<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>قومی اتحاد اور مستحکم پاکستان کا عزم(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-06/11168</link><pubDate>Wed, 06 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-06/11168</guid><description>چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ معرکۂ حق عوام‘ حکومت اور افواجِ پاکستان کے درمیان غیر متزلزل ہم آہنگی کی علامت ہے‘ جو اندرونی و بیرونی چیلنجز کے مدمقابل بنیانٌ مرصوص کی مانند یکجا کھڑی ہیں۔ 275ویں کور کمانڈر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فیلڈ مارشل نے ملک میں جاری انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں میں کمانڈرز اور فارمیشنزکے عزم‘ مستعدی اور کامیابی کو سراہا اور روایتی اور غیر روایتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے پیشگی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ موجودہ علاقائی صورتحال اور عالمی حالات کے تناظر میں کور کمانڈر کانفرنس کا پیغام بہت اہم ہے۔ اس کانفرنس میں جہاں سرحدوں کی حفاظت اور درپیش سکیورٹی چیلنجز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا وہاں قومی اتحاد کو بھی بھرپور انداز میں اجاگر کیا گیا۔ معرکہ حق کو ایک سال مکمل ہونے پر اس کانفرنس میں اس عزم کا بھی اظہار کیا گیا کہ ملک کے دفاع کیلئے ریاست کی تمام اکائیاں یکجا ہیں اور کسی بھی قسم کی جارحیت کا جواب دینے کیلئے مستعد ہیں۔ معرکۂ حق ہمارے قومی اتحاد‘ اجتماعی عزم اور پاکستان کی خود مختاری کے تحفظ کے اس غیر متزلزل عہد کی عکاسی کرتا ہے جو ہم نے مشکل ترین حالات میں بھی برقرار رکھا ہے۔

یہ یاددہانی ہے اس امر کی کہ جب قوم کا بچہ بچہ دفاعِ وطن کیلئے اپنی افواج کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہوتا ہے تو بڑی سے بڑی طاقت اور بڑے سے بڑے چیلنج سے نمٹنا مشکل نہیں ہوتا۔ آج جب ہم قومی سطح پر معرکۂ حق کی یاد منا رہے ہیں تو یہ واضح رہنا چاہیے کہ یہ محض ایک قومی فتح کا جشن نہیں ہے بلکہ ملک پر میلی نظر ڈالنے والوں کیلئے ایک واضح اور دو ٹوک پیغام بھی ہے کہ پاکستانی قوم اپنے دفاع کے معاملے میں کسی غفلت کا شکار نہیں ہے۔ یہ قومی اتحاد دشمن کو باور کرانے کیلئے کافی ہے کہ پاکستان ایک زندہ‘ بیدار اور ہر طرح کے حالات سے نمٹنے کیلئے مکمل طور پر تیار قوم ہے۔ دشمن کی کسی بھی مہم جوئی یا اشتعال انگیزی کا جواب دینے کیلئے پاکستان کی عسکری قوت اور عوامی جذبہ آج پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط اور مربوط ہو چکا ہے۔ عالمی منظر نامے پر نظر ڈالی جائے تو آج پاکستان کیلئے سفارتی حالات کافی سازگار دکھائی دیتے ہیں۔ یہ حکومت کیلئے ایک بڑا اور تاریخی موقع ہے کہ سفارتی فضا کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے دیرینہ مسائل‘ بالخصوص مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے عالمی برادری کی حمایت حاصل کرے۔ سفارتی محاذ پر حاصل کردہ کامیابیوں کو مستقل بنیادوں پر استوار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ پاکستان کا بیانیہ دنیا بھر میں مزید مؤثر انداز میں پہنچایا جا سکے۔
بین الاقوامی برادری آج پاکستان کے امن پسند کردار اور خطے میں استحکام کیلئے اس کی کوششوں کو تسلیم کر رہی ہے ‘لہٰذا اس سازگار ماحول کو قومی مفادات کے تحفظ کیلئے مؤثر انداز سے بروئے کار لانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ جہاں ہم بیرونی محاذ پر مضبوط ہو رہے ہیں وہیں ہمیں اندرونِ ملک معاملات میں سدھار لانے کی بھی ضرورت ہے۔ ملکی استحکام کا دارومدار سرحدوں کی حفاظت ہی پر نہیں عوامی فلاح وبہبود اور داخلی خوشحالی پر بھی ہے۔ حکومت کو اپنی توجہ عوام کے معیارِ زندگی کو بلند کرنے‘ معیشت کی بہتری اور سماجی انصاف کی فراہمی پر مرکوز کرنا چاہیے۔ ماضی کی کمیوں‘ کوتاہیوں اور محرومیوں کا ادراک اور ان کا ازالہ کرنا ہی ایک ترقی یافتہ ریاست کی علامت ہوتی ہے۔ ہمیں ایمانداری سے ماضی کا جائزہ لیتے ہوئے اب اپنی سمت کا دوبارہ تعین کرنے کی ضرورت ہے۔ قومی اخوت اور یگانگت کی صورت میں ہمارے پاس وہ راستہ ہے جس پر چل کر ہم بہتر مستقبل کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔
معرکۂ حق کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ کامیابی محض مادی وسائل سے نہیں ملتی بلکہ جذبہ اور اتحاد بھی اس کا ناگزیر تقاضا ہے۔ ہمیں قومی اتحاد کو نہ صرف برقرار رکھنا ہے بلکہ اسے مزید گہرا اور مضبوط کرنا ہے تاکہ آنیوالی نسلوں کو پُرامن‘ خوشحال اور باوقار معاشرے کاتحفہ دے سکیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پٹرولیم مہنگائی کے اثرات(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-06/11167</link><pubDate>Wed, 06 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-06/11167</guid><description>اوگرا کے مطابق اپریل میں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی ماہانہ فروخت مارچ کے مقابلے میں چھ فیصد جبکہ سالانہ بنیاد پر سات فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ مارچ میں پٹرولیم مصنوعات کی فروخت تقریباً 1.44 ملین ٹن تھی جو اپریل میں کم ہو کر 1.36 ملین ٹن رہ گئی۔ پٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں کمی کو محض کھپت میں کمی کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا‘ یہ دراصل مجموعی معاشی سرگرمیوں میں سست روی کی علامت ہے۔ اپریل کے دوران پٹرول کی قیمت میں 24 اور ڈیزل کی قیمت میں 19فیصد ماہانہ اضافے کے نتیجے میں ٹرانسپورٹ سرگرمیاں سکڑ گئیں‘ زرعی شعبے میں ڈیزل کی طلب کم ہوئی اور کم آمدن طبقے کی کھپت شدید دباؤ کا شکار ہو گئی۔

اگرچہ عالمی اور علاقائی حالات پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں تاہم حکومت ان مصنوعات پر عائد لیوی اور دیگر ٹیکسوں میں مناسب کمی کے ذریعے قیمتوں کو کسی حد تک قابو میں رکھ سکتی ہے‘ جس سے نہ  صرف عوام کو ریلیف ملے گا بلکہ صنعتی و تجارتی سرگرمیوں کو بھی سہارا ملے گا۔ معیشت کا پہیہ اسی وقت رواں رہ سکتا ہے جب توانائی کی بنیادی لاگت قابلِ برداشت سطح پر ہو۔مزید برآں توانائی کے متبادل ذرائع کی طرف سنجیدہ پیش رفت‘ پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام کی بہتری اور توانائی کے استعمال میں کفایت شعاری کی پالیسیوں کو فروغ دینا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ محض وقتی اقدامات کے بجائے ایک جامع اور دوررس حکمت عملی ہی اس بحران کا پائیدار حل فراہم کر سکتی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>تجارتی خسارہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-06/11166</link><pubDate>Wed, 06 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-06/11166</guid><description>وفاقی ادارۂ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے دس ماہ کے دوران ملک کا مجموعی تجارتی خسارہ 31 ارب 98کروڑ ڈالر تک جا پہنچا ہے‘ جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 20 فیصد زیادہ ہے۔ مزید تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اپریل میں تجارتی خسارہ چار ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا جو گزشتہ 46 ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔ برآمدات میں سالانہ بنیادوں پر چھ فیصد کمی تو تجارتی خسارے میں اضافے کا سبب بنی ہے لیکن درآمدات کا بے تحاشا بوجھ اس میں اضافے کی بنیادی وجہ ہے۔ دس ماہ میں برآمدات 25ارب21 کروڑ ڈالر تک محدود رہیںجبکہ درآمدات 57ارب19 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں۔ اس دوران کلیدی برآمدی شعبے یعنی ٹیکسٹائل سیکٹر کی کارکردگی بھی خاطر خواہ نہیں رہی۔

