<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>معاشی استحکام اور عالمی خطرات کا چیلنج(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-15/11542</link><pubDate>Tue, 15 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-15/11542</guid><description>سٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے شرح سود کو 11.5فیصد کی سطح پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے جو موجودہ ملکی وبین الاقوامی معاشی حالات کے تناظر میں ایک محتاط مگر متوازن قدم دکھائی دیتا ہے۔ مرکزی بینک کا یہ فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ ملکی معیشت اس وقت ایک دوراہے پر کھڑی ہے‘ جہاں ایک طرف مہنگائی کو قابو میں رکھنے کی کوششیں ثمر آور ہو رہی ہیں اور دوسری طرف غیر یقینی عالمی صورتحال عبوری معاشی استحکام کیلئے مسلسل خطرہ بنی ہوئی ہے۔ سٹیٹ بینک نے واضح کیا ہے کہ موجودہ ملکی معاشی حالات اور مہنگائی کی شرح اگرچہ مرکزی بینک کی توقعات کے عین مطابق ہیں‘ تاہم مستقبل کا منظرنامہ غیر یقینی کا شکار ہے‘ جس کی وجہ سے پالیسی ریٹ میں کسی بھی قسم کی تبدیلی سے گریز کیا گیا ہے۔ اگر ہم مانیٹری پالیسی کا جائزہ لیں تو گزشتہ چند ماہ سے یہ اتار چڑھاؤ کا شکار ہے۔ گزشتہ برس دسمبر میں مہنگائی کے دباؤ میں کمی آنے پر شرح سود میں 50 بیسس پوائنٹس کی کمی کی گئی تھی۔

اس وقت توقع کی جا رہی تھی کہ شرح سود آئندہ چند ماہ میں دوبارہ یک ہندسی ہو جائے گی مگر کمی کا سلسلہ برقرار نہ رہ سکا اور عالمی سطح پر ابھرنے والے نئے معاشی خدشات‘ خاص طور پر امریکہ ایران جنگ‘ آبنائے ہرمز کی بندش‘ توانائی کی قیمتوں میں اضافے اور سپلائی چین کو لاحق خطرات کے باعث رواں سال اپریل میں شرح سود میں 100 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کرنا پڑا۔ تاہم اب عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ بڑھا کر بی تھری کر دی ہے۔ یورو بانڈز کے ذریعے تین ارب ڈالر حاصل کیے گئے ہیں‘ سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر 17ارب ڈالر سے زائد ہیںاور رواں مالی سال کے ابتدائی دو مہینوں (جولائی‘ اگست) کے دوران ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں بھی ہدف کے مطابق رہی ہیں۔ ان اہم پیشرفتوں نے معاشی استحکام کو برقرار رکھنے کی راہ ہموار کی ہے۔ تاہم اب مشرقِ وسطیٰ کی جنگ‘ اسکے پھیلاؤ اور خام تیل کی قیمتوں پہ اسکے اثرات نے ایک نیا دبائو پیدا کر دیا ہے جس کے سبب شرح سود بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا‘ تاہم مرکزی بینک نے ایک متوازن فیصلہ کیا ہے۔ اگر علاقائی ممالک سے موازنہ کیا جائے تو بھارت نے گزشتہ ماہ شرح سود کو 5.25 فیصد کی سطح پر برقرار رکھا تھا۔ بنگلہ دیش نے اگست میں شرح سود کو 10 فیصد سے کم کر کے 9.5 فیصد کیا ہے۔ سری لنکا میں شرح سود 8.75 فیصد ہے۔
یعنی اضافہ نہ ہونے کے باوجود علاقائی ممالک کے مقابلے میں پاکستان کا پالیسی ریٹ خطے میں سب سے زیادہ ہے۔ بلند شرح سود کے سبب بینکوں سے قرض لے کر نئی صنعتیں لگانا یا کاروبار کو پھیلانا مشکل ہو جاتا ہے‘ جس سے معاشی نمو سست پڑ جاتی ہے‘ تاہم علاقائی جغرافیائی اور سیاسی حالات شرح سود کو کم کرنے میں اب ایک نئی رکاوٹ کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ خلیج فارس کے بعد اب بحیرہ احمر کی صورتحال بھی غیر یقینی کا شکار ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رہتا ہے تو جنگی خطرات کا پریمیم صرف خام تیل کی قیمتوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ درآمدی اشیا کی ترسیل کے مجموعی اخراجات میں اضافہ ہو جائے گا اور مہنگائی کی شرح بھی توقعات سے بڑھ سکتی ہے۔ پاکستان جیسے ملک کیلئے‘ جو خلیجی خطے کا بڑا تجارتی شراکت دار ہے‘ یہ صورتحال فوری اقدامات کی متقاضی ہے۔ ایک محتاط مانیٹری پالیسی معیشت کو بیرونی حالات کے اثرات سے ایک حد تک تحفظ فراہم کر سکتی ہے‘ نہ تو یہ عالمی حالات کا توڑ نکال سکتی ہے اور نہ ہی سپلائی چین کے مسائل کو حل کر سکتی ہے۔
یہ محض داخلی سطح پر ایک عارضی گنجائش فراہم کرسکتی ہے تاکہ معاشی استحکام کیلئے پائیدار اقدامات کیے جا سکیں۔ حکومت کو چاہیے کہ مالیاتی استحکام اور معاشی اصلاحات کے ایجنڈے کو جلد از جلد تکمیل تک پہنچائے اور ٹیکس نیٹ کو وسیع کرے تاکہ مرکزی بینک پر سے مہنگائی کو کنٹرول کرنے کا بوجھ کم ہو سکے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>چشم کشا صورتحال(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-15/11541</link><pubDate>Tue, 15 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-15/11541</guid><description>پلڈاٹ کے نیشنل سٹیزن سروے 2026ء کے نتائج حکومت کیلئے ایک سنجیدہ عوامی انتباہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ سروے کے مطابق 91 فیصد شہریوں نے ملک میں نیا کاروبار شروع کرنے یا چلانے کو مشکل قرار دیا اور اس ضمن میں بھاری ٹیکسوں کو سب سے بڑی رکاوٹ بتایا۔ 19 فیصد رائے دہندگان نے بجلی اور گیس کی بڑھتی قیمتوں جبکہ 18فیصد نے کرپشن کو ملک کا سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا۔ 68 فیصد رائے دہندگان نے آئی ایم ایف پروگرام کو عوام کیلئے نقصان دہ یا بے فائدہ قرار دیا جبکہ 60 فیصد کا کہنا تھا کہ تعلیمی نظام جدید معیشت کی ضروریات کو پورا نہیں کرتا۔ 85فیصدرائے دہندگان نے پارلیمنٹ اور 87فیصد نے مالیاتی اداروں پر عدم اعتماد کا اظہار کیا۔ پارلیمنٹ کسی بھی جمہوری نظام میں عوام کی نمائندہ آواز ہوتی ہے۔ اگر شہری اسی ادارے سے بداعتماد ہو جائیں تو یہ جمہوری نظام کیلئے خطرے کی علامت ہے۔

یہ سروے اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ عام آدمی اس وقت مہنگائی‘ بڑھتے ہوئے بجلی و گیس کے بلوں‘ بھاری ٹیکسوں اور معاشی غیر یقینی کے ہاتھوں کس قدر پریشان ہے۔ حکومت کی معاشی پالیسیوں کا بوجھ کاروباری طبقے اور عام شہری کو یکساں طور پر متاثر کر رہا ہے۔ حکومت کو ان سروے نتائج کو اپنی پالیسیوں کے آئینے کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ عوام کا اعتماد حاصل کرنے کیلئے حکومت کو اپنے فیصلوں میں شفافیت‘ اخراجات میں کفایت‘ اشرافیہ پر مؤثر ٹیکس‘ توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور حقیقی عوامی ریلیف کو اپنی ترجیحات میں شامل کرنا ہو گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ڈینگی پھیلاؤ کا خطرہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-15/11540</link><pubDate>Tue, 15 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-15/11540</guid><description>لاہور میں ڈینگی کے 30ہزار سے زائد ہاٹ سپاٹس کی موجودگی کا انکشاف ایک بڑے وبائی خطرے کی نشاندہی کرتا ہے‘ جبکہ مون سون کی بارشوں کے بعد صوبائی دارالحکومت میں ڈینگی سرویلنس بروقت شروع نہ ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ ایسے وقت میں جب بارشیں مچھروں کی افزائش کیلئے سازگار ماحول پیدا کرتی ہیں‘ نگرانی میں تاخیر بڑی انتظامی غفلت ہے۔ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق ڈینگی بخار اب محض موسمی بیماری نہیں رہا بلکہ اسکے پھیلاؤ کا دائرہ سال بھر پر پھیل چکا ہے اور 2012ء سے 2022ء کے دوران اسکے پھیلاؤ میں تقریباً تین ہزار گنا اضافہ ہوا۔ 2012ء میں ملک میں ڈینگی کے تقریباً ایک لاکھ کیس رپورٹ ہوئے‘ جو 2022ء میں بڑھ کر 32 لاکھ 80 ہزار تک پہنچ گئے۔

