<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>مہنگائی اور غذائی بحران کا بڑھتا خطرہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-24/11481</link><pubDate>Mon, 24 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-24/11481</guid><description>ملکِ عزیز کی آبادی پچھلے 76 برس میں 3.7 کروڑ سے بڑھ کر 25.9 کروڑ تک پہنچ چکی ہے اور اس میں 2.5 فیصد کی شرح سے اضافہ ہو رہا ہے۔ بڑی آبادی کیلئے جو سب سے بڑے چیلنجز ہیں ان میں خوراک کا مسئلہ سرفہرست آتا ہے۔ پاکستان میں خوراک کا مسئلہ صرف یہ نہیں کہ ملک میں گندم‘ چاول‘ سبزیاں اور دیگر اشیائے خور ونوش کافی مقدار میں پیدا ہوتی ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہر شہری کو مناسب مقدار میں محفوظ‘ معیاری اور غذائیت سے بھرپور خوراک خریدنے کی استطاعت حاصل ہے؟ بدقسمتی سے اس سوال کا جواب نفی میں ہے۔ مہنگائی‘ غربت‘ بیروزگاری اور کم آمدنی نے لاکھوں خاندانوں کیلئے خوراک تک رسائی مشکل بنا دی ہے۔ ملک میں خوراک کی قیمتوں میں گزشتہ چند برسوں کے دوران آنے والے بڑے اتار چڑھاؤ نے کم آمدنی والے طبقے کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔ ورلڈ بینک کے مطابق پاکستان میں غریب گھرانوں کی تقریباً 45 فیصد آمدنی خوراک پر خرچ ہو جاتی ہے؛ چنانچہ جب آٹا‘ چاول‘ دالیں‘ دودھ‘ گوشت‘ سبزیاں اور دیگر ضروری اشیا مہنگی ہوتی ہیں تو کم آمدنی والے گھروں کے پاس تعلیم‘ صحت اور دیگر ضروریات کیلئے بہت کم رقم بچتی ہے۔

ورلڈ بینک کے مطابق پاکستان کی 48 فیصد آبادی عالمی خط غربت (4.2 ڈالر یومیہ آمدنی) سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ یہ اعداد وشمار واضح کرتے ہیں کہ صرف خوراک کی پیداوار بڑھانا کافی نہیں عوام کی قوتِ خرید ہونا بھی ضروری ہے۔ خوراک کی عدم دستیابی یا ناقص غذا کا سب سے خطرناک اثر بچوں پر پڑ رہا ہے۔ ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق پاکستان میں پانچ سال سے کم عمر بچوں میں 40 فیصد سٹنٹنگ کا شکار ہیں۔ سٹنٹنگ محض قد چھوٹا رہ جانے کا نام نہیں بلکہ ذہانت پر بھی اس کے قابل ذکر اثرات ہوتے ہیں اور سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ تقریباً ابتدائی تین سال کے بعد سٹنٹنگ کے اثرات کی تلافی ممکن نہیں رہتی۔ اس کے علاوہ سوکڑے کی شرح پاکستان میں 17.7 فیصدریکارڈ کی گئی ہے جبکہ ڈبلیو ایچ او کے مطابق ایمرجنسی کی حد 15 فیصد ہے۔ زندگی کے ابتدائی ہزار دنوں میں مناسب غذا نہ ملنے سے بچے کی جسمانی اور ذہنی نشوونما پر جو اثرات مرتب ہوتے ہیں وہ تاعمر ختم نہیں ہو پاتے۔ اس کا اثر ان کی تعلیمی کارکردگی‘ کام کرنے کی صلاحیت اور مستقبل کی آمدنی پر بھی پڑتا ہے۔
یوں آج کا غذائی بحران کل کے انسانی سرمائے کے بحران میں تبدیل ہوتا ہے۔ اس صورتحال کا ایک اہم پہلو خوراک کی کمی ہے۔ تازہ آئی پی سی جائزے کے مطابق دسمبر 2025ء سے مارچ 2026ء کے دوران تقریباً 75 لاکھ افراد شدید غذائی عدم تحفظ کی بدتر سطح پر تھے‘ جن میں تقریباً سوا لاکھ افراد ایمرجنسی مرحلے میں تھے۔ معاشی اسباب کے علاوہ سیلاب‘ خشک سالی‘ گرمی کی لہریں اور دیگر موسمیاتی چیلنجز بھی خوراک کی صورتحال پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔ اس بحران کا حل صرف سبسڈی یا چند دنوں کیلئے سستا آٹا فراہم کرنا نہیں بلکہ حکومت کو ایک جامع قومی فوڈ سکیورٹی پالیسی بنانا ہو گی۔ سب سے پہلے کم آمدنی والے خاندانوں کیلئے غذائی تحفظ کے پروگرام شروع کرنے کی ضرورت ہے ‘ ایسے پروگرام جو بچوں کی کم خوراکی کے مسائل کا ازالہ کر سکیں۔ دوسرے‘ زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی‘ بہتر بیج اور ذخیرہ کرنے کی سہولتوں کی ضرورت ہے تاکہ خوراک کی پیداوار بڑھائی جا سکے۔
خوراک کی مہنگائی یا کمی کو محض زرعی پیداوار کا مسئلہ سمجھنے کے بجائے قومی سلامتی‘ انسانی ترقی اور معاشی پالیسی کا مرکزی حصہ بنانا ہو گا۔ سستی خوراک‘ بہتر آمدنی‘ مضبوط سماجی تحفظ‘ جدید زراعت اور بچوں کی غذائیت پر مسلسل سرمایہ کاری ہی اس بحران کا پائیدار حل ہے۔ اگر آج ہم بچوں کی خوراک اور غذائیت کو نظر انداز کریں گے تو آنے والی نسلیں کمزور صحت‘ کم تعلیم اور کم پیداواری صلاحیت کی صورت میں اس غفلت کی قیمت ادا کریں گی۔ </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>روٹی بھی مہنگی(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-24/11480</link><pubDate>Mon, 24 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-24/11480</guid><description>پاکستان ایک زرعی ملک ہے لیکن انتظامی غفلت کے سبب عوام اکثر و بیشتر بنیادی اشیائے خور ونوش کیلئے بھی ترس جاتے ہیں۔ حالیہ دنوں پنجاب میں تنور مالکان کی جانب سے روٹی کی قیمت میں ازخود اضافہ کر کے نرخ 25 روپے کر دیے گئے ہیں۔ صوبائی حکومت کی جانب سے روٹی کا ریٹ 14 روپے مقرر ہے لیکن مارکیٹ میں یہ ہر جگہ 20 سے 25 روپے میں مل رہی ہے اور انتظامیہ طے کردہ نرخوں پر عمل درآمد کرانے میں ناکام نظر آتی ہے۔ ایسے وقت میں جب عوام پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں‘ دو وقت کی روٹی تک رسائی بھی اب مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ اس معاملے کا ایک افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ملک میں اس سال گندم کی بھرپور پیداوار ہوئی مگر گندم خریدنے کے حکومتی عمل میں تساہل اور بدلتی پالیسیوں کے باعث ذخیرہ اندوزوں کو فعال ہونے کا موقع مل گیا۔

جب تک گندم کی فراہمی کے پورے نظام اور سپلائی چین کو درست اور کسان سے لے کر تنور تک آٹے کی قیمت کو مستحکم نہیں کیا جاتا تب تک عوام کو سستی روٹی فراہم نہیں کیا جا سکتی۔ اسی طرح بیشتر تنور ایل پی جی استعمال کرتے ہیں اوراس کے مارکیٹ نرخ بھی حکومتی نرخوں سے تقریباً دگنے ہیں۔ لہٰذا حکومت کو سب سے پہلے ان وجوہات کا تدارک کرنا چاہیے جو روٹی کو ناقابلِ رسا بنانے کی ذمہ دار ہیں۔ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کارروائی کے ساتھ ساتھ تنوروں کو آٹے اور گیس کی مقررہ نرخوں پر فراہمی بھی یقینی بنائی جانی چاہیے تاکہ روٹی کی قیمت میں توازن اور استحکام آ سکے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بارشیں اور انتظامی نقائص(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-24/11479</link><pubDate>Mon, 24 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-24/11479</guid><description>ملک بھر میں مون سون بارشوں کا سلسلہ ہے۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق گزشتہ دو ماہ سے جاری مون سون بارشوں اور متعلقہ حادثات میں160 سے زائد افراد جاں بحق جبکہ سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کابینہ کو متاثرہ علاقوں کے ہنگامی دورے کرنے اور متاثرین کی فوری امداد اور بجلی و سڑکوں کے نظام کی بحالی کی ہدایات تو کی ہیں مگر اعلیٰ سطحی احکامات اور زمینی انتظامات میں گہرا تضاد دیکھنے کو مل رہا ہے۔ اس انتظامی غفلت کا سب سے بڑا ثبوت اسلام آباد اور راولپنڈی ہے‘ جہاں گزشتہ ایک ہفتے سے جاری بارشوں کے دوران متعدد علاقے زیر آب آ گئے اور چند گھنٹوں کی بارش نے جڑواں شہروں کے مواصلاتی نظام کو مفلوج کر کے رکھ دیا۔

