<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>جنگ کے معاشی اثرات اور عام آدمی کا تحفظ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-03/11070</link><pubDate>Fri, 03 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-03/11070</guid><description>خطے میں جنگی صورتحال کے تناظر میں سیاسی و عسکری قیادت کے اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اب اشرافیہ کو قربانی دینا ہو گی‘ وفاق اور صوبے کم اہم منصوبوں کو روکیں تاکہ عام آدمی کا تحفظ کیا جا سکے۔ وزیراعظم نے کفایت شعاری‘ زرعی شعبے اور پبلک وگڈز ٹرانسپورٹ کے تحفظ اور عام آدمی پر مہنگائی کا کم سے کم بوجھ ڈالنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قومی یکجہتی‘ اتحاد واتفاق اور سیاسی استحکام کے بغیر کوئی بھی قوم اتنے بڑے چیلنج کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اب دوسرے مہینے میں داخل ہو چکی ہے اور توانائی کے بحران نے پوری دنیا کو شدید متاثر کیا ہے‘ سپلائی چین میں خلل کے مسائل اس سے سوا ہیں۔ ایسے میں کسی بھی ریاست کیلئے یہ ممکن نہیں رہا کہ یہ وہ اس بحران کا اپنے تئیں مقابلہ کر سکے‘ لہٰذا اہم داخلی فیصلوں کی ضرورت بڑھتی جا رہی ہے۔ مگر خدشہ ہے کہ ان فیصلوں کا زیادہ بوجھ انہی طبقات پر آئے گا جو پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ وزیراعظم کی وفاق اور صوبوں کو اپنے وہ تمام ترقیاتی منصوبے فوری طور پر روک دینے کی ہدایت‘ جو کم اہمیت کے حامل ہیں‘ اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ ریاست کو عام آدمی کی مشکلات کا احساس ہے اور وہ اس بوجھ کے کم سے کم اثرات نچلے طبقے پر منتقل کرنا چاہتی ہے۔ حکومت کو یہ پیشِ نظر رکھنا ہو گا کہ عالمی افق پر منڈلاتے جنگ کے بادلوں نے پاکستان جیسی ترقی پذیر معیشت کے بنیادی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے جس سے عام آدمی کی قوتِ خرید میں مزید کمی آئی ہے۔ لہٰذا عالمی سطح پر ہونے والی اتھل پتھل کے اثرات کی نچلی سطح تک منتقلی میں ہر ممکن حد تک کوشش کی جانی چاہیے اور ایسا دفاعی حصار قائم ہو سکے جس میں عوام کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

اس وقت پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتیں دنیا کے ہر فرد کیلئے ایک سنگین مسئلہ بنی ہوئی ہیں۔ عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں معاشی مسئلے سے بڑھ کر اب ایک ایسے سماجی بحران میں ڈھل چکی ہیں جو مہنگائی کے ایک خوفناک سیلاب کا پیش خیمہ ثابت ہو رہا ہے۔ جب پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کا اثر نہ صرف ہمہ گیر ہوتا ہے بلکہ ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات میں اضافے کے باعث روزمرہ استعمال کی ہر چیز عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو جاتی ہے۔ پٹرول کی قیمت میں ہونے والا ایک روپے کا اضافہ بھی مارکیٹ میں اشیائے ضرورت کی قیمتوں کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے جس کا سب سے زیادہ بوجھ وہ دہاڑی دار مزدور اٹھاتا ہے جس کی آمدن جمود کا شکار ہے مگر اخراجات بے قابو ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب حکومت‘ جو اَب تک پٹرولیم قیمتوں کو برقرار رکھنے کیلئے اربوں روپے صرف کر چکی ہے‘ اب اپنی معاشی سکت کھو رہی ہے۔ لہٰذا صاف ظاہر ہے کہ ریاست کے محدود وسائل کے ساتھ عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کے دباؤ کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا اور جلد یا بدیر یہ اثرات نچلی سطح تک منتقل کرنا ہی پڑیں گے۔
تاہم اس مشکل وقت میں حکومت کی دانشمندی اور بصیرت کا امتحان ہے کہ وہ روایتی طریقوں سے ہٹ کر ایک ایسی جامع حکمتِ عملی وضع کرے جو قومی معیشت کو بھی سہارا دے اور غریب طبقے کو بھی کچلنے سے بچائے۔ اس بحران کا مقابلہ کرنے کیلئے حکومت کو ٹارگٹڈ سبسڈی کی ایسی ہمہ جہت پالیسی اپنانا چاہیے جو براہِ راست مستحق افراد تک پہنچے تاکہ کمزور طبقات کو اشیائے ضروریہ میں بھی ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسا مستقل اور مؤثر نظام وضع کیا جائے جس کے ذریعے نچلے طبقے کو پٹرولیم مصنوعات‘ بجلی اور اشیائے ضروریہ کے بڑھتے ہوئے نرخوں کے اثرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔ یہ محض انتظامی معاملہ نہیں بلکہ حکومت کا اخلاقی فریضہ بھی ہے کہ ریاست جب کوئی مشکل فیصلہ کرے تو اس کا بوجھ ان طبقات پر نہ ڈالا جائے جو پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے سسک رہے ہیں۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>منافع خوری(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-03/11069</link><pubDate>Fri, 03 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-03/11069</guid><description>حکومت کے دعوؤں کے باوجود ملک میں اشیائے ضروریہ پر ناجائز منافع خوری اور مصنوعی مہنگائی کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور یہ رجحان ہر گزرتے دن کے ساتھ زیادہ منظم اور طاقتور ہوتا جا رہا ہے۔ ایل پی جی کی مثال اس صورتحال کی تازہ اور واضح ترین جھلک پیش کرتی ہے۔ ایل پی جی کی سرکاری قیمت 304 روپے فی کلو مقرر ہے لیکن یہ مختلف شہروں میں 420 سے 450 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہی ہے‘ جو ریاستی رِٹ اور ریگولیٹری نظام پر ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اضافہ پہلے ہی گھریلو بجٹ پر دباؤ ڈال رہا ہے‘ ایسے میں اگر ناجائز منافع خوری اور مصنوعی قلت کا عنصر بھی اس میں شامل ہو جائے تو یہ بحران مزید سنگین ہو جاتا ہے۔

مارکیٹ میں ایل پی جی دستیاب ہونے کے باوجود مصنوعی قلت پیدا کرکے قیمتوں کو غیر معمولی سطح تک بڑھایا جایا جا رہا ہے جس کا براہِ راست نقصان عام صارف کو اٹھانا پڑتا ہے۔ یہ رویہ محض کاروباری بے ضابطگی نہیں بلکہ عوامی استحصال کے مترادف ہے۔ حکومت‘ اوگرا اور شہری انتظامیہ پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ نہ صرف سرکاری نرخوں پر سختی سے عملدرآمد کرائیں بلکہ مصنوعی قلت پیدا کرنے‘ ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی بھی کریں۔ جب تک احتساب اور سزا کا واضح اور سخت نظام موجود نہیں ہوگا‘ اس وقت تک مہنگائی اور منافع خوری کا یہ سلسلہ یونہی جاری رہے گا۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>انتظامی نااہلی!(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-03/11068</link><pubDate>Fri, 03 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-03/11068</guid><description>گزشتہ روز کراچی سمیت ملک کے جنوبی اضلاع میں ہونیوالی بارش نے ایک بار پھر انتظامی کمزوریوں اور دیرینہ شہری مسائل کو بے نقاب کر دیا۔ درمیانے درجے کی بارش کے نتیجے میں محض کراچی میں مختلف حادثات میں چھ افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہو گئے۔ شہرِ قائد کی تقریباً تمام بڑی شاہراہیں‘ انڈر پاسز اور نشیبی علاقے پانی میں ڈوب گئے اور شہری انتظامیہ کو ایمرجنسی نافذ کرنا پڑی۔ کراچی میں اربن فلڈنگ اب کوئی غیر متوقع یا اچانک پیدا ہونے والا مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ ایک دہائیوں پرانا مسئلہ ہے۔ اس کے باوجود نہ تو پالیسی سطح پر کوئی بنیادی تبدیلی سامنے آئی اور نہ ہی عملی اقدامات میں کوئی پائیدار بہتری دکھائی دی۔ شہرِ قائد میں نکاسی آب کا کوئی مؤثر‘ مربوط اور جدید نظام موجود نہیں۔

