<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>چھوٹے صوبے، وسائل کی منصفانہ تقسیم(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-18/11463</link><pubDate>Tue, 18 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-18/11463</guid><description>’’کیا پاکستان میں نئے صوبے بننے چاہئیں؟‘‘ یہ سوال ہماری سیاسی‘ انتظامی اور معاشی تاریخ میں ہمیشہ سے ایک حساس موضوع رہا ہے۔ پاکستان رقبے اور آبادی کے لحاظ سے دنیا کے بڑے ممالک میں شمار ہوتا ہے لیکن انتظامی ڈھانچے کے اعتبار سے یہاں اب بھی چار صوبے ہیں جو موجودہ دور کے تقاضوں اور کروڑوں انسانوں کی انتظامی‘ معاشی اور سماجی ضروریات کو پورا کرنے سے قاصر ہیں۔ گزشتہ روز اسلام آباد میں قومی سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے اس موضوع پر ایک تھنک ٹینک کے قومی مباحثے میں حصہ لیا اور شرکا کی اکثریت اس بات پر متفق نظر آئی کہ پاکستان کو اب جمود کو توڑتے ہوئے نئے صوبوں اور چھوٹے انتظامی یونٹس کی طرف بڑھنا چاہیے۔ نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے ایک بڑی غلط فہمی یہ پائی جاتی ہے کہ اس سے انتظامی اخراجات میں اضافہ ہو گا‘ تاہم اس قومی مباحثے میں چیئرمین پنجاب گروپ آف کالجز اور سابق ناظم لاہور میاں عامر محمود نے بتایا کہ اس عمل سے 40 ہزار سے زائد اسامیاں ختم ہوں گی اور سالانہ 300 ارب روپے کی بچت ہو گی۔ یہ بات فکر انگیز بھی ہے اور قابلِ فہم بھی۔ صوبوں کی تقسیم اور نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے حوالے سے اکثر دیگر اعتراضات بھی اسی طرح بے بنیاد اور مفروضے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ جب ایک بڑا صوبہ چھوٹے انتظامی یونٹس میں تقسیم ہوتا ہے تو وسائل دور دراز کے پسماندہ علاقوں تک براہِ راست پہنچتے ہیں۔ چھوٹے صوبے یا انتظامی یونٹس بننے سے فیصلہ سازی کا عمل تیز‘ نگرانی کا نظام سخت ‘ احتساب مؤثر اور کارکردگی میں بہترآئے گی اور ترقیاتی فنڈز کی براہِ راست منتقلی سے خطیر رقوم براہ راست نچلی سطح تک پہنچ سکیں گی۔ رواں مالی سال این ایف سی ایوارڈ کے تحت 8848 ارب روپے چاروں صوبوں میں تقسیم ہوں گے۔عملاً یہ رقوم وفاق سے چار صوبائی دارالحکومتوں کو منتقل ہوں گی جو اپنی صوابدید کے مطابق انہیں مختلف مدات میں خرچ کریں گے۔ اگر ڈویژن کو صوبے کا درجہ حاصل ہوجائے تو یہی رقم جو چار صوبائی دارالحکومتوں کے سپرد کی جائے گی 33 ڈویژنز میں تقسیم ہو کر ملک کے طول و عرض میں عوامی فلاح و بہبود اور ترقیاتی منصوبوں پر خرچ ہو سکتی ہے۔ اس سے گورننس میں مثالی بہتری آئے گی اور طویل المیعاد بنیادوں پر اخراجات کی بچت اور معاشی خود کفالت ممکن ہوسکتی ہے۔
دنیا کی سیاسی اور انتظامی تاریخ کا مطالعہ کریں تو بہتر گورننس کیلئے انتظامی یونٹس کو مختصر اور محدود رکھنا صدیوں کی انسانی دانش اور تجربے کا نچوڑ ہے اور اس آفاقی اصول سے انحراف کسی بھی صورت ممکن نہیں۔ پاکستان میں اس مسلمہ اصول سے انحراف کیا جا رہا جس کی سزا یہاں کے عوام بھگت رہے ہیں۔موجودہ انتظامی اور سیاسی بحرانوں سے نکلنے کا واحد راستہ اسکے سوا کوئی نہیں کہ ملک میں چھوٹے انتظامی یونٹس قائم کیے جائیں اور ایک فعال اور بااختیار بلدیاتی نظام رائج ہو‘ حکومت کو عوام کے سامنے جوابدہ بنایا جائے اور ملک میں بلاامتیاز احتساب کا نظام نافذ کیا جائے۔ اسی طرح ملک میں گورننس کا ایسا جدید اور مثالی ماڈل تشکیل پا سکتا ہے جس میں عوام سر اٹھا کر چل سکتے ہیں‘ ذمہ داری کا احساس پیدا کر سکتے ہیں اور ملک کے ساتھ تعلق کو حقیقی معنوں میں محسوس کر سکتے ہیں۔ کسی بھی ملک کا نظام جب عوام کا اطمینان اور اعتبار کھو دے تو اس کی تبدیلی میں کوئی امر مانع نہیں ہونا چاہیے۔
عوام اور ریاست کے درمیان تعلق کی اہمیت اسی سے ثابت ہوتی ہے کہ ریاست عوام کے احساسات‘ جذبات اور مفادات کو اہمیت دے رہی ہے یا ایک ایسے نظام کو جس کی ناکامی طشت ازبام ہے۔ خوش آئند بات ہے کہ سیاسی حلقوں میں نئے انتظامی یونٹس کے تصور کا خیر مقدم کیا گیا ہے جو قومی اتفاقِ رائے کی علامت قرار دیا جا سکتا ہے۔ ضروری ہے اس معاملے پر پارلیمنٹ میں مشاورت ہو اور ایسا لائحہ عمل اختیار کیا جائے جس سے اتفاقِ رائے سے صوبوں کی انتظامی تقسیم عملی صورت اختیار کر سکے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>حکومتی اخراجات کا بوجھ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-18/11462</link><pubDate>Tue, 18 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-18/11462</guid><description>وفاقی وزارتِ خزانہ کی دستاویزات کے مطابق گزشتہ مالی سال میں وفاقی حکومت کے انتظامی اخراجات سالانہ بنیادوں پر تقریباً 16 فیصد اضافے کیساتھ 1033ارب روپے تک پہنچ گئے‘ مالی سال 2024-25ء میں یہ اخراجات 892 ارب روپے تھے۔ یہ صورتحال حکومت کی کفایت شعاری پالیسی پرگہرے سوال اٹھاتی ہے۔ محض کفایت شعاری کے اعلانات‘ اجلاسوں اور پالیسی بیانات سے قومی خزانے پر بوجھ کم نہیں ہوگا۔ اس کیلئے حکومتی اداروں‘ وزارتوں اور ڈویژنز کے غیر ضروری انتظامی اور آپریشنل اخراجات میں کمی لانا ہو گی۔ وفاقی حکومت کی مالی گنجائش پہلے ہی محدود ہے کہ ٹیکسوں کی مد میں حاصل ہونے والی آمدن کا بڑا حصہ صوبوں کو منتقل ہو جاتا ہے لیکن وفاق اپنے مسلسل بڑھتے اخراجات کیلئے زیادہ قرض لے رہا ہے۔ گزشتہ 28 ماہ کے دوران وفاقی حکومت نے جو قرض لیا اسکا حجم 19 ہزار ارب روپے کے قریب بنتا ہے۔

یہ صورتحال غیر معمولی ہے اور یہی کہا جاسکتا ہے کہ وفاقی حکومت کو اپنے اخراجات پر سنجیدگی سے نظرثانی کی ضرورت ہے۔ سرکاری محکموں کی مراعات‘ پروٹوکول اور غیر ضروری انتظامی اخراجات کہ جن کے بغیر حکومتی امور چل سکتے ہیں‘ ان سب کا ازسرنو جائزہ لیا جانا چاہیے۔ کفایت شعاری مہم کو نمائشی اقدامات کے بجائے مستقل مالیاتی نظم و ضبط میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔ قومی خزانے کا پیسہ حکمرانوں اور اشرافیہ کی غیرضروری مراعات پر خرچ ہونے کے بجائے تعلیم‘ صحت‘ روزگار اور دیگر بنیادی سہولتوں پر صرف ہونا چاہیے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>غذائی قلت اور قومی مستقبل(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-18/11461</link><pubDate>Tue, 18 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-18/11461</guid><description> بچوں میں غذائی قلت محض صحت کا مسئلہ نہیں رہی بلکہ تعلیم‘ انسانی وسائل اور معیشت کیلئے بھی ایک سنگین چیلنج بن چکی ہے۔ ایک جائزے کے مطابق غذائی قلت کے باعث ملک کو سالانہ تقریباً 7.6ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ 2025ء کے عالمی ہنگر انڈیکس میں پاکستان 123 ممالک میں 106ویں نمبر پر ہے اور اس کی غذائی صورتحال کو ’’سنگین‘‘ قرار دیا گیا ہے۔ یونیسیف کے مطابق پاکستان میں پانچ سال سے کم عمر 40فیصد بچے قد کی نشوونما میں کمی یعنی سٹنٹنگ کا شکار ہیں۔ کمزور غذائیت بچوں کی ذہنی اور جسمانی نشوونما محدود کرتی ہے جسکے نتیجے میں تعلیمی کارکردگی متاثر اور مستقبل کی پیداواری صلاحیت کم ہو جاتی ہے۔

