<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>یومِ آزادی: تجدیدِ عہد کا دن!(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-14/11451</link><pubDate>Fri, 14 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-14/11451</guid><description>پاکستانی قوم آج ملی و قومی جذبے کے ساتھ یومِ آزادی منا رہی ہے۔ یہ محض روایتی جشن کا موقع نہیں بلکہ یہ ایک طویل سفر کی یاددہانی‘ قومی تشخص کے احساس اور تجدیدِ عہد کا دن ہے۔ 14 اگست 1947ء کو جب دنیا کے نقشے پر ایک آزاد مسلم ریاست کا وجود ابھرا تھا تو ناقدین نے اس نوائیدہ مملکت کے قیام اور بقا پر کئی سوالات اٹھائے تھے مگر مشکلات کے اس طویل‘ کٹھن اور صبر آزما سفر میں پاکستانی قوم نے بے شمار تاریخی سنگ ہائے میل عبور کر کے ثابت کیا کہ یہ مٹی زرخیز بھی ہے اور صلاحیت سے بھرپور بھی۔ آج جب ہم قیامِ پاکستان کی آٹھ دہائیوں کی تکمیل کی طرف بڑھ رہے ہیں تو ملکی تاریخ کے اوراق گواہی دے رہے ہیں کہ ہم نے بیرونی جارحیت‘ دہشت گردی کی طویل لہر اور داخلی بحرانوں کا پامردی سے مقابلہ کیا ہے اور اپنی آزادی کی حفاظت کیلئے لاکھوں جانوں کے نذرانے پیش کرنے سے بھی دریغ نہیں کیا۔ یہ انہی گراں قدر قربانیوں کا نتیجہ ہے کہ آج پاکستان دفاعی لحاظ سے دنیا کی ایک ناقابلِ تسخیر قوت بن چکا ہے اور مسلم امہ کی واحد ایٹمی طاقت کے طور پر خطے میں توازن برقرار رکھنے کا ضامن ہے۔ اس مضبوط دفاعی اور تزویراتی حیثیت کی بدولت ہی خلیج عرب سمیت متعدد خطے اور عالمی طاقتیں پاکستان کو اپنا ایک ناگزیر تزویراتی شراکت دار دیکھ رہی ہیں۔

دفاعی اور خارجہ محاذ کی ان شاندا رکامیابیوں کے ساتھ ہمیں یہ تلخ حقیقت بھی تسلیم کرنا ہو گی کہ ملک کو اس وقت بعض سنگین اور کثیر جہتی خطرات کا بھی سامنا ہے جن میں سکیورٹی کے خدشات نمایاں تر ہیں۔ مشرقی و مغربی سرحدوں پر ابھرتے نئے خطرات داخلی امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم ہماری مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ان خطرات کا مقابلہ کرنے کیلئے ہمہ وقت برسر پیکار ہیں۔ سکیورٹی خطرات کے متوازی پاکستان کا ایک بڑا چیلنج معاشی استحکام کا حصول ہے۔ مالی سال 2027ء کیلئے جی ڈی پی کی متوقع شرحِ نمو چار فیصد اور افراطِ زر کی شرح 7.2 سے 8.2 فیصد تک محدود رکھنے کے اہداف یہ واضح کرتے ہیں ہماری معاشی رفتار آبادی کے اس بڑھتے حجم کو سنبھالنے کیلئے ناکافی ہے جس میں 2.55 فیصد سالانہ کی شرح سے اضافہ ہو رہا۔ 25 کروڑ سے زائد نفوس پر مشتمل اس خطے کی معاشی ضروریات اس معاشی رفتار کے ساتھ پوری نہیں کی جا سکتی ہیں۔ دوسری جانب خطے کے غیر یقینی حالات اور عالمی مارکیٹوں کی ناپائیداری نئے چیلنجز کو ابھار رہی ہے۔ عوام بالخصوص نچلے اور متوسط طبقے کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے ٹیکس نیٹ کو بڑھانا اور مینوفیکچرنگ سیکٹر کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ معاشی عدم استحکام کے ساتھ ساتھ ملک میں تعلیم و صحت کی صورتحال کو بہتر بنانا بھی ناگزیر ہے۔
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اپنے قیام کے بعد پاکستان نے شرح تعلیم میں اضافے کے حوالے سے نمایاں کامیابی حاصل کی ہے مگر آئینی ذمہ داری کے تحت ہر بچے کو تعلیم فراہم کرنا اب بھی تشنہ تکمیل ہے۔ ڈھائی کروڑ سے زائد بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ یونیسکو کی عالمی درجہ بندی میں 194 ممالک میں پاکستان کا تعلیم میں 157 واں نمبر ہے۔ قومی شرح خواندگی اگرچہ 63 فیصد کے لگ بھگ ہے‘ مگر دیہات میں آج بھی یہ شرح تقریباً 55 فیصد ہے۔ تعلیمی بجٹ بتدریج سکڑ کر جی ڈی پی کے ایک فیصد سے بھی کم ہو چکا ہے۔ بعینہٖ معاملہ صحت کا ہے۔ پانچ برس سے کم عمر 37 فیصد بچے عدم نشوونما (سٹنٹنگ) کا شکار ہیں۔ ہر ایک ہزار میں سے نوازئیدہ اموات کی شرح 47 ہے‘ جو علاقائی ممالک کی نسبت کہیں زیادہ ہے۔ اگر انسانی ترقی کا جائزہ لیا جائے تو 193 ممالک میں پاکستان کا شمار 168ویں نمبر پر ہوتا ہے۔ یہ مسائل سب کو معلوم ہیں اور ان کا سبب بھی‘ کہ صحت اور تعلیم کے شعبوں کے لیے دستیاب فنڈز موجود نہیں۔ بنیادی طور پر ہر مسئلے کی جڑ کہیں نہ کہیں معاشی مسائل سے جا کر ملتی ہے۔ اس کا ایک حل ہماری دو تہائی سے زائد باصلاحیت نوجوان آبادی ہے‘ جس کو ہنر مند بنا کر ملکی ترقی کا انجن بنایا جا سکتا ہے۔ اس طرح اکثر معاشی اور سماجی مسائل کی جڑیں سیاسی عدم استحکام اور سماجی انتشار سے بھی جڑی ہیں۔ ملک کی پائیدار ترقی وخوشحالی کے لیے سیاسی وسماجی ہم آہنگی کا فروغ ناگزیر ہے۔
آزادی کے اس دن پر یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ پاکستان کو درپیش بحرانوں سے نکالنا کسی ایک فرد‘ ادارے یا سیاسی جماعت کے بس کی بات نہیں بلکہ یہ عوام اور حکومت کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ہر کوئی اپنا کردار مکمل دیانتداری اور ذمہ داری سے ادا کرے۔ جہاں حکومت قانون کی بالادستی‘ یکساں احتساب‘ شفاف طرزِ حکمرانی اور میرٹ پر مبنی نظام کو رائج کرے وہیں عوام کی یہ ذمہ داری ہے کہ ٹیکسوں کی بروقت ادائیگی‘ قانون پسندی‘ سماجی نظم وضبط اور بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے سنہری اصولوں ’’ایمان، تنظیم اور اتحاد‘‘ پر کاربند ہو کر ایک ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیں۔ محض قومی دن منانے سے ملک کی تعمیر و ترقی میں حصہ نہیں ڈالا جا سکتا‘ بلکہ آزادی کے حقیقی ثمرات تبھی حاصل ہو سکتے ہیں جب ریاست کا ہر ستون اور معاشرے کا ہر فرد اپنی انفرادی و اجتماعی ذمہ داریوں کا ادراک کرتے ہوئے‘ قائد اور اقبال کے خوابوں کے عین مطابق پاکستان کو ایک حقیقی‘ فلاحی اور جمہوری ریاست بنانے کے لیے عملی طور پر کوشش کرے۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>افغانستان، دہشت گردی کا مرکز(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-14/11450</link><pubDate>Fri, 14 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-14/11450</guid><description>اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مانیٹرنگ ٹیم کی تازہ رپورٹ نے پاکستان کے اس دیرینہ مؤقف کو تقویت بخشی ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کیلئے استعمال ہو رہی ہے۔اس رپورٹ میں‘ جو 16 دسمبر 2025ء سے 9 جون 2026ء تک کے عرصے کا احاطہ کرتی ہے‘ واضح کیا گیا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے کالعدم ٹی ٹی پی کی حمایت کی وجہ سے پاکستان پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ سکیورٹی امور کے ایک تحقیقاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق رواں سال کی پہلی ششماہی میں ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں 79 فیصد اضافہ ہوا‘ جس کی ذمہ دار کالعدم ٹی ٹی پی ہے جسے افغانستان میں محفوظ ٹھکانے میسر ہیں۔اس پس منظر میں افغان عبوری حکومت کا یہ بیانیہ کہ اسکی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہو رہی‘ سفید جھوٹ کے سوا کچھ نہیں۔

