<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>بڑھتی ہوئی اشتعال انگیزی اورسنگین ہوتا بحران(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-08/11085</link><pubDate>Wed, 08 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-08/11085</guid><description>مشرقِ وسطیٰ میں چالیس روز سے جاری جنگ نے دنیا کے امن و استحکام کو بارود کے ڈھیر پر لا کھڑا کیا ہے۔اس صورتحال سے نکلنے کی ضرورت محتاجِ بیان نہیں اور پاکستان اس کیلئے سفارتی حل تلاش کرنے میں اپنا بھر پور تعاون پیش کر چکا ہے۔ اس صورتحال میں ایران کی جانب سے تحمل اور ٹھہراؤ کا مظاہرہ درکار تھا مگر بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوا اور سعودی عرب کے پیٹرو کیمیکل اور صنعتی کمپلیکس کو نشانہ بنانے کے واقعات نے نہ صرف علاقائی سلامتی کو مزید خطرے میں دھکیل دیا ہے بلکہ امن و استحکام کی امیدوں کو بھی دھندلا دیا ہے۔پاکستان کی جانب سے اس اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے اور اسے امن کوششوں کیلئے بڑی رکاوٹ قرار دیا ہے۔ پاکستان کا یہ مؤقف اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے جسے نظر انداز کرنا خطے کو بڑی تباہی کی طرف دھکیلنے کے مترادف ہوگا۔ سعودی عرب کے انرجی انفراسٹرکچر‘ جو عالمی توانائی کی سپلائی لائن میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے‘ پر حملے کسی بھی طور پر دفاعی اقدام قرار نہیں دیے جا سکتے۔ یہ ایسی سنگین اشتعال انگیزی ہے جو ان سفارتی کوششوں کو سبوتاژ کر رہی ہے جو گزشتہ کئی ہفتوں سے پسِ پردہ جاری ہیں۔

ان حملوں کے بعد سعودی عرب نے جس تحمل کا مظاہرہ کیا ہے وہ قابلِ تعریف ہے۔ سعودی قیادت نے اشتعال انگیزی کے بجائے ثالثی اور سفارتی حل کی حمایت کی ہے تاکہ خطے کو مزید بحران سے بچایا جا ئے۔ ایسے مرحلے پر جب امن کی کوششیں ایک نازک دور میں داخل ہو چکی ہیں اور ایرانی قیادت خود تسلیم کر رہی ہے کہ جنگ کے خاتمے کیلئے مثبت اور تعمیری کوششیں جاری ہیں‘ عرب ممالک میں انرجی اور صنعتی تنصیبات کو نشانہ بنایا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ کچھ عناصر خطے میں استحکام نہیں دیکھنا چاہتے۔ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے اس صورتحال کو سنجیدگی سے لیا ہے۔ حالیہ کور کمانڈرز کانفرنس میں ان حملوں کو انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور خطرناک اقدام قرار دیا گیا۔ سعودی عرب پاکستان کا برادر اسلامی ملک ہے اور مشترکہ دفاعی معاہدے کی رُو سے پاکستان سعودی عرب کی سالمیت اور خود مختاری کی حفاظت کا ذمہ دارہے ۔حکومتی ردعمل نے یہ واضح کیا ہے کہ پاکستان اسے محض دو ملکوں کے تنازع کے طور پر نہیں دیکھ رہا بلکہ اسے پاکستان کی معاشی اور تزویراتی سلامتی پر حملہ تصور کرتا ہے۔ اسرائیل اور امریکہ تو اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کر رہے ہیں مگر ایران کو اس وقت محتاط رویہ اپنانے کی ضرورت ہے۔
تہران کو یہ سمجھنا ہوگا کہ عین جنگ کے دوران دشمنوں کی فہرست میں اضافہ کرنا دانشمندی نہیں ہوتی ۔ موجودہ منظرنامے میں جہاں جنگ میں مزید شدت آتی جا رہی ہے ایران کو علاقائی ممالک کیساتھ محاذ آرائی بڑھانے کے بجائے سنبھل کر چلنے کی ضرورت ہے۔ اشتعال میں آ کر کیے گئے فیصلے الٹا نقصان پہنچاتے ہیں اور طاقت کا بے جا استعمال مزیدمسائل کو جنم دیتا ہے‘ جبکہ پائیدار اور پُرامن تصفیہ محض مذاکرات کی میز پر ممکن ہے۔ گزشتہ روز امریکی صدر کی جانب سے ایرانی تہذیب مٹانے کی دھمکیوں اور ایران کی جانب سے جنگ بندی کیلئے جاری مذاکرات ختم کرنے اور بات چیت میں مزید حصہ نہ لینے کے اعلانات نے اس تنازع کو عالمی امن کیلئے مزید خطرناک بنا دیا ہے۔افسوسناک بات یہ ہے کہ متحارب فریقین کے پاس اس محاذ آرائی کے خاتمے کا کوئی پلان نظر نہیں آتا۔ پوری دنیا کی معیشت اور شرقِ اوسط کا خطہ پہلے ہی عدم استحکام کا شکار ہے‘ اب مزید کسی مہم جوئی کی گنجائش نہیں۔
جب تک فریقین ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کرتے ہوئے باہمی احترام کی بنیاد پر مکالمہ نہیں کریں گے امن کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ توانائی‘ صنعتی اور سول انفراسٹرکچر پر حملے بلا جواز ہیں‘ یہ سلسلہ فوری اور مکمل طور پر بند ہونا چاہیے تاکہ امن عمل ہموار انداز میں آگے بڑھ سکے۔ </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بارشیں اور ناقص انتظامات(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-08/11084</link><pubDate>Wed, 08 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-08/11084</guid><description>ملک کے مختلف حصوں میں جاری بارشیں شدید جانی و مالی نقصانات کا باعث بن رہی ہیں۔ خصوصاً خیبر پختونخوا میں صورتحال نہایت تشویشناک صورت اختیار کر چکی ہے جہاں صرف چار روز کے دوران بارش کے باعث مختلف حادثات میں 21افراد جاں بحق اور 40سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ یہ اعداد و شمار ناقص حکومتی انتظامات کی نشاندہی کرتے ہیں۔ گزشتہ روز پشاور میں ہونے والی موسلادھار بارش نے بھی شہری انتظامیہ کی تیاریوں کا بھانڈا پھوڑ دیا جہاں سیوریج نالے اوور فلو ہونے کے باعث بارشی پانی گھروں میں داخل ہو گیا۔ رواں سال کے ابتدائی بارشی سپیل نے ہی یہ واضح کر دیا ہے کہ موسمی خطرات سے نمٹنے کیلئے جو پیشگی اقدامات درکار تھے وہ یا تو مکمل طور پر نظر انداز کیے گئے یا ان پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔ نتیجتاً معمول کی بارشیں بھی شہری زندگی کو مفلوج کرنے کا سبب بن رہی ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ صوبائی حکومتیں اور ضلعی انتظامیہ مون سون سے قبل نکاسیِ آب کے نظام کی بہتری‘ برساتی نالوں اور سیوریج لائنوں کی مکمل صفائی یقینی بنائیں۔ اسی طرح آبی گزرگاہوں پر قائم تجاوزات کے فوری خاتمہ بھی ناگزیر ہے۔ مزید برآں حساس نشیبی علاقوں کی نشاندہی‘ خطرے کا پیشگی وارننگ سسٹم فعال کرنا‘ ریسکیو اداروں کی استعداد کار بڑھانا اور مقامی سطح پر ڈیزاسٹر رسپانس پلان کو عملی شکل دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر ان اقدامات کو سنجیدگی سے نافذ نہ کیا گیا تو ہر بارش کے بعد اسی قسم کی صورتحال کا سامنا رہے گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ویلیو ایڈیشن کی اہمیت(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-08/11083</link><pubDate>Wed, 08 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-08/11083</guid><description> ملکی معیشت کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے کے باوجود زرعی شعبہ غیرمؤثر انتظامی ڈھانچے اور پوسٹ ہارویسٹ نقصانات جیسے مسائل کا شکار ہے۔ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق ملک میں پھلوں اور سبزیوں کی سالانہ 40فیصد تک پیداوار ضائع ہو جاتی ہے۔ اس ضیاع کی بنیادی وجوہات میں جدید کولڈ سٹوریج سہولیات کی کمی‘ ٹرانسپورٹ کا غیرمعیاری نظام اور سب سے بڑھ کر ویلیو ایڈیشن انڈسٹری کا فقدان شامل ہے۔ زرعی پیداوار کا بڑا حصہ خام حالت میں منڈیوں تک پہنچتا ہے جہاں مناسب پروسیسنگ اور محفوظ کرنے کے انتظامات نہ ہونے کے باعث یہ پیداوار جلد خراب ہو جاتی ہے‘ نتیجتاً ملک نہ صرف ایک بڑی برآمدی صلاحیت سے  محروم رہ جاتا ہے بلکہ اکثر اوقات ان اجناس کی قلت بھی پیدا ہو جاتی ہے۔

