<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>دفاعِ وطن کا غیر متزلزل عزم(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-02/11324</link><pubDate>Thu, 02 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-02/11324</guid><description>افغان سرحدی علاقوں میں پاکستان کی کارروائی پر بھارتی ردِعمل کو مدلل انداز میں رد کرتے ہوئے دفترِ خارجہ نے نہ صرف بھارتی پروپیگنڈے کو بے نقاب کیا ہے بلکہ کابل انتظامیہ کو بھی اس کے بین الاقوامی وعدوں کی یاددہانی کرائی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ ایک ملک جو ہمسایہ ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرتا ہو اسکی جانب سے بیان آنا مضحکہ خیز ہے۔ اگر افغان سرزمین سے پاکستان کیلئے دہشت گردی کے خطرات کی بات کی جائے تو پاکستان نے اس معاملے کو کبھی زبانی دعوؤں کی حد تک محدود نہیں رکھا بلکہ اس سنجیدہ خطرے کے خلاف ہمیشہ متعلقہ عالمی فورمز پرآواز بلند کی ہے۔ اقوامِ متحدہ‘ او آئی سی اور شنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارمز پر مسلسل اس امر کی نشاندہی کی گئی کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد تنظیمیں خطے کی سکیورٹی اور افغانستان کے ہمسایہ ممالک کیلئے بڑا چیلنج بن چکی ہیں۔ پاکستان کے ان خدشات کی تصدیق عالمی برادری اور معتبر بین الاقوامی ادارے بھی کر چکے ہیں۔

امریکی اور روسی انٹیلی جنس اداروں اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی مانیٹرنگ ٹیم کی متعدد رپورٹس اس امر کی تصدیق کرتی ہیں کہ افغانستان بین الاقوامی دہشت گردی کا گڑھ بنتا جا رہا ہے۔ سلامتی کونسل کی مختلف رپورٹس میں واضح طور پر کہا گیا کہ ٹی ٹی پی اور دیگر شدت پسند گروہ نہ صرف افغان سرزمین پر آزادانہ نقل وحرکت کر رہے ہیں بلکہ انہیں جدید ترین حربی ہتھیار بھی دستیاب ہیں جو امریکی اور نیٹو افواج کے انخلا کے بعد وہاں رہ گئے تھے۔ یہ رپورٹس پاکستان کے اس دیرینہ مؤقف پر مہرِ تصدیق ثبت کرتی ہیں کہ افغان سرزمین سے ہونیوالی دہشت گردی محض پاکستان کا معاملہ نہیں بلکہ ایک عالمی خطرہ ہے۔ پاکستان نے اس حوالے سے ناقابلِ تردید شواہد پر مبنی ایک  ڈوزیئر بھی تیار کیا جو دنیا کے اہم ممالک اور اقوامِ متحدہ کے ساتھ افغان عبوری حکومت کے حوالے بھی کیا گیا۔ اس ڈوزیئر میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں‘ ان کی قیادت کی افغانستان میں موجودگی‘ تربیتی کیمپوں کی لوکیشنز اور پاکستان کے اندر ہونے والے متعدد خودکش حملوں میں افغان شہریوں کے ملوث ہونے کے ناقابلِ تردید شواہد موجود تھے۔ پاکستان کا یہ اقدام ثابت کرتا ہے کہ پاکستان الزام تراشی نہیں بلکہ حقائق کی بنیاد پر مسئلے کو سفارتی سطح پر حل کرنے کا قائل ہے۔
تاہم ٹھوس شواہد کی فراہمی کے باوجود جب افغان عبوری حکومت کی جانب سے سرحد پار دہشت گردوں کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی نہ کی گئی تو پاکستان نے تمام عالمی ضوابط اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے افغان سرحدی علاقوں میں قائم دہشت گردی کے اڈوں کے خلاف کارروائی کی۔ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کا آرٹیکل 51 خود مختار ریاستوں کو یہ حق دیتا ہے کہ اگر ان کی سلامتی کو بیرونی جارحیت یا سرحد پار سے خطرہ لاحق ہو تو وہ اپنے دفاع کیلئے ہر ممکن اقدام کر سکتی ہیں۔ پاکستان کا یہ اقدام بین الاقوامی قانون کے عین مطابق ہے اور ایک واضح پیغام بھی کہ اگر افغان عبوری حکومت دوحہ معاہدے کی پاسداری نہیں کرتی تو پاکستان اپنے عوام کے تحفظ اور سکیورٹی کو یقینی بنانے کیلئے تمام ممکنہ اور ضروری دفاعی اقدامات کا پورا حق رکھتا ہے۔ اس تمام صورتحال میں بھارت کا واویلا دراصل اسکے مذموم ارادوں کی ناکامی اور بوکھلاہٹ کا عکاس ہے۔ پاکستان کیخلاف بھارتی پروپیگنڈا اور کابل کیساتھ اسکی غیر معمولی ہمدردی یہ ثابت کرنے کیلئے کافی ہے کہ نئی دہلی افغانستان کو پاکستان کے خلاف ایک پراکسی کے طور پر دیکھتا ہے۔
تاہم دفترِ خارجہ کا دو ٹوک بیان اس امر کا مظہر ہے کہ پاکستان اب دہشتگردی کے معاملے پر مصلحت پسندی کا شکار نہیں ہو گا۔ اگر افغانستان خطے میں ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر ابھرنا چاہتا ہے تو اسے بھارت جیسے فتنہ انگیز ملک کی کٹھ پتلی بننے کے بجائے دوحہ معاہدے پر عمل کرنا ہو گا اور دہشت گردی کے خاتمے کیلئے تسلی بخش سنجیدہ اقدامات کرنا ہوں گے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>زرعی اپیکس فورم(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-02/11323</link><pubDate>Thu, 02 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-02/11323</guid><description>اگلے روز وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت منعقدہ ایک اجلاس میں وفاق اور صوبوں کی مشاورت سے ایک جامع قومی زرعی پالیسی مرتب کرنے اور ایک زرعی اپیکس فورم قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس فورم کے قیام کا بنیادی مقصد وفاق اور صوبوں کے درمیان زرعی پالیسیوں سے متعلق مؤثر ہم آہنگی پیدا کرنا‘ پالیسیوں کے تسلسل کو یقینی بنانا‘ زرعی اصلاحاتی منصوبوں کی رفتار کا مسلسل جائزہ لینا اور کسانوں کو درپیش مسائل کے بروقت حل کیلئے ایک فعال پلیٹ فارم فراہم کرنا بتایا گیا۔ زرعی شعبہ قومی معیشت میں نمایاں حصہ ڈالنے کے باوجود گزشتہ کئی برسوں سے حکومتی عدم توجہی‘ غیر مستقل پالیسیوں‘ مہنگے زرعی مداخل‘ کمزور تحقیقی نظام‘ ناقص مارکیٹنگ اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ اگر حکومت اس شعبے پر توجہ مرکوز کرے تو یہ تیزی سے ترقی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

دنیا کے کئی ممالک نے جدید تحقیق‘ معیاری بیج‘ڈیجیٹل زرعی خدمات‘ موسمیاتی لحاظ سے موزوں فصلوں اور ویلیو ایڈیشن کے ذریعے نہ صرف اپنی پیداوار میں نمایاں اضافہ کیا بلکہ برآمدات اور دیہی خوشحالی کو بھی فروغ دیا۔ پاکستان بھی اسی راستے پر چل سکتا ہے لیکن اس کیلئے پالیسیوں کا تسلسل‘ سائنسی تحقیق میں سرمایہ کاری‘ کسان دوست مالیاتی نظام‘ جدید زرعی تعلیم اور مارکیٹ تک آسان رسائی ناگزیر ہے۔ اس ضمن میں زرعی اپیکس فورم کا قیام ایک خوش آئند ہے لیکن عملی نتائج کیلئے حکومت کو اسے ایک بااختیار‘ جوابدہ اور فعال ادارہ بنانا ہوگا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>گیس سلنڈر حادثات(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-02/11322</link><pubDate>Thu, 02 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-02/11322</guid><description>منگل کے روز ناران میں ایک ہوٹل میں گیس سلنڈر پھٹنے سے تین سیاح جاں بحق ہو گئے‘ جبکہ اسی روز اسلام آباد کے جی ایٹ مرکز میں بھی ایک ہوٹل میں سلنڈر پھٹنے سے متعدد افراد زخمی ہوئے۔ اس سے قبل 10 جون کو کراچی‘ 12 جون کو راولپنڈی اور 21 جون کو بہاولنگر میں بھی سلنڈر دھماکوں کے نتیجے میں مجموعی طور پر 19 افراد زخمی ہوئے تھے۔ یہ واقعات اس حقیقت کا ناقابلِ تردید ثبوت ہیں کہ ملک میں گیس سلنڈروں کی تیاری‘ فروخت‘ ذخیرہ اور استعمال کے حوالے سے حفاظتی نظام مؤثر نہیں اور نہ ہی متعلقہ قوانین پر سنجیدگی سے عمل کرایا جا رہا ہے۔ ہر چند روز بعد ملک کے کسی نہ کسی حصے سے سلنڈر پھٹنے کی خبر آتی ہے‘ قیمتی جانیں ضائع ہوتی ہیں‘ املاک کو نقصان پہنچتا ہے اور حکومت کی طرف سے حسبِ روایت تحقیقات اور کارروائی کی یقین دہانیاں کرا دی جاتی ہیں لیکن عملی اقدامات دیکھنے میں نہیں آتے۔

