<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>دہشت گردی کے خلاف عزم صمیم!(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-24/11659</link><pubDate>Sat, 24 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-24/11659</guid><description>چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بھارتی سرپرستی میں سرگرم انتہا پسند عناصر کے خلاف کارروائیاں پوری شدت کے ساتھ جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ دہشت گرد جہاں بھی موجود ہوں‘ انہیں بھرپور ضرب لگائی جائے گی۔ فیلڈ مارشل نے ان خیالات کا اظہار جمعہ کے روز پشاور میں کور ہیڈ کوارٹرز کے دورہ کے موقع پر کیا۔ خیبر پختونخوا ایک عرصے سے سرحد پار دہشت گردی کا شکار ہے‘ تاہم چند برس پہلے افواج پاکستان کی مؤثر کارروائیوں کے نتیجے میں قبائلی پٹی میں دہشت گردوں کی عملداری کا خاتمہ کر کے امن بحال کر دیا گیا تھا۔ افواجِ پاکستان کی یہ ایک مثالی کامیابی تھی کہ مختصر وقت میں عالمی دہشت گردی کے وسیع نیٹ ورکس کو ختم کرتے ہوئے قبائلی علاقوں میں ریاستی عملداری کو بحال کیا گیا۔ یہ جامع اور فیصلہ کن پیش رفت تھی جس کے اثرات کو پورے ملک میں محسوس کیا گیا‘ امن اور تحفظ کے احساس میں بہتری آئی اور پاکستان کی ایک پُرامن ملک کے طور پر شناخت بحال ہوئی۔

اس کے بعد ضروری تھا کہ سماجی سطح پر اقدامات کیے جاتے۔ روزگار کے بہتر مواقع‘ معاشی سرگرمیوں‘ لوگوں کو بااختیار بنانے کے اقدامات اور تعلیم وصحت کے شعبوں میں بہتری سے قبائلی سماج میں وہ مطلوب تبدیلیاں ممکن تھیں جو انتہا پسندی کے خاتمے میں مدد کرتیں۔ یہی مقصد قبائلی علاقوں کو صوبے میں ضم کرنے کا موجب بنا اور قبائلی اضلاع کیلئے کئی خصوصی اقدامات اور مالی وعدے بھی کیے گئے۔ قبائلی علاقوں کو قومی دھارے کیساتھ ملانے کی یہ بنیادیں درست اور مستحکم تھیں مگر وقت کیساتھ ان پر جو تعمیرات ہونا تھیں وہ کہیں نہیں ہو سکیں۔ نو تشکیل شدہ قبائلی اضلاع میں ترقیاتی کاموں میں سست روی‘ تعلیم‘ روزگار اور صحت کے منصوبوں میں کوتاہیاں اور ان علاقوں کو معاشی طور پر مستحکم کرنے کے خصوصی اقدامات خیال و خواب سے آگے نہ بڑھ سکے۔ دوسری جانب اگست 2021ء میں افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت کا قیام اس علاقے میں انتہا پسندوں کی سوکھتی جڑوں کو تازہ کرنے کا سبب بنا۔
افغان طالبان نے آتے ہی نہ صرف افغان سرزمین پر چھپے ہوئے انتہا پسند گروہوں کیلئے سہولت کاری شروع کر دی بلکہ جن شدت پسندوں کو سابق افغان حکومتوں نے قید کیا ہوا تھا انہیں بھی رہا کر دیا۔ دہشت گردی کی سرگرمیوں کی بحالی کیلئے یہ اقدامات بہت بڑی سہولت ثابت ہوئے اور اس پر مستزاد افغانستان میں غیر ملکی افواج کا چھوڑا ہوا جدید اسلحہ اوردفاعی سازو سامان۔ اگست 2021ء کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کی نئی لہر انہی حالات سے ابھری اور آنے والے برسوں میں خونریزی کے واقعات بڑھتے چلے گئے۔ اس دوران پاکستان کی جانب سے افغان عبوری حکومت کیساتھ بارہا ان مسائل کو اجاگر کیا گیا مگر طالبان کا رویہ ایک ذمہ دار حکومت کے بجائے دہشت گردانہ معاون کے طور پر سامنے آتا رہا۔ طالبان بھارت گٹھ جوڑ اور دہشت گردی کی تکون نے یہ ثابت کر دیا کہ افغان طالبان خطے میں پائیدار امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ ملکِ عزیز میں دہشت گردی کے ہر واقعے کے محرکات سرحد پار ملنا اور دہشت گردی کے بیشتر واقعات میں افغان شہریوں کا ملوث پایا جانا معمولی بات نہیں۔
اس صورتحال میں قومی سلامتی کے دفاع کیلئے بھر پور اقدامات کی ضرورت ہے‘ ایسے اقدامات جن میں سیاسی اور حکومتی حمایت ریاست کے دفاعی مقاصد اور عزائم کیساتھ ہو۔ خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور دہشت گردی سے زیادہ متاثرہ بارہ اضلاع میں ایمر جنسی کا نفاذ اس کیلئے کفایت کرے گا۔ امید کی جاتی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں جو مقاصد ماضی میں حاصل نہیں ہو سکے‘ حکمت عملی اور اقدامات میں ان تبدیلیوں کی بدولت فیصلہ کن تبدیلی سے گزریں گے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بروقت ، خوش آئند(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-24/11658</link><pubDate>Sat, 24 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-24/11658</guid><description>وزیراعظم شہباز شریف نے 2027ء کے لیے گندم کی مجوزہ قیمت 4500 روپے فی من مقرر کرنے کا فیصلہ ہے۔ نئی مجوزہ قیمت گزشتہ سال کے مقابلے میں ایک ہزار روپے زیادہ ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ملک میں گندم کی بوائی کا سیزن شروع ہے لیکن کاشتکار بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت‘ کھاد‘ بیج‘ زرعی ادویات اور ڈیزل و بجلی کے مسلسل بڑھتے نرخوں کے باعث شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ حکومت کی جانب سے مجوزہ قیمتوں کے اعلان کے بعد گندم کے کاشتکار کی حوصلہ افزائی ہو گی اور وہ زیادہ سے زیادہ رقبے پر گندم کاشت کرنے کی طرف راغب ہو گا۔حالیہ دنوں ملک میں گندم کی مارکیٹ قیمتوں میں اضافہ اور آٹے کے حوالے سے تحفظات کی بنیاد حالیہ برسوں گندم کی خریداری میں سست روی اور غیر سنجیدگی ہے۔

دو سال قبل پنجاب حکومت نے 3900 روپے فی من گندم کی امدادی قیمت کا اعلان کیا تھا مگر جب فصل مارکیٹ میں آئی تو حکومت ذخائر میں پرانی گندم موجود ہونے کے بہانے خریداری سے پیچھے ہٹ گئی اور کسانوں کو مارکیٹ کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔ اگر حکومت گندم کی کٹائی کے بعد خریداری سے گریز کرے تو کسان اپنی فصل آڑھتیوں کو اونے پونے فروخت کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ لہٰذا گندم کی مجوزہ قیمت کا بروقت اعلان اور اس میں مناسب اضافہ خوش آئند اقدام ہے لیکن اس کے مؤثر ہونے کا فیصلہ عملی نتائج سے ہوگا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>عدم برداشت کا رجحان(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-24/11657</link><pubDate>Sat, 24 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-24/11657</guid><description>لاہور میں مبینہ طور پر راستہ نہ ملنے پر ایک شخص کا سکوٹی سوار لڑکی پر تشدد افسوسناک اور اور سماجی سطح پر عدم برداشت اور اخلاقی زوال کی مثال ہے۔ ابھی ملتان میں پندرہ سالہ بچے کے قتل کی لرزہ خیز واردات کو زیادہ دن نہیں ہوئے کہ اس تازہ واقعے نے معاشرے میں تشدد اور لاقانونیت کے بڑھتے رجحان کو اجاگر کر دیا ہے۔ملک بھر سے آئے روز معمولی تنازعات پر ہراسانی، تشدد اور قتل کی وارداتیں رپورٹ ہو رہی ہیں۔ معمولی باتوں پر اس طرح کا سنگین ردِعمل سماجی سطح پر بڑھتی ہوئی گھٹن‘ معاشی پریشانیوں‘ ذہنی الجھنوں اور عدم برداشت کو ظاہر کرتا ہے۔