دوسری طرف غذائی قلت سے پیدا ہونے والی بیماریوں پر عوام اور حکومت کے صحت کے اخراجات بڑھتے ہیں جبکہ خون کی کمی اور جسمانی کمزوری بالغ افراد کی کام کرنے کی صلاحیت گھٹاتی ہے۔ یوں آج خوراک کی کمی کل کم آمدنی‘ کم پیداوار اور کمزور انسانی سرمائے میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ مہنگائی‘ کم آمدنی اور روزگار کے محدود مواقع نے لاکھوں خاندانوں کیلئے متوازن غذا کو ناقابلِ استطاعت بنا دیا ہے۔ حکومت کو غذائیت کو محض صحت کے شعبے کا معاملہ سمجھنے کے بجائے قومی ترقی کی ترجیح بنانا ہو گا۔اس ضمن میں عوام کی معاشی سکت بڑھانے پر خاص توجہ مرکوز کی جائے تاکہ وہ تین وقت معیاری کھانا کھا سکیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>دانش کے ذخیرے… (2)(محمد اظہارالحق)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-08-18/52502/79598348</link><pubDate>Tue, 18 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-08-18/52502/79598348</guid><description>خواجہ نظام الملک طوسی دو سلجوقی بادشاہوں (الپ ارسلان اور ملک شاہ) کے وزیراعظم رہے۔ ان کی وفات 1092ء میں ہوئی۔ سیاست نامہ ان کی مشہور کتاب ہے جو حکمرانوں کیلئے دستور العمل ہے۔ اس کتاب کے پہلے تیرہ باب یونیورسٹی آف بمبئی کے کورس میں شامل رہے۔ معروف پبلشر سلیم گاہندری نے لکھا ہے کہ &#39;&#39;برٹش گورنمنٹ کے زمانہ میں یہ کتاب سول سروس کے کورس میں داخل رہی ہے‘‘۔ صرف ابواب دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کتاب حکمرانوں کیلئے رہنمائی کے بہترین ذریعوں میں سے ایک ہے۔ باب اول‘ گردشِ روزگار اور مدحِ ذات باری۔ باب دوم‘ حکمرانوں کا جذبۂ شکر۔ تیسرا باب‘ حکمرانوں کا عدل و انصاف۔ چوتھا‘ بیورو کریسی کا احتساب۔ پانچواں‘ اہلکاروں کے طرزِ کار کا جائزہ۔ چھٹا ‘ عدلیہ کی حدود اور اختیارات۔ ساتواں‘ انتظامیہ کے افسران۔ آٹھواں‘ شرعی امور میں غور وفکر۔ نواں‘ حکومت کے کارندوں کی کارکردگی۔ دسواں ‘ ایجنسیوں (مخبروں) کے فرائضِ انتظامی۔ گیارہواں‘ مرکزی حکومت کے احکام کی بجا آوری۔ بارہواں‘ سفیروں کی روانگی۔ تیرہواں‘ مخبروں اور جاسوسوں کا تقرر۔ چودہواں‘ نمائندگانِ سلطنت کا انتخاب۔ پندرہواں‘ احکامات کے اجرا میں احتیاط۔ سولہواں‘ وزیراعظم کے عہدہ کی اہمیت۔ سترہواں‘ کابینہ اور مقربین (کچن کابینہ)۔ اٹھارہواں‘ اہلِ علم سے حکمران کے مشورے۔ انیسواں‘ حفاظتی دستہ (باڈی گارڈز) اور اس کا ساز وسامان۔ بیسواں ‘ اسلحہ کی ترتیب۔ اکیسواں‘ سفارت کے حوالے سے ہدایات۔ بائیسواں‘ مختلف سرکاری منازل پر مویشیوں کیلئے خوارک کی بہم رسانی (آج کے زمانے میں سرکاری گاڑیوں کی دیکھ بھال )۔ تئیسواں‘ لشکریوں کی املاک کا جائزہ۔ چوبیسواں ‘ افواج میں مختلف طبقوں کی نمائندگی کی ضرورت۔ پچیسواں‘ مرکز میں بعض افراد کا قیام بطور ضمانت۔ چھبیسواں‘ مختلف طبقوں کے افراد کی تقرری۔ ستائیسواں ‘ سرکاری عملہ کی عدم اطاعت۔ اٹھائیسوں ‘ حکمرانوں کے ہاں حاضری میں حفظِ مراتب۔ انتیسواں‘ محفل کے آداب۔ تیسواں‘ حکمران کے حضور نشستوں کی ترتیب۔ اکتیسواں‘ اسلحہ کی فراہمی۔ بتیسواں‘ سرکاری ملازموں کی گزارشات۔ تینتیسواں‘ خطاکاروں اور باغیوں کی سرزنش۔ چونتیسواں‘ پروٹوکول کے فرائض۔ پینتیسواں‘ سرکاری ضیافتیں۔ چھتیسواں‘ ملازموں کی حوصلہ افزائی۔ سینتیسواں‘ افسروں کے انتخاب میں احتیاط کی ضرورت۔ اڑتیسواں‘ حکمران کا عجلت پسندی اور جلد بازی سے گریز۔ انتالیسواں‘ مالیاتی حکام۔ چالیسواں ‘ حکمران کی عدل پروری اور قوانین و ضوابط کی پابندی۔ اکتالیسواں ‘ ایک ہی عہدہ دار کو دو مختلف کام سونپنے سے گریز۔ بیالیسواں ‘ فوج کے کمانڈروں کی حیثیت کا تعین۔ تینتالیسواں باب‘ ملحدین اور ان کی ریشہ دوانی۔ اس کے بعد کے کچھ ابواب اس وقت کے باغیوں کے متعلق ہیں۔ اس کے بعد اڑتالیسواں باب بیت المال کے ضابطوں کے متعلق ہے۔ انچاسواں باب مظلوموں کی داد رسی اور قیامِ عدل کے بارے میں ہے۔ پچاسواں باب قومی دولت کے محاسبہ اور بجٹ کے متعلق ہے۔ غور کیجیے کہ حکمرانی اور جہانبانی کے حوالے سے شاید ہی کوئی پہلو رہ گیا ہو جس پر طوسی نے مفید ہدایات نہ دی ہوں۔ اس کتاب کے وہ ابواب جو آج بھی بر محل ہیں اور مناسبت رکھتے ہیں‘ ہمارے نظامِ تعلیم کا حصہ ہونے چاہئیں۔ طوسی نے ہر نکتے کو سمجھانے کیلئے تاریخ سے سچے واقعات بھی بیان کیے ہیں تاکہ متعلقہ موضوع اچھی طرح ذہن نشین ہو جائے۔دانش کا ایک اور ذخیرہ &#39;&#39;قابوس نامہ‘‘ ہے۔ اسے بادشاہ کیکاؤس بن سکندر بن قابوس نے 1082ء میں تصنیف کیا۔ اس کا شمار فارسی کلاسکس میں ہوتا ہے۔ کیکاؤس نے یہ کتاب اپنے فرزند گیلان شاہ کی تربیت اور نصیحت کیلئے لکھی اور یہ عوام اور خواص میں مقبول و مشہور ہو گئی۔ میری ذاتی لائبریری میں اس کا فارسی نسخہ بھی موجود ہے اور اردو ترجمہ بھی موجود ہے۔ اردو ترجمہ جناب محمد افضل نے کیا ہے۔ میں یہ کالم ماسکو میں بیٹھا سپردِ قلم کر رہا ہوں‘ ورنہ یہ بھی بتاتا کہ اردو ترجمہ کس نے شائع کیا ہے اور کہاں سے مل سکتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ یہ محمد افضل وہی ہیں جنہوں نے حال ہی میں قائداعظم کی زندگی کے ہر پہلو پر ایک جامع کتاب &#39;&#39;میرِ کارواں‘‘ تصنیف کی ہے جو دو جلدوں پر اور تقریباً ڈیڑھ‘ دو ہزار صفحات پر مشتمل ہے۔ بدقسمتی سے میرے پاس محمد افضل صاحب کے حوالے سے زیادہ معلومات نہیں ہیں۔ جناب منیر احمد منیر سے‘ جنہوں نے قائداعظم پر کئی تحقیقی کتابیں لکھی ہیں‘ افضل صاحب کے بارے میں پوچھوں گا۔ قابوس نامہ بتاتا ہے کہ ایک خاندانی نوجوان کو زندگی کس طرح گزارنی چاہیے۔ اس کتاب کی اہمیت کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ سنائی‘ امیر خسرو‘ جامی اور کئی دیگر عالی مقام مصنفین نے اس کتاب سے استفادہ کیا ہے۔ زندگی کے ہر پہلو کے بارے میں اس میں ہدایات ہیں اور مشورے بھی۔ چند ابواب کے عنوات ملاحظہ فرمائیے۔ خدا کی پہچان۔ پیغمبروں کی بعثت اور رسالت کے بیان میں۔ مال کی زیادتی کے ساتھ نیک اعمال اور عبادت میں اضافے کے متعلق۔ والدین کے حقوق اور ان کا شکریہ۔ ہنر اور ذاتی فضائل کیسے بڑھائیں۔ گفتگو کرنے کے آداب اور طریقے۔ نوشیرواں کی وصیتیں۔ بڑھاپے اور جوانی کے احوال۔ کھانے پینے کے آداب اور طریق کار۔ مہمان نوازی اور ضیافت کے آداب۔ شطرنج اور دیگر کھیلوں کا بیان۔ عشق و محبت اور اس کا احوال۔ سونے جاگنے اور آرام کرنے کا بیان۔ مال جمع کرنے‘ خرچ کرنے اور امانت داری کے متعلق۔ سواری خریدنے کا ہنر۔ شادی کرنے اور بیوی کا انتخاب کرنے کے بیان میں۔ اولاد کی تربیت اور انہیں ہنرمند بنانے کے بارے میں۔ دوست بنانے اور ان کے ساتھ نباہ کرنے کے آداب۔ دشمنوں سے بچنے اور محتاط رہنے کا بیان۔ گھر‘ جائداد اور زمین خریدنے کا بیان۔ تجارت اور سوداگری کرنے کے اصول اور آداب۔ میڈیکل سائنس کا بیان اور ڈاکٹر کے فرائض۔ شعر و شاعری کا فن اور شاعری کے آداب۔ راگ رنگ‘ گلوکاری اور موسیقاری کے آداب۔ حکمرانوں کے ہاں حاضری کے آداب۔ وزیر ہونے کے آداب اور امورِ وزارت۔ فوجی قیادت اور لشکر کشی کے آداب۔ رعایا کی دیکھ بھال کے اصول۔ زراعت‘ کھیتی باڑی اور دہقانی کے کام۔ تصوف‘ درویشی اور صوفیا کے طور طریقوں کا بیان۔ جج ہونے اور انصاف کرنے کے بیان میں۔ مفتی اور فقیہ ہونے کے بیان میں۔ عفو و درگزر اور سخاوت کے بیان میں۔ عاقل اور دانشمند ہونے کی علامات۔ آخر میں کیکاؤس بیٹے کو بتاتا ہے کہ خرد‘ طبعی اور فطری ہوتی ہے۔ یہ قدرت کی طرف سے ودیعت ہوتی ہے‘ سیکھی نہیں جا سکتی۔ جو سیکھی جا سکتی ہے اسے دانش کہتے ہیں۔ چنانچہ اگر قدرت نے کسی کو طبعی خرد عطا کی ہے تو اسے چاہیے کہ دانش سیکھنے کی کوشش کرے تاکہ درجۂ کمال کو پہنچے۔ اور اگر طبعی طور پر خرد نہیں بخشی گئی تو کچھ نہیں ہو سکتا۔ تاہم کوشش کر کے دانش سیکھ۔ اور طبعی خرد کی کمی پوری کرنے کیلئے حکمت سیکھنے کی دانش کے ذخیرے اور بھی ہیں۔ کیا خبر کسی وقت وہ بھی‘ یا ان میں سے چند ایک مغرب میں مقبول ہو جائیں اور ہم‘ اہلِ مغرب کی دیکھا دیکھی‘ ان کی طرف راغب ہو جائیں۔ کیونکہ یہ تو طے ہے کہ ہم نے خود انہیں پوری طرح نظر انداز کیا ہوا ہے۔ اسی لیے ہماری اخلاقی بنیادیں کھوکھلی ہو چکی ہیں۔ دیانت‘ امانت‘ سچائی تو دور کی بات ہے ہم تو اپنے بزرگوں اور اساتذہ کا احترام کرنا بھی بھول گئے۔ اس لیے کہ دانش کے جو ذخیرے ہمیں آداب سکھاتے تھے انہیں ہم نے پس پشت ڈال دیا۔ آج بچے کہتے ہیں &#39;&#39;ٹیچر آیا یا نہیں آیا‘‘ گویا ٹیچر بھی بجلی یا دودھ والے کی طرح محض ایک خدمتگار ہے۔ باپ گھر میں داخل ہو تو بیٹا‘ نیم دراز‘ اپنے فون یا لیپ ٹاپ پر سے نظر تک نہیں ہٹاتا۔ امریکی یا یورپی تو ہم بن نہ سکے نہ بن سکتے ہیں مگر مشرقی بھی نہ رہے! اب تو آئینے میں اپنے آپ کو پہچاننا بھی مشکل ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_57182973.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ایک تیل کے زور پر دوسرا تیل نکالنا(خالد مسعود خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-08-18/52503/50572039</link><pubDate>Tue, 18 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-08-18/52503/50572039</guid><description>مؤرخہ 20مئی 2026ء کو میں نے شام کوٹ انٹرچینج خانیوال سے موٹروے پر سفر شروع کیا۔ راوی ٹول پلازہ لاہور سے جب ٹول ادا کر کے موٹروے سے اترا تو اس سفر میں موٹر وے کی سہولت استعمال کرنے کے عوض مجھے مبلغ 1020 روپے کا ٹول ادا کرنا پڑا۔تین روز قبل‘ مورخہ 15 اگست 2026ء کو‘ یعنی تقریباً تین ماہ بعد دوبارہ وہیں یعنی شام کوٹ انٹرچینج خانیوال سے سفر کا آغاز کیا اور حسبِ سابق راوی ٹول پلازہ لاہور پر سفر ختم ہوا تو ٹول کی رقم مبلغ 1280 روپے تھی۔ یعنی اس دوران ٹول کی رقم میں مبلغ 260 روپے کا اضافہ ہو چکا تھا۔ یہ رقم 1020 روپے کا 25.49 فیصد بنتی ہے۔ سادہ لفظوں میں اس سیکشن کے ٹول ٹیکس میں ایک چوتھائی رقم کا اضافہ ہو چکا تھا۔ مجبوری یہ ہے کہ ہمارے پاس ادائیگی کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ کار بھی تو نہیں ہے۔چلیں امریکہ‘ ایران جنگ کے اثرات پٹرول پر پڑیں تو اس کی منطقی وجوہات سمجھ میں آتی ہیں لیکن یہ پڑے پڑے موٹر وے کے ٹول میں ہر دو چار ماہ بعد اضافے کی کم از کم اس عاجز کو تو کوئی سمجھ نہیں آتی۔ علاوہ اس کے کہ حکومت نے عوام کو نچوڑنے کیلئے جو دو چار مستقل ذرائع آمدنی بنا رکھے ہیں موٹر وے کا ٹول ٹیکس ان میں سے ایک ذریعہ ہے۔ حکومت کو جب اپنے اللّوں تللّوں کے باعث خرچے میں اضافے پر کوئی پریشانی ہوتی ہے تو وہ اپنی آمدنی اور خرچے کے درمیان روز افزوں بڑھتے ہوئے درمیانی فاصلے کو کچھ کم کرنے کی غرض سے بلااطلاع خاموشی سے ٹول ٹیکس میں اضافہ کر دیتی ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ میری طرح موٹر وے سے گزرنے والا ہر شخص اس اضافے کو نوٹ کرتا ہے‘ دل میں حکومت کو برا بھلا کہتا ہے‘ کڑھتا ہے‘ لیکن یہ کڑھنا &#39;&#39;قہرِ درویش برجانِ درویش‘‘ سے زیادہ کی اہمیت نہیں رکھتا۔ موٹروے سے اترنے کے دو چار منٹ بعد تک سرکار کی شان میں دل ہی دل میں تبرّا کرتا ہے اور بس! حکومت کے کانوں تک اول تو عوام کے جذبات پہنچتے ہی نہیں‘ پہنچ جائیں تو کسی کے دل پر دستک نہیں دیتے۔ اور اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ فیصلہ سازوں کو سوائے اپنے اخراجات کیلئے مطلوبہ رقم اکٹھی کرنے کے اور کسی چیز سے کوئی غرض نہیں۔ حکمران اشرافیہ کو عوام کے مسائل کا نہ تو علم ہے اور نہ ہی وہ اس جھنجھٹ میں پڑنا چاہتے ہیں۔ مراعات یافتہ طبقہ اور حکمرانوں کو اپنے بے تحاشا اخراجات‘ عیاشیوں‘ اپنے لیے اور اپنی اگلی سات نسلوں کیلئے پیسے جمع کرنے کے علاوہ اور کوئی کام نہیں! جبکہ عوام ان کے نزدیک ان کی خواہشات کے مطابق پیسہ فراہم کرنے کے ذریعے کے علاوہ کچھ نہیں۔ظاہر ہے‘ بندہ جب کسی چیز کا موازنہ کرتا ہے تو انگریزی کہاوت کے مطابق &#39;&#39;ایپل ٹو ایپل‘‘ یعنی سیب کا موازنہ سیب سے ہی کیا جائے گا‘ سیب کا موازنہ کیلے سے تو نہیں کیا جا سکتا۔ اب یہ مسافر اگر کسی دوسرے ملک کی مثال دے تو بعض ناقدین اس پر خواہ مخواہ ناک بھوں چڑھاتے ہوئے اعتراض کرتے ہیں۔ لیکن موازنے کیلئے اب کسی چیز کو تو معیار بنایا ہی جائے گا۔ پاکستان میں گزشتہ ڈیڑھ دو سال کے دوران ٹول ٹیکس کی رقم میں تقریباً دو گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ اب بندہ یہ تو پوچھ سکتا ہے کہ حکومت نے ان ڈیڑھ دو سالوں میں موٹروے پر کیا گیدڑ سنگھی خرید کر لگائی ہے جس پر یہ سارا خرچہ ہو رہا ہے؟ عالم یہ ہے کہ موٹروے کے کناروں پر لگا ہوا حفاظتی لوہے کا جنگلا بے شمار جگہ سے ٹوٹ پھوٹ چکا ہے۔ موٹروے کے اطراف لگائی گئی حفاظتی باڑ نما آہنی جالی درجنوں جگہ سے کاٹ کر لوگ گھر لے جا چکے ہیں۔ موٹروے پر کتے‘ بکریاں بلکہ گائیں بھینسیں دکھائی دینا اب معمول کی بات بن چکی ہے۔ جگہ جگہ گڑھے پڑ چکے ہیں۔ اوپر سے مرمت کا معیار اتنا ناقص ہے کہ بندے کو موٹروے کی مرمت دیکھ کر شرم آتی ہے۔ لیکن ٹول ٹیکس میں ہر دوسرے تیسرے ماہ خاموشی سے اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ یہ مسافر امریکہ جاتا ہے تو وہاں وصول کیے جانے والے ٹول ٹیکس کا جائزہ لیتا رہتا ہے۔ شکاگو سے باہر نکلتے ہوئے ٹول فری روڈ سے موٹروے پر چڑھنے سے پہلے ایک چھوٹے سے فاصلے والی لنک روڈ ہے جس پر ٹول ادا کرنا پڑتا ہے۔ اس لنک روڈ پر ٹول کی مد میں دو ڈالر ادا کرنا پڑتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ کم از کم چھ سات سال سے اس جگہ پر ٹول دو ڈالر ہی ہے۔ ایران کے ساتھ حالیہ جنگ میں دوسرا فریق امریکہ ہے اور اس جنگ پر ہونے والے بے تحاشا اخراجات کے باعث دنیا میں ایران کے بعد شاید اس جنگ سے متاثر ہونے والا دوسرا بڑا ملک بھی خود امریکہ ہے۔ اخراجات کے اعتبار سے تو شاید امریکہ اپنی بلاوجہ چھیڑی گئی اس جنگ پر ایران کے ہونے والے نقصانات اور خرچے سے بہت زیادہ خرچ کر چکا ہے۔ تاہم میں امریکہ کو دوسرا بڑا فریق اس لیے کہہ رہا ہوں کہ امریکہ اپنی معیشت کے اعتبار سے ایران کی نسبت اس خرچے کو اٹھانے کا زیادہ متحمل ہو سکتا ہے۔ بصورت دیگر مجموعی خرچے کے اعتبار سے دنیا میں اس جنگ پر جس ملک کو سب سے زیادہ خرچہ اٹھانا پڑ رہا ہے یا نقصان ہو رہا ہے‘ وہ امریکہ ہی ہے۔ لیکن اس دوران امریکہ میں بھی صرف پٹرول کی قیمتوں میں کچھ اضافہ ہوا ہے۔ امریکی حکومت یہ سمجھتی ہے کہ اس جنگ میں اس کی موٹرویز کا کوئی کردار نہیں اور جنگ کے باعث امریکہ کا اپنی موٹرویز پر کوئی اضافی خرچہ نہیں آیا لہٰذا عوام سے موٹروے کے ٹول ٹیکس کی مد میں کوئی اضافی وصولی نہیں کی جا رہی۔ ادھر عالم یہ ہے کہ جنگ امریکہ اور ایران کی ہو رہی ہے اور ٹول ٹیکس پاکستان میں موٹروے پر بڑھا دیا ہے۔اب آپ روزانہ کی بنیاد پر پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی طرف ہی دیکھ لیں۔ مجھے عقل مندی کا نہ تو زعم ہے اور نہ ہی کوئی دعویٰ‘ تاہم یہ کم علم قلمکار روزانہ کی بنیاد پر تیل کی قیمتوں میں ردّ وبدل کی کسی حکومتی توضیح سے نہ تو متفق ہے اور نہ ہی مطمئن ہے۔ روزانہ تو بندہ گھر میں ناشتے کیلئے ڈبل روٹی بھی خرید کر نہیں لاتا‘ چہ جائیکہ پٹرول اور ڈیزل کی خریداری ہو۔ ہم کم علموں کو اتنا معلوم ہے کہ تیل بڑے بڑے آئل کنٹینروں پر مشتمل بحری جہازوں میں آتا ہے۔ ایسا ہر کنٹینر اگر وہ سپر کنٹینر نہیں‘ تب بھی اس میں لاکھوں بیرل تیل ہوتا ہے۔ میری ناقص معلومات کے مطابق پاکستان میں اوسطاً ہر ماہ تیل کے تقریباً تیس پینتیس جہاز آتے ہیں۔ پاکستان میں تیل کی ماہانہ کھپت ایک کروڑ چالیس لاکھ بیرل کے لگ بھگ ہے۔ اوسطاً ایک درمیانے سائز کے تیل بردار جہاز میں تقریباً چار لاکھ بیرل تیل ہوتا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ ہر ماہ تقریباً پینتیس کے لگ بھگ تیل بردار جہاز پاکستان آتے ہیں اور سرکار آج کل اسی بنیاد کو بہانہ بنا کر ہر روز تیل کے نرخ طے کر رہی ہے لیکن یہ بات طے ہے کہ ہم اپنے خرید کردہ تیل کا بیشتر حصہ سعودی عرب سے اور اس کے بعد متحدہ عرب امارات‘ کویت اور قطر وغیرہ سے لیتے ہیں اور ان تمام ممالک سے تیل کی خرید پرچون والے فی جہاز کی بنیاد پر نہیں بلکہ خام یا صاف شدہ تیل تھوک کے حساب سے میٹرک ٹنوں یا بیرلز کی صورت میں کی جاتی ہے۔ جیسا کہ میں اوپر لکھ چکا ہوں کہ ہماری تیل کی خریداری کا بیشتر حصہ سعودی عرب سے مؤخر ادائیگیوں پر خرید کردہ تیل پر مشتمل ہے اور اس کا ریٹ اگلے کئی ماہ کی ضرورت کے مطابق خریدے جانے والے تیل کیلئے طے ہوتا ہے۔ شاہ جی کہتے ہیں کہ ممکن ہے معاشی مسائل کے باعث حکومت ان دنوں کنستروں اور پیپوں کے حساب سے روزانہ کی بنیاد پر تیل خرید رہی ہو۔ میں ہنس کر کہا: شاہ جی! جہاں سے کنستروں اور پیپوں میں تیل آ رہا ہے وہاں بھی ریٹ روزانہ کی بنیادوں پر طے نہیں ہوتا۔ اصل بات یہ ہے کہ سرکار نے بہرصورت عوام کا تیل نکالنا ہے سو وہ عوام کا تیل روزانہ والی تیل کی قیمتوں کے ذریعے نکال رہی ہے۔ عجب صورتحال ہے کہ ایک تیل کے زور پر دوسرا تیل نکالا جا رہا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90500073.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مکہ معاہدہ اور خطے کا امن(ڈاکٹر حسین احمد پراچہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-08-18/52504/13765310</link><pubDate>Tue, 18 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-08-18/52504/13765310</guid><description>اسرائیل کی چکنی چپڑی باتوں میں آ کر جب امریکہ نے ایران کے خلاف فضائی حملے اور بحری ناکہ بندیاں شروع کیں تو اس کا خیال تھا کہ ایران کی حکومت سپر پاور کے مقابلے میں چند دنوں سے زیادہ نہیں ٹھہر سکے گی‘ مگر جس طرح سے ایران گزشتہ پانچ ماہ سے امریکہ کو ناکوں چنے چبوا رہا ہے اور ڈٹ کر کھڑا ہے‘ اس نے دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ ایران نے اپنے داخلی نظام کی جو صف در صف پلاننگ کی ہوئی ہے اسکی کسی کو خبر نہ تھی۔ امریکی اندازہ یہ تھا کہ حکمرانوں کی پہلی صف حملوں کی زد میں آئی تو پیچھے سارا سسٹم ریت کی دیوار ثابت ہو گا مگر ہوا اسکے الٹ! ایران میں ہر درجے کی عسکری وسول قیادت کے متبادل کی کئی صفیں موجود ہیں۔ امریکہ کا یہ بھی اندازہ تھا کہ ایران معاشی پابندیوں کا مقابلہ نہیں کر سکے گا مگر ایران نے مشکلات کیساتھ جینا سیکھ لیا ہے۔ بقول ایرانی سپیکر باقر قالیباف‘ ہم نے مزاحمت اور دفاعِ وطن کا جذبہ اپنی نئی نسل میں بھی پھونک دیا ہے۔تازہ ترین منظر نامہ یہ ہے کہ معاشی دباؤ یکطرفہ نہیں دوطرفہ ہے۔ اب امریکہ کو اپنی اور اپنے خلیجی اتحادیوں کی معیشت کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے کویت اور متحدہ عرب امارات تیل اور قطر سے گیس کی ترسیل بند ہے۔ سعودی تیل کی بھی حوثی حملوں کی بنا پر بحیرہ احمر کے راستے برآمد نہایت محدود ہے۔ اہم سوال یہ ہے کہ امریکہ اس بے مقصد جنگ کو جاری کیوں رکھے ہوئے ہے؟ حقیقت یہ ہے امریکہ تو کمبل کو چھوڑتا ہے مگر اب کمبل امریکہ کو نہیں چھوڑتا۔وقفوں وقفوں سے گزشتہ چھ ماہ سے جاری جنگ کے دوران خلیجی ریاستوں کو پوری شدت سے احساس ہو گیا ہے کہ دہائیوں سے اُن پر تنی ہوئی امریکی دفاعی چھتری وقت آنے پر بیکار ثابت ہوئی ہے۔ ان ریاستوں کو بخوبی معلوم ہو گیا ہے کہ امریکہ ہمارے ملکوں میں اپنے فوجی اڈوں کا دفاع نہیں کر سکا تو ہمارا کیا کرے گا۔ جنگ کے آغاز کے بعد ایران نے برادر عرب ریاستوں پر واضح کر دیا تھا کہ ہمارے حملے اُنکے خلاف نہیں امریکی اڈوں کے خلاف ہیں۔بدلتے حالات کا اندازہ کرتے ہوئے سعودی عرب نے پاکستان کیساتھ ایک مشترکہ دفاعی معاہدہ کر لیا تھا۔ اس معاہدے کے مطابق دونوں ملکوں میں سے کسی ایک پر حملہ دونوں پر حملہ تصور ہو گا۔ اسکے علاوہ سعودی عرب نے امریکہ کیساتھ ایک سول نیوکلیئر صلاحیت کا معاہدہ بھی کیا ہے۔ خطے کے امن کو یقینی بنانے اور علاقے کو بیرونی جارحیت سے محفوظ رکھنے کیلئے پاکستان اور سعودی عرب کی باہمی مشاورت سے باہمی دفاعی معاہدے کو وسعت دینے کا فیصلہ ہوا۔ 7 اگست 2026ء کو مکۃ المکرمہ میں تین ممالک کے سربراہان‘ سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیراعظم پرنس محمد بن سلمان‘ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط ثبت کیے۔ یقینا یہ ایک تاریخی معاہدہ ہے۔ اس معاہدے میں حرم کی پاسبانی بھی ہے اور عالم اسلام کی نگرانی بھی۔مکہ معاہدہ کے بارے میں ایک بات خاص طور پر سمجھنے کی ہے کہ یہ کوئی ملٹری بلاک نہیں‘ یہ مجموعی دفاعی صلاحیت میں اضافے اور اعتمادِ باہمی کی ایک دستاویز ہے۔ علاقائی وعالمی دفاع وسیاست کے بارے میں وسیع تر معلومات رکھنے والے بعض حلقوں میں اس طرح کے خدشات پائے جاتے ہیں کہ کہیں پاکستان عربوں کے باہمی جنگی جھگڑوں کا حصہ نہ بن جائے۔ سعودی عرب کیساتھ معاہدہ تھا یا نہیں‘ مگر پاکستان روز اوّل سے سعودی عرب کے دفاع کو اپنا دفاع سمجھتا ہے۔ البتہ پاکستانی حکمرانوں نے ہمیشہ سعودی عرب سے باہر یمن یا کسی اور برادر ملک جا کر سعودی جنگیں لڑنے سے اجتناب کیا ہے۔اگرچہ کسی بھی دفاعی معاہدے کی تفصیلات منظر عام پر نہیں لائی جاتیں مگر گمان غالب ہے کہ معاہدے میں اس پاکستانی مؤقف کا کسی واضح پیرائے میں ذکر ہو گا اور آگے چل کر مکہ معاہدہ علاقائی و عالمی سطح پر ایک اہم معاہدے کے طور پر اپنا مقام منوا لے گا۔ اس معاہدے کے ذریعے اسرائیل کو وہ پیغام چلا گیا ہے جو مدتوں سے دنیا بھر کے مسلمان چاہتے تھے کہ اسے جانا چاہیے۔ اس معاہدے کے ایک ٹھوس عملی حقیقت بن کر سامنے آنے سے اسرائیل کو دو ٹوک سگنل گیا ہے کہ اب ارضِ فلسطین لاوارث نہیں۔ اس اتحادِ ثلاثہ کے بعد گریٹر اسرائیل کے مذموم منصوبے کیلئے غاصب صہیونی ریاست کے بڑھتے ہوئے قدم رک جائیں گے۔امریکہ کی خلیجی خطے میں موجودگی کے دو واضح مقاصد ہیں۔ ایک اسرائیل کی سکیورٹی اور دوسرا پیٹرو ڈالرز۔ اب بدلتی ہوئی صورتحال میں اسرائیل خطے میں اچھا بچہ بن کر رہے‘ یو این کی قراردادوں کے مطابق 1967ء کی سرحدوں پر واپس چلا جائے اور بقائے باہمی کا فلسفہ نیک نیتی سے اپنائے تو ہی اسے عربوں کی طرف سے تحفظ ملے گا۔ اسرائیل نے خطے میں امریکہ کی شہ پا کر اپنی جو چودھراہٹ قائم کر رکھی تھی اب وہ باقی نہیں رہے گی۔ ایران نے اپنا مؤثر دفاع کر کے اور اسرائیل کو دن میں تارے اور راتوں کو میزائلوں کے نظارے دکھا کر بتا دیا ہے کہ اب تمہاری چودھراہٹ کا دور اپنے انجام کو پہنچا۔ اسرائیل کو یقینا معلوم ہے کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ میں سعودی عرب کی دینی ومالی شان و شوکت‘ پاکستان کی ایٹمی قوت اور فوجی صلاحیت ومہارت اور ترکیہ کی جدید ترین ہتھیاروں کی مینو فیکچرنگ اور عالم اسلام کے جذبے شامل ہیں۔ اس عملی دفاعی اتحاد میں جب دیگر ممالک شامل ہوں گے تو اسکی مزید دھاک بیٹھے گی۔ جہاں تک پیٹرو ڈالرز کا تعلق ہے تو امریکہ کو اندازہ ہو گا کہ دنیا کے بہت سے ممالک عربوں سے آئل ڈالرز کے بجائے چینی یوآن سمیت کئی دوسری کرنسیوں میں خریدنے کے خواہشمند ہیں۔ ثابت قدمی کیساتھ آگے بڑھنے اور مشترکہ دفاعی اتحاد کو وسیع تر کرنے کیلئے امریکہ کو اعتماد میں لے کر یہ بات سمجھانا ہو گی کہ یہ اتحاد اسرائیل کے خلاف نہیں۔ تازہ ترین خبروں کے مطابق ٹرمپ نے مکہ معاہدے پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ البتہ اسرائیل کو اب اپنے انداز و اطوار بدلنا ہوں گے۔ چین بھی یقینا اس معاہدے سے خوش ہو گا بلکہ خاموش سفارتکاری کے اصول پر کاربند اس عظیم دوست کی مشاورت طویل عرصے سے ترتیب پاتے معاہدے میں شامل ہو گی۔ کچھ تجزیہ کاروں کا خیال تھا کہ شاید ایران اس معاہدے سے اَپ سیٹ ہو مگر ہماری رائے میں پاکستان نے ایران کو یقینا آگاہ کیا ہو گا۔ پاکستان ہی نہیں‘ سعودی عرب اور ترکیہ نے بھی برادر مسلم ملک کو اعتماد میں لیا ہو گا۔ آج ہمارے خطے کا اہم ترین مسئلہ امریکہ‘ ایران جنگ کا خاتمہ ہے۔ جب امریکہ نے اسرائیل کیساتھ مل کر ایران پر جنگ مسلط کی تھی اس وقت امریکہ کے کچھ اور مقاصد تھے‘ اب ساڑھے پانچ ماہ کی عملی ہزیمت کے بعد امریکی مقاصد تبدیل ہو چکے ہیں۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ڈونلڈ ٹرمپ کے برعکس‘ سمجھدار اور مفاہمت پسند ہیں‘ اُن کا کہنا ہے کہ امریکہ میں آئل اور گیس کی قیمتوں کو بڑھنے سے روکنا اب ہماری پہلی ترجیح ہے۔ اگر خلیجی تیل کی ترسیل میں موجودہ تعطل برقرار رہتا ہے اور تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو اس سے سب سے زیادہ نقصان ایشیائی ممالک اور پھر یورپ کو ہو گا۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے تسلیم کیا ہے کہ پاکستان اور قطر کے ذریعے امریکہ کیساتھ پیغامات کا تبادلہ ہو رہا ہے مگر باقاعدہ مذاکرات نہیں ہو رہے۔ ایران کے دو انتہائی مختصر اور معقول مطالبات ہیں۔ پہلا یہ کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کو دھمکیاں دینے کا سلسلہ بند کریں‘ نیز ایران کے منجمد اثاثے بحال کریں۔ پاکستان اور قطر مذاکرات کی کامیابی کیلئے بھاگ دوڑ ایک بار پھر تیز تر کر چکے۔ الحمدللہ پاکستان عالمی سطح پر سرگرم عمل ہے مگر داخلی صورتحال بھی توجہ کی طلبگار ہے۔ بلوچستان میں امن کی مخدوش صورتحال محتاج وضاحت نہیں۔ اپنے عالمی امیج کو برقرار رکھنے کیلئے حکمرانوں کو داخلی استحکام پر فی الفور توجہ دینے کی ضرورت ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_70033906.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>صنعتی پالیسی کے فرسودہ تصور کی بازگشت(شاہد کاردار)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-kardar-/2026-08-18/52505/50586186</link><pubDate>Tue, 18 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-kardar-/2026-08-18/52505/50586186</guid><description>یوں لگتا ہے کہ سست رفتار معاشی نمو کے جواب میں ایک نئی صنعتی پالیسی کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے اور اس سے متعلق ایک پرانا اور بارہا آزمایا ہوا بیانیہ سرکاری حلقوں میں گردش کر رہا ہے۔ اس مجوزہ پالیسی کو اس طرح پیش کیا جا رہا ہے گویا یہ ہمارے معاشی مسئلے کے حل کا تیر بہدف نسخہ ہے اور مستقبل پر نظر رکھنے والی ترقیاتی حکمتِ عملی کا مرکزی ستون۔میڈیا تک پہنچنے والی اطلاعات سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ صنعتی پالیسی کا دائرہ کار کیا ہو گا۔ کیا یہ صرف صنعت سازی تک محدود ہو گی یا اس کا دائرہ وسیع اور متنوع خدماتی شعبہ جیسے انفارمیشن ٹیکنالوجی‘ الیکٹرانک ذرائع سے فراہم کی جانے والی خدمات‘ سیاحت‘ علاج معالجہ وغیرہ تک بھی پھیلے گا۔ ہم یہ فرض کر لیتے ہیں کہ اس مجوزہ پالیسی کا دائرہ بنیادی طور پر صنعتی شعبہ تک ہی محدود ہے۔ مجوزہ صنعتی پالیسی کے حق میں دلیل اس یقین پر مبنی ہے کہ صرف منڈیوں پر انحصار سے معاشی ترقی پیدا نہیں ہو سکتی اور نہ معیشت میں بنیادی تبدیلی آ سکتی ہے۔ اس لیے حکومت کو چاہیے کہ وہ &#39;&#39;کامیاب شعبوں‘‘ یا &#39;&#39;سٹرٹیجی کے لحاظ سے&#39;&#39; اہم صنعتوں‘‘ کا انتخاب کرے اور انہیں عالمی سطح پر مضبوط اور مستحکم صنعتی اداروں کے مقابلے کیلئے معاونت اور تحفظ فراہم کرے‘ انہیں ویلیو ایڈیشن میں اضافے کے قابل بنائے اور ساتھ ہی ملک کے اندر روزگار کے مواقع بھی پیدا کرے۔راقم کے نزدیک صنعتی پالیسی کا یہ تصور ایک ایسے قدیم اور گزرے ہوئے دور سے تعلق رکھتا ہے جو اَب تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔ عموماً جاپان‘ جنوبی کوریا اور تائیوان (اور ان سے پہلے امریکہ اور یورپ) کی مثالیں دی جاتی ہیں جنہوں نے یہ طریقۂ کار اختیار کیا۔ انہوں نے منتخب صنعتوں کو تحفظ فراہم کیا اور نمایاں کامیابی حاصل کی‘ تاہم یہ سب ایک مختلف زمانے میں ممکن ہو پایا تھا‘ جب ان کی معیشتیں بیرونی دنیا کے لیے بند یا نیم بند تھیں اور ٹیکنالوجی کی ترقی بہت سست رفتار تھی۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ان ملکوں میں ترجیحی یا رعایتی پالیسیاں صرف عارضی مدت کے لیے نافذ کی گئی تھیں کیونکہ ان کا مقصد محض یہ تھا کہ صنعتوں کو اس قابل بنا دیا جائے کہ وہ ترقی کر کے بالآخر عالمی سطح پر مسابقت کے قابل بن جائیں۔ تاہم ہمارے معاملے میں صورتحال مختلف ہے۔ چند صنعتوں کو حکومتی مداخلتوں کے ذریعے تحفظ فراہم کیا گیا‘ جیسے امدادی رقوم‘ ٹیکس میں رعایت‘ قرضوں پر شرحِ سود میں رعایت اور موافق درآمدی ٹیکس وغیرہ۔ انہوں نے ان رعایتوں سے بے تحاشا فائدہ اٹھایا لیکن یہ حقیقت قابلِ غور ہے کہ کئی دہائیوں کی سرپرستی کے باوجود حکومت کی مدد سے چلنے والی کوئی بھی صنعت (مثلاً آٹو موبائل‘ کھاد‘ فولاد‘ چینی‘ مصنوعی ریشہ اور توانائی) عالمی سطح پر مسابقت کے قابل نہیں بن سکی۔ یہ نومولود صنعتیں کبھی بالغ نہیں ہو سکیں۔ ان میں سے کوئی بھی کامیاب صنعت نہیں بن سکی۔ان پالیسیوں کی وجہ سے ان صنعتوں کا مسلسل حکومتی امداد اور مالی سہاروں پر انحصار مزید مضبوط ہو گیا تاہم آج کی انتہائی مسابقتی دنیا عالمی تجارت سپلائی چین پر استوار ہے۔ ان حالات میں ملکی صنعت کو تحفظ دینا نہ صرف ہمیں عالمی سطح پر غیر مسابقتی بنائے گا بلکہ اس کے ردعمل میں جوابی اقدامات بھی سامنے آ سکتے ہیں۔ اس لیے مجوزہ صنعتی پالیسی معاشی ترقی کی حکمتِ عملی نہیں بلکہ جمود اور سستی کا نسخہ ہے۔ہمارے حد سے زیادہ اختیار پسند سرکاری اہلکاروں کے پاس محدود معلومات ہیں اور ان میں ہمہ گیر صلاحیت کا فقدان ہے۔ یہ سوچ کر ہی تشویش ہوتی ہے کہ انہیں یہ ذمہ داری سونپ دی جائے کہ وہ براہ راست حکومتی سرپرستی کیلئے صنعتوں کا انتخاب کریں۔ زیادہ امکان یہی ہے کہ کچھ مخصوص شعبوں کا انتخاب کیا جائے گا اور ان کیلئے بے تحاشا مراعات پر مشتمل پالیسیاں اور اقدامات کیے جائیں گے۔ اس کا نتیجہ ایک ایسے صنعتی ڈھانچے کی صورت میں نکلے گا جو غیر مؤثر ہو گا‘ عالمی سطح پر مسابقت کی صلاحیت سے محروم ہو گا اور نئے اور عالمی منڈی میں امید افزا مواقع سے فائدہ اٹھانے میں ناکام رہے گا۔ مزید برآں‘ ہمارے اپنے تجربے کو دیکھتے ہوئے اس بات کا ہر اعتبار سے خدشہ موجود ہے کہ ایسی حکمتِ عملی پر سیاسی سہولت کاری اور بااثر مفاداتی گروہوں کا تصرف ہو جائے گا۔ دوسرے لفظوں میں‘ معیشت کا انجام یہ ہو گا کہ وہ ناکام شعبوں کی حوصلہ افزائی کرے گی۔ اس کے نتیجے میں وسائل ان شعبوں سے نکال لیے جائیں گے جہاں ان کا زیادہ مفید اور پیداواری استعمال ممکن ہے اور انہیں اُن صنعتوں کو زندہ رکھنے پر خرچ کیا جائے گا جن کا مقدر بالآخر ناکام ہو کر ختم ہو جانا ہے۔ تیز رفتار ٹیکنیکل تبدیلیاں ان سرپرستی یافتہ صنعتوں کو جلد ہی غیر ضروری اور فرسودہ بنا دیں گی۔ حقیقت یہ ہے کہ ٹیکنالوجی کی ترقی سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے باعث ایسی شدید تبدیلیاں پیدا ہوں گی کہ بہترین حکومتی مداخلت (معاونت) بھی بہت جلد غیر متعلق ہو کر رہ جائے گی اور جلد غیر مؤثر ثابت ہو گی۔ اگر ان پالیسیوں سے کوئی مسابقتی برتری حاصل ہو گی بھی تو وہ ختم ہو جائے گی۔ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ کسی ملک کی تقابلی برتری کا تعین حکومتیں نہیں بلکہ وہ منڈیاں کرتی ہیں جو حیرت انگیز رفتار سے ترقی کر رہی ہیں۔ مزید یہ کہ ایسی صنعتوں کو سہارا دینے کی مالی لاگت‘ جو صرف بیساکھیوں کے سہارے زندہ رہ سکتی ہیں‘ بہت زیادہ ہو گی۔ منتخب صنعتوں کو سہارا دینے کا یہ عمل ان مقاصد کی قیمت پر ہو گا جو پائیدار ترقی کو فروغ دے سکتے ہیں‘ جیسے برآمدات میں اضافہ۔ ایسی صنعتوں کو مضبوط بنانے سے نہ صرف صارفین پر بوجھ پڑے گا بلکہ حکومت کے مالی وسائل بھی ضائع ہوں گے اور سرمایہ کاری کے قابل رقوم ان شعبوں سے ہٹ جائیں گی جو معیشت کو زیادہ بلند اور پائیدار ترقی کی راہ پر ڈال سکتے ہیں اور اس کی مسابقت کی صلاحیت کو بہتر بنا سکتے ہیں۔پاکستان کو اب ایسی صنعتوں کی امداد کی کوشش کرنے کی ضرورت نہیں جو امدادی رقوم اور تحفظ کے بغیر اپنے پاؤں پر کھڑی تک نہیں ہو سکتیں۔ اس دور میں ضرورت ایسی گورننس کی ہے جو تیز ہو‘ لچکدار ہو اور حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کی صلاحیت رکھتی ہو تاکہ تیزی سے بدلتے ہوئے حالات سے ہم آہنگ ہو سکے۔ اس لیے ہماری توجہ ایسی کھلی‘ مسابقتی اور جدید معیشت کی تشکیل پر ہونی چاہیے جو تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی معاشی ماحول کے ساتھ فوراً ہم آہنگ ہو سکے۔ اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ معاون شعبوں اور عوامل کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ یہ شعبے اور عوامل مندرجہ ذیل ہیں: تعلیم اور فنی مہارتوں کی ترقی (جو ابھرنے والے معاشی نظام سے ہم آہنگ ہو)‘ ڈیجیٹل رابطوں کا انفراسٹرکچر‘ قابلِ اعتماد اور کم لاگت توانائی‘ سادہ اور قابلِ پیش گوئی ٹیکس نظام (جس میں آئے روز تبدیلی نہ کی جائے)‘ جدید انفراسٹرکچر اور ایجادات۔ صرف یہی عوامل مسابقتی معیشت کی تعمیر کو ممکن بنا سکتے ہیں نہ کہ ٹیکس میں رعایتیں‘ سستے قرضے اور درآمدات کے مقابلے سے تحفظ۔ بلاشبہ یہ کہنا آسان ہے لیکن کرنا مشکل کیونکہ اس بات کے بے شمار شواہد موجود ہیں کہ ہمارے ریاستی اداروں میں ان پالیسی اقدامات‘ ذرائع اور ادارہ جاتی انتظامات کو تشکیل دینے کی وہ صلاحیت نہیں جو ان اقدامات کے لیے ضروری ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے لیے &#39;&#39;صنعتی پالیسی‘‘ ایک ایسا تصور ہے جو ناکام ثابت ہو چکا ہے اور اب زیادہ سے زیادہ ماضی کے ایک مطالعاتی نمونہ کے طور پر ہی کام آ سکتا ہے۔ اسے مستقبل کی کسی بھی ترقیاتی حکمتِ عملی کی بنیاد نہیں بننا چاہیے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_78012569.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پاک بھارت ممکنہ تصادم کا اشارہ(رشید صافی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-08-18/52506/27569549</link><pubDate>Tue, 18 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-08-18/52506/27569549</guid><description>پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک اور جنگ کے اشارے اور امکانات کو رد نہیں کیا جاسکتا ۔ ممکنہ طور پر یہ جنگ پاکستان کی طرف سے بھارت کی مسلسل اور بلاجواز آبی جارحیت کے خلاف دفاعی اقدام ہو گی۔ اس سے قبل بھی بھارت ہمیشہ جارحیت کا راستہ اختیار کرتا آیا ہے‘ اس نے ہر بار خطے کے امن کو داؤ پر لگایا ہے مگر مئی 2025ء کی پاک بھارت جنگ کے بعد پاکستان کی جو مضبوط اور بااثر پوزیشن قائم ہوئی ہے اس نے طاقت کے توازن کو یکسر بدل دیا ہے۔ مئی 2025ء کے معرکے میں افواجِ پاکستان کے ہاتھوں ہندوستانی افواج کو جس عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا ‘ اس نے ثابت کر دیا کہ پاکستان اپنے دفاع سے کسی صورت غافل نہیں۔ تاہم اس شاندار عسکری کامیابی کے باوجود بھارت نے اپنی روایتی ہٹ دھرمی برقرار رکھی اور تسلسل کے ساتھ پاکستان کی طرف آنے والے دریاؤں پر غیرقانونی ڈیم اور آبی منصوبے شروع کر دیے۔ اس سنگین صورتحال کے ردِعمل میں پاکستان کی سول و عسکری قیادت کی طرف سے دیے جانے والے بیانات اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستان بھارت کی آبی جارحیت کو کسی قیمت پر قبول نہیں کرے گا اور اپنے وجود کی بقا کیلئے ہر حد تک جائے گا۔ دراصل پاکستان بین الاقوامی قوانین اور اخلاقی اصولوں کے مطابق صرف اتمام حجت کرنا چاہتا ہے تاکہ دنیا پر یہ حقیقت عیاں ہو جائے کہ جنگ اسلام آباد کا انتخاب نہیں بلکہ مجبوری ہے۔ آبی حقوق کے معاملے پر عالمی ثالثی عدالت اور اقوام متحدہ  سمیت تمام اہم بین الاقوامی فورمز پانی کے معاملے پر پاکستان کے مؤقف کی حمایت کرتے ہیں۔ عالمی ثالثی عدالت کے فیصلے اور کشن گنگا اور رتلے جیسے متنازع منصوبوں پر دیے گئے قانونی مشاہدات پاکستان کے کیس کو عالمی سطح پر بے حد مضبوط بناتے ہیں۔ عالمی برادری اس بات کو تسلیم کر چکی ہے کہ 1960ء میں طے پانے والے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرکے بھارت بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑا رہا ہے۔ ایسی صورتحال میں جب آبی جارحیت کا ارتکاب کھلم کھلا بھارت کی طرف سے ہو رہا ہے‘ پاکستان کو عالمی برادری کا اخلاقی و قانونی تعاون بھی حاصل ہے اور پاکستان عسکری لحاظ سے بھی انتہائی مضبوط اور تیار ہے تو پاکستان اپنے بنیادی حق اور 25  کروڑ عوام کی بقا کے لیے یقینا ہر حد تک جائے گا۔بھارت کے ساتھ ماضی میں جتنی بھی جنگیں ہوئی ہیں ان تمام معرکوں میں بھارت ہی نے پیش قدمی اور جارحیت کا راستہ اختیار کیا اور جنگ مسلط کرنے کے بعد دنیا کے سامنے خود کو مظلوم بنا کر پیش کرنے کی عیارانہ کوشش کی۔ ماضی میں عالمی برادری کی عدم توجہی یا سیاسی مفادات کے باعث دنیا اکثر بھارت کے اس جھوٹ اور مظلومیت کے ڈرامے کو درست مان لیتی تھی لیکن اب عالمی سیاسی بساط پر صورتحال یکسر تبدیل ہو چکی ہے۔ اب بھارت کو دنیا کے سامنے ٹسوے بہانے کا کوئی موقع نہیں ملے گا کیونکہ اس کی مکارانہ حکمت عملی اور توسیع پسندانہ عزائم دنیا کے سامنے آشکار ہو چکے ہیں۔ عالمی میڈیا اور بین الاقوامی فورمز جانتے ہیں کہ جنوبی ایشیا میں بدامنی کا اصل ذمہ دار کون ہے۔ اگر پانی کے معاملے پر پاکستان اور بھارت کے درمیان معرکہ ہوا تو یہ ماضی کے تمام معرکوں سے ہر لحاظ سے بہت مختلف اور زیادہ خوفناک ہو گا۔ بھارت مئی 2025ء کے معرکے میں پاکستان کی مسلح افواج کی اعلیٰ پیشہ ورانہ صلاحیت‘ آپریشنل تیاری اور عزم و ہمت کا مشاہدہ کر چکا ہے۔ بھارتی فضائیہ مئی 2025ء میں پاک فضائیہ کے شاہینوں کے ہاتھوں جو عبرت ناک اور شرمناک شکست کھا چکی ہے اس کا خوف آج بھی ان کے ایئر ہیڈکوارٹرز پر طاری ہے۔ ذرا تصور کریں کہ جب پاک فضائیہ کے پاس چین سے حاصل کردہ ففتھ جنریشن کے جدید ترین سٹیلتھ جنگی طیارے جے 35کی صلاحیت کے ساتھ موجود ہوں گے تو اس کے نتائج بھارت کے لیے کس قدر تباہ کن نکلیں گے۔خطے کی سکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر چند دن قبل ترجمان پاک فوج لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے واضح انداز میں اشارہ دیا تھا کہ بھارت ہمارے اگلے سرپرائز کا انتظار کرے۔ ترجمان پاک فوج کا یہ بیان عسکری تکنیک‘ سائبر صلاحیتوں اور برتر ٹیکنالوجی کی اس جامع تیاری کا عکس تھا جو خاموشی سے مکمل کی جا چکی ہے۔ ہماری سول و عسکری قیادت کی طرف سے بھارت کو دی جانے والی اس انتباہی تنبیہ کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ممکنہ طور پر عسکری تصادم ہونے والا ہے جس کیلئے ہماری فورسز مکمل طور پر تیار اور یکسو ہیں۔ پاکستان کی جدید دفاعی صلاحیتوں اور جدید ہتھیاروں کی شمولیت کے ساتھ ساتھ حالیہ مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ نے پاکستان کی سٹرٹیجک پوزیشن کو مزید مضبوط بنا دیا ہے۔ اس اہم ترین دفاعی معاہدے نے پاکستان‘ ترکیہ اور سعودی عرب کو ایک طاقتور دفاعی حصار میں پرو دیا ہے جس  کے بعد پاکستان کو مشرقِ وسطیٰ اور دیگر مسلم ممالک کی جانب سے مضبوط ترین حمایت اور پشت پناہی حاصل ہو چکی ہے۔ اس کے برعکس بھارت اپنے متعصبانہ‘ جارحانہ اور خودغرضانہ اقدامات کی بدولت عالمی سطح پر بدترین تنہائی کا شکار ہو چکا ہے۔بین الاقوامی سفارتی محاذ پر پاکستان کے بیانیے کو پذیرائی مل رہی ہے۔ چین تو ہر موسم کا دوست ہے‘ امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں نے بھی بھارت کی غیر ذمہ دارانہ پالیسیوں کی وجہ سے اس سے نظریں پھیر لی ہیں۔ واشنگٹن اب نئی دہلی انتظامیہ کے رویے پر شدید تحفظات رکھتا ہے اور اس کا بوجھ اٹھانے کے لیے تیار نہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں ایران امریکہ کشیدگی اور بحرانوں کے دوران پاکستان کے مثبت‘ متوازن اور امن پسندانہ کردار کی وجہ سے تمام مغربی دنیا اور خلیجی ممالک اب پاکستان کو قابلِ احترام ایٹمی طاقت کے طور پر ترجیح دینے لگے ہیں۔سو اگر اس بار جنگ کی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو عالمی بساط پر بھارت کے ساتھ کھڑا ہونے والا کوئی نہیں ہوگا اور نہ ہی کوئی اس کی پشت پناہی کرے گا۔ یوں اگر گہرے سیاسی اور عسکری زاویے سے دیکھا جائے تو پاکستان نے اپنی سفارتکاری‘ مضبوط قانونی کیس اور جدید دفاعی تیاریوں کی بدولت بھارت کو اصل جنگی میدان سجنے سے پہلے ہی سفارتی اور نفسیاتی میدان میں تنہا کر کے شکست سے دوچار کر دیا ہے۔ ایسی صورتحال میں اگر پاکستان اپنے پانی کے تحفظ اور کروڑوں شہریوں کی بقا کیلئے بھارت کی آبی جارحیت کے خلاف کوئی بھی سخت عسکری قدم اٹھاتا ہے تو عالمی برادری پاکستان کے مؤقف کی حمایت کرے گی اور اس بار بھارت کو عسکری و سیاسی محاذ پر جس تباہ کن نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا‘ وہ ماضی کے تمام معرکوں سے بالکل مختلف ہو گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/222_48272610.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ہے مشقِ سخن جاری، چکی کی مشقت بھی(حافظ محمد ادریس)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/hafiz-muhammad-idreess/2026-08-18/52507/74577065</link><pubDate>Tue, 18 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/hafiz-muhammad-idreess/2026-08-18/52507/74577065</guid><description>بات ہو رہی تھی جیل میں دعوت و تبلیغ کی۔ ضلع جہلم سے تعلق رکھنے والے ایک قیدی کو‘ جو ڈکیتی کے جرم میں چودہ سال قید بامشقت بھگت رہا تھا‘ سگریٹ نوشی سے منع کیا تو پہلے تو اس نے صاف انکار کر دیا۔ میں نے بھی حکمت کے تحت خاموشی اختیار کر لی۔ پھر اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ چند ہفتوں کے بعد ایک روز وہ صاحب آئے تو ان کے ہاتھ میں سگریٹ نہیں تھا۔ میں نے پوچھا کہ کیا سگریٹ ختم ہو گئے؟ کہنے لگے: مکمل طور پر ختم ہو گئے‘ آج کے بعد سگریٹ کو ہاتھ نہیں لگائوں گا۔ پھر واقعی اس نے اپنے وعدے کا پاس کیا۔ جیل میں جن قیدیوں سے بہت قریبی تعلق رہا‘ ان میں یہ صاحب سرفہرست تھے۔ جیل میں ان کے ایک کزن بھی انہی کے ساتھ اسی کیس میں سزا بھگت رہے تھے اور وہ پیپلز پارٹی کے جیالے اور بھٹو مرحوم کے سچے عاشق تھے۔ دونوں بھائیوں میں نظریات کا زمین وآسمان کا فرق تھا۔ اپنی بقیہ قید جو تقریباً تین چار سال تھی‘ بھگتنے کے بعد یہ رہا ہوئے تو سیدھے جماعت اسلامی ضلع جہلم کے دفتر میں گئے‘ اپنا تعارف کرایا اور اپنے آپ کو جماعت میں شمولیت کے لیے پیش کر دیا۔ اسی وقت متفق بنا لیے گئے اور رکنیت کا نصاب پڑھانے کے بعد ان کی رکنیت منظور ہو گئی۔ مرحوم آخری دم تک اقامت دین کے لیے جدوجہد کرتے رہے۔ میری رہائی کے بعد ان سے خط وکتابت کے ذریعے رابطہ رہا۔ میرے بیرونِ ملک قیام کے دوران باہمی خط وکتابت سے حال احوال معلوم ہوتے رہتے تھے۔ پاکستان واپسی پر تو بالمشافہ مہینے میں کم از کم ایک بار ملنے کے لیے ضرور تشریف لایا کرتے تھے۔ کئی مرتبہ میرے  گائوں میں بھی آئے۔ میرے خاندان کے تمام لوگوں سے قریبی روابط قائم ہو گئے۔ میں بھی چار پانچ مرتبہ ان کے گائوں گیا اور ان کی مسجد اور مدرسہ میں پروگرام بھی منعقد کیے۔ فضل کریم صاحب چند سال قبل اللہ کو پیارے ہو گئے۔ مرحوم کے گائوں میں ان کی مسجد اور اس کے ساتھ مکتب انہی کی وجہ سے آباد تھے۔ اب معلوم نہیں ان کی کیا کیفیت ہے۔ اللہ ہمارے مرحوم بھائی کے درجات بلند فرمائے۔ کچھ دن مشکلات میں گزرنے کے بعد آہستہ آہستہ جیل کی سختیوں میں نرمی آنے لگی۔ اب قصوری چکیوں میں ایک سہولت یہ حاصل ہو گئی تھی کہ احاطے کے اندر طلوعِ آفتاب کے بعد سے غروبِ آفتاب تک قیدی ایک دوسرے سے مل بیٹھ کر گپ شپ کر سکتے تھے۔ اسی طرح لڈو ٹائپ گیمیں بھی کھیل سکتے تھے مگر یہاں مستقل طور پر ان کی نگرانی پر عملہ موجود رہتا تھا۔ ہم عشا اور فجر کی نماز کے علاوہ باقی سب نمازیں باجماعت ادا کرتے تھے۔ اس کے لیے ہمیں باہر سے چٹائیاں منگوانے کی سہولت بھی مل گئی تھی۔ ہر روز باقاعدہ درس قرآن ہوتا تھا جس میں پچیس سے تیس لوگ شریک ہوتے تھے۔ اس درس قرآن کے بعد سوال و جواب بھی ہوتے تھے اور  شرکا اپنے تجربات اور مشاہدات بھی بیان کرتے تھے۔ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے دو بوڑھے قیدی جو قتل کے ایک کیس میں عمر قید کی سزا بھگت رہے تھے‘ ڈاکٹر نذیر شہید کے ساتھ مختلف جیلوں میں اپنی ملاقاتوں کا تذکرہ کرتے تو عجیب سماں بندھ جاتا۔ اسی طرح بعض قیدی کچھ دیگر بزرگوں کے حوالے سے اپنے خوبصورت تاثرات بیان کرتے تھے جن سے کبھی جیل میں ان کی ملاقات ہوئی تھی۔ جیل میں آدمی کیلئے کئی سہولتیں ہوتی ہیں اور کئی مشکلات۔ سہولت تو یہ ہے کہ کہیں جانا آنا نہیں ہوتا‘ آرام سے اپنے معمولات جاری رکھے جا سکتے ہیں اور مشکلات یہ ہیں کہ کسی ضروری کام کیلئے بھی جیل کی حدود سے باہر نکلنے کا تصور تک نہیں کر سکتے۔جیل میں وقت گزر رہا تھا اور مجھے بار بار خیال آتا تھا کہ میرے نانا جان نجانے کس حال میں ہیں۔ میں جب یونیورسٹی الیکشن سے  قبل ان سے مل کر لاہور روانہ ہوا تھا تو وہ شدید بیمار تھے۔ یہ مثالی حافظ قرآن بڑھاپے اور ضعف میں کبھی اپنے بچوں تک کے نام بھول جاتے تھے۔ عمر بہت زیادہ ہو چکی تھی اور مرض بھی جان لیوا تھا۔ علاج معالجہ بھی بے اثر ثابت ہو رہا تھا۔ انہوں نے مجھے رخصت کیا تو آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس وقت میری والدہ بھی ان کے پاس بیٹھی تھیں۔ اب قید میں آخری ملاقات کا منظر بار بار میری آنکھوں کے سامنے آ جاتا تھا۔ میں جیل میں ان کیلئے بس دعا ہی کر سکتا تھا جس کا سلسلہ ہر نماز کے بعد اور سوتے جاگتے جب بھی ان کی یاد آتی‘ جاری رہتا۔ ساہیوال جیل میں ایک دن مجھے والد صاحب کا خط موصول ہوا جس میں یہ اطلاع دی گئی تھی کہ میرے نانا جان اللہ کو پیارے ہو گئے ہیں۔ ظاہر ہے کہ خط ملنے سے کئی روز قبل ان کا جنازہ اور تدفین بھی ہو چکی تھی۔ دوستوں نے مجھے پریشان پایا تو پوچھنے لگے کہ کیا بات ہے؟ میں نے ان کو خبر بتائی تو سب میرے گرد جمع ہو گئے اور مجھ سے اظہارِ ہمدردی کے ساتھ مرحوم کیلئے مغفرت کی دعائیں کرنے لگے۔ کئی دوست شام کو اپنی جائے مشقت سے واپس آئے تو سیل بند ہونے سے قبل میرے پاس آئے اور تعزیت کر کے اپنی بیرکوں میں چلے گئے۔ تین چار دن اسی طرح جیل کے ساتھی وقتاً فوقتاً آتے رہے۔ ہماری معاشرت میں بہت سی خوبیاں ہیں جن میں سے غم اور خوشی میں شرکت بالخصوص محبت و اپنائیت کے جذبات کو پروان چڑھاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ تمام اہلِ ایمان کی مغفرت فرمائے اور ہم سب کو اپنے دین پر ثابت قدمی کے ساتھ آخری لمحے تک چلتے رہنے کی سعادت بخشے۔نانا جان کی زندگی میں ان کی ایک بیٹی اور ایک بیٹا جوانی میں فوت ہو گئے تھے۔ بزرگوں سے سنا تھا کہ اس موقع پر نانا جی نے بہت مثالی صبر کا مظاہرہ کیا۔ ہماری زندگی میں ان کی بڑی بیٹی یعنی ہماری خالہ طویل بیماری کے بعد فوت ہوئیں تو وہ بے ساختہ رو پڑے۔ پھر اس بیٹی کی تین بیٹیاں چند سالوں کے وقفے سے یکے بعد دیگرے فوت ہو گئیں۔ ان میں سے ہر ایک کی وفات پر نانا جان کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میرے دل میں خیال ہوتا ہے کہ فرشتۂ اجل اب میرے پاس آئے گا مگر معلوم نہیں خدا کو کیا منظور ہے کہ میری اولاد‘ اور ان کی اولاد بھی میری نظروں کے سامنے لقمۂ اجل بنتی جا رہی ہے اور میں یہاں بیٹھا ہوا ہوں۔ ان مواقع پر میں ابھی بہت چھوٹا تھا مگر بزرگوں کی تربیت اور سب سے بڑھ کر اللہ نے کچھ فہم وشعور دیا تھا‘ میں ہمیشہ ان سے عرض کرتا کہ فرشتۂ اجل کا تعلق عمر سے نہیں اللہ کے امر سے ہے۔ اب جیل میں بیٹھا سوچ رہا تھا کہ وہ لمحہ آخر آ گیا جس کا نانا جان برسوں سے انتظار کر رہے تھے۔ مگر وائے افسوس کہ میں جنازہ بھی نہ پڑھ سکا۔ اللھم اغفرلہٗ وارحمہ وادخلہ الجنۃالفردوس۔جیل میں چند ہفتے گزرنے کے بعد حکومت کی طرف سے ایک پیشکش آئی کہ اگر میں غیرمشروط معافی نامہ لکھ دوں اور آئندہ کیلئے  کسی حکومت مخالف سرگرمی میں حصہ نہ لینے کا حلف دے دوں تو مجھے رہا کیا جا سکتا ہے۔ میں نے اس خط پر نوٹ لکھ کر جیل حکام کو دے دیا کہ مجھے اس پیشکش کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ یہی پیشکش دیگر ساتھیوں کو بھی بھیجی گئی۔ ان سب نے اسے قبول کرنے سے انکار کیا؛البتہ ہمارے ایک ساتھی برادرم اشفاق حسین کے والدین نے اصرار کر کے اس خط پر دستخط کرنے کیلئے انہیں مجبور کر دیا حالانکہ وہ بھی ہم سب کی طرح اس پیشکش کو مسترد کر چکے تھے۔ آخر والدین نے دبائو ڈال کر انہیں پیشکش پر دستخط کرنے پہ آمادہ  کر لیا؛ چنانچہ وہ جیل سے رہا ہو کر چلے گئے۔ وہ سیالکوٹ جیل میں مقید تھے۔ اشفاق بھائی جیل سے رہا ہونے کے بعد مجھ سے ملاقات کیلئے تشریف لائے تو ان کی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے مگر میں نے محبت کے ساتھ انہیں تسلی دی کہ اس میں ان کا کوئی قصور نہیں‘ والدین کا احترام بھی تو لازم تھا!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_24721193.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>