<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>خلیجی حالات کے معاشی اثرات(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-16/11196</link><pubDate>Sat, 16 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-16/11196</guid><description>آئی ایم ایف کی جائزہ رپورٹ میں پاکستان کی معیشت کے حوالے سے ان خدشات کی توثیق کی گئی ہے قبل ازیں جو سٹیٹ بینک کی ششماہی رپورٹ میں بیان کیے گئے۔ آئی ایم ایف کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں مضبوط پالیسی اقدامات کے تسلسل نے پاکستان کی معاشی بحالی کو سہارا دیا‘ تاہم مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے اثرات نے پاکستان کے قلیل مدتی معاشی منظرنامے کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق باوجویکہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے مجموعی عالمی اثرات اب تک کسی حد تک محدود رہے ہیں‘ پاکستان کے داخلی معاشی حالات کیلئے خطرات نمایاں طور پر زیادہ ہیں۔ ان خطرات کا براہِ راست تعلق قیمتوں کے استحکام‘ توانائی اور عوام کی قوتِ خرید سے ہے۔ پاکستان کیلئے سب سے بڑا خطرہ توانائی کی قیمتوں میں ہونے والا اضافہ ہے۔ پاکستان اپنی پٹرولیم ضروریات کا بڑا حصہ خلیجی ممالک سے درآمد کرتا ہے تاہم خلیج فارس کے خطے میں کشیدگی کے باعث خام تیل کی قیمتیں نمایاں طور پر بڑھ گئی ہیںجس سے مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے۔

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا مطلب ٹرانسپورٹیشن اخراجات بڑھنے سے تمام اشیائے صرف کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔ اس صورتحال کا دوسرا بڑا نقصان افراطِ زر کی شرح میں مسلسل اضافہ اور معاشی ترقی کی رفتار سست ہو جانا ہے۔ جب فیول اور بجلی کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو عام آدمی کی قوتِ خرید جواب دے جاتی ہے‘ جس سے طلب میں کمی آتی ہے‘ اس کا اثر کاروباری سرگرمیوں پر پڑتا ہے اور اقتصادی سرگرمیاں ماند پڑنے سے جی ڈی پی کی شرحِ نمو متاثر ہوتی ہے۔ دوسری جانب درآمدی ایندھن مہنگا ہونے سے زرِمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ پڑتا ہے‘ پیداواری لاگت بڑھنے سے برآمدات کی مسابقت متاثر ہوتی ہے اور حجم سکڑنے لگتا ہے۔ یہ غیر متوازن صورتحال کرنسی کی قدر کو ٹھیس پہنچاتی ہے۔ اس منظرنامے کا ایک تشویشناک پہلو خلیجی ممالک سے آنے والی ترسیلاتِ زر میں کمی کا خدشہ ہے۔پاکستان کے سمندر پار کارکنوں کی مجموعی ترسیلات میں خلیجی ممالک سے آنے والی ترسیلات نصف سے زائد ہیں۔ ملکی معیشت کیلئے یہ ترسیلات غیر معمولی اہمیت کی حامل ہیں تاہم ایران جنگ کے زیر اثر خلیجی ممالک کی اپنی معیشتیں دباؤ کا شکار ہیں جس کے باعث وہاں روزگار کے مواقع محدود ہو رہے ہیں اور تارکینِ وطن کی آمدنی میں کمی آرہی ہے۔ خلیج سے ترسیلاتِ زر میں کمی کا اثر زرِمبادلہ کے ذخائر پر پڑنے کا خدشہ ہے۔ غرضیکہ یہ ایک ایسا معاشی بحران ہے جس میں تمام کڑیاں آپس میں ملی ہوئی ہیں۔
آئی ایم ایف کی مذکورہ رپورٹ میں ان مسائل کا حل مضبوط معاشی پالیسیاں اور مسلسل اصلاحات کی صورت میں تجویز کیا گیا ہے۔ مالیاتی ادارے کی بتدریج مالیاتی استحکام‘ توانائی کے شعبے میں سٹرکچرل تبدیلیاں‘ ٹیکس ریفارمز‘ گردشی قرضوں کا خاتمہ اور سرکاری اداروں کے خسارے کو کم کرنے سمیت گیارہ شرائط پائیدار ترقی کیلئے بنیاد کا درجہ رکھتی ہیں۔ بیرونی خطرات اور معاشی جھٹکوں سے بچنے کا طریقہ یہی ہے کہ اندرونی نظام کو خودکفیل اور اس حد تک مضبوط بنایا جائے کہ وہ بیرونی خطرات کو جذب کر سکے۔ ٹیکس نیٹ کو وسعت‘ ٹیکس چوری کا خاتمہ اور غیر دستاویزی شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے جیسے اقدامات‘جو کئی برسوں سے تعطل کا شکار ہیں‘اب ناگزیر ہو چکے ہیں۔ جب زرمبادلہ کے وسائل متنوع ہوں گے اور ٹیکس وصولی کا نظام شفاف اور وسیع تو بیرونی خطرات ملک کے داخلی معاشی منظرنامے پر زیادہ اثر انداز نہیں ہو سکیں گے۔ برآمدات میں توسیع کیلئے نئی عالمی منڈیوں کی تلاش اور ویلیو ایڈیشن جیسے اقدامات مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔ اب یہ قیادت کا امتحان ہے کہ وہ درپیش چیلنجز کو اقتصادی بنیادیں درست کرنے کا ایک موقع سمجھ کر بروئے لائے اور آئی ایم ایف کی شرائط و تجاویز پر عمل کرتے ہوئے معیشت کو پائیدار استحکام کی راہ پر گامزن کرے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>روز افزوں مہنگائی(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-16/11195</link><pubDate>Sat, 16 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-16/11195</guid><description>روز بروز بڑھتی مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی کو شدید مشکل بنا دیا ہے۔ وفاقی ادارۂ شماریات کے مطابق 15 مئی کو ختم ہونے والے کاروباری ہفتے کے دوران مہنگائی کی شرح میں سالانہ بنیادوں پر 14.52فیصد اضافہ ہوا ہے۔ مذکورہ رپورٹ کے مطابق ایک سال کے دوران پٹرول کی قیمت میں تقریباً 65 فیصد‘ ڈیزل تقریباً 62‘ بجلی 53‘ ایل پی جی 49 اور آٹے کی قیمت میں 58 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ پھلوں اور سبزیوں کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ پٹرولیم مصنوعات اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث متوسط اور غریب طبقہ دو وقت کی روٹی کے حصول کیلئے بھی پریشان دکھائی دیتا ہے۔ تنخواہ دار طبقے کی آمدنی وہیں کی وہیں ہے جبکہ اخراجات کئی گنا بڑھ چکے ہیں‘ جس کے نتیجے میں گھریلو بجٹ بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔

مہنگائی نے نہ صرف عوام کی قوتِ خرید کم کر دی ہے بلکہ ذہنی دباؤ‘ بے چینی اور معاشرتی مسائل میں بھی اضافہ کیا ہے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ مہنگائی پر قابو پانے کیلئے فوری اور مؤثر اقدامات کرے۔ ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف سخت کارروائی کی جائے‘ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کی باقاعدہ نگرانی یقینی بنائی جائے اور سب سے ضروری ہے کہ عوام کو ریلیف دینے کیلئے ٹیکسوں میں کمی کی جائے۔ اس کے علاوہ مقامی صنعت اور زرعی شعبے کو سہارا دے کر پیداوار بڑھائی جائے تاکہ مارکیٹ میں اشیا کی فراہمی بہتر ہو اور قیمتوں میں استحکام پیدا کیا جا سکے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کھاد بحران کا خدشہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-16/11194</link><pubDate>Sat, 16 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-16/11194</guid><description>مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے اثرات پٹرولیم مصنوعات تک محدود نہیں ‘ عالمی زرعی معیشت اور غذائی تحفظ بھی اس سے متاثر ہو تادکھائی دے رہا ہے۔ ایک خبر کے مطابق حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ خام مال کی عدم دستیابی کے باعث آنے والے دنوں میں ڈی اے پی کھاد کا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ ڈی اے پی کھاد کی تیاری میں استعمال ہونے والا خام مال بالخصوص فاسفیٹ کی سپلائی چین میں رکاوٹوں اور گیس کی قلت کے باعث یوریا کھاد کی پیداوار بھی متاثر ہورہی ہے۔اس کے نتیجے میں زرعی پیداوار پر منفی اثرات کا خدشہ ہے۔ اگر کسانوں کو بروقت اور مناسب قیمت پر کھاد نہ مل سکی تو خریف کی فصلیں خصوصاً چاول‘ کپاس‘ گنا اور مکئی کی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے۔

