<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>اسوۂ حسنہ کی پیروی ہی مسائل کا حل(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-26/11486</link><pubDate>Wed, 26 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-26/11486</guid><description>آج پاکستان میں یومِ ولادتِ مصطفیﷺ اس عزم کیساتھ منایا جا رہا ہے کہ ہم اپنی انفرادی اور اجتماعی حیات کو اسوۂ حسنہ کے سنہری سانچے میں ڈھالنے کی مقدور بھر سعی کریں گے۔ محسنِ انسانیت‘ سرورِ کائنات حضرت محمد مصطفیﷺ کی ولادتِ باسعادت تاریخِ عالم کا وہ عظیم اور منفرد واقعہ ہے جس نے سسکتی ہوئی انسانیت کو ظلمت کے گھور اندھیروں سے نکال کر ہدایت اور امن و آشتی کے نور سے منور کیا۔ نبی کریمﷺ کی تشریف آوری کائنات کیلئے اللہ تعالیٰ کا وہ ایسا عظیم‘ لامتناہی اور سدا بہار احسان ہے جس کی برکات اور رحمتوں کا سلسلہ رہتی دنیا تک قائم ودائم رہے گا۔ ظہورِ اسلام سے قبل کا عرب معاشرہ جہالت‘ وحشت اور لاقانونیت کا بدترین نمونہ تھا۔ معمولی باتوں پر شروع ہونیوالے جھگڑے قبائلی جنگوں اور نسل در نسل دشمنی پر منتج ہوتے تھے۔ انسانیت اوصاف سے عاری ہو چکی تھی اور ہر طرف نفسانفسی کا عالم تھا۔ ایسی جہالت کے دور میں آفتابِ رسالت طلوع ہوا تو اسکی ضیا پاشیوں نے خطہ عرب کو ایسے جگمگایا کہ معلمِ کائناتﷺ کی بے مثال تربیت سے یہ پچھڑا ہوا معاشرہ دیکھتے ہی دیکھتے علم و حکمت اور تہذیب وہنر کا پیشوا بن گیا۔ رسول کریمﷺ نے دلوں کو جوڑا‘ نفرتوں کو محبتوں میں بدلا اور ایک ایسے فکری وعملی انقلاب کی بنیاد رکھی جس نے دنیا کو جہالت کے گڑھے سے نکال کر ترقی اور شعور کی نئی رفعتوں سے ہمکنار کر دیا۔

اللہ کے آخری رسولﷺ نے اپنے آخری خطبہ میں حقوقِ انسانی کا وہ جامع اور انقلابی تصور پیش کیا جس کا اس سے پہلے تصور بھی محال تھا۔ آپﷺ نے معاشرے کے پسماندہ اور پسے ہوئے طبقات‘ بالخصوص خواتین اور غلاموں کو معاشرے میں برابری اور عزت کا حقیقی درجہ دیا۔ آپﷺ کی زندگی کا ہر پہلو‘ خواہ وہ ایک شفیق باپ اور شوہر کی حیثیت سے ہو‘ ایک تاجر کے روپ میں ہو‘ ایک سپہ سالار‘ ایک منصف یا پھر ایک عظیم حکمران کے طور پر ‘ ہر جگہ عفو و درگزر‘ امانت ودیانت اور عدل و انصاف کی قابلِ تقلید عملی مثالیں نظر آتی ہیں۔ آج ہم آپس کے لڑائی جھگڑوں میں اس طرح الجھے ہوئے ہیں کہ سیرت النبیﷺ کی روشن تعلیمات کو بھی فراموش کر دیا ہے۔ اللہ کے رسولﷺ نے مسلمان کو مسلمان کابھائی قرار دیا‘ جو نہ اس پر ظلم کرتا ہے‘ نہ اس کو رسوا کرتا ہے اور نہ ہی اس کو حقیر جانتا ہے مگر ہمارے معاشرے میں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے‘ رسوا و بدنام کرنے اور طعن و تشنیع کا نشانہ بنانے کی روش جڑوں تک سرایت کر چکی ہے۔معاشرے میں اقلیتوں‘ عورتوں اور بچوں کے تحفظ کی ابتر صورتحال سر شرم سے جھکا دیتی ہے۔ آئے دن اقلیتوں کو ہراساں یا حقوق غصب کرنے کی خبریں سننے کو ملتی ہیں حالانکہ رسول کریمﷺ نے معاہد (اقلیتی برادری) کیساتھ ظلم و زیادتی کی صورت میں بروزِ قیامت خود انکی وکالت کی تنبیہ فرمائی ہے۔
صرف ایک سال (2025ء)میں ملک میں بچوں سے زیادتی کے 3600 سے زائد کیس ریکارڈ ہوئے جبکہ خواتین پر ظلم و تشدد کے کیسز کی تعداد ساڑھے چھ ہزار سے بھی زائد ہے۔ خطبہ حجۃ الوداع میں رسول کریمﷺ نے بالخصوص عورتوں کے معاملے میں خدا سے ڈرنے کی تاکید فرمائی۔ نیز فرمایا: جو بڑوں کااحترام اور چھوٹوں پر شفقت نہیں کرتا وہ ہم میں سے نہیں۔ آج کا دن ہمارے لیے بالخصوص غور و فکر کا ایک مقام ہے کہ ہماری زندگیاں سیرت النبیﷺ سے دور کیوں ہیں؟ ہمیں اپنے معاشرے میں انسانی تکریم اور کمزور طبقات کیساتھ حسنِ سلوک کی نبوی تعلیمات کی یاددہانی کی ضرورت ہے۔ اگر ہم اپنے معاشرے سے سماجی برائیوں اور ظلم و ناانصافی کا خاتمہ کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں سیرتِ رسولﷺ کی تعلیمات کو اپنانا ہو گا۔ آج کے دن کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنی مملکت اور سماج کو عدل و انصاف‘ قانون کی بالادستی‘ میرٹ اور انسانی تحفظ کے انہی زریں اصولوں کے مطابق ڈھالنے کا عہد کریں جن پر تاریخ کی پہلی مثالی فلاحی ریاست یعنی ریاستِ مدینہ کی بنیاد رکھی گئی تھی۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>نتیجہ خیز اور سود مند دورہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-26/11485</link><pubDate>Wed, 26 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-26/11485</guid><description>ایرانی حکومت نے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورۂ ایران کو انتہائی نتیجہ خیز اور سود مند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس دورہ کے دوران قابلِ قدر سفارتی کامیابیاں حاصل ہوئیں۔ ایرانی صدارتی دفتر کے عہدیدار سید مہدی طباطبائی کے مطابق دورۂ ایران کے دوران اہم اور قابلِ قدر سفارتی پیشرفت ہوئی ہے جبکہ اس دورے کے نتائج جلد ہی سامنے آنا شروع ہوجائیں گے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ ایران سے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی روابط اور باہمی تعاون کو مزید آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔اس اہم دورے میں جنگ کو مزید پھیلنے سے روکنے‘ آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے‘ تنازع کے خاتمے اور علاقائی مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے تلاش کرنے پر بات ہوئی۔ دورے کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اس میں ایران اور امریکہ کے مابین اپریل میں طے پانے والی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو دوبارہ فعال کرنے پر بھی بات ہوئی۔ پاکستان کی سفارتی کوششوں سے جون میں امریکہ اور ایران نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے مگر اسکے بعد خطے میں ایک بار پھر جنگ کے شعلے بھڑک اٹھے۔ ایران امریکہ تنازع سے صرف جنگ میں براہِ راست شامل ممالک ہی متاثر نہیں ہو رہے بلکہ پورا خطہ اس کے اثرات سے متاثر ہو رہا ہے۔

