<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>اکنامک آئوٹ لُک اور معاشی چیلنجز(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-15/11105</link><pubDate>Wed, 15 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-15/11105</guid><description>آئی ایم ایف کی ورلڈ اکنامک آؤٹ لُک رپورٹ 2026ء میں عالمی اور ملکی معیشت کے مستقبل کے حوالے سے امیدوں سے زیادہ خدشات اور چیلنجز کی نشاندہی کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق عالمی معیشت بالعموم اور پاکستان کی معیشت بالخصوص نازک موڑ پر ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور علاقائی تنازعات اس وقت عالمی معاشی ترقی کیلئے سب سے بڑا چیلنج بن کر ابھرے ہیں اور ان کی شدت اور مدت ہی مستقبل کی اقتصادی سمت کا تعین کرے گی۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کیلئے معاشی شرحِ نمو میں سستی‘ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں اضافہ اور مہنگائی کی لہر کے سر اٹھانے کے خدشات موجود ہیں۔ رواں مالی سال کے دوران پاکستان کی معاشی شرح نمو‘ جس کا ہدف 4.2 فیصد مقرر کیا گیا تھا‘ 3.6 فیصد تک رہنے کا امکان ہے۔ یہ فرق صنعت‘ زراعت اور سروسز کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی کمی اور بلند شرح سود کے باعث کاروباری مشکلات کی عکاسی کر رہا ہے۔ اگرچہ حکومت کی جانب سے معاشی سمت درست ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے مگر آئی ایم ایف نے واضح کیا ہے کہ چیلنجز بدستور برقرار ہیں اور کسی قسم کی کوتاہی معاشی دباؤ میں مزید اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔ رپورٹ کا ایک تشویشناک پہلو مہنگائی کا تخمینہ ہے۔

گزشتہ برس مہنگائی کی شرح 4.5 فیصد تک رہی تھی‘ جسے ایک بڑی کامیابی قرار دیا گیا مگر اب صورتحال یکسر بدلتی نظر آ رہی ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے کے مطابق رواں مالی سال مہنگائی کی شرح 7.2 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے جبکہ اگلے مالی سال میں مہنگائی کی شرح 8.4 فیصد تک جا سکتی ہے۔ مہنگائی میں مسلسل اضافہ نہ صرف براہِ راست عام آدمی کی قوتِ خرید کو متاثر کرے گا بلکہ سماجی بے چینی کا بھی سبب بنے گا۔ اگرچہ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اس اضافے کی بڑی وجہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں عدم استحکام اور توانائی کی سپلائی چین میں خلل جیسی صورتحال ہے مگر داخلی انتظامی ڈھانچے کی کمزوریاں اس بحران کو مزید سنگین بنا رہی ہیں۔ معاشی ماہرین پہلے ہی خبردار کر رہے کہ مہنگائی اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنیوالے طبقے کیلئے زندگی مزید مشکل ہو جائے گی۔ آؤٹ لک رپورٹ کے خوش کن پہلو کی بات کی جائے تو بیروزگاری میں کمی کا عندیہ ایک مثبت پہلو ہے۔ بیروزگاری کی شرح جو 7.1 فیصد تھی‘ رواں سال کم ہو کر 6.9 فیصد اور آئندہ سال مزید کم ہو کر 6.5 فیصد تک آنے کی توقع ہے۔
تاہم اس بہتری کو برقرار رکھنے کیلئے ضروری ہے کہ معاشی سرگرمیوں میں وہ تسلسل لایا جائے جو نوجوان نسل کو مارکیٹ میں کھپا سکے۔ بیروزگاری میں کمی کے باوجود کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا بڑھنا ایک بڑا خطرہ ہے‘ جو ملکی زرِمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھانے اور روپے کی قدر میں کمی کا باعث بن سکتا ہے۔ پاکستان کو اس وقت بیرونی ادائیگیوں کے توازن کو برقرار رکھنے کیلئے سخت مالیاتی ڈسپلن کی ضرورت ہے‘ ورنہ خسارے کا یہ جن معیشت کو ایک نئے بحران سے دوچار کر سکتا ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا یہ کہنا کہ پچھلے تین چار سال میں پاکستان سے 100ارب ڈالر باہر گئے ہیں‘ ملکی معیشت کے حجم کی وسعت کو ظاہر کرتا ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ کا یہ کہنا بجا ہے کہ اگر 30فیصد ہی پیسہ واپس آ جائے تو معیشت مستحکم ہو سکتی۔
پیسہ واپس لانے کی اپیل اپنی جگہ تاہم اگر وقتی اہداف تک محدود رہنے کے بجائے حکومت طویل مدتی اصلاحات پر توجہ دے‘ معاشی ماحول کو کاروبار دوست بنائے‘ پالیسی سقم دور کر لے تو داخلی سطح پر انتظامی بہتری اور ٹیکس نیٹ میں اضافے کی صورت میں معیشت کو بیرونی جھٹکوں سے بچانے کیلئے حفاظتی دیواریں کھڑی کی جا سکتی ہیں۔ملکی معیشت کی بنیادوں کو ہی درست کر لیا جائے تو اس میں اتنی وسعت اور لچک ہے کہ یہ بیرونی دباؤ کا مقابلہ کر سکے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>لوڈ شیڈنگ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-15/11104</link><pubDate>Wed, 15 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-15/11104</guid><description>پاور ڈویژن کی جانب سے ملک بھر میں شام پانچ سے رات ایک بجے کے درمیان روزانہ سوا دو گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا اعلان کیا گیا ہے۔ پاور ڈویژن کے مطابق یہ فیصلہ بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب‘ مہنگے ایندھن پر انحصار اور ممکنہ طور پر ٹیرف میں بڑے اضافے کو روکنے کے لیے کیا گیا ہے۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق اس وقت ملک میں تقریباً 60 فیصد بجلی درآمدی تیل اور ایل این جی کے ذریعے پیدا کی جاتی ہے۔ حالیہ علاقائی کشیدگی کے باعث عالمی منڈیوں میں گیس اور پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافے کا اثر بجلی کی قیمت اور دستیابی پر پڑ رہا ہے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ملک کے بیشتر شہروں میں پہلے ہی شہری علاقوں میں چار اور دیہی علاقوں میں چھ گھنٹے سے زائد لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے۔ ایسے میں پیک آورز کے دوران مزید لوڈ شیڈنگ عوامی مشکلات میں مزید اضافہ کرے گی۔ ملک کا توانائی کا شعبہ دہائیوں سے مسائل کا شکار ہے۔

ان مسائل کو وقتی فیصلوں سے تو کسی حد تک سنبھالا جاتا رہا لیکن ایک مربوط اور دیرپا اصلاحاتی حکمت عملی کبھی سامنے نہیں آ سکی۔ اگرچہ حکومت نے اب 2030ء تک بجلی کا 60 فیصد حصہ قابلِ تجدید ذرائع‘ خصوصاً سولر انرجی سے حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ اس میں بھی پیش رفت سست اور غیر مستقل مزاجی کا شکار ہے۔ حکومت کو بجلی بحران پر مستقل بنیادوں پر قابو پانے کے لیے جلد از جلد قابلِ تجدید توانائی پر منتقلی یقینی بنانا ہو گی۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>گندم خریداری(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-15/11103</link><pubDate>Wed, 15 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-15/11103</guid><description>حکومتِ پنجاب کی جانب سے گندم کے کاشتکاروں کو مفت باردانہ کی فراہمی کا اعلان خوش آئند ہے۔ صوبائی حکومت نے کاشتکاروں کو 72گھنٹوں کے اندر گندم کی رقم کی ادائیگی کو بھی لازمی قرار دیا ہے۔ حکومت نے رواں برس کسانوں سے براہِ راست گندم خریدنے کے بجائے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل متعارف کروایا ہے جس کے تحت گیارہ نجی کمپنیاں کسانوں سے حکومتی نرخوں پر گندم خریدیں گی۔ تاہم ابھی تک حکومت کی مجاز کمپنیوں کی جانب سے خریداری کا عمل شروع نہیں ہو سکا چنانچہ کسان اپنی فصل اونے پونے داموں ڈیلروں کو فروخت کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف کسانوں  کیلئے اضطراب کا باعث ہے بلکہ حکومتی وعدوں پر بھی سوالیہ نشان ہے۔

