<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>مکہ دفاعی معاہدے کا روڈ میپ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-01/11500</link><pubDate>Tue, 01 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-01/11500</guid><description>پاکستان‘ سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان سات اگست کو طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے عملی نفاذ کیلئے استنبول میں منعقدہ پہلا سہ ملکی اجلاس خطے کی سٹرٹیجک بساط پر گہرے نقوش مرتب کرے گا۔ مکہ دفاعی معاہدے کے عملی روڈ میپ کی تیاری کیلئے سٹرٹیجک‘ سیاسی و دفاعی کمیٹی کا اجلاس بدلتے عالمی نظام میں مسلم دنیا کے طاقتور اور بااثر ممالک کی طرف سے اپنی سلامتی اور دفاع کو یقینی بنانے کے مربوط اور منظم عزم کا اظہار ہے۔ ایسے وقت میں جب مشرقِ وسطیٰ بیرونی مداخلت اور علاقائی جنگوں کا اکھاڑا بنا ہوا ہے اور عالمی سیاسی منظرنامے میں یونی لیٹرل کے بجائے ریجنل ڈیفنس کا تصور ابھرا ہے‘ پاکستان کی جوہری صلاحیت‘ ترکیہ کی جدید دفاعی ٹیکنالوجی اور سعودی عرب کے وسیع مالیاتی وسائل کو یکجا کر کے تینوں ملکوں کیلئے ناقابلِ تسخیر دفاع کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ یہ خطے میں بھی امن و استحکام کی ضمانت بنے گا۔ استنبول اجلاس میں مستقل سیکرٹریٹ کے فریم ورک پر کام کا آغاز یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ اتحاد مستقل اور ادارہ جاتی شکل اختیار کیا چاہتا ہے۔

اجلاس کے دوران تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ‘ وزرائے دفاع اور اعلیٰ عسکری قیادت کی موجودگی اس بات کی غماز ہے کہ یہ پیشرفت سفارتی اور عسکری سطحوں پر مکمل ہم آہنگی کا نتیجہ ہے۔ اگرچہ تینوں ملکوں کے اعلیٰ حکام یہ واضح کر چکے ہیں کہ یہ اتحاد کسی مخصوص ملک کیخلاف نہیں‘ تاہم عالمی مبصرین اس اقدام کو مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے خلا کو پُر کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ گزشتہ چند دہائیوں کے تجربات سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ عالمی طاقتیں اپنے سٹرٹیجک مفادات کیلئے مختلف خطوں میں عدم استحکام پیدا کرتی رہتی ہیں اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سمیت بین الاقوامی ادارے کمزور ریاستوں کے تحفظ میں ناکام رہے ہیں۔ اس تناظر میں بیرونی بیساکھیوں پر تکیہ کرنے کے بجائے اپنی سلامتی کے تحفظ کیلئے خود کفالت اور باہمی تعاون کا راستہ اختیار کرنا وقت کی ناگزیر ضرورت بن چکاہے۔ استنبول اجلاس میں جس روڈ میپ پر اتفاق کیا گیا‘ اس کا بڑا حصہ دفاعی پیداوار اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی سے متعلق ہے۔ ترکیہ نے گزشتہ دہائی میں ڈرون ٹیکنالوجی‘ بحری جہاز سازی اور جدید فضائی دفاعی نظام میں دنیا بھر میں اپنی قابلیت کا لوہا منوایا ہے۔
پاکستان کے پاس بیلسٹک میزائل ٹیکنالوجی‘ ایٹمی صلاحیت اور ایک انتہائی تجربہ کار فوج موجود ہے۔ سعودی عرب ویژن 2030ء کے تحت دفاعی شعبے میں خودکفالت کیلئے کوشاں ہے۔ جب تینوں ملکوں کی خصوصیات ایک مشترکہ فریم ورک کے تحت یکجا ہوں گی تو اس سے نہ صرف ان ممالک کا دفاعی انحصار مغربی دنیا پر کم ہوگا بلکہ دفاعی خود مختاری کی طرف یہ ایک بڑی جست ہو گی۔ مشترکہ فوجی مشقوں اور انٹیلی جنس شیئرنگ سے دہشت گردی اور غیر روایتی جنگی خطرات سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔ سفارتی ذرائع یہ اشارہ بھی دے رہے کہ دفاعی معاہدے کے خدوخال واضح ہونے کے بعد اس اتحاد کو مزید وسعت دی جائے گی۔ ایفرو عرب ریجن کے بڑے ملک مصر کے علاوہ جنوبی ایشیا سے بنگلہ دیش بھی اس اتحاد میں شمولیت کا عندیہ دے چکا ہے۔
اگر یہ ممالک بھی اس اتحاد کا حصہ بن جاتے ہیں تو بلاشبہ یہ مسلم دنیا کا سب سے بڑا اور مؤثر دفاعی بلاک بن جائے گا‘ جو خطے میں توازن برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا اور خلیج عرب اور بحیرہ روم کے خطوں میں سکیورٹی کی حرکیات کو بھی بدل کر رکھ دے گا۔ مکہ دفاعی معاہدہ اور اس کا استنبول روڈ میپ اس بات کی دلیل ہے کہ مسلم دنیا اب اپنے فیصلے خود کرنے کی صلاحیت حاصل کر رہی ہے۔ اگر یہ روڈ میپ اپنی روح کے ساتھ نافذ العمل ہو جاتا ہے تو نہ صرف تینوں برادر ممالک کی بقا اور سلامتی کو یقینی بنائے گا بلکہ آنے والی نسلوں کیلئے ایک محفوظ‘ مستحکم اور خود مختار خطے کی نوید بھی ثابت ہوسکتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پاکستان کی جیت(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-01/11499</link><pubDate>Tue, 01 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-01/11499</guid><description>ہیگ کی ثالثی عدالت نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق ایک اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ بھارت اس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل یا ختم نہیں کر سکتا۔ عدالت نے بھارت کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں زیر تعمیر رتلے ہائیڈرو الیکٹرک منصوبے کی دیوار اور پاور اِنٹیک ڈھانچے کو مخصوص سطح سے اوپر تعمیر کرنے سے بھی روک دیا ہے۔ یہ فیصلہ پاکستان کی جانب سے چار مارچ 2026ء کو بھارت کے اقدامات کے خلاف دائر کی گئی درخواست کے نتیجے میں سامنے آیا ہے۔ فیصلے کے مطابق سندھ طاس معاہدہ نافذالعمل ہے اور بھارت اس کے تحت عائد اپنی تمام ذمہ داریوں کی پابندی کا بدستور پابند ہے۔ یہ پاکستان کے مؤقف کی واضح جیت ہے۔ سندھ طاس معاہدہ گزشتہ چھ دہائیوں سے خطے میں آبی امن کی بنیاد ہے۔

لیکن اب بھارتی ہٹ دھرمی صرف پاکستان کے آبی حقوق کیلئے ہی خطرہ نہیں بلکہ بین الاقوامی معاہدوں اور قانون کی بالادستی کیلئے بھی ایک سنجیدہ سوال ہے۔ بھارت کو یہ حقیقت سمجھنا ہوگی کہ دریاؤں کے پانی کو سیاسی تنازع میں تبدیل کرنا کسی فریق کے مفاد میں نہیں۔ جنوبی ایشیا پہلے ہی کشیدگی‘ غربت‘ ماحولیاتی تبدیلی اور پانی کی بڑھتی ہوئی قلت جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ ایسے میں سندھ طاس معاہدے کو کمزور کرنا خطے کو ایک نئے اور خطرناک بحران کی طرف دھکیل سکتا ہے۔ عالمی عدالت کا فیصلہ ایک واضح پیغام ہے‘ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس پیغام کو عملی حقیقت بنایا جائے تاکہ یہ خطہ کسی نئی آبی جنگ سے محفوظ رہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>زرعی برآمدات، امکانات(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-01/11498</link><pubDate>Tue, 01 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-01/11498</guid><description>پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان زرعی و غذائی شعبے میں ہونے والی حالیہ پیش رفت کو محض ایک تجارتی مفاہمت نہیں بلکہ پاکستان کیلئے ایک بڑے برآمدی موقع کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ سعودی وفد کے دورۂ اسلام آباد کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے میں دونوں ممالک نے آئندہ دو برس کے دوران پاکستان کی سعودی عرب کو زرعی اور غذائی مصنوعات کی برآمدات کو تین ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اعلامیے کے مطابق پاکستان سعودی عرب کو چاول‘ گوشت‘ پھل‘ پراسیسڈ فوڈ اور سبز چارہ برآمد کرے گا۔سعودی عرب پاکستان کیلئے ایک بڑی اور قریبی غذائی منڈی ہے‘ مگر اس کے باوجود ہم اس موقع سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا سکے۔

