<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>ملکی معیشت اور چیلنجز(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-31/11680</link><pubDate>Sat, 31 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-31/11680</guid><description>وزارتِ خزانہ کی ماہانہ آوٹ لک میں خلیجی تنازع‘ تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور عالمی سطح پر مہنگائی میں اضافے کو ملکی معیشت کیلئے بڑے خطرات قرار دیا گیا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کا بحران عالمی معیشت کیلئے اب کوئی نئی بات نہیں ہے کہ جس کے اثرات کو سمجھنے میں دقت کا سامنا ہو۔ رواں سال کے شروع سے دنیا اس صورتحال کو بھگت رہی ہے۔ اس دوران سفارتی اور مصالحتی کوششوں کے کئی اتار چڑھاؤ آئے۔ جب متحارب ملکوں میں ثالثی کی جانب پیش رفت کا امکان ظاہر ہوتا ہے تو توانائی کی منڈیوں میں قدرے استحکام نظر آنے لگتا ہے مگر یہ سلسلہ زیادہ دیر جاری نہیں رہ پاتا کہ کشیدگی میں اضافے کے ساتھ بے یقینی عود کرآتی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کا خطہ ہمارے سمندر پار کارکنوں کیلئے روزگار کی سب سے اہم منزل بھی ہے۔ 17 لاکھ سے زائد پاکستانی خلیج کے چھ بڑے ممالک میں برسرِ روزگار ہیں۔ علاقائی کشیدگی کے اثرات ان ممالک میں جاری کاروباری اور تعمیراتی سرگرمیوں پر بھی پڑ رہے ہیں جس کے اثرات پاکستان کی معیشت پر بھی منتقل ہوتے ہیں۔ اس صورتحال کے معاشی اثرات کو متبادل معاشی امکانات سے کم کرنے کی کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔ ایسے شعبوں کی ترقی کیلئے حکومتی سطح پر آسانیاں پیدا کی جانی چاہئیں جن کے معاشی اثرات آزمودہ ہیں۔ اس سلسلے میں تعمیرات اور زراعت کا شعبہ قابلِ ذکر ہے۔

یہ شعبے معیشت کیلئے متحرک پہیوں کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ تعمیرات کا شعبہ بیک وقت درجن بھر ذیلی شعبوں کیلئے روانی کا سبب بنتا ہے‘ روزگار کے امکانات پیدا ہوتے ہیں اور سرمایہ حرکت میں آتا ہے جبکہ زراعت ملکی آبادی کی خوراک کی ضروریات کو پورا کرنے کیساتھ ساتھ برآمدات میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔ وزارتِ خزانہ کی ماہانہ آؤٹ لک ایسے وقت آئی ہے جب ورلڈ بینک کی کموڈٹی مارکیٹس آؤٹ لک 2026ء میں توانائی کی قیمتوں میں 32فیصد اور 2026-27ء میں غذائی اجناس کی قیمتوں میں 18فیصد اضافے کا امکان ظاہر کر رہی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے باعث توانائی کی قیمتیں گزشتہ چار سال کی بلند ترین سطح پر پہنچنے کا امکان ہے۔ دوسری جانب اناج کی ترسیل میں رکاوٹیں اور ال نینو موسمیاتی رجحان فصلوں کو متاثر کرنے کیساتھ ساتھ خوراک کی قیمتوں کو بھی عام لوگوں کی پہنچ سے دور کر سکتا ہے۔ تیل کے ذخائر میں کمی کے باعث دنیا کو رسد میں مزید رکاوٹوں اور عالمی منڈی میں اچانک پیدا ہونیوالے بحرانوں کا زیادہ خطرہ لاحق ہے جس کے پیشِ نظر ورلڈ بینک کی جانب سے توانائی کی قیمتوں میں 32 فیصد اضافے کی پیشگوئی کی گئی ہے جبکہ غذائی اجناس کی قیمتوں میں 2026ء کے دوران تقریباً 10 فیصد اور 2027ء میں مزید سات فیصد اضافے کا امکان ہے۔ اس طرح دو سال کے دوران قیمتوں میں مجموعی طور پر 18 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔
یہ پیش گوئیاں اس مفروضے پر مبنی ہیں کہ عالمی منڈیوں میں اجناس کی رسد کو متاثر کرنیوالے تنازعات میں مزید کوئی بڑا اضافہ نہیں ہو گا۔ اگر مشرقِ وسطیٰ میں تنازع شدت اختیار کرتا ہے اور روس کے تیل کے بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والا نقصان برقرار رہتا ہے تو توانائی کی قیمتیں توقعات سے کہیں زیادہ بڑھ سکتی ہیں۔ اسی طرح اگر توانائی کی قیمتوں میں توقع سے زیادہ اضافہ ہوتا ہے‘ بحیرۂ اسود کے راستے اناج کی ترسیل پر حملے جاری رہتے ہیں اور ال نینو غیر معمولی شدت اختیار کر لیتا ہے تو یہ عوامل خوراک کے بڑے بحران کا سبب بن سکتے ہیں اور اس کے نتیجے میں مزید افراد انتہائی غربت کا شکار ہو سکتے ہیں جیسا کہ 2010ء کی دہائی کے ابتدائی برسوں میں دیکھا گیا تھا۔ ملکی معاشی تجزیے میں تمام تر خوش گمانیوں کے باوجود ان خدشات اور ممکنہ چیلنجز کو بھی مد نظر رکھنا ہو گا تا کہ معیشت کے فیصلے حقیقت پسندانہ اور حالات سے ہم آہنگ ہوں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مہنگی بجلی(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-31/11679</link><pubDate>Sat, 31 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-31/11679</guid><description>ایک خبر کے مطابق پاور ڈویژن نے دسمبر سے فروری تک فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ میں دو سے تین گنا اضافے کا عندیہ دیا ہے۔ پاور ڈویژن کے مطابق سردیوں میں پن بجلی کی پیداوار کم ہونے اور مقامی گیس کی قلت کے باعث درآمدی ایندھن پر انحصار بڑھ جاتا ہے‘ جس سے مہنگی بجلی پیدا ہوتی ہے۔ درآمدی ایندھن کی مہنگائی اپنی جگہ مگر ملک عزیز میں بجلی مہنگی ہونے کی بنیادی وجوہات اسکے علاوہ ہیں۔ ہر سال آئی پی پیز کو بھاری کیپسٹی پیمنٹس ادا کی جاتی ہیں۔ وزیر توانائی کی جانب سے قومی اسمبلی میں پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2024-25ء میں بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کو کیپسٹی پیمنٹس کی مد میں 1669 ارب روپے ادا کیے گئے‘ جو مالی سال 2025-26ء میں بڑھ کر 1711 ارب روپے ہو گئے‘ جبکہ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی نے مالی سال 2027ء کیلئے ان ادائیگیوں کا تخمینہ 1914 ارب روپے لگایا ہے۔

اکنامک سروے 2026ء کے مطابق ملک میں بجلی کی مجموعی نصب شدہ پیداواری صلاحیت 49 ہزار 651 میگاواٹ تک پہنچ چکی ہے جبکہ پیک سیزن میں بھی بجلی کی زیادہ سے زیادہ طلب 28ہزار میگا واٹ تک جاتی ہے۔ اسکے باوجود حکومت نے 2025ء میں چار آئی پی پیز کے ساتھ نئے معاہدے کر لیے۔ حکومت کو عوام کو سستی بجلی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے آئی پی پیز کے معاہدوں اور ان کی سخت شرائط کا از سر نو جائزہ لینا ہو گا۔ کیپسٹی پیمنٹس کا ناقابلِ برداشت بوجھ ختم کیے بغیر سستی بجلی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ذہنی امراض(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-31/11678</link><pubDate>Sat, 31 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-31/11678</guid><description>وفاقی وزارتِ صحت کی جانب سے قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں تین کروڑ 20 لاکھ (12.3فیصد) سے زائد افراد ذہنی امراض میں مبتلا ہیں۔ ذہنی امراض کی وجوہات میں موروثی‘ حیاتیاتی اور نفسیاتی عوامل شامل ہیں۔ نامساعد معاشی و سماجی حالات بھی ذہنی امراض کے خطرات میں نمایاں اضافے کا سبب ہیں۔بڑھتی ہوئی مہنگائی‘ سکڑتی آمدنی اور بے روزگاری میں اضافہ بہرکیف اپنے نفسیاتی اثرات چھوڑتا ہے اور یہ اثرات نہایت تشویشناک ہیں۔معاشی مسائل کیباعث گھریلو تنازعات بھی ذہنی مسائل لے کر آتے ہیں۔ اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے نفسیاتی علاج کی سہولیات بڑھانے کی ضرورت ہے۔

