<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>پائیدار امن کی تلاش(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-25/11484</link><pubDate>Tue, 25 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-25/11484</guid><description>مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی سفارتی اور اقتصادی کشیدگی کے دوران چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے ہمراہ تہران کا ہنگامی دورہ غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ دورہ ہمسایہ ملک کے ساتھ رسمی سکیورٹی کوآرڈی نیشن تک محدود نہیں بلکہ خطے کو ایک نئے ممکنہ عسکری اور معاشی تصادم سے بچانے کی ایک بروقت کوشش کا بھی مظہر ہے۔ آئی ایس پی آر کے اعلامیہ کے مطابق فیلڈ مارشل مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے پُرامن‘ پائیدار اور جامع حل کیلئے کوششوں کو آگے بڑھائیں گے۔ ایران میں وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے فیلڈ مارشل کا استقبال کیا اور بعدازاں ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی اور سپیکر ایرانی اسمبلی باقر قالیباف سے ملاقات ہوئی۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی پڑوس میں کشیدگی بڑھتی یا جنگ کی آگ بھڑکتی ہے تو اثرات صرف وہیں تک محدود نہیں رہتے بلکہ یہ شعلے سرحدوں کو عبور کر کے علاقائی ممالک کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔ پاکستان اسی لیے ایک ذمہ دار علاقائی طاقت کے طور پر خطے کے استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔

اس دورے کا ایک سبب واشنگٹن اور تہران کے درمیان نئی اقتصادی جنگ ہے‘ جس سے خطے اور دنیا کے باقی ممالک کے متاثر ہونے کا بھی خدشہ ہے۔ ایک طرف امریکہ نے ایران کے خلاف حتمی اور فیصلہ کن اقتصادی کارروائی کا اعلان کر کے ایران کی معیشت کا گھیراؤ مزید سخت کرنے اور ایسی اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے جن کا ہدف ایران کے تجارتی شراکت دار ہوں گے‘ جبکہ دوسری جانب ایران نے جارحانہ جوابی حکمت عملی اپناتے ہوئے پارلیمنٹ کے ذریعے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر فیس عائد کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی وہ اہم آبی گزرگاہ ہے جہاں سے عالمی توانائی اور تیل کی سپلائی کا پانچواں حصہ گزرتا ہے۔ اس راستے پر کسی بھی قسم کی بندش‘ ممکنہ ناکی بندی یا اضافی فیس کا براہِ راست اثر تیل و گیس کی عالمی مارکیٹ پر پڑے گا اور پوری دنیا میں توانائی کا بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ پاکستان کیلئے یہ صورتحال دہری تشویش کا موجب ہے؛ ایک طرف سرحدوں پر کشیدگی بڑھنے کا خطرہ ہے‘ جو پاکستان کی مغربی سرحد پر امن و سلامتی کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے اور دوسری طرف ایک نئے توانائی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے‘ جو عام آدمی کی رہی سہی معاشی سکت کو بھی ختم کر سکتا‘ اور ملکی معیشت پر بھی اس کا انتہائی منفی اثر پڑے گا۔
لہٰذا ایران اور امریکہ کا یہ نیا اقتصادی محاذ بین الاقوامی تجارتی اور اقتصادی سلامتی کیلئے بڑا خطرہ بن چکا ہے اور اس کا حل طاقت اور دھونس سے نہیں بلکہ مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر‘ حکمت و دانش کے ساتھ ہی نکالا جا سکتا ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کا یہ اعتراف کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کے خاتمے کیلئے مخلصانہ کوششیں کر رہا ہے‘ اس بات کا ثبوت ہے کہ تہران اسلام آباد کے مصالحتی کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ قبل ازیں رواں سال اپریل میں پاکستان ہی کی کوششوں سے 47 سال بعد امریکہ اور ایران کے اعلیٰ سطحی وفود کے مابین اسلام آباد میں مذاکرات کا آغاز ہوا تھا اور بعد ازاں ایک فریم ورک معاہدے پر اتفاق بھی ہوا تھا‘ تاہم اس معاہدے پر اس کی روح کے مطابق عمل نہیں کیا جا سکا‘ جس کی وجہ سے کشیدگی دوبارہ بڑھنے لگی۔ اب پھر پاکستان ایک سٹرٹیجک پُل کا کردار ادا کر رہا ہے‘ جو متحارب ملکوں کے درمیان رابطوں کو بحال رکھنے اور غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کوشش کرے گا۔
اس دورے کے ذریعے دنیا کو یہ پیغام بھی دیا گیا ہے کہ پاکستان علاقائی سلامتی اور بحری تجارتی گزرگاہوں کے تحفظ کیلئے اپنی بساط سے بڑھ کر کوششیں کر رہا ہے کیونکہ اگر مشرقِ وسطیٰ کے امن کو خطرہ لاحق ہوا تو نہ صرف دنیا کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو گابلکہ اس بحران کے معاشی اثرات سے کوئی بھی خطہ محفوظ نہیں رہ پائے گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>موڈیز ریٹنگ میں بہتری(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-25/11483</link><pubDate>Tue, 25 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-25/11483</guid><description>عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے پاکستان کی غیرضمانتی قرضوں کی ریٹنگ Caa1 سے بڑھا کر B3 کر دی ہے اور معاشی آؤٹ لک کو مستحکم قرار دیا ہے۔ موڈیز کے مطابق ریٹنگ بہتر کرنے والے عوامل میں زرِمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ‘ معاشی استحکام‘ مالیاتی پوزیشن میں بہتری‘ شرحِ سود میں کمی‘ قرضوں کی ادائیگی کی استطاعت میں بہتری اور آئی ایم ایف پروگرام پر تسلسل کے ساتھ عمل درآمد شامل ہیں۔ موڈیز رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026ء میں سود کی ادائیگیوں کا بوجھ حکومتی آمدن کے تقریباً 35 فیصد تک آگیا جو ایک سال پہلے 49 فیصد تھا۔ کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری سے پاکستان کیلئے عالمی مالیاتی منڈیوں میں رسائی نسبتاً آسان‘ بیرونی قرضوں کی لاگت میں کمی‘ بانڈز کے ذریعے فنانسنگ کے امکانات میں اضافہ اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بہتری آسکتی ہے۔

تاہم یہ حقیقت بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ B3 اب بھی سرمایہ کاری کے درجے سے نیچے اور بلند کریڈٹ خطرے کی درجہ بندی ہے۔ چنانچہ حکومت کو اس کامیابی پر اکتفا کرنے کے بجائے کمزور بیرونی مالیاتی پوزیشن‘ بلند قرض‘ محدود ٹیکس بیس‘ کم سرمایہ کاری اور کم معاشی نمو جیسی بنیادی کمزوریوں پر توجہ دینا ہوگی جن کی نشاندہی خود موڈیز نے کی ہے۔ موڈیز کی ریٹنگ میں بہتری ایک خوشگوار جھونکا ہے مگر اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب بہتر کریڈٹ ریٹنگ کے ثمرات فائلوں اور مالیاتی منڈیوں سے نکل کر عام آدمی کے گھر تک بھی پہنچیں گے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مزدوروں پر حملہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-25/11482</link><pubDate>Tue, 25 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-25/11482</guid><description>بلوچستان کے ضلع پشین میں سڑک کی تعمیر میں مصروف مزدوروں پر دہشت گردوں کی فائرنگ کے واقعہ نے ایک بار پھر یہ تلخ حقیقت آشکار کر دی ہے کہ ملک کو بدستور دہشت گردی کے عفریت کا سامنا ہے۔ گزشتہ روز پیش آنیوالے اس واقعے میں پانچ مزدور جاں بحق اور ایک شدید زخمی ہوا۔ بلوچستان گزشتہ کچھ عرصے سے دہشت گردی اور عسکریت پسندی کی نئی لہر کا سامنا کر رہا ہے۔ گزشتہ برس صوبے میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا‘ اور دہشت گرد گروہوں نے سکیورٹی اہلکاروں کیساتھ ساتھ عام شہریوں‘ شاہراہوں‘ تنصیبات اور ترقیاتی منصوبوں کو بھی نشانہ بنایا۔ گزشتہ دو دہائیوں میں ملک کو دہشت گردی کی وجہ سے ناقابلِ تلافی جانی اور معاشی نقصان پہنچا ہے۔

