<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>افراطِ زر میں اضافے کے اثرات(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-02/11156</link><pubDate>Sat, 02 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-02/11156</guid><description>وفاقی ادارۂ شماریات کے گزشتہ ماہ کے اعداد وشمار کے مطابق ملک میں افراطِ زر کی شرح ایک بار پھر دہرے ہندسے میں داخل ہو چکی ہے۔ اپریل میں افراطِ زر کی شرح سالانہ بنیادوں پر 10.9فیصد رہی‘ مارچ کے مہینے میں یہ شرح 7.3 تھی اور فروری میں سات فیصد۔ افراطِ زر میں اضافے کی یہ شرح نہ صرف گزشتہ مہینوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے بلکہ وزارتِ خزانہ کے اندازوں کو بھی مات دے چکی ہے۔ اپریل میں افراطِ زر کا سرکاری تخمینہ آٹھ سے نو فیصد تھا۔ افراطِ زر کی موجودہ شرح جون‘ جولائی 2024ء کی سطح کو پہنچ چکی ہے۔ 2024ء کو ملکی تاریخ میں بدترین سطح کے افرا طِ زر کے سال کے طور پر یاد کیا جاتا ہے‘ تاہم اُس سال جولائی سے اس میں کمی آنا شروع ہوئی اور 2024ء کے آخری اور 2025ء کے پہلے چھ ماہ افراطِ زر کے لحاظ سے معتدل رہے۔ 2025ء کے بقیہ چھ ماہ کے دوران بھی مہنگائی ایسی منہ زور نہیں تھی۔ اعداد وشمار میں بیان کریں تو ستمبر سے دسمبر تک تقریباً چھ فیصد کے لگ بھگ۔ تاہم اس سال فروری سے اب تک افراطِ زر میں تین فیصد سے زائد اضافہ ہو چکا ہے۔

اس صورتحال کا تعلق مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی‘ توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور عالمی معاشی بے یقینی کے ساتھ ہے۔ پوری دنیا اس بحران سے متاثر ہے اور عالمی معاشی ادارے اور تھنک ٹینک آنے والے وقت میں اس کے منفی اثرات کی شدت سے خبردار کر رہے ہیں۔ دو روز قبل برینٹ کروڈ کی قیمت 125ڈالر فی بیرل کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی تھی۔ اگرچہ گزشتہ روز یہ 108ڈالر فی بیرل کے قریب آ گئی مگر امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ سے ایک روز پہلے کی قیمت کے مقابلے میں یہ تقریباً 53 فیصد زیادہ ہے۔ قدرتی گیس کی قیمتوں میں اضافہ بھی اسی حساب سے ہے۔ جنگ کے آغاز سے ایل این جی کی قیمتیں تقریباً 60 فیصد تک بڑھ چکی ہیں۔ تیل اور گیس کے علاوہ اس بحران کا سب سے زیادہ اثر کھادوں کی قیمتوں پر پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کے مطابق نائٹروجن کھاد کی قیمتیں 2024ء کی سطح سے تقریباً دو گنا ہو سکتی ہیں جبکہ فاسفیٹ کی قیمتوں میں تقریباً 50 فیصد اضافہ ہو سکتا ہے۔ زرعی پیداوار پر اس کے شدید منفی اثرات ہوں گے اور یہ عوامل افراطِ زر میں مزید اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ کے حالات پاکستان کی معیشت کیلئے اس لحاظ سے بھی اہم ہیں کہ خلیجی ممالک میں ہمارے دسیوں لاکھ کارکن مصروفِ روزگار ہیں اور سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق مالی سال 2026ء میں فروری تک مجموعی ترسیلاتِ زر میں سعودی عرب سے 23.5 فیصد‘ متحدہ عرب امارات سے 20.6 فیصد اور بقیہ جی سی سی ممالک سے 9.5 فیصد ترسیلاتِ زر موصول ہوئیں۔ یعنی پاکستان کی ترسیلاتِ زر کی نصف سے زیادہ آمدنی خلیجی ممالک سے منسلک ہے؛ چنانچہ خلیجی خطے کو غیر مستحکم کرنے والی کوئی بھی صورتحال‘ خواہ یہ تجارتی راستوں کی بندش کی صورت میں ہو یا کاروباری عدم اعتماد اور ملازمت کے مواقع میں کمی کا سبب بننے والے عوامل بالآخر ترسیلاتِ زر کے ذریعے پاکستانی معیشت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس نازک صورتحال کے منفی اثرات سے ملکی معیشت کو بچانا‘ افراطِ زر کو قابو میں رکھنا اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے اقدامات ہمارے معاشی منصوبہ سازوں کی صلاحیتوںکا ا متحان ہے۔
حکومت کی ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ غریب اور متوسط آمدنی والا طبقہ اس ناگہانی صورتحال سے کم سے کم متاثر ہو۔ اس سلسلے میں حکومت نے جن اقدامات کا اعلان کیا ہے وہ ناکافی معلوم ہوتے ہیں۔ لوگوں کو توانائی اور خوراک کی مہنگائی سے بچانے کے لیے حکومت کی جانب سے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔ قومی پیداوار بڑھانے کے لیے بھی بہت کچھ کرنا ہو گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>حکومتی توجہ کی منتظر اراضی(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-02/11155</link><pubDate>Sat, 02 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-02/11155</guid><description>ایک خبر کے مطابق پنجاب میں 35لاکھ 82ہزار 950ایکڑ اراضی‘ جو بآسانی قابلِ کاشت بنائی جا سکتی ہے محض لینڈ لیولنگ کے مسائل اور ضروری مشینری نہ ہونے کی وجہ سے بنجر قرار دے دی گئی ہے۔ یہ خبر ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک کو غذائی تحفظ‘ زرعی برآمدات میں اضافے اور مقامی صنعتی خام مال خصوصاً کپاس کی شدید ضرورت ہے۔ پنجاب جیسے زرعی صوبے میں لاکھوں ایکڑ قابلِ کاشت زمین کا محض انتظامی کمزوریوں اور مشینری کی عدم دستیابی کے باعث بنجر رہ جانا پالیسی سازی کی ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔ سب سے زیادہ متاثرہ رقبہ‘ 12لاکھ 55ہزار ایکڑ ‘ ڈی جی خان ڈویژن میں ہے۔ اسکے بعد راولپنڈی اور بہاولپور ڈویژنز کا نمبر آتا ہے۔ یعنی جنوبی پنجاب کے وہ علاقے جہاں کپاس جیسی نقد آور فصل کی بہترین صلاحیت موجود ہے‘ وہی سب سے زیادہ نظر انداز ہیں۔

اس مسئلے کی بنیادی وجوہات میں سرفہرست لینڈ لیولنگ کیلئے درکار بلڈوزروں کی کمی اور موجودہ مشینری کی خستہ حالی ہے۔ اگرچہ صوبائی حکومت نئی مشینری کی خریداری کیلئے فنڈز کی فراہمی کا اعلان کر چکی ہے لیکن اس اہم منصوبے کیلئے محض اعلانات کافی نہیں۔ شفاف عملدرآمد‘ جدید مشینری کی فراہمی اور اسکے مؤثر استعمال کا نظام بھی وضع کرنا ہوگا۔ اگر حکومتی وسائل محدود ہیں تو اس زمین کو مقامی کسانوں کو اس شرط پر پٹے پر دے دیا جائے کہ وہ اسے ایک مخصوص مدت میں قابلِ کاشت بنائیں۔ اس سے نہ صرف زمین آباد ہوگی بلکہ مقامی معیشت کو بھی فروغ ملے گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>شدید گرمی کا انتباہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-02/11154</link><pubDate>Sat, 02 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-02/11154</guid><description>محکمہ موسمیات نے آنے والے دنوں میں ملک کے بیشتر حصوں میںدرجہ حرارت میں معمول سے چار سے چھ ڈگری سینٹی گریڈ تک اضافے کا الرٹ جاری کیا ہے۔ درجہ حرارت میں اس غیرمعمولی اضافے کی بنیادی وجہ عالمی سطح پر تیزی سے بڑھتی موسمیاتی تبدیلیاں ہیں جن کے باعث ہر سال گرمی کی شدت میں اضافہ اور موسموں کے معمولات میں بگاڑ واضح ہوتا جا رہا ہے۔ اس صورتحال میں عوام کیلئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ناگزیر ہے۔ اس ضمن میں شدید گرمی کے دوران بلا ضرورت دھوپ میں نکلنے سے گریز‘ پانی کا زیادہ استعمال‘ ہلکے اور ڈھیلے کپڑوں کا انتخاب اور بزرگوں و بچوں کا خصوصی خیال رکھنا بنیادی اقدامات ہیں۔ بالخصوص تعلیمی اداروں میں اس حوالے سے ہنگامی اقدامات ضروری ہے‘ جہاں تنگ اور حبس زدہ کلاس روم گرمی کی شدت کو مزید بڑھا دیتے ہیں۔