حقیقت یہ ہے کہ بیشتر سانحات غیر معیاری سلنڈروں‘ حفاظتی ضوابط کی خلاف ورزی اور کمزور انتظامی نظام کا نتیجہ ہیں۔ گلی محلوں میں قائم غیرقانونی ایل پی جی فلنگ پوائنٹس بھی شہری آبادی کے لیے مسلسل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔اگر اب بھی سنجیدہ‘ مستقل اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو گیس سلنڈر شہریوں کی سہولت کے بجائے خاموش بم بن کر مزید قیمتی جانیں نگلتے رہیں گے۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کیا ہم واقعی دیانت دار ہیں؟(محمد اظہارالحق)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-07-02/52219/31355484</link><pubDate>Thu, 02 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-07-02/52219/31355484</guid><description>دکاندار بہت نیک تھا۔ کسی سے ایک پیسہ بھی ناجائز نہ لیتا۔ سامان‘ سو فیصد درست تولتا۔ منافع جائز رکھتا۔ اس زمانے میں نقد روپیہ نہ ہونے کے برابر تھا۔ گندم‘ خاص طور پر دیہات میں‘ روپیہ کے قائم مقام سمجھی جاتی تھی۔ خریدار گندم دکاندار کو دیتے اور اس کے بدلے میں سودا سلف حاصل کرتے۔ زیادہ سودا لینا ہوتا تو زیادہ گندم لائی جاتی۔ دکاندار گندم کو تولتا اور اپنے سٹاک میں ڈال دیتا۔ آج کے بچوں نے تو دو پلڑوں والا ترازو بھی نہیں دیکھا۔ قصہ مختصر‘ یہ نیک اور دیانتدار دکاندار دنیا سے رخصت ہو گیا۔ کچھ دنوں بعد کسی کے خواب میں آیا۔ خواب والے نے پوچھا &#39;&#39;سناؤ کیسی گزری؟ تم تو دیانتدار تھے۔ فوراً کامیابی کا پروانہ مل گیا ہو گا‘‘۔ دکاندار نے کہا &#39;&#39;نہیں! بھئی! کیا پوچھتے ہو! ! یہاں تو رپَھڑ پڑ گیا‘‘۔ پوچھا: کیا رپھڑ؟ کہنے لگا: وہ گندم جو میں خریدار سے لے کر تولتا تھا‘ اُس میں سے کچھ دانے تولتے وقت ترازو کے پلڑوں سے زمین پر گر جاتے تھے۔ وہ میں غیر ارادی طور پر صفائی وغیرہ کرتے ہوئے‘ اپنی گندم میں ملا دیتا تھا۔ بس اس کی پوچھ گچھ ہو رہی ہے کہ وہ تو خریدار کے دانے تھے‘ تم اپنے سٹاک میں ڈالتے رہے۔یہ ایک روایت ہے جو ہم نے بزرگوں سے سنی! خدا ہی کو معلوم ہے کہ کتنی سچی ہے۔ ہو سکتا ہے سمجھانے کے لیے کسی بزرگ نے کہانی ڈالی ہو۔ اگر ایسا ہے تو مسئلہ سمجھ میں آ جاتا ہے۔ &#39;&#39;ذرہ بھر‘‘ کے لیے کلام پاک میں مثقال کا لفظ برتا گیا ہے۔ ذرہ بھر نیکی بھی سامنے آ جائے گی اور ذرہ بھر برائی بھی چُھپ نہیں سکے گی۔ ہم جن گناہوں کو بہت چھوٹا سمجھتے ہیں‘ وہ چھوٹے ہوں‘ تو بھی بہت سے چھوٹے گناہ مل کر انبار کی صورت اختیار کر سکتے ہیں۔ چھوٹے گناہوں کو بے ضرر سمجھ کر کرتے چلے جائیں تو جھجھک ختم ہو جاتی ہے۔ یہ موضوع اس لیے چھیڑنا پڑا کہ چند روز پہلے ایک عزیز نے کسی صاحب کو کتاب دی کہ فلاں کو پوسٹ کر دو۔ وہ صاحب سرکاری دفتر میں کام کرتے ہیں۔ انہوں نے کتاب دفتر کی طرف سے یعنی سرکاری کھاتے میں پوسٹ کی۔ وہ ایسا کرنے کے مجاز نہ تھے۔ تین چارسو یا چار پانچ سو روپے جو اس کام پر خرچ ہوئے‘ سرکار کے تھے۔ حساب کتاب کے دن اسے معمولی فرو گزاشت سمجھتے ہوئے معاف بھی کیا جا سکتا ہے اور یہ معمولی رقم رپھڑ بھی ڈال سکتی ہے۔ آپ سرکاری ادارے میں کام کر رہے ہیں یا نجی شعبے میں‘ آپ کو ذاتی کام اور ادارے کے کام میں فرق روا رکھنا ہو گا۔ یہاں تک کہ ذاتی کام کے لیے آپ اصولی طور پر ادارے کا لفافہ‘کاغذ اور روشنائی بھی استعمال نہیں کر سکتے۔ اصول کی بات کی جائے تو ادارے کا وقت بھی آپ ذاتی کام کے لیے استعمال نہیں کر سکتے۔ ہمارے ایک دوست باہر جانے کے شوق میں چلے گئے۔ جس کمپنی میں وہاں کام ملا‘ وہاں ایک دن اخبار پڑھتے ہوئے پائے گئے۔ انہیں تنبیہ کی گئی کہ اخبار کا مطالعہ آپ کا ذاتی کام ہے۔ یہ ذاتی کام آپ دفتری اوقات میں نہیں کر سکتے۔ ایک صاحب کو فارغ کر دیا گیا کیونکہ وہ ڈیوٹی کے دوران ڈرامہ دیکھ رہے تھے۔ ہم ایک معمولی فائدے کے لیے اپنی عاقبت کو مشکل میں ڈال دیتے ہیں۔ آپ نے ذاتی کاغذ فوٹو کاپی کرانا ہے۔ پانچ دس روپے خرچ کیجیے اور بازار سے کرائیے۔ یہ ساری احتیاطیں ان لوگوں کے لیے ہیں جو جائز ناجائز اور حرام حلال کا خیال رکھتے ہیں۔ وہ حضرات جو اپنے ادارے کے لاکھوں کروڑوں جیب میں ڈال رہے ہیں ان سے گزارش ہے کہ ہماری باتوں کو مجذوب کی بڑ قرار دے کر ایک طرف پھینک دیں۔ہم مسلمان اگر دیانت سے کام لیتے ہیں تو آخرت کی جواب دہی کے خوف سے۔ داد دیجیے ان لوگوں کو جن کا آخرت پر یقین نہیں مگر غلط کام نہیں کرتے۔ داد ان معززین کو بھی دینی چاہیے جو آخرت پر یقین کا دعویٰ کرتے ہیں مگر فریب کاری ان کا اوڑھنا بچھونا ہے۔ ہمارے حاجی صاحب شے بیچتے وقت شے کا نقص نہیں بتاتے حالانکہ انہیں معلوم ہے ایسا کرنے والوں پر فرشتے کیا بھیجتے ہیں۔ دوسری طرف غیر مسلم ملکوں میں دکاندار جھوٹ نہیں بولتا۔ خریدا ہوا مال واپس بھی کر لیتا ہے اور مال بیچتے وقت مال کا نقص بھی بتا دیتا ہے۔ گاہک کے جانے کے بعد اگر اسے معلوم ہو جائے کہ اس کے ذمہ گاہک کی کچھ رقم رہتی ہے تو گاہک کو رقم پہنچا کر دم لے گا۔قائداعظم دیانت کے حوالے سے ہر پاکستانی کا آئیڈیل ہونے چاہئیں۔ ان کے مخالفین بھی ہزار کوشش کے باوجود ان پر خیانت اور جھوٹ کا الزام ثابت نہیں کر سکے۔ وکیل کے طور پر ان کی پیشہ ورانہ زندگی دیانت کے واقعات سے بھری پڑی ہے۔ مقدمے کو کبھی طوالت کی نذر نہ ہونے دیا۔ پہلی پیشی پر مقدمہ جیت جاتے تو باقی رقم واپس کر دیتے۔ راجستھان کے دو ہندو گروہ ایک دوسرے کے مخالف تھے۔ ایک گروہ نے قائداعظم کو وکیل کرنا چاہا اور دو لاکھ (1930ء کی دہائی کے دو لاکھ) روپے فیس کی پیشکش کی۔ قائداعظم نے معذرت کر لی کیونکہ اسی دن انہوں نے لیجسلیٹو اسمبلی میں تقریر کرنا تھی۔ پاکستان بننے کے بعد کا واقعہ ہے‘ کابینہ کا اجلاس تھا یا کوئی اور میٹنگ۔ چائے کے انتظامات کا پو چھا گیا تو آپ نے منع کر دیا اور کہا کہ اجلاس میں شرکت کرنے والے گھر سے چائے پی کر آیا کریں۔ اور بھی کئی واقعات ہیں جن سے قائداعظم کی سچائی‘ دیانت اور اصول پسندی‘ کسی شک وشبہ کے بغیر ثابت ہوتی ہے۔ یہاں وہ سوال اٹھتا ہے جو ہم پاکستانیوں کے لیے بہت اہم ہے۔ کیا قائداعظم کے بعد کے حکمران بھی دیانت دار ہیں؟ کیا یہ حضرات ذاتی اخراجات اپنی جیب سے ادا کرتے ہیں یا سرکاری خزانے سے ؟ ہم سب اس سوال کا جواب جانتے ہیں اور جواب بے حد افسوسناک ہے۔ مشہور مقولہ ہے کہ عوام اپنے حکمرانوں کے طرزِ عمل کو اپناتے ہیں۔ جو کھلواڑ قومی خزانے کے ساتھ تقریباً ہر حکومت کا بالائی حصہ کھیلتا چلا آ رہا ہے‘ ٹھیک اسی کی تقلید حکومت کے نچلے درجے کے اہلکار اور افسران بھی کر رہے ہیں۔ کروڑوں اربوں کا مالک ہونے کے باوجود اپنی والدہ کی دیکھ بھال کے لیے سرکاری نرس کو مامور کیا جائے تو اندازہ لگا ئیے کہ نیچے کیا ہوتا ہو گا۔ سعدی نے کہا ہے:اگر ز باغِ رعیت ملَک خورد سیبیبر آورند غلامان او درخت از بیخاگر حکمران رعایا کے باغ سے ایک سیب کھائے گا تو اس کے ماتحت درخت کو جڑ سے ہی اکھاڑ لائیں گے۔گزشتہ کئی دہائیوں سے بیت المال کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے اس کے پیش نظر عام شہری سے دیانت کی توقع کرنا ایک غیر منطقی عمل ہے۔ آخرت کی جواب دہی کا احساس ایک الگ مسئلہ ہے۔ اگر ہمارے حکمران اور دیگر اَپر کلاس سرکاری عمائدین مغربی جمہوری ملکوں کے حکمرانوں کی دیانت اور سادہ معیارِ زندگی کو‘ دنیاوی اعتبار سے ہی سامنے رکھیں تو شاید ملک کی تقدیر بدل جائے۔پس نوشت: ایک خبر بلاتبصرہ۔ سپریم جوڈیشیل کونسل نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج کے خلاف دائر شکایت خارج کر دی۔ سپریم جوڈیشیل کونسل نے 22 جون کو ہونے والے اپنے اجلاس میں شکایت کا جائزہ لینے کے بعد اسے مسترد کرنے کا فیصلہ کیا۔ شکایت کنندہ کو باقاعدہ آگاہ کر دیا گیا۔شکایت میں الزام عائد کیا گیاتھا کہ انہوں نے ایک ٹریفک حادثہ کیس میں جاں بحق خواتین کے اہل خانہ پر دباؤ ڈالنے اور اپنے اثر ورسوخ کے استعمال کی کوشش کی۔ تاہم سپریم جوڈیشیل کونسل نے شکایت کا جائزہ لینے کے بعد اسے خارج کرنے کا فیصلہ کیا۔ (روزنامہ دنیا، 28 جون 2026ء)</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_57182973.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>درختوں اور جنگلوں کے درمیان(خالد مسعود خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-07-02/52220/66294247</link><pubDate>Thu, 02 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-07-02/52220/66294247</guid><description>اس مسافر کو جنگلوں سے محبت ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ یہ فقیر سردیوں میں کسی نہ کسی جنگل میں‘ خواہ چند روز کیلئے ہی سہی‘ جا بسرام کرتا تھا۔ سردی‘ تنہائی‘ خاموشی اور شہر کی ہاؤ ہُو سے یہ چند دن کی دوری ایسا لطف دیتی کہ اگلے کئی ماہ اسی نشے میں گزر جاتے تھے۔ اس سے پہلے یہ مسافر شکار کے سلسلے میں جنگلوں‘ صحراؤں‘ دریاؤں کے کناروں اور انکے درمیان خشکی کے ٹاپوؤں پر خوار ہونے کا مزہ لیتا تھا۔ پھر سب کچھ جیسے کہ ختم ہی ہو گیا۔ شکاری پارٹی غیرمحسوس طریقے سے غائب ہو گئی‘ جنگلوں میں ساتھ دینے والی ہمسفر بیچ راستے کے چھوڑ گئی۔ دل بجھ گیا اور گھٹنوں نے ساتھ چھوڑ دیا۔ بقول شاعر: اب نہ چڑیاں ہیں‘ نہ اخبار‘ نہ کپ چائے کاایک کرسی ہے جو دالان میں رکھی ہوئی ہےاب یہ مسافر جب درختوں‘ جنگلوں‘ ندی نالوں‘ ویرانوں‘ صحراؤں اور پہاڑوں کے ساتھ سے گزرتا ہے تو فارسی ضرب المثل  &#39;&#39;گندم اگر بہم نرسد، جو غنیمت است‘‘ کے مصداق اسی سے لطف اندوز ہو لیتا ہے۔ جوانی کا ٹھرک کم تو ہو سکتا ہے مرتا نہیں ہے۔ ادھر امریکہ جنگلوں‘ درختوں‘ ندی نالوں‘ جھیلوں اور ویٹ لینڈ سے پٹا پڑا ہے۔ فی الوقت میں امریکی ریاست پنسلوینیا میں ہوں اور سڑکوں کے دونوں طرف دور دور تک دکھائی دینے والے بلندی کی کئی پرتوں پر مشتمل درختوں کے لامتناہی سلسلوں کے درمیان سے گزرتے ہوئے پاکستان میں جنگلوں کی کسمپرسی پر دکھی ہوتا رہتا ہوں۔ پاکستان رقبے کے لحاظ سے امریکی ریاست پنسلوینیا سے سات گنا بڑا ہے۔ اس ریاست میں جنگلات کا رقبہ 6.72ملین ہیکٹر سے زیادہ ہے ( یاد رہے کہ ایک ہیکٹر رقبہ اڑھائی ایکڑ کے لگ بھگ ہے)۔ یہ اس ریاست کے کل رقبے کا 76 فیصد ہے۔ اس سے سات گنا بڑے رقبے کے حامل پاکستان میں جنگلات کا کل رقبہ 4.11 ملین ہیکٹر ہے جو کل ملکی رقبے کا 4.7فیصد ہے۔ ایک سروے کے مطابق یہ چار فیصد جنگلات کا رقبہ بھی ہر سال گیارہ ہزار ہیکٹر مزید کم ہو رہا ہے۔ یعنی جنگلات لگنے اور کٹنے میں منفی گیارہ ہزار ہیکٹر کی نسبت ہے۔ جنگلات کے رقبے میں فرق سے ہٹ کر اگر پنسلوینیا اور پاکستان کے جنگلات میں گھنے پن کے حوالے سے موازنہ کروں تو صورتحال مزید قابلِ رحم ہو جاتی ہے۔ میں نے ایک دو بار پنسلوینیا میں درختوں کے عام سے جھنڈ میں داخل ہونے کی کوشش کی جو بری طرح ناکام ہو گئی۔ دوسری طرف پاکستان کے پہاڑی علاقوں کے قدرتی اور دیگر علاقوں میں لگے ہوئے مصنوعی جنگلات میں لگائے گئے درختوں کا یہ حال ہے کہ آپ ہر دو قریبی درختوں کے درمیان اپنی چارپائی بچھا کر مزے سے سو سکتے ہیں۔ پنسلوینیا میں فی ہیکٹر درختوں کی تعداد 1190کے لگ بھگ ہے اور ریاست میں فی کس درختوں کی تعداد 330 ہے۔ یعنی ایک آدمی کو آکسیجن فراہم کرنے کیلئے 330 درخت ایستادہ ہیں۔ ادھر پاکستان میں فی ہیکٹر کل 12 درخت ہیں۔ آپ کو اسی سے پاکستانی جنگلات کی حقیقت اور حالتِ زار کا اندازہ ہو گیا ہو گا۔ یعنی ایک تو پاکستان سے سات گنا چھوٹی اس ریاست میں جنگلات کا رقبہ پاکستان سے ڈیڑھ گنا سے زیادہ ہے‘ اوپر سے فی ہیکٹر درختوں کی تعداد سو گنا زیادہ ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق پنسلوینیا میں جتنے درخت فی ہیکٹر ہیں پاکستان میں اتنے درخت فی مربع کلو میٹر میں ہیں۔ پاکستان میں فی کس درختوں کی تعداد صرف پانچ ہے اور یہ پانچ درخت بھی صحت کے اعتبار سے خود پتلی حالت میں ہیں۔ قارئین ! میں جس ریاست کے جنگلات کا موازنہ پاکستان سے کر رہا ہوں وہ خود کل رقبے کی جنگلات سے نسبت کے اعتبار سے امریکہ میں تیرہویں نمبر پر ہے۔ اس کے مقابلے میں بارہ دیگر ریاستیں جنگلات کے کل ریاستی رقبے سے نسبت کے حوالے سے اس سے آگے ہیں۔ پہلے نمبر پر امریکی ریاست Maine ہے جس میں جنگلات ریاست کے کل رقبے کا 89.06 فیصد ہیں اور فی کس درختوں کی تعداد 3292ہے۔ یہ مسافر جب پہلی بار امریکہ گیا تو وہاں ہر طرف درخت ہی درخت دکھائی دیے۔ درختوں سے محبت رکھنے والے اس مسافر نے جب پہلی مرتبہ نیویارک کے ہوائی اڈے پر اُترنے سے تھوڑی دیر پہلے نیچے نظر دوڑائی تو اسے دور دور تک درخت ہی درخت دکھائی دیے۔ یہ منظر مسافر کیلئے بڑا حیران کن تھا کیونکہ اس کے ذہن میں نیویارک کے بارے میں ایک بالکل مختلف تصور موجود تھا۔ وہ سمجھتا تھا کہ نیویارک صرف سیمنٹ‘ بجری اور سریے کا جنگل ہوگا‘ جہاں ہر طرف عمارتیں‘ دکانیں‘ پلازے‘ ہوٹل اور کاروباری مراکز ہی دکھائی دیں گے جبکہ درخت شاید کہیں خال خال نظر آئیں گے۔ لیکن وہاں پہنچنے پر اس کے تمام اندازے غلط ثابت ہوئے۔ اس نے دیکھا کہ نیویارک ایک ایسی ریاست ہے جس میں آباد شہری علاقوں کے علاوہ ہر طرف سبزہ‘ جنگلات اور چھوٹے چھوٹے جھیل نما تالابوں کی ایسی بہتات ہے کہ اس کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ پہلے پہل خالد منیر کے ساتھ پنسلوینیا میں گھومنا شروع کیا تو اس ریاست کے نام سے خیال آیا کہ شاید اس ریاست میں جنگلات امریکہ میں سب سے زیادہ ہیں۔ پنسلوینیا کا نام دو حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلا حصہ &#39;&#39;Penn‘‘ ہے جو لارڈ ولیم پین کے نام سے اخذ کردہ ہے۔ لارڈ ولیم پین کو 1681ء میں برطانیہ کے بادشاہ چارلس دوم نے اس علاقے میں نوآبادی قائم کرنے کا چارٹر دیا تھا۔ نام کا دوسرا حصہ &#39;&#39;Sylvania‘‘ ہے‘ لاطینی زبان کے اس لفظ کا مطلب جنگل یا درختوں سے بھرا ہوا علاقہ ہے۔ پنسلوینیا سے مراد &#39;&#39;پن کے جنگلات‘‘ ہے۔ تاہم جب میں برادر بزرگ اعجاز احمد کے پاس جارجیا گیا تو اندازہ ہوا کہ یہ ریاست تو &#39;&#39;پن‘‘ کے جنگلات سے بھی زیادہ جنگلات پر مشتمل ہے۔ جارجیا جنگلات کی شرح فیصد کے حساب سے امریکہ میں ساتویں نمبر ہے۔ اس ریاست کے کل رقبے کا تقریباً ستر فیصد جنگلات پر مشتمل ہے اور آبادی کے مقابلے میں فی کس درختوں کی تعداد 584 ہے۔ادھر یہ عالم ہے کہ اول تو درخت ہیں ہی نہیں۔ اگر ہیں تو مافیا درخت کاٹنے پر اور سرکاری اہلکار بیچنے میں مصروف ہیں۔ نئے لگنے والے مصنوعی جنگلوں میں جلد بڑھوتری والے غیرمقامی اور فضول قسم کے درختوں کی بہتات ہے۔ مقامی درختوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہر طرف سفیدہ ہی سفیدہ ہے۔ چوڑے پتوں والے مقامی درختوں کے برعکس یہ پانی چوس باریک پتوں والا درخت ماحول کو بہتر کرنے کے بجائے الٹا خراب کرنے کی صلاحیتوں سے مالا مال ہے۔ شیشم جیسا شاندار مقامی درخت عنقا ہو رہا ہے۔ لے دے کر خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر میں لگے ہوئے دیودار‘ کیل‘ چیڑ‘ سلور فِر‘ سپروس‘ بلوط اور چنار کے درختوں پر مشتمل جنگل ایسے ہیں جنہیں جنگل کہتے ہوئے شرم محسوس نہیں ہوتی۔ میں اپنے بچپن سے اس ملک میں ہفتۂ شجر کاری کا غلغلہ سن رہا ہوں مگر اس کے حقیقی اثرات کہیں دکھائی نہیں دیتے۔ یہی حال جنگلی حیات کا ہے۔ ہر قسم کا جنگلی جانور ناپید ہوتا جا رہا ہے۔ مقامی جانوروں کیساتھ تو ہم نے جو کیا وہ ایک الگ داستان ہے ہماری پاگل پن کی حد تک جانور اور پرندہ کشی کی بدولت تقریباً ہر قسم کا جانور ناپید ہو گیا ہے اور مہاجر پرندے بھی آہستہ آہستہ ادھر کا رخ کرنا چھوڑ رہے ہیں۔ ابھی عالم یہ ہے کہ ہمارے ہاں اسلحے کی وہ بہتات اور فراوانی نہیں جو امریکہ میں ہے۔ ایک اندازے کے مطابق 34 کروڑ امریکی شہریوں کے پاس 40 کروڑ کے لگ بھگ آتشیں اسلحہ ہے جو دنیا بھر کے شہریوں کے پاس موجود اسلحے کا 46 فیصد ہے۔ ہر سو امریکی شہریوں کے پاس 120 بندوقیں ہیں اور اسکے باوجود امریکہ میں صرف White-tailed Dee کی تعداد ہی ساڑھے تین کروڑ ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90500073.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>نئی بات(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-07-02/52221/30713925</link><pubDate>Thu, 02 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-07-02/52221/30713925</guid><description>وہی پرانے لفظوں کی جگالی اور پامال راستوں کا سفر۔ نئی بات کہاں ہے؟ہمارے اطوار نہیں بدلے۔ تحقیق کے نام پر برسوں پہلے لکھی گئی کتابوں کی نئی خواندگی اور عوامی جذبات کے استحصال کے وہی آزمودہ نسخے۔ لیڈر مذہبی ہو یا سیاسی‘ تاریخ نگار بھی ہے اور داستان گو بھی۔ ماضی و حال کے &#39;واقعات‘ اس کے نہاں خانۂ دل میں ڈھلتے‘ مقامی کلچر کی پوشاک پہنتے‘ سامعین کے کانوں میں اترتے اور آنکھوں کے راستے بہہ جاتے ہیں۔ سامع کی یادداشت میں مگر مستقل جگہ نہیں پا سکتے۔ اس کے دل کی کھیتی اسی طرح ویران رہتی ہے۔ عصبیتیں البتہ زندہ رہتی ہیں۔ فلسفیانہ مباحث بھی اس دائرے سے نہیں نکل سکے جو قبل از مسیح کے اہلِ علم نے کھینچا تھا۔ خدا ہے تو دکھائی کیوں نہیں دیتا؟ جبر و قدر کیا ہے؟ اخلاق کہاں جنم لیتا ہے؟ دل میں یا سماج میں؟ پرانے سوال پرانے جواب۔ کہیں کچھ نیا نہیں۔سیاست میں نئی بات ہو سکتی تھی مگر وہ ٹھیرے پانی کا جوہڑ ہے۔ جمہوریت‘ پارلیمان‘ عوام‘ آزادیٔ رائے... اہلِ سیاست ان الفاظ کا استعمال ترک کر چکے۔ سیاسی جماعتوں کا کو ئی نظریہ ہے نہ حکمتِ عملی۔ کوئی تنظیم ہے نہ کوئی قیادت۔ دستور نہ منشور۔ کہیں اقتدار کے ایوانوں کا طواف اہلِ سیاست کا وظیفہ ہے اور کہیں کلٹ کی پرستش۔ مذاکرات‘ مکالمہ‘سیاسی آدرش... سیاست کی لغت ان الفاظ سے خالی ہے۔ عوام کیلئے سیاست ایک بے معنی عمل بن چکا۔ خواص کیلئے البتہ ابھی تک باعثِ کشش ہے۔ سماج مگر خواص کا نام نہیں۔ ایوانِ سیاست کی یہ ویرانی اطلاع دے رہی ہے کہ اس چار دیواری کا اصل مکین انتقال کر چکا۔ یہ مرگ بھی مگر ایسی ہے کہ اہلِ خانہ کو اس کا احساس نہیں۔ موت ہے مگر کوئی نوحہ ہے نہ ماتم۔ نتیجہ یہ ہے کہ سیاست پر بات ہی نہیں ہو رہی ہے‘ نئی بات کا تو سوال ہی نہیں۔یہ حیوانی سطح کے چند مطالبات ہیں جن کی تکمیل کیلئے ہم صبح سے رات اور شب سے سحر کرتے ہیں۔ یا پھر زیادہ سے زیادہ قبائلی معاشرت کی کچھ اقدار ہیں جو سینے سے لگائے ہوئے ہیں۔ انا‘ غیرت‘ عزت جیسے کچھ الفاظ ہیں‘ ہم جن کی اُسی تعبیر کو مانتے ہیں جو قبائلی معاشرے میں رائج تھی۔ غیرت کے نام پر بیٹیوں کو قتل کرتے ہیں۔ عزت کی خاطر دوسروں کا خو ن بہاتے ہیں۔ مذہبی عصبیت میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ اقدار کے نام پہ یہی کچھ باقی ہے۔ نئی نسل جبلی مطالبات کی اسیر ہے اور اس میں کوئی نئی بات نہیں‘ سوائے اس کے کہ اس کے ہاتھ میں ایک نئی ایجاد ہے۔کل ہی کی بات ہے۔ پروفیسر فتح محمد ملک صاحب کی علمی وادبی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کیلئے ایک تقریب منعقد ہوئی۔ ملک صاحب کے علمی کام کی وسعت کا اندازہ ان لوگوں کو ہے جن کو علم وادب سے علاقہ ہے۔ ادب کو زندگی اور نظریے سے جوڑنے کیلئے انہوں نے ایک عمر صرف کر دی۔ نوے برس کی عمر میں بھی ان کا قلم اور ذہن‘ دونوں رواں ہیں۔ آج وہ واحد آد می ہیں جو اقبال کو بت بنانے کے بجائے‘ روحِ عصر بنانا چاہتے ہیں اور اس کیلئے مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں۔ زندہ معاشروں میں ایسی شخصیات جس تکریم کی مستحق ہوتی ہیں ہم اس کا اندازہ کر سکتے ہیں۔ اس تقریب میں مگر گنتی کے بیس بائیس افراد بیٹھے تھے۔ ان میں بھی دس بارہ ہوں گے جو فتح محمد ملک صاحب کی قدر ومنزلت سے واقف ہوں گے۔ یہ ستر برس کی علمی و فکری مشقت کا حاصل ہے۔ فکرِ تازہ کا یہاں اسی طرح استقبال ہوتا ہے۔کیا ہم میں نئی بات کہنے کی صلاحیت ختم ہو گئی ہے؟ ایسا نہیں ہے۔ یہ قانونِ قدرت کے خلاف ہے۔ اگر کوئی نئی بات کہنا چاہتا ہے تو اسے ریاستی اور سماجی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے سامنے اب دو ہی راستے ہیں۔ مفاہمت کے ساتھ یہاں جیے اور ایسا موقع تلاش کرے جب وہ کچھ کہہ سکے۔ کبھی پانچ فیصد‘ کبھی دس فیصد۔ دوسرا راستہ یہ ہے کہ ملک سے باہر چلا جائے۔ میں ان کرداروں کی بات نہیں کر رہا جو باہر جا کر بھی فروغِ کذب کے کاروبار سے وابستہ ہیں۔ جو فساد پھیلاتے اور عوامی جذبات کے استحصال سے اپنی معاشی ضروریات کو پورا کرتے ہیں۔ میں ان کی بات کر رہا ہوں جو مذہب ہو یا سیاست‘ فکر ونظر کی دنیا میں نئی باتیں کہتے اور سماج کے جمود کو چیلنج کرتے ہیں۔جب ریاست اور سماج نئی بات کی مزاحمت کریں تو پھر متحرک ذہن پرانی باتوں میں نیا پن پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پھر وہ پرانی باتوں کو اس طرح دہرا تے ہیں کہ مخاطب کو تازگی کو احساس ہو۔ وہ محسوس کرے کہ &#39;نئی بات‘ کہی جا رہی ہے۔ اس سے داخلی اضطراب میں ایک حد تک کمی آ جاتی ہے مگر سماج کو زیادہ فائدہ نہیں ہوتا۔ نئی کتاب چھپتی ہے تو اس امید کے ساتھ اٹھا لیتے ہیں کہ شاید اس میں نئی بات ہو۔ یہ کوشش پوری طرح لاحاصل نہیں۔ اس کا کچھ نہ کچھ فائدہ ضرور ہوتا ہے۔ ہماری ضرورت مگر اس سے زیادہ ہے۔ اس بات کی تفہیم کیلئے کسی معروف امریکی یا برطانوی پبلشر کی &#39;نئی مطبوعات‘ کی فہرست دیکھ لیں۔ ان ممالک میں &#39;بک ریویو‘ شائع ہوتے ہیں جن میں نئی کتابوں کا تذکرہ ہوتا ہے۔ کتابوں کے عنوانات ہی اتنے پُرکشش ہوتے ہیں کہ ذہن فوراً سوچنے کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔ اس کا موازنہ مقامی اخبار کے سنڈے میگزین میں چھپنے والے تبصروں سے کیجیے۔ آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ میں کیا کہنا چاہتا ہوں۔انسان فطری طور پر ایک سوچنے والی مخلوق ہے۔ اس کی حیات سوچنے ہی سے ہے۔ سوچ کا دروازہ بند ہو جائے تو بقا کی جبلت راستہ تلاش کرنے کیلئے ہاتھ پاؤں مارتی ہے۔ جیسے پانی کی فطرت بہنا ہے۔ اس کا راستہ روکیں گے تو وہ متبادل راستے تلاش کرتا ہے۔ یہاں تک کہ پتھروں میں سوراخ کر دیتا ہے۔ یا پھر اسے جوہڑ میں بدل کر‘ اپنے دامن میں امراض کو جمع کر نے لگتا ہے۔ اس طرح وہ انسان کو فطرت سے متصادم ہونے کی سزا دیتا ہے۔ انسانی ذہن بھی یہی کرتا ہے جب اسے نئی بات کہنے کا موقع نہیں ملتا تو پرانی باتوں میں ایسی معنویت تلاش کرنے لگتا ہے جو سماج کو بیمار بنا دیتی ہے۔ہمیں ان نفسیاتی بیماریوں سے بچنا ہے تو نئی بات کیلئے گنجائش پیدا کرنا ہو گی۔ ہر نئی بات‘ ضروری نہیں کہ درست بھی ہو مگر وہ بحث کا دروازہ کھولتی ہے۔ وہ سوچ کو مہمیز دیتی ہے۔ اس کی تردید میں بھی کوئی نئی دلیل دینا پڑتی ہے۔ اس طرح معاشرہ آگے بڑھتا ہے۔ اگر بحث میں آداب کا خیال رکھا جائے تو اتفاق اور عدم اتفاق سے قطع نظر‘ نئی بات میں خیر ہوتا ہے۔ نئی بات کا ایک اضافی فائدہ یہ ہوتا ہے کہ لوگ الفاظ کی جگالی اور تکرار سے گریز کرتے ہیں۔ بحث متقاضی ہوتی ہے کہ نئی بات کہی جائے۔ متقدمین نے جو فرما دیا‘ اسی کو دہراتے رہنا پھر کافی نہیں ہوتا۔ آپ کسی قدیم مقدمے پر قائم رہ سکتے ہیں مگر بحث کا حصہ اسی وقت بن سکیں گے جب نئی دلیل لائیں گے۔ روایت اسی طرح زندہ رہتی اور اپنی افادیت ثابت کرتی ہے۔ پھر محض دھونس اور طاقت سے اپنی بات نہیں منوائی جا سکتی۔ مقدمہ قدیم ہو یا جدید‘ اس کی زندگی کا انحصار دلیل پر ہوتا ہے۔ نئی بات کا روایت ا ور جدت‘ دونوں کو فائدہ ہوتا ہے۔ سماج میں ایک متوازن سوچ اور سوچ میں نکھار پیدا ہوتا ہے۔ ہمیں آگے بڑھنا ہے تو نئی بات کا خوف ختم کرنا ہو گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ہمارے بچے محفوظ کیوں نہیں ہیں؟(عمران یعقوب خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-07-02/52222/95040221</link><pubDate>Thu, 02 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-07-02/52222/95040221</guid><description>لاہور میں ایک ٹیوشن سنٹر کی چھت گرنے سے ملبے تلے دب کر 14 بچوں کے جاں بحق ہونے کی خبر آپ نے پڑھی۔ حکومت کی جانب سے اس سلسلے میں کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں‘ خبروں سے آپ کو ان کا بھی مسلسل پتا چل رہا ہو گا۔ اس افسوسناک واقعے کے بعد ایجوکیشن اتھارٹی لاہور نے شہر بھر میں قائم ٹیوشن سنٹروں‘ اکیڈمیوں اور تعلیمی عمارتوں کا ہنگامی سروے کرانے کا فیصلہ کر لیا ہے جبکہ ضلعی انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ بغیر اجازت گھروں میں ٹیوشن پڑھانے پر جرمانے ہوں گے۔دوسری خبر یہ ہے کہ لاہور کے علاقے برکی میںایک مدرسے میں استاد کے وحشیانہ تشدد سے 12 سالہ بچہ جان کی بازی ہار گیا۔ اہلِ خانہ کے مطابق بچے کو وقت پر نہ پہنچنے کی وجہ سے شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔ بچے پر تشدد آٹھ روز پہلے کیا گیا تھا۔ بچہ ہسپتال میں آٹھ روز تک زندگی اور موت کی کشمکش میں رہنے کے بعد دم توڑ گیا‘ جس کے بعد یہ واقعہ میڈیا پر سامنے آیا اور پولیس نے مقدمہ درج کر کے کارروائی شروع کی۔ یہ طے ہے کہ اگر یہ واقعہ میڈیا پر نہ آتا تو بہت سی دوسری اموات کی طرح ننھے بچے کی موت بھی ایک گمنام موت بن جانی تھی۔اسی طرح سرگودھا کی کم سن منتہٰی کا قتل بھی ایک گمنام قتل بن جانا تھا اگر اس کے ساتھ پیش آنے والا سانحہ میڈیا کی نظروں میں نہ آ جاتا۔ یہ سانحہ اس حقیقت کے باوجود رونما ہوا کہ ملک میں زینب الرٹ‘ رسپانس اینڈ ریکوری جیسا قانون نافذ ہے جس کا مقصد بچوں کے خلاف مجرمانہ سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے خصوصی قوانین کا نفاذ کرنا اور اغوا یا گم شدہ بچوں کو بازیاب کرانا ہے۔ اس قانون کے دیگر مقاصد میں بچوں کے تحفظ کے لیے قائم کیے گئے نئے اداروں کے کام اور پہلے سے رائج طریقہ کار میں ہم آہنگی پیدا کرنا بھی شامل ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ قانون بچوں کو تحفظ فراہم کرنے میں کامیاب ہو سکا؟اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جو واقعات میڈیا کی نظروں میں نہیں آتے‘ وہ بھی خاصی بڑی تعداد میں ہوں گے۔ میرے سامنے ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی 12 جنوری 2018ء کی ایک پریس ریلیز ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں روزانہ 18 سال سے کم عمر بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے 11 واقعات پیش آتے ہیں اور زیادہ تر متاثرین کو زیادتی کے بعد قتل کر دیا جاتا ہے۔ ان افسوسناک اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے کہ یہ برائی ہمارے معاشرے میں سرایت کر چکی ہے اور متعلقہ حکام کو چاہیے کہ وہ اِس صورتحال پر قابو پانے کے لیے فوری‘ سخت اور پائیدار اقدامات کریں۔ پریس ریلیز کے مطابق 2016ء میں جنسی زیادتی کے 4139 کیسز رپورٹ ہوئے جن میں سے 43 فیصد واقعات میں ملوث مجرم متاثرہ بچے یا بچی کے واقف کار تھے جبکہ 16 فیصد کیسز میں زیادتی کرنے والے خاندان کے لوگ تھے۔ اس پریس ریلیز کو اب آٹھ سال ہو چکے ہیں۔ کوئی بتا سکتا ہے کہ اس عرصے میں بچوں کے ساتھ زیادتی اور ان پر تشدد کے واقعات میں کتنی کمی آئی ہے؟اقوام متحدہ کے کنونشن برائے حقوق اطفال (The United Nations Convention on the Rights of the Child) کے تحت بچوں کے چار بنیادی حقوق ہیں۔ پہلا‘ حقِ زندگی اور بقا کے تحت ہر بچے کو زندہ رہنے اور صحت مند نشوونما پانے کا حق حاصل ہے۔ دوسرا حقِ تحفظ کے تحت بچوں کو ہر قسم کے تشدد‘ استحصال اور نظر اندازی سے بچانا ریاست اور معاشرے کی ذمہ داری ہے۔ حقِ نشوونما کے تحت معیاری تعلیم‘ مناسب خوراک‘ تفریح اور مکمل ذہنی و جسمانی نشوونما ہر بچے کا بنیادی حق ہے۔ حقِ شرکت کے تحت بچوں کو اپنی زندگی اور معاشرے کے فیصلوں پر اپنی رائے دینے کی آزادی اور حق حاصل ہے۔ کیا پاکستان میں ہمارے بچوں کو یہ سارے حقوق مکمل طور پر حاصل ہیں؟اب ایک ایک کر کے ان معاملات کا جائزہ لیتے ہیں تاکہ حقیقی صورت حال واضح ہو جائے۔ بچوں کو کتنا تحفظ حاصل ہے اس کا اندازہ کالم کے آغاز میں پیش کردہ تین واقعات سے بخوبی ہو جاتا ہے‘ نہ وہ تشدد سے محفوظ ہیں اور نہ ہی جنسی استحصال سے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے بچوں کو حقِ زندگی تو حاصل ہے لیکن حقِ تحفظ حاصل نہیں ہے۔ تعلیم کی حالت یہ ہے کہ وائس آف امریکہ کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سکول سے باہر بچوں کی تعداد دو کروڑ 60 لاکھ تک بڑھ چکی ہے اور یہ وہ سنگین معاملہ ہے جس سے نمٹنے کے لیے وفاقی حکومت نے ملک بھر میں تعلیمی ایمرجنسی لگا رکھی ہے۔ سکول سے باہر ان بچوں کی کل تعداد کا تین چوتھائی سے زیادہ یعنی 78 فیصد کبھی سکول ہی نہیں گئے جبکہ باقی 22 فیصد وہ ہیں جنہوں نے دو چار جماعتیں پڑھنے کے بعد سکول جانا چھوڑ دیا۔ خوراک کی صورتحال اقوام متحدہ کی ہی ایک رپورٹ سے اچھی طرح واضح ہو جاتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں پانچ سال سے کم عمر کے 40 فیصد بچے بڑھوتری میں کمی کے مسئلے کا شکار ہیں جو دائمی غذائی قلت کی علامت ہے اور بچوں کی نشوونما‘ صحت اور طویل مدتی ترقی کو متاثر کرتی ہے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا علاج ممکن نہیں۔ بچوں کے حقوق کے حوالے سے باقی معاملات کی صورتحال بھی اس سے مختلف نہیں ہو گی۔میڈیا بتاتا ہے کہ پاکستان میں بچوں پر تشدد کے واقعات روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ ہوتے ہیں‘ جن میں جسمانی و جنسی استحصال‘ گھریلو تشدد اور اغوا کے ہزاروں کیسز شامل ہیں۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق سالانہ ہزاروں بچے ان سنگین جرائم کا شکار بنتے ہیں اور ایسے واقعات میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اگر ملک کے مستقبل کو روشن بنانا ہے تو بچوں کے خلاف ہونے والے جرائم کی بیخ کنی کے لیے کچھ ٹھوس کرنا ہو گا۔ پاکستان میں بچوں کے حقوق پر کام کرنے والی تنظیمیں اور بین الاقوامی ادارے جیسے اقوام متحدہ کی کمیٹی برائے حقوقِ اطفال پاکستان میں بچوں کی قانونی اور سماجی حفاظت کو مزید بہتر بنانے کے لیے قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بنانے پر زور دیتے ہیں۔ ان کی آواز پر توجہ دی جانی چاہیے۔ ایسے قانون بننے چاہئیں کہ کوئی بھی فرد یا افراد بچوں کو گرتی ہوئی چھت کے نیچے بٹھا کر ٹیوشن پڑھانے پر مجبور نہ ہو۔ کوئی بچوں پر تشدد کے بارے میں سوچ بھی نہ سکے‘ انہیں مار مار کر قتل کر دینا تو بہت دور کی بات ہے۔ بنائے گئے قوانین پر اس شدت کے ساتھ عمل درآمد ہونا چاہیے کہ ہمارے بچے گلی محلوں میں آسانی سے کھیل سکیں اور آ جا سکیں‘ دکانوں سے چیزیں خرید سکیں اور انہیں کوئی ہاتھ تک لگانے کی ہمت نہ کر سکے۔ ہمارے ہاں مسئلہ یہ ہے کہ قوانین تو بنا دیے جاتے ہیں‘ ان پر عمل درآمد یقینی نہیں بنایا جاتا جبکہ عمل درآمد یقینی بنانے تک ٹھوس نتائج حاصل کرنا ناممکن ہو گا۔ اب یہ اربابِ بست و کشاد پر ہے کہ وہ واقعی بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرتے ہیں یا حالیہ واقعات کی گرد بیٹھ جانے کا انتظار کرتے ہیں تاکہ اپنی پہلے والی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_58350786.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ایک جیسی دو گرمیاں(سعود عثمانی )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-07-02/52223/29327509</link><pubDate>Thu, 02 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-07-02/52223/29327509</guid><description>یورپ سے لرزادینے والی خبریں آرہی ہیں۔ ایک غیرمعمولی گرم لہر نے اکثر ملکوں کو اپنی لپیٹ میں لے کر چند دنوں میں چیخیں نکلوا دیں۔ 20 جون کو گرمی کی اس لہر نے مغربی یورپ پر اپنے پنجے گاڑے تھے اور پیر 30 جون کی اطلاعات کے مطابق یہ فرانس اور جرمنی وغیرہ سے اپنا جانی مالی ٹیکس وصول کرکے اب مشرق کی طرف سرک گئی ہے اور اب وسطی اور مشرقی یورپ اس کی زد میں ہیں۔ اس تحریر کے وقت یہ بلقان اور اٹلی کے علاقوں سے اپنا خراج وصول کر رہی ہے۔ صرف فرانس میں اس گرمی سے ایک ہزار سے زیادہ اموات ہوئی ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ادہانوم (Tedros Adhanom)کے مطابق 20 سے 29 جون کے درمیان یورپ میں 1300 اموات ہوئی ہیں جن میں زیادہ تر بڑی عمر کے لوگ ہیں۔ یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ بہت سی اموات‘ جھیلوں‘ تالابوں اور ندیوں وغیرہ میں ڈوبنے سے ہوئی ہیں جہاں لوگ پناہ کی تلاش میں گئے تھے۔ معاملہ صرف جانی نقصان کا نہیں‘ یورپ کے متاثرہ ملکوں میں ٹرینوں‘ بسوں‘ ٹراموں اور بجلی کا نظام بھی بے حد متاثر ہوا۔ سکول بند کر دیے گئے۔ یہ سب موسمیاتی تبدیلی کے شاخسانے ہیں کہ گرمی کی ایسی لہر جو کوئی نسل صرف ایک بار سنا کرتی تھی‘ اب ہر کچھ سال بعد سننے میں آتی ہے۔ لیکن اصل لرزہ خیز خبر آگے ہے‘ اور وہ یہ کہ یورپ ان عاملی تبدیلیوں میں سب سے زیادہ تیزی سے گرم ہونیوالا براعظم ہے‘ جو باقی دنیا کی نسبت دگنی رفتار سے گرم ہو رہا ہے۔ گزشتہ تقریباً پچاس برسوں میں یورپ کا اوسط درجہ حرارت تقریباً دو ڈگری سینٹی گریڈ بڑھ چکا ہے۔ چنانچہ 2026ء کی یہ گرم لہر آئندہ برسوں میں زیادہ شدت سے آنے کا امکان ہے۔سوشل میڈیا پر ڈھیروں ڈھیر وڈیوز پھیلی ہوئی ہیں۔ کسی میں لوگ کسی ندی یا دریا میں پلوں سے چھلانگیں لگا رہے ہیں۔ کہیں جھیل کنارے لوگوں کا جم غفیر جمع ہے۔ کہیں گھر کی بالکنی میں فرائی پین میں انڈا ابال کر گرمی کی شدت دکھائی جا رہی ہے۔ کسی سڑک پر پولیس اپنے خصوصی گاڑیوں سے لوگوں پر پانی کی پھواریں برسا رہی ہے۔ کہیں پارکوں میں درختوں کے سائے میں لوگ اکٹھے ہیں۔ کہیں چوک پر لگے فواروں اور اس کے ساتھ پانی کے حوضوں سے لوگ سر اور منہ پر چھینٹے مار رہے ہیں۔ یہ وہ سب لوگ ہیں جنہیں اپنے گھروں میں چین نہیں ملا۔ ہما رے ہاں شدید گرمی کی لہر میں لوگوں کو گھر سے نہ نکلنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔ لیکن یورپ میں لوگ گھروں میں رہنے پر قادر ہی نہیں ہیں۔ نہ وہاں کھڑکیوں‘ دروازوں میں ہوا کی آمد و رفت کا نظام موجود ہے۔ نہ پنکھے ہیں اور نہ ایئر کنڈیشنر۔ دفتروں اور گھروں کا ایک جیسا حال ہے۔ 20 جون سے شروع ہونے والی یہ گرمی ابتدا میں سپین اور پرتگال سے اٹھ کر فرانس‘ برطانیہ‘ جرمنی‘ اٹلی‘ سوئٹزرلینڈ‘ بلجیم‘ نیدر لینڈز اور پولینڈ وغیرہ سے ہوتی ہوئی چیک جمہوریہ اور بلقان تک پھیل گئی۔ اور اب اٹلی بھی اس کی زد میں ہے۔ ظاہر ہے یونان اور ترکیہ بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہیں گے۔ماہرینِ موسمیات کے مطابق اس گرمی کی بنیادی وجہ فضا میں قائم ہونے والا &#39;&#39;اومیگا بلاک‘‘ تھا۔ اس دوران ایک طاقتور ہائی پریشر سسٹم کئی دنوں تک تقریباً ایک ہی جگہ قائم رہا‘ جس نے شمالی افریقہ سے آنے والی گرم اور خشک ہوا کو مغربی اور وسطی یورپ کے اوپر روک دیا۔ نتیجتاً نہ ٹھنڈی ہوائیں پہنچ سکیں اور نہ بارشوں کا نظام آگے بڑھ سکا۔ جرمنی میں 41.1 اور فرانس کے کچھ علاقوں میں 43 ڈگری سینٹی گریڈ تک ریکارڈ کیا گیا۔ لیکن بیشتر یورپی ملکوں میں 37 اور 38 ڈگری کے درمیان درجہ حرارت تھا‘ جو اُن ملکوں میں گرمی کی بلند ترین سطح سمجھی جاتی ہے۔ عالمی میڈیا میں وہ مضامین شائع ہو رہے ہیں اور وہ تفصیلات بتائی جا رہی ہیں جن سے ہم دیسی لوگوں کو معلوم ہوتا ہے کہ محض ایک ہفتے کی گرم ترین لہر نے کس کس طرح یورپ کو متاثر کیا ہے۔ ایک بار پھر یہ چیخ و پکار شروع ہوگئی ہے کہ گرین ہاؤس گیسز کے اخراج اور فوصل ایندھن کے استعمال کو کس طرح کم کیا جائے۔یورپ کے بیشتر مکانات نسبتاً سرد موسم کو مدنظر رکھ کر تعمیر کیے جاتے ہیں۔ شمالی یورپی ممالک میں صرف تقریباً 20 فیصد گھروں میں ایئرکنڈیشننگ موجود ہے۔ انہیں عام طور پر پنکھے کی ضرورت بھی نہیں ہوتی چنانچہ اس گرم لہر کے دوران ایئر کنڈیشننگ یونٹس اور پنکھوں کی طلب بہت بڑھ گئی اور اتنی تعداد موجود تھی ہی نہیں۔پیرس میں صرف ایک دن کے دوران گرمی سے متعلق 55 اموات ایمرجنسی نظام میں رپورٹ ہوئیں جبکہ بعض ہسپتالوں نے ہنگامی صورتحال نافذ کر دی۔ برطانیہ میں ایمبولینس سروس کو غیر معمولی تعداد میں جان لیوا ہنگامی کالیں موصول ہوئیں۔ شدید گرمی نے جنگلات میں آگ لگنے کے خطرات کئی گنا بڑھا دیے۔جنوبی یورپ میں خشک سالی مزید شدت اختیار کر گئی۔ زرعی ماہرین کے مطابق گندم‘ مکئی‘ انگور اور زیتون کی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا۔ اس گرمی میں یورپی انفر سٹرکچر کی کمزوریاں بھی حیرت انگیز طور پر نمایاں ہوگئیں۔جرمنی میں سڑکیں پگھلنے لگیں یا نرم ہو گئیں۔ سویڈن میں ٹرین لائنوں پر مسائل پیدا ہوئے۔ بعض شہروں میں ٹرام کی پٹریاں ٹیڑھی ہو گئیں۔ بجلی کی طلب ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی‘ جبکہ گرڈ سٹیشن خود گرمی کی وجہ سے اپنا کام نہیں کر پارہے تھے۔یعنی سماجی‘ معاشی‘ طبی‘انتظامی ‘ ہر لحاظ سے یہ گرم لہر بہت جان لیوا ثابت ہوئی۔ ایک پاکستانی جو جرمنی میں بہت مدت سے مقیم ہے اور وہ حال ہی میں پاکستان سے واپس جرمنی پہنچا تھا‘ اس کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اس کی موجودگی میں اگرچہ 37 ڈگری درجہ حرارت تھا۔لیکن وہاں اس طرح گرمی نہیں لگتی تھی جیسے جرمنی میں اسی درجہ حرارت میں محسوس ہورہی تھی۔ وجہ یہ بھی ہے کہ لوگ اس کے عادی نہیں ہیں جبکہ پاکستان اور بھارت سمیت گرم ترین علاقوں میں لوگ عادی ہوجاتے ہیں اور اپنا رہن سہن اسی کے مطابق ڈھال لیتے ہیں۔ میں سوچ رہا ہوں کہ آج30 جون کو لاہوراور اسلام آباد میں 38 ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔ کراچی میں 32 ڈگری بتایا جارہا ہے۔ملک کے گرم ترین علاقوں مثلاًسبی اور جیکب آباد میں بھی 38 کے لگ بھگ ہے۔ دہلی میں بھی یہی صورت ہے۔ یہ گرم ترین مہینوں کا موسم ہے چنانچہ ان مہینوں میں یہ گرمی معمول ہی سمجھی جاتی ہے۔ یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ مرطوب آب و ہوا کی وجہ سے ہمارے ہاں اس کی شدت بڑھ جاتی ہے لیکن اس زمانے میں بھی مزدوروں اور کسانوں کے کام رکتے نہیں‘ اسی رفتار سے جاری رہتے ہیں۔آپ ان دنوں بھی دیکھ لیجیے لوگوں کے کاروبار اور ملازمتو ں سمیت سب معاملات اسی طرح جاری ہیں۔دنیا کے اس خطے میں بھی درجہ حرارت 38 ہے اور اُس خطے میں بھی۔ لیکن ایک طرف ہاہاکار مچی ہوئی ہے دوسری طرف زندگی اپنے معمول میں جاری ہے۔ میں حیران ہوتا ہوں کہ نسلی طور پر اور آب و ہوا کے لحاظ سے یورپی لوگ اچھی صحت کے مالک ہوتے ہیں۔ اسی طرح انہیں غذا‘رہن سہن اور صحت کی بہت سی وہ سہولتیں حاصل ہیں جن کا یہا ں ایک عام آدمی تصور بھی نہیں کرپاتا۔ انکی جیب میں بھی یہاں کے عام آدمی سے زیادہ پیسے ہیں‘ لیکن نتیجہ پھر بھی یہی نظر آتا ہے کہ ہمارا عام آدمی ایک یورپی عام شہری سے زیادہ سخت جان اور زیادہ صابر ثابت ہوتا ہے۔ ہمارے یہاں تو 48 ڈگری سینٹی گریڈ تک بھی پہنچ جاتا ہے۔ اموات کی خبریں بھی آتی ہیں لیکن اس طرح نہیں جیسے 37 ڈگری میں یورپ سے آرہی ہیں۔ انسانی جان کسی بھی جگہ کی ہو‘ قیمتی ہے اور اسکے تلف ہونے پر افسوس ہی کیا جاسکتا ہے۔ لیکن سب سے پہلے اپنا اور اپنوں کا خیال تو آتا ہے نا۔ گندمی اور سیاہ جسموں کے وہ لوگ جو نیم‘ بوہڑ اور بکائن کی چھاؤں تلے38 ڈگری کی گرمی میں پنکھے کے بغیربیٹھے ہیں۔ جنہوں نے اچار سے کھانا کھایا ہے اور ستو گھول کر پی رہے ہیں‘ کچی نمکین لسی کٹورے میں انڈیل رہے ہیں۔چلتے رہٹ سے ٹھنڈا پانی پی کر شکر ادا کرتے یہ لوگ۔ یورپ کو ان سے پوچھنا چاہیے کہ گرمی کیا ہوتی ہے؟</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_81278520.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ہزاروں لغزشیں حائل ہیں، لب تک جام آنے میں … (1)(مفتی منیب الرحمٰن )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-07-02/52224/25000438</link><pubDate>Thu, 02 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-07-02/52224/25000438</guid><description>پاکستان اور قطر کی طویل سفارتی جدوجہد کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے درمیان 17جون2026ء کوایک مفاہمت پر اتفاق ہوا اور &#39;&#39;اسلام آباد مفاہمتی یادداشت ‘‘کے عنوان سے اس پر امریکی صدر ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے فریق کے طور پردستخط کیے‘ نیز وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے ثالث کے طور پر دستخط کیے۔ پاکستان سمیت دنیا نے اس پر اطمینان کا سانس لیا۔ یہ مفاہمتی یادداشت باقاعدہ معاہدہ نہیں تھا بلکہ یہ ایک بنیادی خاکہ تھا‘ جس کے تحت 60 دن میں باقاعدہ معاہدہ طے پانا ہے۔ اس ابتدائی مفاہمتی یادداشت کے نتیجے میں 21 جون 2026ء کو پاکستان اور قطر کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان سوئٹزر لینڈ کے شہر برگن سٹاک میں قطر کے زیرِ ملکیت ریزورٹ میں باقاعدہ اجلاس منعقد ہوا۔ اس میں امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی وفد کی قیادت پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کی۔ حالات کی حساسیت کے پیشِ نظر ایرانی وفد نے فوٹو سیشن میں حصہ نہیں لیا۔ پھر اجلاس کے دوران بھی امریکی صدر ٹرمپ کے تندوتیز بیانات منظرِ عام پر آنے کے بعد ایرانی وفد نے اجلاس کو جاری رکھنے سے انکار کر دیا اور وہ اپنی رہائش گاہ میں چلے گئے۔ پھر پاکستان اور قطر کی مخلصانہ کاوشوں کے بعد بالواسطہ مذاکرات کے نتیجے میں ایک ابتدائی اعلامیے پر اتفاقِ رائے ہوا اور طے پایا کہ معاہدے کی باقی تفصیلات دونوں طرف کے تکنیکی ماہرین 60 دن میں طے کریں گے۔ اس اعلامیے کے اہم نکات حسبِ ذیل ہیں:(1) لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیاں ختم کردی جائیں گی۔ دونوں فریق ایک دوسرے پر حملہ‘ دھمکی یا طاقت کے استعمال سے گریز کریں گے۔ (2) فریقین ایک دوسرے کی خودمختاری اور علاقائی سا لمیت کا احترام کریں گے نیز ایک دوسرے کے اندرونی امور میں مداخلت نہیں کریں گے۔ (3) حتمی معاہدہ 60 دنوں میں طے پائے گا‘ باہمی مشاورت سے یہ مدت بڑھائی جا سکتی ہے‘ تکنیکی ماہرین فوری طور پر مذاکرات کا سلسلہ شروع کر دیں گے۔ (4) امریکہ فوری طور پر بحری ناکہ بندی ہٹانا شروع کرے گا اور 30 دنوں میں مکمل ختم کردے گا۔ (5) ایران 60 دنوں تک کسی قسم کا ٹول ٹیکس لیے بغیر تجارتی جہازوں کو محفوظ راستہ دیتے ہوئے قبل از جنگ کی صورتحال پر لے آئے گا۔ (6) ایران جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا‘ افزودہ یورینیم کے موجودہ سٹاک اور دیگر مسائل حتمی معاہدے میں طے پائیں گے‘ سرِ دست صورتحال حسبِ سابق برقرار رہے گی۔ (7) ایران پر پابندیوں میں نرمی کی جائے گی‘ اسکے منجمد اثاثوں کاکچھ حصہ فوری طور پر واگزار کیا جائے گا اور ایران کی تعمیرِ نو کیلئے 300 ارب ڈالر کا فنڈ قائم کیا جائے گا۔ (8) لبنان کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کا احترام کیا جائے گا‘ دہشت گرد گروہوں کو فنڈنگ نہیں کی جائے گی۔امریکہ اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کا پورا متن: امریکہ اور اسلامی جمہوریہ ایران نیک نیتی کے ساتھ مندرجہ ذیل امور پر متفق ہوئے ہیں: (1) امریکہ‘ اسلامی جمہوریہ ایران اور حالیہ جنگ میں ان کے اتحادی یہ اعلان کرنے کیلئے اس مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر رہے ہیں کہ: &#39;&#39;لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی آپریشنز کو فوری اور مستقل بنیادوں پر ختم کریں گے اور یہ عہد کرتے ہیں کہ ایک دوسرے کے خلاف کوئی جنگ یا فوجی آپریشن نہیں کریں گے اور ایک دوسرے کے خلاف دھمکی یا طاقت کے استعمال سے گریز کریں گے‘ نیز لبنان کی علاقائی سالمیت اور خود مختاری کو یقینی بنائیں گے۔ حتمی معاہدہ لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کے خاتمے اور اس پیراگراف کی دیگر شرائط کی توثیق کرے گا۔ (2) امریکہ اور اسلامی جمہوریہ ایران عہد کرتے ہیں کہ وہ ایک دوسرے کی خود مختاری‘ علاقائی سالمیت کا احترام کریں گے اور ایک دوسرے کے داخلی معاملات میں مداخلت سے اجتناب کریں گے۔ (3) امریکہ اور اسلامی جمہوریہ ایران زیادہ سے زیادہ 60 دن کے اندر مکالمے کے ذریعے حتمی معاہدے تک پہنچنے کا عہد کرتے ہیں‘ اس مدت کو باہمی رضا مندی سے بڑھایا جا سکتا ہے۔ (4) اس مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے فوراً بعد امریکہ اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی اور رکاوٹوں کو دورکرے گا اور 30 دن کے اندر ناکہ بندی مکمل طور پر ختم کردی جائے گی‘ اس عرصے کے دوران اسلامی جمہوریہ ایران کی طرف سے بحری جہازوں کی آمد ورفت بتدریج قبل از جنگ کی صورتِ حال پر بحال کی جائے گی۔ امریکہ مزید عہد کرتا ہے کہ اپنی افواج کو حتمی معاہدے کے تیس دن کے اندر ایرانی علاقوں سے ہٹادے گا۔ (5) اس معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد اسلامی جمہوریۂ ایران تجارتی بحری جہازوں کو خلیجِ فارس سے بحیرۂ عمان تک اور اس کے برعکس آمد ورفت کیلئے محفوظ راستہ دینے کی خاطر کسی راہداری ٹیکس کے بغیر 60 دن کیلئے انتظامات کرے گا۔ تجارتی بحری جہازوں کی آمدورفت فوری شروع ہو جائے گی اور 30 دن کے اندر تکنیکی اور فوجی رکاوٹوں‘ نیز ایران کی طرف سے بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو ہٹایا جائے گا۔ اسلامی جمہوریہ ایران خلیجِ فارس کی دیگر ساحلی ریاستوں سے مشاورت کے ساتھ آبنائے ہرمز میں مستقبل کے انتظامی امور وضع کرنے کیلئے سلطنتِ عمان سے بات چیت کرے گا جو مسلمہ بین الاقوامی قوانین اور آبنائے ہرمز کے ساحلی ممالک کے خود مختار حقوق کے مطابق ہو گا۔ (6) امریکہ عہد کرتا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی تعمیر نو اور معاشی ترقی کیلئے اپنے علاقائی شراکت داروں کی رضا مندی کے ساتھ کم از کم تین سو ارب امریکی ڈالر کا یقینی منصوبہ بنائے گا‘ اس منصوبے کے نفاذ کا لائحۂ عمل 60 دن کے اندر حتمی معاہدے کا حصہ ہوگا۔ ایران کو مالیاتی ادائیگیوں کیلئے جو اجازت نامے اور پابندیوں سے استثنا درکار ہیں‘ امریکہ وہ سب جاری کرے گا۔(7) حتمی معاہدے کے حصے کے طور پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں‘ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز کی قراردادوں اور یکطرفہ طور پر ابتدائی یا ثانوی سطح کی عائد کردہ پابندیوں سمیت امریکہ سب کو ختم کرے گا۔ اوپر جن پابندیوں کا حوالہ دیا گیا ہے‘ اسلامی جمہوریہ ایران اور امریکہ ان کے خاتمے کی انتہائی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں اور مکالمے میں ان مسائل کے فوری حل کیلئے اپنی پوری توجہ مبذول کریں گے تاکہ باہمی اتفاقِ رائے سے معاہدہ کیا جا سکے۔ (8) اسلامی جمہوریہ ایران دوبارہ توثیق کرتا ہے کہ وہ نہ جوہری ہتھیار حاصل کرے گا اور نہ انہیں ترقی دے گا۔ امریکہ اور اسلامی جمہوریہ ایران اس بات پر رضا مند ہوچکے ہیں کہ پیراگراف نمبر سات میں جو نظام الاوقات طے ہو چکا ہے‘ اس کے مطابق جمع شدہ افزدوہ یورینیم کو ٹھکانے لگانے یا اس کی صلاحیت کم کرنے کیلئے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کی نگرانی میں طے شدہ مقام پر باہمی رضامندی سے ایک طریقۂ کار طے کریں گے۔ فریقین باہمی رضامندی سے طے کردہ طریقۂ کار کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کی ضرورتوں کی حد تک یورینیم کی افزودگی کے مسئلے پر مذاکرات کریں گے‘ ان مذاکرات میں باہمی رضامندی سے جوطریقۂ کار طے پائے گا وہ حتمی معاہدے میں شامل ہو گا۔ حتمی معاہدہ اس پیراگراف کی شرائط کی توثیق کرے گا۔ امریکہ اور اسلامی جمہوریہ ایران جوہری معاملات کے بارے میں محولہ بالا طریقۂ کار کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں۔ فریقین متفقہ معاہدے کے حصول کیلئے فوری طور پر اس مسئلے پر مکالمے کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں۔ (9) جب تک حتمی معاہدہ معرضِ التوا میں ہے‘ امریکہ اور ایران موجودہ صورتحال کو قائم رکھنے پر متفق ہیں‘ اسلامی جمہوریہ ایران اپنے جوہری پروگرام کو موجودہ حالت پر برقرار رکھے گا‘ امریکہ کوئی نئی پابندیاں لگائے گا اور نہ علاقے میں نئی فوجی طاقت منتقل کرے گا۔(جاری)</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_61172381.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>