<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>دہشت گردوں کا تعاقب(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-22/11562</link><pubDate>Tue, 22 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-22/11562</guid><description>سکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع اور پاک افغان سرحدی علاقے میں بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج کیخلاف کارروائیاں کرتے ہوئے خودکش بمباروں کے ایک تربیتی مرکز سمیت دہشتگردوں کے تین ٹھکانوں کو تباہ کر دیا۔ ان کارروائیوں میں 37 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ یہ کارروائی جمعہ کے روز کوہاٹ پولیس لائنز حملے میں افغانستان کے ملوث ہونے کے شواہد کے بعد عمل میں لائی گئی جس میں 25 افراد شہید ہوئے۔ افغانستان کی جانب سے پاکستان میں جاری دہشتگردی کے مسلسل واقعات کے بعد یہ ناگزیر ہو چکا تھا کہ ریاست ان دشمنوں کیخلاف مؤثر اقدامات کرے۔ پاکستانی حکام کی جانب سے رواں ماہ اقوام متحدہ میں جمع کرائی گئی دستاویزات کے مطابق گزشتہ تین برس میں سرحد پار سے ہونیوالے حملوں کے نتیجے میں 4700 سے زائد پاکستانی سکیورٹی اہلکار اور شہری شہید ہو چکے ہیں۔ سکیورٹی حکام کی رپورٹس کے مطابق 2022ء سے 2025ء تک تخریب کاری کی بڑی کارروائیوں اور خودکش حملوں میں 265 افغان شہری ملوث پائے گئے۔ گزشتہ برس (2025ء) دہشتگردی کے دس بڑے واقعات میں مارے گئے تمام 78 دہشت گرد افغان شہری تھے۔ اقوام متحدہ کے ماہرین کی تیارہ کردہ اور سلامتی کونسل کو پیش کی گئی رپورٹس بھی پاکستان کے افغانستان سے متعلق سکیورٹی خدشات کی توثیق کرتے ہوئے یہ واضح کر چکی ہیں کہ افغانستان میں موجود دہشتگرد گروہ پورے خطے کی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ ان رپورٹس کے مطابق افغانستان میں موجود تربیتی مراکز میں القاعدہ اور فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں کو تربیت دی جاتی ہے۔ فتنہ الخوارج کے پاس چھ سے سات ہزار دہشتگرد ہیں‘ جنہیں امریکہ اور نیٹو فورسز کے چھوڑے ہوئے جدید ہتھیاروں تک رسائی حاصل ہے‘ اور اسی اسلحے نے ان کے حملوں کی ہلاکت خیزی میں اضافہ کیا ہے۔ 2020ء میں پاکستان میں دہشتگردی کے 193 واقعات رپورٹ ہوئے مگر اگلے برس‘ جب اگست میں طالبان نے کابل کا اقتدار سنبھالا‘ ان واقعات میں 38 فیصد سے زائد اضافہ ہوا۔ 2022ء میں یہ اضافہ 36 فیصد‘ 2023ء میں 45 فیصد‘ 2024ء میں تقریباً 50 فیصد اور 2025ء میں 34 فیصد پہ پہنچ گیا۔ ایک تھنک ٹینک کی رپورٹ کے مطابق رواں سال جنوری تا اگست دہشت گردی کے 515 واقعات میں 819 افراد شہید ہو چکے۔ پاکستان نے ہمیشہ سفارتی ذرائع سے اس معاملے کو سلجھانے کی کوشش کی لیکن افغان عبوری حکومت کی طرف سے دہشت گردوں کی سرپرستی اور ان کیخلاف کارروائی سے گریز نے پاکستان کو مجبور کیا کہ وہ اپنی بقا کی جنگ خود لڑے۔ اب پاکستان نے اپنے بین الاقوامی حقِ خود ارادیت کا استعمال کرتے ہوئے ایک بار پھر واضح پیغام دیا ہے کہ اگر افغان سرزمین سے مسلح جتھے پاکستان میں داخل ہو کر معصوم لوگوں کو نشانہ بنائیں گے تو پاکستان انکے محفوظ ٹھکانوں کو وہیں تباہ کرنے کا قانونی حق رکھتا ہے۔ خطے میں کشیدگی کو کم کرنے اور امن کی بحالی کا واحد راستہ اب یہی ہے کہ افغان عبوری حکومت دوحہ معاہدے کے تحت کیے گئے اپنے وعدوں پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائے۔ دوحہ معاہدے کی بنیادی روح یہی تھی کہ افغانستان کی سر زمین دنیا کے کسی بھی ملک کیخلاف دہشت گردی‘ حملوں یا مسلح گروہوں کی تنظیمِ نو کیلئے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔اگر اب بھی کابل کی جانب سے غیر ذمہ دارانہ رویہ برقرار رکھا گیا اور دہشت گردوں کی سرگرمیوں پہ روک نہ لگائی گئی تو یہ معاملہ مزید سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے‘ جسکی تمام تر ذمہ داری افغان انتظامیہ پر عائد ہوگی۔ پاکستان ایک پُرامن ہمسایہ ملک کا خواہاں ہے لیکن اپنی بقا‘ سالمیت اور اپنے شہریوں کی حفاظت کیلئے وہ کسی بھی حد تک جانے کا عزم رکھتا ہے اور حالیہ کارروائیوں واضح اعلان ہیں کہ دہشت گردوں کا یہ تعاقب جاری رہے گا۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بجلی کی مسابقت اور چیلنجز(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-22/11561</link><pubDate>Tue, 22 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-22/11561</guid><description>حکومت کا بجلی کی خرید و فروخت سے دستبرداری کا اعلان توانائی کے شعبے میں ایک اہم پیشرفت ہے۔ ابتدائی طور پر ایک میگا واٹ سے بڑے صارفین اس سہولت سے مستفید ہوں گے اور براہِ راست بجلی پیدا کرنیوالی کمپنیوں سے بجلی خرید سکیں گے جبکہ ترسیلی کمپنیاں وہیلنگ ماڈل کے تحت محض ترسیلی چارجز وصول کریں گی۔ بجلی کا وہ فرسودہ نظام‘ جس میں حکومت خود بجلی خرید کر صارفین کو بیچتی ہے‘نہ صرف مسائل کا انبار ثابت ہوا بلکہ اس نظام سے حکومت کو سوائے گردشی قرضوں کے کچھ حاصل نہیں ہوا۔ اب بجلی پیدا کرنیوالے نجی کارخانوں اور بڑے صارفین کو براہِ راست لین دین کی اجازت دینا ایک خوش آئند فیصلہ ہے جس سے مارکیٹ میں صحتمند مسابقت پیدا ہوگی اور ڈوبتی ہوئی صنعتوں کو ایک سہارا میسر آ سکے گا۔ تاہم آئی پی پیز کو دیے جانیوالے کپیسٹی چارجز کے مسئلے کو حل کیے بغیر حکومت کا بجلی کی خریداری سے پیچھے ہٹنا ایک نامکمل فیصلہ ہے۔ دوسری طرف بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کیلئے بھی یہ ایک امتحان ہے اور انہیں بدعنوانی‘ لائن لاسز اور بجلی چوری کا خاتمہ یقینی بنانا ہوگا تاکہ یہ سسٹم کامیاب ہو سکے۔ اگر اس پالیسی پر شفافیت کیساتھ عمل درآمد کیا گیا تو نہ صرف توانائی کے بحران کا پائیدار حل نکل سکتا ہے بلکہ ملکی معیشت کیلئے بھی یہ ایک اہم موڑ ثابت ہو گا۔ اسکا دائرہ کار عام گھریلو صارفین تک بڑھانا حکومت کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے۔ جب تک عام شہری کو مسابقتی نرخوں پر بجلی خریداری کا حق نہیں ملتا‘ ایسی اصلاحات کے حقیقی ثمرات حاصل نہیں کیے جا سکتے۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مہنگائی کے داخلی اسباب(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-22/11560</link><pubDate>Tue, 22 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-22/11560</guid><description>مسابقتی کمیشن کی جانب سے خوردنی تیل اور گھی کی ترسیل کے کرائے غیر منصفانہ طور پر طے کرنے اور کاروبار کو آزادانہ مسابقت کے بجائے پرچی اور باری کے نظام کے تحت چلانے پر خوردنی تیل کی ٹینکر ایسوسی ایشن کو چھ کروڑ کا جرمانہ اس بات کا بیّن ثبوت ہے کہ ملک میں مہنگائی کے ذمہ دار محض بیرونی عوامل نہیں بلکہ داخلی مسائل بھی ہیں۔ ٹینکرز مالکان کی جانب سے ڈیزل کی قیمت میں ایک روپے اضافے پر ٹرانسپورٹ کرایہ 0.75 فیصد جبکہ ایک روپے سستا ہونے کی صورت میں صرف 0.5 فیصد کمی کی جاتی‘ اس طرح چھ سال میں کرایوں کی مد میں کئی گنا تک ناجائز اضافہ کیا گیا۔ اس گٹھ جوڑ کا براہِ راست نتیجہ گھی اور خوردنی تیل جیسی بنیادی اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں نکلا۔ یہ معاملہ واضح کر دیتا ہے کہ ملک میں مہنگائی کی وجہ صرف عالمی منڈی یا پٹرولیم مصنوعات کے نرخ نہیں ہیں بلکہ نظام کے اندر موجود وہ لوپ ہولز بھی مہنگائی کے ذمہ دار ہیں‘ جن کی اوٹ میں عوام کو بیدردی سے نچوڑا جا رہا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ایسے چور راستوں کا مستقل سدباب کیا جائے اور اجارہ داری سے مارکیٹ ریٹ پر اثر انداز ہونے کی کوششوں کو جڑ سے اکھاڑپھینکا جائے۔ جب تک ان اندرونی کارٹلز کا خاتمہ اور لوپ ہولز کو بند نہیں کیا جائے گا تب تک عوام کو مہنگائی کے بھنور سے نجات دلانا ممکن نہیں ہو گا۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پاکٹ منی فلاں جگہ پڑی ہے(محمد اظہارالحق)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-09-22/52706/63796268</link><pubDate>Tue, 22 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-09-22/52706/63796268</guid><description>میں نے حمزہ کو وڈیو کال کی اور لائبریری جانے کا کہا۔ جب وہ لائبریری پہنچ گیا تو میں نے بتایا کہ جو الماری کھڑکی کے ساتھ ہے اس سے اگلی الماری میں اردو شاعری کی کتابیں پڑی ہیں۔ ان میں ایک کتاب &#39;&#39;گلِ نغمہ‘‘ رکھی ہے۔ اسے ڈھونڈو۔ چند لمحوں کے بعد اس نے بتایا کہ &#39;&#39;گلِ نغمہ‘‘ مل گئی ہے۔ تب اسے کہا کہ اس میں تمہاری اس مہینے کی پاکٹ منی پڑی ہے۔ تھوڑی دیر میں اس نے بتایا کہ کتاب میں پڑے اتنے ڈالر مل گئے ہیں۔