<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>گورنر راج، چیلنجز(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-13/11627</link><pubDate>Tue, 13 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-13/11627</guid><description>خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی کی زیر صدارت پشاور میں ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں دہشتگردی کے خاتمے‘ صوبے میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز جاری رکھنے اور پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ کو جدید وسائل فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ خیبر پختونخوا دہشتگردی سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ ہے اور صوبے کو دہشتگردی سے نمٹنے کیلئے مضبوط اور مربوط پالیسی کی ضرورت ہے جو دہشتگردی کا پائیدار خاتمہ یقینی بنا سکے۔ تاہم یہ حقیقت بھی تسلیم کرنی چاہیے کہ صوبے میں سکیورٹی مسائل کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے کیلئے سیاسی محاذ آرائی کی سوچ سے بلند ہونا ہو گا۔ ماضی میں مرکز اور صوبے کے مابین جس قسم کے سیاسی تناؤ کی فضا دیکھی گئی‘ اس نے ریاست کے ستونوں کو کمزور اور دہشتگرد عناصر کو کھل کھیلنے کا موقع فراہم کیا اور یہی صورتحال صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کا سبب بنی۔ تاہم اس عبوری بندوبست میں صوبائی انتظامیہ اگر امن وامان قائم کرنے اور دہشتگردی سے نمٹنے کے بنیادی مقصد کے بجائے سیاسی حساب برابر کرنے میں مصروف ہو گئی تو وہ بنیادی کام پایہ تکمیل کو پہنچنے سے رہ جائے گا جس کیلئے وفاقی حکومت کو ایمرجنسی کی شقوں کا صوبے میں نفاذ کرنا پڑا۔

خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کا جواز وفاق کی جانب سے یہ پیش کیا گیا کہ صوبائی حکومت انسدادِ دہشتگردی کے معاملات اور امن وامان کے قیام میں عدم توجہ کا مظاہرہ کر رہی تھی اور سکیورٹی اداروں سے تعاون نہیں کر رہی تھی۔ اب جبکہ صوبے کے جملہ انتظامی اختیارات وفاق کے نامزد کردہ نمائندوں کے پاس آ چکے ہیں تو وفاقی حکومت کو اپنی تمام تر توجہ امن وامان کی بحالی پر مرکوز کرنی چاہیے۔ ملک میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کا یہ پہلا واقعہ نہیں‘ ماضی میں متعدد مرتبہ اس آپشن کو بروئے کار لایا جا چکا ہے۔ اکثر بدامنی اور امنِ عامہ کے مسائل پر قابو پانے کی صوبائی حکومتی کی ناقص صلاحیت کو اس بندوبست کا جواز قرار دیا گیا‘ تاہم ماضی میں کسی صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی جیسے غیر معمولی اقدام سے پائیدار اور متوقع نتائج برآمد نہیں ہو سکے۔ ماضی کے ایسے تمام سیاسی و انتظامی تجربات عارضی ثابت ہوئے بلکہ انہوں نے مقامی سطح پر احساسِ محرومی اور سیاسی بے چینی میں اضافہ کیا۔ اگر ملک کی سیاسی قیادت اس بار بھی پرانی ڈگر پر چلتی رہی تو نتائج ماضی سے مختلف نہیں ہوں گے۔
اس لیے قیادت کو ماضی کے تجربات سے سیکھنا ہو گا۔ دہشتگردی کیخلاف جنگ صرف طاقت یا حکمت عملی کے زور پر نہیں جیتی جا سکتی‘ اس کیلئے مقامی آبادی کا اعتماد‘ صوبائی سٹیک ہولڈرز کی شمولیت اور مضبوط سیاسی وسماجی بیانیے کی ضرورت ہوتی ہے۔ موجودہ حالات کا تقاضا ہے کہ وفاقی حکومت خیبر پختونخوا میں فیصلہ سازی میں مقامی قیادت‘ قبائلی عمائدین اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کو بھی شریک کرے۔ قومی سلامتی قومی یکجہتی سے منسلک ہوتی ہے اور قومی یکجہتی کے حصول کیلئے ضروری ہے کہ گورنر راج کی توجہ‘ وسائل اور صلاحیتیں سکیورٹی صورتحال کی بہتری اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی استعدادِ کار بڑھانے پر مرکوز رہیں۔ صوبے کے عوام خوف‘ معاشی مشکلات اور سیاسی بے یقینی کا شکار ہیں۔ ان حالات میں آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کو لاگو کر کے وفاق نے صوبہ خیبر پختونخوا میں بہت بھاری ذمہ داری اپنے سر لے لی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ وفاقی حکومت اس ذمہ داری سے کس حد تک عہدہ برآ ہوتی ہے۔
ایسا نہ ہو کہ دہشتگردی کی روک تھام اور امن کی بحالی کے نام پر ہونے والا یہ فیصلہ اپنے پیچھے مزید احساسِ محرومی اور سیاسی بے یقینی چھوڑ جائے۔ خیبر پختونخوا ملکِ عزیز کا ایک حساس علاقہ ہے‘ اور اس علاقے نے شدت پسندی کے ہاتھوں بے پناہ دکھ اٹھائے ہیں۔ گورنر راج کا نظام اگر امن بحال کرنے میں کامیاب ہو جائے تو یہ اس نظام کی کامیابی کا سب سے بڑا اشتہار ہو گا۔ یہ وقت ہے کہ سیاسی نوک جھونک کے بجائے اصل کام پر توجہ دی جائے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سوشل میڈیا جنون(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-13/11626</link><pubDate>Tue, 13 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-13/11626</guid><description>مظفر گڑھ میں پانچ نوجوانوں کا مبینہ طور پر سوشل میڈیا رِیل بناتے ہوئے دریائے چناب میں ڈوب کر جاں بحق ہونے کا واقعہ ہمارے معاشرے میں سوشل میڈیا پر شہرت حاصل کرنے کے بڑھتے ہوئے جنون کا عکاس ہے۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ڈوبنے والے نوجوانوں میں سے کوئی بھی تیراکی نہیں جانتا تھا۔ سوشل میڈیا پر مقبولیت حاصل کرنے کی خواہش بعض نوجوانوں کو ایسے خطرات مول لینے پر آمادہ کر تی ہے جنکے نتائج جان لیوا ثابت ہوتے ہیں۔ کبھی کوئی نوجوان ریلوے ٹریک پر وڈیو بناتے ہوئے ٹرین کی زد میں آ جاتا ہے‘ کبھی اسلحے کیساتھ وڈیو بنانے کی کوشش اچانک فائرنگ کا سبب بن جاتی ہے اور کبھی تیز رفتار گاڑی چلاتے ہوئے وڈیو ریکارڈ کرنے کا شوق جان لے لیتا ہے۔

سوشل میڈیا بذاتِ خود کوئی برائی نہیں‘ یہ اظہارِ خیال‘ تخلیقی صلاحیتوں کے اظہار اور معلومات کے تبادلے کا مؤثر ذریعہ ہے لیکن جب لائکس‘ ویوز اور فالوورز کی تعداد کامیابی کا پیمانہ بن جائے تو صورتحال تشویشناک ہو جاتی ہے۔ نوجوانوں کو سمجھنا چاہیے کہ چند لمحوں کی شہرت کیلئے جان خطرے میں ڈالنا دانشمندی نہیں۔ جہاں نوجوانوں کو سوشل میڈیا رِیلز کے بخار سے نکلنے کی ضرورت ہے وہیں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بھی خطرناک حرکات پر مشتمل مواد کی تشہیر روکنے اور صارفین کو ایسے مواد کے ممکنہ نتائج سے آگاہ کرنے کیلئے مؤثر اقدامات کرنے چاہئیں۔ والدین کو بھی بچوں کی آن لائن سرگرمیوں سے باخبر رہنے کیساتھ ان میں ذمہ داری اور خود احتسابی کا شعور بھی پیدا کرنا ہو گا ۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ڈینگی پھیلاؤ، خطرات(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-13/11625</link><pubDate>Tue, 13 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-13/11625</guid><description>لاہور سمیت پنجاب بھر میں ڈینگی کے بڑھتے خطرات حکام کی فوری توجہ کے متقاضی ہیں۔ ایک خبر کے مطابق لاہور میں ڈینگی کے 30ہزار سے زائد ہاٹ سپاٹس کی نشاندہی کی گئی ہے۔ صوبائی دارالحکومت میں رواں سیزن اب تک ڈینگی کے 40‘ راولپنڈی میں 54 جبکہ صوبے بھر میں مجموعی طور پر 179 مصدقہ کیس رپورٹ ہو چکے ہیں۔ اگرچہ یہ اعدادوشمار کسی بڑے وبائی پھیلاؤ کی علامت نہیں‘ تاہم ہزاروں ہاٹ سپاٹس کی موجودگی کو معمولی سمجھنا سنگین غفلت ہو گی۔ ڈینگی کی روک تھام میں سب سے اہم مرحلہ مچھروں کی افزائش کے مقامات کا خاتمہ ہے۔ ماضی میں جس طرح عوامی آگاہی مہمات‘ گھروں اور کاروباری مقامات کے باقاعدہ معائنے اور انسدادی سرگرمیوں کے ذریعے اس خطرے پر قابو پانے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں‘ اب وہ جوش و خروش نظر نہیں آتا۔

صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ کو چاہیے کہ ڈینگی کے حوالے سے حساس علاقوں میں ہنگامی بنیادوں پر انسدادِ ڈینگی مہم تیز کریں۔ گھروں‘ چھتوں‘ زیرِ تعمیر عمارتوں‘ کباڑ خانوں‘ ٹائر شاپس اور خالی پلاٹوں کی باقاعدہ جانچ کی جائے۔ اسی طرح سیوریج اور نکاسی آب کے ناقص نظام کو بہتر بنانا بھی ضروری ہے تاکہ گلی کھڑا پانی میں مچھروں کی افزائش نہ ہو۔ اس سے پہلے کہ ڈینگی خطرناک صورت اختیار کرلے‘ پیشگی حکمت عملی اپنانا ہی دانش مندی ہے ۔ </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بسنت، لندن اور مری(محمد اظہارالحق)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-10-13/52832/88495533</link><pubDate>Tue, 13 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-10-13/52832/88495533</guid><description>بارات روانہ ہونی تھی۔ عجیب بات یہ تھی کہ تمام باراتی نوجوان تھے۔ نوجوانوں کی ضد تھی کہ وہ کافی ہیں اور لڑکی کو رخصت کرا کے لے آئیں گے۔ کسی نے پند دی کہ بیوقوفوں والی ضد نہ کرو۔ کسی عمر رسیدہ‘ باراں دیدہ‘ سرد و گرم چشیدہ‘ چِٹ داڑھیے کو ساتھ لے جاؤ۔ مانا کہ خون گرم ہے مگر گرم خون تجربے کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ بوڑھا آدمی مصیبت میں کام آئے گا۔ نوجوانوں نے بادل نخواستہ بات مان لی اور ایک بزرگ کو ساتھ لے لیا۔ لڑکی والوں کے ہاں پہنچے تو انہوں نے لڑکی کی رخصتی کیلئے شرط رکھ دی کہ باراتی دس بکرے کھائیں گے تو لڑکی ساتھ بھیجیں گے ورنہ نہیں! نوجوانوں کے ہوش اُڑ گئے۔ ساری خود اعتمادی جھاگ کی طرح بیٹھ گئی۔ باراتیوں کی جو تعداد تھی اس کیلئے دس بکرے کھانا ناممکن نظر آرہا تھا۔ تب ان میں سے ایک نے بزرگ باراتی سے پوچھا کہ چاچا جی! کوئی تدبیر سوچیے۔ بوڑھے چاچے نے سوچ کر کہا کہ ٹھیک ہے۔ شرط منظور کر لو مگر ایک شرط تم بھی رکھو کہ دس بھُنے ہوئے بکرے دسترخوان پر اکٹھے نہیں رکھے جائیں گے۔ ایک ایک بکرا لایا جائے گا۔ جب اسے کھا چکیں گے تب اگلا بکرا پیش کیا جائے گا۔ لڑکی والوں نے جوابی شرط مان لی۔ چاچے کی تدبیر کارگر نکلی۔ ایک ایک بکرا آتا گیا اور باراتی چٹ کرتے گئے۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ ایک روٹی کھانے والا شخص جب دوستوں رشتہ داروں کے ساتھ بیٹھا ہوتا ہے اور روٹی ایک ایک کر کے پیش کی جاتی ہے تو بہت زیادہ کھائی جاتی ہیں۔ ایک روٹی کھانے والا دو تین کھا جاتا ہے۔بے برکت ہے وہ گھر جس میں کوئی بزرگ نہ ہو۔ پی ایچ ڈی نوجوان کے مقابلے میں نیم تعلیم یافتہ بابا یا چاچا یا ماما بگڑے ہوئے معاملات کو بہتر طور پر سلجھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بے برکت ہے وہ محلہ جس میں بوڑھے نہ ہوں۔ جھگڑے ختم کرانا ان کیلئے نسبتاً آسان ہوتا ہے۔ بے برکت ہے وہ ملک جس کے پاس آزمودہ کار سیاستدان نہ ہوں۔ سیاست اور حکومت میں ایک عمر گزارنے والے سیاستدان گرداب میں پھنسی کشتی کو نکالنے کا ہنر جانتے ہیں۔ تجربوں کی بھٹی انہیں کندن بنا چکی ہوتی ہے۔ حکومتِ وقت جب کسی مشکل میں ہوتی ہے تو ان تجربہ کار بوڑھے سیاستدانوں سے مشورہ کرتی ہے‘ ان کی بات غور سے سنتی ہے اور با مراد ہوتی ہے۔ اس وقت ملائیشیا اور پاکستان دو ایسے خوش قسمت ملک ہیں جہاں تجربہ کار سیاستدان موجود ہیں۔ اوّل الذکر میں جناب مہاتیر محمد! اور پاکستان میں ہمارے محبوب قائد! جو کئی بار وزیر اعظم رہ چکے ہیں۔ عمر 76برس ہے اور تجربہ کم و بیش پانچ دہائیوں پر مشتمل ہے۔ صوبے اور وفاق دونوں میں بلند ترین مناصب پر رہ چکے ہیں! ان کا مقام اس وقت ایک بزرگ قائد کا ہے۔ اہلِ پاکستان خوش بخت ہیں کہ وہ ہر کڑے وقت میں قوم کے کام آتے ہیں۔ تجربے اور تدبر کا یہی تو فائدہ ہے۔اس وقت ملک کی کشتی بھنور میں ہچکولے کھا رہی ہے۔ بلوچستان میں حالات خطرناک حد تک خراب ہیں۔ عوام وہاں کے برا فروختہ ہیں‘ امن و امان عنقا ہو چکا۔ بھارت اور افغانستان دونوں اس صورتحال سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ افغانستان سے مسلسل دراندازی دوسرا بڑا مسئلہ ہے۔ ہمارے شہری‘ فوجی اور پولیس کے جوان شہید ہو رہے ہیں۔ معاشی طور پر ہم آئی ایم ایف کے پنجے میں بری طرح جکڑے ہو ئے ہیں۔ ہمارا دیرینہ دوست سعودی عرب حوثیوں کی جارحیت کا شکار ہے۔ ایران امریکہ جنگ ختم نہیں ہوئی‘ چنگاری کسی وقت بھی دوبارہ آگ بھڑکا سکتی ہے۔ عوام میں اضطراب ہے‘ بے چینی ہے۔ مگر الحمدللہ! تین بار حکمرانی کا‘ بلکہ جہانبانی کا تجربہ رکھنے والے ہمارے محبوب قائد ہم میں موجود ہیں۔ آپ ان درپیش مسائل کے حل کیلئے راتوں کو جاگ رہے ہیں اور دن بھر سفارتکاروں‘ سیاستدانوں اور ماہرینِ معیشت کی آرا سنتے اور تجزیہ کرتے ہیں۔ سب سے بڑا قدم آپ نے اس ضمن میں یہ اٹھایا کہ بسنت کے انعقاد اور حتمی تاریخ کے اعلان کے حوالے سے ہونے والے اجلاس کی صدارت فرمائی۔ پتنگ‘ ڈور اور گڈی کے نمونے دیکھے۔ اس اہم اجلاس میں کائٹ فلائنگ کی مختلف ایسوسی ایشنوں کو بھی بلایا گیا مگر انہیں ملاقات کے بغیر واپس بھیج دیا گیا۔ یہ مشاورت 2027ء کی بسنت کے حوالے سے تھی۔ ملک کے وسیع تر مفاد میں قائد نے 2026ء کی بسنت بھی اندرون شہر منائی تھی۔ انہوں نے چھت پر بیٹھ کر اُڑتی پتنگوں کا نظارہ کیا ‘ ڈور اور گڈے کو پکڑا تھا۔ ڈور کی تعریف کی تھی۔ اس موقع پر مہمانوں کے سامنے ہریسہ‘ مٹن چنے‘ انڈوں کا حلوہ اور مٹن پلاؤ پیش کیے گئے تھے۔ ہماری اطلاع کے مطابق‘ مبینہ طور پر‘ تحریک پاکستان کے شیدائی اور قائداعظم سے محبت کرنے میں پیش پیش‘ سینیٹر پرویز رشید بھی اس اہم اور تاریخی موقع پر موجود تھے۔ مگر اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی کہ قائد کے پسندیدہ پتنگ ساز جناب اشرف پیدی اس اہم موقع پر موجود تھے یا نہیں۔ یاد رہے کہ قائد محترم ایسے کاریگروں کی ہمیشہ افزائی کرتے ہیں۔ ہمارے ایک سابق سفارتکار کی ایک تصنیف کے مطابق محترم قائد نے‘ جب وہ وزیراعظم تھے‘ اپنے پسندیدہ کبابچی کو ترکی سے بلا کر سرکاری مہمان کے طور پر رکھا تھا۔ملک کی کشتی کو گرداب سے نکالنے کیلئے محترم قائد عالمی سطح پر بھی کوشش کر رہے ہیں۔ تھوڑا عرصہ پہلے وہ اسی سلسلے میں‘ ایک سپیشل طیارے میں سنگا پور تشریف لے گئے۔ قائد بخوبی جانتے ہیں کہ عالمی سیاست کا مرکز لندن ہے۔ یوں تو قائد سوئٹزر لینڈ بھی جاتے رہتے ہیں مگر ملک کے مسائل حل کرنے کیلئے سب سے زیادہ ان کا دورہ لندن کا ہوتا ہے۔ کچھ عقل کے اندھے الزام لگاتے ہیں کہ زندگی ان کیلئے پکنک سے زیادہ کچھ نہیں اور یہ کہ وہ حکومت میں ہوں یا حکومت سے باہر‘ لندن کے دورے بہت زیادہ کرتے ہیں اور وہاں ان کا قیام طویل بھی ہو جاتا ہے۔ مگر یہ محض مخالفین کا پروپیگنڈا ہے۔ کے پی اور بلو چستان کے حالات کے تناظر میں‘ تین دن پہلے وہ ایک بار پھر لندن تشریف لے گئے ہیں۔ ہفتہ ڈیڑھ پہلے قائد نے مری میں ایک اجلاس کی صدارت کی جس میں مری کے ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا گیا۔ کچھ کم نظر مخالفین نے اس پر گرہ لگائی کہ قائد محترم کو صرف لا ہور‘ رائیونڈ اور مری میں دلچسپی ہے اس لیے کہ ان کے قیمتی اور عالیشان محلات انہی شہروں میں واقع ہیں اور وہ رائیونڈ کے علاوہ صرف مری میں ہی رہنا پسند کرتے ہیں۔ اور یہ کہ ملک کے کسی اور حصے یا شہر کی ترقی سے انہیں کوئی دلچسپی نہیں۔ حالانکہ یہ سفید جھوٹ ہے۔ وہ ملک کے ہر حصے میں جاتے ہیں۔ مری کے ترقیاتی منصوبوں سے پہلے انہوں نے ملک‘ خصوصاً پنجاب کے تمام اضلاع کے ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا اور اجلاسوں کی صدارت کی۔ ملک کیلئے وہ اپنے تجربے کی روشنی میں ہمہ وقت مصروف ہیں۔ خدا ان کا سایہ ملک و قوم پر ہمیشہ رکھے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_57182973.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>زمینی اور آئینی ذمہ داریاں(خالد مسعود خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-10-13/52833/30165531</link><pubDate>Tue, 13 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-10-13/52833/30165531</guid><description>حکومت پنجاب کی جانب سے مارکیٹ میں آٹے کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کو کم کرنے کی غرض سے دس ارب روپے کی سبسڈی کی منظوری دی گئی ہے۔ یقینا یہ اقدامات ہمہ وقت مدح سرائی کرنے والوں کو نہایت خوش کن دکھائی دیتے ہوں گے‘ لیکن یہ سب اقدامات بعد از مرگ واویلا کرنے کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں۔ مرحوم فہمی بدایونی کا ایک شعر یاد آ گیا: اب ان کو یاد کر کے رو رہے ہیںبچھڑتے وقت رونا چاہیے تھا3500روپے فی چالیس کلو گرام میں خرید کردہ گندم کی قیمت مارکیٹ میں جب 5500روپے ہو گئی ہے تب سرکار کو عوام کی حالتِ زار کو دیکھتے ہوئے دس ارب روپے سبسڈی دینے کا خیال آیا ہے۔ یہ دس ارب روپے کس کس کی جیب میں جائیں گے‘ یہ سوال بڑا اہم ہے۔ ذخیرہ اندوز اپنی 3500روپے میں خرید کردہ گندم کو 5500روپے فی چالیس کلو گرام کے حساب سے بیچیں گے‘ ملیں پسائی کیلئے اپنی مہنگی خرید کردہ گندم کے عوض سستا آٹا فروخت کرنے کے نام پر حکومت سے سبسڈی وصول کریں گی۔ صورتحال یہ ہے کہ ذخیرہ کردہ گندم کی بہت بڑی مقدار خود فلور مل مالکان نے ذخیرہ کی ہوئی ہے‘ لہٰذا وہ 3500روپے فی چالیس کلوگرام میں خرید کردہ اپنی ہی گندم دوبارہ 5500روپے کے حساب سے خریدیں گے۔ یعنی اپنی ہی خرید کردہ گندم خود کو بیچ کر پہلے دو ہزار روپے فی چالیس کلوگرام کا منافع کمائیں گے‘ پھر اسی گندم پر حکومت کی جانب سے دی جانے والی سبسڈی کے پیسے بھی اپنی جیب میں ڈال لیں گے۔ اس سارے نفع در نفع والے گھن چکر کے بعد کہیں جاکر عوام کو سستا آٹا میسر ہو گا۔ اس ملک میں ملوں کو براہِ راست سبسڈی دینے کی تاریخ بتاتی ہے کہ اس قسم کی سبسڈی کا بیشتر حصہ مل مالکان خود ہی غتربود کر جاتے ہیں۔ فلور ملز میں سبسڈی والی سستی گندم کی مقدار ان کی کل پیداوار کا چھوٹا سا حصہ ہوتا ہے۔ اس طرح فلور مل کے پسائی کردہ آٹے کا بیشتر حصہ مارکیٹ ریٹ کے مطابق بکتا ہے‘ جبکہ بہت تھوڑا حصہ سبسڈی والی گندم کے حوالے سے سستے آٹے پر مشتمل ہوتا ہے۔ یعنی ایک ہی مل دو مختلف قیمتوں پر مارکیٹ میں آٹا فروخت کر رہی ہوتی ہے۔ اگر ان کی کل پسائی کا 30فیصد سبسڈی والی گندم کے آٹے پر مشتمل ہوتا ہے  تو یہ مقدار اس نظام کی مانیٹرنگ پر متعین محکمہ فوڈ کے افسران کے تعاون سے انجمن امدادِ باہمی کے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے پندرہ بیس فیصد رہ جاتی ہے۔ اس طرح فلور ملز مالکان حکومت کی طرف سے وصول کردہ سبسڈی والی گندم سے حاصل ہونے والے  آٹے کا بیشتر حصہ بھی مارکیٹ کی قیمت کے مطابق فروخت کر کے مزید منافع کما لیتے ہیں۔اب اگر اس ساری چکر بازی کو سامنے رکھا جائے تو پہلے تو فلور ملز مالکان نے اپنی 3500روپے فی چالیس کلوگرام میں خرید کردہ  گندم خود اپنے آپ کو 5500روپے فی چالیس کلوگرام میں فروخت کر کے دو ہزار روپے کا خالص منافع اپنی جیب میں ڈال لیا‘ پھر اسی گندم پر حکومت کی طرف سے سبسڈی وصول کر کے اپنی جیب میں دوسری بار منافع ڈالا۔ تیسری بار یہ کیا کہ اس سبسڈی والی گندم سے پسائی ہونے والے آٹے کا بیشتر حصہ مہنگے آٹے کے ساتھ ملا کر فروخت کیا اور تیسری بار منافع کما لیا‘ اور عوام کو وہ سب فوائد حاصل نہ ہو سکے جن کو مدنظر رکھتے ہوئے سبسڈی دی جاتی ہے‘ اور اب اس دس ارب روپے والی سبسڈی کے ساتھ بھی یہی سلوک ہوگا۔ یاد رہے کہ اس معاملے کی ابتدا اس بات سے ہوئی کہ گندم کی کٹائی کے بعد کاشتکار کو اس کی فصل کا ٹھیک ریٹ نہ مل سکا اور اب حکومت کی جانب سے دی جانے والی سبسڈی میں سے بھی کاشتکار کو کچھ نہیں ملا۔ یعنی حالیہ اعلان کردہ سبسڈی کا فائدہ بھی انہی لوگوں کو ہو گا جو پہلے سے ہی فائدے میں ہیں۔ پہلے ان کی پانچوں انگلیاں گھی میں تھیں اب سر بھی کڑاہی میں ہے۔ اگر یہ دس ارب روپے یا ممکن ہے اس سے تھوڑے بہت زیادہ پیسے گندم کی خریداری کے وقت حکومتِ پنجاب کاشتکاروں کو دے دیتی اور گندم کی خرید کی درست پالیسی بنا لیتی تو آج حکومت کو یہ سبسڈی نہ دینا پڑتی۔ درست وقت پر دیے جانے والے یہ دس ارب روپے اگر درست ہاتھوں میں پہنچ جاتے تو نہ صرف یہ کہ گندم کی قیمتیں مناسب حد تک کنٹرول میں رہتیں بلکہ اچھا ریٹ ملنے کی وجہ سے کاشتکار اگلے سیزن میں زیادہ محنت‘ خوشی اور دلجمعی کے ساتھ گندم کاشت کرتا۔ لیکن حکومت میں بیٹھے ہوئے منصوبہ سازوں کو سوائے ذاتی جیبوں کا وزن بڑھانے کے علاوہ اور کوئی کام درست طریقے سے کرنے کا نہ سلیقہ ہے اور نہ ان کی ترجیحات میں عوام کا فائدہ ہی کوئی حیثیت رکھتا ہے۔ گزشتہ کالم میں مَیں نے یہ لکھا تھا کہ یہ وقت حکومت کی جانب سے گندم کی پالیسی کو اناؤنس کرنے کا ہے۔ گندم کی آئندہ کاشت کا سارا دارومدار اس اعلان کردہ پالیسی پر ہوتا ہے۔ کسان گندم کی کاشت کا فیصلہ آئندہ سیزن کی سپورٹ پرائس اور حکومتی خرید کی پالیسی کو مدنظر رکھتے ہوئے کرتا ہے۔ گندم کی کاشت شروع ہونے میں اب زیادہ دن نہیں رہ گئے۔ اگر یہ دن گزر گئے تو اس کے بعد حکومت خواہ کتنی ہی اچھی قیمت اور کتنی ہی اچھی خرید پالیسی کا اعلان کر دے‘ سب کچھ بے فائدہ ہوگا۔پاکستان میں فصلوں کی کاشت کا پیٹرن مکمل طور پر نہ سہی مگر کسی حد تک ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے۔ اگر کسی سال ایک فصل خراب ہو اور اسی سال کسی اور فصل میں دوسرے کاشتکار کو چار پیسے بچ جائیں تو آئندہ سیزن میں کاشتکار اپنی ترجیحات بدل لیتے ہیں۔ جس فصل میں اس کو نقصان ہوا ہو جبکہ دوسرے کاشتکار کو اپنی فصل میں فائدہ ہوا ہو تو نقصان اٹھانے والا کاشتکار اگلے سال مکمل طور پر نہ سہی مگر کسی حد تک نفع آور فصل کی طرف منتقل ہو جاتا ہے۔ گزشتہ سال بھی یہی کچھ ہوا‘ گندم کے کاشتکار کو تو گزشتہ دو سال میں نقصان ہوا تاہم اسی دوران گنے کے کاشتکار کی نہ صرف فصل نسبتاً بہتر ہوئی بلکہ اس کو گنے کا ریٹ بھی اچھا ملا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اس کے نفع کی شرح فیصد بہت بہتر ہو گئی۔ گزشتہ دو سال سے مسلسل بری صورتحال کے شکار گندم کے کاشتکار کے علاوہ بھی اگر کسی اور فصل میں کاشتکار کو نقصان ہوا تھا تو وہ بھی نفع آور فصل یعنی گنے کی طرف چلا گیا۔ اس سال گنے کی نہ صرف یہ کہ فصل بہتر ہے بلکہ ایک اندازے کے مطابق گنے کی کاشت کا رقبہ پندرہ فیصد تک بڑھ چکا ہے۔ مستقبل کا منظر نامہ کچھ یوں ہے کہ اس سال پاکستان میں چینی کی پیداوار 7.7ملین ٹن یعنی ستتر لاکھ ٹن ہوئی جبکہ ملک میں چینی کی کھپت 6.6ملین ٹن ہے یعنی فی الوقت ملک میں 1.1ملین ٹن یعنی گیارہ لاکھ ٹن چینی ضرورت سے زائد ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ سے پیوستہ سال چینی کی پیداوار 5.8ملین ٹن تھی۔ یعنی ایک سال میں چینی کی پیداوار 32فیصد سے زیادہ بڑھی۔ آئندہ سال اگر ایک محتاط تخمینے کے مطابق گنے کی فصل میں بہتری کو ایک طرف رکھتے ہوئے صرف پندرہ فیصد اضافی رقبے سے پیدا ہونے والی چینی کو بنیاد بنائیں تو چینی کی پیداوار 8.85ملین ٹن ہو جائے گی۔ چینی کی کھپت کی 26کروڑ کی ملکی آبادی میں اضافے کی شرح 2.55فیصد کے ساتھ نسبت بنائیں تو اگلے سال ہمارے پاس 2.09ملین ٹن یعنی اس سال سے تقریباً دو گنا چینی سرپلس ہو گی۔ نتیجہ یہ نکلے گا کہ نہ صرف ملوں کے باہر کھڑی ٹرالیوں پر لدے ہوئے گنے کی قیمت گر جائے گی بلکہ گنے کے کاشتکار کو ملوں کی جانب سے ادائیگیوں میں بھی بہت بڑا مسئلہ درپیش ہو گا۔جو منظر نامہ زراعت کے اس طالبعلم کو دکھائی دے رہا ہے وہ حکومت کو کیوں دکھائی نہیں دے رہا؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ سرکار زمینی کے بجائے اور بہت سی آئینی ذمہ داریاں بھگتانے میں مصروف ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90500073.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>جنگ کو پھیلنے سے روکیں(ڈاکٹر حسین احمد پراچہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-10-13/52834/26564869</link><pubDate>Tue, 13 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-10-13/52834/26564869</guid><description>ہفتے کے روز سعودی دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد ایئر پورٹ پر حوثیوں کے میزائل حملوں سے 13 افراد جاں بحق اور 300 سے زائد زخمی ہو گئے۔ سوموار کو اس ہوائی اڈے کو دوبارہ نشانہ بنایا گیا۔ یہ بہت افسوسناک اور نہایت ہی قابلِ مذمت حملے ہیں۔ ادھر امریکہ اور ایران کی جنگی صورتحال جوں کی توں ہے۔ آبنائے ہرمز پر دوطرفہ کنٹرول کے دعوے ہو رہے ہیں۔ کئی ماہ قبل پاکستان کی مخلصانہ کوششوں سے ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدۂ اسلام آباد طے پایا تھا جس سے یہ امید بندھی تھی کہ خطے میں امن و امان قائم ہوگا۔ دنیا میں تیل کی قیمتیں کم ہوں گی اور سب کو سکھ کا سانس نصیب ہوگا مگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی متلون مزاجی اور صبح کچھ شام کچھ پالیسی کی بنا پر اب تک بات بن نہیں سکی۔ عسکری جنگ کے بعد امریکہ نے ایران پر اقتصادی جنگ بھی مسلط کر دی ہے۔سعودی خواص اور عوام پاکستان کو اپنا سچا اور مخلص ترین دوست ہی نہیں بھائی سمجھتے ہیں۔ ارضِ مقدس میں اپنے طویل قیام کے دوران میرے چشم دید مشاہدات کے مطابق سعودی حکمران اپنے پاکستانی بھائیوں پر بہت زیادہ اعتماد کرتے ہیں۔ پاکستان کا سعودی عرب سے کوئی معاہدہ ہو یا نہ ہو‘ پاکستان حرمین شریفین کے دفاع کو اہم ذمہ داری سمجھتا ہے۔ تاہم حالات کی پیچیدگی کے مطابق اس وقت سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ خطے میں جنگ کو پھیلنے سے روکا جائے۔ دو مسلم ملکوں کے مابین کشیدگی کو کم کیا جائے اور ساری کوششیں ارضِ فلسطین میں اسرائیل کی ظالمانہ و سفاکانہ حرکتوں اور حملوں کے خاتمے پر مرکوز کی جائیں۔ آزادیٔ فلسطین کو مطلوب و مقصود قرار دیا جائے۔ سب سے پہلے ایک بنیادی حقیقت سمجھ لینی چاہیے کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے خطے میں امریکی فوجوں اور اس کے برّی و بحری ٹھکانوں کا مقصد اسرائیل کا دفاع‘ پیٹرو ڈالر اور علاقے کے عرب مسلم ملکوں کے درمیان باہمی جنگیں چھیڑنے اور انہیں زیادہ سے زیادہ ہوا دینے کی کوششیں کرنا ہے۔ 1970ء سے تیل کی دولت سے مالا مال ممالک نے اپنے دفاع کا تمام تر انحصار امریکہ پر رکھا ہوا تھا۔ اس کیلئے وہ ناقابلِ تصور حد تک امریکہ کو ادائیگیاں کرتے رہے مگر جب اُن کے دفاع کا موقع آیا تو سعودی عرب سمیت خلیجی ریاستوں کو احساس ہوا کہ امریکہ عربوں کیلئے اپنی دفاعی ذمہ داریوں سے دست کش ہو چکا ہے۔ اس وقت معاہدۂ مکہ کے تحت پاکستانی فوجیں سعودی عرب کے اندر رہتے ہوئے ارضِ مقدس کا دفاع کر رہی ہیں۔ پہلے جمعرات‘ پھر جمعہ کو پاکستانی وزارتِ خارجہ نے اعلان کیا کہ مکہ معاہدے کا مقصد سعودی عرب کا دفاع ہے‘ یمن میں فوجی کارروائیاں نہیں۔ ان بیانات کا یہ مقصد واضح ہے کہ پاکستان کسی دوسرے مسلم ملک کے اندر جا کر کارروائیاں کرنے کے حق میں نہیں ہے۔یمن اور سعودی عرب کا تنازع آج کا نہیں بہت پرانا ہے۔ سعودی عرب کے جنوب میں واقع عیسر‘ خمیس مشیط اور نجران کی ملکیت دونوں ملکوں کے درمیان متنازع تھی۔ 1934ء میں اُس وقت کے شاہ عبدالعزیز آل سعود نے ان علاقوں پر قبضہ کیا تھا۔ بعد ازاں اسی برس معاہدۂ طائف کے تحت یمن نے مذکورہ بالا علاقوں پر سعودی عرب کی ملکیت تسلیم کر لی تھی۔ 1962ء میں یمن میں بادشاہت کا خاتمہ ہوا تو مصر کے اُس وقت کے فوجی صدر جمال عبدالناصر نے نئی حکومت کی معاونت کیلئے 70 ہزار فوجی یمن بھیجے جس پر سعودی عرب اور مصر کے تعلقات کشیدہ ہو گئے کیونکہ سعودی عرب یمنی بادشاہت کی حمایت کر رہا تھا۔ 1990ء میں یمن نے کویت کے معاملے پر سعودی مؤقف کی حمایت نہ کی تو سعودی عرب نے آٹھ لاکھ یمنیوں کو وہاں سے نکال دیا۔ اس سے پہلے سعودی شاہی خاندان کی سینئر قیادت نے یمنیوں کی تالیفِ قلب کی خاطر انہیں سعودی عرب میں عربوں اور غیر عربوں کے مقابلے میں بہتر ورکنگ حقوق دے رکھے تھے۔ سعودی عرب میں ہر ورکر کو سرکاری یا غیر سرکاری کفیل کی ضرورت ہوتی ہے مگر یمنی تنور پر روٹیاں لگانے‘ گاڑیوں کی ورکشاپس اور اسی نوعیت کے چند اور کام بغیر کفیل کے کرنے کے مجاز تھے۔1979ء میں جہیمان عتیبی کی قیادت میں ایک انتہا پسند مذہبی گروہ نے مسجد الحرام مکۃ المکرمہ پر قبضہ کر لیا جو دو ہفتے تک جاری رہا۔ تب ہمارے سعودی بھائیوں کو اندرونِ ملک سعودی عرب کے دفاع کی شدید ضرورت محسوس ہوئی۔ 1982ء میں جنرل محمد ضیا الحق کے زمانے میں سعودی عرب اور پاکستان کے مابین ایک تاریخی نوعیت کا معاہدہ ہوا جسکے مطابق سعودی فوجیوں کی عملی تربیت کے ایک وسیع پروگرام کیلئے پاکستان کے عسکری ماہرین اور فوجی دستے وہاں متعین کیے گئے۔ میں تب سعودی عرب میں موجود تھا۔ پاکستان اور سعودی عرب کے عسکری تعاون کی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا کہ جب سعودی جوانوں اور افسروں کی تنخواہوں کے مطابق ہی پاکستانی فوجیوں کے مشاہرے طے پائے۔ سعودی عرب اور یمن کے مابین تنازع کسی نہ کسی صورت چلتا رہا۔ 2015ء میں سعودی عرب کی خواہش تھی کہ پاکستان یمن میں اپنی فوجیں بھیجے۔ اس وقت وزیراعظم میاں نواز شریف نے معاملہ پارلیمنٹ کے سامنے رکھا تو پارلیمنٹ کی متفقہ رائے یہ تھی کہ ہم سعودی عرب کے اندر تو اپنے بھائیوں کا دفاع کریں گے مگر یمن میں فوجیں نہیں بھیجیں گے۔ 1979ء میں ایران میں خمینی صاحب کا انقلاب آیا تو عرب ریاستوں کو امریکہ وغیرہ نے درپردہ ڈرایا کہ اسی طرح تمہاری بادشاہتوں کا بھی خاتمہ ہو سکتا ہے‘ اسلئے آپکو پیش بندی کرنی چاہیے۔ حالانکہ ان ریاستوں کی عوام دوست پالیسیوں کی بنا انہیں کوئی خطرہ نہ تھا۔ تاہم صدام حسین نے کئی امیر عرب ریاستوں کی پشت پناہی سے 1980ء میں ایران پر حملہ کر دیا۔ اس طرح عرب دنیا کی سب سے بڑی‘ عراقی فوج بے حد کمزور ہو گئی۔ ادھر ایران ابھی انقلابی اقدامات سے سنبھل بھی نہ پایا تھا کہ اسے جنگ کی ہلاکت خیزیوں اور ہولناکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ 2003ء میں امریکہ کی طرف سے کہا گیا کہ عراق کے پاس مہلک کیمیائی ہتھیار ہیں۔ اس بہانے کے تحت عراق کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی۔ 2011ء میں تیونس سے بہارِ عرب کی لہر چلی تو بہت سے ملکوں میں عوامی احتجاجی لہریں اٹھیں۔ تیونس اور مصر کی دہائیوں پرانی آمریتیں ڈھیر ہو گئیں۔ امیر عرب ریاستوں کو ایک بار پھر باور کرایا گیا کہ جمہوری حکومتیں تمہارے لیے خطرہ ہیں حالانکہ ایسی ہرگز کوئی بات نہ تھی۔ مصر میں تین دہائیوں کے بعد پہلے آزادانہ انتخابات میں محمد مرسی کی منتخب حکومت کا جنرل السیسی نے امریکہ کی اشیرباد اور عرب ریاستوں کی مدد سے تختہ الٹ دیا۔اب سوال ہے کہ حوثی کون ہیں؟ اس تحریک کا آغاز حسین بدر الدین حوثی نے 1990ء کی دہائی میں حکومت کے خلاف آواز اٹھا کر کیا تھا۔ اس تحریک کا نام انصار اللہ ہے۔ 2014ء میں حوثیوں نے دارالحکومت صنعا پر قبضہ کر لیا۔ ملک کے شمالی علاقوں پر اُن کا قبضہ ہے۔ حوثی قبیلہ یمن کی کل آبادی کا 33 فیصد ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ ملک کی اکثریت اُن کے ساتھ ہے۔ آبنائے باب المندب کا کنٹرول حاصل کرنے کیلئے باہمی جنگ میں چوبیس گھنٹوں میں63 افراد ہلاک ہوئے جن میں 35 یمنی فوجی اور 28 حوثی تھے۔ ان جھڑپوں کے نئے پرانے جو بھی اسباب ہوں‘ حوثیوں کو فوراً حملے روک دینے چاہئیں اور پاکستان کو دوطرفہ کشیدگی ختم کرانے کیلئے بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے۔ خطے میں دو مسلم ملکوں کے درمیان جنگ ہوتی ہے تو سب سے زیادہ خوشی اسرائیل کو ہوتی ہے۔ دیکھئے ایک ہندو شاعر لالہ مادھو رام جوہر کا شعر ہم مسلمانوں پر کتنا صادق آتا ہے:جو دوست ہیں وہ مانگتے ہیں صلح کی دعادشمن یہ چاہتے ہیں کہ آپس میں جنگ ہو</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_70033906.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سول سروس: وقت بدل گیا‘ نظام نہیں(شاہد کاردار)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-kardar-/2026-10-13/52835/15800277</link><pubDate>Tue, 13 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-kardar-/2026-10-13/52835/15800277</guid><description>کسی بھی نظام میں اعلیٰ عہدوں پر فائز افراد کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ پالیسیوں کا تجزیہ کریں لیکن پاکستان میں سول سروس کے نظام کی تشکیل اس طرح ہوئی کہ پالیسی سازی کی مہارت میں اضافہ کرنے میں اس کا کردار بہت کم ہے۔ اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ ایک جنرلسٹ گروپ یعنی پی اے ایس (سابقہ ڈی ایم جی) کے افراد کی اعلیٰ ملازمتوں پر اجارہ داری ہے حالانکہ ان کا علم اور مہارت محدود ہے۔ یہ گروپ تمام اہم اور بڑے عہدوں پر فائز ہے اور انہیں کنٹرول کرتا ہے۔ پی اے ایس کا تیار کردہ سول سروس کا ڈھانچہ ماضی میں پھنسا ہوا ہے۔ سپیشلائزیشن کے موجودہ دور میں ایک جنرلسٹ جس کے پاس غیر ٹیکنیکل تعلیمی ڈگری ہو اور وہ صبح کے وقت سیکرٹری تعلیم‘ دوپہر میں سیکرٹری صحت اور شام کو سیکرٹری خزانہ بن سکتا ہے حالانکہ اس کے پاس بدلتے ہوئے دور اور ٹیکنالوجیکل پیش رفت کے مطابق خود کو ڈھالنے کی صلاحیت موجود نہیں۔ یہ افسران خود کو ہی حکومت اور نظام کا محافظ سمجھتے ہیں (جیسا کہ صوبائی رُولز آف بزنس میں درج ہے) اور یہ کہ وہ ایک خاص الخاص منتخب طبقہ ہیں۔ انہیں ہنرمند پیشہ ور ماہرین (سرکاری شعبے میں ڈاکٹروں‘ سائنسدانوں وغیرہ) یا حکومت کے نچلے درجے کے ملازمین کے مقابلے میں برتر سمجھا جاتا ہے اور یہ ضمانت دی گئی ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ عہدے میں ترقی ملتی رہے گی۔ عام بات ہے کہ ان کی جلد پروموشن کیلئے غیر ضروری اور فالتو نئے عہدے بنائے جاتے ہیں۔ بعض اوقات‘ ترقی کی ضرورت کو پورا کرنے کیلئے ایک عہدے کو مزید تقسیم کر دیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں ذمہ داری بکھر جاتی ہے۔ نتیجتاً ملک ایک ایسے نظام کو بچانے کیلئے بھاری قیمت ادا کرتا ہے جس میں کوئی دوسرا انتظامی عملہ اتنی جلدی ترقی نہیں کرتا اور سول سروس میں اعلیٰ ترین سطحوں تک پہنچنے کے قابل نہیں ہوتا۔اگرچہ پی اے ایس افسران اپنے کیریئر کے تقریباً نصف حصہ میں پالیسی سازی سے متعلق عہدوں پر فائز رہتے ہیں۔ ان عہدوں پر کام کرنے کیلئے متعلقہ مخصوص شعبے کا علم ہونا ایک اہم ضرورت ہے لیکن ان کے بار بار تبادلے ہوتے رہتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں یہ ترغیب نہیں ہوتی کہ وہ ایک مخصوص شعبے کا علم حاصل کریں‘ لہٰذا فیصلہ سازی کرنے والے جنرلسٹ سے پہنچنے والے نقصانات بار بار ہونے والے ان تبادلوں کے نظام کی وجہ سے مزید بڑھ گئے ہیں۔ اس کے نتیجے میں سول سرونٹس کا احتساب بھی نہیں کیا جا سکتا اور نہ کارکردگی کی بنیاد پر ان کی قدر وقیمت متعین کی جا سکتی ہے۔ پی اے ایس افسران اپنی کارکردگی کے حوالے سے اپنے علاوہ کسی اور کے سامنے جوابدہ نہیں۔ ان کی کارکردگی کی جانچ کا عمل اور رپورٹیں خفیہ ہوتی ہیں۔ مضحکہ خیز بات ہے کہ ایک طرف تو وہ زور وشور سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ملک کی معیشت میں سرگرم لوگ یا گروہ مسابقتی ماحول میں کام کریں اور کارکردگی کی بنیاد پر ڈوبیں یا تیریں لیکن دوسری طرف اس بات کی مخالفت کرتے ہیں کہ خود ان کی ترقیوں کیلئے کارکردگی کو بنیادی معیار بنایا جائے۔ مزید یہ کہ سرکاری ملازمین کے عوامی احتساب کے طریقہ کار‘ جیسے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اور شکایات کے ازالے کے دیگر نظام موجود ہیں لیکن مؤثر نہیں ہیں۔ مثال کے طور پر پنجاب میں 1985ء سے 2000ء کے عرصے کے دوران صرف 102سرکاری اہلکاروں کے خلاف کسی بے قاعدگی پر کارروائی کی گئی اور ان میں بھی سزا کی شرح 20 فیصد سے کم رہی جبکہ کارروائیاں کئی سال تک جاری رہیں۔ یہ نظام سرکاری ملازمین کا تحفظ کرتا ہے۔ حتی کہ ان لوگوں کے خلاف کارروائی کرنا بھی مشکل ہے جو ڈیوٹی پر حاضر نہیں ہوتے چہ جائیکہ ان لوگوں کے خلاف کارروائی کی جائے جو دفتر آتے تو ہیں لیکن کوئی خدمت فراہم نہیں کرتے۔ رہنما اصول یہ ہے کہ پالیسی پر عملدرآمد کا محور میرٹ پر منتخب فرد کو بنایا جائے۔ اگر فرد کی اہلیت کو کم اہم سمجھا جائے تو مؤثر ادارہ جاتی انتظام اور اس سے وابستہ نظام کی تشکیل نہیں کی جا سکتی۔ مرکزی کنٹرول: اس وقت ہمارے انتظامی ڈھانچے میں اختیار اور فیصلہ سازی حد سے زیادہ مرکزیت کی حامل ہے اور بعض اوقات شخصیات کے گرد گھومتی ہے۔ اس سبب نچلی سطح پر کام کرنے والوں کے لیے پہل کرنے یا کوئی کام شروع کرنے کی گنجائش بہت کم رہ جاتی ہے۔ انتہائی سخت کنٹرول والے نظام میں پروسیجرز سے متعلق معلومات بآسانی دستیاب نہیں ہوتیں اور قواعد و ضوابط کا نفاذ غیر شفاف‘ من مانے اور صوابدیدی انداز میں کیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ نظام میں فیصلے کو روکنے کا اختیار یعنی ویٹو بھی بڑے پیمانہ پر موجود ہے۔ تقریباً کوئی بھی شخص کسی کام کو ناکام بنا سکتا ہے۔ ایک معمول بن گیا ہے کہ جوں جوں وقت گزرتا ہے اداروں کو کمزور کرکے اختیارات کو شخصی بنا دیا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں منصب پر موجود افراد من مانے طریقہ سے لوگوں کی سرپرستی کرتے اور مراعات تقسیم کرتے ہیں۔ اس کلچر میں معاملات کو آگے بڑھانے کیلئے غیر ادارہ جاتی طریقہ کار استعمال کیے جاتے ہیں یا کارروائی اور طریقہ کار کو اپنے مقصد کے مطابق توڑا مروڑا جاتا ہے۔سرکاری ملازمین بالخصوص پی اے ایس وزرا کو &#39;&#39;بیرونی عناصر‘‘ سمجھتے ہیں جو پالیسی سازی کے عہدوں پر عارضی طور پر فائز ہوتے ہیں اور جنہیں خوش رکھا جانا چاہیے۔ یہ رویہ اس لیے بھی مضبوط ہوجاتا ہے کہ عمومی طور پر سیاستدانوں کی اپنے متعلقہ شعبہ کے بارے میں معلومات ناکافی ہوتی ہیں اور اہلیت بھی کم ہوتی ہے۔ سرکاری افسروں کے سیاستدانوں کے بارے میں اس تصور کو اس طرح ختم کیا جا سکتا ہے کہ عہدے کے فوائد وزیر اور افسروں میں باہمی تقسیم کردیے جائیں۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مندرجہ بالا نظام سیاسی ڈھانچے میں گہری جڑیں پکڑ چکا ہے جس کی وجہ سے اس سول سروس کی دیانتداری‘ خودمختاری‘ غیر جانبداری اور اہلیت متاثر ہوئی ہے۔ اس نظام اور تبادلوں کی دھمکی نے سیاستدانوں کو یہ اختیار دے دیا کہ وہ افسر شاہی پر اپنا اثر ورسوخ قائم کرنے کے لیے افسروں کے ساتھ &#39;&#39;ذاتی وفاداریاں‘‘ اور گٹھ جوڑ بنائیں۔ یہ اتحاد سرکاری افسر کے پورے ملازمتی دور تک قائم رہتے ہیں۔ سیاستدان من پسند افسروں کو اہم عہدوں پر تقرر کرکے انہیں مخصوص لوگوں کی سرپرستی کرنے اور نوازشات دینے کیلئے استعمال کرتے ہیں جبکہ خود سیاستدانوں کو ان کاموں کی ذمہ داری قبول نہیں کرنا پڑتی۔ بعض سرکاری ملازمین کے سیاسی آقاؤں کے سامنے جھک جانے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ان افسروں کی قابلیت اور مہارتیں محدود یا ناکافی ہوتی ہیں جس کے باعث مارکیٹ میں ان کی قدرو قیمت محدود رہ جاتی ہے اور ان میں کوئی دوسری ملازمت یا آمدنی کا موقع حاصل کرنے کی صلاحیت نہیں رہتی؛ چنانچہ ان میں سے کئی افراد سرکاری ملازمت میں عہدے حاصل کرنے کیلئے اپنے محکمے کے اندر موجود ذاتی تعلقات یا سیاسی قیادت سے روابط کے ذریعے جوڑ توڑ اور لابنگ پر انحصار کرتے ہیں‘ اس لیے ان لوگوں میں زیادہ لچک آ جاتی ہے اور یہ زیادہ جھکنے لگتے ہیں۔ ملازمت سے سبکدوشی کے بعد حکومت کے ڈھانچے میں آرام دہ اور مراعات یافتہ عہدوں کا لالچ ان افسروں میں مزید لچک پیدا کر دیتا ہے۔ وہ خود کو ایسا بنا لیتے ہیں کہ آسانی سے دباؤ قبول کر لیں۔ آج کل بعض اعلیٰ افسران کو سبکدوشی کے بعد نجی شعبہ بھی ملازمت دے دیتا ہے اس لیے نہیں کہ ان میں کوئی مخصوص علمی مہارت یا قابلیت ہوتی ہے بلکہ اس لیے کہ وہ اپنے پرانے تعلقات اور اثر ورسوخ کے باعث سرکاری فیصلوں پر اثر انداز ہو کر اس نجی ادارے کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔ آئندہ مضمون میں ہم اس موضوع کو مزید آگے بڑھائیں گے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_78012569.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>خیبرپختونخوا ایمرجنسی: کس کی جیت؟(رشید صافی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-10-13/52836/91824288</link><pubDate>Tue, 13 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-10-13/52836/91824288</guid><description>خیبرپختونخوا کی موجودہ سیاسی و انتظامی صورتحال نے ایک ایسا موڑ مڑا ہے جہاں ریاست کو انتہائی غیرمعمولی اقدامات کرنا پڑے۔ وفاقی حکومت نے بالآخر وہ بڑا قدم اٹھا لیا جس سے بالعموم جمہوری حکومتیں گریز کرتی ہیں مگر حالات کی سنگینی کے باعث یہ فیصلہ ناگزیر سمجھ کر کیا گیا۔ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ ہو چکا ہے اور صوبے کی انتظامی باگ ڈور اب بالکل نئے سانچے میں ڈھل چکی ہے۔ صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے وزیراعظم شہباز شریف کی ایڈوائس پر آئین کے آرٹیکل 232اور 234کا ایک ساتھ استعمال کرتے ہوئے خیبرپختونخوا میں بیک وقت ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کر دیا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 232کا نفاذ ملک یا اس کے کسی بھی حصے میں اندرونی و بیرونی خطرات‘ جنگ یا سنگین سکیورٹی بحران کی صورت میں کیا جاتا ہے‘ جبکہ آرٹیکل 234خاص طور پر اس وقت لگایا جاتا ہے جب کسی صوبے میں حکومت آئینی شقوں کے مطابق چلانا ناممکن ہو جائے یا صوبائی انتظامیہ وفاق کی ہدایات پر عمل کرنے میں ناکام رہے۔ ان دونوں شقوں کے بیک وقت نفاذ سے نہ صرف صوبے میں ہنگامی اختیارات نافذ ہو گئے ہیں بلکہ صوبائی حکومت کے تمام انتظامی اختیارات بھی گورنر کو منتقل ہو گئے ہیں۔ ایوانِ صدر کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں ایمرجنسی کے نفاذ کی تمام تر تفصیلات پیش کر دی گئی ہیں جن کے اعادے کی یہاں ضرورت نہیں؛ البتہ دو سوالات نہایت اہمیت کے حامل ہیں کہ وفاقی حکومت کو خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی اور دوسرا یہ کہ پی ٹی آئی نے اس صورتحال میں کیا کھویا اور کیا پایا؟وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات اور امن و امان کی بگڑتی صورتحال کو ایمرجنسی کے نفاذ کا جواز بنایا ہے۔ تاہم اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اس انتہائی آئینی اقدام تک معاملات پہنچانے میں پی ٹی آئی کی اپنی داخلی سیاست اور حکمت عملی کا حصہ بھی کم نہیں ۔ پی ٹی آئی کے اندر موجود سخت گیر گروپ بھی ایمرجنسی کے نفاذ میں برابر کا شریک ہے۔ عمران خان جس دن گرفتار ہوئے اسی دن سے ان کی رہائی کیلئے ہر ممکن کوششوں کا آغاز کر دیا گیا تھا۔ جب قانونی راستوں اور عدالتوں سے متوقع ریلیف نہ مل سکا تو پارٹی کے اندر تدریجی طور پر یہ سوچ پختہ ہونے لگی کہ خان صاحب کو صرف اور صرف سڑکوں پر احتجاج اور شدید عوامی دباؤ کے ذریعے ہی رہا کرایا جا سکتا ہے۔ سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کے دورِ حکومت میں پے در پے ناکام احتجاجی کالز اور اسلام آباد کی جانب پیش قدمی میں ناکامی کے بعد پارٹی کی صفوں میں شدید بے چینی پھیلی۔ اس سے تحریک انصاف کے اندر یہ سوچ پیدا ہوئی کہ صوبائی اور مرکزی قیادت ایسے سخت گیر افراد کے ہاتھ میں ہونی چاہیے جو خان صاحب کی رہائی کے معاملے پر ہر طرح کا سیاسی و انتظامی دباؤ قبول کر سکیں اور کسی بھی قیمت پر‘ کسی بھی قسم کی مصلحت کا شکار نہ ہوں۔ اگرچہ کہنے کو فرنٹ فٹ پر سہیل آفریدی نظر آ رہے تھے مگر جنید اکبر خان‘ بابر سلیم سواتی‘ مراد سعید‘ زرتاج گل‘ شیخ وقاص اکرم اور سلمان اکرم راجہ جیسے پارٹی رہنماؤں پر مشتمل پورا گروپ اسی سخت گیر سوچ کا حامل ہے۔ یہ گروپ علی امین گنڈا پور کی وزارتِ اعلیٰ کے دور میں بھی ان پر مسلسل دباؤ ڈالتا رہا کہ وہ نرم رویہ ترک کریں۔ بعد ازاں اسی گروپ کے دباؤ کے نتیجے میں علی امین گنڈا پور کو عہدے سے ہٹایا گیا۔ جب یہ سخت گیر گروپ مکمل طور پر اقتدار اور فیصلے سازی کے اختیارات میں آیا تو ان کا سب سے بڑا اور بنیادی مقصد صرف عمران خان کی رہائی ہی رہا۔ نجی محافل اور اندرونی اجلاسوں میں کارکنان اور پارٹی عہدیداروں کو بار بار یہ یقین دہانی کرائی گئی کہ خان صاحب کی رہائی کیلئے نہ تو کسی قسم کا سمجھوتا کیا جائے گا اور نہ ہی ماضی کی طرح مصلحت کا شکار ہوا جائے گا۔ اس یقین دہانی کے بعد دھیرے دھیرے سہیل آفریدی پر کارکنوں کا دباؤ بڑھنے لگا۔ وقتاً فوقتاً نیچے سے اوپر تک یہی سوال پوچھا جانے لگا کہ خان صاحب کی رہائی کے سلسلے میں عملی طور پر کیا پیش رفت ہوئی ہے؟ ظاہر ہے کہ سہیل آفریدی کے پاس اقتدار میں رہتے ہوئے کوئی جادوئی چھڑی یا راستہ نہ تھا سوائے اس کے کہ وہ احتجاج کی کال دے کر سب کچھ داؤ پر لگا دیں اور پارٹی کیلئے ایک طرح سے سیاسی شہید بن کر کچھ کر دکھائیں۔پاکستان کی سیاسی تاریخ شاہد ہے کہ جس پارٹی کو سیاسی شہید ملا‘ اسے طویل مدتی سیاسی فائدہ حاصل ہوا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ پہلے ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے سانحے سے پارٹی کو بے پناہ سیاسی اور عوامی فائدہ ملا‘ اور پھر بعد میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت سے پارٹی کو دوبارہ سیاسی فائدہ حاصل ہوا۔ پیپلز پارٹی ان شہادتوں کو اپنی سیاسی جدوجہد میں فخر کے طور پر پیش کرتی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف سے نو مئی کے واقعات کی صورت میںجو سنگین غلطی ہوئی ‘ پارٹی اس کا سیاسی اور قانونی خمیازہ آج تک بھگت رہی ہے۔ تاہم عمران خان کی طویل ہوتی قید‘ صوبائی حکومت کا خاتمہ اور ایمرجنسی کا نفاذ اب اسے ایک بار پھر عوام میں ہمدردیاں حاصل کرنے کا موقع فراہم کر سکتا ہے۔ یہ اقدام پی ٹی آئی کو مظلومیت کا بیانیہ بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔ ایمرجنسی کے نفاذ کے فوری بعد جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی پریس کانفرنس نے بھی صورتحال کو واضح کر دیا ہے‘ جس سے پی ٹی آئی کو غیر متوقع اخلاقی حمایت حاصل ہوئی ہے۔ عام لوگ اور سیاسی حلقے برملا یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر صرف عمران خان کے ساتھ ملاقات کرانے کی شرط پر پی ٹی آئی اپنا اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ اور احتجاج ترک کرنے پر تیار تھی تو وفاق کی جانب سے اس آپشن پر عمل کیوں نہ کیا گیا؟دوسری جانب متعدد قانونی اور آئینی ماہرین اس ایمرجنسی اور گورنر راج کی آئینی حیثیت پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔ اگرچہ گورنر راج ماضی میں بھی مختلف ادوار میں لگایا جاتا رہا ہے‘ تاہم اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد پہلی بار آرٹیکل 232 کا اس انداز میں اطلاق کیا گیا ہے۔ آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ جواز پیش کرنے کیلئے کہ حالات صوبائی حکومت کے بالکل کنٹرول سے باہر ہو چکے ہیں‘ آئین کی رو سے صوبائی اسمبلی کی باقاعدہ قرارداد یا سفارش ضروری ہوتی ہے‘ جس کی عدم موجودگی میں یہ اقدام قانونی و آئینی محاذ پر چیلنج ہو سکتا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری اس اعصاب شکن کھیل میں غلطی کس فریق نے کی ہے‘ اس کے بارے میں ابھی حتمی طور پر کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا۔ البتہ یہ بالکل واضح ہے کہ سہیل آفریدی اب پوائنٹ آف نو ریٹرن تک پہنچ چکے تھے۔ انہوں نے اگرچہ فوری طور پر اقتدار میں رہتے ہوئے کچھ حاصل نہیں کیا لیکن وہ پارٹی کے اندر اور کارکنوں کی نظر میں سرخرو ٹھہرے ہیں کہ انہوں نے عمران خان کی رہائی کی خاطر اپنی وزارتِ اعلیٰ تک قربان کر دی اور کسی قسم کی سیاسی مصلحت یا سمجھوتے کا شکار نہیں ہوئے۔ اب آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ سہیل آفریدی کی یہ قربانی تحریک انصاف کیلئے کس حد تک سود مند ثابت ہوتی ہے۔ جمہوری حکومت میں معاملات کا سیاسی حل نہ نکلنا اہلِ سیاست کی مجموعی ناکامی ہے۔ موجودہ حکومت کا مینڈیٹ فروری 2029ء تک ہے‘ الیکشن ابھی کافی دور ہیں تو ایمرجنسی کا نفاذ کب تک ہو گا؟ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا دورانیہ جیسے جیسے بڑھنے لگے گا وفاق پر پریشر بھی بڑھے گا‘ سوالات بھی اٹھیں گے۔ ماضی میں مختصر مدت کیلئے گورنر راج لگایا جاتا رہا ہے‘ ایک ماہ کے بعد وزیراعلیٰ کی بحالی کی مثالیں موجود ہیں‘ یہ دیکھنا باقی ہے کہ خیبرپختونخوا میں لگایا جانے والا گورنر راج ماضی سے کتنا مختلف ہو گا؟</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/222_48272610.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>گوجرانوالہ سے اُترنے والی پری(نسیم احمد باجوہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/naseem-ahmed-bajwa/2026-10-13/52837/50266831</link><pubDate>Tue, 13 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/naseem-ahmed-bajwa/2026-10-13/52837/50266831</guid><description>وہ شہر جو پہلوانوں‘ اکھاڑوں‘ بھنے ہوئے گوشت‘ سرخ مالٹوں اور خوش خوراکی کے دوسرے لوازمات کیلئے ملک بھر میں مشہور ہے‘ وہاں اگست 1919ء میں ایک جاٹ سکھ گھرانے میں ایک ایسی ذہین اور زرخیز دماغ بچی پیدا ہوئی جس نے اپنی وفات تک اپنا نام بقائے دوام کے ایوان میں لگی پتھریلی تختی پر کنندہ کرا لیا۔ اس بچی کا نام امرتا کور رکھا گیا۔ بڑی ہو کر اُس نے اپنے نام کے دوسرے حصے میں کور کا لفظ کاٹ کر اس کی جگہ پریتم لگا دیا۔ امرتا کے والد نہ صرف خود پڑھے لکھے تھے بلکہ اُنہوں نے اُس وقت کی روایت کے برعکس امرتا کے حصولِ علم اور نصاب سے ہٹ کر لکھنے پڑھنے کی خوب حوصلہ افزائی کی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ چودہ‘ پندرہ برس کی نوخیز لڑکی کی پنجابی نظموں کا مجموعہ &#39;&#39;امرت لہراں‘‘ شائع ہو گیا۔ یعنی اس وقت شاعرہ نے میٹرک بھی نہیں کیا ہو گا۔ دو برس بعد 1938ء میں امرتا کا دوسرا مجموعہ کلام&#39;&#39; ٹھنڈیاں کِرناں‘‘ شائع ہوا تو لاہور کے ادبی نقادوں کی توجہ بھی اپنی طرف کھینچ لی اور ان کی شاعرانہ خوبیوں کی وہ تعریف ہوئی جس کی وہ مستحق تھیں۔ 1947ء میں تقسیم ہند کے بعد امرتا اپنے اہلخانہ کے ساتھ دہلی چلی گئیں۔ جہاں اُن کے تخلیقی جوہر کھلے۔ نہ صرف بھارت میں بلکہ بیرونِ ملک بھی ان کو ادبی اعزازات سے نوازا گیا۔ بھارت میں ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ اور پدم شری کے علاوہ گیان پتھ ایوارڈ بھی ملا اور وہ پہلی پنجابی ادیبہ تھیں جنہیں یہ اعزاز دیا گیا۔ بلغاریہ کا Cyril and Methodius Award اور فرانس کا Order of Arts and Letters بھی ملا۔ امرتا نے پنجابی میں شاعری کے علاوہ نثر بھی لکھی۔ مضامین‘ افسانے اور ناول پنجابی اور ہندی دونوں زبانوں میں لکھے۔ ان کی تخلیقات کا بھارت اور غیر ممالک کی تیرہ سے زائد زبانوں میں ترجمہ کیا گیا۔ اُنہیں یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ بھارتی پارلیمان کے ایوانِ بالا (راجیہ سبھا) کی بھی رکن رہیں‘ جہاں اُنہوں نے محنت کشوں اور اہلِ پنجاب کو درپیش مسائل کے حل کیلئے آواز بلند کی اور داد پائی۔تقسیم ہند کے وقت بڑے پیمانے پر فرقہ وارانہ فسادات ہوئے۔ پنجاب میں ہونے والے قتلِ عام میں ہر مذہب کے ہزاروں (یا شاید لاکھوں) بے گناہ افراد جن میں بچے‘ بوڑھے‘ خواتین اور بیمار بھی شامل تھے‘ مارے گئے۔ امرتا جیسی شاعرہ اُسی طرح لکھ کر اپنے شدید دکھ اور کرب کا اظہار کر سکتی تھی جس طرح افسانہ نگاروں میں کرشن چندر‘ سعادت حسن منٹو‘ قدرت اللہ شہاب اور ممتاز مفتی نے افسانوں کی صورت میں بٹوارے کے دکھ کا بیان کیا۔ امرتا پریتم نے اس بے حد المناک موضوع پر جو نظم لکھی اُس میں اپنا زخمی دل چیر کر ہمارے سامنے رکھ دیا۔ یہ ہو نہیں سکتا کہ قارئین نے مذکورہ نظم کو پڑھا یا سنا نہ ہو یا وہ اس کمال کی نظم کے بلند ادبی مقام سے واقف نہ ہوں۔ امرتا پریتم کہتی ہیں: اج آکھاں وارث شاہ نوں کتھوں قبراں وچوں بولاج کتابِ عشق دا کوئی اگلا ورقہ پھولاک روئی سی دھی پنجاب دی تو لکھ لکھ مارے وین اج لکھاں دھیاں روندیاں تینوں وارث شاہ نوں کہنیہ نظم سدا بہار ہے۔ 80 برس ہونے کو ہیں مگر اس نظم کی شہرت‘ مقبولیت اور خوشبو میں رتی بھر کمی نہیں آئی۔ مجھے ماننے میں کوئی عار نہیں کہ میں نے امرتا کا زیادہ کلام نہیں پڑھا مگر جن لوگوں نے پڑھا ہے وہ مجھے بتاتے ہیں کہ امرتا کی یہی شاہکار نظم ہے اور یہی اُنہیں ہمیشہ زندہ رکھے گی۔ لندن میں بیرسٹر بننے کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ مجھے دولت مشترکہ کے ہر ملک کی عدالت میں (ایک مقامی وکیل کی معاونت کے ساتھ) پیش ہو کر اپنے مؤکل کی ترجمانی‘ قانونی رہنمائی اور وکالت کی اجازت مل گئی۔ دہلی میں میری دلچسپی کی تین وجوہات تھیں؛ جامعہ ملیہ جہاں میں برطانوی قانون پڑھاتا رہا ہوں۔ دوم‘ امرتا پریتم اور شاہد صدیقی۔ سوم‘ حضرت نظام الدین اولیاء اور خواجہ بختیار کاکی کے مزارات۔ امرتا کی زندگی حیرت انگیز جرأت‘ بہادری‘ روایت شکنی‘ آزادیٔ فکر وعمل‘ استقامت اور اپنے ضمیر کے مطابق زندگی گزارنے کے کٹھن فیصلوں سے عبارت ہے۔ امرتا کی پرورش قدامت پسند اور رواجی متوسط طبقے کے سکھ گھرانے میں ہوئی مگر اُس نے پنجابی شاعری میں وہی کمال کر دکھایا جو بہت سال بعد اردو شاعری نے فہمیدہ ریاض اور افسانہ نگاری میں عصمت چغتائی نے کر دکھایا۔ یہ بھی وہ اپنا بنیادی انسانی حق سمجھتی تھیں کہ وہ جس مرد کو پسند کریں اُس سے اپنی چاہت کا اظہار کرنے میں ہچکچاہٹ نہ دکھائیں۔ وہ اپنی محبت کو ایک پرچم کی شکل دے کر اسے بلاخوف و خطر اُڑاتی تھیں۔ امرتا جتنی جرأتِ رندانہ کا مظاہرہ تو غالباً اور کسی کے بس میں نہ تھا مگر اُن کے قارئین اُن پر اپنی تعریف وتحسین کے پھول تو نچھاور کر ہی سکتے ہیں اور آج تک کر رہے ہیں۔ امرتا نے اپنی کھوکھلی شادی سے بہت جلد نجات حاصل کر لی اور پھر امروز نامی شخص کو‘ جو ایک فنکار تھا‘ اپنا جیون ساتھی بنائے رکھا۔ جب میں اُنہیں ملا تو اُنہیں اکٹھے رہتے ہوئے قریباً 40 برس گزر چکے تھے۔ جب میں نے امروز کی اُس محبت کی تعریف کی جس سے اُس نے عمر بھر امرتا کا خیال رکھا تو وہ کہنے لگا کہ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ وہ مجھ سے زیادہ ساحر لدھیانوی سے محبت کرتی ہیں۔ ان دونوں دوستوں نے مل کر 30 سال ایک پنجابی ادبی جریدہ (ناگ منی) شائع کیا جو قارئین کیلئے بے مثال عزت اور محبت کی علامت تھا۔ اس جریدے کی بدولت ان دونوں ادیبوں نے دو نسلوں کی تعلیم و تربیت کی۔ اُنہوں نے شو کمار بٹالوی‘ دلیپ ٹوانہ‘ موہن جیت‘ منجیت کور ٹوانہ‘ گگن گل اور بہت سے نوجوان ادیبوں کو متعارف کرایا۔نوے کے عشرے کے اواخر میں خاص طور پر میں امرتا اور امروز کو ملنے گیا۔ ملاقات کا دن اور وقت طے کیے بغیر‘ سرخ پھولوں کا ایک بڑا گلدستہ لیے۔ امرتا کی زندگی کے آخری دس پندرہ برس بیماریوں کا مقابلہ کرتے گزرے۔ ان بیماریوں نے اس کی زندگی کو تلخ اور تیمار داروں کیلئے کربناک بنا دیا تھا۔ جوانی کے دنوں میں امرتا نے ایک پنجابی ناول &#39;&#39;پنجر‘‘ لکھا تھا۔ نصف صدی بعد یہ ممبئی کے فلم سازوں کی توجہ کا مرکز بنا اور اس ناول کو فلمایا گیا۔ فلم باکس آفس پر بڑی کامیاب رہی جس سے امرتا کیلئے دس پندرہ سال تک اپنا علاج کرانا ممکن ہوگیا ورنہ شاید امروز اتنا بوجھ نہ اُٹھا سکتا تھا۔ امروز مجھے ان کے سونے کے کمرہ تک لے گیا۔ وہ سوئی ہوئی تھیں۔ میں پاس بیٹھ کر اُن کا خوبصورت چہرہ تکنے لگا۔ وہ جاگیں تو امروز نے تعارف کرایا۔ جب میں نے بتایا کہ میں نے ایک سال (1951ء) گوجرانوالہ میں گزارا اور کالج کی تعلیم کا پہلا سال وہاں سائنس پڑھنے کی ناکام کوشش کرنے میں ضائع کیا تو وہ مسکرائیں اور نرمی سے میرا ہاتھ دبایا۔ ربع صدی سے زائد ہو گیا مگر وہ لمس ابھی تک میرے ہاتھ پر محفوظ ہے۔ امروز چائے بنا کر لایا تو امرتا نے اُس کی طرف دیکھ کر بڑی اپنائیت سے‘ ادھ کھلی آنکھوں سے دیکھا اور نہایت مدہم آواز میں پنجابی کا ایک شعر پڑھا &#39;&#39;مر دی نوں چھڈ کے نہ جائیں مترا‘‘ (مرتے ہوئے دوست کو چھوڑ کر نہ جانا)۔ امروز میری طرف دیکھ کر ہنسا اور کہا کہ یہ صرف ہمیں ڈرانے کیلئے کہہ رہی ہے۔ میں یہ دھمکی کئی سالوں سے سنتا چلا آرہا ہوں۔ نہ یہ پہلے مری ہے اور نہ اب مرے گی۔ لیکن اکتوبر 2005ء میں آخر وہ منحوس دن آگیا جب امرتا واقعی مرگئی اور گوجرانوالہ سے اُترنے والی پری کا جسدِ خاکی جل کر راکھ میں تبدیل ہو گیا اور یہ راکھ پنجاب کے دریائوں میں بہا دی گئی۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_32258580.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>