یہ تشویشناک صورتحال ہے کہ ملک بھر میں رجسٹرڈ ماہرینِ نفسیات کی تعداد صرف 1050 ہے یعنی 30 ہزار 514 مریضوں کیلئے ایک ماہر نفسیات‘ جبکہ مجموعی آبادی کے لحاظ سے دیکھا جائے تو تقریباً دو لاکھ 45 ہزار 400 افراد کیلئے ایک ماہرِ نفسیات دستیاب ہے۔ملک میں ذہنی امراض کی تشویشناک صورتحال کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ ذہنی صحت کی سہولیات میں اضافہ کیا جائے اور عوام میں اس حوالے سے آگاہی پیدا کی جائے تا کہ ذہنی صحت کے مسائل کو دبانے یا رد کرنے کے بجائے اس کا مناسب علاج اور بحالی کی سرگرمیوں کا رجحان پیدا ہو سکے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>دانش اور صحافت(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-10-31/52940/67240122</link><pubDate>Sat, 31 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-10-31/52940/67240122</guid><description>دانشور اور صحافی کی تعریف میں ابہام ہے۔ یہی ابہام ان غلط فہمیوں کو جنم دیتا ہے جو اس وقت ہمارے معاشرے کو لاحق ہو گئی ہیں۔صحافت‘ فنی اعتبار سے خبر کو عوام تک پہنچانا ہے۔ خبر فرد کے بارے میں ہو سکتی ہے اور اداروں کے بارے میں بھی۔ صحافی کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ اس کی خبر میں جھوٹ کی آمیزش نہ ہو۔ دانش‘ ایک علمی و فکری مشق کا اظہار ہے جو دستیاب معلومات کو ایک ذہنی عمل سے گزارنے کے بعد ان سے نتائج اخذ کرتی ہے۔ دانشور کی ذمہ داری ہے کہ وہ مصدقہ معلومات کو اپنا ماخذ بنائے اور ان سے وہ نتائج کشید کرے جو فطری ہوں اور ان میں کسی مفاد کے تحت تحریف نہ کی گئی ہو۔ دانشور جب مسلسل اس فکری مشقت سے گزرتا ہے  تو سماج‘ سیاست‘ مذہب اور دیگر موضوعات پر بعض نتائج تک پہنچتا ہے۔ اس کا کام ان نتائج کا ابلاغ ہے۔ ان نتائج سے اتفاق کیا جا سکتا ہے اور اختلاف بھی۔ صحافی ان معنوں میں غیرجانبدار ہوتا ہے کہ وہ کسی واقعے کو اس طرح رپورٹ کر دیتا ہے جس طرح وہ پیش آتا ہے۔ دانشور اپنا نتیجہ فکر بیان کرتا ہے‘ اس لیے وہ غیر جانبدار نہیں ہو سکتا۔ آج صحافت اور دانش میں امتیاز مشکل ہو گیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ صحافیوں میں بھی ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو واقعات پر غور کرتے اور ذہنی مشقت سے گزرنے کے بعد ایک ورلڈ ویو رکھتے ہیں۔ وہ اس کا ابلاغ بھی کرتے ہیں۔ وہ ایک وقت میں دو کردار ادا کر تے ہیں۔ عام لوگ ان میں تمیز نہیں کرتے۔ اسی لیے وہ ان صحافیوں کو جانبدار قرار دیتے ہیں جب وہ بحیثیت دانشور‘ سیاسی و مذہبی موضوعات پر اپنا نقطۂ نظر بیان کرتے ہیں۔ ایک مثال سے یہ بات مزید واضح ہو جائے گی۔ ہمارے ہاں الیکٹرانک میڈیا میں سیاسی پروگراموں کے بعض میزبان دانشور بھی ہیں۔ وہ جب پروگرام میں مہمانوں سے انٹرویو کرتے ہیں تو اس وقت ان سے غیر جانبداری کا مطالبہ کیا جانا چاہیے۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ سب مہمانوں کو اپنی بات کہنے کے لیے یکساں وقت دیں۔ سب سے ایک جیسا سلوک کریں۔ یہ جب کالم لکھتے ہیں یا خود کسی پروگرام میں بطور مہمان شریک ہوتے ہیں تو اس وقت وہ اپنا نقطۂ نظر بیان کرتے ہیں۔ یہاں ممکن ہے کہ ہم ان کی بعض آرا سے اتفاق نہ کریں۔ اس حیثیت میں ان سے یہ توقع نہیں کی جا نی چاہیے کہ  وہ غیر جانبدار رہیں۔ اس حیثیت میں انہیں وہ بات کہنی ہے جسے وہ درست سمجھتے ہیں۔جو دانشور صحافی نہیں ہے وہ لوگوں کے سامنے اپنا تجزیہ پیش کرتا ہے۔ اپنا مؤقف بیان کرتا ہے۔ اس سے دو چیزوں کا مطالبہ کیا جانا چاہیے۔ ایک یہ کہ اس کی معلومات کا ذریعہ مصدقہ اور علم راسخ ہو۔ مثال کے طور پر اگر وہ اسلام پر بات کر رہا ہے تو اس کے مؤقف کی بنیاد قرآن و سنت ہوں۔ دوسرا یہ کہ اس کی دلیل محکم ہو۔ یعنی وہ جو نتائج اخذ کر رہا ہو‘ عقل اسے قبول کرتی ہو۔ اگر ہم اس کے مؤقف کو رد کریں گے تو دو بنیادوں پر۔ ایک یہ کہ وہ اپنے مقدمے کو قرآن و سنت کے علاوہ کسی دوسرے ماخذ پر استوار کر رہا ہے۔ یا پھر اس کی بات عقل کے لیے قابلِ قبول نہیں۔ یہی معاملہ دیگر شعبوں کا بھی ہے۔ سیاست پر بات کرنے کے لیے سیاسیات‘ تاریخ اور دیگر سماجی علوم کا علم بقدرِ ضرورت لازم ہے۔ مثال کے طور پر اگرکوئی مسلم معاشروں میں مذہبی سیاست پر دانشوری کر رہا ہے تو اسے مسلم سیاسی فکر‘ اسلامی تحریکوں اور ان کی تاریخ کا علم ہونا چاہیے۔ اگر کوئی پولیٹکل اکانومی پر اپنا تجزیہ پیش کر رہا ہے تو اسے سیاست و معیشت کے باہمی تعلق سے آگاہی ہونی چاہیے۔جب معاشرے میں صحافت اور دانشوری کے ایسے مظاہر سامنے آئیں گے تو اس سے ان معاملات پر عوامی آگاہی کی سطح میں بہتری آئے گی۔ عوام کو مصدقہ خبر ملے گی۔ معاشرہ ارتقا سے گزرے گا۔ ایسے معاشرے میں مذہبی و سیاسی جذبات کا استحصال مشکل ہو جائے گا۔ لوگوں کو یہ جاننے میں مشکل پیش نہیں آئے گی کہ کس کی بات لائقِ التفات ہے اور کسے نظر انداز کر دینا چاہیے۔ پھر ان وی لاگرز اور کالم نگاروں کا کاروبار ماند پڑ جائے گا جو جہالت پھیلاتے ہیں اور پکڑے نہیں جاتے۔ عوام بہکنے سے محفوظ رہیں گے۔  پھر عوام میں ان سیاستدانوں کی پذیرائی مشکل ہو جائے گی جو مذہب یا ریاست کے نام پر عوام کو دھوکا دیتے ہیں۔ہمارے ہاں ایک خرابی یہ بھی در آئی ہے کہ ٹی وی پروگراموں کے میزبانوں کو بلا استثنا دانشور سمجھ لیا گیا ہے۔ حکومت دانشوروں کی فہرست بناتی ہے تو ان سے شروع کرتی اور ان پر ختم کر دیتی ہے۔ ان میزبانوں میں دانشور بھی ہیں مگر آٹے میں نمک کے برابر۔ اس سے وہ قضیہ جاگ اٹھتا ہے جس کا تعلق صحافی کی جانبداری یا دانشور کی غیر جانب داری سے ہے۔ اگر یہ فرق سامنے رہے تو  ہمیں رائے قائم کرنے میں آسانی رہے۔ اس حوالے سے بعض مقدمات مشترک بھی ہیں۔ مثال کے طور پر آزادیٔ رائے ایک قدر ہے۔ ایک دانشور اس کا دفاع کرے گا کہ اس کے بغیر سماج کا فکری ارتقا ممکن نہیں۔ صحافی اس لیے اس کی حمایت کرے گا کہ اس کے بغیر وہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری ادا نہیں کر سکتا۔ ایک سطح پر یہ بحث جمہوری معاشرے سے جڑ جاتی ہے جو آزادیٔ رائے کو یقینی بناتا ہے۔دانشور کا تعلق سماج کے فکری ارتقا کے ساتھ ہے۔ اس باب میں اس کے نظریات ہوں گے جن سے اتفاق اور عدم اتفاق‘ دونوں  ممکن ہیں۔ اس کو صحافی پر قیاس نہیں کرنا چاہیے۔ اسی طرح ایک صحافی سے یہ مطالبہ روا نہیں کہ وہ فلاں مہم یا جد وجہد میں کیوں شریک نہیں۔ صحافی اور سیاستدان میں یہی فرق ہے کہ سیاستدان عملی سیاست سے متعلق ہوتا اور صحافی خود کو عملی یا اقتدار کی سیاست سے دور رکھتا ہے۔ اگر وہ سیاسی جلسوں سے خطاب کرنے لگے تو پھر اس کا صحافیانہ تشخص مجروح ہونے لگتا ہے۔ اگر وہ ایک دانشور ہے‘ جس کا پیشہ صحافت ہے تو اس حیثیت میں کسی سیاسی مؤقف کی تائید کر سکتا ہے۔ تاہم دانشور بھی بالعموم اقتدار کی سیاست سے الگ رہتا ہے۔ وہ سیاسی اقدار کے لیے متحرک ہو سکتا ہے‘ کس کو اقتدار تک پہنچانے یا مسندِ اقتدار سے الگ کرنے میں شریک نہیں ہو سکتا۔ماضی میں بعض رسائل و جرائد ایک خاص سیاسی نقطۂ نظر کی تر ویج کے لیے نکلتے تھے۔ فنی اعتبار سے ان کا نظریاتی صحافت سے تعلق تھا‘ پیشہ ورانہ صحافت سے نہیں۔ جیسے مولانا ابوالکلام آزاد کا &#39;الہلال‘ یا مولانا ظفر علی خان کا &#39;زمیندار‘۔ یہ غیر جانبدار نہیں تھے۔ آج کے دور میں جب صحافت کا ذکر ہوتا ہے تو عام طور اس سے مراد پیشہ ورانہ صحافت ہوتی ہے۔ اس لیے صحافت کے غیر جانبدار ہونے کی بحث کی جاتی ہے۔ مولانا آزاد جیسے لوگ دانشور تھے جو ایک خاص زاویۂ نظر رکھتے تھے اور سماج کو اس کے مطابق ڈھالنے کے داعی بھی تھے۔ اگر اس کو صحافت شمار کیا جائے تو آج کے دور میں کالم کو ہم اس روایت کا تسلسل کہہ سکتے ہیں۔ کالم بالعموم دانش کا اظہار ہے اور ظاہر ہے کہ حسبِ توفیق ہے۔ وہ کسی سیاسی جماعت کا حامی ہو سکتا ہے اور مخالف بھی۔ کالم نگار سے‘ اس لیے یہ توقع نہیں کی جانی چاہیے کہ وہ نظریات کے باب میں غیر جانبدار ہو۔ </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>واسکوڈے گاما اور میجر محمد اکرم شہید (نشانِ حیدر)(خالد مسعود خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-10-31/52941/69371522</link><pubDate>Sat, 31 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-10-31/52941/69371522</guid><description>میں نے لزبن پہنچنے سے پہلے ہی ان مقامات کی فہرست تیار کر رکھی تھی جنہیں ہم نے لزبن پہنچنے کے بعد دیکھنا تھا۔ اس فہرست میں دریائے ٹگس کے آخری سرے پر واقع بیلم ٹاور تھا‘ سال 1514ء سے 1520ء کے درمیان تعمیر ہونے والا پتھر کا یہ چوکور حفاظتی برج بحر اوقیانوس سے آ کر دریائے ٹگس کے ذریعے لزبن کی بندرگاہ میں داخل ہونیوالے جہازوں کی نگرانی اور بیرونی حملہ آوروں کے مقابلے میں چھوٹے سے دفاعی قلعے کا کام دیتا تھا۔ آج بھی اس دفاعی برج کے اندر پرانے قدیمی منظرنامے کی یاد میں درجن بھر سے زائد پرانی توپیں پڑی ہوئی ہیں‘ جن کی گولہ داغنے والی نالیاں برج کے سامنے اور دائیں بائیں حصے میں موجود خاص اسی کام کیلئے بنائے گئے سوراخوں پر جمی ہوئی ہیں۔ یوں لگتا ہے گویا تاریخ اس جگہ منجمد ہو کر رہ گئی ہے۔ پرتگال کے باشاہ مینوئل اول کے حکم پر ہلکے پیلے پتھر سے تعمیر شدہ یہ دفاعی برج شاید کبھی کنارے سے کافی ہٹ کر دریا میں واقع ہوگا لیکن اب کنارے پر جمنے والی ریت اور مٹی کے باعث خشکی سے زیادہ دور نہیں رہا۔ برج کے اندر جانے کیلئے ایک بڑے وزنی پل نما تختے سے گزرنا پڑتا ہے۔ زنجیروں اور گراریوں سے منسلک یہ تختہ ایک متحرک پل ہے۔ تختے سے بنے ہوئے اس پل کو برج کے اندر لگی ہوئی گراریاں گھما کر اٹھایا جائے تو یہی تختہ اوپر اٹھ کر برج کے اندر داخلے کے واحد راستے کو بند کر دیتا ہے۔ صبح اٹھنے کے بعد پہلا کام بیلم ٹاور جانا تھا۔ بیلم ٹاور سے ڈیڑھ دو سو گز پہلے دریائے ٹگس کے کنارے پر ایک یادگار جسے مانیومینٹ آف ڈسکوریز کہتے ہیں بنی ہوئی ہے۔ یہ کنکریٹ سے بحری جہاز کا بنایا گیا اگلا حصہ ہے۔ اس میں اوپر کی طرف جاتا ہوا ایک راستہ ہے جس پر درجنوں لوگ اوپر جا رہے ہیں۔ سب سے اوپر اور آگے پرتگال کے ایک شہزادے الفانتے ڈوم ہینرک‘ جسے ہنری دی نیویگیٹر کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ‘کا مجسمہ ہے۔ اس کے بعد بادشاہ الفانسو پنجم کا مجسمہ ہے‘ اس کے پیچھے تیسرے نمبر پر مشہور و معروف جہازران اور پرتگال کے عہد اکتشاف کے ہیرو واسکوڈے گاما کا مجسمہ ہے۔ بچپن میں جب میں نے پہلے پہل واسکوڈے گاما کا نام سنا تو مجھے لگا یہ بھی شاید گاما پہلوان کا کوئی عزیز ہوگا اور ظاہر ہے اس حوالے سے اول اول میں اسے مسلمان ہی سمجھتا رہا۔ ذرا بڑا ہوا تو معلوم ہوا کہ یہ ایک پرتگالی جہاز ران تھا جس نے یورپ سے ہندوستان کا بحری راستہ دریافت کیا تھا۔ 1498ء میں جب واسکوڈے گاما براعظم افریقہ کے اوپر سے گھوم کر راس اُمید سے ہوتا ہوا ہندوستان کی بندرگاہ کالی کٹ پر پہنچا تو یہ کسی بھی جہاز ران کا یورپ سے ہندوستان کی جانب پہلا سمندری سفر تھا۔ اس بحری مہم نے مستقبل میں یورپی جہازرانوں کا ہندوستان کی جانب راستہ کھول دیا۔ واسکوڈے گاما نے پرتگال سے ہندوستان کیلئے تین بحری سفر کیے۔ اگر واسکوڈے گاما کی ان تین مہمات کا جائزہ لیا جائے تو اس کا دوسرا اور تیسرا تجارتی سفرحقیقت میں نوآبادیاتی توسیع کیلئے کی جانے والی بحری جنگی مہمات کا درجہ رکھتے تھے۔ اس دور میں یورپ اور ایشیا میں ہندوستان کے کپڑے‘ قیمتی پتھروں اور مسالا جات ازقسم جائفل‘ کالی مرچ‘ لونگ‘ دارچینی وغیرہ کی بڑی مانگ تھی اور بہت سے دیگر ممالک سے تاجر حضرات ہندوستان کی منڈیوں سے یہ چیزیں خرید کر لے جاتے تھے۔ ہندوستان کے پہلے سفر کے دوران ہی واسکوڈے گاما اور اس کے ساتھ آنے والی پرتگالی تاجروں نے ہندوستان میں آ کر دیگر غیر ملکی تاجروں کی طرح اس زمانے میں رائج روایتی تجارت کرنے کے بجائے ہندوستان میں اپنا تجارتی مرکز قائم کرنے اور مقامی تاجروں کے ساتھ برابری اور حصہ داری کے علاوہ باقاعدہ غلبہ اور اجارہ داری قائم کرنے کی کوششیں شروع کر دیں۔ پرتگالی تاجر جو دراصل باقاعدہ مہم جُو بھی تھے‘ نے اپنے تجارت کے خود ساختہ تصور کو بنیاد بناتے ہوئے نوآبادیاتی قسم کے تاجرانہ نظام کو تشکیل دینا شروع کردیا۔ اس نظریۂ تجارت میں کسی قسم کی مقامی رکاوٹ کی صورت میں پرتگالیوں نے زور زبردستی کا رویہ اپنایا۔ واسکوڈے گاما کا 1502ء کا دوسرا سفر تو باقاعدہ مسلح مہم تھی جس میں وہ اپنے ساتھ جنگجو سپاہی اور توپیں بھی لایا۔ اس مرتبہ اس کے سفر کا مقصد کالی کٹ کے حکمران کو زیرنگیں لانے کے ساتھ ساتھ پرتگالی تجارتی مفادات کو طاقت کے ذریعے منوانا تھا۔ انہوں نے Cartaz نامی اپنا ایک بحری تجارتی پرمٹ جاری کیا جس کے تحت ہر بحری جہاز کو پرتگالیوں سے اجازت نامہ لینا پڑتا تھا بصورت دیگر وہ اس جہاز کو لوٹ لیتے یا ڈبو دیتے تھے۔ 1510ء میں پرتگالیوں نے ہندوستان کی بندرگاہ گوا پر حملہ کر کے اسے بیجا پور کے سلطان سے چھین لیا اور اسے ہندوستان میں پرتگالی سلطنت کا دارالحکومت بنا لیا۔ اس کے بعد انہوں نے دمن‘ دیو اور بمبئی میں قلعے بنا کر ساری بحری تجارت کا کنٹرول سنبھال لیا۔ جس کام کا خیال پرتگالیوں کو 1502ء میں آیا تھا برطانویوں نے اس کا آغاز قریب سو سال بعد ایسٹ انڈیا کمپنی کی صورت میں کیا۔ انگریزوں کا پہلا تجارتی جہاز &#39;&#39;ہیکٹر‘‘ 1608ء میں سورت کی بندر گاہ پر لنگرانداز ہوا۔ لزبن میں کئی جگہ پر واسکوڈے گاما کے مجسمے لگے ہوئے ہیں۔ دریائے ٹگس کے پُل کا نام واسکوڈے گاما کے نام پر ہے۔ لزبن کا بلند ترین ٹاور واسکوڈے گاما ٹاور کہلاتا ہے۔ ایک عدد شاپنگ سنٹر اس مہم جُو کے نام پر ہے اور ایک شاندار پارک کا نام گارڈن واسکوڈے گاما ہے جس میں اس کا مجسمہ لگا ہوا ہے۔ لزبن کو واسکوڈے گاما کا شہر کہا جاتا ہے۔ اس میں شاید سب سے زیادہ مجسمے بھی واسکوڈے گاما کے لگے ہوئے ہیں۔ واسکوڈے گاما نے ہندوستان کے پہلے دو اسفار بادشاہ مینوئل اول کے زمانے میں کیے۔ 