<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>انسانی ترقی کا بحران(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-25/11307</link><pubDate>Thu, 25 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-25/11307</guid><description>کسی بھی ریاست کی ترقی‘ استحکام اور خوشحالی کا دارو مدار اس کے مادی وسائل سے زیادہ اس کے انسانی وسائل پر ہوتا ہے۔ وہ قومیں جو اپنی نسلِ نو کے مستقبل‘ ان کی صحت و تعلیم کو اولین ترجیحات میں شامل کرتی ہیں‘ وہی دنیا میں اپنی قابلیت کا لوہا منواتی ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں تعلیم اور صحت جیسے بنیادی شعبے ہمیشہ سے بجٹ ترجیحات میں نچلے درجے پر ہوتے ہیں۔ صحت کے شعبے میں پاکستان کے بجٹ اور اخراجات کا موازنہ علاقائی ممالک سے کریں تو مایوس کن خاکہ ابھرتا ہے۔ عالمی بینک اور عالمی ادارۂ صحت کی حالیہ رپورٹس کے مطابق پاکستان اپنے شہریوں کی صحت پر فی کس سالانہ صرف 31ڈالر خرچ کر رہا ہے۔ یہ رقم نہ صرف ہمسایہ ملکوں ایران (450 ڈالر) اور بھارت (75 ڈالر) سے کہیں کم ہے بلکہ اس معاملے میں ہم شدید معاشی بحران کے شکار افغانستان سے بھی پیچھے رہ گئے ہیں جو اپنے شہریوں کی صحت پر فی کس 59 سے 80 ڈالر تک خرچ کر رہا ہے۔ پاکستان کا صحت کا بجٹ جی ڈی پی کے محض ایک فیصد کے لگ بھگ ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ متوسط اور نچلے طبقے کو اپنے علاج معالجے کے بیشتر اخراجات اپنی جیب سے ادا کرنا پڑتے ہیں اور بسا اوقات ایک سنگین بیماری کسی بھی متوسط خاندان کو خطِ غربت سے نیچے دھکیل دیتی ہے۔ اس محدود بجٹ کا بڑا اثر بچوں پر بھی پڑ رہا ہے۔ آج پاکستان میں سٹنٹنگ‘ شدید غذائی قلت اور نوزائیدہ بچوں میں اموات کی شرح خطے میں بلند ترین سطح پر ہے۔

اسی طرح 40فیصد سے زائد بچے غذائی قلت کے باعث اپنی عمر کے لحاظ سے قد اور ذہنی صلاحیتوں میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ اگر تعلیم کے شعبے کی بات کریں تو پاکستان تعلیمی بجٹ کے معاملے میں جنوبی ایشیا کے تمام ممالک سے پیچھے اور افغانستان کے قریب کھڑا ہے۔ پاکستان میں تعلیم پر فی کس سالانہ سرکاری خرچ محض 11ڈالر ہے‘ جبکہ اس کے مقابل ایران 160ڈالر‘ بھوٹان 115ڈالر‘ سری لنکا 65ڈالر اور بھارت 45 ڈالر فی کس سالانہ تعلیم پر خرچ کر رہا ہے۔ اس فہرست میں صرف افغانستان پاکستان سے پیچھے کھڑا نظر آتا ہے‘ جس کا فی کس خرچ پانچ سے سات ڈالر ہے‘ جبکہ اس کی تعلیمی استعداد اور قابلیت بھی ظاہر و باہر ہے۔ ایک بڑا مسئلہ مختص تعلیمی بجٹ میں سکولوں کی حالت سدھارنے‘ نئی لیبارٹریوں کے قیام اور اساتذہ کی جدید تربیت کے پروگراموں کیلئے فنڈز کا انتہائی قلیل ہونا ہے۔ بیشتر بجٹ جاری اخراجات میں صرف ہو جاتا ہے اور ترقیاتی کاموں کیلئے کچھ باقی نہیں بچتا۔ اس ناقص پالیسی کا ایک نتیجہ یہ ہے کہ آج پاکستان سکول سے باہر بچوں کی تعداد کے لحاظ سے دنیا بھر میں دوسرے نمبر پر ہے۔ ڈھائی کروڑ سے زائد بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ اربابِ اختیار کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سکول سے باہر بچے اور غذائی قلت کا شکار نسلِ نو‘ کل کو یہی اس ملک و قوم کا مستقبل بنے گی۔
انسانی ترقی کا اصول یہ کہتا ہے کہ اگر آپ نے بچوں پر ان کے بچپن میں سرمایہ کاری نہ کی‘ انہیں متوازن غذا‘ بہتر طبی سہولتیں اور معیاری تعلیم و ہنر سے آراستہ نہ کیا تو جیسے جیسے یہ بچے عمر کی سیڑھیاں طے کرتے جائیں گے‘ معاشرے کیلئے سنگین معاشی بوجھ بنتے چلے جائیں گے۔ ڈیڑھ‘ دو دہائیوں بعد جب یہ بچے عملی زندگی میں قدم رکھیں گے تو ان کے پاس نہ تو صحتمند جسم ہوگا اور نہ ہی کوئی تعلیم یا جدید ہنر‘ نتیجتاً یہ بیروزگاری‘ جرائم اور سماجی بے چینی کا سبب بنیں گے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ مستقبل کے منظرنامے کو سامنے رکھ کر انسانوں پر سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح بنایا جائے۔ جب تک تعلیم اور صحت کے بجٹ کو جی ڈی پی کے کم از کم چار سے پانچ فیصد تک نہیں لایا جاتا‘ تب تک ترقی کا خواب ادھورا رہے گا۔ ہمیں یہ فیصلہ آج کرنا ہوگا کہ ہم نے اپنے بچوں کو صحتمند‘ تعلیم یافتہ اور خودکفیل بنانا چاہتے ہیں یا پھر ایسا معاشی بوجھ جو آنے والے وقت میں ملک کی اساس کو ہلا کر رکھ دے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بچوں کے خلاف بڑھتے جرائم(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-25/11306</link><pubDate>Thu, 25 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-25/11306</guid><description>گزشتہ دو روز کے دوران سرگودھا‘ فیصل آباد‘ کراچی اور پشاور میں چار کم سن بچوں کو مبینہ طور پر جنسی زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا۔ بچوں کے خلاف بڑھتے جرائم انتہائی تشویشناک ہیں۔ بچوں کے تحفظ کیلئے کام کرنے والی ایک تنظیم کی رپورٹ کے مطابق 2025ء میں ملک بھر سے بچوں کے خلاف جرائم کے 3630 واقعات رپورٹ ہوئے۔ ان میں سے 2003 واقعات جنسی استحصال سے متعلق تھے جبکہ جنسی استحصال کے سب سے زیادہ‘ 77 فیصد واقعات پنجاب سے رپورٹ ہوئے۔ یہ اعداد و شمار حکام کیلئے چشم کشا ہونے چاہئیں‘ لیکن افسوس کہ صورتحال کی سنگینی کے باوجود بچوں کے تحفظ کیلئے وہ سنجیدگی دکھائی نہیں دیتی جس کی ضرورت ہے۔ اگرچہ بعض واقعات میں فوری گرفتاریاں عمل میں آتی ہیں لیکن محض گرفتاریوں سے مسئلہ حل نہیں ہوتا۔

بچوں کے خلاف جرائم کے مرتکب افراد کو سخت سزائیں دینا بھی ناگزیر ہے تاکہ ان درندہ صفت عناصر کی حوصلہ شکنی ہو سکے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قانون نافذ کرنیوالے ادارے بچوں کے تحفظ کیلئے مؤثر حکمت عملی اختیار کریں۔ چائلڈ پروٹیکشن نظام کو فعال بنایا جائے اور جنسی استحصال کے مقدمات کے فوری فیصلوں کیلئے خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں۔ والدین کو بھی چاہیے کہ بچوں کو ذاتی تحفظ سے متعلق بنیادی آگاہی دیں اور اپنے بچوں کے معاملات میں کسی پر اندھا اعتماد نہ کریں کیونکہ مذکورہ رپورٹ کے مطابق جنسی استحصال کے 1667‘ یعنی 80 فیصد سے زائد کیسوں میں ملزمان قریبی رشتہ دار تھے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>اسلام آباد میں آتشزدگی(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-25/11305</link><pubDate>Thu, 25 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-25/11305</guid><description>منگل کی شب وفاقی دارالحکومت کے سیکٹر ایچ نائن میں قائم اتوار بازار میں آتشزدگی سے 350سے زائد دکانیں جل گئیں۔ انتظامیہ کے مطابق آگ لگنے کی حتمی وجہ کا تعین نہیں ہو سکا اور اس حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔ اس بازار میں آتشزدگی کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران یہ بازار بار بار آگ کی لپیٹ میں آتا رہا ہے۔ اگست 2017 ء میں لگنے والی آگ سے تقریباً 550 دکانیں جل گئیں‘ جولائی 2018ء میں 110‘ اکتوبر 2019ء میں 300‘ دسمبر 2022ء میں 133 اور جولائی 2024ء میں تقریباً 700 دکانیں آگ کی نذر ہو گئیں۔ اب 2026ء میں ایک بار پھر سینکڑوں دکانوں کا جل جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ بازار میں فائر سیفٹی سے بچاؤ کے قواعد پر عملدرآمد نہیں ہو رہا۔

