<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>دہشت گردی اور افغانستان(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-18/11286</link><pubDate>Thu, 18 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-18/11286</guid><description>وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کا براہِ راست تعلق افغانستان سے ہے‘ اس مسئلے پر پوائنٹ سکورنگ نہیں ہونی چاہیے۔ قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان بات چیت اور نتیجہ خیز مذاکرات کیلئے تیار ہے مگر اس کی ضمانت دینا ہو گی کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہو گی۔ پاکستان طویل عرصے سے سرحد پار سے ہونیوالی شورش کا شکار ہے اور وزیر دفاع کا یہ بیان اس تلخ حقیقت کا اعتراف ہے کہ جب تک مغربی سرحد کے اُس پار موجود محفوظ پناہ گاہوں اور سہولت کاری کا سلسلہ بند نہیں ہوتا‘ تب تک ملک کے اندر پائیدار امن کا حصول محال ہے۔ یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ افغانستان میں عدم استحکام کا خمیازہ سب سے زیادہ پاکستان نے بھگتا ہے۔پاکستان کی سول اور عسکری قیادت نے کابل انتظامیہ کیساتھ کئی مذاکراتی ادوار کیے‘ اعلیٰ سطحی وفود نے دورے کیے اور سفارتی سطح پر تحفظات کا تبادلہ بھی ہوتا رہا لیکن ان تمام تر کوششوں کے باوجود مسائل جوں کے توں رہے‘ حتیٰ کہ ناچار ہو کر رواں سال فروری‘ مارچ میں پاکستان کو غضب للحق جیسے ٹارگٹڈ آپریشن اور انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں کے ذریعے اپنے دفاع کے حق کو یقینی بنانا پڑا۔

دہشت گردی کا ابھرتا ہوا مسئلہ محض ایک سکیورٹی چیلنج نہیں بلکہ یہ پاکستان کے معاشی تسلسل اور مجموعی استحکام کیلئے بھی ایک سنگین خطرہ ہے۔پاکستان اس وقت نازک معاشی موڑ پر کھڑا ہے‘ جہاں اسے بیرونی سرمایہ کاری‘ صنعتی ترقی اور تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کی اشد ضرورت ہے۔ ایسے میں امن و امان کی غیر یقینی صورتحال نہ صرف پورے معاشی ڈھانچے کیلئے خطرہ ہے بلکہ یہ حکومت کو اپنے قیمتی وسائل عوامی فلاح و بہبود اور معاشی بحالی پر خرچ کرنے کے بجائے سکیورٹی انتظامات پر منتقل کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ دہشتگردی کے سبب گزشتہ دو عشروں میں پاکستان 152ارب ڈالر سے زائد کا نقصان اٹھا چکا جبکہ 90ہزار سے زائد قیمتی جانیں اس جنگ کا نوالہ بن گئیں۔ ایک سکیورٹی تنظیم کے مطابق گزشتہ ماہ (مئی) دہشت گردی کے واقعا ت میں 27فیصد اضافہ ہوا۔ 71 شہری‘ امن کمیٹیوں کے چھ ارکان اور 68سکیورٹی اہلکار شہید اور 185افراد زخمی ہوئے۔ اپریل کے مقابلے میں‘ شہری جانی نقصان میں 92فیصد جبکہ سکیورٹی اہلکاروں کی شہادتوں میں 68فیصد اضافہ ہوا۔ یہ اعداد و شمار دہشتگردی کے خلاف جامع اور جارحانہ حکمتِ عملی کے متقاضی ہیں۔اس بڑھتے ہوئے خطرے کے سدباب کیلئے ریاست اپنی اندرونی دفاعی لائن کو مزید مضبوط اور فول پروف بنائے۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی کیلئے وفاق‘ صوبوں اور تمام عسکری و سویلین اداروں کے مابین ایک مضبوط‘ مربوط اور فعال کوآرڈی نیشن ناگزیر ہے۔ کسی بھی مشکوک سرگرمی کو روکنے میں پہلا کردار مقامی انتظامیہ اور پولیس کا ہوتا ہے‘ لہٰذا فرنٹ لائن پر لڑنے والی پولیس اور مقامی انتظامیہ کو جدید خطوط پر استوار کیا جانا اور ان کی استعداد کار میں اضافہ ناگزیر ہے۔ دہشتگردی کا درپیش چیلنج کثیر جہتی حکمتِ عملی کا تقاضا کرتا ہے۔ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کی خاطر نتیجہ خیز اور بامقصد مذاکرات کیلئے ہمیشہ تیار رہتا ہے اور اب بھی اس عزم پر قائم ہے لیکن اس مرتبہ یہ مؤقف بالکل واضح اور دوٹوک ہے کہ کسی بھی مذاکراتی عمل سے پیشتر کابل کی عبوری انتظامیہ کو یہ ٹھوس ضمانت دینا ہوگی کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کیلئے استعمال نہیں ہو گی۔
جہاں ہمیں سفارتی محاذ پر افغانستان کو اس کی بین الاقوامی اور ہمسائیگی کی ذمہ داریاں باور کرانا اور ٹھوس اقدامات پر مجبور کرنا ہو گا‘ وہاں اندرونی محاذ پر ذاتی‘ گروہی اور سیاسی بیانیے چھوڑ کر قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے ہاتھ مضبوط کرنا ہوں گے۔ جب تک پورا ملک یکجا ہو کر اس فتنے کیخلاف کھڑا نہیں ہوگا تب تک معاشی استحکام اور پائیدار امن کا حصول ممکن نہیں ہو سکے گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سندھ کابجٹ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-18/11285</link><pubDate>Thu, 18 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-18/11285</guid><description>وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی جانب سے 3560ارب روپے کا بجٹ پیش کیا گیا ہے جس میں کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا۔ بجٹ دستاویز سے معلوم ہوتا ہے کہ 2706ارب روپے‘ یعنی تقریباً 72فیصد بجٹ غیرترقیاتی اخراجات کیلئے مختص کیا گیا ہے۔ ان میں سرکاری ملازمین کی تنخواہیں اور پنشنز بھی شامل ہیں‘ جن میں سات‘ سات فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ بجٹ میں ترقیاتی سکیموں کیلئے 720 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں جو رواں مالی سال کے مقابلے میں 29 فیصد کم ہیں۔ حالانکہ ترقیاتی اخراجات کسی بھی معیشت میں روزگار‘ بنیادی ڈھانچے اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کا ذریعہ بنتے ہیں۔ شعبۂ تعلیم کیلئے رواں مالی سال کے مقابلے میں معمولی اضافے کیساتھ 620 اور شعبۂ صحت کیلئے 393ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ زراعت کیلئے 41 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں جو رواں مالی سال سے تقریباً پانچ ارب روپے کم ہیں۔

یہ کمی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب موسمیاتی تبدیلی‘ آبی قلت اور پیداواری لاگت نے زرعی شعبے کو پہلے ہی شدید دباؤ میں ڈال رکھا ہے۔ بجٹ کا نمایاں پہلو یہ ہے کہ صوبائی حکومت نے صرف کراچی کیلئے ٹرانسپورٹ‘ نکاسی آب‘ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ‘ بی آر ٹی منصوبوں اور سڑکوں کی تعمیر و توسیع کیلئے 100ارب روپے سے زائد فنڈز مختص کیے ہیں۔ مگر فنڈز مختص کرنے سے زیادہ ضروری ان کا بروقت اور شفاف استعمال ہے کیونکہ عوام کو اعلانات سے زیادہ نتائج درکار ہیں‘ اور یہی نتائج اس بجٹ کی افادیت فیصلہ کریں گے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بلوچستان کا بجٹ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-18/11284</link><pubDate>Thu, 18 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-18/11284</guid><description>گزشتہ روز بلوچستان حکومت نے مالی سال 2027ء کا 1089 ارب روپے کا ٹیکس فری بجٹ پیش کیاہے‘ جس کا صرف 27 فیصد ترقیاتی منصوبوں کیلئے مختص کیا گیا ہے۔ بلوچستان جیسے پسماندہ صوبے کیلئے‘ جہاں نئے ترقیاتی منصوبے ناگزیر ہیں‘ یہ بجٹ ناکافی معلوم ہوتا ہے۔ تعلیم کے شعبے کو اہمیت دیتے ہوئے 157ارب روپے مختص کیے گئے ہیں‘ جو گزشتہ بجٹ کی نسبت لگ بھگ 23فیصد زائد ہے۔ صحت کے شعبے کیلئے تقریباً 74 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ بلوچستان جیسے صوبے میں جہاں صحت کا نظام بنیادی سہولتوں سے بھی محروم ہے‘ یہ حصہ زمینی ضروریات کے مقابلے میں محدود نظر آتا ہے۔ حکومت نے سرکاری مشینری کو رواں رکھنے کیلئے 257 ارب روپے مختص کیے ہیں‘ یعنی بجٹ کا تقریباً 25فیصد حصہ انتظامی ڈھانچے پر صرف ہو رہا ہے۔