پاکستان پہلے ہی موسمیاتی تبدیلیوں‘ پانی کی قلت اور بڑھتی پیداواری لاگت جیسے مسائل کا سامنا کر رہا ہے ایسے میں کھاد کے بحران کا اضافہ زرعی شعبے کیلئے مزید نقصان دہ ہو گا۔ اگرچہ وزیراعظم کی جانب سے کھاد اور خام مال کی متبادل منڈیاں تلاش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے لیکن حکومت کو فوری سفارتی اور تجارتی سطح پر اقدامات کرتے ہوئے عملی طور پر متبادل منڈیوں تک رسائی حاصل کرنی چاہیے۔ اسی طرح مقامی سطح پر یوریا کھاد کی مطلوبہ مقدار میں تیاری کیلئے کھاد فیکٹریوں کو ترجیحی بنیادوں پر گیس کی فراہمی بھی ضروری ہے تاکہ یوریا کا بحران پیدا نہ ہو۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>رومان‘ حقیقت پسندی اور اقبال شناسی(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-05-16/51954/29935607</link><pubDate>Sat, 16 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-05-16/51954/29935607</guid><description>حقیقت پسند ی اچھی چیز ہے مگر اتنی اچھی بھی نہیں کہ خواب اور رومان زندگی سے نکل جائیں۔ آدمی اتنا بدذوق ہو جائے کہ شاعری کو فقہ کے پیمانے سے ناپنے لگے۔مجھ پر اللہ تعالیٰ کے بڑے احسانات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے مجھے استادِ گرامی جاوید احمد غامدی صاحب کے دروازے تک پہنچا دیا۔ بقدرِ ظرف ان سے معارف سیکھے اور آداب بھی۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ دین کی حقیقت جانی۔ یہ جانا کہ قرآن مجید کو کیسے سمجھنا چاہیے۔ راویوں نے رسالت مآبﷺ سے جو باتیں منسوب کیں ان کی حقیقت تک کیسے پہنچا جائے۔ ہماری علمی روایت نے جن علوم کی صورت میں ظہور کیا ان کا مقام و مرتبہ کیا ہے۔ فقہ‘ کلام اور تصوف کے باب میں ہونے والے مباحث کو سمجھنے کا قرینہ کیا ہے۔ روایت سے تعلق کیوں ضروری ہے اور جدید ہونے کا مفہوم کیا ہے۔ ان سوالات کے جواب اسی بارگاہِ علم سے ملے اور تادمِ تحریر ان پر فی الجملہ اطمینان ہے۔اس نظامِ فکر کی تفہیم میں شاہ کلید کی حیثیت ایک لفظ کو حاصل ہے۔ وہ ہے: خوش ذوقی۔ آدمی خوش ذوق نہ ہو تو قرآن مجید کے مفاہیم تک اس کی رسائی ہو سکتی ہے اور نہ وہ نبی کریمﷺ کے ارشادات کی حکمت کو جان سکتا ہے۔ اگر وہ عہدِ جاہلیت کی شاعرانہ روایت تک رسائی نہیں رکھتا تو اس پرکبھی یہ حقیقت منکشف نہیں ہو سکتی کہ قرآن مجید کس درجے کا ادب ہے۔ وہ اس راز سے کبھی واقف نہیں ہو سکتا کہ قرآن مجید کیسے زبان و بیان کا معجزہ ہے۔ وہ اسالیبِ کلام کے تنوع کو نہیں جان پاتا اور یہ بدذوقی فہمِ قرآن میں سب سے بڑا مانع ہے۔ قرآن ایک اسلوب کو رفعِ الزام کے لیے استعمال کرتا ہے اور اہلِ تفسیر اسے الزام کے معنی میں لے لیتے ہیں۔ &#39;تدبرِ قرآن ‘‘ اور &#39;&#39;البیان‘‘ اس کی مثالوں سے مملو ہیں۔ فہمِ قرآن کے باب میں فراہیِ دبستان کا سب سے قابلِ قدر اضافہ یہی ہے کہ اس نے لوگوں میں خوش ذوقی پیدا کی۔ انہوں نے سیدنا عمرؓ کے اس قول کی عملی شرح ہمارے سامنے رکھی کہ عہدِ جاہلیت کے اشعار یاد کرو کہ اس میں تمہاری کتاب کی تفسیر اور کلام کے معانی ہیں۔یہی معاملہ ارشاداتِ پیغمبر کا ہے۔ نبیﷺ نے کبھی کوئی بات آداب کے دائرے میں بیان کی اور لوگوں نے اسے احکام کے معنی میں لیا۔ کسی چیز کو تہذیب کے باب میں واضح کیا اور فقہا نے اسے حلال و حرام کا ماخذ مان لیا۔ کوئی بات آپﷺ نے نصیحتاً ارشاد فرمائی اور اسے واجب الاطاعت حکم کا درجہ دے دیا گیا۔ غامدی صاحب کی &#39;علم النبی‘ میں اس کے بے شمار شواہد جمع کر دیے گئے ہیں۔ مولانا مودودی نے کہیں یہ نکتہ بیان کیا ہے کہ جو آدمی مسلسل احادیث اور سیرت کا مطالعہ کرتا ہے وہ مزاج شناسِ پیغمبر ہو جاتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ عرب کی سب سے فصیح ہستی جب کلام کرتی ہے تو اس کا معیار کیا ہوتا ہے۔ جملہ خود بول اٹھتا ہے کہ وہ زبانِ پیغمبر سے صادر ہوا ہے یا نہیں۔ مکتبِ فراہی نے اس خوش ذوقی کو فہمِ دین میں اصل الاصول بنا دیا۔ جو اس رازکو پا لیتا ہے اسے یہ جاننے میں دقت نہیں ہوتی کہ قرآن ہو یا حدیث‘ کہاں الفاظ ظاہری مفہوم پر دلالت کر رہے ہیں اور کہاں مجازی معنوں میں ہیں۔ کہاں گریز ہے اور کہاں براہِ راست کلام کیا جا رہا ہے۔ یہ کہنے کی حاجت نہیں کہ یہ انسانی کاوش ہے جس میں غلطی کا پورا امکان ہے۔ یہاں صرف یہ بیان کرنا مقصود ہے کہ کلام کی تفہیم کے لیے خوش ذوقی کیوں لازم ہے۔میں نے جاوید صاحب کا جو مضمون سب سے پہلے پڑھا اور پھر ان کا اسیر ہو گیا وہ &#39;دبستانِ شبلی‘ کے عنوان سے ان کی کتاب &#39;مقامات‘ کا حصہ ہے۔ یہ سر تا پا ادب ہے۔ یہ پڑھنے والے پر ایک رومان کا دروازہ کھولتا ہے۔ میں اسی باب سے اس شہرِ علم میں داخل ہوا۔ اس مضمون سے متاثر ہو کر میں نے اسی عنوان سے ایک مضمون لکھا جو غالباً 1989ء میں &#39;اشراق‘ میں شائع ہوا۔ پھر جاوید صاحب سے علامہ اقبال کے کمالِ فن کی نمائندہ کتاب &#39;جاوید نامہ‘ بھی سبقاً سبقاً پڑھی۔ اس سے اقبال کی عظمت اور علم کا جو نقش قائم ہوا وہ ابھی تک سلامت ہے۔ معلوم ہوا ا قبال محض شاعر نہیں ہیں۔ وہ شاعری کی زبان میں زندگی کے بڑے حقائق سے متعارف کراتے ہیں۔ حقائق کو ادب کی زبان میں شاید ہی کسی نے اس کامیابی کے ساتھ بیان کیا ہو۔بڑے آدمی کا ایک نظامِ فکر ہوتا ہے۔ بلاتشبیہ عرض ہے کہ جس طرح دین کا عمومی تصور سامنے نہ ہو تو یہ طے کرنا مشکل ہے کہ قرآن و سنت میں کون سی بات احکام کے باب میں کہی گئی ہے‘ کہاں تہذیب کے دائرے میں کلام کیا جا رہا ہے‘ کہاں محض نصیحت کرنا مطلوب ہے اسی طرح اگر آپ اقبال کے مجموعی نظامِ فکر سے واقف نہیں ہیں تو آپ نہیں جان سکتے کہ کہاں وہ کمزور کی ہمت بندھا رہے ہیں‘ کہاں تقلید کے خوگر میں ذوقِ تحقیق پیدا کر رہے ہیں‘ کہاں تہذیبی احساسِ کمتر ی کے مریض کو پیغامِ شفا دے رہے ہیں‘ کہاں غلام کو انسانی تاریخ کے عروج و زوال کی داستان سنا کر اس کو جدو جہد پر آمادہ کر رہے ہیں اور کہاں عظمتِ رفتہ کی تلاش میں سرگرداں اپنی قوم کو نئے راستوں کی ضرورت اور اس کی مشکلات سے آگاہ کر رہے ہیں۔ ان سب سے ناواقفیت ان کے کلام کی تفہیم میں حجاب بن جاتی ہے۔ ایک بار پھر بلا تشبیہ عرض ہے کہ آپ پھر اقبال کے اشعار سے وہی سلوک کرتے ہیں جو ہمارے اہلِ تفسیر نے قرآن مجید سے کیا ہے۔ پھر وہ رفعِ الزام کو الزام کے معانی میں لے کر اس کو حسبِ ذوق معانی پہناتا ہے۔ پھر وہ شاعری سے عملی حکمتِ عملی کے اصول کشید کرتا اور استہزا کرتا ہے کہ دیکھو اقبال نے کیسے بچوں والی بات کر دی۔ دیکھیے‘ اقبال نے کس خوش ذوقی سے اس علمی کوتاہ قامتی کو بیان کیا ہے:تری نگاہ فرو مایہ، ہاتھ ہے کوتاہترا گنہ کہ نخیلِ بلند کا ہے گناہدینی علم سے واجبی سا تعلق رکھنے والا بھی جانتا ہے کہ اقبال دین کا ماخذ نہیں ہیں۔ دین کا واحد ماخذ اللہ کے آخری رسول سیدنا محمدﷺ کی ہستی ہے۔ ان کا دیا ہوا دین قرآن و سنت کی صورت میں ہمارے پاس محفوظ ہے۔ اب اقبال ہوں یا ابو حنیفہؒ‘ دین کے باب میں ان کے کلام کو اسی کسوٹی پر پرکھا جائے گا۔ تفہیم کے عمل میں مگر یہ سمجھنا ہو گا کہ ابو حنیفہؒ فقیہ ہیں اور اقبال شاعر و مفکر۔ دونوں کے فرمودات کو ایک پیمانے پر نہیں پرکھا جا ئے گا۔ اس فرق کو سمجھنے کے لیے خوش ذوق ہونا لازم ہے۔ فراہی دبستان کا بڑا احسان یہی ہے کہ اس نے اس بات کی اہمیت کو واضح کیا۔ یہ اسی کی فرع ہے کہ فہمِ دین ہی نہیں فہمِ اقبال کے لیے بھی خوش ذوقی لازم ہے۔ مجھ پر جاوید صاحب کا احسان ہے کہ انہوں نے میرے لیے اس بات کی تفہیم کو آسان کر دیا۔ اب مجھے دین کی باتوں کو سمجھنے میں کوئی دقت پیش آتی ہے نہ اقبال کے کلام کی تفہیم میرے لیے مشکل ہوتی ہے۔ مجھے یہ بھی معلوم ہو گیا ہے کہ رومان اور حقیقت پسندی میں تصادم نہیں اگر دونوں کو اپنے اپنے مقام پر رکھا جائے۔ رومان عزمِ سفر کو مہمیز دیتا ہے جب کہ حقیقت پسندی راستے کی مشکلا ت سے آگاہ کرتی اور ان سے بچنے کی تدبیر سجھاتی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پہلی اینٹ کو اکھڑنے سے بچانا چاہیے(خالد مسعود خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-05-16/51955/45289088</link><pubDate>Sat, 16 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-05-16/51955/45289088</guid><description>شاعرِ بے مثال چچا غالب کے پاس بہرحال بحیثیت شاعر یہ سہولت اور آسانی میسر تھی‘ ان کے پاس اپنا سر پھوڑنے کیلئے ایک سے زائد در موجود تھے‘ تبھی تو وہ فرماتے ہیں کہ: وفا کیسی کہاں کا عشق جب سر پھوڑنا ٹھہر؍ تو پھر اے سنگ دل تیرا ہی سنگِ آستاں کیوں ہو۔عاشقوں اور چچا غالب کی طرح لیکن ہم کالم نویسوں کو ایسی سہولت اور آسانی میسر نہیں کہ ایک در سے خیر نہ ملی تو دوسرے در پر جا دستک دی۔ سو ہم ایک ہی سنگِ آستاں پر روز سر پھوڑتے ہیں اور اگلے روز پھر اسی در پر بیکار میں وقت ضائع کرتے ہیں۔ ہم ناکام تو ہوتے ہیں مگر شکر ہے کہ ناامید نہیں ہوتے۔ بقول فیض:دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہے؍ لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہےسو ہم قلم گھسیٹنے والے آج لکھتے ہیں اور یہ دیکھنے کے باوجود کہ اس پر کوئی عمل نہیں ہوا کسی کے کان پر جوں نہیں رینگی‘ اصحابِ اقتدار واختیار نے لکھے کو پرِکاہ کی حیثیت نہیں دی کل دوبارہ اسی جذبے کے ساتھ لکھنا شروع کر دیتے ہیں۔ پڑھے کو حیثیت نہ دینے سے خیال آیا کہ لکھے کو حیثیت دینے کا امکان تو تب پیدا ہوتا ہے اگر کسی نے پڑھا ہو‘ لاپروائی‘ لاعلمی اور بے حسی کا یہ عالم ہے کہ جنہیں پڑھنا چاہیے وہ ایسی چیزیں سرے سے پڑھتے ہی نہیں اور جب پڑھا ہی نہیں تو کسی نے اس پر خاک عمل کرنا یا ایکشن لینا ہے۔ لیکن کیا اس بات پر لکھنے والا اپنا کام چھوڑ دے؟ ہم سے تو ہمارے کام کے بارے میں سوال ہوگا۔ ہمارے لکھے پر خرابی سدھارنے اور درستی کرنے یا نہ کرنے کا سوال انہی سے ہوگا جو اس کام کا اختیار رکھتے ہیں۔ اس سوال کا جواب ان کے ذمے ہے جنہیں مالکِ کائنات نے کچھ ذمہ داریاں سونپی ہیں۔ اب وہ جانیں اور ان کا کام‘ ہم تو اپنا کام کرنے کے ذمہ دار ہیں۔ ایسے موقعوں پر ہمیں اپنے بہت پیارے دوست کنور اعجاز راجہ کی ایک مرصع غزل یاد آ جاتی ہے۔ سب دھندوں کو چھوڑیں پہلے غزل سے لطف لیں۔اپنی خواہش میں جو بس گئے ہیں وہ دیوار و در چھوڑ دیں؍ دھوپ آنکھوں میں چبھنے لگی ہے تو کیا ہم سفر چھوڑ دیں؍ دست بردار ہو جائیں فریاد سے اور بغاوت کریں؍ کیا سوالی تیرے قصرِ انصاف زنجیرِ در چھوڑ دیں؍ جب لعابِ دہن اپنا تریاق ہے دست و بازو بھی ہیں؍ سانپ گلیوں میں لہرا رہے ہیں تو کیا ہم نگر چھوڑ دیں؍ شہر یاروں سے ڈر جائیں‘ ہم حق پرستی سے توبہ کریں؍ اپنے اندر بھی اک آدمی ہے اسے ہم کدھر چھوڑ دیں؍ ہم نے دیکھا ہے دریاؤں کا رُخ کنور شہر کی سمت ہے؍ شہر والے اگر بے خبر ہیں تو کیا بے خبر چھوڑ دیںایک طرف ہم جیسے لکھنے والے معترض ہیں تو دوسری طرف سرکار نے ہر بگڑے ہوئے کام کا حل یہ نکالا ہے کہ خرابی کی درستی کے بجائے خرابی کا باعث بننے والا ادارہ‘ محکمہ یا شعبہ سرے سے بند کر دیا جائے یا پرائیویٹائز کر کے جان چھڑوا لی جائے۔ تعلیمی ادارے‘ ہسپتال اور صفائی ستھرائی‘ سب پرائیویٹائز ہو رہے ہیں۔ ہر خرابی کا حل یہ نکالا ہے کہ خرابی کو ٹھیک کرنے کے بجائے خرابی کا بیج ہی مار دیا جائے تاکہ نہ ہوگا بانس نہ بجے گی بانسری۔ یہ عاجز کپاس کی بربادی اور کسمپرسی پر بارہا لکھ چکا ہے۔ سالانہ ایک کروڑ 50 لاکھ گانٹھ پیدا کرنے والے ملک کی پیداوار گھٹتے گھٹتے 50 لاکھ گانٹھ سے نیچے جا چکی ہے اور صورتحال کسی قسم کی بہتری کے بجائے مزید تنزلی کی طرف رواں دواں ہے۔ محکمہ زراعت کے اربابِ اختیار کے دعوے اپنی جگہ لیکن صورتحال یہ ہے کہ بہاولنگر‘ چولستان‘ سندھ اور بلوچستان کے کچھ علاقوں کے علاوہ کپاس کا مستقبل تاریک اور معاملہ تقریباً صاف ہو چکا ہے اور اس کی بنیادی وجوہات حکومتی کارکردگی‘ توجہ‘ مدد اور نگرانی سے چشم پوشی کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ کپاس کی فصل بارے تحقیق کرنے والے زرعی تحقیقاتی ادارے نہ تو ترقی دادہ نئے بیج ایجاد کر سکے اور نہ ہی وائرس کا کوئی حل نکال سکے۔ ضرورت تھی کہ زرعی سائنسدان کم وقت میں تیار ہونے والی کپاس کی ورائٹیاں متعارف کراتے‘ زیادہ حدت برداشت کرنے والی کپاس کی شروعات کرتے اور کم پانی سے اُگنے والی فصل کا اہتمام کرتے‘ لیکن یہ خود غرض اور لالچی زرعی سائنسدان کچی پکی اور دوسرے ممالک سے چوری شدہ میٹریل سے تیار کردہ اپنی نام نہاد ورائٹیاں بلیک میں بیچ کر نوٹ کماتے رہے اور کپاس کی فصل کا دھڑن تختہ ہو گیا۔سرکار کا کام تھا کہ زرعی سائنسدانوں کی کارکردگی کو مانیٹر کرتی‘ اُن کی تحقیق کے نتائج کو سامنے رکھتے ہوئے ان کے مستقبل کا تعین کرتی۔ اپنے زرعی تحقیقاتی اداروں کی کارکردگی پر نظر رکھتی‘ ان کے تحقیقاتی کام کی بنیاد پر ان کیلئے فنڈز مختص کرتی‘ ان کو تحقیقی کاموں کے ٹارگٹ دیتی اور ان کے نتائج کے حوالے سے جزا یا سزا کا میکانزم بناتی‘ مگر سائنسدان موج میلہ کرتے رہے‘ ادارے نالائقی کا نمونہ اور بے عملی کا گڑھ بن گئے جبکہ سرکار ستو پی کر سوئی رہی۔ ایسے تمام اداروں کی بربادی کا نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔ جب بربادی مکمل ہو گئی اور خرابی ناقابلِ اصلاح حد تک تنزلی کی آخری گہرائی پر پہنچ گئی تو سرکار نے اداروں سے ہی جان چھڑانے کی ٹھان لی۔ اٹھارہویں ترمیم کے بعد بہت سے ادارے تو صوبائی حکومتوں کے حوالے کر دیے گئے جن کے پاس ان اداروں کو چلانے کیلئے نہ تو مہارت ہی میسر تھی‘ نہ ان کو چلانے کیلئے پیسے تھے اور نہ ہی ان کو درست کرنے کا کوئی ارادہ یا نیت تھی۔ ایسے میں زرعی تحقیق کا کیا حشر ہونا تھا اس کے بارے میں زیادہ سوچنے اور تردد کرنے کی ضرورت نہیں۔ جہاں وفاقی حکومت نے زیادہ تر ایسے اداروں کو صوبائی حکومتوں کے حوالے کے اپنا بوجھ ہلکا کیا وہیں باقی ماندہ بچے کھچے اداروں میں بیج پر تحقیق کرنے کے بجائے ان کا ہی بیج مارنے کا منصوبہ بنایا اور انہیں پوری طرح غیر فعال اور سفید ہاتھی بننے کی کھلی چھوٹ دے دی تاکہ جب ان کا بوریا بستر لپیٹا جائے تو کسی کے پاس ان کو برقرار رکھنے کا کوئی جواز بھی موجود نہ ہو۔ملتان میں سینٹر ل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ کا قیام یکم جولائی 1970ء کو عمل میں آیا۔ پاکستان سینٹرل کاٹن کمیٹی کے زیرانتظام سینٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ پاکستان میں مکمل طور پر صرف کپاس کی تحقیق کیلئے وجود میں آنے والا پہلا ادارہ تھا۔ یہاں کپاس کے بہت سے متعلقہ شعبوں میں بہت قابلِ ذکر کام بھی ہوا اور اٹھائیس کے لگ بھگ نئے بیج بھی ایجاد ہوئے تاہم آہستہ آہستہ دیگر سرکاری اداروں طرح اسے بھی کرپشن‘ نااہلی‘ نالائقی اور آرام طلبی کی دیمک نے کھوکھلا کر دیا۔ اس طرح تحقیقی میدان میں شاندار کارکردگی کا حامل یہ ادارہ سفید ہاتھی بن گیا۔ یہی حال اس کے سرپرست ادارے پاکستان سینٹرل کاٹن کمیٹی کا ہوا۔ سرکار نے اسے فعال کرنے‘ متحرک بنانے اور نتائج دینے والا ادارہ بنانے کے بجائے اس سے جان چھڑانے کا سلسلہ شروع کر دیا۔ملتان میں 116 ایکڑ پر مشتمل کپاس کے اس قدیمی ادارے کیساتھ یہی کچھ ہو رہا ہے۔ اس کی 15 ایکڑ زمین پر جمخانہ بنانے کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ میں اس پروجیکٹ پر تنقید کسی منفی ذہنیت کے تحت نہیں کر رہا کہ میں ذاتی طور پر ملتان میں جمخانہ ٹائپ کسی اچھے سول کلب کا نہ صرف حامی ہوں بلکہ اسکے اولین محرکین میں سے ہوں‘ لیکن ریسرچ کے برباد شدہ ادارے کو بامقصد بنانے کے بجائے اسکی بندر بانٹ کے خلاف ہوں۔ جمخانہ کہیں اور بن سکتا ہے مگر یہ ادارہ مٹ گیا تو دوبارہ نہیں بنے گا۔ ایک بار پندرہ ایکڑ پر جمخانہ بننے دیں پھر دیکھیں کہ بقیہ 101ایکڑ کو شکرے کس طرح شکار کرتے ہیں۔ یہ پندرہ ایکڑ اس سلسلے کی پہلی کڑی ثابت ہوں گے۔ ایک اینٹ نکل جائے تو پھر باقی ساری دیوار چند ہی دنوں میں وجود سے عدم کا سفر طے کر لیتی ہے۔ 116ایکڑ پر مشتمل ایک زرعی تحقیقاتی ادارے کے حوالے سے یہ عاجز تو اس پہلی اینٹ کو اکھڑنے سے بچانے کی سعی کر رہا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90500073.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ڈرگ ڈیلر کی شاہانہ گرفتاری(ڈاکٹر حسین احمد پراچہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-05-16/51956/60670458</link><pubDate>Sat, 16 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-05-16/51956/60670458</guid><description>بعض خبریں اتنی خود وضاحتی ہوتی ہیں کہ مزید کسی تبصرے کی گنجائش کم ہی رہتی ہے۔12 مئی کو کراچی کی ایک عدالت میں منشیات مافیا کی سرغنہ انمول عرف پنکی جس انداز میں پیش ہوئی وہ دراصل ایک ایسا آئینہ تھا جس میں ہمارے ملک کا معاشرتی و سیاسی‘ قانونی عملداری‘ حکومتی گورننس اور پولیس کا چہرہ دیکھا جا سکتا ہے۔ ملزمہ بغیر ہتھکڑی عدالت کی راہداریوں میں آزادانہ گھوم رہی تھی‘ اور اُس کے پیچھے پیچھے تفتیشی پولیس افسر ہاتھ باندھے چل رہا تھا۔مذکورہ ڈرگ کوئین کہیں سے اچانک نمودار نہیں ہوئی۔ ملزمہ کے بقول وہ تیرہ برس سے کوکین‘ کرسٹل اور آئس وغیرہ فروخت کر رہی ہے۔ وہ یہ خصوصی منشیات بحفاظت کلائنٹس تک پہنچانے کی شہرت رکھتی تھی۔ ایک بار وہ لاہور میں گرفتار ہوئی اور کئی بار گرفتاری سے بال بال بچی یا مبینہ طور پر اس کے ایلیٹ کلائنٹس اور اس سے مالی طور پر فیض یاب ہونے والوں کے اشارے پر بچالی گئی۔ سندھ حکومت کی معصومیت ملاحظہ ہو‘ اس کا کہنا ہے کہ کئی بار ملزمہ کو گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی مگر کامیابی نہ ہوسکی۔ کسی مطلوب یا نامطلوب سیاستدان کو گرفتار کرنا ہو تو کیا ہماری حکومتیں اسی عدم دلچسپی والے انداز سے کام کرتی ہیں؟ ملزمہ کراچی کی سڑکوں اور گلیوں میں موت بانٹنے کا بھیانک نیٹ ورک چلا رہی تھی اور زبانِ حال سے کہہ رہی تھی کہ روک سکو تو روک لو۔ اگر کوئی ایک نمبر تفتیش ہوئی تو معلوم ہو جائے گا کہ اس پر کس کس کا دستِ شفقت تھا۔ اس کہانی میں کئی پردہ نشینوں کے نام آتے ہیں۔اس ڈرگ ڈیلر کا سب سے بڑا صارفین اور لیڈیز رائیڈر نیٹ ورک کراچی میں تھا اور منشیات کی ڈبیوں پر &#39;&#39;کوئین‘ میڈم پنکی ڈان‘‘ لکھا ہوتا تھا۔ ان منشیات کی ایک بڑی پروڈکشن فیکٹری لاہور میں تھی۔ ملزمہ اپنے برانڈز اپنی زیر نگرانی مخصوص نسخے کے مطابق خود تیار کرواتی تھی اور کہا کرتی تھی کہ ان منشیات میں کوئی اس کا ثانی نہیں۔ ابتدائی تفتیش میں یہ بات ثابت ہو گئی کہ اس میدان میں اور بھی بہت سے ڈرگ ڈیلرز ہیں جو نوجوانوں کو موت کے منہ میں دھکیل رہے ہیں مگر ملزمہ پنکی کے مقابلے کا کوئی نہیں۔ ملزمہ ایامِ جوانی سے پوش علاقوں کی ہائی فائی پارٹیوں میں شرکت کر رہی تھی۔ وہ اس کلاس کے &#39;&#39; آدابِ محفل‘‘ سے بخوبی آگاہ تھی۔ اس کے کلائنٹس میں پوش علاقوں کے علاوہ عام آبادیاں بھی شامل تھیں۔ تاہم اس کی سب سے بڑی شکار گاہیں تعلیمی ادارے تھے۔ آج تیرہ برس بعد کراچی پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے ملزمہ کو &#39;&#39;خفیہ معلومات‘‘ کی بنا پر گرفتار کیا۔ ناطقہ سر بگریبان ہے اسے کیا کہیے۔یہاں اہم ترین سوال یہ ہے کہ کیا طرح طرح کی پولیس‘ اس کے مدد گار رینجرز اور اینٹی نارکوٹکس کا وسیع اختیارات رکھنے والے ادارے کو اس بات کی کانوں کان خبر نہ ہوئی۔ کراچی کا عام آدمی بھی جانتا تھا کہ ملزمہ پنکی سوشل میڈیا اور واٹس ایپ کے ذریعے اپنا نیٹ ورک چلاتی تھی۔ اگر واقعی ایسا ہی ہے کہ سندھ پولیس اتنی بے خبر تھی تو یہ بڑی تشویش کی بات ہے۔ کئی برس سے دنیا بھر کے ادارہ برائے انسدادِ منشیات‘ یو این او اور باخبر میڈیا ہائوسز خبر دار کر رہے تھے کہ پاکستان میں منشیات کی لت ایک بہت بڑا معاشرتی‘ صحت اور لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ بن چکا ہے۔ اقوام متحدہ کے شعبہ برائے انسدادِ منشیات اور جرائم نے 2012ء اور 2013کے دوران پاکستان میں منشیات کے عادی لوگوں کے اعداد و شمار اکٹھے کرنے کیلئے ایک سروے کروایا تھا۔ اس سروے کے مطابق تقریباً 70لاکھ لوگ اس موذی لت کا شکار ہوئے۔ ان میں سے تقریباً 45لاکھ لوگ زندگی کی دوڑ سے باہر ہو کر ایڑیاں رگڑنے کی کیفیت میں مبتلا ہو چکے تھے۔ہماری قومی کارکردگی کا اندازہ کر لیجئے کہ 2025ء کے آخر میں قومی اسمبلی کے ارکان کو ایک سوال کے جواب میں حکومتی بنچوں سے بتایا گیا کہ 2012ء کے بعد منشیات کے حوالے سے پاکستان میں کوئی سروے نہیں ہوا۔ اس لیے حتمی اعداد و شمار پیش کرنے سے معذرت کی گئی۔ حال ہی میں بعض اداروں کی طرف سے اکٹھی کی گئی معلومات کے مطابق تقریباً 90لاکھ پاکستانی اس موذی لت کا شکار بن چکے ہیں۔ہماری جمع کردہ معلومات کے مطابق کیمیائی منشیات‘ آئس‘ ہیروئن اور درد کش ادویات کی بھاری مقدار بطور نشہ استعمال کرنے کی لت نوجوانوں میں بڑی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔یو این او ڈرگ کنٹرول شعبے نے خبر دار کیا ہے کہ پاکستان میں &#39;&#39;اعلیٰ کوالٹی‘‘ منشیات کیمیکلز سے بنائی جا رہی ہیں جو اور بھی جان لیوا ہوتی ہیں۔ یہ صرف پوش علاقوں تک محدود نہیں کراچی کے لیاری جیسے غریب اور پسماندہ علاقوں میں بھی استعمال کی جا رہی ہے۔ کراچی‘ لاہور اور پشاور میں کالج اور یونیورسٹیاں ان منشیات کے استعمال کے خاص ٹھکانے ہیں۔ کراچی کے ایک بحالی سنٹر میں ایک 22 سالہ لڑکی نے نشے کی لت اختیار کرنے کے بارے میں اپنا تفصیلی قصۂ درد سنایا تھا‘جسے بی بی سی سے نشر کیا گیا تھا۔ اس درد ناک کہانی کا خلاصہ یہ تھا کہ مختلف نفسیاتی و معاشرتی پریشانیوں کیلئے اس نے ایک لڑکے کے ساتھ دوستی کر لی۔ اس کا کہنا یہ تھا کہ وہ لڑکا خود تو نشہ کرتا ہی تھا‘ مجھے بھی لا کر دیتا تھا۔ ملک کی وفاقی اور صوبائی حکومتیں اتنی غافل ہیں کہ انہیں اس جان لیوا آفت کا یا تو کما حقہٗ اندازہ نہیں یا اس کا انسداد ان کی ترجیحات میں شامل نہیں۔ اس لت میں مبتلا 90لاکھ لوگوں کے علاج اور بحالی کیلئے ملک میں جو سرکاری و غیر سرکاری سنٹرز ہیں‘ وہ صرف 30ہزار افراد کیلئے کافی ہیں۔عالمی اداروں کے سروے کے مطابق پاکستان کے سرکاری بحالی سنٹرز کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ ہے۔ کراچی کے ایک ویلفیئر بحالی سنٹر کی ایک ماہر نفسیات کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس جو کیسز آ رہے ہیں ان میں طالبات‘ ایئر ہوسٹسز اور نرسوں کے گروپوں کے گروپ شامل ہیں۔ ماہر نفسیات کے بقول ان کے گھر والوں کو پتا نہیں کہ ان کی بچیاں کیا کرتی ہیں۔ ماڈرن بننے کی بھیڑ چال بالعموم فیشن ایبل یونیورسٹیوں میںہائی فائی پارٹیاں‘ لڑکوں کے ساتھ دوستیاں اور بعد میں نشہ کی موذی عادت کا شکار میاں بیوی اور ان کی نشہ زدہ اولاد کے بارے میں سوچ کر روح فنا ہو جاتی ہے مگر یہاں حکومتوں‘ تعلیمی اداروں‘ دینی و فلاحی تنظیموں کو تباہی کی اس دلدل میں دھنستے ہوئے مصیبت زدہ نوجوانوں کی کوئی فکر نہیں۔اب آیئے حکومتی&#39;&#39;گڈ گورننس‘‘ اور معاشرتی مسائل میں ان کی &#39;&#39;دلچسپی‘‘ کی طرف۔ اصل بات ترجیح کی ہے جس قومی اسمبلی نے اعتراف کیا کہ 2012ء کے بعد ملک میں منشیات کے حوالے سے کوئی سروے نہیں ہوا‘ اسی سینیٹ اور قومی اسمبلی کے ارکان نے اپنی ترجیحات کے مطابق فروری 2025ء میں ایک بل کے ذریعے اپنی ماہانہ تنخواہ ایک لاکھ 80ہزار سے بڑھا کر پانچ لاکھ 19ہزار کر لی ہے۔ اس کے بعد یہ ممبران یہ کہہ کر زخموں پر نمک یوں چھڑکتے ہیں کہ غریب ہی نہیں ہم ایلیٹ بھی مہنگائی سے متاثر ہوتے ہیں۔ کیا کم از کم 20لاکھ ماہانہ مراعات لینے والا اور 30ہزار ماہانہ کمانے یا 60ہزار میں سے اڑھائی فیصد ٹیکس کٹوانے والا سفید پوش کلرک برابر ہو سکتے ہیں۔ 2026ء میں ارکانِ اسمبلی نے ایک اور بل کے ذریعے اپنے اور اپنی اولادوں اور مستقبل میں اپنے سابق ہونے کے باوجود بلیو آفیشل پاکستانی پاسپورٹ کا حق محفوظ کر لیا ہے۔ یہ سب ترجیحات کا حوالہ ہے۔ ایڑیاں رگڑ رگڑ کر زندہ درگور ہونا موت سے کہیں بڑا صدمہ ہے۔ڈرگ مافیا کی سرغنہ انمول عرف پنکی کی دبنگ انٹری ہمیں نہ صرف چونکا گئی ہے بلکہ بہت کچھ سمجھا بھی گئی ہے مگر یہاں سمجھنے والا کوئی نہیں تاہم تیرہ برس سے باخبر ہو کر بے خبر بنے رہنے والے حکمرانوں‘ افسروں اور سیاستدانوں کی بھی خبر لی جانی چاہیے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_70033906.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>خود غرض اشرافیہ اور غریب عوام(افتخار احمد سندھو)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/iktakhar-ahmed-sandhu/2026-05-16/51957/93852063</link><pubDate>Sat, 16 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/iktakhar-ahmed-sandhu/2026-05-16/51957/93852063</guid><description>جس کے پاس کھونے کے لیے کچھ نہ ہو اس کا کوئی کیا بگاڑ سکتا ہے‘ لہٰذا جس نے بھی کہا ہے بالکل ٹھیک کہا ہے کہ کوئی دشمن ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا کیونکہ ہم نے اپنا بہت کچھ خود ہی بگاڑ لیا ہے۔ ہم آئی ایم ایف کے رحم وکرم پر ہیں اور قرض لینے کے لیے اس کا ہر جائز وناجائز مطالبہ اور شرطیں مان رہے ہیں۔ حکمرانوں کی بے حسی کے باعث پاکستان کے غریب عوام اس وقت مہنگائی کی چکی میں پس رہے۔ ان کے پاس کھونے کو کچھ نہیں ہے‘ اس لیے کوئی دشمن ان کا کچھ بگاڑ نہیں سکتا کیونکہ اس ملک کے غریب عوام کے پاس کھانے کو روٹی ہے نہ پہننے کے لیے کپڑا اور نہ ہی سر چھپانے کے لیے مکان ہے۔ یہ وہ بنیادی ضرریاتِ زندگی ہیں جن سے پاکستان کے 25میں سے 18کروڑ عوام محروم ہیں۔ لاہور جیسے ترقی یافتہ میٹرو پولیٹن سٹی میں روزانہ لاکھوں افراد بھیک مانگ کر کھانا کھاتے ہیں۔ اقبال ساجد نے اس امر کی عکاسی کچھ یوں کی ہے: آج کے دن بھی مرا رزق نہ مجھ پر اُترا ؍ آج کے دن بھی پڑوسی مرے رازق ٹھہرے۔لاہور میں آج بھی ہزاروں بے گھر افراد پارکوں‘ سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر سوتے ہیں اور ان میں سے اکثر کے پاس اپنا پورا بدن ڈھانپنے کیلئے کپڑے بھی نہیں ہیں؛ البتہ اسی عالم میں مرنے کے بعد انہیں کفن کی صورت میں کسی رفاہی ادارے کی طرف سے فراہم کردہ کورے لٹھے کا لباس اور قبر کی صورت میں مستقل مکان مل جاتا ہے۔ تفریق کا یہ سفر مرنے کے بعد بھی جاری رہتا ہے۔ بقول شاعر: رہا تفریق کا سفر جاری بعد از مرگ بھی محسن ؍ نہ قبریں ایک جیسی ہیں نہ کتبے ایک جیسے ہیں۔مقتدر طبقات کے ہاتھوں ملک کے حالات کو دیکھیں تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ ہر طرف گہری مایوسی اور بے بسی ہے۔ زندگی میں غریب آدمی کی اب کوئی امید پوری نہیں ہوتی اور کوئی راستہ یا حل نظر نہیں آتا جو عام آدمی کے دکھوں کو کم کر سکے۔ جب ہر طرف تاریکی اور مایوسی ہوتی ہے تو ہر مسئلے یا ضرورت کا حل ناممکن لگتا ہے۔ شرمناک مہنگائی میں غریب آدمی کو مر مر کر زندہ رہنا پڑ رہا ہے۔ اس کا دن کا چین اور رات کی نیند حرام ہو چکی ہے۔ لیکن بے حس حکمرانوں کو بالکل بھی اس کا خیال نہیں آتا۔ بقول غالب:کوئی امید بر نہیںآتی ؍ کوئی صورت نظر نہیںآتی۔سولر کی صورت میں سورج کی روشنی کے بعد اور اب &#39;پانی پر ٹیکس‘ لگنے جا رہا ہے۔ اگلا مرحلہ سانس پر ٹیکس ہوگا؟ اگر آپ گھر کے اندر بھی استعمال کیلئے زیر زمین پانی نکالنا چاہتے ہیں تو حکومت کو ٹیکس دینا ہو گا۔ موٹر آپ کی‘ بجلی آپ کی‘ بور آپ کا‘ سارا خرچہ آپ کا اور اس پر بھی کئی قسم کے ٹیکس جبکہ الگ سے پانی پر ٹیکس بھی دینا ہو گا۔ یعنی اب حکومت نے غریب عوام کو پیاسا رکھ کر مارنے کا پلان بنا لیا ہے۔ حکومت خود پانی نہیں دے گی اور زمین سے پانی نکالنے کی اجازت کی صورت میں ٹیکس لے گی۔ روشنی کے بعد پانی پر ٹیکس۔ اب اگلے مرحلے میں شاید سانس پر بھی ٹیکس لگایا جائے گا لہٰذا زندہ رہنا ہے تو سورج کی روشنی‘ ہوا اور پانی پر بھی ٹیکس دینا ہو گا۔ہر تل پہ ہر رخسار پہ بھی ٹیکس لگے گا ؍ اب وصل کے اصرار پہ بھی ٹیکس لگے گا؍ بھر جائے گا اب قومی خزانہ یہ ہے امکاں؍ ہر عشق کے بیمار پہ بھی ٹیکس لگے گا؍ اب باغ کی رونق کو بڑھائے گا بھلا کون؍ ہر پھول پہ ہر خار پہ بھی ٹیکس لگے گااس امر میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان اشرافیہ کی چرا گاہ اور اس ملک کے غریب عوام ان کا پسندیدہ چارہ بنے ہوئے ہیں۔ حکومت اپنی نالائقی‘ عیاشی اور لوٹ مار کو عالمی مارکیٹ میں پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے بہانوں کے پیچھے چھپا رہی ہے‘ لیکن ایسا ممکن نہیں۔ یہ صرف ایک بہت بڑی اور منظم واردات کے حقائق چھپانے کی کوشش ہے کہ حکومت کاکوئی قصور نہیں‘ عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہو چکا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا حکومت سچ بول رہی ہے‘ یا یہاں بھی عوام سے ہاتھ کیا جا رہا ہے؟ درحقیقت حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کو کمائی کا بڑا ذریعہ بنا لیا ہے‘ پٹرول اور ڈیزل مہنگا ہونے کی وجہ عالمی سطح پر مہنگائی نہیں‘ اگر ایسا ہوتا تو پورے ایشیا میں سب سے زیادہ مہنگا پٹرول پاکستان میں ہی کیوں ہوتا؟ ہم تو آبنائے ہرمز کے بالکل دروازے پر بیٹھے ہیں‘ پوری دنیا کیلئے بند ہونے والی آبنائے ہرمز پاکستان کیلئے تو ایک روز بھی بند نہیں ہوئی۔ جو ممالک یہاں سے ہزاروں کلومیٹر دور ہیں‘ جہاں تک آئل ٹینکر پہنچانے میں ان کا پاکستان سے بہت زیادہ خرچ آتا ہے‘ ان میں بھی پٹرول اتنا مہنگا نہیں۔ بھارت‘ بنگلہ دیش اور حتیٰ کہ ڈیفالٹ کر جانے والے ملک سری لنکا میں بھی پٹرول پاکستان کی نسبت سستا ہے۔ اس وقت پاکستان میں پٹرول تقریباً 417 روپے فی لٹر ہے‘ پٹرول پر فی لٹر 200 روپے کے صرف ٹیکسز عائد ہیں‘ ٹیکسز کے بغیر پٹرول کی قیمت صرف 215 روپے بنتی ہے‘ پٹرول کی قیمت میں پریمیم‘ لیوی ٹیکس‘ کسٹم ڈیوٹی‘ تیل کمپنیوں کا منافع‘ ڈسٹری بیوشن مارجن‘ فریٹ مارجن اورکلائمیٹ سپورٹ لیوی بھی شامل ہے۔ یہی حال ڈیزل کا ہے۔ یہ ہے وہ اصل واردات جس نے پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو آسمان پر پہنچا دیا ہے‘ اور یہ براہِ راست حکومت کی ناکامی کی عملی مثال ہے۔ حکومت کو سال بھر سرکاری ادارے چلانے اور سود کی قسطیں ادا کرنے کیلئے جو ہزاروں ارب روپے درکار ہوتے ہیں ان کو اکٹھا کرنا ایف بی آر کا کام ہے۔ ایف بی آر کی ذمہ داری ہے کہ وہ بڑے بڑے مگرمچھوں سے ٹیکس اکٹھا کرے جس سے حکومتی خرچے پورے کیے جا سکیں۔ لیکن یہ اربوں روپے کمانے والوں کو ٹیکس چوری کروا دیتے ہیں اور سارا بوجھ ان غریبوں پر ڈال دیا جاتا ہے جن سے ٹیکس لینا ریاست کیلئے جائز ہی نہیں۔ جن بیچارے غریبوں کو سہارا دے کر غربت سے نکالنا ریاست کی ذمہ داری ہے ریاست الٹا اُن سے پٹرول‘ گیس اور بجلی کی قیمتوں میں ٹیکس وصولیاں کر رہی ہے اور وہ روز بروز خطِ غربت کی لکیر کے نیچے دھنستے چلے جا رہے ہیں۔ اگر ٹیکس اسی طرح بجلی‘ گیس اور پٹرول کی قیمتوں میں ہی ڈال کر لینا ہے تو پھر ایف بی آر کی کیا ضرورت ہے؟ کم از کم ان کی عیاشیوں پراٹھنے والے اربوں روپے تو بچیں گے۔ابھی میں نے آئی پی پیز کو دینے والے سالانہ دو ہزار ارب روپے کا ذکر نہیں کیا جو حکومت اشرافیہ‘ حکومت میں ہی بیٹھے مافیاز اور ان کے رشتے داروں کو بجلی بنائے بغیر ہی دے رہی ہے۔ آئی پی پیز کو لگام نہ ڈالی گئی تو یہ خدانخواستہ ملک کو لے ڈوبیں گے۔ ابھی ان 500 ارب روپے کا کوئی ذکر نہیں‘ جو چند درجن شوگر ملز مالکان نے چینی کی مصنوعی قلت پیدا کرکے غریب عوام کی جیبوں سے نکالے۔ ابھی ان 300 ارب روپے کا ذکر بھی نہیں‘ چند گھی ملز مالکان نے پوری دنیا میں سویا بین سستا ہونے کے باوجود پاکستان میں گھی کی قیمتیں کم نہ کرکے غریبوں کی جیبوں سے نکالے ہیں۔ ابھی ان 17 ارب ڈالرز کا بھی ذکر نہیں‘ جو آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کا حکمران طبقہ اپنی مراعات پر لگا دیتا ہے۔ ان وارداتوں پر کوئی نہیں بولے گا۔ کوئی ہزاروں ارب روپے کے یہ سرکاری خرچے کم نہیں کروائے گا۔ حکمرانوں کو تازیانہ برسانے کیلئے فقط غریب کی ننگی کمر ہی نظر آتی ہے جو پہلے ہی مرا ہوا ہے‘ جس کو دو وقت کی روٹی بھی میسر نہیں‘ جس کے بچوں کے تن پر کپڑے نہیں‘ جس کے بچے سکول نہیں جا سکتے ہیں‘ جن کے گھر مریض کو دینے لیے دوا تک نہیں۔ اور جن کا کوئی پُرسانِ حال نہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/228_40817243.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پٹھان کوٹ سے جوہر آباد تک(نسیم احمد باجوہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/naseem-ahmed-bajwa/2026-05-16/51958/95021142</link><pubDate>Sat, 16 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/naseem-ahmed-bajwa/2026-05-16/51958/95021142</guid><description>28 جون 1880ء کو مشرقی پنجاب کے ایک دور افتادگائوں ماہی پور میں پیدائش اور 24 فروری 1976ء کو (پاکستا نی) پنجاب کے ضلع خوشاب کے نوآباد شہر جوہر آباد میں وفات۔ 96 برس عمر پائی۔ بلاشبہ وہ ایک بڑے آدمی تھے۔ قیامِ پاکستان کے بعد پٹھانکوٹ سے ہجرت کر کے صحرائے تھل میں آباد ہوئے اور اُس وطن میں انہوں نے 29 برس قدرے گمنامی میں گزار دیے جس کے بنانے میں اُن کا بھی کردار تھا۔ وہ ایک ہمہ جہت شخصیت تھے‘ علم دوست‘ سول انجینئر‘ بڑے سرکاری افسر‘ زمیندار‘ کاشتکار‘ دارالعوام تحریک اور وقف کے بانی۔ پیدائش پر ان کا نام نیاز علی رکھا گیا‘ بڑے ہوئے تو نام سے پہلے چودھری اور آخر میں خان کے الفاظ کا اضافہ ہوا۔ خان راجپوت ہونے کی وجہ سے (حکومت نے &#39;خان‘ کا خطاب بھی دیا تھا) اور چودھری بڑا زمیندار ہونے کی وجہ سے۔ وہ چار بھائیوں میں سب سے بڑے تھے‘ دو بیٹوں اور تین بیٹیوں کے والد تھے۔ ان کا ایک بیٹا‘ محمد اعظم خان اعلیٰ تعلیم یافتہ تھا اور میرے دوستوں میں شامل تھا۔ 1900ء میںاُنہوں نے روڑکی میں تھامسن کالج آف سول انجینئرنگ سے انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی۔ اُن کے تین مشاغل تھے: اسلامی فلسفہ‘ تاریخ اور تفاسیر کا مطالعہ‘ گھڑ سواری اور فوٹو گرافی۔ اُن کے پاس کیمرے کافی تعداد میں تھے اور اپنی اتاری ہوئی تصاویر کو وہ خود ہی ڈویلپ کرتے تھے۔ پچاس کی دہائی کے نصف میں میری اُن کے بیٹے سے ملاقات ہوئی اور ساٹھ کی دہائی میں اُن سے‘ جب وہ خاصے ضعیف ہو چکے تھے مگر جذبہ جوان تھا۔ میرے مرحوم والد نے پچاس کی دہائی میں جوہرآباد میں چار کنال زمین خرید کر وہاں اپنا کشادہ مکان تعمیر کرایا اور ہم نے 1959ء میں وہاں رہنا شروع کر دیا۔ اُن دنوں چودھری نیاز علی خان کا پاکستان میں وہی بلند مقام تھا جو حکیم محمد سعید‘ سردار عبدالرب نشتر‘ جسٹس کیانی‘ فیض احمد فیض اور ان جیسی دوسری بلند پایہ شخصیات کا۔ فرق (اور بہت بڑا فرق) یہ ہے کہ چودھری صاحب صوفی منش اور درویش صفت انسان تھے۔ لائم لائٹ سے بہت دور۔ 1947ء سے پہلے دامنِ کوہ میں رہتے تھے اور ہجرت کے بعد ایک صحرا کی مشرقی سرحد پر۔ جوہر آباد میں گنتی کے پڑھے لکھے لوگوں کے سوا انہیں قصبہ نما شہر میں کوئی نہیں جانتا تھا۔ اہلِ پنجاب بالخصوص اور اہلِ پاکستان بالعموم اُن کے وجود اور اُن کی گراں قدر خدمات سے ناواقف تھے (اور غالباً آج تک ہیں)۔ دوسرے نوآبادیاتی ممالک کی طرح یہاں بھی ملک گیر تعارف اور شہرت کے لیے تعلقاتِ عامہ کے فن کا ماہر ہونا ضروری ہے۔ منیر نیازی ساہیوال چھوڑ کر لاہور منتقل نہ ہوتے تو مجید امجد کی طرح کبھی شعرا کی صفِ اول میں جگہ نہ بنا پاتے۔ لائل پور (فیصل آباد) میں تمام عمر بسر کرنے والے بہت اچھے شاعر احمد ریاض نے بھی مضافات میں رہنے کی سزا پائی۔میرے والد مرحوم ڈاکٹر تھے اور چودھری صاحب کے ذاتی معالج۔ &#39;مریض‘ کی صحت ایسی تھی کہ اُس نے ڈاکٹر کے ساتھ دوستانہ رشتہ احتیاطی تدبیر کے طور پر قائم کر رکھا تھا۔ چودھری صاحب خلوت پسند اور اتنے کم گو تھے کہ ملنے والے کسی بھی شخص کی ہمت نہ پڑتی تھی کہ وہ اُن سے وہ تمام سوالات پوچھ پائے جو اُس کے ذہن میں اُبھرتے تھے۔ چودھری صاحب کی شخصیت عالمانہ اور بزرگانہ تھی۔ سفید داڑھی اُن کے چہرے پر بڑی سجتی تھی۔ اُنہوں نے برٹش انڈیا دور میں پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ (PWD) میں بطور انجینئر فرائض سرانجام دیتے ہوئے پٹھانکوٹ سے ڈلہوزی تک پہاڑی علاقے میں 80 کلومیٹر لمبی سڑک تعمیر کرائی۔ جب معدنیات کے محکمہ سے وابستہ ہوئے تو کھیوڑہ کی نمک کی کان (جو دنیا کی دوسری بڑی نمک کی کان ہے) میں کمال کی سرنگ بنوائی۔ دورانِ ملازمت شمال مغربی سرحدی صوبے (موجودہ خیبر پختونخوا) میں سیلاب سے ٹوٹ جانے والے ایک آبی ذخیرے کی مرمت کی ذمہ داری سونپی گئی۔ مرمت شروع ہوئی تو مقامی قبائل نے عملے پر فائرنگ کر دی۔ چودھری صاحب نے اپنی رائفل سنبھالی اور چند کارکنوں کے ہمراہ حملہ آوروں کے پاس گئے اور اُنہیں سمجھایا کہ ڈیم مقامی لوگوں کو زراعت اور آبپاشی کیلئے پانی فراہم کرے گا۔ حملہ آوروں نے اُن کی بات مان لی اور مرمت کا کام امن وسکون سے دوبارہ شروع ہو گیا۔ برٹش انڈین حکومت اس کارنامے سے اتنی خوش ہوئی کہ انہیں تمغۂ شجاعت دیا‘ جو صرف فوجی افسروں کو دیا جاتا ہے۔ 1931ء میں انگریز گورنر جنرل (لارڈ ولنگڈن) نے انہیں &#39;&#39;خان صاحب‘‘ کا اعزازی خطاب دیا۔ وہ سرکاری ملازمت سے 1935ء میں ریٹائر ہوئے اور پھر جمالپور میں اپنی ہزاروں ایکڑ پر پھیلی زمین پر اعلیٰ معیار کی کاشتکاری کی اور ایک لاکھ روپے (آج کے دسیوں کروڑ روپے) خرچ کر کے ایک شاندار گھر بنوایا۔ اسی دوران بہت سے ضرورت مند اور مستحق افراد کی مالی امداد اور اپنی زمین کا ایک قطعہ وقف کر کے انہوں نے اپنی آخرت بھی سنوارنا شروع کر دی۔چودھری نیاز علی کا علامہ اقبال کے گھر اور ان کی محفلوں میں شرکت کا سلسلہ شروع ہوا تو وہ ان کے اتنے قریب ہو گئے کہ علامہ اقبال نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ تحقیق‘ تصنیف اور ترجمہ وتفسیر کا ادارہ قائم کریں تاکہ سرسیّد احمد خاں کی اجتہادی تحریک کے کام کو آگے بڑھایا جا سکے۔ چودھری صاحب نے اس مشورے کو قبول کرتے ہوئے دارالسلام کے نام سے ایک ادارہ اور وقف بورڈ قائم کیا اور اپنی جاگیر سے 66 ایکڑ زمین کا عطیہ دیا۔ جن بڑی عالم اور فاضل شخصیات نے اس ادارے سے وابستہ ہو کر فکر کے نئے چراغ جلائے اُن میں مولانا امین احسن اصلاحی‘ مولانا صدر الدین اصلاحی‘ علامہ محمد اسد‘ لاہور سے میاں نظام الدین‘ گورداسپور سے شیخ محمد یوسف (بیرسٹر)‘ چودھری رحمت علی اور میاں صلاح الدین کے نام قابلِ ذکر ہیں۔ 1940ء میں اس ادارہ نے &#39;&#39;دارالسلام‘‘ کے نام سے ایک ماہنامہ جریدے کی اشاعت شروع کی۔ چودھری صاحب نے علامہ اقبال سے درخواست کی کہ وہ اس ادارے کی نظامت کیلئے کوئی موزوں شخص نامزد فرمائیں۔ غلام احمد پرویز کا نام تجویز ہوا‘ جو اُس وقت &#39;&#39;طلوع اسلام‘‘ کے نام سے جریدہ شائع کرتے تھے۔ انہوں نے قائداعظم سے یہ کام چھوڑ کر دارالسلام جانے کی اجازت مانگی جو اُنہیں نہ مل سکی۔ اسی دوران چودھری صاحب سے حیدرآباد دکن میں مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کا تعارف ہوا۔ چودھری نیاز نے مولانا مودودی کو اپنے پاس بلایا اور اُنہیں اتنا ہی موزوں شخص پایا جتنا کہ اُنہیں درکار تھا۔ چودھری نیاز ہی مودودی صاحب کے پٹھانکوٹ میں میزبان بنے اور انہیں علامہ اقبال سے ملوانے بھی لے گئے جنہوں نے مودودی صاحب کو پسند فرمایا۔ مولانا کی عمر اُس وقت محض 35 برس تھی۔ مولانا مودودی نے 1941ء میں پٹھانکوٹ میں قیام کے دوران ہی جماعت اسلامی کی بنیاد رکھی۔ نظریاتی اختلاف کی وجہ سے چودھری صاحب اس میں شامل نہ ہوئے اور مسلم لیگ کی سطح پر سرگرم رہے۔ قیام پاکستان سے متعلق نظریات نے دونوں کو ایک دوسرے سے جدا کر دیا۔ بعد ازاں مولانا مودودی نے اچھرہ‘ لاہور میں جماعت اسلامی کا دفتر بنایا اور چودھری صاحب نے 150 میل دور جوہرآباد کو اپنا مسکن بنایا۔ انہوں نے دارالسلام کا ادارہ وہاں بھی قائم کیا مگر برائے نام‘ جو نہ کوئی کتاب شائع کر سکا‘ نہ جریدہ اور نہ ہی کسی عالمانہ مذاکرے کا میزبان بنا۔ مگر ان کا ماضی اتنا درخشندہ تھا کہ علامہ محمد اسد اپنی اہلیہ کے ساتھ انہیں ملنے خصوصی طور پر جوہر آباد گئے اور وہاں چند روز انہیں شرفِ میزبانی بخشا۔ یہ بھی بہت کم دیکھنے میں آیا ہے کہ میزبان اور مہمان دونوں بلند مرتبت شخصیات ہوں۔ 96 برس کی عمر میں انتقال کے بعد‘ جس میں آخری تین عشرے قدرے خاموشی اور گمنامی کے ہیں‘ جب چودھری صاحب کو جوہر آباد کے اپنے گھر کے احاطہ میں ہی سپردِ خاک کیا گیا تو ان کا بنایا ہوا ادارہ بھی اُن کے ساتھ دفن ہو گیا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_32258580.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>آیاتِ بیّنات(مفتی منیب الرحمٰن )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-05-16/51959/82769619</link><pubDate>Sat, 16 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-05-16/51959/82769619</guid><description>کعبہ معظمہ کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا: &#39;&#39;اس میں واضح نشانیاں (اور) مقامِ ابراہیم ہے‘‘ (آلِ عمران: 97)۔ یعنی اس میں قدرتِ خداوندی کی بہت سی نشانیاں ہیں کہ جنہیں سب لوگ دیکھ سکتے ہیں‘ اُن میں سے ایک نشانی مقامِ ابراہیم ہے‘ یہ تقریباً پچاس سینٹی میٹر لمبا چوڑا اور اتنا ہی اُونچا ایک پتھر ہے جو حجرِ اسود کی طرح جنت سے اُتاراگیا ہے‘ چنانچہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: &#39;&#39;بیشک رکنِ (اسود) اور مقامِ ابراہیم دونوں جنت کے یاقوتوں میں سے ایک یاقوت ہیں‘ اللہ تعالیٰ نے انکے نور کو مٹا دیا ہے اور اگر اللہ تعالیٰ انکے نور کو نہ مٹاتا تو یہ مشرق ومغرب کو روشن کر دیتے‘‘ (ترمذی: 887)۔ یہ وہ پتھر ہے جس پر کھڑے ہو کر حضرت ابرہیمؑ نے بیت اللہ شریف کو تعمیر فرمایا تھا۔ حدیثِ پاک میں ہے: &#39;&#39;حضرت ابراہیم اور ان کے بیٹے حضرت اسماعیل علیہما السلام دونوں بیت اللہ کی تعمیر میں مصروف ہو گئے‘ حضرت اسماعیلؑ اپنے والد کو پتھر اٹھا کر دیتے اور حضرت ابرہیمؑ اُنہیں جوڑکر دیواریں کھڑی کرتے تھے‘ پھر جب کعبہ کی دیواریں اُونچی ہو گئیں (اور حضرت ابراہیمؑ کیلئے اپنے قد سے اُوپر تک پتھروں کو پہنچانا دشوار ہو گیا) تو حضرت اسماعیلؑ یہ پتھرلے آئے اور حضرت ابراہیمؑ نے اس پر کھڑے ہو کر بیت اللہ کی تعمیر فرمائی‘‘ (بخاری: 3364)۔حافظ ابن کثیر ودیگر سیرت نگاروں نے ذکر کیا ہے: اس پتھر میںحضرت ابراہیمؑ کے قدمین طیبین کے نشانات ظاہر تھے‘ عرب میں جاہلیت سے آج تک یہ بات معروف ومشہور ہے‘ صحابہ نے بھی ان نشانات کو دیکھا ہے۔ حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں: &#39;&#39;میں نے مقام ابراہیم میں حضرت ابراہیمؑ کی اُنگلیوں اور ایڑیوں کے نشانات دیکھے ہیں‘ حضرت قتادہؓ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے اسکے قریب نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے‘ اس پر (حصولِ برکت کیلئے) ہاتھوں کو پھیرنے کا حکم نہیں دیا‘ مگر اس اُمت نے بھی وہ کام شروع کیے جو پچھلی اُمتیں کرتی آئی ہیں‘ ہمیں دیکھنے والوں نے بتایا ہے کہ اس میںحضرت ابراہیم کی اُنگلیوں اور ایڑیوں کے نشانات موجود تھے‘ لوگ اس پر ہاتھ پھیرتے رہے حتیٰ کہ وہ نشانات مٹ گئے‘‘ (تفسیر ابن کثیر‘ ج: 1‘ ص: 293)۔ حضرت ابراہیمؑ کے زمانے سے یہ پتھر بیت اللہ کی دیوار کیساتھ متصل تھا‘ پھر فتح مکہ کے موقع پر نبی کریمﷺ کے حکم سے اسے پیچھے کر کے موجودہ مقام پر رکھ دیا گیا‘ یہ کعبہ سے تقریباً بیس گز کے فاصلے پر ہے‘ کیونکہ یہاں اللہ تعالیٰ نے نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے‘ کہیں ایسا نہ ہو کہ طواف کرنیوالوں کے ہجوم کے سبب لوگ یہاں نماز پڑھنے کو ترک کر دیں‘ سو نبی کریمﷺ نے لوگوں کی سہولت کیلئے اسے پیچھے کر دیا۔ حضرت عمرؓ کے زمانے میں خطرناک سیلاب آیا اور اس پتھر کو بہا کر مسجد سے باہر لے گیا‘ پھر حضرت عمرؓ نے اسے اُسی جگہ پر رکھنے کا حکم دیا جہاں رسول اللہﷺ نے اسے رکھا تھا‘‘ (شِفَائُ الْغَرَام بِاَخْبَارِ بَلَدِ الْحَرَام‘ ج: 1‘ ص: 278)۔نبی کریمﷺ اور صحابہ کے زمانے میں اس پتھر پر کوئی غلاف اور پردہ نہیں تھا‘ لوگ اس کی زیارت کرتے اور اس پر اپنے ہاتھوں کو پھیرتے تھے۔ سب سے پہلے خلیفہ مہدی عباسی نے 161ھ میں مقام ابراہیم پر غلاف چڑھایا‘ اسکے بعد خلیفہ متوکل نے 236ھ میں اس پر سونے اور چاندی کا پانی چڑھایا‘ پھر اسکے بعد سے لے کر موجودہ زمانے تک آنے والے مسلمان اُمرا اور حکام اپنے اپنے انداز سے اس کی تزئین وآرائش اور حفاظت کا اہتمام کرتے آئے ہیں؛ چنانچہ اب یہ سونے اور پیتل کے بنے شاندار فریم میں بند ہے اور اس پر شیشے کا مضبوط غلاف ہے‘ یہ سنگِ مرمر کے بڑے پتھر میں نصب ہے‘ اس کے اردگرد لوہے کی مضبوط قُبہ نما جالی بنی ہوئی ہے۔آیاتِ بیّنات میں سے ایک حجر اسود ہے۔ اسکی بابت نبی کریمﷺ نے فرمایا: &#39;&#39;یہ دودھ سے بھی زیادہ سفید تھا‘ اسے بنی آدم کی خطائوں نے سیاہ کر دیا‘‘ (ترمذی: 877)۔ نیز آپﷺ نے فرمایا: &#39;&#39;حجر اسود جنت کا سفید پتھر تھا‘ یہ برف سے زیادہ سفید تھا‘ اس کو مشرکین کے گناہوں نے سیا ہ کر دیا‘‘ (مسند احمد: 3046)۔ ایک حدیثِ پاک میں ہے: &#39;&#39;حجر اسود جنت کے پتھروں میں سے ہے‘ زمین پر جنت کی چیزوں میں سے اسکے علاوہ کوئی چیز نہیں ہے‘ یہ نہایت چمکدار سفید اور خوبصورت تھا‘ اگر اسے جاہلیت کی ناپاکی نے نہ چھوا ہوتا تو جو بھی مریض اسے چھوتا‘ وہ ٹھیک ہو جاتا‘‘ (المعجم الکبیر: 11314)۔ پس جب شرک وکفر اور گناہوں کا اس قدر سخت اثر ہے کہ انکے اثرات نے اس جنتی پتھر کی چمک دمک اور اسکی سفیدی کو زائل کر دیا تو وہ انسانی دلوں پر کس قدر اثر انداز ہوتے ہوں گے اور اُنہیں کس قدر زنگ آلود کر دیتے ہوں گے۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا: &#39;&#39;جب بندہ گناہ کرتا ہے تو اسکے دل پر سیا ہ نقطہ لگ جاتا ہے‘ پس اگر وہ توبہ واستغفار کر لے تو وہ داغ ختم ہو جاتا ہے‘ اگر وہ پھر گناہ کرتا ہے اور گناہوں میں اضافہ ہوتا جاتا ہے تو وہ نقطہ بھی بڑھتا جاتا ہے حتیٰ کہ پورے دل پر چھا جاتا ہے۔ اسے قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے &#39;&#39;رَیْن‘‘ سے تعبیر کیا ہے: &#39;&#39;ہرگز نہیں! اُن کے کرتوتوں کے سبب ان کے دلوں کو زنگ آلود کر دیا ہے‘‘۔ وہ یہی ہے (ترمذی: 3334)۔حافظ ابن حجر لکھتے ہیں: بعض ملحدین ان احادیث پر یہ اعتراض کرتے ہیں: حجر اسود کو نیک وبد ہر قسم کے لوگ چھوتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ گناہگاروں کے چھونے کی وجہ سے اس کی رنگت سیاہ تو ہو گئی مگر صالحین کے چھونے کی وجہ سے اس کی رنگت اپنی سفیدی پر باقی نہ رہی‘ اسکی بابت حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اسکی رنگت کو سیاہی میں اسلئے تبدیل فرما دیا تاکہ اہلِ دنیا کی نظروں سے جنت کی اشیا کا رنگ اور اُن کی زیب و زینت پوشیدہ رہے‘ سو اُس کی سیاہی حجاب کی طرح ہے‘ مُحبّ طَبری نے فرمایا: اللہ تعالیٰ چاہتا تو اس کی چمک دمک کو اُسی حال پر برقرار رکھتا جس حال پر اسے جنت سے اُتارا گیا تھا‘ مگر اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی عبرت کیلئے اس پر گناہوں کے اثرات کو ظاہر کر دیا تاکہ لوگ اسے دیکھ کر عبرت حاصل کریں کہ جب گناہوں کے اثرات نے ایک چمکتے دمکتے جنتی پتھر کو سختی کے باوجود نہیں چھوڑا اور اُسے سیاہ کر دیا تو انسان کا دل تو گوشت کا ایک نرم لوتھڑا ہے‘ گناہ کے اثرات اُسے کس قدر سیاہ اور تاریک کر دیتے ہوں گے‘‘ (فتح الباری‘ ج: 3‘ ص: 463)۔ قاضی بیضاوی اور بعض اہلِ علم نے کہا ہے: حجر اسود کے جنتی پتھر ہونے کا مطلب یہ نہیںکہ یہ حقیقتاًجنت کا پتھر ہے اور اسے جنت سے زمین پر اُتارا گیا ہے‘ بلکہ یہ دنیا کے پتھروں میں سے ہی ایک پتھر ہے لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ نے اس پتھر کو کرامت سے نوازا ہے اور اس میں وہ برکتیں ودیعت فرمائی ہیں جو جنت کے پتھروںکو حاصل ہیں‘ سو اس مشارکت کی بنا پر بطورِ مبالغہ اسے مجازاً جنتی پتھر سے تعبیر کیا گیا ہے‘ جیسا کہ عَجوہ کھجور کو اُس کے باعثِ شفا وبرکت ہونے کی وجہ سے جنتی پھل کہا گیا ہے‘ حجر اسود کے جنتی پتھر نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس میں جنتی اشیا کے خواص اور علامتیں نہیں پائی جاتیں‘ کیونکہ نصوص سے ثابت ہے: جنت کی اشیا فنا‘ تغیّر وتبدّل اور زوال وتکَسُّر (ٹوٹ پھوٹ) سے محفوظ رہتی ہیں‘ جبکہ حجر اسود کافی بوسیدہ ہو چکا ہے‘ اور اس میں دراڑیں اور ٹوٹنے کے نشانات پائے جاتے ہیں۔ اس کے برعکس جمہور اہلِ علم کا کہنا ہے: حجر اسود حقیقتاً جنت سے اُتارا گیا پتھر ہے‘ کیونکہ جنت میں بیشمار جواہرات ہیں اور اُن میں سے ایک حجر اسود ہے‘ جسے اللہ تعالیٰ نے جنت سے اُتارا ہے‘ سو ٹوٹ پھوٹ کے سبب حجر اسودکے جنتی پتھر ہونے کا انکار کرنا درست نہیں‘ الغرض حجر اسود حقیقتاً جنت سے نازل ہونے والا پتھر ہے‘ مگر چونکہ اسے فانی اور تغیر پذیر دنیا میں اُتارا گیا ہے‘ اس بنا پر اس سے اُن خصوصیات کو سلب کر لیا گیا جو جنتی اشیا میں پائی جاتی ہیں‘ سو جب حجر اسود کو اس فانی دنیا کا حصہ بنایا گیا تو اس پر اسی فانی دنیا کے احکام وخواصّ جاری ہوتے ہیں‘ اس کی مثال یہ ہے کہ ریاض الجنۃ میں بیٹھنے والے کو بھوک وپیاس لگتی ہے‘ اس کا سبب یہ نہیں کہ وہ حقیقتاً جنت کا حصہ نہیں‘ بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ چونکہ جنت کے اس حصے کو دنیا میں اُتارا گیا ہے‘ اس لیے دنیا کی خصوصیات وعوارض اللہ تعالیٰ نے اس میں ودیعت فرما دی ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_61172381.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>