یہ صورتحال اس لیے زیادہ تشویشناک ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے ہائی الرٹ اور شہری سیلابوں کی پیشگی وارننگز کے باوجود کوئی ٹھوس انتظامی پلان دیکھنے میں نہیں آیا۔ اس تناظر میں دور دراز کے پسماندہ اضلاع کی صورتحال کا اندازہ لگانا مشکل نہیں‘ جہاں چھ سو ٹن سے زائد امدادی سامان پہنچانے کے دعوے تو کیے جا رہے لیکن اب بھی ہزاروں خاندان بنیادی ضروریات سے محروم ہیں۔ حکومت کو اب روایتی اقدامات سے باہر نکلنا ہو گا۔ جب تک نکاسی آب کے فرسودہ نظام کو درست نہیں کیا جاتا بارشوں سے ہونے والے جانی و مالی نقصان کی روک تھام ممکن نہیں۔ </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>صحت اور سیاست(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-08-24/52538/47585325</link><pubDate>Mon, 24 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-08-24/52538/47585325</guid><description>یہ اچھی خبر ہے کہ عمران خان صاحب تندرست و توانا ہیں۔ اُن کی ایک آنکھ کو جو بیماری لاحق ہوئی تھی‘ وہ بھی تدریجاً رخصت ہو رہی ہے۔ ایک انجکشن اور لگے گا اور وہ بھی پوری طرح درست ہو جائے گی۔ الحمدللہ۔یہ خبر ہم نے اُن کی بہن کی زبان سے سنی جو خود بھی ڈاکٹر ہیں۔ انہوں نے جس مسرت کے ساتھ یہ خبر سنائی اس نے خان صاحب کی صحت کے بارے میں پھیلی افواہوں کا خاتمہ کر دیا۔ اگر حکومتی ترجمان یہ کہتا تو قیل و قال کی گنجائش پیدا ہو سکتی تھی۔ مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی۔ اس سے بھی یہ بھی معلوم ہوا کہ انہیں جیل میں علاج کی سہولت میسر ہے۔ صحت کے مسائل کو انسانی نظر سے دیکھنا چاہیے‘ سیاست کی نظر سے نہیں۔ ڈاکٹر عظمٰی صاحبہ کی گفتگو سے یہ بھی واضح ہو گیا کہ عمران خان صاحب کی صحت کے بارے میں بے پر کی اڑائی جا رہی تھی۔ کسی نے انہیں مار دیا۔ کسی نے اندھا بنا دیا۔ اور کچھ نے تو ایسا زہر کھلانے کا شوشہ بھی چھوڑ دیا جو دھیرے دھیرے اثر کرتا ہے۔ فشارِ خون کا متوازن ہونا بتا رہا ہے کہ یہ بھی ایک افسانہ تھا‘ دیگر افسانوں کی طرح۔ اب لازم ہے کہ سیاست کو صحت سے الگ کر کے دیکھا جائے۔سیاست کی باگ ہم نے تہذیب‘ نظریات اور اقدار کے ہاتھ سے لے کر جذبات کے ہاتھ میں تھما دی۔ جذبات بھی ایسے جو کسی قدر کو خاطر میں نہیں لاتے۔ اس کا حتمی نتیجہ ہمارے سامنے آ چکا۔ ہماری سیاست اب اصولی اختلاف نہیں‘ ذاتیات کی اسیر ہو گئی ہے۔ ایک دوسرے کی ذات کو زیر بحث لانا‘ ذاتی اخلاقیات کو موضوع بنانا‘ پست زبان کا استعمال‘ جھوٹی کہانیوں کا انتساب‘ یہ سب اس بازارِ سیاست کا مال ہے۔ اس کے علاوہ اس دکان پر اب شاید ہی کچھ مل سکے۔ کچھ وقت پہلے‘ صرف ایک جماعت کی اس پر اجارہ داری تھی۔ اس کی برتری آج بھی موجود ہے کہ اس فن میں اس کا کوئی حریف پیدا نہیں ہو سکا۔ لیکن اتنی تبدیلی اب ضرور آ گئی ہے کہ وہ بلامقابلہ جیت نہیں سکتی۔ دوسری جماعتیں بھی حسب توفیق اپنے فن کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ اور تو اور مذہبی جماعتوں کے کارکن بھی اب کم نہیں۔ ذرا مولانا فضل الرحمن اور حافظ نعیم الرحمن صاحب یا ان کی جماعتوں کے بارے میں کچھ کہہ کر دیکھیں۔ سوشل میڈیا کے اکاؤنٹس پر لفظوں سے جو نقش ونگار بنیں گے ‘ آپ تنہائی میں بھی دیکھیں تو خود سے شرمندہ ہوں۔سیاستدان بھی بیمار ہوتے ہیں۔ انہیں علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر سیاست کو ذاتیات سے جدا رکھا جائے تو کوئی معقول آدمی اس کا انکار نہیں کر سکتا۔ اگر وہ قیدی ہیں تو بھی اس حق سے محروم نہیں ۔ اگر ہم سیاست اور علاج کو الگ کر سکیں تو اس معاملے میں کسی نزاع کا پیدا ہونا غیر ضروری ہے۔ لوگ نواز شریف صاحب اور خان صاحب کی صحت کا موازنہ بھی کر رہے ہیں۔ نواز شریف صاحب کی علالت و بیماری ایک مانی ہوئی بات ہے۔ ان کے چہرے پر لکھا ہے۔ یہی معاملہ زرداری صاحب کا بھی ہے۔ انہیں دیکھ کر کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ صحت مند ہیں۔ نواز شریف صاحب کا جب علاج ہوا تو وہ ان کی ضرورت تھی۔ عمران خان ماشاء اللہ ہمیشہ صحت مند رہے ہیں۔ عمر بھر صحت ان کی پہلی ترجیح رہی۔ سیاست کے مصروف ترین دنوں میں بھی انہوں نے اپنی ورزش کبھی قضا نہیں کی۔ صحت کے ساتھ‘ وہ خوراک کے معاملے میں بھی بہت محتاط ہیں۔ اسی لائف سٹائل کی وجہ سے وہ بیماریوں سے محفوظ رہے۔ انہیں کچھ روحانی عوارض ضرور لاحق ہوئے لیکن اس وقت میں اپنی بات جسمانی صحت کی حد تک محدود رکھنا چاہتا ہوں۔ جسمانی بیماریوں کے حوالے سے ان کی کوئی تاریخ نہیں۔ تاہم جو آدمی کل بیمار نہیں تھا‘ لازم نہیں کہ آج بھی بیمار نہ ہو۔ اگر کوئی ایسی علامت ہے تو ڈاکٹر سے مشورہ لازم ہے۔ یہ بات بہت اہم نہیں ہے کہ ان کا علاج کہاں ہوتا ہے۔ اگر ڈاکٹروں کی ٹیم مستند ہے اور اس میں ان کا اپنا طبیب بھی شامل ہو جاتا ہے تو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔عمران خان صاحب کے مسائل نفسیاتی ہیں۔ ان کے اثرات ان کے جسم پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ انہیں اخبار اور ٹی وی کی سہولت میسر نہیں۔ ملاقاتوں پر بھی پابندی ہے۔ اس پابندی کو کئی دن ہو گئے ہیں۔ اس سے ان کا متاثر ہونا فطری ہے۔ پھر ان پر فرسٹریشن کا غلبہ ہے کہ ان کی سیاسی جماعت اور ایک صوبائی حکومت بانجھ ثابت ہوئی۔ وہ انہیں رہا کرانے کے لیے حکومت پر دباؤ نہیں ڈال سکے۔ رہائی کے معاملے میں وہ بے بسی کی تصویر ہیں۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ان کا جسم اس کے اثرات سے محروم رہے۔ یہ تو ان کا لائف سٹائل کام آیا اور ان کے جسم نے ان نفسیاتی مسائل سے بہت کم اثر قبول کیا‘ تاہم یہ نہیں کہا جا سکتا کہ کوئی اثر نہ لیا ہو۔ اس پر مستزاد یہ کہ ان کی بڑھتی ہوئی عمر۔ وقت کے ساتھ پہلوانوں کے جسم بھی ناتواں ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ آج وہ جسے ظلم کہہ رہے ہیں‘ وہ یہی مسائل ہیں۔ تنہائی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ کتابیں البتہ انہیں مل رہی ہیں جو تنہائی کا بہترین علاج ہے۔ تاہم کتاب انسانی صحبت کا متبادل نہیں۔میرا احساس ہے کہ تحریک انصاف میں اگر بیرسٹر گوہر جیسے متحمل مزاج لوگوں کو موقع دیا جائے تو تنہائی کا یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ یہ عمران خان صاحب کی بدنصیبی ہے کہ انہیں دانشمند لوگوں کی رفاقت کم ہی میسر ہے۔ جس دور میں جہانگیر ترین جیسے لوگ ان کے ساتھ تھے وہ ان کی فتوحات کا دور تھا۔ جب انہوں نے ایسے لوگوں سے چھٹکارا پایا‘ ان کے مسائل بڑھتے چلے گئے۔ وہ ان لوگوں میں گھرتے چلے گئے جن کے پاس عقل وبصیرت نام کی کوئی شے نہیں پائی جاتی۔ ان کی سیاست نے مفاہمت کے دروازے بند کیے اور خان صاحب کے لیے مشکلات میں اضافہ کیا۔یہ صورت حال بدل سکتی ہے۔ اقتدار کی سیاست میں جس کے ہاتھ میں طاقت ہوتی ہے اس سے معاملہ کرنا پڑتا ہے۔ اچھے سیاستدان وہی ہوتے ہیں جو عوامی طاقت کو ایک خوف کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ خودکو ریاست کے بالمقابل نہیں لا کر کھڑا کرتے۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے مولانا فضل الرحمن کے اسلوبِ سیاست سے استفادہ کرنا چاہیے۔ جماعت اسلامی یہ تجربہ کر چکی۔ ان کی انتخابی طاقت کا ایک خوف اور بھرم تھا۔ جب اس نے انفرادی حیثیت میں انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا تو یہ خوف دم توڑ گیا۔ تحریک انصاف نے ناکام احتجاجی تحریکیں چلا کر اپنا بھرم اور خوف ختم کر دیا۔ ریاست پر یہ واضح ہو چکا کہ وہ احتجاج سے عمران خان کو رہا نہیں کرا سکتے۔ دانشمندی یہ ہے کہ اب تحریک انصاف کوئی اور راستہ اختیار کرے۔ اب اس کا ہدف صرف یہ ہو کہ عمران خان کا علاج ہو‘ اگر وہ بیمار ہیں اور ان کے رہائی کے لیے ریاست کا دل پسیجے۔ یہ کام دانشمندی سے ہو گا‘ زور سے نہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بے یقینی کی رات(رسول بخش رئیس)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-08-24/52539/92869725</link><pubDate>Mon, 24 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-08-24/52539/92869725</guid><description>خبریں تو آپ سنتے اور دیکھتے ہی ہیں‘ اور اگر گھر پر اخبار خرید کر پڑھنے کا شوق ہے تو پڑھ بھی رہے ہوں گے۔ اگر آپ فکرمند ہیں تو گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں کہ ہمارے سیاسی موسم کا حال تقریباً موسمِ برسات کی رنگ ڈھنگ بدلتی گھٹائوں سے ملتا جلتا ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے بادل چھا جاتے ہیں‘ ماحول تاریک سا ہو جاتا ہے اور پھر بارش۔ اگر موسم کا دل نہ کرے تو بادلوں کی کچھ ہلچل دکھاکر کے سورج کی حدت کو پوری آب وتاب کے ساتھ کھول دیتا ہے۔ ہمارا گمان تو یہی رہا ہے‘ اور اب بھی ہے کہ جاتی برسات کے رنگ تو جلد رخصت ہوں گے اور ہم‘ زندگی باقی رہی تو نئے موسم کا نظارہ بھی کریں گے۔ لیکن سیاسی موسم کے بدلنے کے فی الحال امکانات نظر نہیں آتے۔ اس کی بہار‘ جو تقریباً چار سال سے قائم ہے‘ اس سے قربت رکھنے والے کسی اور موسم کے بارے میں سوچ ہی نہیں سکتے۔سیاسی بہار کا موسم ہو تو سب حکمران طبقات خوش رہتے ہیں‘ بلکہ نہال ہوتے ہیں۔ اس خوشی میں تو ایک نہال کو سندھ کا گورنر بنا دیا ہے تاکہ خوشیاں دور دور تک بانٹی جائیں‘ لیکن اس احتیاط کے ساتھ کہ دائرے سے باہر نہ نکلنے پائیں۔ صرف اپنے گمان کی بات کی ہے کہ ہم اور آپ سیاسی بہار کے علاوہ کسی اور موسم کی تمنا چھوڑ دیں۔ مگر ان کا کیا کریں جو خواب دیکھتے رہتے ہیں؟ وہ تو اپنے خوابوں کے پیچھے بھاگ دوڑ کرتے رہیں گے۔ خوابوں کی دنیا تو دلوں‘ خیالوں اور آنکھوں میں بستی ہے۔ یہ وہ سرزمین ہے جہاں طاقت کا گزر نہیں ہوتا۔ وہ شام‘ جس کا ذکر کیا ہے‘ اس دن کچھ لوگوں نے ایک بار پھر خوابوں کے سمندر میں ڈبکیاں لگانا شروع کر دی تھیں۔ آٹھ بجے کے سیاسی پروگراموں میں تبصرے پہ تبصرے ہو رہے تھے کہ عدالتِ عظمیٰ نے بانی پی ٹی آئی کو 48 گھنٹوں کے اندر ایک نجی ہسپتال میں داخل کرانے‘ ان کے خصوصی معالجوں کو ساتھ رہنے اور خاندان کے افراد سے ملاقات کے علاوہ برطانیہ میں مقیم بچوں سے ہفتے میں دو بار بات کرانے کا حکم دے کر سیاسی فضا میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی راہ کھول دی ہے۔ اس شام کچھ اینکروں کا جذبہ قابلِ دید وشنید تھا کہ وہ اپنے پروگراموں میں تسلسل سے اس بات پر زور دیتے آئے تھے کہ جس طرح کے داخلی اور خارجی حالات کا ہمیں سامنا ہے اس کے پیشِ نظر ضروری ہے کہ سب سیاسی طاقتوں کو اکٹھا کیا جائے۔ اس پس منظر میں یہ بات ہوتی رہی کہ جب تنظیمِ نو کا فیصلہ کر لیا ہے تو اسے قومی اتفاقِ رائے سے کیا جانا ضروری ہے۔ اس بات پر بھی زور رہا کہ ایسا کرنے کے لیے ملک کی سب سے بڑی پارٹی کو قومی دھارے میں لائے بغیر بات ادھوری رہے گی۔ کچھ وفاقی وزرا کے مثبت بیانات بھی آئے کہ اچھا فیصلہ ہے‘ علاج بانی کی مرضی کے مطابق کرایا جائے گا اور حکومت عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے کی پابند ہے۔ ابھی تحریری فیصلے کی سیاہی خشک بھی نہیں ہوئی تھی‘ پروگرام بھی جاری تھے کہ تازہ خبریں چلنا شروع ہو گئیں کہ حکومت ہدایت کے فیصلے کو عدالت میں چیلنج کرے گی کہ اس نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔ آپس کی بات ہے کہ عدالتوں کے بارے میں وزرا کی طرف سے صرف ہمارے ملک میں ہی یہ بات کی جا سکتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہمارے اینکر اس تازہ خبر کے برعکس دوسری تازہ خبر پر زیادہ توجہ دے رہے تھے اور اسے باوثوق ذرائع سے جوڑا جا رہا تھا۔ خبر یہ تھی کہ اسلام آباد انتظامیہ کے اعلیٰ ترین کارندے متعلقہ ہسپتال میں پہنچ چکے ہیں‘ سکیورٹی کے تمام انتظامات مکمل ہیں اور رات 12 بجے تک قیدی کو وہاں منتقل کر دیا جائے گا۔ہمارا تعلق ابھی تک اُس قبیلے سے ہے جن کی روشنی رات نو بجے کے قریب مدہم ہونا شروع ہو جاتی ہے‘ اس وقت ہم کسی اور دنیا میں کھو جاتے ہیں۔ صبح جلی سرخیاں لگیں‘ خبر یہ تھی کہ اُسی نجی ہسپتال میں رات میں قیدی کو داخل کرا دیا گیا تھا۔ گزشتہ شام تک عام تاثر یہ تھا کہ بانی کے معاملات طے ہو چکے ہیں‘ اس لیے تو یہ ریلیف ملا ہے۔ کچھ تو دور کی کوڑی لانے میں عجلت سے کام لے رہے تھے کہ چونکہ دو بڑے سیاسی خاندان ریاستی تنظیمِ نو کے لیے مقتدرہ کا ساتھ نہیں دے رہے اس لیے ایک بار پھر تیسری طاقت کی طرف رجوع کیا جا رہا ہے۔ ایک مؤقف یہ بھی تھا کہ یہ ریلیف ان خاندانوں کو دبائو میں لا کر وہ آئینی ترمیم کرانے کا حربہ ہے جس کے بارے میں سب کہہ رہے ہیں کہ اب آئی کہ آئی‘ مگر کسی کو معلوم نہیں وہ کیا ہے‘ کب آئے گی اور کون لائے گا اور یہ کہ اس کا انجام کیا ہوگا۔ جونہی اسلام آباد میں صبح کی بارش کے بعد مطلع صاف ہونا شروع ہوا‘ خبروں کا رخ بھی تبدیل ہو گیا۔ معلوم ہوا کہ بانی پی ٹی آئی نجی ہسپتال میں تو لائے ہی نہیں گئے۔ سرکاری ہسپتال میں ایک گھنٹہ قیام کے بعد واپس اسی جگہ جہاں وہ تین سال سے بقول کچھ سرکاری خواتین وحضرات کے‘ عیش وآرام کی زندگی گزار رہے ہیں‘ واپس لے جائے گئے۔ ہسپتال منتقلی کا عدالتی فیصلہ اگلے دن عالمی میڈیا پر بڑی خبر بن کر چھایا رہا۔ پھر اس کے بعد اچانک خاموشی تو طاری ہو گئی مگر وہ بھی معنی خیز ہے اور اس پر بھی کہیں نہ کہیں بات ہوتی رہے گی۔ہمارا قیاس ابھی تک تو یہی ہے کہ سیاسی موسم کے بدلنے کا کوئی امکان نہیں اور نہ ہی کوئی اس بارے میں سوچ رہا ہے۔ عدالت کا متفقہ فیصلہ اس کی آزاد رائے معلوم ہوتی ہے۔ اس کے بعد تو یہی لگ رہا ہے کہ جس طرح ماضی میں عدالتوں کا احترام روا رکھا گیا ہے اسی طرح کا احترام اس فیصلے کے حوالے سے بھی دیکھیں گے۔ معاملات تو سیاسی ہیں اور ہمارے اہلِ سیاست نسل در نسل‘ ان کو بات چیت‘ افہام و تفہیم اور جمہوری روح کے مطابق حل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اس ناکامی میں سب بڑے بڑے نام شامل ہیں۔ طاقت کے گھمنڈ کے ہم نے کئی ادوار دیکھے ہیں کہ جن کے پاس اقتدار آیا انہوں نے مخالفین کے ساتھ وہ کچھ کیا جس کی کم از کم آئینی‘ قانونی اور جمہوری روایات اجازت نہیں دیتیں۔ اس ایک شب کی کارروائی سے ایک اہم نتیجہ جو یہ درویش نکال سکا وہ یہ ہے کہ مبصرین کی واضح اکثریت ملک میں عدمِ استحکام‘ بے یقینی‘ منافرت اور مخالفت کو ختم کرنے کی حامی ہے۔ اس لیے جب بھی امید کی ایسی کرن کہیں سے نمودار ہوتی ہے اس کی طرف ان کا پورا دھیان گھوم جاتا ہے۔ سب کو معلوم ہے کہ داخلی حالات کے بارے میں کناروں سے جو خبریں روزانہ آتی ہیں‘ معیشت کی زبوں حالی‘ غربت‘ کرپشن اور گورننس کے معاملات سے لوگ پریشان ہیں۔ تقریریں وعدے اعتماد کھو چکے ہیں۔ ٹیلی ویژن ڈرامے کی شوقین قوم‘ جن کی ذہن سازی ایک اور دور میں ہوئی تھی‘ اب بھی اسی شوق میں مست ہے۔ ہم بھی ایک زمانے میں یہ دیکھا کرتے تھے مگر اب ڈراموں اور ڈرامہ بازیوں سے دل بھر سا گیا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_33241568.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>نئے صوبے اور پنجاب میں بلدیاتی الیکشن(کنور دلشاد)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/kunwar-mohammad-dilshad/2026-08-24/52540/29743687</link><pubDate>Mon, 24 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/kunwar-mohammad-dilshad/2026-08-24/52540/29743687</guid><description> حکومت کی جانب سے 20اور 21اگست کی درمیانی شب بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اڈیالہ جیل سے پمز ہسپتال لے جایا گیا‘ ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے ان کا معائنہ کیا اور انہیں طبی طور پر صحتمند قرار دیا۔ ان کی ہمشیرہ ڈاکٹر عظمیٰ خان اس معائنے کے دوران موجود تھیں۔ یہ عمل مکمل ہونے کے بعد انہیں 21 اگست کو صبح تقریباً 5بجے واپس اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔ اس سے قبل حکومتی حلقوں کے قریب سمجھے جانے والے بعض میڈیا پرسنز یہ تاثر دے رہے تھے کہ عمران خان نے کوئی ڈیل کرلی ہے اور بعض وزرا نے تو علاج کی خاطر بیرونِ ملک جانے کی بھی خبریں دینا شروع کر دی تھیں مگر یہ تمام مفروضے غلط ثابت ہوئے۔ اب سپریم کورٹ کے فیصلے اور اس پر عملدرآمد کے حوالے سے فریقین میں نئی بحث چھڑی ہوئی ہے اور حکومت اور پی ٹی آئی ایک دوسرے پر توہینِ عدالت کے الزامات لگا رہے ہیں۔ یہ معاملہ ابھی فوری سلجھتا نظر نہیں آتا۔دوسری جانب مقتدرحلقے چونکہ ملک میں نئے صوبوں کی تشکیل کیلئے پُرعزم ہیں لہٰذا تمام سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کیلئے اندر خانے کام ہو رہا ہے۔ میری اطلاعات کے مطابق وزیر داخلہ محسن نقوی کو یہ ذمہ داری دی گئی ہے کہ سیاسی جماعتوں کو اکٹھا کر کے فیصلہ کیا جائے۔ 1973ء کے آئین میں صوبائی حدود میں تبدیلی اور اس سے متعلقہ آئینی ترمیم کے طریقہ کار کی تاریخی اور تحقیقی جائزہ لینے کے بعد یہ بات سامنے آتی ہے کہ 14 اگست 1973ء کو نافذ ہونے والے آئین کے آرٹیکل 239 میں صوبائی سرحدوں کی تبدیلی کیلئے متعلقہ صوبائی اسمبلی سے دو تہائی اکثریت سے توثیق کی شق موجود نہیں تھی۔ اصل متن میں ترمیم کا طریقہ کار صرف قومی اسمبلی اور سینیٹ تک محدود تھا۔ ایک دہائی سے زائد عرصہ تک آئین میں صوبائی حدود کی تبدیلی یا صوبے کے جغرافیے پر اثر انداز ہونے والی کسی بھی ترمیم کیلئے صوبائی اسمبلی سے الگ سے دوتہائی اکثریت کی کوئی باضابطہ شرط یا ذیلی شق شامل نہیں کی گئی تھی۔1985ء کے صدارتی آرڈر نمبر20 کے تحت آئین میں آرٹیکل 239(4)کا اندراج کیا گیاجس کے تحت صوبائی حدود میں تبدیلی پر متعلقہ صوبائی اسمبلی کو فیصلے کا اختیار دیا گیا۔ اس صدارتی حکم نامے کو بعد میں آٹھویں آئینی ترمیم کے ذریعے آئینی تحفظ فراہم کیا گیا۔ 1973ء کے آئین کے تحت صوبائی حدود میں تبدیلی کی مکمل طاقت وفاقی پارلیمان (قومی اسمبلی و سینیٹ) کے پاس تھی‘ جس میں صوبائی اسمبلی کی منظوری کا اختیار شامل نہیں تھا‘ تاہم آٹھویں ترمیم میں آرٹیکل 239(4) کا اضافہ کیا گیا اور 18ویں ترمیم (اپریل 2010ء) میں بھی اس شق کو برقرار رکھا گیا اور آرٹیکل 239(4) کے تحت یہ شق آج بھی قائم ہے کہ پارلیمنٹ صوبائی اسمبلی کی توثیق کے بغیر صوبائی حدود کو تبدیل نہیں کر سکتی۔ پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام سے معاشی‘ سیاسی‘ سماجی اثرات اور وسائل کی نچلی سطح تک منتقلی سے عوام کی مشکلات میں کمی آئے گی اور دہشت گردی اور علیحدگی پسندوں کا ازالہ ہو گا‘ لہٰذا صوبوں کے قیام پر وسیع پیمانے پر ڈائیلاگ وقت کی اہم ضرورت ہے۔نئے صوبے اور انتظامی یونٹس کی بحث سیاسی اصلاح کا حصہ ہوتی ہے۔ پاکستان کی آبادی اور انتظامی‘ شہری اور معاشی ضرورتوں کو دیکھتے ہوئے نئے صوبے بنتے ہیں تو بلدیاتی نظام‘ مالی اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور ضلع میں احتساب اور جوابدہی کا مؤثر انتظام بھی ازحد ضروری ہے ورنہ نئے صوبے صرف نئی اسمبلی اور نئی مراعات پیدا کریں گے اور ہر صوبے کا وزیراعلیٰ اپنا علیحدہ طیارہ خریدنے کے لیے عوام کے ٹیکس کا پیسہ خرچ کرے گا‘ جس سے عام آدمی کی زندگی نہیں بدلے گی۔پنجاب میں بلدیاتی الیکشن کے لیے الیکشن کمیشن آف پاکستان نے صوبائی انتظامیہ سے مشاورت کے بعد 15دسمبر سے 15جنوری 2027ء کے درمیان بلدیاتی انتخابات کرانے کا اعلان کیا ہے۔ شنید ہے کہ پنجاب حکومت بلدیاتی انتخابات کرانے میں سنجیدہ نہیں تھی مگر چیف الیکشن کمشنر کے سخت مؤقف کے بعد فریقین میں تاریخ پر اتفاق ہو گیا۔ نئے بلدیاتی قوانین کی منظوری بھی صوبائی اسمبلی کی وساطت سے مکمل ہو چکی ہے اور اب یونین کونسل کی سطح پر بلدیاتی انتخابات کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ پنجاب حکومت نے درپردہ نئے صوبے بنانے کے لیے اعلیٰ حلقوں کی سنجیدگی اور وزیر داخلہ محسن نقوی کے دو ٹوک مطالبے کی روشنی میں بلدیاتی انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اس عرصے تک نئے صوبوں کے لیے قانون سازی کو مؤخر کیا جا سکے۔28ویں ترامیم میں رکاوٹیں ڈالنے کے حوالے سے پنجاب اور سندھ حکومت کی ایک ہی سوچ ہے لیکن حالات یہ بتا رہے ہیں کہ مقتدر حلقے اس حوالے سے پُرعزم ہیں اور اس راہ میں رکاوٹیں ڈالنے والوں کو اپنے مستقبل کی فکر کرنا ہو گی۔ اگر 28ویں ترمیم کا بل قومی اسمبلی میں پیش ہوتا ہے تو اس میں آرٹیکل 140(A) میں بھی ترمیم اور ایک اہم شق کا اضافہ کیا جانے کا امکان ہے جس کے مطابق لوکل گورنمنٹ کا اختیار صوبوں سے وفاق کی تحویل میں چلا جائے گا اور این ایف سی ایوارڈ کے تحت تمام مالیاتی فنڈز براہ راست مقامی حکومتوں کو دیے جائیں گے اور صوبائی حکومتوں کے بجائے وفاق بلدیاتی اداروں کو براہ راست ترقیاتی فنڈز تفویض کرے گا۔