<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>پٹرولیم قیمتیں:اثرات اور خدشات(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-19/11375</link><pubDate>Sun, 19 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-19/11375</guid><description>حکومت نے اعلان کیاہے کہ اب پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین ہفتہ وار کے بجائے یومیہ بنیادوں پر کیا جائے گا۔   وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے اگلے روز پریس کانفرنس میں اس نئے طریقہ کے حوالے سے بتایا کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) روزانہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کر کے اپنی ویب سائٹ پر شائع کرے گی اور قیمتوں میں جو بھی اتار چڑھاؤ ہو گا وہ فوری طور پر نافذ العمل ہو گا۔ پٹرولیم کی قیمتوں کے تعین کا یہ طریقہ کار ایسے وقت میں لاگو کیا جا رہا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے سے تیل کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان ہے ۔ پچھلے ایک ہفتے کے دوران تیل کی قیمتوں میں 14فیصد اضافہ ہو چکا اور بینک آف امریکہ نے خبردار کیا ہے کہ تنازع کے جلد حل کی کوئی صورت نہ نکلی تو تیل 100ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتا ہے۔پاکستان اپنی پٹرولیم ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے اور روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کے تعین کی صورت میں عالمی منڈی میں اتار چڑھاؤ کا اثر بھی روزانہ کی سطح پر عوام کو برداشت کرنا پڑے گا۔ یہ حقیقت بھی مد نظر رہنی چاہیے کہ ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی گرانی صرف تیل کی عالمی قیمتوں کی وجہ سے نہیں بلکہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بڑا حصہ ٹیکسوں اور لیویز کا ہے۔

مثال کے طور پر یکم جولائی سے نافذ کی گئی کلائمیٹ سپورٹ لیوی کے تحت ڈیزل اور پٹرول پر پانچ روپے فی لٹر وصول کیے جا رہے ہیں جبکہ ڈیزل پر 80روپے اور پٹرول پر 70روپے فی لٹر پٹرولیم لیوی اس کے علاوہ ہے‘ جبکہ تقریباً 20 روپے فی لٹر کسٹم ڈیوٹی بھی شامل کی جاتی ہے۔ یوں صرف ٹیکسوں اور لیویز کی مد میں پٹرول پر تقریباً 95روپے فی لٹر کا اضافی بوجھ برداشت صارفین کو برداشت کرنا پڑتا ہے؛ چنانچہ تیل کی عالمی قیمتیں کم ہوں بھی تو عوام کو اس کا کچھ خاص فائدہ نہیں پہنچ پاتا۔ اگرچہ پٹرولیم کی قیمتوں کو سرکاری کنٹرول سے نکال کر مارکیٹ کی حرکیات پر چھوڑنا اصولی طور پر درست نقطہ نظر ہے اور آزاد معیشت کے مزاج کے موافق ہے‘ تاہم اس میں بنیادی سوال شفافیت اور ریگولیٹری میکانزم کی صلاحیت کا ہے۔ قیمتوں کی ڈی ریگو لرائزیشن کا فائدہ صارف کواسی صورت میں مل سکتا ہے جب ان قیمتوں کو شفافیت کیساتھ نافذ کیا جائے‘ اور یہ کام مؤثر ریگولیٹری اتھارٹی کے بغیر ممکن نہیں۔ کیا موجودہ حالات میں ہمارے تیل اور گیس کے ریگولیٹری ادارے سے امید کی جاسکتی ہے کہ وہ اس سلسلے میں صارفین کے مفاد کا تحفظ یقینی بنائے گا؟ بادی النظر میں ایسا ہونا مشکل دکھائی دیتا ہے۔
پٹرولیم کی قیمتوں کا اشیا اور خدمات کی قیمتوں میں بہت بڑا اثر ہوتا ہے ؛ چنانچہ یہ خدشہ ہے کہ تیل کی قیمتیں بڑھنے کیساتھ اشیا اور خدمات کے نرخوں میں اضافہ تو بلا تاخیر کر لیا جائے گا مگر قیمتوں میں کمی کی صورت میں یومیہ بنیادوں پراشیا اور خدمات کے نرخوں کے جائزے کا کیا طریقہ کار ہو گا؟ قیمتوں کی ڈی ریگولرائزیشن‘ بشرطیکہ منصفانہ اور شفاف ہو‘معیشت کیلئے مثبت اثرات کی حامل ثابت ہو تی ہے کیونکہ اس سے مارکیٹ کی قوتوں کو زیادہ کردار ملتا ہے اور مصنوعی قیمتوں کا خاتمہ ہوتا ہے۔ تاہم پٹرولیم مصنوعات کے معاملے میں اس کا حقیقی فائدہ اسی وقت ممکن ہے جب حکومت ان مصنوعات پر عائد ٹیکسوں اور لیویز کا بھی جائزہ لے اور ان محصولات میں معتدبہ کمی کرے نیز ریگولیٹری اقدامات کو بھی اس قدر مؤثر بنایا جائے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کا یہ نظام صارفین کے استحصال کا سبب نہ بنے ۔
قیمتوں کو تو آزاد کر دیا جائے مگر ٹیکسوں کا بوجھ اسی طرح اور ریگولیٹری میکانزم کمزورہو تو قیمتوں کی ڈی ریگولرائزیشن کے مثبت نتائج حاصل نہیں ہو سکتے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت ایک متوازن پالیسی اختیار کرے۔ ایک طرف عالمی منڈی کے مطابق شفاف قیمتوں کا نظام نافذ کیا جائے تو دوسری جانب ٹیکسوں کی شرح کو معقول سطح پر رکھا جائے اور ریگولیٹری نظام کو مؤثر بنایا جائے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مہنگائی کے وار(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-19/11374</link><pubDate>Sun, 19 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-19/11374</guid><description>وفاقی ادارۂ شماریات کے تازہ اعدادوشمار نے ایک بار پھر یہ تلخ حقیقت آشکار کر دی ہے کہ ملک میں مہنگائی کا طوفان تھمنے کا نام نہیں لے رہا‘ بلکہ مزید شدت اختیار کر رہا ہے۔ گزشتہ ہفتے کے دوران 27 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کے باعث ہفتہ وار مہنگائی میں 1.40 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ مجموعی شرح 13 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے۔ آٹا‘ ٹماٹر‘ پیاز‘ بجلی‘ گیس اور دیگر بنیادی ضروریات کی بڑھتی ہوئی قیمتیں پہلے ہی عوام کی قوتِ خرید کو بری طرح متاثر کر رہی تھیں کہ حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی اضافہ کر دیا گیا جو منافع خور عناصر کومن مانی قیمتیں وصول کرنے کا جواز فراہم کرے گا۔

افسوسناک امر یہ ہے کہ انسدادِ گرانی کے ذمہ دار ادارے اس صورتحال میں مؤثر کردار ادا کرنے کے بجائے اکثر خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں‘ جس کا سارا بوجھ عام شہری کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ ایسے حالات میں کم آمدنی والے طبقے کیلئے دو وقت کی روٹی کا بندوبست بھی کڑا امتحان بنتا جا رہا ہے جبکہ متوسط طبقہ بھی مسلسل معاشی دباؤ کی زد میں ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت مہنگائی کے تدارک کیلئے مارکیٹ میکانزم کو ریگولیٹ کرنے کی جامع اور مؤثر حکمت عملی تشکیل دے تاکہ سرکاری نرخوں کی پابندی یقینی بنا کر عوام کوریلیف فراہم کیا جا سکے۔مہنگائی سے نمٹنے کا دوسرا طریقہ عوام کی قوتِ خرید بڑھانا ہے‘ حکومت کو اس طرف بھی توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>قومی دفاع کا عزم(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-19/11373</link><pubDate>Sun, 19 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-19/11373</guid><description>سکیورٹی فورسز نے ہفتہ کے روز وانا‘ جنوبی وزیرستان میں بروقت کارروائی کرتے ہوئے بارودی مواد سے بھری گاڑی خودکش حملے سے پہلے ہی تباہ کر دی اور اس کارروائی میں ایک دہشت گرد ہلاک اور پانچ زخمی ہو ئے۔قبل ازیں جمعہ کے روز سکیورٹی فورسز نے بنوں اور اس سے ملحقہ علاقوں میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں فتنہ الخوارج کے شر پسندوں کے خلاف کارروائی میں 24دہشت گرد وں کو ہلاک کیا۔ ملک دشمن عناصر کو ان کے انجام تک پہنچانا سکیورٹی اداروں کی ایک بڑی کامیابی اورناقابل تسخیر قومی دفاع کیلئے بہت اہم پیش رفت ہے۔

