<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>پائیدار امن اور امید افزا پیش رفت(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-07/11170</link><pubDate>Thu, 07 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-07/11170</guid><description>مشرقِ وسطیٰ کے سنگین ہوتے بحران میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان اور دیگر ممالک کی اپیل پر فوجی آپریشن کی معطلی کا اعلان ایک مثبت پیش رفت ہے جس نے امن کی ٹوٹتی ہوئی امیدوں کو سہارا دیا ہے۔ گزشتہ دو روز کے دوران آبنائے ہرمز میں ہونیوالی امریکی کارروائیوں نے جس طرح عالمی بحری گزرگاہ میں تصادم کے خطرے کو بڑھایا تھا‘ اس نے دنیا کو ایک بار پھر جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا تھا۔ خلیجی بندرگاہ اور بحری جہازوں پر میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد یہ خدشہ تقویت پکڑ رہا تھا کہ دونوں فریق جنگ بندی کے خاتمے کا اعلان کر کے دوبارہ جارحانہ حکمت عملی اپنا سکتے ہیں۔ تاہم یہ امر اطمینان بخش ہے کہ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت اور دیگر ممالک کی کاوشوں سے صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں پھنسے تجارتی جہازوں کو ریسکیو کرنے کے آپریشن کو عارضی طور پر روکنے کا اعلان کر دیا ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز میں امریکی آپریشن کی معطلی سفارتکاری کو ایک اور موقع دینے کی کوشش ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اس اقدام کو خطے میں امن‘ استحکام اور مفاہمت کو آگے بڑھانے میں اہم ذریعہ قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس سے پائیدار معاہدے کی راہ ہموار ہو گی جو خطے میں امن واستحکام یقینی بنائے گا۔اس وقت پوری دنیا توانائی کی بڑھتی قیمتوں اور معیشت پر ان کے اثرات کو جس طرح بھگت رہی ہے اس سے امن کی خواہش مزید شدت کے ساتھ ابھری ہے۔

امریکی جائزے کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث خلیج میں اس وقت 1550تجارتی جہاز اور ان پر سوار تقریباً ساڑھے 22ہزار افراد پھنسے ہوئے ہیں۔ اس صورتحال کے باعث دنیا بھر میں تیل وگیس اور دیگر تجارتی اشیا کی رسد میں کمی آئی ہے۔ جب تک یہ بحری راہداری مکمل طور پر بحال نہیں ہو جاتی اور ان جہازوں کو محفوظ راستہ نہیں ملتا‘ تب تک عالمی معیشت پر سے جنگ کے اثرات کم نہیں ہوں گے۔ مہنگائی کا طوفان جو اس وقت پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے‘ اسکی جڑیں خلیج فارس کے عدم استحکام میں پیوست ہیں۔ سپلائی لائن کی اس بندش نے ثابت کر دیا ہے کہ آج کی دنیا ایک دوسرے سے اس قدر مربوط ہے کہ ایک خطے کا امن دوسرے خطے کی خوشحالی کی ضمانت ہے۔ یہ امر امید افزا ہے کہ عالمی برادری کی سفارتی کوششوں سے تہران اور واشنگٹن کے مابین مکالمے کی وہ کھڑکی کھلی ہے جس نے حتمی معاہدے کی امید پیدا کر دی ہے۔ ایران کا امریکی تجاویز پر غور کرنے کا اعلان اور امریکہ کی جانب سے جلد پائیدارمعاہدے کی توقع اس بات کی علامت ہے کہ فریقین اب باہمی تصادم کی قیمت کا ادراک کر چکے اور ایک مکمل اور حتمی معاہدے کی جانب پیشرفت کر رہے ہیں جو خطے میں جاری عدم استحکام کو ختم کرنے کا باعث بنے۔
یہ اس امر کا بھی اظہار ہے کہ کشیدگی کے باوجود سفارتی چینلز فعال ہیں اور دونوں ممالک میں حائل خلیج کو پاٹنا اب ناممکن نہیں رہا۔ تاہم اس عمل میں سب سے بڑی رکاوٹ وہ بے یقینی ہے جو فوجی کارروائیوں اور اشتعال انگیز بیان بازی کے نتیجے میں پیدا ہوئی۔ ان امریکی کارروائیوں کے نتیجے میں عالمی منڈیوں میں خام تیل کی قیمتیں دوبارہ بلندیوں پہ پہنچ گئی تھیں‘ گو کہ تنائو میں کمی کے ساتھ قیمتوں میں پانچ سے نو فیصد کمی آ گئی ہے مگر اس اتار چڑھائو سے پاکستان جیسے ممالک کی معیشتیں براہِ راست متاثر ہو رہی ہیں۔ ایران اور امریکہ کے مابین پائیدار امن کا حتمی معاہدہ نہ صرف ان دونوں ممالک کیلئے بلکہ پوری انسانیت کیلئے ناگزیر ہے۔ جنگ کے بادلوں کو چھٹنا چاہیے اور بارود کی جگہ ترقی و خوشحالی کا تبادلہ ہونا چاہیے۔ بھڑکتے ہوئے شعلوں کو ٹھنڈا کرنے کیلئے محض خلوصِ نیت اور باہمی احترام پر مبنی سفارت کاری کی ضرورت ہے۔ عارضی جنگ بندی کو پائیدار استحکام میں بدلنا ہر اُس انسان کی تمنا ہے جو جنگ کی ہولناکیوں سے واقف ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>معرکہ حق کے ثمرات(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-07/11169</link><pubDate>Thu, 07 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-07/11169</guid><description>معرکۂ حق میں حاصل ہونے والی تاریخی کامیابی کو ایک سال مکمل ہوا۔ اس ایک سال کے دوران پاکستان کو عالمی سطح پر جو سفارتی کامیابیاں حاصل ہوئیں اور دنیا میں پاکستان کے مقام و مرتبے میں اضافہ ہوا وہ عسکری کامیابی کے اثرات کا تسلسل اور وسیع تر ریاستی حکمتِ عملی اور متوازن خارجہ پالیسی کا ثمر ہے۔ گزشتہ برس چھ اور سات مئی کی درمیانی شب جب بھارت نے جارحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کے چھ شہروں پر میزائل حملے کیے تو افواجِ پاکستان نے نہ صرف دشمن کے عزائم فوری طور پر خاک میں ملا دیے بلکہ فوری ردِعمل دیتے ہوئے چند ہی لمحوں میں دشمن کے سات جنگی طیارے مار گرائے۔ اس کارروائی نے بھارتی فضائی برتری کا زعم چکنا چور کر دیا۔ بھارت فرانس سے جدید رافیل طیارے خریدنے کے بعد علاقائی برتری کا خواب سجائے بیٹھا تھا مگر رافیل طیارے بھارتی غرور سمیت زمین بوس ہو گئے۔ مودی حکومت کیلئے اپنے عوام سے اس سبکی کو چھپانا ناممکن ہو گیا جبکہ پاکستان کے عوام ‘ حکومت اور افواجِ پاکستان بھارتی جارحیت کے مقابلے میں بنیانٌ مرصوص کی مانند یکجا کھڑی ہو گئیں۔ اُس روز تاریخ کے اُفق پر ایک ایسا باب رقم ہوا جس نے جرأت‘ عزم اور قومی وحدت کو نئی معنویت عطا کی۔ گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان نے خود کو ایک ذمہ دار‘ خودمختار‘ امن پسند اور سٹرٹیجک توازن رکھنے والی قوت کے طور پر منوایا ہے۔

اس تبدیلی میں اگرچہ عسکری پیشہ ورانہ کارکردگی کا کردار اہم ہے لیکن سفارتی محاذ پر بروقت‘ مدلل اور مربوط مؤقف بھی بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اس عظیم کامیابی کا کریڈٹ پاکستان کی عسکری قیادت کی بر وقت‘ درست‘ مؤثر فیصلہ سازی اور افواج کی پیشہ وارانہ تیاری کو جاتا ہے۔ پاکستانی ردِعمل کی شدت نے بھارت کو سفارتی سطح پر بھی دباؤ کا شکار کر دیا۔ معرکۂ حق کی کامیابی نے جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن تبدیل کر دیا۔ اس ایک سال کے دوران پاکستان کیلئے کئی سفارتی دروازے کھلے ہیں۔ معاشی اور دفاعی تعاون اور علاقائی روابط کے حوالے سے جو پیش رفت سامنے آئی‘ وہ اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ اب دنیا پاکستان کیساتھ تعلقات کو محض سکیورٹی کے زاویے سے نہیں بلکہ ایک وسیع تر شراکت داری کے تناظر میں دیکھ رہی ہے۔ یہ تبدیلی کسی وقتی لہر کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل اور پیچیدہ عمل کا حاصل ہے جس میں ریاستی اداروں نے اپنی اپنی سطح پر کردار ادا کیا۔تاہم اس تمام پیش رفت کے ساتھ یہ حقیقت بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ سفارتی کوششوں‘ مستقل مزاجی‘ اندرونی استحکام اور پالیسی کے تسلسل کے بغیر برقرار نہیں رہ سکتی۔