1524ء میں جب واسکوڈے گاما ہندوستان کے تیسرے اور آخری سفر پر روانہ ہوا تب پرتگال پر جون سوم کی حکومت تھی۔ بادشاہ نے روانگی سے پہلے واسکوڈے گاما کو ہندوستان کا وائسرائے مقرر کر دیا لیکن عمر نے وفا نہ کی اور وہ کوچین( موجودہ کوچی) میں کرسمس سے ایک دن قبل 24 دسمبر 1524ء کو اگلے جہان رخصت ہو گیا۔ اسے کوچی کے سینٹ فرانسس چرچ میں دفن کر دیا گیا جہاں سے اس کی میت کو چودہ سال بعد 1535ء میں اس کے بیٹے پیڈرو دا گاما نے پرتگال میں کانونٹ آف نوسا سنہورا داس ریلیکواس میں منتقل کروا دیا۔ واسکوڈے گاما کی باقیات اس چرچ میں قریب ساڑھے تین سو سال دفن رہنے کے بعد لزبن کی مشہور چرچ اور خانقاہ جیرانیموس موناسٹری میں منتقل کر دی گئیں۔ یہاں اس کی باقیات ایک سفیدی مائل لیوش پتھر سے بنے ہوئے صندوق نما تابوت میں ہیں جس کی اطراف میں بادبانی جہاز‘ صلیب آرڈر آف کرائسٹ اور آرملری سفیئر (Armillary Sphere) بنے ہوئے ہیں۔ تابوت کے اوپر لیٹے ہوئے واسکوڈے گاما کا مجسمہ ہے جو فنی اعتبار سے قابلِ دید ہے۔ یہ شاندار اور خوبصورت چرچ فن تعمیر کا ایک شاندار نمونہ ہے اور لزبن میں اسے دیکھنا ایک لازمہ ہے۔ اس کا مرکزی دروازہ مجسمہ سازی کا ایسا شاہکار ہے کہ اس کی باریکیاں دیکھ کر بندہ دنگ رہ جاتا ہے۔ اس مرکزی دروازے کے قریب ہی چرچ کے نچلے حصے میں واسکوڈے گاما کا تابوت پڑا ہوا ہے اور اس کے مقابل دوسری طرف پرتگال کے مشہور شاعر اور اپنی رزمیہ نظم Os Lusíadas کے حوالے سے عالمی ادب میں نمایاں مقام کے حامل لوئش دی کانوئش کا سنگی تابوت ہے۔ یہ ایک علامتی ترتیب ہے جو پرتگال کی سمندری مہمات اور ان کی ادبی تشکیل کے مابین تعلق کو واضح کرتی ہے۔ میں تابوت کے پاس کھڑا سوچ رہا تھا کہ زندہ قومیں کس طرح اپنے ہیروز کو یاد رکھتی ہیں۔ معرکۂ ہِلی کے ہمارے ہیرو میجر محمد اکرم شہید (نشانِ حیدر) بنگلہ دیش کے ضلع دیناج پور کے گاؤں بوالدار میں دفن ہیں۔ گزشتہ 55سال میں کسی حکومت کو توفیق نہیں ہوئی کہ وہ میجر محمد اکرم شہید کی میت کو پاکستان لاکر اسے پورے اعزاز سے دفن کرتی۔ کیا یہ کام اب بھی نہیں ہو سکتا؟</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90500073.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>تہران اجلاس اور اسرائیلی انتخابات(ڈاکٹر حسین احمد پراچہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-10-31/52942/93717666</link><pubDate>Sat, 31 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-10-31/52942/93717666</guid><description>علامہ اقبال نے فرمایا تھا کہطہران ہو گر عالمِ مشرق کا جنیواشاید کرۂ ارض کی تقدیر بدل جائے26اکتوبر 2026ء کو مکہ دفاعی معاہدے میں شامل ممالک پاکستان‘ سعودی عرب اور ترکیہ کے اعلیٰ عہدیداروں نے تہران میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور سکیورٹی کے کئی اہم ذمہ داران کے ساتھ ایک اجلاس میں شرکت کی۔ یہ اجلاس تاریخی ہی نہیں تاریخ ساز تھا۔ اس ملاقات کی اہم ترین بات یہ تھی کہ کئی دہائیوں کی سعودی عرب اور ایران کی کشیدگی اور سرد مہری کے بعد مفاہمت کی فضا اتنی گرم جوشی تک پہنچی کہ سعودی وزیر دفاع پرنس خالد بن سلمان‘ جو ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے بھائی ہیں‘ اجلاس میں شرکت کیلئے بنفس نفیس آئے۔ اس اجلاس کا انعقاد پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ایران کے ساتھ  شٹل ڈپلومیسی کی بنا پر ممکن ہو سکا۔ اجلاس کے اہداف واضح تھے۔ سب سے بڑا مقصد تو یہ تھا کہ امریکہ ایران پر اگلا ممکنہ حملہ نہ کرے اور مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے خطے کو جنگ کے منڈلاتے سیاہ بادلوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی یمن کے حوثیوں کی طرف سے سعودی عرب پر کیے جانے والے حملوں کا سلسلہ بھی بند کرایا جائے۔ اس اجلاس کا ہمارے نزدیک اہم ترین نکتہ یہ ہے کہ ایران پر مسلط کردہ مشترکہ امریکی اسرائیلی جنگ کے دوران سعودی عرب سمیت تمام خلیجی ریاستوں کو اندازہ ہو گیا کہ امریکہ ان کے دفاع سے لاتعلق ہو گیا ہے۔ اس نے عربوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا۔ اس حوالے سے لگتا ہے کہ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستوں نے بھانپ لیا ہے کہ مستقبل قریب میں امریکہ کے کیا ارادے ہیں۔ امریکی چینل اے بی سی نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ جمعرات کے روز امریکی ملٹری اور اسرائیلی ڈیفنس فورسز کے درمیان ایران پر نئے حملوں کی منصوبہ بندی کیلئے صلاح مشورہ کیا گیا۔ اس کے ایک دن بعد‘ 23اکتوبر کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلوریڈا میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایک بار پھر ایران پر حملے کر سکتے ہیں۔ اس ضمن میں امریکہ نے خلیج کی ریاستوں کو بھی خبردار کر دیا ہے کہ ایران پر نئے حملوں کے بعد ممکنہ ایرانی ردِعمل کی صورت میں اپنا دفاع آپ کرنا ساڈے تے نہ رہنا۔ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے دنیا کو خبردار کیا ہے کہ کسی بھی نئے حملے کے عالمی معیشت پر تباہ کن اثرات ہوں گے۔ اس کے ساتھ ہی ورلڈ بینک نے بھی خبردار کیا ہے کہ نئی ممکنہ جنگ کی صورت میں عالمی منڈی میں اجناس کی قیمتوں میں 23 فیصد اضافے کا امکان ہے۔ ایران پر مسلط کردہ امریکی اسرائیلی جنگ کے آغاز سے پاکستان اور قطر خطے کو جنگ کی تباہ کاریوں سے بچانے کیلئے بھاگ دوڑ کر رہے ہیں۔ انہی کوششوں کے نتیجے میں امریکہ کا ایک اعلیٰ سطحی وفد نائب امریکی صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں اسلام آباد آیا تھا۔ امریکہ ایران کے بالواسطہ اور براہِ راست مذاکرات ابھی تک کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوئے۔ کئی بار بات بنتے بنتے بگڑ گئی۔ ثالثی کرانے والے مذکورہ دونوں ممالک ایران سے کوئی بات منوا لیتے ہیں تو امریکہ کوئی نیا مطالبہ لے کر میدان میں آ جاتا ہے۔ امریکہ مزاجِ مشرق کو سمجھتا ہے نہ ایران کی گزشتہ نصف صدی کی تاریخ اور اس کے اسلامی و ایرانی تشخص کے ارتقا پر اس کی نظر ہے۔ کسی دن شام ڈھلے صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک نئی امید کی شمع روشن کریں گے مگر اگلے روز صبح دم دھمکیاں دینا شروع کر دیں گے‘ جو کام شیریں بیانی سے ہو سکتا ہے وہ لٹھ برداری سے نہیں ہو سکتا۔ صدر ٹرمپ کو اب تک اندازہ ہو جانا چاہیے تھا کہ ایرانی قدامت پسند ہوں یا جدت پسند‘ سب ایران کے قومی وقار اور ملی افتخار کے بارے میں یک زبان ہیں۔ اندرونِ خانہ چاہے ان کے سینکڑوں اختلافات ہوں مگر بیرونی حملے کی صورت وہ سب سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر دکھا چکے ہیں اور آئندہ بھی ایسی کسی جارحیت کے موقع پر ان کا یہی ردِعمل اور رویہ ہو گا۔26اکتوبر کو عرب و عجم کا یہ نہایت منفرد و نادر اجلاس تہران میں منعقد ہوا جس میں مکہ دفاعی معاہدے میں شامل ممالک کی اعلیٰ قیادت ہر طرح کے تحفظات کو خیر باد کہہ کر تہران گئی۔ وہاں ایرانی صدر کی سربراہی میں ایرانی سول و ملٹری قیادت نے ان کا پُرتپاک خیر مقدم کیا۔ ایک روز بعد 27اکتوبر کو اسرائیل میں عام انتخابات تھے۔ اس اہم موقع پر اسرائیل کے سفاک اور خونخوار وزیراعظم کو بڑا واضح پیغام گیا کہ حرم کی پاسبانی اور خطے کے دفاع کیلئے مسلمان ایک ہو چکے ہیں۔ اسرائیلی عوام کو اچھی طرح اندازہ ہو گیا تھا کہ ساری دنیا میں اسرائیل کے خلاف ہر طرف جو نفرت کا اُبلتا ہوا لاوا نظر آ رہا ہے اس کی ذمہ داری اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو پر عائد ہوتی ہے۔ 120 ارکان کی پارلیمنٹ میں کسی بھی جماعت کو کم از کم 61سیٹیں حاصل کر کے ہی برتری مل سکتی ہے۔ ایسی واضح برتری کسی اسرائیلی جماعت کو نہیں ملی۔ نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی اور اس کے ساتھ شامل دیگر جماعتوں کے اتحاد کو 53 جبکہ اپوزیشن کو 48سیٹیں ملی ہیں۔ عرب اتحاد کو 19 سیٹیں ملی ہیں۔ اس سے پہلے انہیں زیادہ سے زیادہ دس سیٹیں ملتی رہی ہیں۔ اسرائیل کے اندر موجود یہ عرب وہ ہیں جنہوں نے تمام تر اسرائیلی مظالم کے باوجود 1948ء میں اپنا وطن نہیں چھوڑا تھا۔ یہ عرب اتحاد خالصتاً سیاسی عرب جماعتوں کا اتحاد ہے۔اگرچہ عرب اتحاد کے سربراہ کے بقول وہ اپوزیشن کے ساتھ تعاون کر کے حکومت سازی میں ان کی مدد کر سکتے ہیں‘ تاہم حکومت میں شامل ہونے سے یہ جماعتیں گریزاں ہیں۔ نیتن یاہو اور اپوزیشن اتحاد کی پالیسیوں میں کوئی بہت بڑا بنیادی فرق نہیں۔ اسرائیل کا اپوزیشن اتحاد بھی حماس کو مکمل طور پر غیر مسلح کرنا چاہتاہے۔ تاہم یہ اتحاد مغربی کنارے میں مزید توسیعی عزائم نہیں رکھتا۔ اس اتحاد میں شامل ایک پارٹی کے سربراہ (سابق اسرائیلی وزیراعظم یئر لِپڈ) ارضِ مقدس میں دو ریاستی فارمولے کے حق میں ہے۔ اگرچہ دائیں بازو کا یہ یہودی الائنس عرب اتحاد سے پارلیمنٹ میں حمایت کا اتنا خواہاں نہیں مگر اس کے بغیر وہ کولیشن حکومت نہیں بنا سکتے۔اسرائیلی کنیسٹ میں عرب قیادت والی جماعتیں (جیسا کہ &#39;جوائنٹ لسٹ اور رعام) اسرائیل کی جانب سے غزہ پر عائد فوجی ناکہ بندی‘ تجارتی سامان پر پابندیوں اور وہاں پہنچنے والی انسانی امداد پر عائد پابندیوں کی مخالفت کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ مغربی کنارے میں یہودی قبضوں کو بھی روکنا چاہتے ہیں۔گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران سپر پاور امریکہ کے خلاف ڈٹ جانے والے ایران کی جرأتمندی کو سراہا جا رہا ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ اب ایران اپنی حکیمانہ سفارتکاری کا سکہ بھی دنیا سے منوائے۔ تازہ خبروں کے مطابق امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کے ساتھ معاملات کو ایک بار پھر سفارتکاری کے ذریعے حل کرنے پر آمادگی کا اظہار کیا ہے۔ ایران اپنے عرب پڑوسیوں اور قطر اور پاکستان جیسے ثالثوں کے ساتھ مل کر نئے مذاکرات کو کامیاب بنائے۔ عرب و عجم کے اس ابھرتے ہوئے اتحاد سے مسئلہ فلسطین کے مستقل حل کے امکانات روشن ہو جائیں‘ نیز گریٹر اسرائیل کے صہیونی عزائم کو لگام بھی ڈالی جا سکے گی۔ تاریخ نے ایران کو موقع دیا ہے کہ وہ شاعر مشرق کی تمنا کے مطابق تہران کو مشرق کا جنیوا ثابت کر دے۔ اس سے شاید کرۂ ارض کی تقدیر تو نہ بدلے مگر ہمارے خطے کی تقدیر ان شاء اللہ ضرور بدل جائے گی۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_70033906.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بلدیاتی انتخابات، الیکشن کمیشن کا فیصلہ(کنور دلشاد)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/kunwar-mohammad-dilshad/2026-10-31/52943/75441379</link><pubDate>Sat, 31 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/kunwar-mohammad-dilshad/2026-10-31/52943/75441379</guid><description>الیکشن کمیشن آف پاکستان نے خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات جلد از جلد منعقد کرانے کا حکم جاری کیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے فیصلے کے مطابق جن اضلاع میں حلقہ بندیاں مکمل ہو چکی ہیں وہاں بلدیاتی انتخابات ہوں گے جبکہ ایمرجنسی والے اضلاع میں بلدیاتی انتخابات مؤخر کر دیے گئے ہیں کیونکہ ان اضلاع میں امن وامان کی صورتحال کے پیشِ نظر الیکشن کا فوری انعقاد ممکن نظر نہیں آتا۔ تاہم باقی اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کرانے کیلئے الیکشن کمیشن جلد شیڈول جاری کرے گا۔الیکشن کمیشن پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے بھی پُرعزم ہے اور حکومت پنجاب بلدیاتی انتخابات کرانے کیلئے الیکشن کمیشن سے تعاون کا اعادہ کر چکی ہے۔ صوبائی حکومت واضح کر چکی ہے کہ جب بھی الیکشن کمیشن انتخابات کرانے کا حکم دے گا صوبائی حکومت اس کے مطابق انتخابات کرانے میں الیکشن کمیشن کی معاونت کرے گی۔ بظاہر یہ ایک مثبت پیش رفت ہے۔ پنجاب کے عوام کئی برسوں سے منتخب مقامی حکومتوں سے محروم ہیں۔ پنجاب میں آخری مقامی حکومتیں 31 دسمبر 2021ء کو ختم ہوئی تھیں‘ اس کے بعد مقامی حکومتوں کے بغیر ہی کام چلتا رہا۔ الیکشن کمیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق 2019ء سے 2024ء کے دوران پنجاب کی حکومتوں نے مقامی حکومتوں سے متعلق قوانین پانچ مرتبہ تبدیل کیے۔ الیکشن کمیشن نے تین مرتبہ حلقہ بندیوں کا عمل مکمل کیا اور انتخابی گروپوں کا اندراج بھی کیا مگر ہر مرتبہ جب انتخابات کی تیاری آخری مرحلے میں پہنچتی تو قانون میں تبدیلی کے باعث پہلے سے کیا گیا عمل بے اثر ہو جاتا رہا۔ 2025ء میں بھی الیکشن کمیشن نے دسمبر میں پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کرانے کا شیڈول جاری کیا تھا مگر پنجاب حکومت کی درخواست پر مقامی حکومت کے قانون کے تناظر میں انتخابی عمل میں تبدیلی کر دی گئی۔ 2026ء کے آغاز میں الیکشن کمیشن نے صوبائی حکومت کی طرف سے مختلف انتظامی اور قانونی مراحل مقررہ وقت پر مکمل نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کیا۔ تاہم اب کی بار صورتحال پہلے سے مختلف دکھائی دیتی ہے۔ حلقہ بندیوں کا عمل مکمل ہو چکا ہے۔ پنجاب حکومت نے بجٹ میں بلدیاتی انتخابات کیلئے فنڈز مختص کر رکھے ہیں اور اگست میں الیکشن کمیشن اور صوبائی حکومت کے درمیان 15 دسمبر 2026ء سے 15 جنوری 2027ء کے درمیان انتخابات کرانے پر اتفاق ہوا تھا۔ اس کے بعد پنجاب حکومت نے دسمبر اور جنوری میں دھند اور دیگر مشکلات کا حوالہ دیتے ہوئے انتخابات اپریل 2027ء تک مؤخر کرنے کی تجویز دی جسے الیکشن کمیشن نے مسترد کر دیا اور فوری طور پر انتخابی شیڈول جاری کرنے کا فیصلہ کیا۔ اب الیکشن کمیشن کی طرف سے پنجاب اور کنٹونمنٹ بورڈز کے بلدیاتی انتخابات کے معاملات پر متعلقہ اعلیٰ حکام کو نوٹس جاری کرنا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ الیکشن کمیشن اس مرتبہ اس معاملے کو مزید التوا میں ڈالنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ الیکشن کمیشن نے 14 دسمبر کی تاریخ تجویز کی ہے۔ اگر حکومت پنجاب دسمبر میں بلدیاتی الیکشن کرانے کیلئے تیار ہو جاتی ہے تو دسمبر پنجاب کے عوام کے لیے محض ایک انتخابی مہینہ نہیں بلکہ تقریباًپانچ سالہ بلدیاتی خلا کے خاتمے کا سبب بن سکتا ہے۔ پنجاب حکومت آئین کے آرٹیکل 32 اور 140(اے) کی مسلسل خلاف ورزی کرتی چلی آ رہی ہے اور چیف الیکشن کمشنر بھی بار بار عندیہ دے چکے ہیں کہ پنجاب حکومت اور وفاقی حکومت بلدیاتی اداروں کے انتخابات کیلئے سنجیدہ نہیں۔ صوبائی حکومتیں بلدیاتی اداروں کو اپنے سیاسی اختیار کیلئے خطرہ سمجھتی ہیںلیکن بلدیاتی انتخابات صرف مقامی نمائندے منتخب کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ جمہوریت کو نچلی سطح تک منتقل کرنے کا بنیادی ذریعہ ہیں۔اُدھر گلگت بلتستان میں لوکل گورنمنٹ کے انتخابات دو مراحل میں کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں 5 دسمبر کو سکردو‘ چلاس اور گلگت کے شہری (اربن) علاقوں میں میونسپل کارپوریشن کیلئے پولنگ ہوگی جبکہ دیگر سات اضلاع میں میونسپل کمیٹیوں‘ ضلع کونسلوں اور یونین کونسلوں کے انتخابات دوسرے مرحلے میں اپریل 2027ء میں ہوں گے۔ یہ انتخابی شیڈول 24 اکتوبر کو جاری کیا گیا ہے۔ الیکشن ترمیمی ایکٹ 2026ء کے مطابق اب چار لوکل گورنمنٹ ہوں گی: تین میونسپل کارپوریشنز‘ دس ضلع کونسلیں‘ ایک میونسپل کمیٹی اور ایک ہزار کے لگ بھگ یونین کونسلیں۔ انتخابات ملٹی ممبر وارڈ سسٹم پر ہوں گے اور آزاد امیدواروں کو بھی قانوناً اجازت ہوگی کہ وہ الیکشن میں حصہ لے سکیں۔ادھراسلام آباد میں اس وقت 2015ء کابلدیاتی قانون رائج ہے جس کے تحت حلقہ بندیاں مختلف تھیں اور قواعد بھی مختلف تھے۔ بعد ازاں وفاقی حکومت نے ایک آرڈیننس جاری کرکے اس میں ترمیم کر دی۔ اب وہ آرڈیننس مدت ختم ہونے کی بنیاد پر غیر مؤثر ہو گیا ہے تو 2015ء کا اسلام آباد لوکل گورنمنٹ ایکٹ بحال ہو گیا ہے جس کے تحت انتخابات ہوں گے۔دوسری جانب ملک میں بڑھتی کرپشن پر بات کریں تو بلاشبہ غربت کرپشن کا باعث بنتی ہے‘ لیکن وطنِ عزیز میں صرف غربت ہی کو کرپشن کی وجہ قرار نہیں دیا جا سکتا‘ کرپشن کا اصل محرک حرص ہے۔ اسی حرص نے امیر سے امیر تر بننے کی خواہش میں کئی صاحبِ اقتدار شخصیات کو ملک کا خزانہ لوٹنے اور اپنے بینک بیلنس بڑھانے کی طرف مائل کیا‘ پھر بدعنوانی کے جرم میں سزا کا ڈر نہ ہونے نے اس ناسور میں مزید اضافہ کیا۔ کتنے بدعنوان قانونی سقم کے سبب عدالتی پراسیس سے گزر کر نیک نام ہو چکے ہیں۔ ہمارے ہاں عدالت یا جیل کا چکر نئے سرے سے لوٹ مار کرنے کا پرمٹ دے دیتا ہے۔ اس وقت ملک میں مالدار طبقہ محترم ہے‘ خواہ مال کیسے ہی بنایا گیا ہو۔ وہ ایماندار شخص جو صبح سے شام تک مشکل سے دو وقتی کی روٹی کا خرچ کما پاتا ہے‘ اسے نالائق اور بزدل سمجھا جاتا ہے۔ یہ ماحول اور اندازِ فکر کرپٹ لوگوں کی تعداد میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔ اگر ایک طرف غربت کرپشن کی طرف مائل کرتی ہے تو دوسری طرف یہی کرپشن غریب کی زندگی کو مزید مشکل اور اجیرن بنا دیتی ہے۔ کرپشن سے مجبور سرکاری ملازمین قدم قدم پر رشوت طلب کرکے جائز کاموں میں رکاوٹ پیدا کرتے ہیں جبکہ ناجائز منافع خور تاجر نفع کمانے کے چکر میں دوسروں کی جیبیں کاٹتے اور ملاوٹ شدہ چیزوں سے ان کی صحت خراب کر دیتے ہیں۔ فعال پارلیمنٹ‘ آزاد میڈیا‘ نظام انصاف میں بہتر لوگوں کی تعیناتی اور معاشرے میں آگاہی وہ عناصر ہیں جن کے ذریعے کرپشن کی روک تھام ممکن ہے۔پس نوشت: 1993ء سے 1996ء تک پاکستانی فوج کے سربراہ رہنے والے جنرل عبدالوحید کاکڑ 26 اکتوبر کی صبح 89 برس کی عمر میں وفات پا گئے۔ جنرل وحید کاکڑ تحریکِ پاکستان کے ممتاز رہنما اور قائداعظم محمد علی جناح کے دستِ راست سردار عبدالرب نشتر کے بھانجے تھے اور صوبہ سرحد (خیبر پختونخوا) کے نمایاں سیاسی خانوادے سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کی قل خوانی کی تقریب27 اکتوبر کو ان کی رہائش گاہ پر منعقد ہوئی جس میں سابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سمیت راولپنڈی میں مقیم تمام سابق ریٹائرڈ جنرلز‘ لیفٹیننٹ جنرلز اور میجر جنرلز شریک ہوئے۔ اس دوران جنرل (ر)قمر جاوید باجوہ سے بھی ملاقات ہوئی۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_15667905.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>فضول خرچ قوم اور حکمران(افتخار احمد سندھو)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/iktakhar-ahmed-sandhu/2026-10-31/52944/43162420</link><pubDate>Sat, 31 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/iktakhar-ahmed-sandhu/2026-10-31/52944/43162420</guid><description>وطن عزیز پاکستان کو آزاد ہوئے 79 سال ہو گئے مگر پھر بھی ہر طرح کے وسائل ہونے کے باوجود ہم محکوم اور مقروض ہیں۔ ہمیں آج تک کوئی ایسا حکمران نہیں ملا جو ہمارے ملک اور اس کے غریب عوام کے بارے میں سوچے۔ ہمارے مقتدر طبقات نے فضول خرچیاں بلکہ شاہ خرچیاں کر کے اس ملک کو کنگال کر دیا ہے۔ کاش وہ فضول خرچیوں کے حوالے سے قرآن پاک کی تعلیمات پر عمل کرتے تو آج ہمیں یہ دن نہ دیکھنا پڑتے۔ قرآن پاک کے آٹھویں پارے کی سورۃ الاعراف کی آیت: 31 میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: &#39;&#39;کھائو، پیو اور اسراف نہ کرو، بیشک اسراف کرنے والے (فضول خرچ) اسے پسند نہیں‘‘۔ اس کے علاوہ بھی قرآن پاک میں کئی مقامات پر اللہ تعالیٰ نے فضول خرچی سے سختی سے منع فرمایا ہے۔ قرآن پاک کی تعلیمات سے صریحاً انحراف کرنے کی وجہ سے ہم بے ادبی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ اور اس کی سزا ہمیں آخرت میں تو ملنا ہی ہے‘ اس دنیا میں بھی مل رہی ہے کہ ہمیں قرض کیلئے دنیا بھر میں ہاتھ پھیلانا پڑ رہے ہیں۔بدقسمتی سے پاکستان میں اس وقت تین کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں اور ان میں سے ایک کروڑ نوے لاکھ بدقسمت بچوں کا تعلق ہمارے &#39;&#39;گڈ گورننس‘‘ والے صوبہ پنجاب سے ہے۔ جبکہ ہمارے حکمرانوں کی شاہ خرچیاں دیکھنے والی ہیں۔ حکمرانوں کے پروٹوکول اور ان کے دفاتر کی تزئین و آرائش کو اور ان کے رہن سہن کو دیکھ لیں تو آپ پر عیاں ہو جائے گا کہ اتنی فضول خرچی ہوتی ہے کہ عوام کے ٹیکس کے پیسوں کو مالِ مفت سمجھ کر بے رحم طریقے سے خرچ کیا جاتا ہے۔ مقتدر طبقات کی عیش وعشرت کیلئے باہر سے اتنی چیزیں منگوائی جاتی ہیں کہ کروڑوں بلکہ اربوں ڈالرز خرچ کرنا پڑتے ہیں‘ اور کثیر زرمبادلہ ان درآمدات کی نذر ہو جاتا ہے۔بلاشبہ حکمران طبقہ عوام کے پیسوں سے خریدا گیا ایندھن اور دیگر مراعات مفت استعمال کرتا ہے۔ گزشتہ دہائیوں پر نظر ڈالی جائے تو یہ حقیقت واضح ہو کر سامنے آتی ہے کہ ہمارے حکمران طبقے کے اللوں تللوں اور فضول خرچیوں کی رقم قرضوں سے پوری ہو رہی ہے۔ گزشتہ چالیس سال کے دوران کھربوں روپے ایسے منصوبوں پر ضائع کر دیے گئے جو عوام کے کام نہ آئے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ وطنِ عزیز پاکستان 99 ہزار ارب روپے کا مقروض ہو چکا ہے۔ اس بھاری قرض کی وجہ سے ہر پاکستانی بچہ پیدا ہوتے ہی ڈھائی لاکھ روپے کا مقروض ہو جاتا ہے۔ یہ بھاری قرضہ کس نے اتارنا ہے؟ یقینا پاکستان کے عوام نے اپنے ٹیکس کے پیسوں سے یہ قرض اتارنا ہے۔ اس امر میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ ہم پاکستانی من حیث القوم فضول خرچ ہیں اور بدقسمتی سے اس پر فخر بھی کرتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں فضول خرچی اور دکھاوے کا رجحان تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے۔ شادی بیاہ کے مواقع پر امیروں کو دیکھ کر عام لوگ بھی ضرورت سے بڑھ کر فضول خرچی کر رہے ہیںاور اپنی زندگی بھر کی کمائی شادی پر لٹا دیتے ہیں بلکہ دھوم دھام سے شادی کرنے کیلئے قرض اٹھانے سے بھی دریغ نہیں کرتے اور پھر عمر بھر اس قرض کے بوجھ سے نہیں نکل پاتے۔ یہ رجحان نہ صرف افراد کے مالی مسائل میں اضافہ کر رہا ہے بلکہ سماجی اقدار کو بھی کمزور کر رہا ہے۔ لوگ اپنی حیثیت سے بڑھ کر خرچ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے اور کسی کا منہ لال دیکھ کر خود کو فضول خرچی کے تھپڑ مار مار کر اپنا منہ بھی لال کر لیتے ہیں۔ آج کل شادی بیاہ ایک سادہ تقریب کے بجائے ایک مقابلہ بن چکے ہیں۔ کون زیادہ مہنگا ہال لے گا‘ کس کے کھانے میں زیادہ ڈشز ہوں گی‘ کس کا لباس زیادہ قیمتی ہو گا‘ یہی چیزیں اب شادی کا معیار بن گئی ہیں۔ اس دوڑ میں اکثر وہ لوگ بھی شامل ہو جاتے ہیں جو مالی طور پر اتنے مضبوط نہیں ہوتے مگر معاشرے کے دباؤ میں آ کر قرض لے کر یہ سب کچھ کرتے ہیں۔ مشہور ضرب المثل ہے‘ کوا چلا ہنس کی چال اپنی چال بھی بھول گیا۔ یہ فضول خرچی نہ صرف مالی مسائل کو جنم دیتی ہے بلکہ نئے رشتے کی بنیاد کو بھی کمزور کر دیتی ہے۔ جب ایک خاندان شادی کے لیے قرض لیتا ہے تو اس کا بوجھ کئی سالوں تک اٹھانا پڑتا ہے۔ اسی طرح شادیوں سمیت مختلف تقریبات میں مہنگی بجلی کا بے تحاشا استعمال کرتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ خوشیوں سے شروع ہونے والا رشتہ فضول خرچی کے باعث پریشانیوں میں گھر جاتا ہے۔ اگر ہم سادگی کو اپنائیں اور اپنے اخراجات کو کم کریں تو ہمارے خاندانوں کی مالی حالت بہتر ہو گی۔پینے کا صاف پانی اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے جبکہ ہم یہ پانی گاڑیوں اور سڑکوں کو دھونے میں استعمال کر کے ضائع کر رہے ہیں۔ بطور مسلمان ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ نماز کیلئے وضو کرنے میں بھی پانی کا ضیاع نہیں کرنا لیکن ہم مساجد میں بھی بے تحاشا پانی ضائع کرنے سے باز نہیں آتے۔ ہم پانی کو اس قدر فضول خرچ کر رہے ہیںکہ زیر زمین پانی کا لیول سینکڑوں فٹ نیچے چلا گیا ہے۔ لاہور جیسے میٹرو پولیٹن شہر میں پینے کا صاف بڑی مشکل سے میسر ہے اور لوگ آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں لیکن اس سب کے باوجود پانی ضائع کرنے سے باز نہیں آتے۔ وقت سے زیادہ قیمتی کوئی چیز نہیں لیکن ہم پاکستانی بحیثیت قوم وقت کو بھی بے درد ی سے ضائع کر رہے ہیں۔ خاص طور پر سرکاری دفاتر میں کام کرنے کے بجائے زیادہ تر وقت گپ شپ میں گزار دیا جاتا ہے‘ بطور قوم ہم نے وقت کی قدر نہیں کی اور یہ وقت اب ہمارے ہاتھ سے نکل رہا ہے۔ اگر ہم نے وقت کی اب بھی قدر نہ کی اور اس کا درست استعمال نہ کیا تو پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں ملے گا اور فضول گزارا ہوا وقت دوبارہ ہاتھ نہیں آئے گا۔79 سال سے صرف حکومت بدلی ہے‘ چہرے بدلے‘ پاکستان نہیں بدلا‘ عوام کے حالات نہیں بدلے کیونکہ ملک میں مسلسل مہنگائی بڑھ رہی ہے اور لوگ بے روزگاری کی دلدل میں دھنس رہے ہیں‘ امیرلوگ اور امیر ہو گئے اور غریب اپنی دو وقت کی روٹی کیلئے پریشان ہیں۔ اس سب کے باوجود ہم فضول خرچی سے باز نہیں آ رہے۔ حکمرانوں کی اربوں کی جائیدادیں ہیں مگر آج بھی غریب لوگ کرائے کے مکان میں رہ کر برسوں گزار دیتے ہیں اور مہنگائی کی وجہ سے اپنا گھر تک نہیں بنا سکتے۔عوام جب بیمار ہو کر ہسپتال جاتے ہیں تو ان کو بیڈ تک نہیں ملتا۔ اگر ملتا ہے تو دو دو مریض ایک ساتھ ایڈجسٹ کرتے ہیں یا اتنے زیادہ پیسے خرچ کرنا پڑتے ہیں کہ آدمی بیمار بھی ہو تو ہسپتال کا رخ نہیں کرتا‘ اور ہمارے حکمران ہیں کہ وہ اپنے ملک میں علاج کروانے سے ڈرتے ہیں۔ ملک میں مہنگائی‘ لوڈشیڈنگ سے برا حال ہو گیا ہے‘ پڑھائی کے اتنے اخراجات ہیں کہ اب لوگ بچوں کو پڑھانے کے بجائے ہنر سکھانے پر ترجیح دیتے ہیں کیونکہ اگر پڑھ لیں تو ڈگریاں لے کر بھی تو مزدوری ہی کرنی ہے‘ پھر ایسے ہی مزدوری سہی۔ایک طرف ہمارا حکمران طبقہ بدستور مراعات اور سہولتوں سے مستفید ہونے میں مصروف ہے تو دوسری طرف حسب معمول تمام حکومتی اخراجات اور قرضوں وسود کا بوجھ عام پاکستانی پر ڈال دیا جاتا ہے۔ ملک میں جمہوریت ہو یا آمریت‘ فضول خرچی کی وجہ سے پاکستانی عوام پر قرضوں کے بوجھ میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ فضول خرچی گویا ایک ایسا شیطانی چکر ہے جس میں پھنسی قوم اس وقت تک نہیں نکل سکتی جب تک کہ وہ خود انحصاری‘ خودداری اور ملکی وسائل‘ اشیا و خدمات کی ترقی پر مبنی راستہ اختیار نہیں کر لیتی اور حکمران طبقہ اپنی مراعات وسہولتوں کا خاتمہ کر کے وسائل کے مطابق خرچ کرنے کو شعار نہیں بنا لیتا۔ لیکن یہاں تو عرصہ دراز سے الٹی گنگا بہہ رہی ہے۔ اس طرح تو ملکی ترقی کا خواب پورا نہیں کیا جا سکتا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/228_40817243.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>اخلاص ولِلّٰہیّت… (2)(مفتی منیب الرحمٰن )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-10-31/52945/28114899</link><pubDate>Sat, 31 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-10-31/52945/28114899</guid><description>احادیث مبارکہ کی روشنی میں دیکھتے ہیں کہ اخلاص پر مبنی اعمال اور ریاکاری پر مبنی اعمال کا اللہ تعالیٰ کے نزدیک صلہ وجزا کیا ہے: &#39;&#39;رسول اللہﷺ سے سوال کیا گیا: (یا رسول اللہﷺ!) ایک شخص دادِ شَجاعت پانے کیلئے لڑتا ہے اور ایک شخص (اپنے قبیلے‘ برادری یا قومی) حمیت کیلئے لڑتا ہے اور ایک شخص ریا (یعنی نمود) کیلئے لڑتا ہے‘ ان میں سے اللہ تعالیٰ کی راہ میں کس کا لڑنا شمار ہو گا‘ تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: جو اس نیت سے لڑے کہ اللہ تعالیٰ کا کلمہ (یعنی دین) سربلند ہو‘ پس اسی کا لڑنا اللہ تعالیٰ کی راہ میں شمار ہو گا‘‘ (مسلم:1904)۔ دوسری روایات میں بعض اور اشخاص کا بھی ذکر ہوا اور آخر میں یہی سوال ہوا کہ ان میں سے اللہ کی راہ میں کس کا لڑنا ہے: &#39;&#39;ایک شخص مالِ غنیمت کیلئے لڑتا ہے‘ ایک شخص اس لیے لڑتا ہے کہ اس کی شجاعت کے چرچے ہوں اور ایک شخص اس لیے لڑتا ہے تاکہ اس کی شان نظر آئے اور ایک شخص مغلوب الغضب ہوکر لڑتا ہے‘‘۔ اب عمل ایک ہی ہے‘ ظاہری صورت میں کوئی فرق نہیں ہے‘ لیکن اس عمل کے پیچھے جو نیت یا ارادہ کارفرما ہے‘ آخرت کی جزا کا مدار فقط اس پر ہو گا۔