<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>انتظامی یونٹس ناگزیر کیوں(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-17/11460</link><pubDate>Mon, 17 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-17/11460</guid><description>ملکِ عزیز میں گورننس‘ انتظامی کارکردگی اور عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی میں درپیش مشکلات ایک عرصے سے قومی بحث کا موضوع ہیں۔ یہ سوال جب بھی زیر بحث آتا ہے ملک کے انتظامی نقشے پر ضرور سوال اٹھتے ہیں۔ اصل میں اس حقیقت کا ادراک بہت پہلے ہو چکا تھا کہ ملک میں انتظامی بحران سے نمٹنے کیلئے نئے صوبوں کی تشکیل ضروری ہے۔ اس غرض سے مختلف حکومتوں میں غورو فکر یا کام کی نوبت بھی آئی۔ یہی کام دنیا کے اکثر ممالک میں بھی ہوا‘ مگر جو کام وہاں بلاحیل وحجت انجام پا گیا ہمارے ہاں اسے کئی سیاسی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا اور یہ ضروری کام جو اصولی طور پر نصف صدی پہلے ہو جانا چاہیے تاحال تشنہ تکمیل ہے۔ مگر اس سے وابستہ مسائل کم نہیں ہوئے‘ بلکہ وقت کے ساتھ ان میں اضافہ ہوا ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ قومی ضروریات کئی گنا بڑھ چکی ہیں مگر اس کیلئے جو انتظامی ڈھانچہ درکار ہے وہ استوار نہیں ہو سکا۔ نتیجتاً پاکستان‘ وسائل کے باوجود مسائل کے جناتی چکر سے نکل نہیں پاتا۔ حالیہ دنوں یہ موضوع ایک بار پھر قومی مباحثے کا حصہ بنا ہے اور ہر طبقے کے صاحبانِ رائے اور عوام اس حوالے سے اپنی آرا کا اظہار کر رہے ہیں۔

گزشتہ روز اسلام آباد کے ایک تھنک ٹینک میں ’’کیا ملک میں نئے انتظامی یونٹس قائم ہونے چاہئیں؟‘‘کے موضوع پر قومی مباحثے کا اہتمام کیا گیا تھا۔ نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کا تقاضا محض نقشے پر نئی حد بندی تک محدود نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ریاستی نظام کو کس طرح اس قابل بنایا جائے کہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل ہوں‘ وسائل منصفانہ انداز میں تقسیم ہوں اور انتظامیہ فوری فیصلے کر سکے۔ ملک لوگوں سے بنتا ہے اور ریاستی نظام کا بنیادی مقصد بھی عوام کی فلاح وبہبود ہونا چاہیے۔ اگر کسی انتظامی یونٹ کا حجم اتنا بڑا ہو جائے کہ حکومت اور عوام کے درمیان فاصلہ بڑھ جائے تو انتظامی مسائل پیدا ہونا فطری امر ہے۔ آبادی کا بڑا حجم صوبائی انتظامی صلاحیتوں کیلئے  پیچیدہ انتظامی چیلنجز کا سبب بنتا ہے۔ چھوٹے انتظامی یونٹس کا تصور اسی لیے اہم ہے کہ نسبتاً محدود علاقے میں حکومت کیلئے انتظامی نگرانی‘ وسائل کی منصوبہ بندی اور عوامی مسائل کا فوری ازالہ آسان ہو سکتا ہے۔ پاکستان کا ایک بڑا اور بنیادی نوعیت کا انتظامی مسئلہ اختیارات کی مرکزیت ہے۔ اگر صوبائی حکومتیں تمام اختیارات اپنے پاس رکھیں اور مقامی حکومتیں مالی اور انتظامی طور پر بے اختیار ہوں تو صوبوں کی تعداد بڑھنے کے باوجود عام شہری کو خاطر خواہ فائدہ نہیں ہو گا۔
جب مقامی حکومتیں بااختیار ہوں‘ اختیارات واضح ہوں اور منتخب نمائندے اپنے علاقے کے مسائل کیلئے جوابدہ ہوں تو جمہوری عمل عوام کی روز مرہ زندگی سے جُڑ جاتا ہے۔ وسائل کی منصفانہ تقسیم اس پورے عمل کا اہم حصہ ہے اور بلدیاتی نظام بھی اسی صورت کامیاب ہو سکتا ہے جب وسائل اور اختیارات اسے کسی صوبائی حکومت سے مستعار نہ لینا پڑیں‘ وہ براہ راست ان اختیارات کی حامل ہو اور وسائل اس کی دسترس میں ہوں۔ اس لیے بلدیاتی نظام اکیلا نئے انتظامی یونٹس کا متبادل قرار نہیں دیا جا سکتا۔ بلدیاتی نظام تو آئین کی رُو سے پہلے بھی موجود ہے‘ مگر اس پر کہاں اور کتنا عمل ہوا اور کیا تبدیلی آئی؟ بلدیاتی اداروں کی کسمپرسی بذات خود بڑی دلیل ہے نئے صوبوں کی تشکیل کے حق میں۔ پاکستان کو اب اس بحث کو سیاسی نعروں سے نکال کر عملی پالیسی کی سطح پر لے جانے کی ضرورت ہے۔ نئے انتظامی یونٹس‘ مضبوط بلدیاتی ادارے‘ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم یقینی بنانا ہوگی۔ پاکستان کو بڑے صوبوں کی نہیں بہتر حکمرانی کی ضرورت ہے۔ اگر چھوٹے انتظامی یونٹس عوامی اختیار‘ مضبوط بلدیاتی نظام‘ شفاف وسائل کی تقسیم اور جوابدہ حکومت کے ساتھ قائم کیے جائیں تو یہ ملکی انتظامی اور معاشی مسائل کے حل کی جانب بڑی پیش قدمی ہو گی۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>دہشت گردی کے خلاف عزم(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-17/11459</link><pubDate>Mon, 17 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-17/11459</guid><description>گزشتہ روز بلوچستان کے ضلع خاران میں فتنہ الہندوستان کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں مزید سات دہشت گرد مارے گئے۔  قبل ازیں خضدار اور پنجگور میں کارروائیوں میں 15 دہشت گرد ہلاک ہو چکے ہیں۔ سکیورٹی فورسز واضح کر چکی ہیں کہ آپریشن ردالفتنہ 3 کے تحت انٹیلی جنس معلومات پر مبنی کارروائیاں آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رہیں گی۔ دشوار گزار پہاڑی و سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کے نیٹ ورکس اور محفوظ ٹھکانوں کو جڑ سے اکھاڑنے کا عزم سکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائیوں سے عیاں ہے۔ اہم کمانڈروں سمیت دو درجن سے زائد تخریب کاروں کی ہلاکت اور ان کے ٹھکانوں سے بھاری مقدار میں جدید اسلحہ اور بارودی مواد برآمد کر کے ملک دشمنوں کی بڑی سازش کو ناکام بنا دیا گیا ہے۔

سکیورٹی فورسز کا یہ آپریشن ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب بلوچستان کی روایتی اور قبائلی اقدار کے برعکس دہشت گردوں نے انتہائی بزدلانہ ہتھکنڈے اپناتے ہوئے گھروں میں گھس کر خواتین کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ نوشکی میں دو خواتین کو گھر میں گھس کر قتل کرنے کا واقعہ یہ ثابت کرنے کو کافی ہے کہ دہشت گردوں کا نہ تو بلوچ روایات سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی انسانیت سے۔ سکیورٹی فورسز کی جانب سے دہشت گردوں اور ان کے مالیاتی لاجسٹک نیٹ ورکس کا خاتمہ خوش آئند اقدام‘ تاہم پائیدار امن کیلئے عسکری حکمت عملی کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر تعلیم‘ صحت اور روزگار کی فراہمی جیسے منصوبوں کو بھی تیز کرنا ہو گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>گڈز ٹرانسپورٹیشن، مستقل حل ناگزیر(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-17/11458</link><pubDate>Mon, 17 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-17/11458</guid><description>گزشتہ روز حکومت کے ساتھ مذاکرات کے بعد گڈز ٹرانسپورٹرز نے ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ نو روز سے جاری ہڑتال سے ملکی معیشت کو 50 ارب روپے سے زائد کا نقصان ہوا جبکہ بندرگاہوں سے یومیہ نکلنے والے تقریباً 10 ہزار کنٹینرز کی آمدورفت مکمل طور پر رک گئی‘ جس سے ملک کے بالائی علاقوں کو اشیائے ضروریہ اور خوراک کے علاوہ فیکٹریوں اور صنعتوں کو خام مال کی ترسیل بھی شدید متاثر ہوئی۔ یہ خوش آئند امر ہے کہ فریقین میں معاملات طے پا گئے‘ تاہم سوچنے کی بات یہ ہے کہ جب دنیا بھر میں مال برداری کیلئے ریلویز کو سب سے محفوظ‘ تیز رفتار اور سستا ذریعہ مانا جاتا ہے تو پاکستان اس اہم ترین شعبے میں معکوس ترقی کا شکار کیوں ہے۔

