمبادلہ کے ذخائر یا کرنٹ اکائونٹ نہیں بلکہ ملکی معیشت کا اصل عکس عام آدمی کے بجٹ میں نظر آتا ہے۔ معاشی استحکام تبھی پائیدار ہوتا ہے جب اس کے ثمرات نیچے تک پہنچیں‘ ورنہ کھوکھلی ترقی عوامی محرومیوں کا مداوا نہیں کر سکتی۔
حکومت کو عالمی مارکیٹ میں ہونے والے اضافے کا مقابلہ پٹرولیم لیوی اور ڈیوٹیز میں کمی سے کرنا چاہیے تھا تاکہ قیمتیں مستحکم رہیں اور عوام پر اضافی بوجھ نہ پڑے‘ لیکن حکمرانوں نے آسان ترین اور بالواسطہ ٹیکسوں کا جو راستہ چنا ہے وہ معاشی عتاب کی بدترین مثال ہے۔ان حالات میں حکومت کو اپنے اخراجات‘ مراعات اور غیر ترقیاتی مصارف میں کمی کرنے کی بھی اشد ضرورت ہے۔ تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کا یہ سلسلہ عام آدمی کی معیشت کے لیے تباہ کن ہے۔کہتے ہیں آخری تنکا اونٹ کی کمر توڑتا ہے۔یہ صورتحال اگر درست فیصلوں کے ذریعے سنبھالی نہ گئی تو سخت عوامی ردِعمل کے اندیشے خارج از امکان نہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>چالانوں کی بھرمار، ٹریفک بد حال(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-09/11523</link><pubDate>Wed, 09 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-09/11523</guid><description>اگلے روز لاہور میں برکی روڈ پر ٹریفک جام کے باعث ایک نوجوان بروقت ہسپتال نہ پہنچ سکا اور ایمبولینس میں دم توڑ گیا۔  خبر کے مطابق مریض کو لے جانے والی ایمبولینس تقریباً ایک گھنٹہ ٹریفک جام میں پھنسی رہی مگر اس دوران کوئی ٹریفک اہلکار ٹریفک سنبھالنے کیلئے وہاں نہ پہنچا۔ جس شہر میں ٹریفک پولیس ٹریفک کو منظم کرنے سے زیادہ چالانوں میں مصروف نظر آئے وہاں ٹریفک جام سے ایسے سانحات حیران کن نہیں۔ سٹی ٹریفک پولیس لاہور کے مبینہ اعداد و شمار کے مطابق صرف اگست کے مہینے میں چار لاکھ سے زائد چالان کیے گئے۔ روزمرہ کا مشاہدہ ہے کہ ٹریفک اہلکار سڑکوں پر ٹریفک رواں رکھنے کے بجائے ہر اشارے اور ہر شاہراہ پر صرف چالان کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پریقینا چالان بھی ہونے چاہئیں مگر ٹریفک پولیس کا بنیادی فرض ٹریفک کو رواں رکھنا اور ضرورت کے وقت فوری رسپانس دینا ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر جرمانوں میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے اور چالانوں کی تعداد بھی مسلسل بڑھ رہی ہے‘ لیکن سڑکوں پر ٹریفک بدنظمی کا مسئلہ بدستور موجود ہے۔ اصل المیہ یہ ہے کہ ٹریفک مینجمنٹ کہیں بہت پیچھے رہ گئی ہے۔ جو فورس شہریوں کو سڑکوں پر سہولت دینے کیلئے ہونی چاہیے تھی اسے عملاً ریونیو جمع کرنے والی فورس بنا دیا گیا ہے۔ یہ روش فوری طور پر تبدیل کرنا ہوگی تاکہ سڑکوں پر منظم ٹریفک کی روانی یقینی بنائی جا سکے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>روٹی کی گرانفروشی(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-09/11522</link><pubDate>Wed, 09 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-09/11522</guid><description>حکومتی دعوؤں کے باوجود ملک میں گراں فروشی کا بازار گرم ہے۔ باقی اشیائے خورونوش تو رہیں ایک طرف‘ روٹی کے سرکاری نرخوں پر بھی عملدرآمد یقینی نہیں بنایا جا رہا۔ پنجاب میں 100 گرام وزنی روٹی کی سرکاری قیمت 14روپے مقرر ہے لیکن یہ مختلف علاقوں میں 20سے 25روپے میں فروخت ہو رہی ہے۔ صوبے میں پرائس کنٹرول‘ انفورسمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی اور ضلعی انتظامیہ سمیت متعدد ادارے موجود ہیں‘ مگر گراں فروشوں کے سامنے تمام نظام بے بسی کی تصویر بنا ہوا ہے۔ حکومت اگر اپنے ہی مقرر کردہ نرخوں پر عمل نہیں کرا سکتی تو اسے نرخ مقرر کرنے کی مشق پر بھی نظرثانی کرنی چاہیے۔ دوسری طرف تنور مالکان مہنگی روٹی کا سبب مہنگی گندم اور ایل پی جی کے نرخوں میں اضافے کو قرار دیتے ہیں۔

