<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>معاشی کارکردگی(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-12/11270</link><pubDate>Fri, 12 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-12/11270</guid><description>مالی سال 2025-26ء کا اکنامک سروے استحکام کی جانب معیشت کی بتدریج پیش قدمی کا عندیہ دیتا ہے۔ اگرچہ اس سال کے دوران زراعت اور صنعت سمیت کئی شعبے ہدف کے مطابق نمو حاصل نہیں کر سکے۔ صنعتی شعبے کیلئے ترقی کا ہدف 4.3 فیصد جبکہ نمو 3.5 فیصد رہی۔رواں مالی سال کے دوران جی ڈی پی کی نمو 3.7 فیصد رہی‘ جو سالانہ ہدف 4.2 سے کم مگر گزشتہ چار سال میں سب سے بہتر ہے۔ اس سال جس شعبے کی نمو میں سب سے زیادہ اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے وہ حکومتی محصولات کا شعبہ ہے۔ رواں سال کے دوران حکومت کے مجموعی ٹیکس ریونیو میں 11.3 فیصد جبکہ صوبائی ٹیکس وصولیوں میں 25.8 فیصد اضافہ ہوا۔ قومی اقتصادی سروے رپورٹ کے مطابق ملکی معیشت کا حجم 452 ارب ڈالر سے اوپر چلا گیا ہے اور فی کس اوسط سالانہ آمدن 1751 ڈالر سے بڑھ کر 1901 ڈالر ہو گئی ہے۔ گزشتہ چند سالوں کی سکڑتی معیشت‘ روپے کی بے قدری اور آسمان کو چھوتی مہنگائی کے بعد رواں سال کے اعداد وشمار عبوری معاشی استحکام کی گواہی تو دے رہے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ استحکام ایک عام پاکستانی کی زندگی بدلنے اور معیشت کو پائیدار نمو دینے کیلئے کافی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ معاشی اشاریوں کی بہتری کے باوجود عوام کی بڑی تعداد تاحال معاشی مشکلات کی دلدل میں پھنسی ہوئی ہے۔شرحِ مبادلہ میں استحکام اور ترسیلاتِ زر کا (ممکنہ 41 بلین ڈالر کی) ریکارڈ سطح تک پہنچنا اس معاشی نمو کا سب سے بڑا محرک بنا ہے۔ اگرچہ مہنگائی کی شرح میں بھی ریلیف دیکھا گیا اور افراطِ زر کی اوسط شرح 6.7 فیصد رہی لیکن معاشی ماہرین کے مطابق جب تک ملکی معیشت پانچ سے سات فیصد کی مستقل شرحِ نمو حاصل نہیں کرتی‘ تب تک پائیدار استحکام یقینی نہیں بنایا جا سکتا۔ صنعتی شعبہ کسی بھی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ یہ روزگار پیدا کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے مگر اس کی نمو ہدف سے کم رہی۔ اگرچہ پیداواری شعبے نے ہدف سے زیادہ نمو حاصل کی مگر گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے اور سبسڈیز کے خاتمے کی وجہ سے پیداواری لاگت اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ مینو فیکچرنگ سیکٹر کے کئی ذیلی شعبے سکڑ گئے ہیں۔ شرحِ سود اور توانائی کے مہنگے ٹیرف کی وجہ سے نجی شعبے کیلئے کاروبار کرنا انتہائی مہنگا ہو چکا ہے‘ یہی وجہ ہے کہ نجی شعبے کی ترقی 4.5 فیصد ہدف کے مقابل 3.6 فیصد رہی۔ اس میں کوئی دو آرا نہیں کہ ہماری مقامی صنعتیں بین الاقوامی مارکیٹ میں مسابقت کی دوڑ میں پیچھے رہ گئی ہیں اور برآمدات اس تیزی سے نہیں بڑھ پا رہیں جسکی معیشت کو ضرورت ہے۔ اقتصادی جائزے کا ایک فکر انگیز پہلو یہ ہے کہ معاشی نمو کے مثبت اشاریے بھی ملک میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں ناکام رہے ہیں‘ یہی وجہ ہے کہ عوام کی بڑی تعداد اب بھی خطِ غربت سے نیچے انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ آئی ٹی اور سروسز سیکٹر میں بہتری کے باوجود ملک کے لاکھوں تعلیم یافتہ نوجوان موزوں ملازمتوں سے محروم ہیں۔ ملک کی تقریباً 40 فیصد افرادی قوت کو روزگار دینے والا زرعی شعبہ رواں سال صرف 2.89 فیصد کی شرح سے بڑھ سکا۔ زراعت کی اس سست روی نے دیہی معیشت کو براہِ راست متاثر کیا ہے جسکے اثرات شہروں کی طرف ہجرت اور شہری بیروزگاری کی صورت میں نکل رہے ہیں۔ اقتصادی جائزہ واضح کرتا ہے کہ حکومت نے مالیاتی نظم و ضبط اور ٹیکس وصولیوں میں ریکارڈ اضافہ کر کے معیشت کو دیوالیہ ہونے کے خطرے سے تو نکال لیا لیکن یہ محض ایک عارضی بندوبست ہے کیونکہ جب تک توانائی کی بلند قیمتوں اور خام مال پر بھاری ٹیکسوں کو کم نہیں کیا جاتا تب تک نجی شعبہ ترقی نہیں کر سکتا اور نہ ہی روزگار کے کثیر مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ بھی کم کرنا ہوگا تاکہ ایک منصفانہ معاشی نظام قائم ہو سکے۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>غربت میں اضافہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-12/11269</link><pubDate>Fri, 12 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-12/11269</guid><description>قومی اقتصادی سروے 2025-26ء کے مطابق ملک میں غربت کی شرح بڑھ کر 28.9 فیصد تک پہنچ چکی ہے‘ یعنی تقریباً ہر سو میں سے 29 پاکستانی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ یہ صورتحال اس لیے بھی زیادہ افسوسناک ہے کہ چند برس قبل‘ 2018-19ء میں یہ شرح 21.9 فیصد تھی۔ یوں چند سالوں کے دوران لاکھوں افراد خطِ غربت سے نیچے جا چکے ہیں‘ جو حکومتی معاشی پالیسیوں پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اقتصادی سروے کے مطابق غربت کا گراف تمام صوبوں میں یکساں نہیں۔ بلوچستان میں یہ شرح سب سے زیادہ‘ 47فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ خیبر پختونخوا میں 35.3فیصد‘ سندھ میں 32.6فیصد اور پنجاب میں 23.3فیصد ہے۔ضروری ہے کہ حکومت غربت کے خاتمے کو اپنی معاشی حکمتِ عملی کا مرکزی ہدف بنائے۔ زرعی شعبے کی بحالی‘ چھوٹے کاروباروں کی حوصلہ افزائی‘ صنعتی سرگرمیوں میں اضافہ‘ نوجوانوں کیلئے ہنرمندی اور روزگار کے پروگرام‘ تعلیم اور صحت میں سرمایہ کاری اور سماجی تحفظ کے نظام کو مزید مؤثر بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ معاشی کامیابی کا اصل پیمانہ معاشی اشاریے نہیں بلکہ عوام کے معیارِ زندگی میں بہتری ہے۔ اگر ملک کی تقریباً ایک تہائی آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہو تو یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ معاشی پالیسیوں کا رخ اب بھی عام آدمی کی ضروریات سے ہم آہنگ نہیں ہو سکا۔ غربت کے اس بڑھتے ہوئے سیلاب کو روکنے کے لیے فوری‘ جامع اور عوام دوست اقدامات ناگزیر ہیں۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>المناک ٹریفک حادثہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-12/11268</link><pubDate>Fri, 12 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-12/11268</guid><description>بدھ کے روز مری ایکسپریس وے پر ایک سیاح فیملی کی وین کو پیش آنے والے دلخراش حادثے میں 10 افراد جاں بحق اور 16 زخمی ہو گئے۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق وین تیز رفتاری کے باعث موڑ کاٹتے ہوئے بے قابو ہو کر سڑک کنارے نالے میں جا گری اور دیوار سے ٹکرا گئی‘ جس کے بعد گاڑی میں بھڑکنے والی آگ سے مسافر جھلس گئے۔ اوور سپیڈنگ ایک غیر ذمہ دارانہ عمل اور جان لیوا نتائج کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ اگر مقررہ رفتار اور حفاظتی اصولوں کا خیال رکھا جاتا تو شاید گاڑی پر قابو برقرار رہتا اور یہ المناک حادثہ پیش نہ آتا۔ ملک میں ٹریفک حادثات کی بڑی وجوہات میں اوور سپیڈنگ‘ غیر ذمہ دارانہ ڈرائیونگ‘ گاڑیوں کی غیر معیاری حالت اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی شامل ہیں۔ شدید گرمی کے موسم میں ٹائر برسٹ کے واقعات بھی بڑھ جاتے ہیں‘ جو اکثر بڑے حادثات کا سبب بنتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ لمبے سفر سے قبل گاڑیوں کی مکمل فٹنس‘ٹائروں کی حالت‘ ہوا کا دباؤ اور بریک سسٹم کا معائنہ لازمی کیا جائے۔ ٹریفک قوانین کی پاسداری کے بغیر محفوظ سفر کا تصور ممکن نہیں۔ یہ سانحہ ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ جب تک ہم اجتماعی طور پر احتیاط‘ قانون کی پابندی اور ذمہ دارانہ رویہ اختیار نہیں کرتے سڑکوں پر انسانی جانوں کا زیاں روکنا ممکن نہیں۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>خواجہ آصف کے لہجے میں خوف کیوں؟(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-06-12/52105/75595305</link><pubDate>Fri, 12 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-06-12/52105/75595305</guid><description>گزشتہ روز شاید چار برسوں میں پہلی دفعہ وزیرِ دفاع خواجہ آصف کی آواز میں کچھ خدشات اور خوف محسوس ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پارلیمنٹ کو کچھ ہوا تو سب ذمہ دار ہوں گے اور اس کا نقصان بھی سیاستدانوں ہی کو اٹھانا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس ادارے (پارلیمنٹ) پر سب سے زیادہ کاری وار اور شدید ضربیں خود سیاستدانوں نے لگائی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ادارہ اب تک ان نقصانات کی تلافی کرتا رہا ہے لیکن ہماری طرف سے بھی غلطیاں ہوئیں‘ اس لیے ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے۔ اگر کچھ ہوا تو کسی ایک پارٹی کا نہیں بلکہ سب کا نقصان ہو گا۔ ہمیں خود کو مضبوط رکھنا ہے۔ انہوں نے پی ٹی آئی والوں سے کہا کہ آپ احتجاج ضرور کریں‘ تقریریں بھی کریں لیکن یہ کام دس پندرہ منٹ کریں اور پھر اس ہاؤس کو چلنے دیں کیونکہ اسی میں سب کا فائدہ ہے۔ جب کارروائی متاثر ہوتی ہے تو ہم سب مل کر اس پارلیمنٹ کو کمزور کرتے ہیں۔خواجہ آصف کے اس خوف کے پیچھے پچھلے چند دنوں سے اسلام آباد میں گردش کرنے والی وہ خبریں ہیں جن کے مطابق شاید مقتدرہ موجودہ سیٹ اَپ سے زیادہ خوش نہیں۔ دیگر طبقات بھی کسی حد تک ناراض نظر آتے ہیں۔ چار سال مکمل ہو چکے اور شہباز شریف حکومت پانچواں بجٹ پیش کرنے جا رہی ہے۔ خواجہ آصف کو یہ طعنہ نہیں دیا جا سکتا کہ وہ پارلیمنٹ کو سنجیدگی سے نہیں لیتے رہے‘ جس کی آج انہیں اچانک فکر لاحق ہو گئی۔ خواجہ صاحب ان چند وزیروں میں سے ہیں جو باقاعدگی سے پارلیمنٹ کے اجلاسوں میں نظر آتے ہیں‘ ورنہ بیشتر وزرا تو کبھی کبھار ہی دکھائی دیتے ہیں۔ وزیروں کے نہ آنے کی ایک بڑی وجہ وزیراعظم کا پارلیمنٹ کو سنجیدگی سے نہ لینا ہے۔ ماضی میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی ہی تھے جو ہر سیشن میں خود بیٹھتے اور اگر وقفۂ سوالات میں کوئی وزیر جواب نہ دے پاتا تو جواب بھی وہ خود دیتے تھے۔ ان کے بعد تقریباً تمام وزرائے اعظم چھ چھ ماہ تک پارلیمنٹ نہیں آئے۔ شہباز شریف صاحب پچھلے سال بجٹ والے دن آئے تھے اور ممکن ہے آج بھی بجٹ پیش ہونے پر سیشن میں آئیں اور پھر شاید اگلے سال ہی پارلیمنٹ کا درشن ہو۔خواجہ آصف جب یہ باتیں کر رہے تھے کہ شاید پارلیمنٹ پر کوئی نیا آسمان گرنے والا ہے اور اس کا نقصان سب کو ہوگا تو ان خبروں میں کچھ صداقت محسوس ہونے لگی کہ واقعی سب ٹھیک نہیں چل رہا۔ کچھ دن پہلے میرے پروگرام میں فیصل چودھری صاحب موجود تھے۔ وہ وزیروں کے حوالے سے کچھ کہنے لگے تو میں نے کہا کہ میری اطلاع یہ ہے کہ شاید عام وزیروں کی جگہ ٹیکنوکریٹس کو آگے لایا جائے گا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ گزشتہ چند دنوں سے متوقع ٹیکنوکریٹس نے ٹی وی چینلز اور پوڈکاسٹس میں اچانک انٹری ڈال دی تھی اور موجودہ حکومت کی معاشی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ان میں ماہرِ معیشت شیرانی صاحب کے علاوہ سابق گورنر سٹیٹ بینک عشرت حسین بھی پیش پیش ہیں۔ شبر زیدی بھی آئے روز معاشی پالیسیوں کا پوسٹ مارٹم کرتے دکھائی دیتے ہیں۔سابق وفاقی سیکرٹری احمد نواز سکھیرا اور سابق نگران وزیرِ تجارت گوہر اعجاز بھی معاشی محاذ پر کچھ سرگرم دکھائی دیتے ہیں۔ سکھیرا صاحب کے پاس گورننس کا طویل تجربہ ہے۔ شاید وہ پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے واحد افسر تھے جو مسلسل نو برس تک وفاقی سیکرٹری رہے‘ جن میں تجارت‘ نجکاری اور کابینہ ڈویژن جیسی اہم وزارتیں شامل تھیں‘ اور ان کی اچھی ساکھ رہی ہے۔ انہوں نے حال ہی میں ایک شیڈو بجٹ تیار کرکے عوام کے سامنے پیش کیا ہے۔ عمومی طور پر شیڈو بجٹ تیار کرنے کا کام اپوزیشن جماعتیں کرتی ہیں لیکن پاکستان میں سیاسی جماعتیں ایسے سنجیدہ کاموں سے دور رہتی ہیں‘ لہٰذا سکھیرا صاحب جیسے ٹیکنوکریٹ نے پہلی مرتبہ شیڈو بجٹ تیار کرکے مغربی دنیا کی ایک اہم روایت کو زندہ کرنے کی کوشش کی ہے۔مقتدرہ کو شکایت ہے کہ سفارتی محاذ پر پاکستان کو جو کامیابیاں ملی ہیں شاید ان سے معاشی طور پر خاطر خواہ فائدہ نہیں اٹھایا جا سکا۔ آج بھی ملک قرضوں کے سہارے چل رہا ہے۔ خطرے کی لکیر بھی کب کی عبور ہو چکی۔ جتنا بینکوں کا قرض اور اس پر سود ادا کیا جا رہا ہے اسے دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے پورا ملک صرف بینکوں کا سود ادا کرنے کیلئے کام کر رہا اور ٹیکس دے رہا ہے تاکہ ان کا پیسہ واپس کیا جا سکے۔ ایک دن قرض واپس کیا جاتا ہے‘ اس پر بھاری سود ادا کیا جاتا ہے اور پھر اگلے دن اس سے بھی بڑا قرض مزید زیادہ سود پر لے لیا جاتا ہے۔ اگر فنانس کمیٹیوں کے اجلاسوں میں بیٹھ کر گفتگو سنی جائے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ اورنگزیب صاحب کو شوکت عزیز اور شوکت ترین کی طرح وزیر خزانہ بنانے کا ایک مقصد یہ تھا کہ وہ بینکوں سے اپنے تعلقات استعمال کرکے روزانہ کمرشل شارٹ ٹرم قرض حاصل کرتے رہیں اور ملک کا نظام چلاتے رہیں‘ جبکہ سارا ٹیکس سود کی مد میں انہی بینکوں کو ادا ہوتا رہے۔حالانکہ انہی بینکوں کے پاس بقول سینیٹر انوشہ رحمان پاکستانی سرکاری اداروں کے 1200 ارب روپے کرنٹ اکاؤنٹس میں جمع ہیں جن کی بنیاد پر وہ حکومت کو سود پر قرض دے کر ہر ماہ اربوں روپے مارک اَپ وصول کرتے ہیں۔ اندازہ کریں آپ ہی کے بارہ سو ارب روپے درجن بھر بینکوں کے پاس پڑے ہیں اور آپ ہی کا پیسہ قرض کی شکل میں بھاری سود پر آپ کو دیا جا رہا ہے۔مجھے وزارتِ خزانہ کے ایک افسر نے بتایا کہ آپ بارہ سو ارب روپے کے اس معاملے پر بات کرتے ہیں جو پرائیویٹ بینکوں کے پاس رکھا ہے اور جس کے بدلے ہم قرض لے رہے ہیں لیکن اگر حکومتِ پاکستان کے ادارے اپنا یہ ڈیپازٹ وہاں سے نکال کر نیشنل بینک یا سٹیٹ بینک کے کنسولیڈیٹڈ فنڈ میں منتقل کر دیں تاکہ ضرورت پڑنے پر اسے بغیر سود استعمال کرکے واپس جمع کرا دیا جائے تو جانتے ہیں کیا ہوگا؟ میں نے پوچھا: کیا ہوگا؟ اس نے حیران کن انکشاف کیا کہ اکثر نجی بینک بند ہو جائیں گے کیونکہ وہ حکومتی ڈیپازٹس پر چل رہے ہیں۔