دس ماہ کے دوران اس شعبے کی برآمدات میں سالانہ بنیادوں پر محض 1.04فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا‘ جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک کی برآمدی بنیاد نہ صرف محدود ہے بلکہ کمزور بھی ہوتی جا رہی ہے۔ حکومت کو ایک ایسی تجارتی پالیسی وضع کرنی چاہیے جس میں درآمدات کو ترجیحی بنیادوں پر محدود کیا جائے اور مقامی پیداوار کو فروغ دیا جائے۔ اسی طرح برآمدی صنعتوں کو سستی توانائی کی فراہمی‘ ٹیکس میں ریلیف اور جدید ٹیکنالوجی تک رسائی دی جائے تاکہ وہ عالمی منڈی میں مسابقت پیدا کر کے برآمدات بڑھا سکیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مرنا ایران کو تھا پھنس امریکہ گیا(ایاز امیر)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-05-06/51894/21816160</link><pubDate>Wed, 06 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-05-06/51894/21816160</guid><description>مسئلہ یہ نہیں رہا کہ ایران کو کیسے شکست ہو اور امریکی مطالبات کے سامنے وہ کیسے سرنگوں ہو۔ مسئلہ اب یہ بن پڑا ہے کہ صدر ٹرمپ کو اس بیوقوفی سے کیسے نکالا جائے۔ چلے تھے ایران کو تباہ کرنے اور پھنس گئے‘ اس بری طرح کہ نکلنے کا راستہ نظر نہیں آ رہا۔ آئے روز صدارتی محل سے لایعنی باتیں نکلتی ہیں جن کا آپس میں کوئی ربط نہیں ہوتا۔ یہ تو ایسے ہی ہوا کہ اغوا کرنے آپ کسی کو نکلیں اور وختہ اتنا پڑ جائے کہ مغوی سے جان چھڑانے کی پڑ جائے۔امریکہ کا المیہ یہ بھی دیکھیے کہ پوری دنیا میں ایران سے پیغام رسانی کرنے کے لیے صرف ایک پاکستان ہی ہے۔ دونوں فریق پاکستان پر تکیہ کر رہے ہیں اور یہ چینل نہ ہو تو دونوں مصیبت میں پڑ جائیں۔ ٹرمپ بلاوجہ ہی ہمارے فیلڈ مارشل کی تعریف نہیں کرتے‘ لے دے کے یہی ایک انحصار رہ گیا ہے۔ لیکن فیلڈ مارشل بھی بات کو کتنا آگے لے جا سکتے ہیں کیونکہ جوہری مسئلے پر ٹرمپ نے اپنے آپ کو کئی گانٹھوں میں باندھ رکھا ہے۔ ایرانی پیشکش بڑی سادہ ہے کہ جنگ ختم ہو‘ آبنائے ہرمز سے آمدورفت بحال ہو اور جوہری مسئلے کو بعد میں ڈِسکس کیا جائے جیسا کہ اس جنگ سے پہلے ہو رہا تھا۔ عمان کی وساطت سے بات چیت ہو رہی تھی اور اُس میں پیش رفت بھی ہو رہی تھی۔ ٹرمپ کی بدبختی کہ نیتن یاہو کی باتوں میں آ گئے اور آنکھیں بند کرکے عقل پر تالے لگا کر ایران پر حملہ کر دیا۔ایران تباہ ہو جاتا تو بات اور تھی۔ نظام گِر پڑتا کوئی پٹھو اقتدار میں بٹھا دیا جاتا اور ظاہر ہے پھر امریکہ کی ہر بات مانی جاتی۔ لیکن ایسا ہوا نہیں اور یہی ٹرمپ کے لیے مصیبت بنی ہوئی ہے۔ یہ چیلنج اب ہمارے ثالثوں کے لیے ہے کہ امریکیوں کو سمجھائیں کہ جتنا جلد اس جھمیلے سے نکلیں اتنا ان کے لیے بہتر ہے۔ ٹرمپ کو اپنی یہ پڑی ہوئی ہے کہ جوہری مسئلے پر کامیابی نظر نہ آئے تو امریکہ میں سیاسی طور پر مسئلہ بن جائے کہ لوگ پوچھیں گے ایران کا جوہری پروگرام ختم نہیں ہوا تو جنگ کی جھک مارنے کی کیا ضرورت تھی۔ اور تو کوئی ثالث بیچ میں ہے نہیںہمارے ارباب اختیار ہی اب اُن کو یہ سمجھائیں کہ جیسا بھی ہے اس دلدل سے نکلو۔ایک بات ماننی پڑتی ہے‘ اسحاق ڈار کو وزیر خارجہ بنایا گیا تو ہم جیسے لوگوں نے پھبتی کَسی کہ ڈار نے معیشت کے ساتھ جو کرنا تھا وہ تو کیا اس نئے محاذ پر کیا گُل کھلانے ہیں۔ لیکن غیر جانبدار نظروں سے دیکھا جائے تو ڈار بڑے بڑوں سے بہتر ثابت ہوئے ہیں۔ جس طریقے سے سارے فریقوں کو راضی رکھا ہے یہ کوئی چھوٹی بات نہیں۔ امریکی تو تکیہ کر ہی رہے تھے لیکن ایرانیوں کے احساسات کو مدنظر رکھنا اور پھر سعودیوں کو بھی اعتماد کے دائرے میں رکھنا یہ وزارتِ خارجہ کے لیے آزمائش تھی‘ جس پر ہمارے لوگ پورے اترے ہیں۔ امریکی تعریف کر رہے ہیں اور ایرانی بھی پاکستان کو اچھے لفظوں میں یاد کرتے ہیں۔ کل ہی ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی ایک پوسٹ تھی جس میں امریکہ کو تنبیہ تو تھی لیکن پاکستان کا ذکر بہت اچھے انداز میں تھا۔ کون تصور کر سکتا تھا کہ اسحاق ڈار سفارت کاری کے اس معیار پر پہنچیں گے لیکن مولا کے رنگ ہیں اور ایسا ہی ہوا ہے۔بنیادی مسئلہ البتہ وہی ہے کہ ایران نے تو اپنا تحفظ اور بچاؤ خود کر لیا امریکہ کو اس حماقت سے کیسے نکالا جائے۔ امریکہ کی اہمیت اس لیے ہے کیونکہ اس کی بیوقوفی کی وجہ سے ہم جیسے ممالک خواہ مخواہ رگڑے جا رہے ہیں۔ یہ پٹرول اور گیس کا جو بحران یہاں پیدا ہو رہا ہے اس کی وجہ امریکہ ہے۔ جنگ کی حماقت پر نہ نکلتا تو برادر عرب ممالک پر ایرانی حملے نہ ہوتے‘ گیس اور تیل کی پیداوار متاثر نہ ہوتی‘ آبنائے ہرمز ایران بند نہ کرتا اور تیل اور گیس کی ترسیل جیسے پہلے تھی جاری رہتی اور معاشی بحران جس سے ساری دنیا متاثر ہو رہی ہے اس کی لپیٹ میں ہم نہ آتے۔ جب تک امن کی کوئی صورت پیدا نہیں ہوتی اور ٹرمپ کو اپنی حماقت کے اثرات سے نہیں نکالا جاتا‘ معاشی بحران ختم نہیں ہو گا اور تیل اور گیس کی قیمتیں اوپر رہیں گی۔ یعنی صدر ٹرمپ کے اس بلنڈر سے ہمارا گہرا تعلق ہے اور جب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوتا ہم یوں ہی رگڑا کھاتے رہیں گے۔ گو یہ بحران گلوبل ہے یعنی پوری دنیا اس سے متاثر ہو رہی ہے ممکنہ حل یا مذاکرات کا بس ایک ہی ذریعہ ہے‘ پاکستان اور اس کے حکمران۔ جو بھی رابطے ہیں وہ پاکستان کے ذریعے زندہ ہیں۔ لیکن پاکستان کو ایک بات کے بارے میں بڑا کلیئر ہونا چاہیے کہ مسئلہ ایران نہیں ہے مسئلہ ڈونلڈ ٹرمپ اور اُن کا صدارتی محل ہے۔ لہٰذا قائل کرنا ایران کو نہیں بلکہ امریکہ کو ہے کہ اس جوہری ضد سے تھوڑا پیچھے ہٹے۔ ایران نے اس مسئلے پر بہت لچک دکھائی ہے یہاں تک کہ کچھ عرصے کے لیے یورینیم افزودگی کو ترک کرنے کا پیمان کیا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ جو افزودہ یورینیم کی مقدار اس کے پاس ہے اسے کمزور کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہاں تک تو ٹھیک ہے لیکن اس مسئلے پر ایران سرنڈر کرنے کے لیے تیار نہیں۔ یورینیم افزودگی کے حق سے محروم ہونے کا وہ اعلان نہیں کر سکتا نہ کرے گا۔ امریکی سمجھ میں اب تک یہ بات نہیں آ رہی اور وہ یہ رَٹ لگائی جا رہے ہیں کہ افزودگی کے حق سے ایران دستبردار ہو جائے۔ یہ نکتہ ہے جس پر پاکستان کو اپنی سفارت کاری کے کمالات دکھانے ہیں۔ ساتھ ہی یہ کاوش بھی قائم رہے کہ کہیں امریکی فرسٹریشن میں جنگ پھر نہ شروع ہو جائے۔ وہ جو کہتے ہیں نَکو نَک ہونا امریکی صدارتی محل کی یہ کیفیت بنی ہوئی ہے۔ اس جنگ میں امریکیوں اور اسرائیلیوں نے اپنے نقصانات کو بڑی مہارت سے چھپائے رکھا ہے۔ سی این این کی ایک حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ برادر عرب ملکوں میں جو امریکی اڈے قائم ہیں ان کا کتنا نقصان ہوا ہے۔ رپورٹ سنیں تو یقین نہیں آتا کہ امریکہ کی اتنی تباہی ہوئی۔ ریڈار تباہ‘ تنصیبات تباہ‘ سراغ رسانی کا ایک بڑا جہاز تباہ جس کی قیمت پانچ سو ملین ڈالر بتائی گئی ہے۔ تمام اڈے ناکارہ ہو چکے ہیں۔ اور جیسا کہ خبروں میں آتا رہا ہے دورانِ جنگ ان اڈوں پر تعینات فوجیوں کو ہوٹلوں میں منتقل ہونا پڑا۔ برادر ملکوں کا بھی کیا حال ہوا ہے‘ تحفظ کا تکیہ جن پر تھا وہ اپنا تحفظ نہ کر سکے۔ برادر ملک بھی سوچتے ہوں گے کہ اعتبار کس پر کیا۔ آج اس خطے کی ساری صورتحال بدل چکی ہے۔ تباہی تو ہر جگہ ہوئی لیکن یو اے ای والے ہمارے برادر سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ ان کا تو سارا معاشی ماڈل اس مفروضے پر قائم تھا کہ ان کا استحکام اور تحفظ کوئی شے متاثر نہ کر سکے گی۔ مختصر سی جنگ نے اس مفروضے کو ہوا میں اڑا دیا۔ ایئر پورٹ خالی‘ ٹورسٹ غائب اور بہت سا سرمایہ منتقل ہونے لگا۔ ملاحظہ تو ہو کہ کس ہتک آمیز انداز میں ایرانی میڈیا اور ایرانی حکام یو اے ای والوں کا ذکر کرتے ہیں۔ہمارے لوگ اب امریکیوں سے کھل کر کہیں کہ ہوش سنبھالو تاکہ اس دلدل سے نکل سکو۔ عزت مل تو گئی خاک میں لیکن جو بچی ہے اسے تو بچاؤ۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_80573045.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>اسلام آباد سیف سٹی کیمروں کے کمالات(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-05-06/51895/78617416</link><pubDate>Wed, 06 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-05-06/51895/78617416</guid><description>دو راتیں قبل اسلام آباد کے ایک پوش سیکٹر F-6/3 سے رات بارہ بجے سوات سے آئے تین افراد نے ایک 30سالہ نوجوان کو گھر کے باہر گاڑی سے اترتے وقت اغوا کر لیا۔ جب اس نوجوان نے شور مچایا تو اس کا والد باہر نکلا‘ دیگر محلے دار بھی باہر آگئے جس پر اغوا کاروں نے فائرنگ شروع کر دی اور نوجوان کو گاڑی میں ڈال کر فرار ہوگئے۔ جب یہ وقوعہ ہو رہا تھا تو ہمسائے کی ایک خاتون نے 15پر کال کر کے پولیس کو الرٹ کر دیا۔ اس کے بعد اسلام آباد پولیس نے کیا کارکردگی دکھائی وہ میں آپ کو بعد میں بتاتا ہوں۔ پہلے یہ جان لیں کہ اس شہر کو محفوظ بنانے کے نام پر اب تک کتنے کروڑ ڈالر خرچ کیے جا چکے ہیں۔ جی ہاں‘ میں کروڑوں روپوں کی نہیں بلکہ کروڑوں ڈالرز کی بات کر رہا ہوں جو سیف سٹی منصوبے کے تحت اس دعوے کے ساتھ خرچ کیے گئے تھے کہ اب یہ شہر  مکمل طور پر محفوظ ہو جائے گا اور یہاں چڑیا تک پر نہیں مار سکے گی۔ لیکن اب چڑیا کے پر تو چھوڑیں یہاں دن دہاڑے ڈکیتیاں اور اغوا عام ہو چکے ہیں۔ اس نوجوان کا رات بارہ بجے اغوا اور بعد ازاں قتل واضح مثال ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اور ان کے اعلیٰ حکام کی کارکردگی کی کیا صورتحال ہے۔ پورے واقعے کی تفصیل میں جانے سے پہلے یہ بتانا ضروری ہے کہ 2008ء میں پیپلز پارٹی کی حکومت میں جب رحمن ملک وزیر داخلہ بنے تو چینی حکام کے ساتھ مل کر ایک منصوبہ بنایا گیا کہ اسلام آباد کو جرائم سے پاک رکھنے کیلئے جدید ٹیکنالوجی کا سہارا لیا جائے۔ روایتی پولیسنگ کے طریقے اب ناکام ہو چکے ہیں اور نگرانی کے جدید نظام کی ضرورت ہے۔ اسی تناظر میں پہلی بار پاکستان میں سیف سٹی کا تصور سامنے آیا جس کے تحت شہرِ اقتدار میں کیمرے نصب کیے جانے تھے اور ان سب کو وزارتِ داخلہ میں قائم ایک مرکزی آپریشن روم سے منسلک کیا جانا تھا۔ اس نظام کا مقصد یہ تھا کہ شہر کے کسی بھی حصے میں ہونے والی واردات‘ گاڑی چوری یا کسی بھی مشکوک سرگرمی کی صورت میں فوری طور پر پولیس کو الرٹ کیا جائے اور کیمروں کے ذریعے ملزمان کا تعاقب کیا جا سکے۔ یہ وہی تصور تھا جو اکثر ہم ہالی وڈ فلموں میں دیکھتے آئے ہیں۔ اس معاملے میں چینی ٹیکنالوجی کو بہتر سمجھا گیا یا یوں کہہ لیں کہ ہمیں مرضی کی ڈیل وہیں سے مل سکتی تھی۔ابتدائی مرحلے میں چین سے دو سکینرز درآمد کیے گئے‘ جن میں سے ایک گولڑہ اور دوسرا روات کے قریب نصب کیا گیا تاکہ شہر میں دھماکا خیز مواد لے جانے والی گاڑیوں کا داخلہ روکا جا سکے۔ تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ یہ سکینرز کارگو سکیننگ کیلئے موزوں تھے نہ کہ شہری سکیورٹی کیلئے۔ اس لیے ان میں سے ایک سکینر کو ایک ادارہ اٹھا کر کراچی لے گیا کہ ہمیں یہاں ضرورت ہے اور یوں اسلام آباد د اس سہولت سے محروم ہو گیا۔ اس کے بعد مکمل سیف سٹی پراجیکٹ پر کام شروع ہوا جس کی لاگت تقریباً 140 ملین ڈالر ظاہر کی گئی۔ بعد ازاں اعتراضات سامنے آئے تو انکشاف ہوا کہ اصل لاگت تقریباً 75ملین ڈالر تھی مگر اسے دو گنا ظاہر کیا گیا۔ پھر اگلے مرحلے میں اس منصوبے کیلئے پیپرا قوانین سے استثنا حاصل کیا گیا تاکہ باضابطہ بڈنگ کے بغیر براہِ راست خریداری کی جا سکے۔ اس فیصلے نے شفافیت پر مزید سوالات کھڑے کر دیے۔ جب منصوبے پر عملدرآمد شروع ہوا تو ابتدا ہی سے ناقص میٹریل کے استعمال کی شکایات سامنے آنے لگیں۔ تاہم جیسے تیسے یہ منصوبہ مکمل ہوا اور کروڑوں ڈالر کے قرض سے سیف سٹی سسٹم نصب کر دیا گیا۔ توقع تھی کہ اس کے بعد جرائم میں کمی آئے گی‘ پولیس مزید فعال ہوگی اور شہر میں مؤثر نگرانی ممکن ہو سکے گی۔ لیکن چند ہی دنوں بعد سوشل میڈیا پر گاڑیوں میں بیٹھے مرد و خواتین کی تصاویر وائرل ہونا شروع ہو گئیںجو مبینہ طور پر انہی کیمروں سے لیک ہو رہی تھیں۔ اس پر شدید ردِعمل سامنے آیا کہ یہ نظام شہریوں کی حفاظت کے بجائے ان کی پرائیویسی کی خلاف ورزی کا ذریعہ بن رہا ہے۔ دوسری جانب گاڑیوں کی چوری کے واقعات کم ہونے کے بجائے بڑھ گئے اور شہر میں جرائم کی رفتار تیز تر ہو گئی۔ نہ سیف سٹی نظام کام آیا‘ نہ کیمرے اور نہ ہی پولیسنگ کا نظام بہتر ہوا۔اب ذرا حالیہ واقعہ دیکھ لیجیے جو اس نظام کی ناکامی کی ایک اور واضح مثال ہے۔ F-6/3‘ جو اسلام آباد کا ایک پوش علاقہ سمجھا جاتا ہے‘ وہاں ایک 30سالہ نوجوان کو اس کے والدین کے سامنے رات بارہ بجے تین مسلح افراد نے اغوا کیا۔ فائرنگ کی گئی‘ نوجوان کو گاڑی میں ڈالا گیا اور اغوا کار پورا اسلام آباد عبور کرتے اور موٹر وے سے گزرتے ہوئے مردان پہنچ گئے جہاں اسے قتل کر دیا گیا۔ یہ تمام منظر ایک ہمسائی دیکھ رہی تھی جس نے ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے فوری طور پر پولیس کی ایمرجنسی سروس 15پر اطلاع دی مگر افسوس کہ بروقت اطلاع کے باوجود نہ کوئی ناکہ بندی کی گئی‘ نہ سیف سٹی کیمروں کو مؤثر انداز میں استعمال کیا گیا۔ یہ نااہلی کی انتہا ہے کہ اطلاع ملنے کے باوجود قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذمہ داران میں ارادہ دکھائی دیتا ہے اور نہ ہی صلاحیت کہ وہ کسی گاڑی کو روک سکیں یا ملزمان کو گرفتار کر سکیں۔ F-6 سے موٹر وے تک کا فاصلہ بیس سے تیس منٹ کا ہے۔ اغوا کے وقت ہی کال کر دی گئی تھی مگر اس کے باوجود کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ یہ دارالحکومت کی پولیس کی کارکردگی ہے جس پر کسی بھی مہذب معاشرے میں متعلقہ افسران کو برطرف کر دیا جاتا اور وزیر مستعفی ہو جاتے۔میری اطلاعات کے مطابق اس کیس میں سوات سے تعلق رکھنے والے ایک پولیس کانسٹیبل کو گرفتار کیا گیا ہے جو ایک حاضر سروس ڈی ایس پی کا بیٹا ہے۔ اس نے صوابی سے تعلق رکھنے والی ایک لڑکی کے کہنے پر یہ اغوا اور قتل کا منصوبہ بنایا۔ مزید بتایا جا رہا ہے کہ اس لڑکی نے اس کانسٹیبل کو ہائر کیا اور دو کرائے کے قاتل سوات سے بلائے گئے۔ انہیں اسلام آباد کے F-11میں اپنے فلیٹ میں ٹھہرایا گیا جہاں سے مقتول کے گھر کی نشاندہی کی گئی۔ اغوا کے بعد یہ لڑکی بھی سوات روانہ ہوگئی اور راستے میں نوجوان کو قتل کر کے اس کی لاش موٹر وے کے قریب پھینک دی گئی۔ ذرائع کے مطابق اس پورے واقعے کے پیچھے اس لڑکی اور اس کے تین دوستوں کا ہاتھ ہے۔ میرے پاس اس حوالے سے مزید تفصیلات بھی ہیں مگر ان کا انکشاف اس خاندان کیلئے مزید اذیت کا باعث بن سکتا ہے‘ اس لیے بہتر ہے کہ باقی حقائق قانونی اور عدالتی فورمز پر سامنے آئیں۔اس وقت مردان سے تعلق رکھنے والی 19سالہ لڑکی اور ڈی ایس پی کا بیٹا گرفتار ہو چکے ہیں۔اب دوبارہ سیف سٹی اور پولیس کی کارکردگی پر آتے ہیں۔ اگر آپ کا مقصد واردات کے بعد کیمروں کی مدد سے نگرانی کرنا ہے تو پھر یہ نظام کسی حد تک کارآمد ہو سکتا ہے۔ مگر جب بروقت اطلاع کے باوجود ایک اغوا ہونے والے شخص کو شہر سے باہر لے جایا جائے اور آپ کچھ نہ کر سکیں تو پھر یہ نظام اپنی افادیت کھو دیتا ہے۔اگر رات بارہ بجے اطلاع مل جائے کہF-6 میں فائرنگ ہوئی ہے اور ایک نوجوان کو اغوا کر کے لے جایا جا رہا ہے تو کیا آپ کا کام صرف اگلے دن لاش برآمد کرنا ہے یا فوری کارروائی کرتے ہوئے شہر کے تمام خارجی راستوں کو سیل کر کے ملزمان کا تعاقب کرنا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت سیف سٹی کیمرے صرف قتل کے بعد تفتیش میں مدد دے سکتے ہیں‘ وہ کسی مغوی کو شہر سے نکلنے سے پہلے ٹریس کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔نہ پولیس کے پاس فوری رسپانس فورس موجود ہے اور نہ ہی وہ تکنیکی صلاحیت کہ اطلاع ملتے ہی مشکوک گاڑی کا پیچھا کر سکیں۔ ان خامیوں کا نتیجہ یہ ہے کہ اگلے دن وہ خاندان کو ان کے بیٹے کی لاش تو لا کر سکتے ہیں مگر اسے زندہ بازیاب نہیں کرا سکتے۔ابھی اسی پر اکتفا کریں۔ </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>زبان کا مسئلہ، ذریعۂ تعلیم کے سوال سے آگے(شاہد صدیقی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-siddiqui/2026-05-06/51896/72231453</link><pubDate>Wed, 06 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-siddiqui/2026-05-06/51896/72231453</guid><description>پاکستان میں جب بھی تعلیم اور زبان پر گفتگو ہوتی ہے تو عام طور پر ایک ہی سوال زیرِ بحث آتا ہے کہ ہمارا ذریعۂ تعلیم کیا ہونا چاہیے؟ انگریزی‘ اُردو یا مادری زبان؟ بظاہر یہ ایک سادہ سوال ہے مگر اتنا سادہ بھی نہیں۔ یہاں یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ زبان محض ابلاغ کا ذریعہ نہیں ہوتی بلکہ یہ ہماری سوچ کے انداز اور ہماری شناخت سے جڑی ہوتی ہے اور اس کا براہِ راست تعلق طاقت سے ہے۔ جس زبان کے بولنے والے برتر سماجی مرتبے کے مالک ہوں اور جس زبان کی Pragmatic Value زیادہ ہو وہ طاقتور زبان کہلاتی ہے۔ پاکستان میں انگریزی کی حیثیت اس بات کا واضح ثبوت ہے۔ انگریزی محض زبان نہیں بلکہ طاقت‘ اختیار اور مواقع کی علامت بن چکی ہے۔ جو لوگ اس زبان پر عبور رکھتے ہیں وہ ایسے سماجی دائرے میں داخل ہو جاتے ہیں جہاں ترقی کے مواقع نسبتاً آسانی سے دستیاب ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ والدین‘ چاہے ان کا تعلق کسی بھی طبقے سے ہو‘ اپنے بچوں کو انگریزی میڈیم سکولوں میں بھیجنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ ان کے ذہن میں یہ تصور راسخ ہو چکا ہے کہ انگریزی ہی کامیابی کی کنجی ہے۔ یہ خواہش اپنی جگہ قابلِ فہم ہے مگر اس کے اثرات پر سنجیدگی سے غور کرنا ضروری ہے۔ایک چھوٹا بچہ جب پہلی بار سکول جاتا ہے تو وہ اپنے ساتھ اپنی زبان‘ اپنے تجربات اور اپنی دنیا لے کر آتا ہے۔ مگر جب اسے ایک ایسی زبان میں تعلیم دی جاتی ہے جو اس کیلئے اجنبی ہو تو اسے بیک وقت دو سطحوں پر جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔ ایک طرف تو وہ نئے تصورات سیکھ رہا ہوتا ہے اور دوسری طرف ایک نئی زبان کو بھی سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ تصورات کو سمجھنے کے بجائے انہیں یاد کرتا ہے۔ اس کے ذہن میں الفاظ تو محفوظ ہو جاتے ہیں مگر ان کا مفہوم اس کی گرفت سے باہر رہتا۔ وہ امتحان میں رٹے کی مدد سے پاس ہو جاتا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ہمارا نظامِ تعلیم بھی رٹے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ سیکھنے کا عمل اس کے لیے ایک بوجھ بن جاتا ہے۔ وہ کمرۂ جماعت میں سوال کرنے سے ہچکچاتا ہے کیونکہ اسے زبان پر اعتماد نہیں ہوتا۔ یوں وہ کلاس میں اکثر خاموش رہتا ہے۔جب زبان سیکھنے میں رکاوٹ بن جائے تو تعلیم سب کیلئے یکساں مواقع فراہم نہیں کر سکتی۔ وہ بچے جو اپنے سماجی اور معاشی پسِ منظر کی بدولت پہلے سے انگریزی سے کسی حد تک واقف ہوتے ہیں دوسرے بچوں سے آگے نکل جاتے ہیں۔ یوں زبان کلاس روم میں ایک گہری تفریق کا باعث بنتی ہے‘ جو وقت کے ساتھ ساتھ مزید مضبوط ہو جاتی ہے۔ یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ انگریزی کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ یہ علم‘ تحقیق اور عالمی روابط کی ایک اہم زبان ہے لیکن مسئلہ انگریزی نہیں بلکہ سرکاری اور سماجی سطح پر ہمارا وہ رویہ ہے جس کی بدولت ہم نے دوسری زبانوں کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ تحقیق اور تجربے سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ بچے اپنی مادری زبان میں بہتر سیکھتے ہیں۔ مادری زبان وہ بنیاد فراہم کرتی ہے جس پر علم کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ جب بچہ اپنی زبان میں تصورات کو سمجھتا ہے تو اس کی سوچ میں گہرائی اور وسعت پیدا ہوتی ہے‘ اس کے برعکس جب یہ بنیاد کمزور ہو تو سیکھنے کا عمل سطحی رہ جاتا ہے۔ لیکن ہمارے ہاں مادری زبان کو وہ مقام نہیں دیا گیا جو اسے ملنا چاہیے تھا۔ اس کی ایک بڑی وجہ ہمارے اپنے سماجی رویے ہیں۔ ہم نے خو د ذہنی طور پر یہ تسلیم کر لیا ہے کہ اصل معیار انگریزی زبان ہے اور مقامی زبانیں کم تر ہیں۔ یہ رویہ محض لسانی نہیں‘ اس کی جڑیں نوآبادیاتی دور سے جا ملتی ہیں۔زبان کا تعلق شناخت سے بھی ہے۔ انسان اپنی زبان کے ذریعے دنیا کو سمجھتا ہے اور اپنی پہچان تشکیل دیتا ہے۔ جب بچے کو ایسی زبان میں تعلیم دی جاتی ہے جو اس کے گھر اور ماحول سے مختلف ہو تو وہ ایک طرح کی اجنبیت کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس کی اپنی زبان‘ اس کے تجربات اور اس کی ثقافت کلاس روم سے باہر رہ جاتے ہیں۔ یوں تعلیم ایک ایسا عمل بن جاتی ہے جو فرد کو اس کی جڑوں سے کاٹ دیتی ہے۔ اس تناظر میں ایک اور اہم پہلو ہماری قومی زبان اردو کی حیثیت ہے۔ اردو کو جس طرح ایک مضبوط علمی زبان کے طور پر فروغ دینا چاہیے تھا‘ وہ نہیں ہو سکا۔ اردو نہ تو مکمل طور پر ذریعۂ تعلیم بن سکی اور نہ ہی اسے جدید علم کی زبان بنانے کے لیے سنجیدہ اور منظم کوششیں کی گئیں۔ یہ ایک اہم نکتہ ہے جس پر توجہ دینا ضروری ہے۔ اگر ہم واقعی ایک متوازن لسانی نظام چاہتے ہیں تو اردو کو ایک فعال علمی زبان کے طور پر مضبوط کرنا ہوگا۔ اس کے لیے سب سے بڑی ضرورت ایک مؤثر اور مضبوط ترجمہ نظام کی ہے۔ ریاستی سطح پر ایسے ادارے قائم کیے جائیں جو جدید سائنسی‘ سماجی اور فکری علوم کو باقاعدگی کے ساتھ اردو میں منتقل کریں۔ جب تک جدید علم ہماری اپنی زبانوں میں دستیاب نہیں ہو گا تب تک زبان کا مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ دنیا کے کئی ممالک نے اپنی زبانوں کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے ہیں۔ انہوں نے ترجمے کے مضبوط نظام قائم کیے‘ نئی اصطلاحات وضع کیں اور اپنی زبانوں کو تحقیق اور علم کی زبان بنایا۔ ہمیں بھی اس سمت میں عملی اور مسلسل کوشش کی ضرورت ہے۔ یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ اگر ہم مادری زبان میں تعلیم کی بات کرتے ہیں تو ہمیں اس کے لیے وسائل بھی فراہم کرنا ہوں گے۔ صرف یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ ابتدائی تعلیم مادری زبان میں ہو۔ اس کے لیے نصاب‘ کتابیں اور اساتذہ کی تربیت سب کچھ اسی بنیاد پر ترتیب دینا ہو گا۔ ورنہ یہ محض ایک سیاسی نعرہ بن کر رہ جائے گا۔اس پس منظر میں چند عملی تجاویز سامنے آتی ہیں جو اس بحث کو آگے بڑھانے میں مدد دے سکتی ہیں۔ سب سے پہلے ابتدائی جماعتوں میں مادری زبان کو تدریس کا بنیادی ذریعہ بنایا جائے تاکہ بچے ایک مضبوط فکری بنیاد کے ساتھ اپنی تعلیمی زندگی کا آغاز کریں۔ اس کے ساتھ اردو کو ایک رابطے اور قومی ہم آہنگی کی زبان کے طور پر فروغ دیا جائے تاکہ مختلف لسانی اکائیاں ایک دوسرے سے جڑی رہیں۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ انگریزی کو ایک اہم زبان کے طور پر پڑھایا جائے مگر اسے اس انداز میں متعارف کرایا جائے کہ وہ سیکھنے میں مددگار ثابت ہو‘ نہ کہ رکاوٹ۔ انگریزی کو مہارت کے طور پر سکھایا جائے نہ کہ طاقت کے اظہار کے طور پر۔ تیسری تجویز یہ ہے کہ ریاستی سطح پر ایک جامع اور مؤثر ترجمہ نظام قائم کیا جائے۔ یونیورسٹیوں‘ تحقیقی اداروں اور پالیسی ساز اداروں کو اس عمل میں شامل کیا جائے تاکہ جدید علم تیزی کے ساتھ اردو اور دیگر مقامی زبانوں میں منتقل ہو سکے۔ اس کے بغیر زبان کی بحث ادھوری رہے گی۔ چوتھی بات اساتذہ کی تربیت سے متعلق ہے۔ اساتذہ کو کثیر لسانی (Multilingual) ماحول میں تدریس کے لیے تیار کرنا ہو گا۔ اور سب سے بڑھ کر ہمیں اپنے سماجی رویوں پر نظر ثانی کرنا ہوگی۔ جب تک ہم خود اپنی زبانوں کو عزت نہیں دیں گے اس وقت تک کوئی پالیسی مؤثر ثابت نہیں ہو سکتی۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ اپنی زبان میں سیکھنا کمزوری نہیں بلکہ فکری خود مختاری کی بنیاد ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_21538475.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>معرکۂ حق، پس منظر اور اثرات(سلمان غنی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/salman-ghani/2026-05-06/51897/40788557</link><pubDate>Wed, 06 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/salman-ghani/2026-05-06/51897/40788557</guid><description>تاریخِ انسانیت گواہ ہے کہ حق اور باطل کی جنگ ازل سے جاری ہے۔ کبھی یہ جنگ میدانِ بدر میں لڑی گئی‘ کبھی کربلا کے ریگزار میں‘ اور کبھی یہ معرکہ الفاظ‘ نظریات اور ریاستی بیانیوں کی صورت میں سامنے آیا۔ معرکۂ حق محض ایک فکر نہیں بلکہ ایک جدوجہد اور ایک مسلسل عمل کا نام ہے۔پاکستان کے تناظر میں یہ معرکہ اس لیے اہم ہے کہ جب گزشتہ برس پہلگام فالس فلیگ کی صورت میں بھارت کی جارحیت پر مبنی حکمتِ عملی اور دہشت گردی کے فروغ کی کوششیں تیز ہوئیں اور پاکستان کی دفاعی صلاحیت کو چیلنج کیا گیا تو بھارت کی جانب سے کئے گئے اشتعال انگیز اقدامات کے جواب میں پاکستان کی مسلح افواج نے دشمن کو ایسا دندان شکن جواب دیا جس کے بعد بھارت کی بدمعاشی خاک میں مل گئی اور اسے پوری دنیا میں خجالت کا سامنا کرنا پڑا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی متعدد مواقع پر اپنے بیانات میں بھارتی حکومت اور وزیراعظم نریندر مودی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ پاکستان کی دفاعی تاریخ میں درخشاں باب &#39;&#39;بنیانٌ مرصوص‘‘ علاقائی طاقت کے توازن میں ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔ پاکستانی افواج نے اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کے خلاف تاریخی کامیابی حاصل کی اور اقوامِ عالم میں ایک مضبوط اور باوقار عسکری طاقت کے طور پر ابھریں۔ افواجِ پاکستان نے دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا اور زمین‘ سمندر اور فضا میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔ یہ صرف ایک فوجی فتح نہیں بلکہ علاقائی طاقت کے توازن میں ایک فیصلہ کن پیش رفت تھی۔ معرکۂ حق نے قومی اتحاد‘ عزم اور جوش و ولولے کو بھی نئی جِلا بخشی۔ افواجِ پاکستان نے اس معرکے میں علاقائی سالمیت کا کامیاب دفاع کرتے ہوئے حب الوطنی‘ اتحاد اور قومی شناخت کے جذبے کو ازسرِ نو بیدار کیا۔ اقوامِ عالم میں پاکستان کے اصولی مؤقف اور افواجِ پاکستان کے کردار کو سراہا گیا۔ملکی سطح پر اگر جائزہ لیا جائے تو گزشتہ چند برسوں میں سیاسی تقسیم‘ معاشی بحران اور اداروں کے درمیان تناؤ نے ایک غیریقینی فضا پیدا کر دی تھی۔ عوام مہنگائی‘ بیروزگاری اور بنیادی سہولتوں کی کمی سے پریشان تھے جبکہ سیاسی قیادت باہمی کشمکش میں الجھی ہوئی تھی۔ ایسے میں معرکۂ حق نے قوم کو ایک نکتے پر لا کھڑا کیا اور اجتماعی وحدت کو تقویت دی۔ اس کامیابی کے پس منظر میں عسکری قیادت کا کردار خصوصی طور پر قابلِ ذکر ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں افواجِ پاکستان نے تدبر اور بصیرت کے ساتھ اس معرکے کو منطقی انجام تک پہنچایا۔ فضائی اور بحری افواج کے سربراہان کی پیشہ ورانہ ہم آہنگی اور مشترکہ حکمتِ عملی نے اس کامیابی کو یقینی بنایا۔ اسی طرح سیاسی قیادت نے بھی قومی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے اپنا کردار ادا کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے داخلی استحکام‘ سفارتی محاذ اور قومی یکجہتی کے فروغ میں اہم ذمہ داری نبھائی جبکہ وزارتِ خارجہ نے عالمی سطح پر پاکستان کا مؤقف مؤثر انداز میں پیش کیا اور سفارتی محاذ پر ملک کی نمائندگی کا حق ادا کیا۔ معرکۂ حق کے اثرات محض عسکری کامیابی تک محدود نہیں رہے بلکہ اس نے قومی سطح پر ایک نئی روح پھونک دی۔ حب الوطنی‘ اتحاد اور قومی شناخت کا جذبہ ازسرِ نو بیدار ہوا۔ سیاسی تقسیم اور معاشی مشکلات کے باوجود قوم ایک بیانیے پر متفق نظر آئی۔ یہ معرکہ اس حقیقت کا مظہر بن گیا کہ جب قومی سلامتی کا سوال ہو تو پاکستانی قوم ہر اختلاف سے بالاتر ہو کر متحد ہو جاتی ہے۔ معرکۂ حق کوئی لمحاتی جنگ نہیں بلکہ ایک مسلسل جدوجہد ہے‘ اور اس میں کامیابی کے لیے عام آدمی کا ریاست‘ ریاستی اداروں اور سیاسی قیادت کے ساتھ کھڑا رہنا ناگزیر ہے۔ قوموں کی تاریخ میں ایسے ادوار آتے ہیں جب جنگیں سرحدوں پر نہیں بلکہ بیانیوں کی صورت میں ملک کے اندر گھس کر لڑی جاتی ہیں۔ پاکستان اس وقت ایسے ہی ایک نازک مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں معرکۂ حق بندوق اور بارود سے زیادہ الفاظ‘ اطلاعات اور نظریات کے میدان میں جاری ہے۔ یہ معرکہ محض سیاسی کشمکش نہیں بلکہ ریاستی بقا‘ قومی شناخت اور عوامی شعور کی جنگ بن چکا ہے۔پاکستان کا معرکۂ حق ابھی ختم نہیں ہوا‘ یہ جاری ہے اور اب اس کا اصل میدان ذہن اور شعور ہے۔ اگر قوم متحد رہی‘ سچ کو پہچانا اور ریاستی استحکام کو ترجیح دی تو یہ معرکہ سر کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر ہم تقسیم‘ غلط معلومات اور ذاتی مفادات کا شکار ہو گئے تو یہ کامیابیاں عارضی ثابت ہو سکتی ہیں۔ خدا نہ کرے کہ ایسا ہو۔ تاریخ یہی بتاتی ہے کہ قومیں صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ اپنے شعور اور اتحاد سے فتح یاب ہوتی ہیں۔ افواجِ پاکستان اپنی پیشہ ورانہ صلاحیت‘ عزم اور جذبے کے ساتھ خدا اور عوام کی عدالت میں سرخرو ہو چکی ہیں۔ دنیا بھر میں یہ پیغام جا چکا ہے کہ پاکستان دفاعی اعتبار سے خود انحصاری کی منزل کی جانب گامزن ہے اور اب کسی بھی جارحیت سے قبل دشمن کو سو بار سوچنا پڑے گا۔معرکۂ حق میں تاریخی کامیابی کی صورت میں 10 مئی 2025ء سے شروع ہونے والی کامیابیوں کا تسلسل ابھی ختم نہیں ہوا۔ رواں برس جب ایران امریکہ جنگ نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا‘ عالمی امن کو خطرات لاحق ہوئے اور عالمی معیشت خصوصاً پٹرولیم کی قیمتوں پر اس کے اثرات نمایاں ہونے لگے‘ ایسے میں یہ واضح نہیں تھا کہ جنگ بندی کیسے ممکن ہوگی۔ یہ پاکستان ہی تھا جس نے نیک نیتی اور امن کے ساتھ وابستگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جنگ بندی کی کوششوں کا آغاز کیا۔ دلچسپ امر یہ تھا کہ متحارب قوتیں جہاں ایک دوسرے پر دباؤ ڈالنے کے لیے مختلف آپشنز استعمال کر رہی تھیں‘ وہیں انہوں نے پاکستان پر اعتماد کا اظہار بھی کیا۔ پاکستان کی ان کوششوں کو چین‘ سعودی عرب اور ترکیہ سمیت متعدد ممالک کی حمایت حاصل رہی۔ چین کے ترجمان نے واضح طور پر جنگ بندی کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا اور اس کے ثالثی کردار کی تائید کی۔ پاکستان نے بظاہر ناممکن کو ممکن بناتے ہوئے فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ وہ عمل تھا جسے عالمی سطح پر پذیرائی ملی اور بین الاقوامی میڈیا نے بھی پاکستان کے اس کردار کو سراہا۔ ماہرینِ عالمی امور کے مطابق پاکستان کی کامیابی کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ اسے امریکی قیادت تک رسائی حاصل تھی جبکہ ایرانی قیادت بھی علاقائی سطح پر اس پر اعتماد کرتی نظر آئی۔ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پاکستان ایک بالواسطہ مگر اہم کردار ادا کرتا دکھائی دیتا ہے‘ جہاں وہ غیر جانبدار حیثیت برقرار رکھتے ہوئے سہولت کار اور ثالث دونوں کی ذمہ داریاں نبھا رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں عالمی سطح پر پاکستان کی سفارتی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے اور سوائے بھارت کے‘ پوری دنیا اس کردار کی معترف نظر آتی ہے۔ تاہم پاکستان کیلئے سب سے بڑا چیلنج معیشت کا ہے۔ بدقسمتی سے ہم تقریباً آٹھ دہائیوں بعد بھی معاشی استحکام حاصل نہیں کر سکے اور معیشت اب بھی اپنے پاؤں پر کھڑی نہیں ہو سکی۔ ہمارا زیادہ تر انحصار قرضوں پر ہے اور ہم ترقی کے بجائے قرضوں کے حصول کو کامیابی سمجھنے لگے ہیں۔ یہ صورتحال سیاسی اور عسکری قیادت کیلئے ایک بڑا چیلنج ہے۔ عمومی رائے یہی ہے کہ اگر معاشی میدان میں سنجیدگی اختیار کی جائے تو علاقائی اور عالمی سطح پر سازگار حالات سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ اس کیلئے حکومت کو مؤثر پالیسی سازی اور انتظامی اصلاحات پر توجہ دینا ہوگی تاکہ معیشت کو درست سمت دی جا سکے۔ بلا شبہ پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال‘ دفاعی اعتبار سے مضبوط ہے اور عالمی سطح پر اس کی آواز سنی جا رہی ہے لیکن جب تک ہم کشکول توڑ کر خود انحصاری اور وقار کے ساتھ جینے کا عزم نہیں کریں گے معاشی استحکام حاصل نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا معرکۂ حق کی سالگرہ مناتے ہوئے ضروری ہے کہ ہم اپنی توجہ معیشت کی بہتری پر بھی مرکوز کریں کیونکہ معاشی خودمختاری کے بغیر عالمی سطح پر عزت و وقار کا حصول ممکن نہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/230_37874475.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے…(محمد حسن رضا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-hasan-raza/2026-05-06/51898/64716133</link><pubDate>Wed, 06 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-hasan-raza/2026-05-06/51898/64716133</guid><description>اسلام آباد کے طاقت کے مرکز میں واقع ایک پُرتعیش عمارت‘ رات کے اندھیرے میں پولیس کی بھاری نفری‘ دروازوں پر دستک‘ اور چند گھنٹوں میں گھر خالی کرنے کا حکم یہ منظر کسی فلم کا نہیں بلکہ حالیہ کارروائی کا ہے جس نے ایک بار پھر یہ سوال زندہ کر دیا ہے کہ کیا پاکستان میں قانون واقعی سب کے لیے برابر ہے یا اس کا اطلاق بھی حیثیت دیکھ کر بدل جاتا ہے؟ ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کا معاملہ بظاہر ایک قانونی تنازع ہے مگر اس کے گرد اٹھنے والی بحث محض ایک عمارت تک محدود نہیں رہی۔ یہ بحث ریاست‘ قانون‘ سرمایہ کاری‘ شہری حقوق اور طبقاتی تقسیم جیسے بڑے سوالات کو چھیڑتی ہے۔ اس منصوبے کی بنیاد 2004ء میں رکھی گئی تھی جب سی ڈی اے نے ایک نجی گروپ کو تقریباً 13.5 ایکڑ اراضی 99 سالہ لیز پر دی‘ مقصد ایک فائیو سٹار ہوٹل کی تعمیر تھا مگر چند برسوں میں اس منصوبے نے شکل بدل لی اور ہوٹل کے بجائے لگژری اپارٹمنٹس اور کمرشل یونٹس تعمیر ہو گئے۔ یہاں پہلا سوال پیدا ہوتا ہے اگر یہ تبدیلی قواعد کے خلاف تھی تو ابتدائی سات آٹھ سالوں میں متعلقہ ادارے کہاں تھے؟ تعمیرات آنکھوں کے سامنے ہوتی رہیں‘ سرمایہ کار آتے رہے‘ اپارٹمنٹس فروخت ہوتے رہے اور حکومتیں خاموش رہیں۔ پھر اچانک 2016ء میں لیز منسوخ کر دی گئی۔ معاملہ عدالتوں میں گیا اور 2019ء میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے کچھ شرائط کے ساتھ منصوبے کو ریلیف دے دیا جس میں اربوں روپے کی ادائیگی شامل تھی مگر یہ ادائیگیاں مکمل نہ ہو سکیں اور بالآخر 2023ء میں دوبارہ لیز منسوخی کی کارروائی شروع ہوگئی۔ یہ کہانی پاکستان میں پہلی بار نہیں دہرائی جا رہی۔ ماضی میں بھی ایسے کئی کیسز سامنے آئے جہاں ریاستی اداروں کی غفلت‘ تاخیر یا مفادات کے ٹکراؤ نے عام شہریوں کو نقصان پہنچایا۔ کراچی میں نسلہ ٹاور کی مثال سب کے سامنے ہے جہاں سپریم کورٹ کے حکم پر ایک مکمل رہائشی عمارت مسمار کر دی گئی۔ وہاں بھی سینکڑوں افراد نے قانونی دستاویزات کے ساتھ گھر خریدے تھے مگر آخرکار نقصان انہی کو اٹھانا پڑا۔ اسی طرح اسلام آباد میں ایک ریسٹورنٹ کا کیس بھی اہم ہے جہاں مارگلہ ہلز میں قائم معروف ریسٹورنٹ کو ماحولیاتی اور قانونی وجوہات کی بنیاد پر بند کیا گیا۔ اس سے پہلے بری امام نوری باغ کے علاقے میں تجاوزات کے خلاف آپریشن ہوا جہاں غریب آبادیوں کو مسمار کیا گیا۔ ان تمام مثالوں میں ایک چیز مشترک ہے‘ قانون کا نفاذ‘ مگر مختلف طبقات پر اس کا اثر مختلف ہے۔ اعداد و شمار اس تضاد کو مزید واضح کرتے ہیں۔ پاکستان میں شہری زمینوں سے متعلق تنازعات کے ہزاروں کیسز عدالتوں میں زیر التوا ہیں۔ کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا مؤقف ہے کہ وہ صرف عدالت کے احکامات پر عمل درآمد کر رہی ہے۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہو سکتی ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا قانون کا نفاذ صرف آخری مرحلے پر ہونا چاہیے؟ کیا ریگولیٹری اداروں کی ذمہ داری صرف یہ ہے کہ وہ خلاف ورزی ہونے دیں اور پھر برسوں بعد سخت ایکشن لے لیں؟ اس معاملے کا ایک اور اہم پہلو سرمایہ کاری کا ماحول ہے۔ ملک پہلے ہی معاشی دباؤ‘ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے اور کمزور سرمایہ کاری کے باعث مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں جب اربوں روپے کی پراپرٹی کو غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہو تو یہ بیرونی اور مقامی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کرتا ہے۔ عالمی بینک کی رپورٹس کے مطابق پاکستان میں پراپرٹی رائٹس اور کنٹریکٹ انفورسمنٹ پہلے ہی کمزور سمجھے جاتے ہیں۔ ایسے واقعات اس تاثر کو مزید مضبوط کرتے ہیں۔ مگر اس تصویر کا دوسرا رخ بھی ہے۔ اگر واقعی کسی منصوبے میں قواعد کی خلاف ورزی ہوئی ہے‘ زمین کا غلط استعمال ہوا ہے یا ریاستی وسائل کو نقصان پہنچا ہے تو کیا اسے صرف اس لیے نظر انداز کر دیا جائے کہ اس میں طاقتور افراد شامل ہیں؟ اگر قانون صرف غریب بستیوں تک محدود رہے اور اشرافیہ کے منصوبوں کو استثنیٰ ملتا رہے تو یہ خود ریاست کی ساکھ کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔ اسی تضاد نے سوشل میڈیا پر اس بحث کو جنم دیا ہے کہ &#39;غریبوں کے لیے قانون‘ اشرافیہ کے لیے استثنیٰ‘۔ مگر حقیقت شاید اس سے زیادہ پیچیدہ ہے۔ کئی بار ریاستی ادارے سیاسی دباؤ‘ بیوروکریٹک کمزوری یا قانونی پیچیدگیوں کے باعث بروقت فیصلے نہیں کر پاتے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جب کارروائی ہوتی ہے تو وہ اچانک‘ سخت اور متنازع بن جاتی ہے۔ یہاں ایک بنیادی اصلاح کی ضرورت سامنے آتی ہے: پیشگی نگرانی اور شفافیت۔ اگر کسی منصوبے کو ایک مخصوص مقصد کے لیے لیز دی گئی ہے تو اس کی باقاعدہ مانیٹرنگ ہونی چاہیے۔ اگر خلاف ورزی ہو تو ابتدائی مرحلے پر ہی کارروائی کی جائے نہ کہ اربوں کی سرمایہ کاری کے بعد۔ اسی طرح خریداروں کے تحفظ کے لیے واضح قوانین اور انشورنس میکانزم ہونا چاہیے تاکہ وہ ایسے تنازعات کا شکار نہ ہوں۔ دنیا کے دیگر ممالک میں اس مسئلے کا حل مختلف طریقوں سے نکالا گیا ہے۔ مثال کے طور پر دبئی میں رئیل اسٹیٹ ریگولیٹری اتھارٹی (RERA) ہر منصوبے کی سخت نگرانی کرتی ہے اور خریداروں کے پیسے مخصوص اکاؤنٹس میں رکھے جاتے ہیں تا کہ ان کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ سنگاپور میں بھی پراپرٹی قوانین انتہائی سخت اور شفاف ہیں جس کی وجہ سے وہاں ایسے تنازعات کم دیکھنے کو ملتے ہیں۔ پاکستان میں بھی اگر شہری منصوبہ بندی‘ قانون کے نفاذ اور ادارہ جاتی شفافیت کو بہتر بنایا جائے تو ایسے مسائل سے بچا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے صرف عدالتوں یا ایک ادارے کو ذمہ دار ٹھہرانا کافی نہیں بلکہ ایک مربوط نظام کی ضرورت ہے جس میں منصوبہ بندی سے لے کر عمل درآمد تک ہر مرحلہ واضح اور قابل احتساب ہو۔شاہراہ دستور پر کھڑی وہ عمارت صرف کنکریٹ اور شیشے کا ڈھانچہ نہیں بلکہ یہ پاکستان کے قانونی‘ معاشی اور سماجی نظام کا آئینہ ہے۔ یہ ہمیں دکھاتی ہے کہ ہمارے قوانین کیسے بنتے ہیں‘ کیسے نافذ ہوتے ہیں اور کس طرح ان کا اثر مختلف طبقات پر مختلف انداز میں پڑتا ہے۔ اگر اس واقعے سے کوئی مثبت نتیجہ نکل سکتا ہے تو وہ یہی ہے کہ ریاست‘ ادارے اور عوام سب مل کر اس سوال کا سنجیدگی سے جواب تلاش کریں۔ کیا ہم ایک ایسا نظام بنا سکتے ہیں جہاں قانون واقعی سب کے لیے برابر ہونہ صرف کاغذ پر بلکہ عملی طور پر بھی؟ اس صورتحال میں ایک پہلو جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا وہ وزیر داخلہ محسن نقوی کا مؤقف اور طرزِ عمل ہے۔ ان کے بیانات میں مسلسل یہ بات دہرائی گئی ہے کہ ریاستی رِٹ کا قیام اور عدالتوں کے احکامات پر بلا امتیاز عمل درآمد ہی ان کی اولین ترجیح ہے‘ خواہ معاملہ کسی طاقتور طبقے سے ہی کیوں نہ جڑا ہو۔ اگر اس کارروائی کو اسی تناظر میں دیکھا جائے تو یہ ایک ایسے رجحان کی نشاندہی بھی کرتی ہے جہاں کم از کم پالیسی سطح پر یہ پیغام دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ قانون کا اطلاق صرف کمزور طبقات تک محدود نہیں رہے گا۔ ناقدین اپنی جگہ سوال اٹھا سکتے ہیں مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ایسے حساس اور متنازع معاملات میں فیصلہ کن عملدرآمد اکثر سیاسی قیمت مانگتا ہے اور اس کے باوجود کارروائی کرنا اس بات کی علامت سمجھا جا سکتا ہے کہ ریاستی ادارے‘ کم از کم اس مرحلے پر‘ قانونی عملداری کو ترجیح دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/229_33941343.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ایفائے عہد(علامہ ابتسام الہٰی ظہیر )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-05-06/51899/85352631</link><pubDate>Wed, 06 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-05-06/51899/85352631</guid><description>کسی بھی معاشرے کے استحکام کیلئے زبان سے کہی ہوئی بات پر پورا اترنا انتہائی ضروری ہے۔ ایفائے عہد کی وجہ سے زندگی کے تمام معاملات آسانی سے آگے بڑھتے ہیں اور اگر وعدہ خلافی کی جائے تو بہت سے معاملات ادھورے رہ جاتے اور بدگمانیاں جنم لیتی ہیں۔ اس وقت ہمارے معاشرے میں وعدے کو حیلے بہانے یا ٹال مٹول کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور تمام شعبوں سے وابستہ بہت سے لوگ وعدہ خلافیاں کرتے ہیں۔ کاروبار میں عام طور پر وعدہ اس لیے کیا جاتا ہے کہ وقتی طور پر پیسے کا تقاضا کرنے والوں سے جان چھڑا لی جائے اور وعدہ کرتے وقت نیت مقررہ تاریخ پر پیسے ادا کرنے کی نہیں ہوتی۔ کئی مرتبہ معاشرتی حوالے سے بھی وعدہ خلافی کی جاتی ہے یہاں تک کہ اکثر اوقات شوہر اور بیوی بھی ایک دوسرے سے وعدہ خلافی کر جاتے ہیں۔ اسی طرح کئی مرتبہ والدین اپنی اولاد کے ساتھ اور اولاد اپنے والدین کے ساتھ وعدہ خلافی کرتی ہے۔ بہت سے سیاستدان بھی لوگوں کے ساتھ وعدہ خلافی کرتے ہیں اور انتخابی مہم کے دوران کیے گئے وعدوں کو فقط ووٹ لینے کیلئے استعمال کرتے اور منتخب ہونے کے بعد اُن وعدوں کو مکمل طور پر فراموش کر دیتے ہیں۔ بہت سے نوجوان نکاح کا وعدہ کر کے خواتین کو جھانسا دیتے اور ان کی عزت کو پامال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔بہت سے لوگ اللہ تبارک وتعالیٰ کے ساتھ کسی نعمت کے حصول پر اچھے عمل کا وعدہ کرتے ہیں لیکن نعمت کے مل جانے کے بعد وعدے کو فراموش کر دیتے ہیں۔ اسی قسم کے ایک وعدے کا ذکر سورۃ التوبہ کی آیات: 75 تا 77 میں کچھ یوں کیا گیا ہے: &#39;&#39;ان میں وہ بھی ہیں جنہوں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ اگر وہ ہمیں اپنے فضل سے مال دے گا تو ہم ضرور صدقہ وخیرات کریں گے اور پکی طرح نیکوکاروں میں ہو جائیں گے۔ لیکن جب اللہ نے اپنے فضل سے انہیں دیا تو یہ اس میں بخیلی کرنے لگے اور ٹال مٹول کرکے منہ موڑ لیا۔ پس اس کی سزا میں اللہ نے ان کے دلوں میں نفاق ڈال دیا‘ اللہ سے ملنے کے دنوں تک‘ کیونکہ انہوں نے اللہ سے کیے ہوئے وعدے کے خلاف کیا اور کیونکہ (یہ) جھوٹ بولتے رہے‘‘۔ یہ رویے انتہائی افسوسناک ہیں۔ ہمیں ہر صورت وعدوں کو پورا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور کسی وقتی مصلحت‘ مفاد یا خوف کی وجہ سے وعدہ خلافی نہیں کرنی چاہیے۔وعدے کی اہمیت کو کتاب وسنت میں انتہائی وضاحت کے ساتھ اجاگر کیا گیا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۂ بنی اسرائیل کی آیت: 34 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;اور وعدے پورے کرو کیونکہ قول وقرار کی باز پرس ہونے والی ہے‘‘۔ اسی طرح اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۃ المائدہ کی پہلی آیت میں ارشاد فرمایا: &#39;&#39;اے ایمان والو! عہد وپیماں پورے کرو‘‘۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے وعدے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے سورۃ الانعام کی آیت: 152 میں ارشاد فرمایا: &#39;&#39;اور اللہ سے جو عہد کیا اس کو پورا کرو‘‘۔ ان تمام آیات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو اپنے وعدے کی بہرصورت پابندی کرنی چاہیے اور اگر انسان اس حوالے سے ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کرتا تو اس کو اللہ تبارک وتعالیٰ کی بارگاہ میں جو اب دہ ہونا پڑے گا۔احادیث مبارکہ میں بھی وعدے کی اہمیت کو نہایت خوبصورت انداز سے اجاگر کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے چند اہم احادیث درج ذیل ہیں:صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ &#39;&#39;منافق کی تین علامتیں ہیں: جب بات کرے جھوٹ بولے‘ جب وعدہ کرے اس کے خلاف کرے اور جب اس کو امین بنایا جائے تو خیانت کرے‘‘۔ صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا &#39;&#39;چار خصلتیں ایسی ہیں کہ جس شخص میں بھی وہ ہوں گی وہ منافق ہو گا۔ یا ان چار میں سے اگر کوئی ایک خصلت بھی اس میں ہے تو اس میں نفاق کی ایک خصلت ہے‘ یہاں تک کہ وہ اسے چھوڑ دے۔ جب بولے تو جھوٹ بولے‘ جب وعدہ کرے تو پورا نہ کرے‘ جب معاہدہ کرے تو بے وفائی کرے‘ اور جب جھگڑے تو بدزبانی پر اتر آئے‘‘۔ صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے بتلایا کہ &#39;&#39;اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ تین قسم کے لوگ ایسے ہیں کہ جن کا قیامت کے روز میں خود مدعی بنوں گا۔ ایک تو وہ شخص جس نے میرے نام پہ عہد کیا اور پھر وعدہ خلافی کی۔ دوسرا وہ جس نے کسی آزاد آدمی کو بیچ کر اس کی قیمت کھائی۔ اور تیسرا وہ شخص جس نے کسی کو مزدور کیا‘ پھر کام تو اس سے پورا لیا لیکن اس کی مزدوری نہ دی‘‘۔ صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ (شام میں قیصرِ روم کے دربار میں)ہرقل نے ان (ابوسفیان) سے پوچھا کہ وہ (محمدﷺ) تمہیں کس بات کا حکم دیتے ہیں تو انہوں نے بتایا کہ وہ نماز‘ راست گوئی‘ پاکدامنی‘ عہد کے پورا کرنے اور امانت کے ادا کرنے کا حکم دیتے ہیں اور یہ نبی کریمﷺ کی صفات ہیں۔ احادیث مبارکہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ نبی کریمﷺ جب کسی سے وعدہ کرتے تو آپﷺ اُس کو ضرور پورا فرماتے۔ اس حوالے سے صحیح بخاری میں مشہور تابعی حضرت سعیدؒ بن جبیر سے روایت ہے کہ حیرہ کے یہودی نے مجھ سے پوچھا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے (اپنے مہر کے ادا کرنے میں) کون سی مدت پوری کی تھی؟ ( یعنی آٹھ سال یا دس سال‘ جن کا قرآن میں ذکر ہے) میں نے کہا کہ مجھے معلوم نہیں‘ ہاں! عرب کے بڑے عالم کی خدمت میں حاضر ہو کر پوچھ لوں (تو پھر تمہیں بتا دوں گا) چنانچہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ موسیٰ علیہ السلام نے بڑی مدت پوری کی (یعنی دس سال کی) جو دونوں مدتوں میں بہتر تھی۔ رسول اللہﷺ بھی جب کسی سے وعدہ کرتے تو ضرور پورا کرتے تھے۔انسان کئی مرتبہ کسی سے پختہ عہد کرتا ہے لیکن زندگی اُس شخص کو اپنا وعدہ پورا کرنے کی مہلت نہیں دیتی تو ایسی صورت میں انسان کے لواحقین اور ورثا کو اپنے سرپرست اور پیشوا کے کیے ہوئے وعدے کو پورا کرنا چاہیے۔ اس حوالے سے صحیح بخاری میں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ کے وصال کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس (بحرین کے عامل) حضرت علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کی طرف سے مال آیا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اعلان کرا دیا کہ جس کسی کا بھی نبی کریمﷺ پر کوئی قرض ہو یا آنحضرتﷺ کا اس سے وعدہ ہو تو وہ ہمارے پاس آئے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اس پر میں نے ان سے کہا کہ مجھ سے رسول اللہﷺ نے وعدہ فرمایا تھا کہ آپﷺ اتنا مال مجھے عطا فرمائیں گے۔ چنانچہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے تین مرتبہ اپنے ہاتھ بڑھائے اور میرے ہاتھ پر پانچ سو‘ پھر پانچ سو اور پھر پانچ سو (اشرفیاں) گن دیے۔مندرجہ بالا آیات اور احادیث مبارکہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ وعدے کو پورا کرنا ہر مسلمان کیلئے ازحد ضروری ہے اور کوئی بھی مومن ومسلمان کسی دوسرے کے ساتھ‘ کسی بھی صورت میں وعدہ خلافی پر آمادہ وتیار نہیں ہوتا۔ چنانچہ ہمیں بہرصورت اللہ تبارک وتعالیٰ سے ڈرتے ہوئے اپنے وعدوں کو پورا کرنا چاہیے۔ ہمیں وعدوں کی اہمیت کو صحیح طور پر سمجھنا چاہیے اور اس کو حیلے اور ٹال مٹول کیلئے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ دعا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کو اپنے وعدوں اور قول و قرار کو پورا کرنے کی توفیق دے‘ آمین!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_19740082.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>