لہٰذا حکومت کو گندم سے آٹے اور آٹے سے روٹی تک پوری سپلائی چین کا جائزہ لینا ہوگا۔ اگر کھیت سے تنور تک پہنچتے پہنچتے بنیادی اجناس کی قیمت کئی گنا بڑھ رہی ہے تو خرابی کہیں نہ کہیں نگرانی کے نظام میں موجود ہے۔ عوام پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں‘ ایسے میں روٹی جیسی بنیادی ضرورت بھی ان کی دسترس سے دور ہونا حکومتی کارکردگی پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔ حکومت کو اب دعوئوں اور کارروائیوں کی نمائشی مشق سے آگے بڑھنا ہوگا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>صوبے ضرور بنائیے(ایاز امیر)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-09-09/52628/75373634</link><pubDate>Wed, 09 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-09-09/52628/75373634</guid><description>افراتفری نہیں کہتے‘ غلط معنی اس لفظ کے لیے جائیں گے۔ لیکن منجمد پانیوں میں کچھ تو حرکت آئے۔ چار سال سے زائد کا عرصہ ہو چلا ہے جب سے یہ بندوبست قائم ہوا کہ ہر چیز ساکت پڑی ہوئی ہے۔ حالات میں کوئی اتار چڑھاؤ نہیں‘ بس اقتدار سمٹتا چلا جا رہا تھا۔ حکمرانی کے پرزے مضبوط ہو رہے تھے۔ بولنے والی آواز دوسری طرف کوئی تھی نہیں اور جو آوازیں اُٹھتیں زیادہ دیر تک قائم نہ رہ سکتیں۔ اس لیے شکر ہے کہ کسی موضوع کے حوالے سے‘ کسی بات پر‘ کوئی حرکت کا امکان تو پیدا ہو رہا ہے۔ چیئرمین ماؤ کا وہ کیا لافانی قول تھا کہ آسمانوں کے نیچے بہت افراتفری (disorder) ہے اور حالات بہترین ہیں۔ یعنی اُن کی نظر میں حالات کی بہتری کے لیے ہلچل کا ہونا ضروری ہے اور اپنی تاریخ کی اتنی تو سمجھ ہونی چاہیے کہ بڑی مضبوط چٹانوں میں بھی تبدیلی تب آئی جب کسی حرکت کا سامان پیدا ہوا۔البتہ سندھ کے بہن بھائی سیخ پا ہیں کہ اُن کے قدیم دیس کی تقسیم کی بات ہو رہی ہے۔ ہمارے یہ عزیز ناز کرتے تھے اس بات پر کہ پاکستان کے حق میں سندھ اسمبلی پہلی اسمبلی تھی جس نے قرارداد منظور کی۔ اس بات پر بھی فخر تھا کہ ہندوستان سے آنے والوں کے لیے ہم نے اپنے دل اور دروازے کھول دیے۔ یو پی کی آدھی آبادی ہو گی جوکہ اُٹھ کر کراچی اور حیدر آباد میں آباد ہو گئی۔ داد دینی پڑتی ہے اُن لوگوں کو کہ اتنا کچھ ملنے کے بعد بھی اُن کے دلوں میں قرار نہ آیا۔ بے چین ہی رہے اور آج تک اُن کی بے چینی گاہے گاہے نظر آتی ہے۔ نئے صوبوں کی تحریک میں ہراول دستہ انہی پر مشتمل ہے کہ وہ دیرینہ خواب پورا ہو کہ کراچی کا الگ تشخص قائم ہو اور اُس کی نگہبانی اُن کے ہاتھ میں ہو۔ سندھ کے باسیوں کو اُس پرانی سخاوت کا خمیازہ بھگتنے کے لیے اب دعوت دی جا رہی ہے۔ایک بات عرض کرتے چلیں کہ درپردہ اٹھارہویں ترمیم کی تفصیلات طے ہو رہی تھیں تو ہم بھی اُس اسمبلی کے ممبر تھے۔ اسمبلی میں کسی کو سمجھ نہیں تھی کہ پردے کے پیچھے ہو کیا رہا ہے۔ ایک میاں رضا ربانی باخبر تھے اور دوسرے ہمارے ایم کیو ایم کے دوست احباب۔ یہ جو آج رونا رویا جا رہا ہے کہ اختیارات اور وسائل کا جھکاؤ صوبوں کی طرف زیادہ کر دیا گیا یہ اُن درپردہ اقدامات کا شاخسانہ ہے۔ زاہد حامد اندھیروں میں جاری رہنے والے مذاکراتی عمل میں (ن) لیگ کی نمائندگی کر رہے تھے لیکن یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ (ن) لیگی قیادت کو پوری طرح سمجھ تھی کہ اٹھارہویں ترمیم کے نام پر پیچھے کیا تیار کیا جا رہا ہے۔ نواز شریف کا مطمح نظر تو محض یہ تھا کہ سترہویں ترمیم کے صدارتی اختیارات ختم کیے جائیں۔ وسیع پیمانے پر صوبائی خودمختاری کا جو نقشہ تیار ہوا وہ کارنامہ اُن کا تھا جن کا ذکر آ چکا ہے۔ ایم کیو ایم والے دور کی سوچ رہے تھے کہ مستقبل میں کراچی کا کچھ ہوا تو اُس صورت میں تقسیمِ وسائل کیسے ہونی چاہیے ۔ باقی پوری کی پوری اسمبلی اندھیرے میں رہی۔ بہرحال صوبوں کا راگ الاپنے کا اصل مقصد کیا ہے اُس کے بارے میں اندازے لگائے جا سکتے ہیں حتمی بات کہنا مشکل ہے ۔ لیکن وجہ جو بھی ہو ہم قائل ہیں چیئرمین ماؤ کے فلسفے کے کہ کچھ تو ہو کہ بادِ صبا چلے۔ اور اگر دریائے سندھ کے نام سے جو دھرتی قائم ہے اُس کے باسیوں کے جذبات اس مسئلے پر ایسے ہی ہیں جیسا کہ بتایا جا رہا ہے‘ ہم بھی اُن جذبات کو دیکھیں۔ سندھ اسمبلی کے تیور دیکھیں‘ صدر زرداری کے کردار کو جانیں۔ اور کچھ ایم کیو ایم کا بھی دیکھیں کہ وہ کس حد تک جاتے ہیں جنابِ شیخ کی تقلید میں کہ یوں بھی ہے اور یوں بھی۔یہ سب مناظر کھل رہے ہیں اس موضوع کے چھڑنے سے۔ نہ چھڑتا تو ایسے ممکنات کہاں پیدا ہونے تھے۔ بڑے ادوار گزرے ہیں کہ سالہا سال بے قراری کے مارے دیس میں کچھ نہ ہوتا تھا۔ ایوب خان دور کے کئی ایسے سال ہیں کہ بی ڈی نظام تھا اور نواب کالا باغ کی مونچھیں۔ باقی ہر چیز جیسے کوزے میں بند اور نکلنے کا کوئی راستہ نہیں۔ یہ تو بھلا ہو ذوالفقار علی بھٹو کا کہ بغیر کسی گہری سوچ کے پاکستان کے پہلے فیلڈ مارشل کو جنگ کے ارادے پر مائل کیا۔ صدارتی انتخاب جس میں مادرِ ملت ایوب خان کے مدِمقابل تھیں‘ نے کچھ نفسیاتی نقصان تو سرکار کو پہنچا دیا تھا لیکن 65ء کی جنگ کا میدان سجا تو یوں سمجھئے ایوب خان کے اقتدار کا سورج ڈوبنے لگا۔ پھر وہ سنبھل نہ سکے۔ کمال مہارت سے بھٹو صاحب نے تاشقند معاہدے کا عوامی بتنگڑ بنایا اور جب ایوب خان پر فالج کا حملہ ہوا تو جنرل یحییٰ خان صدارتی رہائش گاہ کا محاصرہ کرکے خود حکم صادر فرمانے لگے۔یحییٰ خان کا رنگیلا پن تاریخی نوعیت کا تھا۔ کیا آنیاں جانیاں صدارتی محل میں رہتی تھیں۔ صدارتی مزاج ایسا کہ میڈم نور جہاں بھی اس پر فریفتہ ہوئیں۔ رنگینی کی ایک وجہ شاید یہ تھی کہ یحییٰ خان کی پیدائش 1917ء میں چکوال میں ہوئی تھی جہاں اُن کے والد گرامی انسپکٹر پولیس تعینات تھے۔ بہرحال ہمت و حوصلہ کا اندازہ لگائیے کہ 1971ء کے ہتھیار ڈالنے کے سانحے کے بعد بھی اقتدار چھوڑنے کے لیے تیار نہ تھے۔ یہ تو بریگیڈیئر ایف بی علی کی کمان میں چند افسران تھے جنہوں نے سیالکوٹ نارووال سے لیفٹیننٹ جنرل گل حسن کو جی ایچ کیو میں پیغام بھیجا کہ یحییٰ خان اور ساتھی اقتدار نہ چھوڑیں گے تو کام خراب ہو جائے گا۔ تب جا کر کہیں یحییٰ خان اور جنرل حمید کو احساس ہوا کہ اقتدار سے چمٹے رہنا ممکن نہیں رہا۔بھٹو کا اقتدار کسی طالع آزما سے کم نہ تھا۔ جبر کے استعمال میں بہتوں سے آگے نکل گئے تھے۔ اُن سے کیا غلطی ہوئی؟ وقت سے پہلے انتخابات کا اعلان کر دیا اور پھر الیکشن کے میدان کو ہموار کرنے کے لیے ایسے کم ظرف ہتھکنڈوں پر آ گئے جن سے خواہ مخواہ اُن کے خلاف تحریک کھڑی ہو گئی۔ جب آگ ایک دفعہ بھڑک اُٹھے تو اُسے ہوا دینے کے لیے بہت دستیاب ہو جاتے ہیں۔ پھر مذاکرات کے عمل کو پاکستان کے ذہین ترین سیاست دان نے اتنا طول دیا کہ مداخلت کرنے والوں کے ذہن پختہ ہو گئے اور اسلام کا نعرہ لیے جنرل ضیا الحق قوم کی قسمت پر سوار ہو گئے۔8 مارچ 2007ء کو عالمی دن برائے خواتین کے سلسلے میں ایوانِ صدر میںتقریب ہوئی۔ جنرل پرویز مشرف خوش و خرم نظر آ رہے تھے‘ ایک طرف اُن کی بیگم تشریف رکھتی تھیں دوسری طرف ہردلعزیز سمیرا ملک جن کی ایک وزیر کی حیثیت تھی۔ اُس شام کے ماحول سے لگتا تھا کہ اُن کے اقتدار پر کوئی آنچ نہیں آ سکتی۔ دوسرے روز ہی یعنی 9 مارچ کو چیف جسٹس افتخار چودھری والا واقعہ ہو گیا۔ اور بقول شخصے اُس میٹنگ کے اختتام پر وہاں موجود ایک ایجنسی کے سربراہ نے چیف جسٹس سے مصافحہ تو کیا لیکن ایک خاص انداز میں۔ جس سے کہتے ہیں چیف جسٹس کے حوصلے بلند ہوئے۔ اور ایک دو روز میں ہی کہیں انجانے سے وکلا تحریک اُٹھی‘ وکلا ٹی وی چینلوں پر آنے لگے اور حالات اُس مردِ آہن کے کنٹرول میں نہ رہے۔لہٰذا نیک کام میں دیر نہ کریں۔ ویسے بھی جو پرچار کر رہے ہیں ان کے ہم معتقد اور مداح ہیں۔ کرکٹ سے لے کر پتا نہیں کہاں تک ذمہ داریاں سنبھالی ہوئی ہیں۔ اس لیے یہی کہیں گے قدم بڑھاؤ حضور‘ ہم تمہارے ساتھ ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_80573045.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>صدر زرداری جس لڑائی سے ڈرتے تھے(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-09-09/52629/55311797</link><pubDate>Wed, 09 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-09-09/52629/55311797</guid><description> صدر زرداری پر یہ وقت بھی آنا تھا کہ اب ان کے منہ زبانی برخوردار محسن نقوی ان کو لندن یہ سمجھانے گئے کہ وہ صوبوں کی تقسیم کو مان لیں۔ تاہم زرداری صاحب راضی نہیں ہوئے تو پاکستان واپس پہنچ کر اگلے ہی روز محسن نقوی صاحب نے لاہور میں زور دے کر  کہا کہ صوبے تو بنیں گے‘ چاہے کچھ بھی ہو جائے۔ ان کی اس بات سے مجھے پنجاب کی وزیر مریم اورنگزیب صاحبہ کا ایک پرانا بیان یاد آگیا جس میں وہ پی ٹی آئی والوں کو کسی بات پر طعنہ دے رہی تھیں کہ اب روئیں یا پٹیں... یہ کام تو ہوگا۔ یہی کچھ اب محسن نقوی صاحب نے کہا ہے کہ صوبے تو بنیں گے۔ میرا خیال ہے کہ زرداری صاحب 2008ء سے جس لڑائی سے بچتے چلے آ رہے تھے آخرکار اب وہ ان کے دروازے پر دستک دے رہی ہے۔ انہیں مقتدرہ کے ساتھ کچھ معاملات طے کرنا پڑیں گے‘ تاہم اس دفعہ جو کچھ اُن سے مانگا جا رہا ہے صدر زرداری وہ دینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ ممکن ہے کہ انکار کی صورت میں وہ اپنا عہدہ یا حکومت کھو بیٹھیں لیکن کم از کم وہ اپنا سیاسی ووٹ بینک اور سندھ میں اپنی وراثت کو بچا لیں گے۔ سیاستدان لمبی ریس کا گھوڑا ہوتا ہے‘ وہ وقتی سیاسی نقصانات برداشت کر کے طویل مدتی مفادات پر نظر رکھتا ہے۔ اس لیے زرداری صاحب کو یہ سُوٹ کرے گا کہ وہ اپنی پارٹی پر سے پرو مقتدرہ لیبل اتاردیں اور سیاسی مزاحمت کریں۔ زرداری صاحب نے 2008ء سے ایک سبق سیکھ رکھا ہے کہ کسی سے پھڈا نہیں کرنا! ایک دفعہ بینظیر بھٹو کی برسی پر تقریر کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ گڑھی خدا بخش کا قبرستان بھر چکا ہے‘ اب ہم مزید قربانیاں نہیں دیں گے‘ اب کوئی اور اپنی جان کا نذرانہ دے۔ ان کا اشارہ نواز شریف کی طرف تھا کہ آپ مقتدرہ سے لڑنا چاہتے ہیں تو ضرور لڑیں لیکن اس لڑائی میں ہم شامل نہیں ہوں گے۔ زرداری صاحب نے مفاہمت کے نام پر سیاست کی‘ اگرچہ اس کے پیچھے ان کے مالی اور سیاسی فوائد بھی تھے لیکن انہوں نے اٹھارہ برس تک اس سلسلے کو کامیابی سے چلایا ہے اور کہیں بھی مزاحمت نہیں کی۔ بلکہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ ایک سمجھداری کی اور بھٹو صاحب کے واقعے سے یہ سبق سیکھا کہ بہتر ہے کوئی آرمی چیف نہ لگایا جائے۔ اسے اتفاق سمجھیں یا حالات ایسے بن گئے کہ پیپلز پارٹی کو تین دفعہ مرکز میں حکومت ملی لیکن جنرل ضیا کے بعد پیپلز پارٹی حکومت نے کوئی آرمی چیف نہیں لگایا۔ اس کے برعکس نواز شریف (اور اب شہباز شریف) نے چار پانچ آرمی چیف لگائے اور اس کی قیمت بھی بھگتی۔ بھٹو کے 34 سال کے بعد یوسف رضا گیلانی دور میں پیپلز پارٹی کو موقع ملا تھا کہ وہ نیا آرمی چیف تعینات کرتے لیکن انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ کوئی رسک نہیں لیں گے اور جنرل اشفاق پرویز کیانی کو ہی مدتِ ملازمت میں تین سال کی توسیع دے دی۔ ساتھ میں ڈی جی آئی ایس آئی جنرل شجاع پاشا کو بھی دو دفعہ توسیع دی۔ اس معاملے میں زرداری بڑے واضح تھے کہ ہمیں کیا ضرورت پڑی ہے کہ اپنا بندہ ڈھونڈتے رہیں‘ اس کی ذات برادری یا ضمانتیں لیتے رہیں‘ جیسے نواز شریف کرتے تھے‘ لہٰذا بہتر ہے کہ جو چیف چلا آ رہا ہے اسے ہی اپنے ساتھ رکھو۔ دیکھا جائے تو بھٹو کے بعد تین دفعہ وفاقی حکومت اور ایک دفعہ موقع ملنے کے بعد بھی پیپلز پارٹی نے نیا آرمی چیف نہیں لگایا۔ دوسری طرف نواز شریف کو بھی تین دفعہ حکومت ملی اور ان کے دور میں کسی نہ کسی چیف کی مدت پوری ہو چکی ہوتی۔ میاں صاحب نے مگر ماضی سے سبق نہیں سیکھا اور ہر دفعہ وہی جان پہچان‘ قوم برادری‘ لابنگ یا ذاتی ضمانتوں پر بھروسہ کرتے رہے اور ایک جنرل بھی ان کے کام نہیں آیا۔ وہی بات کہ اس معاملے میں زرداری صاحب کی حکمت عملی ٹھیک رہی کہ ریٹائر ہونا ہے تو ہو جائیں‘ نہیں ہونا تو ہمیں کوئی مسئلہ نہیں‘ تین سال مزید چیف لگ جائیں۔ اب سوال یہ ہے کہ نواز شریف کو اس کا نقصان کیسے ہوا؟ نواز شریف کو اس کے کئی نقصانات ہوئے۔ پہلی بات تو یہ کہ وہ جب کسی کو لابنگ یا ضمانت پر آرمی چیف لگاتے تو صاف ظاہر ہے انہیں علم ہوتا تھا کہ وہ کسی ایک جنرل کو فیور دے رہے ہیں‘ ورنہ تین چار دیگر بھی موجود تھے۔ جب آپ کسی کو اس سوچ کے ساتھ تعینات کرتے ہیں تو پھر اس کام کو اپنی ذمہ داری سے زیادہ ایک احسان سمجھ لیتے ہیں۔ اس طرح اگلے بندے پر بھی دبائو رہتا ہے اور آپ اس کی کسی بھی پروفیشنل بات کو احسان فراموشی سمجھ لیتے ہیں۔ یوں ٹکرائو کا آغاز اور گلہ شکوہ شروع ہو جاتا ہے۔ ان سب کا جو نتیجہ نکلتا ہے وہ ہم سب دیکھ چکے‘ بلکہ نواز شریف صاحب تو بھگت بھی چکے۔ یہی کام عمران خان نے بھی کیا اور جنرل فیض حمید کی حد تک کرنے کی کوشش کی اور ایسے الجھے کہ ابھی تک پھنسے ہوئے ہیں۔ لیکن زرداری صاحب کم از عسکری معاملات سے دور رہے اور یوں اس طرح براہِ راست ٹکرائو نہیں ہوا‘ جو نواز شریف اور عمران خان کا ہوا اور ہوا بھی آرمی چیف؍ ڈی جی آئی ایس آئی کے ایشوز پر۔اگرچہ وزیراعظم گیلانی حکومت کے جنرل کیانی سے اختلافات ہوئے لیکن اس حد تک نہیں گئے کہ صدر زرداری یا گیلانی صاحب جیل جا بیٹھتے‘ جیسے نواز شریف اور عمران خان کے ساتھ ہوا۔ جب آپ کسی کو اوپر لاتے ہیں تو باقی سپر سیڈ ہو جاتے ہیں اور چیف نہیں بن پاتے‘ اس سے نہ صرف انہیں تکلیف پہنچتی ہے بلکہ ان کے سینکڑوں بیچ میٹس‘ کورس میٹس اور یار دوست بھی رنجیدہ ہو جاتے ہیں کہ ان کا بندہ وزیراعظم نے چیف نہیں لگایا ‘لہٰذا دھیرے دھیرے سرگوشیاں اور پھر ناراضیاں شروع ہو جاتی ہیں۔ جب جنرل قمر جاوید باجوہ کو چیف لگایا گیا تو ان کے سینئر افسران‘ جو چیف نہ لگ سکے تھے‘ ریٹائرمنٹ کے بعد بڑے عرصے تک ٹویٹر پر نواز شریف اور ان کی پارٹی پر تبرا پڑھتے رہتے تھے۔ جو سوشل میڈیا پر نہیں بولتے وہ چینلز پر یا نجی محفلوں میں غم وغصے کا  اظہار کرتے رہتے ہیں۔بہت سے افراد نواز شریف کے ایسے فیصلوں سے دل جلے بیٹھے تھے تو اس کا فائدہ عمران خان کو ہوا۔ زرداری صاحب سیانے تھے‘ سول ملٹری لڑائی سے دور بھاگتے رہے‘لیکن اب لگتا ہے کہ آخر وہ لڑائی دہلیز تک پہنچ گئی ہے۔ اب انہیں صوبوں کے ایشوز پر ایک سٹینڈ لینا پڑے گا‘ ورنہ سندھ میں ان کی پارٹی اپنا ووٹ بینک کھو بیٹھے گی۔ زرداری صاحب اس معاملے میں بڑے واضح ہیں کہ وہ سندھ میں نئے صوبے بنانے کی سرگرمی کا حصہ نہیں بنیں گے۔ اس پر یقینا ان کا ٹکرائو ہوگا اور پیپلز پارٹی پر دبائو بڑھے گا۔ تو کیا صدر زرداری عہدے سے استعفیٰ دیں گے‘ اسمبلیاں چھوڑ دیں گے اور سڑکوں پر مزاحمت کریں گے یا اندر بیٹھ کر لڑائی لڑیں گے اور اپنے مقابل کو موقع دیں گے کہ وہ ان کا تختہ الٹ دیں تاکہ وہ مزاحمت اور مظلومیت کانعرہ لگا سکیں؟ اب مقتدرہ کا بھی امتحان ہے اورصدر زرداری کا بھی۔ دونوں اب تک ایک دوسرے سے لڑائی سے بچتے آئے تھے لیکن لگتا ہے کہ اب مزید بچت نہیں ہو سکے گی۔ وہی بات جو ہزاروں سال پہلے یونانی ڈرامہ نگار سوفوکلیز لکھ گیا ہے کہ کیا کریں... ہونی ہو کر رہتی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>راولپنڈی کا ٹینچ بھاٹا: ایک قدیم یاد کا سفر … (3)(شاہد صدیقی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-siddiqui/2026-09-09/52630/80648888</link><pubDate>Wed, 09 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-siddiqui/2026-09-09/52630/80648888</guid><description>وہ اتوار کی صبح تھی اور میں ٹینچ بھاٹا کی سڑک پر سفر کرتے ہوئے گزرے وقت کے نشان دیکھ رہا تھا۔ مجھے اپنے دائیں ہاتھ اُس گلی کی تلاش تھی جہاں کبھی ہمارا گھر ہوا کرتا تھا‘ جس کے کچے صحن میں شہتوت کا ایک درخت تھا اور جس گھر سے میری بہت سی یادیں وابستہ تھیں لیکن اب وہ گلی دوسری گلیوں کے ساتھ گڈ مڈ ہو گئی تھی۔ کوشش کے باوجود بھی مجھے وہ گلی نہ مل سکی۔ مین روڈ پر ذر ا آگے دائیں ہاتھ ڈسپنسری گراؤنڈ تھی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ہر آبادی میں ایک سرکاری ڈسپنسری ہوا کرتی تھی جسے عوامی فلاح کیلئے حکومت وسائل مہیا کرتی تھی۔ ان ڈسپنسریوں میں بنیادی علاج کی سہولتیں مفت میسر ہوتی تھیں اور عام لوگوں کیلئے علاج کرانا مشکل نہ تھا۔ اب ان ڈسپنسریوں کا کہیں وجود باقی نہیں۔ اب تو مفت علاج کی بات ایک خواب لگتی ہے۔ ہر ڈسپنسری کے ساتھ ایک وسیع احاطہ ہوا کرتا تھا۔ یہاں کی ڈسپنسری کی بھی ایک گراؤنڈ تھی۔ کبھی کبھار اس گراؤنڈ میں مذہبی اور سیاسی اجتماعات بھی ہوا کرتے تھے۔ بعد میں یہاں پر ایک لنڈا بازار بھی لگتا تھا۔ یہاں پر لوگوں کا رش لگا رہتا تھا۔ اب نہ وہ ڈسپنسری رہی نہ وہ میدان۔ اس جگہ اب دکانیں بن چکی تھیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ خالی جگہیں اور میدان ختم ہو گئے ہیں۔ اب تو یوں لگتا ہے جیسے شہروں کو سانس لینے کیلئے بھی جگہ میسر نہیں رہی۔ ڈسپنسری گراؤنڈکے قریب ہی ہمارا وہ گھر ہوا کرتا تھا جہاں ہم پہلے پہل مریڑ حسن سے ٹینچ بھاٹا آئے تھے۔ یہ کافی کشادہ گھر تھا لیکن معلوم نہیں کیوں ہم زیادہ دیر یہاں نہیں رہے۔ شاید مالک مکان کرایہ زیادہ مانگ رہا تھا۔ اس گھر کے ساتھ والے گھر میں ہمارے سکول کا ایک لڑکا مصدق رہتا تھا لیکن یہ کئی دہائیاں پہلے کی بات ہے۔ خواہش کے باوجود مجھے اُس گھر کا سراغ نہ مل سکا۔ زمانے کی گرد نے یادوں کے کینوس کو دھندلا دیا تھا۔ مجھے شدت سے کوئی قیمتی شے کھونے کا احساس ہوا۔ سڑک پر ذرا آگے جائیں تو بائیں ہاتھ ڈاکٹر شان کا کلینک ہوا کرتا تھا۔ وہ ہومیو پیتھی کے ڈاکٹر تھے اور ان کے کلینک پر مریضوں کا رش لگا رہتا تھا۔ شاید اس کی ایک وجہ ان کی کم فیس بھی تھی۔ سڑک پر سفر کرتے ہوئے اچانک مجھے دائیں ہاتھ ایک بلند و بالا مینار والی مسجد نظر آئی۔ مینار والی مسجد سے مجھے بہت کچھ یاد آ گیا۔ میں نے علی سے کہا کہ گاڑی کو کنارے پر روک دو۔ وہ حیران تھا کہ اچانک میں نے گاڑی روکنے کا کیوں کہا۔ اسے کیا معلوم مسجد کے اس مینار کی میرے لیے کیا اہمیت تھی۔ میں گاڑی سے اُتر آیا۔ مسجد کے مینار اور مرکزی دروازے کو دیکھ کر مجھے وہ دن یاد آگئے جب ماں مجھے اور انعام بھائی کو مسجد سیپارہ پڑھنے کیلئے بھیجتی تھیں۔ انعام بھائی مجھ سے پانچ سال بڑے تھے۔ یہ مسجد ہمارے گھر سے زیادہ دور نہیں تھی۔ ہم شام کو باقاعدگی سے مسجد جاتے جہاں مسجد کی چھت پر چٹائیاں بچھی ہوتیں۔ ہمارے سامنے رحل میں سیپارے رکھے ہوتے۔ زمین پر بچھی انہی چٹائیوں پر بیٹھ کر ہم سیپارہ پڑھتے۔ حاجی انور صاحب‘ جو اُس مسجد میں نماز پڑھاتے تھے‘ ہمارے قرآن کے استاد تھے۔ حاجی صاحب ایک نیک اور باعمل مسلمان تھے۔ دلچسپ بات یہ کہ حاجی انور صاحب پرائمری سکول لال کُرتی میں بھی میرے استاد تھے۔ دراز قد‘ گورا رنگ اور سفید داڑھی معلوم نہیں ان کے بچے تھے یا نہیں لیکن ریٹائرمنٹ کے بعد بھی وہ گھر نہیں بیٹھے۔ رزقِ حلال کیلئے تگ و دو کرتے رہے۔ سکول کی نوکری کے بعد میں نے انہیں ایک چائے کی کمپنی کے سیلز مین کے طور پر بھی دیکھا۔ وہ سائیکل پر ہوتے اور سائیکل کے آگے ایک بڑے باکس میں چائے کے ڈبے ہوتے اور وہ مختلف دکانوں پر کمپنی کے نمائندے کے طور پر چائے کے ڈبے سپلائی کرتے۔ اب نہ وہ حاجی صاحب رہے نہ انعام بھائی نہ ہی ماں جو ہر روز ہمارے بال بناکر اور ہماری آنکھوںمیں سرمہ لگا کر ہمیں اہتمام سے قرآن پڑھنے مسجد بھیجتی تھیں۔ اداسی کی ایک لہر آئی اور گزر گئی۔ میں واپس گاڑی میں آ بیٹھا اور علی نے گاڑی آگے بڑھا دی۔ بائیں ہاتھ مجھے وہ جگہ دکھائی دی جہاں ڈاکٹر بشیر کا کلینک ہوا کرتا تھا۔ ڈاکٹر بشیر کہلاتا تو ڈاکٹر تھا لیکن حقیقت میں وہ ایک کمپاؤنڈر تھا جو ہر مریض کو انجکشن لگاتا اور بیماری کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتا۔ یاد رہے کہ ان دنوں بہت سے ایسے لوگ تھے جن کا دوائیوں کا علم واجبی سا تھا لیکن وہ خود کو ڈاکٹر کہلواتے اور مریضوں پر الٹے سیدھے تجربے کرتے۔علی گاڑی آہستہ آہستہ چلا رہا تھا تاکہ میں سڑک کے دونوں طرف کے منظر اچھی طرح سے دیکھ سکوں۔ تب دائیں ہاتھ مجھے وہ جگہ دکھائی دی جہاں میجر عزیز بھٹی کا گھر ہوا کرتا تھا‘ وہی میجر عزیز بھٹی جنہوں نے 1965ء کی جنگ میں بہادری اور شجاعت کی نئی تاریخ رقم کی تھی اور جن کی لازوال قربانی پر انہیں پاکستان کا سب سے بڑا فوجی اعزاز‘ نشانِ حیدر دیا گیا تھا۔ اس سے ذرا آگے دائیں ہاتھ جنرل صفدر کا گھر تھا‘ وہی جنرل صفدر جو بعد میں پنجاب کے گورنر اور پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر بھی رہے۔ یہیں کہیں بائیں ہاتھ ڈاکٹر شان کا کلینک بھی ہوا کرتا تھا‘ وہ ہومیوپیتھک ڈاکٹر تھے اور لوگوں میں بہت مقبول تھے۔ اقبال ہوٹل کا ذکر پہلے آ چکا ہے‘ جو ہمارے گھر کے قریب تھا۔ اس کے علاوہ اُس زمانے میں ٹینچ بھاٹا میں دو اور ہوٹل ایسے تھے جہاں گاہکوں کا رش لگا رہتا تھا۔ ایک کا نام گلزار ہوٹل اور دوسرے کا نام مغل ہوٹل تھا۔ انعام بھائی کے دوست توقیر اور افضال‘ گلزار ہوٹل میں بیٹھا کرتے تھے۔ انعام بھائی کے ہمراہ میں بھی ایک دو بار وہاں گیا تھا۔ لکڑی کی کرسیوں پر بیٹھ کر چائے پینے کا اپنا ہی مزہ تھا۔ اب نہ اقبال ہوٹل رہا‘ نہ گلزار ہوٹل اور نہ ہی مغل ہوٹل‘ ان جگہوں پر نئے کاروباری مراکز کھل گئے ہیں۔ ٹینچ بھاٹا کا ایک اور مرکزی نشان قصائی چوک تھا۔ یہاں گوشت کی دکانیں ہوا کرتی تھیں۔ اسی نسبت سے اس کا نام قصائی چوک پڑ گیا تھا۔ ٹینچ بھاٹا کے طویل بازار کا اختتام آخری بس سٹاپ پر ہوتا تھا۔ اس کے بعد مغل آباد کا علاقہ شروع ہو جاتا تھا۔ دائیں ہاتھ ایک سڑک جاتی تھی جس کا نام اب عابد مجید روڈ ہے۔ اس سڑک پر مٹی کی تیل کا ایک ڈپو ہوا کرتا تھا۔ علی نے مجھ سے پوچھا کہ کیا ہم عابد مجید روڈ پر جائیں؟ میں نے کہا نہیں‘ ہم واپس چلتے ہیں۔علی نے آخری بس سٹاپ سے گاڑی موڑی اور ہم واپس 22نمبر چونگی کی طرف جانے لگے۔ اب سڑک پر دکانیں کھل رہی تھیں اور لوگوں کی آمد و رفت شروع ہو گئی تھی۔ واپسی کے سفر پر میں نے کھڑکی سے باہر نہیں دیکھا۔ میں اپنے اندر وہی منظر روشن رکھنا چاہتا تھا جن کی انگلی پکڑکر میں نے اپنی زندگی کا سفر شروع کیا تھا‘ لیکن کہتے ہیں منظرایک جیسے نہیں رہتے۔ ہر دم تو بدلتے رہتے ہیں۔ وقت ایک دریا ہے جو مسلسل سفر میں ہے۔ یہ جن جن راستوں سے گزرتا ہے سب کچھ بدلتاجاتا ہے‘ لیکن جانے پھر بھی کیوں پرانے راستوں پر جانے کی خواہش کبھی ختم نہیں ہوتی۔ کوئی شے ہے جو ہمیں ہر دم اپنے پاس بلاتی رہتی ہے ۔ (ختم)</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_21538475.