<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>بزدلانہ حملہ، جرأت مندانہ مقابلہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-29/11316</link><pubDate>Mon, 29 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-29/11316</guid><description>کراچی میں پاکستان رینجرز کے ایک کیمپ پر دہشت گردی کا گھناؤنا واقعہ ملک میں بھارتی سپانسرڈ انتہا پسندوں کی ایک منظم اور مربوط کارروائی تھی جسے ناکام بناتے ہوئے پاکستان رینجرز نے اپنی پیشہ ورانہ تیاری اور مستعدی کا ثبوت فراہم کیا ہے۔ اس واقعے میں دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے ہوئے رینجرز کے تین جوانوں نے جام شہادت نوش کیا مگر دہشت گردوں کو ان کے ناپاک ارادوں میں کامیاب نہیں ہونے دیا۔ کارروائی کے دوران تین دہشت گرد ہلاک جبکہ ایک زخمی افغان دہشتگرد کی گرفتاری کی اطلاعات ہیں۔ اس لحاظ سے بھی یہ ایک منظم حملے کو ناکام بنانے کی قابل ذکر کارروائی ہے۔ دہشت گردی کے واقعات پچھلے کئی سال سے ملکی سلامتی کیلئے بڑا خطرہ ثابت ہو رہے ہیں۔ دہشت گردی کے ان سبھی واقعات کی کڑیاں افغانستان سے ملتی ہیں۔ دہشت گردی کی تاریں نئی دہلی سے ہلائی جاتی ہیں‘ منصوبہ بندی افغانستان میں ہوتی ہے‘ اسلحہ بھی وہیں کا استعمال ہوتا ہے اور فتنہ الخوارج کے ساتھ منسلک عناصر اس کام میں بھاڑے کے ٹٹو کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ اس صورتحال نے پچھلے کئی برسوں کے دوران خیبر پختونخوا میں سکیورٹی کے شدید خطرات پیدا کئے۔

دوسری جانب بلوچستان میں دہشت گردی کی الگ نوعیت ہے‘ مگر خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے شدت پسندوں میں قدرِ مشترک یہ ہے کہ دونوں کو پاکستان کے خلاف افغانستان کی زمین دستیاب ہے اور دہشتگرادانہ واقعات کیلئے ہر طرح سے اعانت سرحد پار سے ملتی ہے۔ اس صورتحال کے بارے پاکستان کابل رجیم کو ہر سطح پر آگاہ کرتا آیا ہے مگر اس کا خاطر خواہ فائدہ نظر نہیں آیا۔ افغانستان کی جانب سے ان شکایات پر توجہ دینے کے بجائے غیر سنجیدگی کا رویہ اپنایا گیا‘ مجبوراً پاکستان کو وہ قدم اٹھانا پڑا جو اس سے پہلے بوجوہ مؤخر ہوتا چلا آیا کیونکہ پاکستان اپنے ہمسائے سے مکمل طور پر مایوس نہیں ہوا تھا‘ اس امید کا شائبہ باقی تھا کہ افغان پاکستان کے احسانات کی قدر و قیمت جانیں گے‘ مگر جب ان شکایات کا عملاً کوئی مثبت نتیجہ نکلتا نظر نہ آیا بلکہ سفارتی رکھ رکھاؤ سے عاری ٹولے نے الٹا ان شکایات کو پاکستان کی کمزوری خیال کیا تو پاکستان کو بالآخر سرحد پار دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا پڑا۔
یہ سلسلہ اس سال فروری کے آخر میں شروع ہوا اور اس کا یہ نتیجہ دیکھنے میں آیا کہ پچھلے برسوں کی نسبت اس سال دہشت گردی کے واقعات کم ہوئے۔ آپریشن غضب للحق کے بعد مارچ میں دہشت گردی سے اموات میں 35 فیصد کمی آئی جبکہ اپریل میں دہشت گردی کے واقعات میں 42 فیصد اور اموات‘ جو مارچ میں 106 تھیں‘ اپریل میں 60 ہو ئیں۔ گزشتہ چند برسوں سے دہشت گردی کی جو لہر جاری تھی رواں برس سے سکیورٹی اداوں کی جانب سے اس پر کامیابی سے قابو پانے کی کارروائیوں کے بعد دہشت گردوں کی جانب سے ملک کے بڑے شہروں میں دہشت گردی کی کوششیں ان کی مایوسی کی علامت ہیں۔ آپریشن غضب للحق کے بعد سے جب دہشت گردوں نے اپنے محفوظ ٹھکانوں کی بربادی کو ملاحظہ کیا تو پاکستان کے اربن سنٹرز میں دہشت گردی کے واقعات سامنے آنا شروع ہو گئے۔ یہ جہاں دہشت گردوں کی واضح شکست اور ناکامی کا ثبوت ہے وہیں یہ ملک میں سکیورٹی کے حوالے سے حساسیت کو بھی واضح کرتا ہے۔
کراچی میں رینجرز کیمپ پر حالیہ حملہ بھی اسی طرح کی کارروائی معلوم ہوتا ہے۔ مگر رینجرز نے اپنی جانوں پر کھیل کر حملہ آروں کو ختم کیا اور ان میں سے بعض کو زندہ دبوچ لیا۔ اس کارروائی سے سکیورٹی اداروں کی تیاری اور مستعدی کی دھاک دہشت گردوں پر بیٹھ جائے گی۔ دہشت گردی کے واقعات میں کمی آپریشن غضب للحق کی کامیابی کا ثبوت ہے تاہم اندرون ملک سکیورٹی کے معاملات پر نظر ثانی کی ضرورت ہے‘ تاکہ امن وامان کی ضمانت کو یقینی بنایا جا سکے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>زلزلے اور خطرات(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-29/11315</link><pubDate>Mon, 29 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-29/11315</guid><description>ملک عزیز میں حالیہ دنوں پے درپے چھ زلزلے تشویش کا سبب بنے۔ زمین کی لرزش سے نہ صرف عوام میں خوف وہراس پھیلا بلکہ اس نے ملک کے تعمیراتی معیار کی جانب بھی توجہ دلائی۔ ماہرینِ ارضیات کے مطابق ان زلزلوں کا سبب وینزویلا میں آنے والا تباہ کن زلزلہ ہے۔ چونکہ زمین کی ارضیاتی پلیٹیں آپس میں جڑی ہوئی ہیں لہٰذا ایک جگہ کی غیر معمولی ہلچل دور دراز کے خطوں کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ وجہ چاہے کچھ بھی ہو‘ ان زلزلوں نے ہمارے شہری انفراسٹرکچر کی کمزوری کو ایک خطرے کے طور پر اجاگر کیا ہے ۔ پاکستان جغرافیائی طور پر فعال اور خطرناک فالٹ لائنز پر واقع ہے‘ جہاں کسی بھی وقت بڑا زلزلہ آنے کا اندیشہ موجود ہے۔ اس کے باوجود ملک میں تعمیرات کو زلزلہ پروف بنانے کا کوئی مؤثر قانون موجود نہیں ۔

نجی تعمیرات کا حال تو نہایت ابتر ہے جہاں زلزلے کے خطرات کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی اور بغیر کسی مستند زمینی جانچ کے کثیر المنزلہ عمارتیں کھڑی کر دی جاتی ہیں۔ اکتوبر 2005ء کے تباہ کن زلزلے‘ جس میں 74 ہزار سے زائد فراد جاں بحق ہوئے تھے‘ کے بعد تعمیراتی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور زلزلہ پروف بنانے کے دعوے کیے گئے تھے مگر عملاً وہ تمام دعوے اور عزائم طاقِ نسیاں پر دھرے رہ گئے۔ حالیہ زلزلے ہمارے لیے ایک انتباہ ہیں۔ اگر اب بھی تعمیراتی قوانین میں تبدیلی کرتے ہوئے ہر عمارت کو زلزلہ پروف بنانا لازمی قرار نہ دیا گیا تو مستقبل میں یہ زلزلے کسی بڑے سانحے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پاک ایران تجارت(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-29/11314</link><pubDate>Mon, 29 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-29/11314</guid><description>پاکستان اور ایران کے مابین تجارت کوقانونی دائرہ کار میں لانے کیلئے فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے تفتان بارڈر ریلوے سٹیشن کو ’لینڈ کسٹمز سٹیشن‘ قرار دیا ہے۔ اس اقدام سے پڑوسی ممالک کے مابین باضابطہ اور قانونی تجارت کو فروغ ملے گا اور سمگلنگ کی روک تھام میں مدد ملے گی۔ پاکستان اور ایران کے مابین 900 کلومیٹر طویل سرحد پر تجارتی سرگرمیوں کی مانیٹرنگ ہمیشہ سے ایک بڑا چیلنج رہی ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق سالانہ اربوں ڈالر کی اشیا ایران سے پاکستان سمگل کی جاتی ہیں جس سے قومی خزانے کو ڈیوٹیز اور ٹیکسز کی مد میں اربوں روپے کے ریونیو کا خطیر نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔

اب تفتان ریلوے سٹیشن کو کسٹمز سٹیشن کا درجہ دینے سے مال بردار گاڑیوں اور تجارتی سامان کی قانونی طور پر کلیئرنس ممکن ہو سکے گی‘ جس سے نہ صرف حکومت کے ٹیکس ریونیو میں خاطر خواہ اضافہ متوقع ہے بلکہ تاجروں کو ریلوے سے محفوظ‘ تیز رفتار اور قانونی طور پر سامان کی نقل و حمل کی سہولت میسر آئے گی اور سمگلنگ اور غیر قانونی تجارت کی حوصلہ شکنی ہو گی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تفتان بارڈر پر جدید کسٹمز سکریننگ سسٹم‘ گودام اور ریلوے ٹریکس کی اَپ گریڈیشن کو بھی فوری یقینی بنایا جائے۔ پاک ایران سرحد پر قانونی تجارت کا فروغ بلوچستان میں معاشی استحکام‘ روزگار کے نئے مواقع اور سرحدی تحفظ کا بھی ضامن ثابت ہو سکتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مذہب، قانون اور جذبات(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-06-29/52201/34722651</link><pubDate>Mon, 29 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-06-29/52201/34722651</guid><description>محرم کا پہلا عشرہ امن کے ساتھ گزر گیا۔ سب نے سکھ کا سانس لیا۔ مسلک اور جذبات کی آمیزش نے جس طرح ہمارے مذہبی شعور کی پرورش کی ہے‘ اس نے مذہب کو ہدایت اور نظامِ اخلاق کے بجائے عصبیت اور شناخت بنا دیا ہے۔ ان ایام میں دل کو دھڑکا سا لگا رہتا ہے کہیں عصبیت اور جذبات بے لگام ہو کر انسانی جانوں سے نہ کھیلنے لگیں۔ اہلِ اسلام نے سال بھر کے ایام کو باہم تقسیم کر رکھا ہے۔ ان ایام کا دائرہ اب پھیلتا جا رہا ہے۔ مسلمان عہدِ رسالت سے دو عیدیں مناتے چلے آ رہے ہیں۔ اب تین چار منائی جا رہی ہیں۔ ان تمام نئی باتوں کے پس منظر میں مسلکی عصبیت کارفرما ہے۔ مقصود گروہی امتیاز اور شناخت کو نمایاں کرنا ہے نہ کہ خدا کو راضی کرنا۔ محرم سیدنا حسینؓ کے ذکرِ خیر کے بجائے شیعہ سنی اختلاف کی نذر ہو جاتا ہے۔ عصبیت اور جذبات کی کارفرمائی سے‘ مذہبی حوالہ رکھنے والی محترم شخصیات کی توہین کے واقعات بھی ہوتے ہیں جس سے اشتعال پھیلتا ہے۔ ایسے ہی ایک واقعے پر اب مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔توہینِ مذہب‘ توہینِ نبوت و رسالت اور توہینِ صحابہ جیسے جرائم کے لیے یہاں قوانین بنائے گئے ہیں۔ اس قانون سازی کا محرک جذبات ہیں۔ اس سے پہلے‘ علم اور حکمت کی سطح پر جو تیاری لازم تھی‘ وہ نہیں کی گئی۔ قانون سازی ایک غیر جذباتی اور منطقی عمل ہے۔ ہماری فقہی روایت اس کا مظہر ہے۔ فقہ اور اصولِ فقہ کے باب میں جو کچھ لکھا گیا‘ اس پر ایک نظر ڈالنے ہی سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ قانون سازی بازیچہ اطفال نہیں ہے۔ اسے جذبات کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔ دنیا بھر میں قانون اسی سنجیدگی کے ساتھ بنتے اور نافذ ہوتے ہیں۔ پاکستان میں قانون سازی کی تاریخ ایک مختلف کہانی سنا رہی ہے۔ یہاں لوگوں کے جذبات کودیکھ کر‘ مذہبی معاملات پر قانون سازی کی جاتی ہے۔ عدالتیں بھی ان جذبات کو سامنے رکھ کر ایسے مقدمات کے فیصلے سناتی ہیں۔ انصاف اور قانون کی حیثیت ضمنی ہوتی ہے۔ اشد ضرورت ہے کہ اس باب میں دینی روایت کو سنجیدگی کے ساتھ سمجھا جائے اور پھر قانون سازی کی جائے۔ جب قانون بن جائے تو انصاف کے تقاضوں کو پورا کیا جائے جو دینی قانون کا مطالبہ ہے اور دنیاوی قانون کا بھی۔توہینِ مقدسات کے باب میں‘ اردو میں ایسے لٹریچر کی شدید کمی ہے جو اس سوچ کی آبیاری کرے۔ میں آج ایک کتاب کا تعارف کرانا چاہوں گا جو اس کمی کو ایک حد تک پورا کرتی ہے اور لازم ہے کہ ہر اس آدمی کی نظر سے گزرے جو ان موضوعات سے دلچسپی رکھتا ہے۔ کہنے کو یہ ایک معروف حنفی فقیہ ابن عابدین شامی کی تصنیف کا ترجمہ ہے مگر یہ اس سے کہیں زیادہ‘ اس موضوع پر ایک علمی دستاویز ہے۔ ابن عابدین شامی کا شمار متاخرین فقہا حنفی میں ہوتا ہے۔ وہ انیسویں صدی کے نامور عالم ہیں جنہیں فقہ حنفی کے شارحین میں ممتاز حیثیت حاصل ہے۔ ان کا انتقال 1836ء میں دمشق میں ہوا۔ ان کے بتیس رسائل کا مجموعہ معروف ہے۔ ان میں ایک رسالہ توہینِ رسا لت اور توہینِ صحابہ کو موضوع بناتا اور اس باب میں فقہ احناف کا مؤقف بیان کرتا ہے۔یہ اردو ترجمہ ا س کے انگریزی ترجمے کا ترجمہ ہے۔ اس میں ایک حکمت ہے۔ اصل عربی رسالہ قدیم طرزِ تحریر کا نمونہ ہے۔ اس میں مصنف نے بہت سے حوالے دیے ہیں۔ دقتِ نظر کے بغیر یہ جاننا مشکل ہو جاتا ہے کہ کہاں اصل متن شروع ہے اور کہاں حوالہ۔ پھر یہ ایک طویل تحریر ہے جو مسلسل چلی جاتی ہے۔ آج کا قاری اس اسلوب کا خوگر نہیں ہے۔ وہ کتاب کے جس تصور سے آشنا ہے‘ وہ اس سے مختلف ہے۔ اس جدید قاری کی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے‘ ڈاکٹر محمد مشتاق احمد صاحب نے اس رسالے کا انگریزی میں اس اہتمام اور محنت کے ساتھ ترجمہ کیا کہ اسے ایک نئی کتاب بنا دیا۔ ایک طرف انہوں نے کتاب کی ترتیبِ نو کی اور اسے ابواب وفصول میں تقسیم کر دیا۔ دوسری طرف اقتباسات اور اصل متن میں واضح خطِ امتیاز کھینچ دیا۔ اس کے ساتھ پیراگراف بھی بنا دیے۔ اس طرح یہ کتاب اصل متن اور مصنف کے مدعا کو متاثر کیے بغیر ایک نئی کتاب بن گئی جو جدید قاری کے مزاج سے ہم آہنگ ہے۔ڈاکٹر مشتاق صاحب نے اسی پر اکتفا نہیں کیا۔ انہوں نے اس کا ایک طویل مقدمہ لکھا جس میں یہ بتایا کہ احناف کے اصولِ فقہ کیا ہیں اور توہینِ رسالت وصحابہ کے باب میں ان اصولوں کے اطلاق کے نتائج کیا ہیں۔ اس کے ساتھ انہوں نے پاکستان میں رائج قوانین کا ایک شاندار تجزیہ کر کے یہ بھی بتایا کہ یہ احناف کے نقطہ نظر کا ترجمان نہیں ہے اور فقہ حنفی کے حوالے سے ا س میں کیا کمزوریاں پائی جاتی ہیں جو اصلاح طلب ہیں۔ مثال کے طور پر ابن عابدین یہ بتاتے ہیں کہ فقہ حنفی کے مطابق اگر توہینِ رسالت کا مرتکب کوئی مسلمان ہے تو اس پر ارتداد کے قانون کا اطلاق ہو گا۔ اس کے ساتھ وہی معاملہ ہو گا جو ارتداد کے مجرم کے ساتھ ہوتا ہے۔ اگر غیر مسلم ہے تو اس کے ساتھ &#39;سیاسہ‘ کے تحت معاملہ کیا جائے گا۔ یہ فقہ حنفی کا ایک تصور ہے جس کا ایک مفہوم یہ ہے کہ اس جرم کی سزا کا تعین اربابِ حکومت‘ مقاصدِ شریعت کے روشنی میں از خود کریں گے اور یہ کچھ بھی ہو سکتی ہے۔ یہی نہیں‘ ڈاکٹر صاحب نے ‘ موضوع کی مناسبت سے کتاب اس میں ایسے ضمیمہ جات شامل کر دیے ہیں جس سے اس کی افادیت بڑھ گئی ہے۔ ان میں ایک ضمیمہ ارتداد کی سزا کے بارے میں حنفی مذہب کے بارے میں بھی ہے۔ڈاکٹر محمد مشتاق صاحب جب ابن عابدین کی اس رسالے کا انگریزی میں ترجمہ کر رہے تھے تو ان کی معاونت ان کے شاگرد ڈاکٹر محمد رفیق شنواری نے کی۔ شنواری صاحب کو اسی دوران میں اس کے اردو ترجمے کا خیال آیا اور یہ کیا ہی مبارک خیال تھا۔ اس کا حاصل ایک شاندار اور رواں اردو ترجمہ ہے جس کی صحت پر ڈاکٹر مشتاق صاحب نے بھی اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ اردو کے دینی لٹریچر میں یہ ایک اہم اضافہ ہے۔ ان مباحث سے دلچسپی رکھنے والا کوئی عالم یا طالب علم اس سے بے نیاز نہیں ہو سکتا۔ مجھے حیرت ہوتی ہے کہ ہمارے وہ علما جو فقی حنفی پر اس سختی سے عمل کر تے ہیں کہ نماز کے اوقات میں دوسرے فقہی مذاہب کی رعایت پر آمادہ نہیں ہوتے‘ انہوں نے ایک انتہائی اہم مسئلے میں فقی حنفی کی رائے کو رد کر دیا اور اب اس قانون پر گفتگو کے لیے آمادہ نہیں۔ ڈاکٹر مشتاق صاحب نے فقہ حنفی کی رو سے اس قانون کے قابلِ اصلاح پہلوں کو نمایاں کر دیا ہے۔ احناف کی اس رائے پر تنقید ہو سکتی ہے اور بعض اہلِ علم اس باب میں مختلف مؤقف رکھتے ہیں۔ بطورِ خاص ارتداد کی سزا محلِ نظر رہی ہے۔ تاہم دیانت داری کا تقاضا ہے کہ تنقید سے پہلے اس رائے کو اچھی طرح سمجھ لیا جائے۔ سطحی علم یا ا دھوری معلومات کے نتیجے میں قائم کی جانی والی آرا صرف ابہام کا باعث بنتی ہیں۔عشرہ محرم کے دوران میں‘ چند غیر ذمہ دار عناصر کی بے اعتدالیوں پر آج مقدمات قائم کرنے کا مطالبہ ہو رہا ہے۔ یہ مطالبہ کرتے وقت یہ بات بھی پیشِ نظر رکھنی چاہیے کہ توہینِ مذہب‘ توہینِ رسالت اور توہینِ صحابہ کے باب میں اسلاف کی رائے کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے اس کتاب کا مطالعہ ناگزیر ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بیٹیوںکی زمین(رسول بخش رئیس)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-06-29/52202/93220590</link><pubDate>Mon, 29 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-06-29/52202/93220590</guid><description>ہمارے ملک میں جب بیٹیوں کی زمینوں کی طرف ذہن جاتا ہے تو بے شمار المناک قصے تکلیف دہ تصویر بن کر یادو ںکی دھند سے ابھر کر سامنے آ جاتے ہیں۔ یہ زندگی کئی واقعات کی شاہد ہے کہ بیٹیوں کو زمین کے ملکیتی حقوق سے محروم رکھنے کے لیے والد نے ساری زمین بیٹے یا بیٹوں کے نام منتقل کر دی۔ دکھ کی بات ہے کہ اکثریت ایسا ہی کرتی آ رہی ہے۔ مذہب‘ اخلاقیات‘ قانون اور انسانیت اس پدرسری معاشرے میں بچیوں کے ملکیتی حقوق کے ضمن میں کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ نتائج اکثر ایسے والدین کی توقعات کے برعکس نکلے جو سب کچھ اپنی نرینہ اولاد کے سپرد کرکے دنیا سے رخصت ہوئے۔ کئی خاندانوں کو تباہ ہوتے دیکھا ہے۔ بیٹوں نے ایسا طرزِ عمل اور ایسا طرزِ زندگی اختیار کیا کہ سب کچھ لٹ گیا۔ جو کچھ بچا سکے  اس میں بھی سکون اور اطمینان ہمیں تو نظر نہیں آیا۔ کئی داستانیں ہیں جنہیں لکھنے کو جی کرتا ہے‘ کچھ پہلے بھی ان صفحات میں سپردِ تحریر کر چکا ہوں۔ لوگوں کے ایسے معاملات پر ہم افسوس توکرتے ہیں لیکن اگر کسی صوبے کی حکومت بیٹیوں کی زمین پر نظریں جمائے‘ اسے ہتھیانے کے درپے ہو تو سوچیں کہ ہم یا وہ ہزاروں بے زبان بچیاں کس سے فریاد کریں‘ کہاں جا کر آواز اٹھائیں‘ کس کا دروازہ کھٹکھٹائیں‘ کس شاہی محل کے باہر لٹکتی زنجیرِ عدل کو ہلائیں؟ ایسے کام انتہائی صفائی اور ہنرمندی سے اور راتوں رات کیے جاتے ہیں کہ لوگوں کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی۔ پتا اُس وقت چلتا ہے جب جامعات کی زمینوں پر سرکاری اور غیر سرکاری راہداریاں‘ سڑکیں اور بہت کچھ تعمیر ہو چکا ہوتا ہے۔یہ خبر ایک اخبار میں پڑھی تو یقین نہ آیا مگر جگر کو ایک زہریلے نوک دار تیر کی طرح چیرتی ہوئی پار ہو گئی۔ اس خبر کے لیے کچھ انتظار کریں‘ پہلے عرض کردوں کہ مرکزی اور شمالی پنجاب میں بچیوں کی اعلیٰ تعلیم میں دلچسپی غیر معمولی سماجی پیشرفت ہے۔ میں اسے ایک انقلاب خیال کرتا ہوں کہ ہزاروں بچیاں دور دراز کے دیہات سے روزانہ ویگنوں‘ بسوں اور رکشوں کے ذریعے جامعات جاتی ہیں۔ سرگودھا اور گجرات کی سرکاری جامعات میں لڑکیوں کی تعداد کئی برسوں سے لڑکوں کی نسبت کہیں زیادہ ہے۔ آپ انہیں سائنسی اور عمرانی علوم‘ طب‘ ٹیکنالوجی‘ قانون اور دیگر شعبوں میں دیکھ سکتے ہیں۔ مخلوط جامعات کے علاوہ خواتین کے لیے مختص جامعات بھی ملک کے ہر حصے میں اور ہر بڑے شہر میں موجود ہیں‘ جہاں قابل اور مستند خواتین اساتذہ تعلیم وتدریس میں مصروف ہیں۔ ایسی ہی ایک یونیورسٹی سیالکوٹ میں ہے‘ وہ سیالکوٹ جو ہمارے شاعرِ مشرق علامہ اقبال کا شہر اور ملک میں برآمدی صنعتوں کا ایک عرصہ سے مرکز ہے۔ یہاں کے صنعتکار بڑے بڑے کاموں اور منصوبوں کی پہل کاری میں بھی اپنا مقام رکھتے ہیں۔ کئی دہائیوں سے اس شہر کی طرف عازمِ سفر ہونے کی فرصت نہ ملی‘ مگر اب اپنی بیٹیوں کی زمینوں کو بچانے کے لیے وہاں جانا ضروری ہوا تو کسی وقت جا نکلیں گے۔ پھر سوچتا ہوں کہ ہمارے جیسے درویشوں کے جانے سے اہلِ اقتدار کے فیصلے کیونکر بدلیں گے؟اب آتے ہیں اس افسوسناک کارروائی کی طرف‘ جو صوبے کے اعلیٰ تعلیم کے محکمے نے بیٹیوں کی زمین ہتھیانے کے سلسلے میں کی ہے۔ سیالکوٹ ویمن یونیورسٹی تقریباً تیرہ سال قبل قائم ہوئی‘ حکومتِ پنجاب نے اُسے شہر کے قریب دو سو ایکڑ زمین الاٹ کی۔ اس نہایت ہی مختصر عرصہ میں اس یونیورسٹی کی انتظامیہ اور اساتذہ نے تندہی سے کام کرتے ہوئے اسے ایسے مقام پر پہنچا دیا کہ اب وہاں گیارہ ہزار بچیاں زیرِ تعلیم ہیں۔ یہ کوئی معمولی تعداد نہیں۔ آپ تو جانتے ہی ہیں کہ سرکاری جامعات میں امیر لوگوں کے بچے داخلہ نہیں لیتے۔ ہمارے ملک کی اعلیٰ تعلیم کے وہ دن اب رخصت ہو چکے جب محمود و ایاز ایک صف میں کھڑے ہوتے تھے۔ بلکہ اب تو اعلیٰ متوسط طبقے کے گھرانے بھی سرکاری جامعات اور کالجوں سے دور بھاگتے ہیں۔ پبلک یونیورسٹیوں میں اب صرف غریبوں کے بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں کہ وہاں فیس کم ہے۔ سیالکوٹ ویمن یونیورسٹی کی اس دو سو ایکڑ زمین پر عمارتیں بنی ہوئی ہیں‘ ہاسٹلز ہیں‘ جہاں تقریباً 300 بچیاں رہائش پذیر ہیں‘ چاردیواری ہے‘ سکیورٹی کے لیے کیمرے نصب ہیں۔ یعنی تسلی بخش حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔ تاہم اب خطرہ کہیں باہر سے نہیں بلکہ خود حکومت سے ہے۔ گزشتہ ہفتے بھی سرکاری جامعات کے حوالے سے ایک مضمون لکھ چکا ہوں کہ کس طرح پرائیویٹ پبلک شراکت داری کے ڈھکوسلوں سے جامعات کی زمینوں پر حرص اور لالچ کے ماروں نے نظریں جما رکھی ہیں۔ سیالکوٹ کی خواتین یونیورسٹی کی 120 ایکڑ زمین اب محکمہ اعلیٰ تعلیم کے کارندوں نے سیالکوٹ کی ضلعی انتظامیہ کے حوالے کر دی ہے تاکہ وہاں وہ سرکاری دفاتر‘ عدالتیں اور رہائش گاہیں بھی بنا لیں۔ عجیب بات ہے کہ جب یہ زمین اس یونیورسٹی کے نام پر معروف سیکشن چار لگا کر حاصل کی گئی تو یونیورسٹی کے نام کرنے کے بجائے محکمہ اعلیٰ تعلیم نے یہ اپنے نام کرا لی۔ پہلے تو کبھی کسی نے نہ دیکھا تھا نہ سنا تھا کہ زمین جامعات کے نام منتقل کرنے کے بجائے صوبے کا کوئی محکمہ اپنے نام کرا لے۔ شنید ہے اس کارروائی کے پیچھے کسی کا سیاسی اثر ونفوذ‘ انتخابی سیاست اور کچھ ذاتی سیاسی منصوبہ بندی ہے۔ وہ جانیں اور اُن کے دھندے‘ مگر جو اس وقت سامنے ہے‘ وہ یہ ہے کہ لوگ اس معاملے کو لاہور ہائیکورٹ لے گئے ہیں۔ ہمیں انصاف کی توقع رکھنی چاہیے۔