مہنگائی کے اس دور میں جب ڈیزل‘ کھاد‘ بیج اور دیگر زرعی مداخل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں کسان پہلے ہی شدید مالی دباؤ کا شکار ہے‘ ایسے میں اگر کسانوں کو ان کی فصل کا مناسب معاوضہ بھی نہ ملے تو یہ بڑی ناانصافی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت فوری طور پر ہر منڈی یا کم از کم ہر تحصیل کی سطح پر سرکاری خریداری مراکز کو فعال کرے تاکہ کاشتکار براہِ راست حکومتی مراکز پر اپنی فصل فروخت کر سکیں۔ اگر یہ مراکز بروقت فعال نہ ہوئے تو مفت باردانہ فراہمی جیسے اقدامات کسی کام کے نہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>فینٹا کا حشر جو خود امریکہ میں ہو رہا ہے(ایاز امیر)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-04-15/51768/25369400</link><pubDate>Wed, 15 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-04-15/51768/25369400</guid><description>جان سٹیورٹ امریکہ میں مشہور ٹی وی اینکر ہے۔ لیٹ نائٹ شو اس کا ہوتا ہے اور تمسخر اڑاتے ہوئے بڑی سنجیدہ باتیں کہہ جاتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کو وہ شاید بالوں کی نسبت سے اورنج فینٹا کہتا ہے۔ صرف جان سٹیورٹ ہی نہیں کتنے ہی پوڈ کاسٹ ہیں جو ٹرمپ اور اُن کی انتظامیہ اور اُن کی حرکتوں کا باریک بینی سے تجزیہ کر رہے ہیں اور تمسخر بھی اڑا رہے ہیں۔ تقریباً سارے ایسے پوڈ کاسٹ اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ ٹرمپ کوئی نارمل انسان نہیں ہیں ۔ اور وہ مثالیں دیتے ہیں‘ وہ جو ایسٹر کی صبح گالی نکال کر اُنہوں نے ایرانیوں سے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز کھولو نہیں تو پتا نہیں تمہارا حشر کیا ہو جائے گا۔ اس جیسی باتوںکا ذکر کرکے کتنے ہی سوشل میڈیا پر لوگ ہیں جو پوچھ رہے ہیں کہ کوئی ہوش وحواس میں ہو تو ایسی گفتگو کر سکتا ہے؟ہم جیسے ملکوں میں شاید ٹرمپ کو سنجیدگی سے لیا جاتا ہو لیکن امریکہ اور یورپ میں یہ رائے اُبھر رہی ہے کہ یہ صاحب سنجیدگی کے قابل نہیں اور ان سے کوئی سنجیدگی کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ یہ اور بات ہے کہ دنیا کے طاقتور ترین ملک کے صدر اور کمانڈر اِن چیف ہیں‘ ان کے اشارے یا حکم سے ہوائی اور بحری بیڑے حرکت میں آ جاتے ہیں اور جیسا کہ ہم نے ایران کے حوالے سے دیکھا ان کے حکم سے ایک فضول لیکن تباہ کن جنگ شروع ہو جاتی ہے۔ دماغ سے ہلا ہوا انسان بھی ہو لیکن اُس کے ہاتھ میں بندوق ہو تو اُسے سنجیدگی سے لینا پڑتا ہے اور ایسے آدمی سے ویسے بھی ڈر زیادہ لگتا ہے کہ پاگل پن میں پتا نہیں کیا کچھ کر دے۔ اب یہ جو دو دن پہلے کیتھولک چرچ کے پوپ لیو سے انہوں نے الجھنا شروع کیا اور اُنہیں برا بھلا کہنے لگے‘ صرف اس لیے کہ پوپ لیو نے امن اور شانتی کی بات کی اور یہ کہا کہ ہتھیاروں کے استعمال میں خدا کا نام استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ کوئی بھی دوسرا ہوتا تو پوپ لیو کے ان جملوں پر چپ رہتا لیکن امریکیوں نے بندہ ہی ایسا چنا ہے جسے نہ اپنی زبان نہ جذبات نہ حرکات پر کوئی کنٹرول ہے۔ اور اب تو واضح ہو رہا ہے کہ ٹرمپ کا سب سے بڑا دشمن وہ خود ہیں کیونکہ امریکہ اور دنیا کو تو چھوڑیے اپنے لیے وہ مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔ٹرمپ کی نفسیاتی کیفیت اور نفسیاتی شخصیت کا سب سے بہترین تجزیہ کہاں ہو رہا ہے؟ ٹرمپ کی سگی بھتیجی میری ٹرمپ ایک کلینکل سائیکلوجسٹ ہے جو نیویارک سے ایک پوڈ کاسٹ کرتی ہے۔ اس کے علاوہ مہمان کے طور پر بھی بہت جگہوں پر بلائی جاتی ہے۔ وہ کوئی کامیڈی نہیں سنجیدہ بات کرتی ہے اور اپنے چچا کے بارے میں ایسی ایسی باتیں کہ سُن کے پھر کچھ سمجھ آنے لگتی ہے کہ ٹرمپ کی گفتگو اور جذبات میں کئے گئے اقدامات کے پیچھے کون سی ذہنی کیفیت ہے۔ میری ٹرمپ کہتی ہے کہ میرے چچا کی پرسنیلٹی نارمل نہیں۔ یہ بھی کہتی ہے کہ اپنی ماں کے ساتھ ان کے تعلقات کبھی زیادہ اچھے نہ تھے۔ باپ کی طرف سے بھی انہیں کوئی زیادہ پیار نہیں ملا۔ ٹرمپ کی نرگسیت پر بھی بہت کچھ کہتی ہے کہ ہر صورتحال میں توجہ کا مرکز وہ رہے اور اُن پر روشنی ڈلتی رہے۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں ڈیمینشیا (dementia) ایک ایسی کیفیت ہے جس میں انسان اپنی ہوش اور سمجھ اور یادداشت سے محروم ہوتا جاتا ہے۔ جو انسان اس کا شکار ہو اُس پر یہ بیماری آہستہ آہستہ طاری ہوتی ہے۔ یعنی دھیرے دھیرے یادداشت جا رہی ہوتی ہے۔ میری ٹرمپ کہتی ہے کہ ہمارے دادا اسی ڈیمینشیا کے شکار ہوئے اور 80 سال کی عمر میں جو اُن کی کیفیت ہو گئی اُس کے آثار اب ڈونلڈ ٹرمپ میں نظر آتے جا رہے ہیں۔ میری ٹرمپ کہتی ہے کہ ٹرمپ صدارت کا عہدہ رکھنے کے قابل نہیں رہے۔ یہ بات امریکہ میں اور بھی بہت لوگ کہنا شروع ہو گئے ہیں۔واویلیاں مارنا کبھی کچھ کہنا کبھی کچھ اور یہ سب اس ذہنی کیفیت کی نشانیاں ہیں۔ ایران پر حملہ بذاتِ خود ایک بغیر سوچا سمجھا قدم تھا‘ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو جو خود ایک عجیب نفسیاتی کیفیت میں گرفتار ہے‘ آتا ہے اور ٹرمپ اور اُن کی کابینہ کو آمادہ کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ یہی وقت ہے ایران پر حملہ کرنے کا۔ یعنی ایک قسم کی ورغلانے کی کوشش اُس کی ہوتی ہے اور کمال نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ٹرمپ ورغلایا جاتا ہے اور ایران پر حملے کا خیال اُس کے ذہن میں بیٹھ جاتا ہے اور پھر تقریباً دو ہفتے بعد حملہ ہو جاتا ہے۔ مغربی دنیا کے دہرے معیار تو دیکھے جائیں امریکی اور اسرائیلی کس سادگی سے کہتے ہیں کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں کیونکہ وہ ایک غیر ذمہ دار ملک ہے اور اُس کے حکمران کٹر اور پاگل قسم کے لوگ ہیں۔ اسرائیل جس کے ہاتھ بے شمار جنگوں اور نہتے لوگوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں وہ بڑا ذمہ دار ملک ہے‘ امریکہ جس کا صدر ذہنی طور پر ہلا ہوا انسان ہے وہ ذمہ دار ملک ہے۔ اور جس ملک کی قیادت نے دہائیوں پہلے فتویٰ جاری کیا تھا کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا وہ غیرذمہ دار ملک ہے۔ دہرے معیار ہوں تو ایسے ہوں۔جس طرح کے ٹویٹ ٹرمپ صاحب کرتے ہیں کسی اور ملک کا سربراہ کرے تو دنیا اُس کا حقہ پانی بند کر دے۔ لیکن یہ امریکہ ہے اور امریکہ کا صدر جو منہ میں آتا ہے کہہ رہا ہے اور دنیا کو یہ باتیں سننی پڑ رہی ہیں۔ لیکن ایک بات ماننی پڑے گی کہ سارے پاگل پن کا علاج ایران نے خوب کیا ہے۔ نقصان برداشت کیا ہے‘ تباہی برداشت کی ہے لیکن یہ اُس کی چنی ہوئی تباہی نہیں تھی‘ ایران پر یہ جنگ امریکہ اور اسرائیل نے مسلط کی۔ لیکن ایرانی قوم ٹوٹی نہیں‘ گھٹنے اُس نے نہیں ٹیکے جیسا کہ امریکی اور اسرائیلی توقع کر رہے تھے‘ ڈٹ کر مقابلہ کیا اور جوابی حملے ایسے کیے کہ امریکہ کی بے بسی کا عالم سامنے آ گیا۔ امریکہ کو اتنا تو سوچنا چاہیے کہ بات جب پاکستانی ثالثی تک پہنچ جائے تو پتا نہیں چلتا کہ کس لاچاری کی کیفیت میں امریکہ اپنے آپ کو لے آیا ہے؟ ایرانیوں کو اپنے تحفظ کی خاطر ایٹم بم بنا لینا چاہیے۔ امریکیوں اور اسرائیلیوں کا یہی ایک علاج ہے۔ جاننے والے لوگ کہتے ہیں کہ جتنا تیار یورینیم ایران کے پاس ہے وہ آٹھ نو بموں کے لیے کافی ہے۔ تیار کر لیں تاکہ اسرائیل کا بخار تھوڑا کم ہو۔ مغربی دنیا کے یہ دہرے معیار بھی ملاحظہ ہوں کہ اسرائیل کے پاس جو تقریباً 150‘ 200 ایٹمی ہتھیار ہیں وہ بات بالکل جائز ہے لیکن ایران کو یورینیم افزودگی کا کوئی حق نہیں پہنچتا۔ ایران ایٹمی صلاحیت حاصل کر لیتا تو یہ دہرے معیار بھی ٹھنڈے پڑ جاتے۔ اعتراف کرنا پڑے گا کہ ہم نے اورنج فینٹا کی نفسیاتی کیفیت کو خوب سمجھا اور ایسا مکھن لگایا کہ وہ موم ہوا ۔ اب سمجھ آتی ہے کہ نوبیل امن انعام کیلئے نامزد کیا تھا وہ تیر بھی بالکل نشانے پر لگا۔ یہ پاکستان کا اعزاز ہے کہ مذاکرات میں ثالث بھی رہا اورسعودی عرب کا دفاعی معاون بھی ثابت ہو رہا ہے۔ یہ کوئی چھوٹی بات نہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_80573045.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>Profiles in Courage(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-04-15/51769/59800452</link><pubDate>Wed, 15 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-04-15/51769/59800452</guid><description>ایران اور امریکہ کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ دوبارہ اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے راضی ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ پہلا رائونڈ تقریباً کامیاب ہو گیا تھا مگر آخری لمحات میں سب کچھ بگڑ گیا جب امریکی نائب صدر نے اچانک ایک آدھ سخت شرط رکھ دی۔ اس دوران امریکی نائب صدر مسلسل صدر ٹرمپ کے ساتھ رابطے میں رہے۔ ٹرمپ نے آخر پر ایسی شرط رکھ دی جو شاید فوری طور پر ایرانیوں کیلئے قابلِ قبول نہ تھی۔مجھے مذاکرات کے اس پہلے رائونڈ کی ناکامی پر کوئی حیرانی نہیں ہوئی۔ جب پچھلے ہفتے جنگ بندی کے بعد اعلان ہوا کہ اسلام آباد میں ایران اور امریکہ مذاکرات ہوں گے تو 9 اپریل کو میں نے اپنے پروگرام میں کہا تھاکہ اگرچہ بہت جوش وخروش دکھایا جا رہا ہے کہ جیسے ابھی دونوں فریق ملیں گے‘ 47 سال بعد آمنے سامنے بیٹھیں گے اور چائے کافی پر مسئلہ حل ہو جائے گا۔ میرا تجزیہ تھا کہ یہ بہت پرانی دشمنی ہے‘ اتنی جلدی یا ایک آدھ ملاقات میں ختم نہیں ہو گی۔ میجر عامر اکثر اپنے والد صاحب کی بات کا حوالہ دیتے ہیں کہ جو دوستی تیس سال میں قائم ہوئی ہو‘ اسے ٹوٹنے کیلئے بھی تیس سال لگنے چاہئیں۔ امریکہ ایران دشمنی 47 برس سے چل رہی ہے‘ وہ بھلا چند گھنٹوں میں کسی ڈیل پر کیسے ختم ہو جاتی؟ اس میں زیادہ مشکل یہ تھی کہ ماضی میں جب امریکی صدور ایران سے مذاکرات کرتے تھے تو دونوں ملکوں کے مابین جنگ نہیں لڑی گئی تھی۔ اب کی دفعہ مختلف حالات تھے۔ امریکیوں نے باقاعدہ جنگ میں حصہ لیا اور چالیس دن تک ایران پر خوفناک بمباری ہوتی رہی۔ ایک امریکی میزائل حملے میں سکول کی 168 معصوم بچیاں اور ان کی ٹیچرز شہید ہو گئیں۔ سمندر میں 87 ایرانی سیلرز بھارت میں فوجی مشقوں سے واپسی پر نشانہ بنائے گئے۔ ڈھائی ہزار سے زائد ایرانی شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ہزاروں حملوں میں بڑے پیمانے پر ایران میں تباہی ہوئی۔ چوٹی کی ایرانی قیادت ختم کر دی گئی۔ لہٰذا اب جب امریکہ ایران مذاکرات ہو رہے تھے تو اتنا آسان نہیں تھا کہ ایک ہی اجلاس میں سب کچھ طے کر کے ہاتھ ملاتے‘ باہر میڈیا کے سامنے مسکراتے ہوئے اعلان کرتے کہ معاہدہ ہوگیا ہے۔ دونوں ملکوں کی قیادت کو وقت درکار ہے۔ انہیں اپنی اپنی قوم کو تیار کرنا ہے کہ جو ڈیل وہ کر رہے ہیں وہ ان کی ہار نہیں بلکہ جیت ہے۔صدر ٹرمپ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ وہ جنگ جیت چکے ہیں۔ ایران کہہ رہا ہے کہ ہم نے امریکہ کو گھٹنوں پر لا بٹھایا ہے‘ لہٰذا وہ ہم سے مذاکرات کر کے معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔ اگر وہ جیت چکا ہے تو پھر معاہدہ کس بات کا؟ اس وقت جو سب سے بڑا مسئلہ ہے وہ یہ ہے کہ ایران کہہ رہا ہے کہ ہم جنگ جیت گئے ہیں جبکہ امریکہ کہہ رہا ہے کہ ہم جیت گئے ہیں۔ اگر دونوں جیت گئے ہیں تو پھر ہارا کون ہے؟ شاید دونوں کے انہی دعوئوں کی وجہ سے مذاکرات میں بریک تھرو نہ ہو سکا۔ ڈیل تو ایک فاتح اور ایک مفتوح میں ہوتی ہے‘ دو فاتحین کے مابین بھلا کیسے مذاکرات یا کیسا بریک تھرو؟ اب انہیں کون راضی کرے کہ پہلے ہار جیت کا فیصلہ کر لیں پھر مذاکرات بھی کامیاب ہو جائیں گے۔ اس وقت برابری پر بات ہو رہی ہے اور برابری پر ہمیشہ ملکوں کی اَنا آڑے آ جاتی ہے۔ دونوں ایک دوسرے کو جھکانا چاہتے ہیں۔ مذاکرات کچھ لو اور کچھ دو پر ہی کامیاب ہوتے ہیں۔ ایک دوسرے کو ڈکٹیٹ کرانے سے نہیں۔ اگر ایران نیوکلیئر پروگرام‘ آبنائے ہرمز اور پراکسیز سے متعلق امریکی شرائط مان لیتا ہے تو امریکہ ایران کے فریز کیے گئے چھ ارب ڈالر قطر سے ریلیز کرا سکتا ہے‘ ایران پر عالمی پابندیاں ختم کرا سکتا ہے‘ دنیا بھر سے تجارت شروع ہو سکتی ہے۔ ایران دوبارہ تعمیر ہو سکتا ہے۔ بظاہر یہ کہنا بڑا آسان لگ رہا ہے لیکن اس مسئلے کی راہ میں ایک ہی رکاوٹ ہے: انسانی اَنا۔ ایران اور امریکہ نے ایک دوسرے کو تو شکست دے دی ہے لیکن اب اپنی پہاڑ جتنی انا کا کیا کریں۔ اسے اب کون فتح کرے گا؟مسئلہ یہ آن پڑا ہے کہ دونوں فریق اپنے 47 سالہ پرانے مؤقف سے ہٹ کر معاہدہ کرتے ہیں تو دونوں کو خطرہ ہے کہ ان کے عوام ان پر شدید سوالات اٹھائیں گے ۔ یوں دونوں ممالک کی قیادت یا مذاکرات کار پھنس گئے ہیں کہ ہم کیسے اپنی قوم کو راضی کریں کہ ہم نے جو جنگ میدان میں جیتی تھی‘ وہ میز پر نہیں ہار دی۔جس دلدل میں اس وقت امریکی اور ایرانی لیڈرشپ پھنس گئی ہے وہ انہوں نے 47 سالوں میں خود بڑی محنت سے تیار کی ہے۔ جب آپ مسلسل ایرانی عوام کو کہتے رہیں کہ امریکہ شیطان ہے اور امریکہ مردہ باد تو کیسے آج ان کے ساتھ کی گئی ڈیل پر اپنی قوم کو راضی کر سکیں گے اور وہ اپنا اتنا نقصان کرانے کے بعد مطمئن بھی ہو جائے؟ اسی طرح امریکہ اور اسرائیل نے ان تمام برسوں میں یہی کچھ اپنے عوام کو بتایا ہے کہ ایران مشرقِ وسطیٰ میں امریکی مفادات کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہے اور پوری دنیا میں وہ اپنی پراکسی تنظیموں کے ذریعے تشدد اور جنگوں کو ہوا دے رہا ہے لہٰذا اس رجیم کا خاتمہ ضروری ہے۔ رجیم اپنی جگہ قائم ہے اور وہ اُسی کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں‘ جس کے خاتمے کا مشن لے کر وہ تہران پر حملہ آور ہوئے تھے۔ امریکی عوام اس بات پر غصے میں ہیں کہ امریکہ کو ایک ایسی جنگ میں دھکیلا گیا جو ان کی جنگ نہیں تھی۔ برسوں تک اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کوشش کرتا رہا‘ جمی کارٹر سے ریگن‘ سینئر بش سے کلنٹن‘ جارج ڈبلیو بش سے اوباما تک کسی ایک کو تو راضی کر سکے کہ امریکہ ایران پر حملہ کر دے۔ سب کو علم تھا کہ امریکی اسرائیل خصوصاً نیتن یاہو کی باتوں میں نہیں آئیں گے۔ یہی بات گزشتہ روز سابق سیکرٹری خارجہ ہیلری کلنٹن نے امریکہ میں ایک مارننگ شو میں کہی کہ کتنی دفعہ نیتن یاہو نے انہیں قائل کرنے کی کوشش کی کہ ایران پر حملہ کریں لیکن ہر بار ہم ان کے چکر سے نکل گئے۔ صدر ٹرمپ کے بارے اسرائیل کا خیال تھا انہیں گھیرا جا سکتا ہے اور پھر انہوں نے ٹرمپ کو گھیر کر امریکہ کو پھنسوا دیا۔ اب پاکستان‘ خصوصاً وزیراعظم شہباز شریف‘ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار کی کوششیں اپنی جگہ لیکن ایران اور امریکہ اپنی انا کی جنگ میں پھنس چکے ہیں۔ دونوں مسئلے کا حل بھی چاہتے ہیں لیکن اپنی انا اور برتری کے ساتھ۔اگر دونوں ملک دوبارہ پاکستان آنے سے پہلے امریکی صدر جان ایف کینیڈی کی شہرہ آفاق کتاب Profiles in courage پڑھ لیں تو شاید اس دفعہ مذاکرات کامیاب ہو جائیں۔ اس کتاب کو پڑھ کر اندازہ ہو گا کہ لیڈرشپ کیا ہوتی ہے۔ وہ کتنے خطرات یا اپنے سیاسی کیریئر کو دائو پر لگا کر بھی وہی غیر مقبول فیصلے کرتی ہے جو اس کے خیال میں ملک یا اس کی قوم کیلئے ناگزیر ہوں۔ اس کتاب میں کینیڈی نے اُن آٹھ امریکی سینیٹرز کی سیاسی کہانیاں لکھی ہیں جنہوں نے اپنی سیاسی جماعتوں‘ ڈونرز اور ووٹرز کے خلاف جا کر سینیٹ میں ووٹ ڈالا‘ جس سے ان کے سیاسی کیریئر تباہ ہو گئے۔ وہ دوبارہ کبھی سینیٹرز نہیں بن سکے لیکن ان کا خیال تھا کہ انہیں اپنے سیاسی ووٹ بینک یا سیاسی وفاداری سے زیادہ یہ دیکھنا ہے کہ امریکہ کا مفاد کس میں ہے۔ انہیں موت کی دھمکیاں ملیں‘ ان پر حملے ہوئے‘ نفرت انگیز مہمات چلائی گئیں لیکن انہوں نے وہ کیا جو اُن کے خیال میں امریکہ کے لیے بہتر تھا۔ پھر کئی دہائیوں بعد وہ دن آیا جب کینیڈی جیسے امریکی صدر نے ان کی جرأت اور سمجھداری کو سلام کیا۔ ایرانی اور امریکی قیادت کو بھی ان آٹھ سینیٹرز کی کہانیاں پڑھ کر‘ اَنا میں پڑے بغیر اپنے ملک اور عوام کو جنگوں سے نکالنا ہے۔ اس میں امریکہ کا بھلا ہے اور اس سے زیادہ ایران کا بھلا‘ جو 47 سال سے ایک طرح سے عالمی قید کا سامنا کر رہا ہے۔ ایرانیوں کو نارمل زندگی کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>تعلیم: خواب حقیقت کب بنے گا؟(شاہد صدیقی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-siddiqui/2026-04-15/51770/89331265</link><pubDate>Wed, 15 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-siddiqui/2026-04-15/51770/89331265</guid><description>پاکستان میں تعلیم کی صورتحال پر نگاہ ڈالیں تو پتا چلتا ہے کہ ہمارا اب تک کا سارا سفر بلند بانگ دعوؤں میں کٹ گیا ہے۔ مختلف حکومتوں نے تعلیمی پالیسیوں میں بہت سے دلفریب خواب دکھائے جن کی تعبیر آج تک نہ مل سکی۔ یوں لگتا ہے کہ قیام پاکستان سے اب تک تعلیم کسی بھی حکومت کی ترجیح نہیں رہی۔ ہر نئی حکومت نصاب میں تبدیلی کے نام پر بے معنی سرگرمیوں میں مصروف ہو جاتی ہے۔ لاکھوں روپے خر چ کر کے کانفرنسوں کا اہتمام کیا جاتا ہے‘ جن میں حکومتی وزرا طویل تقریریں کرتے ہیں اور اپنی حکومت کے کارہائے نمایاں بیان کرتے ہیں‘ لیکن آخر میں نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات‘ زمینی حقا ئق میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ یہاں یہ بات اہم ہے کہ تبدیلی زبانی کلامی نعروں سے نہیں بلکہ ٹھوس عملی اقدامات سے آتی ہے۔ ان عملی اقدامات میں سب سے اہم تعلیم پر خرچ ہونیوالے حکومتی اخراجات ہیں۔حال ہی میں پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ایجوکیشن نے اپنی رپورٹ Public Financing in Education 2025-26 جاری کی ہے۔ اس رپورٹ میں تعلیم پر حکومتی اخراجات کو تین زاویوں Equity‘ Adequacy اور Efficieny سے دیکھا گیا ہے۔ آئیے سب سے پہلے Adequacy کے حوالے سے تعلیم پرہونے والے اخراجات کو دیکھتے ہیں۔ ان اعداد و شمار کو دیکھیں تو علم ہوتا ہے کہ ہم پچھلے کئی برسوں سے ترقی کرنے کے بجائے سال بہ سال ڈھلوان کا سفر طے کر رہے ہیں۔ تعلیم پر کم سے کم کتنا خرچ کرنا چاہیے؟ ہم پاکستان میں تعلیم پر کتنا خرچ کر رہے ہیں؟ ان سوالات کا جواب جاننے سے پہلے یہ بات اہم ہے کہ عالمی سطح پر تعلیم کی مد میں خرچ سے متعلق بین الاقوامی تنظیمیں کیا تجویز کرتی ہیں۔ ان تنظیموں کی سفارش کے مطابق تعلیم پر کم از کم جی ڈی پی کا چار سے چھ فیصد خرچ کرنا چاہیے۔ اگرچہ بہت سے ممالک تعلیم پر اس سے زیادہ خرچ کرتے ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ ہم اس معیار پر کتنا پورا اترتے ہیں۔ پاکستان میں تعلیم کی سرکاری مالی معاونت کے سوال پر جب بھی غور کیا جائے تو ایک جانی پہچانی مگر پریشان کن تصویر سامنے آتی ہے۔ پاکستان اکنامک سروے کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں مالی سال 2024-25ء کے ابتدائی نو ماہ میں تعلیم پر جی ڈی پی کا صرف 0.8فیصد خرچ کیا گیا‘ جو عالمی معیار سے بہت کم ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں اڑھا ئی کروڑ سے زائد بچے سکولوں سے باہر ہوں‘ یہ سرمایہ کاری نہ صرف ناکافی ہے بلکہ ترجیحات کے بحران کی بھی عکاسی کرتی ہے۔ حکومتیں بار بار یہ اعلان کرتی ہیں کہ تعلیم کیلئے مختص بجٹ میں اضافہ ہو رہا ہے مگر عملی صورتحال اس دعوے کی تائید نہیں کرتی۔ تعلیمی نظام کی مجموعی کیفیت بدستور تشویشناک ہے۔ یہ درست ہے کہ بجٹ کے اعداد و شمار میں اضافہ دکھائی دیتا ہے مگر اس اضافے کو سیاق و سباق سے ہٹ کر نہیں دیکھا جا سکتا۔ مہنگائی‘ روپے کی قدر میں کمی اور آبادی میں تیز رفتار اضافہ جیسے عوامل اس نام نہاد اضافے کو بے معنی بنا دیتے ہیں۔ حقیقی معنوں میں دیکھا جائے تو تعلیمی اخراجات میں اضافہ ہونے کے بجائے کمی واقع ہوئی ہے۔ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ایجوکیشن کی حالیہ رپورٹ اس حوالے سے اہم اعداد و شمار اور تجزیہ فراہم کرتی ہے۔ ان اعداد و شمار سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ تعلیم کی مالی معاونت کے بنیادی مسائل اب بھی جوں کے توں ہیں۔ رپورٹ کے بغور مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسئلہ صرف وسائل کی کمی کا نہیں بلکہ انکے استعمال اور تقسیم کے طریقۂ کار کا بھی ہے۔ اس کیساتھ ایک اور مسئلہ اخراجات کے سٹرکچر کا ہے۔ تعلیمی بجٹ کا بڑا حصہ تنخواہوں میں صرف ہو جاتا ہے جبکہ ترقیاتی اور غیرتنخواہی اخراجات کیلئے بہت کم وسائل بچتے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ سکول بنیادی سہولتوں‘ تدریسی مواد اور تعلیمی ماحول سے محروم رہ جاتے ہیں۔تعلیمی اخراجات کا دوسرا اہم پہلو Efficiency کا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جو وسائل دستیاب ہیںکیا وہ مؤثر طریقے سے استعمال ہو رہے ہیں؟ بدقسمتی سے اس کا جواب اثبات میں نہیں۔ ترقیاتی بجٹ کا مکمل استعمال نہ ہونا ایک مستقل مسئلہ بن چکا ہے۔ پیچیدہ دفتری طریقۂ کار‘ سست روی اور ادارہ جاتی کمزوریاں اس بات کا باعث بنتی ہیں کہ مختص فنڈز وقت پر خرچ ہی نہیں ہو پاتے۔ یوں مسئلہ صرف وسائل کی کمی کا نہیں بلکہ ان کے ناقص انتظام کا بھی ہے۔ اسی طرح مالیاتی ڈھانچہ بھی Efficiency پر اثر نداز ہوتا ہے۔ وسائل کی تقسیم کا نظام پرانا اور غیرلچکدار ہے جبکہ صوبائی سطح پر شفاف اور باقاعدہ مالیاتی میکانزم کی کمی پائی جاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں وسائل کی تقسیم اکثر عارضی اور غیر منظم بنیادوں پر ہوتی ہے‘ جس سے منصوبہ بندی متاثر ہوتی ہے اور تعلیمی اصلاحات کی رفتار سست پڑ جاتی ہے۔تعلیمی اخراجات کا تیسر اہم پہلو Equity یعنی مساوات کا ہے‘ جو شاید سب سے زیادہ اہم ہے۔ پاکستان کا تعلیمی نظام شدید عدم مساوات کا شکار ہے۔ صوبوں‘ اضلاع اور دیہی و شہری علاقوں کے درمیان واضح فرق موجود ہے۔ اگرچہ بعض شعبوں میں بہتری کی کوششیں نظر آتی ہیں مگر مجموعی تصویر اب بھی غیر متوازن ہے۔ خصوصی تعلیم کیلئے مختص وسائل نہایت کم ہیں جبکہ صنفی اور علاقائی بنیادوں پر بجٹ سازی کا فقدان اس بات کو مشکل بنا دیتا ہے کہ وسائل واقعی ان طبقات تک پہنچ رہے ہیں جو سب سے زیادہ مستحق ہیں۔ مزید یہ کہ بجٹ سازی اکثر ماضی کے اخراجات کی بنیاد پر کی جاتی ہے نہ کہ موجودہ ضروریات کے مطابق۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ پہلے سے بہتر علاقوں کو مزید وسائل ملتے رہتے ہیں جبکہ پسماندہ علاقے بدستور نظر انداز ہوتے رہتے ہیں۔ یوں مالیاتی پالیسی نادانستہ طور پر عدم مساوات کو کم کرنے کے بجائے مزید بڑھا دیتی ہے۔ ان تمام حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ پاکستان میں تعلیم کی مالی معاونت کو صرف اعداد و شمار کے اضافے کے تناظر میں نہیں دیکھا جا سکتا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک جامع اور سنجیدہ حکمت عملی اپنائی جائے۔ اس سلسلے چند اقدامات نا گزیر ہیں:1: سب سے پہلے تعلیم پر اخراجات کو کم از کم چار فیصد جی ڈی پی تک بڑھانا ناگزیر ہے۔ اس کے بغیر نہ رسائی میں اضافہ ممکن ہے اور نہ معیار میں بہتری۔ 2: اخراجات میں اضافے کے ساتھ ساتھ سٹرکچر میں تبدیلی ضروری ہے۔ انتظامی اصلاحات کے ذریعے ترقیاتی بجٹ کے مؤثر استعمال کو یقینی بنایا جائے اور وسائل کے بروقت اجرا کو ممکن بنایا جائے۔ 3: مالیاتی اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کر کے شفاف اور منصفانہ تقسیم کا نظام قائم کیا جائے۔ 4: سب سے بڑھ کر یہ کہ بجٹ سازی کو مساوات کے اصول پر استوار کیا جائے تاکہ وسائل واقعی ان طبقات تک پہنچیں جو سب سے زیادہ محروم ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی کا بنیادی ستون ہوتی ہے مگر یہ ستون تبھی مضبوط ہو سکتا ہے جب اس کی بنیادیں ٹھوس ہوں۔ محض اعداد و شمار میں اضافہ کافی نہیں بلکہ وسائل کے دانشمندانہ استعمال اور منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانا بھی اتنا ہی اہم ہے۔آخر میں میں پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ایجوکیشن کو مبارکباد دینا چاہتا ہوں جس نے تعلیمی اخراجات کے حوالے سے ایک تفصیلی اور معیاری رپورٹ جاری کی۔ اس رپورٹ کے مندرجات جہاں طلبہ‘ اساتذہ اور سول سوسائٹی کے افراد کیلئے مفید ہیں وہیں ہمارے ملک کے پالیسی سازوں کیلئے بھی بہت اہم ہیں تاکہ وہ ان کی روشنی میں اپنا لائحہ عمل مرتب کریں۔ اس سے پہلے بھی پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ایجوکیشن نے کئی مفید رپورٹس جاری کی ہیں۔ ان رپورٹس کا مقصد زمینی حقائق کو سامنے لانا ہوتا ہے۔ یہ فیصلہ تو مقتدر حلقوں نے کرنا ہے کہ ان اعداد و شمار کو کتنی سنجیدگی سے لیتے ہیں‘ ان کی روشنی میں اپنے اہدا ف کو کیسے متعین کرتے ہیں اور پھر ان اہداف کو حاصل کرنے کیلئے کیا حکمت عملی اختیار کرتے ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_21538475.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مذاکرات میں تسلسل ناگزیر کیوں؟(سلمان غنی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/salman-ghani/2026-04-15/51771/88794795</link><pubDate>Wed, 15 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/salman-ghani/2026-04-15/51771/88794795</guid><description>اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے مذاکرات اگرچہ کسی باضابطہ معاہدے پر منتج نہیں ہو سکے لیکن انہوں نے ایک اہم پیغام ضرور چھوڑا ہے۔ میرے نزدیک ایران نے مذاکرات کی میز پر وہ کچھ حاصل کر لیاہے جو شاید وہ میدانِ جنگ میں بھی حاصل نہ کر پاتا۔ کئی برسوں سے امریکہ کو دنیا کی سب سے طاقتور ریاست سمجھا جاتا رہا ہے۔ کئی ممالک عموماً واشنگٹن کے ساتھ معاملات طے کرتے وقت دباؤ محسوس کرتے ہیں مگر اسلام آباد میں جو منظر دیکھنے کو ملا وہ اس سے مختلف تھا۔ ایران نہ تو کمزور نظر آیا اور نہ ہی خوفزدہ دکھائی دیا۔ وہ پُراعتماد اور پُرعزم ملک کے طور پر سامنے آیا جو اپنے مؤقف کا دفاع کرنے کیلئے تیار تھا۔ ایران اور امریکہ کے مابین مذاکراتی عمل تقریباً 21گھنٹے تک جاری رہا‘ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ایران کو اب نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ جب ایک سپر پاور اتنا وقت مذاکرات پر صرف کرے تو اس کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ دوسرا فریق حقیقی اہمیت کا حامل ہے۔ ایک اور اہم پہلو ایران کا امریکی دباؤ کے آگے نہ جھکنا ہے۔ امریکہ طویل عرصے سے ایران کے جوہری پروگرام کی مخالفت کرتا آ  رہا ہے اور اسے ایک بڑا خطرہ تعبیر کرتا ہے‘ مگر ایران کیلئے یہ پروگرام محض طاقت کا نہیں بلکہ سلامتی کا معاملہ ہے۔ یورینیم کی محدود افزودگی کو وہ اپنے دفاعی حق کے طور پر دیکھتا ہے اسی لیے اس معاملے پر لچک دکھانے کیلئے تیار نہیں۔ وہ امریکہ یا اسرائیل کی خواہش پر نہیں بلکہ عالمی قوانین کے تحت معاہدہ کیلئے تیار ہے۔ اسی طرح خطے میں ایران کا اثر و رسوخ بھی ایک اہم معاملہ ہے‘ جسے امریکہ ایک چیلنج کے طور پر دیکھتا ہے جبکہ ایران اسے اپنی طاقت سمجھتا ہے۔ وہ اپنے کردار کو محدود کر کے ایک کمزور ریاست نہیںبننا چاہتا بلکہ ایک مؤثر علاقائی قوت کے طور پر اپنی حیثیت برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جن امور کو امریکہ اپنی ریڈ لائنز قرار دیتا ہے وہی ایران کے نزدیک اس کی اصل طاقت ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان فاصلہ برقرار ہے۔ اس لیے حالیہ مذاکرات کسی نتیجے تک نہ پہنچ سکے کیونکہ کوئی بھی اپنے بنیادی مفادات سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں تھا۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا بغیر کسی معاہدے کے واپس جانا بھی واشنگٹن کی حکمت عملی پر سوالات اٹھاتا ہے۔ ایک طویل عرصے سے امریکہ اپنے مقاصد کے حصول کیلئے دباؤ اور سخت انتباہات پر انحصار کرتا آیا ہے مگر اس معاملے میں یہ حکمت عملی مؤثر ثابت نہیں ہوئی۔ ایران نے صبر اور تسلسل کے ساتھ اپنا مؤقف پیش کیا اور یہ واضح کر دیا کہ محض دباؤ سے اسے جھکایا نہیں جا سکتا۔ دوسری جانب پاکستان کے کردار کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان مذاکرات کی میزبانی کر کے پاکستان نے ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کیا جہاں دونوں فریق کھل کر بات کر سکے۔ اسلام آباد نے ایسا ماحول مہیا کیا جس میں ایران خود کو ایک مضبوط اور برابر کے فریق کے طور پر پیش کرنے میں کامیاب رہا۔ یہ پیش رفت اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ پاکستان خطے میں ایک ذمہ دار اور مؤثر ثالث کا کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کردار اور وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی حقیقت پر مبنی پالیسی کو دنیا پھر میں سراہا گیا۔تہران میں شکریہ پاکستان کی صدائیں بلند ہوئیں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی پاکستانی قیادت کی تعریف کرتے نظر آئے۔یہ جذباتی ردعمل نہیں بلکہ مؤثر پالیسی اور حکمت علمی کا نتیجہ ہے۔