<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>مہنگائی اور معاشی نمو کے چیلنجز(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-24/11568</link><pubDate>Thu, 24 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-24/11568</guid><description>ایشین ڈویلپمنٹ بینک کی ’ ایشین ڈویلپمنٹ آؤٹ لک‘ میں پاکستان کی معیشت کیلئے محتاط نوعیت کی تصویر پیش کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی معاشی شرحِ نمو مالی سال 2026ء میں 3.7 فیصد رہی اور مالی سال 2027ء میں بھی 3.7 فیصد رہنے کی توقع ہے۔ یہ حکومت کے بجٹ ہدف‘ 4 فیصد سے کم ہے۔ رپورٹ میں پاکستان کیلئے سب سے اہم خدشات میں مہنگائی کو نمایاں کیا گیا ہے۔ مالی سال 2026ء میں اوسط مہنگائی 7.1 فیصد رہی جبکہ مالی سال 2027ء میں یہ بڑھ کر 8.3 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ یہ سٹیٹ بینک کے 5 سے 7 فیصد کے درمیانی مدت کے ہدف کی حد سے بھی زیادہ ہے۔ توانائی‘ خوراک‘ لاجسٹکس اور زرعی اجناس کی بڑھتی ہوئی لاگت مہنگائی پر دباؤ برقرار رکھ سکتی ہے۔ تاہم ایشین ڈویلپمنٹ بینک نے پاکستان کی معیشت میں بعض مثبت پیشرفتوں کا ذکر بھی کیا ہے‘ مثال کے طور پر مالی سال 2026ء میں صنعت اور خدمات کے شعبوں میں بہتری آئی جبکہ زراعت نے سیلاب سے ہونے والے نقصانات کے باوجود 2.9 فیصد نمو حاصل کی‘ نجی سرمایہ کاری میں بھی 8.6 فیصد اضافہ ہوا۔

علاوہ ازیں زرِمبادلہ کے ذخائر میں بہتری‘ سرمائے کی عالمی منڈیوں تک دوبارہ رسائی اور پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کو معاشی استحکام کیلئے مثبت عوامل قرار دیا گیا ہے۔تاہم مشرقِ وسطیٰ کا تنازع پاکستانی معیشت کیلئے ایک بڑا بیرونی خطرہ ہے۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ درآمدی بل اور مہنگائی میں توقع سے زیادہ اضافے کا سبب بن رہا ہے جبکہ خلیجی ممالک میں معاشی سرگرمیاں متاثر ہونے سے ترسیلاتِ زر پر بھی دباؤ پڑ سکتا ہے۔ ٹیکس وصولیوں میں کمی‘ عالمی مالیاتی حالات میں سختی‘ موسمیاتی اثرات اور توانائی و سرکاری اداروں کی اصلاحات میں تاخیر بھی خطرات میں شامل ہیں۔ مجموعی طور پر ایشین ڈویلپمنٹ آؤٹ لک یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان نے معاشی استحکام کی جانب کچھ پیشرفت ضرور کی ہے لیکن تیز رفتار اور پائیدار ترقی کیلئے اصلاحات کا تسلسل‘ مہنگائی پر قابو اور بیرونی جھٹکوں سے تحفظ اب بھی بنیادی چیلنج ہیں۔ پاکستان جیسا ملک‘ جو خام مال سے لے کر پٹرولیم مصنوعات اور مشینری تک‘ سب کچھ باہر سے منگواتا ہے‘ کیلئے مشرق وسطیٰ کا بحران اور تجارتی گزرگاہوں میں رکاوٹیں دہری تشویش کا باعث ہیں۔
ایک جانب عالمی منڈی میں جہاز رانی کے کرایوں اور انشورنس کی قیمتوں میں اضافے کا براہِ راست اثر درآمدی بل پر پڑے گا‘ اسکے نتیجے میں تجارتی خسارہ مزید وسیع ہونے اور روپے کی قدر پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔ دوسری جانب درآمدی اشیا مہنگی ہونے سے ملک میں مہنگائی کی ایک نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔ لہٰذا یہ خدشہ حقیقت پر مبنی ہے کہ اگر عالمی سپلائی چین کے حالات سازگار نہ ہوئے تو کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس دوبارہ بگڑ سکتا ہے جو آئی ایم ایف پروگرام کے اہداف کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ ایشین ڈویلپمنٹ بینک نے پاکستان کے داخلی معاشی مسائل کا احاطہ کرتے ہوئے محصولات میں کمی اور سرکاری ملکیتی اداروں میں اصلاحات میں غیر معمولی تاخیر کو بڑے چیلنجز قرار دیا ہے۔ سرکاری ملکیتی اداروں کا خسارہ مالی سال 2025ء میں 832 ارب روپے سے زائد رہا۔ ان اداروں کی نجکاری اور اصلاحات میں تاخیر قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا رہی ہے۔ یہ وہ سٹرکچرل خرابیاں ہیں جنہیں دور کیے بغیر معیشت کو دلدل سے نہیں نکالا جا سکتا۔
یہ درست کہ بیرونی حالات یا عالمی منڈی کی قیمتوں کو کنٹرول نہیں کیا جا سکتا لیکن داخلی اصلاحات مکمل طور پر حکومت کے دائرہِ اختیار میں ہیں۔ اگر بیرونی جھٹکوں اور انکے خدشات کو محدود کرنا ہے تو داخلی پالیسیوں کو سدھارنا ہوگا۔ معاشی ترقی کا استحکام سخت داخلی اصلاحات سے ہو کر گزرتا ہے۔ اگر اب بھی مصلحت پسندی سے کام لیا گیا اور ادارہ جاتی اصلاحات میں تاخیر کی گئی تو عبوری معاشی بحالی کا یہ موقع بھی ہاتھ سے نکل جائے گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مکہ معاہدہ، پاکستان پر اعتماد(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-24/11567</link><pubDate>Thu, 24 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-24/11567</guid><description> مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے پہلے سیکرٹری جنرل کی ذمہ داری پاکستان کو ملنا ملکِ عزیز پر برادر ممالک کے اعتماد کی علامت اور اس اہم ترین سہ فریقی مشترکہ دفاعی معاہدے کو آپریشنل بنانے کی جانب ایک بڑی پیشرفت ہے۔ دفاعی معاہدے کا سیکرٹریٹ ریاض میں قائم کیا جائے گا اور اس اتحاد کے پہلے سیکرٹری جنرل کے لیے پاک فوج کے لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود کو منتخب کیا گیا ہے۔ پاکستان پر اس اعتماد کی وجہ اس کی دفاعی صلاحیت‘ طویل عسکری تجربہ‘ خطے میں بڑھتا ہوا سفارتی کردار اور سعودی عرب اور ترکیہ‘ دونوں کے ساتھ دیرینہ دفاعی تعلقات جیسے عوامل ہیں۔ سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے پاکستان کو ادارہ جاتی نظم‘ باہمی رابطہ کاری‘ مشترکہ دفاعی تعاون اور سیاسی عزم کو عملی شکل میں ڈھالنے کا بھرپور موقع ملے گا۔

دنیا کے لیے اس تقرری کا بنیادی پیغام یہی ہے کہ مکہ معاہدہ محض ایک اعلامیہ نہیں بلکہ ادارہ سازی کے مرحلے میں باقاعدہ طور پر داخل ہو چکا ہے۔ دفاعی معاہدے کے خدوخال واضح ہونے کے بعد اس اتحاد کو مزید وسعت دینے کا عندیہ بھی دیا گیا ہے اور اگر دیگر علاقائی اور مسلم ممالک بھی اس اتحاد کا حصہ بنتے ہیں تو بلاشبہ یہ مسلم دنیا کا سب سے بڑا اور مؤثر دفاعی بلاک بن جائے گا‘ جو خطے میں توازن برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ ریاض میں مکہ دفاعی معاہدے کے پاکستانی سیکرٹری جنرل کی موجودگی تین برادر ممالک کے مشترکہ دفاعی عزم کو مضبوط اور مؤثر ادارے میں ڈھالنے کا سبب بنے گی۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سموگ کا موسم(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-24/11566</link><pubDate>Thu, 24 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-24/11566</guid><description>فضائی آلودگی کے اشاریوں کے مطابق 22 ستمبر کو لاہور 171 ایئر کوالٹی انڈیکس کے ساتھ دنیا کا آلودہ ترین شہر تھا۔ ہر سال کے آخری تین چار مہینوں میں لاہور سمیت پنجاب کے بیشتر اضلاع سموگ کی لپیٹ میں آجاتے ہیں۔ اور اس آلودہ فضا میں سانس لینے والے شہری آنکھوں‘ گلے اور پھیپھڑوں کے امراض کے ساتھ ساتھ دل اور سانس کی سنگین بیماریوں کے خطرات سے دوچار ہوتے ہیں۔ ماحولیاتی ماہرین فصلوں کی باقیات جلانے‘ گاڑیوں کے دھویں‘ صنعتی اخراج‘ بھٹوں‘ تعمیراتی گردوغبار اور کوڑا کرکٹ جلانے کو آلودگی کے بڑے اسباب قرار دیتے ہیں۔ لاہور میں فضائی آلودگی کا سب سے بڑا سبب ٹریفک اور گاڑیوں کا دھواں ہے‘ جس کا حصہ مختلف رپورٹس کے مطابق تقریباً 83 فیصد تک ریکارڈ کیا گیا ہے۔