اس لیے اس تصادم کو روکنے کیلئے سفارتی راستے کو دوبارہ فعال کرنے کی ضرورت ہے جس کیلئے پاکستان دونوں متحارب ممالک میں پل کا کردار ادا کر رہا ہے۔ دورۂ تہران سے قبل صدر ٹرمپ کی جانب سے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کی درخواست اس سفارتی عمل میں ان کے کردار کی اہمیت کو مزید نمایاں کرتی ہے۔ یہ پیش رفت پاکستان کیلئے محض ایک سفارتی کامیابی نہیں بلکہ اس کی علاقائی اہمیت کا اظہار بھی ہے۔ ایسے وقت میں جب جنگ نے ایران اور امریکہ کے درمیان اعتماد کی آخری حدیں بھی کمزور کردی ہیں‘ پاکستان دونوں ممالک کو تصادم کے بجائے مکالمے کا راستہ اختیار کرنے پر آمادہ کرنے کیلئے کوشاں ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا تہران میں اعلیٰ ترین ایرانی قیادت سے براہِ راست رابطہ اور ایرانی قیادت کی جانب سے اس دورے کو نتیجہ خیز قرار دیا جانا اس امن مشن کی اہم کامیابی ہے۔
اب اگلا مرحلہ اس اعتماد کو عملی پیشرفت میں بدلنے کا ہے۔ اگر پاکستان اپنی سفارتی کوششوں کو بروئے کار لاتے ہوئے تہران اور واشنگٹن کو دوبارہ مذاکرات کی میز تک لے آنے میں کامیاب ہوتا ہے تو یہ صرف مذاکراتی تعطل کا ہی خاتمہ نہیں ہوگا بلکہ پاکستان کی طرف سے علاقائی امن کیلئے کی جانے والی مسلسل کوششوں کی ایک بڑی کامیابی ہو گی۔ ایرانی صدارتی دفتر کے عہدیدار سید مہدی طباطبائی کے یہ الفاظ حوصلہ افزا ہیں کہ فیلڈ مارشل کے دورۂ ایران کے نتائج جلد ہی سامنے آنا شروع ہوجائیں گے۔اس سلسلے میں ایران اور امریکہ دونوں کی ذمہ داری ہے کہ ان مفاہمتی اور سفارتی کوششوں کی کامیابی کیلئے تعاون یقینی بنائیں تا کہ خطے سے جنگ کا خاتمہ ہو اور معاشی رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بدمزہ صورتحال(ایاز امیر)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-08-26/52550/28450957</link><pubDate>Wed, 26 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-08-26/52550/28450957</guid><description>کیا بوریت ہر طرف چھائی ہوئی ہے۔ جسے صحافت کہا جاتا تھا اُس کا حشر ہو گیا ہے۔ سوشل میڈیا کا دور ہے‘ٹی وی چینلوں پر ویرانی چھائی ہوئی ہے۔ اخبارات کو کوئی پڑھتا نہیں اور ایسے میں کالم نویسی میں کہاں جان رہے۔ سیاست کا جنازہ نکل چکا ہے۔ فارم 47 کا ذکر اتنا ہو چکا کہ مزید ذکر سے شرم آنے لگتی ہے۔ لیکن جن حکومتوں کے ناٹک قوم کو دیکھنے پڑ رہے ہیں وہ اسی کی پیداوار ہیں۔ ہاتھ میں ان کے کچھ نہیں لیکن کمال ڈھٹائی سے اس بانجھ قسم کی حکمرانی سے جڑے ہوئے ہیں۔ شاعر نے کیا کہا تھا کہ شرم تم کو مگر نہیں آتی۔اس کے برعکس امریکہ کی صورتحال دیکھیں‘ کتنی دلچسپ ہے۔ روز کوئی نہ کوئی شگوفہ چھوڑا جاتا ہے اور پھر پوڈ کاسٹ کرنے والے ٹرمپ انتظامیہ کے ایسے لتے لیتے ہیں کہ سُن کر مزہ آ جائے۔ فی الحال تو نیٹلی ہارپ (Natalie Harp) کا قصہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ خاتون ہے بڑی جاذب نظر‘ بلانڈ زلفیں‘ اچھی شکل اور جسامت پُرکشش۔ صدر ٹرمپ کی یوں سمجھیے گیٹ کیپر یا رکھوالی بنی ہوئی ہیں۔ جہاں صدر بیٹھے ہوں جہاں صدر جائیں نیٹلی ساتھ ہوتی ہے۔ لیپ ٹاپ اُن کے ہاتھ میں ہوتا ہے‘ صدر کے بارے میں کوئی تعریفانہ کلمہ کہیں سے آئے فوراً سامنے رکھ دیتی ہے اور صدر ٹرمپ ٹروتھ سوشل (Truth Social) پر کچھ لکھنا چاہیں تو نیٹلی فوراً ڈکٹیشن لیتی ہیں۔ بات تو یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ کسی کو صدر ٹرمپ تک رسائی حاصل کرنی ہو تو نیٹلی کے ذریعے جانا پڑتا ہے۔ ہم فارم 47 کے وزیراعظم یا وزیرخارجہ ہوتے تو اب تک نیٹلی ہارپ کا راستہ نکال لینا تھا۔ اور اُسی کے ذریعے پھر اوول آفس تک ہماری رسائی ہو جاتی۔صدر ٹرمپ کے دو اسٹیٹ ہیں؛ ایک تو ماراے لاگو (Mar-a-Lago)جو کہ جنوبی فلوریڈا میں ہے‘ دوسرا بیڈمنسٹر (Bedminster) جو کہ واشنگٹن کے نسبتاً قریب ورجینیا میں ہے۔ کہا جاتا ہے ایک دفعہ بیڈ منسٹر میں صدر ٹرمپ گالف کھیل رہے تھے اور پیچھے پیچھے لیپ ٹاپ پکڑے نیٹلی ہارپ تھی۔ ٹرمپ شاٹ لگاتے اور گالف کارٹ میں بیٹھتے تو نیٹلی کارٹ کے پیچھے بھاگ پڑتی۔ اسے کہتے ہیں لگن اور ڈیووشن (devotion)۔یہ بات ماننی پڑے گی کہ اس وقت امریکہ میں جس قسم کے پوڈ کاسٹ چلتے ہیں بڑے اعلیٰ معیار کے ہیں۔ ان میں ایسے بھی ہیں جہاں صدر ٹرمپ کا باقاعدہ نفسیاتی تجزیہ کیا جاتا ہے۔ اس حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ ٹرمپ ہیں تو صدرِ امریکہ لیکن بڑے اکیلے ہیں۔ میلانیا ٹرمپ جو اُن کی بیوی ہیں اُن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جب سے ڈونلڈ ٹرمپ دوسری بار صدر بنے ہیں ایک رات بھی میلانیا وائٹ ہاؤس میں نہیں رہیں۔ آتی جاتی رہی ہیں وہ بھی اتنا زیادہ نہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ میلانیا نے نیٹلی ہارپ کے بارے میں کہا ہے کہ جب تک یہ عورت وائٹ ہاؤس میں ہے تو میں نے وہاں نہیں جانا حالانکہ جہاں اور باتیں بہت ہو رہی ہیں صدر ٹرمپ اور نیٹلی ہارپ کے تعلقات کا ذکر نہیں آتا۔ ایک اور بات یاد آئی کہ یہ جو حالیہ نیٹو سربراہی کانفرنس کے اختتام پر صدر ٹرمپ نے جہاز بدلا اور کیٹرنگ ٹرک میں چھپ کر ایک دوسرے جہاز میں منتقل ہوئے تو جو چند لوگ صدر ٹرمپ کے ساتھ تھے اُن میں ایک نیٹلی ہارپ بھی تھی۔ سیکرٹری آف سٹیٹ مارکو روبیو اور دیگر اعلیٰ عہدیدار پہلے جہاز میں بیٹھے رہے لیکن نیٹلی کا سٹیٹس تو الگ ہے۔ایسے تمام حقائق اور ان پر مزیدار قسم کی گفتگو اور بحث امریکن میڈیا میں ہو رہی ہے۔ کسی لگی لپٹی کے بغیر۔ وہ اس لیے کہ وہاں مکمل آزادیٔ اظہار موجود ہے۔ آپ جو چاہیں میڈیا پر کہہ سکتے ہیں اور رات گئے آپ کے دروازے پر کوئی دستک نہیں ہو گی اور کوئی آپ کو کسی نامعلوم مقام پر نہیں پہنچا دے گا۔ کھلی گفتگو یہاں ہو تو اگلے حشر نہ کر دیں۔ کسی کا ذکر کرنا تو دور کی بات ہے نام تک لینا دشوار ہو جاتا ہے۔ ہماری دوست شیریں مزاری کی بیٹی ایمان اور اُس کا خاوند ہادی علی چٹھہ سال کے شروع سے اڈیالہ کے مہمان ہیں۔ جرم کیا ہے‘ کوئی اُنہوں نے ٹویٹ لکھ دی جو نازک مزاجوں پر بھاری پڑی۔ بس ٹویٹ ہی‘ اُس سے زیادہ کچھ نہیں۔ لیکن اندر ہیں اور انصاف کے پہیے بھی کیا خوب چلتے ہیں کہ نہ ضمانت نہ کسی اور قسم کی شنوائی ہو رہی ہے۔ امریکن پوڈ کاسٹوں کا میں تو رسیا ہو گیا ہوں۔ سونے بھی لگوں تو کوئی نہ کوئی پوڈ کاسٹ سننے لگتا ہوں اور اُسی میں نیند کا غلبہ آ جاتا ہے۔ ہمارا اور وہاں کا ماحول صرف مختلف نہیں یہ دو الگ جہاں ہیں۔ اُن کا جہاں اور ہمارا اور۔ اور ہم بات کرتے ہیں آگے بڑھنے کی‘ ترقی کی اور پاکستان کو پتا نہیں کیا بنانے کی۔ ذہنی معیار تو دیکھیں اپنی استعداد تو دیکھیں۔ وہ دنیا ویسے ہی ہم سے آگے نہیں‘ اس کے کچھ اسباب ہیں۔ایران جنگ کے بارے میں بھی سب سے اچھے تبصرے امریکہ میں ہو رہے ہیں۔ کیا اُن لوگوں کی معلومات‘ کیا بولنے کی روانی‘ کیا موضوع پر دسترس۔ لیکن کوئی تالہ بندی نہیں‘ کوئی چھاپہ نہیں‘ کوئی گمشدگی نہیں۔ کھل کے باتیں ہو رہی ہیں اور معاشرہ بھی قائم ہے۔ ریاست کے ہاتھ پاؤں ایسے تبصروں سے کانپ نہیں اُٹھتے۔ یہاںذرا سی بات پر قانون حرکت میں آ جاتا ہے اور اس انداز سے کہ انصاف کے پہیے بالکل جام ہو جاتے ہیں۔ انصاف کے دروازوں پر زور سے دستک دیں تو اندر آواز نہیں جاتی۔سیاست کا میدان وہاں اتنا گرم ہے کیونکہ تیاری نومبر کے الیکشنوں کی ہو رہی ہے۔ کوئی نواز شریف یا آصف زرداری امیدوار نہیں چن رہا۔ امیدوار چننے کیلئے ڈیمو کریٹک اور ریپبلکن پارٹی میں باقاعدہ الیکشن ہوتے ہیں۔ یعنی پارٹی ممبر ووٹ ڈالتے ہیں کہ نومبر میں ہمارا امیدوار کس کو بننا ہے۔ کوئی جاتی امرا یا بلاول ہاؤس کے چکر نہیں لگانے پڑتے۔ صوابدید پارٹی کے ممبران کی ہوتی ہے۔ سوشلزم کا لفظ امریکہ میں تقریباً گالی سمجھا جاتا ہے لیکن پھر بھی اس الیکشن میں کئی اعلانیہ ڈیمو کریٹک سوشلسٹ ڈیمو کریٹک پارٹی کے امیدوار چنے گئے ہیں۔ کیا مقابلے ہوئے ہیں کس قسم کا زور لگایا گیا ہے۔ جو اپنے آپ کو ڈیمو کریٹک سوشلسٹ کہتے ہیں عموماً اسرائیلی پالیسیوں کے خلاف ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہودی لابی کی تنظیم امریکن اسرائیلی پبلک افیئرز کمیٹی (AIPAC) جس کے بے پناہ مالی وسائل ہیں ان امیدواروں کے خلاف ہے۔ لاکھوںکیا ملینز آف ڈالرز اس کمیٹی نے ناپسندیدہ امیدواروں کو ہرانے کیلئے مہموں میں پھینکے ہیں۔ لیکن پھر بھی امریکی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہو رہا ہے کہ سیاسی لوگ اسرائیل پر کھل کر تنقید کر رہے ہیں۔ اب بھی کئی تگڑے امیدوار اس کمیٹی کی وجہ سے اپنی مہمات ہار چکے ہیں۔ لیکن بات تو وہاں ہوتی ہے‘ مخالفانہ آرا اُٹھتی ہیں‘ کوئی رات گئے اٹھانے والی بات تو نہیں ہوتی۔یہاں کی صحافت اور ہماری سیاست میں کوئی مزہ نہیں رہا۔ چسکا نام کی چیز تو اس دور میں ختم ہو گئی ہے۔ بڑے ادوار دیکھے ہیںلیکن ایسا بدمزہ موسم شاذ ہی دیکھنے کو ملا ہے۔ دوست ملک چین میں امریکہ والی سیاسی آزادی نہیں لیکن معاشی بہتری اور ترقی تو ہے۔ ہمارا حال عجیب ہے‘ تھانیداری بھی اور مفلسی اور جہالت کے لمبے سفر بھی۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_80573045.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>محبوبہ مفتی کی مایوسی(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-08-26/52551/34798943</link><pubDate>Wed, 26 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-08-26/52551/34798943</guid><description>مقبوضہ جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے عمران خان کے بارے میں ایک ٹویٹ کی ہے جس میں انہوں نے ایک بات بڑی سچی کی ہے‘ لیکن شاید پاکستانیوں کو یہ بات سمجھنے میں دقت محسوس ہو۔ کیوں کہ وہی بات کہ ہم سب کا اپنا اپنا سچ ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ سب لوگ ہمارے سچ پر ہی ایمان لے آئیں‘ لہٰذا مفتی صاحبہ کی بات بھی ہمیں پسند نہیں آئے گی۔محبوبہ مفتی اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر لکھتی ہیں کہ 1994ء میں ان کی ملاقات لندن میں عمران خان سے ہوئی تھی۔ ان کے والد سعید مفتی بھی ان کے ساتھ تھے۔ اس ملاقات میں عمران خان نے پاکستان کے مستقبل کے حوالے سے بڑی پُرجوش اور اچھی گفتگو کی جس سے ان کے والد بڑے متاثر ہوئے تھے اور انہیں یقین تھا کہ وہ پاکستان کیلئے بڑے مثبت کام کریں گے۔ تاہم اب 32سال بعد محبوبہ مفتی کی رائے یہ ہے کہ جب عمران خان وزیراعظم بنے تو وہ بھی پاکستان کے روایتی سیاسی کلچر کا حصہ بن گئے۔ ان کے دور میں بھی سیاسی مخالفین کے ساتھ وہی کچھ ہو رہا تھا جو آج کل ان کے ساتھ ہو رہا ہے۔ محبوبہ مفتی نے اس ٹویٹ میں دریا کو کوزے میں بند کر دیا ہے۔ ان چند لائنوں میں انہوں نے پاکستان کے سیاسی کلچر اور سیاستدانوں کے مزاج کو ایکسپوز کر دیا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ہم میں سے بہت سے ان کے اپنے سیاسی کلچر پر بھی سوالات اٹھائیں اور ان پر تنقید بھی کریں۔ سب باتیں اپنی جگہ ٹھیک ہوں گی  لیکن بعض دفعہ اپنے مخالفین کی بات کو بھی ٹھنڈے دل سے سن لینا چاہیے کہ آیا ان کی بات میں وزن ہے یا نہیں؟ ان کے کہنے کا مطلب ہے کہ عمران خان نے وزیراعظم بن کر اپنے مخالفین کو سیدھا کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ وہ اپنے مخالفین کے ساتھ جو کرتے رہے‘ ان کے مخالفین وہی کچھ اب ان کے ساتھ کر رہے ہیں۔ محبوبہ مفتی صاحبہ شاید اپنے اس ٹویٹ میں اُس عمران خان کو مِس کر رہی تھیں جن سے وہ لندن میں آج سے 32برس پہلے ملی تھیں لیکن آج وہ مایوس ہیں کہ عمران خان وزیراعظم بن کر اس روایتی سیاسی کلچر میں ہی رنگ گئے جس میں مخالف کا جینا حرام کر دیا جاتا ہے۔ نہ خان صاحب نے اپنے مخالفین کے ساتھ معاملات کو اس حد تک لے جانے سے گریز کیا نہ ہی اب موجودہ حکمران خان صاحب کے ساتھ کوئی رعایت کر رہے ہیں۔ اب یہ نہیں پتا کہ عمران خان اپنے مخالفین کے حوالے سے شروع سے ایسا رویہ رکھتے ہیں یا پھر جب سیاست میں آئے تو بینظیر بھٹو اور شریف خاندان کی جاری دشمنی سے متاثر ہوئے‘ جو 1988ء کے بعد ایک دوسرے کو فکس کرنے میں لگے ہوئے تھے۔ ان دونوں پارٹیوں نے ایک دوسرے پر مقدمے اور جیلوں میں ڈالنے کا سلسلہ خان صاحب سے پہلے ہی شروع کر رکھا تھا۔ اس لیے عمران خان اس کلچر سے خود کو کیسے بچا سکتے تھے۔ شاید عمران خان سمجھتے تھے کہ جب وہ سیاست میں ہیرو کی طرح انٹری دیں گے تو ان کے ساتھ وہ سلوک نہیں ہو گا جو اُن سے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان‘ ذوالفقار علی بھٹو‘ جونیجو‘ بینظیر بھٹو یا میاں نواز شریف کے ساتھ ہوا تھا۔ وہ دیکھ چکے تھے کہ اس ملک میں سیاست کرنے کا کیا فارمولہ ہے یا دوسرے لفظوں میں کیا پیکیج ہے۔ عمران خان کو بھی اس کردار کشی کا سامنا کرنا پڑا جس کا نشانہ ان سے پہلے سب سیاستدان بنتے چلے آئے تھے۔ خان کے نزدیک یہ ان کا ذاتی مسئلہ تھا اور کسی کو ان کے ذاتی ایشوز کو اچھالنے کا حق نہ تھا۔ اس طرح جب ان کی جمائمہ خان سے شادی ہوئی تو بھی ان کے خلاف مہمیں چلتی رہیں۔ ان سب چیزوں  نے عمران خان کے اندر غصہ بھرا جو دھیرے دھیرے اکٹھا ہوتا رہا اور جب ان کے پاس موقع آیا تو انہوں نے سکور سیٹل کرنے کا فیصلہ کیا اور سب کو جیل میں ڈال دیا‘ جس کی طرف محبوبہ مفتی صاحبہ نے اپنے ٹویٹ میں اشارہ کیا ہے۔خان صاحب آصف علی زرداری کے واقعات بھی اپنی خود نوشت میں لکھ چکے ہیں کہ جب وہ ان سے شوکت خانم ہسپتال کیلئے ملے تھے۔ آصف علی زرداری سے اس ملاقات کی یادوں کی تلخی بھی ان کے اندر موجود تھی جب وہ وزیراعظم بنے۔ جمائمہ خان کے  ساتھ طلاق کا ذمہ دار وہ اپنی کتاب میں بڑی حد تک مسلم لیگ (ن) کے میڈیا سیل کو سمجھتے ہیں۔ حالانکہ جمائمہ خان نے خان سے علیحدگی کی وجوہات کچھ اور بتائی تھیں۔ شریف برادران نے بھی کسر نہ چھوڑی جب جمائمہ خان کی والدہ پر پاکستان سے ٹائلیں لے جانے کے الزام پر کسٹمز ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرا دیا۔ پاکستانی سیاست چلتی ہی ایک دوسرے پر جھوٹے سچے مقدمات پر ہے۔ لہٰذا اگر عمران خان یہ سوچ کر آئے تھا کہ وہ ورلڈ کپ جیت کر قوم کے ہیرو بن چکے ہیں یا شوکت خانم ہسپتال بنا کر اب وزیراعظم بننے کے حقدار ہیں تو یہ ان کی خوش فہمی تھی۔ سیاست اور اقتدار میں آپ کا کوئی سگا نہیں ہوتا۔ سیانے کہتے ہیں کہ بادشاہ کے دوست نہیں‘ حریف ہوتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ اگر خان صاحب کے ساتھ اچھا سلوک نہیں ہوا تھا تو انہوں نے وزیراعظم بن کر اپنے مخالفوں کے ساتھ کون سا اچھا سلوک کیا‘ کہ وہ کہہ سکیں کہ میں دوسروں سے مختلف ہوں یا کم از کم شریف خاندان سے تو بہت مختلف ہوں۔ اگر شریف برادران نے کسر نہ چھوڑی تھی تو چھوڑی عمران خان نے بھی نہیں تھی۔ (ن) لیگ اور عمران خان کی سوشل میڈیا ٹیمیں ایک دوسرے کے خلاف سوشل میڈیا پر بڑے غلیظ ٹرینڈ چلاتی رہیں اور اب بھی چلاتی ہیں۔ جس فرق کی تلاش محبوبہ مفتی کو تھی یا جس عمران خان سے مل کر انہیں خوشی ہوئی تھی‘ جو بعد میں مایوسی میں بدلی‘ وہ فرق کب کا ختم ہو چکا‘ اب عمران خان پہلے جیسے نہیں رہے‘ وقت اور حادثات نے ان کی سوچ بھی بدلی اور مزاج بھی۔ عمران خان کو اگر جنرل باجوہ نے کچھ سمجھانے کی کوشش کی کہ وہ وزیراعظم بن کر اب ذرا فوکس ملکی معیشت پر رکھیں اور مخالفین کو جیلوں میں ڈالنا بند کر دیں تو بھی عمران خان ناراض ہو گئے اور اکثر کہتے پائے جاتے تھے کہ مجھے جنرل باجوہ کہتے تھے کہ چوروں کو چھوڑ کر کام پر فوکس کرو۔ یہ سب لیڈر منڈیلا کی مثالیں تو بہت دیتے ہیں لیکن اقتدار ملنے پر ہٹلر بن جاتے ہیں۔عمران خان نے جب اپنا آئیڈیلزم چھوڑ کر روایتی پاکستانی سیاستدان والا روپ اختیار کیا تو سب سے زیادہ خوشی (ن) لیگ اور پی پی پی کے لیڈروں کو ہوئی کہ اب اونٹ آیا پہاڑ کے نیچے۔ وہ تو چاہتے ہی یہی تھے کہ عمران خان بھی ان جیسے کام کریں اور ان کی قطار میں کھڑے ہو جائیں۔اب عمران خان کے پاس موقع تھا کہ وہ اس جوش اور جذبے کو برقرار رکھتے جس کا مظاہرہ انہوں نے محبوبہ مفتی اور ان کے والد کے سامنے لندن میں کیا تھا یا پھر روایتی سیاستدان کے رنگ میں رنگ جاتے۔ جب آپ محبوبہ مفتی کے ٹویٹ کی روح کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں تو آپ کو اندازہ ہوتا ہے کہ اگر وہ سمجھتی ہیں کہ جو سلوک عمران خان نے اپنے مخالفین کے ساتھ کیا‘ وہی سلوک اب عمران خان کے ساتھ ہو رہاہے تو یہ عمران خان کی شکست اور شریف اور زرداری گروپ کی فتح ہے کیونکہ وہ دونوں سیاسی پارٹیاں تو 1988ء سے ایک دوسرے کے خلاف یہی انتقامی کارروائیاں کر رہی تھیں۔ اس دوران عمران خان نے سیاست میں انٹری لی۔ انہوں نے انتقامی سیاست کے سائیکل کو توڑنا تھا۔ وہ چاہتے تو نئی شروعات کر سکتے تھے لیکن کیا کریں جب ہر طرف ایک ہی میوزک چل رہا ہو تو آپ الگ سے اپنا راگ کیسے گا سکتے ہیں؟ لہٰذا عمران خان نے بھی مخالفین کو فکس کیا‘ جو اَب انہیں کر رہے ہیں۔ خان جیل سے واپس آیا تو وہ انہیں فِکس کر دے گا۔ محبوبہ مفتی صاحبہ کی مایوسی اپنی جگہ‘ لیکن ہمارے ہاں سیاست میں فِکس کرنا ہی شغل ہے اور یہ شغل جاری رہنا چاہیے۔ اس کے علاوہ ہمارے پاس اور قومی تفریح کیا ہے؟</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>راولپنڈی کا ٹینچ بھاٹا: ایک قدیم یاد کا سفر(شاہد صدیقی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-siddiqui/2026-08-26/52552/98206043</link><pubDate>Wed, 26 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-siddiqui/2026-08-26/52552/98206043</guid><description>راولپنڈی چھوڑے ہوئے مجھے ایک عرصہ ہو گیا ہے لیکن اس کا سحر ہر دم مجھے اپنی طرف بلاتا رہتا ہے۔ یہ وہ شہر ہے جہاں میں پیدا ہوا‘ بچپن اور جوانی گزارے‘ جہاں کے تعلیمی اداروں میں پڑھا‘ جہاں کے چائے خانوں میں بیٹھا اور جہاں کے محلوں‘ سڑکوں اور گلیوں میں گھوما۔ آج ایک مدت بعد اپنے دلبر شہر راولپنڈی آیا ہوں‘ جہاں میری بیٹی رہتی ہے۔ ان دنوں راولپنڈی میں خوب بارشیں ہو رہی ہیں۔ ساون کا مہینہ بارشوں کا سندیسہ لے کر آتا ہے۔ راولپنڈی کی جس ہاؤسنگ سکیم میں میری بیٹی کی رہائش ہے وہاں ہریالی کی بہتات ہے اور ساون کے مہینے میں تو ہر طرف ہرا رنگ بکھرا نظر آتا ہے۔ بارشوں میں یادوں کے در بھی کھل جاتے ہیں۔ پرانے لوگوں کی‘ پرانی جگہوں کی یادیں۔ آج بیٹھے بٹھائے مجھے شدت سے اُن دنوں کی یاد آئی جب میں پرائمری سکول میں پڑھتا تھا اور جب ہم راولپنڈی کے علاقے مریڑ حسن سے ایک اور قدیم بستی ٹینچ بھاٹا منتقل ہوئے تھے۔ چھ دہائیاں گزر جانے کے بعد بھی وقت کی خاکستر میں بیتے دنوں کے چنگاری سلگ رہی تھی۔ اس سارے عرصے میں کتنی تبدیلیاں آ چکی ہوں گی‘ واپس جاؤں گا تو ٹینچ بھاٹا کو کیسے پہچان پاؤں گا لیکن ماضی کی اپنی کشش ہوتی ہے جو آپ کو ہر دم اپنی طرف کھینچتی رہتی ہے۔ آج میں بھی دل کی خواہش کی انگلی پکڑ کر ماضی کی راہوں پر نکل کھڑا ہوا ہوں۔ یہ اتوار کا دن ہے اور صبح ساڑھے آٹھ بجے کا وقت۔ ٹینچ بھاٹاکا آغاز 22 نمبر چونگی سے ہوتا ہے۔ آج چھٹی کا دن ہے اور ناشتے کی دکانوں پر لوگ نظر آرہے ہیں۔ میں علی سے کہتا ہوں کہ گاڑی یہیں روک دو۔ علی میرے ساتھ پچھلے کئی برسوں سے کام کر رہا ہے‘ وہ محض ڈرائیور نہیں ہمارے گھر کا منیجر بھی ہے۔ علی نے گاڑی ایک طرف روک دی۔ میں گاڑی سے اُتر آیا۔ میرے سامنے وہ گلی تھی جہاں میرے دوست ناصر اور ندیم اکرام رہتے تھے۔ ناصر میری کلاس میں پڑھتا تھا اور ندیم اکرام کے والد اکرام صاحب فوج کے رسالے ہلال کے ایڈیٹر تھے۔ میں اس گلی میں کتنی ہی بار آیا تھا۔ سنا ہے ناصر اور ندیم اب یہ علاقہ چھوڑ کر شہر کے نئے حصوں میںمنتقل ہو چکے ہیں۔ مجھے یاد آیا سڑک کے اس طرف ان دنوں ایک تانگہ سٹینڈ ہوا کرتا تھا جہاں سے شہر کے مختلف حصوں میں جانے کیلئے تانگے ملتے تھے۔ 22نمبر کے ایک کونے میں بہت بڑا دھوبی گھاٹ ہوا کرتا تھا۔ اب نہ وہ تانگوں کا اڈہ باقی ہے اور نہ ہی دھوبی گھاٹ۔ ان کی جگہ نئی عمارتوں نے لے لی ہے۔ اب ہم 22نمبر سے ٹینچ بھاٹا والی سڑک پر سفر شروع کرتے ہیں۔ شروع میں ہی دائیں ہاتھ مجھے ایک عمارت نظر آئی۔ کسی زمانے میں یہاں میرے سکول کا ہم جماعت انصار رہتا تھا پھر وہ لوگ یہاں سے لاہور چلے گئے تھے۔ اب وہ جانے کہاں ہو گا۔ میرے کہنے پر علی گاڑی آہستہ آہستہ چلا رہا تھا۔ یہ چھٹی کا دن تھا اور صبح کا وقت‘ اس لیے ابھی اتنی بھیڑ شروع نہیں ہوئی تھی‘ ورنہ عام دنوں میں تو بھیڑ کا یہ عالم ہوتا ہے کہ اس سڑک پر گاڑی چلانا مشکل ہو جاتا ہے۔ کہتے ہیں یہ ایشیا کا طویل ترین بازار ہے۔ اس خیال کے پس منظر میں طارق عزیز کے نیلام گھر میں پوچھا گیا ایک سوال اور اس کا جواب ہے۔ ٹینچ بھاٹا کے مکین اس اعزاز پر فخر کرتے ہیں۔ اس بازار میں سڑک کے دونوں اطراف انواع و اقسام کی دکانیں ہیں جہاں اشیا مناسب قیمتوں پر دستیاب ہیں۔ اکثر دکانداروں نے اپنی دکانوں کے آگے سٹال رکھے ہوئے ہیں‘ جن سے راستہ اور تنگ ہو جاتا ہے۔ پارکنگ کا معقول انتظام نہ ہونے کی وجہ سے عام دنوں میں اس سڑک پر گاڑی چلانا آسان نہیں۔علی گاڑی چلا رہا تھا اور میں اُن دنوں کی سنہری چاندنی میں کھو گیا تھا جب میں پہلے پہل ٹینچ بھاٹا سے آشنا ہوا تھا۔ یہ 60ء کی دہائی کی بات ہے۔ تب یہ بازار اتنا گنجان نہیں تھا۔ ٹینچ بھاٹا میں ہم نے ڈسپنسری گراؤنڈ کے قریب ایک گھر کرائے پہ لیا لیکن پھر نجانے کیا بات ہوئی کہ مہینہ گزرنے سے پہلے ہی ہم نے وہاں سے سامان سمیٹا اور ٹینچ بھاٹا ہی میں ایک اور کرائے کے مکان میں آ گئے۔ یہ ایک چھوٹا سا مکان تھا جس میں دو کمرے‘ ایک مختصر برآمدہ اور کچا صحن تھا‘ جس میں میٹھے رسیلے شہتوت کا ایک درخت تھا۔ ہمارے گھر کے سامنے دور دور تک کھیت پھیلے ہوئے تھے اور بائیںطرف ایک وسیع میدان تھا‘ جہاں مجھ سے بڑی عمر کے لڑکے کھیلنے آتے تھے۔ اس گھر میں بجلی نہیں تھی‘ یوں لگتا تھا جیسے ہم واپس گاؤں کی زندگی میں آ گئے ہیں۔ لالٹین اور لیمپ سرِ شام روشن ہو جاتے۔ گرمیوں کی شاموں میں گھر کے باہر کچی زمین پر کرسیاں بچھ جاتیں اور گرمی کی شدت کم کرنے کیلئے پانی کا چھڑکاؤ کیا جاتا۔ کرسیوں پر گھر کے بڑے بیٹھتے‘ ہم بچے آتے جاتے کچھ دیر رکتے‘ ان کی باتیں سنتے اور پھر کھیل میں مصروف ہو جاتے۔ اس گھر میں قیام کے دوران بہت سے اہم واقعات ہوئے جن کی یاد میرے ساتھ اب بھی ہے۔ ہم اسی گھر میں تھے جب میں نے اپنے گھر میں ایوب خان اور محترمہ فاطمہ جناح کا تذکرہ سنا۔ اس وقت ہمارے گھر میں گفتگو کا یہی ایک موضوع تھا۔ ایوب خان کے پاس فیلڈ مارشل کا عہدہ بھی تھا یوں ان کے پاس طاقت بھی تھی۔ الیکشن کا اعلان ہوتے ہی اس وقت کی اپوزیشن نے سر جوڑ لیے۔ ایسے میں سب کی نگاہِ انتخاب محترمہ فاطمہ جناح پر ٹھہری۔ قائداعظم کی بہن ہونے کی وجہ سے محترمہ فاطمہ جناح کیلئے لوگوں کے دلوں میں محبت اور احترام کے جذبات تھے۔ یوں فاطمہ جناح کمبائنڈ اپوزیشن پارٹی آف پاکستان کی امیدوار کے طور پر سامنے آئیں۔ اس وقت فاطمہ جناح کی عمر 71برس تھی۔ وہ جسمانی لحاظ سے نحیف تھیں لیکن وطن کیلئے کچھ کر گزرنے کے جذبے نے انہیں شعلہ صفت بنا دیا۔ یوں تو ایوب خان اور فاطمہ جناح کے علاوہ دو اور امیدوار بھی میدان میں تھے لیکن اصل مقابلہ ایوب خان اور محترمہ فاطمہ جناح کے درمیان تھا۔ حکومتی اور سرکاری مشینری اپنے تمام تر وسائل کے ساتھ ایوب خان کی انتخابی مہم چلا رہی تھی جبکہ فاطمہ جناح کے شیدائیوں کے پاس جذبے کی طاقت تھی۔ بازار تک جانے کیلئے ہمیں گھر سے نکل کر دائیں ہاتھ جانا پڑتا تھا۔ میں جونہی دائیں طرف کا رخ کرتا‘ دائیں ہاتھ ایک مکان کی دیوار پر سٹینسل سے محترمہ فاطمہ جناح کا اشتہار لکھا ہوتا۔ مجھے یاد ہے کہ اس اشتہار میں لالٹین کی تصویر تھی۔ محترمہ فاطمہ جناح کا نام تھا اور آغاز میں ایک شعر تھا:نورِ خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن&#39;&#39;پھولوں‘‘ سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گایاد رہے ایوب خان کا انتخابی نشان گلاب کا پھول تھا جبکہ محترمہ فاطمہ جناح کا انتخابی نشان لالٹین تھا۔ اسی لیے شعر میں &#39;&#39;پھونکوں‘‘ کو &#39;&#39;پھولوں‘‘ سے بدل دیا گیا تھا۔ٹینچ بھاٹا کے اسی گھر میں مَیں نے 1965ء میں پاک بھارت جنگ دیکھی۔ وہ بھی کیا دن تھے۔ سرِ شام بلیک آؤٹ کر دیا جاتا۔ کھڑکیوں کو کالے کاغذ لگا کر بند کر دیا گیا تھا۔ مسجد سے اعلان ہوتا کہ گھر کی روشنیاں نظر نہ آئیں۔ ریڈیو پر بتایا جاتا کہ فضائی حملے کی صورت میں کیا احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں۔ لوگوں نے اپنے گھروں میں مورچے کھود لیے تھے۔ ہم نے بھی گھر کے کچے صحن میں شہتوت کے درخت کے نیچے ایک مورچہ کھود لیا تھا۔ یہ جنگ سترہ دن جاری رہی لیکن اس دوران پوری قوم یکجان ہو گئی تھی۔ (جاری)</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_21538475.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>فیلڈ مارشل کا امن مشن(سلمان غنی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/salman-ghani/2026-08-26/52553/92070537</link><pubDate>Wed, 26 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/salman-ghani/2026-08-26/52553/92070537</guid><description>خطے میں امن واستحکام کیلئے پاکستان کی جانب سے کوششوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی کے تحت ایران امریکہ جنگ بندی ہوئی‘ فریقین کو ڈائیلاگ کی طرف لایا گیا جس کے نتیجے میں اسلام آباد مفاہمتی معاہدہ عمل میں آیا اور کسی حد تک ٹکرائو اور تنائو میں کمی آئی لیکن مکمل جنگ بندی اور مفاہمت پر پیش رفت اب بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اس تناظر میں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے حالیہ دورۂ ایران کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ آئی ایس پی آر کی جانب سے کہا گیا ہے کہ فیلڈ مارشل مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے پُرامن اور جامع عمل کیلئے کوششوں کو آگے بڑھانے اور نتیجہ خیز بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ فیلڈ مارشل نے اس سے قبل بھی تہران کے دورے کئے ہیں جس کے بعد امریکہ ایران جنگ بندی ممکن ہوئی۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورۂ ایران کو پاک ایران تعلقات میں مضبوطی اور خطے میں امن واستحکام کی کوششوں سے جوڑا ہے اور کہا ہے کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کے خاتمے کیلئے مخلصانہ کوششیں کر رہا ہے۔ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان نئی معاشی جنگ اور اس کے اثرات کے تناظر میں دیکھا جائے تو اس دورہ کی ٹائمنگ بڑی اہم ہے۔ عسکری محاذ پر طاقت کے بھر پور استعمال کے بعد اب امریکہ نے ایران پر نئی اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ویسے تو ایران مسلسل اقتصادی پابندیوں کی زد میں ہے اور خود ایرانی صدر مسعود یزشکیان بھی یہ تسلیم کرتے نظر آ رہے ہیں کہ ایران ایک جنگی اور اقتصادی بحران سے دوچار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم اس بحرانی کیفیت میں بھی ڈٹے ہوئے ہیں اور مفاہمتی یادداشت کی کسی شق پر بھی سمجھوتا نہیں کیا۔ دنیا بھر کے ماہرین کا یہ خیال ہے کہ امریکہ‘ ایران جنگ اور اس کے اثرات کے باعث عالمی معیشت کو زبردست جھٹکا لگا ہے اور اس صورتحال سے نکلنے کا واحد ذریعہ پاکستان کی کاوشوں کے نتیجہ میں ہونے والا امریکہ ایران مفاہمتی معاہدہ ہے۔ اس معاہدے پر پیش رفت سے نہ صرف خطے میں امن و استحکام آئے گا بلکہ اس سے عالمی معیشت کی بحالی اور ترقی کا عمل بھی آگے بڑھ سکے گا اور دنیا میں بے چینی اور بے یقینی کی فضا ختم ہو گی۔ پاکستان کا ایک بڑا کریڈٹ یہ ہے کہ پاکستان جنگ بندی اور مفاہمتی معاہدے کے بعد پیدا ہونے والے تنائو کی صورتحال میں بھی فریقین کے مابین صورتحال کی بہتری‘ مفاہمتی یادداشت کی بحالی اور اس پر پیش رفت کے حوالے سے مسلسل سرگرم ہے۔ موجودہ صورتحال میں امن کی یہ کوششیں اس لیے بھی اہم ہیں کہ امریکہ‘ ایران اقتصادی کشیدگی سے پورے خطے کی سلامتی‘ توانائی اور عالمی معیشت پر مزید منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ موجودہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ اس تنازع نے خطے کی سلامتی اور معاشی مفادات کو متاثر کیا ہے اور خود امریکہ بھی ایران پر مسلط کردہ جنگ کے نتیجے میں معاشی بحران سے دوچار ہے۔ رائے عامہ سمیت امریکہ کے منتخب اداروں کے اراکین بھی اس جنگی تنائو پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔ اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ امریکہ نے اپنے اتحادیوں کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے جس سے خلیج سمیت اس کے علاقائی اتحادی اپنی سکیورٹی کے حوالے سے نئی راہیں تلاش کرتے نظر آ رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز کے حوالے سے پیدا شدہ صورتحال نے سخت تنائو کی کیفیت طاری کر رکھی ہے اور اس حوالے سے فریقین اپنے اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ آبنائے ہرمز کی اہمیت اس حوالے سے غیر معمولی ہے کہ دنیا کی 20 فیصد سے زائد عالمی توانائی کی ترسیل اس گزرگاہ سے وابستہ ہے۔ اگرچہ مصر اور ایران کے وزرائے خارجہ کی ملاقات کے بعد کشیدگی کے خاتمے اور سفارتی راستہ اپنانے کی بات کی گئی مگر نئی امریکی پابندیوں اور واشنگٹن اور تہران کے جارحانہ بیانات اور ضد نے صورتحال کو گمبھیر بنا دیاہے۔ مطلب یہ کہ مفاہمتی عمل آگے نہیں بڑھتا تو نہ صرف علاقائی امن واستحکام قائم نہیں ہو پائے گا بلکہ عالمی معاشی محاذ پر بھی نفسیاتی کیفیت طاری رہے گی جس کے اثرات سے کوئی نہیں بچ سکے گا۔ پاکستان نے اس صورتحال کا ادراک کرتے ہوئے خاموشی اختیار کرنے کے بجائے اپنی سفارتی کوششوں کو مزید فعال کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور فیلڈ مارشل کے حالیہ دورۂ ایران کو اسی تناظر میں لیا جا رہا ہے۔ یہ پاکستان کی اُس طے شدہ حکمت عملی کا مظہر ہے جس کے تحت پاکستان سمجھتا ہے کہ جنگ وجدل مسائل کا حل نہیں بلکہ مسائل میں اضافے کا باعث ہے ‘اور جنگی کیفیت سے نکلنے کا واحد طریقہ ڈائیلاگ اور سفارتی عمل ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا امن مشن مذکورہ صورتحال میں اس لیے بھی اہم ہے کہ اس وقت جب فریقین بداعتمادی کی کیفیت سے دو چار ہیں اور کسی طرح اپنے مؤقف پر پسپائی کیلئے تیار نہیں‘ اس کیفیت میں فریقین کا پاکستان خصوصاً فیلڈ مارشل پر اعتماد ایک بہت بڑا کریڈٹ ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر جنگ مسلط کرنے کے بعد پاکستان وہ پہلا ملک تھا جس نے ایران پر جارحیت کی مذمت کی اور بعد ازاں مذمت کا یہ سلسلہ وسیع تر ہوتا گیا۔ شدید جنگی کیفیت میں بھی پاکستان نے غیر جانبدارانہ کردار ادا کیا اور ایک مربوط حکمت عملی کے تحت وزیراعظم شہباز شریف‘ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار‘ فیلڈ مارشل عاصم منیر‘ وزیر داخلہ محسن نقوی اور دفتر خارجہ سفارتی محاذ پر سرگرم ہو گئے۔ اس دوران دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ مسائل اور تنازعات کا حل جنگ کے ذریعے نہیں بلکہ باہم مذاکرات سے نکل سکے گا۔امریکہ ایران جنگ کے دوران پاکستان نے اپنے بھرپور سفارتی کردار کو نہ صرف اجاگر کیا بلکہ اسے نتیجہ خیز بھی بنایا اور بنا رہا ہے۔ اس امن مشن کی کامیابی خطے میں امن و استحکام کے حوالے سے ایک بڑی پیش رفت ہو گی اور پاکستان کی سفارتی اہمیت دوچند ہو جائے گی۔ اس عمل میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی عالمی اہمیت ابھر کر سامنے آئی ہے۔ ایک طرف دنیا انہیں بھارت جیسے ازلی دشمن کی جارحیت پر اسے شرمناک شکست سے دوچار کرنے والے فاتح جرنیل کے طور پر دیکھتی ہے تو دوسری طرف امن کے حوالے سے ان کا کردار نمایاں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کی لیڈر شپ ان کے مثبت کردار کی معترف ہے اور انہیں امریکہ اور ایران کے درمیان ایک اہم ثالث کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق ایرانی حکومت نے چیف آف ڈیفنس فورسز کے دورے کو نتیجہ خیز اور سود مند قرار دیا ہے۔ ایرانی صدارتی دفتر سے جاری کردہ بیان کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا ایران کا دورہ انتہائی نتیجہ خیز رہا‘ اس دورے میں قابلِ قدر سفارتی کامیابیاں حاصل ہوئیں۔ ترجمان سید مہدی طباطبائی کا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل کے دورے کے نتائج جلد ہی سامنے آنا شروع ہو جائیں گے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی دورۂ ایران کو انتہائی مثبت اور نتیجہ خیز قرار دیا ہے۔ فیلڈ مارشل کے دورۂ ایران کو آبنائے ہرمز کے تنازع کے ممکنہ حل اور ایک نئے ممکنہ معاہدے کے حوالے سے بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے جو امریکہ اور ایران کے مابین اقتصادی طور پر ناگزیر بن سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی میڈیا فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورۂ ایران کو مفاہمتی عمل اور امن معاہدے کی بحالی کے ضمن میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھ رہا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/230_37874475.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>دنیا منڈیاں ڈھونڈتی ہے اور ہم اقتدار(محمد حسن رضا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-hasan-raza/2026-08-26/52554/62476606</link><pubDate>Wed, 26 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-hasan-raza/2026-08-26/52554/62476606</guid><description>ٹورنٹو کی روشن سڑکوں‘ برامپٹن کی مصروف مارکیٹوں اور پیئرسن کنونشن سنٹر میں دنیا بھر سے آئے کاروباری افراد کو دیکھتے ہوئے پاکستان کا خیال بار بار آتا ہے۔ شاید اس لیے کہ اپنے ملک سے ہزاروں میل دور بیٹھ کر وطن زیادہ صاف دکھائی دیتا ہے۔ یہاں قومیں اس بحث میں مصروف ہیں کہ اگلی منڈی کون سی ہو گی‘ سرمایہ کہاں جائے گا‘ نئی ٹیکنالوجی کہاں سے آئے گی‘ الیکٹرک گاڑیوں کی دوڑ کون جیتے گا‘ مصنوعی ذہانت کس صنعت کو بدل دے گی اور چھوٹے کاروبار کو عالمی منڈی تک کیسے پہنچایا جائے گا۔ ادھر پاکستان میں ہماری گفتگو آج بھی زیادہ تر اس سوال کے گرد گھومتی ہے کہ اقتدار کس کے پاس ہو گا‘ اختیار کس کا ہو گا اور اگلی سیاسی چال کون چلے گا۔ یہی تضاد شاید پاکستان کا سب سے بڑا المیہ ہے‘ اور شاید سب سے بڑا موقع بھی۔کینیڈا گیٹ وے ایکسپو2026ء اور اس سے منسلک لائف سٹائل ایکسپو بزنس اینڈ انویسٹرز کانفرنس کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ ورلڈ ٹریڈ ڈویلپرز نے اسے محض ایک نمائش بنانے کے بجائے مختلف ممالک کے تاجروں‘ سرمایہ کاروں‘ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں‘ خریداروں اور تقسیم کاروں کو ایک دوسرے سے ملانے کی کوشش کی۔ پاکستان سمیت مختلف ممالک سے آنیوالوں کیلئے اصل سوال یہی تھا کہ ایک دوسرے کیساتھ کاروبار کیسے کیا جائے؟ یہ سوال پاکستان کیلئے غیرمعمولی اہمیت رکھتا ہے۔ کینیڈا سالانہ سینکڑوں ارب کینیڈین ڈالر کی اشیا دنیا سے خریدتا ہے۔ ایکسپو کیلئے تیار کردہ تجارتی مواد کے مطابق 2025ء میں اس کی درآمدی تجارت تقریباً 789ارب کینیڈین ڈالر تھی‘ جبکہ پاکستان سے درآمدات صرف تقریباً 69کروڑ 60لاکھ کینیڈین ڈالر۔ پاکستان اور کینیڈا کی مجموعی تجارت تقریباً ایک ارب 20کروڑ کینیڈین ڈالر ہے۔ دوسرے لفظوں میں ایک بہت بڑی مارکیٹ ہمارے سامنے موجود ہے مگر اس میں ہمارا حصہ بہت محدود ہے۔ یہاں بھارت اور ویتنام کا تقابل اور بھی چونکا دیتا ہے۔ تجارتی اعداد و شمار کے مطابق 2025ء میں کینیڈا نے بھارت سے تقریباً 9.7 جبکہ ویتنام سے 19.30ارب کینیڈین ڈالر کی اشیا درآمد کیں۔ سوال یہ نہیں کہ بھارت یا ویتنام ہم سے آگے کیوں ہیں‘ اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ پاکستان پیچھے کیوں ہے؟ ہمارے پاس ٹیکسٹائل ہے‘ چاول ہیں‘ کھیلوں کا سامان ہے‘ سرجیکل آلات ہیں‘ چمڑے کی مصنوعات ہیں‘ پھل ہیں‘ زرعی پیداوار ہے‘ آئی ٹی کا نوجوان ٹیلنٹ ہے اور سب سے بڑھ کر جغرافیائی حیثیت ہے۔ پنجاب کے وزیر صنعت و تجارت چودھری شافع حسین کا اس تناظر میں پیغام سادہ ہے کہ پنجاب سرمایہ کاری کیلئے تیار ہے‘ سپیشل اکنامک زونز موجود ہیں‘ صنعت کیلئے انفراسٹرکچر موجود ہے اور حکومت غیر ملکی سرمایہ کاروں کو سہولت دینا چاہتی ہے۔ انہوں نے کینیڈین سرمایہ کاروں کو پنجاب آنے کی دعوت دی اور پاکستان کی زرعی صلاحیت کا ذکر کرتے ہوئے پھلوں اور دیگر مصنوعات کیلئے نئی منڈیوں کی ضرورت پر زور دیا۔ رانا محمد تنویر کا تصور اس لحاظ سے قابلِ غور ہے کہ تجارت صرف کنٹینر ایک ملک سے دوسرے ملک بھیجنے کا نام نہیں۔ اگلا مرحلہ Canadian technology with Pakistani manufacturing‘ Canadian investment with Pakistani productionاور جوائنٹ وینچرز ہونا چاہیے‘ یعنی سرمایہ کسی کا ہو‘ ٹیکنالوجی کہیں سے آئے‘ پیداوار پاکستان میں ہو اور منڈی پوری دنیا ہو۔یہاں سے کہانی اچانک اسلام آباد پہنچ جاتی ہے۔ مولانا فضل الرحمن گزشتہ چند ہفتوں سے مسلسل ایک خطرے کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک کو سیاسی‘ معاشی اور سکیورٹی بحرانوں سے نکالنے کیلئے قومی سطح پر مکالمہ ضروری ہے اور محض طاقت مسائل حل نہیں کر سکتی۔ انہوں نے بلوچستان اور خیبرپختونخوا کی امن و امان کی صورتحال پر بھی شدید تشویش ظاہر کی۔ حالیہ دنوں میں مولانا نے متحدہ اپوزیشن کیلئے کوششیں تیز کیں اور کہا کہ اپوزیشن کو پارلیمان میں مشترکہ کردار ادا کرنا چاہیے۔ نئے صوبوں کی بحث پر ان کا مؤقف ہے کہ جب گھر میں آگ لگی ہو تو تقسیم کی بحث دانشمندانہ نہیں۔ دوسری جانب نئے انتظامی یونٹس کے حامی کہتے ہیں کہ 25کروڑ کے قریب آبادی والے ملک کو محض چار بڑے صوبائی انتظامی ڈھانچوں سے مؤثر انداز میں چلانا ممکن نہیں اور اختیارات کو عوام کے قریب لے جانا ضروری ہے۔ یہ بحث اپنی جگہ اہم ہے مگر مولانا کا بنیادی سوال نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ ریاست کی رِٹ‘ عوام کا اعتماد اور آئینی نظام مضبوط کیے بغیر نقشے پر نئی لکیریں کیا بدل دیں گی؟ یہاں مولانا کی ایک اور بات قابلِ توجہ ہے۔ انہوں نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تعلق کو مستقل دشمنی بنانے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اختلاف ہونا چاہیے مگر مخالفت برائے مخالفت نہیں۔ شاید پاکستان کو اسی ایک جملے کو معاشی پالیسی پر بھی لاگو کرنے کی ضرورت ہے حکومت بدلے تو پالیسی کیوں بدل جائے؟ وزیر بدلے تو منصوبہ کیوں مر جائے؟ ایک جماعت کا صنعتی منصوبہ دوسری جماعت کیلئے ناقابلِ قبول کیوں ہو جائے؟ سرمایہ کار پانچ‘ دس اور بیس سال کی منصوبہ بندی کرتا ہے جبکہ ہمارے ہاں پالیسی کا مستقبل بعض اوقات اگلے نوٹیفکیشن تک معلوم نہیں ہوتا۔ دنیا سرمایہ وہاں لے جاتی ہے جہاں قانون کا تسلسل‘ سیاسی استحکام‘ سستی توانائی‘ ہنرمند افرادی قوت اور فوری فیصلے موجود ہوں۔ صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ ہمارے پاس معدنیات ہیں‘ نوجوان ہیں یا جغرافیائی محل وقوع بہترین ہے۔ سرمایہ جذبات نہیں پڑھتا‘ رِسک پڑھتا ہے‘ یہی وہ مقام ہے جہاں سیاست اور معیشت الگ الگ موضوعات نہیں رہتے۔ اگر بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں امن نہیں ہو گا تو معدنی وسائل پر سرمایہ کون لگائے گا؟ اگر اسلام آباد میں ہر چند ماہ بعد نظام کے مستقبل پر سوال اٹھیں گے تو طویل مدتی سرمایہ کاری کون کرے گا؟ اگر پارلیمان میں معاشی پالیسی پر قومی اتفاقِ رائے نہیں ہو گا تو بیرونی سرمایہ کار کس پالیسی کو مستقل سمجھے گا اور اگر ہم سیاسی اختلاف ختم کرنے کے نام پر سیاسی آوازیں ختم کر دیں گے تو وہ استحکام بھی دیرپا نہیں ہو گا۔پاکستان کو خاموشی نہیں استحکام چاہیے۔ برامپٹن کے ایک ہال میں بیس کے قریب ممالک کے لوگ اگر ایک میز پر بیٹھ کر اپنے مفادات کیلئے کاروبار کی بات کر سکتے ہیں تو اسلام آباد میں مختلف سیاسی جماعتیں پاکستان کے معاشی مستقبل کیلئے ایک میز پر کیوں نہیں بیٹھ سکتیں؟ ہمیں کم از کم دس سال کیلئے پانچ معاملات سیاست سے باہر نکالنا ہوں گے: برآمدات‘ توانائی‘ تعلیم و ہنرمندی‘ ٹیکنالوجی اور بیرونی سرمایہ کاری۔ حکومت کسی کی بھی ہو‘ بنیادی سمت تبدیل نہ ہو۔ پاکستان کو کینیڈا سے صرف سرمایہ نہیں چاہیے ہمیں اس کا تجربہ‘ زرعی ٹیکنالوجی‘ کان کنی کی مہارت‘ صاف توانائی‘ جدید مشینری اور عالمی منڈیوں تک رسائی بھی چاہیے۔ بدلے میں پاکستان کے پاس ٹیکسٹائل‘ کھیلوں کا سامان‘ سرجیکل آلات‘ خوراک‘ آئی ٹی سروسز‘ مینوفیکچرنگ اور ایک بڑی صارف مارکیٹ ہے یعنی سودا یکطرفہ نہیںکینیڈا کو بھی نئی منڈیاں درکار ہیں اور پاکستان کو بھی نئے شراکت دار۔ اصل مسئلہ وسائل کا نہیں ہماری ترجیحات کا ہے۔ مولانا فضل الرحمن قومی مکالمے کی بات کررہے ہیں‘ حکومت سرمایہ کاری کی‘ صنعت کار نئی منڈیوں کی اور اوورسیز پاکستانی دنیا سے پاکستان کو جوڑنے کی۔ ان تمام آوازوں میں ایک مشترک نکتہ تلاش کیا جا سکتا ہے: ملک اندر سے مستحکم ہو اور باہر کی دنیا کیلئے کھلے۔ کینیڈا گیٹ وے ایکسپو کا نام شاید اسی لیے معنی خیز محسوس ہوتا ہے۔ ہر ملک کو ایک گیٹ وے چاہیے‘ ایک ایسا دروازہ جس سے سرمایہ آئے‘ مصنوعات باہر جائیں‘ ٹیکنالوجی داخل ہو اور مواقع پیدا ہوں۔ پاکستان کا دروازہ بھی موجود ہے‘ سوال صرف اتنا ہے کہ ہم اسے دنیا کیلئے کھولنا چاہتے ہیں یا ابھی کچھ اور برس اسی دروازے کے اندر کھڑے ہوکر یہ طے کرتے رہیں گے کہ چابی کس کے پاس ہو گی؟</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/229_33941343.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>