اس تناظر میں تین ارب ڈالر سالانہ برآمدات کا ہدف غیرمعمولی اہمیت رکھتا ہے کہ اس سے نہ صرف زرِمبادلہ حاصل ہوگا بلکہ پاکستانی زراعت‘ لائیو سٹاک‘ فوڈ پروسیسنگ‘ پیکیجنگ اور کولڈ چین کو بھی وسعت مل سکتی ہے۔ تاہم معاہدے اور اعلامیے اپنی جگہ لیکن تین ارب ڈالر کا ہدف پیداوار‘ معیار اور برآمدی استعداد میں عملی بہتری کے بغیر حاصل نہیں ہو گا۔ اس ضمن میں حکومت کو سعودی فوڈ سیفٹی اور معیار کے تقاضوں سے ہم آہنگ سرٹیفکیشن‘ جدید پیکجنگ‘ کولڈ چین‘ ٹریس ایبلٹی‘ سٹوریج‘ تیز تر کسٹمز اور مستقل برآمدی سپلائی چین یقینی بنانا ہوگی۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کیا روس اب بھی آہنی پردے کے پیچھے ہے؟(محمد اظہارالحق)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-09-01/52580/86816542</link><pubDate>Tue, 01 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-09-01/52580/86816542</guid><description>طارق حیات ملک میرے گرائیں ہیں۔ ان کا گاؤں ڈُھرنال‘ میرے گاؤں جھنڈیال کے بالکل ساتھ واقع ہے۔ لیکن میری اور طارق حیات ملک صاحب کی مماثلت یہاں پر ختم ہو جاتی ہے۔ آگے دو مختلف دنیائیں ہیں۔ میں ملازمت پیشہ! قرطاس وقلم کا مزدور! ملک صاحب نے فوج کی افسری چھوڑی اور کاروبار کی طرف آ گئے۔اس وقت ماشاء اللہ ان کا کاروبار پاکستان سے روس تک‘ روس سے وسط ایشیا تک اور وسط ایشیا سے چین تک پھیلا ہوا ہے۔ ملک کو زرمبادلہ کما کر دینے والوں میں ان کا نام نمایاں ہے۔ ساتھ ہی وہ خدمت خلق بھی کر رہے ہیں۔ ان کی سیاحتی کمپنی ہے۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ پاکستانیوں کو مختلف ملکوں کی سیر کراتے ہیں (اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ میں بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوں)۔ اب کے وہ گروپ لے کر روس جا رہے تھے۔ بہت دنیا دیکھی ہے‘ روس نہیں دیکھا تھا۔ ایک تو روس دیکھنے کا شوق‘ اوپر سے دوستِ دیرینہ‘ سابق وفاقی سیکرٹری جناب احمد محمود زاہد صاحب کی ترغیب اور &#39;&#39;تبلیغ‘‘ کہ ایک بار اس گروپ کو بھی آزما دیکھو۔ چنانچہ میں بھی اس قافلے کے ساتھ ہو لیا۔ حالانکہ حالت اپنی‘ اپنے ہی اس شعر کی تصویر تھی:میں دیکھتا ہوں شتر سواروں کے قافلے کوپھر آسماں کو‘ پھر اپنا اسباب دیکھتا ہوںزادِ راہ قلیل تھا‘ منزل دور تھی‘ ہمت سہمی ہوئی تھی۔ مگر ایک تو قافلہ سالار اچھا تھا۔ طارق حیات ملک کو اٹک کا اعوان ہونے کے باوجود حیرت انگیز حد تک بُردبار اور تحمل مزاج پایا۔ ماتھے پر شکن تک نہ دیکھی۔ دوسرے ہمسفر حوصلہ افزائی کرنے والے تھے۔ یوں اس فقیر نے روس دیکھ لیا۔ روس عام دھارے (Mainstream) میں نہیں ہے۔ ملازمت کے دوران یورپ امریکہ کئی بار جانا ہوا  مگر روس کا معاملہ مختلف ہے۔ سوویت یونین کے زمانے میں کہا جاتا تھا کہ یہ آہنی پردے کے پیچھے ہے۔ سچ پوچھیں تو سوویت یونین کے انہدام کے بعد بھی آہنی نہ سہی‘ پردہ بدستور تنا ہوا ہے۔ آئیے! آپ کو روس کے حوالے سے کچھ دلچسپ باتیں بتائیں۔ہمارے قافلہ سالار نے روس پہنچنے سے قبل ہی خبردار کر دیا تھا کہ روسی ہنسنے کو پسند نہیں کرتے۔ مگر وہاں جا کر معلوم ہوا کہ پابندی صرف ہنسنے تک نہیں ہے۔ معاملہ گمبھیر ہے‘ اتنا کہ آپ کو یقین مشکل سے آئے گا! ماسکو سے سینٹ پیٹرزبرگ جانے کے لیے ہم ٹرین پر بیٹھے۔ ماسکو کے بعد سینٹ پیٹرزبرگ دوسرا بڑا شہر ہے۔ پہلے روس کا دارالحکومت یہی شہر تھا۔ ہم پاکستانی بس اور کار کے مقابلے میں ریل کے سفر کو تفریح اور پکنک سمجھتے ہیں مگر ہمیں یہ سفر جیل کی طرح لگا۔ ہمیں بتایا گیا کہ روسی سفر کے دوران بات چیت نہیں کرتے اور کوئی دوسرا کرے تو سخت ناپسند کرتے ہیں۔ چنانچہ ٹرین میں مکمل خاموشی بلکہ سناٹا تھا۔ ہم پاکستانیوں کیلئے یہ پابندی سوہانِ روح تھی۔ ہم نے آپس میں باتیں شروع کیں۔ ہم احتیاط بھی کر رہے تھے اور آہستہ آہستہ بول رہے تھے مگر ایک روسی  حسینہ نمودار ہوئی اور اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر گویا ہوئی کہ خاموش رہیے‘ باتیں نہ کیجیے۔ میں روسی مسافروں کو غور سے دیکھتا رہا۔ صرف ایک شخص بیوی سے سرگوشی میں کبھی کبھی بات کر لیتا۔ سرگوشی بھی ایسی کہ سرگوشی کی ماں تھی!! ورنہ سب خاموش تھے۔ اور ہم پاکستانی اس ناقابلِ یقین پابندی کی وجہ سے پھٹنے والے تھے۔ اب یہ تحقیق طلب ہے کہ کیا یہ خاموشی پچھتر سالہ کمیونسٹ جبر کا نتیجہ ہے یا روسی ثقافت کا قدیم حصہ ہے۔ ہاں! چار گھنٹے کی اس جبری خاموشی میں مجھے مسلسل یاد آتا رہا کہ نوّے کی دہائی میں مَیں ٹرین پر تاشقند سے بخارا جا رہا تھا۔ چھوٹے سے ڈبے میں ایک ازبک فیملی ہمسفر تھی۔ بارہ گھنٹے کے اس سفر میں یہ فیملی نہ صرف خود مسلسل کھاتی پیتی رہی‘ مجھے بھی زبردستی کھلاتی پلاتی رہی۔ نان‘ پھر پلاؤ‘ پھر بھنا ہوا مرغ‘ اس کے بعد خشک میوے‘ پھر تازہ پھل‘ پھر سوپ‘ اور ساتھ چائے مسلسل۔ ٹرین میں جگہ جگہ سماوار پڑے تھے جن سے چائے کے لیے گرم پانی لیا جا رہا تھا۔ایک سال بعد میں پھر ازبکستان میں تھا۔ اب کے بیگم ساتھ تھیں۔ ہم بخارا سے ریل میں سوار ہوئے۔ ڈبے میں صرف ایک روسی جوڑا ہمسفر تھا۔ بارہ گھنٹے کے اس سفر میں اس روسی جوڑے نے نہ صرف یہ کہ آپس میں کوئی بات نہ کی بلکہ ہم سے بھی کوئی بات نہ کی اور اس میں ذرہ بھر  مبالغہ نہیں۔ انہوں نے چائے پی نہ کچھ کھایا۔ اور ہاں! روس میں ریل کے اس سفر میں پٹری کے دونوں طرف کھیت یا بستیاں کم ہی نظر آئیں۔ دونوں طرف درخت یوں لگے تھے جیسے باڑ ہو۔ معلوم نہیں یہ باڑ کسی پالیسی کا نتیجہ تھی یا محض خوبصورتی کی وجہ سے  کھڑی کی گئی تھی۔پورے ماسکو اور پورے سینٹ پیٹرزبرگ میں ہمیں کوئی مکان‘ کوئی کوٹھی نہ دکھائی دی۔ سب لوگ اپارٹمنٹوں میں رہتے ہیں۔ شہر میں ہر طرف چھ منزلہ بلاک ہیں۔ کھڑکیاں سب ایک ہی ڈیزائن کی ہیں۔ امرا کے اپنے اپنے ڈاچے ہیں۔ ڈاچا روسی میں دیہی قیام گاہ کو کہتے ہیں۔ ہم نے اپنی ترجمان سے پوچھا کہ صدر پوتن کہاں رہتے ہیں؟ کہنے لگی: شہر سے باہر اپنے ڈاچے میں۔ افسوس صدر صاحب سے ملاقات نہ ہو سکی۔ وہ تو مصروف ہوں گے ہی‘ ہم بھی کم مصروف نہ تھے۔ایک ایک ثانیے کا پروگرام طے شدہ تھا۔ ہاں ایک جگہ ان کا مجسمہ نظر آیا۔ سب نے ذوق وشوق سے اس کے ساتھ کھڑے ہو کر تصویریں اتروائیں! گندم اگر بہم نہ رسد‘ بھس غنیمت است!روس میں اس مختصر قیام کے دوران‘ ایک بہت بڑا سوال ذہن میں بلبلے کی طرح اٹھتا رہا۔ کیا سوویت یونین کے زمانے والا &#39;&#39;آہنی پردہ‘‘ (Iron Curtain) لپیٹ دیا گیا ہے؟ یا اب بھی موجود ہے؟ میری رائے میں یہ پردہ اب بھی موجود ہے۔ اگر لوہے کا  نہیں تو دبیز کپڑے کا ضرور ہے۔ پہلی دلیل یہ ہے کہ ویزے کا حصول مشکل ہے۔ کافی پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔ آسٹریلیا میں رہنے والے پاکستانی بھی یہی بتاتے ہیں کہ ویزے کے مراحل حوصلہ شکن ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ فیس بک‘ یوٹیوب‘ وٹس ایپ سب پر پابندی ہے اور کڑی پابندی ہے۔ کریڈٹ کارڈ بھی ان کے اپنے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں روس نے وہ تمام دروازے بند کر  رکھے ہیں جن سے مغرب‘ یا یوں کہیے کہ امریکہ اطلاعات‘ معلومات اور اعداد وشمار حاصل کر سکتا ہے۔ ہم سب جا نتے ہیں کہ  سوشل میڈیا کی وجہ سے ہم میں سے ایک ایک کے بارے میں امریکہ کے پاس مکمل معلومات موجود ہیں۔ روس نے امریکہ کو اس لحاظ سے مناسب فاصلے پر رکھا ہوا ہے۔ اور بھی عوامل ہیں جن کا ذکر تفصیل مانگتا ہے۔لیجیے! کالم کا چھوٹا سا پیٹ بھر چکا۔ داستان طویل ہے۔ اگر آپ اس سفر کی تفصیل جاننا چاہتے ہیں کہ ہم نے ان دو عظیم الشان شہروں میں کیا کیا دیکھا‘ اور ہمارے ہمسفر کیسے تھے‘ ہنسانے والے کتنے اور بور کرنے والے کتنے تھے اور قیام گاہیں جہاں ہم رہے‘ کیسی تھیں اور کھانے جو ہم نے کھائے کس طرح کے تھے اور وہاں کی مشورِ عالم زیر زمین ریلوے کیسی تھی اور یومِ آزادی کہاں اور کیسے منایا اور پاکستانی سفیر سے کیا باتیں ہوئیں اور روس میں سیاست پر بات کرنے کی کتنی آزادی ہے تو اُس کتاب کا انتظار کیجیے جو اس سفر کے حوالے سے لکھنے کا ارادہ ہے۔ جو حضرات چاہتے ہیں کہ یہ کتاب لکھی جائے تو مصنف کا حافظہ بہتر کرنے کے لیے اور لکھنے کا سٹیمنا زیادہ کرنے کے لیے بادام‘ اخروٹ اور چہار مغز کی مناسب مقدار ارسال کرتے رہیں۔ ساتھ دعا بھی کرتے رہیں کہ ایسا نہ ہو یہ سب کچھ وصول کرنے اور کھانے کے بعد کتاب لکھی ہی نہ جائے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_57182973.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سو جوتے اور سو پیاز …(آخری)(خالد مسعود خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-09-01/52581/15229028</link><pubDate>Tue, 01 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-09-01/52581/15229028</guid><description>ہمارا المیہ یہ ہے کہ اس نام نہاد زرعی ملک میں اجناس کی ملکی ضرورت کے مطابق پیداوار کی درست منصوبہ بندی کا کوئی تصور اول تو موجود ہی نہیں‘ اور اگر ہے بھی تو اس پر رتی برابر عمل نہیں ہوتا۔ کبھی کوئی فصل کم پڑ جاتی اور درآمد کرنا پڑتی ہے تو کبھی کوئی فصل ضرورت سے اتنی زیادہ ہو جاتی ہے کہ ٹکے ٹوکری ہو کر رہ جاتی ہے۔ اس زرعی کہلائے جانے والے ملک کی حالت یہ ہے کہ پاکستان پام آئل یعنی خوردنی تیل درآمد کرنے والا دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے۔ پاکستان سالانہ تیس سے پینتیس لاکھ میٹرک ٹن پام آئل منگواتا ہے۔ پاکستان کی ساحلی پٹی اور جنوبی اضلاع پام کی تجارتی کاشت کیلئے سب سے موزوں علاقے ہیں۔ پام آئل کے درخت کو پروان چڑھنے کیلئے زیادہ نمی‘ وافر پانی اور 25 سے 35 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان مستقل درجہ حرارت کی ضرورت ہوتی ہے۔ ماہرین نباتات اور زرعی تحقیقاتی اداروں کے مطابق پاکستان میں ٹھٹھہ‘ بدین‘ حیدرآباد‘ ٹنڈوجام‘ میرپور خاص‘ سانگھڑ‘ ٹنڈو محمد خان‘ مٹیاری اور ٹنڈو الہ یار کے علاوہ کراچی اور بلوچستان کی مکران کی ساحلی پٹی اس کیلئے موزوں ترین علاقے ہیں لیکن ہم برسوں سے اس سلسلے میں صرف پائلٹ پروگرام سے آگے نہیں بڑھ سکے۔شرمناک بات یہ ہے کہ ہم سالانہ آٹھ سے دس لاکھ ٹن کے قریب دالیں جن میں چنا‘ مسور اور مونگ شامل ہیں‘ درآمد کرتے ہیں۔ چائے اور سویابین کا ذکر تو چھوڑیں‘ حالت یہ ہے کہ روئی کی ڈیڑھ کروڑ گانٹھیں پیدا کرنے والا ملک جو کبھی ملکی ضرورت پورا کرنے کے بعد روئی برآمد کرتا تھا‘ اب اپنے ٹیکسٹائل سیکٹر کو درآمدی روئی کی مدد سے گھسیٹ کر چلا رہا ہے۔ 2004ء میں روئی کی ایک کروڑ 42 لاکھ گانٹھوں کی پیداوار کے ساتھ دنیا میں روئی کی پیداوار اور برآمد کے لحاظ سے دنیا کا تیسرا بڑا ملک اب خود دنیا میں روئی کا ایک بڑا درآمد کنندہ ہے۔ گندم‘ کپاس‘ چاول اور مکئی کا کاشتکار مسلسل نقصان میں جا رہا ہے۔ ناقص حکومتی پالیسیوں کے باعث ان چار بڑی فصلوں سے وابستہ کاشتکاروں اور زمینداروں کیلئے تادیر خسارے کی فصلات کی کاشت ممکن نہیں رہی۔ متبادل کے طور پر یہ لوگ گنے کی کاشت کی جانب منتقل ہوتے جا رہے ہیں جو فی الوقت واحد منافع بخش فصل دکھائی دے رہی ہے۔ چینی کی ملکی ضرورت تقریباً چھ سے ساڑھے چھ ملین ٹن ہے۔ رواں سال شاید چینی کی پیداوار ساڑھے سات ملین ٹن کے لگ بھگ رہی‘ جو ملکی ضرورت سے تقریباً ایک ملین ٹن زیادہ ہے لیکن یہ اعداد وشمار شوگر انڈسٹری کے اپنے فراہم کردہ ہیں‘ جو ہر دوسرے سال اسی قسم کے اعداد وشمار کی بنیاد پر پہلے چینی ملکی ضرورت سے زیادہ ہونے کا شور مچا کر اس کی برآمد میں نوٹ کما لیتے ہیں‘ پھر اس برآمد کے باعث پیدا ہونے والی قلت کی آڑ میں لوکل چینی کی قیمت بڑھا کر عوام کی جیب کاٹ لیتے ہیں۔ شوگر مافیا اس ہیر پھیر سے اپنی جیبیں بھر لیتا ہے تو پھر ذخیرہ اندوز اور درآمد کنندگان میدان میں آ جاتے ہیں اور چینی کی درآمد میں دوبارہ اربوں روپے کما لیتے ہیں۔ دور مت جائیں‘ ابھی دو تین سال قبل چینی وافر ہونے کا غلغلہ مچا کر چینی برآمد کی گئی‘ برآمد کے فوراً بعد چینی کی قلت ہو گئی تو چینی بلیک میں بیچ کر اربوں روپے بٹور لیے گئے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اس برآمد کے چند ماہ بعد چینی کی قلت سے عہدہ برآ ہونے کیلئے چینی درآمد کر کے طلب اور رسد کو برابر کیا گیا۔ گزشتہ سال چینی کی کمی کا شور مچا تو اس کو پورا کرنے کیلئے تین لاکھ ٹن چینی مہنگے داموں درآمد کی گئی اور اب اسی چینی میں سے ایک لاکھ ٹن سستے داموں برآمد کرنے کا معاملہ زیر غور ہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ اس سال بہتر قیمت کی حامل واحد نقد آور فصل‘ گنے کی آئندہ سیزن میں کاشت مزید بڑھ جائے گی۔ آئندہ سال چینی کی پیداوار کا تخمینہ 80 لاکھ ٹن لگایا جا رہا ہے۔ اس طرح آئندہ کرشنگ سیزن میں چینی کی پیداوار ملکی ضرورت سے تقریباً ڈیڑھ ملین ٹن زیادہ ہونے کی وجہ سے مارکیٹ میں چینی کی رسد طلب سے بڑھ جائے گی۔ مارکیٹ میں گنے کے کاشتکار کو ملز سے پیسے نہیں ملیں گے‘ا س طرح کاشتکار ایک بار پھر رُل جائے گا۔گزشتہ سیزن میں لاگت سے بھی کہیں کم قیمت پر اپنی فصل اونے پونے داموں بیچنے کے بعد آلو کے کاشتکار کی موجودہ معاشی حالت یہ ہے کہ کئی کاشتکار کولڈ سٹورز میں رکھا ہوا اپنا بیج اٹھانے سے بھاگ گئے ہیں کہ ان کے پاس سٹوریج کے کرائے کی رقم بھی نہیں ہے۔ جن لوگوں سے کولڈ سٹوریج والوں نے ایڈوانس کرایہ لے لیا تھا‘ انہوں نے تو اپنا بیج مجبوراً اٹھا لیا ہے مگر جنہوں نے کرایہ بعد میں دینا تھا یا جن کے بقایاجات ایڈوانس کی رقم سے بڑھ گئے ہیں‘ وہ اپنا سٹور شدہ بیج اٹھانے سے انکاری ہیں۔ غرض کس کس فصل کا رونا رویا جائے؟ 