<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>جنگ اور معاشی اثرات(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-06/11079</link><pubDate>Mon, 06 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-06/11079</guid><description>تیل کی بڑھتی قیمتوں کے دوران حکومت کی جانب سے مختلف شعبوں کے لیے سبسڈی کا اعلان کیا گیا ہے۔ بسوں کو ماہانہ ایک لاکھ‘ منی بسوں اور ویگنوں کو 40 ہزار جبکہ مال بردار گاڑیوں کو 80 ہزار روپے اور ڈِلیوری وینوں کو 35 ہزار روپے سبسڈی دی جائے گی۔یہ رقم ڈیزل اور پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے مقابلے میں قیمتوں کو مستحکم رکھنے کی غرض سے ہے‘ مگر اس کا اثر تب ہی نظر آئے گا جب حکومت کی جانب سے سبسڈی کے ساتھ سخت نگرانی بھی کی جائے۔ اس سلسلے میں صوبائی حکومتوں کو بھی بھرپور اقدامات کی ضرورت ہے۔ صوبائی حکومتوں کی جانب سے زرِ اعانت کے مختلف منصوبے پیش کئے گئے ہیں جن میں ٹرانسپورٹ کے شعبے کے علاوہ موٹر سائیکلوں اور کاشتکاروں کیلئے بھی کسی قدر اعانت کا اعلان شامل ہے۔ اس رقم کے حجم سے زیادہ اہم یہ ہے کہ اس کی تقسیم کا طریقہ کار شفاف ہو تاکہ اس کا فائدہ حقداروں تک پہنچ سکے۔یہی صوبائی حکومتوں کو کارکردگی کا امتحان ہے۔ صوبائی انتظامیہ کی جانب سے منڈی اور مارکیٹ کے نرخوں کی نگرانی اور مسافر گاڑیوں میں کرائے کی پوچھ تاچھ کی جائے تو قوی امکان ہے کہ حکومت کی جانب سے دی جانے والی رقم کا فائدہ عوام کو منتقل ہو‘ بصورت دیگر ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے بوجھ کو عوام پر پڑنے سے نہیں روکا جاسکے گا۔

اس کے آثار پہلے ہی مختلف اشیا کی قیمتوں میں غیر اعلانیہ اضافے کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں‘ مثلاً کل کی ایک خبر کے مطابق لاہور کے مختلف علاقوں میں روٹی کی قیمت بڑھا دی گئی‘ مختلف بیکری آئٹمز کی قیمتوں میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ اگر اس مرحلے میں حکومت قیمتوں کے از خود اضافے کا سختی سے نوٹس نہیں لیتی تو مہنگائی کے طوفان کو روکنا آسان نہ ہو گا۔ مقررہ قیمتوں سے تجاوز کی اس وقت سب سے بڑی مثال ایل پی جی ہے جس کے سرکاری نرخ 304روپے فی کلو مقرر کئے گئے ہیں مگر 500 روپے کے قریب فروخت ہو رہی ہے۔ ایران جنگ کی وجہ سے ایل پی جی کی سپلائی کا مسئلہ اپنی جگہ مگر مصنوعی قلت پیدا کر کے منافع خوری کے امکان کو بھی رد نہیں کیا جاسکتا اس لیے صوبائی انتظامیہ کو ایل پی جی کے بحران کی طرف بھی توجہ دینی چاہیے کیونکہ قدرتی گیس کی سپلائی میں کمی کی وجہ سے خاص طور پر شہری علاقوں میں گھریلو صارفین کا اپنی ضرورتوں کیلئے ایل پی جی پر انحصار خاصا بڑھ چکا ہے۔ امریکہ ایران جنگ عالمی معیشت کیلئے ڈراؤنا خواب ہے۔آئی ایم ایف کی سربراہ کے مطابق تیل کی قیمت میں 10 فیصد اضافہ عالمی مہنگائی میں 0.4 فیصد اضافے اور عالمی پیداوار میں 0.2 فیصد کمی کا سبب بنتا ہے جبکہ اس جنگ کے شروع ہونے کے بعد پچھلے پانچ ہفتوں کے دوران تیل کی قیمتوں میں 55 سے 60 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے۔
اس دوران عالمی افراط زر 7.7 فیصد تک پہنچ گیا ہے جو 2022ء کے بعد بلند ترین سطح ہے‘ لیکن 2022ء کے برعکس‘ جب عالمی معیشت قیمتوں کے جھٹکے کے باوجود بڑھتی رہی‘ اس خلل کی شدت عالمی معیشت کے مکمل سکڑنے کی طرف لے جارہی ہے۔ پاکستان میں جنگ سے متعلق مہنگائی کا دباؤ ظاہر ہونے سے پہلے ہی فروری میں افراطِ زر سات فیصد ریکارڈ کی گئی جو پچھلے 16 ماہ میں سب سے زیادہ تھی۔موجودہ علاقائی اور عالمی صورتحال کے پیش نظر اگلے تین سے چار ماہ کے دوران افراطِ زر بڑھنے کی توقع جارہی ہے کیونکہ توانائی کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔افراط زر میں اضافے کے اثرات شرح سود پر بھی پڑنے کا خدشہ موجود ہے جو اس وقت دو سال کی کم ترین سطح پر ہے اور یہ توقع کی جارہی تھی کہ یہ سنگل ڈیجٹ تک آ جائے گی۔ معاشی لحاظ سے اس غیر یقینی صورتحال میں بچت کی اہمیت پہلے سے زیادہ ہے۔ حکومت اور عوام کو قومی جذبے کے ساتھ اس کے لیے کوشش کرنی چاہیے تا کہ اس معاشی دباؤ کو جھیلنے کی صلاحیت بڑھائی جاسکے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بیرونی سرمایہ کاری میں کمی(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-06/11078</link><pubDate>Mon, 06 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-06/11078</guid><description>حکومت کی جانب سے بیرونی سرمایہ کاری میں 22 فیصد سے زائد کمی کا اعتراف مالیاتی استحکام کے حوالے سے درپیش چیلنجز کی سنگینی کا اظہار ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال براہِ راست بیرونی سرمایہ کاری تین ارب آٹھ کروڑ ڈالر سے گھٹ کر دو ارب 40 کروڑ ڈالر رہ گئی ہے۔ حکومت کی جانب سے اس کمی کا سبب عالمی حالات اور علاقائی کشیدگی کو قرار دیا جا رہا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ سال جولائی سے رواں سال فروری تک کے مذکورہ اعداد و شمار پاکستان کے مالیاتی ڈھانچے کی فالٹ لائنز کو نمایاں کر رہے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی نے اگرچہ پوری دنیا کی معیشت کو متاثر کیا ہے مگر متاثرہ ممالک میں پاکستان اس لیے سرفہرست ہے کہ ہماری معاشی بنیادیں پہلے ہی سے کمزور ہیں۔ سرمایہ کار ہمیشہ وہاں کا رخ کرتا ہے جہاں اسے سرمائے کے تحفظ اور منافع کا یقین ہو۔

بیرونی سرمایہ کاری میں کمی محض اس بار کا مسئلہ نہیں بلکہ طویل عرصے سے جاری سیاسی عدم استحکام اس ضمن میں ایک بڑی رکاوٹ چلا آ رہا ہے۔ پالیسیوں میں تسلسل کا فقدان اور سیاسی کشیدگی نے ملکی تشخص پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اربابِ اختیار اس معاملے کو گہرائی سے سمجھنے کی کوشش کریں کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی استحکام کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ اگر سیاسی سٹیک ہولڈرز نے جلد معاشی میثاق پر اتفاق نہ کیا تو بیرونی سرمایہ کاری کا گراف مزید نیچے گر سکتا ہے‘ جس کا مالیاتی خمیازہ جنگ کے اثرات سے کہیں شدید ہو سکتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>درسی کتب کی قلت(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-06/11077</link><pubDate>Mon, 06 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-06/11077</guid><description>نئے تعلیمی سال کا آغاز ہو جانے کے باوجود بیشتر علاقوں میں نئی درسی کتب کی فراہمی ایک بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے‘ جو تعلیمی نظام کی ترجیحات اور انتظامی صلاحیتوں پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ ہر سال نئے تعلیمی سال کے آغاز پر نئی درسی کتب کا حصول ایک بڑا مسئلہ بن جاتا ہے مگر متعلقہ حکام کی جانب سے روایتی خاموشی یا تسلی بخش بیانات کے علاوہ کوئی ٹھوس اقدامات نظر نہیں آتے۔ پنجاب میں صورتحال اس لحاظ سے زیادہ تشویشناک ہے کہ ٹیکسٹ بک بورڈ اور پبلشرز کے درمیان تنازعات اور کاغذ کی قیمتوں میں اضافے کے سبب لاکھوں بچوں کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔

سرکاری سکولوں میں مفت کتب کی فراہمی کا دعویٰ تو کیا جاتا ہے مگر تاحال نصاب اکثر سکولوں تک نہیں پہنچ پایا‘ جس کی وجہ سے تدریسی عمل بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ سندھ میں بھی ٹیکسٹ بک بورڈ کی جانب سے پبلشرز کو بروقت ادائیگی نہ ہونا اور ٹینڈرز کی تقسیم میں تاخیر جیسے اسباب نے ایک ایسے بحران کو جنم دیا ہے جس میں سب سے زیادہ متاثر وہ طلبہ ہو رہے ہیں جن کی پڑھائی کا حرج ہو رہا ہے۔ صوبائی حکومتوں کو تعلیم دوستی کا ثبوت دیتے ہوئے ہنگامی بنیادوں پر پبلشرز کو واجبات کی ادائیگی‘ کاغذ کی فراہمی اور ترسیلی نظام کو شفاف بنانے کی ضرورت ہے۔ درسی کتب کی بروقت فراہمی نہ صرف طلبہ کا بنیادی حق بلکہ ملک وقوم کے مستقبل سے جڑا تقاضا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>جنگ اور مذہب(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-04-06/51714/84289526</link><pubDate>Mon, 06 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-04-06/51714/84289526</guid><description>جنگ میں مذہب کا استعمال انسانی تاریخ کے لیے اجنبی نہیں۔ آج کی جنگ بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔نیتن یاہو نے 28 فروری کو جنگ کا آغاز کیا تو عیدِ قرعہ (Purim) کا حوالہ دیا۔ یہود ہر سال اس دن کو خوشی مناتے ہیں۔ امسال یہ عید دو اور تین مارچ کو منائی جا رہی تھی۔ یہود کی تاریخ کے مطابق 2500 برس پہلے اسی دن قدیم ایران میں یہود کے قتلِ عام کی سازش کی گئی تھی۔ یہ سازش بادشاہ کے وزیر ہامان نے کی۔ یہودی ملکہ آستر اور اس کے چچا مردخائی نے مل کر اس سازش کو ناکام بنایا۔ نیتن یاہو نے جدید ایران کے ساتھ جنگ کو اپنی تاریخ کے ساتھ جوڑتے ہوئے‘ اسے مذہبی رنگ دیا۔نیتن یاہو نے ایران اور حماس کو عمالیق کی مثل قرار دیا۔ یہ بھی مذہبی حوالہ ہے۔ عمالیق وہ قوم ہے جس نے مصر سے خروج کے بعد اسرائیلوں پر حملہ کیا۔ ان کے ساتھ یہود کا جھگڑا تادیر چلتا رہا۔ عہدِ نامہ عتیق کی کتاب سموئیل۔1 کے مطابق بنی اسرائیل سے کہا گیا کہ وہ انہیں زمین سے مٹا ڈالیں۔ خدا نے ساؤل بادشاہ کو حکم دیا: &#39;&#39;ربّ الافواج یوں فرماتا ہے کہ مجھے اس کا خیال ہے کہ عمالیق نے اسرائیل سے کیا کِیا اور جب یہ مصر سے نکل آئے تو وہ راہ میں ان کا مخالف ہو کر آیا۔ سو اب تُو جا اور عمالیق کو مار اور جو کچھ ان کا ہے سب کو بالکل نابود کر دے اور اُن پر رحم مت کر بلکہ مرد اور عورت‘ ننھے بچے اور شیرخوار‘ گائے بیل اور بھیڑ بکریاں‘ اونٹ اور گدھے سب کو قتل کر ڈال۔ (باب: 15‘ آیات: 2 تا 3)۔ گویا نیتن یاہو کے نزدیک ایرانیوں اور حماس کو مارنا ان کی مذہبی ذمہ داری ہے۔صدر ٹرمپ کی قیادت میں امریکی بھی پیچھے نہیں رہے۔ انہوں نے بھی مذہب کو خوب استعمال کیا۔ 5 مارچ کو اوول آفس میں ایک خاص گروہ سے تعلق رکھنے والے مسیحی راہنما جمع ہوئے۔ انہوں نے صدر ٹرمپ کے حق میں دعا کی کہ خدا ان پر اپنا سایہ کرے اور وہ فتح سے ہم کنار ہوں۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ تو کھلم کھلا اس جنگ کو مذہبی سمجھتے ہیں۔ انہوں نے تو اپنے جسم پر ٹیٹو بھی کھدوا رکھا ہے۔ یہ حرکت کوئی مذہبی جنونی ہی کر سکتا ہے۔ یہی نہیں &#39;عسکری مذہبی آزادی فاؤنڈیشن‘ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجیوں کی طرف سے ایک سو دس سے زیادہ ایسی شکایتیں موصول ہوئیں جن کے مطابق فوج کے اعلیٰ عہدیداروں نے ان سے یہ کہا کہ وہ ایک خدائی جنگ لڑ رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ حضرت مسیح کی طرف سے اس پر مامور ہیں کہ وہ ایران کے خلاف اعلانِ جنگ کریں اور آرمیگڈون کے لیے فضا تیار کریں تاکہ مسیح کی آمدِ ثانی ہو۔ آرمیگڈون وہ آخری معرکۂ حق وباطل ہے جو ان کے نزدیک اس زمین پر حق کی فتح پر منتج ہوگا۔ یہ حضرت مسیح کی قیادت میں لڑا جائے گا۔ یہ فلسطین کی سرزمین پر برپا ہو گا اور اس میں تین ارب کے قریب انسان مار دیے جائیں گے۔ یروشلم سے دو سو میل تک اتنا لہو بہے گا کہ یہ گھوڑوں کی باگوں تک جا پہنچے گا اور وادی انسانوں اور جانوروں کے خون سے بھر جائے گی۔ایران بھی یہ جنگ مذہبی جذبے کے ساتھ لڑ رہا ہے۔ اثنا عشری شیعہ بھی اپنے بارہویں امام‘ امام مہدی کے انتظار میں ہیں جو قربِ قیامت میں تشریف لائیں گے۔ اس سے پہلے زمین فساد سے بھر جائے گی۔ پھر امام کی قیادت میں دنیا میں حق کی حکومت قائم ہو گی اور ہر طرف انصاف کا دور دورہ ہو گا۔ ان کے نزدیک اس کے لیے فضا تیار ہو رہی ہے۔ دنیا اسی آخری معرکے کی طرف بڑھ رہی ہے۔ موجودہ حکومت نے ایرانی قومیت اور انتظارِ مہدی کے تصورات کو یک جان کر دیا ہے۔ اس باب میں ایرانی قوم یکسو ہے کہ و ہ ایک مذہبی جنگ لڑ رہی ہے۔ یہ معرکہ ہی نہیں‘ اس کی ہر جنگ مذہبی ہے‘ چاہے وہ صدام حسین کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔گویا تمام فریق حسبِ توفیق اس معرکے کو ایک مذہبی رنگ دے رہے ہیں۔ تینوں ابراہیمی ادیان میں ایک مسیحا کا تصور موجود ہے‘ جو اس زمینی حیات کے اختتام پر نمودار ہوگا۔ وہ خدا کی بادشاہی قائم کرے گا۔ سب کو اسی کا انتظار ہے۔ اس تصور کو ماننے والے اپنے ہر معرکے کو اسی طرح پیش کرتے اور اسی جذبے کے ساتھ لڑتے ہیں۔ سب کو ایک مسیحا کا انتظار ہے؛ اگرچہ کسی کے پاس منتظَر کی آمد کا کوئی حتمی پروگرام موجود نہیں۔ سب نشانیاں بیان کر تے ہیں لیکن کوئی یہ نہیں بتا سکتا کہ وہ فلاں تاریخ کو تشریف لائیں گے۔ اسی طرح اس شخصیت کے بارے میں بھی سب یک زبان نہیں کہ وہ کیسی ہو گی۔ مثال کے طور پر امام مہدی کا تصور سنیوں اور شیعوں‘ دونوں میں موجود ہے لیکن یہ ایک جیسی شخصیت نہیں۔ شیعوں کے مطابق امام مہدی پیدا ہو کر غیبتِ کبریٰ میں چلے گئے اور قیامت سے پہلے ان کا ظہور ہو گا۔ سنیوں کے نزدیک وہ قربِ قیادت میں پیدا ہوں گے۔ اسی طرح مولانا مودودی کا تصورِ مہدی شیعہ سنی علما‘ دونوں سے مختلف ہے۔ تاہم اس ایک بات پر سب متفق ہیں کہ قیامت سے پہلے ایک بڑا معرکۂ حق وباطل ہو گا۔یہ تمام مذاہب کے جمہور کا مؤقف ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ کوئی اجتماعی عقیدہ ہے۔ اس کی تفصیلات میں بہت اختلاف ہے۔ مثال کے طور پر مسیحیوں کا ایک طبقہ جنہیں &#39;مسیحی صہیونی‘ کہا جاتا ہے‘ وہ اس معرکے کو آرمیگڈون قرار دے رہے ہیں لیکن کیتھولک اس کے مخالف ہیں۔ جب امریکی وزیر دفاع نے ایران کے ساتھ جنگ کو مذہبی رنگ دینا چاہا تو عالمِ مسیحیت کے سب سے بڑے راہنما پوپ لیو نے جرأت مندانہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے اس دعوے کو رد کیا اور یہ کہا کہ ایران‘ امریکہ اور اسرائیل کی جنگ ظالمانہ ہے اور اس کے جواز کے لیے حضرت مسیح کا نام استعمال نہ کیا جائے۔ انہوں نے بائبل کی ایک آیت بھی سنائی کہ جو جنگ مسلط کرتے ہیں‘ جن کے ہاتھ خون سے رنگین ہیں‘ خدا ان کی دعا کو نہیں سنتا۔ وہ ان کو مسترد کرتا ہے۔ اسی طرح مسلمان اہلِ علم میں ابن خلدون اور علامہ اقبال جیسی شخصیات بھی مسیحا کی آمد کے تصور کو مسلم فکر کے لیے اجنبی قرار دیتے ہیں۔ مسلم تاریخ میں کئی لوگوں نے امام مہدی ہونے کا اعلان کیا لیکن مسلمانوں نے ان کے دعوے کو قبول نہیں کیا۔بظاہر لگتا ہے کہ عالمِ انسانیت‘ مجموعی طور پر اس جنگ کو مذہبی قرار دینے پر آمادہ نہیں۔ اکثریت صدر ٹرمپ کی ناقد ہے اور انہیں مجرم سمجھتی ہے۔ یہ مؤقف مگر مذہبی بنیادوں پر نہیں‘ عام انسانی اخلاقیات اور عقل کی اساس پر اپنایا گیا ہے۔ اسی طرح اسرائیل کے مظالم پر بھی کم وبیش اجماع ہے۔ اس کی بنیادیں بھی وہی غیر مذہبی ہیں۔ مسلمانوں میں شیعہ سنی اختلاف اس جنگ کو مذہبی رنگ دینے میں مانع ہے۔ عملاً عالمِ اسلام اس جنگ سے لاتعلق ہے۔ عرب وعجم کے تعصبات اس جنگ کو بھی اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہیں۔ قرآن مجید نے یہود کے بارے میں یہ پیشگوئی کی ہے کہ وہ قیامت تک حضرت مسیح کے ماننے والوں کے زیرِ دست رہیں گے۔ اس جنگ نے ایک بار اس کو ثابت کیا ہے۔ ساری دنیا نے دیکھ لیا کہ اگر امریکہ اسرائیل کی پشت پر نہ ہو تو اس کے وجود کو مٹانے کے لیے ایران ہی کفایت کرتا ہے۔ تاہم اگر وہ نافرمانی سے باز آئیں‘ توبہ کریں تو اللہ تعالیٰ کی رحمت ان کو بھی خوش آمدید کہے گی۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>جنگ اور جوا(رسول بخش رئیس)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-04-06/51715/82154372</link><pubDate>Mon, 06 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-04-06/51715/82154372</guid><description>آپ مانیں یا نہ مانیں موجودہ دور کے جنونی‘ جذباتی اور انا پرست طاقتور ملکوں کے سربراہوں نے مہلک جنگوں کو قمار بازی کی شکل دے دی ہے۔ ایران کے خلاف جنگ میں انہوں نے سب کچھ نہیں تو بہت کچھ داؤ پر لگا دیا ہے۔ امریکی لوگ بھی عجیب ہیں کہ جنگ کو بھی کچھ جواریوں نے بغیر ہاتھ میلے کیے کمانے کا موقع بنا لیا۔ جب سے ایک امریکی ہوا باز کا جہاز ایران نے گرایا‘ وہ چھاتے سے کہیں زمین پر اترا تو آن لائن جواریوں نے لاکھوں ڈالروں میں شرطیں باندھنا شروع کر دیں کہ کب تک خطے میں موجود ملکی فوجیں اسے ڈھونڈ سکیں گی۔ امریکی حکومت نے اسے ایک حساس مسئلہ خیال کرتے ہوئے اس پر پابندی لگا دی ہے لیکن جو جوا اس نے ایران کے خلاف جنگ کر کے کھیلا ہے اس میں اسے وہ پتے ابھی تک نصیب نہیں ہوئے جن کی اسے توقع تھی۔ تاش کھیلنے سے ہمارا کبھی تعلق نہیں رہا مگر بزرگوں سے سنا تھا کہ سب کھلاڑی دوستوں کے ساتھ بھی دیانت داری سے نہیں کھیلتے‘ کچھ پتے اپنی مرضی کے لگا لیتے ہیں۔ لگتا یہی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایسا ہی کیا ہے مگر اس کے باوجود بازی اس کے حق میں نہیں جا رہی۔ بہت کچھ داؤ پر لگا دیا ہے جس سے اس خطے کے مستقبل کی سلامتی‘ عالمی معیشت اور خود امریکی طاقت پر اس کے حلیفوں کا بھروسا متاثر ہو سکتا ہے۔ چھ ہفتے کی اس خوفناک جنگ کے بعد‘ جس میں ہر روز شدت اور اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے‘ امریکیوں کو یہ معلوم نہیں کہ وہ کیا حاصل کر سکتے ہیں اور کیا چاہتے ہیں۔امریکہ کی پسند کی جنگ نے ایران میں تباہی تو بہت مچائی ہے اور ابھی اس سے بھی زیادہ بم برسانے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں مگر ان کے مقاصد ہمارے شمالی علاقوں کے موسم کی طرح دن میں کئی بار تبدیل ہو رہے ہیں۔ بات تو انہوں نے رجیم چینج سے شروع کی تھی اور ان کی اعلیٰ سیاسی اور عسکری قیادت کو شہید بھی کر ڈالا مگر ایرانیوں کی بے مثال مزاحمت اور استقامت کو دیکھ کر &#39;&#39;ہم جلد جنگ ختم کر دیں گے‘‘ کے اعلانات کر رہے ہیں۔ کبھی یہ کہتے ہیں کہ ہم نے رجیم چینج کر دیا ہے‘ اہداف حاصل کر لیے ہیں اور جلد ہی گھر لوٹ آئیں گے۔ لیکن عملی طور پر دیکھنے میں آیا ہے کہ ایران کے ایک ہی دائو نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی سب تدبیریں آبنائے ہرمز میں غرق کر دی ہیں۔ اس کا اس سمندری راہ گزر پر کنٹرول ہے جس نے جنگ کو عالمی بحران میں تبدیل کر دیا ہے۔ کوئی مال بردار جہاز اس کی مرضی کے خلاف صحیح سلامت وہاں سے نکل کر نہیں جا سکتا۔ اکانومسٹ میگزین کی ایک پوسٹ کے مطابق اگر ایران کا یہ غلبہ جنگ کے بعد بھی جاری رہا تو وہ ٹول ٹیکس لگا کر سالانہ 500 ارب ڈالر کما سکتا ہے۔ خلیج کے امریکی اتحادی ممالک تو اپنا تیل یہاں سے نہیں گزار سکتے مگر ایرانی تیل کی ترسیل اس کے خریدار ممالک کو جاری ہے۔ تیل کی عالمی منڈی کو اعتدال میں رکھنے کیلئے امریکہ نے مجبوراً ایران کے تیل کی برآمدات پر سے پابندیاں نرم کی ہیں۔ اب وہ جنگ سے پہلے کی تیل کی برآمدات کو جنگ کے دوران دُگنا کر چکا ہے۔ امریکہ اور اس کے علاقائی حلیفوں نے جنگ کے اس جوئے میں سب کچھ داؤ پر لگا دیا ہے۔ کل کی کوئی خبر نہیں‘ مگر ابھی تک میرے نزدیک حالات جواریوں کے حق میں نہیں جا رہے۔ ناکامی اور جھنجھلاہٹ میں ٹرمپ نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ جس کو خلیج فارس کے تیل کی ضرورت ہے وہ خود جا کر اسے کھلوا لے۔ اب ہم کیا کہیں کہ یہ تو کھلی ہوئی تھی آپ کی اختیاری جنگ نے ہمارے جیسے ملکوں کے لیے مسئلہ کھڑا کر دیا ہے۔بات جوئے کی ہے اور مستقبل داؤ پر ہے۔ سوچیں اگر ایران ثابت قدم رہتا ہے اور ہتھیار نہیں پھینکتا تو پھر ایران کو ایٹمی قوت بننے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔ اب صرف انہیں نہیں‘ ساری دنیا کو معلوم ہے کہ اگر وہ استعداد ہوتی تو اسرائیل اور امریکہ ایران کے شہروں‘ عسکری تنصیبات‘ معاشی وسائل کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی جرأت نہ کرتے۔ ان کی توقعات کے برعکس معتدل نہیں بلکہ پہلے سے بھی کہیں زیادہ امریکہ مخالف سیاسی اور عسکری قیادت ابھری ہے۔ سب سے زیادہ نقصان تو اس غیر لازمی جنگ نے تبدیلی کی تحریک کو پہنچایا ہے جس کی حمایت کچھ بیرونی طاقتیں ایک عرصہ سے کر رہی تھیں۔ ایران کے اندر قومیت کا جذبہ ایک نئے جوش اور ولولے کے ساتھ ابھرا ہے اور اب تمام دھڑے اندرونی اختلافات ختم کر کے ایران کی سلامتی کے لیے یکجا ہو رہے ہیں۔ امریکی میڈیا اور اس میں جو خیالات پھیلائے جا رہے ہیں وہ جوئے کی رقم کو کئی گنا کرنے کی تجاویز دے رہے ہیں کہ آسمانوں سے جہنم برسانے کی دھمکیوں سے ایرانی بھاگے بھاگے کسی بنے بنائے معاہدے پر دستخط کر دیں گے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ جنگ کبھی نہیں چاہتے تھے اور انہوں نے اس سے بچنے کے لیے بہت لچک دکھائی‘ اب بھی اسے منصفانہ انداز میں ختم کرنے کے حق میں ہیں۔ مسئلہ کہیں اور ہے۔اگر میں کچھ صحیح سُن اور پڑھ سکا ہوں تو وہ یہ ہے کہ امریکہ کے کچھ حلیف اور عسکری صنعتی کمپلیکس کے لوگ ٹرمپ سے بار بار مطالبہ کر رہے ہیں کہ جنگ کو ہر صورت میں جیتا جائے ورنہ تزویراتی شہ مات ہو جائے گی۔ سب سے بڑا انعام ایران کی جھولی میں آ کر گرے گا۔ وہ زور دے رہے ہیں کہ رجیم چینج کے اولین مقصد سے ایک قدم بھی پیچھے ہٹے تو ایران کی طاقت کا جن کسی کے قابو میں نہیں آئے گا۔ یہ اتنا آسان نہیں اور نہ ہی ایسے جنونیوں کو اس بات کا ادراک ہے کہ عالمی سطح پر خصوصاً غریب ممالک کی معیشتوں‘ خوراک کی کمی اور انسانی المیوں نے کتنی خوفناک صورتحال اختیار کر لی ہے۔ اگلے چند دنوں میں دیکھیں کیا ہوتا ہے۔ اب کوشش یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ایران کی تیل پیدا کرنے اور ترسیل کی صلاحیت تباہ اور انرجی فراہم کرنے کے وسائل کو نشانہ بنایا جائے۔ یہ سب کچھ جائز اور منصفانہ جنگوں اور قابلِ جواز قومی مفاد کے زمرے میں تو نہیں‘ تزویراتی جوئے میں ضرور آتا ہے۔ اس جنگ کے بارے میں کچھ ابہام تو اس کھیل کا حصہ ہے اور کچھ تاریخی غلطیوں کا‘ جو امریکی ادارے ایران اور اس خطے کے بارے میں دہراتے چلے آئے ہیں۔ پاکستان اور چین نے پانچ نکاتی فارمولا دے کر امریکہ اور اس کے حلیفوں کو محفوظ راستہ دیا۔ اگر کہیں گہری سوچ اور اس خطے کے لوگوں کے لیے کوئی نرم دلی ہے تو مزید وقت اور جانیں ضائع کیے بغیر اس جنگ کے جوئے سے ہاتھ کھینچ لینے چاہئیں۔ ہمیں کوئی زیادہ امید اس لیے نہیں کہ جواریوں کو طاقت کا گھمنڈ ہے اور ان کی روایت بھی کہ عالمی مسائل کو حل کرنے کے لیے سفارت کاری نہیں بندوق کا سہارا ڈھونڈتے ہیں۔ ہم کئی جنگیں‘ ویتنام، افغانستان سے لے کر اب ایران تک‘ دیکھ چکے ہیں۔ تباہی کی صلاحیت اور اسے برپا کرنے کے باوجود وہ تزویراتی جوا ہمیشہ ہارے ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_33241568.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کیا اب بھی سب اچھا ہے؟ …(1)(بابر اعوان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/babar-awan/2026-04-06/51716/81255352</link><pubDate>Mon, 06 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/babar-awan/2026-04-06/51716/81255352</guid><description>پٹرولیم کی قیمتوں میں قیامت خیز اضافہ حتمی نہیں‘ اس لیے کہ اپنے آپ کو عالمی گُرو سمجھنے والے مادرِ وطن کی فیصلہ سازی کے لیے آئی ایم ایف کے اشارۂ ابرو کے محتاج ہیں۔ شہرِ اقتدار میں یہ راز کی بات نہیں کہ پٹرولیم کی قیمت میں حالیہ اضافے کا وعدہ حکومت نے آئی ایم ایف سے کر رکھا ہے۔ کیا غضب کے لیڈر مارشل لائوں کی نرسری میں تیار ہوتے ہیں۔ عجیب اتنے کہ مدام العجائب کہلانے کے پورے حقدار۔ بائی سائیکل والا‘ موٹر سائیکل والا‘ منی مورس والا اسی پاکستان میں رہتے تھے۔ اسی پاکستان سے انہوں نے ترقی کا وہ فارمولا سیکھا جس نے انہیں پاکستان کے امیر ترین لوگوں اور ماسٹر آف منی لانڈرنگ کے پہلے نمبروں تک پہنچا دیا۔ ملک کے اندر بڑھک مظہر شاہ والی مارتے ہیں اور سیلوٹ ٹرمپ کو۔ بے اعتبارے ہونے کے ساتھ ساتھ بے اختیارے اس قدر کہ ان کی وجہ سے 25 کروڑ عوام کی ضرورت پٹرول‘ ڈیزل‘ مٹی کے تیل کی قیمت بڑھانے کا فیصلہ آئی ایم ایف ایڈوانس کرتا ہے۔ روس اور ایران سے سستا تیل خریدنا ہے کہ نہیں‘ ان کے لیے یہ فیصلہ بھی امریکہ بہادر کرتا ہے۔ ادھار کے اقتدار میں بیٹھے ہوئے ٹولے نے ہم وطنوں پر پٹرول اور ڈیزل بم سے جو وار کیا اسے کوئی طبقہ بھی برداشت نہیں کر سکتا۔ راج نیتی کے ساتھ ساتھ اکنامکس کے طا لب علم کی حیثیت سے میں اس اضافے کو غریب مکاو مہم کہتا ہوں‘ جس کی وجوہات کچھ یوں ہیں:غریب مکائو مہم کی پہلی وجہ: پٹرول کی قیمت 458 روپے فی لٹر (بعد ازاں 378 روپے) جبکہ ڈیزل کی قیمت 520 روپے فی لٹر کے مڈنائٹ اعلان پر بات ختم نہیں ہو گی۔ اس سے مڈل کلاس غربت کی لکیر کے نیچے لڑھک جائے گی۔ ساری دنیا میں ہر ملک اپنی vulnerable کلاسز کے لیے ان کے استعمال کی چیزیں ہر حال میں سستی رکھتا ہے۔ ہمیں دور جانے کی ضرورت ہرگز نہیں‘ ہمارا سابق مشرقی بھائی‘ بنگلہ دیش 263 روپے یعنی 166 ٹکہ میں ایک لٹر پٹرول بیچ رہا ہے۔ ہمارے مشرق میں بھارت پٹرول 284 (105 بھارتی) روپے فی لٹر میں اپنے عوام تک پہنچا رہا ہے۔ اسی تسلسل میں یہ حقیقت بھی ناقابلِ تردید ہے کہ پاکستان اس ریجن میں per capita جی ڈی پی رینکنگ میں سب سے نیچے آتا ہے لیکن پٹرولیم کی مہنگائی کے ٹیبل پر پاکستان سب سے اونچے فیول پرائسز کا چیمپئن بنا دیا گیا۔ ابھی آئی ایم ایف کو راضی رکھنے والی ریونیو کولیکشن میں اضافے کے لیے کئی اور مراحل باقی ہیں۔غربت مکائو مہم کی دوسری وجہ: جو نہیں جانتے ان کی اطلاع کے لیے عرض کر دیتے ہیں کہ پٹرولیم کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ‘ ہر قسم کی گھریلو گیس کی قیمتوں میں بطور فیول ایڈجسٹمنٹ بھی ڈالا جائے گا۔ جب بھی ورلڈ بینک کے ملازم خزانہ کے انچارج بنے ایسی ہر نوسر بازی کے لیے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کا نام لگایا گیا۔ یہی کام IPPs‘ واپڈا‘ ڈسکوز اور جینکوز کے ذریعے بھی ہونا باقی ہے‘ جس سے آئندہ ہفتے‘ دس دن میں مہنگائی کا وہ طوفان اُٹھے گا کہ الحفیظ الامان۔ اس سے نمٹنے کے لیے ہائبرڈ رجیم کچھ پٹاخے چلانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ پٹاخے سے گائوں کی شادی پہ کھانا پکانے والا نائی یاد آ گیا‘ جس کا دھیان کھانے کی پکائی کی طرف کم اور باتوں کی زبانی کلامی پرفارمنس کی طرف زیادہ تھا؛ چنانچہ کھانے میں نمک زیادہ ڈل گیا۔ اتنا زیادہ کہ کھانا باراتیوں کے کھانے کے قابل بھی نہ رہا۔ نائی سخت پریشان ہو گیا کہ لوگ اسے ماریں گے۔ مگر اس کے دماغ میں فوراً ایک ترکیب آئی اور اس نے شادی کی انتظامیہ کو بلا کر کہا: دیگیں دَم پر ہیں بس ایک مہربانی کرنا‘بارات قریب پہنچ رہی ہے دیکھنا کوئی پٹاخہ نہ چلائے۔ اگر پٹاخہ چلانے سے سالن خراب ہو گیا تو میری کوئی ذمہ داری نہیں ہو گی۔ اس گفتگو کے درمیان انتظامیہ بھاگی مگر بارات پہنچ چکی تھی۔ کسی لڑکے بالے نے پٹاخے چلا دیے۔ پھر کیا تھا نائی کو زبردست بہانہ چاہیے تھا۔ اس نے اپنی گدڑی اور چادر کندھے پر رکھی اور چل دیا۔ ساتھ بولا: کہا تھا نا پٹاخہ نہ چلانا‘ اب سنبھالو دیگیں۔ دو اپریل کو وزیروں کی ایک میٹنگ میں وزیراعظم نے جو بیان دیا وہ میڈیا نے ان لفظوں میں رپورٹ کیا &#39;&#39;خوشحالی کا وقت آ پہنچا تھا مگر بدقسمتی سے جنگ نے صورتحال بدل دی‘‘۔غربت مکاؤمہم کی تیسری وجہ: اب آئیے سرزمینِ ایران کے زمینی حقائق کی طرف‘ جس کا بہانہ بنا کر پاکستان میں پٹرول‘ ڈیزل‘ ہائی اوکٹین اور مٹی کے تیل کی قیمتیں اپالو راکٹ بنا کر آسمان تک پہنچائی گئی ہیں۔ پھر قوم کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے ان پانچ پٹرولیم پراڈکٹ میں سے صرف اور صرف پٹرول پر 80 روپے فی لٹر لیوی واپس لی گئی۔ سوال یہ ہے اگر یہ لیوی ناجائز تھی تو باقی پراڈکٹس پر اسے کس بنیاد پر جائز سمجھیں؟ دوسرا یہ کہ ایک ایک شہر میں 24 گھنٹے تک لوگوں نے اس 80 روپے سمیت کروڑوں لٹر پٹرول ڈلوایا‘ حکومت عوام کا یہ نقصان کس طرح پورا کرے گی؟اب چلتے ہیں ہمسایہ برادر ملک ایران جہاں دن رات امریکی اسرائیلی بمباری کا آج 38واں خونیں سورج طلوع ہوا۔ قارئینِ وکالت نامہ اسے کہتے ہیں راج نیتی! اسے کہتے ہیں قوم سے ہمدردی! اسے کہتے ہیں نیشنل لیڈر شپ۔ اس وقت تک ایران نے کسی ملک سے مالی مدد نہیں لی۔ ریڈ کراس‘ ڈبلیو ایچ او‘ یونیسکو سمیت کسی ادارے سے ادویات کی اپیل نہیں کی۔ بین الاقوامی برادری سے کھانے پینے کی اشیا کے لیے اپیل نہیں کی۔ ذرا سنیے گا! وہ ایک فیصلہ جس نے ایران میں جنگ کا خوف پائوں تلے روند ڈالا...جنباں ہیں پھر آفات جہانِ گزراں پراعیانِ جہانِ گزراں‘ جاگتے رہناہاں! آنکھ نہ جھپکے کہ ہے پتھرائو کی زد پریہ کارگہِ شیشہ گراں‘ جاگتے رہناپھر محتسبِ شہر ہے آمادۂ شب خوںاقطابِ خراباتِ مغاں‘ جاگتے رہنااے چنگ و رباب و دف و قلقل کے امینو!اٹھنے ہی پہ ہے شورِ اذاں‘ جاگتے رہنا... (جاری)   </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_42786259.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>تیل کی قیمت‘ قرضوں کی ادائیگی اور عالمی بحران(میاں عمران احمد)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mian-imran-ahmad/2026-04-06/51717/42295748</link><pubDate>Mon, 06 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mian-imran-ahmad/2026-04-06/51717/42295748</guid><description>حکومت عوام پر مالی دباو ڈال رہی ہے لیکن آئل ریفائنریز کے منافعوں پر بات نہیں کی جا رہی۔ جب سے جنگ شروع ہوئی ہے حکومت نے پٹرول کی قیمت میں تقریباً 43 فیصد اور ڈیزل کی قیمت میں تقریباً 90 فیصد اضافہ کیا ہے۔ عالمی مارکیٹ میں ڈیزل کی قیمتیں پٹرول سے زیادہ بڑھی ہیں اور پاکستان میں ڈیزل کی قیمت تقریباً دو گنا بڑھ گئی ہے جبکہ پاکستان اپنی ضرورت کا تقریباً 75 فیصد ڈیزل مقامی سطح پر بناتا ہے اور صرف 25 فیصد درآمد کرتا ہے۔ ڈیزل کے لیے ریفائنریز جو خام تیل درآمد کر رہی ہیں اس کا ریٹ تقریباً 120 سے 150 ڈالر فی بیرل ہے۔ عالمی مارکیٹ میں ڈیزل کی قیمت تقریباً 260 ڈالر فی بیرل ہے جبکہ مقامی سطح پر خام تیل کی قیمت تقریباً 150 ڈالر فی بیرل ہے۔ صرف 25 فیصد ڈیزل 260 روپے کے حساب سے پاکستان آ رہا ہے لیکن آئل ریفائنریز 100 فیصد ڈیزل پر درآمدی ریٹ لگا رہی ہیں۔ پاکستان میں ڈیزل کا ریٹ 260ڈالر فی بیرل کے حساب سے چارج کیا جا رہا ہے۔ تقریباً 110سے 140ڈالر فی بیرل منافع کمایا جا رہا ہے۔ اس حساب سے ریفائنریز ڈیزل پر کم از کم 190روپے فی لٹر منافع کما رہی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ منافع جائز ہے؟ حکومت موجودہ حالات میں عوام پر بوجھ منتقل کرنے کی بجائے ریفائنریز کے ڈیزل منافع کو کم کر سکتی ہے۔ریفائنریز کا کہنا ہے کہ وہ پٹرول 160ڈالر فی بیرل درآمد کر کے 140ڈالر فی بیرل بیچ رہی ہیں اور اسی طرح فرنس آئل پر 50ڈالر فی بیرل نقصان اٹھا رہی ہیں۔ اس لیے ڈیزل پر زیادہ منافع رکھا ہے۔ اگر اس دلیل کو درست مان لیا جائے تو نقصان نکال کربھی تقریباً 60 ڈالر فی بیرل منافع کمایا جا رہا ہے۔ جو کہ عوام سے لے کر ریفائنریز کی جیب میں ڈالا جا رہا ہے جبکہ یہ وقت ہے کہ ریفائنریز سے منافع لے کر عوام کو فائدہ پہنچایا جائے۔ریفائنری بزنس میں 10ڈالر فی بیرل منافع بہترین سمجھا جاتا ہے۔ وزیراعظم جس طرح عوام کو سمجھا رہے ہیں اگر ریفائنری مالکان سے عوامی مفاد کے لیے مذاکرات کیے جائیں تو شاید عوام کے لیے بہتر نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ یہ مذاکرات زیادہ آسان ہو سکتے ہیں کیونکہ تقریباً 60فیصد ریفائنریز حکومت کی ملکیت ہیں۔ ریفائنری منافع کم کرنے سے مہنگائی بڑھنے کی رفتار میں کمی لائی جا سکتی ہے اور شرح سود میں شاید زیادہ اضافہ نہ کرنا پڑے۔بصورت دیگر حالات زیادہ سنگین ہو سکتے ہیں۔ یہ کہنا شاید غلط نہیں ہوگا کہ دنیا ایک بڑے معاشی دھماکے کے قریب کھڑی ہے اور اس دھماکے کی آواز ابھی پوری طرح سنائی نہیں دی۔آبنائے ہرمز کی بندش کو ایک ماہ گزر چکا ہے مگر اس کے حقیقی اثرات ابھی آنا شروع ہو رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر یہ تاخیر کیوں ہوئی؟ اور اب اچانک بحران کیوں شدت اختیار کر رہا ہے؟حقیقت یہ ہے کہ دنیا اس جنگ کے آغاز پر خالی ہاتھ نہیں تھی۔ 2025ء کے دوران عالمی طاقتوں نے غیر معمولی پیمانے پر تیل ذخیرہ کیا۔انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے مطابق عالمی ذخائر 8.2 ارب بیرل کی تاریخی سطح تک پہنچ گئے تھے۔ چین‘ یورپ اور دیگر صنعتی ممالک نے ممکنہ جنگ کو بھانپتے ہوئے بڑے پیمانے پر خریداری کی‘ جس نے وقتی طور پر عالمی منڈی کو سہارا دیا۔یہی وجہ تھی کہ فوری قلت محسوس نہیں ہوئی۔ قیمتیں ضرور بڑھیں مگر وہ زیادہ تر فریٹ اور انشورنس کے اخراجات میں اضافے کا نتیجہ تھیں‘ نہ کہ حقیقی کمی کا۔لیکن اب وہ حفاظتی دیوار گرنے لگی ہے اور اب دنیا کو روزانہ تقریباً 20 ملین بیرل کی کمی کا سامنا ہو سکتا ہے۔ یعنی وینٹی لیٹر کے مریض کی آکسیجن ختم ہو رہی ہے۔ پاکستان کے لیے صورتحال بظاہر کچھ بہتر دکھائی دیتی ہے کیونکہ سفارتی کوششوں کے باعث تیل کی سپلائی مکمل طور پر منقطع نہیں ہوئی لیکن یہ ایک عارضی سہارا ہے اصل خطرہ قیمتوں کا ہے‘ جو جلد یا بدیر پاکستان کی معیشت کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔مزید تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اگر خلیجی ممالک کے ساتھ سفارتی توازن برقرار نہ رہا تو مالیاتی دباؤ بھی بڑھ سکتا ہے۔ اس جنگ نے صرف تیل کی ترسیل نہیں روکی بلکہ عالمی تعلقات کو بھی نئے امتحان میں ڈال دیا ہے۔پاکستان کا متحدہ عرب امارات کو 3.5 ارب ڈالر کا قرض واپس کرنے کا فیصلہ بھی اسی جنگ سے جڑا محسوس ہوتا ہے۔ یہ رقم مرحلہ وار واپس کی جا رہی ہے‘ جس میں وہ 450 ملین ڈالر بھی شامل ہیں جو 1996-97ء میں لیے گئے تھے۔ پاکستان کو صرف اپریل کے مہینے میں 4.8 ارب ڈالر واپس کرنا ہیں جن میں 1.3 ارب ڈالر کا یورو بانڈ‘ دو ارب ڈالر اور ایک ارب ڈالر کی متحدہ ارب امارات کی ادائیگیاں شامل ہیں۔ 16.4 ارب ڈالرکے تقریباً 30 فیصد حصے کا استعمال صرف ایک ماہ میں ہو سکتا ہے۔ متحدہ عرب امارات نے ماضی میں پاکستان کو بارہا مالی سہارا دیا لیکن رقم واپس لینے کا یہ وقت مناسب نہیں ہے۔ 2018ء میں دو ارب ڈالر اور 2023ء میں مزید ایک ارب ڈالر فراہم کیے گئے۔ ابتدا میں ان قرضوں پر تقریباً تین فیصد شرح سود تھی جو بعد میں 6.5 فیصد تک پہنچ گئی۔ اب جبکہ مکمل واپسی کا مطالبہ سامنے آیا ہے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی حالات اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے مالی فیصلوں کو بھی متاثر کیا ہے۔اپریل میں پاکستان کو تقریباً 4.8 ارب ڈالر کی ضرورت ہے۔ ان حالات میں ایک چیلنج ڈالر کی قیمت کو کنٹرول کرنا بھی ہے۔ ماضی میں پاکستان نے ایک ماہ میں اتنی بڑی ادائیگی نہیں کی۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مارکیٹ سے ڈالر اٹھانے کے لیے ریٹ بڑھایا جا سکتا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے نے پہلے ہی مہنگائی کی شرح کو 9.2 فیصد تک بڑھا دیا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اپریل میں مہنگائی تقریباً 12 فیصد اور جون تک 14 فیصد تک بڑھ سکتی ہے۔ حکومت کو اس موقع پر عوام کی زندگیاں آسان بنانے کی کوشش کرنی چاہیے نہ کہ لیوی اس وقت بڑھا دی جائے جب عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ ایسے فیصلے جلتی پر تیل کا کام کرتے ہیں۔ عوامی احتجاج نے سرکار کو لیوی کی آدھی رقم واپس لینے پر مجبور کیا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اگر کم ریٹ پر مینج کیا جا سکتا تھا تو لیوی کو بڑھایا کیوں گیا؟ جب جنگ شروع ہوئی تو پٹرول پر ٹیکسز تقریباً 83 روپے تھے اور حکومت نے انہیں بڑھا کر تقریباً 187 روپے کر دیا تھا۔ ایسے فیصلے عوامی ہمدردی اور درد کے دعوؤں کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتے۔ پبلک ٹرانسپورٹ کو مفت کر دینا‘ موٹر سائیکل کو 20 لٹر اور مال بردار ٹرکوں کو 70 اور 80 ہزار ماہانہ سبسڈی دینا ایک بہتر فیصلہ ہے اور اس سے عوامی سطح پر ریلیف بھی مل سکتا ہے لیکن پبلک ٹرانسپورٹ پر سبسڈی شہروں کے ساتھ دیہات میں بھی نافذ العمل ہونے کی ضرورت ہے اور جہاں پبلک ٹرانسپورٹ نہیں ہے‘ وہاں موٹرسائیکل والوں کو 20 لٹر کی بجائے 30 لٹر تک پٹرول پر 100 روپے فی لٹر سبسڈی دیے جانے سے عوامی مسائل میں کچھ کمی آ سکتی ہے۔ان حالات میں ایشیائی ترقیاتی بینک کا 360 ملین ڈالر کا قرضہ‘ جو CAREC Tranche-III منصوبے کے لیے مختص ہے‘ اب ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے۔ اگر یہ فنڈ پانچ اپریل تک جاری نہ ہوا تو پاکستان ایک اہم ترقیاتی موقع سے ہاتھ دھو سکتا ہے۔ یہ منصوبہ محض سڑکوں کی تعمیر نہیں بلکہ پاکستان کو وسطی ایشیا کے ساتھ جوڑنے کا ایک اہم اقتصادی راستہ ہے جس میں ڈی جی خان‘ راجن پور اور ڈیرہ اسماعیل خان جیسے علاقوں کی ترقی بھی شامل ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس منصوبے کے لیے تمام بڑے ادارے‘ نیشنل ہائی وے اتھارٹی‘ عدالتیں اور خود ایشیائی ترقیاتی بینک منظوری دے چکے ہیں۔ اس کے باوجود حتمی فیصلہ وزیراعظم کے ہاتھ میں ہے جو سیاست کا شکار دکھائی دیتا ہے۔ یہ فیصلہ دراصل ایک منصوبے کا نہیں بلکہ پاکستان کی ترجیحات کا امتحان ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان موقع سے فائدہ اٹھائے گا یا اسے ضائع ہونے دے گا؟</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/212_71532147.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>جناب ِ شیخ کا نقش قدم یوں بھی ہے اور یوں بھی(سعود عثمانی )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-04-06/51718/71834789</link><pubDate>Mon, 06 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-04-06/51718/71834789</guid><description>یہ مسجد ہے یہ مے خانہ تعجب اس پہ آتا ہےجنابِ شیخ کا نقش قدم یوں بھی ہے اور یوں بھیاگر سائل دہلوی کے اس مشہور شعر میں شیخ کا لفظ کسی عرب ملک کیلئے سمجھیں تو یہ زیادہ چست بیٹھتا ہے۔ ایسی دو طرفہ چال کے ساتھ عرب ممالک کا مستقبل کیا ہوگا‘ یہ ایک بڑا سوال ہے۔ لیکن اس کا بھی ذکر کر لیں کہ اس جنگ کی گرما گرمی اور مختلف ممالک کی  طرف سے اپنا اپنا مؤقف اختیار کرنے کے بیچ متحدہ عرب امارات کی ڈیپازٹ میں رکھی رقم واپس دینے کا فیصلہ سامنے آ گیا ہے۔ زیادہ تر پاکستانی عرب امارات کے اس مطالبے سے ناخوش ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ بظاہر امارات سمیت کچھ عرب ممالک کی ناراضی  کا خمیازہ ہے۔ لیکن یہ بھی درست ہے کہ ہر قرض دہندہ کسی وقت بھی اپنی رقم واپس مانگ لینے کا حق رکھتا ہے۔ یو اے ای نے جب آخری بار اس رقم کو رول اوور کیا تھا تو صرف دو مہینے کی مدت رکھی تھی۔ اب جنگی حالات میں اس رقم کی واپسی پر کئی سوالات اٹھ رہے ہیں‘ لیکن ہمیں جذباتیت کے بجائے دانشمندانہ طریقے ہی سے عرب ممالک سے اپنے تعلقات کو دیکھنا چاہیے اور بہرحال جب تین مختلف مواقع پر پاکستان کی درخواست پر یو اے ای نے یہ رقم ڈیپازٹ کی تھی تو اس کا احسان بھی ماننا چاہیے۔ یہ الگ بات کہ اللہ آئندہ ایسے کسی بھی احسان سے بچائے رکھے۔ میں اس فیصلے پر خوش ہوں کیونکہ کسی سیٹھ کے دبائو تلے اپنی آزادی اور سلامتی کا سودا مہنگا سودا ہے۔ اگرچہ امارات سے ہمارے کئی مفادات بھی وابستہ ہیں اور ہماری افرادی قوت بھی وہاں ہے اور یہ بھی اعتراف ہے کہ پاکستان کی ضرورت کے پیش نظر امارات نے یہ رقم پاکستان کو دی تھی (اگرچہ پاکستان اس رقم پرسود بھی‘ غالباً چھ فیصد‘ ادا کرتا آیا ہے) لیکن بنیادی مسئلہ اس رقم کا نہیں بعض دوسرے معاملات کا ہے جو پاکستان کیلئے بہت کڑوے ہیں‘ اور بظاہر اسی لیے اس قرض واپسی کا فیصلہ کیا گیا۔سیٹھ ٹائپ ذہنیت سے مفر نہیں ہوتا۔ پاکستانی ایک مدت سے سیٹھوں کے کڑوے فیصلے برداشت کرتے آئے ہیں۔ ویزوں کی بندش‘ بھارت کی طرف غیر معمولی جھکائو‘ بھارتیوں کے مقابلے میں پاکستانیوں کو کمتر اہمیت دینا ہی کم نہ تھا کہ یہ باتیں بھی گردش کرنے لگیں کہ ہمسایہ ملکوں میں موجود پاکستان دشمن دہشت گردوں کی پشت پناہی بھی کی جا رہی ہے۔ اچھا ہوتا کہ اس رقم کے مطالبے کے وقت یہ بھی یاد رکھا جاتا کہ پاکستان اور پاکستانیوں کے عرب امارات پر کیا کیا احسانات رہے ہیں۔ خیر اچھے انداز میں رقم واپس دینے سے یہ واضح ہو جائے گا کہ ہم نہ احسان فراموش ہیں نہ کسی دوسرے ملک‘ خاص طور پرعرب ملک سے تعلقات خراب کرنا چاہتے ہیں اور نہ ہی کسی کی دھونس اور دبائو قبول کرتے ہیں۔ پاکستان نے بھارت جیسی بڑی فوجی اور معاشی طاقت کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا‘ امریکہ کی دھمکیاں اور دبائو متعدد بار رد کیا تو یہ ملک تو پھر ان سے چھوٹے ہیں۔ یقینا ملک پر معاشی دبائو آئے گا‘ ڈالر کی قیمت بڑھے گی اور اس عالمی بحران میں یہ نہایت مشکل فیصلہ ہوگا لیکن خدا نے پاکستان کو بہت سی آزمائشوں سے گزارا ہے‘ اس سے بھی گزار دے گا۔ ہاتھ جوڑ کر رہنے سے سرخرو رہنا ہی بہتر اور عزت کی زندگی ہے۔پاکستان کا مستقبل ان شاء اللہ بہتر رہے گا اور ہماری دعا ہے کہ عرب ممالک بھی اس آزمائش سے نکل آئیں لیکن اس جنگ سے پوری دنیا بدلتی نظر آتی ہے۔ خاص طور پر مشرق وسطیٰ بالکل بدل جائے گا۔ جنگ کے بعد کچھ طاقتیں اس خطے میں اپنا اثر بہت بڑھا دیں گی اور کچھ ملک کمزور ہوکر نکلیں گے۔ اس جنگ میں ایران نے سخت نقصانات اٹھانے کے باوجود اپنی طاقت اور اہمیت منوا لی ہے اور عرب ممالک کی بے شمارکمزوریاں‘ جنہیں ان کی مالی طاقت نے چھپا رکھا تھا‘ بہت واضح ہوکر سامنے آئی ہیں۔ ویسے تو عرب ممالک نے اپنی سلامتی اور خود مختاری کے تحفظ کا مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا ہے اور ایرانی حملوں کی صورت میں جوابی کارروائی کی بات بھی کی ہے لیکن دو باتیں بالکل واضح ہیں۔ ایک تو عرب ملکوں کا اس جنگ میں کود پڑنا اسرائیل کی عین خواہش ہو گی اور یہ اس کے مفادات کو پورا کرے گا۔ بیشتر عرب ممالک کو اس کا اندازہ بھی ہے اور پاکستان اس جال میں پھنسنے سے مسلسل روک رہا ہے۔ پھر یہ کہ عرب ممالک کی فوجیں‘ علاوہ مصر‘ لڑنے کی جتنی صلاحیت رکھتی ہیں وہ سب کو معلوم ہے۔ بندوق سے زیادہ بندوق چلانے والا اہم ہے اور عرب ممالک کے پاس بندوق چلانے والے کہاں سے آئیں گے؟ نیز یہ کہ عرب یورپی اور امریکی ہتھیاروں سے ایسا کیا تیر مار لیں گے جو امریکی اور اسرائیلی فوجی نہیں مار سکے۔ اگر عرب ممالک یکجا ہو کر ایران کے خلاف لڑپڑے اور دونوں فوجوں نے تیل‘ پانی‘ بجلی‘ آئی ٹی وغیرہ کی تنصیبات پر حملے کیے تو عرب ممالک کا نقصان بہت زیادہ ہو گا۔ وہ زیادہ مار کھانے کی استعداد نہیں رکھتے‘ ایرانی بہرحال مار کھاتے آئے ہیں۔ عرب ممالک کا انحصار تیل کے علاوہ بیرونی کمپنیوں‘ سرمایہ کاری اور سیاحت وغیرہ پر ہے۔ جنگ کی صورت میں یہ سب ختم ہو جائے گا۔ اس لیے شیشہ پتھر پر گرے یا پتھر شیشے پر‘ نقصان شیشے ہی کا ہے۔ یہ جنگ تو بالآخر ختم ہو جائے گی لیکن سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ مستقبل میں جی سی سی ممالک اپنی حفاظت کا کیا بندوبست کریں گے؟ تین ہی راستے ہو سکتے ہیں: اول یہ کہ عرب ملک اپنی فوج اپنی ہی آبادی سے تیار کریں اور وہ فوج طاقتور بھی ہو۔ یہ امکان دو وجوہ سے بہت کم ہے۔ عرب اب مشقت اور سخت زندگیوں کے عادی نہیں رہے۔ دوسرا یہ کہ ایک طاقتور ملکی فوج دوسروں کو تو بعد میں ڈرائے گی‘ اپنی بادشاہتوں کو سب سے پہلے دہشت زدہ کرے گی۔ دوسرا امکان یہ ہے کہ عرب بدستور اپنا تحفظ امریکہ کے سپرد کیے رکھیں‘ اس بات کو بھول کر کہ امریکہ حالیہ جنگ میں ان کا تحفظ نہیں کر سکا بلکہ اس کی موجودگی خود ان کیلئے تباہی کا بنیادی سبب بنی اور آئندہ بھی بڑا خطرہ بنی رہے گی۔ ایسی صورت میں آئندہ بھی یہی ہو گا جو اس بار ہو رہا اور امریکہ بھاری رقم بھی وصول کرتا رہے گا۔ تیسرا امکان یہ ہے کہ عرب امریکہ کو بھول کر فوجی لحاظ سے طاقتور اُن ممالک سے تحفظ مانگیں جو حفاظت کرنے کے قابل ہوں۔ اگرچہ ضروری نہیں کہ صرف مسلم ملکوں کی طاقت مانگی جائے‘ کئی عرب ممالک کے بھارت سے اچھے تعلقات ہیں‘ اسی طرح چین بھی ممکنہ انتخاب ہو سکتا ہے لیکن ابھی تک عرب ممالک چین کے اس طرح قریب نہیں ہیں۔ مسلم ممالک میں پاکستان‘ ترکیہ اور مصر ہو سکتے ہیں۔ عرب ترک ماضی کو ملحوظ رکھیں اور اس کی بنیاد پر فیصلہ ہو تو ترکیہ بھی اس فہرست سے نکل جاتا ہے۔ پاکستان سے سعودی عرب کا پہلے ہی دفاعی معاہدہ ہو چکا ہے۔ اس وجہ سے وہ عرب ممالک جن کی سعودی عرب سے نہیں بنتی‘ یہ معاہدہ ان کے پاکستان سے دفاعی تعلقات میں ایک بڑی رکاوٹ بن جائے گا۔ دوسری طرف اگر بعض خلیجی ملک حفاظت کیلئے بھارت سے مدد لیں تو یہ چین اور پاکستان دونوں کی ناراضی مول لینے جیسا ہوگا اور بظاہر کچھ دیگر ملک مثلاً ترکیہ بھی اسے پسند نہیں کرے گا۔ چنانچہ اس جنگ کے بعد اپنی سکیورٹی اور دفاع عرب ممالک کا ایک بڑا مخمصہ بن کر سامنے آئے گا۔ یہ بہت بڑا سوال ہے‘ اور اسی سے جڑا سوال یہ ہے کہ مستقبل میں عرب بادشاہتوں کا کیا ہوگا؟ یہ دونوں بہت بڑے سوال ہیں اور عرب ممالک کو مسجد اور بت خانے میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہی پڑے گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_81278520.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مال و دولت کے مثبت اور منفی پہلو(علامہ ابتسام الہٰی ظہیر )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-04-06/51719/51844920</link><pubDate>Mon, 06 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-04-06/51719/51844920</guid><description>دنیا میں رہتے ہوئے ہر انسان کو مال ودولت کی ضرورت رہتی ہے۔ بہت سے لوگ مال و دولت سے محض اس حد تک دلچسپی رکھتے ہیں کہ وہ اپنی جائز ضروریات کو پورا کر سکیں۔ ان کے مقابلے بہت سے انسان مال و دولت کے ذریعے آسائشیں اور سہولتیں حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ بہت سے لوگ مال ودولت کی وجہ سے اثر ورسوخ اور عیش و عشرت والی زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ قرآن مجید اور احادیث طیبہ میں اس حوالے سے بیش قیمت رہنمائی موجود ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں مال اور دنیاوی اسباب کو حاصل کرنے سے منع نہیں کیا بلکہ حج اور عمرہ کے دوران حجرِ اسود اور رُکنِ یمانی کے درمیان مانگی جانے والی ایک بہترین دعا میں دنیا اور آخرت کی بھلائیوں کو بیک وقت طلب کیا گیا ہے۔ اس دعا کو سورۃ البقرہ کی آیت: 201 میں یوں بیان کیا گیا &#39;&#39;اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں عذابِ جہنم سے نجات دے‘‘۔ اس آیت مبارکہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ مال و دولت کو جائز مقاصد کے لیے کمانے اور خرچ کرنے میں کوئی حرج نہیں لیکن بہت سے لوگ مال و دولت کو فخر اور دوسروں کے مقابلے میں اپنی بڑائی ثابت کرنے کے لیے کماتے ہیں‘ ایسے لوگ آخرت کی ناکامی اور نامرادی کے ساتھ ساتھ کئی مرتبہ دنیا میں بھی تباہی اور بربادی کا نشانہ بن جاتے ہیں۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں قارون کے زمین میں دھنس جانے کا ذکر کیا جو اپنے مال پر اتراتا اور اس کی وجہ سے فخر کیا کرتا تھا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اس واقعہ کو سورۃ القصص کی آیات: 76 تا 82 میں کچھ یوں بیان فرماتے ہیں &#39;&#39;قارون تھا تو قومِ موسیٰ سے‘ لیکن ان پر ظلم کرنے لگا تھا۔ ہم نے اسے (اس قدر) خزانے دے رکھے تھے کہ کئی کئی طاقتور لوگ بمشکل اس کی کنجیاں اٹھا سکتے تھے۔ ایک بار اس کی قوم نے اس سے کہا کہ اترا مت! اللہ اترانے والوں سے محبت نہیں رکھتا۔ اور جو کچھ اللہ نے تجھے دے رکھا ہے اس میں سے آخرت کے گھر کی تلاش بھی رکھ اور اپنے دنیوی حصے کو بھی نہ بھول اور جیسے کہ اللہ نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے تو بھی اچھا سلوک کر اور ملک میں فساد کا خواہاں نہ ہو۔ یقین مان کہ اللہ مفسدوں کو ناپسند رکھتا ہے۔ قارون نے کہا: یہ سب کچھ مجھے میری اپنی سمجھ کی بنا پر ہی دیا گیا ہے۔ کیا اسے اب تک یہ نہیں معلوم کہ اللہ نے اس سے پہلے بہت سے بستی والوں کو غارت کر دیا جو اس سے بہت زیادہ قوت والے اور بہت بڑی جمع پونجی والے تھے۔ اور گنہگاروں سے ان کے گناہوں کی باز پرس ایسے وقت نہیں کی جاتی۔ پس قارون پوری آرائش کے ساتھ اپنی قوم کے مجمع میں نکلا تو دنیاوی زندگی کے خواہشمند کہنے لگے: کاش کہ ہمیں بھی کسی طرح وہ سب مل جاتا جو قارون کو دیا گیا ہے۔ یہ تو بڑا ہی قسمت کا دھنی ہے۔ ذی علم لوگ انہیں سمجھانے لگے کہ افسوس! بہتر چیز تو وہی ہے جو بطور ثواب انہیں ملے گی جو اللہ پر ایمان لائیں اور نیک عمل کریں۔ یہ بات انہی کے دل میں ڈالی جاتی ہے جو صبر والے ہوں۔ (آخرکار) ہم نے اسے اس کے محل سمیت زمین میں دھنسا دیا اور اللہ کے سوا کوئی جماعت اس کی مدد کے لیے تیار نہ ہوئی نہ وہ خود اپنے بچانے والوں میں سے ہو سکا۔ اور جو لوگ کل اس کے مرتبہ پر پہنچنے کی آرزو مندیاں کر رہے تھے وہ آج کہنے لگے کہ کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ ہی اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہے روزی کشادہ کر دیتا ہے اور تنگ بھی! اگر اللہ ہم پر فضل نہ کرتا تو ہمیں بھی دھنسا دیتا۔ کیا دیکھتے نہیں ہو کہ ناشکروں کو کبھی کامیابی نہیں ہوتی؟‘‘۔اسی طرح مال کے حوالے سے انسانوں پر یہ بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مال کو اللہ تبارک و تعالیٰ کے راستے میں خرچ کریں۔ اس حوالے سے قرآن مجید کے بہت سے مقامات پر مفید نصیحتیں بیان کی گئی ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے سورۃ الانعام میں فصلوں کی کٹائی کے دن اللہ کے حق کی ادائیگی کا ذکر کیا ہے۔ سورۃ الانعام کی آیت: 141 میں ارشاد ہوا &#39;&#39;اور اللہ کا حق ادا کرو اسی دن جب ان کی فصل کاٹو اور اسراف نہ کرو‘ بیشک اللہ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا‘‘۔ جو لوگ اللہ تبارک و تعالیٰ کے راستے میں اپنے مال کو خرچ کرتے ہیں اللہ تبارک و تعالیٰ اُن کو اس کا بہترین بدل دیتے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۂ سباء کی آیت: 39 میں ارشاد فرماتے ہیں &#39;&#39;تم جو کچھ بھی اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے اللہ اس کا (پورا پورا) بدلہ دے گا اور وہ سب سے بہتر روزی دینے والا ہے‘‘۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اس سورۃ البقرہ میں اس بات کا بھی ذکر کیا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ انفاق فی سبیل اللہ کی وجہ سے انسانوں کے خوف اور غموں کو دور فرما دیتے ہیں؛ چنانچہ سورۃ البقرہ کی آیت: 274 میں ارشاد ہوا &#39;&#39;جو لوگ اپنے مالوں کو رات دن چھپے کھلے خرچ کرتے ہیں ان کے لیے ان کے رب کے پاس اجر ہے اور نہ انہیں خوف ہے اور نہ غمگینی‘‘۔ اس کے مد مقابل اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے حق کو ادا نہ کرنے والوں کیلئے جہاں اخروی سزائوں کو مقرر کر دیتے ہیں وہاں کئی مرتبہ دنیا میں بھی ان کا مال تلف ہو جاتا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۃ القلم میں ایک سخی باغبان کے بیٹوں کا ذکر کیا جنہوں نے مساکین سے بچنے کے لیے منہ اندھیرے اپنے باغ کی کٹائی کا فیصلہ کیا تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کے باغ کو تباہ کر دیا۔مال ودولت کو جمع کرتے رہنے اور اس میں سے اللہ کے حق کو ادا نہ کرنے والوں کے بارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ سورۃ التوبہ کی آیات: 34 تا 35 میں ارشاد فرماتے ہیں &#39;&#39;اور جو لوگ سونے چاندی کا خزانہ رکھتے ہیں اور اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے انہیں دردناک عذاب کی خبر پہنچا دیجیے۔ جس دن اس خزانے کو آتشِ دوزخ میں تپایا جائے گا پھر اس سے ان کی پیشانیاں اور پہلو اور پیٹھیں داغی جائیں گی (اور پھر ان سے کہا جائے گا) یہ ہے (وہ مال و زر) جسے تم نے اپنے لیے خزانہ بنا کر رکھا تھا۔ پس اپنے خزانوں کا مزہ چکھو‘‘۔ اسی طرح اللہ تبارک و تعالیٰ نے سورۃ الھمزہ میں بھی مال کو گن گن کر جمع کرنے کے برے نتیجے کا ذکر کیا ہے۔ مال کے حوالے سے انسان پر یہ بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ مال اکٹھا کرنے میں اس حد تک مصروف نہیں ہو جانا چاہیے کہ انسان اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کو فراموش کر دے۔ بہت سے لوگ نماز اور ارکانِ اسلام کی بجا آوری کو فراموش کر کے فقط مال ودولت ہی کے حصول کے لیے سرگرداں رہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو سورۃ التکاثر میں بیان کردہ حقائق کو مدنظررکھنا چاہیے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ سورۂ تکاثر میں کثرت کی ہوس کی مذمت کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں &#39;&#39;زیادہ کی چاہت نے تمہیں غافل کر دیا۔ یہاں تک کہ تم قبرستان جا پہنچے۔ ہرگز نہیں! تم عنقریب معلوم کر لو گے۔ ہرگز نہیں! پھر تمہیں جلد علم ہو جائے گا۔ ہرگز نہیں! اگر تم یقینی طور پر جان لو۔ تو بیشک تم جہنم دیکھ لو گے۔اور تم اسے یقین کی آنکھ سے دیکھ لو گے۔ پھر اُس دن تم سے ضرور بالضرور نعمتوں کا سوال ہو گا‘‘۔مذکورہ بالا دلائل سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ مال و دولت کو حلال طریقے سے کمانے اور اس کے مثبت استعمال کے ذریعے انسان کامیاب اور کامران ہو سکتا ہے جبکہ مال کو غلط طریقے سے کمانے‘ اس کی وجہ سے گھمنڈ کرنے اور اس کو روک کے رکھنے کی وجہ سے انسان ہلاکت کے گھڑے میں گر جاتا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں جائز طریقے سے مال کمانے اور پھر درست سمت میں اس کے استعمال کی توفیق دے‘ آمین!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_19740082.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>