<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>پاکستان پر اعتماد!(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-05/11076</link><pubDate>Sun, 05 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-05/11076</guid><description>ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کی جانب سے پاکستان کی امن کاوشوں کو سراہنا اور اسلام آباد کے دورے سے متعلق امریکی میڈیا کی قیاس آرائیوں کی واضح تردید نہ صرف علاقائی سفارتکاری کیلئے حوصلہ افزا ہے بلکہ اس سے پاکستان کے بڑھتے ہوئے کردار کی بھی توثیق ہوتی ہے۔ امریکی پریس اور بعض تجزیہ کاروں کی جانب سے یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ ایرانی قیادت اسلام آباد میں ملاقات سے گریزاں ہے‘ تاہم عباس عراقچی کی وضاحت نے ان مفروضوں کو رد کر دیا ہے۔ نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ کے اس بیان کا خیر مقدم کیا اور اس وضاحت پر اُن کا شکریہ ادا کیا۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے بھی ایرانی وزیر خارجہ کے ٹوئٹ کو ری ٹوئٹ کیا اور اسے بروقت وضاحت قرار دیتے ہوئے کہا کہ قیاس آرائیاں کسی کیلئے فائدہ مند نہیں ۔یہ صورتحال اس امر کی غماز ہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات میں مکمل اعتماد کی فضا موجود ہے۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ سفارتکاری کے دروازے بند نہیں کر رہابلکہ ایسے مذاکرات کیلئے آمادہ ہے جو پائیدار‘ منصفانہ اور حتمی نتائج کی ضمانت دے سکیں۔

یہ مؤقف نہ صرف ایران کی سنجیدہ سفارتی سوچ کو ظاہر کرتا ہے بلکہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ وقتی جنگ بندی یا عارضی وقفے کے بجائے مستقل حل ہی خطے کے امن کا ضامن ہو سکتا ہے۔اس تناظر میں پاکستان کا کردار غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ ایران اور دیگر علاقائی قوتوں کے درمیان اعتماد سازی کیلئے پاکستان ایک ایسا پل بن سکتا ہے جو نہ صرف فریقین کے درمیان فاصلے کم کرنے میں مدد کرے بلکہ ایک قابلِ قبول مذاکراتی فریم ورک بھی فراہم کرے۔ اسلام آباد کی سفارتی ساکھ‘ اسکی غیر جانبدارانہ پالیسی اور مختلف بلاکس کیساتھ متوازن تعلقات اسے اس کردار کیلئے موزوں بناتے ہیں۔یہ حقیقت بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی حالات میں طاقت کے زور پر مسائل حل کرنے کی روایت نہ صرف ناکام ثابت ہو چکی ہے بلکہ اسکے نتائج مزید پیچیدگیاں پیدا کر رہے ہیں اور عالمی امن کیلئے خطرے کا باعث ہیں۔ ایسے میں حکمت عملی‘ صبر اور اصولی مذاکرات کا امتزاج ہی واحد راستہ ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ وہ صرف ایسے مذاکرات میں شریک ہوگا جو دیرپا امن کی ضمانت دیں‘ حقیقت پسندانہ نقطہ نظر ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ سفارتکاری کو محض وقتی دباؤ کم کرنے کے آلہ کار کے بجائے مسئلے کے مستقل حل کا ذریعہ بننا چاہیے۔ یہ صورتحال ایک موقع بھی ہے اور بلاشبہ ایک امتحان بھی۔
موقع اسلئے کہ سفارتی صلاحیتوں کو بروئے کار لا تے ہوئے مشرقِ وسطیٰ میں بد امنی کے خاتمے کے پائیدار اقدامات کیے جائیں اور امتحان اسلئے کہ اس کردار کو نہایت دانشمندی‘غیر جانبداری اور تدبر کیساتھ ادا کرنا ہوگا۔ ان حالات میں ہمیں داخلی معاملات پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔سیاسی استحکام اور معاشی استقامت وقت کی اہم ضرورت ہے کیونکہ مستحکم اور مضبوط ملک ہی سفارتی سطح پر مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ کا وضاحتی بیان اور پاکستان کی امن کاوشوں کا اعتراف ایک مثبت پیشرفت ہے جو خطے میں امن کے امکانات کو تقویت دیتا ہے۔ متحارب فریقین سنجیدگی‘ صبر اور اصولی مؤقف کیساتھ مذاکرات کی راہ اپناتے ہیں تو یہ نہ صرف موجودہ کشیدگی کو کم کر سکتا ہے بلکہ پائیدار امن کی بنیاد بھی رکھ سکتا ہے‘ جو خطے کیلئے استحکام اور امن کا سبب بنے۔ مشرقِ وسطیٰ توانائی کا مرکز ہونے کے ناتے عالمی معیشت کیلئے خاص اہمیت رکھتا ہے۔
حالیہ دنوں آبنائے ہر مز کی بند ش نے توانائی کی قیمتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔ایران امریکہ کشیدگی کی طوالت کا مطلب عالمی معیشت کی تباہی ہے۔ ان حالات میں ضروری ہے کہ پاکستان اور دیگر اہم ممالک سفارتی کوششوں کو فعال اور مؤثر بنائیں تاکہ اس بدامنی کا خاتمہ یقینی بنایا جاسکے جس نے عالمی امن اور معیشت کیلئے سنجیدہ خطرات پیدا کر دیے ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>قرض کی واپسی(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-05/11075</link><pubDate>Sun, 05 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-05/11075</guid><description>متحدہ عرب امارات کے تقریباً ساڑھے تین ارب ڈالر قرض کی رواں ماہ کے اختتام تک واپسی کا فیصلہ ایک اہم پیشرفت ہے۔ اس میں 45 کروڑ ڈالر کی رقم مالی سال1996-97ء میں بطور قرض لی گئی تھی جبکہ باقی رقوم 2018ء اور 2019ء میں بیلنس آف پیمنٹس سپورٹ کے طور پر حاصل کی گئیں‘جن پر ابتدا میں تقریباً تین فیصد جبکہ بعد ازاں چھ سے ساڑھے چھ فیصد تک سود ادا کیا جاتا رہا۔ شرح سود کے لحاظ سے اماراتی قرضے مہنگے ترین قرضے تھے اور انکی ادائیگی معیشت کیلئے بہتر ثابت ہو گی۔اگرچہ اس ادائیگی سے زرِمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ پڑے گا تاہم مجموعی طور پر اسکے اثرات بہتر ہی ہوں گے کیونکہ ایک تو اس رقم پر شرح سود بتدریج بڑھتی جا رہی ہے‘ دوسرا یو اے ای کی جانب سے ا س میں قلیل مدتی توسیعات نے غیر یقینی صورتحال پیدا کی ہوئی تھی۔

مزید یہ کہ پاکستان کی معاشی صورتحال میں بھی بتدریج بہتری آ رہی ہے‘ عالمی ریٹنگ ایجنسیوں کی جانب سے درجہ بندی میں اضافہ ہوا ہے اور آئی ایم ایف سمیت دیگر مالیاتی اداروں کا اعتماد بحال ہو رہا ہے‘اس طرح اب پاکستان کیلئے دیگر ممالک اور مالیاتی اداروں سے کم شرح سود پر قرض حاصل کرنا ممکن ہو سکتا ہے۔ تاہم اصل چیلنج بدستور اپنی جگہ موجود ہے کہ ملک کو قرضوں کے مستقل چنگل سے کیسے نکالا جائے‘ جس کیلئے حکومت کو صنعت‘ زراعت اور برآمدات کے فروغ پر مبنی ایک جامع اور قابلِ عمل حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی تاکہ معاشی خود انحصاری ممکن ہو سکے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بارشیں اور انتظامی نقائص(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-05/11074</link><pubDate>Sun, 05 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-05/11074</guid><description>ملک کے مختلف حصوں میں گزشتہ کئی روز سے جاری بارشیں شدید جانی و مالی نقصانات کا سبب بنی ہیں۔ خیبرپختونخوا کی صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق دس روز کے دوران صوبے میں بارشوں سے متعلق مختلف حادثات میں 30افراد جاں بحق اور 85سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ یہ صورتحال صرف خیبرپختونخوا تک محدود نہیں‘ سندھ میں بھی بارشوں کی وجہ سے گزشتہ تین ہفتوں کے دوران 26‘ بلوچستان میں 11اور پنجاب میں چار اموات رپورٹ ہو چکی ہیں۔ یعنی رواں سال کے پہلے بارشی سپیل میں مجموعی طور پر 70سے زائد جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ یہ صورتحال فوری حکومتی توجہ کی متقاضی ہے۔ این ڈی ایم اے رواں برس مون سون میں معمول سے 26فیصد زائد بارشوں سے خبردار کر چکی ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ این ڈی ایم اے‘ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز اور صوبائی حکومتیں مل کر ایک مربوط حکمت عملی کے تحت پیشگی اقدامات یقینی بنائیں۔ شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ سے بچاؤ کیلئے نکاسی آب کے مربوط اور مؤثر نظام کی فوری بہتری ناگزیر ہے۔ قدرتی آبی گزرگاہوں میں قائم تجاوزات کا بروقت خاتمہ بھی ایک بنیادی ضرورت ہے۔ان عوامل کو نظرانداز کرنا مستقبل میں بڑے پیمانے پر نقصان کا سبب بن سکتا ہے‘ اس لیے اس پہلو پر فوری اور سنجیدہ توجہ ضروری ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>اپنے آپ کا ٹرمپ بنانے والے(مجیب الرحمٰن شامی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mujeeb-ur-rehman-shami/2026-04-05/51708/98182428</link><pubDate>Sun, 05 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mujeeb-ur-rehman-shami/2026-04-05/51708/98182428</guid><description>ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کو پانچ ہفتے گزرنے والے ہیں لیکن اس کے خاتمے کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے۔ ٹرمپ کبھی کچھ کہتے ہیں کبھی کچھ۔ ان کی مقبولیت ہے کہ کم ہوتی جا رہی ہے۔ فوجی جرنیلوں کی طرف سے بھی مخالفت کا سامنا ہے۔ چیف آف آرمی سٹاف اور دو جرنیل برطرف کیے جا چکے ہیں۔ اٹارنی جنرل کو بھی گھر کا راستہ دکھا دیا گیا ہے۔ ریاستی مشینری میں پے در پے تبدیلیاں کی جا رہی ہیں۔ جی حضوریوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر آگے لایا جا رہا ہے۔ ایک سو ماہرین بین الاقوامی قوانین نے اس جنگ کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے فوراً جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ ایک کھلے خط میں انہوں نے سکولوں‘ ہسپتالوں اور شہری تنصیبات پر حملے کو جنگی جرائم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے فوری خطرے کا کوئی ثبوت موجود نہیں تھا۔ ایران کے ڈرون اور میزائل بدستور حرکت میں ہیں۔ امریکہ کا ایک اور ایف 35طیارہ مار گرایا گیا ہے۔ ریسکیو کے لیے آنے والے دو ہیلی کاپٹر تباہ کر کے پائلٹ گرفتار کرنے کا دعویٰ بھی ہوا ہے۔ صدر ٹرمپ ہیں کہ ایران کو پتھر کے زمانے میں دھکیلنے کے دعوے کرنے سے باز نہیں آ رہے۔ ایران نے ان سے کسی بھی طرح کی بات چیت ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پاکستان کے زیر قیادت جو ثالثی مذاکرات شروع کیے گئے تھے‘ وہ بھی نتیجہ خیز نہیں رہے۔ کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ کون سا فریق اپنے حریف کو کتنا نقصان پہنچا گزرے گا۔ ایران کی ثابت قدمی اور حوصلہ مندی کی سب داد دے رہے ہیں‘ اس نے سر جھکانے سے انکار کر کے اپنی ساکھ میں اضافہ کر لیا ہے۔ امریکی اور اسرائیلی عزائم چکنا چور کر دیے ہیں۔ نہ رجیم چینج ممکن ہو پائی‘ نہ ہی ایران کی جنگی صلاحیت کو ختم کیا جا سکا۔ امریکی انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق اس کے ڈرون اور میزائل اب بھی فعال ہیں۔ پوری دنیا میں تیل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں‘ عالمی معیشت دباؤ میں ہے۔ پاکستان جو پہلے ہی معاشی شیرازہ بندی میں مصروف تھا اور اپنی مشکلات پر قابو پانے کی سر توڑ کوشش کر رہا تھا‘ اس کی معیشت کو نئے دباؤ کا سامنا ہے۔ تیل اور گیس کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہو رہا ہے۔ حکومت انہیں سنبھالنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے لیکن نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن والا معاملہ ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ کرنے کے بعد حکومت کو لیوی کم کرنا پڑی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے آدھی رات کو ٹیلی ویژن پر آ کر قوم سے خطاب کیا اور 80روپے فی لٹر ریلیف دینے کا اعلان کر کے گرما گرم جذبات کو سرد کرنے کوشش کی۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں موٹر سائیکل سواروں اور کسانوں کو براہِ راست امدادی رقوم فراہم کرنے کا اعلان کر رہی ہیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایے ختم کر دیے گئے ہیں تاکہ بڑے شہروں کے اندر نقل و حرکت کو آسان بنایا جا سکے‘ لیکن مشکلات کم ہونے میں نہیں آ رہیں۔ تیل کی قیمتیں بڑھنے سے بجلی کی قیمت بڑھے گی‘ ذرائع نقل و حمل بھی متاثر ہوں گے‘ مہنگائی کی لہروں کو روکنا ممکن نہیں ہو گا‘ جو کچھ ہو رہا ہے وہ &#39;&#39;آسمانی آفت‘‘ سے کم نہیں۔ دنیا میں کوئی ایسا نہیں ہے کہ جو جارح طاقتوں کا ہاتھ مروڑ سکے‘ اسے روک سکے۔ توقع یہی ہے کہ بدمست حملہ آور اپنے بوجھ سے خود گریں گے‘ اپنے الل ٹَپ اقدامات سے اپنے لیے گڑھے کھودیں گے اور دنیا کو نجات ملنے کی کوئی صورت نکل سکے گی۔اہلِ وطن اس مشکل گھڑی کو ٹالنے میں تو کامیاب نہیں ہو سکے لیکن اسے صبر اور حوصلے سے کاٹ ضرور سکتے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل کو روکنا ہمارے بس میں نہیں لیکن اپنے آپ کو تقسیم ہونے سے بچانا تو ہمارے بس میں ہے۔ حکومت اور ریاست کو الگ الگ رکھنا سب کے مفاد میں ہے۔ حکومت کو سزا دینے کے لیے ریاست کو نشانہ نہیں بنانا چاہیے۔ حکومت آنی جانی شے ہے۔ کل کسی کے پاس تھی‘ آج کسی کے پاس ہے‘ کل کسی کے پاس ہو گی لیکن ریاست کو تغیر و تبدل سے نہیں گزارا جا سکتا۔ ریاست کو اگر انسانی جسم سے مشابہہ سمجھ لیا جائے تو حکومت کی حیثیت لباس کی سی ہے۔ لباس بآسانی تبدیل ہو سکتا ہے لیکن جسم کے ساتھ تجربات نہیں کیے جا سکتے۔ تحریک پاکستان کے رہنما اور سابق گورنر پنجاب سردار عبدالرب نشتر مرحوم نے ایک موقع پر خطاب کرتے ہوئے ریاست اور حکومت کے فرق کو بڑی خوبصورتی سے واضح کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسجد کے امام سے اختلاف ہو تو مسجد کو نقصان نہیں پہنچایا جاتا۔ مسجد سلامت رہے گی تو امام تبدیل ہوتے رہیں گے۔ اختلافات اور تضادات کی ماری ہوئی پاکستانی سیاست کو بھی یہ نکتہ ازبر کرنے کی ضرورت ہے۔ کیا ہی بہتر ہوتا کہ وزیراعظم تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو مدعو کر سکتے‘ جس طرح تمام صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اکٹھے بیٹھ کر سوچ بچار کر رہے ہیں‘ اسی طرح احزابِ اختلاف اور اقتدار بھی ایک چھت کے نیچے جمع ہو کر مشکلات کا متحدہ طور پر مقابلہ کرنے کے ارادے باندھ رہی ہوتیں۔ کفایت شعاری کو قومی شعار بنا لیا جاتا‘ اور ہر قسم کی فضول خرچی کو ختم کرنے کیلئے سب ایک ہو جاتے‘ لیکن ایک دوسرے کو نشانہ بنانے کی مشق جاری ہے۔ سوشل میڈیا پر ایسے عناصر بھی سرگرم ہیں جو حوصلے توڑنا اور مشکلات کو بڑھانا چاہتے ہیں۔ اہلِ سیاست بھی ایک دوسرے کو موردِ الزام ٹھہرانے سے باز نہیں آ رہے۔ جو جنگ مسلط ہوئی ہے‘ وہ پاکستان کی کسی سیاست شخصیت یا جماعت کی وجہ سے نہیں ہے اس کے اثرات سب کو بھگتنا پڑ رہے ہیں اور بھگتنا پڑیں گے۔ جہاں حزبِ اختلاف کی شکایات اور مشکلات کو کم کرنے کی ضرورت ہے‘ وہیں قومی مشاورتی کمیٹیاں بنا کر ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھانے کی اہمیت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا۔ حزبِ اختلاف کی سب سے بڑی جماعت کے رہنما اور کارکنان جو مختلف الزامات کی پاداش میں حوالۂ زنداں ہیں‘ ان کے مقدمات کا ازسر نو جائزہ لیا جانا چاہیے۔ پارلیمنٹ ایسی ریویو کمیٹی (یاکمیٹیاں) بنائے جو ریلیف کے راستے تلاش کر سکیں۔ وسعتِ قلب سے کام لیتے ہوئے ہی ہم اجتماعی توانائی بحال کر سکتے‘ اور اسے ایک دوسرے کے خلاف ضائع ہونے سے بچا سکتے ہیں۔ پاکستان میں اکثر حکومت اور ریاست کے معاملات کو گڈ مڈ کیا گیا ہے۔ جہاں حکومت اس گھمنڈ میں مبتلا رہی ہے کہ وہ ریاست کا دوسرا نام ہے‘ وہاں ریاست کو حکومت سمجھ کر اس پر کچوکے لگانے والے بھی کم نہیں ہو پائے۔ بار بار ہم بحرانوں میں مبتلا ہوتے ہیں اور بار بار ماضی سے سبق سیکھنے کے عہد کیے گئے ہیں‘ لیکن ہر چند برس کے بعد ماضی کو دہرانا قومی فریضہ سمجھ لیا جاتا ہے۔ سیاست ریاست کے تابع رہے گی تو دونوں طاقتور ہوں گے‘ ایک دوسرے کے مقابل ہوں گے تو دونوں کمزور ہوں گے۔ سیاست کو ریاست سے لڑا کر اور سیاست کو ریاست کا حریف بنا کر ضائع تو بہت کچھ کیا جا سکتا ہے‘ حاصل کچھ بھی نہیں ہو پائے گا۔ ہمارا ماضی اس پر گواہ ہے‘ پھر اسے مستقبل بنانے کی خواہش قومی جرم کیوں نہیں قرار پاتی؟ ایک دوسرے کو درس دینے والے اپنے اپنے گریبان میں کیوں نہیں جھانکتے؟ اپنی اپنی غلطیوں کو کیوں درست نہیں کرتے؟ اپنے آپ کا ٹرمپ بنانے سے باز کیوں نہیں آتے؟(یہ کالم روزنامہ &#39;&#39;پاکستان‘‘ اور روزنامہ &#39;&#39;دنیا‘‘ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_37052987.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ایران کے ہاتھوں امریکہ کا جو ہو رہا ہے(ایاز امیر)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-04-05/51709/36095881</link><pubDate>Sun, 05 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-04-05/51709/36095881</guid><description>ایک بات سمجھنے کی ضرورت ہے‘ ہارا ہوا وہ نہیں ہوتا جس کا نقصان ہو۔ ہارا ہوا وہ ہوتا ہے جو شکست تسلیم کر لے۔ تاریخ میں ایسا بھی ہوا ہے کہ نقصان ہوئے بغیر دل اور حوصلے بیٹھ گئے جیسا کہ فرانس کے ساتھ 1940ء میں ہوا۔ پیرس پر ایک بم بھی نہیں گرا تھا اور فرانس گھٹنے ٹیکنے کیلئے تیار ہو گیا۔ 1971ء کی مثال بھی دی جا سکتی ہے لیکن رہنے دیجیے‘ بہتوں کو برا لگے گا۔ صہیونی ریاست اور امریکہ کی بمباری سے ایران کا نقصان بہت ہوا ہے لیکن جھاگ ایران کے منہ سے نہیں ٹپک رہی۔ پریشانی کا عالم امریکہ کا ہے کہ ایرانی ریاست ہاتھ کیوں نہیں جوڑ رہی۔ ایران پر حملے جاری ہیں اور امریکی میڈیا اب کہنے پر مجبور ہو رہا ہے کہ ٹرمپ اس جنگ میں پھنس گیا ہے اور نکلنے کا اُسے کوئی راستہ نہیں مل رہا۔ اسی لیے طرح طرح کی لایعنی باتیں امریکی صدر کے منہ سے نکل رہی ہیں۔ جیسا کہ یہ بے تکی پھبتی کہ ایران مذاکرات کیلئے تیار نہ ہوا تو  اُسے زمانۂ قدیم میں پہنچا دیا جائے گا۔ یعنی پریشانی یہ کہ جو ہم کر سکتے تھے انتہا کا کر دیا اور ایرانی ریاست پر کچھ اثر نہیں پڑا۔یہ جنگ ابھی جاری ہے لیکن اس کے نتیجے میں بہت ہی گہرے اثرات ابھی سے نمودار ہو رہے ہیں۔ سب سے اہم بات تو یہ کہ وہ سارا تحفظ کا ڈھانچہ جو امریکہ نے تیل پیدا کرنے والی عرب بادشاہتوں کے ساتھ تعمیر کیا تھا‘ برباد ہو گیا ہے۔ عرب بادشاہتیں دیکھ رہی ہیں کہ ایرانی حملوں کے سامنے امریکی فوجی اڈے محفوظ ہیں نہ تیل اور گیس کی تنصیبات۔ اس سارے خطے میں تیل اور گیس کی پروڈکشن بند ہو گئی ہے اور تمام تیرہ کے تیرہ امریکی فوجی اڈے ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنے ہیں۔ تحفظ کا ڈھانچہ تو اس مفروضے پر تعمیر تھا کہ تحفظ امریکہ فراہم کرے گا اور تیل پیدا کرنے والے ممالک اپنا تیل ڈالروں میں بیچیں گے۔ اب تک تیل کی عالمی قیمت کا تعین ڈالروں میں ہوتا ہے۔ لیکن اس جنگ کی وجہ سے وہ سارے تصورات جن کی بنیاد پر وہ ڈھانچہ تعمیر ہوا تھا‘ گھائل ہو گئے ہیں۔امریکی فوجی اڈے اور تیل کے مقام تو ایک طرف رہے‘ اس خطے کا سارا تیل اور ساری گیس کا ذریعۂ ترسیل ایک پانی کا ٹکڑا ہے جسے آبنائے ہرمز کہتے ہیں۔ مفروضہ تو یہ بھی تھا کہ آبنائے ہرمز بند نہ ہو گی اور اگر کچھ ہوتا ہے تو امریکی فوجی اور نیول طاقت اسے کھلا رکھے گی۔ یہ مفروضہ بھی ہوا میں اُڑ گیا ہے۔ ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنا تسلط قائم کر لیا ہے اور آمدورفت کا سلسلہ اُس کے حکم کے تابع ہے۔ عرب بادشاہتیں دیکھ رہی ہیں کہ اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے امریکہ ایک چھوٹی انگلی بھی  نہیں اٹھا سکا۔ پہلے یہ دھمکی کہ امریکی بحری جہاز آئل ٹینکروں کو آبنائے ہرمز سے گزاریں گے۔ یہ دھمکی ہی رہی۔ پھر اتحادیوں سے کہنا کہ کیونکہ اُن کا انحصار خلیج فارس کے تیل پر ہے اُنہیں اپنے زور سے آبنائے ہرمز کھلوانی چاہیے۔ اس سے کھل کر معذوری اور لاچاری کا اعتراف کیا ہو سکتا ہے؟ کہاں اس سارے خطے کے تحفظ کا ٹھیکیدار اور کہاں ایسی بے بسی۔اس تبدیلی کی وجہ یہ نہیں کہ امریکی اور صہیونی جنگی طاقت میں کوئی کمی واقع ہوئی ہے۔ اسرائیل کی ایئرفورس اب بھی خطے  میں اپنا غلبہ رکھتی ہے۔ ایف 35طیارے اتنے ہی مؤثر ہیں جتنا کہ پہلے تھے۔ امریکہ کی بحری اور فضائی طاقت کی تباہی پھیلانے کی صلاحیت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔ نئی چیز اور نیا فیکٹر ریاستِ ایران کی ہمت اور استقامت ہے۔ دنیا کی تاریخ کی سخت ترین بمباری کے باوجود ایران ڈٹ کے کھڑا ہے۔ صدر ٹرمپ اور اُن کے وزارتی ہرکارے اسی لیے پریشان ہیں کہ پانچ ہفتے کی یہ بمباری ایران نہ صرف برداشت کر رہا ہے بلکہ اُس کے جوابی حملوں کی زد میں اسرائیل کا ہر شہر اور ہر فوجی ٹھکانہ آیا ہے۔ مزید براں آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل بند ہونے سے پوری دنیا پر گہرے معاشی اثرات پڑ رہے ہیں۔ان نتائج کا امریکیوں نے سوچا تھا نہ صہیونیوں نے۔ ان کا خیال تو یہ تھا کہ دو تین روز کے حملوں میں جب ایرانی قیادت کا  صفایا ہو گیا ہو گا‘ ایرانی ریاست پر سکتہ طاری ہو جائے گا اور ایران کے عوام بغاوت میں اُٹھ کھڑے ہوں گے اور ایسے میں اسلامی ریاست کا خاتمہ ہو جائے گا۔ ان کے وہم و گمان میں نہ تھا کہ آیت اللہ خامنہ ای کے قتل اور ایران پر مسلسل بمباری کے بعد اسلامی ریاست نہ صرف کھڑی رہے گی بلکہ ڈٹ کر مقابلہ کر رہی ہو گی۔ یہ انقلاب کے کندن میں پک جانے والی قوم کا کردار ہے کہ امریکہ کو ایسے نتائج بھگتنے پڑ رہے ہیں جو پہلے کسی کے تصور میں نہ تھے۔ہاں اتنا ضرور کہنا چاہیے کہ جنگ کی تیاریاں ہو رہی تھیں اور جنگ کا بگل ابھی بجا نہیں تھا کہ امریکہ میں ایسی آوازیں اُٹھ رہی تھیں کہ ایران پر کسی قسم کا حملہ بے وقوفانہ عمل ہو گا۔ اور اس سے ایسے نتائج پیدا ہو سکتے ہیں جن سے نمٹنا آسان نہ ہو گا۔ یہ چند آوازیں تھیں اور امریکہ میں موڈ ایسا تھا کہ ان پر کس نے کان دھرنا تھا۔ ویسے بھی ونیزویلا کے ایڈونچر کے بعد جس میں ونیز ویلا کے صدر کو اغوا کرکے امریکہ کی ایک جیل میں ڈال دیا گیا امریکی صدر ایک عجیب گھمنڈ کے عالم میں گرفتار تھے۔ غالب کیفیت وائٹ ہاؤس میں یہی تھی کہ امریکی صدر جو چاہے کر سکتا ہے۔ ایرانی پُرخلوص طریقے سے مذاکرات کے عمل میں شریک تھے اور جیسا کہ عمان کے وزیر خارجہ بدر البو سعیدی دنیا کو بتا چکے ہیں‘ ایرانی مذاکرات میں انتہا کی لچک دکھا رہے تھے اور بات چیت معاہدے کے قریب پہنچ چکی تھی۔ اسی اثنا میں امریکیوں اور صہیونیوں نے ایران پر حملہ کر دیا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ کیا صدر ٹرمپ اور کیا نیم جاہل وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ‘ آئے روز کہتے ہیں ہم نے ایران کی ایئر فورس تباہ کردی‘ نیوی تباہ کر دی‘ میزائل صلاحیت ختم کر دی۔ کوئی پوچھے کہ پھر یہ ڈرون اور میزائل جو اسرائیل پر روزانہ کی بنیاد پر گِر رہے ہیں کہاں سے آ رہے ہیں؟ یہ بھی پوچھا جائے کہ اس جنگ میں آپ اتنے ہی حاکم ثابت ہوئے ہیں تو تلملاہٹ پھر کاہے کی۔ فوجیں بھیجیں اور جزیرۂ خارگ پر قبضہ کر لیں اور وہ نہیں تو کم از کم آبنائے ہرمز پر امریکی فوجیں جائیں دونوں اطراف قبضہ کریں تاکہ سینکڑوں کی تعداد میں تیل سے لدے آئل ٹینکر وہاں سے گزر سکیں اور راتوں رات عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں نیچے آ جائیں۔ لیکن اس جنگ میں ایران کا کردار سامنے رکھتے ہوئے امریکیوں کو پتا ہے کہ ایسا کرنا نہ صرف مشکل ہے بلکہ اب تو ناممکن۔ امریکی فوجی ادھر اُدھر اکٹھے ہو رہے ہیں لیکن ایران کا ایک ہی جواب ہے کہ ہم انتظار میں ہیں۔ تیل پیدا کرنے والے عرب بھائیوں کو اب کچھ سوچنا چاہیے۔ امریکہ کی دفاعی ضمانتوں کو دیکھ چکے۔ امریکی اڈوں کو خطے سے نکالنے کا وقت شاید آن پہنچا ہے۔ ایک نیا دفاعی نظام بننا چاہیے جس میں ایران اور تیل پیدا کرنے والے عرب ممالک برابر کے شریک ہوں۔ تمام مسلم ممالک کیلئے کتنے شرم کا مقام ہے کہ صہیونی اور امریکی ایک مسلم ملک پر بے جا کی جنگ مسلط کریں اور ان کے لبوں سے مذمت کا ایک لفظ بھی نہ نکل سکے۔ حزب اللہ اور حوثیوں سے ہی کچھ سیکھ لیں۔ حیثیت دونوں کی زیادہ نہیں ہمتِ مرداں تو ہے۔ مصلحت کا درس اُمہ نے بہت پڑھ لیا‘ ایران کو دیکھتے کچھ ہمت کا درس بھی پڑھ لیا جائے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_80573045.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پرل ہاربر سے ہرمز تک … (3)(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-04-05/51710/30587075</link><pubDate>Sun, 05 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-04-05/51710/30587075</guid><description>جنرل ڈگلس کی بیوی کی خواہش تھی کہ وہ بھی جاپانی بادشاہ کی باتیں سنے‘ جس کا ایک ہی حل تھا کہ وہ خاموشی سے پردے کے پیچھے کھڑی ہو جائے‘ اور اس کے ساتھ ڈاکٹر ایجبرگ بھی موجود ہو گا۔ جب برسوں بعد یہ بات سامنے آئی تو کہا گیا کہ ایسا دانستہ طور پر نہیں کیا گیا تھا بلکہ وہ دونوں وہاں اتفاقاً موجود تھے اور انہوں نے سب باتیں سن لی تھیں۔جاپانی بادشاہ اور جنرل ڈگلس کی اس میٹنگ کی ایک ذاتی وجہ بھی تھی۔ جنرل ڈگلس چاہتا تھا کہ امریکی عوام میں اس کی مقبولیت بڑھے اور وہ ہمیشہ یاد رکھیں کہ اُس نے جاپان پر فتح کا امریکی جھنڈا گاڑا تھا۔ اس عوامی مقبولیت کے سہارے وہ 1948ء کے الیکشن میں ریپبلکن پارٹی کی طرف سے امریکی صدارت کا امیدوار ہو سکتا تھا۔ جنرل ڈگلس کے دل و دماغ میں امریکی صدر بننے کا جنون 1930ء کی دہائی کے ابتدائی برسوں میں ہی پلنے لگا تھا۔ اس نے آنے والے برسوں میں اپنی کارکردگی اور فیصلوں کو اسی سمت میں کر دیا تھا کہ وہ زیادہ سے زیادہ امریکی عوام میں مقبول ہو اور یہ مقبولیت اسے ایک دن صدر کا الیکشن جتوا دے۔ یہ بات ہمیشہ جنرل ڈگلس کے ذہن میں رہتی تھی لہٰذا اس کے بہت سے رویے اسی سمت کو سامنے رکھ کر پروان چڑھ رہے تھے جبکہ جنگ کے بعد واشنگٹن میں بیٹھے پالیسی میکرز خصوصاً ڈیموکریٹس جاپان کے پاور سٹرکچر کو تبدیل کرنا چاہتے تھے۔ وہ بادشاہت کے بجائے ایک جمہوری نظام کے حامی تھے جبکہ جنرل ڈگلس‘ جس کے ذمے جنگ کے بعد جاپان کے نئے معاملات لگائے گئے تھے‘ وہ ان باتوں سے اتفاق نہیں کرتا تھا۔ وہ ذہنی طور پر رجعت پسند تھا اور کسی لحاظ سے لبرل نہیں تھا۔ اس کے باوجود اس نے واشنگٹن سے آنے والی ہدایات پر عمل کرنا تھا تاکہ کہیں سے یہ نہ لگے کہ وہ ان احکامات پر عملدرآمد سے گریز کر رہا ہے۔ عمل نہ بھی کرے تو بھی اسے تاثر یہ دینا تھا کہ وہ سب احکامات اور پالیسیوں پر عمل کر رہا ہے۔جنرل ڈگلس کا جو قریبی حلقہ تھا ان سب کی کئی دفعہ ان معاملات پر بات ہوئی اور وہ سب اس بات پر متفق تھے کہ مقبوضہ جاپان میں اس کی کامیابی کا انحصار ایک ہی بات پر تھا کہ وہ کس طرح جاپانی بادشاہ ہیرو ہیٹو کو استعمال کر سکتا تھا۔ تاہم یہ کام کرنے کیلئے اسے اپنی سب باتیں‘ حرکتیں یا کام خفیہ رکھنا ہوں گے کیونکہ یہ بہت حساس معاملہ تھا۔ اس کھیل میں ایک جاپانی بادشاہ اور ٹاپ امریکی جنرل شامل تھے اور بادشاہ کو علم ہی نہ تھا کہ امریکی جنرل اس کے حوالے سے کیا سوچے بیٹھا تھا۔ جنرل ڈگلس صدر بننا چاہتا تھا تو بادشاہ فائرنگ سکواڈ سے بچنا چاہ رہا تھا۔ دونوں ایک دوسرے کے کام آ سکتے تھے۔جنرل ڈگلس اگر بادشاہ سے اپنے صدارتی مستقبل کیلئے کچھ لینا چاہ رہا تھا تو یقینا ان بدلتے حالات میں اسے بھی بادشاہ کو جواباً کچھ دینا تھا۔ ڈگلس کے ذہن میں یہ تھا کہ اسے بادشاہ کو دھمکی دے کر ڈرانا ہوگا کہ اس پر جنگی جرائم کا مقدمہ چلایا جا سکتا ہے‘ پھر سزا دلوا کر اس کے گلے میں پھانسی کا پھندا یا پھر فائرنگ سکواڈ کے سامنے کھڑا کر کے گولی بھی مروائی جا سکتی تھی۔ جب بادشاہ پوری طرح ڈر جائے تو پھر وہ منصوبہ سامنے لانا تھا جس کیلئے جنرل ڈگلس نے پوری تیاری کر رکھی تھی کہ جب بادشاہ کی آنکھوں میں خوف ابھرے گا تو جنرل ڈگلس پھر اسے بچانے کی پیشکش کرے گا لیکن اس کے بدلے اسے خفیہ ملی بھگت کرنی ہوگی۔ جنرل ڈگلس ایک طرف گاجر کی پیشکش کر رہا تھا تو دوسری طرف وہ ڈنڈا بھی ہاتھ میں رکھے بیٹھا تھا۔ جہاں وہ بادشاہ کو پھانسی اور فائرنگ سکواڈ سے بچائے گا‘ وہیں بادشاہ کو بھی جاپان کے پاور سٹرکچر اور اہم رازوں سے آگاہ کرنا ہوگا۔ جاپان کے سب راز و نیاز سے لے کر اہم سیاستدانوں کے بارے میں بتانا ہوگا تاکہ جاپان کے ان اہم لوگوں کو بھی دباؤ میں لایا جائے اور ان کے ساتھ ڈیل کی جا سکے کہ اگر انہوں نے امریکی مفادات کا ساتھ نہ دیا تو پھر ان کے بارے میں موجود معلومات منظرِ عام پر آ سکتی ہیں۔ یوں نئے حالات میں ان سب کو ہاتھ میں لے کر جنرل ڈگلس امریکہ میں بیٹھے کنزرویٹو سیاسی اور مالی حمایتوں کو سپورٹ کرے گا‘ نہ کہ امریکی لبرل کو۔جاپان پر ایٹم بم گرائے جانے اور سرنڈر کے پہلے چند ہفتوں میں بہت کوشش کی جا رہی تھی کہ جاپان کے بادشاہ کو پرل ہاربر پر حملے کی ذمہ داری سے دور رکھا جائے‘ جس میں تین ہزار امریکی فوجی اور شہری مارے گئے تھے۔ اب پرل ہاربر کا سارا ملبہ جاپان کے جنرل ٹوجو پر ڈالا جا رہا تھا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ جنگ ختم ہونے سے پہلے ہی سوئٹزرلینڈ میں امریکن کنزرویٹو اور جاپانی سفارت کاروں کے درمیان خفیہ طور پر یہ طے کر لیا گیا تھا کہ سارا الزام جنرل ٹوجو پر ہی ڈالنا ہے۔ اسی حکمت عملی کو سامنے رکھ کر جنرل ڈگلس اور بادشاہ کی امریکی سفارت خانے میں ملاقات سے دو دن پہلے نیویارک ٹائمز کے نمائندے کے تحریری سوالات کے جواب میں ہیروہیٹو نے لکھ بھیجا تھا کہ اس جنگ یا پرل ہاربر پر حملے کا ذمہ دار جنرل ٹوجو تھا‘ جس نے امریکی حکومت کو جاپانی حکومت کا وہ اعلان نہیں پہنچایا تھا کہ جاپان اب امریکہ کے ساتھ جنگ کرے گا۔ دوسرے لفظوں میں اس نے بغیر جنگ کا اعلان کیے پرل ہاربر پر حملہ کیا تھا۔جنگ عظیم دوم کے بعد بادشاہ ہیروہیٹو 44سال زندہ رہا لیکن اس نے ایک دفعہ بھی امریکہ کے خلاف جنگ شروع کرنے کی ذمہ داری قبول نہ کی۔ اس نے نہ جنگ شروع کرنے کی ذمہ داری لی جس سے امریکی ناراض ہوئے اور نہ ہی جنگ ختم کرنے کی ذمہ داری لی جس سے جاپانی ناراض ہوئے۔ یہی وجہ تھی کہ بادشاہ کا قریبی ساتھی اور مشیر مارکیز کڈو ہیروہیٹو کے انکار کی وجہ سے اتنا ڈسٹرب ہوا کہ ایک دن اس نے بادشاہ سے کہا کہ بہتر ہے وہ بادشاہی ترک کر دے تاکہ اس کے آباؤ اجداد تو شرمندہ نہ ہوں۔ یقینا ہیروہیٹو اس بات پر بہت غمزدہ تھا جو جاپان کے ساتھ ہوا تھا لیکن وہ اپنے فوجی کمانڈروں کی جنگ میں ناکامی کا ذمہ لینے کو ہرگز تیار نہ تھا‘ جنہوں نے بار بار اسے یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ کسی صورت امریکہ سے جنگ نہیں ہاریں گے‘ لیکن آخرکار ان فوجی جرنیلوں نے جاپان کو ذلیل کرا دیا تھا۔ اگرچہ جنگ کو مزید دو سال تک جاری رکھنے کا فیصلہ بادشاہ کا ہی تھا لیکن اس کے نزدیک یہ فوجی شکست تھی‘ اس کی شکست نہیں تھی۔جنرل ڈگلس نے بادشاہ کو بچانے کیلئے طویل مدتی منصوبہ بنایا تھا۔ اگر بادشاہ کی جان جلدی چھوڑ دی جاتی تو پھر وہ اس کی پہنچ سے نکل جاتا‘ اس لیے جب بھی بادشاہ تعاون کرنے میں ڈھیلا پڑتا تو ڈگلس اسے یہ کہہ کر ڈرا دیتا کہ امریکی کانگریس میں ابھی یہ مطالبہ ہو رہا ہے کہ اس کا پرل ہاربر پر ٹرائل کیا جائے‘ اسے گولی ماری جائے یا سب سے خوفناک بات یہ کہ کریملن (روس) یہ مطالبہ کر رہا ہے کہ بادشاہ کو کیوں آرام سے بٹھایا ہوا ہے۔ تاہم خیال رکھا جاتا کہ یہ سب کام احتیاط اور احترام سے کیا جائے۔ یہی وجہ تھی کہ جب وہ سفارت خانے سے باہر نکل کر گاڑی میں بیٹھے تو بادشاہ نے اپنے قریبی مشیر کڈو کو جو پہلے الفاظ کہے وہ یہی تھے کہ جنرل کا کہنا ہے کہ &#39;&#39;بادشاہ سلامت آپ اس ملک کے سب اہم لوگوں کو جانتے ہیں جو جاپانی سیاست کا اہم جزو ہیں‘ اب ہمیں آپ سے ان تمام اہم سیاسی ایشوز پر آپ کی رائے درکار ہو گی اور آپ سے ہی مشورہ کیا کروں گا‘‘۔ کڈو کو اب سمجھ آئی کہ جب جنرل سے ملاقات کے بعد بادشاہ باہر آیا تو نہ صرف اس کے ہاتھ کانپنا بند تھے بلکہ چہرے پر مسکراہٹ تھی۔ لیکن جو بات کڈو نہ سمجھ سکا تھا وہ یہ تھی کہ بہت جلد اسے بھی جنرل ڈگلس کے سامنے بادشاہ اور اپنی جان بچانے کیلئے بہت سے جھوٹے بیانات دینا ہوں گے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>چین کی ثالثی میں پاک افغان مذاکرات(رشید صافی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-04-05/51711/17794435</link><pubDate>Sun, 05 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-04-05/51711/17794435</guid><description> پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی ختم کرانے کیلئے چین کا کردار اس کی بہترین سفارت کاری کا شاہکار ہے۔ چینی قیادت کا خاصہ ہے کہ وہ میڈیا کی چکا چوند سے دور رہ کر خاموشی کو اپنا ہتھیار بناتے ہیں۔ ہمارے ہاں بدقسمتی سے عوامی ہیجان اور میڈیا کی جلد بازی کا یہ عالم ہے کہ مذاکرات کے ہر دور اور ہر جملے کو سرخیوں کی نذر کر دیا جاتا ہے‘ جس کا نتیجہ اکثر تشنہ لبی اور ناکامی کی صورت میں نکلتا ہے۔ قبل از وقت تشہیر حساس معاملات کو حتمی شکل پانے سے پہلے ہی اندرونی و بیرونی دباؤ کا شکار کر دیتی ہے۔ ماضی میں ہونے والے کئی اہم مذاکرات صرف اس وجہ سے ناکامی سے دوچار ہوئے کیونکہ بعض مذاکرات کاروں کو میڈیا پرآ کر پل پل کی خبر دینے کا شوق تھا۔ اس کے برعکس بیجنگ کی بصیرت کا عالم دیکھیے کہ ارمچی میں کئی روز تک پاکستان اور افغان وفود سر جوڑ کر بیٹھے رہے مگر چین نے حتمی نتیجے تک لب کشائی نہ کرنے کی روایت برقرار رکھی۔ جب تک پاکستان کے دفترِ خارجہ نے باضابطہ طور پر ان مذاکرات کی تصدیق نہیں کی تب تک بیجنگ نے اس سفارتی پیشرفت کو منظرِ عام پر آنے سے روکے رکھا۔ ترجمان دفترِ خارجہ طاہر حسین اندرابی کے بیان کے بعد چینی وزارتِ خارجہ کا بیان سامنے آنا اس بات کی دلیل ہے کہ چین نتیجہ خیزی پر یقین رکھتا ہے۔ یہ طرزِ عمل ثابت کرتا ہے کہ بڑی طاقتیں الفاظ سے نہیں‘ افعال سے تاریخ رقم کرتی ہیں۔موجودہ حالات میں چینی سفیر کی مولانا فضل الرحمن سے ملاقات محض ایک روایتی سفارتی ملاقات نہیں تھی۔ اگرچہ اس ملاقات کے اعلامیے میں مشرق وسطیٰ کے سلگتے مسائل اور ایران کی خودمختاری کا ذکر کیا گیا لیکن اس کا اصل تزویراتی ہدف مولانا فضل الرحمن کو پاک افغان مصالحتی عمل میں شاملِ گفتگو رکھنا تھا۔ پاکستان کی طرف سے افغانستان کو فضائی کارروائی کے بعد مولانا فضل الرحمن نے جس پُرامن راستے کی نشاندہی کی تھی وہ دراصل افغان طالبان کے ساتھ ان کے دیرینہ اور گہرے مراسم کا شاخسانہ تھا۔ چینی قیادت جانتی ہے کہ کابل کی قیادت کو قائل کرنے کیلئے جہاں عسکری دباؤ ضروری ہے وہاں مذہبی و سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والی شخصیات کا تعاون بھی ناگزیر ہے۔ تاہم اس تمام مشق میں سب سے بڑا معمہ عہد و پیماں کی پاسداری کا ہے‘ کیونکہ افغان طالبان کے رویے اور ماضی میں بدعہدی کے تجربات نے چین جیسے برادر ملک کو بھی سوچنے پر مجبور کیا ہے۔یہ حقیقت ہے کہ جب تک پاکستان نے سرحد پار دہشت گردوں کی پناہ گاہوں پر آہنی ضرب نہیں لگائی تھی کابل کی انتظامیہ مذاکرات کی میز کو محض وقت گزاری کا ذریعہ سمجھ رہی تھی۔ پاکستان کے فضائی حملوں نے کابل پر یہ واضح کر دیا کہ قومی سلامتی کے معاملے پر کوئی سودے بازی نہیں ہو گی۔ اسی دباؤ کے زیراثر افغان طالبان نے بیجنگ کی طرف رخ کیا تاکہ وہ پاکستان کو مزید کارروائیوں سے روکنے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے۔ اس صورتحال نے مذاکرات کی میز پر پاکستان کے مؤقف کو نئی توانائی اور برتری عطا کی ہے کیونکہ اس سے قبل پاکستان کی خواہش تھی کہ پڑوسی ملک کے ساتھ تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے‘ اس مقصد کیلئے دوحہ اور استنبول میں مذاکرات کے کئی ادوار ہوئے مگر افغان قیادت کی غیرسنجیدگی اور ٹی ٹی پی کے خلاف کوئی قدم اٹھانے سے گریز کی پالیسی کی وجہ سے مذاکرات نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو سکے تھے۔  اب مذاکرات چونکہ افغانستان کے کہنے پر شروع ہوئے ہیں تو یہ محض دو پڑوسی ممالک کی روایتی بات چیت نہیں بلکہ افغانستان کیلئے اپنی بقا اور عالمی تنہائی سے بچنے کا ایک کٹھن امتحان ہے۔ چین کا اس عمل میں شامل ہونا اس حقیقت کا غماز ہے کہ وہ افغانستان کے عدم استحکام کو اپنے عظیم الشان منصوبے بیلٹ اینڈ روڈ اور سی پیک کے خلاف بڑا عنصر سمجھتا ہے۔ پاک افغان مذاکرات کی راہ میں حائل سب سے بڑی دیوار اعتماد کا فقدان ہے۔ پاکستان کا مطالبہ دو ٹوک ہے کہ افغان سرزمین سے ہونے والی دراندازی کا مکمل خاتمہ اور ٹی ٹی پی کے خلاف بے لچک کارروائی۔ محض زبانی جمع خرچ اور لفاظی کا وقت گزر چکا ہے‘ اب اسلام آباد کو ٹھوس ضمانتیں درکار ہیں۔ کیا چین اس معاہدے کا ضامن بنے گا؟ پاکستان اپنے سٹریٹجک پارٹنر کو کسی آزمائش میں نہیں ڈالنا چاہتا لیکن اگر افغان طالبان چین کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو پاکستان کیلئے بیجنگ کی ضمانت کو نظر انداز کرنا ممکن نہ ہو گا۔ اب گیند افغان طالبان کے کورٹ میں ہے‘ انہیں ثابت کرنا ہو گا کہ وہ ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر پُرامن بقائے باہمی کے اصولوں کو نبھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں یا نہیں۔ ایک لمحے کے لیے ہم مان لیتے ہیں کہ چین پاک افغان مذاکرات میں ضامن بن جاتا ہے تو چین کی ثالثی محض ایک ثالث کا کردار نہیں ہو گا بلکہ یہ ایک نئے علاقائی نظام کی تشکیل کی کوشش سمجھی جائے گی۔ کابل کیلئے اس کے خلاف جانا آسان نہیں ہو گا۔ بیجنگ کا فلسفہ امن برائے ترقی پر مبنی ہے۔ وہ سنکیانگ کی سلامتی کو افغانستان کے حالات سے مشروط دیکھتا ہے اور وسط ایشیا تک رسائی کیلئے پاکستان اور افغانستان کے درمیان مثالی ہم آہنگی چاہتا ہے۔ اگر ارمچی مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچتے ہیں تو یہ خطے میں بیرونی قوتوں کے اثر و رسوخ کے خاتمے اور ایک مضبوط ایشیائی بلاک کے قیام کی سمت پہلا بڑا قدم ہو گا۔ چین افغانستان کو سی پیک کے ثمرات میں شریک کرنا چاہتا ہے مگر اس کا راستہ اسلام آباد کی سلامتی سے ہو کر گزرتا ہے۔ پاک افغان تعلقات اس وقت ایسے دوراہے پر ہیں جہاں ایک طرف امن کی روشن شاہراہ ہے اور دوسری طرف بدعہدیوں کی تاریک کھائی۔ چینی بصیرت اور پاکستان کی سیاسی قیادت کی شمولیت نے اس عمل کو ایک وقار عطا کیا ہے۔ یہ مذاکرات محض دو ممالک کی نشست و برخاست نہیں بلکہ خطے کی تقدیر بدلنے کا ایک سنجیدہ عہد نامہ ہیں۔ تاہم افغان تاریخ کو سمجھنے والے جانتے ہیں کہ پہاڑوں کے اس پار امن کا راستہ ہمیشہ سے کٹھن رہا ہے۔ افغان طالبان کیلئے یہ ایک نادر موقع ہے کہ وہ چین کی ضمانت کے ذریعے عالمی برادری میں اپنا کھویا ہوا وقار بحال کریں۔ اگر اس بار بھی ماضی کی طرح وعدہ خلافی ہوئی تو نہ صرف پاکستان بلکہ چین کا اعتماد بھی بری طرح مجروح ہو گا اور افغانستان کیلئے خطے میں کوئی سہارا باقی نہیں رہے گا۔ تاریخ کبھی کسی کو دوسرا موقع اتنی آسانی سے فراہم نہیں کرتی۔ کابل کیلئے یہ موقع ایک کڑے امتحان سے کم نہیں۔  اب دیکھنا یہ ہے کہ کابل کی قیادت چند عناصر کو بچانے کیلئے ماضی کی روش پر قائم رہتی ہے یا بصیرت کا ثبوت دیتے ہوئے ایک نئے عہد کاآغاز کرتی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/222_48272610.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ایران امریکہ جنگ کے متوقع اور غیر متوقع نتائج(عمران یعقوب خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-04-05/51712/37047115</link><pubDate>Sun, 05 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-04-05/51712/37047115</guid><description>ایران کی جنگ کے متوقع اور غیر متوقع‘ دونوں طرح کے نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ متوقع نتائج یہ ہیں کہ اس جنگ نے یوکرین کی جنگ سے کئی گنا زیادہ دنیا کو متاثر کیا ہے۔ تمام متمول معیشتیں بشمول یورپ اور دیگر مغربی ممالک کی معیشتیں‘ ہل کر رہ گئی ہیں۔ توانائی کے ذرائع نایاب تو نہیں ہوئے لیکن کمیاب ضرور ہو چکے ہیں اور اس کا اثر یہ ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ ہو گیا ہے اور ان مظاہر نے مہنگائی کے سیلاب نہیں‘ سونامی برپا کر دیے ہیں۔ باقی ممالک اس صورتحال سے متاثر ہیں لیکن پاکستان سب سے زیادہ متاثر ممالک میں شمار ہونے لگا ہے جہاں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آج سے چند ہفتے پہلے کی نسبت دوگنا ہو چکی ہیں۔ دو روز قبل حکومت نے پٹرول کی قیمت میں ڈیڑھ سو روپے فی لٹر کے لگ بھگ اضافہ کر دیا تھا جس کے بعد یہ قیمتیں ملکی تاریخ کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں‘ لیکن کل کی خبر یہ ہے کہ پٹرولیم لیوی میں 80روپے کی کمی کی گئی ہے جس کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 378.41روپے ہو چکی ہے۔آج کے اخبارات دیکھتے ہوئے اپنے واٹس ایپ پر بھی نظر ڈالتا جا رہا تھا۔ ایک پوسٹ سامنے آئی جس میں پرانے زمانے کا ایک قصہ تصویری شکل میں پیش کیا گیا تھا۔ اُس زمانے میں نان بائیوں کو خام مال کی بڑھتی ہوئی قیمت کی وجہ سے روٹی کی قیمت میں اضافے کی حاجت پیش آئی تو وہ شاہِ وقت کے پاس پہنچے اور اس سے روٹی کی قیمت ایک اشرفی سے بڑھا کر دو اشرفیاں فی روٹی کرنے کی اجازت طلب کی۔ بادشاہ نے کچھ دیر سوچا اور پھر یہ حکم جاری کیا کہ جو روٹی اس وقت ایک اشرفی کی مل رہی ہے‘ اسے دس اشرفی کی کر دیا جائے۔ اس پر نان بائیوں نے کہا کہ جناب اس طرح تو عوام بھڑک جائیں گے‘ جب مہنگی ہونے کی وجہ سے انہیں کھانے کو روٹی نہیں ملے گی تو وہ آپ کے اور آپ کی حکومت کے خلاف ہو جائیں گے۔  نان بائیوں کو حکم جاری کیا گیا کہ جو کہا ہے وہ کرو‘ نتیجہ کیا نکلتا ہے اس کا نہ سوچو‘ یہ تمہاری ذمہ داری نہیں ہے۔ حکم کی تعمیل ہوئی جس پر عوام کا بھڑکنا قدرتی تھا۔ جب احتجاج بڑھنے لگا تو بادشاہ کی جانب سے حکم جاری ہوا کہ اب روٹی پانچ اشرفی کی کر دی جائے؛ چنانچہ روٹی پانچ کی کر دی گئی۔ عوام بھی مطمئن‘ نان بائی بھی مطمئن اور بادشاہ بھی مطمئن۔ اس فرضی یا حقیقی حکایت‘ کہانی یا قصے کا موجودہ حالات کے ساتھ کوئی تعلق بنتا ہے یا نہیں یہ میں نہیں جانتا لیکن کچھ حلقوں میں یہ چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں کہ جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے حالات کے تناظر میں اپنی حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں آئی ایم ایف کی ڈیمانڈیں پوری کر رہی ہے اور اس وقت بھی حالات یہ ہیں کہ وزارتِ توانائی کی دستاویزات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایک لٹر پٹرول پر 131روپے جبکہ ڈیزل پر 59روپے سے زائد ٹیکس وصولی کی جا رہی ہے۔ شاید حکومت اپنے ٹیکس کم کر کے عوام کو ریلیف دینے کے لیے تیار نہیں یا اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ ریلیف دے سکے۔ دونوں میں سے صورتحال جو بھی ہو پِس عوام رہے ہیں۔ تازہ ترین خبر یہ ہے کہ حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کو آئندہ مالی سال میں توانائی کے شعبے میں دی جانے والی سبسڈی مزید کم کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ دیکھیں آگے کیا حالات پیدا ہونے والے ہیں؟یہ بات جاننے کے لیے بندے کا سائنسدان ہونا ضروری نہیں‘ نہ ہی یہ سمجھنے کے لیے معاشیات کے عمیق علم کی ضرورت پڑتی ہے کہ جب توانائی کے ذرائع مہنگے ہوتے ہیں تو اس کے نتیجے میں ان کی قیمتوں میں اضافہ ہو جاتا ہے جن کی تیاری یا ان کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے کے عمل کے دوران کسی بھی مرحلے میں توانائی کے تمام ذرائع میں سے کسی ایک کا بھی استعمال ہوتا ہو۔ اب آپ خود دیکھ لیں کہ ہمارے استعمال میں آنے والی کتنی چیزیں ایسی ہیں جو توانائی کے ذرائع کے بغیر تیار ہوتی اور ہم تک پہنچتی ہیں۔ کہنا یہ ہے کہ لامحالہ مہنگائی مزید بڑھنے والی ہے اور ہو سکتا ہے یہ ناقابلِ برداشت حد تک بڑھ جائے۔ اس لیے سب کو ذہنی طور پر اس مہنگائی کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ عالمی ادارے بلومبرگ نے بھی یہی پیش گوئی کی ہے۔ اپنی ایک رپورٹ میں بلومبرگ نے بتایا کہ توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کی وجہ سے معاشی صورتحال غیر یقینی کا شکار ہے‘ پاکستان میں برآمدات 11ماہ کی کم ترین سطح پر آ گئی ہیں اور حکومت نے ایندھن بچانے کے لیے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔جنگ کی معاشی تباہ کاریوں کے شکار ہم اکیلے نہیں ہیں‘ باقی دنیا بھی ایسی ہی کشمکش میں مبتلا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ کچھ ممالک کی معیشتیں مستحکم ہیں اور ان کے لیے اپنے عوام کو ریلیف دینا آسان ہے جبکہ پاکستان جیسے کمزور معیشت والے ممالک کے لیے ریلیف کے اقدامات آسان نہیں۔ پھر ہماری معیشت کے پیر آئی ایم ایف کی زنجیر سے بھی بندھے ہیں۔ ہمیں ہر کام اور ہر اقدام سے پہلے عالمی اقتصادی ادارے کے اشارۂ ابرو کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ عالمی حالات یہ ہیں کہ ایران کی جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک 85سے زائد ممالک میں پٹرول مہنگا ہو چکا‘ سب سے زیادہ غالباً پاکستان میں۔ بھارت نے عالمی بحران کے باوجود قیمتیں مستحکم رکھی ہیں لیکن یورپی ممالک بشمول سپین‘ جرمنی اور فرانس میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا۔ برطانیہ میں بھی پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھی ہیں۔ ایران کی جنگ کے باعث یورپ میں مارچ کے مہینے میں افراطِ زر کی شرح بڑھ کر 2.5 فیصد ہو گئی ہے۔ فروری میں افراطِ زر کی یہی شرح 1.9 فیصد تھی‘ مگر خلیج فارس سے تیل و گیس کی فراہمی متاثر ہونے کے بعد قیمتوں میں نمایاں اضافہ مشاہدے میں آیا ہے۔ یورپی یونین کے اعداد و شمار کے دفتر یورو اسٹیٹ کے مطابق مارچ میں توانائی کی قیمتیں 4.9 فیصد بڑھی ہیں جبکہ فروری میں ان میں 3.1 فیصد کمی آئی تھی۔ مہنگائی کے یہ اثرات پورے یورپ کی منڈیوں پر مرتب ہو رہے ہیں۔ ڈی ڈبلیو کی ایک رپورٹ کے مطابق روم کی مارکیٹ میں دکانداروں نے سبزیوں اور پھلوں کی بڑھتی قیمتوں کا ذمہ دار ایندھن کے اضافی اخراجات کو قرار دیا ہے۔ایران پر بلا جواز حملہ کرنے کی قیمت خود امریکی بھی ادا کر رہے ہیں۔ نیو یارک ٹائمز کے مطابق آرگنائزیشن فار اکنامک کوآپریشن اینڈ ڈویلپمنٹ (OECD) نے خبردار کیا ہے کہ ایران میں جاری جنگ اس سال امریکہ میں افراطِ زر میں اضافہ کر دے گی کیونکہ آبنائے ہرمز کی گزرگاہ کی بندش تیل‘ گیس اور دیگر اشیا کی قیمتیں بڑھا رہی ہے۔ ادارے کے مطابق امسال امریکہ میں افراطِ زر کی اوسط 4.2 فیصد رہے گی جو گزشتہ برس کے اندازوں سے ایک فیصد زیادہ ہے۔ اس طرح ہم جیسے مجبور ہی نہیں وہ خود بھی اسی آگ میں جل رہے ہیں جنہوں نے پتا نہیں کیا سوچ کر جنگ کا یہ الاؤ بھڑکایا تھا۔جنگ کے متوقع نتائج و اثرات کا احاطہ کرتے ہوئے کالم کی جگہ پوری ہو گئی‘ اس لیے جنگ کے غیر متوقع نتائج پر اگلے کالم میں بات کریں گے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_58350786.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پاکستان عالمی امن کا سفیر(محمد عبداللہ حمید گل)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-abdullah-hameed-gull/2026-04-05/51713/61297116</link><pubDate>Sun, 05 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-abdullah-hameed-gull/2026-04-05/51713/61297116</guid><description>سوویت یونین کے خاتمے کے بعد عالمی طاقتوں کے توازن میں جو تبدیلیاں آئیں انہوں نے دنیا کے سیاسی‘ معاشی اور عسکری ڈھانچے کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔ دوسری جنگ عظیم کے اختتام پر قائم ہونے والا عالمی نظام بتدریج کمزور پڑنے لگا اور امریکہ واحد  سپر پاور کے طور پر ابھرا۔ اس دور میں دنیا کو ایک ایسے نظام کے تحت جینا پڑا جہاں طاقت کا جھکاؤ یکطرفہ تھا‘ اور یہ صورتحال دو دہائیوں سے زائد عرصے تک برقرار رہی۔ تاہم وقت کے ساتھ ساتھ حالات تبدیل ہونا شروع ہوئے۔ دنیا میں نئی طاقتیں ابھرنے لگیں اور یک قطبی نظام بتدریج کثیر قطبی نظام میں تبدیل ہونے لگا۔ روس نے ایک بار پھر خود کو ایک مضبوط طاقت کے طور پر منوایا جبکہ چین نے معاشی اور تکنیکی میدان میں غیرمعمولی ترقی کر کے عالمی منظرنامے پر اپنی جگہ بنا لی جس کے نتیجے میں ایک نئے عالمی باب کا آغاز ہوا۔چین نے مشترکہ خوشحالی اور عالمی تہذیبی ہم آہنگی کے نظریے کو فروغ دیا جس نے ان ممالک کو اپنی طرف متوجہ کیا جو پہلے عالمی نظام میں نظر انداز کیے جاتے تھے۔ تجارتی راہداریوں‘ سستی مصنوعات اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے چین نے اپنا اثر و رسوخ بڑھایا۔ اسی تناظر میں برکس ایک مضبوط اتحاد کے طور پر سامنے آیا اور سعودی عرب جیسے ممالک نے بھی نئے متبادل تلاش کرنا شروع کیے۔ جبکہ پاکستان کی جغرافیائی حیثیت اور پیشہ ور مسلح افواج اسے عالمی سطح پر ایک اہم کردار ادا کرنے کے قابل بناتی ہیں۔ پاکستان کی چین کے ساتھ مضبوط شراکت داری بھی اس کیلئے ایک اہم اثاثہ ہے جبکہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے حالیہ دورۂ چین نے اس سفارتی رفتار کو مزید تقویت دی ہے۔دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ایسے نازک وقت میں پاکستان ایک ذمہ دار اور متوازن کردار ادا کرتے ہوئے عالمی امن کی کوششوں میں نمایاں حیثیت اختیار کر رہا ہے۔ حالیہ سفارتی سرگرمیاں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ پاکستان ایک سنجیدہ اور قابلِ اعتماد عالمی ثالث کے طور پر اُبھر رہا ہے۔ پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت نے بروقت اور دانشمندانہ فیصلوں کے ذریعے حالات کو سمجھنے اور ان میں مثبت کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور عالمی رہنماؤں کے درمیان روابط اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان کو ایک ایسے اہم پُل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو متحارب قوتوں کے درمیان فاصلے کم کر سکتا ہے۔ یہ صورتحال پاکستان کے لیے ایک بڑا سفارتی موقع بھی ہے اور ایک امتحان بھی۔گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں منعقد ہونے والا چار اہم مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس‘ جس میں پاکستان‘ سعودی عرب‘ ترکیہ اور مصر شامل تھے‘ بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔ اس اجلاس میں نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کے بحران پر مشترکہ مؤقف اپنانے کی کوشش کی گئی بلکہ مسلم دنیا کے اتحاد اور مشترکہ حکمتِ عملی کی ضرورت کو بھی اجاگر کیا گیا۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ایک واضح تبدیلی دیکھنے کو مل رہی ہے اور مذکورہ اجلاس جغرافیائی و سیاسی چیلنجز کے تناظر میں کثیر الجہتی مکالمے کی جانب ایک مثبت قدم ہے۔ پاکستان نے جہاں ایک طرف مشرقِ وسطیٰ میں امن کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھی ہیں وہیں اسے واشنگٹن اور تہران دونوں کا اعتماد بھی حاصل ہے۔ پاکستان ترکیہ‘ مصر اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ حکمت عملی کے تحت امریکہ اور ایران کے درمیان فاصلے کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یورپی یونین‘ بشمول صدر انتونیو کوسٹا‘ نے بھی مشرقِ وسطیٰ میں امن کیلئے پاکستان کی کوششوں کی حمایت کی ہے جس سے پاکستان کی عالمی حیثیت مزید مستحکم ہوئی ہے۔ عالمی مبصرین کے نزدیک یہ پیش رفت اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان علاقائی سطح پر قیادت کا کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔پاکستان اس بدلتی ہوئی دنیا میں اپنی جغرافیائی اہمیت‘ مضبوط عسکری قوت اور مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات کی بدولت ایک اہم پل کے طور پر ابھرا ہے۔ اگر پاکستان دانشمندی‘ توازن اور مستقل مزاجی کے ساتھ اپنی پالیسیوں کو جاری رکھتا ہے تو وہ نہ صرف علاقائی استحکام کا ضامن بن سکتا ہے بلکہ عالمی سطح پر ایک مؤثر ثالث کے طور پر بھی ابھر سکتا ہے۔ ماضی میں جس پاکستان کو زیادہ تر ایک &#39;&#39;سکیورٹی کنزیومر‘‘ کے طور پر دیکھا جاتا تھا‘ وہ اب ایک &#39;&#39;سکیورٹی پرووائڈر‘‘ کے طور پر اپنی شناخت قائم کر رہا ہے۔ یہ تبدیلی محض الفاظ تک محدود نہیں بلکہ عملی اقدامات سے بھی ظاہر ہو رہی ہے۔ پاکستان کی سفارتی کوششیں‘ پسِ پردہ مذاکرات اور جنگ بندی کیلئے اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ خطے میں استحکام کیلئے سنجیدہ ہے۔ تاہم اس کردار کے ساتھ کئی چیلنجز بھی جڑے ہوئے ہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان توازن برقرار رکھنا آسان نہیں۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب دونوں ممالک کے مفادات ایک دوسرے سے متصادم ہوں۔ پاکستان کو نہ صرف اپنی سفارتی مہارت کا مظاہرہ کرنا ہوگا بلکہ اندرونی اور بیرونی دباؤ کا بھی سامنا کرنا ہوگا۔ ایک غلط قدم نہ صرف اس کی ساکھ کو متاثر کر سکتا ہے بلکہ خطے میں اس کے کردار کو بھی کمزور کر سکتا ہے۔عالمی سطح پر بھی پاکستان کی کوششوں کو سراہا جا رہا ہے۔ یورپی یونین سمیت کئی بین الاقوامی ادارے اور رہنما پاکستان کی امن کوششوں کی حمایت کر رہے ہیں۔ یہ حمایت پاکستان کیلئے ایک مثبت اشارہ ہے اور اس کی عالمی حیثیت کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر پاکستان اس موقع کو دانشمندی سے استعمال کرے تو نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک مؤثر ثالث بن سکتا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کا بحران محض سفارتی بیانات سے حل نہیں ہو گا۔ اس کے لیے مستقل مزاجی‘ اعتماد سازی اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ اپنی غیر جانبداری کو برقرار رکھتے ہوئے تمام فریقین کے ساتھ اعتماد کا رشتہ مضبوط کرے۔ چین‘ روس اور دیگر عالمی طاقتوں کے ساتھ تعاون بھی اس عمل میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔آج کی دنیا میں جہاں تنازعات تیزی سے پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں وہاں ایسے ممالک کی ضرورت ہے جو مفاہمت‘ مکالمے اور امن کیلئے سنجیدہ کردار ادا کر سکیں۔ پاکستان اس سمت میں ایک اہم قدم اٹھا چکا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ اس سفر کو کس حد تک کامیابی سے طے کرتا ہے۔ پاکستان کیلئے یہ ایک سنہری موقع ہے کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی کو ایک نئی سمت دے اور خود کو عالمی امن کا ایک مؤثر علمبردار ثابت کرے۔ اگر وہ اس نازک توازن کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو نہ صرف مشرقِ وسطیٰ میں امن کی راہ ہموار ہو سکتی ہے بلکہ پاکستان کی عالمی ساکھ بھی ایک نئی بلندی تک پہنچ سکتی ہے۔ یاد رہے کہ امریکی صدر جمی کارٹر نے جنوری 1980ء میں سٹیٹ آف دی یونین میں خطاب کے دوران واضح طور پر امریکی مفادات پر ضرب پڑنے کی صورت میں فوجی طاقت سمیت ہر قسم کی کارروائی استعمال کرنے کا عندیہ دیا تھا۔ یہ بیان &#39;&#39;کارٹر ڈاکٹرائن‘‘ کے نام سے معروف ہوا لیکن افغانستان اور عراق پر قبضوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں وائٹ ہاؤس کی ترجیحات نیو ورلڈ آرڈر کے تحت بدلتی چلی گئیں اور یہ سلسلہ بدستور جاری ہے۔ اسرائیل خطے سے اپنے دشمن مٹانا چاہتا ہے اور اس میں پاکستان بھی سرفہرست ہے۔ معرکۂ حق میں عظیم کامیابی کے بعد پاکستانی عسکری قیادت و حکومت علاقے کے امن و سلامتی کیلئے مسلسل کوشاں ہیں اور پاکستان ایران کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑا ہے۔ ضروری ہے کہ تمام فریق زمینی حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے ایک ایسا سیاسی راستہ تلاش کریں جو خطے کو مزید تباہی سے بچا سکے۔ اب عالمی قیادت کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ جنگ کو مزید طول دیا جائے یا امن کی طرف قدم بڑھایا جائے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_62843609.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>