<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>خلیج فارس کا بحران اور مضمرات(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-05/11165</link><pubDate>Tue, 05 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-05/11165</guid><description>نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی سے ٹیلیفونک گفتگو میں خطے کی مجموعی صورتحال اور امن واستحکام کیلئے سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا اور پاکستان کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مسائل کا پائیدار حل صرف مکالمے اور سفارتکاری کے ذریعے ممکن ہے اور یہی راستہ دیرپا امن و استحکام کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ موجودہ صورتحال میں جب اشتعال انگیزی عروج پر ہے‘ پاکستان امن کا داعی بن کر سامنے آیا اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق تنازعات کا حل مصالحت‘ ثالثی اور پُرامن مذاکرات سے چاہتا ہے تاکہ خطے کو اُس جنگ سے بچایا جا سکے جو نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کو خاکستر کر سکتی بلکہ عالمی معیشت کو بھی طویل کساد بازاری میں دھکیلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ حالیہ دنوں میں امریکہ کی جانب سے قبضے میں لیے گئے ایرانی جہاز اور اسکے عملے کی پاکستان کے ذریعے واپسی اور پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر رضا امیری مقدم کا بطور ثالث ملک پاکستان کی سفارتی کوششوں پر اعتماد کا اظہار اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام آباد تہران اور واشنگٹن کے مابین فعال سفارتی پُل کے طور پر متحرک ہے اور پس پردہ مصالحتی کوششیں جاری ہیں‘ مگر ان حالات میں آبنائے ہرمز‘ جسے عالمی معیشت کی شہ رگ قرار دیا جا سکتا ہے‘ اس وقت نئی تزویراتی آزمائش سے گزر رہی ہے جسکے اثرات پوری دنیا کی معیشتوں اور عام صارفین تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔

گزشتہ روز آبنائے ہرمز میں امریکہ کے غیر جانبدار ممالک کے بحری جہازوں کو ریسکیو کرنے کی کارروائی اورجنوبی کوریا اور عرب امارات کے جہازوں پر مبینہ حملوں کی اطلاعات نے اس اہم سمندری گزرگاہ کے غیر محفوظ ہونے سے متعلق نئے خدشات کو جنم دیا ہے۔ اماراتی بندرگاہ فجیرہ پر ڈرون حملوں کی بھی اطلاعات آ رہی ہیں جو خطے میں نئی جنگ کا آغاز ثابت ہو سکتی ہیں۔ بحیرہ عرب اور خلیج فارس کو ملانے والی اہم سمندری راہدری میں جاری کشیدگی بین الاقوامی تجارت بالخصوص شپنگ کمپنیوں کیلئے ڈراؤنا خواب بنتی جا رہی ہے۔ انشورنس کے بڑھتے پریمیم اور عملے کی زندگیوں کو لاحق خطرات نے اس خطے میں بحری تجارت کو پہلے ہی خاصا محدود کر رکھا ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی کُل توانائی برآمدات کے بیس سے پچیس فیصد حصے کو راہداری فراہم کرتی ہے۔ اس سے یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ اگر یہاں کشیدگی کے باعث جہاز رانی معطل ہو جائے تو اس کے کیا مضمرات ہو سکتے ہیں۔ اس کا براہِ راست اثر عالمی افراطِ زر اور معاشی ترقی کی شرح پر پڑتا ہے۔ ایک جائزے کے مطابق 28 فروری سے خطے میں شروع ہونے والی کشیدگی کے باعث خلیج فارس کے خطے میں بحری جہازوں کی آمد و رفت میں 95 فیصد تک کمی آئی ہے‘ تقریباً دو ہزار بحری جہاز اور 20ہزار سے زائد عملہ اس وقت خلیج فارس میں پھنسا ہوا ہے۔
اس بحران کی وجہ سے 2026ء میں عالمی تجارت کی شرحِ نمو جو پہلے 4.7 فیصد متوقع تھی‘ اب کم ہو کر 1.5 سے 2.5 فیصد تک رہنے کا خدشہ ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش کے علاقائی مضمرات عالمی اثرات سے کہیں زیادہ سنگین ہیں کیونکہ علاقائی ممالک کی معیشتوں کا مکمل انحصار اسی راستے پر ہے۔ اس بحران کے حل کیلئے بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی پاسداری اب ایک ناگزیر ضرورت بن چکی ہے۔ سمندری حدود کے عالمی قانون کے تحت تمام ممالک کو بین الاقوامی گزرگاہوں سے پُرامن گزرنے کا حق حاصل ہے اور کسی بھی ریاست کی جانب سے ان قوانین کی خلاف ورزی عالمی امن کے خلاف جرم تصور کی جاتی ہے۔ اگرچہ اس تنازع کو سمیٹنے کیلئے پاکستان کی سفارتی کوششیں جاری ہیں مگر عالمی برادری کو یکجا ہو کر ایک جامع فریم ورک تشکیل دینا چاہیے تاکہ اس تنازع کا پائیدار حل نکالا جا سکے۔ متحارف فریقین کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جدید دنیا کی بقا کا راز تصادم میں نہیں بلکہ تعاون اور مشترکہ مفادات کے تحفظ میں پوشیدہ ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مہنگائی کا طوفان(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-05/11164</link><pubDate>Tue, 05 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-05/11164</guid><description>حکومتی وعدوں اور دعوؤں کے باوجود مہنگائی کا طوفان تھمنے میں نہیں آ رہا۔ اپریل کے دوران مہنگائی کی شرح 22 ماہ کے بعد دوبارہ ڈبل ڈیجٹ میں داخل ہو کر تقریباً 11فیصد تک پہنچ گئی۔ اس مہنگائی کا سب سے زیادہ بوجھ اشیائے خورونوش پر پڑنے سے یہ عوام کی قوتِ خرید سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔ مہنگائی میں اضافے کے عالمی اور علاقائی عوامل اپنی جگہ موجود ہیں لیکن داخلی سطح پر منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی نے اس مسئلے کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ لاہور کی مختلف مارکیٹوں میں اتوار کے روز سرکاری نرخ نامے کی کھلم کھلا خلاف ورزی اس کی واضح مثال ہے جہاں ٹماٹرمقررہ قیمت سے 25روپے‘ پیاز 15روپے‘ آلو30روپے‘ ادرک 115اور لہسن 70روپے فی کلو مہنگے فروخت ہوئے۔ ملک کے دیگر شہروں میں بھی کم و بیش یہی صورتحال ہے۔

مہنگائی میں روز افزوں اضافے کے باوجود انسدادِ گرانی کمیٹیوں کی کارکردگی محض سرکاری نرخ نامے جاری کرنے تک محدود دکھائی دیتی ہے جبکہ اصل چیلنج ان نرخوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے‘ جو کہ نظر نہیں آتا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت محض اعلانات اور کاغذی کارروائی تک محدود نہ رہے بلکہ ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں کے خلاف سخت اور بلاامتیاز کارروائی کی جائے اور مارکیٹوں میں مؤثر مانیٹرنگ کا نظام قائم کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ عوام کی قوتِ خرید میں اضافہ بھی ناگزیر ہے۔ تنخواہوں اور اجرتوں میں مناسب اضافہ‘ ٹارگٹڈ سبسڈی پروگرامز اور سماجی تحفظ کے مؤثر اقدامات اس ضمن میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>فضائی آلودگی، مستقل مسئلہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-05/11163</link><pubDate>Tue, 05 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-05/11163</guid><description>گلوبل ایئر پولیوشن رینکنگ میں 344ایئر کوالٹی انڈیکس کے ساتھ لاہور ایک بار پھر دنیا کا آلودہ ترین شہر بن گیا ہے۔ یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ فضائی آلودگی اب کسی ایک موسم یا سموگ کے چند دنوں کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک مستقل‘ ہمہ گیر اور پیچیدہ بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ لاہور سمیت ملک کے بڑے شہری مراکز میں آلودگی کی بنیادی وجہ ٹرانسپورٹ سیکٹر ہے۔ اربن یونٹ کی 2023ء کی ایک رپورٹ کے مطابق لاہور میں تقریباً 83 فیصد فضائی آلودگی گاڑیوں سے خارج ہونے والے دھوئیں کا نتیجہ ہے۔ فضائی آلودگی کے حوالے سے حکومت کی موجودہ حکمتِ عملی وقتی اور ردِعمل پر مبنی ہے جو سموگ کے دنوں میں وقتی ریلیف تو فراہم کرتی ہے مگر یہ دیرپا حل نہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ماحولیاتی پالیسی کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے اسے ایک مستقل سائنسی حکمتِ عملی کا حصہ بنایا جائے۔ شہری علاقوں میں فضائی آلودگی میں کمی کیلئے الیکٹرک گاڑیوں‘ بالخصوص الیکٹرک رکشوں اور موٹر سائیکلوں کا فروغ ناگزیر ہے۔ اگرچہ صوبائی حکومت نے چند روٹس پر الیکٹرک بسیں چلائی ہیں مگر اس کا دائرہ کار نہایت محدود ہے۔ اسی طرح صنعتی شعبے میں بھی اصلاحات ضروری ہیں۔ شہری منصوبہ بندی میں سبزہ زاروں اور درختوں کی تعداد میں اضافہ بھی فضا میں آلودہ ذرات کے اثرات کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ایک خصوصی کمیٹی عوام کے لیے بھی!!(محمد اظہارالحق)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-05-05/51888/23498716</link><pubDate>Tue, 05 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-05-05/51888/23498716</guid><description>سب کی ایک ہی منزل تھی۔ اسلام آباد!!سب اسلام آباد جا رہے تھے۔ ٹرینوں پر‘ بسوں پر‘ اپنی گاڑیوں پر۔ لاکھوں پیدل ہی چل پڑے تھے۔ ٹرک‘ بسیں‘ ویگنیں‘ سوزوکیاں سب کا رخ اسلام آباد کی طرف تھا۔ یہاں تک کہ ٹریکٹر وں‘ ٹرالیوں اور ڈمپروں کا بھی!! ملک کے ہر صوبے سے‘ ہر شہر سے‘ ہر قصبے سے لوگ گھروں سے نکلے تھے اور اسلام آباد کی طرف چل پڑے تھے۔ کوئٹہ سے‘ خضدار سے‘ تربت سے‘ دادو سے‘ شکارپور سے‘ مانسہرہ سے‘ جہلم سے‘ ملتان سے‘ چترال سے! ان کی زبانیں مختلف تھیں‘ رنگ الگ الگ تھے۔ ان میں مسلمان بھی تھے‘ ہندو اور سکھ بھی‘ مسیحی بھی! نیک بھی بد بھی! سرکاری ملازم بھی‘ تاجر بھی‘ مزدور بھی‘ کسان بھی! ایک جمِّ غفیر تھا جو سیلِ رواں کی صورت اسلام آباد کی طرف رواں تھا۔اسلام آباد پہنچ کر یہ کروڑوں پاکستانی شہر کے مشرقی کنارے کی طرف چل پڑے۔ آبپارہ کے سامنے سے ہوتے ہوئے‘ اسلام آباد کلب کے شمال سے گزرتے‘ کنونشن سنٹر کے پاس سے ہوتے یہ خلقت ایک بہت بلند عمارت کے سامنے رک گئی۔ یہ ایک پُرشکوہ عمارت تھی۔ آسمان سے باتیں کرتی ہوئی! دو عظیم الشان پلازہ نما فلک بوس عمارتوں کا مجموعہ! جمِّ غفیر نے‘ قیامت کی یاد دلاتے جمِ غفیر نے اس عمارت کے سامنے ڈیرے ڈال دیے۔ چند گھنٹوں میں لاکھوں خیمے وجود میں آ گئے۔ جن کے پاس خیمے نہ تھے‘ وہ اپنی گاڑیوں میں مقیم ہو گئے۔ جن کے پاس خیمے تھے نہ گاڑیاں انہوں نے فرشِ زمین پر قالینیں‘ چادریں‘ دریاں‘ بوریے‘ چٹائیاں بچھا لیں! سامان سے چولہے نکال لیے گئے۔ روٹیاں پکنے لگیں۔ پھل‘ چاٹ‘ سموسے بیچنے والی ریڑھیاں آ گئیں۔ رات کو پاکستان کی اس آدھی آبادی کا جلسہ عام ہوا۔ چار افراد کی کمیٹی تشکیل دی گئی۔ ان میں ایک سرکاری ملازم تھا۔ ایک تاجر تھا۔ ایک زمیندار تھا اور ایک فیکٹری والا تھا۔ طے ہوا کہ یہ کمیٹی ہجوم کی نمائندگی کرے گی اور معاملات طے کرے گی۔ اس کمیٹی کا نام &#39;&#39;عوامی کمیٹی‘‘ رکھا گیا۔ تاجر کو عوامی کمیٹی کا صدر بنایا گیا۔عالیشان‘ فلک بوس عمارت میں رہنے والے لوگ‘ بڑے لوگ تھے۔ یہ سوسائٹی کے آسودہ حال حصے کی کریم تھے۔ یہ پچیس کروڑ میں سے اُس ایک فیصد سے کم کی نمائندگی کرتے تھے جو طاقت کا منبع تھا‘ جو سیاہ کو سفید اور سفید کو سیاہ کرنے کا اختیار رکھتا تھا۔ جس کے اشارۂ ابرو سے صرف حکومت ہی نہیں‘ پورا نظام لرزنے لگتا تھا۔ جو پون صدی سے ملک کا اصل مالک تھا۔ عمارت کے ان مکینوں نے جب دیکھا کہ لاکھوں کروڑوں لوگ عمارت کے ارد گرد‘ حدِ نگاہ تک‘ شہر کے شہر بسا کر بیٹھ گئے ہیں تو حیران ہو گئے اور خوفزدہ بھی۔ طرح طرح کے وسوسوں نے انہیں گھیر لیا۔ سب اکٹھے ہو گئے اور ایک دوسرے سے پوچھنے لگے کہ آخر یہ لاکھوں‘ کروڑوں عوام یہاں کیوں خیمہ زن ہو گئے ہیں۔ انہیں اپنی حفاظت کی فکر لاحق ہونے لگی۔ یہ فوج بھی طلب کر سکتے تھے اور پولیس بھی! مگر ان میں سے کچھ نے رائے دی کہ پہلے محاصرہ کرنے والے ہجوم سے پوچھا جائے کہ چاہتے کیا ہیں اور یہاں کس مقصد کے لیے جمع ہوئے ہیں۔ اس رائے کی سب نے تائید کی۔ ان طاقتور مکینوں کے حکم کی دیر تھی کہ عمارت کے بالائی حصے پر ایک بہت بڑا‘ دیو آسا‘ بینر لگ گیا جس پر لکھا تھا &#39;&#39;آپ لوگ کیا چاہتے ہیں؟ آپ کا کوئی نمائندہ ہے تو اس نمبر پر کال کرے‘‘۔ عوامی کمیٹی کے صدر نے کال کی اور عاجزی اور انکساری سے کہا کہ &#39;&#39;عالی جاہ! ہم کچھ عرض کرنا چاہتے ہیں۔ اجازت دیں تو ہم چار افراد‘ جو قوم کی نمائندگی کر رہے ہیں آپ کی خدمت میں حاضر ہو جائیں‘‘۔ یہ فدویانہ عرض سن کر اونچی عمارت کے مکینوں نے آرام کا سانس لیا۔ ان کے وسوسے دور ہو گئے۔ وہ اپنے اصلی موڈ میں واپس آ گئے۔ گردن بلندی کا موڈ! بے پناہ طاقت کا موڈ! آپس میں مشورہ کر کے انہوں نے عوامی کمیٹی کے صدر کو دوسرے دن صبح دس بجے کا وقت دیا۔دوسرے دن وقتِ مقررہ پر عوامی کمیٹی کے چاروں ارکان حاضر ہو گئے۔ فلک بوس عمارت کے اندر کی شان وشوکت اور طمطراق دیکھ کر ان پر حیرت کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔ ان کی مرعوبیت میں اضافہ ہو گیا۔ ایک بڑے ہال میں انہیں بٹھایا گیا۔ طویل انتظار کے بعد عمارت کے مکین آئے۔ یہ پندر بیس افراد تھے۔ گردن بلند! کچھ تھری پیس سوٹوں میں ملبوس! کچھ کاٹن کی کلف زدہ‘ کھڑکھڑ اتی شلوار قمیضوں پر ریشمی واسکٹیں پہنے! آگے پیچھے دستار پوش چوبدار! ان میں جو معمر ترین شخص تھا اس نے عوامی کمیٹی کے ارکان سے پوچھا کہ کیا مسئلہ ہے؟ اتنی خلقت کو کیوں لائے ہیں؟ عوامی کمیٹی کے صدر نے نہایت ادب سے کہا کہ بندہ پرور!! قوم آپ کے دروازے پر‘ خدا نخواستہ کسی بُری نیت سے نہیں آئی ہے! یہ تو آپ سے ایک مسئلے کے ضمن میں مدد چاہتی ہے! آپ سفارش کریں تو حکومت مان جائے گی۔ اس پر اونچی عمارت میں رہنے والے صاحب نے پوچھا &#39;&#39;آپ ایسا کیوں سمجھتے ہیں کہ حکومت اس عمارت کے مکینوں کی سفارش مان لے گی؟‘‘۔ عوامی کمیٹی کے صدر نے جواب دیا کہ جناب! یہ بات کسی قسم کے شک وشبہ سے بالاتر ہے کہ حکومت آپ کی بات کو نظر انداز نہیں کر سکتی! دیکھیے! اسی اسلام آباد کے علاقے بری امام اور اس کے نواح میں سینکڑوں غریب افراد کے مکان اس بنیاد پر گرائے گئے کہ یہ مکان غیر قانونی تھے۔ سینکڑوں ہزاروں لوگوں کو راتوں رات بے گھر کر دیا گیا۔ عرب نیوز نے ایک عورت کے بارے میں خبر دی کہ جب اس کا گھر گرانے لگے تو وہ بے ہوش ہو گئی اور ابھی تک موت وحیات کی کشمکش میں ہے۔ ایسے سینکڑوں واقعات پیش آئے۔ نورپور شاہاں میں بھی ایسا ہی کیا گیا۔ سینکڑوں مفلوک الحال خاندان بے گھر ہو گئے۔ میڈیا نے آہ و فغاں کی۔ سول سوسائٹی نے دہائی دی۔ رائے عامہ نے فتویٰ دیا مگر کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ حکومت نے منہ دوسری طرف کر لیا۔ وزیراعظم نے اُس وقت کوئی &#39;&#39;اعلیٰ سطح کی خصوصی کمیٹی‘‘ بنائی نہ سی ڈی اے کو اس تاخت وتاراج سے روکا۔ پھر کراچی کے نسلہ ٹاور کا بکھیڑا بھی آپ کو یاد ہو گا۔ عدلیہ نے فیصلہ دیا تو اس پر من وعن عمل ہوا۔ مڈل کلاس کا معاملہ تھا‘ اس لیے حکومت نے منہ دوسری طرف پھیر لیا۔ کوئی کمیٹی بنی نہ کسی نے انہدام کے عمل کو روکا۔ آج تک متاثرین کو زرِ تلافی نہیں ملا۔ مگر عالی جاہ! آپ حضرات‘ یعنی ون کانسٹیٹیوشن ایوینیو کے مکین اس قدر بے پناہ‘ ناقابلِ بیان‘ ناقابلِ یقین اثر ورسوخ کے مالک ہیں کہ جب سی ڈی اے نے کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد شروع کیا تو اقتدار کے ایوانوں میں زلزلہ آ گیا۔ ایکشن کو برق رفتاری سے روکا گیا۔ اعلیٰ سطح کی کمیٹی بن گئی۔ کمیٹی جو فیصلہ کرے گی‘ جناب عالی! آپ کو بھی معلوم ہے اور قوم کو بھی! آپ کی اسی بے پناہ طاقت کو دیکھتے ہوئے قوم آپ کے دروازے پر آئی ہے۔ صرف آپ‘ اس عمارت کے مکین‘ ایک خاص معاملے میں قوم کی مدد کر سکتے ہیں‘‘۔ اونچی عمارت کے مکینوں نے پوچھا: بتائیے! کس معاملے میں مدد درکار ہے؟ عوامی کمیٹی نے گڑگڑا کر کہا &#39;&#39;حکومت سے کہیے کہ پٹرول کی قیمت کم کرے اس سے پہلے کہ لوگوں کا کچومر نکل جائے۔ وزیراعظم اور ان کے رفقا کا پٹرول مفت ہے۔ انہیں اس اذیت کا اندازہ ہی نہیں کہ عوام پر کتنا بڑا پہاڑ گرایا گیا ہے۔ کسی اور ملک نے‘ مبینہ طور پر پٹرول کی قیمت میں اتنا اضافہ نہیں کیا جتنا پاکستان میں کیا گیا ہے۔ ہم آپ کے آگے ہاتھ جوڑتے ہیں کہ اس معاملے میں بھی قیمت کا اضافہ رکوا کر اعلیٰ سطح کی خصوصی کمیٹی بنوا دیجیے‘‘۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_57182973.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ہمارے امانت دار(خالد مسعود خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-05-05/51889/53499993</link><pubDate>Tue, 05 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-05-05/51889/53499993</guid><description>قارئین کو اب تک میری کم علمی اور بے بضاعتی کا اندازہ ہو چکا ہو گا اور ان کیلئے اب یہ بھی کوئی راز کی بات نہیں کہ یہ فقیر جب کسی معاملے میں اپنی لاعلمی کے باعث تنگ و پریشان ہوتا ہے تو قبلہ شاہ جی جیسے سمجھداروں سے رابطہ کر لیتا ہے۔ تاہم پہلے یہ کم علمی کا معاملہ کبھی کبھار ہی آشکار ہوتا تھا لیکن اب جبکہ دنیا کے حالات میں برق رفتار تبدیلیوں نے تھوڑی بہت پرانی معلومات کو بھی گہنا کر‘ بلکہ فارغ کر کے رکھ دیا ہے‘ معاملہ بالکل ہی چوپٹ ہو گیا ہے۔ چلیں روزمرہ کے حالات کی حد تک تو ان تبدیلیوں کی سمجھ بھی آتی تھی لیکن جب سے زور آوروں نے جغرافیہ تبدیل کرنے کی خواہش کا دامن تھاما ہے‘ ہم جیسے لوگ جن کا مطلق جغرافیائی علم گلگشت ہائی سکول میں ماسٹر گلزار حسین مرحوم اور ماسٹر عبدالقادر مرحوم و مغفور کے پڑھائے ہوئے جغرافیہ پر مبنی تھا‘ ہر گزرتے دن کے ساتھ بیکار ہوتا جا رہا ہے۔ جغرافیہ میں تبدیلی کی مصیبت کھڑی کرنے میں ہمارے محبوب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پیش پیش ہیں۔ ان کا جس ملک سے جھگڑا ہوتا ہے اس پر حملہ کر دیتے ہیں۔ اگر حملے کے نتیجے میں اس پر قبضہ نہ کر سکیں تو دنیا کے نقشے کو سامنے رکھتے ہوئے صدیوں اور عشروں سے طے شدہ اس ملک کے ارد گرد کے جغرافیائی مقامات پر خیالی حملہ کرتے ہوئے نقشہ جاتی قبضہ کر لیتے ہیں۔ اس نقشہ جاتی قبضے کے بعد بطور فاتح اپنے قبضہ کردہ علاقوں کا نام تبدیل کر کے اس خیالی فتح کو مستحکم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ہم نے دنیا کا جغرافیہ پڑھتے ہوئے امریکہ کے جنوب میں واقع خلیج کا نام خلیج میکسیکو ہی پڑھا تھا۔ یہ خلیج اپنے جنوب اور مغرب میں واقع ہمسایہ ملک میکسیکو کی مناسبت سے خلیج میکسیکو کہلاتی ہے۔ اپنی پہلی مدتِ صدارت کے دوران جب ٹرمپ صاحب کو میکسیکو سے غیرقانونی طور پر امریکہ آنے والے میکسیکن باشندوں پر غصہ آیا تو انہوں نے امریکہ اور میکسیکو کے درمیان واقع سرحد پر باڑ لگانے کا منصوبہ شروع کیا۔ اس باڑ پر آنے والے خرچے کا اندازہ ہوا تو یہ کام درمیان میں چھوڑ دیا۔ اب کی بار آئے تو ان غیرقانونی تارکین وطن کو جہازوں میں بھر کر واپس میکسیکو بھجوانا شروع کر دیا۔ میکسیکو کی صدر کلاڈیا شین باؤم نے اس پر ہچر مچر کی تو ٹرمپ صاحب نے پہلے تو میکسیکو کو سنگین نتائج کی دھمکی دی‘ تاہم خواتین کے بارے میں اپنی مہربان طبیعت کے پیشِ نظر کوئی عسکری کارروائی کرنے کے بجائے خلیج میکسیکو کے نام پر قبضہ کرتے ہوئے اسے خلیج امریکہ قرار دے دیا۔ پنجابی کی کہاوت کہ &#39;&#39;ڈاڈھے دی ست ویہاں سو ہوندی اے‘‘ یعنی زور آور کی سات بیسیاں سو ہوتی ہے۔ لہٰذا گوگل نے اپنے نقشوں میں خلیج میکسیکو کے ساتھ بریکٹ میں اسے خلیج امریکہ بھی لکھنا شروع کر دیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے ہمارا سارا پڑھا ہوا جغرافیہ صفر کر کے رکھ دیا ہے۔ اگلے روز اخبار میں پڑھا کہ امریکی صدر ٹرمپ نے اس بار خلیج ہرمز کا نام بدل کر خلیج ٹرمپ کر دیا ہے۔ تھوڑی دیر پہلے شاہ جی ملے تو ان سے نام کی اس نامعقول قسم کی تبدیلی بارے پوچھ لیا۔ کہنے لگے: اگر ملتان میں کسی بھی پروجیکٹ پر آئے بغیر مریم نواز شریف کی بدست مبارک افتتاح والی تختی لگ سکتی ہے تو آبنائے ہرمز فتح کیے بغیر اس کو مفتوحہ علاقہ سمجھتے ہوئے اس کا نام کیوں تبدیل نہیں ہو سکتا؟ میں نے عرض کی کہ شاہ جی! ٹرمپ کا اس دور دراز والی خلیج سے کیا تعلق ہے تو وہ فرمانے لگے: اگر وہاڑی میں منظور ہونے والے میڈیکل کالج کا نام کسی قسم کے منطقی جواز اور تعلق کے بغیر نواز شریف میڈیکل کالج رکھا جا سکتا ہے تو خلیج ہرمز کا نام خلیج ٹرمپ کیوں نہیں ہو سکتا؟ اگر ملتان کے ساٹھ‘ ستر سالہ قدیم فاطمہ جناح ہسپتال کا نام شہباز شریف ہسپتال ہو سکتا ہے‘ ملتان میں بننے والی ایگریکلچرل یونیورسٹی کا نام نواز شریف ایگریکلچر یونیورسٹی اور انجینئرنگ یونیورسٹی کا نام نواز شریف انجینئرنگ یونیورسٹی ہو سکتا ہے تو آبنائے ٹرمپ کیوں نہیں ہو سکتا؟اگر گزشتہ حکومتوں کے عشروں قبل بنائے ہوئے سینکڑوں رورل ہیلتھ سنٹروں کا نام مریم نواز شریف کے نام پر ہو سکتا ہے تو بھلا ایک آبنائے کا نام تبدیل کرنے سے کون سی قیامت آ جائے گی؟ ملتان انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا نام تبدیل کر کے چودھری پرویز الٰہی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی ہو سکتا ہے تو ایسا کیوں نہیں ہو سکتا؟ ڈیرہ غازی خان میں بننے والے کارڈیالوجی ہسپتال کا نام عثمان بزدار اپنے ابا جی کے نام پر سردار فتح محمد بزدار انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی رکھ سکتے ہیں تو صدر ٹرمپ کون سا گیا گزرا بندہ ہے۔ دوسری بار امریکہ کا صدر بنا ہے‘ یہ کوئی کم بات ہے؟ ویسے بھی آبنائے ہرمز کے نام کی تبدیلی پر کون سے میرے یا تمہارے ٹیکس کے پیسے لگ رہے ہیں؟ ادھر ہمارے ٹیکسوں سے اکٹھے کیے ہوئے کروڑوں اربوں روپے کے پروجیکٹس کے نام حکمران اپنے اور اپنے والدین کے نام پر رکھ رہے ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ ملتان کا ہر سرکاری پارک ڈوگر خاندان کے ہر چھوٹے بڑے فرد کے نام سے معنون ہے۔ لیہ میں قائم یونیورسٹی کے ایک کیمپس کا نام وہاں کے ایم پی اے اعجاز اچلانہ کے ابا جی کے نام پر &#39;&#39;بہادر کیمپس‘‘ ہے۔ ان کے والد صاحب کو تو چھوڑیں ایم پی اے صاحب نے خود کبھی یونیورسٹی کی شکل نہیں دیکھی۔ ادھر امریکہ میں صدر ٹرمپ کے حامیوں نے مہم شروع کر رکھی ہے کہ نئے امریکی پاسپورٹوں پر صدر ٹرمپ کی تصویر چھپی ہے۔ مجھے خطرہ پڑ گیا ہے کہ صدر ٹرمپ کی دیکھا دیکھی کہیں ہمارے حکمران بھی پاسپورٹ پر اپنی یا اپنے بزرگوں کی تصویر لگانے کا بل پاس نہ کروا لیں۔ ادھر تو یہ بھی ممکن ہے کہ ان کے دل میں خیال آئے کہ اتنے عرصے سے کرنسی نوٹوں پر اکیلے بیٹھے بیٹھے قائداعظم محمد علی جناح اداس ہی نہ ہو گئے ہوں لہٰذا ان کے پہلو میں کسی قائداعظم ثانی کو بٹھا کر ان کی تنہائی اور اداسی رفع کر دی جائے۔ ویسے بھی سنا ہے اب نئے ڈیزائن کے نوٹ چھپنے والے ہیں۔ کیا خبر کسی کو یہ نادر خیال آ ہی جائے۔ میں نے کہا: شاہ جی! میں نے تو آپ سے ایک معمولی سا سوال پوچھا تھا آپ پورا دفتر کھول کر بیٹھ گئے ہیں۔ شاہ جی نے میری بات سنی اَن سنی کرتے ہوئے کہا: تمہیں میرے سیاسی نظریات کا بخوبی علم ہے گو تھوڑا سا ہی سہی‘ لیکن میرا جھکاؤ جدھر ہے تمہیں اس کا بھی علم ہے۔ لیکن اس سب کے باوجود حق یہ ہے کہ جان اللہ کو دینی ہے۔ اب یہ سب کچھ برداشت سے باہر ہو گیا ہے۔ خود پسندی‘ خود نمائی‘ ذاتی تشہیر اور نرگسیت کی اس کثرت سے اب جی اُوب چکا ہے۔ تم نے بھی آدھی دنیا دیکھ رکھی ہے یورپ‘ برطانیہ‘ امریکہ اور آسٹریلیا وغیرہ کے علاوہ بھی کسی ایسے ملک کا نام لے لو جہاں جمہوریت یا آئینی بادشاہت ہی کیوں نہ ہو اور ریاستی وسائل اور پیسے سے بننے والے پروجیکٹس پر حکمرانوں کے نام‘ تصاویر‘ اشتہار اور بینر دکھائی دیے ہوں۔ آمریت اور شخصی بادشاہت کو چھوڑ کر آپ کو وہاں کسی علامتی بادشاہ کی‘ کسی جمہوری صدر کی یا کسی منتخب وزیراعظم کی‘ ان کے کسی عزیز رشتہ دار کی یا کسی وزیر مشیر کی کوئی تصویر‘ کوئی افتتاحی تختی یا کوئی تشہیری بینر دکھائی نہیں دیتا۔ ہمارے حکمران خود نمائی‘ جعلی شہرت‘ ذات کی مشہوری اور انا کی تسکین کیلئے عوام کی امانت ‘ ریاستی پیسے کو جس بے دردی سے خرچ کر رہے ہیں انہیں اس کا حساب دینا ہو گا۔ بحیثیت حکمران وہ اس پیسے کے مالک نہیں محض کسٹوڈین یعنی رکھوالے یا امانت دار ہیں۔ بعض اوقات حیرت اور افسوس ہوتا ہے کہ ہمیں یہ کیسے امانت دار نصیب ہوئے ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90500073.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کیا یورپ اپنے قدموں پر کھڑا ہو گا؟(ڈاکٹر حسین احمد پراچہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-05-05/51890/81826490</link><pubDate>Tue, 05 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-05-05/51890/81826490</guid><description>یورپ کئی دہائیوں سے مصلحتاً امریکہ کا پچھو لگ اور لائی لگ بنا ہوا تھا‘ مگر اب گزشتہ چند برسوں سے ضمیرِ مغرب بڑی حد تک بیدار ہو چکا ہے۔ یورپ کی اس بیداری میں موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بالواسطہ کردار ہے۔ ٹرمپ خود عہد شکن اور انسانیت کش سفاک قاتل نیتن یاہو کا پشتیبان بنا ہوا ہے۔ ٹرمپ کو صراط مستقیم دکھانے کے لیے یورپ کے جس قائد نے بھی بات کی اسے امریکی صدر نے نہایت درشتی سے جواب دیا۔ مرزا اسد اللہ غالب ٹرمپ جیسے لوگوں کے بارے میں بہت پہلے کہہ گئے ہیں:گرمی سہی کلام میں لیکن نہ اس قدرکی جس سے بات اس نے شکایت ضرور کییورپ کے کس کس لیڈر کا نام لیا جائے کہ جس پر ڈونلڈ ٹرمپ نے زبانی کلامی یلغار نہ کی ہو۔ جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے ایران کے خلاف ٹرمپ کی جارحیت کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا۔ اس کے جواب میں ٹرمپ نے یورپ کے دفاع سے دستبرداری کی دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ جرمنی سے پانچ ہزار امریکی فوجیوں کو واپس بلا رہا ہے۔ اس نے یورپ کو اسلحہ کی ترسیل میں تاخیر کا اعلان بھی کیا ہے۔ ان دھمکیوں کے جواب میں جرمن چانسلر نے کہا کہ یورپ کو اپنے دفاع کیلئے اپنے قدموں پر کھڑا ہونا پڑے گا۔ اسی طرح ہسپانوی وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے بھی کمال جرأت سے کام لیتے ہوئے ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ کے بارے میں روزِ اوّل سے پختہ مؤقف اختیار کر رکھا تھا۔ ان کا موقف تھا &#39;&#39;No to War‘‘۔ سپین نے اپنے ملک کے عسکری ہوائی اڈے امریکہ کو استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ اس انکار پر ٹرمپ لال پیلا ہوا اور اس نے کہا کہ ہم نیٹو سے سپین کی رکنیت معطل کروا دیں گے۔ ہسپانیہ کے اس وزیراعظم نے کہا کہ ہرچہ بادا باد۔ اس کا کہنا ہے کہ اسرائیلی اور امریکی قتل و غارت گری کے خلاف ہمارے نقطۂ نظر اور طرزِ عمل میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ اور ایسا ہی ہے تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کی اس جارحانہ و ظالمانہ پالیسی کے خلاف یورپ کی سیاسی و سفارتی مزاحمت کی سب سے بڑی چیمپئن بن کر ابھرے والی اٹلی کی پہلی خاتون وزیراعظم جارجیا میلونی ہے۔ انہوں نے غزہ میں نیتن یاہو کی فلسطینی نسل کشی کی شدید مذمت کی اور اٹلی کے اسرائیل کے ساتھ 2003ء سے جاری دفاعی تعاون کے معاہدے کی تجدید کو معطل کر دیا۔ اطالوی وزیراعظم نے امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات کے باوجود ٹرمپ کی ایران پر مسلط کردہ جنگ کی بھی مذمت کی اور سیاسی‘ سفارتی اور تزویراتی کسی طرح سے بھی امریکہ کی حمایت کرنے سے اجتناب کیا ۔ اٹلی نے ایران کے خلاف امریکی بمباری و گولہ باری کو بین الاقوامی قانون کی ترین خلاف ورزی قرار دیا اور خطے میں امن و سلامتی کے لیے گفت و شنید اور مذاکرات کو ہی واحد حل قرار دیا۔ جب کچھ امریکی اہلکاروں نے اطالوی وزیراعظم پر تنقید کی تو اٹلی کے چیمبر آف ڈپٹیز (پارلیمنٹ) میں وہاں کی اپوزیشن لیڈر ریلی شلین نے جارجیا میلونی کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا ثبوت دیا۔ اس نے اطالوی وزیراعظم کی حمایت میں خطاب کیا۔ایران کے خلاف امریکی جارحیت کی مذمت اطالوی وزیراعظم کا ذاتی مؤقف نہیں بلکہ وہاں کی کابینہ اور پارلیمنٹ کی متفقہ خارجہ پالیسی ہے۔ اٹلی کی حکومت کے اس مؤقف کی اٹلی کے سیاستدانوں اور عوام نے بھرپور حمایت کی ہے۔ 56 فیصد اطالوی ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی حملوں کی شدید مخالفت کر رہے ہیں۔ اطالوی وزیراعظم جنگ کی ابتدا سے ہی امریکہ پر تنقید کر رہی تھیں کہ بین الاقوامی قواعد وضوابط سے ماورا ہو کر دوسرے ملکوں پر حملوں کے نہایت خطرناک اور سنگین نتائج نکلتے ہیں۔ اٹلی کو ایران کے بارے میں کچھ تحفظات بھی تھے مگر انہوں نے اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے سے انکار کیا۔ اطالوی وزیراعظم نے یوکرین پر روسی حملے کی بھی مذمت کی۔ اس پرروسی میڈیا نے اطالوی وزیر اعظم پر کڑی تنقید کی۔فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے بھی امریکہ ایران جنگ کے بارے میں متوازن پالیسی اختیار کرتے ہوئے امریکہ اوراسرائیل کی ایران پر مسلط کردہ جنگ کی حمایت نہیں کی اور انہوں نے کسی بھی انداز سے اس جنگ میں امریکہ یا اسرائیل کا ساتھ دینے سے انکار کیا۔ اگرچہ خلیج میں ایران کی پالیسی کے بارے میں میکرون کو بہت سے تحفظات تھے تاہم انہوں نے روزِ اوّل سے علی الاعلان یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ جنگ کے شعلوں کو ہوا دینے کے بجائے امن مذاکرات پر فریقین کو زیادہ توجہ دینی چاہیے۔ فرانسیسی صدر خلیج فارس میں امریکی ناکہ بندی کو بھی خطے کے امن کیلئے خطرناک سمجھتے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ اگر فریقین میں جنگ شدت اختیار کرتی ہے تو یہ خطے کیلئے ہی نہیں عالمی امن کیلئے بھی خطرہ ہے۔ فرانسیسی صدر نے ایران کے خلاف امریکی جنگ کے بعض پہلوؤں پر کھل کر تنقید کی مگر مکمل طور پر امریکہ کی مخالفت بھی نہیں کی۔ اس متوازن پالیسی کے باوجود فرانس نے ایران کے خلاف امریکی جنگ میں کسی بھی طرح کی شرکت سے اجتناب کیا ہے۔ فرانس نے ایک سنجیدہ پالیسی اختیار کرتے ہوئے جنگ بندی پر زور دیا ہے۔ فرانس اس جنگ کو یورپ کے اقتصادی استحکام کیلئے بہت بڑا خطرہ سمجھتا ہے۔ مختصراً ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ فرانس نے امنِ عالم کو ترجیح قرار دیتے ہوئے درمیانی راستہ اپنایا ہے۔فرانسیسی صدر اور دیگر یورپی قائدین نے امریکی صدر کو اس بات پر بھی نشانۂ تنقید بنایا ہے کہ انہوں نے نیٹو کے فورم پر اپنے یورپی اتحادیوں سے جنگ شروع کرنے سے پہلے کوئی مشاورت نہیں کی تھی۔ جرمن چانسلر نے صدر ٹرمپ سے سوال کیا ہے کہ انہوں نے ایران میں واضح اہداف والی کوئی پالیسی اختیار نہیں کی۔ جرمنی سے پانچ ہزار امریکی فوجیوں کو نکالنے پر بھی یورپی اتحادی صدر ٹرمپ سے ناخوش ہیں۔ سپین کے وزیراعظم نے تو ایران پر مسلط کی گئی جنگ کو غیرمعمولی غلطی قرار دیا ہے۔ یورپی قائدین اس بات پر بھی ڈونلڈ ٹرمپ سے برہم ہیں کہ وہ نیٹو کے ان ممبران کو سزا دینا چاہتے ہیں جنہوں نے ٹرمپ کی مسلط کردہ غیرقانونی و غیر اخلاقی جنگ کی حمایت نہیں کی۔ یورپی قائدین یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ٹرمپ تجارتی اور سیاسی دھمکیوں سے یورپ کو سبق سکھانا چاہتے ہیں‘ اس لیے انہوں نے ٹرمپ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ نیٹو کے حوالے سے انہیں دھمکیاں دینے کا سلسلہ بند کریں۔ یہ بات اب عیاں ہے کہ حالیہ جنگ کے بعد نہ پہلے والا خلیج ہوگا اور نہ ہی امریکی سرپرستی والا یورپ۔ یورپی قائدین کے لب و لہجہ اور ان کے بیانات سے واضح ہے کہ اب یورپ اپنے قدموں پر کھڑا ہونے کا فیصلہ کرے گا۔تازہ ترین خبروں کے مطابق پاکستان کی ثالثی اور شٹل ڈپلومیسی کی بنا پر امریکہ اور ایران کے درمیان سلسلہ جنبانی قائم ہے۔ دوطرفہ تجاویز آ جا رہی ہیں۔ امریکہ و یورپ میں بالخصوص صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت کا گراف بہت نیچے جا چکا ہے۔ آبنائے ہرمز کے بارے میں امریکہ یکطرفہ اقدام سے اجتناب کرے۔ امریکی صدر کو فیس سیونگ کا جو موقع مل رہا ہے اس سے فائدہ اٹھائیں۔ ایشیا اور یورپ ہی نہیں ساری دنیا کی معیشت جاں بلب ہے۔صدر ٹرمپ امریکی اور یورپی آوازِ خلق پر کان دھریں اور عالمی امن و سکون برباد کرنے سے اجتناب کریں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_70033906.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>صرف شرح سود افراطِ زر کا علاج نہیں!(شاہد کاردار)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-kardar-/2026-05-05/51891/98416455</link><pubDate>Tue, 05 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-kardar-/2026-05-05/51891/98416455</guid><description>اگلے روز سٹیٹ بینک آف پاکستان نے شرح سود میں ایک فیصد اضافہ کر دیا جو اب 11.5 فیصد ہو گئی ہے۔ مرکزی بینک مہنگائی سے نمٹنے کیلئے ایک ہی طریقہ استعمال کر رہا ہے اور وہ ہے شرحِ سود۔ بینک اس مفروضہ کی بنیاد پر یہ کام کرتا ہے کہ مہنگائی طلب کی وجہ سے پیدا ہو رہی ہے‘ حالانکہ محض ایسا نہیں ہے۔ قیمتوں میں اضافہ طلب میں اضافہ اور لاگت میں اضافہ‘ ان دونوں عوامل کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ اور ایران جنگ کی وجہ سے اشیا کی ترسیل میں خلل لاگت میں اضافہ کی دو بڑی مثالیں ہیں لہٰذا معیشت کی ساخت سے متعلق دو مختلف مسائل ایک ہی طریقہ سے حل نہیں ہو سکتے۔ اسی خطہ میں بھارت اور سری لنکا کو بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور ایران جنگ کے دیگر اثرات کا سامنا ہے لیکن ان ممالک نے شرح سود میں اضافہ نہیں کیا۔طلب تین فریق پیدا کرتے ہیں: گھریلو صارفین‘ کاروباری ادارے اور حکومت۔ ان میں سے ہر ایک فریق کی طلب کیلئے مالی وسائل مختلف طریقوں سے فراہم ہوتے ہیں۔ ایک فریق کے زیادہ اخراجات کسی دوسرے فریق کی بچت کی کوششوں کو بے اثر بنا سکتے ہیں۔ شرح سود میں اضافہ اس لیے کیا جاتا ہے کہ لوگ قرض کم لیں اور اخراجات میں کمی کریں لیکن سب سے زیادہ قرض تو خود حکومت لیتی ہے اور یہ بدستور بے احتیاطی سے بے تحاشا اخراجات کر رہی ہے جس سے حالات مزید خراب ہو رہے ہیں۔ حکومت اپنے اخراجات پورے کرنے کیلئے قرض لیتی ہے جو اس کی آمدن سے کہیں زیادہ ہوتے ہیں۔ اس کا انتظامی ڈھانچہ بہت بڑا ہے جسے غیر متناسب مراعات اور سہولتوں سے نوازا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حکومت اور سرکاری اداروں کا کمرشل بینکوں سے لیا گیا قرض اب بینکوں کے ڈپازٹس کے 100 فیصد کے برابر ہو چکا ہے۔ شرحِ سود میں اضافے کا اثر اس لیے بھی مزید کم ہو جاتا ہے کہ حکومتی قرض کی حقیقی لاگت یعنی اس پر شرح سود نسبتاً کم ہے کیونکہ سٹیٹ بینک نے تجارتی بینکوں کے ذریعے 15 ہزار ارب روپے براہِ راست وفاقی حکومت کو فراہم کیے۔ ہوتا یوں ہے کہ کمرشل بینک جو رقوم حکومت کو قرض دیتے ہیں ان پر سود وصول کرتے ہیں اور سٹیٹ بینک بھی ان رقوم پر (کچھ کم شرح سے) سود کماتا ہے جو وہ بینکوں کو دیتا ہے۔ اس قرض پر حاصل ہونے والا سود سٹیٹ بینک کا منافع بنتا ہے‘ جو وہ اپنے مالک یعنی حکومتِ پاکستان کو منتقل کر دیتا ہے۔ اس طرح حکومت کے لیے قرض لینے کی قیمت (شرح سود) عملاً نہ ہونے کے برابر رہ جاتی ہے۔ ایسی صورتحال میں اس کا طرزِ عمل کیوں بدلے گا؟ نجی شعبے کو دیا جانے والا قرض 10500 ارب روپے ہے۔ یہ رقم بینکوں کے ڈپازٹس کے 36 فیصد کے برابر ہے۔ اس کا 10 فیصد سے بھی کم حصہ عام لوگوں کو کنزیومر فنانس (جیسے گاڑی کیلئے قرض) کے طور پر دیا گیا ہے۔ یہی 36 فیصد حصہ ہے جو بلند شرحِ سود سے حقیقی طور پر متاثر ہوتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں سرمایہ کاری اور اخراجات کا پھیلاؤ اس سے متاثر ہوتا ہے۔ سود کی  شرح بلند ہونے کے باعث نجی شعبے میں سرمایہ کی طلب کم ہو جاتی ہے اور نتیجتاً مہنگائی کی شرح گھٹتی تو ہے لیکن قدرے تاخیر کے ساتھ۔ اصل بات یہ ہے کہ افراطِ زر میں کمی کا علاج حکومتی اخراجات میں کم کرنے میں ہے نہ کہ زری پالیسی میں۔بیرونِ ملک سے آنے والی ترسیلاتِ زر سے بھی مسئلہ میں اضافہ ہوتا ہے۔  گزشتہ مالی سال تقریباً 1300 ارب روپے (46 ارب امریکی ڈالر) سالانہ ترسیلاتِ زر آئیں۔ یہ ترسیلات رسمی اور غیر رسمی‘ دونوں ذرائع سے آئیں جن میں منی چینجرز اور بیرونِ ملک سے آنے والوں کے ذریعے لائی گئی نقد رقوم شامل ہیں۔ یہ رقم مجموعی قومی پیداوار کے 11 فیصد کے برابر ہے۔ یہ ترسیلات اشیا اور خدمات کی مستقل طلب پیدا کرتی رہتی ہیں۔ یہ ایسی طلب ہے جسے شرحِ سود عموماً متاثر نہیں کرتی۔ یہ رقوم وصول کرنے والے زیادہ تر کم آمدنی والے گھرانے ہیں جو اسے عموماً بنیادی ضروریات کیلئے استعمال کرتے ہیں نہ کہ پیداواری سرمایہ کاری کیلئے۔ سٹیٹ بینک کی اپنی رعایتی قرض کی سکیمیں ہیں‘ جیسے طویل مدتی مالی سہولت (ایل ٹی ٹی ایف)‘ برآمدی مالی سہولت (ای ایف ٹی) اور عارضی معاشی بحالی سہولت (ٹی ای آر ایف)‘ جو 2021ء میں متعارف کرائی گئیں اور 2023ء میں یہ سکیمیں اپنے عروج پر تھیں اور ان کے تحت نجی شعبے کے کُل قرض کا 12 فیصد حصہ تھا‘ ان سے نئی رقم مارکیٹ میں آئی اور شرح سود میں اضافے کے اثرات کمزور ہوئے۔زرعی شعبہ اور غیر رسمی معیشت سے مزید پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں۔ ان شعبوں میں زیر گردش کرنسی تقریباً 12000 ارب روپے ہے۔ یہ رقم مجموعی قومی پیداوار کے تقریباً 10 فیصد اور بینکوں کے ڈپازٹس کا 38 فیصد ہے۔ اس پر بھی شرح سود میں تبدیلی کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ معیشت کی ساخت میں ہونی والی تبدیلیوں سے یہ مسئلہ مزید بڑھ جاتا ہے۔ مثلاً خدمات کے شعبہ کو صنعت کے مقابلے میں کم سرمایہ درکار ہوتا ہے۔ ہماری معیشت میں خدمات کا حصہ بڑھ ہا ہے جس سے معاشی نظام میں مالیاتی پالیسی کو سخت کرنے کے اثرات سست اور کمزور ہو جاتے ہیں۔ اشیا بنانے کی لاگت میں اضافے سے پیدا ہونے والی مہنگائی اور غذا کی مہنگائی کو کنٹرول کرنے کیلئے بھی شرحِ سود میں تبدیلی صحیح طریقہ کار نہیں۔ اس شعبہ میں بنیادی عوامل یہ ہیں: (1) عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ۔ (2) گندم کی قیمت عالمی سطح سے زیادہ ہونا (جو گزشتہ برس افغان تجارتی راہداری کی بندش اور گندم کی منڈی کو بغیر کسی متبادل نظام کے اچانک آزاد کرنے کے فیصلے کے باعث خاصی کم ہو گئی تھی) (3) توانائی اور تیل کے اخراجات کا بڑھنا جس سے کاشتکاری‘ پراسیسنگ اور نقل وحمل کی لاگت بڑھ جاتی ہے۔ (4) فصلوں کی پیداوار کا مسلسل کم رہنا اور (5) ذخیرہ اندوزی اور اجارہ داری۔ لاگت میں اضافہ کے عوامل جو معیشت کے بڑے حصوں کو متاثر کرتے ہیں وہ یہ ہیں: حکومت کی کنٹرول کردہ قیمتوں کا بے لچک ہونا‘ ان میں بجلی‘ گیس‘ پٹرولیم‘ سٹیٹ بینک کی طرف سے درآمد پر صوابدیدی پابندیوں کی وجہ سے سپلائی چین میں پیدا ہونے والی رکاوٹیں اور ان پابندیوں کے ساتھ ساتھ اشیا کی قیمتوں کا اپنی سطح پر قائم رہنا‘ جو درآمدی پابندیوں میں کچھ نرمی کے بعد بھی اپنی سطح پر قائم رہتی ہیں۔ اس سے ناجائز منافع خوری ممکن ہوتی ہے۔ ایک پیچیدہ ٹیکس ڈھانچہ‘ جس کا زیادہ انحصار بلند جی ایس ٹی اور دیگر بالواسطہ ٹیکسوں (ود ہولڈنگ ٹیکس اور پٹرولیم لیوی وغیرہ) پر ہے۔ درآمدی اشیا پر کسٹم ڈیوٹی کی شرح بہت بلند ہونے کی وجہ سے اور ٹیکسں نظام کے ناقص طریقہ کار اور سست رفتار ہونے کی وجہ سے بھی قیمتوں پر دبائو رہتا ہے۔ سیاسی عدم استحکام‘ پالیسی میں غیر یقینی اور آئی ایم ایف پروگرام کی شرائط کے بارے میں خدشات کے باعث کاروباری اعتماد میں کمی اور اس کے باعث افراط زر کی توقعات کا مسلسل بلند رہنا۔ بڑے پیمانے پر سمگلنگ اور غیر رسمی تجارت‘ اور ایسی کمزور پالیسیاں جو سمگلنگ کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔ کمزور معاشی نظم ونسق جو لاگت میں مزید اضافے کا سبب بنتا ہے۔ علاوہ ازیں سرکاری اور نجی سرمایہ کاری کا مسلسل کم پیداواری ہونا‘ جس میں تاخیر کا شکار حکومتی منصوبے مزید اضافہ کر دیتے ہیں۔ مزید دو شعبے ایسے ہیں جن میں شرح سود میں تبدیلی سے فرق نہیں پڑتا۔ ایک وہ اشیا جن کے نرخ حکومت مقرر کرتی ہے جیسے تیل‘ گیس‘ بجلی وغیرہ۔ دوسرا‘ کھانے پینے کی اشیا‘ جن کی قیمتوں کا تعلق سپلائی سے ہے۔ہمارا ماضی کا تجربہ یہی ہے کہ ایک مرتبہ قیمتیں بڑھ جائیں تو بعد میں کم نہیں ہوتیں۔ حکومت کی مالی بے اعتدالی بجٹ خساروں کو بڑھاتی ہے‘ اس کے باعث ایسی مالی ضروریات پیدا ہوتی ہیں جو شرحِ سود کو مزید بڑھا دیتی ہیں اور نجی شعبے کو قرض دینے‘ حتیٰ کہ ورکنگ سرمایہ کیلئے بھی گنجائش کم کر دیتی ہیں۔ عملی طور پر بلند شرحِ سود بینکوں اور قرض دینے والوں کی آمدن کا تحفظ کرتی ہے جبکہ عوام افراط زر کی قیمت ادا کرتے ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_78012569.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سیاسی مقابلے کا میدان(رشید صافی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-05-05/51892/97659806</link><pubDate>Tue, 05 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-05-05/51892/97659806</guid><description>ادارۂ شماریات اور گیلپ پاکستان کے ڈیٹا کے مطابق جو پاکستان کی ساتویں ڈیجیٹل مردم شماری پر مشتمل ہے‘ ملک میں سات ملین خاندان کرائے کے مکانوں میں رہتے ہیں۔ ایک خاندان میں اوسطاً اگر پانچ؍ چھ افراد بھی ہوں تو چار کروڑ سے زائد افراد گھر کی نعمت سے محروم ہیں۔ یہ محض اعداد وشمار نہیں بلکہ ان لاکھوں سفید پوش خاندانوں کی کہانی ہے جو اپنی عمر کا بہترین حصہ محض کرائے کی ادائیگیوں کی نذر کر دیتے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ جو شخص اپنی پوری زندگی کرائے کے گھر کی نذر کر دیتا ہے‘ اس کی آنے والی نسل بھی اسی تلخ تسلسل کا حصہ بننے پر مجبور ہوتی ہے کیونکہ موجودہ معاشی نظام میں گھر کے روزمرہ اخراجات چلانے کے ساتھ ساتھ مکان کی خریداری کیلئے بچت کرنا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔ ایک عام شہری 25 یا 30 سال تک کرائے کی مد میں لاکھوں روپے ادا کر دیتا ہے لیکن اس طویل مدت کے اختتام پر اس کے پاس ایک انچ زمین بھی نہیں ہوتی جسے وہ اپنا کہہ سکے۔ اگر یہی رقوم آسان اقساط پر مبنی ہائوس فنانسنگ کی صورت میں ادا کی جاتی تو کم از کم اسے یہ تسلی تو ہوتی کہ وہ اپنی زندگی کی جمع پونجی اپنے بچوں کے لیے ایک محفوظ چھت کی صورت میں منتقل کر رہا ہے۔غالباً اسی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے حکومت نے &#39;&#39;وزیراعظم اپنا گھر پروگرام‘‘ کے تحت 321 ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی ہے۔ اس منصوبے کے مطابق پہلے سال 50 ہزار گھروں کی فنانسنگ کی جائے گی جبکہ اگلے چار برسوں میں اس کا دائرہ کار پانچ لاکھ گھروں تک وسیع کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اگرچہ پاکستان کی برق رفتار آبادی اور گھروں کی مجموعی طلب کے تناظر میں یہ تعداد بظاہر ایک قطرہ معلوم ہوتی ہے‘ کیونکہ پاپولیشن کونسل کے مطابق 2040ء تک ہمیں مزید ایک کروڑ 55 لاکھ گھروں کی ضرورت ہو گی۔ تاہم کچھ نہ ہونے سے کچھ ہونا بہرحال غنیمت ہے۔ یہ ایک مثبت آغاز ہے اور امید کی جانی چاہیے کہ مستقبل میں اس سکیم کے حجم اور رفتار میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔ہائوسنگ سیکٹر محض اینٹ اور گارے کا نام نہیں بلکہ یہ معیشت کا وہ انجن ہے جو جب حرکت میں آتا ہے تو اس سے منسلک 40 سے زائد صنعتوں کا پہیہ گھومنے لگتا ہے۔ جب ہائوسنگ سیکٹر فعال ہوتا ہے تو معیشت کا جامد خون گردش کرنے لگتا ہے۔ سریا‘ اینٹیں‘ بجری اور سیمنٹ بنانے والی فیکٹریوں میں پیداوار بڑھتی ہے۔ انجینئرز اور آرکیٹیکٹس سے لے کر مزدور اور دیہاڑی دار طبقے تک‘ ہر ایک کو باعزت روزگار میسر آتا ہے۔ بجلی کے آلات‘ پلمبنگ‘ پینٹ اور لکڑی کا کام کرنے والے ہنرمندوں کی طلب میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس سے مارکیٹ میں سرمائے کی گردش تیز ہو جاتی ہے اور ملک معاشی خوشحالی کی جانب قدم بڑھاتا ہے۔ اس طرح کی سکیمیں عمران خان کے دورِ حکومت میں بھی شروع ہوئیں جب &#39;&#39;نیا پاکستان ہائوسنگ‘‘ کے نام سے ایک بڑا منصوبہ شروع کیا گیا۔ اسی طرح &#39;&#39;صحت کارڈ‘‘ بھی مقبول تھا اور آج بھی اس کی اہمیت برقرار ہے۔ ان منصوبوں کی عوامی سطح پر غیر معمولی پذیرائی کی واحد وجہ یہ ہے کہ یہ خالصتاً عوامی فلاح وبہبود پر مبنی اقدامات ہیں۔ جو حکومت بھی عوام کو اس طرح کا ریلیف فراہم کرے گی‘ اسے عوامی سطح پر تحسین ملے گی۔ ہمارے ہاں بالعموم جب کوئی حکومت عوامی منصوبوں کا آغاز کرتی ہے تو سابقہ حکومتیں فوری طور پر اسے اپنا آئیڈیا قراردے دیتی ہیں۔ اس کھینچا تانی کی وجہ دراصل عوام کی نظروں میں معتبر بننے کی خواہش ہے۔ تاہم سچ تو یہ ہے کہ ایسے منصوبے کسی ایک جماعت یا مخصوص سیاسی دور کی جاگیر نہیں ہوتے بلکہ یہ ریاست کی دائمی ضرورت ہیں۔ اگر سیاسی جماعتوں کو واقعی مقابلہ کرنا ہے تو وہ سیاسی بیانیے کے بجائے عوامی فلاح کے میدان میں ہونا چاہیے کہ کون زیادہ شفافیت اور تیزی سے عوام کو ریلیف فراہم کرتا ہے۔نیا پاکستان ہاؤسنگ سکیم یا حالیہ وزیراعظم اپنا گھر پروگرام کی مقبولیت کا راز اس حقیقت میں پوشیدہ ہے کہ ذاتی مکان ہر شہری کا بنیادی خواب اور ضرورت ہے۔ اگر کرائے پر رہنے والوں کو آسان اقساط کی سہولت مل جائے تو وہ بخوشی اس سے فائدہ اٹھانا چاہیں گے مگر ہمارے ہاں ہاؤس فنانسنگ کا کلچر نہ ہونے اور بینکوں کی جانب سے طویل مدتی قرضوں کے حوالے سے پائے جانے والے خدشات کی وجہ سے عام آدمی اس سہولت سے محروم رہا ہے۔ اس ضمن میں سابقہ دورِ حکومت کو یہ کریڈٹ ضرور جاتا ہے کہ انہوں نے بینکوں کو فنانسنگ پر آمادہ کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے۔ آج اگر وزیراعظم شہباز شریف کا پروگرام یا پنجاب کی صوبائی سکیمیں چل رہی ہیں تو اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ بینکوں کے وہ خدشات اب کافی حد تک کم ہو چکے ہیں۔ بینک اب پانچ فیصد مارک اَپ پر دس سال کے لیے قرض دینے پر آمادہ ہیں، جو ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔ تاہم اگر ہم عالمی معیار کا موازنہ کریں تو ترقی یافتہ ممالک جیسے جاپان‘ سوئٹزرلینڈ اور سنگاپور میں ہائوس فنانسنگ محض ایک سے دو فیصد مارک اَپ پر دستیاب ہے۔ ان ممالک میں حکومتیں رہائش کو بنیادی انسانی حق تصور کرتی ہیں‘ اسی لیے وہاں 25 سے 30 سال کے طویل مدتی قرضوں پر معمولی شرح سود لی جاتی ہے تاکہ عام ملازمت پیشہ شخص بھی اپنی ماہانہ آمدن کے ایک حصے سے اپنا ذاتی گھر خرید سکے۔ اس تناظر میں پانچ فیصد مارک اپ بھی پاکستانی عوام کے لیے ایک بوجھ ہے‘ لیکن موجودہ معاشی حالات میں اسے مثبت آغاز ہی کہا جا سکتا ہے۔ہائوس فنانسنگ سکیم میں ایک بڑا چیلنج قرض کی مدت کے بعد کا ابہام ہے۔ بینکوں نے ابتدائی دس برسوں کے لیے تو مارک اپ کم رکھا ہے لیکن اس کے بعد کی شرح کو مارکیٹ ریٹ سے جوڑ دیا ہے جس سے عوام میں ایک انجانا خوف پایا جاتا ہے کہ مستقبل میں معاشی اتار چڑھائو ان کی اقساط کو ناقابلِ برداشت نہ بنا دے۔ اگر فنانسنگ کی پوری مدت کے لیے ایک مستحکم اور واضح طریقہ کار وضع کیا جائے تو اس کی افادیت دوچند ہو سکتی ہے۔ اسی طرح ایک کروڑ روپے کی حد مقرر کرنا بھی ایک بحث طلب پہلو ہے۔ بڑے شہروں میں پراپرٹی کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں‘ جہاں ایک کروڑ میں گھر تلاش کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے جبکہ چھوٹے شہروں میں یہ رقم کافی ہو سکتی ہے۔ بہتر ہوتا کہ اس عمل کو لچکدار بنایا جاتا تاکہ ہر شخص اپنی آمدن اور استطاعت کے مطابق قسط طے کر کے اپنی پسند کا گھر حاصل کر سکتا۔حکومتی سطح پر مختص کیے گئے اربوں روپے کے باوجود اکثر پرائیویٹ سیکٹر اور بینکوں کی سخت شرائط اس طرح کی سکیموں کے ثمرات کو ایک مخصوص طبقے تک محدود کر دیتی ہیں۔ بینکوں کو یہ ڈر لاحق رہتا ہے کہ حکومتیں تبدیل ہونے سے ان کی سرمایہ کاری ڈوب جائے گی۔ پوری دنیا میں پرائیویٹ سیکٹر ہی فنانسنگ کرتا ہے لیکن وہاں پالیسیوں کا تسلسل اور ریاست کی ضمانت بینکوں کو تحفظ فراہم کرتی ہے۔ ہمارے ہاں یہ تبھی ممکن ہے جب حکومتیں بینکوں کو یہ یقین دلائیں کہ سیاسی تبدیلی سے عوامی منصوبے متاثر نہیں ہوں گے۔ ماضی میں درجنوں ایسی مثالیں موجود ہیں جہاں محض سیاسی انتقام یا نام بدلنے کی خاطر مفادِ عامہ کے منصوبوں کو ٹھپ کر دیا گیا‘ جس سے سرمایہ کاروں اور بینکوں کا اعتماد متزلزل ہوا۔یہ طے کر لیا جائے کہ عوامی فلاح کے منصوبے سیاست سے بالاتر ہوں گے۔ سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ اس میدان میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کریں کہ کس نے زیادہ سستی ہائوسنگ فراہم کی اور کس نے زیادہ شہریوں کو بے گھری سے نجات دلائی۔ یہی جمہوریت کی روح اور یہی پاکستان کے تابناک مستقبل کی ضمانت ہے۔ اگر ریاست اپنی ذمہ داری نبھائے اور بینکوں کو پالیسیوں کے تسلسل کا اعتماد فراہم کرے تو وہ دن دور نہیں جب ہر پاکستانی کے پاس اپنی ذاتی چھت ہو گی۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/222_48272610.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سٹوڈنٹ یونین کے الیکشن(حافظ محمد ادریس)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/hafiz-muhammad-idreess/2026-05-05/51893/60686007</link><pubDate>Tue, 05 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/hafiz-muhammad-idreess/2026-05-05/51893/60686007</guid><description>اگست 1969ء میں ڈھاکہ میں ایک طلبہ رہنما عبدالمالک کی شہادت پر منعقدہ تقریب میں میری تقریر کے سبب گرفتاری‘ جیل سے ایم اے کے امتحانات اور بعد ازاں باعزت بری ہونے کے بعد پنجاب یونیورسٹی سٹوڈنٹس یونین کی بحالی کا فیصلہ ہوا۔ ہم نے بھی آنے والے انتخاب پر سنجیدگی سے غور وخوض شروع کیا۔ میں چونکہ لاہور جمعیت کا ناظم تھا اور اس سے قبل ایک روایت چلی آ رہی تھی کہ مرکز‘ صوبے (علاقے) یا مقامی ناظمین یونینز کے الیکشن نہیں لڑتے تھے۔ اگر الیکشن میں جانا ناگزیر ہو جاتا تو نظامت سے مستعفی ہو جایا کرتے تھے۔ میرا خیال تھا کہ ہمیں یونین کی صدارت کے لیے کسی اور امیدوار کا نام تجویز کرنا چاہیے جبکہ میرے ساتھیوں کی رائے تھی کہ مجھے کسی شعبے میں ایم اے میں داخلہ لے کر خود یہ انتخاب لڑنا چاہیے۔ایک بار تو میں نے ارکان سے مشاورت کے بعد ایک اور طالبعلم کے حق میں فیصلہ بھی کرا لیا تھا۔ اتفاق سے اس طالبعلم کا نام جہانگیر خان تھا جو لاء کالج میں پڑھتا تھا۔ موصوف کا آبائی تعلق ڈیرہ اسماعیل خاں سے تھا اور وہ ایک سرگرم کارکن تھا۔ یہ فیصلہ کثرتِ رائے سے ہو تو گیا مگر بعض ساتھیوں کو اس پر شدید تحفظات تھے۔ اتفاق سے انہی دنوں ڈاکٹر محمد کمال صاحب لاہور آئے اور ہمارے مشترکہ دوست حبیب الدین خاں صاحب کے گھر پر اس ایشو کو حل کرنے کے لیے جمعیت کا ایک خصوصی اجتماعِ منعقد ہوا۔ طویل اجلاس میں آرا مختلف تھیں مگر اکثریت کی رائے یہی تھی کہ مجھے ضرور یونین کا الیکشن لڑنا چاہیے۔ دوستوں کا خیال تھا کہ اگر کسی اور غیر معروف ساتھی کو نامزد کیا گیا تو ہمارے حق میں فضا نہیں بن سکے گی۔ چونکہ یہ مسئلہ چل رہا تھا لہٰذا اسی دور میں ایک ہنگامی اجلاس میں مرکزی شوریٰ نے یہ وضاحت کر دی تھی کہ ناظمین بیک وقت نظامت اور یونین کی عہدے داری کے فرائض انجام دے سکتے ہیں‘ کیونکہ یہ محض ایک روایت ہے کوئی دستوری مسئلہ یا مرکزی شوریٰ کا فیصلہ نہیں۔اب تمام ارکان نے پوری یکسوئی کے ساتھ فیصلہ کیا کہ میں ہی الیکشن میں جمعیت کا امیدوار ہوں گا۔ اس سال کراچی میں برادر گرامی تسنیم عالم منظر (مرحوم) نے تنظیم کے فیصلے پر این ای ڈی کالج میں یونین کی صدارت کا الیکشن لڑا اور کامیاب ہوئے۔ وہ اس وقت مغربی پاکستان کے ناظم جمعیت بھی تھے۔ ان دنوں مشرقی پاکستان سے تعلق رکھنے والے ساتھی مطیع الرحمن نظامی (شہید) ناظم اعلیٰ منتخب ہو چکے تھے۔کئی سالوں کے تعطل کے بعد انجمن طلبہ کی بحالی سے تمام طلبہ رہنمائوں اور دائیں‘ بائیں بازو کی سب تنظیموں میں جوش وخروش کا پیدا ہونا ایک فطری امر تھا۔ اس کے ساتھ گزشتہ طویل عرصے کی حکومت مخالف سیاسی سرگرمیوں اور طلبہ کی عمومی جدوجہد کی وجہ سے عام طالبعلم بھی خاصی سرگرمی اور شوق سے الیکشن کی تفاصیل کا مطالعہ کر رہے تھے۔ ووٹروں کی رجسٹریشن کے لیے پروفیسر سراج کمیٹی کے اجلاس میں اصول وضوابط طے ہو چکے تھے۔ ان کی کاپیاں ہر شعبے اور جامعہ سے ملحقہ کالجوں (اورینٹل کالج‘ لاء کالج اور ہیلے کالج) میں نوٹس بورڈوں پر چسپاں کی گئیں۔ طلبہ نے بڑی گرم جوشی سے رجسٹریشن میں حصہ لیا اور جس طالبعلم کا نام کسی وجہ سے ووٹر لسٹ میں نہ آ سکا اس نے بھاگ دوڑ کر کے اپنا حق رائے دہی تسلیم کرایا۔ لائبریری سائنس میں ڈپلومہ کرنے والے طلبہ جونیئر شمار ہوتے تھے‘ ان کو ووٹرز لسٹ سے خارج کیا گیا تو اس شعبے کے طلبہ خاصے پریشان ہوئے۔ انہوں نے جمعیت سے رجوع کیا اور ان کا کیس انتظامیہ کے سامنے پیش کر کے کافی بحث مباحثے اور تگ ودو کے بعد ان کا حق رائے دہی تسلیم کرایا گیا۔ اس کاوش کے نتیجے میں ایک ضمنی لسٹ جاری ہوئی اور لائبریری سائنس کے طلبہ کی فہرستیں بھی تمام نوٹس بورڈوں پر چسپاں کی گئیں۔ یہ ایک بڑی کامیابی تھی۔ اس موقع پر شعبے کی عمارت نعروں سے گونج اٹھی۔ اس گرم جوش اظہارِ جذبات نے اولڈ کیمپس کے باقی شعبوں کے طلبہ وطالبات کی توجہ بھی ہماری انتخابی مہم کی جانب مبذول کرا دی۔ یہ گہما گہمی جاری تھی کہ اسی دوران ایم اے عربی کے نتیجے کا اعلان ہوا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اس میں شاندار کامیابی سے نوازا۔ میں یونیورسٹی میں اول آیا تھا۔ جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا کہ یہ پرچے میں نے جیل سے دیے تھے اور اخبارات کی خبروں میں اس کا بھی تذکرہ ہوا۔اب جو مسئلہ ہمیں درپیش تھا وہ یونیورسٹی میں نئے داخلے کا تھا۔ میرا ذاتی ارادہ تھا کہ ایم اے اردو یا ایم اے پولیٹکل سائنس میں داخلہ لوں۔ اورینٹل کالج کے پرنسپل ڈاکٹر محمد باقر تھے اور وہی شعبہ فارسی کے ہیڈ تھے۔ ڈاکٹر عبادت بریلوی شعبہ اردو کے سربراہ تھے۔ یونیورسٹی اساتذہ اور طلبہ عموماً مجھے بخوبی جانتے تھے۔ میں نے شعبہ اردو میں داخلے کی درخواست دی‘ اس موقع پر شعبہ کے اساتذہ کی میٹنگ بلائی گئی۔ میں بھی میٹنگ روم کے باہر موجود رہا کہ شاید مجھے سوال وجواب کے لیے طلب کیا جائے گا‘ مگر مجھے نہ بلایا گیا۔ معلوم ہوتا تھا کہ تھوڑی سی سنسنی کے بعد بالآخر مجھے داخلہ مل جائے گا۔ اندر خانے کیا ہو رہا ہے‘ ہمیں معلوم نہ تھا تاہم ہمارے مہربان استاد ڈاکٹر وحید قریشی پروفیسر شعبہ اردو‘ جو میرے ساتھ ہمیشہ بڑی شفقت سے پیش آیا کرتے تھے‘ نے ہمیں تسلی دی تھی کہ داخلہ ہو جائے گا۔ اکثر پروفیسر میرے داخلے کے لیے کوشاں تھے مگر سربراہ شعبہ‘ ڈاکٹر عبادت بریلوی صاحب اور دیگر اساتذہ کی اکثریت اس حق میں نہ تھی بلکہ معلوم ہوا کہ انہوں نے سخت الفاظ میں اس داخلے کی مخالفت کی اور طلبہ تنظیم کے خلاف بھی بہت کچھ فرمایا۔ مختصراً یہ کہ شعبہ اردو میں میرا داخلہ فارم مسترد کر دیا گیا۔ اس کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی اور نہ ہی آج تک مجھے معلوم ہو سکی ہے۔ یہ استرداد بڑا مضحکہ خیز اور یونیورسٹی کی مسلمہ روایات کے بالکل برعکس تھا۔ بہت سے طلبہ ایک مضمون میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد کسی دوسرے شعبے میں دوسرا اور تیسرا ایم اے کرنے کے لیے داخل ہو جایا کرتے تھے اور عموماً انہیں فائنل ایئر میں داخلہ ملا کرتا تھا۔ یہ اصول کئی دہائیوں بعد تک بھی برقرار رہا۔ میں نے ایک زبان میں ایم اے کر لیا تھا اور اب دوسری زبان میں ایم اے کرنا چاہتا تھا۔اس موضوع پر پرنسپل کالج ڈاکٹر محمد باقر صاحب سے بات کی۔ ڈاکٹر صاحب سے میرا قریبی نیازمندانہ تعلق تھا اور وہ بھی بہت محبت وشفقت سے پیش آتے تھے۔ میری بات سن کر وہ خوب ہنسے اور پھر کہا &#39;&#39;آپ کے عزائم اردو والوں کو معلوم ہیں‘ اس لیے وہ داخلہ دینے سے ہچکچاتے ہیں۔ میں ایسے چھوٹے سے مسئلے پر ان کے معاملات میں دخل اندازی مناسب نہیں سمجھتا‘ تاہم اگر آپ فارسی میں داخلہ لینا چاہیں تو ابھی آپ کو داخلہ مل جائے گا‘‘۔ جیسا کہ عرض کیا‘ ڈاکٹر باقر صاحب میرے مہربانوں میں سے تھے اور ان سے میں اس طرح بے تکلفی سے بات کر لیا کرتا تھا جس طرح ایک دوست دوسرے دوست سے کر لیتا ہے۔ اس لیے میں نے جواب میں کہا &#39;&#39;سر! پڑھیں فارسی بیچیں تیل‘‘!۔ ڈاکٹر صاحب نے قہقہہ لگایا اور کہنے لگے: بیٹے! آپ کو اس سے کیا غرض کہ مضمون کون سا ہے‘ آپ کو تو داخلہ ہی چاہیے۔پھر ڈاکٹر صاحب کہنے لگے کہ ابھی میرے پاس بارک اللہ خان بیٹھے تھے‘ انہیں تو آپ جانتے ہوں گے۔ میں نے عرض کیا: وہ تو میرے دوست اور برادر بزرگ ہیں۔ جن دنوں ان کا جامعہ پنجاب میں طوطی بولتا تھا ان دونوں وہ میرے گائوں تشریف لائے تھے‘ میں ان دنوں مڈل سکول کا طالب علم تھا۔ ان سے اسی دور سے نیازمندی کا تعلق ہے۔ کہنے لگے: خان صاحب نے فارسی میں داخلہ لے لیا ہے اور میں نے ان سے وہی بات کہی تھی جو آپ مجھے کہہ رہے ہیں‘ یعنی پڑھیں فارسی بیچیں تیل!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_24721193.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>