ضروری ہے کہ حالیہ واقعے کے بعد بازار کی تمام برقی تنصیبات کا جامع آڈٹ کرایا جائے اور غیر معیاری وائرنگ‘ جو شارٹ سرکٹ کا سبب بنتی ہے‘ فوری طور پر تبدیل کی جائے۔ ہر دکان پر آگ بجھانے کے آلات لازمی قرار دیے جائیں۔ انتظامیہ کو باقاعدہ فائر سیفٹی انسپکشن اور قواعد کی سختی سے پابندی یقینی بنانا ہوگی۔دکانداروں کو بھی چاہیے کہ احتیاطی تدابیر لازمی اپنائیں۔ بازار میں بار بار لگنے والی آگ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ ایک انتظامی اور حفاظتی مسئلہ ہے۔ اگر اب بھی سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تومستقبل میں پھر آتشزدگی ہو سکتی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سبز موتیا(محمد اظہارالحق)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-06-25/52183/24115934</link><pubDate>Thu, 25 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-06-25/52183/24115934</guid><description>قریبی احباب جانتے ہیں کہ صحت کے معاملات میں مَیں بے حد سنجیدہ ہوں۔یہ احتیاط اور آگاہی مجھے بچپن ہی سے لاحق تھی۔ بزرگ بتاتے ہیں کہ تین چار برس کی عمر میں میں نے ورزش شروع کر دی تھی۔ زمین کے اس خطے میں جہاں ہم رہ رہے ہیں‘ پہلا جِم اس فقیر ہی نے قائم کیا تھا۔ ٹریڈ مِل (Treadmill) بھی میں نے ایجاد کی تھی۔ اس ایجاد سے پہلے لوگ چُست رہنے کے لیے سیڑھیوں سے بار بار اترتے اور چڑھتے تھے۔ ٹریڈ مل کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ اسے ورزش کے لیے استعمال کریں یا نہ کریں‘ اس پر کپڑے لٹکا سکتے ہیں۔ یوں یہ مشین کثیر الاستعمال ثابت ہوئی۔ ورزش کی ایک نادر قسم‘ مزاح کے امام‘ جناب شفیق الرحمان نے بھی متعارف کرائی۔ ان کا ایک کردار ہے تلخ صاحب۔ یہ صاحب کچھ مارکسسٹ‘ انارکسٹ قسم کے ہیں۔ یہ ہر وقت ایک بے حد میٹھی گرم چیز پیتے ہیں جسے وہ چائے سمجھتے ہیں۔ نیم تاریک کمرے میں بیٹھتے ہیں۔ عینک کا نمبر بھی غلط ہے۔ یہ سب کچھ بدل دیا گیا۔ اور اگر میں بھول نہیں رہا تو ان کے پیچھے باقاعدگی سے کتا چھوڑا جاتا جس سے بچنے کے لیے انہیں بھاگنا پڑتا۔ یوں وہ چست وچوبند ہو گئے۔میں اپنی بات کر رہا تھا۔ خوراک کا بھی بہت خیال رکھا۔ گھاس پھونس زیادہ کھائی۔ ڈاکٹروں طبیبوں نے لمبی چوڑی فہرستیں دیں کہ یہ چیزیں نہیں کھانی۔ غم اور دھوکا زیادہ سے زیادہ کھانے کی تلقین کی گئی۔ آنکھوں کی ورزش باقاعدگی سے کرتا رہا۔ پھر اچانک سب کچھ بدل گیا۔ میری بینائی میں عجیب وغریب تبدیلیاں رونما ہو نے لگیں۔ میں آئینہ دیکھتا تو اپنے آپ کو ملک کی ایلیٹ کلاس میں کھڑا پاتا۔ مگر ساتھ ہی یہ ایلیٹ کلاس قلاش اور مفلس نظر آتی۔ سرکاری ملازم‘ خاص طور پر نچلے درجے کے‘ کروڑ پتی دکھائی دیتے۔ منتخب اداروں میں بیٹھے گردن بلند حضرات غریب لگتے۔ یہ تو محض چند علامات تھیں۔ مرض بہت پیچیدہ تھا۔ پہلے طبیب کے پاس گیا۔ مگر اس کی دقیانوسی ادویات سے کچھ افاقہ نہ ہوا۔ پھر گھر والے ایک جدید ماہر امراض چشم کے پاس لے گئے۔اس نے ماڈرن آلات کے ساتھ بھرپور معائنہ کیا۔ پھر مجھے بٹھایا اور کافی دیر کچھ سوچتا رہا۔ پھر اس نے بتایا کہ مجھے ایک عجیب وغریب مرض لاحق ہو گیا ہے۔ یہ مرض تیسری دنیا کے ملکوں میں پایا جاتا ہے خاص طور پر اُن ملکوں میں جہاں اولیگارکی کا راج ہو‘ یعنی امرا کے ایک مختصر سے طبقے کی حکومت! جو فیصلہ سازی میں عوام کو شامل نہیں ہونے دیتی۔ اس مرض کی دو خاص علامتیں ہیں۔ ایک تو امیر غریب اور غریب امیر نظر آتے ہیں‘ دوسرے اگر کوئی تحریر سامنے رکھی جائے تو اس کے کچھ حصے دکھائی دیتے ہیں اور کچھ نہیں دکھائی دیتے۔ میں نے ڈاکٹر سے پوچھا کہ اس بیماری کا نام کیا ہے؟ اس نے بتایا کہ آنکھوں میں جو موتیا اتر آتا ہے اس کی دو قسمیں ہیں۔ ایک کو سفید موتیا کہتے ہیں۔ دوسرے کو کالا موتیا! میری آنکھوں میں ایک اور ہی قسم کا موتیا اتر آیا تھا۔ یہ ایک تیسری قسم تھی۔ سفید موتیا آنکھوں میں تو نہ تھا مگر اس مرض نے میرے خون کو سفید ضرور کر دیا تھا۔ اسی طرح کالا موتیا آنکھوں میں تو نہ تھا مگر میرا دل ضرور کالا ہو گیا تھا۔ اس نئی قسم کے موتیا کا نام ہرا موتیا تھا‘ یعنی سبز موتیا۔اب میں ہرے موتیا کا پکا پکا مریض تھا۔ مجھے ریڑھیوں والے‘ موٹر سائیکلوں والے‘ خاکروب‘ نائب قاصد‘ ڈرائیور‘ گریڈ ایک سے گریڈ اٹھارہ انیس تک کے سرکاری ملازم‘ سڑکوں‘ پُلوں اور عمارتوں کی تعمیر میں حصہ لینے والے راج اور مزدور‘ بسوں سے لٹکنے والے مسافر‘ سبزی منڈی میں ٹوکرا بردار محنت کش غرض عام عوام خوشحال دکھائی دیتے۔ اس کے برعکس اسمبلیوں اور کابینہ کے ارکان‘ ٹاپ بیورو کریسی‘ وڈیرے‘ صنعتکار‘ بزنس ٹائیکون‘ چینی مافیا اور دیگر مافیاز کے ارکان‘ سیاسی پارٹیوں کے اجارہ دار‘ ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے مالکان‘ غرض بالائی طبقات کے معززین ہمدردی اور مالی امداد کے مستحق دکھائی دیتے۔ اب میں چونکہ ایلیٹ کلب میں شامل ہو گیا تھا‘ مجھے منتخب اداروں میں بھی رکنیت دی گئی۔ منتخب اداروں میں تشریف فرما ارکان مجھے بھوکے ننگے دکھائی دیے۔ یہ چیتھڑوں میں ملبوس تھے۔ میرا ہرے موتیا کا عارضہ یہاں عروج پر تھا۔ کروڑوں کی لگژری گاڑیاں آٹھ سو سی سی کی کاریں دکھائی دیں۔ جیسا کہ اوپر عرض کیا ہے‘ ہرے موتیا کی وجہ سے مجھے سرکاری کاغذات کے کچھ حصے نظر نہیں آتے تھے۔ چنانچہ جب عوام نے شور مچانا شروع کیا کہ بجلی پیدا کرنے والے نجی ادارے بجلی نہ پیدا کر نے کے باوجود بھی اربوں روپے حکومت سے لے رہے ہیں تو مجھے تعجب ہوا۔ عوام کہہ رہے تھے معاہدے غلط ہوئے ہیں۔ پیداوار پر نہیں بلکہ کپیسٹی کی بنیاد پر ادائیگیاں ہو رہی ہیں۔ حالانکہ میرے پاس جب ان معاہدوں کے ڈرافٹ آئے تھے تو واللہ! یہ عوام دشمن شقیں مجھے نظر ہی نہ آئیں۔ ہو سکتا ہے باقی حضرات بھی نابینا ہوں ورنہ اتنی ظالمانہ شقیں کیسے پاس کی جا سکتی تھیں۔ شاید ہرے موتیا کی وبا پھیل رہی ہے۔ جب مراعات یافتہ طبقات کے الاؤنس بڑھائے جاتے ہیں تو مجھے تو یہ بڑھاوا کبھی نہیں نظر آیا۔ یوں بھی غریب عوامی نمائندوں کو تنخواہیں‘ سیشن اٹینڈ کرنے کے معاوضے‘ قائمہ کمیٹیوں میں آنے کے معاوضے‘ بہترین علاج کے لیے سرکاری رقوم اور دیگر مراعات ملتی ہیں تو بظاہر اس میں کوئی حرج نہیں۔ رہا عام سرکاری ملازموں کی تنخواہوں اور پنشنوں میں صرف سات فیصد اضافے کا مسئلہ‘ تو بجٹ میں یہ چیز مجھے دکھائی ہی نہیں دی!یہ جو شورو غوغا آج کل برپا ہے کہ موبائل ٹیلیفونوں کی کمپنیوں کو کھلی چھٹی دی جانے لگی ہے کہ جہاں چاہیں‘ کھمبے لگا لیں۔ کسی نے مزاحمت کی تو کروڑوں کے جرمانے ہوں گے تو جب یہ بل میرے پاس آیا تھا تو یہ ناروا شق مجھے تو نظر ہی نہیں آئی تھی۔ لیکن ایک بات پر مجھے تعجب ہے۔ میں تو ہرے موتیا جیسی خطرناک بیماری میں مبتلا ہوں۔ مگر ایوانوں کے دیگر ارکان اور کابینہ میں تشریف فرما لائق حضرات نے یہ شقیں کیوں نہ دیکھیں؟ میں تو ہر وقت دست بدعا ہوں کہ یہ بیماری جو مجھے لاحق ہے‘ دیگر معززین کو نہ لگے! معلوم نہیں یہ شقیں انہیں کیوں نہ دکھائی دیں!!سبز موتیا کے کچھ فوائد بھی تو ہیں۔ مغربی ممالک اس مرض سے محفوظ ہیں مگر دوسری طرف یہ بھی دیکھیے کہ برطانیہ کے وزیراعظم نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ نیا وزیر اعظم دس سال میں ساتواں وزیراعظم ہو گا۔ یہ جو ہمارے ہاں تین تین‘ چار چار بار ایک ہی شخص وزیراعظم یا صدر بنتا ہے تو یہ سب سبز موتیا کی برکت ہے۔ چار چار دہائیوں سے نام نہاد سیاسی جماعتوں پر ایک ایک خاندان کی اجارہ داری چلی آ رہی ہے۔ یہ مزے مغربی ملکوں کے سیاست دانوں کو کہاں نصیب!! آپ زیادتی کی انتہا ملاحظہ کیجیے کہ وزیراعظم برطانیہ اپنی پارٹی ہی کی حمایت سے محروم ہو گیا ہے۔ سبز موتیا کی برکت ہے کہ یہاں پارٹی کا کوئی رکن لیڈر کی حمایت نہ کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ اور ہاں! یہ تو بتانا میں بھول ہی گیا کہ ماہر امراض چشم نے مجھے دوائیاں کون کون سی دیں۔ اس نے قطرے دن میں تین بار ڈالنے کے لیے کہا۔ یہ قطرے طوطا چشمی اور بے وفائی کے ہیں۔ صبح اٹھتے ہی آنکھیں گرم پانی سے دھونی ہیں۔ اس پانی میں چاپلوسی کا سفوف ملانا ہو گا۔ ڈاکٹر نے نئی عینک بنوانے کا مشورہ بھی دیا ہے۔ نئی عینک میں بے ضمیری اور ڈھٹائی کے شیشے لگائے جائیں گے۔ پرہیز کا پوچھا تو بتایا کہ غیرت سے مکمل پرہیز کرنا ہو گا۔ تاریخ کے مطالعہ سے بھی بچنا ہو گا۔ طاقت کے لیے جہالت کے کیپسول زندگی بھر لینے ہوں گے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_57182973.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>چچا ٹرمپ کا کچھ پتا نہیں(خالد مسعود خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-06-25/52184/78656796</link><pubDate>Thu, 25 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-06-25/52184/78656796</guid><description>پہلی جنگ عظیم کے بعد فاتح ممالک نے لیگ آف نیشنز کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا جس کا مقصد ما بعد از جنگ کمزور ممالک کو جنگ سے ماورا حربوں کی مدد سے اپنے پنجۂ استبداد تلے رکھنا تھا تاہم یہ لیگ آف نیشنز ناکام ہو گئی۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد ایک بار پھر امن کے نام پر وہی پرانا چورن نئے نام اور آب و تاب کے ساتھ بیچنے کا خیال آیا توطاقتور ممالک یعنی دوسری جنگ عظیم کے فاتح ممالک نے یونائیٹڈ نیشنز (اقوام متحدہ) کے نام سے 24 اکتوبر 1945ء کو اس کی بنیاد رکھی۔ کیونکہ نوآبادیاتی دور پچھلی صدی کے وسط میں آخری سانسیں لے رہا تھا‘ بہت سے ممالک میں آزادی کی آوازیں یا تحریکیں اُٹھ رہی تھیں۔ دوسری جنگ عظیم میں روس‘ امریکہ‘ برطانیہ اور فرانس اتحادی کی حیثیت سے فاتح کے طور پہ ابھرے تھے‘ انہوں نے مستقبل میں جنگ لڑے بغیر اپنے استعماری معاملات کو چلانے کیلئے اقوام متحدہ کے نام سے ایک فورم بنا لیا۔ ان کو اسی وقت یہ اندازہ تھا کہ کل کلاں اس فورم میں شامل ممالک ہماری استحصالی پالیسیوں کو دیکھتے ہوئے اگر عددی بنیادوں پر فیصلہ کرنے پر آ گئے تو پھر ہم کہاں جائیں گے؟ اس مسئلے کے حل کیلئے ویٹو کا پخ درمیان میں ڈالتے ہوئے امریکہ‘ روس‘ برطانیہ اور فرانس نے کسی بھی ناپسندیدہ قرارداد کو ویٹو کرنے کا اختیار خود کو سونپ دیا تاکہ کسی بھی ایسے مسئلے پر جہاں ان کے مفادات کو زک پہنچانے پر مبنی کوئی قرارداد آتی ہے تو وہ ویٹو کے ذریعے اس کا شروع ہی سے دھڑن تختہ کر دیں۔ دنیا میں تمام وہ مسائل جن کی جڑیں یا شروعات ان طاقتور ممالک سے جڑی ہوتی ہیں ان کے خلاف کبھی کوئی قرارداد اسی لیے پاس نہیں ہو سکی کہ وہ اس کو ویٹو کر دیتے ہیں۔ اسی طرح اس فورم یعنی اقوام متحدہ کے نیچے جو دیگر ادارے بنائے گئے ان میں بھی تقریباً اسی قسم کا ماحول رکھا گیا کہ وہ ان بڑے ممالک کے مفادات‘ خیالات اور کارروائیوں کو قانونی تحفظ فراہم کرتے رہیں۔ ہمارے ایک دوست کا کہنا ہے کہ یہ سارے ادارے بنیادی طور پر ایک استحصالی ضابطے کے زیر انتظام اقوام عالم کو کنٹرول کرنے اور ان کو اپنے پنجۂ استبداد میں رکھنے کیلئے ہی بنائے گئے تھے۔ مثال کے طور پر جنوبی افریقہ نے عالمی عدالت انصاف میں اسرائیل کے خلاف غزہ میں قتلِ عام اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر کیس دائر کیا۔ عالمی عدالت انصاف نے اس سلسلے میں اسرائیلی وحشیانہ کارروائیوں کو روکنے کا عبوری حکم جاری کیا مگر اسرائیل نے اسے رتی برابر اہمیت نہ دی اور اپنی کارروائیاں جاری رکھیں۔ اسی طرح عالمی فوجداری عدالت (International Criminal Court) نے اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو اور سابقہ وزیر دفاع یوآوگیلنٹ کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کرتے ہوئے جو حکم نامہ جاری کیا اس کو نہ صرف یہ کہ امریکہ اور اسرائیل نے جوتے کے نوک پر رکھا بلکہ امریکہ نے تو فروری 2025ء میں اس فیصلہ دینے والی عالمی فوجداری عدالت کی دو خواتین ججوں Reine Alapini-Gansou اور Beti Hohler اور پراسیکیوٹر کریم خان پر پابندیاں لگا دیں‘ یعنی بجائے ان کی سزا پر عمل درآمد کرنے کے الٹا انہیں سزا سنا دی گئی۔ اسی طرح امریکہ نے جون 2024ء میں آئی سی سی کی جانب سے افغانستان میں امریکی فوج اور انٹیلی جنس اہلکاروں کے مبینہ جنگی جرائم کی تحقیقات کی اجازت دینے کے جرم میں عالمی فوجداری عدالت کی مزید دو خواتین ججوں Solomy Balungi Bossaاور Luz del Carmen Ibáñez Carranza پر بھی امریکی پابندیاں‘ جو حقیقت میں عالمی پابندیاں ہیں‘ عائد کر دیں۔ہوا یہ کہ جب عالمی عدالتوں سے اس قسم کے فیصلے جو عملی طور پر صفر جمع صفر سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے تاہم بڑی طاقتوں کی اَنا پر ضرب لگاتے ہیں‘ آنا شروع ہوئے تو بڑی طاقتوں کو احساس ہوا کہ یہ معاملہ تو الٹ ہو گیا ہے‘ ہم نے تو اپنے مخالفوں کو رگڑا لگانے‘ اپنے خلاف آواز اٹھانے والوں کو سبق سکھانے‘ اپنے فیصلوں پر چون و چرا کرنے والوں کی گُدی ناپنے‘ ان کا دوسرے طریقوں اور قانونی ذرائع سے استحصال کرنے کیلئے یہ ادارے بنائے تھے جو اَب ہمارے ہی خلاف فیصلے دینے لگ گئے ہیں یعنی ہماری بلی ہم کو میاؤں۔ جب تک دنیا میں طاقت کے مراکز کسی حد تک تقسیم تھے معاملات بھی کسی حد تک قابلِ قبول تھے مگر جیسے ہی طاقت کا سارا وزن امریکہ بہادر کے پلڑے میں پڑا معاملات خرابی کی آخری نہج پر پہنچ گئے ہیں۔ عالمی چودھری اور داداگیرکیلئے یہ سب کچھ ناقابلِ قبول تھا۔ جب تک یہ قوانین اور پابندیاں کمزور ممالک پرلگتی رہیں تب تک تو سارا معاملہ ٹھیک تھا مگر جب ان کا رخ امریکہ کی جانب مڑا تو اسے احساس ہوا کہ یہ ہم نے کیا کر دیا؟