جو بات دل کو مسلسل ٹھیس پہنچا رہی‘ بلکہ باریک سوئیوں کی طرح چبھ رہی ہے‘ وہ پنجاب کابینہ کا یہ فیصلہ ہے کہ ایک سو ایکڑ زمین بیٹیوں سے لے کر ضلعی انتظامیہ کے دفتروں کے لیے مختص کر دی جائے۔ یہاں دو باتیں عرض کرنا ضروری ہیں۔ انگریزی دور سے سیالکوٹ ضلع ہے اور اس کے دفاتر موجود ہیں‘ انہیں مزید پھیلانے کے بجائے جہاں ہیں‘ وہاں بلند وبالا عمارتیں بنا لیں۔ ویسے بھی یہ بااختیار لوگ ہیں‘ کسی اور جگہ دفاتر اور رہائش گاہوں کے لیے زمین خرید لیں۔ بات دراصل یہ ہے کہ دو سو خواتین اساتذہ اور گیارہ ہزار بچیوں کی زمین انہیں تر نوالہ نظر آتی ہے‘ کہ یہ بے بس مخلوق ان طاقتوروں کا کیا بگاڑ سکتی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ جامعات کے لیے دو سو ایکڑ زمین بھی بہت کم ہے۔ ہم نے دنیا کے ان سب ممالک میں‘ جہاں جانے کا اتفاق ہوا ہے‘ جامعات کو دیکھا ہے۔ بہت عرصہ وہا ں گزارا ہے۔ جامعات کی ہزارہا ایکڑ زمینیں ہیں۔ ان کے اندر پورے شہر آباد ہیں۔ کاش ان اہلِ اقتدار لوگوں کو کبھی کسی مغربی دنیا‘ امریکہ یا اپنے پڑوس کے ممالک کی جامعات میں جانے کا اتفاق ہوتا۔ جامعات کے لیے پانچ دس ہزار ایکڑ معمولی بات ہے۔جامعات قومی ورثہ ہوتی ہیں۔ آنے والی نسلوں کے لیے مختص کی جاتی ہیں۔ یونیورسٹی صرف کلاس رومز یا چند عمارتوں کا نام نہیں بلکہ علم وادب اور زندگی کے تجربے کی ایک وسیع و عریض دنیا ہے‘ جس میں پارک‘ باغات یہاں تک کہ قدرتی جنگل تک موجود ہوتے ہیں۔ ہماری دنیا سب سے الگ ہے۔ یہاں جو معتبر‘ طاقتور اور بااثر ہیں انہیں جامعات اور بچیوں کی جامعات کی حرمت اور افادیت کے بارے میں کچھ عرض کریں تو منہ حقارت سے دوسری طرف کر لیتے ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_33241568.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>انرجی کوریڈورکے معاشی اثرات(میاں عمران احمد)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mian-imran-ahmad/2026-06-29/52203/39202251</link><pubDate>Mon, 29 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mian-imran-ahmad/2026-06-29/52203/39202251</guid><description>پاکستان اور ایران کے تعلقات پر جب بھی گفتگو ہوتی ہے تو ایران پاکستان گیس پائپ لائن پر ضرور توجہ مرکوز ہوتی ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں سے یہ منصوبہ دونوں ممالک کے درمیان توانائی تعاون کی علامت سمجھا جاتا رہا ہے لیکن بدلتی ہوئی علاقائی اور عالمی معاشی حقیقتوں میں صرف ایک پائپ لائن کے بارے میں سوچنا اب کافی نہیں۔ پاکستان اپنی حکمت عملی کو وسیع کرتے ہوئے ایران پاکستان انرجی کوریڈور کے تصور کی طرف بڑھ سکتا ہے اور ایران کے ساتھ پاور گرڈ رابطے کو وسعت دے سکتا ہے۔ ابتدائی سطح پر درآمدات کو 500 میگاواٹ پھر ایک ہزار میگاواٹ اور بعد ازاںتین ہزار میگاواٹ تک بڑھایا جا سکتا ہے۔ اسی تناظر میں گوادر‘ پسنی‘ اورماڑہ اور کراچی تک پاکستان ایران انرجی بیلٹ قائم کی جا سکتی ہے۔ ایرانی گیس اور بجلی کو صرف گھریلو استعمال کے لیے نہیں بلکہ معدنیات کی پراسیسنگ‘ فشریز‘ کولڈ سٹوریج‘ ڈی سیلینیشن پلانٹس اور ایکسپورٹ زونز کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ گوادر کے قریب ایک مشترکہ پیٹروکیمیکل اور بلیو امونیا ہب بھی قائم کیا جا سکتا ہے جہاں ایرانی گیس کو کھاد‘ میتھانول‘ امونیا اور شپنگ فیول میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ اگر اس ویژن کو مرحلہ وار نافذ کیا جائے تو صرف پاکستان ایران پاور گرڈ سے سالانہ دو سے تین ارب ڈالر کی معاشی سرگرمی پیدا ہو سکتی ہے۔ انرجی بیلٹ سے تین سے پانچ ارب ڈالر‘ بلیو امونیا ہب سے ایک سے ڈیڑھ ارب ڈالر‘ بارڈر انڈسٹریل پارکس سے دو سے چار ارب ڈالر‘ منی ایل این جی کوریڈور سے دو سے تین ارب ڈالر‘ گوادر چاہ بہار ماڈل سے دو سے چار ارب ڈالر‘ گیس پائپ لائن سے چار سے چھ ارب ڈالر‘ تجارتی حجم میں اضافے سے چھ سے 10 ارب ڈالر جبکہ ریفائنری اور پیٹروکیمیکل منصوبوں سے مزید چھ سے 10 ارب ڈالر کی معاشی سرگرمی پیدا ہو سکتی ہے۔محتاط اندازوں کے مطابق یہ مجموعی طور پر 30 سے 35 ارب ڈالر سالانہ کی معاشی صلاحیت بنتی ہے جبکہ مکمل انرجی کوریڈور ماڈل 40 سے 45 ارب ڈالر سالانہ تک پہنچ سکتا ہے۔ دنیا کی کامیاب مثالیں سب کے سامنے ہیں۔ روٹرڈیم‘ سنگاپور اور فجیرہ صرف بندرگاہیں نہیں بلکہ توانائی کے عالمی مراکز بن چکے ہیں۔ ان کی کامیابی کا راز صرف ایک پائپ لائن یا ایک منصوبہ نہیں بلکہ ایک مکمل انرجی ایکو سسٹم ہے جس میں ذخیرہ اندوزی‘ ریفائننگ‘ لاجسٹکس‘ ٹرانزٹ اور صنعت شامل ہیں۔ پاکستان کو بھی سوچنے کی ضرورت ہے۔ پرانی سوچ ایران پاکستان گیس پائپ لائن ہے‘ نئی سوچ ایران پاکستان انرجی کوریڈور ہوسکتی ہے۔ ایک پائپ لائن کمزور ہو سکتی ہے لیکن ایک کوریڈور سرمایہ کاری کو متوجہ کر سکتا ہے‘ روزگار پیدا کر سکتا ہے‘ برآمدات بڑھا سکتا ہے اور ملک کو علاقائی معاشی مرکز میں تبدیل کر سکتا ہے ۔ اس معاشی ترقی کے لیے پیپلز پارٹی کی خدمات حاصل کی جا سکتی ہیں۔ ماضی میں ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے کی کامیابی کے لیے صدر زرداری نے امریکی دباؤ کے باوجود راستہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ پاکستان میں ڈیجیٹل معیشت‘ مصنوعی ذہانت‘ فائیو جی‘ ڈیٹا سنٹرز اور آئی ٹی برآمدات کی بات تو بہت ہوتی ہے لیکن ایک بنیادی حقیقت کو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ پاکستان اس وقت تک حقیقی ڈیجیٹل معیشت نہیں بن سکتا جب تک فائبر آپٹک نیٹ ورکس‘ موبائل ٹاورز اور فائیو جی انفراسٹرکچر کو مقامی اجازت ناموں‘ انتظامی رکاوٹوں اور مختلف اداروں کی منظوریوں کے پیچیدہ نظام سے آزاد نہیں کرایا جاتا۔ حکومت کئی سال سے فائیو جی سروس متعارف کرانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ ملک میں موبائل صارفین کی تعداد 20 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ براڈ بینڈ صارفین کی تعداد 16 کروڑ سے زیادہ ہے۔ ملک بھر میں تقریباً 60 ہزار سے زائد سیلولر سائٹس اور موبائل ٹاورز موجود ہیں۔ اس کے باوجود پاکستان میں فائبرائزیشن کی شرح خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔ فائیو جی صرف نئی فریکوئنسی یا جدید موبائل ٹاورز کا نام نہیں بلکہ اس کی اصل بنیاد فائبر آپٹک نیٹ ورک ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں 70 سے 90 فیصد موبائل ٹاورز فائبر نیٹ ورک سے منسلک ہیں جبکہ پاکستان میں یہ شرح اب بھی محدود ہے۔ مطلوبہ فائبر انفراسٹرکچر کے بغیر صارفین کو حقیقی فائیو جی رفتار اور معیار فراہم کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ پاکستان کی آئی ٹی برآمدات مالی سال 2024-25ء کے دوران تقریباً 3.8 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں جبکہ حکومت آئندہ چند برسوں میں انہیں 10 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف رکھتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا کمزور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے ساتھ یہ ہدف حاصل کیا جا سکتا ہے؟ سافٹ ویئر ہاؤسز‘ کلاؤڈ سروسز‘ مصنوعی ذہانت اور فِن ٹیک شعبوں کو تیز رفتار‘ مستحکم اور سستا انٹرنیٹ درکار ہوتا ہے۔ اگر فائبر بچھانے کے لیے مہینوں یا برسوں تک مختلف سرکاری اور نجی اداروں سے اجازت لینا پڑے تو سرمایہ کاری کی رفتار بڑھنے کے بجائے سست ہو سکتی ہے۔ادھرآڈیٹر جنرل آف پاکستان کی تازہ 399 صفحات پر مشتمل رپورٹ ایک بار پھر یہ سوال اٹھا رہی ہے کہ پاکستان کا اصل مسئلہ وسائل کی کمی ہے یا گورننس کی خرابی؟ وزارت داخلہ اور انسدادِ منشیات نے 65 آڈٹ اعتراضات کے ساتھ تمام وفاقی اداروں میں پہلا نمبرحاصل کیا ہے۔ سب سے نمایاں اعتراض 3421 اسلحہ لائسنسوں سے وصول کیے گئے تقریباً پانچ کروڑ 60 لاکھ روپے کا سرکاری خزانے میں جمع نہ ہونا ہے۔ اگرچہ پانچ کروڑ 60 لاکھ روپے وفاقی بجٹ کا صرف 0.0003 فیصد بنتے ہیں‘ لیکن اصل مسئلہ رقم کا حجم نہیں بلکہ مالیاتی نظم وضبط کا فقدان ہے۔ سوال صرف یہ نہیں کہ یہ رقم کہاں گئی بلکہ یہ ہے کہ ایسا نظام کیسے موجود ہے جس میں لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں روپے سرکاری ریکارڈ اور خزانے کے درمیان غائب ہو سکتے ہیں۔ اگر ایک وزارت کے اندر چند کروڑ روپے کی وصولیوں کا مکمل ریکارڈ موجود نہیں تو اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں اور سرکاری خریداریوں کی نگرانی کتنی مؤثر ہو گی‘ اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن پر 31‘ ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی پر 18 اور وزارت قومی غذائی تحفظ پر 17 آڈٹ اعتراضات موجود ہیں۔ مسئلہ کسی ایک ادارے تک محدود نہیں بلکہ پورے حکومتی ڈھانچے میں موجود ہے۔ پاکستان اس وقت مالی مشکلات‘ کمزور ٹیکس وصولیوں اور قرضوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے حالات میں ریاست ہر ممکنہ آمدنی کے ذرائع تلاش کر رہی ہے‘ لیکن دوسری طرف آڈٹ رپورٹس مسلسل یہ بتا رہی ہیں کہ موجودہ وسائل کا مؤثر انتظام بھی نہیں ہو پا رہا۔ موٹروے کی صورتحال بھی مختلف نہیں ۔ حکومت نے 205 ارب روپے مالیت کے 117 کلومیٹر طویل کھاریاں راولپنڈی موٹروے منصوبے کا ٹھیکا دینے کا فیصلہ کیا ہے جس نے شفافیت اور سرکاری خریداری کے اصولوں پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ یہ منصوبہ اس وقت پاکستان کی تاریخ کے مہنگے ترین موٹروے منصوبوں میں سے ایک بن چکا ہے۔ جنوری 2022ء میں ایکنک نے اس منصوبے کی منظوری 96 ارب روپے کی لاگت سے دی تھی لیکن اپریل2026ء تک یہی لاگت بڑھ کر 203 ارب روپے سے تجاوز کر گئی۔ یعنی صرف چار برسوں میں منصوبے کی لاگت میں تقریباً 112 فیصد اضافہ ہوا۔لاگت میں تقریباً 109 ارب روپے کا اضافہ کئی وفاقی وزارتوں کے سالانہ ترقیاتی بجٹ اور رواں سال کے ترقیاتی بجٹ کے 20 فیصد سے بھی زیادہ ہے۔ سوال صرف سڑک بنانے کا نہیں بلکہ اس کے بنانے کے طریقہ کار کا ہے۔ اپریل 2026ء میں ایکنک نے اس منصوبے کے لیے International Competitive Bidding کی ہدایت دی تھی لیکن اب مذاکراتی طریقہ اختیار کیا جا رہا ہے۔ یہ بظاہر معمولی فیصلہ لگ رہا ہے لیکن اس کے پیچھے اربوں روپوں کی مالی بے ضابطگیاں ہو سکتی ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/212_71532147.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ایران امریکہ جنگ کا فاتح کون؟(افتخار احمد سندھو)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/iktakhar-ahmed-sandhu/2026-06-29/52204/21078227</link><pubDate>Mon, 29 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/iktakhar-ahmed-sandhu/2026-06-29/52204/21078227</guid><description>میڈیا‘ خاص طور پر سوشل میڈیا پر ایک بحث بڑی آب وتاب سے جاری ہے کہ ایران جنگ جیت گیا ہے۔ سوشل میڈیا دراصل ایک دجالی فتنہ بن چکا ہے اور اس کا نصب العین سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ بتانا نہیں بلکہ اس کا اولین مقصد سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ ثابت کرنا ہے۔ انہیں امت مسلمہ‘ پاکستان یا پاکستانیوں کی بالکل پروا نہیں‘ وی لاگرز کو صرف ویوز کے ذریعے پیسے کمانے کی فکر ہے۔ اور اس کے لیے وہ کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ایران جنگ کیسے جیت گیا‘ امریکہ نے کون سا ایران پر قبضہ کر لیا تھا جو ایران بزور طاقت واپس لے لیا ہے۔دراصل دوسری جنگ عظیم کے بعد یہ بات طے ہو گئی تھی کہ اب کے بعد کوئی ملک کسی دوسرے ملک پر قبضہ نہیں کرے گا بلکہ اس کی معیشت پر قابض ہو گا۔ اور یہی کچھ امریکہ اور اسرائیل چاہتے تھے کہ ایران کی معیشت (تیل) پر بزور طاقت قبضہ کیا جائے۔ جیسے امریکہ نے وینزویلا کی معیشت (تیل) پر قبضہ کیا لیکن بھرپور کوشش کے بوجود ایران میں ایسا ممکن نہیں کر سکا مگر اس نے ایران کو بھرپور نقصان پہنچایا ہے‘ تاہم امریکہ اور اسرائیل ایرانی قوم کو تقسیم کرنے میں ناکام رہے اور اہلِ ایران نے متحد ہو کر مقابلہ کیا۔ امریکہ‘ اسرائیل‘ انڈیا اور یواے ای چاروں مل کر بھی ایران کو توڑ نہیں سکے ‘ وہ ہر صورت متحد رہا ہے۔ہمارے زیادہ تر ویلاگرز بھیڑ چال کے عادی ہیں۔ عوام کو جو مرضی بتا دیں‘ جوکچھ بھی وہ ان کو بتائیں گے وہ سنتے رہیں گے‘ وہ تو گوبھی کے پھول ہیں‘ بالکل بھی نہیں بولیں گے۔ کوئی حرکت یا حیل وحجت پیش نہیں کریں گے‘ اور جب ان کے یہ پروگرام ان کی نسلیں دیکھیں گی تو حیران ہوں گی۔ مزے کی بات یہ کہ اس میں بڑے بڑے نامی گرامی میڈیا پرسنز بھی شامل ہیں۔ یہ پڑھے لکھے لوگ ہیں‘ ایسی بات ہرگز نہیں کہ یہ لوگ پڑھے لکھے نہیں‘ ہمارے ان دانشوروں کی نظر میں ایران جنگ جیت گیا اور امریکہ یہ جنگ ہار گیا ہے۔ دراصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ وہی کچھ بیچتے ہیں جو بکتا ہے یا بک رہا ہے کیونکہ یہ دکاندار اور دکاندار اپنے گاہکوں کی پسندیدہ چیزیں ہی فروخت کیلئے پیش کرتا ہے لہٰذا یہ پیسے کمانے کے چکر میں قوم کو گمراہ کر رہے ہیں۔ حقیقت کی نظر سے دیکھیں تو ایران کا انفراسٹرکچر تباہ ہو گیا ہے‘ ان کے ادارے تباہ ہو گئے ہیں‘ اس کی تیل کی صنعت کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے‘ اس کے بے شمار اور اہم لوگ بلکہ رہنما مارے گئے ہیں۔ پاکستان میں ایک آسٹریلین بچی قتل ہوئی ہے حالانکہ یہ بچی پاکستانی نژاد تھی یعنی اس کا &#39;&#39;پیکا‘‘ پاکستان ہی ہے۔ ایک بچی کے قتل کا معاملہ خود آسٹریلین وزیراعظم نے اٹھایا ہے کیونکہ ان لوگوں کے نزدیک ایک جان کی بھی قدرو قیمت ہوتی ہے۔ دوسری طرف ایران میں سینکڑوں نہیں ہزاروں معصوم بچے بچیاں مارے گئے اس کے با وجود ہم کہہ رہے ہیں کہ ایران جنگ جیت گیا ہے۔ لوگوں کے جان و مال کی جو قدر وقیمت ہوتی ہے اس پر ذرا غور کرنے کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے تو دیکھنا یہ ہے کہ یہ جنگ کس مقصد کیلئے تھی جو حاصل کر لیا گیا ہے۔ ایران کا انتظامی ڈھانچہ تباہ کر دیا گیا‘ ایران جیسا امیر ترین ملک بدحالی کا شکار ہو چکا۔ لوگوں کو معاشی حالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ لیکن میری اس بات سے کتنے لوگ اتفاق کرتے ہیں مجھ اس سے کچھ غرض نہیں کیونکہ ضروری نہیں کہ سب لوگ کسی بات سے اتفاق کر لیں۔ میری با ت کو صرف ایک آدمی بھی غور سے پڑھ لے تو میرے لیے بہت ہے۔اندازِ بیاں اگرچہ کچھ شوخ نہیں ہےشاید کہ تیرے دل میں اُتر جائے میری باتمیں تو یہ بات ریکارڈ پر رکھنا چاہتا ہوں کہ جب ہماری آنے والی نسلیں دیکھیں تو انہیں معلوم ہو کہ کون کیا کہہ رہا تھا۔ ایران کی جیت کا دعویٰ کرنے والے کہہ رہے ہیں کہ امریکہ ایران پر قبضہ نہیں کر سکا اس لیے ایران یہ جنگ جیت گیا ہے۔ غور کریں کہ امریکہ نے یمن پر قبضہ نہیں کیا‘ لیکن تباہ برباد کرکے رکھ دیا۔ کیا امریکہ نے اردن پر قبضہ کیا ہے‘ کیا عراق‘ شام اورمصر پر قبضہ کیا ہے؟ دراصل بات یہ ہے کہ اب قبضے کا دور ہی نہیں رہا بلکہ وہ دور ختم ہو گیا ہے‘ امریکہ نے ایران پر قبضہ نہیں کرنا تھا اور نہ اس نے ایسا کیا لیکن انہوں نے ایران کی کمر توڑ دی۔ اس کے بعد ایران وہ ایران نہیں رہے گا جو ایران اس سے پہلے تھا۔ جو ان کی بڑھکیں تھیں‘ جو ان کی تقریریں تھیں‘ جوان کا بیانیہ تھا‘ اس میں خاصی کمی آئے گی۔اسی طرح یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اسرائیل بھی جنگ ہار گیا۔ اسرائیل نے لبنان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور اس کو تباہ وبرباد کرکے فلسطین کی طرح کھنڈرات کا ڈھیر بنا کر رکھ دیا ہے۔ ایران کو بھی شدید نقصان پہچایا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ لبنان اور ایران نے اسرائیل کا کیا بگاڑا؟ اسرائیل تک ان کے میزائل پہنچ ہی نہیں سکے۔ بلکہ ایران کے حوالے سے ہمارے اس بیانیے کی وجہ سے ایران کا بہت سا نقصان ہوا ہے۔امریکہ نے مذاق ہی مذاق میں یہ جنگ لڑ کر پانچ ہزار سال پرانی تہذیب کو نیست ونابود کر دیا۔ اس کھلنڈرے آدمی نے جس کا نام ڈونلڈ ٹرمپ ہے اور اسی سال اس کی عمر ہے‘ جب آدمی بوڑھا ہو جاتا ہے تو اسی کیفیت میں چلاجاتا ہے۔ یہ بات میں نہیں کہہ رہا بلکہ قرآن پاک میں اس کا حوالہ موجود ہے۔ جس طرح ایک بچے کو کھیلنے کیلئے کھلونا چاہیے اسی طرح اس بابے نے ایران جیسے ملک کے ساتھ جنگ کا کھیل شروع کر دیا۔ یہ تو اللہ بھلا کرے ہمارے فیلڈ مارشل سید عاصم منیرکا جواپنی خداداد صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ایران اور خطے کے دیگر ممالک کو بڑی تباہی اور بربادی سے بچانے کی کوشش کر رہے ہیں اور اپنی ان کوششوں میں بڑی حد تک کامیابی سے ہمکنار بھی ہوئے ہیں۔ یہ رتبہ بلند جس کو ملنا تھا مل گیا۔ یہ ایران کی جیت ہے نہ امریکہ کی جیت ہے یہ جیت دراصل پاکستان کی جیت ہے‘ یہ جیت فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جیت ہے‘ وہ فاتح انسانیت ہیں‘ جنہوں نے ایران امریکہ جنگ کی آگ کو بجھانے کے لیے دن دیکھا نہ رات بلکہ دن رات ایک کیے رکھا ۔اس کے لیے انہوں نے ایران کے پے درپے دورے کئے اور امریکہ‘ چین‘ سعودی عرب اور دیگر علاقائی ممالک کے ساتھ بھی رابطے میں رہے ‘ تب جا کر وہ یہ جنگ کی آگ بجھانے میں کامیاب ہوئے۔ انہوں نے دنیا پر واضح کیا ہے‘ بقول ساحر لدھیانوی:خون اپنا ہو، یا پرایا ہونسلِ آدم کا خون ہے آخرجنگ مشرق میں ہے کہ مغرب میں امن عالم کا خون ہے آخرجنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہےجنگ کیا مسئلوں کا حل دے گیآگ اور خون آج بخشے گیبھوک اور احتیاج کل دے گی</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/228_40817243.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>موسم کی شدت اور غافل نظام(جویریہ صدیق )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/javeria-siddique/2026-06-29/52205/55916619</link><pubDate>Mon, 29 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/javeria-siddique/2026-06-29/52205/55916619</guid><description>قریب ایک ہفتہ قبل ایک یورپی خاتون صحافی نے برسلز سے ایک پوسٹ شیئر کی کہ آج یہاں درجہ حرارت 22 ڈگری تھا‘ گرمی آخرکار یہاں بھی پہنچ گئی ہے۔ میں نے وہ پوسٹ دیکھی اور بتایا کہ اسلام آباد میں اس وقت 40 ڈگری درجہ حرارت ہے۔ وہ کہنے لگی‘ یہ تو بہت زیادہ ہے‘ تم لوگ کیسے گزر بسر کرتے ہو؟ مجھ سے تو 20 اور 22 ڈگری درجہ حرارت بھی نہیں برداشت ہو رہا۔ میں نے کہا‘ ہم صبر اور شکر کے ساتھ گرمی جھیل رہے ہیں۔ مون سون کے خواب سجائے گرمی کے یہ دن کاٹ رہے ہیں۔ مگر اب مون سون بھی شدت سے آتا ہے اور سیلاب کی صورت اختیار کر جاتا ہے۔ نہ تو عالمی برادری کی اس طرف توجہ ہے اور نہ ہی خود پاکستان اس معاملے کو دنیا کے سامنے اٹھا رہا ہے۔ یہ بہت اہم معاملہ ہے اور اس کی سنگینی کا اندازہ ہمیں گزشتہ برس کے سیلاب سے کر لینا چاہیے تھا مگر کوئی بھی اس بارے نہیں سوچ رہا۔ ہماری سیاست یا تو سیاسی مخالفین کو دیوار سے لگانے میں مصروف ہے یا پھر آپسی لڑائیوں میں حقیقی مسائل پر کوئی بات نہیں کرتا۔موسمیاتی تبدیلیاں جہاں بھی وقوع پذیر ہوں‘ اثر پوری دنیا پر کرتی ہیں۔ جس خطے میں ہم آباد ہیں پہلے یہاں درجہ حرارت اتنا زیادہ نہیں ہوا کرتا تھا لیکن آبادی بڑھنے‘ بے ہنگم تعمیرات اور درختوں کی کٹائی نے یہاں کا موسم بدل دیا ہے۔ ہم درختوں سے محبت نہیں کرتے۔ دکان‘ دفتر اور گھر کے سامنے سے درخت کاٹ دیتے ہیں کہ گھر کی خوبصورتی چھپ رہی ہے۔ سڑک کشادہ کرنی ہے تو درخت کاٹ دیے‘ انڈر پاس یا فلائی اوور بنانے ہیں تو درخت کاٹ دیے۔ نئی سوسائٹی بنانی ہے تو درخت کاٹ دیے۔ ہمارے پاس درختوں کی کٹائی کی بے شمار وجوہات ہیں۔ حکومت اور افسران یہ سوچتے ہی نہیں کہ درخت ماحول کیلئے کتنے ضروری ہیں۔ یہاں دیسی درختوں سے متعلق مختلف مفروضے پھیلا رکھے ہیں۔ کسی درخت پر جن آتے ہیں تو کسی پر آسیب کا سایہ ہے۔ اب بڑے دیسی درخت نظر ہی نہیں آتے۔ اگر اسی طرح ترقی کے نام پر درخت کٹتے رہے تو ایک وقت آئے گا کہ نئی نسل کو پیپل‘ بیری‘ برگد‘ چیڑ‘ دیودار‘ کیکر‘ نیم اور ارجن جیسے درخت صرف کتابوں میں نظر آئیں گے۔ اب شہروں میں دیسی درخت نظر ہی نہیں آتے‘ جن کی چھائوں میں کبھی لوگ بیٹھا کرتے تھے‘ جن پر جھولے لگا کرتے تھے۔ ان کو کاٹ کر اب غیر ملکی درخت لگا دیے گئے ہیں جو ہمارے ماحول سے مطابقت نہیں رکھتے۔ اب گرمی کی یہ صورتحال ہے کہ درجہ حرارت بڑھ رہا ہے اور موسم ناقابلِ برداشت ہو رہا ہے۔ ہر کوئی اے سی افورڈ نہیں کر سکتا۔ نصف سے زیادہ آبادی اپنے کام کیلئے پبلک ٹرانسپورٹ یا موٹر سائیکل استعمال کرتی ہے یا پھر پیدل کام پر جاتی ہے۔ ان میں کوئی اے سی نہیں ہوتا‘ دھوپ اور سخت گرمی میں وہ کام کرتے ہیں۔ ہیٹ سٹروک اور سَن سٹروک سے سب سے زیادہ اموات مزدوروں اور غریب طبقے کی ہوتی ہیں لیکن کوئی شنوائی نہیں۔ متوسط طبقہ بھی خود کو اس گرمی کا عادی بنا رہا ہے۔ لسی‘ ستو‘ سر سے بال صاف کرا لینے یا تربوزکھانے سے یہ گرمی دور نہیں ہو گی۔ یہ وقتی ٹوٹکے ہیں۔ گرمی کو کم کرنے کیلئے ماحول دوست سرگرمیاں اپنانا ہوں گی۔ ہم سارا وقت اے سی میں نہیں رہ سکتے‘ ویسے بھی یہاں لوڈشیڈنگ اور مہنگی بجلی کا بھی مسئلہ رہتا ہے۔ اب برسلز میں بھی درجہ حرارت 33 ڈگری ہوگیا ہے اور پورا یورپ ہیٹ ویو کی زد میں ہے۔ کتنے ہی صحافی فرانس‘ نیدرلینڈز‘ یوکے اور یورپ کے دیگر حصوں میں اے سی اور فین گھروں میں لگوانے کی وڈیوز اَپ لوڈ کر رہے ہیں۔ فرانس کے بہت سے لوگوں نے فرائی پین کو دھوپ میں رکھ کر بنا آگ جلائے محض دھوپ کی تپش سے انڈا تل کر دکھایا۔ یورپ میں تاریخی مقامات کے فواروں‘ تالاب اور نہروں میں نہانا منع ہے مگر اس وقت بڑی تعداد میں لوگ ان میں نہا رہے ہیں۔ وہاں صرف انسانوں کیلئے نہیں بلکہ جانوروں کیلئے بھی ایڈوائزری جاری ہوئی ہے کہ ان کو گرمی اور دھوپ کی شدت سے کیسے بچانا ہے۔ ایک خبر دیکھی کہ روم میں قائم چڑیا گھر میں جانوروں کو برف میں لگا کر پھل دیے جا رہے تھے۔ یورپ والے تو کوئی نہ کوئی حل نکال ہی لیں گے مگر جنوبی ایشیا کا کیا بنے گا؟ یہاں کبھی شدید گرمی‘ خشک سالی آ جاتی ہے تو کبھی بارش‘ طوفان اور سیلاب تباہی مچا رہے ہوتے ہیں۔ ایک بڑا طبقہ اپنے لیے چھت تک افورڈ نہیں کر سکتا‘ لوگ کچرے میں کھانا تلاش کر رہے ہوتے ہیں اور کھلے آسمان تلے سوتے ہیں۔ ایسے لوگ سب سے پہلے گرمی کی شدت کا شکار ہوتے ہیں۔ مزدور‘ کان کن‘ کسان‘ ریڑھی بان‘ ڈرائیورز‘ گھریلو ملازمین اور گارڈز اس کا سب سے زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ ملازمت پیشہ لوگ‘ موٹر سائیکل سوار‘ پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے والے اور پیدل چلنے والے گرمی کی زد میں زیادہ آتے ہیں۔ اشرافیہ کے پاس لگژری گاڑیاں ہیں‘ ان کے گھروں اور دفاتر میں سارا وقت اے سی چلتا رہتا ہے‘ بجلی جانے کی صورت میں جنریٹر کا انتظام ہوتا ہے‘ اس لیے ان کو گرمی کا احساس نہیں مگر عوام کے پاس یہ سہولتیں نہیں ہیں۔ سب طاقتوروں کے فیصلوں کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ ہر منصوبے‘ ہر سڑک‘ ہر ایونیو‘ ہر انڈرپاس اور ہر سوسائٹی کیلئے درختوں کو کاٹ دیا جاتا ہے۔ اب حال یہ ہے کہ اسلام آباد میں بھی درجہ حرارت 40 ڈگری اور کچھ علاقوں میں 45 ڈگری تک پہنچ گیا ہے۔ اے سی لگانا‘ سائے میں رہنا‘ اور ٹھنڈے شربت گرمی کا وقتی توڑ ہیں‘ اس کا حل نہیں۔ اس کا واحد حل سبز انقلاب ہے۔ اگر پچیس کروڑ آبادی میں سے ایک کروڑ لوگ ہی ہر سال درخت لگا لیں تو ملک میں سالانہ ایک کروڑ درختوں کا اضافہ ہو جائے گا۔ لوگ منٹوں میں درختوں کو کاٹ دیتے ہیں جبکہ ایک پودے کو مکمل درخت بننے میں کئی سال بلکہ عشرے لگ جاتے ہیں۔ لہٰذا پودے لگائیں اور اپنے لگائے ہوئے پودوں کا خیال بھی رکھیں۔ پاکستان اپنے آموں کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے‘ جہاں بھی سخت گرمی اور خشک موسم ہو‘ وہاں آم کا درخت بہت موزوں ہے۔ جامن‘ امرود‘ انجیر‘ کچنار‘ پپیتا‘ لیموں‘ لوکاٹ‘ شہتوت‘ الیچی‘ آڑو‘ فالسہ‘ مالٹا اور زیتون کے درخت بھی آسانی سے لگ جاتے ہیں اور بڑے ہوکر پھل بھی دیتے ہیں۔ شمالی علاقوں میں بے شمار پھلدار درخت لگائے جا سکتے ہیں۔ گھروں میں کچن گارڈن بنایا جا سکتا ہے‘ جس سے پھل اور سبزیاں مفت حاصل کی جا سکتی ہیں۔ وقت کی ضرورت ہے کہ تمام شاہراہوں کے اردگرد درخت لگائے جائیں تاکہ سڑکوں پر سایہ ہو اور درجہ حرارت نیچے آئے۔ ہمیں نیم‘ برگد‘ پیپل‘ املتاس‘ چیڑ‘ کیکر‘ بیری‘ شیشم‘ سنبل‘ بکائن‘ پیلو‘ صنوبر اور دیودار کے درخت لگانے چاہئیں۔ اس وقت جتنی شدید گرمی اسلام آباد میں پڑ رہی ہے انتظامیہ کو چاہیے کہ پائن ٹری لگائے۔ یہ موسم کی شدت کو کم کرتے ہیں اور سخت آندھی اور طوفان کا مقابلہ کرتے ہیں۔ یہ درخت زمین کو کٹائو سے بچاتا ہے اور دیکھنے میں بھی خوبصورت لگتا ہے۔ اس کے ساتھ یہاں املتاس‘ کچنار‘ امرود‘ گل نشتر‘ کھجور‘ پپیتا‘ دلو اور پاپولر لگایا جا سکتا ہے۔ ساحلی علاقوں میں پام ٹری‘ ناریل اور کھجور لگانا چاہیے۔ کراچی میں املتاس‘ برنا‘ نیم‘ گلمہور‘ جامن‘ پیپل‘ ناریل اور اشوکا لگایا جائے۔ پشاور میں شیشم‘ ٹاہلی‘ شریں ‘کچنار‘ پیپل‘ پاپلر‘ امرود‘ لوکاٹ اور آڑو‘ راولپنڈی میں برگد‘ پیپل‘ مورنگا‘ پپیتا‘ کچنار‘ املتاس‘ سرواور نیم کے درخت لگائے جاسکتے ہیں۔ لاہور میں نیم‘ شیشم‘ برگد‘ سکھ چین‘ پیپل‘ جامن‘ کیکر اور شہتوت لگائے جا سکتے ہیں۔ امپورٹڈ درختوں کے بجائے دیسی درخت لگائیں۔ اسی طرح تفریحی مقامات مری‘ سوات‘ نتھیا گلی‘ کالام‘ کاغان اور ناران وغیرہ میں درخت کاٹنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ مون سون شجر کاری کا بہترین وقت ہے۔ گرمی اور موسمیاتی تبدیلیوں سے بچنے کا واحد حل درخت ہی ہیں۔ درخت لگائیں‘ ان کی حفاظت کریں اور ان کی کٹائی پر مکمل پابندی لگائی جائے۔ اب اشرافیہ کوبھی سوچنا چاہیے کہ جس یورپ میں جاکر وہ گرمی سے بچ جایا کرتے تھے اب وہاں بھی درجہ حرارت 35 ڈگری سے اوپر چلا گیا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_38020467.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>تربیت ِ اولاد(علامہ ابتسام الہٰی ظہیر )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-06-29/52206/92685001</link><pubDate>Mon, 29 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-06-29/52206/92685001</guid><description>اس بات کا مشاہدہ کرنا کچھ مشکل نہیں کہ بہت سے والدین اپنی معاشی مصروفیات اور سماجی سرگرمیوں کی وجہ سے اپنی اولاد کی تربیت سے غافل رہتے ہیں جس کی وجہ سے بہت سے بچے اپنے وقت کو ضائع کر بیٹھتے اور ایسے امور میں مبتلا ہو جاتے ہیں جو کسی بھی طور مناسب نہیں ہوتے۔ والدین کو اپنی اولاد پر گہری نظر رکھنی چاہیے اور ان کے معمولات اور تربیت کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی انجام دینا چاہیے۔ اس حوالے سے کتاب وسنت میں بڑی خوبصورت رہنمائی موجود ہے۔1۔ اولاد کو ارکانِ اسلام کی بجا آوری کا درس دینا: اپنی اولاد کو ارکانِ اسلام کی بجا آوری کا سبق دینا چاہیے اور اس سلسلے میں اپنی عملی مثال ان کے سامنے پیش کرنی چاہیے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۂ طہٰ کی آیت: 132 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دو اور خود بھی اس کے پابند رہو‘ ہم تجھ سے رزق نہیں مانگتے بلکہ ہم خود تجھے رزق دیتے ہیں‘ آخر میں بول بالا پرہیزگاری ہی کا ہے‘‘۔2۔ اولاد کو گناہوں سے بچانے کی کوشش کرنا: جہاں انسان کو اپنی اولاد کو ارکانِ اسلام کی بجا آوری کی تلقین کرنی چاہیے وہیں ان کو گناہوں سے بچنے کی بھی تلقین کرنی چاہیے۔ بہت سے والدین اپنی اولادوں کو گناہ کے راستے پر چلتا دیکھ کر بھی ان کو سیدھے راستے پر آنے کی تلقین نہیں کرتے جس کی وجہ سے اولاد بہت زیادہ بگڑ جاتی ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ التحریم کی آیت: 6 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;اے ایمان والو! تم اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچائو جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے‘‘۔ اس آیت مبارکہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ انسان کو جہاں خود اپنے آپ کو گناہ کے کاموں سے بچانا چاہیے وہیں اپنے اہلِ خانہ کو بھی گناہوں سے محفوظ رکھنا چاہیے۔3۔ اولاد کو اچھے کاموں کی نصیحت کرنا: انسان کو ہمیشہ اپنی اولاد کو اچھے کاموں کی نصیحت کرتے رہنا چاہیے اور دینی و دنیاوی اعتبار سے جو کام مفید ہوں‘ ان کے بارے میں اپنی اولاد کی رہنمائی کرنی چاہیے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۂ لقمان کی آیات: 13 تا 19 میں حضرت لقمان کی بہت سی اہم نصیحتوںکا ذکر فرماتے ہیں۔ ان آیات مبارکہ پر غور کرنے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو شرک سے بچنے کی تلقین کی‘ انہوں نے اس کو والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا۔ حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو اللہ تبارک وتعالیٰ کے علم سے آگاہ کیا کہ زمین وآسمان میں معمولی سی معمولی چیز بھی اللہ تبارک وتعالیٰ کے علم سے باہر نہیں ہے۔ اسی طرح آپ نے اپنے بیٹے کو نماز کی ادائیگی کی تلقین کی‘ اس کو امر بالمعروف ونہی عن المنکر کی انجام دہی کا سبق دیا۔ زندگی کے نشیب و فراز کے دوران آنے والی تکالیف پر صبر کرنے کی تلقین کی‘ لوگوں کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا اور غرور سے بچ کر اپنی چال میں میانہ روی اختیار کرنے کی نصیحت کی۔ اسی طرح آپ نے اپنے بیٹے کو اپنی آواز کو لوگوں کے سامنے دھیما رکھنے یعنی حسنِ اخلاق کی تلقین کی۔ حضرت لقمان کی ان نصیحتوں پر غور کیا جائے تو اس میں دینی اور دنیاوی اعتبار سے بہت سی خوبصورت باتوں کی تلقین موجود ہے۔ آج کل کے والدین اپنی اولاد کی مادی ضروریات‘ ان کی غذا اور لباس کا اہتمام تو کرتے ہیں لیکن ان کو اچھے اخلاق کی تلقین نہیں کرتے جبکہ ان کی یہ ذمہ داری ہے کہ اپنی اولاد کو دینی اور دنیاوی اعتبار سے مفید چیزوں کی نصیحت کیا کریں۔4۔ اولاد کے علم میں اضافے کی کوشش کرنا: تربیتِ اولاد کیلئے یہ بات نہایت ضروری ہے کہ انسان اپنی اولاد کو دینی و دنیاوی اعتبار سے اچھی تعلیم دلانے کی کوشش کرے۔ علم ایک لازوال نعمت ہے۔ مال ودولت میں کمی بیشی ہو سکتی ہے لیکن علم اللہ تبارک وتعالیٰ کی ایسی عطا ہے جو انسان کوہمیشہ نفع پہنچاتی ہے اور انسان اگر محنت کرتا رہے تو اس میں وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ دولت خرچ کرنے سے کم ہوتی جبکہ علم استعمال کرنے سے بڑھتا اور پھیلتا ہے۔ اولاد کیلئے دنیاوی مال چھوڑنے سے بہتر ہے کہ ان کو بہتر اور نافع علم کے زیور سے آراستہ کیا جائے۔5۔ اولاد کے وقت کو ضائع ہونے سے بچانا: والدین کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ اپنی اولاد کے وقت کو ضائع ہونے سے بچائیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۃ المومنون میں فردوس کے حقدار اہلِ ایمان کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ وہ لغویات سے اجتناب کرتے ہیں۔ آج کل بہت سے بچے موبائل اور گیمز میں اپنے وقت کو برباد کرتے اور لغویات کے راستے پر چل نکلتے ہیں لیکن والدین ان پر توجہ دینے کے بجائے ان کے معمولات کو نظر انداز کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے مختلف طرح کے نفسیاتی عوارض پیدا ہوتے ہیں۔ ان عوارض سے اپنی اولادوں کو بچانا نہایت ضروری ہے۔ اگر اس پر توجہ نہ دی جائے تو اولاد کا مستقبل تاریک ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ 6۔ اولاد کو بری صحبت سے بچانا: انسان کئی مرتبہ بری صحبت اور برے دوستوں کی وجہ سے تباہی اور ہلاکت کے گڑھے میں گر جاتا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۃ الفرقان میں ایسے ظالم کا ذکر کیا جو اپنے دوست کی وجہ سے قیامت کے دن خسارے کا شکار ہو جائے گا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الفرقان کی آیات: 28 تا 29 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;ہائے افسوس! کاش کہ میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا۔ اس نے تو مجھے اس کے بعد گمراہ کر دیا کہ نصیحت میرے پاس آ پہنچی تھی اور شیطان تو انسان کو (وقت پر) دغا دینے والا ہے‘‘۔ چنانچہ اپنی اولاد کو بری صحبت سے بچانا والدین کی ذمہ داری ہے تاکہ وہ آئندہ زندگی میں بھی بری صحبت سے محفوظ رہ سکیں۔7َ۔ اچھے کاموں میں اپنی اولاد کو شریک کرنا: انسان کیلئے یہ بات کافی نہیں کہ وہ محض خود ہی اچھے کام کرے بلکہ اپنی اولاد کو بھی ان اچھے کاموں میں شریک کرنا والدین کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید میں تعمیر بیت اللہ کا ذکر کیا کہ حضرت ابراہیم نے اس عظیم کام کو انجام دینے کیلئے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہما السلام کو بھی اس کارِ خیر میں شریک کر لیا تھا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ البقرہ کی آیت: 127 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;اور جب ابراہیم اور اسماعیل کعبہ کی بنیادیں اٹھا رہے تھے‘ (تو دعا کر رہے تھے) اے ہمارے رب ہم سے (یہ عمل) قبول کر‘ بیشک تو ہی سننے والا‘ جاننے والا ہے‘‘۔8۔ اولاد کے لیے دعا کرنا: والدین کو اپنی اولاد کی کامیابی کیلئے دعا بھی کرنی چاہیے۔ اولاد کے حق میں والدین کی دعائیں بہت مؤثر ہوتی ہیں۔اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۂ ابراہیم میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ان دعائوں کا ذکر کیا ہے جو انہوں نے حضرت اسماعیل اور حضرت اسحاق علیہما السلام کے لیے کی تھیں۔ چنانچہ ہمیں بھی اپنی اولاد کی کامیابی کے لیے ہمہ وقت دعاگو رہنا چاہیے۔ 9۔ اولاد کو اچھے کاموں کی وصیت کرنا: جب انسان کا دنیا سے رخصت ہونے کا وقت قریب آ جائے تو انسان کو اپنی اولاد کو اچھے کاموں کی وصیت کرنی چاہیے تاکہ اولاد اس بات کو ذہن نشین کر لے کہ مجھے کن باتوں پر سختی سے کاربند رہنا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید میں حضرت ابراہیم اور حضرت یعقوب علیہما السلام کی وصیتوں کا ذکر کیا ہے‘ جو انہوں نے اپنی اولاد کو کی تھیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ البقرہ کی آیت: 132 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;اور اسی بات کی ابراہیم اور یعقوب نے بھی اپنے بیٹوں کو وصیت کی کہ اے میرے بیٹو! بیشک اللہ نے تمہارے لیے یہ دین چن لیا‘ سو تم ہرگز نہ مرنا مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو‘‘۔اگر مذکورہ بالا نکات پر عمل کر لیا جائے تو یقینا اولاد کی کامیابی کی راہیں ہموار ہو سکتی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کو اپنی اولادوں کی درست طریقے سے تربیت کرنے کی توفیق دے تاکہ وہ دنیا اور آخرت میں کامیاب ہو سکیں‘ آمین!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_19740082.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>