یہ کیفیت بظاہر جن سماجی عوارض کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے وہ کسی بھی گروہِ انسانی کی اجتماعی نفسیات کو متاثر کیے بغیر نہیں رہتی؛چنانچہ ٹامک ٹوئیاں مارنے کے بجائے ان عوارض کی اصلاح پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ معاشرے کو محفوظ اور پُرامن بنانے کیلئے قانون کی بالادستی‘ مؤثر احتساب اور اخلاقی اصلاح کی اہمیت میں دو رائے نہیں۔ایسے واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ ہمارے اجتماعی وجود میں کون کون سے پہلو نازک ہیں‘ جن کی بہتری کیلئے کام ہونا چاہیے۔ بصورتِ دیگر عدم برداشت اور لاقانونیت کا بڑھتا سلسلہ ہمارے اجتماعی امن‘ شہری آزادیوں اور معاشرتی اقدار کو تہس نہس کر کے رکھ دے گا اور بطور سماج ہماری بقا کیلئے سنگین نوعیت کے خطرات پیدا ہو اجائیں گے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>تحریک انصاف: دوست اور دشمن کے درمیان(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-10-24/52898/67452378</link><pubDate>Sat, 24 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-10-24/52898/67452378</guid><description>ایک سیاسی جماعت ہے‘ جو عوام میں مقبول ہے۔ اس کا لیڈر ایک کرشماتی شخصیت کا مالک ہے جس سے لوگ جذباتی لگاؤ رکھتے ہیں۔ وہ اس میں کوئی خرابی نہیں دیکھتے۔ ان کا حسنِ ظن ہے کہ وہ ان کا نجات دہندہ ہے۔ روایتی سیاست اور سیاستدانوں کو‘ وہ خیر سے یکسر محروم سمجھتے ہیں۔ یہ جماعت اور لیڈر جب اقتدار کی سیڑھیاں چڑھ رہے تھے تو انہیں ریاستی اداروں کی تائید بھی میسر تھی۔ اس وقت ان اداروں کے بارے میں‘ ان کی رائے اچھی تھی۔ ایک وقت آیا کہ وہ اقتدار کے ایوانوں تک پہنچ گئے۔ پھر حالات نے پلٹا کھایا۔ ان پر پارلیمنٹ نے عدم اعتماد کیا اور انہیں اقتدار چھوڑنا پڑا۔ ان کامؤقف ہے کہ یہ امریکی دباؤ پر ہوا‘ ان کے لیڈر نے جس کی غلامی قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اقتدار سے محرومی دراصل غلامی قبول نہ کرنے کی سزا ہے۔ سیاسی جماعتوں اور کچھ اور افراد نے سہولت کار کا کردار ادا کیا۔اپنے کھوئے ہوئے اقتدار کے دوبارہ حصول کے لیے پارٹی نے احتجاج کا راستہ اپنایا‘ جسے وہ اپنا جمہوری اور آئینی حق سمجھتی ہے۔ یہ احتجاج ایک مرحلے پر پُرتشدد ہو گیا۔ ریاستی ادارے بھی اس کی زد میں آ گئے۔ ان اداروں کو سیاسی جماعتوں کے ساتھ اپنا مجرم قرار دے دیا گیا۔ اس دوران میں ان کے لیڈر کے ساتھ مرکزی قیادت بھی گرفتار ہو گئی۔ اداروں پر حملے کو ریاست نے سنجیدگی کے ساتھ لیا اور پارٹی کیلئے کام کرنا مشکل بنا دیا گیا۔ لیڈروں پر مقدمات قائم ہوئے۔ انہیں سزائیں بھی سنا دی گئیں۔ پارٹی کا مؤقف ہے کہ انہوں نے ریاستی اداروں کو نشانہ نہیں بنایا۔ ان کے خلاف جھوٹا مقدمہ قائم ہوا۔ اس کشمکش نے تلخی کو بڑھا دیا۔ پارٹی نے سیاستدانوں کے ساتھ ریاستی اداروں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ سوشل میڈیا کی مدد سے ادارے اور اس کے سربراہ کے خلاف توہین آمیز مہم چلائی گئی۔ اس کا ناگزیر نتیجہ ریاست کے ساتھ تصادم تھا۔ان حالات میں پارٹی کو نہ صرف اپنی بقا کا سامان کرنا تھا بلکہ اپنے لیڈر کو رہا بھی کرانا تھا۔ اس کے سامنے یہی دو بڑے مقاصد ہیں۔ اس کی خواہش ہے کہ پارٹی کو تمام سیاسی آزادیاں حاصل ہوں۔ اس کا لیڈر قومی سیاست میں اپنا کردار ادا کرے اور اس کے خلاف تمام مقدمات ختم ہوں‘ جو اس کے نزدیک سیاسی بنیادوں پر قائم کیے گئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ پارٹی یہ مقاصد کیسے حاصل کر سکتی ہے؟ یہ کیسے ممکن ہو کہ اس کا لیڈر رہا ہو کر سیاست میں فعال ہو اور وہ ایک سیاسی جماعت کی طرح اپنی سرگرمیاں جاری رکھ سکے۔یہ سوالات سامنے آئے تو زبانِ حال اور زبانِ قال سے اس کے دو جواب دیے گئے۔ ایک یہ کہ پارٹی اور اس کا لیڈر حق پر ہیں۔ جب آپ حق پر ہیں تو آپ مصالحت کا راستہ کیوں اختیار کریں؟ یہ راستہ وہ لوگ اپناتے ہیں جو بزدل ہوں۔ جن کا مؤقف حق پر مبنی نہ ہو۔ ان کے ساتھ ظلم روا رکھا گیا ہے۔ وہ ظالم سے مصالحت کیسے کر سکتے ہیں؟ ان کے لیڈر کے سامنے تو اسوۂ شبیری ہے۔ وہ کبھی مصالحت کا راستہ اختیار نہیں کرے گا۔ وہ اسے احتجاج کی طاقت سے رہا کرائیں گے اور ریاست کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کریں گے۔ ان کے پاس ایک صوبائی حکومت موجود ہے۔ یہ اس کے لیے نہیں ہے کہ اس کی مدد سے عوامی مسائل کیے جائیں۔ یہ حکومت عمران خان کی عطا ہے۔ اس کا صحیح مصرف یہ ہے کہ اس کی قوت‘ ان کی رہائی کے لیے استعمال ہو۔ اگر مذاکرات بھی ہوں گے تو صرف مقتدر قوتوں سے۔ سیاسی حکومت تو نمائشی ہے جس کی کوئی حیثیت نہیں۔ پارٹی کے بعض لوگوں کے اصرار پر سیاسی حکومت سے مذاکرات ہوئے لیکن اسے بالعموم قبول نہیں کیا گیا۔ ایسے لوگوں کی لیڈر سے وفا داری کو مشکوک سمجھا گیا۔دوسرا جواب یہ تھا کہ سیاست چونکہ امکانات کا کھیل ہے‘ اس لیے حکمت یہ ہے کہ اپنے لیے راستہ تلاش کیا جائے۔ مؤقف کی صداقت سے قطع نظر اگر آپ کے سامنے ریاست کھڑی ہے تو پھر اس کے ساتھ تصادم میں آپ کے لیے سراسر خسارہ ہے۔ درست طرزِ عمل یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں سے ربط و ضبط بڑھایا جائے اور ریاستی اداروں کو آئینی اور سیاسی جماعتوں کی معاونت سے اس کردار تک محدود کر دیا جائے جو آئین نے ان کے لیے طے کردیا ہے۔ سیاست میں فیصلہ ہمیشہ موجود امکانات کی روشنی میں کیا جاتا ہے۔ یہ اقتدار کا کھیل ہے جس میں آپ کے مدمقابل‘ اپنی قوم کے لوگ ہیں‘ چاہے وہ سیاست کی نمائندگی کرتے ہوں یا ریاست کی۔ تصادم میں سب کا نقصان ہے۔ شیخ مجیب الرحمن نے یہ راستہ اپنایا تو وہ خسارے میں رہے اور ریاست بھی۔ بے نظیر بھٹو صاحبہ اور نواز شریف صاحب کو بھی ایسی ہی صورتحال کا سامنا رہا۔ مجلسِ عمل کو بھی ایسے حالات سے گزرنا پڑا۔ سب نے تصادم کے بجائے ریاستی اداروں کو راستہ دیا۔ کسی نے آٹھویں آئینی ترمیم کا ساتھ دیا اور کسی نے سترہویں کا۔ اس سے ملک میں جمہوریت کے لیے امکانات پیدا ہوئے۔ آپ کو بھی یہی راستہ اپنانا چاہیے۔ تصادم سے گریز اور سیاسی عناصر کے ساتھ مل کر جمہوریت کی طرف سفر۔ یہی درست حکمتِ عملی ہو گی۔ جمہوری ریاست اور معاشرہ ارتقا سے بنیں گے۔ اس کے لیے صبر اور حکمت کی ضرورت ہے۔پارٹی نے دوسرے راستے کا انتخاب نہیں کیا۔ اس نے احتجاج پر اصرار کیا۔ اس کا خیال تھا کہ اگر اسلام آباد کا گھیراؤ کر لیا جائے تو ریاست کو مجبور کیا جا سکتا ہے کہ وہ گھٹنے ٹیک دے۔ یہ حکمت عملی بار ہا ناکام ہوئی۔ پھر وہ وقت آیا کہ یہ احتجاجی سیاست صوبائی حکومت کو بہا لے گئی۔ اس حکومت کے خاتمے پر بھی احتجاج کی کوئی لہر نہ اُٹھ سکی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پورے صوبے میں کہیں سو سے زیادہ افراد جمع نہ ہو سکے۔صرف باڑہ میں پانچ سو افراد کا اجتماع ہوا۔ تھوڑی دیر کیلئے مان لیں کہ یہ سب غلط ہوا۔ مگر یہ ریاست کی قوت اور اپنی قوت کے بارے میں ایک غلط تخمینے کا نتیجہ تھا۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جماعت کو عوامی تائیدحاصل نہیں۔ یقینا حاصل ہے مگر یہ عوامی تائید مؤثر احتجاجی تحریک نہیں اٹھا سکتی۔ اس حکمتِ عملی کا نتیجہ یہ نکلا کہ صوبائی حکومت ختم ہو گئی۔ لیڈرکی رہائی کا امکان پہلے سے بھی کم ہو گیا۔ ریاست اور حکومت پر دباؤ ڈالنے کی قوت پہلے کی طرح باقی نہیں رہی۔احتجاجی سیاست کا یہ نتیجہ نکل چکا۔ اب یہ جائزہ لینا آسان ہے کہ پارٹی کے لیے درست مشورہ کون سا تھا؟ پہلا راستہ تجویز کرنے والے پارٹی کے ہمدرد اور دوست تھے یا دوسرا راستہ دکھانے والے؟ پارٹی لیڈرکی عمر ڈھلتی جا رہی ہے۔ اگر وہ آپ کے نزدیک قوم کے نجات دہندہ ہیں تو وہ یہ کردار جیل میں رہ کر ادا کر سکتے ہیں یا پھر باہر نکل کر؟ یہ اقتدار کی سیاست ہے‘ اس میں راستے بنائے جاتے ہیں۔ موجود راستوں پر اپنے لیے کانٹے نہیں بوئے جاتے۔ یہاں یہ سوال بھی غیر اہم ہے کہ آج کے دانشور کا مؤقف کیا ہونا چاہیے؟ اس پر میں ان شاء اللہ الگ سے لکھوں گا۔ اس وقت تو ایک سیاسی جماعت کی حکمت عملی کا تجزیہ مطلوب ہے۔ جو حکمت عملی اپنائی گئی‘ اس کا نتیجہ سامنے آ چکا۔ پارٹی کے ہمدرد اب زیادہ آسانی سے رائے قائم کر سکتے ہیں کہ ان کا دوست کون ہے اور دشمن کون؟ پہلا راستہ سجھانے والے یا دوسرا راستہ دکھانے والے؟</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سرکار بس اعلان نہیں کر رہی(خالد مسعود خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-10-24/52899/70738405</link><pubDate>Sat, 24 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-10-24/52899/70738405</guid><description>کبھی کبھی لگتا ہے کہ منیب الحق بالکل ٹھیک کہتا ہے۔ میں جب بھی پاکستان سے باہر جاتا ہوں‘ پیچھے کچھ نہ کچھ برا ہو جاتا ہے۔ جیسے میں اب پاکستان سے باہر ہوں تو پیچھے میرے ہی شہر ملتان میں پندرہ سالہ یتیم بچے وسیم کو دولت کے نشے میں چور ایک ٹھیکیدار نے اپنی گاڑی کے نیچے کچل کر بے رحمانہ طریقے سے مار دیا۔ لیکن پھر خیال آیا کہ میرے ہونے نہ ہونے سے کیا فرق پڑتا ہے۔ میں تب پاکستان میں ہی تھا جب لائبہ نے خودکشی کر لی تھی۔ اب ان دونوں مظلوموں کے بالواسطہ یا بلاواسطہ قاتل اپنے انجام کو پہنچ چکے ہیں۔ لیکن جو دل پہلے لائبہ اور وسیم کے لیے دکھی تھا وہ اب پاکستان میں ماورائے عدالت لا قانونیت کی بڑھتی ہوئی حاکمیت پر افسردہ ہے۔میں شروع دن سے اس ملک میں متعارف ہونے والے ماورائے عدالت متوازی نظامِ انصاف کے خلاف ہوں۔ میرا مؤقف اس سلسلے میں بڑا واضح ہے کہ ریاستیں اور مہذب معاشرے اس طرح بالکل نہیں چل سکتے جس طرح فوری انصاف کا شارٹ کٹ نکال کر ہم چلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ریاست اور معاشرہ آئین‘ قانون اور انصاف سے چلتا ہے۔ عدل و انصاف آئین کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے اور ریاست ان کاموں کی انجام دہی کے لیے اپنے اختیارات اداروں کو تفویض کرتی ہے اور ادارے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے عوام کو عدل و انصاف فراہم کرتے ہیں۔یہ ادارے خواہ انتظامی ہوں یا عدالتی‘ طے شدہ قواعدپر عمل کرنا اور عمل کرانا سب پر یکساں لازم ہے۔ لیکن جب ادارے ہی معاملات کو طے شدہ اصولوں اور قاعدوں کے تحت چلانے کے بجائے بے اصولی اور بے قاعدگی سے چلانے کی کوشش کر رہے ہوں تو اس کا انجام سوائے طوائف الملوکی کے اور کچھ نہیں نکلے گا۔ جو لوگ آج &#39;&#39;فوری انصاف‘‘ کے حکومتی اقدامات پر خوش ہو رہے ہیں‘ زیادہ دن نہیں گزریں گے جب اس فوری انصاف پر مامور لوگ گھن اور گندم کی تمیز بھول جائیں گے اور پھر یہی لوگ اس سارے سریع الحرکت ماورائے عدالت نظام انصاف کے خلاف شور مچائیں گے‘ لیکن ممکن ہے تب تک پانی سر سے گزر چکا ہو۔ یقین کریں میں بھی ظالموں کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کرنے اور انہیں قرار واقعی سزا دینے کا خواہشمند ہوں لیکن سرکار نے جو طریقہ اپنا لیا ہے اس کی کسی صورت میں بھی حمایت نہیں کر سکتا۔ اگر آپ غور کریں تو وسیم کو گاڑی کے نیچے کچل کر اس کی جان لینے والے کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے بجائے مبینہ پولیس مقابلے میں مار دینے کے درمیان کوئی زیادہ فرق نہیں ہے۔ کوئی شخص انفرادی طور پر اپنی عدالت لگا کر سزا دے رہا ہے اور اس کے جواب میں حکومتی اداروں کے افسران بھی اپنی عدالت لگا کر کسی کی جان لینے کا فیصلہ کر رہے ہیں۔ انفرادی سطح پر طاقت کے نشے میں ڈوبی ہوئی اس ملک کی اشرافیہ اپنی عدالت لگا کر اپنے ملزمان کو اپنے طور پر سزا دینے میں مصروف ہے جبکہ جواباً حکومت اپنے اداروں کے ذریعے قانون انصاف اور آئین کو پسِ پشت رکھتے ہوئے اپنی صوابدید پر فوری سزا دینے کے طریقہ کار پر عمل کر رہی ہے۔ یعنی اس ملک میں فرد اور سرکاری اداروں کا رویہ بالکل ایک جیسا ہے۔ اس ملک میں فرد سے لے کر اداروں تک نے آئین‘ قانون اور انصاف کو اپنی گھر کی لونڈی سمجھ رکھا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ گاؤں دیہات میں لگنے والی پنچایتیں جب کسی ملزم کو سزا سناتی ہیں‘ وڈیروں کے ڈیروں میں بیٹھ کر کاروکاری کے جرم میں زندگی اور موت کے فیصلے کیے جاتے ہیں یا پسند کی شادی کرنے پر خاندان والے اپنی بیٹی کو غیرت کی بھینٹ چڑھاتے ہیں تو آخر ان میں اور جعلی پولیس مقابلے میں ملزموں کو پار کرنے کا فیصلہ کرنے والوں کے درمیان کیا فرق ہے؟ فرق صرف اتنا ہے کہ اول الذکر موت کے فیصلے کرنے والے لوگوں نے وردی نہیں پہنی ہوتی جبکہ مؤخر الذکر سزائے موت کے فرمان جاری کرنے والے باوردی لوگ ہیں۔ پنچایتیں‘ وڈیرے اور خاندان بھی قانون سے بالاتر ہو کر زندگی اور موت کے فیصلے کر رہے ہیں اور وردی والے انتظامی افسران بھی یہی کچھ کر رہے ہیں۔ جب دونوں ایک جیسے طریقہ کار پر عمل کرتے ہوئے اپنے اپنے ملزمان کو سزائیں سنا رہے ہیں تو پھر ایک ولن اور دوسرا ہیرو کیوں ہے؟ چلیں پنچایتوں‘ وڈیروں اور خاندان والوں کو تو ریاست کے قانون پر‘ اس ملک کے نظامِ عدل پر‘ قانون کی سربلندی پر اعتماد نہیں لیکن یہ حکومتی ادارے‘ افسران اور اہلکار جب ماورائے قانون جزا اور سزا کے نظریے کو لاگو کرتے ہیں تو وہ بھی ریاست کے آئین‘ قانون اور نظام انصاف پر عدم اعتماد کا اظہار کر رہے ہوتے ہیں۔ حتیٰ کہ جب نظامِ عدل مسلسل ایک ہی قسم کی کہانی پر یقین کرتے ہوئے اس قسم کے ماورائے عدالت اقدامات پر آنکھیں بند کر لیتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ نہ صرف اپنی ذمہ داری سے جان چھڑا رہا ہے بلکہ وہ اس متوازی قائم کیے جانے والے &#39;&#39;نظامِ انصاف‘‘ کو مزید پھلنے پھولنے کی کھلی چھوٹ دے رہا ہے۔ اگر یہ معاملہ ہے تو کیا اس ملک میں اس نظام کے جاری رہنے کا کوئی جواز باقی رہ جاتا ہے؟ اس مسئلے پر سب سے پہلے تو عدالتوں کو آواز اٹھانی چاہیے کہ ہماری موجودگی میں یہ کیا ہو رہا ہے؟ ہمارا کام وہ لوگ کیوں سر انجام دے رہے ہیں جو اس کام کیلئے نہ تو متعین کئے گئے ہیں اور نہ آئین و قانون اس کی اجازت دیتا ہے۔ ان مبینہ پولیس مقابلوں میں پولیس ملزم کو برآمدگی کے لیے یا عدالت سے جیل لے جا رہی ہوتی ہے اسی اثنا میں ملزم کے مسلح ساتھی اسے چھڑانے آ جاتے ہیں۔ اس چھڑانے کی کوشش میں پولیس کو کچھ نہیں ہوتا جبکہ ہمیشہ ملزم مارا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی احمقانہ کہانی ہے جو زیادہ سے زیادہ ایک بار چل سکتی تھی لیکن یہ کہانی مسلسل چل رہی ہے۔ عدالتوں میں یہ کہانی پیش ہوتی ہے۔ ذرا ذرا بات کی مین میخ نکالنے پراسیکیوشن‘ پولیس اور انتظامی افسروں کی طبیعت صاف کرنے والی عدالتیں اس پر خاموش ہیں۔ یہ کہانی دراصل ہمارے آئین‘ قانون اور نظامِ انصاف کے منہ پر ایک طمانچہ ہے۔ اس کہانی پر کسی شخص کو یقین نہیں لیکن یہ کہانی چل رہی ہے۔ اس کہانی کو تسلیم کرنے کا مطلب ہے کہ نظامِ عدل اپنی ذمہ داری سے جان چھڑوا رہا ہے۔ پولیس چالان بنانے اور تفتیش کرنے میں اپنی ناکامی کا اعتراف کر رہی ہے۔ ریاست ملزموں کو کیفر کردار تک پہنچانے والا قانون بنانے میں ناکامی کا اعتراف کر رہی ہے۔ غرض یہ کہانی ریاست‘ نظام انصاف اور پولیس پر عدم اعتماد کا اظہار ہے۔ اور اس کہانی کو تسلیم کر کے حکومت بھی یہ مان رہی ہے کہ وہ آئین اور قانون کے مطابق عوام کو انصاف فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ بجائے اس کے کہ قانون ساز اسمبلیاں ان قانونی اسقام کو درست کرتیں‘ ریاست اپنی رِٹ قائم کرتی‘ عدالتیں لوگوں کو انصاف فراہم کرتیں اور پولیس اپنا فرض کماحقہٗ طور پر سرانجام دیتی۔ سب نے اپنی جان چھڑاتے ہوئے ایک نیا متوازی سریع الحرکت غیر قانونی &#39;نظام انصاف‘ وضع کرنے میں عافیت جانی ہے۔ آج بہت سے لوگ اس فوری نتائج کے حامل &#39;&#39;نظامِ انصاف‘‘ کو داد دے رہے ہیں لیکن یقین جانیے یہ کمپنی زیادہ دیر نہیں چلے گی۔ اس کے اثراتِ بد جب مزید جامے سے باہر ہوں گے تو پھر ہمیں احساس ہوگا کہ ہمارے ساتھ کیا ہوا ہے۔ لیکن شاید تب تک بہت دیر ہو چکی ہوگی۔ سچ تو یہ ہے کہ اس ملک میں قانون اور نظامِ عدل کی وفات حسرت آیات واقع ہو چکی ہے مگر سرکار بوجوہ اس کا نہ اقرار کر رہی اور نہ ہی اعلان کر رہی ہے۔ سرکار کی عقل کا اندازہ لگائیں کہ اس کا خیال ہے کسی کو اس فوتیدگی کا علم نہیں ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90500073.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>عرش لرزا اور دل دہلا دینے والے مظالم(ڈاکٹر حسین احمد پراچہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-10-24/52900/44400067</link><pubDate>Sat, 24 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-10-24/52900/44400067</guid><description>چند روز قبل پہلی مرتبہ یہ روح فرسا منظر ٹیلی ویژن سکرین پر دیکھا تو مجھے اپنی آنکھوں پر یقین ہی نہ آیا کہ یہ کوئی حقیقی منظر ہے یا فلمی سین۔ ملتان میں ایک سرپٹ دوڑتے بچے کا گاڑی بھگاتے چند انسانی درندے یوں پیچھا کر رہے تھے جیسے جنگل میں بھیڑیے سہمے ہوئے میمنے کا پیچھا کرتے ہیں۔ ان درندوں نے پندرہ سالہ یتیم بچے کو نہایت بیدردی کے ساتھ گاڑی کی ٹکر مار کر کچل دیا۔ اس سے آگے دیکھنے کا مجھے یارا نہ تھا۔ بچے کی پوسٹ مارٹم رپورٹ اور بھی دلوں کو تڑپا دینے والی ہے۔ بدھ کی شب یہ خبر آئی کہ یتیم بچے کو کچلنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا ہے۔ پولیس مقابلہ اصلی تھا یا نہیں‘ اس کا فیصلہ عدالتیں کرتی رہیں گی۔ دیگر اسی نوعیت کے سوالات؛ جیسے جس یتیم خانے میں بچہ رہائش پذیر تھا اس کی کیا حالت اور حیثیت تھی‘ ان کے جوابات بھی تلاش کیے جاتے رہیں گے۔ مگر اس سانحے سے جو اہم ترین حقائق سامنے آئے ہیں ان سے ہمارے حکمران آگاہ تو ہیں لیکن ان تکلیف دہ حقیقتوں سے وہ آنکھیں ملاتے نہیں آنکھیں چراتے ہیں۔ اس طرح کے واقعات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ملک میں قانون کا کوئی احترام ہے اور نہ ہی اس کا کوئی دبدبہ اور رعب ہے۔ ہر فرد یہ سمجھتا ہے کہ اگر اس کی &#39;&#39;حکم عدولی‘‘ ہوئی ہے یا کسی بچے نے اس کے پاس کام کرنے سے انکار کر دیا ہے تو اب اسے چیونٹی کی طرح مسل دینے کا اسے مکمل اختیار ہے۔ ایسا کرتے ہوئے وہ یہ سمجھتا ہے کہ اسے روکنے اور ٹوکنے والا کوئی نہیں۔ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں صرف ایک سال کے دوران 900سے لے کر 1000تک ملزمان اور مشتبہ افراد ماورائے عدالت قتل کیے گئے۔ جب کوئی توقیر جیسا درندہ صفت ملزم پولیس مقابلہ میں مارا جاتا ہے تو اس سے وقتی طور پر زخم خوردہ دلوں کو آسودگی تو مل جاتی ہے مگر سوچنے والی بات تو یہ ہے کہ امن نام ہے قانون کی عملداری کا ہے۔ اس یتیم بچے وسیم کی ماں جس طرح سے ہاتھ اٹھا اٹھا کر اس کیلئے بین کر رہی تھی اس سے یقینا عرش کانپ گیا ہو گا۔ ہمارے اوپر تنے آسمانوں  تک بھی یہ آہ و زاری گئی ہو گی۔ فرمانِ مصطفیﷺ ہے کہ مظلوم کی آہ سے بچو! اس سے جڑا ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ کیا لاقانونیت کو لاقانونیت سے ختم کیا جا سکتا ہے؟ دو تین روز قبل پنجاب کی وزیر اطلاعات نے کہا ہے کہ یہ تاثر غلط ہے کہ سی سی ڈی کے تمام کیسز میں مقابلے ہوتے ہیں‘ یہ بات بھی درست نہیں کہ وزیراعلیٰ نے پولیس مقابلوں کا حکم دیا ہے۔ درویش شاعر ساغر صدیقی نے کہا تھا:جس عہد میں لٹ جائے فقیروں کی کمائیاس عہد کے سلطان سے کچھ بھول ہوئی ہےشاعر نے تو فقیروں کی کمائی کی بات کی ہے مگر اب نوبت یتیموں کی زندگانی تک آ پہنچی ہے۔ ملک میں چائلڈ لیبر پروٹیکشن کے کئی ادارے موجود ہیں اور بے شمار قوانین بھی دستور کی کتابوں میں لکھے ہیں‘ مگر عملاً جو صورتحال ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ ہماری تو وزیراعظم سے کبھی کبھار ملاقات ہوتی ہے مگر جو لوگ ان کے دوست یا عزیز ہیں‘ ان کا کہنا ہے کہ ان کے ہاں شدتِ جذبات ہی نہیں شدتِ احساس بھی ہے۔ یقینا ایسے ہولناک سانحات سے ان کا دل بھی تڑپتا ہوگا مگر وہ سنجیدگی سے اس کا مداوا کیوں نہیں کرتے؟ حاکمِ پنجاب محترمہ مریم نواز خواتین اور بچیوں کے خلاف کسی طرح کے بھی ظلم کو اپنی ریڈ لائن قرار دیتی ہیں۔ تین چار روز قبل شیخوپورہ میں کم عمر گھریلو ملازمین پر ظلم اور تشدد کی انتہا کر دی گئی۔ اخباری رپورٹ کے مطابق 12سالہ یتیم بچی‘ جو صرف چار ہزار روپے ماہانہ پر ملازمہ تھی‘ خاتونِ خانہ اور اس کے بیٹے نے نہایت درجے کی شقاوتِ قلبی سے کام لیتے ہوئے بچی کو اس بیدردی سے مارا کہ وہ موقع پر ہی دم توڑ گئی۔ شیخوپورہ ہی کی دوسری دس سالہ بچی پر تشدد کر کے اس کا بازو توڑ دیا گیا۔ منگل کے روز کنیرڈ کالج لاہور میں کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا کہ میں نے پنجاب کی بیٹیوں کی حفاظت یقینی بنانے کیلئے تین سال دن رات کام کیا ہے اور پنجاب کو وومن فرینڈلی صوبہ بنا دیا ہے۔ یہاں پوچھنے والا سوال یہ ہے کہ ان تین برسوں میں ان غریب گھرانوں میں پیدا ہونے والی کلیوں کے بارے میں کیوں نہیں سوچا گیا کہ جو بن کھلے مرجھا جاتی ہیں اور اکثر اوقات ظالم معاشرے کے سفاک کرداروں کے ہاتھوں مسل دی جاتی ہیں۔ کیا یہ پنجاب کی بچیاں بچے نہیں؟ ثقہ اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں ایک کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ یہ معصوم بچے زندہ رہنے اور اپنے والدین کا سہارا بننے کیلئے اس طرح کے ظلم و تشدد کا سامنا کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ اتنے درد ناک اور تشویشناک حقائق کی موجودگی میں اتنے بڑے بڑے دعوے کیسے کیے جاتے ہیں کہ مظلوم بچیاں ہماری ریڈ لائن ہیں۔وزیراعلیٰ پنجاب اگلے چھ ماہ منصوبہ بندی کریں اور پنجاب کے پانچ سے لے کر سولہ سال تک کی عمر کے ہر بچے اور بچی کی حفاظت اور تعلیم و تربیت کا فرض حکومت کے ذمے لیں۔ بے نوا اور بے وسیلہ بچوں کی کفالت و حفاظت کی اونر شپ ریاست کی ذمہ داری ہے۔ جب پنجاب میں ہر بچہ سکول جائے گا‘ اسے کھانا‘ یونیفارم اور خوراک ملے گی تب وہ اپنے نیک دل حکمرانوں کو دعائیں دیں گے۔ پھر یہ ایک قابلِ تقلید مثال پاکستان کے ہر صوبے اور وفاق کے سامنے آ جائے گی۔ &#39;&#39;گر یہ نہیں تو بابا پھر سب کہانیاں ہیں!‘‘یوں تو وطنِ عزیز میں سیاست سے لے کر معیشت تک بے شمار مسائل ہیں جن کو حل کرنے کے بجائے حکمرانوں نے لاینحل بنا دیا  ہے تاہم اس وقت ہم زیر نظر دو مسائل پر ہی بات کو محدود رکھیں گے۔ پہلا اہم سوال یہ ہے کہ ملک میں اتنی قانون شکنی کیوں ہے؟ اگر فی الواقع چھوٹے بڑے‘ ملک کی ایلیٹ اور غریب کلاس سبھی قانون کا دل و جان سے احترام کریں اور اس کے سامنے سر تسلیم خم  کر دیں‘ عدالتیں بغیر کسی دباؤ کے قانون کے مطابق فیصلے کریں‘ انتظامیہ پوری پوری امانت داری کے ساتھ قانون اور عدالتی فیصلوں کا نفاذ کرے‘ پولیس پوری فرض شناسی کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے‘ حکمران انتظامیہ اور پولیس کو کوئی ماورائے قانون حکم نہ  دیں تو پھر دیکھئے حقیقی احترام قانون کا کلچر قائم ہوتا ہے یا نہیں۔اس وقت دوسرا پیشِ نظر مسئلہ غریب اور یتیم بچوں کے ساتھ معاشرے میں ہونے والے بدترین مظالم ہیں۔ اگرچہ ملک میں کئی ایک ویلفیئر ادارے بے وسیلہ بچوں کی کفالت اور تعلیم و تربیت کا اعلیٰ درجے کا انتظام کرتے ہیں مگر ضرورت مند بچوں کی تعداد کے مقابلے میں یہ ادارے ناکافی ہیں۔ پہلے بھی ایک بار عرض کیا تھا کہ ایسے تمام سوالوں کا جواب خود مختار بااختیار لوکل حکومتیں ہیں۔ انتہائی نچلے درجے پر یہ مقامی حکومتوں اور دیہات کی منتخب کردہ کونسلوں اور کمیٹیوں کی ذمہ داری ہونی چاہیے کہ وہ مقامی طور پر اعداد و شمار اکٹھا کریں اور اپنی مدد آپ کے تحت آغاز کریں۔ کوئی بے وسیلہ اور یتیم بچہ زیورِ تعلیم سے محروم نہ رہے۔ بچے کے گھر والے ضرورتمند ہوں تو اُن کی بھی کفالت کی جائے۔ پنجاب میں بعض اہلِ علم و دانش اور اہلِ خیر نے مل کر چند ایسے ادارے قائم کیے ہیں جو ہر بچے کی تعلیم یقینی بناتے اور اس کے بے وسیلہ خاندان کی کفالت کا بھی انتظام کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ مقامی سطح پر واجب الاحترام اساتذہ‘ علمائے کرام اور اصحابِ علم و دانش کی کمیٹیاں ہونی چاہئیں جو یہ تجزیہ کریں کہ معاشرے میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد اتنی شقی القلب اور خود غرض کیوں ہو گئی ہے؟ ہمارے دور کے سلطان شہباز شریف ہیں انہیں احساس ہونا چاہیے کہ اگر معاشرہ ظلم سے بھر جائے اور مظلوموں کی آہ و زاری عرش کو لرزا دے تو پھر ایسی حکومتوں کا ہونا نہ ہونا برابر سمجھا جاتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_70033906.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مکہ دفاعی معاہدہ اور اعلانِ بدر(جاوید حفیظ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/javed-hafiz/2026-10-24/52901/94247484</link><pubDate>Sat, 24 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/javed-hafiz/2026-10-24/52901/94247484</guid><description>مکہ دفاعی معاہدہ کئی زاویوں سے بہت اہم اور دلچسپ ہے۔ ایک تو یہ معاہدہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خطے کو اس بات کا ادراک ہو گیا ہے کہ قومی سکیورٹی کو آؤٹ سورس نہیں کیا جا سکتا۔ خطے کے دفاع کی بنیادی ذمہ داری ہماری اپنی ہے۔ دوسری بات اس امر کا ادراک ہے کہ عرب نیشنل ازم کی سوچ سے نکل کر اسلامی ممالک سے دفاعی تعاون مفید ہو سکتا ہے۔ تیسری بات اس امر کا پھر سے اعادہ ہے کہ مکہ معاہدہ کسی ملک کے خلاف جارحیت کے لیے نہیں بنا بلکہ اصل مقصد معاہدے میں شامل تینوں ممالک کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانا ہے۔حال ہی مکہ معاہدہ کو ترکیہ کی پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے کے بعد اس کی جو تفصیلات سامنے آئی ہیں‘ ان کے مطابق پہلی بات یہ ہے کہ معاہدہ غیر معینہ مدت کیلئے ہے اور دس سال اس کا ممبر رہنا تینوں بانی ممالک کیلئے لازمی ہے۔ دس سال کی مدت پوری ہونے کے بعد‘ کوئی بھی ممبر ملک تین ماہ کا نوٹس دے کر معاہدے سے علیحدہ ہو سکے گا۔ تینوں ممالک مشترکہ ٹریننگ‘ اسلحے اور نفری کی فراہمی سے ایک دوسرے کی دفاعی صلاحیتوں کو بڑھائیں گے۔ اس سے بھی اہم نکتہ جدید اسلحہ کی مقامی پیداوار کو فروغ دینا ہے۔ تینوں ممبر ممالک اسلحہ کی پیداوار میں ممکنہ حد تک خود کفیل ہونا چاہتے ہیں‘ مثلاً سعودی عرب کا 2030ء تک 50 فیصد تک اسلحہ پیداوار میں خود کفالت کا ہدف ہے۔مکہ دفاعی معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد یہ خبریں آنے لگیں کہ چند دیگر ممالک بھی اس میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ اگست میں الجزیرہ ٹی وی نے مکہ معاہدے پر طویل دورانیے کا ایک پروگرام دوحہ میں کرایا جس میں ترکیہ‘ پاکستان اور سعودی عرب سے ایک ایک بین الاقوامی امور سے واقف شخص کو بلایا گیا۔ پاکستان کی نمائندگی کیلئے راقم الحروف کو دعوت ملی۔ عربی زبان میں مکہ معاہدے پر گفتگو دو گھنٹے تک جاری رہی۔ مجھے تب یہ اندازہ ہو گیا تھا کہ حکومتِ قطر یا تو مکہ دفاعی معاہدے میں شامل ہو جائے گی یا اس کے متوازی معاہدہ تشکیل دینے میں دلچسپی رکھتی ہے‘ اور حال ہی میں دوحہ میں چار ملکوں نے بدر مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں جن میں قطر‘ پاکستان‘ ترکیہ اور انڈونیشیا شامل ہیں۔ قارئین بخوبی جانتے ہیں کہ قطر اپنی سرزمین پر امریکی ایئر بیس کی وجہ سے حالیہ جنگ میں ایران کا ہدف رہا ہے۔ محدود رقبے اور مختصر آبادی والا یہ ملک فی کس آمدنی کے حساب سے دنیا کے امیر ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ وجہ اس کے وسیع گیس کے ذخائر ہیں جو خلیج کے پانیوں کے نیچے چھپے ہوئے ہیں۔عربوں کے اتحاد اور اتفاق کی بے شمار مثالیں ہیں جن کا ایک کالم میں احاطہ ممکن نہیں۔ پچھلی صدی میں مصر کے صدر جمال عبدالناصر عرب نیشنل ازم کے بہت بڑے داعی تھے اور نیشنل ازم کا نعرہ ہی ان کی مقبولیت کا سبب تھا۔ عراق اور شام میں بعث پارٹی والے برسر اقتدار آئے۔ یہ دونوں ممالک بھی ایک عرصہ عرب نیشنل ازم کے سحر میں گرفتار رہے۔ نسلی اور لسانی عصبیت عرب نیشنل ازم کی اساس تھی۔ اس سیاسی فکر کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ عرب بعث پارٹی کے بانیوں میں سب سے اہم نام میشل عفلاق (Michel Aflaq) کا ہے جو شامی کرسچن تھا۔ بعث پارٹی کی عرب نیشنل ازم والی سوچ مصر اور شام کے اتحاد کا بنیادی سبب بنی کیونکہ بعث پارٹی کا نعرہ تھا &#39;&#39;امہ عربیۃ واحدہ ذات رسالۃ خالدہ‘‘۔ یعنی عرب ایک قوم ہیں جو سرمدی پیغام کی حامل ہے‘ لیکن مصر اور شام کا 1958ء میں ہونے والا یہ اتحاد صرف تین سال چل سکا۔1975ء میں جب میری پوسٹنگ دمشق میں ہوئی تو وہاں بعث پارٹی کی حکومت تھی۔ حافظ الاسد شام کے صدر تھے۔ عراق میں بھی بعث پارٹی حکمران تھی لیکن دونوں ممالک کے تعلقات میں اکثر تناؤ رہتا تھا۔ وقتاً فوقتاً بارڈر بند ہو جاتا تھا۔ 1990ء میں میری پوسٹنگ ریاض میں تھی جب صدام حسین نے کویت پر چڑھائی کردی اور جنوری 1991ء میں سعودی عرب پر میزائل برسائے۔ بعض خلیجی ممالک کی خواہش رہی ہے کہ خلیج تعاون کونسل کے چھ ممبر ممالک کی ایک فوج ہو لیکن یہ آرزو پایۂ تکمیل تک نہیں پہنچ سکی۔ خلیجی ممالک کے باہمی اختلافات سے ہم بخوبی واقف ہیں۔ اب خلیج پر منڈلاتے خطرات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ چھ خلیجی ممالک کی افواج مل کر بھی خطرات کا سامنا نہیں کر سکتیں۔ لہٰذا ان ممالک کی نظریں ترکیہ‘ پاکستان اور انڈونیشیا پر لگی ہوئی ہیں۔ یہاں یہ حقیقت بھی ملحوظ رہے کہ اسرائیلی انتہا پسندوں کے گریٹر اسرائیل کے مذموم نقشے میں کچھ خلیجی علاقہ بھی شامل ہے۔پاکستان کا مکہ دفاعی معاہدے اور بدر مفاہمتی یادداشت میں شامل ہونا خوش آئند ہے۔ ریاض میں قائم ہونے والے مکہ معاہدے کے ہیڈ کوارٹر کے پہلے سربراہ بھی ایک پاکستانی جنرل ہیں اور یہ بات ہمارے لیے باعثِ اعزاز ہے۔ پاکستان کئی عشروں تک مختلف خلیجی ممالک کی افواج کی تربیت میں شامل رہا ہے۔ پاکستان کا ایٹمی قوت ہونا اس کے عسکری قد کاٹھ میں بے پناہ اضافہ کرتا ہے اور پھر ہماری مسلح افواج نے دہشت گردی کا سالوں سے جرأت سے مقابلہ کیا ہے۔ خلیجی جنگ نے جہاں پاکستان سمیت پوری دنیا کی معیشت پر انتہائی مضر اثرات مرتب کیے ہیں وہاں مکہ دفاعی معاہدہ اور بدر یادداشت نے ہمارے لیے متعدد امکانات کے دروازے کھولے ہیں۔ ہمارے متعدد انجینئر اور ٹیکنیشن اب قطر اور سعودی عرب میں اسلحہ ساز فیکٹریوں میں کام کریں گے۔ ترک اور انڈونیشین ماہرین کے ساتھ مہم کاری ہماری فنی مہارت کو مزید نکھارے گی۔ پاکستان میں اس وقت ایک ہی بڑی اسلحہ ساز فیکٹری ہے‘ ہمیں کم از کم ایک اور جدید اسلحہ ساز فیکٹری کی ضرورت ہے۔ ترکیہ اور پاکستان دونوں ڈرون اور میزائل ٹیکنالوجی میں مہارت رکھتے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی خلیجی ممالک کو ٹرانسفر کی جا سکتی ہے۔تیل اور گیس کی ضروریات کیلئے پاکستان کا انحصار بڑی حد تک خلیجی ممالک پر ہے۔ جنگ کا ہمارے ہاں پٹرول‘ ڈیزل اور گیس کی قیمتوں پر واضح اثر ہوا ہے۔ غریب کیلئے چولہا جلانا مشکل ہو گیا ہے‘ ٹرانسپورٹ کے کرائے بڑھ گئے ہیں۔ ہمارے ایران‘ قطر اور سعودی عرب سے قریبی تعلقات ہیں۔ لہٰذا ہماری انرجی کی ضروریات کسی نہ کسی طرح پوری ہو رہی ہیں لیکن قیمتیں پھر بھی ہمارے کنٹرول سے باہر ہیں۔ لہٰذا دیگر دور اندیش ممالک کی طرح ہمیں بھی انرجی سٹوریج کا مناسب بندوبست کر لینا چاہیے اور برادر خلیجی ممالک کے تعاون سے آئل ریفائنری بھی جلد بنا لینی چاہیے۔ترکیہ نے اس بات کی پھر سے وضاحت کی ہے کہ مکہ معاہدہ کے ممبر ممالک کسی دوسرے ملک پر حملہ نہیں کریں گے۔ اشارہ واضح طور پر‘ فی الحال یمن کی طرف ہے جہاں سے انصار اللہ(حوثی) سعودی عرب پر ڈرون حملے کر رہے ہیں۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ترکیہ اور پاکستان ڈرون کو فضا میں تباہ کرنے میں تو مدد دے سکتے ہیں لیکن حوثیوں کے خلاف براہِ راست نہیں لڑیں گے۔ فرض کیجئے کہ انصار اللہ باب المندب سے تیل بردار جہازوں کا گزرنا مزید مشکل بنا دیتی ہے تو سعودی عرب سے تیل درآمد کرنے والے تمام ممالک اس کے خلاف ہو جائیں گے۔ اس صورت میں پاکستان اور ترکیہ پر بھی پریشر آئے گا کہ جنگ میں کود پڑیں۔ مکہ دفاعی معاہدہ غیر معینہ مدت کیلئے ہے اور کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ خلیجی ممالک اور ایران کے مابین جنگ بالکل نہیں ہوگی؟ اس صورت میں پاکستان اور ترکیہ کی پوزیشن بہت مشکل ہو جائے گی کیونکہ ایران کے خلاف محاذ کھولنا پاکستان کیلئے تقریباً ناممکن ہے۔یہ بات خوش آئندہے کہ خلیج کے امن و استحکام میں پاکستان کے کلیدی کردار کو تسلیم کر لیا گیا ہے۔ پاکستان اس رول سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتا اور اپنی ڈیفنس انڈسٹری کو ترقی دے سکتا ہے۔ معیشت کو آئی ایم ایف کی نگہداشت سے بھی نکال سکتا ہے لیکن اس کیلئے ضروری ہے کہ عرب عجم مسائل یا تو حل کر لیے جائیں یا کسی بھی ممکنہ تنائو کو کنٹرول کرنے کا میکانزم بنا لیا جائے۔ ترکیہ‘ پاکستان اور انڈونیشیا تینوں مل کر خلیجی ممالک اور خود کو آگے لے جا سکتے ہیں‘ جس سے خطۂ خلیج سمیت پورے عالمِ اسلام کو فائدہ ہوگا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_85338835.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں(افتخار احمد سندھو)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/iktakhar-ahmed-sandhu/2026-10-24/52902/88446763</link><pubDate>Sat, 24 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/iktakhar-ahmed-sandhu/2026-10-24/52902/88446763</guid><description>تیسری دنیا کی اصطلاح عالمی صنعتی ممالک کو جوڑنے والے معاشی اور سیاسی تعلقات سے باہر کی قوموں کو بیان کرنے کے لیے استعمال کی گئی تھی‘ جن میں سے اکثر سابق یورپی کالونیاں تھیں۔ تاہم تیسری دنیا کی اصطلاح اصل میں ان ممالک کے لیے تھی جو سرد جنگ کے دوران نہ تو مغربی سرمایہ دارانہ بلاک اور نہ ہی سوویت کمیونسٹ بلاک کا حصہ تھے۔ ایک طرف امریکہ کی قیادت میں پہلی دنیا تھی‘ دوسری طرف سوویت یونین کی قیادت میں دوسری دنیا تھی۔ ایک تیسری دنیا اُبھر رہی تھی جو ان دونوں کے دائرہ کار سے باہر تھی۔ تاہم بعد میں تیسری دنیا کی اصطلاح ان ممالک کے لیے استعمال کی گئی جو غریب‘ ترقی میں پسماندہ یا ترقی پذیر تھے۔ یعنی آپ ان ممالک کو تھرڈ کلاس بھی کہہ سکتے ہیں۔ تاہم تیسری دنیا کے ممالک کی تعریف اور سمجھ آج بدل چکی ہے۔ فی الحال کسی بھی ملک کے لیے تیسری دنیا کی اصطلاح کا استعمال توہین آمیز سمجھا جاتا ہے۔ تیسری دنیا کی اصطلاح اب سیاسی اور اقتصادی حوالے سے شاذ ونادر ہی استعمال ہوتی ہے۔ اب ایسے ممالک کے لیے گلوبل ساؤتھ یا ترقی پذیر ممالک کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود پاکستان اور بھارت کا شمار ترقی پذیر ممالک میں ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان دنیا کے کم آمدنی والے ممالک میں شامل ہے۔ اگرچہ بھارت کا ترقی کرنے والی معیشتوں میں شمار ہوتا ہے تاہم وہاں اقتصادی عدم مساوات ہے‘ غریب غریب تر اور امیر امیر تر ہو رہا ہے۔ اسی طرح بھارت کے کئی صوبے (ریاستیں) انتہائی پسماندہ ہیں اور وہاں گوڈے گوڈے غربت اور جہالت ہے۔ علاوہ ازیں کرپشن پاکستان کی طرح بھارت میں بھی بدرجہ اتم موجود ہے۔ آپ بھارت میں سسٹم کی غیر یقینی صورتحال کو دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ جب کوئی اقتدار میں آ جاتا ہے تو وہ سسٹم کے ساتھ نہیں چلتا بلکہ سسٹم اس کے ساتھ چلتا ہے۔ سب سے پہلے نہرو بارہ پندرہ سال اقتدار میں رہے‘ وہ کہتے تھے کہ میں ہوں تو انڈیا ہے۔ اس کے بعد اندرا گاندھی اقتدار میں آئیں تو پندرہ سال نکال گئیں۔ اب نریندر مودی برسر اقتدار ہے‘ اس کو بھی پندرہ سال ہونے والے ہیں‘ وہ بھی کہتا ہے کہ وہ اور انڈیا لازم و ملزوم ہیں۔ اسی طرح جب پاکستان میں مارشل لاء لگ جاتا ہے تو وہ دس بارہ سال ضرور نکال جاتا ہے۔ ملک میں تین بار لگنے والے مارشل لاؤں کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ ایوب خان‘ ضیاالحق اور پرویز مشرف دس دس سال نکال گئے۔ اندرا گاندھی اور ضیا الحق کو تو موت نے اقتدار سے الگ کیا۔ ایسے ہی بھارت میں جب کوئی پاپولر لیڈر آ جاتا ہے تو وہ دس پندرہ سال نکال جاتا ہے۔ یہ لوگ جدید زمانے سے لاعلم ہیں‘ یہ نہیں جانتے کہ جدید زمانے کے بچے کیا چاہتے ہیں اور ان کی ضروریات کیا ہیں۔ اب یہ جو بھارت میں اچانک ہنگامے پھوٹ پڑے اور طرح طرح کی نئی چیزیں ہونے لگی ہیں‘ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ پورا ریجن ری سیٹ کیا جا رہا ہے۔بھارت میں جین زی نسل کی جانب سے شروع کی گئی احتجاجی تحریک نے مودی حکومت کے لیے سیاسی بحران پیدا کر دیا ہے۔ نوجوانوں کی تنظیم کاکروچ جنتا پارٹی کی قیادت میں یہ تحریک ابتدا میں صرف ایک طنزیہ آن لائن مہم تھی مگر اب یہ ملک گیر مظاہروں کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ تحریک کی شدت میں اضافہ تب ہوا جب سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال اور جبری منتقلی کا واقعہ پیش آیا۔ اس واقعے نے حکومت مخالف جذبات کو مزید بھڑکا دیا جس سے احتجاجی لہر کو نئی قوت ملی۔ یہ احتجاج مودی حکومت کے خلاف اب تک کا سب سے بڑا عوامی دباؤ ہے۔ یہ تحریک واضح کرتی ہے کہ نوجوانوں میں روزگار کے مواقع کی کمی اور تعلیمی بحران پر گہرا غصہ پایا جاتا ہے جو کسی بھی وقت ملک کے سیاسی منظرنامے کو تبدیل کر سکتا ہے۔ پورے ریجن کو ری سیٹ کرنے کیلئے بہت بڑ ی گیم ہو رہی ہے۔ دراصل جب ایک سپر پاور کا ڈاؤن فال یا زوال شروع ہوتا ہے تو اس کے بعد کوئی دوسری سپر پاور ابھر کر سامنے آتی ہے۔ اس کی وجہ سے بہت سی اکھاڑ پچھاڑ لازمی ہو جاتی ہے۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: &#39;&#39;ہم لوگوں کے درمیان دنوں کو پھیرتے رہتے ہیں‘‘۔ نبی مکرمﷺ نے فرمایا: &#39;&#39;بلاشبہ اللہ پر حق ہے کہ وہ دنیا میں جس چیز کو رفعت عطا کرے‘ اسے پست بھی کرے‘‘۔ اس لیے اس امر میں کوئی شک نہیں کہ ہر عروج کو زوال ہے۔ امریکہ بہادر چونکہ اس وقت اپنے عروج کو پہنچ چکا ہے اس لیے اب زوال اس کا مقدر ہے۔ بقول علامہ اقبال:سکوں محال ہے قدرت کے کارخانے میںثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میںلہٰذا قانونِ قدرت ہے کہ ہر عروج کو زوال ہے‘ ہر ظلم کا خاتمہ ہے‘ ہر اندھیری شب کے بعد روشنی کا اجالا ہے‘ ہر چڑھتا سورج ڈھلتے ڈھلتے غروب ہو جاتا ہے‘ اُٹھتی جوانیاں آہستہ آہستہ بڑھاپے کی گزرگاہوں سے ہو کر موت اور فنا کا شکار ہو جاتی ہیں۔ معروف شاعر صغیر ملال نے بالکل ٹھیک کہا تھا:کیوں ہر عروج کو یہاں آخر زوال ہےسوچیں اگر تو صرف یہی اک سوال ہےاگر دہلی میں کانگریس اتنی مقبول ہے جتنے بڑے اس کے جلوس نکل رہے ہیں اور بی جے پی اتنی زیادہ غیر معروف ہے تو پھر الیکشن میں جاکر کیا ہوتا ہے؟ اگر آپ کہیں کہ دھاندلی ہوتی ہے پھر تو یہ بوریا بستر لپیٹنے والے بات ہے۔ پھر تو وہ سب کچھ الٹ ہو جائے گا جو بھارت نے اتنے عرصے میں کیا ہے۔ پھر جب کوئی مرکزی پارٹی باقی نہیں رہتی تو پیچھے لے دے کر علاقائی جماعتیں رہ جاتی ہیں۔ جب بات اس حد تک جا پہنچتی ہے تو اس ملک کی تقسیم کے امکانات زیادہ ہو جاتے ہیں۔ اس لیے ریجن میں یہ جو سب کچھ ہو رہا ہے اس سے مجھے اس کی بُو آ رہی ہے کہ پسِ چلمن کچھ نہ کچھ ضرور ہو رہا ہے۔ یعنی اس ریجن کو ری سیٹ کرنے کیلئے کچھ نہ کچھ عالمی چالیں چلی جا رہی ہیں۔ اور آگے جا کر دیکھتے ہیں کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے‘ لیکن ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا۔ 2020ء کے بعد امریکہ کا افغانستان کو چھوڑنا‘ اس کے بعد شام سے ابتدا کرنا اور بشارالاسد کا تختہ الٹنا‘ پھر پورے اس ریجن کو ری سیٹ کرنا‘ پھر فلسطین اور اسرائیل تنازع کی نئی صورتیں‘ آگے چل کر ایران پر حملہ۔ حالات کا یہ ریلا بنگلہ دیش‘ نیپال اور سری لنکا سے ہوتا ہوا بھارت پہنچ گیا ہے۔ اس وقت چونکہ ایشیا ہی دنیا کی سب سے بڑی منڈی ہے اور ایشیا ہی گنجان آباد علاقہ ہے‘ اس لیے میرے خیال میں اس کو ری سیٹ کرنے کیلئے کچھ نہ کچھ ضرور ہو رہا ہے۔ مجھے اس تبدیلی کی بُو آ رہی ہے۔ یہ خطہ ایک بڑی تبدیلی کی طرف جا رہا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/228_40817243.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>انڈیپنڈینٹ پاور پروڈیوسرز(مفتی منیب الرحمٰن )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-10-24/52903/86733793</link><pubDate>Sat, 24 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-10-24/52903/86733793</guid><description>&#39;انڈیپنڈینٹ پاور پروڈیوسرز‘ سے مراد حکومت کے کنٹرول سے آزاد بجلی پیدا کرنے والے ادارے ہیں۔ اس سے پہلے بجلی کی پیداوار اور تقسیم کا سارا نظام حتیٰ کہ تربیلا ڈیم‘ منگلا ڈیم اور چشمہ پاور پروجیکٹ جیسے ادارے بھی واپڈا یعنی &#39;ادارۂ ترقیاتِ برق وآب‘ ہی کے ماتحت تھے۔ البتہ کراچی میں بجلی کی پیداوار اور ترسیل کا نظام کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کے پاس تھا‘ وہ کچھ بجلی اپنے ذرائع سے پیدا کرتی تھی اور بقیہ واپڈا سے لے کر اپنے سسٹم میں شامل کرتی تھی۔ بعد کو کے ای ایس سی کی نجکاری کر دی گئی اور اب وہ کے الیکٹرک کے نام سے کام کرتی ہے۔ &#39;آئی پی پیز‘ کے نام سے اداروں کا آغاز 1990ء کے عشرے سے شروع ہوا تھا‘ اس دور میں پہلے مرحلے میں دو بڑے ادارے قائم کیے گئے: ایک &#39;حب پاور کمپنی لمیٹڈ‘ اور دوسری &#39;کوٹ ادو پاور کمپنی لمیٹڈ‘ قائم کی گئی۔ بعد کو کئی اور کمپنیاں قائم ہوئیں‘ جن کی تعداد تقریباً 90 ہے۔ چند مشہور کمپنیاں حسبِ ذیل ہیں: نشان پاور لمیٹڈ ‘نشاط چونیاں پاور‘ لاہور کے قریب ‘اینگرو پاورجن‘ قادر پور‘ تھر ‘اٹلس پاور لمیٹڈ‘ اٹک جنریشن لمیٹڈ راولپنڈی ‘لال پیر پاور اور پاک جن پاور ‘لکی الیکٹرک پاور کمپنی ‘چائنا پاور حب جنریشن کمپنی ‘کوہِ نور انرجی لمیٹڈ رائیونڈ‘ لاہور‘لبرٹی پاور ٹیک‘ فیصل آباد‘اورینٹ پاور کمپنی ‘سیفائر الیکٹرک کمپنی‘ فاؤنڈیشن پاور کمپنی‘ ڈہرکی ‘اُچ پاور پلانٹ۔2008ء سے 2013ء تک پیپلز پارٹی کی حکومت تھی اور اُس دور میں بجلی کی غیر معمولی کمی تھی اور پنجاب وغیرہ میں دن میں سولہ سے بیس گھنٹے تک لوڈشیڈنگ ہوتی تھی؛ چنانچہ جب 2013ء میں نواز شریف وزیراعظم بنے تو اُن کی اولین ترجیح بجلی کی لوڈشیڈنگ کو ختم یا کم کرنا تھا۔ سو پاور پروڈیوسر کمپنیوں کے ساتھ یہ ظالمانہ معاہدہ کیا گیا کہ اُن کے قائم کردہ کارخانوں کی پیداواری استعداد (Production Capacity) کے مطابق اُن کو ادائیگی کی جائے گی‘ خواہ وہ پوری بجلی پیدا کر رہے ہوں یا نہ‘ اور یہ کہ وہ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل ہو یا نہ ہو۔ چونکہ فرنس آئل اور ڈیزل وغیرہ بہت مہنگے ہیں‘ اس لیے حکومت مہنگا ایندھن ان کارخانوں کو مطلوبہ ضرورت کے مطابق فراہم کرنے کے قابل نہ تھی‘ لہٰذا ان کمپنیوں کی واجب الادا رقوم بڑھتی چلی گئیں اور حکومت بروقت ادائیگی کے قابل نہ رہی لیکن معاہدے کی رو سے یہ قرضے مع سود حکومت کے ذمے لازم رہے اور انہی کو گردشی قرضے (Circular Debt) کہا جاتا ہے‘ ان کے بوجھ تلے حکومت دبی ہوئی ہے۔ ان کمپنیوں کے مالکان پاکستانی ہیں لیکن انہوں نے بیرونی شراکت دار ملا کر بین الاقوامی قانون کے تحت حکومتِ پاکستان کے ساتھ معاہدے کیے اور اب حکومت اگر اُن معاہدوں سے پیچھے ہٹتی ہے تو پاکستان پر عالمی قوانین کے تحت اصل ادائیگیوں کے ساتھ جرمانے بھی عائد کیے جا سکتے ہیں۔ آج تک یہ معاہدات پارلیمنٹ میں زیرِ بحث آئے اور نہ پارلیمنٹ نے ان کی منظوری دی۔ یہی وجہ ہے کہ حقائق قوم کی نگاہوں سے اوجھل ہیں اور قومی معیشت ان گردشی قرضوں کے بوجھ تلے سسکیاں لے رہی ہے۔ یہ ایک طرح سے ہمارے حکمرانوں کی کوتاہ اندیشی‘ بے تدبیری اور نااہلی کا نتیجہ ہے کہ قوم ناکردہ گناہوں کی سزا بھگت رہی ہے۔ پس لازم ہے کہ پارلیمنٹ‘ مقتدرہ اور حکومت مل کر ان سے چھٹکارے کی کوئی صورت تلاش کریں‘ ورنہ یہ مسئلہ ہمیشہ ناقابلِ حل رہے گا اور قومی معیشت ان کے بوجھ تلے سسکتی رہے گی۔ اسی سبب ہم بارہا لکھ چکے ہیں کہ بین الاقوامی مالی اور کاروباری معاہدات کو حتمی شکل دینے سے پہلے عالمی شہرت یافتہ ماہرین قانون کے ذریعے ان کا تفصیلی جائزہ لیا جائے اور ان معاہدات کے مابعد مرتب ہونے والے منفی اور مثبت اثرات ونتائج کو ریکارڈ پر لایا جائے‘ نیز پارلیمنٹ میں تفصیلی بحث کر کے ان کی منظوری حاصل کی جائے تاکہ تحدید وتوازن کا کوئی قابلِ قبول اور قابلِ عمل نظام قائم ہو۔ رات کے اندھیرے میں کیے ہوئے معاہدوں کا نتیجہ ہے کہ قوم کے چودہ طبق روشن ہو رہے ہیں اور دن کو تارے نظر آ رہے ہیں۔پس بہتر ہے کہ عالمی ماہرینِ قانون اور پارلیمنٹ کی ایک مشترکہ کمیٹی بنائی جائے اور وہ اب تک کیے گئے تمام معاہدات کا جائزہ لے اور ان کے منفی اثرات سے نکلنے کیلئے کوئی حکمتِ عملی‘ سفارتی اور قانونی راستہ تلاش کیا جائے‘ کیونکہ حقائق سے آنکھیں چرانے‘ صَرفِ نظر کرنے‘ انہیں قوم سے پوشیدہ رکھنے اور شتر مرغ کی طرح ریت میں سر دبانے سے مصیبت ٹلتی نہیں ہے۔ ساحر لدھیانوی نے کہا تھا: نہ منہ چھپا کے جیے ہم‘ نہ سر جھکا کے جیے ؍ ستم گروں کی نظر سے‘ نظر ملا کے جیے ٭اب ایک رات اگر کم جیے تو کم ہی سہی ؍ یہی بہت ہے کہ ہم مشعلیں جلا کے جیےسو غیور قومیں قومی حمیت کے ساتھ خطرات کا ادراک بھی رکھتی ہیں اور ان سے قومی وقار کے ساتھ آبرومندانہ طریقے سے عہدہ برا ہونے کی صلاحیت بھی رکھتی ہیں۔ اسی طرح آئی ایم ایف‘ ورلڈ بینک اور عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ حکومتیں قرضوں کے جو معاہدات کرتی ہیں انہیں بھی پارلیمنٹ میں تفصیلی بحث اور پوری چھان بین کے بعد منظور کیا جائے۔ ہمارے ہاں حکومتوں کا شعار ہمیشہ یہی رہا ہے کہ قوم کو اندھیرے میں رکھ کر عالمی معاہدات کیے جاتے رہے ہیں۔ عمران خان کے دورِ حکومت میں بھی ایف اے ٹی ایف کے مطالبے پر ایک دن میں 33 قوانین منظور کر دیے گئے تھے۔ وہ قوانین پارلیمنٹ کی کسی کمیٹی میں کبھی زیرِ بحث نہیں آئے تھے‘ کسی بحث وتمحیص کے بغیر ایک دن میں پارلیمنٹ سے منظوری لے کر ایکٹ کی صورت میں نافذ کر دیے گئے۔ انہی قوانین میں وقف (Endowment) کا قانون بھی شامل ہے جو سو فیصد شریعت اور وقف کے عالمی قوانین کے خلاف ہے‘ جسے ہماری پارلیمنٹ نے آنکھیں بند کر کے منظور کر لیا اور اب وہ ملک کا نافذ العمل قانون ہے۔ یہی کچھ ایوب خان کے دور میں سندھ طاس معاہدے کے وقت ہوا کہ پاکستان یکطرفہ طور پر تین دریائوں راوی‘ بیاس اور ستلج سے دستبردار ہو گیا اور آج بھارت نے اس معاہدے سے یکطرفہ طور پر دستبرداری کا اعلان کر دیا ہے‘ حالانکہ مسلمہ عالمی قانون ہے کہ زیریں علاقوں کا دریائوں پر حق ہوتا ہے‘ مگر ہم از خود اپنے اس حق سے دستبر دار ہو گئے۔ دریائے نیل وسطی افریقہ میں جھیل وکٹوریہ سے نکل کر روانڈا اور برونڈی سے ہوتا ہوا سوڈان سے گزرتا ہے اور پھر مصر میں داخل ہوتا ہے۔ اس پر مصر کی معیشت کا مدار ہے۔ اس لیے یہ ممالک اس دریا کو روک سکتے ہیں اور نہ اس کے آگے بند باندھ سکتے ہیں۔ پاکستان میں دریائے سندھ ہمالیہ کے دامن سے نکلتا ہے اور گلگت بلتستان سے ہوتا ہوا خیبر پختونخوا اور پھر پنجاب سے گزرتے ہوئے سندھ میں داخل ہوتا ہے اور ہزارہ سے آنے والا دریائے کنہار اور کشمیر سے آنے والا دریائے نیلم مل کر مظفر آباد کے قریب دریائے جہلم میں شامل ہو جاتے ہیں۔ واضح رہے کہ دریائے جہلم بھی مقبوضہ کشمیر کے ضلع اننت ناگ سے نکلتا ہے۔ دریائے چناب سے ہوتا ہوا آگے چل کر سندھ میں مل جاتا ہے۔ عرصۂ دراز سے پاکستان کی خواہش ہے کہ میانوالی میں ڈیم بنایا جائے تاکہ مون سون کے موسم میں جو بارانی اور گلیشیر سے پگھلا ہوا پانی سیلاب کا باعث بنتا ہے اور پھر تباہی مچاتا ہوا سمندر میں جا گرتا ہے‘ اسے ڈیم میں جمع کر کے بجلی بنانے اور آبپاشی کی ضرورت کیلئے استعمال کیا جا سکے‘ مگر خیبر پختونخوا اور سندھ اس کیلئے تیار نہیں ہیں‘ حالانکہ صوبوں کے آبی حقوق اور اس کے نظامِ تقسیم کو آئین میں تحفظ دیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ آج تک حکومت اس منصوبے کو شروع کرنے اور روبہ عمل لانے کی ہمت نہیں کر سکی۔ صوبۂ سندھ کی دلیل یہی ہے کہ دریا پر زیریں علاقوں کا حق ہوتا ہے۔ بلکہ ماضی قریب میں ہمارے مقتدر اداروں نے چولستان کے ریگستان کو سیراب کرنے کیلئے دریائے سندھ میں نئی نہریں نکالنا چاہیں تو صوبۂ سندھ کی مزاحمت کے سبب وہ ایسا نہیں کر سکے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_61172381.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>