<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>خلیج میں بڑھتی کشیدگی(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-17/11548</link><pubDate>Thu, 17 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-17/11548</guid><description>خلیج عرب میں ابھرنے والی کشیدگی نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ عالمی توانائی اور بین الاقوامی تجارت کی شہ رگ رہا ہے‘ یہی وجہ ہے کہ یہاں رونما ہونے والے واقعات پوری دنیا کی معیشت کو متاثر کرتے ہیں۔ حالیہ بحران بھی علاقائی تنازع سے بڑھ کرعالمی اقتصادیات کو لاحق سنگین خطرہ بن چکا ہے۔ اس بحران کا سب سے پہلا اور براہِ راست اثر عالمی تیل مارکیٹ پر پڑا ہے۔ سعودی عرب کی تیل تنصیبات اور پائپ لائن پر حوثی ملیشیا کے حملوں اور تیل سپلائی معطل ہونے کا بین الاقوامی منڈیوں پر گہرا اثر دیکھا گیا ہے۔ ایک ہفتے میں خام تیل کی قیمتیں سو ڈالر کی نفسیاتی حد کو عبور کر کے اب 107 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر چکی ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں یہ غیر معمولی اضافہ دنیا بھر کے تیل درآمد کرنے والے ممالک کیلئے کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں کیونکہ خام تیل کی گرانی براہِ راست پٹرولیم مصنوعات‘ بجلی کی پیداوار اور صنعتی لاگت میں اضافے کا سبب بنتی ہے‘ جس سے عالمی سطح پر مہنگائی کا ایک نیا طوفان جنم لے رہا ہے۔ توانائی بحران کے ساتھ ساتھ عالمی بحری تجارتی راستے بھی اس وقت شدید خطرات سے دوچار ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ کے گرد ونواح بالخصوص باب المندب اور آبنائے ہرمز جیسے اہم بحری تجارتی راستوں کی ابتر صورتحال نے عالمی لاجسٹکس کو مفلوج کر دیا ہے۔ اس عدم تحفظ کے نتیجے میں شپنگ کمپنیاں انتہائی مہنگے اور طویل متبادل راستے اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔ جو بحری جہاز اس روٹ پر چل رہے ہیں وہ ایک ہزار سے چار ہزار ڈالر فی کنٹینر تک ہنگامی اضافی چارجز وصول کر رہے ہیں۔ یہ بھاری اخراجات نہ صرف بین الاقوامی تجارت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا رہے ہیں بلکہ صارفین تک پہنچنے والی روزمرہ کی اشیا کی قیمتوں میں بھی اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔ عالمی تجارتی حجم میں یہ تعطل ایسے وقت میں آیا ہے جب دنیا ابھی کورونا کی عالمی وبا اور یوکرین جنگ کے اثرات سے سنبھلنے کی کوشش کر رہی تھی۔ ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے مطابق 2025ء میں عالمی تجارتی حجم کی شرح نمو 2.4فیصد ریکارڈ کی گئی تھی‘ تاہم خلیجی جنگ اور بحری راستوں کی ناکہ بندی کے باعث رواں سال یہ شرح نمو سکڑ کر محض 0.5 فیصد تک رہنے کا خدشہ ہے۔
یہ گراوٹ ایسی عالمی کساد بازاری کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے جو دنیا بھر میں بیروزگاری‘ صنعتی جمود اور معاشی بحرانوں کو جنم دے۔ اس معاشی تباہ کاری کا سب سے زیادہ اثر ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک پر پڑے گا جو عالمی معاشی جھٹکوں کو برداشت کرنے کیلئے مالیاتی وسائل نہیں رکھتے۔ یہی وجہ ہے کہ فروری میں ایران پر امریکہ اور سرائیل کے حملوں کے آغاز سے اب تک پچیس سے زائد ممالک مالی بحران کا شکار ہو کر ورلڈ بینک کے کرائسس فنڈز سے رجوع کر چکے ہیں۔ یہ ممالک اپنی معیشتوں کو دیوالیہ ہونے سے بچانے اور خوراک و توانائی کی قیمتوں کو اعتدال میں رکھنے کیلئے ہنگامی امداد کے طلبگار ہیں۔ خدشہ ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ کا تنازع طول پکڑتا ہے تو دنیا بھر میں غربت‘ بھوک اور افلاس کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔یہ صورتحال اگر مزید ابتر ہوئی تو اس کی تپش سے نہ صرف خطے کے ممالک بلکہ باقی دنیا کو بھی شدید معاشی و سکیورٹی خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
لہٰذا وقت آ گیا ہے کہ بااثر علاقائی اور عالمی فریق اور ادارے حرکت میں آئیں اور اس کشیدگی کو سمیٹنے کی کوشش کریں۔ اگرچہ جنگ کے دو بنیادی فریقوں‘ ایران اور امریکہ کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ اور گہرے تعلقات ہیں اور ان متوازن تعلقات کی وجہ سے پاکستان ثالثی کیلئے بہترین پوزیشن میں ہے‘ پاکستان کی ثالثی کوششیں جاری بھی ہیں‘ تاہم دیگر بااثر عالمی و علاقائی ممالک کو بھی چاہیے کہ پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کا ساتھ دیں تاکہ مشرقِ وسطیٰ کو ایک بڑی تباہی سے بچایا جا سکے اور عالمی معیشت کو دوبارہ استحکام کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پٹرول ریلیف؟(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-17/11547</link><pubDate>Thu, 17 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-17/11547</guid><description>پٹرول کی قیمت میں گزشتہ دس روز کے دوران تقریباً 45 روپے فی لٹر اضافے کے باعث عام آدمی کی مشکلات میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے۔ نقل و حمل کے اخراجات اور اشیائے خورونوش سمیت روزمرہ استعمال کی تقریباً ہر چیز کے نرخ بڑھ چکے ہیں۔ اگرچہ اس مشکل صورتحال میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے وفاقی حکومت نے موٹر سائیکل‘ رکشا اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کیلئے پٹرول پر فی لٹر 100 روپے ریلیف فراہم کرنے کی سکیم شروع کی ہے‘ مگر حکومت کی طرف سے عجلت میں کیے گئے اس فیصلے کی وجہ سے سکیم کے آغاز ہی پر پٹرول پمپ مالکان اور حکومت کے درمیان اختلافات سامنے آ گئے ہے‘ اور پمپ مالکان نے اس سکیم کو ناقابلِ عمل قرار دیا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ اس معاملے میں پٹرول پمپ مالکان کو اعتماد میں لے اور انکے تحفظات دور کرے تاکہ عوام کو فوری ریلیف میسر آ سکے۔

اصولی طور پر پٹرول کی قیمت میں براہِ راست ریلیف دینے کیلئے پٹرولیم لیوی میں عارضی کمی ایک زیادہ آسان اور مؤثر راستہ ہو سکتا ہے۔ اس صورت میں صارف کو کسی رجسٹریشن‘ ٹوکن یا کسی اضافی مرحلے سے گزرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی اور ریلیف پٹرول خریدتے ہی قیمت میں ظاہر ہو جائے گا۔ عوام اس وقت کسی پیچیدہ نظام یا طویل رجسٹریشن کے نہیں‘ فوری ریلیف کے منتظر ہیں۔ پٹرول کی بڑھتی قیمتوں نے عام آدمی کیلئے زندگی مشکل بنا دی ہے‘ ایسے میں اگر حکومت نے رعایت کا فیصلہ کر ہی لیا ہے تو وہ بروقت صارفین تک پہنچنی چاہیے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بچوں کے خلاف جرائم(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-17/11546</link><pubDate>Thu, 17 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-17/11546</guid><description>نیشنل کمیشن آن دی رائٹس آف چائلڈ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق یکم جنوری سے 31 دسمبر 2025ء تک ملک بھر میں بچوں سے زیادتی اور جنسی جرائم کے 17348 مقدمات درج ہوئے۔ سب سے زیادہ‘ 74فیصد مقدمات پنجاب میں درج ہوئے۔ یہ اعداد و شمار حکومت‘ قانون نافذ کرنے والے اور بچوں کے تحفظ سے متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر بڑا سوالیہ نشان ہیں۔ ملک میں بچوں کیخلاف بڑھتے جرائم کے کئی اسباب ہیں۔ بدنامی کے خوف سے مجرموں کیخلاف قانونی کارروائی سے گریز‘ اندراج شدہ مقدمات میں مجرموں کیخلاف بروقت اور مؤثر کارروائی کا فقدان‘ نگرانی کا کمزور نظام‘ اور سب سے بڑھ کر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے بچوں تک مجرموں کی آسان رسائی اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔

ملک میں انسدادِ ریپ اور بچوں کے تحفظ کیلئے قانونی فریم ورک تو موجود ہے‘ مگر اکثر اوقات ملزمان مؤثر تفتیش‘ فوری ٹرائل‘ فرانزک سہولتوں اور گواہوں کی عدم موجودگی کے باعث چھوٹ جاتے ہیں۔ ایسے ملزمان کو سزا دلانے کیلئے ہر ضلع میں چائلڈ پروٹیکشن یونٹ‘ تربیت یافتہ کیس منیجرز اور ایسے مراکز ناگزیر ہیں جہاں طبی‘ نفسیاتی‘ قانونی اور فرانزک مدد ایک ہی جگہ میسر ہو۔ بچوں کی حفاظت محض سماجی خدمت نہیں بلکہ ریاست اور معاشرے کی بنیادی ذمہ داری ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>عمر بن عبد العزیز‘ بھارتی بنگال اور ڈاکٹر بشریٰ بانو(محمد اظہارالحق)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-09-17/52676/30295200</link><pubDate>Thu, 17 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-09-17/52676/30295200</guid><description>آج جب‘ مبینہ طور پر‘ اپنے بیٹے پر بات آن پڑی تو عمر بن عبد العزیز یاد آ گئے!!شاہ پرستوں اور روغنِ قاز مَلنے والوں کی اس پارٹی میں آپ کا دم غنیمت ہے۔ اسی لیے تو شکوہ بھی آپ سے ہے۔ ورنہ اکثر تو مرغانِ بادنما ہیں اور مرفوع القلم! جان کی امان ہو تو کچھ پوچھنے کی جسارت کی جائے۔ آپ کی جماعت کے مالکان کا طرزِ زندگی ایسا ہے کہ اسے شہنشاہانہ کہا جائے تو زیادتی ہو گی۔ سلاطینِ دہلی‘ مغل شہنشاہ اور انگریز وائسرائے تو اس متعیشانہ زندگی کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ 2016ء میں اُس وقت کے وزیراعظم نواز شریف علاج کیلئے سپیشل وی آئی پی جہاز میں لندن گئے۔ جہاز خالی واپس آیا۔ مہینے ڈیڑھ بعد سپیشل جہاز پھر لندن گیا۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق جو اعدادو شمار پارلیمنٹ کیساتھ شیئر کیے گئے‘ انکی رُو سے کل اخراجات چھ کروڑ روپے کے تھے۔ معروف صحافی رؤف کلاسرا صاحب کا یہ بیان بھی دیکھیے: &#39;&#39;2016ء میں بھی اسحاق ڈار نے 34بلٹ پروف گاڑیاں کروڑوں روپے سے‘ یہ کہہ کر منگوائیں کہ سارک کانفرنس ہونی ہے۔ سب کو علم تھا کہ نہیں ہو گی۔ لیکن اسے موقع جان کر زیادہ گاڑیاں منگوائی گئیں۔ کانفرنس نہ ہوئی تو بیس گاڑیاں وزیراعظم نواز شریف نے اپنی سکیورٹی کے نام پر رکھ لیں۔ کچھ خاندان کے لوگوں کو دے دی گئیں‘ جو بعد میں نیب نے وزیراعظم عمران خان کے دور میں 2019ء میں رائیونڈ سے ریکور کرائی تھیں۔ نواز شریف صاحب سے ان گاڑیوں پر نیب کی ٹیم نے کوٹ لکھپت جیل میں جا کر انکوائری بھی کی تھی‘‘۔ ملک کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ پارٹی کے &#39;&#39;قائد‘‘ کا طرزِ زیست کیا ہے۔ حکومت میں تھے تو لندن کے دورے بے شمار! نہ جانے کتنی ہی عیدیں لندن میں منائیں۔ آج بھی انکا سٹائل حیران کن ہے۔ کبھی جنیوا‘ کبھی سوئٹزرلینڈ‘ کبھی لندن‘ کبھی سنگاپور!! سپیشل جہاز ان کیلئے یوں ہیں جیسے ہمارے جیسے لوگ رکشا یا چنگچی استعمال کرتے ہیں! نہایت مؤدبانہ سوال ہے کہ جب آپ کے قائد یہ سب کچھ کر رہے تھے اُس وقت آپ کو حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کا طرزِ حکومت یاد نہ آیا؟ عوام کی کمر ٹوٹ چکی ہے۔ اس حال میں بھی صاحبزادی نے لگژری جہاز خرید لیا۔ کیا آپ نے اس حوالے سے کچھ پوچھا؟ کچھ کہا؟ اندھیر نگری کی انتہا یہ ہوئی کہ دو بار شکست کھانے والے شخص کو آزاد کشمیر کا وزیراعظم بنا دیا۔ کیا عمر بن عبدالعزیزؒ بھی یہی کچھ کرتے؟ عمر بن عبدالعزیزؒ آج وزیر ہوتے تو کیا ان کی قریبی عزیزہ کو بھی قبل از وقت ریٹائرمنٹ دلوا کر تین سال کی ٹاپ کلاس ملازمت پیش کی جاتی؟سوالات اور بھی ہیں۔ مثالیں بھی بہت ہیں! مگر کیا کیا لکھا جائے! یہ ہمارا قومی کردار بن چکا ہے کہ ہماری آنکھوں کے سامنے اندھی مچتی رہے تو ہم خاموش رہتے ہیں‘ ہم بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے رہتے ہیں‘ گلے سڑے نظام سے بہرہ ور ہوتے رہتے ہیں‘ صف اول کے Beneficiary رہتے ہیں‘ تب ہمیں نظام کی کراہیت نہیں نظر آتی۔ مگر جب ہمارا کوئی کام نہ کیا جائے‘ جب ہمارے مفاد پر ضرب لگے‘ جب ہمارے بیٹے یا بھتیجے‘ بھانجے کو وی آئی پی درجہ نہ ملے‘ تو ہمیں خلفائے راشدین سے لے کر عمر بن عبدالعزیزؒ تک سب ماڈل یاد آ جاتے ہیں۔ اس سے پہلے سب کچھ ہماری آنکھوں کے سامنے ہوتا رہتا ہے مگر ہم معمولی سا اختلاف بھی نہیں کرتے۔ کیا کیا ناانصافیاں نہیں ہوئیں آپکے اور آپکی پارٹی کے متعدد ادوارِ حکومت میں! صوبے میں بھی! وفاق میں بھی! کس کس طرح قومی خزانے کو غلط بخشیوں پر لٹایا جاتا رہا! پسندیدہ کبابچی کو وی آئی پی‘ سرکاری مہمان بنایا جاتا رہا۔ آپ خاموش رہے۔ بات وہی ہے جو نعیم صدیقی نے برسوں پہلے کہی تھی:یہ لا الٰہ خوانیاں جائے نماز پرسولی پہ چڑھ کے نغمہ یہ گاتے تو جانتےمگر آپ سے شکوہ بے جا ہے۔ کوئی بھی ہوتا تو یہی کرتا‘ اور کر رہے ہیں۔ یہی ہمارا قومی تشخص بن چکا ہے۔ قائداعظم اور لیاقت علی خان کے بعد ہمارے قومی خزانے کو نقب ہی لگتی رہی۔ ہمارے حکمرانوں میں کوئی اور محمد علی جناح‘ کوئی اور لیاقت علی خان‘ کوئی اور عبدالرب نشتر‘ کوئی اور مولوی تمیز الدین‘ کوئی اور مولوی فرید احمد‘ کوئی اور جوگندر ناتھ منڈل‘ کوئی اور نور الامین پیدا نہ ہوا! افسوس! صد افسوس! حیف! صد حیف! ہیہات! ہمیں تاریخ کی گردش نے اور ہمارے مقدر کی سیاہی نے ان لوگوں کے سپرد کر دیا جو اپنا ایک خوشہ بچانے کیلئے پوری سرکاری چراگاہ کو نذرِ آتش کر ڈالیں! جن کا تکیہ کلام تھا &#39;&#39;اے اپنا بندہ اے‘‘ ان اپنے بندوں کو سفارتیں دی گئیں۔ جو اے ڈی سی لگا اس کی نسلیں سنور گئیں۔ کاش گزشتہ تین چار دہائیوں کے ریکارڈ کی کوئی تحقیق کرے۔ بیرونِ ملک تعیناتیاں شاید ایک فیصد بھی میرٹ پر نہیں ہوئیں۔ جنہوں نے مردِ مومن مردِ حق کی وفات پر اعلانات کیے تھے کہ &#39;&#39;ہم ان کا مشن جاری رکھیں گے‘‘ انہوں نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا۔ میرٹ کا قتل جاری رہا۔پس نوشت: انڈین پولیس سروس کی مسلم افسر کا تبادلہ بطور سزا اس لیے کیا گیا ہے کہ اس نے ایک وڈیو انٹرویو میں السلام علیکم‘ ان شاء اللہ اور جزاک اللہ کے الفاظ استعمال کیے تھے۔ ڈاکٹر بشریٰ بانو ایک انتہائی ذہین اور لائق خاتون ہیں۔ وہ یو پی کے ضلع کنوج کے ایک گاؤں کی ہیں۔ بارہ سال کی عمر میں میٹرک کر لیا۔ لکھنؤ سے ایم بی اے کیا۔ علیگڑھ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری لی۔ شادی کے بعد میاں بیوی دونوں سعودی عرب کے لیے منتخب ہو گئے جہاں وہ یونیورسٹی میں پڑھاتے رہے۔ پھر ڈاکٹر بشریٰ نے فیصلہ کیا کہ وہ بھارت واپس جا کر مقابلے کا امتحان دیں گی اور سول سروس میں شمولیت اختیار کریں گی۔ جس طرح پاکستان میں &#39;&#39;فیڈرل پبلک سروس کمیشن‘‘ کا ادارہ مقابلے کا امتحان لیتا ہے‘ اسی طرح بھارت میں ایسے ہی ادارے کو فیڈرل کے بجائے &#39;&#39;یونین پبلک سروس کمیشن‘‘ کہتے ہیں۔ پاکستان کے مقابلے میں وہاں مقابلے کا امتحان دینے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے کیونکہ بھارت کی آبادی بہت زیادہ ہے۔ گزشتہ سال ساڑھے نو لاکھ امیدواروں نے درخواستیں دیں۔ ان میں سے تقریباً پونے چھ لاکھ نے امتحان دیا۔ ان میں سے چودہ ہزار نے تحریری امتحان پاس کیا اور فائنل رزلٹ میں 2700 امیدوار پاس ہوئے۔ ان میں سے 958 کو سول سروس کی اعلیٰ ملازمتیں ملیں۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ انڈین سول سروس میں مقابلہ کتنا سخت ہے۔ پھر ایک متعصب معاشرے میں جسے آر ایس ایس اور بی جے پی کے علمبرداروں نے مسلمانوں کے لیے جہنم بنا رکھا ہے‘ ایک مسلم لڑکی کا انڈین پولیس سروس میں آ جانا کوئی معمولی بات نہیں۔ تین دن پہلے ڈاکٹر بشریٰ کا بطور سزا تبادلہ کر کے انہیں کھڈے لائن لگا دیا گیا۔ کیونکہ ایک انٹرویو میں انہوں نے جزاک اللہ‘ السلام علیکم اور ان شاء اللہ کے الفاظ استعمال کیے۔ ہندوتوا کے انتہا پسندوں نے مغربی بنگال کے سیکرٹری داخلہ کے پاس جا کر شکایت کی کہ مسلم پولیس افسر نے بندے ماترم اور جے ہند کے الفاظ استعمال نہیں کیے‘ یوں وہ غیر جانبدار نہیں رہیں۔ اس سے ہم پاکستانی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ بھارت میں مسلمانوں کو کس صورت حال کا سامنا ہے۔ کانگرس کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا نے بی جے پی حکوت پر تنقید کرتے ہوئے اس متعصبانہ سلوک کی مذمت کی ہے۔ دو ہفتے پہلے مہوا موئترا نے ایک اور معاملہ بھی اٹھایا تھا کہ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ مغربی بنگال آتا ہے تو مسلم سول سرونٹس کو تقریبات میں مدعو نہیں کیا جاتا۔ اس کے برعکس یو پی کے پولیس افسر انوج چودھری نے ایک (ہندو) مذہبی تقریب میں وردی پہنے شرکت کی جبکہ ہندو مذہبی ہتھیار‘ گرز بھی اٹھا رکھا تھا‘ اسے جلد ہی ترقی دے دی گئی۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_57182973.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>یہاں ہو کیا رہا ہے ؟(خالد مسعود خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-09-17/52677/51271691</link><pubDate>Thu, 17 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-09-17/52677/51271691</guid><description>اس مسافر پر خدا کا خاص کرم ہے کہ اسے کافی عرصہ ہوا کسی سے چھٹی لینے کی حاجت نہیں رہی۔ میرے مالک نے مجھے کسی افسر کے آگے چھٹی کی درخواست پیش کرنے سے آزاد کرتے ہوئے ایسی کسی درخواست سے پکی رخصت عطا کی ہوئی ہے۔ جب دل کرتا ہے‘ بیگ اٹھاتا ہوں اور چل پڑتا ہوں۔ تاہم ایمانداری کی بات ہے کہ اگر میں کسی کو چھٹی کی درخواست دیتا اور وہ اس درخواست کی منظوری کے ساتھ کوئی توہین آمیز شرط‘ جو بیشک کسی مفروضے کے تحت ہی عائد کی گئی ہوتی‘ تو میں بہرحال ایسی چھٹی کی درخواست کو ردی کی ٹوکری میں ڈالنے کے بعد یا تو اگلی صبح دفتر جا کر اپنی نشست سنبھالتا اور نوکری کرتا یا اگر چھٹی ہر حالت میں چاہیے تھی تو پھر استعفیٰ دے کر جان چھڑواتا اور مزے کرتا۔ جس درخواست کا میں ذکر کر رہا ہوں‘ یہ بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے وائس چانسلر ڈاکٹر زبیر اقبال کی ایک ماہ کی چھٹی کی درخواست تھی‘ جسے گورنر پنجاب نے‘ جو کہ بہاء الدین زکریا یونیورسٹی کے چانسلر بھی ہیں‘ نوٹیفکیشن نمبر SO (UNIVE) 6-2/2024 مورخہ 19 اگست 2026ء میں ڈاکٹر زبیر اقبال کی 24 اگست تا 25 ستمبر 2026ء تک‘ 31روز کی چھٹی منظور کرتے ہوئے انہیں بیرونِ ملک جانے کے سلسلے میں این او سی یعنی عدم اعتراض کا سرٹیفکیٹ جاری کرتے ہوئے لکھا ہے کہ وہ (وائس چانسلر) اس چھٹی کی منظوری اور اس این او سی کو اپنے امریکہ کے دورے میں اسائلم کے مقصد کیلئے استعمال نہیں کریں گے۔ رئیسِ جامعہ نے یہ چھٹی امریکہ جانے کیلئے لی تھی اور امریکہ جانے کیلئے ان کی اس چھٹی کی درخواست کی منظوری میں گورنر پنجاب نے یہ شرط لگائی۔ اب یہ کوئی وضاحت تھی یا پابندی تھی‘ اس کا تو مجھے علم نہیں تاہم اس منظوری کے نوٹیفکیشن میں ان کی چھٹیوں کا 31 روزہ دورانیہ منظور کرتے ہوئے نوٹیفکیشن میں یہ لکھا کہ ڈاکٹر زبیر اقبال اپنی اس چھٹی کو امریکہ میں قیام کے دوران سیاسی پناہ حاصل کرنے کیلئے استعمال نہیں کریں گے۔ اب مجھے نہیں پتا کہ یہ حفظِ ماتقدم کے طور پر لکھا گیا ہے‘ یا کسی سرکاری پالیسی کا حصہ ہے یا وائس چانسلر کی طرف سے اس قسم کا کوئی ممکنہ قدم متوقع تھا‘ ان پر کوئی شک تھا یا تمام سرکاری افسروں اور عہدیداروں پر گورنمنٹ کا اعتبار اس حد تک ختم ہو گیا ہے کہ وہ رئیس الجامعہ کے اعلیٰ منصب پر فائز شخص ‘ جو ہزاروں طلبہ و طالبات پر مشتمل تعلیمی ادارے کا سربراہ ہے‘ اس کی چھٹی کی منظوری کے نوٹیفکیشن میں یہ شرط نما شق بھی تحریر کر رہے ہیں۔بہاء الدین زکریا یونیورسٹی کے رئیسِ جامعہ گزشتہ تقریباً تین ہفتوں سے امریکہ میں ہیں اور یونیورسٹی کے تمام تر انتظامی معاملات اوکاڑہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر سجاد مبین دیکھ رہے ہیں۔ اندازہ لگائیں‘ بیس ہزار سے زائد طلبہ کے ملتان میں واقع اس ادارے کے انتظامی معاملات اڑھائی سو کلو میٹر دور اوکاڑہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر آفس سے اس طرح چلائے جا رہے ہیں جیسے ہم اپنے بیڈ روم میں لگے ہوئے ٹی وی کو سامنے بیٹھ کر ریموٹ کنٹرول سے چلاتے ہیں۔ اس قلمکار کی یاد کے روزن میں ایسی کوئی مثال یاد نہیں کہ پچاس سال پرانی یونیورسٹی میں کوئی پرو وائس چانسلر نہ ہو‘ جو مستقل وائس چانسلر کی وقتی غیر موجودگی کی صورت میں عارضی طور پر وائس چانسلر کے انتظامی فرائض سرانجام دے سکے۔ سرکار کی سرگرمیوں کا یہ عالم ہے کہ بہاء الدین زکریا یونیورسٹی میں پرو وائس چانسلر کی تقرری کیلئے سمری گورنر پنجاب کو کافی عرصہ پہلے بھجوائی جا چکی ہے۔ اللہ جانے وہ سمری اس وقت بیوروکریسی کی کس غلام گردش میں ٹکریں مار رہی ہے‘ لیکن حالت یہ ہے کہ اس سمری پر پیش رفت کے بجائے اوکاڑہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو جامعہ زکریا کے وائس چانسلر کا اضافی چارج دے دیا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہماری حکومتوں کو ایسے کاموں کا نہ تو خیال آتا ہے اور نہ ہی یہ کام ان کی ترجیحات میں ہی شامل ہیں۔مجھے زکریا یونیورسٹی اور اس کے معاملات سے صرف دلچسپی ہی نہیں‘ میں اس بارے میں باقاعدہ متردد اور فکر مند رہتا ہوں اور اس کی ایک نہیں کئی وجوہات ہیں۔ پہلی یہ کہ یہ میرا مادرِ علمی ہے۔ دوسری یہ کہ میری اور اس شہر کی آئندہ نسلوں نے بھی اسی تعلیمی ادارے میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنی ہے۔ اور تیسری وجہ یہ کہ یہ ہمارے ٹیکس سے چلنے والا ادارہ ہے اور خاموشی سے برباد ہوتا نہیں دیکھا جا سکتا۔ زکریا یونیورسٹی کا قیام 1975ء میں عمل میں آیا‘ تب میری دیرینہ مادرِ علمی‘ گورنمنٹ ہائی سکول گلگشت کالونی میں اس کا کیمپس قائم ہوا‘ تاہم نئے داخلوں کے بجائے ایمرسن کالج میں ایم اے کی پہلے سے جاری تین مضامین کی کلاسیں اردو‘ اکنامکس اور پولیٹکل سائنس کو کالج سے جدا کر کے یونیورسٹی کے حوالے کر دیا‘ تب اس کا نام ملتان یونیورسٹی تھا۔ بعد ازاں اس کا نام ملتان یونیورسٹی سے تبدیل کر کے بہاء الدین زکریا یونیورسٹی رکھ دیا گیا۔ 1979ء میں جب میں جامعہ زکریا میں داخل ہوا تب طلبہ کی تعداد آٹھ سو سے ایک ہزار کے درمیان تھی۔ 2022ء میں بہاء الدین زکریا یونیورسٹی میں پڑھنے والے طالب علموں کی تعداد تیس ہزار تک پہنچ گئی‘ جو اَب گزشتہ چار سال میں گھٹتے گھٹتے بیس ہزار رہ گئی ہے۔ 2022ء میں نئے داخل ہونے والے طلبہ کی تعداد دس ہزار تھی‘ اس سال نئے داخل ہونے والے طلبہ کی تعداد پانچ ہزار سے کچھ زائد ہے۔ یعنی یونیورسٹی میں طلبہ کی تعداد روبہ انحطاط ہے۔ اس یونیورسٹی نے ڈاکٹر خیرات محمد ابنِ رسا اور نذیر رومانی جیسے شاندار استاد اور منتظم رئیس جامعہ دیکھے ہیں۔ کسی بھی یونیورسٹی کے تین بنیادی عوامل اس کی قدر پیمائی کے مظہر ہوتے ہیں۔ ایک اس کی تعلیمی حیثیت‘ دوسری اس کی انتظامی حالت اور تیسری اس کی مالی صورتحال۔ اس یونیورسٹی کے پہلے تمام وائس چانسلرز شعبۂ تدریس سے تعلق رکھتے تھے اور ان سے انتظامی و مالی معاملات میں کسی بہت بڑی بہتری کی توقع شاید مناسب نہ ہو‘ تاہم آخری والے دو تین وائس چانسلرز کو چھوڑ کر پہلے والے سبھی وائس چانسلرز نہ صرف یہ کہ تدریسی حساب سے نہایت ہی شاندار کارکردگی کے مالک ثابت ہوئے بلکہ انتظامی معاملات میں بھی مثالی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ موجودہ وائس چانسلر زکریا یونیورسٹی کی51سالہ تاریخ کے پہلے غیرتدریسی تجربے کے حامل رئیسِ جامعہ ہیں۔ میرا خیال تھا کہ یہ منصب تدریسی سے زیادہ انتظامی صلاحیتوں کا متقاضی ہے اس لیے ممکن ہے کہ یہ انتخاب بہتر ثابت ہو مگر میرے تمام تر خیالات اور اندازے مکمل طور پر غلط ثابت ہوئے۔ موصوف کا خیال تھا کہ وہ اس یونیورسٹی کیلئے فنڈنگ حاصل کر کے خوب موج میلہ کریں گے مگر کہیں سے ٹکا نہیں ملا۔ اوپر سے یونیورسٹی کے اپنے مالی معاملات دگرگوں ہیں اور اس سال ساٹھ کروڑ خسارے کا بجٹ پیش ہوا ہے۔ روز افزوں بڑھتے ہوئے خسارے کی شکار اس جامعہ کے سربراہ نے اس مالی کسمپرسی کے عالم میں مبینہ طور پر تقریباً ڈیڑھ کروڑ روپے کی گاڑی خرید لی ہے۔ یونیورسٹی میں آتے ہوئے ان کی جو امیدیں تھیں وہ کسی طور بر نہیں آئیں‘ لہٰذا اب ان کا یہاں دل نہیں لگتا اور وہ ہفتے میں تین تین دن اسلام آباد اور لاہور میں گزارتے ہیں اور اس دوران رئیسِ جامعہ کے طور پر وہ کسی متعلقہ سرکاری دفتر کو ہاتھ لگا کر اپنے اس ذاتی دورے کو سرکاری دورہ بنا لیتے ہیں۔ مجھے علم ہے کہ اس کالم کے بعد میرے اور ان کے خوشگوار تعلقات قطعاً خوشگوار نہیں رہیں گے مگر مجھے اپنی مادرِ علمی اور اس شہر کی اعلیٰ درسگاہ کے معاملات کی درستی اپنے ذاتی تعلقات سے کہیں زیادہ عزیز ہے۔ ویسے کیا عجب کہ وہ گورنر صاحب کے خدشات کے عین مطابق امریکہ سے واپس ہی نہ آئیں۔اس سارے گھڑمس میں ہمیں تو سمجھ نہیں آرہی کہ یہاں ہو کیا رہا ہے ؟</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90500073.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>خیر خواہ(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-09-17/52678/11828199</link><pubDate>Thu, 17 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-09-17/52678/11828199</guid><description>ہمارا سب سے بڑا خیر خواہ کون ہے؟اس سوال کا ایک جواب اللہ کے آخری رسولﷺ نے دیا ہے۔ انسانی تاریخ میں اخلاق کا سب سے بڑا ماخذ پیغمبر ہوئے ہیں۔ شخصی واجتماعی اخلاقیات میں‘ پیغمبروں سے بڑھ کر کوئی مثال پیش نہیں کی جا سکی۔ فلسفہ‘ سائنس‘ سیاست ہر باب میں بڑی بڑی شخصیات نے جنم لیا‘ عالمِ انسانیت جن کے مقام ومرتبہ کا معترف رہا ہے اور لوگوں نے انہیں راہنما مانا ہے۔ ان میں مگر شاید ہی کوئی ہو جس نے جو کہا‘ کر کے دکھایا ہو۔ جس نے اپنی زندگی کو لوگوں کے سامنے بطور مثال پیش کیا ہو۔ اخلاقیات کی تعمیر و تطہیر اور مکارمِ اخلاق کی تکمیل کو جس نے اپنا مقصدِ حیات بتایا ہو۔ ایسے اُجلے کردار صرف پیغمبروں کی صف میں ملتے ہیں جو دامن نچوڑ دیں تو  فرشتے وضو کریں۔ یہ بات میں مذہبی آدمی کے طور پر نہیں کہہ رہا۔ تاریخ اور تہذیب کے ایک طالبعلم کی حیثیت میں عرض کر رہا ہوں۔ انبیا کی صف میں زمانی اعتبار سے جو شخصیت سب سے آخر میں کھڑی ہے‘ وہ سیدنا محمدﷺ کی ذاتِ والا صفات ہے۔ یہ آپﷺ کا ارشاد ہے کہ مسلمان بھائی کی مدد کرو‘ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔ اپنی بات کی شرح کرتے ہوئے فرمایا: ظالم کی مدد یہ ہے کہ اس کو ظلم سے روکا جائے۔ (بخاری)۔ یہ کمال کی نصیحت ہے۔ خیر خواہی کا ایسا تصور اسی نظامِ فکر میں ہو سکتا ہے جس میں اخلاق کو پہلی ترجیح حاصل ہو۔ ہمیں دوسروں کا مددگار ہونا چاہیے۔ یہ ان کے ساتھ خیر خواہی کا تقاضا ہے۔ اس مدد کے دائرے ہیں‘ جو کسی کا بوجھ اٹھانے سے لے کر اس کی مالی مدد تک محیط ہیں۔ مذہب نے اس میں ایک نئے دائرے کا اضافہ کیا ہے۔ یہ کسی کو آخرت میں سزا سے بچانے کے لیے اس کی مدد ہے۔ اللہ نے ہمیں حکم دیا کہ اپنے ساتھ اپنے اہلِ بیت کو بھی جہنم کی آگ سے بچاؤ۔ یہ اپنے گھر والوں کے ساتھ سب سے بڑی خیر خواہی ہے۔ایک سیاسی جماعت میں اپنی قیادت اور پارٹی کے سب سے بڑے خیر خواہ وہ ہیں جو اپنی قیادت کو اخلاقی معیارات پر پرکھتے ہیں اور انہیں اس حوالے سے متنبہ کرتے ہیں۔ جو پارٹی کے اجلاسوں میں صحیح بات کہتے ہیں۔ جو یہ چاہتے ہیں کہ ان کی قیادت کے طرزِ عمل میں کوئی ایسی بات نہ ہو جس پر مخالفین انگلی اٹھائیں یا جس کا دفاع مشکل ہو جائے۔ جن کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ ان کی قیادت دوسروں کے مقابلے میں بہتر اخلاق رکھتی ہو۔ اس میں شبہ نہیں کہ اقتدار کی سیاست میں مثالی کردار نہیں پائے جاتے۔ تاریخ میں بھی جنہوں نے اقتدار کی سیاست کی‘ ان کا اخلاقی معیارات پر دفاع آسان نہیں ہوا۔ لوگوں کو حقیقت پسندی کا پیمانہ تراشنا یا حالات کا عذر پیش کرنا پڑا۔ علمِ کلام کو مدد کے لیے پکارا گیا۔ راویوں کو تنقید کی سولی پر چڑھایا گیا۔ یہ سب اس لیے کیا گیا کہ ان کے طرزِ عمل کو اخلاقی پیمانوں سے ماپنا مشکل ہو گیا۔ اقتدار کی سیاست میں یہی ہوتا ہے۔ اس لیے یہاں عام طور پر تقابل ہی کا اصول چلتا ہے یا کلٹ کا۔ اگر آپ حقیقت پسند ہیں تو تقابل کا طریقہ اپنائیں گے۔ غبی ہیں تو کلٹ کی پوجا کریں گے۔اس ماحول میں اچھے لوگ یہ کوشش کرتے ہیں کہ ان باتوں سے گریز کیا جائے جن سے بچنا ممکن ہے۔ مثال کے طور پر ایک سادہ طرزِ زندگی ہے۔ ہمارے ملک کے بعض اہلِ سیاست اپنی دولت کی وجہ سے ایک شہرت رکھتے ہیں۔ انہیں یہ دکھانے کی ضرورت نہیں کہ وہ ثروت مند ہیں۔ اگر وہ اپنی تقریبات کو سادہ رکھیں گے تو اس سے اُن کے مقا م ومرتبے میں کوئی فرق نہیں آئے گا بلکہ اس سے دوسروں کے سامنے ایک مثال آئے گی کہ دولت مند ہونے کے باوجود‘ سادہ زندگی کو اپنایا جا سکتا ہے۔ اصل سادگی وہی ہے جو آدمی کا انتخاب ہو نہ کہ وہ مجبوری میں اختیار کی جائے۔ یہ جائز ناجائز کی بحث نہیں‘ ایک لیڈر کے سماجی کردار کا سوال ہے۔ اگر کسی کے پاس جائز ذرائع سے جمع شدہ دولت موجود ہے تو اسراف سے بچتے ہوئے‘ وہ ایک بہتر طرزِ زندگی اختیار کر سکتا ہے۔ یہ تقویٰ کے خلاف بھی نہیں ہے۔ مگر جب آپ لیڈر بنتے ہیں تو آپ دوسروں کے لیے مثال ہوتے ہیں۔ پھر آپ جائز کاموں کو بھی چھوڑ دیتے ہیں کہ یہ منصبِ قیادت کا تقاضا ہے۔احسن اقبال صاحب نے اپنی قیادت اور جماعت کے حقیقی خیر خواہ کے طور پر انہیں درست توجہ دلائی ہے۔ نواز شریف صاحب خود اس کے قائل رہے ہیں۔ انہوں نے اپنی بیٹیوں کی شادی سادگی کے ساتھ کی۔ نمائش سے گریز کیا اور اس کی تحسین کی گئی۔ اس حوالے سے ہماری تاریخ روشن مثالوں سے بھری ہے۔ خلافتِ راشدہ تو خیر ایک ایسا دور ہے جس کی نظیر انسانی تاریخ دوبارہ نہیں پیش کر پائے گی‘ لیکن اس عہد کے علاوہ بھی ہماری تاریخ میں ایسے لوگ حکمران ہو گزرے ہیں جنہوں نے زندگی کو تعیش کے تمام مظاہر سے پاک رکھا۔ ان میں ایک عمر بن عبدالعزیز ؒبھی تھے۔ احسن اقبال صاحب نے جن کی مثال دی۔ انہوں نے ایک امیر گھرانے میں پرورش پائی مگر جب اقتدار ملا تو ان کا طرزِ زندگی بدل گیا۔ پاکستان کی تاریخ میں لیاقت علی خان بھی تھے۔ سادہ زندگی کا مظہر۔(ن) لیگ میں احسن اقبال صاحب اور خواجہ سعد رفیق صاحب پارٹی اور شریف خاندان کے حقیقی خیر خواہ کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے پارٹی کی نیک نامی میں اضافہ کیا ہے اور اپنی قیادت کو درست مشورے دیے ہیں۔ سعد رفیق صاحب کی برسوں سے یہی شہرت ہے کہ وہ پارٹی کے اجلاسوں میں‘ وہی بات کہتے آئے ہیں جسے وہ درست سمجھتے ہیں۔ نواز شریف صاحب نے ان  کی تنقید کو خندہ پیشانی سے سنا ہے اور میرے نزدیک یہی نواز شریف صاحب کی اصل قوت ہے۔ لیڈر کا دل بڑا ہوتا ہے اور وہ تنقید  کو گوارا کرتا ہے کہ وہ اس میں مستور خیر خواہی کو دیکھ لیتا ہے۔ مجھے امید ہے کہ نواز شریف صاحب اس پر اللہ کا شکر ادا کریں گے کہ ان کی جماعت میں احسن اقبال صاحب اور خواجہ سعد رفیق صاحب جیسے لوگ موجود ہیں۔اللہ کرے کہ دوسری جماعتوں میں بھی ایسے لوگ موجود ہوں جو اپنی قیادت کو اپنے ضمیر کے مطابق اور درست مشورہ دیں۔ انہیں تذکیر کرتے رہیں کہ مسلم تہذیبی روایت میں قیادت کا معیار کیا ہے۔ اس باب میں مغرب کی روایت بھی قابلِ رشک ہے۔ کوئی وجہ نہیں کہ اس سے بھی استفادہ نہ کیا جائے۔ ہر اچھی بات ہماری میراث ہے۔ سیاسی قیادت کو اس بات کا بھی احساس ہونا چاہیے کہ اخلاقی پہلو سے اگر صرفِ نظر کر لیں تو سیاسی اعتبار سے بھی پُرتعیش اندازِ زندگی‘ حکمران جماعت کے لیے تباہ کن ہے۔ اس سے عوام میں اشتعال اور ناپسندیدگی پیدا ہوتی ہے۔ عوام پھر اپنے جذبات کا اظہار انتخابات میں کرتے ہیں۔آج سیاسی جماعتوں کو بقا کا چیلنج درپیش ہے۔ ان کی عوامی حمایت سمٹتی جا رہی ہے۔ سیاسی قیادت کو سمجھنا ہو گا کہ سیاسی جماعتوں کی اصل قوت عوام ہوتے ہیں اور عوامی تائید کا تعلق قیادت کی اخلاقی قوت کے ساتھ ہے۔ اخلاقی طور پر مضبوط افراد ہی مستحکم سیاسی کلچر کو فروغ دے سکتے ہیں۔ سیاسی قیادت کو اپنے اخلاقی معیارات کے معاملے میں حساس بننا ہے۔ احسن اقبال صاحب اور سعد رفیق صاحب اس جانب توجہ دلا کر (ن) لیگ اور قوم کے حقیقی خیر خواہ کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ دوسری سیاسی جماعتوں کو بھی ایسے لوگ نصیب ہوں تو یہ ملک و قوم کے لیے نیک شگون ہو گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>عوام بھی اتائی ہیں!(عمران یعقوب خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-09-17/52679/90759295</link><pubDate>Thu, 17 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-09-17/52679/90759295</guid><description>اس حقیقت کو اب تسلیم کر لیا جانا چاہیے کہ بہت سے ممالک کے عوام اتائی ہیں۔ ان ممالک میں ہمارا پڑوسی ملک بھارت  بھی شامل ہے۔ وہاں کے حکمران ملک کو لوٹ کر کھا گئے‘ ملک نے ترقی بھی اتنی نہیں کی جتنی اسے کرنی چاہیے تھی‘ ملک پر قرضے بھی چڑھ گئے اور معیشت بھی اتنی مضبوط نہیں ہے جتنی کم و بیش اتنی ہی آبادی والے چین نے کر لی ہے۔ وہی سیاسی قلابازیاں اور حیلے بہانے جو ہر جمہوری ملک میں ہیں‘ بھارت میں بھی بدرجہ اتم پائے جاتے ہیں۔ ساتھیوں کو نوازنا اور مخالفین کو دبانا بھارتی حکمرانوں کا وتیرہ بن چکا ہے‘ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ بھارتی سیاست میں پاکستان مخالف کارڈ سے خوب کھیلا جاتا ہے‘ اسے خوب استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ یہ کارڈ بھارتی سیاستدانوں کے ہاتھوں میں ترپ کا پتا بن چکا ہے۔ جب بھی کوئی بھارتی سیاستدان دیکھتا ہے کہ انتخابی عمل کے دوران اس کی حالت پتلی ہے‘ وہ فوراً کوئی پاکستان مخالف بیان داغ دیتا ہے جس کے نتیجے میں ہندوتوا کا ننگا ناچ شروع ہو جاتا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے اس کے ووٹوں کا گراف بلند ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ ہندوتوا (Hindutva) نظریات کے فروغ اور بڑھتی ہوئی مذہبی انتہا پسندی کی وجہ سے مسلم اور دیگر اقلیتوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھا ہے۔ مذہب کا استعمال بھی خوب کیا جاتا ہے۔ سیاسی جماعتیں اکثر انتخابات جیتنے کیلئے ووٹرز کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرتی ہیں۔ مطلب عوام کو الو بنانا کوئی بھارتی سیاستدانوں سے سیکھے۔انتخابات کے دوران سیاسی رہنماؤں کی جانب سے کی جانے والی نفرت انگیز تقاریر سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ یہ لوگ انتخابی مہم کے دوران ووٹروں سے ایسے ایسے وعدے کریں گے کہ لوگ یہ سوچ کر حیران ہوتے ہیں کہ اچھا یہ بھی ہو سکتا ہے۔ عوام کو ایسے ایسے خیالی پلاؤ بنا کر کھلائیں گے اور ایسے ایسے آبِ حیات پلائیں گے کہ وہ یہ یقین کر لیں گے کہ یہی تو وہ دیوتا ہیں جن کا انتظار انہیں دہائیوں بلکہ صدیوں سے تھا۔ بجلی اور گیس سستی کر دیں گے‘ مہنگائی کم کر دیں گے‘ پٹرول کی قیمتیں کم ہو جائیں گی‘ آپ کو انصاف آپ کی دہلیز پر ملے گا‘ آپ کے بچوں کو نوکریاں ملیں گی‘ آپ کے ہر طرح کے مسائل حل ہو جائیں گے بس ایک بار ہمیں منتخب کر لیں۔ اور جب وہ منتخب ہو جاتے ہیں تو معاملہ تو کون اور میں کون والا ہو جاتا ہے۔ انتخابی وعدوں کو تیاگ دیا جاتا ہے اور ایسے ایسے قوانین بنائے جاتے اور پالیسیاں مرتب کی جاتی ہیں کہ جن کا مقصد عوام کو زیادہ سے زیادہ اذیت میں مبتلا کرنے کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔بھارتی پارلیمنٹ (لوک سبھا) اور ریاستی اسمبلیوں میں ایسے ارکان کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جن پر قتل‘ اقدامِ قتل‘ اغوا اور بد عنوانی جیسے سنگین مجرمانہ مقدمات درج ہیں۔ مافیا‘ جرائم پیشہ افراد اور سیاستدانوں کا گٹھ جوڑ قانون کی بالا دستی کو کمزور کرتا ہے۔ ترقیاتی کاموں‘ تعلیم یا صحت کے بجائے سیاسی پارٹیاں مخصوص ذاتوں کے ووٹرز کو راغب کرنے کیلئے پالیسیاں بناتی ہیں۔ یہ عمل معاشرے میں صدیوں پرانی ذات پات کی تقسیم کو ختم کرنے کے بجائے اسے مزید گہرا کر رہا ہے۔بھارتی سیاست کے کئی اور ایسے منفی پہلو ہیں جو اس کے جمہوری نظام‘ سماجی تانے بانے اور اقتصادی ترقی کو شدید متاثر کرتے ہیں۔ بھارت میں سیاست پر خاندانی اجارہ داری قائم ہے۔ بھارت کی کئی بڑی سیاسی جماعتوں میں قیادت ایک ہی خاندان کے گرد گھومتی ہے۔ اس نظام کی وجہ سے عام اور با صلاحیت مڈل کلاس نوجوانوں کیلئے سیاست میں آگے بڑھنا اور قیادت تک پہنچنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ بھارت میں سیاست پر اثر انداز ہونے کیلئے کارپوریٹ اثر و رسوخ استعمال کیا جاتا ہے اور انتخابی فنڈنگ پر سرمایہ داروں کا قبضہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ منتخب ہونے والے سیاستدان عوام کے مسائل حل کرنے پر توجہ دینے کے بجائے اس کارپوریٹ کلچر کی آبیاری کرتے نظر آتے ہیں۔ بھارتی انتخابات دنیا کے مہنگے ترین انتخابات میں شمار ہوتے ہیں۔ سیاسی جماعتیں بڑے کارپوریٹ گھرانوں سے اربوں روپے کے فنڈز لیتی ہیں۔ جیتنے کے بعد حکومتیں عوام کے بجائے ان سرمایہ داروں کے مفاد میں پالیسیاں بنانے پر مجبور ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جمہوری ادارے کمزور ہیں اور سرمایہ دار مزید امیر بنتے چلے جا رہے ہیں۔میں نے عوام کو اسی لیے اتائی کہا کہ انہیں بالکل کچھ معلوم نہیں ہے کہ ان کے ساتھ آخر ہو کیا رہا ہے۔ نام جمہوریت کا لیا جاتا ہے لیکن اندر کھاتے آمرانہ طرزِ حکومت رائج ہوتی ہے۔ عوام کے حقوق‘ لوگوں کی امنگوں اور آدرشوں کو کرش کیا جاتا ہے۔ انہیں حقوق دلانے کے بہانے ان کے حقوق پامال کیے جاتے ہیں۔ جارج آرویل کا مشہور اور علامتی ناول اینیمل فارم (Animal Farm) تو آپ نے پڑھا ہی ہو گا۔ یہ ناول کمیونزم اور روسی انقلاب پر تنقید کرتا نظر آتا ہے۔ کہانی مسٹر جونز نامی ایک ظالم کسان کے فارم سے شروع ہوتی ہے جہاں فارم کے جانور تنگ آ کر بغاوت کر دیتے اور انسانوں کو بھگا دیتے ہیں۔ بوڑھا سور جانوروں کو آزادی کا خواب دکھاتا ہے۔ جانور آپسی اتحاد کیلئے سات اصول بناتے ہیں‘ جن میں سب سے اہم اصول یہ ہوتا ہے کہ تمام جانور برابر ہیں؛ لیکن وقت کے ساتھ ہوشیار سور‘ جن میں نپولین اور سنو بال شامل ہیں‘ فارم کی کمان سنبھال لیتے ہیں۔ بعد میں نپولین اپنے حریف سنو بال کو نکال باہر کرتا ہے۔ ظلم کی واپسی: نپولین اور اس کے ساتھی سور خود کو دوسرے جانوروں سے برتر بنا لیتے ہیں۔ وہ انسانوں کی طرح جینے لگتے ہیں۔ پھر پرانے اصول بدل دیے جاتے ہیں۔ نیا اصول بنتا ہے کہ تمام جانور برابر ہیں‘ لیکن کچھ جانور دوسرے جانوروں سے زیادہ برابر ہیں۔ کہانی یہ بتاتی ہے کہ کیسے انقلاب کے بعد طاقتور لوگ خود ظالم بن جاتے ہیں۔ جمہوریت میں بھی یہی کہانی دہرائی جاتی نظر آتی ہے۔ پہلے تو عوام سے ووٹوں کی بھیک مانگی جاتی ہے۔ یہ کہا جاتا ہے کہ سب برابر ہیں۔ لوگوں کے حقوق کی بات کی جاتی ہے۔ مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کرائی جاتی ہے۔ لیکن جب وہ برسر اقتدار آ جاتے ہیں تو پھر اشرافیہ میں شامل ہو جاتے ہیں۔ اور عام آدمی بھی اتنا اتائی ہے کہ یہ سمجھ ہی نہیں پاتا کہ ساری سیاسی چالیں اپنا کلہ مضبوط کرنے کیلئے ہوتی ہیں۔ جب یہ کلہ مضبوط ہو جاتا ہے تو پھر عوام کی حیثیت بھیڑ بکریوں سے زیادہ نہیں رہتی۔ مسلسل یہی کہانی دہرائی جا رہی ہے اور مسلسل عوام کو بائی پاس کیا جا رہا ہے۔ وہ ہر بار جنہیں رہنما سمجھتے وہی ان کی گمراہی کا باعث بنتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جمہوریت کا نام لیا جاتا ہے لیکن حقیقی جمہوریت قائم ہی نہیں ہونے دی جاتی۔ معاملہ وہیں اینیمل فارم والے ایشو تک پہنچ جاتا ہے۔ بھارت کے اتائی عوام کو سمجھ ہی نہیں آتی کہ نہ جمہوریت ان کی ہے‘ نہ حکومت اور نہ ہی حکمران۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_58350786.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>رات، پرندہ اور ہوک(سعود عثمانی )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-09-17/52680/96098611</link><pubDate>Thu, 17 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-09-17/52680/96098611</guid><description>خزاں کا ملگجا پرندہ پر پھیلائے فضا میں منڈلا رہا ہے۔ کوئی دن جاتا ہے جب یہ شہر پر اُتر کر اپنے شہپر سمیٹ لے گا۔ تین‘ چار روز قبل رات کو جو چھینٹا پڑا تھا اس نے ملائم ستارے اور مخملی بنا دیے تھے۔ جاتے بھادوں کی آخری نرم رسیلی بارشیں ابھی درختوں اور پودوں کے چہروں سے ٹپکتی ہیں اور پتوں کی ہتھیلیوں پر لکیروں کے بیچ زندگی کی لکیر جگمگاتی ہے۔ ابھی لان میں ٹکوما کی گھنی بیل زرد پھولوں سے بھری ہوئی ہے۔ گھاس سے لے کر بیلوں تک کاہی سے انگوری تک سبز کا ہر شیڈ ابھی موجود ہے‘ لیکن اس پرندے کے اُترنے کی دیر ہے‘ یہ ہرے رنگ کجلانے لگیں گے۔ پہلے پتوں کے کناروں پر زنگار نمودار ہو گا‘ پھر یہ سرطان پورے بدن کو لپیٹ لے گا۔ ٹکوما کے زرد پھول اس کے پیروں میں ڈھیر ہوتے جائیں گے۔ پھر ایک ایک کر کے پتے بھی ان کا ساتھ دیں گے۔ کچھ دن کی دیر ہے پوری ٹکوما اپنے پیروں میں ڈھیر ہو چکی گی۔ پھر ٹنڈ منڈ شاخیں برہن کی طرح وقت گزاریں گی۔ بیلوں اور درختوں سے پوچھیں کہ سنجوگ سے بجوگ اور جوگ تک اتنی منزلیں چند دنوں میں کیسے طے ہو جاتی ہیں؟میں بیل کے نیچے اس جگہ بیٹھا ہوں جہاں کل زرد اور خاکستری پتاور ہو گا۔ مجھے یہ جگہ پسند ہے۔ زمین تخلیق ہوئی تو شاید پت جھڑ بھی اسی کے ساتھ بنا دی گئی۔ حسین‘ مگر دل گرفتہ اور تنہا دیوی کی طرح۔ اتنی بڑی زمین پر کسی ہمدم‘ کسی ہمراز کے بغیر کروڑوں سال پت جھڑ نے تنہا زندگی گزار دی۔ پھر یوں ہوا کہ انسان خلق ہوا اور انسان نے شاعری تخلیق کی۔ بہت مماثلتیں تھیں دونوں میں۔ حسن‘ حزن اور ملال۔ سوپت جھڑ نے شاعری کا ہاتھ تھام لیا۔ قرنوں کے بعد جنم جنم کا ہمراز مل جائے تو ہاتھ کون چھوڑتا ہے۔ خزاں اور شاعری دونوں مل کر اس طرح مکمل ہو گئے کہ پتا ہی نہیں چلتا محب کون ہے اور محبوب کون؟ یار! عشق ہو تو ایسا ہو۔ اُترتی پت جھڑ میں ایک کتاب میرے ہاتھ میں ہے۔ اچھی کتاب پڑھنے کو مل جائے تو عجیب کشمکش شروع ہو جاتی ہے۔ ایک طرف ایک ہی نشست میں پڑھنے کی کوشش‘ دوسری طرف دل کی یہ مسلسل تنبیہ کہ میاں! کیا کرتے ہو۔ اچھی کتاب چٹخارے لے لے کر‘ ہر لفظ کا ذائقہ محسوس کرکے پڑھی جاتی ہے۔ کیا تم بھول گئے اچھی کتاب پڑھنے کا اپنا روایتی طریقہ؟ نہیں حضور! بھولا تو کچھ بھی نہیں ہوں۔ روایتی طریقہ یاد ہے کہ جملے‘ خیال یا شعر کی پہلے زیر لب داد دی‘ پھر کتاب وہیں چھوڑی۔ اٹھ کرگھر کا چکر لگایا۔ لیچی چھیلی۔ خوشبو اور رس کامزہ لیا یا امرود کی قاش پر نمک مرچ لگایا اور جملے یا شعر کا لطف اٹھایا۔ یہ سب داد میں شامل ہے اور اسے لذیذ تر کرنے کی کوشش۔ لیکن کتاب کی کشش اپنی جگہ گھومتے سیارے کو کھینچتی رہتی ہے۔ اور یہ کتاب تو کچھ زیادہ ہی کششِ ثقل والی ہے۔ طیب رضا کی &#39;&#39;دائرے میں تکون‘‘۔ میں اس کے شعر پڑھتا ہوں اور نیلگوں دھند کے پار ایک زمانہ جھلملاتے دیکھتا ہوں۔ ایک پورا عہد جو اَب زمانہ قبل از تاریخ لگنے لگا ہے۔ کلائیڈو سکوپ کی طرح ہر بار نیا منظر سامنے آتا ہے۔ کبھی چہرے‘ کبھی جگہیں اور کبھی شعر آنکھیں جکڑ لیتے ہیں۔ یہ توصیف خواجہ ہے‘ یہ رحمان حفیظ‘ یہ طیب رضا‘ یہ ادریس بابر‘ یہ شاہین عباس۔ ذرا سی دوری پر ذوالفقار عادل‘ سلیم ساگر‘ نوید صادق‘ منظر اعجاز وغیرہ کھڑے ہیں۔ کچھ اور فاصلے پر ارسلان احمد‘ فیضان ہاشمی اور کچھ چہرے جن کے نام اور چہرے یکجان نہیں ہو رہے۔ دھند کے جالے رہ رہ کر منظر اوجھل کر دیتے ہیں۔ یہ پورا عہد تھا جس میں انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور میں اوپر تلے باکمال نمودار ہوئے۔ یہ زمانہ یونیورسٹی نے نہ اس سے پہلے دیکھا نہ اس کے بعد۔ ان نوجوانوں کیلئے انجینئرنگ‘ روزگار‘ معاش کی دنیائیں بہت چھوٹی نکلیں۔ ان کی اصل دنیا لفظ کی بے کنار کائنات تھی۔ انہوں نے اس کائنات کو اس طرح اپنایا کہ کائنات ان کی ہو گئی۔ یہ وہی کائنات ہے جو اس اُترتے پت جھڑ میں میرے ہاتھ میں ہے۔ میں نے ایک بار لکھا تھا کہ شاعر جل پری کی طرح ہوتا ہے۔ دو دنیاؤں کا مکین سہی لیکن اصل دنیا کون سی ہے‘ اسے نہیں پتا۔ جل پری کا حسن‘ حزن‘ گونجتے گیت اور تنہائی سمجھنی ہو تو شاعر کو دیکھیے۔ طیب رضا شاعر ہے اور اسے بھی معلوم نہیں کہ اس کی اصل دنیا کون سی ہے۔ گاہے وہ ساحل پر ہم سے ملنے آتا ہے‘ اور اس کے پاس لاجوردی‘ ارغوانی‘ زمردی‘ آتشی اور نقرئی موتی اور ہیرے ہوتے ہیں۔ ایک ایک ہیرا دیکھتے رہیے۔ یہ آب زاد خزانے ہر ایک کو تھوڑی ملتے ہیں۔اٹھاؤں ہاتھ تو پانی میں آگ جلنے لگےدکھاؤں آنکھ تو یہ اژدھے چلے جائیںگزر رہا ہوں کسی مشتعل ہجوم سے میںہجوم مجھ میں گزرنے لگا تو کیا ہو گادیر ہوجائے گی اس راہ پہ بیٹھے بیٹھےدیدۂ چاک! رفوگر نہیں آنے والاسرخ پتوں سے الجھتا ہوا پانی کا سفراس سفر سے کوئی بچ کر نہیں آنے والامجھے جلایا گیا ضبط کے اندھیرے میںمرا تماشا مری روشنی میں دیکھا گیاپھر اس نے آنکھ اٹھا کر مری طرف دیکھامجھے بھی زیست کا کوئی بہانہ چاہیے تھاایک زرد پھول کتاب کے صفحا ت پر آگرا ہے۔ براق صفحے پر یہ زرد پھول ہمیں زندگی کا ایک رخ دکھا رہا ہے۔ ہم ساری عمر صفحات بھرتے رہتے ہیں‘ لیکن پتا نہیں کس دن ان صفحات پر زردی کھنڈنے لگے اور سارے ورق ایک ایک کرکے خالی ہونے لگیں۔ میری خوشدامن جو میری پھوپھی بھی ہیں‘ شاعرہ ہیں۔ میں نے بچپن ان کی نظموں اور ان کے ترنم کے گلیاروں میں پھرتے پھراتے گزارا ہے۔ قریب دس سال سے وہ ڈیمنیشیا کا شکار ہیں۔ اپنے بچو ں کے نام تک یاد نہیں‘ لیکن اگر آج بھی ان کی نظموں کا کوئی ایک مصرع پڑھ کر سنایا جائے تو پوری نظم سنا دیتی ہیں۔ ان کی کتابِ عمر کے صفحات سفید براق ہو چکے لیکن کچھ صفحات میں ابھی تک روشنائی روشن ہے۔ شاعر نے بھی ایسا ہی منظر دل کے اندر سے دیکھا ہے اور نظم ڈیمنیشیا میں عجیب عجیب کیفیتوں کو چھوا ہے۔ ڈیمنیشیا کی جہات بدلتی رہتی ہوں گی لیکن مرکز ایک ہی رہتا ہے۔ ساری جہات اس کے گرد طواف کرتے گزرتی ہیں اور جب بدن تھک کر سو جائے تو آنکھ اسی مرکز میں کھلتی ہے۔زندگی میں ایک بار مجھے ایک نیم صحرائی ویرانے میں رات بسر کرنے کا موقع ملا۔ دور تک کہیں نرم کہیں سخت ریت کے بیچ اجاڑ بکھرے بالوں والی جھاڑیاں‘ کچھ باہیں پھیلائے سخت جان درخت‘ تاحد نظر ویرانہ جسے آسمان سے بڑے بڑے جگمگ کرتے ستارے جھک کر دیکھتے تھے۔ وہ رات بھولے گی نہیں۔ گہری ہوتی رات میں دور سے کسی دل زدہ پرندے کی ہوک مسلسل سنائی دیتی تھی۔ معلوم نہیں وہ گھائل تھا‘ ڈرا ہوا تھا‘ قبیلے سے جدا ہو گیا تھا‘ قبیلہ بدری کی سزا سہہ رہا تھا‘ برہا میں آنسو بہا رہا تھا یا کسی کو پکار رہا تھا۔ یہ ہوک ہمیں سمجھ نہیں آتی تھی لیکن اگر پرندے سسکیاں لیا کرتے تو یہی آواز ہوتی۔ کتاب میں نظمیں پڑھتے ہوئے مجھے یہی ہوک اور یہی سسکیاں سنائی دیتی رہیں۔ آخری قیدی‘ ملبہ‘ دائرے میں تکون‘ محبت کی آخری نظم‘ بانجھ‘ سب میں یہی ہوک سنائی دیتی ہے۔ شاعر ویرانے میں کوئی خوفزدہ پرندہ ہے یا ہجرزدہ‘ معلوم نہیں۔ ہمیں بس یہ معلوم ہے کہ وہ دل زدہ پرندہ ہے۔ پیارے! عشق میں محنتانہ نہیں ملا کرتا۔ یہی بہت ہے کہ زخموں کی داد ملتی رہے۔ مزید عطا ہوتی رہے۔ اس سے بڑھ کر کوئی صلہ ہوتا بھی نہیں۔ شاداب رہو پیارے۔ سرسبز رہو!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_81278520.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مشترکہ دفاعی معاہدۂ مکہ(مفتی منیب الرحمٰن )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-09-17/52681/21516338</link><pubDate>Thu, 17 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-09-17/52681/21516338</guid><description>سعودی عرب‘ پاکستان اور ترکیے کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدۂ مکہ ایک سربستہ راز ہے۔ اسکی تفصیلات وجزئیات اب تک دستیاب نہیں ہیں۔ صرف توقعات‘ خوش فہمیاں اور خوبصورت آرزوئیں ہیں۔ عَلانیہ طور پر ایران اور اسرائیل کو بھی اسکا ہدف نہیں بنایا گیا‘ بہرحال امت کیلئے یہ ہوا کا ایک خوشگوار جھونکا ہے‘ بشرطیکہ یہ دیرپا اور مثبت نتائج کا حامل ہو۔ کئی دیگر مسلم ممالک نے اسکے بارے میں مثبت ردعمل کا اظہار کیا ہے‘ لیکن منفی ردعمل کسی کا نہیں آیا‘ صرف ایران سے مثبت اور منفی دونوں طرح کا ردِعمل آیا ہے۔ابتدا میں امریکہ کا اسکے بارے میں مثبت ردعمل اس بات کی دلیل ہے کہ یہ امریکہ کیخلاف نہیں ہے۔ حالیہ حوثی حملوں کے بعد سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکی صدر ٹرمپ سے رابطہ کیا مگر امریکہ نے سعودی عرب کا ساتھ دینے کی ہامی نہیں بھری اور کہا: حوثیوں کا ہم سے رابطہ ہے اور سعودی عرب کے سوا باب المندب بحری گزرگاہ سب کیلئے کھلی رہے گی۔ دراصل خلیجی ممالک اپنے دفاع کیلئے کلی طور پر امریکہ پر انحصار کیے ہوئے تھے مگر حالیہ جنگ میں ان ممالک پر ایرانی حملوں نے امریکہ پر اُنکے اعتماد کو متزلزل کر دیا اور اب انہیں یقین ہو گیا ہے کہ امریکہ اُن کا دفاع نہیں کر سکتا۔چونکہ اس کا تعلق دفاع سے ہے کہ معاہدین میں سے ایک پر حملہ دوسروں پر حملہ متصور ہوگا اور مشترکہ دفاع لازمی ہوگا‘ اس کا اولین امتحان تو آبنائے باب المندب میں حوثیوں کی تجارتی جہازوں اور مبیّنہ طور پر سعودی اہداف پر حملے کی صورت میں سامنے آیا‘ مگر کوئی مشترکہ اقدام تاحال سامنے نہیں آیا۔ اسرائیل اور ترکیے کے درمیان بھی معاندانہ بیان بازی کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ امریکہ کی طرف سے شام کو ریاستی دہشت گردی کے سرپرست ملکوں کی فہرست سے نکال دیا گیا ہے‘ نیز امریکہ نے شامی کردوں کی مالی مدد بھی روکنے کا اعلان کیا ہے؛ الغرض نئی صف بندیوں کا امکان ہے۔ اس وقت ایران امریکہ کے خلاف غیر معمولی مزاحمت کے سبب اپنے آپ کو علاقے کی بالادست فوجی قوت ثابت کر چکا ہے اور خلیجی ریاستیں اس کیساتھ &#39;&#39;جیو اور جینے دو‘‘ کی تدابیر تلاش کر رہی ہیں۔ بعض جزیروں پر ایران اور متحدہ عرب امارات کی ملکیت کے متضاد دعوے ہیں۔ کہا جاتا ہے: متحدہ عرب امارات نے وقتی طور پر &#39;&#39;جان کی امان‘‘ پانے کیلئے ایران کو پسِ پردہ کچھ مالی تاوان بھی ادا کیا ہے‘ نیز متحدہ عرب امارات اوپیک سے بھی نکل چکا ہے اور وہ سعودی بالادستی سے نکل کر اسرائیل‘ امریکہ کی سرپرستی میں جانے کا فیصلہ کر چکا ہے‘ لیکن امریکہ نے ایران کیخلاف دفاع میں ناکامی پر اپنے خلیجی اتحادیوں کو مایوس کیا ہے اور اسی کا ایک نتیجہ &#39;&#39;مشترکہ دفاعی معاہدۂ مکہ‘‘ ہے۔ ایران کی میزبانی میں عمان میں خلیجی ممالک کا جو اجلاس طلب کیا گیا تھا‘ سعودی عرب نے اسے منعقد نہیں ہونے دیا‘ نیز اب وہ مصر اور دوسرے ممالک سے بھی رابطہ قائم کر رہا ہے اور باب المندب بند ہونے سے یورپی ممالک سے بھی ایک ردِعمل آ سکتا ہے۔اگر اس معاہدے کو دیرپا شکل دینا ہے تو خلیجی ممالک کو چاہیے کہ پاکستان کو وسیع تر وسائل دیں‘ کم از کم اسکے بیرونی قرضوں کی یکمشت ادائیگی کا اہتمام کریں اور اتنے وسائل دیں کہ پاکستان چار پانچ ڈویژن اضافی فوج تیار کرکے اسے خطے کے موسم‘ زمینی حالات اور ماحول کے مطابق تربیت دے اور حسبِ ضرورت انہیں وہاں منتقل کرے۔ جدید ترین اسلحہ تیار کرنے کیلئے پاکستان اور ترکیے کو مالی وسائل دیں تاکہ وہ جدید دور کے مطابق اسلحہ تیار کریں۔ معاہدے میں شریک ممالک اپنی افواج کو بھی جدید فضائی اور بحری جہازوں اور اسلحے سے لیس کریں تاکہ وہ اسرائیل کا مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں ہوں‘ نیز بڑی تعداد میں &#39;&#39;دافع میزائل‘‘ نظام تیار کریں‘ کیونکہ حالیہ جنگوں نے جنگ کے پورے میکانزم اور حکمتِ عملی کو تبدیل کر دیا ہے۔ اے آئی سے مربوط سائبر نظام اور میزائلوں نے مرکزی حیثیت اختیار کر لی ہے۔ ایسی ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے کہ دافعِ میزائل نظام فضا میں رخ بدلتے میزائلوں کا بھی صحیح تعاقب کرکے نشانہ بنا سکے‘ نیز جدید ترین سیٹیلائٹس کی مدد سے مربوط دفاعی اور اقدامی صلاحیت بھی ضروری ہے۔ اس کیلئے ماہرین اور پالیسی سازوں پر مشتمل ایک مربوط سیکرٹریٹ ضروری ہے‘ امریکہ و اسرائیل کے مقابل چین کی مدد سے جدید ترین ٹیکنالوجی کی بھی ضرورت ہو گی۔31 اگست کو استنبول میں &#39;&#39;معاہدۂ مکہ‘‘ کے تحت قائم سٹرٹیجک سیاسی ودفاعی کمیٹی کا پہلا اجلاس منعقد ہوا‘ اس میں پاکستان‘ ترکیے اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ‘ وزرائے دفاع اور مسلّح افواج کے سربراہان نے شرکت کی۔ پاکستان کی طرف سے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے شرکت کی۔ اجلاس کے بعد جاری کردہ مشترکہ اعلامیے کے اہم نکات یہ ہیں: &#39;&#39;تینوں ممالک نے مکہ معاہدے کے دائرۂ کار کے اندر رہتے ہوئے خطے میں پائیدار امن و استحکام کیلئے مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ باہمی تعاون کے اس سلسلے کو ادارہ جاتی شکل دینے پر اتفاق ہوا تاکہ اجتماعی دفاعی صلاحیت مضبوط ہو۔ اس ادارے کا سیکرٹریٹ سعودی عرب میں قائم کیا جائے گا‘ اسکے پہلے تین سالہ دورانیے کی سربراہی پاکستان کو تفویض ہوئی‘ اسکے مقاصد میں دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانے‘ مشترکہ دفاعی صنعت کے قیام‘ ٹیکنالوجی کی ترقی اور افواج کے درمیان ہم آہنگی پر زور دیا گیا ہے‘ نیز کشیدگی کم کرنے اور پُرامن حل کی حمایت جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا گیا‘‘۔سرِ دست یہ معاہدہ امریکہ ایران جنگ کے نتیجے میں پیدا شدہ صورتحال کا نتیجہ ہے‘ کیونکہ اس سے پہلے سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک اپنے دفاع کیلئے کلی طور پر امریکہ پر انحصار کیے ہوئے تھے۔ بلکہ ٹرمپ نے اپنے پہلے دور میں کہا تھا کہ ہمارے بغیر سعودیہ ایک ہفتہ بھی نہیں ٹھہر سکتا اور دوسرے دور میں اس نے سعودی عرب‘ متحدہ عرب امارات اور قطر کو امریکہ میں ایک ایک ہزار ارب ڈالرکی سرمایہ کاری کا حکم جاری کیا تھا‘ مگر امریکہ ایران جنگ نے یہ ساراخواب چکنا چور کر دیا۔ اب یہ ممالک ناگزیر طور پر متبادلات تلاش کر رہے ہیں اور معاہدۂ مکہ اسکی ایک ممکنہ صورت ہے۔ اس جنگ نے عالمی سطح پر بہت سی تبدیلیوں کو جنم دیا ہے‘ نیٹو کافی حد تک کمزور ہوچکا ہے‘ اقوامِ متحدہ کا ادارہ بے اثر ہو چکا ہے‘ روس یوکرین جنگ اورخلیجی جنگ میں یہ ادارہ کوئی کردار ادا نہیں کر سکا ۔ امریکہ آئے دن یکطرفہ تجارتی پابندیاں لگا دیتا ہے‘ وینزویلا پر جس طرح چڑھائی کر کے اسکے صدرکو اہلیہ سمیت گرفتار کر کے امریکہ لاکر قید کردیا اور ان پر مقدمہ چلایا جا رہا ہے‘ یہ جنگل کا قانون نہیں تو اور کیا ہے۔ الغرض امریکی صدر ٹرمپ کی متلوّن مزاجی نے نہ صرف امریکہ کو غیر معمولی حد تک ناقابلِ اعتبار بنا دیا ہے‘ بلکہ عالمی توازن بھی درہم برہم کر دیا ہے۔ اب جبکہ چین اور روس نے ایران پر تازہ ترین امریکی تجارتی پابندیوں کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے تو اس سے امریکہ کا رہا سہا دبدبہ بھی ختم ہوگیا ہے۔ اگر &#39;&#39;اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘‘ پر فریقین لفظاً و معنیً عمل کر دیتے تو پورے خطے اور دنیا کیلئے سلامتی کا سبب بنتا‘ لیکن فریقین نے اس کی خلاف ورزی کی اور پورا خطہ اب تک بے یقینی کے عذاب میں مبتلا ہے۔ متحدہ عرب امارات کا جنتِ ارضی سنسان ہو رہا ہے‘ عالمی قوتیں اپنے اپنے مفادات کے تحفظ میں مصروفِ عمل ہیں اور وہ عالمی سطح پر کوئی بڑا کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ لہٰذا معاہدۂ مکہ کے بنیادی فریقوں‘ خلیجی ممالک اور امتِ مسلمہ کا دیرپا مفاد اسی میں ہے کہ امریکہ اور اہلِ مغرب پر انحصار کرنے کے بجائے اپنے تحفظ کا خود انتظام کریں اور اپنے اتحاد کو دفاعی اور اقدامی قوت میں تبدیل کریں۔ متحدہ عرب امارات کو بھی اپنی پالیسی اور ترجیحات پر نظرِ ثانی کرنی چاہیے‘ کیونکہ اُن کا فطری اتحاد مسلم ممالک کے ساتھ ہی ہو سکتا ہے اور حالیہ امریکہ ایران جنگ نے یہ ثابت بھی کر دیا ہے کہ وقت آنے پر امریکہ ہو یا بھارت‘ سب اپنے اپنے مفاد کو ترجیح دیں گے اور اپنے اتحادیوں کو اُن کے حال پر چھوڑ دیں گے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_61172381.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>