بینک کے پاس آٹھ سے دس ارب روپے کا ڈیپازٹ ہونا ضروری ہوتا ہے جبکہ یہاں بارہ سو ارب روپے پڑے ہیں۔ مطلب یہ کہ اکثر بینک عوام کے ٹیکس سے جمع کیے گئے سرکاری ڈیپازٹس پر چل رہے ہیں اور پھر انہی سرکاری رقوم پر بھاری سود وصول کرکے ہر سال اربوں روپے منافع کما رہے ہیں۔ یہ ہے وزارتِ خزانہ کا کمال۔ اگر نئے ٹیکنوکریٹ وزیروں کی بات کی جائے تو شہباز شریف پہلے بھی بڑی مشکل سے اس بات پر آمادہ ہوئے تھے کہ انرجی ایکسپرٹ محمد علی کو مشیرِ توانائی مقرر کیا جائے۔ کچھ عرصہ تو انہوں نے محمد علی کو برداشت کیا لیکن اب انہیں نجکاری کا وزیر بنا دیا گیا ہے۔محمد علی سے شہباز شریف کی ناراضی کی ایک وجہ ان کی وہ خوفناک رپورٹ بتائی جاتی ہے جس میں توانائی کے شعبے‘ شریف خاندان کے آئی پی پیز‘ ان کے سابق رشتہ دار سیف الرحمن کے بجلی یونٹس اور چند پسندیدہ بیوروکریٹس کے باہمی تعلقات کی تفصیلات بیان کی گئی تھیں۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ ٹیرف کے معاملے پر کس طرح مختلف حلقوں نے مل کر سارا کھیل کھیلا۔ اب مقتدرہ چاہتی ہے کہ شہباز شریف نے وزارتوں میں جو &#39;&#39;فیملی فرینڈز پیکیج‘‘ متعارف کرا رکھا ہے اس کا خاتمہ کیا جائے اور صرف اہل اور متعلقہ شعبوں کے ماہر افراد کو ہی وزارتیں دی جائیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ اگلے ماہ سے اس حوالے سے کام شروع ہو سکتا۔ بہت سارے &#39;فارغ‘ وزیر واقعی فارغ کیے جا سکتے۔ اس پس منظر میں خواجہ آصف کے بیان میں چھپے خدشات اور خوف کو بہتر انداز میں سمجھا جا سکتا ہے۔ انہیں بھی شاید محسوس ہو رہا کہ پارلیمنٹ پہ گہرے بادل منڈلا رہے ہیں اور ان کے بقول اگر کوئی کاری ضرب لگی تو اس میں قصور سب کا ہوگا اور نقصان بھی سب کو اٹھانا پڑے گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>عام تاثر اور حقیقت(رسول بخش رئیس)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-06-12/52106/28845337</link><pubDate>Fri, 12 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-06-12/52106/28845337</guid><description>دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ جو حالتِ موجود کی حقیقت ہے ہمارا تصور اور تاثر اس کے عین عکس کی صورت ہمارے ذہنوں میں ابھرے۔ حقیقت کے قریب وہی لوگ اور فیصلے ہوتے ہیں جو آنکھوں اور دل کے مناظر میں ویسے ہی دکھائی دیں جو وہ اصل میں ہوتے ہیں۔ خواہشوں کے باوجود ایسا خال خال ہی ہوتا ہے۔ دل کے خوابوں کی دنیا اور زمینی حالات میں زیادہ فرق ہم وہاں محسوس کرتے ہیں جہاں بحران در بحران پیدا ہوتے رہے ہوں‘ جھوٹ بولنے کی روایت شخصی اور قومی زندگی میں جڑ پکڑ چکی ہو اور مایوسی کے بادلوں کی گرج چمک اکثر دکھائی دیتی ہو۔ سیانے سچ کہتے ہیں کہ کسی کا جھوٹ اگر ایک بار ثابت ہو جائے اس کے آئندہ کے سچ پر بھی اعتبار اٹھ جاتا ہے۔ تجارتی کمپنیوں‘ اہم شخصیات جس شعبے میں بھی ہوں اور سیاسی جماعتوں اور ملکوں کیلئے مسابقت اور سرمایہ کاری کے دور میں امیج انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ ہمارے اندر بھی کچھ مواقع پر ایک سوال آگ کے گولے کی طرح پھٹ اٹھتا ہے کہ لوگ کیا کہیں گے۔ وہ گانا یاد آرہا ہے &#39;&#39;کچھ تو لوگ کہیں گے‘ لوگوں کا کام ہے کہنا‘‘ مگر یہ فلمی دنیا کی بات ہے جس کا عملی زندگی سے کچھ لینا دینا نہیں۔ سماجی اخلاقیات کبھی کمزور نہیں پڑتیں۔ بعض صورتوں میں دب سکتی ہیں۔ اس طرح رائے عامہ اور آوازِ خلق تازیانے برسنے کے خوف کے باوجود اپنا اثر ضرور رکھتی ہے۔ ہمارا ایک انتہائی اہم اجتماعی مسئلہ ہے جو یکسر ہماری سیاسی اور دیگر نوع کی اشرافیہ کی طرزِ حکمرانی‘ ذاتی رویوں اور سیاست بازی کی پیداوار ہے۔ وہ ہے ہمارا قومی امیج‘ وہ عمومی تاثر جو باہر کے لوگ ہمارے ملک اور معاشرے کے بارے میں رکھتے ہیں۔اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں بے شمار جگہوں پر اپنے قومی مفاد‘ نظام‘ سیاسی تاریخ اور شناخت کا دفاع کرنے کی جسارت کرتے رہے مگر وہ پاکستان شناس جنہوں نے یہاں وقت گزارا اور لوگوں کے ساتھ گھل مل کر حقائق جمع کیے اور بعد میں مقالات اور کتابیں لکھتے رہے‘ معنی خیز انداز میں مسکراتے۔ ہم بھی سمجھ جاتے کہ کبھی کبھار اگر ہماری حب الوطنی تڑپ کر دل سے باہر آجاتی ہو تو وہ اسے سماجی علوم کی معروضیت کے دائرے سے خارج سمجھتے۔ سب کو معلوم ہے کہ علم اگر معاشرتی حقائق کا آئینہ دار نہ ہو تو وہ کسی کی رائے سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا۔ اور اگر کچھ بڑھ چڑھ کر لکھا اور کہا جائے تو وہ پھر کسی طبقے اور حکمران گروہوں کیلئے پروپیگنڈا سے زیادہ اہمیت نہیں  رکھتا۔ باہر کے ملکوں کے عالم و فاضل ہمارے اپنے ہی لوگوں کی آرا کا حوالہ دیتے ہیں۔ فرق کبھی کبھار یہ ضرور دیکھا ہے کہ خواص سے گفتگو کے زیادہ اور عوام سے کم مواقع شاید انہیں میسر رہے ہیں۔ ہمارے نزدیک تو سب کی رائے اہم‘ خاص کر گلیوں‘ بازاروں‘ محلوں اور دیہات میں بستے لوگوں کی۔ یہ ساری باتیں کرنے کے بعد معذرت کے ساتھ اپنے قومی امیج کے بارے میں ایک بنیادی بات کرنا چاہتا ہوں۔ ہمارے عام لوگ ملک کی صورتحال سے مایوس ہیں‘ مطمئن ہونا تو دور کی بات ہے۔ ہماری بری یا اچھی جو بھی کہیں‘ عادت ہے کہ لوگوں میں مایوسی کا دفتر کھول کر سیاسی تقریر کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ وہ جو بھی کہیں سن لیتے ہیں‘ روکتے ٹوکتے نہیں اور نہ ہی خواہ مخواہ کی بحث میں الجھتے ہیں۔ مذہب اور سیاست تو ایسے میدان ہیں جہاں بحث کرکے لوگ اپنا وقت‘ ذہنی سکون اور دن رات کا چین کھوتے ہیں۔ لوگوں کی سننا اگر وہ مُصر ہیں‘ کوئی خوش کن بات کرتے ہیں یا پھر دانش مندانہ انداز میں گفتگو کا رخ موڑ دیتے ہیں۔ ہمارا تلخ تجربہ یہ ہے کہ عام لوگوں اور یہاں تک کہ متوسط طبقے کے نام نہاد پڑھے لکھے لوگوں کیلئے بھی علمی گفتگو کے موضوعات نہایت ہی عامیانہ‘ خود پرستانہ اور کئی طرح سے غیبت کی کوئی نہ کوئی شکل محسوس ہوتے ہیں۔ عام لوگ اکثر جہاں بھی ملاقات ہو‘ حالات کا رونا روتے ہیں۔پرسوں بچت مرکز کا چکر لگانا پڑا جہاں ہماری عمر کے بزرگ اور خواتین کئی دہائیوں سے آتے جاتے دیکھتا ہوں تو کچھ ترس‘ کچھ امید اور کچھ اطمینان کے جذبات ذہن میں ابھرتے ہیں۔ کبھی کبھار کوئی پہچان بھی لیتا ہے اور کسی اجنبی سے نظریں مل جائیں تو سلام کرکے خیرو عافیت دریافت کرنا بھی اپنی روایت میں سے ہے۔ اطمینان اس لیے کہ کم از کم معاشی لحاظ سے ہم کسی کے محتاج نہیں۔ کچھ تو ہے کہ لوگوں کا گزارہ چل رہا ہے۔ ترس اس لیے کہ بہت سے بزرگوں کے چہروں پر اداسی‘ خموشی اور انجانے خو ف کی علامات نمایاں ہوتی ہیں۔ کبھی کسی کو ہنستے‘ مسکراتے بھی نہیں دیکھا قہقہہ تو خارج از امکان سمجھیں۔ جو جانتے ہیں پوچھتے ہیں کہ حالات کب بہتر ہوں گے۔ ہمارا مدتوں سے ایک ہی جواب رہا ہے جس میں کبھی تبدیلی کی ہے اور نہ ہو گی کہ اچھے دن آنے والے ہیں۔ کیشیئر نے رجسٹر سے آنکھ اٹھا کر مجھے دیکھا تو پوچھا کہ بجٹ آرہا ہے‘ عوام کو ریلیف ملے گا یا نہیں؟ اور ساتھ ہی چند اور سوالات کہ معیشت بہتر ہو گی‘ مہنگائی کا زور ٹوٹے گا اور چیزیں سستی ہوں گی؟ ان سوالوں کا جواب سب کے پاس ہے۔ سب جانتے ہیں کہ ہم کن حالات سے گزر رہے ہیں‘ ہمارے حکمران کون ہیں‘ ان کے کارنامے کیا ہیں جو آئندہ کا تاریخ دان سنہرے حروف سے لکھے گا‘ تو پھر ہم جیسے درویشوں سے پوچھنے کا کیا مطلب۔ بات دراصل یہ ہے کہ ہر کوئی ہمارے ملک میں اچھی خبر کے انتظار میں ہے۔ اس لیے ہم کہہ دیتے ہیں کہ اب زیادہ دیر انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔ ہمارے حالات بھی ضرور‘ بہت جلدی پلٹا کھائیں گے۔ کچھ ہماری خوش خبریوں پر اعتماد بھی کر لیتے ہیں لیکن وہ بھی ہیں جو دوسروں کی نسبت بہت کچھ دیکھتے اور صبر سے برداشت کرتے آئے ہیں۔ جونہی اچھے دن آنے کی نوید سنائی ایک ہلکی سی آواز دو چار قدم کے فاصلے سے آئی کہ یہی کچھ ہم ساری زندگی سنتے آئے ہیں۔ اس کے بعد ہمیں کہنے کی کیا ہمت ہو سکتی تھی۔ معاملات ختم کرکے ہم خاموشی سے نکل آئے مگر ایسی آوازیں پوری زندگی ہمارا پیچھا کرتی رہی ہیں۔ وسائل کے لحاظ سے ہم امیر ملک ہیں‘ غریب نہیں مگر غربت ہماری آبادی کی اکثریت کا مقدر بن چکی ہے۔ ہماری تہذیبی روایت علم ہے لیکن ہم نے عام لوگوں کو اس سے محروم رکھا ہوا ہے۔ آبادی کا نصف کے قریب جوان ہے‘ جسے ہم ہنر اور جدید تعلیم سے سنوارتے تو ہماری معیشت کہاں سے کہاں پہنچ جاتی۔ وہ صرف سڑکوں کے کنارے‘ کھیتوں‘ بازاروں اور گلیوں میں صرف اپنی جسمانی توانائی اور صحت کا سودا کرسکتا ہے۔ دیہاڑی لگ گئی تو ٹھیک ورنہ فاقہ‘ اور بیکاری میں ہاتھ پھیلانے پر مجبور۔ وسائل کی کمی کی جو بات کرتے ہیں انہیں ہمارا مشورہ ہے کہ وہ سیاسی اشرافیہ‘ تجارتی طبقہ‘ نوکر شاہی‘ زمیندار اور دیگر شعبے جن کے بارے میں کوئی بات کہنا یا لکھنا خطرے سے خالی نہیں‘ ان کی تنخواہوں اور مراعات کو دیکھ لیں۔ کبھی کبھار محسوس یہ ہوتا ہے کہ مادیت پرستی اور خود غرضی کے معاشروں میں انسانیت کی روح پرواز کر جاتی ہے۔ جدید‘ ترقی یافتہ اور صنعتی معاشروں میں دائیں بازو کے سیاست باز اپنی اٹھان کی لہروں کے ادوار میں ضربیں تو لگاتے ہیں مگر اسے باہر نہیں نکال سکتے۔ وہ مایوسی جو بزرگوں کے چہروں پر دیکھتا ہوں‘ وہ سوال جو کیشیئر اٹھاتا ہے اور جو کچھ عام سماجی رابطوں میں لوگ ہم سے پوچھتے ہیں‘ اور پھر غریبوں کی کسمپرسی جو بے زبانی میں بھی ایک گرج دار آواز کی طرح ضمیر کو جھنجھوڑتی ہے‘ جذباتی تاثر نہیں تلخ حقائق کا مظہر ہیں۔ ہم &#39;سب ٹھیک ہے‘ کہتے بھی رہیں تو لوگ اسے اہمیت نہیں دیں گے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_33241568.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بجٹ اور ملکی معیشت(میاں عمران احمد)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mian-imran-ahmad/2026-06-12/52107/48690820</link><pubDate>Fri, 12 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mian-imran-ahmad/2026-06-12/52107/48690820</guid><description>وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب آج مالی سال 2026-27ء کا بجٹ پیش کرنے جا رہے ہیں‘ لیکن اس سے قبل ہی بجٹ کی سمت اور ترجیحات کافی حد تک واضح ہو چکی ہیں۔ یہ بجٹ محض آمدن اور اخراجات کی دستاویز نہیں بلکہ پاکستان کی سیاسی‘ معاشی اور سکیورٹی ترجیحات کا آئینہ دار بھی ہے۔ اس سال بجٹ سازی کا عمل غیر معمولی طور پر پیچیدہ دکھائی دیتا ہے۔ این ایف سی کا اجلاس تین مرتبہ ملتوی ہوا‘ وفاق اور صوبوں کے درمیان طویل مذاکرات ہوئے اور حکمران اتحاد کے دو بڑے شراکت داروں نے کئی روز کی مشاورت کے بعد بالآخر بجٹ کے بنیادی خدوخال پر اتفاق کیا۔ یہ تمام پیشرفت اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ ملک اس وقت شدید مالی دباؤ سے گزر رہا ہے۔ سب سے اہم بات یہ کہ وفاقی حکومت کو رواں مالی سال میں تقریباً 800ارب روپے کے ریونیو شارٹ فال کا سامنا ہے۔ دوسری جانب آئندہ مالی سال میں دفاعی ضروریات‘ آبی منصوبوں اور دیگر سٹرٹیجک ترجیحات کیلئے ایک ہزار سے پندرہ سو ارب روپے اضافی وسائل درکار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وفاق اور صوبوں نے ترقیاتی اخراجات محدود کرکے مالی گنجائش پیدا کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ ترقیاتی پروگرام کتنا بڑا ہے بلکہ یہ ہے کہ دستیاب وسائل کس ترجیح کے تحت خرچ کیے جا رہے ہیں۔حکومت قومی شاہراہوں کے منصوبوں‘ اتحادی جماعتوں کیلئے 87 ارب روپے اور حکومتی اراکینِ اسمبلی کی ترقیاتی سکیموں کیلئے 70 ارب روپے مختص کرنے پر غور کر رہی ہے۔ ایسے میں یہ سوال فطری ہے کہ محدود وسائل کے دور میں ترجیح عوامی فلاح ہونی چاہیے یا سیاسی ضروریات؟ این ایف سی نے مالی سال 2026-27ء کیلئے 3.2 ٹریلین روپے کا ترقیاتی پروگرام منظور کیا ہے جو ابتدائی تجویز کے مقابلے میں 25 فیصد کم ہے۔ ترقیاتی بجٹ کسی بھی ملک کی معاشی نمو‘ روزگار کے مواقع اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کا بنیادی ذریعہ ہوتا ہے۔ موجودہ مالی سال میں بھی ترقیاتی بجٹ کو 1100 ارب روپے سے کم کرکے 820 ارب روپے کر دیا گیا تھا جبکہ مالی سال کے اختتام تک صرف 590 ارب روپے خرچ ہو سکے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت مالیاتی دباؤ کے باعث مسلسل ترقیاتی اخراجات محدود کر رہی ہے۔صوبوں کو بھی اپنے ترقیاتی منصوبے محدود کرنے کا کہا گیا ہے۔ این ایف سی کے تحت صوبوں نے اپنے ترقیاتی اخراجات کم کرکے وفاق کو 920ارب روپے بطور گرانٹ دینے پر اتفاق کیا ہے تاکہ دفاعی ضروریات اور اہم آبی منصوبوں کیلئے وسائل فراہم کیے جا سکیں۔پنجاب نے سب سے بڑی قربانی دی ہے اور اس کا ترقیاتی بجٹ 1450 ارب روپے سے کم ہو کر 749 ارب روپے رہ گیا ہے۔ سندھ کا ترقیاتی بجٹ 706 ارب‘ خیبر پختونخوا کا 455 ارب جبکہ بلوچستان کا 308 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔ وفاقی پی ایس ڈی پی کو بھی کم کرکے ایک ٹریلین روپے کر دیا گیا ہے جبکہ دفاعی اخراجات اس سے تین گنا زیادہ ہونے کا امکان ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا جا رہا ہے جب ایف بی آر کو آئندہ مالی سال کیلئے 15264 ارب روپے کا ٹیکس ہدف دیا گیا ہے جبکہ گزشتہ دو برسوں میں ادارہ مجموعی طور پر 2200 ارب روپے کے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ حکومت آبی منصوبوں کو ترجیح دیتی دکھائی دے رہی ہے۔ دیامر بھاشا ڈیم‘ مہمند ڈیم اور داسو ڈیم جیسے اہم منصوبوں کیلئے تقریباً 335 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز زیرِ غور ہے۔ پاکستان پانی کی شدید قلت کا شکار ہے اور فی کس پانی کی دستیابی 1951ء کے 5260 مکعب میٹر سے کم ہو کر ایک ہزار مکعب میٹرسے بھی کم ہو چکی ہے۔ اس لیے آبی ذخائر پر سرمایہ کاری کو مستقبل کی معاشی سلامتی میں سرمایہ کاری قرار دیا جا سکتا ہے۔بجٹ کا ایک مثبت پہلو تنخواہ دار طبقے کیلئے تقریباً 50 ارب روپے کے ریلیف کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے۔ گزشتہ تین برسوں میں تنخواہ دار طبقے کی ٹیکس ادائیگی 600 ارب روپے سے تجاوز کر چکی ہے۔ نئے اقدامات کے تحت دو لاکھ67ہزار روپے ماہانہ آمدنی والوں کیلئے ٹیکس کی شرح 20 فیصد‘ تین لاکھ41ہزار روپے ماہانہ آمدنی والوں کیلئے 25 فیصد اور چارلاکھ 67ہزار روپے ماہانہ آمدنی والوں کیلئے 29 فیصد تک لانے کی تجویز ہے۔ اگرچہ یہ اقدام خوش آئند ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ ریلیف مہنگائی‘ بجلی‘ گیس اور پٹرولیم لیوی کے بوجھ کا ازالہ کر سکے گا؟ بجٹ کا ایک اور اہم پہلو ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کی کوشش ہے۔ حکومت نے فکسڈ ٹیکس آسان سکیم متعارف کرائی ہے جس کے تحت 20 کروڑ روپے سالانہ کاروبار تک کے تاجروں اور دکانداروں کو ٹیکس نظام میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اگر حکومت واقعی غیر دستاویزی معیشت کو دستاویزی شکل دینے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ ملک کے مالیاتی نظام کیلئے ایک بڑی پیشرفت ثابت ہو سکتی ہے۔اسی طرح سمندر پار پاکستانیوں کیلئے ترسیلاتِ زر اور بیرونِ ملک سرمایہ کاری سے متعلق بعض پابندیوں میں نرمی پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ مالی سال میں بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں نے 38 ارب ڈالر سے زائد زرِ مبادلہ وطن بھیجا‘ جو ملکی معیشت کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق مئی 2026ء میں ترسیلاتِ زر 4.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں جو اپریل کے مقابلے میں 20.2 فیصد اور مئی 2025ء کے مقابلے میں 15.4 فیصد زیادہ ہیں۔ مالی سال 2025-26ء کے پہلے گیارہ ماہ کے دوران مجموعی ترسیلاتِ زر 38.1 ارب ڈالر رہیں جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے 34.9ارب ڈالر کے مقابلے میں 9.2فیصد زیادہ ہیں۔ ایسے میں ان پاکستانیوں کی سرمایہ کاری اور مالی معاملات میں سہولت فراہم کرنا معاشی نقطۂ نظر سے ایک مثبت قدم ثابت ہو سکتا ہے۔بجٹ میں حکومت گاڑیوں پر مزید ٹیکس عائد کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ پاکستان آٹو موٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے اعدادوشمار کے مطابق جولائی تا مارچ 2025-26ء کے دوران ملک میںایک لاکھ نو ہزار655 گاڑیاں فروخت ہوئیں‘ جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ تعداد 75ہزار397 تھی۔ یوں گاڑیوں کی فروخت میں 45.4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اسی عرصے میں پیداوار 76ہزار339 سے بڑھ کر ایک لاکھ15ہزار495 یونٹس تک پہنچ گئی‘ جو 51.3 فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ اعدادوشمار اس بات کا ثبوت ہیں کہ بلند شرحِ سود اور معاشی مشکلات کے باوجود آٹو سیکٹر دوبارہ متحرک ہو رہا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا حکومت اس بحالی کو مزید مضبوط بنائے گی یا نئے ٹیکسوں کے ذریعے اس کی رفتار سست کر دے گی؟ ہائبرڈ گاڑیوں پر اس وقت 8.5 فیصد جی ایس ٹی لاگو ہے جسے بڑھا کر 18 فیصد تک کرنے کی تجویز زیرِ غور ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو مختلف ہائبرڈ گاڑیوں کی قیمتوں میں 4 لاکھ سے 17 لاکھ روپے تک اضافہ ہو سکتا ہے۔نیا بجٹ تین بنیادی ستونوں کے گرد گھومتا دکھائی دیتا ہے: دفاع‘ مالی استحکام اور سیاسی انتظام۔ تاہم معیشت کا چوتھا اور سب سے اہم ستون یعنی پیداواری ترقی‘ روزگار اور انسانی سرمایہ کاری کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ ملک کو آج محض بجٹ خسارہ کم کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ ایسی معاشی حکمتِ عملی درکار ہے جو ترقی کی رفتار تیز کرے‘ روزگار کے مواقع پیدا کرے‘ برآمدات میں اضافہ کرے اور ٹیکس کا بوجھ چند شعبوں اور تنخواہ دار طبقے تک محدود رکھنے کے بجائے منصفانہ طور پر تقسیم کرے۔ بجٹ کی اصل کامیابی اس بات سے نہیں ناپی جا سکتی کہ حکومت نے کتنے کھرب روپے خرچ کیے بلکہ اس بات سے ناپی جا سکتی ہے کہ ان وسائل نے عام پاکستانی کی زندگی میں کتنا فرق پیدا کیا۔ اگر ترقیاتی اخراجات‘ تعلیم‘ صحت‘ پانی اور روزگار کے مواقع میں بہتری نہ آئی تو بجٹ محض بڑے اعدادوشمار سے مزین ایک دستاویزبن کر رہ جائے گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/212_71532147.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کسان کا مقدمہ(اسد طاہر جپہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/asad-tahir-jappa-/2026-06-12/52108/17062115</link><pubDate>Fri, 12 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/asad-tahir-jappa-/2026-06-12/52108/17062115</guid><description>ماضی قریب میں ملک کے چند معروف نجی ٹیلی ویژن چینلز پر نشر ہونے والے کچھ ٹاک شوز کے دوران خود کو ممتاز تجزیہ کار سمجھنے والے اینکرز ملکی معیشت کی زبوں حالی کا راگ الاپنے پر مامور تھے اور اتنی بھیانک تصویر کشی کرتے کہ خاکم بدہن یہ لگتا کہ جیسے وطن عزیز پاکستان کا وجود ہی خطرے میں پڑ چکا ہو۔ مگر خاکسار نے ہمیشہ رجائیت پسندی کا دامن مضبوطی سے تھامے رکھا اور معاشی نظام کے اندر موجود کئی بنیادی خرابیوں اور ناہمواریوں کے باوجود ملک کے روشن مستقبل سے متعلق امید و آرزو کا نگر آباد رکھا ہے جس کی بڑی وجہ ملک کا زرعی شعبہ ہے۔ یہ امر روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ جب تک ہمارے ملک میں لاکھوں ایکڑ اراضی پر پھیلے ہرے بھرے کھیت کھلیان نظر آتے رہیں گے ہماری معیشت کا پہیہ جام نہیں ہو سکتا اور ہماری آبادی کی اکثریت کو دو وقت کا کھانا میسر ہوتا رہے گا۔ آج بھی ملکی آبادی کا کم و بیش ساٹھ فیصد دیہی علاقوں میں آباد ہے اور زراعت ہی ان کی زندگی کا اوڑھنا بچھونا ہے۔ زرعی اجناس صرف دیہی آبادی کا پیٹ ہی نہیں پالتیں بلکہ شہری علاقوں میں بنیادی اشیائے خورونوش کی فراہمی بھی یقینی بناتی ہیں۔ ہمارے کسان شبانہ روز اَنتھک محنت کرکے نہ صرف گرم وسرد موسم کی سختیوں اور قدرتی آفات کا مقابلہ کرتے ہیں بلکہ اپنے انتہائی محدود مالی وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے ہمارے لیے اناج کا بندوست کرتے ہیں۔ ہماری صنعت وتجارت کی ترقی و خوشحالی کا راز بھی زرعی شعبہ کی مضبوطی میں مضمر ہے مگر المیہ یہ کہ کسان کو اپنی محنت اور قربانی کا صلہ نہیں ملتا بلکہ شوگر ملز مالکان‘ فلور ملز مالکان اور کھاد مافیا کے ساتھ ساتھ آڑھتی کے ہاتھوں استحصال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ستم ظریفی دیکھئے کہ یہ تمام مافیاز مل کر الٹی گنگا بہا رہے اور کسان کو ہی مافیا ثابت کرنے پر مُصر نظر آتے ہیں۔ پاکستان کا زرعی شعبہ معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا تھا مگر اب اس ڈھانچے کی ہڈیاں کمزور پڑ گئی ہیں اور یہ زبوں حالی کا شکار ہے۔ سال بھر کسانوں کی زرعی اجناس کی منڈی میں رسوائی ہوتی ہے اور انہیں آڑھتی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ مہنگے ترین بیج‘ کھاد اور بجلی کی بلوں کی ہوشربا قیمتوں کے نتیجے میں کسان کی فصلوں پر لاگت گزشتہ چند برسوں میں لگ بھگ تین گنا بڑھ چکی ہے جبکہ اسے سپورٹ پرائس ملتی ہے اور نہ سبسڈی۔ فصل پک کر جونہی منڈی کا رخ کرتی ہے تو اس کی قیمت اچانک گرا دی جاتی ہے جو اس کی لاگت سے بھی کم ہوتی ہے جس کے باعث کسان شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو کر اپنے تیار فصلوں کو منڈی میں بھجوانے کے بجائے خود اپنے ہاتھوں سے تلف کر دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا پر کبھی وہ اپنی آلو کی تیار کردہ فصل پر ٹریکٹر چلاتے ہوئے سینہ کوبی کرتے دکھائی دیتے ہیں تو کہیں ٹماٹروں کو ندی نالوں میں بہانے پر نوحہ کناں ہیں۔ جونہی فصل کی کٹائی کا وقت قریب آتا ہے تو آڑھتی اپنی مرضی کی قیمت لگا کر خرید لیتا ہے اور کسان کے پاس بیچنے کے علاوہ کوئی اور راستہ ہی نہیں ہوتا کیونکہ اس کے پاس نہ اگلی فصل کاشت کرنے کیلئے درکار سرمایہ ہوتا ہے اور نہ ہی تیار فصل کے سٹوریج کا مناسب انتظام‘ جس کے باعث وہ چار و ناچار کم قیمت پر بیچنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ دوسری طرف گنے کی فصل بارہ سے چودہ ماہ کے دوران کم و بیش دولاکھ روپے فی ایکڑ کی لاگت سے تیار ہو کر جب شوگر ملز پر پہنچ جاتی ہے تو سب سے پہلے شوگر ملز ہر ٹرالی میں مبینہ طور پر چالیس سے ساٹھ من تک کٹوتی کر لیتی ہیں جبکہ گنے کی قیمت کی ادائیگی بھی روک لی جاتی ہے اور مہینوں کی تاخیر کے بعد قسطوں میں ادا کی جاتی ہے جس کیلئے بسا اوقات اسے اپنی جیب سے ملز انتظامیہ کو کمیشن کی مد میں نقد ادائیگی الگ کرنا پڑتی ہے۔ شوگر مافیا نے گزشتہ چند سالوں میں چینی کی قیمت میں ہوشربا اضافہ کیا ہے مگر دوسری طرف گنے کی قیمت میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نہیں کیا گیا۔ اس طرح ہردو صورتوں میں وہ آڑھتی‘ مڈل مین‘ کھاد مافیا‘ شوگر ملز اور فلور ملز مافیا کے چنگل میں پھنس کر رہ گیا ہے۔2000ء کی دہائی میں پاکستانی معیشت کی مجموعی پیداوار میں زراعت کا حصہ کم و بیش 32 فیصد تھا جو 2025-26ء میں 22 فیصد کے آس پاس رہ گیا ہے۔ دوسری طرف زرعی شرح نمو دوسے تین فیصد پر اٹک گئی ہے جبکہ آبادی ڈھائی فیصد سالانہ سے زیادہ شرح سے بڑھ رہی ہے جس کے نتیجے میں فی کس زرعی پیداوار بتدریج کم ہو رہی ہے۔ نمایاں فصلوں کی پیداوار ہر سال 15 سے 25 فیصد گر جاتی ہے اور صرف 2024-25ء میں کپاس کی پیداوار 40 لاکھ بیلز تک گر گئی جو 2014 میں 1.4 کروڑ بیلز تھی۔ کسان کھاد‘ ڈیزل اور بیج مہنگے ترین نرخوں پر خریدنے کیلئے مجبور ہو جاتا ہے لیکن فصل کا ریٹ منڈی کنٹرول کرتی ہے جس کے بعد کسان فصل سستے داموں بیچ کر مزید قرض میں ڈوب جاتا ہے۔ کمزور پیداواری صلاحیت کے باعث پاکستان زرعی اجناس کی برآمدات کرتا تھا اور کبھی دنیا میں کپاس کے برآمد کنندہ ٹاپ تھری ممالک میں شمار ہوتا تھا جبکہ اب ہر سال کپاس درآمد کرنا پڑتی ہے۔ اسی طرح گندم بھی ہر دوسرے سال امپورٹ ہوتی ہے۔ آج بھی پاکستان کی تقریباً 60فیصد آبادی دیہات میں رہتی ہے اور دیہی علاقوں میں غربت کی شرح 35 فیصد ہے۔ پاکستان کی کمزور زرعی پیداوار کی کئی بنیادی وجوہات ہیں۔ سب سے پہلی اور بڑی وجہ پانی کی عدم دستیابی اور غیر مناسب استعمال ہے۔ اب پاکستان ایک واٹر سٹریس ملک بن چکا ہے اور فی کس پانی 850کیوبک میٹر سے کم رہ گیا۔ زراعت میں استعمال ہونے والا 60فیصد پانی نہروں اور کھیتوں میں ضائع ہو جاتا ہے کیونکہ ڈرپ اریگیشن اور لیزر لیو لنگ بہت کم ہے۔ مزید برآں موسمیاتی تبدیلیوں سے گلیشیرز پگھل رہے ہیں جس کے نتیجے میں زرعی شعبہ کو ایک سال سیلاب کی تباہ کاری کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو اگلے سال خشک سالی گھیر لیتی ہے۔ دوسری بڑی وجہ پالیسی کا عدم استحکام اور پالیسی سازی پر اشرافیہ کا کنٹرول ہے۔ ہر سال گندم‘ چینی اور کھاد کا ریٹ اور درآمد و برآمد کی پالیسی تبدیل کر دی جاتی ہے اور کسان کو یہ اندازہ نہیں ہو پاتا کہ اگلے سال اس کے ساتھ کیا ہوگا۔ شوگر ملز‘ فلور ملز مالکان اور کھاد مافیا پالیسی بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ وہ زرعی اجناس کسان سے سستے داموں خریدتے ہیں جبکہ بیج‘ کھاد‘ بجلی‘ زرعی ادویات اور ڈیزل انہیں مہنگے داموں بیچتے ہیں۔ علاوہ ازیں جعلی کھاد اور غیر معیاری ادویات پر بھی کسان کا پیسہ اور اس کی فصل برباد ہو جاتی ہے۔ زراعت کی زبوں حالی کی تیسری بڑی وجہ نسل درنسل زمین کی مسلسل تقسیم ہے جس کے نتیجے میں اب اوسط کسان کے پاس تین سے پانچ ایکڑ رقبہ رہ گیا اور چھوٹے قطعہ زمین پر ٹریکٹر اور ٹیکنالوجی کا استعمال مہنگا پڑتا ہے۔ چوتھی نمایاں وجہ کسان کی منڈی تک رسائی ہے جس کے باعث کسان کی فصل منڈی تک پہنچتے پہنچتے آڑھتی‘ بیوپاری‘ ٹرانسپورٹر 40 فیصد منافع کھا جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ کسان کو بینک سے سستا قرض نہیں ملتا اور مجبوراً دو سے تین گنا سود پر آڑھتی سے قرض لیتا ہے۔ لہٰذا فصل بکنے سے پہلے ہی بک چکی ہوتی ہے۔ یوں زراعت کا مسئلہ صرف موسمیاتی تغیر کا نہیں بلکہ یہ گورننس اور کسان کے مفادات کے تحفظ کا مسئلہ ہے۔ جب تک زراعت کے شعبہ کو حکومتی سطح پر سرپرستی حاصل نہیں ہوتی اور ترجیحی بنیادوں پر اسے دوبارہ استوار نہیں کیا جاتا تب تک زراعت پاکستانی معیشت میں انجن کے بجائے بوجھ بنی رہے گی۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_34710710.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>اک آبلہ پا وادیٔ پُرخار میں آیا(نسیم احمد باجوہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/naseem-ahmed-bajwa/2026-06-12/52109/58273646</link><pubDate>Fri, 12 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/naseem-ahmed-bajwa/2026-06-12/52109/58273646</guid><description>ہمیشہ سچ بولنے والا بہادر‘ بااُصول‘ نظریاتی‘ محنت کشوں کا ساتھی‘ مستقل مزاج‘ برد بار‘تمام زندگی کسانوں کے حقوق اور مفادات کی جدوجہد کرنے والا ایک آبلہ پا شخص وادیٔ پُر خار میں عمر بھر پھرتا رہا مگر کانٹوں کی سوکھی ہوئی زبان کی پیاس نہ بجھا سکا۔ ایوانِ اقتدار میں اعلیٰ ترین مقام حاصل کرنے کے باوجود عملی زندگی شروع کی تو کسانوں کا ہاتھ اس طرح تھاما کہ مرتے دم تک نہ چھوڑا۔ وہ جب اپنے خالقِ حقیقی کے حضور پیش ہوئے ہوں گے تو یقینا سرخرو ہوئے ہوں گے۔کچھ عجب نہیں کہ یہ سطور پڑھنے والوں میں سے بہت سے لوگوں کو پتا چل جائے گا کہ یہ مضمون شیخ محمد رشید پر لکھا گیا ہے۔ تاریخ تو یاد نہیں لیکن غالباً 1964ء یا 65ء میں میرے ایک دوست مختار رانا مرحوم نے شیخ صاحب سے تعارف کرایا۔اس دوران مجھے شیخ صاحب سے کئی بار ان کے دفتر میں ملنے اور تھوڑے وقت میں کام کم اور باتیں زیادہ کرنے کا موقع ملا۔ میں نے ان کے ساتھ مل کر ایک کام کیا اور وہ تھا 28 مئی 1966ء کو YMCA ہال لاہور میں پیپلز کنونشن کا انعقاد۔ قریباً ساری تنظیمی ذمہ داری مجھ پر تھی۔میرے لیے اس سے بڑی خوشی کی اور کیا بات ہو سکتی تھی کہ میں آمریت کی تاریکی سے نکل کر روشنی تک پہنچنے کے عمل کیلئے ایک ٹھوس قدم اُٹھانے میں اپنے حصے کا کردار ادا کروں ۔ یہ کنونشن بارش کا پہلا قطرہ ثابت ہوا اور میری توقع سے کہیں زیادہ کامیاب۔ میرا سردار ابراہیم خان (آزاد کشمیر کے رہنما) سے اتنا قریبی تعلق تھا کہ انہوں نے نہ صرف تقریر کرنے کا وعدہ کیا بلکہ ہر ممکن مالی مدد کی۔ دیگر تین مقررین کو شیخ صاحب نے بلایا۔ (میرا ان میں سے ایک کے سوا کسی سے تعارف نہ تھا)۔ شیخ صاحب کے مثبت‘ تعمیری‘ قابلِ صد تعریف‘ یادگار اور تاریخی کارنامے کا تفصیلاً ذکر ان کی لکھی ہوئی کتاب &#39;جہدِ مسلسل‘ میں کیا گیا ہے۔