دوسری جانب اب یہ مسئلہ صرف مچھروں کے خاتمے تک محدود نہیں رہا بلکہ نکاسی آب‘ صفائی‘ کچرے کے مؤثر انتظام اور صحت کے نگرانی کے نظام سے بھی منسلک ہو چکا ہے۔ لہٰذا حکومت کو محض فوگنگ مہمات تک محدود رہنے کے بجائے ہاٹ سپاٹس کی جیو ٹیگنگ‘ لاروا سرویلنس‘ بروقت لاروا کشی اور کھڑے پانی کا فوری نکاس یقینی بنانا ہو گا۔ اگر ڈینگی ہاٹ سپاٹس کے نشاندہی کے باوجود انتظامیہ کی طرف سے غفلت برتی گئی تو یہ ہاٹ سپاٹس چند روز میں مچھروں کی افزائش کے مراکز بن کر ڈینگی کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتے ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>حکمرانوں کے اُڑتے قالین اور دھول اڑاتی بستیاں(محمد اظہارالحق)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-09-15/52664/88028196</link><pubDate>Tue, 15 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-09-15/52664/88028196</guid><description>کل ایک کام سے میرا چار بستیوں میں جانا ہوا۔ چار قریے! چار گاؤں!!اول تو ان تک جاتے راستے کچے تھے‘ خاک اڑاتے!! اور سڑکیں تھیں بھی تو مدتوں کی بنی ہوئیں! جگہ جگہ سے ٹوٹی ہوئیں! کہیں گڑھے! کہیں پیوند! کہیں ٹیلے!! گلیاں کچی! کہیں کہیں اینٹیں نظر آئیں مگر یوں جیسے لگائی نہیں گئیں‘ پھینکی گئیں! اور یہ حال تب ہے جب یہ گاؤں وفاقی دارالحکومت سے صرف گھنٹے ڈیڑھ کی مسافت پر واقع ہیں! لیکن وفاق تو بڑی آسانی سے کہے گا کہ یہ صوبے کا مسئلہ ہے۔ صوبہ کہے گا کہ ہم ان بستیوں کو‘ ان اضلاع کو صرف اس وقت اپنے صوبے کا حصہ کہتے ہیں جب صوبے کو سب سے بڑا صوبہ ثابت کرنا ہو۔ جب سہولتیں دینے کی بات ہو تو صوبہ عملی طور پر‘ صرف اُن شہروں‘ اُن قصبوں اور اُن قریوں پر مشتمل ہوگا جو صوبائی دارالحکومت کے نواح میں یا زیادہ سے زیادہ صوبے کے وسطی حصے میں واقع ہوں گے۔ مقامی حکومتوں کے ازلی ابدی دشمن‘ یہ صوبائی دارالحکومت اُس وقت تک اختیارات اور فنڈز کو تقسیم نہیں کریں گے جب تک دور افتادہ اضلاع کا پیمانۂ صبر لبریز نہ ہو جائے!!ایک وڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں ناروے کا وزیر عام کمرشل فلائٹ سے سفر کر رہا ہے اور ایئرپورٹ پر سامان سے بھری ٹرالی خود دھکیل رہا ہے۔ ویسے جن ملکوں میں اصل جمہوریت رائج ہے وہاں ایسے مناظر معمول کے ہوتے ہیں۔ یہ اور بات کہ ہم پاکستانیوں کیلئے یہ ایک انوکھا واقعہ ہے۔ ناروے کا حکمران اگر عام کمرشل پرواز سے سفر کرتا ہے اور اپنا سامان خود سنبھالتا ہے تو اس کا کیا مطلب ہے؟؟ اس کا مطلب ہے کہ ناروے میں دور افتادہ دیہی آبادیاں بھی ترقی یافتہ ہیں۔ ہر جگہ انٹرنیٹ موجود ہے۔ بجلی کا نظام مستحکم ہے۔ ہر جگہ پانی ٹونٹیوں سے سپلائی ہوتا ہے۔ کوڑا کرکٹ اور انسانی فضلہ ٹھکانے لگانے کا جدید ترین سسٹم کارفرما ہے۔ تعلیم اور صحت کی سہولتیں ہر جگہ میسر ہیں! اس بات سے نتیجہ کیا نکلا؟ نتیجہ یہ نکلا کہ حکمرانوں کے طرزِ زندگی کا بستیوں‘ قصبوں اور شہروں کی حالت سے فیصلہ کن تعلق ہے۔ یہ تعلق ایک فارمولے پر مبنی ہے! فارمولا کیا ہے؟ فارمولا یہ ہے کہ جہاں حکمران کمرشل پروازوں سے سفر کرتے ہیں‘ اپنا سامان خود اٹھاتے ہیں‘ قطاروں میں کھڑے ہوتے ہیں‘ محلات میں نہیں عام گھروں میں رہتے ہیں‘ وہاں عوام کو جدید ترین سہولتیں ملتی ہیں اور ہر شہری وی آئی پی ہوتا ہے۔ جہاں حکمران وی آئی پی ہوں‘ جہاں وہ خصوصی طیاروں سے سفر کریں اور ایک ایک سفر پر کروڑوں روپے صرف کریں وہاں عوام بدحالی کا شکار ہوں گے۔ گاؤں‘ قصبے اور شہر جدید سہولتوں سے محروم ہوں گے‘ سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہوں گی‘ کہیں پانی نہیں ہوگا‘ کہیں بجلی غائب ہو گی‘ تعلیم اور صحت کو ترجیح نہیں دی جائے گی۔ اس فارمولے کو ذہن میں رکھنا اشد ضروری ہے۔معروف سیاسی رہنما فواد چودھری نے کہا ہے کہ چیف منسٹر صاحبہ کا تازہ ترین دورہ سوا چھ کروڑ روپے کا پڑا ہے۔ صوبائی وزیر صاحبہ نے کہا ہے کہ ذاتی خرچ تھا۔ تو کیا جہاز بھی ذاتی خرچ سے خریدا گیا؟ ذاتی خرچ تھا تو رسیدیں کہاں ہیں؟ ایک معروف اینکر کے مطابق طیارے کی لندن میں صرف پارکنگ فیس 35 لاکھ روپے اور فیول کا خرچہ 78 لاکھ روپے بنتا ہے۔ صدر صاحب بھی چارٹرڈ طیارے پر لندن تشریف لے گئے۔ ایوانِ صدر کا کہنا ہے کہ انہوں نے سفر کے اخراجات اپنی جیب سے ادا کیے۔ اگر اپنی جیب سے بھی ادا کیے تو انہیں سوچنا چاہیے کہ مفلوک الحال پاکستانی عوام کیا سوچیں گے؟ کیا حیران نہیں ہوں گے؟ کیا انہیں غصہ نہیں آئے گا؟ بڑے میاں صاحب اپنے صاحبزادوں کے ہمراہ خصوصی طیارے میں سنگاپور گئے۔ مریم نواز خصوصی طیارے پر لندن گئیں۔ صدر صاحب اور ان کا صاحبزادہ بھی خصوصی طیارے پر لندن گئے۔ کیا بھارت‘ ایران‘ ملائیشیا اور سری لنکا کے حکمران بھی یہی کچھ کرتے ہیں؟ سنگاپور انتہائی امیر ملک ہے‘ کیا اس کے صدر اور وزیراعظم بھی خصوصی طیاروں میں سفر کرتے ہیں؟ معروف تاریخ دان ابراہم ایرالی لکھتا ہے کہ شاہجہان کے عہد میں جب مغل سلطنت عروج پر تھی تو کُل قومی پیداوار کا ایک چوتھائی حصہ‘ بلکہ اس سے بھی زیادہ‘ صرف 656 افراد پر مشتمل اشرافیہ کے قبضے میں تھا۔ یاد رکھیے! مغل بادشاہ ہمارے آج کے حکمرانوں کے طرزِ زندگی کا سوچ بھی نہ سکتے تھے۔ ذرا سوچیے! لاکھوں گاؤں سڑکوں‘ ہسپتالوں‘ سکولوں کالجوں سے محروم ہیں۔ پٹرول اتنا مہنگا ہے کہ چھتوں پر کھڑے ہو کر اذانیں دینے کا مرحلہ ہے۔ کروڑوں بچے سکولوں سے باہر ہیں‘ اور حکمران کروڑوں روپے خرچ کر کے خصوصی طیاروں کی عیاشی کر رہے ہیں۔ بے حسی کی انتہا ہے۔ کابینہ مُہر بہ لب ہے۔ اسمبلیاں خاموش ہیں۔ وزرائے خزانہ اعتراض کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ وفاقی اور صوبائی خزانے ذاتی تجوریوں کی حیثیت رکھتے ہیں۔ گونگے بہرے‘ قلاش‘ بے کس عوام کو کبھی خوشخبری سنائی جاتی ہے کہ صاحبزادہ وزیراعظم ہو گا‘ کبھی دختر نیک اختر کے حکمرانِ اعلیٰ بننے کی نوید سنائی جاتی ہے۔ ایک شہزادہ وزیراعظم کے دفتر میں مسند سنبھالے ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکمرانوں کے اعزہ واقارب بھی سرکاری پروٹوکول میں حصہ دار ہیں۔ نیا طیارہ خریدا گیا تو پرانا طیارہ مبینہ طور پر قریبی وزرا اور خاص خاص بیورو کریٹ کے استعمال میں ہے۔ یعنی وہ قابلِ استعمال حالت میں ہے! ظلم کہیے یا مذاق کہ اس سب کچھ کے باوجود جمہوریت کا دعویٰ ہے۔ سمجھ بوجھ کے قربان! اتنا بھی نہیں سوچ سکتے کہ یہ شہنشاہانہ طریقے دیکھ کر عوام کڑھیں گے‘ اُن کے غیظ وغضب میں‘ نفرت میں‘ مایوسی اور جھلّاہٹ میں اضافہ ہو گا۔ عقلمند لوگ یتیم کی موجودگی میں اپنے بچے کو پیار نہیں کرتے کہ اسے احساسِ محرومی نہ ہو اور آپ ایسے لاکھوں کروڑوں پاکستانیوں کے سامنے‘ جو پنڈی سے لاہور اور شکارپور سے کراچی نہیں جا سکتے‘ خصوصی جہازوں میں سفر کرتے ہیں۔ اگر واقعی اپنے خرچ پر گئے ہیں تب بھی غلط بات ہے۔ یہ دولت کی نمائش ہے۔ غریب عوام کے دل جلتے ہیں۔ مثالیں خلفائے راشدین اور اہل بیت عظام کی اور عمل ایک سو اسی درجے الٹ!!نظام انصاف کی یہ حالت ہے کہ ادھر مجرم سے بھیانک جرم سرزد ہوا‘ ادھر اسے ضمانت مل گئی۔ جاگیرداروں کو کھلی چھٹی ہے جسے چاہیں قتل کر دیں۔ حفیظ جالندھری نے ہمارے معاشرے کے لیے ہی کہا تھا:شیروں کو آزادی ہے آزادی کے پابند رہیںجس کو چاہیں چیریں پھاڑیں کھائیں‘ پئیں آنند رہیںانساں بھی کچھ شیر ہیں باقی بھیڑوں کی آبادی ہےبھیڑیں سب پابند ہیں لیکن شیروں کو آزادی ہےبھیڑیں‘ لا تعداد ہیں لیکن سب کو جان کے لالے ہیںان کو یہ تعلیم ملی ہے بھیڑیے طاقت والے ہیںماس بھی کھائیں‘ کھال بھی نوچیں ہر دم لاگو جانوں کےبھیڑیں کاٹیں دورِ غلامی بل پر گلّہ بانوں کےجو جانتا ہے وہ جانتا ہے۔ جو نہیں جانتا‘ وہ جان لے کہ ہر عمل کا ردعمل ہوتا ہے۔ ہر کلائمکس کا اینٹی کلائمکس ہے۔ ہر طلوع کی قسمت میں غروب ہے۔ ہر عہد کا خاتمہ لازم ہے۔ ہر سلطنت نے دھواں بن کر ایک دن اُڑ جانا ہے۔ پاکستان میں کئی دہائیوں سے &#39;&#39;اولی گارکی‘‘ کا راج ہے۔ اس نے ختم ہونا ہی ہونا ہے۔ لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے۔ زار سے لے کر چاؤ شسکو تک‘ حسنی مبارک سے لے کر بشار الاسد تک‘ خلیفہ مستعصم سے لے کر شاہ ایران تک‘ کون ہے جو سونے چاندی کے برتنوں میں کھانا نہیں کھاتا تھا اور نشانِ عبرت نہ بنا؟</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_57182973.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کیا یہ سلسلہ ایسے ہی چلتا رہے گا ؟(خالد مسعود خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-09-15/52665/19109469</link><pubDate>Tue, 15 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-09-15/52665/19109469</guid><description>اس مسافر کو پوری دنیا تو رہی ایک طرف‘ پورے پاکستان کو بھی مکمل طور پر دیکھنے کا دعویٰ نہیں ہے‘ تاہم یہ آوارہ گرد قابلِ ذکر حد تک دنیا کے بیشتر حصے اور اسی حساب سے بیشتر پاکستان گھوم چکا ہے۔ اس دوران کوئی چیز نظر میں آنے سے رہ گئی ہو تو اور بات ہے‘ تاہم میرے ذاتی اور کسی حد تک خام علم کے مطابق کم از کم ایسی کوئی اور سڑک پاکستان کی حد تک دکھائی نہیں دی۔ واضح کر دوں کہ میں ایسی یا اس جیسی کسی سڑک کی موجودگی سے انکار نہیں کر رہا‘ صرف اپنے علم کی حد تک یہ کہہ رہا ہوں کہ کم از کم میری نظر سے ایسی سڑک نہیں گزری۔ یہ سڑک زیرِ تعمیر‘ بلکہ تکمیل کے قریب پہنچی ہوئی‘ ملتان ایونیو ہے۔اس سڑک کی تعمیر میں ہونے والی غیر ضروری تاخیر پر اس قلمکار نے ایک دو بار لکھا بھی ہے لیکن ان تحفظات کے باوجود یہ تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں کہ جب یہ منصوبہ مکمل ہو جائے گا تو اپنی نوعیت کا شاندار منصوبہ ہوگا۔ گو کہ میں اس منصوبے کی تکنیکی اور ہندسی تفصیلات جانتا ہوں لیکن فی الوقت ان میں نہیں پڑنا چاہتا۔ مختصراً یہ کہ ہم اہلِ ملتان نے بیک وقت ایسی روشن‘ سرسبز‘ رواں‘ کشادہ اور پُررونق سڑک کہاں دیکھی ہو گی جس کے ساتھ ساتھ چلتی ہوئی سروس روڈ اور اس کے درمیان میں کہیں گرین بیلٹ‘ کہیں جھولے‘ کہیں بنچ‘ کہیں درخت‘ کہیں پھول پھلواڑی اور کہیں پارکنگ کیلئے جگہیں مخصوص ہوں۔ یہ ایسی ہی شاندار سڑک ہے‘ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر شاندار ہے۔ مزید لکھنا کارِ لاحاصل ہے کہ الفاظ بھلا منظر کو خوبصورتی اور جزئیات کے ساتھ کہاں ادا کر سکتے ہیں! ایسے معاملات میں تو بعض اوقات کیمرہ بھی عکس کو اصل کے مطابق پیش کرنے میں ناکام ثابت ہوتا ہے۔ یہ سڑک بھی ایسی ہی ہے۔ لیکن میں اس سڑک کے مستقبل کے بارے میں فکرمند اور پریشان ہوں۔ آپ بھی کہیں گے کہ یہ کیا بندہ ہے‘ خود ہی ایک چیز کی تعریف کرتا ہے‘ پھر اس کے بارے میں فکر مندی ظاہر کرتا ہے‘ عین ممکن ہے کہ چند سطروں کے بعد اس کی مذمت شروع کر دے۔ مسئلہ یہ ہے کہ یہ عاجز اتنا شاندار نہ سہی لیکن گزشتہ کئی عشروں سے بہت سے خوبصورت اور شاندار منصوبے شروع ہوتے‘ پایہ تکمیل تک پہنچتے اور پھر انہیں اپنے سامنے برباد ہوتے دیکھ چکا ہے۔ یادش بخیر بیرسٹر ظفر اللہ خان‘ جو آج کل پنجاب کے ایڈووکیٹ جنرل ہیں‘ تب سول سروس پاکستان کے بڑے افسر اور ملتان میونسپل کارپوریشن کے ایڈمنسٹریٹر تھے‘ کتابوں سے دوستی کے باعث کتابی علم سے مالا مال تو تھے ہی لیکن حسِ جمالیات بھی ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ چیزوں کے باطن کے ساتھ ساتھ ان کی ظاہری خوبصورتی پر بھی توجہ دیتے تھے۔ بحیثیت ایڈمنسٹریٹر میونسپل کارپوریشن ملتان انہوں نے شہر کے مختلف چوک‘ سڑکیں‘ پارک‘ باغات اور یادگاروں کو نئی صورت دینے اور ان کی تزئین و آرائش کا بیڑا اٹھایا۔ احمد شاہ ابدالی کی جائے پیدائش پر ایک یادگار محراب بنوا کر اس پر ملتان کی پہچان نیلی کاشی گری کا کام کرایا اور سنگ مرمر کی تختی لگوائی۔ درجن بھر چوک نئے سرے سے بنوائے‘ ان میں خوبصورتی پیدا کرنے کیلئے مختلف ماڈل بنوائے‘ پھر ان کا تبادلہ ہو گیا۔ سرکاری محکموں کی عدم توجہی تو ایک مسئلہ ہے ہی‘ تاہم ان کے جانے کے بعد عوام نے بھی ان تمام خوبصورت چیزوں کا &#39;&#39;نیست‘‘ مارنے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ ایک دو سال کے اندر ہی وہ تمام چیزیں جو کبھی خوبصورت دکھائی دیتی تھیں‘ اتنی بدصورت ہو گئیں کہ دل کرتا تھا ان کو یہاں سے اٹھا کر کہیں پھینک دیا جائے‘ اور پھر ایسا ہی ہوا۔وہ تمام پارک اور باغات جن کی شکل و صورت سنواری گئی تھی‘ عوام نے ان میں جی بھر کر کوڑا کرکٹ ڈالا‘ گند مچایا‘ توڑ پھوڑ کی‘ چیزوں کو خراب کیا‘ پودوں کا بیڑہ غرق کیا اور حالات پہلے سے بھی زیادہ خراب ہو گئے۔ ایک تو ہمارے ہاں سرکار چیز بنانے کے بعد اس چیز کو مستقل بنیادوں پر چلانے کے بجائے لاوارث چھوڑ دیتی ہے‘ اوپر سے عوام اس لاوارث چیز کے ساتھ وہی سلوک کرتے ہیں جس کا آغاز 1947ء میں برصغیر کی تقسیم کے بعد متروکہ وقف املاک اور اپنے گھر چھوڑ کر ہجرت کرنے والوں کی جائیداد اور سامان کے ساتھ کیا گیا تھا۔ ہم ہر ایسی لاوارث چیز کو جسے اٹھا کر گھر لے جایا جا سکے‘ اٹھا کر لے جاتے ہیں۔ اگر ساتھ نہ لے جا سکیں تو اسے برباد کر کے اپنے جی کا بوجھ ہلکا کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں ایک روایت ہے کہ ہر کام نہ صرف یہ کہ سرکار نے کرنا ہے بلکہ کرنے کے بعد اس کی تمام تر ذمہ داری لینا‘ اسے چلانا‘ اس کا خیال رکھنا‘ یہ سارے کام بھی ہم نے سرکار کے کندھوں پر ڈال رکھے ہیں۔ بحیثیت شہری ہم نے کبھی یہ اپنی ذمہ داری ہی محسوس نہیں کی کہ سرکار جو چیزیں بنا رہی ہے‘ بیشک یہ اس نے بنائی ہیں‘ لیکن ان پر خرچ ہونے والا ایک ایک پیسہ ہماری جیب سے ٹیکس کی صورت میں نکلی ہوئی رقم پر مبنی ہے۔ دوسرے الفاظ میں یہ ہماری ایسی جائیداد ہے جس کی رجسٹری اور ملکیت ہمارے نام پر نہیں لیکن ہمیں اس کا تصرف حاصل ہے۔ یہ ہمارے ذاتی گھر جیسی چیز ہے جس پر نہ صرف یہ کہ ہمارا پیسہ لگا ہے بلکہ یہ ہمارے لیے ہی ہے۔ ہم اپنے گھر کی پوری حفاظت کرتے ہیں‘ اس کی صفائی کا خیال کرتے ہیں‘ ٹوٹ پھوٹ ہو تو اس کی مرمت کرواتے ہیں۔ دو چار سال بعد اس میں رنگ کرواتے ہیں‘ کسی چیز میں خرابی ہو جائے تو اسے ٹھیک کرواتے ہیں۔ روز نہ سہی ہر دوسرے دن اسے صاف کرتے ہیں‘ اسے حتی الامکان حد تک دیدہ زیب رکھنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن اپنے ہی ٹیکس کے پیسوں سے بنی ہوئی تمام چیزوں کو اس طرح تاراج کرتے ہیں جیسے مفتوحہ علاقوں کو قابض فوجیں برباد کرتی ہیں۔سرکار پارک بنوائے گی‘ چار دن مالی اس کا خیال رکھے گا‘ کچھ روز خاکروب صفائی کرتا دکھائی دے گا‘ پھر اس پارک کے چار میں سے دو مالی افسروں کے گھر میں کام کرنے لگ جاتے ہیں‘ بقیہ دو مالی آپس میں طے کریں گے کہ ایک دن تم آ جانا‘ ایک دن میں آ جاؤں گا۔ پھر یہ ایک دن والا معاملہ چار دن میں تبدیل ہو جائے گا۔ پارک میں آنے والا ہر شخص حتی المقدور گند پھیلائے گا۔ کھانے کے بعد چپس کا خالی پیکٹ‘ چاکلیٹ کا ریپر‘ پھل کا خالی لفافہ‘ جوس کا ڈبہ‘ پانی کی بوتل اور اس طرح کی دیگر بے شمار چیزیں چند قدم پر لگے ہوئے ڈسٹ بن میں ڈالنے کے بجائے وہیں پر پھینکے گا۔ چوکیدار کی عدم موجودگی کے باعث نگرانی سے عاری اس لاوارث باغ سے کوئی نشئی لوہے کا ڈسٹ بن اکھاڑ کر لے جائے گا‘ کوئی ایڈونچر پسند بلب اتار کر لے جائے گا۔ کچھ عرصہ پہلے نہایت خوبصورت اور روشن دکھائی دینے والا باغ برباد شدہ میدان جنگ کا نقشہ پیش کر رہا ہوگا۔آپ کا کیا خیال ہے؟ میں یہ کسی فلمی سین کی منظر کشی کر رہا ہوں؟ ہرگز نہیں! میں وہی کچھ لکھ رہا ہوں جو گزشتہ کئی عشروں سے دیکھ رہا ہوں۔ اب اس نو کلومیٹر طویل خوبصورت ملتان ایونیو پر ہماری جیب سے ٹیکس کی صورت نکلے ہوئے کروڑوں روپے خرچ ہو رہے ہیں۔ مجھے فکر یہ ہے کہ تھوڑے عرصے بعد یہاں پہلے ایک ٹھیلے والا کھڑا ہوگا جو محکموں کی عدم توجہی یا ان کو روزانہ بھتہ دینے کے عوض ٹھیلے سے کھوکھے میں تبدیل ہوگا۔ ایک کھوکھا مزید کھوکھوں کیلئے مثال ثابت ہوگا۔ دکانوں کے آگے شوارمے اور برگر والے ڈیرے لگا لیں گے۔ بنچ اکھڑ جائیں گے‘ جھولے ٹوٹ جائیں گے‘ پارکنگ کیلئے مختص جگہوں پر پھٹا مافیا قبضہ کر لے گا‘ سروس روڈ پارکنگ لاٹ بن جائے گی اور یہ شاندار سڑک تھوڑے ہی عرصے بعد پرانی سڑک کا نقشہ پیش کرے گی۔ پھر دس بارہ سال بعد کوئی اور بھلا افسر آئے گا اور اس تباہ حال ملتان ایونیو کو نئے سرے سے بنوانا شروع کرے گا۔ اس پر میرے اور آپ کے ٹیکس کے کروڑوں روپے لگیں گے۔ تب پھر کوئی سر پھرا اس پر کالم لکھ کر دہائی دے گا کہ اس کا خیال رکھو‘ لیکن شاید تب بھی کچھ نہیں ہو گا۔ لیکن کیا یہ سلسلہ ہمیشہ یونہی چلتا رہے گا؟</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90500073.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کیا جنگ ختم ہونے والی ہے؟(ڈاکٹر حسین احمد پراچہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-09-15/52666/87336725</link><pubDate>Tue, 15 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-09-15/52666/87336725</guid><description>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آئرلینڈ سے دنیا کو یہ خوشخبری سنائی ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ جلد ختم ہو جائے گی‘ تیل کی قیمتیں نیچے آئیں گی‘ خطے میں امن آئے گا اور دنیا کو چین نصیب ہوگا۔ گزشتہ چھ ماہ کے دوران دنیا نے صبح وشام ڈونلڈ ٹرمپ کی خوشخبریوں اور ان کی کہہ مکرینوں کا نظارہ دیکھا ہے۔ اب آسانی سے اُن کی بات پر یقین کرنے کو دل مانتا نہیں۔ اسی لیے اسد اللہ غالب یاد آئے ہیں:ترے وعدے پر جیے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتاصدر ٹرمپ نے یہ بھی وضاحت کی کہ میرا اندازہ ہے کہ امریکہ میں مڈٹرم الیکشن کے خاتمے کے ساتھ ہی جنگ اپنے اختتام کو پہنچے گی۔ یہ انتخابات ڈیڑھ دو ماہ بعد‘ نومبر میں ہونے ہیں۔ اللہ کرے ٹرمپ صاحب کا یہ اندازہ درست ثابت ہو‘ وگرنہ اس سے قبل  اُن کے ایران کے بارے میں اندازے پانی کے بلبلے ثابت ہوتے رہے ہیں۔ اُن کا ایک اندازہ یہ بھی تھا کہ ایران دو چار روز سے زیادہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی تاب نہ لا سکے گا مگر ایران مہینوں سے امریکہ کے مقابلے میں ڈٹ کر کھڑا ہے اور اس کے پائے استقلال میں اضمحلال نہیں آیا۔ اس کے علاوہ بھی امریکی صدر کے متعدد اندازے غلط ثابت ہوچکے ہیں۔اگر صدر ٹرمپ اپنے تازہ بیان میں سنجیدہ ہیں تو انہیں سفارتی چینل کے ذریعے ایران سے رابطہ کر کے فی الفور اعتماد سازی کا عمل شروع کر دینا چاہیے۔ امریکہ نے ایران کی کئی بندرگاہوں کو سامان کی آمد ورفت کیلئے بند کر رکھا ہے۔ اس بندش کو بلاتاخیر ہٹایا جائے اور راستہ کھولا جائے۔ ایران پر جو معاشی پابندیاں حال ہی میں عائد کی گئی ہیں‘ انہیں بھی اٹھایا جائے اور ایران کے منجمدکردہ اثاثہ جات کو ریلیز کرنے کے عمل کا بھی آغاز ہو جانا چاہیے۔ اگر امریکہ یہ مثبت کارروائی کرتا ہے تو پھر ایران کو بھی اسی جذبے سے کام لیتے ہوئے آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کے گزرنے کو جنگ سے قبل کے معمول کی طرف واپس لانا چاہیے۔ ایران کے مدبر صدر مسعود پزشکیان اور عباس عراقچی جیسے اُن کے ساتھیوں کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس مزاجی کیفیت کا اندازہ ہوگیا ہوگا جس کے مطابق وہ ہر وقت لاؤڈ تھنکنگ کرتے رہتے ہیں۔ ٹرمپ کے اس مزاجی پہلو کو نظر انداز کر کے خطے میں مستقل امن کے ہدف پر توجہ مرکوز کی جانی چاہیے۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران خطے میں کئی طلسم ٹوٹے اور کئی توقعات کے آبگینے چکنا چور ہوئے ہیں۔ خطے کے خلیجی ممالک کا امریکہ پر انحصار والا کہنہ دفاعی نظام اپنے انجام کو پہنچ رہا ہے۔ ہم اس اجمال کی تفصیل بھی پیش کریں گے مگر پہلے ایک تازہ منظر دیکھ لیجئے۔ سعودی عرب یمن کی غیر مقبول حکومت کی حمایت اور وہاں کی سیاسی و عسکری حوثی تحریک کی مخالفت کرتا ہے۔ حوثیوں کے بارے میں یہ تاثر عام ہے کہ وہ ایران نواز ہیں۔ سعودی عرب اور یمن کے دیرینہ اختلافات تھے‘ جن کو ماضی میں سینئر سعودی قیادت نے &#39;&#39;تالیفِ قلب‘‘ کے ذریعے کنٹرول کر رکھا تھا۔ خیر اس وقت اُن پرانے اختلافات کے ذکر کی ضرورت نہیں؛ البتہ امریکہ‘ ایران جنگ سے بھی پہلے حوثیوں نے سعودی عرب کے کئی سرحدی علاقوں پر ڈرون اور میزائل حملے کیے۔ تازہ ترین صورت کے مطابق آبنائے ہرمز کے ذریعے سعودی تیل کی ترسیل میں بہت بڑی رکاوٹ آ چکی ہے جبکہ حوثیوں نے بحیرہ احمر اور خلیج عدن کے سنگم پر واقع آبنائے باب المندب پر بھی قبضہ جما لیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ سعودی تیل کی ترسیل کا دوسرا راستہ بھی بند ہو گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق سعودی تیل کی پیداوار تین دہائیوں کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔ حوثی ملیشیا نے اعلان کیا ہے کہ وہ باب المندب کے ذریعے جہازوں کی آمد ورفت میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالیں گے سوائے سعودی جہازوں کے۔ قارئین کو یاد دلاتا چلوں کہ سعودی عرب کی آئل فیلڈز مشرقی ریجن‘ دمام کے اردگرد واقع ہیں۔ وہاں سے یہ تیل بیرونِ ملک ترسیل کیلئے مغربی منطقے میں واقع ینبع کی بندرگاہ تک پہنچایا جاتا ہے۔ اس آئل پائپ لائن پر بھی حملہ کیا گیا ہے۔ یہ حملہ عراق سے ہوا مگر کسی نے اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ باب المندب کے قریب پہنچتے اور سعودی عرب کے مختلف شہروں پر حملہ آور حوثیوں پر فضائی حملوں کیلئے 10 ستمبر بروز جمعرات سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو کال کیا مگر ٹرمپ نے مجوزہ حملوں سے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ ہم خطے میں نئے محاذ نہیں کھولنا چاہتے۔ گویا بقول غالب:ہوئی جن سے توقع خستگی کی داد پانے کیوہ ہم سے بھی زیادہ خستۂ تیغ ستم نکلےادھر حوثیوں نے واشنگٹن سے رابطہ کر کے کہا ہے کہ ہم امریکہ سے جنگ نہیں چاہتے‘ امریکہ ہم پر کوئی فضائی یا بحری حملہ نہ کرے۔ امریکہ نے حوثی گروپ کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ہم ایسے کسی حملے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستوں کو یقین تھا کہ جب کبھی ہم پر کسی ملک کی طرف سے حملہ ہوا تو امریکہ ہمارا دفاع کرے گا۔ گزشتہ کئی ماہ سے جاری جنگ کے دوران جب ایران نے عرب امارات سے لے کر اردن تک امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا تو امریکہ اپنے حلیفوں کی مدد کو نہ آیا۔ قبل ازیں جب اسرائیل نے قطر کے رہائشی علاقے میں غزہ جنگ کے دوران حملہ کیا تھا تو بھی امریکہ نے اسرائیل کے خلاف کوئی شدید نوعیت کا قدم نہ اٹھایا تھا۔ اب جبکہ امریکہ نے اپنے سب سے بڑے اتحادی سعودی عرب کی درخواست کے جواب میں حوثیوں پر حملہ کرنے سے انکار کر دیا ہے تو یہ گزشتہ کئی دہائیوں سے امریکہ پر اربوں ڈالر نچھاور کرنے والے سعودی عرب کیلئے بہت بڑا صدمہ ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ خطے کے ممالک آپس میں برادرانہ مشوروں کے ذریعے پائیدار امن کا راستہ تلاش کریں۔ادھر عمان میں خلیجی ممالک اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز کے بارے میں پیر کے روز ہونے والے مذاکرات ملتوی ہو گئے ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ جب تک امریکہ اسلام آباد معاہدے کے مطابق اپنی ذمہ داریاں پوری نہیںکرتا اس وقت تک آبنائے ہرمز نہیں کھل سکتی۔ حوثیوں پر حملے سے امریکی انکار کے بعد دنیا کی نظریں معاہدہ مکہ پر مرکوز ہیں۔ اگرچہ پاکستان نے حوثیوں کے سعودی عرب پر حملوں کی مذمت کی ہے مگر کسی عملی اقدام کی ہامی نہیں بھری۔ پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق معاہدہ مکہ ابھی آپریشنل نہیں ہوا۔ جب یہ معاہدہ وجود میں آ رہا تھا تو عرب دنیا کی سیاست کے ایک طالبعلم کی حیثیت سیہم نے عرض کیا تھا کہ پاکستان نے ہمیشہ دل وجان سے ارضِ حرمین شریفین کے دفاع کیلئے اپنی خدمات پیش کی ہیں مگر پاکستاننے عربوں کے داخلی تنازعات میں حصہ لینے سے ہمیشہ اجتناب کیا ہے۔ اب بھی پاکستان اس معاملے میں مذمت سے آگے نہیں بڑھے گا۔ ایک دو روز قبل ایرانی صدر نے جنگ رکوانے اور قیام امن کیلئے پاکستان اور قطر کی کوششوں کو سراہا ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ پاکستان امریکہ کو یاد دلائے کہ اسلام آباد ایم او یو کے مطابق یہ ٹرمپ انتظامیہ کی ذمہ داری تھی کہ وہ اسرائیل کو لبنان اور غزہ میں حملوں سے روکے۔ صہیونی ریاست جنگ بندی معاہدوں کی دھجیاں اڑا کر مذکورہ بالا دونوں علاقوں پر بدستور حملے کر رہی ہے۔ لبنان میں سینکڑوں شہید اور ہزاروں بے گھر ہو چکے ہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ ایک بار پھر پاکستان شٹل ڈپلومیسی کے ذریعے سرگرم عمل ہو اور امریکہ کو اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے مطابق ایران کے ساتھ فوری جنگ بندی اور پائیدار معاہدۂ امن پر قائل کرے۔ لگتا ہے کہ ایران پر مسلط کردہ بے مقصد امریکی جنگ کے خاتمے کا وقت قریب آ گیا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_70033906.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ٹیکس نظام میں اصلاحات، آگے کا راستہ(شاہد کاردار)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-kardar-/2026-09-15/52667/69354156</link><pubDate>Tue, 15 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-kardar-/2026-09-15/52667/69354156</guid><description>ہم نے گزشتہ تین کالموں میں ٹیکس نظام کی کمزوریوں اور پیچیدگیوں کا جائزہ لیا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس نظام کو کیسے بہتر بنایا جا سکتا ہے جس سے ٹیکس دہندگان کی تعداد میں اضافہ ہو سکے اور پیداواری شعبہ پر ٹیکسوں کا بوجھ کم کیا جا سکے۔ اصلاحات کا بنیادی مقصد یہ ہونا چاہیے کہ ایسا ٹیکس ڈھانچہ تشکیل دیا جائے جو شہریوں کیلئے دوستانہ‘ سادہ‘ منصفانہ‘ قابلِ پیش گوئی اور معاشی ترقی پر مبنی ہو۔ محاصل کیلئے دباؤ پر مبنی موجودہ چکر کو توڑ کر حکومت کو فوری طور پر ایف بی آر کی کارکردگی جانچنے کے طریقہ کار میں تبدیلی اور اصلاح کرنی چاہیے۔ اس وقت ایف بی آر کے اہداف کو خالص وصولیوں (ریونیو) کی بنیاد پر مقرر کیا جاتا ہے اور اسی بنیاد پر ان کی پیمائش کی جاتی ہے۔ موجودہ طریقہ سے ٹیکس حکام کو ترغیب ملتی ہے کہ وہ جائز ٹیکس ریفنڈز دینے میں تاخیر کریں اور مالی سال کے اختتام سے قبل ٹیکس دہندگان سے غیرضروری پیشگی مطالبات کریں۔ ایف بی آر کے اہداف کو صرف مجموعی وصولیوں کی بنیاد پر مقرر کیا جانا چاہیے یعنی ٹیکس ریفنڈز آٹومیٹک ادا کر دیے جائیں اور اسے ٹیکس وصولی کی کارکردگی کا حصہ نہ سمجھا جائے۔ اس صورت میں انتظامیہ کی جانب سے ٹیکس ریفنڈز روکنے کا سلسلہ ختم ہو جائے گا اور ٹیکس دہندگان کا اعتماد بحال ہو گا۔ اس انتظامی تبدیلی کے ساتھ ساتھ ایک جامع ٹیکس اصلاحاتی پروگرام پر عمل کیا جائے جو درج ذیل بنیادی اصولوں اور ساخت میں تبدیلی لانے والے اقدامات کی بنیاد پر استوار ہو:یکساں آمدنی رکھنے والے تمام افراد پر یکساں شرح سے ٹیکس عائد ہونا چاہیے۔ مخصوص شعبوں کیلئے خصوصی استثنا‘ مراعات یافتہ رعایتیں اور امتیازی ٹیکس نظام کو مرحلہ وار اور نظامی تبدیلیوں کے ذریعے ختم کیا جائے۔ ٹیکس نظام ایسا ہو جو مجموعی کاروباری حجم یا لین دین کی مالیت پر ٹیکس نہ لگائے بلکہ خالص منافع پر ٹیکس عائد کرے۔ روزمرہ صارفین کی سرگرمیوں جیسے بجلی کے بل اور نقد رقم نکلوانے پر عائد وِد ہولڈنگ ٹیکس کی کٹوتیاں آمدنی پر مبنی نہیں ہیں‘ انہیں ختم کر دیا جائے۔ تجارتی معاہدوں اور درآمدات پر باقی رہ جانے والے وِد ہولڈنگ ٹیکس صرف اس صورت میں برقرار رہیں کہ وہ حتمی طور پر طے کیے گئے انکم ٹیکس کے ضمن میں قابلِ ایڈجسٹمنٹ پیشگی ادائیگی کے طور پر کام کریں۔ کارپوریٹ ٹیکس کی شرح کو بتدریج کم کیا جائے اور سب کیلئے 25 فیصد پر لایا جائے۔ اس کے ساتھ اضافی سپر ٹیکسوں اور مخصوص شعبوں پر عائد خصوصی محصولات (لیویز) کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے۔ افراد کیلئے ذاتی انکم ٹیکس کی شرحوں کو سادہ بنایا جائے۔ ذاتی انکم ٹیکس کی زیادہ سے زیادہ شرح 25 فیصد مقرر کی جائے اور ہر سال قابلِ ٹیکس آمدن (دوسرے الفاظ میں انکم ٹیکس سے مستثنیٰ آمدن) کو مہنگائی کے تناسب سے خودکار طور پر ایڈجسٹ کیا جائے۔ اس طریقہ کار سے تنخواہ دار ملازمین کو بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث بلند ٹیکس درجوں میں جانے سے تحفظ ملے گا اور ٹیکس سے بچنے کی ترغیب بھی کم ہو گی۔ برآمد کنندگان کیلئے دوبارہ ایک قابلِ پیش گوئی اور کم حتمی ٹیکس کا نظام بحال کیا جائے۔ دستیاب اعداد وشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایف بی آر نے برآمد کنندگان کیلئے سادہ حتمی ٹیکس نظام کے تحت موجودہ پیچیدہ عمومی ٹیکس نظام کے مقابلہ میں زیادہ خالص آمدن جمع کی تھی جبکہ موجودہ نظام سے غیرضروری پیچیدگیاں اور ٹیکس ریفنڈز کے تنازعات پیدا ہوتے ہیں۔ مزید برآں کارخانوں‘ مشینری اور صنعتی عمارتوں پر سرمایہ کاری کیلئے جو ٹیکس رعایتیں تھیں انہیں بحال کیا جائے تاکہ ملک میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہو۔ سرمایہ کے منافع پر ٹیکس یعنی کیپٹل گین کے معاملہ میں اثاثہ اپنے پاس رکھنے کی مدت پر مبنی نظام دوبارہ نافذ کیا جائے تاکہ سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہو۔ موجودہ جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کے نظام کو تیزی سے وی اے ٹی (حقیقی قدر میں اضافہ) پر مبنی ٹیکس میں تبدیل کیا جائے اور آئندہ چار سے پانچ برسوں کے دوران اس کی شرح بتدریج کم کر کے 12 فیصد تک لائی جائے۔ مزید یہ کہ سیلز ٹیکس کے فریم ورک کو وی اے ٹی میں ڈھالا جائے۔ اِن پٹ ٹیکس رعایتوں کے نظام کو مکمل طور پر آٹومیٹک بنایا جائے اور قانونی طور پر مقررہ مدت کے اندر ان پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ وفاقی اور صوبائی دائرہ اختیار میں سیلز ٹیکس کی شرحوں کو ایک واحد کھڑکی کے ذریعے گوشوارے جمع کرانے کے نظام کے تحت ہم آہنگ کیا جائے تاکہ بین الصوبائی تجارت پر بار بار ٹیکس عائد ہونے کا سلسلہ ختم ہو اور اِن پٹ ٹیکس میں رعایت کا تسلسل بحال ہو۔ درآمدی محصولات کو صرف تین واضح درجوں میں تقسیم کیا جائے: بنیادی خام مال پر پانچ فیصد‘ درمیانی سرمایہ جاتی اشیا پر 10 فیصد اور تیار شدہ صارفی اشیا پر 20 فیصد۔ خام مال اور مشینری پر محصولات میں کمی سے مقامی پیداوار کی بنیادی لاگت کم ہو گی اور پاکستانی صنعتیں سرکاری امداد پر انحصار کیے بغیر عالمی منڈی میں مقابلہ کرنے کے قابل ہوں گی۔ قومی سطح پر ڈیجیٹل ترقی کے اہداف حاصل کرنے کیلئے موبائل فون‘ ٹیلی کمیونیکیشن خدمات اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے آلات پر عائد بلند ٹیکس شرحوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ بنیادی ڈیجیٹل کمیونیکیشن پر ٹیکس عائد کرنے سے پیداواری صلاحیت کمزور ہوتی ہے اور ٹیکنالوجی کے شعبہ کی ترقی میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ جائیداد کی خرید وفروخت پر عائد بلند ٹرانزیکشن (لین دین سے متعلق) ٹیکسوں کو کم کیا جائے تاکہ مارکیٹ میں خرید وفروخت کا حجم (لیکویڈٹی) بڑھے اور لین دین کی حقیقی قیمتیں باقاعدہ طور پر ظاہر کی جائیں۔ ان کی جگہ صوبائی حکومتیں بازار کی تازہ ترین قیمتوں کی بنیاد پر سالانہ پراپرٹی ٹیکس نافذ کریں۔ خاص طور پر شہری علاقوں کی خالی زمین کو سالانہ پراپرٹی ٹیکس کے دائرے میں لایا جائے تاکہ قیاس آرائی کی غرض سے زمین روک کر رکھنے کا رجحان کم ہو‘ شہری رہائش کی لاگت میں کمی آئے اور مقامی انفراسٹرکچر کی ترقی کیلئے وسائل فراہم ہوں۔ وفاقی اور صوبائی ٹیکس رجسٹریشن کے نظام کو قومی ٹیکس نمبر (این ٹی این) اور قومی شناختی کارڈ (سی این آئی سی) کی بنیاد پر ایک مشترکہ کاروباری شناختی نظام میں یکجا کرنے کا عمل درست سمت میں جاری ہے۔ بینکوں‘ اراضی کے اندراجی ریکارڈ‘ کارپوریٹ رجسٹریوں اور عوامی خدمات فراہم کرنے والے اداروں کے اعداد وشمار کو صرف شفاف اور رِسک کی بنیاد پر جانچ پڑتال کیلئے استعمال کیا جانا چاہیے نہ کہ اندھا دھند ٹیکس نوٹس جاری کرنے یا جبر پر مبنی وصولی کی کارروائیوں کیلئے۔ آخر میں‘ آئندہ کسی بھی ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کو اخراجات میں ساختی اصلاحات سے واضح طور پر منسلک کیا جانا چاہیے۔ یہ اخراجات کیسے کم کیے جائیں اس موضوع پر ان کالموں میں کئی مرتبہ بات کی جا چکی ہے۔درج بالا تجویز کردہ ٹیکس اقدامات اور سرکاری اخراجات کو معقول بنانے کی کوششوں کا نتیجہ درمیانی مدت میں محاصل میں کمی کا باعث نہیں بنے گا کیونکہ اس سے ٹیکس دہندگان کا اعتماد بحال ہو گا جس کے نتیجہ میں قوانین کی پابندی‘ سرمایہ کاری اور دستاویزی لین دین کے حجم میں اضافہ ہو گا۔ پاکستان کا ٹیکس نظام ناکارہ ہو چکا ہے لیکن اس کی وجہ یہ نہیں کہ وہ اپنی معیشت کے حجم کے اعتبار سے غیرمعمولی حد تک کم ٹیکس وصول کرتا ہے۔ اس کی اصل خرابی یہ ہے کہ یہ نسبتاً محدود مجموعی محاصل جمع کرتا ہے۔ اس نظام کی خصوصیات میں بلند ٹیکس شرحیں‘ محدود رسمی ٹیکس بنیاد‘ دستاویزی معیشت کے ساتھ سخت اور تعزیری سلوک‘ لین دین پر ناقابلِ ایڈجسٹ محصولات (لیوی) پر بھاری انحصار‘ غیر متوقع ریگولیشنز اور ٹیکس دہندگان کو فراہم کی جانے والی غیرمعیاری خدمات شامل ہیں۔ جبر پر مبنی ٹیکس وصولی کا نظام ختم کرکے وسیع البنیاد اور کم شرح والا‘ شفاف اور قابلِ پیش گوئی ٹیکس ڈھانچہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سرکاری اخراجات میں بامعنی اصلاحات نافذ کر کے پاکستان ٹیکس دہندگان کا اعتماد بحال کر سکتا ہے اور یوں رسمی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کر سکتا ہے‘ دستاویزی تجارت کو وسعت دے سکتا ہے اور محاصل میں پائیدار اضافہ یقینی بنا سکتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_78012569.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>برکس سمٹ، بھارتی ایجنڈے کی ناکامی(رشید صافی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-09-15/52668/87622479</link><pubDate>Tue, 15 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-09-15/52668/87622479</guid><description>بھارت میں منعقد ہونے والا حالیہ برکس سربراہی اجلاس ایک ایسے وقت میں منعقد ہوا جب مشرقِ وسطیٰ کا تنازع اور عالمی معاشی عدم استحکام دنیا کو درپیش اہم ترین چیلنجز بن چکے ہیں۔ سنگین عالمی بحرانوں کے دوران جب کثیر جہتی فورمز منعقد ہوتے ہیں تو دنیا بھر کی نظریں ان پر ٹکی ہوتی ہیں کہ وہاں سے مسائل کے حل کیلئے کوئی ٹھوس پیشرفت سامنے آئے گی۔ بین الاقوامی برادری کو توقع ہوتی ہے کہ ایسے کثیر جہتی اجلاس انسانیت کو درپیش چیلنجز سے نکالنے کا راستہ فراہم کریں گے۔ برکس اجلاس سے بھی یہی امید وابستہ تھی کہ یہ پلیٹ فارم عالمی کشیدگی کو کم کرنے میں فعال کردار ادا کرے گا۔ اجلاس کے میزبان ملک ہونے کے ناتے بھارت کے پاس یہ موقع تھا کہ وہ کثیر جہتی سفارت کاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے عالمی اور علاقائی مسائل کے حل میں کلیدی کردار ادا کرتا‘ تاہم نئی دہلی کی موجودہ قیادت نے اس بین الاقوامی فورم کو اپنے سیاسی مقاصد اور پاکستان مخالف روایتی بیانیے کو فروغ دینے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی۔ بھارت کا یہ طرزِ عمل اس کی تنگ نظر خارجہ پالیسی کو ظاہر کرتا اور یہ نشاندہی کرتا ہے کہ وہ گلوبل ساؤتھ کے اجتماعات میں وسیع تر مفادات کی نمائندگی سے دور ہو رہا ہے۔ اجلاس کے دوران بھارتی انتظامیہ اور میڈیا کی توجہ بنیادی عالمی موضوعات سے ہٹ کر پاکستان کو ہدف بنانے پر مرکوز رہی۔ بھارت نے گزشتہ برس مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہونے والے واقعے کو پاکستان سے جوڑنے اور برکس کے پلیٹ فارم کے ذریعے اسلام آباد پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کی‘ لیکن عالمی برادری اور برکس کے رکن ممالک نے بھارتی مؤقف سے اتفاق نہیں کیا۔ بیجنگ اور ماسکو سمیت دیگر ارکان کا فریم ورک یہ واضح کرتا ہے کہ اس کثیر جہتی پلیٹ فارم کو کسی ایک ملک کے دوطرفہ یا علاقائی تنازعات کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ فورم کی توجہ عالمی اہمیت کے چیلنجز پر قائم رہی‘ جس کے باعث بھارت کا یہ مؤقف بین الاقوامی سطح پر پذیرائی حاصل نہ کر سکا۔ بھارتی بیانیے کو اس وقت سفارتی پسپائی کا سامنا کرنا پڑا جب ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم نے بھارتی میڈیا کے پیش کردہ مؤقف کی تصدیق سے انکار کر دیا۔ بھارتی ٹی وی چینل این ڈی ٹی وی کے اینکر نے جب ایک انٹرویو کے دوران مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کا موازنہ مقبوضہ کشمیر اور پہلگام واقعے سے کرتے ہوئے پاکستان پر الزام تراشی کی کوشش کی تو وزیراعظم انور ابراہیم نے اس مفروضے کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کے برعکس انہوں نے کہا کہ پہلگام واقعے میں پاکستان کی شمولیت کے حوالے سے کوئی مصدقہ انٹیلی جنس شواہد موجود نہیں ہیں۔ انہوں نے غزہ کی صورتحال پر اپنے اصول پسندانہ مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے بھارتی میڈیا کی طر ف سے غزہ کے معاملے کو زبردستی پہلگام سے جوڑنے کو رد کر دیا۔ برکس سربراہی اجلاس کے اختتام پر جاری ہونے والا مشترکہ اعلامیہ بھی بھارت کی خواہشات کے برعکس سامنے آیا۔ اعلامیے میں دہشت گردی‘ اس کی مالی معاونت اور محفوظ پناہ گاہوں کے خاتمے کیلئے مشترکہ عزم کا اظہار کیا گیا‘ لیکن اس کے ساتھ یہ اصولی نکتہ شامل کیا گیا کہ دہشت گردی کو کسی بھی مخصوص مذہب‘ قومیت‘ یا نسلی گروہ کے ساتھ منسلک نہیں کیا جا سکتا۔ یہ شق کسی بھی ملک کی جانب سے کسی مخصوص مذہب یا خطے کو نشانہ بنانے کی کوششوں کی نفی کرتی ہے۔ اعلامیے کے اس انداز نے یہ ظاہر کیا کہ برکس بلاک انفرادی سکیورٹی ایجنڈوں کے مقابلے میں زیادہ جامع اور متوازن نقطہ نظر رکھتا ہے۔  برکس سربراہی اجلاس میں چین کے صدر شی جن پنگ مرکزِ نگاہ بنے رہے۔ چینی صدر نے برکس اجلاس کے دوران نتائج پر مبنی سفارت کاری کا مظاہرہ کیا۔ چینی صدر نے مشرقِ وسطیٰ میں فوری‘ جامع اور پائیدار جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے 11 رکن ممالک کے سامنے یہ مؤقف رکھا کہ مسلح تنازعات کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں ہیں اور متعلقہ فریقوں کو سیاسی مذاکرات کے ذریعے حل کی طرف بڑھنا چاہیے۔ چینی سفارت کاری کی بدولت برکس ارکان نے 1967ء کی سرحدوں پر مبنی ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کی‘ جس کا دارالحکومت مقبوضہ بیت المقدس ہو۔ اس کے علاوہ فلسطینی ریاست کو اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت دینے کا مطالبہ بھی مشترکہ اعلامیے کا حصہ بنا۔ چینی صدر نے کانفرنس میں چین کا اصولی مؤقف پیش کیا اور طے شدہ شیڈول کے مطابق اگلی سفارتی مصروفیت کیلئے روانہ ہو گئے۔ چینی صدر کا طرزِ عمل اعلیٰ سفارت کاری اور نمائشی سیاست کے درمیان واضح فرق کو ظاہر کرتا ہے۔ چینی قیادت نے مذاکراتی میز پر ٹھوس پیش رفت حاصل کی جبکہ بھارتی قیادت کی توجہ کا مرکز تصویری اور میڈیا کوریج تک محدود رہا۔موجودہ دور میں بھارت کی خارجہ پالیسی بعض بنیادی تضادات کی نشاندہی کرتی ہے۔ برکس کا بانی رکن ہونے کے باوجود بھارت کا چین کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی اور مغربی ممالک کی جانب جھکاؤ اس پلیٹ فارم کے اندر ہم آہنگی کو متاثر کرتا ہے۔ بھارت ایک طرف گلوبل ساؤتھ کی نمائندگی کا دعویدار ہے تو دوسری طرف روس کے ساتھ تجارتی تعلقات میں بھی مغربی پابندیوں اور استثنا کے فریم ورک کو مدنظر رکھتا ہے۔ اس پالیسی کے نتیجے میں بھارت کا مؤقف کثیر جہتی فورمز پر خود مختاری کے حوالے سے سوالات پیدا کرتا ہے۔بھارت علاقائی رقابت سے بالاتر ہو کر مثبت تعاون کی راہ اختیار کرتا تو خطے کا معاشی منظر نامہ مختلف ہو سکتا تھا۔ چین‘ روس‘ ایران‘ عرب ممالک‘ پاکستان اور بھارت اگر ایک نقطے پر مشترکہ معاشی و سفارتی فریم ورک تشکیل دیتے تو یہ ایشیا اور گلوبل ساؤتھ کے لیے اہم معاشی و سیاسی پیش رفت کا ذریعہ بن سکتا تھا۔ لیکن بھارت کی موجودہ سیاسی ترجیحات اور تنگ نظری کے باعث کثیر جہتی تعاون کے بڑے مواقع محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔خارجہ پالیسی کی کامیابی کا انحصار تشہیری مہمات یا تصویری مقابلوں پر نہیں ہوتا۔ اصل پیمانہ یہ ہے کہ کوئی ملک مذاکراتی میز پر اپنے اور خطے کے مفادات کیلئے کیا حاصل کرتا ہے۔ بھارت نے اس اجلاس کے ذریعے اپنے ہمسایہ ممالک کے خلاف جو بیانیہ قائم کرنے کی کوشش کی اسے پذیرائی حاصل نہ ہو سکی۔ دوسری طرف چین نے اپنی متوازن سفارت کاری کے ذریعے برکس کی اہمیت اور اس بلاک میں اپنے مؤثر کردار کو برقرار رکھا۔ برکس سربراہی اجلاس اس بات کا ثبوت ہے کہ آئندہ دور انہی ریاستوں کا ہو گا جو علاقائی و عالمی بحرانوں میں سیاسی پختگی‘ معاشی وژن اور نتائج پر مبنی حکمت عملی پیش کریں گی۔ بھارت کو اگر عالمی فورمز پر اپنا مؤقف تسلیم کرانا ہے تو اسے ہمسایوں کے ساتھ کشیدگی کی پالیسی ترک کر کے گلوبل ساؤتھ کے حقیقی اہداف پر توجہ دینا ہو گی‘ ورنہ تاریخ کا دھارا تو کثیر جہتی تعاون کے ساتھ آگے بڑھتا رہے گا اور منفی ایجنڈے کے حامل ممالک عالمی دھارے سے کٹ کر رہ جائیں گے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/222_48272610.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے(حافظ محمد ادریس)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/hafiz-muhammad-idreess/2026-09-15/52669/51670240</link><pubDate>Tue, 15 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/hafiz-muhammad-idreess/2026-09-15/52669/51670240</guid><description>پنجاب یونیورسٹی میں دوبارہ الیکشن کا ہنگامہ شروع ہو گیا تھا۔ 1971ء کے اس الیکشن میں بھی مخالف فریق کی طرف سے جہانگیر بدر مرحوم کو دوبارہ صدارتی امیدوار کے طور پر نامزد کیا گیا۔ اب ملک میں پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہو رہی تھی اور ہمارے مخالفین کے درمیان ہر شخص یہ امید کر رہا تھا کہ یہ میدان حکومتی نمائندے مار لیں گے۔ کئی دنوں کی صبرآزما اور کٹھن انتخابی مہم کے بعد انتخابات ہوئے تو اسلامی جمعیت طلبہ کا پورا پینل جیت گیا۔ میری ذمہ داری خصوصی طور پر سیکرٹری کے امیدوار‘ جناب جاوید ہاشمی کی مہم کو منظم کرنا اور ان کے حق میں فضا پیدا کرنا تھی۔ الحمدللہ! اس مرتبہ پہلے سے بھی زیادہ مارجن کے ساتھ اسلامی جمعیت طلبہ نے کامیابی حاصل کی۔جہانگیر بدر صاحب کے لیے پہلی شکست بھی ایک منفی تاثر پیدا کرتی تھی‘ نیز حفیظ خان کے خلاف ایک سال پیشتر جو سازش ہوئی تھی‘ اس نے ان کے حق میں مثبت تاثر پیدا کر کے طلبہ و طالبات کے درمیان ان کی مقبولیت کو مزید بڑھا دیا۔ وہ پہلے بھی بہت مقبول طالب علم لیڈر شمار ہوتے تھے۔ ان کا پورا پینل شاندار کامیابی کے ساتھ سرخرو ہوا اور مخالف بری طرح پٹ گئے۔ ہماری معلومات کے مطابق بھٹو صاحب کو بھی ان نتائج سے خاصی مایوسی ہوئی اور انہوں نے اپنی ٹیم کی خوب کلاس لی۔ گزشتہ انتخابات میں افتخار تاری کے ساتھ پیپلزپارٹی کی ایک ٹیم سرگرم عمل رہی تھی مگر اس سال تو بہت سے حکومتی کارندے بھی اس خدمت میں لگے ہوئے تھے۔ انتخابی نتائج کا اعلان ہونے پر مجھے تمام دوستوں اور سیاسی حامیوں نے بہت مبارکباد دی۔ میں انتخابات کے بعد گائوں چلا گیا اور وہاں جماعت اسلامی کی رکنیت کے لیے درخواست دی جو جلد منظور ہو گئی۔ اب ضلعی جماعت نے مجھ سے مطالبہ کیا کہ میں ضلعی دفتر میں ذمہ داریاں سنبھالوں۔ میں نے معذرت کی مگر والد صاحب نے حکم دیا کہ قیادت کی تجویز پر عمل کرو۔ اس وقت ضلع کے امیر شیخ ظہور احمد مرحوم تھے۔ سابق امیر ضلع چودھری سلطان احمد ناظم مالیات اور ملک محمد شریف قیم تھے۔ ان کے ساتھ قاضی محمد شریف نائب قیم کے طور پر سرگرمِ عمل تھے۔ ان تمام احباب کے حالاتِ زندگی عزیمت کے راہی میں محفوظ کیے گئے ہیں۔اسی عرصے میں 16دسمبر 1971ء کو پاکستان کی تاریخ کا وہ دردناک ترین سانحہ رونما ہوا جسے آج تک بھی بھلایا نہیں جا سکا۔ بھارتی فوجیں مشرقی پاکستان میں پاکستانی فوجوں کے مقابلے پر مکتی باہنی (عوامی لیگ کے مسلح گروپ) کے ساتھ مل کر جنگ لڑ رہی تھیں۔ اس جنگ میں پاکستان کی بقا کے لیے البدر اور الشمس کے رضاکار نوجوانوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے۔ ان کی قربانیوں کے باوجود بدقسمتی سے مغربی پاکستان سے رابطہ کمزور ہو جانے کی وجہ سے ہماری فوج بے بس ہو گئی اور بالآخر 16دسمبر 1971ء کا منحوس دن آ گیا۔ قومی تاریخ کا یہ دردناک ترین لمحہ تھا۔ اس کے نتیجے میں پاکستان کے ہزاروں فوجی اور سویلینز‘ جن کا تعلق مغربی پاکستان سے تھا‘ بھارت کے جنگی قیدی بن گئے۔ البدر اور الشمس کے رضاکار قتل عام کا شکار ہوئے۔ ہر جانب ان کی لاشیں بکھر گئیں اور ان کے خاندانوں کو بھی بدترین انتقام کا نشانہ بنایا گیا۔البدر اور الشمس کے نوجوان اسلامی جمعیت طلبہ (اسلامی چھاترو شنگھو) کے تربیت یافتہ تھے اور اسلامی جمعیت طلبہ کے تمام مرکزی‘ صوبائی اور علاقائی رہنمائوں سے میرے ذاتی روابط اور تعلقات رہے تھے۔ اُس دن پوری پاکستانی قوم غم سے نڈھال تھی مگر تحریک اسلامی کے کارکنان اور قائدین کے دلوں پر تو مسلسل آرے چل رہے تھے۔ اُس روز میں اپنے گائوں میں تھا۔ دن بھر میں ایک کمرے میں بیٹھا مختلف مناظر کو یاد کر کے روتا رہا۔ کسی وقت قرآن پاک کی تلاوت کرتے اور اپنے بھائیوں کے لیے اللہ سے دعائیں کرتے کرتے آنکھ لگ جاتی مگر کیفیت یہ تھی کہ آنکھ لگنے کے بعد بھی دردناک مناظر آنکھوں کے سامنے بار بار آتے اور آنکھ کھل جاتی۔ ہمارے گھر کے سب لوگ پریشان تھے۔ یہ جمعرات کا دن تھا۔ جیسے کیسے دن گزرا اور رات آئی تو وہ رات بھی بڑی بھاری تھی۔ ایک ایک لمحہ پہاڑ معلوم ہوتا تھا۔اگلے روز جمعۃ المبارک کے لیے تیاری کی ۔ ہینڈ پمپ کے تازہ پانی سے غسل کیا۔ کوئی چیز کھانے کو جی نہیں چاہ رہا تھا۔ پھوپھی جان اور والدہ محترمہ کے پیار اور محبت کے طفیل بادلِ نخواستہ معمولی سا ناشتہ کیا اور دھوپ میں بیٹھ کر خیالات میں گم ہو گیا۔ میرے بہن بھائی سبھی بہت پریشان ہوئے۔ مسجد سے اذان کی آواز آئی تو تجدیدِ وضو کے بعد مسجد چلا گیا۔ کچھ نمازی آ چکے تھے اور مزید آ رہے تھے۔ تھوڑی دیر کے بعد تایا جان مرحوم نے کہا: ادریس! اٹھو وقت ہو گیا ہے‘ تقریر کرو اور پھر خطبہ دے کر جمعہ پڑھائو۔ میں بے سوچے سمجھے ان کے حکم پر اُٹھ کر منبر پر بیٹھ تو گیا مگر خطبۂ مسنونہ کے چند الفاظ ادا کیے تو میری زبان رک گئی اور آنکھوںسے آنسو نکل آئے۔ میرے لیے مزید ایک لفظ کہنا بھی محال ہو گیا۔ ایک منٹ یونہی گزر گیا۔ سب نمازی حیران تھے‘ اسی اثنا میں تایا جان اپنی جگہ سے اُٹھ کر آئے اور محبت سے مجھے اشارہ کیا کہ میں منبر سے نیچے اتر جائوں۔ میں غم کے سمندر میں مسلسل غوطے کھا رہا تھا۔ تایا جان شفقت کے ساتھ میری طرف دیکھ رہے تھے۔ پھر انہوں نے خطاب کیا اور اس میں مشرقی پاکستان میں ہونے والے مظالم‘ تحریک اسلامی کی قربانیوں اور آنے والے وقت کے خطرات پر روشنی ڈالی۔ ان کے خطاب کے دوران میں اپنی گرم چادر اوڑھے رو رہا تھا۔ میری چادر اشکوں سے بھیگ گئی تھی۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو سب نمازی مجھ سے ملنے لگے اور ہر ایک مجھے تسلی دینے لگا۔ بزرگ میرے سر پہ بار بار ہاتھ پھیرتے اور نوجوان مجھے گلے لگا کر میرے ساتھ روتے رہے۔ ایک نمازی بابا محمد علی ٹھیکیدار تھے‘ وہ میرے ساتھ اس وقت سفر کرتے تھے جبکہ میں اپنی سائیکل پر سکول کی طرف جا رہا ہوتا اور وہ اپنی سائیکل پر ٹھیکیداری کے لیے نہری بنگلے کی طرف رواں دواں ہوتے۔ دوستی اس زمانے میں ہی ہو گئی تھی مگر بعد میں تو بہت ہی زیادہ قریبی تعلق قائم ہو گیا۔ وہ بار بار تایا جان سے پوچھتے: حافظ جی! یہ ادریس کو کیا ہو گیا ہے؟ اس طرح تو کبھی پہلے اس کی حالت نہیں دیکھی۔ تایا جان نے انہیں بتایا کہ مشرقی پاکستان میں جو کچھ ہوا ہے‘ اس کے نتیجے میں اس کے ہزاروں بنگالی ساتھی جن سے اس کا قریبی تعلق ہے‘ مصیبت اور امتحان میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ نجانے کتنے شہید ہو گئے اور کتنے ظلم کی چکی میں‘ جیلوں میں پس رہے ہیں۔ ان محبوب تحریکی دوستوں کو یاد کر کے اس کی یہ کیفیت ہوئی ہے۔ اُن دنوں کی یادیں اب بھی دل کو تڑپا دیتی ہیں۔عبدالمالک شہید کے بعد کتنے ہی ساتھی شہادت کی وادی میں اُتر گئے۔ شاہ جمال چودھری‘ مصطفی شوکت عمران‘ محمد یونس‘ مطیع الرحمان نظامی‘ معین الدین چودھری‘ غلام سرور۔ جماعت اسلامی کے تمام قائدین جو بعد میں پھانسی کے پھندے پر لٹکائے گئے‘ یہ سبھی شہدا اور غازیان بار بار آنکھوں کے سامنے آ جاتے ہیں!! اللہ سب کے درجات بلند فرمائے۔ظلم کی دیوی حسینہ واجد کو اللہ نے بالآخر اقتدار سے محروم کر کے جس ذلت و رسوائی سے دوچار کیا ہے‘ دنیا بھر کے ظالم اس سے عبرت حاصل کریں۔ مگر ہماری ایسی سوچ ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے &#39;&#39;ایں خیال است و محال است و جنوں‘‘۔ ہر ظالم سمجھتا ہے کہ میرا قلعہ مضبوط ہے مگر مالکِ حقیقی کا حکم آ جائے تو کہیں پناہ نہیں ملتی!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_24721193.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>