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کشمیر کے نقشے سے بھارت کی چھیڑ چھاڑ(سلمان غنی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/salman-ghani/2026-09-09/52631/28234276</link><pubDate>Wed, 09 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/salman-ghani/2026-09-09/52631/28234276</guid><description>بھارت کشمیر کی سیاسی‘ جغرافیائی اور تاریخی اہمیت سے ہمیشہ منحرف اور اسے اپنا اٹوٹ انگ قرار دینے کی ضد اور ہٹ دھرمی پر قائم رہا ہے‘ لیکن کشمیر کی بڑی حقیقت جسے جھٹلایا نہیں جا سکتا وہ یہ ہے کہ کشمیری بھارتی تسلط قبول کرنے کو تیار نہیں۔ بھارت نے کشمیر پر اپنا تسلط قائم رکھنے کیلئے وہاں لاکھوں فوجی تعینات کر رکھے ہیں لیکن کشمیریوں کے دلوں میں بھارت سے نفرت کے علاوہ کوئی جذبہ موجود نہیں۔ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے باوجود آج بھی کشمیر کی قراردادیں اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر ہیں اور مغربی میڈیا کشمیر جیسے سلگتے ایشو کو جنوبی ایشیا کا نیو کلیئر فلیش پوائنٹ قرار دیتا نظر آتا ہے‘ جبکہ بھارت آج تک کشمیر پر اپنے تسلط کے حوالے سے عالمی برادری کو مطمئن نہیں کر سکا۔حال ہی میں بھارتی دفتر خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے اپنے ایک بیان میں کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ چار ستمبر 2026ء کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک قرارداد منظور ہونے کے بعد درست نقشہ سامنے آیا ہے۔ ان کے مطابق قرارداد کا مقصد مساوی رقبے والے نقشے کی پروجیکشنز کے استعمال کی حوصلہ افزائی کرنا ہے جو براعظمی زمینی خطوں کے متعلقہ سائز کو برقرار رکھتے ہیں۔ بھارتی ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ قرارداد کسی مخصوص نقشے کی پروجیکشن یا قومی سرحدوں کی توثیق نہیں کرتی۔ پاکستان کے دفتر خارجہ نے اس کا بروقت نوٹس لیا اور ترجمان دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ انڈیا کے یکطرفہ اقدامات اور مسلسل غیر قانونی قبضہ جموں و کشمیر کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے سرکاری نقشے‘ جن میں جموں و کشمیر کو متنازع علاقہ قرار دیا گیا ہے‘ علاقے کی موجودہ قانونی حیثیت کی واحد نقشہ جاتی نمائندگی ہیں‘ اور انڈیا کے نام نہاد سرکاری نقشوں اور خود مختاری کے یکطرفہ دعوؤں کا اس متنازع علاقے کی حیثیت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ ترجمان کے مطابق جموں و کشمیر کا تنازع اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈا پر موجود سب سے پرانے‘ حل طلب اور تسلیم شدہ تنازعات میں سے ایک ہے جس کا حتمی فیصلہ سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی مرضی کے مطابق ہونا چاہیے‘ جس کا اظہار اقوام متحدہ کی سرپرستی میں ہونے والی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کے ذریعہ کیا جائے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے واضح انداز میں کشمیر جیسے تنازع کی اہمیت و حیثیت اور اقوام متحدہ کے مؤقف و کردار پر روشنی ڈالی ہے‘ لیکن بنیادی ایشو یہ ہے کہ آخر بھارت کشمیر جیسے عالمی تنازع پر کنفیوژن پیدا کرنے اور اس حوالہ سے تاریخ کو مسخ کرنے کے ایجنڈا پر کیوں عمل پیرا ہے‘ اور کیا اس کی یہ مذموم کوشش کارگر ہو پائے گی؟مسئلہ کشمیر کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو اس مسئلہ کے بنیادی طور پر چار فریق ہیں: پاکستان‘ بھارت‘ کشمیری اور اقوام متحدہ۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ محض بھارت کا مسئلہ نہیں ہے اور نہ اس کا تعلق صرف پاکستان اور بھارت کے درمیان کسی سرحدی تنازع سے ہے۔ یہ مسئلہ دراصل کشمیریوں کے مستقبل سے وابستہ ہے‘ جسے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں وہاں کے عوام کو اپنی مرضی اور بین الاقوامی نگرانی میں منعقد کیے جانے والے استصوابِ رائے کے ذریعہ طے کرنا ہے۔ یہ ان کا حق ہے کہ وہ طے کریں کہ اس ریاست کا الحاق پاکستان سے ہوتا ہے یا بھارت سے۔بھارت کا ایجنڈا کشمیر کا مسئلہ پیچیدہ بنانا اور حقائق سے انحراف کرکے انہیں مسخ کرنا ہے لیکن اس مسئلے کا استصوابِ رائے سے ہٹ کر کوئی قانونی‘ سیاسی اور اخلاقی حل ممکن نہیں۔ جہاں تک اس کی جغرافیائی حیثیت کا تعلق ہے تو کشمیر بھارت کا حصہ نہیں بلکہ ایک متنازع علاقہ ہے جس کے مستقبل کا فیصلہ کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کے تحت ہونا طے ہے۔ بھارت مستقل طور پر یہ مغالطہ پیدا کرنے کیلئے کوشاں ہے کہ کشمیر اس کا حصہ ہے۔ یہ تاریخی و جغرافیائی حیثیت سے سراسر انکار ہے۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور اس کی علاقائی حیثیت و اہمیت سے ثابت ہے کہ یہ ایک متنازع علاقہ ہے۔ کیا بھارت نے طاقت کے ذریعہ یہاں اپنا تسلط قائم کرنے کے ساتھ کبھی سوچا ہے کہ اس کی پالیسیاں کشمیر کو اس کیلئے دردِ سر بنا چکی ہیں؟ یہاں کے عوام بھارت اور یہاں مسلط اس کی افواج سے نفرت کرتے ہیں۔ آج مقبوضہ وادی کی مسلم آبادی ان کے خلاف ہے اور بھارت سے مستقل آزادی ہی اسے اپنے لیے بہتر مستقبل اور زندگی کا سامان نظر آ رہا ہے۔ کیا یہ امر بھارت کیلئے لمحۂ فکریہ نہیں کہ خود کو دنیا کی بڑی جمہوریت کہنے والے ملک کے کشمیر پر جبری تسلط اور قبضے نے اس کے اس دعوے کو تار تار کر دیا ہے؟مقبوضہ کشمیر میں جمہوری اداروں اور بار بار کے انتخابی عمل کو دراندازی اور بدعنوانی کے ذریعہ تباہ کر دیا گیا اور دہلی سرکار یہ ماننے کو تیار نہیں کہ اس ریاست میں کٹھ پتلی حکومت کے سوا کوئی برسراقتدار ہو۔ دہلی کے حکمرانوں نے کشمیر کے عوام کی خواہشات کا کوئی احترام نہیں کیا اور کشمیر کو زور و زبردستی سے اپنے ساتھ رکھنے اور یہاں فوج مسلط کرنے کا عمل بھی ان کے خزانہ پر بوجھ ڈال رہا ہے۔ بھارت کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمہ کے باوجود کشمیر کی صورتحال سے خوفزدہ ہے۔ اسے خوب معلوم ہے کہ جب بھی کشمیریوں کو موقع ملے گا وہ خود کو بھارتی تسلط سے آزاد کرنے کا سوچیں گے۔ یہی خوف بھارت کو کشمیر بارے نت نئے ہتھکنڈوں پر مجبور کرتا ہے۔ ویسے بھی اب علاقائی صورتحال میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے کردار نے بھارتی لیڈرشپ پر خوف طاری کر رکھا ہے۔ امریکہ ایران جنگ بندی میں پاکستان کے ثالثی و سفارتی کردار پر جب دنیا پاکستان کو سراہتی نظر آتی ہے تو بھارتی لیڈرشپ پر یہ خوف طاری ہو جاتا ہے کہ پاکستان کسی نہ کسی مرحلہ پر کشمیر کاز سے اپنی کمٹمنٹ کا آغاز ضرور کرے گا‘ اور بھارت کیلئے اس چیلنج سے نمٹنا آسان نہیں ہوگا۔ ویسے بھی علاقائی سیاست کے تناظر میں چین بھی پاکستان کو یہ مشورہ دیتا نظر آ تا ہے کہ یہی وقت ہے کہ مسئلہ کشمیر کا کوئی پائیدار اور منصفانہ حل تلاش کیا جائے تاکہ خطے میں امن و استحکام یقینی بنے۔ یہی وجہ ہے کہ کشمیر کاز پر اپنا مضبوط سیاسی کیس نہ رکھنے کے باوجود اب بھارت عالمی نقشہ جاتی نمائندگی پر چھیڑ چھاڑ شروع کر رکھی ہے‘ اور اقوام متحدہ کی چار ستمبر کو پاس ہونیوالی قرارداد کو بنیاد بنا کر یہ کہتا نظر آتا ہے کہ کسی مخصوص نقشے کی پروجیکشن یا قومی سرحدوں کی عکاسی کی توثیق نہیں کرتی اور یہ کہ کشمیر اور لداخ کو بھارتی نقشے کے مطابق دکھایا جانا چاہیے۔ جس کا پاکستان نے نوٹس لیا اور واضح کیا کہ اقوام متحدہ کے سرکاری نقشے‘ جن میں جموں و کشمیر کو متنازع علاقہ قرار دیا گیا ہے وہی کشمیر کی موجودہ قانونی حیثیت کی واحد نقشہ جاتی نمائندگی ہے۔ مذکورہ موقف حقائق پر مبنی ایک بھرپور وضاحت ہے۔ لیکن بھارت کی جانب سے کشمیر کی بین الاقوامی حیثیت کو اب نقشوں سے چھیڑ چھاڑ کے ذریعہ متاثر کرنے کی کوشش اسکی روایتی بدنیتی‘ ضد اور ہٹ دھرمی کا ثبوت ہے۔ آج جب خطہ میں امن و استحکام بارے پاکستان اتنا بڑا اور بنیادی کردار ادا کرتا نظر آ رہا ہے تو ہمیں اپنے اس ایشو کی فکر بھی کرنی چاہیے۔ آج ہمارے پاس عالمی و علاقائی محاذ پر بھرپور مواقع ہیں کہ ہماری بات سنی بھی جا رہی ہے اور پاکستان کی امن کے حوالے سے سفارتی پوزیشن کو تسلیم بھی کیا جا رہا ہے۔ تو اس ایشو کو بھی اجاگر کیا جائے۔ عالمی برادری اور یو این او پر اس سلگتے ایشو کے حل کیلئے دباؤ بڑھانا چاہیے۔حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ اس خطے کا نیو کلیئر فلیش پوائنٹ ہے اور اس مسئلے کے حل تک خطے میں امن و استحکام کی کوئی گارنٹی نہیں دی جا سکتی۔ یہ سب سے بڑا سیاسی مسئلہ ہے اور یہ بات چیت کے ذریعہ ہی حل ہونا چاہیے‘ جس کی سپورٹ میں اقوام متحدہ کی مؤثر قراردادیں موجود ہیں۔ جب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا بھارت اوچھے ہتھکنڈوں کے ذریعہ کشمیر کی متنازع حیثیت پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتا رہا گا‘ اس لیے کہ اس کا کشمیر پر کوئی مضبوط سیاسی کیس نہیں اور وہ مذاکرات کی میز پر پاکستان سے بات چیت سے گریزاں ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/230_37874475.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>