گزشتہ جمعرات کو دفاعی افواج اور نیشنل کمانڈ اتھارٹی سے متعلق دو بل قومی اسمبلی میں کثرتِ رائے سے منظور کیے گئے۔ قومی اسمبلی نے پاکستان دفاعی افواج ایکٹ 2026ء کی منظوری دی جو 13 نومبر 2025ء سے مؤثر بالعمل سمجھا جائے گا۔ اس ایکٹ کے احکامات واضح کردہ قواعد وضوابط اور اس کے تحت جاری کردہ ہدایات اور احکامات دیگر کسی بھی قانون‘ قواعد و ضوابط‘ ہدایات‘ اعلامیوں یا احکامات کے برعکس ہونے کے باوجود نافذ العمل رہیں گے اور مذکورہ قواعد وضوابط‘ ہدایات‘ اعلامیے اور احکامات اُس حد تک غیر مؤثر ہو جائیں گے جہاں تک وہ اس کے منافی ہوں گے۔ قومی سلامتی‘ دفاع اور مسلح افواج سے متعلق تمام امور کے بارے میں چیف آف ڈیفنس فورسز وزیراعظم کا اعلیٰ مشیر ہو گا۔اس ایکٹ کی منظوری کے بعد فیلڈ مارشل سید عاصم منیر فوجی امور کے حوالے سے وزیراعظم کے مشیر اعلیٰ ہوں گے اور اس حیثیت سے کابینہ کا حصہ ہوں گے اور قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس میں شرکت کے بھی آئینی مجاز ہوں گے۔ بطور مشیر اعلیٰ وہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی گورننس پر بھی گہری نظر رکھیں گے۔ اس طرح کابینہ کی کارکردگی معیاری ہو گی اور صوبائی حکومتوں کو بھی ادراک ہو جائے گا کہ گورننس کے حوالے سے مشیر اعلیٰ ان کی کارکردگی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔چیف آف ڈیفنس فورسز کے مشیر اعلیٰ مقرر ہونے سے 1954ء کی تاریخ تازہ ہوتی نظر آتی ہے جب عبوری آئین کے تحت گورنر جنرل غلام محمد کی کابینہ میں جنرل محمد ایوب خان وزیر دفاع مقرر ہوئے تھے اور کابینہ کے اہم رکن کے طور پر ملکی سیاست پر بھی ان کی گہری نظر تھی۔سی ڈی ایف کے مشیر اعلیٰ مقرر ہونے سے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے اس مؤقف کی توثیق ہوتی ہے کہ وزیراعظم تمام وزارتوں کی کارکردگی کی جانچ پڑتال تیسرے فریق سے کرائیں اور نتائج عوام کے سامنے رکھیں۔ تیسرے فریق کی جانچ پڑتال سے معلوم ہو سکے گا کہ کون سی وزارت کتنا کام کر رہی ہے۔ میری رائے کے مطابق تیسرے فریق میں پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کو بھی شامل کرنا چاہیے اور ممکن ہو سکے تو آڈیٹر جنرل پاکستان‘ ایف بی آر کے چیئرمین اور قومی احتساب بیورو کے چیئرمین کو بھی اس کمیٹی میں شامل کرنا چاہیے۔ تھرڈ پارٹی آڈٹ کے بعد 28ویں ترمیم میں پاکستان کے سیاسی نظام میں اہم تبدیلیوں کے لیے بھی شقیں شامل کرنی چاہئیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_15667905.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ترسیلات ، سٹیبل کوائنز اور چینی کی برآمد(میاں عمران احمد)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mian-imran-ahmad/2026-08-24/52541/14844898</link><pubDate>Mon, 24 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mian-imran-ahmad/2026-08-24/52541/14844898</guid><description>پاکستانی معیشت کیلئے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی بھیجی ہوئی ترسیلات ہمیشہ سے بہت اہم رہی ہیں۔ ہر سال اربوں ڈالر پاکستان آتے ہیں اور یہ رقم ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دینے کے ساتھ لاکھوں خاندانوں کے اخراجات بھی پورے کرتی ہے۔ حکومت کا خیال ہے کہ جدید ٹیکنالوجی‘ خاص طور پر سٹیبل کوائنز کے ذریعے اس رقم کو پاکستان لانے کی لاگت کم کی جا سکتی ہے۔ مالی سال 2025-26ء کے پہلے 11 ماہ‘ یعنی جولائی سے مئی تک پاکستان کو 38.1 ارب ڈالر کی ترسیلاتِ زر موصول ہوئیں جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے 34.9 ارب ڈالر کے مقابلے میں 9.2 فیصد زیادہ تھیں۔ سعودی عرب سے 8.95 ارب ڈالر‘ متحدہ عرب امارات سے 8.02 ارب ڈالر اور برطانیہ سے 5.81 ارب ڈالر آئے۔ اگر پورے سال کی ترسیلاتِ زر تقریباً 40 ارب ڈالر تک پہنچتی ہیں اور نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے رقم بھیجنے کی لاگت میں محض ایک فیصد کمی آتی ہے تو تقریباً 40 کروڑ ڈالر کی سالانہ بچت ہو سکتی ہے۔ عالمی سطح پر ترسیلاتِ زر کے اخراجات کم نہیں ہیں۔ ورلڈ بینک کے مطابق دنیا بھر میں 200 ڈالر بھیجنے کی اوسط لاگت تقریباً 6.36 فیصد ہے‘ یعنی 200 ڈالر بھیجنے والے شخص کو اوسطاً 12 سے 13 ڈالر کی لاگت برداشت کرنا پڑتی ہے۔ اگر ٹیکنالوجی اس لاگت کو کم کر دے تو فائدہ براہِ راست بیرونِ ملک کام کرنے والے پاکستانیوں اور ان کے خاندانوں کو پہنچ سکتا ہے۔ اسی طرح پاکستان میں درمیانی اور چھوٹی صنعتیں (ایس ایم ایز) کاروباری سرگرمیوں کا تقریباً 90 فیصد حصہ رکھتی ہیں اور جی ڈی پی میں ان کا حصہ تقریباً 40 فیصد ہے‘ لیکن انہیں بینکوں سے مطلوبہ مالی سہولیات حاصل نہیں ہو پاتیں۔ اگر تجارتی واجبات اور دیگر اثاثوں کو ٹوکنائز کر کے سرمایہ کاروں سے جوڑا جا سکے تو ان کاروباروں کیلئے سرمایہ حاصل کرنے کے نئے راستے پیدا ہو سکتے ہیں۔ لیکن یہاں سب سے اہم فیکٹر احتیاط ہے۔ سٹیبل کوائن کوئی جادو کی چھڑی نہیں‘ اگر نظام کی نگرانی کمزور ہوئی تو منی لانڈرنگ‘ فراڈ‘ سائبر جرائم اور غیر قانونی سرمائے کی منتقلی کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔پاکستان میں ٹیکس نیٹ بڑھانے کی ایک نئی کوشش کے طور پر حکومت نے ریٹیلر سکیم ایپ لانچ کی ہے‘ جس کا مقصد چھوٹے دکانداروں کو ٹیکس نظام میں شامل کرنا اور موبائل فون کے ذریعے رجسٹریشن اور ریٹرن فائلنگ کو آسان بنانا ہے۔ پاکستان میں چھوٹے دکانداروں کا شعبہ بہت بڑا ہے۔ ملک میں تقریباً 30 سے 40 لاکھ ریٹیلرز ہیں‘ جن کی بڑی تعداد اب تک ٹیکس نیٹ میں نہیں آ سکی ہے۔ اس سکیم کے تحت 20 کروڑ روپے سالانہ تک کاروبار کرنے والے اہل ریٹیلرز اپنی مجموعی سالانہ فروخت کا ایک فیصد ٹیکس ادا کریں گے جبکہ کم از کم ٹیکس 25 ہزار روپے سالانہ مقرر کیا گیا ہے۔ ٹیکس نظام کو ڈیجیٹل بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ جولائی 2026ء کے آخر تک ایف بی آر کے ساتھ صرف 13 ہزار 586 ریٹیلر انٹیگریشنز اور 37 ہزار 378 برانچز پی او ایس نظام سے منسلک تھیں۔ دستاویزی ریٹیل سیکٹر اور مجموعی ریٹیل مارکیٹ کے مابین اب بھی بڑا فرق موجود ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ ایپ ماضی کی سکیموں سے مختلف ثابت ہو گی؟ حکومت اس سے پہلے تاجر دوست سکیم بھی متعارف کرا چکی لیکن اس کے ذریعے ٹیکس نیٹ میں خاطر خواہ توسیع نہیں ہو سکی جس پر نئی فکسڈ ٹیکس سکیم متعارف کرائی گئی۔ ریٹیلر سکیم ایپ اسی وقت کامیاب ہو سکتی ہے جب چند ہزار نہیں بلکہ لاکھوں دکاندار رضاکارانہ طور پر اس نظام میں شامل ہوں۔ حکومت نے ایک فیصد اور کم از کم 25 ہزار روپے کی حد مقرر کرکے نظام کو نسبتاً آسان بنایا ہے‘ اب اگلا مرحلہ دکانداروں میں اعتماد پیدا کرنا ہے۔ اگر حکومت آسان ٹیکس‘ کم کاغذی کارروائی اور شفاف نگرانی کا وعدہ عملی طور پر پورا کر دیتی ہے تو یہ ایپ ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کی اہم کوشش ثابت ہو سکتی ہے۔ملکی معیشت میں زراعت کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ مالی سال 2025-26ء میں زرعی شعبے کی شرح نمو تقریباً 2.89 فیصد رہی‘ جبکہ مجموعی ملکی معیشت نے 3.7 فیصد کی شرح سے ترقی کی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ زرعی شعبے کو کم پیداوار‘ پانی کی کمی‘ موسمیاتی تبدیلی اور جدید تحقیق کی محدود رسائی جیسے مسائل کا سامناہے۔ایسے میں وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے نیشنل ایگریکلچر ریسرچ سنٹر (NARC) کے نئے ماسٹر پلان کی منظوری ایک اہم پیش رفت ہو سکتی ہے۔ این اے آر سی کو زرعی اضلاع میں منظم کیا جا سکتا اور اعلیٰ تحقیقی مراکز‘ جدید ریفرنس لیبارٹریاں‘ نئے تحقیقی مراکز‘ نجی شعبے کے لیے ریسرچ پارک‘ بین الاقوامی تعاون کا مرکز اور تحقیقی تجربہ گاہیں قائم کیے جا سکتے ہیں۔ یہ ادارہ ملک کا ایک بڑا زرعی تحقیقی مرکز ہے جہاں تقریباً 1400 ایکڑ کا تجرباتی فارم موجود ہے‘ 120 سے زائد زرعی اجناس پر تحقیق کی جا رہی ہے جبکہ مرکز میں 98 لیبارٹریاں بھی موجود ہیں۔ پاکستان کے پاس بنیادی تحقیقی ڈھانچہ پہلے سے موجود ہے ضرورت اسے جدید ٹیکنالوجی اور عالمی تحقیقی اداروں سے جوڑنے کی ہے۔ زرعی تحقیق کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ پاکستان میں فصلوں کی پیداوار اب موسمیاتی تبدیلیوں اور پانی کی کمی سے براہ راست متاثر ہو رہی ہے۔ مالی سال 2025-26ء میں فصلوں کے شعبے کی کارکردگی اتنی مضبوط نہیں رہی؛ اس کے مقابلے میں لائیو سٹاک نے زرعی نمو میں اہم کردار ادا کیا۔ اس صورتحال میں بہتر بیج‘ بیماریوں سے محفوظ فصلیں‘ کم پانی میں زیادہ پیداوار اور موسمیاتی تبدیلی برداشت کرنے والی فصلوں پر تحقیق کی جا سکتی ہے۔ این اے آر سی کا نیا ماسٹر پلان ایک تحقیقی ادارے کی تنظیم نو نہیں بلکہ پاکستان کی زراعت کو جدید بنانے کا موقع بن سکتا ہے۔ ملک کی زرعی بنیادیں مضبوط ہیں‘ اگر اس کو جدید جینیاتی تحقیق‘ موسمیاتی مزاحمت‘ پانی کے مؤثر استعمال‘ مصنوعی ذہانت اور برآمدی معیار کے ساتھ جوڑ دیا جائے تو ملکی زرعی پیداوار اور عالمی مسابقت میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔پاکستان میں چینی کا معاملہ ایک مرتبہ پھر نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کے پاس موجود ایک لاکھ آٹھ ہزار ٹن چینی عالمی ٹینڈر کے ذریعے برآمد کی اجازت دی ہے۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ یہ چینی گزشتہ سال درآمد کی گئی تین لاکھ ٹن چینی میں سے باقی بچ جانے والا ذخیرہ ہے۔ یہ صورتحال پاکستان کی چینی پالیسی کے تضادات کو ظاہر کرتی ہے۔ گزشتہ سال مقامی مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافے کے بعد حکومت نے بڑی مقدار میں چینی درآمد کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اب درآمد شدہ حصہ ملکی مارکیٹ میں ضرورت سے زائد ہونے کے باعث برآمد کرنے کی بات ہو رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا درآمد کے وقت طلب‘ پیداوار اور مستقبل کے ذخائر کا تخمینہ لگایا گیا تھا؟ 31 جولائی 2026ء تک ملک میں چینی کا ذخیرہ تقریباً 31.71 لاکھ ٹن تھا‘ جبکہ ماہانہ اوسط کھپت تقریباً 5 لاکھ 64 ہزار ٹن ہے۔ شوگر ملز ایسوسی ایشن کے حساب سے 15 نومبر تک ملکی ضرورت پوری کرنے کے بعد تقریباً 11.97 لاکھ ٹن اضافی چینی ہو سکتی ہے۔ اسی دوران 2026-27ء کے کرشنگ سیزن میں چینی کی پیداوار 80 لاکھ ٹن سے زیادہ رہنے کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔ یہ اعدادو شمار حکومت کیلئے ایک مشکل مگر اہم سوال پیدا کرتے ہیں۔ جب ملک میں پہلے ہی تقریباً 12 لاکھ ٹن اضافی ذخیرے اور نئی فصل سے مزید 80 لاکھ ٹن چینی ملنے کا امکان ہے تو اضافی سٹاک کو برآمد کرنا معاشی طور پر قابلِ فہم نظر آتا ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ چینی کی رسد اور طلب کے اعدادو شمار عین موقع پر اچانک بدل جاتے ہیں اور ہر سال برآمداور پھر درآمد کا کوئی نہ کوئی راستہ نکال لیا جاتا ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے یہ کھیل جاری ہے اور حکومت اب تک اس کا کوئی مؤثر بندوبست نہیں کر سکی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/212_71532147.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سرکاری اور غیر سرکاری فیس(سعود عثمانی )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-08-24/52542/48288306</link><pubDate>Mon, 24 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-08-24/52542/48288306</guid><description>ویسے تو یہ میری ذاتی بات ہے اور ذاتی قصہ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہر پاکستانی کی بات ہے اور ہر ایک کسی کی داستان۔ بڑے یا چھوٹے شہر میں رہنے والا ہو یا گاؤں میں۔ کردار اور مکالموں کا فرق پڑتا رہتا ہے لیکن داستان کا خلاصہ ایک ہی رہتا ہے۔ کیا آپ کو معلوم ہے ہمارے ہاں سب سے مشکل کام کون سا ہے؟ ایسا کام جس کا تصور کرکے انسان کو لرزہ طاری ہو سکتا ہے۔ کوئی جسمانی مشقت؟ ہرگز نہیں! کوئی ذہنی محنت؟ بالکل نہیں! کوئی دور دراز کا سفر؟ قطعاً نہیں۔ یہ سب کام مشکل سہی لیکن پیش آ جائیں تو کر ہی لیے جاتے ہیں۔ جناب! سب سے مشکل کام کسی سرکاری دفتر سے اپنا کوئی جائز کام کروانا ہے۔کوئی بھی سرکاری دفتر۔ کسی بھی طرح کا محکمہ۔ بجلی نہ آنے کی یا میٹر خراب ہونے کی شکایت کرنی ہو‘ اپنے گھر پانی گندا آنے کا مسئلہ اٹھانا ہو‘ زیادہ بھیجا گیا ٹیکس کٹوانا ہو‘ چوری کی رپورٹ درج کروانی ہو اور چور پکڑوانا ہو‘ یا کوئی اور جائز کام پیش آ جائے۔ زندگی ہے تو مسئلے ہزاروں ہیں اور محکمے بھی اتنے ہی۔ جب کبھی ایسا کوئی کام پیش آتا ہے تو بخار سا چڑھنے لگتا ہے کہ اب نااہل‘ کام چور رشوت خور عملے سے واسطہ پڑے گا اور اگلے کئی دن خون جلاتے‘ کڑھتے گزریں گے۔ میں دعویٰ کروں تو غلط نہیں ہو گا کہ کسی بھی شہر یا گاؤں میں سرکاری محکمے سے رشوت دیے بغیر‘ سفارش کے بغیر‘ تنگ ہوئے بغیر آپ کوئی کام نہیں کروا سکتے۔ یہاں میں صرف جائز کاموں کی بات کر رہا ہوں۔ ناجائز کام چونکہ کبھی کروایا ہی نہیں اس لیے اس کا تجربہ نہیں لیکن یقین ہے کہ اس کا ریٹ کچھ بڑھ جائے گا‘ ورنہ جائز اور ناجائز دونوں کام ایک ہی راستے سے گزرتے ہیں۔میں ان دنوں لرزے‘ بخار‘ جلن اور کڑھن کی انہی کیفیات سے گزر رہا ہوں کیونکہ معاملہ بجلی کے دفتر سے پیش آ گیا ہے۔ بجلی کے بغیر کسی دفتر اور گھر کا کیا تصور ہے آج کل؟ ہے کوئی تصور؟ مجھے ایک تھری فیز میٹر لگوانے کی ضرورت پڑ گئی کیونکہ لوڈ سنگل فیز میٹر سے زیادہ ہو رہا تھا۔ جب یہ طے ہو گیا کہ نیا میٹر لگوانا ہے تو بخار چڑھنا شروع ہو گیا۔ دفتر شہر کے دل میں سب سے بڑی شاہراہ پر واقع ہے۔ یہ مرکزی علاقہ ہے اس لیے کہ سول سیکرٹریٹ‘ اعلیٰ پولیس حکام کے دفاتر‘ بڑی بڑی مارکیٹیں‘ بڑے بڑے تعلیمی ادارے یہیں ایک دو میل کے دائرے میں واقع ہیں۔ اتنا اہم علاقہ ہونے کے باوجود یہاں بجلی آنے جانے کے حالات اتنے خراب ہیں کہ کوئی نہ کوئی مسئلہ رہتا ہے۔ جن اہلکاروں سے یہ مسئلے حل نہیں ہوتے ان سے ایک نئے میٹر لگانے کا جائز مطالبہ کر کے جو نتائج نکل سکتے ہیں‘ سب تصور میں آنے لگے۔ خیر! معلومات لیں تو متعلقہ اہلکار نے بات کھڑے کھڑے نمٹا دی۔ سرکاری اور غیر سرکاری سب فیسیں ملا کر ڈیڑھ لاکھ روپے۔ اصل مسئلہ ہی غیر سرکاری فیس کا تھا۔ سرکاری فیس تو نصف سے بھی کم تھی۔ بار بار کہلوایا گیا کہ حضور کوئی ناجائز مطالبہ نہیں ہے‘ قانونی حق ہے‘ کچھ خیال کیجیے۔ لیکن سب لفظ بیکار۔ اندازہ تھا کہ اگر ان کی مرضی پر نہ چلے تو یہ کوئی ایسا اعتراض لگائیں گے کہ میرا کام کئی سال نہیں ہو سکے گا۔ گزشتہ ہولناک تجربات یاد آنے لگے جب ایسے ہی کسی معاملے میں اپنا کام خراب کر بیٹھے تھے۔ آخر یہ کہا کہ جناب! کچھ وقت نکال کر میرے دفتر تشریف لے آئیں‘ میری بات سن لیں کم از کم۔ بہت انکار کے بعد صاحب نے بالآخر آنے کی ہامی بھر لی۔کچھ دن بعد ایک تنومند صاحب‘ پورے طمطراق کے ساتھ میرے دفتر میں داخل ہوئے۔ یہی وہ صاحب تھے جن سے غائبانہ گفت وشنید ہو رہی تھی۔ ان کے ہاتھ میں اس موبائل کا جدید ترین ماڈل تھا جس کے میں صرف خواب دیکھتا ہوں۔ ساتھ ان کے دفتر کا زیر تربیت چیلا تھا جو اپنے گرو کے اٹھنے بیٹھنے‘ چلنے پھرنے اور بات کرنے کا بغور مطالعہ کرتا رہتا تھا اور ان سے بہت مرعوب تھا۔ اندازہ کیا جا سکتا تھا کہ وہ ان کا لائق جانشین ثابت ہونے والا تھا۔ بولے: یہ رقم تو میں نے آپ کے لیے کم کہی ہے ورنہ دوسروں سے تو میں اتنے لیتا ہوں۔ باتوں باتوں میں انہوں نے یہ بھی بتا دیا کہ اگر آپ نے کسی اور طریقے پر چلنے کی کوشش کی تو آپ کے ذمے ٹرانسفارمر بھی لگ جائے گا۔ بعد میں شکایت نہ کیجیے گا۔ یہ ان سے تعاون نہ کرنے کا وہ زاویہ تھا جو تصور میں نہیں تھا۔ ایک چھوٹا سا میٹر لگوانا ہے‘ اس میں ٹرانسفارمر کی لاکھوں کی رقم کہاں سے آ گئی۔ مگر ان کا تیر نشانے پر بیٹھ گیا تھا۔ لاکھوں کی ادائیگی کا تصور کر کے میری سٹی گم ہونے لگی اور میری بچی کچھی مزاحمت نے بھی دم توڑ دیا۔ میں نے باقی معلومات پوچھیں۔ انہوں نے کام پورا ہونے کی مدت بتائی اور بتایا کہ وہ نصف رقم پیشگی لیا کرتے ہیں اور صرف نقد رقم۔ کسی اکاؤنٹ میں نہیں وغیرہ وغیرہ۔ مجبوری میں ایک میٹر لگوانے کا‘ جس کی سرکاری فیس بھی میں نے بھرنی تھی اور بعد میں بل بھی مجھے ہی ادا کرنا تھا‘ یہ خمیازہ مجھے بھگتنا تھا۔ دس دن بعد چیلا سرکاری فیس کا ڈیمانڈ نوٹ لایا۔ یہ فیس بینک میں جمع کرا دی گئی تو اس نے باقی کارروائی سے پہلے رقم کا تقاضا کیا۔ حالانکہ دلّی ابھی کافی دور تھی۔ ابھی سرکاری دفتر میٹر جاری کرے گا‘ پھر مزید کارروائی ہوگی۔ کئی مرحلے باقی تھے۔ معلوم ہوا ابھی لگ بھگ 20 دن ا ور لگیں گے لیکن صاحب کو اپنی رقم کی بہت جلدی تھی۔ اس دوران ان کی طرف سے طرح طرح کی دھمکیاں ملتی رہیں۔ چیلے نے کہا: یہ مزاج کا بہت برا آدمی ہے آپ بینک میں رقم تو جمع کرا چکے ہیں‘ اسے غصہ نہ دلائیں‘ ناراض ہو گیا تو آپ کا کام بہت لٹکا دے گا۔ اس وقت تک میرا پیمانہ بھی بھر چکا تھا۔ میں نے کہا: کتنا لٹکا دے گا‘ دس سال‘ بیس سال؟ ٹھیک ہے ہم گزارہ کر لیں گے۔ کہنے کو تو کہہ دیا لیکن ڈوبتے دل اور کھولتے خون کے ساتھ۔ معلوم ہوا کہ وہ اس علاقے میں ہر ایک کے ساتھ اسی طرح معاملہ کرتا ہے۔ اچھے خاصے معزز دکانداروں کی ان درمیانے درجے کے اہلکاروں کے سامنے گھگھی بندھتی ہے۔ سب کی حیثیت اور عزت دھری رہ جاتی ہے کیونکہ ان کے پاس تنگ کرنے کے ہزاروں طریقے ہیں۔ آپ کے پاس کیا ہے؟ کہاں جائیں گے اور کس سے شکایت کریں گے؟جس دن معلوم ہوا کہ آج نیا میٹر لگنے والا ہے‘ ہماری خوشی دیکھنے والی تھی۔ لیکن پہلے کئی آزمائشیں بلکہ کئی مقاماتِ آہ و فغاں باقی تھے۔ مزید رقم کا تقاضا! مزید دھمکیاں وغیرہ۔ کسی طرح ان سب سے گزرے اور ٹیم میٹر لیے پہنچ گئی۔ اب بتایا گیا کہ ٹرانسفارمر سے اس کھمبے تک جہاں میٹر لگنا ہے‘ جو تار ڈالی جائے گی‘ وہ ہمارے ذمے ہے اور اس کی قیمت بھی ہزاروں میں ہے۔ سمجھ نہیں آیا کہ جب سرکار نے میٹر کی سرکاری فیس لے لی‘ غیر سرکاری فیس عملے کا حق ٹھہری تو پھر یہ اضافی خرچ کس مد میں ہے؟ اس کے علاوہ اہلکاروں کی مٹھائی۔ جو ایسے ہر موقع پر ہاتھ پھیلا کر سامنے کھڑی ہو جاتی ہے۔بجلی کے وفاقی اور صوبائی وزرا‘ وزرائے مملکت اور دیگر متعلقہ حکام تک اگر میری بات پہنچ رہی ہے تو ان سے صرف ایک گزارش کرنی ہے۔ یقین کریں میرا مقصد غیر سرکاری فیس ختم کروانا نہیں ہے۔ اگر آپ ختم کروانا چاہتے یا ختم کروا سکتے تو کیا اب تک ختم نہ ہو چکی ہوتی؟ میری تحریر کا انتظار تھوڑی کر رہے ہوتے۔ میری درخواست تو بس اتنی ہے کہ عملہ غیر سرکاری فیس بیشک لیتا رہے لیکن دھمکیاں نہ دے‘ تنگ نہ کرے‘ پیار سے بات کرے۔ بس اتنا کردیں کہ کہ کوئی خوش اخلاق رشوت خور لگا دیں۔ اتنا اختیار تو آ پ کا ہوگا نا! یہ مجھے نہیں پتا کہ اس کام کی کوئی سرکاری اور غیر سرکاری فیس ہوتی ہے؟ یہ بھی بتا دیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_81278520.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>معاشی صورتحال‘ ٹیکسوں کا بوجھ اور دھرنا(علامہ ابتسام الہٰی ظہیر )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-08-24/52543/27684331</link><pubDate>Mon, 24 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-08-24/52543/27684331</guid><description>پاکستان اپنے قیام کے 79 سال مکمل کر چکا ہے لیکن بدقسمتی سے تاحال ملک معاشی اعتبار سے مستحکم نہیں ہو سکا۔ برصغیر کے دیگر ممالک معاشی اعتبار سے پاکستان سے آگے نکل چکے ہیں۔ بھارت کی معیشت پاکستان کے مقابلے میں خاصی مستحکم ہے۔ اسی طرح بنگلہ دیش بھی معاشی اعتبار سے ہم سے آگے نکل چکا ہے۔ ملک میں معاشی مسائل کی وجہ سے بہت سے پاکستانی اپنا وطن چھوڑ کر مشرق وسطیٰ اور مغربی ممالک میں جا کر آباد ہو چکے ہیں۔ ان تارکین وطن کی بڑی تعداد مغربی معاشروں میں اس طرح جذب ہو چکی ہے کہ وہ اپنے وطن واپس آنے کے لیے بھی تیار نہیں ہے۔ اگر ہم اپنے گردو پیش پر نظر ڈالیں تو اس بات کا مشاہدہ کرنا کچھ مشکل نہیں کہ پاکستان میں بسنے والے لوگوں کی اکثریت اس وقت سخت معاشی دبائو کا شکار ہے۔ ملازمت پیشہ افراد ہوں اور کاروبار کرنے والے‘ لوگوں کی بڑی تعداد معاشی حوالے سے گلے شکوے کرتی نظر آتی ہے۔ بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو یوٹیلیٹی بل اور گھر کا کرایہ تک ادا کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں۔ ہر محب وطن پاکستانی کی یہ خواہش ہے کہ وطن عزیز اس بحران سے باہر نکلنے میں کامیاب ہو جائے۔ سیاسی اور مذہبی جماعتیں اس حوالے سے مختلف تجاویز کو عوام اور حکمرانوں کے سامنے پیش کرتی رہتی ہیں اور مہنگائی کے خاتمے کے لیے کئی مرتبہ منظم احتجاج بھی کیا جاتا ہے۔حالیہ ایام میں جماعت اسلامی نے ملک کے مختلف شہروں میں دھرنے دیے ہوئے ہیں۔ لاہور میں پنجاب اسمبلی کے سامنے‘ مال روڈ پر دھرنے کا انعقاد کیا گیا ہے اور یہ دھرنا گزشتہ سات دنوں سے جاری ہے۔ اس دھرنے میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی نمایاں شخصیات شرکت کر چکی ہیں۔ جماعت اسلامی وسطی پنجاب کے امیر جاوید قصوری سے میرے کئی برسوں پر محیط دوستانہ تعلقات ہیں۔ انہوں نے اور جمعیت اتحاد العلماء کے نمائندگان نے مجھے اس دھرنے میں شرکت کی دعوت دی۔ 22 اگست بروز ہفتہ‘ مغرب کی نماز کی ادائیگی کے بعد میں دھرنے میں شرکت کے لیے پہنچ گیا۔ اس وقت جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ کی قیادت میں دھرنا جاری وساری تھا۔ جماعت اسلامی کے رہنمائوں ڈاکٹر طارق سلیم‘ ضیا الدین انصاری اور جاوید قصوری نے بڑھتی ہوئی مہنگائی پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔ مجھے بھی اس موقع پر اپنے خیالات کے اظہار کے لیے دعوت دی گئی۔ میں نے جن گزارشات کو سامعین کے سامنے رکھا‘ ان کو کچھ کمی بیشی اور اضافے کے ساتھ قارئین کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں :بہت سی سیاسی جماعتوں کے برسر اقتدار آنے‘ ان کے دعوئوں اور ان کے معاشی پروگراموں کے نفاذ کے باوجود پاکستان کے معاشی معاملات درست نہیں ہو سکے ہیں۔ معاشی معاملات اس لیے بھی زیادہ الجھے ہوئے ہیں کہ یہاں مضبوط منصوبہ بندی کا فقدان ہے اور بالعموم وقت گزاری کے لیے چھوٹے موٹے پروگرام اور وقتی اصلاحات کا نفاذ کیا جاتا ہے جبکہ ملک کے معاشی مسائل کے حل کے لیے ایک مربوط اور منظم حکمت عملی اور جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں صنعتکاری کو فروغ دینے کے لیے سنجیدہ کوششیں نہیں ہو سکیں۔ ایک وقت تھا کہ جب پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری پوری دنیا میں معروف تھی لیکن بتدریج وہ بھی اپنے معیار اور ساکھ کو برقرار نہیں رکھ سکی۔ سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے بھی ملک کی معیشت کو نقصان پہنچا ہے۔ معاشی معاملات کی اصلاح کے لیے سب سے پہلی ذمہ داری حکومتِ وقت پہ عائد ہوتی ہے کہ وہ خود کو اور عوام کو اس بات پر آمادہ و تیار کرے کہ اپنے معاملات اپنے وسائل کی حدود میں انجام دینے کی سنجیدہ کوشش کی جائے۔ جب تک کفایت شعاری کو سنجیدگی سے نہیں اپنایا جائے گا اور اخراجات اور آمدن کے مابین توازن پیدا نہیں ہو گا اس وقت تک پاکستان کے معاشی معاملات کی اصلاح نہیں ہو سکتی۔ یہ بہت بڑا المیہ ہے کہ بنگلہ دیش دسمبر 1971ء میں ایک الگ مملکت کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر ابھرا لیکن بتدریج معاشی اعتبار سے مستحکم ہوتا رہا۔ اس وقت اس کی کرنسی کی قدر ہم سے دو گنا سے بھی زیادہ بڑھ چکی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں نہ تو کفایت شعاری سے کام لیا جاتا ہے اور نہ ہی کرپٹ عناصر کا صحیح طریقے سے احتساب کیا جاتا ہے۔ کرپٹ عناصر بالعموم رشوت اور سفارش کی وجہ سے قانون کے شکنجے سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ پاکستان کے معاشی معاملات کو بہتر بنانے کے لیے ذہین افراد کی حوصلہ افزائی کرنے کی ضرورت ہے اور ان کے لیے روزگار کے مواقع تبھی پیدا ہو سکتے ہیں جب ملک کا صنعتی ڈھانچہ مضبوط ہو۔صنعتکاری کو فروغ دینے کے لیے توانائی کو سستے نرخوں پر فراہم کرنے کی ضرورت ہے جس کے لیے قدرتی وسائل کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ پاکستان میں شمسی‘ آبی اور ہوا کے ذریعے توانائی کے پیداواری ذرائع کی کوئی کمی نہیں ہے۔ اسی طرح جوہری توانائی کے ذریعے بھی توانائی کے بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ ان تمام معاملات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اگر ان ذرائع کو صحیح طور استعمال کیا جائے تو پاکستان میں توانائی کا بحران ختم ہو سکتا ہے جس کے نتیجے میں اشیا کی قیمتوں میں خود بخود کمی آ جائے گی۔پاکستان کی معیشت کے کمزور ہونے کی ایک بڑی وجہ بیرونی قرضے اور سودی لین دین ہے۔ جب ہم نے پاکستان کو ایک اسلامی فلاحی ریاست کے طور پر قائم کیا تھا تو پھر ہماری یہ بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم اللہ اوراس کے رسولﷺ کے احکامات پر عمل پیرا ہوں۔ سود کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے احکامات واضح ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ البقرہ کی آیات: 278 تا 281 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور جو سود باقی رہ گیا ہے وہ چھوڑ دو اگر تم سچ مچ ایمان والے ہو۔ اور اگر ایسا نہیں کرتے تو اللہ سے اور اس کے رسول سے لڑنے کے لیے تیار ہو جائو‘ ہاں اگر توبہ کر لو تو تمہارا اصل مال تمہارا ہی ہے‘ نہ تم ظلم کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے۔ اور اگر کوئی تنگی والا ہو تو اسے آسانی تک مہلت دینی چاہیے اور صدقہ کرو تو تمہارے لیے بہت ہی بہتر ہے‘ اگر تم میں علم ہو۔ اور اس دن سے ڈرو جس میں تم سب اللہ کی طرف لوٹائے جائو گے اور ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا‘‘۔ ان آیاتِ مبارکہ پر غورو خوض کرنے سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ ہمیں اللہ تبارک وتعالیٰ کے احکامات پر چلتے ہوئے سودی لین دین سے کلی طور پر اجتناب کرنا چاہیے۔ اگر ہم ایسا کریں گے تو اللہ تبارک وتعالیٰ کے فضل و کرم سے ہمارے معاملات کی اصلاح کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح ہمیں حتی المقدور قرضوں سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے اور اپنے وسائل پر انحصار کرنے کا جذبہ پیدا کرنا چاہیے۔ معاشی معاملات کی اصلاح کے لیے جب تک ریاست اور عوام اپنی اپنی ذمہ داریوں کو صحیح طور پر ادا نہیں کریں گے‘ اس وقت تک معاشی معاملات کی اصلاح ممکن نہیں ہو گی۔ حکومت کو عوام کے بارے میں خیر خواہی سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ پٹرولیم مصنوعات پر لیوی کے نام پر بھاری رقم کی وصولی کسی بھی طور مناسب نہیں۔ عوام الناس کو اشیائے ضروریات سستے نرخوں پر فراہم کرنا ریاست اور حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اگر اس حوالے سے ریاست اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرے تو شہریوں میں خود اعتمادی پیدا ہو گی اور وہ ملک کی خدمت کے لیے اپنی توانائیوں کو بھرپور طریقے سے صرف کرنے کے لیے آمادہ ہو جائیں گے۔ اس عمل کے نتیجے میں ملک کے معاشی معاملات بہتر سے بہتر ہوتے چلے جائیں گے‘ ان شاء اللہ۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_19740082.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>