<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>عالمی بحری تجارت اور سپلائی چین کا خطرہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-13/11449</link><pubDate>Thu, 13 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-13/11449</guid><description>یمن کی حوثی ملیشیا کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی بحری جہاز پر حملوں کے واقعات نے بین الاقوامی امن اور عالمی بحری تجارت کیلئے خطرات پیدا کر دیے ہیں۔اس قسم کے ایک تازہ حملے میں تین پاکستانیوں کے جاں بحق اور ایک کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔یمن کے قریبی سمندر میں یہ افسوسناک صورتحال عالمی بحری قوانین اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق پاکستان سمندری تجارتی جہازوں کی آزادانہ نقل و حرکت پر یقین رکھتا ہے اور واقعے کی تفصیلات کیلئے سعودی حکام اور یمنی حکومت سے رابطے میں ہے۔ قبل ازیں 22 جولائی کو بھی دفتر خارجہ نے واضح کیا تھا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کارروائی کو قومی سلامتی کیلئے خطرہ تصور کیا جائے گا اور پاکستان کے سمندری مفادات کیخلاف کوئی کارروائی برداشت نہیں کی جائے گی۔ اس بحران کے پائیدار حل کیلئے پاکستان نے سعودی عرب کی قیادت میں قائم ہونیوالے بحری اتحاد کے معاہدے کو فوری طور پر آپریشنل کرنے کے عزم کا اظہار بھی کیا ہے۔

30 جولائی کو سعودی دارالحکومت ریاض میں 14ممالک پر مشتمل ایک کثیر القومی بحری دفاعی اتحاد کے قیام پر اتفاق کیا گیا تھا جس کا مقصد آبنائے باب المندب‘ بحیرۂ احمر اور خلیج عدن کے ذریعے جہاز رانی کے عالمی راستوں کی حفاظت کرنا ہے۔ خلیج فارس میں کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی توانائی کی رسد کا انحصار آبنائے باب المندب پر بڑھ گیا ہے۔ پاکستان بھی اب بحیرۂ احمر کے کنارے واقع سعودی بندرگاہ ینبع سے باب المندب کے راستے تیل درآمد کر رہا ہے تاہم تجارتی جہازوں پر حملوں اور تزویراتی آبی گزرگاہوں میں خلل سے عالمی بحری تجارت کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ اگر خلیج فارس کے بعد بحیرۂ احمر جیسی اہم بحری گزرگاہ تجارتی جہاز رانی کیلئے غیر محفوظ ہوگئی تو یہ عالمی بحری تجارت اور دنیا بھر کی سپلائی چین کیلئے تباہ کن ہو گا۔ بحیرۂ احمر کے اس حصے میں عدم تحفظ شدت اختیار کر گیا تو بحری جہازوں کو براعظم افریقہ کا طویل چکر کاٹ کر جانا پڑے گا جس سے مال برداری کے اخراجات میں بے پناہ اضافہ ہو جائے گا اور عالمی منڈیوں میں مہنگائی کا خوفناک طوفان جنم لے گا۔
پاکستان اور دیگر ترقی پذیر ممالک کی معیشتوں کیلئے‘ جو پہلے ہی مالیاتی بحران کا شکار ہیں‘ اس بحری گزرگاہ کا تحفظ معاشی بقا کا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ ایک تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اگر اس گمبھیر مسئلے کا فوری طور پر کوئی سیاسی اور سفارتی حل نہ نکالا گیا تو خلیج کی جنگ بحیرۂ احمر اور بحیرہ عرب تک وسیع ہو جانے کے اندیشہ ہے‘ اور یہ کشیدگی علاقائی تصادم تک محدود نہیں رہے گی بلکہ علاقائی طاقتوں کی ممکنہ شمولیت کے باعث وسیع تر علاقائی کشیدگی میں تبدیل ہو سکتی ہے جسکے اثرات مشرقِ وسطیٰ‘ افریقہ اور جنوبی ایشیا سمیت دنیا بھر کیلئے ہوں گے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ نہ صرف آبنائے ہرمز سے جہاز رانی کی رکاوٹیں دور کی جائیں‘ آبنائے ہرمز اور باب المندب کو ہر قسم کی کشیدگی سے محفوظ رکھنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر سفارتی کوششوں کا آغاز بھی کیا جائے۔ آبنائے ہرمز کا تنازع تو ایران امریکہ جنگ کے نتیجے میں پیدا ہوا مگر باب المندب میں تجارتی جہاز رانی کیلئے رکاوٹیں اور بڑھتے ہوئے خطرات کی کوئی وجہ سمجھ نہیں آتی۔
یہ مسئلہ اگر جلد حل نہ ہوا تو بعید نہیں کہ علاقائی ممالک کو اپنے بحری آمدورفت کے حقوق کو یقینی بنانے کیلئے طاقت کا استعمال کرنا پڑے۔ بہتر ہے کہ نوبت یہاں تک نہ آئے اور سفارتی کوششوں سے صورتحال معمول کے مطابق آجائے۔ فریقین کو یہ ادراک ہونا چاہیے کہ اس بحران کا پُرامن سفارتی حل ہی دنیا کے وسیع تر مفاد میں ہے۔ پاکستان نے اپنامؤقف واضح کر دیا‘ اب علاقائی ممالک کو بھی ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہوگا‘ اس سے پہلے کہ بحیرۂ احمر کے پانیوں کی یہ چنگاری پوری دنیا کی معیشت اور امن کو اپنی لپیٹ میں لے لے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بہتر مستقبل کی امید(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-13/11448</link><pubDate>Thu, 13 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-13/11448</guid><description>ایک سروے رپورٹ کے مطابق ملک عزیز کی 52 فیصد آبادی ملک کی طویل مدتی سمت کے حوالے سے پُرامید ہیں۔ معاشی مشکلات‘ سیاسی بے یقینی اور ادارہ جاتی مسائل کے باوجود اگر نصف سے زیادہ شہری ملک کے مستقبل کو بہتر دیکھتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ پاکستانی معاشرے میں بہتری کی خواہش اور امکان دونوں موجود ہیں۔ سوال اب یہ ہے کہ اس امید کو عملی نتائج میں کیسے تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ مذکورہ رپورٹ میں شفافیت‘ احتساب‘ قانون کی حکمرانی‘ اداروں کی ساکھ‘ عوامی اعتماد اور حکومتی کارکردگی سمیت گورننس کے متعدد پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق ملک میں احتساب کا قانونی اور ادارہ جاتی ڈھانچہ موجود ہے ‘مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس نظام پر عملدرآمد بھی کیا جا رہا ہے؟

شفافیت کسی بھی ملک کیلئے اچھی حکمرانی‘ سرمایہ کاری‘ مؤثر عوامی خدمات اور ریاستی اعتماد کی بنیادی ضرورت ہے۔ عالمی سطح پر پاکستان کی کرپشن پرسیپشن کی صورتحال بھی اس ضرورت کو اجاگر کرتی ہے؛ 2025ء کے کرپشن پرسیپشن انڈیکس میں پاکستان 182 ممالک میں 136ویں نمبر پر ہے۔ مذکورہ رپورٹ مسائل کے باوجود مستقبل کے حوالے سے ایک خوش کن تصویر پیش کرتی ہے۔ یہ امر خوش آئند ہے کہ نوجوان نسل ملک کے ساتھ جڑی ہوئی ہے‘ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس امید کو شفاف فیصلوں‘ مؤثر احتساب‘ قانون کی یکساں حکمرانی اور جواب دہ ادارہ جاتی نظام کے ذریعے اور مضبوط کیا جائے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ہڑتال اور اثرات(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-13/11447</link><pubDate>Thu, 13 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-13/11447</guid><description>حکومتی کمیٹی کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کے بعد گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال چھٹے روز میں داخل ہو چکی ہے‘ جس کے معیشت پرمنفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ایف پی سی سی آئی کی جانب سے ریڈ الرٹ جاری کیا گیا ہے کہ ہڑتال کے باعث صنعتی خام مال کی ترسیل تقریباً رک چکی ہے‘ جس سے صنعتوں کی پیداواری سرگرمیاں متاثر ہورہی ہیں۔ ٹرانسپورٹرز کے مطالبات میں یکساں ایکسل لوڈ پالیسی کا نفاذ‘ 10پہیوں والی گاڑیوں کیلئے وزن کی حد بڑھا کر 35 ٹن کرنا‘ ڈیزل کی قیمتوں کا روزانہ کے بجائے ماہانہ بنیاد پر تعین اور کسٹمز سے متعلق اختیارات شامل ہیں۔

