<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>پٹرولیم محصولات اور اثرات(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-17/11199</link><pubDate>Sun, 17 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-17/11199</guid><description>عالمی عوامل اپنی جگہ مگر ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی مہنگائی کی ایک بڑی وجہ حکومتی محصولات ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ایشیا کے دیگر ممالک کی نسبت ملکِ عزیز میں پٹرول اور ڈیزل کے نرخ غیر معمولی طور پر زیادہ اور غیر مستحکم ہیں۔اس سلسلے میں پٹرولیم لیوی قابلِ ذکر ہے جس کی مد میں رواں مالی سال کے دوران تقریباً ڈیڑھ ہزار ارب روپے وصولی کا امکان ہے ‘ جو کہ 1468ارب روپے کے سالانہ ہدف سے نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ تاہم آئی ایم ایف کی جانب سے آئندہ مالی سال کیلئے پٹرولیم لیوی کی مد میں 1730ارب روپے اکٹھے کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ رواں مالی سال کے دوران پٹرولیم لیوی کی مد میں حکومت کی جارحانہ وصولیوں کے نتیجے میں مالی سال کے ساڑھے نو ماہ کے دوران ہی پٹرولیم لیوی کی مد میں1234ارب روپے وصول کیے جا چکے تھے۔ اس حساب سے اندازہ لگایا جاتا ہے کہ جون کے اختتام تک پٹرولیم لیوی کی مد میں وصولی 1550ارب روپے سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔

یہ پٹرولیم مصنوعات پر جارحانہ وصولی کی عکاسی کرتا ہے‘ جس کے نتیجے میں افراطِ زر میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے اورکاروبار‘ صنعتیں اور عوام شدید معاشی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ تاہم یہ سلسلہ آنے والے مالی سال کے دوران بھی اسی طرح جاری رہنے کا اندیشہ موجود ہے۔ اس وقت پٹرول پر فی لٹر 117روپے جبکہ ڈیزل پر 43روپے پٹرولیم لیوی وصول کی جا رہی ہے تاہم آئندہ مالی سال 1730ارب روپے کا ہدف حاصل کرنے کیلئے پٹرولیم لیوی کی شرح میں مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے کیونکہ اس مد میں مزید دو ڈھائی سو ارب روپے کی وصولی کی دوسری کوئی صورت نہیں۔ پٹرولیم مصنوعات کی شدید مہنگائی کی وجہ سے پٹرول اور ڈیزل کی کھپت پہلے ہی کم ہو چکی ہے۔ رواں سال اپریل کے پہلے 15دنوں کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال کے انہی دنوں کی نسبت پٹرول کی فروخت میں 14فیصد اور ڈیزل میں 26فیصد کمی آئی۔ پٹرول اور ڈیزل کی کم ہوئی کھپت کی صورت میں لیوی کی شرح بڑھائے بغیر ریونیو کے مفروضہ اہداف حاصل ہونے کی امید نہیں اور لیوی بڑھانے سے قیمتوں میں جو اضافہ ہو گا اس کے نتیجے میں پٹرول اور ڈیزل کی کھپت میں مزید کمی واقع ہو سکتی ہے اور کھپت میں کمی کا نتیجہ لیوی کی شرح میں مزید اضافے کی صورت میں سامنے آسکتا ہے؛ چنانچہ بعید نہیں کہ آئی ایم ایف کی جانب سے دیے گئے نئے اہداف کے حصول میں پٹرول اور ڈیزل پر لیوی بالترتیب 117روپے اور 43روپے سے بڑھ جائے۔ اگر ایسا ہوتا ہے‘ جس کے اندیشے کو رد نہیں کیا جا سکتا‘ تو افراطِ زر کی شرح میں نمایاں اضافہ بھی خارج از امکان نہیں رہ جاتا۔ مہنگائی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا بدیہی نتیجہ ہے۔
رواں سال کے معاشی اشاریے واضح طور پر یہ ثابت کررہے ہیں کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں پچھلے تین ماہ کے دوران ہونے والے اضافے کی وجہ سے افراطِ زر سالانہ بنیادوں پر 11فیصد تک پہنچ چکا ہے اور سٹیٹ بینک شرح سود میں ایک فیصد اضافہ کر چکا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی عالمی منڈی میں قیمتوں میں اتار چڑھاؤ بھی ایک مسئلہ ہے تاہم پٹرولیم لیوی کی مد میں غیر معمولی اضافہ اور ہدف سے بھی آگے نکل جانا یہ ثابت کرتا ہے کہ منہ زور مہنگائی اور معاشی کساد بازاری کی بنیادکہاں ہے۔ اگر ہمارے معاشی منصوبہ سازوں کی نظر میں پٹرولیم لیو ی کو بڑھاتے جانا محصولات جمع کرنے کا سستا اور آسان حل ہے تو انہیں اس تصویر کے دوسرے رخ کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے ‘جو معاشی حوالے سے بڑی مہیب منظر کشی کرتا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات پر حکومتی محصولات کو بڑھا تے چلے جانے سے حکومت کو آسانی سے مالی وسائل حاصل ہو رہے ہیں مگر اس سہل طلبی نے ہماری معیشت کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے‘ اس حقیقت کو بھی ساتھ لے کر چلنا ہو گا۔ </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>گردشی قرضے کا چکر(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-17/11198</link><pubDate>Sun, 17 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-17/11198</guid><description>آئی ایم ایف کی ششماہی جائزہ رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران توانائی کے شعبے کا گردشی قرضہ 5206 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔ اس میں بجلی کے شعبے کا گردشی قرض 1764 ارب جبکہ گیس سیکٹر کا گردشی قرض 3442 ارب روپے ہے جو مجموعی قومی پیداوار کے تقریباً 2.7 فیصد کے برابر بنتا ہے۔رپورٹ کے مطابق چھ ماہ کے دوران بجلی کے گردشی قرضے میں 150ارب روپے اور گیس کے گردشی قرضے میں 159ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ گردشی قرض بجلی پیدا اور تقسیم کرنے والی کمپنیوں کے درمیان ادائیگیوں کے عدم توازن کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ بجلی تقسیم کار کمپنیاں صارفین سے پوری رقم وصول نہ کرپانے کے باعث بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کو مکمل ادائیگی نہیں کرپاتیں یوں قرض اور اس پر سود بڑھتا چلا جاتا ہے ۔

گردشی قرضوں کی سب سے بڑی وجہ وہ حکومتی ادارے ہیں جو بروقت بجلی کے بل ادا نہیں کرتے۔ ستمبر 2024ء میں پاور ڈویژن کی جانب سے قومی اسمبلی میں جمع کرائی گئی دستاویزات کے مطابق وفاقی اور صوبائی حکومتی ادارے بجلی واجبات کے 2560 ارب سے زائد کے نادہندہ ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت کو توانائی کے شعبے میں جامع اصلاحات کرتے ہوئے سرکاری اداروں کے واجبات کی بروقت ادائیگی یقینی بنائے۔ بلنگ اور ریکوری کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیے بغیر گردشی قرض نہ صرف قومی خزانے کو کھوکھلا کرتا رہے گا بلکہ ملکی معیشت کی بحالی کی ہر کوشش کو بھی کمزور کر دے گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>آبی جارحیت اور ماحولیاتی المیہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-17/11197</link><pubDate>Sun, 17 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-17/11197</guid><description>ماہرینِ جنگلات نے خبردار کیا ہے کہ بھارت نے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی جاری رکھی تو آزاد جموں و کشمیر اور خیبر پختونخوا میں درختوں کی تقریباً بیس مقامی اقسام معدومیت کے خطرے کے قریب پہنچ سکتی ہیں۔ ان علاقوں میں آڑو‘ سیب‘ ناشپاتی اور زیتون کے باغات لاکھوں افراد کے معاش کا ذریعہ ہیں۔ اگر پانی کی قلت بڑھتی ہے اور دریاؤں کے بہاؤ میں مسلسل کمی واقع ہوتی ہے تو یہ باغات سوکھ سکتے ہیں جس سے خوراک کی قلت میں اضافہ ہو گا۔ یوں یہ بحران براہِ راست غربت‘ بے روزگاری اور بھوک کو جنم دے سکتا ہے۔ اسی طرح دریائے سندھ‘ جہلم اور چناب کے کناروں پر موجود دیودار اور صنوبر کے جنگلات اس پورے خطے کی ماحولیاتی توازن کی بنیاد ہیں۔

