<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>امن مذاکرات(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-22/11126</link><pubDate>Wed, 22 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-22/11126</guid><description>امریکہ ایران مذاکرات کے دوسرے دور کیلئے اسلام آباد میں تیاریاں مکمل ہیں۔ امریکی حکام منگل کے روز نائب صدر جے ڈی وینس کی اسلام آباد روانگی کا عندیہ دے رہے تھے تاہم منگل کی شام تک ایران کی جانب سے اسلام آباد امن مذاکرات میں شرکت کیلئے وفد کی تصدیق کے بارے میں باضابطہ جواب موصول نہیں ہوا۔ پاکستان نے ایرانی قیادت کو مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت پر قائل کرنے کیلئے مخلصانہ کوششیں کی ہیں۔ اس میں دو رائے نہیں کہ امن ہی بقائے انسانی کا تقاضا ہے اور پائیدار امن کا ایک ہی طریقہ ہے کہ مذاکرات کیے جائیں۔ ایران امریکہ جنگ کے خاتمے اور فریقین کو اس صورتحال سے نکلنے میں مدد فراہم کرنے کیلئے پاکستان نے مخلصانہ تعاون کیلئے کردار ادا کیا جس کے نتیجے میں متحارب فریق دو ہفتے کی جنگ بندی پر رضامند ہوئے‘ ایران آبنائے ہرمز کو کھولنے پر آمادہ ہوا اور اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے نمائندگان میں روبرو ملاقات ممکن ہوئی۔ اس پیش رفت کو بہت بڑی کامیابی تصور کیا جا رہا تھا کہ 1979ء کے بعد دونوں ملکوں میں پہلی بار بالمشافہ مذاکرات کی نوبت آئی۔

اس مذاکراتی دور میں اگرچہ دونوں ملک کسی معاہدے تک نہ پہنچ سکے مگر دونوں جانب توقع موجود تھی اور یہی خوشگوار احساس ان مذاکرات کے اختتام پر بھی حاوی تھا۔ تاہم دوسرے دور سے قبل بعض واقعات نے بدمزگی پیدا کی ہے اور تلخیوں کو بڑھاوا دیا ہے‘ جس سے مذاکراتی عمل پر سابقہ دور کے برعکس بے یقینی کے سائے ہیں۔ مذاکراتی عمل کی کامیابی کچھ لو اور کچھ دو پر منحصر ہوتی ہے؛ چنانچہ موجودہ حالات میں مذاکرات اور امن معاہدے کیلئے ضروری تھا کہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کے ایرانی فیصلے کیساتھ امریکہ کی جانب سے بھی بدلے میں خوشگوار تاثرات کو عملی طور پر پیش کیا جاتا۔ صدر ٹرمپ نے ایران کا شکریہ تو ادا کیا مگر ایران کی بحری ناکہ بندی کا عمل بدستور برقرار رہا اور ہر دن اس میں سختی آتی چلی گئی‘ یہاں تک کہ رواں ہفتے کے پہلے روز جب امریکی وفد کو مذاکرات کیلئے پاکستان روانہ ہونا تھا امریکی بحریہ نے چین سے آنیوالے ایران کے ایک کارگو جہاز کو نشانہ بنا کر قبضے میں لے لیا۔
ایران نے اس عمل کو جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا۔ اسکے اگلے روز اسی طرح کے ایک اور واقعے میں بحر الکاہل میں ایرانی بحری جہاز کو امریکی افواج نے قبضے میں لے لیا۔ اس دوران امریکی صدر کے دھمکی آمیز بیانات اور سیز فائر‘ جس کی مدت آج ختم ہو چکی ہے‘ میں توسیع نہ کرنے کا اظہار بھی تشویش کا باعث بنا۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کے اختتام تک کوئی معاہدہ نہیں ہوتا ہے تو وہ ایران کیساتھ دوبارہ جنگ کرنے کیلئے تیار ہیں۔ یہ رویہ جنگ کا بگل بجانے کے مترادف ہے جس کے اثرات صرف ایران‘ امریکہ یا مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے‘ اس جنگ کے شدید اثرات پوری دنیا پر اثر انداز ہوئے ہیں۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ فوڈ پروگرام کے سربراہان امریکہ ایران جنگ کے عالمی معیشت پر اثرات سے خبردار کر چکے ہیں۔ آبنائے ہرمز کی توانائی کی عالمی منڈیوں کیلئے شہ رگ کی حیثیت ہے؛ چنانچہ امریکہ ایران معاملات کی اونچ نیچ کا فوری اثر توانائی کی عالمی قیمتوں پر ظاہر ہوتا ہے۔ اگلے روز جب ایران کی جانب سے اس بحری گزرگاہ کو کھولنے کا اعلان کیا گیا تو تیل کی قیمتوں میں فوری کمی آئی اور یہ ایک ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئیں۔
مگر حالیہ دنوں امریکی صدر کی دھمکیوں‘ اقدامات اور ایرانی رہنماؤں کے جواب سے توانائی کی منڈیاں پہلے جیسے ہیجان میں مبتلا ہو چکی ہیں۔ دنیا کو اس صورتحال کے مضر اثرات سے بچانے کیلئے امریکہ اور ایران کو لچک دکھانا ہو گی۔ یہی ان کے اپنے عوام‘ معیشت اور معاشرت کیلئے بھی ضروری ہے۔ اس سلسلے میں سب سے اہم یہ ہے کہ اعتماد سازی کیلئے اقدامات کیے جائیں۔ جنگ بندی میں توسیع کا اقدام خطرات کے اس طوفان کو تھام سکتا ہے اور امن کی کامیابی کیلئے ایک اور موقع پیدا ہو سکتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ہوائی فائرنگ اور حادثات(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-22/11125</link><pubDate>Wed, 22 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-22/11125</guid><description>اگلے روز کراچی کے علاقے گلشنِ اقبال میں ایک ہوائی گولی نے گھر کی بالکونی میں کھڑی 19سالہ طالبہ کی جان لے لی۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں۔ انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والی ایک تنظیم کے مطابق ملک میں ہر سال 200 کے قریب افراد ہوائی فائرنگ کے باعث اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ اس صورتحال کی بنیادی وجوہات میں ملک میں اسلحے کی بھرمار  اور اس حوالے سے قانون و ضوابط کا کمزور نفاذ ہے۔ شادی بیاہ‘ سیاسی اجتماعات حتیٰ کہ معمولی تقریبات میں بھی ہوائی فائرنگ معمول کی بات بن چکی ہے‘ جو ایک انتہائی خطرناک سماجی رویہ ہے۔ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک بھر میں موجود غیرقانونی اسلحے کا مکمل خاتمہ یقینی بنائیں۔

اس کے ساتھ ساتھ اسلحہ لائسنس کے اجرا اور استعمال کے قواعد و ضوابط کو بھی مزید سخت اور شفاف بنایا جائے تاکہ اسلحہ صرف انتہائی محدود اور قانونی مقاصد کیلئے ہی دستیاب ہو سکے۔ جن ممالک میں اسلحے کے حوالے سے سخت پابندیاں عائد ہیں وہاں اسلحے کا غیر ذمہ دارانہ بلکہ مجرمانہ استعمال نہ ہونے کے برابر ہے‘ نتیجتاً وہاں امن و امان کی صورتحال بھی بہتر سمجھی جاتی ہے۔ پاکستان کو بھی اس حوالے سے سخت اقدامات کی ضرورت ہے۔ اگر ملک سے اسلحہ کلچر کو ختم نہ کیا گیا تو ایسے سانحات جاری رہیں گے جن سے معاشرتی خوف اور عدم تحفظ میں مزید اضافہ ہوگا۔ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے اس ذمہ داری کو کسی تاخیر کے بغیر پورا کرنا ہوگا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ارتھ ڈے(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-22/11124</link><pubDate>Wed, 22 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-22/11124</guid><description>22اپریل کو منائے جانیوالے ’ ارتھ ڈے‘ کا مقصد زمین کے تحفظ اور ماحولیاتی بقا کے حوالے سے اجتماعی ضمیر کو بیدار کرنا اور   یہ احساس دلانا ہے کہ قدرتی وسائل لامحدود نہیں اور اگر انکے بے دریغ استعمال کا یہی رجحان رہا تو زمین آنیوالی نسلوں کیلئے ناقابلِ رہائش ہوجائے گی۔ یہ دن پہلی بار 1970ء میں منایا گیا تھا جس کا بنیادی مقصد صنعتی آلودگی‘ جنگلات کی کٹائی اور قدرتی وسائل کے غیر ذمہ دارانہ استعمال کیخلاف شعور بیدار کرنا تھا۔ پاکستان کیلئے یہ دن اس لحاظ سے غیرمعمولی اہمیت رکھتا ہے کہ ہمارا ملک ماحولیاتی تبدیلیوں کے خطرناک اثرات سے براہِ راست متاثر ہے۔ گلیشیرز کا تیز پگھلاؤ‘ غیر متوقع بارشیں‘ تباہ کن سیلاب‘ شدید ہیٹ ویوز اور فضائی آلودگی جیسے مسائل معمول بن چکے ہیں۔

