<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>بزدلانہ حملے(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-19/11554</link><pubDate>Sat, 19 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-19/11554</guid><description>کوہاٹ پولیس لائنز میں نمازِ جمعہ کے دوران دہشت گردی کے المناک وقوعے نے صوبے میں امن وامان کی خوفناک صورتحال کو مزید واضح کر دیا ہے۔ دہشت گردوں کی جانب سے پرانی پولیس لائنز کی مسجد اور سپیشل برانچ کے دفتر کو نشانہ بنایاگیا۔ یہ ایک بڑے پیمانے کا منظم دہشت گردانہ حملہ تھا جس میں ایک طرف بارود بھری گاڑی کو مسجد سے ٹکرایا گیا جبکہ اسی دوران مسلح حملوں آوروں نے پولیس لائنز میں سپیشل برانچ کے دفتر کو نشانہ بنایا۔ حملے میں 21 افراد شہید اور متعدد زخمی ہوئے۔ پولیس کی جانب سے دہشت گردوں کا جس بہادری سے مقابلہ کیا گیا وہ قابلِ تحسین ہے۔ خیبر پختونخوا ایک عرصے سے دہشت گردی کے نشانے پر ہے اور اس میں پولیس بطور پہلی دفاعی لائن دہشت گردوں کا پہلا ہدف ہے۔ اس صوبے کی پولیس نے جو قربانیاں دی ہیں وہ کسی بھی دوسرے صوبے سے زیادہ ہیں۔ اگر اس میں خیبر پختونخوا کا موازنہ کسی صوبے سے کیا جا سکتا ہے تو وہ بلوچستان ہے۔ ملک کے یہ دونوں صوبے دہشت گردی کے سامنے فرنٹ لائن سٹیٹ کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو درپیش یہ صورتحال ان کی افغانستان سے ہمسائیگی کا نتیجہ ہے جہاں دہشت گردی پروان چڑھتی ہے۔

افغان انتظامیہ کو دہشت گردی کے حوالے سے خبردار کرنے کیلئے پاکستان کی جانب سے جو کچھ ممکن تھا کیا گیا مگر بدقسمتی سے صورتحال میں کوئی بہتری نہیں آ سکی۔ افغانستان دہشتگردی کی آماجگاہ تھا اور بدستور ہے‘ اور پچھلے پانچ برس کے دوران اس خطرے میں اضافہ ہوا ہے۔ اس صورتحال میں ضروری ہو جاتا ہے کہ دہشت گردی سے دفاع کیلئے زیادہ مضبوط اور مربوط انتظامات کیے جائیں۔ یہ پورے ملک میں ضروری ہے تاہم کے پی اور بلوچستان میں اسکی ترجیحی بنیادوں پر ضرورت ہے۔ دونوں صوبوں میں پولیس کو ان خطرات کا مقابلہ کرنے کیلئے مزید تکنیکی سہولتیں اور افرادی قوت مہیا کرنا ہو گی تاکہ شہری علاقوں میں قیام امن یقینی بنانے کیلئے زیادہ بہتر اقدامات کیے جا سکیں۔ دونوں صوبوں میں پولیس کی سطح پر کام کی بہت گنجائش موجود ہے۔ امن وامان کی اس صورتحال میں مناسب تیاری کیلئے صوبوں اور مرکز کے درمیان مفاہمت اور بہتر رابطہ کاری اور صوبائی سطح پر ہم آہنگی کی ضرورت ہے تاکہ اتفاقِ رائے سے اقدامات کیے جا سکیں۔ کے پی اور وفاقی حکومت کے سیاسی اختلافات اتفاق ِرائے کی راہ میں رکاوٹ ثابت ہو رہے ہیں جبکہ صوبائی حکومت اپنی سطح پر بھرپور اقدامات نہیں کر سکی‘ جس کا فائدہ دہشت گردوں نے اٹھایا ہے۔
سیاسی اختلافات اپنی جگہ اور کوئی اس کا انکار نہیں کر سکتا مگر قومی مفادات اور خاص طور پر سکیورٹی کے معاملے میں سیاسی جماعتوں اور حکومتو ں کو ایک صفحے پر نظر آنا چاہیے۔ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد صوبوں کے پاس مالی وسائل کی کمی نہیں؛ چنانچہ سکیورٹی انتظامات کو مضبوط بنانے میں مالی وسائل کی قلت کا مسئلہ تو پیش نہیں آنا چاہیے‘ البتہ سیاسی سطح پر حکومتوں کی مصروفیات اگر انہیں اس جانب سوچنے اور عمل کرنے کا وقت نہ دیں تو دوسری بات ہے۔ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے منظم اور بڑے پیمانے کے واقعات ملک بھر کیلئے تشویش کا باعث ہیں۔ ایسا تاثر پیدا ہونا بے جا نہیں کہ دہشتگرد ایک صوبے میں اس شدت کی کارروائیاں کر سکتے ہیں تو ان کا ملک کے دیگر حصوں میں پہنچ کر دہشتگردی کرنا بھی خارج از امکان نہیں۔ رواں برس کے شروع میں اور گزشتہ برس اسلام آباد میں خود کش حملوں کے دو واقعات اس حوالے سے درپیش خطرات کو واضح کرتے ہیں۔
اس صورتحال میں ضروری ہے کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو دہشتگردی کے مقابل پہلا محاذ تصور کرتے ہوئے قومی عزم کے ساتھ ایسے اقدامات کیے جائیں جو صوبوں کی دفاعی صلاحیت کو مضبوط کریں اور دہشت گردوں کا قلع قمع کیا جائے‘ بصورتِ دیگر ملک کے دیگر حصو ں کو بھی دہشتگردی کے بھیانک خطرات سے محفوظ تصور نہیں کیا جا سکتا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مہنگائی میں اضافہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-19/11553</link><pubDate>Sat, 19 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-19/11553</guid><description> پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں پے در پے اضافے کے اثرات عام آدمی کی زندگی کے ہر شعبے کو اپنی لپیٹ میں لے رہے ہیں۔ وفاقی ادارۂ شماریات کے مطابق 17 ستمبر کو ختم ہونے والے کاروباری ہفتے کے دوران 19 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جبکہ مہنگائی کی شرح 10.64فیصد تک جا پہنچی۔ رپورٹ کے مطابق سالانہ بنیادوں پر ایل پی جی کی قیمت میں 60 فیصد‘ ڈیزل 54فیصد‘ پٹرول 48فیصد اور بجلی کی قیمت میں 33فیصد اضافہ ہوا جبکہ آٹا‘ پیاز اور سرخ مرچ پاؤڈر سمیت متعدد اشیائے خورونوش بھی مہنگی ہوئی ہیں۔ پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونے سے مال برداری سمیت زرعی اور صنعتی لاگت میں بھی اضافہ ہوا ہے‘ اور یہی اضافی لاگت صارفین کو زیادہ قیمتوں کی صورت میں منتقل ہوتی ہے۔

لیکن مہنگائی میں اضافہ صرف اشیا کی قیمت بڑھنے سے نہیں بلکہ آمدن اور اخراجات کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق سے بھی ہوتا ہے۔ مہنگائی ایک کثیرجہتی مسئلہ ہے۔ توانائی‘ پیداواری لاگت‘ سپلائی چین‘ منڈیوں کی نگرانی اور عوام کی قوتِ خرید‘یہ سب عوامل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ان میں سے کسی ایک عامل کو نظرانداز کرکے مہنگائی کے مسئلے کا پائیدار حل ممکن نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ فوری ریلیف کے ساتھ ایسی مربوط معاشی حکمت عملی اختیار کی جائے جو پیداواری لاگت کم کرے‘ قیمتوں میں غیرضروری اضافے کا راستہ روکے اور عام آدمی کی حقیقی قوتِ خرید بحال کرنے میں مدد دے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>خوردنی تیل کی درآمدات(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-19/11552</link><pubDate>Sat, 19 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-19/11552</guid><description>گزشتہ مالی سال کے دوران پانچ ارب 86کروڑ ڈالر‘ یعنی 1624ارب 82کروڑ روپے سے زائد مالیت کا خوردنی تیل درآمد کیا گیا۔ مالی سال 2025ء میں یہی درآمدی بل تقریباً تین ارب 40کروڑ ڈالر تھا‘ جبکہ چھ سال کے دوران خوردنی تیل کا درآمدی بل تقریباً دو گنا ہو چکا ہے۔ خوردنی تیل کے درآمدی بل میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ ملک میں تیل دار فصلوں کی کم کاشت ہے۔ پاکستان اکنامک سروے 2026ء کے مطابق ملکی ضرورت کا محض دس فیصد خوردنی تیل مقامی سطح پر پیدا کیا جاتا ہے۔ ایک زرخیز زرعی ملک ہونے کے باوجود اپنی غذائی ضروریات کیلئے درآمدات پر انحصار ملکی زرعی پالیسی پر سوالیہ نشان ہے۔