آسٹریلیا قیام کے دوران‘ اسرار اور معاذ‘ دونوں کے بچوں کو وقتاً فوقتاً پاکٹ منی دیتا رہتا ہوں۔ میری اس حرکت کو بچوں کے ماں باپ زیادہ پسند نہیں کرتے۔ اکثر والدین اس بات پر پختہ یقین رکھتے ہیں کہ نانا نانی‘ دادا دادی بچوں کو جب بھی کچھ کھلائیں پلائیں گے یا جیب خرچ دیں گے یا کسی باغ یا پارک میں لے جائیں گے یا انہیں کوئی ملبوس لے کر دیں گے تو بس بچوں کو خراب (spoil) کریں گے۔ یہ الزام صرف ہمارے ملک میں نہیں‘ پوری دنیا میں لگایا جاتا ہے۔ ایک دفعہ میں اور میری اہلیہ کینیڈا میں ایک ریستوران میں بیٹھے تھے۔ قریب ہی ایک سفید فام‘ عمر رسیدہ خاتون بارہ تیرہ سال کے بچے کے ساتھ بیٹھی تھی۔ بچہ کچھ کھا رہا تھا اور وہ اسے دیکھ دیکھ کر نہال ہوئے جا رہی تھی۔ ہم دونوں اندازہ لگانے لگے کہ بچہ اس خاتون کا پوتا ہے یا نواسہ۔ میں اس کے پاس چلا گیا۔ سلام کر کے پوچھا تو اس نے بتایا کہ نواسہ ہے۔ میں نے کہا کہ والدین الزام لگاتے ہیں کہ ہم بچوں کو خراب کرتے ہیں۔ اس نے مسکر اتے ہوئے جواب دیا &#39;&#39;بالکل! ہم خراب کرتے ہیں اور کریں گے۔ کیوں کہ ہم والدین نہیں بلکہ گرینڈ پیرنٹس ہیں اور گرینڈ پیرنٹس کا یہی کام ہے‘‘۔ یہ جو گزشتہ صدی کے معروف امریکی شاعر اوگڈین ناش (Ogden Nash) کا مشہور قول ہے کہ When grandparents enter the door, discipline flies out the window‘ یعنی جیسے ہی گرینڈ پیرنٹس دروازے سے داخل ہوتے ہیں‘ ڈسپلن کھڑکی کے راستے باہر کود جاتا ہے۔ تو یہ بھی شاعر نے بچوں کے والدین کو خوش کرنے کیلئے کہا ہو گا۔کچھ دن پہلے ایک وڈیو کلپ دیکھا کہ باپ بیٹے کی پٹائی کر رہا ہے کیونکہ بیٹے نے امتحان میں نمبر کم لیے ہیں۔ وقت گزرتا ہے۔ پٹائی کرنے والا باپ دادا بن جاتا ہے۔ مار کھانے والا بیٹا باپ بن جاتا ہے۔ اس کا بیٹا بھی کم نمبر لے کر پاس ہوتا ہے اور وہ جب بیٹے کی پٹائی کرنے لگتا ہے تو دادا درمیان میں آجاتا ہے اور کہتا ہے کہ نمبر کم ہیں تو کیا ہوا‘ پاس تو ہو گیا ہے نا! باپ حیران ہو کر اپنے ماتھے پر چپت رسید کرتا ہے اور بڑبڑاتا ہے کہ کل جس بات پر اسے پیٹا گیا تھا‘ آج اسی بات پر پوتے کو کچھ نہیں کہنے دیتے! آسٹریلیا قیام کے دوران‘ اسرار اور معاذ‘ دونوں کے بچوں کو وقتاً فوقتاً پاکٹ منی دیتا رہتا ہوں۔ پاکستان آنے کے بعد یہ سلسلہ معطل ہو جاتا ہے۔ پچھلے سال انہی دنوں آسٹریلیا میں تھا تو حمزہ پندرہ سال کا ہو گیا۔ سوچا کہ اب ماشاء اللہ بڑا ہو گیا ہے۔ اس کی ضروریات چھوٹے بچوں کی نسبت زیادہ ہوں گی‘ تو ایسا نظام بنایا کہ میرے پاکستان جانے کے بعد بھی اسے جیب خرچ ملتا رہے۔ چنانچہ واپس آنے سے پہلے میں اس کی بارہ ماہ کی پاکٹ منی مختلف جگہوں پر رکھ آیا۔ اپنے کسی کوٹ کی جیب میں‘ کسی دراز میں‘ زیادہ تر کسی کتاب میں! ہر ماہ کے پہلے ہفتے اسے فون پر بتاتا ہوں کہ فلاں الماری میں رکھی فلاں کتاب میں دیکھو۔ یا فلاں کوٹ یا فلاں قمیص کی جیب میں دیکھو۔ یہاں منطقی سوال پیدا ہوتا ہے کہ جیب خرچ حمزہ کی اماں یا ابا کو کیوں نہیں دے آتا کہ وہ ہر مہینے اسے دے دیا کریں۔ ایسا نہ کرنے کی وجہ ہے اور بہت ٹھوس وجہ ہے۔ ایک تو میں پوتوں پوتیوں اور نواسوں نواسیوں کے ضمن میں ان کے والدین پر اعتبار بالکل نہیں کرتا۔ اس لیے نہیں ان کی دیانت پر شبہ ہے‘ بلکہ اس لیے کہ ایک تو وہ بھول جائیں گے اور دوسرے بچوں کی جو اہمیت گرینڈ پیرنٹس کیلئے ہوتی ہے وہ والدین کیلئے نہیں ہوتی۔ جیسا کہ میں نے اپنی تصنیف &#39;&#39;سمندر، جزیرے اور جدائیاں‘‘ میں لکھا ہے کہ نانا دادا‘ نانی دادی کا اتحاد پوتوں پوتیوں‘ نواسوں نواسیوں کے ساتھ فطری ہے۔ بچوں کے والدین بچوں کی باتوں کو اہمیت نہیں دیتے اور کسی حد تک بچوں کے گرینڈ پیرنٹس کی باتوں پر بھی پوری توجہ نہیں دیتے۔ اس کے بر عکس بچے گرینڈ پیرنٹس کی باتوں پر بہت توجہ دیتے ہیں اور گرینڈ پیرنٹس بچوں کی باتوں پر۔ مثلاً ہم میں سے ہر شخص کا مشاہدہ ہے کہ بچہ باپ سے مٹھائی یا کھلونا مانگتا ہے تو باپ‘ جو کام سے تھکا ہوا آیا ہوتا ہے‘ کہتا ہے کہ کل لیتا آؤں گا۔ مگر دادا یا نانا آدھی رات کو بھی گھر سے نکل جاتا ہے‘ مطلوبہ شے لا کر بچے کو دیتا ہے اور پھر تھکاوٹ کا احساس کیے بغیر بچے کو خوش ہوتا دیکھتا ہے تو اسے ایک عجیب‘ آسمانی قسم کی راحت ملتی ہے۔ بچہ ماں سے کہتا ہے کہ اسے حلوہ یا آملیٹ یا پاستا بنا دے تو ماں جو دن بھر کی تھکی ہاری ہے‘ کہتی ہے کہ جو پکا ہوا ہے وہی کھا لو‘ حلوہ یا پاستا کل بنا دوں گی۔ مگر دادی یا نانی اسی وقت اٹھتی ہے اور بچے کی خواہش فوراً پورا کرتی ہے۔ ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ماں باپ زندگی کی گاڑی میں جُتے ہوتے ہیں۔ نوکری‘ کاروبار‘ ہزار افکار و آلام! جبکہ گرینڈ پیرنٹس اکثر و بیشتر ریٹائرڈ ہوتے ہیں اور نسبتاً کم مصروفیات کے حامل!! بچوں کیلئے بھی گرینڈ پیرنٹس کی ہر بات نہایت اہم ہوتی ہے۔ باپ شام کو گھر آئے گا تو بچہ فوراً بتائے گا کہ آج دادا جان گر گئے تھے یا نانو کی دوا ختم ہو گئی ہے۔ دو سال پہلے میری آنکھوں کی جراحی ہوئی تو حمزہ جو تب چودہ برس کا تھا‘ اپنی وڈیو گیم چھوڑ کر دن کا زیادہ حصہ میرے کمرے میں‘ میرے پاس بیٹھ کر گزارتا تھا۔ میں کئی بار کہتا کہ جاؤ باہر کھیلو کودو۔ مگر وہ نہیں مانتا تھا۔ بیمار پڑوں تو نواسی زینب فوراً ایک سخت گیر نرس بن جاتی ہے۔ بخار ہو تو کہیں جانے نہیں دیتی۔ ڈرائیور سے گاڑی کی چابی لے کر اپنے پاس رکھ لیتی ہے۔ ایک بار طبیعت کی ناسازی کے باوجود مجھے شہر سے باہر جانا پڑا۔ پہلے تو اس نے روکنے کی کوشش کی مگر میں نہ رکا۔ ابھی میں گوجر خان کے قریب پہنچا تھا کہ زینب کا فون آیا &#39;&#39;نانا ابو! راستے میں سونے کی کوشش کیجیے ورنہ تھکاوٹ زیادہ ہو گی‘‘۔ میں خدا کی قدرت پر حیران ہوا کہ انسان کیلئے کیسے کیسے محافظ پیدا کیے ہیں۔ سولہ سترہ سال کی بچی اور بڑی بوڑھیوں کی طرح فکر مند!! قدرت انسان سے اس کے ماں باپ‘ نانا نانی‘ دادا دای واپس لیتی ہے تو بدلے میں پوتیاں پوتے‘ نواسیاں نواسے عطا کرتی ہے جو بڑوں کی طرح اس کا خیال رکھتے ہیں۔لیکن سب نانے دادے ایک جیسے نہیں ہوتے۔ کچھ تو بچوں کا شور برداشت ہی نہیں کرتے۔ ایک صاحب کو میں جانتا ہوں جو اپنے بچوں سے کبھی بغلگیر ہوئے نہ نواسے کو کبھی بوسہ دیا۔ شاید میں اس حوالے سے زیادہ حساس ہوں۔ کچھ برس پہلے تاشقند سے ایک سیمینار میں شرکت کی دعوت ملی۔ میں نے معذرت کر لی کیونکہ اس دن حمزہ کی آسٹریلیا کیلئے پرواز تھی اور میں اسے رخصت کرنا زیادہ ضروری سمجھتا تھا۔ اس وقت جب یہ کالم لکھ رہا ہوں‘ چار سالہ رستم اور اڑھائی سالہ آزادِہ نے میرے کمرے ہی میں قیامت کا شور برپا کر رکھا ہے ۔ میں بڑوں کا شور نہیں برداشت کرتا مگر بچوں کے شور میں میری قوتِ تحریر میں اضافہ ہو جاتا ہے‘ بشرطیکہ بچے اپنے ہوں!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_57182973.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>حکمرانوں کے قول و فعل کا تضاد(خالد مسعود خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-09-22/52707/65229680</link><pubDate>Tue, 22 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-09-22/52707/65229680</guid><description>اب تو خیر سوشل میڈیا کا زمانہ ہے اور کوئی چیز زیادہ دیر چھپی نہیں رہتی۔ یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ جھوٹ بہرحال سامنے آ جاتا ہے۔ اس بات پر ضرور بحث ہو سکتی ہے کہ جھوٹ کو کتنے عرصے تک پردے میں رکھا جا سکتا ہے‘ لیکن یہ بات طے ہے کہ سچائی بالآخر سامنے آ جاتی ہے۔ جب سوشل میڈیا کا زمانہ نہیں تھا‘ تب جھوٹ اس تیزی سے آشکار نہیں ہوتا تھا جیسا کہ اب ہو رہا ہے۔ اُس زمانے میں جھوٹ بولنے والے یہ سمجھتے تھے کہ ان کا جھوٹ چھپ جائے گا۔ ویسے بھی ہر جھوٹ بولنے والے کو ہمیشہ یہ خوش فہمی رہی ہے کہ اس کا جھوٹ عیاں نہیں ہو گا‘ یا وہ اسے سچ ثابت کر دے گا‘ لیکن سوشل میڈیا کی مادر پدر آزادی کے دور میں تو اب اس چیز کا امکان مزید کم ہو گیا ہے کہ جھوٹ کو زیادہ دیر تک چھپایا جا سکے۔ہمارے حکمران بلکہ ہمارے کیا‘ دنیا بھر کے حکمران اپنے ہر جھوٹ کے بارے میں یقین رکھتے ہیں کہ بھلا ان کے منہ سے نکلی ہوئی بات جھوٹ کیسے ہو سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کے بھونپو عوام کو یہ بات باور کرانے میں لگے رہتے ہیں کہ ہمارے حکمران معصوم عن الخطا کے درجے پر فائز ہیں‘ اس لیے وہ جھوٹ نہیں بول سکتے لہٰذا ہم لوگوں کا اس بات پر ایمان ہونا چاہیے کہ وہ جو بھی کہہ رہے ہیں بس وہی سچ ہے۔ اگست 1997ء میں لندن کے مشہور جیولر &#39;&#39;شاٹیلا‘‘ (Chatila) سے ہیروں اور نیلم کا ایک قیمتی سیٹ جس میں ایک نیکلس‘ بالیاں‘ کڑا اور ایک انگوٹھی شامل تھی‘ خریدا گیا۔ خرید کے وقت اس کی قیمت ایک لاکھ 17 ہزار برطانوی پاؤنڈز یعنی آج کے حساب سے تقریباً 4 کروڑ 35 لاکھ روپے تھی۔ ان زیورات کی قیمت کا کچھ حصہ نقد اور بقیہ رقم بومر فنانس نامی آف شور کمپنی کے ذریعے اداکی گئی‘ جس کے بینیفشل آصف علی زرداری تھے۔ زرداری صاحب کی کمپنی کی جانب سے ادائیگی کے باعث اس جیولری سیٹ کی ملکیت کی کڑیاں بینظیر بھٹو سے جا ملتی تھیں۔ اس دور میں اس نیکلس کا بہت زیادہ شور اٹھا۔ اپوزیشن اس نیکلس کی ملکیت‘ اس کی قیمت‘ اس کی خریداری اور اتنی بڑی رقم کے بارے میں سوالات اٹھانے لگ گئی۔ جب یہ شور وغوغا زیادہ بلند ہوا تو بینظیر بھٹو نے بڑے واضح الفاظ میں اس قسم کے کسی نیکلس کی خریداری اور ملکیت سے صاف انکار کر دیا۔ انہوں نے بڑے تیقن سے کہا کہ ان کے پاس ایسا کوئی نیکلس نہیں اور یہ سب الزامات ان پر بہتان ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ساری باتیں محض الزام کی حیثیت رکھتی ہیں جو اپوزیشن ان کی سیاسی کردار کشی کے لیے ان پر لگا رہی ہے‘ ان کا دامن اس قسم کی چیزوں سے پاک ہے اور وہ ایسی کسی بھی شے کی ملکیت سے انکار کرتی ہیں۔ ان کے اس بیان پر پیپلز پارٹی کے ڈھنڈورچیوں نے بھی یہ بیان کورس کی شکل میں دہرانا شروع کر دیا کہ بی بی کی ملکیت میں کوئی نیکلس ویکلس نہیں اور یہ سارے الزامات جھوٹ پر مبنی ہیں۔ تین ماہ بعد نومبر 1997ء میں مسلم لیگ کی حکومت آ گئی۔ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے خلاف ایس جی ایس اور کوٹیکنا کرپشن کیسز کی تحقیقات شروع ہو گئیں۔ جون 1998ء میں سوئس عدالت کے تفتیشی جج کی ہدایت پر یہ زیورات بینک لاکر سے نکال کر سوئس حکام کے حوالے کر دیے گئے۔ اگست 2003ء میں عدالت نے منی لانڈرنگ کے الزام میں آصف علی زرداری اور بینظیر بھٹو کو چھ ماہ کی معطل شدہ سزا سناتے ہوئے ان کے اکاؤنٹس منجمد کر دیے اور غیر قانونی رقم سے خرید کردہ ان زیورات کو حکومتِ پاکستان کے حوالے کرنے کا حکم دیا۔ بعد ازاں ان زیورات کی ملکیت سے انکار کرنے والی بینظیر بھٹو نے پینترا بدلتے ہوئے کہا کہ انہیں یہ زیورات ان کے شوہر آصف زرداری نے تحفے میں دیے تھے مگر انہوں نے یہ تحفہ قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ (نومبر 2014ء میں بومر فنانس نامی آف شور کمپنی نے ان زیورات کی ملکیت کا دعویٰ کر دیا مگر عدالت نے ان کی ملکیت کا دعویٰ مسترد کرتے ہوئے ان زیورات کو آصف زرداری اور بینظیر بھٹو کی ملکیت قرار دیا)۔ جب ملکیت کا معاملہ کھل کر آشکار ہو گیا تو بینظیر بھٹو نے فرمایا کہ وہ تین پشتوں سے وزیراعظم ہیں‘ کیا وہ ایک نیکلس بھی نہیں خرید سکتیں؟ پیپلز پارٹی کے جیالوں نے بجائے یہ سوال کرنے کے کہ پہلے غلط بیانی کیوں کی اور بعد میں عدالتی فیصلے کے بعد ان کو کیسے یاد آیا کہ وہ تین پشتوں سے وزیراعظم ہیں اور یہ سیٹ خرید سکتی ہیں‘ دوبارہ کورس میں راگ الاپنا شروع کر دیا کہ ان کی لیڈر تین پشتوں سے وزیراعظم ہیں کیا وہ زیورات کا ایک سیٹ بھی نہیں خرید سکتیں؟ تب اس جھوٹ کا پردہ مکمل طور پر فاش ہونے میں سترہ سال کا عرصہ لگا۔ لیکن اب سوشل میڈیا کی تیز رفتاری نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا ہے۔ایک چینی کہاوت ہے کہ اگر آپ بنیاد ٹیڑھی رکھیں تو اس کے بعد دیوار کو خواہ آسمان تک لے جائیں‘ وہ سیدھی نہیں ہو سکتی۔ اسی طرح اگر آپ کسی بات کی بنیاد جھوٹ پر رکھیں تو اس پر سچائی کی دیوار کبھی بھی سیدھی کھڑی نہیں کی جا سکتی۔ ایک جھوٹ کو چھپانے کے لیے جھوٹ در جھوٹ کی ضرورت پڑتی ہے جبکہ سچ اپنی دلیل خود ہوتا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے حکومت پنجاب کے ملکیتی سرکاری جہاز پر لندن میں اپنی بیٹی کی گریجوایشن کے سو فیصد ذاتی دورے کے بعد کہا کہ ہاں! میں سرکاری جہاز پر لندن گئی تھی اور میں آئندہ بھی اس پر جاؤں گی۔ آخر میں ناقدین کو چڑانے کے لیے کہا &#39;&#39;تھینک یو ویری مچ‘‘۔ یہ قلمکار وزیراعلیٰ کی اس گفتگو پر صرف لکھ ہی سکتا ہے وزیراعلیٰ کو روک تو نہیں سکتا۔ تاہم صرف اتنی عرض ہے کہ اگر یہ بیان اس جہاز کی خرید کے روزِ اول ہی دے دیا جاتا تو طبلچیوں کو سو پینترے بدل بدل کر جھوٹ نہ بولنا پڑتا۔ اس جہاز کا جو سفر پنجاب ایئرلائن سے شروع ہوا تھا‘ اس کا اختتام لندن کے ذاتی دورے پر نہ کرنا پڑتا۔ بیان آیا کہ اس دورے پر خرچ ہونے والے تمام تر اخراجات جو کہ مبلغ پونے تین کروڑ روپے بنتے تھے‘ وزیراعلیٰ نے اپنی جیب سے ادا کیے ہیں۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ جب میاں نواز شریف وزارتِ عظمیٰ کے دوران لندن سے اپنا علاج کروا کر واپس آئے تو ان کے کسی وزیر نے اسمبلی میں یہی بیان دیا تھا کہ اس علاج اور دورے کے سارے اخراجات میاں نواز شریف صاحب نے ذاتی جیب سے ادا کیے ہیں۔ بعد میں علم ہوا کہ دیگر سارے اخراجات کے علاوہ لندن میں رہائش پذیر دو عدد خوشحال بیٹوں کے ہوتے ہوئے ایک علیل باپ نہ صرف بازار سے سرکاری خرچ پر کھانا منگواتا رہا بلکہ فیکس‘ ٹیکسی اور اخبارات وغیرہ کے بل بھی حکومتِ پاکستان کے کھاتے سے ادا کیے گئے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایسے عالم میں جب قوم کو سادگی اور بچت کا بھاشن بھی سنایا جا رہا ہے اور &#39;&#39;میرا پیسہ، میری مرضی‘‘ پر قدغن لگاتے ہوئے امرا اور صاحبِ حیثیت افراد کو بھی شادی پر ون ڈش کا پابند کیا جا رہا ہے‘ حکمران خواہ اپنا پیسہ ہی سہی‘ اس طرح لگژری جہاز کے سفر پر کس طرح لٹا سکتے ہیں؟ کیا حکمرانوں کے بھاشن‘ پابندیاں‘ نصیحتیں اور دعوے صرف عوام کے لیے ہیں؟ جب تک حکمران خود مثال قائم نہیں کرتے‘ ان کی کسی بات کا نہ کوئی اثر ہے اور نہ ہی کوئی فائدہ ہے۔ حکمرانوں کے قول و فعل میں تضاد ہو تو عوام سے کسی اچھائی کی توقع رکھنا عبث ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90500073.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>