<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>عید الاضحی اور فلسفۂ قربانی(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-27/11229</link><pubDate>Wed, 27 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-27/11229</guid><description>عیدالاضحی ایثار‘ محبت‘ ہمدردی اور اجتماعی شعور کا درس دینے والا عظیم دن ہے جو ہمیں حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام کی بے مثال قربانی کی یاد دلاتا ہے‘ جہاں اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے اپنی سب سے عزیز متاع کو قربان کرنے میں دقیقہ فروگزاشت نہ کیا گیا۔ قربانی کے اس فلسفے کو سمجھنا ہماری تمدنی حیات اور معاصر تقاضوں کے بہتر شعور کیلئے بھی ضروری ہے۔ جیسا کہ قرآن پاک میں فرمانِ باری تعالیٰ سے واضح ہے کہ قربانی کا مقصد صرف جانور ذبح کرنے تک محدود نہیں بلکہ اس میں بنیادی اہمیت تقویٰ کی ہے۔ قربانی دراصل ایثار اور تسلیم ورضا کے جذبے کو بیدار کرنے کا نام ہے۔ اگر ہم جانور قربان کرنے کے بعد اپنی سماجی وقومی ذمہ داریوں اور اپنے سماجی دائرے میں محروم طبقات کی ضروریات سے بے نیاز رہیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم نے قربانی کی روح کو سمجھنے میں کوتاہی کی۔ اسلام نے قربانی کے گوشت کی تقسیم میں غریبوں‘ ناداروں اور ضرورت مندوں کو خصوصی اہمیت دی ہے اور ان کے حصے مقرر کئے گئے ہیں تاکہ معاشرے میں مساوات اور بھائی چارے کا احساس پیدا ہو۔ آج جب مہنگائی‘ بیروزگاری اور معاشی عدم استحکام نے لاکھوں خاندانوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے تو صاحبِ استطاعت حضرات کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ قربانی کو حقیقی معنوں میں سماجی فلاح کا ذریعہ بنایا جائے۔ بدلتی ہوئی عالمی صورتحال سے دنیا کے معاشی حالات پر شدید منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں اور آنے والے وقت کے حوالے سے بھی بے یقینی ہے۔ ایسے میں مہنگائی اور بیروزگاری نے عوام کیلئے کڑے معاشی مسائل پیدا کر دیے ہیں۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں یہ صورتحال زیادہ سنگین ہے جہاں ایک بڑا طبقہ غذائی قلت اور بنیادی سہولتوں سے محروم ہے۔ ایسے حالات میں قربانی کا فلسفہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ معاشرتی خلیج کو کم کرنے کیلئے اجتماعی ہمدردی اور تعاون کو فروغ دیا جائے۔ قربانی کا گوشت صرف رشتے داروں اور دوستوں تک رکھنے کے بجائے ان گھروں تک بھی پہنچنا چاہیے جہاں شاید سال بھر گوشت پکانا ممکن نہ ہوتا ہو۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ قربانی کی اصل روح مالی حیثیت کے اظہار میں نہیں بلکہ آدمی کے اندر عاجزی اور احساس پیدا کرنے میں ہے؛ چنانچہ سنت ابراہیمی کی ادائیگی کے دوران یہ امر پیش نظر رہنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے کی جانے والی قربانی کا مقصد محض حصولِ رضائے الٰہی ہو‘ نہ کہ نام ونمود اور نمائش کیونکہ دین میں بھی نمود ونمائش کے بجائے خلوصِ نیت اور تقویٰ کو اہمیت دی گئی ہے ۔ آج کے حالات صرف عوام ہی نہیں حکومت اورسیاسی قیادت سے بھی قربانی کا تقاضا کرتے ہیں۔ سیاسی قیادت کو اپنی اَنا کی قربانی دینا ہوگی اور برسر اقتدار طبقات اور اشرافیہ کو اپنی مراعات کی۔ اس طرح کافی رقوم کی بچت کر کے کم آمدنی والے طبقات کیلئے سہولتیں فراہم کی جا سکتی ہیں۔ عیدالاضحی ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ اجتماعی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دی جائے۔ اگر سیاستدان اپنے رویوں میں برداشت‘ مکالمے اور مفاہمت کو فروغ دیں تو سیاسی کشیدگی میں کمی آ سکتی اور عوام کا نظام پر اعتماد مستحکم ہو سکتا ہے۔ معاشرے کے دیگر طبقات کو بھی فلسفۂ قربانی کو اپنی عملی زندگی پر نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ تاجر اگر ناجائز منافع خوری ترک کر دیں‘ ادارے بدعنوانی سے پاک ہو جائیں اور صاحبِ حیثیت طبقات میں معاشرتی ذمہ داریوں کا احساس اجاگر ہو جائے تو ہمارا سماج مثالی بن سکتا ہے۔ اس سلسلے میں ہر شخص اپنے عمل کا ذمہ دار ہے۔ اس سے قطع نظر کہ کوئی دوسرا ان اوصاف کو اپناتا ہے یا نہیں‘ ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ ذاتی سطح میں ہم نے کیا مثبت تبدیلی کی۔ عیدالاضحی ہمیں بہتر انسان اور بہتر معاشرہ بنانے کیلئے تیار کرتی ہے۔ اگر ہم قربانی کے فلسفے کو سمجھ لیں تو معاشرے میں ہمدردی‘ مساوات‘ رواداری اور احساسِ ذمہ داری کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ یہی وہ جذبہ ہے جس کی ہمارے سماج کو اشد ضرورت ہے۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پولیو ٹیم پر تشدد(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-27/11228</link><pubDate>Wed, 27 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-27/11228</guid><description>لاہور کے علاقے لٹن روڈ پر انسدادِ پولیو کی ٹیم پر تشدد کا واقعہ محض ایک مجرمانہ کارروائی نہیں بلکہ یہ اس جہالت اور منفی ذہنیت کا عکاس ہے جو ہمارے معاشرے میں سرایت کر چکی ہے۔ یہ امر افسوسناک ہے کہ ہمارے ہیلتھ ورکرز‘ جو ہمارے بچوں کے محفوظ مستقبل کیلئے تپتی دھوپ میں گلی گلی گھوم کر بچوں کو ویکسی نیشن پلاتے ہیں‘ وہ لاہور جیسے بڑے شہر میں بھی محفوظ نہیں ۔ اگر صوبائی دارالحکومت میں ایسے واقعات پیش آ سکتے ہیں تو دور دراز کی صورتحال کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہونا چاہیے۔پولیو طویل عرصے سے پاکستان کیلئے سنگین مسئلہ بنا ہوا ہے۔ دنیا کے تقریباً سبھی ممالک اس موذی مرض سے دہائیوں پہلے نجات حاصل کر چکے ہیں لیکن پاکستان اور افغانستان ‘ دو ممالک ایسے ہیں جہاں یہ وائرس اب بھی بچوں کی عمر بھر کی معذوری کا سبب بن رہا ہے۔ اس بیماری سے مکمل نجات پانے کیلئے سب سے اہم ضرورت عوام کی ذہن سازی کی ہے۔ پولیو ٹیموں پر حملے اور ویکسی نیشن سے انکار کی بنیادی وجہ وہ بے بنیاد افواہیں‘ توہمات اور من گھڑت نظریات ہیں جو سوشل میڈیا اور مقامی سطح پر پھیلائے جاتے ہیں۔ حکومت‘ میڈیا اور سول سوسائٹی کو ایک مربوط اور وسیع تر مہم کے تحت لوگوں کے ذہنوں میں موجود بے بنیاد خدشات کا ازالہ کرنا چاہیے۔ دوسری جانب پولیو ورکرز کو فول پروف سکیورٹی فراہم کرنے کے علاوہ قانون ہاتھ میں لینے والوں سے آہنی ہاتھوں نمٹنا چاہیے۔ پولیو ورکرز پر حملہ پاکستان کے مستقبل پر حملہ ہے‘ اس واقعے کو معمولی سمجھ کر نہیں چھوڑا جا سکتا۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ٹیلی کام ٹیکسز(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-27/11227</link><pubDate>Wed, 27 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-27/11227</guid><description>پاکستان کا موبائل اور ٹیلی کام سروسز پر دنیا میں سب سے زیادہ ٹیکس لگانے والے ممالک کی فہرست میں شامل ہونا تشویشناک ہے۔ عالمی معاشی تحقیقی ادارے فرنٹیئر اکنامکس کے مطابق پاکستان میں موبائل سروسز اور مجموعی سیلز پر ٹیکس کی شرح 37 فیصد ہے‘ جو ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ یہ صورتحال براہِ راست ٹیکس اکٹھا کرنے میں  حکومتی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ جب حکومتیں بااثر طبقات اور ٹیکس نیٹ سے باہر شعبوں کو ٹیکس کے دائرے میں لانے میں ناکام ہو جاتی ہیں تو خسارہ پورا کرنے کیلئے بالواسطہ ٹیکسوں کا سہارا لیتی ہیں۔ یہ روش امیر اور غریب کا فرق مٹا کر عام شہری پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھانے کا سبب بنتی ہے جس سے معاشرے میں معاشی ناہمواری مزید گہری ہوتی چلی جاتی ہے۔ موجودہ ڈیجیٹل دور میں کمیونیکیشن اور انٹرنیٹ بنیادی انسانی ضرورت بن چکے ہیں‘ لہٰذا اس پر ٹیکسوں کی بھرمار کی ہر گز حمایت نہیں کی جاسکتی۔ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل پاکستان ویژن کو بھی بری طرح متاثر کر رہا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت غیر دستاویزی شعبوں کو ٹیکس کے دائرے میں لائے۔ موبائل فونز اور ٹیلی کام سروسز پر عائد غیر ضروری ٹیکسوں کا فوری خاتمہ اور انہیں منصفانہ حد تک متوازن بنانا اب ناگزیر ہو چکا ہے۔ ٹیکسوں کی شرح کو متوازن بنانے سے نہ صرف عام آدمی کو ریلیف ملے گا بلکہ ملکی معیشت اور ڈیجیٹل کاروبار کو بھی فروغ ملے گا۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سلگتے ارمان اپنے بھی تو ہیں(ایاز امیر)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-05-27/52020/45181419</link><pubDate>Wed, 27 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-05-27/52020/45181419</guid><description>غیروں کے لیے کاوشیں بجا‘ اور ان میں ہم نے خوب کردار نبھایا۔ ان کاوشوں کے لیے داد ملی اور سمیٹی گئی۔ ہم پھولے نہیں سمائے اور ظاہر ہے اُس کی وجہ بھی تھی۔ لیکن ان کاموں میں توانائیاں اتنی صرف ہوئیں کہ ذہن سے یہ خیال قدرے اوجھل ہو گیا کہ ارمان اپنے بھی تو ہیں۔ اوروں کے غمگسار تو ہوئے ہمارا بھی توکوئی چارہ ساز ہوتا۔ یہ مسئلہ کیا ہے اور اس کا حل کیا ہے کہ شمال مغربی صوبہ‘ خیبر پختونخوا میں لاکھ کوششوں کے باوجود شدت پسندی تھم نہیں رہی۔ اور جنوب مغربی صوبہ‘ بلوچستان میں بھی کیفیت ویسی ہی ہے۔ وہاں بھی گڑبڑ جاری ہے۔ واقفانِ حال جانتے ہیں کہ صورتِ حال وہاں اچھی نہیں۔صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے ریل کا ایک ہی راستہ ہے جو باقی ملک سے ملتا ہے۔ مشکل پہاڑی اور زمینی راستے سے اس ریل کی گزرگاہ ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ اس کی حفاظت اتنی آسان نہیں۔ ایک بڑا واقعہ تو وہ ہوا جب گزشتہ برس ٹرین کو یرغمال بنا لیا گیا اور اب یہ دوسرا بڑا واقعہ ہوا ہے کہ دھماکا خیز مواد سے لدی گاڑی نے ایک شٹل ٹرین کو نشانہ بنایا جس سے بھاری جانی نقصان ہوا۔ بات صرف اس ریل کی نہیں پورے صوبے کی ہے‘ جو کب سے شورش زدہ چلا آ رہا ہے اور گو قوم کو یقین دلایا جاتا ہے کہ اطلاعات پر مبنی کارروائیاں دہشت گردوں کے خلاف ہو رہی ہیں‘ بلوچستا ن کا کچھ جغرافیہ ہی ایسا ہے کہ حالات پر کنٹرول نہیں ہو رہا۔ تفصیلات میں کیا جانا کہ وہاں حملہ ہوا فلاں مقام حملوں کا نشانہ بنا‘ بڑی تصویر تو واضح ہے کہ صوبے کے حالات اچھے نہیں۔دونوں محاذوں پر‘ شمال اور جنوب‘ تواتر سے کارروائیاں جاری ہیں۔ جوان کیا اور افسر کیا‘ قومی مقاصد کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں۔ اُن کی طرف سے کوئی کسر نہیں چھوڑی جا رہی لیکن شورش کے واقعات تھمنے میں نہیں آ رہے۔ جہاں ریاستِ پاکستان بہت بڑی بڑی کاوشوں میں مصروف ہے وہاں یہ امر بھی ضروری دکھائی دیتا ہے کہ داخلی محاذ پر بھی کچھ نظر جمائی جائے۔ سرکارِ امریکہ میں بے شک پاکستان کی پذیرائی ہو رہی ہے اور گو ایسی پذیرائی قومی اعزاز ہے‘ جو اس دھرتی کے باسی ہیں اُن کے اپنے مسائل ہیں۔ اور یہ تو ہم سب کو معلوم ہے کہ گھر کے حالات ٹھیک ہوں تبھی کسی قوم کی بات بنتی ہے۔کوئی سادھو یا مہاتما ایسا نہیں کہ فوراً سے بتا سکے کہ ان داخلی مسائل کا حل کیا ہے۔ کوئی فہرست نہیں ہے جو جلد سے پڑھی جائے اور نعرہ لگے کہ یہ ہے فارمولا قوم کی نجات کے لیے۔ پھر بھی اتنا یاد تو پڑتا ہے کہ کچھ سال پہلے گو دیگر مسائل بہت تھے یہ پختون اور بلوچ دہشت گردی والا معاملہ یا تو سرے سے تھا نہیں اور اگر تھا بھی تو اس نے اتنی شدت اختیار نہیں کی تھی۔ جس بیماری کو رجیم چینج کا نام دیا جاتا ہے اس سے پہلے خیبر پختونخوا میں کون سے حملے ہو رہے تھے؟ بلوچستان میں ہمیں پتا ہے بلوچ لبریشن آرمی نام سے ایک تنظیم تھی اور مجید بریگیڈ کا بھی سننے میں آتا تھا لیکن ٹرین پر حملے یا دیگر قسم کی منظم کارروائیاں‘ ان کا تو اتنا ذکر نہیں ہوتا تھا۔ حافظے پر زور دیا جائے تو پٹرول‘ ڈیزل اور گیس کی قیمتیں خاصی کم تھیں‘ انڈسٹری چل رہی تھی اور زرعی شعبے کی حالت خاصی اچھی تھی۔ ایسی باتیں کر کے مقصد اشتعال دلانا نہیں۔ مزاج اتنے نازک ہو گئے ہیں کہ تھوڑی سی بات بھی ناگوار گزرے تو مزاج بدل جاتے ہیں۔ کہنا صرف اتنا ہے کہ یہاں کوئی انقلابِ روس نہیں آ گیا تھا‘ کسی چینی انقلاب کا لانگ مارچ نہیں ہوا‘ لیکن تمام کمزوریوں کے باوجود قومی سطح پر اتنا اضطراب نہیں پایا جاتا تھا۔ سیاسی ماحول بھی خاصا کھلا تھا‘ ٹی وی سکرین پر محض بحثیں نہیں تُو تکرار بھی چلتا تھا۔ بیان بازی ہوتی تھی‘ تب کے حکمرانوں کو برا بھلا کہا جاتا تھا۔ یہ نہیں کہ لوگ اٹھائے نہیں جاتے تھے یا حکومتی زیادتی نہیں ہوتی تھی لیکن عدالتوں میں کچھ دم خم تھا اور جہاں حکومتی زیادتی ہوتی وہاں عدالتوں سے ریلیف بھی مل جاتا تھا۔ تمام تر کمزوریوں کے باوجود ایک ماحول قائم تھا اور چل رہا تھا۔ آج تک یہ تحقیق مکمل نہیں ہو سکی کہ کیا مصیبت پڑی تھی کہ رجیم چینج کے گھوڑوں کو دوڑ میں لگا دیا گیا۔جو ہوا سو ہوا‘ پرانے زخموں کو کریدنے سے کیا حاصل۔ جس انداز سے انتخابات کرائے گئے اور نتائج مرتب ہوئے اور اُن نتائج کی روشنی میں جو حکومتی بندوبست ترتیب دیا گیا یہ باتیں اتنی بارکہی جا چکی ہیں کہ ان کے مزید ذکر سے دل اُکتا سا جاتا ہے۔ بہرحال موازنہ تو کیا جا سکتا ہے کہ شورش کے لحاظ سے حالات پہلے کیا تھے اور آج کیا ہیں۔ ایسے موازنے کا فائدہ یہ کہ آئندہ کے لیے کچھ سوچ ترتیب دی جا سکتی ہے اور کچھ لائحہ عمل بن سکتا ہے۔ ہاتھ پہ ہاتھ دھر کے بیٹھے رہنا اور یہ کہنا کہ سب ٹھیک ہو جائے گا یہ تو کوئی بات نہ ہوئی۔معاشی حالت ایسی ہے کہ تنکوں کے سہارے پر قائم ہے۔ قرضوں اور سود کی ادائیگیاں اتنی ہیں کہ مزید قرضہ جات کے بغیر ادائیگیاں ممکن نہ رہیں۔ انڈسٹری کا بھٹہ بیٹھا ہوا ہے‘ ایکسپورٹس ہماری جتنی ہیں سب کو پتا ہے۔ زمانہ وہ بھی تھا جب فکر صرف بیرونی قرضوں کی ہوتی تھی۔ آج صورت حال یہ ہے کہ پاور سیکٹر اور گیس کی مد میں اندرونی قرضہ جسے گردشی قرضہ کہا جاتا ہے‘ اتنا بڑھ چکا ہے کہ معیشت میں سکت نہیں ان واجبات کو پورا کرنے کی۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ 2013ء سے لے کر 2018ء تک جن حاکموں کی وجہ سے یہ سرکلر قرضوں کی صورتحال پیدا ہوئی آج وہی پرانے حاکم پھر سے قوم کی تقدیر پر بیٹھے ہیں۔ یعنی جن کے سبب بجلی اور گیس کے حوالے سے قوم بیمار ہوئی وہی آج دوا ساز بنے ہوئے ہیں۔پاکستان کسی مسلح جدوجہد یا انقلاب کی وجہ سے معرضِ وجود میں نہیں آیا۔ برطانوی راج کے زیرسایہ ایک جمہوری جدوجہد کی بدولت آزادی اور خود مختاری کا ثمر نصیب ہوا۔ یہاں کوئی چینی کمیونسٹ پارٹی طرز کی حکومت نہیں چل سکتی کیونکہ ہمارا سیاسی اور تاریخی تجربہ مختلف رہا ہے۔ لے دے کے یہاں جمہوریت نے ہی چلنا ہے۔ اور جمہوریت کی ہزار ہا کمزوریوں میں ایک بات اچھی ہے کہ عوام کو حکمران بدلنے کا موقع ملتا رہتا ہے۔ ایک جمہوری ملک میں جمہوریت کے تمام دروازے بند کر دیے جائیں تو وہاں ساری قومی حرارت بند ہو جاتی ہے۔ خون ایک ہی جگہ جم کے رہ جاتا ہے۔ قوم کے معاملات جمود کا شکار ہونے لگتے ہیں۔ نئے خیالات کے راستے بند ہو جاتے ہیں۔ پھر جو چالیس پینتالیس سال پرانے سیاسی طبیب یا کھلاڑی ہوں اُنہی پہ تکیہ کرنا پڑتا ہے۔ یعنی جو کل کے ناکام ٹھہرے ہوں اُنہی پر تکیہ کرنا پڑتا ہے۔ پھر بحث چھڑ جاتی ہے کہ پاکستان اپنے مسائل کیوں نہیں حل کر سکتا۔بہرحال یہاں پہ کس نے کسی کی سننی ہے۔ یہی چلتا رہے گا اور پرانے نسخے جن سے پہلے کچھ حاصل نہیں ہوا‘ وہی آزمائے جاتے رہیں گے۔ پھر دعا ہی کی جا سکتی ہے کہ حالات میں کچھ بہتری آئے‘ بیرونی کاوشوں کے ساتھ ساتھ کچھ گھر کے معاملات پر بھی توجہ دی جائے۔ کچھ تو ہو جس سے حالات کا مداوا ہو۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_80573045.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>دو سپاہی اور ایک گداگر(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-05-27/52021/11456997</link><pubDate>Wed, 27 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-05-27/52021/11456997</guid><description>کچھ دن پہلے اسلام آباد میں رات دس گیارہ بجے ایف الیون مرکز سے ناظم الدین روڈ پر آ رہا تھا۔ ایف الیون اور ایف ٹین کے درمیان ایک اشارے پر عجیب وغریب منظر دیکھا جس کا اثر کئی دن گزر جانے کے بعد بھی میرے اوپر حاوی ہے۔ وہاں ایک نوجوان بھکاری کو دیکھا‘ جسے میں برسوں سے دیکھ رہا ہوں‘ جو مسلسل چوک بدلتا رہتا ہے اور اب وہ اپنی اس نئی ڈیوٹی پر موجود تھا۔ اس نوجوان گداگر کو برسوں پہلے ایف نائن اشارے پر رات کی ڈیوٹی دیتے دیکھا تھا جہاں وہ رینگ رینگ کر لوگوں سے پیسے مانگتا تھا۔ ہر رات اپنی کمال کی اداکاری سے وہ اچھی خاصی رقم اکٹھی کر لیتا ہوگا۔ ہٹا کٹا لیکن حیرانی ہوتی کہ لوگ ایسے نوجوان کو محض لنگڑانے؍ رینگنے کی اداکاری پر پیسے دے دیتے۔ اُن دنوں اسلام آباد پولیس پر دبائو بڑھا کہ پورا شہر بھکاریوں کے ہاتھ لگ گیا ہے لہٰذا پولیس نے کارروائی شروع کی۔ وہ نوجوان بھی گرفتار ہوا مگر چند دن بعد دوبارہ اپنی ڈیوٹی پر موجود تھا۔ شاید کسی سے زیادہ لین دین پر بات ہو گئی۔ اس کی بدقسمتی کہ ایف نائن پر سی ڈی اے نے انڈر پاس اور فلائی اوور بنانے کا فیصلہ کیا اور یوں چوک‘ اشارے سب ختم ہو گئے اور ساتھ ہی اس کی روزی کا اڈہ بھی بند ہو گیا۔ گداگروں نے اسلام آباد میں اپنے علاقے اور چوک چوراہے بانٹے ہوئے ہیں۔ فوری طور اس اداکار گداگر کو وہاں سے شفٹ کر دیا گیا۔ میرا جناح ایونیو سے ایف ٹین تک تقریباً روز کا آنا جانا ہے۔ جب ایف نائن چوک کا کام شروع ہوا تو متبادل راستے کے طور پر مارگلہ روڈ سے جانا شروع کیا۔ ایک رات گھر واپس جاتے دیکھا وہی ہٹا کٹا نوجوان گداگر وہاں موجود تھا۔ اسے شاہین چوک ٹرانسفر کر دیا گیا تھا۔ یہ اب وہاں رینگ کر نہیں بلکہ لنگڑا بن کر مانگ رہا تھا۔ یہ ذہن میں رکھیں اسلام آباد میں ایسے کام پولیس کی معاونت کے بغیر نہیں ہوسکتے۔ پولیس پروٹیکشن آپ کو ہر جگہ درکار ہوتی ہے اور اس کے بدلے میں روزانہ حصہ ملتا ہے۔ پولیس اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ جس گداگر نے &#39; این او سی‘ لیا ہو چوک میں صرف وہی مانگ سکتا ہے کیونکہ اس کے کاروبار میں وہ بھی شراکت دار ہیں۔ اگر کوئی بھولا بھٹکا گداگر وہاں کھڑا ہو جائے جس کے پاس پولیس کا &#39;این او سی‘ نہ ہو تو کچھ ہی دیر بعد پولیس اسے اٹھا کر لے جاتی ہے اور سوشل میڈیا پر اس کی تصویر جاری کر کے داد وصول کی جاتی ہے کہ شہر میں گداگروں کے خلاف بھرپور آپریشن جاری ہے۔ دراصل یہ وہی گداگر ہوتے ہیں جو متعلقہ تھانے سے&#39; این او سی‘ اور گداگری کے کاروبار میں &#39; شراکت داری کا کنٹریکٹ سائن ‘کیے بغیر چوک کو خالی دیکھ کر مانگنا شروع کر دیتے ہیں۔بہرحال اب کی دفعہ میں نے ایک تبدیلی اس گداگر میں یہ دیکھی کہ وہ رینگ نہیں رہا تھا‘ جیسے ایف نائن چوک پر رینگ کر مانگتا تھا۔ میں حیران ہوا کہ اب یہ رینگ کیوں نہیں رہا کیونکہ اس سے لوگوں میں زیادہ ہمدردی جاگتی ہے اور دل کھول کر خیرات ملتی ہے۔ میں ابھی اسی شش وپنج میں تھا کہ اشارہ سبز ہو گیا اور میں آگے بڑھ گیا۔ پھر مجھے احساس ہوا یہ چوک نسبتاً چھوٹا ہے اور ایف نائن کا چوک بڑا تھا۔ وہاں سڑک چوڑی تھی لہٰذا رینگ کر گاڑیوں کے آگے آنے کے لیے خاصی جگہ میسر تھی۔ اب چھوٹی جگہ پر وہ رینگ کر گاڑی کے آگے نہیں آ سکتا لہٰذا اب لنگڑا بن کر بھیک مانگ رہا ہے۔ خیر کچھ ہی عرصہ اس کا کاروبار یہاں چمکا کیونکہ ایف نائن چوک پر فلائی اوور کی تعمیرات کی وجہ سے زیادہ تر لوگ یہی راستہ اختیار کر رہے تھے اور سب پرانے گاہک تھے۔ اگرچہ ایف نائن پارک والی عیاشی یہاں نہ تھی لیکن وقتی طور پر اسلام آباد پولیس نے اپنے کمائو پوت کو فوری نیا چوک الاٹ کر دیا تھا تاکہ کمائی پر اثر نہ پڑے۔ اسے کیا خبر تھی کہ ابھی اس پر ایک اور صدمہ گزرنا ہے۔ سی ڈی اے ایف نائن پارک اوور فلائی سے فارغ ہوا تو دوسرے چوک کی تلاش شروع کر دی گئی ۔ اب کی دفعہ ان کی نظر شاہین چوک پر پڑی۔ اگلے ہی دن مشینری وہاں پہنچ گئی اور ساتھ ہی ٹریفک روک دی گئی۔ اب ٹریفک دوبارہ ایف نائن انڈر پاس اور فلائی اوور سے جانا شروع ہو گئی۔ لیکن اس دفعہ وہاں کسی گداگر کے لیے کوئی موقع نہیں تھا کیونکہ وہاں اشارہ ختم ہو چکا تھا لہٰذا پولیس کے ان چند اہلکاروں اور ان کے کمائو گداگروں کے لیے نیا مسئلہ کھڑ ہو گیا کہ اب کمائی کا نیا اڈہ کہاں کھولیں۔ ایسی کمائی صرف کسی اشارے یا چوک پر ہی ہو سکتی ہے۔ ای ٹین اور ایف ٹین مارگلہ روڈ چوک ایک اچھا آپشن تھا لیکن وہاں پہلے سے کچھ پارٹیاں اور کمائو پوت کام پر لگے ہوئے تھے۔ یہ ہٹا کٹا نوجوان اچھی پرفارمنس دے سکتا تھا لہٰذا اس کیلئے ایک بڑا اور اچھا اشارہ درکار تھا۔ دوسری طرف شہر میں اشارے تیزی سے کم ہو رہے تھے۔ کہیں فلائی اوور تو کہیں انڈر پاسز سے بغیر اشاروں کے ٹریفک کی روانی بہتر ہو گئی تھی اور اب گاڑیوں کو رکنا نہیں پڑتا تھا۔ خیر اس ہٹے کٹے نوجوان کے لیے ناظم الدین روڈ پر ایف ٹین اور ایف الیون کا بڑا اشارہ خالی کرایا گیا۔ جو گداگر پہلے وہاں کھڑے تھے‘ وہ چوک ان سے خالی کرا کے دو عدد ہٹے کٹے گداگر وہاں کھڑے کر دیے گئے۔ ایک کی ڈیوٹی دن کو اور دوسرے کی رات کو ہوتی۔ ایک دلچسپ بات جو میں نے نوٹ کی وہ یہ کہ اس ہٹے کٹے نوجوان کو ہمیشہ رات کی ڈیوٹی دی جاتی۔ چاہے ایف الیون یا شاہین چوک ہو یا اب ایف ٹین؍ ایف الیون چوک۔ اسے اتنے برسوں میں کبھی میں نے دن میں نہیں دیکھا۔ اب جب اُس رات اسے دیکھا تو وہ ایک لکڑی کے سہارے لنگڑا کر چل رہا تھا۔ میرے سامنے ہی ایک سائیڈ سے موٹر سائیکل پر اسلام آباد پولیس کے دو اہلکار آئے اور کچھ دور سڑک کنارے کھڑے ہو گئے جہاں زیادہ روشنی نہیں تھی۔ سپاہیوں کو گداگر کو اشارہ کرنے کی بھی ضرورت نہیں پڑی وہ خود ہی ان کی طرف چل پڑا۔ مزے کی بات ہے کہ اب وہ لنگڑانا بھول گیا تھا کیونکہ وہ ان سے بھیک مانگنے نہیں بلکہ انہیں کچھ دینے جا رہا تھا‘ لہٰذا اب اس کی چال میں اعتماد تھا کہ وہ بھی اپنی کمائی میں سے کسی کو بھیک دے سکتا ہے۔ اشارہ بند تھا لہٰذا میں دلچسپی سے سارا منظر دیکھنے لگا۔ پولیس اہلکاروں کے قریب جا کر اس بھکاری نے جیب سے پیسے نکالے اور ان سپاہیوں کو پکڑا دیے۔ پچھلی سیٹ پر بیٹھے اہلکار نے بھکاری کے کندھے پر تھپکی دی اور پھر پیسے لے کر چلے گئے۔ وہ بھکاری اسی اعتماد سے واپس آیا اور دوبارہ لنگڑا بن کر مانگنے لگا۔ میں یہ سارا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔ ایک لمحے کے لیے سوچا کہ بھکاری بننے کے لیے انسان کو اپنی عزتِ نفس مارنا پڑتی ہے‘ ڈھیٹ ہونا پڑتا ہے‘کتنی دھتکار کا سامنا کرنا پڑتا ہے‘ کتنی باتیں اور گالیاں سننا پڑتی ہیں۔ مسلسل یہ سب کر کے ہی وہ مستند قسم کا بھکاری بن پاتا ہے۔ لیکن پولیس کی وردی پہن کر ہر چوک پر اپنے بھکاری کھڑے کر کے ان سے روزانہ جا کر اپنا حصہ وصول کرنے کیلئے ان اہلکاروں کو کتنی محنت کرنا پڑی ہو گی؟ ایک بھکاری سے بھیک؟بھکاری تو یہ سوچتا ہو گا کہ وہ امیروں سے مانگ رہا ہے مگر یہاں تو بھکاری سے بھیک مانگی جا رہی تھی۔ وہ سپاہی عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے ہزاروں روپے تنخواہ لے رہے ہیں‘ عوام سے بھی مال بٹورتے ہیں اور وہ بھکاریوں سے بھی پیسے لیتے ہیں۔ ذہن میں رکھیں کہ یہ سب آپ کی حفاظت کے لیے تنخواہ لیتے ہیں۔ بھکاریوں سے بھتہ لینے والے افسران اور اہلکاروں نے ہمیں دہشت گردوں‘ قاتلوں‘ ڈاکوئوں اور راہزنوں سے بچانا ہے۔ ان کو کس نے اور کیا سوچ کر پولیس کی وردی پہنائی جو چوکوں پر بھکاری کھڑے کر کے ان سے حصہ لیتے ہیں۔ یہ کون لوگ ہیں‘ کہاں سے آئے اور کیسے پولیس میں بھرتی کرا دیے گئے ہیں؟</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>2026-27ء کا بجٹ اور تعلیم(شاہد صدیقی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-siddiqui/2026-05-27/52022/99378937</link><pubDate>Wed, 27 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-siddiqui/2026-05-27/52022/99378937</guid><description>جون 2026ء میں اگلے مالی سال کیلئے جب وفاقی بجٹ پیش ہوگا تو حسبِ روایت معیشت‘ ترقیاتی منصوبوں‘ محصولات اور مہنگائی پر طویل بحث ہو گی۔ حکومت اپنی کامیابیاں بیان کرے گی‘ وزرا کی طرف سے اعداد وشمار کی جادوگری کے حیران کن مظاہرے ہوں گے۔ ا پوزیشن حسبِ روایت تنقید کرے گی‘ ایوان میں کان پڑی آواز سنائی نہیں دے گی۔ ٹی وی سکرینوں اور سوشل میڈیا پر معاشی تجزیوں کا طوفان امڈ آئے گا۔ مگر اس سارے شور میں ایک سوال کی طرف کسی کا دھیان نہیں جائے گا۔ &#39;&#39;کیا تعلیم واقعی ہماری قومی ترجیح ہے؟‘‘۔ شاید حکومت اور اپوزیشن کیلئے اس سوال کی کوئی اہمیت نہیں مگر یہ سوال ہماری قومی ترقی کی اساس ہے۔ یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ کسی بھی ملک کا مستقبل اس کی شاہراہوں‘ میٹرو منصوبوں یا بلند عمارتوں سے نہیں بلکہ اس کے سکولوں اور کلاس رومز میں تشکیل پاتا ہے۔ جو ممالک تعلیم کے شعبے میں سرمایہ کاری کرتے ہیں وہی مضبوط معیشت اور بہتر سماجی ڈھانچہ قائم کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔بدقسمتی سے پاکستان کی تعلیمی تاریخ اس حوالے سے زیادہ حوصلہ افزا نہیں رہی۔ قیامِ پاکستان کے بعد سے ہر حکومت نے صرف زبانی کلامی تعلیم کو قومی ترجیح قرار دیا۔ بلند بانگ دعوے کیے گئے‘ مختلف تعلیمی پالیسیوں کا اعلان کیا گیا‘ ان پالیسیوں اور اصلاحاتی منصوبوں میں بڑے بڑے اہداف مقرر کیے گئے۔ کبھی شرحِ خواندگی بڑھانے کی بات ہوئی‘ کبھی &#39;&#39;تعلیم سب کے لیے‘‘ کا دلکش نعرہ لگایا گیا اور کبھی علم پر مبنی معیشت کے خواب دکھائے گئے۔ مگر تلخ زمینی حقیقت یہی ہے کہ تعلیم کبھی وفاقی بجٹ کی ترجیحات میں اہم نہیں رہی۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی پاکستان بنیادی تعلیمی مسائل سے نبرد آزما ہے۔ ہمارے سکولوں کی اکثریت میں بنیادی سہولتوں کا فقدان ہے۔ گرمیوں میں کلاس رومز تپ رہے ہوتے ہیں اور شدید سردیوں میں کلاس رومز میں سردی سے بچنے کا کوئی انتظام نہیں ہوتا۔ اکثر سکولوں کی عمارتیں خستہ ہیں۔ ایک ہی کمرے میں مختلف جماعتوں کے بچے بیٹھے ہوتے ہیں۔ نہ بجلی‘ نہ پنکھا‘ نہ پانی۔ ان حالات میں استاد سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ پوری تندہی سے پڑھائے اور طلبہ ذوق وشوق سے تعلیمی عمل کا حصہ بنیں۔ سرکاری سکولوں کی اکثریت کی حالت ناگفتہ بہ ہے۔ کاش بجٹ بنانے اور بجٹ پر بحث کرنے والے ان سکولوں کی خستہ حالی کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں تاکہ انہیں احساس ہو کہ تعلیم کے شعبے میں سرمایہ کاری کس قدر ضروری ہے۔ لیکن پالیسی سازوں کے اپنے بچے ایلیٹ سکولوں میں پڑھ رہے ہوتے ہیں‘ لہٰذا قوم کے بچوں سے ان کو کوئی سروکار نہیں۔آج پاکستان میں ڈھائی کروڑ سے زائد بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ ان بچوں اور ان کے والدین کے بھی کچھ خواب تھے لیکن مالی وسائل کی کمی نے ان کے خواب گلی کوچوں میں بکھیر دیے۔ ان بچوں کی اکثریت دیہی علاقوں‘ اندرونِ سندھ‘ جنوبی پنجاب‘ بلوچستان اور پسماندہ طبقات سے تعلق رکھتی ہے۔ غربت‘ بچوں سے مشقت‘ کمزور انفراسٹرکچر‘ طویل فاصلے اور صنفی رکاوٹیں انہیں تعلیم سے دور رکھتی ہیں۔ لڑکیوں کی صورتحال اور بھی زیادہ تشویشناک ہے۔ بہت سی بچیاں صرف اس لیے تعلیم چھوڑ دیتی ہیں کہ سکول میں بنیادی سہولتیں یا خواتین اساتذہ دستیاب نہیں ہوتیں۔ ایسا نہیں کہ ان بچوں میں ذہانت کی کمی تھی یا انہیں پڑھائی میں دلچسپی نہیں تھی۔ وہ ذہین تھے اور پڑھنا بھی چاہتے تھے لیکن ان کا واحد قصور ان کی غربت تھی‘ جو ان کے راستے کی دیوار بن گئی۔ پاکستان کا تعلیمی بحران صرف رسائی تک محدود نہیں۔ جو بچے سکول پہنچ جاتے ہیں ان میں سے بھی 53 فیصد آٹھویں جماعت میں پہنچنے تک ڈراپ آئوٹ ہو جاتے ہیں۔ جو خوش قسمت سکول میں باقی رہ جاتے ہیں‘ ان میں سے بڑی تعداد سیکھنے کی بنیادی صلاحیت سے محروم رہتی ہے۔ ورلڈ بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق دس سال کی عمر کے تقریباً 80 فیصد بچے ایک سادہ عبارت روانی سے نہیں پڑھ سکتے۔ یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ہمارا مسئلہ صرف سکول تک رسائی کا نہیں بلکہ تعلیمی معیار کا بھی ہے۔ پاکستان میں شرحِ خواندگی 63 فیصد تک ہے‘ یعنی آج بھی تقریباً چالیس فیصد آبادی ناخواندہ ہے۔ یہ بحران صرف تعلیم کے شعبے تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے منفی اثرات معاشرے اور معیشت پر بھی پڑتے ہیں۔ ایسا معاشرہ جہاں ایک بڑا طبقہ بنیادی تعلیم سے محروم ہو وہاں جمہوری شعور‘ تنقیدی فکر اور سماجی شرکت بھی ایک سوالیہ نشان بن جاتی ہے۔ یہ معاملہ اس وقت مزید سنگین ہو جاتا ہے جب ہم سرکاری سطح پر تعلیمی اخراجات کا جائزہ لیتے ہیں۔ کئی دہائیوں سے پاکستان میں تعلیم پر جی ڈی پی کا چار فیصد خرچ کرنے کا وعدہ کیا جاتا رہا ہے۔ 2009ء کی تعلیمی پالیسی میں تو یہ نوید بھی دی گئی کہ اگلے چند برسوں میں تعلیم کے لیے جی ڈی پی کا سات فیصد تعلیم کیلئے مختص کیا جائے گا۔ مگر افسوس یہ ہدف کبھی حاصل نہ ہو سکا۔ ستم ظریفی یہ کہ تعلیم کے لیے مختص فنڈز میں اضافہ کے بجائے ہر سال کمی ہوتی گئی۔ حتیٰ کہ 2024-25ء میں تعلیمی اخراجات جی ڈی پی کا محض 0.8 فیصد رہ گئے۔ یہ شرح نہ صرف عالمی معیار سے بہت کم ہے بلکہ جنوبی ایشیا کے ممالک سے بھی پیچھے ہے۔ کم بجٹ کے ساتھ دوسرا بڑا مسئلہ ترجیحات کا ہے۔ تعلیمی بجٹ کا بڑا حصہ تنخواہوں اور جاری اخراجات میں صرف ہو جاتا ہے جبکہ ترقیاتی منصوبوں‘ لائبریریوں‘ لیبارٹریوں‘ ٹیکنالوجی اور تدریسی وسائل کے لیے بہت کم رقم بچتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہزاروں سکول آج بھی بجلی‘ پانی‘ بیت الخلا اور دیگر بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔اس پورے منظرنامے کا سب سے تکلیف دہ پہلو تعلیمی عدم مساوات ہے۔ ایک طرف اشرافیہ کے نجی تعلیمی ادارے ہیں جہاں بچوں کو جدید سہولتیں‘ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور عالمی معیار کی تعلیم میسر ہے جبکہ دوسری طرف ایسے بے آسرا سرکاری سکول ہیں جہاں بچے فرش پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔ گویا ایک ہی ملک میں دو الگ تعلیمی دنیائیں آباد ہیں۔ یہ فرق تعلیمی ہی نہیں بلکہ سماجی تقسیم کو بھی گہرا کر رہا ہے۔ تعلیمی مالیات کا مسئلہ صرف وسائل کی کمی تک محدود نہیں بلکہ وسائل کے مؤثر استعمال کا سوال بھی اتنا ہی اہم ہے۔ فنڈز کے اجرا میں تاخیر‘ کمزور منصوبہ بندی‘ بیورو کریٹک رکاوٹیں اور ناقص احتسابی نظام صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔ کئی مرتبہ بجٹ صرف اس لیے خرچ کیا جاتا ہے کہ مالی سال ختم ہو رہا ہوتا ہے‘ نہ کہ اس لیے کہ اس سے تعلیمی معیار بہتر بنایا جا سکے۔ نئے مالی سال کا بجٹ اس لیے بھی اہم ہے کہ پاکستان اس وقت ایک بڑے سماجی اور معاشی دوراہے پر کھڑا ہے۔ آبادی میں تیزی سے اضافہ‘ نوجوانوں کی بڑی تعداد‘ بڑھتی بیروزگاری‘ مہنگائی اور تیزی سے بدلتی ٹیکنالوجی ایک نئے تعلیمی وژن کا تقاضا کرتی ہے۔ اگر ہم نے اب بھی تعلیم کو قومی ترجیح نہ بنایا تو آنے والے برسوں میں یہ مسائل مزید سنگین ہو جائیں گے۔بجٹ 2026-27ء میں ہمیں تعلیم کیلئے جی ڈی پی کا کم از کم چار فیصد مختص کرنا ہو گا‘ جو بین الاقوامی تنظیموں کی طرف سے تجویز کردہ کم سے کم رقم ہے۔ دوسرا اہم کام وسائل کی منصفانہ تقسیم ہے۔ بجٹ سازی میں دیہی علاقوں‘ بلوچستان‘ جنوبی پنجاب‘ اندرونِ سندھ اور دیگر پسماندہ علاقوں کو خصوصی ترجیح دینا ہو گی۔ اسی طرح لڑکیوں کی تعلیم کیلئے سکالرشپس‘ محفوظ ٹرانسپورٹ‘ خواتین اساتذہ کی بھرتی اور دیگر سہولتوں پر توجہ دینا ہو گی۔ بجٹ سازوں کو یہ بات معلوم ہونی چاہیے کہ قومی ترقی کا تصور معیاری تعلیم کے بغیر نامکمل ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_21538475.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>وزیراعظم کے دورۂ چین کے ثمرات(سلمان غنی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/salman-ghani/2026-05-27/52023/31127747</link><pubDate>Wed, 27 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/salman-ghani/2026-05-27/52023/31127747</guid><description>وزیراعظم شہباز شریف کے دورۂ چین کا بنیادی مقصد تو چین میں منعقدہ پاک چین تعلقات کی پون صدی کی تقریبات میں شرکت کرنا تھا لیکن دیکھا جائے تو اس دورے کی ٹائمنگ بہت اہم ہے۔ اس لیے کہ یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا جب پاکستان خلیج میں جنگ بندی کے لیے سرگرم تھا۔ جب وزیراعظم شہباز شریف چین کیلئے روانہ ہو رہے تھے تو فیلڈ مارشل سید عاصم منیر تہران کے محاذ پر سرگرم تھے‘ جہاں انہوں نے ایرانی لیڈرشپ سے ملاقاتیں کرکے ثالثی کے عمل کو آگے بڑھانے اور مذاکراتی عمل کی بحالی کیلئے بنیادی کردار ادا کیا۔ تہران کا دورہ مکمل کر کے فیلڈ مارشل بھی بیجنگ روانہ ہو گئے جہاں بیجنگ کے گریٹ ہال میں چینی صدر شی جن پنگ اور وزیراعظم لی چیانگ نے ان کا خصوصی خیر مقدم کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف چین میں معاشی سفارتکاری کی راہ پر گامزن نظر آئے۔ وزیراعظم نے چینی صدر اور وزیراعظم سمیت اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں اور چینی لیڈرشپ کو امریکہ‘ ایران مفاہمت اور مذاکراتی عمل کے حوالے سے پاکستانی کردار سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ امریکہ ایران معاہدہ مثبت سمت میں آگے بڑھ  رہا اور ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی ثالثی کے نتیجے میں امن بحال ہوگا اور خطے میں استحکام آئے گا۔ وزیراعظم سے ملاقات میں چینی صدر شی جن پنگ نے پاکستان کے ساتھ اپنے سفارتی اور سٹرٹیجک تعلقات کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ چین اور پاکستان ناقابل شکست روایتی دوستی پر قائم ہیں اور چین پاکستان سے اپنے تعلقات کو ترجیح دیتا ہے۔ انہوں نے مشرق وسطیٰ میں امن واستحکام کے حوالے سے پاکستانی کردار کو سراہا اور کہا کہ پاکستانی کوششوں کے نتیجے میں امن واستحکام کی راہ ہموار ہو گی۔ چینی صدر کی جانب سے علاقائی محاذ پر پاکستان کے ذمہ دارانہ کردار کی تحسین پاکستان کیلئے بہت اہم ہے کیونکہ یہ چین ہی تھا جس نے جنگ بندی کے بعد پاکستان کے ثالثی کردار کی تائید وحمایت کی تھی اور اس کو سراہا تھا۔ماہرین کے مطابق چین بظاہر امریکہ ایران جنگ کے دوران زیادہ سرگرم نظر نہیں آ رہا لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ چین ہی تھا جس نے گرین سگنل دیتے ہوئے پاکستان کو سفارتی اور ثالثی عمل میں ہر طرح کی مدد ومعاونت کی یقین دہانی کرائی تھی۔ اب جب تنائو کی جگہ ٹھہرائو نظر آ رہا ہے تو وزیراعظم چینی قیادت کو اپنی کوششوں‘ کاوشوں اور ثالثی عمل بارے بریف کرتے نظر آئے۔ گریٹ ہال کی تقریب میں وزیراعظم شہباز شریف نے خلیجی جنگ اور بحرانی کیفیت سے آگاہی دیتے ہوئے کہا کہ اس صورتحال میں ہم نے نیک نیتی سے مخلصانہ کردار ادا کیا۔ وزیراعظم نے اس ضمن میں فیلڈ مارشل کے فعال اور مثبت کردار کا بھی خصوصی ذکر کیا اور بتایا کہ وہ دونوں جانب مسلسل رابطے میں رہے اور اب بھی مذاکرات کی نتیجہ خیزی کے حوالے سے سرگرم عمل ہیں۔ وزیراعظم نے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں پر چینی قیادت کا بھی شکریہ ادا کیا جو اس بات کی تصدیق وتائید ہے کہ چین پس پردہ رہ کر پاکستان کی ثالثی اور سفارتی کوششوں کی کامیابی کیلئے سرگرم ہے۔ مذکورہ صورتحال کے پیش نظر ایک بات تو واضح ہے کہ چین نے امریکہ ایران جنگ کے دوران صورتحال کا فائدہ اٹھانے کے بجائے ذمہ دارانہ اور خطے میں قیامِ امن کے حوالے سے کردار ادا کیا۔ اگر چین کی پالیسی کا جائزہ لیا جائے تو چین عمومی طور پر تصادم کے بجائے مذاکرات‘ معاشی استحکام اور سفارتی توازن کی پالیسی پر زور دیتا ہے اور مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا نظر آیا ہے کہ ایران سے جوہری مسئلہ یا کشیدگی کا حل جنگ نہیں بلکہ افہام و تفہیم اور مذاکرات ہیں۔ بیجنگ نے ہمیشہ فریقین کو بات چیت کی طرف آنے کا مشورہ دیا۔ دیکھا جائے تو چین کی پالیسی خطے کے استحکام کے گرد گھومتی ہے کیونکہ مشرق وسطیٰ میں جنگ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں کو متاثر کرتی ہے۔ بہت حد تک پاکستان کی بھی یہی پالیسی رہی‘ نہ صرف مثبت کردار ادا کر کے پاکستان نے دنیا کو تیسری عالمی جنگ میں کودنے سے بچایا بلکہ یہ بھی ثابت کیا کہ عالمی تنازعات کا حل جنگ وجدل سے نہیں بلکہ افہام و تفہیم سے نکالا جاتا ہے۔ پاکستان نے اپنی مؤثر ثالثی سے اس کا ثبوت بھی فراہم کر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت خصوصاً وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کو دنیا بھر میں پذیرائی مل رہی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کے سیاسی کیریئر کا جائزہ لیا جائے تو وہ سیاسی مخالفتیں پالنے کے بجائے ڈیلیور کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ اس ضمن میں وہ خاص طور پر چین کی طرف دیکھتے اور ان کی محنت‘ جدوجہد اور لگن کا اعتراف کرتے ہیں۔ علاقائی محاذ پر بھی وہ چین کو ہر لحاظ سے ترجیح دیتے نظر آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چینی قیادت پاکستان کی معاشی ترقی میں دلچسپی ظاہر کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کی محنت اور تگ و دو کو سراہتی نظر آتی ہے۔ چینی حکام اور سرمایہ کار یہ سمجھتے ہیں کہ وزیراعظم شہباز شریف پاکستان کو معاشی خود انحصاری کی طرف لے جانا چاہتے ہیں۔ شہباز شریف نے اقتدار میں آنے کے بعد نہ صرف ملکی معیشت کو خطرناک زون سے نکالا بلکہ معیشت کا قبلہ درست کرتے ہوئے آگے بڑھنے کا راستہ اختیار کیا۔ حکومتی اصلاحات اور اقدامات کا معیشت کی بحالی میں کس قدر کردار ہے‘ اس پر تو دو آرا ہو سکتی ہیں لیکن بیشتر حلقوں کی یہ مشترکہ رائے ہے کہ وزیراعظم معاشی ترقی کے حوالے سے سنجیدہ ہیں اور پاکستان کو آگے لے جانا چاہتے ہیں۔ دورۂ چین کے دوران وزیراعظم کی مصروفیات کا زیادہ حصہ مختلف چینی کمپنیوں کے دورے اور ان کے سی ای اوز سے ملاقاتوں پہ مبنی تھا۔ ژی جیانگ صوبے میں ڈیجیٹل معیشت‘ ای کامرس‘ انفارمیشن ٹیکنالوجی‘ ٹیلی کمیونیکیشن‘ زراعت‘ قابل تجدید توانائی‘ جدید صنعتکاری اور مہارتوں کی ترقی کے شعبوں میں ہونے والی ترقی پاکستان کیلئے بروئے کار لانے کا اعادہ کیا گیا۔ مذکورہ شعبہ جات میں تعاون اور ترقی کا یہ عمل سی پیک کو آگے بڑھانے اور اس کی نتیجہ خیزی میں اہم کردار ادا کرے گا۔ وزیراعظم نے دو اہم دستاویزات پر دستخطوں کی تقریب میں بھی شرکت کی جن میں ایک صوبہ پنجاب اور ژی جیانگ کے مابین مؤثر تعلقات کے قیام سے متعلق تھی جس کے تحت تجارت‘ سرمایہ کاری‘ زراعت‘ تعلیم‘ ثقافت‘ سیاحت اور عوامی روابط کے شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔ علاوہ ازیں وزیراعظم نے ہانگژو نارمل یونیورسٹی اور بیجنگ میں پاکستانی سفارتخانے کے مابین &#39;چین پاکستان مشترکہ ریسرچ سنٹر‘ کے قیام سے متعلق دستاویز پر دستخطوں کی تقریب میں بھی شرکت کی جو تعلیمی تعاون‘ تحقیق اور ٹیکنالوجی کی بنیاد پر پاک چین روابط کو فروغ دے گی۔ چین تو بہت دیر سے پاکستان کی ترقی اور معاشی مضبوطی کا خواہاں رہا ہے اور یہ خود اس کے مفاد میں بھی ہے‘ لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں ترقی کے عمل میں وہ سنجیدگی نظر نہیں آتی جس کی یہ متقاضی ہے۔ دوسرا‘ ہم پاکستان میں ایسا ماحول پیدا نہیں کر سکے جس کے نتیجے میں یہاں ترقی وخوشحالی کا عمل آگے بڑھ سکے۔ اس کی ایک بڑی وجہ پاکستان میں سیاسی انتشار اور خلفشار ہے‘ جو ملک کو استحکام کی منزل پر لے جانے میں اصل رکاوٹ بنا رہا۔ جب تک پاکستان میں معاشی محاذ پر سنجیدگی قائم نہیں ہوتی اور سازگار ماحول نہیں بنایا جاتا‘ معاشی ترقی کا عمل نتیجہ خیز نہیں ہو سکتا‘ لہٰذا پہلی ذمہ داری حکومت کی یہ ہے کہ وہ اس حوالے سے قومی ذمہ داری کا احساس کرے اور ایسی فضا قائم کرے جس میں معاشی ترقی کا عمل آگے بڑھ سکے۔ امریکہ ایران تنازع سلجھانے کی کاوش سے پاکستان کا سفارتی قد کاٹھ بلند ہوا ہے‘ پاکستان کے لیے کثیر معاشی امکانات جنم لے سکتے ہیں لیکن اس کیلئے پہلے اپنے ہائوس کو اِن آرڈر کرنا ضروری ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/230_37874475.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>قربانی، احساس اور انسانیت(محمد حسن رضا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-hasan-raza/2026-05-27/52024/57160915</link><pubDate>Wed, 27 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-hasan-raza/2026-05-27/52024/57160915</guid><description>عیدالاضحی کی صبح ہے‘ شہر میں تکبیرات کی آوازیں ہیں‘ مگر گھروں میں خاموشی ہے۔ جہاں لوگوں کو اپنی آرزوئیں قربان کرنا پڑیں‘ کوئی بچوں کے نئے کپڑے نہ بنا سکے‘ کسی کو اچھے کھانے‘ کسی کو عزتِ نفس اور کسی کو امید کی قربانی دینا پڑے۔ جہاں خالی جیب کے ساتھ باپ اپنے بچوں سے نظریں چرا رہا ہو‘ جہاں دن رات کام کرنے کے باوجود مائیں سالن میں پانی بڑھاتے بڑھاتے اپنی آنکھوں میں پانی بھر بیٹھی ہوں‘ جہاں مزدور صبحِ عید کو بھی مشقت کرتا ہے کہ گھر کی ضرورتیں اس کی جیب دیکھتی ہیں۔ یہ ایک طرف کا منظرنامہ ہے اور دوسری طرف حکومتی اشرافیہ ہے جسے عوام کے زخموں پر مرہم رکھنے سے سروکار نہیں۔ وہ نت نئے ٹیکسوں کا نمک چھڑکتی ہے۔ آدمی بجلی جلائے تو ٹیکس‘ موبائل چلائے تو ٹیکس‘ پٹرول ڈلوائے تو ٹیکس‘ بینک سے پیسے نکلوائے تو ٹیکس‘ اور اگر غریب مر جائے تو اس کے لیے قبر کی زمین بھی مہنگی ہے۔ غریب کے چولہے میں آگ کے بجائے اس کے ارمان جلتے ہیں مگر سرکاری فائلوں سے ترقی کے شعلے لپکتے ہیں۔ حکمرانوں کے بیانات‘ دعوئوں اور اعلانات میں پاکستان ایشیا کا ٹائیگر بن رہا ہے جبکہ حقیقت میں لوگوں کے گھروں میں دودھ خریدنے کی مالی سکت بھی نہیں بچی‘ بیروزگاری عروج پر‘ تعلیم سرکاری ترجیحات میں شامل نہیں۔ عید کے دن اگر کسی غریب کے گھر جائیں تو وہاں سب سے بڑا راز خاموشی ہوتی ہے۔ وہ خاموشی جو بچوں کی آنکھوں میں پائی جاتی ہے‘جو ماؤں کے چہروں پر بچھی ہوتی ہے‘جو باپ کو اندر ہی اندر کاٹتی رہتی ہے۔ لیکن حکمران خوش وخرم ہیں ‘ بیرونی دورے چل رہے ہیں‘ قہقہے لگ رہے ہیں‘ تصویریں بن رہی ہیں‘کانفرنسیں ہو رہی ہیں۔ حکمرانوں کے پروٹوکول بڑھتے جا رہے ہیں اور عوام کی چادریں چھوٹی ہوتی جا رہی ہیں۔ سرکاری قافلے ایسے دوڑتے ہیں جیسے ملک میں دولت کا سیلاب آیا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہر گھر میں معاشی کہرام برپا ہے۔ حکومت کہتی ہے اخراجات کم کریں گے اور اس کے ساتھ ہی نئی گاڑیاں بھی خرید لی جاتی ہیں‘ نئے وفود تشکیل پاتے ہیں اور نئے دورے شروع ہو جاتے ہیں۔ نئے دفاتر کھل جاتے ہیں‘ نئے مشیر بھرتی ہو جاتے ہیں۔ غریب آدمی عید پر اپنے بچوں کو جوتے تک نہیں دلا سکتا لیکن حکمرانوں کی گاڑیوں اور جہازوں کے ٹائر ہمیشہ نئے ہوتے ہیں۔ ایک طرف وہ عورت ہے جو اپنے بچے کو کہتی ہے‘ بیٹا اگلے سال اچھی عید آئے گی اور دوسری طرف وہ حکمران ہیں جو ہر سال یہی کہتے ہیں کہ قوم قربانی دے۔ بھلا قوم کے پاس اب قربان کرنے کو رہ ہی کیا گیا ہے؟ بھوک؟ عزت؟ نیند؟ اولاد کا مستقبل؟ یا پھر زندہ رہنے کی آخری خواہش؟ ہر بجٹ کے بعد عوام کی کھال اترتی ہے۔ ٹیکس نہیں لگتے غریب کی سانسیں نیلام ہوتی ہیں۔ پٹرول مہنگا‘ بجلی مہنگی‘ آٹا مہنگا‘ دوائی مہنگی‘ تعلیم مہنگی اور تو اور اب موت بھی مہنگی۔ سرکاری فائلوں میں ترقی دکھائی دیتی ہے مگر ہسپتال سے دور مریض رکشوں میں مر جاتے ہیں۔ کراچی میں ایک باپ نے پچھلے مہینے اپنی بیٹی کی شادی ملتوی کر دی۔ وجہ یہ تھی کہ مہمانوں کو کھانا کیسے کھلائیں۔ حکمران طبقے کی پالیسیاں اب صرف خواب نہیں توڑتیں‘ رشتے توڑتی ہیں۔ منٹو نے کہا تھا ایک سڑی ہوئی بدبودار لاش سے اتنی بدبو نہیں آتی جتنی احساس کے مر جانے کے بعد کردار سے آتی ہے۔ ہمارا معاشرہ اسی بے حسی کی بدبو سے آلودہ ہے اور لوگ قسطوں میں زندہ رہنے پر مجبور ہیں۔ روم جل رہا تھا اور نیرو بانسری بجا رہا تھا۔ پاکستان کے عوام کو مہنگائی‘ بیروزگاری اور لاقانونیت نے زندہ درگور کر دیا۔ فیصل آباد میں ایک مزدور اپنی بیوی کے علاج کیلئے خون بیچ رہا ہے۔ ادھر جنوبی پنجاب میں لوگ بجلی کے بل دیکھ کر بے ہوش ہو رہے ہیں۔ نوجوان ڈگریاں اٹھا کر چین‘ دبئی‘ قطر اور یورپ کی لائنوں میں خوار ہو رہے ہیں۔ اور اوپر سے کہا جاتا ہے کہ معیشت بہتر ہو رہی ہے۔ کہاں کی معیشت؟ کس کی معیشت؟ اُس وزیر کی جس کی گاڑی کا پٹرول سرکار دیتی ہے یا اس افسر کی جس کا اے سی چوبیس گھنٹے چلتا ہے؟ غریب کے گھر جا کر دیکھیں وہاں فریج نہیں‘ ٹھنڈی خاموشی پڑی ہے‘ وہاں روٹی نہیں حسرت پکتی ہے۔ وہاں عید نہیں آتی صرف تاریخ بدلتی ہے۔ اور اوپر بیٹھے لوگوں کو لگتا ہے کہ قوم صرف پریزنٹیشن سے خوش ہو جائے گی۔ تین تصویریں لگاؤ‘ پانچ نعرے مارو اور عوام کو بتاؤ کہ سب اچھا ہے۔ کیا اس شخص کیلئے جس نے بیوی کے زیور بیچ کر بجلی کا بل اداکیا؟ یا اس نوجوان کیلئے جو ڈگری ہاتھ میں لیے دربدر دھکے کھاتا ہے؟ قوم اپنے بچوں کا دودھ چھڑا کر بھی ٹیکس دیتی ہے اور انہی پیسوں سے کوئی وفد بیرونِ ملک جاکر لیکچر دیتا ہے کہ ہم عوام کی خدمت کر رہے ہیں۔ خدمت؟ خدمت وہ ہوتی ہے جب کسی غریب کے گھر چولہا جلے‘ جب آدمی دوائی خرید سکے‘ لوگوں کو روزگار ملے‘ لیکن یہاں تو الٹی گنگا بہہ رہی ہے۔ جس ملک میں کفایت شعاری ہونی چاہیے وہاں شاہ خرچیاں بڑھ رہی ہیں۔ جہاں عوام کو ریلیف ملنا چاہیے وہاں نئے سے نئے ٹیکس لگ رہے ہیں۔ حکمران کہتے ہیں ملک مشکل میں ہے‘ مگر کسی وزیر کی پلیٹ چھوٹی ہوئی؟ کسی بڑے افسر کا پروٹوکول ختم ہوا؟ کسی سرکاری محل کی بجلی بند ہوئی؟ کسی طاقتور نے اپنے خرچے آدھے کئے؟ یہاں قربانی صرف کمزور کیلئے لکھی ہے۔ ایک استاد پچھلے دنوں بتا رہے تھے کہ میں نے بیٹے کی فیس بھرنے کیلئے اپنی کتابیں بیچ دیں۔عید کے دن بازاروں میں جا کر دیکھیں لوگ کپڑوں کو ایسے ہاتھ لگاتے ہیں جیسے یتیم بچے شیشے کے پار کھلونے دیکھتے ہیں۔ اب تو حالت یہ ہے کہ لوگ بجلی کے بل ایسے دیکھتے ہیں جیسے سزا کا پروانہ آیا ہو۔ لیکن حکمرانوں کے محل روشن ہیں‘ لان سبز ہیں‘ دسترخوان سجے ہیں‘ دورے جاری ہیں اورعوام صرف زندہ رہنے کی مشق کر رہے ہیں۔ فیض نے کہا تھا: نثار میں تیری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں‘ چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اُٹھا کے چلے۔ اس شعر کی حقیقی تشریح عوام بچشم سر دیکھ رہے ہیں۔ سر اٹھاؤ تو بل گر جاتا ہے‘ سوال اٹھائو تو ایک نیا عذاب‘ سانس لو تو ٹیکس۔ مگر پاکستانی غریب اب بھی اپنے بچوں کے لیے اور مستقبل کی امیدوں کے لیے جیتا ہے۔ وہ اب بھی عید پر آدھا کلو گوشت لاکر خوش ہو جاتا ہے۔ وہ اب بھی پھٹی جیب میں خواب رکھتا ہے۔ ورنہ سچ تو یہ ہے کہ حالات قبرستان سے بھی زیادہ خاموش اور خوفناک ہیں۔ خاموش آدمی اندر سے مر چکا ہوتا ہے اور یہاں خاموش لوگوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ دکھ اس بات کا ہے کہ ایٹمی طاقت والا ملک اپنے لوگوں کو روٹی‘ بجلی‘ دوائی اور عزت نہیں دے پا رہا۔ یہاں حکمرانوں کے جہاز نئے ہوتے گئے اور عوام کے ارمان پرانے۔ مگر یاد رکھنا چاہیے بھوک زیادہ دیر تک دبائی نہیں جا سکتی۔ اور وہ دن بڑا خطرناک ہوتا ہے جب غریب آدمی کو مرنے کا ڈر ختم ہو جائے۔اور شاید اسی لیے بھی امید ابھی باقی ہے کہ اس معاشرے میں اب بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو اپنی پلیٹ سے نوالہ نکال کر کسی بھوکے کے منہ میں ڈالتے ہیں۔ عیدالاضحی صرف جانور قربان کرنے کا نام نہیں‘ اپنی انا‘ غرور‘ نمود ونمائش اور خود غرضی قربان کرنے کا بھی پیغام ہے۔ فریج گوشت سے بھرنے کے بجائے ان گھروں تک گوشت پہنچائیں جہاں کئی دنوں سے چولہا ٹھنڈا ہے۔ ان بچوں تک عید پہنچائیں جن کے والدین مہنگائی کے ہاتھوں ٹوٹ چکے ہیں۔ قربانی کسی غریب کے چہرے پر خوشی بن کر اترے‘ یہی اس کارِ خیر کا بنیادی مقصد ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/229_33941343.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>یوم النحر(علامہ ابتسام الہٰی ظہیر )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-05-27/52025/59829186</link><pubDate>Wed, 27 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-05-27/52025/59829186</guid><description>10 ذوالحجہ کا دن حجاج کرام سمیت تمام مسلمانوں کے لیے خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ اس دن حاجی میدانِ منیٰ میں اور دنیا بھر کے مسلمان اپنے اپنے علاقوں میں قربانی کرتے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے سابق اُمتوں پر بھی قربانی کو لازم قرار دیا تھا اور یہ کہ جانور ذبح کرتے وقت صرف اللہ کا نام لیا جائے۔ قربانی کی تاریخ اگرچہ بہت قدیم ہے لیکن اسے اپنے کردار اور اعمال سے جس قدر روشن حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کیا‘ اس کی مثال ان سے پیشتر نہیں ملتی۔ بڑھاپے کے عالم میں اللہ تبارک وتعالیٰ سے ایک صالح بیٹے کے لیے دعا مانگی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام جیسا حلیم بیٹا عطا فرمایا۔ بیٹا ابھی گود میں ہی تھا کہ اللہ کے حکم پر جناب ہاجرہ اور اسماعیل علیہ السلام کو بے آب وگیاہ وادی میں تنہا چھوڑ دیا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ہاجرہ اور جناب اسماعیل علیہ السلام کے لیے چشمہ زمزم رواں فرمایا اور اچھے رفقا اور ساتھی بھی عطا فرما دیے۔ جب اسماعیل علیہ السلام چلنے پھرنے کے قابل ہو گئے تو سیّدنا ابراہیم علیہ السلام نے خواب میں دیکھا کہ وہ جناب اسماعیل علیہ السلام کے گلے پر چھری چلا رہے ہیں۔ انہوں نے بیٹے کو اپنے خواب سے آگاہ کیا تو حضرت اسماعیل علیہ السلام نے پورے خلوص اور احترام سے فرمایا: اے میرے بابا! آپ وہ کام کریں جس کا آپ کو حکم دیا گیا ہے‘ اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔ حضرت ابراہیم اور جناب اسماعیل علیہما السلام نے جب کامل فرمانبرداری کا ذہن بنا لیا تو جناب ابراہیم علیہ السلام نے اسماعیل علیہ السلام کو پیشانی کے بل لٹایا۔ جب ان کے گلے پر چھری چلانے لگے تو اللہ تعالیٰ نے کی طرف سے ندا آئی کہ ابراہیم! آپ نے اپنے خواب کو سچا کر دکھایا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے جناب اسماعیل علیہ السلام کی جگہ جنت سے آنے والے جانور کو ذبح کروا دیا۔یوم النحر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس عظیم قربانی کی یادگار ہے۔ رسول اللہﷺ خود بھی قربانی کرتے رہے اور آپﷺ نے اپنی امت کو بھی قربانی کرنے کی تلقین کی۔ رسول اللہﷺ نے اپنی حیاتِ طیبہ کے مختلف ادوار میں مختلف طرح کی قربانی کی۔ جب قدرے تنگی کے ایام تھے تو دو مینڈھے اللہ تبارک وتعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے ذبح کیے‘ جب کشادگی ہوئی تو سو اونٹ بھی قربان کیے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید میں واضح فرما دیا کہ اللہ تعالیٰ کو جانوروں کا گوشت اور خون نہیں پہنچتا بلکہ اللہ تعالیٰ کو قربانی کرنے والے کا تقویٰ پہنچتا ہے‘ اس لیے جب بھی کوئی شخص قربانی کرنے کے لیے جانور کو لٹائے تو اس کو چھری صرف جانور کے گلے پر نہیں چلانی چاہیے بلکہ یہ چھری جھوٹی امنگوں‘ غلط آرزوئوں اور سرکش خواہشات پر بھی چلنی چاہیے۔حجاج کو قربانی کے علاوہ یوم النحر میں جمرات کو کنکریاں مارنا‘ اپنے سر کے بالوں کو مونڈنا اور طوافِ زیارت کرنا ہوتا ہے۔ ان اعمال کی مسنون ترتیب یہ ہے کہ پہلے جمرہ عقبہ کو کنکریاں ماری جائیں‘ اس کے بعد قربانی کی جائے‘ اس کے بعد حجامت کی جائے اور اس کے بعد طوافِ زیارت کیا جائے۔ اگرچہ یہ ترتیب افضل ہے لیکن اگر کوئی غیر ارادی طور پر اس کا اہتمام نہ کر سکے تو شریعت اس کا مواخذہ نہیں کرتی‘ اس لیے کہ رسول اللہﷺ نے اس ترتیب پر سختی نہیں برتی۔ یوم النحرکو ماری جانے والی کنکریوں کی وضاحت کچھ یوں ہے: جب حاجی مزدلفہ میں 9 ذوالحجہ کی رات وقوف کرتا ہے تو اس کو وہاں سے چنے کے حجم کے برابر کی سات کنکریاں چن لینی چاہئیں۔ سنن نسائی میں حدیث ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول کریمﷺ اونٹنی پر سوار تھے اور میں نے آپﷺ کے لیے سات کنکریاں اکٹھی کیں‘ جنہیں دو انگلیوں کے درمیان رکھ کر پھینکا جا سکے۔ جب وہ کنکریاں آپﷺ کے ہاتھ میں رکھ دیں تو رسولﷺ نے فرمایا: ہاں! ایسی ہی کنکریاں ٹھیک ہیں۔ آپﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ دین میں غلو کرنے سے بچو‘ تم سے پہلے لوگوں کو دین میں غلو نے ہی ہلاک کیا تھا۔ بیمار افراد‘ بوڑھوں اور بچوں کی طرف سے صحتمند نوجوان کنکریاں مار سکتے ہیں۔ کنکری جمرہ عقبہ کو نشانہ باندھ کر مارنی چاہیے۔ جب تک رسول اللہﷺ نے جمرہ عقبہ کو کنکریاں نہیں مارنا شروع کیں‘ اس وقت تک آپﷺ تلبیہ کہتے رہے اور جب کنکریاں مارنے کی باری آئی تو آپﷺ نے ہر کنکری مارتے وقت &#39;&#39;اللہ اکبر‘‘ کہا۔ اس رمی کا بنیادی مقصد اللہ کا ذکر کرنا ہی ہے۔ 10 ذوالحجہ کو طوافِ زیارت کرنے کے بعد حاجی پر احرام کی تمام پابندیاں ختم ہو جاتی ہیں۔عرفات‘ مزدلفہ اور منیٰ بنیادی طور پر کھلے میدان ہیں۔ ان میدانوں میں خیمہ زن حاجی مہاجروں اور مسافروں کی طرح کھلے آسمان کے نیچے قدرتی ماحول میں جب اپنے اللہ سے راز و نیاز کی باتیں کرتے ہیں تو ان پر اپنی اور کائنات کی بے وقعتی پوری طرح واضح ہو جاتی ہے۔ اسی فطری ماحول میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اجرامِ سماویہ کی حقیقت کا تجزیہ کیا تھا اور ستارے‘ چاند اور سورج کو ڈوبتا ہوا دیکھ کر کہا تھا کہ میں اپنے چہرے کو اس ذات کی طرف موڑتا ہوں جو زمین اور آسمان کا بنانے والا ہے۔ ابراہیم علیہ السلام نے ہر چیز سے اپنا تعلق منقطع کر کے صرف خالق کُل اور مالکِ کُل سے اپنا تعلق استوار کر لیا تھا۔ سورۃ الانعام کی آیات 75 تا 79 میں یہ واقعہ بیان ہوا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتے ہیں: &#39;&#39;اور ہم ایسے ہی ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کی عظیم سلطنت دکھاتے تھے تاکہ وہ کامل یقین کرنے والوں سے ہو جائے۔ پھر جب رات کی تاریکی اس پر چھا گئی تو اس نے ایک ستارہ دیکھا اور کہا کہ یہ میرا رب ہے مگر جب وہ غروب ہو گیا تو اس نے کہا کہ میں غروب ہو جانے والوں سے محبت نہیں کرتا۔ پھر جب چاند کو چمکتا ہوا دیکھا تو کہا کہ یہ میرا رب ہے لیکن جب وہ غروب ہو گیا تو کہا کہ اگر مجھ کو میرے رب نے ہدایت نہ دی تو یقینا میں گمراہ لوگوں میں شامل ہو جائوں گا۔ پھر جب آفتاب کو دیکھا چمکتا ہوا تو کہا کہ یہ میرا رب ہے‘ یہ سب سے بڑا ہے۔ پھر جب وہ بھی غروب ہو گیا تو کہنے لگا: اے میری قوم! بے شک میں اس سے بری ہوں جو تم شریک بناتے ہوں۔ بیشک میں نے اپنا چہرہ اس کی طرف متوجہ کر لیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے، ایک (اللہ) کی طرف ہو کر اور میں مشرکوں (میں) سے نہیں‘‘۔اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآنِ مجید میں اہلِ ایمان کی اس کیفیت کا ذکر کیا ہے کہ وہ اٹھتے‘ بیٹھتے اور اپنے پہلوئوں پر اللہ تبارک وتعالیٰ کو یاد کرتے ہیں اور زمین وآسمان کی تخلیق پر غور کر کے کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب! آپ نے جو کچھ بھی بنایا ہے باطل نہیں بنایا‘ آپ کی ذات پاک ہے‘ ہمیں آگ کے عذاب سے بچا لے۔یوم النحرکے بعد دو یا تین روز منیٰ میں گزارنے اور جمرات کی رمی کرنے کے بعد حج کے جملہ ارکان مکمل ہو جاتے ہیں لیکن اپنے وطن واپسی سے قبل ضروری ہوتا ہے کہ حاجی بیت اللہ شریف کا الوداعی طواف کرے؛ البتہ حائضہ کو اس کی رخصت دی گئی ہے۔ طوافِ وداع حاجی کے لیے جہاں باعث اطمینان وسکون ہوتا ہے کہ وہ ارکانِ حج کو مکمل کر چکا ہے‘ وہیں یہ اس کے لیے باعثِ تکلیف بھی ہوتا ہے کہ اللہ کے گھر سے جدائی کا وقت آن پہنچا ہے۔جس طرح حاجی ایام ذوالحجہ‘ یوم عرفہ‘ یوم النحر اور ایامِ تشریق کو پورے اہتمام سے گزارتے ہیں اسی طرح غیر حاجیوں کو بھی ان ایام کو غنیمت سمجھنا چاہیے اور اللہ کے ذکر کے ساتھ ساتھ قربانی کو اس کی روح کے مطابق کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ اللہ تعالیٰ انسان سے راضی ہو جائے اور اس کے دین ودنیا کے تمام معاملات سنور جائیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_19740082.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>