حکومت کو چاہیے کہ سموگ کے تدارک کیلئے سموگ گنز اور اس جیسے دیگر اقدامات کیساتھ ساتھ دھواں چھوڑنے والی گاڑیوںکے خلاف کارروائی عمل میں لائے۔ جس طرح ٹریفک قوانین کی چھوٹی سی خلاف ورزی پر بھی بھاری چالان کیے جاتے ہیں‘ دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں پر بھی بھاری جرمانے عائد کیے جائیں تاکہ ان کے مالکان اگر ماحولیاتی تحفظ کیلئے گاڑیوں کی بروقت سروس پر دھیان نہیں دیتے تو کم از کم جرمانوں سے بچنے کیلئے ہی دھیان دیں اور ٹریفک کی وجہ سے پھیلنے والی آلودگی کم ہو سکے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>حسینۂ عالم سے ایک ملاقات(محمد اظہارالحق)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-09-24/52718/20045701</link><pubDate>Thu, 24 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-09-24/52718/20045701</guid><description>بہت مشکل سے ملاقات کا وقت طے ہوا۔اس لیے کہ اس حسینہ سے ملنا آسان نہ تھا۔ ایک تو حسن بے پناہ! رنگت جیسے مکھن میں سیندور ملا ہو! بال سنہری‘ نرم اور ریشمی‘ جن سے نکلتی ہوئی خوشبو قریب آنے والے کو بے سُدھ کر دے۔ چہرہ جاڑے کی دھوپ جیسا۔ دوسرے حسینہ کی مصروفیت! دنیا اس سے ملاقات کیلئے بے تاب اور قطار میں کھڑی ہوئی! کوئی برسوں سے اور کوئی مہینوں سے! جس محل میں وہ رہ رہی تھی اس کی وسعت اور طرزِ تعمیر کے کیا ہی کہنے!! کئی منزلہ عمارت! کئی کمرے‘ کئی حمام اور گاڑیوں کیلئے کئی اصطبل! غلام‘ حاجب‘ نقیب‘ چوبدار بے شمار! جس دن میری ملاقات طے تھی‘ میں صبح صبح حاضر ہو گیا۔ مگر مجھے بتایا گیا کہ حسینۂ عالم کی کچھ مصروفیات اچانک پیش آ گئیں اس لیے مجھے دس دن انتظار کرنا ہو گا۔ میں نے انتہائی بے بسی اور بے کسی سے عرض کیا کہ میں بہت دور سے آیا ہوں۔ اگر اپنے ملک واپس گیا اور پھر آیا تو اخراجات میری استطاعت سے باہر ہو جائیں گے۔ ملک میرا دور بھی بہت ہے۔ جنوبی ایشیا کا آخری کنارا! دلکش چہرے والی سیکرٹری مسکرائی۔ پھر اس نے بتایا کہ حسینۂ عالم کے احکام یہ ہیں کہ جو ایک بار ملا قات کیلئے آ جائے‘ اسے ملاقات تک یہیں ٹھہرایا جائے۔ یہ پروٹوکول کا لازمی حصہ ہے۔ کچھ دیر کے بعد ایک نوجوان خاتون اٹھلاتی‘ بل کھاتی آئی اور مجھے ساتھ آنے کیلئے اشارہ کیا۔ کئی راہداریاں اور کمرے عبور کرنے کے بعد‘ برقی سیڑھیوں کے ذریعے ہم محل کی چوتھی منزل پر پہنچے۔ اس منزل پر بھی ہم کافی دیر چلتے رہے۔ بالآخر ایک وسیع و عریض اپارٹمنٹ میں پہنچ کر اس نے بتایا کہ یہ ہے دس دن کیلئے میری قیام گاہ! اپارٹمنٹ کی وسعت دیکھ کر میں حیران ہوا۔ اس میں چار بیڈ روم تھے۔ کچن تھا اور بہت بڑا ڈرائنگ روم! ایک طرف جم تھا دوسری طرف سنیما جو صرف میرے لیے تھا۔ سنیما کے ملازم کے پاس ہزاروں فلمیں تھیں۔ نئی‘ پرانی‘ تاریخی‘ رومانی‘ سنسنی خیز اورجاسوسی بھی! چار حسینائیں میری دیکھ بھال کیلئے وقف تھیں۔ ایک کھانا پکانے کیلئے۔ دوسری صفائی کیلئے۔ تیسری میرے وارڈ روب کی انچارج تھی اور چوتھی ٹیلی فون آپریٹر۔ دنیا میں کہیں بھی فون کرنا ہو‘ یہ خاتون ملا کر دے گی۔ بتایا گیا کہ ایک مرسیڈیز مع ڈرائیور ہر وقت تیار ملے گی۔ یہ تمام سہولتیں‘ بلکہ تعیشات مفت تھیں۔ مجھے ایک پائی بھی نہیں ادا کرنی ہو گی۔ کھانے پینے کا سامان‘ گروسری اور اکل و شرب کے دیگر امور سب اس خاتون کے ذمے ہوں گے جو باورچی خانے کی انچارج ہے۔ہاں یہ تو بتانا بھول ہی گیا کہ یہ حسینۂ عالم‘ جس سے ملاقات کیلئے میں دور دراز کا سفر طے کر کے آیا تھا اور جس کیلئے دس دن انتظار کرنا تھا‘ اس کا نام آئی ایم ایف تھا‘ یعنی انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ!! میں جب اس کے محل میں داخل ہوا تھا تو غیظ و غضب سے بھرا ہوا تھا۔ مجھے اس سے پوچھنا تھا کہ میرے ملک کے عوام سے اسے آخر کیا دشمنی تھی۔ میرے سوالات ایسے تھے جن کا اس کے پاس‘ میرے خیال میں‘ کوئی جواب ہی نہیں ہونا تھا۔ میری نظر میں یہ حسینہ‘ یعنی آئی ایم ایف استعمار کی باندی تھی اور امیر ملکوں کی‘ خاص کر امریکہ کی‘ ایجنٹ تھی۔ اسے بے نقاب کرنا میری آمد کا مقصد تھا۔ لیکن میری قیام گاہ اور اس سے وابستہ سہولتیں میرے دل کو آہستہ آہستہ‘ غیر مرئی طریقے سے لبھا رہی تھیں! سب کچھ ایک خواب کی طرح لگ رہا تھا۔ یہ پرستانی زندگی تھی۔ مرسیڈیز مجھے خوبصورت مقامات پر لے جاتی۔ ناشتے میں بیسیوں آئٹم ہوتے۔ رات کا ڈنر کبھی کسی بڑے افسر کے گھر میں‘ کبھی کسی سات ستارہ ہوٹل میں‘ چار کنیزیں ہر وقت حکم کی منتظر رہتیں۔ وہ ہر روز ایسے ملبوسات پہن کر آتیں جو ملکوں کے حکمرانوں کی بیگمات بھی نہیں برداشت کر سکتی تھیں۔ ہر شام کہیں نہ کہیں مجھے کسی محفلِ رقص و سرود میں لے جایا جاتا۔ پلنگ ایسا جیسے پانی پر بچھا ریشمی گدا ہو۔ ہوتے ہوتے میرے دل میں حسینۂ عالم کیلئے نرم گوشہ پیدا ہونے لگا۔ ابھی چھ دن بھی نہ گزرے تھے کہ میرے خیالات میں تبدیلی آنا شروع ہو گئی۔ مجھے حسینۂ عالم ایک نیک دل‘ فیاض اور انسان دوست خاتون نظر آنے لگی۔ انسان دوست نہ ہوتی تو اسے کیا ضرورت تھی کہ مجھ جیسے عام‘ دو ٹکے کے کالم نگار کو اتنا شاہانہ پروٹوکول دیتی جب کہ میں اس سے دو دو ہاتھ کرنے کیلئے آیا ہوں۔ دس دن ختم ہونے تک میں پوری طرح اس کا عقیدت مند اور سپاس گزار ہو چکا تھا۔ اب میں اسے اپنا محسن سمجھنے لگا تھا اور سوچ رہا تھا کہ جو کچھ میرے ایجنڈے پر ہے اور جو کچھ کہنے کیلئے میں آیا تھا‘ وہ کتنا غیر مناسب ہے۔گیارہویں دن ملاقات ہوئی۔ حسینۂ عالم ایک پری لگ رہی تھی۔ میں نے اسے قریب سے دیکھا اور دم بخود رہ گیا۔ آسمانی حسن‘ نیکی اور فیاضی کا امتزاج!! اس کے ارد گرد اس کے مشیر کھڑے تھے۔ اس نے تاخیر سے ملنے کی معذرت کی اور پوچھا کہ میں کیا چاہتا ہوں۔ میں نے ریشہ خطمی ہوتے ہوئے عرض کیا کہ آپ کے جو احسانات ہیں میری قوم پر‘ بس ان کا شکریہ ادا کرنے حاضر ہوا ہوں! حسینہ مسکرائی اور کہا &#39;&#39;جناب کالم نگار! ایسی بات نہیں۔ میرے مشیروں نے آپ کے کالموں‘ سوشل میڈیا پر بکھرے ہوئے آپ کے خیالات اور تقریبات میں آپ کی گفتگوؤں کا بھرپور مطالعہ کیا ہے۔ مجھے معلوم ہے آپ کیا سوچ کر آئے تھے اور یہ دس دن مہمان نوازی اور خاطر داری کے بھی ایک خاص مقصد کیلئے تھے۔ آپ کا مجھ پر سب سے بڑا اعتراض یہ تھا کہ میں تنخواہوں اور پنشن کے اضافے کی اجازت نہیں دیتی۔ پٹرول اور بجلی گیس کے نرخ بڑھوا کر عوام کی زندگی جہنم بنا رہی ہوں مگر اعیانِ حکومت کی عیاشیوں پر اعتراض نہیں کرتی۔ وہ قومی خزانے کو اپنے اور اپنے متعلقین پر بے دردی سے لٹاتے ہیں۔ جہاز خریدتے ہیں۔ چارٹرڈ جہازوں پر سفر کرتے ہیں۔ پورے پورے خاندان سرکاری خرچ پر پل رہے ہیں۔ ان کے غیرملکی دوروں پر اربوں خرچ ہو رہے ہیں۔ ایوانِ صدر اور وزیراعظم ہاؤس کے روز افزوں بجٹ پر میں اعتراض نہیں کرتی۔ ارکانِ پارلیمنٹ کی فلک بوس تنخواہوں اور مراعات کی طرف نہیں دیکھتی۔ تو جناب کالم نگار! میں کوئی مصلح یا ریفارمر نہیں۔ میں استعمار کی کنیز ہوں۔ میں اگر آپ کے حکمرانوں کی عیاشیاں ختم کر دوں تو آپ کا ملک اپنے پیروں پر کھڑا ہو جائے گا۔ آپ کے حکمرانوں کی نیتیں صاف ہو جائیں گی۔ قرضے ان کی عیاشیوں پر نہیں‘ عوام کی فلاح و بہبود پر صرف ہوں گے۔ اگر پاکستان خوشحال ہو جائے تو پھر مغربی ممالک کی اقتصادی غلامی کا خاتمہ ہو جائے گا۔ یہی تو میں اور میرے مالکان نہیں چاہتے۔ میرا منصوبہ یہ ہے کہ پاکستان جیسے ملک غربت کے سمندر میں ڈوب کر مریں نہ باہر نکل سکیں۔ بس منہ پانی سے باہر رہے تا کہ سانس لیتے رہیں۔ یوں وہ ہمیشہ کیلئے میرے غلام رہیں گے۔ ابھی تمہارے وزیراعظم سپیشل جہاز پر لندن گئے ہیں۔ جہاز خالی واپس گیا ہے۔ وہ کچھ دن لندن ٹھہریں گے۔ پھر امریکہ میں جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔ واپسی پر پھر کچھ دن لندن ٹھہریں گے۔ لندن اور دبئی تمہارے حکمرانوں کے اصلی وطن ہیں۔ پاکستان تو ان کی جاگیر ہے۔ ابھی اربوں روپے کی بلٹ پروف گاڑیاں خریدی جا رہی ہیں۔ کیا مجھے یہ سب معلوم نہیں؟ کیا میں اندھی ہوں؟ حکمرانوں اور ارکانِ پارلیمنٹ کا طرزِ زندگی عام آدمی جیسا ہو جائے تو پاکستان سنگا پور‘ نیوزی لینڈ آئر لینڈ اور سکینڈے نیویا جیسا ہو جائے۔ یہی تو معاشی استعمار نہیں چاہتا۔ اور ہاں! یہ مرسیڈیز جو آپ یہاں استعمال کر رہے تھے‘ آپ کے گھر پہنچ جائے گی۔ مجھے امید ہے آپ کی آئندہ تحریریں میرے حق میں ہوں گی!!‘‘۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_57182973.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ترقی کی حقیقی بنیاد(خالد مسعود خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-09-24/52719/92890772</link><pubDate>Thu, 24 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-09-24/52719/92890772</guid><description>اگر کسی کا خیال ہے کہ میں صوبہ پنجاب میں ہونے والی انفراسٹرکچر کی ترقی اور بہتری کے خلاف ہوں تو یقین کریں ایسا ہرگز نہیں۔ میں ذاتی طور پر پورے پاکستان کے‘ پنجاب بھر کے اور سب سے بڑھ کر ملتان کے انفراسٹرکچر کی ترقی کا نہ صرف خواہاں ہوں بلکہ اس سلسلے میں لکھتا بھی رہتا ہوں اور لکھتا رہوں گا۔ وہ اس لیے کہ بطور قلم کار یہ ہماری اخلاقی اور پیشہ ورانہ ذمہ داری ہے کہ ہم ہر ایسی ترقی اور عمل کے شانہ بشانہ اپنی لکھنے کی صلاحیت کو استعمال کریں جو عوام الناس کے فائدے اور سہولت کیلئے ہے۔ گزشتہ دنوں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف ملتان تشریف لائیں۔ اسے آپ میری خوش قسمتی کہیں کہ میں ملتان میں نہیں تھا۔ خوش قسمت اس لیے کہ گزشتہ کئی عشروں سے یہ عاجز دیکھ رہا ہے کہ جب بھی حکمران اس شہر کا دورہ کرتے ہیں‘ دن کا آدھا وقت سڑکوں پر گزارنے والا یہ مسافر ہر دوسرے چوک پر تنگ و پریشان ہوتا ہے۔ سڑکوں کی بندش اور وی آئی پی رُوٹ لگنے سے جو پریشانی اٹھانی پڑتی ہے اسے بدقسمتی کے سوا بھلا اور کیا کہا جا سکتا ہے ؟ میں یہ بات موجودہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے حوالے سے نہیں بلکہ عشروں سے حکمرانوں کے ذہن میں عوام سے بلند تر ہونے کے فتور میں مبتلا ہونے کے حوالے سے کہہ رہا ہوں۔ ہمارے حکمرانوں کے دماغ میں سمایا ہوا کمپلیکس کم ہونے کے بجائے روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔ اس شوق کو بلیوبک کے ضابطوں اور سکیورٹی کے نام پر مزید پروان چڑھایا جا رہا ہے۔ تاہم یہ ایک علیحدہ موضوع ہے فی الوقت وزیر اعلیٰ پنجاب کے دورہ ٔملتان کی بات کر رہا ہوں۔ اس دورے میں وزیر اعلیٰ نے جہاں نشتر ہسپتال میں پی ای ٹی سکین اور کینسر یونٹ کا فیتہ کاٹا وہیں انہوں نے ملتان میں گرین بسوں کے ساٹھ بسوں پر مشتمل فلیٹ اور اس کے روٹس کا افتتاح بھی کیا۔ اب ظاہر سی بات ہے ان الیکٹرک بسوں کی ملتان آمد سے کس طرح اختلاف کیا جا سکتا ہے اور کیا جانا بھی نہیں چاہیے۔ بہرحال یہ بسیں ہماری اور آپ کی سہولت کے لیے بھیجی گئی ہیں اور یہ ہمارے ہی کام آئیں گی۔ صاف سی بات ہے کہ جن کے پاس گلف سٹریم G500 قسم کے جہاز ہوں وہ زمینی مخلوق کی طرح ان بسوں پر کیسے سواری کر سکتے ہیں ؟ چاہے یا نہ چاہے‘ یہ بسیں بہرحال ہمارے ہی لیے دی گئی ہیں اور اس سے ہمیں ہی فائدہ اٹھانا ہے‘ لیکن! معاف کیجیے گا اچھی بھلی گفتگو کے دوران جب لفظ &#39;&#39;لیکن‘‘آتا ہے تو اس کے بعد لامحالہ اعتراضات کا دفتر کھل جاتا ہے۔ مجھے بسوں پر کوئی اعتراض نہیں تاہم ترجیحات کے معاملے میں یہ قلم کار اگر کچھ عرض کرے تو اسے تعصب کی نظر سے دیکھنے کے بجائے حقائق کی نظر سے دیکھا جائے تو بہت مناسب ہوگا۔میری اس تعصب سے مراد دو طرفہ تعصب ہے۔ وہ لکھنے والے کی طرف سے بھی ہو سکتا ہے اور پڑھنے والے کی طرف سے بھی۔ لکھنے والے کو وہ سہولت حاصل نہیں جو پڑھنے والے کو حاصل ہے۔ لکھنے والا ایک وسیع تر تناظر میں ساڑھے تیرہ‘ چودہ سو الفاظ کی پابندی میں رہتے ہوئے کسی واقعے یا صورتحال کے بارے میں لکھتا ہے‘ جگہ اور الفاظ کی پابندی ‘اس واقعے یا صورتحال کے بارے میں اسی کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے لکھا جا سکتا ہے اور لکھا جانا چاہیے۔ لیکن پڑھنے والے کے خیال کا سرپٹ گھوڑا جس طرف چاہے منہ کر لے اور جو چاہے فرمائش کر دے۔ بعض قارئین کی فرمائش ہوتی ہے کہ کل ہونے والے کسی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے بات کو جنرل ضیاالحق کے مارشل لاء سے پیدا ہونے والی خرابیوں سے شروع کیا جائے۔ کچھ لوگ ان خرابیوں کا آغاز اس سے بھی پیچھے ذوالفقار علی بھٹو کی جانب سے قومی صنعتوں کو قومیائے جانے سے کرنے کا مطالبہ داغ دیتے ہیں۔ کچھ کے خیال میں ہر خرابی کی جڑ جنرل پرویز مشرف ہے۔ لیکن سب سے بڑھ کر جو مسئلہ درپیش ہے وہ تین پارٹیوں کے رضاکاروں اور تنخواہ داروں کا ہے۔ موجودہ حکومت کی کسی بات پر تنقید کریں تو وہ اس بات پر سیخ پا ہو جاتے ہیں کہ یہی کچھ جب 2018ء اور 2022ء کے درمیان ہو رہا تھا تو تب آپ کہاں تھے؟ اب بندہ ہر بار ان کے اس احمقانہ اور متعصبانہ اعتراض کا کیا جواب دے؟ اس زمانے کے تمام تر کالم اسی اخبار کی ویب سائٹ کی آرکائیوز میں پڑے ہوئے ہیں۔ اب ہر اعتراض پر اس سے متعلقہ اس دور کا کالم نکال کر دوبارہ تو شائع نہیں کیا جا سکتا۔ یہی حال یوتھیوں کا ہے۔ اگر کسی واقعے سے متعلق گزشتہ واقعے کا ذکر کرتے ہوئے سردار عثمان بزدار جیسے نابغہ وزیر اعلیٰ کا ذکر کر دیا جائے تو تحریک انصاف کے اندھے مقلدین کے پاؤں کے تلوے جلنا شروع ہو جاتے ہیں۔ ویسے بھی برا بھلا کہنے میں ان کا تو کوئی ثانی نہیں‘ لہٰذا غیر جانبدار لکھنے والا ہمیشہ کسی جیالے‘ متوالے‘ یوتھیے اور پٹواری کی توپ کی زد میں ہوتا ہے جس پر وہ دھنا دھن اعتراضات کے گولے چلا کر اپنے مرشد سے وفاداری پر مہر ثبت کرتا ہے۔اپنے گزشتہ کالم میں اس عاجز نے جب حکمرانوں کے جھوٹ اور ڈھٹائی کا ذکر کرتے ہوئے پنجاب حکومت کے خرید کردہ جہاز کا ذکر کیا تو ایک تنخواہ دار پٹواری نے کمنٹ سیکشن میں لکھا کہ میں نے یہ کالم لکھتے ہوئے فواد چوہدری کو بھلا دیا ہے جو کہتے تھے کہ عمران خان کے ہیلی کاپٹر پر پچپن روپے فی کلومیٹر خرچہ آتا ہے۔ پھر عمران خان کو میرا لیڈر اور مجھے اس کا پیروکار قرار دیا۔ جب پڑھنے والے کی آنکھ میں تعصب کا موتیا اترا ہو یا پیسے کی پٹی بندی ہو تو ایسے میں سچائی دکھائی نہیں دیتی۔ اگر موصوف مجھ پر بے بنیاد الزام عائد کرنے کے بجائے تھوڑی سی تکلیف کر کے روزنامہ دنیا میں فواد چوہدری کے اس بیان کا تیاپانچہ کرنے والا میرا کالم پڑھ لیتے تو اچھا ہوتا۔ لیکن مرید یوتھیا ہو یا پٹواری‘ اس کو عقل کی بات سمجھانے کی کوشش بذات خود حماقت ہے۔ ایک پنجابی محاورہ ہے کہ منہ تے مکرے تے پانی وچ تھُکے دا کوئی علاج نئیں۔ ترجمہ آپ خود کر لیں۔ محاورے ایسے ہی نہیں بنتے۔ آج کل وزیراعلیٰ پنجاب کا سارا زور الیکٹرک بسوں کی تقسیم پر ہے۔ ان بسوں کی سہولت ایک اچھا قدم ہے لیکن فی الوقت میں اسے ترقی کا کاسمیٹک حل قرار دوں گا۔ جزام کا علاج کرنے کے بجائے چہرے پر میک اپ تھوپنے سے بدصورتی کو وقتی طور پر تو چھپایا جا سکتا ہے مگر یہ اصل بیماری کا علاج نہیں ہے۔ ملک کی ترقی کیلئے جو چیز سب سے مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے وہ تعلیم ہے۔ اس میں فنی یا جنرل تعلیم کے درمیان کوئی تخصیص نہیں‘ لیکن ملک کی ترقی بہر صورت تعلیم کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ الیکٹرک بسیں‘ پل‘ فلائی اوور‘ انڈر پاس اور اس قسم کے فوری طور پر دکھائی دینے چیزیں بھی اپنی جگہ پر اہم ہیں لیکن ملک کی معیشت مضبوط اور مستحکم ہوگی تبھی یہ چیزیں بنائی‘ خریدی اور چلائی جا سکتی ہیں۔ برُی معاشی صورتحال میں ایسی چیزوں کو بنانا‘ چلانا اور پھر تا دیر قائم رکھنا ممکن نہیں ہے۔ ہماری حکومتوں کا سارا زور فوری طور پر دکھائی دینے والے کاسمیٹک اقدامات پر ہے۔ تعلیم کا یہ عالم ہے کہ آؤٹ آف سکول بچوں کی تعداد میں ہر روز اضافہ ہو رہا ہے تازہ ترین صورتحال کے مطابق پاکستان بھر میں دو کروڑ تریپن لاکھ بچے سکول جانے سے محروم ہیں۔ ان میں سے ایک کروڑ سے زائد بچوں کا تعلق پنجاب سے ہے اور پنجاب میں سکول نہ جانے والے بچوں میں جنوبی پنجاب کے بچوں کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ اس لسٹ میں ضلع راجن پور 48 فیصد کے ساتھ سرِ فہرست ہے۔ ڈیرہ غازی خان میں46 اور مظفر گڑھ میں 45فیصد بچے سکول نہیں جاتے۔ کل کو پنجاب کے یہ ایک کروڑ غیر تعلیم یافتہ بچے ایک کروڑ خاندان ہوں گے اور ملکی معیشت پر ناقابل برداشت بوجھ ہوں گے۔ آنے والے والے دنوں کے اس منظر نامے میں ہم نے الیکٹرک بسوں کا اچار ڈالنا ہے ؟</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90500073.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>جماعت اسلامی کا فیصلہ(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-09-24/52720/76365686</link><pubDate>Thu, 24 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-09-24/52720/76365686</guid><description>جماعت اسلامی کی قیادت نے کیا درست فیصلہ کیا؟ کیا وہ حکومت کی بی ٹیم بن گئی؟جماعت اسلامی اس لیے سڑکوں پر نکلی کہ پٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے عام آدمی کیلئے جینا دوبھر کر دیا ہے۔ اس نے عوامی تشویش کو حکومت تک پہنچانے کیلئے ابلاغ کے میسر ذرائع استعمال کیے۔ اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ اس کے بعد اس کی قیادت نے سڑکوں پر نکلنے کا فیصلہ کیا۔ اس کی منزلِ مراد اسلام آباد تھی جہاں دھرنا دیا جانا تھا۔ مقصود نظامِ حکومت کو مفلوج کر کے‘ اسے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنا تھا۔ حکومت گرانا اس دھرنے کا مقصد نہیں تھا۔ اسلام آباد کی طرف پیش قدمی سے پہلے‘ جماعت اسلامی نے بڑے شہروں میں دھرنے دیے۔ دھرنے میں کتنے لوگ شریک ہوئے اس سے قطع نظر‘ جماعت کے کارکنوں نے سڑکوں کو بند رکھا۔ جب بات نہیں بنی تو امیرِ جماعت اسلامی نے کراچی سے ریل گاڑی کے ذریعے اسلام آباد کی طرف روانہ ہونے کا فیصلہ کیا۔اس تمام عرصے میں حکومت نے کہیں رکاوٹ نہیں ڈالی۔ کوئی گرفتاری نہیں ہوئی۔ جماعت کو پورا موقع ملا کہ وہ میڈیا پر اپنا نقطہ نظر بیان کرے۔ اس دوران میں حکومتی وفد منصورہ گیا۔ ایک مذاکراتی عمل پر اتفاق ہوا۔ مذاکرات کے کئی ادوار ہوئے۔ جب جماعت کی قیادت نے محسوس کیا کہ مذاکرات نتیجہ خیز نہیں ہو رہے تو اس نے اسلام آباد کی طرف رخ کر لیا۔ حکومت نے اس دوران میں رابطہ استوار رکھا۔ ایک مرحلے پر وزیراعظم نے مداخلت کی اور جماعت اسلامی کے امیر سے اس یقین دہانی کے ساتھ دھرنا ملتوی کرنے کی درخواست کی کہ وہ امریکہ سے واپسی پر‘ خود جماعت سے فیصلہ کن مذاکرات کریں گے اور ان کے مطالبے کو سنجیدہ لیا جائے گا۔جماعت کے پاس اب دو راستے تھے۔ ایک یہ کہ وہ وزیراعظم کی درخواست کو قبول کر لے۔ اس میں یہ امکان پوشیدہ ہے کہ معاملہ کسی تصادم کے بغیر حل ہو سکتا ہے۔ حکومت نے اب تک جماعت کے حقِ احتجاج کا احترام کیا ہے۔ اس کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں کھڑی کی۔ یہی نہیں‘ مذاکرات کا آغاز کیا اور حکومت کی اعلیٰ ترین شخصیت نے خود رابطہ کر کے‘ سنجیدہ مذاکرات کا عندیہ دیا۔ اب اگر حکومت اپنا وعدہ پورا نہیں کرتی تو جماعت اسلامی اسلام آباد کی طرف رخ کر سکتی ہے۔ دوسرا راستہ یہ تھا کہ وہ مطالبہ تسلیم کیے جانے تک‘ دھرنے پر اصرار کرتی اور اسلام آباد کی طرف سفر جاری رکھتی۔ حکومت یہ اعلان کر چکی ہے کہ وہ کسی کو اسلام آباد پر چڑھائی کی اجازت نہیں دے گی۔ اگر جماعت کے کارکن اسلام آباد آتے تو تصادم ناگزیر تھا۔ جماعت اسلامی کے پاس اتنی افرادی قوت نہیں کہ وہ تادیر شہر کو بند رکھ سکتی مگر تصادم سے بچنا مشکل ہوتا کہ جماعت کے کارکن نظریاتی ہیں اور وہ اس سیاست کو بھی جہاد فی سبیل اللہ سمجھتے ہیں۔ یوں پٹرول کی قیمت اپنی جگہ رہتی اور اس کے ساتھ کئی المناک کہانیاں ہماری یادداشت کا حصہ بن جاتیں۔ ملک فساد کی نذر ہو جاتا۔ برباد معیشت مزید برباد ہو جاتی۔ دھرنا حکومت کے بجائے عوام کی کمر توڑ دیتا۔