<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>مکہ دفاعی معاہدے کا نفاذ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-07/11610</link><pubDate>Wed, 07 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-07/11610</guid><description>سہ فریقی مکہ دفاعی معاہدے کی سٹرٹیجک پولیٹکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی کے ہنگامی اجلاس میں حرمین شریفین کے تحفظ اور خلیج کی خودمختاری کو درپیش خطرات کے پیشِ نظر معاہدے کو فوری طور پر آپریشنل کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اعلامیے کے مطابق دفاعی اتحاد کے تحت پاکستان اور ترکیہ کی افواج کو فوری طور پر سعودی عرب میں تعینات کیا جائے گا تاکہ کسی بھی ممکنہ جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جا سکے۔ یہ فیصلہ نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ مسلم امہ کے مجموعی سکیورٹی ڈھانچے میں ایک نئے عہد کا آغاز ہے‘ جو روایتی دفاعی حکمتِ عملیوں کو یکسر بدل دے گا۔ سعودی عرب کی سرزمین پر ترک اور پاکستانی افواج کی تعیناتی عسکری نقطہ نظر سے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ یہ تزویراتی اقدام تینوں برادر ممالک کے مابین اعلیٰ ترین سطح کی جنگی تیاریوں‘ فوجی انضمام اور عصرِ حاضر کے سکیورٹی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت میں اضافے کا سبب بنے گا۔ جب مسلم دنیا کے تین مختلف جغرافیائی اور تزویراتی پسِ منظر رکھنے والی افواج ایک مشترکہ کمانڈ کے تحت یکجا ہوں گی تو ان کی آپریشنل صلاحیتیں کئی گنا بڑھ جائیں گی۔

پاکستان کی روایتی جنگی مہارت اور دہشت گردی کے خلاف طویل تجربہ اور ترکیہ کی جدید نیٹو طرز کی عسکری صلاحیتیں سعودی عرب کے دفاعی وسائل کے ساتھ یکجا ہوں گی تو ایک ناقابلِ تسخیر حصار قائم ہو گا۔ یہ فوجی انضمام مشترکہ فضائی مشقوں‘ انٹیلی جنس شیئرنگ اور جدید جنگی ہتھیاروں کے باہمی تبادلے کو بھی فروغ دے گا جس سے خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔ مکہ معاہدے کو عملی شکل دینا سہ ملکی اجتماعی دفاع کے عزم کی ساکھ اور اثر انگیزی میں بے پناہ اضافے کا باعث بنا ہے۔ بین الاقوامی تعلقات میں معاہدے تو بہت کیے جاتے ہیں لیکن ان کی اصل طاقت ان کے عملی نفاذ میں پنہاں ہوتی ہے۔ رواں سال اگست میں مکہ معاہدے پر دستخط کے بعد محض دو ماہ میں اسے عملی طور پر نافذ کر دینا دنیا بھر بالخصوص دشمن قوتوں کیلئے ایک واضح پیغام ہے۔ یہ اقدام ثابت کرتا ہے کہ اسلام آباد‘ ریاض اور انقرہ کے مابین جو سکیورٹی اتحاد قائم ہوا تھا‘ وہ کوئی رسمی اعلان نہیں بلکہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کی ایک حقیقی اور پختہ کاوش ہے۔
اس فیصلے کے بعد کوئی بھی مخالف قوت خلیجی ممالک کی سلامتی پر نظر ڈالنے سے پہلے سو بار سوچے گی۔ سعودی عرب کی سرزمین پر پاکستانی اور ترک افواج کی باقاعدہ تعیناتی سے نہ صرف علاقائی دفاع مضبوط ہوگا بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا استحکام کے قیام میں بھی مدد ملے گی۔ گزشتہ چند دہائیوں سے یہ خطہ پراکسی جنگوں اور غیر ریاستی عناصر کی مہم جوئی کا نشانہ بنا رہا ہے اور اب بیرونی مداخلت اور مسلط کی گئی جنگوں سے نہ صرف خطے کا امن بلکہ عالمی معیشت اور انرجی سکیورٹی بھی داؤ پر لگ چکی ہے۔ ایسے میں دو بڑی اور منظم مسلم عسکری قوتوں کی سعودی عرب میں موجودگی ایک سکیورٹی بفر کا کام کرے گی جو خطے میں طاقت کے خلا کو پُر کرے گی۔ پاکستان نے ہمیشہ سعودی عرب کے ساتھ اپنی غیر متزلزل حمایت اور یکجہتی کا اظہار کیا ہے اور یہ معاہدہ پاکستان کے عزم کا عملی اظہار ہے۔ دوسری جانب حالیہ تجربات سے یہ بات بھی ثابت ہو چکی کہ خلیجی ممالک کے دفاع کیلئے اٹلانٹک پار کی طاقتوں پر انحصار نہیں کیا جا سکتا۔
تاریخ شاہد ہے کہ جب بھی اس خطے پر کوئی افتاد پڑی‘ مغربی طاقتوں نے ہمیشہ اپنے سیاسی اور اقتصادی مفادات کو ترجیح دی ۔ پاکستان اور ترکیہ کی فوجوں کی تعیناتی خطے میں جنگوں کو روکنے اور کشیدگی میں کمی کا سبب بنے گی کیونکہ مضبوط دفاع ہی جارحیت کا سب سے بڑا سدباب ہوتا ہے۔ مکہ معاہدے کا نفاذ مسلم امہ کی خود انحصاری کی طرف ایک بڑی جست ہے۔ مسلم دنیا کے تین بڑے ممالک کا یہ اتحاد اس بات کا اعلان ہے کہ خلیج کا دفاع اب کسی بیرونی بیساکھی کا محتاج نہیں‘ یہ خطہ اپنی حفاظت خود کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سیکرٹری جنرل کا دورہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-07/11609</link><pubDate>Wed, 07 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-07/11609</guid><description>اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس پاکستان کے دو روزہ سرکاری دورے پر اسلام آباد میں موجود ہیں۔اس دورے کا  مقصد پاکستان اور اقوام متحدہ کے دیرینہ تعاون کو مزید اجاگر کرنا‘ علاقائی و عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال‘ عالمی امن و سلامتی اور موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات سے نمٹنے کیلئے پاکستان کی کوششوں کو نمایاں کرنا ہے۔ تاہم اس دورے کا سب سے اہم پہلو اقوام متحدہ کے سربراہ کی جانب سے پاکستان کی امریکہ ایران کشیدگی کم کرنے اور متحارب فریقوں کے مابین مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی کوششوں کا اعتراف ہے۔ گزشتہ روز نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت دنیا کے دو شدید ترین تنازعات‘ خلیج و مشرق وسطیٰ اور یوکرین جنگ کے حوالے سے اہم ثالث اور سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے۔

یو این سیکرٹری جنرل نے افغانستان کے حوالے سے پاکستان کی دہائیوں پر محیط میزبانی کو بھی خراج تحسین پیش کیا‘ جس پر اسحاق ڈار نے افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف مسلسل دہشت گرد حملوں پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے اس مسئلے کے حل میں کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔ پاکستان کا یہ مطالبہ بجا ہے کہ اگر افغانستان میں امن‘ استحکام اور انسانی تحفظ عالمی برادری کی ترجیح ہے تو افغان سرزمین سے دوسرے ممالک کے خلاف دہشت گردی کا راستہ روکنا بھی اسی عالمی ذمہ داری کا حصہ ہونا چاہیے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بجلی کے نظام کی اصلاح ناگزیر(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-07/11608</link><pubDate>Wed, 07 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-07/11608</guid><description>گزشتہ روزپنجاب اسمبلی میں اراکین نے اوور بلنگ‘ لٹکتی تاروں اور لوڈشیڈنگ کے حوالے سے ہونے والے اجلاس میں عوامی مسائل اور شکایات کے انبار لگا دیے۔ اراکین اسمبلی نے گلیوں اور بازاروں میں لٹکتی تاروں کو موت کا سامان قرار دیتے ہوئے انکے فوری تدارک کا مطالبہ کیا جبکہ بجلی چوری کے نقصانات کا بوجھ بل ادا کرنے والے صارفین پر ڈالنے پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا۔ یہ شکایات کسی ایک علاقے یا طبقے کا مسئلہ نہیں ‘ بجلی کے پورے نظام میں موجود ان خامیوں کی عکاسی کرتی ہیں جن کا خمیازہ عام صارف برسوں سے بھگت رہا ہے۔ 

بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو اپنی انتظامی کمزوریوں اور بجلی چوری سے ہونے والے نقصانات کی تلافی اوور بلنگ کے ذریعے کرنے کے بجائے چوری کی روک تھام‘ میٹرنگ کے مؤثر نظام اور ذمہ دار اہلکاروں کے احتساب پر توجہ دینی چاہیے۔ اسی طرح گلیوں‘ بازاروں اور رہائشی علاقوں میں لٹکتی بجلی کی تاریں انسانی جانوں کیلئے مستقل خطرہ ہیں۔ حکومت اور بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو اس معاملے میں حادثے کا انتظار کرنے کے بجائے پیشگی اقدامات کرنے چاہئیں۔ حکومت‘ نیپرا اور بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو اوور بلنگ‘ بجلی چوری‘ شکایات کے پیچیدہ نظام‘ لوڈشیڈنگ اور لٹکتی تاروں جیسے مسائل کے مستقل حل کیلئے واضح ٹائم لائن کیساتھ عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>دیکھیے کہاں پھیلے جا رہے آگ کے شعلے(ایاز امیر)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-10-07/52796/36641059</link><pubDate>Wed, 07 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-10-07/52796/36641059</guid><description>آٹھواں مہینہ ہے اس جنگ کا اور جب امریکی اور اسرائیلی حملے ایران پر ہوئے کوئی سوچ سکتا تھا کہ اس انداز سے اس جنگ کے شعلے پھیلتے جائیں گے؟ خلیجِ فارس اور آبنائے ہرمز تو اس جنگ کے پہلے محاذ تھے۔ امریکی اڈے اور اسرائیلی ٹھکانے جنگ کے دائرے میں آئے۔ جی سی سی ممالک کی تنصیبات پر حملے ہوئے۔ تیل کی عالمی قیمتیں اوپر جانے لگیں۔ اس وجہ سے پوری دنیا پر اس جنگ کے اثرات آئے۔ مہینوں بعد یمن کا محاذ گرم ہو گیا اور اب سعودی ٹھکانوں پر حملوں کی پاداش میں مکہ دفاعی معاہدہ فعال ہو گیا ہے جس کے نتیجے میں ترکیہ اور پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ ان کی افواج اور دفاعی ساز وسامان سعودی عرب بھیجے جائیں گے۔ کہاں سے بات شروع ہوئی اور کہاں پہنچتی جا رہی ہے۔ہر طرف سے ترکیہ اور پاکستان کی مداخلت کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔ یہ تبصرے بھی ہو رہے ہیں کہ ان دو ممالک کی افواج کہاں ڈِپلائے ہوں گی اور ان کی ڈِپلائمنٹ کا مقصد کیا ہو گا۔ قیاس یہی ہے کہ ترکیہ اور پاکستانی دستے مکہ اور دیگر سٹرٹیجک مقامات پر دفاعی پوزیشنیں سنبھالیں گے۔ ایئر ڈیفنس رول ان کا نمایاں ہو گا۔ دونوں ممالک کے دستوں کے آنے سے سعودی افواج‘ خاص کر کے سعودی نیشنل گارڈز فری ہو جائیں گے یمن کے محاذ پر جانے کیلئے۔ ابھی سے سعودی فضائی حملوں کی وجہ سے سعودی حمایتی یمنی فورسز نے کچھ پیش قدمی کی ہے۔ خبریں تو یہ بھی ہیں کہ مایون کا جزیرہ اور باب المندب کے قریب دوسرے ٹھکانوں پر سعودی حمایتی فورسز نے قبضہ کر لیا ہے۔ سعودی فضائی حملوں میں امریکی کردار کلیدی ہے کیونکہ ٹارگٹنگ کی ساری انفارمیشن امریکی مہیا کر رہے ہیں۔ امریکی بتا رہے ہیں کہ کہاں کہاں حملے کرنے ہیں اور اس پر عمل ہو رہا ہے جس کی وجہ سے میدانِِ جنگ میں تھوڑی تبدیلی آئی ہے۔حوثیوں کے خلاف جنگ سعودیوں کیلئے کوئی معمولی جھڑپ نہیں۔ تبصرہ کار تو یہاں تک کہہ رہے ہیں کہ سعودیوں کیلئے یہ ایک ایگزِسٹینشنل (Existentional) یعنی بقا کی جنگ ہے۔ سعودی تنصیبات پر حملے کرکے حوثیوں نے سعودیہ کا بہت کچھ خطرے میں ڈال دیا ہے۔ سعودی طاقت اور اثر کی بنیاد ایک چیز ہے؛ تیل کی دولت۔ یہ خطرے میں پڑ جائے تو پیچھے کیا رہ جاتا ہے؟ اور حوثیوں نے حملہ کیا ہے تو اس شہ رگ پر۔ لہٰذا یہ بات یہاں رکنے والی نہیں‘ سعودیوں کے سروں سے جب تک یہ خطرہ ٹلتا نہیں انہیں چین نصیب نہیں ہو سکتا۔اندرونی سکیورٹی ڈیوٹیوں سے آزاد ہونے کا مطلب ہے کہ نیشنل گارڈ یمن میں استعمال ہو سکتے ہیں۔ تبصرہ کار تو کہتے ہیں کہ فضائی حملوں کے ساتھ ساتھ ایک لاکھ کی فوج یمن میں دور تک جائے‘ تب صحیح معنوں میں حوثیوں کے خلاف جنگ کا رخ تبدل ہو سکتا ہے۔ مکہ دفاعی معاہدے کا فعال ہونا اس لیے اہم ہے کہ سعودی افواج کو اب موقع ملتا ہے کہ یمن میں زیادہ نمایاں طور سے آگے بڑھیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر حوثی زیادہ پیچھے دھکیل دیے گئے تو پھر ایران کیا کرے گا؟ اس سوال کا حتمی جواب دینا اس وقت مشکل ہے کیونکہ ایران کو اپنے دفاع کی پڑی ہوئی ہے اور کچھ پتا نہیں کہ آگے کیا ہونا ہے‘ اسرائیل نے کیا کرنا ہے اور کس قسم کے خیالات صدر ٹرمپ کے ذہن میں گردش کر رہے ہیں۔ذرا غور تو کیجیے کہ جی سی سی ممالک جو کہ تیل کے سمندروں پر بیٹھے ہیں‘ نے سمجھ رکھا تھا کہ ان کی دنیا ایسے ہی قائم رہے گی اور ان پر کسی قسم کی آنچ آنے کا کوئی تصور بھی نہ ہو سکے گا۔ اونچی بلڈنگیں بنائی جاؤ‘ دنیا کی ہر فضول خرچی پر پیسے خرچ ہوتے رہیں تو کیا فرق پڑے گا کیونکہ تیل کی دولت نے ختم تو ہونا نہیں۔ دبئی کا ڈویلپمنٹ ماڈل دیکھ لیں‘ سعودی عرب کے خواب کیا تھے اور سعودی معیشت تیل سے ہٹ کر سیاحت اور دیگر چیزوں کی طرف مڑ جائے گی۔ اس فضول کی جنگ کی وجہ سے سارے خواب چکنا چور ہو گئے ہیں۔ جہاں فضول خرچیوں کا سوچا جاتا تھا وہاں بقا کی بات آ گئی ہے۔ سارے ڈویلپمنٹ ماڈلوں کے پیچھے تکیہ امریکی طاقت اور امریکی ملٹری اڈوں پر تھا کہ ان کے ہوتے ہوئے ہمارا دفاع ناقابلِ تسخیر ہے۔ جب امریکی اڈے تباہ ہو گئے تو پیچھے کیا رہ جانا تھا۔ لیکن اتنے خطرات منڈلانے کے باوجود اب بھی جی سی سی ممالک اس پوزیشن میں نہیں کہ تھوڑی اونچی آواز میں امریکہ سے کہہ سکیں کہ جو تباہی کرنی تھی کر دی‘ اب تو بس کر جاؤ۔ ابوظہبی‘ کویت اور بحرین ویسے بیچ میں پھنسے ہیں۔ امریکی اڈے تباہ اور تیل کی ترسیل بند۔ خزانے ان کے بہت بڑے تھے اور انہی سے اب خرچہ چلایا جا رہا ہے۔ لیکن سوچتے تو ہوں گے کہ کس انجانی تباہی میں پھنس گئے ہیں۔سعودی عرب کا مسئلہ سب سے الگ ہے کیونکہ اپنے جنوبی بارڈر پر ایک باقاعدہ جنگ چھڑ چکی ہے۔ کہنا تو آسان ہے کہ ایک لاکھ فوجی جائیں تو یہ ہو جائے گا لیکن فوجی بوٹوں کیلئے یمن کی سرزمین اتنی آسان نہیں۔ فضائی حملوں کی اہمیت تو اپنی جگہ لیکن ان کا اثر ایک حد تک ہی ہو سکتا ہے۔ ایران میں امریکیوں اور اسرائیلیوں نے فضائی بمباری اور میزائل حملے کیا کم کیے ہیں؟ ایران کی تباہی بہت ہوئی ہے لیکن ایران کی شکست تو نہیں ہوئی۔ ایران نے گھٹنے نہیں ٹیکے۔ اب بھی جہاں چاہے حملہ کر رہا ہے۔ یہی مماثلت یمن پر فِٹ ہوتی ہے۔ حوثیوں کے پاس تو کوئی ہوائی جہاز نہیں لیکن ڈرون اور میزائل تو ہیں۔ پیچھے دھکیلے گئے تو بہت کچھ کر سکتے ہیں۔ یہاں پر ترکیہ اور پاکستان کا رول اہم ہو جاتا ہے۔تاریخ کی ستم ظریفی دیکھیے کہ پہلی جنگ عظیم تک نجد اور حجاز پر حکمرانی سلطنتِ عثمانیہ یعنی ترکوں کی تھی۔ جنگ عظیم میں ترکوں نے شکست کھائی تو انگریزوں اور فرانسیسیوں نے خطے کا نقشہ سامنے رکھا‘ نقشے پر لائنیں کھینچیں اور یہ بیشتر ریاستیں جو جی سی سی کا حصہ بنیں‘ معرضِ وجود میں آئیں۔ اُردن‘ عراق‘ موجودہ کویت‘ حتیٰ کہ جی سی سی کا سب سے بڑا ملک‘ سب پہلی جنگ عظیم کے بعد جو علاقے کا بندوبست بنا اس سے یہ سلطنتیں ابھریں۔ اور آج امریکی اور اسرائیلی حملے کی وجہ سے وہ سارا بندوبست خطرے میں پڑا ہے۔ الزام ایران پر لگائے جاتے ہیں کہ ایران نے حملے کیے لیکن زبانوں پر امریکی اور اسرائیلی حملے کی مذمت نہیں لائی جاتی۔ یہ ہمارے ممالک کا مسئلہ ہے کہ اپنا وجود کمزور ہے اور بقا کیلئے غیروں کا سہارا لینا پڑتا ہے۔شاہ ایران کی مثال بھی سبق آموز ہے۔ وزیراعظم محمد مصدق کے ہٹائے جانے کے بعد شاہ ایران کو تخت پر واپس امریکی اور برطانوی لائے۔ وقت گزرنے کے ساتھ جب تیل کی دولت آنے لگی تو شاہ ایران بڑے خواب دیکھنے لگے۔ گھمنڈ ایسا آیا کہ مغربی دنیا کو بھی نصیحتیں کرنے لگے۔ جب اکتوبر 1971ء میں تختِ جمشید کے مقام پر شاہ ایران نے دنیا سے بلائے ہوئے سربراہان کیلئے ضیافت رکھی تو پیسہ ایسے بہایا گیا کہ دنیا حیرت میں ڈوب گئی۔ شاہ ایران یہی سمجھ رہے تھے کہ ان کی حکمرانی ہمیشہ کیلئے رہے گی۔ 1979ء میں ایران شورشِ انقلاب میں گھِرا تو شاہ کو ملک چھوڑنا پڑا اور پھر ملک ملک ٹھوکریں کھانی پڑیں۔پچھلے سال کی بات ہے کہ عرب سربراہان نے کس انداز سے صدر ٹرمپ کا استقبال کیا۔ خوش کرنے کیلئے کیا کچھ نہ کیا۔ اس وقت کوئی سوچ سکتا تھا کہ کچھ ہی عرصے میں سارا خطہ ہل کے رہ جائے گا اور جنگ کے شعلے یوں بلند ہوں گے؟</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_80573045.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>179 ارب روپے کہاں گئے؟(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-10-07/52797/40308830</link><pubDate>Wed, 07 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-10-07/52797/40308830</guid><description>اس ملک میں ہر وقت ایک ہی بات سننے کو ملتی ہے کہ عوام ٹیکس نہیں دیتے۔ یہ جملہ اتنی دفعہ بولا اور دہرایا جاتا ہے کہ ہر بندہ خود کو مجرم سمجھتا ہے اور اسے لگتا ہے کہ وہ چوری کر رہا ہے۔ وہ اپنی نظروں میں ہی چور بنا رہتا ہے اور خود کو شاید لعن طعن بھی کرتا ہو کہ اس کی وجہ سے ٹیکس اکٹھا نہیں ہو رہااور حکومتوں کو بینکوں سے قرضے لینے پڑتے ہیں تاکہ تنخواہیں اور دیگر اخراجات پورے کر سکیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ حکومت پر اب تک تقریباً 90 ہزار ارب روپے بینکوں کا قرضہ چڑھ چکا ہے‘ جس پر رواں مالی سال آٹھ ہزار ارب روپے سود دینا ہے۔ بینکوں کی چاندی ہو چکی ہے‘ وہ عام آدمی کو قرضہ نہیں دیتے کیونکہ حکومت ان سے تقریباً ہر روز شارٹ ٹرم کمرشل قرضہ لیتی ہے‘ جس پر ان کو بھاری سود ملتا ہے۔ بینک عوام کے ڈپازٹ پر حکومتوں کو بھاری سود پر قرضہ دے کر لمبا مال کما رہے ہیں۔ انہیں کوئی فکر نہیں کہ کوئی تاجر یا صنعتکار ان سے قرضہ لے کر ملکی معیشت میں اپنا کچھ حصہ ڈالیں۔ انہیں حکومت سے سالانہ ہزاروں ارب روپے سود مل جاتا ہے۔برسوں سے قائمہ کمیٹی اجلاسوں میں ہر وزیر اور سرکاری افسر کو یہی شکایت کرتے دیکھا کہ عوام ٹیکس نہیں دیتے‘ اور اس کے بعد سب ارکان مل کر عوام پر تبرا پڑھتے ہیں ۔ ان میں وہ بھی شامل ہوتے ہیں جو ارب پتی ہونے کے باوجود چند ہزار روپے بھی ٹیکس نہیں دیتے۔ مجھے یہ سوچ کر حیرانی ہوتی تھی کہ اگر عوام ٹیکس نہیں دیتے تو ملک چل کیسے رہا ہے۔ پھر یہ حکمرانوں کے جہاز‘ گاڑیاں‘ افسران کی بھاری تنخواہیں‘ الاؤنسز‘ سیر سپاٹے‘ مفت پٹرول‘ بجلی‘ گیس اور گھروں کے خرچے کون پورے کرتا ہے‘ کیونکہ اپنی جیب سے تو یہ ایک روپیہ نہیں لگاتے۔ عوام کے ٹیکس نہ دینے والے جھوٹ سے اُس وقت پردہ اٹھا جب سینیٹ کی کمیٹی برائے مواصلات میں انکشاف کیا گیا کہ پچھلے چھ برسوں میں عوام سے 179 ارب روپے کا ٹول ٹیکس موٹر وے پر اکٹھا کیا گیا۔ یعنی اوسطاً سالانہ تیس ارب روپے۔ این ایچ اے کو لگا کہ شاید اب بھی لوگ ٹیکس چوری کر رہے ہیں‘ لہٰذا پچھلے دو برسوں میں ٹول ٹیکس تقریباً تین سو فیصد بڑھا دیا گیا ہے۔ سینیٹر پلوشہ خان‘ جو اُس کمیٹی کی ممبر ہیں‘ انہوں نے میری درستی کی کہ آپ نے غلط سنا! این ایچ اے حکام کہہ رہے تھے کہ ٹول ٹیکس چار سو فیصد تک بڑھایا گیا ہے۔مزے کی بات یہ ہے کہ ٹول ٹیکس میں تقریباً چار سو فیصد تک اضافے کے باوجود جب سینیٹر پرویز رشید نے چیئرمین این ایچ اے سے موٹر ویز پر ملنے والی سہولتوں کے بارے پوچھا تو انہوں نے اعتراف کیا کہ موٹر ویز پر سہولتوں کا معیار گر گیا ہے۔ اب وہ معیار نہیں رہا جو اُس وقت تھا جب کورین کمپنی نے 1998ء میں پہلی موٹروے بنا کر دی تھی۔ چیئرمین این ایچ اے کے اس اعتراف کے بعد سوال یہ ہے کہ یہ معیار کس نے اور کیوں گرایا؟ جب موٹر وے پر ٹول ٹیکس سے سالانہ تقریباً تیس ارب روپے حکومتی خزانے میں جا رہے ہیں بلکہ اب تو ایم ٹیگ کی وجہ سے ایڈوانس پیسہ حکومت کے پاس آ رہا ہے کہ لوگ ایم ٹیگ میں ایڈوانس بیلنس ڈلوا لیتے ہیں اور بعد میں جب وہ موٹر وے پر سفر کرتے ہیں یہ پیسہ تب کٹتا ہے۔ اس دوران اس پیسے کو‘ جو بلامبالغہ اربوں روپے ہے‘ مبینہ طور پر بینکوں میں رکھ کر بھاری سود کمایا جاتا ہے‘ لیکن چیئرمین صاحب کہہ رہے ہیں کہ موٹر ویز کا معیار گر گیا ہے۔ پھر یہ پیسہ کون کھا رہا ہے‘ اگر یہ موٹر وے کے معیار اور وہاں سروسز کی بہتری کیلئے نہیں لگ رہا؟ چھ برسوں میں 179 ارب کوئی معمولی رقم نہیں ‘ اس سے ایک نیا موٹر وے بن سکتا ہے‘ اگر سب اس میں سے اپنا کمیشن نکالنے نہ بیٹھ جائیں۔ لیکن کسی نے چیئرمین این ایچ اے سے یہ نہ پوچھا کہ سالانہ اربوں روپے اکٹھے کرنے اور دو برسوں میں چار سو فیصد تک ٹول ٹیکس بڑھانے کے باوجود موٹر ویز کا معیار کیوں گر گیا ہے؟ معیار صرف سروسز کا نہیں گرا بلکہ سڑکوں کی حالت بھی بہت خراب ہو چکی ہے۔ اب آپ موٹر وے پر سفر کریں تو سڑک آپ کو سیدھی اور ہموار نہیں ملتی ‘ کہیں کہیں تو باقاعدہ کھڈے ملتے ہیں۔ سب سے زیادہ مایوسی آپ کو اسلام آباد میانوالی موٹروے پر ہو گی جہاں سڑک کی حالت بعض جگہوں پر اتنی خراب ہے کہ آپ پوری توجہ سے ڈرائیونگ نہ کر یں تو آپ کو گاڑی اچانک کسی اونچائی سے ڈھلان میں جاتی محسوس ہو گی اور آپ کو بہت بڑا جمپ لگے گا اور گاڑی سنبھالنا مشکل ہو جائے گا۔ اس طرح کی صورتحال آپ کو داؤد خیل میں لگی سیمنٹ فیکٹری کے سامنے موٹر وے پر بھی ملتی ہے‘ اور یقینا یہاں حادثات بھی ہوتے ہوں گے۔ پچھلے دنوں مجھے خود بھی اس کا تجربہ ہوا جب گاڑی اچانک ایک ڈھلان کی طرح گڑھے میں سے گزری اور بڑا جمپ لیا۔ میں نے بمشکل گاڑی کو قابو کیا۔ کبھی وہ دور تھا جب این ایچ اے چیئرمین دفتری رپورٹس پر انحصار کرنے کے بجائے خود موٹر ویز پر سفر کرتے تھے۔ لیکن لگتا ہے اب یا تو متعلقہ حکام خود موٹرویز پر سفر نہیں کرتے‘ اور اگر کرتے ہیں تو پھر پورے پروٹوکول میں کرتے ہیں تاکہ انہیں کسی جگہ نقص نظر نہ آئے‘ یا پھر ان کے پاس بڑی بڑی گاڑیاں ہیں‘ جن میں عام گاڑیوں کی طرح جمپ والا مسئلہ ہی نہیں۔موٹرویز پر ریسٹ ایریاز کی حالتِ زار پر بھی سینیٹرز نے بات کی‘ یہ ریسٹ ایریاز سے زیادہ کمرشل ایریاز بن چکے ہیں۔ وہاں پہلے جو سہولتیں تھیں‘ وہ بھی واپس لے لی گئی ہیں۔ مہنگائی الگ سے ہے۔اس طرح ہاؤسنگ سوسائٹیز کا بھی ذکر ہوا‘ جنہوں نے اب موٹر ویز کو گھیرے میں لے رکھا ہے اور انہیں نئی نئی ایگزٹ دی جا رہی ہیں۔ اس پر بھی اعتراض ہوا کہ اب سارا موٹر وے ہاؤسنگ سوسائٹیز سے بھر گیا ہے۔ موٹر ویز کے ارد گرد سب زمینیں‘ درخت‘ ندیاں‘ نالے‘ سبزہ‘ پہاڑ‘ سب کچھ بلڈوز کر دیا گیا ہے۔ میلوں تک آپ کو بلڈوزر چلتے نظر آتے ہیں۔ قدرتی ندی نالوں کے راستے بند کر دیے گئے ہیں اور کل کو انہی علاقوں میں جب بارشوں سے سیلاب آئے گا تو رہائشی سزا بھگتیں گے جبکہ سوسائٹی مالکان اربوں کما کر باہر جا چکے ہوں گے۔ آج کل اسلام آباد میں ای الیون اور ڈی 12 کے مکینوں کے ساتھ یہی کچھ ہو رہا ہے کہ بارش سے گھر ڈوب جاتے ہیں کیونکہ نالوں پر گھر بنا لیے گئے ہیں۔ یاد آیا کہ جب موٹروے بن رہی تھی تب شاید سفیدے کے درخت سستے ملتے تھے جو افسران نے ساری موٹر وے کے ارد گرد لگوا دیے‘ جو بے تحاشا زیرِ زمین پانی استعمال کرتے ہیں۔ یہ درخت دراصل سیم زدہ زمین کیلئے ہوتے ہیں لیکن ہمارے ڈیڑھ سیانوں نے انہیں موٹر وے کے اردگرد زرعی زمینوں پر لگوا دیا۔ ایک اور نیا کلچر دیکھنے میں آ رہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی طرز پر ہمارے شہروں میں بھی کھجور اور دیگر اجنبی درخت لگائے جا رہے ہیں‘ جن کا اس خطے یا ماحول سے کوئی تعلق نہیں۔ لیکن چونکہ اس کام میں بھی خاصا مال پانی ملتا ہے لہٰذا یہ کام ہر دور میں ہوتا ہے۔ سال چھ ماہ کے بعد کھجور اور دیگر اجنبی درخت اس ماحول میں سروائیو نہیں کر پاتے تو دوبارہ نئے درخت لگا دیتے ہیں۔ایک چیز کی داد دیں کہ ہمارے افسران اور حکمران نہ صرف ہر قسم کے حالات میں لوگوں کی جیبوں سے پیسہ نکلوانے اور خود اپنی چونچ گیلی کرنے کے فن میں ماہر ہو چکے ہیں بلکہ الٹا عوام کو بدنام بھی کرتے رہتے ہیں کہ لوگ ٹیکس نہیں دیتے۔ موٹر وے پر 179 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کرنے کے باوجود کہتے ہیں کہ لوگ ٹیکس نہیں دیتے۔ حکایت ہے کہ ایک گھر میں گدھا اور بندر تھے۔ رات کو بندر کچن میں جا کر آٹا کھا جاتا اور واپسی پر کچھ آٹا لا کر گدھے کے منہ پر مَل دیتا۔ اگلی صبح مالک گدھے کے منہ پر آٹا لگا دیکھ کر اس کی ٹھکائی کرتا۔ یہی کچھ عوام کے ساتھ ہو رہا ہے۔ سیاستدان‘ وزیر اور افسران اربوں روپے کھا پی کر ہمارے منہ پر آٹا مَل دیتے ہیں کہ یہ ٹیکس نہیں دیتے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>عرفان بھا ئی اور میں(شاہد صدیقی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-siddiqui/2026-10-07/52798/58337997</link><pubDate>Wed, 07 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-siddiqui/2026-10-07/52798/58337997</guid><description>میں نے اپنے بھائی اور معروف کالم نگار عرفان صدیقی کی رحلت پر روزنامہ دنیا کے انہی صفحات پر اُن سے جڑی یادوں کا تذکرہ &#39;&#39;عرفان بھائی: اک دھوپ تھی کہ ساتھ گئی آفتاب کے‘‘ کے عنوان سے لکھنا شروع کیا تھا۔ یہ سلسلہ آٹھ قسطیں لکھنے کے بعد موقوف ہو گیا۔ میں شاید غمِ روزگار کی بھول بھلیوں میں گم ہو جاتا اور یادوں کا یہ تذکرہ ادھورا ہی رہ جاتا لیکن مجیب الرحمن شامی صاحب نے یہ کہانی لکھنے کی ترغیب دلائی اور مسلسل اسے مکمل کرنے کی یاد دہانی کراتے رہے۔ آج میرے لیے اطمینان اور مسرت کا دن ہے کہ عرفان بھائی کے حوالے سے میری کتاب &#39;&#39;عرفان بھائی اور میں‘‘ شائع ہو گئی ہے۔ یہ 271صفحات پر مشتمل دستاویز ہے جس کے دو حصے ہیں۔ پہلا حصہ عرفان بھائی سے متعلق میری یادوں پر مشتمل ہے جس کا آغاز راولپنڈی کے قریب ایک گاؤں کے کچے صحن سے ہوتا ہے جہاں ہم بہن بھائی کھیلا کرتے تھے۔ مالی وسائل کی عدم موجودگی کی وجہ سے عرفان بھائی نے میٹرک کے بعد پرائمری سکول لال کُرتی میں بطور استاد ملازمت کا آغاز کیا۔ اتفاق سے میں اسی سکول میں پڑھتا تھا۔ سکول کے بالکل سامنے ایوب ہال تھا جہاں قومی اسمبلی کے اجلاس ہوا کرتے تھے۔ یہ اُن دنوں کی بات ہے جب قومی اسمبلی کے سپیکر مولوی تمیزالدین ہوا کرتے تھے‘ جن کا نام آج بھی پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں احترام سے لیا جاتا ہے۔ سکول میں ملازمت کے دوران ہی عرفان بھائی نے ایف اے‘ بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ امیدوار کے طور پر اعلیٰ درجوں میں پاس کیے۔ انہوں نے بی ایڈ سینٹرل ٹریننگ کالج سے کیا اور گولڈ میڈل کے حقدار ٹھہرے۔ تب سرسید سکول مال روڈ راولپنڈی کے پرنسپل عبدالقادر قریشی ہوا کرتے تھے۔ انہوں نے عرفان بھائی کو سر سید سکول میں ملازمت کی پیشکش کی۔ یہ راولپنڈی کا ایک اہم تعلیمی ادارہ تھا جہاں اشرافیہ کے بچے پڑھتے تھے۔ کچھ ہی عرصہ بعد بطور لیکچرر اُن کا انتخاب سرسید کالج مال روڈ میں ہو گیا۔ یہیں پر عرفان بھائی نے ایک پندرہ روزہ نیوز لیٹر &#39;&#39;دی رپورٹر‘‘ کا اجرا کیا‘ جس میں طلبہ کو اپنی رائے کے اظہار کا آزادانہ موقع ملتا۔ اسی دوران انہیں ریڈیو پاکستان میں مختلف موضوعات پر لکھنے کی پیشکش ہوئی۔ اس عرصے میں انہوں نے ریڈیو کیلئے بہت لکھا۔ ریڈیو کیلئے لکھے گئے ڈراموں کی تعداد سو سے زیادہ ہے۔ ان کے منتخب ڈراموں کی کتاب &#39;&#39;بھید بھری آواز‘‘ شائع ہوئی۔ تب ان کی زندگی میں ایک اور دریچہ کھلا جب مجیب الرحمن شامی صاحب نے انہیں اپنے ہفت روزہ رسالے زندگی اور ماہنامہ قومی ڈائجسٹ میں لکھنے کی دعوت دی۔ یہ صحافت کی وادی میں ان کے سفر کا آغاز تھا۔ کچھ عرصے کے بعد انہوں نے اس وقت کے معروف ہفت روزہ تکبیر میں لکھنا شروع کیا جس کے مدیر صلاح الدین صاحب تھے جنہیں بعد میں سچ لکھنے کی پاداش میں شہید کر دیا گیا۔ اسی رسالے میں عرفان بھائی نے جسٹس محمد رفیق تارڑ کا انٹرویو کیا جس کا عدالتی ایوانوں سے شدید ردِ عمل آیا اور بعد میں یہی انٹرویو رفیق تارڑ صاحب کے صدارتی امیدوار کے کاغذات مسترد ہونے کا باعث بنا۔ اپیل کرنے پر رفیق تارڑ صاحب کو عدالت سے ریلیف مل گیا۔ انہوں نے صدارتی انتخاب لڑا اور کامیابی حاصل کی۔ اس عرصے میں عرفان بھائی سر سید کالج سے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے چکے تھے۔ رفیق تارڑ صاحب صدر بنے تو انہوں نے عرفان بھائی کو ایوانِ صدر میں پریس سیکرٹر ی کے طور پر کام کرنے کی پیشکش کی۔ اس سے پیشتر عرفان بھائی نقشِ خیال کے نام سے کالم لکھنے کا آ غاز کر چکے تھے۔ پریس سیکرٹری کا عہدہ سنبھالنے کے بعد انہوں نے کالم لکھنا بند کر دیا۔ ایوانِ صدر میں قیام کے دوران وہ بہت سے تاریخی واقعات کے شاہد رہے۔ جب 2001ء میں پرویز مشرف نے صدر رفیق تارڑ کو سبکدوش کیا تو عرفان بھائی نے بھی اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ یہ افغانستان میں امریکہ اور طالبان کے درمیان جنگ کا زمانہ تھا جس میں پرویز مشرف کی حکومت طالبان کے خلاف امریکہ کا ساتھ دے رہی تھی۔ اس عرصے میں عرفان بھائی نے ایسے کالم لکھے جنہیں قبولِ عام ملا۔ بعد میں وہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت میں وزیراعظم نواز شریف کے مشیر برائے قومی امور اور قومی تاریخ و ادبی ورثہ کے سربراہ بنے۔ اس دور کو آج بھی ادبی اور ثقافتی اداروں کی تاریخ میں ایک سنہری دور کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ 2019ء میں انہیں ایک نام نہاد کرایہ داری مقدمے میں گرفتار کر کے اڈیالہ جیل کی قصوری چکی میں بند کر دیا گیا۔ میڈیا کے شدید ردِعمل کے بعد انہیں رہائی ملی۔ 2021ء میں وہ مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر سینیٹر بن گئے اور سینیٹ میں اپنی پارٹی کے پارلیمانی لیڈر کے طور پر خدمات سر انجام دیں۔ ان سب واقعات کی تفصیل کتاب کے پہلے حصے میں ہے۔کتاب کا دوسرا حصہ عرفان بھائی کے کالموں‘ شاعری اور ڈراموں کے انتخاب پر مشتمل ہے۔ ان کی زندگی اور شخصیت کے تذکرے کے بعد یہ صفحات ان کے فن سے براہِ راست آشنائی کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ان تحریروں میں ان کے افکار کی جھلک بھی ملتی ہے اور اسلوب کی دلکشی بھی جو اُن کی تخلیقات کو انفرادیت بخشتی ہے۔ ان کے کالموں میں اپنے عہد کے سیاسی و سماجی مسائل پر گہری نظر‘ منطقی تجزیہ اور نثر کی شعری لطافت ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ نظر آتے ہیں۔ ان کی شاعری محبت اور مزاحمت کی شاعری ہے‘ جو ذاتی دکھوں سے آگے بڑھ کر اجتماعی محرومیوں کی آواز بن جاتی ہے۔ منتخب ڈرامے میں معاشی مجبوریوں‘ آسودگی کے خوابوں اور اپنی مٹی سے وابستگی کے درمیان انسان کی کشمکش نمایاں ہے۔ یوں اظہار کی ان مختلف صورتوں (کالم‘ شاعری‘ ڈرامہ) میں لفظ سے ان کی وابستگی اور انسانیت سے محبت ایک مسلسل رشتے کی طرح موجود ہے۔ میرے لیے یہ انتخاب مرتب کرنا عرفان بھائی کی مانوس آواز کو ایک بار پھر سے سننے کے مترادف تھا۔ میری خواہش ہے کہ پڑھنے والے بھی ان تحریروں میں ان کے فن کی خوبصورتی کے ساتھ ان کے دل کی دھڑکن محسوس کر سکیں اور عرفان بھائی کی شخصیت کے ان گوشوں سے آشنا ہوں جو اُن کی تحریروں میں آشکار ہوتے ہیں۔یہ میرے بھائی عرفان صدیقی سے جڑی یادوں کی کہانی ہے جو اُن شب و روز کے گرد گھومتی ہے جو کبھی لوٹ کر نہیں آئیں گے۔ یہ ایک ماں کے خواب کی تعبیر کی داستان ہے جس کی خواہش تھی کہ اس کے بچے اعلیٰ تعلیم حاصل کریں اور اپنے اپنے شعبوں میں نام کمائیں۔ یہ اس بچے کی زندگی کے سفر کا احوال ہے جس نے گاؤں کے ایک کچے گھر کے آنگن میں آنکھ کھولی اور سخت محنت سے زندگی میں اپنا مقام بنایا۔ یہ اس عشقِ جنوں پیشہ کا بیان ہے جس نے ایک محفوظ سرکاری نوکری سے استعفیٰ دینے کا خطرہ مول لیا اور اپنے قلم کے معجزے پر اعتبار کیا۔ یہ قلم کے اس مزدور کا تذکرہ ہے جس نے اپنی زندگی میں بلا تکان لاکھوں صفحات تحریر کیے۔ یہ اس کالم نگار کی حکایت ہے جس نے اپنی سحر انگیز نثر سے مقبولیت کی بلندیوں کو چھوا۔ یہ اس حساس پاکستانی کا قصہ ہے جس نے آمریت کے کڑے عہد میں صدائے حق بلند کی اور جسے سچ لکھنے کی پاداش میں ہتھکڑیاں پہنا کر جیل کی قصوری چکی میں ڈالا گیا... کتاب لکھنے کے اس سفر میں بہت سے لوگ میرے ہمراہ رہے ان سب کا شکریہ۔ روزنامہ دنیا کا خصوصی شکریہ جس کے صفحات پر اس کہانی کی ابتدا ہوئی۔ یہ عرفان بھائی کی باضابطہ سوانح حیات نہیں‘ یہ تو بس ایک بھائی کی محبت بھری یادوں کا مجموعہ ہے۔ وہ یادیں جن کی چاندنی ان کے چلے جانے کے بعد بھی ہر دم ان کے وجود کا احساس دلاتی رہتی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_21538475.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سیاست میں ڈیڈلاک کیوں؟(سلمان غنی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/salman-ghani/2026-10-07/52799/14743818</link><pubDate>Wed, 07 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/salman-ghani/2026-10-07/52799/14743818</guid><description>حکومت اور اپوزیشن کے مذاکراتی عمل میںڈیڈلاک نے ملک میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے اور مذاکرات کی ناکامی کی ذمہ داری فریقین ایک دوسرے پر ڈالتے ہیں۔ پی ٹی آئی اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے اسلام آباد کیلئے لانگ مارچ کے اعلان کے بعد سے ہی سیاسی اور حکومتی محاذ پر تناؤ کی کیفیت تھی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے نے فریقین پر واضح کر دیا تھا کہ قانون کی بالادستی قائم رکھی جائے گی‘ پُرامن احتجاج کی اجازت ہوگی مگر شاہراہیں کسی صورت بند نہیں ہوں گی ۔حکومت نے سکیورٹی اقدامات کیے مگر پی ٹی آئی لانگ مارچ کے پروگرام پر گامزن نظر آئی۔ اس دوران وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اور بعض حکومتی ذمہ داران کے بیانات نے درجہ حرارت کو مزید بڑھا دیا۔ لانگ مارچ کی تاریخ قریب آنے پر فریقین میں شامل اعتدال پسندرہنماؤں نے ملک کے وسیع تر مفاد اور امن کیلئے پسِ پردہ مذاکراتی عمل شروع کیا اور ایک مرحلہ ایسا بھی آیا کہ اسے کھلے مذاکرات میں تبدیل کرنے کا اعلان ہوا۔ اس میں پیپلزپارٹی کی قیادت کے علاوہ وزیراعظم شہباز شریف اور سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کا بھی کردار اہم تھا۔ مذاکرات کے اعلان کے ساتھ ہی فریقین کے ذمہ داران اسے بہترین آپشن قرار دیتے نظر آئے۔ فریقین کی جانب سے کسی حد تک نیک نیتی بھی دکھائی دی ۔ ہفتہ اور اتوار کی شب ایک وقت ایسا بھی آیا کہ میڈیا اور سوشل میڈیا تصدیق کرتے دکھائی دئیے کہ مذاکرات میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کچھ نکات پر اتفاق ہو گیا ہے‘ لانگ مارچ مؤخر اور محمود خان اچکزئی اور علامہ راجا ناصر عباس کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات طے پائی ہے جبکہ بانی پی ٹی آئی کی بہنوں اور دیگر نظر بندوں کی نظر بندی کے خاتمے بارے بھی اچھے سگنلز مل رہے تھے۔ مشترکہ اعلامیے کی خبریں بھی آ رہی تھیں کہ جلد اس کا اعلان ہوگا اور وزیر داخلہ محسن نقوی حتمی منظوری کیلئے صدرزرداری اور وزیراعظم سے رابطہ کر رہے ہیں۔ اپوزیشن رہنما بھی حتمی مسودے کی منظوری کے لیے اپنی قیادت سے رابطے کرتے دکھائی دئیے۔ مگر مذاکرات کی نتیجہ خیزی کا پُرامن عمل یکایک ڈیڈلاک میں تبدیل ہو گیا اور فریقین کی جانب سے اس پر مخالف فریق کو موردِ الزام ٹھہرایا جا رہا ہے۔ اطلاعات یہ ہیں کہ اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی حتمی مسودے سے قبل بانی پی ٹی آئی سے ملاقات پر بضد تھے اور دوسری جانب سہیل آفریدی مسودے پر تحفظات ظاہر کرتے اور لانگ مارچ کیلئے پُرعزم نظر آئے۔ اب ایک طرف پی ٹی آئی خیبر پختونخوا سے لانگ مارچ کا آغاز کر چکی ہے اور اسلام آباد مارچ کے حوالے سے تیاریوں میں ہے تو دوسری جانب حکومت مذاکرات کی ناکامی کے بعد گورنر راج‘ ایمرجنسی اور دیگر آئینی آپشنز کی طرف بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔ پریشان کن صورتحال یہ ہے کہ ایک جانب مغربی بارڈر پر افغان سرزمین سے دہشت گردی جاری ہے اور طالبان انتظامیہ کی پشت پناہی پاکستان کیلئے چیلنج بنی ہوئی ہے مگر کے پی حکومت ریاست کے ساتھ مشترکہ حکمتِ عملی سے انکاری ہے۔احتجاج کا یہ سلسلہ پی ٹی آئی کی جانب سے اپنی قیادت کی ریلیف اور رہائی سے آگے بڑھ کر دہشت گردی کے خلاف پالیسی تک وسیع ہو گیا ہے۔ حکومت اور فورسز خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں دہشت گردی کے سدباب کیلئے مؤثر اقدامات پر یکسو ہیں مگر صوبائی حکومت عدم تعاون کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔بظاہر یہ دیکھنے میں آ رہا ہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا ایجنڈا اپنے صوبے کے مفادات اور یقینی امن سے بڑھ کر اپنے لیڈر کے سامنے سرخرو ہونا ہے اور ان کی سرگرمیوں اور جدوجہد کا محور بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے‘ جسے حکومت خالصتاً عدالتی مسئلہ قرار دیتی ہے۔ بنیادی طور پر یہی نکتہ مذاکرات میں ڈیڈلاک کی بنیاد بنا۔ وفاق خیبر پختونخوا میں امن کے قیام کیلئے سخت فیصلوں پر یکسو ہے کیونکہ دہشت گردی کے خلاف اقدامات پر اسے صوبائی حکومت سے تحفظات ہیں۔ اگر خیبر پختونخوا حکومت دہشت گردی کے خلاف کسی آپریشن میں وفاق کا ساتھ نہیں دیتی تو کیا ریاست ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی رہے گی؟ صوبائی حکومت اپنے ایجنڈے پر گامزن ہے لیکن حالات یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ اس وقت مسئلہ سیاست کا نہیں بلکہ ریاست کا ہے۔ دشمن دہشت گردی کے ذریعے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے ایجنڈے پر گامزن ہے اور اس کے عزائم ڈھکے چھپے نہیں۔ ایسے حالات میں انتشار کے بجائے اتحاد اور خصوصاً دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے سب کو مل کر چلنے کی ضرورت تھی۔ اس میں شک نہیں کہ بعض ایشوز پر پی ٹی آئی کے تحفظات جائز ہیں اور ان پر ریلیف ملنا چاہیے مگر یہ سب کچھ آئین اور قانون کے دائرے میں ہی ممکن ہے اور سیاسی طرزِ عمل اختیار کرتے ہوئے بہت کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف آپریشن یا ریاستی اقدامات کو سیاسی معاملات سے مشروط کرنے سے بات آگے نہیں بڑھے گی بلکہ تناؤ بڑھے گا اور خدا نخواستہ یہ تناؤ اگر ٹکراؤ میں تبدیل ہوتا ہے تو صورتحال کسی کے کنٹرول میں نہیں رہے گی۔ اس سے کسی سیاسی قوت کا کوئی نقصان ہو یا نہ ہو ملک اور قوم کا نقصان ضرور ہوگا۔ وزیر داخلہ محسن نقوی‘ وزیر دفاع خواجہ آصف اور دیگر کے بیانات سے لگتا ہے کہ حکومت دہشت گردی سے نمٹنے کو تیار ہے جبکہ صوبائی حکومت لانگ مارچ پر مصر ہے۔ یوں بظاہر ڈیڈلاک کی صورتحال ہے اور لچک کی صورت نظر نہیں آ رہی‘ لیکن سیاست راستہ بنانے اور معاملات کو چلانے کا عمل ہے اور سیاستدان ڈیڈلاک توڑنے کیلئے ہی ہوتے ہیں۔ ڈیڈلاک کے باوجود ڈائیلاگ کا عمل بحال ہونے کی امید ہے اور وزیراعظم شہباز شریف نے ایک بار پھر تحریک انصاف کو لانگ مارچ ختم کرکے مذاکرات کی پیشکش کر دی ہے۔ امید ہے کہ سیاسی معاملات کے حل کیلئے سیاسی طرزِِ عمل اختیار کیا جائے گا اور دہشت گردی جیسے بڑے چیلنج سے نمٹنے کیلئے قومی جذبہ و مشترکہ حکمت عملی اپنائی جائے گی۔ اس حوالے سے گیند پی ٹی آئی کی کورٹ میں ہے ۔ دیکھنا یہ ہے کہ وہ سیاسی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں یا سیاسی مفاہمت اور دہشت گردی کے سدباب کیلئے سنجیدہ تعاون پر آمادہ ہوتے ہیں۔ دوسری جانب ریاست کے پاس طاقت ضرور ہوتی ہے مگر طاقت کا اصل امتحان اس کے دانشمندانہ استعمال میں ہے۔ ریاست اگر طاقت کے ساتھ مکالمے‘ آئین اور قانون کی پاسداری کو بھی ذریعہ بنائے تو اختلاف کو تصادم بننے سے روکا جا سکتا ہے۔ ریاست کی اصل طاقت آئین و قانون کے احترام اور عوام کے اعتماد سے پیدا ہوتی ہے۔اس وقت بظاہر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈیڈلاک ہے مگر تاثر یہی ہے کہ ریاست سیاسی قوتوں اور معاشرے کے اہم طبقات کے ساتھ اپنے روابط ختم نہیں کرتی۔ آج ملک کو انتشار کے بجائے اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت ہے ۔ نئی پیدا شدہ صورتحال میں فریقین میں بھی تشویش پائی جاتی ہے کیونکہ کوئی بھی محب وطن ملکی حالات سے صرفِ نظر نہیں برت سکتا۔ جب دشمن ہماری ہمسائیگی میں بیٹھا اپنے مذموم ایجنڈے پر گامزن ہو تو ضروری ہو جاتا ہے کہ ہم اپنے داخلی مسائل پر قابو پا کر اسے منہ توڑ جواب دیں۔ امید ہے کہ حکومت اپوزیشن کے ساتھ کیے گئے وعدوں پر عمل پیرا ہوگی اور اپوزیشن ریاست کی رٹ اور دہشت گردی کے سدباب میں وفاق کے ساتھ کھڑی ہوگی۔ مسائل کے حل کیلئے نیک نیتی کو بروئے کار لایا جائے تو بحران کا خاتمہ یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ پاکستان کو درپیش چیلنجز کے پیش نظر ضروری ہے کہ بات چیت کا عمل بحال کیا جائے اور اسے آگے لے کر چلا جائے۔ اسی صورت میں بات بنے گی بھی اور چلے گی بھی۔ یہ پاکستان کسی ایک طبقے یا جماعت کا نہیں‘ سب کا ہے اور سب کے دل پاکستانیت کے حوالے سے دھڑکتے ہیں۔ یہی جذبہ ہمیں بحران سے نکال سکتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/230_37874475.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>چار صوبے، ایک سوال!(محمد حسن رضا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-hasan-raza/2026-10-07/52800/31056766</link><pubDate>Wed, 07 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-hasan-raza/2026-10-07/52800/31056766</guid><description>چار صوبے‘ چار حکومتیں‘ کھربوں روپے کے وسائل اور عوام کے سامنے دعوؤ ں کا انبار‘ مگر اصل سوال یہ ہے کہ زندگی کس کی بدلی؟ فروری اور مارچ 2024ء میں قائم ہونے والی حکومتوں کو ڈھائی سال سے زیادہ گزر چکے۔ احتجاجی قافلے‘ اسمبلیوں سے واک آؤٹ اور مخالفین پر الزام تراشی کارکردگی کا متبادل نہیں ہوسکتے۔ حکمران کا اصل تعارف اس کی تقریر نہیںگورننس کی صلاحیتیں ہیں۔ جس گھر میں چولہا مشکل سے جلتا ہو وہاں سیاسی نعرے پیٹ نہیں بھرتے۔ آئی ایم ایف کی 2026ء کی رپورٹس چاروں وزرائے اعلیٰ سے جوابدہی کا تقاضا کرتی ہیں۔ وفاق ہو یا صوبے‘ عوام کے ٹیکس کے پیسوں پر سوال سے کوئی بالاتر نہیں۔ چاروں حکومتوں کیلئے چارج شیٹ یہی ہے کہ انہیں اختیار ملا‘ وسائل ملے لیکن شہریوں کو حقوق کیوں نہیں ملے؟ مالی سال 2026-27ء کیلئے پنجاب نے تقریباً 5903‘ سندھ نے 3562‘ خیبرپختونخوا نے 2170 اور بلوچستان نے 1089 ارب روپے کا بجٹ منظور کیا۔ یہ مختص وسائل ہیں مکمل خرچ نہیں؛ ان میں وفاقی حصے کے ساتھ صوبائی آمدن اور دیگر ذرائع بھی شامل ہیں۔ لیکن مالی اختیار اتنا بڑا ہو تو ہر ناکامی کو پیسے کی کمی کے پیچھے چھپانا بھی انصاف نہیں۔ کرپشن کی شکایات ہر صوبے میں ہیں۔ کبھی مہنگی خریداری‘ کبھی ٹھیکوں‘ کبھی بھرتیوں اور کبھی بیرونِ ملک رقم منتقل ہونے کی باتیں سامنے آتی ہیں۔ مہنگے جوتے‘ گھڑیاں اور گاڑیاں حکمرانوں کی ترجیحات کو واضح کرتی ہیں مگر کسی الزام کو ثبوت کے بغیر جرم نہیں کہا جاسکتا۔ ہمارا مطالبہ واضح ہے کہ فائل‘ بولی‘ ادائیگی اور آڈٹ دکھائیے۔ سو روپے کے منصوبے سے عوام کو کچھ فائدہ مل بھی جائے تو باقی رقم کی بے ضابطگی معاف نہیں ہوجاتی۔ اسی سخت پیمانے پر پنجاب کو دیکھیں تو بہتری نظر آتی ہے۔ پانچ اکتوبر 2026ء کو مسقط میں وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے &#39;&#39;اپنی چھت اپنا گھر‘‘ کیلئے اقوام متحدہ کے ادارے یو این ہیبی ٹیٹ کا سکرول آف آنر اعزاز وصول کیا۔ عالمی یومِ رہائش پر پاکستان سمیت پانچ ممالک کے اقدامات کو سراہا گیا۔ یہ صوبائی تشہیر سے ایک قدم آگے بین الاقوامی اعتراف ہے۔ عالمی اداروں کی رپورٹس پر ہم اپنی حکومتوں پر بہت تنقید بھی کرتے ہیں‘ ایک عالمی ادارے نے اگر پنجاب کے ایک منصوبے کو اس قابل سمجھ کر ایوارڈ دیا ہے تو اس کا بھی کھلے دل سے اعتراف کرنا چاہیے۔ مریم نواز نے ایک عوامی ضرورت سے متعلق منصوبے کے ذریعے پاکستان کا نام روشن کیا؛ سیاسی اختلاف اس حقیقت کو مٹا نہیں سکتا۔ روٹی‘ کپڑا اور مکان بھٹو کا نعرہ تھا؛ آج مکان کے ایک اقدام پر پنجاب کی وزیراعلیٰ عالمی اعزاز وصول کررہی ہیں۔ سندھ کی قیادت سے سوال بنتا ہے کہ اپنے طویل اقتدار میں اس وعدے کو ہر ضرورت مند کی زندگی تک کیوں نہ پہنچایا؟ عمران خان بھی فلاحی ریاست کی بات کرتے تھے؛ ان کے صوبائی جانشینوں کو عوامی فلاح کی ایسی نمایاں مثالیں قائم کرنی چاہئیں۔ بلوچستان کی قیادت بھی دعوؤ ں سے آگے نتائج دکھائے۔ پنجاب کی دوسری مثال سیف سٹیز اتھارٹی کا &#39;&#39;میرا پیارا‘‘ منصوبہ ہے‘ جوITU کے WSIS پرائزز 2026ء میں چیمپئن منصوبوں میں شامل ہوا۔ گمشدہ بچے اور خاندان کو ملانے کا یہ نظام انسانی ضرورت کو انتظامی ترجیح بناتا ہے۔ ان کامیابیوں سے پنجاب بازی ضرور لے گیا لیکن گورننس ماڈل مزید نتائج مانگتا ہے۔ مریم نواز کی قیادت میں کام کی رفتار‘ نگرانی اور عوامی منصوبوں کی موجودگی نظر آتی ہے۔ سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب سمیت سیاسی ٹیم اور رزلٹ دینے والے افسران کا کریڈٹ بھی تسلیم ہونا چاہیے۔پنجاب پر تنقید بھی اتنی ہی کھلی ہونی چاہیے۔ ستھرا پنجاب اور دیگر ترقیاتی کاموں کے بارے میں اٹھنے والے کرپشن کے سوالات کا جواب عالمی اعزاز نہیں دے سکتا۔ متعلقہ ٹھیکوں کی قیمت‘ معیار‘ نگرانی اور ادائیگیوں کی تفصیل سامنے آنی چاہیے۔ کسی شکایت کو بلاتحقیق ثابت شدہ جرم کہنا غلط ہے مگر اسے بلا تحقیق مخالفین کی سازش کہنا بھی غلط ہے۔ کامیابی مکمل معلومات چھپانے سے نہیں شفافیت سے ہوتی ہے۔ پنجاب واقعی آگے رہنا چاہتا ہے تو کام کے ساتھ حساب بھی دے۔میری معلومات کے مطابق پنجاب کے ایک اعلیٰ افسر نے اجلاس میں بڑھتی کرپشن شکایات پر تشویش ظاہر کرکے اینٹی کرپشن کو کارروائی کی ذمہ داری دی ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ کارروائی نائب قاصد‘ پٹواری‘ کلرک اور چھوٹے عملے سے آگے کہاں پہنچی؟ بڑے ٹھیکوں اور منظوریوں کے پیچھے بڑے دستخط ہوتے ہیں‘ کیا احتساب ان تک پہنچا ہے؟ چھوٹی رشوت پکڑنا ضروری مگر بڑے مالی اختیار کو چیک نہ کرنا احتساب نہیں۔ حکومت نتائج‘ وصولیاں اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی سامنے لائے۔ پیرا پر میرا اختلاف واضح ہے۔ قانون نافذ کرنا ضروری‘ شہریوں کو خوف میں مبتلا رکھنا ناقابلِ قبول ہے۔ کاروباری افراد نے پیرا کے رویے اور پریشانی کی شکایات کی ہیں‘حکومت کو ان کا جواب دینا چاہیے۔ تجاوزات اور ناجائز منافع کے خلاف کارروائی کے ساتھ عزتِ نفس‘ جائز کاروبار کی اجازت اور داد رسی ہونی چاہیے۔ کسی فورس کی کامیابی جرمانوں کی تعداد نہیں منصفانہ سلوک اور شہریوں کا اعتماد حاصل کرنا ہے۔ کے پی میں سہیل آفریدی اور سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور سے بنیادی سوال امن اور خدمت کا ہے۔ عمران خان کی مقبولیت اور قید پر بحث اپنی جگہ پولیس اہلکار وں کی جان اور شہریوں کی حفاظت اپنی جگہ۔ وفاق‘ قانون نافذ کرنیوالے اداروں اور صوبے کی مشترک ذمہ داری کو سیاسی مقابلے کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔ چار اکتوبر کو وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سکیورٹی معاہدے اور بہتر گھنٹوں کے منصوبۂ عمل سے صوبائی حکومت کے پیچھے ہٹنے کا دعویٰ کیا تھا؛ اس حوالے سے صوبے کا واضح جواب بھی آنا چاہیے۔ پولیس ایکٹ 2026ء پر نظرثانی‘ سیاسی مداخلت سے تحفظ‘ دہشت گردوں کی کارروائیوں اور پناہ گاہوں کی روک تھام‘ ٹی ٹی پی‘ تحریک طالبان افغانستان اور دیگر گروہوں کی واضح مذمت اور ان کے خلاف سخت کارروائی ضروری ہے۔ افغان شہریوں کی واپسی اور کیمپوں کا خاتمہ قانون کے مطابق ہو؛ عبوری افغان حکومت سے صوبائی رابطے بند ہوں۔ پولیس اور انسدادِ دہشت گردی کو وسائل ملیں‘ صوبہ ذمہ داری لے‘ مسلح افواج سے تعاون کرے اور سابق فاٹا کے ضم شدہ اضلاع میں قومی لائحہ عمل نافذ ہو۔ پھر کوہستان کی تقریباً دس برس پرانی 37 ارب روپے سے زائد مبینہ خوردبرد کا حساب بھی دیجیے۔اسی طرح سندھ میں پیپلز پارٹی کو طویل اقتدار کا حساب دینا چاہیے۔ کراچی کا شہری پانی‘ نکاسی اور محفوظ سفر کو کیوںترستا رہے؟ دیہی خاندان استاد‘ علاج اور روزگار کیلئے سیاسی سفارش کا محتاج کیوں ہو؟روٹی‘ کپڑا اور مکان کا نعرہ نسلوں تک ووٹ دلائے اور شہری کا بنیادی حق پھر بھی بااثر شخص کی مرضی سے ملے تو قیادت کو اپنی ترجیحات دیکھنی چاہئیں۔ سندھ کو نعروں کے بجائے روزمرہ زندگی کا حساب دینا ہوگا۔ بلوچستان میں بھی دعوؤں سے آگے جواب چاہیے۔محکمہ تعلیم کے سروے کے مطابق صوبے میں پانچ سے سولہ برس کے 45 فیصد بچے سکول سے باہر ہیں۔ وسیع جغرافیہ‘ بدامنی اور فاصلے ہیں؛ انہی مسائل کے حل کیلئے حکومت ہوتی ہے۔ پانی‘ علاج‘ تعلیم اور روزگار غائبانہ مدد سے نہیں آئیں گے۔ عوام کو فیصلوں میں شریک کیجیے۔ چاروں صوبوں میں مسائل ہیں مگر پنجاب کو جو پذیرائی حاصل ہوئی وہ بھی ایک مثال ہے۔لیکن یہ پائیدار تب ہوگی جب کارکردگی اور شفافیت ساتھ ساتھ چلیں گی۔ کرپشن اور لوٹ مار کی کہانیاں پنجاب‘ سندھ‘ بلوچستان اور خیبرپختونخوا ہر صوبے میں موجود ہیں۔ ایسی ایسی کہانیاں کہ سامنے رکھی جائیں تو عوام گھروں سے باہر آجائیں لیکن امید ہے کہ ایک وقت آئے گا کہ سب عوام کے سامنے آئے گا۔ جس گھر میں نومولود کو دودھ پلانے کے پیسے نہ ہوںوہاں حکمران کی مہنگی گھڑی‘ اربوں روپے بیوروکریسی اور حکمرانوں کی رہائشگاہوں‘ دفاتر اور دیگر اخراجات ترقی کا ثبوت نہیں بلکہ عوام سے دوری کی علامت ہیں۔ عوام کو خدمت چاہیے حکمرانوں کے بہانے نہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/229_33941343.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>حسد کے نقصانات(علامہ ابتسام الہٰی ظہیر )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-10-07/52801/80963987</link><pubDate>Wed, 07 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-10-07/52801/80963987</guid><description> اللہ تبارک وتعالیٰ نے مختلف انسانوں کو مختلف طرح کی صلاحیتیں اور نعمتیں عطا کی ہیں۔ بعض لوگوں کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے ذہانت‘ فطانت اور علم جبکہ بعض لوگوں کو مال ودولت سے نوازا ہوتا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کی اس تقسیم کو کھلے دل سے قبول کرنا ہی انسان کیلئے بہتر ہے لیکن بعض لوگ اللہ تبارک وتعالیٰ کی اس تقسیم پر غضبناک ہوتے ہیں اور جس شخص کو نعمت ملی ہوتی ہے‘ اس کیلئے زوالِ نعمت کی تمنا کرنے لگتے ہیں۔ ایسی کیفیت کو حسد کہا جاتا ہے۔قرآن مجید میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے ایسے واقعات بیان کیے ہیں جن کو پڑھ کر حسد کی سنگینی کا اندازہ ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں کئی مقامات پر ابلیس کا واقعہ موجود ہے جو آدم علیہ السلام کو ملنے والی عزت اور ان کے برتر مقام کی وجہ سے حسد کا شکار ہو گیا۔ نتیجتاً اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس کو راندۂ درگاہ بنا دیا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الاعراف کی آیات: 11 تا 13 میں اس واقعے کو کچھ یوں بیان فرماتے ہیں: &#39;&#39;اور ہم نے تم کو پیدا کیا‘ پھر ہم ہی نے تمہاری صورت بنائی‘ پھر ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو‘ سو سب نے سجدہ کیا بجز ابلیس کے‘ وہ سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا۔ (حق تعالیٰ نے) فرمایا: تو جو سجدہ نہیں کرتا تو تجھ کو اس سے کون امر مانع ہے‘ جبکہ میں تجھ کو حکم دے چکا‘ کہنے لگا: میں اس سے بہتر ہوں‘ آپ نے مجھ کو آگ سے پیدا کیا ہے اور اس کو آپ نے خاک سے پیدا کیا ہے۔ (حق تعالیٰ نے) فرمایا: آسمان سے اتر‘ تجھ کو کوئی حق حاصل نہیں کہ تو آسمان میں رہ کر تکبر کرے‘ سو نکل بیشک تو ذلیلوں میں سے ہے‘‘۔ ان آیاتِ مبارکہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ابلیس کے زوال کی وجہ تکبر کے ساتھ ساتھ حضرت آدم علیہ السلام کو ملنے والے مقام کا حسد بھی تھا جس کی وجہ سے اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس کو ذلیل و رسوا کر دیا۔اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید میں حضرت یوسف علیہ السلام کے واقعے کو بھی بیان کیا کہ ان کو اپنے والد حضرت یعقوب علیہ السلام سے جو محبت اور شفقت مل رہی تھی‘ ان کے بھائی اس کی وجہ سے حسد کا شکار ہو گئے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ اس حوالے سے سورۂ یوسف کی آیات: 7 تا 9 میں حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کی بات کو کچھ یوں بیان کرتے ہیں: &#39;&#39;یقینا یوسف اور اس کے بھائیوں (کے قصے) میں دریافت کرنے والوں کیلئے (بڑی) نشانیاں ہیں۔ جبکہ انہوں نے کہا کہ یوسف اور اس کا بھائی بہ نسبت ہمارے‘ باپ کو بہت زیادہ پیارے ہیں حالانکہ ہم (طاقتور) جماعت ہیں‘ کوئی شک نہیں کہ ہمارے ابا صریح غلطی میں ہیں۔ یوسف کو تو مار ہی ڈالو یا اسے کسی (نامعلوم) جگہ پھینک دو کہ تمہارے والد کا رخ صرف تمہاری طرف ہی ہو جائے۔ اس کے بعد تم نیک ہو جانا‘‘۔ ان آیاتِ مبارکہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ حسد انسان کو اس حد تک گرا دیتی ہے کہ انسان محسود (جس سے حسد کی جائے) کی جان لینے تک پر آمادہ و تیار ہو جاتا ہے۔اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید میں اہلِ کتاب کے ایک طبقے کی حسد کا بھی ذکر کیا کہ جو اہلِ ایمان کو حسد کی وجہ سے کفر میں دھکیلنا چاہتے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ البقرہ کی آیت: 109 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;ان اہلِ کتاب کے اکثر لوگ باوجود حق واضح ہوجانے کے‘ محض حسد وبغض کی بنا پر تمہیں بھی ایمان سے ہٹا دینا چاہتے ہیں‘ تم بھی معاف کرو اور چھوڑو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لائے۔ یقینا اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے‘‘۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو نبوت و رسالت عطا فرمائی‘ ان کی اولاد میں بھی نبوت کو جاری کیا اور اس کے ساتھ ساتھ ان کی اولاد میں بہت سے بادشاہوں کو بھی پیدا کیا جس پر لوگ ان سے حسد کا شکار ہو گئے۔ نبی کریمﷺ کو بھی جب اللہ تبارک وتعالیٰ نے رسالت ونبوت عطا فرمائی تو یہودیوں کی ایک بڑی تعداد رسول کریمﷺ سے فقط اس لیے حسد کا شکار ہو گئی کہ آپﷺ آلِ اسماعیل میں سے تھے۔ حاسد درحقیقت اللہ تبارک وتعالیٰ کی تقسیم پر حسد کرتا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ النساء کی آیت: 54 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;یہ لوگوں سے حسد کرتے ہیں اس پر جو اللہ نے اپنے فضل سے انہیں دیا ہے‘‘۔جہاں قرآنِ مجید میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے حسد کی مذمت کی ہے وہیں احادیثِ مبارکہ میں بھی حسد کی بہت مذمت کی گئی ہے۔ اس حوالے سے چند اہم احادیث درج ذیل ہیں: 1۔ صحیح بخاری میں حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا &#39;&#39;آپس میں بغض نہ رکھو‘ حسد نہ کرو‘ پیٹھ پیچھے کسی کی برائی نہ کرو‘ بلکہ اللہ کے بندے آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو اور کسی مسلمان کیلئے جائز نہیں کہ ایک بھائی اپنے (مسلمان) بھائی سے تین دن سے زیادہ سلام کلام چھوڑ کر رہے‘‘۔2۔ حسد اور تکبر کی وجہ سے اپنے مسلمان بھائیوں سے قطع تعلقی ہر اعتبار سے قابلِ مذمت ہے۔ اس حوالے سے صحیح مسلم میں حضرت ابوایوب انصاریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: &#39;&#39;کسی مسلمان کیلئے حلال نہیں کہ وہ تین دن سے زیادہ اپنے بھائی کو چھوڑ دے (قطع تعلق کر کے رکھے کہ) دونوں ایک دوسرے سے ملیں تو یہ بھی منہ موڑ لے اور وہ بھی منہ موڑ لے اور دونوں میں سے بہتر وہ ہے جو سلام میں پہل کرے‘‘۔ 3۔ کئی مرتبہ انسان بدگمانی اور کئی مرتبہ مال ودولت میں مسابقت کی وجہ سے ایک دوسرے سے حسد کا شکار ہو جاتا ہے۔ یہ چیزیں بھائی چارے اور اخوت کو بہت زیادہ نقصان پہنچاتی ہیں۔ اس حوالے سے صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: &#39;&#39;ایک دوسرے سے ترکِ تعلق مت کرو‘ ایک دوسرے سے روگردانی نہ کرو‘ دوسروں کے عیب تلاش نہ کرو‘ تم میں سے کوئی کسی کی بیع (تجارت) پر بیع نہ کرے اور اللہ کے ایسے بندے بن جائو جو آپس میں بھائی بھائی ہیں‘‘۔ 4۔ ایک دوسرے سے بغض اور دشمنی رکھنا اس قدر سنگین عیب ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ان لوگوں کو اس وقت تک معاف نہیں کرتے جب تک وہ آپس میں صلح نہیں کر لیتے۔ اس حوالے سے صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: &#39;&#39;پیر اور جمعرات کے دن جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور ہر اُس بندے کی مغفرت کر دی جاتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بناتا‘ اس بندے کے سوا جس کی اپنے بھائی کے ساتھ عداوت ہو؛ چنانچہ کہا جاتا ہے: ان دونوں کو مہلت دو حتیٰ کہ یہ صلح کر لیں‘ ان دونوں کو مہلت دو حتیٰ کہ یہ صلح کر لیں۔ ان دونوں کو مہلت دو حتیٰ کہ یہ صلح کر لیں‘‘ (اور صلح کے بعد ان کی بھی بخشش کر دی جائے)۔ 5۔ اپنے دل کو حسد سے پاک کرنے کیلئے یہ انتہائی ضروری ہے کہ انسان دوسروں سے نعمت چھننے کی تمنا کرنے کے بجائے ان کیلئے وہی پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔ اس حوالے سے صحیح بخاری میں حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا &#39;&#39;تم میں سے کوئی شخص ایمان والا نہ ہو گا جب تک اپنے بھائی کیلئے وہ نہ چاہے جو اپنے نفس کیلئے چاہتا ہے‘‘۔کسی بھائی میں کوئی اچھی خوبی یا اچھی نعمت دیکھ کر اس بات کی تمنا کرنا کہ مجھے بھی یہ نعمت مل جائے جبکہ دل میں بھائی کی نعمت چھن جانے کی خواہش نہ ہو تو اس کی اسلام میں گنجائش موجود ہے۔ کئی مرتبہ انسان سے جب حسد کیا جاتا ہے تو اس کو مختلف طرح کے نقصانات پہنچنے کا اندیشہ ہو جاتا ہے‘ ایسی صورت میں حسد سے بچائو کیلئے خصوصیت سے سورۃ الفلق اور حسبنا اللہ ونعم الوکیل کا ورد کرنا چاہیے تاکہ حسد سے محفوظ رہا جا سکے۔ دعا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کو حسد کرنے اور حاسدین کے حسد سے محفوظ رکھے‘ آمین!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_19740082.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>