ایسے حالات میں ارتھ ڈے ہمارے معاشرے کیلئے  ایک انتباہ ہے کہ اگر اب بھی اجتماعی سطح پر سنجیدگی نہ دکھائی گئی تو مستقبل میں صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔ اسلئے حکومت کو ماحولیاتی تحفظ کیلئے وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ پالیسیاں بنانی چاہئیں جن میں ماحولیاتی قوانین پر سختی سے عملدرآمد‘ صنعتی آلودگی پر مؤثر کنٹرول‘شجرکاری اور قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں پر منتقلی شامل ہو۔ شہریوں کو بھی شجرکاری‘ پانی اور بجلی کے غیرضروری استعمال سے اجتناب‘ پلاسٹک کے استعمال میں کمی اور صفائی کے اصولوں کی پابندی جیسے اقدامات یقینی بنانے چاہئیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پیغام رسانی کافی نہیں(ایاز امیر)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-04-22/51810/91679250</link><pubDate>Wed, 22 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-04-22/51810/91679250</guid><description>اب تک جو پاکستان نے کیا حالات کے مطابق وہی مناسب تھا لیکن اس لمحے سے آگے پاکستان کو پیغام رسانی سے کچھ آگے جانا چاہیے۔ اِس وقت امریکہ کو صاف بتانے کی ضرورت ہے کہ جو زور زبردستی والا رویہ اُس نے اپنایا ہوا ہے اُس سے کام نہیں چلے گا۔ امریکہ عقل کی بات تو کر نہیں رہا‘ وہ ایران کو بے عزت کرنا چاہتا ہے جس کے لیے ایران تیار نہیں۔ رویے یہی رہے تو کوئی بتائے مذاکرات کیسے آگے چل سکتے ہیں‘ کجا اس کے کہ کوئی قابلِ عمل معاہدہ ہو جائے؟پاکستان کی مشہوری ہو گئی‘ قیادت کی بلّے بلّے ہو گئی‘ جیسا کہ کہا جا رہا ہے پاکستان کا پروفائل بڑھ گیا۔ سب باتیں درست ہیں لیکن امریکی ہٹ دھرمی کی وجہ سے حالات بگڑ گئے تو اس پروفائل کو ہم کیا کریں گے؟ بازار میں کتنے دام یہ پروفائل بِکے گا؟ کچھ پیسے سعودیہ سے ملے ہیں جس سے بمشکل وہ خسارہ پورا ہو گا جو یو اے ای کے پیسے واپس کرنے سے پیدا ہوا تھا۔ باقی ہمارے حالات وہی رہیں گے جو پہلے تھے‘ وہی مانگے پر گزارا‘ ادھر اُدھر سے ادھار لینا تاکہ پچھلے ادھار کی ادائیگیاں پوری ہو سکیں۔ جہاں تک ٹرمپ کی تعریف ہے وہ ہمارے کس کام کی۔ وقتی طور پر دل خوش ہو گئے‘ اپنے آپ کو ہم نے تھپکی دے دی لیکن اس سے زیادہ کیا؟ بات تو تب ہے کہ دیرپا معاہدہ طے پائے لیکن اُس کے لیے بنیادی شرط یہ ہے کہ امریکہ اپنی اکڑ‘ اپنی ہٹ دھرمی کچھ کم کرے۔ ایران نے یہ تو ثابت کر دیا ہے کہ وہ کسی بے عزتی کے لیے تیار نہیں۔ جارحیت اور زور آزمائی کے سامنے گھٹنے ٹیکنے ہوتے تو اب تک کر دیے ہوتے۔ لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ ایران نے نقصان برداشت کیا لیکن جھکنے سے انکار کیا۔اس صورتحال میں پاکستان کو امریکہ کے سامنے کچھ کھل کے کہنا چاہیے کہ ثالثی کے ضمن میں پاکستان جو کرسکتا تھا اُس نے کیا لیکن اب امریکی ایڈمنسٹریشن کچھ عقل اور شعور کا مظاہرہ کرے‘ نہیں تو معاہدہ نہیں ہوگا اور جنگ کے شعلے پھر سے بھڑک سکتے ہیں۔ امریکہ کے عجیب مطالبات ہیں کہ ایران اپنا افزودہ یورینیم امریکہ کے حوالے کر دے‘ آبنائے ہرمز کھول دے‘ صدر ٹرمپ جشنِ فتح منائے اور اس کے بدلے ایران کو اپنے ضبط شدہ اثاثے ملیں‘ دھیرے دھیرے اور قسطوں میں اور جہاں تک پابندیوں کا تعلق ہے وہ بھی ہٹیں تو آہستہ آہستہ۔ ایران گھٹنوں کے بل ہاتھ جوڑ کر بیٹھا ہوتا پھر تو ایسے مطالبات درست تھے کیونکہ فاتح پھر اپنی مرضی کرتا ہے لیکن امریکی اور اسرائیلی حملے کے نتیجے میں ایسا نہیں ہوا۔ صدر ٹرمپ بھلے کہتے رہیں کہ ہم نے ایران کی ایئر فورس نیست ونابود کر دی‘ اُن کی نیوی تباہ ہو گئی لیکن اس جنگ میں ایران کو شکست نہیں ہوئی۔ نقصانات کے باوجود قیادت اور نظام قائم دائم ہیں‘ ایرانی قوم کی ہمت بدستور دکھائی دے رہی ہے اور گو ایران جنگ نہیں چاہتا‘ اُس پر پھر سے حملے ہوئے تو جواب دینے کی صلاحیت اُس کے پاس موجود رہے گی۔ ایسے میں امریکی مطالبات بے وقوفی کا مظہر لگتے ہیں۔ پاکستان جو کر سکتا ہے کر رہا ہے، سکیورٹی کے لیے پورا اسلام آباد بند پڑا ہے۔ لیکن مذاکرات کی بات کرنا اور ساتھ ہی صبح شام ایران کو دھمکیاں دینا اور خلیج عمان میں ایرانی بحری جہاز پر قابض ہونا یہ کوئی ماحول نہیں ہے جس میں مذاکرات کسی نتیجے پر پہنچ سکیں۔صرف پاکستان ہی نہیں اب وقت آن پہنچا ہے کہ سعودی عرب‘ قطر اور ترکیہ بھی بہ آوازِ بلند کہیں کہ امریکہ کے ان رویوں سے کوئی بہتری نہیں ہو سکتی۔ ان سارے ممالک نے احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں جانے دیا لیکن صحیح بات کرنے کا بوجھ صرف پاکستان کے کندھوں پر نہ پڑے۔ مل کر پاکستان اور باقی تین ممالک کو واشنگٹن کو بتانا چاہیے کہ ایسے کام نہیں چلے گا‘ امریکہ کو کچھ عقل کی بات کرنا ہو گی۔ جب ایران اس بات پر راضی ہو گیا ہے کہ اُس کے پاس افزودہ یورینیم کمزور کر دیا جائے اور وہ اگلے پانچ سال تک افزدوگی کی طرف نہیں جائے گا تو امریکہ کو اور کیا چاہیے؟ اس ایرانی پوزیشن کو امریکہ جھٹ سے پکڑے اور امن معاہدے کی بنیاد بنائے۔ حالات کے بگاڑ کی وجہ سے خود صدر ٹرمپ کی سیاسی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔ امریکی عوام کی بھاری اکثریت اس جنگ کی حمایت میں نہیں ہے۔ آنکھیں بند کر کے صدر ٹرمپ نے یہ آتش تیار کیا لیکن اب موقع ہے کہ ان انگارو ں کو ٹھنڈا کیا جائے۔ نہ کہ ہر روز ایک نئی اشتعال کی صورت پیدا کی جائے۔ لہٰذا وقت آن پہنچا ہے کہ پاکستان ذرا کھل کر امریکہ سے بات کرے۔ اور ساتھ ہی باقی تینوں ممالک بھی امریکہ کو کچھ سمجھائیں۔شعلے پھر بھڑک اُٹھے تو اس میں نقصان سب کا ہے۔ معاشی اثرات امریکہ تک پہنچ رہے ہیں اور اگر حالات خراب ہوئے ان اثرات کی شدت میں اضافہ ہو گا۔ گلف کے عرب ممالک کا بھاری نقصان ہوا ہے‘ ایران کا کتنا ہوا ہے۔ فائدے میں ہے تو صرف اسرائیل کیونکہ اُس کی پرانی خواہش ہے کہ سارے اسلامی ممالک تباہ ہوں۔ پہلے راؤنڈ کی میزبانی پاکستان نے خوب کی اور اس کی ساری دنیا معترف ہے لیکن یہ بھی کیا ہوا کہ ایک بار پھر ہمارے لڑاکا جہاز اڑان بھریں مہمانوں کے استقبال کیلئے‘ مذاکرات کے عوامل پورے ہوں اور سب کچھ کرنے کے بعد خاطر خواہ نتیجہ کچھ نہ نکلے۔ اس بار بار کی بے سود میزبانی کے متحمل ہم نہیں ہو سکتے۔ویسے بھی امریکہ کو اس خطے سے نکلنے کی تیاری کرنی چاہیے۔ گلف ممالک نے امریکی تحفظ کے مزے چکھ لیے۔ امریکی اپنے اڈوں کا تحفظ نہ کر سکے‘ اُنہوں نے عربوں کا کیا تحفظ کرنا تھا۔ کیا کمال کے جنگی مقاصد امریکہ نے حاصل کئے ہیں کہ جس آبنائے ہرمز سے آمدورفت اس جنگ سے پہلے جاری و ساری تھی جنگ کے نتیجے میں یہ آمدورفت بند ہو گئی ہے۔ بے شعور پن کی کچھ حد ہونی چاہیے‘ لیکن صدر ٹرمپ کی صدارت میں لگتا ہے امریکہ تمام ایسی حدیں پھلانگ رہا ہے۔ اور نقصان صرف امریکہ کا نہیں ساری دنیا کا ہو رہا ہے۔مسلم ممالک نے اور کسی سے کچھ سیکھنا ہے یا نہیں کیتھولک عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو سے ہی کچھ سیکھ لیں۔ اس جنگ کا نام نہیں لیا لیکن جنگوں کے خلاف کھل کے بول رہے ہیں۔ ٹرمپ ایڈمنسٹریشن کے کچھ لوگ جو ایران جنگ کو عیسائیت کے لبادے میں ڈھانپ رہے تھے اُن کے خلاف پوپ نے تنبیہ کی ہے۔ مسلم ممالک بھی اپنا حجاب ذرا پرے کریں اور امریکہ سے کھل کر بات کریں۔ شاہ فیصل بھی ہوا کرتے تھے۔ 1973ء کی عرب اسرائیل جنگ شروع ہوئی تو مغربی ممالک کے حوالے سے تیل کی بندش کا اعلان کر دیا۔ راتوں رات تیل کی قیمتیں تین چار گنا بڑھ گئیں۔ اب بھی ایسے ہی کسی عمل کی ضرورت ہے‘ لیکن شاہ فیصل کہاں سے آئیں۔ ذوالفقار علی بھٹو تھے پاکستانی پائلٹ شام کی مدد کیلئے بھیجے ۔ آج کے سربراہانِ اُمہ احتیاط کے کچھ زیادہ ہی شیدائی نظر آتے ہیں۔ لیکن سمجھنا چاہیے کہ ایران کا نقصان اُمہ کا نقصان ہو گا۔ پچھلے بیس سالوں میں کتنے مسلم ممالک تباہ ہوئے ہیں۔ یہ سلسلہ کہیں تو رکے۔ ایرانی قوم کی ہمت ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کا سامنا کیا۔ لیکن یہ موقع ہے کہ اور کچھ نہیں تو سفارت کاری میں رعنائی آئے۔ یہ کیا بات ہوئی کہ دھمکیاں ایرانی تہذیب کو مٹانے کی ہوں اور اُمہ پر سناٹا چھایا رہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_80573045.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سول سروسز اکیڈمی لاہور اور خواجہ آصف(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-04-22/51811/82399180</link><pubDate>Wed, 22 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-04-22/51811/82399180</guid><description>صحافت ایک دلچسپ اور پُرلطف پیشہ ہے‘ بشرطیکہ آپ اسے دل سے اپنائیں۔ اگر محض اس لیے اس میدان میں آنا چاہتے ہیں کہ یہاں ٹھاٹ باٹ ہے‘ شہرت ہے‘ بڑے لوگوں سے تعلقات بنتے ہیں اور تھانہ کچہری کے معاملات آسان ہو جاتے ہیں تو پھر یہ  شوق نہیں بلکہ ایک کاروبار ہے‘ جسے آپ شاید انجوائے نہیں کر سکیں گے۔ یہ بات میں اس لیے کر رہا ہوں کہ اس پیشے میں آپ کو ہر طرح کے کردار ملتے ہیں‘ اور مختلف النوع لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ ہر شخص سے کچھ نہ کچھ سیکھنے کو ملتا ہے‘ چاہے وہ اچھا ہو یا برا‘ لیکن سیکھنے کا عمل جاری رہتا ہے۔ اس پیشے میں ایک خاص طرح کا ایڈونچر بھی موجود ہے۔ آپ لوگوں کو بہت قریب سے دیکھتے ہیں اور ان سے متاثر ہوتے ہیں۔ پھر کچھ عرصے بعد یا تو وہ آپ سے آگے نکل جاتے ہیں یا آپ ان سے آگے بڑھ جاتے ہیں‘ اور یوں ان کی شخصیت یا باتوں میں وہ کشش باقی نہیں رہتی۔ مجھے یاد ہے جب میں نے پرویز مشرف کے دور میں‘ 2002ء میں پارلیمنٹ کی رپورٹنگ شروع کی تو بہت سے پارلیمنٹرینز سے متاثر ہوا۔ اپوزیشن کے دنوں میں ان کی تقاریر ہمیشہ متاثر کرتیں‘ اور یہ سلسلہ پانچ سال تک جاری رہا۔ لیکن 2008ء میں جب وہی سیاستدان اقتدار میں آئے اور اکثر وزیر بنے تو وہ لوگ ہمارے ساتھ  ٹاک شوز میں بیٹھ کر انہی پالیسیوں کا دفاع کر رہے ہوتے بلکہ بعض اوقات ہم سے الجھ بھی پڑتے تھے‘ جنہیں وہ کبھی پرویز مشرف کے وزیروں کے خلاف پارلیمنٹ میں چارج شیٹ کے طور پر پیش کیا کرتے تھے۔اس تجربے نے مجھے یہ سکھایا کہ بعض لوگ طویل عرصے تک اداکاری تو کر سکتے ہیں مگر جب وہ کسی منزل پر پہنچتے ہیں تو ان کی اصل شخصیت سامنے آ ہی جاتی ہے۔ چند واقعات ایسے ہیں جنہوں نے مجھے گہرائی تک متاثر کیا۔ ان میں ایک واقعہ یہ تھا کہ نواز  شریف کی قیادت میں اپوزیشن نے وزیراعظم بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے خلاف قومی اسمبلی میں سرے محل سکینڈل اٹھایا۔ یہ ایک برطانوی اخبار کی رپورٹ پر مبنی تھا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سرے کاؤنٹی میں ایک گھر خریدا گیا ہے۔ بینظیر بھٹو نے  فوری طور پر اس کی تردید کی اور اسے مخالفین کا پروپیگنڈا قرار دیا۔جب نواز شریف اور ان کی جماعت اس معاملے پر قومی اسمبلی میں تقاریر کر رہے تھے تو ایک دن کابینہ اجلاس میں وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر شیر افگن نے وزیراعظم سے براہِ راست سوال کیا کہ آیا یہ خبر درست ہے یا نہیں۔ بینظیر بھٹو نے پورے اعتماد سے کہا کہ یہ سب جھوٹ ہے‘ ایسا کوئی گھر نہیں خریدا گیا۔ ڈاکٹر شیر افگن نے  وزیراعظم کی بات پر یقین کیا اور ہر فورم پر اس کا دفاع کیا لیکن جب بعد میں سرے محل بیچ کر دبئی میں گھر خریدنے کی خبریں پوری دنیا میں چھپیں تو وہ افسردہ ہو گئے۔ میری ان سے روزانہ ملاقات ہوتی تھی‘انہوں نے ایک روز کہا کہ وزیراعظم کو اپنی کابینہ کے سامنے سچ بولنا چاہیے تھا۔ اگر گھر خریدا بھی تھا تو اس میں ایسا کیا جرم تھا کہ اسے چھپایا جاتا؟ ایسی باتیں کب تک چھپ سکتی ہیں؟ اب جب سب کچھ سامنے آ گیا تو افسوس کے سوا کچھ نہیں۔ڈاکٹر شیر افگن کے افسوس کو ایک طرف رکھیں اور نواز شریف اور ان کی جماعت کے کردار پر نظر ڈالیں۔ جس وقت وہ سرے محل سکینڈل کی فوٹو کاپیاں ایوان کے اندر اور باہر تقسیم کر رہے تھے اسی وقت وہ آف شور کمپنیوں کے ذریعے لندن میں فلیٹس خرید چکے تھے‘ جو برسوں بعد پاناما لیکس میں منظر عام پر آئے۔ یعنی جس عمل پر وہ دوسروں کو کرپٹ ثابت کر رہے تھے وہی کام خود بھی کر رہے تھے۔ اس طرح اگر یاد ہو تو عمران خان یوسف رضا گیلانی کے ترک ہار کی باتیں اپنے ہر جلسے جلوس اور ٹی وی انٹرویو میں سناتے تھے‘ لیکن پھر پتا چلا کہ وہ خود بھی سب سرکاری تحائف اپنے گھر لے گئے اور انہیں بیچ بھی دیا۔میں آج تک یہ نہیں سمجھ سکا کہ یہ کیسی انسانی نفسیات ہے کہ جو کام آپ خود کر رہے ہوتے ہیں اور جانتے ہیں کہ وہ غلط ہے‘ وہی کام جب کوئی دوسرا کرے تو آپ اسے مجرم قرار دیتے ہیں۔ انسان خود کو کیسے قائل کر لیتا ہے کہ وہ درست ہے اور دوسرا غلط؟1997ء میں جب سوئٹزرلینڈ کے بینک میں زرداری صاحب کے ساٹھ ملین ڈالرز کا انکشاف ہوا تو اس وقت کے اٹارنی جنرل میاں فاروق ( موجودہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے والد)نے سوئس حکومت کو خط لکھا کہ یہ دولت پاکستان سے لوٹی گئی ہے اور پاکستان کے عوام کی ہے لہٰذا اسے واپس کیا جائے‘ جس پر اس رقم کو منی لانڈرنگ قرار دے دیا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بعد میں نواز شریف خاندان پر بھی پاناما لیکس میں اسی نوعیت کے الزامات لگے۔ شہباز شریف پر 16ارب روپے کی منی لانڈرنگ کا کیس بھی بنا جو عمران خان کے دورِ حکومت میں زیرِ تفتیش رہا۔ اگر وہ وزیراعظم نہ بنتے تو شاید اس کیس میں انہیں سخت سزا کا سامنا کرنا پڑتا۔ مگر وہی شہباز شریف زرداری صاحب کو لاڑکانہ کی گلیوں میں گھسیٹنے کی باتیں کرتے رہے۔ ایسی بے شمار مثالیں ہیں۔ میں درجنوں واقعات بیان کر سکتا ہوں جہاں لوگ اسمبلی میں دوسروں کی کرپشن کے قصے سناتے تھے جبکہ خود بھی کسی نہ کسی سکینڈل میں ملوث ہوتے تھے۔ ایک واقعہ لیاقت بلوچ نے سنایا تھا کہ 2002ء میں ایم ایم اے کے ارکان سائیکلوں پر پارلیمنٹ آئے لیکن 2007ء میں وہی ارکان پجارو اور پراڈو میں واپس گئے۔ہمارے ہاں یہ نعرہ بہت مقبول ہے کہ غریب کو اقتدار میں لایا جائے تو ملک کی حالت بدل جائے گی‘ مگر اپنی چوبیس سالہ پارلیمنٹ رپورٹنگ میں مَیں نے یہی دیکھا ہے کہ اگر کوئی غریب پس منظر کا آدمی پارلیمنٹ میں پہنچ بھی جائے تو دو سال بعد وہ غریب نہیں رہتا۔ ترقیاتی فنڈز میں‘ بقول سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی‘ تیس فیصد کمیشن لے کر لوگ چند سالوں میں کروڑ پتی بن جاتے ہیں۔ اگر میں نے کسی سیاستدان کو پانچ سال پہلے جیسے کپڑوں یا گاڑی میں اسمبلی آتے اور ویسے ہی واپس جاتے دیکھا تو وہ  میانوالی کے ڈاکٹر شیر افگن نیازی تھے۔ وہ ایسی وزارت قبول ہی نہیں کرتے تھے جس میں مالی فوائد کا امکان ہو۔ اسی لیے وہ زیادہ  تر وزیر پارلیمانی امور ہی رہے‘ جن کا کام صرف پارلیمانی امور دیکھنا تھا۔ ڈاکٹر شیر افگن جیسا سادہ اور اصول پسند سیاستدان میں نے کم ہی دیکھا ہے۔اب ایک اور دلچسپ مگر تلخ پہلو دیکھیں۔ ایک تصویر میں دیکھا کہ ایک سابق بیوروکریٹ لاہور کی سول سروسز اکیڈمی میں زیرِ تربیت افسران کو لیکچر دے رہے تھے۔ اس سیریز کا نام &#39;&#39;اخلاقی لیکچر سیریز‘‘ رکھا گیا ہے۔ بظاہر اس کا مقصد مستقبل کے بیوروکریٹس میں اخلاقیات کو فروغ دینا ہے‘ مگر اسی دوران خواجہ آصف نے انکشاف کیا کہ پاکستانی بیوروکریٹس پرتگال میں جائیدادیں خرید رہے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ ان کے پاس اتنا سرمایہ کہاں سے آ رہا ہے کہ بیرونِ ملک جائیدادیں خرید سکیں‘ غیر ملکی شہریت حاصل کریں اور اپنے بچوں کو باہر منتقل کریں؟ ایسے میں یہ فیصلہ کرنا مشکل نہیں کہ زیرِ تربیت افسران پر زیادہ اثر کس بات کا ہوگا‘اخلاقی لیکچرز کا یا اس تلخ حقیقت کا کہ سینئر افسران بیرونِ ملک اثاثے بنا رہے ہیں۔ نتیجتاً اکثر افسران سروس جوائن کرتے ہی اپنے &#39;&#39;کھاتے‘‘ کھول لیتے ہیں۔ سنا ہے کہ اب تو اکیڈمی سے فارغ ہوتے ہی‘ حتیٰ کہ پروبیشن پیریڈ مکمل ہونے سے پہلے ہی یہ سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ یہ اُس اکیڈمی کے تربیت یافتہ افسران کا حال ہے جہاں آج کل اخلاقیات پر لیکچر سیریز جاری ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کتابیں کیوں نہیں پڑھی جاتیں؟(شاہد صدیقی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-siddiqui/2026-04-22/51812/72935584</link><pubDate>Wed, 22 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-siddiqui/2026-04-22/51812/72935584</guid><description>تعلیم کے موضو ع پر ہونے والی کانفرنسوں میں اکثر یہ بحث کی جاتی ہے کہ ہمارے معاشرے میں کتب بینی کی روایت زوال پذیر ہے۔ حال ہی میں Learning Poverty کے حوالے سے ورلڈ بینک کی ایک ہوشربا رپورٹ سامنے آئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ زوال اچانک رونما نہیں ہوا بلکہ یہ دہائیوں سے ہمارے معاشرے میں ترجیحات اور سماجی اقدار میں آنے والی بتدریج تبدیلیوں کا نتیجہ ہے۔ وہ جو کہتے ہیں:وقت کرتا ہے پرورش برسوں ؍ حادثہ ایک دم نہیں ہوتاکتاب بینی جو کبھی فکری نشوونما کا لازمی جز وسمجھی جاتی تھی‘ اب ایک غیر اہم سرگرمی بن کر رہ گئی ہے۔ طلبہ کی مطالعہ کی عادت میں  کمی کیوں آئی ہے؟ اس زوال کے اسباب کیا ہیں؟ اس زوال کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ اس صورتحال میں بہتری کیسے لائی جا سکتی ہے؟ یہ وہ بنیادی سوالات ہیں جن کے جوابات ہمارے لیے اہم ہیں۔ آئیے ان سوالات کے جوابات تلاش کرتے ہیں۔ سب سے پہلے طالب علموں میں کتب بینی کا جائزہ لیا جائے تو پتا چلتا ہے کہ اکثر طلبہ نصاب کے علاوہ بہت کم کتابیں پڑھتے ہیں۔ ان کی تمام تعلیمی زندگی امتحانات‘ نمبروں اور گریڈز کے گرد گھومتی ہے۔ ایسے میں نصاب سے باہر کتابوں کا مطالعہ ایک ثانوی حیثیت اختیار کر جاتا ہے کیونکہ طلبہ کا واحد مقصد امتحان میں نمبر حاصل کرنا ہوتا ہے۔ جب کامیابی کا معیار صرف اچھے گریڈز تک محدود ہو جائے تو طلبہ اپنے مطالعے میں بھی شارٹ کٹ کو ترجیح دیتے ہیں۔ وہ نصاب کی کتابوں کو پڑھنے کے بجائے خلاصوں‘ گائیڈز اور مختصر نوٹس سے مدد لیتے ہیں۔ لیکن اس صورتحال کی ساری ذمہ داری محض طلبہ پر عائد نہیں ہوتی کیونکہ وہ جس معاشرے میں سانس لے رہے ہیں‘ وہی معاشرہ ان کی ترجیحات کا تعین کرتا ہے۔کیا کتب بینی کے زوال میں اساتذہ کا کردار ہے؟ اساتذہ کی ایک اہم ذمہ داری طلبہ میں کتابوں کی محبت پیدا کرنا بھی ہے۔ مگر جو استاد خود مطالعہ نہیں کرتے وہ مطالعہ کے کلچر کو کیسے فروغ دے سکتے ہیں۔ بہت سے تعلیمی اداروں میں تدریس محض نصابی مواد تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ یہ تدریس اکثر امتحانی نظام کے تقاضوں کے تابع ہوتی ہے۔ اساتذہ کی پیشہ ورانہ ترقی کیلئے مطالعہ کا مرکزی کردار ہوتا ہے لیکن اساتذہ میں بھی مطالعے کی روایت ماند پڑ گئی ہے۔ اکثر اساتذہ خود کو صرف نصابی کتابوں تک محدود رکھتے ہیں۔ یوں طلبہ کو اپنے اساتذہ سے ایک غیر محسوس پیغام ملتا ہے کہ نصاب سے باہر مطالعہ غیر ضروری ہے۔ اس طرح اساتذہ کی مطالعہ سے دوری طلبہ میں کتب بینی کے زوال کی ایک بڑی وجہ بنتی ہے۔کتب بینی کے زوال میں کچھ حصہ پبلشرز اور کتب فروشوں کا بھی ہے۔ آج کل معیاری کتابیں یا تو مہنگی ہیں یا آسانی سے دستیاب نہیں۔ کتابوں کی قیمتیں زیادہ ہونے سے وہ محدود طبقے تک محدود رہتی ہیں۔ بہت سے پبلشرز نے خود کو صرف درسی کتب کی اشاعت تک محدود کر دیا ہے کیونکہ اس میں پیسہ زیادہ ہے۔ یہ پبلشرز مارکیٹ کی طلب کے مطابق کام کرتے ہیں‘ حالانکہ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ وہ قارئین کی طلب کو تشکیل دینے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔کتب بینی کی روایت کے زوال میں ریاست کے کردار کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ تعلیمی پالیسیاں عموماً بامعنی تعلیم کے بجائے Measureable ٹا رگٹس کو ترجیح دیتی ہیں۔ یوں امتحانات اور سلیبس کی پابندیوں میں نصاب سے باہر کی کتب کے مطالعہ کی ضرورت اور گنجائش کم رہ جاتی ہے۔ کسی زمانے میں ملک میں پبلک لائبریریوں کا رواج تھا۔ یہ لائبریریاں رفتہ رفتہ معدوم ہو گئی ہیں۔ جو اکا دکا لائبریریاں موجود ہیں وہ وسائل کی کمی کا شکار ہیں۔ ان لائبریریوں کا خاتمہ ہمارا مشترکہ ثقافتی نقصان ہے۔ یوں جب مطالعہ کیلئے مناسب جگہیں میسر نہ ہوں تو اس کا منفی اثر مطالعہ کی روایت پر پڑتا ہے۔ کسی گھر میں کتابوں کی موجودگی بچوں پر مثبت اثر ڈالتی ہے۔ عام مشاہدہ ہے کہ جن طلبہ کے گھروں میں کتابیں موجود ہوتی ہیں ان میں مطالعے کی عادت مضبوط بنیادوں پر استوار ہوتی ہے۔ اساتذہ‘ پبلشرز‘ والدین اور ریاست کے علاوہ ہمارا معاشرہ بھی کتب بینی کے زوال کے عمل میں شریک ہے۔ ہم ایک ایسے دور میں سانس لے رہے ہیں جہاں زندگی کی رفتار بہت تیز ہو گئی ہے۔ ڈیجیٹل میڈیا اور مصنوعی ذہانت نے معلومات کے حصول کے طریقے بدل دیے ہیں۔ یوں معلومات تک ہماری رسائی آسان تو ہو گئی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی ہمارے طالب علموں میں توجہ کا دورانیہ بہت کم ہو گیا ہے اور بامعنی مطالعے کیلئے جس توجہ اور انہماک کی ضرورت ہے وہ ناپید ہے۔ سوشل میڈیا نے نوجونوں کو جس سہولت اور تن آسانی کا عادی بنا دیا ہے‘ اب انہیں سنجیدہ مطالعہ ایک محنت طلب اور مشکل کام محسوس ہوتا ہے۔ بہت سے گھروں میں مطالعہ  کی روایت دم توڑ رہی ہے اور اس کی جگہ موبائل فون اور سکرین نے لے لی ہے۔ جب بچے روزمرہ زندگی میں اپنے گھروں میں کتابوں کو نہیں دیکھتے تو کتاب سے ان کا تعلق مضبوط نہیں ہو پاتا۔ یوں مطالعہ کی عادت میں کمی کا ذمہ دار کوئی ایک طبقہ نہیں بلکہ اس میں بہت سے تعلیمی‘ سماجی اور معاشی عوامل کا ہاتھ ہے۔ کتب بینی کے زوال کے اسباب کا ذکر کرنے کے بعد آئیے دیکھتے ہیں کتب بینی کے احیا اور فروغ کیلئے کیا اقدامت کرنے چاہئیں۔1: تعلیمی اداروں میں مطالعہ کیلئے باقاعدہ وقت مختص کرنا چاہیے جس میں طلبہ اپنی پسند کی کتابیں پڑھیں۔ یوں تعلیمی ادارے طلبہ میں مطالعے کی عادت کو فروغ دے سکتے ہیں۔ اس کیلئے تعلیمی اداروں کو زیادہ وسائل کی ضرورت نہیں‘ صرف ترجیحات میں تبدیلی درکار ہے۔ 2: اساتذ ہ بھی اس سلسلے میں اہم کردار اداکر سکتے ہیں۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ تربیتِ اساتذہ کے پروگراموں میں مطالعہ کو مرکزی حیثیت دی جائے۔ مطالعاتی حلقے‘ ورکشاپس اور پیشہ ورانہ سیکھنے کی کمیونٹیز اساتذہ کو دوبارہ کتابوں سے جوڑ سکتی ہیں۔ جب اساتذہ خود مطالعے کے عادی ہوں تو وہ طلبہ کے سامنے عملی نمونہ پیش کر سکتے ہیں۔ 3: تعلیمی ادارے بہت کم اخراجات سے مطالعے کے فروغ کیلئے اقدامات کر سکتے ہیں۔ سکولوں میں کلاس روم لائبریریاں بنائی جا سکتی ہیں‘ جو ایک شیلف بھی ہو سکتی ہے۔ سکول میں کتابی مباحثے‘ رِیڈنگ کلب اور مصنفین سے ملاقاتیں بھی کتابوں میں دلچسپی پیدا کر سکتی ہیں۔ 4: خاندان بھی کتب بینی کے عمل کا اہم حصہ ہیں۔ گھروں میں مطالعہ کی حوصلہ افزائی کیلئے بڑے وسائل کی ضرورت نہیں۔ روزانہ کچھ وقت مطالعہ کیلئے مختص کرنا‘ کتابوں پر گفتگو کرنا یا بچوں کو بلند آواز سے کتاب پڑھ کر سنانا دیرپا اثر ڈال سکتا ہے۔ 5: پبلشرز اور کتب فروش کتابوں کے سستے ایڈیشن‘ مقامی زبانوں میں تراجم شائع کر کے مطالعہ کے دائرے کو وسیع کر سکتے ہیں۔ 6: ریاست کی سطع پر بھی کتب بینی کے فروغ کے ٹھوس اقدامات کیے جانے چاہئیں۔ ان اقدامات میں پبلک لائبریریوں کی بحالی‘ کتابوں پر سبسڈی اور مطالے کو تعلیمی نظام کا لازمی حصہ بنانا شامل ہیں۔ تعلیمی پالیسیوں کا محور صرف امتحانات میں کامیابی نہ ہو بلکہ ان کا ایک اہم مقصد طلبہ میں تنقیدی سوچ اور مطالعہ کا فروغ ہو۔کتب بینی کا احیاء اور فروغ ایک بڑی معاشرتی تبدیلی کا تقاضا کرتا ہے۔ اس تبدیلی کی ذمہ داری کسی ایک فریق پر عائد نہیں جا سکتی۔ قومی سطح پر یہ تبدیلی تمام فریقوں کی مشترکہ کوششوں ہی سے ممکن ہے۔ آج کے دور میں جہاں مصنوعی ذہانت کی بدولت معلومات کی فراوانی ہے‘ تنقیدی سوچ اور سنجیدہ فکری مکالمے کی صلاحیت پہلے سے کہیں زیادہ کم ہو گئی ہے‘ ایسے میں کتب بینی کی روایت کا احیا اور فروغ ہماری اہم سماجی ضرورت ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_21538475.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مذاکرات کا دوسرا دور،امیدیں اور توقعات(سلمان غنی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/salman-ghani/2026-04-22/51813/91899500</link><pubDate>Wed, 22 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/salman-ghani/2026-04-22/51813/91899500</guid><description>امریکہ اور ایران کے مابین جنگ کے خاتمے کیلئے پاکستانی کردار کی دنیا معترف ہے۔ بلاشبہ مذاکرات کے پہلے دور میں کوئی بریک تھرو نہیں ہو سکا‘ تاہم امریکہ اور ایران کی لیڈر شپ کے مذاکرات کی میز پر آنے سے بہت سے خدشات کا ازالہ ضرور ہوا۔اس کے باوجود کہ فریقین ایک دوسرے کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں‘ اگر کسی ایک نکتہ پر دونوں کا اتفاقِ رائے ہوا تو وہ پاکستان کا ثالثی کا کردار تھا‘ جس کی بڑی وجہ پاکستان کا غیرجانبدارانہ اور ذمہ دارانہ رویہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے مذاکرات کے پہلے دور کے خاتمے کے ساتھ ہی دوسرے دور کیلئے کوششیں شروع کر دیں‘ خصوصاً وزیراعظم شہباز شریف‘ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا فریقین سمیت اہم ممالک کی لیڈرشپ سے رابطہ رہا اور مذاکرات کی نتیجہ خیزی کے حوالے سے تجاویز و آرا پر تبادلہ خیال ہوتا رہا۔ وزیراعظم شہباز شریف کے دورۂ سعودی عرب‘ قطر اور ترکیہ‘ اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے تین روزہ دورۂ ایران کو اسلام آباد میں جاری مذاکراتی عمل اور خطے میں امن کے قیام کے حوالے سے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے سہ ملکی دورے کے دوران اسلام آباد مذاکرات اور اس میں زیرِ غور نکات پر دوست ممالک کی لیڈرشپ کو اعتماد میں لیا۔ دوسری جانب فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دورۂ تہران غیرمعمولی اہمیت کا حامل رہا۔ ایرانی لیڈر شپ کی جانب سے ان کی پذیرائی سے ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ پاکستان کے جنگ بندی اور مذاکراتی عمل میں اس کے کردار کو اہمیت دیتی ہے۔ مذکورہ دورے کے حوالے سے کہا جا رہا تھا کہ اس کا مقصد ایرانی لیڈرشپ کے سامنے بعض امریکی شرائط رکھنا تھا۔ ایرانی لیڈر شپ نے مذکورہ امریکی شرائط کے بارے میں کیا کہا اس سے قطع نظر مذکورہ دورے کو عالمی میڈیا نے غیر معمولی اہمیت دی اور تاثر یہ بنا کہ اس دورے کے نتیجے میں مذاکرات کے دوسرے دور میں بریک تھرو ہو سکتا ہے۔ اس دورے کے دوران ہی ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی اس ٹویٹ نے کہ &#39;&#39;ایران آبنائے ہرمز کھول رہا ہے‘‘ مذاکراتی عمل کے بارے میں توقعات اور بڑھا دیں اور صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کے اس طرزِ عمل کو خوش آئند قرار دینے سے مذاکرات کے دوسرے دور کے حوالے سے امیدیں قائم ہوئیں۔ پاکستانی لیڈرشپ نے مذکورہ پیشرفت کو مذاکرات کی نتیجہ خیزی قرار دیا‘ لیکن اس اعلان کے 24گھنٹوں کے اندر ہی ایران نے پھر سے آبنائے ہرمز بند کردی اور اس کا جواز یہ پیش کیا کہ اس کی جانب سے آبنائے ہرمز کھولنے کے باوجود امریکہ نے اپنی ناکہ بندی ختم نہیں کی‘ لہٰذا ان کے پاس اس کے سوا کوئی آپشن نہیں۔اس صورتحال میں مذاکرات کے دوسرے دور کے حوالے سے خدشات بڑھتے نظر آئے۔ امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے دی جانے والی دھمکیوں کے ردِعمل میں ایران نے بھی ان نکات پر کاربند رہنے کا عندیہ دیا جن کے حوالے سے اس نے پہلے مذاکراتی دور میں لچک ظاہر کرتے ہوئے مذاکراتی عمل کی نتیجہ خیزی کے حوالے سے مثبت پیغام دیا تھا۔ اس کی ایک وجہ خود ایران کے اندر بعض ایشوز خصوصاً امریکہ سے مذاکرات اور اس میں پیش ہونے والی بعض شرائط پر لچک کا رویہ تھا۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ ایران کی لیڈرشپ نے اپنے اصولی مؤقف پر کاربند رہتے ہوئے مذاکراتی عمل کی کامیابی کیلئے اپنا مثبت رویہ ظاہر کیا۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے ہی امریکہ نے اسلام آباد میں مذاکرات کے دوسرے دور کا اعلان کیا۔صدر ٹرمپ نے جہاں نائب صدر جے ڈی وینس اور دیگر ذمہ داران کو اسلام آباد بھجوانے کا عندیہ دیا وہاں انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں ایرانی لیڈرشپ کو بھی ٹارگٹ کیا۔ وہ اپنے طرزِ عمل اور اعلانات کے ذریعے ایران پر دباؤ بڑھانا چاہتے ہیں۔ ٹرمپ کی پالیسیوں اور اقدامات پر امریکہ کے اندر بھی ردعمل بڑھ رہا ہے‘ جس سے نہ صرف امریکی ساکھ متاثر ہو رہی ہے بلکہ ٹرمپ کی سیاسی مقبولیت بھی خطرے میں ہے‘ اس لیے صدر ٹرمپ ہر حالت میں &#39;&#39;عظیم ڈیل‘‘ چاہتے ہیں۔ امریکہ نے اسلام آباد مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں شرکت کا اعلان کیا ہے لیکن ایران کی طرف سے دوسرے مرحلے میں ابھی تک شرکت کا واضح اشارہ نہیں دیا گیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے رابطہ کر کے انہیں مشورہ دیا کہ ایران کے تحفظات پر مذاکرات کے دوسرے دور میں بات ہو سکتی ہے۔ ایران کے مذاکرات میں عدم شرکت کے فیصلے پر ماہرین کی رائے یہ ہے کہ ایران کو مذاکراتی عمل کا حصہ بن کر اپنے تحفظات کا اظہار کرنا چاہیے۔ایران کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ آج اگر امریکہ اور ایران میں جنگ بندی ہے تو اس میں پاکستان کی ثالثی کا اہم کردار ہے۔ باوجودیکہ اس وقت بھی پاکستان کا ثالثی کردار اپنے عروج پر ہے‘ یہ اعتراف بھی لازم ہے کہ پاکستان کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کے پیچھے چین‘ روس‘ سعودی عرب‘ ترکیہ‘ قطر اور بعض عالمی طاقتوں کی تائید بھی ہے‘ جو یہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ اور ایران کے مابین جنگی صورتحال جہاں عالمی امن کے حوالے سے خطرناک ہے وہاں اس تناؤ اور ٹکراؤ کے مضر اثرات دنیا کی معیشت اور پٹرولیم کی قلت اور نرخوں پر بھی پڑ رہے ہیں۔اس بنا پر دنیا بھر کے اہم ممالک کی لیڈرشپ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ثالثی کوششوں کو سراہتے ہوئے مذاکرات کو ہی مسائل کا حل قرار دیتی ہے۔ حالات و واقعات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو مذاکرات کے سوا فریقین کے پاس کوئی حل نہیں۔ ایران کی جانب سے تحفظات کے باوجود ایک بات واضح نظر آ رہی ہے کہ ایران کو مذاکرات کے دوسرے دور کا حصہ بننا چاہیے‘ اور اس ضمن میں بنیادی فیصلہ خود ایران کے اندر ہونا ہے۔ ایرانی لیڈرشپ کو فیصلہ کرنا ہے کہ جنگی آپشن کی طرف بڑھنا ہے یا مذاکرات اور امن کی راہ پر گامزن ہو کر اپنے مثبت کردار کو یقینی بنانا ہے۔ اس امر کے باوجود کہ پاکستان ایران کے حوالے سے ہمدردانہ رویہ رکھتا ہے اور اس کی ہر ممکن کوشش ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمت ہو جائے جس میں فریقین کو فیس سیونگ بھی ملے اور دونوں اپنے اپنے عوام کے سامنے بھی سرخرو ہوں۔اگر دنیا کے حالات پر نظر دوڑائی جائے تو ایک بات کھل کر سامنے آ رہی ہے کہ اب کوئی جنگ و جارحیت کا حامی نہیں۔ سب اپنے اپنے معاشی مفادات کو دیکھ رہے ہیں‘ کوئی بھی ایسے رجحان کی حمایت کیلئے تیار نہیں جس کے نتیجے میں دنیا میں تباہی آئے‘ اس لیے ایران امریکہ جنگ میں مغربی ممالک نے بھی امریکہ کا ساتھ نہیں دیا۔ یہی وجہ ہے کہ نہ تو امریکہ ایران پر غلبہ حاصل کر سکا اور نہ ہی اس کی طاقت اور قوت نتیجہ خیز بنی۔ جبکہ ایران نے امریکی جارحیت کا ثابت قدمی سے جواب دے کر دنیا پر واضح کر دیا کہ طاقت اور قوت سب کچھ نہیں‘ شعور اور جذبہ بھی جارحیت کو ناکام بنانے میں اہم ہوتے ہیں۔ تاہم ایران کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ جنگی بخار کبھی قوموں اور ملکوں کیلئے فائدہ مند نہیں ہوتا‘ بالآخر مسائل کا حل مذاکرات ہی سے نکلتا ہے۔ایران کے پاس امریکی جارحیت کے خلاف مؤثر کیس موجود ہے تو اسے مذاکرات کی میز پر آنا چاہیے۔ مذاکرات سے گریز اس کی پوزیشن کو کمزور کرے گا۔ فریقین پر یہ بھی لازم ہے کہ مذاکرات کے دوسرے مرحلے سے قبل جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کر یں کیونکہ یہی عمل فریقین کے مفادات اور دوطرفہ مذاکرات کے بہترین مفاد میں ہوگا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/230_37874475.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>خاموش معاہدہ اور وائٹ ہاؤس کا جواب(محمد حسن رضا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-hasan-raza/2026-04-22/51814/83263293</link><pubDate>Wed, 22 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-hasan-raza/2026-04-22/51814/83263293</guid><description>یہ محض مذاکرات نہیں‘ ایک ایسا عالمی کھیل ہے جہاں اصل جنگ میز پر نہیں بلکہ مفادات‘ معیشت اور طاقت کے درمیان لڑی جا رہی ہے۔ اسلام آباد اس وقت ان مذاکرات کا مرکز بن چکا ہے۔ خاموش مگر فیصلہ کن‘ اور انہی کے درمیان ایک بڑی کہانی ترتیب پا رہی ہے۔اسلام آباد میں ہونے والے امریکہ ایران مذاکرات کی پہلی بیٹھک کے بعد جب وائٹ ہاؤس میں ایک امریکی عہدیدار سے میرا رابطہ ہوا تو اُس نے بتایا کہ امریکہ اور ایران کے مابین رابطے جاری ہیں اور کسی حتمی معاہدے کی طرف پیشرفت ہو رہی ہے۔ اس ایک جملے میں سفارتکاری کا پورا وزن موجود تھا۔ نہ تصدیق‘ نہ تردید مگر ایک سمت ضرور دکھائی دے رہی تھی۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا اس نے واضح کیا کہ پس پردہ کچھ نہ کچھ واقعی بدل رہا ہے۔ اور پوری تصویر دیکھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ یہ مذاکرات مکمل معاہدے کیلئے نہیں بلکہ درمیانی راستہ نکالنے کیلئے ہو رہے ہیں۔ یعنی مکمل ڈیل نہیں بلکہ محدود‘ مرحلہ وار پیشرفت ہو سکتی ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے سمجھنا ضروری ہے‘کیونکہ جو کچھ سامنے دکھائی دے رہا ہے وہ مکمل کہانی نہیں ‘ اصل کہانی اس کے پیچھے ہے۔ اس پوری کہانی کا سب سے حساس پہلو ایران کا جوہری پروگرام ہے۔ ایران کیلئے یہ کوئی معمولی معاملہ نہیں بلکہ خودمختاری‘ سلامتی اور قومی وقار کا مسئلہ ہے۔ حقائق کے مطابق یورینیم کی افزودگی جتنی بڑھتی ہے‘ اس کی حساسیت اور طاقت اتنی ہی زیادہ ہو جاتی ہے۔ تین سے پانچ فیصد تک افزودہ یورینیم توانائی کے حصول کیلئے‘ 20 فیصد تک تحقیق کیلئے‘ جبکہ 60 فیصد تک ہتھیار سازی کیلئے استعمال ہوتی ہے‘ اور 90 فیصد براہِ راست ایٹمی ہتھیاربنانے کیلئے استعمال ہوتی ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جس پہ دنیا کو تشویش ہے اور یہی وہ نکتہ ہے جس سے ایران پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ایرانی قیادت‘ خاص طور پر ایرانی صدر ایک معاہدے کے حق میں نظر آتے ہیں۔ وہ معاشی دباؤ کو کم کرنا چاہتے ہیں‘ عالمی پابندیوں سے نکلنا چاہتے ہیں اور ایران کو دوبارہ عالمی معیشت میں فعال دیکھنا چاہتے ہیں‘ مگر ایران میں اصل طاقت کس کے پاس ہے؟ یہاں آتی ہے پاسدارانِ انقلاب فورس۔ ایران کا وہ طاقتور ادارہ جو نہ صرف فوجی بلکہ نظریاتی کنٹرول بھی رکھتا ہے۔ ان کا مؤقف دوٹوک ہے کہ یورینیم کوئی سودا نہیں‘ یہ ہماری زمین کا حصہ ہے۔ یہ جملہ اس اندرونی تضاد کو ظاہر کرتا ہے جہاں ایک طرف سیاسی قیادت ہے جو معاہدہ چاہتی ہے اور دوسری طرف عسکری اسٹیبلشمنٹ جو امریکہ کیلئے کسی بڑی رعایت کیلئے تیار نہیں۔اگر اس تصویر کو مکمل دیکھنا ہو تو 2015ء کا معاہدہ یاد رکھنا ہوگا‘The Joint Comprehensive Plan of Action۔ اس معاہدے میں ایران نے یورینیم کی افزودگی محدود کی‘ بین الاقوامی نگرانی قبول کی اور جوہری سرگرمیوں کو کنٹرول کیا۔ بدلے میں اقتصادی پابندیاں نرم ہوئیں اور ایران کو عالمی مالیاتی نظام تک رسائی ملی۔ لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2018ء میں اس معاہدے سے یکطرفہ علیحدگی اختیار کر لی۔ یہی وہ لمحہ تھا جہاں ایران کا اعتماد ٹوٹا۔ آج ایران کا سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ اگر ہم دوبارہ رعایت دیں تو کیا ضمانت ہے کہ امریکہ پھر پیچھے نہیں ہٹے گا؟ اس لیے اب جو مذاکرات ہو رہے ہیں وہ 2015ء جیسے نہیں ہیں۔ اب ایران زیادہ محتاط ہے‘ امریکہ زیادہ دباؤ میں ہے اور خطہ زیادہ غیر مستحکم ہے۔ یہاں ایک اور بڑا عنصر سامنے آتا ہے‘وہ ہے معیشت۔ ایران کے بیرونِ ملک منجمد اثاثے اس وقت ان مذاکرات کا عملی مرکز بن چکے ہیں۔ اندازوں کے مطابق یہ اثاثے 100 ارب ڈالر سے زائد ہیں جو چین‘ بھارت‘ عراق‘ـ قطر‘ جاپان‘ یورپ اور امریکہ سمیت مختلف ممالک میں منجمد پڑے ہوئے ہیں۔ یہ وہ سرمایہ ہے جو ایران نے تیل کی فروخت اور دیگر ذرائع سے حاصل کیا مگر پابندیوں کے باعث استعمال نہیں کر پا رہا۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کیلئے یہ اثاثے صرف رقم نہیں بلکہ بقا کا سوال ہیں۔ اگر یہ بحال ہو جائیں تو ایران اپنی معیشت کو سہارا دے سکتا ہے‘ انفراسٹرکچر بہتر بنا سکتا ہے اور معاشی دباؤ کم کر سکتا ہے۔دوسری طرف امریکہ اس معاملے کو سکیورٹی کے زاویے سے دیکھتا ہے کہ اگر یہ رقم بحال ہوگئی تو اس کا استعمال کہاں ہوگا؟ یہی وہ تضاد ہے جو مذاکرات کو پیچیدہ بناتا ہے۔ اسی دوران عالمی معیشت بھی اس کشیدگی کی قیمت ادا کر رہی ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں دوبارہ بڑھ کر 95 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی ہیں‘ ایندھن مہنگا ہو چکا ہے‘ ہوائی سفر کے اخراجات بڑھ گئے ہیں اور زرعی پیداوار پر بھی اثر پڑ رہا ہے۔ آئی ایم ایف پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ اگر جنگ ختم بھی ہو جائے تو اس کے معاشی اثرات فوری ختم نہیں ہوں گے۔ یہی وہ دباؤ ہے جس کی وجہ سے امریکہ جلد بازی کر رہا ہے۔ امریکہ چاہتا ہے کہ ایران کے ساتھ معاملہ جلدی طے ہو جائے جبکہ ایران چاہتا ہے کہ یہ معاملہ طوالت اختیار کرے۔ یہی رفتار کا فرق اصل مسئلہ ہے۔ اسی دوران امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا کردار بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق پہلے امریکی وفد میں کچھ ایسے افراد شامل کیے گئے جن پر امریکہ کے اندر اعتراضات اٹھے‘ پھر خبریں آئیں کہ نائب صدر اس عمل کا حصہ نہیں ہوں گے‘ اور بعد میں ان کا نام دوبارہ سامنے آیا۔ یہ سب کیا ظاہر کرتا ہے؟ ممکن ہے جے ڈی وینس کو سائیڈ لائن کیا جا رہا ہو‘ ممکن ہے کہ انہوں نے خود اعتراض کیا ہو‘ ممکن ہے کہ انہوں نے کہا ہو کہ یہ میرا سیاسی کیریئر ہے‘ مجھے باہر کیوں رکھا جا رہا ہے؟ اور پھر جب معاملہ سنجیدہ ہوا تو ان کا نام دوبارہ شامل کیا گیا۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ اب مذاکرات ایک اہم مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔اب اطلاعات یہی ہیں کہ اسلام آباد میں مذاکرات کا دوسرا راؤنڈ ہونے جا رہا ہے۔ مگر اصل سوال اب بھی وہی ہے کہ حتمی معاہدہ کب اور کیسے ہوگا؟ سفارتی حلقوں میں یہ سرگوشی بھی ہو رہی ہے کہ جنگ بندی کی ڈیڈ لائن مزید 15 روز تک بڑھ سکتی ہے‘ اور پھر ڈونلڈ ٹرمپ رواں ماہ کے آخر یا آئندہ ماہ کے شروع میں ایران کے ساتھ معاہدہ باضابطہ طور پر سائن کرنے کیلئے پاکستان آ سکتے ہیں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ ایک تاریخی لمحہ ہوگا۔ مگر یہ سب امکانات ہیں کیونکہ اگر ٹرمپ سخت بیانات جاری رکھتے ہیں اور پاسدارانِ انقلاب اپنی پوزیشن پر ڈٹے رہتے ہیں تو یہ مذاکرات کسی بھی وقت تعطل کا شکار ہو سکتے ہیں‘ اور اگر ایسا ہوا تو یہ معاملہ مزید طول پکڑ جائے گا۔اس وقت صورتحال کی تین ممکنہ صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ محدود معاہدہ جہاں ایران یورینیم پروگرام کچھ حد تک محدود کرے اور امریکہ جزوی پابندیاں نرم کرے؛ دوسرا، ڈیڈ لاک جہاں کوئی نتیجہ نہ نکلے؛ اور تیسرا، بریک تھرو جو ممکن تو ہے مگر فوری طور پر نہیں۔ اصل میں یہ سارا کھیل تین چیزوں کا ہے: طاقت کا توازن‘ معاشی بقا اور سٹرٹیجک کنٹرول۔ امریکہ چاہتا ہے کہ ایران کو ایٹمی طاقت بننے سے روکا جائے‘ ایران چاہتا ہے کہ اسے امریکی پابندیوں سے نجات ملے اور اس کی خودمختاری برقرار رہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ دونوں ملکوں میں ابھی کوئی معاہدہ نہیں ہوا مگر یہ ناممکن بھی نہیں رہا۔ یہ ایک درمیانی حالت ہے جہاں فریقین مکمل طور پر ایک دوسرے کو ماننے کیلئے تیار نہیں مگر مکمل انکار بھی نہیں کر سکتے۔ پاکستان بھرپور کوشش کر رہا ہے کہ دوسرا مذاکراتی دور کامیاب ہو اور معاہدہ کسی صورت ممکن ہو سکے تاکہ خطے میں ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں امن قائم ہو سکے۔آخر میں بات پھر وہی ہے کہ مذاکرات جنگ جیتنے کیلئے نہیں بلکہ تنازع ختم کرنے کیلئے ہوتے ہیں۔ اگر امریکہ اور ایران اس اصول کو سمجھ لیں تو یہ معاہدہ صرف دو ملکوں کا نہیں ہوگا بلکہ پوری دنیا کیلئے ایک ریلیف ثابت ہو سکتا ہے‘ اور اگر یہ موقع ضائع ہوا تو شاید اگلا موقع اتنا آسان نہ ہو۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/229_33941343.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مساواتِ بنی آدم(علامہ ابتسام الہٰی ظہیر )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-04-22/51815/40983143</link><pubDate>Wed, 22 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-04-22/51815/40983143</guid><description>اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنی جمیع مخلوقات میں انسانوں کو غیر معمولی عزت بخشی ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ اس عزت کا ذکر سورۂ بنی اسرائیل کی آیت: 70 میں کچھ یوں فرماتے ہیں: &#39;&#39;یقینا ہم نے اولادِ آدم کو بڑی عزت دی اور انہیں خشکی اور تری کی سواریاں دیں اور انہیں پاکیزہ چیزوں کی روزیاں دیں اور اپنی بہت سی مخلوق پر انہیں فضیلت عطا فرمائی‘‘۔ اسی طرح سورۃ التین کی آیت: 4 میں ارشاد ہوا: &#39;&#39;یقینا ہم نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا کیا‘‘۔اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسانوں کیلئے زمین وآسمان میں بہت سی چیزوں کو مسخر کیا‘ جن کا ذکرسورۂ ابراہیم کی آیات: 32 تا 34 میں کچھ یوںہوا: &#39;&#39;اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اور آسمانوں سے بارش برسا کر اس کے ذریعے سے تمہاری روزی کے لیے پھل نکالے ہیں اور کشتیوں کو تمہارے بس میں کر دیا ہے کہ دریائوں میں اس کے حکم سے چلیں پھریں۔ اسی نے ندیاں اور نہریں تمہارے اختیار میں کر دی ہیں۔ اسی نے تمہارے لیے سورج‘ چاند کو مسخر کر دیا ہے کہ برابر ہی چل رہے ہیں اور رات دن کو بھی تمہارے کام میں لگا رکھا ہے۔ اسی نے تمہیں تمہاری منہ مانگی کل چیزوں میں سے دے رکھا ہے۔ اگر تم اللہ کے احسان گننا چاہو تو انہیں پورے گن بھی نہیں سکتے‘‘۔