اخلاق‘ قانون اور عقل تینوں کا تقاضا ایک ہی تھا: جماعت کی قیادت پہلے راستے کا انتخاب کرے۔ اس نے یہی کیا۔ کارکنوں کے جان و مال کی حفاظت قیادت کی ذمہ داری ہے۔ وہ قیادت بصیرت سے عاری ہے جو اپنے سیاسی مفاد کیلئے عام آدمی کی ز ندگی کو خطرات میں ڈالتی ہے۔ جو اپنے کارکنوں کو ریاست کے مدمقابل لا کھڑا کرتی ہے۔ جماعت کی قیادت کا مفاد اگرچہ ذاتی نہیں مگر اس کے باوجود‘ کارکنوں کو غیر ضروری مشقت میں ڈالنا بھی مناسب نہ ہوتا۔ ریاست کے غلط اقدام کے خلاف کلمہ حق بلند کرنا اور اس سے متصادم ہونا‘ دو مختلف باتیں ہیں۔ مولانا مودودی کی زندگی میں جماعت اسلامی کی حکمتِ عملی یہ رہی ہے کہ اس نے مارشل لاء کو ایک ناجائز حکومت کہا مگر اس کے خلاف بغاوت نہیں کی۔ اپنا مقدمہ عدالت کے سامنے پیش کیا اور قانون کو کبھی ہاتھ میں نہیں لیا۔ مجھے خوشی ہے کہ جماعت اسلامی کی قیادت نے اپنی اس روایت کو برقرار رکھا اور اپنے کارکنوں کو ریاست کے ساتھ ایک بے نتیجہ تصادم کے حوالے نہیں کیا۔ جماعت اسلامی کو چاہیے کہ وہ طنز و استہزا کو خاطر میں لائے نہ سطحی تنقید کو۔ اُس کے فیصلے نے یہ پیغام دیا ہے کہ جماعت تصادم نہیں چاہتی۔ اگر معاملہ پُرامن طریقے سے حل ہوتا ہے تو یہ اس کی ترجیح ہے۔ اب ذمہ داری حکومت کی ہے کہ وہ اپنے وعدے پر قائم رہے اور جماعت کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات کرے۔ ایسے مذاکرات جن کے نتیجے میں عوام کو خوش خبری ملے۔میرا تجزیہ ہے کہ تحریک انصاف کے ساتھ بھی یہ معاملہ کیا جا سکتا ہے‘ اگر اس کی قیادت چاہے۔ اس راہ میں دو رکاوٹیں ہیں۔ ایک یہ کہ تحریک انصاف پہلے دن سے حکومت کے ساتھ مذاکرات پر آمادہ نہیں۔ اس نے حکومت کے بجائے کسی اور کو اپنا حریف سمجھا اور عمران خان صاحب بضد رہے کہ وہ ان ہی سے بات کریں گے۔ وہ جیل میں گئے تو اسی سوچ کے حاملین کو پارٹی قیادت سونپ گئے۔ سیاسی سفر میں‘ ہمسفری کیلئے ان کا انتخاب جارحانہ مزاج کے لوگ رہے ہیں۔ سیاسی حکومت نے اس رویے کے باوجود‘ ہمیشہ مذاکرات کی پیشکش کی۔ پی ٹی آئی میں سیاسی مزاج رکھنے والوں نے جب اس سمت میں پیش رفت کی‘ تحریک انصاف اور عمران خان صاحب کو فائدہ پہنچا۔ انہوں نے جیل میں جو پہلے دو سال گزارے‘ انہیں تمام سہولتیں میسر رہیں۔ بعد میں بھی ملاقاتوں کا دروازہ کھلا۔ ان کی صحت بھی بالکل ٹھیک ہے۔ اس سارے عرصے میں مگر ریاستی اداروں کے خلاف ایسی نفرت انگیز مہم چلائی گئی کہ اُن کے ساتھ مذاکرات کا امکان بھی ختم ہو گیا‘ جن سے وہ بات کرنا چاہتے تھے۔ ان دورکاوٹوں کو دور کرنا تحریک انصاف کا کام ہے۔ جس دن عمران خان صاحب اور ان کی جماعت نے سیاسی حکومت سے مذاکرات کا فیصلہ کیا ان کیلئے حالات سازگار ہو جائیں گے۔ وہ خود کو زور سے منوانا چاہتے ہیں۔ اگر مقابلہ سیاست کے بجائے زور سے ہوگا تو وہی جیتے گا جو زیادہ زور آور ہو گا۔ جب تک پی ٹی آئی کی قیادت یہ بات نہیں سمجھے گی‘ اس کی مشکلات کم نہیں ہو سکتیں۔میرے نزدیک انسانی جان سے بڑھ کر کوئی شے قیمتی نہیں۔ اس کو صرف اللہ کی راہ میں قربان کیا جا سکتا ہے۔ جو لوگ اقتدار کی کشمکش میں انسانی جانوں کو خطرات میں ڈالتے ہیں ان کا اخلاص مشکوک ہے یا ان کی بصیرت۔ یہ شہباز شریف ہوں یا عمران خان‘ ان کو وزیراعظم بنوانا جہاد فی سبیل اللہ ہے نہ اس منصب سے اتارنا اللہ کا حکم ہے۔ یہ سیاسی معاملہ ہے جس میں اختلاف ممکن ہے۔ اس کیلئے آواز اٹھانا بھی کوئی جرم نہیں لیکن اس میں اس حدتک چلے جانا کہ لوگوں کو مروانے پر بھی تیار ہو جائیں‘ بے حسی ہے۔جماعت اسلامی کی قیادت نے درست فیصلہ کیا ہے۔ میرا مشورہ ہو گا کہ اگر مطلوبہ نتائج نہ نکلیں تو وہ اپنی جدوجہد جاری رکھیں مگر ریاست کے ساتھ تصادم سے گریز کریں۔ اگر وہ یہ سب اللہ کیلئے کر رہے ہیں تو اُس نے انہیں جدوجہد کا مکلف بنایا ہے‘ نتیجے کا نہیں۔ ان کو معلوم ہے کہ ایک انسانی جان کی حرمت کیا ہے۔ میری دعا ہے کہ ریاست اور سیاسی جماعتیں‘سب اس حرمت کو پامال نہ کریں۔ ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ تصادم ناگزیر ہو جائے۔ میرے نزدیک تصادم کبھی ناگزیر نہیں ہوتا۔ فرض کیجیے کبھی ایسا وقت آ بھی جائے اہلِ عزیمت تصادم پر مظلومانہ شہادت کو ترجیح دیتے ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>آواز، وہ جادو سا جگاتی ہوئی آواز(عمران یعقوب خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-09-24/52721/51873856</link><pubDate>Thu, 24 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-09-24/52721/51873856</guid><description>کچھ آوازیں صرف سنی نہیں جاتیں‘ دل میں اترتی ہیں۔ کچھ فنکار اپنے عہد کا حصہ نہیں رہتے‘ وہ خود ایک عہد بن جاتے ہیں۔ نور جہاں بھی ایسی ہی ایک شخصیت تھیں۔ برصغیر کی موسیقی کی تاریخ لکھی جائے تو ان کا ذکر محض ایک گلوکارہ کے طور پر نہیں‘ ایک ایسی  فن کارہ کے طور پر ہو گا جس نے آواز کو ایک تہذیبی شناخت بنا دیا‘ موسیقی کو نئے معنی پہنا دیے۔ وقت گزر گیا‘ فلمیں بدل گئیں‘ موسیقی کے انداز بدل گئے‘ مگر ان کی آواز آج بھی زندہ ہے۔ شاید بڑے فن کار کی یہی پہچان ہوتی ہے کہ زمانہ اسے پیچھے چھوڑنے کی کوشش کرتا ہے‘ مگر وہ زمانے کے ساتھ چلنے کے بجائے خود زمانے کی یاد بن جاتا ہے۔ ذکر ہے پاکستانی موسیقی کی اس آواز کا جسے خاموش کرنا وقت کے بس میں نہیں۔ اپنی پیدائش کے سو سال بعد بھی وہ جنوبی ایشیا کی مقبول ترین گلوکاراؤں میں سے ایک ہیں۔ ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر خود ہی اس سوال کا جواب تلاش کیجیے کہ پاکستانی اور بھارتی فلم انڈسٹری کا تذکرہ نور جہاں کے ذکر کے بغیر مکمل ہو سکتا ہے؟ فلم سہیلی میں اسد امانت علی کے گائے ہوئے اس گیت میں شباب کیرانوی کا مخاطب پتا نہیں کون تھا‘ لیکن مجھے لگتا ہے کہ گیت ملکہ ترنم نور جہاں کی آواز پر لکھا گیا تھا:آواز‘ وہ جادو سا جگاتی ہوئی آوازمدہوش دلوں کو بناتی ہوئی آوازکلیوں کے چٹکنے کی صدا ہم نے سنی ہےبلبل کے چہکنے کی صدا ہم نے سنی ہےشیشوں کے کھنکنے کی صدا ہم نے سنی ہےلیکن وہ کہاں‘ ہوش اڑاتی ہوئی آوازآواز‘ وہ جادو سا جگاتی ہوئی آوازان دنوں 21 ستمبر 1926ء کو پیدا ہونے والی برصغیر کی معروف ترین گلوکارہ ملکہ ترنم نور جہاں کی 100ویں سالگرہ کی تقریبات منائی جا رہی ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ دنیا سے رخصت ہو چکے کسی فرد کی سالگرہ منانے کا کیا مقصد ہوتا ہے اور یہ منانی بھی چاہیے یا نہیں‘ لیکن چونکہ ایک خاص موقع ہے تو ہم بھی کچھ دیر کے لیے ان کی یاد میں بزم آرا ہو جاتے ہیں۔گزشتہ صدی کے ربع دوم کے آغاز میں جب بر صغیر میں فلم انڈسٹری نئی انگڑائی لے رہی تھی اور بغیر آواز کی فلموں سے آواز والی فلموں کے دور میں داخل ہو رہی تھی تو ایک چھوٹے سے قصبے میں ایک نئی آواز بھی سروں میں ڈھل رہی تھی۔ یہ اللہ وسائی کی آواز  تھی جس نے اپنے گھرانے کی روایت کے مطابق بچپن ہی سے گانا سیکھنا شروع کر دیا تھا۔ سات برس کی عمر میں اللہ وسائی اپنی بہن اور اپنی کزن کے ساتھ قصور اور آس پاس کے علاقوں میں لگنے والے میلوں میں گانے گایا کرتی تھیں۔ اس وقت کسی کو معلوم نہ تھا کہ ایک روز یہ آواز برصغیر کے کونے کونے میں پھیل جائے گی اور اللہ وسائی نور جہاں بن کر حقیقتاً پوری دنیا میں اپنی آواز کا نور پھیلا دے گی۔ 1933-34ء تک اللہ وسائی اور ان کی بہنوں کا نام قصور اور لاہور کے تھیٹروں میں معروف ہو چکا تھا۔ یہ تھیٹر ہی نور جہاں کو فلمی دنیا تک لے کر آئے۔یہ حقیقت بہت کم لوگوں کو معلوم ہو گی کہ لتا منگیشکر کو انڈین فلم انڈسٹری میں متعارف کرانے والی یہی نور جہاں تھیں اور اس حقیقت سے بھی انکار نہیںکیا جا سکتا کہ اگر تقسیم ہند کے بعد نور جہاں بھارت میں رہنے کا ارادہ کر لیتیں تو پھر لتا منگیشکر اور آشا بھوسلے کا کیریئر یہ نہ ہوتا جو اس وقت ہے۔ ملکہ ترنم نور جہاں مہدی حسن کی بہت بڑی مداح تھیں۔ وہ اکثر کہا کرتی تھیں کہ مہدی حسن تم اتنے مشکل سُر اتنی آسانی سے کیسے لگا لیتے ہو؟ نور جہاں کو موسیقی کے رموز اور سروں پر اتنا عبور حاصل تھا کہ وہ موسیقار کی ہدایات کے مطابق چند منٹوں میں گانے کو سمجھ لیتی تھیں اور پھر بغیر کسی ریہرسل کے براہِ راست ہی گانا ریکارڈ کرا دیا کرتی تھیں۔ وہ جب مائیک پر آتی تو یوں لگتا جیسے سُر خود اس کے سامنے دست بستہ کھڑے ہوں۔ نور جہاں صرف ایک نام نہیں‘ بر صغیر کی موسیقی کی تاریخ کا وہ تابندہ باب ہے جس پر وقت کا کوئی فریب اثر انداز نہیں ہو سکا۔ آواز میں ایسی کھنک‘ ایسا سوز اور ایسی تان کہ سننے والا دنگ رہ جائے۔ نور جہاں کی شخصیت میں ایک نمایاں ترین خود اعتمادی تھی۔ انہوں نے فن کی دنیا میں اپنی جگہ کسی رعایت سے نہیں‘ اپنی صلاحیت سے بنائی۔ ان کی آواز کی گرفت‘ تلفظ‘ ادائیگی اور جذباتی قوت نے انہیں اپنے ہم عصروں سے ممتاز کیا۔میلوڈی کوئین کے گیت چھ دہائیوں تک فلموں کی کامیابی کی ضمانت بنے رہے۔ مداح ان کی آواز کا ترنم آج تک نہیں بھولے۔ سروں کی ملکہ میڈم نور جہاں نے جو گایا امر ہو گیا۔ ایک ریکارڈ کے مطابق ملکہ ترنم نور جہاں نے 995 فلموں کے لیے دس ہزار سے زیادہ نغمے ریکارڈ کرائے۔ غیر فلمی نغمے‘ غزلیں‘ گیت اس کے علاوہ ہیں۔نور جہاں ایک اچھی فنکارہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھی ماں بھی تھیں۔ ان کی بیٹیاں بتاتی ہیں کہ شوہر سے علیحدگی کے باوجود وہ پورے گھر کا بہت خیال رکھتی تھیں اور ہمیں کھانا اپنے ہاتھوں سے بنا کر کھلاتی تھیں۔ ایک مصروف ترین شوبز لائف کے ساتھ گھریلو زندگی کو بھی پورا وقت دے پانا اور بچوں کا ہرطرح سے خیال رکھنا بڑی بات ہے۔معروف صحافی طاہر سرور میر اپنے ایک مضمون میں یوں رقم طراز ہیں: ملکہ ترنم نور جہاں کی فلمی دنیا میں حیثیت وی وی آئی پی کی سی رہی۔ ان کے ڈرائیور سے لے کر باورچی تک اور ان کے استاد سے لے کر ڈھولک نواز تک‘ سبھی نگار خانوں میں وی وی آئی پی سمجھے جاتے اور سب کو پروٹوکول دیا جاتا۔ ملتان روڈ پر واقع تینوں فلمی سٹوڈیوز میں ایک جگہ ایسی مختص ہوتی تھی جہاں ملکہ ترنم نور جہاں کی گاڑی پارک ہوتی تھی۔ اس جگہ کوئی اور گاڑی پارک نہیں کر سکتا تھا۔ نور جہاں کی گاڑی جب نگار خانوں میں داخل ہوا کرتی تو لوگ احتراماً راستے سے ہٹ جایا کرتے تھے۔ نور جہاں کے دو ڈرائیور تھے جن کے نام فاروق اور امیر تھا اور نور جہاں خود کھانا کھانے سے پہلے ان دونوں کے کھانے کا اہتمام کرتی تھیں۔ ایک مرتبہ گھریلو ملازمہ بانو کو جھڑک کر نور جہاں عجلت میں سٹوڈیو نکل گئیں لیکن تھوڑی دیر بعد گھر واپس آئیں اور بانو سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگی کہ بانو جب تک تم مجھے معاف نہیں کرو گی میں ریکارڈنگ پر نہیں جاؤں گی۔ اس پر بانو نے نور جہاں کو گلے لگا لیا اور دونوں دیر تک روتی رہیں۔ اس کے بعد نور جہاں نے اپنے آنسو پونچھے اور ریکارڈنگ کے لیے سٹوڈیو گئیں۔ ایسے کرّوفرّ والی خاتون اندر سے اتنی نرم‘ دیکھنے والے اور سننے والے حیران رہ جاتے ہیں۔معروف گلوکار ڈاکٹر امجد پرویز نے میلوڈی کوئین نور جہاں کے عنوان سے ڈیلی ٹائمز میں متعدد اقساط پر مبنی مضامین کا ایک پورا سلسلہ تحریر کیا‘ جو خاصے کی چیز ہے اور نور جہاں کی زندگی کے ہر پہلو کو کھول کر بیان کرتا ہے۔ میرے خیال میں نور جہاں کی پوری زندگی کو باقاعدہ تحریری شکل دی جانی چاہیے۔ یہی نہیں ان کی زندگی پر ایک پوری بھرپور ٹی وی سیریل یا فلم بھی ضرور بننی چاہیے۔ آپ کا کیا خیال ہے؟</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_58350786.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>اب ایسے شہر کی کیا کوئی مدح خوانی کرے(سعود عثمانی )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-09-24/52722/34381124</link><pubDate>Thu, 24 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-09-24/52722/34381124</guid><description>ترکی یا ترکیہ؟ جس زبان پر ہمیشہ سے لفظ ترکی چڑھا ہوا ہو‘ اسے ترکیہ لکھنے اور بولنے میں ہمیشہ تکلف محسوس ہوتا ہے۔ میرا معاملہ بھی یہی ہے۔ بھئی! مختصر‘ آسان اور رواں نام ترکی چھوڑ کر ترکیے کون بولے۔ اس لیے سرکاری نام جو بھی ہو اور ترک زبان کی گرامر کچھ بھی کہتی ہو‘ مجھے ترکی ہی کہنے دیجیے۔خدا خیر رکھے‘ جب یہ کالم آپ پڑھ رہے ہوں گے‘ میں استنبول میں ہوںگا۔ پہلی بار یہاں 2010ء میں آنا ہوا تھا۔ اس کے بعد کئی چکر اور لگے۔ آخری بار چار سال پہلے آیا تھا‘ جب استنبول کے علاوہ صوبہ بولو کے حسین جنگلات اور جھیلیں دیکھنے کا بھی موقع ملا تھا۔ ترکی کے کئی سفروں کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ مجھے اپنا سیاحتی شوق پورا کرنے کا موقع بھی مل گیا۔ ویسے ترکی سارا ہی خوبصورت ہے اور سیاحت کیلئے بہترین بھی‘ لیکن مجھے استنبول کے علاوہ برصہ‘ بودرم‘ داتچا‘ مرمریس اور بولو وغیرہ دیکھنے کا زیادہ موقع مل سکا۔ ہر جگہ ایک سے بڑھ کر ایک حسین ہے۔ زمین‘ پیر اور منظر آنکھیں جکڑ لیتے ہیں۔ استنبول تو خیر خود ایک جادوئی شہر ہے اور آپ کو اپنی تعریف کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ حسن کی کون سی قسم ہے جو قدرت نے اسے نہیں بخشی۔ قدرتی حسن فراواں اور ہر طرف‘ پہاڑ‘ سبزہ‘ باغات‘ پھر مرمرا‘ باسفورس کا سمندری حسن جو ہر کچھ دیر بعد آپ کو دیکھنے لگتا ہے۔ دو براعظموں میں بسا ہوا شہر جس کے یورپی اور ایشیائی دونوں ساحل ایک دوسرے کے سامنے مقابلے پر کھڑے ہیں اور یہ فیصلہ مشکل ہے کہ کس کو ترجیح دی جائے۔ تاریخی حسن تو یہاں چپے چپے پر بکھرا ہے۔ بازنطینیوں کا قسطنطنیہ کا طویل دور اور اس کے آثار‘ پھر عثمانی ترکوں کے محل‘ عجائب گھر‘ مسجدیں‘ عمارتیں اور نفیس خطاطیاں! جی بھر کے دیکھنے کے بعد بھی جی نہیں بھرتا۔ انسانی حسن کی بھی ایسی مثالیں کم ہیں۔ ترک لوگ صحتمند اور خوبصورت ہیں۔ سرخ سفید اور گلابی رنگتیں۔ مردوں عورتوں کی رنگت شہد اور دودھ کے آمیزے سے بنی لگتی ہے۔ نوجوان مرد ہو یا عورت‘ زیادہ تر چہرے قدم روک دینے والے ہوتے ہیں۔ سب تو نہیں لیکن اکثر چہرے میر کے مصرعے کی طرح ہیں:جو شکل نظر آئی تصویر نظر آئیاور موسم کا حسن؟ موسم کی خوبصورتی میں بھی استنبول بے مثال ہے۔ میرا شدید گرمیوں میں کبھی آنا نہیں ہوا۔ سنا ہے گرمی بھی کافی ہوتی ہے لیکن سمندر کے قرب کی وجہ سے شامیں خنک اور خوشگوار ہو جاتی ہیں۔ ستمبر اور اکتوبر جو خزاں کے مہینے ہیں‘ خنک ہوا اور زرد پتوں کی رُت ہے‘ شام کے وقت یہ ٹھنڈی ہوا بتانے لگتی ہے کہ کیسی سردی آنے والی ہے۔ ایک دو بار سردی کے موسم میں بھی آنے کا موقع ملا اور ایک طوفانی موسم میں بھی‘ جس میں فلائٹ خطرے میں تھی۔ 2021ء میں ترکی نے مسلم ممالک کے ناشرین اور کتب فروشوں کی ایک تنظیم بنائی تھی جس میں ساٹھ سے زیادہ ملکوں سے اہم لوگ شامل کیے گئے تھے۔ بنیادی طور پر یہ خاکہ ترک اور عرب دوستوں کا تھا جس کے مقاصد میں ان ناشرین کا باہمی رابطہ‘ تجارتی رابطے‘ ایک دوسرے سے زیادہ سے زیادہ تعاون اور ایک دوسرے کی زبانوں میں تراجم کا فروغ وغیرہ شامل تھے۔ اس کا بنیادی خاکہ ترکوں اور عربوں کا سہی لیکن یہ ہم سب کے دل کی آواز تھی۔ میں بہت مدت سے اور بہت شدت سے محسوس کرتا تھا کہ ایک عالمی پلیٹ فارم کی سخت کمی ہے جہاں مشترکہ مسائل کو پیش کیا جا سکے اور ان کے حل نکالے جا سکیں۔ سو یہ تنظیم میرے دل سے ہم آہنگ تھی۔ استنبول میں 25 سے 27 ستمبر تک اس تنظیم کا اجلاس ہے جس میں تمام ارکان شرکت کریں گے۔ امید ہے کہ یہ کام آگے بڑھتا رہے گا۔یہ بات اہم ہے کہ ترکی کئی سال سے مسلسل معاشی بھنور میں ہے۔ پاکستان میں کم لوگوں کو اس وقت ترکی کی مہنگائی اور افراطِ زر کا اندازہ ہوگا۔ ترک لیرا کی قدر مسلسل کم ہو رہی ہے۔ اندازہ کیجیے کہ 2010ء میں ایک لیرا 56پاکستانی روپے کے برابر تھا۔ 2016ء میں 34روپے کے برابر۔ 2021ء میں لیرا 18روپے کا تھا۔ 2022ء میں 13روپے کا۔ اور ستمبر 2026ء میں لیرا 5.75روپے کے برابر بتایا جا رہا ہے۔ اس لحاظ سے تو پاکستانیوں کو اچھا لگتا ہے کہ ایک لیرا کم روپے میں مل جاتا ہے۔ لیکن دوسری طرف اس نے ترکی میں جو ہولناک اور کمر توڑ مہنگائی کی ہے‘ وہ بھی غیر معمولی ہے۔ حکومت نے تنخواہوں اور سہولتوں میں اضافہ کیا ہے لیکن مہنگائی کا دیو اس سے زیادہ قد رکھتا ہے۔ 2016ء میں سلطان احمت کے ٹورسٹ اور تاریخی علاقے میں جہاں قیمتیں عام علاقوں سے زیادہ ہوتی ہیں‘ ایک مناسب سے ریسٹورنٹ میں 30 سے 40 لیرا میں کھانا مل جاتا تھا۔ اب 300 لیرا کے لگ بھگ ہے۔ آج کل دودھ ایک لٹر 60 سے 70 لیرا ہے یعنی 350 روپے۔ سبزیاں مثلاً ٹماٹر 100 لیرا‘ یعنی 575 روپے فی کلو گرام ہیں‘ آلو 260 روپے۔ چاول سات سو روپے فی کلوگرام۔ یہ قیمتیں کسی علاقے میں کم یا زیادہ ہو سکتی ہیں لیکن ان سے ایک عمومی اندازہ ہو سکتا ہے۔اگرچہ مہنگائی کے معاملے میں حکومت زیادہ مؤثر نظر نہیں آتی لیکن شہری سہولتوں‘ صفائی‘ آلودگی اور ٹرانسپورٹ کے معاملے میں اردوان حکومت نے غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ آ پ جس شہر میں بھی جائیں‘ صفائی کے عمدہ انتظامات ملتے ہیں۔ ایک عام ہوٹل یا ریسٹورنٹ میں بھی صفائی کا بہترین انتظام ملتا ہے۔ استنبول ہی کی بات کر لیں‘ یہ ایک بڑا شہر ہے‘ لگ بھگ 5500 مربع کلومیٹر میں پھیلے ہوئے اور ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ آبادی کے اس شہر کو سنبھالنا آسان نہیں ہے۔ زیادہ آبادی یورپین حصے میں بستی ہے اس لیے یہاں قیمتیں بھی زیادہ ہیں۔ ایشیائی ساحلی علاقہ قدرے سستا ہے لیکن پہاڑیوں‘ سمندروں اور دو حصوں میں شہر کے بٹے ہونے کی وجہ سے عملی دشواریاں بہت بڑھ جاتی ہیں۔ پھر ٹریفک اتنا زیادہ ہے کہ شہر سے باہر جانے میں دو تین گھنٹے لگ سکتے ہیں۔ لیکن پبلک ٹرانسپورٹ کا بہت اچھا نظام ہے اور بہ آسانی سفر کیا جا سکتا ہے۔ ایک استنبول کارڈ خرید لیں‘ پھر چاہے ٹرام میں سفر کریں یا ٹرین میں یا فیری پر‘ سب جگہ ایک ہی کارڈ چلے گا۔ اسی کے ساتھ گزشتہ کئی دہائیوں میں ترکی نے دفاعی ساز وسامان‘ لڑاکا طیارے‘ ڈرونز‘ بحری جہاز اور آبدوزیں بنانے وغیرہ کے معاملے میں غیر معمولی پیشرفت کی ہے۔ اب دنیا ان شعبوں میں ترکی کا لوہا مانتی ہے۔ پاکستان اور ترکی کا باہمی تعاون اور ایک دوسرے کی مدد بھی ایک بہت خوش آئند بات ہے جس پر دونوں ملکوں کے لوگوں کو فخر ہونا چاہیے۔اور یہ شہر میزبانِ رسول حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی آرام گاہ بھی تو ہے۔ 2010ء میں پہلی بار استنبول اور مزارِ صحابیٔ رسول پرپہلی حاضری کی یادگار میرا یہ شعر ہے:اب ایسے شہر کی کیا کوئی مدح خوانی کرےجو میزبانِ پیمبر کی میزبانی کرے</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_81278520.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>شیخ عبدالقادر جیلانی نَوَّرَاللّٰہ مرقدہٗ … (1)(مفتی منیب الرحمٰن )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-09-24/52723/44020830</link><pubDate>Thu, 24 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-09-24/52723/44020830</guid><description>قطبِ ربانی‘ محبوبِ سبحانی حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی عالمِ باعمل‘ شریعتِ مطہرہ کے سچے متبع اور ولیِ کامل تھے۔ آپ کی ولایت اور بلند ترین علمی مقام پر اُمت کا اجماع واتفاق ہے۔ آپ کا اسمِ گرامی عبدالقادر‘ کنیت ابو محمد اور القاب محی الدین و شیخ الاسلام ہیں۔ فقہی اعتبار سے آپ حنبلی تھے اور عقائد میں آپ اَہْلُ السُّنَّۃ وَالْجَمَاعَۃ کے راستے پر گامزن تھے۔ آپ والدہ ماجدہ کی طرف سے حسینی اور والدِ ماجد کی طرف سے حسنی یعنی نجیب الطرفین سید ہیں۔ شرف نسب کے اعتبار سے آپ امیر المؤمنین حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی گیارہویں نسل سے ہیں۔ آپ کی ولادتِ باسعادت471 ہجری میں فارس میں بحیرۂ کیسپین کے قریب قصبۂ جیلان میں ہوئی اور اسی نسبت کی وجہ سے آپ کو جیلانی یا الجیلی کہا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں واعظین عوام کو اپنی ذات سے وابستہ رکھنے کیلئے ان کا ذکر کرامات سے شروع کرتے ہیں اور کرامات پر ختم کرتے ہیں‘ ان کی تعلیمات کا ذکر کم ہی ہوتا ہے‘ حالانکہ عوام کیلئے اُسوہ و قُدوہ اورنمونۂ عمل بزرگوں کی تعلیمات اور اُن کی عملی زندگی ہوتی ہے۔ سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی علمائے ربّانییّن میں بلند مقام کے حامل ہیں اور آپ کی پوری حیاتِ مبارکہ اور اُن کے بصیرت افروز خطبات کا مرکزو محور معرفتِ الٰہی‘ توحیدِ خالص کا اثبات اور شرکِ جلی و خفی کا قَلع قَمع رہا ہے۔ آپ کے نزدیک ایک بندۂ مومن کا اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات پر کامل ایمان تبھی معتبر ہوتا ہے جب اس کے دل کا حقیقی اعتماد و توکل صرف اور صرف ذاتِ باری تعالیٰ پر قائم ہو۔ آپ نے انسانیت کو یہ فکری سبق دیا کہ دنیاوی اسباب اختیار کرنا شریعت کا تقاضا تو ہے مگر اسباب کے نتیجہ خیز اور ثمر آور ہونے کیلئے بھروسا اسباب پر نہیں بلکہ مُسَبِّبُ الاسباب یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات پر ہونا چاہیے۔ سچائی اور معرفت کی روح یہ ہے کہ انسان مخلوق کی محتاجی سے نکل کر خالقِ کائنات کی حقیقی نیازمندی کو اپنا شعار بنا لے۔ جب انسان اپنے قلب و باطن کو غیر اللہ کی تمنائوں‘ خوف اور امیدوں سے یکسر خالی کر لیتا ہے تو توحیدِ الٰہی‘ کامل توکل‘ پختہ یقین اور معرفتِ حق کی حقیقت اس کی روح میں ہمیشہ کیلئے راسخ ہو جاتی ہے۔ زوال اور پریشانیوں کے اس دور میں حضرت شیخ عبد القادر جیلانی کی فکر ہمیں اصلاحِ احوال اور حقیقتِ توحید کی روشنی فراہم کرتی ہے‘ اس سلسلے میں آپ کے خطبات ومواعظ سے چند اقتباسات پیش کیے جارہے ہیں:(1) شیخ عبدالقادر جیلانی کی طرف منسوب کتاب &#39;&#39;غُنْیَۃُ الطَّالِبِیْن‘‘ کے باب &#39;&#39;فِیْ مَعْرِفَۃِ الصَّانِع‘‘ میں عقیدۂ توحید کی بابت لکھا ہے: &#39;&#39;ایک مومن کیلئے اس بات پر پختہ یقین اور اعتقاد رکھنا ضروری ہے کہ اللہ ایک ہے‘ اکیلا ہے‘ بے نیاز ہے‘ نہ اس کی کوئی اولاد ہے‘ نہ وہ کسی کی اولاد ہے اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے‘ اس جیسا کوئی نہیں اور وہ سب کچھ سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔ نہ اس کی کوئی شبیہ ہے‘ نہ کوئی نظیر‘ نہ کوئی مددگار ہے‘ نہ پشت پناہ‘ نہ کوئی شریک ہے‘ نہ کوئی وزیر‘ نہ کوئی مدِمقابل ہے اور نہ کوئی مشیر۔ وہ جسم نہیں ہے کہ اسے چھوا جا سکے‘ نہ وہ جوہر (مادّہ) ہے کہ اسے محسوس کیا جا سکے‘ نہ وہ کوئی عارض (صفتِ عارضی) ہے کہ مٹ جائے‘ وہ جسم اور جسمانیات کے تمام لوازم اور تقاضوں سے پاک ہے‘ وہ زمان ومکان کی تحدیدات سے ماورا ہے‘ الغرض وہ Timeless اور Spaceless ہے۔وہی اللہ ہے جو آسمان کو بلند کرنے والا اور زمین کو بچھانے والا ہے۔ نجوم وقسمت اور مادّی مزاج سے اس کا کوئی تعلق نہیںہے۔ نہ اس کیلئے کوئی اندھیرا ظاہر ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی ایسا چمکتا ہوا نور ہے جو اسے محدود کر سکے۔ وہ اپنے علم کے اعتبار سے کائنات کے ہر ہر ذرّے پر محیط ہے اور چھوئے بغیر ان کا مشاہدہ کرنے والا ہے۔ اُس کیلئے ابدی اور ہمیشہ کی سلطنت وباشاہت ہے‘ وہی سب پر غالب‘ حاکم‘ قادر‘ رحم کرنے والا‘ بخشنے والا‘ عیبوں کو چھپانے والا‘ عزت دینے والا اور مددگار ہے۔ وہی اول و آخر اور ظاہر و باطن ہے۔ وہ اَلْحیّ (ہمیشہ زندہ رہنے والا) ہے کہ اس کیلئے فنا نہیں ہے‘ ایسا ازلی اور القیوّم ہے‘ جسے زوال نہیں‘ اسے نیند یا غفلت چھو بھی نہیں سکتی۔ ایسا غالب ہے جسے مغلوب نہیں کیا جا سکتا اور ایسا مضبوط و محفوظ ہے جس تک رسائی ممکن نہیں۔ اُس کی شان وشوکت ہمیشہ قائم رہنے والی ہے اور وہ تمام مخلوقات کے لیے ایک مقررہ وقت پر فنا کا فیصلہ فرما چکا ہے۔ فرمایا: &#39;&#39;زمین پر جو کوئی بھی ہے، فنا ہونے والا ہے اور صرف آپ کے رب ہی کی ذات باقی رہے گی جو بڑی عظمت اور کرم والا ہے‘‘ (الرحمن: 26 تا 27)۔اللہ تعالیٰ اپنی بلندی کے شایانِ شان عرش پر مستوی ہے اور تمام کائنات اس کے احاطہ علم میں ہے۔ وہ آسمان سے زمین تک ہر معاملے کی تدبیر فرماتا ہے۔ تمام مخلوقات‘ اُن کے افعال‘ اُن کے ارزاق اور موت کا وقت (اَجَل) اسی کا مقرر کردہ ہے۔ جو چیز اس نے پیچھے کر دی اُسے کوئی آگے نہیں کر سکتا اور جسے آگے کر دیا اسے کوئی پیچھے نہیں ہٹا سکتا۔ کائنات میں ہونے والا ہرکام اُس کی مشیٔت کے مطابق ہے‘ وہ چاہتا تو کوئی ایک بھی اُس کی اطاعت وفرمانبرداری سے روگردانی کرنے والا نہ ہوتا اور سب کے سب اُس کے اطاعت گزار ہوتے۔ وہ پوشیدہ باتوں اور سینوں کے بھیدوں سے مکمل باخبر ہے۔ فرمایا: &#39;&#39;کیا وہی نہ جانے گا جس نے پیدا کیا، حالانکہ وہ باریک بین اور خبر رکھنے والا ہے‘‘ (الملک: 14)۔کائنات کی ہر حرکت و سکون اُسی کے حکم سے ہے۔ مخلوق کے تمام توہمات اور انسانی عقلوں کے تمام اندازوں سے اس کی ذات بلند و برتر ہے۔ اس کی ذات کا مخلوق کے ساتھ کوئی موازنہ یا قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ وہ اپنے فیصلوں میں عادل اور اپنی عطا و بخشش میں فضل و احسان فرمانے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات اپنی مخلوق سے مکمل بے نیاز ہے‘ پوری کائنات کو رزق عطا کرنے والا ہے‘ تمام مخلوقات اس کی محتاج ہیں اور وہ کسی کا محتاج نہیں ہے‘ اُس نے بندوں کو اپنے کسی نفع یا کسی نقصان کو دورکرنے کیلئے پیدا نہیں کیا‘ بلکہ یہ اس کے خالص ارادے اور حکمت کا مُقْتَضٰی ہے۔ وہ عدم سے وجود میں لانے‘ مصائب دور کرنے اور حالات الٹ پلٹ کرنے کی قدرت میں یگانہ ہے۔ وہ ایسا سخی ہے جو بخل نہیں کرتا‘ ایسا بردبار ہے جو جلدی نہیں کرتا‘ ایسا حفاظت کرنے والا ہے جو بھولتا نہیں‘ ایسا بیدار و باخبر ہے جو غافل نہیں ہوتا اور ایسا نگہبان ہے جو بے خبر نہیں ہوتا۔ وہ رزق کو تنگ بھی کرتا ہے اور کشادہ بھی‘ غضبناک بھی ہوتا ہے اور راضی بھی‘ عطا بھی کرتا ہے اور روکتابھی ہے: &#39;&#39;وہ ہر آن ایک نئی شان میں ہے‘‘ (الرحمن: 29)۔بلند و برتر ذات اپنی شایانِ شان حیات کے ساتھ ہمیشہ زندہ ہے اور اپنے کمال کے لائق علم کے ساتھ جاننے والا ہے‘ اپنی بے انتہا قدرت کے ساتھ قادرِ مطلق‘ اپنی مشیٔت سے ارادہ فرمانے والا۔ وہ ایسی سماعت کے ساتھ سننے والا‘ ایسی بصارت کے ساتھ دیکھنے والا‘ ایسے ادراک کے ساتھ علم رکھنے والا‘ ایسے کلام کے ساتھ کلام کرنے والا‘ ایسے امر کے ساتھ حکم دینے والا‘ ایسی نہی کے ساتھ منع کرنے والا اور ایسی خبر کے ساتھ خبر دینے والا ہے کہ جو سب اس کی شان کے لائق ہیں۔ اس کے جلال و اکرام کے شایانِ شان اُس کے دو دستِ قدرت ہیں اور دونوں ہی یکساں مبارک‘ متبرَّک اور مَنبعِ برکات ہیں۔ قرآنِ کریم میں ہے: &#39;&#39;اور تمام آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے‘‘ (الزمر: 67)۔ حدیث پاک میں فرمایا: رسول اللہﷺ نے ایک دن منبر پر یہ آیت تلاوت فرمائی: &#39;&#39;اور انہوں نے اللہ کی ایسی قدر نہیں کی جیساکہ اس کی قدر کرنے کا حق تھا اور قیامت کے دن سب زمینیں اس کی مٹھی میں ہوں گی اور آسمان اس کے دائیں دستِ قدرت میں لپٹے ہوئے ہوں گے‘ وہ ان چیزوں سے پاک اور برتر ہے جن کو وہ اس کا شریک قرار دیتے ہیں‘‘ (الزمر: 67)۔ اور رسول اللہﷺ سمجھانے کیلئے اپنے ہاتھ کو آگے پیچھے حرکت دیتے ہوئے فرما رہے تھے: وہ اس طرح اُسے حرکت دے گا‘‘ (مسند احمد: 5414)۔ (جاری)</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_61172381.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>