دہشت گردی کیخلاف جاری جنگ میں اب تک 90 ہزار سے زائد پاکستانی جانیں گنوا چکے ہیں جبکہ ملکی معیشت کو 150 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔ یہ صرف اعداد و شمار نہیں‘ پوری قوم کی قربانیوں اور معاشی امکانات کے ضیاع کی داستان ہیں۔ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے ضروری ہے کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ کو وقتی ردعمل نہیں بلکہ ایک طویل مدتی قومی پالیسی بنایا جائے۔ علاوہ ازیں ریاست بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں‘ شاہراہوں پر کام کرنیوالے محنت کشوں کو مؤثر سکیورٹی بھی فراہم کرے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>حلیم قریشی(محمد اظہارالحق)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-08-25/52544/63345244</link><pubDate>Tue, 25 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-08-25/52544/63345244</guid><description>یہ پندرہ اگست 2026ء کی دوپہر تھی۔ میں ماسکو میں تھا۔ اسلام آباد سے پروفیسر ڈاکٹر قیصرہ علوی صاحبہ کی کال تھی کہ حلیم قریشی صاحب کو تمغۂ امتیاز دیے جانے کا اعلان ہوا ہے اور یہ کہ اس سلسلے میں تقریب کا اہتمام کر رہی ہیں۔ فون بند ہوتے ہی میں نے قریشی صاحب سے کال ملائی۔ ماسکو میں اس وقت شام کے ٹھیک سات بج کر سولہ منٹ ہوئے تھے۔ میں نے انہیں مبارکباد پیش کی۔ وہ بہت تلخ تھے اور غمزدہ۔ یہ اعزاز ان کے شایانِ شان نہیں تھا۔ ان کا شکوہ یہ تھا کہ ان سے کہیں زیادہ جونیئر شاعروں بلکہ مبتدیوں کو اس سے بڑے مرتبے کے اعزازات دیے گئے۔ فون لاؤڈ سپیکر پر تھا۔ یہ ساری گفتگو میری اہلیہ نے بھی سنی۔ میں نے انہیں تسلی دی کہ اعزاز بہرطور اعزاز ہے اور یہ کہ ہم یہ خوشی منائیں گے بھی! 20 اگست کو واپس پہنچا اور فیس بک کھولی (روس میں سوشل میڈیا پر پابندی ہے)۔ منظر بدل چکا تھا۔ قریشی صاحب ایک دن پہلے وہاں جا چکے تھے جہاں سے آج تک کوئی نہیں واپس آیا۔ہم دونوں کی شاعری احمد ندیم قاسمی صاحب کے &#39;&#39;فنون‘‘ میں چھپتی تھی۔ ہم ایک دوسرے کو اس حوا لے سے جانتے تھے مگر ملاقات نہ تھی۔ یہ 1980ء سے پہلے کی بات ہے۔ اُن دنوں اسلام آباد کے سِوک سنٹر (میلوڈی مارکیٹ) میں پاکستان کونسل مرحوم کا ہال تھا اور آنجہانی لائبریری بھی! اندر کوئی تقریب ہو رہی تھی۔ میں سیڑھیوں پر کھڑا کسی دوست کا انتظار کر رہا تھا۔ ایک اور صاحب بھی سیڑھیوں پر کھڑے کسی کے منتظر تھے۔ ہم دونوں نے ایک دوسرے کے نام پوچھے اور یوں ملاقات غائبانہ سے روبرو بھی ہو گئی۔ وہ دن تھا اور ان کی وفات کا قیامت خیز دن! ان پچاس‘ پچپن برسوں میں ان کی دوستی میرے لیے قیمتی اثاثہ تھی۔ وہ ہر مشکل وقت میں ساتھ کھڑے ہوتے تھے۔ میری عدم موجودگی میں کوئی ایسی ویسی بات ہوتی تو دفاع کرتے۔ ہمارے گھریلو تعلقات مستحکم تھے۔ کوثر بھابی ہمارے پورے کنبے سے محبت کرتی تھیں! ان کے بچے وقاص‘ واجد اور عینی ہمارے بچوں کے ساتھ بڑے ہوئے۔ عینی اب کینیڈا میں ہے اور میری بیٹی‘ ماہ وَش امریکہ میں۔ دونوں کا آپس میں رابطہ ہے۔ تین سال پہلے کوثر بھابی قریشی صاحب کو چھوڑ کر ہمیشہ کیلئے چلی گئیں۔ میں دو دن قریشی صاحب کے ساتھ ہی رہا۔ تدفین کے ایک دو دن بعد‘ ان کے فارم پر تعزیت کی خاندانی تقریب تھی۔ اس میں صرف میں تھا جو ان کی برادری سے باہر کا تھا۔ فارم قریشی صاحب کو بہت عزیز تھا۔ یہ ان کی آبائی زمین پر ہے۔ محل وقوع زبردست ہے۔ ٹیکسلا عجائب گھر سے ذرا آگے۔ ساتھ نہر بہہ رہی ہے۔ کئی بار ان کے ساتھ جانا ہوا۔ جب بھی مالٹوں کا موسم ہو تا‘ بلاتے یا ساتھ لے جاتے۔ آخری بار بھابھی بھی تھیں اور میری اہلیہ بھی۔ کھانا ان کے گھر سے آیا تھا۔ ہم نے درختوں سے مالٹے توڑ توڑ کر کھائے۔ امید ہے اب وقاص فارم کو نظر انداز نہیں کریں گے اور اس کا خیال رکھیں گے۔قریشی صاحب انجینئر تھے۔ زیادہ عرصہ واہ سیمنٹ فیکٹری میں گزارا۔ چار سال کراچی رہے‘ چار ہی سال ڈنڈوت میں۔ اپنے شعبے کے ماہر تھے۔ لیاقت‘ ذہانت اور دیانت کا بہترین امتزاج تھے‘ اس لیے ان کی ڈیمانڈ بھی بہت تھی۔ اپنے شوق اور ذوق سے انہوں نے انگریزی ادب میں بھی ایم اے کر لیا تھا۔ عرصۂ ملازمت میں میری تعیناتی واہ میں تین بار ہوئی۔ پہلی بار ڈائریکٹر کمرشل آڈٹ کے طور پر 1980ء میں گیا۔ قریشی صاحب وہیں تعینات تھے۔ اب ہماری قربتوں اور صحبتوں کو چار چاند لگ گئے۔ مجھے سولہ ریٹھا روڈ پر گھر ملا ہوا تھا۔ قریب ہی معروف شاعر حسن ناصر مرحوم کا گھر تھا۔ یہ رتجگوں کا زمانہ تھا۔ ہمارے گھروں میں باری باری رتجگے ہوتے۔ ضیافتیں ہوتیں۔ شاعری سنی اور سنائی جاتی۔ میرا پہلا شعری مجموعہ &#39;&#39;دیوارِ آب‘‘ 1982ء میں شائع ہوا۔ اس کی پہلی تقریب حلیم قریشی صاحب ہی نے واہ میں کرائی۔ پروفیسر جمیل ملک صاحب کا صدارتی خطبہ متاثر کُن تھا۔ پھر وہی ہوا جو ہوتا ہے۔ ہم بکھر گئے۔ حسن ناصر کچھ عرصہ بعددنیا ہی چھوڑ گئے۔ میں واپس اسلام آباد آ گیا۔ حلیم قریشی صاحب نے اپنا شعری مجموعہ بے حد تاخیر سے چھپوایا۔ مسودہ مجھے دیا کہ دیکھوں۔ میں نے اعتراض کیا کہ وہ بہتر شاعر ہیں اور سینئر بھی تو میں کس حساب سے دیکھوں۔ مگر انہوں نے اصرار کیا اور میں نے اپنی ماڑی موٹی سمجھ بوجھ کے حساب سے مشورے بھی دیے۔ انہوں نے مجموعے کا عنوان &#39;&#39;تاخیر‘‘ ہی رکھا۔ دوسرے مجموعے کا عنوان &#39;&#39;جاں سِتاں‘‘ ہے جو 2013ء میں شائع ہوا۔ جاں ستاں کے بعد‘ گزشتہ تیرہ برسوں میں انہوں نے بہت کچھ کہا جو غیر مطبوعہ ہے۔ اب عزیزم واجد قریشی بھی ملک سے باہر ہیں اور عزیزہ عینی بھی! اس غیر مطبوعہ کلام کو چھپوانے کی ذمہ داری عزیزم وقاص پر ہی پڑے گی۔ خدا اسے حوصلہ اور ہمت دے!شاعر تو وہ درجہ اوّل کے تھے ہی‘ دوستی میں بھی زرِ خالص تھے۔ یہ اسّی یا اکیاسی کی بات ہے۔ ہم واہ سے اسلام آباد کیلئے آدھی رات کے بعد نکلے۔ بیگم اور بچے ساتھ تھے اور اماں جی اور ابا جی بھی! ٹیکسلا اور سنگجانی کے درمیان گاڑی خراب ہو گئی۔ ڈرائیور نے بہت کوشش کی مگر گاڑی اپنی جگہ سے نہ ہلی۔ پریشانی اس لیے زیادہ تھی کہ بزرگ ساتھ تھے۔ اماں جی بس پر چڑھ ہی نہیں سکتی تھیں۔ چاروں طرف گھپ اندھیرا تھا اور بے بسی۔ ٹیکسی کا کہیں نام نشان نہ تھا۔ کسی دوست کو اس وقت زحمت دینا بہت عجیب لگ رہا تھا۔ بہت سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا کہ اس وقت‘ رات کے دو بجے‘ صرف حلیم قریشی ہی کو مدد کیلئے بلایا جا سکتا ہے۔ فون کر کے انہیں گہری نیند سے بیدار کیا۔ اُس زمانے میں ان کے پاس سوزوکی ڈبہ تھا۔ فون سننے کے فوراً بعد چل پڑے۔ کچھ دیر کے بعد ہمارے پاس تھے۔ ہمیں اسلام آباد گھر پہنچایا۔ والد گرامی مرحوم اور میں نے بہت کہا کہ بقیہ رات گزار کر صبح واپس جائیں مگر اسی وقت واپس چلے گئے۔ والد صاحب کیساتھ انکی بہت اچھی گپ شپ تھی۔ وہ دوستی نبھانا جانتے تھے۔ کڑے وقت میں ساتھ کھڑے ہوتے تھے‘ اور ساتھ کھڑے ہونے میں نفع نقصان نہیں دیکھتے تھے۔ نفاق ان میں بالکل نہیں تھا۔ مخالفت اور ناپسندیدگی کو بھی چھپاتے ہرگز نہیں تھے۔حلیم قریشی چلے گئے! ہم سب نے جانا ہے۔ بداندیش اور خیر خواہ سب نے جان دینی ہے۔ بات سچی کرنی چاہیے۔ اب بھی سچ نہ لکھا تو کب لکھیں گے۔ بنجارہ لاد چلنے کو ہے۔ کچھ لوگوں نے قریشی صاحب کو دکھ بہت پہنچایا۔ 2018ء میں میرے والد صاحب کی یاد میں تعزیتی تقریب تھی۔ افتخار عارف صاحب‘ فتح محمد ملک صاحب‘ احسان اکبر صاحب سب موجود تھے۔ جناب سعود عثمانی اور جناب معین نظامی لاہور سے تشریف لائے تھے۔ ایبٹ آباد سے جناب واحد سراج صاحب موجود تھے۔ جناب محبوب ظفر نظامت کر رہے تھے۔ تقریب میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جس کا ہدف قریشی صاحب تھے۔ اس میں کیا شک ہے کہ جناب انور مسعود‘ جناب افتخار عارف‘ محترمہ کشور ناہید اور جناب احسان اکبر کے بعد حلیم قریشی ہی جڑواں شہروں میں سب سے سینئر اور بڑے شاعر تھے۔ یوں بھی سنیارٹی وہ ہوتی ہے جسے دوسرے تسلیم کریں۔ سنیارٹی وہ نہیں ہوتی جس کا خود دعویٰ کیا جائے اور وہ بھی جارحیت اور شور وغوغا کے ساتھ! مُشک آنست کہ خود ببوید نہ کہ عطار بگوید۔ آخر میں قریشی صاحب کے تین شعر:کٹ کر بدن تو غیر کے آنگن میں جا گرالیکن انا کے زور پہ سر پیچھے رہ گیانہ جانے روٹی کے ان نوالوں پہ کس کا حق ہےگلے سے اترے جو ایک تو دوسرا نہ اترےاے منتظمِ ہستی! بس اتنی سی خواہش ہے اُس دن مجھے جینے دے جس روز قضا آئے</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_57182973.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سو جوتے اور سو پیاز… (1)(خالد مسعود خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-08-25/52545/35120534</link><pubDate>Tue, 25 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-08-25/52545/35120534</guid><description>اس سال پھر وہی کچھ ہو رہا ہے جو تقریباً ہر سال نہ بھی سہی‘ تو ہر دوسرے سال ضرور ہوتا ہے۔ داد دینی پڑتی ہے ہمیں اپنی مستقل مزاجی کی کہ ہم نے برسوں کے تجربوں سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا۔ سیانے کہتے ہیں کہ اگر ایک بار ہو تو وہ غلطی ہے‘ دوسری بار ہو تو فاش غلطی ہے‘ اگر تیسری بار ہو تو یہ باقاعدہ جرم ہے۔اب کیا کیا جائے کہ ہم... قارئین! میری اس &#39;&#39;ہم‘‘ سے مراد سرکار ہے‘ آخر یہ سرکار بھی ہماری ہے‘ یہ کون سی مریخ سے آئی ہے‘ لہٰذا میں اجتماعی طور پر ہم کا صیغہ استعمال کر رہا ہوں۔ ہم نے مسلسل گزشتہ کئی عشروں سے ایک ہی جیسے معاملے میں ذلیل وخوار ہونے کے باوجود کوئی سبق حاصل نہیں کیا۔ اس حوالے سے مستقل مزاجی کا ریکارڈ ہر حکومت نے مزید بہتر کیا۔ اس میں مسلم لیگ (ن)‘ پیپلز پارٹی‘ تحریک انصاف اور غیر جمہوری قبضہ گروپ‘ سبھی شامل ہیں۔ یہ وہ حمام ہے جس میں سب کے کپڑے اترے ہوئے ہیں۔ یہ معاملہ اس ملک میں گندم اور چینی کے سلسلے میں حکومتی منصوبہ بندی کی مکمل ناکامی کی ایک طویل داستان ہے‘ جس کی ہر نئی قسط گزشتہ قسط جیسی ہوتی ہے۔ یکسانیت‘ بوریت اور فلاپ ہونے کے باوجود ہم نے ابھی تک نہ تو اس کہانی کا پلاٹ ہی تبدیل کیا ہے اور نہ ہی مستقبل میں ایسا کچھ کرنے کا ارادہ ہی دکھائی دیتا ہے۔ابھی گندم کی فصل کو مارکیٹ میں آئے تین چار ماہ ہی ہوئے ہیں اور حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ دس لاکھ ٹن گندم درآمد کرے گی (اور ایک لاکھ ٹن چینی برآمد بھی کرے گی) یہ درآمد اور برآمد کا ختم نہ ہونے والا ایسا چکر ہے جسے عوام اور کسان ایک عرصے سے بھگت رہے ہیں۔ حکمران مزے میں ہیں۔ درآمد کریں تو ان کی چھتری تلے پروان چڑھنے والا مافیا اپنے نوٹ کھرے کر لیتا ہے‘ برآمد کریں تو بھی سرکار کے پیارے اس میں سے اپنا مال پانی بنا لیتے ہیں۔ دور کیا جانا‘ ان میں سے بہت سارے تو اسمبلیوں میں بیٹھے ہوئے ہیں۔اس سارے چکر میں نقصان اٹھانے والے دو فریق بہرحال کسان اور عوام ہیں۔ چلیں‘ یہ بات تو سمجھ آتی ہے کہ اگر کسی ایک فریق کو نقصان ہو اور دوسرے فریق کو فائدہ ہو جائے‘ یا کسی تیسرے فریق کو بھی نقصان ہو۔ لیکن ہمارے ہاں یہی دو فریق‘ یعنی عوام اور کسان‘ ہمیشہ سے گھاٹے میں ہیں‘ تاہم سرکار اور اس کے پیارے کاروباری لوگ‘ مل مالکان‘ درآمد و برآمد کرنے والے چودھری‘ ذخیرہ اندوز اور حکومت میں بیٹھے ہوئے فیصلہ ساز اس سارے عمل کے مشترکہ اور مستقل بینی فشری ہیں۔مالی سال 2025-26ء میں گندم کا سرکاری پیداواری ہدف 29.7 ملین ٹن تھا‘ جبکہ اس دوران گندم کی کل ملکی پیداوار 29.61 ملین ٹن رہی۔ ہدف اور حقیقی پیداوار کے اعداد و شمار اس فقیر کے نہیں‘ یہ حکومتِ پاکستان کے ادارے سروے آف پاکستان کی جانب سے پیش کردہ ہیں۔ اگر ہدف اور پیداوار کو دیکھا جائے تو اس میں کل فرق 0.09 ملین ٹن کا ہے۔ یہ فرق نہ ہونے کے برابر ہے‘ بلکہ تقریباً ہدف کے برابر ہی پیداوار ہوئی ہے۔ دوسری طرف گندم کی کل ملکی ضرورت تقریباً 30 ملین ٹن ہے۔ 29.61 ملین ٹن کی پیداوار کے مقابلے میں پاکستان کی گندم کی کُل ملکی ضرورت 30 ملین ٹن ہے‘ یعنی مالی سال 2025-26ء کی گندم کی پیداوار تقریباً تقریباً ملک کی ضرورت کے برابر ہی تھی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر گندم کی پیداوار اور ملکی ضرورت تقریباً برابر ہے تو گندم کا حالیہ بحران‘ جو ماضی میں طلب اور رسد کے باہمی فرق کی صورت میں عام طور پر دسمبر کے بعد شروع ہوتا تھا‘ اس سال اگست میں ہی کیسے نمودار ہو گیا ہے؟ اس کی وجوہات وہی ہیں جس کے بارے میں یہ فقیر گندم کی فصل مارکیٹ میں آنے سے پہلے اور پھر اس گندم کی خریداری کے دوران حکومت کی خریداری پالیسی کی ناکامی بارے میں لکھ چکا ہے۔ اس عاجز نے تبھی اس بات کا خدشہ ظاہر کیا تھا کہ یہ سارا معاملہ ناکامی اور خرابی کی طرف جائے گا۔2026ء میں جب گندم کی فصل کٹ کر مارکیٹ میں آئی تو پنجاب نے (پنجاب کا نام یوں کہ گندم کی ملکی پیداوار کا بیشتر حصہ پنجاب میں پیدا ہوتا ہے اور پنجاب فوڈ ڈپارٹمنٹ ہمیشہ سے گندم کا سب سے بڑا سرکاری خریدار رہا ہے۔ اس لیے اس ناکامی اور خرابی کی بنیادی ذمہ داری پنجاب حکومت پر عائد ہوتی ہے) ہمیشہ کے برعکس اپنے محکمے کے ذریعے براہِ راست گندم خریدنے کے بجائے بارہ تیرہ نجی خریدار کھڑے کر دیے اور گندم کا سرکاری ریٹ 3500روپے فی چالیس کلوگرام مقرر کر دیا۔ گزشتہ سال کے ڈسے ہوئے گندم کے کاشتکار کا خیال تھا کہ اس سال گندم کا سرکاری امدادی ریٹ بہرحال 4500 روپے فی چالیس کلوگرام کے لگ بھگ ہو گا کیونکہ گندم کی فی چالیس کلوگرام لاگت ہی تقریباً چار ہزار روپے بنتی ہے۔ اگر سرکار یہ ریٹ 4500 روپے فی چالیس کلوگرام مقرر کر دیتی تو گندم کا بیشتر حصہ سرکاری خریداروں کو‘ خواہ وہ پرائیویٹ ہی تھے‘ مل جاتا۔ لیکن کسانوں کو برباد کرنے پر تلی ہوئی حکومت نے مارکیٹ کی صورتحال دیکھنے کے باوجود ریٹ بہتر نہ کیا لہٰذا مارکیٹ میں ملز مالکان‘ آڑھتی‘ سرمایہ کار اور ذخیرہ اندوز خریدار کے طور پر آ گئے۔ مارکیٹ میں گندم کا ریٹ 4300 روپے فی چالیس کلوگرام سے لے کر 4500 روپے فی چالیس کلوگرام تک چلتا رہا۔ گو کہ سرکار نے اس دوران اپنے مقرر کردہ بارہ تیرہ نجی خریداروں کو سہولت فراہم کرنے کی غرض سے زور زبردستی کرنے‘ ٹرک پکڑنے‘ چھاپے مارنے جیسے بوکھلائے ہوئے اقدامات کیے لیکن سرکاری چھتری تلے خریداری بہرحال نہ ہو سکی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ سرکاری خریداری صفر بٹا صفر رہی۔جب حکومت نے گندم کا ریٹ 3900 روپے اناؤنس کیا تو کاشتکاروں نے شور مچایا مگر تب حکومتی تنخواہ داروں نے یہ مشہور کرنا شروع کر دیا کہ سستی گندم کی خرید کا براہِ راست فائدہ عوام کو ہو گا جسے سستا آٹا ملے گا۔ لیکن ہوا یہ کہ نجی شعبے نے‘ سرمایہ کار نے‘ ذخیرہ اندوز نے‘ مل مالک نے‘ آڑھتی نے اوسطاً چار ہزار پانچ سو روپے فی چالیس کلوگرام کے حساب سے گندم خرید کر ذخیرہ کر لی۔ کسان سے 4200؍ 4500 روپے میں خرید کردہ گندم تھوڑے ہی دنوں میں پانچ ہزار روپے کے لگ بھگ جا پہنچی اور اب صورتحال یہ ہے کہ نجی خرید کردہ گندم کو ذخیرہ اندوزوں نے قیمت مزید بڑھنے کے انتظار میں روک رکھا ہے۔ مارکیٹ میں گندم کی قیمت کو ایک حد میں اور طلب ورسد کو بیلنس رکھنے کیلئے صوبائی اور مرکزی حکومت اپنی ذخیرہ کردہ گندم کو مارکیٹ میں لا کر نجی خریداروں اور ذخیرہ اندوزوں کو مارکیٹ میں قیمت اور رسد پر کنٹرول حاصل کرنے سے روک دیتے تھے‘ جو اس سال نہیں ہو سکا۔مالی سال 2025-26ء کیلئے گندم کا سرکاری پیداواری ہدف‘ گندم کی حقیقی پیداوار اور ملک کی کُل ملکی ضرورت تقریباً تقریباً برابر ہے۔ دوسرے لفظوں میں گندم کی نہ تو قابلِ ذکر کمی ہے اور نہ ہی اگست کے مہینے میں کبھی اس طرح کی صورتحال پیش آئی ہے جیسی اس سال ہے‘ اور حکومت دس لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا منصوبہ بنا چکی ہے۔ یہ درآمدی گندم نہ صرف یہ کہ 4200 سے 4300 روپے فی چالیس کلوگرام میں پڑے گی بلکہ اس سے ملک کے قیمتی زرِ مبادلہ‘ جس کے ہم پہلے ہی شدید کمی کا شکار ہیں‘ پر دباؤ بڑھ جائے گا۔قصہ مختصر یہ ہے کہ اس سال بھی گندم کی بھرپور فصل کے باوجود حکومتی حماقتوں کے طفیل عوام مہنگا آٹا خریدیں گے‘ آڑھتی‘ بیوپاری‘ فلور ملز مالکان‘ انویسٹرز‘ ذخیرہ اندوز‘ امپورٹر اور ایکسپورٹر نوٹ کمائیں گے‘ گندم کا پاکستانی کاشتکار گھاٹا اور غیر ملکی کاشتکار نفع کمائے گا۔ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی‘ ہم سو جوتے بھی کھائیں گے اور سو پیاز بھی۔ (جاری)</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90500073.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>اسوۂ حسنہ کی راہ دیکھتی انسانیت(ڈاکٹر حسین احمد پراچہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-08-25/52546/75838138</link><pubDate>Tue, 25 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-08-25/52546/75838138</guid><description>گزشتہ 78 برس سے صہیونی ارضِ فلسطین پر پنجے گاڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے اہلِ فلسطین پر وہ وہ ظلم و ستم ڈھائے ہیں جن کا انسان تصور بھی نہیں کر سکتا۔ نیتن یاہو اور اس کی صہیونی حکومت صرف مسلمانوں کی نہیں انسانیت کی مجرم ہے۔ غزہ میں دو سالہ جنگ کے بعد اسرائیل نے امن کا معاہدہ کیا مگر وہ بدستور اس معاہدے کی دھجیاں اڑا رہا ہے اور آئے روز غزہ کے کھنڈرات اور خیموں میں پناہ گزینوں پر بم برسا رہا ہے۔ حضورﷺ کی ولادت باسعادت کی تاریخ اس سال ایسے موقع پر آئی ہے جب اہلِ غزہ کی تباہ حالی و بے بسی دیکھی نہیں جاتی۔ دیکھیے ہم سب کے جذبات کی عکاسی مرحوم احمد ندیم قاسمی نے کیسے کی ہے۔کچھ نہیں مانگتا شاہوں سے یہ شیدا تیرااس کی دولت ہے فقط نقشِ کفِ پا تیراتہ بہ تہ تیرگیاں جب ذہن پہ لوٹتی ہیںنور ہو جاتا ہے کچھ اور ہویدا تیراایک بار اور بھی بطحا سے فلسطین میں آراستہ دیکھتی ہے مسجد اقصیٰ تیراصرف مسجد اقصیٰ ہی نہیں آج ساری انسانیت اسوۂ حسنہ کی راہ تَک رہی ہے۔ 20ویں صدی میں اسلام اور پیغمبرِ اسلامﷺ کی ذاتِ مبارکہ کے خلاف پرانے تعصبات کچھ کم ہو گئے تھے۔ جہاں تک محمد عربیﷺ کی شخصیت کی وسعت کا تعلق ہے تو اس کا احاطہ کرنا کسی بڑے سے بڑے عالم کے بس کی بھی بات نہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ایسا کرنا ممکن ہی نہیں۔ اس دوران مغرب میں بہت سے اصحابِ علم و دانش نے رسالت مآبﷺ کی ذاتِ اقدس اور آپ کے لائے ہوئے پیغام کی جامعیت کا اعتراف کیا ہے۔ کسی بھی نظام کی صداقت کو ماننے والے اپنے قائد کی عظمت کا تو بہت اعتراف کرتے ہیں مگر بڑا اعتراف وہ ہوتا ہے کہ جو کوئی دوست نہیں دشمن کرے‘ اپنا نہیں پرایا کرے‘ جو آپ کے پیغام کو قبول کرے یا نہ کرے مگر دل و جان سے اس کی صداقت کا قائل ہو جائے۔ میں ایک بار پھر قارئین کو ایک غیرمسلم کے اعتراف کی جھلک دکھا رہا ہوں۔ 20ویں صدی کے اواخر میں مائیکل ایچ ہارٹ کی کتاب The 100 میں اُن ایک سو شخصیات کا تذکرہ کیا گیا ہے کہ جو مذہبی و سماجی بنیادوں پر کامیاب رہیں اور دنیا پر اپنا بھرپور اثر چھوڑ گئیں۔ یہ کتاب پہلی مرتبہ 1978ء میں منظر عام پر آئی تھی۔ پھر اسے 1992ء میں اَپ ڈیٹ کیا گیا۔ مصنف نے اپنے وسیع مطالعے سے لوگوں کی زندگیوں پر اثر انداز ہونے والے جن سو افراد کی فہرست بنائی‘ ان میں سرفہرست محمد مصطفیﷺ کی ذاتِ مبارکہ‘ جبکہ دوسرے نمبر پر فزکس کے ماہر آئزک نیوٹن کو رکھا گیا۔ مصنف نے اس کا سبب یہ بتایا کہ فزکس کے میدان میں آنے والے نئے نظریات سے دنیا میں بہت بڑی تبدیلیاں آئیں۔ اس نے حضرت عیسیٰ ﷺ کو تیسرے نمبر پر رکھا۔ مائیکل ہارٹ نے اپنی کتاب میں خود سوال اٹھایا کہ میں ایک کرسچین ہوں مگر میں نے محمد مصطفیﷺ کو پہلے نمبر پر کیوں رکھا۔ اس سوال کا جواب بھی انہوں نے خود دیا کہ تاریخِ انسانی میں سب سے زیادہ متاثر کرنے والی شخصیات میں محمد عربیﷺ وہ واحد شخصیت ہیں جو بیک وقت مذہبی و سماجی دونوں میدانوں میں بے حد کامیاب رہے ہیں۔ مائیکل ہارٹ نے بالکل درست کہا ہے کہ جس انقلاب کی نوید بن کر حضور نبی کریمﷺ دنیا میں مبعوث ہوئے وہ انقلاب اپنے نظریاتی‘ فکری‘ اخلاقی‘ روحانی‘ تعلیمی‘ معاشرتی‘ معاشی‘ سیاسی و قانونی‘ عدالتی و عسکری ہر اعتبار سے مکمل تھا۔ گزشتہ چند برس کے دوران مائیکل ہارٹ کی طرح اعترافِ عظمتِ رسولﷺ پر مبنی کئی کتابیں مغرب میں منظرِ عام پر آئی ہیں مگر ان میں سے دو اہم ترین ہیں۔ پہلی نیوزی لینڈ میں پیدا ہونے والے برطانوی سکالرJoel Haywardکی کتاب The Leadership of Muhammad: A Historical Reconstruction ہے۔ اس کتاب کو 2021ء کے شارجہ انٹرنیشنل بک ایوارڈز میں بہترین نان فکشن بُک کا ایوارڈ ملا۔ مصنف نے اس کتاب میں محمد مصطفیﷺ کی ہمہ جہت لیڈر شپ کی بہت تعریف و توصیف کی ہے۔ اس کے علاوہ اسی مصنف کی دوسری کتاب2022ء میں منظر عام پر آئی۔ اس کتاب میں مصنف نے حضور اکرمﷺ کی حربی و جنگی صفات و فتوحات کا ذکر کیا ہے۔ اس سلسلے میں اس نے نہ صرف کلاسیک اسلامی کتب و تاریخی مصادر سے استفادہ کیا بلکہ مغربی مؤرخین اور سکالرز کی علمی تحقیقات کو بھی اپنے اخذ کردہ نتائج کی بنیاد بنایا ہے۔ اس کے علاوہ مغربی دنیا بالخصوص امریکہ میں اسلامی مراکز کے ذریعے ہزاروں غیرمسلم اسلام کے بارے میں معلومات حاصل کرتے ہیں۔ نیز وہ امریکہ میں مقیم مسلمانوں کی عملی زندگی سے بھی متاثر ہوتے ہیں۔ ہر سال غیر مسلموں کی ایک بڑی تعداد مشرف بہ اسلام ہو رہی ہے۔ مغربی سکالرز اور اہلِ دانش کی کتب‘ ان کے اسلام کے بارے میں افکار و اعتراضات اور محمد مصطفیﷺ کی ہمہ پہلو شخصیت اور ہمہ جہت لیڈر شپ کے گرویدہ ہو رہے ہیں۔ گویا نظری اعتبار سے پیغامِ مصطفی سننے کیلئے دیارِ مغرب کے قدیم تعصبات پر ان کے اسلام کے بارے میں جدید اعتراضات غالب ہیں‘ لہٰذا اس وقت عملی مثالوں کی ضرورت ہے۔ جس ماڈل پر ریاستِ مدینہ استوار کی گئی تھی اور جو ماڈل اسلامی دنیا میں کسی نہ کسی حیثیت میں صدیوں برقرار رہا‘ آج اس ماڈل کے مطابق مسلمانوں کا ایک ملک بھی موجود نہیں۔ جو ہمہ جہت انقلاب رسولِ خداﷺ لائے تھے اس کے مطابق اسلامی دنیا کی ایک ریاست بھی کاربند نہیں۔ مسلم حکام اور علما کو اس طرف بطورِ خاص توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔ مشیت ایزدی کے مطابق مغربی دنیا سیرت و پیغام مصطفیﷺ کی طرف راغب ہو گی مگر اسلامی ریاستوں کو بھی ریاست مدینہ کا ماڈل اپنانے کی طرف مائل اور متوجہ ہونا چاہیے۔آج یہ خاکسار اسوۂ حسنہ کے حوالے سے دو پیغامات پیش کر رہا ہے ایک تو عالمِ انسانیت کیلئے اور دوسرا امت مسلمہ کیلئے۔ بڑی بڑی فتوحات کے بعد بھی محسنِ انسانیتﷺ کی تعلیمات یہ ہیں کہ کسی ایک شخص کا خونِ ناحق ساری انسانیت کو تہ تیغ کرنے کے مترادف ہے۔ مسلمانوں کیلئے پیغام یہ ہے کہ غزہ میں &#39;&#39;جنگ بندی‘‘ کے بعد بھی شب و روز اسرائیلی بموں سے چھلنی ہونے والے مظلوموں اور بلکتے ہوئے بچوں کی عملی مدد کیلئے پہنچیں۔ مکہ معاہدہ اس حوالے سے ایک پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔ آج سارا عالمِ انسانیت غزہ میں اسرائیل کی برپا کی ہوئی خونریزی کے خلاف سراپا احتجاج ہے۔ مگر نیتن یاہو اور اس کے حواریوں کو انسانی خون کی چاٹ لگ چکی ہے۔ سارے عالمی و اخلاقی اصولوں کو اسرائیل سرِعام پامال کر رہا ہے۔ چند روز قبل اسرائیلی نیشنل سکیورٹی کے وزیر اتمار بن گویر نے ایک وڈیو جاری کی کہ جس میں ایک اسرائیلی جیل میں نیا پھانسی گھاٹ زیر تعمیر ہے‘ جہاں اس کے بقول وہ روزانہ فلسطینی قیدیوں کو پھانسی دے گا اور اس کو لائیو دکھائے گا۔ اب نیتن یاہو غزہ‘ لبنان اور شام پر حملے کر رہا ہے۔ اس وقت ساری دنیا اسرائیلی کارروائیوں کی مذمت کر رہی ہے۔ یہ بہترین وقت ہے کہ مسلمان انسانیت کے مجرم اسرائیل کو آگے بڑھ کر ظلم سے روکیں‘ نیز وہ اسوۂ حسنہ کا پیغام دنیا تک پہنچائیں‘ جس پیغام کی راہ آج کی پریشان حال دنیا تک رہی ہے۔جہاں میں تاریکیاں تہ بہ تہ پھیلی ہوئی ہیںترے افکار سے ہو گا سویرا یا رسول اللہ ﷺ</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_70033906.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>دستاویزی شعبہ پر ٹیکس نظام کی سختیاں(شاہد کاردار)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-kardar-/2026-08-25/52547/77686842</link><pubDate>Tue, 25 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-kardar-/2026-08-25/52547/77686842</guid><description>عام طور پر بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی جانب سے پاکستان کو ایک ایسا ملک قرار دیا جاتا ہے جہاں بہت کم ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔ اس دعوے کے حق میں پیش کیا جانے والا بنیادی ثبوت سادہ اور مستقل نوعیت کا ہے: جی ڈی پی کے تناسب سے ٹیکس آمدن مسلسل کم رہتی ہے جو عموماً 10 فیصد کے لگ بھگ ہے۔ یہ شرح ان ممالک کے مقابلے میں خاصی کم ہے جنہیں پاکستان کی تقابلی معیشتیں سمجھا جاتا ہے۔ تاہم اگر صوبوں کے متعدد ٹیکسوں اور پٹرولیم لیوی کو شامل کر لیا جائے تو پاکستان میں ٹیکس وصولی کی شرح 12.5 فیصد ہوجاتی ہے۔ملک کے ٹیکس نظام پر بحث ایک محدود حساب میں پھنس کر رہ گئی ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی ادارے اور مقامی مبصرین کامیابی کا اندازہ صرف اس بنیاد پر لگاتے ہیں کہ ایف بی آر اپنا سالانہ ہدف حاصل کرتا ہے یا ٹیکس اور جی ڈی پی کے تناسب میں چند اعشاری حصوں کے برابر اضافہ ہوتا ہے یا نہیں۔ وہ یہ بھی دیکھتے ہیں کہ مزید ٹیکس کس طرح جمع کیے جا سکتے ہیں۔ اس معاملہ میں جو حل پیش کیے جاتے ہیں وہ بھی خاصے جانے پہچانے ہیں: ٹیکس کی بنیاد کو وسیع کیا جائے‘ ٹیکس وصولی کے نفاذ کو بہتر بنایا جائے‘ معیشت کو دستاویزی شکل دی جائے اور قوانین کی پابندی کو یقینی بنایا جائے۔ایسے تقابلی جائزے اور روایتی تشخیص مفید ضرور ہیں لیکن صرف ایک حد تک۔ مجموعی تناسب کے اعداد و شمار اصل حقیقت ظاہر کرنے سے زیادہ اسے چھپا دیتے ہیں۔ یہ اشاریے اہم ضرور ہیں لیکن ان سے ٹیکس نظام کی اصل خرابی نظروں سے اوجھل ہو جاتی ہے اور وہ خرابی ہے ٹیکس نظام کے معیار کے بارے میں شفاف معلومات کی عدم موجودگی۔ یہ اشاریے اس بارے میں خاموش ہیں کہ ٹیکس کا ڈھانچہ کتنا منصفانہ ہے‘ کتنا قابلِ پیش گوئی اور شفاف ہے‘ اس پر عمل درآمد کی لاگت کتنی ہے اور یہ کس حد تک پیداواری سرگرمیوں اور سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرتا ہے تاکہ معیشت کی طویل مدتی ترقی کی صلاحیت کو تقویت مل سکے۔ہمارے ٹیکس کا نظام بنیادی طور پر زیادہ سے زیادہ آمدنی حاصل کرنے کیلئے نچوڑنے والے ایک آلہ کے طور پر کام کرتا ہے۔ یہ معاشی پالیسی کے ایک ایسے مربوط ذریعہ کے طور پر کام نہیں کرتا جس کا مقصد سرمایہ کاری اور ترقی کو فروغ دینا ہو۔ اسی وجہ سے ہر سال تجویز کیے جانے والے پالیسی اقدامات مسلسل ناکام رہتے ہیں جس کے نتیجہ میں ملک کے معاشی ڈھانچہ کو بے پناہ سٹرکچرل نقصان پہنچا ہے۔اصل ٹیکس بحران صرف یہ نہیں کہ اسکے ذریعے بہت کم رقم جمع ہوتی ہے‘ حقیقت یہ ہے کہ یہ محدود رقم بھی بہت نقصاندہ‘ غیر مساوی‘ غیر منصفانہ اور من مانے ڈھانچے کے ذریعے جمع کی جاتی ہے۔ یہ نظام نسبتاً چھوٹی‘ دستاویزی‘ قوانین کی پابند رسمی معیشت پر انتہائی بھاری ٹیکس شرحیں عائد کرنے کی بنا پر داغدار ہو چکا ہے۔ ٹیکس کی ایسی شرحیں جو بار بار‘ غیر متوقع انداز میں بلکہ بعض اوقات مؤثر بہ ماضی انداز میں بھی تبدیل کر دی جاتی ہیں۔ ٹیکس کا نظام ترقی‘ پیداواری صلاحیت اور انصاف کو فروغ دینے کے آلہ کے طور پر کام نہیں کر رہا بلکہ یہ معیشت کے ان حصوں سے آمدنی نچوڑنے کا عمل بن چکا ہے جو سب سے زیادہ نمایاں ہیں اور آسانی سے گرفت میں آجاتے ہیں۔ اسکے برعکس حقیقی معاشی سرگرمیوں کے حامل وسیع شعبے یا تو معمولی ٹیکس دے رہے ہیں یا ٹیکس کے نظام سے ہی باہر ہیں۔ اس عمل کا نتیجہ ایک ایسے ٹیکس نظام کی صورت میں نکلتا ہے جس سے سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے‘ ٹیکس چوری کی ترغیب ملتی ہے اور غیر رسمی معیشت کو انعام ملتا ہے۔ یہ نظام سرمایہ کو پیداواری صنعتوں سے نکال کر غیر پیداواری‘ کرایہ خور اثاثوں کی طرف منتقل کرتا ہے جنہیں مسابقت سے تحفظ حاصل ہے۔ یہ ٹیکس نظام ریاست پر اعتماد کو کمزور کرتا‘ انسانی اور مالی سرمایہ کو ملک سے باہر جانے کی ترغیب دیتا اور مناسب ٹیکس آمدنی پیدا کرنے میں ناکام ہے کیونکہ یہ ٹیکس کی بنیاد کو وسیع کرنے میں ناکام ہوچکا ہے۔پاکستان میں تنخواہ دار افراد‘ رجسٹرڈ کارپوریٹ ادارے یا رسمی شعبے کے صنعتکار محسوس کرتے ہیں کہ وہ دیگر ممالک میں اپنے جیسے لوگوں کے مقابلہ میں زیادہ ٹیکس کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں حالانکہ وہ ممالک جی ڈی پی کے تناسب سے پاکستان کے مقابلہ میں دوگنا ٹیکس وصول کرتے ہیں۔ یہ بظاہر متضاد صورتحال اس لیے پیدا ہوئی کہ پاکستان پوری معیشت پر وسیع پیمانہ پر ٹیکس عائد نہیں کرتا۔ اسکے برعکس‘ وہ ایک نہایت محدود رسمی اور دستاویزی شعبہ پر بار بار‘ بھاری شرح سے اور انتظامی سختی کیساتھ ٹیکس عائد کرتا ہے۔ آج پاکستان میں ایک رجسٹرڈ کارپوریٹ ادارہ کی حالت پر غور کیجیے۔ کاغذوں میں اسے کارپوریٹ آمدنی پر ایک مقررہ قانونی ٹیکس شرح کا سامنا ہوتا ہے۔ حقیقت میں یہ اس کی مالی ذمہ داریوں کا محض نقطہ آغاز ہوتا ہے۔ اصل میں اور بہت سی چیزیں بھی ہیں۔ اس ادارے پر اضافی ٹیکس‘ مخصوص شعبوں پر سرچارجز‘ مجموعی کاروباری حجم پر ٹیکس‘ ودہولڈنگ ٹیکس کٹوتیوں کی ایک پیچیدہ بھول بھلیاں اور سہ ماہی پیشگی ٹیکس ادائیگیاں بھی عائد ہوتی ہیں۔ اگرچہ نظریاتی طور پر ان میں سے بہت سے محصولات کو حتمی ٹیکس واجبات میں ایڈجسٹ کیا جا سکتا ہے لیکن عملی طور پر ایسا نہیں ہوتا کیونکہ انتظامی رکاوٹوں کے سبب محصولات کی یہ ایڈجسٹمنٹ کاروباری سرمائے کی بندش‘ تقریباً مستقل طور پر مؤخر ہونیوالے ٹیکس ری فنڈ کے دعووں اور قابلِ ایڈجسٹ ٹیکس کے دعووں میں تبدیل ہوجاتی ہیں۔ نتیجتاً ایک رسمی‘ دستاویزی ادارہ پر ٹیکس کا حقیقی بوجھ قانونی شرحوں سے ظاہر ہونیوالے بوجھ سے کہیں زیادہ ہے۔یہ آپریشنل بوجھ صرف مالی ادائیگیوں تک محدود نہیں رہتا۔ قوانین کی پابندی کرنے والے اداروں کو بہت زیادہ ریگولیٹری اور بکھری ہوئی انتظامیہ کا سامنا ہے۔ پورے ملک میں کاروبار کرنے والی ایک کمپنی کو متعدد ٹیکس اداروں سے واسطہ پڑتا ہے بشمول ایف بی آر‘ چار الگ الگ صوبائی ٹیکس کے ادارے‘ ایکسائز اور ٹیکس کے محکمے‘ صوبائی بورڈز آف ریوینو اور آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کیلئے علیحدہ انتظامی نظام۔ ہر دائرہ اختیار کے اپنے قانونی ڈیزائن کے معیار‘ مختلف شرحیں‘ الگ رپورٹنگ نظام اور ایک دوسرے سے متصادم قانونی تشریحات ہیں۔ کسی کاروبار میں ایک ہی لین دین کی بنا پر ٹیکس سے متعلق ہر سرکاری ادارہ ایک ہی وقت میں ایک الگ ٹیکس نوٹس بھیج دیتا ہے۔ نتیجہ میں کاروبار نہ ختم ہونے والے دائرہ اختیار کے تنازعات میں الجھ جاتے ہیں۔مزید برآں‘ قوانین کی پابندی کرنے والے ٹیکس دہندگان کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ ریاست کیلئے ٹیکس وصولی بھی کریں اور وہ بھی بلا معاوضہ۔ سخت سزائوں کے خوف کے تحت رسمی کاروباروں کو یہ سب کام کرنا پڑتے ہیں۔ ہر سودے پراور تنخواہوں کی ادائیگیوں پر ٹیکس کا حساب لگانا‘ اسے کاٹنا اور سرکاری خزانہ میں جمع کرانا اور ہر قسم کے لین دین پر ٹیکس کا الگ ریٹ ہے۔ اس پیچیدہ نظام کی پابندی کیلئے کاروباری اداروں کو بڑے اکاونٹنگ شعبے قائم کرنے اور مہنگے وکیل کرنا پڑتے ہیں۔ اس کے سبب پاکستان میں کاروبار کرنے کی لاگت میں ایک بہت بڑا پوشیدہ بوجھ شامل ہوجاتا ہے؛چنانچہ قوانین کی پابندی کرنے والا ٹیکس دہندہ پیچیدگیوں کے جال میں پھنستا چلا جاتا ہے اور آسان ترین ہدف بن جاتا ہے جبکہ مہارت سے ٹیکس چوری کرنے والا شخص اپنے اثر و رسوخ یا پیسہ کے استعمال کی بدولت محفوظ رہتا ہے۔ پاکستان میں کاروباری اداروں کا خیال ہے کہ وہ اپنی پیداوار بڑھانے کی بجائے قوانین کی پابندی پر زیادہ وسائل صرف کر رہے ہیں۔ کاروباری افراد اپنے کاروبار کو چلانے میں جتنا وقت صرف کرتے ہیں اتنا ہی ٹیکس انتظامیہ سے نمٹنے میں صرف کرتے ہیں؛ چنانچہ وہ یہ بات زیادہ مناسب سمجھتے ہیں کہ ریگولیٹری نگرانی سے بچنے کیلئے اپنے کاروبار کو چھوٹا رکھیں‘ ادارہ کو باقاعدہ رجسٹر نہ کرائیں اور غیر رسمی نقد لین دین کے ذریعے تجارت کریں۔ اس طرح غیر رسمی معیشت کاروباری لوگوں کیلئے محض اپنی بقا کی حکمت عملی نہیں بلکہ ایک معقول معاشی فیصلہ ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_78012569.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>علاقائی تصادم کا خطرہ، پاکستان پھر متحرک(رشید صافی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-08-25/52548/48017645</link><pubDate>Tue, 25 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-08-25/52548/48017645</guid><description>فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اعلیٰ وفد کے ہمراہ اہم ترین دورہ پر ایران میں موجود ہیں‘ ان کا دورۂ تہران محض دوطرفہ ملٹری ڈپلومیسی کا حصہ نہیں بلکہ یہ خطے میں امن واستحکام کی بحالی کے لیے پاکستان کے کثیر جہتی اور غیر معمولی سفارتی کردار کا مظہر ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق اس دورے کا بنیادی مقصد پاکستان اور ایران کے مابین دو طرفہ سکیورٹی ودفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانا‘ سرحدی انتظام کو منظم کرنا اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری بحران کے خاتمے کیلئے سفارتی وثالثی کوششوں کو آگے بڑھانا ہے۔ موجودہ عالمی منظر نامے میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورے کی افادیت دو طرفہ امور کی سرحدوں کو عبور کر کے وسیع تر علاقائی اور عالمی برادری کی ترجیحات سے جا ملتی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ جنگ‘ جو عالمی معیشت اور توانائی کے خطوط پر بدترین اثرات مرتب کر رہی ہے‘ اسے روکنے کیلئے ایک غیر جانبدار اور مؤثر ثالث کی اشد ضرورت محسوس کی جا رہی تھی۔ پاکستان نے بحران کو کم کرنے کیلئے یہی ذمہ دارانہ کردار سنبھالا ہے۔ فیلڈ مارشل کا دورۂ ایران ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکہ کی جانب سے ایران پر نئی اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی دی گئی ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی اور معاشی‘ دونوں طرح کی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ مطلب یہ کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف جس کارروائی یا حملے کی دھمکی دی جاتی رہی ہے‘ وہ خطرہ اب بھی برقرار ہے۔ فیلڈ مارشل کا دورۂ تہران جنگ کے خطرات کو کم کرنے کی ایک کڑی ہو سکتا ہے۔ وار زون کا دورہ کرنے کا بنیادی مقصد متحارب فریقین کے مابین فاصلے کم کر کے مذاکرات کیلئے سازگار ماحول پیدا کرنا ہوتا ہے۔ پاکستان اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازعات اور جنگی فضا کو ختم کرنے کیلئے عملی اور نتیجہ خیز روڈمیپ پر کام کر رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں امن کا قیام اگرچہ تمام بااثر عالمی طاقتوں اور خلیجی ریاستوں کی شدید خواہش ہے لیکن محض خواہش ظاہر کرنے اور میدانِ عمل میں جا کر ٹھوس اقدامات کرنے میں واضح فرق ہوتا ہے۔ پاکستان وہ واحد ملک ہے جو اس وقت عملی بنیادوں پر امن کی راہیں تلاش کر رہا ہے۔مشرقِ وسطیٰ جنگ کے خاتمے کیلئے پاکستان کی کوششوں کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس وقت پاکستان کو بین الاقوامی اور علاقائی سطح پر جو مقام حاصل ہے وہ فوجی قوت‘ پیشہ ورانہ بصیرت اور طویل سفارتی تجربے کا مرہونِ منت ہے۔ ایک طرف پاکستان مسلم امہ کے فکری و سیاسی دھارے میں نمایاں اور بااعتماد رکن تسلیم کیا جاتا ہے تو دوسری طرف مغربی دنیا اور بالخصوص امریکہ کے ساتھ اعتماد پر مبنی روابط ہیں۔ یہ دہرا مقام اور باہمی اعتماد پاکستان کو ایک ایسا منفرد پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے جو دنیا کے کم ہی ممالک کو میسر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی برادری پاکستان سے یہ توقع رکھتی ہے کہ وہ تہران‘ واشنگٹن اور دیگر علاقائی دارالحکومتوں کے درمیان پُل کا کردار ادا کرے۔ فیلڈ مارشل کا یہ دورہ انہی توقعات کو عملی شکل دینے کی کوشش ہے۔فیلڈ مارشل کے دورۂ ایران کی ٹائمنگ اس لیے بھی نہایت اہم ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے تہران پر اقتصادی دبائو میں اضافہ کیا گیا ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ نے حال ہی میں ایرانی مالیاتی ڈھانچے کو مفلوج کرنے کے لیے اس کے شیڈو بینکنگ نیٹ ورک پر کڑی اقتصادی پابندیاں عائد کی ہیں۔ امریکہ کے مطابق یہ خفیہ مالیاتی نظام ایران کو اپنے خام تیل اور دیگر مصنوعات کی عالمی برآمدات سے حاصل ہونے والی رقوم کی منتقلی میں مدد فراہم کرتا ہے۔ اس کارروائی میں ایرانی بینکوں سے منسلک درجنوں فرنٹ کمپنیوں‘ ایکسچینج ہائوسز اور مالیاتی سہولت کاروں کے اثاثے منجمد کیے گئے ہیں تاکہ تہران کی اقتصادی شریانوں کو خشک اور کمزور کیا جا سکے۔ تاہم اس امریکی اقدام کے ردِعمل میں ایران نے بھی سخت جیو پولیٹکل جواب دیا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی وخارجہ پالیسی کمیٹی نے عالمی تجارتی شاہراہ &#39;آبنائے ہرمز‘ سے گزرنے والے بحری جہازوں پر باضابطہ طور پر ٹریفک و سروسز فیس نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ تہران کی جانب سے یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ آبی گزرگاہ میں نیوی گیشن‘ ایندھن‘ سکیورٹی‘ انشورنس اور دیگر دفاعی سہولتوں کی فراہمی کے عوض ہر مال بردار اور تجارتی جہاز کو ایرانی ریال یا کسی بھی متبادل بین الاقوامی کرنسی میں فیس کی ادائیگی کرنا ہو گی۔ یہ فیصلہ دراصل تہران کا واشنگٹن کو ایک واضح پیغام ہے کہ اقتصادی دبائو کا جواب عالمی سپلائی چین پر اثر انداز ہو کر دیا جائے گا۔آبنائے ہرمز کی جغرافیائی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ دنیا کا تقریباً ایک چوتھائی خام تیل اور ایل این جی اسی تنگ آبی گزرگاہ کے ذریعے خلیج فارس سے ہو کر عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے۔ ایران کی جانب سے بحری جہازوں سے فیس وصول کیے جانے کے فیصلے کے بعد صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔ آبنائے ہرمز کی بحری نگرانی کرنے والے ایرانی ادارے پرشین گلف سٹریٹ اتھارٹی نے باضابطہ طور پر یہ اعلان کیا ہے کہ جو بحری جہاز یا ان کے مالکان ایرانی ضوابط اور فیس کی ادائیگی کی پاسداری نہیں کریں گے‘ انہیں آئندہ کیلئے نان کمپلائنٹ ویسلز کی فہرست میں شامل کر دیا جائے گا اور ان کیلئے اس اہم آبی راستے سے گزرنا ممنوع قرار دے دیا جائے گا۔ ایران کی اس حکمت عملی نے عالمی شپنگ کمپنیوں‘ خلیجی ریاستوں اور تجارتی منڈیوں میں اضطراب کی لہر دوڑا دی ہے۔ اگرچہ امریکہ دعویٰ کرتا ہے کہ آبنائے ہرمز پر ایران کی اجارہ داری ختم کی جا چکی ہے اور بین الاقوامی قوانین کے تحت بحری آمدو رفت آزاد ہے‘ لیکن زمینی اور سمندری حقائق بتاتے ہیں کہ تہران کا اس گزرگاہ پر مؤثر کنٹرول برقرار ہے اور وہ جب چاہے عالمی تجارت کو معطل کر سکتا ہے۔فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورۂ تہران کے ایجنڈے پر یہ مسئلہ سرفہرست اور انتہائی حساس نوعیت کا حامل ہے کیونکہ اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھتی ہے تو اس سے نہ صرف خلیجی خطے کی بلکہ خود پاکستان اور ایشیائی ممالک کی توانائی اور معاشی سلامتی براہِ راست متاثر ہو گی۔دیرینہ حریفوں اور متحارب گروہوں کو مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کیلئے تیار کرنا اور ان کے درمیان بنیادی نکات پر اتفاقِ رائے قائم کرنا کوئی آسان کام نہیں۔ اس کی مثال پڑوسی ملک افغانستان کی صورت میں ہمارے سامنے موجود ہے۔ امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان 2020ء میں حتمی دوحہ امن معاہدہ طے پانے سے قبل پسِ پردہ سفارت کاری اور بات چیت کا عمل طویل اور کٹھن مرحلوں سے گزرا تھا۔ درجنوں ادوار میں ہونے والے مذاکرات بالآخر نتیجہ خیز ہوئے۔ ایران اور امریکہ کی باہمی چپقلش کی جڑیں بھی کافی گہری ہیں۔ اگرچہ چند ماہ قبل اسلام آباد ٹاکس اور سوئٹزرلینڈ میں لیک لوسرن سمٹ اور معاہدے جیسے ابتدائی فریم ورک موجود ہیں‘ تاہم فریقین اب تک کسی ایسے حتمی تصفیے پر نہیں پہنچ سکے جو خطے میں مستقل اور دیرپا امن کی ضمانت دے سکے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا یہ سفر اسی طویل اور صبرآزما امن عمل کوآگے بڑھانے کی ایک انتہائی اہم کڑی ہے۔ اس دورے کے دوران ممکنہ طور پر اسلام آباد کے توسط سے تہران اور واشنگٹن یا دیگر علاقائی فریقوں کے درمیان اہم ترین اور حساس پیغامات کا تبادلہ ہو سکتا ہے تاکہ متحارب گروہوں کے درمیان ہونے والے ممکنہ تصادم کو روکا جا سکے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/222_48272610.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>جیل میں والد صاحب کا خط(حافظ محمد ادریس)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/hafiz-muhammad-idreess/2026-08-25/52549/42324766</link><pubDate>Tue, 25 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/hafiz-muhammad-idreess/2026-08-25/52549/42324766</guid><description>گزشتہ کالم میں بتایا تھا کہ جیل میں قید کے دوران حکومت کی طرف سے ایک پیشکش آئی کہ اگر غیر مشروط معافی نامہ لکھ کر آئندہ کیلئے کسی حکومت مخالف سرگرمی میں حصہ نہ لینے کا حلف دوں تو مجھے رہا کیا جا سکتا ہے۔ اس پیشکش کے بارے میں میرے گھر والوں کو پتا چلا تو مجھے والد محترم کی طرف سے ایک خط موصول ہوا۔ یہ خط بعد میں ہفت روزہ آئین میں بھی چھپا۔ مذکورہ خط ذیل میں دیا جا رہا ہے۔ چک میانہ (گجرات) ... 15 مئی 1970ء نورِ چشم راحتِ جان طول عمرہٌ‘ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہٗ !طالب الخیر بالخیر۔ میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ تجھے ان لوگوں میں شامل کرے جن کا ذکر اس نے ان الفاظ میں کیا ہے : &#39;&#39;بیشک جنہوں نے کہا: ہمارا رب اللہ ہے پھر (اس پر) ثابت قدم رہے ان پر فرشتے اترتے ہیں‘‘ (سورہ حم السجدہ: 30)۔ آج آپ کی چٹھی ملی ہے‘ اس سے قبل ایک چٹھی لکھ چکا ہوں معلوم نہیں وہ آپ کو کیوں نہیں ملی۔ چند دنوں سے خط لکھنے کا ارادہ کر رہا تھا۔ اگلے دن اخبار میں دیکھا کہ سزا یافتہ طلبہ معافی نامہ لکھ کر اور پُرامن رہنے کی ضمانت دے کر رہائی حاصل کر سکتے ہیں۔ لفظ پُرامن کا مطلب ایک تو میں وہی سمجھتا ہوں جو آپ نے تحریر کیا (یعنی معافی مانگ کر رہائی حاصل کرنا)‘ دوسرا یہ کہ قانون کی حد میں رہ کر اس کا احترام کرنا۔ اگر پہلا مفہوم ہے تو پھر اس کے قبول کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا لیکن اگر دوسرا مفہوم ہے تو پھر واضح رہے کہ ہمارا مشن یہی ہے کہ قانون کی خلاف ورزی نہ کی جائے۔ اسلام کا یہی حکم ہے۔آپ کے حق میں وائس چانسلر صاحب کی شہادت کے بعد مجھے اطمینان ہے کہ آپ نے کوئی غیر قانونی حرکت نہیں کی (وائس چانسلر صاحب نے سمری کورٹ میں گواہی کے دوران میرے سوال کے جواب میں بتایا کہ میں حافظ محمد ادریس کو پہچانتا ہوں‘ یہ میرے گھر مختلف طلبہ مسائل کیلئے آتا رہتا تھا‘ اس شام کو بھی یہ میرے ہاں آیا تھا مگر اس نے کوئی غیر قانونی حرکت نہیں کی)۔ رہا سزا کا معاملہ تو اس کے متعلق کچھ نہیں کہنا چاہتاکیونکہ رموزِ مملکتِ خویش خسروان دانند! (حکومت اور سلطنت کے بھید حکمران ہی جانتے ہیں)۔بیٹے! ہماری ساری تگ ودو محض اللہ کی رضا کی خاطر ہے۔ دنیوی مفاد ہمارا مقصد نہیں ہے۔ ہمیں جو پریشانی آ چکی ہے اس میں بھی خدا کی کوئی مصلحت مضمر ہے۔ مسلمان جان و مال کی قربانی دے سکتا ہے مگر ضمیر کو فروخت کرنا اس کیلئے حد درجہ کی ناکامی اور بدبختی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: اے ایمان والو! وہ کہتے کیوں ہو جو کرتے نہیں ہو۔ اور ہمارے اولو الامر کی حالت یہ ہے کہ اخبارات میں کہہ دیا کہ گرفتار شدہ طلبہ کو بی کلاس دینے کی ہدایت کر دی گئی ہے مگر اس پر عمل درآمد نہیں ہوا اور دوسری طرف گوجرانوالہ میں اسماعیل شہید کے قاتلوں کو بی کلاس دے دی گئی ہے (نوائے وقت‘ 7 مئی 1970ء)۔ ہم اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرنے والے ہیں اور حضورﷺ کا ارشاد ہمارے سامنے ہے کہ &#39;&#39;خالق کی نافرمانی میں مخلوق کی اطاعت نہیں ہے‘‘۔ ہم اولو الامر کی اطاعت کرتے ہیں مگر جس حد تک وہ خدا اور رسول کی اطاعت کے تابع ہو۔ &#39;&#39;پس جس شے میں کوئی تنازع ہو جائے اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹا دو‘‘۔ جو رفقا آپ کی ملاقات کیلئے آئے تھے مگر پابندی کی وجہ سے ملاقات نہ ہو سکی ان کا وہاں جانا فضول نہ تھا۔ وہ تمہارے خونی رشتہ دار نہ تھے‘ نہ ان کا کوئی ذاتی کام تم سے وابستہ تھا‘ وہ محض اللہ کی خاطر آئے تھے اور اللہ انہیں اس کا اجر دے گا۔ حضورﷺ کا ارشاد ہے: &#39;&#39;جس کسی نے اللہ کی خاطر محبت کی‘ اسی کی خاطر دشمنی کی‘ اس کے حکم کے مطابق دیا اور اسی کے مطابق روک لیا تو اس کا ایمان مکمل ہو گیا‘‘ (سنن ابودائود)۔ ہم اللہ کے امر کے سامنے سر بسجود ہیں اور کوئی شکایت نہیں کرتے۔ وہی ہماری تمام مشکلات کو آسان کرنے والا ہے۔ آپ تو جانتے ہیں کہ جیل خانہ ایسا مقام ہے کہ اس سے نجات حاصل کرنے کیلئے اللہ کے نبی یوسف علیہ السلام نے بھی عزیزِ مصر کے آدمی سے کہا تھا: &#39;&#39;اپنے مالک سے میرا ذکر کرنا‘‘۔ لیکن خدا کی نافرمانی بہت بُری بات ہے اسی لیے آپ علیہ السلام نے دعا کی تھی: &#39;&#39;اے میرے رب مجھے جیل زیادہ عزیز ہے بہ نسبت اس کام کے جس کی طرف یہ مجھے بلاتے ہیں‘‘۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو آزمائشوں سے بچائے اور اگر کوئی آزمائش آ جائے تو استقامت کی طاقت عطا فرمائے۔ اللہ کے دین کی خاطر اللہ کے بندوں نے بڑی بڑی قربانیاں دی ہیں۔ ہمیں اللہ تعالیٰ حسبِ طاقت اپنے دین کی خدمت کرنے کا موقع دے اور کوئی ایسی آزمائش نہ ڈالے جس کی ہم طاقت نہ رکھتے ہوں۔ باطل کے مقابلے میں یوں ہونا چاہیے: سر داد نداد دست در دستِ یزید ؍ حقا کہ بنائے لا الہ است حسینؓ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ سیکولر ازم اور دیگر تمام لادینی نظریات کے سامنے ہمارے پائوں کبھی نہ لڑکھڑائیں اور وہ پاکستان میں اور پھر ساری دنیا میں اپنے دین کو غالب کرے۔ &#39;&#39;الیوم اکملت لکم دینکم‘‘ کی بشارت کے بعد دنیا میں کسی ازم کی کوئی ضرورت باقی نہیں ہے۔آپ کی ہمشیرہ کا پیغام آپ کے نام یہ ہے کہ کبھی معافی مانگ کر حق کے نام پر دھبہ نہ لگایا جائے‘ اللہ تعالیٰ سے مدد مانگیں۔ &#39;&#39;الیس اللہ بکاف عبدہ‘‘ پر نظر رکھیں اور اس کا ورد بھی کرتے رہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اور آپ کے تمام رفقا کو استقامت بخشے۔ آمین! انسان کو جتنی بھی راحتیں میسر ہوں پھر بھی اللہ تعالیٰ سے رحمت ہی کی التجا کرنی چاہیے۔ ہم جانتے ہیں کہ تم اللہ کے دین کو صحیح صحیح سمجھ کر اس کی سربلندی کیلئے یہ ساری مشقتیں جھیل رہے ہو۔ جن لوگوں نے بھی اللہ کے دین کو سوچ سمجھ کر اپنایا ہے دنیا کی کوئی طاقت ان کو حق کے راستے سے نہیں ہٹا سکی۔ قرونِ اولیٰ کے مسلمانوں نے اسلام کی خاطر بے شمار قربانیاں دیں۔ علامہ اقبالؒ نے اسی لیے کہا تھا: چو میگویم مسلمانم بلرزم ؍ کہ دانم مشکلات لا الٰہ را!اللہ تعالیٰ آپ کو صحت اور عمر جاودانی عطا کرے اور صراطِ مستقیم پر قائم رکھے۔ ہماری طرف سے کسی قسم کی پریشانی میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ سے ہمارے لیے خیریت کی دعا مانگتے رہا کریں۔ جب میرے والد محترم حج کی فرضیت ادا کرنے کیلئے مکہ معظمہ روانہ ہونے لگے تو میں ان کی مفارقت کو برداشت کرنے کی ہمت نہیں رکھتا تھا لیکن اللہ نے میرے دل میں یہ خیال پختہ کر دیا کہ نادان خوشی سے اس مفارقت کو قبول کر لو کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ تیرے والد کو گھر بیٹھے اپنے پاس بلالے تو تجھے ہمیشہ کیلئے جدائی بھی ہو گی اور ان کا فریضہ بھی ان کے سر رہے گا۔ میں تمہاری جدائی کو بھی برداشت نہیں کر سکتا مگر جس وقت میں نے تم کو رخصت کیا تو خدا کے سپرد کیا اور اسی کے سپرد اب بھی کرتا ہوں۔ &#39;&#39;اللہ تمہارا نگہبان ہو اور وہی سب سے بہتر محافظ اور نگہبان ہے‘‘۔والسلام...آپ کا والد۔ (بحوالہ ہفت روزہ آئین‘ جلد: 8‘ شمارہ: 72)والد مرحوم کا یہ خط جیل میں میرے لیے بہت بڑا سہارا بنا۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے‘ وہ بہت صاحبِ عزیمت انسان تھے۔ جیل میں ملاقاتوں کیلئے دوست احباب‘ عزیز واقارب تشریف لاتے رہتے تھے۔ والد صاحب اس عرصے میں تین چار مرتبہ بعض دیگر عزیزوں کے ساتھ ساہیوال تشریف لائے تھے۔ ویسے تو ہم سب کا پس منظر تحریکی تھا اس لیے انہیں کوئی فکرمندی نہیں تھی اور میرے حالات دیکھ اور سن کر انہیں مزید اطمینان ہو گیا۔ جمعیت کے ساتھی بھی ملک بھر سے مختلف اوقات میں آتے رہے۔ شروع میں ایک مرتبہ کچھ ساتھی آئے مگر کوشش کے باوجود جیل حکام نے ملاقات کی اجازت نہ دی۔ ملاقات کیلئے آنے والے احباب میں سے ہر ایک کا نام یاد نہیں، تاہم ان سب کیلئے اللہ سے دعائیں مانگتا ہوں کہ ان کی اس محبت لوجہ اللہ کو اللہ تعالیٰ شرف قبولیت عطا فرمائے۔ </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_24721193.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>