ویلیو ایڈیشن خام زرعی اجناس کو پراسیس کر کے زیادہ دیر تک محفوظ رکھنے کے قابل بناتی ہے اور انہیں عالمی منڈیوں کے معیار کے مطابق تیار کرتی ہے لیکن ہمارے ہاں ویلیو ایڈیشن انڈسٹری میں سرمایہ کاری محدود ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ زرعی ویلیو چین کو مضبوط بنانے کیلئے جامع حکمت عملی اپنائے۔اگر حکومت سنجیدگی سے اس سمت میں اقدامات کرے تو نہ صرف زرعی اجناس کے ضیاع کو بڑی حد تک روکا جا سکتا بلکہ برآمدات میں نمایاں اضافہ کر کے زرِ مبادلہ کے بحران پر بھی قابو پا سکتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سارا مسئلہ سارا فساد اسرائیل کا ہے(ایاز امیر)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-04-08/51726/52677363</link><pubDate>Wed, 08 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-04-08/51726/52677363</guid><description>یہ نکتہ نہ سمجھیں تو اس جنگ کو سمجھنا محال ہو جاتا ہے۔ اسرائیل نے تو حملہ کیا لیکن امریکہ کو اس حملے میں شامل کرنا یہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا کمال ہے۔ ایک لحاظ سے یہ حملہ اس نے بیچا کہ حملہ ہوا اور قیادت کا صفایا ہو گیا تو اسلامی ریاست ختم ہو جائے گی۔ اب ٹرمپ کیا امریکہ اس جنگ میں پھنسا ہوا ہے اور نکلنے کا کوئی آسان راستہ نہیں۔ ٹرمپ جنگ بندی چاہتا ہے لیکن اپنی شرائط پر اور وہ شرائط ایسی ہیں کہ ایران مانے تو اس کا بیڑہ غرق ہو جاتا ہے۔ سمجھوتا تو کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر ہوتا ہے اور امریکہ جو ایران سے مانگ رہا ہے وہ گھٹنے ٹیکنا‘ ناک رگڑنا اور رسوا ہونا ہے۔ آبنائے ہرمز کھول دو‘ تیل بردار جہازوں کو گزرنے دو اور 45دن بعد دیکھیں گے کہ اگلا مرحلہ کیا ہونا ہے۔ آبنائے ہرمز کھل جائے تو ایران کے ہاتھ رہ کیا جاتا ہے۔ اور جہاں تک اگلے مرحلے کی بات ہے امریکہ اور اسرائیل نے دنیا کو ثا بت کر دیا ہے کہ ان کی طرف سے کی گئی کوئی بھی بات قابلِ یقین اور قابلِ اعتبار نہیں۔ لیکن امریکہ مُصر ہے کہ انہی شرائط پر جنگ بندی کرو نہیں تو تمہارا حشر کر دیا جائے گا۔اس فارمولے کے پیچھے ساری سوچ اسرائیل اور امریکہ میں موجود صہیونی لابی کی ہے۔ اسرائیل جنگ بندی نہیں چاہتا‘ وہ ایران کی مکمل تباہی چاہتا ہے۔ اس کی تیل کے تنصیبات‘ اس کا انڈسٹریل بیس‘ اس کی یونیورسٹیاں اور ریسرچ انسٹیٹیوٹ‘ اس کے ہسپتال تمام کے تمام تباہ ہو جائیں تاکہ ایران 70‘ 80 سال پیچھے چلا جائے اور ایک ناکام ریاست بن جائے۔ اور جیسا کہ ہم دیکھ رہے ہیں ایک طرف جنگ بندی کی بھونڈی باتیں اور دوسری طرف ایرانی انفراسٹرکچر پر اسرائیلی بمباری۔ ایسے میں ایران جنگ بندی کی تجویز کیسے مان سکتا ہے‘ کیونکہ اس جنگ بندی کا مقصد صرف ایک ہے کہ آبنائے ہرمز کھل جائے اور ایران کے ہاتھ میں جو سب سے بڑا لیور ہے اس سے وہ محروم ہو جائے۔ایک دفعہ ایسا ہوتا ہے تو اسرائیل نے پھر ایران کے ساتھ وہی کرنا ہے جو غزہ اور لبنان میں کر رہا ہے۔ اسرائیل کے سامنے معاہدوں اور یقین دہانیوں کی کوئی اہمیت نہیں۔ یہ ہم دیکھ چکے ہیں‘ غزہ میں جنگ بندی ہوتی ہے اور منٹوں بعد جارحیت اور بمباری شروع ہو جاتی ہے۔ ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا سب کچھ سہہ کے تمام حملے برداشت کرکے ایران آبنائے ہرمز کھولنے پر آمادہ ہو جائے گا؟  سفارتی کوششیں اپنی جگہ لیکن ایران ایسا کبھی نہیں کرے گا۔ اس کیلئے ایسا کرنا ناممکن ہے کیونکہ ایرانی قیادت سے بہتر کون جانتا ہے کہ صہیونی اور امریکی وعدوں پر کتنا بھروسہ کیا جائے۔ اس عمل کو جنگ بندی کا نام دینا ہی غلط ہے کیونکہ آبنائے ہرمز کے مسئلے پر ایران کے ہاتھ بندھ جائیں تو یہ جنگ بندی نہیں یکطرفہ سرنڈر کے مترادف ہو گا۔ کیا پھر یہ عقل کا کوئی تقاضا بنتا ہے کہ اس صورتحال میں ایران ایک سطحی قسم کی جنگ بندی پر آمادہ ہو جائے؟نہیں‘ جنگ بندی ہو نہیں سکتی کیونکہ جو شرائط اسرائیل کے ایما پر امریکہ پیش کر رہا ہے وہ ایران کو نہتا اور بے بس کر دیں گی۔ ایرانی جانتے ہیں۔ جو مار اور تباہی وہ برداشت کر رہے ہیں اس لیے نہیں کہ وہ اب امریکہ کے سامنے ہاتھ کھڑے کر دیں اور اسرائیل کو موقع دیں کہ اس جنگ کی اگلی قسط کی تیاری شرو ع کر دے۔ لہٰذا ٹرمپ جتنے بھی اپنے دانت پیستے رہیں ان کی دی گئی ڈیڈلائن گزر جائے گی اور آبنائے ہرمز غیر دوست ممالک کیلئے نہیں کھلے گا۔ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ ایسی صورت میں ایران پر قیامت ٹوٹ پڑے گی۔ ایران کی تنصیبات اور انفراسٹرکچر پر تو پہلے ہی اسرائیلی فضائی حملے جاری ہیں۔ ان میں تیزی آ جائے گی‘ مزید تباہی پھیلے گی اور ایسا ہوا تو کوئی اس بھول میں نہ پڑے کہ ایران کی طرف سے ردِعمل نہیں آئے گا۔ ضرور آئے گا اور اس ردِعمل کی زد میں خلیج فارس کے دوسری طرف برادر ملکوں کی تنصیبات اور انفراسٹرکچر نشانہ بنیں گے۔ اب تک تو آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل بند ہے‘ پروڈکشن کی تمام تنصیبات تو قائم ہیں۔ ان تنصیبات پر تباہی کے آثار آنے لگیں تو تیل کی قیمت کہاں پہنچ جائے گی اور اس کا اثر گلوبل معیشت پر کیا ہو گا۔ امریکہ کو ضرب لگے گی‘ اس کی معیشت پر گہرے اثرات پڑیں گے اور صدر ٹرمپ کو سیاسی نقصانات اٹھانے پڑیں گے لیکن اسرائیل کو ان سارے ممکنہ نتائج کی کوئی فکر نہیں۔ اسرائیل ایک تو چاہتا ہے کہ ایران تباہ ہو اور ساتھ ہی اسے کوئی غم نہ ہو گا‘ اگر جی سی سی ممالک میں تباہی پھیل جائے۔ صہیونی خواب ہے کیا؟ کہ اس سارے خطے میں سبقت اسرائیل کی ہو اور اسی کی بات چلے۔ عرب ممالک نے اسرائیل کا مقابلہ کرنا کب سے ترک کر دیا تھا۔ کچھ عرب ممالک تباہ ہو گئے باقی ماندہ نے حالات سے سمجھوتا کر لیا۔ ایک ایران اور اس کی حمایتی تنظیمیں جیسا کہ حزب اللہ‘ حماس اور حوثی ہی تھے جو اسرائیل کے خلاف کھڑے تھے‘ جن میں مزاحمت کی خُو باقی تھی۔ اسی لیے ایران کو تباہ کرنا پرانا صہیونی خواب تھا۔ نیتن یاہو نے کتنے امریکی صدور کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ ایران پر حملہ ہو۔ مختلف طریقوں سے امریکہ نے ایران کا ناطقہ بند کرنے کی تدبیریں جاری رکھیں لیکن باقاعدہ حملہ جس طرح کہ اب ہو رہا ہے‘ یہ ٹرمپ ہی نے کیا۔ کچھ یہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ٹرمپ وائٹ ہاؤس کا ذہنی ماحول کیا ہے۔ ان لوگوں پر صہیونی اثر بہت ہے۔ یہ دو اشخاص جو ایران کے ساتھ مذاکرات کیلئے چنے گئے جیرڈ کُشنر اور سٹیو وِٹکاف‘ دونوں نہ صرف یہودی ہیں بلکہ اسرائیل کے اثاثے لگتے ہیں۔ کُشنر کے تو بھاری کاروباری تعلقات اسرائیل سے ہیں اور سٹیو وِٹکاف بھی کچھ کم نہیں۔ ٹرمپ خود اور سیکرٹری جنگ پیٹ ہیگستھ بڑی عجیب اور کٹر قسم کی عیسائیت کے پیروکار ہیں۔ یہاں ہوتے تو طالبان کہلاتے‘ ہندوستان میں ہوتے تو ہندوتوا کے پیروکار سمجھے جاتے۔ جیسے ہم مسلمانوں میں بنیاد پرستی ہے یہ وہاں کے بنیاد پرست ہیں اور ان کی باتیں ویسے ہی جاہلانہ ہیں۔ امریکہ کی ایک مشہور خاتون پادری پولا وائٹ ہے۔ یوٹیوب پر اس کے کرتب دیکھیں۔ پچھلے ہفتے ایسٹر (Easter) کی تقریبات کے سلسلے میں وائٹ ہاؤس گئی ہوئی تھیں۔ وہاں ایک اور مشہور پادری فرینکلن گریہم نے ٹرمپ کیلئے دعا کی اور پھر میڈم پولا وائٹ مائیک پر آئیں اور انہوں نے صدر ٹرمپ کی ذات میں حضرت عیسیٰ جیسی خصوصیات ڈھونڈنا شروع کر ڈالیں۔ یوٹیوب پر ضرور جائیں اور یہ منظر دیکھیں‘ تب سمجھ آئے گی کہ وہ کون سا ذہن (Mindset) ہے جس کے تابع ایران پر یہ حملہ ہوا ہے۔ یہ عجیب سے جنونی قسم کے لوگ ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ان کے زیرکمان دنیا کی طاقتور ترین ملٹری ہے اور ان کے ہاتھوں میں دنیا کے مہلک ترین ہتھیار ہیں۔ دنیا ان کے غضب سے نہیں ان کے جنونی پن سے ڈرے۔دنیا اب تیار رہے اس جنگ کے خطرناک ترین لمحے کے لیے۔ ایران نے گھٹنے ٹیکنے نہیں اور فرسٹریشن میں امریکہ جنگ کی شدت میں اضافہ کرتا جائے گا۔ لیکن گو امریکہ بڑھتی ہوئی فرسٹریشن کا شکار ہے‘ پیچھے سے اسرائیل چونگیں مارتا رہے گا کہ ایران کو ختم کرنا حکم الٰہی کے مطابق ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جس دعا کا ذکر کیا ہے اس میں ایک پرانی کتاب سے ایسی ہی باتیں سنائی گئیں۔ یہ ہیں صہیونی عزائم اور مسلمان دنیا پتا نہیں کن بھول بھلیوں میں ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_80573045.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>خوف کا کمال(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-04-08/51727/81770332</link><pubDate>Wed, 08 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-04-08/51727/81770332</guid><description>آپ کا کیا خیال ہے کہ اسرائیل‘ ایران یا امریکہ کے درمیان کیا چیز مشترک ہے جس کو لے کر یہ تینوں جنگ لڑ رہے ہیں؟ اس سے بڑھ کر ایران‘ سعودی عرب‘ متحدہ عرب امارات‘ کویت‘ قطر اور دیگر ملکوں کے درمیان کیا ایسا سلسلہ ہے جس کی وجہ سے ان کے درمیان تعلقات خراب ہیں بلکہ بات اب خرابی سے نکل کر جنگوں اور حملوں تک پہنچ چکی ہے؟اس سے پہلے کہ اس سوال کا جواب میں اپنی سمجھ کے مطابق دینے کی کوشش کروں مجھے میکاولی کی شہرہ آفاق کتاب &#39;&#39;دی پرنس‘‘ کا ایک باب یاد آرہا ہے۔ اس میں اتالیق شہزادے کو کہتا ہے کہ اگر کل کلاں تمہیں یہ فیصلہ کرنا پڑے کہ تمہاری رعایا تم سے محبت کرے یا تم سے ڈرے‘ تو تم خوف سے حکومت کرنے کو ترجیح دینا۔ رعایا کو اگر آپ کا خوف ہو تو وہ آپ کے خلاف کوئی ایک بات بھی منہ سے نکالتے ہوئے ڈرتی ہے‘ بغاوت کا سوچنا تو دور کی بات ہے۔ تمہارا خوف انہیں دبائے رکھے گا۔ تم رعایا کے ساتھ محبت کے چکر میں نہ پڑ جانا ورنہ پچھتاؤ گے۔ اس لیے تاریخ میں اکثر بادشاہوں نے رعایا پر اپنے خوف‘ دہشت اور قتل و غارت کے ساتھ حکمرانی کی۔ جو بادشاہ ظالم تھے وہ لمبا عرصہ حکمران رہے‘ جو رحمدل بادشاہ تھا اس کے اپنے ہی قریبی ساتھیوں یا سرداروں نے بغاوت کر کے اسے قتل کر ڈالا بلکہ اس کے پورے خاندان کو ختم کر دیا۔انگلینڈ کے بادشاہ ہنری ہشتم کو ہی دیکھ لیں جس نے ظلم کی حدیں عبور کیں‘ اپنی تین بیویوں تک کو قتل کرایا‘ کسی مخالف کو معاف نہ کیا اور سب کے سر قلم کراتا چلا گیا۔ یہ الگ بات ہے کہ جب بوڑھا ہوا تو اس کے بدن سے اتنی بدبو آتی تھی کہ کوئی اس کے قریب نہیں جا سکتا تھا لیکن حکومت اس نے خوف اور دہشت کے ساتھ کی تھی۔ اس طرح دیکھا جائے تو ہندوستان میں دلّی سلطنت پر تین سو سال تک مسلمانوں نے حکومت کی۔ اس دوران کل 33 بادشاہ گزرے۔ ان میں سے تین بادشاہ ایسے تھے جو رحمدل یا نرم دل کے مالک تھے‘ تیس حکمران ویسے ہی ظالم اور بے رحم تھے جیسے ایک بادشاہ کو ہونا چاہیے۔ اندازہ کریں تین سو سال میں صرف تین بادشاہ رحم دل تھے۔ مطلب ایک سو سال میں صرف ایک بادشاہ اچھا نکلا اور اس کا دور بھی کم سے کم رہا۔ دیکھا جائے تو ایک بادشاہ کو حکومت کیلئے اوسطاً دس سال سے بھی کم عرصہ ملا اور بادشاہ بننے کیلئے کتنی جنگیں لڑیں‘ خون بہایا‘ قتل و غارت کی‘ اپنے ہی خاندان کا لہو بہایا‘ جیسے علاء الدین خلجی نے اپنے سگے چچا اور سسر جلال الدین خلجی کو قتل کر کے اقتدار پر قبضہ کیا تھا۔علاء الدین اور جلال الدین کی کہانی بھی سیزر اور بروٹس کی کہانی سے کم دردناک نہیں۔ بس ان دونوں چچا بھتیجے کو یہاں ہندوستان میں کوئی شیکسپیئر نہ مل سکا جو اس دھوکے کو عظیم شاہکار کی شکل دیتا‘ جیسے شیکسپیئر نے جولیس سیزر ڈرامہ لکھ کر ان کرداروں کو امر کر دیا۔ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ بروٹس دراصل سیزر کا بیٹا تھا۔ وہ اس کی محبوبہ کا بیٹا تھا جس نے اسے خنجر مارا تھا جس پر سیزر نے شکستہ دل کے ساتھ کہا: میرے دوست تم بھی؟ روم میں اسے دوست سے زیادہ سیزر کا بیٹا سمجھا جاتا تھا۔ یہی ملا جلا منظر جلال الدین خلجی پر بھی گزرا جب اس کے سگے بھتیجے علاء الدین نے اپنے خیمے میں داخل ہوتے اپنے چچا کو گلے ملتے وقت تلوار سینے میں گھونپ دی ۔ وہ چچا جس نے اپنے اس بھتیجے کو بچپن سے پالا تھا اور اپنے دل کا ٹکڑا‘ اپنی بیٹی کی اس سے شادی کی تھی‘ وہ وہیں کھڑا اپنے سینے سے لہو کی دھاریں بہتا دیکھتا رہا۔ اسے یقین نہیں آیا کہ علاء الدین نے اس پر تلوار کا وار کیا تھا۔ جب علاء الدین خلجی دلّی کے باہر جنگی مہم سے لوٹ کر واپس اپنی فوج کے ساتھ خیمہ زن ہوا تو جلال الدین کے قریبی سرداروں کا ماتھا ٹھنکا کہ ارادے ٹھیک نہیں لگتے۔ جلال الدین کو بتایا گیا تو وہ بولا: یہ کیا بات ہوئی‘ علاء الدین تو اس کا بچہ ہے۔ بھتیجا نہیں بیٹا ہے کہ اسے میں نے پالا پوسا ہے۔ میری بیٹی اس کے گھر میں ہے۔ وہ بھلا کیوں میرے خلاف کھڑا ہو گا؟ پھر جلال الدین اٹھ کھڑا ہوا اور بھتیجے سے ملنے چل پڑا۔ سب نے منع کیا کہ مت جائیں اس کے ارادے ٹھیک نہیں لگتے۔ جلال الدین یقین ہی نہیں کر سکتا تھا کہ اس کا بھتیجا اس کے خلاف کوئی قدم اٹھائے گا‘ مارنا تو دور کی بات ہے۔ سب کی باتوں کو جھٹلا کر جلال الدین خلجی بغیر محافظوں کے اس سے ملنے گیا کہ بھلا اپنے داماد یا بھتیجے سے کون محافظ لے کر ملنے جائے گا؟ جونہی جلال الدین خلجی خیمے میں داخل ہوا اور آواز دی: علاء الدین کدھر ہو؟ علاء الدین اٹھا اور بغیر کوئی لفظ بولے چچا کو وہیں مار ڈالا۔ ذرا تصور کریں کہ جلال الدین خلجی کا اس وقت مارے حیرانی کے کیا حال ہوا ہو گا۔ اس کے چہرے پر کیا تاثر ابھرا ہو گا۔ ایک لمحے میں اسے لگا ہو گا اس کے سردار ٹھیک کہہ رہے تھے۔ اس کے ساتھ دھوکا ہوا اور کرنے والا اپنا خون تھا۔ وہ علاء الدین کو اپنا بیٹا سمجھ کر آیا تھا لیکن وہ تو ہندوستان کا بادشاہ بننے کا فیصلہ کر چکا تھا اور اس کیلئے اپنے سسر اور چچا کو قتل کرنا ضروری تھا۔حکمرانی یا بادشاہت کسی کی سگی نہیں ہوتی اور نہ ہی بادشاہ کا کوئی دوست ہوتا ہے۔ بادشاہ کے سب حریف ہوتے ہیں‘ دشمن ہوتے ہیں۔ بادشاہ تھوڑا سا بھی غافل نہیں ہو سکتا کہ ساتھ ہی اس کا کوئی اپنا سگا یا سردار یا دوست آگے بڑھ کر گلا کاٹ دے گا۔ روم کے جنرل سیزر سے لے کر جلال الدین خلجی تک ایک ہی کہانی ہے‘ اور دونوں کا ایک جیسا انجام ہوا ۔ ایک کو مارنے والا اس کی محبوبہ کا بیٹا تھا تو دوسرے کو مارنے والا اس کا داماد تھا۔ ذرا تصور کریں اس عورت پر کیا گزری ہو گی جب اسے بتایا گیا ہو گا کہ اس کے خاوند نے اس کے باپ کو قتل کر دیا۔ وہ باپ جس نے اسے اپنے بچوں کی طرح پال پوس کر بڑا کیا تھا اور اپنی بیٹی اس کو دے دی تھی۔ لیکن اس بیٹے جیسے داماد کیلئے صرف ہندوستان کے تخت پر بیٹھنا اہم تھا‘ سگا چچا یا سسر نہیں۔ بادشاہوں کو خوف صرف اپنے مخالفین سے نہیں ہوتا تھا بلکہ ان اللہ والوں سے بھی ہوتا تھا جو اُن سے زیادہ عوام میں مقبول ہوتے تھے۔ مقبولیت کا خوف بھی قتل کا سبب بنتا تھا۔ غیاث الدین تغلق کو ہی دیکھ لیں جس نے حضرت نظام الدین اولیاء کو اپنے دربار میں بلایا۔ انہوں نے انکار کیا تو تغلق جنگی مہم پر جانے سے پہلے دھمکی دے کر گیا کہ واپسی پر نبٹ لوں گا۔ غیاث الدین کو یہ خوف لاحق ہو گیا تھا کہ بادشاہ تو وہ تھا لیکن نظام الدین اولیاء کا اثر و رسوخ اس سے زیادہ ہے۔ حضرت کو یہ پیغام پہنچایا گیا لیکن وہ مسکرا کر چپ رہے۔ جب غیاث الدین تغلق دلّی کے قریب پہنچا اور حضرت کو فکر مند مریدوں نے بادشاہ کی آمد کی اطلاع دی تو مسکرا کر انہوں نے وہ تاریخی جواب دیا تھا کہ: ہنوز دلّی دور است۔ وہی ہوا کہ غیاث الدین زندہ سلامت دلّی داخل نہ ہو سکا تھا۔ اس کو خوش آمدید کہنے کیلئے جو پویلین تعمیر کیا گیا تھا وہ گر گیا جس میں وہ جاں بحق ہو گیا۔ اس کی موت کو حضرت نظام الدین اولیاء کی کرامت سے تعبیر کیا گیا کہ وہ اللہ کے اس نیک بندے کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکا ۔ غیاث الدین جو پانچ سال حکمران رہا اور تغلق خاندان کی حکومت کی بنیاد رکھی ‘ وہ بھی اللہ کے نیک بندے سے خوفزدہ ہوگیا اور ان کی جان لینے پر تل گیا ۔ تو کیا جب خوف ایک حد سے بڑھ جائے تو پھر انسان دوسرے کی جان لینے پر تل جاتا ہے؟کیا امریکہ‘ اسرائیل‘ ایران یا خلیجی ریاستوں کی طویل دشمنی اور ان جنگوں کے پیچھے بھی وہی خوف ہے؟ کون کس سے کیوں خوفزدہ ہے‘ یہ لمبی کہانی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مڈل ایسٹ کا دیرپا سکیورٹی سٹرکچر(جاوید حفیظ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/javed-hafiz/2026-04-08/51728/80409141</link><pubDate>Wed, 08 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/javed-hafiz/2026-04-08/51728/80409141</guid><description>شرقِ اوسط کی جنگ نے نہ صرف خطے کو بلکہ پوری دنیا کو متاثر کیا ہے۔ تیل اور اشیائے صرف کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے۔ دنیا بھر میں حصص منڈیاں بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ خلیجی ممالک کی پریشانی روزانہ عرب چینلز پر عیاں ہوتی ہے۔ ایران کو صدر ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ ہماری بات نہ مانی تو پتھر کے زمانے میں واپس بھیج دیے جائو گے۔ صدر ٹرمپ نے کل یہاں تک کہہ دیا کہ آج رات ایران کی پوری تہذیب ہمیشہ کیلئے ختم ہوجائے گی۔ ایران میں تو تہذیب تب سے ہے جب امریکہ کا کسی کو پتا بھی نہیں تھا۔ مجھے تو یہ بات سوچ کر ہی کپکپی آتی ہے کہ فردوسی‘ حافظ اور شیخ سعدی کے وطن کو تباہ کر دیا جائے گا۔ لیکن رستم و سہراب کا ملک بہت بڑی طاقت کا کمال صبر اور دلیری سے سامنا کر رہا ہے۔سرکردہ عرب لیڈروں کو رام کرنے یا ختم کرنے کی پالیسی عرصے سے جاری ہے اور اس میں امریکہ اور اسرائیل کو کئی کامیابیاں بھی ملی ہیں۔ مصر کے انور سادات1973ء میں اسرائیل کیخلاف لڑے تھے۔1978ء میں کیمپ ڈیوڈ کے معاہدے کے بعد وہ مسلح جدوجہد سے علیحدہ ہو گئے۔ قاہرہ میں اسرائیلی سفارتخانہ کھل گیا‘ مصر کو خاطر خواہ امریکی امداد ملنے لگی۔ یاسر عرفات کو دو ریاستی حل کا جھانسا دیا گیا‘ اوسلو کا معاہدہ ہوا جس پر اسرائیل نے عمل نہیں کیا۔ جب فلسطینیوں نے دیکھا کہ یاسر عرفات مسلح جدوجہد ترک کر چکے ہیں تو حماس وجود میں آ گئی۔ گویا فلسطینی خاکستر میں چنگاری ابھی باقی تھی۔2004ء میں یاسر عرفات کی موت انتہائی پُراسرار طریقے سے ہوئی۔ شیخ احمد یٰسین‘ جو حماس کے بانی تھے‘ کو اسرائیل نے شہید کر دیا۔ 2003ء میں اسرائیل کے کہنے پر امریکہ نے عراق پر حملہ کیا کیونکہ صدام حسین فلسطینی حقوق کے حامی تھے۔ مہلک ہتھیاروں کے وجود کو بہانہ بنایا گیااور بعد میں عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی نے اعلانیہ تسلیم کیا کہ عراق کے پاس کیمیائی ہتھیار نہیں تھے اور الزام جھوٹا تھا۔ میں صدام حسین کا کبھی حامی نہیں رہا لیکن جس شان سے وہ پھانسی کے پھندے کی طرف گئے اس دلیری نے صدام حسین کو عربوں کا ہیرو بنا دیا۔ عراق جو صدام کے زمانے میں ایک مضبوط رفاہی ریاست تھا آج منقسم اور لاغر نظر آتا ہے۔ اسکے بعد لیبیا کے کرنل قذافی کی باری آئی۔ وہ بھی مغربی استعمار کیخلاف بولتے تھے اور فلسطینی حقوق کے پُرجوش حامی تھے۔ ایٹمی پروگرام بھی شروع کر چکے تھے‘ گو کہ بعد میں اس پروگرام سے تائب ہو گئے لیکن ان کی جان بخشی پھر بھی نہ ہو سکی۔ انہیں جس بہیمانہ طریقے سے مارا گیا یہ آپ اچھی طرح جانتے ہیں۔ لیبیا آج منقسم اور کمزور ہے اور فلسطینی حقوق کیلئے کھڑا ہونے کے قابل نہیں رہا۔ اسکے بعد شام کی باری آئی کہ 1973ء کی جنگ میں مصر کے ساتھ مل کر اسرائیل کے خلاف اس نے خوب لڑائی کی اور اس کے بعد بھی فلسطینیوں کے حق میں آواز اٹھاتا رہا۔2011ء میں شام میں خانہ جنگی شروع ہوئی اور ڈیڑھ عشرے تک چلی۔ ہزاروں شہری مارے گئے‘ لاکھوں در بدر ہوئے۔ خانہ جنگی میں امریکہ نے حکومت مخالف قوتوں کا بھرپور ساتھ دیا۔ کوئی سوا سال ہونے کو ہے‘ شام میں نئی حکومت آئی ہے۔ سابق صدر بشار الاسد روس میں بیٹھا ہے۔ شام میں اس وقت قدرے استحکام ہے لیکن ملک اتنا کمزور ہے کہ اس میں اسرائیل کے مقابلے کی سکت نہیں ۔ایران کے سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای کی شہادت اسرائیل کے خلاف پُرعزم مزاحمت ہی کا شاخسانہ ہے۔ اسلامی دنیا میں شیعہ سُنی کی تقسیم یقینا موجود ہے لیکن مغرب نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اس تقسیم کو گہرا کیا ہے۔ ایران‘ عراق جنگ میں مغربی ممالک صدام حسین کیساتھ کھڑے تھے۔ خلیجی ممالک نے بھی کھل کر عراق کی حمایت کی۔ اس کی بڑی وجہ یہی تھی کہ 1979ء کے ایرانی انقلاب کا ایک ہدف اس انقلاب کو دیگر ممالک کی جانب ایکسپورٹ کرنا بھی تھا۔ خلیجی ممالک کے حکمران اس بات سے سخت خائف تھے۔ ایران عراق جنگ کے ردعمل کے طور پر ہی 1981ء میں خلیج تعاون کونسل بنی۔ اس تنظیم کا ہیڈ کوارٹر ریاض میں ہے۔ اقتصادی اور دفاعی تعاون اس تنظیم کے بنیادی مقاصد ہیں۔ 2012ء میں سعودی عرب نے تجویز دی کہ خلیج تعاون کونسل کا نام خلیج یونین رکھا جائے‘ عسکری تعاون بڑھایا جائے اور جزیرہ نما شیلڈ فورس (درع الجزیرہ) کے تحت ممبر ممالک کی مسلح قوت کو یکجا کیا جائے۔ اس تجویز کو خلیجی نیٹو بھی کہا جا سکتا ہے‘ لیکن اس پر اتفاقِ رائے نہ ہو سکا۔ اب قطر اور ایران نے حال ہی میں تجویز دی ہے کہ خلیجی خطے میں مسلم ممالک کا سکیورٹی اتحاد بننا چاہیے۔ اس تجویز پر خلیجی ممالک کا کوئی ردِعمل نہیں آیا۔ بڑی وجہ یہ ہے کہ عرب ممالک فی الحال اپنے دفاع میں الجھے ہوئے ہیں اور ان پر گولہ باری ایران کی جانب سے ہو رہی ہے۔ حالیہ جنگ کا ایک بڑا نقصان یہ ہوا ہے کہ ایرن عرب تنائو جو ماضی قریب میں خاصا کم ہو گیا تھا‘ پھر بڑھ گیا ہے۔ مجھے یہ بات بھی سمجھ نہیں آئی کہ ایران نے عمان پر حملے کیوں کیے؟ معتدل مزاج عمانی حکمرانوں نے ایران کے ساتھ ہمیشہ دوستانہ تعلقات رکھے اور قطر کے بھی ایران کے ساتھ تعلقات بہت اچھے رہے ہیں‘ لیکن اب پھر سے دوریاں نظر آ رہی ہیں۔ دراصل قطر میں امریکی فضائیہ کا ایک بڑا اڈا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ امریکی حملوں میں اس اڈے کی لاجسٹک سپورٹ شامل ہوتی ہے۔ خلیج کے بارے میں ایرانی عسکری پالیسی کا اہم نکتہ یہ ہے کہ خطے میں بیرونی عسکری وجودنہیں ہونا چاہیے۔ یہ رائے خاصی صائب ہے۔ عرب ممالک میں بھی بیرونی عسکری وجود اور اس کی افادیت کے بارے سوال اٹھنا شروع ہو گئے ہیں۔ اپنے دفاع کیلئے دوسروں پر انحصار کرنا بڑی غلطی ہوتی ہے۔ ماضی میں جب بھی اس قسم کی تجویز پر غور ہوا تو عربوں کو تحفظات اس زاویے سے بھی تھے کہ ایسی تنظیم میں ایران سب سے بڑا اور نمایاں ملک ہوگا اور چھوٹے ممبر ممالک کی آوازدب کر رہ جائے گی‘ لیکن اگر پاکستان‘ ترکیہ اور مصر اس دفاعی اتحاد میں شامل ہو جائیں تو تنظیم میں خاصا توازن آ سکتا ہے۔بھارت اور اسرائیل کی بھی تمنا ہے کہ خلیجی خطے میں انکا اثر ورسوخ بڑھے۔ جب ابراہم اکارڈ ہوا تو اسرائیل کی تمنا کسی حد تک پوری ہوتی ہوئی نظر آئی۔ چند سال پہلے او آئی سی کا ایک اجلاس ایک خلیجی ملک میں ہوا تھا‘ جس میں بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کو مہمانِ خصوصی کے طور پر بلایا گیا تھا۔ اُس وقت کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اس اجلاس کا بائیکاٹ کیا تھا۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو متعدد خلیجی ممالک نے اعلیٰ ترین سول ایوارڈز دیے ہیں۔ دراصل ہندوتوا اور صہیونیت میں کئی قدریں مشترک ہیں۔ دونوں انتہائی متعصب توسیع پسند نظریات ہیں۔ انڈیا اَکھنڈ بھارت کا تمنائی ہے تو اسرائیل گریٹر اسرائیل کا خواب دیکھ رہا ہے۔ صہیونی کہتے ہیں کہ دجلہ اور فرات کی درمیانی زمین کا اللہ نے ہمارے ساتھ وعدہ کیا ہوا ہے۔ ہندوتوا پر یقین رکھنے والے انڈین کہتے ہیں کہ پاکستان بننے سے گائو ماتا کے دو ٹکڑے ہو گئے۔ اسلام دشمنی دونوں کا مشترکہ ایجنڈا ہے۔ مسلم ورلڈ کا تحفظ باہمی تعاون اور اتحاد ہی میں ہے۔ اس نئے عسکری اتحاد میں ایران‘ پاکستان‘ ترکیہ‘ مصر اور جی سی سی ممالک شامل ہونے چاہئیں۔ اس سے شیعہ سنی کی تفریق بھی مدہم پڑ جائے گی۔ ان ممالک کو بخوبی علم ہے کہ اسرائیل مسلمانوں کو مارتے ہوئے شیعہ سنی کی تفریق نہیں کرتا۔انڈیا میں 12فیصد سے زائدمسلمان ہیں مگر کابینہ میں ایک بھی مسلمان نہیں۔ اب تک امریکہ‘ برطانیہ اور فرانس عرب ممالک کو ایران کا ہوّا دکھا کر اسلحہ بیچتے رہے ہیں‘اس اتحاد کے بعد یہ ممکن نہیں ہو گا۔ ترکیہ ٹیکنالوجی میں خاصا آگے ہے‘ ایران میزائل اور ڈرون بنا رہا ہے۔ پاکستان جے ایف 17تھنڈر بنا رہا ہے۔ خلیجی ممالک کے ساتھ مل کر ہم خطے کا دفاع ناقابلِ تسخیر بنا سکتے ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_85338835.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>عام آدمی کی مشکلات(سلمان غنی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/salman-ghani/2026-04-08/51729/66531898</link><pubDate>Wed, 08 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/salman-ghani/2026-04-08/51729/66531898</guid><description>امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے ایران پر جنگ مسلط کیے جانے سے پہلے بھی پاکستان میں عام آدمی شدید معاشی بحران کا شکار  تھا‘ اس کی معاشی زندگی میں آسانیاں کم اور مشکلات بڑھتی جا رہی تھیں‘ وہ حکومت سے مطمئن نہیں تھا اور اس کا اعتماد بتدریج کمزور ہوتا جا رہا تھا۔ تاہم امریکہ ایران جنگ شروع ہونے کے بعد سے عالمی سطح پر جو معاشی بے یقینی کی صورتحال پیدا ہوئی اس کے منفی اثرات پاکستان میں پوری شدت کے ساتھ محسوس کیے جا رہے ہیں اور ان اثرات نے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ اگرچہ حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے لیکن اس اضافے کے اثرات ہمہ گیر ہیں۔ پٹرولیم مصنوعات اور ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے سے نہ صرف بجلی مزید مہنگی ہونے کا خدشہ بڑھا ہے بلکہ مہنگائی کی ایک نئی اور شدید لہر بھی جنم لے چکی ہے۔ حکومت کے مطابق وہ کوشش کررہی ہے کہ ان غیرمعمولی حالات میں عام آدمی پر کم سے کم بوجھ ڈالا جائے‘ کفایت شعاری مہم کو بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی بتایا جاتا ہے اور حالیہ دنوں پٹرول کی قیمتوں کو 458روپے فی لٹر تک بڑھا کر پھر اس میں 80 روپے فی لٹر کی کمی بھی اسی پالیسی کا تسلسل ہے۔ تاہم عوام میں بے چینی اور غصہ پایا جاتا ہے اور یہ خدشہ بڑھ رہا ہے کہ اگر عالمی سطح پر کشیدگی کم نہ ہوئی تو ملک میں معاشی بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے۔عالمی بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق اس جنگ کے نتیجے میں دنیا بھر میں خوراک کا شدید بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے‘ جس نے ترسیل کے نظام کو بھی متاثر کیا ہے۔ پاکستان اور اس جیسے دیگر ممالک‘ جو پہلے ہی سیاسی اور معاشی کمزوریوں کا شکار تھے‘ اس صورتحال سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ حکمران ان حالات سے نمٹنے کیلئے سر جوڑ کر بیٹھے ہیں کیونکہ نہ صرف ان پر دباؤ بڑھ رہا ہے بلکہ عوامی تنقید میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ ان حالات سے نمٹنے کیلئے سخت اور غیرمقبول فیصلے ناگزیر ہیں‘ مگر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سیاسی اشرافیہ ان فیصلوں سے گریزاں ہے۔ حکومتی اور بیوروکریسی کی سطح پر شاہانہ طرزِ حکمرانی میں وہ کمی نظر نہیں آ رہی جو وقت کا تقاضا ہے۔ وزیراعظم کے کفایت شعاری کے اعلان پر بھی مکمل اور مؤثر عملدرآمد نظر نہیں آ رہا جبکہ صوبائی سطح پر بھی کارکردگی میں واضح خلا دکھائی دیتا ہے۔ پنجاب میں مریم نواز بطور وزیراعلیٰ سرگرم دکھائی دیتی ہیں‘ جنہوں نے پبلک ٹرانسپورٹ کو عارضی طور پر مفت کرنے اور موٹر سائیکل سواروں کیلئے پٹرول پر سبسڈی دینے جیسے اقدامات کا اعلان کیا‘ مگر ان فیصلوں پر عملدرآمد کی رفتار اور ان کے مؤثر ہونے پر اب بھی سوالیہ نشان ہے۔موجودہ حالات میں اصل مسئلہ ملک میں بڑھتی ہوئی بیروزگاری اور معاشی عدم استحکام ہے‘ جو خصوصاً نوجوانوں کو شدید متاثر کر رہا ہے۔ حکومت کے پاس روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کی صلاحیت محدود ہے جبکہ روزگار کے موجود مواقع بھی سکڑتے جا رہے ہیں۔ بیروزگار نوجوان شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں اور جو برسرِ روزگار ہیں وہ بھی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہیں۔ ایسے میں یہ سوال اہم ہے کہ یہ نوجوان کہاں جائیں اور کس پر اعتماد کریں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے نظامِ حکمرانی کا سنجیدہ اور غیر جانبدارانہ جائزہ لیں۔ بدقسمتی سے نہ بڑے پیمانے پر صنعتیں لگ رہی ہیں اور نہ ہی چھوٹے کاروبار کیلئے سازگار ماحول فراہم کیا جا رہا ہے۔ جو لوگ اپنی مدد آپ کے تحت کاروبار شروع کرنا چاہتے ہیں انہیں بھی بیوروکریٹک رکاوٹوں اور غیر یقینی پالیسیوں کا سامنا ہے۔ حکومتی سطح پر معاشی پروگرام تو سامنے آتے ہیں مگر وہ اکثر و بیشتر بدعنوانی اور ناقص عملدرآمد کی نذر ہو جاتے ہیں۔ درحقیقت پاکستان کو مختلف شعبوں میں ہمہ گیر اصلاحات کی ضرورت ہے۔ آئی ایم ایف اور دیگر عالمی مالیاتی ادارے بارہا اس پر زور دے چکے ہیں کہ سیاسی‘ سماجی اور معاشی اصلاحات کے بغیر پاکستان معاشی طور پر آگے نہیں بڑھ سکتا۔ مگر ہمارا کمزور اور غیرمستحکم سیاسی نظام ان اصلاحات کیلئے درکار سنجیدگی اور تسلسل کا مظاہرہ نہیں کر پا رہا۔یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ حکومتی ترجیحات میں عام آدمی کہیں پیچھے رہ گیا ہے۔ نظامِ حکومت بظاہر طاقتور طبقات کے مفادات کا زیادہ تحفظ کرتا نظر آتا ہے جبکہ کمزور اور متوسط طبقہ خود کو نظر انداز محسوس کر رہا ہے۔ مسئلہ کسی ایک حکومت کا نہیں مجموعی نظام کا ہے‘ جو اپنی افادیت کھورہا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ سنجیدہ اور عملی اقدامات کے ذریعے عوام کو حقیقی معاشی ریلیف فراہم کیا جائے۔ سیاسی استحکام معاشی ترقی کیلئے بنیادی شرط ہوتا ہے مگر پاکستان میں نہ تو سیاسی نظام مستحکم ہے اور نہ ہی پالیسیوں میں تسلسل پایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چاہے بیرونی جنگیں ختم بھی ہو جائیں‘ داخلی مسائل اپنی جگہ برقرار رہیں گے۔ بڑھتی ہوئی معاشی ناہمواریاں معاشرتی بے چینی اور انتہا پسندی کو بھی ہوا دے رہی ہیں۔ ایسے میں ضروری ہے کہ ہم چین کے تجربات سے سیکھیں‘ جنہوں نے دیر پا منصوبہ بندی‘ تسلسل اور مؤثر عملدرآمد کے ذریعے غربت میں کمی اور معاشی استحکام حاصل کیا ہے۔مہنگائی اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے عام آدمی کی زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ نقل و حمل کے اخراجات بڑھنے سے نہ صرف روزمرہ زندگی متاثر ہوئی ہے بلکہ قوتِ خرید بھی محدود ہو گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انصاف کی عدم فراہمی بھی بہت بڑا مسئلہ ہے۔ عدالتی نظام پر عوام کا اعتماد کمزور ہو رہا ہے کیونکہ کمزور طبقہ خود کو انصاف سے محروم محسوس کرتا ہے۔ سیاسی‘ عدالتی اور معاشی اصلاحات کا فقدان مجموعی طور پر جمہوری نظام کو غیرمؤثر بنا رہا ہے۔ جمہوری نظام اسی وقت مضبوط ہوتا ہے جب وہ عوام کو ریلیف فراہم کرے اور ان کا اعتماد حاصل کرے مگر موجودہ حالات میں یہ اعتماد کمزور ہو رہا ہے۔ آئین بنیادی حقوق کی ضمانت دیتا ہے مگر جب یہ حقوق عملی طور پر میسر نہ ہوں تو ریاست اور عوام کے درمیان تعلق کمزور ہو جاتا ہے۔ اعتماد دو طرفہ عمل ہے‘ جو اسی وقت مضبوط ہوتا ہے جب نظام عوام کے ساتھ کھڑا ہو اور ان کے مسائل کے حل میں سنجیدہ نظر آئے۔ ضروری ہے کہ حکمران طبقہ اپنی پالیسیوں پر ازسرِ نو غور کرے اور عوام دوست حکمت عملی اپنائے۔ عوام اور حکمرانوں کے درمیان اعتماد کی بحالی ناگزیر ہے۔ جب تک یہ اعتماد بحال نہیں ہو گا نہ سیاسی نظام مستحکم ہو گا اور نہ ہی معیشت ترقی کرے گی۔ عوام کو یہ یقین دلانا ہو گا کہ حکمران ان کے مسائل سے آگاہ ہیں اور ان کے حل کیلئے عملی اقدامات کر رہے ہیں۔ معاشی ترقی کیلئے ضروری ہے کہ عوام کو نئے مواقع فراہم کیے جائیں اور حکمران خود بھی قربانی کی مثال قائم کریں۔ کفایت شعاری کی مہم اسی وقت مؤثر ہو سکتی ہے جب حکمران اور عوام شریک ہوں۔ اگر عوام سے قربانی کا تقاضا کیا جاتا ہے تو حکمرانوں کو بھی عملی طور پر سادگی اور کفایت شعاری کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔صوبائی حکومتوں پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے عوام کو ریلیف فراہم کریں۔ اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ ذمہ داری کا بوجھ ایک دوسرے پر ڈالا جاتا ہے‘ جس سے وفاق اور صوبوں کے درمیان تناؤ پیدا ہوتا ہے۔ اس طرزِ عمل سے مسائل حل ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔ بلدیاتی نظام کی کمزوری بھی عوامی مسائل میں اضافے کا باعث ہے۔ اگر مقامی حکومتیں مضبوط ہوں اور انہیں سیاسی‘ انتظامی اور مالی اختیارات حاصل ہوں تو عوام کو نچلی سطح پر بہتر سہولیات فراہم کی جا سکتی ہیں۔ خصوصاً پنجاب میں بلدیاتی نظام کی عدم موجودگی ایک بڑا خلا ہے جبکہ دیگر صوبوں میں بھی مقامی ادارے مکمل خودمختاری سے محروم ہیں‘ جس کی وجہ سے وہ مؤثر کردار ادا نہیں کر پا رہے۔پاکستان کو اپنے گورننس کے ڈھانچے میں بنیادی اور پائیدار اصلاحات کی ضرورت ہے۔ ان اصلاحات کا مرکز عام آدمی ہونا چاہیے تاکہ اس کی زندگی میں حقیقی بہتری آ سکے۔ یہی وہ راستہ ہے جس سے ریاست اور عوام کے درمیان کمزور ہوتا ہوا اعتماد بحال کیا جا سکتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/230_37874475.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>معاشی بحران یا پالیسیوں کا تضاد؟(محمد حسن رضا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-hasan-raza/2026-04-08/51730/96041321</link><pubDate>Wed, 08 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-hasan-raza/2026-04-08/51730/96041321</guid><description>دنیا اس وقت ایک بڑے معاشی‘ سیاسی اور جغرافیائی موڑ سے گزر رہی ہے جہاں عالمی معیشتیں نئی صف بندی میں مصروف ہیں‘ توانائی کے متبادل ذرائع تلاش کیے جا رہے ہیں‘ سپلائی چینز کو ازسرنو ترتیب دیا جا رہا ہے‘ ڈیجیٹل معیشت تیزی سے پھیل رہی ہے اور ریاستیں اپنی بقا کیلئے مشکل  مگر ناگزیر فیصلے کر رہی ہیں مگر پاکستان میں صورتحال اس کے برعکس ہے‘ جہاں حقیقت کا سامنا کرنے کے بجائے بیانات‘ دعوؤں اور وقتی اعلانات کے ذریعے معیشت کو سہارا دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔گزشتہ چند برسوں پر نظر ڈالیں تو نگران حکومت ہو‘ اس سے پہلے کی پی ڈی ایم حکومت ہو یا موجودہ سیٹ اَپ‘ سب نے ایک ہی بیانیہ اپنایا کہ معیشت کو درست کیا جا رہا ہے‘ عوام کو ریلیف دیا جائے گا اور ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جائے گا۔ مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ نہ صرف یہ دعوے پورے نہیں ہو سکے بلکہ حالات مزید بگڑتے چلے گئے‘ عوامی مشکلات میں نمایاں اضافہ ہوا اور ریاستی ترجیحات کا رخ واضح طور پر اشرافیہ کی طرف جھکتا ہوا نظر آتا ہے۔ آج‘ رواں مالی سال میں 19 ارب 56کروڑ ڈالر سے زائد کی بیرونی ادائیگیاں کرنی ہیں۔ یہ وہ بوجھ ہے جس کا براہِ راست اثر قومی معیشت اور بالآخر عام شہری پر پڑتا ہے کیونکہ جب ریاست کے پاس وسائل کم ہوتے ہیں تو وہ ٹیکسوں میں اضافہ کرتی ہے‘ سبسڈیز کم کرتی ہے اور مہنگائی کا بوجھ عوام پر منتقل کر دیتی ہے‘ یہی کچھ اس وقت ہو رہا ہے۔دوسری طرف ریاستی ملکیتی اداروں کی کارکردگی دیکھیں تو مالی سال 2024-25ء میں ان اداروں کا مجموعی خسارہ 832ارب روپے تک پہنچ چکا ہے جبکہ 107ایسے ادارے ہیں جو قومی خزانے پر مسلسل بوجھ بنے ہوئے ہیں‘ مگر ان کی اصلاح یا نجکاری کے حوالے سے کوئی سنجیدہ اور مؤثر پالیسی سامنے نہیں آئی۔ اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ ان اداروں سے اشرافیہ کے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔ اشرافیہ کو گزشتہ دو برسوں میں ہزاروں ارب روپے کے ٹیکس استثنیٰ دیے گئے۔ مالی سال 2022-23ء اور 2023-24ء میں مختلف شعبوں کو انکم ٹیکس کی مد میں 1022 ارب روپے‘ سیلز ٹیکس کی مد میں 2757 ارب روپے‘ کسٹمز ڈیوٹی میں 1195 ارب روپے‘ توانائی اور کان کنی کے شعبے میں 107 ارب روپے‘ ہاؤسنگ اور پبلک ڈویلپمنٹ میں 44 ارب روپے کے لگ بھگ اور آئی ٹی کے شعبے میں پانچ ارب روپے سے زائد کی چھوٹ دی گئی۔ دوسری طرف وہ عام شہری ہے جو ہر خریداری پر ٹیکس دیتا ہے‘ ہر بل میں ٹیکس دیتا ہے‘ پٹرول کے ہر لٹر پر ٹیکس دیتا ہے اس کے باوجود اسے کسی قسم کا ریلیف نہیں ملتا۔ یہی وہ تضاد ہے جو ملکی نظام کو کھوکھلا کر رہا ہے۔یونیسف کے مطابق پاکستان میں اڑھائی کروڑ سے زائد بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ یہ محض ایک عدد نہیں بلکہ ایک ایسا المیہ ہے جو آنے والے برسوں میں معیشت‘ معاشرت اور قومی ترقی کیلئے بڑا خطرہ بن سکتا ہے مگر حکومت کیلئے تعلیم کے بجائے مراعات اہم ہیں۔ ایک طرف کروڑوں بچے تعلیم سے محروم ہیں دوسری طرف سرکاری افسران کیلئے کروڑوں روپے کے گھر تعمیر کیے جا رہے ہیں۔ کیا ریاست اپنے وسائل کا منصفانہ استعمال کر رہی ہے؟ حکومت کی جانب سے کفایت شعاری کے بلند بانگ دعوے کیے جاتے ہیں مگر عملی طور پر صورتحال اس کے برعکس ہے۔ وزیراعظم‘ وزرائے اعلیٰ‘ گورنرز اور وزرا کے پروٹوکول میں کمی کے بجائے اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ سڑکیں بند ہوتی ہیں‘ روٹس لگتے ہیں‘ سکیورٹی اخراجات بڑھتے ہیں مگر عوام کو یہی کہا جاتا ہے کہ اخراجات کم کریں‘ بجلی بچائیں‘ گیس کم استعمال کریں۔ یہ دہرا معیار اب کھل کر سامنے آ چکا ہے۔توانائی کے شعبے کی صورتحال مزید تشویشناک ہے۔ پٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے‘ ایک دن قیمت بڑھتی ہے اور اگلے دن چند روپے کم کر کے ریلیف کا اعلان کر دیا جاتا ہے۔ یہ وہی پرانا طریقہ کار ہے جس کے ذریعے عوام کو وقتی طور پر مطمئن کرنے کی کوشش کی جاتی ہے مگر اصل بوجھ برقرار رہتا ہے۔ قطر سے ایل این جی سپلائی متاثر ہونے کے بعد گیس بحران سنگین ہو گیا ہے اور گھریلو صارفین کو گیس کی فراہمی میں ایک گھنٹہ مزید کمی کی جا رہی ہے۔ کیا یہ وہی ملک ہے جہاں کبھی گیس کی فراوانی تھی؟ تعلیم کا شعبہ بھی مہنگائی کی زد میں ہے۔ پٹرول مہنگا ہونے سے کاغذ پچیس روپے فی کلو مہنگا ہو چکا ہے جس کے باعث درسی کتب کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ رواں برس پہلے ہی درسی کتب کی قیمتوں میں 20 فیصد اضافہ ہو چکا ہے‘ جو اَب 50 فیصد تک جانے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ یعنی ایک طرف بچے سکولوں سے باہر ہیں اور دوسری طرف جو سکول جا رہے ہیں ان کیلئے تعلیم مزید مہنگی ہو رہی ہے۔صحت کے شعبے میں بھی یہی صورتحال ہے جہاں پٹرول مہنگا ہونے سے سرکاری ہسپتالوں کے بجٹ متاثر ہو چکے ہیں۔ ایمبولینسز‘ جنریٹرز اور دیگر ضروری سہولتوں کے اخراجات بڑھ گئے ہیں اور کئی ہسپتال پہلے ہی کروڑوں روپے کے خسارے کا شکار ہیں۔ امن و امان کی صورتحال پر بھی سوالیہ نشان لگ چکا ہے۔ سکھر ملتان موٹروے کے تقریباً دو سو کلومیٹر حصے سے کیمرے‘ سولر پلیٹیں‘ لائٹس اور دیگر قیمتی سامان کا چوری ہو جانا بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست اپنی بنیادی ذمہ داری بھی پوری نہیں کر پا رہی۔ اگر قومی شاہراہیں محفوظ نہیں تو پھر عام شہری کیسے محفوظ ہوگا؟بیروزگاری اور معاشی دباؤ کے باعث برین ڈرین تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے۔ نوجوان‘ ڈاکٹر‘ انجینئرز اور آئی ٹی ماہرین ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں کیونکہ انہیں یہاں اپنا مستقبل محفوظ نظر نہیں آتا۔ وہ دیکھ رہے ہیں کہ یہاں قابلیت سے زیادہ تعلق اہم ہے‘ محنت سے زیادہ پی آر کام آتی ہے اور یہی وہ احساس ہے جو انہیں ملک چھوڑنے پر مجبور کرتا ہے۔ حکومت کی پالیسیوں کا ایک اور پہلو بھی سامنے آیا ہے جہاں یوٹیوبرز اور ڈیجیٹل کریئیٹرز پر ٹیکس لگانے کی بات کی جا رہی ہے۔ ہر ایک ہزار ویوز پر 195 روپے ٹیکس کی تجویز دی گئی ہے‘ یعنی جو نوجوان ڈیجیٹل معیشت میں کچھ کماتا ہے اسے بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے‘ مگر وہ بڑے شعبے جہاں اربوں روپے کی ٹیکس چوری ہوتی ہے وہاں خاموشی اختیار کی جاتی ہے۔ یہی وہ دہرا معیار ہے جو عوام میں بے چینی پیدا کر رہا ہے۔اگر حکومت واقعی ملک کیلئے کچھ کرنا چاہتی ہے تو اسے سب سے پہلے کسٹمز کے نظام کو درست کرنا ہو گا جہاں مبینہ طور پر اربوں روپے کی کرپشن ہوتی ہے۔ ایسے ایسے سکینڈلز سامنے آئے ہیں کہ انسان حیران رہ جاتا ہے کہ کس طرح سامان کی انڈر انوائسنگ اور دیگر طریقوں سے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا جاتا ہے‘ مگر ان معاملات پر سنجیدگی سے کام نہیں کیا جاتا کیونکہ وہاں بھی طاقتوروں کے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی معیشت پہلے ہی کمزور تھی مگر اب مزید بگاڑ کا شکار ہے۔ اگر عالمی سطح پر حالات بہتر بھی ہو جائیں‘ جنگ بندی بھی ہو جائے‘ اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہو جائیں تب بھی پاکستان کو اصلاحات کے بغیر کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ ہمیں کئی سال درکار ہوں گے اس بگاڑ کو درست کرنے میں‘ اور وہ بھی تب جب نیت درست ہو‘ بصورت دیگر یہی صورتحال برقرار رہے گی جہاں اشرافیہ کو مزید نوازا جائے گا اور عوام کو مزید بوجھ اٹھانا پڑے گا۔یہ تمام صورتحال ایک بنیادی سوال کو جنم دیتی ہے کہ حکومت آخر کس کیلئے ہے؟ کیا یہ عوام کیلئے ہے جو ٹیکس دیتے ہیں‘ مشکلات برداشت کرتے ہیں اور اس نظام کو چلانے کا بوجھ اٹھاتے ہیں یا یہ اشرافیہ کیلئے ہے جو مراعات حاصل کرتی ہے‘ ٹیکس سے استثنیٰ لیتی ہے اور پالیسیوں پر اثر انداز ہوتی ہے؟ جب تک اس سوال کا واضح جواب نہیں دیا جاتا اور عملی اقدامات نہیں کیے جاتے‘ تب تک یہ تضاد برقرار رہے گا اور یہی تضاد اس ملک کی سب سے بڑی فالٹ لائن بنتا جائے گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/229_33941343.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>علاج معالجہ اور شرعی تعلیمات(علامہ ابتسام الہٰی ظہیر )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-04-08/51731/41204599</link><pubDate>Wed, 08 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-04-08/51731/41204599</guid><description>ہر انسان ہمیشہ تندرست رہنا چاہتا ہے لیکن اس کے باوجود بہت سے لوگوں کو زندگی میں مختلف بیماریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان بیماریوں کا علاج دنیا میں مختلف طریقوں سے کیا جاتا ہے۔ ایلوپیتھک‘ ہومیو پیتھک اور یونانی طب پوری دنیا میں علاج کے معروف طریقے ہیں۔ اس کے علاوہ آکو پنکچر کا طریقۂ علاج بھی دنیا میں معروف ہے۔ آج سے چند دہائیاں قبل ملتان کے ایک حکیم نے علاج بالغذا کے طریقے پر بھرپور توجہ دی اور یہ طریقۂ علاج حکمت کی دنیا میں ایک انقلابی قدم ثابت ہوا۔ آج بہت سے معروف حکیم اس طریقے سے بیماریوں کا علاج کر رہے ہیں۔ اسی طریقۂ علاج سے ملتا جلتا طریقہ ڈائٹ اور نیوٹریشن پلان کے تحت کالجوں اور یونیورسٹیوں میں پڑھایا جا رہا ہے اور بہت سے ماہرین اس طریقۂ علاج پر بھرپور توجہ دے رہے ہیں۔