قیامِ پاکستان کے وقت ہمیں وسیع ریلوے نیٹ ورک ملا تھا لیکن دہائیوں کی بدانتظامی‘ کرپشن اور کوتاہ بینی نے ریلوے کے محکمے کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا۔ آج پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اس دور میں کارگو ٹرینیں زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتی ہیں۔ لہٰذا حالیہ ہڑتال کو ایک عارضی بحران کے بجائے مستقبل کی پیش بندی کا پہلا قدم بناتے ہوئے ٹھوس اقدامات کرنے چاہئیں۔ وقت آ گیا ہے کہ حکومت ریلویز کے کارگو سیکٹر کو جدید خطوط پر استوار کرے۔ ملکی معیشت کو ہڑتالوں اور ان کے نقصانات سے محفوظ رکھنے کیلئے مال برداری کے متنوع اور مستحکم ذرائع پیدا کرنا ناگزیر ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>جنرل ضیا الحق اور جنرل حمید گل(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-08-17/52495/91468591</link><pubDate>Mon, 17 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-08-17/52495/91468591</guid><description>15 اگست جنرل حمید گل کا یومِ وفات ہے اور 17 اگست جنرل ضیا الحق کا یومِ شہادت۔ دونوں نے ہماری ریاست اور سماج کو غیر معمولی طور پر متاثر کیا۔ میرا تاثر ہے کہ ان کے کردار کی تفہیم میں انصاف سے کام نہیں لیا گیا۔ یہ افراط وتفریط کی نذر ہو گئے۔یہ معاملہ صرف ان شخصیات کے ساتھ نہیں ہوا۔ ہم بھٹو صاحب کا نام بھی اس فہرست میں شامل کر سکتے ہیں۔ تاریخ ساز شخصیات‘ عام طور پر سماج کو دو حصوں میں تقسیم کر دیتی ہیں۔ ایسی شخصیت کی نمود اگر کسی کے لیے فائدے کا سبب بنتی ہے تو کسی کے لیے نقصان کا۔ یہ نتیجہ سماج کو منقسم کر دیتا ہے۔ کم لوگ تاریخ کا بے لاگ تجزیہ کر پاتے ہیں۔ ہمارے لیے یہ کام اس لیے زیادہ مشکل ہے کہ ہم شخصیات سے معروضی تعلق نہیں قائم کر پاتے۔ ان کی عقیدت میں ڈوب جاتے ہیں یا ان کی نفرت میں۔ اس سے وہ معروضیت باقی نہیں رہتی جو تاریخ کے غیر جانبدارانہ مطالعے کے لیے لازم ہے۔ مسلم تاریخ کے باب میں اس رویے نے فر قہ واریت کو جنم دیا۔ کچھ یہی معاملہ پاکستان کی تاریخ کے ساتھ ہوا۔ ہم نے اس کی بنیاد پر بھی دو فرقے بنا لیے۔بھٹو صاحب کے معاملے میں‘ گزشتہ چند برسوں سے ہم اعتدال کی طرف بڑھے ہیں۔ آج ان کے بدترین دشمن بھی قومی زندگی میں ان کے مثبت کردار کی تحسین کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ایسے لوگ ابھی زندہ ہیں جو ان کے زخم خوردہ ہیں۔ وہ بھی ان زخموں کے بھر جانے کے بعد‘ ان کی تعریف کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس میں بڑا دخل &#39;میثاقِ جمہوریت‘ کا ہے۔ نواز شریف صاحب جیسے ناقدین جب پیپلز پارٹی کے قریب آئے تو ان کی سوچ میں توازن آنا شروع ہوا۔ جب مریم نواز صاحبہ نے گڑھی خدا بخش میں بے نظیربھٹو صاحبہ کی برسی میں شرکت کی اور ان کی تعریف کی تو منظر مزید بدلا۔ سیاسی قیادت کی بالغ نظری نے تاریخ کو معروضی انداز میں سمجھنے کا موقع پیدا کیا۔ آج کہا جا سکتا ہے کہ بھٹو صاحب کے بارے میں قوم ایک متوازن جگہ پر کھڑی ہے۔جنرل ضیا الحق اور جنرل حمید گل کے بارے میں یہ توازن دکھائی نہیں دیتا۔ نہ صرف توازن نہیں بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ‘ ان کے بارے میں منفی رائے میں اضافہ ہوا ہے۔ میرے نزدیک اس کے دو اسباب ہیں۔ ایک تو یہ کہ جنرل ضیا الحق اور جنرل حمید گل کی سیاسی وراثت باقی نہیں رہی۔ ان کے فطری جانشین نواز شریف صاحب ہیں۔ جنرل ضیا الحق صاحب نے ان کے بارے میں یہ دعا کی تھی کہ انہیں جنرل صاحب کی عمر لگ جائے۔ ان کی شہادت کے بعد‘ نواز شریف صاحب نے بھی ان کے مشن کی تکمیل کو اپنا نصب العین قرار دیا۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نواز شریف صاحب کا اندازِ نظر بدلنے لگا۔ انہوں نے جنرل صاحب کے &#39;مشن‘ سے فاصلہ بڑھانا شروع کر دیا۔ یہ فاصلہ اتنا بڑھا کہ آج وہ زبانِ حال سے جنرل صاحب کے مشن اور ذات سے مکمل علیحدگی کا اعلان کر چکے ہیں۔ اب تو وہ ان کے یومِ شہادت پر رسمی بیان بھی جاری نہیں کرتے۔ اعجاز الحق صاحب نے اس لاتعلقی کو دیکھتے ہوئے‘ ایک نئی جماعت قائم کر لی جو جنرل صاحب کے مشن کی علمبردار ہے۔ حالات نے مگر ان کا ساتھ نہیں دیا۔دوسرا سبب یہ ہوا کہ جہادِ افغانستان کے جو اثرات پاکستان کی ریاست اور سماج پر مرتب ہوئے‘ وہ انتہائی تباہ کن تھے۔ ایک جہادی کلچر اس طرح پھیلا کہ اس نے مذہب سمیت ہر قدر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ایسے فساد نے جنم لیا کہ آج پاکستان اور افغانستان بدترین دشمن بن چکے۔ جرائم اور منشیات اس پر مستزاد۔ اس کے ساتھ آمریت کے خلاف اور جمہوریت کے حق میں ایسی فضا بنی کہ کسی فوجی آمر کے لیے کلمہ خیر کہنا مشکل ہو گیا۔ ضیا الحق مذہبی طبقے کے ہیرو تھے ا ور پرویز مشرف لبرل طبقے کے۔ تاریخ کے جبر نے ایسا ماحول بنا دیا کہ نہ مذہبی طبقہ ضیا الحق صاحب کا نام لے سکا اور نہ لبرلز نے جنرل مشرف سے کسی تعلق کا اظہار کیا۔ فوجی آمر پاکستان میں لاوارث قرار پائے۔جنرل حمید گل کو لوگ جنرل ضیا الحق سے الگ کر کے نہ دیکھ سکے۔ انہیں بھی لوگوں نے اس جہادی کلچر کے فروغ کا ذمہ دار سمجھا جس کی بنیاد ضیا الحق صاحب نے رکھی تھی۔ فوج سے ریٹائر ہونے کے بعد‘ انہوں نے متحرک سیاسی کردار ادا کر نے کی کوشش کی۔ نواز شریف صاحب کو ضیا الحق صاحب کے مشن سے منحرف قرار دے کر ان پر سخت تنقید کی۔کارگل کے دنوں میں‘ انہوں نے نواز شریف صاحب کو غدار بھی قرار دیا۔ انہوں نے بعض دوسرے افراد سے بھی توقعات وابستہ کیں۔ ان میں عمران خان صاحب بھی شامل تھے۔ اس پر اتفاق ہو گیا کہ دونوں ایک پارٹی میں ہوں گے۔ جنرل صاحب سرپرست ہوں گے اور اس کا عوامی چہرہ عمران خان ہوں گے۔ دستاویز لکھ دی گئی۔ عمران خان نے کہا کہ وہ امریکہ کے دورے کے بعد‘ اس پر دستخط کریں گے۔ دورے کے بعد مگر انہوں نے پکڑائی نہ دی۔ نہیں معلوم یہ دورے کا اثر تھا یا کیا تھا کہ وہ اس عہد سے پھر گئے۔ جنرل صاحب نواز شریف صاحب کی طرح‘ خان صاحب سے بھی سخت مایوس ہوئے۔ انفرادی حیثیت میں وہ &#39;سوفٹ ریوولوشن‘ کی کوشش کرتے رہے مگر اتنے ہم خیال نہ مل سکے کہ کارواں بنتا۔واقعات کا یہ بہاؤ اتنا تیز تھا کہ قوم ان دو شخصیات کے کردار کا معروضی مطالعہ نہ کر سکی۔ ان کی خوبیاں کبھی زیرِ بحث نہ آ سکیں۔ قوم کے لیے ان کی خدمات بھی دھندلا گئیں۔ آج ایٹم بم کی تیاری میں ہم بابِ اوّل اور بابِ آخر کا ذکر کرتے ہیں مگر اس کتاب کے درمیان کے اوراق کا تذکرہ بھول جاتے ہیں جو ضیا الحق صاحب نے رقم کیے۔ جہادِ افغانستان کے منفی اثرات کا ذکر کرتے ہیں مگر جنرل حمید گل جیسے لوگوں کی عسکری مہارت کو فراموش کر دیتے ہیں جس کا مظاہرہ انہوں نے اس جنگ میں کیا۔ آئی ایس آئی ان کے دور میں دنیا کی بہترین انٹیلی جنس ایجنسی بن چکی تھی۔ دشمن پر ہماری ہیبت طاری تھی۔ ان حضرات کا خیال تھا کہ اب وہ موقع آ گیا ہے جب کشمیر کو عسکری جدوجہد سے آزاد کرایا جا سکتا ہے۔ پھر ان شخصیات کے شخصی اوصاف ہیں۔ وہ ذاتی اخلاقیات میں ممتاز تھے۔ ان کا دامن کرپشن سے پاک تھا۔ الزامات کا معاملہ اور ہے ورنہ ان کا کوئی جزیرہ دریافت ہوا نہ بینک بیلنس۔ جنرل ضیا الحق کے بھائی ان کے صدر بننے سے پہلے باٹا کی دکان پر تھے اور بعد میں بھی وہیں پائے گئے۔