24 مئی 1915ء کو موضع کلال والا (ضلع شیخوپورہ) میں ایک بچہ پیدا ہوا تو مہر علی نے اس کا نام محمد رشید رکھا۔ وہ کہتے تھے کہ میرا تعلق ککے زئی قبیلے سے ہے‘ جس کا آبائی پیشہ کاشتکاری ہے۔ لیکن انہوں نے ہمیں یہ نہیں بتایا کہ انہوں نے اپنے نام کے ساتھ شیخ کے لفظ کو کب اور کیوں لگایا؟ شیخ صاحب کے گائوںسے دو میل کے فاصلہ پر بُرج اٹاری میں ایک سکول تھا۔ ابتدائی تعلیم کا آغاز وہاں سے کیا۔ پانچویں جماعت میں اسلامیہ ہائی سکول بیرونِ بھاٹی گیٹ میں داخلہ لیا جہاں چودہ‘ پندرہ سال کی عمر میں میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ پھر تعلیم کا سلسلہ منقطع کر کے کاشتکاری شروع کردی۔ 1954ء میں فارسی کا امتحان (غالباً ادیب یا منشی فاضل) پاس کر کے بی اے تک تعلیم حاصل کی۔ پھر لاء کالج میں داخل ہوئے اور 1957ء میں ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی اور لاہور میں وکالت شروع کر دی۔ ان کے سیاسی سفر کے اہم سنگِ میل کچھ یوں تھے۔1937-40ء میں خاکساروں کی حمایت‘ 1940ء میں مسلم لیگ میں شامل ہوکر اچھرہ وارڈ کا سیکرٹری بنے‘ 1944-48ء میں مسلم لیگ پروگریسوورکرز کنوینر اور منتظم کی ذمہ داری سنبھالی‘ 1950ء میں مسلم لیگ سے راستے جدا ہونے کے بعد ترقی پسند جماعت (آزاد پاکستان پارٹی) میں شامل ہوئے اور 1952-54ء میں اس کے سیکرٹری جنرل کے عہدے تک پہنچے۔ 1954-67ء تک عوامی جمہوری پارٹی اور 1952-67ء پاکستان کسان کمیٹی کے صدر رہے۔ 1967ء میں پیپلز پارٹی کی تنظیمی کمیٹی کے رکن بنائے گئے۔ 1977-99ء میں پیپلز پارٹی کے سینئر نائب صدر رہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ حکومت میں وہ پہلے وزیر صحت بعد ازاں زراعت وخوراک‘ امدادِ باہمی اور اوقاف کے وزیر اور آخر میں چیئرمین بھٹو کمیشن بنائے گئے۔ یہ بہت اہم اور کلیدی اہمیت کا عہدہ تھا۔ یہاں شیخ صاحب کے جوہر کھلے۔ آپ کو شاید یقین نہ آئے مگر سچ یہ ہے کہ شیخ صاحب نے بہادری‘ جرأت‘ فراست اور معاملہ فہمی سے کام لیتے ہوئے (MLR 115) کے تحت ساڑھے پانچ لاکھ ایکڑ سے زائد اراضی ایسے بااثر زمینداروں سے ضبط کی جن کے کیس زرعی اصلاحات کے صوبائی افسران نے چیف لینڈ کمشنر تک ان کے حق میں کرائے تھے اور ان کے خلاف اپیل کرنے والا کوئی شخص نہ تھا کیونکہ غریب مزارعین کے پاس مقدمہ بازی کے وسائل نہ تھے اور پھر ظالم زمینداروں کا خوف بھی تھا۔ شیخ صاحب کا یہ بڑا کارنامہ اپنی جگہ مگر میرا فرض ہے کہ میں ان کی ایک بڑی کوتاہی کی نشاندہی کروں کہ انہوں نے انجمن مزارعین اوکاڑہ کی فریاد نہ سنی۔ پنجاب پر برطانوی قبضہ ہوا تو انگریزوں نے لاکھوں ایکڑ زمین عسکری مقاصد کے لیے قبضے میں لے لی۔ ایک صدی گزر جانے کے بعد ہزاروں مزارعین (جن کی بڑی تعداد مسیحی ہے) کو حقِ ملکیت نہیں ملا۔ جب شیخ صاحب نے ایک انقلابی دستاویزکسانوں کا اعلانیہ (Peasant Charter) مرتب کیا تو بھٹو صاحب نے 18 دسمبر 1976ء کو اس پر یہ حاشیہ آرائی کی: All Power to the Peasants۔ شیخ صاحب جب وزیر صحت بنے تو انہوں نے نہ صرف پیپلز ہیلتھ سکیم متعارف کرائی بلکہ عوام کو بیماریوں سے بچانے اور ان کے علاج کیلئے ادویات کو سستا کرنے اور اس کے اصلی ہونے کی گارنٹی کیلئے ادویات کےGeneric ماخذوں کے انکشاف کرنے کیلئے قانونی کارروائی شروع کی تو بھونچال آگیا۔ دوائی بنانے والی کمپنیاں دوائوں کی قیمت بڑھا کر اربوں روپے کماتی اور بڑے اثر و رسوخ کی مالک ہوتی ہیں۔ شیخ صاحب اپنی ثابت قدمی کے باوجود یہ جنگ نہ جیت سکے۔ سرمایہ دار مکرو فریب سے بازی لے گیا۔ وہ دن اور آج کا دن کسی بھی عوام دوست فرد یا جماعت نے اس گرِے ہوئے پرچم کو زمین سے نہیں اٹھایا جسے شیخ صاحب نے تھامااور لہرایا تھا۔ انہیں بجا طور پر بابائے سوشلزم کا خطاب دیا گیا۔ شیخ صاحب کی شہرت بطور کسان رہنما اور سوشلسٹ‘ چین اور بلغاریہ تک پہنچی تو حکومتِ چین اور کمیونسٹ پارٹی نے انہیں وہاں بلایا اور آنکھیں بچھا دیں۔ حکومت بلغاریہ نے بہترین علاج کیلئے وہاں جون 1973ء میں بلایا اور بہترین علاج کروایا۔ شیخ صاحب کی صحت بہتر ہونے لگی تو سیاسی معاملات بگڑ گئے۔ 1977ء میں مارشل لاء لگنے کے بعد شیخ محمد رشید نے جنرل ضیاء الحق کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا۔ انہیں طویل عرصے تک جیل میں رکھا گیا‘ نظر بند کیا گیا اور تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا لیکن انہوں نے اپنے نظریات پر سمجھوتا نہیں کیا۔ اسی دوران پیپلز پارٹی کی قیادت (مرتضیٰ بھٹو کی الذوالفقار میں شرکت کی وجہ سے) بینظیر بھٹو کے ہاتھ آ گئی۔ انہوں نے 1985ء میں ڈاکٹر غلام حسین کو پارٹی کے سیکرٹری جنرل کے عہدے سے ہٹا دیا۔ ساتھ ہی وہ اپنی پارٹی کو‘ جسے ان کے والد نے اپنے خون سے سینچا تھا‘ بائیں بازو سے قدرے دائیں بازو کی طرف لے گئیں۔ شیخ صاحب اپنے شکستہ دل پر کتنا جبر کرتے‘ وہ اس کے ساتھ ایک قدم بھی نہ چل سکتے تھے مگر وہ محاذ سے بھاگ جانے والے سپاہیوں میں سے نہ تھے۔ 1988ء کا الیکشن انہوں نے اپنی پرانی‘ اگرچہ بالکل نیم مردہ پارٹی کی طرف سے لڑا مگر جماعت اسلامی کے اُمیدوار سے ہار گئے۔ بعد کے انتخابات میں انہیں پارٹی ٹکٹ تک نہیں دیا گیا۔ عمر بھر ایک مقدس مشن کی خاطر جدوجہدکرنے والا شخص آخر کار تھک گیا۔ شیخ صاحب کی پہلی شادی ایک زمیندار کی بیٹی حمیدہ بیگم سے 1934ء میں ہوئی‘ جو غیر سیاسی اور گھریلو خاتون تھیں۔ یہ ازدواجی رشتہ 30 برس تک قائم رہا۔ پھر دسمبر 1966ء میں اپوا کالج لاہورکی پرنسپل بیگم شکیلہ خانم سے شادی ہوئی۔ 12 دسمبر 2002ء کو 87 سال کی عمر پاکر شیخ صاحب اس دنیا کو داغِ مفارقت دے گئے اور لاکھوں محنت کش اپنے بہترین خیر خواہ سے محروم ہو گئے اور میں ایک پرانے اور پیارے دوست سے۔ </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_32258580.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>حسینی سیاست اور سائنس(امیر حمزہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ameer-hamza/2026-06-12/52110/18613009</link><pubDate>Fri, 12 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ameer-hamza/2026-06-12/52110/18613009</guid><description>&#39;&#39;سبحان اللہ‘‘ کا وِرد ہم انسان بھی کرتے ہیں اور یہی ورد آسمان بھی کرتے ہیں۔ زمین بھی یہ ورد کرتی ہے‘ آسمانوں اور زمینوں کے درمیان جو مخلوقات ہیں وہ بھی یہ ورد کرتی ہیں۔ ذرات سے کہکشائوں تک سبھی یہ ورد کرتے ہیں۔ حضرت دائود علیہ السلام جب سبحان اللہ کا ورد کرتے تھے تو پہاڑوں کا ذرہ ذرہ‘ درختوں کا پتا پتا ان کے ساتھ ہم آہنگ ہو جاتا تھا۔ پرندے بھی حضرت دائود علیہ السلام کے ہمراہ ہو کر ان کے ہم آہنگ ہو جایا کرتے تھے۔ یاد رکھیں فجر سے لے کر طلوع آفتاب تک کا جو وقت ہے اس وقت میں کوئل کوکو کرتی ہے‘ چڑیاں چہچہاتی ہیں۔ ان کی آوازیں ہمارے کانوں میں رس گھول کر دماغ کے نیورونز تک پہنچتی ہیں تو یہ آوازیں ان ویووز (waves) کو دفع کرتی ہیں جو دماغ میں پریشانی اور تھکاوٹ کا باعث بنتی ہیں۔ ان ویوز کو &#39;&#39;بیٹا ویوز‘‘ کہا جاتا ہے۔ پرندوں کی تسبیح میں اللہ تعالیٰ نے عجب سکون رکھا ہے کہ ان سے &#39;&#39;ایلفا اور تھیٹا‘‘ ویووز کا اخراج شروع ہو جاتا ہے۔ سائنسی تجربات سے یہ حقائق ثابت ہو چکے ہیں۔ صحیح مسلم میں اللہ کے رسولﷺ کی حدیث ہے &#39;&#39;جنت میں وہ لوگ داخل ہوں گے جن کے دل پرندوں کے دلوں جیسے ہیں‘‘۔ جی ہاں! ایسے دل بھی ہیں جو درندوں جیسے ظالم ہیں‘ ایسے لوگ سبحان اللہ کا ورد کرتے بھی رہیں تو ان کا ورد کائنات کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہوتا۔ چڑیوں‘ بلبلوں‘ فاختائوں اور کوئلوں کی کوکو کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہوتا۔ اس لیے کہ ان کے دلوں میں سختی گھر کر چکی ہوتی ہے۔ ان کا &#39;&#39;سبحان اللہ‘‘ کہنا اللہ کے پُررحمت نظام کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہو پاتا لہٰذا دربارِ الٰہی میں اس کی کوئی وقعت نہیں نظر آتی۔ قرآن مجید بتاتا ہے آسمان کپڑے کی طرح بنا ہوا ہے۔ آئن سٹائن اور دیگر سائنسدانوں کی ریسرچ بھی یہی ہے کہ آسمان &#39;&#39;وقت اور خلا‘‘  کے (تانے بانے) ویووز سے بنا ہوا ہے۔ ماضی‘ حال اور مستقبل کی حقیقت یہ ہے کہ ہم لوگ ماضی کی غلطیوں کے پچھتاوے پر وقت گزارتے ہیں مگر اصلاح نہیں کرتے۔ مستقبل کے خوف کو سامنے رکھ کر زندگی گزارتے ہیں۔ جو لوگ ماضی اور مستقبل سے اپنے آپ کو آزاد کرکے &#39;&#39;حال‘‘ میں زندگی گزارتے ہیں ان کے سبحان اللہ کی بات ہی کوئی اور ہے۔ جو شکر کی حالت میں زندہ رہتے ہیں ان کی زندگی کے کیا کہنے!اللہ تعالیٰ زمان ومکان کا خالق ہے۔ اب اسکا کوئی بندہ زمان ومکان میں رہتے ہوئے حق کی خاطر تمام حالتوں سے آزاد ہو جائے تو اسکا &#39;&#39;سبحان اللہ‘‘ اور &#39;&#39;الحمدللہ‘‘ اللہ کے فرشتوں سے ہم آہنگ ہو جاتا ہے۔ حضرت جبرائیل اور حضرت میکائیل علیہما السلام سے ہم آہنگ ہو جاتا ہے۔ عرش کے گرد طواف کرنے والے فرشتوں سے ہم آہنگ ہو جاتا ہے۔ زمان و مکان کے بہائو میں اللہ کے آخری  رسولﷺ کی حکمرانی کا زمانہ‘ رحمت کا زمانہ تھا۔ اسکا نام حضورﷺ نے &#39;&#39;نبوت و رحمت‘‘ رکھا۔ حضورﷺ نے اپنے بعد والے زمانے کا نام بھی رکھ دیا۔ اسے &#39;&#39;خلافت و رحمت‘‘ کا نام دیا۔ تیس سال مدت بھی بتلا دی۔ یہ مبارک زمانہ حضرت ابوبکر صدیقؓ، حضرت عمر فاروقؓ، حضرت عثمان غنیؓ، حضرت علی حیدرِ کرارؓ، حضرت حسن مجتبیٰؓ کا زمانہ ہے۔ اب اگلا زمانہ کیسا ہے اس کی ایک جھلک اللہ کے رسولﷺ کی ایک حدیث شریف سے ملاحظہ کرتے ہیں۔ یہ حدیث حافظ شہاب الدین البوصیری جو حافظ ابن حجر عسقلانی  کے شاگرد ہیں‘ اپنی کتاب &#39;&#39;اتحاف الخیرۃ المھرۃ‘‘ میں لائے ہیں۔ اس کتاب میں وہ احادیث درج ہیں جو دوسری صدی ہجری میں تابعین اور تبع تابعین کی کتابوں سے لی گئی ہیں۔ ہر صحابی کے نام سے درج ان کتابوں کو  مسانید کہا جاتا ہے۔ حافظ شہاب الدین کی کتاب کو ریاض کے مکتبہ دارالوطن نے شائع کیا ہے۔ حافظ بوصیری نے اپنی کتاب حافظ ابن حجر عسقلانی کی رہنمائی میں مرتب کی۔ یاد رہے زیر نظر حدیث مختلف مترادف اور اضافی لفظوں کے ساتھ شیخ ناصر الدین البانی اپنی کتاب &#39;&#39;سلسلہ صحیحہ‘‘ میں بھی لائے ہیں۔ میں دونوں احادیث کو سامنے رکھتے ہوئے ترجمہ و تفہیم قارئین کے سامنے رکھ رہا ہوں۔حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بارش کے فرشتے نے اپنے رب سے گزارش کی کہ وہ حضورﷺ کی زیارت کرنا چاہتا ہے لہٰذ اسے اجازت دی جائے۔ اسے اجازت دے دی گئی۔ یہ دن ام المومنین حضرت ام  سلمہؓ کا دن تھا کہ حضورﷺ ان کے گھر میں تشریف فرما تھے۔ اللہ کے رسولﷺ نے حضرت ام سلمہؓ سے کہا کہ خیال کرنا کوئی کمرے میں نہ آئے۔ چنانچہ وہ دروازے پر بیٹھ گئیں۔ حضرت حسینؓ گھر میں آ گئے۔ اِدھر اُدھر کھیلتے رہے۔ فرماتی ہیں کہ کسی غرض کی وجہ سے میرا دھیان ہٹا تو حضرت حسینؓ اندر کمرے میں داخل ہو گئے اور لپک کر حضورﷺ کے شکم مبارک پر جا بیٹھے۔ اللہ کے رسولﷺ نے حضرت حسینؓ کو اپنے ساتھ چمٹا لیا اور چومنے لگ گئے۔ بارش کا فرشتہ اجازت لے کر اندر آ چکا تھا۔ (ایک روایت میں ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام اندر آئے تھے) حضرت ام سلمہ ؓ بتاتی ہیں کہ یکایک حضورﷺ کے رونے کی آواز آئی تو میں (بھاگی بھاگی) اندر گئی۔ (یاد رہے کہ حضرت ام سلمہؓ نے جو لفظ استعمال کیا وہ &#39;&#39;نحیب‘‘ ہے۔ لسان العرب وغیرہ کے مطابق یہ ایسی آواز ہے جو لمبی اور پھیلی ہوئی ہو۔ اس میں غم اور بہت دکھ ہو۔ یہ آواز گلے سے کم اور ناک سے زیادہ نکلتی ہے) حضرت ام سلمہؓ نے رونے کا سبب پوچھا تو اللہ کے رسولﷺ نے بتایا: جناب جبرائیل (یا بارش کا فرشتہ) آئے تھے۔ انہوں نے حسینؓ کے ساتھ میرا لاڈ پیار دیکھا تو پوچھا کہ آپ کو اس بچے سے بڑی محبت ہے؟ میں نے ہاں میں جواب دیا تو انہوں نے کہا: آپ کی اُمت اس کو قتل (شہید) کر دے گی۔ اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو وہ جگہ دکھا دیتا ہوں جہاں یہ شہید ہوں گے؛ چنانچہ آپﷺ کو وہ میدان دکھلا دیا گیا۔ سرخ رنگ کی مٹی بھی دکھلا دی گئی۔ فرشتے نے مٹی حضورﷺ کے ہاتھ میں دے دی۔ حضورﷺ رونے لگ گئے۔ آپﷺ نے یہ مٹی حضرت ام سلمہؓ کو دے دی۔ انہوں نے اسے اپنے دوپٹے کے کونے میں باندھ لیا۔ (حضرت ثابتؓ کہتے ہیں ہم اس مقام کو کربلا کہا کرتے تھے)۔ حضورﷺ نے (اپنے لختِ جگر) سیدنا حسینؓ سے مخاطب ہو کر فرمایا: کاش! مجھے معلوم ہوتا کہ میرے بعد تجھے کون شہید کرے گا؟قارئین کرام! دونوں احادیث کی راوی حضرت ام سلمہؓ ہیں۔ ایک حدیث میں حضرت عائشہؓ بھی راوی ہیں۔ میرا استدلال یہ ہے کہ دونوں احادیث دراصل دو الگ الگ واقعات ہیں۔ ایک واقعہ حضرت ام سلمہؓ سے اور دوسرا حضرت عائشہؓ سے مروی ہے۔ ایک واقعہ میں حضرت جبرائیل علیہ السلام تشریف لائے اور ایک میں بارش کا فرشتہ حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ دونوں احادیث کی سند صحیح ہے اور متواتر بھی۔ بارش کے فرشتے کے آنے کا مطلب یہ ہے کہ پیاسے حسینی قافلے کی خدمت میں فرات کو حسینی خیمے کے سامنے بھی لے جایا جا سکتا ہے مگر قاتلوں کی پتھر دلی دکھانا مقصود تھا۔ اسی طرح حدیث میں &#39;&#39;ادراج‘‘ کا جو لفظ ہے اس کا مطلب ہے کہ حضرت حسینؓ چھلانگ لگاتے حضورﷺ کے شکم مبارک پر چڑھ گئے۔ قاہرہ میں عربی زبان کے مرکز نے اس لفظ کی شرح میں لکھا کہ کسی شے کے دوسری چیز میں داخل ہونے کو ادراج کہتے ہیں؛ یعنی حسینؓ حضورﷺ سے ہیں اور حضورﷺ حسینؓ سے ہیں۔ اس کا معنی تدوین اور نظام بھی ہے۔ اس کا معنی &#39;&#39;شبحیل‘‘ بھی ہے یعنی درجہ بدرجہ اپنے فرض منصبی کی طرف بڑھتے چلے جانا۔ اللہ اللہ! حضرت حسینؓ اپنے بابا حیدرِ کرارؓ کے ہمراہ آگے بڑھتے رہے‘ پھر اپنے بڑے بھائی حضرت حسنؓ کے ساتھ مسلمانوں کی صلح میں آگے بڑھے اور جب بات حد سے آگے بڑھ گئی تو اکیلا حسینؓ اٹھا اور اپنے نانا کے دیے ہوئے سیاسی نظام کو واپس پٹڑی پر چڑھاتے چڑھاتے شہادت پا کر فردوس میں اپنے نانا کے پاس جا پہنچا۔ اے انسانانِ جہان۔ اے مسلمانانِ پاکستان! آئیے! اپنے مشترکہ ورثے پر فخر کرتے‘ متحد ہوتے ہوئے آگے بڑھیں۔ حسینی قافلہ‘ خلفائے راشدین‘ صحابہ کرام رضوان اللہ علہیم ہم سب ان کے جانثار ہیں۔ متحد امت زندہ باد۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_68712266.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>