سکولوں کی انتظامیہ کو ٹھنڈے پانی کے کولروں اور لوڈ شیڈنگ کی صورت میں بجلی کا متبادل انتظام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ بچے گرمی کی شدت سے محفوظ رہ سکیں۔ حکومت کی ذمہ داری اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔ شدید گرمی کے پیشِ نظر شہری علاقوں میں پانی اور بجلی کی بلا تعطل فراہمی‘ ہسپتالوں میں ہیٹ سٹروک سے نمٹنے کے لیے خصوصی انتظامات اور عوامی آگاہی مہمات ناگزیر ہیں۔ ایمرجنسی اور ریسکیو اداروں کو بھی اس ممکنہ صورتحال کیلئے پیشگی تیار رہنا ہوگا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مشرقِ وسطیٰ میں فساد کا ذمہ دار کون؟(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-05-02/51870/58140770</link><pubDate>Sat, 02 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-05-02/51870/58140770</guid><description>قانون‘ واقعہ‘ تجزیہ‘ تبصرہ‘ سب خلط ملط ہو رہے ہیں۔ حقائق اور خواہشات باہم دست و گریباں ہیں۔ قانون اور اخلاق کا فرق ختم ہو چکا۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہم نے ایک دوسرے کو کٹہرے میں کھڑا کر رکھا ہے اور دوسرے کی طرف تنقید کے عنوان سے تضاد‘ کذب‘ مفاد‘ بے عقلی سمیت ہر ایسے لفظ کی نسبت کر رہے ہیں جو مذمت کے لیے ہماری لغت میں موجود ہے۔ اس سے بحث پر یک رُخا پن غالب ہے۔ کاش تاریخ کا عمل اتنا سادہ ہوتا جیسے ہم نے جانا ہے۔ میں نے اپنے تئیں اس اختلاط کو کم کرنے کی ایک سعی کی ہے۔ سب سے پہلے قانون کو دیکھتے ہیں۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد جب سلطنتوں کا خاتمہ ہوا تو غالب سیاسی قوتوں نے دنیا پر اپنا تسلط باقی رکھنے کے لیے ایک نیا عالمی بندوبست متعارف کرایا۔ یہ نظامِ جبر تھا۔ اب ایسی ریاست کا وجود قابلِ قبول تھا جو اس بندوبست کا حصہ بننے پر آمادہ ہے۔ سادہ الفاظ میں جو اقوامِ متحدہ کی رکن ہے۔ ساری دنیا نے طوعاً و کرہاً اسے تسلیم کر لیا۔ یہ ماضی سے قدرے بہتر تھا کہ اس کی بنیاد ایک چارٹر پر رکھی گئی جس میں انسانوں کو برابر مانا گیا۔ اقوام کے لیے حقِ خودارادی تسلیم کیا گیا۔ تاہم اس نظام میں پانچ ممالک کی برتر حیثیت کو بھی تسلیم کیا گیا جنہیں ویٹو کا حق حاصل تھا۔ اس بندوبست کے تحت ہر ملک کی سرحدوں کا تعین کر دیا گیا جن کا احترام سب پر لازم تھا۔ ان میں عالمی قوتیں بھی شامل تھیں۔ اگر کسی ریاست کے بارے میں یہ گمان پیدا ہوا کہ وہ عالمی نظم کے لیے خطرہ بن رہی ہے اور اس کے خلاف اقدام ضروری ہے تو اس کے لیے اقوامِ متحدہ سے رجوع کو لازمی قراردے دیا گیا۔ کوئی طاقت اپنی رائے سے ایسا نہیں کر سکتی کہ کسی ملک پر حدود سے تجاوز کا الزام دھرے اور اپنی رائے سے اس کے خلاف اقدام کرے۔ اسی طرح اگر کوئی ملک یہ سمجھتا ہے کہ دوسرے ملک کی سرزمین اس کے خلاف استعمال ہو رہی ہے تو وہ اس کی شکایت اقوامِ متحدہ سے کرے گا۔ اقدام کے لیے سلامتی کونسل سے اجازت لینا لازم ہے۔ اگر کسی ملک پر حملہ ہو جائے تو اس صورت میں وہ اپنے دفاع میں اقدام کر سکتا ہے جیسے پاکستان نے بھارت کے خلاف کیا۔ اب آئیے حقائق کی طرف۔ عالمی طاقتوں نے کبھی اس قانون کی پابندی نہیں کی۔ انہوں نے دوسرے ملکوں کے خلاف اقوامِ متحدہ کی منظوری کے بغیر فوجی اقدام کیا۔ مثال کے طور پر سوویت یونین نے افغانستان میں فوجیں اتاریں اور امریکہ نے عراق میں فوج بھیجی۔ اس کے لیے سلامتی کونسل سے رجوع نہیں کیا گیا۔ دوسرا یہ کہ دوسرے ممالک کے داخلی معاملات میں مداخلت کی گئی اور ان کی حکومتوں کو تبدیل کیا گیا۔ اس کی بدترین مثال وینزویلا ہے جس کے صدر کو اس کی اہلیہ سمیت اس کی خواب گاہ سے اٹھا لیا گیا۔ اسی طرح عراق اور افغانستان میں بھی امریکہ نے اپنی مرضی سے بعض لوگوں کو اقتدار کی مسند پر بٹھا دیا۔ اس قانونی اور تاریخی پس منظر کو ذہن میں رکھتے ہوئے اب آئیے حالیہ واقعات کی طرف۔ جب شہنشاہ محمد رضا کی حکومت تھی  ایران مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کا پولیس مین تھا۔ امریکہ اور ایران کے مابین کوئی براہِ راست تنازع نہیں تھا۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد ایران پر امریکہ اور سوویت یونین دونوں کی نگاہ تھی۔ سوویت یونین کے ساتھ ایران کے معاہدے تھے اور امریکہ کے بھی۔  یہی نہیں برطانیہ بھی موجود تھا کہ ایرانی تیل پر برطانوی کمپنیوں کا تسلط تھا۔ عالمی طاقتوں کے کشمکش اور مفادات کی وجہ سے ایران میں اضطراب پیدا ہوا۔ اسکے نتیجے میں ڈاکٹر مصدق وزیراعظم بنے جنہوں نے برطانوی تسلط کے خاتمے کیلئے تیل کی صنعت کو قومیانے کا اعلان کیا۔ اس سے برطانوی مفادات پر زد پڑی۔ امریکہ یہ خواہش رکھتا تھا کہ اس تیل کی دولت سے اپنا حصہ بٹورے۔ یوں بھی بر طانیہ زوال پذیر تھا۔ مصدق کی حکومت کے خاتمے اور ایران میں اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے امریکہ نے ایران میں سازش کا ایک جال پھیلا دیا۔ مصدق کی حکومت ختم ہو گئی۔ برطانیہ کا عالمی تسلط بھی زوال پذیر تھا۔ اس کے باعث ایران میں سی آئی اے نے سازش کا جو جال پھیلایا‘ اس نے امریکی تسلط کو گہرا کر دیا۔ اس کے نتیجے میں عوام میں اضطراب تھا ‘جس کو مذہبی قیادت نے زبان دے دی۔ مصدق جیل میں رہے۔ رہائی کے کچھ عرصہ بعد ان کا انتقال ہو گیا۔ حقیقی اپوزیشن کی حیثیت مذہبی طبقے کو حاصل ہو گئی جس کی قیادت خمینی صاحب کے ہاتھ میں تھی جو جلاوطن تھے۔ ایرانی عوام شہنشاہ کے خلاف ان کی قیادت میں متحد ہوتے گئے۔ شہنشاہ چونکہ امریکی مفادات کے نگہبان تھے اس لیے امریکہ نے ان کے اقتدار کو بچانے کی سر توڑ کوشش کی۔ اس سے مذہبی قیادت اورعوام میں امریکہ مخالف جذبات پیدا ہوئے۔ اس باب میں اب کوئی شبہ نہیں کہ امریکی سفارت خانہ شہنشاہ اور رجیم کو بچانے کے لیے سازشوں کا مرکز بن گیا۔ مذہبی طبقے میں اس پر شدید ردِ عمل ہوا۔ اس کا نتیجہ انقلاب کے بعد امریکی سفارت خانے پر قبضہ تھا۔ یہاں سے جو دستاویزات ملیں‘ اُن سے یہ شبہ یقین میں بدل گیا کہ امریکہ شہنشاہ کو دوبارہ لانا چاہتاہے اوراس کے لیے کس طرح کی حکمتِ عملی بنائی گئی ہے جس میں ایرانی اقلیتوں کو استعمال کر نا بھی شامل تھا۔ انقلاب کے بعد نئی حکومت نے امریکہ کو اپنا دشمن قرار دیا۔ امریکہ نے دوستی کا ہاتھ بڑھایا لیکن اسے جھٹک دیا گیا۔ اس سے تعلقات کشیدہ سے کشیدہ تر ہوتے گئے۔ تاہم یہ سب کچھ سفارتی سطح پر تھا۔ دونوں نے ایک دوسرے کے خلاف براہ راست کوئی اقدام نہیں کیا۔ ایران کی مذہبی حکومت نے انتقالِ انقلاب کا تصوربھی دیا اور مشرق وسطیٰ میں شیعہ آبادی کو حکومتوں کے خلاف اٹھانا چاہا۔ اس پر عرب ممالک میں ردِ عمل ہوا۔ اب امریکہ اور عربوں نے یہ کوشش کی کہ ایران میں حکومت بدل جائے۔ اس کے لیے صدام حسین نے عراق کو فرنٹ لائن ریاست بنا دیا۔ امریکہ اور عرب ریاستوں نے ان کی پشت پناہی کی۔ آٹھ سال کی جنگ کے بعد بھی حکومت تبدیل نہیں ہو سکی۔ بعدمیں ایسے مواقع بھی آئے جب امریکہ اور ایران نے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کیا۔ جیسے عراق میں صدام حسین کے بعد ایک سیاسی نظم پر اتفاق۔ ایران کے اسی خوف سے عرب ممالک نے اپنے دفاع کے لیے امریکہ کو فوجی اڈے قائم کرنے کی دعوت دی۔ ایران اورا سرائیل میں کبھی براہِ راست تصادم نہیں ہوا‘ اگرچہ ایران کی مذہبی حکومت اسرائیل کے خلاف رہی۔ شہنشاہ کے دور میں دونوں کے تعلقات دوستانہ تھے۔ اسرائیل نے جاسوسی کا نظام بنانے میں شہنشاہ کی مدد کی۔ لبنان میں البتہ حزب اللہ کے ساتھ اسرائیل کی کشیدگی رہی۔ اسی تناظر میں ایران نے حماس کی مدد کی۔ یہ بات ذہن میں رہے کہ حماس اور دیگر فلسطینی تنظیموں کی مدد عرب ممالک کرتے رہے ہیں اور ساری دنیا کے مسلمان بھی۔ اس کو جواز بنا کراسرائیل نے ایران پر حملہ کیا اوروہاں فلسطینی راہنما اسمائیل ہنیہ کو قتل کر دیا۔ اس کے بعد دونوں کی جنگ شروع ہو گئی۔ دوسرے مرحلے میں امریکہ نے ایران پر حملہ کر دیا۔ قانون‘ تاریخ‘ واقعات اور حقائق کو میں نے معلوم شواہد کی بنیاد پر ممکن حد تک صحت کے ساتھ بیان کردیا۔ ان کو سامنے رکھتے ہوئے بنیادی سوالات کا جواب تلاش کیا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر کس ملک نے دوسروں کے داخلی معاملات میں مداخلت کی؟ اس مداخلت کی نوعیت کیا تھی؟ جنگ میں جارحیت کس نے کی اوردفاع کس نے؟ بین الاقوامی قوانین کی مخالفت کس نے کی؟ ان سولات کے جواب جب ہمارے سامنے ہوں تو پھر تجزیے اور تبصرے میں آسانی ہوگی۔ پھراس سوال کو بھی بہتر انداز میں زیرِ بحث لایا جا سکے گا کہ ایران کو کیا کرناچاہیے تھا اور کیا وہ اس مصیبت سے بچ سکتا تھا؟ </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کہیں تو بریک لگنی چاہیے(خالد مسعود خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-05-02/51871/43230819</link><pubDate>Sat, 02 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-05-02/51871/43230819</guid><description>ملک کی معیشت ترقی ٔ معکوس کی طرف گامزن ہے‘ ہاں البتہ تین چار چیزوں میں ترقی‘ بڑھوتری اور اضافہ ہو رہا ہے۔ ان میں سر فہرست ملکی آبادی ہے‘ مہنگائی ہے‘ بیوروکریسی کا سائز ہے اور رہائشی سکیمیں ہیں۔ ہر بڑا شہر مزید بڑے سے بڑا ہو رہا ہے۔ ہر پہلے سے بے تحاشا پھیلا ہوا شہر اپنے چاروں طرف مزید پھیل رہا ہے اور یہ معاملہ کہیں رکتا ہوا دکھائی نہیں دے رہا۔ اسلام آباد نے پھیلتے پھیلتے اتنے چکر لیے ہیں کہ آخرِکار چکری سے آن ٹکرایا ہے۔ چکری انٹرچینج کے بعد دائیں بائیں میلوں تک پھیلی ہوئی زمین پر کسی نہ کسی رہائشی سکیم کا بورڈ لگا ہوا ہے۔ اسلام آباد کے بطن سے جنم لینے والی نئی ہاؤسنگ سکیمیں اب خود اسلام آباد کے مجموعی رقبے سے کئی گنا زیادہ پھیل چکی ہیں۔ صرف اسی طرف نہیں پشاور روڈ پر یہ پھیلاؤ سنگجانی سے آگے نکل چکا ہے۔ دوسری جانب بھارہ کہو‘ تیسری طرف روات اور چوتھی طرف پارک روڈ کی طرف‘ غرض جس طرف نظر دوڑائیں بلڈوزر لگے ہوئے ہیں‘ درخت کٹ رہے ہیں‘ زمینیں &#39;&#39;پدھری‘‘ ہو رہی ہیں اور رہائشی سکیمیں کھمبیوں کی مانند اُگ رہی ہیں۔ سمجھ نہیں آتا کہ یہ سلسلہ آخر کہاں جا کر رکے گا۔ یہ اسلام آباد کا حال تھا‘ لاہور کا بھی یہی عالم ہے۔ رائیونڈ اور لاہور ایک ہو چکے ہیں۔ قصور لاہور کا حصہ بن چکاہے اور یہی حال شیخو پورہ کا ہے۔ شاید اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے میں شہباز شریف کے دور میں پنجاب حکومت نے ایک حکمنامے کے ذریعے قصور اور شیخوپورہ کو لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) کے ماتحت کر دیا تھا۔ جی ٹی روڈ پر چھوٹے چھوٹے وقفوں کے ساتھ لاہور گوجرانوالہ کو اپنے دامن میں لے چکا ہے۔ بے چارے دریائے راوی کی کسمپرسی کا یہ عالم ہے کہ ہم نے سندھ طاس معاہدہ کر کے اس کا پانی بھارت کے حوالے کر دیا اور اس کی زمیں پر رہائشی کالونیوں نے جشن منانا شروع کر دیا۔ کہیں سرکار نے راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی بنا کر اس زمین سے پیسے کمانے کا ذریعہ نکال لیا اور کہیں پرائیویٹ سیکٹر نے اس نشیبی زمین پر کالونیاں بنانا شروع کر دیں۔ دریا نے اپنا دامن خشک کر کے زمین کیا دی سرکار‘ بلڈرزاور رہائشی سکیموں کے مالکان اس زمین پر ٹوٹ پڑے اور صدیوں پرانے اس دریائی راستے کو رہائشی کالونیوں کی شکل دے دی گئی۔ ملتان نسبتاً کم کمرشل حیثیت کا شہر ہے لیکن دو چار بڑے اور لا تعداد چھوٹے ڈویلپرز یہاں بھی اپنے لاؤ لشکر سمیت تعمیراتی وارداتوں میں مصروف ہیں۔ شہر کے برابر ایک اور شہر زیرِ تعمیر ہے۔ کھیت‘ کھلیان‘ زمین‘ باغات اور سبزہ آہستہ آہستہ سیمنٹ‘ سریے‘ اینٹ اور بجری کا جنگل بنتے جا رہے ہیں۔ شاہ جی سے دستگیری چاہی تو فرمانے لگے کہ جس تیزی سے ملک کی آبادی بڑھ رہی ہے اس حساب سے رہائشی سکیموں اور ان کے پھیلاؤ پر حیرانی نہیں ہونی چاہیے۔ مکان ہر شخص کا حق بھی ہے اور ضرورت بھی۔ اسے اس کی ضرورت کا حق ملنا چاہیے۔ اگر اس بڑھتی آبادی کے تناسب سے گھر نہ بنے تو ایک اور مصیبت کھڑی ہو جائے گی۔ بقول شاہ جی اگر ایک دو نجی ہاؤسنگ پروجیکٹس مالکان اس ملک میں رہائشی سہولتوں کا معیار بہتر اور بلند نہ کرتے تو ہم اب بھی انہی تنگ گلیوں‘ گنجان آباد رہائشی علاقوں‘ ایک دوسرے میں باہم پیوست گھروں اور دیگر لازمی سہولتوں کے بغیر والی زندگی گزارنے پر مجبور ہوتے۔ دور نہ جاؤ‘ تم اپنے رہائشی علاقے کو ہی دیکھ لو۔ یہ رہائشی علاقہ زیادہ پرانا نہیں۔ جب تم گلگشت ہائی سکول اور اس کے بعد ایمرسن کالج میں پڑھتے تھے تو ملتان شہر چھ نمبر چونگی پر باقاعدہ ختم ہو جاتا تھا۔ اس سے آگے کھیت اور باغات تھے۔ سارا زکریا ٹاؤن لہلاتے کھیتوں پر مشتمل ایک تختہ سبز تھا‘ یعنی یہ ساری آبادی محض 40‘45 سال پرانی ہے۔اس ٹاؤن میں داخل ہو جائیں تو یہ تنگ سی سڑک شیطان کی آنت کی طرح چلتی جاتی ہے اور کہیں ختم ہونے کا نام نہیں لیتی۔ ڈیڑھ کلو میٹر سے زیادہ لمبی اس پچیس تیس فٹ چوڑی سڑک سے دو چار نہیں پینتالیس سے زیادہ گلیاں نکلتی ہیں۔ جہاں تک رسائی کے لیے صرف یہی ایک راستہ ہے۔ اس طویل اور تنگ سی سڑک کا نہ کوئی متبادل ہے اور نہ کوئی حال ہے۔ پچاس ساٹھ ہزار کی آبادی پر مشتمل اس علاقے کی یہ اکلوتی سڑک تقریباًساری کی ساری کمرشل دکانوں اور پلازوں میں تبدیل ہو چکی ہے۔کمیونٹی سنٹر جیسی سہولت تو رہی تو ایک طرف یہاں کوئی پارک نہیں‘ کوئی کھیل کا میدان نہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ڈیڑھ کلو میٹر سے زیادہ لمبی یہ سڑک بذات خود اس حال میں ہے کہ درجنوں جگہ سے سیوریج ڈالنے کے لیے کاٹی جا چکی ہے اور سوئی گیس والوں نے اس کی ایک سائیڈ کو شروع سے آخر تک اکھاڑ دیا تھا جو مہینوں سے مٹی کی بھرائی کے بعد پختہ مرمت کی منتظر ہے۔ ایک بڑی ہاؤسنگ سکیم کے مدارالمہام سے ملاقات ہوئی تو گفتگو کے دوران انہوں نے مجھ سے اپنے پروجیکٹ کے بارے رائے پوچھی۔ میں نے کسی لگی لپٹی کے بغیر کہا کہ جہاں تک ایک اچھی رہائشی کالونی کا تعلق ہے ملتان میں اس قسم کے پروجیکٹ کا آنا خوش آئند ہے۔ اس کے طفیل ملتان والوں کو بھی جدید طرز کی رہائشی اور تمدنی سہولتوں سے آراستہ منصوبہ بند کالونی میسر آئی ہے تاہم آپ کا پروجیکٹ ملتان کی اوقات سے بہت بڑا ہے۔ آپ پہلے سے موجود پانچ ہزار سال پرانے اس شہر کے پہلو میں اس کے برابر کا شہر آباد کرنے جا رہے ہیں۔ اس پروجیکٹ کے بیشتر پلاٹ سرمایہ کاروں‘ پرائیویٹ ڈویلپروں اور کالے دھن والوں نے خریدے ہوئے ہیں۔ حقیقی خریداروں کے تعداد انویسٹرز کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ یہ پروجیکٹ بیس سال میں بھی آباد ہو جائے تو غنیمت جانیں۔ یہ ہزاروں ایکڑ زرخیز اور زرعی زمین پلاٹ بن کر عشروں تک مکان بننے کی منتظر رہے گی۔ وہ صاحب کہنے لگے کہ ہم نے یہ منصوبہ اس شہر کی اگلے پچاس سال میں بڑھنے والی آبادی کو مد نظر رکھتے ہوئے بنایا ہے۔ میں نے کہا کیا آپ نے اتنی زیادہ زرعی زمین کو اگلے پچاس سال کی متوقع آبادی کو ذہن میں رکھ کر رہائشی کالونی بناتے ہوئے اس شہر کی آبادی کے لیے درکار زرعی پیداوار اور اناج کی ضرورت کو بھی سامنے رکھتے ہوئے فوڈ سیکورٹی کا کوئی بندوبست کیا ہے ؟ ان صاحب کے پاس کوئی شافع جواب نہ تھا۔ بلڈر اور پراپرٹی ڈیلر اگلے پچاس سال کا سوچ رہا ہے اور حکومت کل کا نہیں سوچ رہی۔ جس شخص کو جہاں لبِ سڑک‘ حتیٰ کہ کسی گلی میں بھی کوئی جگہ دل کو بھائے وہ وہاں دکانیں حتیٰ کہ پلازے بنا لیتا ہے۔ نہ کوئی پوچھنے والا اور نہ کوئی دیکھنے والا ہے۔ جس کے جو جی میں آتا ہے بنا لیتا ہے‘ کسی محکمے کی اجازت‘ منظوری یا نگرانی کا کوئی رواج نہیں۔ جو چاہے‘ جہاں چاہے اور جیسے چاہے بنا لے۔ آدھی دنیا گھومنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ پاکستان میں فی کس دکانوں‘ پلازوں اور کاروباری مراکز کی تعداد دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے۔ کچھ عرصہ سے رئیل اسٹیٹ میں کساد بازاری کے باعث مندے کا رحجان ہے وگرنہ بے تحاشا بڑھتی ہوئی آبادی کے مسئلے سے دوچار اس ملک میں پلاٹ بنانا‘ پلاٹ خریدنا‘ پلاٹ بیچنا اور پھر دوبارہ ‘ سہ بارہ خریدنا سب سے آسان‘ نفع بخش اور محفوظ کام بن کر رہ گیا ہے۔ جن ملکوں میں آبادی پہلے ہی زیادہ ہے اور اس میں روزافزوں اضافہ صورتحال کو مزید گمبھیر کر رہا ہے وہاں رہائشی سہولتوں کے فروغ سے کہیں زیادہ ضرورت فوڈ سیکورٹی کے سلسلے میں کیے جانے والے اقدامات کی ہے۔ رہائشی مسئلے کو کثیرالمنزلہ عمارات سے حل کیا جا سکتا ہے مگر زراعت کے لیے درکار زمین کی کمی کو زیادہ پیداوار سے ایک حد تک ہی پورا کیا جا سکتا۔ لیکن اس کی بھی کوئی حد ہے اور ہم ہر حد عبور کرتے جارہے ہیں۔ آخر کہیں تو بریک لگنی چاہیے۔ لیکن کیا کریں ؟ جنہوں نے بریک لگانی ہے وہی ایکسلریٹر دبائے گاڑی اڑائے جا رہے ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90500073.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>دستوری بازیچۂ اطفال اور تبادلے(ڈاکٹر حسین احمد پراچہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-05-02/51872/75117398</link><pubDate>Sat, 02 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-05-02/51872/75117398</guid><description>میر تقی میرؔ نے کہا تھا: لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کامآفاق کی اس کارگہ شیشہ گری کاہماری عدلیہ کا معاملہ بھی شیشہ گری سے ملتا جلتا ہے۔ اس لیے جو کچھ عرض کرنا ہے‘ احتیاط کا دامن تھام کر عرض کرنا ہے۔ میرا طریقہ نہیں کہ اپنے سابقہ کالموں کو دہراؤں یا ان کے حوالے دے کر اپنی &#39;&#39;دور اندیشی‘‘ کی داد طلب کروں۔ البتہ بعض اوقات ماضی کو حال سے جوڑنے کیلئے ایسا کرنا پڑتا ہے۔ اس طالب علم نے نومبر 2025ء کے ایک کالم بعنوان: &#39;&#39;آئین کھڑا منہ تک رہا ہے‘‘ میں لکھا تھا &#39;&#39; پیر‘ دس نومبر کو سینیٹ میں حیرت زدہ آئین کھڑا منہ تک رہا تھا اور دستورِ پاکستان کو شق وار بدلا بلکہ دوبارہ تحریر کیا جا رہا تھا۔ ہمارے حکمران عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر آنے کے دعویدار ہیں اور فخریہ خادمِ عوام کہلاتے ہیں‘ پھر وہ عوام کے سامنے جوابدہی سے اتنے خوفزدہ کیوں ہیں کہ اپنے گرد طرح طرح کی فصیلیں چُن رہے ہیں۔ کیا انہیں خبر نہیں کہ سیل کو دیوار و در سے واسطہ کوئی نہیں ہوتا۔ 27ویں آئینی ترمیم میں عدالتی نظام کو حکومت کے ماتحت لانے کیلئے ہر وہ حربہ استعمال کیا گیا جو آزاد عدلیہ کے تصور سے متصادم ہے۔ افسوسناک بات تو یہ ہے کہ ہمارے حکمران دیارِ مغرب کی عدالتوں کی قصیدہ خوانی تو کرتے ہیں مگر اپنے ملک کی اعلیٰ عدالتوں کو اپنے گھر کی لونڈی بنانے پر ہرگز شرمسار نہیں ہوتے۔ ہمیں بلاول بھٹو سے بڑی امیدیں تھیں۔ وہ آکسفورڈ یونیورسٹی برطانیہ سے تعلیم یافتہ ہیں۔ وہ انگلستان میں قانون کی حکمرانی‘ جمہوریت کی سربلندی اور غیرتحریر شدہ آئین کی پاسداری اور بالادستی کے نظارے بچشم خود دیکھتے رہے مگر اندر سے وہ بھی ایک فیوڈل لارڈ ہی نکلے۔ عدالتوں کو پابہ زنجیر کرنے والے اقدامات سے پیپلز پارٹی نے اپنے سیاسی مستقبل پر خود آری چلائی ہے۔‘‘اس المیے کا رضا ربانی جیسے چند سینئرز کو شاید کچھ اندازہ ہوا۔ اسی 27ویں ترمیم کے نتیجے میں چیف جسٹس آف پاکستان کو بے اختیار کر کے اُن کے آدھے اختیارات سیاسی اکثریت رکھنے والی سپریم جوڈیشل کونسل کو اور آدھے وفاقی آئینی عدالت کو تفویض کر دیے گئے ہیں۔ اب اسی ترمیم کے سہارے اسلام آباد ہائیکورٹ کے تین ججز کے تبادلے کر دیے گئے ہیں۔ اگرچہ سپریم جوڈیشل کونسل میں چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ججز کے تبادلوں کی مخالفت کی مگر ان کا بس ایک ووٹ ہی تھا۔ اگر اُسی وقت 27 ویں آئینی ترمیم پر اعلیٰ عدلیہ کے تحفظات سامنے آتے تو شاید وطنِ عزیز کو یہ دن نہ دیکھنا پڑتے۔ اس موقع پر پیپلز پارٹی نے بدستور اپنے مصالحت پسندانہ رویے کو جاری رکھتے ہوئے ججز کے تبادلوں کے سلسلے میں حکمران جماعت کی ہاں میں ہاں ملا ئی۔ البتہ پیپلز پارٹی نے اس حکومتی مشق کو روکنے کیلئے کوئی اصولی مؤقف اختیار کرنے کے بجائے حکمران جماعت پر دباؤ ڈال کر دو ججز کے تبادلے رکوا لیے۔ یہ دونوں ججز صاحبان اسلام آباد ہائیکورٹ میں عدالتی فرائض انجام دے رہے ہیں۔ہم جیسے قانون کی پیچیدگیوں اور مو شگافیوں سے ناواقف لوگوں کیلئے یہ سمجھنا بہت دشوار ہے کہ ایک جج‘ جو کسی عدالت میں سینئر ترین ہوتا ہے اور اس کا تبادلہ اس کی مرضی کے خلاف کر کے اسے جونیئر ترین کیسے بنا دیا جاتا ہے۔بظاہر اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ یہ تادیبی کارروائی ہے۔ اگر یہ تبادلے بطور سزا کیے گئے ہیں تو پھر ان ججز پر مِس کنڈکٹ کا مقدمہ چلنا چاہیے جہاں انہیں اپنی صفائی پیش کرنے کا پورا پورا موقع حاصل ہو۔ سول ملازمتوں میں سروس ٹریبونل ہوتا ہے جہاں اس طرح کی کارروائی کے نتیجے میں افسران اپنا مؤقف پیش کرتے ہیں اور بسا اوقات ان کے خلاف کی گئی کارروائی کو روک دیا جاتا ہے۔ چند ہفتے قبل لاہور ہائیکورٹ نے ایک فیصلہ دیا ہے جس کے مطابق کسی عہدے پر کام کرنے والے ملازم کی سنیارٹی کو مستقل ہونے کی تاریخ سے نہیں بلکہ عارضی یا ایڈہاک ابتدائے ملازمت سے شمار کیا جائے گا۔ مگر یہاں تبادلوں سے سینئر جج جونیئر بن جاتا ہے‘ یہ کیسے؟ یہ تو انصاف اور منطق کی صریح خلاف ورزی دکھائی دیتی ہے۔ جسٹس محسن اختر کیانی کا اسلام آباد ہائیکورٹ میں سنیارٹی لسٹ میں دوسرا نمبر تھا۔ اب لاہور ہائی کورٹ کی سنیارٹی لسٹ میں اُن کا بارہواں نمبر ہو گا۔ جسٹس بابر ستار اسلام آباد ہائیکورٹ کی لسٹ میں تیسرے نمبر پر تھے‘ اب پشاور جا کر ان کا نمبر چھٹا ہو گا۔ اسی طرح جسٹس ثمن رفعت اسلام آباد ہائیکورٹ میں چھٹے نمبر پر تھیں‘ سندھ ہائیکورٹ کی سنیارٹی لسٹ میں ان کا نمبر 18واں ہوگا۔ پاکستان میں سول سرونٹس کی طرح ججز کے تبادلوں کی کوئی روٹین موجود نہ تھی۔ ججز کی تقرری جوڈیشل کمیشن کے ذریعے ہوتی ہے۔ اس کی منظوری پارلیمانی کمیٹی برائے عدلیہ دیتی ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ میں یہ تبادلے آئین کے آرٹیکل 175(2) میں نئی ترمیم کے بعد کیے گئے ہیں۔ اس ترمیم سے پہلے کسی بھی جج کے ایک ہائیکورٹ سے دوسرے ہائیکورٹ میں تبادلے کیلئے اس کی رضامندی ضروری تھی۔ 27ویں ترمیم کی ایک نئی شق کے تحت ججز کی مرضی کے بغیر تبادلوں کا اختیار جوڈیشل کمیشن کو مل گیا ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کے ان تبادلوں کے بارے میں بڑے اصولی اور قانونی تحفظات تھے۔ انہوں نے ان تحفظات کا اظہار بھی کیا ۔ چیف جسٹس نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ وجوہات کے بغیر تبادلے تادیبی کارروائی کا تاثر دے سکتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت ججز کے خلاف الزامات کیلئے سپریم جوڈیشل کمیشن موجود ہے تو پھر تبادلے کیوں؟جسٹس بابر ستار نے ممکنہ تبادلوں کے بارے میں چیف جسٹس کو خط لکھا تھا جس میں انہوں نے استدعا کی تھی کہ تبادلوں سے پہلے اُن کا مؤقف سنا جائے مگر انہیں اس کا موقع نہیں ملا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ وہ لوگ جو مسندِ عدل پر بیٹھ کر انصاف بانٹتے ہیں مگر انصاف طلبی کیلئے جب ان کی باری آئی تو انہیں دادِ فریاد کا کوئی فورم میسر نہ تھا۔وکلا برادری کے بھی ججز کے تبادلوں کے بارے میں شدیدتحفظات ہیں۔ لاہور بار ایسوسی ایشن نے مذکورہ بالا تینوں ججز کے تبادلوں کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی ہے۔ سینئر وکیل حامد خان نے لاہور بار کے صدر کی طرف سے وفاقی آئینی عدالت کے بجائے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ 27ویں ترمیم کی غیر آئینی شاخ پر جو آشیانہ بنانے کی کوشش کی جائے گی وہ ناپائیدار ہوگا۔ ججز کے تبادلوں کیلئے جس ترمیمی آرٹیکل کا سہارا لیا گیا ہے‘ انہوں نے نہ صرف اس آرٹیکل کو بلکہ ساری 27ویں ترمیم کو آئینِ پاکستان میں دیے گئے بنیادی انسانی حقوق کے صریحاً منافی قرار دیا ہے۔ دیکھئے عدالتِ عظمیٰ سے کیا فیصلہ صادر ہوتا ہے۔ دنیا کی نظروں میں ہمارا پیغام بہت بلند ہے۔ ہمیں ہر اس کارروائی سے اجتناب کرنا چاہیے جس سے ہمارے تشخص کے متاثر ہونے کا اندیشہ ہو۔ حکمران آئینِ پاکستان کو بازیچۂ اطفال بنانے سے گریز کریں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_70033906.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ایران امریکہ پُرامن تعلقات ممکن ہیں؟(ڈاکٹر رشید احمد خاں)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr-rasheed-ahmad-khan/2026-05-02/51873/96643019</link><pubDate>Sat, 02 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr-rasheed-ahmad-khan/2026-05-02/51873/96643019</guid><description>اگرچہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 8 اپریل سے جاری جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کر رکھا ہے مگر ان کے دھمکی آمیز بیانات کا سلسلہ بھی مسلسل جاری ہے۔ پچھلی بار کی طرح اس بار جنگ بندی میں کسی ڈیڈ لائن کا اعلان نہیں کیا گیا اور ٹرمپ کے سوشل میڈیا بیانات میں ایران کی طرف سے پیش کردہ تجاویز پر بحث مکمل ہونے تک فائر بندی کا یقین دلایا گیا مگر امریکی صدر کے اس اعلان پر جس امید اور خوشی کے اظہار کی توقع تھی اس کے آثار نظر نہیں آتے۔ اسلام آباد میں مذاکرات کا دوسرا ممکنہ دور جس طرح طرفین کے بدلتے مؤقف پر جھولتا رہا‘ اس سے پائیدار اور مستقل جنگ بندی معاہدہ ہنوز دور نظر آتا ہے۔ غالباً اس کی ایک وجہ صدر ٹرمپ کی طرف سے آبنائے ہرمز اور ایرانی بندرگاہوں کے محاصرے کو جاری رکھنے پر اصرار ہے۔ امریکہ کے اس اقدام کو ایران جنگ بندی کی خلاف ورزی اور اپنے خلاف اعلانِ جنگ قرار دیتا ہے۔ اسلام آباد مذاکرات کے دوسرے دور میں ایران کی شرکت سے انکار کی ایک بڑی وجہ یہی بحری ناکہ بندی تھی جس کے تحت امریکہ نے آبنائے ہرمز کے راستے ہر اُس جہاز پر ایرانی بندرگاہوں سے باہر جانے اور باہر سے اندر آنے پر پابندی لگا رکھی ہے جس پر ایران کا جھنڈا لہرا رہا ہو۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق اب تک 40 سے زائد ایرانی جہازوں کو روکا یا رخ بدلنے پر مجبور کیا گیا ہے۔ کئی جہازوں کو امریکہ کی بحریہ اپنے قبضہ میں لے چکی ہے۔ دنیا بھر کے ممالک اور ماہرین نے اس اقدام کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ عام رائے یہی ہے کہ اگر امریکہ مذاکرات کے اگلے دور میں ایران کی شرکت چاہتا ہے تو اسے پہلے ایران کے ساتھ مفاہمت کی بنیاد پر بحری ناکہ بندی کو ختم کرنا ہو گا‘ مگر اس کے باوجود دنیا کو امریکہ اسرائیل اور ایران کے تنازع کے جلد حل کی امید نہیں۔ بعض حلقوں کی رائے یہ ہے کہ ابھی متحارب ممالک کے درمیان جنگ کے مزید راؤنڈ ہوں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر لبنان میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملے جاری رہیں‘ غزہ میں اسرائیل کے ہاتھوں بے گناہ فلسطینیوں کا قتلِ عام جاری رہے اور دریائے اردن کے مغربی کنارے پر یہودی آباد کار اسرائیلی فوج کی مدد سے فلسطینیوں کے گھروں‘ جائیدادوں اور زمینوں پر قبضہ کرنے کے ساتھ بے گناہ افراد کو گولیوں کا نشانہ بناتے رہیں تو مشرقِ وسطیٰ میں امن کیسے قائم ہوگا اور اس صورتحال سے ایران کیسے الگ رہے گا؟غیر یقینی اور جنگ کے خدشات کو فروغ دینے میں سب سے زیادہ صدر ٹرمپ کا ہاتھ ہے جنہوں نے دھمکیوں‘ توہین آمیز جملوں اور امریکی مؤقف میں بار بار تبدیلیوں کے ذریعے مذاکراتی عمل کو ڈی ریل کرنے کا کوئی موقع جانے نہیں دیا۔ اس میں اُن کا سب سے بڑا حربہ مخالف فریق کو ایسی شرائط کا پابند کرنے کی کوشش ہے جو کوئی آزاد‘ خودمختار اور غیرت مند ملک قبول نہیں کر سکتا۔ مثلاً ایران کے وزیر خارجہ ومذاکراتی ٹیم کے رکن عباس عراقچی کے مطابق اسلام آباد مذاکرات کے پہلے دور میں 21 گھنٹے کی نشست میں فریقین بیشتر امور پر اتفاق رائے کر چکے تھے لیکن اس کے بعد امریکی وفد نے اچانک پوزیشن بدل لی اور مطالبہ کر دیا کہ ڈیل کے لیے ایران یورینیم کی افزودگی کے حق سے کم ازکم 20 برس کے لیے دستبردار ہو جائے اور 60 فیصد تک افزودہ یورینیم کو امریکہ کے حوالے کر دے۔ حالانکہ ایران متعدد بار واضح کر چکا ہے کہ نہ تو وہ 60 فیصد تک افزودہ (تقریباً 400 کلو گرام) یورینیم امریکہ کے حوالے کرے گا اور نہ افزودگی کے حق سے دستبردار ہو گا کیونکہ یہ حق اسے باقی تمام اقوام کی طرح ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) کے تحت حاصل ہے۔ ایران نے 1970ء میں این پی ٹی پر دستخط کیے تھے۔ اس کے علاوہ ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کا بھی ایک فتویٰ موجود ہے جس کے تحت انہوں نے ایٹمی ہتھیاروں کو انسانیت کے خلاف اور غیر اسلامی قرار دے کر ایرانی قوم کو اس کی تیاری سے منع کیا تھا۔ البتہ ایٹمی توانائی کو پُرامن مقاصد میں استعمال کرنے کے لیے ایران نے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے سخت قواعد اور کڑی نگرانی میں ایٹمی ریسرچ اور پاور پلانٹ قائم کر رکھا ہے‘ اور ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کے بارے میں مغربی ملکوں کے خدشات کو دور کرنے کے لیے ایران نے نہ صرف امریکہ بلکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے چار دیگر مستقل اراکین‘ برطانیہ‘ فرانس‘ روس اور چین کے علاوہ جرمنی اور یورپی یونین کے ساتھ ایک تاریخ ساز ایٹمی معاہدے JCPOA پر بھی دستخط کیے تھے۔ اس معاہدے کے تحت ایران افزودگی کی سطح 3.67 فیصد حد تک قبول کرنے پر راضی ہو گیا تھا۔ اس معاہدے پر صدر اوباما کے دور میں 2015ء میں دستخط کئے گئے مگر بعد ازاں ڈونلڈ ٹرمپ نے 2018ء میں اس معاہدے سے امریکہ کی علیحدگی کا اعلان کر کے معاہدے کو ختم کر دیا۔ صدر ٹرمپ کے اس اقدام پر خود ان کے یورپی اتحادی ممالک نے تنقید کی تھی کیونکہ اس معاہدے کے لیے دو سال تک ایران کے ساتھ مذاکرات ہوتے رہے تھے۔ اس معاہدے کے تحت ایران نے اپنے جوہری پروگرام پر جن شرائط کو تسلیم کیا اُن کے تحت ایران کے جوہری طاقت بننے کے تمام راستے مسدود کر دیے گئے تھے۔ مگر صدر ٹرمپ کی جانب سے اس معاہدے کو مسترد کرنے کا مطلب یہ تھا کہ ایران کے بارے میں امریکی عزائم محض اس کو ایک ایٹمی طاقت بننے سے روکنے تک محدود نہیں بلکہ ایران کی شکل میں امریکہ کو مشرقِ وسطیٰ میں اپنے ایجنڈے کے لیے سخت چیلنجز نظر آتے ہیں۔ایران خطے کا پہلا ملک ہے جس نے 1953ء میں اپنی تیل کی صنعت کو قومی ملکیت میں لیا تھا‘ اس پر برطانیہ اور امریکہ نے سی آئی اے کی مدد سے وزیراعظم ڈاکٹر مصدق کی حکومت کا تخت اُلٹ دیا اور ان کی جگہ سابق شاہ آف ایران کو تخت پر لا بٹھایا۔ شاہ کے دورِ حکومت میں ایران نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ اردگرد کے خطوں میں سرگرمیوں کے لیے سی آئی اے کا ہیڈ کوارٹر بن گیا۔ ویتنام سے نکل جانے کے بعد امریکہ نے خلیج فارس‘ مشرق وسطیٰ اور بحر ہند کی حفاظت کے لیے جو حکمت عملی اختیار کی تھی اس میں ایران کو ایک کلیدی حیثیت حاصل تھی۔ مگر 1979ء میں شاہ ایران کے خلاف کامیاب انقلاب کے بعد جو حکومت قائم ہوئی‘ اس کا علاقائی سلامتی اور امریکہ کے ساتھ تعلقات کے بارے میں مطمح نظر سابقہ حکومت سے یکسر مختلف تھا۔ نئی حکومت نے آتے ہی خلیج فارس میں امریکہ کی فوجی موجودگی کی مخالفت شروع کر دی اور خطے سے امریکی فوجی اڈوں کو ہٹانے کا مطالبہ کر دیا۔ شاہ کے دور میں ایران اور اسرائیل کے قریبی سیاسی اور تجارتی تعلقات تھے۔ اسلامی حکومت نے نہ صرف ان تعلقات کو ختم کر دیا بلکہ اسرائیل کے خلاف فلسطینی سیاسی گروپوں کی حمایت شروع کر دی۔ شاہ کے دور میں امریکہ کی ایمپائر جن ستونوں پر کھڑی تھی‘ ایران اُن میں سے ایک تھا لیکن 1979ء کے انقلابِ ایران کے بعد نہ صرف امریکہ سے ایران نے خود علیحدگی اختیار کر لی بلکہ دوسری عالمی جنگ کے اختتام کے بعد سے امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں سکیورٹی کا جو ڈھانچہ کھڑا کر رکھا تھا اس کو سہارا دینے والے باقی ستون بھی ایران کے زیر اثر‘ غیر مؤثر ہوتے جا رہے ہیں۔ ایران سے متعلق امریکہ کا مخاصمانہ رویہ صرف اس کے جوہری پروگرام کی وجہ سے نہیں بلکہ دنیا کی پہلی اور تاریخ کی سب سے بڑی سپر پاور اور ایک شاندار تہذیب کے مالک ایران کی جانب سے امریکی ایمپائر کو کئی طرح کے چیلنجز درپیش ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90264263.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کچھ بھی نہیں بدلا(افتخار احمد سندھو)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/iktakhar-ahmed-sandhu/2026-05-02/51874/83845282</link><pubDate>Sat, 02 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/iktakhar-ahmed-sandhu/2026-05-02/51874/83845282</guid><description>ہم پاکستانی پچھلے 78برسوں سے اپنے مقتدر طبقات کے ہاتھوں ملک اور عوام کی بربادی کا رونا رو رہے ہیں لیکن کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ ہمیں پچھلے 78برسوں کی تاریخ کو دوش دینے کی ضرورت نہیں کیونکہ ہم ساڑھے تین سو برسوں سے ایسے ہی رہ رہے ہیں۔ فرانسس برنیئر کا سفر نامہ پڑھیں اور آج کے حالات سے موازنہ کریں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ کچھ بھی نہیں بدلا۔ فرانسس برنیئر جو فرانس کا باشندہ اور پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر تھا‘ 1658ء میں ہندوستان آیا تھا اور 1670ء تک‘ تقریباً بارہ سال ہندوستان میں رہا۔ جب وہ یہاں آیا تو یہ مغل بادشاہ شاہجہاں کے دور کے آخری دن تھے۔ شاہ جہاں کا عہد مغلیہ سلطنت کے عروج کا دور تھا اور اس دور کو عہدِ زریں بھی کہا جاتا ہے۔ برنیئر طبی ماہر تھا؛ چنانچہ یہ مختلف امرا سے ہوتا ہوا شاہی خاندان تک پہنچ گیا‘ اسے مغل دربار‘ شاہی خاندان‘ حرم سرا اور مغل شہزادوں اور شہزادیوں کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ اسے اورنگ زیب عالمگیر کے ساتھ لاہور‘ بھمبر اور کشمیر کی سیاحت کا موقع بھی ملا۔فرانسس برنیئر نے واپس جا کر ہندوستان کے بارے میں ایک سفر نامہ تحریر کیا۔ یہ سفر نامہ 1671ء میں پیرس میں شائع ہوا۔ بعد ازاں یہ انگریزی زبان میں بھی ترجمہ ہوا اور برطانیہ میں اشاعت پذیر ہوا۔ اس سفر نامے میں فرانسس برنیئر نے ہندوستان کے بارے میں جگہ جگہ حیرت کا اظہار کیا ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ ہندوستان میں خوشامد کا دور دورہ ہے‘ بادشاہ سلامت‘ وزرا‘ گورنرز اور سرکاری اہلکار دو دو گھنٹے خوشامد کراتے ہیں۔ دربار میں روزانہ سلام کا سلسلہ چلتا ہے اور گھنٹوں جاری رہتا ہے۔ لوگوں کو خوشامد کی اس قدر عادت پڑ چکی ہے کہ یہ میرے پاس علاج کے لیے آتے ہیں تو مجھے سقراطِ دوراں‘ بقراط اور ارسطوئے زماں اور آج کا بو علی سینا قرار دیتے ہیں اور اس کے بعد نبض کے لیے اپنا ہاتھ آگے بڑھاتے ہیں۔ بادشاہ سلامت دربار میں جب بھی منہ کھولتے ہیں تو درباری کرامت کرامت کا ورد شروع کر دیتے ہیں۔ برنیئر کا سفر نامہ پڑھ کر قاری ورطۂ حیرت میں ڈوب جاتا ہے کیونکہ اس نے 1660ء میں جو ہندوستان دیکھا تھا وہ آج تک اسی روح اور ثقافت کے ساتھ قائم و دائم ہے۔ یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ ہم نے ساڑھے تین سو برسوں میں کچھ نہیں سیکھا۔