جنرل ضیا الحق ہمارے دور کے اورنگزیب تھے۔ ان کا اندازِ سیاست بھی ان جیسا تھا اور ذاتی کردار بھی۔ جنرل حمید گل بھی ذاتی طور پر ایک نجیب آدمی تھے۔ ملک و قوم کے لیے درد رکھتے تھے۔ انسانی اخلاقیات کو اہمیت دیتے تھے۔ میں نے انہیں ایک شریف النفس آدمی پایا۔ آج جنرل ضیا الحق کو رخصت ہوئے انتالیس برس ہو گئے اور جنرل حمید گل کو وفات پائے گیارہ سال۔ آج ہمیں ٹھیر کر‘ بھٹو صاحب کی طرح‘ ان شخصیات کے کردارکا معروضی جائزہ لینا چاہیے۔ بھٹو صاحب کے فاشزم نے سیاست کو جس طرح برباد کیا‘ وہ ہمارے سامنے ہے۔ انتخابات میں دھاندلی کا جو ریکارڈ انہوں نے قائم کیا‘ شاید ہی توڑا جا سکے۔ سقوطِ ڈھاکہ میں ان کے کردار پر سوالیہ نشان ہے۔ اس کے باوصف ہم ان کے بارے میں ایک متوازن بات کہنے کے قابل ہو گئے ہیں۔ یہ شخصیات بھی اسی توازن کا مطالبہ کرتی ہیں۔ اقتدار کی سیاست کا اپنا چلن ہے۔ یہ چلن صدیوں سے ایک جیسا ہے۔ ہم جن تاریخی شخصیات کو پوجتے ہیں‘ وہ بھی ایسی ہی تھیں۔ استثنا پیغمبروں کا ہے یا ان کے ابتدائی جانشینوں کا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>تلخ نوائی معاف(رسول بخش رئیس)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-08-17/52496/23172156</link><pubDate>Mon, 17 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-08-17/52496/23172156</guid><description>کبھی سوچا ہے کہ آخر درجنوں مسلم اکثریتی ممالک میں‘ آج کے دور میں خفیہ اور اعلانیہ خانہ جنگیوں‘ باہمی کشمکش‘ تفرقہ بازی اور لسانی بنیادوں پر عسکریت پسندی کی آگ کیوں بھڑک رہی ہے؟ اپنے ہی قریبی خطے میں وہ ممالک جنہیں ہم امتِ مسلمہ کہتے ہیں‘ ایک دوسرے پر تباہ کن بمباری کیوں کر رہے ہیں؟ کس کس ملک کی بات کروں کہ جہاں ظاہری طور پر حالات کچھ قابومیں نظر آتے ہیں‘ وہاں بھی بے چینی کا طوفان برپا ہونے کا اندیشہ ہے۔ عصرِ حاضر میں کہ جب دنیا سائنس اور ٹیکنالوجی‘ تعلیم اور معاشی ترقی کے میدانوں میں نئی دنیائیں دریافت کرکے اپنے آپ کو آباد کر رہی ہے‘ ہم کیوں اپنے آپ کو تباہی کی طرف مسلسل دھکیلنے پر تلے ہوئے ہیں۔ یہ صرف ایک ملک کا معاملہ نہیں‘ ایک ایسی تہذیب سے جڑے سب ممالک کا ہے‘ جس میں دو انسانوں کے درمیان پہلا کلام سلام اور سلامتی ہوتا ہے۔ کاش اس بنیادی فلسفے کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کر کے مستحکم سیاسی نظام کی بنیاد رکھتے۔ پہلے تو دیکھیں کہ ہو کیا رہا ہے اور صدیوں سے یہی کچھ ہم اپنی تاریخ میں کیوں ہوتا دیکھتے آئے ہیں۔ بات بہت سادہ سی ہے کہ جن قوموں نے جائز حکومت بنانے‘ اُسے جائز اور پُرامن طریق سے تبدیل کرنے کا ہنر سیکھ لیا‘ انہی قوموں کے مقدر میں طاقت‘ خوشحالی‘ امن وسلامتی اور جدید تعلیم کی روشنی آئی ہے۔ مضمون لکھتے وقت میرے ذہن میں پہلا خیال افغانستان کی طرف گیا، اس کے بعد ایران‘ وسطی ایشیا‘ مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ کی طرف چلا گیا۔ اپنی بات آپ کے قیاس اور خیالوں پر چھوڑ دیتے ہیں مگر روزانہ کی بنیاد پر قتل وغارت‘ انصاف اور قانون کے اداروں پر اٹھتے غم وغصہ کے اظہار کی خبریں دیکھ کر دل کڑھتا ہے۔ نظر کراچی میں ہونے والے تازہ واقعات کی طرف جاتی ہے جہاں ایک ہی خاندان کی حکومت عشروں سے قائم ہے۔ خیر آپ گھبرائیں نہیں‘ ملک مضبوط ہاتھوں میں ہے‘ سب ٹھیک ہو جائے گا۔زوال کے اصل اسباب میرے نزدیک دو ہیں ۔ ایک کی طرف سے پہلا اشارہ کر چکا ہوں کہ سیاسی جائزیت کا قیام اور پُرامن انتقالِ اقتدار کا طریقہ کار جس کی بنیاد عوام کا حقِ رائے دہی ہے۔ اس کے علاوہ آپ جس بھی طریقہ کار کی بات کریں‘ جائزیت اور پُرامن کے معیار پر پورا نہیں اترے گا۔ دوسرا سبب جمہوریت کی نفی میں پنہاں ہے‘ کہ اگر آپ اکثریت کی رائے کا احترام نہیں کرتے تو تشدد‘ زور آزمائی‘ دھونس اور دھاندلی پر انحصار کرتے ہیں۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب مغرب میں روشن خیالی کی لہر ابھری‘ جس کی بنیاد انسانی سوچ‘ اس کی رائے‘ اہمیت‘ حقوق اور جوابدہ حکومت تھی‘ مسلم سلطنتوں میں بیٹا باپ کو‘ باپ بیٹوں کو اور بھائی بھائیوں کو قتل کرکے تخت و تاج سنبھالتے تھے۔ کوئی شک ہے تو اس وقت کی تین بڑی مسلم سلطنتوں کے حالات اٹھا کر دیکھ لیں؛ مغل‘ ایران اور سلطنت عثمانیہ۔ مغرب میں بھی بادشاہتیں تھیں مگر اُن کے خلاف جدوجہد ہوئی‘ بہت خون خرابہ ہوا‘ جیسے انقلابِ فرانس‘ اور ایک طویل معاشرتی بحث شروع ہوئی کہ کس طرح جائزیت اور پُرامن انتقالِ اقتدار کے اصول وضع کیے جائیں۔ جلد یا بدیر‘ رضا مندی یا دبائو‘ مجبوری یا رعایت‘ جو بھی کہیں اصلاحات ہوئیں‘ پھر امن اور استحکام کے ساتھ ترقی کی منازل طے ہونے لگیں۔ اُس دور میں مسلم سلطنتوں میں بھی اصلاحات کی بات کرنے والوں کی کمی نہ تھی مگر خوف کے پہرے اتنے سخت تھے کہ ان کی آوازیں جبر کے غاروں میں دب کر رہ گئیں۔ تمام طاقت مخالفین کو کچلنے میں صرف ہوتی۔ تاریخ کے قارئین کو اورنگزیب کے بارے میں معلوم ہوگا کہ 27 سال تک وہ مرہٹوں کے خلاف دکن میں لڑتا رہا اور وہیں وفات پائی۔ یہاں ہم ان کے بھائیوں کی بات نہیں کرتے‘خصوصاً دارا شکوہ کی۔ مؤرخ اس بات پر متفق ہیں کہ اگر دارا شکوہ اورنگزیب کے خلاف اپنی مہم میں کامیاب ہو جاتا توآج جنوبی ایشیا کی تاریخ‘ سیاست اور جغرافیائی نقشہ بہت مختلف ہوتے۔ برطانیہ کی ایسٹ انڈیا کمپنی کی بنیاد سولہویں صدی کے آخری دن‘ 31 دسمبر 1600ء کو رکھی گئی تھی اور سات سالوں میں اس نے سورت میں اپنا کاروبار شروع کر دیا تھا۔سوچتا ہوں اگر امریکہ اور برطانیہ ایران میں مداخلت کرکے 1953ء میں ڈاکٹر مصدق کی حکومت ختم نہ کرتے تو آج مشرقِ وسطیٰ کا نقشہ مختلف ہوتا۔ خیر شہنشاہ رضا پہلوی کو ہٹانے کی تحریک میں مصدق کا نیشنل فرنٹ پیش پیش تھا۔ انقلاب کے بعد مصدق پارٹی کے ابوالحسن بنی صدر ہی پہلے صدر منتخب ہوئے‘ مہدی بازرگان پہلے عبوری وزیر اعظم اور کریم سنجابی کچھ دیر کیلئے وزیر خارجہ بنے۔ موجودہ حالات پر کچھ زیادہ لکھنے کو جی نہیں چاہتاکہ پھر کیا ہوا۔ ایرانی انقلاب کو ہم نے کامیاب ہوتے قریب سے دیکھا اور اُس کے خلاف پورے خطے میں مخالفت بھی‘ جو ایران عراق جنگ کی صورت اختیار کر گئی۔ ایران کا انقلاب اور طرزِ حکومت ایک طبقے کیلئے تو ابھی تک مثالی ہے مگر دیگر مسلم ممالک کیلئے وہ مثال نہیں بن سکا۔ اگر بنا ہے تو افغانستان کیلئے جہاں امیر المومنین‘ سپریم لیڈر کی صورت‘ قندھار سے ملک چلا رہے ہیں۔ افغانستان کا بگاڑ بھی اندرونی کشمکش‘ اقتدار کی جنگ اور اُس کیلئے بیرونی طاقتو ں کی اعانت حاصل کرنے کی دوڑ سے پیدا ہوا۔ میرے خیال میں مصدق کے دور کی طرح افغانستان کے آج کے حالات اور اس خطے کی سلامتی بالکل مختلف ہوتی اگر 1964ء کے آئین کے مطابق‘ جس کے تحت دو انتخابات ہوئے، مجلس بنی اور بڑی حد تک اظہار کی آزادی تھی‘ آگے بڑھتے رہتے۔ سردار دائود نے وہی کیا جو بارکزئیوں نے محمد زئیوں کے ساتھ کیا تھا‘ جنہوں نے موجودہ افغانستان کی ریاست کی بنیاد رکھی تھی۔ نصف صدی کے بعد آج کا افغانستان دیکھیں کہ کہاں کھڑا ہے! تنہا‘ غربت کا شکار اور ایک اور خانہ جنگی کے دہانے پر۔ طاقت کے زور پر جو اقتدار میں آتے ہیں‘ انہیں اسی کے زور پر رخصت کیا جاتا ہے۔کچھ اور مثالیں بھی آپ کے سامنے ہیں ۔ لیبیا میں کرنل قذافی کبھی گرجتے برستے تھے۔ سوڈان‘ یمن‘ صومالیہ‘ شام اور لبنان کے المیے کی کیا بات کریں کہ وہ بھی تقسیم ہیں اور جن بنیادوں پر ہیں وہ ہمارے زوال کے اسباب میں سے ہیں۔ پھر آپ کی توجہ اس سادہ سے اصول کی طرف دلاتا ہوں کہ عوام کی منشا کے مطابق آئین کے تحت حکومت قائم ہو اور آزادانہ شفاف انتخابات میں اسے تبدیل کرنے کا واضح طریقہ کار ہو۔ گزشتہ دس برسوں میں برطانیہ میں سات وزیراعظم تبدیل ہوئے ہیں‘ان میں سے چھ اپنی پارٹی نے بدلے ہیں ۔ ملک میں کوئی بھونچال آیا نہ بحران۔ 10 ڈائوننگ سٹریٹ سے ایک رخصت ہوتا ہے تو اس کی جگہ اگلے دن کوئی اور چنا جاتا ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ زیادہ تر مسلم ممالک میں آج بھی فاتح کا تصور غالب ہے۔ جس کسی نے افغانستان‘ لیبیا‘ شام‘ سوڈان اور یمن فتح کر لیے‘ ملک اُسی کا ہے۔ یہاں دربار فاتحین کا ہی معتبر ہے کہ کیسے کیسے قصیدے نہیں لکھے اور کہے جاتے۔ مغرب بھی آپ کو یہی کہتا ہے کہ آپ کے معاشرے اپنی تاریخی اور ثقافتی روایت کے اعتبار سے جمہوریت پسند نہیں‘ نہ ہی وہ انسانی‘ صنفی اور مذہبی مساوات کے قائل ہیں ۔ ہم نے اپنی پوری زندگی آپ کے سامنے یہ ثابت کرنے میں لگا دی ہے کہ یہ شرق شناسی محض تعصب کے سوا اور کچھ نہیں‘ مگر جب ہم اپنی سیاسی تاریخ کو دیکھتے ہیں‘ حالات کی طرف نظر دوڑاتے ہیں اور مختلف ممالک میں جاری خلفشار اور لڑائیوں کی طرف دھیان جاتا ہے مگر اس بے بسی پر اب رونا چھوڑ دیا ہے۔ معاف کرنا‘ آج کچھ تلخ نوائی کی طرف طبیعت ہو گئی۔ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ۔ مجھے تو جنگوں‘ خون خرابے اور کرپشن سے خوف آتا ہے کہ اب ان کے تانے بانے بُنے ہوئے ہیں۔ جائزیت حصولِ اقتدار تک محدود نہیں ‘ یہ زندگی کے ہر شعبے کا احاطہ کرتی ہے۔ اگر اصلاح نہیں تو پھر ایسے ملکوں میں فساد اور تباہی ہی دیکھیں گے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_33241568.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>تعمیراتی پیکیج‘ لائیو سٹاک اور ہڑتال(میاں عمران احمد)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mian-imran-ahmad/2026-08-17/52497/72483709</link><pubDate>Mon, 17 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mian-imran-ahmad/2026-08-17/52497/72483709</guid><description>پاکستان میں جب بھی معاشی بحالی‘ روزگار کے مواقع اور سرمایہ کاری کے فروغ کی بات ہوتی ہے تو تعمیراتی شعبہ سب سے اہم شعبوں میں شمار ہوتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ وفاقی وزیر برائے اکنامک افیئر اینڈ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے بتایا ہے کہ حکومت تعمیراتی صنعت کے لیے جامع پیکیج پر غور کر رہی ہے جس میں کنسٹرکشن انڈسٹری ڈویلپمنٹ بورڈ اور کنسٹرکشن ڈویلپمنٹ بینک کے قیام کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔ اس وقت پاکستان کو شدید نوعیت کے ہاؤسنگ بحران کا سامنا ہے۔ اقوام متحدہ اور سٹیٹ بینک کے مطابق ملک میں رہائشی یونٹس کی کمی ایک کروڑ بیس لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ آبادی میں سالانہ تقریباً 2.55 فیصد اضافے اور شہروں کی جانب نقل مکانی کے بڑھتے رجحان کے باعث یہ مسئلہ مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ اس صورتحال میں کنسٹرکشن انڈسٹری ڈویلپمنٹ بورڈ کا قیام اہم ثابت ہو سکتا ہے۔ ملائیشیا‘ سنگاپور اور جنوبی افریقہ جیسے ممالک میں ایسے ادارے تعمیراتی صنعت کی ریگولیشن‘ تربیت‘ معیار‘ ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کے فروغ میں اہم کردار ادا کر چکے ہیں۔ پاکستان میں مختلف وزارتوں‘ صوبائی اداروں اور ریگولیٹرز کے درمیان رابطے کا فقدان پایا جاتا ہے۔ ایک مرکزی بورڈ اس خلا کو پُر کر سکتا ہے۔ اسی طرح کنسٹرکشن ڈویلپمنٹ بینک کا تصور بھی قابل توجہ ہے۔ پاکستان میں ہاؤسنگ فنانس کا حجم خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔ بیشتر تعمیراتی منصوبے مہنگی بینک فنانسنگ یا ذاتی سرمایہ کاری پر انحصار کرتے ہیں۔ اگر خصوصی تعمیراتی بینک کم شرح سود پر طویل مدتی قرضے فراہم کرے تو نجی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ تعمیرات کے شعبے کے ساتھ 40 سے زائد بڑی صنعتیں اور مجموعی طور پر 400 سے زیادہ معاشی سرگرمیاں وابستہ ہیں جن میں سیمنٹ‘ سریا‘ ٹائلز‘ پینٹ‘ الیکٹریکل سامان‘ لکڑی‘ شیشہ‘ انجینئرنگ‘ ٹرانسپورٹ اور ہاؤسنگ فنانس شامل ہیں۔ نئے فریم ورک کے تحت تعمیراتی منصوبوں سے وابستہ کنسلٹنٹس کو بھی براہِ راست نگرانی کے دائرے میں لانے کی تجویز ہے کیونکہ بڑے تعمیراتی منصوبے کی کامیابی صرف ٹھیکیدار کی کارکردگی پر منحصر نہیں ہوتی بلکہ اس کے ڈیزائن‘ انجینئرنگ‘ تخمینے اور تکنیکی نگرانی کا بھی بنیادی کردار ہوتا ہے۔ البتہ صرف ادارے بنا دینا مسئلے کا مکمل حل نہیں ہو سکتا‘ پاکستان میں پہلے ہی متعدد ترقیاتی ادارے موجود ہیں لیکن اکثر مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر سکے۔ اگر لینڈ ریکارڈ کی ڈیجیٹائزیشن‘ بلڈنگ پرمٹس کے نظام میں بہتری‘ تنازعات کے فوری حل‘ ہاؤسنگ فنانس کی دستیابی اور بلدیاتی اداروں کی مضبوطی پر توجہ نہ دی گئی تو نئے ادارے بھی شاید محدود نتائج ہی دے سکیں۔دوسری جانب گندم امپورٹ کی اجازت ملنے کے بعد ملک میں شوگر ملز مالکان بھی متحرک دکھائی دے رہے ہیں۔ ماضی کی طرح اس سال بھی شوگر ملز کا مؤقف ہے کہ ملک میں چینی کا وافر ذخیرہ موجود ہے اور اضافی چینی برآمد کر کے زرمبادلہ کمایا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب وزارتِ تجارت اس تجویز کی حمایت کرنے سے گریزاں ہے کیونکہ گزشتہ سال کے تجربے نے کئی سوالات کھڑے کر دیے تھے۔ پہلے چینی برآمد کی گئی اور بعد میں ملک میں قلت اور قیمتوں کے دباؤ کے باعث درآمد کی ضرورت پیش آ گئی جس پر نہ صرف عوام بلکہ حکومتی اداروں نے بھی سخت تنقید کی تھی لیکن ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ حکومت شاید شوگر ملز مالکان کا دباؤ برداشت نہ کر سکے ۔ ہر سال حکومت پہلے انکار کرتی ہے اور پھر رضا مندی ظاہر کر دیتی ہے۔ گزشتہ سال پاکستان نے ساڑھے سات لاکھ ٹن چینی برآمد کر کے 40 کروڑ ڈالر سے زائد زرمبادلہ حاصل کیا لیکن آڈیٹر جنرل کے مطابق قیمتوں میں اضافے سے شوگر ملز کو تقریباً 300 ارب روپے کا اضافی فائدہ ہوا جبکہ عوام کو مہنگی چینی خریدنا پڑی اور قیمت 170 روپے فی کلو سے بھی تجاوز کر گئی۔ یہی وجہ ہے کہ اس بار چینی برآمد کرنے کی تجویز پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ شوگر ملز کا مؤقف ہے کہ برآمدات سے زرمبادلہ حاصل ہو گا‘ کسانوں کو بہتر قیمت ملے گی اور صنعت کو فائدہ ہو گا۔ یہ مؤقف اپنی جگہ درست ہو سکتا ہے لیکن حکومت کی پہلی ذمہ داری ملکی ضروریات کا تحفظ اور قیمتوں کا استحکام ہے۔ اگر برآمد کی اجازت دی جاتی ہے تو اس کے لیے شفاف اعدادو شمار‘ حقیقی ذخائر کی آزادانہ تصدیق اور واضح سٹرٹیجک ریزرو پالیسی ناگزیر ہے۔ فیصلے دباؤ کے بجائے اعداد وشمار کی بنیاد پر کیے جائیں ورنہ گندم کے بعد چینی اور چینی کے بعد کسی اور جنس کی درآمد کا چکر جاری رہے گا اور اسکی قیمت عام پاکستانی ادا کرے گا۔