اب بھلے قرارداد پاس نہ بھی ہو اور ویٹو ہو جائے لیکن اس پر شور و غل اور ہاہاکار تو مچتی ہے۔ اس پلیٹ فارم پر کچھ آوازیں بھی اٹھتی ہیں۔ اسرائیل کے خلاف عالمی فوجداری عدالت میں ساؤتھ افریقہ کیس لے کر گیا تھا۔ پہلے دو چار بڑی طاقتیں اقوام متحدہ کو اپنے مقصد کیلئے استعمال کرتی تھیں لیکن کچھ عرصے سے یہ ہوا کہ اقوام متحدہ پس پشت چلا گیا ہے اور امریکہ فرنٹ لائن پر آ گیا ہے۔ اب اقوام متحدہ کی پابندیاں تو عملی طور پر کوئی حیثیت نہیں رکھتیں‘ اصل پابندیاں امریکی پابندیاں ہیں مثلا ًامریکہ نے پابندی لگا دی کہ ہم ایران کے ساتھ کام نہیں کر سکتے۔ گیس پائپ لائن منصوبے کی تاخیر کے باعث اربوں ڈالر کا جرمانہ ہمارے سر پر لٹک رہا ہے لیکن ہم یہ معاہدہ شدہ پائپ لائن نہیں بچھا سکتے کیونکہ امریکی پابندیاں ہیں۔ ایران پر یہ اقوام متحدہ کی نہیں امریکی پابندیاں ہیں۔ اب امریکی پابندیاں ہی دراصل عالمی پابندیاں ہیں۔جب امریکہ نے یہ دیکھا کہ وہ اتنا طاقتور ہے کہ اقوام متحدہ کا سہارا لیے بغیر ہی اپنا ہر حکم منوا سکتا ہے‘ اپنی جگا گیری چلا سکتا ہے‘ اپنا رعب داب مسلط کر سکتا ہے تو اس کیلئے اقوام متحدہ اب بوجھ سا بن گیا ہے۔ امریکہ جو کبھی اقوام متحدہ کا سب سے بڑا ڈونر تھا‘ نے اب اپنے حصے کی رقم کٹ لگا کر کافی کم کر دی ہے۔ بہت سے ناپسندیدہ ممالک کے سربراہان‘ نمائندوں اور مندوبین پر امریکی ویزوں کی پابندیاں لگانا شروع کر دی ہیں۔ اس صورتحال کے باعث یہ بھی زیربحث ہے کہ اقوام متحدہ کے صدر دفتر کو نیو یارک یعنی امریکہ سے کہیں اور منتقل کر دیا جائے۔ اقوام متحدہ کے اخراجات کا دوسرا بڑا سپانسر چین ہے جو اس کی فنڈنگ کرتا ہے۔ چین کو کئی بار یہ پیغام مختلف ذرائع سے بھیجا گیا کہ اگر وہ راضی ہو تو اقوام متحدہ کے دفتر کو امریکہ سے چین منتقل کرنے کی بات چلائی جا سکتی ہے لیکن چین اس سلسلے میں بالکل بھی اپنا ہاتھ نہیں پکڑا رہا۔ اس کے بارے میں کچھ معاملات ہیں کہ چین بھی نہیں چاہتا کہ اقوام متحدہ جو ایک اوپن عالمی فورم ہے‘ میں لوگوں کے آنے جانے کے سبب وہ عالمی سطح پر نمایاں ہو اور چین کے معاملات ظاہر ہوں۔ جیسی جمہوریت مغرب چاہتا ہے ویسی جمہوریت چین میں نہیں ہے تو ان معاملات کو چین بھی دنیا کے سامنے نہیں لانا چاہتا۔ چین کے اپنے مسائل ہیں اس لیے چین بھی اس پہ راضی نہیں ہے تو صورتحال یہ ہے کہ اقوام متحدہ کا جو صدر دفتر ہے وہ بہت سوں کے نہ چاہتے ہوئے بھی نیو یارک مین ہیٹن میں موجود ہے۔ دیکھنے کی حد تک اقوام متحدہ کا دفتر اپنی تمام تر شان و شوکت اور ناموری کے ساتھ ایسٹ ریور کے کنارے ایستادہ ہے لیکن عملی طور پر طاقت کا مرکز واشنگٹن میں اس عمارت سے کہیں چھوٹی عمارت وائٹ ہاؤس میں منتقل ہو چکا ہے۔ ایران پر سے وقتی طور پر ہی سہی مگر فی الحال امریکی پابندیاں کافی حد تک اٹھا لی گئی ہیں۔ اس وقفے کو غنیمت جانتے ہوئے پاکستان کو فوری طور پر اپنے حصے کی گیس پائپ لائن کی تعمیر شروع کر دینی چاہیے۔ کیا خبر چچا ٹرمپ پھر کس وقت یو ٹرن لے لیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90500073.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>فلسطینیوں کا وارث کون؟(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-06-25/52185/52133201</link><pubDate>Thu, 25 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-06-25/52185/52133201</guid><description>کیا کسی کو یاد ہے کہ ایران امریکہ جنگ کا سبب ایران اسرائیل لڑائی تھی اور اس کی وجہ مسئلہ فلسطین بتائی گئی تھی؟امریکہ اور ایران کے مابین امن کا معاہدہ ہو گیا۔ الحمدللہ! دنیا تیسری عالمی جنگ کی دہلیز پر کھڑی تھی۔ پاکستان کی قیادت نے تاریخ ساز کردار ادا کیا اور جنگ وہیں سے الٹے پاؤں لوٹ گئی۔ ثم الحمدللہ! سب کہہ رہے ہیں کہ اس معرکے میں ایران فاتح رہا۔ امریکہ کے سیاسی زوال کا عمل تیز تر ہو گیا۔ آج کہیں فتح کے شادیانے بج رہے ہیں اور کہیں کامیاب ثالثی کے قصیدے پڑھے جا رہے ہیں۔ سب کا جواز موجود ہے اور اس پر کسی کو معترض نہیں ہونا چاہیے۔ سوال مگر یہ ہے کہ فلسطین کا عَلم کس کے پاس ہے؟ اگر اس جنگ کا سبب مسئلہ فلسطین تھا تو ایران امریکہ معاہدے میں اس کا ذکر کیوں نہیں؟ کیا یہ مسئلہ حل ہو گیا؟یہ کل کی خبر ہے کہ سترہ برس کی فلسطینی بچی گھر سے امتحان دینے کیلئے نکلی اور اسرائیلی حملے کا نشانہ بن گئی۔ ایک راہگیر بھی جان سے گیا۔ چار زخمی ہو گئے۔ غزہ آج بھی مقتل ہے۔ جہاں فتح کے شادیانے بج رہے ہیں‘ قصیدے پڑھے جا رہے ہیں‘ وہاں اس بچی کے قتل کی خبر نہیں پہنچ سکی۔ طرب انگیز فضا میں کہیں دب گئی۔ اہلِ فلسطین آج بھی اتنے ہی بے بس اور لاچار ہیں جتنے اس جنگ سے پہلے تھے بلکہ اس سے بھی بدتر۔ ان کا مقدمہ کوئی نہیں لڑ رہا۔ وہ کسی مذاکراتی ایجنڈے کا حصہ نہیں۔ عقل و انصاف تو یہی کہتے ہیں کہ اگر جنگ فلسطین کیلئے تھی تو امن معاہدے میں اس کے حل کی بات ہونی چاہیے تھی۔ اسرائیل سے فلسطینیوں کے جان و مال کی ضمانت لی جانی چاہیے تھی۔ اسرائیل اس جنگ کا حصہ تھا۔ اب تو سابق اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینٹ نے بھی بتا دیا ہے کہ ایران میں سٹارلنک کے انٹر نیٹ آلات سمگل کیے گئے تھے تاکہ حکومت مخالف گروہوں کو متحد کیا جا سکے۔ اس کے باوصف اسرائیلی جرائم کا کوئی ذکر نہیں۔یہ جرائم اب سنگین تر ہو گئے ہیں۔ فلسطینیوں کی نسل کشی کا الزام بھی اب ثابت ہو گیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن نے اپنی رپورٹ میں‘ جو 23جون کو جاری ہوئی‘ شواہد کی بنیاد پر یہ کہا ہے کہ اسرائیل فلسطینیوں کی نئی نسل کو دانستہ نشانہ بنا رہا ہے تاکہ اس قوم کا مستقبل مخدوش ہو جائے۔ یہ اس نوعیت کی پہلی رپورٹ نہیں ہے۔ یہ 2023ء سے اٹھنے والی نئی لہر کا تجزیہ  ہے جس میں ظلم کی نئی داستانیں لکھی گئیں۔ گویا ظلم ختم ہوا نہ ظالم۔ ایران میں 168 بچیاں شہید کر دی گئیں۔ ان کے وارث مگر موجود تھے۔ وہ خون بہا کیلئے کھڑے ہو گئے۔ عالمی قوت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔ فلسطینیوں کا آج وارث کوئی نہیں۔ ان کے خون بہا کا مقدمہ لے کر کوئی کھڑا نہیں ہوا۔ یہ خونِ خاک نشیناں تھا جو رزقِ خاک ہوا۔ بے حسی اور بے حکمتی کی انوکھی داستانِ جدید فلسطین کی سرزمین پر لکھی جا رہی ہے۔ افسوس اس قوم پر جس کی قیادت اور دوستوں نے اس کیلئے صرف مقتل آباد کیے۔عرب ممالک کی عدم دلچسپی حسبِ سابق برقرار ہے۔ جنگ کے بعد معلوم یہی ہوتا ہے کہ سب اپنے اپنے دفاع اور مستقبل کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ قطر خود کو محفوظ بنانے کیلئے سب سے زیادہ سرگرم ہے۔ اس نے ایران کی رقم لوٹانے میں سبقت کی۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو خلیجی ممالک کو اعتماد میں لینے کیلئے ابو ظہبی پہنچ چکے۔ مجھے یقین ہے کہ کہیں فلسطینیوں کا ذکر نہیں ہو گا۔ شاید صدر ٹرمپ کے خواب کی تعبیر کا وقت آ پہنچا۔ یہ خواب کیا ہے؟ ایک جدید غزہ کی تعمیر جو بیروت اور دبئی کا متبادل ہو۔ جو سیاحت کا عالمی مرکز ہو۔ جہاں ثقافتی رنگ بکھریں۔ یہاں کے مستقل مکینوں کو کہیں اور آباد کیا جائے۔ اس منصوبے کا انکشاف اسرائیل میں امریکی سفیر بہت پہلے کر چکے۔ اب تو دو ریاستی حل بھی کسی کے پیشِ نظر دکھائی نہیں دیتا۔ایران امریکہ جنگ کا سب سے بڑا نقصان مسئلہ فلسطین کو پہنچا۔ یہ پس منظر میں چلا گیا۔ یہ ممکن ہے کہ مزید کچھ عرصہ یہ عالمی منظر نامے پر دکھائی نہ دے۔ تاہم اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ ظلم کی وہ داستان جو گزشتہ دو‘ اڑھائی برسوں میں یہاں کی سرزمین اور انسانی جسموں پر لکھی گئی‘ وہ آسانی سے فراموش کر دی جائے گی۔ مظلومیت کا اثر ظلم سے کہیں دیرپا ہے۔ اس نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ دیا ہے۔ اس کے نتائج نکل رہے ہیں۔ امریکہ سمیت ساری دنیا میں فلسطینیوں کی حمایت میں اضافہ ہوا ہے۔ اسرائیل ایک قابلِ مذمت کردار کے طور پر سامنے آیا ہے۔ ہولو کاسٹ سے صہیونیوں نے جو فائدہ اٹھانا تھا وہ اٹھایا جا چکا۔ اس سے امریکی سیاست میں تبدیلی آئے گی۔ ٹرمپ کے بعد کوئی صدر شاید اسرائیل کی اس طرح پشت پناہی نہ کر سکے۔ یوں بھی امریکیوں کو اب اندازہ ہو گیا ہے کہ اسرائیل ان کیلئے اثاثے سے زیادہ ایک بوجھ ثابت ہوا ہے۔ وہ اب اسے اتار پھینکنا چاہیں گے۔ اگر اگلے صدارتی انتخاب سے پہلے فلسطین دوست حلقے فلسطین کے حق میں ایک مہم منظم کر سکیں تو کوئی امیدوار کھل کر اسرائیل کی حمایت کا عَلم نہ اٹھا سکے گا۔ اس لیے امکان موجود ہے کہ صدر ٹرمپ کا خواب بآسانی شرمندۂ تعبیر نہ ہو سکے۔ اگر حکمت کے ساتھ یہ مہم چلائی جائے تو اسرائیلی حمایت کو قومی بحث کا مرکز بنایا جا سکتا ہے۔ اس سوال کو موضوع بنایا جا سکتا ہے کہ ا مریکہ کو اس حمایت کے نتیجے میں کیا ملا؟ ماضی کے فوائد تو ثابت ہیں کہ کس طرح اسرائیل کا ہوّا کھڑا کر کے عربوں کے وسائل پر قبضہ کیا گیا۔ وہ کنویں مگر اب خشک ہو رہے ہیں۔ آج اسرائیل ایک بوجھ کے سوا کچھ نہیں۔ اگر عرب ڈٹ جائیں اور وہاں امریکی اڈے ختم ہو جائیں تو امریکی سیاست کا رُخ بدل سکتا ہے۔اس جنگ سے ثابت ہوا کہ فلسطینیوں کا وارث کوئی نہیں۔ انہیں اپنی جنگ خود لڑنی ہے۔ یہ کسی دوسرے پر تکیہ کیے بغیر لڑی جائے گی۔ یہ جنگ سیاسی بنیادوں پر لڑی جائے گی۔ یہ امریکی رائے عامہ میں لڑی جائے گی۔ فلسطینیوں کو ایک سیاسی محاذ پر جمع کرنے سے لڑی جائے گی۔ غزہ میں امن کا جھنڈا لہرا کر لڑی جائے گی۔ اس حکمتِ عملی سے نجات حاصل کر کے لڑی  جائے گی جس نے فلسطینیوں کو لاشوں اور ہجرت کے سوا کچھ نہیں دیا۔ یہ مسلم ملکوں کی قیادت میں خوفِ خدا پیدا کر کے لڑی جائے گی۔ یہ حقیقت پسند ہو کر لڑی جائے گی۔ یہ جنگ نئی قیادت پیدا کر کے لڑی جائے گی۔ کیا اس کا کوئی امکان ہے؟ امکان غیب کے پردے میں چھپے ہوتے ہیں۔ یہ واقعات ہیں جو ان کے چہرے سے پردہ اٹھا دیتے ہیں۔ کیا معلوم یہ جنگ فلسطینیوں کو اس خیال کی طرف راغب کرنے کا باعث بن جائے۔ مسلم ممالک کی قیادتوں کو بھی سیاسی جد وجہد کی حمایت میں کھڑا کیا جا سکتا ہے۔ اس خاکستر میں اتنی چنگاری موجود ہے جو اس مسئلے کو زندہ رکھ سکتی ہے۔ فلسطینیوں کو یہ بات جان لینی چاہیے کہ اگر وہ جنگ سے مسئلہ حل کرنا چاہیں گے تو انہیں کسی مسلم ملک کی حمایت میسر نہیں ہو گی۔آج امن کے نوبیل انعام کا حقدار وہی ہو گا جو مسئلہ فلسطین کے حل کیلئے صدر ٹرمپ کو شیشے میں اتار سکے۔ ایسے رجلِ عظیم کو فوراً تلاش کرنا ہو گا۔ ہمارے پاس اگلے صدارتی انتخابات تک کا وقت ہے۔ ایران خوش نصیب ہے کہ اسے پاکستان جیسا دوست مل گیا۔ فلسطینیوں کو بھی ایسے ہی دوست کی ضرورت ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>اسلام آباد میں اُڑتی خبریں(کنور دلشاد)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/kunwar-mohammad-dilshad/2026-06-25/52186/35152780</link><pubDate>Thu, 25 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/kunwar-mohammad-dilshad/2026-06-25/52186/35152780</guid><description>پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور امن کے لیے &#39;&#39;اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘‘ طے کرانے میں ثالثی کا اہم کردار ادا کیا۔ اس تاریخی پیش رفت نے خطے میں پاکستان کا سفارتی قد بڑھایا ہے اور ملک کے لیے کئی معاشی اور سٹرٹیجک فوائد کی راہ کھول دی ہے۔ پاکستان نے امریکہ اور ایران کے مابین مذاکرات کی جو میزبانی کی ہے اس سے پاکستان کی عالمی سطح پر یہ پہچان بنی ہے کہ وہ خطے میں امن قائم کرنے اور بڑے ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ پاکستان کی کامیاب ثالثی کا اعتراف کرتے ہوئے برگن سٹاک میں امریکہ اور ایران کے مابین پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے  مذاکرات کے موقع پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ فیلڈ مارشل بہترین سپہ سالار ہیں اور اگر ان کی حکمت عملی نہ ہوتی تو ہم یہاں نہ ہوتے‘ وہ ایک زبردست سفارت کار کے طور پر ایک نئے مستقبل کی جانب دیکھ رہے ہیں۔ امریکی نائب صدر کے ان ریمارکس کے پاکستان کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہونے کی توقع کی جا رہی ہے اور اکتوبر تک اہم تبدیلیوں کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔آج کل اسلام آباد میں مختلف حلقوں میں یہ افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ آنے والے چند روز میں وفاقی کابینہ میں بڑے پیمانے پر ردو بدل متوقع ہے‘ جبکہ حکومتی نظم و نسق‘ اختیارات کے استعمال‘ ادارہ جاتی حدود اور احتسابی نظام کی فعالیت سے متعلق اہم سوالات بھی زیرِ بحث ہیں۔ اس ممکنہ ردو بدل کی وجہ یہ ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انسدادِ بدعنوانی کے محکموں کی جانب سے بعض معاملات پر متعدد مرتبہ تشویش کا اظہار کیا گیا اور متعلقہ حلقوں کو ممکنہ خطرات اور بے ضابطگیوں سے آگاہ کیا گیا۔ مگر ان وارننگز اور سفارشات کو مطلوبہ اہمیت نہ ملنے کی وجہ سے احتساب اور نگرانی کے ذمہ دار حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ اندر کی خبر دینے والے کہتے ہیں کہ سیاسی دباؤ اور بعض بااثر حلقوں کی مبینہ مداخلت کے باعث صورتحال پیچیدہ ہوئی ہے تاہم ان دعوؤں کی حکومت یا کسی آزاد تحقیقاتی ادارے کی جانب سے تصدیق نہیں کی گئی۔ البتہ ان افواہوں سے وفاقی کابینہ کے اہم ارکان اور کلیدی وزارتوں کے کردار پر بحث میں اضافہ ہوا ہے۔ مبصرین کے مطابق ان اہم وزارتوں میں کسی بھی تبدیلی کے اثرات محض انتظامی نوعیت کے نہیں ہوں گے بلکہ قومی سلامتی‘ خارجہ پالیسی‘ داخلی نظم و نسق‘ معاشی معاملات‘ ترقیاتی منصوبوں اور سول سروس کے انتظامی ڈھانچے پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ سیاسی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ممکنہ رد و بدل کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ کچھ معاملات میں مبینہ طور پر ادارہ جاتی حدود سے تجاوز کیا گیا اور فیصلوں پر قانونی دائرہ اختیار اور عوامی مفاد کے بجائے دیگر عوامل کے زیر اثر اقدامات کیے گئے۔ ان معاملات کی حقیقت جاننے کیلئے شفاف اور قانون کے مطابق کارروائی پر زور دیا جا رہا ہے تاکہ قومی خزانے اور عوامی اعتماد کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ جمہوری نظام کی مضبوطی کیلئے ضروری ہے کہ ادارے آزادانہ طور پر کام کریں‘ پارلیمنٹ کے منظور کردہ قوانین کی مکمل پاسداری ہو اور احتسابی نظام کسی سیاسی دباؤ سے بالاتر ہو۔ ان کے مطابق اگر ادارہ جاتی مداخلت یا احتسابی عمل میں رکاوٹوں کے الزامات ثابت ہوتے ہیں تو حکمرانی کے معیار پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔دوسری جانب حکومتی حلقوں کا مؤقف ہے کہ تمام فیصلے آئینی طریقہ کار اور قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جا رہے ہیں۔ تاحال کابینہ میں کسی تبدیلی یا کسی وزیر کے خلاف کارروائی کا کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔ تاہم اسلام آباد میں اس وقت بہت ہلچل ہے‘ دیکھنا یہ ہے کہ جاری مشاورت کسی بڑے انتظامی اقدام کی صورت اختیار کرتی ہے یا یہ معاملہ محض قیاس آرائیوں تک محدود رہتا ہے۔ تاہم اقتدار کی راہداریوں میں یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ جس طرح محسن نقوی حالیہ دنوں میں خارجہ محاذ پر سرگرم ہوئے ہیں‘ آنے والے دنوں میں وفاقی کابینہ میں ردوبدل کرتے ہوئے محسن نقوی کو وزارتِ خارجہ سونپی جاسکتی ہے جبکہ اسحاق ڈار وزارتِ خزانہ سنبھال سکتے ہیں اور نائب وزیراعظم کا عہدہ‘ جو علامتی حیثیت کا حامل ہے‘ تحلیل کیا جا سکتا ہے۔علاوہ ازیں پینڈورا پیپرز اور مئی 2024ء میں منظرعام پر آنے والی &#39;&#39;دبئی اَن لاکڈ‘‘ کی ہوشربا رپورٹس بھی زیر غور ہیں جن میں انکشاف کیا گیا تھا کہ پاکستانی اشرافیہ نے دبئی میں 11 ارب ڈالر سے زائد مالیت کی جائیدادیں خفیہ طور پر خرید رکھی ہیں۔ تاہم عوام یہ سے حقیقت پوشیدہ نہیں کہ ملک کی اشرافیہ ایک دوسرے کے مفادات کی محافظ ہے‘ اس لیے اشرافیہ کے خلاف کسی سنگین کارروائی کا کوئی امکان نہیں۔ برطانوی مصنفہAnatol Lievenنے اپنی کتاب Pakistan: A Hard Countryمیں اسی خاندانی جکڑ بندی اور رشتہ داریوں کے نظام کو پالیسی کے جمود اور سٹیٹس کو کی اصل جڑ قرار دیا ہے۔ پاکستان کی سالمیت‘ معاشی استحکام‘ بیرونی سرمایہ کاری اور گوادر کو ترقی دینے کیلئے ملک میں سیاسی استحکام ناگزیر ہے۔ حکومت اپنے مفادات کی خاطر اسلام آباد میں ایک الگ اسمبلی بنانے پر آمادہ دکھائی دیتی ہے جس سے آئین کے بنیادی ڈھانچے پر اثر پڑ سکتا اور جگ ہنسائی بھی ہو سکتی ہے۔اسلام آباد کے حوالے سے وزارت منصوبہ بندی میں جو روڈ میپ تیار کیا گیا ہے‘ اس کے بارے میں حکومت کی جانب سے ابھی تک کوئی واضح حکمت عملی سامنے نہیں آئی۔ بلا شبہ ہمارے ہاں مقامی حکومتوں کا نظام کمزور ہو جانے سے پارلیمنٹ کا معیار نیچے آ چکا ہے۔ بلدیاتی نمائندوں اور قانون سازوں کو ایک دوسرے کے مقابل لا کھڑا کر دیا گیا ہے۔ لوگ اپنے مسائل کے حل کیلئے جن اراکینِ پارلیمنٹ کو منتخب کرتے ہیں‘ ان کی استعداد اور تعلیمی قابلیت اس سطح کی نہیں ہوتی کہ وہ آئین سازی اور قانون سازی میں فعال کردار ادا کر سکیں۔ اسی لیے عام تاثر یہ ہے کہ پارلیمنٹ اپنی مؤثر حیثیت کھو چکی ہے۔ پاکستان کی موجودہ صورتحال میں میانمار کی رہنما آنگ سان سوچی کا یہ قول درست محسوس ہوتا ہے کہ &#39;&#39;جمہوریت کی نقالی آمریت سے بھی بدتر ہوتی ہے کیونکہ یہ عوام کو کچھ کرنے نہیں دیتی‘‘۔دوسری جانب آزاد کشمیر میں جاری صورتحال کو دیکھیں تو گزشتہ برس مئی میں آپریشن سندور کی ناکامی اور پاکستان کی طرف سے آپریشن بنیانٌ مرصوص کے بعد سے بھارت کو عالمی سطح پر ہزیمت کا سامنا ہے۔ اسے یہ احساس ہو چکا ہے کہ وہ جنگی میدان میں کسی طور پاکستان کو شکست نہیں دے سکتا؛ چنانچہ اب وہ اوچھے ہتھکنڈوں پر اُتر آیا ہے۔ شنید ہے کہ آزاد کشمیر میں احتجاج کرنے والی کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے پیچھے بھارت ہی کی حمایت ہے تاکہ خطے کا امن برباد کیا جا سکے۔اس کالعدم کمیٹی کے مطالبات کو تسلیم کرنے سے کشمیر کی متنازع حیثیت کو زک پہنچنے کا اندیشہ ہے اور کل کو ایل او سی کو بین الاقوامی سرحد کے طور پر تسلیم کروانے کی کوشش بھی کی جا سکتی ہے۔ شنید ہے کہ اس کالعدم تنظیم کا اگلا ہدف آزاد کشمیر کو صوبے کا درجہ دلوانا ہے۔ بظاہر یہ تجویز اچھی محسوس ہوتی ہے لیکن یہ صورتحال مقبوضہ کشمیر پر بھارت کامستقل قبضہ تسلیم کرنے کے مترادف ہے۔ مقتدر حلقے چاہتے ہیں کہ آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ ایک ساتھ اقوامِ متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق کشمیریوں کی رائے شماری کے ذریعے کیا جائے‘لہٰذا تب تک اس کی سیاسی و جغرافیائی حیثیت میں کوئی تبدیلی تسلیم نہیں کی جا سکتی۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_15667905.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>تشنہ لباں(عمران یعقوب خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-06-25/52187/40952228</link><pubDate>Thu, 25 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-06-25/52187/40952228</guid><description>واقعۂ کربلا ہمیں باطل کے سامنے ڈٹ جانے‘ اصولوں پر سمجھوتا نہ کرنے اور دین کی خاطر ہر قربانی حتیٰ کہ جان کی قربانی دینے کا ابدی اور آفاقی درس دیتا ہے۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ دن کو رات‘ اجالے کو اندھیرے‘ سچ کو جھوٹ اور حق کو باطل سے کیسے جدا کیا اور رکھا جاتا ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ کتنے ہی کٹھن حالات ہوں‘ حق اور سچائی کا ساتھ نہیں چھوڑنا چاہیے اور ظلم کے آگے جھکنے کے بجائے ثابت قدم رہنا چاہیے چاہے اس کے لیے کتنی ہی بڑی قربانی کیوں نہ دینی پڑے۔ امام عالی مقام رضی اللہ عنہ نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر باطل اقتدار کی بیعت سے انکار کیا اور پھر پوری استقامت کے ساتھ اپنے اس فیصلے پر قائم رہے۔ اس فیصلے کی تائید میں میدانِ کربلا میں مشکلات‘ مصائب‘ بھوک‘ پیاس اور وسائل کے لحاظ سے تہی دامنی کے باوجود اہلِ بیت نے جس قدر صبر کا مظاہرہ کیا‘ وہ ہر مشکل گھڑی میں حوصلہ قائم رکھنے کی بہترین مثال‘ بہترین سبق ہے۔ظلم اور برائی کو روکنے کے تناظر میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ایک مشہور اور جامع حدیث صحیح مسلم میں موجود ہے جس میں ان دونوں خباثتوں (ظلم اور برائی) کو روکنے کے تین درجات بیان کیے گئے ہیں۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا: (مفہوم) تم میں سے جو کوئی کسی برائی (یا ظلم) کو دیکھے تو اسے چاہیے کہ اپنے ہاتھ (یعنی طاقت) سے اسے روکے‘ اگر وہ برائی کو ہاتھ سے روکنے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اسے یعنی برائی کو اپنی زبان سے روکے‘ اور اگر زبان سے روکنے کی بھی طاقت نہ رکھتا ہو تو اسے چاہیے کہ ظلم یا برائی کو اپنے دل میں برا جانے‘ اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے۔ اس حدیث سے واضح ہے کہ پہلا درجہ برائی کے خلاف طاقت کے استعمال کا ہے۔ اگر کسی شخص یا ادارے کے پاس ظلم کو روکنے کی عملی طاقت اور اختیار موجود ہیں تو اسے ظالم کا ہاتھ پکڑ کر ظلم کو روکنا چاہیے۔ دوسرا درجہ یعنی زبان کا استعمال یہ ہے کہ بول کر‘ لکھ کر‘ یا پُرامن احتجاج کے ذریعے ظالم کے خلاف آواز اٹھائی جائے۔ تیسرا درجہ یعنی دل میں برا جاننا لیکن خاموش رہنا یہ ہے کہ اگر حالات ایسے ہوں کہ زبان سے بھی کچھ کہنا جان کے لیے خطرے کا باعث بنے تو کم از کم دل میں اس ظلم کو غلط اور ناپسندیدہ ضرور سمجھیں۔ لاریب حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے یزید کے جبر اور نا انصافی کے خلاف حدیثِ بالا کے مطابق پہلے درجے کا جہاد کیا اور جان جانے کے خطرے کے باوجود ظالم کے ظلم کے سامنے بند باندھنے کی حتی المقدور کوشش کی جو ہر لحاظ سے اللہ کو منظور بھی ہے اور اللہ کے ہاں مقبول بھی۔ایک اور مقام پر نبی کریمﷺ نے ظالم کو ظلم سے نہ روکنے کے بارے میں سخت تنبیہ فرمائی۔ سنن ترمذی کی حدیث کے مطابق آپﷺ نے فرمایا: (مفہوم) لوگ جب ظالم کو ظلم کرتا دیکھیں اور اسے نہ روکیں تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ سب کو اپنے عذاب کی لپیٹ میں لے لے۔ یہ بات بلا خوفِ تردید کہی جا سکتی ہے کہ امام عالی مقام رضی اللہ عنہ نے اپنی اور اپنے عزیز رفقا کی جانوں کی قربانی دے کر امتِ مسلمہ کو اللہ کے اس بڑے عذاب سے بچایا جس کی طرف حدیثِ مبارکہ میں اشارہ کیا گیا ہے۔ یہ بہت بڑی قربانی ہے‘ انسانی تاریخ میں جس کی کوئی اور مثال نہیں ملتی۔یہ جملے لکھتے ہوئے مجھے خوف محسوس ہو رہا ہے کہ برائی کو روکنے کے حوالے سے ہم کس درجے کے مسلمان ہیں۔ شاید تیسرے درجے کے بھی نہیں۔ یزید‘ فرعون اور شداد ہر دور اور ہر زمانے میں موجود رہے ہیں۔ ہمارے زمانے میں بھی ہوں گے۔ تو ان کو روکنے میں ہم کس درجے کے مومن اور مسلمان ثابت ہوئے ہیں؟ غالباً تیسرے درجے کے بلکہ اس سے بھی نیچے کوئی درجہ ہوتا تو شاید اس درجے پہ فائز ہوتے۔ سوچنے کا مقام ہے کہ ہمیں تعلیم کیا دی گئی تھی اور ہم جا کہاں رہے ہیں۔ یہ راستہ کامیابی کی منزل کی طرف نہیں جاتا۔ کامیابی کا راستہ وہی ہے جو کربلا میں تشنہ لبوں نے اختیار کیا تھا۔کربلا کا واقعہ انسانی تاریخ میں صبر‘ ثابت قدمی اور وفاداری کی ایسی داستان ہے جس کی مثال نسلِ انسانی کی پوری تاریخ میں کہیں نہیں ملتی۔ حضرت امام حسینؓ اور ان کے ساتھی شدید پیاس‘ بھوک اور مشکلات کے باوجود اپنے مؤقف پر قائم رہے۔ عاشورا محرم ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ زندگی میں مشکلات اور آزمائشیں آتی رہتی ہیں لیکن مومن کو ہمیشہ صبر کرنا چاہیے اور اللہ پر بھروسے کے ساتھ ان مشکلات کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ حضرت امام حسینؓ کی سیرت ہمیں ثابت قدمی‘ اخلاقی جرأت اور اصولوں پر ڈٹے رہنے کا درس دیتی ہے۔ آج کے دور میں جب معاشرے میں ناانصافی‘ بدعنوانی اور دیگر اخلاقی کمزوریاں پائی جاتی ہیں تو کربلا کا پیغام پہلے سے کہیں زیادہ اہم محسوس ہوتا ہے۔ عاشورا کے موقع پر مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اس دن کی حقیقی روح کو سمجھیں۔ روزہ رکھیں‘ نوافل پڑھیں‘ قرآنِ مجید کی تلاوت کریں اور سیدنا امام حسینؓ اور ان کے رفقا کی قربانیوں کو یاد کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ اپنے کردار کا جائزہ لے کر شہدائے کربلا کی بے مثل قربانیوں میں پنہاں پیغام کو سمجھنے اور اپنی زندگیوں کو اس پیغام کے مطابق ڈھالنے کی بھی کوشش کرنی چاہیے کہ یہی حق اور فتح کا راستہ ہے۔ اس راستے میں تشنہ لبی تو ہے لیکن ابدیت بھی ہے۔ اس راستے میں شہادت تو ہے لیکن حقیقی فتح بھی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ ہم میں کم از کم اتنی جرأت تو ہونی چاہیے کہ برے کو برا‘ کرپٹ کو کرپٹ اور ظالم کو ظالم کہہ سکیں کہ معاشرے کو ایک حقیقی جمہوری اور فلاہی معاشرہ بنانے کے لیے اس کی بے حد ضرورت ہے۔ حقیقت یہ کہ امتِ مسلمہ کو بحیثیت مجموعی آج کے دور کے یزیدوں کا سامنا ہے جن کا مقابلہ متحد ہو کر ہی کیا جا سکتا ہے۔ گزشتہ صدی کے ربع آخر میں افغانستان میں رونما ہونے والے انقلابات اور غیر ملکی یلغاروں سے لے کر غزہ میں اب تک جاری آگ اور خون کا کھیل‘ عراق‘ شام‘ لبنان کی تباہی اور ایران پر مسلسل مسلط کی جانے والی جنگوں تک ماضی قریب کی تاریخ پر ایک نظر ڈالیں تو سب کچھ واضح ہو جاتا ہے کہ کون سی قوتیں روئے ارض پر کون سی تبدیلیاں کن مقاصد کے تحت لانا چاہتی ہیں۔ یومِ عاشور کا ایک پیغام یہ بھی ہے کہ عالمی سطح پر جاری ان سازشوں کو سمجھا جائے‘ پرکھا جائے اور ان سازشوں کو فرو کرنے کے لیے ہر سطح پر تیاریاں کی جائیں۔ یہ تیاریاں طاقت کی ہونی چاہئیں کہ ہمیں اپنے گھوڑے تیار رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ تیاریاں ابلاغ کی سطح پر ہونی چاہئیں کہ دشمن کی سازشوں کا توڑ تلاش کیا جا سکے اور اگر کچھ نہیں ہو سکتا تو عالمی سطح پر جو کچھ غلط ہو رہا ہے اسے غلط ضرور سمجھنا چاہیے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_58350786.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>فلسفۂ شہادت!(مفتی منیب الرحمٰن )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-06-25/52188/47104339</link><pubDate>Thu, 25 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-06-25/52188/47104339</guid><description>عرفِ عام اور طبی اصطلاح میں جب تک رشتۂ جاں قائم ہے‘ سانس آ جا رہا ہے‘ انسان ذی حیات ہے‘ زندہ ہے اور اس پر زندوں کے احکام مرتب ہوتے ہیں اور جب رشتۂ جاں ختم ہو جائے‘ حرکتِ قلب بند ہو جائے تو اس پر موت کا اطلاق ہوتا ہے اور اُسے مردہ قرار دیا جاتا ہے اور اسی اعتبار سے شرعی احکام نافذ ہوتے ہیں۔ لیکن شہادت کیلئے اللہ تبارک وتعالیٰ نے حیات وموت کے ظاہری تصور اور طبی مفہوم کو ساقط کر دیا ہے۔ ارشاد ہوا: &#39;&#39;اور جو اللہ کی راہ میں مارا جائے‘ اُسے مردہ نہ کہو‘ بلکہ وہ زندہ ہیں‘ لیکن تمہیں ان کی زندگی کا شعور نہیں ہے‘‘ (البقرہ: 154)۔ (2) &#39;&#39;اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کر دیے گئے ہیں‘ انہیں مردہ گمان نہ کرو‘ بلکہ وہ اپنے رب کے حضور زندہ ہیں‘ انہیں رزق دیا جاتا ہے‘‘ (آل عمران: 169)۔ ان آیاتِ مبارکہ کی رو سے جو اللہ کی راہ میں یعنی اللہ کے دین کی حفاظت اور سربلندی کیلئے قتل کر دیے گئے ہیں‘ وہ شرعی اصطلاح میں شہید ہیں۔ دنیاوی اعتبار سے ان پر مردہ انسان کے احکام جاری ہوتے ہیں‘ ان کا جنازہ پڑھا جاتا ہے‘ تدفین کی جاتی ہے‘ اُن کی بیوائیں عدتِ وفات گزارنے کے بعد کہیں بھی نکاح کیلئے آزاد ہوتی ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے تاکیدی حکم فرمایا کہ انہیں نہ تو زبان سے مردہ کہو اور نہ اپنے حاشیۂ خیال میں انہیں مردہ گمان کرو‘ بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور زندہ ہیں اور انہیں رزق دیا جاتا ہے‘ اگرچہ ہمیں ان کی زندگی کی حقیقت کا شعور نہیں ہے۔ &#39;&#39;رسول اللہﷺ نے شہدائے اُحد کے بارے میں فرمایا: انہیں اُن کے خون آلود جسموں اور خون آلود کپڑوں میں لپیٹ دو (یعنی یہی اُن کا کفن ہوگا)‘ کیونکہ جو زخم اللہ کی راہ میں لگا ہو‘ قیامت کے دن اُس کی حالت یہ ہو گی کہ رنگ تو خون جیسا ہی ہو گا مگر خوشبو کستوری جیسی ہو گی‘‘ (سنن نسائی: 2002)۔ الغرض دنیا کی فانی زندگی رشتۂ حیات کے قائم رہنے کا نام ہے اور آخرت کی ابدی اور دائمی زندگی جان کو جاں آفریں کے سپرد کرنے کا نام ہے۔ علامہ اقبال نے کہا ہے:تو اسے پیمانۂ امروز و فردا سے نہ ناپ؍ جاوداں پیہم دواں ہر دم جواں ہے زندگیشہید کو شہید اس لیے کہتے ہیں کہ اس کی ظاہری حالت اس کے جنتی ہونے کی شہادت دیتی ہے‘ فرشتے اس کی روح کے استقبال کیلئے حاضر ہوتے ہیں۔ رسول اللہﷺ نے شہادت کو معراج عطا کرتے ہوئے فرمایا: &#39;&#39;اُس ذات کی قسم! جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے‘ میری تمنا ہے کہ میں اللہ کی راہ میں شہید کیا جائوں‘ پھر زندہ کیا جائوں‘ پھر شہید کیا جائوں‘ پھر زندہ کیا جائوں‘ پھر شہید کیا جائوں‘ پھر زندہ کیا جائوں‘ پھر شہید کیا جائوں‘‘ (بخاری: 2797)۔ اس میں آپﷺ نے چار مرتبہ شہادت کی تمنا کی ہے‘ یہ تمنا درجۂ شہادت کی عظمت کو ظاہر کرنے کیلئے کی ہے۔کربلائے مُعلّٰی میں جب امامِ عالی مقام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے اہلِ بیت اور اعوان وانصار سے کہا: &#39;&#39;یہ لوگ میرے خون کے پیاسے ہیں‘ جب مجھے شہید کر دیں گے تو انہیں باقی کسی کی پروا نہیں رہے گی‘ اس لیے تم میں سے جو چاہے‘ رات کی تاریکی میں نکل جائے‘ اللہ کی زمین بہت وسیع ہے‘‘ تو مسلم بن عوسجہ اسدی اور سعید بن عبداللہ حنفی نے کہا: &#39;&#39;خدا کی قسم! ہم آپ کو تنہا نہیں چھوڑیں گے‘ یہاں تک کہ اللہ دیکھ لے کہ ہم نے رسول اللہﷺ کی غیاب میں ان کے نواسے کی مقدور بھر حفاظت کی ہے۔ یہ تو ایک جان ہے‘ اللہ کی قسم! اگر مجھے ایک ہزار زندگیاں بھی مل جائیں اور میں ایک ایک کر کے ہر زندگی آپ کی حفاظت میں قربان کر دوں اور اس کے ذریعے آپ اور آپ کے اہلِ بیت کی جانیں محفوظ ہو جائیں تو یہ میرے لیے انتہائی پسندیدہ بات ہو گی‘‘۔ دوسرے حضرات نے بھی ایسے ہی جذبۂ ایثار کا اظہار کرتے ہوئے کہا: &#39;&#39;اللہ کی قسم! ہم آپ کو تنہا چھوڑ کر نہیں جائیں گے‘ ہماری جانیں آپ پر قربان ہو جائیں‘ ہم اپنے سینے‘ اپنی پیشانیاں‘ اپنے ہاتھ اور اپنے جسم غرض اپنا سب کچھ آپ پر قربان کر دیں گے‘ پس جب ہم شہید کر دیے جائیں گے تو ہم پر جو آپ کا حق واجب ہے‘ ہم حقِ وفا ادا کر چکے ہوں گے‘‘ (البدایہ والنہایہ لابن کثیر الدمشقی‘ ج: 11‘ ص: 530)۔ یہی شوقِ شہادت حرمتِ رسول کی پاسداری کیلئے اصحابِ رسول کا تھا۔ اہلِ عزیمت میں سے ایک عظیم مثال حضرت عبداللہؓ بن حذافہ سہمی کی ہے: انہیں شام کے نصرانیوں نے قید کر کے قیصرِ روم کے دربار میں پیش کیا۔ قیصر نے کہا: &#39;&#39;نصرانی مذہب قبول کر لو‘ میں انعام کے طور پر اپنی بیٹی تمہارے نکاح میں دوں گا اور اپنی بادشاہت میں تمہیں شریک کروں گا‘‘۔ حضرت عبداللہؓ بن حُذافہ نے جواب دیا: &#39;&#39;جو دولت وسلطنت تمہاری مِلک میں ہے اور اس کے علاوہ جو پورے عالَم عرب میں ہے‘ اگر یہ سب مجھے دے دی جائے‘ تب بھی میں ایک پلک جھپکنے کی مقدار دینِ محمد سے رجوع نہیں کروں گا‘‘۔ قیصر نے کہا: &#39;&#39;پھر میں تجھے قتل کر ڈالوں گا‘‘۔ انہوں نے جواب دیا: &#39;&#39;جو تمہارے جی میں آئے کرو‘‘۔ قیصر نے اپنے کارندوں کو حکم دیا کہ اِسے سولی پر لٹکائو اور اس کے ہاتھ پائوں کے قریب تیر اندازی کرو‘ اس دوران وہ انہیں عیسائیت کی دعوت دیتے رہے اور یہ مسلسل انکار کرتے رہے۔ پھرحضرت عبداللہؓ کو سولی سے اتارا گیا اور ایک دیگ میں تانبے کو پگھلا کر جوش دیا گیا‘ پھر مسلمان قیدیوں کو ایک ایک کر کے اُس میں ڈالا جاتا رہا‘ اُن کا گوشت جل جاتا اور ہڈیوں کا ڈھانچا رہ جاتا۔ پھر انہیں دیگ میں پھینکنے کیلئے ایک چرخی میں رکھا گیا تو آپ رونے لگے‘ اس پر قیصر کو امید پیدا ہوئی کہ اب یہ موت کو آنکھوں کے سامنے دیکھ کر عیسائیت قبول کر لیں گے‘ سو اُس نے دعوت دی۔ حضرت عبداللہؓ بن حُذافہ نے کہا: &#39;&#39;میں تو اس لیے رو رہا ہوں کہ یہ صرف ایک جان ہے‘ میری تمنا تو یہ تھی کہ میرے وجود کے ہر بال کے برابر میری جانیں ہوتیں اور میں ایک ایک کر کے انہیں اللہ کی راہ میں قربان کر دیتا‘‘۔ ایک روایت میں ہے: انہیں جیل میں ڈال دیا گیا اور ایک عرصے تک کھانا پینا بند کر دیا گیا‘ پھر قید سے نکال کر اُن کے سامنے شراب اور خنزیرکا گوشت رکھ دیا گیا‘ انہوں نے ان چیزوں کو ہاتھ تک نہ لگایا۔ قیصر نے بلا کر پوچھا: تم نے ان چیزوں سے اپنی جان بچانے کی کوشش کیوں نہیں کی؟ انہوں نے جواب دیا: اگرچہ ہماری شریعت میں جان بچانے کیلئے ان حرام چیزوں کو کھانے اور پینے کی اجازت ہے‘ لیکن میں ایسا کر کے تمہیں خوشی کا موقع نہیں دوں گا۔ قیصر نے کہا: میری پیشانی پر بوسہ دو‘ میں تمہیں آزاد کر دوں گا۔ حضرت عبداللہؓ نے جواب دیا: میں اس شرط پر تمہاری پیشانی کو بوسہ دوں گاکہ تم میرے تمام ساتھی قیدیوں کو رہا کر دو‘ قیصر نے کہا: یہ شرط منظور ہے‘ پھر حضرت عبداللہؓ نے اس کی پیشانی کو بوسہ دیا اور اپنے تمام ساتھی قیدیوں کو رہا کرا کے مدینہ طیبہ لے آئے۔ جب وہ امیر المومنین حضرت عمرؓ بن خطاب کے پاس پہنچے اور انہیں سارا ماجرا سنایا تو حضرت عمرؓ نے کہا: ہر مسلمان پر لازم ہے کہ عبداللہ بن حُذافہ کی پیشانی کو بوسہ دے اور میں اس کی ابتدا کرتا ہوں‘ وہ اٹھے اور اُن کی پیشانی کو بوسہ دیا‘‘ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ وَرَضُوْا عَنْہٗ (تفسیر ابن کثیر‘ ج:4‘  ص: 606)۔ مرزا مظہر جانِ جاناں نے کہا:بنا کردند خوش رسمے بخون وخاک غلطیدن ؍ خدا رحمت کُند ایں عاشقان پاک طینت را۔ مفہوم: انہوں نے خاک وخون میں لوٹ پوٹ کر ایک عظیم رسم کی بنیاد ڈالی ہے‘ اللہ تعالیٰ ایسے پاک طینت عاشقوں پر رحمتیں نازل فرمائے۔ فیض احمد فیض نے کہا تھا:جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا‘ وہ شان سلامت رہتی ہےیہ جان تو آنی جانی ہے اس جاں کی تو کوئی بات نہیںراہِ حق میں شہادت کی جو ہمہ جہت عدیم النظیر مثال امام عالی مقام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘ آپ کے اہلِ بیت اطہار اور آپ کے اعوان وانصار نے قائم کی‘ دنیا میں اس کی نظیر نہیں ملتی اور رہتی دنیا تک آپ کا نقش پائندہ وتابندہ رہے گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_61172381.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>