22 اگست 2026ء کو لاہور میں زرعی شعبے کی اصلاحات سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے زرعی تحقیق کے اداروں کو مزید فعال بنانے اور انہیں بین الاقوامی معیار کے مطابق ڈھالنے کی ہدایت کی۔ میری بھلا کیا مجال کہ میں وزیراعظم کے اس بیان پر کوئی اعتراض کروں‘ ہاں البتہ مجھے اس سارے بیان میں &#39;&#39;مزید فعال‘‘ والی بات پر ہنسی ضرور آئی ہے۔ اب بندہ کیا ہنسے بھی نا! ملتان کا سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ عملی طور پر بند پڑا ہے۔ نہ اس تحقیقاتی ادارے کے پاس بیج‘ کھاد اور زرعی ادویات کی خریداری کیلئے فنڈز ہیں اور نہ ہی اپنے ملازمین کی تنخواہ کے پیسے ہیں۔ اس قدیمی تحقیقاتی ادارے میں اس وقت جو تھوڑی سی کپاس لگی ہوئی ہے اس کی حالت قابلِ رحم اور شرمندہ کر دینے والی ہے۔ اس ملک میں زرعی تحقیق کی موجودہ حالت اتنی خراب ہے کہ اس کی مثال دینے کیلئے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔گزشتہ دو تین سال سے گندم کا کاشتکار صرف حکومت کے غلط فیصلوں کے طفیل برباد ہو رہا ہے لیکن حکومت اپنی غلطیوں سے سیکھنے کے بجائے ہر سال نئی غلطی کرتی ہے‘ تاہم ہر نئی غلطی میں ایک چیز مشترک ہے اور وہ یہ کہ گندم کے کاشتکار کو بہرصورت گندم کی کاشت میں چار پیسے نہیں بچنے چاہئیں۔ حکومت نے اس مرتبہ بھی بار بار دہرائی جانے والی حماقت کی کہ پاکستان کے کاشتکار کو گندم کا اچھا ریٹ نہیں دینا؛ البتہ بعد میں مہنگے داموں بیرونِ ملک سے گندم درآمد کر کے نہ صرف یہ کہ غیر ملکی کاشتکار کو پیسے دینے ہیں بلکہ ملک کا زرِمبادلہ بھی برباد کرنا ہے۔ میرے خیال میں اس وقت ملک میں گندم کے ذخائر کی ایسی کمی ہرگز نہیں جسے خطرے کی گھنٹی قرار دیا جائے‘ اصل مسئلہ ناقص ترین حکومتی منصوبہ بندی کا ہے۔ اگر سرکار وقت پر پاکستان کے کاشتکار سے یہی گندم 4500 روپے فی من قیمت پر خرید لیتی تو آج یہ صورتحال پیش نہ آتی۔گندم کی درآمد کے باوجود‘ جب تک ذخیرہ کی گئی نجی خریداروں کی گندم مارکیٹ میں نہیں آتی‘ معاملہ جوں کا توں رہے گا۔ ذخیرہ کی گئی گندم تبھی باہر آئے گی جب اوسطاً 4500 روپے فی چالیس کلوگرام پر خریداری کرنے والوں کو اس ذخیرہ اندوزی پر نفع ہوتا دکھائی دے گا۔ لہٰذا راوی آئندہ چند مہینوں میں گندم کی قیمت کے بارے میں اچھی خبر نہیں سنا رہا۔ ایک عرصے کے بعد ایسا ہوا ہے کہ گندم کا سرکاری ہدف‘ پیداوار اور ملکی ضروریات تقریباً تقریباً برابر ہیں لیکن یہ بھی شاید پہلی بار ہوا ہے کہ ماہِ اگست میں ہی گندم کی صورتحال اس حد تک ناگفتہ بہ ہو گئی ہے کہ سرکار ابھی سے دس لاکھ ٹن گندم درآمد کر رہی ہے۔ ہماری حکومتیں ہر بار ایک ہی طرح کی غلطی نئے طریقے سے کرتی ہیں‘ جس کے نتیجے میں عوام سو پیاز بھی کھا رہے ہیں اور سو جوتے بھی۔ (ختم)</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90500073.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ایک وزیر کے اعترافات(ڈاکٹر حسین احمد پراچہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-09-01/52582/15101832</link><pubDate>Tue, 01 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-09-01/52582/15101832</guid><description>وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی جناب مصدق ملک سے کبھی ملاقات تو نہیں ہوئی مگر کبھی کبھار ان کے بیانات سننے کا موقع ضرور ملتا ہے۔ موصوف بالعموم سنجیدگی اور دلیل سے بات کرتے ہیں۔ ملک صاحب نے ہفتہ کے روز لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پمز میں 14لاشیں دیکھیں تو احساس ہوا کہ ملک محفوظ نہیں۔ اس بیان میں سنجیدگی کے ساتھ ساتھ شدتِ احساس بھی تھی۔ ملک صاحب نے وہ اعترافات کیے ہیں جن کا شب و روز دانشور‘قلمکار اور تجزیہ کار تذکرہ کرتے رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج انگلیاں حکومت کی طرف اٹھ رہی ہیں۔ پمز میں کسی ڈاکٹرکی انگلی کٹی‘ کوئی نرس زخمی نہیں ہوئی‘ اور نہ ہی کسی فائر مین کو آگ لگی اور 14نوزائیدہ بچے زندہ جل گئے۔ صرف یہ پمز کی حالت زارنہیں بلکہ ملک کے تمام سرکاری ہسپتالوں کا یہی حشر ہے۔ہم مصدق ملک صاحب کے بیان کو سلگتے اور دہکتے ہوئے جذبات پر محض پانی ڈالنے کی کسی سیاسی کوشش کے بجائے یہ حسن ظن رکھتے ہیں کہ ان کے حقیقی جذبات بھی یہی ہوں گے۔ انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے برملا اعتراف کیا کہ کسی سیاستدان کے بچے تو علاج کیلئے سرکار ہسپتالوں میں نہیں جاتے وہ تو علاج نجی ہسپتالوں یا بیرونِ ملک کے شفاخانوں سے کراتے ہیں۔ سرکاری ہسپتالوں میں دھکے کھانے اور خود کو سو طرح کے خطرات میں مبتلا کرنے کیلئے بھی غریبوں اور سفید پوشوں کو منت سماجت کرکے کہیں سے سفارش ڈھونڈھ کر لانا پڑتی ہے۔ انہوں نے یہ اعتراف بھی کیا کہ ہم سیاستدانوں‘ بیورو کریٹس اور اچھی حیثیت والوں کے بچے نجی سکولوں میں جاتے ہیں۔ مصدق ملک صاحب کے علم میں یقینا ہوگا کہ ان ملکی و غیر ملکی سکولوں کی بھاری بھاری فیس ہیں۔ بعض کی ماہانہ فیس بلامبالغہ لاکھوں میں ہوتی ہے۔ سرکاری سکولوں کی جو حالت زار ہے اس کے بارے میں شاید انہیں کو کچھ علم نہ ہو۔ ان سکولوں کی تباہی و بربادی کا سبب وہاں دل و جان سے پڑھانے والے اساتذہ کرام نہیں بلکہ صوبائی حکومتیں ہیں۔پنجاب میں سرکاری سکولوں کے ساتھ ظالمانہ سلوک کیا جا رہا ہے۔ سرکاری سکولوں کی ابتر صورتحال کی حقیقی تصویر آپ کے سامنے پیش کرنے سے پہلے اپنے زمانے کے اُن سرکاری سکولوں کا مختصر نقشہ دکھا دوں جن میں ہم پڑھتے تھے۔1960ء کی دہائی میں سرگودھا ایک تیزی سے ترقی کرتا ہوا ضلعی مقام تھا جو کچھ عرصے میں ہی ڈویژنل ہیڈ کوارٹربن گیا۔ یہاں کا گورنمنٹ ہائی سکول ایک مثالی ادارہ تھا۔ تب پنجاب کے اکثر سرکاری سکول مثالی ہی سمجھے جاتے تھے۔ میجر‘ کرنل اور اعلیٰ سول ضلعی حکام اور اس زمانے کے ممتاز مقامی سیاستدانوں کے بچے ہمارے کلاس فیلوز تھے۔ ہمارے ہیڈ ماسٹر چودھری عطا محمد نہ صرف بہترین استاد بلکہ نہایت اعلیٰ صلاحیتوں والے منتظم تھے۔ بچوں کے ساتھ نہایت شفیق مگر ڈسپلن کے معاملے میں بہت سخت گیر تھے۔ حکمران اور سیاستدان سکول کیلئے ضروری سرکاری فنڈز مہیا کر دیتے تھے۔ ہیڈ ماسٹر صاحب کی شخصیت کافی بارعب تھی‘ اس لیے ان کے سامنے کسی سیاستدان یا افسر کو اپنے بچے کیلئے کسی طرح کی کوئی امتیازی رعایت طلب کرنے کی کبھی جرأت نہیں ہوتی تھی۔ تب اساتذہ کرام بھی دل و جان سے محنت کرتے تھے۔ ہمارے ہیڈ ماسٹر کھیلوں‘ ادبی و تقریری سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کرتے اور بین المدارس مقابلوں میں طلبہ کو بھیجتے۔ ہاکی‘ والی بال اور کبڈی کے میچوں کے دوران خود سرگودھا سٹیڈیم میں جا کر طلبہ کا حوصلہ بڑھاتے۔ یہی اعلیٰ معیار گورنمنٹ گرلز ہائی سکول سرگودھا کا بھی تھا۔ 1980ء کی دہائی تک طلبہ و طالبات کیلئے ہمارے سرکاری سکول بہترین تعلیم گاہیں تھیں‘ انہی سکول کے طلبہ و طالبات آگے سرکاری کالجوں میں تعلیم حاصل کرتے تھے۔ میڈیکل اور انجینئرنگ کالجوں سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرتے۔ سی ایس ایس میں نمایاں کامیابی حاصل کرنیوالے نوجوان بھی انہی سرکاری سکولوں سے تعلیم یافتہ ہوتے تھے۔ 1980ء کی دہائی میں جنرل ضیاء الحق کے یکساں اردو میڈیم نصاب تعلیم کو مات دینے کیلئے بیرونِ ملک سے واپس آنے والے پاکستانی طلبہ و طالبات کے نام پر انگلش میڈیم سکولوں کیلئے محدود قسم کی اجازت طلب کی گئی۔ پھر اجازت ملنے پر چل سو چل۔ یکساں نصاب تو اب یہاں ایک سراب ہے۔ جہاں تک پنجاب حکومت کا تعلق ہے تو اس نے کئی دہائیوں سے بالعموم اور موجودہ حکومت نے بالخصوص سرکاری سکولوں کو سو فیصد نظر انداز کر رکھا ہے۔ سکول کے اساتذہ اور ان کی ایڈمنسٹریشن پراعتماد اور ان کی حوصلہ افزائی کرنے کے بجائے کبھی وہاں ڈیلی ویجز والے کم تعلیم یافتہ اساتذہ لائے جاتے ہیں‘ کبھی ان سکولوں کو ٹھیکے پر دے دیا جاتا ہے اور یہ ٹھیکیدار کم تعلیم یافتہ اساتذہ لے کر آتے ہیں۔ کبھی سکولوں کے مستقل معلمین و معلمات کے سروں پر پنشن کے خاتمے کی تلوار لٹکائی جاتی ہے۔ گیارہ ہزار سکولز آئوٹ سورس کیے گئے ہیں۔ ایک کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ سرکاری سکولوں کو اس نہج پر پہنچا کر پہلے شہبازشریف کے دور میں محدود تعداد میں دانش سکولز اور اب میاں نواز شریف کے نام پر چند سکولز آف ایکسیلینس کھولے جا رہے ہیں۔ لیکن شاید ہی کسی سرکاری سکول میں آپ کو وزیر‘ مشیر تو دور کی بات کسی ایم این اے یا ایم پی اے یا معمولی افسران کا  بچہ تعلیم حاصل کرتا دکھائی دے۔ ان نظر انداز شدہ سرکاری سکولوں کے ایک ایک کمرے میں اسی اسی بچے ٹھونسے جاتے ہیں۔ مدرسین و مدرسات کو بروقت پروموشن نہیں ملتی۔ انہیں کوئی اضافی مالی و مصنوعی مراعات نہیں دی جاتیں اور نہ ہی ان کی محنت اور تدریسی خدمت کی کوئی قدر اور حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ بلکہ ہر وقت اس طرح کی دھمکیاں حکومت کی طرف سے گونجتی رہتی ہیں کہ سرکاری سکولوں کو آئوٹ سورس کیا جا رہا ہے۔ ایسے حوصلہ شکن حالات میں بھی سرکاری سکولوں کے معلمین و معلمات محنت و ریاضت سے کام کر رہے ہیں تو یہ ایک علمی جہاد سے کم نہیں۔ مصدق ملک صاحب نے اعترافات کا سلسلہ آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ عام آدمی کو معاشی اعداد و شمار سے غرض نہیں‘ اسے اپنے بچوں کی تعلیم اور علاج سے غرض ہے۔ وزیر محترم نے سماجی انصاف کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ عام آدمی کو سماجی ہی نہیں معاشی و قانونی انصاف بھی چاہیے۔ سابق وزیر خواجہ سعد رفیق نے مصدق ملک سے دو قدم آگے جا کر کہا کہ بدعنوانی اور طبقاتی و استحصالی سوسائٹی کے ہاتھوں ستائے لوگ کسی وقت بھی کچی بستیوں سے نکل کر سب کچھ تہس نہس کر دیں گے۔ حکمران اس وقت سے ڈریں۔ہمارے حکمران اکثر بیرونی ملکوں کے دورے پر رہتے ہیں۔ پنجاب کی وزیراعلیٰ ابھی حال ہی میں چین کے دورے پر تھیں‘ وہاں انہوں نے ایک روبوٹ کو کلاس روم میں دیکھا تو بڑی متاثر ہوئیں۔ بہتر ہوتا وہ چین کے عام سرکاری سکولوں کا بھی وزٹ کرتیں۔ اسی طرح ترکیہ اور ایران کے سرکاری سکولوں کے جائزے کی بھی ضرورت ہے۔ وہاں غیر ملکی سکولوں میں صرف غیر ملکی ہی تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔ ہم نے جاپان اور فن لینڈ کے پبلک سکولوں کی بات نہیں کی‘ اپنے جیسے ملکوں کی ہی مثال دی ہے۔ چین‘ ترکیہ اور ایران کے پبلک سکول اعلیٰ معیار کی تعلیم گاہیں ہیں۔ پھر پنجاب کے سرکاری سکولوں کا وزٹ کریں تو معلوم ہو جائے گا کہ حکومت کی پبلک سکولز کُش پالیسی کے نتیجے میں سرکاری سکولوں کا کیا حلیہ بن چکا ہے۔جناب مصدق ملک بیانات سے آگے بڑھ کر عملی جہاد کا مظاہرہ کریں۔ وہ کابینہ‘ پارلیمنٹ اور پارٹی اجلاس میں آواز اٹھائیں اور بلاتاخیر ایسی قانون سازی کرائیں جنکے مطابق ہر وزیر اور رکنِ پارلیمنٹ اور اسکے بچے بغیر وی آئی پی پروٹوکول سرکاری ہسپتالوں میں علاج کرائیں۔ نیز اپنے بچوں کو سرکاری سکولوں میں تعلیم دلوانے کے پابند ہوں۔ یہی قانون سرکاری افسران کیلئے بھی ہو۔ وگرنہ بقول شاعر: گر یہ نہیں تو بابا‘ وہ سب کہانیاں ہیں</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_70033906.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>وِدہولڈنگ ٹیکس کی بھرمار(شاہد کاردار)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-kardar-/2026-09-01/52583/37876720</link><pubDate>Tue, 01 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-kardar-/2026-09-01/52583/37876720</guid><description>پاکستان کے موجودہ ٹیکس نظام کی نمایاں اور سب سے تباہ کن خصوصیت یہ ہے کہ اس کا حد سے زیادہ انحصار پیشگی ٹیکس کٹوتی‘ پیشگی وِدہولڈنگ ٹیکس اور فرضی بنیادوں پر عائد ٹیکسوں پر ہے۔ ریاست نے حقیقی خالص آمدنی کا جائزہ لینے اور اس کا حساب لگانے کی ادارہ جاتی صلاحیت پیدا نہیں کی بلکہ اس کے بجائے وِدہولڈنگ ٹیکس کو محاصل کا بنیادی متبادل بنا دیا ہے۔ ٹیکس قوانین میں وِدہولڈنگ ٹیکس کٹوتی کی بے شمار شرحیں مختلف مقامات پر بکھری ہوئی موجود ہیں۔ جب بھی کوئی شہری یا کاروباری ادارہ کوئی قابلِ مشاہدہ لین دین کرتا ہے تو بنیادی معاملہ (سورس) ہی پر وِدہولڈنگ ٹیکس کاٹ لیا جاتا ہے جیسے بینک سے نقد رقم نکلوانا‘ بجلی‘ گیس یا دیگر خدمات کا بل ادا کرنا‘ گاڑی رجسٹر کرانا‘ جائیداد خریدنا (حالانکہ یہ تو صرف خریداری ہے اور اس میں خریدنے والے کیلئے کوئی تجارتی منافع شامل نہیں ہے)خام مال درآمد کرنا یا کوئی تجارتی معاہدہ کرنا۔ اس وقت 68 قسم کے وِدہولڈنگ ٹیکس لاگو ہیں جن سے ایف بی آر مجموعی انکم ٹیکس کا 70 فیصد جمع کرتا ہے۔بنیادی معاملہ (سورس) پر وِدہولڈنگ ٹیکس کی کٹوتی کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ درست طور پر کام کرنے والے نظاموں میں یہ طریقہ کار اس لیے استعمال ہوتا ہے کہ سالانہ آمدنی کے حتمی اور واضح طور پر طے شدہ واجب الادا ٹیکس کے حصہ کے طور پر پیشگی ادائیگی کر دی جائے۔ لیکن ہمارے ہاں ایسا نہیں ہے۔ ہمارے ہاں لین دین پر لگائے گئے ان محصولات کا ٹیکس دینے والے کی ادائیگی کی حقیقی صلاحیت سے بہت کم تعلق ہے۔ مجموعی طور پر انہوں نے ایک ایسا ٹیکس نظام پیدا کر دیا ہے جو اندرونی طور پر غیر مربوط اور متضاد ہے۔ نتیجتاً‘ پاکستان کے ٹیکس نظام کی بنیادی کمزوری یہ ہے کہ اس میں ٹیکس عائد کرنا معاشی پالیسی کا آلہ نہیں بلکہ نقد رقوم (کیش) کے بہاؤ کی مینجمنٹ بن گیا ہے۔ ٹیکس کا یہ نظام خالص منافع پر ٹیکس عائد نہیں کرتا بلکہ اس کے بجائے مجموعی فروخت یا بنیادی لین دین کی مالیت پر ٹیکس نافذ کرتا ہے۔ یہ ساختی خرابی ہے جس سے ان کاروباروں کو شدید نقصان پہنچتا ہے جو ایسے شعبوں میں کام کرتے ہیں جن کا کاروباری حجم تو زیادہ ہے لیکن منافع کم ہے۔ یہ نظام ان برآمد کنندگان کو بھی نقصان پہنچاتا ہے جنہیں عالمی منڈی میں قیمتوں کا سخت مقابلہ درپیش ہوتا ہے۔ جب ذاتی آمدنی پر ٹیکس کی بات آتی ہے تو یکساں معاشی استطاعت رکھنے والے دو افراد پر صرف اس بنیاد پر بالکل مختلف ٹیکس عائد ہوجاتے ہیں کہ ان کی آمدنی کتنی نمایاں ہے اور اس کی رسمی ساخت کیا ہے۔ جس کی آمدن نمایاں ہے اور رسمی شعبہ میں ہے اس پر زیادہ ٹیکس لگ جاتا ہے۔ جس کی آمدن کم نمایاں ہے اور غیر رسمی شعبہ میں ہے اس پر کم ٹیکس لگتا ہے یا بالکل نہیں لگتا۔ یہ فرق اس لیے اہم ہے کہ ٹیکس نظام کا جائزہ صرف اس بنیاد پر نہیں لیا جانا چاہیے کہ وہ کتنی رقم جمع کرتا ہے بلکہ اس بنیاد پر بھی جائزہ لینا چاہیے کہ وہ کس قسم کی ترغیبات پیدا کرتا ہے۔ یہ صورتحال افقی مساوات (سب ایک جیسے لوگوں کے ساتھ برابری) کے اصول کی خلاف ورزی کرتی ہے جو معاشیات کا ایک بنیادی اصول ہے اور جس کے مطابق یکساں ادائیگی کی صلاحیت رکھنے والوں پر یکساں ٹیکس عائد ہونا چاہیے۔ اس امتیازی سلوک سے انسانی رویے بنیادی طور پر مسخ ہو جاتے ہیں۔ نتیجتاً اعلیٰ مہارت رکھنے والے پیشہ ور افراد باقاعدہ تنخواہوں کے بجائے غیر رسمی ذرائع سے معاوضہ لینے کا مطالبہ کرتے ہیں‘ اپنی ملازمت کو بیرونِ ملک مشاورتی معاہدوں میں تبدیل کر لیتے یا پھر مکمل طور پرترکِ وطن کا راستہ اختیار کر لیتے ہیں۔ستم ظریفی یہ ہے کہ غیر رسمی معیشت کی طرف رجحان سے ٹیکس کی بنیاد مزید سکڑ جاتی ہے۔ اس کے باعث حکومت نظام میں باقی رہ جانے والے ٹیکس دہندگان پر مزید بھاری بوجھ ڈالنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ یوں یہ سلسلہ بار بار دہرایا جاتا ہے۔ قوانین کی پابندی کرنے والا ٹیکس دہندہ نظام کیلئے بتدریج زیادہ کارآمد اور اسی نسبت سے زیادہ آسان ہدف بنتا جاتا ہے۔پاکستان کی ٹیکس پالیسی ٹیکس کی بنیاد کو وسیع کرنے اور اسے معتدل بنانے اور یکساں شرحیں برقرار رکھنے میں ناکام ہے اور اس کے بجائے ٹیکس کی بنیاد کو محدود کرتی جاتی ہے کیونکہ اس پالیسی کے تحت اکثر استثنا دیا جاتا ہے‘ صوابدیدی رعایتیں دی جاتی ہیں اور مخصوص شعبوں کیلئے الگ شرحوں کے ذریعے ٹیکس نافذ کیا جاتا ہے اور پھر آمدنی کی کمی پوری کرنے کیلئے قوانین کی پابندی کرنے والے اداروں پر ٹیکس کی شرحیں بڑھا دی جاتی ہیں۔ ایک شعبہ کو دی جانے والی ہر رعایت کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بالآخر باقی تمام لوگوں پر نئے ٹیکس لگانے کا جواز مہیا ہوجاتا ہے۔ٹیکس پالیسی ایک ایسے مسابقتی کھیل میں تبدیل ہو چکی ہے کہ کس کو کتنی زیادہ سیاسی رسائی دستیاب ہے۔ اس کھیل میں کسی کارپوریٹ ادارے کی کامیابی کا انحصار اس کی عملی کارکردگی یا ایجاد و اختراع سے بہت کم اور اس بات پر زیادہ ہے کہ ریاست تک رسائی کے ذریعے سازگار ٹیکس مراعات حاصل کی جائیں۔ اس کا نتیجہ بدترین امتزاج کی صورت میں نکلتا ہے: قانونی طور پر بلند ٹیکس شرحیں‘ حقیقی وصولی کی کم سطح اور لابنگ کے ذریعہ مراعات حاصل کرنے کی مضبوط ترغیب۔ ہر طریقہ سے پیسے اکٹھے کرنے کی کوشش کے سبب پاکستان کی تجارتی پالیسی بہت مسخ ہو چکی ہے۔ درآمدات پر ٹیکسوں کو تجارتی پالیسی کا آلہ ہونا چاہیے لیکن ہمارے ہاں انہیں آمدنی جمع کرنے کے ذریعہ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ ویتنام جیسے ممالک زیادہ ٹیکس وصول کرتے ہوئے بھی عالمی سپلائی چین میں کہیں زیادہ مؤثر انداز میں جڑے ہوئے ہیں۔ چونکہ بیرونی تجارت کے حجم واضح اور آسانی سے قابلِ نگرانی ہوتے ہیں اس لیے پاکستان نے بین الاقوامی تجارت کو محاصل جمع کرنے کا ایک آسان ذریعہ بنا لیا ہے۔درآمدات پر بنیادی کسٹم ڈیوٹی‘ اضافی کسٹم ڈیوٹی (اے سی ڈی)‘ ریگولیٹری ڈیوٹی (آر ڈی) اور درآمد شدہ سامان جیسے صنعتی مشینری‘ ٹیکنالوجی اور صنعتی خام مال پر ودہولڈنگ یا پیشگی انکم ٹیکس کی تہہ در تہہ ساخت نافذ ہے۔ ان کی وجہ سے ملکی صنعتوں کیلئے پیداواری لاگت بڑھ جاتی ہے اور عالمی مارکیٹوں میں ان کی مقابلہ کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے۔ درآمدات پر بھاری ٹیکس عائد کر کے ریاست مقامی صنعتوں کو غیر مسابقتی بنا دیتی ہے تو پھر اسی نقصان کی تلافی کیلئے بیرونِ ملک سے آنے والی تیار شدہ اشیا پر مزید بلند محصولات عائد کر دیتی ہے۔ جب بلند درآمدی محصولات کے باعث مقامی صنعتیں غیر مؤثر ہوجاتی ہیں تو ریاست مزید مداخلت کرتی ہے اور مخصوص برآمدی رعایتیں دیتی ہے جیسے رعایتی شرح پر قرض‘ ڈیوٹی ڈرابیک (درآمدی محصول کی واپسی کی سکیمیں) اور خصوصی رعایتوں پر برآمدی نظام جس کے غلط استعمال کے خدشات موجود رہتے ہیں۔ لبِ لباب یہ ہے کہ پاکستان کا موجودہ ٹیکس نظام بنیادی طور پر حقیقی خالص آمدنی کے بجائے وِدہولڈنگ‘ پیشگی ٹیکس اور لین دین پر مبنی ٹیکسوں پر انحصار کرتا ہے۔ بینک سے رقم نکلوانے‘ بجلی و گیس کے بل ادا کرنے‘ درآمدات‘ جائیداد اور گاڑیوں کی خریداری سمیت مختلف معاملات پر ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔ خالص منافع کے بجائے کاروبار کی مجموعی فروخت اور لین دین کی مالیت پر ٹیکس عائد ہونے سے کم منافع والے کاروبار اور برآمد کنندگان متاثر ہوتے ہیں۔ یکساں معاشی استطاعت رکھنے والے افراد پر بھی آمدنی کی رسمی یا غیر رسمی نوعیت کے باعث مختلف بوجھ پڑتا ہے جس سے غیر رسمی معیشت‘ ٹیکس سے گریز اور ہنرمند افراد کی بیرونِ ملک منتقلی کی ترغیب بڑھتی ہے۔ نتیجتاً ٹیکس کی بنیاد سکڑتی اور پابندی کرنے والوں پر بوجھ بڑھتا جاتا ہے۔ مسلسل استثنا‘ خصوصی رعایتیں اور مختلف شرحیں ٹیکس نظام کو غیر مساوی بناتی ہیں اور سیاسی رسائی و مراعات کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔ اس طرح درآمدی محصولات کو حکومتی آمدنی کا ذریعہ بنانے سے صنعتی لاگت بڑھتی اور عالمی مسابقت متاثر ہوتی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_78012569.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>اجتماعی دفاع کا سکیورٹی فریم ورک(رشید صافی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-09-01/52584/68475391</link><pubDate>Tue, 01 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-09-01/52584/68475391</guid><description>ترکیہ کے شہر استنبول میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت تشکیل پانے والی سٹرٹیجک‘ پولیٹکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی کا اعلیٰ سطح اجلاس محض ایک روایتی سفارتی پیش رفت یا نمائشی اقدام نہیں بلکہ یہ اس امر کا ثبوت ہے کہ پاکستان‘ سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والا سہ فریقی اتحاد خطے کے سیاسی‘ دفاعی اور امن و امان کے نقشے کو ازسرِ نو ترتیب دینے کے لیے دیرپا عزم پر استوار ہے۔ استنبول اجلاس میں تینوں برادر اسلامی ممالک کی اعلیٰ ترین سول و عسکری قیادت کی موجودگی اس پلیٹ فارم کی غیرمعمولی تزویراتی اہمیت اور مشترکہ ویژن کو نمایاں کرتی ہے۔ عالمی میڈیا اور بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین کی نظریں اس پیشرفت پر جمی ہوئی ہیں کیونکہ یہ اتحاد ایسے وقت میں فعال شکل اختیار کر رہا ہے جب مشرقِ وسطیٰ اور اس سے ملحقہ خطے سکیورٹی بحرانوں سے دوچار ہیں۔ استنبول اجلاس اس بات کی علامت ہے کہ تینوں ممالک تحریری معاہدے کی حد سے آگے بڑھ کر عملی شراکت داری اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں جنم لینے والے سکیورٹی چیلنجز‘ جغرافیائی سرحدوں کی خلاف ورزیوں اور طاقت کے غیر متوازن استعمال نے اس قسم کے مضبوط اور فعال اتحاد کی ضرورت کو ناگزیر بنا دیا تھا۔ پچھلے کچھ عرصے میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات خصوصاً غزہ کے مظلوم مسلمانوں پر جاری مظالم اور اسرائیل کی جارحیت نے مسلم دنیا کی سلامتی کے تحفظات کو مزید اجاگر کیا ہے۔ ان حالات میں اس سہ فریقی دفاعی پیشرفت کی حقیقی قدر و قیمت کا اندازہ بین الاقوامی طاقت کے عدم توازن سے لگایا جا سکتا ہے۔ اگر ہم اسے ایران کے تناظر میں دیکھیں اور اس کا معروضی جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ ایران نے عالمی طاقتوں کی تمام تر پابندیوں اور معاشی دباؤ کے باوجود تن تنہا مقابلہ کیا اور بدستور کر رہا ہے۔ تاہم اگر ایران کے پس پشت ایک مربوط اور منظم سکیورٹی چھتری یا طاقتور مسلم ممالک کا فعال اتحاد ہوتا تو آج مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی جیو پولیٹکل صورتحال یکسر مختلف اور توازن پر مبنی ہوتی۔ یہ درست ہے کہ ایران ایک طویل عرصے تک پراکسیز پر مبنی حکمت عملی کے تحت خطے میں اپنے اثر و رسوخ اور دفاع کو قائم رکھنے میں مصروف رہا لیکن حالیہ شدید ترین عسکری کشیدگی کے بعد اب وہاں کی پالیسی ساز قیادت کو بھی اس حقیقت کا ادراک ہو چکا ہے کہ عصرِ حاضر کی پیچیدہ اور ناہموار جنگی صورتحال میں تنہا ہر محاذ پر نبرد آزما ہونا ممکن نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر اور اعلیٰ حکام نے ممکنہ جارحانہ حملوں اور خطے میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر تمام مسلم ممالک سے باہمی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اتحاد‘ یکجہتی اور مشترکہ صف بندی کی اپیل کی ہے۔اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اگر عملی طور پر فلسطین اور غزہ کے مظلوم اور نہتے مسلمانوں کے لیے سیاسی‘ سفارتی اور عسکری سطح پر سخت مؤقف اپنانے والی کوئی علاقائی طاقت ہے تو وہ ایران ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ایران پر عالمی استعماری اور صہیونی طاقتوں کی جانب سے مسلسل جنگ اور اقتصادی پابندیاں مسلط کرنے کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے کہ وہ فلسطینی عوام کی بلا مشروط حمایت جاری رکھے ہوئے ہے اور اسرائیل کے توسیع پسندانہ اور جارحانہ عزائم کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر سبھی جانتے ہیں کہ ایران پر عائد کی جانے والی معاشی‘ تجارتی اور اقتصادی پابندیوں کے پیچھے اصل محرکات کیا ہیں۔ ان تمام تر حقائق کے باوجود چونکہ ایران عالمی استعماری طاقتوں کے سامنے تزویراتی نقطۂ نظر سے تن تنہا ہے‘ اس لیے اس کے خلاف ہر طرف سے جارحیت کی گئی اور اس کے دفاعی و معاشی انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچانے کی کوششیں کی گئیں۔ اس صورتحال نے ثابت کیا کہ انفرادی مزاحمت کے بجائے اجتماعی دفاع ہی واحد راستہ ہے جو کسی بھی برادر ملک کو دشمن کی بے جا جارحیت سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔اس تناظر میں پاکستان‘ ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والا مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ درحقیقت مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کا نیا توازن پیدا کرنے اور اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم کی راہ میں ایک مؤثر اور ناقابلِ تسخیر سدِ سکندری قائم کرنے کی جانب بڑا قدم ہے۔ یہ اتحاد محض تین ممالک تک محدود نہیں بلکہ اس کا بنیادی مقصد مسلم امہ کو تحفظ فراہم کرنے والی دفاعی چھتری تلے لانا ہے۔ مکہ معاہدے کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ معاہدہ ایک کھلے اور لچکدار فریم ورک پر مبنی ہے جس میں دیگر مسلم ممالک کی شمولیت نہ صرف خوش آئند بلکہ وقت کی اشد ضرورت بھی ہے۔ جب یہ اتحاد مزید توسیع اختیار کرے گا اور دیگر مسلم ممالک اس کی دفاعی چھتری کے نیچے آئیں گے تو خطے کا ہر مسلم ملک حقیقی معنوں میں امن و تحفظ محسوس کرے گا اور کوئی بھی جارح ملک یا استعماری قوت ان کے خلاف کسی قسم کا قدم اٹھانے سے قبل سو بار سوچنے پر مجبور ہو گی۔ یہ وہ عوامل ہیں کہ جن کی بنا پر محض چند دنوں میں ہی مکہ معاہدے کی مقبولیت اور اہمیت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ بنگلہ دیش کی جانب سے اس معاہدے میں شمولیت کی خواہش کا اظہار اس بات کا ثبوت ہے کہ مسلم دنیا میں اس اقدام کو کس قدر پذیرائی مل رہی ہے۔ استنبول میں منعقد ہونے والا سکیورٹی و دفاعی کمیٹی کا یہ اہم اجلاس ان قواعد و ضوابط اور طریقہ کار کو حتمی شکل دینے کے لیے بھی انتہائی کلیدی حیثیت رکھتا ہے جن کے تحت بنگلہ دیش اور دیگر خواہشمند مسلم ممالک کو اس دفاعی فریم ورک میں مرحلہ وار شامل کیا جائے گا۔اگرچہ مکہ معاہدے کے بعد یہ اتحادی ممالک کا پہلا باقاعدہ اور بااثر اجلاس ہے‘ تاہم اس کا بنیادی مقصد مکہ اتحاد کو ایک مستقل اور باضابطہ بین الاقوامی ادارے کی شکل دینا ہے۔ یہ ادارہ جاتی ڈھانچہ محض ایک سفارتی دفتر نہیں بلکہ ایک منظم اجتماعی دفاعی فریم ورک کا قیام ہے جس کی عدم موجودگی نے ماضی میں مسلم امہ کو شدید سکیورٹی چیلنجز سے دوچار رکھا۔ عصرِ حاضر کے جیو پولیٹکل حقائق کا تقاضا ہے کہ مسلم دنیا متفرق دفاع کے بجائے باہمی سلامتی کی جامع حکمت عملی اپنائے۔ تاریخ شاہد ہے کہ جب بھی کسی برادر ملک پر جارحیت مسلط کی گئی‘ امت کا ردِعمل محض رسمی اجلاسوں‘ تشویش اور روایتی مذمتی بیانات تک محدود رہا‘ جس نے استعماری طاقتوں کی حوصلہ افزائی کی۔ استنبول میں قائم ہونے والا یہ تزویراتی فریم ورک اس باب کو ہمیشہ کے لیے بند کرنے جا رہا ہے۔ پاکستان‘ سعودی عرب اور ترکیہ کی قیادت نے سرکردہ کردار ادا کرتے ہوئے ایک ایسے ناقابلِ تسخیر سکیورٹی بلاک کی بنیاد رکھ دی ہے جو کسی بھی بیرونی خطرے کے سامنے مشترکہ ڈھال بنے گا۔ مکہ معاہدے کے تحت اس ادارہ جاتی پیشرفت کے بعد اب مسلم امہ کو ایسے سیاہ دن نہیں دیکھنا پڑیں گے کہ ایک ملک پر ننگی جارحیت ہو اور دیگر صرف تماشائی بنے رہیں۔ یہ اتحاد نہ صرف طاقت کا توازن قائم رکھے گا‘ بلکہ ہر اسلامی ملک کو ایسی مضبوط دفاعی چھتری فراہم کرے گا جس کی موجودگی میں کوئی جارح قوت امت مسلمہ کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرأت نہیں کر سکے گی۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/222_48272610.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>جیل میں شورش کاشمیری سے ملاقات(حافظ محمد ادریس)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/hafiz-muhammad-idreess/2026-09-01/52585/52117042</link><pubDate>Tue, 01 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/hafiz-muhammad-idreess/2026-09-01/52585/52117042</guid><description>جیل کے اندر اُس ایک سال کے عرصے میں مختلف مرحلوں سے گزرنا پڑا۔ سخت گرمیوں کے موسم میں ایک بار شدید بخار ہو گیا۔ جیل کے ڈاکٹر سے چیک اَپ کرایا تو انہوں نے ملیریا تشخیص کیا۔ دوائیں لکھنے کے ساتھ یہ بھی لکھ دیا کہ قیدی کو کم از کم ایک ہفتے کے لیے (جیل کے) ہسپتال میں داخل کر دیا جائے۔ اُس زمانے میں یہ بیماری کافی ہولناک سمجھی جاتی تھی۔ پے بہ پے سیلابوں سے بھی صورتحال خراب ہو جاتی۔ اگرچہ ساٹھ کی دہائی میں ورلڈ بینک کے تعاون سے ملیریا پروگرام کا آغاز ہو چکا تھا مگر اس کی شدت میں اضافہ ہوتا رہتا تھا۔ اس پر قابو بہت بعد میں جا کر پایا گیا۔ ہسپتال میں وہ ایک ہفتہ بہت سکون سے گزرا۔ ڈاکٹر کا نام تو یاد نہیں مگر ان کا دوستانہ رویہ اور شیریں کلامی اب تک یاد ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ اگر آپ کو مزید یہاں رہنا ہے تو اس کی گنجائش موجود ہے۔ میں نے کہا کہ اگر یہ میرا استحقاق ہے تو مجھے مزید قیام کی اجازت دے دیجیے۔ چنانچہ مزید دو ہفتے ہسپتال میں قیام رہا۔ تاہم اس دوران ڈاکٹر صاحب کی اجازت سے ہسپتال سے نکل کر مختلف بیرکوں میں اپنے دوست احباب سے ملاقاتوں کا اہتمام کرتا رہا۔ الحمدللہ! اب جیل میں دوستوں کا وسیع حلقہ پیدا ہو گیا تھا‘ جن میں ہر علاقے کے لوگ شامل تھے۔ یہ لوگ مختلف کیسوں میں یا تو حوالاتی تھے اور یا سزا یافتہ قیدی۔ اکثر لوگ باہمی خاندانی دشمنیوں کی وجہ سے قتل مقاتلے کے کیسوں میں ملوث تھے۔ ان میں سے سجاول وٹو اور اس کے رشتہ دار مراد اور شیرا وغیرہ اب تک یاد ہیں۔ سجاول کا تعلق ضلع فیصل آباد کے کسی گائوں سے تھا۔ جیل سے رہا ہونے کے بعد وہ مجھ سے ملنے کیلئے منصورہ آتا رہتا۔ ذاتی دشمنی کی وجہ سے اس سے قتل ہو گیا۔ بہت باصلاحیت شخص تھا مگر خاندانی اور جاہلی دشمنیوں کی بھینٹ چڑھ گیا۔ ہمارے معاشرے میں اس طرح بے شمار قیمتی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں۔ساہیوال سینٹرل جیل میں اب کوئی اجنبیت نہیں تھی۔ اکثر و بیشتر قیدی مجھ سے اتنے مانوس ہو گئے تھے کہ بڑی محبت اور احترام کے ساتھ ملتے تھے‘ جیسے مدتوں کی دوستی یا قریبی تعلق داری ہو۔ اسی طرح جیل کا عملہ بھی بہت عزت سے پیش آتا تھا۔ اس دوران ملک بھر میں عام انتخابات کی مہم زوروں پر تھی۔ یہ مہم تقریباً آٹھ نو ماہ جاری رہی تھی۔ جماعت اسلامی نے ملک کے دونوں حصوں‘ مشرقی و مغربی پاکستان میں کافی سیٹوں پر اپنے نمائندے کھڑے کیے تھے۔ ساہیوال میں بھی جماعت انتخاب میں حصہ لے رہی تھی۔ ملک کے معروف صحافی اور شعلہ نوا خطیب جناب شورش کاشمیری جماعت کے باقاعدہ رکن اور کارکن تو نہیں تھے مگر زبردست حامی اور مولانا مودودی کے مدّاح ضرور تھے۔ وہ جماعت اسلامی کے مختلف انتخابی اور عوامی جلسوں میں شرکت کرتے تھے۔ ساہیوال میں ایک جلسے میں ان کو بھی مدعو کیا گیا۔ اس پروگرام کے مطابق وہ ساہیوال آئے جہاں رات کو جلسۂ عام تھا۔یہ اتوار کا دن تھا۔ عصر کے قریب میرے پاس جیل کا ایک کارندہ آیا اور پیغام دیا کہ میری ملاقات آئی ہے۔ میں نے کہا کہ آج تو اتوار ہے‘ اتوار کو کیسے ملاقات آئی ہے؟ چھٹی کے دن کسی ملاقات کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ اس نے کہا کہ جناب آپ کے ملاقاتی جو آئے ہیں ان کی آمد سے جیل کے در و دیوار ہل کر رہ گئے ہیں۔ داروغۂ جیل جناب عثمانی صاحب خود اپنے گھر سے دفتر آ گئے ہیں اور آپ کے ملاقاتی سے بڑے ادب و احترام سے گفتگو کر رہے ہیں۔ مجھے انداز ہ نہیں تھا کہ یہ ملاقاتی کون ہے۔ میں کارندے کے ساتھ ڈیوڑھی میں پہنچا اور پھر داروغہ صاحب کے دفتر میں داخل ہوا تو دیکھ کر حیران رہ گیا کہ شورش کاشمیری وہاں تشریف فرما تھے۔مجھے دیکھتے ہی شورش صاحب بڑی محبت سے اٹھ کر میری طرف بڑھے اور اپنے مخصوص انداز میں میرے ساتھ بغلگیر ہو گئے۔ ان کا وہ محبت بھرا معانقہ مجھے کبھی نہیں بھول سکتا۔ سپرنٹنڈنٹ صاحب نے چائے‘ نمکو‘ کیک اور بسکٹ منگوائے اور شورش صاحب سے معذرت کی کہ وہ زیادہ خدمت نہیں کر سکے۔ شورش صاحب نے قہقہہ لگایا اور پھر کہا: عثمانی صاحب! کوئی بات نہیں‘ اس جیل میں میری بہت زیادہ خدمت کی جاتی رہی ہے۔ مرحوم کا اشارہ ان عقوبتوں اور سختیوں کی طرف تھا جن سے ساہیوال جیل میں قید کے دوران مسلسل ان کو سابقہ پیش آتا رہا۔ اپنی کتابوں میں بھی شورش نے ان کا تذکرہ کیا ہے۔چائے کے دوران شورش صاحب نے کہا کہ ابھی تمہارے بارے میں عثمانی صاحب مجھے بتا رہے تھے کہ تم بہت عجیب بلکہ &#39;&#39;ضدی‘‘ نوجوان ہو۔ معافی اور رہائی کی پیشکش کو تم نے ٹھکرا دیا ہے۔ پھر ہنستے ہوئے کہنے لگے کہ میں نے انہیں بتایا ہے کہ سید مودودی کی فکر جس شخص کے دل ودماغ میں رچ بس جائے وہ اللہ کے سوا کسی کے سامنے جھکنا گوارا نہیں کر سکتا۔ شورش صاحب نے اپنے بھی واقعات سنائے اور کئی امور پر ایک گھنٹہ بھر کی اس انتہائی شیریں نشست میں روشنی ڈالتے رہے۔ مرحوم کی عزیمت و استقامت اپنی مثال آپ تھی۔ جماعت اسلامی ساہیوال کے ایک بزرگ رہنما چودھری بشیر احمد مرحوم اور کچھ دیگر جماعتی ساتھی بھی شورش صاحب کے ہمراہ تھے۔ سب بڑی محبت و اپنائیت کے ساتھ گلے ملے۔ اللہ تعالیٰ ان سب لوگوں کے درجات بلند فرمائے۔ رہائی کے بعد ایک مرتبہ پاک ٹی ہائوس کی ادبی مجلس میں شورش صاحب اور بعض دیگر احباب بیٹھے تھے کہ میں بھی وہاں پہنچ گیا۔ شورش صاحب نے محبت بھرے انداز میں جیل میں مجھ سے مذکورہ بالا ملاقات کا تذکرہ کیا‘ جس سے سب دوست بہت محظوظ ہوئے۔ جیل میں ماہِ رمضان المبارک 1390ھ کی آمد سے قبل مجھے فکرمندی تھی کہ میں اپنی چکی میں بند ہوں گا تو قرآن پاک تراویح میں سنانے کا اہتمام نہیں ہو پائے گا۔ ایک قیدی دوست فضل کریم شاد نے تجویز دی کی کہ میں سپرنٹنڈنٹ صاحب سے اجازت لے لوں کہ مجھے رمضان کے دوران ایک بیرک میں منتقل کر دیا جائے تاکہ وہاں تراویح میں قرآن سنانے کا اہتمام ہو سکے۔ میں نے درخواست دی تو مجھے ایک بیرک میں منتقل کر دیا گیا۔ اس بیرک میں قیدیوں کی تعداد ایک سو کے لگ بھگ تھی۔ اس ماہِ رمضان میں‘ جو یکم نومبر 1970ء کو شروع ہوا‘ میں نے تراویح میں پورا قرآن مجید سنایا اور ہر روز خلاصہ مضامینِ قرآن بھی بیان کرتا۔ بیرک میں مقیم قیدیوں کی بڑی تعداد نماز ِتراویح میں شریک ہوتی۔ بعض آٹھ تراویح پڑھ کر اپنے اپنے بستر پر چلے جاتے۔ پندرہ بیس نمازی ایسے تھے جو خلاصہ قرآن سن کر ہی اٹھتے تھے۔ بیرک کے اندر نماز تراویح کیلئے جس انداز میں صفیں بچھانے کا اہتمام کیا گیا وہ بھی بڑا کمال تھا۔ جگہ کی کمی کے باوجود بڑے سلیقے کے ساتھ صفیں بچھائی جاتیں۔ وہ رمضان واقعی یادگار تھا۔ قرآن کی ہر سورت اور ہر آیت کا لطف اب تک یاد ہے مگر جس روز سورۂ یوسف کی تلاوت ہوئی‘ اس کا تو ایسا سماں تھا کہ جسے الفاظ میں بیان کرنا میرے لیے ممکن نہیں۔ اسی طرح آخری تراویح میں قرآن کی تکمیل اور دعا کے لمحات کی بھی ایک منفرد شان تھی۔ اللہ ان سب ساتھیوں کو اپنی بے پایاں رحمتوں سے نوازے جو اُن سارے مراحل کا حسن تھے۔ ایک خوشگوار اور یادگار بات یہ ہے کہ یہ نمازی مسلکی اختلافات کے باوجود نماز تراویح میں یکساں شوق و محبت کے ساتھ شرکت کرتے تھے۔ مغرب اور فجر کی نمازیں بھی باجماعت ادا ہوتی تھیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_24721193.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>