خبروں کے مطابق حکومت یکساں ایکسل لوڈ پالیسی اور کسٹمز حکام و ٹرانسپورٹرز پر مشتمل مشترکہ مانیٹرنگ میکانزم سمیت بعض اقدامات پر آمادگی ظاہر کر چکی ہے‘ تاہم ڈیزل کی قیمتوں میں روزانہ تبدیلی کا معاملہ عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ سے جڑا ہوا ہے۔ گڈز ٹرانسپورٹ ملکی معیشت کیلئے سپلائی چین کی بنیادی کڑی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ جو مطالبات جائز‘ قانونی اور قابلِ عمل ہیں‘ انہیں واضح ٹائم فریم اور تحریری فیصلوں کے ذریعے حل کیا جائے۔ دوسری طرف ٹرانسپورٹرز کو بھی یہ حقیقت پیش نظر رکھنی چاہیے کہ احتجاج کا حق اپنی جگہ مسلم مگر غیر معینہ ہڑتال کے ذریعے قومی سپلائی چین کو طویل عرصے تک مفلوج رکھنا کسی فریق کے مفاد میں نہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>دانش کے ذخیرے(محمد اظہارالحق)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-08-13/52471/50797515</link><pubDate>Thu, 13 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-08-13/52471/50797515</guid><description>عزیز ِ گرامی رؤف کلاسرا نے وہ کام کر دکھایا جو ہمارے ملک کے فارسی دانوں کو کرنا چاہیے تھا۔ حالانکہ کلاسرا انگریزی ادب کے تیراک ہیں۔میں نے جب کلاسرا کا کالم پڑھا جس میں انہوں نے &#39;&#39;کلیلہ و دمنہ‘‘ جیسے کلاسیکی شہکار کو متعارف کرایا تو خوشی ہوئی اور افسوس بھی!! خوشی اس لیے کہ آج کے قارئین کیلئے یہ ایک نادر وکمیاب تحفہ تھا۔ یہ ایک ایسا ماسٹر پیس ہے جسے شروع کرنے کے بعد چھوڑنا ممکن نہیں۔ فکشن ہے اور ایسا فکشن جس میں سبق ہی سبق ہیں۔ زندگی گزارنے کے طریقے‘ حکومت کرنے کے طریقے‘ غربت سہنے کے اسالیب اور امارت کے تقاضے۔ جیسا کہ کلاسرا صاحب نے بتایا‘ اس شہکار کی جائے پیدائش ہمارا اپنا برصغیر ہی ہے۔ افسوس اس لیے ہوا کہ ہمارے پاس دانش کے کیسے کیسے ذخیرے ہیں جن سے ہم محروم تو ہیں ہی‘ ناواقف بھی ہیں۔شکیب جلالی یاد آ گیا:ادھر سے بارہا گزرا مگر خبر نہ ہوئی کہ زیر سنگ خنک پانیوں کا چشمہ تھادانش کے ان ذخیروں سے دنیا نے فائدہ اٹھایا اور ہم غافل رہے۔ یہ جو آج رومی کے حالات‘ شاعری اور حکایات کا چرچا ہے تو یہ بھی امریکہ ہی سے آغاز ہوا۔ یہ ہماری نفسیات کا حصہ بن گیا ہے کہ زندگی کے ہر شعبے میں ہمیں امپورٹڈ مال چاہیے۔ ملبوسات ہوں یا مصنوعات‘ لٹریچر ہو یا کچھ اور‘ وہی شے بھاتی ہے جو باہر سے آئے۔ پہلے تو ہمیں انگریز آقا نے الو بنایا۔ خام مال برصغیر سے لوٹا اور اپنے کارخانوں کا اس سے پیٹ بھرا۔ اس مقصد کے لیے یہاں سڑکیں بنائیں۔ ریلوے قائم کی۔ یہ ریلوے بہت مہنگی پڑی اور سارا خرچ ہندوستانیوں کے سر ڈالا گیا۔ ششی تھرور کی تصنیف The Era of Darkness جنوبی ایشیا کے ہر فرد کو پڑھنی چاہیے۔ جس زمانے میں سفید فام سامراج نے ہمارے ہاں ریلوے کو کئی کروڑ روپے فی کلومیٹر کے خرچ پر قائم کیا‘ ٹھیک اسی زمانے میں امریکہ میں بھی ریلوے قائم ہوئی جس کا خرچ کئی گنا کم پڑا۔بات یہ ہو رہی تھی کہ مصنوعات کی طرح اپنا لٹریچر بھی ہم وہی پڑھتے ہیں جسے &#39;&#39;فارن‘‘ کا تڑکا لگا ہو۔ ہمارے کلاسیکی شہکار دنیا میں بے مثال ہیں۔ افسوس ہم Tales from Shakespeare بچوں کو پڑھاتے ہیں مگر گلستاں اور بوستاں کی کہانیاں نہیں پڑھاتے۔ بچوں کے لیے جو شاعری اسماعیل میرٹھی‘ علامہ اقبال‘ صوفی تبسم‘ قیوم نظر‘ شہلا شبلی اور ابصار عبد العلی نے کی ہے وہ بے مثال ہے۔ کیا آپ نے اپنے بچوں اور ان کے بچوں کو یہ شاعری پڑھائی ہے؟ الف لیلہ‘ امیر حمزہ اور سندباد کی کہانیاں پڑھائی اور سنائی ہیں؟ دانش کے ذخیروں کی طرف لوٹتے ہیں۔ سعدی کی گلستان کے ابواب دیکھیے۔ حکمت اور دانائی کا‘ جو اس کتاب میں بھری ہے‘ اندازہ ان ابواب کی فہرست ہی سے لگا لیجیے۔ پہلا باب حکمرانوں کی سیرت اور عادات ۔دوسرا باب درویشوں کا اخلاق۔ تیسرا باب قناعت کے فوائد۔ چوتھا باب خاموشی کے فوائد۔ پانچواں باب محبت اور شباب۔ چھٹا باب بڑھاپے کا ضُعف۔ ساتواں باب تربیت کا اثر۔ آٹھواں باب صحبت کے آداب۔ اس فہرست پر غور کیجیے۔ حکمرانی‘ حکمت‘ دانائی‘ صبر‘ تربیت‘ سارے دریا اس کوزے میں بند ہیں اور اس سب کچھ میں وعظ و نصیحت کی بوریت نہیں ہے بلکہ دلچسپ کہانیوں کی مٹھاس ہے۔ کاش گلستانِ سعدی کا پہلا باب جو حکمرانوں کے بارے میں ہے‘ کوئی ہمارے حکمرانوں کو پڑھ کر سنائے۔ ایک حکایت میں سعدی کہتے ہیں کہ کسی نے محمود غزنوی کی موت کے بعد اسے خواب میں دیکھا کہ جسم تو اس کا مٹی میں مل کر مٹی ہو چکا تھا مگر آنکھیں ٹھیک تھیں اور چشم خانے میں ادھر ادھر دیکھ رہی تھیں۔ تعبیر پوچھی گئی تو کوئی نہ بتا سکا۔ آخر ایک فقیر نے تعبیر بتائی کہ بادشاہ مر کر بھی دیکھ رہا ہے کہ اس کی سلطنت دوسروں کے قبضے میں ہے۔ اپنی سلطنت‘ اپنا مال و دولت کسی اور کے تصرف میں دیکھنا کتنا اذیتناک ہے۔ سبق اس سے یہ حاصل ہوتا ہے کہ حکمران کو ہر وقت اپنا انجام سامنے رکھنا چاہیے اور اس حقیقت کو کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ یہ سارا تزک و احتشام‘ یہ سب ہٹو بچو‘ یہ طمطراق اور جاہ وجلال چند لمحوں کی جادوگری ہے۔ نیا حکمران آیا تو تمہارا نام بھی کسی نے نہیں لینا! ایک اور حکایت میں فرماتے ہیں کہ ایک ظالم حکمران نے کسی پارسا سے پوچھا کہ کون سی عبادت بہترین ہے۔ اس نے کہا تمہارے لیے تو دن کو سو جانا بہترین عبادت ہے کہ جتنی دیر سوئے رہو گے‘ خلق خدا تمہاری ناانصافیوں سے بچی رہے گی۔ سعدی کی گلستاں کے جواب میں بڑے بڑے نامور ادیبوں نے کتابیں لکھیں مگر جو دائمی اور بین الاقوامی شہرت گلستاں کو ملی‘ کسی کو نصیب نہ ہوئی۔ ہاں ! مولانا عبدالرحمن جامی کی &#39;&#39;بہارستانِ جامی‘‘ قابلِ ذکر ہے۔ گلستاں کے دیباچے میں سعدی کہتے ہیں کہ &#39;&#39;ہر وہ سانس جو اندر جاتا ہے‘ زندگی بڑھاتا ہے اور جب باہر آتا ہے تو فرحت بخشتا ہے؛ چنانچہ ہر سانس میں دو نعمتیں موجود ہیں‘‘۔ ہمارے دوست‘ نامور فارسی دان پروفیسر ڈاکٹر سلیم مظہر کو جہاں فارسی کے سینکڑوں اشعار یاد ہیں وہاں گلستان سعدی کا دیباچہ بھی حیرت انگیز طور پر حفظ ہے۔ سعدی کا دوسرا شہکار بوستانِ سعدی ہے جو مثنوی کی صورت میں ہے۔ اس کا پہلا باب بھی عدل اور حکمرانی کے طریقوں کے بارے میں ہے۔ ہمارے حکمرانوں کو فکر ہے کہ ان کے بعد ان کی اولاد حکمرانی کرے۔ کیا کیا خام خیالیاں ہیں۔ بوستاں میں سعدی لکھتے ہیں کہ رُوم کا بادشاہ ایک فقیر کی درگاہ میں حاضر ہوا اور رو پڑا۔ کہنے لگا میری سلطنت کا اکثر حصہ دشمن لے اُڑے۔ اب میرے پاس سوائے ایک قلعہ اور ایک آدھ شہر کے‘ کچھ نہیں بچا۔ بڑی جدوجہد کی کہ میرے بعد میرے بیٹے کو سلطنت ملے مگر ناکامی ہوئی۔ اس غم نے میرے جسم اور جان کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ فقیر کو یہ سن کر غصہ آیا۔ یہاں سعدی نے جو مصرع کہا وہ ضرب المثل بن چکا ہے۔ بر این عقل و دانش بباید گریست! اس عقل و دانش کا تو ماتم ہی کرنا چاہیے! فقیر نے کہا‘ اولاد کی نہیں اپنی فکر کر۔ جو تمہارے بعد آئے گا اپنا بندوبست خود کر لے گا۔دانش کا ایک اور بے بہا ذخیرہ سیاست نامہ طوسی ہے۔ یہ کتاب سلجوقی عہد کے معروف وزیراعظم نظام الملک طوسی کی تصنیف ہے۔ روایت ہے کہ تین مشہور اشخاص تعلیم حاصل کرتے وقت ہم جماعت تھے۔ عمر خیام‘ نظام الملک طوسی اور حسن بن صباح! لیکن تاریخ کے تجزیہ نگاروں نے اس روایت کو مسترد کیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ جب عمر خیام اور حسن بن صباح پیدا ہوئے‘ اُس وقت طوسی کی عمر تیس برس کی تھی۔ سیاست نامہ کے اکیاون ابواب ہیں۔ ایک حکمران کی زندگی کا شاید ہی کوئی ایسا پہلو ہو جس کے بارے میں طوسی نے سیاست نامہ میں فیصلہ کن ہدایات نہ دی ہوں۔ اس بات پر بھی غور کیجیے کہ اگلے وقتوں کے حکمران کیسے کیسے اربابِ دانش وعقل کو اپنا مشیر بناتے تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب چاپلوسی‘ خوشامد اور لجاجت کا حکمرانی سے کوئی تعلق نہ تھا۔ مسخرے اور لطیفہ گو اس وقت بھی درباروں تک پہنچ جاتے تھے لیکن انہیں وہی مقام دیا جاتا تھا جس کے وہ اہل ہوں۔ حکومت چلانے کے لیے بادشاہ‘ مالش کرنے والوں سے مشورے نہیں لیتے تھے۔ نہ ہی ان حکمرانوں کا ذوق پست تھا۔ مصری صدر انور السادات کے حوالے سے کہتے ہیں کہ دورے پر فرانس گیا تو ایک ایسا شخص بھی ہمراہ تھا جس کے بارے میں میزبانوں کو علم تھا نہ وفد کے اکثر شرکا کو کہ کون ہے۔ کھانے کی میز پر وہ صدر انور السادات کے ساتھ بیٹھتا تھا۔ معلوم ہوا کہ وہ صدر صاحب کا مالشیا ہے۔ (جاری) </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_57182973.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>جہاز کیوں یاد آتا ہے ؟(خالد مسعود خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-08-13/52472/57557851</link><pubDate>Thu, 13 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-08-13/52472/57557851</guid><description>قارئین! میں پوری کوشش کرتا ہوں کہ صوبائی حکومت کے اربوں روپے میں خریدے گئے لگژری جہاز کو بھول جاؤں۔ بعض اوقات تو ایسا لگتا ہے کہ میں واقعی یہ بھولنے جا رہا ہوں لیکن بدقسمتی دیکھیے کہ عین اسی وقت کوئی نہ کوئی واقعہ رن وے بن جاتا ہے اور یہ جہاز اس پر لینڈ کرتے ہوئے میری یادداشت کے ہوائی اڈے پر لینڈ کر جاتا ہے۔ اب آپ بتائیں کہ اس میں بھلا میرا کیا قصور ہے۔ اگر کوئی واقعہ نہ ہو تو مجھے یہ بھی یاد نہ آئے۔ ایسا ہر نیا واقعہ بھی چونکہ سرکار کی غربت اور معاشی بدحالی سے جڑا ہوتا ہے اس لیے عوامی غربت اور حکمرانوں کے شاہانہ طرزِ عمل پر جہاز کی خریداری والی شاہ خرچی یاد آ جاتی ہے۔ مثلاً اب یہ جو لاہور کی میٹرو بس والوں نے حکومت کو نوٹس دے دیا تھا کہ ہمارے پاس اب پٹرول ڈلوانے کے پیسے بھی نہیں ہیں‘ لہٰذا چند دن بعد وہ میٹرو سروس بند کر دیں گے۔ اور معاملہ صرف لاہور میٹرو تک محدود نہیں‘ حکومت کی معاشی کسمپرسی قدم قدم پر دکھائی دے رہی ہے۔ کوئی ایک معاملہ ہو تو بندہ اس پر بات کرے۔ صحت سے متعلقہ معاملات کو دیکھیں تو سرکار کے پاس پیسے نہیں۔ تعلیم کا مسئلہ دیکھیں تو سرکار سکولوں سے‘ اساتذہ سے‘ نظام تعلیم سے بلکہ اس پورے بکھیڑے سے اپنی جان چھڑوا رہی ہے۔ سکول پرائیویٹائز ہو رہے ہیں۔ تعلیم ہر پاکستانی شہری کا حق ہے لیکن صورتحال یہ ہے کہ پرائیویٹائز ہونے کے بعد تعلیم مہنگی بھی ہو رہی ہے اور اس کا معیار بھی تحت الثریٰ میں جا رہا ہے۔ ظاہر ہے غیر تربیت یافتہ‘ کم تعلیم کے حامل سستے استاد ویسا ہی نتیجہ دیں گے جتنی ان کی استعداد ہے۔ہمارے دوست اطہر خان خاکوانی کے والد مرحوم چچا سالک خان فرماتے تھے کہ سستی گاڑی اور سستا نوکر آپ کو ہمیشہ لوگوں کے سامنے عین چوک پر ذلیل کرواتا ہے۔ یہی حال پرائیویٹائزڈ سرکاری سکولوں کا ہے۔ چھ ہزار سے دس ہزار تک کی تنخواہ میں رکھے گئے اساتذہ جو فی الوقت مارکیٹ میں دستیاب گھریلو ڈرائیور سے چوتھائی تنخواہ لے رہے ہیں‘ اس سے ان کی  تعلیمی قابلیت اور پیشے سے اخلاص کی امید حماقت ہے۔ تاہم اس وقت معاملہ کچھ اور ہے۔ وہ یہ کہ اگر گھر میں رات کے کھانے کا سامان نہ ہو‘ قرضدار دروازے پہ کھڑے ہوں‘ محلے کے دکانداروں نے ادھار دینا بند کر دیا ہو‘ ایسے میں اگر گھر کا کوئی لاابالی نوجوان بیروزگاری کے باوجود ڈیڑھ دو لاکھ ماہانہ قسط والی گاڑی بینک سے لیز پرلے آئے تو اس کی اس حرکت پر سوال تو بنتا ہے۔ سو سرکار کے موجودہ معاملات اور مالی حالات کو سامنے رکھتے ہوئے اگر اس قلمکار کو سرکاری جائیدادیں بیچنے کا منصوبہ بنانے والی صوبائی حکومت کے اللّوں تللوں پرلگژری جہاز یاد آ جائے تو اس میں حیرانی یا پریشانی کی کیا بات ہے؟میں نے اپنے گزشتہ کالم میں ملتان کی بری صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے چند سڑکوں کا حال سنایا تھا‘ جو دو ماہ بعد میری ملک واپسی پر بھی اسی طرح خراب و خستہ ہیں۔ پاکستان پہنچنے کے بعد اگلی صبح جب میں گھر سے باہر نکلا تو دروازے کے ساتھ لگا ہوا ڈسٹ بن نہ صرف یہ کہ منہ تک بھرا ہوا تھا بلکہ اس کے اردگرد کافی سارا کوڑا کرکٹ زمین پر بکھرا پڑا تھا۔ ظاہر ہے‘ میں تو  پچھلے دو ماہ سے گھر میں ہی نہیں تھا۔ تو مجھے خیال آیا کہ ممکن ہے پاکستان سے روانگی سے قبل گھر کی صفائی کروا کے جو کوڑا کرکٹ اس ڈسٹ بن میں ڈالا تھا‘ شاید ابھی تک وہیں پڑا ہے۔ غور سے دیکھا تو اندازہ ہوا کہ بہرحال یہ وہ والا گند نہیں‘ ممکن ہے کہ بعد میں اردگرد کے ہمسایوں نے اس ڈسٹ بن کو خالی دیکھ کر اس میں ڈال دیا ہو۔ تاہم اوپر تک بھرے ہوئے اور اس کے ساتھ نیچے کافی سارے بکھرے ہوئے کوڑے کی وجہ سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ بہرحال یہ سب کچھ  گزشتہ کئی روز سے یہاں پڑا ہے۔ میں نے فوری طور پر متعلقہ صفائی کے محکمے کو فون کرنے کے بجائے اس ساری صورتحال کا صبر سے جائزہ لینے کا ارادہ کیا۔ اگلے روز باہر نکل کر دیکھا تو سب کچھ وہیں جوں کا توں پڑا تھا۔ یہ صورتحال اگلے تین دن  تک برقرار رہی‘ تاآنکہ میں نے ملتان ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے اس ذمہ دار کو فون کیا جس نے کچھ عرصہ قبل مجھے یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ اس گلی میں صفائی والا عملہ روزانہ آئے گا اور صفائی کرے گا۔ تاہم ایک بات مزید حیران کن یہ تھی کہ پوری گلی میں سب سے زیادہ کوڑا کرکٹ میرے گھر کے ساتھ موجود ڈسٹ بن میں تھا۔ یعنی سب سے زیادہ گند وہاں پڑا ہوا تھا جس گھر کا مکین گزشتہ دو ماہ سے یہاں تھا ہی نہیں۔ باقی گھروں کے باہر بھی صورتحال بہت اچھی نہیں تھی‘ تاہم آباد گھروں کے باہر اتنا کوڑا کرکٹ منطقی طور پر جائز دکھائی دیتا ہے۔ لیکن وہاں بھی یہ بات واضح تھی کہ گزشتہ دو تین دن سے کسی نے کوڑا نہیں اٹھایا۔ پوری گلی میں صرف سامنے والی باجی کا ڈسٹ بن تھا جو بالکل صاف تھا‘ اور اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ وہ یہ کام سرکار کے سپرد کرنے کے بجائے خود روزانہ علی الصباح سرانجام دیتی ہیں۔ معلوم ہوا کہ ویسٹ کمپنی والوں کا صفائی کا عملہ مختلف گھروں سے ماہانہ لے کر نسبتاً زیادہ توجہ سے صفائی کر رہا ہے۔ یعنی صفائی پر متعین عملہ ٹھیکیدار سے تنخواہ بھی وصول کر رہا ہے اور گھروں سے کوڑا اٹھانے کے عوض علیحدہ سے معاوضہ لے رہا ہے۔ ظاہر ہے‘ میں تو پاکستان میں موجود ہی نہیں تھا‘ لہٰذا اس گھر سے‘ جہاں صرف ایک چوکیدار تھا‘ معاوضہ ملنے کی کوئی توقع نہیں تھی۔ سو صفائی کے عملے نے اس گھر پر توجہ ہی نہ دی۔ بہرحال‘ جب اس متعلقہ شخص سے بات ہوئی تو اس نے نہایت رونے والے انداز میں کہا: &#39;&#39;سر جی‘ پچھلے دو تین ماہ سے ملازمین کو تنخواہ نہیں ملی‘ گاڑیوں میں ڈلوانے کیلئے پٹرول کے پیسے نہیں‘ کمپنی نے ہاتھ کھڑے کیے ہوئے ہیں۔ آپ بتائیں‘ میں کیا کروں؟ تاہم میں کوشش کر کے یہ کوڑا کسی طرح آج اٹھوا لیتا ہوں لیکن صورتحال بہت خراب ہے۔ کمپنی کے مالی حالات دگرگوں ہیں‘ ملازمین تنخواہیں نہ ملنے کی وجہ سے ڈی موٹیویٹ ہو چکے ہیں اور صورتحال کے فوری ٹھیک ہونے کی نہ امید ہے اور نہ کوئی توقع‘‘۔ اب آپ بتائیں کہ جہاں صفائی کے عملے کو گزشتہ تین ماہ سے تنخواہ نہ ملی ہو تو بندے کو جہاز یاد نہ آئے تو پھر کیا یاد آئے؟باقی شہر کی برباد شدہ سڑکوں کا حال تو آپ پڑھ چکے‘ لیکن سب سے زیادہ خراب معاملہ جنوبی پنجاب کے واحد Tertiary Care ہسپتال کے باہر دکھائی دے رہا ہے۔ نشتر ہسپتال کے باہر والی سڑک کھدی پڑی ہے اور اس پر کام بند ہے۔ میں یہ پورے یقین کے ساتھ تو نہیں کہہ رہا‘ تاہم جس حد تک معلومات ملی ہیں‘ وہ یہ ہیں کہ ٹھیکیدار ادائیگی نہ ہونے کی وجہ سے کام چھوڑ کر بھاگ گیا ہے۔ ایمرجنسی میں جانے والے مریض گھنٹوں ٹریفک میں پھنسے رہتے ہیں۔ ایمبولینس کے گزرنے کی نہ جگہ ہے اور نہ صورتحال۔ زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا مریض ہسپتال سے تھوڑے فاصلے پر پھنسے ہوئے راستہ ملنے کے منتظر رہتے ہیں۔ ایسے میں ان کے ساتھ موجود لواحقین کی بے بسی دیکھنے کے قابل ہوتی ہے۔ لیکن بے حسی کی انتہا ہے کہ ہسپتال کی سڑک بھی بروقت تعمیر نہیں ہو رہی۔ اندر ہسپتال کا حال اس سے بھی کہیں زیادہ خراب ہے لیکن فی الحال تو اس باہر کی صورتحال کا ذکر ہو رہا ہے جو فنڈز نہ ہونے کی بنیاد پر مریضوں‘ لواحقین اور عام پبلک کیلئے باعثِ آزار ہے۔ وجہ فنڈز کی عدم فراہمی ہے۔ ظاہر ہے‘ فنڈز کی عدم فراہمی مالی معاملات کی خرابی کی وجہ سے ہے۔ یہ مالی خرابی بہرحال چند کروڑ روپے سے زیادہ کی تو نہیں ہو گی۔ جب سرکار ہسپتال کے باہر انتہائی اہم سڑک کی تعمیر کیلئے چند کروڑ روپے بھی دینے کے قابل نہ ہو تو ایسے میں اس فقیر کولگژری جہاز یاد نہ آئے تو بھلا پھر اسے کیا یاد آنا چاہیے؟</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90500073.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>محمد حسین کا بیانیہ(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-08-13/52473/82135673</link><pubDate>Thu, 13 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-08-13/52473/82135673</guid><description>تشدد نتیجہ ہے‘ انتہا پسندانہ سوچ کا۔ سوچ بیانیے سے بنتی ہے۔ بیانیہ لفظوں سے تشکیل پاتا ہے جو زبان اور قلم سے ٹپکتے اور فضا میں پھیل جاتے ہیں۔ جیتا جاگتا انسان اس فضا میں سانس لیتا ہے۔ یوں اس بیانیے کا زہر اس کے رگ وپے میں سرایت کر جاتا ہے۔ اب اسے کسی تنظیم میں شامل ہو نے کی حاجت نہیں رہتی۔ وہ کسی کالج اور مدرسے میں داخلہ لینے کا محتاج نہیں ہوتا۔ اسے کسی تربیت کی بھی ضرورت نہیں ہوتی۔ اب وہ خود کفیل ہے۔ وہ خود مدرسہ بھی ہے اور مکتب بھی۔ تربیت گاہ بھی اور تنظیم بھی۔خود کوزہ و خود کوزہ گر و خود گلِ کوزہ خود رندِ سبو کشیہ1960 ء کی دہائی کا قصہ ہے۔ ہر سُو مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی &#39;خلافت و ملوکیت‘ کا چرچا تھا۔ محراب ومنبرکا مرغوب موضوع یہی کتاب تھی۔ گستاخ‘ گستاخ کا شور برپا تھا۔ مصنف خطیبوں کی شعلہ نوائی کا ہدف تھے۔ ابھی جہادی کلچر کو فروغ نہیں ملا تھا۔ اہلِ علم اور مساجد کو یہ خطرہ نہیں تھا کہ وہ بم دھماکوں کا نشانہ بن سکتے ہیں۔ مولانا مودودی کا معمول یہ تھا کہ وہ عصر کی نماز کے بعد‘ اپنے  گھر کے لان میں ایک نشست کا اہتمام کرتے تھے جس میں جو چاہے‘ شریک ہو سکتا تھا۔ لوگ مختلف موضوعات پر سوالات اٹھاتے اور علم کے اس سرچشمے سے بقدر ظرف سیراب ہوتے۔مولانا کے خلاف خطیبوں کا گھولا ہوا یہ زہر ایک نوجوان کے خون میں اس طرح گھل گیا کہ خنجر بکف مولانا کی عصری نشست میں جا پہنچا۔ ارادہ یہ تھا کہ اس گستاخ کا منہ ہمیشہ کے لیے بند کر دیا جائے جو شعائر اسلام کی توہین کرتا ہے۔ وہ ہاتھ کبھی قلم نہ اٹھا سکے جو اس کے خیال میں صحابہ کرامؓ کے خلاف چلتا ہے۔ اس نوجوان نے جب مولانا کی گفتگو سنی تو مخمصے میں پڑ گیا۔ ایک تو مولانا کی دل آویز شخصیت ا ور اس پر مستزاد کوثرو تسنیم میں دھلی زبان جو قرآن و سنت میں بند حکمت کو سہل بناتی جا رہی تھی۔ نوجوان کے اندر سے گواہی آئی کہ یہ زبان اور قلم دین کے خادم تو ہو سکتے ہیں‘ گستاخ نہیں۔ اس نے جو سنا محض افسانہ ہے۔ اسے جو بتایا گیا‘ صرف تعصب ہے۔ اس نے خنجر نکالا‘ مولانا کے سامنے رکھا اور اپنے اس ارادے کو بیان کیا‘ جس کے ساتھ وہ اس مجلس میں آیا تھا۔ اس کے دل کی دنیا بدل چکی تھی۔ مولانا کی عصری مجالس کی روداد&#39; 5 اے ذیلدار پارک‘ میں یہ واقعہ تفصیل کے ساتھ درج ہے۔اس کا کوئی ثبوت نہیں کہ کوئی تنظیم قائم ہوئی ہو یا کوئی جتھا بنا یا گیا ہو جس نے مولانا کے قتل کا فیصلہ کیا ہو اور اس نوجوان کو یہ ذمہ  داری سونپی گئی ہو۔ یہ بیانیے کی وہ تلخی تھی جو فضا میں گھول دی گئی تھی۔ لوگوں نے حسبِ توفیق اس سے اثر لیا۔ کسی نے دل میں نفرت کو سینچا۔ کسی نے زبان چلائی اور کسی نے قلم۔ یہ نوجوان زیادہ &#39;باہمت‘ تھا جس نے خنجر اٹھا لیا۔ انتہا پسندی کا بیانیہ اسی طرح ایک معاشرے کو پُرتشدد بناتا ہے۔ افراد سے نفرت اداروں سے نفرت میں بدلتی اور اداروں سے نفرت‘ ملک سے بغاوت پر اکساتی ہے۔ اصل مجرم وہ ہوتے ہیں جو زبان اور قلم کو تلوار اور تیر میں بدل دیتے ہیں۔ لفظوں سے چرکے لگاتے ہیں اور انسانی نفسیات کو زخمی کر دیتے ہیں۔پاکستانی عوام آج نفرت کے متعدد بیانیوں کی زد میں ہیں۔ انہیں مذہب میں فروغ دیا گیا اور اب سیاست میں بھی ان کا غلبہ ہے۔ یہ بیانیہ ان لوگوں نے بنایا جنہوں نے پہلے اس نظام کے خلاف نفرت پیدا کی۔ اسے تیزاب سے غسل دینے کی ترکیب پیش کی۔ پھراس نفرت کو افراد کی طرف منتقل کر دیا۔ کہیں ان کے چہروں پہ سیاہی پھینکی گئی۔ کہیں ان کے گھروں کا گھیراؤ کیا گیا۔ اس کو سیاسی شعور کا نام دے کر اس کی تاویلات کی گئیں۔ ملک سے باہر بیٹھے ہوئے یوٹیوبرز کا حصہ اس بیانیے کے فروغ میں سب سے زیادہ ہے۔ محمد حسین اس بیانیے کا ایک حاصل ہے۔ اس دستِ ہنر نے نہیں معلوم اس طرح کے کتنے شاہکار تخلیق کیے ہوں گے۔مصلحین کا طریقہ کبھی یہ نہیں رہا۔ پیغمبروں کی سیرت ہمارے سامنے ہے۔ فرعون جیسا کون ہوگا جسے اللہ نے سرکش قرار دیا۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو مبعوث کیا کہ اس کا سرِ پُرغرور خاک آلود ہو۔ اس کے باوصف‘ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اس کی طرف بھیجا تو یہی کہا کہ اس کے ساتھ نرمی سے بات کرنی ہے۔ پیغمبر کبھی سسٹم یا افراد کے خلاف نفرت کا بیانیہ نہیں بناتے۔ وہ خون بہانے کی بات نہیں کرتے۔ مذہب حالتِ جنگ میں بزدلی کو قبول نہیں کرتا لیکن عمومی زندگی میں صبر کو ایک قدر کے طور پر پیش کرتا ہے۔ صبر بزدلی ہے نہ بے حمیتی۔ یہ حکمتِ عملی ہے جس میں نتائج کو سامنے رکھ کر قدم اٹھایا جاتا ہے۔ یہ ردعمل کی نفسیات سے نکال کر‘ انسان کو مثبت عمل کے راستے پر ڈالنا ہے۔ اللہ تعالیٰ صابرین کے ساتھ ہوتے ہیں۔ پاکستان میں بہت سے مسائل ہیں۔ لوگوں کو ریاست اور حکومت سے جائز شکایات ہیں۔ ان کے اظہار پر قدغن نہیں ہونی چاہیے۔ جمہوری حکومتوں کو ایسی تنقید کا خیر مقدم کرنا چاہیے۔ شکایات کا مطلب مگر یہ نہیں کہ بعض طبقوں میں افراد یا اداروں کے خلاف نفرت کا بیانیہ بنایا جائے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ریاست کا الگ سے کوئی وجود نہیں ہے۔ وہ اداروں کے اجتماع کا نام ہے۔ نفرت انقلابی تحریکوں کا ہتھیار ہے‘ اصلاح پسندوں کا نہیں۔ محمد حسین جیسے کرداروں کا جنم لینا تشویش کی بات ہے اور یہ براہ راست نتیجہ ہے‘ ان نفرت انگز بیانیوں کا جو ایسے کردار پیدا کرتے ہیں۔ ریاست‘ اہلِ سیاست اور اہلِ دانش کو مل کر اس پر غور کرنا ہو گا کہ کیسے نفرت کے اس زہر کو پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے۔ یہ صرف ریاست کا نہیں‘ معاشرے کا بھی مسئلہ ہے۔ حکومت کے ساتھ‘ معاشرے کو اپنے حصے کا کام کرنا ہے۔ سیاسی جماعتیں‘ میڈیا اوراہلِ دانش سماج کی نمائندگی کرتے ہیں۔ میری تجویز ہے کہ اس تشدد آمیز بیانیے کے خلاف سیاسی جماعتوں کی ایک گول میز کانفرنس ہونی چاہیے جس میں تحریک انصاف کو بھی شریک کیا جائے۔ بیرسڑ گوہر صاحب نے محمد حسین سے اظہارِ لاتعلقی کیا ہے۔ انہیں ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے‘ ان عناصر سے اظہارِ برأت کرنا چاہیے جو ملک سے باہر بیٹھ کر نفرت آمیز بیانیے کو پھیلاتے ہیں۔ تحریک انصاف کو اس سیاسی مکالمے کا حصہ بنانا چاہیے۔ پُرامن ماحول سیاسی جماعتوں کی ضرورت ہے۔ جمعیت علمائے اسلام اور اے این پی جیسی جماعتوں کو یہ گلہ رہا کہ وہ گزشتہ انتخابات میں‘ کے پی کے عوام تک پہنچ ہی نہ سکے اور اس کا سبب وہ انتہاپسند گروہ تھے جن سے ان جماعتوں کا کوئی اجتماع محفوظ تھا نہ راہنما۔ وہ اس گلے میں حق بجانب ہیں۔ اگر نفرت کا بیانیہ پھیلا تو کوئی بھی عوام تک نہیں پہنچ پائے گا۔ اس لیے سب کو مل کر اپنے اپنے لب ولہجے کو دیکھنا ہو گا اور اس کے ساتھ فسادی عناصر سے اعلانیہ اظہارِ لاتعلقی کرنا ہو گا۔ محمد حسین کا واقعہ ایک بخار کی طرح ہے جو اس بات کا اظہار ہے کہ جسم میں کوئی ایسی بیماری موجود ہے جو اس کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ اگر بخار کو نظر انداز کیا گیا تو خطرہ ہے کہ سارا جسم بیماری کی لپیٹ میں آ جائے۔ہم مذہب میں انتہا پسندی کا نتیجہ دیکھ چکے۔ عجیب بات ہے کہ جو اہلِ دانش مذہبی انتہا پسندی کے خلاف شمشیر بکف تھے‘ وہ سیاسی انتہا پسندی پھیلانے میں ملوث ہیں۔ سماج کے لیے دونوں کے نتائج ایک جیسے ہیں۔ امن کے لیے‘ سماج کو دونوں سے پاک کرنا ہو گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بڑھتی ملاوٹ اور کانوں پر رینگنے والی جوں(عمران یعقوب خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-08-13/52474/26470140</link><pubDate>Thu, 13 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-08-13/52474/26470140</guid><description>آج سے 19 سال قبل چین کے صوبہ گانسو میں 16 شیر خوار بچوں میں گردے کی پتھری کی تشخیص ہوئی۔ وہ پاکستان تو ہے نہیں‘ چین ہے‘ اس لیے سب کے کان کھڑے ہو گئے کہ ایسا کیوں اور کیسے ہوا؟ تحقیق کرنے پر پتا چلا کہ متاثرہ تمام بچوں کو ایسا خشک دودھ (ملک پاؤڈر) پلایا جاتا رہا تھا جس میں میلامائن (Melamine) نامی ایک زہریلے صنعتی مرکب کی ملاوٹ کی گئی تھی۔ دراصل بچوں کے فارمولا دودھ میں میلامائن نامی کیمیکل کی غیر قانونی ملاوٹ کی گئی تھی تاکہ دودھ میں پروٹین کی سطح زیادہ دکھائی دے اور دودھ کوالٹی کنٹرول ٹیسٹ پاس کر سکے۔آپ نے اپنے گھروں میں پلاسٹک کے ڈنر سیٹ دیکھے ہوں گے۔ پلاسٹک کے چمچ‘ ڈونگے‘ تھالیاں‘ باؤل وغیرہ‘ وہ سارے میلامائن اور کچھ دوسرے اجزا کے مکسچر سے بنے ہوتے ہیں۔ میلامائن ایک سنتھیٹک کیمیکل کمپاؤنڈ ہے جس میں نائٹروجن بھاری مقدار میں ہوتی ہے۔ میلامائن سے بنی اشیا کو مائیکرو ویو اوون میں گرم کریں تو اس کے اجزا ٹوٹ جاتے ہیں اور پلیٹ میں رکھی گئی خوراک میں شامل ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے میلامائن کی بنی پلیٹوں میں کھانے پینے کی اشیا اوون میں گرم کرنے سے منع کیا جاتا ہے۔ میلامائن انسانی جسم میں داخل ہو جائے تو شدید اثرات مرتب کرتا ہے۔ یہ گردے کی پتھری کا سبب بن سکتا ہے‘ تولیدی نظام کو متاثر کر سکتا ہے‘ اس سے پیشاب کی نالیوں میں انفیکشن بھی ہو سکتا ہے۔واپس چین کی طرف چلتے ہیں! چار ماہ بعد اندازاً تین لاکھ چینی بچے اس آلودہ دودھ کے باعث بیمار پڑ چکے تھے اور گردوں کو پہنچنے والے نقصان کے نتیجے میں چھ بچوں کی موت ہو چکی تھی۔ چین کی ڈیری مصنوعات تیار کرنے والی سب سے بڑی کمپنیوں میں سے ایک سانلو گروپ کو اس معاملے کا مرکزی ذمہ دار قرار دیا گیا لیکن جب تحقیقات کا دائرہ وسیع ہوا تو انکشاف ہوا کہ چین کی مزید ڈیری کمپنیاں بھی اس جرم میں ملوث ہیں۔ حکومت کی تحقیقات کے نتیجے میں متعدد افراد کو قید کی سزائیں دی گئیں اور دو مرکزی مجرموں کو سزائے موت بھی دی گئی۔اس واقعے نے چین کی غذائی برآمدات کی ساکھ کو ہی نقصان نہیں پہنچایا‘ تیزی سے ترقی کرتی ہوئی مقامی ڈیری صنعت کو بھی اس سے شدید دھچکا پہنچا۔ عالمی ادارۂ صحت نے اس زہریلے دودھ کے حوالے سے الرٹ جاری کر دیا‘ جس سے چین کی ڈیری انڈسٹری کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا اور کئی ممالک نے چین سے دودھ اور دودھ سے بنی مصنوعات کی درآمد پر پابندی لگا دی۔ ملک کے اندر بچوں کے فارمولا دودھ کی مارکیٹ محدود ہو گئی جس نے غیرملکی مصنوعات کی مانگ میں اضافہ کر دیا‘ چنانچہ 2009ء کے بعد 100 سے زائد غیر ملکی برانڈز چینی مارکیٹ میں آ گئے۔ 2008ء کا یہ واقعہ عوامی جمہوریہ چین کی تاریخ کے سب سے بڑے غذائی تحفظ کے سکینڈلز میں سے ایک ہے۔ اس بحران سے سبق سیکھتے ہوئے چینی حکومت نے غذائی تحفظ کے کنٹرول کے حوالے سے اپنی ضابطہ کار صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کی کوشش شروع کر دی۔ جون 2009ء میں چین نے فوڈ سیفٹی لاء (غذائی تحفظ کا قانون) نافذ کیا‘ جو خوراک میں غیر مجاز اضافی اجزا کے استعمال کو ممنوع قرار دیتا ہے۔ اس قانون کے تحت ایک اعلیٰ سطحی مرکزی کمیشن کا قیام عمل میں لایا گیا تاکہ قومی سطح پر غذائی تحفظ کے ضوابط کے نفاذ اور مختلف اداروں کے مابین ہم آہنگی کو بہتر بنایا جا سکے۔ مارچ 2013ء میں خوراک اور ادویات کے تحفظ سے متعلق اختیارات کو یکجا کرنے کے لیے چائنہ فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کو وزارت کے درجے کے حامل ادارے کے طور پر قائم کیا گیا۔چین میں ملاوٹ کرنے والوں کی سزا طویل قید یا سزائے موت ہے۔ امریکہ میں وفاقی ادارے ایف ڈی اے یو ایس کے تحت‘ قوانین کے مطابق اگر کوئی شخص یا کمپنی نیت کے ساتھ (یعنی ارادتاً) ملاوٹ کرتی ہے اور اس سے انسانی صحت یا زندگی کو شدید خطرہ لاحق ہو تو اس پر دس لاکھ ڈالر تک جرمانہ اور 20 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ روس کے قانون میں ملاوٹ کی سزا جرم کی نوعیت‘ اس سے صحت کو پہنچنے والے نقصان اور اس میں ملوث افراد کے عہدے پر منحصر ہوتی ہے۔ اشیا میں ایسی ملاوٹ کرنا جو انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہو (خواہ غیر ارادی طور پر ہی کیوں نہ کی گئی ہو) پر سات لاکھ روبل تک کا جرمانہ یا مجرم کی تین سال تک کی تنخواہ کی کٹوتی کی سزا کا باعث بن سکتی ہے۔ اس کے علاوہ پانچ سال تک مشقت یا چھ سال تک قید کی سزا بھی دی جا سکتی ہے۔ برطانیہ میں اشیائے خورونوش اور ادویات میں ملاوٹ پر فوڈ سیفٹی ایکٹ 1990ء اور فوڈ سٹینڈرڈز ایجنسی کے تحت درج ذیل سزائیں دی جاتی ہیں۔ ملاوٹ ثابت ہونے پر عدالتیں کاروبار کرنے والوں کو لامحدود جرمانوں کی سزا سنا سکتی ہیں۔ انتہائی سنگین صورت حال میں جہاں انسانی صحت کو شدید خطرہ لاحق ہو‘ مجرم کو دو سال تک قید کی سزا بھی ہو سکتی ہے اور کاروبار کے لائسنس منسوخ کر کے عمارت کو فوری طور پر سیل کیا جا سکتا ہے۔ جاپان میں ملاوٹ ثابت ہونے پر لاکھوں سے لے کر کروڑوں ین (Yen) تک کے بھاری جرمانے عائد کیے جاتے ہیں۔ بڑی کمپنیوں پر جرمانے کی مالیت 100 ملین ین سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔ انسانی زندگی کو خطرے میں ڈالنے والی ملاوٹ پر قید کی سزائیں بھی مقرر ہیں۔ سنگین صورتحال میں قید کی مدت تین سال سے لے کر دس سال تک ہو سکتی ہے۔ حکومت ملاوٹ کرنے والے کارخانے یا کمپنی کا لائسنس مستقل منسوخ کر کے ان کا نام سرکاری گزٹ میں شائع کرتی ہے جس سے کمپنی کی مارکیٹ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتی ہے۔ ناروے میں کھانے پینے کی اشیا میں ملاوٹ‘ مضر صحت خوراک کی فروخت یا غلط لیبلنگ پر کمپنیوں اور افراد پر بھاری مالی جرمانے عائد کیے جاتے ہیں۔ اگر ملاوٹ سے لوگوں کی صحت کو خطرہ لاحق ہو یا اسے ایک منظم فراڈ سمجھا جائے تو ناروے کے پینل کوڈ کے تحت چھ سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ خوراک اور حفظانِ صحت کے ادارے (Mattilsynet) کو یہ مکمل اختیار حاصل ہے کہ وہ ملاوٹ ثابت ہونے پر فیکٹریوں یا دکانوں کو سیل کر دے اور تمام سامان کو مارکیٹ سے واپس منگوا کر تلف کر دے۔ ناروے میں فوڈ سیفٹی اتھارٹی &#39;&#39;فارم سے لے کر کانٹے تک‘‘ (From farm to fork) پوری سپلائی چین کی نگرانی کرتی ہے۔ ناروے میں درآمد شدہ اشیا کے لیے بھی وہی سخت معیار لاگو ہوتے ہیں جو مقامی طور پر تیار کردہ خوراک کے لیے ہیں۔یہ چند مثالیں ہیں یعنی یک مشتے نمونہ از خروارے‘ ورنہ اور کئی ممالک کی مثالیں دی جا سکتی ہیں جہاں عوام کو ملاوٹ کے بغیر صحت بخش خوراک کی فراہمی پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے اور اس حوالے سے بنائے گئے قوانین کی خلاف ورزی پر سخت ایکشن لیا جاتا ہے۔ یہ ساری باتیں مجھے گزشتہ روز میڈیا پر ابھرنے والی ایک خبر پڑھ کر یاد آئی ہیں۔ خبر یہ ہے: پاکستان کی مارکیٹوں میں دستیاب پیک شدہ اشیائے خورونوش میں سے36 فیصد غیر معیار ی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ پیک شدہ اشیا میں خوردنی تیل‘ گھی اور پیک شدہ دودھ شامل ہیں۔ پی سی ایس آئی آر کی جانب سے گھی‘ تیل اور پیک شدہ دودھ کے 491 نمونوں کے ٹیسٹ نتائج کے مطابق 176 نمونے غیر معیاری تھے۔ پیک شدہ مصنوعات کے مجموعی طور پر 491 نمونوں میں سے 315 نمونے مقررہ قومی معیار پر پورا اترے جبکہ 176 نمونے مطلوبہ معیار کے مطابق نہیں پائے گئے۔ حیرت ہے کہ اس خبر کی نشر و اشاعت کے بعد بھی کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_58350786.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ایک جذباتی مسئلہ(سعود عثمانی )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-08-13/52475/92730120</link><pubDate>Thu, 13 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-08-13/52475/92730120</guid><description>جذباتی ہونا اور جذباتی باتیں کرنا کوئی خوبی تو نہیں لیکن کیا کیا جائے جب جذباتیت کے علاوہ کوئی بھی راستہ نہ بچتا ہو۔ جگر مراد آبادی نے کہا تھا:بجز دیوانگی واں اور چارہ ہی کہو کیا ہےجہاں عقل و خرد کی ایک بھی مانی نہیں جاتیجب عقلی دلیلیں بیکار ہو جائیں تو پھر دل کی بات کے سوا راستہ رہ بھی کیا جاتا ہے۔ پاکستان میرے لیے ایک ایسا ہی جذباتی مسئلہ ہے۔ میں ایک ایسے گھرانے کی اگلی نسل کا فرد ہوں جس نے پاکستان کے قیام میں بھرپور حصہ لیا اور پھر گھر بار چھوڑ کر‘ اجداد کی قبروں کو الوداع کہہ کر‘ تمام مشکلات جھیل کر بڑے مقصد کے تحت ہجرت کی۔ یہاں تکالیف جھیلیں‘ چٹنی روٹی پر گزارہ کیا لیکن اس مٹی سے وفا نبھائی۔ اسی مٹی نے انہیں آب و دانہ دیا اور یہیں ان کے قبروں پر کتبے لگائے گئے۔پاکستان بنتے وقت بھی اس کے خلاف بہت سی باتیں کی گئی تھیں اور آج بھی یہ سلسلہ ختم نہیں ہوا۔ کچھ لوگ تو کسی ایجنڈے کے تحت یہ باتیں کرتے ہیں اور ان کا 1947ء کا زخم ابھی تک رس رہا ہے۔ لیکن کچھ لوگ محض پروپیگنڈے کا شکار ہو جاتے ہیں۔ پروپیگنڈے کا مقصد ہوتا بھی یہی ہے کہ لوگوں کے ذہنوں میں شبہات کے بیج ڈالے جائیں اور رفتہ رفتہ انہیں تناور درخت بنایا جائے۔ اس مقصد کیلئے طرح طرح کے حربے ہیں۔ کبھی موجودہ مسائل کا سبب الگ ملک کے قیام کو بتایا جاتا ہے‘ کبھی ابوالکلام آزاد کی وہ پیش گوئیاں دہرائی جاتی ہیں جن کی اصلیت بھی مشکوک ہے۔ کبھی بھارتی مسلمانوں کی حالتِ زار پر کہا جاتا ہے کہ پاکستان نہ بنتا تو مسلمان متحدہ ہندوستان میں بڑی طاقت میں ہوتے۔ کبھی قیام پاکستان کو انگریز کا ایجنڈا بتایا جاتا ہے۔ کبھی دوسرے ممالک کا حوالہ دے کر پاکستان سے ان کا موازنہ ہوتا ہے۔ کبھی طنزیہ جملے کسے جاتے ہیں۔ یہ سب آج ہی نہیں ہو رہا‘ پاکستان بننے سے بھی پہلے یہ سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ایک منٹ کیلئے 1947ء میں کھڑے ہوکر دیکھیے جب انگریز کی رخصتی چند دنوں کی بات تھی۔ سامنے دو راستے تھے‘ ان میں سے ایک ہی اختیار کیا جا سکتا تھا۔ ایک یہ کہ الگ ملک بنایا جائے اور اس کی ترقی کیلئے پوری کوشش کی جائے۔ دوسرا یہ کہ متحدہ ہندوستان میں ہندو اکثریت کی حاکمیت تلے یکجہتی سے رہا جائے۔ بیک وقت دونوں راستوں پر نہیں چلاجا سکتا تھا‘ ان میں سے ایک ہی راستہ اختیار کیا جا سکتا تھا۔ دونوں کے کچھ فائدے اور کچھ نقصانات تھے۔ دونوں میں مسائل اور قربانیاں درپیش تھیں۔ اکثریت نے پہلا راستہ اختیار کیا۔ آج 79 سال کے بعد اس راستے کے نتائج‘ ثمرات اور مسائل وغیرہ سب کے سامنے ہیں۔ چونکہ شروع سے بہت سخت حالات پیش آئے جن کا کچھ پہلے سے اندازہ تھا اور کچھ غیر متوقع تھے اس لیے جنہوں نے ایک بلند مقصد کے تحت قربانیاں دی تھیں‘ ان میں سے بہت ناامید بھی ہوئے اور شبہات کا شکار بھی۔ پاکستان بننے کے فوراً بعد اہم ترین قائدین کا جدا ہو جانا غیرمتوقع حادثہ تھا۔ مزید حادثہ یہ کہ اقتدار ان مفاد پرستوں کے ہاتھ میں آ گیا جنہیں بڑے مقصد سے کوئی سروکار ہی نہیں تھا۔ اپنی ذات اور کرسی سے اوپر ان کیلئے کچھ اہم نہیں تھا۔ تحریک پاکستان کے بعد نئے دورِ تعمیرِ پاکستان کا آغاز ہوا جو کم مشکل نہیں تھا۔ اس جد و جہد میں بہت سے عظیم مقاصد حاصل کیے گئے‘ جن میں قانون سازی بھی تھی‘ لیکن بہت سے مقاصد ابھی تک خواب ہیں۔ ایک اسلامی نظام جس میں عام شہری تک ثمرات پہنچیں‘ ایک فلاحی معاشرہ جس میں طبقاتی خلیجیں حائل نہ ہوں‘ اب تک ان کیلئے جدوجہد جاری ہے۔ ان کے حصول میں مغرب کے پروردہ مقتدر فیصلہ ساز ہمیشہ رکاوٹیں بنتے آئے اور یہ سلسلہ ختم نہیں ہوا۔دوسرا راستہ متحدہ ہندوستان کا تھا۔ یہ چونکہ اختیار ہی نہیں کیا گیا اس لیے اس کے نتائج‘ ثمرات اور مسائل کے بارے میں صرف اندازہ ہی کیا جا سکتا ہے۔ حقیقی صورتحال سامنے نہیں آ سکتی اور چونکہ درست صورتحال کبھی سامنے نہیں آ سکتی اس لیے اس راستے کے مسائل اور مصائب بھی سامنے نہیں آ سکتے۔ لیکن ان کا ایک اندازہ 79 سال میں ہندو حاکمیت اور اس کے رویوں سے بہرحال کیا جا سکتا ہے۔ اس وقت تو خیر بھارتی مسلمان ہندوتوا کے نرغے میں ایک آزمائشی دور سے گزر رہے ہیں جو معلوم نہیں کب ختم ہوگا۔ لیکن انتہا پسندوں سے پہلے بھی‘ مثلاً کانگریس کی حکومت کے زمانے میں جس طرح مسلمانوں کو ہر شعبے سے باہر رکھنے کی شعوری کوششیں ہوتی رہی ہیں‘ وہ بھی ڈھکی چھپی نہیں۔ ان کے سامنے سب مسلمان رہنماؤں کی خدمات تھیں جو تقسیمِ ہند کے مخالف تھے اور اس کیلئے انہوں نے بھرپور کام کیا۔ لیکن یہ خدمات بھی ان کے ایجنڈے کو روکنے میں ناکام رہیں۔ مسلم اکثریتی علاقوں کو مختلف علاقوں میں تقسیم کرکے ان کی طاقت توڑ دینے سے لے کر غیرمنصفانہ قانون سازی تک کون سا کام تھا جو نہیں کیا گیا۔ بی جے پی کی تو خیر بات ہی چھوڑ دیجیے کہ اس نے قسم کھا رکھی ہے کہ ہر حالت میں بھارت کے مسلمان کو کچلنا ہے لیکن خود کانگریس نے مسلمانوں کوکتنی بار ٹکٹ دیے؟ اس کی جو بھی عملی اور سیاسی وجوہات ہوں‘ اس پہ بحث نہیں‘ اصل بات یہ ہے کہ مسلمان کو ان سب نے برابر کا ساتھی کیوں نہیں سمجھا؟ آج بھی مسلمانوں کو ان کی آبادی کے تناسب سے ایوانوں‘ ملازمتوں اور زندگی کے دیگر شعبوں میں نمائندگی کیوں نہیں ملتی؟ ان سب مسائل کو مسلمانوں کا اپنا قصور کہہ کر کیسے بری الذمہ ہوا جا سکتا ہے۔ بھارت میں مسلمانوں کا تکلیف میں ہونا ہمارے لیے خوشی کی بات نہیں۔ یہ ایک الگ اذیت ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ مستقبل بین مولانا آزاد نے جو کچھ پاکستان کا مستقبل دیکھا تھا‘ اس طرح بھارت کے مسلمانوں کا مستقبل کیوں نہیں دیکھ سکے۔ مبینہ پیش گوئیوں کا دوسرا حصہ کہاں ہے۔ بہرحال موجودہ حالات سے یہ ضرور سمجھا جا سکتا ہے کہ متحدہ ہندوستان میں حالات کس طرح کے ہوتے۔آئیے 14 اگست 2026ء کے دن ایک بار پھر کچھ باتیں طے کریں۔ ہم پاکستانی پاکستان کے صرف سکھ کے ساتھی نہیں‘ ہم اس کے دکھوں کے بھی ساتھی ہیں۔ ہم اس کے زخموں‘ تکلیفوں میں بھی اس کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہم ان خود غرضوں میں نہیں ہیں جو صرف اپنے آپ اور اپنے مستقبل کو دیکھتے ہیں۔ ہم ماں کے ساتھ اس وقت بھی موجود ہیں جب اس کو اولاد کی شدید ضرورت ہوتی ہے۔ ہم ان موقع پرستوں میں نہیں ہیں جو اس ملک سے فائدہ اٹھانے میں سب سے آگے ہوتے ہیں لیکن جب اس کے ساتھ کھڑے ہونے کا وقت ہوتا ہے تو دور کھڑے ہوکر اس پر طعنہ زنی کر رہے ہوتے ہیں۔ ہم ان بے حسوں میں نہیں ہیں جو سرکاری اور نجی اداروں میں اسی ملک سے رزق اور سایہ حاصل کرتے ہیں‘ پوری مراعات حاصل کرتے ہیں لیکن اس ملک‘ اس نظریے اور اس قوم سے محبت کی رمق تک دل میں نہیں رکھتے۔ ہم ان مفاد پرستوں میں نہیں ہیں جو جھوٹے کاغذات دے کر مختلف ممالک کی سرکاری بھیک پر گزارہ کرتے ہیں اور پاکستانی قوم کو خودداری کا درس دیتے ہیں۔ ہم ان میں سے نہیں ہیں جو پاکستان کو صرف سستی شاپنگ‘ اپنے اعزاز میں تقریبات‘ اعزازات‘ کانفرنسوں اور مشاعروں کا ایک اڈہ سمجھتے ہیں لیکن اس سے زیادہ اس مٹی سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ ہم ان بے ضمیروں میں نہیں ہیں جو ٹکے ٹکے کے مفاد کیلئے میڈیا و سوشل میڈیا پر ملک اور قوم کے خلاف زہر اگل رہے ہوتے ہیں۔ ہم ان بے شرموں میں نہیں ہیں جو جان بوجھ کر صرف کالا ہی کالا دیکھتے اور دکھاتے ہیں۔ ہم اس طعن و تشنیع کے عادی ہیں جو پاکستان اور پاکستانیوں پر کی جاتی ہے اور یہ جملے بھی وطن سے ہماری محبت ختم نہیں کر سکتے۔ یہ چند سو یا چند ہزار لوگ خواہ پاکستان میں رہتے ہوں یا پاکستان سے باہر اپنی کمیں گاہوں میں مقیم ہوں‘ انہیں ہر باشعور پاکستانی پہچانتا ہے اور ان کے ہر طعن و تشنیع‘ مخالفت‘ سازش اور استہزا کا ایک ہی جواب دیتا ہے اور وہ جواب ہے: پاکستان زندہ باد۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_81278520.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>منشورِ امام احمد رضا قادری …(2)(مفتی منیب الرحمٰن )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-08-13/52476/46094789</link><pubDate>Thu, 13 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-08-13/52476/46094789</guid><description>امام احمد رضا قادری لکھتے ہیں: &#39;&#39;جو ضروریاتِ دین میں سے کسی شے کا منکر ہو‘ باجماعِ مسلمین یقینا قطعاً کافر ہے‘ اگرچہ کروڑ بار کلمہ پڑھے‘ مگر ثابت تو ہوکہ آیا واقعی کسی شخص نے ضروریاتِ دین میں سے کسی چیز کا انکار کیا ہے‘ اگر ایسا ہے تو علمائے کرام کو اتفاقِ رائے سے فیصلہ صادر کرنا چاہیے تاکہ جماعتی انتشار ختم ہو اور سب یک سُو ہوں‘‘۔ آپ کا یہ مشورہ نہایت صائب ہے کہ دوررس نتائج کے حامل امور میں ثقہ علماء کو انفرادی کے بجائے متفقہ فتوے جاری کرنے چاہئیں تاکہ اگر کہیں ایک عالم سے لغزش ہو جائے تو دوسرا اس کی اصلاح کر لے۔آپ لکھتے ہیں: &#39;&#39;خدمتِ دین میں مشغول کسی صحیح العقیدہ مسلمان سے تقدیرِ الٰہی سے کوئی لغزش واقع ہو تو اس پر پردہ ڈالنا چاہیے‘ ورنہ لوگ اُن سے بدظن ہوں گے اور اُن کی ذات سے دین کو جو فائدہ پہنچتا ہے اُس کا نقصان ہو گا‘‘۔ بعض لوگ عداوت کی بنا پر کسی کی طرف جھوٹی بات منسوب کر لیتے ہیں‘ اس کی بابت حدیث میں فرمایا: &#39;&#39;جس نے اپنے بھائی کو ایسے گناہ پر عار دلائی جو اُس نے کیا ہی نہیں تو موت سے پہلے یہ شخص خود اس میں مبتلا ہوگا‘‘ (ترمذی: 2505)۔ نبیﷺ نے فرمایا: &#39;&#39;جب ایک شخص اپنے (دینی) بھائی سے کہے: &#39;&#39;اے کافر!‘‘ تو وہ کفر اُن دونوں میں سے کسی ایک کی طرف لوٹے گا‘‘ (بخاری:6103)۔ یعنی جسے کافر کہا گیا ہے‘ اگر اُس نے واقعی کفر کیا ہے تو یہ فتویٰ درست ہے‘ لیکن اگر اُس نے کفر نہیں کیا اور اسے کافر کہا گیا ہے تو یہ کفر قائل (کہنے والے) کی طرف لوٹ جائے گا۔ امام ابن عابدین شامی کتبِ فقہ کے حوالے سے لکھتے ہیں: &#39;&#39;جب ایک مسئلے میں کئی وجوہ کفر کا سبب بنیں اور ایک وجہ کفرسے مانع ہوتو مفتی کو اُسی کی طرف مائل ہونا چاہیے‘‘ (ردالمحتار علی الدر المختار‘ج: 4‘ ص: 230)۔امام احمد رضا قادری سے سوال ہوا: &#39;&#39;ایک شخص نے لکھا: بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم‘ اِلٰھُنَا مُحَمّدٌ وَّھُوَ مَعْبُوْدٌ جَلَّ شَانُہٗ وَعَزَّ بُرْھَانُہٗ وَرَسُوْلُنَا مُحَمّد وَھُوَ مَحْمُوْدٌ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلّم‘ ان الفاظ کی کوئی تاویل ہو سکتی ہے؟‘‘ آپ نے لکھا: &#39;&#39;ہمارے ائمہ نے حکم دیا ہے کہ اگر کسی کلام میں ننانوے احتمال کفر کے ہوں اور ایک اسلام کا‘ تو واجب ہے کہ کلام کو اسلام کے احتمال پر محمول کیا جائے‘ جب تک کہ اُس کے خلاف ثابت نہ ہو‘ پہلے جملے میں &#39;&#39;م‘‘ کسرہ (زیر) کے ساتھ &#39;&#39;مُحَمِّد‘‘ پڑھا جائے‘ یعنی اللہ تعالیٰ نبیﷺ کا مُحَمِّد ہے‘ یعنی بہ کثرت اُن کی مدح فرمانے والا ہے‘ اب یہ معنی صحیح ہو گئے اور لفظ بالکل کفر سے نکل گیا اور اگر پہلے مُحَمَّد کو میم کے فتح کے ساتھ پڑھا جائے اور رسول اللہﷺ کا عَلَم مراد لینے کے بجائے لغوی معنی میں لیا جائے تو معنی ہوں گے: &#39;&#39;ہمارا رب بکثرت حمد کیا گیا ہے‘‘۔ تب بھی عنداللہ کفر نہ ہو گا‘ مگر اب نیت کا فرق ہو گا (کہ عَلَم مراد نہ لیا گیا ہو)‘ بہرحال اس کے ناجائز ہونے میں شبہ نہیں ہے‘‘ علامہ ابن عابدین شامی نے لکھا ہے: (ترجمہ) &#39;&#39;محض مُحال معنی کا وہم بھی منع کیلئے کافی ہوتا ہے‘‘ (فتاویٰ رضویہ‘ ج: 14‘ ص: 605)۔ علامہ امجد علی اعظمی لکھتے ہیں: &#39;&#39;کسی کلام کے چند معنی بنتے ہیں‘ بعض کفر کی طرف جاتے ہیں اور بعض اسلام کی طرف‘ تو اس شخص کی تکفیر نہیں کی جائے گی‘ ہاں! اگر معلوم ہو کہ قائل نے کفری معنی ہی کا ارادہ کیا ہے کہ وہ خود کہتا ہے: &#39;&#39;میری مراد یہی ہے‘‘ تو کلام کا (دیگر احتمالات کا) محتمَل ہونا نفع نہ دے گا۔ پس معلوم ہوا کہ کلمۂ کفر ہونے سے قائل کا کافر ہونا ضروری نہیں‘‘ (بہارِ شریعت‘ ج: 9‘ ص: 455‘ بحوالہ ردّ المحتار)۔ البتہ یہ امر ملحوظ رہے کہ مسلمان ہونے کے لیے تمام ضروریاتِ دین پر ایمان لانا ضروری ہے اورضروریاتِ دین میں سے کسی ایک کا انکار بھی کفر کا سبب بن جاتا ہے۔امام احمد رضا قادری کی ایک انتہائی دقیق عبارت کا خلاصہ آسان الفاظ میں پیشِ خدمت ہے‘ اس سے ان کی فکر میں یُسر اور وسعت کا اندازہ ہوتا ہے‘ لکھتے ہیں: &#39;&#39;اِن اُمور میں یہ قاعدۂ کلیہ ضرور یاد رکھنا چاہیے: فرائض کی ادائیگی اور حرام کاموں سے بچنے کو مخلوق کی خوشنودی پر ترجیح دے اور ان امورمیں کسی کی ناراضی کی پروا نہ کرے۔ دینی حکمت کے تحت مخلوق کی دلداری اور ان کے جذبات کو مستحب کاموں پر ترجیح دے‘ الغرض نفسانیت نہیں بلکہ دینی مصلحت کے تحت بعض صورتوں میں افضل کاموں کو چھوڑا جا سکتا ہے اور بعض اوقات خلافِ اَولیٰ کام بھی کیا جا سکتا ہے۔ دین کے مُبلّغ کو لوگوں کے درمیان نفرت پیداکرنے سے گریز کرنا چاہیے کہ وہ لوگوں کیلئے اذیّت اور دل آزاری کا سبب بنے۔ اگر لوگوں میں کوئی ایسا شِعار رائج ہے جو شریعت کے خلاف ہے اور نہ اس میں شرعی عیب ہے‘ تو اپنی پارسائی ظاہر کرنے کیلئے اس پر لوگوں کوملامت نہ کرے۔ اگرکوئی لوگوں کی عام روش سے ہٹ کر الگ راستہ اپناتا ہے تو یہ لوگوں کے دلوں کو دین کی طرف مائل کرنے کے اعلیٰ مقصد کے خلاف ہے۔ خبردار! اس بات کو خوب توجہ سے سنو ! کہ یہ بہت خوبصورت باریک علمی نکتہ اور حکمت کی بات ہے اور دین کے معاملے میں سلامتی اور وقار کا راستہ ہے‘ جس سے بہت سے خشک مزاج زاہد اور باطنی کشف کا دعویٰ کرنے والے غافل اور جاہل ہوتے ہیں۔ وہ اپنے فاسد گمان میں بڑے دیندار بنتے ہیں‘ لیکن درحقیقت وہ دین کی حکمت اور شریعت کے مقاصد سے بہت دور ہوتے ہیں‘ حکمت ودانش کے اس پیغام کو مضبوطی سے پکڑو‘ یہ چند سطریں ہیں‘ مگر ان میں علم کا بڑا خزانہ ہے‘‘ (فتاویٰ رضویہ‘ جلد: 4‘ ص: 528)۔امام احمد رضا قادری سے سوال ہوا: &#39;&#39;اس زمانے میں کئی لوگ تفسیر وحدیث سے بے خواندہ ہیں اور اساتذہ کی اجازت کے بغیر عام مجالس اور مساجد میں احادیث بطور وعظ ونصیحت بیان کرتے ہیں‘ حالانکہ انہیں معنی ومطلب سے کچھ واسطہ نہیں ہوتا‘ فقط اردو کتابیں دیکھ کر بیان کرتے ہیں‘ ایسا بیان کرنا ان لوگوں کیلئے شرعاً جائزہے یا نہیں‘‘۔ جواب: حرام ہے اور ایسا وعظ سننا بھی حرام! حدیث پاک میں ہے: &#39;&#39;علم کے بغیر میری طرف منسوب کر کے حدیث بیان کرنے میں احتیاط کیا کرو‘ پس جو کوئی مجھ پر دانستہ جھوٹ بولے اور جو قرآن میں اپنی رائے سے کوئی بات کرے تو اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے‘‘ (ترمذی: 2951)، (فتاویٰ رضوی‘ ج: 23‘ ص: 733)۔ حدیث پاک میں ہے: &#39;&#39;بیشک اللہ لوگوں کے درمیان سے علم کو ایسے ہی نہیں اٹھا لیتا‘ بلکہ علمائے ربّانییّن کے اٹھ جانے سے علم کو اٹھا لیتا ہے حتیٰ کہ جب کوئی عالم باقی نہ رہے تو لوگ جاہلوں کو اپنا دینی پیشوا بناتے ہیں‘ پھر اُن سے مسائل پوچھے جاتے ہیں اور وہ جہالت پر مبنی فتوے دیتے ہیں‘ پس وہ خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں‘‘ (معجم الاوسط: 988)۔آپ نے لکھا ہے: &#39;&#39;دین کی عظیم تر حکمت کے تحت مستحب اور پسندیدہ کاموں کو بھی چھوڑا جا سکتا ہے‘ حدیث پاک میں ہے: رسول اللہﷺ نے فرمایا: &#39;&#39;عائشہ! اگر تمہاری قوم کفر کو چھوڑ کر نئی نئی اسلام میں داخل نہ ہوئی ہوتی تو میں بیت اللہ کی عمارت کو منہدم کر دیتا اور اسے (دوبارہ) بنائے ابراہیمی پر تعمیر کرتا ‘کیونکہ قریش نے (وسائل کی کمی کے سبب) بیت اللہ کی عمارت کو چھوٹا کر دیا تھا اور اس کی پچھلی جانب دروازہ بناتا‘‘ (بخاری: 1585)۔ اعلانِ نبوت سے پہلے بیت اللہ کی عمارت مخدوش ہو گئی تو قریش نے اسے دوبارہ تعمیر کرنے کا پروگرام بنایا اور طے کیا کہ اس پر صرف حلال مال خرچ کیا جائے گا۔ پس حلال مال اتنا نہ تھا کہ بیت اللہ کی پوری عمارت کا احاطہ کیا جاتا لہٰذا انہوں نے عمارت کی حدود کو نسبتاً کم کردیا اور اُس کی نشاندہی کیلئے ایک چھوٹی سی دیوار بنا لی جسے حطیمِ کعبہ کہتے ہیں۔ اب رسول اللہﷺ حجاز کے حاکم بن چکے تھے‘ مکۂ مکرمہ فتح ہو چکا تھا‘ آپﷺ کو وسائل بھی دستیاب تھے‘ آپ کی خواہش بھی تھی‘ لیکن دین کی عظیم تر حکمت کے تحت آپﷺ نے یہ کام نہیں کیا کہ ایسا نہ ہو کہ جب بیت اللہ کی عمارت پر ہتھوڑے اور کدالیں چلیں تو لوگوں کا ایمان متزلزل ہو جائے‘ اس میں بہت بڑا سبق مضمَر ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_61172381.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>