<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>ہم کہاں کھڑے ہیں(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-16/11457</link><pubDate>Sun, 16 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-16/11457</guid><description>پاکستان اپنی آزادی کے 79برس مکمل کر کے 80ویں سال میں داخل ہو چکا ہے۔ پہلی صدی کی تکمیل میں اب صرف 21برس باقی ہیں۔ یہ وہ مرحلہ ہے جب کسی بھی ملک کو اپنے سفر کا سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہیے کہ وہ کہاں سے چلا‘ کہاں پہنچا ہے اور اگلی منزل کیا ہونی چاہیے۔ آٹھویں دہائی تک آتے آتے ملک عموماً تجربات کے دور سے نکل کر استحکام کی سطح پر پہنچ جاتے ہیں مگر ہمارے ہاں مسائل بدستور وہی ہیں جو کئی دہائیاں پہلے تھے۔ مہنگائی‘ بے روزگاری‘ صحت اور تعلیم پر ناکافی اخراجات‘ بنیادی سہولتوں کا فقدان اور غیرمعمولی تیزی سے بڑھتی آبادی۔ ہم اس حال میں ملک کی آٹھویں دہائی کے آخری سال کا آغاز کر چکے ہیں کہ ڈھائی کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ پانچ سال سے کم عمر کے 40فیصد بچے سٹنٹنگ کا شکار ہیں۔ غربت کی شرح ورلڈ بینک کے اشاریے (یومیہ 4.2ڈالرآمدنی) کے مطابق 48فیصد اور اکنامک سروے 2025-26ء کے مطابق 29فیصد ہے۔ ہیومن ڈویلپمنٹ انڈکس میں پاکستان 193ممالک میں 168ویں نمبر پر ہے۔ گلوبل ہنگر انڈکس میں 123ممالک میں 106ویں نمبر پر۔ رُول آف لاء میں 143میں 130پر۔ سکول سے باہر بچوں کی تعداد کا ذکر تو ہو چکا مگر ان بچوں کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا جو سکولوں میں ہیں مگر معیاری تعلیم سے محروم ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق تیسری جماعت کے صرف سات فیصد بچے دوسری جماعت کی کہانی پڑھ سکتے ہیں اور صرف آٹھ فیصد دو ہندسوں کی تقسیم کر سکتے ہیں۔ ملک کی آبادی میں 79برس میں سات گنا اضافہ ہو چکا ہے اور آبادی میں نوجوانوں کی شرح تقریباً 65فیصد ہے۔ یہ وہ طبقہ ہے جن کی تعلیم و تربیت‘ صحت اور صلاحیتوں کی ترقی پر خرچ کیا جائے تو یہ ملک کا سب سے اہم اثاثہ ہیں مگر نوجوانوں کی تعلیم و تربیت اور صلاحیت پر ضرورت کے مطابق خرچ نہیں ہو رہا۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور غربت کا اثر تعلیم‘ صحت اور خوراک پر سب سے زیادہ ہے‘ جس کے اثرات ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں میں کمی کی صورت میں سامنے آرہے ہیں۔ اس وقت جب ہم ملک کی پہلی صدی کی تکمیل سے صرف دو دہائیوں کے فاصلے پر ہیں یہ فیصلہ کن وقت ہے یہ طے کرنے کا کہ 14اگست 2047ء کو جب پاکستان اپنا صد سالہ یوم آزادی منائے گا تو ہم کس قسم کا پاکستان دنیا کے سامنے لانا چاہتے ہیں۔ کیا ہم مسائل کے اسی بوجھ کے ساتھ پاکستان کی پہلی صدی کی تکمیل چاہتے ہیں یا ترقی یافتہ‘ روشن خیال اور عالمی معیشت میں اہم شراکت دار ملک چاہیے؟
فیصلہ پاکستانی قوم اور اس کے حکمرانوں کے ہاتھ میں ہے۔ یقینا کوئی بھی نہیں چاہے گا کہ افلاس‘ بیماریوں‘ تعلیمی زوال اور معاشی کسمپرسی کے حالات یونہی برقرار رہیں۔ مگر اس کیلئے عہد اور اس کی پاسداری کرنا ہو گی۔ سب سے پہلا اور بنیادی قدم یہ ہونا چاہیے کہ ہماری سمت درست ہو اور ان بنیادی رکاوٹوں کا ادراک کیا جائے جو ہماری مشکلات کا سبب ہیں۔ ہمیں دنیا کی مثالوں سے بھی سیکھنا ہو گا۔ ہم چین کی مثال دے سکتے ہیں کہ انہوں نے چار دہائیوں میں 80کروڑ لوگوں کو غربت سے نکالا یا جنوبی کوریا نے ہمارے پنج سالہ ترقیاتی ماڈل سے فائدہ اٹھایا اور آج وہ کہاں پہنچ چکا ہے یا سنگاپور‘ ماہی گیروں کی بدحال بستی کس پستی سے ابھری اور کس بلندی کو جا پہنچی۔
یہ ترقی کی مثالیں قائدانہ صلاحیتوں‘ درست فیصلوں اور حالات کی پرکھ کا نتیجہ ہیں۔ اس کے برعکس ہمارے ہاں اختیارات پر گرفت اور من مرضی کی حکمرانی کا رواج رہا۔ پاکستان کو اس جمود سے نکالنے کیلئے کچھ فیصلے بنیادی اہمیت کے حامل ہیں۔ چھوٹے انتظامی یونٹس کا قیام‘ وسائل اور اختیارات کی منصفانہ تقسیم‘ عوامی صلاحیتوں پر سرمایہ کاری‘ غیر ترقیاتی اخراجات میں فیصلہ کن کٹوتی اور سیاسی تنوع اور قومی ہم آہنگی کا ماحول ہی ہمیں اس قابل بنا سکتا ہے کہ ملکِ عزیز کے صد سالہ جشن آزادی تک ان مسائل سے نکل پائیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>جعلی زرعی ادویات(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-16/11456</link><pubDate>Sun, 16 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-16/11456</guid><description>ایک خبر کے مطابق محکمہ پیسٹ وارننگ اور کوالٹی کنٹرول نے ملتان میں کارروائی کے دوران 43750کلوگرام جعلی و غیرقانونی زرعی ادویات قبضے میں لیں جبکہ سات ملزمان کو گرفتار بھی کیا گیا۔ اس وقت ملک میں جعلی اور غیر معیاری زرعی ادویات کا کاروبار تشویشناک حد تک پھیل چکا ہے۔ کسان پہلے ہی مہنگی کھاد‘ بیج‘ زرعی مشینری‘ پانی اور دیگر مداخل کی بڑھتی ہوئی لاگت کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ وہ اپنی محدود آمدنی میں سے ہزاروں روپے خرچ کرکے فصلوں کو بیماریوں اور کیڑوں سے بچانے کے لیے ادویات خریدتا ہے مگر جب یہی ادویات جعلی نکلیں تو یہ فصل بچانے کے بجائے مزید نقصان کا سبب بن جاتی ہیں۔نتیجتاً فصل کو نقصان پہنچنے کے ساتھ کسان کی مہینوں کی محنت‘ سرمایہ اور امیدیں بھی خاک میں مل جاتی ہیں۔

اگر حکومتی کارروائیوں کے باوجود جعلی زرعی ادویات کا دھندہ پھیلتا جا رہا ہے ‘ اس کا مطلب صاف ہے کہ کہیں نہ کہیں نگرانی کے موجودہ نظام میں کمزوری موجود ہے۔ سخت سزائیں نہ ہونے کے باعث اس کاروبار میں ملوث عناصر چند ہفتوں یا مہینوں میں چھوٹ کر دوبارہ کسانوں کا استحصال شروع کر دیتے ہیں۔ زراعت اور غذائی تحفظ کو جعلی ادویات بنانے والوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ حکومت کو چاہیے کہ کھادوں اور زرعی ادویات کی باقاعدہ جانچ یقینی بنائی جائے اور جعلی ادویات فروخت کرنے والوں اور تیار کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>افسوسناک ٹریفک حادثات(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-16/11455</link><pubDate>Sun, 16 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-16/11455</guid><description>گزشتہ روز لاہور میں ایک کار ڈرائیور کی تیز رفتاری کے باعث کار میں سوار تین نوجوانوں سمیت پانچ افراد جان کی بازی ہار گئے۔ ٹریفک قوانین پر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث روڈ حادثات معمول بن چکے اور سڑکیں غیر محفوظ ہو چکی ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 14 اگست کو پنجاب بھر میں تقریباً 1900 ٹریفک حادثات میں 16 افراد جاں بحق اور 2100 سے زائد زخمی ہوئے‘ جن میں اکثریت موٹر سائیکل سواروں کی تھی۔ یومِ آزادی جیسے قومی تہوار کو بعض موٹر سائیکل سواروں نے خطرناک کرتب اور قانون شکنی کا موقع بنا لیا۔ ون ویلنگ‘ تیز رفتاری‘ بغیر ہیلمٹ موٹر سائیکل چلانا اور ٹریفک اشاروں کی خلاف ورزی نہ صرف خود سواروں بلکہ سڑک پر چلنے والے دوسرے شہریوں کی جانوں کو بھی خطرے میں ڈالتی ہے۔