نالوں کی صفائی‘ غیرقانونی تعمیرات کا خاتمہ اور پانی کے قدرتی بہاؤ کی بحالی جیسے بنیادی اقدامات مسلسل نظر انداز کیے جاتے رہے ہیں‘ نتیجتاً معمولی بارش بھی شہر کے انفراسٹرکچر کی کمزوری کو عیاں کر دیتی ہے۔ صوبائی حکومت‘ شہری انتظامیہ اور بلدیاتی اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس مسئلے کو محض وقتی اقدامات سے نہیں بلکہ مستقل اور جامع منصوبہ بندی کے ذریعے حل کریں۔ جب تک انتظامی نااہلی‘ بدانتظامی اور ترجیحات کے فقدان کو ختم نہیں کیا جاتا‘ کراچی کے مکینوں کو ہر بارش کے بعد اسی بحران کا سامنا رہے گا۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پرل ہاربر سے ہرمز تک …(2)(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-04-03/51696/37814002</link><pubDate>Fri, 03 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-04-03/51696/37814002</guid><description> بادشاہ کے آنے سے پہلے جنرل ڈگلس کمرے میں فرنیچر کو آگے پیچھے کرتا رہا کہ وہ کہاں بیٹھے گا اور شاہی مہمان کو کہاں بٹھائے گا۔ اس نے وہاں فائر پلیس کے سامنے ایک کرسی بھی رکھوا دی کہ اگر بادشاہ کو مترجم کی ضرورت پڑے تو وہ وہاں بیٹھ جائے گا۔ جنرل کا خیال تھا کہ بادشاہ اپنے ساتھ مترجم لائے گا تاکہ وہ جتنی دیر میں اس کی گفتگو کا ترجمہ کرے گا‘ بادشاہ کو جواب سوچنے کیلئے چند لمحے مل جائیں‘ لہٰذا مترجم کا وہاں موجود ہونا اس کیلئے فائدہ مند تھا۔ جنرل کا یہ بھی خیال تھا کہ بادشاہ کو اچھی انگریزی آتی ہے کیونکہ وہ امریکہ سے پڑھا ہوا تھا‘ تاہم اسے برسوں بعد پتا چلا کہ جس دشمن سے وہ چار سال سے جنگ لڑ رہا تھا‘ اس کے بارے میں اس کے پاس مکمل معلومات بھی نہیں تھیں۔ دراصل بادشاہ کا چھوٹا بھائی برطانیہ میں پڑھتا تھا اور وہ فر فر انگریزی بولتا تھا۔ جنرل ڈگلس کو غلط فہمی ہوئی تھی۔جنرل کو اپنی تصویروں سے بہت لگاؤ تھا لہٰذا اس نے جنگ کے دوران بھی ایک کیمرہ مین ساتھ رکھا ہوا تھا جو ہر جگہ اس کی تصویریں لیتا پھرتا تھا۔ جنرل ایک حد تک تھیٹر نما شخصیت کا مالک تھا جسے پسند تھا کہ ہر موقع پر اس کی تصویریں لی جائیں اور وہ شاندار نظر آئے۔ چنانچہ اس موقع پر جب جاپان کا بادشاہ اس سے ملنے آ رہا تھا تو اس نے اپنا کیمرہ مین پہلے ہی تیار رکھا۔ جونہی بادشاہ اندر آیا تو جنرل ڈگلس نے اس سے ہاتھ ملایا اور کیمرہ مین نے فوراً تین تصویریں کھینچ لیں۔ جنرل ڈگلس اکیلے بیٹھنا چاہ رہا تھا تاکہ بادشاہ اپنے مترجم کے ساتھ بیٹھے لیکن بادشاہ اُس اکیلی کرسی پر جا بیٹھا جو جنرل نے اپنے لیے مخصوص کر رکھی تھی‘ جس پر جنرل کا موڈ خراب ہوا۔دونوں کے درمیان 45منٹ تک گفتگو ہوتی رہی۔ اس دوران جاپانی مترجم نے بہت کم نوٹس لیے۔ مترجم کا بنیادی کام یہ تھا کہ بادشاہ جو کچھ کہہ رہا تھا اسے درست اور شائستہ انگریزی میں ترجمہ کر کے پیش کرے اور اس انداز میں کرے کہ کہیں سے یہ تاثر نہ ملے کہ کوئی نامناسب بات کہی گئی ہے۔ وہی بات انگریزی میں جنرل کو بتائی جائے جو یہاں آنے سے پہلے محل میں ہونے والی ایک میٹنگ میں طے کی گئی تھی کہ جنرل سے کیا گفتگو کرنی ہے۔ مترجم کو اس سے ہٹ کر کچھ کہنے کی اجازت نہیں تھی‘ چاہے بادشاہ موقع پر کوئی ایسی بات کہہ دیتا جس کا تاثر اچھا نہ نکلتا۔ بعد میں اس کی ایک کاپی فارن منسٹری کو بھیجی گئی اور ایک بادشاہ کی ذاتی فائل میں محفوظ کر دی گئی۔ اگرچہ بادشاہ اور جنرل ڈگلس کے مابین یہ طے ہوا تھا کہ ان کی گفتگو مکمل طور پر خفیہ رکھی جائے گی لیکن برسوں بعد جنرل ڈگلس نے اپنی یادداشتوں میں لکھا کہ بادشاہ نے کہا کہ جو کچھ ہوا‘ وہ اس کی پوری ذمہ داری لیتے ہیں کیونکہ وہ جاپان کے بادشاہ ہیں اور یہ سب ان کے فیصلے تھے۔ جاپان کے سیاسی حکمرانوں کے تمام فیصلوں کی ذمہ داری بھی بادشاہ نے خود قبول کی۔ بادشاہ نے ایک اور اہم بات یہ کہی کہ جہاں تک میری زندگی کا تعلق ہے‘ آپ میرے بارے میں جو بھی فیصلہ کریں مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ میں ان تمام فیصلوں کی ذمہ داری قبول کرتا ہوں جو میں نے یا دیگر ذمہ دار افراد نے جاپان کے نام پر جنگ میں کیے۔ جنرل ڈگلس جاپان کے نوجوان بادشاہ کی یہ گفتگو سن کر بہت متاثر ہوا۔ موت سامنے کھڑی ہو اور انسان سب کچھ اپنی ذمے لے لے‘ یہ ایک غیرمعمولی بات تھی۔ بادشاہ جھوٹ بول کر جان بچانا نہیں چاہتا بلکہ ایک بڑے حکمران کی طرح عزت اور وقار کے ساتھ اپنے فیصلوں بلکہ امریکی نقطہ نظر سے &#39;&#39;جنگی جرائم‘‘ کا اعتراف کر رہا تھا۔برسوں بعد جنرل ڈگلس نے اپنی یادداشتوں میں لکھا کہ جس طرح نوجوان بادشاہ نے سب ذمہ داری اپنے کندھوں پر لی تھی کہ جو کچھ بھی جنگ میں غلط ہوا (خاص طور پر پرل ہاربر حملہ جس میں تین ہزار امریکی فوجی اور سویلین مارے گئے تھے) اس کا ذمہ دار کسی اور کو نہیں بلکہ براہِ راست بادشاہ کو سمجھا جائے‘ یہ ایک غیر معمولی اعتراف تھا۔ جنرل ڈگلس کے مطابق اسے لگا کہ وہ نوجوان بادشاہ جاپان کا پہلا جنٹلمین تھا‘ تاہم اس ملاقات کے تقریباً تیس سال بعد جاپان کے ایک میگزین نے بادشاہ کے مترجم کے نوٹس شائع کیے جن میں اس اعتراف کا کوئی ذکر نہیں تھا کہ بادشاہ نے مکمل ذمہ داری قبول کی تھی۔ یہ پڑھ کر جاپانی عوام مایوس ہوئے کہ بادشاہ نے امریکی جنرل کے سامنے اپنے فیصلوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی تھی۔ جاپانیوں کا خیال تھا کہ مترجم اتنی اہم بات کو نظر انداز نہیں کر سکتا تھا کہ اسے نوٹس میں درج ہی نہ کرے۔ اس کا مطلب یہ لیا گیا کہ جنرل ڈگلس نے  اپنی یادداشتوں میں جو کچھ لکھا‘ وہ شاید خود ہی بادشاہ کی طرف منسوب کر دیا تھا۔ یہی تضاد اس پوری کہانی کو مشکوک بناتا ہے۔ اس ملاقات کے بعد جنرل ڈگلس اور بادشاہ خوشگوار موڈ میں کمرے سے باہر نکلے۔ بادشاہ نے جنرل کے ساتھ اپنے ساتھیوں اور مشیروں کا تعارف کرایا اور پھر سرخ رنگ کی شاہی گاڑی میں بیٹھ کر واپس محل روانہ ہو گیا۔واپسی کے سفر میں سکون کا سانس لیتے ہوئے بادشاہ کو 1941ء میں پرل ہاربر حملے سے تین ماہ پہلے کی ایک میٹنگ یاد آئی جس میں امریکی اڈے پر حملے کے بارے میں جاپانی فوجی قیادت نے تفصیلی بریفنگ دی تھی۔ انہیں بتایا گیا تھا کہ کس طرح اچانک حملہ کر کے امریکہ کی طاقت کو کمزور کیا جائے گا اور جنوب مشرقی ایشیا پر قبضہ کر لیا جائے گا۔ بادشاہ نے اپنے آرمی چیف سے پوچھا تھا کہ اس میں کتنا وقت لگے گا۔ جنرل نے جواب دیا تھا کہ تین ماہ میں جنوب مشرقی ایشیا فتح ہو جائے گا۔ اور واقعی ایسا ہی ہوا‘ تین ماہ اور ایک ہفتے میں جاپان نے اس خطے پر قبضہ کر لیا۔ لیکن جنرل نے یہ نہیں بتایا تھا کہ امریکہ کو مکمل شکست دینے میں کتنا وقت لگے گا۔ اس پر بادشاہ نے اسے یاد دلایا تھا کہ 1937ء میں چین کے ساتھ جنگ کے وقت بھی جنرل نے کہا تھا کہ ایک ماہ میں جنگ ختم ہو جائے گی مگر چار سال گزرنے کے باوجود 1941ء میں بھی وہ جاری تھی۔ اس پر آرمی جنرل نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ چین ایک بہت بڑا ملک ہے‘ جس پر بادشاہ کو غصہ آ گیا۔ اس نے کہا: اگر تم چین کے دور دراز دیہاتی علاقوں کو وسیع سمجھتے ہو تو پھر بحرالکاہل اس سے بھی کہیں زیادہ بڑا ہے۔ جنرل شرمندہ ہو گیا۔ بادشاہ کو تسلی دی گئی کہ جیسے ہی جاپان کو امریکہ پر برتری حاصل ہو گی‘ پہلی ترجیح سفارتی رابطے کے ذریعے معاملات طے کرنا ہو گی۔ لیکن اب بادشاہ کو احساس ہو رہا تھا کہ اس کے وزیروں نے اس سے سچ نہیں بولا تھا۔یہ سب کچھ یاد کرتے ہوئے جنرل ڈگلس سے ملاقات کے بعد واپسی پر بادشاہ کا موڈ خوشگوار تھا۔ ملاقات سے پہلے جو دباؤ اور ذہنی تناؤ تھا‘ وہ ختم ہو چکا تھا اور غیر معمولی طور پر وہ گاڑی میں زیادہ گفتگو کرنے لگا۔ اس رات بھی وہ معمول سے ہٹ کر سکون سے سویا۔ اب بادشاہ کو اس ملاقات سے یہ اطمینان ہو گیا تھا کہ کم از کم نہ اسے گرفتار کیا جائے گا اور نہ ہی اس پر جنگی جرائم کا مقدمہ چلے گا۔ لیکن بادشاہ کو یہ علم نہیں تھا کہ جب وہ جنرل ڈگلس کے ساتھ کمرے میں مترجم کے ذریعے گفتگو کر رہا تھا تو پردے کے پیچھے دو افراد چھپ کر ان کی باتیں سن رہے تھے۔ ایک جنرل ڈگلس کی بیوی تھی اور دوسرا ایک اور اہم شخص۔ ان دونوں کو خود جنرل ڈگلس نے اجازت دی تھی کہ وہ چھپ کر یہ گفتگو سن سکتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر جنرل ڈگلس نے اپنی بیوی کو پردے کے پیچھے چھپ کر یہ گفتگو سننے کی اجازت کیوں دی؟ بیوی کی موجودگی تو کسی حد تک قابلِ فہم ہے لیکن وہ دوسرا شخص کون تھا جو پردے کے پیچھے چھپ کر سب کچھ سن رہا تھا؟ بادشاہ کو 45منٹ تک یہ معلوم نہ ہو سکا کہ کمرے میں تین نہیں بلکہ پانچ افراد موجود تھے۔ چوتھی تو جنرل ڈگلس کی بیوی تھی‘ مگر وہ پانچواں شخص کون تھا؟ (جاری)</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>چل میلے نوں چلیے(رسول بخش رئیس)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-04-03/51697/50002960</link><pubDate>Fri, 03 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-04-03/51697/50002960</guid><description>یہ میرا پسندیدہ گانا ہے۔ اس سے عشق جیسا دلی لگائو ہے کہ پرانے وقتوں اور پنجاب کی گہری ثقافت کی نشانی ہے۔ اگر آپ پنجاب کے کسی بھی حصے میں رہتے ہیں‘ مشرق‘ مغرب‘ شمال‘ جنوب اور فلم &#39;&#39;انگریج‘‘ نہیں دیکھی تو آپ پر لاہور نہ دیکھنے والی بات صادق آئے گی۔ فلمیں ہم نے بہت دیکھی ہیں۔ ایک زمانے میں جب لاہور میں تقریباً ہر دوسرے ہفتے ایک نئی فلم سینما گھروں میں جلوہ گر ہوتی تھی تو ہم پہلے دن والی لائن میں ہوا کرتے تھے۔ &#39;&#39;انگریج‘‘ وہ واحد فلم ہے جسے کئی بار دیکھا ہے اور دل نہیں بھرا ہے۔ اسے دیکھ کر کُرتے کو سُوہا رنگ اور اس کے بل نکال کر کسی میلے کو جانے کو جی کرتا ہے۔ میلے ہمارے پنجاب کی ثقافت کے کئی رنگوں میں سے بہت گہرا رنگ ہیں۔ بچپن میں پنجاب کے کچھ علاقوں میں کئی میلوں میں کئی بار جانے کا موقع ملا۔ اس زمانے میں دن بھر کئی کھیل تماشوں‘ مٹھائیوں‘ کھلونوں سے سجی دکانوں کے درمیان لوگ گھومتے رہتے۔ شام ہوتے ہی دو تین عوامی تھیٹر مقابلے میں آ جاتے اور عنایت حسین بھٹی اور عالم لوہار کے بغیر پنجاب کے میلوں میں تھیٹر اپنی رونق نہیں بنا سکتے تھے۔ بالی جٹی ہماری مشہور فنکارہ تھیں‘ جنہیں ان کی جوانی میں ہی سٹیج پر جلوہ گر دیکھا۔ ان کے نظر آتے ہی تماش بینوں کے دلوں میں آسمانی بجلی کے جھٹکے لگنا شروع ہو جاتے۔ رات گئے تک یہ تماشا جاری رہتا اور اگلی صبح بازاروں کی رونق‘ خرید و فروخت اور ہر جگہ کوئی نہ کوئی عوامی فنکار مجمع لگا کر داد و تحسین اور نوٹ وصول کر رہا ہوتا۔ لوگ ان رونقوں میں اس قدر کھو جاتے تھے کہ جیب کترے ان کی جیبیں صاف کر جاتے۔ یہ بھی فنکاروں کی ایک قسم ہے جو اَب میلوں سے زیادہ طاقت کے درباروں میں دیکھنے میں آتی ہے۔ عام جیب کترا پولیس کے ہتھے چڑھ جاتا اور اگر &#39;سودا‘ نہ ہو پاتا تو چند دن جیل کی ہوا کھا کر واپس اپنے دھندے پر آ جاتا۔ خواص جیب کتروں کو راوی ہمیشہ چین و سکون‘ آسودگی اور قانون کی گرفت سے بالا تر دیکھتا آیا ہے۔ فلم &#39;انگریج‘ نے میلوں کا رخ کرنے کی تحریک تو پیدا کی مگر گزشتہ ساٹھ ستر سالوں میں موقع نہ مل پایا۔ بچپن کی یادوں اور پنجاب کی اس ثقافت نے دل میں ایک عرصہ سے جو تڑپ پیدا کی ہوئی تھی وہ آخر سوموار کے دن ہمیں اپنے آبائی علاقے کے میلے میں لے ہی گئی۔ ایسا لگا کہ دل میں ٹھنڈک اور آنکھوں میں ترو تازگی سی آ گئی ہے۔ یہاں دھنوں شاہ کا میلہ ہر سال مارچ کے آخری ہفتے میں سجتا ہے اور آنکھ کھولتے ہی پہلا میلہ یہی دیکھا تھا۔ کم از کم 75 سال پہلے والد بزرگوار بائی سائیکل پر بٹھا کر لائے تھے اور انگلی پکڑ کر ہمیں سیر کراتے رہے۔ سوموار کے دن سب کچھ مختلف تھا۔ لوگ بدل چکے ہیں‘ زمانہ بھی قیامت کی چال چل گیا ہے اور ہم تو عرصہ گزر گیا ہے وہ نہیں رہے۔ آتش جوان رہنے کا دعویٰ کرے یا نہ کرے‘ دل کی بات کچھ اور ہے۔ یہ ایسا پرزہ انسان کے سینے میں رکھ دیا گیا ہے جو ہم جیسے عام آدمیوں کے قبضے میں کبھی تھا اور نہ اب ہے۔ دھنوں شاہ کے دربار کے مجاور بھی بدل چکے ہیں اور میلے سے وابستہ ماضی کی روایات اور بازار کی رونقیں بھی۔ چند دن پہلے انہوں نے حکم دیا کہ اس مرتبہ میلے کا افتتاح اس درویش کے ہاتھ سے ہو گا۔ انہیں بتایا کہ ہماری درویشی جعلی ہے اور کچھ قارئین ہمیں ایسا کہتے بھی ہیں‘ اس لیے کسی مخدوم‘ پیر صاحب کو یہ سعادت بخشیں یا پھر کسی سیاسی رہنما کو درخواست کریں۔ آپس کی بات ہے کہ دل ہی دل میں خوش تھا کہ اس طرح بچپن کے اس میلے کے بازاروں کی رنگا رنگی دیکھنے کا موقع ملے گا۔ تب کسی افتتاح‘ دستار بندی یا مزار پر چادر چڑھانے کا یہاں رواج نہ تھا۔ ایک مخدوم صاحب جو دھنوں شاہ کے خاندان سے تھے‘ دور سے آتے تھے اور تین دن قیام کے بعد چلے جاتے تھے۔ میلہ خود بخود شروع ہو جاتا اور تیسرے دن سب تھک ہار کر اپنے گھروں اور کاموں کو چلے جاتے۔ عجیب سی کیفیت تھی کہ وہاں صبح سویرے مقررہ وقت پر پہنچتے ہی خوش آمدید کہنے والے لوگوں میں گھر گیا۔ گلے میں خوبصورت پھولدار پلاسٹک یا کاغذی ہار لٹکایا‘ کسی نے سر پر دستار کھینچ کر باندھی اور سر پہ سبز رنگ کی چادر‘ جس پر کچھ لکھا ہوا تھا‘ تان لی گئی۔ یوں ہم میلے کے لیے تازہ سجے بازار سے جلوس کے گھیرے میں مزار کی طرف راستے میں کھڑے لوگوں کے درمیان سے راستہ بناتے داخل ہو گئے۔ یہاں ایک پختہ دیوار کے احاطے میں کچھ قبریں بچپن میں ہم نے دیکھی تھیں‘ جن میں دھنوں شاہ کی سب سے بڑی اور نمایاں ہوا کرتی تھی۔ اس کو دوسروں سے ممتاز رکھنے کے لیے مجاور ایک رنگ دار چادر عموماً سرخ رنگ کی ڈال دیتے تھے‘ جسے تبدیل کرنے کی نوبت اتنی جلد نہیں آیا کرتی تھی۔ پوری عمر کہیں اور گزارنے اور وقتاً فوقتاً اس جگہ سے دور سے گزرتے رہنے کے بعد آج سب کچھ مختلف دیکھا‘ جیسے ایک بہت بڑا انقلاب آگیا ہو۔ وہ قبر جس پر میلے کے دنوں سے ایک دو ہفتے پہلے سیمنٹ سے مرمت اور چونے کی پوچی پھیری جاتی تھی‘ خوبصورت جدید رنگ برنگی ٹائلوں سے مزین تھی۔ قبر کے تعویذ پر کئی چادریں پڑی تھیں‘ جن پر میرے ہاتھ میں تھمائی گئی ایک اور چادر کا اضافہ ہو گیا۔ دیواروں پر نظر پڑی‘ حیرانی اور بڑھی کہ روایتی ملتانی نیلی ٹائلوں سے آرائش بہت مہارت سے کی گئی تھی۔ فرش پر بھی رنگدار پیچی کاری کے نمونے دیکھے۔ اوپر چھت گنبدی اور چاروں اطراف میں بلندیوں پر روشنی اور ہوا کیلئے قدیم طرز کے روشن دان تھے۔ یہ شاہکار ایک ایسے کاریگر کا ہے جو نہ کسی سکول یا کالج میں گیا اور نہ ہی کہیں تربیت حاصل کی۔ اس کے بارے میں آئندہ مضمون میں۔میں بازاروں میں بھی اسی جلوس کی صورت میں گھومتا ہوا واپس ہوا تو بہت کچھ تبدیل نظر آیا۔ جھولے ہمارے زمانوں کے لکڑی کے نہیں‘ کئی منزلہ وہیل تھے جو انجن اور بجلی کی طاقت سے چل رہے تھے۔ چڑیا گھر بھی تھا‘ موت کے کنویں اور سرکس کے بغیر آج کے دور کا کوئی میلہ‘ میلہ کہلانے کا حقدار نہیں۔ دو قسم کی دکانیں جن کی بہتات تھی وہ آج بھی تھیں؛ کانجی جسے شہروں میں فالودہ کہتے ہیں اور تازہ جلیبیاں مشکوک تیل میں تڑ تڑ تلی جا رہی تھیں۔ اس میلے میں &#39;&#39;تل شکری‘‘ مشہور سوغات سمجھی جاتی ہے اور لوگ سب سے زیادہ‘ دیگر مٹھائیوں کے ساتھ ضرور خریدا کرتے ہیں۔ یہ بالکل قدیمی نوعیت کا میلہ ہے جس میں مقامی ثقافت کا رنگ غالب ہے۔ یہاں نہ کوئی ذات پات‘ نہ ترقی پسندی اور نہ ہی مذہبی شناخت کا عمل دخل ہے۔ بس دور دراز سے لوگ آتے ہیں‘ کروڑوں کا کاروبار اور خرید و فروخت ہوتی ہے اور عوامی دلچسپی کے سب کھیل تماشے تین دن جاری رہتے ہیں۔ اب ہم لوگوں کے شوق اور ان کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے اپنے آپ کو خوش رکھتے ہیں۔دو دن پہلے ہمارے آموں کے درختوں کے قریب رہنے والے ہمسائے کو سائیکل رکشے پر کانجی کے بڑے بڑے برتن لاد کر لے جاتے دیکھا تو ڈھکن اتار کر کچھ تعریف کی۔ آج کانجی کی دیگچی لے کر اُن کا بچہ ہمارے سامنے رکھ گیا ہے۔ ان لوگوں کی محبت اور فیاضی ہمارے لیے ایک بہت بڑا اعزاز ہے۔ </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_33241568.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مڈل ایسٹ پاور گیم کا نیا باب(بابر اعوان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/babar-awan/2026-04-03/51698/67316945</link><pubDate>Fri, 03 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/babar-awan/2026-04-03/51698/67316945</guid><description>مغربی ایشیا میں پاور گیم بدل نہیں رہی بلکہ بدل چکی ہے۔ صرف ایک سال کے مختصر عرصے میں ایران پر اسرائیل امریکن حملہ سیزن ٹُو نے مشرقِ وسطیٰ پاور گیم میں قیامت سے پہلے قیامت برپا کر دی۔آئیے ذرا سا پیچھے چلتے ہیں۔ نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دوسرے صدارتی ٹرم میں GCC ممالک کے پہلے دورے پر آئے۔ قطر‘ یو اے ای اور سعودی عرب نے ایک سے بڑھ کر ایک پُرتپاک استقبال کیا۔ ایسے ایسے استقبالی تحفے امریکی صدر کو پیش کیے گئے جن کی کوئی مثال امریکی تاریخ سے نہیں ملتی۔ یہ اتنے زیادہ قیمتی تحفے تھے کہ جن کے بارے میں صدر ٹرمپ سے پہلے کا کوئی امریکی صدر سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ مثال کے طور پہ قطر کی طرف سے سونے سے بنا ہوا ہوائی جہاز۔ سعودی عرب کی جانب سے جدہ میں بحیرۂ احمر کے کنارے کئی کلومیٹر فرنٹ کے ساتھ ٹرمپ ٹاور‘ ٹرمپ ہوٹل اور ٹرمپ ہائٹس کیلئے سونے سے بڑھ کرمہنگی زمین۔ جس پہ اب ٹرمپ ٹاور کی تعمیر تیزی سے چل رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کسی عرب ملک نے چار سو بلین یو ایس ڈالر کا بزنس امریکہ کو دیا‘ تو کسی نے آٹھ سو بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کا معاہدہ لکھ دیا۔ صدر ٹرمپ کے اس دورے میں یوں لگتا تھا کہ امریکہ مغربی ایشیا میں اسرائیل سے نکل کر پورے GCC کا تاحیات پارٹنر ہو گیا ہے۔ مگر پھر 28 فروری 2026ء کا دن آ گیا۔ ڈیڑھ درجن کے قریب امریکی اڈے‘ جن کے بارے میں مشرقِ وسطیٰ کے عرب ملکوں میں تصور یہ تھا کہ اُن کے ایرو ڈوم کسی چڑیا کو بھی ان کے قریب پھٹکنے نہیں دیں گے‘ وہ سارے اڈے ایرانی بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے حملوں سے لرز لرز اُٹھے۔ عرب ملکوں کو پتا چلا کہ اربوں ڈالر کی امریکی ٹیکنالوجی ان کا تحفظ کرنے میں ناکام ہو گئی ہے۔ ظاہر ہے وہ ٹیکنالوجی جو امریکی ہوائی جہازوں‘ بحری بیڑے اور فوجیوں کا تحفظ نہیں کر سکی‘ اس سے تحفظ کی توقع کیسے کر سکتا ہے۔ چنانچہ اب مشرقِ وسطیٰ میں اپنی نوعیت کی پہلی عجیب وغریب جنگ کے دوسرے مہینے کا پہلا ہفتہ مکمل ہو رہا ہے۔ اس سارے عرصے میں ہر روز اسرائیل کے علاوہ GCCممالک پر نہ صرف ایران کی جانب سے مسلسل راکٹ باری ہوئی بلکہ اس کارِ خیر میں لبنان سے حزب اللہ اور یمن سے حوثی فائٹرز بھی شریک ہو چکے ہیں۔ پینٹاگون اور ٹرمپ انتظامیہ کی تمام تر یقین دہانیوں کے باوجود نہ یہ خوفناک جنگ رُک پائی ہے‘ نہ ہی ایران کی جانب سے آتشیں حملوں میں ٹھہرائو آیا ہے۔ بلکہ ایران نے ریاض سے سو کلومیٹر دُور سعودی عرب کے تاریخی شہر الخَرج میں واقع امریکی ایئر بیس پر کھڑے ایک ارب ڈالر کے ایک جاسوس طیارے کو راکھ کا ڈھیر بنا دیا۔اسی تسلسل میں گزرے ہفتہ کا دن یعنی 28مارچ 2026ء عالمی میڈیا سکرین پر ایک حیران کُن بریکنگ نیوز لے کر آیا۔ تب‘ جب یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی امریکی صدر ٹرمپ کی جگہ ریڈ کارپٹ پر چلتے ہوئے GCC ممالک میں داخل ہوئے‘ جس کے بعد محض چند گھنٹوں میں قطر اور سعودی عرب نے حرب و ضرب کی ٹیکنالوجی اور دفاعی تکنیکی صلاحیت حاصل کرنے کیلئے یوکرین سے ڈیفنس معاہدے کر لیے۔ اس طرح وہ امریکہ جو بین الاقوامی اور یورپی اتحادیوں کے ساتھ دوسری عالمی جنگ کے بعد سے بلا شرکت غیرے مشرقِ وسطیٰ کا نمبردار تھا‘ اُس کی نمبرداری لائن کٹ گئی۔ ناقابلِ تسخیر امریکہ سے طرفہ تماشا یہ بھی ہوا کہ یو ایس اے کی جگہ روس کے ہاتھوں کریمیا سے کیف تک مسلسل پِٹنے والے یوکرین نے لے لی ہے۔ چنانچہ اب یہ واقعہ سیاسیاتِ عالم کے ماہرین کیلئے کئی اعتبار سے حیران کر دینے والا ہے۔سیاسیاتِ ایشیا اس وقت رو لر کوسٹر سے لٹک چکی ہے۔ بالکل ویسے ہی جیسے عالمی اقتصادیات کی دنیا۔ اگلے روز ورلڈ بینک نے انٹرنیشنل کمیونٹی کو خبردار کیا کہ ایران پر اسرائیل امریکہ حملے کے کانفلِکٹ نے دنیا بھر کی معیشت کو ناقابلِ یقین حد تک نقصان پہنچایا ہے۔ اس نقصان کے جھٹکے نے تمام براعظموں کی انرجی مارکیٹ اور معیشت کی ایسی تیسی پھیر دی ہے۔ روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاروف نے وہی کہا ہے جس کی نشان دہی ہم نے اسی صفحے پر وکالت نامہ میں یوں کی &#39;&#39;اس نئی تاریخ نے عالمی استعمار کی تاریخ بدل چھوڑی ہے‘‘۔ روس کے وزیرِ خارجہ نے کہا: اس وقت ایک نیا ورلڈ آرڈر جنم لے رہا ہے۔ امریکی سپر پاور کا نظریہ زوال پذیر ہے۔ مغرب کے نیوکلیئر ٹیکنالوجی ماہرین کھلے عام کہہ رہے ہیں کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار ہو سکتے ہیں۔ نئے ورلڈ آرڈر میں ایشیا کے اندر ایران پانچ ہفتے کی استقامت اور جنگی مہارت سے بڑا پلیئر بن چکا۔ ایرانی قوم یکسو ہے اور ملکِ ایران کی سالمیت کے سوال پر سیاست پیچھے رہ گئی ہے۔ ایرانی حکومت نے ناراض لوگوں کے زخموں پر مر ہم رکھے اور بہت سارے لوگوں کو ریلیف دیا۔ اس کے مقابلے میں پاکستان میں خلیجی ممالک کی پراکسی سیاست کرنے والے قومی منظر نامے پر ضیاالحق کا دور واپس دیکھنا چاہتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ سے تمام منت سماجت اور خدمت کے باوجود GCC ہمیں مزید ڈالر دینے سے انکاری ہے۔ آپس کی بات ہے کہ حکمرانوں کے شاہانہ لباس‘ کروفر‘ بڑے ہوٹلوں کی عیاشیاں‘ بڑے پروٹوکول کی لائنیں دنیا میں سب کو نظر آ رہی ہیں‘ ڈونر ممالک اندھے نہیں ۔ ان کے پیسے ٹیکس پیئر کی جیب سے آتے ہیں۔ ان ملکوں میں ہمارے ایلیٹ مافیا کی ناجائز کمائی سے بنائے گئے ٹاورز اور وِلاز بھی وہ جانتے ہیں۔ ہماری پہلی‘ دوسری اور فوری ترجیح اندرونی اور سیاسی استحکام ہے جو ہائبرڈ رجیم نہ لا سکی ہے نہ کبھی لا سکتی ہے۔پاکستان کی نئی خارجہ پالیسی ڈھل مل یقین ہے‘ جس نے باقی سارے رُوٹ بندکر کے ٹرمپ رُوٹ پر انحصار کر رکھا ہے۔ امریکہ کی تین سو سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ صدر ٹرمپ کے خلاف اکتیس سو مقامات پر پچاس امریکی ریاستوں میں 73لاکھ سے زیادہ احتجاجی عوام سڑکوں پر آئے ۔ ان شدید مظاہروں کے تسلسل کا نام &#39;&#39;نو کِنگ موومنٹ‘‘ ہے۔ امریکہ نے اسرائیل کی فرمائش پر جنگ تو مسلط کر دی لیکن جس بے جگری کے ساتھ ایران لڑ رہا ہے‘ اس کا نقصان پورا کرنے کیلئے امریکہ کو سال نہیں عشرے چاہئیں۔ ہماری معیشت کا انحصار امریکی سپانسرڈ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ اور ورلڈ بینک سے ملنے والے مہنگے ترین قرضوں پہ ہے۔ پچھلے تین سال میں زراعت مر گئی‘ معیشت کا جنازہ نکل گیا۔ عوام پر ٹیکسوں کے اہرام کھڑے ہو گئے۔ بے روزگاری اور مہنگائی وہاں ہے جہاں پہلے کبھی نہیں تھی۔ غربت کے جزیرے بڑھ گئے۔ کرپشن آسمان پر چڑھ گئی۔ مہذب تبدیلی کے سارے راستے بند ہیں۔ حکمران سمجھتے ہیں کہ فرانس جیسا انقلاب اب نہیں آ سکتا ‘ جی ہاں! اُس جیسا نہیں کیونکہ حالات اُس دور کے فرانس سے بھی بدترین ہیں۔کاہ کی رگ میں‘ جو دوڑاتا ہے‘ خونِ کہکشاںکھولتا ہے خار کے دِل میں‘ جو بابِ گلستاںشہ رگوں میں گونجتی رہتی ہے جس کی داستاںنعرہ بنتا ہے‘ اُسی کا نام زیرِ آسماں</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_42786259.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مشرقِ وسطیٰ کی قیادت پاکستان کے ہاتھ میں(کنور دلشاد)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/kunwar-mohammad-dilshad/2026-04-03/51699/99791112</link><pubDate>Fri, 03 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/kunwar-mohammad-dilshad/2026-04-03/51699/99791112</guid><description>ایران تقریباً گزشتہ پانچ ہفتوں سے تاریخی مزاحمت اور عزیمت کی روشن مثال قائم کرتے ہوئے اسرائیل اور امریکہ کی مذموم سازشوں کو ناکام بنا رہا اور اسرائیل کی اینٹ سے اینٹ بجا رہا ہے۔ ایسا 1948ء کے بعد پہلی مرتبہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ایران کی مزاحمت کے نتیجے میں امریکہ نے مارچ کے آخر میں یکطرفہ طور پر پانچ دن کیلئے جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔ اس جنگ بندی کی مختلف وجوہات میں سب سے بڑی وجہ اسرائیل میں داخلی کشمکش تھی۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو عوام میں جانے کے قابل نہیں رہے۔ وہاں جنگ کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان شدید احتجاج ہو رہے ہیں۔ اسرائیلی یہودی جنگ کے مخالف ہیں۔ اگر انہیں مزید ایرانی میزائلوں کا سامنا ہوتا ہے تو اسرائیل کے اندر جاری احتجاج حد سے تجاوز کر جائے گا‘ جسکے نتیجے میں نیتن یاہو کا وہی حشر ہو سکتا ہے جو افغانستان میں صدر ڈاکٹر نجیب اللہ کا ہوا تھا۔ اگر اسرائیل میں خانہ جنگی کی نوبت آتی ہے تو نیتن یاہو کو امریکی سفارت خانے میں ہی پناہ لینا پڑے گی۔ایران جنگ کے چار فریق ہیں: امریکہ‘ اسرائیل‘ ایران اور عرب ممالک۔ اسرائیل ایک طویل جنگ چاہتا ہے تاکہ خطے پر مکمل کنٹرول حاصل کر سکے۔ بعض عرب ملک بھی طویل جنگ کا خواہاں ہے تاکہ ایران کو مستقل دباؤ میں رکھا جا سکے۔ امریکہ تاہم طویل جنگ کے حق میں نہیں ہے۔ صدر ٹرمپ کو پینٹاگان نے بتا دیا ہے کہ ہر صورت چند ہفتوں کے بعد یہ جنگ ختم کی جائے‘ ورنہ نومبر 2026ء میں ہونے والے مڈٹرم الیکشن میں دونوں ایوانوں پر ڈیموکریٹس کا غلبہ ہو جائے گا اور صدر ٹرمپ مواخذے کی زد میں آ جائیں گے۔ امریکہ کے برعکس ایران بھی طویل جنگ کا خواہاں ہے کیونکہ وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ امریکی صدر پر اصل دباؤ نیتن یاہو کے بجائے اندرونی طور پر آتا ہے۔ تیل کی قیمتیں بڑھنے سے امریکی عوام کی معاشی قوت بھی متاثر ہو رہی ہے۔ معیشت پہلے ہی بلند شرحِ سود کی وجہ سے جمود کا شکار ہے۔ امریکی اخباروں میں مسلسل شائع ہونے والے اعداد و شمار بتا رہے ہیں کہ امریکہ میں ایک طرف معیشت سکڑ رہی ہے تو دوسری طرف بے روزگاری کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے۔صدر ٹرمپ آئینی لحاظ سے بھی بند گلی میں داخل ہو چکے ہیں۔ امریکی آئین کے مطابق کسی بھی ملک کے خلاف باقاعدہ جنگ شروع کرنے کے لیے کانگریس کی منظوری لازمی ہوتی ہے‘ جبکہ اب تک کانگریس میں دونوں جماعتوں کے اراکین اس جنگ کی منظوری کے لیے تیار نظر نہیں آ رہے۔ امریکیوں کی ایک بڑی تعداد یہ بھی سمجھتی ہے کہ صدر ٹرمپ نے یہ سارا کھیل ایپسٹین فائلز سے توجہ ہٹانے کے لیے شروع کیا ہے۔ صدر ٹرمپ پر موجود شدید داخلی دباؤ کا ایران کو اچھی طرح ادراک ہے۔ یہ جنگ امریکہ کو روزانہ تقریباً ایک ارب ڈالر میں پڑ رہی ہے‘ اس حساب سے امریکہ اب تک اس جنگ میں تقریباً 33ارب ڈالر جھونک چکا ہے جبکہ امریکہ میں ابھی تک کوئی ایک شخص بھی یہ نہیں جانتا کہ اس جنگ کے مقاصد کیا تھے؟ یہ بھاری معاشی قیمت ایک بہت بڑی وجہ ہے کہ اب صدر ٹرمپ یہ جنگ فوری ختم کرنا چاہتے ہیں جبکہ ایران کو کوئی جلدی نہیں ہے۔ ویتنام‘ عراق‘ افغانستان‘ وینزویلا اور یمن میں عسکری ناکامیاں پہلے ہی امریکی تاریخ کیلئے بدنما داغ بن چکی ہیں۔ اب اگر ایران کے معاملے میں بھی ہزیمت اٹھانا پڑ گئی تو یہ امریکہ کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا ہو گا۔دوسری جانب امریکی اور اسرائیلی جارحیت ایران کو راس آ گئی ہے۔ وہ اس طرح کہ اس جارحیت سے قبل ایران روزانہ تقریباً 11 لاکھ بیرل تیل پیدا کر رہا تھا جسے وہ 65 ڈالر فی بیرل میں فروخت کر رہا تھا۔ آج ایران 15 لاکھ بیرل یومیہ تیل پیدا کر رہا ہے اور 100 ڈالر فی بیرل میں فروخت کر رہا ہے۔ جنگ کے دوران ایران کو پابندیوں سے ریلیف مل چکا ہے اور اب امریکہ جنگ بندی کی استدعا کر رہا ہے۔ اگر ایک قوم اور اس کی قیادت جارحیت کے سامنے ڈٹ جائے اور اپنی آزادی کے دفاع کے لیے لڑنے کا تہیہ کر لے تو اسے کبھی زیر نہیں کیا جا سکتا۔ علاوہ ازیں ایران دنیا میں سٹیل کا دسواں بڑا پروڈیوسر ہے‘ جو سالانہ تقریباً 31 ملین ٹن سے زیادہ سٹیل پیدا کرتا ہے۔ یہ پیداوار جرمنی سے صرف چھ ملین ٹن کم ہے‘ جو دنیا کا صنعتی پاور ہاؤس سمجھا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ سٹیل ایک بنیادی نوعیت کی صنعت ہے جس پر دیگر صنعتوں کا انحصار ہوتا ہے۔ پاکستان اس شعبے میں ٹاپ 30 میں بھی نہیں ہے اور اس کی پیداوار ایران کی پیداوار کا بمشکل دسواں حصہ ہے۔ایران کے بنکرز جہاں اس کا اسلحہ چھپا کر رکھا جاتا ہے‘ اس وقت مغربی میڈیا میں توجہ کا مرکز ہیں۔ یہ مضبوط بنکرز بنانے کیلئے سارا تعمیراتی سامان ایران خود تیار کرتا ہے۔ ایران ان گنے چنے ملکوں میں سے ہے جو تجارتی خسارے میں نہیں بلکہ منافع میں ہیں۔ تیل اور گیس کو نکال دیا جائے تب بھی ایران کی برآمدات پاکستان کی برآمدات سے دوگنا زیادہ ہیں۔ ایران کے جی ڈی پی کا ایک تہائی سے زیادہ حصہ صنعت سے آتا ہے جبکہ پاکستان میں یہ تناسب چھٹے حصے کے برابر ہے۔ ایران کی آبادی نو کروڑ اور پاکستان کی 25کروڑ ہے۔ باوجودیکہ ایران پر پابندیاں ہیں اور پاکستان کو مسلسل امداد اور قرضے ملتے ہیں‘ لیکن ایران کی صنعتی پیداوار 150 ارب ڈالر اور پاکستان کی 70 ارب ڈالر ہے۔ مغربی ایشیا میں صرف ترکیہ ہی ایران سے بڑا صنعتی ملک ہے۔ دیگر تمام ممالک بہت پیچھے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس خطے میں حقیقی صنعتی طاقت صرف یہی دو ممالک ہیں‘ باقی سب برائے نام ہیں۔ خلیجی ممالک انتہائی مالدار ہیں لیکن ترقی یافتہ ہرگز نہیں۔ ترقی مال کا نام نہیں بلکہ انسان اور اس کی صلاحیتوں کی ترقی کا نام ہے۔ ترقی مجموعی خود کفالت کا نام ہے۔ ایران کی پابندیوں نے جہاں اسے نقصان پہنچایا‘ وہیں خود کفیل بھی بنایا ہے۔ ایران اگر آج اسرائیلی اور امریکی جارحانہ یلغار کے باوجود کھڑا ہے تو اسکی بنیادی وجہ اسکا صنعتی اور زرعی پیداواری شعبہ ہے۔ ہماری سیاسی تاریخ میں صرف صدر ایوب خان نے ملک کو خود کفیل بنانے کی کوشش کی تھی۔اُدھر عالمی منظرنامے پر آج کل ایک اہم بیان گردش میں ہے جس نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر کے نام سے منسوب اس بیان میں پاکستان کے حوالے سے غیر معمولی مؤقف سامنے آیا ہے۔ بیان کے مطابق ایران کے روحانی رہبر اعظم سید مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا ہے کہ اگر میں حکم دوں تو دنیا بھر میں تیل کی سپلائی روک سکتا ہوں‘ مگر پاکستان کو اس سے الگ رکھا جائے گا۔ انہوں نے پاکستان کو ایران کا سب سے قابلِ اعتماد ملک قرار دیا ہے۔ دوسری جانب عالمی میڈیا کے مطابق پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے اعلیٰ حکام کے درمیان انتہائی اہم اور حساس نوعیت کے مذاکرات کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ یہ مذاکرات مشرقِ وسطیٰ کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان‘ ترکیہ اور مصر کی کوششوں کے بعد دونوں حریف ممالک کو ایک میز پر لانے کیلئے اسلام آباد کو منتخب کیا گیا ہے۔ ابتدائی طور پر امریکی ٹیم کی نمائندگی کیلئے صدر ٹرمپ کے قریبی کیبنٹ ممبر سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کا نام آیا تھا تاہم ایران کی جانب سے اعتراضات کے بعد امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ کا نام سامنے آ رہا ہے۔ ایران کیطرف سے ممکنہ طور پر پارلیمنٹ کے اسپیکر محمود باقر قالیباف اس مشن کی قیادت کر سکتے ہیں جو ایران کے اہم ترین فیصلہ ساز سمجھے جاتے ہیں۔ اس وقت پوری دنیا کی نظریں اسلام آباد پر ہیں۔ قدرت نے پاکستان کو اس مشکل مرحلے کی کامیابی کے بعد مسلم دنیا کی قیادت کیلئے منتخب کیا ہے۔ اس ممکنہ امن معاہدے کے بعد پورے خطے کی سیاست بدلنے والی ہے۔ یعنی پاکستان مشرقِ وسطیٰ کی قیادت سنبھالنے والا ہے۔ تاہم ملک کا پارلیمانی نظام‘ جو مسلسل ناکام ثابت ہو رہا ہے‘ اسے بدلنا اب ناگزیر ہو چکا ہے۔ لہٰذا نئے عمرانی معاہدے کے تحت ریاستی ڈھانچے میں اہم تبدیلیوں کی گونج سنائی دے رہی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_15667905.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>اخلاقی اقدار کا جنازہ(اسد طاہر جپہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/asad-tahir-jappa-/2026-04-03/51700/56077417</link><pubDate>Fri, 03 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/asad-tahir-jappa-/2026-04-03/51700/56077417</guid><description>گزشتہ چند برسوں سے وطنِ عزیز میں رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں تقریباً تمام ٹیلی ویژن چینلز نے مختلف انواع و اقسام کے پروگرام ترتیب دینا شروع کیے جن میں روزے کی فضیلت اور اہمیت کو اجاگر کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ ملک کے نامور علماء کرام اور مفتیانِ عظام کو شریکِ گفتگو کرکے سٹوڈیو میں موجود حاضرین کے ساتھ ساتھ ملک کے مختلف علاقوں سے لائیو کالز کے ذریعے شرعی نوعیت کے سوالات کو شامل کیا جاتا اور علماء کرام قرآن و سنت کی روشنی میں ان تمام سوالات کے تسلی بخش اور مستند جوابات دیتے نظر آتے۔ اس کے بعد ان پروگرامز کے فارمیٹ میں نمایاں تبدیلیاں کی گئیں جن کے نتیجے میں انعامات پر مبنی کمرشل نوعیت کے نیلام گھر سجا دیے گئے۔ پروگرام کی میزبانی کسی جید عالم دین کے بجائے شوبز انڈسٹری سے وابستہ شخصیت کو سونپ دی گئی اور اس طرح ان پروگراموں میں شرکت کیلئے مدعو کیے جانے والی مہمان شخصیات بھی شوبز دنیا سے منتخب ہونے لگیں۔ اس مرتبہ رمضان المبارک کی مناسبت سے نشر ہونے والے پروگراموں سے متعلق کئی وڈیو کلپس سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شیئر ہوئے تو ہمیں بھی دیکھنے کا موقع ملا۔ ان میں کی گئی گفتگو کے کئی حصوں کو سننے کے بعد خاکسار کو اپنے روزے کی صحت اور سلامتی پر شک گزرنے لگا۔ سب سے پہلے تو خاتون اینکر پرسن کا لباس ہی رمضان کے تقدس کے منافی تھا‘ پھر رہی سہی کسر مہمان شخصیات کے ساتھ ہونے والی گفتگو نے نکال دی۔ تقریباً تمام چینلز پر عمر رسیدہ خواتین جس طرح بچپن کے پہلے عشق کی داستان‘ پہلی ڈیٹ کے رومان‘ عقدِ اولیٰ اور عقدِ ثانی سے متعلق انتہائی نجی نوعیت کی معلومات اور دیگر حساس جزئیات کھول کھول کر بیان کر رہی تھیں‘ وہ سب کچھ روزے کے ساتھ برداشت کرنا مشکل ہو رہا تھا۔ انہی پروگراموں میں سے ایک پروگرام میں پاکستان ٹیلی ویژن سے وابستہ دو معروف نام مدعو کیے گئے تھے جو کسی دور میں رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوئے مگر کم و بیش تین دہائیاں قبل طلاق کے بعد اپنے راستے جدا کر چکے تھے۔ آفرین ہے اس خاتون اینکر پرسن پر جس نے ان دونوں کی محبت بھری داستان کے تمام نرم گرم گوشوں کو کریدنے کیلئے زمین آسمان ایک کر دیا۔ یہاں داد و تحسین کی مستحق ہے وہ خاتون مہمان شخصیت جس نے میزبان کے ہر جائز و ناجائز سوال کے جواب کو اپنے اوپر فرض کر لیا۔ اس گفتگو کے دوران کئی بار یہ محسوس ہوا کہ جیسے وہ دونوں کچی عمر کے معاشقے کیلئے کسی حسین وادی میں موجود ہیں جہاں ان کے علاوہ اور کوئی نہیں اور وہ دونوں ایک دوسرے کے وجود میں گھائل ہو کر زمان و مکاں کی تمام پابندیوں سے آزاد ہو چکے ہیں۔ پھر بھی مرد مہمان شخصیت نے کافی حد تک ڈھکے چھپے انداز میں نپے تلے الفاظ کا انتخاب کیا جس کے باعث صورتحال کو قابو میں رکھنا ممکن ہو سکا۔ مگر سب سے حیران کن پہلو پروگرام کے ڈائریکٹر کا صرفِ نظر ہے جس کے نتیجے میں یہ تمام انتہائی نجی نوعیت کی گفتگو رمضان المبارک کے روح پرور ماحول اور تقدس کو پامال کرنے کے باوجود نشریات کا حصہ بن گئی۔ دوسرے لفظوں میں یہ بات بلا خوفِ تردید کہی جا سکتی ہے کہ رمضان المبارک کی مناسبت سے نشر ہونے والے پروگراموں کی واضح اکثریت میں روزے اور اس اہم عبادت سے متعلق تمام ضروری امور کے علاوہ باقی سب کچھ شامل کیا جاتا ہے۔ مگر یہ سب کچھ اچانک نہیں ہوا بلکہ اخلاقی تنزلی کا یہ سفر بہت پہلے شروع ہو گیا تھا۔ یہ درست ہے کہ کوئی بھی حادثہ اچانک نہیں ہوتا بلکہ زمانہ کئی برسوں تک اس کی پرورش کرتا ہے۔ ہماری نسل نے 1980ء اور 90ء کی دہائی میں اپنے زمانۂ طالب علمی کے دوران پاکستان ٹیلی ویژن چینل کی تمام نشریات میں مشرقی روایات اور اسلامی اقدار کی پاسداری کا مکمل مظاہرہ دیکھا۔ سب پروگراموں اور ڈراموں میں شائستہ لباس‘ پاکستانی ثقافت اور اسلامی تعلیمات کا دھیان رکھا جاتا۔ خواتین نیوز کاسٹرز سر پر دوپٹہ اوڑھے خبرنامہ کیلئے سکرین پر نمودار ہوتیں۔ ان کے خوبصورت لب و لہجے کے باعث خبریں دیکھنے کے بجائے سننے سے مزہ دوبالا ہو جاتا تھا۔ پھر اکیسویں صدی کے اوائل میں نجی ٹیلی ویژن چینلز کا آغاز ہوا تو شروع میں تقریباً تمام معتبر میڈیا اداروں نے لائسنس حاصل کرنے کے بعد پرنٹ میڈیا کے ساتھ ساتھ الیکٹرانک میڈیا میں بھی قدم رکھ دیا اور اپنے نامور اور تجربہ کار ایڈیٹرز اور رپورٹرز کو کیمرے کے سامنے بٹھا کر پاکستان میں میڈیا کے ایک نئے دور کا آغاز کر دیا۔ بعد ازاں بہت سے افراد نے میڈیا پاور کے حصول میں اپنا دھن وارنا شروع کر دیا تو نجی ٹیلی ویژن چینلز کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوتا گیا۔ نت نئے شروع ہونے والے چینلز نے جدید ترین ٹیکنالوجی اور گرافکس کے نئے معیارات متعارف کرائے تو ناظرین کی اکثریت پاکستان ٹیلی ویژن چینل کی یکسانیت اور روایت پسندی کو چھوڑ کر ان نئے پروگراموں میں دلچسپی لینے لگے گئی جہاں جدت کے نام پر لباس میں اختصار اور گفتگو میں ذومعنی جملوں کا استعمال بڑھنے لگا۔ اس مقابلے کی فضا میں ناظرین میں مقبولیت کیلئے ریٹنگ کا نظام متعارف کرایا گیا۔ ابھی ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی دوڑ جاری تھی تو دوسری طرف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تیزی سے ترقی کرنے لگے اور دیکھتے ہی دیکھتے ہر خاص و عام میں اتنے مقبول ہوئے کہ گزشتہ ایک دہائی سے اخبارات کی سرکولیشن سکڑنے لگی‘ صفحات کم ہونے لگے اور یوں پرنٹ میڈیا انڈسٹری کا زوال شروع ہو گیا۔ حتیٰ کہ نوبت اخبارات کے کئی ذیلی دفاتر کی بندش تک جا پہنچی۔ اس کے بعد سوشل میڈیا نے اگلا وار الیکٹرانک میڈیا پر کیا اور سماٹ فون کی دستیابی کے باعث سوشل میڈیا صارفین نے ٹیلی ویژن چینلز سے منہ موڑنا شروع کیا تو چینلز کی بقا خطرے میں پڑ گئی۔ یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا کے دباؤ سے اب نجی چینلز بھی کانٹینٹ کے معیار کو پس پشت ڈال کر صارفین میں مقبولیت کی دوڑ میں سرپٹ دوڑ رہے ہیں جس کے باعث اب ہماری مشرقی روایات اور اسلامی تعلیمات ثانوی حیثیت رکھتی ہیں۔ اس وقت سوشل میڈیا اور نام نہاد چینلز کے درمیان فیصلہ کن لڑائی اشتہارات کے میدان میں لڑی جا رہی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر صارفین کی تعداد کروڑوں میں ہے جس کی بدولت اکثر برانڈز اور تجارتی مراکز اپنی مصنوعات کی تشہیر کیلئے سوشل میڈیا کو ترجیح دیتے ہیں جہاں انہیں انتہائی کم قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔ سوشل میڈیا پر کانٹینٹ کے معیار کے بجائے وائرل ہونا زیادہ اہمیت کا حامل ہے لہٰذا صارفین عجیب و غریب حرکات و سکنات پر مشتمل کانٹینٹ شیئر کرتے ہیں۔ ہر دوسرا شخص اپنے چینل کو مونیٹائز کروا کر ڈالرز کمانے کی دوڑ میں شامل ہے۔ دوسری طرف اب تمام چینلز بھی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر اپنی گرفت مضبوط کرنے میں لگے ہیں جس کیلئے انہیں سوشل میڈیا کا بزنس ماڈل اختیار کرنا پڑ رہا ہے جس میں ایڈیٹوریل پالیسی کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں۔سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کی لت میں بہت سے افراد اور گھرانے ایک طرف فیملی وِی لاگنگ کے نام پر عجیب و غریب حرکات میں مصروف ہیں تو دوسری طرف برائیڈل فوٹو شوٹ کی آڑ میں پردے اور چادر کی پامالی کی جارہی ہے جس نے ہمارے خاندانی نظام‘ اخلاقی اقدار اور سماجی روایات کی بنیادیں ہلا دی ہیں۔ اخلاقی پستی کی اس یلغار میں اکثر چینلز سوشل میڈیا کا مقابلہ کرنے پر تل گئے ہیں مگر وہ یہ جنگ کبھی جیت نہیں پائیں گے کیونکہ ادارتی چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے کے باعث سوشل میڈیا کی پستی کی کوئی حد نہیں ہے ۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_34710710.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>اب ایران کی باری؟(امیر حمزہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ameer-hamza/2026-04-03/51701/91339730</link><pubDate>Fri, 03 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ameer-hamza/2026-04-03/51701/91339730</guid><description>اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں واضح کہا ہے کہ &#39;&#39;ہم انسانوں کے درمیان دِنوں کو پھیرتے رہتے ہیں‘‘۔ چند روز قبل اسرائیل کے سابق وزیراعظم نفتالی بینِٹ نے ایسے ہی دنوں کو یاد کرتے ہوئے ایک تقریب میں کہا: &#39;&#39;ایران کا ہم پر احسان ہے کہ اس کے بادشاہ سائرس اعظم نے ہمیں بخت نصر کی قید سے آزادی دلا کر ہمیں ہمارا وطن واپس دلایا۔ یروشلم میں ہمارا ہیکلِ سلیمانی بھی بنوا کردیا۔ آج ہم بھی اہلِ ایران کو آزادی دلوا کر اپنے احسان کا بدلہ اتارنا چاہتے ہیں‘‘۔ قارئین کرام! حقیقت یہ ہے کہ بنو اسرائیل کے علما نے جس طرح تورات میں رد و بدل کیا اسی طرح آج کے اسرائیلی سیاستدان نے تاریخ میں رد و بدل کا ارتکاب کر ڈالا۔ حقیقت یہ ہے کہ ایران کے بادشاہ سائرس اعظم نے آج سے اڑھائی ہزار سال قبل بخت نصر کی بادشاہت کو شکست دے کر شام تک کا علاقہ فتح کر لیا تھا۔ اس میں فلسطین اور یروشلم بھی شامل تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اسرائیلیوں کی نافرمانیوں کی وجہ سے سزا کے طور پر بخت نصر کو ان پر مسلط کیا تھا۔ بخت نصر نے حضرت سلیمانؑ کی بنائی ہوئی مسجد‘ جسے ہیکلِ سلیمانی کہا جاتا ہے‘ کو مسمار کر دیا تھا۔ یہود کو قتلِ عام کے بعد قیدی بنا کر بابل (عراق) میں لے جایا گیا تھا۔ یہ قید میں ہی تھے کہ سائرس اعظم شاہِ ایران نے بخت نصر کی بادشاہت کو ختم کرتے ہوئے شام اورفلسطین تک کو فتح کر لیا۔ سائرس اعظم نے اسرائیلیوں کو آزاد کر دیا اور کہا کہ ایران‘ عراق میں جہاں تم رہ رہتے آئے ہو‘ آزادی سے رہو۔ اپنے دیس جانا چاہتے ہو تو یروشلم چلے جاؤ؛ چنانچہ زیادہ تر یہود وہاں سے چلے گئے اور کم ہی تھے جو وہاں رہے۔ صدام حسین کے دور میں‘ جب پہلی خلیجی جنگ ہوئی تو تب عراق میں رہنے والے یہودی بھی وہاں سے اسرائیل چلے گئے تھے۔ ایران میں رہنے والے یہودی تھوڑی تعداد میں یروشلم گئے مگر زیادہ تعداد میں وہ ایران میں ہی مقیم رہے۔ وہ آج تک ایران میں بڑی تعداد میں موجود ہیں۔یہاں جو بات قابلِ ذکر ہے وہ یہ ہے کہ سائرس نے وہ جنگ یہود کی آزادی کی خاطر نہیں لڑی تھی۔ ہاں! وہ ایک انصاف پسند اور رحمدل بادشاہ تھے۔ انہوں نے اپنی ساری سلطنت کے لوگوں کو آزادی دی کہ وہ اپنے اپنے مذہب پر آزادی کے ساتھ عمل کر سکتے ہیں‘ اپنی عبادت گاہ بنا سکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے دن اس طرح ادل بدل کیے کہ بنو اسرائیل کو بدلے ہوئے دنوں میں اپنی اصلاح کا موقع مل گیا۔ ان کا وفد سائرس اعظم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض گزار ہوا کہ جس طرح باقی مذاہب کی منہدم عبادت گاہیں سلطنت بنا رہی ہے‘ ہمارا ہیکلِ سلیمانی بھی بنایا جائے۔ ان لوگوں نے جس طرح کا نقشہ دیا بادشاہ نے اسی طرح کا ہیکل بنوا دیا۔ ایران میں لاکھوں کی تعداد میں جو یہودی گزشتہ ڈھائی ہزار برسوں سے آباد ہیں‘ وہ تو خوشی اور خوشحالی سے آباد ہیں۔ اہلِ ایران پر جو حکمران ہیں وہ بھی ایرانی ہیں تو جناب نفتالی صاحب! تم لوگ کس کو کس سے آزاد کرانا چاہتے ہو؟ اتنا بڑا سیاسی جھوٹ بول کر تم لوگوں نے آٹھ مہینے پہلے ایران پر حملہ کیا اور اب دوسرے حملے کو بھی دوسرا مہینہ چل رہا ہے۔ غزہ کے باسیوں کو انہی کی زمین پر کارپٹ بمباری کرکے تباہ و برباد کیا گیا۔ وہی گھسے پٹے جھوٹ اب ایران کے بارے میں بول رہے ہو۔ یہی وہ ظالمانہ اور غیراخلاقی حرکات ہیں جن کی فردِ جرم اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں لگائی۔ اللہ رحمن بنو اسرائیل پر اپنے احسانات گنوانے ہیں‘ بنو اسرائیل کی بدعہدی اور ناشکری کے واقعات یاد دلاتے ہیں اور آخر پر فردِ جرم لگا کر بتایا کہ ہم نے انہیں بندر بنا دیا۔ یعنی ان کے اندر سے انسانیت ختم ہو گئی تو ان لوگوں کو اس حیوان کی شکل دی جو انتہائی شرارتی ہے۔ پھر اگلی ہی آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں! &#39;&#39;(اے میرے حبیبﷺ!) اس زمانے کو ذہن میں لاؤ جب آپ کے رب نے فیصلہ اور اعلان کر دیا کہ وہ ہر صورت ان (یہود) پر ایسے لوگوں کو قیامت تک مسلط کرتا رہے گا جو اُن کو بدترین عذاب کا مزہ چکھاتے رہیں گے‘‘(الاعراف: 167)۔ قارئین کرام! غور فرمائیں۔ بخت نصر کے عذاب کے بعد سائرس اعظم کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے انہیں موقع دیا تو ان کی حرکتیں پھر پہلے جیسی ہو گئیں حتیٰ کہ ان لوگوں پر بت پرست رومی مسلط ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی رہنمائی کیلئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھیجا تو ان لوگوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی پاکباز والدہ محترم حضرت مریم پر نازیبا الزامات لگائے اور پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اپنے مذہب اور معاشرے سے نکالتے ہوئے بت پرست رومیوں کے ذریعے سولی پر چڑھانے کا فیصلہ کیا۔ ٹھیک 70سال بعد انہی لوگوں نے رومی بت پرستوں کی حکومت کیخلاف بغاوت کر دی تو تب کی رومی حکومت نے ان کا ہیکل مسمار کر دیا۔ بنو اسرائیل کا قتلِ عام کیا اور سرزمینِ فلسطین سے دیس نکالا دے دیا۔ یہ جہاں بھی گئے ماریں کھاتے رہے۔ انہوں نے اللہ کے آخری رسول حضرت محمدﷺ کو ستایا تو مدینہ منورہ سے اجڑتے ہوئے نکلے۔ خیبر میں ان کی حکمرانی تھی‘ وہاں سے بھی فاتح خیبر حضرت حیدر کرارؓ کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہوئے۔ کل کی بات ہے کہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہٹلر کے ہاتھوں سزا یاب ہوئے۔20ویں صدی میں برطانیہ سپر پاور تھا۔ اس نے ان سے اپنی اور یورپ کی جان چھڑانے کیلئے ان کا ملک اسرائیل بنا دیا۔ 1948ء کے بعد آج تک یہ فلسطینی مسلمانوں‘ مسیحیوں اور دیگر کو قتل کرتے‘ گھروں سے نکالتے اور جنگیں کرتے چلے آ رہے ہیں۔ غزہ کو کھنڈر بنانے کے بعد جنوبی لبنان کو تباہ حال کرتے کرتے انہوں نے امریکہ کی مدد کے ساتھ ایران پر حملہ کر دیا۔ تکبر کے بڑے بڑے بول بولے۔اب ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نیتن یاہو اور اس کے سرپرست اعلیٰ کو سزا دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے اسرائیل کھنڈر بننا شروع ہو گیا‘ ایران کا نقصان بھی بہت ہو رہا ہے مگر اسرائیل کو 78 برسوں میں پہلی بار سزا مل رہی ہے اورایران کے ہاتھوں مل رہی ہے۔ اسرائیلوں پر جس نے بھی احسان کیا‘ بنو اسرائیل نے ظلم اور احسان فراموشی کے ساتھ بدلہ چکایا۔ جناب نفتالی! ایران کے پُرامن یہود بھی اس محسن کشی پر ناراض ہیں۔ اسرائیل کے اندر جو ایرانی یہود ہیں وہ بھی اسرائیلی وزیراعظم پر غضبناک ہیں۔ سفاردی اور ہاردی فرقے بھی نیتن یاہو اور اس کے ساتھیوں کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ ابھی اس جنگ کے خلاف امریکہ میں ایک کروڑ لوگ سڑکوں پر نکلے ہیں۔ سورۃ الاعراف کی آیت: 167کا اختتام اس طرح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے پیارے رسول ﷺ کو مخاطب کرکے فرماتے ہیں &#39;&#39;تیرا رب انتہائی تیزی کے ساتھ پیچھا کرکے ان لوگوں کو سزا دینے والا ہے‘‘۔ جی ہاں! اس بار صہیونی ظالموں کو سزا ایران کے ذریعے دی جا رہی ہے۔ نوشتۂ دیوار یہی نظر آ رہا ہے۔پاک وطن کو خراجِ تحسین کہ اسلام آباد امن اور صلح کا سینٹر بن گیا‘ وہاں وزیر خارجہ اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی میزبانی میں سعودی عرب‘ ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کا اجلاس ہوا۔ بیجنگ میں اسحاق ڈار صاحب اور چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے جنگ کے خاتمہ کی تجاویز پیش کیں۔ پاکستان کی کوششوں سے سعودی عرب اور ایران باہم رابطے میں رہے۔ دوست اور بھائی بن کر تبادلہ خیالات کرتے رہے۔ ایران کے وزیر خارجہ جناب عباس عراقچی نے کہا کہ ہم گلف ریاستوں کے استحکام کا احترام کرتے ہیں‘ ہم سب مل کر دشمنوں کو یہاں سے نکالیں گے۔ پاک وطن خطے کے استحکام کی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کیلئے کردار ادا کر رہا ہے تو مستقبل کی ذمہ داریوں کیلئے بھی پابہ رکاب ہے۔ برطانیہ نے بھی اس جنگ میں شامل ہونے سے یہ کہہ کر انکار کیا کہ اس جنگ میں اخلاقی قدروں کو پامال کیا گیا ہے۔ سپین نے شروع سے ہی اس جنگ میں شامل ہونے سے صاف انکار کیا بلکہ اخلاقی طور پر ایران کا ساتھ دینے کا اعلان کیا۔ اٹلی کے جذبات بھی ایسے ہی سامنے آئے۔ دنوں کا ادل بدل خبر دے رہا ہے کہ عالمی امن بھی ہو گا مگر دنیا نئی ہو گی‘ ضابطے نئے ہوں گے‘ جکڑ بندیاں ٹوٹیں گی‘ عالمی نظام نیا ہو گا اور شاید نئی جگہ پر ہو گا‘ ان شاء اللہ۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_68712266.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>