اس وقت ہمیں دہشت گردی کے کثیر جہتی چیلنجوں کا سامنا ہے‘ نہ صرف ایسے چھپے ہوئے دہشت گردوں سے ہمارا مقابلہ ہے جو ہماری ہی صفوں میں موجود ہیں اور موقع ملنے پر پشت سے وار کرتے ہیں بلکہ ایسے عناصر بھی ہمارے مدمقابل ہیں جن کے ٹھکانے مغربی سرحد کے پار ہیں اور جو پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیوں کے بعد دوبارہ اپنے محفوظ ٹھکانوں کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے مغربی سرحدی علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات کی شرح باقی علاقوں سے زیادہ ہے۔اس صورتحال میں ضروری ہے کہ قومی انسدادِ دہشت گردی حکمتِ عملی کو بھی ان خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے ترتیب دیا جائے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>حضرت مولانا کا جوشِ خطابت(مجیب الرحمٰن شامی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mujeeb-ur-rehman-shami/2026-07-19/52321/51258490</link><pubDate>Sun, 19 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mujeeb-ur-rehman-shami/2026-07-19/52321/51258490</guid><description>مولانا فضل الرحمن نے قصور میں جمعیت العلمائے اسلام کے کارکنوں کے ایک پُرجوش اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا کہا تھا‘ اور کیا نہیں کہا تھا‘ وہ کیا کہنا چاہتے تھے اور کیا کہہ گزرے‘ جوشِ خطابت میں اُن سے چند جملے سرزد ہو گئے یا وہ دانستہ تیر اندازی کرنا چاہتے تھے۔انہوں نے فوجیوں کی تنخواہ وصولی کو ایک طعنے کے طور پر استعمال کیا یا محض ایک حقیقت کو بیان کرنا مقصود تھا‘اس سب سے قطع نظر یہ بات بلا خوفِ تردید کہی جا سکتی ہے کہ وہ افواجِ پاکستان کو ان کی بنیادی ذمہ داری کی طرف توجہ دلا رہے تھے‘ تو زیادہ بہتر اور مناسب الفاظ استعمال کر سکتے تھے۔ان کے لہجے اور الفاظ کی ترتیب سے شبہات پیدا ہوئے‘ جس سے جذبات کو ٹھیس پہنچی۔ کسی بھی خدمت کے معاوضے کے طور پر تنخواہ وصول کرنا ہر شخص کا آئینی‘ قانونی بلکہ شرعی حق ہے۔ کاروبارِ مملکت اسی بنیاد پر چل رہا ہے۔ صدرِ مملکت بھی تنخواہ یافتہ ہیں اور وزیراعظم بھی۔ جج حضرات تنخواہ وصول کرتے ہیں اور ارکانِ اسمبلی بھی‘اس لیے کسی تنخواہ یافتہ پر نہ تو یہ الزام لگایا جا سکتا ہے نہ اُسے طعنہ بنایا جا سکتا ہے کہ وہ تنخواہ لیتا ہے۔ اگر خدمات کے عوض تنخواہ لینے کا حق ساقط کر دیا جائے تو ریاست کا نظم و نسق چوپٹ ہو جائے۔ پاکستان ہی نہیں دنیا کے ہر ملک میں تنخواہ لی جاتی ہے اور جو شخص اپنے فرائض خوش اسلوبی سے ادا کرتا ہے‘ تنخواہ کے علاوہ اپنے منصب سے کوئی اور فائدہ اٹھانے کی کوشش نہیں کرتا اُسے دیانتدار سمجھا جاتا ہے۔وہ صادق اور امین کہلاتا اور لوگوں کے دلوں میں جگہ بناتا ہے۔ افواجِ پاکستان کے افسر اور جوان بھی اپنی خدمات کا معاوضہ لیتے ہیں‘ لیکن ان کا امتیاز یہ ہے کہ ان کی &#39;&#39;شرائطِ ملازمت‘‘ میں جان کی بازی لگا دینا بھی شامل ہے۔کسی جج‘ وزیر یا سیکرٹری سے یہ تقاضہ نہیں کیا جا سکتا کہ وہ دفاعِ وطن کیلئے سرحدوں پر مامور ہو جائے اور جان پر کھیل کر ان کی حفاظت کرے۔افواجِ پاکستان میں جو بھی شامل ہوتا ہے‘وہ اپنی مرضی سے اپنی خدمات پیش کرتا ہے۔ اسے مار باندھ کر بھرتی نہیں کیا جاتا۔ اس کا اپنا ولولہ اور شوق اسے سرفروشوں کی صف میں لاکھڑا کرتا ہے۔ اگر پیش کش قبول کر لی جائے تو اس سے توقع رکھی جاتی ہے کہ وقت آنے پر وہ جان کی قربانی دینے سے بھی دریغ نہیں کرے گا۔پاکستان جیسا ملک جو بیرونی اور اندرونی دشمنوں میں گھرا ہوا ہے‘اس کی حفاظت کا جذبہ اس کے محافظوں میں فزوں تر ہے۔ سرحدوں پر کوئی چیلنج درپیش ہو یا اندرون ملک شورش برپا ہو رہی ہو یا دہشت گردی حملہ آور ہو تو افواجِ پاکستان ہی کو آواز دی جاتی ہے اور انہی سے توقع رکھی جاتی ہے کہ ہمارے کل کے لیے اپنا آج قربان کر دیں۔افواجِ پاکستان کے علاوہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دوسرے اداروں کے اہلکار بھی سر ہتھیلی پر رکھے رہتے ہیں اور بدقماشوں سے نبٹتے نبٹتے اپنا خون بے دریغ لٹا دیتے ہیں۔پاکستان کو اپنے شہیدوں اور غازیوں پر فخر ہے اور آج پوری دنیا میں ہم پورے قد سے کھڑے ہیں تو ہماری مسلح افواج کی استعداد کا اس میں بڑا حصہ ہے۔ اپنے سے کئی گنا بڑے حملہ آور کو حال ہی میں شکست سے جس طرح دوچار کیا گیا‘ اس نے ہماری دھاک بٹھا دی۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے امریکہ اور ایران جنگ کے دوران جو مصالحانہ کردار ادا کیا‘ وہ بھی اسی لیے ممکن ہوا کہ ایک طاقتور ریاست کی طاقتور فوج ان کی پشت پر تھی۔ افواجِ پاکستان کا جذبۂ شہادت تنخواہ کا پیدا کردہ نہیں ہے‘ لیکن تنخواہ ان کے وجود کو برقرار رکھنے کے لیے لازم ہے۔ اسے ان کے حضور ایک معمولی سا نذرانۂ عقیدت تو قرار دیا جا سکتا ہے‘ خون کا معاوضہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔حضرت مولانا فضل الرحمن کے لہجے سے غلط فہمی پیدا ہوئی‘مناسب ہوتا کہ وہ فوراً اس کی وضاحت کر دیتے‘انہوں نے اسے ضروری نہیں سمجھا تو اسے کوتاہی سمجھا جائے گا بہادری نہیں۔ بہادری تو یہ ہوتی ہے کہ اگر بھول چوک سرزد ہو جائے تو ڈنکے کی چوٹ اس کا ازالہ کر دیا جائے۔مولانا عبدالغفور حیدری جیسے جانثار لنگوٹ کس کر میدان میں اُتر آئے اور مولانا کے حق میں الفاظ کا انبار لگانے لگے‘ جی ایچ کیو کے سامنے دھرنے تک کی دھمکی دے ڈالی   ؎ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو؟ ارے حضرت‘ آپ کی عمر بھی دشت ِ سیاحت کی سیاحی میں گزر گئی ہے لیکن یہ سلیقہ کیوں بھلا دیا گیا کہ کیا بات‘ کس وقت کہنی چاہیے۔ ملک میں خدانخواستہ مارشل لاء لگا ہوا تو ہے نہیں‘ بری بھلی جمہوریت چل رہی ہے۔ دستور کے تابع نظام قائم ہے۔ جملہ امور کی ذمہ داری وزیراعظم اور ان کے رفقا نے سنبھال رکھی ہے۔ احتجاج کرنا ہے تو وزیراعظم سیکرٹریٹ کے باہر کھڑے ہو کر دل ٹھنڈا کر لیجیے‘ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر بھڑاس نکال لیجیے۔بہرحال ایک طرف غالی مداح نظر آئے تو دوسری طرف حملہ آوروں کی یلغار دیدنی تھی۔ طرح طرح کے الزام لگائے گئے‘ غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹے جانے لگے‘ عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹا ڈالے گئے‘ گویا گھمسان کا رن پڑ گیا۔ توازن اور اعتدال سے بات کرنیوالے بھی موجود تھے اور ہیں‘ لیکن ہر حد سے گزرنے والے کہیں زیادہ سرگرم نظر آئے۔مولانا فضل الرحمن کوئی گملے کا پودا تو ہے نہیں کہ انہیں اپنی مرضی سے اٹھایا اور بٹھایا جائے۔ ان کی اپنی شخصیت ہے‘ تاریخ ہے‘ کردار ہے‘وقار ہے اور اعتبار بھی۔انہوں نے کئی عشرے پاکستانی سیاست کی نذر کیے ہیں۔اپنے جلیل القدر والد مولانا مفتی محمود مرحوم کے نقش قدم پر چلے ہیں اور ان کی وراثت کی حفاظت کی ہے۔ جب دہشت گرد گروہوں کے جتھے &#39;&#39;اسلامی انقلاب‘‘ برپا کرنے کے لیے دھما چوکڑی مچائے ہوئے تھے اور اپنی مرضی پورے ملک پر مسلط کرنے کے در پے تھے‘مولانا کی آواز اُن آوازوں میں نمایاں تر تھی‘ جو اُن کا راستہ روکنے والوں کو حوصلہ بخش رہی تھیں۔ مولانا فضل الرحمن اور اُن کے رفقا نے خود کش حملوں کا سامنا کیا‘ ان کے متعدد رفقائے کار اور کارکن قربان ہو گئے لیکن انہوں نے دستور اور قانون کی حاکمیت کا پرچم بلند رکھا۔ وہ جمہوری راستے سے تبدیلی لانے کے لیے کمر بستہ ہیں اور یوں معاشرے کو استحکام دینے میں لگے ہیں۔ انہوں نے جمہوریت کی محبت میں اپنے کالے بال سفید کر لیے ہیں۔ جوانی اس کی مالا جپتے گزار دی اور اب بڑھاپے کو اس سے بہلا رہے ہیں۔ مدرسوں کے ہزاروں طالب علموں کے ہاتھوں میں انہوں نے کتابیں تھمائی ہیں۔طاقت کے استعمال پر ریاست کی اجارہ داری کو تسلیم کیا ہے‘افواجِ پاکستان کو سر آنکھوں پر بٹھائے رکھا ہے۔ ان جیسے شخص سے اگر کوئی بھول چوک ہو جائے‘ الفاظ کے انتخاب میں کوتاہی ہو جائے تو ان کے پورے کیریئر کو نظر انداز کر کے ان کی شخصیت کو مسمار کرنے پر لگ جانا بجائے خود ایک خود کش حملہ ہے۔ پاکستان کو آگے بڑھانا ہے تو ہر شخص اور ہر ادارے کو آئین کی پابندی کرنا ہو گی۔ایک دوسرے کا احترام کر کے اور ایک دوسرے سے مکالمہ کر کے‘ایک دوسرے کی بات سن کر اور سمجھ کر ہی ہم اپنے جسد ِ قومی کو توانا کر سکتے ہیں۔یاد رکھیے‘ شک کا فائدہ دے کر قتل تک کے ملزم کو بری تو کیا جا سکتا ہے‘سزا نہیں دی جا سکتی۔(یہ کالم روزنامہ &#39;&#39;پاکستان‘‘ اور روزنامہ &#39;&#39;دنیا‘‘ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_37052987.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مولانا ذرا پھسل گئے(ایاز امیر)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-07-19/52322/55853751</link><pubDate>Sun, 19 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-07-19/52322/55853751</guid><description>اپنی فوج یا اپنے فوجیوں کے بارے میں ایسی زبان کسی ملک میں استعمال نہیں ہوتی‘ چاہے وہ ملک امریکہ ہو‘ چین ہو یا جرمنی اور جاپان۔پالیسیوں اور فیصلوں کے بارے میں نہ صرف بات بلکہ تنقید بھی ہوتی ہے ۔ ویتنام اور عراق کی جنگوں پر تنقید ہوتی ہے لیکن سپاہیوں پر کوئی انگلی نہیں اٹھاتا‘ کسی صورت میں بھی نہیں۔ جو مولانا فضل الرحمن یہاں کہہ گئے اور اگر امریکہ میں ہوتے اور ایسی بات امریکی فوج کے بارے میں کہتے تو اُسی دن اُن کی سیاست وہاں ختم ہو گئی ہوتی۔ لیکن یہاں دیکھئے نامناسب بات اُن سے ہو گئی لیکن بحث کیا ہو ر ہی ہے کہ اس کے پیچھے ہاتھ کس کا ہے‘ کون سی سازش تیار ہو رہی ہے کہ مولانا نے یہ بات کہی؟ یعنی اس طرزِ گفتگو کے پیچھے محرکات کون سے ہیں۔ یہ بحث اتنی ہی لایعنی ہے جتنے کہ مولانا کے فوج کے بارے میں خیالات۔ کوئی سیاست پک رہی ہو یا نہ ہو‘ اپنی فوج کے بارے میں ایسی باتیں نہیں کی جاتیں۔ فوج تو ہر جگہ تنخواہ لیتی ہے۔ جن جرمن فوجوں نے جنگِ عظیم دوم میں روس پر حملہ کیا وہ بھی تنخواہ لیتی تھیں۔ دفاع کرنے والے روسی بھی تنخواہ لیتے تھے۔ جن جاپانی پائلٹوں نے پرل ہاربر پر حملہ کیا جاپانی سلطنت کے تنخواہ دار تھے اور جن امریکی فوجیوں نے جاپان کو ہرایا وہ بھی تنخواہ لیتے تھے۔ یہ کیسی بے تکی بات ہے کہ فوج کو تنخواہ کا طعنہ دیاجائے۔ تنخواہ دار تو مولانا خود بھی ہیں‘ ایم این اے کی تنخواہ اور مراعات لیتے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ ایم این اے ہو یا خط تقسیم کرنے والا ڈاکیا وہ تنخواہ لیتے ہیں اُن کے پیشوں کا تقاضا یہ نہیں ہوتا کہ تنخواہ کے ساتھ جان ہتھیلی پر رکھیں۔ یہ افواج ہیں اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے جن کے فرضِ منصبی میں یہ شامل ہے کہ اپنا فرض نبھاتے ہوئے جان بھی دینی پڑے تو اس سے گریز نہیں کیا جائے گا۔ کسی ایم این اے‘ سینیٹر ‘ وزیر یا کسی اور عہدے پر کوئی مامور ہواُن پر ایسی کوئی شرط عائد نہیں ہوتی۔ اور کیونکہ آخری قربانی بھی افواج کے فرضِ منصبی میں شامل ہوتی ہے اس لیے ہر معاشرے اور ملک میں جو دفاعِ وطن میں ہتھیار اٹھاتے ہیں اُن کی عزت کی جاتی ہے۔ کسی ایک ملک کا نام لے لیں جس کا وقار اس دنیا میں قائم ہے‘ وہاں ہر چیز پر تنقید کی جاسکتی ہے پر اپنے فوجی کی عزت پر انگلی نہیں اٹھائی جاتی۔ پر یہاں مولانا نے ایسے خیالات کا اظہار کرکے گُل تو کھلائے ہی ہیں‘ لیکن اُن کے جماعت کے اکابرین کو دیکھئے ایک بے تکے بیان کے حق میں تاویلیں دینے پر لگ گئے ہیں۔ کہہ رہے ہیں سیاق و سباق سے ہٹ کر ایک دو جملوں کو نہ لیا جائے حالانکہ اُن کے جملے بالکل واضح ہیں۔ اتنے واضح کہ کسی تشریح کی ضرورت نہیں رہتی۔ آئے روز نہ صرف ہمارے فوجی بلکہ پولیس اور ایف سی اہلکار کے پی کے اور بلوچستان میں جانوں کی قربانی دے رہے ہیں۔ یہ کیا طعنہ بنا کہ اپنے لہو کا احسان ہم پر کیوں ڈال رہے ہو کیونکہ تم نے جو پیٹی باندھی ہے اُس کیلئے تنخواہ لے رہے ہو۔ چکوال کا کوئی قبرستان نہیں جس میں ایک دو یا اس سے زائد قربانی دینے والوں کی قبریں نہ ہوں۔ لگا دیں پھر اُن قبرستانوں پر تختیاں کہ قبروں پر پرچم لہرانے کی ضرورت نہیں کیونکہ اپنا فرض نبھانے کیلئے یہ ریاست سے تنخواہ وصول کرتے تھے۔ صحیح کہہ رہا ہوں ایسا بیان کسی اور ملک میں دیا جاتا تو مولانا اُسی دن سیاست سے فارغ ہو گئے ہوتے ۔کسی پالیسی یا کردار پر آپ معترض ہیں تو ضرور بولیے بلکہ تنقید کے تمام گولے برسا دیجئے‘لیکن بات کو یہاں تک لے آنا کہ قربانیوں کا احسان ہم پر کیا ڈالنا کیونکہ تم تو تنخواہ دار ہو اور تنخواہ لیتے ہو‘ یہ تو ایسی سوچ ہے کہ کہیں اور سنی نہ جا سکے۔ لیکن مولانا اور اُن کے ہمنوا ہیں کہ تاویلیں دیے جا رہے ہیں اور میڈیا کے پردھان کڑیاں جوڑ رہے ہیں کہ ایسا بیان کس چیز کا پیش خیمہ ہے۔جن کا کوئی پیشہ ورانہ کردار نہیں کہ سیاست میں ملوث ہوں اُن پر کون تنقید نہیں کرتا۔ ایوب خان اور دوسرے تنقید کا نشانہ بنتے آئے ہیں۔ فوجی حکومتوں پر تنقید ہوتی رہی ہیمگر بات کو وہاں تک رکھئے اور وہاں تک رکھتے ہیں تو اچھے بھی لگتے ہیں۔ لیکن یہ کیا کہ تنخواہ داری کا طعنہ دیا جائے۔ ہمارے فوجی گولیاں کھا رہے ہیں‘ لیفٹین‘ کپتان‘ میجر اور کہیں کہیں لیفٹیننٹ کرنل شہید اور زخمی ہوئے ہیں۔ اسلام آباد اور بڑے شہروں کی رونقیں انہی شہدا اور غازیوں کی وجہ سے ہیں۔ نہیں تو جس قسم کے جہاد ریاست اور مخصوص سوچ کے مذہبی عناصر افغانستان میں چلاتے رہے ہیں وہاں کی آگ ہمارے بڑے شہروں تک پہنچ چکی ہوتی۔ خود احتسابی کی ضرورت ہے کہ ایسے معرکوں کا سامان یہاں کیوں تیار ہوتا رہا۔ ہمارا کیا کام تھا کہ ہماری حکومتیں افغانستان کے معاملات میں دخل دیتی رہیں۔ اپنے مسائل حل نہ ہوئے اور دوسروں کے مسائل اپنے سر پر لے لیے۔ بات کی جائے تو اس پسِ منظر کو سامنے رکھا جائے۔ اپنی تنخواہ داری بھول کر  سپاہ کی تنخواہ داری تک آپ کیسے پہنچ گئے؟اور اگر کسی غصے کے بوجھ تلے ایسی بات آپ کر گئے تو انصاف کا تقاضا بنتا ہے کہ اپنے سینے میں بھی جھانکیے اور جو اپنا سیاسی کردار رہا ہے اس پر بھی ایک نظر ڈالیے۔ پرویز مشرف کے زمانے میں دینی جماعتوں کے اتحاد کا نام تو متحدہ مجلس عمل تھا لیکن عرفِ عام میں اسے مُلا ملٹری الائنس کہا جاتا تھا۔ تب کے معاملات میں قربت آپ کی ایسی تھی کہ وزیراعظم کے امیدوار بن بیٹھے۔ یہ وِکی لیکس کی مہربانی کہ اس وقت کی امریکن ایمبسڈر این پیٹرسن کا ایک خفیہ مراسلہ منظرِ عام پر آیا جس میں اس روداد کا ذکر ہے۔ یہ تو چلیں دور کی باتیں ہیں‘ چھبیسویں آئینی ترمیم تو کل کی بات ہے۔ اکابرین کو آپ کے ووٹوں کی ضرورت تھی اور جمہوری تقاضوں کے حق میں بڑی بڑی باتیں کرکے آپ کی حمایت انہیں کے پلڑے میں پڑی۔ مصلحت پسندی سیاست کا حصہ رہتی ہے۔ آپ کی حمایت آج جن کے حق میں گئی اس کی وجہ کوئی تھی یا نہیں تھی آپ کا معاملہ ہے۔ یہ جو تنخواہ والی بات آپ نے قصور کے جلسے میں کی پی ٹی آئی والوں سے پوچھیں کہ ایسے جلسے کی اجازت انہیں کبھی مل سکتی ہے؟ آپ ہیں تو آپ کیلئے سیاسی ضابطے ذرا مختلف ہیں۔ اس کے پیچھے جو بھی وجہ ہو یہ آپ کا مسئلہ ہے‘ لہٰذا اس ضمن میں زیادہ کیا بولنا۔ لیکن جو بات آپ سپاہ اور اور تنخواہ داری کے بارے میں کر گئے وہ آپ سے بھول ہوئی‘ اس کا کوئی دفاع نہیں نہ ہو سکتا ہے۔ آپ کو  نقصان کیا ہونا ہے لیکن ایسے خیالات کا اظہار کرکے آپ نے اس سمجھداری پر ایک سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے جس سمجھداری کی آپ کو بڑی داد ملتی رہی ہے۔ اب ایک مہربانی کیجئے‘ اپنے حواریوں کو مزید تاویلوں سے روکیے۔ جو بھی بول رہا ہے بات کو مزید بگاڑ رہا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_80573045.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ضیا الحق سے ذیل سنگھ تک(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-07-19/52323/87997427</link><pubDate>Sun, 19 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-07-19/52323/87997427</guid><description>بعض اتفاقات بڑے دلچسپ ہوتے ہیں۔ سابق وفاقی سیکرٹری انفارمیشن سید انور محمود موڈ میں ہوں تو جنرل ضیا اور محمد خان جونیجو کے اختلافات کی کہانیاں سناتے ہیں۔ نوجوان انور محمود جونیجو صاحب کے پریس سیکرٹری تھے لہٰذا انہوں نے بہت قریب سے صدر ضیا اور وزیراعظم جونیجو کے درمیان بہت معمولی باتوں پر بھی اختلافات ابھرتے دیکھے۔ انور محمود اپنے دور کے اُن وفاقی سیکرٹریز میں سے ایک ہیں جن کی ریٹائرمنٹ کے برسوں بعد بھی عزت کی جاتی ہے۔ ہر سال جب وہ یکم رمضان کو اسلام آباد کے صحافیوں کو افطاری کی دعوت دیتے ہیں تو شاید ہی کوئی ہو جو اُن کی عزت اور احترام کے پیشِ نظر وہاں نہ جائے۔ بیوروکریٹس کو ریٹائرمنٹ کے بعد شاید ہی میڈیا یا عام شہری یاد رکھتے ہیں‘ جس کا گلہ وہ بھی کرتے ہیں کہ اب ہم کسی کا فائدہ نقصان کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہے تو ہمیں کوئی ملنے نہیں آتا۔ لیکن میرا تجربہ کہتا ہے کہ جن افسران نے دورانِ ملازمت لوگوں کیلئے آسانیاں پیدا کیں‘ انہیں دستیاب رہے اور سول سرونٹ بنے ان کے حاکم نہیں تو لوگوں نے انہیں یاد رکھا اور عزت دی۔ ایسے چند نام جو میرے ذہن میں آتے ہیں‘ جنہیں ریٹائرمنٹ کے بعد بھی لوگوں نے عزت دی ان میں سابق سیکرٹری زراعت مرحوم ڈاکٹر ظفر الطاف‘ مرحوم سابق سیکرٹری پٹرولیم محمود سلیم محمود‘ سابق سیکرٹری انور محمود‘ مرحوم جی ایم سکندر اور رؤف چوہدری شامل ہیں‘ جن کو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی وہی عزت اور احترام ملا جو انہیں دورانِ سروس ملتا تھا۔ اس میں کمال لوگوں یا صحافیوں کا نہیں تھا ان سرکاری افسران کا تھا جنہوں نے خود کو سول سرونٹ سمجھا اور لوگوں کے مسئلے حل کیے۔ اس لیے برسوں کے بعد بھی ڈاکٹر ظفر الطاف کے گھر پر دوپہر کو درجن بھر لوگ ضرور موجود ہوتے تھے۔ مرحوم محمود سلیم محمود کو دیکھا‘ جنہوں نے شاید ہر بندے کا کوئی نہ کوئی کام کیا‘ جو ہو سکتا تھا اور ان کے چہرے پر ہمیشہ مسکراہٹ ہی دیکھی۔ محمود سلیم صدر زرداری کے 2008ء میں پرنسپل سیکرٹری تھے تو ایک دن مجھے کہا کہ کسی روز ایوانِ صدر چکر لگائیں۔ میں نے جھجک کر کہا: میں پی پی پی حکومت اور صدر زرداری پر سکینڈلز فائل کرتا رہتا ہوں۔ آپ کیلئے مشکلات ہوں گی کہ صدر زرداری کے پرنسپل سیکرٹری کے پاس اس رپورٹر کا اٹھنا بیٹھنا ہے جو روز حکومت کے خلاف خبریں دے رہا ہوتا ہے۔ وہ بولے: وہ صدر صاحب جانیں اور آپ کی رپورٹنگ جانے۔ میں شاید 2008؍09ء میں زندگی میں پہلی اور آخری بار ایوانِ صدر چائے پینے گیا۔ کچھ دیر گزری تو صدر زرداری اچانک سلیم صاحب کے دفتر میں داخل ہوئے۔ مجھے بیٹھے دیکھا تو قہقہہ لگا کر کہا: کلاسرا صاحب‘ تو آپ یہاں بیٹھے ہیں‘ اسے کہتے ہیں چھاپہ۔ میں نے اُٹھ کر ہاتھ ملایا۔ وہیں کھڑے کھڑے خیریت دریافت کی۔ میں نے کہا: میں نے تو محمود سلیم صاحب کو منع کیا تھا کہ صدر کے سیکرٹری کے دفتر میں میرا پایا جانا اچھا شگون نہیں ہو گا۔ بولے‘ ہرگز ایسی بات نہیں ہے۔ آپ سموسے کھائیں‘ چائے پئیں۔ سلیم صاحب زبردست افسر ہیں۔ کسی دن لمبی گپ لگاتے ہیں۔ خیر‘ وہ گپ کبھی نہ لگ سکی کیونکہ ہم اپنی خبریں دینے کی خُو سے باز نہ آئے اور حکمران ایسے رپورٹرز سے دور رہتے ہیں۔ جی ایم سکندر بھی ایسے افسر تھے جو اپنی خوبصورت مسکراہٹ کیساتھ لوگوں کو ایسے ملتے کہ لوگوں احساس ہی نہ ہوتا کہ وہ کسی وفاقی سیکرٹری سے مل رہے ہیں۔ خیر‘ بات ہو رہی تھی انور محمود کی جو جنرل ضیا اور وزیراعظم محمد خان جونیجو کے درمیان ایک چھوٹی سی بات سے اسمبلیوں کی برطرفی کی کہانیاں سناتے ہیں۔ جنرل ضیا اپنے ایک گھریلو سٹاف کے بندے کو ریٹائرمنٹ پر مدتِ ملازمت میں توسیع دلوانا چاہتے تھے‘ جس کا اختیار وزیراعظم جونیجو کے پاس تھا۔ جنرل ضیا‘ جو اپنے دور کے طاقتور صدر تھے‘ اپنے ملازم کو توسیع نہیں دے سکتے تھے‘ وہ پاور وزیراعظم کی تھی اور محمد خان جونیجو نے اس فائل کی منظوری جنرل ضیا کے کہنے پر نہیں دی تھی۔ یہ اُس دور کے وزیراعظم کے اختیارات کی بات ہے جب سویلین وزیراعظم مارشل لاء کے سائے میں تھے۔ اب وزیراعظم کی بے بسی دیکھنی ہو تو پچھلے دس پندرہ برسوں میں دیکھ لیں۔ اب تو خیر وزیراعظم ہاؤس کہاں اور اسکی طاقت کہاں۔ صدر ضیا اکثر یہ بات طنزیہ کہتے تھے کہ بھائی ہمارا وزیراعظم تو اتنی چھوٹی سی فائل تک منظور نہیں کرتا۔ ہو سکتا ہے آپکو یہ معمولی بات لگے جسکا محمد خان جونیجو کی برطرفی سے تعلق نہ ہو لیکن عموماً بڑے لوگوں کی انا ایسی چھوٹی باتوں سے زیادہ ہرٹ ہوتی ہے۔اُنہی دنوں بھارت میں وزیراعظم راجیو گاندھی اور صدر ذیل سنگھ کے درمیان بھی وہی ہو رہا تھا جو صدر ضیا اور وزیراعظم جونیجو کے درمیان پاکستان میں چل رہا تھا۔ مزے کی بات ہے کہ دونوں ملکوں میں صدر اور وزیراعظم کے درمیان ایک جیسی لڑائی ہو رہی تھی۔ چند دن پہلے پرانی کتابوں کی دکان سے بھارت کے سابق صدر R. Venkataraman کی خودنوشت My Presidential Years ملی‘ جو انہوں نے 1994ء میں لکھی تھی۔ وہ 1987ء تا 1992ء کے درمیان پانچ سال بھارت کے صدر رہے اور اس دوران چار بھارتی وزرائے اعظم کے ساتھ کام کیا جن میں راجیو گاندھی‘ وی پی سنگھ‘ چندر شیکھر اور نرسمہا راؤ شامل تھے۔ وہ لکھتے ہیں کہ صدر گیانی ذیل سنگھ‘ جو 1982ء میں اندرا گاندھی کے دور میں صدر بنے‘ کے 1987ء میں ریٹائر ہونے سے چند ماہ پہلے راجیو گاندھی کے ساتھ تعلقات بہت خراب ہو چکے تھے۔ دونوں کے درمیان بات تلخی اور ٹینشن تک پہنچی ہوئی تھی۔ وہ لکھتے ہیں کہ اگرچہ مجھے اندرونی وجہ کا علم تو نہ تھا جس سے تعلقات خراب ہوئے تھے‘ لیکن میڈیا‘ سیاستدان اور عوام کو علم تھا کہ وزیراعظم راجیو گاندھی صدر ذیل سنگھ سے ملنے نہیں جاتے اور انہیں نظر انداز کرتے تھے۔ راجیو گاندھی نے کبھی حکومتی معاملات پر بریف بھی نہ کیا۔ اور تو اور وزیراعظم راجیو گاندھی اپنے صدر ذیل سنگھ کے غیرملکی دوروں کی فائل پر اجازت نہیں دیتے تھے۔ وہ لکھتے ہیں کہ کچھ افراد کا کہنا تھا کہ صدر ذیل سنگھ اس وجہ سے راجیو گاندھی سے ناراض تھے کہ انہوں نے ایوانِ صدر کے جوائنٹ سیکرٹری ٹو پریزیڈنٹ کو ریٹائرمنٹ کے بعد توسیع دینے سے انکار کر دیا تھا۔ اس طرح وزارتِ داخلہ نے اندرا گاندھی کے قتل پر ٹھاکر کمیشن کی رپورٹ کی کاپی بھی نہیں بھیجی تھی‘ حالانکہ صدر ذیل سنگھ کی طرف سے بار بار منگوائی گئی تھی۔ یہ تاثر تھا کہ وزیراعظم آئین کے آرٹیکل 78کی خلاف ورزی کر رہے تھے‘ جسکے تحت وزیراعظم نے ریاست کے اہم معاملات پر صدر کو اعتماد میں لینا ہوتا ہے اور اطلاعات پہنچانی ہوتی ہیں‘ جب بھی صدر وزیراعظم آفس سے طلب کرے۔ یہ بات کھل کر اس وقت سامنے آئی جب میڈیا نے راجیو گاندھی سے اس بارے میں سوال کیا کہ وہ اس آئینی روایت کی خلاف ورزی کر رہے ہیں کہ نہ صدر سے ملاقات کرتے ہیں نہ ہی حکومتی معاملات پر بریف کرتے ہیں‘ تو وزیراعظم نے جواب دیا تھا کہ میں ایسی ایک سو آئینی روایات سے روگردانی کر چکا ہوں۔ لیکن اصل بحران اسوقت پیدا ہوا جب راجیو گاندھی نے پارلیمنٹ میں کہا کہ وہ صدر سے مسلسل ملاقات کر کے انہیں بریف کرتے رہتے ہیں۔ بات اسوقت بڑھ گئی جب انڈین ایکسپریس نے 13مارچ 1987ء کو خبر چھاپی کہ صدر ذیل سنگھ نے خط لکھ کر راجیو گاندھی کے اس دعوے کو جھوٹا قرار دیا ہے۔ اب یہ مسئلہ راجیہ سبھا پہنچ گیا‘ جہاں وینکٹرامن سپیکر کی کرسی پر بیٹھے تھے۔ انہیں اہم رولنگ دینی تھی کہ صدر اور وزیراعظم کا یہ مدعا پارلیمنٹ میں اٹھایا جا سکتا تھا یا نہیں۔ راجیو گاندھی نے سپیکر کو ہی کہانی ڈال دی کہ آپ ہی ہمارے اگلے صدر کیوں نہیں بن جاتے؟ اس دوران راجیو گاندھی پر کرپشن کے الزامات آنا شروع ہوئے تو اپوزیشن نے صدر ذیل سنگھ کو حمایت کا یقین دلایا کہ آپ ڈٹ جائیں۔ ہم آپ کو دوبارہ صدر بنائیں گے‘ جیسے 1993ء میں وزیراعظم نواز شریف اور صدر اسحاق خان کی لڑائی میں بینظیر بھٹو نے اسحاق خان کو صدرت کا عہدہ دلایا تھا۔ (جاری)</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ہائبرڈ وارفیئر اور پاکستان کے سکیورٹی محاذ(رشید صافی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-07-19/52324/96136533</link><pubDate>Sun, 19 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-07-19/52324/96136533</guid><description>پاکستان میں دہشت گردی کے محرکات مقامی عوامل سے زیادہ خطے کے بدلتے ہوئے جیو پولیٹکل اور جیو سٹرٹیجک منظرنامے سے منسلک ہیں۔ کابل میں طالبان کے اقتدار کو نصف دہائی گزرنے کے باوجود افغانستان کا اندرونی عدم استحکام‘ دہشتگرد تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہیں اور نئی دہلی کے ہائبرڈ وارفیئر کے عزائم نے پاکستان کی مغربی اور مشرقی سرحدوں پر سکیورٹی کے نئے محاذ کھول دیے ہیں۔ افغانستان میں طالبان کی اقتدار میں واپسی کے تقریباً پانچ سال بعد بھی کابل کی ڈی فیکٹو حکومت داخلی گورننس‘ معاشی بقا اور سکیورٹی کنٹرول قائم کرنے میں بری طرح ناکام نظر آتی ہے۔ حالیہ سکیورٹی انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق طالبان کے اندرونی صفوں میں نظریاتی اور انتظامی اختلافات شدت اختیار کر چکے ہیں جس نے مرکزیت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اس خلا اور اندرونی عدم استحکام کا عملی مظاہرہ افغانستان کے شمالی صوبہ بدخشان میں دیکھنے کو ملا جہاں طویل عرصے بعد طالبان مخالف مسلح جنگجوؤں نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت یفتل سفلی ضلع کے ہیڈکوارٹر پر عارضی کنٹرول حاصل کیا۔ حملہ آوروں نے نہ صرف ضلعی انتظامیہ‘ پولیس ہیڈ کوارٹرز اور انٹیلی جنس دفاتر کو مفلوج کیا بلکہ طالبان فورسز کو غیر مسلح کر کے انکا بھاری اسلحہ اور سرکاری گاڑیاں بھی قبضے میں لے لیں۔ یہ قبضہ چند گھنٹوں کا ہی تھا لیکن اس نے ایک واضح پیغام دیا ہے کہ افغان طالبان کا اپنے زیرِ اثر علاقوں پر رِٹ قائم رکھنے کا دعویٰ کمزور ہے۔ افغانستان کی سرزمین پر ایسے طاقتور مسلح گروہ موجود ہیں جو کابل کے کنٹرول سے آزاد ہیں اور جب چاہیں افغان عبوری حکومت کیلئے بقا کا مسئلہ پیدا کر سکتے ہیں۔ جب پاکستان بین الاقوامی فورمز پر یہ مؤقف اپناتا ہے کہ افغان سرزمین کو سرحد پار دہشت گردی اور شدت پسندی کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے تو طالبان قیادت حقائق سے چشم پوشی کرتے ہوئے اس کا انکار کرتی ہے تاہم یفتل سفلی جیسے واقعات اس امر کی دلیل ہیں کہ جب افغان طالبان اپنے سٹریٹجک اضلاع کا دفاع کرنے سے قاصر ہیں تو پاکستان کے خلاف سرگرم عمل نیٹ ورکس کو روکنے کی صلاحیت کیسے رکھ سکتے ہیں؟افغانستان تاریخ کے بدترین بحران سے گزر رہا ہے۔ بین الاقوامی پابندیوں‘ منجمد اثاثوں اور بینکنگ چینلز کی بندش نے افغان معیشت کو مفلوج کر دیا ہے۔ اس شدید مالیاتی بحران کا اثر وہاں پناہ گزین دہشت گرد گروہوں پر بھی پڑا ہے۔ معاشی بقا اور فنڈنگ کے حصول کیلئے یہ مسلح گروہ پاکستان کے سرحدی علاقوں میں دراندازی کر کے نیٹ ورکس کو دوبارہ فعال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ماضی میں ان گروہوں نے پہاڑی سلسلوں اور دشوار گزار راستوں کا فائدہ اٹھا کر رات کے اندھیرے میں چھپ کر حملے کیے اور وقتی کامیابیاں حاصل کیں۔ اسی زعم میں مبتلا ہو کر یہ عناصر اب بھی پختونخوا اور بلوچستان کے متصل اضلاع میں داخل ہونے کی کوششیں کرتے ہیں تاکہ ملک میں عدم استحکام پیدا کر کے اپنے بیرونی سرپرستوں سے مالی فوائد حاصل کر سکیں مگر اب زمینی حقائق یکسر تبدیل ہو چکے ہیں۔ پاکستان کی مسلح افواج اور سکیورٹی ایجنسیاں سرحدوں پر چوکس اور جدید ترین سرویلنس سسٹمز سے لیس ہیں جس کی وجہ سے اب دراندازی کی ہر کوشش دہشت گردوں کیلئے موت کا پروانہ ثابت ہو رہی ہے۔ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف اب فوری اور مؤثر جواب دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ پختونخوا میں آپریشن عزم استحکام اور بلوچستان میں آپریشن شعبان جیسے گرینڈ سٹرٹیجک آپریشنز نے شدت پسند عناصر کے سلیپر سیلز اور نیٹ ورکس کو نیست و نابود کر دیا ہے۔ بنوں اور اس کے گردونواح میں کیے گئے مربوط اور بروقت آپریشن کے نتیجے میں24گھنٹوں کے دوران 24خوارج کو ہلاک کیا گیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق ہلاک ہونیوالے تمام دہشت گردوں کا تعلق فتنہ الخوارج سے تھا جو بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی &#39;&#39;را‘‘ کے تنخواہ دار کارندوں اور پراکسی کے طور پر سرگرم عمل تھے۔ یہ گروہ طویل عرصے سے پاکستان کی حدود میں سکیورٹی فورسز‘ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور شہریوں پر حملوں میں ملوث رہا ہے۔ دہشت گردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں جدید ترین اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا جو اُن کی بیرونی فنڈنگ اور سٹرٹیجک پشت پناہی کی واضح تصدیق کرتا ہے۔ مئی 2025ء میں معرکہ حق کے دوران ایل او سی اور دیگر محاذوں پر عبرتناک شکست سے دوچار ہونے کے بعد نئی دہلی کی مودی حکومت نے اپنی روایتی عسکری حکمتِ عملی کو تبدیل کر کے ففتھ جنریشن وارفیئر اور ہائبرڈ ماڈل کو اپنایا ہے۔ بھارت اب براہِ راست روایتی تصادم سے گریز کرتے ہوئے پاکستان کی داخلی فالٹ لائنز کو نشانہ بنانے کی مذموم کوششیں کر رہا ہے۔ اس سازش کے تحت خیبر پختونخوا میں افغان سرزمین کو ڈھال بنا کر فتنہ الخوارج کے ذریعے خودکش حملے اور آئی ای ڈی دھماکے کروائے جا رہے ہیں جبکہ بلوچستان میں دہشت گرد تنظیم بی ایل اے اور دیگر علیحدگی پسند گروہوں کو خطیر فنڈنگ فراہم کر کے سی پیک کے اہم منصوبوں اور چینی سرمایہ کاری کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اسی طرح آزاد کشمیر میں سوشل میڈیا پراپیگنڈا‘ جھوٹی خبروں اور ڈیجیٹل ففتھ جنریشن ٹولز کے ذریعے اندرونی انتشار کی فضا پیدا کی جا رہی ہے۔ ان تمام اقدامات کا مقصد پاکستان کو معاشی اور داخلی محاذوں پر اس طرح الجھانا ہے کہ وہ بین الاقوامی سطح پر اپنے مفادات کا تحفظ نہ کر سکے۔ عالمی برادری طویل عرصے تک بھارت کے من گھڑت بیانیے پر کان دھرتی رہی کہ وہ دہشت گردی کا شکار ہے لیکن اب بین الاقوامی سطح پر یہ سچائی آشکار ہو چکی ہے کہ نئی دہلی خود سرحد پار دہشت گردی اور منظم جرائم کا گڑھ بن چکا ہے۔ بھارتی ریاستی سرپرستی میں کام کرنے والے خطرناک مافیا گروہ اب صرف جنوبی ایشیا تک محدود نہیں رہے بلکہ کینیڈا‘ امریکہ اور یورپ کی سکیورٹی کیلئے ایک سنگین چیلنج بن چکے ہیں۔ اس بین الاقوامی خطرے کی تصدیق امریکی ایف بی آئی کی جانب سے شروع کی گئی اس کارروائی سے ہوتی ہے جسے آپریشن ہارڈ بال کا نام دیا گیا ہے۔ اس آپریشن کے دوران بیک وقت امریکہ‘ کینیڈا اور سپین میں کارروائیاں کرتے ہوئے 24 انتہائی مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ 37 کے خلاف سنگین بین الاقوامی جرائم کے تحت باقاعدہ فردِ جرم عائد کی گئی۔ اس آپریشن نے عالمی سطح پر ثابت کر دیا کہ بھارت میں بیٹھے گینگسٹرز اور ریاستی عناصر شمالی امریکہ اور یورپ میں ٹارگٹ کلنگ‘ بھتہ خوری‘ منی لانڈرنگ اور منشیات کی سمگلنگ کا ہولناک کارٹیل چلا رہے ہیں‘ جس کی واضح کڑی کینیڈا میں سکھ رہنماؤں کے قتل میں بھارتی ایجنسیوں کا ملوث ہونا ہے۔ ایک طرف پاکستان ہے جو اپنی بہترین کمانڈ اینڈ کنٹرول اتھارٹی اور سٹرٹیجک پلانز ڈویژن کے باعث دنیا بھر میں انتہائی ذمہ دار اور محفوظ ترین ایٹمی قوت کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے دوسری طرف بھارت کا انتہائی غیر محفوظ اور غیر پیشہ ورانہ جوہری پروگرام ہے جو عالمی سلامتی کیلئے ایک بھیانک خواب بنتا جا رہا ہے۔ روئٹرز نے حال ہی میں ایک ہیکر گروپ &#39;&#39;ورلڈ لیکس‘‘ کے حوالے سے ایک سنسنی خیز انکشاف کیا ہے جس نے عالمی سلامتی کے اداروں میں خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ہیکرز نے بھارت کے سب سے بڑے جوہری پلانٹ &#39;&#39;کوڈن کولم‘‘ کے حساس ترین سرورز کو ہیک کر کے تقریباً 29 ہزار ڈیجیٹل فائلیں چوری کیں اور انہیں ڈارک ویب پر شیئر کر دیا۔ اس ہیک شدہ ڈیٹا میں جوہری پلانٹ کے وینٹیلیشن سسٹمز کا خاکہ‘ کنٹرول روم کا تفصیلی نقشہ‘ ری ایکٹر کی سکیورٹی کی خفیہ معلومات اور زیرِ تعمیر یونٹس سے متعلق وینڈرز اور ریلائنس کمپنی کے انجینئرز کے جوائنٹ انسپکشن کے ریکارڈز شامل ہیں۔ کسی جوہری پلانٹ کا ڈیٹا اس طرح سرِعام ڈارک ویب پر آنا نیوکلیئر دہشت گردی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت کا سائبر سکیورٹی اور نیوکلیئر سیفٹی انفراسٹرکچر کس قدر نااہل اور عالمی امن کیلئے مستقل خطرہ ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/222_48272610.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ہر گھنٹے کا آپشن(عمران یعقوب خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-07-19/52325/31957785</link><pubDate>Sun, 19 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-07-19/52325/31957785</guid><description>وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا: وزیر اعظم اور کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ اوگرا روزانہ کی بنیاد پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کرے گی اور قیمتیں ویب سائٹ پر جاری کی جائیں گی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ حکومت پٹرولیم مصنوعات کے شعبے کو ڈی ریگولیشن کی طرف لے جا رہی ہے‘ اور وزیر اعظم نے اس مقصد کے لیے ان کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کر دی ہے۔ایک زمانہ تھا جب پٹرول کی قیمتوں میں خاصا استحکام پایا جاتا تھا۔ پٹرولیم کی قیمتوں میں اگر کوئی ردوبدل ہوتا بھی تھا تو صرف سالانہ بجٹ کے موقع پر‘ اس کے بعد پورا سال قیمتیں مستحکم رہتی تھیں۔ پھر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین ماہانہ بنیادوں پر کیا جانے لگا۔ یہ معاملہ چل نکلا تو قیمتیں پندرھواڑ تبدیل کی جانے لگیں۔ عوام یہ بھی سہہ گئے تو کچھ عرصہ بعد قیمتیں ہر ہفتے تبدیل کی جانے لگیں اور اب حالات اس نہج کو پہنچ گئے ہیں کہ قیمتوں پر روزانہ نظر ثانی ہو گی۔ موقع تو اچھا نہیں ہے لیکن  تسلیم فاضلی کی ایک مشہور غزل کے دو شعر یاد آ رہے ہیں کہ حکومت کا عوام کے ساتھ معاملہ کچھ ایسا ہی محسوس ہونے لگا ہے:٭رفتہ رفتہ وہ میری ہستی کا ساماں ہو گئے؍ پہلے جاں پھر جانِ جاں پھر جانِ جاناں ہو گئے٭ پیار جب حد سے بڑھا سارے تکلف مٹ گئے؍ آپ سے پھر تم ہوئے پھر تُو کا عنواں ہو گئے۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے حوالے سے بھی صورتحال جانِ جاناں اور تُو کے عنواں تک پہنچ چکی محسوس ہوتی ہے کیونکہ سارے تکلف مٹتے جا رہے ہیں اور حکمران عوام کی ہستی کا ساماں بنتے جا رہے ہیں۔  روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کا تعین کرنے کے منفی اور مثبت‘ دونوں طرح کے اثرات و نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ کچھ ماہرین معاشیات کا خیال ہے کہ یہ نظام عالمی منڈی میں اتار چڑھاو ٔ کے مطابق قیمتوں کو فوری طور پر ایڈجسٹ کرتا ہے‘ جس سے حکومت یا کمپنیوں کو غیر ضروری مالی بوجھ نہیں اٹھانا پڑتا (یاد رہے کہ یہاں ماہرینِ معاشیات نے حکومت یا کمپنیوں کو غیر ضروری مالی بوجھ سے بچانے کی بات کی ہے‘ صارفین کو نہیں۔ یہ تقریباً ویسی ہی اپروچ ہے جیسی سابق وفاقی وزیر قمر زمان کائرہ نے چند روز پہلے دکھائی جب انہوں نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو لے کر مبینہ طور پر یہ بیان دیا تھا کہ &#39;&#39;اگر آپ فوری طور پر پٹرول کی قیمتیں کم کرتے ہیں تو جن کمپنیوں کے پاس کروڑوں‘ اربوں لٹر پڑا ہے‘ کیا وہ اسے برداشت کر پائیں گی؟ ان کا نقصان کیسے کور ہو گا؟ کمپنیاں دیوالیہ ہو جائیں گی‘ اس لیے ان کا پریشر بھی دیکھنا ہے‘‘۔ یہ ایک ایسا مائنڈ سیٹ ہے جس میں عوام کی کوئی حیثیت نہیں‘ کارپوریٹ کلچر کو ہی تمام تر اختیارات دینے کی کوشش کی جاتی ہے اور اسی کی پوجا کی جاتی ہے۔ جب پٹرول وغیرہ کی قیمتیں یکدم اچھی خاصی بڑھا دی گئی تھیں تو عوام کا خیال کس نے رکھا تھا؟)۔ دوسرا فائدہ یہ گنوایا جاتا ہے کہ چونکہ اس سسٹم کے تحت قیمتیں ہر روز بدلتی رہتی ہیں اس لیے منافع خور اور ذخیرہ اندوز مافیا اشیا کو ذخیرہ کر کے مصنوعی قلت پیدا نہیں کر سکیں گے۔ میرے خیال میں یہ ایک خام خیالی ہے۔ جن کے پاس پٹرول کا سٹاک ہو گا قیمت میں ہر اضافے کے ساتھ ان کے وارے نیارے ہوتے رہیں گے۔ منفی پہلو یہ ہیں کہ پٹرول اور روزمرہ کی اشیا کی قیمتیں روز بڑھنے یا کم ہونے سے غریب اور متوسط طبقے کی قوتِ خرید بری طرح متاثر ہو گی۔ روزانہ قیمتیں تبدیل ہونے سے کاروباری افراد کے لیے بھی اپنے اخراجات اور بجٹ کا تخمینہ لگانا مشکل ہو جائے گا۔ قیمتوں کے اس نظام خصوصاً پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی تبدیلی کو عوامی سطح پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ یہ براہِ راست عام آدمی کی جیب پر اثر انداز ہو گا اور عوام اسے حکومت کی ناکامی سے جوڑیں گے۔ ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ نظام معاشی لحاظ سے خاصا لچکدار ہے لیکن پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں جہاں مہنگائی پہلے ہی عروج پر ہے‘ یہ عام آدمی کے لیے شدید مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں حکومت کی جانب سے پٹرول کی قیمتوں کا روزانہ تعین کرنے کی تجویز کو پٹرول پمپ مالکان اور عوامی حلقوں کی جانب سے مسترد کیا جا رہا ہے۔ آل پاکستان پٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن نے حکومت سے اس فیصلے پر فوری نظرثانی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈیلی پرائس میکانزم انہیں ہرگز قابلِ قبول نہیں‘ کیونکہ ہفتہ وار قیمتوں کے نظام سے ہی پٹرول پمپ مالکان کا کاروبار شدید متاثر ہو رہا ہے‘ روزانہ قیمتوں کے تعین سے سٹاک مینجمنٹ اور مالی منصوبہ بندی مزید مشکلات کا شکار ہو جائے گی۔ سنا ہے کہ نئے طریق کار کے مطابق پہلے ہی اضافے کے ساتھ ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافے کے بارے میں سوچا جا رہا ہے۔میرے خیال میں پٹرول کے صارفین کا ردِ عمل بھی اس سے مختلف نہیں ہو گا کیونکہ وہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہفتہ وار ردوبدل سے ہی خاصے برہم اور خائف نظر آتے ہیں‘ روزانہ کی بنیاد پر پٹرول کی قیمتیں کم یا زیادہ ہوں گی تو ان کی الجھنوں میں اضافہ ہو گا اور کون ہو گا جو روزانہ کی بنیاد پر پٹرول کی قیمتوں کا دھیان رکھ سکے گا؛ چنانچہ اس پالیسی کی آڑ لے کر عوام کو لوٹنے والے پھر متحرک ہو جائیں گے اور کسی کو پٹرولیم کی اس روز کی قیمت کا صحیح پتا نہیں ہے تو پٹرول پمپ والے کوئی بھی قیمت بتا کر اسے لوٹ سکتے ہیں۔ویسے بھی حکومت کی ذمہ داری عوام کے لیے سہولتیں پیدا کرنا اور لوگوں کے مسائل حل کرنا ہوتا ہے‘ نہ کہ ان کے لیے خلجان بڑھانا۔ عوام پہلے ہی خاصے پریشان ہیں۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری نے ان کے لیے زندگی کے مسائل کی شدت بڑھا دی ہے۔ عوام روزانہ رات کو اس فکر کے ساتھ سوئیں کہ پتا نہیں آج پٹرول مہنگا ہو گا یا سستا‘ اور صبح اٹھ کر پھر اس فکر میں مبتلا ہو جائیں کہ پٹرول کی قیمت میں جو اضافہ ہوا ہے اسے اپنے روزانہ کے اخراجات میں کیسے ایڈجسٹ کیا جائے؟ روزانہ قیمتوں کے تعین کی پالیسی اختیار کرنے کا مطلب ہو گا ملک کے معاشی حالات ٹھیک نہیں جو حکومت پٹرولیم کی قیمتوں میں ردوبدل کو چند دن کے لیے بھی برداشت کرنے کو بھی تیار نہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ پٹرول کی قیمتیں روزانہ بڑھائی گئیں تو نہ مہنگائی کنٹرول میں رہے گی اور نہ ہی ٹرانسپورٹ کے کرائے اور گلی محلوں اور مارکیٹوں میں اشیائے صرف کی قیمتوں پر اور سڑکوں پر کرایوں کے تعین پر تو تو میں میں اور لڑائی مار کٹائی روز کا معمول بن جائے گی۔ لوگ پہلے ہی اشیائے صرف کی قیمتوں میں بار بار کے اضافوں پر تپے بیٹھے ہیں‘ توانائی کے بڑھتے ہوئے نرخوں اور نئے نئے ٹیکسوں نے بھی ان کی مالی صحت کو متاثر کیا ہے۔ حکومت کی جانب سے روزانہ قیمتوں میں اضافے کا اقدام ان کی برداشت ختم کر سکتا ہے۔ اب تو ملک کے اندر سے بھی خاصا تیل اور بڑی مقدار میں گیس حاصل ہو رہی ہے۔ اس کے بعد ہونا تو یہ چاہیے کہ پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں کچھ کمی لائی جاتی‘ لیکن الٹا نہ صرف نرخ مسلسل بڑھائے جا رہے ہیں بلکہ اب روزانہ عوام کا امتحان لینا مقصود نظر آتا ہے۔ لیکن میرا یہ بھی خیال ہے کہ حکومت کے اس فیصلے کو تسلیم کر لینا چاہیے کیونکہ اگر کسی بزرجمہر کے ذہن میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہر گھنٹے بعد یا ہر تین گھنٹے بعد یا ہر چھ گھنٹے بعد ردوبدل کا خیال آ گیا تو آپ جانتے ہیں کیا ہو گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_58350786.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بحرِ ہند اور بحرالکاہل میں بڑھتا ہوا سٹریٹجک مقابلہ(محمد عبداللہ حمید گل)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-abdullah-hameed-gull/2026-07-19/52326/48700118</link><pubDate>Sun, 19 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-abdullah-hameed-gull/2026-07-19/52326/48700118</guid><description>اکیسویں صدی میں عالمی سیاست کا مرکز بتدریج بحرِ اوقیانوس سے منتقل ہو کر بحرِ ہند اور بحرالکاہل کے وسیع خطے کی طرف آ چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج Indo-Pacificصرف ایک جغرافیائی اصطلاح نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کے درمیان سیاسی‘ عسکری‘ معاشی اور سفارتی مسابقت کا سب سے اہم میدان بن چکا ہے۔ دنیا کی بڑی طاقتیں اپنے اپنے قومی مفادات‘ تجارتی راستوں‘ توانائی کی ترسیل‘ بحری سلامتی اور علاقائی اثر و رسوخ کے تحفظ کیلئے اس خطے میں سرگرم ہیں۔ اسی تناظر میں امریکہ‘ چین‘ بھارت‘ جاپان اور آسٹریلیا کی پالیسیاں نہ صرف اس خطے بلکہ پوری عالمی سیاست کی سمت متعین کر رہی ہیں۔ہندبحرالکاہل کا خطہ افریقہ کے مشرقی ساحل سے لے کر مغربی بحرالکاہل تک پھیلا ہوا ہے۔ دنیا کی بڑی آبادی‘ اہم بحری گزرگاہیں اور عالمی تجارت کا بڑا حصہ اسی خطے سے وابستہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں طاقت کے توازن کی سیاست تیزی سے شدت اختیار کر رہی ہے۔ عالمی تجارت کا بیشتر حصہ انہی سمندری راستوں سے گزرتا ہے اس لیے ان پر کنٹرول حاصل کرنا بڑی طاقتوں کی اولین ترجیح بن چکا ہے ۔ امریکی تھنک ٹینک رابرٹ ڈی کپلان کے مطابق اگلی جنگیں خشکی کے بجائے سمندروں میں لڑی جائیں گی اور قرائن بھی یہی لگ رہے ہیں کہ تیسری جنگ عظیم کا جب بھی نقارہ بجا تو وہ خشکی پر کم گہرے پانیوں میں زیادہ ہوگی۔یونانی مورخ تھیوسیڈائڈیز (Thucydides) کے مطابق جب کوئی نئی طاقت ابھرتی ہے تو موجودہ غالب طاقت کیساتھ اسکا تصادم تقریباً ناگزیر ہو جاتا ہے۔ آج امریکہ اور چین کے تعلقات اسی نظریے کی عملی مثال سمجھے جا رہے ہیں۔ ایک طرف امریکہ اپنی عالمی برتری برقرار رکھنا چاہتا ہے جبکہ دوسری جانب چین معاشی‘ عسکری اور سفارتی میدانوں میں مسلسل اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے۔ بیجنگ کا معاشی ماڈل اور عالمی ترقیاتی منصوبے واشنگٹن کی روایتی عالمی قیادت کو چیلنج کر رہے ہیں۔حقیقت پسندانہ نظریہ بھی یہی ہے کہ عالمی نظام میں کوئی ایسی بالادست حکومت موجود نہیں جو تمام ریاستوں کی سلامتی کی ضمانت دے سکے‘ لہٰذا ہر ریاست اپنی بقا کیلئے اپنی عسکری اور معاشی طاقت میں اضافہ کرتی ہے۔ یہی سوچ Indo-Pacific میں بڑھتی ہوئی دفاعی تیاریوں‘ فوجی اتحادوں اور اسلحے کی دوڑ میں واضح نظر آتی ہے۔ امریکہ اس پورے خطے کو اپنی عالمی حکمتِ عملی کا بنیادی حصہ تصور کرتا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد بحری راستوں پر تسلط اور چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو روکنا ہے۔ اسی مقصد کیلئے واشنگٹن نے اپنے بحری بیڑے کا بڑا حصہ اس خطے میں تعینات کر رکھا ہے‘ متعدد فوجی اڈے قائم کیے ہیں اور مختلف دفاعی اتحادوں کو فعال بنایا ہے۔ کواڈ (QUAD)‘ آکس (AUKUS)‘ جاپان اور جنوبی کوریا کیساتھ دفاعی معاہدے‘ فلپائن کیساتھ سکیورٹی تعاون اور تائیوان سے متعلق امریکی پالیسی اسی توسیع پسندانہ عزائم کا حصہ ہیں۔دوسری جانب چین نے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو‘ میری ٹائم سلک روڈ‘ سٹرنگ آف پرلز اور بحیرہ جنوبی چین میں نہ صرف اپنی معاشی رسائی بڑھائی بلکہ بحری قوت میں بھی نمایاں اضافہ کیا ہے۔ درحقیقت چین کی پُرامن ترقی کوامریکہ اور اسکے اتحادی اپنے مفادات کیلئے ایک طویل مدتی تزویراتی چیلنج سمجھتے ہیں۔ یہی اختلاف خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی بنیادی وجہ بن رہا ہے۔بھارت بھی اس نئی جغرافیائی سیاست میں خود کو ہندبحرالکاہل کا ایک کلیدی کھلاڑی تصور کرتا ہے۔ بھارت بیک وقت امریکہ کیساتھ دفاعی تعاون بڑھا رہا ہے اور اس کا مقصد بھی چین کے بڑھتے ہوئے اثرات کو روکنا اور بحرِ ہند میں اپنی برتری بڑھا نا ہے۔جاپان‘ جو دوسری جنگِ عظیم کے بعد طویل عرصے تک امن پسند دفاعی پالیسی پر کاربند رہا‘ اب اپنی قومی سلامتی کے تقاضوں کے تحت زیادہ فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ چونکہ جاپان کی معیشت بڑی حد تک بحری تجارت پر انحصار کرتی ہے اس لیے وہ آزاد بحری راستوں کو اپنی معاشی بقا کیلئے ناگزیر سمجھتا ہے۔ اسی وجہ سے ٹوکیو نے امریکہ‘ آسٹریلیا اور بھارت کے ساتھ دفاعی تعاون میں اضافہ کیا ہے۔ آسٹریلیا بھی خطے میں طاقت کے نئے توازن کا اہم حصہ بن چکا ہے۔ اگرچہ چین اس کا بڑا تجارتی شراکت دار ہے لیکن سلامتی کے حوالے سے کینبرا نے امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات مزید مضبوط کیے ہیں۔ آکس معاہدہ اسی پالیسی کا مظہر ہے جس کے ذریعے آسٹریلیا اپنی دفاعی صلاحیتوں کو جدید بنا رہا ہے۔یہ تمام پیش رفت اس حقیقت کی نشاندہی کرتی ہے کہ ہندبحرالکاہل میں طاقت کی نئی صف بندی تیزی سے تشکیل پا رہی ہے۔ ایک طرف امریکہ اپنے اتحادیوں کے ذریعے چین کا توازن قائم کرنا چاہتا ہے جبکہ دوسری طرف چین روس‘ ایران‘ پاکستان اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ اپنے تعلقات مضبوط بنا رہا ہے۔ اس نئی صورتحال نے عالمی سیاست کو یک قطبی نظام سے کثیر قطبی نظام کی طرف دھکیل دیا ہے۔پاکستان کیلئے یہ بدلتا ہوا منظرنامہ غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان بحیرہ عرب کے شمالی حصے میں واقع ہونے کی وجہ سے اس خطے میں اہم جغرافیائی کردارکا حامل ہے۔ گوادر بندرگاہ‘ پاک چین اقتصادی راہداری (CPEC) اور بحیرہ عرب تک رسائی پاکستان کو ایسی سٹریٹجک اہمیت عطا کرتی ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا‘ اس کیلئے ضروری ہے کہ پاکستان صرف روایتی سلامتی کے زاویے سے نہیں بلکہ جغرافیائی معیشت کے تناظر میں بھی اپنی پالیسی مرتب کرے۔ بھارتی دانشوروں کے مطابق وہ وقت دور نہیں جب چین اپنی بحری قوت میں اضافہ کرکے بحیرہ جنوبی چین سے خلیج فارس تک اپنا اثرورسوخ قائم کرے گا اور وہ پاکستان کی مدد سے اس کا زمینی و سمندری راستے سے گھیرائو کر رہا ہے۔ بحر ہند سے بحیرہ جنوبی چین تک سمندری حدود مرکزی حیثیت اختیار کرتی جا رہی ہے جو خطۂ بحرالکاہل تک پھیل جائے گی۔ چین کیلئے گوادر کی بندر گاہ کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ چین صرف اس روٹ سے ہوتا ہوا نہر سویز کے راستے مغرب سے تجارت کر سکتا ہے اور یہ چین کیلئے سستا تجارتی روٹ ثابت ہوا ہے ۔ علاوہ ازیں بھارت اپنے مذموم ہتھکنڈوں کے ذریعے بحر ہند کے پانیوں پر حکمرانی کرنے کا خواب دیکھ رہا ہے۔چین کے مقابلے میں خود کو علاقائی طاقت سمجھنے کی وجہ سے بھارت بحر ہند میں امریکی پشت پناہی پر توسیع پسندانہ عزائم پر عمل پیرا ہے ‘ لہٰذاپاکستان کو ایک جامع بحرِ ہند پالیسی تشکیل دینی چاہیے جو قومی بحری پالیسی سے الگ ہو اور جس میں بحری تجارت‘ بندرگاہوں کی ترقی‘ بلیو اکانومی‘ علاقائی روابط‘ توانائی کی سلامتی اور سمندری سفارتکاری کو مرکزی حیثیت دی جائے۔ اسی کیساتھ چین‘ وسطی ایشیائی ریاستوں‘ روس‘ ایران اور ترکی کیساتھ تجارتی اور اقتصادی روابط کو وسعت دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔پاکستان کو امریکہ کیساتھ بھی متوازن تعلقات برقرار رکھنے چاہئیں۔ موجودہ عالمی ماحول میں کسی ایک طاقت پر مکمل انحصار پاکستان کے طویل المدتی مفادات کیلئے سودمند نہیں۔ متوازن خارجہ پالیسی ہی پاکستان کو بدلتے ہوئے عالمی نظام میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کر سکتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ مستقبل کی عالمی سیاست صرف عسکری طاقت سے نہیں بلکہ معاشی روابط‘ بحری تجارت‘ ٹیکنالوجی‘ توانائی اور سفارتکاری سے بھی متعین ہوگی۔ ہندبحرالکاہل میں جاری سٹریٹجک مقابلہ اسی وسیع تبدیلی کی علامت ہے۔ جو ریاستیں اس نئی حقیقت کو بروقت سمجھ کر اپنی پالیسیاں تشکیل دیں گی وہ مستقبل کے عالمی نظام میں زیادہ مضبوط حیثیت حاصل کریں گی۔پاکستان کیلئے بھی یہی وقت ہے کہ جغرافیائی سیاست کیساتھ ساتھ جغرافیائی معیشت کو اپنی قومی حکمتِ عملی کا بنیادی ستون بنائے‘ علاقائی روابط کو فروغ دے‘ بحری صلاحیتوں میں سرمایہ کاری کرے اور متوازن‘ حقیقت پسند اور دور اندیش خارجہ پالیسی اختیار کرے۔ اگر ایسا کیا گیا تو پاکستان نہ صرف ہندبحرالکاہل کی بدلتی ہوئی سیاست سے فائدہ اٹھا سکے گا بلکہ مستقبل کے کثیر قطبی عالمی نظام میں ایک مؤثر اور باوقار کردار بھی ادا کر سکے گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_62843609.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>