بعض نوجوان چند لمحوں کی داد اور نمائش کے لیے اپنی اور دوسروں کی زندگیاں داؤ پر لگا دیتے ہیں۔ آزادی کے جشن سمیت کوئی بھی تہوار دوسروں کی زندگی خطرے میں ڈال کر منانا کسی طور قابلِ قبول نہیں۔ ٹریفک پولیس کو ایسے عناصر کیخلاف بلاامتیاز کریک ڈاؤن کرنا چاہیے۔ والدین بھی بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔ کم عمر یا ناتجربہ کار بچوں کے ہاتھ میں گاڑی کی چابی دینا انکی اور دوسروں کی زندگی کو خطرے میں ڈالنا ہے۔ والدین کو کم عمر بچوں کو قانونی عمر‘ تربیت اور لائسنس کے تقاضے پورے کرنے کا پابند بنانا چاہیے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>موج ہے دریا میں(مجیب الرحمٰن شامی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mujeeb-ur-rehman-shami/2026-08-16/52489/15182941</link><pubDate>Sun, 16 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mujeeb-ur-rehman-shami/2026-08-16/52489/15182941</guid><description>پاکستان ماشاء اللہ 79 برس کا ہو گیا۔ اس کی سالگرہ بڑے جوش و خروش سے منائی گئی۔ پورا ملک بقعۂ نور بنا رہا۔ اسلام آباد میں ایک بڑا اجتماع منعقد ہوا‘ گزشتہ سال برپا ہونے والے معرکۂ حق کی &#39;&#39;یادگارِ فتح‘‘ کی نقاب کشائی ہوئی جسے چند ماہ میں تعمیر کر کے ایک نیا ریکارڈ قائم کیا گیا ہے۔ یہ عظیم الشان عمارت ہمیں یاد دلاتی رہے گی کہ پاکستان کی بہادر مسلح افواج نے کس طرح چند روز میں اپنے سے کئی گنا بڑے حملہ آور کا منہ توڑ کر دکھایا تھا۔ صدرِ پاکستان جناب آصف علی زرداری اور وزیراعظم جناب شہباز شریف نے زور دار تقریریں کیں۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ مل کر پرچم کشائی کی اور پاکستان کی حفاظت کے لیے کمر بستہ رہنے کا عزم دوہرایا۔ اس سال 14اگست کو نئی شان و شوکت اس لیے بھی عطا ہو گئی کہ چند ہی روز پہلے سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ پاکستان کے ایک تاریخی دفاعی معاہدے پر دستخط ہوئے تھے‘ تینوں ملکوں نے &#39;&#39;یک جائی‘‘ کا اعلان کرتے ہوئے دنیا بھر کو بتا دیا تھا کہ کسی ایک پر حملہ تینوں پر حملہ تصور ہو گا۔ کسی ایک ملک کی طرف میلی آنکھ سے دیکھا گیا تو تینوں ملک ایک ہو کر دیکھنے والے کی آنکھ سے میل نکال دیں گے۔ برصغیر کے مسلمانوں نے اپنے لیے ایک الگ وطن کی تحریک چلائی تو اس کا ایک ہدف &#39;&#39;اتحادِ عالمِ اسلام‘‘ بھی تھا۔ عہد کیا گیا تھا کہ اپنی زمین حاصل کرنے کے بعد پورے عالمِ اسلام کے اتحاد کے لیے کوشش ہو گی۔ &#39;&#39;نیل کے ساحل سے لے کر تابخاکِ کاشغر‘‘ ایک ہونے کا جو خواب شاعر مشرق نے دیکھا تھا‘ اس کی تعبیر حاصل کی جائے گی۔ پاکستان اپنے قیام کے اوّل روز ہی سے مسلم اُمہ کو یک جا کرنے کی آرزو میں سرگرداں رہا ہے اور اس کے لیے اس نے مسلسل کوششیں جاری رکھی ہیں۔ 1974ء میں لاہور میں اسلامی سربراہی کانفرنس کا انعقاد اس حوالے سے ایک انتہائی اہم پیش رفت کے طور پر یاد رکھا جاتا ہے۔ &#39;&#39;او آئی سی‘‘ (آرگنائزیشن آف اسلامک کوآپریشن) اگرچہ ایک ڈھیلی ڈھالی تنظیم ہے لیکن مسلمانانِ عالم کی یک جائی کا تصور زندہ رکھے ہوئے ہے۔ &#39;&#39;مکہّ دفاعی معاہدہ‘‘ میں اگر دوسرے مسلمان ملک بھی شریک ہوتے گئے تو اس سے دنیا کے نقشے پر ایک مؤثر بلاک ابھر آئے گا۔ گزشتہ چند عشروں میں مسلمان ملکوں کو جس طرح تاراج کیا گیا‘ وہ تاریخ کا انتہائی شرمناک باب ہے۔ افغانستان پر سوویت یلغار کے بعد عراق‘ لیبیا اور شام کی جو درگت بنائی گئی‘ اس کی تفصیل رونگٹے کھڑے کر دینے والی ہے۔ امریکہ بہادر نے انہیں جی بھر کر لوٹا‘ ان کی فوجی صلاحیت کو نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ ان کی معیشتوں کو بھی جیب میں ڈال لیا۔یہ درست ہے کہ ہر مسلمان ملک کا اپنا نظام‘ اپنی خارجہ پالیسی اور اپنے مسائل ہیں۔ پہلی جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد سلطنتِ عثمانیہ کی جو بندر بانٹ کی گئی‘ اس کے اثرات گہرے اور دیرپا ہیں‘ انہیں ابھی تک مندمل نہیں کیا جا سکا۔ تقسیم ہونے والوں کو پرانی صورت میں بحال کرنا کسی کے بس میں نہیں رہا کہ ہر ملک اپنی شناخت کی محبت میں مبتلا ہو چکا ہے۔ اسی لیے علامہ اقبالؒ نے مسلمان ملکوں کی &#39;&#39;اقوام متحدہ‘‘ کا تصور پیش کیا تھا۔ آزاد اور خود مختار رہتے ہوئے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون‘ ایک دوسرے کا دفاع اور ایک دوسرے کا ساتھ۔&#39;&#39;مکہّ دفاعی معاہدہ‘‘ اس سمت ایک بڑا اقدام ہے‘ اس پر تینوں ملکوں میں اظہارِ مسرت دیدنی ہے۔ پاکستان ایٹمی طاقت ہے‘ اس کی افواج کی صلاحیت اور مہارت کا لوہا سب مانتے ہیں۔ ترکیہ کی اپنی توانائی ہے‘ سعودیہ کی اپنی شان ہے۔ یہ تینوں ایک دوسرے کی طاقت بن کر نئی تاریخ رقم کر سکتے ہیں اور کر رہے ہیں۔ پاکستان کے لوگ جہاں اس کامیابی پر سرشار ہیں وہاں اس کے اندر برپا شورشیں بھی اپنی طرف متوجہ کر رہی ہیں۔ یہ بات بھلائی نہیں جا سکتی کہ پاکستان اپنے اس جغرافیے کی حفاظت نہیں کر سکا جو تحریک پاکستان نے اسے عطا کیا تھا۔ 1971ء میں بنگلہ دیش کا قیام ہماری اجتماعی زندگی پر ایک بڑے سوالیہ نشان کے طور پر آج بھی موجود ہے۔ یہ درست ہے کہ بنگلہ دیش سے ہمارے رشتے ناتے بحال ہو رہے ہیں‘ سانجھے مستقبل کی تعمیر کے لیے سرگرمیاں جاری ہیں لیکن جو کچھ ایک دوسرے کے ساتھ کیا جا چکا ہے‘ وہ ڈراؤنے خواب کی طرح  لرزا دیتا ہے۔ اس سانحے کا یہ سبق ہر لمحہ یاد رکھنا چاہیے کہ داخلی استحکام کے تقاضے نظر انداز کرنا اپنے آپ کو موت کے منہ میں دھکیلنا ہے۔ آج پاکستان میں جو کچھ ہو رہا ہے‘ وہ ہمارے پاؤں کی زنجیر بن سکتا ہے۔ دہشت گرد دندناتے پھر رہے ہیں‘ سیاسی قوتیں ایک دوسرے سے اُلجھی ہوئی ہیں۔ آئین کی کتاب جزدان میں لپیٹ کر طاقِ نسیاں پر دھری دکھائی دیتی ہے۔ اپوزیشن اور حکومت کے درمیان تعلقات کار قائم نہیں ہو پا رہے۔ سب سے بڑی اپوزیشن جماعت کے سینکڑوں افراد جیلوں میں ہیں۔ اس کی ذمہ داری ان پر ہو‘ یا وہ اپنے آپ کو بری الذمہ قرار دیتے ہوں‘ اس بحث میں الجھے بغیر یہ ماننا پڑے گا کہ زنداں آباد ہیں۔ عمران خان اور ان کی اہلیہ الگ الگ کوٹھڑیوں میں بند ہیں۔ سمندر پار پاکستانیوں نے اُدھم مچا رکھا ہے‘  اپنے ادارے اپنے ہی لوگوں کے نشانے پر ہیں۔ اور تو اور‘ آزاد کشمیر میں بھی حالات معمول پر نہیں ہیں۔ جو کچھ ہم بھگت رہے ہیں‘ اس کی ذمہ داری کسی ایک شخص‘ جماعت یا ادارے پر نہیں ڈالی جا سکتی لیکن کسی ایک کو بری الذمہ بھی نہیں قرار دیا جا سکتا‘ جس کسی نے جو بھی کیا ہو نتیجہ یہ ہے کہ &#39;&#39;خانہ جنگی‘‘ برپا ہے۔ اس پر پانی ڈالنا سب پر لازم ہے۔ ایک دوسرے پر انگلی اٹھاتے چلے جانے سے کام نہیں چلے گا۔ہر شخص اور ہر ادارے کو اپنے اپنے گریبان میں جھانکنا ہو گا۔ اپنا اپنا احتساب کرنا ہو گا‘ جو جیلوں میں بند ہیں وہ بھی اور جو باہر دندنا رہے ہیں وہ بھی اپنی اپنی غلطیوں کا ازالہ کرنے کے بارے میں سوچیں تو روٹھی ہوئی بہار لوٹ سکتی ہے۔ اپنی غلطیوں‘ کوتاہیوں بلکہ حماقتوں پر آنکھیں بند کر لینا سازشوں کی حوصلہ افزائی کرنے کے  مترادف ہے۔ گڑھے کھودنے میں مصروف ہو جانے والی قومیں رفعتوں کا سفر جاری نہیں رکھ سکتیں۔ ایک دوسرے کے لیے گڑھے کھودنے والے بالآخر خود ان میں گر جاتے ہیں انہیں آبِ حیات نصیب نہیں ہوتا۔ ایک دوسرے کو جینے کا حق دے کر ہی سب زندہ رہ سکتے اور آگے بڑھ سکتے ہیں۔ پاکستان کو تاقیامت سلامت رہنا ہے اور یقینا رہنا ہے‘ تو افراد کے بجائے  قوم کے مفاد اور قوم کے مستقبل کو سامنے رکھنا ہو گا۔ جنابِ وزیراعظم نے اقبال کا جو شعر قوم کو سنایا تھا‘ اسے خود بھی سن لیں بلکہ سنتے رہیں    ؎فرد قائم ربطِ ملت سے ہے تنہا کچھ نہیںموج ہے دریا میں اور بیرونِ دریا کچھ نہیں(یہ کالم روزنامہ &#39;&#39;پاکستان‘‘ اور روزنامہ &#39;&#39;دنیا‘‘ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_37052987.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>خدایا کہاں پھنس گئے امریکی مہربان(ایاز امیر)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-08-16/52490/83951943</link><pubDate>Sun, 16 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-08-16/52490/83951943</guid><description>قدرت کا بھی ایک نظام ہے‘ ہٹلر اور نپولین کا علاج روس کی سردی نے کیا۔ دونوں یورپ کے بادشاہ بنے ہوئے تھے لیکن روسی سردی کے سامنے نہ ٹھہر سکے۔ امریکہ جو اس دور کا بادشاہ ہے‘ اس کا علاج خلیج فارس کے پانیوں میں ہو رہا ہے۔ امریکی تاریخ کا سب سے بڑبولا صدر جو من مانیاں کیے جا رہا تھا‘ پھنسا تو کیسے پھنسا۔ جسے چند ہفتوں کی جنگ سمجھا جا رہا تھا چھٹے ماہ میں پہنچ چکی ہے اورگو امریکی بے قراری انتہا پہ ہے کہ اس جنگ سے جان چھڑائی جائے‘ نکلنے کا راستہ نہیں مل رہا۔ دیگر باتوں کو چھوڑیے جو امریکہ کے ایئرکرافٹ کیریئرز کے ساتھ ہو رہا ہے وہ کہانی اپنا سبق رکھتی ہے۔ یہ دنیا کے طاقتور ترین بحری جہاز ہیں جو 70سے 80لڑاکا طیارے لیے پھرتے ہیں۔ نیوکلیئر پاور سے چلتے ہیں جس کا مطلب ہے کہ سمندروں میں لمبا عرصہ گزار سکتے ہیں۔ ایئرکرافٹ کیریئر ابراہم لنکن کوئی نو ماہ سے سمندروں میں پھر رہا ہے اور اس پر جو پانچ ہزار ملاح تعینات ہیں ان کا حشر ہو رہا ہے۔ اتنے لوگوں کو ایک جہاز میں کھپانا چاہے وہ جتنا بڑا ہو معمولی کھیل نہیں۔ خوراک کا معیار ناقص ہو گیا ہے‘ ہائی جین کی اشیا جیسا کہ ٹوتھ پیسٹ اور ٹوتھ برش ان کی کمی واقع ہو رہی ہے اور سب سے سنگین مسئلہ یہ کہ باتھ روموں کے آگے لائنیں لگی ہوتی ہیں اور کتنے ہی باتھ روم کام نہیں کر رہے۔ کسی باتھ روم کا پانی باہر نکل رہا ہو تو اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ استعمال کرنے والوں پر کیا بیت رہی ہو گی۔ اس سے پہلے ایئرکرافٹ کیریئر جیرالڈ آر فورڈ کے لانڈری روم میں آگ بڑھک اٹھی تھی۔ امریکیوں نے آگ کو حادثاتی کہا لیکن خبریں تھیں کہ کوئی ایرانی میزائل وغیرہ ایئرکرافٹ کیریئر کو لگا ہے۔ مرمت کے لیے جہاز کو واپس جانا پڑا۔منظر تو دیکھا جائے کہ دنیا کی طاقتور ترین نیوی نے بحیرۂ عرب کے پانیوں کا محاصرہ کیا ہوا ہے اور گو ایرانی بھی اپنا تیل وہاں سے نہیں نکال پا رہے کسی اور ملک کا تیل بھی وہاں سے نہیں جا رہا۔ کویت کی ایکسپورٹ بالکل بند ہو گئی ہے۔ یو اے ای کا تیل بند پڑا ہے۔ قطر کی گیس ایکسپورٹ سب رکی ہوئی ہے‘ اس کی گیس تنصیبات کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔ ہمارے برادر سعودیوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ آبنائے ہرمز سے ان کا کوئی تیل باہر نہیں نکل رہا اور حوثیوں کے حملوں کی وجہ سے بحیرۂ احمر کا راستہ بھی زیادہ تر بند پڑا ہے۔ ان سب برادر ملکوں کا رکھوالا اور گاڈ فادر امریکہ تھا اور امریکہ کا اپنا حشر ہو رہا ہے کہ اپنے عسکری اڈوں کی حفاظت نہیں کر سکا۔ اپنی مؤکل ریاستوں کی اس نے کیا حفاظت کرنی تھی۔ اس وقت مؤکل پریشان اور رکھوالے کے ہوش بھی اڑے ہوئے۔ ہمارے لیے سبق یہ ہے کہ زبانی کلامی تسلیاں تو اپنی جگہ لیکن اگر تاریخ کا تھوڑا سا بھی مطالعہ کریں تو یمنی سر زمین سے دور رہنا ہی بہتر ہے۔ مصر کے جمال عبدالناصر کی سرپرستی میں جب متحدہ عرب ریاست کی بنیاد ڈالی گئی تو اس میں تین ممالک شامل تھے: مصر‘ شام اور یمن۔ یمن میں ایک قبائلی بغاوت ہوئی اور جمال عبدالناصر کے برے دن آنے تھے کہ 1962ء میں انہوں نے مصری فوجی دستے یمن بھیجے۔ وہاں جا کے مصری فوج بری طرح پھنس گئی اور اسے بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ ابھی پچھلے سال مارچ میں ہی صدر ٹرمپ نے حوثیوں پر ہوائی حملوں کا آغاز کیا۔ دو ماہ شدید ترین ہوائی حملے ہوئے اور حوثی ٹس سے مس نہ ہوئے۔ الٹا خبریں آنے لگیں کہ امریکہ کے میزائل اور بم خطرناک حد تک کم ہو رہے ہیں۔ وہی جو ایران  کے ساتھ جنگ میں ہوا ہے کہ اتنے پیٹریاٹ اور ٹوما ہاک میزائل استعمال ہوئے ہیں اور امریکی خود سوچنے پر مجبور ہیں کہ کہیں اور ضرورت پڑی تو کیا کریں گے۔جو دیرینہ دوستی ہماری ہے اس کی لاج تو رکھنی ہے۔ کچھ اپنے معاشی حالات کی بھی بات ہے۔ نازک معاشی حالت ہو تو ہر تھوڑے بہت کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔ لیکن زبانی یا کاغذی معاہدوں سے ہٹ کر کوئی ایسی لغزش نہ ہو جائے کہ جمال عبدالناصر کے تجربے کی یاد آنے لگے۔ ہم تو ویسے بھی بہت سے محاذوں پر پھنسے ہوئے ہیں۔ جو صورتحال کے پی کے میں ہے گرفت میں آ ہی نہیں رہی۔ جنوبی اضلاع خاص کر کے وہاں تو ہر مشاہدہ یہی بتاتا ہے کہ سرکار کی رِٹ تو بڑے نازک پیروں پر کھڑی ہے۔ ٹی ٹی پی والے‘ جن کے ہمدرد ایک زمانے میں یہاں بہت ہوا کرتے تھے‘ مرضی سے آتے جاتے ہیں۔ نشانہ اور وقت کا تعین وہ کرتے ہیں‘ ہمارے لوگ پھر جوابی کارروائیاں ہی کر سکتے ہیں۔ یعنی پہل جسے انگریزی میں Initiativeکہتے ہیں‘ ان کے پاس ہے۔ یہ ایک محاذ ہی کافی تھا‘ مشکل دن آنے تھے کہ بلوچستان ایک دوسرا محاذ بنا ہوا ہے۔ بھادوں کا مہینہ شروع ہو گیا ہے۔ یہ بھادوں کی گرمی اور بلوچستان کے پہاڑ۔کوئی بھی ریگولر آرمی ‘ روس کی امریکہ کی یا کسی اور ملک کی‘ کسی گوریلا جنگ میں پھنسنا حماقت ہوتی ہے۔ سوویت یونین افغانستان میں آ کے پھنس گیا‘ اس کے بعد امریکی آئے سترہ برس تک اسلحہ پھونکتے رہے اور آخرکار انہیں ہار ماننا پڑی۔ جدید تاریخ میں شاذ و نادر ہی کوئی مثال ملتی ہے کہ ریگولر فوج کسی گوریلا جنگ میں کامیاب ہوئی ہو۔ ویتنام کی مثال ہمارے سامنے ہے‘ پانچ لاکھ امریکی فوجی وہاں دھونسے گئے تھے‘ اور دنیا کی طاقتور ترین فوج کو ویتنام کے جنگلوں اور چاول کے کھیتوں میں عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ تو وینزویلا جیسے کمزور ملک ہوتے ہیں جو تھوڑا سا ملٹری پریشر سہنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتے۔ اس کے برعکس کیوبا کو دیکھیں‘ تیل کہیں سے نہیں آ رہا‘ معاشی مشکلات عروج پر ہیں لیکن پھر بھی حکومت ڈٹی ہوئی ہے۔ وینزویلا پر امریکہ نے حملہ کر دیا اور وہاں کے صدر کو اس کے محل سے اٹھا کر امریکی فورسز لے گئیں۔ لیکن کیوبا پر ڈائریکٹ حملے کی ہمت امریکہ کو نہیں ہو گی کیونکہ پتا ہے کہ فیڈل کاسترو کا ملک مزاحمت کرے گا۔ معاشی  مشکلات میں کیوبا ڈوبا ہوا ہے لیکن ہمت تو ہے‘ امریکہ کی ریاست فلوریڈا کیوبا سے 90میل کے فاصلے پر ہے۔ لیکن ہر مشکل کے باوجود کیوبا کا حوصلہ تو دیکھا جائے۔  بہرحال آسمانوں سے ہمیں نیک ہدایت ہی ملے۔ جہاں محاذ بہت کھلے ہوئے ہیں انہیں سمیٹنے کی ضرورت ہے۔ اور جہاں گوریلا جنگوں کا تعلق ہے تو ہمیں ویتنام اور افغانستان کی جنگوں سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔ ہماری ریگولر فوج ہے‘ شروع دن سے حریف ہندوستان کو سمجھا جاتا رہا ہے۔ ہماری ساری ٹریننگ‘ ہماری فورسز کی ساری ہیئت ہندوستان کو بطورِ دشمن سامنے رکھتے ہوئے تیار ہوئی ہے۔ گزرے وقتوں میں افغانستان سے بارڈر پر معمولی نوعیت کی مشکلات ہوا کرتی تھیں۔ یہ تو ہمارے سرخیلوں نے حالات کو نہ سمجھتے ہوئے افغانستان میں جہاد کے نام پر دخل اندازی شروع کی کہ نوبت یہاں تک آن پہنچی ہے کہ اب ہم پر حملہ آور افغان سرحد کے اُس پار سے آ رہے ہیں۔ بلوچستان کے بارے میں سرکاری دعوے جو بھی ہوں اتنا تو سب پر عیاں ہو رہا ہے کہ حالات وہاں کے ٹھیک نہیں۔ گولا بارود کا استعمال تو اپنی جگہ رہا لیکن ساتھ ہی کسی سیاسی سوچ کی بھی ضرورت ہے۔ امریکہ نے ایران میں اسلحہ بارود کوئی کم استعمال کیا ہے لیکن حاصل کیا ہوا ہے؟ نئے صوبے بھی بنتے رہیں گے کوئی نئی سوچ بھی تو کہیں سے آئے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_80573045.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>No honor left in honor list(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-08-16/52491/46624981</link><pubDate>Sun, 16 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-08-16/52491/46624981</guid><description>میرے آج کے کالم کا عنوان میرے ذہن کی پیداوار نہیں ہے بلکہ میرے ایک انتہائی قابلِ احترام پولیس افسر دوست کا ہے جو دو سال پہلے ریٹائر ہو گئے تھے۔ وہ ان چند پولیس افسران میں سے ہیں جن کی ایمانداری‘ پروفیشنلزم اور کام کا میں معترف رہا ہوں۔ انہوں نے میرا ایک ٹویٹ پڑھا جس میں مَیں نے یہ انکشاف کیا تھا کہ اس دفعہ 14 اگست کو جن پولیس افسران کو بہادری پر صدارتی ایوارڈ یا تمغے دیے گئے ہیں وہ سب افسران پنجاب پولیس سے ہیں۔ ایک بھی ایوارڈ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں ڈیوٹی دینے والے پولیس افسران کو نہیں دیا گیا‘ جو دراصل وہاں دہشت گردوں کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں اور روزانہ اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر ڈیوٹی کرتے ہیں۔ کیا واقعی سب بہادر پولیس افسران پنجاب میں سروس کر رہے ہیں اور بلوچستان ‘ خیبرپختونخوا میں بزدل اور نالائق تعینات ہیں؟اگر ابھی اس میں کچھ کسر تھی تو وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال صاحب نے ایک ٹویٹ کیا اور اللہ کا اس بات پر شکر ادا کیا کہ وہ اُس ایوارڈ کمیٹی کے سربراہ ہیں جو ہر سال اُن افراد کے نام فائنل کرتی ہے جنہیں ریاستِ پاکستان مختلف کیٹیگریز میں ایوارڈز کا مستحق سمجھتی ہے۔ انہوں نے لکھا کہ انہوں نے کیسے دو تین ڈاکٹروں اور سائنسدانوں کو بھی ایوارڈ دلوائے ہیں۔ یقینا یہ بہت بڑا کارنامہ انہوں نے سرانجام دیا ہے جو اُن سے پہلے کبھی کسی نے نہیں دیا تھا۔ اس پر ان کا کریڈٹ یقینا بنتا ہے۔ وہ چاہتے تھے کہ ان کی اس شاندار پرفارمنس پر انہیں داد دی جائے۔ میں ٹھہرا دل جلا‘ تو میں نے جواب میں جو کچھ لکھا وہ شاید انہیں اچھا نہیں لگا ہوگا۔ وہ اکثر مجھ سے شکایت کرتے ہیں کہ میں ان کے فین کلب کا ممبر کیوں نہیں بنا اور ان کے کارناموں پر کھل کر داد کے ڈونگرے برسانے میں کیوں بخل سے کام لیتا ہوں۔ دو تین دفعہ فون اور کہیں شادی کی تقریب میں ملاقات پر دوستانہ گلہ کر جاتے ہیں اور میں ہر دفعہ اپنی کم عقلی اور ناسمجھی پر ان سے معذرت کرتا ہوں اور آئندہ سے اچھے سلوک کا وعدہ کرتا ہوں۔ میں اکثر ٹی وی شوز یا سوشل میڈیا پر ان سے پوچھ لیتا ہوں کہ وہ وزیرِ منصوبہ بندی ہیں لیکن پورا اسلام آباد ہمارے دوست محسن نقوی صاحب نے سنبھالا ہوا ہے۔ کھدائی‘ ٹھیکے‘ منصوبے‘ جنگلات کی تباہی‘ سب کچھ وہ فائنل کرتے ہیں‘ تو پھر پلاننگ کمیشن کیا کرتا ہے؟ ان کا فون آیا تھا یا شاید ٹویٹر پر جواب دیا تھا کہ اسلام آباد ان کے دائرہ کار سے باہر ہے۔ وہ اسلام آباد کے ساتھ اچھا کریں یا برا‘ سب محسن نقوی کی پاورز ہیں‘وہ اس پر کوئی بات نہیں کر سکتے۔ میں اس جواب پر بڑا حیران ہوا۔ پھر ایک دن میں نے ٹویٹ کیا یا پروگرام کیا کہ کیا احسن اقبال صاحب صرف وزیر برائے منصوبہ بندی نارووال ہیں یا پورے پاکستان کے وزیر ہیں؟ آج تک انہیں اسلام آباد سے باہر دیکھا ہے تو نارووال میں دیکھا ہے۔ پاکستان کے شاید ہی کسی اور ضلع یا شہر یا دیہات میں گئے ہوں کہ ان کو بھی پلاننگ یا ترقی کی ضرورت ہے یا نہیں۔ اس بات پر بھی وہ خوش نہیں ہوئے۔ میں نے پھر کوشش کی کہ آئندہ شکایت نہ ہو لیکن کیا کریں آج پھر وہ ٹویٹ کر کے داد کے طلب گار ہوئے تو میں حسبِ عادت کوشش کے باوجود خود کو نہ روک سکا اور ٹویٹر پر ہی پوچھ لیا کہ کیا وجہ ہے سارے بہادر افسران پنجاب پولیس میں ہیں کہ فہرست میں صرف پنجاب سے ہی بہادروں کو میڈل دیا گیا ہے؟ میں نے کہا کہ اس بات پر تو شرمندگی بنتی تھی اور وہ بڑے دھڑلے سے ہم سب سے داد کے طلب گار ہیں۔ دراصل میرے لیے حیرت کی بات تھی کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ جن صوبوں میں پولیس والے بہادری سے دہشت گردوں سے مسلسل کئی برسوں سے لڑ رہے ہیں اور جانیں دے رہے ہیں وہاں سے ایک بھی ایسا پولیس افسر نہ ملا جسے احسن اقبال صاحب کی کمیٹی اس قابل سمجھتی جتنا وہ آئی جی پنجاب یا دو افسران کو سمجھتے ہیں جنہوں نے کچے کا آپریشن کیا۔ مان لیا وہ تینوں بہادر افسران ہوں گے اور ان کا انعام بنتا تھا لیکن آپ کیسے بھول سکتے ہیں کہ بلوچستان میں کوئی بھی سندھ یا پنجاب سے جا کر پوسٹنگ نہیں چاہتا۔ میں خود گواہ ہوں اگر پنجاب سے ایک افسر کی بلوچستان پوسٹنگ ہو جائے تو وہ نوکری چھوڑنے پر تیار ہو جاتا ہے‘ صوبہ جوائن نہیں کرتا۔ دنیا جہاں کی سفارشیں ہوتی ہیں اور وہ سب پنجاب میں او ایس ڈی لگ جائیں گے لیکن بلوچستان میں آر پی او یا ڈی پی او نہیں لگیں گے۔ لیکن جن کی سفارش نہیں ہوتی انہیں بلوچستان پوسٹ کیا جاتا ہے۔ ایک جاننے والا بتا رہا تھا کہ اس کا عزیز کوئٹہ پولیس میں اہم پوسٹ پر ہے۔ وہ ہر روز جان ہتھیلی پر رکھ کر گھر سے نکلتے ہیں اور کچھ علم نہیں ہوتا شام کو زندہ واپس آئیں گے یا ان کی لاش لاہور بچوں کو بھیجی جائے گی۔ بتانے لگے کہ ان کے عزیز کتنے جنازے اپنے افسران اور فورس کے جوانوں کے پڑھ چکے ہیں۔ بلوچستان میں کل ہی وزیر داخلہ پر حملہ ہوا جس میں نو پولیس والے شدید زخمی ہیں۔ وزیر داخلہ جو 14اگست کوقومی پرچم لہرانے قلات گئے تھے‘ مشکل سے بچے ۔ اس طرح خیبرپختونخوا میں بہادر پشتون دہشت گردوں سے لڑ رہے ہیں۔ روز وہ جانیں دے رہے ہیں۔ طالبان کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ میں بنوں کے ڈی پی او فرقان بلال اور ان کی پولیس فورس کی وڈیو دیکھ رہا تھا جس میں وہ جشن منا رہے تھے۔ انہیں طالبان کے ایک گروہ نے دھمکی دی تھی اور بنوں کی بہادر پولیس نے انہیں جوابی دھمکی دے کر آپریشن کر کے ختم کیا۔ اس موقع پر جو بہادر پشتون سپاہیوں نے تقریر کی اور جوش دکھایا وہ دیکھ کر آپ کا دل واہ واہ کر اُٹھے۔ کیا ڈی پی او بنوں کی بہادری بھی کسی کی نظر سے نہیں گزری؟ مجھے بتایا گیا کہ دیر کے علاقے کا اعلیٰ پولیس افسر تین دنوں سے طالبان کے خلاف لڑ رہا تھا اور سویا تک نہیں تھا۔ ایسی کئی مثالیں آپ کو ملیں گی کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں کیسے کیسے اعلیٰ پولیس افسران اور ان کے جوان جان ہتھیلی پر رکھ کر اس ملک اور قوم کے لیے کھڑے ہیں۔ ہمیں کچھ اندازہ ہے وہ کن حالات میں یہ ڈیوٹی دے رہے ہیں اور ان کے خاندانوں پر کیا نفسیاتی اثرات پڑتے ہوں گے کہ کسی وقت ان کے خاوند‘ بیٹے‘ باپ یا بھائی کی خبر نہ آ جائے۔ وہ خود کس کیفیت میں سے گزرتے ہیں کہ کسی سڑک پر بم پلانٹ نہ کیا گیا ہو...اس کے بدلے وہ آپ سے کیا چاہتے ہیں؟ تنخواہ وہی ہے جو پنجاب کا افسر لے رہا ہے۔ وہ آپ سے کچھ نہیں مانگ رہے۔ انہوں نے پنجاب سے بلوچستان ٹرانسفر ہونے پر نوکری بھی نہیں چھوڑی نہ ہی چھٹی لی۔ انہوں نے ملک کے لیے حلف لیا تھا‘ لہٰذا وہ بلوچستان پہنچے اور خطروں سے کھیل رہے ہیں۔ وہ آپ سے اتنا چاہتے ہوں گے کہ ہر سال جب قوم اپنے بہادروں کی لسٹ بنا کر انہیں اپنا ہیرو مانتی ہے تو کم از کم جہاں پنجاب کے تین بہادروں کا نام ہوتا ہے وہاں دو تین نام بلوچستان سے بھی‘ کارروائی کے نام پر ہی سہی‘ ڈال دیں۔ دو تین خیبرپختونخوا کے افسران اور جوانوں کے ڈال دیں تاکہ کم از کم ان کے گھر والوں کو تو فخر ہو کہ ان کے بچوں کی قربانی کو اس ملک‘ قوم اور حکمرانوں کو قدر ہے۔یہ کیسا کھیل ہے کہ پولیس کے سب بہادر پنجاب میں سروس کر رہے ہیں اور سب نالائق اور بزدل بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے میدانِ جنگ میں لڑ رہے رہیں۔ محاذِ جنگ پر ڈٹے رہنے والے بزدل اور پنجاب کے میدانوں میں آرام سے ایئرکنڈیشنر کمروں میں بیٹھے افسران بہادر ٹھہرے اور پھر بھی ہمارے پیارے احسن اقبال ہم سے داد چاہتے ہیں۔ اس لیے تو میرے ایک سابق پولیس افسر دوست نے میسج بھیجا ہے: No honor left in honor list۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>اگست کے اشارے(عمران یعقوب خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-08-16/52492/89943483</link><pubDate>Sun, 16 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-08-16/52492/89943483</guid><description>اس بار اگست کا مہینہ ہمارے لیے بہت سی خوشیاں‘ بہت سی ترقیاں‘ بہت سی کامیابیاں اور بہت سا فروغ لے کر آیا ہے۔ اگست میں ہمیں ایک الگ آزاد وطن ملا‘ اس حوالے سے یہ مہینہ ہمارے لیے گزشتہ 80 برسوں سے نہایت محترم‘ نہایت ذیشان ہے۔ آج جب ہم بھارت میں بسنے والے مسلمانوں اور دوسری اقلیتوں کا حال دیکھتے ہیں تو سجدۂ شکر بجا لانے کو جی چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں آزادی کی نعمت سے فیض یاب کیا۔دوسری خوشی 7 اگست کو طے پانے والا معاہدہ مکہ ہے جس کے تحت پاکستان‘ سعودی عرب اور ترکیہ میں سے کسی ایک پر ہونے والا مسلح حملہ‘ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ یہ معاہدہ کسی کے خلاف گٹھ جوڑ نہیں بلکہ اس کا بنیادی مقصد خطے میں مشترکہ سلامتی اور دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا ہے۔ اس اتحاد کے تحت پاکستان کی جوہری طاقت‘ ترکی کی دفاعی صنعت اور سعودی عرب کی مالی طاقت یکجا ہو جائیں گی تو کوئی تینوں کو میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرأت نہیں کر سکے گا۔ سکول کے زمانے میں ہم پڑھتے تھے کہ آر سی ڈی یعنی علاقائی تعاون برائے ترقی (Regional Cooperation for Development) پاکستان‘ ایران اور ترکی کے درمیان 21 جولائی 1964ء کو طے پانے والے ایک معاہدے کا نام ہے جس کا بنیادی مقصد تینوں برادر ممالک کے درمیان تجارت‘ معیشت اور ثقافتی روابط کو فروغ دینا تھا۔ اس کے تحت مختلف منصوبے بنائے گئے لیکن 1979ء میں ایرانی انقلاب کے بعد یہ تنظیم غیر فعال ہو گئی اور 1985ء میں اس کی جگہ اقتصادی تعاون تنظیم (ECO) نے لے لی۔ آر سی ڈی اور بعد ازاں ای سی او کی تاریخ پڑھتے ہوئے میں اکثر یہ سوچا کرتا تھا کہ کئی مسلم ممالک آر سی ڈی کے رکن تینوں ممالک کے ارد گرد واقع ہیں تو وہ ان ممالک کے ساتھ اتحاد قائم کر کے اس تنظیم کو وسعت کیوں نہیں دیتے؟ میرا وہ خیال اب مکہ معاہدے کی صورت میں پورا ہوتا نظر آتا ہے۔یہ بات خوش آئند ہے کہ مکہ معاہدے کے تحت تیزی سے کام ہوتا نظر آ رہا ہے۔ اس اتحاد کو قائم ہوئے ابھی ایک ہفتہ ہوا ہے لیکن کئی اقدامات کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے اور مزید کی جا رہی ہے جس کی مختصر تفصیل یوں ہے: مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں مزید ممالک کی شمولیت کو خوش آمدید کہا جا رہا ہے۔ ضروری طریق کار طے پانے کے بعد مزید ممالک معاہدے کا حصہ ہوں گے جن میں مصر اور ایران بھی شامل ہیں۔ پھر دفاعی صنعت میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے طریقوں پر غور ہو رہا ہے۔ یہ دیکھا جا رہا ہے کہ مشترکہ پیداوار اور ٹیکنالوجی کی شراکت کو کس طرح یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ علاوہ ازیں ترکیہ‘ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان پائیدار ادارہ جاتی ڈھانچہ قائم کرنے پر بات ہو رہی ہے۔ معاہدے کے تحت مشترکہ فوجی مشقیں کرنے کا پروگرام بھی بنایا جا رہا ہے جبکہ تینوں ممالک مزید ہم آہنگی کے لیے مشترکہ عسکری اور سیاسی نظام تشکیل دیں گی۔ اس نظام میں تینوں ممالک کے وزرائے دفاع‘ وزرائے خارجہ اور فوجی سربراہان شامل ہوں گے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ معاہدہ پاکستان کی جوہری صلاحیت‘ سعودی عرب کی مالی طاقت اور ترکی کی تیزی سے ترقی کرتی دفاعی صنعت کو یکجا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ امریکی جریدے&#39; نیشنل انٹرسٹ‘ نے تو یہ تک کہہ دیا ہے کہ پاکستان کی عسکری مہارت‘ سعودی مالی وسائل اور ترک دفاعی صنعت کا امتزاج ایک مضبوط نئے دفاعی صنعتی مرکز کی بنیاد قرار پاتا ہے‘ مکہ معاہدہ گہرے سفارتی اور عسکری اثرات کے ساتھ ساتھ ایک مربوط دفاعی صنعتی نظام کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ میرے خیال میں اس اتحاد کے قائم ہونے کی دو بڑی وجوہات ہیں۔ پہلی: غزہ کی جنگ میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی سو فیصد جانبداری اور ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایک ایسی جنگ مسلط کرنا جس سے پہلوتہی اختیار کی جا سکتی تھی۔ مشرق وسطیٰ میں ابھرنے والی اس نئی سوچ کے لاشعور میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران بالقصد برپا کیے جانے والے عرب بہار انقلابات اور ان سے بھی پہلے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تیاری کا جھوٹا بہانہ تراش کر عراق کو تاراج کرنے کی ماضی قریب کی تاریخ کے کارفرما ہونے کے تاثر کو مسترد یا نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔دوسری وجہ یہ ہے کہ مشرق وسطی میں یہ نئی سوچ تیزی سے ابھر رہی ہے کہ امریکہ‘ جو کئی دہائیوں سے خطے میں سلامتی کا سب سے بڑا ضامن سمجھا جاتا رہا‘ اپنے اتحادی ممالک کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کی صلاحیت یا سیاسی آمادگی نہیں رکھتا۔ ایران پر مسلط کی گئی جنگ اور اس کے نتیجے میں خلیجی ممالک پر میزائل اور ڈرون حملوں نے اس تاثر کو مزید گہرا کیا ہے۔ سعودی عرب‘ قطر اور دیگر خلیجی ریاستیں اب امریکی سکیورٹی ضمانتوں پر پہلے کی نسبت زیادہ سوالات اٹھا رہی ہیں۔ اس تبدیلی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ امریکی فوجی موجودگی کے باوجود خطے کے اہم اتحادی براہِ راست حملوں سے محفوظ نہیں رہ سکے۔ آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصانات نے خلیجی ریاستوں کو اپنی دفاعی حکمت عملی پر نظر ثانی پر مجبور کیا ہے۔ نتیجہ یہ کہ مشرقِ وسطی کے ممالک اب محض واشنگٹن پر انحصار کرنے کے بجائے مقامی دفاعی صلاحیت‘ علاقائی تعاون اور متبادل شراکت داریوں کو اہمیت دے رہے ہیں۔ ترکیہ‘ پاکستان اور سعودی عرب کے مشترکہ دفاعی معاہدے کو بھی اسی وسیع تر رجحان کے تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے‘ تاہم یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ امریکہ خطے سے مکمل طور پر غیر مؤثر ہو چکا ہے۔ امریکی اسلحہ‘ انٹیلی جنس‘ فضائی دفاع اور فوجی ٹیکنالوجی اب بھی خطے کے کئی اتحادیوں کے دفاع میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ اصل تبدیلی شاید یہ ہے کہ مشرق وسطی کے ممالک اب امریکہ کو واحد محافظ کے بجائے متعدد شراکت داروں میں سے ایک سمجھنے لگے ہیں۔ مجھے تو مشرق وسطیٰ کے بارے میں ذوالفقار علی بھٹو کا خواب متشکل ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ ممکن ہے خلیج کے علاقے سے لے کر جنوبی ایشیا کے وسط تک مسلم ممالک کا ایک بلاک تشکیل پا جائے۔ اللہ کرے کہ ایسا ہو جائے۔ علامہ اقبال نے جو بات سو سال پہلے کہی تھی وہ شاید اب مسلم امہ کی سمجھ میں آنا شروع ہو گئی ہے۔ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیےنیل کے ساحل سے لے کر تا بخاک کاشغراگست میں آنے والی تیسری خوشخبری 12 ربیع الاول ہے جو 26 اگست کو آ رہا ہے۔ اس عظیم تر ہستی کا یوم ولادت باسعادت جس نے روئے ارض پر انسان اور انسانیت کی کایا پلٹ دی‘ جس نے مساوات اور برابری کا محض درس ہی نہیں دیا‘ اس کا عملی نمونہ بن کر دکھایا۔ نبی کریمﷺ کی حیات طیبہ ہمارے لیے ہر شعبے میں رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ آپﷺ جرأت‘ بہادری‘ سچائی‘ امانت‘ صبر‘ عدل‘ رحم اور عفو و درگزر کا بہترین نمونہ تھے۔ آپﷺ ہمیشہ دوسروں کے ساتھ نرمی اور محبت سے پیش آتے اور غریبوں‘ یتیموں اور محتاجوں کی ہر طرح سے مدد فرماتے تھے۔ آپﷺ نے اپنے صحابہ کو بھی اچھے اخلاق‘ بھائی چارے‘ انصاف اور انسانیت کی خدمت کی تعلیم دی۔ ہمیں چاہیے کہ پیغمبرﷺ کی سیرت پر عمل کریں‘ سچ بولیں‘ دوسروں کا احترام کریں‘ صبر کریں اور ضرورت مندوں کی مدد کریں۔ اسی سے دنیا و آخرت کی کامیابی مل سکتی ہے۔وہ دانائے سبل‘ ختم الرسل‘ مولائے کل جس نےغبارِ راہ کو بخشا فروغِ وادیٔ سینانگاہ عشق و مستی میں وہی اول‘ وہی آخروہی قرآں‘ وہی فرقاں‘ وہی یسیں‘ وہی طہٰاگست کے یہ اشارے بتاتے ہیں کہ اچھا وقت آنے والا ہے‘ پاکستان کے لیے بھی‘ امت مسلمہ کے لیے بھی۔ ان شا اللہ۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_58350786.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>صوبوں کی سیاست اور بدلتا پاکستان(کنور دلشاد)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/kunwar-mohammad-dilshad/2026-08-16/52493/26849482</link><pubDate>Sun, 16 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/kunwar-mohammad-dilshad/2026-08-16/52493/26849482</guid><description>جب یکم اپریل1936ء کو سندھ کو بمبئی پریذیڈنسی سے الگ کرکے ایک علیحدہ صوبہ بنایا گیا تو اس نئے صوبے کے قیام کی وجہ مسلمانوں کی ترقی قرار دیا گیا تھا‘لیکن آج کراچی کے باسیوں کی ترقی کے لیے کراچی کو سندھ سے الگ کرکے ایک نیا  صوبہ بنانے کو سازش کیوں قرار دیا جا رہا ہے؟ سندھ کی صوبائی سیاست میں آج &#39;&#39;سندھ کی وحدت‘‘ کو ایک ایسا مقدس اور ناقابلِ بحث سیاسی اصول بنا کر پیش کیا جاتا ہے جیسے موجودہ صوبائی حدود ہمیشہ سے اسی شکل میں موجود رہی ہوں اور ان میں کسی قسم کی تبدیلی تاریخ‘ تہذیب یا جمہوریت کے خلاف ہو‘ لیکن تاریخ جذبات سے نہیں دستاویزات سے لکھی جاتی ہے۔ ہندوستان کے سرکاری برطانوی ریکارڈ‘ آل انڈیا مسلم لیگ کی دستاویزات‘ قائداعظم محمد علی جناح کے 1929ء کے چودہ نکات‘ پہلی راؤنڈ ٹیبل کانفرنس کی کارروائی اور گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935ء ایک مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔ وہ تصویر یہ ہے کہ سندھ کو بمبئی پریذیڈنسی سے الگ کر کے نیا صوبہ بنانے کا مطالبہ مسلم سیاسی جدوجہد کا باقاعدہ آئینی مطالبہ تھا۔ اس مطالبے کا مقصد واضح سیاسی و انتظامی‘ خصوصاً مسلمانوں کی سیاسی ترقی اور نمائندگی کا سوال تھا۔ سب سے اہم ثبوت 1933ء کا آل انڈیا مسلم لیگ کا ریکارڈ ہے۔ سید شریف الدین پیرزادہ کی معروف کتاب &#39;&#39;فاؤنڈیشن آف پاکستان‘ والیم دوئم 1924-47ء ‘‘ کے صفحہ 200 پر 1933ء میں بنگال میں آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس کی کارروائی نقل کی گئی ہے۔ اس میں سندھ کے بارے میں درج ہے: &#39;&#39;ہم مسلمانوں کو بھی حال ہی میں سندھ کا ایک نیا صوبہ بنانے کے لیے کیے گئے فیصلہ پر اطمینان ہے‘‘۔ اس کے فوراً بعد اس فیصلے کی وجہ بھی بیان کی گئی: &#39;&#39;ہمیں یقین ہے کہ اس سے نئے صوبے میں مسلمانوں کی ترقی کے امکانات بہتر ہوں گے‘‘۔یہی تاریخی بحث کا بنیادی نکتہ ہے۔ اس اقتباس میں موہنجودڑو‘ پانچ ہزار سالہ قدیم تہذیب‘ قدیم سندھی قوم یا کسی لسانی قوم پرستی کا حوالہ نہیں۔ 1933ء کے آل انڈیا مسلم لیگ کے اس ریکارڈ میں سندھ کی علیحدہ صوبائی حیثیت کو سیاسی و انتظامی اصلاح اور مسلمانوں کے مفادات سے جوڑ کر دیکھا گیا تھا۔ قائداعظم کے 14 نکات میں نواں نکتہ ہی یہ تھا: &#39;&#39;سندھ کو بمبئی پریذیڈنسی سے الگ کیا جائے‘‘۔ یعنی یہ مطالبہ آل انڈیا مسلم لیگ کے آئینی مطالبات کا حصہ تھا۔ اگر سندھ کی علیحدگی اس وقت جائز تھی تو آج انتظامی بنیادوں پر سندھ کے اندر مزید صوبوں کی بحث کو غداری یا سازش قرار دینے کی منطق کہاں سے آتی ہے؟نومبر1930ء سے جنوری 1931ء تک جاری رہنے والی پہلی راؤنڈ ٹیبل کانفرنس میں سندھ کی علیحدگی کے لیے باقاعدہ سب کمیٹی قائم کی گئی تھی۔ ریکارڈ میں سندھ کی مالی حیثیت‘ انتظامی مشکلات‘ بمبئی پریذیڈنسی سے علیحدگی اور علیحدہ صوبائی حکومت کے اخراجات پر تفصیلی بحث موجود ہے۔ آج جس &#39;&#39;تقسیم‘‘ کو ناقابلِ تصور کہا جاتا ہے‘ برطانوی قانون نے 1936ء میں نافذ کر دی تھی۔ گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935ء کے تحت سندھ کو بمبئی سے الگ کر کے علیحدہ صوبہ بنانے کی قانونی بنیاد فراہم کی گئی اور یکم اپریل 1936ء کو سندھ باقاعدہ الگ صوبہ بن گیا۔ صوبائی سرحد میں تبدیلی غداری یا سازش نہیں ہوتی‘ اصل سوال یہ ہے کہ اس اقدام کا عوام کو کتنا فائدہ پہنچتا ہے ۔ 1930-31ء کی گول میز کانفرنس کے دوران سر شاہنواز بھٹو اور سر غلام حسین ہدایت اللہ جیسے سندھی مسلم رہنما برطانوی حکومت کے سامنے سندھ کو بمبئی پریذیڈنسی سے علیحدہ کرنے کا مقدمہ پیش کر رہے تھے جبکہ محمد علی جناح وسیع تر آئینی مذاکرات میں مرکزی کردار ادا کر رہے تھے۔ ان کے دلائل مسلمانوں کی سیاسی نمائندگی‘ ہندوؤں کے معاشی غلبے‘ زرعی قرض داری اور سندھ کی مالیاتی خود کفالت کے گرد گھومتے تھے۔ ملک میں نئے انتظامی یونٹس کی بحث کے پیشِ نظر پاکستان بار کونسل نے ایک قرارداد کے ذریعے ملک میں نئے صوبوں کے قیام سے متعلق آئینی طریقہ کار پر عملدرآمد پر زور دیا ہے اور حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ آئین میں دیے گئے طریقہ کار‘ پارلیمانی عمل اور قومی اتفاقِ رائے کے تحت نئے صوبوں کا قیام عمل میں آنا چاہیے۔ تمام سیاسی جماعتوں کو قومی مفاد میں نئے صوبوں کے قیام سمیت اہم قومی معاملات پر بامعنی مذاکرات کا آغاز کرنا چاہیے۔وفاقی وزیرداخلہ کے اس بیان کے بعد کہ موجود نظام جواب دے چکا ہے‘ پارلیمنٹ اور سیاسی جماعتوں کو اس حوالے سے غوروفکر کرنا چاہیے۔جب ملک کی آبادی سات کروڑ تھی‘ تب بھی چار صوبے تھے‘ آج آبادی تقریباً 25 کروڑ ہے اور صوبے آج بھی چار ہی ہیں‘ جس کی وجہ سے بے شمار انتظامی مسائل کا سامنا ہے۔دوسری جانب عالمی منظر نامے کی بات کی جائے تو پاکستان اپنی حکمت عملی کے باعث مشرقِ وسطیٰ کی قیادت سنبھالنے کے بہت قریب پہنچ چکا ہے۔ پاکستان‘ ترکیہ اور سعودی عرب کا سہ فریقی دفاعی معاہدہ اسرائیل کی جارحیت کا ردِعمل بھی ہے اور یہ معاہدہ ابراہم اکارڈ کی بحث کو بھی زائل کرتا ہے۔ ترکیہ کے صدر طیب اردوان نے اس معاہدے کے حوالے سے بیان دیا ہے کہ جب تک رکن ممالک پر حملہ نہیں ہوتا دفاعی معاہدے کے تحت کوئی ملک ہدف نہیں ہو گا۔ 1951ء میں پاکستان اور امریکہ کا دفاعی معاہدہ ہوا تھا جب پاکستان کو بھارتی جارحیت کا خطرہ تھا لیکن 1965ء کی جنگ کے بعد اس معاہدے نے اپنی اہمیت کھو دی۔ امریکہ نے اس معاہدے کی پاسداری نہیں کی۔ اب ایران اور امریکہ کی جنگ اپنی شکل بدل رہی ہے۔ جون 2025ء میں اسے ایران‘ اسرائیل جنگ کہا گیا‘ پھر یہ اسرائیل‘ امریکہ‘ ایران جنگ میں تبدیل ہو گئی۔ دوسرے مرحلے میں‘ جو 28 فروری 2026ء کو شروع ہوا‘ یہ اسرائیل‘امریکہ‘ ایران جنگ ہی تھی جو 17 جون کی مفاہمتی یادداشت کے بعد امریکہ‘ ایران جنگ میں تبدیل ہو گئی۔ مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر بڑی جنگ کے دہانے پر کھڑا ہے کیونکہ خدشہ ہے کہ امریکہ  اپنی ساکھ بچانے اور پسپائی کا داغ دھونے کے لیے ایران پر زمینی حملہ کر سکتا ہے۔ اگر ایسا ہوا تو ایران امریکی اتحادیوں پر حملہ کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔حاصلِ کلام یہ ہے کہ پاکستان میں اندرونی طور پر اہم تبدیلیاں لانے کے فارمولے پر کام ہو رہا ہے۔مستقبل میں محسن نقوی نے اگر قومی اسمبلی کے کسی حلقے سے الیکشن لڑا تو یقینا وہ قومی اسمبلی کے ممبر بن جانے کے بعد وزیراعظم کے مضبوط امیدوار ہوں گے۔ یہ بھی شنید ہے کہ پارلیمنٹ کے اراکین کے ترقیاتی فنڈز لوکل گورنمنٹ کے اداروں کو تفویض کرنے کے لیے قانون سازی ہو رہی ہے۔ ممکن ہے کہ آئین کے آرٹیکل 140-A کے مطابق لوکل گورنمنٹ کے انتخابات کروانے کے بعد نچلی سطح کے اداروں کو مضبوط کیا جائے۔ </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_15667905.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>جنرل حمیدگل کا نظریہ، زندہ و جاوید(محمد عبداللہ حمید گل)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-abdullah-hameed-gull/2026-08-16/52494/44687744</link><pubDate>Sun, 16 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-abdullah-hameed-gull/2026-08-16/52494/44687744</guid><description>سابق سربراہ آئی ایس آئی‘ مجاہد اسلام جنرل (ر) حمید گل اکثر کہا کرتے تھے کہ دنیا کے فیصلے پاکستان میں ہوں گے۔ آج پاکستان‘ سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی معاہدے نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان امتِ مسلمہ کی طاقت کا مرکز بن چکا ہے۔ امریکہ‘ ایران کشیدگی میں خطے کو ایک بڑے بحران سے بچانے کے لیے پاکستان کی کامیاب‘ بلکہ یوں کہیے کہ جادوئی سفارتکاری نے اقوامِ عالم پر اپنی دھاک بٹھا دی ہے۔ اس نازک مرحلے پر ملک کی اعلیٰ عسکری و حکومتی قیادت نے جس دانشمندی و بصیرت کا مظاہرہ کیا وہ عالمی سطح پر مادرِ وطن کے بڑھتے ہوئے وقار کی علامت ہے۔ بلاشبہ میرا وطن پاکستان اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے‘ جس کا خواب بانیٔ پاکستان قائداعظم نے دیکھا اور جس کی پیش گوئی جنرل حمید گل نے برسوں قبل کر دی تھی۔ ماضی میں ملک عزیز کو ایک سکیورٹی کنزیومر سٹیٹ کے طور پر دیکھا جاتا تھا لیکن اب یہ بطور ایک سکیورٹی پرووائیڈر سٹیٹ اپنی شناخت بنا چکا ہے۔ معرکۂ حق میں بھارت کا غرور خاک میں ملانے کے بعد پاکستان خطے میں مسلسل امن و سلامتی کے لیے کوشاں ہے اور مسلم اُمہ کے تحفظ کے لیے سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑا ہے۔جنرل (ر) حمید گل نائن الیون کے حوالے سے کہا کرتے تھے کہ نائن الیون ڈرامہ‘ افغانستان ٹھکانہ اور پاکستان نشانہ ہے۔ آج کے پیچیدہ حالات کے تناظر میں یہ جملہ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے نئی تعبیر اختیار کر گیا ہے &#39;&#39;ایران بہانہ‘ پاکستان نشانہ ہے‘‘۔ اسرائیل‘ انڈیا اور افغانستان کا پاکستان کے خلاف گٹھ جوڑ بے نقاب ہو چکا ہے۔ نریندر مودی نے اسرائیلی پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر خطاب میں کہا تھا کہ بھارت ماں ہے اور اسرائیل باپ ہے۔اسلام کے آفاقی پیغام کے امین‘ کشمیراور فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کے مسیحا‘ پاکستان کی جغرافیائی و نظریاتی سرحدوں کے پاسبان‘ مجاہد اسلام‘ جنت نشین‘ اللہ کے سپاہی جنرل (ر)حمید گل پاک سرزمین پر اللہ تبارک و تعالیٰ کے نظام کے نفاذ کی جدوجہد کرتے ہوئے 15 اگست 2015ء کو اللہ تعالیٰ کے حضور جا پہنچے۔ انہیں دنیا سے رخصت ہوئے 11 برس بیت گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی مرقد اپنی رحمتوں سے بھر دے۔ آمین۔ مجاہد اسلام کا آخری سفر قومی پرچم کے سائے تلے طے ہوا۔ انہیں یہ غیر متزلزل یقین تھا کہ پاکستان عالمِ اسلام کی قیادت کی اہلیت رکھتا ہے اور وقت نے یہ دنیا کو دکھا دیا ہے۔ آپ کے تجزیے کا کوئی بھی جملہ بے وزن نہیں ہوتا تھا‘ یہی وجہ ہے کہ ان کی رحلت کے بعد بھی ان کے نظریات کا چرچا ہے‘ جس کا مطلب یہی ہے کہ ان کا نظریہ آج بھی زندہ و جاوید ہے۔آج کل جس نظام کو بدلنے کی بازگشت حکومتی ایوانوں میں سنائی دے رہی ہے‘ اس کے حوالے سے بہت پہلے پیش گوئی کر دی تھی کہ یہ آخری سانسیں لیتا نظام ہے۔ موجودہ منظرنامے میں مسلم اُمہ کے عظیم سپہ سالار کے افکار و نظریات کی روشنی میں اس بوسیدہ و فرسودہ نظام کو چلانے کے بجائے اسلامی نظام کے نفاذ کا مطالبہ کرنا چاہیے‘ جو قراردادِ مقاصد و آئین پاکستان کا تقاضا بھی ہے۔ جنرل صاحب کہا کرتے تھے کہ عالمی استعمار نے ہمیں اس طرح جکڑ رکھا ہے کہ ہم اپنے گلے خود ہی کاٹ رہے ہیں۔ بے شک دنیا کے تمام باطل نظریات ہمارے ہاتھوں شکست خوردہ ہوئے اور اب ہم نے اقوامِ عالم کو نظریۂ اسلام دینا ہے۔ اس وقت دنیا میں نظاموں کی برتری کی کشمکش چل رہی ہے۔ بلاشبہ پاکستان کے نام پر تشکیل پانے والا یہ خطۂ ارض قائداعظم کے فرمان کے مطابق ایک تجربہ گاہ ہے جہاں اسلام کے سنہری اصولوں کے تحت اجتماعی و انفرادی زندگیوں کو  ڈھالنا ہے۔ اس وقت ہمارے پاس سنہری موقع ہے کہ ملک میں اسلامی طرز میں ڈھلا ہوا نیا نظام لانے کی تگ و دو میں لگ جائیں۔ جنرل (ر) حمید گل اتحاد و یکجہتی کے داعی تھے۔ پاکستان کے جوانوں کو ایک پرچم تلے متحد کرنے کے لیے انہوں نے 2007ء میں تحریکِ جوانان پاکستان و کشمیر کی بنیاد رکھی۔ تحریکِ جوانان پاکستان و کشمیر مسلکی و لسانی تفریق و نفرت کو ختم کر کے ایک متحد قوم بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ جو شہرت جنرل (ر)حمید گل کے حصے میں آئی‘ بہت کم لوگوں کو ملتی ہے۔ اور اس کی وجہ تھی اُن کا نظریۂ جہاد اور اسلام و پاکستان سے بے لاگ وابستگی۔ اسلام اور پاکستان سے محبت ان کا وہ اثاثہ تھا جسے وہ کسی صورت گنوانے کے لیے تیار نہیں تھے اور فوج سے ریٹائرمنٹ کے باوجود ملک کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کو اپنا فرضِ اولین سمجھتے تھے‘ بلکہ برملا اس کا اظہار کرتے تھے کہ انہوں نے پاکستان کی حفاظت کا حلف تمام عمر کے لیے اٹھا رکھا ہے۔ ان کی سپاہیانہ صلاحیتوں‘ عسکری دانشمندی اور فوجی حکمتِ عملی سے واقف لوگ محوِ حیرت رہتے تھے۔ آپ نے آئی ایس آئی کو بہترین ایجنسی بنا دیا۔ وہ اَکھنڈ بھارت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تھے‘ جن کی دلیرانہ پالیسیوں نے را کے چیف کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا تھا۔ انہوں نے خطے میں بھارتی مکروہ عزائم کو ہر قدم پر ناکام بنایا۔ جنرل (ر)حمید گل پاک فوج اور آئی ایس آئی کے درخشاں ستارے‘ ایک ایسے نڈر سپاہی تھے جن کی مثال بڑی مشکل سے تلاش کی جا سکے گی۔جنرل (ر) حمید گل کو پاکستان سے انتہا درجے کا عشق تھا۔ وہ کہتے تھے کہ میں مسلمان بھی ہوں اور پاکستانی بھی ہوں‘ لیکن میرے اندر صرف پاکستانیت ہے۔ وہ آج بھی قوم کے دلوں میں زندہ ہیں۔ یہ بھی سچ ہے کہ آپ کی رحلت کے بعد کشمیر کاز کو نقصان پہنچا ہے۔ سابق سربراہ آئی ایس آئی جنرل (ر) حمید گل نے کشمیر کی تحریکِ آزادی کے لیے جو کردار ادا کیا‘ وہ تاریخ میں سنہرے حروف سے درج ہے۔ آپ کہتے تھے کہ کشمیر کے لیے اگر پاکستان کو 50 جنگیں بھی لڑنا پڑیں تو ہم اس کے لیے تیار ہیں۔ مجاہدِ اسلام حقیقی معنوں میں تحریکِ آزادی کے بے باک ترجمان تھے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت آج بھی اپنے اندر علیحدگی کی تحریکوں کا موردِ الزام جنرل صاحب کو ٹھہراتا ہے۔ جنرل صاحب نے ہمیشہ عالمی سطح پر کشمیریوں کے حق میں آواز اٹھائی اور تحریکِ جوانانِ پاکستان و کشمیر کے پلیٹ فارم سے کشمیر کی تحریکِ آزادی میں نئی روح پھونکی۔ لیکن آج آزاد کشمیر میں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے جو دنگا فساد کیا اور کشمیر کاز کو جس طرح باقاعدہ منظم پلاننگ سے نقصان پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے‘ اس گمبھیر صورتحال کی پیش گوئی جنرل (ر)حمید گل نے بہت پہلے کر دی تھی۔ انہوں نے اپنے ایک خطاب میں کہا تھا کہ ایک وقت آئے گا کہ کشمیری نہ بھارت کے ساتھ اور نہ ہی پاکستان کے ساتھ رہنے کے لیے تیار ہوں گے بلکہ ان کا مطالبہ ہوگا کہ ایسٹ تیمور کی طرح انہیں بھی آزادی و خودمختاری دی جائے۔ دراصل یہ امریکی سٹرٹیجک گیم پلان کا حصہ ہے تاکہ یہاں اقوامِ متحدہ کی فوج اتاری جا سکے اور اس خطے میں غلبہ قائم کیا جائے۔ جنرل صاحب کہتے تھے کہ میری منزل اسلام ہے‘ اسلام آباد نہیں۔ میں عبداللہ حمید گل‘ ان کا جانشین‘ ان کا نظریاتی وارث‘ ان کے اسی مشن پر گامزن ہوں۔ میں ان کی وطن کے دفاع کے لیے کھائی گئی قسم آخری دم تک نبھاؤں گا۔ ان شاء اللہ!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_62843609.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>