معرکۂ حق کی یاد یہ سکھاتی ہے کہ کامیابی صرف میدان میں حاصل نہیں ہوتی بلکہ اس کے ثمرات کو برقرار رکھنے کے لیے مسلسل دانش‘ ادارہ جاتی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی ناگزیر ہوتی ہے۔آج جب  معرکہ حق کی پہلی سالگرہ منائی جا رہی ہے ‘یہ لمحہ محض جشن کا نہیں بلکہ سنجیدہ غور و فکر کا بھی متقاضی ہے۔ پاکستان کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ اس عسکری کامیابی کو ترقی کے سفر کا محرک بنایا جائے تاکہ پائیدار اور مستحکم مستقبل کی بنیاد رکھی جاسکے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>خالد مسعود خان کا نقطۂ اعتراض(محمد اظہارالحق)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-05-07/51900/92473902</link><pubDate>Thu, 07 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-05-07/51900/92473902</guid><description>میر نے کہا تھا:مصائب اور تھے پر دل کا جاناعجب اک سانحہ سا ہو گیا ہےیہاں بھی آج کچھ ایسی ہی صورتحال ہے۔ مسائل بہت سے ہیں اور گمبھیر!! ایک سے ایک بڑھ کر! پٹرول مہنگا ہو گیا۔ پڑوسی احسان کا بدلہ دہشت گردی کی صورت میں دے رہے ہیں۔ سولر کا معاملہ حکومت نے ایسا الجھایا ہے کہ ڈور کا سرا نہیں مل رہا۔ چلچلاتی دھوپ کا موسم آنے کیلئے تیار بیٹھا ہے۔ یہ سارے مسائل اپنی جگہ مگر دوستِ دیرینہ خالد مسعود خان نے جو نقطۂ اعتراض اٹھایا ہے اس کی اہمیت بھی کچھ کم نہیں!!خالد مسعود خان میں دو خصوصیات ہیں۔ ایک تو یہ کہ وہ دوست ہے! اور دوست بھی ایسا کہ نعمتِ خداوندی سے کم نہیں!! برامکہ کا جن دنوں عباسی سلطنت میں طوطی بول رہا تھا‘ شاعر ان کے گُن گاتے تھے۔ یاد نہیں خالد برمکی تھا یا یحییٰ برمکی‘ ایک شاعر نے اس کے بارے میں کہا کہ احسان کر کے بھول جاتا ہے مگر وعدہ کر کے نہیں بھولتا۔ خالد مسعود بھی اس لحاظ سے برمکی ہی ہے۔ دوسری خصوصیت یہ ہے کہ وہ کسی بھی وقت‘ دنیا کے کسی بھی حصے میں پایا جا سکتا ہے! اس لیے اسے فون کرنے کے بعد سب سے پہلے یہ پوچھنا پڑتا ہے کہ حضور کرۂ ارض کے کس گوشے میں ہیں؟ اس کے پاس پرانے زمانے کا کوئی طلسمی اڑن کھٹولا ہے یا اُڑنے والا قالین! ملکوں کی سرحدیں ہیں یا براعظموں کی حدود‘ اس کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتیں۔ میں میلبورن میں تھا کہ اس کا فون آیا۔ پوچھا: کہاں ہیں! بہت آرام سے‘ دھیرے سے بولا &#39;&#39;یہیں میلبورن میں‘‘! اطلاعِ عام کرتا تو مشتاقان کا ہجوم اس کے اردگرد ہوتا مگر صرف مجھ سے ملاقات کی۔ میرے بچوں کو اچھی طرح معلوم ہے کہ خالد مسعود انکل چائے نہیں پیتے‘ کافی پیتے ہیں اور یہ کہ بلیوں کو پسند کرتے ہیں۔یہ سب تو تمہید تھی۔ مسئلہ اُس نقطۂ اعتراض کا ہے جو اس نے اٹھایا ہے۔ تکنیکی طور پر اسے نقطۂ اعتراض بھی نہیں کہا جا سکتا۔ مختلف رائے کہنا زیادہ مناسب ہو گا۔ ایک گزشتہ کالم میں مَیں نے لکھا کہ جب صدر ٹرمپ کی اسلام آباد آمد کی خبر گرم تھی تو میں نے اور میرے گھر والوں نے فیصلہ کیا کہ امریکی صدر کی دعوت کریں گے اور انہیں اپنے علاقے کی خاص سوغات &#39;&#39;مکھڈی حلوہ‘‘ کھلائیں گے۔ اسی حوالے سے میں نے یہ بھی لکھا کہ یوں تو ضلع اٹک‘ میانوالی اور تلہ گنگ میں ہر جگہ یہ حلوہ غذائے خاص ہے مگر پنڈی گھیب کے حلوے کا جواب نہیں۔ اس سلسلے میں کچھ مثالیں بھی دیں کہ جس طرح پلاؤ کا گڑھ بخارا‘ سمرقند اور تاشقند ہیں اور جس طرح نہاری کا گڑھ دلّی ہے اور جس طرح رس گلے کیلئے ڈھاکہ کی نواحی بستی گھوڑا سال معروف ہے اور جس طرح میٹھے دہی کیلئے بوگرا (بنگلہ دیش) مشہور ہے اور جس طرح مشہور ترکی پکوان &#39;&#39;اسکندر کباب‘‘ کیلئے بورصہ کا شہر جانا پہچانا ہے اسی طرح بہترین مکھڈی حلوے کیلئے پنڈی گھیب مشہور ہے۔ اس پر خالد مسعود خان کا فون آیا۔ پہلے اس نے بڑے طریقے سے پوچھا کہ &#39;&#39;تمہاری تحقیق سے اختلاف کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟‘‘۔ میں نے عرض کیا کہ کیوں نہیں! کیونکہ اختلاف امت کیلئے باعثِ رحمت ہے۔ یوں زمین تیار کرنے کے بعد اس نے کہا کہ اس کے نزدیک بہترین مکھڈی حلوہ کالا باغ (یعنی میانوالی) کا ہے۔ ظاہر ہے کہ پورے کرۂ ارض کو اپنی جولانگاہ بنانے اور سمجھنے والے خالد مسعود سے کالا باغ کیسے بچ سکتا ہے! میں نے اس کے جواب میں کہا کہ ہم اٹک اور میانوالی کے لوگ باہر کے کسی شخص کو یہ اختیار دینے کیلئے تیار ہی نہیں کہ وہ مکھڈی حلوے کے بارے میں کوئی فیصلہ کرے۔ بھلا ہو اس کا کہ اس نے اس پر کوئی بحث نہیں کی۔ تاہم بعد میں مَیں نے سوچا کہ مسئلہ تو میرے یار نے بہت اہم اٹھایا ہے۔ اور اس کی شرافت کہ جب میں نے ڈینگ ماری کہ ہم اٹک اور میانوالی کے لوگ باہر کے کسی شخص کو یہ اختیار دینے کیلئے تیار ہی نہیں کہ وہ مکھڈی حلوے کے بارے میں کوئی فیصلہ کرے تو اس نے اس آمرانہ بَڑ کی تردید نہیں کی اور ایک طرف ہو گیا۔اصل بات یہ ہے کہ اس حلوے کے ضمن میں اٹک اور میانوالی ایک دوسرے کے ساتھ کچھ اس طرح پیوست ہیں کہ انہیں الگ کرنا شاید ممکن نہ ہو۔ (یہاں یہ وضاحت لازم ہے کہ جب ہم ثقافتی حوالے سے اٹک کا ذکر کرتے ہیں تو اس میں تلہ گنگ بھی شامل ہوتا ہے)۔ اس حلوے کے دو نام ہیں۔ مکھڈی حلوہ اور باغیا حلوہ۔ مکھڈ‘ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں‘ ضلع اٹک میں ہے۔ یہ ایک قدیم تاریخی قصبہ ہے جو قبلِ مسیح سے آباد ہے۔ اس کی قدیم عمارتیں اور گلی کوچے قابلِ دید ہیں۔ پراچہ قبیلے کے بہت سے خاندانوں کی اصل مکھڈ ہی سے ہے۔ باغیا‘ اس حلوے کو کالا باغ کی نسبت سے کہا جاتا ہے۔ مکھڈ اور کالا باغ میں قدرِ مشترک یہ ہے کہ دونوں دریائے سندھ کے مشرقی کنارے پر آباد ہیں۔ چونکہ دریائے سندھ کے کنارے آباد شہر کشتیوں کے ذریعے ایک دوسرے سے مربوط تھے اور تجارت دریا کے آر پار اور شمالاً جنوباً کشتیوں کے ذریعے ہوتی تھی اس لیے مکھڈ اور کالا باغ دونوں کا مکھڈی حلوے کا مرکز ہونا قابلِ فہم ہے۔ اسی طرح مکھڈ کے شمال میں ایک قصبہ ملاحی ٹولہ بھی ہے جو اٹک کے قلعے کے پاس ہے۔ ملاحی ٹولہ سے تجارتی قافلے براہِ راست بخارا اور وسط ایشیا کے دیگر شہروں کو جاتے تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خود ضلع اٹک میں‘ مکھڈی حلوے کو باغیا بھی کہا جاتا ہے۔ گاؤں میں ایک نانی بیگاں دن ہمارے گھر میں گزارتی تھیں۔ مجھے یاد ہے کہ گاؤں میں ایک شادی تھی اور نانی بیگاں میری دادی جان کو بتا رہی تھیں کہ &#39;&#39;لڑکے والوں نے باغیا پکایا ہے‘‘۔ تب یہ بات بہت اہم ہوتی تھی کہ شادی والے گھر میں حلوہ &#39;&#39;کھنڈ‘‘ (چینی) میں پکایا گیا ہے یا گُڑ میں۔ کھانڈ اونچے سٹیٹس کی علامت تھی اور گُڑ نچلی حیثیت کی! باغیا اور مکھڈی دونوں نام متبادل کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ یعنی اصل میں دونوں ایک ہیں۔جو تم ہو برقِ نشیمن تو میں نشیمنِ برقالجھ پڑے ہیں ہمارے نصیب! کیا کہناخالد مسعود خان نے کالا باغ کا حلوہ کھایا ہے۔ پنڈی گھیب کا غالباً نہیں کھایا۔ بجا کہ اتنی مہربانی ضرور کرتے ہیں کہ تھوڑی دیر کیلئے بھی اسلام آباد آئیں تو شرفِ ملاقات ضرور بخشتے ہیں مگر سوار ہوا کے گھوڑے پر ہوتے ہیں۔ اتنی مہلت نہیں دیتے کہ مکھڈی حلوہ پکایا جائے۔ دوسری طرف عزیز گرامی رؤف کلاسرا نے فرمائش کی ہے کہ ٹرمپ تو مکھڈی حلوہ کھانے آیا نہیں‘ انہیں تو کھلا دیا جائے۔خالد مسعود اور کلاسرا دونوں ملتانی ہیں۔ ملتان کے بارے میں جس نے بھی کہا کہ ملتان چار چیزوں کیلئے مشہور ہے &#39;&#39;گرد و گرما‘ گدا و گورستان‘‘ غلط کہا۔ ملتان کے تحفوں میں آم بھی ہے‘ کھجور بھی اور حافظ حلوہ بھی۔ ملتان اس لیے بھی عزیز ہے کہ خالد مسعود اور کلاسرا کا تعلق ملتان سے ہے۔ ہمارے پرانے دوست پروفیسر ڈاکٹر انوار احمد بھی ملتان سے ہیں اور اصغر ندیم سید بھی! جو کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ مرحوم دوست سید ذوالکفل (سید عطا اللہ شاہ بخاری کے نواسے) بھی ملتان سے تھے۔ واپس مکھڈی حلوے کے طرف چلتے ہیں۔ کالا باغ کا ہو یا مکھڈ کا‘ بقول سردار رئیسانی‘ حلوہ حلوہ ہوتا ہے۔ ایک صاحب کا دعویٰ تھا کہ سات اقسام کا حلوہ پکا سکتے ہیں۔ دوستوں نے فرمائش کی کہ پکائیے اور کھلائیے۔ سوئِ اتفاق سے حلوہ خراب ہو گیا۔ کہنے لگے: یہ اُنہی سات اقسام میں سے ایک ہے!!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_57182973.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مولانا محمد ادریس کی شہادت(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-05-07/51901/59796581</link><pubDate>Thu, 07 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-05-07/51901/59796581</guid><description>مولانا حسن جان‘ ڈاکٹر محمد فاروق خان‘ مولانا نور محمد‘ مفتی سرفراز نعیمی اور اب مولانا محمد ادریس۔ ریاست‘ علما‘ صحافی‘ عوام... ہم سب کے اجتماعی گناہ کا کفارہ کتنے لوگوں کو ادا کرنا ہے؟ اس فہرست میں اُن گمنام شہدا کو بھی شامل کر لیجیے جو بم دھماکوں اور خود کش حملوں میں مارے گئے۔میں علما سے نیازمندی کا تعلق رکھتا ہوں مگر مولانا محمد ادریس سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی۔ ان کی شہادت پر خلقِ خدا نے جس ردِعمل کا اظہار کیا اس سے اندازہ ہوا کہ ان کا شمار اُن علما میں ہوتا تھا جو اپنے علم اور اخلاق سے عوام کے دل تک پہنچ جاتے ہیں۔ وہ جسے حق سمجھتے ہیں اس کا اظہار کرتے ہیں اور اگر اس کیلئے جان سے گزرنا پڑے تو گریز نہیں کرتے۔ وہ خود تلوار نہیں اٹھاتے مگر تیغ برداروں سے مرعوب بھی نہیں ہوتے۔ وہ عالم کی حدود سے واقف ہوتے اور اِنذار کی ذمہ داری پوری جرأت اور شان سے ادا کرتے ہیں۔میسر معلومات کی بنیاد پر یہ واضح ہے کہ یہ ایک مظلومانہ شہادت ہے‘ مولانا حسن جان کی طرح‘ جو اُن کے خسر بھی تھے۔ ان کا تعلق جمعیت علماء اسلام سے تھا مگر یہ وابستگی حق گوئی میں مانع نہیں ہوئی۔ انہوں نے محسوس کیا کہ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے مشرقِ وسطیٰ میں ثالث بالخیر کا کردار ادا کیا ہے تو انہوں نے برسرِ منبر اس کو سراہا۔ ان کی چند تقاریر کے منتخب حصے سنے تو یہ بھی معلوم ہوا کہ پاکستان کی محبت میں سر شار تھے۔ اسے فتنوں سے محفوظ دیکھنا چاہتے تھے۔ ان فتنوں میں دین کی وہ تعبیر بھی شامل ہے جو انسانی قتل جیسے قبیح عمل کو بھی روا رکھتی ہے۔ دین کے ایک جید عالم کی طرح وہ واقف تھے کہ اللہ کے دین میں انسانی جان کی کیا حرمت ہے اور فساد کتنا بڑا جرم ہے۔وہ اللہ کے آخری رسول سیدنا محمدﷺ کی محبت میں ڈوبے ہوئے تھے۔ حدیث کی تعلیم میں جب وہ روایات سامنے آئیں جن میں رسالت مآبﷺ کی دنیا سے رخصتی کا بیان ہے تو وہ اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ سکے‘ درآں حالیکہ اَن گنت بار یہ روایات پڑھا چکے۔ خود بھی روئے اور طالب علموں کو بھی رلایا۔ جس تعبیرِ دین میں ایسے لوگ بھی واجب القتل ٹھیریں وہ بلاشبہ دین میں تحریف ہے۔ وہ ایک نیا دین ہے جس کو اس دین سے کوئی نسبت نہیں جو قرآن وسنت میں بیان ہوا ہے۔وہ دیوبند کی علمی روایت کے امانت داروں میں سے تھے۔ ایسی سعادت مند زندگی تھی کہ تیس سال سے حدیث پڑھا رہے تھے۔ عوام نے انہیں اپنے اعتماد سے نوازا اور صوبائی اسمبلی تک پہنچا دیا۔ ان کا دل مگر مدرسے میں لگتا تھا جہاں قال اللہ اور قال رسول اللہﷺ جیسے ملکوتی نغمے گونجتے ہیں۔ جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک سے خاص تعلق تھا۔ گیارہ برس سے یہاں بخاری شریف اور ترمذی شریف پڑھا رہے تھے۔ خطرات میں گھرے تھے۔ مولانا حامد الحق کے بعد‘ وہ اہلِ علم خیبر پختونخوا میں بطورِ خاص ہدف ہیں جو ریاست کے وفادار ہیں اور انتہا پسندانہ تعبیرات سے اعلانِ برأت کرتے ہیں۔ انہیں افغانستان سے دھمکی آمیز فون کال بھی آئی۔ مولانا ادریس کو احباب نے اس جانب متوجہ کیا تو یہی کہا کہ ان کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے۔ سوال مگر یہ ہے کہ کیا ایسے لوگوں کے بارے میں ریاست‘ علما اور عوام کی بھی کوئی ذمہ داری ہے؟سب سے پہلے ریاست۔ پے درپے واقعات کی گواہی یہ ہے کہ یہاں ان علما کے تحفظ کا کوئی اہتمام نہیں جو ریاست کے بیانیے سے متفق ہیں‘ اگرچہ اس کی بعض پالیسیوں کے ناقد ہیں۔ وہ انتہا پسند گروہوں کے راستے کی رکاوٹ ہیں۔ ان میں مولانا فضل الرحمن بھی شامل ہیں جن پر کئی بار قاتلانہ حملے ہو چکے۔ مولانا حامد الحق کی شہادت ابھی کل کا واقعہ ہے۔ اس سے پہلے مولانا حسن جان اور ڈاکٹر فاروق خان جیسی شخصیات کو شہید کیا گیا۔ یہ وہ لوگ تھے جو بیانیے اور تعبیرِ دین کے حوالے سے ریاست کے ساتھ کھڑے تھے۔ سب جانتے ہیں کہ کے پی میں اس نقطہ نظر کے ساتھ عوامی زندگی گزارنا کتنا مشکل کام ہے۔ ریاست کو بھی یقینا اس کی اطلاع ہو گی۔ ان واقعات کا تسلسل یہ بتاتا ہے کہ حکومت ایسے لوگوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہے۔بنیادی طور پر یہ کام صوبائی حکومت کا ہے۔ دہشت گردی مگر ایک قومی مسئلہ ہے جس کے حل کی ذمہ داری ریاست نے ا ٹھا رکھی ہے۔ سلامتی کے اداروں سے وابستہ ہمارے اَن گنت جوان شہید ہو چکے۔ علما کی جانیں گئیں۔ عام شہری مارے گئے۔ سب کی حفاظت ریاست کے ذمے ہے مگر جو لوگ نمایاں ہوں وہ دہشت گردی کا خا ص ہدف ہوتے ہیں۔ لازم ہے کہ ریاست اس کیلئے خصوصی سیل بنائے اور ان لوگوں کا دفاع کرے جو جان ہتھیلی پر رکھ کر محراب ومنبر سے ایسی دینی تعبیرات کے خلاف جہاد کرتے ہیں۔ یہ مجاہد جو قلم اور زبان سے فتنوں سے لڑتے ہیں‘ ان کیلئے تلوار اٹھانا ریاست کا کام ہے۔ایک ذمہ داری عوام کی بھی ہے۔ مولانا ادریس کو بھرے بازار میں شہید کیا گیا۔ وڈیو موجود ہے کہ قاتلوں نے پورے اطمینان کے ساتھ اپنا کام کیا۔ مجھے حیرت ہے کہ کسی نے انہیں روکنے کی کوشش نہیں کی۔ ایک ایسے سماج میں‘ جس میں ہر آدمی ہتھیار بردار رہتا ہے‘ وہاں کوئی ایک گولی نہیں چلی جو قاتلوں کو روکتی۔ اس معاملے کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے۔ دینی انتہا پسندی کے ساتھ یہاں سیاسی انتہا پسندی کو جس طرح فروغ دیا گیا ہے‘ وہ بھی باعثِ تشویش ہے۔ مولانا ادریس نے کلمۂ حق کہا تو ان کے خلاف صرف قاتلوں نے ہتھیار نہیں اٹھایا‘ سوشل میڈیا کے مجاہد بھی میدان میں نکلے اور مولانا پر تیروں کی بارش کر دی ۔ یہی کلٹ کی نفسیات ہے۔ میں برسوں سے متنبہ کر رہا ہوں کہ یہ انتہا پسندی بھی سماج کیلئے اسی طرح زہرِ قاتل ہے جس طرح مذہبی انتہا پسندی۔ عوام کو اس کی شناخت سے بھی خبردار رہنا ہے۔ معاشرے کی بربادی میں دونوں کا حصہ برابر ہے۔بڑی ذمہ داری علما کی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ چند عشروں پہلے جب یہ انتہا پسندانہ تعبیر سامنے آئی تو ہمارے دینی حلقوں نے اس کا خیر مقدم کیا۔ بعض اہلِ بصیرت نے اس وقت بھی متنبہ کیا مگر انہیں امریکہ اور سامراج کا ایجنٹ کہا گیا۔ اب وقت نے ان کے مؤقف کی صداقت پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی ہے کہ یہ آگ ہمارے سارے اثاثے کو راکھ بنا رہی ہے۔ اب علما کو اس آگ کو خود بجھانا ہے۔ علما کو سوچنا ہے کہ ہم کب تک مولانا ادریس جیسے نفوسِ قدسیہ کے لہو سے یہ آگ بجھاتے رہیں گے؟ ہمیں اگر اپنے معاشرے کو بچانا ہے تو یہاں سماجی و معاشی استحکام کیلئے کام کرنا ہے۔ امن کو اپنی ترجیح بنانا ہے۔ جذبات کی سوداگری‘ مذہب کے نام پر ہو یا سیاست کے عنوان سے‘ اسے بالجماعت مسترد کر دینا چاہیے۔ قوم کو احتجاجی موڈ سے نکال کر تعبیر کی راہ دکھانی چاہیے۔ اسی سے ان لوگوں کیلئے بھی راستے کھلیں گے جن کو ریاست سے جائز شکایات ہیں۔مولانا محمد ادریس کی شہادت ایک بڑا واقعہ ہے۔ اسے الارم سمجھنا چاہیے۔ ہمیں اپنے اثاثوں کی حفاظت کرنی ہے‘ ان اثاثوں میں وہ علما اور دانشور بھی شامل ہیں جو گالی کھا کر بھی‘ خطرات مول لے کر بھی سماج کیلئے تذکیر کا فریضہ سر انجام دیتے ہیں۔ یہ ہمارا سماجی اثاثہ ہیں۔ اس کے ساتھ ہمیں اپنے ریاستی اثاثے کو بھی محفوظ بنانا ہے‘ ان قوتوں سے جو اسے کمزور کرنا چاہتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ مولانا محمد ادریس کی مغفرت فرمائے اور ان کی شہادت ہمیں حقیقی دشمن کے خلاف یکسو کر دے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>معرکۂ حق کے ایک سال بعد(عمران یعقوب خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-05-07/51902/85472503</link><pubDate>Thu, 07 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-05-07/51902/85472503</guid><description>جب آپ یہ کالم پڑھ رہے ہوں گے تو ملک بھر میں آپریشن بنیانٌ مرصوص یعنی معرکۂ حق کا ایک سال پورا ہونے کا جشن منایا جا رہا ہو گا۔ ہمارا جشن منانا بنتا بھی ہے کیونکہ ایک سال پہلے ہم نے پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کی ناک خاک میں رگڑ دی تھی اور مودی کی ہندوتوا کے منہ پر ایسا زوردار طمانچہ رسید کیا تھا کہ اس کا درد اب بھی ہمارے اُسے پوری شدت کے ساتھ محسوس ہو رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس معرکے کو ایک سال گزر جانے کے باوجود گاہے ایسے بیانات سننے اور پڑھنے کو ملتے ہیں کہ آپریشن سندور ابھی ختم نہیں ہوا اور یہ کہ پاکستان کو سبق سکھایا جائے گا‘لیکن یہ محض بیان ہی ہیں۔ آپریشن سندور برسات کے موسم میں بنی کسی دلدل میں ایسا دھنسا اور پھنسا پڑا ہے کہ ہلنے کا نام نہیں لیتا۔ مجھے تو اندیشہ ہے کہ کہیں آپریشن سندور نے بھارتی جارحیت کو وِدوا ہی نہ کر دیا ہو۔اس کے ساتھ ساتھ ایسے بیانات بھی مسلسل آ رہے ہیں جن میں پاکستان کی فضائی برتری کا اعتراف کیا گیا ہوتا ہے۔ گزشتہ برس دسمبر میں جب آپریشن بنیانٌ مرصوص کو سات ماہ ہو چکے تھے‘ بھارت کے سابق آرمی چیف جنرل (ر) وید پرکاش ملک نے اعتراف کیا کہ پاکستان جدید عسکری ٹیکنالوجی میں بھارت سے آگے ہے۔ انہوں نے کہا کہ رافیل طیاروں اور ایس400دفاعی نظام کی تباہی پاکستان کی عسکری برتری کا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں نے ٹیکنالوجی کے شعبے میں ترقی کی ہے مگر پاکستان کے پاس بہتر ہتھیار اور جدید ساز و سامان موجود ہے جس سے پاکستان کی عسکری برتری واضح ہے۔ترکیہ ٹوڈے کی گزشتہ روز کی اشاعت میں پیش کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق آپریشن بنیانٌ مرصوص میں تقریباً 72 بھارتی لڑاکا طیاروں پر مشتمل سٹرائیک پیکیج کے مقابلے میں پاکستان ایئر فورس کے 42 طیاروں نے ایک منظم گھات لگا کر کارروائی کی جس کے نتیجے میں بھارتی فارمیشنز جن میں ڈیسالٹ رافیل (رافیل) طیارے بھی شامل تھے‘ ایک مہلک &#39;کِل چین‘ (Kill Chain)کے اندر آ گئے۔ اس کارروائی کے نتیجے میں بھارتی فضائیہ کے چھ طیارے مار گرائے گئے۔ اور بھارت کے ان چھ مار گرائے جانے والے طیاروں کا امریکی صدر ٹرمپ نے گزشتہ ایک سال میں جتنا مذاق اڑایا شاید کسی نے نہ اڑایا ہو گا۔ ان کی جانب سے دیے گئے ہر بیان میں طیاروں کی تعداد بڑھ جاتی تھی۔ کبھی کہا کہ پاکستان کی فضائیہ نے بھارت کے پانچ طیارے مار گرائے‘ کبھی کہا آٹھ طیارے مار گرائے اور ایک بار تو ٹرمپ طیاروں کی تعداد 11 تک لے گئے تھے۔ 29 اکتوبر 2025ء کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ رواں سال مئی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی فوجی جھڑپ میں سات بالکل نئے اور خوبصورت طیارے (Seven brand new, beautiful planes) مار گرائے گئے تھے۔ انہوں نے بھارت کے مار گرائے جانے والے طیاروں کا اتنی بار اور اتنی روانی سے ذکر کیا کہ رافیل طیارے ایک محاورے کے طور پر استعمال ہونے لگے۔ میچز کے دوران گرتے طیاروں کی تمثیلیں پیش کی گئیں اور اپنے دوست ملک چین میں تو اس حوالے سے ایک گروپ نے ایک وڈیو بھی بنا ڈالی تھی جو بہت وائرل ہوئی ۔میرے خیال میں گرائے گئے رافیل طیارے ہی نہیں پورا معرکۂ حق ایک محاورہ بن چکا ہے۔ آپ بیرونِ ملک کسی سے بھی پاکستان اور بھارت کے مابین تقابل کا کہیں تو وہ فوراً سِکس زیرو کا اشارہ کرے گا یعنی جنگ میں پاکستان کا ایک بھی طیارہ نہیں گرا تھا جبکہ بھارت کے چھ طیارے مار گرائے گئے تھے۔ آپریشن بنیانٌ مرصوص اس حوالے سے بھی انفرادیت رکھتا ہے کہ اس نے جنگوں کی تاریخ ہی نہیں جنگیں لڑنے کے تمام تر اسلوب بھی بدل کر رکھ دیے ہیں۔ کہاں وہ زمانہ تھا جب فوجیں ایک دوسرے کے مقابل آتی تھیں جن میں کچھ پا پیادہ اور کچھ گھڑ سوار ہوا کرتے تھے۔ کچھ فیل سوار بھی ہوتے تھے۔ کچھ کے پاس نیزے‘ کچھ کے پاس تیر کمان اور کچھ کے پاس تلواریں ہوا کرتی تھیں اور وہ ایک دوسرے کے بالکل آمنے سامنے لڑتے تھے۔ دو بدو! وَن آن ون۔ معرکۂ حق نے دنیا کو بتایا کہ اب جنگیں ڈرونز‘ میزائلوں اور سائبر ٹیکنالوجی پر عبور کا کھیل بن چکی ہیں۔ حقیقت بھی یہی ہے۔ معرکۂ حق کے بعد امریکہ ایران اور اسرائیل ایران جنگ نے بھی یہ حقیقت ثابت کی اور اب جو جنگ ایران اور امریکہ کے مابین لڑی جا رہی ہے‘ جس میں اب کچھ وقفہ آیا ہے‘ اس سے بھی یہ واضح ہوا کہ جنگیں اب میزائلوں سے لڑی جائیں گی۔ دیکھ لیں امریکہ کا کوئی فوجی ایران کی سرزمین پر نہیں اترا۔ اسرائیل کا بھی کوئی فوجی ایران نہیں پہنچا‘ ایران کا بھی کوئی فوجی اسرائیل یا امریکہ نہیں گیا‘ اس کے باوجود تینوں ملکوں نے ڈرونز اور میزائلوں کے ذریعے ایک دوسرے کے علاقوں میں بے تحاشا تباہی مچائی ہے۔آپریشن بنیانٌ مرصوص کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بھارتی قوم سے اپنے خطاب میں پاکستان کو خبردار کیا کہ اگر انڈیا پر مستقبل میں حملے ہوئے تو وہ اپنے پڑوسی کو سزا دے گا۔ انڈین وزیر اعظم نے کہا کہ انڈیا نے ایک &#39;نیو نارمل‘ کی بنیاد رکھی ہے جس میں دہشت گردوں اور دہشت گردی کی سہولت کاری کرنے والوں میں فرق نہیں کیا جاتا۔ ہاں یاد آیا آپریشن بنیانٌ مرصوص نے ایک نیو نارمل ضرور قائم کیا تھا لیکن یہ اصلی والا نیو نارمل بھارتی وزیراعظم کے نیو نارمل سے بالکل مختلف ہے۔ اور وہ نیو نارمل یہ ہے کہ اب خطے کے ممالک پر بھارت کی دھونس نہیں چلے گی‘ بھارت اگر تمام پڑوسی ممالک کے ساتھ بڑا بھائی بن کر امن اور سکون کے ساتھ رہے تو فبہا‘ بصورت دیگر خطے کے ممالک مل کر اس کی وہ حالت کر دیں گے جیسی پاکستان نے معرکۂ حق میں کی تھی۔ ایک نیو نارمل چین نے گلوان کی وادیوں میں قلمبند کیا تھا۔ دوسرا نیو نارمل پاکستان کے معرکۂ حق نے طے کر دیا اور تیسرا نیو نارمل بنگلہ دیش میں آنے والی سیاسی تبدیلیوں نے تحریر کر دیا ہے۔ بھارت کے لیے ان نیو نارملز سے نکلنا ناممکن ہو چکا ہے۔ یقین نہیں آتا تو بھارت سے کہیں کہ کوئی مِس ایڈونچر کر کے دیکھ لے۔ معرکۂ حق کے ایک سال بعد اب صورتحال یہ ہے کہ دنیا پاکستان کی قیادت اور اس ملک کی صلاحیتوں کی معترف ہو چکی ہے اور پاکستان کے دنیا بھر کے ممالک کے ساتھ تعلقات میں بہتری آ رہی ہے۔ کئی ممالک پاکستان سے اسلحہ خریدنا چاہتے ہیں جبکہ مزید کئی ممالک پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدے کرنے کے خواہش مند ہیں۔ اور اب پاکستان نے ایران امریکہ جنگ ختم کرانے کے سلسلے میں ثالثی کا جو کردار ادا کیا ہے اس نے پاکستان کی صلاحیتوں کو دنیا کے سامنے مزید اجاگر کر دیا ہے۔ آگے مواقع ہی مواقع ہیں۔ ایسے مواقع کہ پاکستان قرضے اتار کر اقتصادی لحاظ سے اپنے قدموں پر کھڑا ہو سکتا ہے اور عالمی لیڈر بھی بن سکتا ہے۔ لیکن اس کا انحصار اس بات پر ہو گا کہ ہم بحیثیت قوم ان مواقع سے کیسے فائدہ اٹھاتے ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_58350786.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کانسٹیٹیوشن ایونیو، اصل حقائق(کنور دلشاد)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/kunwar-mohammad-dilshad/2026-05-07/51903/31190579</link><pubDate>Thu, 07 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/kunwar-mohammad-dilshad/2026-05-07/51903/31190579</guid><description>حالیہ دنوں وفاقی دارالحکومت کی انتظامی تاریخ میں ایک ایسا واقعہ رونما ہوا جسے کچھ عرصہ قبل تک ناقابلِ تصور سمجھا جاتا تھا۔ اسلام آباد پولیس اور انتظامیہ نے شاہراہِ دستور پر واقع ون کانسٹیٹیوشن ایونیو نامی بلند و بالا عمارت کو خالی کروا کر ایک ایسی روایت کو توڑا ہے جس کے تحت بااثر طبقہ خود کو قانون سے بالاتر سمجھتا تھا۔ اشرافیہ کے اس پروجیکٹ پر ہاتھ ڈالنے کا کریڈٹ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر کو جاتا ہے جبکہ ان کے احکامات پر عملدرآمد کرانے کا سہرا وزیر داخلہ سید محسن نقوی کے سر باندھا جا سکتا ہے۔ جب سید محسن نقوی نے آہنی ہاتھوں سے اشرافیہ کو قانون کے دائرے میں لانے کی کوشش کی تو بہت سے مفاد پرستوں کو بے چینی لاحق ہو گئی جنہوں نے اس عمارت میں اپارٹمنٹس لے رکھے تھے؛ چنانچہ انہوں نے زہریلا پروپیگنڈا اور وزیر داخلہ کی کردار کشی شروع کر دی۔مذکورہ عمارت کی تعمیر کا آغاز پرویز مشرف کے دور میں 2005ء میں ہوا تھا‘ جب اسلامی سربراہی کانفرنس کے موقع اسلام آباد میں ایک بین الاقوامی معیارکے ہوٹل کی ضرورت محسوس کی گئی۔ اس مقصد کے لیے سی ڈی اے نے بیک وقت دو اہم مقامات کو لیز پر دینے کا فیصلہ کیا۔ سب سے اہم مقام کانسٹیٹیوشن ایونیو تھا جہاں فائیو سٹار ہوٹل بننا تھا جبکہ دوسرا مقام ایک مال کے لیے مختص کیا گیا۔ کانسٹیٹیوشن ایونیو کی لیز تقریباً پونے پانچ ارب روپے تھی جبکہ مذکورہ مال والی جگہ کی لیز اس سے کہیں زیادہ‘ یعنی تقریباً ساڑھے سات ارب روپے میں دی گئی۔ اس منصوبے میں ملک کے متعدد بڑے سرمایہ کار اور صنعتکاربطور پارٹنر شامل تھے۔ ہوٹل انڈسٹری کے نمایاں نام بھی اس لیزنگ میں دلچسپی رکھتے تھے مگر پھر انہیں یہ منصوبہ منافع بخش محسوس نہ ہوا۔ اس کے برعکس ناتجربہ کار مل مالکان نے اس منصوبے کو آگے بڑھایا‘ حالانکہ ابتدا ہی سے ان کا ارادہ اس زمین پر ہوٹل بنانے کا نہیں تھا۔ سی ڈی اے کی شرائط کے تحت صرف 15 فیصد ادائیگی کر کے تعمیراتی کام شروع کر دیا گیا۔ اسی دوران ایک وزیرکا مبینہ فرنٹ مین سی ڈی اے میں ڈائریکٹر لیگل تعینات ہو گیا جس نے تعیناتی کے فوراً بعد لیز معاہدے میں پُراسرار تبدیلیاں کروا کر ہوٹل کی جگہ اپارٹمنٹس بنانے کی اجازت حاصل کر لی۔ جب ہوٹل گروپ کو اس تبدیلی کا علم ہوا تو انہوں نے سپریم کورٹ میں اس کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا۔ عدالت کی جانب سے سی ڈی اے کو نوٹس جاری کیے گئے‘ جس کے بعد ادارے نے اپنی غلطیوں کو درست کرنے کی کوشش کی۔ سی ڈی اے حکام نے متعلقہ افراد سے وضاحت طلب کی جس پر انہوں نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ اس زمین پر وہ ہوٹل ہی تعمیر کر رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے یہ منصوبہ اپنے وسائل سے مکمل نہیں کیا تھا بلکہ بینک سے اربوں روپے کا قرض حاصل کیا اور ساتھ ہی اپارٹمنٹس کی فروخت بھی شروع کر دی۔ پھر ملک کی اشرافیہ نے یہاں اپارٹمنٹس خرید لیے۔ شنید ہے کہ چند مخصوص افراد کو بغیر ادائیگی کے بھی اپارٹمنٹس دیے گئے۔اگر سی ڈی اے کو مکمل ادائیگی‘ یعنی پونے پانچ ارب روپے ایڈوانس میں ادائیگی کر دی جاتی تو قانونی طور پر اس زمین کی ملکیت حاصل کی جا سکتی تھی مگر صرف 15فیصد رقم ادا کی گئی۔ بعد ازاں 2019ء میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق تقریباً ساڑھے چودہ ارب روپے کے نادہندہ قرار پائے۔ مزید یہ کہ مکمل ادائیگی کی صورت میں بھی اپارٹمنٹس فروخت کرنے کے مجاز نہ تھے کیونکہ یہ زمین لیز پر تھی‘ اس کے باوجود فروخت کا سلسلہ جاری رکھا گیا۔ اس ایونیو میں مجموعی طور پر 263اپارٹمنٹس بنائے گئے ‘ جن میں سے ہر ایک کی قیمت کروڑوں روپے میں ہے۔اگر سابق چیف جسٹس گلزار احمد کراچی کے نسلہ ٹاور کو گرانے کا حکم دے سکتے ہیں تو پھر وَن کانسٹیٹیوشن ایونیو کے معاملے پر وزیراعظم کی جانب سے کمیٹی کی تشکیل سوالیہ نشان ہے اور انتظامی مداخلت محسوس ہوتا ہے۔ ون کانسٹیٹیوشن ایونیو نہایت اہم اور قیمتی مقام پر واقع خوبصورت ٹاورز ہیں۔ اس عمارت کو سیاسی تنازعات کی نذر کرنے کے بجائے اسے بین الاقوامی کانفرنسوں کیلئے سرکاری تحویل میں لیا جا سکتا ہے ‘ یوں اس کی نگرانی اور انتظام بہتر طریقے سے کیا جا سکتا ہے۔ جن افراد نے یہاں اپارٹمنٹ خرید رکھے ہیں‘ انہیں موجودہ مارکیٹ ریٹ کے مطابق ادائیگی ڈویلپرز کے اثاثے فروخت کر کے کی جا سکتی ہے کیونکہ عدالتِ عظمیٰ پہلے ہی اس کی لیز منسوخ کر چکی ہے‘ جس کے بعد اس کی ملکیت بھی ختم ہو چکی ہے۔اگر قومی منظر نامے کی بات کریں تو ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے بعد ملک کے اندرونی حالات پر بھی توجہ مرکوز ہونے کی ضرورت ہے۔ جن دنوں اسلام آباد ٹاکس کی وجہ سے دنیا بھر کی نظریں اسلام آباد پر مرکوز تھیں‘ ان دنوں صدرِ مملکت آصف علی زرداری سندھ میں اپنے فارم ہاؤس میں قیام پذیر تھے اور ٹنڈو الٰہ یار میں ایک سیاستدان کے ہاں تعزیت کے لیے بھی گئے۔ واپسی پر ان کی ایک نمایاں سرگرمی بلوچستان کے سردار یار محمد رند سے ملاقات تھی۔ مبینہ طور پر یہ ملاقات ایک عشائیے پر ہوئی جہاں صدر نے دعوتی کھانوں کے بجائے اپنے مخصوص خانساماں کے تیار کردہ سادہ اور پرہیزی کھانے پر اکتفا کیا۔ اس ملاقات میں زیرِ بحث آنے والے معاملات مستقبل میں اہم سیاسی پیش رفت کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ آصف علی زرداری اپنے منصبِ صدارت کے ساتھ ساتھ پس پردہ بھی سیاسی طور پر سرگرم دکھائی دیتے ہیں۔ بعض باخبر حلقے دعویٰ کر رہے ہیں کہ ان کے بعض قریبی ساتھیوںکو ہدف بنایا جا رہا ہے اور بعض اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کے خلاف کرپشن‘ اختیارات کے ناجائز استعمال‘ منی لانڈرنگ اور زمینوں پر قبضے جیسے الزامات کی تفصیلات بھی سامنے آنے والی ہے۔ ملک اس وقت ایک نازک معاشی دور سے گزر رہا ہے۔ بظاہر تو معیشت میں استحکام دکھائی دیتا ہے مگر یہ مصنوعی اور عارضی ہے‘ جس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ تیل کے بحران کو ایران امریکہ کشیدگی کے تناظر میں عوام پر بوجھ ڈالنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔28فروری کو شروع ہونے والی ایران امریکہ جنگ کے بعد سے بنگلہ دیش میں پٹرول کی قیمت 130 ٹکہ پر برقرار ہے کیونکہ وہاں کی حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے لیے عالمی منڈی میں اتار چڑھاؤ کا بوجھ خود اٹھایا ہے۔ اس کے برعکس پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کر کے عوام پر اربوں روپے کا بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔ یہاں یہ سوال بھی اہم ہے کہ یہ رقوم کہاں جا رہی ہیں۔ ان حالات میں خواجہ آصف کی یہ بات چند ترامیم کے ساتھ درست معلوم ہوتی ہے کہ بیرونی ممالک خصوصاً پرتگال بیوروکریٹس کے لیے پُرکشش مقام بن چکا ہے مگر اس میں صرف افسر شاہی شامل نہیں سیاستدان اور دیگر بااثر طبقات بھی ان کے ہم قدم ہیں جبکہ ملک ایک نئے سیاسی و معاشی موڑ کی طرف بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_15667905.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مودی کے نئے ہتھکنڈے(سعود عثمانی )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-05-07/51904/65188118</link><pubDate>Thu, 07 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-05-07/51904/65188118</guid><description>بھارت کی ریاستوں آسام‘ مغربی بنگال‘ پونڈی چری‘ کیرالا اور تامل ناڈو میں حالیہ ریاستی انتخابات کے نتائج نے دنیا بھر میں فسطائی جمہوریت اور پاپولزم کی بحث کو ایک بار پھر زندہ کر دیا ہے۔ مجموعی طور پر انتخابی نتائج بی جے پی کیلئے کامیابی کی خبر لائے ہیں مگر یہ کامیابی ریاستی ہتھکنڈوں کی مرہونِ منت ہے۔ تامل ناڈو میں تو مشہور فلمی اداکار وں کا سیاسی راج ہوا کرتا ہے۔ اس بار بھی مشہور فلمی اداکار جوزف وِجے کی جماعت نے زیادہ نشستیں حاصل کیں۔ آسام میں بی جے پی مسلسل تیسری بار جیت گئی۔ پونڈی چری میں مخلوط اتحاد میں بی جے پی موجود رہی۔ کیرالا میں مدتوں کے بعد بائیں بازو کے اقتدار کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ کانگریس کے سیاسی اتحاد‘ یو ڈی ایف نے کامیابی حاصل کی۔ لیکن سب سے توجہ خیز نتائج مغربی بنگال کے ہیںجہاں بی جے پی نے غیر متوقع فتح حاصل کی ہے۔ 15سال کے طویل انتظار کے بعد وہاں ٹی ایم سی یعنی آل انڈیا ترنمول کانگریس کا راج ختم ہوا اور ساتھ ہی بھارت میں آخری بائیں بازو کی ریاستی حکومت کا انہدام بھی ہو گیا۔ وہاں کی وزیراعلیٰ ممتا بینر جی جو 15 سال سے بی جے پی کیلئے ایک مستقل چیلنج بنی ہوئی تھیں‘ اقتدار سے باہر ہو گئیں۔ وہاں 294 نشستوں میں سے 207 بی جے پی نے حاصل کرکے دو تہائی سے زیادہ اکثریت حاصل کر لی ہے۔ دنیا بھر میں کروڑوں لوگ مودی کو سخت ناپسند کرتے ہیں‘ خود بھارت میں بھی ان کے خلاف بہت ناپسندیدگی پائی جاتی ہے اور اب ایک بار پھر یہ ثابت ہو گیا کہ انتخابات میں جیت کیلئے یہ انتہاپسند جماعت کسی بھی حد تک جا سکتی ہے۔ بی جے پی نے اس الیکشن میں مسلم دشمن کارڈ بھرپور طریقے سے استعمال کیا اور لاکھوں ووٹروں کو الیکشن کمیشن کے ذریعے ووٹر ز کی فہرستوں سے نکلوا دیا۔ ہندوتوا تحریک کا بھی بھرپور استعمال کیا گیا اور کچھ فائدہ مخالف جماعت کے انتشار سے اٹھا لیا۔ اس الیکشن سے دو نتائج نکلتے ہیں۔ ایک یہ کہ جمہوری نظام جو برصغیر اور نسبتاً کم ترقی یافتہ خطوں میں ایک مقدس گائے سمجھا جانے لگا ہے‘ اس نظام میں اتنی کمزوریاں‘ شگاف موجود ہیں اور وہ ہتھکنڈے سیاستدانوں کے ہاتھ آچکے ہیں جن کی بدولت کوئی جماعت مقبولیت حاصل کر سکتی اور ایوانِ اقتدار تک پہنچ سکتی ہے۔ بی جے پی اس مرتبہ بھی انہی ہتھکنڈوں کے سہارے فتح تک پہنچی ہے۔ دوسرا نتیجہ صرف کم ترقی یافتہ ملکوں سے متعلق نہیں بلکہ امریکہ سمیت مغربی ممالک بھی اس کے شکار ہوئے ہیں۔ اور وہ یہ کہ اقبال کے الفاظ میں بندوں کو تولا نہیں جاتا بلکہ صرف گنا جاتا ہے۔ دو سو گدھوں کے دماغ ایک انسانی فکر کا مقابلہ کر سکیں یا نہ کر سکیں‘ یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ ایک طرف 200 ہوں اور دوسری طرف ایک۔ گنتی میں دو سو ہی ہمیشہ فائق رہیں گے۔ خود امریکہ میں ٹرمپ کا دو بار اقتدار تک پہنچنا اس کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ دانشور اور سنجیدہ لوگ ہمیشہ تعداد میں کم ہوتے ہیں‘ انہیں نظر انداز کرکے اکثریت کو قابو کر لیا جائے تو تخت آپ کے پیروں تلے ہوتا ہے۔ اب بہت کم سیاسی جماعتیں یہ سوچتی ہیں کہ ملک اور قوم کا بڑا فائدہ کس میں ہے۔ وہ اب پاپولزم کی اسیر ہیں اور ان کے نتائج بھی انہیں وقتی فتح کی صورت میں مل جاتے ہیں۔ یہ الگ موضوع ہے کہ پاپولزم کتنا پائیدار ہوتا ہے۔مغربی بنگال میں 294 نشستوں کیلئے لگ بھگ سات کروڑ چار لاکھ ووٹرز موجود تھے۔ ان میں سے قریب چھ کروڑ 55 لاکھ (92 فیصد) لوگوں نے ووٹ ڈالا ۔ تقریباً 91 لاکھ ووٹرز کو الیکشن کمیشن کے ذریعے بی جے پی نے پہلے ہی ووٹرز لسٹ سے نکلوا دیا تھا۔ ان میں سے کچھ تو وہ تھے جو ابتدائی نظرثانی کے دوران وفات پا جانے‘ منتقل ہو جانے یا دہرے اندراج کی وجہ سے نکالے گئے جبکہ 27 لاکھ افراد ایسے تھے جن کی قانونی حیثیت مشکوک قرار دی گئی۔ اس کیلئے کئی ہتھکنڈے استعمال کیے گئے۔ اگرچہ یہ تمام لوگ مسلمان نہیں تھے لیکن ان میں بڑی تعداد مسلمانوں کی تھی‘ سو زیادہ زد انہی پر پڑی۔ ایشو یہ بنایا گیا کہ یہ لوگ بنگلہ دیش سے منتقل ہو کر مغربی بنگال میں آباد ہوئے تھے اس لیے بھارتی شہری نہیں ہیں۔ حقیقت یوں نہیں ہے۔ ان میں بہت سے لوگ کئی نسلوں سے وہاں آباد تھے‘ اور کافی بڑی تعداد وہ تھی جو 1947ء سے بھی پہلے یہیں مقیم تھے۔ لیکن بی جے پی نے زور لگا کر اور اقتدار میں ہونے کا فائدہ اٹھا کر یہ کام کروا لیا۔ بی جے پی کو ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) سے پانچ فیصد ووٹ زیادہ پڑے جبکہ کُل نکلوائے جانے والے ووٹ مجموعی ووٹوں کا 12 فیصد تھے۔ یقینا اس سے نتائج میں بہت بڑا فرق پڑا ہے۔ لیکن تنہا یہی وجہ نہیں تھی۔ ممتا بینر جی 2011ء سے ترنمول کانگریس کی جانب سے مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ تھیں اور تین بار منتخب ہو چکی تھیں۔ برصغیر کا سیاسی مزاج یہ ہے کہ ایک ہی چہرہ بار بار دیکھتے دیکھتے لوگ تنگ آجاتے ہیں۔ خاص طور پر جب بہت سے مسائل حل نہ ہوئے ہوں بلکہ مزید بڑھ گئے ہوں۔ مغربی بنگال میں ممتا بینر جی کی مقبولیت بہت کم ہو چکی تھی۔ بیروزگاری‘ مہنگائی اور کرپشن کے الزامات نے انہیں عوامی سطح پر کمزور کر دیا تھا۔ اسی کے ساتھ مخالفوں پر تشدد اور انہیں کچلنے کی پالیسی بھی سب کے علم میں تھی۔ بنگلہ دیش میں حالیہ بھارت مخالف تحریک اور ہندوؤں پر مسلمانوں کے مبینہ مظالم کی خبریں بھی بی جے پی کے حق میں گئیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے ٹی ایم سی مخالف جماعتوں کو ساتھ ملا لیا اور مسلمانوں کے خلاف ہندوتوا کو بھر پور طریقے سے ہوا دی۔ بی جے پی نے ٹی ایم سی کو مسلمانوں کی حمایت کرنے والی جماعت کے طور پر پیش کیا۔ اور اَن پڑھ ہندو آبادی کے سامنے مسلمانوں کے مغربی بنگال میں غلبے کی جھوٹی تصویریں پیش کیں۔ امیت شاہ اس پروپیگنڈا میں پیش پیش تھا۔ اس نے جلسوں میں کہا کہ ہم مغربی بنگال میں دوسری بابری مسجد بننے کی اجازت نہیں دیں گے۔ یہ ہندو جذبات کو ابھارنے اور مسلمانوں کے مقابلے پر لانے کا حربہ تھا۔ اس سے بی جے پی نے دو مقاصد حاصل کیے۔ ایک تو ان کی ازلی مسلم دشمنی کے مقصد کی تکمیل کرتا تھا۔ دوسرا مغربی بنگال میں ہندو بمقابلہ مسلم کی ایک نئی روایت ڈال دی گئی جو ممتا بینر جی کے زمانے میں موجود نہیں تھی۔ کانگریس کی پالیسی کہ وہ تمام سیٹوں پر خود الیکشن لڑے گی‘ بی جے پی کے حق میں گئی اور کانگریس نے ممتا مخالف ووٹ بانٹ دیے۔ اسد الدین اویسی پر ہمیشہ سے یہ الزام رہا ہے کہ ان کی اے آئی ایم آئی ایم دراصل بی جے پی کا خفیہ ہاتھ ہے۔ اس بار بھی انہوں نے مسلم ووٹ توڑ دیے۔ یہ سب عوامل کامیابی سے سیاسی فتح کیلئے استعمال کیے گئے۔ ممتا بینر جی اپنی سیٹ بھی ہار گئیں تاہم انہوں نے 100نشستوں پر دھاندلی کا الزام لگایا ہے۔ یہ انتخاب کتنے منصفانہ تھے یہ ایک الگ بحث ہے۔ بہرحال بی جے پی کے اقتدار کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ یہ بنگلہ دیش کیلئے بھی ایک فکر کی بات ہے کہ بی جے پی اس کے دوسرے ہمسایے صوبے میں اقتدار میں آچکی ہے۔ میرے خیال میں دونوں ملکوں کے درمیان مسائل خاص طور پر سرحدی مسائل اور دریائی پانی کے مسائل میں اضافہ ہوگا۔ آسام اور مغربی بنگال میں مسلم دشمن لہر میں بھی اضافہ ہوگا جہاں ابھی سے مسجدوں اور مسلمانوں کی دکانوں پر حملے شروع ہو گئے ہیں۔ پاکستان کو اس معاملے میں زیادہ فرق تو نہیں پڑتا کہ بی جے پی مرکز میں پہلے ہی اقتدار میں ہے اور دور رس نتائج کے اعتبار سے دیکھا جائے تو مودی حکومت نے اندر سے بھارت کی یکجہتی کو جتنا نقصان پہنچایا ہے‘ اتنا باہر سے نہیں پہنچایا جا سکتا تھا۔ اس لیے مودی دور جتنا بھی طویل ہو بالآخر بھارت کو کمزور تر کرکے پاکستان کو فائدہ ہی پہنچائے گا۔ مودی کو اس وقت کسی بڑے سیاسی چیلنج کا سامنا نہیں لیکن کب تک ایسا رہے گا۔ اقبال نے کہا تھا:خون اسرائیل آ جاتا ہے آخر جوش میںتوڑ دیتا ہے کوئی موسیٰ طلسمِ سامری</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_81278520.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>حج وعمرے کے حوالے سے خواتین کے مسائل …( اوّل)(مفتی منیب الرحمٰن )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-05-07/51905/60234733</link><pubDate>Thu, 07 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-05-07/51905/60234733</guid><description>خواتین کیلئے محرم کی رفاقت: لوگوں میں جو یہ مشہور ہے کہ عورت صرف حج وعمرہ کے سفر میں مَحرم کی رفاقت کی پابند ہے‘ یہ خیال درست نہیں۔ صحیح یہ ہے کہ ہر وہ سفر جو شرعی مسافت 98 کلومیٹر یا اُس سے زائد ہے‘ عورت اس کیلئے محرم کے بغیر سفرنہ کرے۔ یہ سفر خواہ کسی ذاتی کام کیلئے ہو‘ سیاحت کی غرض سے ہو یا حج وعمرہ کی ادائیگی کیلئے ہو‘ ہر قسم کے سفر کیلئے شرعی حکم یکساں ہے۔ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: &#39;&#39;جو عورت اللہ تعالیٰ اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتی ہے وہ (شوہر یا) محرم کی رفاقت کے بغیر تین راتوں کی مسافت کا سفر نہ کرے‘‘ (مسلم: 3156)۔قاضی شوکانی لکھتے ہیں: &#39;&#39;حدیثِ رسول ہے: &#39;&#39;عورت (شوہر یا) محرم کی رفاقت کے بغیرسفر نہ کرے‘‘۔ یہ حج سمیت ہر سفر کو شامل ہے‘‘ (نیل الأوطار‘ جلد: 4‘ ص: 346)۔ اکثر لوگ جواز کیلئے یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ سعودی حکومت اور اسلامی نظریاتی کونسل نے محرم کی پابندی ختم کر دی ہے‘ سعودی حکومت یا اسلامی نظریاتی کونسل کی اجازت شرعی اَحکام کو باطل یا تبدیل کر سکتی ہے‘ نہ اُن کی رائے شرعی احکام کیلئے حجت یا دلیل بن سکتی ہے۔ رسول اللہﷺ شارع ہیں‘ جیسا آپﷺ نے حکم بیان فرما دیا‘ وہ حرفِ آخر ہے‘ بلا چون وچِرا اُسے تسلیم کر لینے ہی میں سعادت ہے۔ اگرکوئی خاتون شوہر یا مَحرم کی رفاقت کے بغیر جائے اور ارکانِ حج کو شریعت کے مطابق ادا کرے تو حج ادا ہو جائے گا اور اگر اس پر حج فرض ہے تو فرض ساقط ہو جائے گا‘ لیکن خلافِ سنّت فعل کرنے پر گنہگار ہو گی‘ اس پر اللہ تعالیٰ سے توبہ کرے۔خواتین کا احرام: خواتین کیلئے حالتِ احرام میں لباس کے حوالے سے کوئی پابندی نہیں ہے۔ روزہ مرہ پہنا جانے والا سلا ہوا لباس ہی احرام کی نیت سے پہنا جاتا ہے۔ بچے کو اٹھانے کیلئے جو بیلٹ باندھی جاتی ہے‘ وہ سلے ہوئے لباس کے حکم میں نہیں ہے‘ اس لیے مرد وعورت حالتِ احرام میں ایسی بیلٹ باندھ سکتے ہیں۔حرمین طیبین میں خواتین کا باجماعت نماز ادا کرنا: حرمین طیبین میں خواتین کے نماز پڑھنے کیلئے علیحدہ جگہ متعین ہے‘ علیحدہ دروازہ (باب النسآء) بھی مخصوص ہے۔ اُس جگہ خواتین کی جماعت میں شامل ہونا ممکن ہو تو باجماعت نماز پڑھ سکتی ہیں۔ لیکن اگر کوئی خاتون عین نماز کے وقت مردوں کی صفوں میں پھنس جائے اور نکلنا مشکل ہو تو اس وقت وہ نماز پڑھے بغیر جہاں جگہ دستیاب ہو‘ خاموشی سے بیٹھ جائے اور جماعت میں ہرگز شامل نہ ہو‘ کیونکہ مردوں کے برابر میں جماعت میں شامل ہونے سے دائیں بائیں کے ایک ایک مرد کی اور پیچھے کے ایک مرد کی نماز فاسد ہو جاتی ہے‘ لہٰذا جب امام نماز سے فارغ ہو جائے تو حتی الامکان مردوں سے الگ ہوکر تنہا کسی مناسب جگہ پر نماز ادا کر لے‘ مردوں کے ساتھ ہرگز کھڑی نہ ہو۔ نیز خواتین پر جماعت کا اہتمام کرنا لازم نہیں ہے۔ حضرت اُمِّ حُمَید رضی اللہ عنہا نے نبیﷺ کی خدمت میںحاضر ہو کر عرض کی: یا رسول اللہﷺ! مجھے آپ کے ساتھ نماز پڑھنے کا شوق ہے‘ آپﷺ نے فرمایا: تمہارا شوق (اور دینی جذبہ) بہت اچھا ہے‘ مگر تمہاری نماز اندرونی کوٹھڑی میں کمرہ کی نماز سے بہتر ہے اور کمرہ کی نماز گھر کے احاطہ کی نماز سے بہتر ہے اور گھر کے احاطہ کی نماز محلہ کی مسجد سے بہتر ہے اور محلہ کی مسجد کی نماز میری مسجد (مسجدِ نبوی) کی نماز سے بہتر ہے۔ چنانچہ اُمِّ حُمَیدؓ بیان کرتی ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! ہم آپ کے ساتھ (یعنی آپ کی اقتدا میں) نماز پڑھنا چاہتی ہیں‘ (مگر) ہمارے شوہر ہمیں منع کرتے ہیں‘ تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: تمہارا کمرے میں نماز پڑھنا‘ گھر کے احاطے (حویلی) میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے اور تمہارا گھر کے احاطے میں نماز پڑھنا جامع مسجد میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے‘‘ (السنن الکبریٰ للبیہقی:5371)۔ یعنی خواتین کیلئے ستر وحجاب کا اہتمام اور مردوں کے ساتھ عدمِ اختلاط اوّلین ترجیح ہے۔فقہی اعتبار سے خواتین پر جماعت سے نماز پڑھنا واجب نہیں‘ انفرادی طور پر نماز پڑھیں۔ حج وعمرہ کے زائرین کی ہوٹلوں میں رہائش جغرافیائی اعتبار سے عام طور پر حدودِ حرم ہی میں ہوتی ہے‘ لہٰذا انہیں ہوٹل میں نماز پڑھنے پر بھی حرم میں نماز پڑھنے کا اجر ملے گا اور خواتین کیلئے مسجد میں جاکر باجماعت نماز اداکرنے سے اپنی رہائش گاہ پر ہی نماز اداکرنے میں زائد ثواب ہے۔ آج کل چونکہ حرمین طیبین میں بے حد ہجوم ہوتا ہے‘ اس لیے عورتوں کا مردوں کے ساتھ اختلاط سے بچنا کافی دشوار ہے اور اس میں انتظامیہ کیلئے بھی دشواریاں ہوتی ہیں۔ طواف کا تو متبادل کچھ اور نہیں ہے‘ اس لیے وہاں جانا تو ضرورت ہے‘ لیکن نماز میں عورتوں کیلئے احتیاط اسی میں ہے کہ وہ اپنی اقامت گاہ میں نماز پڑھیں یا حرم شریف میں اُن اوقات میں نماز پڑھیں جب ہجوم نسبتاً کم ہو۔بعض اوقات احرام باندھنے سے قبل یا احرام باندھنے کے بعد خواتین مندرجہ ذیل مسائل سے دوچار ہوتی ہیں‘ مثلاً: (1) عورت نے حج یا عمرے کا احرام باندھا اور ایام شروع ہو گئے‘ اگر عمرے کا احرام توڑتی ہے تو اس پر کیا لازم آئے گا‘ (2) اگر عمرے کیلئے مکہ مکرمہ پہنچی اور ایام شروع ہو گئے تو وہ کیا کرے‘ (3) اگر دورانِ حج منیٰ یا عرفات میں ایام شروع ہو گئے تو وہ کیا کرے‘ (4) اگر ایامِ حج حالتِ حیض میں گزر گئے اور واپسی کی فلائٹ 13 ذوالحجہ کو ہے‘ تو اب وہ کیا کرے‘ (5) اگر عمرے کا پروگرام پہلے سے طے ہے اور روانگی کے دن ایام شروع ہو گئے تو وہ کیا کرے‘ (6) کوئی شخص احرام باندھ کر ایئرپورٹ پہنچا تو پتا چلا کہ چیک اِن یعنی بورڈنگ کا سلسلہ بند ہو گیا ہے یا جہاز کا دروازہ بند ہو گیا ہے یا معلوم ہوا کہ سیٹ کنفرم نہیں تھی‘ اب بظاہر اگلی فلائٹ تین دن بعد دستیاب ہو گی تو کیا کرے‘ اگر احرام کھول دیتا ہے تو اس پر کیا لازم آئے گا‘ (7) ایک خاتون حج کا خطبہ اور نمازِ ظہرو عصر اداکرنے کے بعدحائض ہو گئی‘ بقیہ ارکان کی ادائیگی کس طرح کرے گی‘ ان مسائل کا شرعی حکم حسبِ ترتیب پیشِ خدمت ہے: (1 تا 4) حج کا احرام باندھنے کے بعد جب عورت کو حیض آ جائے تو وہ حج کے بقیہ تمام افعال یعنی منیٰ‘ عرفات اور مزدلفہ کا وقوف‘ قربانی اور رمیِ جمرات سمیت تمام ارکان ادا کرے‘ بس بیت اللہ کا طواف نہ کرے‘ اسی طرح نماز نہ پڑھے‘ تلاوت نہ کرے‘ اَذکار وتسبیحات ودرود جاری رکھے اور ایام ختم ہونے پر غسل کرکے پاک ہو جائے‘ پھر طوافِ زیارت ادا کرے۔ عمرہ کا حکم بھی اسی طرح ہے کہ حیض کی وجہ سے احرام کی پابندی برقرار رہے گی اور پاک ہونے کے بعد عمرہ کے افعال ادا کرے گی۔ احرام میں دخول نیت اور ایک مرتبہ بآواز تلبیہ پڑھنے سے ہی ہوتا ہے‘ غیر محصر آدمی کیلئے احرام سے خروج عمرہ اور حج کے افعال ادا کرنے سے ہوگا۔ حائض خاتون اگر عمرہ کے احرام سے خارج ہونا چاہتی ہے اور خروج کیلئے مجبور ہے تو حالتِ حیض میں عمرہ کے افعال طواف اور سعی کر کے انگلی کے پَورے کے برابر بال کٹوا کر احرام عمرہ سے خارج ہو جائے‘ البتہ حالت حیض میں عمرہ کا طواف کرنے کی وجہ سے دم دینا ہو گا‘ البتہ احرام عمرہ میں داخل خاتون عرفات کی طرف روانگی کے آخری وقت نو ذی الحجہ کی صبح زوال تک پاک ہونے کا یقین نہیں رکھتی تو عمرہ کا احرام ختم کر دے اور اگر اس وقت سے پہلے صرف طوافِ عمرہ کر سکتی ہے تو طواف کر لے ورنہ افعال حج کر لینے کے بعد عمرہ قضا کرے اور اس پر دم بھی واجب ہے‘ یہی طریقہ وہاں سے روانگی کی مجبوری کے وقت ہو گا کہ حالت حیض میں عمرہ کر کے دم جنایت ادا کرے۔اگر حائض کسی عذر وجہ سے احرام سے فارغ ہونا چاہتی ہے تو ناپاکی کے ایام میں عمرہ کے افعال ادا کرکے احرام سے خارج ہو جائے اور حالت حیض میں طواف کر لینے سے دمِ جنایت ادا کرے گی‘ افعال عمرہ ادا کیے بغیر احرام سے خارج نہیں ہو سکتی۔ اگر کسی عورت نے عمرہ کا احرام کھول دیا تو دَم دینا ہو گا‘ یہ دَم حدودِ حرم میں ہی دیا جائے گا اور عمرے کی قضا لازم ہو گی۔ (جاری)</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_61172381.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>