ملک عزیز میں سرسوں‘ کینولا‘ سورج مکھی اور دیگر تیل دار فصلوں کیلئے موزوں موسمی حالات اور زمین موجود ہے‘ مگر کسان کو وہ معاشی ترغیب‘ معیاری بیج‘ جدید تحقیق‘ زرعی مشینری اور منڈی کا مؤثر نظام میسر نہیں جس سے وہ ان فصلوں کو ترجیح دے۔ اس سے بھی زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ حکومت نے 2023ء میں درآمدات میں کمی کیلئے قومی سیڈ آئل پالیسی کی تیاری شروع کی تھی لیکن ابھی تک ایسی کوئی پالیسی تشکیل نہیں پا سکی۔ حکومت کو خوردنی تیل کی مقامی پیداوار بڑھانے کیلئے بلاتاخیر واضح اہداف‘ مقررہ مدت اور مختص فنڈز کے ساتھ قومی آئل سیڈ پالیسی نافذ کرنی چاہیے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مسئلہ نظام نہیں، کوئی اور ہے(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-09-19/52688/75831408</link><pubDate>Sat, 19 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-09-19/52688/75831408</guid><description>ہماری معیشت عالمی سیاست کی زد میں ہے۔ تیل کی قیمتیں ہوش ربا ہیں۔ سیاسی جماعتیں مسلسل احتجاج کے موڈ میں رہتی ہیں۔ دھرنوں کی تاریخیں دی جا چکیں۔ حکومت ان کو روکنے کے لیے متحرک ہے۔ اسلام آباد کنٹینروں سے بھر چکا۔ ساتھ ہی سی ڈی اے کو بھی جلدی ہے کہ شہر کی سڑکیں جلد از جلد وسیع ہوں۔ اسلام آباد میں ایک سڑک تعمیر ہوتی ہے تو دوسری کو کھودنے کا کام شروع ہو جاتا ہے۔ یہ سب عوام کے لیے ہو رہا ہے لیکن ان سب کے نتائج بھی عوام بھگت رہے ہیں۔ پٹرول مہنگا ہو تو عوام پریشان۔ قیمتیں کم ہونے کے لیے دھرنے ہوں تو عوام کی زندگی اجیرن۔ سڑکیں تعمیر ہوں تو عوام عذاب میں۔ کیا فی الواقع سب کو عوام ہی کی بہتری مطلوب ہے؟سچ پوچھیں تو میں اس سوال کا جواب تلاش نہیں کر سکا۔ ریاست ہو یا سیاسی جماعتیں‘ کہنے کو تو عوام کی بہتری کے لیے سرگرم ہیں لیکن ان کی کوششوں کا نتیجہ بالکل الٹ نکل رہا ہے۔ حکومت اور ریاست جو قدم اٹھاتے ہیں عوام اس سے مزید زیرِ بار ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ سیاسی جماعتوں نے جو احتجاج کیا‘ اس کا آج تک عوام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا۔ فائدہ کیا پہنچنا تھا‘ زندگی مزید مشکل ہو گئی۔ گھر میں بیٹھیں تو کھائیں کہاں سے؟ گھر سے نکلیں تو خیریت کے ساتھ اور بروقت واپسی کی ضمانت کون دے گا؟ لوگوں کے پاس ان سوالات کے کوئی جوابات نہیں۔ اب تو معاملات عالمگیر ہو چکے۔ چند روز پہلے ترکیہ سے آئے ہوئے ایک دوست ملے تو بتایا کہ وہاں مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے‘ قیمتوں میں اضافہ ناقابلِ بیان ہے۔ ترکیہ کی معیشت تو یہ بوجھ اٹھا لے گی‘ ہمارا کیا بنے گا؟عالمی حوالے سے دیکھیں تو یہ سب علامتیں بتاتی ہیں کہ انسانوں کا بنایا ہوا یہ نظام اپنی عمر پوری کر چکا۔ بیسویں صدی کے آغاز میں‘ جو سیاسی نظم وجود میں آیا اور اس کی کوکھ سے جو سیاسی‘ معاشی ادارے پیدا ہوئے‘ سب ناکام ہو چکے۔ اقوام متحدہ جیسے اداروں سے لے کر جمہوریت جیسے تصورات تک‘ سب نے انسانوں کو مایوس کیا۔ اقوام متحدہ کوئی جنگ رکوا سکی نہ جمہوریت ٹرمپ جیسوں کو حکمران بننے سے روک سکی۔ ایک عالمگیر خلفشار ہے۔ ہمارا حال اور برا ہے کہ پہلے ہی سے مشکلات میں گھرے ہوئے تھے۔ مشتاق یوسفی صاحب نے کہیں لکھا ہے کہ گھر میں نیا خانساماں رکھا گیا۔ اس کے پکائے کھانے سے سب کا پیٹ خراب ہوگیا‘ سوائے میرے۔ وجہ یہ تھی کہ میرا پیٹ پہلے ہی سے خراب تھا۔ ہمارا معاملہ بھی یہی ہے۔ مشرق وسطیٰ کی جنگ سے پہلے کون سے سکون میں تھے کہ آج کی بے سکونی کا ذمہ دار اس جنگ کو ٹھہرائیں۔حل شاید ہوں گے مگر ہم کسی ایک حل کے لوازمات پورے نہیں کرتے۔ کیا نفاذِ اسلام مسئلے کا حل ہے؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو پہلا سوال ہوگا: ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کہاں ہیں؟ چلیں کوئی عمر بن عبدالعزیزؒ ہی سہی۔ وہ کہاں ہیں؟ اگر نہیں ہیں تو معاشرے میں وہ صلاحیت کہاں ہے جو ان جیسے کردار پیدا کر سکے؟ کیا آمریت سے ایسے حکمران آئیں گے؟ ہم نے اورنگزیبِ دوراں جنرل ضیا الحق کادور دیکھا۔ کیا اسلام کی برکات ملیں؟ رہی جمہوریت تو اس نے کبھی کسی مذہبی جماعت کے حق حکمرانی کو تسلیم نہیں کیا۔ اسلام کے خیر ہونے میں کسے شبہ ہے لیکن مسئلہ تو سماج کا ہے۔ اس کے پاس وہ نظامِ عمل ہی موجود نہیں جو اس خیر کو شاہراہِ حیات پر بکھیر دے۔دوسرا حل جمہوریت ہے۔ کیا ہم جمہوریت کے لوازمات فراہم کر سکتے ہیں! جمہوریت کی پہلی ضرورت باشعور عوام ہیں۔ اس کا دوسرا مطالبہ ایک ایسا معاشرہ ہے جہاں اختلافِ رائے کا احترام ہوتا ہو اور جس میں سب کو آزاد رائے کا حق میسر ہو۔ جمہوریت کی ایک اور بنیادی ضرورت مکالمے کا کلچر ہے۔ لوگ ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت پر آمادہ ہوں۔ کیا ہم ان میں سے کوئی ایک مطالبہ بھی پورا کر سکتے ہیں؟ جمہوریت خلا میں کام نہیں کرتی۔ اسے ایک سازگار ماحول چاہیے۔ اگر ہم وہ ماحول فراہم کرنے پر قادر نہیں ہیں تو پھر جمہوریت کے نام پر تماشا تو لگایا جا سکتا ہے‘ اس کی برکات حاصل نہیں کی جا سکتیں۔تو کیا ہائبرڈ نظام بہتر ہے؟ اسے قائم ہوئے بھی تین سال ہونے کو ہیں۔ یہ اگرچہ اس ملک میں کسی نہ کسی صورت میں ہمیشہ موجود رہا ہے لیکن تین سال سے تو بچشمِ سر دیکھا جا سکتا ہے۔ سب حجابا ت اُٹھ چکے۔ اس کے نتائج بھی ہمارے سامنے ہیں۔ ہائبرڈ نظام میں ایک مسئلہ یہ ہے کہ ناکامیوں کی ذمہ داری کوئی نہیں اٹھاتا‘ سب کامیابیوں کے باپ بننا چاہتے ہیں۔ مشترکہ ذمہ داری اس نظام کا لازمہ ہے جو یہاں موجود نہیں۔ میرا خیال یہ ہے کہ پاکستان کے مخصوص حالات میں یہ نظام‘ اگر مثالی نہ بھی ہو‘ قابلِ عمل ضرور ہو سکتا ہے۔ اب اندازہ ہو رہا ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ سانجھے کی ہنڈیا کے اپنے مسائل ہیں اور ہم ان کا انکار نہیں کر سکتے۔یہ ایک تشویشناک صورت حال ہے۔ دکھائی یہ دیتا ہے کہ مسئلہ کسی نظام میں نہیں‘ ہم میں ہے۔ ہماری سماجی ترکیب یا بُنت کچھ اس طرح کی ہے کہ ہم کسی نظام کے لیے تیار نہیں۔ ہم بہت جلد اکتا جاتے ہیں۔ ہمارے داخلی تضادات اتنے زیادہ ہیں کہ وہ کسی ایک کو قبول نہیں کر سکتا۔ میرے نزدیک اس کا سبب یہ ہے کہ ہم اسلام‘ جمہوریت‘ ہائبرڈ نظام‘ ہر معاملے میں نیم خواندہ ہیں۔ ہم نے ہر نظام نظریۂ ضرورت کے تحت اختیار کیا ہے نہ کہ کسی فکری عمل یا سوچ بچارکے نتیجے میں۔ مثال کے طور پر چین نے اشتراکیت اور آزاد منڈی پر مشتمل ایک ہائبرڈ نظام اختیار کیا ہے جو بظاہر کامیابی سے چل رہا ہے۔ یہ چین کی قیادت کا ہنگامی فیصلہ نہیں تھا بلکہ عالمی تبدیلیوں کے گہرے مطالعے اور مشاہدے کا نتیجہ ہے۔ میرا تاثر یہ ہے کہ جو نظام شعوری طور پر اختیار کیا جاتا ہے‘ اس کے نتائج ضرور نکلتے ہیں جو زیادہ تر خیر پر مبنی ہوتے ہیں۔ ہم اس فکری یکسوئی سے محروم ہیں اور نظریۂ ضرورت کے تحت کوئی نظام اختیار کرتے ہیں۔ یہ اس کا حاصل ہے کہ سامنے ڈھیر ہیں ٹوٹے ہوئے پیمانوں کے۔