حالیہ قومی اقتصادی سروے کے مطابق صوبے کی 47 فیصد سے زائد آبادی خطِ غربت سے نیچے ہے۔ اس کے باوجود بجٹ میں غربت کے خاتمے اور آمدن میں اضافے کے ایسے جامع پروگرام نظر نہیں آتے جو نچلے طبقے کی معاشی حالت کو بہتر بنا سکیں۔ یہی اس بجٹ کا سب سے بڑا سٹرکچرل خلا ہے۔ بلوچستان کے عوام کی محرومیوں کے ازالے کیلئے بجٹ کو عوام دوست‘ شفاف اور زمینی حقائق سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ اسی کسوٹی پر اس بجٹ کی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ ہوگا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>نو سالہ ہانیہ کا قتل(محمد اظہارالحق)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-06-18/52141/38616079</link><pubDate>Thu, 18 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-06-18/52141/38616079</guid><description>لکھ لیجیے کہ نو سالہ ہانیہ کے قاتل کو سزا نہیں ملے گی!اس لیے کہ بلی بچوں کے بجائے انڈے دے سکتی ہے۔ مردہ قبر سے نکل کر بھاگ سکتا ہے۔ سیب کے درخت پر تُنبے لگ سکتے ہیں۔ مگر مملکتِ خدادا میں کسی طاقتور قاتل کو پھانسی پر نہیں چڑھایا جا سکتا۔ چڑھایا گیا ہے نہ چڑھایا جائے گا۔ ہر بار دہرانا مناسب نہیں! کتنی ہی بار لکھا ہے کہ کوئٹہ‘ کراچی‘ لاہور‘ اسلام آباد میں طاقتوروں اور ان کی آل اولاد کو قتل کی کوئی سزا نہیں ملی۔ نام تک لوگوں کو یاد ہیں۔ ان میں ان کی بیٹیاں اور بیٹے بھی شامل ہیں‘ جو خود انصاف بانٹتے ہیں۔ ان طاقتوروں میں پولیس سرفہرست ہے۔ بہت پہلے کہہ دیا تھا کہ پولیس اور حکمرانوں میں ایک غیر تحریری معاہدہ روبکار ہے۔ اس غیر تحریری معاہدے کی رو سے پولیس ریاست کی نہیں‘ حکومت کی نوکری کرے گی۔ ہر حکومت کی نوکری!! علاقے کے بڑے پولیس افسر کی تعیناتی اُس علاقے کے ایم این اے‘ ایم پی اے اور وزیر کی خوشی یا ناراضی پر منحصر ہو گی۔ حافظ آباد والا واقعہ تو چند دن پہلے کا ہے۔ پولیس افسر کو مکھی کی طرح نکال پھینکا گیا۔ عمران خان کے دور کی تو ابتدا ہی اس یاددہانی سے شروع ہوئی تھی کہ پولیس ریاست کی نہیں حکومت کی ملازم ہے۔ سینئر پولیس افسر کو وزیراعلیٰ نے طلب کیا اور پوچھ گچھ اس سے &#39;گجر دی گریٹ‘ نے کی۔ یہ ناممکن ہے کہ ایم این اے‘ ایم پی اے یا وزیر کے مقابلے میں پولیس کی طرفداری کی جائے۔ یہ صورتحال پولیس نے قبول کر لی ہوئی ہے۔ پولیس ہر حکومت کو خوش رکھتی ہے۔ کسی آئی جی نے آج تک حکومتِ وقت کو وارننگ نہیں دی کہ اس کے پروفیشنل کام میں مداخلت نہ کی جائے۔ اکثر وبیشتر ان کے ماتحتوں کے تبادلے کہیں اور سے ہوتے ہیں۔ اس کے بدلے میں پولیس کو سات خون معاف ہیں!! چلیے قتل کے اُن واقعات کو چھوڑ دیجیے جو &#39;&#39;پولیس مقابلے‘‘ کے نتیجے میں رونما ہوتے ہیں۔ بے شمار قتل پولیس کے تشدد سے ہوئے۔ کئی واقعات میں گولیاں ماری گئیں۔ کسی پولیس والے کو کبھی کوئی سزا نہیں ملی۔ آپ گزشتہ دس پندرہ سال کے اخبارات دیکھ لیجیے۔ تھانوں میں جو مظلوم موت کے گھاٹ اترے‘ ان کے حوالے سے ایسے ایسے واقعات ملیں گے کہ آپ کی نیند اُڑ جائے گی۔ صرف فیصل آباد کے ضلع کے واقعات بے شمار ہیں۔ دسمبر 2025ء میں تین اہلکار گرفتار کیے گئے۔ انہوں نے ایک &#39;&#39;زیر تفتیش‘‘ کو چوری کے الزام میں بے پناہ تشدد کا نشانہ بنایا۔ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ڈسٹرکٹ ہسپتال میں اس کا انتقال ہو گیا۔ نومبر 2020ء میں صدیق نامی شخص کو تشدد سے ہلاک کرنے کے جرم میں پولیس کے چار ملازموں کے خلاف مقدمہ دائر ہوا۔ ان چار میں ایک اے ایس آئی اور ایک اس ایچ او بھی شامل تھا۔ جولائی 2022ء میں فیصل آباد جیل کے خلاف مقدمہ دائر کیا گیا۔ انہوں نے ایک قیدی پر تشدد کیا یہاں تک کہ وہ ہلاک ہو گیا۔ کوئی ہے پنجاب پولیس کا نمائندہ یا ترجمان جو بتائے کہ ان مقدمات کا کیا انجام ہوا؟ کیا قاتلوں کو پھانسی دی گئی؟سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ قتل کرنے والا پولیس والا ہو اور اسے سزائے موت دی جائے۔ اکثر و بیشتر پولیس اسے بچانے کیلئے متحد ہو جاتی ہے۔ ہانیہ کے زخمی والد عدیل نے (جو اپنے کنبے کے ساتھ آسٹریلیا میں رہتا ہے)بھی الزام عائد کیا ہے کہ چکوال پولیس سی سی ڈی اہلکاروں کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس نے پولیس کی نام نہاد انکوائری پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے جو پولیس کیلئے ہرگز باعثِ عزت نہیں۔ میڈیا کے مطابق ایس پی سی سی ڈی ایک طرف اعتراف کرتے ہیں کہ &#39;&#39;سی سی ڈی اہلکاروں نے قانون اور طے شدہ ایس او پیز کی خلاف ورزی کی ہے‘‘۔ دوسری طرف اسی سانس میں فرماتے ہیں کہ &#39;&#39;اہلکاروں نے غلط فہمی کی بنیاد پر متاثرہ خاندان کی گاڑی پر فائرنگ کی‘‘۔ حضور! یہ غلطی نہیں جرم ہے!! ایسے ذومعنی بیانات ہی ہیں جن کی بنیاد پر مقتولہ کے والد نے عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ پولیس کے اربابِ اختیار یہ بھی تو بتائیں کہ کروڑوں کے اخراجات کیے جا رہے ہیں۔ سیف سٹی کا ہنگامہ بپا ہے۔ سرکاری فون‘ سرکاری اسلحہ‘ سرکاری محلات‘ سرکاری گاڑیاں‘ سرکاری پٹرول مگر چکوال میں ڈاکو چار گھنٹے مختلف مقامات پر لوٹ مار کرتے رہے۔ اتنی دیر میں تو خلجی اور سوری کے زمانے میں بھی ڈاکو پکڑے جاتے۔ کہاں تھی پولیس اور کہاں تھی سی سی ڈی؟ کوئی ہے جو بتائے۔ نام کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ!! لیکن کرائم ہی کرائم ہے! کنٹرول کہیں نہیں۔ چار گھنٹے بعد نیند سے اٹھے اور انہیں ہی مار دیا جو ڈاکوئوں کا شکار ہوئے تھے! واہ جی واہ!! کیا بات ہے کرائم کنٹرول کی!اعشاری نظام سے پہلے روپے میں سولہ آنے ہوتے تھے۔ چار آنے کے سکے کو چوَنی کہتے تھے اور آٹھ آنے کے سکے کو اٹھَنّی کہتے تھے۔ ایک سکہ دو آنے کا بھی تھا۔ اسے پنجابی میں &#39;&#39;دُوانی‘‘ کہتے تھے۔ یہ چوکور ہوتا تھا‘ چار کونوں والا۔ پنجابی میں کونے کو&#39;&#39;گُٹھ‘‘ کہتے ہیں۔ &#39;&#39;چوگٹھی‘‘ یعنی چار کونوں والی۔ اب وہ ماہیا دیکھیے جو پنجاب میں گایا اور سنا جاتا ہے:چوگٹھّی دوانی آشملے دو رکھداں بابا!گھر بھُکی زنانی آیعنی بابے کی دستار میں دو شملے ہیں مگر حالت یہ ہے کہ گھر میں بیوی بھوکی بیٹھی ہے۔ آج کل پاکستان پر یہ ماہیا ایسے فِٹ بیٹھ رہا ہے جیسے اسی کے لیے وجود میں آیا تھا۔ ایک طرف واہ واہ ہو رہی ہے کہ پاکستان نے ایران اور امریکہ میں جنگ بند کرائی۔ معاہدے کا کریڈٹ بھی پاکستان ہی کو دیا جا رہا۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں دستخط کی تقریب کی میزبانی بھی پاکستان کر رہا ہے۔ حکومت کے وزرا‘ عمائدین اور نمائندے رات دن‘ صبح وشام‘ اس عزت پر فخر کر رہے ہیں جو اس جنگ کے حوالے سے پاکستان کو ملی ہے۔ دوسری طرف آسٹریلیا کا وزیراعظم پاکستان سے ہانیہ کی موت کی &#39;&#39;شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات‘‘ کا مطالبہ کرتا ہے۔ اس کا کیا مطلب ہے؟ بچہ بھی اس کا مطلب سمجھتا ہے کہ آسٹریلیا کے وزیراعظم کو شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی امید نہیں ہے‘ جبھی تو وہ اس کا مطالبہ کر رہا ہے۔ تادم تحریر ہمارے وزیراعظم نے اپنے آسٹریلوی ہم منصب کے اس بیان کا جواب ہی نہیں دیا! ایک وزیراعظم کے مطالبے کا جواب وزیراعظم ہی کو دینا چاہیے۔ پروٹوکول اور اخلاق کا تقاضا تو یہی ہے۔ ہم وزیراعظم کی خدمت میں دست بستہ عرض کرتے ہیں کہ وہ آسٹریلیا کے وزیراعظم کو سچ بتائیں کہ بھائی صاحب!! ہانیہ پہلی انسان نہیں جو ہمارے ملک میں پولیس کے ہاتھوں موت کے گھاٹ اتری۔ جناب! یہ تو یہاں کا معمول ہے۔ انور مسعود صاحب کے بے مثال مصرع کے مطابق:چھاہ ویلے، بَھتّے ویلے، دیگر ویلے، شام ویلے، روز جنگ مچدا اےبلکہ ہماری وزارتِ خارجہ‘ بہتر ہے کہ تمام ملکوں کو بتا دے کہ پاکستان میں پولیس کے ہاتھوں شہریوں کا مارا جانا ایسا جرم نہیں جس کی سزا دی جائے۔ ایسی کوئی نظیر نہیں۔ اس لیے کسی دوسرے ملک کا شہری ہماری پولیس کے ہاتھوں ہلاک ہو جائے تو شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ نہ کیا جائے۔ رہا آسمانوں سے اترا ہوا اصول کہ عقل وخرد رکھنے والو! تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے۔ تو یہ اصول عقل وخرد رکھنے والوں کے لیے ہے!!لکھ لیجیے کہ نو سالہ ہانیہ کے قاتل کو سزا نہیں ملے گی!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_57182973.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>اختیار سے تھانیداری تک(خالد مسعود خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-06-18/52142/95484737</link><pubDate>Thu, 18 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-06-18/52142/95484737</guid><description>پاکستان میں جو شخص بھی صاحبِ اختیار ہے وہ بادشاہ ہے اور اپنے اختیار کو قاعدے کے بجائے ذاتی پسند ناپسند کی بنیاد پر بروئے کار لاتا ہے۔ یہ اب اس کی صوابدید پر ہے کہ وہ اپنے اختیار کو کس طرح استعمال کرتا ہے۔ اختیار کو استعمال کرنے کے بنیادی طور پر دو ہی طریقے ہیں ایک یہ ہے کہ صاحبِ اختیار اپنے اس اختیار کو مخلوق کی بھلائی کیلئے‘ لوگوں کی آسانی کیلئے‘ سہولت کیلئے اور ان کو آسائش دینے کیلئے استعمال کرے۔ اختیار کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ وہ کام کو روک کر‘ اس پر اعتراض لگا کر‘ اس پر سرخ پین سے نشان لگا کر‘ اس کو داخلِ دفتر کر کے اپنے اختیار کا مظاہرہ کرے۔ اگر ان کے اختیار میں کسی بندے کو سہولت دینے کا‘ آسانی فراہم کرنے کا‘ فائدہ دینے کے ساتھ ساتھ اس کو روکنے کا اختیار بھی ہے تو وہ اپنے اختیار کو منفی طریقے سے استعمال کرنے کو ترجیح دیں گے۔ ایسے لوگوں کا خیال ہے کہ کسی کا کام کر دینا تو کوئی اختیار نہ ہوا‘ حق پر ہونے کے باوجود محض اپنی طاقت کے مظاہرے کی خاطر کام روک کر‘ بندے کو تنگ کر کے‘ اس کیلئے مشکل پیدا کر کے جو خوشی ہوتی ہے عام آدمی کیلئے اس کا اندازہ لگانا ممکن ہی نہیں۔دنیا جہان میں چیزیں آسانیوں کی طرف جا رہی ہیں۔ حکومتیں‘ ادارے اور محکمے اجتماعی یا انفرادی حوالوں سے لوگوں کی سہولت فراہم کرنے کیلئے کام کر رہے ہیں۔ ہر آنے والا دن مخلوقِ خدا کیلئے کسی نہ کسی آسانی‘ کسی سہولت اور کسی بہتری کا پیغام لے کر طلوع ہوتا ہے لیکن ہمارے یہاں کا باوا آدم ہی نرالا ہے۔ ماضی کی اچھی بھلی چیزیں اب خرابی کی طرف گامزن ہیں۔ اختیار کا استعمال منفی سمت میں چل رہا ہے۔ کافی عرصہ ہوا میں نے ایک کالم میں لکھا تھا کہ اس قوم میں سب کو تھانیدار بننے کا شوق ہے۔ دراصل تھانیدار کسی عہدے کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ایک رویے کا‘ ایک خواہش اور ایک ذہنیت کا نام ہے۔ یہ طاقت کو اس کی بدترین شکل میں استعمال کرنے کا استعارہ ہے ہمارے یہاں المیہ یہ ہے کہ تھانے دار تو خیر سے تھانے دار ہی ہے ادھر ایس پی بھی تھانیدار بننا چاہتا ہے۔ ڈی آئی جی کی خواہش ہے کہ وہ تھانیدار بن جائے‘ حتیٰ کہ آئی جی بھی دراصل تھانیدار بننا چاہتا ہے۔ وزیراعظم تھانیدار بننا چاہتا ہے‘ صدرِ مملکت تھانیدار بننا چاہتا ہے۔ بندہ کیا کہے‘ جج حضرات بھی تھانیدار بننا چاہتے ہیں۔ انصاف فراہم کرنا ان کی بنیادی ذمہ داری ہے لیکن ماضی میں کئی چیف جسٹس ایسے گزرے ہیں جن کو لوگوں کی تحقیر کر کے‘ افسروں کو ذلیل کر کے اور باعزت لوگوں کی بے عزتی کر کے مزہ آتا تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ طاقت کا استعمال یہی ہے کہ عدالت میں کسی بڑے افسر کو ڈرایا جائے‘ کسی پھنے خان کو ذلیل کیا جائے‘ کسی تگڑے بندے کی عدالت میں ڈانٹ ڈپٹ کی جائے‘ کسی کی پیٹی اتارنے کی دھمکی دی جائے اور کسی کو اندر کرنے کا ڈراوا دیا جائے۔ کسی بھی شخص کا یہ رویہ تھانیدار بننے کے شوقین ہونے کی نشاندہی کرتا ہے۔ میں عام طور پر کالم کو ذاتی سہولت یا تنگی ہر دو صورت میں کس طرح بھی استعمال کرنے کا قائل نہیں ہوں لیکن جب میں ایک عام شہری کے طور پر اس اجتماعی تکلیف کا شکار ہوتا ہوں جس سے مخلوقِ خدا گزر رہی ہے تو اس پر لکھنا اپنی ذات کے استعارے کے ساتھ اجتماعی طور پر ساری کمیونٹی‘ پوری سوسائٹی ‘ عام شہریوں اور متاثر ہونے والے سینکڑوں ہزاروں لوگوں کی نمائندگی کے طور پر لکھنا ہے۔جب آپ ملتان ایئرپورٹ کی طرف جا رہے ہوں تو ایئرپورٹ سے تقریباً ایک ڈیڑھ کلو میٹر پہلے ایک دو رویہ سڑک تھی جس پر ایک سائیڈ سے ٹریفک جاتی تھی اور دوسری سائیڈ سے آتی تھی۔ جب سے نیا ایئرپورٹ بنا ہے یہ ٹریفک اسی طرح چل رہی تھی لیکن شہر سے ایئرپورٹ کی جانب جانے والا راستہ اچانک اور بلاوجہ گزشتہ کچھ ماہ سے بند کر دیا گیا ہے۔ اس بندش کے پیچھے کئی کہانیاں ہیں اور سینہ بہ سینہ چلنے والی افواہیں ہیں۔ مجھے نہ کہانیوں سے غرض ہے نہ افواہوں سے کچھ سروکار ہے مجھے تو اس بات سے غرض ہے کہ اس دو رویہ سڑک میں سے شہر سے ایئرپورٹ جانے والی سڑک کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے‘ اب ایئرپورٹ جانے کیلئے بھی آپ کو وہی راستہ استعمال کرنا ہے جو کبھی صرف واپس آنے والوں کیلئے مخصوص تھا۔ اب جو سڑک جانے کیلئے ہے وہی سڑک آنے کیلئے بھی استعمال ہو رہی ہے۔ایئرپورٹ پر جب بیک وقت دو یا تین انٹرنیشنل فلائٹس آ جائیں تو عجب گھڑمس مچ جاتا ہے۔ ہمارا چیکنگ کا نظام خیر سے نہایت فرسودہ اور متروک قسم کا ہے جو دنیا بھر میں اور کہیں نہیں پایا جاتا۔ داخلی گیٹ پر شناختی کارڈ چیک کیا جاتا ہے۔ کسی حاجی کو لینے کیلئے اگر ڈیرہ غازی خان‘ مظفر گڑھ یا تونسہ وغیرہ سے کسی ویگن میں دس بارہ لوگ آ جائیں تو ان سب کو پہلے تو ویگن سے اتارا جاتا ہے پھر پوری ویگن کی تلاشی لی جاتی ہے اور اس دوران پیچھے سے آنے والی ساری ٹریفک رک جاتی ہے۔ بعض اوقات منتظر لوگوں کی ایئرپورٹ میں داخل ہونے والی گاڑیوں کی اتنی لمبی قطار لگ جاتی ہے کہ ایئرپورٹ سے باہر نکلنے والا دروازہ عملی طور پر بند ہو جاتا ہے اور وہاں سے گاڑیوں کو باہر نکلنے کا راستہ نہیں ملتا۔ جبکہ جو سڑک عام لوگوں کیلئے ممنوع کی گئی ہے وہ بالکل خالی اور سنسان پڑی ہوتی ہے جس پر نہ چرند‘ نہ پرند‘ نہ انسان‘ نہ حیوان اور نہ ہی کوئی گاڑی ہوتی ہے۔ سڑک بالکل صاف اور خالی پڑی ہوتی ہے لیکن کوئی عام آدمی ادھر نہیں جا سکتا۔ ہاں خاص علاقے کے رہائشیوں کی بات الگ ہے۔یہ مسافر کم و بیش آدھی دنیا گھوم چکا ہے اس میں نائن الیون سے پہلے اور بعد ہر دوطرح کے سفر شامل ہیں۔ لیکن دنیا جہاں بلکہ پاکستان کے دیگر بین الاقوامی ایئرپورٹس پر سکیورٹی کے نام پر مسافروں کو اس طرح خوار نہیں کیا جاتا جیسا کہ صرف ملتان میں کیا جا رہا ہے۔ پاکستان کے تقریباً تمام ایئرپورٹس پر مسافروں کو اتارنے کیلئے ڈراپ لین موجود ہوتی ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ جو لوگ صرف کسی مسافر کو رخصت کرنے آئے ہوں‘ وہ گاڑی روک کر مسافر کو اتاریں اور فوراً روانہ ہو جائیں‘ یوں پارکنگ استعمال کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ ملتان ایئرپورٹ پر بھی یہ سہولت برسوں سے موجود تھی اور جو شخص صرف مسافر کو اتارنا چاہتا ہو‘ اس کیلئے طریقہ نہایت آسان تھا: گاڑی روکی‘ مسافر اترا اور گاڑی آگے بڑھ گئی۔ دنیا بھر کے ہوائی اڈوں پر یہی نظام رائج ہے۔ مگر ملتان میں صورتحال مختلف ہے۔ یہاں متعلقہ حکام نے ڈراپ لین ہی سرے سے بند کر دی ہے۔ گزشتہ چار سے پانچ ماہ سے یہی صورتحال ہے کہ اب ہر شخص کو گاڑی پارکنگ میں کھڑی کرنی پڑتی ہے‘ پھر ٹرالی کے ساتھ کافی فاصلہ طے کرتے ہوئے ڈیپارچر لاؤنج تک جانا پڑتا ہے۔ اس فیصلے نے عام مسافروں کے ساتھ معذور افراد کیلئے بھی مشکلات بڑھا دی ہیں۔ اگر اس پابندی کی وجہ سکیورٹی ہے تو پھر یہی اصول ملک کے تمام ایئرپورٹس پر لاگو ہونا چاہیے کیونکہ سکیورٹی کے حالات مجموعی طور پر کم و بیش یکساں ہیں۔ بلکہ جنوبی پنجاب اور خصوصاً ملتان نسبتاً پُرامن علاقہ ہے۔ ڈراپ لین کے حوالے سے باقاعدہ ایس او پیز بھی موجود ہیں جن میں ڈراپ لین کی سہولت باقاعدہ موجود ہے تاہم بدقسمتی سے ہمارے ہاں اختیار بعد ازاں بادشاہ معظم اور تھانیداری کا روپ دھار لیتا ہے۔ ملتان میں بھی یہ یہی ہوا ہے‘ جہاں سہولت پر اختیار اور قواعد پر تھانے داری غالب آ گئی ہے مگر اکیلے ملتان ایئرپورٹ کو کیا روئیں ؟ ادھر ہر طرف یہی حال ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90500073.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>چین، پاکستان اور مشرقِ وسطیٰ(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-06-18/52143/85573701</link><pubDate>Thu, 18 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-06-18/52143/85573701</guid><description>چین کیا سوچ رہا ہے؟اس سوال کا جواب آسان نہیں۔ خاموش سمندر کی تہہ میں کون کون سے طوفان چھپے ہیں‘ اس کا اندازہ ساحل سے گزرنے والے کو نہیں ہو سکتا۔ امریکی اور چینی سوچ میں ایک بنیادی فرق ہے۔ امریکہ ایک ٹھاٹھیں مارتا سمندر ہے۔ چین ایک خاموش ساگر۔ امریکی قیادت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کی سوچ آنے والے چار سال کو دیکھتی ہے۔ چینی قیادت کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ پچاس برس کے تناظرمیں سوچتی ہے۔میں چین گیا تو میرے پیشِ نظر دو سوال اہم تھے: چین پاکستان کے حوالے سے کیا سوچ رہا ہے؟ کیا وہ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں کوئی عملی کردار ادا کرنے کیلئے آمادہ ہے؟ میں نے کوشش کی کہ چند روزہ قیام میں ان سوالات کے جواب تلاش کروں۔ پاک چین تعلقات کے ضمن میں &#39;سی پیک‘ کی اہمیت سب سے زیادہ ہے۔ باہمی تعلقات کا ایک پہلو تو اصولی ہے۔ پاکستان چین دوستی باہمی مفادات کی جس اساس پر کھڑی ہے‘ اس میں کسی بڑی تبدیلی کا کوئی امکان نہیں۔ پاکستان میں حکومتیں تبدیل ہوں یا کوئی سیاسی طوفان آئے‘ یہ دوستی قائم رہے گی۔ تاہم واقعات گرمجوشی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس میں اضافے اور کمی کا باعث بنتے ہیں۔سی پیک کے حوالے سے مجھے احساس ہوا کہ چین اس پر پیش رفت کے معاملے میں مطمئن نہیں۔ اسے چینیوں کی اُن جانوں کے ضیاع کا بھی افسوس ہے جو اس منصوبے کی نذر ہو گئیں۔ دہشت گردی کے چیلنج سے وہ آگاہ ہے مگر اس کا خیال ہے کہ بہتر حکمتِ عملی سے اس کے ساتھ نمٹا جا سکتا ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ بڑے مقصد کیلئے قربانیاں دینا پڑتی ہیں مگر یہ بادلِ نخواستہ دی جاتی ہیں۔ پہلی ترجیح بہرحال یہی ہونی چاہیے کہ جانوں کو بچایا جائے اور یہ ممکن ہے اگر ہم بہتر منصوبہ بندی کے ساتھ اس سے نمٹ سکیں۔ اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ چین کے اطمینان کیلئے اس منصوبے کو دہشت گردی سے محفوظ بنایا جائے اور اس کے راستے میں حائل  دوسری رکاٹیں دور کی جائیں۔ ایک بڑی رکاوٹ کرپشن بھی ہے۔ ہمیں اس پر گہری نظر رکھنا ہو گی کہ یہ منصوبہ مالی اعتبار سے بھی شفاف ہو۔ پاکستانی حکومت اس بارے میں پوری کوشش کر رہی ہے جسے مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔اس میں شبہ نہیں کہ پاکستان کی سماجی ساخت چین سے مختلف ہے۔ چین بطورِ ریاست دہشت گردی اور کرپشن سے جس طرح نمٹ سکتا ہے‘ پاکستان کیلئے ممکن نہیں۔ پاکستان ایک بند معاشرہ نہیں ہے۔ یہاں قانون کی گرفت مضبوط نہیں ہے مگر ریاست بھی اپنی قوت کو اس طرح استعمال نہیں کر سکتی ہے کہ کوئی پوچھنے والا نہ ہو۔ میڈیا بڑی حد تک آزاد ہے۔ یہاں ہر مجرم کے حمایتی موجود ہیں جو فوجداری مقدمے کو سیاسی بنا سکتے ہیں۔ یہاں مجرموں کو بآسانی عدالتوں سے ضمانت مل جاتی ہے۔ اس کے باوصف بہتری کا پورا امکان موجود ہے اور اس امکان کو دریافت کرنا اور بروئے کار لانا از بس ضروری ہے۔چین کو پاکستان افغانستان تناؤ پر بھی تشویش ہے۔ بیجنگ میں یہ سوچ پائی جاتی ہے کہ یہ کشیدگی پاکستان کے حق میں ہے نہ افغانستان کے اور نہ ہی خطے کے۔ وہ اسے سی پیک کے حوالے سے سے بھی دیکھ رہے ہیں۔ اس منصوبے میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ اسے وسطی ایشیا تک وسعت دی جائے۔ اس کیلئے افغانستان میں امن کا ہونا ضروری ہے اور اس کے ساتھ پاک افغانستان تعلقات میں بہتری بھی لازم ہے۔ اگر یہ تناؤ اور کشیدگی باقی رہتی ہے تو پھر اس منصوبے کو پھیلانا مشکل ہو جائے گا۔ چین اس لیے چاہتا ہے کہ اس کا خاتمہ ہو اور خطہ پُرسکون ہو۔مجھے یہ احساس ہوا کہ پاکستان کا نقطۂ نظر چینی حکام پر پوری طرح سے واضح نہیں۔ یہ بات کہ اس تناؤ میں پاکستان کا کوئی کردار نہیں‘ ہم ان کو سمجھا نہیں پائے۔ چین اس بات کو اصولی سطح پر مانتا ہے کہ ایک ملک کی سرزمین کو دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونا چاہیے لیکن افغانستان کی سرزمین جس طرح سے پاکستان میں بدامنی کیلئے استعمال ہو رہی ہے یہ بات شاید اس شدت کے ساتھ اسے بتائی یا سمجھائی نہیں جا سکی جس کا یہ معاملہ تقاضا کرتا ہے۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ یہ یکطرفہ معاملہ ہے۔ پاکستان کی طرف سے کوئی ایسا اقدام نہیں کیا گیا تھا جو طالبان کیلئے باعثِ شکایت ہوتا۔ شکایت تو پاکستان کو ہے۔ اس کا ازالہ ہونا چاہیے۔ چین اس میں کردار ادا کر سکتا ہے۔جہاں تک مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کا تعلق ہے تو اسے ایک متبادل سکیورٹی سسٹم کی ضرورت ہے۔ موجودہ نظام جو امریکہ کی قیادت میں قائم ہوا تھا‘ وہ ناکام ہو چکا۔ خلیجی ریاستوں کو اس کا ادراک ہو چکا کہ ان کی سرزمین پر موجود امریکی اڈے ان کے کسی کام کے نہیں۔ ان پر اتنے وسائل برباد کرنے کا کوئی جواز نہیں۔ اب ایک خلا ہے جو نمایاں ہو رہا ہے۔ ان ریاستوں کو سلامتی کے ایک متبادل نظام کی ضرورت ہے۔ سعودی عرب نے سب سے پہلے اس کا ادراک کرتے ہوئے پاکستان سے دفاعی معاہدہ کر لیا ہے۔ باقی ریاستیں بھی مجبور ہیں کہ اس پر سوچیں۔ چین ایک متبادل بن سکتا ہے مگر میرا تاثر ہے کہ چین اس وقت بین الاقوامی سیاست  میں کوئی عملی کردار ادا کرنے کیلئے تیار نہیں۔ وہ صورتِ حال کا جائزہ لے رہا ہے لیکن اپنی مداخلت کو صرف سفارتی سطح تک محدود رکھنا چاہتا ہے۔ اس لیے سرِ دست یہ دکھائی نہیں دیتا کہ وہ اس خطے میں کوئی متحرک یا عملی کردار ادا کرے۔ یہ چین کی اس سوچ کا تسلسل ہے جو اس نے برسوں سے اپنا رکھی ہے۔ اس کا پہلا ہدف خود کو معاشی اور دفاعی طور پر ایک ایسے مقام تک پہنچانا ہے جہاں وہ ناقابلِ تسخیر دکھائی دے‘ اس کے بعد ہی اس کا کوئی امکان پیدا ہو گا کہ وہ عملی قدم اٹھائے۔ اس لیے مشرقِ وسطیٰ کے سکیورٹی پیراڈائم میں فی الحال اس کا کوئی کردار دکھائی نہیں دیتا۔پاکستان کو ان حالات میں ایک نئی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔ اسے دیکھنا ہے کہ مستقبل قریب میں کیا وہ اپنے اس عالمی کردار کو معاشی استحکام کے بغیر نبھا سکے گا جو وہ اس وقت ادا کر رہا ہے؟ چین کا مشورہ یہ ہے کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ تعلقات اور اپنی تعمیر کو اپنی پہلی ترجیح بنائے۔ میرا خیال ہے اس رائے میں وزن ہے۔ پاکستان نے ایران اور امریکہ کو ایک مقام تک پہنچا دیا جہاں ایک معاہدہ ہو گیا۔ پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر سراہا گیا اور اس میں کیا شبہ ہے کہ اس سے پاکستان کو بہت فائدہ پہنچا۔ اب ہمیں اگلے مرحلے میں داخل ہونا ہے اور وہ ہے معاشی و سیاسی استحکام۔ چین استحکام کے اس سفر میں ایک اچھا ہم سفر ہو سکتا ہے۔ اس  کیلئے ضروری ہے کہ سی پیک پر ایک علاقائی سوچ کے ساتھ چین سے مذاکرات کیے جائیں۔ ہمیں چین سے سیکھنا ہے کہ صبر کے ساتھ کیسے سازگار وقت کا انتظار کرنا چاہیے۔ چین بھی ہم سے یہی توقع رکھتا ہے۔ ہمیں آنے والے حالات کو سمجھتے ہوئے ایک پالیسی بنانی ہے اور اس میں اس سوال کی بڑی اہمیت ہے کہ چین کیا سوچ رہا ہے۔ اسی سے ہم سوچ اور عمل کے ایک نئے دور میں داخل ہوں گے۔ معاہدے کے بعد جشن کا دور تمام ہوا۔ اب ہمیں زمینی حقائق کا سامنا کرنا ہے۔ سب سے بڑی حقیقت معاشی عدم استحکام ہے۔ اسی کی کوکھ سے سیاسی عدم استحکام جنم لے سکتا ہے جس کے بارے میں سرگوشیاں کی جا رہی ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ایران امریکہ معاہدہ اور فساد کی اصل جڑ(عمران یعقوب خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-06-18/52144/16558332</link><pubDate>Thu, 18 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-06-18/52144/16558332</guid><description>بالآخر وہ معاہدہ ہونے جا رہا ہے جس کے بارے میں پچھلے کئی دنوں سے یہ کہا جا رہا تھا کہ اس حوالے سے اگلے 24 گھنٹے اہم ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اگلے روز سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں یہ خوش کن خبر سنائی کہ امریکہ اور ایران کے درمیان طویل اور اہم مذاکرات کے بعد امن معاہدہ طے پا گیا ہے اور امن معاہدے پر دستخط کی باضابطہ تقریب 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں ہو گی۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آج دنیا نے امن کا تاریخی سنگ میل عبور کیا ہے‘ جنگ کی طویل رات کے بعد امن کا سورج طلوع ہو گیا‘ امریکہ اور ایران نے تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے خاتمے کا اعلان کر دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ معاہدے پر عملدرآمد بھی شروع ہو چکا ہے۔ اس حوالے سے تازہ ترین خبر یہ ہے کہ امریکہ نے ایران کا بحری محاصرہ ختم کر دیا ہے اور اس بات کی تصدیق ایرانی حکومت کی جانب سے بھی کر دی گئی ہے۔ اس تصدیق کے بعد لاکھوں بیرل خام تیل لے کر ایرانی ٹینکرز سمندر میں روانہ ہو چکے ہیں۔ معاہدے پر دستخطوں کی تقریب ہو گی تو سوئٹزرلینڈ میں لیکن عنوان اس کو اسلام آباد معاہدے کا دیا جائے گا کیونکہ یہ معاہدہ پاکستان کی کوششوں کے نتیجے میں ہو رہا ہے۔دعا یہ ہے کہ یہ معاہدہ کامیاب ٹھہرے اور اس کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ پر کئی ماہ سے چھائے جنگ کے بادل چھٹ جائیں اور پورے خطے میں پائیدار امن قائم ہو جائے‘ لیکن ماضی کے کچھ معاہدوں پر نظر ڈالی جائے تو کئی خدشات سامنے آ جاتے ہیں۔ پھر ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ معاہدہ ایران اور امریکہ کے مابین ہو رہا ہے اور اسرائیل جو ایران کو اپنے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھتا ہے‘ ایک طرف کھڑا ہے‘ بلکہ اس نے اس معاہدے ہی کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے قومی سلامتی کے وزیر بن گویر نے ایران امریکہ معاہدے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ کا معاہدہ ہمیں پابند نہیں کرتا‘ ہم اس معاہدے میں پارٹی نہیں ہیں۔ بن گویر نے یہ بھی کہا کہ یہ معاہدہ ہماری سلامتی کی ضمانت فراہم نہیں کرتا‘ ہم حزب اللہ کے مکمل خاتمے سے کم کسی بھی چیز پر مطمئن نہیں ہو سکتے۔ لبنان میں مکمل جنگ بندی ایران کا بنیادی مطالبہ ہے جب یہی نہیں پورا ہو گا تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جو معاہدہ ہونے جا رہا ہے اس کا کیا مستقبل کیا ہو گا‘یا یہ کہ اس پر کتنا عملدرآمد ہو سکتا ہے۔ جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ میں اصل اور حقیقی Bone of contention اسرائیل ہے تو فساد کی اس جڑ کو‘ جڑ سے ختم کیے بغیر خطے میں پائیدار امن قائم ہونا کسی طور ممکن نظر نہیں آتا۔ وجہ یہ ہے کہ کسی تنازع کا حل تبھی ممکن ہوتا ہے جب بات چیت کی جائے اور کسی نتیجے پر پہنچ کر معاہدہ ہو جائے اور پھر اس معاہدے پر عمل درآمد بھی ہو۔ لیکن جب تنازع کا کوئی فریق &#39;میں نہ مانوں‘ کی پالیسی پر عمل پیرا ہو تو کیا کِیا جا سکتا ہے۔ ہوتا یہ رہا ہے کہ معاہدے تو بہت ہوئے لیکن ان پر عملدرآمد کرانے والا کوئی نہیں تھا جس کی وجہ سے معاہدے ہو جانے کے بعد بھی جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا سلسلہ جاری رہا‘ جو اَب تک جاری ہے اور ظاہر ہے کہ تنازعات بھی پہلے ہی کی طرح برقرار ہیں۔چونکہ ایران اسرائیل مخاصمت کے پیچھے بھی اسرائیل فلسطین تنازع کارفرما ہے اس لیے مثال کے طور پر اسی اسرائیل فلسطین تنازع کو طے کرنے کے لیے ہونے والے معاہدوں کا مختصر ذکر کرتا ہوں۔ 1993ء میں اسرائیل اور فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (PLO) کے درمیان پہلا براہِ راست معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت فلسطینیوں کو مقبوضہ علاقوں (غزہ اور مغربی کنارے کے کچھ حصوں) میں محدود خود مختاری دی گئی اور فلسطینی اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اس معاہدے کو اوسلو معاہدے کا نام دیا گیا کیونکہ یہ ناروے کے شہر اوسلو میں طے پایا تھا۔ 1995ء میں ایک اور عبوری معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت کچھ اور انتظامی معاملات طے پائے اور یہ بھی قرار دیا گیا کہ ایک حتمی اوسلو معاہدے کے لیے مزید کام کیا جائے گا۔ اسے اوسلو معاہدہ ٹو کا نام دیا گیا تھا۔ آج اوسلو معاہدہ ون‘ ٹو‘ تھری کہاں ہیں؟23 اکتوبر 1998ء کو اسرائیل اور فلسطین کے مابین ایک اور امن معاہدہ ہوا تھا۔ امریکی صدر بل کلنٹن کی ثالثی میں یہ معاہدہ امریکہ کی ریاست میری لینڈ کے مقام وائے ریور (Wye River) پر ہوا تھا اس لیے اسے وائے ریور معاہدے کا نام دیا گیا۔ اس پر فلسطین کی جانب سے یاسر عرفات اور اسرائیل کی جانب سے وزیراعظم (موجودہ بھی) بینجمن نیتن یاہو نے دستخط کیے تھے۔ اس معاہدے کا بنیادی مقصد 1995ء کے اوسلو معاہدے پر عمل درآمد کو یقینی بنانا تھا۔ معاہدے کی اہم شرائط میں علاقوں کی منتقلی بھی شامل تھی۔ اسرائیل نے مغربی کنارے (West Bank) کے تقریباً 13فیصد علاقے سے مرحلہ وار انخلا پر اتفاق کیا تاکہ فلسطینی اتھارٹی کا کنٹرول بڑھایا جا سکے۔ اس کے بدلے میں فلسطینی اتھارٹی نے دہشت گردی کی روک تھام‘ غیر قانونی ہتھیاروں کی تلفی اور اسرائیل کے خلاف اشتعال انگیزی ختم کرنے کی ذمہ داری لی تھی۔ یہ وائے ریور معاہدہ اب کہاں ہے؟اس کے بعد 2000ء میں کیمپ ڈیوڈ سربراہی اجلاس ہوا تھا۔ یہ حتمی تصفیے کے لیے امریکہ کی ثالثی میں ہونے والی بات چیت تھی‘ لیکن یروشلم کی حیثیت‘ پناہ گزینوں اور سرحدوں کے تنازعات کی بنا پر یہ عمل ناکام ہو گیا تھا۔ اسی طرح 2003ء میں امریکہ‘ یورپی یونین‘ روس اور اقوام متحدہ (Quartet) کی جانب سے روڈ میپ برائے امن پیش کیا گیا جس کا ہدف ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام تھا لیکن کچھ وجوہ کی بنا پر یہ بیل بھی منڈھے نہ چڑھ سکی۔ 2005ء میں شرم الشیخ مفاہمت کے نام سے اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی نے تشدد کے خاتمے اور قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے اقدامات پر اتفاق کیا تھا‘ لیکن اس پر بھی پوری طرح عملدرآمد نہ ہو سکا۔ اور غزہ میں جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے تو ابھی چند ماہ پہلے ہی ہوئے ہیں۔ ان پر کتنا عمل درآمد کرایا جا سکا؟ اس کے علاوہ بھی اسرائیل اور فلسطین کے مابین مختلف ادوار میں جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی کے لیے بالواسطہ معاہدے ہوتے رہے ہیں‘ جن میں مصر اور قطر بطور ثالث کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ مختلف ادوار میں ہونے والے ان سبھی معاہدوں کا مقصد طویل مدتی امن کا حصول رہا ہے‘ لیکن یروشلم کی حیثیت‘ مہاجرین کی واپسی اور یہودی بستیوں کی تعمیر کے بنیادی تنازعات پر اختلافات کے باعث ان پر مکمل عمل درآمد نہیں ہو سکا۔امسال فروری سے اب تک جاری جنگ میں ایران اور امریکہ نے ایک دوسرے کا خاصا نقصان کیا‘ اس لیے ان کے معاہدے پر تیار ہونے میں شک کی کوئی گنجائش نہیں ہے لیکن اسرائیل کی ہٹ دھرمیوں کو کون کنٹرول کرے گا؟ معاہدہ ہو جانا چاہیے کہ امن کا یہی تقاضا ہے لیکن مشرقِ وسطیٰ کو نیتن یاہو کی شر انگیزیوں کا سامنا کرنے کے لیے پھر بھی تیار رہنا ہو گا کیونکہ پوری دنیا میں صرف اسرائیل اور بھارت ہی دو ایسے ممالک ہیں جنہیں مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے قیام کی کوششیں ایک آنکھ نہیں بھا رہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_58350786.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>دو ضدیوں کی صلح(سعود عثمانی )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-06-18/52145/66004124</link><pubDate>Thu, 18 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-06-18/52145/66004124</guid><description>سچ تو یہ ہے کہ ایران اور امریکہ دونوں کا بے پناہ فوجی‘ معاشی‘ علاقائی اور سیاسی نقصان نہ ہوا ہوتا تو یہ معاہدہ بھی نہ ہوتا جو اَب سوئٹزر لینڈ میں 19جون کو متوقع ہے‘ اگر اسے معاہدہ کہا جا سکے۔ بظاہر اسے معاہدے کی طرف دو طرفہ اتفاقِ رائے کہنا چاہیے۔ جو بھی نام ہو‘ یہ پاکستانی میزبانی میں ہو گا اور یہ پاکستان کیلئے بہت خوشی کی بات ہے کہ اس نے اعلیٰ سفارتکاری‘ بے مثال ثالثی اور دونوں طرف کی نزاکتوں کا خیال رکھتے ہوئے ضدی فریقین کو کچھ نکات پر متفق کر دکھایا ہے۔ بیشک ترکیہ‘ سعودی عرب‘ قطر بھی اس دوڑ دھوپ اور ثالثی میں حصہ دار رہے لیکن پاکستان کا مرکزی کردار ہے۔ یہ صرف متعدد عالمی فریقوں کے بیچ معاہدہ نہیں‘ اس میں بہت مشکل مسئلہ ایران کے سخت گیر اور معتدل عناصر کو ایک مؤقف پر اکٹھا کرنا بھی تھا۔ اس بات کی خوشی ہے کہ پاکستان میزبانی کرے گا لیکن یہ سوال بہرحال اٹھتا ہے کہ سوئٹزر لینڈکیوں؟ اسلام آبادکیوں نہیں؟ اس معاہدے کا نام تو اسلام آباد اکارڈ ہی ہونا چاہیے تھا۔ لیکن میرے خیال میں بہت سے حساس معاملات اور خدشات درمیان میں تھے۔ اس معاہدے کو سبوتاژ کرنے والی طاقتیں بھی گھات میں بیٹھی ہوں گی۔ شاید سب سے بڑی وجہ تو ان دنوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وہاں ممکنہ موجودگی ہے‘ اگرچہ ابھی نائب صدر کی بات ہو رہی ہے۔ لیکن ایک وجہ مغربی ذہن کا یہ تصور بھی ہے کہ دنیا بھر میں امن مذاکرات میں سوئٹزر لینڈ ہی کو مرکز رہنا چاہیے؛ چنانچہ معاہدے کے مقام کو مسئلہ بنانے کے بجائے پاکستان نے معاہدے اور اس کے نفاذ کو اہمیت دی ہے اور یہ درست حکمت عملی ہے۔اگر ایران اور امریکہ مجبور نہ ہوئے ہوتے تو یہ معاہدہ بھی نہ ہوتا۔ اندازہ کیجیے کہ دونوں کی جنگ ساڑھے تین ماہ جاری رہی۔ شاید کسی معاہدے اور کسی ثالث کو اتنی دو طرفہ ضد کا سامنا نہیں رہا ہو گا جتنا ان ثالثوں کو پیش آیا۔ یہ پاکستان کے بھی صبر و تحمل کا امتحان تھا۔ پاکستان کے کردار کو دنیا بھر میں تو سراہا ہی گیا لیکن بھارتی میڈیا بھی اس کے اعتراف پر مجبور ہوا۔ ایک بڑے بھارتی انگریزی اخبار نے بھی ذکر کیا کہ کس طرح پاکستانی قیادت نے نہ صرف امریکہ اور ایران کے درمیان رابطے برقرار رکھنے میں مدد دی بلکہ متعدد مواقع پر پیغامات‘ تجاویز اور جوابی مسودوں کی ترسیل بھی کی۔ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے مذاکراتی عمل میں اہم کردار ادا کیا اور فریقوں کے درمیان اعتماد سازی کروائی۔ اخبار نے یہ بھی لکھا کہ اگر معاہدہ کامیابی سے نافذ ہو جاتا ہے تو پاکستان کو ایک مؤثر علاقائی ثالث کے طور پر نئی شناخت مل سکتی ہے۔معاہدے کو بعض مبصرین گزشتہ کئی دہائیوں میں امریکہ اور ایران کے تعلقات میں سب سے اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔ معاہدے کے نکات ابھی تصدیق شدہ نہیں لیکن بین الاقوامی میڈیا کے مطابق یہ 14 نکات پر مشتمل ہے جس میں امریکہ کی طرف سے بحری ناکہ بندی 30دن کے اندر ختم ہو گی اور ایران کے قریب فوجی قوت بھی ہٹا لی جائے گی۔ ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی۔ ایرانی منجمد فنڈز‘ جو 24 ارب ڈالر کے قریب ہیں‘ مختلف مراحل میں بحال ہوں گے۔ 60 دن کے اندر مزید بات چیت ہو گی جس میں ایرانی نیوکلیئر پروگرام پر بھی بات چیت ہو گی۔ایک ایرانی نیوز ایجنسی کے مطابق ایرانی میزائل پروگرام اور مختلف مسلح گروپس کو ایرانی مدد کے معاملات ایجنڈے سے نکال دیے گئے ہیں۔ پہلے ہی یہ خبریں بھی آرہی ہیں کہ غیر اعلانیہ طور پر ایران کو فنڈز واپس کیے جارہے ہیں۔ 300 ارب ڈالر کے ایک فنڈ کی بھی گونج ہے جو ایران کی تعمیرِ نو کیلئے استعمال ہونے کی خبریں ہیں۔اگرچہ اپنی معاشی اور دفاعی وجوہات سے بھی پاکستان اپنے ہمسائے میں جنگ اور تبدیلی نہیں چاہتا تھا لیکن عالمی سطح پر بھی خود کو بطور ثالث منوانے کے اس عمل نے پاکستان کا وقار بہت بلند کیا ہے اور ممکن ہے پاکستان اس سے اپنے لیے معاشی فائدوں کا راستہ بھی کھول سکے۔ پاکستان اس لڑائی میں شریک نہیں تھا اس لیے یہ معاہدہ سب سے پہلے تو پاکستان کیلئے ہی بہت مثبت اثرات رکھتا ہے۔ لیکن جو ملک اس لڑائی میں براہِ راست یا بالواسطہ شریک تھے‘ ان پر اپنے اپنے اثرا ت ہوں گے۔ امریکہ کو لیجیے۔ ٹرمپ نے اس معاہدے کو اپنی سیاسی اور عسکری فتح کے طو رپر پیش کیا ہے۔ ٹرمپ کی دیرینہ خواہش رہی ہے کہ اسے امن کی علامت کے طور پر نوبیل انعام کیلئے نامزد کیا جائے۔ کوئی شک نہیں کہ امریکہ اس جنگ میں پھنس گیا تھا اور اس نے اپنی علاقائی اہمیت کھو دی ہے۔ امریکہ جیسی سپر پاور کو گنتی کے جہازوں اور ریڈارز وغیرہ کی تباہی سے زیادہ فرق نہیں پڑتا لیکن اس سے بہت فرق پڑتا ہے کہ اس کی سپر پاور کی حیثیت کو شدید نقصان پہنچ جائے۔ اگرچہ یہ نقصان ہو چکا لیکن امریکہ کو اس معاہدے سے فیس سیونگ ملنے کا راستہ ملتا ہے۔ نیز واشنگٹن کیلئے ایک مہنگے اور غیریقینی فوجی تصادم سے نکلنے کا دروازہ کھل جاتا ہے۔ وہ عالمی تنقید جو اس پر مسلسل جاری تھی‘ ختم ہو سکتی ہے۔ یہ تنقید بنیادی طور پر آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث تھی۔ آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے سے عالمی توانائی منڈیوں میں استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں کمی اور عالمی تجارت کی بحالی امریکی معیشت کیلئے بھی فائدہ مند ہو گی۔ یہ الگ بات کہ یہ آبنائے ہرمز تو جنگ سے پہلے کوئی مسئلہ تھی ہی نہیں۔ تیسرے‘ اگر ایران بین الاقوامی جوہری نگرانی کے نظام کو قبول کرتا ہے تو امریکہ اسے اپنی ایک بڑی سفارتی کامیابی کے طور پر پیش کرے گا۔ امریکی ڈیموکریٹس بہرحال اس معاہدے پر شدید تنقید کریں گے۔ تاہم امریکہ کے اندر بعض حلقے اس معاہدے پر تنقید بھی کر سکتے ہیں‘ خاص طور پر وہ گروہ جو ایران کے خلاف زیادہ سخت پالیسی کے حامی ہیں۔ایران کیلئے یہ معاہدہ اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔ پہلا فائدہ یہ ہے کہ اس پر فوجی دباؤ میں کمی آ سکتی ہے۔ کئی ماہ کی کشیدگی اور جنگی ماحول کے بعد تہران کو داخلی معیشت اور تعمیرِ نو پر توجہ دینے کا موقع ملے گا۔ دوسرا فائدہ ممکنہ اقتصادی ریلیف ہے۔ متعدد تجزیوں میں پابندیوں میں نرمی‘ منجمد اثاثوں کی رہائی اور ایران کی معیشت کی بحالی کے امکانات کا ذکر کیا گیا ہے۔ تیسرا فائدہ بین الاقوامی سطح پر ایران کی سفارتی تنہائی میں کمی ہو سکتی ہے۔ اگر مذاکرات کامیاب رہتے ہیں تو ایران دوبارہ علاقائی اور عالمی سفارتکاری میں زیادہ فعال کردار ادا کر سکتا ہے۔ البتہ ایرانی مقتدرہ کیلئے سب سے بڑا چیلنج یہ ہو گا کہ ملک کے اندر یہ تاثر ابھرے کہ اس نے اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں دب کر سمجھوتے کر لیے ہیں۔ممکنہ طور پر معاہدے کے الفاظ اسی طرح رکھے گئے ہیں کہ ایرانی مقتدرہ کیلئے مسئلہ نہ بنیں۔ اس معاہدے کا بہت اثر اسرائیل پر پڑے گا۔ معاہدے میں اسرائیل کا براہِ راست کردار نہیں ہے حالانکہ جنگ میں براہِ راست کردار تھا۔ اسرائیلی قیادت ایران کے خلاف سخت مؤقف کی حامی ہے اور سمجھتی ہے کہ کوئی بھی نرمی ایران کو علاقائی سطح پر مضبوط بنا سکتی ہے۔ اس جنگ نے اسرائیلی طاقت کا پول بھی کھول کر رکھ دیا ہے اور اسرائیل کی ہیبت اور اہمیت بھی کم کر دی ہے۔ خلیجی ریاستوں خاص طور پر سعودی عرب‘ قطر‘ عرب امارات وغیرہ کیلئے آبنائے ہرمز اقتصادی لحاظ سے شہ رگ کی طرح ہے اور بحالی ایک سکون کے سانس کی طرح۔ تاہم اب یہ شہ رگ ایران کے ہاتھ میں ہونا انہیں مستقل ڈرائے رکھے گا‘ اور وہ متبادل راستوں پر مجبور ہوں گے۔ لبنان میں جنگ بندی بھی معیشت اور داخلی سیاست کیلئے مثبت پیش رفت ہو گی۔لیکن یہ معاہدہ کتنا دیرپا ہو گا‘ یہ ایک بڑا سوال ہے۔ بظاہر ٹرمپ کے موجودہ دور میں براہِ راست جنگ کا امکان ختم ہو گیا ہے۔ وہ دوبارہ پھنسنا نہیں چاہے گا لیکن کیا ایران اپنی بیرونی پالیسیاں بدلے گا؟ عرب ایران چپقلش ختم ہو جائے گی؟ میرا نہیں خیال کہ مستقل بنیاد پر ایسا ہونے والا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_81278520.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>آئینہ(مفتی منیب الرحمٰن )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-06-18/52146/45039880</link><pubDate>Thu, 18 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-06-18/52146/45039880</guid><description>بجٹ کو عام طور پر اعداد وشمار کا گورکھ دھندا اور بھاری بھرکم اصطلاحات کی پہیلیوں سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ یہ دراصل وہ غازہ یا میک اَپ ہوتا ہے جو قومی معیشت کے مکروہ چہرے پر ملا جاتا ہے تاکہ داغ دھبے اور مہاسے چھپ جائیں اور ایک خوش کن تصویر عوام کے سامنے پیش کی جائے۔ مگر یہ غازہ اتنا شفاف ہوتا ہے کہ سارے داغ دھبے زیادہ نمایاں ہوکر نظر آنے لگتے ہیں۔ ماضی کے دس برسوں کا جائزہ لیں تو ایک برس بھی ایسا نہیں ملے گا کہ اُس وقت کی حکومت نے آمدو خرچ کاجو گوشوارہ پیش کیا تھا وہ اس پر پورا اتری ہو‘ تجویز کردہ محاصل وصول ہو جائیں‘ اخراجات قابو میں آئیں اور تمام اَہداف حاصل ہو جائیں۔ ہر سال کے دوران ان مجوّزہ محاصل پر بار بار نظرِ ثانی کی جاتی ہے لیکن پھر بھی یہ طے شدہ اہداف کبھی حاصل نہیں ہوئے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سال قومی بجٹ کے ساتھ ضمنی بجٹ پیش کیا جاتا ہے کہ حکومت کی آمدنی مقررہ ہدف سے کم رہ جاتی ہے اور اخراجات اپنی مقررہ حد کو عبور کر جاتے ہیں۔ پی ٹی آئی حکومت کے زوال کے بعد جب پی ڈی ایم کی حکومت آئی تھی تو کہا گیا تھا کہ ملک نادہندگی کے کنارے پر ہے اور اسے ڈیفالٹ کے خطرے سے بچانا ہے۔ بعد کے برسوں میں حکومت کی طرف سے یہ دعویٰ سامنے آیا کہ نادہندگی کا خطرہ ٹل گیا ہے اور معیشت مستحکم ہوگئی ہے۔ کچھ عالمی اداروں کی جائزہ رپورٹیں بھی پیش کی جاتی رہیں کہ معیشت میں بہتری آ رہی ہے۔ یہ ممالک کی معیشت کی درجہ بندی کے ادارے ہیں اور ان کی تجزیاتی رپورٹوں کو پیشِ نظر رکھ کر عالمی ادارے پسماندہ ممالک کو قرضے دیتے ہیں۔ معیشت کی عالمی درجہ بندی کے یہ ادارے &#39;&#39;موڈیز انویسٹر سروس‘‘، &#39;&#39;ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز‘‘ اور &#39;&#39;فِچ ریٹنگ‘‘ وغیرہ ہیں۔حکومت تاحال معیشت کی ترقی کی دعویدار تو نہیں ہے لیکن یہ دعویٰ ضرور کرتی ہے کہ معیشت مستحکم ہو گئی ہے‘ جبکہ مستحکم معیشت کیلئے جو اشاریے درکار ہیں‘ وہ نظر نہیں آتے‘ مثلاً (1) حالیہ پیش کردہ بجٹ میں قرضوں کی واجب الادا اقساط اور سود کی مجموعی رقم 8054 ارب روپے ہے اور یہ حکومت کی کل مجوّزہ آمدنی کا تقریباً 43 فیصد ہے اور باقی 57 فیصد میں پورا نظامِ حکومت چل رہا ہے۔ اس سے اندازہ لگا لیں کہ معیشت کی صورتحال کیا ہے۔ (2) ادائیگیوں کا توازن کبھی بھی پاکستان کے حق میں نہیں رہا۔ (3) زرمبادلہ میں ہماری درآمدات کی مجموعی مقدار برآمدات سے زیادہ ہے اور اگر ہماری معیشت کو سہارا دینے کیلئے چین اور سعودی عرب کے سٹیٹ بینک میں جمع شدہ قرضوں کی رقم نکال لیں تو معیشت دھڑام سے گر جائے۔ (4) گزشتہ سال کا جو اقتصادی جائزہ حکومت نے خود پیش کیا ہے اُس کی رو سے حکومت تمام شعبوں میں اپنے مقررہ اہداف کو حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ان میں زراعت اور صنعت کی سالانہ شرحِ نُمو بھی شامل ہے۔ (5) ہمارے پاس داخلی اور بیرونی قرضوں سے نجات کا ایک ہی نسخہ ہے اور وہ ہے: مزید در مزید قرض۔ (6) چونکہ مہنگائی کے سبب بیرونِ ملک پاکستانیوں کو اپنے خاندانوں کیلئے زیادہ رقوم بھیجنا پڑ رہی ہیں اس لیے ترسیلاتِ زر میں تھوڑا بہت اضافہ ہوتا رہتا ہے لیکن ترسیلاتِ زر کی ان رقوم سے زرمبادلہ کے علاوہ کسی اور شعبے میں ہمیں سہارا نہیں ملتا۔ (7) حکومتیں شدید خواہش اور آئی ایم ایف کے دبائو کے باوجود پبلک سیکٹر میں خسارے میں چلنے والے اداروں کی نہ تو نجکاری کر سکی اور نہ انہیں &#39;&#39;نہ نفع اور نہ نقصان‘‘ کی سطح پر لا سکیں‘ تو جو حکومتیں ان اداروں کا احیا یا بحالی نہیں کر سکتیں‘ ان سے یہ توقع رکھنا عبث ہے کہ وہ ملکی معیشت کو ترقی کی شاہراہ پر رواں دواں کریں گی۔ (8) حکومت نے &#39;&#39;سپیشل انویسٹمنٹ فیسیلی ٹیشن کونسل‘‘ تشکیل دی تھی‘ اس کا مقصد قومی اور عالمی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی طرف راغب کرنا تھا لیکن اس کی بھی کوئی کرامت ظاہر نہ ہو سکی۔ (9) وزیراعظم نے اپنے ریکارڈ غیر ملکی دوروں میں جن مفاہمتی یادداشتوں یعنی MOUs پر دستخط کیے تھے ان کا بھی کوئی عملی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ وہ فائلیں الماریوں کی زینت بن گئیں اور وہ سارے فوٹو سیشن ہمارے وفاقی سیکرٹریٹ کی محفوظ یادداشتوں یعنی Archives میں محفوظ کر دیے گئے ہوں گے۔ (10) حکومت کا دعویٰ تھا کہ سرکاری اخراجات کم کیے جائیں گے مگر اس میں بھی کامیابی نہ مل سکی اس لیے کہ ہماری حکومتیں نوکر شاہی کے ملبے تلے دبی رہتی ہیں۔ (11) انسدادِ بدعنوانی اور احتساب کے متعدد اداروں کے باوجود بدعنوانی کو قابو کرنے میں حکومتیں ناکام ہیں۔ کوہستان سکینڈل اور سکھر حیدر آباد موٹروے سکینڈل اس کی نمایاں مثالیں ہیں۔ میڈیا میں شورو غوغا بپا ہوتا ہے اور پھر لوگ بھول جاتے ہیں۔ وائٹ کالر جرائم اس نفاست اور مہارت سے کیے جاتے ہیں کہ کلیم عاجز کے اس شعر کا مصداق ہیں:دامن پہ کوئی چھینٹ‘ نہ خنجر پہ کوئی داغ ؍ تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہومجید لاہوری نے کہا تھا:میں بتاؤں تجھ کو تدبیرِ رہائی‘ مجھ سے پوچھلے کے رشوت پھنس گیا ہے‘ دے کے رشوت چھوٹ جا(12) ایسے حالات میں کہ ملک کے سرمایہ دار اپنا سرمایہ متحدہ عرب امارات‘ بحرین اور دیگر ممالک میں منتقل کر رہے ہوں‘ غیر ملکی سرمایہ کار کس طرح پاکستان کا رخ کریں گے۔ (13) اکیسویں صدی کے شروع ہوتے ہی حکومتوں نے اس بات کو اپنا مشن بنایا کہ معیشت کو دستاویزی بنایا جائے گا مگر ہر بار تاجروں اور سرمایہ داروں نے اس کی مزاحمت کی اور پھر ہر حکومت اس طبقے کے آگے سرنگوں ہو گئی۔ پرویز مشرف کے زمانے میں دکانداروں اور کاروباری حضرات نے بطورِ احتجاج دکانیں بند کیں تو جنرل پرویز مشرف نے کہا: &#39;&#39;یہ بند کرکے دیکھ لیں‘ یہ دس دن بعد بھی کھولیں گے تو ہمیں دروازے پر پائیں گے‘‘ مگر پھر انہوں نے بھی ہتھیار ڈال دیے اور مصلحت کوشی کو شعار بنا لیا۔ (14) حکومت معیشت کے استحکام کے دعوے کر رہی ہے لیکن برسرِ زمین موجود تمام حقائق وشواہد اس دعوے کی نفی کر رہے ہیں۔ (15) بلوچستان‘ خیبرپختونخوا اور اب کشمیر میں جو امن وامان کی صورتحال ہے اس کے ہوتے ہوئے بیرونی سرمایہ کار کس طرح پاکستان کا رخ کریں گے۔ (16) معیشت کے استحکام کی علامات یہ ہیں: ادائیگیوں کا توازن حکومت کے حق میں ہو‘ برآمدات درآمدات سے زیادہ یا کم از کم مساوی ہوں۔ افراطِ زر قابو میں ہو‘ ملکی کرنسی کی قیمت مستحکم ہو‘ حکومت کا کرنٹ اکائونٹ اور بجٹ کا خسارہ حد میں ہو‘ قرضے قابلِ برداشت سطح پر ہوں‘ سرمایہ کاری کا ماحول مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کیلئے قابلِ اعتماد ہو‘ سرمایہ اور سرمایہ دار کو تحفظ ملے‘ بیروزگاری عالمی معیشت کی اوسط شرح سے زیادہ نہ ہو‘ مجموعی قومی پیداوار میں معتد بہ سالانہ اضافہ ہوتا رہے جو آبادی میں اضافے کے تناسب سے زیادہ ہو‘ پیشہ ورانہ شعبوں میں تعلیم کا معیار اوسط عالمی معیار کے برابر یا اس سے بہتر ہو‘ امن وامان کی صورتحال قابو میں ہو جبکہ برسرِ زمین صورتحال اس کے برعکس ہے۔ الغرض حکومت کے اپنے پیش کردہ اقتصادی جائزے اور آئندہ سال کا بجٹ ایک ایسا آئینہ ہے جس میں قومی اور ملکی معیشت کی حقیقی تصویر کو آسانی سے دیکھا جا سکتا ہے۔ ہم کسی ایک حکومت کو مطعون کر کے گریز کی راہ اختیار نہیں کر سکتے۔ حکومتوں کی کارکردگی اُنیس بیس یا اٹھارہ بیس کے فرق کے ساتھ یکساں رہی ہے اور ہر حکومت نے اپنے حصے کا بوجھ قومی معیشت پر ڈالا ہے اور قومی قرضوں کی مقدار میں اضافہ ہی کیا ہے۔ کوئی حکومت یہ دعویٰ نہیں کر سکتی کہ اس نے اپنے دورِ حکومت میں قرضوں کی مقدار کو کم کیا ہے۔ حکومت بجلی پیدا کرنے اور تقسیم کرنے والے اداروں کی لوٹ مار سے ہی قوم کو نجات دلا دیتی تو غنیمت ہوتا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_61172381.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>