چند احادیثِ مبارکہ ملاحظہ فرمائیں‘ جن سے یہ امر روزِ روشن کی طرح واضح ہو جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں نیک اعمال پر اجر وثواب کی مقدار کا تعیُّن اُن اعمال کے پیچھے کارفرما نیت اور اخلاص پر ہوتا ہے‘ جس درجے کا اخلاص ہوگا‘ اُسی کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے اُسے اجر عطا کیا جائے گا۔ صحابۂ کرام چونکہ رسول اللہﷺ کی صحبت سے فیضیاب ہوئے تھے اور نگاہِ نبوت نے اُن کے دلوں کو مجلّیٰ‘ مُصَفّٰی اور پاکیزہ کر دیا تھا‘ اس لیے اُن میں اخلاص کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا اور اسی بنا پر وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بے پایاں اجر کے حقدار قرار پائے۔ حدیثِ پاک میں ہے: نبیﷺ نے فرمایا: &#39;&#39;میرے صحابہ کو برا مت کہو‘ کیونکہ اگر تم میں سے کوئی شخص (اللہ کی راہ میں) اُحد پہاڑ کے برابر سونا (بھی) خرچ کر دے تو وہ میرے صحابہ کے خرچ کیے ہوئے ایک مُد یا نصف مُد (یعنی ایک کلو کھجور یا جَو کے صدقے کے اجر) کو بھی نہیں پا سکتا‘‘ (بخاری: 3673)۔ اب آپ غور فرمائیں کہ دنیاوی مالیت کے اعتبار سے ایک کلو جَو یا کھجور کی قیمت کا اُحد پہاڑ کے برابر سونے سے تقابل کا سوچا بھی نہیں جا سکتا‘ لیکن اللہ تعالیٰ صحابی رسول کے ایک کلو جَو یا کھجور کے صدقے کا اجر اپنے فضل وکرم سے اُحد پہاڑ کے برابر سونے سے بھی زیادہ گراں قدر بنا دیتا ہے۔ یہ تو اصحابِ رسول کی بات تھی‘ ایک عام شخص بھی اگر اِخلاص کے اعلیٰ درجے پر فائز ہو جائے تو اُس کا اجر بھی قابلِ رشک بن جاتا ہے۔رسول اللہﷺ نے فرمایا: &#39;&#39;(پچھلی امتوں میں) ایک شخص راستے پر پیدل جا رہا تھا‘ اس کو شدید پیاس لگی‘ اس نے ایک کنواں دیکھا‘ وہ اس میں اترا اور پانی پی کر باہر نکل آیا۔ پھر اس نے ایک کتا دیکھا جو پیاس کی شدت سے ہلکان ہو رہا تھا اور کیچڑ کو چوس رہا تھا۔ اس شخص نے (دل میں) سوچا: اس کتے کو بھی اتنی ہی شدید پیاس لگی ہے جتنی (کچھ دیر پہلے) مجھے لگی ہوئی تھی‘ وہ پھر کنویں میں اترا‘ سو اس نے اپنے موزے میں پانی بھرا‘ پھر اس موزے کو اپنے منہ سے پکڑا (اورکنویں سے باہر آکر) اس کتے کو پانی پلایا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے اس فعل کی قدر افزائی فرمائی اور اس کو بخش دیا۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہﷺ! کیا ہمارے لیے ان جانوروں میں بھی اجر ہے‘ آپﷺ نے فرمایا: ہاں! ہر تر جگر والے (یعنی ذی حیات کو راحت پہنچانے) میں اجر ہے‘‘ (بخاری: 6009)۔ عام حالات میں بھی‘ خواہ انسان ہو یا جانور‘ پیاسے کو پانی پلانا ایک نیکی ہے‘ لیکن اس سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ پیاسے کتے کو پانی پلانے والے ہر شخص کی محض اس نیکی پر مغفرت ہو جائے گی۔ ایک خاص وقت میں ایک خاص کیفیت اُس کے دل میں پیدا ہوئی‘ اُس نے اپنی پیاس کی شدت کو ذہن میں رکھتے ہوئے اُس کتے کی پیاس کا کرب اپنے دل میں محسوس کیا‘ اس سے اُس کے دل میں اخلاص کا جذبہ پیدا ہوا اور اس نے مشقت کر کے اس پیاسے کتے کو پانی پلایا۔ اب ظاہر ہے کہ اس کا محرِّک نہ دکھاوا تھا‘ نہ ریاکاری تھی‘ بس ایک جاندار کی جان بچانے کیلئے خوفِ خدا کا جذبہ اُس کے دل میں پیدا ہوا‘ اللہ تعالیٰ کے حضور اُس کے اس اخلاص نے قبولیت کے درجے کو پا لیا اور اس کی مغفرت ہوگئی۔علمِ دین حاصل کرنے سے بڑھ کر نیکی اور کیا ہو سکتی ہے اور تبلیغِ دین سے بڑھ کر اور سعادت کیا ہو سکتی ہے‘ لیکن اگر یہی مقدس کام اپنی دنیا آراستہ کرنے اور دنیاوی مفاد حاصل کرنے کیلئے کیے جائیں تو اکارت چلے جاتے ہیں اور لوگ آخرت کے اجر سے محروم ہو جاتے ہیں۔ چند احادیث ملاحظہ ہوں: (1) نبیﷺ نے فرمایا: جس نے علم اس لیے حاصل کیا کہ علماء پر اپنی برتری ظاہر کرے یا بیوقوف لوگوں سے بے مقصد بحث کرے یا لوگوں کا رُخِ عقیدت اپنی جانب پھیر دے (تو یہ علم) اُسے جہنم میں داخل کر دے گا‘‘ (ترمذی: 2654)۔ (2) &#39;&#39;وہ علم جو صرف اللہ کی رضا کیلئے حاصل کرنا چاہیے‘ کوئی شخص اُسے کسی دنیاوی مقصد کے حصول کیلئے حاصل کرتا ہے تو وہ قیامت کے دن جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا‘‘ (ابن ماجہ: 252)۔ (3) حدیث پاک میں ہے: &#39;&#39;قیامت کے دن سب سے پہلے جس شخص کے متعلق فیصلہ کیا جائے گا‘ وہ شہید ہو گا‘ اُس کو بلایا جائے گا اور اُسے اُس کی نعمتیں دکھائی جائیں گی‘ جب وہ اُن نعمتوں کو پہچان لے گا تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو نے ان نعمتوں سے کیا کام لیا‘ وہ کہے گا: میں نے تیری راہ میں جہاد کیا حتیٰ کہ شہید ہوگیا‘ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو جھوٹ بولتا ہے‘ بلکہ تو نے اس لیے قتال کیا تھا تاکہ تو بہادر کہلائے‘ سو تجھے بہادر کہا گیا‘ پھر اُسے منہ کے بل لاکر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ ایک شخص نے علم حاصل کیا اور لوگوں کو تعلیم دی اور قرآن مجید پڑھا‘ پس اُسے لایا جائے گا اور اس کو اس کی نعمتیں دکھائی جائیں گی‘ جب وہ اُن نعمتوں کو پہچان لے گا تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو نے اِن نعمتوں سے کیا کیا‘ وہ کہے گا: میں نے علم پڑھا اور پڑھایا اور میں نے تیری خاطر قرآن کی تلاوت کی‘ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو نے جھوٹ بولا‘ بلکہ تم نے علم اس لیے حاصل کیا کہ تجھے عالم کہا جائے اور قرآن اس لیے پڑھا کہ تو قاری کہلائے‘ سو تجھے (دنیا میں) عالم اور قاری کہا گیا‘ پھر اُسے منہ کے بل لاکر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ ایک شخص کو اللہ تعالیٰ نے وسعت عطا کی اور ہر قسم کے مال سے نوازا‘ سو اُسے قیامت کے دن لایا جائے گا اور اُس کی نعمتیں اسے دکھائی جائیں گی اور وہ انہیں پہچان لے گا‘ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو نے اِن نعمتوں سے کیا کام لیا‘ وہ کہے گا: اے اللہ! ہر وہ راستہ جو تجھے پسند ہے‘ میں نے اُس میں اس مال میں سے خرچ کیا‘ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو نے جھوٹ بولا‘ تو نے تو یہ سب کچھ اس لیے کیا کہ تجھے سخی کہا جائے‘ سو (دنیا میں) تجھے سخی کہا گیا‘ پھر حکم ہو گا اور اُسے اوندھے منہ آگ میں ڈال دیا جائے گا‘‘ ( مسلم: 1905)۔ اس حدیث پاک میں جن تین اعمال کا ذکر ہے‘ وہ سب اعلیٰ درجے کی نیکیاں ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُن کیلئے بے پایاں اجر مقدر ہے‘ لیکن یہ اجر اُن کیلئے ہے جو یہ کام دنیا میں نام ونمود کیلئے نہیں‘ بلکہ صرف اور صرف اللہ کی رضا کیلئے کریں‘ چونکہ ان تینوں افراد نے یہ کام دنیا میں شہرت پانے کیلئے کیے‘ دنیا میں تو وہ شہرت اُن کو مل گئی‘ لیکن آخرت کے اجر سے اس لیے محروم ہوئے کہ اُن کے دل اخلاص سے خالی تھے۔ اللہ تعالیٰ ایسے انجام سے ہم سب کو محفوظ فرمائے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_61172381.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>