اس وقت دنیا کی نظریں پاکستان پر ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ کردار صرف ایک وقتی سفارتی کامیابی تک محدود نہ رہے بلکہ اسے ایک مستقل پالیسی کے طور پر آگے بڑھایا جائے۔ موجودہ حالات میں جب دنیا تصادم کے بجائے مذاکرات کی طرف دیکھ رہی ہے‘ پاکستان کیلئے یہ ایک سنہری موقع ہے کہ وہ ایران اور امریکہ کے درمیان مکالمے کی بحالی اور اس کے تسلسل کو یقینی بنانے میں اپنا کردار مزید فعال بنائے۔جہاں تک مذاکراتی عمل کے دوسرے مرحلے کا سوال ہے تو خارجہ امور کے ماہرین مذاکرات کے تسلسل کو ناگزیر قرار دیتے ہیں‘ ان کا کہنا ہے کہ یہ سلسلہ بغیر کسی تاخیر کے جاری رہنا چاہیے۔ ویسے بھی عالمی سطح پر پیدا شدہ صورتحال کے تناظر میں یہ تحریک موجود ہے کہ پاکستان اس عمل کو آگے بڑھائے۔ حالیہ ہفتہ میں عالمی شخصیات خصوصاً جاپان‘ کینیڈا اور دیگر اہم ممالک کے ذمہ داران نے وزیراعظم شہبازشریف سے رابطہ کرکے جہاں جنگ بندی کے خاتمہ اور مذاکراتی عمل کے انعقاد پر پاکستانی کردار کی تعریف کی وہاں انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ مذاکراتی عمل کو جاری رہنا چاہیے اور اسے نتیجہ خیز بنانا چاہیے۔ لہٰذا پاکستان اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرتا نظر آ رہا ہے اور فریقین سمیت اہم ممالک کے ساتھ رابطوں میں ہے۔ برطانیہ کے وزیراعظم کیئر سٹارمر نے بھی امریکہ اور ایران پر زور دیا ہے کہ وہ مذاکرات کو جاری رکھتے ہوئے کسی حل تک پہنچنے کی کوشش کریں۔ 10 ڈاؤننگ سٹریٹ کے مطابق برطانیہ سمجھتا ہے کہ جنگ بندی برقرار رکھنا ضروری ہے اور فریقین کو مزید کشیدگی سے گریز کرنا چاہیے جبکہ امریکی محکمہ خارجہ کے مشرقِ وسطیٰ کے لیے ایک سابق مذاکرات کارایرون ڈیوڈ کا کہنا تھا کہ ایران امریکہ مذاکرات کی نتیجہ خیزی لازم ہے اور امریکہ کو سمجھنا چاہیے کہ ایران امریکہ کے مقابلے میں زیادہ مضبوط پوزیشن میں ہے جبکہ وہ اپنے جغرافیہ کو بھی بطور ہتھیار استعمال کررہا ہے۔ ان کے مطابق ایران نہ صرف آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھتا ہے بلکہ اب اسے مؤثر انداز میں منظم بھی کر رہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ زمین حقائق کا ادراک کرتے ہوئے مذاکراتی محاذ پر آگے بڑھا جائے۔ اس لیے مذاکراتی عمل کے حوالے سے دنیا بھر میں پیدا شدہ تحریک کو حوصلہ افزا اور پُرامید قرار دیا جا سکتا ہے۔ لہٰذا اس امر کاامکان موجود ہے کہ جلد ہی جنگ کے فریقین مذاکرات کی میز پر موجود ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی میڈیا پر یہ خبریں آ رہی ہیں کہ مذاکرات کے دوسرا مرحلہ آئندہ ہفتہ متوقع ہے۔اُدھر کچھ قوتیں اسلام آباد کی بڑھتی ہوئی اہمیت و حیثیت پر پریشان نظر آ رہی ہیں۔ پہلے پہل انہوں نے کوشش کی کہ مذاکراتی عمل میں پاکستان کے کردار پر اثر انداز ہوا جائے جب ایسا ممکن نہ ہو پایا اور فریقین کشیدگی کی صورتحال میں بھی اسلام آباد پہنچ گئے اورانہوں نے اکثر نکات پر اتفاق کر لیا تو ان کے عزائم پر اوس پڑ گئی ۔ مذاکرات کا پہلا مرحلہ نتیجہ خیز نہ ہونے کے باوجود فریقین پاکستان کے کردار کی تعریف کرتے دکھائی دیے۔ اور اب وہ قوتیں کوشاں ہیں کہ مذاکراتی عمل کا دوسرا مرحلہ اسلام آباد میں منعقد نہ ہو کیونکہ ان سے یہ ہضم نہیں ہو رہا کہ عالمی میڈیا پر اسلام آباد مذاکرات اور پاکستان کے سفارتی کردار کا ڈنکا بج رہا ہے جبکہ فریقین بھی پاکستان کی تعریف کررہے ہیں۔ خارجہ امور کے ماہرین جہاں مذاکراتی عمل کے تسلسل پر زور دیتے نظر آ رہے ہیں وہاں ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ چونکہ مذاکراتی عمل کے حوالے سے پاکستان کا ایک بڑا اور ذمہ دارانہ کردار سامنے آیا ہے اور فریقین کو پاکستان کی ثالثی پر اعتماد ہے تو مناسب یہی ہوگا کہ مذاکرات کا دوسرا مرحلہ بھی اسلام آباد میں منعقد ہو۔دانشمندانہ حکمت عملی کے ساتھ اس عمل کو آگے بڑھایا جاتا ہے تو نہ صرف خطے میں کشیدگی کم ہو سکتی ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کی ساکھ میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ اس نازک مرحلے پر پاکستان ایک پل کا کردار ادا کر رہا ہے‘ ایسا پل جو محاذ آرائی کو مکالمے میں بدل دے۔ اسلام آباد مذاکرات نے جہاں ایران کی سفارتی برتری کو اجاگر کیا وہیں پاکستان کیلئے بھی ایک نئی راہ متعین کی ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان اس عمل کو وقتی کامیابی تک محدود رکھنے کے بجائے مستقل سفارتی حکمت عملی میں ڈھالے تاکہ مذاکرات کا یہ سلسلہ جاری رہے اور خطہ ایک پائیدار امن کی طرف بڑھ سکے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/230_37874475.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>امریکہ ایران مذاکرات ‘پس پردہ حقائق(محمد حسن رضا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-hasan-raza/2026-04-15/51772/90036886</link><pubDate>Wed, 15 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-hasan-raza/2026-04-15/51772/90036886</guid><description>یہ محض ایک سفارتی ملاقات نہیں تھی‘ یہ طاقت‘ مفاد اور وقت کے درمیان ایک نازک توازن کی تلاش تھی‘ اور شاید پہلی بار اس شدت کے ساتھ دنیا نے دیکھا کہ جنگ اور مذاکرات ایک ہی میز پر آ کر بیٹھ گئے ہیں۔ بارہ ہزار کلومیٹر کا سفر طے کر کے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا اسلام آباد آنا معمول کی بات نہیں۔ تین گھنٹے کی فلائٹ سے آنے والا ایرانی وفد اپنی جگہ‘ مگر واشنگٹن سے اس سطح کی نمائندگی کا یہاں آنا واضح پیغام ہے کہ امریکہ اس عمل کو محض رسمی نہیں بلکہ سٹرٹیجک سنجیدگی کے ساتھ لے رہا ہے۔ امریکہ اور 1979ء کے بعد کے ایران میں یہ پہلا موقع تھا کہ اس درجے کی براہِ راست انگیجمنٹ دیکھنے کو ملی جہاں دونوں ملکوں کے نمائندے مذاکراتی میز پر آمنے سامنے بیٹھے۔ یہاں ایک اور نکتہ بھی اہم ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس محض ایک نمائندہ نہیں بلکہ ایک ایسا سیاسی چہرہ ہے جو کل کے امریکہ کی قیادت کا دعویدار ہو سکتا ہے‘ اس لیے ان کے الفاظ کا چناؤ‘ محتاط انداز اور باڈی لینگویج ایک بڑے سٹرٹیجک حساب کتاب کا حصہ تھا۔ وہ تین سے چھ گھنٹے کے لیے آئے تھے مگر اکیس گھنٹے تک مذاکرات جاری رکھنا اس بات کا ثبوت ہے کہ بات کہیں نہ کہیں آگے بڑھی ہے‘ چاہے باضابطہ اعلان نہ ہوا ہو۔ اطلاعات یہ ہیں کہ اس دوران انہوں نے تقریباً 15 سے 20 بار براہِ راست صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطہ کیا۔ اصل سوال یہ نہیں کہ کوئی معاہدہ کیوں نہ ہو سکا بلکہ یہ ہے کہ مذاکرات کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ سفارت کاری ایک دن میں نتیجہ نہیں دیتی‘ خاص طور پر جب معاملہ ایران اور امریکہ کے مابین ہو۔ یہ ایک طویل‘ پیچیدہ اور تہہ در تہہ عمل ہوتا ہے‘ جہاں ہر جملہ‘ ہر وقفہ اور ہر خاموشی بھی معنی رکھتی ہے۔اس وقت سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ جنگ بندی کی محدود مدت تیزی سے ختم ہو رہی ہے۔ بائیس اپریل کے بعد کیا ہو گا؟ یہی وہ سوال ہے جو فریقین کو جلدی فیصلے کی طرف دھکیل رہا ہے‘ مگر ساتھ ہی محتاط بھی بنا رہا ہے۔ یہاں امریکہ کی حکمت عملی واضح دکھائی دیتی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک طرف ناکہ بندی کا دباؤ برقرار رکھا اور دوسری طرف فوجی مداخلت سے گریز کیا۔ یہ وہ امریکہ نہیں جو ماضی میں فوری طور پر بُوٹس آن گراؤنڈ کی پالیسی اختیار کرتا تھا۔ اس بار معاملہ مختلف ہے۔ ٹرمپ جانتے ہیں کہ ان کے ووٹرز‘ ان کی بیس اور آنے والے مڈ ٹرم انتخابات سب اس بات سے جڑے ہیں کہ وہ امریکہ کو ایک اور طویل جنگ میں نہ جھونکیں۔ انہیں ایک ٹرافی چاہیے‘ مگر وہ ٹرافی جنگ کے میدان سے نہیں بلکہ مذاکرات کی میز سے مل سکتی ہے‘ اور شاید زیادہ دیرپا ثابت ہو سکتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں امریکہ کا کیس مضبوط نظر آتا ہے۔ دباؤ بھی برقرار رکھا گیا اور راستہ بھی کھلا رکھا گیا‘ یہی اصل سفارتکاری ہے۔یہاں یورپ کا کردار بھی دلچسپ ہے۔ دنیا ایک نئی ترتیب کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں یورپ اپنی خارجہ پالیسی میں نسبتاً آزاد نظر آ رہا ہے۔ سپین کا ایران میں سفارتخانہ بحال کرنے کا فیصلہ اور دیگر یورپی ممالک کا مکمل طور پر کسی ایک کیمپ میں نہ جانا اس بات کا اشارہ ہے کہ ہر ملک اب اپنے مفاد کے مطابق چل رہا ہے۔ یورپ کو معلوم ہے کہ اگر کشیدگی برقرار رہی تو اس کا معاشی بوجھ زیادہ اس پر پڑے گا۔ ایران کیلئے یہ لمحہ فیصلہ کن ہے۔ اس کے پاس ایک موقع ہے کہ وہ اس عمل کو محض مزاحمت کے بیانیے تک محدود نہ رکھے بلکہ ایک عملی راستہ اختیار کرے۔ پانچ سال کیلئے یورینیم افزودگی روکنے کی پیشکش اسی سمت کی ایک جھلک تھی‘ مگر امریکہ کا بیس سال پر اصرار یہ ظاہر کرتا ہے کہ ابھی فاصلے باقی ہیں۔ مگر یہی تو مذاکرات کا حسن ہے۔ یہاں کوئی ایک فریق مکمل طور پر نہیں جیتتا بلکہ دونوں کو کچھ دینا اور کچھ لینا پڑتا ہے۔ اس میں ایک اور حقیقت بھی ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایران کی معیشت پر دباؤ صرف پابندیوں کا نتیجہ نہیں بلکہ عالمی تنہائی کا بھی ہے۔ اگر وہ اس موقع پر لچک دکھاتا ہے تو یہ اس کی کمزوری نہیں بلکہ ایک سٹرٹیجک فیصلہ ہو گا۔ تاریخ گواہ ہے کہ بڑی طاقتیں وہی ہوتی ہیں جو وقت پر سمت بدلنے کا حوصلہ رکھتی ہیں۔ سخت مؤقف ہمیشہ طاقت کی علامت نہیں ہوتا‘ بعض اوقات لچک ہی اصل طاقت ہوتی ہے۔ ایک بڑی حقیقت یہ بھی ہے کہ جنگ ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتی‘ ایک نہ ایک دن اسے ختم ہونا ہی ہوتا ہے۔ اگر اب مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں‘ پابندیوں سے آزاد ایران عالمی معیشت میں واپس آتا ہے تو وہ توانائی کے بڑے مرکز کے طور پر سامنے آئے گا۔ ایران کے پاس تقریباً 210 ارب بیرل تیل اور 35 ٹریلین کیوبک میٹر گیس کے ذخائر ہیں‘ جبکہ اس کے بڑے صارفین چین اور بھارت ہیں اور ان کے درمیان جغرافیائی پُل پاکستان ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سفارتکاری‘ معیشت اور جغرافیہ ایک نقطے پر آ کر ملتے ہیں۔ ایک ایسا ایران جو پابندیوں سے آزاد ہو‘ اس کی توانائی کی ترسیل کے لیے سب سے بہتر راستہ پاکستان کی سرزمین بنتا ہے۔ اگر یہ راستہ کھلتا ہے تو نہ صرف علاقائی تجارت بڑھے گی بلکہ پاکستان سالانہ سات سے آٹھ ارب ڈالر تک ٹرانزٹ فیس حاصل کر سکتا ہے۔ یہی اصل کھیل ہے ۔ جنگ نہیں بلکہ جنگ کے بعد کی معیشت کی پلان اہم ہوگا۔ لیکن اس بڑی تصویر کا ایک سکیورٹی پہلو بھی ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اسرائیل کا معاملہ اس پوری تصویر میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ لبنان میں بفر زون بنانے کی کوششیں‘ مسلسل کشیدگی اور طاقت کے توازن کو بگاڑنے کی پالیسی نے حالات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اگر خطہ واقعی استحکام کی طرف جانا چاہتا ہے تو اسرائیل کو بھی اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کرنا ہو گی۔اب سوال یہ ہے کہ آگے کیا ہو گا؟ اطلاعات یہی ہیں کہ مذاکرات کا دوسرا دور بہت جلد شروع ہونے والا ہے اور غالب امکان ہے کہ یہ بھی پاکستان میں ہو گا۔ ثالثی کی کوششیں تیز ہیں‘ رابطے جاری ہیں اور دونوں فریق اصولی طور پر اگلے مرحلے کیلئے آمادہ دکھائی دیتے ہیں۔ سفارتی ذرائع بھی یہی اشارہ دے رہے ہیں کہ ڈیل کا امکان ختم نہیں ہوا بلکہ ایک نئی شکل میں سامنے آ رہا ہے۔ یہاں پاکستان کا کردار بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ پاکستان نہ صرف ایک جغرافیائی پُل کے طور پر بلکہ ایک قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر بھی اُبھر رہا ہے جس نے حساس مذاکرات کو ایک محفوظ اور متوازن ماحول فراہم کیا ہے۔ اگر یہ عمل آگے بڑھتا ہے تو پاکستان خطے میں سفارتی مرکز کے طور پر اپنی حیثیت مزید مضبوط کر سکتا ہے‘ جو ماضی کے برعکس ایک نیا اور مثبت تاثر ہو گا۔مذاکرات دشمن کو ہرانے کے لیے نہیں بلکہ تنازع ختم کرنے کے لیے ہوتے ہیں۔ جب تک دونوں فریق ایک دوسرے کو جائز فریق کے طور پر تسلیم نہیں کریں گے کوئی پائیدار معاہدہ ممکن نہیں۔ دنیا اس وقت ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ اگر امریکہ اور ایران درمیانی راستہ نکال لیتے ہیں تو یہ صرف دو ممالک کا معاہدہ نہیں بلکہ عالمی ریلیف ہو گا۔ آخر میں بات وہی آتی ہے کہ کچھ لواور کچھ دو۔ اگر یہ موقع ضائع ہوا تو شاید اگلا موقع اتنا سازگار نہ ہو‘ اگر اسے پہچان لیا گیا تو یہی لمحہ تاریخ کا رخ بدل سکتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/229_33941343.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>خوشگوار زندگی اور اسلامی تعلیمات(علامہ ابتسام الہٰی ظہیر )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-04-15/51773/69832360</link><pubDate>Wed, 15 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-04-15/51773/69832360</guid><description>اللہ تبارک و تعالیٰ نے اسلام کو بطور دین پسند فرمایا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ اس حوالے سے سورۃ المائدہ کی آیت: 3 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;آج میں تمہارے لیے تمہارا دین پورا کر چکا اور میں نے تم پر اپنا احسان پورا کر دیا اور میں نے تمہارے لیے اسلام ہی کو (بطور) دین پسند کیا ہے‘‘۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید میں اس بات کو بھی واضح فرما دیا کہ قیامت کے دن جو دین اللہ کے نزدیک مقبول ہوگا وہ فقط اسلام ہی ہوگا اور اس کے علاوہ کسی بھی راستے کو اللہ تبارک وتعالیٰ قبول نہیں فرمائیں گے۔ چنانچہ سورۂ آلِ عمران کی آیت: 85 میں ارشاد ہوا: &#39;&#39;اور جو کوئی اسلام کے سوا اور کوئی دین چاہے تو وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا‘ اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو گا‘‘۔اسلام چونکہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا چنا ہوا دین ہے اس لیے اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس دین کو انسان کی فطرت اور ضروریات کے ساتھ ہم آہنگ کیا ہے۔ بہت سے لوگ دین کے حوالے سے مختلف قسم کے الجھائو کا شکار ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ شاید دین کے راستے پر چلنا بہت مشکل ہے اور دینی زندگی اختیار کرنے والے کو مختلف طرح کی مشکلات اور مشقتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے دین میں بہت کشادگی‘ وسعت اور آسانیاں رکھی ہیں جن کو سمجھنے کیلئے ٹھنڈے دل سے غور وفکر کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر انسان فکر وتدبر کرے تو اس کے سامنے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسان کی جملہ تمنائوں اور تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے دین میں خاصی گنجائش رکھی ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے دین کو فقط عبادت و ریاضت اور تجرد و ترکِ دنیا کے ساتھ نہیں جوڑا بلکہ اس طرزِ عمل کی حوصلہ شکنی کی ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ مسیحیوں کے اس گروہ کے طرزِ عمل کو رد کرتے ہیں جس نے رہبانیت کو اختیار کر لیا تھا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ترکِ دنیا کے راستے پر چلنے والے اس گروہ کی مذمت کرتے ہوئے سورۃ الحدید کی آیت: 27 میں ارشاد فرماتے ہیں : &#39;&#39;پھر اس کے بعد ہم نے اپنے اور رسول بھیجے اور عیسیٰ ابن مریم کو بعد میں بھیجا اور انہیں ہم نے انجیل دی‘ اور ان کے ماننے والوں کے دلوں میں ہم نے نرمی اور مہربانی رکھ دی‘ اور ترکِ دنیا (رہبانیت) جو انہوں نے خود ایجاد کی‘ ہم نے وہ ان پر فرض نہیں کی تھی مگر انہوں نے رضائے الٰہی حاصل کرنے کیلئے ایسا کیا؛ پس اسے نباہ نہ سکے جیسے نباہنا چاہیے تھا‘ تو ہم نے انہیں جو اُن میں سے ایمان لائے ان کا اجر دے دیا‘ اور بہت سے تو ان میں بدکار ہی ہیں‘‘۔اخروی کامیابی کے ساتھ ساتھ دنیا میں کامیابی حاصل کرنا بھی ہر مسلمان کا حق ہے اور اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۃ البقرہ میں ایک ایسی دعا کا ذکر کیا ہے جس میں آخرت کی بھلائیوں کے ساتھ ساتھ دنیا کی بھلائیوں کو بھی طلب کیا گیا ہے: اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ البقرہ کی آیت: 201 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;اور بعض یہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہمیں دنیا میں نیکی اور آخرت میں بھی بھلائی دے اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا‘‘۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کے حبیب حضور نبی کریمﷺ نے رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان یہ پُراثر دعا مانگی اور اہلِ اسلام کو اس دعا کے مانگنے کی تلقین کی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اخروی نجات کے ساتھ ساتھ دنیاوی فلاح وبہبود کے لیے کوشش کرنے کو کسی طور بھی غیر مستحسن قرار نہیں دیا گیا۔انسان کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے بہت سے جبلی تقاضے ودیعت کیے ہیں جن کی تکمیل کیلئے اسے کاروبار اور معاشی سرگرمیاں انجام دینا پڑتی ہیں؛ چنانچہ جب ہم کتاب وسنت کا مطالعہ کرتے ہیں تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے سود اور ناجائز ذرائع آمدن کو تو حرام قراردیا لیکن کاروبار اور تجارت کو مکمل طور پر حلال قرار دیا۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم میں بہت سی ایسی ہستیاں ہیں جنہوں نے اپنے کاروبار کو وسعت دی اور اللہ تبارک وتعالیٰ کے دین کی ترویج اور نشرو اشاعت کیلئے بھی اپنے مال کو دل کھول کر خرچ کیا۔ حضرت عثمان غنی‘ حضرت عبدالرحمن بن عوف اور حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہم کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے بہت سے مال و اسباب سے نواز رکھا تھا۔ ان اکابر صحابہ کرامؓ کی زندگیوں سے یہ بات سمجھنا کچھ مشکل نہیں کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے کوششیں کرنے میں انسان کا کاروبار حائل نہیںہوتا بلکہ کاروباری ترقی کے ذریعے انسان دین کی زیادہ خدمت کر سکتا ہے‘ تاہم انسان کو حرام ذرائع سے اجتناب کرنا چاہیے۔ہر انسان میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے ایک اچھے جیون ساتھی کی خواہش بھی ودیعت کر رکھی ہے۔ بعض لوگ اس جبلی خواہش اور تقاضے کو زناکاری‘ بدکاری اور بے حیائی کے ذریعے پورا کرنے کی کوشش کرتے اور اس کو شخصی آزادی کے ساتھ تعبیر کرتے ہیں۔ خواہش اور منکرات کے راستے پر چلتے ہوئے اپنے جبلی تقاضوں کو پورا کرنا کسی بھی طور مستحسن نہیں۔ اس سے معاشرے میں بگاڑ‘ انتشار‘ نفرت اور تشدد کے دروازے کھلتے ہیں۔ اس کے مدمقابل اللہ تبارک وتعالیٰ نے اہلِ اسلام کیلئے نکاح کے راستے کو درست اور جائز قرار دیا ہے۔ اگر کسی شخص کی جبلی خواہشات اور تقاضے ایک نکاح کے ساتھ پورے نہیں ہوتے تو اس کو چار شادیاں تک کرنے کی اجازت دی گئی ہے جس کا مقصد بنیادی طور پر انسان کے جبلی تقاضوں کو جائز طریقے کے ساتھ پورا کرنا ہے۔اللہ تبارک وتعالیٰ نے نشہ آور اشیا اور شراب کو حرام کیا ہے‘ اس لیے کہ ان سے عقل کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے جبکہ اس کے مدمقابل اہلِ اسلام کیلئے سبھی پاکیزہ مشروبات کو جائز اور حلال قرار دے کر انسان کی تشنگی کو دور کرنے کا بندوبست کیا گیا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اگر جوئے اور شراب کو حرام قرار دیا تو اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جوا اور شراب انسان کو اللہ کے ذکر سے دور کرتے اور ان کے درمیان دشمنی اور عداوت کو جنم دیتے ہیں۔ اللہ کے ذکر سے دور ہونا اور باہم دست و گریباں ہونا کسی بھی معاشرے کی صحت کیلئے انتہائی نقصان دہ ہے؛ چنانچہ انسانوں کو ایسے راستوں پہ چلنے سے احتراز کرنا چاہیے اور ان راستوںکو اختیار کرنا چاہیے کہ جن پر چل کر انسان آسودگی‘ محبت اور اخوت کے ساتھ زندگی بسر کر سکے۔اسلام انسان کے وقت کو بہت زیادہ اہمیت دیتا ہے لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اسلام انسان کو جائز اور فائدہ مند کھیلوں سے منع کرتا ہے بلکہ ہم اس بات کا مشاہدہ کر سکتے ہیں کہ اسلام میں انسان کو میدانی کھیل کھیلنے کی اجازت دی گئی ہے۔ گھڑ سواری‘ نیزہ بازی‘ تیر اندازی‘ تیراکی اور دوڑ بھاگ میں کسی قسم کی کوئی ممانعت نہیں ہے بلکہ انسان اگر اپنے جسم کو چاق وچوبند رکھنے کیلئے ان کھیلوں کو کھیلتا ہے تو اس سے اس کی نفسیاتی‘ روحانی اور جسمانی قوت میں اضافہ ہوتا ہے۔اسلام کے تصورِ حیات میں کسی قسم کی کج روی اور تنگی نہیں ہے۔ اسلام کے بارے میں یہ تصورات کہ دینِ اسلام اختیار کرنے سے انسان کو تنگی کا مظاہرہ کرنا پڑے گا فقط ایک وسوسہ ہے جس کے پس منظر میں غلط تخیلات‘ باطل تصورات‘ غلط لٹریچر اور بری صحبت کے نتیجے میں ذہن پر مرتب ہونے والے منفی اثرات ہیں۔ جب بھی انسان ٹھنڈے دل ودماغ کے ساتھ قرآن و سنت کی تعلیمات پر غور کرتا ہے تو اس کو یہ بات سمجھ میں آ جاتی ہے کہ اسلام ایک ایسے طرزِ زندگی کا نام ہے جس میں انسانوں کو گھٹن اور سختی کا راستہ دکھانے کے بجائے آسانی اور کشادگی کا راستہ دکھلایا گیا ہے۔ کوئی بھی انسان اگر ایک پاکیزہ‘ خوشگوار اور پُرسکون زندگی گزارنا چاہتا ہے تو اس کو اسلامی تعلیمات پر اچھے طریقے سے عمل پیرا ہو جانا چاہیے۔ اگر وہ ایسا کرے گا تو اللہ تبارک وتعالیٰ کے فضل و کرم سے دنیا میں اچھی زندگی کے گزارنے کے بعد اخروی نجات بھی اس کا مقدر بن جائے گی۔ دعا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کو اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے‘ آمین!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_19740082.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>