اللہ تبارک وتعالیٰ نے زمین میں جو کچھ بھی موجود ہے‘ اس کو انسان کی طبعی ضروریات اور سہولتوں کو پورا کرنے کیلئے تخلیق کیا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ اس حقیقت کا ذکر سورۃ البقرہ کی آیت: 29 میں کچھ یوں فرماتے ہیں: &#39;&#39;وہ اللہ جس نے تمہارے لیے زمین کی تمام چیزوں کو پیدا کیا‘ پھر آسمان کی طرف قصد کیا اور ان کو ٹھیک ٹھاک سات آسمان بنایا اور وہ ہر چیز کو جانتا ہے‘‘۔ کائنات میں انسان کیلئے بہت سی چیزوں کو مسخر کرنے کے ساتھ ساتھ اللہ تبارک و تعالیٰ نے انسان کو بہت سی داخلی نعمتوں سے بھی نواز رکھا ہے جن کا ذکر سورۃ البلد کی آیات: 8 تا 10 میں کچھ یوں کیا گیا: &#39;&#39;کیا ہم نے اس کی دو آنکھیں نہیں بنائیں؟ اور زبان اور دو ہونٹ (نہیں بنائے)؟ (پھر) ہم نے دکھا دیے اس کو دونوں راستے‘‘۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسانوں کو عقل‘ شعور‘ دانائی‘ حکمت‘ غور وفکر اور تدبر جیسی صلاحیتوں سے نوازا اور اس کو محبت‘ وابستگی‘ شیفتگی اور اخوت جیسے احساسات بھی عطا کیے۔اللہ تبارک وتعالیٰ نے زمین پر ہر انسان کو اس کی طبعی ضروریات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ معیشت اور معاشرت کے اعتبار سے مختلف طبقات میں تقسیم کیا ہے۔ اسی طرح انسانوں کی مختلف برادریاں‘ زبانیں اور علاقے بنائے جن میں اللہ تبارک وتعالیٰ کی بہت سی نشانیاں موجود ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ اس حقیقت کو سورۃ الروم کی آیت: 22 میں کچھ یوں بیان فرماتے ہیں: &#39;&#39;اس (کی قدرت) کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور تمہاری زبانوں اور رنگتوں کا اختلاف (بھی) ہے‘ دانش مندوں کے لیے اس میں یقینا بڑی نشانیاں ہیں‘‘۔ ان مختلف رنگوں‘ نسلوں اور برادریوں میں تقسیم کرنے کا مقصد درحقیقت انسانوں کی معاشی سرگرمیوں کے اجرا کے ساتھ ساتھ ان کا تعارف بھی تھا۔ چنانچہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس حقیقت کو سورۃ الحجرات کی آیت: 13 میں کچھ یوں بیان فرمایا: &#39;&#39;اے لوگو! ہم نے تم سب کو ایک (ہی) مرد وعورت سے پیدا کیا ہے اور اس لیے کہ تم آپس میں ایک دوسرے کو پہچانو‘ کنبے اور قبیلے بنا دیے ہیں‘ اللہ کے نزدیک تم سب میں باعزت وہ ہے جو سب سے زیادہ ڈرنے والا ہے۔ یقین مانو کہ اللہ دانا اور باخبر ہے‘‘۔ انسانوں کو مختلف طرح کے طبقات میں تقسیم کرنے کا مطلب ہرگز یہ نہیں تھا کہ انسانوں کے کسی طبقے کو یا کسی زبان بولنے والے گروہ کو دوسرے گروہ پر فوقیت دی جائے بلکہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے مذکورہ آیت میں اس بات کو واضح فرما دیا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک عزت والا وہی ہے جو اس سے زیادہ ڈرنے والا ہے۔نبی پاک حضرت محمد کریمﷺ نے جب اسلام کی دعوت دی تو آپﷺ کی دعوت فقط اہلِ عرب کیلئے نہیں بلکہ جمیع انسانیت کیلئے تھی اور آپﷺ نے فلاح کو فقط کسی خاص قوم یا قبیلے کے ساتھ مشروط نہیں کیا بلکہ خطبہ حجۃ الوداع کے دن آپﷺ نے یہ تاریخی اعلان فرما دیا کہ کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی گورے کو کسی کالے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں۔ اس حوالے سے مسند احمد میں ایک صحابی سے مروی ہے کہ انہوں نے ایام تشریق کے درمیانی دن نبیﷺ کو خطبہ میں یہ فرماتے ہوئے سنا &#39;&#39;لوگو! تمہارا رب ایک ہے اور تمہارا باپ بھی ایک ہے‘ یاد رکھو! کسی عربی کو کسی عجمی پر‘ کسی عجمی کو کسی عربی پر‘ کسی سرخ کو سیاہ پر اور کسی سیاہ کو کسی سرخ پر‘ سوائے تقویٰ کے اور کسی وجہ سے فضیلت حاصل نہیں ہے‘ کیا میں نے پیغام الٰہی پہنچا دیا؟ لوگوں نے کہا: پہنچا دیا۔ پھر آپﷺ نے فرمایا: آج کون سا دن ہے؟ لوگوں نے کہا: حرمت والا دن۔ فرمایا: یہ مہینہ کون سا ہے؟ لوگوں نے کہا: حرمت والا مہینہ۔  فرمایا: یہ شہر کون سا ہے؟ لوگوں نے کہا: حرمت والا شہر۔ پھر نبیﷺ نے فرمایا: اللہ نے تمہارے درمیان تمہارے خون اور مال کو اسی طرح حرمت والا بنا دیا ہے جیسے اس مہینے اور اس شہر میں آج کے دن کی حرمت ہے۔ کیا میں نے پیغام الٰہی پہنچا دیا؟ لوگوں نے کہا: پہنچا دیا۔ نبیﷺ نے فرمایا: حاضرین کو چاہیے کہ غائبین تک یہ پیغام پہنچا دیں‘‘۔ اسی طرح مستدرک حاکم میں بھی اسی موضوع سے ملتی جلتی ایک اہم حدیث مذکور ہے۔ حضرت کرز بن علقمہؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کی: &#39;&#39;یا رسول اللہﷺ! کیا اسلام کی کوئی انتہا ہے؟ اس پر آپﷺ نے فرمایا: کسی بھی عربی یا عجمی خاندان سے جب اللہ تعالیٰ خیر کا ارادہ کرے گا‘ ان میں ایمان ڈال دے گا پھر (ایک وقت آئے گا کہ) فتنے بادلوں کی طرح چھا جائیں گے (وہ وقت) اسلام کی انتہا کا ہو گا‘‘۔دنیا میں لوگ دوسروں کی عزت اسکے چہرے مہرے‘ حسب ونسب اور مال کی وجہ سے کرتے ہیں لیکن اللہ تبارک وتعالیٰ کے ہاں معیار یہ نہیں بلکہ انسانوں کی دلی کیفیات اور اُنکے اعمال ہیں۔ اس حوالے سے صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: &#39;&#39;اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور تمہارے اموال کی طرف نہیں دیکھتا‘ لیکن وہ تمہارے دلوں اور تمہارے اعمال کی طرف دیکھتا ہے‘‘۔ اس حدیث پاک سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کے نزدیک تمام انسانوں کیلئے نیکی اور بھلائی میں ترقی کرنے کے یکساں مواقع موجود ہیں۔ چنانچہ کسی بھی شخص کو اپنے حسب و نسب‘ کنبے قبیلے‘ مال وزر اور اسباب کی وجہ سے دوسروں کو حقیر نہیں جاننا چاہیے اور ہمیشہ اپنے مسلمان بھائی کو اپنے برابر حیثیت دینی چاہیے۔ اس حوالے سے صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: &#39;&#39;ایک دوسرے سے حسد نہ کرو‘ ایک دوسرے کیلئے دھوکے سے قیمتیں نہ بڑھائو‘ ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو‘ ایک دوسرے سے منہ نہ پھیرو‘ تم میں سے کوئی دوسرے کے سودے پر سودا نہ کرے اور اللہ کے بندے بن جائو جو آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ مسلمان (دوسرے) مسلمان کا بھائی ہے‘ نہ اس پر ظلم کرتا ہے‘ نہ اسے بے یار و مددگار چھوڑتا ہے اور نہ اس کی تحقیر کرتا ہے۔ تقویٰ یہاں ہے‘‘۔ پھر آپﷺ نے اپنے سینے کی طرف تین بار اشارہ کیا۔ (پھر فرمایا:) &#39;&#39;کسی آدمی کے برے ہونے کیلئے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کی تحقیر کرے‘ ہر مسلمان پر (دوسرے) مسلمان کا خون‘ مال اور عزت حرام ہیں‘‘۔ اس حدیث پاک سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ کسی بھی انسان کو دوسرے انسان کے کنبے‘ قبیلے‘ شکل وصورت اور معیشت کی وجہ سے اس کو کمتر نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ عاجزی وانکساری کو اختیار کرتے ہوئے دوسرے انسانوں کو بھی اپنے جیسا انسان سمجھنا چاہیے۔ مساواتِ بنی آدم کا یہ عظیم سبق درحقیقت معاشرے میں اخوت اور رواداری کو فروغ دینے کا باعث ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کو دوسروں کی عزت‘ احترام اور وقار کو ملحوظِ خاطر رکھنے کی توفیق دے‘ آمین!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_19740082.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>