ہمارا معاملہ تو یہ ہے کہ ہم ایک شہر میں سڑکوں کی توسیع کا کا م حکمت کے ساتھ نہیں کر سکتے۔ اربوں روپے کی لاگت سے ایک سڑک بناتے ہیں اور دو ماہ بعد کوئی اور محکمہ اسے کھودنے کے لیے آ جاتا ہے۔ آدمی سوچتا ہے کہ شہر کے نقشے پر متعلقہ محکموں کے درمیان اشتراکِ عمل کیوں نہیں؟ کیا بجلی‘ پانی‘ گیس اور تعمیرات کے شعبے مل کر شہر کی منصوبہ بندی نہیں کر سکتے؟ جب حال یہ ہو کہ ایک شہر کی تعمیر یکسوئی سے نہ کی جا سکے تو ملک کیسے تعمیر ہو سکتا ہے؟ ہمارا بنیادی مسئلہ یہی ہے۔ اس لیے مجھے ہمیشہ یہ گمان ہوتا ہے کہ پاکستان میں جو نظام بھی نافذ کیا جائے گا‘ اس کا مقدر ناکامی ہے۔مجھے یہ دکھائی دیتا ہے کہ آج جو ہائبرڈ نظام قائم ہے‘ اس کو چلانے والے بھی اس کے بارے میں یکسو نہیں۔ انہوں نے اسے مجبوراً اختیار کر رکھا ہے۔ اس لیے کسی گوشے میں محققین صدارتی نظام کے خدوخال واضح کرنے میں لگے ہیں۔ پریشان کن بات یہ ہے کہ عوام کے مفادات ان تجربات کا محور نہیں ہیں‘ جن کا وجود ان کی اذیت برداشت کرتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>تعلیم و تربیت(خالد مسعود خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-09-19/52689/79508988</link><pubDate>Sat, 19 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-09-19/52689/79508988</guid><description>میں نے اپنے گزشتہ سے پیوستہ کالم میں ملتان میں بننے والی ایک شاندار سڑک &#39;ملتان ایونیو‘ کے سلسلے میں اپنے ماضی کے تجربات کو مدِنظر رکھتے ہوئے مستقبل کے حوالے سے متوقع خرابیوں کا ذکر کیا تھا۔ میں نے ان خدشات کا اظہار کسی قنوطی پن کی وجہ سے نہیں کیا تھا بلکہ میرے یہ خدشات سراسر ماضی کے تجربات پر مبنی تھے۔ مجھے اپنے اس کالم کے حوالے سے یہ دعویٰ ہرگز نہیں کہ میرے کالم میں اٹھائے گئے خدشات کو مدِنظر رکھتے ہوئے ملتان کے ایک اعلیٰ انتظامی افسر نے اس سڑک پر کسی متوقع خرابی‘ توڑ پھوڑ‘ تجاوزات‘ ناجائز کھوکھوں اور ریڑھیوں کے راستوں پر قبضے اور غلط پارکنگ کو روکنے کیلئے خصوصی بندوبست کیا ہے۔ تاہم خوش کن بات یہ ہے کہ نشاندہی کی گئی متوقع خرابیوں کے سدباب کیلئے آٹھ رکنی خصوصی سکواڈ بنانے کا آرڈر کیا گیا ہے۔ ان آٹھ اہلکاروں پر مشتمل سکواڈ کو آٹھ آٹھ گھنٹے کی تین شفٹوں میں بیک وقت دو لوگوں کو پٹرولنگ کی ذمہ داری سونپتے ہوئے اس سڑک کی نگرانی کا فریضہ سونپا ہے جبکہ بیک اینڈ پر ان کی رپورٹ اور تصویری شکایت کی بنا پر ملتان ترقیاتی ادارے‘ ڈسٹرکٹ کونسل‘ میونسپل کارپوریشن‘ پی ایچ اے‘ واسا‘ میپکو‘ ستھرا پنجاب اور ٹریفک پولیس میں باقاعدہ فوکل پرسن مقرر کرتے ہوئے نشاندہی کی گئی خرابیوں کی حتی الامکان حد تک سدباب کی کوشش کی گئی ہے۔ اب اس بات پر کیا بحث کہ یہ کام میرے حالیہ کالم کی روشنی میں ہوا ہے یا یہ کرنے والوں کے ذہن میں تب آیا جب ملتان ایونیو کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے اپنے ماضی کے تجربات اور مشاہدات کو سامنے رکھتے ہوئے کہا تھا کہ اتنے بڑے اور خوبصورت پروجیکٹ کو بنانا یقینا ایک قابلِ تعریف کام ہے لیکن اس کا دھیان کرنا‘ اسے اس کی درست حالت میں رکھنا اور دیرپا بنیادوں پر اس خوبصورتی کو قائم رکھنا اصل مرحلہ ہے۔ بہرحال یہ خدشہ بھی کسی حد تک ٹل گیا ہے کہ یہ پروجیکٹ کچھ عرصہ بعد خراب و خستہ ہونا شروع ہو جائے گا۔ لیکن اس خصوصی بندوبست سے میرے ذہن میں ایک اور سوال پیدا ہوا ہے۔ کیا اس پورے شہر میں صرف یہ نو کلومیٹر کی سڑک ہے جو اس امتیازی پروٹوکول کی مستحق قرار پائی ہے؟ کیا شہر کے باقی سڑکیں‘ پارک‘ باغات اور گلیاں لاوارث ہیں؟ کیا باقی شہر اور علاقوں کے مکین اس بات کے حقدار نہیں کہ انہیں فراہم کی گئی سہولتوں کی بھی حفاظت کی جائے؟ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ یہ سارا کام محض سرکار کی کاوشوں سے ممکن نہیں ہے۔میں کسی بدگمانی کا اظہار نہیں کر رہا‘ میں نے ایک بار شاہ جی سے یہ کہا کہ اس ملک کے عوام کو ٹریفک قوانین کی پابندی سے لے کر خالی شاپر کو کوڑا دان میں ڈالنے کا میرا خواب تبھی پورا ہو سکتا ہے کہ ہم اس ملک میں ہر ایک بندے کی نگرانی کیلئے اس کے اوپر ایک بندہ تعینات کر دیں تاوقتیکہ لوگوں کو ایک اچھے شہری کی ذمہ داریوں کا احساس نہ ہو جائے۔ آگے سے شاہ جی مسکرائے اور کہنے لگے: پہلے تو یہ بتاؤ کہ تم نگرانی والے اتنے ایماندار بندے لاؤ گے کہاں سے؟ اگر تم پچیس کروڑ آبادی والے اس ملک میں ساڑھے بارہ کروڑ لوگوں کی نگرانی کیلئے بقیہ ساڑھے بارہ کروڑ لوگ مقرر کر دو گے تو نگرانی کرنے والا اور جس پر نگران مقرر کیا گیا ہے دونوں مل کر اس خرابی کو دُگنی رفتار سے سرانجام دیں گے جسے روکنے کیلئے تم نے نگرانی والا بندہ متعین کیا ہو گا۔ ہاں البتہ! دوسری صورت یہ ہے کہ یہ سارے بندے باہر سے لائے جائیں۔ یعنی پچیس کروڑ لوگوں کی نگرانی کیلئے مزید پچیس کروڑ بندے کہیں باہر سے لائے جائیں۔ تو عزیزم! پچیس کروڑ نگرانوں کے بوجھ سے تو اس ملک کی ہر رہی سہی چیز کا بھی تختہ ہو جائے گا۔ میں نے شاہ جی سے دوبارہ پھر اس موضوع پر کبھی بات نہیں کی۔ لیکن کیا یہ سارے معاملات اسی طرح چلتے رہیں گے؟ میرا خیال ہے ہرگز نہیں۔ یہ معاملات تا دیر اس طرح نہیں چل سکتے اور اس کیلئے ہمیں گراس روٹ لیول پر کچھ کرنا ہوگا۔ میں نے سولہ سترہ سال سکول‘ کالج اور یونیورسٹی میں گزارے ہیں۔ کالج اور یونیورسٹی کو تو چھوڑیں‘ تب تک تو عادتیں پختہ ہو گئی ہوتی ہیں‘ تاہم مجھے پرائمری اور ہائی سکول کی تعلیم کے دوران صرف دو اخلاقی سبق پڑھائے گئے۔ ایک یہ کہ استاد کی عزت کرو اور والدین کا احترام کرو۔ ان دو اخلاقی اسباق کی وجوہات کو چھوڑیں‘ وہ ایک علیحدہ موضوع ہے۔ تاہم ان دو باتوں کے بارے میں پڑھانے کے بعد اب یہ ہماری صوابدید پر چھوڑ دیا گیا کہ باقی معاشرے کے ساتھ آپ نے جو سلوک روا رکھنا ہے وہ آپ کی مرضی پر منحصر ہے۔ سولہ سترہ سال تک پڑھائے گئے مضامین میں کوئی مضمون ایسا نہیں تھا جو مجھے ایک اچھا‘ ذمہ دار اور کارآمد شہری بننے کا سبق سکھاتا۔ کوئی مضمون ایسا نہیں تھا جو مجھے یہ بتاتا کہ یہ ملک‘ یہ شہر اور اس کی تمام املاک نہ صرف یہ کہ میرے پیسوں سے بنائی گئی ہیں بلکہ میں ان کا محافظ بھی ہوں۔ میرے خیال میں سکول کی اولین کلاسوں میں ایک مضمون سماجیات اور معاشرت کے بارے میں بھی ہونا چاہیے جو مجھے سماج میں رہنے اور اسے بہتر کرنے میں مجھے میری ذمہ داریوں اور فرائض سے آگاہ کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ والدین کو یہ تربیت دے کہ انہوں نے اپنے بچوں کو محض منہ سے نہیں‘ بلکہ عمل کر کے یہ بتانا ہے کہ انہیں کیا کرنا چاہیے۔ایک دن میں نے اپنی طرف سے بڑا دانشور بنتے ہوئے شاہ جی کے سامنے اپنی یہ تجویز رکھی۔ مجھے یقین تو خیر کیا ہونا تھا‘ تاہم خوش گمانی سی تھی کہ شاید اس بار شاہ جی میری اس تجویز کو سراہتے ہوئے اس پر صاد فرمائیں گے۔ ممکن ہے خلافِ معمول سخاوت سے کام لیتے ہوئے مجھے تھپکی بھی دے دیں‘ لیکن وہی ہوا جس کا خدشہ تھا۔ شاہ جی کہنے لگے: تم خوابوں کی جنت میں رہنا چھوڑ دو۔ ہم دراصل وہ کچھ کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو ہم اپنے بڑوں کو کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ ہم چاہتے یا نہ چاہتے ہوئے بچپن میں اپنے والدین اور گھر والوں کی جبکہ بڑے ہوکر اپنے حکمرانوں کی نقل اور تقلید کرنا پسند کرتے ہیں۔ سو ہمارے حکمران جس طرح آئین اور قانون کے ساتھ اپنی حیثیت کے مطابق کھلواڑ کرتے ہیں‘ ہم اپنی اپنی حیثیت کے مطابق وہی کچھ کرتے ہیں یا کم از کم کرنے کی کوشش ضرور کرتے ہیں۔ تو رہ گئی بات سکولوں اور کالجوں میں اخلاقیات اور سماجیات پڑھانے کی‘ تو جناب کالم نویس صاحب! آپ کو سکول‘ کالج اور یونیورسٹی میں معاشیات پڑھائی جاتی ہے‘ آپ کے ملک کی معیشت کا کیا حال ہے؟ آپ کو انگریزی پڑھائی جاتی ہے آپ لوگوں کو وہ نہیں آتی۔ سیاسیات بھی پڑھائی جاتی ہے لیکن سیاسی اخلاقیات اور جمہوریت کا جنازہ نکل چکا ہے۔ حساب پڑھایا جاتا ہے لیکن آپ کو اب تک یہ حساب کرنا نہیں آیا کہ آمدن کم اور اخراجات زیادہ ہوں تو ملک تو رہا ایک طرف‘ دکان بھی زیادہ دن نہیں چلتی۔ ویسے بھی اب سرکار سکولوں سے اپنا دامن چھڑوا رہی ہے۔ سرکار کے پاس سکول چلانے کیلئے نہ پیسے ہیں‘ نہ یہ اس کی ترجیح ہے اور نہ ہی اس کے پاس اس کی استعداد ہے۔ روایتی سکول چل نہیں رہے اور تم کہہ رہے ہو کہ والدین کیلئے بھی تعلیم بالغاں کا بندوبست کیا جائے۔ اگر تعلیم بالغاں کا بندوبست کرنا ہی ہے تو والدین سے پہلے اس ملک کی اشرافیہ کی‘ مقتدرہ کی‘ بیوروکریسی کی‘ کاروباری طبقے کی‘ حکمرانوں کی اور سیاستدانوں کی تربیت کیلئے سکول کھولے جائیں۔ لیکن مسئلہ یہ آن پڑے گا کہ ان سکولوں میں پڑھانے کیلئے باعمل استاد کہاں سے لاؤ گے؟ اس ملک کے سارے نہ سہی‘ مگر بیشتر اساتذہ کو تو خود اخلاقی اور سماجی تعلیم و تربیت کی ضرورت ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90500073.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ورلڈ ٹاپ سنگرز کا فلسطین سے اظہارِ یکجہتی(ڈاکٹر حسین احمد پراچہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-09-19/52690/44568008</link><pubDate>Sat, 19 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-09-19/52690/44568008</guid><description>تیسری دنیا میں بیٹھے ہوئے شاید آپ کو یقین نہ آئے مگر دنیا بھر کے ٹاپ سنگرز اور بینڈ گروپوں نے کروڑوں ڈالرز کو پاؤں کی ٹھوکر مارتے ہوئے کہاہے کہ انسانوں پر ظلم ہو‘ بچوں کے چیتھڑے اڑائے جائیں‘ بستیوں پر بمباری کی جائے اور تڑپتے انسانوں کو زندہ درگور کیا جائے‘ بلکتے بچوں تک دودھ اور دوا نہ پہنچنے دی جائے اور تم کہو کہ ہم چپ رہیں۔ نہیں‘ نہیں‘ ہرگز نہیں! ہم آزادیٔ فلسطین کے لیے آواز بلند کرتے رہیں گے۔ ان ٹاپ سنگرز میں امریکی‘ برٹش‘ آئرش اور ڈینش سنگرز شامل ہیں۔ایڈورڈ کرسٹوفر شیرن (Ed Sheeran) مشہور برٹش سنگر اور نغمہ نویس ہیں۔ وہ یورپ اور امریکہ میں جہاں جاتے ہیں وہاں نوجوان اُن کے شوز میں جوق در جوق آتے ہیں۔ مگر ان دنوں شیرن ایک مشکل میں گرفتار ہیں۔ انہوں نے کئی ہفتوں پر محیط امریکہ کے مختلف شہروں میں &#39;لوپ ٹورز‘ کے نام سے گانوں کے شوز ترتیب دیے تھے۔ جواں سال شیرن اس ٹور کے ٹاپ سنگر بھی تھے اور کوآرڈینیٹر بھی۔ 4 ستمبر کو اُن کا شو امریکی ریاست نیو جرسی کے میٹ لائف سٹیڈیم میں تھا۔ سٹیڈیم شائقین سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ امریکہ میں شوز کی کامیابی کے لیے وہاں کے نہایت مقبول اوپننگ آرٹسٹ میکلیمور (Macklemore) کی شرکت یقینی بنائی جاتی ہے۔ میکلیمور کی مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ اس نے سٹیڈیم میں نہایت شاندار پرفارمنس کی داد سمیٹتے ہوئے پہلے تو اسرائیل کی مذمت کی اور اہلِ فلسطین کے ساتھ اپنی وابستگی کا اظہار کیا اور پھر 2024ء میں شہرت کی بلندیوں پر پہنچنے والا اپنا مشہور نغمہ Hind&#39;s Hall بھی سنایا۔اس نغمے کی دلوں میں اتر جانے والی چند سطروں کو آپ کے سامنے پیش کرنے سے پہلے آپ کو اس مشہور گانے کا پس منظر یاد کرانا ضروری ہے۔ یہ 29 جنوری 2024ء کا واقعہ ہے کہ جب چھ سالہ فلسطینی بچی ہند رجب اور اس کی فیملی نے جنگ کے دوران غزہ سے اپنی چھوٹی سی گاڑی میں نکلنے کی کوشش کی۔ اسرائیلی فوجیوں نے اس سویلین گاڑی پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی۔ بلامبالغہ انہوں نے سینکڑوں گولیاں برسائیں۔ گاڑی میں سوار چھ افراد شہید ہو گئے‘ اب صرف ہند بچی تھی۔ زخمی ننھی بچی نے اپنے اوسان بحال رکھے اور ہلالِ احمر کو فون کیا۔ سسکتی ہوئی ہند گھنٹوں تک ہلالِ احمر کے کارکنوں کے ساتھ رابطے میں رہی۔ اس دوران دیگر لاشوں کے درمیان پڑی ہند کا رشتۂ حیات ٹوٹا اور نہ ہی رشتۂ امید منقطع ہوا۔ جب گھنٹوں کی تگ و دو کے بعد ایک ایمبولینس ہند کی گاڑی کے پاس پہنچی تو سفاک صہیونی فوجیوں نے اس ایمبولینس پر بھی گولیاں برسانا شروع کر دیں اور اس میں موجود دونوں میڈیکل ورکرز بھی جاں بحق ہو گئے۔ آخرکار گھنٹوں تک زندگی کے لیے تگ و دو کرتی ہوئی ہند نے جامِ شہادت نوش کر لیا۔ 12 دنوں کے بعد ریسکیو ورکرز نے ہند اور اس کے خاندان کے دیگر افراد کی لاشوں کو گاڑی سے نکالا‘ جس کے ساتھ ہی تباہ شدہ ایمبولینس‘ دو میڈیکل ورکرز کی لاشوں سمیت کھڑی تھی۔ جب یہ واقعہ عام ہوا تو دنیا میں کہرام مچ گیا۔ اس پر امریکہ کی یونیورسٹیوں میں شدید احتجاج ہوا۔ کولمبیا یونیورسٹی نیویارک کے طلبہ نے اپنے ایک ہاسٹل کا نام Hind&#39;s Hall رکھ دیا۔ اسی واقعہ کی یاد میں میکلیمور نے یہ گانا گایا تھا۔ اب اس کے چند مصرعے ملاحظہ کریں:لوگ‘ وہ یہاں سے نہیں ہٹنے والے... سرمایہ کاری واپس لینے اور امن کی خواہش رکھنے میں کیا خطرہ ہے؟... مسئلہ احتجاج نہیں بلکہ وہ وجہ ہے جس کے لیے احتجاج کیا جا رہا ہے... یہ اس چیز کے منافی ہے جس کی ہمارا ملک مالی معاونت کر رہا ہے... (ارے) رکاوٹیں کھڑی کر کے راستہ روکے رکھو‘ جب تک فلسطین آزاد نہ ہو جائے... معاملہ ہمیشہ سے ڈالروں اور جلد کی رنگت کا ہی رہا ہے... لیکن اب بالآخر سفید فام بالادستی کا پول کھل چکا ہے... یہ نعرہ لگاتے رہو کہ &#39;&#39;فلسطین کو آزاد کرو‘‘ یہاں تک کہ وہ آخرکار اپنے گھر پہنچ جائیں۔اب آئیے موجودہ معاملے کی طرف۔ جب پروگرام کے سنگر اور کوآرڈینیٹر شیرن پر پروموٹرز اور سٹیڈیم اونرز کا دباؤ بڑھا تو انہوں نے ایک ڈیڑھ ہفتے تک اسرائیل نواز مالکان کو قائل کرنے کی کوشش کی مگر اس معاملے میں ناکامی کے بعد بالآخر شو کے باقی پروگراموں سے فلسطین کے حامی امریکی اوپننگ آرٹسٹ میکلیمور کو آؤٹ کر دیا۔ ذرا سوچیے کہ اگر یہ پاکستان کا کوئی ایسا شو ہوتا تو ٹور کے باقی سنگرز کیا کرتے۔ یہی کہ فلسطین کے حامی اس اوپننگ آرٹسٹ کو باہر کریں اور باقی پروگرامز کو اس کے بغیر جاری رکھیں۔ مگر دیکھیے کہ ان ورلڈ ٹاپ کلاس سنگرز اور بینڈ گروپوں نے کیا کیا۔ 29 سالہ فینیس (Finneas) امریکہ کا پاپولر سنگر‘ سانگ رائٹر اور ایکٹر ہے۔ اس نے شیرن کے ساتھ نومبر میں چھ شوز کے لیے کمٹمنٹ کر رکھی تھی۔ اس نے ٹور کے برٹش کوآرڈینیٹر سے بہ آواز بلند کہا کہ کوئی بھی آرٹسٹوں کو اپنے دل کی آواز لب پر لانے سے نہیں روک سکتا‘ ہم فلسطین کی آزادی کے لیے آواز اٹھاتے رہیں گے‘ میں میکلیمور کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے تمہارے ساتھ طے شدہ ٹور کینسل کر رہا ہوں۔ فینیس نے ملینز آف ڈالر کی پروا نہیں کی اور طے شدہ پروگرام کینسل کر دیا۔ آئرلینڈ کے معروف سنگر Aaron Rowe نے کہا کہ اگرچہ شیرن میرا گہرا دوست ہے مگر میں دوست نوازی پر انسانیت نوازی کو ترجیح دوں گا‘ لہٰذا میں بھی اب ٹور کے ساتھ شامل نہ ہونے کا اعلان کرتا ہوں‘ فلسطین آزاد ہو کر رہے گا۔ آئرش پاپ گروپ‘ جو اس سارے ٹور کا بیکنگ بینڈ تھا‘ اس کے چیف نے کہا کہ امریکہ میں شیرن کے شوز میں شرکت ایک سہانے سپنے سے کم نہیں مگر جہاں فلسطین کے مظلوموں کے لیے آواز اٹھانے پر پابندی ہو وہاں ہم ڈالروں اور تالیوں‘ دونوں کو قربان کر دیں گے۔ اسی طرح ڈینش پاپ بینڈ کے انچارج سنگر Lukas Graham نے بھی فلسطین کے حامی میکلیمور اور غزہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے شیرن کے پرفارمنس ٹور سے اپنی لاتعلقی کا اعلان کر دیا۔ ان ورلڈ ٹاپ سنگرز اور بینڈ گروپوں نے بلاشبہ اپنا کروڑوں ڈالرز کا نقصان اور امریکی شہروں میں پرفارمنس کا موقع گنوا دیا مگر اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے دل کا سکون حاصل کر لیا۔ اخلاقیات کی بلندیوں پر فائز ان ٹاپ سنگرز کی دنیا بھر کے سوشل میڈیا پر بھرپور پذیرائی ہو رہی ہے۔نوٹ کرنے کی اہم بات یہ ہے کہ غزہ پر مسلط کردہ حالیہ اسرائیلی جنگ کی دنیا بھر میں شدید مذمت کی گئی۔ 80 برس کے دوران پہلی مرتبہ مغربی دنیا کو بھرپور احساس ہوا ہے کہ اُن کے برطانوی و امریکی بڑوں نے کس طرح قانون شکنی‘ نسل کشی اور ظلم و بربریت کا ساتھ دیا تھا اور اپنی نام نہاد تہذیبی برتری اور انسانیت نوازی پر خطِ تنسیخ پھیر دیا تھا۔ پاکستان اور دیگر اسلامی دنیا میں بھی Solidarity with singer Macklemore ریگولر اور سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ ہونا چاہیے۔ ہمارے ہاں اعلیٰ اخلاقی اقدار کے ساتھ ایسی عظیم الشان کمٹمنٹ شاذ ونادر ہی دیکھنے میں آتی ہے۔غزہ کی چھ سالہ بچی ہند رجب کے دلدوز واقعہ کی یاد میں ایک فلم 17 دسمبر 2025ء کو ریلیز ہوئی تھی۔ اس فلم کا نام تھا: The Voice of Hind Rajab۔ یہ ڈاکیومنٹری فلم آسکر ایوارڈ 2026ء کے لیے بھی نامزد ہوئی تھی۔ امریکی سنگر میکلیمور اور اس کے ساتھیوں نے کروڑوں ڈالروں کو ٹھکراتے ہوئے ایک بار پھر ہند رجب جیسے غزہ کے شہید بچوں کی یاد تازہ کر دی ہے۔ ان سنگرز نے آزاد فلسطین کے لیے اپنی آواز بلند کر کے اہلِ غزہ اور القدس کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ ہمیں بھی ان عالی ہمت سنگرز اور آزاد فلسطین کے لیے بھرپور آواز بلند کرنی چاہیے۔ آزاد فلسطین زندہ باد!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_70033906.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>عمل سے فارغ ہوا مسلماں بنا کے تقدیر کا بہانہ(افتخار احمد سندھو)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/iktakhar-ahmed-sandhu/2026-09-19/52691/26243191</link><pubDate>Sat, 19 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/iktakhar-ahmed-sandhu/2026-09-19/52691/26243191</guid><description>بر صغیر پاک وہند میں انگریزوں کو سب سے زیادہ مزاحمت کا سامنا صوبہ پنجاب میں کرنا پڑا‘ اس لیے اس نے سب سے زیادہ فوکس بھی پنجاب پر کیا۔ اس مزاحمت کے توڑکے لیے پنجاب میں انفراسٹرکچر پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی۔ تمام صوبوں میں سے سب سے زیادہ کام صوبہ پنجاب میں کروایا گیا۔ پنجاب اور پنجابیوں کو رام کرنے کیلئے عالیشان اور یاد گار عمارتیں‘ سڑکیں‘ پُل‘ ریلوے لائنیں اور نہریں بنوائی گئیں۔ انگریز نے پنجاب میں پیسہ اس لیے لگایا کہ یہاں کے لوگ اچھی خدمت کریں گے۔ اس لیے وہ اتنا کچھ بنا کر گئے۔ پھر ان خدمات کے صلے میں جاتے ہوئے اپنے خدمتگاروں کو وسیع جاگیریں بھی دے کر گئے۔ بقول شورش کاشمیری:ہم نے اُس وقت سیاست میں قدم رکھا تھاجب سیاست کا صلہ آہنی زنجیریں تھیںسرفروشوں کے لیے دار و رسن قائم تھےخان زادوں کیلئے مفت کی جاگیریں تھیں پھر جاگیریں لینے والوں نے اس کو مذہبی ٹچ دینے کی کوشش کی۔ خانقاہیں اور درگاہیں بنائی گئیں‘ خانقاہوں اوردرگاہوں پرآنے والے مریدوں نے ہاری بن کر مخدوموں‘ پیروں اور مشائخ کی زمینوں میں خوب کام کیا اوربے چارے سادہ لوح اور جاہل لوگ اس کو جنت کا حصول کا ذریعہ سمجھ بیٹھے۔ یوں پیری مریدی کا یہ سلسلہ نسل در نسل جاری رہا اور ہنوز جاری ہے۔ آج بھی ان مخدوموں کے بچے امریکہ اور یورپ میں پڑھ رہے ہیں‘ نہ صرف پڑھ رہے ہیں بلکہ عیاشی کر رہے ہیں۔ اربوں روپے بیرونِ ملک منتقل ہو چکے ہیں‘ جابجا جائیدادیں بنائی جا رہی ہیں۔ہم کو تو میسر نہیں مٹی کا دیا بھیگھر پیر کا بجلی کے چراغوں سے ہے روشنیہی طبقہ تھا جس نے 1857ء کی جنگِ آزادی میں انگریز سامراج کا ساتھ دیا تھا۔ پنجابی مجاہدینِ حریت کو باغی اور غدار قرار دیا اور بدلے میں زمینیں‘ خطاب اور اقتدار حاصل کیا۔ 1947ء سے قبل انہی خان بہادروں‘ درباریوں کی بدولت انگریز برصغیر پر قابض تھا۔ پھر ان لوگوں نے تقدس کا جبہ پہنا تو ان کی اندھی تقلید کی گئی۔ بقول منٹو‘ اندھی تقلید ایک خطرناک نفسیاتی مرض ہے جو پتھر کو معبود‘ بندوں کو خدا‘ دین فروش کو عالم اور لٹیروں کو لیڈر بنا دیتی ہے۔پاکستان میں کئی سال پہلے تبدیلی آجاتی اگر اس کے عوام خوابِ غفلت سے بیدار ہوجاتے۔ میں یہ بات واضح کر دوں کہ جس روز پاکستان کے عوام اُٹھ کھڑے ہوئے نظام میں تبدیلی آ کر رہے گی۔ پاکستان کی آبادی اس وقت 25 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ صوبائی اسمبلیوں‘ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے کُل ممبران کی تعداد ہزار پندرہ سو سے زیادہ نہیں۔ میں آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ  اگر 25 کروڑ عوام یہ عہد کر لیں کہ ہم نے اس ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے اور ہم نے کرپشن اور ناانصافی کے خلاف لڑنا ہے تو کیا اسمبلیوں میں بیٹھے ہوئے یہ ہزار‘ ڈیڑھ ہزار افراد عوام پر بھاری ہو سکتے ہیں؟ ایسا کرنا اس لیے مشکل ہو رہا ہے کہ بنیادی طور پر ہم ایسا کرنا ہی نہیں چاہتے۔ ہمارے سامنے ظلم ہو رہا ہو گا مگر ہم اُس کے خلاف آواز تک نہیں اٹھائیں گے کیونکہ ہم اپنے آپ کو کسی مشکل میں ڈالنا نہیں چاہتے۔ ہم صرف حکمرانوں پر برستے ہیں‘ اگرچہ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس ملک کی موجودہ صورتحال میں حکمرانوں کا بڑا کردار ہے مگر عوام کے کردار سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا‘ مگر کیا ہم نے اپنی طرف کبھی دیکھا ہے؟ہم نے اس ملک کو اسلام کی تجربہ گاہ بنانا تھا لیکن اسلام کے نام پر بننے والے اس ملک میں دینِ اسلام پر عمل کے سوا سب کچھ ہو رہا ہے۔ ظلم کی انتہا یہ ہے کہ وطنِ عزیز میں رائج اسلامی جمہوری نظام اُن غریب افراد سے بھی ٹیکس لیتا ہے جو بیچارے زکوٰۃ کے مستحق ہیں۔ بدقسمتی دیکھیے کہ غریب اور عام آدمی ٹیکس دے رہا ہے اور طاقتور اور مقتدرطبقات مراعات لے رہے اور موج مستیاں کر رہے ہیں۔ منصف جی بھر کر مراعات لے رہے لیکن عام آدمی کو انصاف فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔ البتہ طاقتور کو انصاف ضرور فراہم کیا جا رہا ہے۔ قومیں اگر محض فحاشی سے تباہ ہوتیں تو یورپ کب کا تباہ ہو چکا ہوتا۔ قومیں ظلم اور ناانصافی سے تباہ ہوتی ہیں۔ پاکستانی قوم کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ اس امر میں کوئی شک نہیں کہ پاکستانی قوم ظلم اور ناانصافی سے زوال پذیر ہوئی۔ عوام پر ٹیکس کا بوجھ اور اشرافیہ کے لیے عیاشیاں! یہ کیسا معاشی انصاف ہے؟ حکومت ہر ناروا اقدام کا الزام آئی ایم ایف پر ڈال دیتی ہے۔ کیا آئی ایم ایف کا وفد صرف غریب عوام پر ٹیکس لگانے کے لیے پاکستان آتا ہے؟ بدقسمتی سے پاکستانی ایک قوم نہیں بلکہ انسانوں کا ایک ہجوم ہیں۔ کچھ افراد نظام بدلنے کے لیے محض دعائیں کرتے رہتے ہیں‘ خود کچھ نہیں کرتے۔ وہ حکمرانوں سے رحم کی بھیک مانگتے ہیں۔ بھلا قابض بھی کبھی رحم کرتے ہیں؟ بدقسمتی سے ہم عملی مسلمان نہیں بن سکے اور ہمارے مذہبی رہنما بھی ہماری ہر سستی‘ غلطی اورکوتاہی کو تقدیر کے کھاتے میں ڈال کر چپ سادھ لیتے ہیں۔ نجانے ہم خود کو دھوکا دیتے ہیں یا کسی اور کو دھوکا دینے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔ علامہ اقبال نے اس امر کا تذکرہ ارمغانِ حجاز میں یوں کیا ہے:خبر نہیں کیا ہے نام اس کا‘ خدا فریبی کہ خود فریبیعمل سے فارغ ہوا مسلماں بنا کے تقدیر کا بہانہہمارے واعظوں کا یہی حال ہے۔ اقبال نے سچ کہا تھا:واعظِ قوم کی وہ پختہ خیالی نہ رہی‘ برقِ طبعی نہ رہی شعلہ مقالی نہ رہیرہ گئی رسمِ اذاں روحِ بلالی نہ رہی‘ فلسفہ رہ گیا تلقینِ غزالی نہ رہیہمیں یہ حدیث مبارکہ سنائی جاتی ہے کہ سب سے افضل جہاد ظالم اور جابر حکمران کے سامنے کلمۂ حق کہنا ہے لیکن جب خود کی باری آتی ہے تو سب جابروں کے سامنے لیٹ جاتے ہیں۔ یعنی جب قوم کو اپنے سپوتوں کے توانا دست وبازو کی ضرورت پڑتی ہے تو ملت کے مقدر کے ستارے اپنی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مساجد کی طرف دوڑ پڑتے ہیں۔ بقول شاعر:یہ ناداں گر گئے سجدے میں جب وقتِ قیام آیا احتجاج کا ایک طریقہ تو یہ بھی ہے کہ بڑوں شہروں میں‘ کالجوں اور یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات شام سے قبل صرف ایک گھنٹے کیلئے گھروں سے نکلیں اور سڑکوں کے کنارے کھڑے ہوکر خاموش احتجاج کریں۔ انہیں وزیراعظم شہباز شریف کے بقول&#39;اُو، اُو‘ کرنے کی ضرورت بھی نہیں۔ صرف چند دنوں کے اس پُرامن احتجاج سے حکمرانوں کے ہوش ٹھکانے آ جائیں گے اور وہ عوام کے مطالبات ماننے پر مجبور ہو جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الرعد کی آیت: 11 میں اعلان کر رکھا ہے: &#39;&#39;بیشک اللہ کسی قوم کے حال کو نہیں بدلتا جب تک کہ وہ (قوم) خود اپنے اوصاف کو نہیں بدل دیتی‘‘۔ یعنی اللہ تعالیٰ اُس وقت تک کسی قوم کی تقدیر کو نہیں بدلتا جب تک وہ قوم اپنی تقدیر کو خود نہ بدلنا چاہے۔ بقول مولانا ظفر علی خان:خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/228_40817243.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مارچ 2027ء فیصلہ کن گھڑی ہو گی؟(کنور دلشاد)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/kunwar-mohammad-dilshad/2026-09-19/52692/32454070</link><pubDate>Sat, 19 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/kunwar-mohammad-dilshad/2026-09-19/52692/32454070</guid><description>صدر آصف علی زرداری کے برطانیہ سے واپس آنے کے بعد سے نام نہاد لندن پلان کی افسانوی کہانی تو دم توڑ چکی ہے؛ البتہ یہ شنید ہے کہ طاقت کے مراکز میں فیصلہ کر لیا گیا ہے کہ موجودہ انتظامی ڈھانچے کو مزید نہیں چلایا جا سکتا۔ سات مارچ 2027ء کے سینیٹ انتخابات سے پہلے بااختیار انتظامی یونٹس کے معاملے کو آئینی طور پر آگے بڑھانے کی سنجیدہ کوششیں زیرِ غور ہیں۔ سنا ہے کہ ملک کا انتظامی نقشہ بدلنے کیلئے آئینی ڈرافٹنگ پر کام ہو رہا ہے‘ لوکل گورنمنٹ کے نظام کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے اور اس ضمن میں مشرف دور کا مقامی حکومتی فارمولا مدنظر ہے۔ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد وفاق سے تو صوبوں کو اختیارات اور وسائل مل گئے لیکن چاروں صوبے طاقت کے ایسے مراکز بن چکے ہیں کہ جہاں عام آدمی اور حکومت کے درمیان اونچی دیوار کھڑی ہے‘ اور کرپشن کا بازار گرم ہے۔ این ایف سی کے ذریعے صوبوں کو منتقل ہونے والے وسائل اور اختیارات زیادہ تر صوبائی دارالحکومتوں میں مرتکز رہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ عام آدمی کو اب بھی اُنہی مسائل کا سامنا ہے جن سے وہ تب دوچار تھا جب اختیارات اور وسائل کا مرکز وفاق تھا۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے آٹھ ستمبر کو &#39;&#39;اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری گورننس ریفارمز‘‘ کے مشاورتی سیشن میں ملک میں بارہ صوبے بنانے کا ذکر کیا تھا جبکہ ہم نے اپنے الیکشن کمیشن کے تجربے کی روشنی میں چھ ماہ پہلے ہی بارہ صوبوں کا روڈ میپ مع آئینی اصلاحات‘ متعلقہ حلقوں کو بھجوا دیا تھا۔ سندھ اور پنجاب میں موجودہ حکمران خاندانوں کی وجہ سے صوبوں کی تقسیم کو انتہائی حساس معاملہ سمجھا جاتا ہے۔ اس ضمن میں وزیر داخلہ محسن نقوی کے 30 جولائی اور 5 ستمبر کے بیانات اہم ہیں۔ سیاسی حلقوں میں یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ فائلیں تیار ہیں‘ قانونی راستے دیکھے جا رہے ہیں اور کسی مناسب موقع پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں صوبوں کی ازسرِنو تشکیل‘ اٹھارہویں ترمیم اور مقامی حکومتوں کے اختیارات کے بارے میں معاملہ لایا جا سکتا ہے۔ محسن نقوی صاحب کا نظام ری سیٹ کرنے کا مطلب جمہوری اور پارلیمانی نظام برقرار رکھتے ہوئے اٹھارہویں ترمیم کی ان شقوں میں مزید ترمیم ہے جن کے باعث چاروں صوبے آہستہ آہستہ ریاستوں کا روپ دھار رہے ہیں‘ لہٰذا انتظامی ڈھانچہ میں تبدیلی ناگزیر ہو چکی ہے۔اگر مارچ 2027ء میں ہونے والے سینیٹ انتخابات سے پہلے نئے صوبوں کا معاملہ آگے بڑھتا ہے تو اس کے سیاسی جماعتوں کی تقسیم‘ انٹرا پارٹی انتخابات‘ ازسرِ نو انتخابی حلقہ بندیوں‘ وسائل کی تقسیم‘ بیوروکریسی کی طاقت اور سیاسی اجارہ داریوں کے توازن پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس ضمن میں فی الحال رائے عامہ کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔ اٹھارہویں ترمیم کے تحت کل وفاقی محاصل کا ساڑھے 57 فیصد صوبوں کو چلا جاتا ہے۔ شنید ہے کہ مجوزہ 28ویں ترمیم کے تحت اٹھارہویں ترمیم میں این ایف سی کے حجم میں تبدیلی اور مقامی حکومتوں کو صوبائی حکومتوں سے علیحدہ کرکے براہِ راست این ایف سی سے مالی وسائل کی فراہمی کا نظام بنایا جاسکتا ہے۔ اس طرح صوبائی حکومتیں قانون سازی تک محدود ہو جائیں گی اور ترقیاتی منصوبے مقامی حکومتوں کے پاس چلے جائیں گے۔وفاقی دارالحکومت میں تو یہ اطلاعات بھی زیر گردش ہیں کہ صدر آصف علی زرداری کو واضح پیغام بھجوا دیا گیا ہے کہ نئے صوبے ملک و قوم کے بہترین مفاد میں ہیں اور اس منصوبے کو کسی فرد یا جماعت کی خواہش پر مؤخر نہیں کیا جا سکتا۔ اس وقت پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین کی رجسٹریشن کا کیس لاہور ہائیکورٹ میں زیرِ سماعت ہے‘ جسے الیکشن ایکٹ 2017ء کی دفعہ 202 کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کے دو جماعتوں کے رکن ہونے کا معاملہ اسی دفعہ سے متصادم قرار دیا جا رہا ہے۔ علاوہ ازیں آئینی عدالت میں صدر کو آئین کے آرٹیکل 248 کے تحت دیے گئے استثنیٰ کے خاتمے کی پٹیشن بھی دائر ہو سکتی ہے۔ آئین کے آرٹیکل 248 کے مطابق صدر کے خلاف ان کے عہدے کی مدت کے دوران کسی عدالت میں کسی بھی قسم کی فوجداری کارروائی شروع یا جاری نہیں کی جا سکتی؛ البتہ یہ استثنیٰ ختم ہونے کی صورت میں کرپشن کے کیسز کھلنے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ مقتدر حلقے ملک میں مزید انتظامی یونٹس کے حامی نظر آتے ہیں‘ وزیراعلیٰ بلوچستان بھی مزید صوبوں کے حامی ہیں‘ اس لیے لگتا ہے کہ ملک میں چار صوبوں کا نظام بہت جلد تبدیل ہونے جا رہا ہے اور اختیارات و وسائل عوام کے دروازوں تک پہنچائے جائیں گے۔ نئے صوبوں کے معاملے پر اگر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں منظوری دے دی جاتی ہے تو اس معاملے کو مزید آگے بڑھانے کیلئے ریفرنڈم کرانا ہوگا۔ ریفرنڈم کیلئے آئین کے آرٹیکل 48کو مدنظر رکھنا ہوگا جس کے مطابق پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کرکے منظوری حاصل کرنا آئینی تقاضا ہے؛ اگرچہ دو تہائی اکثریت لازمی شرط نہیں۔ سادہ اکثریت سے قرارداد منظور ہو سکتی ہے۔ چونکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کو قومی اسمبلی میں 169 اراکین کی حمایت حاصل ہے۔ اگر پیپلز پارٹی علیحدگی اختیار کرتی ہے تو بھی حکمران جماعت مشترکہ اجلاس میں سادہ اکثریت سے ریفرنڈم کی تجویز کی توثیق کر سکتی ہے۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن ان دنوں انتخابی ڈیوٹیوں اور ملک بھر میں پولنگ سٹیشنوں کی تعداد کا ریکارڈ اکٹھا کر رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر عام انتخابات میں ابھی تقریباً تین سال باقی ہیں تو الیکشن کمیشن ابھی سے انتخابی عملے اور پولنگ سٹیشنوں کا ڈیٹا کیوں اکٹھا کر رہا ہے؟ بادی النظر میں الیکشن کمیشن کو کوئی سگنل موصول ہو ا ہے لہٰذا وہ صوبوں کے معاملے پر ریفرنڈم کرانے کیلئے غیر معمولی انداز میں تیاری کر رہا ہے۔ دراصل الیکشن کمیشن جنرل ضیا الحق کے فارمولے پر کام کر رہا ہے۔ 1984ء کے اوائل میں جنرل ضیا الحق کے چیف آف سٹاف آفیسر لیفٹیننٹ جنرل رفاقت نے چیف الیکشن کمشنر جسٹس ایس اے نصرت کو آگاہ کر دیا تھا کہ فروری 1985ء میں غیر جماعتی بنیادوں پر انتخابات کرائے جائیں گے لہٰذا انتظامات مکمل کیے جائیں جس پر الیکشن کمیشن نے اپنی مشینری متحرک کر دی تھی۔ 24 نومبر 1984ء کو جنرل ضیا الحق نے چیف الیکشن کمشنر اور متعلقہ حکام کو آرمی ہاؤس طلب کیا اور سیکرٹری الیکشن کمیشن حیدر محمد چوہان سے پوچھا کہ ریفرنڈم کرانے میں کتنا عرصہ درکار ہو گا؟ انہوں نے جواب دیا کہ عام انتخابات کی تیاری مکمل ہے‘ اس لیے یہی تیاریاں ریفرنڈم میں تبدیل کی جا سکتی ہیں۔ اگر نئے صوبے بنانے کیلئے ریفرنڈم کرانا مقصود ہے تو پارلیمنٹ سے اس کی توثیق کروانا ہو گی‘ لہٰذا ریفرنڈم کے بجائے پارلیمانی سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر آئین کے آرٹیکل (4)239 کے مطابق آئینی کارروائی مکمل کرکے ملک میں نئے صوبوں کی منظوری حاصل کی جا سکتی ہے۔جہاں تک پاکستان تحریک انصاف کے 27 ستمبر کے لانگ مارچ کا تعلق ہے تو حکومت کو یقین ہے کہ پی ٹی آئی لانگ مارچ میں بہت زیادہ لوگوں کواکٹھا نہیں کر سکے گی۔ یہ خبریں بھی گردش کر رہی ہیں کہ عمران خان کو 27 ستمبر سے پہلے مارگلہ ہل کے قریب ایک پُرتعیش بنگلے میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔ اڈیالہ جیل سے منتقلی کی صورت میں عمران خان کی ہمشیرگان اور پارٹی کے سینئر رہنما خان صاحب سے آسانی سے ملاقاتیں کرکے آگے کی حکمت عملی تیار کرسکیں گے جس سے حکومت پر دباؤ مزیدبڑھ جائے گا۔ زمینی سطح پر ابھی تک لانگ مارچ کی کوئی خاص تیاری نظر نہیں آ رہی ۔ لیڈر آف دی اپوزیشن محمود خان اچکزئی‘ راجہ ناصر عباس اور مولانا فضل الرحمن کے حوالے سے مختلف سیاسی امکانات زیرِ بحث ہیں۔ دوسری جانب جماعت اسلامی پٹرولیم لیوی کے خلاف اسلام آباد کی طرف مارچ کا اعلان کر چکی ہے۔ دونوں جماعتوں کے مطالبات مختلف ضرور ہیں‘تاہم ان کے حکومت کے خلاف احتجاج کے معاملے میں مشترکہ حکمت عملی نظر آ رہی ہے جس سے ہ حکومت کو ٹف ٹائم دے سکتی ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_15667905.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>نازک ہے بہت کام!(مفتی منیب الرحمٰن )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-09-19/52693/24872148</link><pubDate>Sat, 19 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-09-19/52693/24872148</guid><description>میر تقی میر نے کہا تھا: لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام؍ آفاق کی اس کارگہِ شیشہ گری کا۔ آج کل ہم ایسے ہی نازک ترین دور سے گزر رہے ہیں۔ ہمارے گرد وپیش حالات انتہائی ناسازگار ہیں‘ ہماری مشرقی اور مغربی سرحدیں خطرات کی زد میں ہیں‘ ہماری مسلّح افواج اور سلامتی کے اداروں کی بے مثال شہادتوں اور قربانیوں کے باوجود داخلی طور پر دہشتگردی کا سلسلہ قابو سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔ ہمارے مقتدر اداروں کا یہ دعویٰ درست ہے کہ اس تمام تر دہشتگردی کی کمین گاہیں افغانستان میں ہیں اور وہیں سے اس کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ بھارت اپنی تکنیکی‘ تربیتی اور مالی معاونت وہیں سے کر رہا ہے۔ یہ آمنے سامنے کی جنگ نہیں ہے‘ بلکہ گوریلا جنگ ہے۔ افغانوں کو سوویت یونین اور امریکہ کے خلاف اس جنگ کاکم وبیش چالیس سال کا تجربہ ہے۔ گوریلا جنگ میں دشمن بے چہرہ ہوتا ہے‘ اُسے مقامی لوگوں کی مدد بھی حاصل ہوتی ہے‘ اس کا سبب لالچ‘ خوف یا عصبیت کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ ہمیں کئی ذمہ دار لوگوں نے بتایا کہ بلوچستان کے بعض علاقوں کے تعلیمی اداروں میں مطالعہ پاکستان پڑھانا اور پاکستان کی حمایت میں بات کرنا نہایت دشوار اور خطرات سے پُر ہے۔ یہ بتانے والے لوگ مُحبِّ وطن ہیں اور دین کا درد رکھتے ہیں۔معاہدۂ مکہ ایک امید کی کرن تھی مگر &#39;&#39;سرمنڈاتے ہی اولے پڑے‘‘ کے مصداق ابھی معاہدے پر دستخطوں کی روشنائی بھی خشک نہیں ہوئی تھی کہ مرحلۂ امتحان آ گیا۔ ایران کے زیراثر اور حمایت یافتہ حوثی یا انصار اللہ نے یمن میں مؤثر پیش قدمی کر کے باب المندب کی بحری گزر گاہ کو اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے‘ کئی مقامات اور اہم جزائر پر قبضہ کر لیا ہے اور تاحال اُن کی پیش قدمی جاری ہے۔ بعض ذرائع سے معلوم ہوا کہ عمان میں حوثیوں کے ترجمان عبدالسلام کی امریکی سفارتکاروں سے ملاقات ہوئی اور اس میں حوثیوں نے امریکہ کو یقین دلایا کہ امریکہ اور اسرائیل کیلئے باب المندب کی بحری گزرگاہ کھلی رہے گی۔ ایک غیر مصدقہ خبر یہ بھی ہے کہ جرمنی میں بعض عرب ممالک (سعودی عرب‘ متحدہ عرب امارات‘ بحرین‘ کویت‘ قطر‘ اردون اور مصر) کے اعلیٰ فوجی عہدیداروں کی اسرائیلی چیف آف آرمی سٹاف لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر سے غیر اعلانیہ ملاقات ہوئی اور مشرقِ وسطیٰ میں مشترکہ سکیورٹی چیلنجوں اور باہمی تعاون پر بات چیت ہوئی۔ الغرض صورتحال کافی گنجلک اور پیچیدہ ہے‘ اس لیے بعض لوگوں کا یہ خدشہ یا تبصرہ بے جا ہے کہ امریکہ اور ترکیے یکدم اس جنگ میں کیوں نہیں کود پڑے‘ ان کو بھی تمام پہلوئوں اور ہر اقدام کے مابعد اثرات پر غور وخوض کرنا پڑتا ہے۔یہ سعودی عرب کیلئے بھی مشکل دور ہے کیونکہ حوثیوں نے کہا ہے: باب المندب کی بحری گزرگاہ سعودی عرب کے علاوہ سب کیلئے کھلی ہے اور امریکہ نے بھی سعودی عرب کو لال جھنڈی دکھا دی ہے۔ یہ تو طے ہے کہ یمن کے حوثی ایران کے زیرِ اثر ہیں اور وہ ان کی مختلف طریقوں سے مدد کر رہا ہے‘ اس میں مالی وتکنیکی معاونت‘ جنگی تربیت اور میزائل و ڈرون سمیت اسلحہ کی فراہمی شامل ہے۔ لہٰذا ایران ہی ایسی قوت ہے جو حوثیوں کو سعودی عرب پر حملے سے روک سکتی ہے‘ مگر اس نے اسے حوثیوں کا داخلی معاملہ قرار دے کر کوئی کردار ادا کرنے سے اجتناب کیا ہے اور کہا ہے کہ ہمارا حوثیوں کی کارروائی سے کوئی لینا دینا نہیں۔ یہ اچھی علامت نہیں ہے۔ ہماری نظر میں ایران کو چاہیے کہ خطے کے مسلم ممالک کیساتھ معاملات کو استوار کرے‘ غلط فہمیوں کا ازالہ کرے‘ پُرامن بقائے باہمی کا ماحول پیدا کرے اور باہمی تجارت کے امکانات کو بروئے کار لائے۔ خلیجی ممالک کو بھی چاہیے کہ اپنے اپنے ممالک میں امریکی فوجی اڈے ختم کریں اور وہاں سے امریکی افواج اور ماہرینِ جنگ کا مکمل انخلا کر کے انہیں اپنے قبضے میں لیں۔ درحقیقت خلیجی جنگ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ امریکہ خلیجی ممالک کے تحفظ میں ناکام رہا ہے اور اس نے اپنے سب سے معتمد حلیف سعودی عرب کو بھی کورا جواب دے دیا ہے۔ ایسے میں اگر خلیجی ممالک امریکہ کے اندر اپنی سرمایہ کاری کو ختم کرکے اپنے مالی اثاثوں کو نکالیں تو امریکی معیشت کو بڑا جھٹکا لگ سکتا ہے۔ابھی معاہدۂ مکہ کیلئے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کا باقاعدہ اعلان نہیں ہوا۔ ظاہر ہے باقاعدہ سیکرٹریٹ قائم ہونے کے بعد اس کے قواعد وضوابط‘ دائرہِ کار اور باہمی تعاون کا پورا میکانزم بھی مرتب کرنا ہوگا‘ فوری حالات سے بددل ہونے کے بجائے طویل قابلِ عمل حکمت عملی پر مبنی پالیسی وضع کرنا ہو گی۔ ابھی تک یہ بھی واضح نہیں ہے کہ امریکہ کیساتھ پاکستان کے تعلقات کی موجودہ سطح کیا ہے‘ کیونکہ لگتا ہے ہنی مون کا دور ختم ہو چکا ہے‘ اسکا ثبوت یہ ہے کہ ٹرمپ نے پاکستانی وزیراعظم اور فیلڈ مارشل‘ نیز پاک بھارت جنگ کاکافی عرصے سے ذکرچھوڑ دیا ہے۔ پاکستان نے اپنی معیشت کو تقویت دینے کیلئے امریکہ سے جو دس ارب ڈالر قرض کی درخواست دی تھی‘ اس کا بھی کوئی جواب نہیں آیا۔ حالانکہ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسی باقاعدہ درخواست پسِ پردہ مذاکرات اور یقینی دہانیوں کے بعد دی جاتی ہے۔ حالیہ ایران امریکہ جنگ نے امریکہ کے واحد سپر پاور ہونے کے تاثر کو کافی نقصان پہنچایا ہے اور لگتا ہے کہ چین‘ روس اور بھارت بھی شاید ایران پر امریکہ کی نافذ کردہ ان پابندیوں کو قبول نہ کریں‘ بلکہ چین نے تو باقاعدہ اعلان بھی کر دیا ہے۔ پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے 10ستمبر 2026ء کو اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا: &#39;&#39;معاہدۂ مکہ خالصتاً دفاعی اتحاد ہے‘ اس کا بنیادی مقصد خطے کی سلامتی اور جارحیت کے امکانات کا سدِباب ہے۔ ابھی معاہدے میں نئے ممالک کی شمولیت کا مرحلہ نہیں آیا‘ پہلے بانی ممالک کو اپنی تنظیم اور تعاون کو مضبوط کرنا ہو گا۔ یمنی حوثیوں کی حالیہ کامیابیوں کے تناظر میں کوئی مشترکہ فوجی کارروائی زیرِ غور نہیں ہے‘ پاکستان معاہدے کے مطابق اپنا کردار ادا کرے گا اور جب وقت آئے گا تو عمل بھی کرے گا۔ پاکستان نے حوثی حملوں کی شدید مذمت کی اور سعودی عرب کی خودمختاری‘ علاقائی سا لمیت‘ سلامتی اور خوشحالی کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے‘‘۔ اگرچہ پاکستان نے ایران امریکہ جنگ کوختم کرنے کیلئے غیر معمولی سفارتی کوششیں کیں اور اسے اُس وقت امریکہ ایران سمیت ساری دنیا نے سراہا‘ مگر بدقسمتی سے فریقین نے &#39;معاہدۂ اسلام آباد‘ کی پاسداری نہیں کی۔ لیکن جب بھی مستقل جنگ بندی کا مرحلہ آیا تو فریقین کو معاہدۂ اسلام آباد کی طرف ہی لوٹنا پڑے گا۔ لگتا ہے کہ ایران امریکہ کے وسط مدتی انتخاب تک اس جنگ کو طول دینا چاہتا ہے۔ اس پالیسی نے پاکستان سمیت ساری دنیا کو انتہائی معاشی مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ یوں تو پوری دنیا اس بحران کے برے اثرات کی زد میں ہے‘ مگر پاکستان اپنے معاشی مسائل کے سبب زیادہ متاثر ہے۔امریکی سی آئی اے کے سابق ڈائریکٹر و سابق سیکرٹری دفاع لیون پنیٹا نے ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا ہے: &#39;&#39;ایران کے خلاف امریکہ کی فوجی مہم مغربی ایشیا میں عراق اور افغانستان کی طرح ایک اور ناکام اور طویل جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے‘ اس کا کوئی واضح ہدف نہیں ہے۔ امریکہ نے ماضی کی غلطیوں سے سبق نہیں سیکھا‘ فوج بھیجنے سے پہلے واضح ہدف‘ حکمتِ عملی اور جنگ کے خاتمے کی منصوبہ بندی ضروری ہوتی ہے‘ لیکن یہاں اس کا فقدان ہے۔ امریکہ اور ایران کے مابین تنازع تعطّل کا شکار ہے اور یہ جنگ کسی حل کے بغیر چھ ماہ اور بھی جاری رہ سکتی ہے۔ پینٹا گون میں افراتفری کی کیفیت ہے‘ کوئی مؤثر کنٹرول نہیں ہے‘ امریکی فوج کے سیکرٹری کا استعفیٰ اس کا واضح ثبوت ہے اور اس سے امریکہ کی ساکھ بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ اس سے پہلے امریکہ کی ایران پر مسلّط کردہ معاشی جنگ یعنی تجارتی پابندیاں بھی ناکامی سے دوچار ہو چکی ہیں۔ امریکہ کی عائد کردہ معاشی پابندیوں نے ایران کو سخت جان بنا دیا ہے اور اس نے اپنے لیے متبادلات تلاش کرلیے ہیں‘‘۔ واضح رہے کہ اسامہ بن لادن کے خلاف آپریشن کی نگرانی لیون پنیٹا ہی نے کی تھی۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_61172381.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>