اگر یہ جنگلات متاثر ہوتے ہیں تو ہمالیہ کے خطے میں زمینی کٹاؤ‘ لینڈ سلائیڈنگ‘ آلودگی اور گلیشیرز کے تیز پگھلاؤ جیسے خطرات میں اضافہ ہوگا۔ بھارت طویل عرصے سے پاکستان کے پانی پر مختلف طریقوں سے ڈاکہ ڈالتارہا ہے لیکن معرکۂ حق میں منہ کی کھانے کے بعد سے وہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کررہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اس مسئلے کو زیادہ شدت‘ تسلسل اور سفارتی حکمتِ عملی کیساتھ عالمی اداروں کے سامنے اٹھائے اور انہیں باور کرائے کہ بھارتی آبی جارحیت پر خاموشی ایک بڑے ماحولیاتی المیے کو جنم دے سکتی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>اٹھائیسویں آئینی ترمیم کا معمہ(مجیب الرحمٰن شامی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mujeeb-ur-rehman-shami/2026-05-17/51960/55546080</link><pubDate>Sun, 17 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mujeeb-ur-rehman-shami/2026-05-17/51960/55546080</guid><description> پاکستان کے سیاسی اور صحافتی حلقوں میں اٹھائیسویں ترمیم کا چرچا ہے۔ جہاں بھی دو‘ چار اہلِ سیاست یا صحافت اکٹھے ہوتے ہیں‘ یہ معاملہ زیر بحث آ جاتا ہے۔ ہر شخص پوچھتا ہے کہ آئین میں جو اٹھائیسویں ترمیم ہونے جا رہی ہے‘ اس کی ضرورت اور افادیت کیا ہے‘ اس سے بڑھ کر یہ کہ اس کا مسودہ کہاں تیار ہو رہا ہے‘ اور زمین ہموار کرنے کے لیے کیا کچھ کیا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا کے نکتہ وروں کو ہر واقعے کے پیچھے اٹھائیسویں ترمیم نظر آ جاتی ہے۔ انمول عرف پنکی نامی &#39;&#39;ہیروئین کوئین‘‘ پکڑی جاتی ہے تو اس کے پیچھے بھی اٹھائیسویں ترمیم کی تلاش شروع کر دی جاتی ہے۔ گاہکوں کی مبینہ لسٹ میں بڑے بڑے ناموں کی موجودگی کی خبریں گھڑی جاتی ہیں اور کہا جاتا ہے کہ ان پر دباؤ ڈال کر اٹھائیسویں ترمیم کے حق میں ہاتھ کھڑے کرا لیے جائیں گے۔ طرح طرح کی موشگافیوں کے باوجود کسی کے پاس کوئی مصدقہ خبر نہیں ہے کہ اٹھائیسویں ترمیم کی تفصیلات کیا ہیں اور اس سے کس کو کیا فائدہ پہنچانا اور کس کا کیا نقصان کرنا مقصودہے۔ بلاول بھٹو زرداری بااصرار کہتے ہیں کہ ان سے کسی شخص یا ادارے نے اس حوالے سے کوئی بات نہیں کی۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ بھی اس پر روشنی ڈالنے سے انکاری ہیں‘ اس کے باوجود بحث جاری ہے‘ اور اہلِ سیاست حسبِ توفیق و خواہش گرہیں لگاتے جا رہے ہیں۔یہ درست ہے کہ کسی بھی ملک کا آئین کوئی آسمانی صحیفہ نہیں ہوتا کہ اس میں کوئی تغیر و تبدل نہ کیا جا سکے۔ ہر ملک کا آئین وہاں کے رہنے والے بناتے اور اس میں ترمیم کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ بدلتے ہوئے حالات کے مطابق اس میں تبدیلی کی جا سکتی ہے۔ ہر آئین میں ترمیم کا طریقہ بھی درج ہوتا ہے۔ پاکستان کا آئین جسے 1973ء میں دستور ساز اسمبلی میں اتفاقِ رائے سے منظور کیا گیا تھا‘ اس کے اندر بھی ترمیم کا طریقہ درج ہے۔ واضح طور پر لکھ دیا گیا ہے کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کی دو تہائی اکثریت سے کسی بھی شق میں تبدیلی کی جا سکے گی۔ یہ الگ بات کہ جب مارشل لا بہادر نے آ کر اسے سرد خانے میں ڈالا‘ تو ترمیم کا اختیار بھی حاصل کر لیا۔ چیف جسٹس انوار الحق کی سربراہی میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے پہلی بار یہ حق مارشل لا کو عطا کیا تھا‘ جسے چیف جسٹس ارشاد حسن خان کی سربراہی میں قائم ہونے والی سپریم کورٹ نے بھی برقرار رکھا۔ اوّل اوّل اس کی دلیل یہ دی گئی تھی کہ1977ء کے انتخابات میں منظم دھاندلی کے خلاف جو تحریک چلائی گئی تھی‘ اس کے نتیجے میں مارشل لا نافذ کرنا پڑا۔ یہ تحریک مقننہ اور اس کی پیداوار انتظامیہ کے خلاف تھی‘ جبکہ مملکت کے تیسرے بڑے ادارے عدلیہ پر عدم اعتماد کا کوئی اظہار نہیں کیا گیا۔ اس کے خلاف کوئی تحریک چلی نہ ہی کوئی آواز اٹھی۔ مارشل لا بہادر نے انتظامیہ اور مقننہ کو &#39;&#39;ری پلیس‘‘ (Replace) کر دیا‘ سو ان اداروں کے جملہ اختیارات وہ استعمال کر سکیں گے۔ عدلیہ اس سارے معاملے سے الگ تھلگ رہی اس لیے اس کا وجود جوں کا توں ہے۔ وہ اپنے آئینی فرائض ادا کرتی رہے گی‘ اسے آئین نے &#39;&#39;جوڈیشنل ریویو‘‘ کا جو حق دیا ہے‘ وہ برقرار رہے گا اور وہ 1973ء کے دستور کے مطابق &#39;&#39;انتظامیہ اور مقننہ‘‘ کی جگہ لینے والی ملٹری کونسل کے فیصلوں اور اقدامات کا جائزہ لینے کی مجاز رہے گی۔ سپریم کورٹ نے اتفاقِ رائے سے جنرل ضیاء الحق کے مارشل لا کو سندِ جواز عطا کرتے ہوئے جب معاملات کو یوں آگے بڑھایا‘ تو نتیجتاً اس کے لیے مشکلات پیدا ہو گئیں۔ مارشل لا بہادر نے پی سی او (عبوری دستوری حکم) جاری کر کے اپنے اختیارات میں اس طرح اضافہ کیا کہ عدلیہ کو بھی لپیٹ میں لے لیا‘ جو سلوک عدلیہ نے مقننہ اور انتظامیہ کے ساتھ روا رکھنے کا جواز فراہم کیا تھا‘ وہی عدلیہ پر لاگو کرتے ہوئے اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کو نیا حلف لینے پر مجبور کیا گیا۔ کسی نے حلف لینے سے انکار کر دیا تو کسی کو حلف اٹھانے کی زحمت ہی نہ دی گئی‘ سو یوں اعلیٰ عدالتوں میں نئی تقرریوں کے لیے راستہ کشادہ ہو گیا۔ ڈھیر سارے جج پی سی او کی نذر ہو گئے۔ آئین میں ترمیم کا عدالت دہندہ حق استعمال کرتے ہوئے مارشل لا نے عدلیہ ہی کو بدل ڈالا۔ بعدازاں جب پارلیمنٹ منتخب ہو کر آئی تو اس میں یہ ترامیم پیش کر دی گئیں‘ پارلیمنٹ نے ان ترامیم میں کئی ترامیم کر کے انہیں گلے لگا لیا۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں بھی یہ تجربہ دہرایا گیا‘ اور آئین میں تابڑ توڑ ترامیم کی گئیں۔ آئین بحال ہوا تو بھی اس میں ترمیمات کی جاتی رہیں۔ صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے سائے میں جو ترامیم کی گئیں‘ انہیں اٹھارہویں ترمیمی بل کے حوالے سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ ترمیمی بل تمام سیاسی جماعتوں کے درمیان وسیع تر اتفاقِ رائے کے ساتھ منظور ہوا تھا۔ اس کے تحت صوبائی خود مختاری میں جو اضافہ کیا گیا اور بعدازاں نیشنل فنانس کمیشن نے قومی آمدنی میں صوبوں کا حصہ جس طرح بڑھایا‘ اس پر بحث اب تک جاری ہے‘ لیکن اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ جو کچھ کیا گیا‘ وہ صلاح مشورے اور افہام وتفہیم سے کیا گیا۔ پارلیمنٹ میں موجود تمام سیاسی جماعتیں اس میں شریک رہیں۔آئین میں چھبیسویں اور ستائیسویں ترمیم بھی سیاسی جماعتوں کے درمیان وسیع تر مشاورت کے بعد ممکن ہوئی۔ تحریک انصاف اور کئی دوسری جماعتیں اس کے خلاف آواز اٹھاتی رہیں لیکن مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے مل کر دو تہائی اکثریت کو ہمنوا بنا لیا‘ مولانا فضل الرحمن بھی اس میں شریک ہو گئے اور پی ٹی آئی کے کئی منحرفین بھی۔ ان ترامیم کے نتیجے میں پاکستان کی سیاست (منفی یا مثبت) جس طرح متاثر ہوئی آج تک اہلِ نظر اس پر نظریں لگائے ہوئے ہیں۔ عدالتی نظام اور نظم دونوں کا چہرہ بڑی حد تک تبدیل ہو چکا۔ ان کی صورت صاف پہچانی نہیں جاتی۔ سپریم کورٹ کے اختیارات کا ایک حصہ وفاقی آئینی عدالت کو مرحمت فرما دیا گیا ہے۔ اعلیٰ عدالتوں میں تقرری اور تبادلے کے لیے سپریم جوڈیشل کمیشن کا قیام عمل میں لایا جا چکا ہے لیکن اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ جو کچھ ہوا‘ وہ دن دیہاڑے ہوا اور پارلیمنٹ کی دو تہائی اکثریت ہی کے ذریعے ہوا۔آئین میں اگر کسی کو مزید تبدیلی مطلوب ہے‘ مرکز اور صوبوں کے درمیان اختیارات کا معاملہ ہے یا وسائل کی تقسیم کا‘ بلدیاتی اداروں کا استحکام و استقرار مطلوب ہے یا نئے صوبوں کی تشکیل ضروری سمجھی جا رہی ہے‘ تو اربابِ اختیار کو اپنی تجاویز واضح الفاظ میں قوم کے سامنے رکھنی چاہئیں۔ قومی سطح پر ان کا جائزہ لیا جائے‘ مختلف سیاسی جماعتیں ان پر غور کریں‘ اہلِ دانش بھی حرکت میں آئیں اور دستور میں دیے گئے طریق کار کے مطابق کارروائی کو آگے بڑھایا جائے۔ ترمیمات ہوتی رہی ہیں اور ہو بھی سکتی ہیں لیکن اس وقت کسی کے پاس ایسا ڈنڈا نہیں ہے جس کے ذریعے وہ اپنی مرضی مسلط کر سکے۔ وسیع تر اتفاقِ رائے کے بغیر کی جانے والی کوئی ترمیم وفاقِ پاکستان کو کمزور کرے گی۔ برسر اقتدار جماعت مسلم لیگ (ن) پر لازم ہے کہ اس معمے کو حل کرے۔ افواہوں اور قیاس آرائیوں کا زہر ہمارے جسدِ سیاست کو ڈس رہا ہے۔(یہ کالم روزنامہ &#39;&#39;پاکستان‘‘ اور روزنامہ &#39;&#39;دنیا‘‘ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_37052987.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بیکار کے دن(ایاز امیر)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-05-17/51961/31635270</link><pubDate>Sun, 17 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-05-17/51961/31635270</guid><description>جوانی کا ایک منظر ہے جو کبھی ذہن سے فراموش نہیں ہوا۔ لارنس کالج کے ماحول سے نکلے تو کوئی آدھا سال گورنمنٹ کالج لاہور کے طالب علم رہے۔ لاہور کے مال پر وائے ایم سی اے ہاسٹل اُس زمانے میں بڑا اچھا سمجھا جاتا تھا۔ قیام وہاں تھا اور شام کو الفلاح کی طرف سیر کرنے نکلتے۔ لاہور کا ماحول اُن دنوں مختلف ہوتا تھا۔ مال پر بڑے خوبصورت کیفے اور ریستوران ہوا کرتے تھے اور شام کی چائے کے وقت یہ سارے کیفے بھرے پڑے ہوتے۔ کیا لارڈز کیا شیزان‘ کیا انڈس اور گارڈینیا‘ کافی ہاؤس‘ ٹی ہاؤس وغیرہ وغیرہ۔ ہم نے ان میں کہاں جانا ہوتا‘ جیب کی کیفیت واجبی سی ہوتی تھی اور یقینا اتنی نہیں کہ شیزان میں چائے پینے چلے جاتے۔ جسے لاہور کی آپ جینٹری کہہ سکتے ہیں وہ اُس وقت ان چائے خانوں میں موجود ہوتی تھی۔ شام ڈھلنے کا وقت آتا تو چائے کے میز خالی ہونے لگتے اور یہی جینٹری کے لوگ اپنے اپنے شب کدوں کی طرف چل نکلتے‘ یعنی چائے کی رونق شب کدوں میں منتقل ہو جاتی۔ یہ مقامات‘ جن کا تعلق شب ڈھلنے کی کارروائیوں سے منسلک ہوتا تھا‘ ان کا ایک اپنا ٹائم ہوتا اور جب وہ ٹائم نزدیک آنے لگتا تو ان میں سے بہت ایسے ہوتے جو تانگہ یا ٹیکسی پر شاہی قلعے کے عقبی محلے کا رخ کرتے۔ کشش کس نوعیت کی تھی اس سوال کا جواب قارئین خود ہی دے سکتے ہیں۔ جہاں تک اپنا تعلق ہے اگر چائے کے پیسے نہ ہوتے تو کسی اور کشش کے کیا ہونے تھے۔شروع میں جس منظر کا ذکر کیا وہ یہ تھا کہ فٹ پاتھ پر لارڈز ریستوران سے کچھ آگے ایک پرانی سفید رنگ کی کیڈیلک گاڑی کھڑی ہوتی۔ یہ بڑی مہنگی امریکی گاڑی تھی لیکن اس کی ظاہری صورت سے پتا چلتا تھا کہ دھلائی وغیرہ کے کسی انتظام سے یہ گاڑی عموماً مستثنیٰ ہی رہتی۔ ایک دو بار البتہ صاحبِ گاڑی نظر آئے‘ اونچے قد کے‘ متاثر کن شخصیت کے مالک اور ہمیشہ ڈبل برسٹڈ سوٹ میں ملبوس۔ ڈرائیور کوئی نہ ہوتا اور خود ہی گاڑی کے ویل کے پیچھے بیٹھتے اور پھر کہیں چل دیتے۔ جس سے صاف ظاہر ہوتا کہ صاحبِ گاڑی کا مسکن کہیں قریب ہی تھا‘ یہ بھی ظاہر ہوتا کہ سارا دن مسکن پر ہی رہتے اور اُن کے نکلنے کا ٹائم وہی شب کا وقت ہوتا جب شب کدوں کی رونق بننے لگتی۔ میں اکیلا وہاں سے گزرتا اور اُس گاڑی اور صاحبِ گاڑی کو دیکھ کر خیالات کی دنیا میں گم ہو جاتا کہ پتا نہیں یہ صاحب فلیٹیز جا رہے ہیں یا اِنٹرکانٹی نینٹل۔ وہاں پتا نہیں کون ان کے دوست ہوں گے‘ کوئی انتظار ان کا کر رہا ہوگا یا نہیں۔ 60سال ہوئے ہیں اس تصویر کو دیکھے اور اب بھی یوں لگتا ہے وہ منظر سامنے ہے۔ وجہ جو بھی ہو گورنمنٹ کالج ٹھہر نہ سکے اور بغیر امتحان دیے چکوال لوٹ آئے جو کہ وقت نے ثابت کیا بہت بڑی غلطی تھی کیونکہ ڈگری ہاتھ میں تھی نہیں اور سرٹیفکیٹ صرف سینئر کیمبرج کا تھا تو سوائے فوج کے کسی اور دروازے پر دستک دینا محال تھا۔ لہٰذا سال بعد عمر پوری ہوئی تو کاکول کے لیے درخواست دے دی اور یوں نہ چاہتے ہوئے فوج کی افسری کے لیے تیار ہو گئے۔ کتنا اس شعبے میں جی لگا وہ الگ کہانی ہے‘ بس جو عرصہ تھا جیسے ہو سکا گزارا۔ ہم ماحول سے تنگ ہمارے کمانڈنگ آفیسر ہم سے تنگ۔ شکر کیا جب باہر نکلنے کا کوئی راستہ نصیب ہوا۔ بہرحال صاحبِ گاڑی کا ذکر اس لیے کہ ذہن کے کسی کونے میں یہ خیال ہمیشہ رہا کہ بڑی عمر کے ہوں گے تو شام گزارنے کا یہی طریقہ اچھا لگے گا۔ شب کے سائے دراز ہوں اور نہا دھو کے اچھے کپڑے پہن کر مال کے ہی کسی فلیٹ سے ہم نمودار ہوں‘ نئی گاڑی نہیں ایک پرانی گاڑی سہی لیکن جس نے اچھے دن دیکھے ہوں ہماری منتظر ہو۔ بیٹھیں اور پاس ہی کسی شب کدے پہنچ جائیں جہاں سب کو پتا ہو ہمارا میز کون سا ہے۔ خدمتگاروں کو ہماری پسند بھی پتا ہو اور بغیر پوچھے ہماری پسند سامنے آ جائے۔ یہ ساری منظر کشی اُن صاحبِ گاڑی اور اُن کی کیڈیلک کی وجہ سے۔ لیکن زمانے کا تغیر دیکھیے کہ نہ وہ مال رہا نہ اُس کی دل نشینیاں۔ سڑک تو ہے لیکن اُس کا حلیہ بگڑ چکا ہے اور جو اُس کی روح تھی‘ یا یوں کہیے مال کی جو ادائیں ہوتی تھیں‘ وہ سب کچھ غائب ہو چکا ہے۔ اُس قسم کے لو گ بھی کم نظر  آتے ہیں‘ کیفے اور ریستوران وہاں کوئی رہا نہیں اور وہ نہ رہے تو شب کدوں کی جگہیں کہاں رہنی تھیں۔ یعنی ہمارا وقت آیا تو مملکت کی ہوائیں بدل گئیں‘ ماحول بدل گیا‘ آوازیں مختلف ہو گئیں۔ یہی وجہ ہے کہ لاہور جانا بہت کم ہو گیا ہے۔ جائیں بھی تو کیا جھک ماریں گے۔ پبلک جگہیں تو رہی نہیں جہاں آدمی شب کا کچھ وقت گزار سکے۔ معمول کہاں بدلتے ہیں لیکن سب کچھ جب اندر چلا گیا ہو‘ یعنی باپردہ ہو گیا ہو‘ تو کون سے دوستوں کی تلاش رہے کہ دعوت ملے اور کسی کونے میں کہیں بیٹھا جائے۔ ویسے بھی زیادہ سوٹڈ بوٹڈ محفل کبھی پسند نہیں رہی۔ جگہ ایسی ہو جہاں مرضی سے جا سکیں‘ فنِ ثقافت کا کچھ مظاہرہ ہو جائے جیسا کہ بھلے وقتوں میں لاہور اور دیگر شہروں میں ہوا کرتا تھا تو سونے پہ سہاگہ۔ شاہی قلعہ کی جانب جانے والا راستہ اور اُس کی نوعیت بھی بدل چکی ہے۔ رونقیں اُن علاقوں کی کب کی گئیں۔ پاکستانی شعور کا انوکھا انداز ہے کہ کہیں بہت تیر چلانا ہو تو ایک فوڈ سٹریٹ کا اعلان ہو جاتا ہے۔ بادشاہی مسجد کے قریب بھی ایک فوڈ سٹریٹ قائم ہو چکی ہے۔ کڑاہیوں پر حملہ کرنا مقصود ہو تو وہاں کوئی شریف آدمی چلا جائے۔ لیکن لاہور میں اس سوال کا اب تک خاطر خواہ جواب نہیں مل ہو سکا کہ انسان کتنا کھا سکتا ہے اور ہفتے میں کتنی بار ان فوڈ سٹریٹوں کا درشن ہو سکتا ہے۔لاہور کی نسبت اسلام آباد ہمیں زیادہ قریب پڑتا ہے‘ دنیا کا واحد دارالحکومت جو اپنی خوبصورتی‘ کچھ اصلی کچھ فرضی‘ کا خود اقرار کرتا ہے... اسلام آباد دی بیوٹیفُل۔ دنیا کے کسی اور کونے میں ایسی خود پسندی کی مثال شاید نہ ملے۔ لیکن وہاں جنہیں پوش سیکٹر کہا جاتا ہے وہاں کیفے اور چائے خانے بہت کھل چکے ہیں۔ البتہ ہمیں اتنی عمر گزرنے کے بعد بھی یہ سلیقہ نہیں آیا کہ پوری شام محض چائے یا کافی پہ کیسے گزاری جائے۔ جب اسلام آباد کے مکین تھے پارٹیوں وغیرہ میں جایا کرتے تھے لیکن عمر اور تھی اب اتنا تردد ہوتا نہیں۔ اس لیے زیادہ شامیں ہماری چکوال یا بھگوال میں ہی گزرتی ہیں۔ اور سچ پوچھیے کوئی فرق محسوس نہیں ہوتا کہ ہائے لاہور نہیں جا سکے‘ اسلام آباد کی روشنیوں سے محروم ہیں۔ کچھ کتابیں کچھ پرانے گانے کچھ موسیقی اور اِن چیزوں سے کام صحیح چل جاتا ہے۔قوم کی معماری کے خواب کب کے ترک ہو چکے۔ اب احساس ہوتا ہے کہ ہماری زندگی میں یہاں کسی معجزے نے رونما نہیں ہونا۔ حالات جیسے ہیں ویسے ہی رہیں گے۔ یوں بھی مجموعی کار گزاری اُس نہج تک پہنچ چکی ہے کہ کسی قسم کی امید لگانا بے وقوفوں کا کام لگتا ہے۔ کچھ کتب بینی ہو جاتی ہے‘ کچھ کالم نویسی اور مولا کی مہربانی اتنی ہے کہ شامیں خالی محسوس نہیں ہوتیں۔ رنگِ کائنات میں بہت کچھ ہے‘ یہ تو اپنے پہ منحصر ہے کہ زندگی کو کن رنگوں سے سجایا جائے۔ البتہ وہ کیڈیلک والا منظر یاد کبھی ضرور آتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_80573045.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>اندرا گاندھی اور وزیراعظم ہاؤس کی ایمبولنس(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-05-17/51962/63320299</link><pubDate>Sun, 17 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-05-17/51962/63320299</guid><description>روز کوشش ہوتی ہے کہ سونے سے پہلے کچھ دیر کسی کتاب کا مطالعہ ضرور کیا جائے۔ کبھی نئی کتاب‘ کبھی پرانی۔ چند صفحات پڑھتے ہی نیند آنکھوں پر اُترنے لگتی ہے۔ پرانی کتابوں کی اپنی ایک مہک‘ اپنا ذائقہ اور الگ ہی لذت ہوتی ہے۔ ان کے صفحات میں کئی زمانوں کی کہانیاں اور قصے چھپے ہوتے ہیں اسی لیے مجھے ایسی کتابیں بہت پسند ہیں۔کچھ دن پہلے پرانی کتابوں کی ایک دکان سے بی بی سی کے دو معروف صحافیوں مارک ٹلی اور ستیش جیکب کی لکھی ہوئی ایک کتاب ہاتھ لگی جو انہوں نے اندرا گاندھی کے گولڈن ٹیمپل آپریشن اور قتل کے بعد اگست 1985ء میں لکھی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کتاب کے حقوق پاکستان میں آرمی ایجوکیشن پریس نے حاصل کیے اور اسے لاہور کے مال روڈ پر واقع ایک مشہور بُک سیلر سے شائع کروایا۔ یہ جنرل ضیا الحق کا دور تھا اور پاکستان کی جانب سے اس کتاب میں دلچسپی ظاہر کرنا بھی اپنی جگہ ایک دلچسپ امر ہے۔ یہ کتاب اندرا گاندھی کے قتل کے ایک سال کے اندر اندر شائع ہو گئی تھی۔ بی بی سی کے یہ دونوں نام پاکستان میں تقریباً ہر اُس گھر میں پہچانے جاتے تھے جہاں ریڈیو موجود تھا۔ مارشل لاء کے دور میں عوام خبریں سننے کیلئے رات آٹھ یا دس بجے کا بی بی سی کا نیوز بلیٹن سنتے تھے۔ مارک ٹلی کا نام تو خاص طور پر بہت مشہور تھا۔ چاہے ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف چلنے والی احتجاجی تحریک کی رپورٹنگ ہو‘ بھٹو صاحب کو دی جانے والی پھانسی کی خبر ہو یا پھر جنرل ضیا کے دور میں پریس پر عائد پابندیاں‘ پاکستانی عوام مارک ٹلی کی ساکھ پر یقین رکھتے تھے۔ مارک ٹلی اس قدر معروف ہو چکے تھے کہ اگر کوئی شخص بڑھ چڑھ کر باتیں کرتا تو لوگ ہنستے ہوئے کہتے: &#39;&#39;اوئے تُوں مارک ٹلی لگا ایں‘‘۔اب اس میں دلچسپ پہلو یہ دیکھیے کہ جس جنرل ضیا نے بھٹو صاحب کی جیل میں لکھی گئی کتاب &#39;&#39;اگر مجھے قتل کیا گیا‘‘ پاکستان میں شائع نہیں ہونے دی‘ اسی جنرل ضیا کے دور میں اندرا گاندھی کے قتل پر لکھی گئی کتاب پورے اہتمام کے ساتھ پاکستان میں چھاپی گئی۔ بھٹو صاحب کی کتاب بھی پہلی مرتبہ بھارت میں شائع ہوئی تھی اور جس طرح اس کا مسودہ جیل کی کوٹھری سے باہر نکلا‘ وہ اپنی جگہ ایک الگ داستان ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بھٹو صاحب کے دوست‘ ڈینٹسٹ ڈاکٹر ظفر نیازی ہاتھ سے لکھے ہوئے نوٹس جیل سے چھپا کر باہر لاتے تھے۔ بعد میں ظفر نیازی کو بھی بھٹو کی پھانسی کے بعد جنرل ضیا کے دور میں شدید مشکلات اور مصائب کا سامنا کرنا پڑا اور کچھ عرصہ انہیں پاکستان سے باہر بھی رہنا پڑا۔ ظفر نیازی سے میری زندگی میں صرف ایک ہی ملاقات ہوئی تھی اس وقت جب میں اسلام آباد میں ایک انگریزی اخبار میں رپورٹر تھا۔ ایک روز ہمارے مرحوم بیوروچیف ضیا الدین صاحب نے مجھے میانوالی بھیجا جہاں ڈاکٹر نیازی نے مقامی بچوں کیلئے ایک بہت اعلیٰ سکول قائم کیا تھا۔ ان کی بیٹی نے بتایا تھا کہ میانوالی کے لوگ اکثر ان کے والد کے پاس مدد کیلئے آتے تھے۔ اس پر انہوں نے سوچا کہ وہ آخر کتنے لوگوں کی مالی مدد کر سکتے ہیں لہٰذا بہتر یہی ہے کہ وہاں ایک اچھا سکول قائم کردیا جائے تاکہ نئی نسل تعلیم حاصل کرکے اپنے پاؤں پر کھڑی ہو سکے اور انہیں کسی کے سامنے مدد کیلئے ہاتھ نہ پھیلانا پڑیں۔ زندگی میں بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جن سے آپ صرف ایک مرتبہ ملتے ہیں لیکن ان کی شخصیت کا تاثر عمر بھر ساتھ رہتا ہے۔ میں بھی ڈاکٹر نیازی سے صرف ایک بار ملا۔ ان کی وفات کو بیس بائیس برس سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے مگر ان کی میٹھی‘ خوشگوار اور خوبصورت شخصیت کا تاثر آج بھی ذہن میں تازہ ہے۔خیر‘ بات کتاب کی ہو رہی تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو کی کتاب اندرا گاندھی کے دور میں بھارت میں شائع ہوئی اور بعد ازاں جنرل ضیا کے دور میں اندرا کے قتل پر کتاب پاکستان میں چھپی۔ غالباً جنرل ضیا کے ذہن میں یہی خیال ہو گا کہ اگر بھارت بھٹو کی کتاب سمگل کرکے شائع کرسکتا ہے تو پاکستان بھی اندرا گاندھی کے قتل پر لکھی گئی کتاب شائع کر سکتا ہے‘ جو بی بی سی کے انہی نمائندوں نے لکھی تھی جن کی خبریں پاکستانی حکمرانوں کو اکثر ناگوار گزرتی تھیں۔ اس کتاب میں بہت کچھ ہے۔ یہ بھی کہ اندرا گاندھی کس طرح قتل ہوئیں اور قتل سے پہلے شاید اُن کی جبلت انہیں خبردار کر چکی تھی کہ ان کا وقت قریب آ پہنچا ہے۔ بینظیر بھٹو کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی شہادت سے پہلے اکثر کہا کرتی تھیں کہ ایک دن انہیں قتل کردیا جائے گا۔ اندرا گاندھی نے بھی اپنی موت سے ایک رات پہلے اوڈیسہ کے جلسے میں کہا تھا کہ &#39;&#39;میں اس بات پر پریشان نہیں ہوں کہ میں زندہ رہتی ہوں یا نہیں۔ جب تک میرے اندر سانس ہے میں آپ لوگوں کی خدمتگار رہوں گی۔ اور جب بھی مروں گی میرے خون کا ہر قطرہ بھارت کو طاقت اور اتحاد دے گا‘‘۔اندرا گاندھی کے نئی دہلی جلد واپس آنے کی وجہ یہ تھی کہ ان کے گرینڈ چلڈرن کی گاڑی کا حادثہ ہوگیا تھا۔ گولڈن ٹیمپل آپریشن کے بعد پورے گاندھی خاندان کو دھمکیاں موصول ہو رہی تھیں اور مسز گاندھی کو خدشہ تھا کہ یہ حادثہ دراصل ان کے پوتے پوتیوں پر حملہ تھا۔ اندرا گاندھی سادہ زندگی گزارتی تھیں۔ انتہائی سادہ ساڑھی پہنتی تھیں۔ وزیراعظم ہاؤس بھی برطانوی دور کی سادگی کا عکس تھا۔ ایک سفید رنگ کا سادہ سا گھر‘ جو انگریزوں نے کلکتہ سے دہلی دارالحکومت منتقلی کے وقت تعمیر کیا تھا۔ اندرا کے پاس وسائل کی کمی نہ تھی لیکن وہ اپنے بیٹے راجیو گاندھی‘ بہو سونیا گاندھی اور ان کے دو بچوں کیساتھ سادہ انداز میں زندگی گزارتی تھیں۔ ان کی صبح کا آغاز &#39;&#39;درشن‘‘ سے ہوتا تھا جب بھارت کے دور دراز علاقوں سے آئے ہوئے مختلف گروپس خصوصاً غریب بچے ان سے ملاقات کرتے تھے۔ لیکن 31اکتوبر 1984ء کی اس صبح درشن نہیں تھا کیونکہ وہ اچانک اوڈیسہ سے نئی دہلی واپس آئی تھیں۔ وہ صبح سویرے ایک انٹرویو دینے کیلئے تیار ہو رہی تھیں۔ مسز گاندھی اپنے پرسنل اسسٹنٹ دھاون کے ساتھ تھیں۔ وہاں ڈیوٹی پر موجود سکھ سب انسپکٹر بیانت سنگھ کو دیکھ کر مسکرائیں۔ جیسے ہی وہ مسکرائیں بیانت سنگھ نے پستول نکالا اور اندرا گاندھی پر فائر کھول دیا۔ وہ زمین پر گریں تو دوسرے محافظ ستونت سنگھ نے اپنی سٹین گن کی پوری میگزین اندرا گاندھی پر خالی کردی۔ فائرنگ کے بعد اس نے اپنا واکی ٹاکی دیوار پر رکھا اور دونوں ہاتھ سر پر رکھتے ہوئے کہا: &#39;&#39;جو میں نے کرنا تھا کر دیا ہے۔ اب جو آپ نے کرنا ہے کرلیں‘‘۔ اس نے گولڈن ٹیمپل پر حملے کا بدلہ لے لیا تھا۔ دونوں کو گرفتار کرلیا گیا لیکن وہاں موجود انڈین تبت بارڈر پولیس کے اہلکاروں کے ساتھ ان کی تلخ کلامی شروع ہو گئی جو وزیراعظم ہاؤس کی بیرونی سکیورٹی پر مامور تھے۔ اسی دوران دونوں پر گولیاں چلادی گئیں۔ بیانت سنگھ موقع پر مارا گیا جبکہ ستونت سنگھ شدید زخمی ہوگیا۔ پھر اچانک سب کی توجہ اندرا گاندھی کی طرف گئی جو خون میں لت پت زمین پر پڑی تھیں۔ تب معلوم ہوا کہ وزیراعظم ہاؤس میں تو کوئی ایمبولینس ہی موجود نہیں تھی جو ایسی ایمرجنسی میں وزیراعظم یا کسی اور زخمی کو فوری ہسپتال پہنچا سکتی۔ وزیراعظم ہاؤس میں گولیوں کی آوازوں سے کہرام مچا ہوا تھا اور سب پریشان تھے کہ اب کیا کیا جائے۔ زخمی وزیراعظم کو ہسپتال کیسے لے جایا جائے جبکہ ان کا خون تیزی سے بہہ رہا تھا۔ اسی دوران گولیوں کی تڑتڑاہٹ سن کر وزیراعظم ہاؤس سے سونیا گاندھی باہر نکلیں۔ وہ دوڑتی ہوئی آئیں‘ اپنی زخمی ساس کو دیکھا اور پھر پرسنل اسسٹنٹ دھاون کی مدد سے انہیں ایک عام سی گاڑی میں ڈالا اور ہسپتال کی طرف روانہ ہوگئیں جو وہاں سے تقریباً تین کلومیٹر دور تھا۔دہلی کی سڑکوں پر حسبِ معمول ہجوم اور ٹریفک رواں تھی۔ کسی کو علم نہیں تھا کہ ان کے ملک کی وزیراعظم پر قاتلانہ حملہ ہو چکا ہے اور اس ایمبسڈر گاڑی میں گولیوں سے چھلنی اندرا گاندھی زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا تھیں۔ گاڑی پوری رفتار سے ہسپتال کی طرف بڑھ رہی تھی۔ (جاری)</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>خالی ہاتھ(عمران یعقوب خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-05-17/51963/27978950</link><pubDate>Sun, 17 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-05-17/51963/27978950</guid><description>منشی مرزا محمد رضا معجزؔ کا ایک معروف شعر یاد آ رہا ہے:مہیا گرچہ سب اسباب ملکی اور مالی تھےسکندر جب گیا دنیا سے دونوں ہاتھ خالی تھےکچھ ایسی ہی صورتحال مجھے دورۂ چین کے بعد وطن واپس جاتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی محسوس ہوئی۔ سکندر کے دونوں ہاتھ دنیا سے جاتے ہوئے خالی تھے تو صدر ٹرمپ کے دونوں ہاتھ دورۂ چین سے واپس جاتے ہوئے خالی نظر آئے‘ حتیٰ کہ وہ صدر شی جن پنگ سے ٹیرف پر بھی بات نہیں کر سکے۔ گزشتہ برس اس معاملے پر دونوں ملکوں بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ دونوں رہنماؤں کے مابین خاصی ٹھنی ہوئی تھی۔ الٹا صدر شی جن پنگ نے صدر ٹرمپ پر یہ واضح کر دیا کہ تائیوان کا مسئلہ چین امریکہ تعلقات میں سب سے اہم ہے‘ اگر تائیوان کا مسئلہ درست طریقے سے نہ سنبھالا تو امریکہ اور چین کشیدگی کی طرف جا سکتے ہیں۔ ٹرمپ صاحب کی شی جن پنگ سے ملاقات تو ہوئی لیکن وہ چینی صدر کے ساتھ معانقہ نہ کر سکے‘ ملاقات مصافحہ تک ہی محدود رہی۔اگرچہ دونوں رہنماؤں نے اپنے اپنے طور پر اس دورے کو کامیاب قرار دیا ہے لیکن مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ دورے سے پہلے اور دورے کے بعد کی صورتحال میں تبدیلی کیا واقع ہوئی ہے۔ دونوں رہنماؤں نے خلیج فارس میں واقع حساس آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے اور ایران کے معاملے پر ثالثی کی پیشکش پر اتفاق کیا اور توانائی کے آزادانہ بہاؤ کے لیے اس اہم آبی گزرگاہ کو کھلا رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ میرا خیال ہے کہ ملاقات سے پہلے بھی دونوں کا یہی مؤقف تھا۔ چین کبھی بھی آبنائے ہرمز کی بندش کے حق میں نہیں رہا حالانکہ ایران چینی جہازوں کو وہاں سے گزرنے دے رہا ہے۔اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ چین اور ایران کے قریبی اور گہرے تعلقات ہیں۔ بیجنگ کو تہران کا قریبی اتحادی سمجھا جاتا ہے اور چین ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہونے کے سبب اس کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ چین ایرانی تیل اپنی چھوٹی اور آزادانہ طور پر کام کرنے والی ریفائنریوں کے ذریعے درآمد کرتا ہے۔ دوسری جانب امریکہ جاری جنگ میں ایران پر مالی اور معاشی دباؤ بڑھانے اور آمدنی کے ذرائع روکنے کے لیے ان آزاد قسم کی ریفائنریوں پر پابندیاں عائد کرتا رہتا ہے۔ دو ہفتے پہلے بھی امریکہ نے چین کی کئی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ چین کی وزارتِ تجارت نے اس پر واضح کیا کہ وہ امریکی پابندیوں کو تسلیم نہیں کرتی اس لیے چینی کمپنیوں اور اداروں کو بھی امریکی پابندیوں کو نہیں ماننا چاہیے‘ چینی حکومت ہمیشہ ان یکطرفہ پابندیوں کی مخالفت کرتی آئی ہے جو اقوامِ متحدہ کی منظوری کے بغیر اور بین الاقوامی قانون کی بنیاد پر نہیں لگائی جاتیں۔ڈی ڈبلیو نے لکھا ہے کہ جمعہ 15 مئی کو ڈونلڈ ٹرمپ کی اپنے طیارے ایئر فورس وَن کے ذریعے واپس امریکہ کے لیے روانگی تک کسی نمایاں پیش رفت کا کوئی اعلان نہیں کیا گیا تھا۔ دیگر ممکنہ معاہدوں کی صورتحال کے بارے میں بھی کوئی واضح معلومات سامنے نہیں آئیں‘ البتہ صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے شاندار تجارتی معاہدے کیے ہیں۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ چین نے بوئنگ کمپنی کے 200طیارے خریدنے پر رضا مندی ظاہر کی ہے لیکن بیجنگ میں چینی وزارتِ خارجہ نے اس تعداد کی تصدیق نہیں کی اور صرف یہ کہا کہ دونوں ممالک کے تجارتی تعلقات کی بنیاد باہمی مفاد ہے۔اگر کسی کو میری بات سمجھ میں نہیں آ رہی تو ڈی ڈبلیو کی یہ رپورٹ پڑھنے کے بعد وہ سمجھ گیا ہو گا کہ میرا مدعا کیا ہے۔ وہ جو بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا لیکن جب اس کو چیرا گیا ہے تو اک قطرۂ خوں بھی اس میں سے برآمد نہیں ہوا ہے۔ دشمنی اور مخاصمت ایک دورے سے تو ختم نہیں ہوتی۔ پہلے آپ چین کو نیچا دکھانے کے لیے ٹیرف بڑھانے کا کھیل کھیلتے رہے اور اب آپ چاہتے ہیں کہ چین آپ کو ایرانی جنگ کی دلدل سے نکالے۔ اس کمبل سے جان چھڑائے جسے آپ تو چھوڑنا چاہتے ہیں لیکن کمبل اب آپ کو نہیں چھوڑ رہا ہے۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے چین کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کا خواب حقیقت نہ بننے کی کئی وجوہات ہیں۔ انہوں نے اپنی پہلی اور موجودہ صدارت کے دوران کئی بار یہ دعویٰ کیا کہ وہ چین کے ساتھ بہترین معاہدہ کریں گے اور تعلقات بہتر بنائیں گے لیکن عملی  طور پر ان کی پالیسیاں دونوں ممالک کے مابین کشیدگی میں اضافے کا سبب بنتی رہی ہیں۔ سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی چین سے متعلق حکمت عملی تضادات کا شکار رہی‘ جس کی وجہ سے چینی قیادت ان سے خائف ہے۔ ٹرمپ نے چین پر تجارتی بے ضابطگیوں‘ امریکی مصنوعات کی نقل اور غیر منصفانہ تجارتی پالیسیوں کے الزامات لگائے۔ علاوہ ازیں صدر ٹرمپ نے چینی مصنوعات پر بھاری ٹیرف عائد کیے جس کے جواب میں چین نے بھی امریکی اشیا پر اضافی ٹیکس نافذ کر دیے۔ اس تجارتی جنگ یا ٹیرف وار نے نہ صرف دونوں ممالک کی معیشتوں کو متاثر کیا بلکہ عالمی مارکیٹ میں بھی بے یقینی پیدا کر دی۔ اس کے نتیجے میں سرمایہ کار خوف کا شکار ہوئے اور عالمی تجارت میں سست روی مشاہدے میں آئی۔امریکی حکومت مختلف حوالوں سے مسلسل چین پر دباؤ ڈالتی رہی جبکہ چین نے بھی اپنے قومی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا۔ یوں معاملات کو درست نہج پر لانے کے لیے کی جانے والی سفارتی ملاقاتیں محض بیانات تک محدود رہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی میں تسلسل کی کمی بھی اس ناکامی کی ایک بڑی وجہ ہے۔ ایک طرف وہ چین کے صدر کی تعریف کرتے تھے اور دوسری جانب سخت بیانات جاری کرتے رہے۔ اس دوغلی حکمت عملی نے نہ صرف امریکی اتحادیوں کو پریشان کیا بلکہ چین کو یہ پیغام بھی دیا کہ واشنگٹن کی پالیسی غیر واضح ہے۔ ٹرمپ کی پالیسیوں کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ انہوں نے چین کو صرف معاشی حریف نہیں بلکہ سٹریٹجک خطرہ بھی قرار دیا تھا۔ جنوبی بحیرۂ چین‘ تائیوان اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں بھی امریکہ اور چین کے درمیان اختلافات ہیں‘ بلکہ بڑھ رہے ہیں۔ خاص طور پر چینی کمپنیوں پر پابندیاں اور ہواوے کے خلاف اقدامات نے کشیدگی میں اضافہ کیا۔ دونوں ملکوں کی ایک دوسرے پر عدم اعتماد کا یہ عالم ہے کہ امریکی وفد نے چین کے دورے کے دوران الیکٹرانک جاسوسی‘ ڈیٹا چوری اور ہیکنگ کے خدشات کے پیشِ نظر چین کی جانب سے دیے جانے والے الیکٹرانک آلات وہیں چین میں چھوڑ دیے۔ ان آلات کو ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی جانب سے سکیورٹی پروٹوکول کے تحت تلف کر دیا گیا تاکہ اہم سرکاری اور خفیہ معلومات تک چینی انٹیلی جنس کی رسائی روکی جا سکے۔ امریکی وفد میں موجود صحافی ایملی گڈان نے چین سے روانگی کے وقت اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا کہ ایئر فورس وَن میں سوار ہونے سے پہلے امریکی عملے نے چینی حکام کی طرف سے دی ہوئی ہر چیز جیسے شناختی کارڈز‘ عارضی برنر‘ فونز وغیرہ سب جمع کر کے وہیں سیڑھیوں کے نیچے موجود ایک ڈبے میں پھینک دیں۔یہی وہ وجوہ ہیں جن کی بنیاد پر میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ ٹرمپ اپنے دورۂ چین سے کوئی خاص Gain نہیں کر سکے۔ آپ کا کیا خیال ہے؟ یہ دورہ کتنا کامیاب رہا اس کا اندازہ صدر ٹرمپ کے آج کے بیان سے لگا لیں۔ انہوں نے فرمایا ہے: تاحال تائیوان کو ہتھیار فراہم کرنے کی منظوری نہیں دی‘ ممکن ہے دیں اور ممکن ہے نہ دیں‘ تائیوان سے متعلق امریکی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ مطلب پرنالہ وہیں پر ہے جہاں پہلے تھا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_58350786.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سیاسی محاذ آرائی کی بھینٹ چڑھتا صوبہ(رشید صافی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-05-17/51964/22329916</link><pubDate>Sun, 17 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-05-17/51964/22329916</guid><description>کسی بھی معاشرے میں شہریوں کی بنیادی ضرورت جان کا تحفظ اور امن و امان کا احساس ہے۔ جس معاشرے سے تحفظ کا احساس ختم ہو جائے اور شہریوں کے جان و مال خطرات کی زد میں ہوں وہ معاشرہ اپنے باسیوں کے لیے عدم تحفظ کا استعارہ بن جاتا ہے۔ جب گھر کے افراد خوف کا شکار ہوں تو وہ کسی دوسرے کو سلامتی کا یقین کیسے دلا سکتے ہیں؟ خیبرپختونخوا میں معیشت سمیت ہر سطح پر عدم تحفظ کا گہرا تاثر موجود ہے۔ علمائے کرام سے لے کر صحافیوں تک‘ تاجر برادری سے لے کر سیاسی و سماجی رہنماؤں تک سبھی عدم تحفظ کی زد میں ہیں۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ دہشت گردی کی حالیہ لہر ماضی کے مقابلے میں بالکل مختلف اور کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ اس کا سب سے خطرناک پہلو اس کا &#39;&#39;بے چہرہ‘‘ ہونا ہے۔ ان حملہ آوروں کا نہ تو کوئی واضح ایجنڈا ہے اور نہ ہی کوئی اعلانیہ مطالبہ۔ یہ عناصر رات کے اندھیرے میں یا اچانک گھات لگا کر حملہ کرتے ہیں‘ معصوموں لوگوں کا خون بہاتے ہیں اور پلک جھپکتے ہی واپس اپنی خفیہ پناہ گاہوں میں جا چھپتے ہیں۔ ان شرپسندوں کا کوئی واضح نظریہ یا فکری سوچ نہیں۔ ان کا ہدف صرف وہی ہوتا ہے جو انہیں سرحد پار یا پس پردہ بیٹھے بیرونی سرپرستوں کی طرف سے فنڈنگ اور ٹارگٹ کی صورت میں سونپا جاتا ہے۔ خیبرپختونخوا میں خوف کی یہ تاریک فضا اس وقت واضح طور پر محسوس کی جا سکتی ہے۔ خاص طور پر وہ اضلاع جو افغانستان کی سرحد سے متصل ہیں اس وقت شدید بدامنی کی لپیٹ میں ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ چند برس قبل تک سکیورٹی فورسز نے ضربِ عضب اور رد الفساد جیسے بڑے عسکری آپریشنز کے ذریعے جن قبائلی اضلاع کو دہشت گردوں سے پاک کیا تھا وہ علاقے دوبارہ شرپسندوں کی آماجگاہ بنتے دکھائی دے رہے ہیں۔ باجوڑ‘ بنوں‘ شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان اور لکی مروت میں آئے روز دہشت گردی کے واقعات اسی خطرے کی نشاندہی کرتے ہیں جس کے تانے بانے افغان سرحد کے اُس پار سے ملتے ہیں۔ سکیورٹی فورسز اور پولیس کے جوان صفِ اوّل پر رہ کر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں۔ وہ ان بزدل دشمنوں کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند کھڑے ہیں اور ان کی قربانیاں پوری قوم کا فخر ہیں۔ لیکن اس نوعیت کی جنگ محض عسکری طاقت کے زور پر نہیں جیتی جا سکتی۔ اس بحران پر مستقل قابو پانے کے لیے صوبائی حکومت کی سیاسی پشت پناہی‘ انتظامی جانفشانی اور صوبے کے وسائل کا رخ اس خوف کی فضا کو ختم کرنے کی طرف موڑنا ازحد ضروری ہے۔ پائیدار امن کے لیے صوبائی حکومت اور اداروں میں ہم آہنگی وقت کی ناگزیر ضرورت بن چکی ہے۔صوبے میں گزشتہ بارہ برس سے مسلسل ایک ہی جماعت کی حکومت ہے۔ بارہ سال کا عرصہ کسی بھی صوبے کی تقدیر بدلنے‘ سکیورٹی کے ڈھانچے کو مضبوط کرنے اور پولیس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے لیکن خیبرپختونخوا گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے مستقل سیاسی تجربات‘ دھرنوں اور احتجاجی بیانیے میں الجھا ہوا ہے۔ جب صوبائی حکومت اور اس کی کابینہ کا بیشتر وقت صوبائی معاملات چلانے‘ پائیدار پالیسیاں وضع کرنے اور امن و امان پر توجہ دینے کے بجائے وفاق کے خلاف محاذ آرائی میں گزرے گا تو بیوروکریسی اور پولیس کا مورال کیونکر بلند ہو گا؟ بارہ سال سے برسرِ اقتدار رہنے کے بعد بھی صوبائی حکومت اپنی انتظامی ناکامیوں اور ترجیحات کے بگاڑ کا ملبہ کسی دوسرے پر نہیں ڈال سکتی۔ دیگر صوبوں کا موازنہ خیبرپختونخوا سے کریں تو ایک واضح فرق نظرآتا ہے۔ پنجاب اور سندھ میں تمام تر سیاسی اختلافات اور بحرانوں کے باوجود ترقیاتی کاموں اور معاشی منصوبوں میں مسابقت نظر آتی ہے۔ وہاں آئے روز کسی نئے انفراسٹرکچر‘ ہسپتالوں یا دوسرے منصوبوں کے آغاز کی خبریں آتی ہیں۔ لیکن خیبر پختونخوا داخلی سیاسی لڑائیوں کی وجہ سے معاشی جمود کا شکار ہے۔ جب وزیر اعلیٰ کی سب سے بڑی ترجیح امن و امان کا قیام اور عوام کی فلاح و بہبود کے بجائے اڈیالہ جیل میں قید اپنے سیاسی قائد کے لیے آواز اٹھانا اور وفاق کے خلاف جلسے جلوس نکالنا ہو تو صوبے کے عوام کا پرسان حال کون ہو گا؟ جب صوبے کا کپتان ہی انتظامی امور چھوڑ کر سیاسی معرکہ آرائی میں مصروف ہو تو امن کی کشتی کو ساحل تک پہنچانا محال ہو جاتا ہے۔دہشت گردی اور سرحد پار سے آنے والے خطرات جیسے بڑے چیلنجز سے کوئی بھی صوبہ تنہا نبردآزما نہیں ہو سکتا‘ اس کے لیے وفاق کی معاونت اور ریاستی اداروں کا اشتراکِ عمل ناگزیر ہے۔ بلوچستان کی مثال دیکھیں تو وہاں سکیورٹی کے شدید ترین خطرات کے باوجود صوبائی حکومت نے وفاق کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف مربوط حکمت عملی اپنائی ہوئی ہے۔ وفاق بلوچستان کو سکیورٹی‘ انٹیلی جنس شیئرنگ اور مالیاتی سطح پر ہر ممکن مدد فراہم کر رہا ہے کیونکہ وہاں کی صوبائی حکومت نے محاذ آرائی کے بجائے وفاق کے ساتھ مل کر چلنے کا راستہ چنا ہے۔ خیبر پختونخوا کی حکومت کو بھی اسی طرح وفاق کی بھرپور مدد حاصل ہو سکتی ہے‘ لیکن اس کا راستہ اسلام آباد پر چڑھائی کرنے یا ریاستی اداروں سے سینگ پھنسانے سے نہیں بلکہ آئینی اورسیاسی رابطوں سے نکلتا ہے۔بیرونی دشمن ہمیشہ آپ کے اندرونی اختلافات کا فائدہ اٹھاتا ہے۔ جب دہشت گرد اور ان کے سر پرست یہ دیکھتے ہیں کہ ہماری صفوں میں گہرے اختلافات موجود ہیں اور جب اعلیٰ عہدوں پر فائز شخصیات ان اختلافات کو سلجھانے کے بجائے کھلے عام اور فخریہ انداز میں اچھالتی ہیں تو دشمن ان دراڑوں کو مزید گہرا کرنے کے لیے اپنی پوری طاقت لگا دیتا ہے۔ وفاق اور صوبے کی سرد جنگ دشمن کو تقویت پہنچانے کا سبب بنتی ہے اور یہ سیاسی کھینچا تانی سکیورٹی اداروں کی کارروائیوں کو ثمر آور نہیں ہونے دیتی۔ یوں سیاسی کشیدگی کا خمیازہ خیبر پختونخوا کے چار کروڑ سے زائد عوام جانوں کے ضیاع‘ کاروبار کی تباہی اور معاشی بدحالی کی صورت میں بھگت رہے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ صوبائی قیادت اپنے سیاسی مفادات اور ذاتی انا کے حصار سے نکل کر تلخ حقائق کو تسلیم کرے۔ وفاق اور صوبے کا مثالی تعاون صرف اسی صورت ممکن ہے جب صوبائی حکومت محاذ آرائی کے بجائے صوبے کے مفادات کو مقدم رکھے۔ اڈیالہ جیل کے چکروں اور وفاق سے مستقل الجھاؤ کے بجائے اپنی  توانائیاں خیبر پختونخوا کو امن کا گہوارہ بنانے‘ پولیس کو جدید آلات سے لیس کرنے اور وفاق کے ساتھ مل کر افغان سرحد سے آنے والے خطرات کے خلاف مضبوط اور یکجا قومی بیانیہ تشکیل دینے پر صرف کی جائیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/222_48272610.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بحر ہند سے فضاؤں تک پاک چین برتری(محمد عبداللہ حمید گل)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-abdullah-hameed-gull/2026-05-17/51965/33371061</link><pubDate>Sun, 17 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-abdullah-hameed-gull/2026-05-17/51965/33371061</guid><description>مودی کو بہار اسمبلی الیکشن کے لیے ایک بڑے ایڈونچر کی ضرورت تھی جس کے لیے ہمارے ہٹ دھرم ازلی دشمن نے حسبِ روایت دہلی کے راشٹر پتی بھَون میں سکرپٹ تیار کیا اور 22 اپریل 2025ء کو پہلگام میں فالس فلیگ منصوبہ بنایا گیا‘ جس میں ابھی لاشیں بھی نہ گنی گئیں اور پاکستان کو اس کا ذمہ دار قرار دے دیا گیا۔ بھارتی گودی میڈیا پر طبلِ جنگ بج گیا‘ اینکرز نے پاکستان مخالف راگ الاپنا شروع کر دیا تو ریٹائرڈ بھارتی جنرل نقشوں پر تیر چلانے لگے۔ ان سب کا ایک ہی نعرہ تھا &#39;&#39;گھس کر ماریں گے‘‘۔ چھ اور سات مئی کی درمیانی رات کو آپریشن سیندور کا اعلان ہوا اور پاکستان کے مساجد اور مدرسوں کو دہشت گرد کیمپ قرار دے کر نشانہ بنایا گیا۔ دعویٰ کیا گیاکہ نو ٹھکانے تباہ کر دیے اور 100سے زائد دہشت گرد مار دیے‘ اور اپنی قوم کو یقین دلایا کہ 56انچ کا سینہ آپ کی رکھشا کے لیے ہے۔ مگر دہلی بھول گیا کہ یہ 2019ء نہیں 2025ء ہے۔ یہ ہمارا روایتی حریف پاکستان نہیں بلکہ آج یہ ایک ایسا پاکستان ہے جس کے ہتھیار بھی مختلف اور عسکری کمانڈ بھی ایسی جو نیو نارمل اسٹیبلش کرنے پر یقین رکھتی ہے‘ جبکہ بھارت کے دماغ میں ایک ہی کیلکولیشن تھی کہ ایس 400 ہمارا تحفظ کرے گا‘ رافیل کا Spectra ہمیں تحفظ دے گا اور پاکستانی J-10C ہمارے سامنے نہیں آئے گا۔ مگر منظر نامہ بدل گیا اوردنیا نے دیکھا کہ چھ بھارتی جنگی جہاز‘ تین رافیل ‘ایک MiG-29‘ایک Su-30اور ایک سرویلینس ڈرون پاک فضاؤں سے دور زمین بوس ہو گئے۔ S-400گیم چینجرکے بجائے راکھ کا ڈھیر بن گیا۔پاکستان نے آپریشن بنیانٌ مرصوص کے تحت دشمن کے دانت کٹھے کر دیے۔دہلی ‘ممبئی‘ بنگلور اندھیرے میں ڈوب گئے۔بی جے پی کی ویب سائٹ پر &#39;&#39;پاکستان زندہ باد‘‘ نے دشمن کے ہوش اڑا دیے۔&#39; گھس کر مارنے ‘والا بھارت خود بری طرح پٹ گیا۔بھارتی فوج کے جنرل راجیو گھائی نے نام نہاد آپریشن سیندور کی پہلی سالگرہ پر کہا کہ بارڈر ایک ہے اور دشمن تین‘ پاکستان‘چین اور ترکیہ جبکہ پاکستان کا 80فیصد اسلحہ چینی ساختہ ہے اور آپریشن سیندور سے سبق سیکھ کر تیاری کر لی ہے ‘ لیکن بھارتی جنرل جان لیں ہمارا 80فیصد چینی ساختہ اسلحہ ہی پاکستان کی بھارت پر واضح برتری کی علامت ہے۔جہاں فضائیہ‘ میزائل فورس ‘ڈرونز ‘ریڈار اور بحری قوت ایک مربوط نظام کے تحت کام کرتے ہیں اور یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ اب پاکستان 14اگست کو ففتھ جنریشن سٹیلتھ فائٹر جیٹ J-35 کی نمائش کرنے جا رہا ہے جو بھارت کی نیندیں اڑا دے گا۔ دوسری جانب بھارت کے روسی طیارے ‘فرانسیسی رافیل ‘اسرائیلی اورامریکی نگرانی کے نظام اور روسی S-400دفاعی نظام‘ دفاعی ساز و سامان ہے یا چوں چوں کا مربہ۔ ناقدین کے مطابق یہ تنوع ایک مربوط جنگی ایکو سسٹم میں بڑی رکاوٹ بنتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن محض فوجی تعداد یا بجٹ سے نہیں بلکہ ٹیکنالوجی‘ سٹریٹجک ہم آہنگی اور رسد کے مربوط نظام سے ناپا جا رہا ہے۔پاکستان اور چین نے گزشتہ چند برسوں میں جس انداز سے مشترکہ دفاعی حکمت عملی کو عملی شکل دی ہے‘ اس نے بھارتی پالیسی سازوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔دہلی کو اب یہ احساس ہو رہا ہے کہ محض مغربی اسلحہ خرید لینے سے جنگی برتری حاصل نہیں ہوتی بلکہ اصل کامیابی اس وقت ملتی ہے جب فضائی‘ بحری اور سائبر صلاحیتیں ایک ہی کمانڈ ویژن کے تحت حرکت کریں۔اسی لیے بھارتی تھنک ٹینکس اب کھل کر یہ اعتراف کر رہے ہیں کہ خطے میں طاقت کا پرانا توازن تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ایک طرف بھارت ہے جو خود کو &#39;&#39;Net-Security Provider‘‘کہہ کر خطے کا چودھری بننا چاہتا ہے۔ دوسری جانب پاک چین سٹریٹجک اتحاد جو نہ صرف جغرافیائی توازن بدل رہا ہے بلکہ بھارتی بالا دستی کے خواب کو بھی چکنا چور کر رہا ہے۔ دہلی نے ایک خوش فہمی پال رکھی ہے کہ بحر ہند بھارت کی جا گیر ہے۔ اسی زعم میں اس نے انڈیمان نکوبار کو ناقابلِ تسخیر بحری قلعہ بنایا اور کواڈ کے نام پر امریکہ ‘جاپان اورآسڑیلیا کو علاقے میں لے آیا۔امریکی مغربی اثرورسوخ کو تقویت دینا اسی پالیسی کا حصہ ہے۔سوال یہ ہے کہ بھارت یہ سب کچھ کس کے لیے کر رہا ہے ؟ اپنے توسیع پسندانہ عزائم کی تکمیل کے لیے۔ 2020ء میں لداخ کے بعد بھارت نے جزائر انڈمان میں میزائل اور ائیر بیسز بڑھائیں‘ اس کا صاف مطلب آبنائے ملاکا کو گھیر کر چین کا گلا دبانا ہے‘ جو سکیورٹی نہیں معاشی دہشت گردی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب بھارت کو خود ڈیگو گارشیا میں امریکی اڈے پر اعتراض نہیں تو چین کا گوادر میں آنا کیوں چبھتا ہے؟ دراصل بھارت گوادر کو صرف معاشی منصوبہ نہیں بلکہ اپنی بالادستی کے لیے ایک خطرہ تصور کرتا ہے۔ بحر ہند میں اصل مقابلہ اب صرف جنگی جہازوں کا نہیں بلکہ Sea denial اور chokepoints کی حکمت عملی کا ہے۔ گوادر نے کھیل بدل دیا ہے۔ تیل گوادر اترے گا اور زمینی راستے سے کاشغر جائے گا۔ نہ ملاکا کا خطرہ اور نہ ہی بھارتی بحریہ کی بلیک میلنگ۔ یہی وہ حکمت عملی ہے جس نے دہلی کے حواس گم کر دیے ہیں۔ گوادر پاکستان کے لیے chokepoint نہیں ایک ٹریڈ ہب بنتا جا رہا ہے۔ جیوانی میں مستقبل کا ائیر بیس‘ اورماڑہ میں سب میرین سمیت کراچی سے گوادر تک چین کے تعاون سے بننے والا ساحلی دفاع‘ یہ سب مل کر بھارتی بحریہ کے لیے نو گو ایریا بنتے جا رہے ہیں۔بھارت چاہ بہار کا ڈھنڈورا پیٹتارہا‘ وہ بھی اس کے لیے نو گو ایریا بن چکا ہے۔ دوسری جانب گوادر میں چینی سرمایہ کاری 62ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔ اگلے پانچ برسوں میں نقشہ مکمل بدل جائے گا۔ اپریل 2026ء میں پاکستان کی پہلی ہنگور آبدوز سمندر میں جا چکی ہے۔ جس کی وجہ سے بھارتی ایئر کرافٹ کا کِل زون 300کلو میٹر بڑھ چکا ہے۔ 2028ء میں چین کا چو تھا طیارہ بردار جہاز مستقل بحر ہند میں ہو گا اور دو کیریئر گروپ ہر وقت موجود رہیں گے۔ 2030ء میں گوادر میں پاک چین J-20اور J-35 کے سکوارڈنز مکمل طور پر تعینات ہوں گے جس کا مطلب بھارتی فضائیہ پر مکمل کنٹرول ہے۔ اب بھارت کیا کرے گا؟ تیجس 20سال سے اْڑ نہیں سکا‘ رافیل کی ڈیل میں فرانس سورس کوڈ نہیں دے رہا۔ نیوکلیئر آبدوز INS ارہینت ابھی تک مکمل آپریشنل نہیں۔ یعنی دہلی کے پاس نہ وقت ہے نہ ٹیکنالوجی اور نہ ہی پیسہ۔اب بحرہند میں مقابلہ ہتھیاروں کا نہیں ویژن کا ہے۔ بھارت کا ویژن ہے اکیلے راج کرنا‘ پاکستان چین کا ویژن ہے مل کر ترقی کرنا۔ تاریخ گواہ ہے کہ سمندروں پر قبضہ کرنے والے نہیں سمندروں کو ملانے والے جیتتے ہیں۔ آج پاکستان اور چین بحر ہند کو مقابلے سے نکال کر کنکٹیویٹی کی طرف لے جا رہے ہیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو ایشیا کے امن‘ تجارت اور خوشحالی کا ضامن ہے۔ بھارت چاہے تو اس نئے ایشیا سے جڑ جائے ورنہ ایک بارڈر تین دشمن گنتے گنتے کہیں دشمنوں کی گنتی بڑھ نہ جائے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_62843609.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>