فرانسس برنیئر بتاتا ہے کہ ملک میں ایک طرف امرا ہیں اور دوسری طرف غریب عوام ۔ امرا محلوں میں رہتے ہیں‘ ان کے گھروں میں باغات بھی ہیں‘ فوارے بھی‘ سواریاں بھی اور درجنوں نوکر چاکر بھی جبکہ غریب لوگ جھونپڑیوں میں رہتے ہیں اور ان کے پاس ایک وقت کا کھانا تک نہیں ہوتا۔ بازار بے ترتیب اور گندے ہیں‘ آپ کو ایک دکان سے پشمینہ‘ کمخواب‘ ریشم اور زری کا کپڑا ملے گا اور ساتھ کی دکان پر تیل‘ گھی‘ آٹا اور شکر بک رہی ہو گی۔ آپ کو کتابوں اور جوتوں کی دکانیں بھی ساتھ ساتھ ملیں گی‘ ہر دکان کا اپنا نرخ ہوتا ہے اور بھاؤ تاؤ کے دوران اکثر اوقات گاہک اور دکاندار ایک دوسرے سے الجھ پڑتے ہیں۔ شہروں میں حلوائیوں کی دکانوں کی بہتات ہے مگر آپ کو دکانوں پر گندگی‘ مکھیاں‘ مچھر‘ بلیاں اور کتے دکھائی دیتے ہیں۔ آپ کو ملک بھر میں اچھا گوشت نہیں ملتا‘ قصائی بیمار اور قریب المرگ جانور ذبح کر دیتے ہیں۔ پھل بہت مہنگے ہیں‘ ملک میں خربوزہ بہت پیدا ہوتا ہے لیکن دس خربوزوں میں سے ایک میٹھا نکلتا ہے۔ ملک بھر میں جوتشیوں کی بھرمار ہے۔ یہ دریاں بچھا کر راستوں میں بیٹھ جاتے ہیں اور لوگ ان کے گرد گھیرا ڈال لیتے ہیں‘ ملک میں پینے کا صاف پانی نہیں ملتا‘ امرا اونٹ پر پانی لاد کر سفر کے لیے نکلتے ہیں‘ ملک کی مٹی زرخیز ہے لیکن زراعت کے طریقے قدیم اور فرسودہ ہیں؛ چنانچہ کسان پوری پیداوار حاصل نہیں کر پاتے۔ ملک کی زیادہ تر زمینیں بنجر پڑی ہیں۔ لوگ نہروں اور نالیوں کی مرمت نہیں کرتے‘ چھوٹے کسان یہ سمجھتے ہیں اس سے جاگیرداروں کو فائدہ ہو گا اور جاگیردار سوچتے ہیں بھل صفائی پر پیسے ہمارے لگیں گے مگر فائدہ چھوٹے کسان اٹھائیں گے‘ یوں پانی ضائع ہو جاتا ہے۔ لاہور کے مضافات میں ہر سال سیلاب آتا ہے اور سینکڑوں لوگوں کی ہزاروں املاک بہا لے جاتا ہے لیکن حکومت اور لوگ سیلابوں کی روک تھام کا کوئی بندوبست نہیں کرتے چنانچہ اگلے سال یا پھر دو چار سال بعد دوبارہ تباہی دیکھتے ہیں۔فرانسس برنیئر نے لوگوں کے بارے میں لکھا کہ یہ کاریگر ہیں لیکن کاریگری کو صنعت کا درجہ نہیں دے پاتے‘ لہٰذا فن کار ہونے کے باوجود بھوکوں مرتے ہیں۔ یہ فنکاری کو کارخانے کی شکل دے لیں تو خوشحال ہو جائیں اور دوسرے لوگوں کی مالی ضروریات بھی پوری ہو جائیں‘ لوگ روپے کو کاروبار میں نہیں لگاتے‘ یہ رقم چھپا کر رکھتے ہیں‘ عوام زیورات کے خبط میں مبتلا ہیں‘ لوگ بھوکے مر جائیں گے لیکن اپنی عورتوں کو زیورات ضرور پہنائیں گے‘ ملک کا نصابِ تعلیم انتہائی ناقص ہے‘ یہ بچوں کو صرف زبان سکھاتا ہے ان کی اہلیت میں اضافہ نہیں کرتا‘ خود اورنگزیب نے میرے سامنے اعتراف کیا کہ میں نے اپنے بچپن کا زیادہ تر وقت عربی زبان سیکھنے میں ضائع کر دیا۔ ملک میں رشوت عام ہے‘ آپ کو دستاویزات پر سرکاری مہر لگوانے کے لیے حکام کو رشوت دینا پڑتی ہے۔ صوبے داروں کے پاس وسیع اختیارات ہیں‘ یہ بیک وقت صوبے دار بھی ہوتے ہیں‘ خزانچی بھی‘ وکیل بھی‘ جج بھی‘ پارلیمنٹ بھی اور جیلر بھی۔ سرکاری اہلکار دونوں ہاتھوں سے دولت لٹاتے ہیں‘ بادشاہ نے اپنے لیے (1660ء میں) تین کروڑ 184روپے کا تخت بنوایا۔ سرکاری عہدیدار پروٹوکول کے ساتھ گھروں سے نکلتے ہیں۔ یہ ہاتھیوں پر سوار ہو کر باہر آتے ہیں‘ ان کے آگے سپاہی چلتے ہیں‘ ان سے آگے ماشکی راستے میں چھڑکاؤ کرتے جاتے ہیں۔ ملازموں کا پورا دستہ مور چھل اٹھا کر رئیسِ اعظم کو ہوا دیتا ہے اور ایک دو ملازم اُگالدان اٹھا کر صاحب کے ساتھ چلتے ہیں۔ یہ لوگ گھر بہت فضول بناتے ہیں۔ ان کے گھر گرمیوں میں گرمی اور حبس سے دوزخ بن جاتے ہیں اور سردیوں میں سردی سے برف کے غار۔ بادشاہ اور امرا سیر کے لیے نکلتے ہیں تو چھ چھ ہزار مزدور ان کا سامان اٹھاتے ہیں۔ ہندوستان کی اشرافیہ طوائفوں کی بہت دلدادہ ہے‘ ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں طوائفوں کے کوٹھے ہیں اور امرا اپنی دولت کا بڑا حصہ ان پر نچھاور کر دیتے ہیں۔ طوائفیں شاہی خاندان کی تقریبات میں بھی بلوائی جاتی ہیں اور دربار سے وابستہ تمام لوگ ان کا رقص دیکھتے ہیں۔ وزرا صبح و شام دو مرتبہ بادشاہ کے سامنے حاضر ہوتے ہیں‘ بادشاہ کے حضور حاضری نہ دینے والے وزرا عہدے سے فارغ کر دیے جاتے ہیں۔ ملک میں گرد وغبار‘ گندگی‘ بو اور بے ترتیبی انتہا کی ہے اور جرائم عام ہیں۔ مجرم اوّل تو پکڑے نہیں جاتے اور اگر پکڑ لیے جائیں تو یہ سفارش یا رشوت کے ذریعے چھوٹ جاتے ہیں۔یہ فرانسس برنیئر کے سفرنامے کے چند حقائق تھے جو میں نے آپ کے سامنے پیش کیے۔ آپ انہیں دیکھیے اور آج کے پاکستان پر نظر دوڑائیے‘ آپ کو یہ جان کر اطمینان ہو گا کہ ہم نے 78سالہ پاکستانی تاریخ میں ہی نہیں‘ پچھلے ساڑھے تین سو سال میں کچھ نہیں سیکھا۔ ہماری چال اور رفتار آج بھی بے ڈھنگی ہے۔ غوث خواہ مخواہ حیدر آبادی نے ٹھیک کہا تھا:پریشانی سے سر کے بال تک سب جھڑ گئے لیکنپرانی جیب میں کنگھی جو پہلے تھی سو اَب بھی ہےزمانے کا چلن کیا پوچھتے ہو خواہ مخواہ مجھ سےوہی رفتار بے ڈھنگی جو پہلے تھی سو اَب بھی ہےیہ سب کچھ ہماری حکمران اشرافیہ میں شامل نو مقتدر طبقات کا کیا دھرا ہے۔ ان نو طبقوں پر جب تک ہاتھ نہ ڈالا گیا عوام کے ساتھ ساتھ پاکستان بھی خوشحال ہوتا نظر نہیںآ رہا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/228_40817243.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بَیْتُ اللّٰہ(مفتی منیب الرحمٰن )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-05-02/51875/76411423</link><pubDate>Sat, 02 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-05-02/51875/76411423</guid><description>اللہ تعالیٰ نے فرمایا: &#39;&#39;بے شک لوگوں کے لیے اللہ کی عبادت کے واسطے جو پہلا گھر بنایا گیا‘ وہی ہے جو مکہ میں ہے‘ برکت والا اور تمام جہانوں کے لیے ذریعۂ ہدایت ہے‘ اس میں واضح نشانیاں ہیں‘ مقامِ ابراہیم ہے اور جو شخص اس میں داخل ہوا‘ وہ بے خوف ہو گیا‘ بیت اللہ کا حج کرنا ان لوگوں پر اللہ کا حق ہے جو وہاں تک پہنچنے کی استطاعت رکھتے ہوں اور جس نے کفر کیا تو بے شک اللہ سارے جہانوں سے بے نیاز ہے‘‘ (آل عمران: 96 تا 97)۔ اس مرکزِ عبادت کو &#39;&#39;بیت اللہ‘‘ اور &#39;&#39;کعبۃ اللہ‘‘ کہتے ہیں۔ &#39;&#39;بیت اللہ‘‘ نہ مسجود ہے نہ معبود‘ مسجود ومعبود اللہ تبارک وتعالیٰ کی ذات ہے اور وہ زمان ومکان کی تحدیدات سے ماورا ہے‘ بیت اللہ کی عمارت پتھروں کی بنی ہوئی ہے‘ یہ ہمارے لیے جہتِ عبادت ہے تاکہ مسلمانوں کے درمیان ایک مرکزیت قائم ہو۔ فرمایا: &#39;&#39;بے شک ہم آپ کے چہرے کا آسمان کی طرف اٹھنا دیکھ رہے ہیں‘سو ہم آپ کو اسی قبلے کی طرف ضرور پھیر دیں گے جو آپ کو پسند ہے‘ پس آپ اپنا چہرہ مسجدِ حرام کی طرف پھیر لیں اور (مسلمانو!) تم جہاں کہیں بھی ہو (نماز کے وقت) اپنا چہرہ اُسی کی طرف پھیر لیا کرو‘‘ (البقرہ: 144)۔ بیت کی اللہ تعالیٰ کی طرف نسبت اُس کے شرف کو ظاہر کرنے کیلئے ہے‘ جیسے معجزے کے طور پر حضرت صالح علیہ السلام کیلئے جو دس ماہ کی گابھن اونٹنی چٹان سے پیدا کی گئی تھی‘ اسے قرآن کریم نے &#39;&#39;نَاقَۃُ اللّٰہ‘‘ کہا ہے‘ اسی معنی میں حدیث پاک میں مساجد کو &#39;&#39;بیوت اللہ‘‘ کہا گیا ہے۔ بیت اللہ کو ابتدا میں ملائکہ نے تعمیر کیا‘ پھر جب طویل مدت گزرنے کے بعد بیت اللہ کی عمارت منہدم ہوتی رہی تو اُسے ازسرِ نو تعمیر کیا جاتا رہا۔ علامہ احمد قسطلانی تعمیرِ بیت اللہ کی تاریخ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:  &#39;&#39;بیت اللہ کو پہلی بار فرشتوں نے بنایا‘ دوسری مرتبہ حضرت آدم علیہ السلام‘ تیسری بار حضرت شیث بن آدم‘ چوتھی بار حضرت ابراہیم علیہ السلام‘ پانچویں بار قوم عمالقہ‘ چھٹی بار بنی جُرہم‘ ساتویں بار رسول اللہﷺ کے جدِّ اعلیٰ حضرت قُصَیِّ بِن کِلَاب‘ آٹھویں بار قریش اور نویں بار حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے رسول اللہﷺ کی منشا پوری کرنے کیلئے کعبۃ اللہ کو منہدم کر کے دوبارہ بنائے ابراہیمی پر بنایا۔ پھر دسویں بار عبدالملک بن مروان کے حکم سے حجاج بن یوسف نے اس کو پھر منہدم کر کے بنائے قریش کے مطابق بنا دیا‘‘ (اِرْشَادُ السَّارِیْ‘ ج: 3‘ ص: 143 تا 144)۔ اس سے معلوم ہوا کہ مختلف ادوار میںحادثاتِ زمانہ کے نتیجے میں بیت اللہ کی عمارت منہدم ہوتی رہی یا اُسے نقصان پہنچتا رہا ہے‘ اسی سبب اُسے بار بار تعمیر کیا جاتا رہا۔رسول اللہﷺکی خواہش تھی کہ کعبۃ اللہ کی دوبارہ تعمیر بنائے ابراہیمی پر ہو‘ لیکن آپﷺ نے حکمتِ دین کے تحت وسائل ہونے کے باوجود اپنی خواہش پر عمل نہیں فرمایا۔ حدیث پاک میں ہے: &#39;&#39;رسول اللہﷺ نے حضرت عائشہ صدیقہؓ سے فرمایا: عائشہ! اگر تمہاری قوم تازہ تازہ کفر کو چھوڑ کر اسلام میں نہ داخل ہوئی ہوتی تو میں کعبۃ اللہ کو منہدم کر کے زمین سے ملا دیتا اور پھر (تعمیرِ نو کے بعد) اس کے دو دروازے بناتا: ایک شرقی جانب اور ایک غربی جانب اور اس میں حِجر (حطیم) کی جانب تقریباً تین گز کا اضافہ  کرتا‘ کیونکہ قریش نے جب کعبہ بنایا تو عمارت کے احاطے میں کچھ کمی کر دی تھی‘‘ (مسلم: 401)۔ الغرض رسول اللہﷺ کی خواہش تھی اور اُس وقت آپ کو وسائل بھی میسر تھے‘ لیکن آپﷺ نے دینی حکمت کے تحت اپنی خواہش پر عمل نہ کیا کہ کہیں بیت اللہ کی عمارت پر کدال اور ہتھوڑے چلاتے ہوئے لوگوں کی عقیدت کو ٹھیس نہ پہنچے‘ کیونکہ وہ نئے نئے اسلام میں داخل ہوئے تھے اور ان کے ذہنوں میں بیت اللہ کی تقدیس کا ایک تصور تھا۔ پھر جب حجاز میں حضرت عبداللہؓ بن زبیر کی خلافت قائم ہوئی تو انہوں نے رسول اللہﷺ کی خواہش کی تکمیل کی خاطر بیت اللہ کو منہدم کرکے از سرِ نو بنائے ابراہیمی پر تعمیر کیا۔ پھر اموی خلیفہ عبدالملک بن مروان کے زمانے میں حجاج بن یوسف کے ذریعے کعبۃ اللہ کی عمارت کو شہید کر کے دوبارہ بنائے قریش پر تعمیر کیا گیا۔ پھر عباسی خلیفہ ہارون الرشید نے امام مالکؒ سے رائے لی: کیا میں بیت اللہ کو ایک بار پھر منہدم کر کے بنائے ابراہیمی پر تعمیر کرا دوں تو امام مالکؒ نے فرمایا: &#39;&#39;میں آپ کو قسم دیتا ہوں کہ کعبۃ اللہ کو اسی طرح رہنے دیں‘ بار بار منہدم کرنے سے اس کی ہیبت اور جلال میں کمی آئے گی‘‘ (تفسیر قرطبی‘ ج: 2‘ص: 124)۔ امام مالکؒ کی رائے بصیرت اور دور اندیشی پر مبنی تھی‘ کیونکہ اگر ایک بار اس کا دروازہ کھول دیا جاتا تو پھر ہر آنے والا حاکم یہ چاہتا کہ وہ اپنے دور میں نئی شان کے ساتھ بیت اللہ کی تعمیر کرے تاکہ یہ عمارت اس کی طرف منسوب ہو‘ اس طرح ممکن ہے کہ بیت اللہ کی عمارت سونے اور چاندی کی اینٹوں کی بن جاتی‘ لیکن یہ بازیچہ اطفال بن کر رہ جاتا اور اس کی جلالت وحرمت میں کمی آتی۔ پس امام مالکؒ کا امت پر احسان ہے کہ انہوں نے اپنی دینی بصیرت سے آئندہ رونما ہونے والے فتنوں کا سدِّباب کر دیا‘ اللہ تعالیٰ اُن کی تربت پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے۔الدخان: 37 میں&#39;&#39;قومِ تُبَّع‘‘ کا ذکر ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ &#39;&#39;تُبَّع‘‘ یمن کے بادشاہوں کا لقب تھا‘ اسی لیے تُبَّع حِمیَری کہا جاتا ہے‘ جیسا کہ روم کے بادشاہوں کا لقب قیصر‘ فارس کے بادشاہوں کا کِسریٰ‘ حبشہ کے بادشاہوں کا نجاشی‘ قبطیوں کے بادشاہوں کا فرعون‘ مصر کے بادشاہوں کا عزیز تھا اور مسلم حکمرانوں کا لقب امیر المومنین یا خلیفہ تھا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ ایک معیّن شخص کا نام ہے اور یہی قول زیادہ درست ہے۔ حدیث پاک میں ہے: &#39;&#39;رسول اللہﷺ نے فرمایا: تُبَّع کو برا نہ کہو‘ کیونکہ وہ اسلام قبول کر چکا تھا‘‘ (مسند احمد: 22880)۔ بعض روایات میں ہے: &#39;&#39;تُبَّع‘‘ کعبۃ اللہ کو ڈھانے کے ارادے سے آیا تھا‘ اُسے ایک لاعلاج بیماری لاحق ہو گئی‘ اُسے ایک دانا شخص نے بتایا کہ برے ارادے کو دل سے نکال دو‘ تمہیں شفا مل جائے گی اور ایسا ہی ہوا۔ پھر اُسے نبی آخر الزماں کی بابت معلوم ہوا تو وہ اسلام لے آیا‘ اس نے آپﷺ کیلئے مدینہ طیبہ میں ایک دو منزلہ گھر بنایا اور آپﷺ کے نام حسبِ ذیل مکتوب لکھا: &#39;&#39;حمد وصلوٰۃ کے بعد! میں آپ اور آپ پر اتاری جانے والی کتاب پر ایمان لایا‘ میں آپ کے دین اور سنّت پر ہوں‘ میں آپ کے ربّ اور ہر چیز کے ربّ پر ایمان لایا‘ آپ اپنے ربّ کی طرف سے جو احکام لائیں گے‘ میں اُن سب پر ایمان لایا‘ اگر میں نے آپ کا زمانہ پایا تو بہت اچھا ہو گا اور اگر میں نے آپ کا زمانہ نہ پایا تو آپ میری شفاعت فرمانا اور قیامت کے دن مجھے بھول نہ جانا‘ کیونکہ میں آپ کی امت کے اوّلین میں سے ہوں۔ آپ کی آمد سے پہلے میں نے آپ کی بیعت کی‘ میں آپ اور آپ کے والد ابراہیم علیہ السلام کی ملّت پر ہوں‘‘۔ پھر اس نے خط کے آخر میں مہر لگائی‘ اس مہر پر یہ نقش تھا: &#39;&#39;اول وآخر حکم اللہ کے لیے ہے‘‘۔ خط کا عنوان یہ لکھا: &#39;&#39;اللہ کے نبی‘ اس کے رسول‘ خاتم النبیین محمد بن عبداللہ کے نام تُبَّعِ اول کی جانب سے‘‘ (تفسیر قرطبی‘ جز: 16‘ ص: 146)۔ امام ابن عساکر لکھتے ہیں: &#39;&#39;پھرتُبَّع مدینہ منورہ گیا اور وہاں سے ہندوستان کے کسی شہر میں چلا گیا اور وہیں فوت ہو گیا۔ تُبَّع کی وفات کے ٹھیک ایک ہزار سال بعد سیدنا محمدﷺ کی ولادت ہوئی‘ جن اہل مدینہ نے ہجرت کے وقت نبیﷺ کی نصرت کی تھی‘ وہ سب ان علماء کی اولاد میں سے تھے جو مدینہ منورہ میں تُبَّع کے بنائے ہوئے گھروں میں رہتے تھے‘ جب رسول اللہﷺ مدینہ پہنچے تو وہ لوگ آپ کی اونٹنی کے گرد آکر اکٹھے ہوگئے اورہر ایک آپﷺ کو اپنے گھر لے جانے پر اصرار کرنے لگا۔ آپﷺ نے فرمایا: &#39;&#39;اس اونٹنی کو چھوڑ دو‘ یہ اللہ کے حکم کی پابند ہے‘‘۔ حتیٰ کہ وہ اونٹنی حضرت ابو ایوب انصاریؓ کے گھر کے سامنے آ کر بیٹھ گئی‘ تو نبیﷺ نے ان کے گھر پر قیام فرمایا۔ حضرت ابو ایوب انصاریؓ اُس عالِم کی اولاد سے تھے جس نے خیر خواہی کے جذبہ سے تُبَّع کو نصیحت کی تھی اور اس کو کعبہ منہدم کرنے کے ارادہ سے باز رکھا تھا۔ رسول اللہﷺ حضرت ابو ایوبؓ کے جس گھر میں ٹھہرے تھے‘ یہ تُبَّع ہی کا بنایا ہوا تھا‘‘ (تاریخ دمشق‘ ج: 11‘ ص: 67 تا 77‘ خلاصہ)۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_61172381.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>