افغان طالبان نے دوحہ معاہدے میں دہشت گردوں کو افغان سرزمین کے استعمال سے روکنے کی ذمہ داری قبول کی تھی؛ اس ذمہ داری سے انحراف نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن کیلئے خطرناک ہے۔ پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت بارہا افغان حکومت کو اس خطرے سے آگاہ کر چکی ہے۔ اس لیے افغان طالبان 2020ء کے دوحہ معاہدے کی پاسداری کرتے ہوئے اپنی سرزمین کو ٹی ٹی پی سمیت دیگر دہشت گرد گروہوں سے پاک کرنا ہو گا۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بلیک میلنگ سے بلیک میلنگ تک(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-08-14/52477/13819612</link><pubDate>Fri, 14 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-08-14/52477/13819612</guid><description> اپنے دوست اینکر منیب فاروق کے شو میں تھا‘ جس میں رانا احسان افضل بطور حکومتی نمائندہ موجود تھے۔ منیب نے ان سے پوچھا کہ آپ عمران خان سے ملاقات کیوں نہیں ہونے دیتے؟ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور پی ٹی آئی کے ساتھی آپ کو یہ تو نہیں کہہ رہے کہ خان کو رہا کرو‘ جیسے نومبر 2024ء میں علی امین گنڈاپور کا نعرہ تھا‘ جب وہ احتجاجی جلوس لے کر اسلام آباد آئے تھے۔ سہیل آفریدی صرف عمران خان تک رسائی مانگ رہے ہیں۔ یہ کون سا اتنا بڑا ایشو ہے جس کیلئے آپ 27ستمبر کو ایک احتجاجی جلوس کا سامنا کرنے کو تیار ہیں؟ اس پر رانا صاحب کا کہنا تھا کہ حکومت پی ٹی آئی کے ہاتھوں کسی صورت بلیک میل نہیں ہو گی کہ پی ٹی آئی دھمکی دے کر کہے کہ خان سے ملاقات کرائی جائے۔ اس پر منیب کا کہنا تھا کہ ہر حکومت کو لگتا ہے کہ اسے بلیک میل کیا جا رہا ہے‘ لہٰذا ریاست یا وزیراعظم یا حکومت کی طرف سے سخت بیان جانا ضروری ہے کہ ہم بلیک میل نہیں ہوں گے‘ جیسے عمران خان جب وزیراعظم تھے تو انہوں نے کوئٹہ میں اپنے پیاروں کی لاشوں کے ساتھ سڑک پر بیٹھے ہزارہ کمیونٹی کے مظاہرین سے ملنے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا تھا کہ وہ ان مظاہرین کے ہاتھوں بلیک میل نہیں ہوں گے۔ وہ کئی دن تک بیٹھے رہے لیکن عمران خان نہ گئے۔ پوری پارٹی‘ میڈیا اور سول سوسائٹی منت ترلے کرتی رہ گئی کہ دہشت گردی میں مارے جانے والوں کی بیوائیں‘ ماں باپ‘ بہن بھائی‘ بچے اور دیگر رشتہ دار لاشیں لے کر بیٹھے ہیں‘ آپ کے جانے سے ان کے دکھ کا کچھ مداوا ہو جائے گا۔ لیکن خان کا ایک ہی جواب تھا کہ وہ لاشوں کے ہاتھوں بلیک میل نہ ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے لاشوں کو دفناؤ‘ پھر آؤں گا۔ یوں عمران خان کو اپنا دکھ سنانے کے لیے لواحقین نے کئی روز کے بعد اپنے پیاروں کی لاشیں دفنائیں تو اس کے بعد ہی عمران خان کوئٹہ گئے اور کچھ دیر کے لیے ان سے ملاقات کی۔ عمران خان کو اس بات پر فخر رہا کہ وہ ہزارہ کمیونٹی کے لوگوں سے بلیک میل نہیں ہوئے۔یہی بات اب حکومتی نمائندہ کہہ رہا تھا کہ عمران خان سے ملاقات کے لیے جو پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو احتجاج کی کال دے رکھی ہے‘ وہ اس دھمکی سے بلیک میل نہیں ہوں گے۔ مطلب یہ کہ وہ عمران خان کی ملاقات نہیں کرائیں گے‘ چاہے پی ٹی آئی جتنے مظاہرین لانا چاہتی ہے لے آئے۔ سیاسی حکومتوں اور سیاسی وزیراعظم کا عوام کے مطالبات پر یہ کہنا کہ وہ بلیک میل نہیں ہوں گے‘ کچھ اچھا تاثر نہیں چھوڑتا۔ ایک آمر اور جمہوری سیاستدان میں کیا فرق رہ جاتا ہے۔ عوام یا عوامی امنگوں کا احترام کرنا ہرگز بلیک میل ہونا نہیں ہوتا بلکہ اسے جمہوریت کی خوبی اور حسن کہا جاتا ہے۔ بلیک میلنگ سے یاد آیا کہ دنیا میں دو‘ تین قسم کے وزیراعظم پائے جاتے ہیں۔ ایک وہ جو خود کو عوام کا نمائندہ اور جوابدہ سمجھتے ہیں اور ہمیشہ انکساری سے عوامی رائے کا احترام کرتے ہیں۔ دوسرے وہ جو اپنی بات پر قائم رہتے ہیں کہ وہی ٹھیک راستہ ہے‘ چاہے کچھ بھی ہو جائے۔ میں ان دونوں قسم کے وزرائے اعظم کی مثالیں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔برطانوی خاتون وزیراعظم مارگریٹ تھیچر طاقتور وزیراعظم کی پہلی مثال تھیں‘ جنہیں آئرن لیڈی کا خطاب دیا گیا‘ جب انہوں نے اپنے دور میں کوئلے کی کانوں میں ہڑتال کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا تھا اور وہ بحران لمبا عرصہ چلا لیکن وہ نہ جھکیں اور اپنے اسی فیصلے پر ڈٹی رہیں کہ وہ یونین سے بلیک میل نہیں ہوں گی اور نہ ہی وہ ہوئیں۔ دوسری قسم کے لیے بھارت کے لال بہادر شاستری کی مثال ہے‘ جو خود کو عوامی نمائندہ سمجھتے تھے اور عوام کے سامنے خود کو انکساری کے ساتھ پیش کرتے اور ہر قسم کی گفتگو سننے کو تیار رہتے تھے۔ کچھ عرصہ پہلے میں نے لال بہادر شاستری کے ساتھ سات سال تک کام کرنے والے سیکرٹری کی شاستری کے بارے میں لکھی کتاب پڑھی۔ اس سے اندازہ ہوا کہ وہ کیسے وزیراعظم تھے۔ سیکرٹری نے انکشاف کیا کہ جب 1965ء میں مقبوضہ کشمیر میں ہلچل شروع ہوئی تو لال بہادر شاستری اس معاملے کو بڑھانا بالخصوص پاکستان کے ساتھ جنگ نہیں لڑنا چاہتے تھے۔ وہ عالمی بارڈر‘ خصوصاً لاہور کا محاذ نہیں کھولنا چاہتے تھے۔ وہ بات چیت کے حق میں تھے۔ انہوں نے کارروائی میں اتنی تاخیر کی کہ ان کے خلاف اپوزیشن نے احتجاج‘ مظاہرے اور ریلیاں نکالنا شروع کر دیں کہ بھارت کا وزیراعظم بزدل ہے۔ لہٰذا شاستری نے لاہور پر حملے کی منظوری دی اور پھر چند ہی دنوں میں جنگ بندی پر بھی فوراً تیار ہو گئے۔ تاشقند میں پاک بھارت معاہدے میں تاخیر پر بھارت سے زیادہ پاکستان کو قصور وار سمجھا جاتا تھا۔ شاستری چاہتے تھے کہ پاکستان بھارت کے ساتھ جنگ نہ کرنے کا مستقل معاہدہ کرے جبکہ پاکستانی حکام اس پر تیار نہ تھے۔ اگر وہ معاہدہ ہو جاتا تو شاید 1971ء میں بھارت اپنی فوجیں مشرقی پاکستان میں داخل نہ کرتا۔خیر‘ ان باتوں کے علاوہ جس بات نے مجھے لال بہادر شاستری کا حوالہ دینے پر مجبور کیا وہ یہ ہے کہ وہ خود کو عوام کے آگے کیسے جوابدہ سمجھتے تھے اور سخت سے سخت باتوں پر بھی ردعمل نہیں دیتے تھے‘ نہ ہی کسی کی ناپسندیدہ باتوں کو بلیک میلنگ قرار دے کر مسترد کر دیتے یا فورس استعمال کرتے تھے۔ سیکرٹری لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک ریاست کے چیمبر آف کامرس نے وزیراعظم کو اپنے کسی فنکشن میں شرکت کی دعوت دی‘ جو انہوں نے قبول کر لی۔ پروٹوکول کے تحت اس چیمبر کے صدر کی تقریر کی کاپی منگوائی گئی تاکہ پتا چلے وہ کیا چاہتے ہیں اور اس کے مطابق ان کا جواب دیا جائے اور اگر حکومت سے کچھ مطالبات ہیں تو ان پر غور کیا جائے۔ جب صدر کی تقریر وزیراعظم ہاؤس میں پہنچی تو سب پڑھ کر حیران رہ گئے کہ چیمبر کے صدر نے اپنی تقریر میں بہت سخت باتیں لکھی تھیں جو وہ فنکشن میں وزیراعظم کی موجودگی میں کرنا چاہتے تھے اور زبان بھی بہت نامناسب تھی۔ وزیراعظم شاستری کو سٹاف نے مشورہ دیا کہ بہتر ہے آپ نہ جائیں‘ چیمبر صدر کی تقریر میں بہت غلط زبان استعمال کی گئی ہے‘ وزیراعظم کے پروٹوکول کا بھی خیال نہیں رکھا گیا۔ تاہم وزیراعظم شاستری نے کہا کہ وہ شرکت کریں گے اور سٹاف کو کہا کہ وہ جوابی تقریر تیار کرے۔ جس دن شاستری کی فلائٹ تھی‘ اسی دن انہیں جوابی تقریر دی گئی۔ وزیراعظم شاستری نے جہاز میں بیٹھے ہوئے اپنی تقریر پڑھی تو انہیں یہ تقریر بہت سخت لگی۔ فوراً اپنی ٹیم کو کہا کہ اسے تبدیل کریں اور نرم کریں۔ پھر ایک تاریخی بات کی کہ اگر یہ لوگ اپنے وزیراعظم سے یہ سب باتیں نہیں کریں گے تو کس سے کریں گے؟ تقریب میں چیمبر کے صدر نے وہی تقریر لال بہادر شاستری کے سامنے پڑھی جو سخت نوعیت کی تھی۔ شاستری نے حوصلے سے سب کچھ سنا اور پھر جواب میں انکساری کے ساتھ ایسی خوبصورت تقریر کی کہ چیمبر صدر کا منہ شرمندگی سے لال ہو گیا۔ تمام ارکان نے اس پر کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں۔ہمارے ہاں اگر وزیراعظم کو مشکل کی گھڑی میں عوام کی طرف سے کوئٹہ بلایا گیا تو کہا کہ میں بلیک میل نہیں ہوں گا۔ پی ٹی آئی نے بانی عمران خان سے ملاقات کے قانونی حق کی بات کی تو کہا گیا کہ ہم بلیک میل نہیں ہوں گے۔ پتا نہیں لال بہادر شاستری جیسے وزیراعظم کہاں گئے۔ کیا اس میٹریل سے حکمران بننے بند ہو گئے جو عوام کے جذبات اور غصے کے آگے خود کو جوابدہ سمجھتے تھے‘ خود کو عوام کا صحیح معنوں میں خدمت گزار سمجھتے تھے‘ جو عمران خان یا شہباز شریف حکومت کی طرح انہیں بلیک میلر نہیں سمجھتے تھے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سپاس گزاری(رسول بخش رئیس)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-08-14/52478/95995071</link><pubDate>Fri, 14 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-08-14/52478/95995071</guid><description>دوسروں کی نہیں‘ خود اپنی مثال دیتا ہوں۔ اگر ہم ایک آزاد ملک نہ ہوتے تو میں گاؤں میں کوئی چھوٹا موٹا کاروبار کر رہا ہوتا‘ یا ہو سکتا ہے کہ بھیڑوں کا چرواہا ہوتا۔ میرے ننھیال بھیڑیں‘ اونٹ اور گائیں رکھتے تھے اور ایک رہٹ پر میرے نانا جان سبزیاں اور گندم کاشت کرتے تھے۔ بچپن میں نانا کے ساتھ بہت دوستی تھی اور وہ مجھ سے بے حد محبت کرتے تھے۔ سبزی کاشت کرنے کے گُر انہی دنوں کے مشاہدے سے میرے ذہن میں آج بھی محفوظ ہیں۔ میرے والد محترم نے کئی کاروبار کیے۔ پہلی یادداشت ان کے کپڑے کے کاروبار کی ہے۔ وہ ملتان جاتے اور وہاں سے دیگر سوداگروں کے ساتھ کپڑا خرید کر لاتے اور اپنے گھر سے ہی بیچا کرتے تھے۔ بعد میں انہوں نے پشم‘ سرسوں اور دیگر اجناس کے کاروبار کیے۔ ہماری چھوٹی سی بستی میں‘ جو قدرتی جنگل میں گھری ہوئی تھی‘ کسی نے سکول کا دروازہ تک نہیں دیکھا تھا۔ والد محترم نے اوائل عمری میں بہت دھکے کھائے اور اس دوران وہ نام اور ہندسے پڑھ لکھ لیتے تھے۔ کسی کی لکھی ہوئی تحریر کے نیچے اپنا نام لکھتے اور بقلم خود کی مہر ثبت کرتے۔ والدہ محترمہ دینی تعلیم سے آراستہ تھیں جو انہوں نے اپنے علاقے کے ایک مشہور استاد شریف محمد سے حاصل کی‘ جو مختلف دیہات میں روزانہ چکر لگاکر بچوں اور بچیوں کو کلام پاک کی تعلیم دیتے تھے۔ بعد میں انہوں نے پنجابی اور سرائیکی کے کئی دینی اور مذہبی شاعری کے کتابچے خود پڑھے اور دوسری خواتین کو بھی پڑھائے۔ پنجاب میں غیرروایتی تعلیم و تدریس کے یہی طریقے ہوا کرتے تھے۔ لیکن چند میل کے فاصلے پر آزادی سے کئی عشرے پہلے ایک پرائمری سکول قائم تھا۔ اُس طرف ہمارے گاؤں میں سے کوئی نہ گیا۔ اگرچہ وہاں دریا کے کنارے اُسی چھوٹے سے قصبے سے خریداری کیلئے آنا جانا عام تھا۔ بزرگ بتایا کرتے تھے کہ زیادہ مدرس اور طلبہ ہندو ہوا کرتے تھے۔ مسلمانوں میں سکول جانے کا رواج تو تھا مگر آبادی کے لحاظ سے بہت کم۔ اس پسِ منظر کا ذکر اس لیے کیا ہے کہ جدید تعلیم سے کم از کم میرے نزدیک کے اور دور کے رشتے داروں اور اہلِ علاقہ اور مختلف برادریوں کی کوئی شناسائی نہ تھی۔ مجھے نہیں یاد کہ پانچ چھ سال کی عمر تک میں اپنی چھوٹی سی بستی اور ارد گرد کی کئی ایسی بستیوں سے کہیں دور گیا ہوں۔ جس سکول کی اوپر بات کی ہے‘ اس کے دو استاد‘ کرم دین صاحب اور سید کاظم حسین صاحب تشریف لائے اور لازمی تعلیم کے نفاذ کی وجہ سے مجھے اگلے دن سکول جانے کا حکم ہوا۔ انہوں نے تو میری زندگی ہی بدل دی۔ جی تو چاہتا ہے کہ بھاگسر کے اس سکول سے لے کر دنیا کی کچھ اعلیٰ ترین جامعات تک کے سفر کی داستان لکھوں‘ مگر شاید ابھی وقت نہیں آیا۔ میں اپنی بات کر رہا ہوں کہ ہم دیہاتی اَن پڑھ لوگ تھے۔ ہمیں ملک نے ایسے مواقع فراہم کیے کہ ہم کچھ سے کچھ بن گئے۔ آزادی سے پہلے بھی تو سکول تھا‘ مگر کسی استاد نے دیہات کا چکر لگا کر زبردستی داخلے کرانے کی زحمت نہ کی۔ مجھے تو اس بات پر فخر ہے کہ میں اپنے خاندان کا پہلا شخص ہوں جس نے نہ صرف تعلیم حاصل کی بلکہ اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ اس بارے مزید لکھنے کی ضرورت نہیں۔ میرے ڈیرہ غازی خان کالج اور اس کے بعد جامعہ پنجاب میں جو دوست بنے اور جن کے ساتھ وہ رشتہ آج بھی قائم ہے‘ تقریباً وہ بھی اپنے خاندانوں میں سے پہلے تھے جو کالجوں اور پھر جامعات تک پہنچے۔ اگر بڑوں میں کوئی پڑھا لکھا تھا بھی تو پرائمری یا زیادہ سے زیادہ مڈل پاس۔ میرے ہم عمر کلاس فیلوز کی اکثریت مقابلے کے امتحان دے کر سرکاری نوکریوں میں گئی۔ اس بارے کچھ زیادہ تو نہیں کہنا چاہتا‘ مگر وہ دیکھتے ہی دیکھتے سماجی‘ معاشی طبقات کی درجہ بندی میں اوپر کی طرف پرواز کر گئے۔ کچھ ایسے بھی تھے جو موٹر سائیکل پر فخر کرتے تھے‘ مگر انہوں نے اپنے حالات کو بزور طاقت موافق بنایا تو شرم کے مارے ہم جیسے درویشوں سے ملنا بھی موقوف کر دیا۔ اس کلاس کے لوگ اب پاکستان کے ہر شہر‘ ہر قصبے اور ہر شعبہ ہائے زندگی میں جا بجا ملتے ہیں۔ ایسے بہت سوں سے ملک کی آزادی‘ تاریخ‘ ثقافت اور روایات کے بارے میں مثبت اور خوشگوار باتیں کم ہی سنی ہیں۔جو بات میں عرض کر رہا ہوں‘ بہت طویل مشاہدے‘ مطالعے اور درسگاہوں میں نصف صدی نوجوانوں میں رہنے کے تجربات پر مبنی ہے۔ سرکاری جامعات میں آنے والے طلبہ تو اپنے سماجی پس منظر کے بارے میں صاف گو تھے۔ وہ کہتے کہ میں یہاں آنے والا پہلا طالب علم ہوں۔ ظاہر ہے میں خوش قسمت ہوں کہ آزادی کے بعد کی تیسری اور چوتھی نسل کو پڑھایا ہے۔ دوسری اور تیسری نسل میں تو لوگ بہت آگے نکل گئے۔ کئی برسوں تک نئے آنے والے بچوں سے پوچھتا رہا کہ تمہارا دادا کیا کام کرتے تھے‘ پڑدادا اگر یاد ہیں تو کس شعبے سے تھے۔ اس طرح زبان‘ ثقافت اور طرزِ زندگی کے بارے میں سوالات ہوتے۔ یقین سے کہتا ہوں کہ آزادی کے بعد ملک کی واضح اکثریت کی معاشی اور سماجی حیثیت بدل چکی ہے۔ کئی ادوار آئے ہیں‘ کچھ اچھے اور زیادہ تر بحرانی جس میں لوگوں نے خود جدوجہد کی ہے‘ اپنا سرمایہ لگایا ہے اور تعلیم کے شعبے میں بھی آگے بڑھتے رہے ہیں۔ میں پرانی طرز کا آدمی ہوں اور قومی آزادی کو اپنے لیے بہت بڑی نعمت سمجھتا ہوں۔ جو خواتین و حضرات آج پُر آسائش جگہوں پر بیٹھ کر &#39;&#39;ملک کیوں بنایا تھا‘‘ کا سوال اٹھاتے ہیں وہ جانیں اور ان کی سوچ‘ مگر مشاہدے میں ہے کہ آج کا غریب‘ کسان اور چھوٹے طبقات پاکستان کے جھنڈے پر فخر کرتے ہیں اور اس طرح یومِ آزادی مناتے ہیں جس طرح کسی بھی ملک میں منایا جاتا ہے۔ہم ملک کے سیاسی‘ حکومتی ماحول اور حکمرانوں کے طرز ِعمل پر تنقید کرتے رہتے ہیں۔ یہ بھی ہمارے نزدیک ایک قومی فریضہ ہے اور آزادی کے تصور کا لازمی حصہ کہ اس کی حفاظت خاموشی اختیار کرنے سے نہیں ہوتی۔ آج کے دن ہمارا ملک 79سال کا ہو گیا ہے‘ مگر آزادی کے اولین برسوں کی روح‘ وژن‘ سمت اور اس صبحِ نو کی امیدیں‘ سب کچھ ماند پڑتی نظر آتی ہیں۔ قوم‘ ملک اور سلطنت کی بنیاد ایک دوسرے کے ساتھ جڑنے اور مشترک اقدار اور مفادات کو ہم آہنگی کے ساتھ مضبوط کرنے میں ہے۔ ہماری تاریخ‘ تہذیب‘ مذہب‘ جغرافیہ‘ ثقافتی رنگ‘ زبانیں‘ نسل وسیع وادیٔ سندھ اور سات دریاؤں کے درمیان ہزاروں برسوں سے اکٹھے پروان چڑھے ہیں۔ باہرسے لوگ آئے اور اس سرزمین کا حصہ بن گئے۔ ہمارے قومی بیانیے میں یہ مشترک اقدار ہمیں ایک قوم بنانے میں دیگر ممالک کی نسبت کہیں زیادہ طاقتور عنصر ثابت ہوئی ہیں۔ گزشتہ مضمون میں کچھ &#39;&#39;قسمت کے ستاروں‘‘ کی بات کی تھی۔ ہمیں تو حکمرانوں اور ان کے سیاسی گماشتوں نے تقسیم کر رکھا ہے کہ قومی بیانیے تو حکمرانوں کے رویے‘ طرزِ زندگی اور نظریاتی جہت سے ترتیب پاتے ہیں۔ بدقسمتی سے آج کے دور میں ہمارے سیاستدانوں‘ میڈیا اور اپنی طرز کے کچھ دانشوروں کا سارا زور اس بات پر ہے کہ ہم گروہی‘ علاقائی طور پر ایک دوسرے سے مختلف ملک ہیں۔ کہیں مل بیٹھیں‘ کوئی علمی نشست ہو تو ہم آپ کو بتائیں‘ مشترک اور مختلف کیا ہوتے ہیں۔ قومیں بہت سی تفریقات سے مل کر ہی ایک ہوتی ہیں۔ یکجہتی‘ ہم آہنگی اور ایک قوم کے تصور میں مختلف زبانوں اور علاقائی ثقافتوں میں فرق دنیا بھر میں ایک حقیقت ہے۔ اصل بات تو یہ ہے کہ ہم اپنی طاقت‘ گفتار اور تحریر مشترک اقدار پر لگا رہے ہیں یا اختلافات کو اجاگر کرنے پر جو سیاسی زندگی کا فطری مظہر ہیں۔ قوم‘ ملک‘ سلطنت پائندہ تابندہ باد!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_33241568.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مکہ دفاعی معاہدہ اور بدلتی جیوپولیٹکل صورتحال(ڈاکٹر رشید احمد خاں)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr-rasheed-ahmad-khan/2026-08-14/52479/63187840</link><pubDate>Fri, 14 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr-rasheed-ahmad-khan/2026-08-14/52479/63187840</guid><description>سات اگست 2026ء کو مکہ مکرمہ میں پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف‘ ترکیہ کے صدر طیب رجب اردوان اور سعودی عرب کے ولی عہد پرنس محمد بن سلمان نے ایک سہ ممالک باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ اس موقع پر معاہدے کے دو پہلوؤں کا خاص طور پر ذکر کیا گیا۔ ایک یہ کہ معاہدہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے اور کسی تیسرے ملک کے خلاف نہیں۔ اس کا مقصد تینوں ملکوں کے اجتماعی تحفظ کو مضبوط ہے اور دوسرا یہ کہ تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملے کو باقی تمام اراکین پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ وزیراعظم شہباز شریف کی رائے میں اس معاہدے سے خطے میں امن اور خوشحالی کو فروغ حاصل ہوگا۔ ترکیہ کے صدر اردوان نے کہا ہے کہ اس معاہدے کے دروازے خطے کے باقی ممالک کیلئے بھی کھلے ہیں اور جلد ہی اس میں مزید مسلم اور عرب ممالک کی شرکت متوقع ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے مصر کا خصوصی ذکر کیا۔ ترکیہ کے وزیر خارجہ نے امید ظاہر کی کہ مصر کے علاوہ باقی عرب ممالک مثلاً قطر اور بحرین بھی اس معاہدے میں شامل ہو سکتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ پاکستان‘ ترکیہ اور سعودی عرب کے علاوہ جن ممالک نے اس معاہدے کی تیاری کے عمل میں اہم کردار ادا کیا ہے‘ ان میں قطر بھی شامل ہے اس لیے قطر کی شمولیت کو قرین حقیقت سمجھا جا رہا ہے۔ اس معاہدے کا او آئی سی کے سیکرٹری جنرل کی طرف سے بھی خیرمقدم کیا گیا ہے۔ پاکستان میں تو اس پر نہ صرف خوشی کا اظہار کیا گیا بلکہ باقاعدہ جشن منایا جا رہا ہے اور حکومت‘ خصوصاً وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو اس کامیابی پر مبارکبادیں دی جا رہی ہیں۔برصغیر کے مسلمانوں کی مشرقِ وسطیٰ کے معاملات میں دلچسپی اور ان میں ایک اہم کردار ادا کرنے کی خواہش کی تاریخ قیامِ پاکستان سے بھی پرانی ہے۔ 1917ء میں برطانیہ نے اعلانِ بالفور جاری کر کے فلسطین میں ایک صہیونی ریاست کے قیام کی راہ ہموار کی تھی تو سیاسی طور پر باشعور ہندوستانی مسلمان اس کی مذمت اور مخالفت میں سب سے آگے تھے۔ اس کے بعد تحریک خلافت کی مثال موجود ہے‘ جب یورپی طاقتوں کی طرف سے پہلی عالمی جنگ میں ترکی کی شکست کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نہ صرف ترکی کے حصے بخرے کردیے بلکہ عثمانی خلافت کے خاتمے کیلئے بھی حالات پیدا کیے تھے۔ تب ہندوستان کے مسلمانوں نے خلافت عثمانیہ کی بحالی کے حق میں ایک ملک گیر تحریک چلائی تھی‘ جسے تحریک پاکستان کا پیش خیمہ سمجھا جاتا ہے۔ہندوستان کے مسلمانوں کے دلوں میں مشرق وسطیٰ خصوصاً فلسطین ہمیشہ سے آباد ہیں۔ اس وقت کے ایک مشہور صحافی کے مطابق آل پاکستان مسلم لیگ کے ہر سالانہ اجلاس میں قیام پاکستان کے مطالبے کے ساتھ فلسطین میں انگریزوں اور یہودیوں کے مظالم کو روکنے کے لیے بھی قراردادیں منظور کی جاتی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ نومبر 1947ء میں جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطین کو تقسیم کر کے اسرائیل کے لیے قرارداد پر بحث ہو رہی تھی تو قائداعظم نے ملک کے پہلے وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خان کو فلسطین کی حمایت کے لیے خصوصی طور پر اقوام متحدہ بھیجا تھا۔ سر ظفر اللہ نے فلسطین کی تقسیم کے خلاف اور عربوں کے مؤقف کے حق میں ایسے مدلل اور تاریخی حقائق کے حوالوں سے دلائل پیش کیے کہ بحث میں حصہ لینے والے عرب مندوب بھی حیران اور ششدر رہ گئے۔ چونکہ یہ ایک قانونی نہیں بلکہ سیاسی مسئلہ تھا اور مغربی ممالک خصوصاً امریکہ اور برطانیہ فلسطین کو دو حصوں میں تقسیم کر کے ایک یہودی ریاست کے قیام پر تلے ہوئے تھے‘ اس لیے وہ مقدمہ ہار گئے اور مغربی استعمار جیت گیا اور تمام تر اخلاقی اصولوں‘ قانون کے تقاضوں اور بین الاقوامی قانون کی نفی کرتے ہوئے فلسطین میں ایک یہودی ریاست کے حق میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے فیصلہ دے دیا۔ تاہم سر ظفر اللہ کے کردار کی وجہ سے مشرقِ وسطیٰ کے ممالک میں پاکستان کی عزت اور تکریم میں بے پناہ اضافہ ہوا۔ تاہم 1955ء میں جب پاکستان نے بغداد پیکٹ میں شمولیت اختیار کی تو یہ خیرسگالی مخالفت میں بدل گئی کیونکہ معاہدۂ بغداد امریکہ کی سرپرستی میں عرب قوم پرستی کے خلاف ایک سازش تھی‘ جس کا واحد مقصد مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ اور مغربی ممالک کے مفادات اور اسرائیل کو تحفظ دینا تھا۔ اس لیے معاہدۂ بغداد عالم عرب میں سخت غیر مقبول تھا۔ اس کے علاوہ معاہدۂ بغداد امریکہ اور سوویت یونین کے مابین جاری سرد جنگ میں روس کے خلاف امریکہ کا ایک ہتھیار تھا۔ یہ معاہدہ پاکستان میں بھی سخت غیر مقبول تھا اور ملک کی تمام سیاسی پارٹیوں میں اس سے علیحدگی پر اتفاق رائے پایا جاتا تھا۔البتہ سات اگست کو طے پانے والے پاکستان‘ سعودی عرب اور ترکیہ کے معاہدے کی نوعیت اور تناظر مختلف ہے۔ اس کو وجود میں لانے والے محرکین میں سب سے اہم اور بنیادی محرک فریقین کو خطے کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال میں اپنے قومی تحفظ کو یقینی بنانے کی ضرورت کا احساس ہے کہ اس کے لیے صرف ایک طاقت یعنی امریکہ پر انحصار نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے علاوہ‘ جیسا کہ واضح کر دیا گیا ہے‘ یہ معاہدہ کسی ملک کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں رکھتا بلکہ بیرونی جارحیت کے خلاف ایک اجتماعی اقدام کیلئے تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ اس قسم کے معاہدے کے لیے تینوں ملکوں کے درمیان ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ سے پہلے باہمی مشاورت جاری تھی۔ امریکہ اور ایران کی جنگ نے اس عمل کو تیز کیا ہے کیونکہ جنگ کے دوران امریکہ خلیجی ملکوں میں امریکی اڈوں پر ایران کے حملوں کو روکنے میں ناکام رہا۔خطے کی بدلتی ہوئی صورت حال میں اجتماعی دفاع کے لیے ایک وسیع اور مؤثر پلیٹ فارم کی اشد ضرورت کے باوجود مذکورہ معاہدے کے بارے میں کچھ تحفظات اور خدشات کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے‘ جنہیں فوری دور کرنا ضروری ہے۔ معاہدے کا مقصد خلیج فارس اور مشرق وسطیٰ میں امن اور تحفظ کا حصول ہے تو اس کے لیے ایران اور مصر کی شمولیت بھی اس میں یقینی بنانی چاہیے۔ اس کے علاوہ معاہدے کی آپریشنل تفصیلات میں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ خطے کے ممالک کے مابین تصادم کی صورت میں ردعمل کیا ہوگا؟ اس ضمن میں سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے مابین کشیدگی بلکہ جنگ کے مسئلے پر ابہام دور کرنے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ کسی بھی جارحانہ اقدام کی صورت میں خود معاہدے کی بقا خطرے میں پڑ سکتی ہے۔اکثر مبصرین کی رائے میں معاہدے کی آپریشنل سے زیادہ اس کی علامتی اہمیت ہے کیونکہ اس کی ایک شق‘ جسے ترکیہ کے وزیر خارجہ نے نیٹو کے آرٹیکل پانچ کے برابر قرار دیا ہے‘ اس پر عمل درآمد آسان نہیں ہوگا۔ خود نیٹو میں صرف ایک دفعہ‘ نائن الیون کے موقع پر اس پر عملدرآمد کیا گیا تھا۔ البتہ سب متفق ہیں کہ اس معاہدے سے کسی ممکنہ جارحیت کی حوصلہ شکنی ہوگی اور یہ بذاتِ خود بہت اہم پیشرفت ہے۔ کچھ مفروضے ایسے ہیں جو حقیقت پسندانہ سوچ کی پیداوار ہیں۔ مثلاً یہ کہ یہ معاہدہ مشرق وسطیٰ میں امریکہ کی سربراہی میں قائم کردہ دفاع اورسکیورٹی نظام کی جگہ لے گا۔ ایسا فی الحال ممکن نہیں ہے کیونکہ خطے میں ابھی امریکہ کے بہت اہم مفادات موجود ہیں‘ جن میں اسرائیل کا تحفظ سرفہرست ہے۔ یہ محض اتفاق نہیں کہ ابتدائی طور پر اس معاہدے کے تینوں رکن ممالک کے امریکہ کے ساتھ قریبی اور مضبوط ملٹری تعلقات ہیں اور مستقبل میں جن ممالک کی شمولیت کے امکان کو ظاہر کیا جا رہا ہے مثلاً مصر‘ قطر‘ بحرین یا اردن‘ ان کے یا تو امریکہ کے ساتھ گہرے ملٹری تعلقات ہیں یا وہ امریکہ کی مالی امداد پر انحصار کرتے ہیں۔ اس لیے اس معاہدے سے خطے سے امریکی انخلا کا ابھی کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90264263.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>یوم آزادی: آج ہم کہاں کھڑے ہیں(اسد طاہر جپہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/asad-tahir-jappa-/2026-08-14/52480/91908562</link><pubDate>Fri, 14 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/asad-tahir-jappa-/2026-08-14/52480/91908562</guid><description>آج چودہ اگست ہے اور ہر سال کی طرح پوری قوم جوش و ولولے کے ساتھ یوم آزادی منا رہی ہے۔ گلی گلی‘ نگر نگر سبز ہلالی پرچم لہرائے جائیں گے اور قریہ قریہ ملی نغموں اور قومی ترانوں کی گونج میں بچے‘ بوڑھے اور مرد و زن جھنڈیاں اٹھا کر جھومتے گاتے نظر آئیں گے: دل دل پاکستان‘ جان جان پاکستان۔ بلاشبہ پاکستان ہم سب کا مشترکہ ورثہ ہے۔ ہماری پہچان‘ ہماری شان اور ہماری آن بان ہے۔ آزادی کی نعمت ملے آج 79 سال مکمل ہو گئے ہیں۔ ایک نسل نے نہیں بلکہ چار نسلوں نے قومی تعمیر وترقی میں اپنا کردار ادا کیا۔ لیکن آج ایک سوال بہت کھٹک رہا ہے: کیا یہ وہی اسلامی جمہوری فلاحی ریاست ہے جس کا خواب دیکھا گیا تھا اور جس کے قیام کیلئے ہمارے اسلاف نے قربانیاں دیں تھیں۔ ان 79 سالوں میں ہم نے کیا کھویا‘ کیا پایا؟ آج ہم کہاں کھڑے ہیں؟ بلاشبہ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ 1947ء میں ہمیں ایک ٹوٹا پھوٹا تباہ حال خطہ ملا تھا اور برصغیر کی تقسیم کے وقت اثاثہ جات اور وسائل کی بندر بانٹ میں پاکستان کی نوزائیدہ مملکت کو ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت اس کے جائز وسائل سے یہ سوچ کر محروم رکھا گیا کہ یہ ملک اپنی بقا وسلامتی برقرار نہیں رکھ پائے گا اور چند ہی برس بعد دوبارہ متحدہ ہندوستان میں شمولیت پر مجبور ہو جائے گا۔ اس طرح ہم نے خالی خزانے اور دو ٹیکسٹائل ملوں سے اپنا سفر شروع کیا اور دنیا کے نقشے پر ایک آزاد اور خودمختار ریاست کے طور پر اپنی شناخت قائم کی۔ جہاں ہم نے بہت کچھ کھویا وہاں مختلف شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں کامیابیاں بھی حاصل کی ہیں۔ آئیے تصویر کے دونوں رخ دیکھتے ہیں۔ہمارا جغرافیہ ہماری طاقت بھی ہے اور کمزوری بھی۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے دفاع اور سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبوں میں سب سے نمایاں ترقی کی۔ آج ناقابلِ تسخیر مسلح افواج ہماری ملکی سلامتی اور فولادی دفاع کی ضامن ہیں۔ 1998ء میں پاکستان دنیا کی ساتویں اور مسلم دنیا کی پہلی ایٹمی طاقت بنا‘ جس کی بدولت وطن عزیز کی جغرافیائی سرحدیں ناقابلِ تسخیر بن گئیں۔ دفاع کے شعبے میں ہمارا میزائل پروگرام ایک قیمتی اثاثہ ہے‘ جس میں شاہین‘ غوری‘ بابر اور فتح جیسے جدید ترین میزائل شامل ہیں جو 2750 کلومیٹر تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ علاوہ ازیں دفاعی صنعت میں اب ہم JF-17 تھنڈر جہاز‘ الخالد ٹینک‘ بحری بیڑا اور سٹیلتھ آبدوز بنا رہے اور مختلف انواع و اقسام کا جدید اسلحہ برآمد بھی کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں خلائی پروگرام میں سپارکو کے تحت سٹیلائٹ اور 2024ء میں چین کی مدد سے چاند پر آئی کیوب قمر مشن روانہ کر چکے۔ انفراسٹرکچر کے شعبے میں موٹر ویز کا جال ہزارہ‘ پشاور‘ اسلام آباد‘ لاہور‘ فیصل آباد‘ ملتان اور سکھر تک پھیل چکا ہے جس کی بدولت سفر کے اوقات آدھے رہ گئے ہیں۔ تربیلا اور منگلا کی توسیع کے بعد اب دیامیر بھاشا اور داسو ڈیم زیرِ تعمیر ہیں۔ چین کی مدد سے 2015ء سے اب تک سی پیک منصوبے پر 25ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی جا چکی اور گوادر پورٹ فعال ہو چکی ہے۔ آئی ٹی سیکٹر میں مالی سال 2026ء میں آئی ٹی برآمدات 4.6ارب ڈالر تک جا پہنچیں اور فری لانسنگ میں تیزی سے ترقی کرنے والے ممالک کی فہرست میں پاکستان چوتھے نمبر پر ہے۔ ملکی تعمیر وترقی میں خواتین کا کردار اجاگر ہو چکا۔ آج ہر شعبے میں خواتین نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔ کھیل کے میدان میں بھی ہم نے کئی کامیابیاں اپنے نام کی ہیں‘ 1992ء میں کرکٹ ورلڈکپ‘ 2009 ء میں T20 ورلڈکپ جیتا۔ ہاکی میں چار بار ورلڈکپ ہمارے حصے میں آیا۔ 1980ء کی دہائی میں جہانگیر خان اور جان شیر خان نے ورلڈ سکواش چیمپئن بن کر کئی ریکارڈز اپنے نام کیے اور وطن عزیز کا وقار پوری دنیا میں بلند کیا۔ 2024ء میں ارشد ندیم نے اولمپک جیولن تھرو میں عالمی ریکارڈ قائم کر کے گولڈ میڈل اپنے نام کیا۔ انسانی ہمدردی اور خدماتِ عامہ میں بھی ہمارا کوئی ثانی نہیں۔ 2005ء کا خوفناک زلزلہ ہو یا 2010ء‘ 2022ء اور 2025ء کے تباہ کن سیلاب‘ ہر آفت میں پاکستانی قوم نے دنیا کو بتایا کہ وہ مصیبت میں گھرے پاکستانی بہن بھائیوں کو ہرگز اکیلا نہیں چھوڑیں گے اور ان کی مدد کیلئے اپنا تن من دھن قربان کر دینے میں ذرا بھی تامل نہیں کریں گے۔ خدمت خلق کے شعبہ میں ایدھی‘ سیلانی اور اخوت جیسے ادارے دنیا بھر میں اپنی مثال آپ ہیں۔ یہ تمام کامیابیاں اپنی جگہ مگر ان سالوں میں ہم نے جو کھویا وہ بھی کم تکلیف دہ نہیں۔بدقسمتی سے امورِ ریاست کو چلانے کیلئے ہم 79 سال سے مختلف تجربات کرتے آ رہے ہیں۔ پہلا آئین منظور کرنے میں ہی ہم نے نو سال گنوا دیے اور 1956ء کا آئین صرف دو سال تک ہی نافذ العمل رہ سکا۔ 1958ء میں مارشل لاء لگ گیا اور 1962ء میں صدارتی نظام پر مشتمل نیا دستوری ڈھانچہ کھڑا کیا گیا۔ پہلا متفقہ وفاقی پارلیمانی آئین 1973ء میں پارلیمنٹ سے منظور ہوا اور عام انتخابات کے نتیجے میں پہلی مرتبہ منتخب عوامی نمائندوں پر مشتمل حکومت نے ملکی باگ ڈور سنبھالی۔ 1977ء میں پھر مارشل لاء نافذ ہو گیا جو ایک عشرے سے زائد عرصہ تک قائم رہا۔ اسی دوران 1985ء میں غیر جماعتی انتخابات ہوئے اور پھر 1988ء‘ 1990ء‘ 1993ء‘ اور 1997ء میں چار انتخابات کے نتیجے میں سیاسی حکومتیں وجود میں آئیں مگر یہ چاروں اپنی مقررہ مدت سے قبل ہی ختم کر دی گئیں۔ 1999ء میں ایک مرتبہ پھر مارشل لاء نافذ ہو گیا جو 2008ء کے عام انتخابات پر منتج ہوا۔ لمحہ فکریہ ہے کہ ان 79 سالوں میں کوئی بھی منتخب وزیراعظم آج تک اپنی آئینی مدت پوری نہیں کر پایا۔ نتیجتاً ملک مسلسل غیر یقینی‘ سیاسی عدم استحکام اور معاشی بحران سے دو چار رہا‘ جس سے بدامنی‘ بیروزگاری‘ مہنگائی اور غربت کے شکار عوام کی زندگی ہمہ وقت اجیرن بنی رہی۔ سیاسی جوڑ توڑ اور مختلف تجربات کے نتائج اچھے نہیں نکلے اور عوام کو اس کی بھاری قیمت چکانا پڑی۔ اخلاقی اقدار کا بحران سنگین ہوتا گیا جس کے باعث رشوت ستانی‘ گراں فروشی‘ ملاوٹ‘ ذخیرہ اندوزی اور آسان دولت کے حصول کی روش عام ہو گئی۔ تقریباً ہر شعبہ زندگی میں جھوٹ‘ مکر و فریب‘ چاپلوسی اور خوشامد کی فراوانی ہے جبکہ سچ بولنے والا سادھو بلکہ بدھو کہلاتا ہے۔ قومی ہم آہنگی کا فقدان ہے اور لسانیت اور فرقہ واریت نے پوری قوم کو اکائیوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔ سب سے تکلیف دہ امر یہ ہے کہ ہم نے چار نسلوں کے خواب کھوئے ہیں جو وطن عزیز کو حقیقی معنوں میں ایک اسلامی جمہوری فلاحی ریاست دیکھنا چاہتے تھے۔ یہی بڑا خواب قیام پاکستان کا اولین مقصد تھا‘ جسے بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے اپنی ولولہ انگیز قیادت سے متشکل کیا تھا۔چند روز قبل پاکستان نے سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ مل کر سہ فریقی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے جو ایک اور بڑی سفارتی کامیابی ہے۔ پاکستانی شاہینوں نے گزشتہ سال بھارت کے مذموم عزائم کو خاک میں ملا کر اسے جنگی میدان میں شکست فاش دی۔ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے ایران اور امریکہ کے مابین مفاہمت اور خطے میں پائیدار امن کیلئے مؤثر ثالث کا کردار ادا کیا۔ لہٰذا اب وقت آن پہنچا ہے کہ ملک میں گورننس‘ نظام قانون وانصاف‘ تعلیم‘ صحت اور معیشت کے شعبوں پر پوری یکسوئی سے کام کیا جائے تاکہ دفاعی اور سفارتی میدان میں سمیٹی گئی کامیابیوں کے ثمرات عام آدمی تک پہنچائے جا سکیں اور ملک میں سیاسی استحکام اور معاشی خوشحالی کے ایک نئے دور کا آغاز ہو سکے۔ امید واثق ہے کہ اگر آج ہم نے اخلاصِ نیت سے یہ عہد کر لیا تو ان شاء اللہ اگلا یومِ آزادی ہم ایک خوشحال اور خوددار قوم کے طور پر منائیں گے۔ پاکستان زندہ باد!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_34710710.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کاکروچ سے ڈرتے ہو(آصف عفان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/asif-afan-/2026-08-14/52481/40862081</link><pubDate>Fri, 14 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/asif-afan-/2026-08-14/52481/40862081</guid><description>80ویں یومِ آزادی کا سورج طلوع ہو چکا ہے۔ ماہ و سال ہوں یا طلوع و غروب ہوتے چاند سورج‘ روزِ اوّل سے لمحۂ موجود تک‘ گھڑی کی ٹک ٹک سے لے کر گھنٹوں اور شب وروز تک‘ آتے جاتے موسموں کی بدلتی رُتوں سے لے کر بد سے بدترین ہوتے حالات تک‘ سبھی گواہی اور دہائی دیتے دکھائی دیتے ہیں کہ پون صدی سے زائد عرصہ بیت چکا‘ شوقِ حکمرانی کے ماروں نے جہاں مارا ماری کو مشن بنا رکھا وہاں اپنی رعایا کی بدحالی میں ہی اپنی خوشحالی تلاش کر کے اس بدعت کو ہر دور میں کئی اضافوں کے ساتھ دوام بخشا ہے۔ قائد کی روح کے لیے تو یہ صدمہ بھی باعثِ ملال ہو گا کہ مملکتِ خداداد کے جس منصب پر وہ خود براجمان رہے ہیں ٹھیک تین سال بعد اُسی منصب پر ایک ایسا شخص لا بٹھایا گیا جو خود کو سنبھالنے سے بھی قاصر تھا۔ مملکتِ خداداد کیسے کیسوں کے ہتھے چڑھتی چلی آئی ہے جنہوں نے ابتدائی چوبیس برسوں میں آدھا ملک گنوا دیا۔ حکمران کوئی ایسا شخص نہیں ہوتا جو مردوں میں جان ڈال دے‘ حکمرانی کا اعجاز تو یہ ہے کہ کوئی ناحق اور بے موت نہ مارا جائے۔ مملکتِ خداداد میں جہاں مرنے کی آزادی کے ڈھیروں مواقع اور جواز روز فراہم کیے جا رہے ہیں وہاں جینا محال کرنے کا کریڈٹ بھی طرزِ حکمرانی ہی کو جاتا ہے۔ گویا: کون پُرسانِ حال ہے میرازندہ رہنا کمال ہے میرامیرے اعصاب دے رہے ہیں جوابحوصلہ کب نڈھال ہے میراچڑھتا سورج بتا رہا ہے مجھےبس یہیں سے زوال ہے میراسب کی نظریں مری نگاہ میں ہیںکس کو کتنا خیال ہے میرابھارت میں کاکروچ جنتا پارٹی کے ہاتھوں مودی سرکاری کی پسپائی اور گھٹنے ٹیکنے کے حیرت انگیز واقعات کا سہم ہمارے ہاں بھی پایا جاتا ہے۔ گزشتہ دنوں ایک وزیر باتدبیر نے جہاں منہدم سسٹم کی نشاندہی کی وہیں اقبالؒ کے شاہینوں کو کاکروچ سے تشبیہ دیتے ہوئے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ اگر یہ &#39;&#39;کاکروچ‘‘ اکٹھے ہو گئے تو سب کچھ اُلٹ دیں گے۔ وزیر موصوف کے پورے اور کڑوے سچ نے گلی محلوں سے لے کر ایوانوں تک مباحثے کا سماں باندھ دیا۔ سسٹم کا غیرمعمولی بینی فشری ہوکر اس کی ناکامی اور متوقع خدشات سے خبردار کرنے پر انہیں جہاں حکومتی حلقوں میں تنقید کا سامنا کرنا پڑا وہاں دور کی کوڑی لانے والے اسے کھلا پیغام بھی قرار دے رہے ہیں۔ کس کا پیغام اور کس کس کے لیے؟ یعنی سمجھنے والے سمجھ گئے‘ جو نہ سمجھے وہ اَناڑی ہے۔ وفاقی وزرا نے وزیر داخلہ کو آڑے ہاتھوں لیا تو قیادت نے روک دیا۔ گویا محاذ آرائی اور مزاحمت سے بچ بچا کر ہی صورتحال کو سنبھالنا بہتر آپشن تصور کر لیا گیا ہے۔ بھارت میں کاکروچوں نے جنتر منتر کے سبھی منتر اُلٹ ڈالے۔ خواجہ سعد رفیق بھی گلی محلوں اور کچی بستیوں سے کاکروچ نکلنے کا اَلارم بجا چکے ہیں۔ کب کہاں کیسے؟ یہ معمہ تو آنے والا وقت اور کوئی واقعہ ہی حل کرے گا۔ یعنی: کون سمجھا ہے صرف باتوں سے سب کو اک واقعہ ضروری ہے اقبال کے شاہینوں کو خبر ہو کہ نیپال‘ سری لنکا اور بنگلہ دیش کے بعد بھارتی طلبہ بھی بازی لے گئے۔ بھارت کے چیف جسٹس کے منہ سے نکلنے والے ہتک آمیز الفاظ کو اپنی طاقت بنا کر طلبہ نے ایسا شدید ردعمل دکھایا کہ حکومتی ایوان ہلا ڈالے۔ شاباش! غیرت اسی کو کہتے ہیں۔ ہمارے شاہینوں کو وفاقی وزرا سمیت دیگر شخصیات &#39;کاکروچ‘ سے برابر تشبیہ دے رہی ہیں لیکن ہم اس گٹر سے باہر نکلنے کو ہرگز تیار نہیں جسے طرزِ حکمرانی نے نسل در نسل ہمارا مقدر بنا رکھا ہے۔ باپ کے بعد بیٹا‘ دادا کے بعد پوتا شوقِ حکمرانی پورے کرتا چلا آرہا ہے۔ یہ ایک طرف &#39;کاکروچوں‘ سے خوفزدہ ہیں‘ دوسری طرف صوبوں کا منصوبہ لانچ کر دیا گیا ہے۔ سیاسی پنڈت حالات کے اس اونٹ کو کسی اور کروٹ بیٹھتا دیکھ رہے ہیں جبکہ الٹی کروٹ کے امکانات بھی ہرگز خارج از امکان نہیں۔ جہاں کالاباغ ڈیم اور نہری منصوبہ سیاست اور مصلحتوں کی بھینٹ چڑھ گیا وہاں خدشہ ہے کہ نئے صوبے بھی کہیں منصوبے میں ہی نہ رہ جائیں۔ نئے صوبوں کے لیے &#39;&#39;کاکروچ‘‘ اکٹھے کرنے کا عندیہ بھی اشاروں کنایوں میں برابر دیا جا رہا ہے جبکہ کاکروچ نکلنے کے امکانات کو ردّ کرنے والے بھی اپنی تھیوری اس طرح پیش کرتے ہیں کہ ہماری یوتھ اور بالخصوص نظامِ تعلیم بھارت اور بنگلہ دیش سمیت دیگر ممالک سے یکسر مختلف ہے۔ یوتھ کہیں ڈگریوں کی بھاری قیمت تلے دَبی ہوئی ہے تو کہیں گروی پڑی ہوئی ہے‘ ماں باپ کی بھاری لاگت کا بوجھ اسے حالاتِ دیگر سے بوجوہ لاتعلق رکھے ہوئے ہے؛ البتہ وقت گزارنے کے لیے چائے خانوں اور کافی شاپس کے علاوہ دیگر خانوں میں بٹی ہوئی ہے‘ یوتھ کا بٹوارہ ہی حکمران اشرافیہ کے لیے اچھے گمان کا باعث ہے۔ کاکروچ سے ڈرتے ہو‘ کاکروچ تو تم بھی ہو‘ کاکروچ تو ہم بھی ہیں‘ جس گٹر میں رہتے ہیں‘ سب اس گٹر سے ہیں۔ کاکروچی گردان سے چند اشعار بے اختیار یاد آرہے ہیں تو بطور استعارہ پیشِ خدمت ہیں:آدمی سے ڈرتے ہو؟آدمی تو تم بھی ہو‘ آدمی تو ہم بھی ہیں!اَن کہی سے ڈرتے ہو!جو ابھی نہیں آئی‘ اس گھڑی سے ڈرتے ہواس گھڑی کی آمد کی آگہی سے ڈرتے ہو!اژدہامِ انساں سے فرد کی نوا آئیذات کی صدا آئیراہِ شوق میں جیسے‘ راہرو کا خوں لپکےاک نیا جنوں لپکے!آدمی چھلک اٹّھےآدمی ہنسے دیکھو‘ شہر پھر بسے دیکھوتم ابھی سے ڈرتے ہو؟ یہ تھیوری بھی مارکیٹ کی جارہی ہے کہ نئے صوبے دکھا کر بااختیار بلدیاتی اداروں کی کڑوی گولی کھلا دی جائے گی جسے باامرِ مجبوری سبھی سٹیک ہولڈرز صوبوں کے بدلے ہنسی خوشی نگل لیں گے۔ چلتے چلتے یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ حکومت پنجاب کی ریڈ لائن نیلی پیلی ہو چکی ہے گویا: اَکھ دا چانن مر جاوے تے نیلا پیلا لال برابر۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ ستھرے پنجاب منصوبے سے برآمد ہونے والے نتائج کچھ یوں ہیں کہ صفائی پر مامور بابوؤں نے ہاتھ کی صفائی کو نصب العین بنا لیا ہے جس کے بدبودار نظارے گلی کوچوں سے لے کر سڑکوں اور بازاروں میں بخوبی کیے جا سکتے ہیں۔ ماضی کا پڑھا لکھا پنجاب ہو یا سرسبز اور ستھرا پنجاب‘ ان سبھی جھانسوں کے نقطے ملائیں تو بننے والی اشکال میں کہیں بھوکا پنجاب دکھائی دیتا ہے تو کہیں بدحال اور رُلتا ہوا پنجاب۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_65560900.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>14 اگست کیسا ہو!(امیر حمزہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ameer-hamza/2026-08-14/52482/13861506</link><pubDate>Fri, 14 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ameer-hamza/2026-08-14/52482/13861506</guid><description>اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے دنوں میں سے آج 14 اگست کا دن ہے۔ یہ وہ دن ہے کہ 1947ء میں اس دن میں ہم نے آزادی کی فضا میں سانس لیا اور غلامی کے دنوں کا اختتام ہوا۔ خوش قسمتی سے 2026ء کا یوم آزادی ہمیں &#39;جمعۃ المبارک‘ کے دن نصیب ہو رہا ہے۔ ہجری کیلنڈر کے حساب سے پاکستان 27 رمضان المبارک کو معرضِ وجود میں آیا۔ اگر یہ رات قدر والی تھی تو تب پاک وطن کا ظہور شبِ قدر میں ہوا۔ قارئین کرام! 2026ء کے یوم آزادی پر میری نظر سورۃ الانفال کی آیت: 26 پر ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: &#39;&#39;(مسلمانو!) ذرا وہ وقت بھی یاد کرو جب تمہاری تعداد (مشرکین کے مقابلے میں) بہت تھوڑی تھی‘ اپنے ہی دیس میں تم (وسائل کے لحاظ سے) کمزور بنا دیے گئے تھے‘ (ایسے حالات میں) تم لوگ ڈر رہے تھے ( کہ طاقتور اکثریتی) لوگ تم پر جھپٹا ماریں گے اور اٹھا کر کہیں کا کہیں پھینک ڈالیں گے‘ اس صورتحال میں اللہ نے تم کو نیا ٹھکانا دیا‘ اپنے خصوصی وسائل کے ساتھ تمہاری مدد کی‘ تم لوگوں کو پاکیزہ وسائل سے رزق فراہم کیا تاکہ تم لوگ (اللہ کا) شکر ادا کرتے رہو‘‘۔ اللہ اللہ! مذکورہ یاد دہانی مدینہ منورہ میں موجود ان مومنوں کو کرائی جا رہی ہے جو مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ منورہ میں آئے تھے۔ اے اہلِ پاکستان! آج ہم 2026ء میں سورۃ الانفال کی 26ویں آیت میں اپنے ملنے والے خطۂ ارضی کو تلاش کریں تو وہ &#39;&#39;پاکستان‘‘ ہے۔ اللہ تعالیٰ کی مدد تو آ گئی۔ بنیانٌ مرصوص کی صورت میں ہم نے اپنی آنکھوں سے بھی دیکھ لی۔ مگر! ہمارے رزق کے وسائل پاکیزہ ہیں؟ کرپشن سے پاک ہیں؟ بددیانتی سے پاک ہیں؟ رشوت سے پاک ہیں؟ پاکیزہ رزق کا سب سے بڑا وسیلہ &#39;&#39;عادلانہ نظام‘‘ ہے۔ اگست کے مہینے میں اس کی ایک جھلک کراچی میں 24 سالہ نوجوان میر رضا علی کا وحشیانہ قتل ہے۔ یہ اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان پاک وطن سے محبت کا اظہار کرتا ہے اور ریڑھی سے کاروبار کا آغاز کرتا ہے۔ وہ اپنا برینڈ بنا ڈالتا ہے۔ ایک نوجوان محنت سے ترقی کرتے ہوئے سینکڑوں نوجوانوں کو روزگار دیتا ہے۔ 25 اگست کو اس کی شادی تھی۔ اب ہم دعاگو ہیں کہ اللہ تعالیٰ اسے فردوس کی دلہن عطا فرمائے۔ مگر اس گلے سڑے نظام کی بدبو سارے دیس کے وقار کو گدلا کر رہی ہے۔سات اگست 2026ء ہمارے لیے ایک مبارک دن بن کر طلوع ہوا۔ مکۃ المکرمہ میں ایک معاہدہ ہوا۔ کیا خوبصورت منظر تھا کہ مکہ مکرمہ کی سرزمین کہ جسے حرم کہا جاتا ہے اور اس شہر کی حدود حرم کا تعین حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کیا تھا۔ ہزاروں سالوں بعد انہی حدود کا احیا ختم المرسلین رحمت دو عالمﷺ نے کیا تھا۔ اس کے بارے میں آخری الہامی کتاب قرآن مجید نے فرمایا: &#39;&#39;جو اس میں داخل ہوا وہ امن میں داخل ہو گیا‘‘۔ میں سمجھتا ہوں سرزمین حرمین کے دائیں جانب سے ترکیے اور بائیں جانب سے پاکستان نے جب معاہدے پر دستخط کیے کہ تینوں میں سے کسی ایک پر حملہ سب پر حملہ تصور ہوگا تو یوں لگا کہ بین الاقوامی غلامی سے نکلنے کا آغاز ہو گیا۔ یہ مبارک بارش کے پہلے تین قطرے ہیں۔ ایک ایک کرکے مسلم ملک اس میں شامل ہوتے جائیں گے تو بارش موسلادھار بن جائے گی۔ اس معاہدے کے لیے ہماری قیادت نے جو کردار ادا کیا وہ بھی دنیا بھر میں تحسین کی داد وصول کر رہا ہے۔ الحمدللہ! پاک وطن کی عزت کے لیے دنیا بھر میں منظر کچھ یوں بن گیا ہے جیسے برسات کے موسم میں‘ یومِ آزادی کے دن پر پھولوں کی پتیوں کی برسات ہو رہی ہو۔ کیا مہکی مہکی برسات ہے۔مکہ مکرمہ سے ہجرت کی تیاریاں تھیں تو مدینہ منورہ میں پہنچ کر ایک نیا نظام بنانے کی بھی تیاریاں تھیں۔ اسی دوران اللہ نے اپنے پیارے رسولﷺ کو آسمانوں پر بلایا۔ آپﷺ مکہ مکرمہ سے پرواز کرکے مسجد اقصیٰ اور پھر آسمانوں پر تشریف لے گئے۔ ساتویں آسمان پر حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے بڑی محبت سے آپﷺ کا استقبال کیا۔ آپﷺ کی امت کے لیے سلام بھیجا۔ قارئین کرام! ربیع الاول کے مبارک دنوں کا بھی آغاز ہو رہا ہے۔ یعنی اس بار پاکستان کا یومِ آزادی گویا ربیع الاول کے دنوں کا استقبال کر رہا ہے۔ اے امتِ اسلام! حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ہمارے پیارے رسولﷺ کی امت کے ساتھ اس قدر محبت ہے کہ وہ حضورﷺ کے واسطے سے ہم اہلِ اسلام کو پیغام بھیجتے ہیں کہ جنت کی مٹی طیبہ ہے‘ پانی میٹھا ہے‘ اس کے میدان چٹیل ہیں‘ شجر کاری اس میں ضروری ہے۔ جنت میں درخت لگانے کا وظیفہ سبحان اللہ‘ الحمدللہ‘ لا الہ الا اللہ اور اللہ اکبر ہے۔ لاحول ولا قوۃ الا باللہ ہے۔ (بحوالہ ترمذی‘ مسند احمد‘ سندہٗ صحیح)لوگو! غور کرو قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے یاد دلایا کہ دیس اور وطن میں نے دے دیا‘ آزادی عطا کر دی‘ اب رزق حاصل کرنا ہے تو وسائل کا طیب ہونا ضروری ہے۔ سرکاری محکموں کی زمین 25 کروڑ لوگوں کی زمین ہے۔ سڑکوں‘ بازاروں‘ فٹ پاتھوں کی زمین 25 کروڑ لوگوں کی زمین ہے۔ پارکوں‘ یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں کی زمین 25 کروڑ لوگوں کی زمین ہے۔ ان پر قبضہ کرو گے‘ یہاں اپنی عمارتیں بنائو گے‘ یہاں دکانیں سجائو گے تو یاد رکھو! یہاں اُگنے والی فصلوں‘ یہاں بننے والی فیکٹریوں کی مصنوعات‘ حتیٰ کہ باغ اور لان کے پھل پھول کا بھی حساب دینا پڑے گا۔ 25 کروڑ پاکستانیوں کو حساب دینا پڑے گا۔ اے لوگو! اگر تمہارے ذکر واذکار جنت کے چٹیل میدانوں میں گلستان اگائیں گے‘ چمنستان مہکائیں گے‘ گل وگلزار کی بہاریں لائیں گے تو یاد رکھو! 25 کروڑ انسانوں کے غصب کیے ہوئے اموال اور حقوق نے جنت کی ساری بہاروں کو خزائوں میں تبدیل کر دیا تو تب کون سے ٹھکانے میں جائو گے؟ خود سوچ لو!لاہور کے تھانے میں ایک بھیک مانگنے والی لڑکی کے ساتھ مبینہ زیادتی کا واقعہ پیش آیا۔ جو اس کا رہبر و محافظ تھا وہی راہزن بن گیا۔ پورے کا پورا تھانہ معطل ہو گیا۔ 74 افراد اب گھر میں بیٹھے ہیں۔ اب بتایا جا رہا کہ ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ اللہ کرے کہ ایسا ہی ہو مگر اس سسٹم میں کچھ بھی ممکن ہے۔ جی ہاں! یہ وہی سسٹم ہے جس کے بارے میں خود وزیر داخلہ نے فرمایا کہ یہ ناکام ہو چکا ہے‘ اس کی تبدیلی ضروری ہے۔ یہ اچھی بات ہے کہ حکمرانوں کو احساس ہو رہا ہے کہ حکمرانی ایک کھڑا پانی بن چکی ہے۔ اس میں بدبو پیدا ہو چکی ہے‘ اس میں روانی لازمی ہے۔ حکمرانی میں روانی یہ ہے کہ کسی ملزم کے ساتھ کوئی رو رعایت نہ برتی جائے۔ ہر گنہگار کو‘ خواہ کتنا ہی بااثر اور پیسے والا ہو‘ سزا ضرور ملے۔ ہمیں آج کے دن اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا ہے کہ پاک وطن کی نعمت ملی۔ شکر کا طریقہ حکمرانوں کیلئے عدل کی فراہمی ہے اور ہم اہلِ وطن کے لیے استحکام میں حصہ داری ہے۔ تحفظ کے اداروں کیلئے شب بیداری اور خطرے کا تدارک ہے۔ جی ہاں! پاک وطن کے جانباز اپنی جانوں کی بازی لگا رہے ہیں۔ سرحدوں کے پار اس جانثاری کو ساری دنیا نے دیکھا تو سرحدوں کے اندر ہم سب کی آنکھیں دیکھ رہی ہیں۔ ایسے حالات میں لازم اور اولین فرض یہ ہے کہ 14 اگست کو عزم کیا جائے۔ ایسا عزم کہ جس میں تصمیم ہو‘ جان کی تعمیر ہو‘ کرپشن سے پاک ضمیر ہو‘ عدل کی ایسی زنجیر ہو جس تک ہر ہاتھ کی ایسی رسائی ہو کہ تسہیل ہی تسہیل ہو۔ صوبوں کی تعداد تبدیل ہو‘ بلدیاتی نظام میں وقت کی تقویم ہو‘ نچلی سطح پر اختیارات اور اموال کی تقسیم ہو۔ ہاں! ایسی تبدیلی ہو کہ قومی تبدیلی عالمی تبدیلی کے ساتھ ہمرکاب ہو جائے۔ اس رکاب میں جس پاکستانی کے بھی پائوں ہوں گے وہ شہسوار ہوگا۔ سسٹم کا گھوڑا تیز دوڑے گا۔ ایسے گھوڑے پر ہر پاکستانی کا کردار ملک کو گلستان بنا دے گا۔ اس کا کردار جنت کی زمین کو بھی گل وگلزار بنا ڈالے گا۔ اس 14 اگست کو عمل کی پرواز عطا کر یا پروردگار۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_68712266.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>