سندھ کے وزیر لائیو سٹاک وفشریز نے کہا ہے کہ سندھ حکومت لائیو سٹاک کے شعبے کی ترقی اور اسے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ ان کے مطابق نسل کی بہتری‘ بیماریوں پر قابو‘ جدید ذبح خانوں‘ کولڈ سٹوریج‘ ٹریس ایبلٹی اور ویلیو ایڈڈ گوشت کو ممکن بنانے کے لیے لائحہ عمل اختیار کر لیا گیا ہے۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور لائیو سٹاک کی بہتری کے لیے اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ لائیو سٹاک میں بہتری سے برآمدات پر نمایاں اثر پڑ سکتا ہے۔ پاکستان سے چین کو گوشت کی برآمد میں بھی تیز رفتار اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ جنوری تا نومبر 2025ء کے دوران چین کو گوشت کی برآمدات 14.32 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں‘ جو ایک سال پہلے کے 4.23 ملین ڈالر کے مقابلے میں تقریباً 239 فیصد زیادہ ہیں۔ حالیہ دورۂ چین کے دوران صدر زرداری نے چینی سرمایہ کاروں کو پاکستان کے لائیو سٹاک سیکٹر میں سرمایہ کاری کی دعوت دی تھی اور اس شعبے میں پاک چین تعاون کی حمایت کی تھی۔ پاکستان کا گوشت کا موجودہ برآمدی حجم تقریباً 500 ملین ڈالر سالانہ ہے۔ حکومت کی اپنی میٹ سیکٹر ٹرانسفورمیشن سٹرٹیجی کے مطابق اسے 2028ء تک تقریباً 700 ملین ڈالر تک لے جانے کا ہدف ہے‘ یعنی تقریباً 200 ملین ڈالر یا 40 فیصد اضاے کا ہدف طے کیا گیا ہے۔ سندھ میں تقریباً پانچ کروڑ مویشی موجود ہیں جو ملک کے کل مویشیوں کا تقریباً پانچواں حصہ ہیں۔ سندھ کی پیداوار اور پروسیسنگ کی صلاحیت میں بہتری کے اقدامات سے تین سال میں سندھ کی گوشت برآمدات تقریباً سو ملین ڈالر سالانہ تک بڑھ سکتی ہے۔ملکی معیشت اس وقت جس نازک مرحلے سے گزر رہی ہے وہاں کسی بھی شعبے میں پیدا ہونے والا تعطل قومی اقتصادی سرگرمیوں کو متاثر کر سکتا ہے‘ یہی وجہ ہے کہ گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال محض صنعتی تنازع نہیں بلکہ معاشی بحران بن کر سامنے آئی ہے۔ ٹرانسپورٹرز کے مطابق ہڑتال کے ابتدائی ہفتے میں ہی  معیشت کو 50 ارب روپے سے زائد کا نقصان پہنچ چکا۔ پاکستان میں مال برداری کے نظام کا تقریباً تمام تر انحصار سڑکوں پر ہے۔ 90 فیصد سے زائد سامان ٹرکوں اور ٹرالرز کے ذریعے ایک شہر سے دوسرے شہر اور بندرگاہوں سے صنعتی مراکز تک پہنچایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ٹرانسپورٹ کا پہیہ رکتا ہے تو صنعت‘ تجارت‘ زراعت اور برآمدات سب متاثر ہوتے ہیں۔ ہڑتال کے باعث چار لاکھ سے زائد مال بردار گاڑیوں کی نقل و حرکت متاثر ہوئی ہے جس سے سپلائی چین میں شدید رکاوٹ پیدا ہوئی ہے۔ یہ حقیقت بھی سامنے آئی ہے کہ پاکستان کا لاجسٹکس نظام غیر متوازن ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں ریلوے اور آبی راستے مال برداری کا اہم ذریعہ ہوتے ہیں‘ لیکن پاکستان میں ریلوے فریٹ کا حصہ انتہائی محدود رہ گیا ہے۔ نتیجتاً سارا بوجھ سڑکوں پر آ جاتا ہے۔ جب ٹرانسپورٹرز احتجاج کرتے ہیں تو معیشت کے پاس کوئی مؤثر متبادل راستہ موجود نہیں ہوتا۔ یہ صورتحال حکومت اور پالیسی سازوں کے لیے ایک پیغام ہے کہ پاکستان کو جدید لاجسٹکس نظام‘ فعال ریلوے فریٹ نیٹ ورک اور ٹرانسپورٹ سیکٹر کے مسائل کے مستقل حل کی ضرورت ہے۔ وقتی مذاکرات اور ہنگامی اقدامات ہر مرتبہ بحران کو چند دنوں کے لیے ٹال تو سکتے ہیں لیکن مسئلے کا مستقل علاج نہیں بن سکتے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/212_71532147.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>تاریخ کا سنہری باب، جنرل محمد ضیا الحق شہید(محمد اعجاز الحق)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-ijaz-ul-haq/2026-08-17/52498/56226986</link><pubDate>Mon, 17 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-ijaz-ul-haq/2026-08-17/52498/56226986</guid><description>17 اگست 1988ء پاکستان کی تاریخ میں کوئی عام دن نہیں ہے‘ یہ وطنِ عزیز میں اسلامی نظام کے عملی نفاذ کے داعی‘ پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے والے اور ملک کو اقوام عالم میں ممتاز مقام دلانے والے معمارِ قوم صدر جنرل محمد ضیا الحق شہید کی یاد کا دن ہے۔ جنرل ضیا الحق کے دورِ حکومت میں جہاں ایک طرف افغانستان کو غاصب سوویت یونین کی غلامی سے نجات دلانے کا معرکہ لڑا گیا وہیں دوسری طرف مقبوضہ کشمیر کو بھارت کے غاصبانہ تسلط سے آزادی دلانے کا پختہ عزم بھی کیا گیا۔ پاکستان کے دشمنوں کو یہ بات کسی طور پسند نہیں تھی؛ چنانچہ ایک منظم اور گہری عالمی سازش اور مقامی سہولت کاروں کے ذریعے ہم سے ہمارا بیدار مغز قائد چھین لیا گیا اور پاکستان کی ترقی وسرفرازی کا راستہ روکنے کی کوشش کی گئی۔ اگرچہ صدر ضیا الحق آج جسمانی طور پر ہم میں موجود نہیں لیکن ملکی سرحدوں کی حفاظت‘ اندرونی سلامتی اور اسلامی نظا م زندگی کے عملی نفاذ کیلئے ان کے تاریخی اقدامات آج بھی ایک روشن مثال ہیں۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ پر نظر ڈالیں تو 7 مارچ 1977ء کے قومی اسمبلی کے انتخابات اس بحران کا نقطہ آغاز تھے جس میں مخالف امیدواروں کو اغوا کیا گیا اور پولنگ کے دن بدترین اور منظم دھاندلی کی گئی۔ ذوالفقار علی بھٹو کے مقابلے میں الیکشن لڑنے والے اپوزیشن امیدوار مولانا جان محمد عباسی کو اغوا کر کے بھٹو صاحب اور ان کی کابینہ کو بلامقابلہ منتخب کرانے کا ڈرامہ رچایا گیا۔ اس دھاندلی کے خلاف اپوزیشن جماعتوں &#39;&#39;پاکستان قومی اتحاد‘‘ نے صوبائی اسمبلی کے انتخابات کا بائیکاٹ کر دیا اور ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کر دی۔ اس تحریک میں طلبہ‘ وکلا‘ تاجر‘ خواتین‘ مزدور‘ کسان اور سرکاری ملازمین تک سبھی شامل ہوتے چلے گئے۔ انتظامی مشینری کا کنٹرول ختم ہونے لگا اور ملک میں خانہ جنگی کے خطرات منڈلانے لگے۔ سعودی سفیر ریاض الخطیب نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سمجھوتے کی بھرپور کوششیں کیں لیکن حکومت کے تشدد کے حربے اور طاقت کے استعمال نے حالات کو مزید بگاڑ دیا۔ کراچی‘ لاہور اور حیدر آباد میں مارشل لاء اور دیگر شہروں میں کرفیو نافذ کردیا گیا۔ حکومت اور اپوزیشن میں مذاکرات جاری تھے اور ایک تحریری معاہدہ طے بھی پا گیا تھا مگر بھٹو صاحب کے اس پر دستخط نہ کرنے سے ملک غیر یقینی کا شکار ہو گیا۔ اس نازک صورتحال میں جب ملک تباہی کے دہانے پر تھا پاک فوج نے ملکی سلامتی کیلئے اپنا کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا۔ پانچ جولائی 1977ء کو جنرل محمد ضیا الحق نے اقتدار سنبھالا تو عوام نے سکھ کا سانس لیا اور انہیں ایک نجات دہندہ کے طور پر قبول کیا۔ ملکی اور غیر ملکی پریس کے علاوہ مختلف سیاسی شخصیات نے بھی اس اقدام کو ملکی سلامتی کے تناظر میں جائز اور وقت کا تقاضا قرار دیا۔ اقتدار میں آتے ہی عوام کی جانب سے &#39;&#39;پہلے احتساب پھر انتخاب‘‘ کا مطالبہ سامنے آیا۔ جنرل محمد ضیا الحق نے ملکی اصلاحات کا آغاز کیا اور سب سے پہلے انگریز دور کے قوانین کی جگہ اسلامی حدود وسزائوں کے نفاذ کا اعلان کیا۔ مغربی دنیا اور ملک کے سیکولر طبقے نے اس پر شدید ردعمل دیا اور طعنہ زنی کی کہ ضیا الحق پاکستان کوبغیر تیل کے سعودی عرب بنا رہے ہیں مگر عوامی حمایت سے مالا مال ضیاالحق نے کسی دبائوکی پروا نہیں کی اور آئین میں آرٹیکل 62 اور 63 شامل کر کے سیاسی نظام کو کرپشن اور بددیانتی سے پاک کرنے کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے ملک میں دینی واخلاقی اقدار کے فروغ اور سماجی فلاح کیلئے نظام صلاۃ‘ زکوٰۃ وعشر کا قیام‘ بلاسود بینکاری‘ احترا م رمضان آرڈیننس‘ بیت المال کا قیام اور سرکاری دفاتر میں ظہر کی نماز کا باقاعدہ اہتمام یقینی بنایا۔ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کیلئے تاریخی &#39;&#39;ردِّ قادیانیت آرڈیننس‘‘ جاری کیا۔ انہوں نے علاقائی تعاون تنظیم سارک (SAARC) کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا اور قراردادِ مقاصد کو آئین کا باقاعدہ اور فعال حصہ بنایا۔ بلوچستان میں ماضی کی شورش کو ختم کر کے اسیر بلوچ رہنمائوں کو رہا کیا اور انہیں عزت واحترام دیا۔ ملکی تاریخ میں پہلی بار کوئٹہ کو گیس فراہم کی اور مواصلاتی نظام استوار کر کے صوبے میں امن وامان اور کاروبارِ زندگی بحال کیا۔ 1979ء میں جب سوویت یونین نے افغانستان پر غاصبانہ قبضہ کیا تو پاکستان کی سرحدوں کیلئے شدید خطرات پیدا ہو گئے۔ اگر روس کابل پر مکمل قابو پا لیتا تو اس کا اگلا ہدف پاکستان کے گرم پانیوں تک رسائی حاصل کرنا ہوتا۔ صدر ضیا الحق نے بے مثال جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف افغان مجاہدین کی بھرپور مدد کی بلکہ افغان مہاجرین کو خوشدلی سے پناہ دی۔ ان کی واضح اور دو ٹوک پالیسی کی وجہ سے تمام افغان مجاہدین گروپ انہیں اپنا ہیرو مانتے تھے۔ انہوں نے تن تنہا اپنے وقت کی سپر پاور کا مقابلہ کیا اور امریکی صدر کی حقیر امداد کو &#39;&#39;مونگ پھلی‘‘ کہہ کر مسترد کر دیا۔ وہ شاطر عالمی دماغوں سے اپنا کام نکالنا خوب جانتے تھے۔ انہوں نے روس کے صدر میخائل گوربا چوف کو ایسی مات دی کہ سوویت روس کو آمو دریا کے پار دھکیل دیا گیا۔ تاہم‘ وہ جنیوا معاہدے کے اس لیے خلاف تھے کیونکہ وہ روس کے انخلا سے قبل افغانستان میں ایک مستحکم اور پائیدار اسلامی حکومت قائم کرانا چاہتے تھے۔بھارت کی جانب سے 1974ء کے ایٹمی دھماکے کے بعد پاکستان کیلئے ایٹمی صلاحیت کا حصول اس کی بقا کا مسئلہ تھا۔ جنرل ضیا الحق نے 1977ء میں اقتدار سنبھالتے ہی کہوٹہ ایٹمی پلانٹ کو پاک فوج کی تحویل میں دے دیا اور جنرل اختر عبدالرحمن کی معاونت سے ایٹمی پروگرام کی ایسی حفاظت کی کہ دشمن اس کا بال بھی بیکا نہ کر سکا۔ ان کے دور میں پاکستان نے کامیابی کے ساتھ &#39;&#39;کولڈ ٹیسٹ‘‘ مکمل کر لیے۔ 1984ء میں اسرائیل کی معاونت اور 1987ء میں &#39;&#39;براس ٹیک‘‘ مشقوں کے ذریعے بھارت نے پاکستان کے ایٹمی اثاثوں پر حملوں کا منصوبہ بنا رکھا تھا مگر صدر ضیا الحق نے کرکٹ ڈپلومیسی اور بھارتی وزیراعظم راجیو گاندھی کو دوٹوک پیغام دے کر بھارت کو اپنے مذموم عزائم سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔ وہ جانتے تھے کہ بھارت کبھی پاکستان کا دوست نہیں ہو سکتا‘ اسی لیے انہوں نے مشرقی سرحد کو ہمیشہ محفوظ اور بیدار رکھا۔ مجھے صدر جنرل محمد ضیا الحق کو بطور والد اور بطور حکمران قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ وہ نہایت کشادہ ظرف‘ عاجز‘ خوش طبع‘ ملنسار اور مہمان نواز انسان تھے۔ وہ ایک راسخ العقیدہ مسلمان اور سچے عاشقِ رسول تھے جن کی ذاتی زندگی پر کرپشن یا بددیانتی کا کبھی کوئی داغ نہیں لگ سکا۔ گیارہ سال تک ملک کے مطلق العنان حکمران اور آرمی چیف رہنے کے باوجود ان کی عاجزی و انکساری کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے کبھی اپنے خاندان یا بچوں کیلئے کوئی سیاسی منصب‘ مل‘ فیکٹری یا جاگیر نہیں بنائی۔ ان کے بچوں کو عام شہریوں کی طرح بلدیاتی یا عام انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں تھی۔ جب وہ اس دنیا سے رخصت ہوئے تو ان کے کُل اثاثے محض دو لاکھ روپے تھے۔ 17 اگست 1988ء کو بہاولپور کے قریب سی 130 طیارے کے دردناک حادثے میں صدر جنرل محمد ضیا الحق اپنے 29 گرامی قدر ساتھیوں‘ فوجی جرنیلوں‘ افسران اور جوانوں کے ساتھ شہید ہو گئے۔ وہ اس وقت بھی فوجی وردی میں ملبوس تھے اور اسی حالت میں اپنے رب کے حضور پیش ہو گئے۔ اس عظیم سانحے پر بھارت اور اسرائیل سمیت پاکستان کے دشمنوں نے خوشیاں منائیں کیونکہ ضیا الحق ان کی راہ کی سب سے بڑی رکاوٹ تھے۔ اس حادثے کی تحقیقات کیلئے انکوائری بورڈز اور جسٹس شفیع کمیشن بھی قائم کیا گیا لیکن مقام افسوس ہے کہ شہدا کے لواحقین اور مداح آج تک انصاف کے منتظر ہیں کہ یہ سازش کہاں تیار ہوئی اور اس میں کون ملوث تھا۔ آج جنرل محمد ضیا الحق کے طیارے کا مقدمہ اللہ کی عدالت میں ہے جہاں دیر ہے مگر اندھیر نہیں۔ البتہ تاریخ کے اوراق میں ان کی دینی‘ ملی اور قومی خدمات سدا تابندہ رہیں گی۔صلۂ شہید کیا ہے تب و تابِ جاودانہ </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/216_50246743.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>جنرل اختر عبدالرحمن شہید‘ بحیثیت آئی ایس آئی چیف(ابراہیم علی خان لودھی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ibrahim-ali-khan-lodi/2026-08-17/52501/18272240</link><pubDate>Mon, 17 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ibrahim-ali-khan-lodi/2026-08-17/52501/18272240</guid><description>آج کل کے حالات میں جب پاکستان میں اداروں اور عوام کے درمیان اعتماد کا بحران ہر جگہ زیر بحث ہے ‘ یہ جاننے کی اشد ضرورت ہے کہ بحیثیت آئی ایس آئی چیف جنرل اختر عبدالرحمن شہید کی کامیابی کا راز کیا تھا کہ 1988ء میں ان کی شہادت کے بعد جب ان کی حیرت انگیز شخصیت اور کارناموں کی تفصیلات منظر عام پر آئیں تو دنیا دنگ رہ گئی۔ یاد رہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی (انٹر سروسز انٹیلی جنس) کی بنیاد 1948ء میں رکھی گئی تھی لیکن اس کو عالمگیر شہرت سوویت یونین کے خلاف افغان سرزمین پر لڑی جانے والی طویل گوریلا جنگ کے دوران حاصل ہوئی‘ جب اس کی کمان جنرل اختر عبدالرحمن کے ہاتھ میں تھی۔ افغانستان سے سوویت فوجوں کی واپسی کے بعد واشنگٹن پوسٹ نے 22 مارچ 1989ء کی اپنی رپورٹ میں اعتراف کیا کہ &#39;&#39;17 اگست 1988ء کو جب جنرل اختر عبدالرحمن جنرل ضیا کے ساتھ ہی جاں بحق ہو گئے تو آئی ایس آئی تیسری دنیا کی سب سے مؤثر اور جدید ترین انٹیلی جنس ایجنسی کا مرتبہ حاصل کر چکی تھی‘‘۔ آئی ایس آئی نے یہ پوزیشن کس طرح حاصل کی‘ اس کی ایک طویل کہانی ہے‘ جو جون 1979ء سے اگست 1988ء تک پھیلی ہوئی ہے۔جون 1979ء میں آئی ایس آئی چیف محمد ریاض خان حرکت قلب بند ہو جانے سے اچانک انتقال کر گئے تو نئے چیف کے لیے جنرل ضیا الحق کی نگاہِ انتخاب جنرل اختر عبد الرحمن پر پڑی۔ ایک ایسے وقت میں یہ ذمہ داری ان کے سپرد کی گئی جب پاکستان اندرونی اور بیرونی محاذوں پر بڑی مشکل صورتحال سے دوچار تھا۔ افغانستان عدم استحکام کا شکار تھا اور وہاں سے مہاجرین کا کوئی نہ کوئی قافلہ روزانہ کی بنیاد پر پاکستان کی حدود میں داخل ہو رہا تھا۔ ایران میں ڈھائی ہزار سالہ شہنشائیت کا خاتمہ ہو چکا تھا اور امام خمینی کی قیادت میں ایرانی معاشرہ ایک انقلاب کے عمل سے گزر رہا تھا۔ اندرون ملک ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد جنرل ضیا الحق کے خلاف اپوزیشن متحد ہو چکی تھی۔ ان غیر واضح حالات میں بھار ت کی خفیہ ایجنسی &#39;را‘ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے پوری طرح سرگرم عمل ہو چکی تھی۔عسکری تاریخ کی گواہی یہی ہے کہ جنگیں خفیہ ایجنسیوں کے بل پر لڑی اور جیتی جاتی ہیں۔ جن لوگوں نے دنیا کے عظیم فاتحین کی داستانیں پڑھی ہیں‘ ان سے یہ حقیقت پوشیدہ نہیں کہ ان فاتحین کی جنگی فتوحات میں اہم ترین عامل ان کی خفیہ ایجنسیاں تھیں جن سے وہ اپنے دشمن کو دیکھتے‘ اس کے خلاف حکمت عملی وضع کرتے اور آخرکار فتح حاصل کرتے تھے۔ آج بھی دنیا کے سبھی ممالک اپنے خفیہ اداروں کو لامحدود بجٹ فراہم کرتے ہیں اور ان کی فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر ہی ملکی سلامتی سے متعلق اہم ترین فیصلے کیے جاتے ہیں۔جنرل اختر عبدالرحمن نے آئی ایس آئی کی کمان سنبھالی تو اس وقت تک یہ اوسط درجے کی ایجنسی تھی اور پاکستان کے خلاف اندرونی اور بیرونی سازشوں کو مؤثر طور پر ناکام بنانے کی پوزیشن میں نہ تھی۔ جنرل اختر نے اسے ایک مؤثر اور طاقتور خفیہ ایجنسی بنانے کے لیے اپنی تمام صلاحتیں وقف کر دیں۔ نئی اور بہترین افرادی قوت بھرتی کی۔ ڈھونڈ ڈھونڈ کر جفاکش جوان اور ذہین افسر اکٹھے کیے۔ ان کو ہر طرح کے وسائل فراہم کیے۔ ان کی بہترین ذہنی‘ جسمانی اور نفسیاتی تربیت کی اور اس طرح کچھ ہی عرصہ میں آئی ایس آئی کو پیشہ ورانہ لحاظ سے ایک ایسی زبردست فورس میں تبدیل کر دیا جس پر مشکل ترین حالات میں فوج مکمل انحصار کر سکتی تھی۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ جیسے قدرت کو جنرل اختر عبدالرحمن شہید سے کوئی بہت بڑا کام لینا مقصود ہے۔ یہ اندازہ اس وقت سچ ثابت ہوا جب دسمبر 1979ء میں افغانستان میں وہ جنگ شروع ہوئی جس کے لیے دستِ قدرت سالہا سال سے جنرل اختر کی پرورش کر رہا تھا۔ روسی فوجیں اپنے بکتر بند دستوں کے ساتھ افغانستان میں داخل ہو گئیں اور اسے اپنے مقبوضات میں شامل کر لیا۔ پاکستان کے پاس دو راستے تھے: پہلا یہ کہ خوفزدہ ہو کے چپ سادھ لے اور دوسرا یہ کہ سوویت فوجوں کے خلاف افغان مزاحمت کا ساتھ دے۔ جنرل اختر عبدالرحمن کی رائے یہ تھی کہ روس کو اگر افغانستان میں روکا نہیں گیا تو اس کا اگلا ہدف پاکستان ہو گا۔ تاہم اس جنگ میں پاکستان کو بلا واسطہ کے بجائے بالواسطہ طور پراپنا کردار ادا کرنا چاہیے‘ یعنی عملی طور پر یہ &#39;پراکسی وار‘ ہو گی۔ جنرل اختر نے یہ جنگ جس طرح لڑی اور پھر جیتی‘ یہ دنیا کی جنگی و عسکری تاریخ کا ایک حیرت انگیز باب ہے۔ امریکہ کے عسکری امور کے ماہر بروس رائیڈل افغانستان پر اپنی تحقیقی کتاب America&#39;s Secret War in Afghanistan میں اس امر کا اعتراف کرتے ہوئے لکھتے ہیں: &#39;&#39;حقیقتاً یہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی تھی جس نے روس کے خلاف افغان مجاہدین کو لیڈرشپ‘ ٹریننگ اور سٹرٹیجی فراہم کی اور یہ افغان عوام اور پاکستان ہی تھے جنہوں نے اس عظیم جنگ کا تمام تر خطرہ مول لیا اور قربانیاں دیں‘‘۔جنرل اختر عبدالرحمن نے بطور آئی ایس آئی چیف اندرون ملک بھی بڑی سمجھداری سے بعض انتہائی حساس معاملات کو بغیر کوئی تلخی پیدا کیے حل کیا۔ مثلاً جولائی 1980ء کے پہلے ہفتے میں ایک گروہ نے اسلام آباد میں سول سیکرٹریٹ کا محاصرہ کر لیا‘ دفاتر بند ہو گئے اور حکومتی مشینری مفلوج ہو گئی۔ جب وزارتِ داخلہ نے بھی گھٹنے ٹیک دیے تو صدر ضیاالحق نے یہ مشن جنرل اختر عبدالرحمن کو سونپا‘ جنہوں نے بغیر کسی خون خرابہ کے اس تنازع کو اس طرح حل کیا کہ مذکورہ گروہ نے نہ صرف محاصرہ ختم کر دیا بلکہ وہ لوگ مطمئن ہو کے گھر واپس چلے گئے۔ پھر جب کچھ فوجی افسروں نے یوم پاکستان کی پریڈ میں صدر ضیا الحق کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا تو یہ جنرل اختر عبدالرحمن ہی تھے جنہوں نے اس سازش کا سراغ لگایا اور اسے ناکام بنایا۔ اسی طرح جب اسلام آباد میں کچھ مشتعل مظاہرین نے عین اس وقت امریکی سفارتخانے کو آگ لگا دی جب اس کے اندر امریکی عملہ بھی موجود تھا تو جنرل اختر ہی نے اس ریسکیو آپریشن کی نگرانی کی اور امریکی عملے کو بحفاظت باہر نکالا۔مارچ 1987ء میں جنرل اختر عبدالرحمن کو فور سٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف بنایا گیا تو اس وقت آئی ایس آئی کا شمار بلاشبہ دنیا کی صفِ اول کی خفیہ ایجنسیوں میں ہوتا تھا۔ جنرل اختر عبدالرحمن کے زیر کمان آئی ایس آئی کا یہ دور بلاشبہ آئی ایس آئی کیلئے رول ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ جب جنرل اختر عبدالرحمن یہ سب کچھ کر رہے تھے تو اس وقت کوئی بھی اس بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا۔ خاندان اور چند قریبی دوستوں کے سوا کوئی ان کے نام تک سے واقف نہیں تھا۔ افغانستان میں افغان تنظیموں کو متحد کرنے سے پہلے انہوں نے اندرون ملک تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کو اس طرح اعتماد میں لیا اور ان کو روسی جارحیت کے مضمرات سے آگاہ کیا کہ ملکی اور غیر ملکی پریس کو کانوں کان خبر نہ ہو سکی۔ وہ آیت اللہ خمینی سے ملاقات کیلئے ان کے گھر قم پہنچ گئے۔ سعودی عرب سمیت تمام مسلم ملکوں سے ان کا قریبی رابطہ تھا۔ اندرون ملک اس وقت سیاسی طور پر شدید پولرائزیشن تھی لیکن جنرل اختر عبدالرحمن نے خود کو ان تنازعات سے الگ تھلگ رکھا اور حقیقتاً ان کا یہی رویہ ان کی کامیابی کا راز تھا۔ کوئی تشہیر نہیں‘ کوئی خودنمائی نہیں۔ ملکی یا غیر ملکی کوئی رپورٹر‘ کالم نگار یا ایڈیٹر ان سے قربت کا دعویٰ نہیں کر سکتا تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ جنرل اختر عبدالرحمن شہید کا نام 17اگست 1988ء کو ان کی شہادت کے بعد ہی سامنے آیا اور اس طرح سامنے آیا کہ آج دنیا کی جنگی تاریخ میں ان کا کردار ایک اساطیری رنگ اختیار کر گیا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/235_92686961.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کائنات پر غور و فکر(علامہ ابتسام الہٰی ظہیر )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-08-17/52500/43957911</link><pubDate>Mon, 17 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-08-17/52500/43957911</guid><description> اللہ تبارک وتعالیٰ کی بنائی ہوئی کائنات بڑی وسیع اور حسین وجمیل ہے۔ گو اس میں انسانوں کے لیے خوبصورتی اور کشش کے بہت سے لوازمات موجود ہیں لیکن اس کائنات اور اپنی تخلیق کے حقیقی مقصد کو سمجھنا بھی انسانوں کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ بہت سے لوگ کائنات کے ظاہری حسن وجمال اور وسعت پر تو غور کرتے ہیں لیکن کائنات کے بنانے والے خالق ومالک سے غافل رہتے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید کے بہت سے مقامات پر زمین وآسمان اور کائنات کی تخلیق کا ذکر کیا اور انسانوں کو اس سمت متوجہ کیا کہ انہیں اس کائنات پر غور وفکر کر کے اپنے خالق ومالک کی معرفت حاصل کرنی چاہیے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الانبیاء کی آیات: 16 تا 17 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;ہم نے آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی چیزوں کو کھیلتے ہوئے نہیں بنایا۔ اگر ہم یونہی کھیل تماشے کا ارادہ کرتے تو اسے اپنے پاس سے ہی بنا لیتے اگر ہم (ایسا) کرنے والے ہی ہوتے‘‘۔ ان آیات مبارکہ پر غور وخوض کرنے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ تخلیقِ کائنات بلاسبب نہیں بلکہ اس کا ایک خاص مقصد ہے جس کو سمجھنا انسانوں کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الروم کی آیات: 8 تا 9 میں اپنی نشانیوں کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;کیا ان لوگوں نے اپنے دل میں یہ غور نہیں کیا کہ اللہ نے آسمانوں کو اور زمین کو اور ان کے درمیان جو کچھ ہے سب کو بہترین قرینے سے مقرر وقت تک کے لیے پیدا کیا ہے‘ ہاں اکثر لوگ یقینا اپنے رب کی ملاقات کے منکر ہیں۔ کیا انہوں نے زمین میں چل پھر کر یہ نہیں دیکھا کہ ان سے پہلے لوگوں کا انجام کیسا (برا) ہوا ؟ وہ ان سے بہت زیادہ توانا اور (طاقتور) تھے اور انہوں نے (بھی) زمین بوئی جوتی تھی اور ان سے زیادہ آباد کی تھی اور ان کے پاس ان کے رسول روشن دلائل لے کر آئے تھے‘ یہ تو ناممکن تھا کہ اللہ ان پر ظلم کرتا لیکن (دراصل) وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے‘‘۔سورۃ الروم ہی کی آیات: 20 تا 27 میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنی بہت سی نشانیوں کا ذکر کیا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;اللہ کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر اب انسان بن کر (چلتے پھرتے) پھیل رہے ہو۔ اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ تمہاری ہی جنس سے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان سے آرام پائو اس نے تمہارے درمیان محبت اور ہمدردی قائم کر دی یقینا غور وفکر کرنے والوں کے لیے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں۔ اس (کی قدرت) کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور تمہاری زبانوں اور رنگتوں کا اختلاف (بھی) ہے‘ دانش مندوں کے لیے اس میں یقینا بڑی نشانیاں ہیں۔ اور (بھی) اس کی (قدرت کی) نشانی تمہاری راتوں اور دن کی نیند میں ہے اور اس کے فضل (یعنی روزی) کو تمہارا تلاش کرنا بھی ہے جو لوگ (کان لگا کر) سننے کے عادی ہیں ان کے لیے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں۔ اور اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ (بھی) ہے کہ وہ تمہیں ڈرانے اور امیدوار بنانے کے لیے بجلیاں دکھاتا ہے اور آسمان سے بارش برساتا ہے اور اس سے مردہ زمین کو زندہ کر دیتا ہے‘ اس میں (بھی) عقلمندوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں۔ اس کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ آسمان و زمین اسی کے حکم سے قائم ہیں‘ پھر جب وہ تمہیں آواز دے گا صرف ایک بار کی آواز کے ساتھ ہی تم سب زمین سے نکل آئو گے۔ اور زمین وآسمان کی ہر ہر چیز اسی کی ملکیت ہے اور ہر ایک اس کے فرمان کے ماتحت ہے۔ وہی ہے جو اول بار مخلوق کو پیدا کرتا ہے پھر سے دوبارہ پیدا کرے گا اور یہ تو اس پر بہت ہی آسان ہے۔ اسی کی بہترین اور اعلیٰ صفت ہے آسمانوں میں اور زمین میں بھی اور وہی غلبے والا حکمت والا ہے‘‘۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کی نشانیوں پر غورو خوض کرنے کے بعد انسان اس بات کو سمجھ جاتا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی تخلیق میں جو تنوع موجود ہے‘ اس کا مقصد یہ ہے کہ انسان اپنے پروردگار کو پہچان کر اس کی بندگی کرنے والا بن جائے۔ جب انسان اللہ تبارک وتعالیٰ کی نشانیوں پر غور کرنے کے بعد اس کی ذات کی معرفت حاصل کرنے کے قابل ہو جاتا ہے تو اس کے دل و دماغ میں اللہ تعالیٰ کی خشیت پیدا ہوتی ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ اس حقیقت کو سورۃ الفاطر کی آیات: 27 تا 28 میں کچھ یوں بیان فرماتے ہیں: &#39;&#39;کیا آپ نے اس بات پر نظر نہیں کی کہ اللہ نے آسمان سے پانی اتارا پھر ہم نے اس کے ذریعہ سے مختلف رنگتو ں کے پھل نکالے اور پہاڑوں کے مختلف حصے ہیں سفید اور سرخ کہ ان کی بھی رنگتیں مختلف ہیں اور بہت گہرے سیاہ۔ اور اسی طرح آدمیوں اور جانوروں اور چوپایوں میں بھی بعض ایسے ہیں کہ ان کی رنگتیں مختلف ہیں‘ اللہ سے اس کے وہی بندے ڈرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں‘ واقعی اللہ زبردست بڑا بخشنے والا ہے‘‘۔ ان آیات پر غور کرنے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کا علم رکھنے والا انسان ہی اللہ تبارک وتعالیٰ سے ڈرنے والا ہوتا ہے جبکہ اس کے بالمقابل ایک غافل انسان ناشکری کے راستے پر ہوتا ہے۔اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۂ ابراہیم میں اس حقیقت کا ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ نے کائنات کی بہت سی اشیا کو انسانوں کے لیے مسخر کیا ہے لیکن اس کے باوجود انسانوں کی ایک بڑی تعداد ناشکری کے راستے پر ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۂ ابراہیم کی آیات: 32 تا 34 میں ارشاد فرماتے ہیں؛ &#39;&#39;اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور آسمانوں سے بارش برسا کر اس کے ذریعے سے تمہاری روزی کے لیے پھل نکالے ہیں اور کشتیوں کو تمہارے بس میں کر دیا ہے کہ دریائوں میں اس کے حکم سے چلیں پھریں۔ اسی نے ندیاں اور نہریں تمہارے اختیار میں کر دی ہیں۔ اسی نے تمہارے لیے سورج چاند کو مسخر کر دیا ہے کہ برابر ہی چل رہے ہیں اور رات دن کو بھی تمہارے کام میں لگا رکھا ہے۔ اسی نے تمہیں تمہاری منہ مانگی کُل چیزوں میں سے دے رکھا ہے اگر تم اللہ کے احسان گننا چاہو تو انہیں پورے گن بھی نہیں سکتے یقینا انسان بڑا ہی بے انصاف اور ناشکرا ہے‘‘۔اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید میں ان لوگوں کا بھی ذکر کیا جو اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کے پاس سے گزرنے کے باوجود ان پر غور وخوض نہیں کرتے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۂ یوسف کی آیت: 105 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;آسمانوں اور زمین میں بہت سی نشانیاں ہیں جن سے یہ منہ موڑے گزر جاتے ہیں‘‘۔ جبکہ ان کے مدمقابل عقلمند لوگ زمین و آسمان کی تخلیق پر غور وفکر کرنے کے بعد کائنات کی حقیقت کو سمجھ کر اپنی سمت کو درست کر لیتے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۂ آل عمران کی آیات: 190 تا 191 میں ان لوگوں کے طرزِ عمل کا ذکر کچھ یوں فرماتے ہیں: &#39;&#39;آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات دن کے ہیر پھیر میں یقینا عقلمندوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ جو اللہ کا ذکر کھڑے اور بیٹھے اور اپنی کروٹوں پر لیٹے ہوئے کرتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور وفکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں: اے ہمارے پروردگار! تُو نے یہ بے فائدہ نہیں بنایا۔ تُو پاک ہے؛ پس ہمیں آگ کے عذاب سے بچا‘‘۔دعا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں ان لوگوں میں شامل فرمائے جوکائنات کی تخلیق پر غور وفکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کے فرمانبرداروں میں شامل ہو جاتے ہیں‘ آمین!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_19740082.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>