علاج کرانا نبی کریمﷺ کی سنت سے ثابت ہے اور آپﷺ نے اپنی امت کی علاج ومعالجے کے ضمن میں بہت خوبصورت رہنمائی فرمائی ہے۔ نبی کریمﷺ کی ایک حدیث پاک سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے کسی بھی بیماری کو لاعلاج نہیں رکھا۔ صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا &#39;&#39;اللہ تعالیٰ نے کوئی ایسی بیماری نہیں اتاری جس کی دوا بھی نازل نہ کی ہو‘‘۔ نبی کریمﷺ نے اللہ تبارک وتعالیٰ کے اس حکم پر بھرپور انداز میں عمل کیا کہ کھائو اور پیو اور اسراف نہ کرو۔ نبی کریمﷺ‘ آپ کے اہلِ خانہ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کھانے پینے کے حوالے سے سادگی اور اعتدال سے کام لیا کرتے تھے۔ نبی کریمﷺ کے طبی اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے امام ابن قیمؒ نے طبِ نبوی کے عنوان سے ایک جامع کتاب مدون کی ہے جس کو پڑھ کر انسان بہت سی بیماریوں پر قابو پانے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔ مذکورہ بالا نکات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ انسان کو اپنی بیماریوں کا علاج کرانے کی بھرپور کوشش کرنی چاہیے اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ تبارک وتعالیٰ سے شفایابی کی امید بھی رکھنی چاہیے۔ بیماریوں کے علاج کیلئے جہاں مختلف طبی طریقے اختیار کرنا ضروری ہے‘ وہیں کتاب وسنت کے مطالعے سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ بہت سی روحانی تدابیر کو اختیار کر کے بھی انسان کئی بیماریوں سے محفوظ رہ سکتا اور ان پر قابو پا سکتا ہے۔ اس حوالے سے بعض اہم تدابیر درج ذیل ہیں:1۔ دعا: جب انسان بیمار ہوتا ہے تو اسے اللہ تبارک وتعالیٰ کی بارگاہ میں کثرت سے دعا مانگنی چاہیے۔ سورۃ الانبیاء میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے حضرت ایوب علیہ السلام کی ایک بیماری کا ذکر کیا۔ حضرت ایوب علیہ السلام نے بیماری کے طول پکڑنے کے بعد اللہ تبارک وتعالیٰ کی بارگاہ میں آ کر دعا مانگی تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کی بیماری کو دور فرما دیا۔ چنانچہ ہمیں قبولیت کے اوقات میں شفایابی کیلئے دعا مانگتے رہنا چاہیے۔2۔ توبہ واستغفار: جب انسان کثرت سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ اس کی پریشانیوں اور تکالیف کو دور کر دیتے ہیں۔3۔ تقویٰ: سورۃ الطلاق میں مذکور ہے کہ جب انسان تقویٰ اختیار کرتا ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ اس کی تنگیوں کو دور فرما دیتے ہیں۔4۔ توکل: سورۃ الطلاق ہی میں اللہ تعالیٰ اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ جب انسان اللہ پر بھروسہ کرتا ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ اس کے لیے کافی ہو جاتے ہیں۔5۔ قرآن مجید کی تلاوت: قرآن مجید کی تلاوت اور دَم سے بھی انسان کی بیماریاں دور ہوتی ہیں۔ گو کہ مکمل قرآن مجید ہی شفا ہے لیکن قرآن مجید کے بعض حصوں میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے خصوصی تاثیر رکھی ہے۔ اس حوالے سے چند اہم حصوں پر توجہ دینا انتہائی ضروری ہے۔ (الف) سورۃ الفاتحہ: سورۃ الفاتحہ میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے جملہ امراض کی شفا رکھی ہے۔ صحیح بخاری میں حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ کے چند صحابہ در حالتِ سفر عرب کے ایک قبیلہ پر گزرے۔ قبیلہ والوں نے ان کی ضیافت نہیں کی۔ کچھ دیر بعد اس قبیلہ کے سردار کو بچھو نے کاٹ لیا۔ اب قبیلہ والوں نے صحابہ کرامؓ سے پوچھا کہ آپ لوگوں کے پاس کوئی دوا یا کوئی دم کرنے والا ہے؟ صحابہ کرام نے کہا کہ تم لوگوں نے ہمیں مہمان نہیں بنایا اور اب ہم اس وقت تک دَم نہیں کریں گے جب تک تم ہمارے لیے اس کی مزدوری نہ مقرر کر دو؛ چنانچہ ان لوگوں نے چند بکریاں دینا منظور کر لیں پھر (حضرت ابوسعید خدریؓ) سورۃ الفاتحہ پڑھنے لگے اور اس پر دَم کرنے میں لعاب بھی اس کے زخم پر لگانے لگے۔ اس سے وہ شخص ٹھیک ہو گیا۔ چنانچہ قبیلہ والے بکریاں لے آئے لیکن صحابہ کرام نے کہا کہ جب تک ہم نبی کریمﷺ سے اجازت نہ لے لیں‘ یہ بکریاں نہیں لے سکتے۔ پھر جب آنحضورﷺ سے پوچھا گیا تو آپﷺ مسکرائے اور فرمایا: تمہیں کیسے معلوم ہو گیا کہ سورۂ فاتحہ سے دم بھی کیا جا سکتا ہے‘ ان بکریوں کو لے لو‘‘۔ سنن ابودائود میں حضرت علاقہ بن صحار تمیمیؓ سے روایت ہے کہ وہ ایک قوم کے پاس سے گزرے تو وہ لوگ ان کے پاس آئے اور کہا: تم اُس شخص (رسول اللہﷺ) کے پاس سے خیر ( قرآن اور ذکر اللہ ) لے کر آئے ہو؛ چنانچہ ہمارے اس شخص پر دَم کر دو۔ پھر وہ لوگ ان کے پاس ایک مجنون (دیوانے) کو لائے جو زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا۔ انہوں نے اسے تین دن تک صبح شام سورۂ فاتحہ کا دم کیا۔ پھر وہ ایسے ہو گیا جیسے کہ بندھن سے کھول دیا گیا ہو۔ ان لوگوں نے ان کو کچھ دیا تو وہ نبیﷺ کے پاس آئے اور یہ سب بیان کیا۔ تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: &#39;&#39;کھا لو‘ قسم میری عمر کی ! لوگ باطل جھاڑ پھونک سے کھاتے ہیں اور تم نے حق سچ دم سے کھایا ہے‘‘۔ مذکورہ بالا دونوں احادیث سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ سورۃ الفاتحہ بیک وقت جسمانی اور ذہنی بیماریوں کا علاج ہے۔ (ب) آیت الکرسی: آیت الکرسی قرآن مجید کی سب سے عظیم آیت ہے۔ اس کی تلاوت کی وجہ سے شیطانی اثرات دور ہو جاتے ہیں۔ (ج) معوذتین: قرآن مجید کی آخری دو سورتوں سے انسان کے امراض اور خوف دور ہوتے ہیں‘ بالخصوص شیطانی اثرات اور جادو کے خلاف اس کے شفائیہ اثرات مسلّم ہیں۔ صحیح بخاری میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے رویت ہے کہ رسول اللہﷺ جب بیمار پڑتے تو اپنے اوپر معوذتین (سورۃ الفلق اور سورۃ الناس ) پڑھ کر دَم کر لیا کرتے تھے اور اپنے جسمِ اطہر پر اپنے ہاتھ پھیر لیا کرتے تھے۔ پھر جب وہ مرض آپﷺ کو لاحق ہوا جس میں آپ کا وصال ہوا تو میں معوذتین پڑھ کر آپﷺ پر دم کیا کرتی تھی اور ہاتھ پر دم کر کے حضور اکرمﷺ کے جسم پر پھیرا کرتی تھی۔6۔ حجامہ: احادیث طیبہ میں جسم کے مختلف حصوں سے فاسد خون کے اخراج کے لیے حجامہ کا طریقہ مذکور ہے۔ اس میں بھی بہت سی بیماریوں کا علاج ہے۔7۔ شہد‘ کلونجی اور آبِ زم زم: قرآن مجید کی سورۃ النحل میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے شہد کو شفا قرار دیا ہے جبکہ احادیث پاک میں کلونجی کو جملہ بیماریوں کا علاج قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح آبِ زم زم کو بھی جس مقصد کیلئے پیا جائے‘ وہ پورا ہو جاتا ہے۔بعض بیماریوں کے اسباب مادی کے بجائے روحانی ہوتے ہیں مثلاً نظرِ بد کا لگ جانا‘ جادو ٹونا یا شیطانی اثرات کا ہو جانا‘ ایسی صورت میں روحانی طریقۂ علاج ہی مؤثر ہو سکتا ہے۔ چنانچہ انسان کو بیماریوں کیلئے مادی طریقۂ علاج کے ساتھ ساتھ روحانی طریقہ ہائے علاج پر بھی توجہ دینی چاہیے۔ اس طریقے سے انسان کی بہت سی بیماریاں دور ہو سکتی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ تمام مریضوں کو شفایاب فرمائے، آمین!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_19740082.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>