<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>اعتماد کا فقدان اور جنگ کی بھڑکتی چنگاریاں(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-09/11176</link><pubDate>Sat, 09 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-09/11176</guid><description>خلیج عمان اور آبنائے ہرمز میں ایران اور امریکہ کی بحری جھڑپوں نے عالمی امن کی کوششوں کوخطرے میں ڈال دیا ہے۔ ابھی گزشتہ حملوں کے آفٹر شاکس ہی ختم نہیں ہوئے تھے کہ دونوں ممالک کے تلخ اور بے لچک رویے نے نئی کشیدگی کو راہ بنانے کا موقع فراہم کر دیا ہے۔ ایک طرف امن کی کوششیں جاری ہیں‘ پس پردہ مذاکرات ہو رہے ہیں‘ جنگ بندی کی شرائط کا تبادلہ ہو رہا ہے مگر دوسری طرف کشیدگی بڑھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا جا تا۔ اس تناظر میں سب سے بڑا سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر دونوں ممالک مذاکرات میں سنجیدہ ہیں اور مستقل امن معاہد ے کا عندیہ بھی ظاہر کر رہے ہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ معاملات درست ہونے کے بجائے ہر بار مزید خرابی کی طرف بڑھ جاتے ہیں؟ یہ تضاد ہی اس بحران کا سب سے تکلیف دہ پہلو ہے کیونکہ جب بیانات اور عمل میں تضاد پیدا ہو جائے تو سفارتی کوششیں بے اثر ہونے لگتی ہیں۔ اس وقت مستقل معاہدے میں سب سے بڑی رکاوٹ ایران اور امریکہ کے مابین اعتماد کی وہ گہری خلیج ہے جو دہائیوں کی دشمنی‘ پابندیوں اور پراکسی وار کے نتیجے میں پیدا ہوئی ہے۔ عدم اعتماد کا یہ عالم ہے کہ ایک فریق کی امن کی پیشکش کو دوسرا فریق محض وقت حاصل کرنے یا عسکری تیاری کا بہانہ سمجھتا ہے۔

8 اپریل کے جنگ بندی معاہدے کے بعد دنیا کو امید تھی کہ اب عقل اور تحمل کی جیت ہو گی اور پائیدار علاقائی استحکام کیلئے کوششیں کی جائیں گی لیکن ایک ماہ کے قلیل عرصے میں ہی دوبارہ دونوں ممالک کا آمنے سامنے آ نا حالات کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔ اگرچہ جنگ بندی تاحال برقرار ہے مگر جھڑپوں سے جنگ کی چنگاریوں کے دوبارہ بھڑک اٹھنے کا خطرہ بڑھ چکا ہے۔ ایران اور امریکہ میں براہ راست رابطوں اور ثالثی کے لیے تیسرے فریق‘ پاکستان کی جانب سے بھرپور سفارتی اقدامات کیے گئے ہیں مگر یہ حقیقت ہے کہ مسئلے کے بنیادی فریقین میں بداعتمادی کسی معمولی غلط فہمی کو بھی کسی بڑے فوجی تصادم میں بدل سکتی ہے۔ امریکہ کی جانب سے ایران پر معاشی دباؤ کی پالیسی اور ایران کی جانب سے یورینیم کی افزودگی پر اصرار‘ یہ وہ دو انتہائیں ہیں جو پائیدار امن معاہدے کی راہ میں حائل ہیں۔ دونوں اطراف کے ’’ عقاب‘‘ بھی غالباً اس تنازعے سے نکلنے کے لیے رضا مند نہیں۔ مگر تہران اور واشنگٹن کے فیصلہ ساز دور اندیش ہیں تو انہیں سفارتی تعطل کو ختم کرنے کے لیے مخالف فریق کو ایسی رعایتیں دینا ہوں گی جو پائیدار امن معاہدے کی راہ ہموار کر سکیں۔ آج کے گلوبل وِیلیج میں‘ جہاں معیشتیں ایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں‘ آبنائے ہرمز یا خلیجی خطے میں کشیدگی یہیں تک محدود نہیں رہی نہ ایسا ممکن تھا‘ تیل اور گیس کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے‘ سپلائی چین میں رکاوٹ اور عالمی سطح پر مہنگائی کی ایک نئی لہر کو اٹھانے کا باعث بنی ہے جو پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔
یہ وقت الزام تراشی کا نہیں بلکہ اس احساسِ زیاں کا ہے کہ ایک نئی جنگ کسی کے حق میں نہیں‘ فاتح کوئی بھی ہو‘ شکست عالمی معیشت اور انسانیت ہی کے حصے میں آئے گی۔وقت آ گیا ہے کہ متحارب ممالک مستقل فریم ورک کی طرف بڑھیں۔ یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ محض جنگ بندی کا معاہدہ کافی نہیں جب تک کہ اس کے پیچھے ایک جامع سیاسی حل موجود نہ ہو۔ اگر ایران اور امریکہ اپنے اپنے مؤقف پر ڈٹے رہے اور ’پہلے تم‘ کی رٹ لگائے رکھیں گے تو ایک چھوٹی سی چنگاری بھی ایسی عالمی آگ بھڑکا سکتی ہے جسے بجھانا کسی کے بس میں نہیں رہے گا۔ وقت آ گیا ہے کہ دونوں ممالک اپنی امن خواہشات کو عملی اقدامات سے ثابت کریں اور دنیا کو اس مسلسل خوف سے نجات دلائیں جس نے پورے کرۂ ارض کو یرغمال بنا رکھا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مہنگائی میں اضافہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-09/11175</link><pubDate>Sat, 09 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-09/11175</guid><description>ادارۂ شماریات کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق سات مئی کو ختم ہونے والے کاروباری ہفتے کے دوران ہفتہ وار مہنگائی کی شرح میں سالانہ بنیادوں پر 15 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے۔ اس بلند ترین مہنگائی میں سب سے زیادہ حصہ اشیائے خورونوش اور توانائی کی قیمتوں کا ہے۔ گزشتہ ہفتے کے دوران بھی 22اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے جبکہ پچھلے ایک سال کے دوران آٹے کی قیمت میں 51فیصد‘ پٹرول 58فیصد‘ ڈیزل 56فیصد‘ ایل پی جی 49فیصد، بجلی 53فیصد اور خشک دودھ کی قیمت میں تقریباً 11فیصد اضافہ ہوچکا ہے۔ مہنگائی میں کمی کے حوالے سے تمام تر حکومتی دعوؤں کے برعکس اس میں مسلسل اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ مہنگائی جیسا سنگین مسئلہ حکومتی ترجیحات میں شامل ہی نہیں۔

روز افزوں مہنگائی نے جس طرح کم آمدنی والے طبقے کیلئے عرصۂ حیات تنگ کیا ہوا ہے‘ اس کے پیش نظر ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حکومت مہنگائی کے تدارک کیلئے ایک جامع حکمت عملی تیار کرتی لیکن اس کے برعکس حکومتی کوششیں محض بیان بازی تک محدود ہیں۔ پرائس کنٹرول کمیٹیوں کے متحرک نہ ہونے کی وجہ سے منافع خور عناصر کی بھی چاندی ہے جس کی وجہ سے ہی مقامی طور پر پیدا کردہ غذائی اجناس بھی عوام کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ مہنگائی کے تدارک کیلئے کم آمدنی کے حامل طبقے کی معاشی سکت اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے ساتھ ساتھ مہنگائی میں اضافے کا باعث بننے والے دیگر عوامل پر بھی قابو پائے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>جرمانوں میں کمی(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-09/11174</link><pubDate>Sat, 09 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-09/11174</guid><description>پنجاب موٹروہیکل ترمیمی بل 2026ء پر گورنر پنجاب کے دستخط کے بعد نہ صرف ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانوں میں نمایاں ہو گئی ہے بلکہ قید کی سزائیں بھی ختم ہو گئی ہیں۔ جرمانوں میں کمی بلاشبہ بڑا عوامی ریلیف ہے‘ تاہم یہ پہلو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ ماضی قریب میں جب جرمانے نسبتاً زیادہ سخت کیے گئے تو اسکے نتیجے میں ٹریفک قوانین پر عملدرآمد میں واضح بہتری دیکھنے میں آئی تھی۔ ہیلمٹ کے استعمال میں اضافہ ہوا‘ ڈرائیونگ لائسنس کے حصول کی شرح بڑھی اور شہریوں میں ٹریفک نظم و ضبط کے حوالے سے ایک مثبت رویہ پیدا ہوا۔ اب جرمانوں میں کمی کے بعد کیا یہ بہتری برقرار رہ سکے گی؟

یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ صرف سزا کا خوف ہی نہیں بلکہ مستقل آگاہی اور موثر نفاذ بھی قانون کی پاسداری کو یقینی بناتے ہیں۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ٹریفک پولیس قوانین کے نفاذ کے نظام کو زیادہ مؤثر اور شفاف بنائے۔ مزید یہ کہ شہریوں کو یہ سمجھانا ضروری ہے کہ ٹریفک قوانین محض مالی سزا سے بچنے کیلئے نہیں بلکہ انسانی جانوں کے تحفظ کیلئے بنائے گئے ہیں۔ جرمانوں میں کمی کے ساتھ اگر قانون کی عملداری کمزور پڑ گئی تو سڑکوں کی حفاظت اور شہری نظم و ضبط متاثر ہو سکتا ہے۔ اصل چیلنج یہی ہے کہ ریلیف اور ریگولیشن کے درمیان ایسا توازن قائم رکھا جائے جو عوامی سہولت اور ٹریفک نظم دونوں کو یکساں طور پر یقینی بنائے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مولانا فضل الرحمن کیلئے دعا(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-05-09/51912/73857919</link><pubDate>Sat, 09 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-05-09/51912/73857919</guid><description>مولانا فضل الرحمن کی جرأتِ رندانہ حیران کن ہے۔ سچ پوچھئے تو پریشان کن بھی۔مولانا محمد ادریس شہید کے تعزیتی جلسے سے ان کا خطاب سن کر یہ احساس ہوا کہ یہ ایک ایسے حق گو مذہبی راہنما کا نعرۂ مستانہ تھا جو جذبات‘ دور اندیشی اور جرأت کا مرقع ہے۔ دل کا درد اُن کی آنکھوں سے عیاں تھا۔ انہیں اندازہ تھا کہ علمائے حق کی صف میں ایک ایساخلا واقع ہو گیا ہے جو تادیر باقی رہے گا۔ دور اندیشی الفاظ میں ڈھل کر متنبہ کر رہی تھی کہ ایک ایسی دینی تعبیر مسلم معاشروں میں سرایت کر چکی جو ہمارے اجتماعی وجود اور شعور کے لیے زہرِ قاتل ہے۔ یہ تعبیر مسلم علما اور عوام کی تکفیر کرتی اور ان کو مباح الدم قرار دیتی ہے۔ جرأت اس لہجے سے نمایاں تھی جو باطل کو للکارنے کا حوصلہ رکھتا ہے۔اقتدار کی سیاست کے ساتھ‘ مولانا نے مذہب کے سماجی کردار کو بھی اپنا ہدف بنایا ہے۔ اس وقت ان کا یہی کردار میرے پیشِ نظر ہے۔ انہیں ایک طرف اپنے مسلک کا دفاع کرنا ہے اور دوسری طرف مذہبی تنوع اور مذہب کو درپیش چیلنجوں کا بھی لحاظ رکھنا ہے۔ ان پر مستزاد عالمی سیاست کی الجھنیں ہیں۔ ہمار ی مذہبی قیادت میں شاید ہی کوئی ہو جو اُن کی طرح اس سیاست کو سمجھتا اور تاریخ کا شعور رکھتا ہو۔ ان پہلوئوں کا ادراک رکھتے ہوئے معاشرے میں مذہب کی نمائندگی کرنا آسان نہیں۔ ہم گواہ ہیں کہ مولانا نے پاکستان کو بارہا انتشار سے بچایا‘ بالخصوص جب فرقہ واریت کا عفریت ہمارے وجود سے لپٹ گیا یا تشدد اور انتہا پسندی نے معاشرے کو فساد سے بھر دیا۔ یہ واقعات زیادہ پرانے نہیں۔ میں نے اور میرے بعد آنے والی نسل نے ان کو بچشمِ سر دیکھا ہے۔ یہ واقعات ہم پر بیتے ہیں۔1980ء کی دہائی میں بطورِ خاص اور اس کے بعد بھی‘ شیعہ سنی تنازع ہمارے سماجی امن کے لیے سب سے بڑا مسئلہ بن گیا۔ کوئی مسجد محفوظ رہی نہ کوئی امام بارگاہ۔ جذبات تھے کہ قابو میں نہ آتے تھے۔ علما قتل ہو رہے تھے اور عوام بھی۔ اس فضا میں جب ایک دِیا سلائی دکھانے سے کراچی سے خیبر تک آگ بھڑک سکتی تھی‘ جھنگ میں جمعیت علمائے اسلام سے وابستہ پانچ علما کو شہید کر دیا گیا۔ یہ معمولی واقعہ نہیں تھا‘ بالخصوص جمعیت کے لیے۔ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اُس وقت جمعیت کے کارکنوں کے جذبات کیا ہوں گے۔ اعلان ہوا کہ نمازِ جمعہ کے بعد راجہ بازار راولپنڈی میں احتجاجی جلسہ ہو گا‘ جس سے مولانا فضل الرحمن خطاب کریں گے۔ میں نے جمعہ کی نماز &#39;دارالعلوم تعلیم القرآن‘ میں پڑھی‘ جو شہر میں دیوبندی مسلک کا سب سے معتبر ادارہ اور راجہ بازار میں واقع ہے۔ یہ شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خان کی یادگار ہے۔ مسجد میں اندازہ ہو گیا کہ اس احتجاج کی نوعیت کیا ہو سکتی ہے۔ کارکن توقع کر رہے تھے کہ قائد ایک خاص مسلک کے خلاف اعلانِ جہاد کر سکتے ہیں۔مولانا جلسے میں تشریف لائے اور ان کی تقریر نے جذبات کی آگ پر پانی ڈال دیا۔ وہ اجتماع جو اس واقعے کو جھنگ کی خاص فضا اور فرقہ وارانہ کشیدگی کے تناظر میں دیکھ رہا تھا‘ اسے مولانا نے بتایا کہ اس واقعے کا تعلق شیعہ سنی اختلاف سے نہیں ہے۔ حاضرین کے ایک بڑے طبقے میں مایوسی پھیل گئی لیکن مولانا کی تقریر نے اس فساد کے سامنے بند باندھ دیا جو ملک بھر میں پھیل سکتا تھا۔ انہوں نے غم وغصے کا رخ بدل دیا اور اپنے ہم مسلکوں کو پیغام دیا کہ یہ شیعوں اور سنیوں کو لڑانے کی کوئی سازش ہو سکتی ہے۔ میں ان دنوں ایک نوجوان طالب علم تھا اور یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔ آج جب بال سفید ہو رہے ہیں‘ میں اندازہ کر سکتا ہوں کہ مولانا کی فراست نے پاکستان کو فرقہ واریت کی کوکھ سے جنم لینے والے فساد سے کیسے محفوظ رکھا جس کے مسلح علمبردار ملک بھر میں پھیلے ہوئے تھے۔لاہور کا واقعہ بھی سب کو یاد ہو گا جب داتا دربار میں بم دھماکہ ہوا اور بہت سی قیمتی جانیں اس کی نذر ہو گئیں۔کچھ شرپسندوں نے اسے دیوبندی بریلوی جھگڑے میں بدلنا چاہا۔ مولانا اس وقت بھی سامنے آئے اور یہ اعلان کیا کہ سید علی ہجویریؒ ہمارے بزرگوں میں سے ہیں۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ کوئی دیوبندی ان کے مزار کو ہدف بنائے۔ پھر حال ہی میں ہم نے دیکھا کہ وہ سید علی خامنہ ای کی شہادت پر تعزیت کے لیے ایرانی سفارتخانے گئے۔ فرقہ وارانہ اور مسلکی تعصبات کے اس غلبے میں‘ یہ کوئی آسان کام نہ تھا۔ مولانا کو معلوم تھا کہ انہیں اپنوں کی تنقید کا بھی ہدف بننا پڑے گا۔ اس کے باوصف انہوں نے وہی کیا جو مسلمانوں اور پاکستان کے مفاد میں تھا۔سب سے بڑا معرکہ انہوں نے جہاد کے نام پر اٹھنے والی تحریکوں کے خلاف لڑا۔ یہ تحریکیں مسلکِ دیوبند کو اپنا یرغمال بنا لیتیں اگر مولانا آگے بڑھ کر ان کا راستہ نہ روکتے۔ برصغیر میں علمائے دیوبند نے انگریزی استعمار کے خلاف جہاد کیا ہے‘ یہ تلوار کے ساتھ تھا اور قلم سے بھی۔ انگریزوں کے اقتدار اور ان کے ساتھ تعاون کے خلاف فتوے بھی دیے گئے۔ کچھ گروہوں نے اس روایت کو مسلم حکمرانوں اور عوام کے خلاف بھی استعمال کرنا چاہا جب افغانستان میں سوویت یونین نے حملہ کیا یا طالبان نے مسلح اقدام کیا۔ اس دوران میں کچھ لوگوں نے غیر ملکی استعمار اور مسلم اقتدار کے ساتھ‘ پاکستان اور افغانستان کے حالات کے فرق کو بھی نظر انداز کیا اور پاکستان میں مسلح جنگ کو جائز کہا۔ یہ چونکہ اپنا تعلق دیوبند کی روایت سے جوڑتے تھے‘ اس لیے اس کے سب سے زیادہ اثرات بھی اس مسلک کے وابستگان پر مرتب ہوئے۔ مولانا کو معاملے کی سنگینی کاا ندازہ ہو گیا اور انہوں نے اس کے خلاف میدان میں نکلنے کا فیصلہ کیا۔یہ آسان کام نہیں تھا۔ اس میں جان کا خطرہ تھا۔ مولانا نے یہ خطرہ مول لیا۔ ان پر کم از کم تین قاتلانہ حملے ہوئے۔ اگر ان کی گاڑی بلٹ پروف نہ ہوتی تو جان کا بچنا مشکل تھا۔ ان کے بیٹے پر بھی حملہ ہوا۔ وہ جس خطے میں رہتے ہیں وہاں اس انتہا پسندانہ تعبیرِ دین کو ماننے والوں کا غلبہ ہے‘ مولانا جن کو للکار رہے ہیں۔ مولانا محمد ادریس کی شہادت پر مولانا کی تقریر جس جرأت مندی سے عبارت ہے‘ کوئی مصلحت پسند دنیادار اس کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اسی وجہ سے ان کی بہادری کی تحسین کے ساتھ‘ مجھے اس خطاب سے پریشانی بھی ہوئی۔ میں مولانا محمد ادریس کے حوالے سے یہ بات پہلے بھی لکھ چکا کہ ایسے علما کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہے جو انتہا پسندانہ مذہبی تعبیرات کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ان لوگوں کے لیے بھی ہدایت کی دعا ہے جو انسانی جان کی حرمت سے واقف نہیں اور یہ نہیں جانتے کہ قتل کے مجرم کے لیے اللہ تعالیٰ نے کیسی سخت وعید سنائی ہے۔ہم جب کسی فرد کے بارے میں رائے قائم کرتے ہیں تو ہمیں اس کی مجموعی شخصیت کو پیشِ نظر رکھنا چاہیے۔ حکم کُل پر لگایا جاتا ہے‘ جزو پر نہیں۔ عصمت کا باب نبوت کے ساتھ بند ہو گیا۔ مولانا فضل الرحمن سمیت سب شخصیات کا معاملہ یہی ہے۔ مولانا نے سماج میں فرقہ واریت اور مذہبی انتہا پسندی کے خلاف جو کردار فی الجملہ ادا کیا ہے‘ اس پر وہ تحسین کے مستحق ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مولانا سمیت ہر اس شخص کی حفاظت فرمائے جو معاشرے میں امن کے لیے کام کرتا اور انسانوں کو فساد سے بچانا چاہتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پھر وہی مکھڈی حلوہ(خالد مسعود خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-05-09/51913/23700860</link><pubDate>Sat, 09 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-05-09/51913/23700860</guid><description>اسے آپ حیران کن اتفاق کہیں‘ میں نے جب صبح اخبار کا ادارتی صفحہ کھولا تب میں برادرِ عزیز وہاب نیازی کا کالا باغ سے بھیجا گیا ماما حنیف کا مکھڈی حلوہ کھا رہا تھا۔ صبح صبح برادر محترم اظہار الحق کا کالم پڑھنا اس عاجز کیلئے بقیہ سارا دن سرخوشی کا پیش خیمہ ثابت ہوتا ہے۔ ملکی مسائل سے شروع ہونیوالا یہ کالم چند ہی سطروں کے بعد اس عاجز کی طرف مڑ گیا۔ ابتدا میں جو کچھ تھا وہ ایک دوست کی محبت کا آئینہ دار تھا۔ سرائیکی کی ایک کہاوت ہے کہ &#39;&#39;بھاندے دی ہر شے بھاندی اے‘ تے اَن بھاندے دی کئی شے نیں بھاندی‘‘ یعنی جس سے آپ محبت کرتے ہوں اسکی ہر بات اچھی لگتی ہے اور جو بندہ ہی آپ کو اچھا نہ لگے اسکا کچھ بھی اچھا نہیں لگتا۔ چونکہ یہ فقیر اظہار صاحب کو &#39;&#39;بھاندے‘‘ لوگوں میں شامل ہے لہٰذا انہیں ہرصورت میں بھاندا ہے۔ویسے تو مکھڈی حلوہ بھولنے کی چیز ہی نہیں تاہم گزشتہ دنوں ٹرمپ کی آمد کے حوالے سے اظہار صاحب نے کالم میں مکھڈی حلوے کا ذکر کیا تو یاد آیا کہ مکھڈی حلوہ کھائے بہت دن ہو گئے ہیں۔ یادش بخیر‘ آخری بار یہ حلوہ کالا باغ میں دریائے سندھ کے کنارے پر ایک پرانے ریسٹ ہاؤس کے برامدے میں بیٹھ کر کھایا تھا۔ ایک طرف نواب کالاباغ امیر محمد خان کا قدیمی گھر المعروف بوہڑ والا بنگلہ تھا اور سامنے میلوں پھیلا نیلگوں پانی‘ دور پرے نو بڑے اور تین چھوٹے دروں پر مشتمل لوہے کا پرانا پل اور ریسٹ ہاؤس کی دیوار سے ٹکراتا ہوا پانی۔ یہ سب کچھ مل کر ایسا ماحول بنا رہے تھے ایسے میں چنے‘ پوریاں اور مکھڈی حلوہ گویا جنت سے اترے ہوئے میوے کی مانند لطف دے رہا تھا۔ ایسے ناشتے لوگوں کو کم کم نصیب ہوتے ہیں۔ میں اور عامر جعفری میانوالی پہنچے تو یہ طے پایا کہ کل صبح کا ناشتہ کالا باغ میں کیا جائے گا۔ عامر جعفری کی کالا باغ سے بچپن کی یادیں وابستہ ہیں۔ عامر کے والد گرامی سید انجم جعفری کالا باغ ہائی سکول کے ہیڈ ماسٹر تھے جن کی سرکاری رہائش گاہ پُل کے مشرقی سرے پر تھی جبکہ کالا باغ شہر پُل کے پار مغرب کی جانب ہے۔ علی الصبح میانوالی سے کالا باغ پہنچے تو مقصد صرف ناشتہ تھا۔ بلکہ ناشتہ بھی ضمنی چیز تھی‘ اصل چیز مکھڈی حلوہ تھا۔ صبح محض لسی کے دو گلاس سے ناشتہ کرنے والے اس مسافر نے اُس روز مکھڈی حلوے کے طفیل ناشتے سے خوب انصاف کیا۔ مکھڈی حلوے سے بہتر اگر کوئی حلوہ ہو سکتا ہے تو وہ کوئی دوسرا مکھڈی حلوہ ہی ہو سکتا ہے۔ واپسی پر کھانڈ (چینی) اور گڑ والا حلوہ علیحدہ علیحدہ پیک کروا لیا۔سابق امیر جماعت اسلامی ضلع میانوالی برادرم وہاب نیازی بہاء الدین زکریا یونیورسٹی میں میرے جونیئر تھے اور آج کل نائب قیّم جماعت اسلامی صوبہ شمالی پنجاب ہیں۔ انہیں فون کر کے کہا کہ کسی طور کالاباغ کا مکھڈی حلوہ ملتان بھجوایا جائے۔ اگلے دن وہاب نیازی نے بتایا کہ آپ کی فرمائش کی تعمیل میں کالاباغ کا مکھڈی حلوہ ملتان جانے والی نیو خان کی بس کے ڈرائیور کے حوالے کر دیا گیا ہے اس سے وصول کر لیں۔اس حلوے میں کئی حصے دار ہیں۔ برادرِعزیز شاکر حسین شاکر اس لیے اس حلوے میں حصے دار ہے کہ جب میں نے وہاب نیازی کو فون کیا تو ساتھ بیٹھے ہوئے شاکر حسین شاکر کی آنکھوں میں جو چمک اور چہرے پر جو تاثرات تھے ان کی الفاظ میں منظر کشی کی جائے تو سرائیکی میں ایسے بندے کو جو کہا جاتا ہے وہ نہ لکھا جا سکتا ہے اور نہ ہی کالم میں اسے دکھانا ممکن ہے۔ دوسرا حصے دار شوکت گجر ہے، اگر اسے حصہ دیے بغیر کوئی چیز کھا لی جائے تو وہ بندے کو اُلٹی پڑ جاتی ہے۔اظہار صاحب کا گزشتہ کالم پڑھ کر اُنکے پنڈی گھیب کے مکھڈی حلوے کو دنیا کا سب سے بہترین حلوہ قرار دینے کے قطعی فیصلے کو چیلنج کرنے کی اس مسافر کو مجال ہی نہ تھی سو حسبی نسبی اعوان کو فون کرتے ہوئے راجوں مہاراجوں کے دربار میں سوال کرنے والے عاجزوں کی طرح پہلے جان کی امان طلب کی جو انہوں نے شانِ خسروانہ سے عطا کر دی۔ امان حاصل کرنے کے بعد عرض کیا کہ صرف پنڈی گھیب کا حلوہ کھا کر اسے دنیا کا بہترین مکھڈی حلوہ قرار دینا سوائے اپنے علاقے کی محبت کے اور کچھ بھی نہیں۔ اظہار صاحب نے تقریباً تقریباً ڈانٹتے ہوئے فیصلہ سنایا کہ مکھڈی حلوے کے بارے میں اٹک اور میانوالی کے علاوہ کسی کو تبصرہ کرنے کا حق حاصل نہیں۔ نہایت ہی عاجزانہ انداز میں پھر عرض کی کہ حضور حلوہ کھانے والا خواہ میانوالی یا اٹک سے تعلق نہ بھی رکھتا ہو‘ منہ میں زبان تو رکھتا ہی ہے۔ ذائقے کی حس مالکِ کائنات نے ہر انسان کو عطا کی ہے حلوہ کھانے کے بعد اس کے درجے کا تعین کرنا حلوہ کھانے والے ہر شخص کا بنیادی حق ہے‘ اسی قسم کے یکطرفہ فیصلوں سے تنگ آ کر کرکٹ میں نیوٹرل امپائر کے تصور نے جنم لیا تھا۔میانوالی سے واں بھچراں اور قائدآباد سے ہوتے ہوئے خوشاب پہنچیں تو وہاں ڈھوڈے نے بہار لگا رکھی ہے۔ پہلی بار قائد آباد سے گزرا تو ساتویں جماعت میں معاشرتی علوم کی کتاب میں اُون کے کارخانوں کے حوالے سے قائدآباد کا ذکر یاد آیا۔ کبھی قائدآباد وولن ملز دنیا بھر میں اپنے گرم کپڑے کے حوالے سے مشہور تھی۔ جیسے بہت سی چیزیں برباد ہوئیں اب یہ وولن ملز بھی ماضی کا حصہ ہے۔ خوشاب کا ڈھوڈا ملتانی سوہن حلوے کا دور پار کا رشتہ دار ہے۔ ایک روایت کے مطابق خوشاب میں ڈھوڈے کی ابتدا لالہ ہنس راج نے کی تھی۔ قیام پاکستان کے بعد لالہ ہنس راج بھارت جاتے ہوئے اسکا فارمولا اپنے شاگرد امین کو دے گیا۔ امین سے یہ فارمولا اسکے شاگرد انور تک پہنچا۔ نتیجتاً شہر میں موجود ڈھوڈے کی درجنوں دکانوں میں سے بیشتر پر امین ڈھوڈا ہاؤس لکھا ہوا ہے‘ بقیہ دکانوں پر انور ڈھوڈا ہاؤس کا بورڈ لگا ہوا ہے اور جو چند دکانیں بچ جاتی ہیں ان پر مختلف ناموں کے بورڈ آویزاں ہیں۔ اڈے کے اردگرد واقع تقریباً ہر دکان پر انتباہ کے طور پر لکھا ہوا ہے کہ شہر کی قدیمی برانچ یہاں منتقل ہو گئی ہے‘ ہماری کوئی برانچ نہیں اور نقالوں سے ہوشیار رہیں۔ پردیسی بندہ کیا کرے اور کس سے ڈھوڈا خریدے؟برسوں گزرے بچوں کے ساتھ چھٹیاں گزارنے کیلئے وادیٔ سون سکیسر کا انتخاب کیا۔ پہلے پڑاؤ کیلئے کلرکہار کا انتخاب کیا۔ دو تین دن مور دیکھتے اور سنتے گزارے۔ پھر وہاں سے سوڈھی جے والی چلے گئے۔ جھیل اچھالی‘ کھبیکی‘ جاہلر اور چٹا گاؤں کا نظارہ کرتے ہوئے واپسی پر خوشاب آ گئے۔ تب یہاں ملتان سے تعلق رکھنے والا چھوٹے بھائیوں جیسا دوست یوسف نسیم کھوکھر ڈپٹی کمشنر تھا۔ ملتان واپسی سے قبل سوچا کہ جاتے ہوئے خوشاب کا ڈھوڈا لے جائیں۔ یوسف نسیم کھوکھر نے رہنمائی کیلئے اپنے دفتر کا ایک بندہ ساتھ بھجوا دیا۔ اس نے ہماری رہنمائی کیا کرنی تھی اسے خود علم نہیں تھا کہ اصلی دکان کون سی ہے۔ گائیڈ تو وہ خاصا نکما تھا تاہم باتونی بہت اعلیٰ درجے کا تھا۔ اس نے ہمیں اپنے زورِ کلام سے اس بات پر قائل کر لیا کہ بڑے ناموں والی دکانوں کے بجائے خود چکھ کر فیصلہ کریں کہ کس کا ڈھوڈا زیادہ خوش ذائقہ اور مزیدار ہے۔ پانچ چھ دکانوں کا ڈھوڈا چکھنے کے بعد ذائقے کی حس کا دھڑن تختہ ہو گیا اور وہی حال ہو گیا جو چائے انڈسٹری میں Tea Taster کا ہوتا ہے اور اس کی چکھنے اور سونگھنے کی حس کو دوبارہ نارمل کرتے ہیں۔ ہمارے پاس ایسی سہولت نہیں تھی لہٰذا اگلی دکان سے ڈھوڈا خریدا اور واپس چل پڑے۔ اب کسی دن اسلام آباد جانے سے پہلے وہاب نیازی سے کالاباغ کے ماما حنیف کا مکھڈی حلوہ منگواؤں گا اور اظہار الحق صاحب سے کہوں گا کہ وہ پنڈی گھیپ سے اپنا &#39;دنیا کا سب سے مزیدار‘ حلوہ منگائیں۔ پھر ہم بیٹھ کر فیصلہ کریں گے کہ کون سا مکھڈی حلوہ نمبر وَن ہے۔ ذائقے کا فیصلہ زورِ قلم سے نہیں صرف کھا کر ہی کیا جا سکتا ہے۔قارئین ! آپ بھی سوچتے ہوں گے کہ پھر وہی مکھڈی حلوہ۔ یہ صرف حلوہ نہیں‘ اس پورے خطے کی تہذیبی اور ثقافتی روایت ہے جسے پروان چڑھنا چاہیے۔ اس پر تو دس کالم بھی کم ہیں یہ تو ابھی تیسرا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90500073.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>معرکۂ حق کے بعد والا پاکستان(ڈاکٹر حسین احمد پراچہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-05-09/51914/83722188</link><pubDate>Sat, 09 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-05-09/51914/83722188</guid><description>قارئین کو گزشتہ سال کے واقعات تھوڑی سی ترتیب سے یاد دلا دوں تاکہ ہمارے خطے میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کو بآسانی سمجھا جا سکے۔ 22 اپریل 2025ء کو مقبوضہ کشمیر کی ایک سرسبز و شاداب وادی پہلگام میں دہشت گردی کا ایک واقعہ ہوا جس میں 26 سیاح ہلاک ہو گئے جس کا الزام بھارت نے پاکستان پر عائد کر دیا۔ پاکستان نے اس واقعے کی پُرزور مذمت کی اور بھارتی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کسی بھی عالمی فورم جیسے سلامتی کونسل‘ یو این او یا عالمی عدالتِ انصاف وغیرہ سے اس کی تحقیقات کرا لے‘ مگر بھارت نے حسب ِسابق صرف الزام تراشی پر اکتفا کیا۔ پاکستان پوری طرح تیار تھا کہ اب بھارت پاکستان پر حملے کرے گا۔ پھر ایسا ہی ہوا۔چھ اور سات مئی 2025ء کی درمیانی رات بھارت نے پاکستان میں مساجد‘ مدارس اور عام شہریوں کے گھروں پر بمباری کی۔ ان حملوں کے نتیجے میں 31پاکستانی شہید ہوئے۔ پاکستان ایئر فورس نے بلاتاخیر بھارتی جنگی جہازوں کو جواب دیا اور دشمن کے آٹھ جہازوں کو مار گرایا۔ پاکستان کو کامیابی نصیب ہوئی جبکہ بھارت بدترین ہزیمت سے دوچار ہوا۔ یہ بھی ذہن میں تازہ کر لیں کہ 10مئی 2025ء کو پاکستان نے آپریشن بنیانٌ مرصوص کے تحت بھارت کی فوجی تنصیبات پر بھرپور حملے کیے۔ ماڈرن سائبر وار فیئر کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے پاور گرڈ اور بھارت کی حکومتی ویب سائٹس پر حملے کیے جن سے بھارت اور اس کا آپریشن سندور عملاً جام ہو گئے۔ پاکستان کے غیرمتوقع حملوں سے بھارت بدحواس ہو گیا اور منہ سے شعلے اگلنے والے نریندر مودی نے امریکہ سے سیز فائر کروانے کی درخواست کی۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے دو ایٹمی قوتوں کے ٹکراؤ کو عالمی امن کیلئے شدید خطرہ سمجھتے ہوئے فوراً جنگ بندی کروا دی۔ بھارتی جارحیت کے خلاف ایک طرف پاکستان کی فضائی اور آئی ٹی برتری قائم ہوئی اور دوسری طرف پاکستان کے بارے میں دہشت گردی کے تاثر کا یکسر خاتمہ ہو گیا۔ پہلے دنیا بھارت کے الزامات کو تسلیم کر لیتی تھی مگر معرکۂ حق کے بعد دنیا نے بھارت کی کذب بیانی اور افترا پردازی کو یکسر مسترد کر دیا۔ اس کے بعد کئی ممالک نے پاکستان سے سکیورٹی فراہم کرنے والی قوت کے طور پر رجوع کر لیا۔ سب سے پہلے ہمارے برادر ملک سعودی عرب نے پاکستان سے ایک دفاعی معاہدہ کیا۔ پاکستان جنوبی ایشیا‘ سینٹرل ایشیا اور مغربی ایشیا کے سنگم پر واقع ہے۔ ان سب ممالک نے اپنے دفاع کیلئے پاکستان کی طرف ایک طاقتور‘ مخلص اور بااعتماد ساتھی کے طور پر دیکھنا شروع کر دیا۔ یہاں اہم سوال یہ بھی ہے کہ مئی 2025ء کے معرکۂ حق سے خطے میں کیا تبدیلیاں آئی ہیں؟ سب سے پہلی تبدیلی تو یہ آئی کہ پاکستان کے ہاتھوں بھارت کا جو حشر ہوا اس کے بعد علاقے میں اس کی چودھراہٹ کا خواب چکنا چور ہو گیا۔ بھارت جنوبی ایشیا کا اپنے آپ کو تھانیدار سمجھتا تھا۔ وہ برسوں سے یہی کوشش کر رہا تھا کہ اس خطے کے سارے ممالک اس سے دب کر رہیں۔ اس کے اسی رویے کی بنا پر خطے کے تمام ممالک بھارت سے نالاں تھے‘ لیکن پاکستان نے اس کی علاقائی برتری کا خواب چکنا چور کر دیا۔پاکستان کو معرکۂ حق سے کیا ملا؟ مئی 2025ء کے بعد نہ صرف بھارت بلکہ ساری دنیا کو یہ پیغام چلا گیا کہ پہلے پاکستان کی آرمی اور ایئر فورس کی ساری دنیا میں دھوم تھی‘ اب دنیا کو یہ بھی باور ہو گیا کہ پاکستان کا ماڈرن وار فیئر میں بھی کوئی ثانی نہیں اور بھارتی ہزیمت نے یہ ثابت کر دیا کہ اس میدان میں بھارت پاکستان سے بہت پیچھے ہے۔ ساری دنیا پر یہ بھی عیاں ہو گیا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بھارت مسلسل جھوٹ بولتا چلا آ رہا ہے کہ پاکستان سے دہشت گردی کی جاتی ہے۔ اب ایک سال بعد بھی بھارت پہلگام دہشت گردی سے متعلق ایک ثبوت بھی پیش نہیں کر سکا کہ اس میں پاکستان کا کہیں دور دور تک کوئی دخل تھا۔ بھارت کے خلاف پاکستان کی عسکری برتری کے بعد اس کی خطے میں ہی نہیں ساری دنیا میں سفارتی حیثیت بہت مضبوط ہو گئی ہے۔ جس طرح امریکہ اور ایران نے اپنی جنگ بندی کیلئے پاکستان پر اعتماد کا اظہار کیا ہے اس سے عالمی کمیونٹی میں پاکستان کا مقام و مرتبہ بہت بلند ہوا ہے۔ معرکۂ حق کے بعد پاکستانی قوم کو بھی ایک نیا اعتماد اور حوصلہ ملا ہے۔ اب پاکستانی قوم پر بھارت کا کوئی جھوٹا سچا رعب اور دبدبہ نہیں۔ اب اہلِ پاکستان کو حق الیقین کا تحفہ ملا ہے کہ وہ جنگ کے روایتی‘ فضائی‘ بحری اور جدید وار فیئر سمیت ہر شعبے میں بھارت کو دھول چٹا سکتے اور اس کے غرور و تکبر کو خاک میں ملا سکتے ہیں۔ پاکستانی قوم وزیراعظم شہباز شریف‘ فیلڈ مارشل سیّد عاصم منیر اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی عسکری و سفارتی حسنِ کارکردگی کے دل و جان سے مداح ہیں۔معرکۂ حق سے بھارت نے کوئی مثبت سبق سیکھا ہے؟ کیا اتنی بڑی ہزیمت سے دوچار ہونے کے بعد بھارت کے اندر حقیقت پسندی کا عنصر آیا ہے یا نہیں؟ بادیٔ النظر میں ان دونوں سوالوں کا جواب نفی میں ہے۔ نریندر مودی نے اپنی خوئے بد کو چھوڑنا تو دور کی بات اس پر نظرثانی کی ضرورت تک محسوس نہیں کی۔ حال ہی میں نریندر مودی نے جس طرح سے مغربی بنگال میں انتخابی دھاندلی کی ہے اس سے بھارت کی جمہوری شہرت بہت داغدار ہوئی ہے۔ مغربی بنگال میں الیکشن جیتنے کیلئے بی جے پی نے ہر جمہوریت کش حربہ استعمال کیا۔ مغربی بنگال میں آل انڈیا ترنمول کانگریس کی ممتا بینر جی 2011ء سے وہاں کی وزیراعلیٰ چلی آ رہی تھیں۔ ان کی جیت کا راز وہاں کی 27 فیصد مسلم اور 23 فیصد دلت آبادی میں مضمر تھا۔ شہریت ایکٹ 2019ء کے ذریعے لاکھوں مسلمانوں کی شہریت منسوخ کی گئی جو باقی بچے ان کے نام ووٹر لسٹوں سے خارج کر دیے گئے۔ اس پر ممتا بینر جی نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا مگر وہاں بھی اُنکی شنوائی نہیں ہوئی۔ اسی طرح الیکشن کمیشن آف انڈیا بھی پری پولنگ اور ووٹنگ کے دوران ہونیوالی دھاندلی کو نہ روک سکا۔ مغربی بنگال میں آر ایس ایس کے غنڈے مسلمانوں اور دلتوں پر حکومتی سرپرستی میں حملے کرتے ہیں۔ نریندر مودی ملک کے اندر مسلم‘ مسیحی اور دلت اقلیتوں اور پڑوسی ملکوں میں انتہائی غیرمقبول ہو چکے ہیں۔مئی 2025ء کی ہزیمت کے بعد خطے کے سارے ممالک سکیورٹی اور تحفظ کیلئے بھارت کی طرف نہیں‘ پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ آج بھارت ساری دنیا میں تنہا ہے۔ اس کے برعکس پاکستان پر اللہ کا فضلِ خاص ہے۔ امریکہ اس پر مہربان‘ چین راز دان اور روس بھی قدر دان ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ جنگ میں امریکہ اور ایران دونوں نے پاکستان کو ثالث تسلیم کیا ہے۔ پاکستان نہایت اخلاص اور سفارتی ہنر مندی کے ساتھ اس فرض کو نبھا رہا ہے۔ امکانات یہی ہیں کہ آئندہ چند دنوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان مستقل اور پائیدار امن کا معاہدہ طے پا جائے گا۔ پاک بھارت جنگ اور پھر ایک سال کی مسلسل کشیدگی کے دوران بھارتی میڈیا کے ایک بڑے حصے نے نہایت غیر ذمہ دارانہ کردار ادا کیا اور دروغ گوئی کے وہ ریکارڈ قائم کیے جن کو بی بی سی‘ سی این این اور الجزیرہ جیسے معتبر چینلز نے یکسر مسترد کر دیا۔ بی جے پی کے ہی ایک سابق‘ شاعر وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی نے کہا تھا:ہم نے چھیڑی جنگ بھوک سے بیماری سے؍ آگے آ کے ہاتھ بٹائے دنیا ساری؍ ہری بھری دھرتی کو خونی رنگ نہ لینے دیں گے؍ جنگ نہ ہونے دیں گےنریندر موی کی سوچ واجپائی کے الٹ‘ خون خرابے اور تباہی و بربادی والی ہے۔ اب بھارتی دانشور اور وہاں کی پارلیمنٹ فیصلہ کر لے کہ انہوں نے نریندر مودی کو خوں آشامی سے روکنا ہے یا بھارت کے غریب عوام کو مزید بدحالی و تباہی سے دوچار کرنا ہے۔ بھارت کو یہ ادراک بھی کر لینا چاہیے کہ معرکۂ حق کے بعد والا پاکستان بھارت کے مقابلے میں وسائل کی کمی کے باوجود بہت بڑی قوت اور ساری دنیا کا منظورِ نظر بھی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_70033906.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>آبنائے ہرمز: سٹرٹیجک کردار تاریخی تناظر میں … (2)(ڈاکٹر رشید احمد خاں)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr-rasheed-ahmad-khan/2026-05-09/51915/42054754</link><pubDate>Sat, 09 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr-rasheed-ahmad-khan/2026-05-09/51915/42054754</guid><description>اگرچہ تیل اٹھارہویں صدی عیسوی کی آخری دہائیوں میں دریافت ہو چکا تھا مگر اس کی تجارتی مقاصد کیلئے پیداوار سب سے پہلے 1908ء میں ایران میں شروع ہوئی۔ بعد ازاں جب انٹرنل کمبسشن انجن کی ایجاد کے بعد بھاپ کی جگہ ڈیزل سے بحری جہاز اور ریل گاڑیاں چلنے لگیں تو اس کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ ہو گیا۔ یہ یورپی نوآبادیاتی دور کے عروج کا زمانہ تھا اور &#39;&#39;گن بوٹ ڈپلومیسی‘‘ کے تحت اس استحصالی نظام کی بقا کا تمام تر انحصار زمینی اور بحری مواصلاتی نیٹ ورک کی مضبوطی پر تھا۔ اگرچہ یورپ کے دیگر ممالک مثلاً فرانس‘ جرمنی‘ اٹلی‘ ہالینڈ‘ بلجیم‘ سپین اور پرتگال بھی نوآبادیاتی دوڑ میں شریک تھے مگر ان سب میں سب سے بڑی نوآبادیاتی سلطنت برطانیہ تھی اور اس کا سب سے قیمتی حصہ ہندوستان تھا‘ جس پر برطانیہ نے نپولین دور میں فرانسیسیوں کو شکست دے کر اپنے قبضے کی راہ ہموار کی تھی۔فرانسیسیوں کو شکست دینے کے بعد انگریزوں نے نہ صرف ہندوستان بلکہ نہر سویز کے مشرق میں واقع اپنی دیگر تمام نوآبادیات کو سمندر کے راستے بیرونی حملہ آوروں سے محفوظ رکھنے کیلئے بحری اڈوں کا ایک وسیع نیٹ ورک قائم کیا۔ اس میں مغرب میں باب المندب کو کنٹرول کرنے کیلئے عدن‘ مشرق میں آبنائے ملاکا‘ جنوب مغرب میں جنوبی افریقہ کی بندرگاہ سائمنز ٹاؤن اور بحر ہند کے عین وسط میں کولمبو (سری لنکا) شامل تھے۔ اس پورے نیٹ ورک کی بنیاد برطانوی بحریہ تھی جو اس زمانے میں دنیا کی سب سے طاقتور بحریہ سمجھی جاتی تھی۔ اسی بحری قوت کی مدد سے برطانیہ نے مشرقِ وسطیٰ میں نہر سویز سے لے کر جنوب مشرقی ایشیا تک علاقائی دفاع کا ایسا نظام قائم کر رکھا تھا کہ عالمی جنگوں کے درمیانی عرصے (1914ء تا 1945ء) میں بحر ہند کو &#39;&#39;برٹش لیک‘‘ کہا جاتا تھا۔ تاہم اس دفاعی نظام کا بنیادی فوکس بحر ہند میں بیرونی طاقتوں کی دراندازی کو روکنا تھا۔ اس مقصد کیلئے برطانیہ نے افریقہ‘ عرب اور مشرقی ایشیا میں مضبوط فوجی اڈے قائم کیے ہوئے تھے۔ انہی اڈوں کی بدولت برطانیہ نہ صرف اپنے یورپی حریفوں کو بحر ہند میں نوآبادیاتی سلطنتیں قائم کرنے سے روکنے میں کامیاب رہا بلکہ دوسری عالمی جنگ کے دوران جب جاپانی افواج نے جنوب مشرقی ایشیا کے کئی ممالک کے ساتھ سنگاپور کے اڈے پر بھی زمینی حملہ کر کے آبنائے ملاکا پر قبضہ جما لیا تو ان کے بحری جنگی جہاز‘ جو خلیج بنگال میں داخل ہو چکے تھے‘ کولمبو میں موجود برطانوی بحری اڈے کی مدد سے مغرب کی طرف بڑھنے سے روک دیے گئے۔ سر ونسٹن چرچل نے اپنی کتاب &#39;&#39;دی سیکنڈ ورلڈ وار‘‘ کی پانچویں جلد میں اس صورتحال کا تفصیل سے ذکر کیا ہے۔خلیج فارس اور آبنائے ہرمز نہ صرف اس علاقائی دفاعی حکمت عملی کا حصہ تھے بلکہ تیل کی دریافت اور اس کے بڑھتے ہوئے استعمال نے ان کی اہمیت میں مزید اضافہ کر دیا تھا۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ ایران کے بعد عراق‘ کویت‘ سعودی عرب اور بحرین میں بھی تیل کی پیداوار شروع ہو گئی اور یہ تمام ممالک خلیج فارس کے خطے میں واقع تھے۔ یورپ‘ جاپان اور امریکہ جن ممالک سے تیل درآمد کرتے تھے ان کا تعلق بھی زیادہ تر اسی خطے سے تھا۔ شمال مغربی افریقہ مثلاً لیبیا اور الجزائر سے دنیا کو تیل کی برآمدات 1970ء کی دہائی میں شروع ہوئیں۔ اس سے قبل یورپ اور جاپان کی معیشت کا پہیہ چلانے والا 80 فیصد تک تیل خلیج فارس کے ممالک سے درآمد کیا جاتا تھا۔خلیج فارس اور مشرقِ وسطیٰ سے جاپان اور یورپی صنعتی ممالک کے اتنی بڑی مقدار میں تیل درآمد کرنے کی تین بنیادی وجوہات بیان کی جاتی ہیں۔ پہلی وجہ یہ تھی کہ سپلائی میں رکاوٹ کا خطرہ موجود رہتا تھا کیونکہ تیل کی دریافت‘ صفائی اور مارکیٹ تک رسائی کا پورا عمل مغربی تیل کمپنیوں کے ہاتھ میں تھا۔ اگرچہ بعض مقامی حکومتوں کے پاس ان کمپنیوں کے کچھ حصص موجود تھے مگر مجموعی طور پر مشرقِ وسطیٰ اور خلیج فارس کے تیل پر مغربی کمپنیوں کا کنٹرول تھا جنہیں خصوصاً برطانیہ اور امریکہ کی مکمل حمایت حاصل تھی۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والے تیل کے مقابلے میں مشرقِ وسطیٰ کا تیل نسبتاً سستا تھا۔ بہت سے لوگوں کیلئے یہ بات حیران کن ہوگی کہ دوسری عالمی جنگ کے اختتام یعنی 1945ء میں ان ممالک سے حاصل ہونے والے خام تیل کی قیمت صرف ایک ڈالر فی بیرل تھی اور کئی دہائیوں تک اس میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں آئی‘ یہاں تک کہ 1960ء میں تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک (OPEC) قائم ہوئی۔ اوپیک نے نہ صرف تیل پیدا کرنے والے ممالک کا اپنی قدرتی دولت پر حقِ ملکیت تسلیم کرایا بلکہ قیمتوں میں بھی مرحلہ وار اضافہ کیا۔ تیسری وجہ یہ تھی کہ مشرقِ وسطیٰ کے خام تیل میں سلفر کی مقدار کم ہوتی ہے اسی لیے عالمی منڈی میں اس کی مانگ زیادہ رہی۔دوسری عالمی جنگ کے بعد جب امریکی مارشل پلان کے تحت تباہ حال یورپ کی معاشی بحالی کا آغاز ہوا تو اس پورے عمل کو جاری رکھنے کیلئے مشرقِ وسطیٰ خصوصاً خلیج فارس کے تیل پر انحصار کیا گیا۔ جوں جوں یورپ میں صنعتی ترقی اور انفراسٹرکچر کی تعمیر میں تیزی آتی گئی‘ درآمدی تیل کی مقدار بھی بڑھتی گئی۔ یہ تیل آبنائے ہرمز کے راستے خلیج فارس سے بحر ہند میں داخل ہوتا اور تیل بردار جہازوں کے ذریعے وہاں سے مغرب میں نہر سویز‘ مشرق میں آبنائے ملاکا اور جنوب میں جزیرہ نمائے راس امید (Cape of Good Hope) کے راستے یورپ‘ جاپان اور امریکہ تک پہنچایا جاتا تھا۔ 1970ء کی دہائی میں جاپان اور یورپ اپنی تیل کی ضروریات کا 70 سے 80 فیصد حصہ آبنائے ہرمز کے ذریعے خلیج فارس سے درآمد کرتے تھے۔ اگرچہ اب یورپ کا انحصار نسبتاً کم ہو چکا ہے مگر جاپان اور چین آج بھی اپنی ضروریات کا بالترتیب 80 سے 95 فیصد تیل خلیج فارس سے حاصل کرتے ہیں۔آبنائے ہرمز کی اس بڑھتی ہوئی اہمیت کے پیشِ نظر اس کے دفاعی انتظامات میں بھی اضافہ کرنا پڑا۔ 1970ء کی دہائی تک خلیج فارس‘ بحیرہ احمر اور بحر ہند میں یورپی مفادات کے تحفظ کی ذمہ داری برطانیہ کے پاس تھی مگر دوسری عالمی جنگ کے دوران شدید نقصانات اور جنوبی ایشیا و افریقہ میں اپنی نوآبادیاتی مقبوضات سے دستبرداری کے بعد برطانیہ اتنی مالی سکت نہیں رکھتا تھا کہ وہ ان خطوں کی دفاعی ذمہ داریاں مزید نبھا سکے۔ چنانچہ 1969ء میں وزیر اعظم ہیرالڈ ولسن نے خارجہ اور دفاعی پالیسیوں میں بنیادی تبدیلی کرتے ہوئے اعلان کیا کہ برطانوی حکومت 1970ء تک نہر سویز کے مشرق میں واقع اپنے تمام فوجی اڈے خالی کر دے گی۔اس طرح 1970ء میں برطانیہ نے مشرق میں سنگاپور اور مغرب میں عدن کے اڈے خالی کرنے کے علاوہ خلیج فارس کی عرب ریاستوں کو بھی آزاد کر دیا۔ طاقت کے اس خلا کو پُر کرنے اور خصوصاً سوویت یونین کی بحر ہند میں اثر و رسوخ بڑھانے کی کوششوں کو ناکام بنانے کیلئے امریکہ نے خلیج فارس کے دفاع کی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔ اس نے بعض سابق برطانوی اڈوں کو اپنی تحویل میں لے کر انہیں مزید وسیع کیا اور ساتھ ہی نئے فوجی اڈے بھی قائم کیے۔ اس کے علاوہ خلیج فارس میں پانچواں‘ بحیرہ روم میں چھٹا اور بحر ہند میں ساتواں بحری بیڑا تعینات کیا گیا۔ اس وقت مشرق وسطیٰ میں بحری بیڑوں کے علاوہ امریکہ کے 13 فضائی اور بحری اڈے موجود ہیں جہاں 40 سے 50 ہزار امریکی اہلکار تعینات ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ برطانیہ کی طرح امریکہ نے بھی یہ دفاعی انفراسٹرکچر خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کے تحفظ کیلئے کسی بیرونی حملہ آور قوت یعنی سوویت یونین کو ذہن میں رکھ کر تعمیر کیا تھا مگر آج یہی انفراسٹرکچر خلیج فارس اور آبنائے ہرمز پر اپنا تسلط برقرار رکھنے کیلئے ایران کے خلاف استعمال ہو رہا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90264263.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>شادیوں پر فضول خرچی(افتخار احمد سندھو)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/iktakhar-ahmed-sandhu/2026-05-09/51916/40496244</link><pubDate>Sat, 09 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/iktakhar-ahmed-sandhu/2026-05-09/51916/40496244</guid><description>ہمارے معاشرے میں شادی بیاہ کے مواقع پر فضول خرچی اور دکھاوے کا رجحان تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے۔ امیروں کو دیکھ کر عام لوگ بھی ضرورت سے بڑھ کر فضول خرچی کر رہے ہیں‘ اور اپنی زندگی بھر کی کمائی شادی پر لٹا دیتے ہیں بلکہ دھوم دھام سے شادی کرنے کیلئے قرض اٹھانے سے بھی گریز نہیں کرتے اور پھر عمر بھر اس قرض کے بوجھ سے نہیں نکل پاتے۔ یہ رجحان نہ صرف افراد کے مالی مسائل میں اضافہ کر رہا ہے بلکہ سماجی اقدار کو بھی کمزور کر رہا ہے۔ لوگ اپنی حیثیت سے بڑھ کر خرچ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ لڑکے والے اپنی حیثیت سے بڑھ کر بارات کیلئے کرائے کی کئی کئی گاڑیاں لاتے ہیں تاکہ ایک دن کیلئے امیری کا تاثر دیا جا سکے حالانکہ بارات کے اگلے ہی دن دُلہا اور دلہن آپ کو موٹر سائیکل پر نظر آتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں شادی کو خوشی کا سب سے بڑا موقع سمجھا جاتا ہے مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہ خوشی اکثر ایک بوجھ بن جاتی ہے۔ خاص طور پر جب بات آتی ہے فضول خرچی کی تو ہم اس میں کسی سے پیچھے نہیں رہتے۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی شادی کی خوشی کا تعلق لاکھوں‘ کروڑوں بلکہ اربوں روپے خرچ کرنے سے ہے؟آج کل شادی بیاہ ایک سادہ تقریب کے بجائے ایک مقابلہ بن چکا ہے۔ کون زیادہ مہنگا ہال لے گا‘ کس کے کھانے میں زیادہ ڈشز ہوں گی‘ کس کا لباس زیادہ قیمتی ہو گا۔ یہی چیزیں اب شادی کا معیار بن گئی ہیں۔ اس دوڑ میں اکثر وہ لوگ بھی شامل ہو جاتے ہیں جو مالی طور پر اتنے مضبوط نہیں ہوتے مگر معاشرے کے دباؤ میں آ کر قرض لے کر یہ سب کچھ کرتے ہیں۔ مشہور ضرب المثل ہے: کوا چلا ہنس کی چال اپنی چال بھی بھول گیا۔ یہ فضول خرچی نہ صرف مالی مسائل کو جنم دیتی ہے بلکہ نئے رشتے کی بنیاد کو بھی کمزور کر دیتی ہے۔ جب ایک خاندان شادی کے لیے قرض لیتا ہے تو اس کا بوجھ کئی سالوں تک اٹھانا پڑتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ خوشیوں سے شروع ہونے والا رشتہ پریشانیوں میں گھر جاتا ہے۔ اسلام ہمیں سادگی کا درس دیتا ہے۔ ہمارے پیارے نبیﷺ کی زندگی اس کی بہترین مثال ہے‘ جہاں شادی کو نہایت سادہ اور بابرکت طریقے سے انجام دیا گیا۔ مگر آج ہم نے ان تعلیمات کو پس پشت ڈال کر نمود ونمائش کو اپنا شعار بنا لیا ہے۔ہمارے وزیر دفاع خواجہ آصف بھی اس امر کا اقرار کر رہے ہیں کہ پاکستان میں اشرافیہ کا طبقہ اپنی شادیوں پر دو دو ارب روپے خرچ کرتا ہے جبکہ ملک میں ایسے گھرانے لاکھوں نہیں کروڑوں میں ہیں‘ جو دو وقت کی روٹی نہیں کھا سکتے جو بیمار ہو جائیں تو دوائی نہیں خرید سکتے۔ جب کسی ملک کی آبادی میں اتنا تفاوت ہو تو اس معاشرے میں ہم آہنگی کیونکر پیدا ہو سکتی ہے۔ لوگ ایک دوسرے کی طرف دیکھ کرچادر سے زیادہ پاؤں پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں جس کی وجہ سے ان کو بعد میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔میرے ایک دوست کا ذاتی ملازم تھا‘ اُس کی بیٹیاں جوان تھیں اور اس کو ان کیلئے رشتے نہیں مل رہے تھے۔ وہ اس کیلئے بہت پریشان اور فکرمند تھا۔ ایک دن اس نے کہا کہ اسے بیٹیوں کی شادیوں کیلئے پانچ لاکھ روپے ادھار چاہئیں۔ میرے دوست نے اس کو ڈانٹا کہ پانچ لاکھ روپے تم لے لو گے تو واپس کیسے کروگے‘ تمہاری تنخواہ توصرف چالیس ہزار روپے ہے‘ پانچ لاکھ روپے واپس کرنا تمہارے لیے ممکن نہیں ہوگا۔ پھر اس نے کہا کہ اس مہینے میں چھٹی بھی چاہیے۔ میرے دوست نے کہا کہ چھٹی کیسے تمہیں مل سکتی ہے تمہیں اچھی طرح پتا ہے کہ اس مہینے تمہیں چھٹی نہیں مل سکتی کیونکہ اس نے چھوٹی بیٹی کے دن رکھے ہوئے ہیں اور یہ شادی مہینہ بھر چلے گی۔ سب سے پہلے کئی دن تک رات بھر ڈھولکی بجے گی‘ پہلے وہ مایوں شائیوں جو بھی ہوتا ہے وہ ہو گا‘ پھر مہندی ہو گی‘ پھر نکاح ہوگا۔ پھر بسم اللہ ہوگی پھر نعت خوانی ہو گی‘ پھر قوالی نائٹ ہو گی اور پھر کہیں جا کر وہ رخصت ہو گی‘ تو آپ کو شرم نہیں آتی چھٹی اور پیسے مانگتے ہوئے۔ آپ کو اس بات کا بھی خوب اچھی طرح علم ہے کہ کتنے اخراجات ہو رہے ہیں۔شادی پر بیس پچیس کروڑ روپے خرچ ہوئے تو وہ ملازم یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا۔ ایک ایک فنکشن پر ہونے والا خرچہ وہ اپنی آنکھوں سے دیکھتا رہا۔ اس کی بھی تین بیٹیاں اور ایک بیٹا تھا‘ اسی دوران اس کا اکلوتا بیٹا بیمار ہو گیا۔ میرے دوست نے کہا کہ اب تو آپ کو ضرور چھٹی چاہیے ہو گی تو اس نے کہا کہ صاحب میں نے چھٹی مانگی نہیں تھی۔ مجھے پتا تھا کہ چھوٹی بی بی کی شادی کا فنکشن ہے تو چھٹی کیسے مل سکتی ہے؟ دوست نے کہا: شاباش! تمہیں پتا ہے کہ چھٹی نہیں مل سکتی۔ تو اسی دوران اس کا بیمار بیٹا فوت ہو گیا‘ تواس نے اپنے صاحب کو بتایا کہ اس نے کوئی پچاس ہزار روپے جمع کر کے رکھے تھے چونکہ ان پیسوں سے بیٹے کا علاج نہیں ہو سکتا تھا اس لیے وہ اللہ کو پیارا ہو گیا تو وہ جمع شدہ پیسے اس کے کفن دفن پر لگ گئے جائیں گے‘ بس اب اسے ایک یا دو چھٹیاں چاہیے ہوں گی۔ اس کے گھر میں بجلی کے میٹر کا کیا حال تھا‘ اس کا بل کتنا تھا‘ اس کے پاس کھانے پکانے کو کیا تھا‘ اس کے اوپر قرض کتنا چڑھا ہوا تھا جو اس نے اس سے قبل لے رکھا تھا‘ وہ اس قرض کو کس طرح اتار پائے گا؟ اس کی بیٹیوں کے سروں میں شادی کے انتظار میں چاندی اُتر آئے گی۔ یہ ہے ایک عام آدمی کے دکھ درد کی کہانی۔ بقول شاعر:اس کی اپنی بیٹی کی ہتھیلی خشک رہتی ہےجو بوڑھا دھوپ میں دن بھر حنا تقسیم کرتا ہےدوسری طرف ہمارے امرا کی ایک ایک شادی پر پچاس پچاس کروڑ روپے خرچ ہو جاتے ہیں۔ شادی کے ایک فنکشن یعنی صرف نکاح پر اگرصرف سو خواتین ہوں گی تو ان کے میک اَپ اور جوتی کپڑے پر کتنا خرچہ آئے گا۔ اسی طرح مہندی پر دو سو خواتین ہوں گی‘ بارات اور ولیمے پر پانچ پانچ سو اور ہزار ہزار لوگ جمع ہوں گے تو کتنا خرچہ آئے گا۔ دونوں فیملیوں کو یہ تقریباً پچاس کروڑ روپے میں شادی پڑے گی۔ دوسری طرف ایک عام آدمی کو اپنی بیٹی کے ہاتھ پیلے کرنے کیلئے پانچ لاکھ روپے بھی نہیں مل سکیں گے‘ نہ وہ اپنے پاس سے جمع کر سکے گا اور نہ کہیں سے لے سکے گا۔ایک اور افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس فضول خرچی نے معاشرے میں ایک غلط معیار قائم کر دیا ہے۔ اگر کوئی سادگی سے شادی کرے تو لوگ اُسے کمتر سمجھتے ہیں۔ یہی سوچ نوجوانوں کے لیے بھی مشکلات پیدا کرتی ہے اور وہ شادی سے گھبرانے لگتے ہیں کہ وہ مہنگی رسومات کو کیونکر پورا کر سکیں گے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی ترجیحات کو درست کریں۔ شادی کا اصل مقصد دو انسانوں کا ایک خوبصورت بندھن میں بندھنا ہے نہ کہ لوگوں کو متاثر کرنا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم سادگی کو اپنائیں اور فضول خرچی کے کلچر کو ختم کریں۔ اگر ہم آج اس روایت کو بدلنے کی کوشش کریں گے تو نہ صرف اپنی زندگی آسان بنائیں گے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی مثبت مثال قائم کریں گے۔ اصل خوشی سادگی میں ہے نہ کہ دکھاوے میں۔ شادی ایک خوبصورت آغاز ہے‘ اسے بوجھ نہ بنائیں۔ فضول خرچی سے بچیں اور اس خوشی کو سادگی کے ساتھ منائیں تاکہ یہ لمحہ واقعی یادگار بن سکے۔ اس لیے سادگی کو فروغ دینا وقت کی ضرورت ہے۔ والدین اور نوجوانوں کو چاہیے کہ دکھاوے کے بجائے اصل زندگی کی ضروریات پر توجہ دیں۔ اگر ہم سادگی کو اپنائیں اور اپنے اخراجات کو کم کریں تو نہ صرف ہمارے خاندانوں کی مالی حالت بہتر ہو گی بلکہ ہماری اجتماعی سوچ میں بھی مثبت تبدیلی آئے گی‘ جو روشن اور خوشحال پاکستان کیلئے ضروری ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/228_40817243.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>حج وعمرے کے حوالے سے خواتین کے مسائل …( دوم)(مفتی منیب الرحمٰن )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-05-09/51917/62960381</link><pubDate>Sat, 09 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-05-09/51917/62960381</guid><description>مِنٰی وعرفات میں نمازوں کی ادائیگی کے علاوہ ذکر اذکار کیے جاتے ہیں‘ حائض عورت پر نماز معاف ہے‘ عرفات کے وقوف کیلئے بھی طہارت شرط نہیں ہے۔ اگر حیض سے پاک ہونے تک مکہ میں ٹھہرنا ممکن نہ ہو اور ناپاکی کی حالت میں طواف بھی نہیں کیا جا سکتا‘ یعنی واپسی کی فلائٹ کا شیڈول بدلا نہ جا سکتا ہو یا فلائٹ یا مَحرم یا شوہر کی روانگی کا مسئلہ درپیش ہو تو مجبوراً عورت طوافِ زیارت کر لے اور اُس پر &#39;&#39;بَدَنَہ‘‘(جمع: بُدْن) یعنی اونٹ یا گائے کی قربانی حدودِ حرم میں دینا واجب ہو گی۔ سابق ادوار میں ویزے اور واپس لوٹنے کی تاریخ کا تعین یا تحدید نہیں ہوا کرتی تھی اور نہ وطن واپس آکر دوبارہ جانے کی پابندیاں تھیں‘ جس کے سبب اس طرح کے عذر میں مبتلا لوگ وہیں ٹھہر جاتے تھے یا دوبارہ جا کر ادا کر لیا کرتے تھے۔ عمرے میں اگر پاک ہونے تک رکنا ممکن نہ ہو تو حالتِ حیض میں افعال عمرہ ادا کرنے کے بعد احرام سے نکل آئے اور دم ادا کرے‘ اس صورت میں عمرہ کی قضا نہیں ہو گی‘ دَم سے مراد بکری یا دنبے کی قربانی ہے۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ایک طویل حدیث میں بیان کرتی ہیں: &#39;&#39;رسول اللہﷺ میرے پاس تشریف لائے‘ میں رو رہی تھی‘ آپﷺ نے فرمایا: تم کیوں رو رہی ہو‘ میں نے عرض کی: میں نے صحابہ کے ساتھ آپ کی گفتگو سنی‘ میں نے عمرہ کی بابت سنا‘ آپﷺ نے فرمایا: تمہارا مسئلہ کیا ہے‘ میں نے عرض کی: میں نماز نہیں پڑھ پاؤں گی‘ آپﷺ نے فرمایا: تمہیں اس کا کوئی نقصان نہیں ہے‘ بس اپنا حج جاری رکھو‘ امید ہے اللہ تمہیں عنقریب عمرہ نصیب فرمائے گا‘ تم آدم کی بیٹیوں میں سے ہو‘ اللہ نے دیگر بناتِ آدم کی طرح تم پر بھی یہ (حیض) لکھ دیا ہے‘‘ (حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں): پس میں نے اپنا حج جاری رکھا‘ یہاں تک کہ ہم منٰی میں اترے‘ جب میں غسل کر کے حیض سے پاک ہو گئی تو ہم نے بیت اللہ کا طواف کیا‘ پھر ہم وادیِ مُحصَّب میں اترے‘ آپﷺ نے (میرے بھائی) عبدالرحمن بن ابی بکر کو بلایا اور فرمایا: اپنی بہن (عائشہ) کے ساتھ حدودِ حرم سے نکلو‘ عمرے کی تَلبِیہ پڑھو (یعنی احرام باندھو)‘ پھر بیت اللہ کا طواف کرو‘ میں تم دونوں کا یہاں انتظار کروں گا۔ حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں: ہم (حدودِ حرم سے) نکلے‘ پھر میں نے عمرہ کے لیے تَلبِیہ پڑھی (یعنی احرام باندھا)‘ پھر میں نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا ومروہ کے درمیان سعی کی‘ پھر ہم رسول اللہﷺ کے پاس آئے‘ وہ نصف شب کو اپنی جگہ پر ہی تھے۔ آپﷺ نے فرمایا: تم فارغ ہو گئی ہو‘ میں نے عرض کیا: جی ہاں! پھر آپﷺ نے صحابہ کو کُوچ کرنے کا حکم دیا۔ پھر آپﷺ وہاں سے نکل کر گئے‘ نمازِ فجر سے پہلے بیت اللہ کا طواف کیا‘ پھر (نمازِ فجر پڑھ کر) مدینہ منورہ روانہ ہو گئے‘‘ (مسلم: 1211)۔ نوٹ: عمرے کے نوافل پڑھنے کے بعد عمرے کی نیت اور تَلبِیہ پڑھنے سے آدمی مُحْرِم ہو جاتا ہے۔ (5) عمرے کیلئے روانگی سے پہلے ایام شروع ہو گئے‘ تو اس صورت میں اگر روانگی کی تاریخ آگے بڑھائی جا سکتی ہے تو بڑھا لے‘اگر ایساکرنا ممکن نہ ہو توعمرے کا غسل کر کے احرام باندھے اور مکہ مکرمہ جا کر پاک ہونے کا انتظار کرے‘ پاک ہو کر طواف وسعی کرے اور عمرہ مکمل کرے۔ (6) اگر احرام باندھ لیا‘ یعنی تلبیہ اور نیت کر لی تھی تو اب اُس پر احرام کی پابندی لازم ہے‘ پس اسے چاہیے کہ گھر واپس آ کر جہاز کی سیٹ ملنے تک حالتِ احرام میں رہے اور احرام کی تمام پابندیوں پر عمل کرتی رہے اور حالتِ حیض میں عمرہ کے افعال ادا کر لے ورنہ خاتون احرام سے خارج نہیں ہو گی حتیٰ کہ محصّرہ قرار نہ پائے اور احرام کے ممنوعات کے ارتکاب سے معصیت کے علاوہ ہر ممنوع کے ارتکاب پر کفارہ بھی لازم ہوتا رہے گا مگر لاعلمی کی وجہ سے ایک دم دینا ہو گا۔ احرام سے خارج ہونا صرف افعال عمرہ ادا کرنے سے ہوتا ہے یا محصرہ ہونے کی بنا پر حرم کی حدود میں دم دینے کے بعد ہوتا ہے‘ احصار کی صورت میں قضا بھی واجب ہوتی ہے۔ لیکن اگر احرام کھول دیا تو گنہگار ہو گی اور اُس پر دَم بھی واجب ہوگا اور عمرے کی قضا بھی لازم ہو گی۔ احصار سے مراد حج یا عمرہ کا احرام باندھنے کے بعد دشمن‘ بیماری یا ناگہانی رکاوٹ کی وجہ سے مکۂ مکرمہ پہنچ کر مناسکِ حج یا عمرہ ادا کرنے سے روک دیا جانا ہے۔عازمینِ حج و عمرہ کیلئے مشورہ یہ ہے کہ وہ گھر سے غسل کر کے لباس احرام پہن کر چلے جائیں‘ مرد احرام کی چادریں ایئرپورٹ پر جاکر اور معمول کا لباس اتار کر بھی پہن سکتے ہیں‘ جب سیٹ کنفرم ہو جائے اور بورڈنگ کارڈ مل جائے تو دو رکعت نفل پڑھ لیں اور جب فلائٹ روانہ ہونے لگے یا روانہ ہو جائے تو نیت باندھ لیں اور تلبیہ پڑھ لیں‘ ورنہ بصورتِ دیگر واپس آ جائیں اور نارمل لباس پہن لیں‘ چونکہ وہ مُحرم نہیں ہوئے تھے‘ اس لیے ان پر کچھ واجب نہیں ہو گا۔ (7)حج کے کل ایام پانچ ہیں: پہلا دن آٹھ ذوالحجہ: احرام میں داخل ہونے اور حج کی نیت کرنے کے بعد تَلبِیہ پڑھنا‘ منیٰ کو روانگی‘ رات منیٰ میں قیام۔ دوسرے دن یعنی نو ذوالحجہ کو: منیٰ میں نمازِ فجر ادا کر کے عرفات پہنچنا‘ مسجدِ نمرہ میں نماز ادا کرنے والوں کیلئے خطبہ سن کر نمازِ ظہر وعصر ملا کر پڑھنا‘ غروبِ آفتاب کے بعد مزدلفہ روانہ ہونا‘ مزدلفہ میں مغرب وعشا ملا کر ادا کرنا۔ تیسرے دن دس ذوالحجہ کو: جمرۂ عقبہ کی رمی‘ قربانی (حج تمتع یا قِران کا دَمِ شکرانہ) ادا کرنے کے بعد سر منڈوانا یا کم از کم انگلی کے ایک پَور کے برابر بال کترنا اور بیت اللہ جا کر طوافِ زیارت کرنا‘ سعی کرنا اور رات منیٰ میں گزارنا۔ چوتھے دن یعنی گیارہ ذوالحجہ کو: زوال کے بعد تینوں جمرات کی رمی کرنا‘ (زوال سے پہلے بھی جائز ہے)‘ بارہ کی رات منیٰ میں رہنا سنت ہے۔ پانچویں دن یعنی بارہ ذوالحجہ کو: زوال کے بعد تیسرے دن تینوں جمرات کی رمی پر حج مکمل ہو گیا‘ مکہ سے روانگی کے وقت طوافِ وداع واجب ہے۔ نو ذوالحجہ کوعرفات کے میدان میں وقوف (ٹھہرنا) حج کا رکنِ اعظم ہے‘ حیض ونفاس والی عورت اور جنبی آدمی کا وقوف صحیح ہے‘ حج ادا ہو جائے گا‘ وقوفِ مزدلفہ‘ وقوفِ منٰی‘ رمیِ جمرات اورحجِ تمتع کی قربانی کیلئے طہارت شرط نہیں ہے‘ لہٰذا یہ واجبات حائض عورت حالتِ حیض میں بھی ادا کر سکتی ہے۔طوافِ زیارت حج کا دوسرا رکنِ اعظم ہے‘ اسے طوافِ افاضہ اور طوافِ فرض بھی کہتے ہیں‘ اس کا وقت ساری زندگی ہے‘ لیکن دس ذوالحجہ کی طلوعِ فجر سے بارہ ذوالحجہ کے غروبِ آفتاب سے قبل اس کے اکثر چکر پورے کر لینا واجب ہے۔ چونکہ حیض ونفاس بندے کی اپنی کسی تقصیر کے سبب نہیں ہوتا‘ بلکہ یہ اللہ کی جانب سے ہے‘ لہٰذا اللہ کی جانب سے عذر لاحق ہونے کی صورت میں تاخیر پر دَم یا کفارہ نہیں ہے۔ اگر حائض اور اس کے مَحرم کیلئے واپس روانگی میں تاخیر کی گنجائش ہے تو وہ اپنی ریزرویشن منسوخ کر کے اسے مناسب وقت تک مؤخر کر دیں اور حیض ختم ہونے پر غسل کر کے پاک ہو جائیں اور پھر طواف فرض ادا کریں‘ اس کے بعد حسبِ سہولت طوافِ وداع کر کے رختِ سفر باندھ سکتے ہیں۔ لیکن اگر خدانخواستہ اس کی گنجائش اور سہولت نہ ہو تو حالتِ حیض میں طوافِ زیارت کر لیں اور حدودِ حرم میں کفارے کے طور پر بَدَنَہ (یعنی اونٹ یا گائے) کی قربانی دینی ہو گی‘ ویسے عذر من جانب اللہ کیلئے قانون میں رعایت ہونی چاہیے‘ کیونکہ یہ عبادت حج کا مسئلہ ہے اور مسلم حکومتوں کو اس سلسلے میں سہولت فراہم کرنی چاہیے۔ غیر مسلم ممالک سے آنے والے تو واپسی کی تقدیم وتاخیر کے معاملے میں خودمختار ہوتے ہیں‘ زیادہ سے زیادہ سابق ریزرویشن کی منسوخی اور نئی ریزرویشن کیلئے کچھ اضافی رقم دینا ہوتی ہے‘ لیکن مسلم حکومتوں کو اضافی رقم نہیں لینی چاہیے۔ سعی کیلئے طہارت مستحب ہے۔ علامہ نظام الدینؒ معذور کے حج وعمرہ کی سعی کے بارے میں لکھتے ہیں: &#39;&#39;اگر حیض ونفاس والی عورت اور جُنبی شخص (یعنی جس پر غسل واجب ہو) سعی کریں‘ تو (ان کا سعی کرنا) صحیح ہے (یعنی سعی کیلئے طہارت شرط نہیں)‘‘ (فتاویٰ عالمگیری‘ جلد: اول‘ ص: 247)۔ علامہ امجد علی اعظمیؒ لکھتے ہیں: &#39;&#39;مستحب یہ ہے کہ باوضو سعی کرے‘‘ (بہارِ شریعت‘ جلد: 1‘ ص: 435)</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_61172381.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>