<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>ہسپتال آتشزدگی(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-28/11489</link><pubDate>Fri, 28 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-28/11489</guid><description>وفاقی دارالحکومت کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال میں بچوں کے انتہائی نگہداشت وارڈ میں آتشزدگی کا ہولناک واقعہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ مجرمانہ غفلت‘ انتظامی بے حسی اور فائر سیفٹی کے ناقص انتظامات کا وہ منہ بولتا ثبوت ہے جس نے چودہ معصوم نومولود بچوں کی جانیں نگل لیں۔ وہ پھول جیسے بچے جو ابھی دنیا میں پہلی پہلی سانسیں لے رہے تھے‘ ہسپتال انتظامیہ کی مبینہ لاپروائی کے باعث موت کی آغوش میں چلے گئے۔ یہ سانحہ ہر ذی شعور انسان کو لرزا دینے کیلئے کافی ہے اور اس نے پورے ملک کو گہرے صدمے سے دوچار کیا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اس قدر سنگین اور دلخراش واقعے کے بعد بھی انتظامیہ کا مؤقف انتہائی غیر تسلی بخش اور روایتی ٹال مٹول پر مبنی ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے کسی قسم کی انتظامی خامی اور ناقص انتظامات کی ذمہ داری قبول کرنے سے صاف انکار کا رویہ مستقبل میں ایسے مزید ہولناک حادثات کا راستہ کھولنے کے مترادف ہے۔ کسی حادثے کے بعد جب تک تکنیکی غلطیوں‘ انتظامی خامیوں اور انسانی کوتاہیوں کا تعین نہیں کیا جاتا‘ تب تک اصلاحِ احوال کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ اس لیے روایتی محکمہ جاتی انکوائری کمیٹیوں کے ذریعے وقت ٹالنے کے بجائے اس سانحے کی ایک جامع‘ شفاف اور آزادانہ انکوائری کرائی جانی چاہیے جس پر عوام اور متاثرہ خاندانوں کو مکمل اعتماد ہو۔ دیکھا جائے تو یہ اندوہناک حادثہ بیک وقت ایک سنگین انتظامی بحران بھی ہے‘ فائر سیفٹی کے قوانین کی کھلی خلاف ورزی بھی ہے اور اسکے گہرے سیاسی مضمرات بھی ہیں۔

سیاسی تناظر میں دیکھا جائے تو وفاقی وزارتِ صحت کے براہِ راست ماتحت اسلام آباد کے صرف دو بڑے ہسپتال آتے ہیں۔ اگر وفاقی وزارتِ صحت ان دو ہسپتالوں میں بھی انتظامات کو تسلی بخش اور مریضوں کیلئے محفوظ نہیں بنا سکتی تو یہ اس کی کارکردگی اور گورننس پر بہت بڑا اور پریشان کن سوالیہ نشان ہے۔ وفاق کے سرکاری ہسپتالوں کا یہ ابتر حال اس بات کی بھی غمازی کرتا ہے کہ صحت کا نظام کس قدر کھوکھلا اور ترجیحات سے محروم ہو چکا ہے۔ جب نرسری جیسے حساس ترین وارڈ میں‘ جہاں چند سیکنڈوں میں زندگی اور موت کا فیصلہ ہوتا ہے‘ آگ لگنے کے بعد فائر بریگیڈ کو اطلاع دینے میں تاخیر کی جائے تو یہ انتظامی غفلت کے سوا اور کیا ہے۔ آگ لگنے کے بعد طبی عملے کا مبینہ طور پر بچوں کو بے یار ومددگار چھوڑ کر اپنی جانیں بچانے کیلئے بھاگ نکلنا اس بات کا ثبوت ہے کہ عملے کو ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی کوئی بنیادی تربیت ہی نہیں دی جاتی۔ یہ تلخ اور دردناک حادثہ ہمیں ہسپتالوں سمیت تمام عوامی جگہوں پر سیفٹی انتظامات کو فوری اور مستقل بنیادوں پر بہتر بنانے کی تحریک دیتا ہے۔ ابھی تو سانحہ گُل پلازہ کے زخم بھی مندمل نہیں ہوئے تھے کہ اب وفاق کے سرکاری ہسپتال میں آتشزدگی کے واقعے نے پبلک مقامات‘ شاپنگ مالز‘ تعلیمی اداروں اور خاص طور پر سرکاری عمارتوں میں فائر سیفٹی انتظامات کے حوالے سے تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ تمام سرکاری عمارات‘ عوامی جگہوں خصوصاً ہسپتالوں میں رائج فائر سیفٹی رولز کا ازسر نو جائزہ لیا جائے۔ ہسپتالوں کے آئی سی یو‘ نرسری اور آپریشن تھیٹرز جیسے حساس وارڈز میں فائر الارم‘ خودکار آگ بجھانے والے سپرنکلر سسٹم اور ہنگامی اخراج کے راستوں کا باقاعدگی سے آڈٹ کرایا جائے۔ عمارتوں میں آگ بجھانے والے سلنڈرز کی محض موجودگی ہی کافی نہیں بلکہ عملے کو انہیں استعمال کرنا بھی آنا چاہیے۔ پاکستان میں یہ روایت رہی ہے کہ آتشزدگی کے بڑے بڑے سانحات کو شارٹ سرکٹ یا گیس لیکیج کا نام دے کر فائلوں کو بند کر دیا جاتا ہے اور کبھی ذمہ داران کا تعین نہیں کیا گیا۔ پمز ہسپتال سانحہ کو اس روایت کی کڑی نہیں بننا چاہیے۔ جب تک اس حادثے کے اصل ذمہ داران اور انتظامی غفلت کے مرتکب افراد کیخلاف سخت تادیبی کارروائی عمل میں نہیں لائی جاتی تب تک مستقبل میں ایسے حادثات کی روک تھام ممکن نہ ہو گی۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پاک کویت دفاعی تعاون(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-28/11488</link><pubDate>Fri, 28 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-28/11488</guid><description>پاکستان اور کویت کے درمیان طے پانے والا پروٹوکول معاہدہ 2026ء محض ایک دفاعی پیش رفت نہیں بلکہ بدلتی ہوئی علاقائی سلامتی کی صورتحال میں دونوں ممالک کے باہمی اعتماد اور دفاعی شراکت داری کو نئی جہت دینے والا اہم قدم ہے۔ اس معاہدے کے تحت پاکستان کویتی مسلح افواج کو تربیت‘ استعدادِ کار میں اضافے‘ سرحدی انتظام اور دفاعی تعاون کے دیگر طے شدہ شعبوں میں معاونت فراہم کرے گا۔ نئے معاہدے سے دفاعی تعاون معاہدہ 2023ء کے تحت قائم عسکری تعاون کے فریم ورک کو وسعت اور تقویت ملے گی‘ جس میں فوجی تربیت و تعلیم‘ مشترکہ مشقیں‘ ماہرین کا تبادلہ وغیرہ شامل ہیں۔ اس معاہدے کی اہمیت پاکستان‘ سعودی عرب اور ترکیہ کے حالیہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تناظر میں مزید بڑھ جاتی ہے۔

خلیج میں جاری کشیدگی اور سلامتی کے بدلتے تقاضوں کے پیشِ نظر خطے کے ممالک اپنی دفاعی صلاحیت‘ شراکت داری اور ادارہ جاتی تعاون کو مضبوط بنا رہے ہیں اور اس ضمن میں پاکستان ان کا ایک فطری اتحادی ہے۔ کویت کیساتھ عسکری شراکت داری اور باہمی دفاعی تعاون بڑھانے سے پاکستان کی علاقائی ساکھ‘ خلیجی ممالک کے ساتھ ادارہ جاتی روابط اور سفارتی اثرورسوخ کو مزید تقویت ملے گی۔ یقینا پاکستان اپنی ذمہ داریوں کو مؤثر‘ متوازن اور پیشہ ورانہ انداز میں پورا کرتے ہوئے دفاعی تعاون کو خطے میں امن‘ استحکام اور باہمی اعتماد کا ذریعہ بنائے گا‘ یہی اس معاہدے کی حقیقی سٹرٹیجک اہمیت ہے۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>واٹر مینجمنٹ پالیسی ناگزیر(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-28/11487</link><pubDate>Fri, 28 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-28/11487</guid><description>محکمہ موسمیات کے مطابق رواں برس کراچی میں مون سون کے دوران تقریباً 29سال کی کم ترین بارشیں ریکارڈ ہوئی ہیں۔ ایسے وقت میں جب ملک کے بالائی علاقوں میں شدید بارشوں کے باعث سیلابی صورتحال پیدا ہو رہی ہے‘ بظاہر یہ دو متضاد صورتیں درحقیقت ملک کے بدلتے ہوئے موسمیاتی نظام کو واضح کرتی ہیں۔ کہیں پانی کی شدید قلت ہے اور کہیں چند گھنٹوں میں اتنا پانی برس رہا ہے کہ انسانی آبادیوں‘ فصلوں اور انفراسٹرکچر کیلئے خطرہ بن جاتا ہے۔ کراچی میں بارشوں کی کمی کے فوری موسمیاتی اسباب اپنی جگہ‘ مگر یہ مسئلہ محض ایک شہر یا ایک مون سون سیزن تک محدود نہیں۔ موسمیاتی تبدیلی نے بارشوں کے روایتی پیٹرن کو متاثر کیا ہے۔ ایک طرف شدید بارشوں کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے جبکہ دوسری جانب خشک سالی کے خطرات بھی بڑھ رہے ہیں۔

عالمی بینک کے مطابق مستقبل میں زیادہ متغیر مون سون‘ شدید بارشوں اور خشک سالی کے امکانات ہیں۔ ہم برساتی پانی کو نعمت کے بجائے اکثر آفت سمجھ کر صرف نکاسی کی فکر کرتے ہیں‘ لیکن اب وقتی اقدامات کے بجائے مستقل قومی واٹر مینجمنٹ پالیسی اختیار کرنا ہو گی۔ بڑے آبی ذخائر کیساتھ چھوٹے ڈیم‘ بارانی علاقوں میں آبی ذخائر‘ شہری سطح پر رین واٹر ہارویسٹنگ اور زیرِ زمین پانی کی ری چارجنگ کے منصوبے ناگزیر ہیں تاکہ خشک سالی سے بچا جا سکے۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>آپ کے وزیراعظم نے استعفیٰ دیا تھا؟(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-08-28/52556/52004540</link><pubDate>Fri, 28 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-08-28/52556/52004540</guid><description>پمز میں جو دل دہلانے والی ٹریجڈی ہوئی ہے وہ پہلی ہے اور نہ ہی آخری۔ دل کو تسلی دینے کیلئے کہہ سکتے ہیں کہ دنیا کا کوئی شخص بھی حادثات سے محفوظ نہیں۔ بڑے بڑے ترقی یافتہ ممالک میں بھی حادثات ہو جاتے ہیں۔ انسان جب سے پیدا ہوا ہے وہ حادثات کا شکار ہوتا آیا ہے۔ لیکن آپ نوٹ کریں کہ انسان نے ہزاروں سال کے اس سفر میں خود کو دھیرے دھیرے محفوظ بنایا ہے۔ اپنا معیارِ زندگی بہتر کیا ہے۔ زندگی اور معاشرے کو لاحق خطرات کو ایک ایک کر کے کم کیا ہے۔ اگرچہ خطرات مکمل طور پر ختم کبھی نہیں ہوں گے لیکن اگر آپ تاریخ پڑھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ انسان کتنا تکلیف دہ سفر کرکے یہاں تک پہنچا ہے مگر پھر بھی حادثات سے مکمل چھٹکارا نہیں پا سکا۔ میں کئی دفعہ اُس کتاب کا حوالہ دے چکا ہوں‘ جسے پڑھ کر میری بہت کونسلنگ ہوئی تھی کہ ہم ایک بہتر دنیا میں رہ رہے ہیں۔ مصنف نے اس کتاب کے تعارف میں لکھا تھا کہ موجودہ دور میں جو سات ارب لوگ جی رہے ہیں‘ وہ انسانی تاریخ کے سب سے سنہرے‘ خوبصورت اور بہترین دور میں زندہ ہیں۔ اس سے بہتر دور انسانی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں آیا۔ مصنف نے بہت شاندار تحقیق کے بعد کتاب لکھی اور کئی نتائج اخذ کیے‘ جن میں سب سے بڑا نتیجہ یہ تھا کہ وقت کے ساتھ ساتھ تشدد کم ہوا ہے‘ خون خرابہ‘ جنگیں کم ہو رہی ہیں۔ مان لیا کہ جنگیں ختم نہیں ہوئیں لیکن ماضی کی نسبت بہت کم ہو رہی ہیں۔ دنیا کے دو سو ممالک میں سے چند ملک اگر جنگ لڑ رہے ہیں تو یہ انسانی ارتقا ہی کی شکل ہے‘ ورنہ زمانہ قدیم میں ہر وقت ہر قبیلہ‘ قوم‘ نسل‘ ملک اور معاشرہ ایک دوسرے کے ساتھ جنگیں لڑ رہے ہوتے تھے اور ہر وقت خون خرابہ ہو رہا ہوتا تھا۔ اس کتاب کا نام ہے The Better Angels of Our Nature۔ اگرچہ انسان کی تمام تر ترقی اور خود کو محفوظ کرنے کے باوجود حادثات ہو رہے ہیں‘ تاہم وقت کے ساتھ ایک بات جو جدید انسانوں نے سیکھی ہے‘ خصوصاً یورپ اور امریکی معاشروں نے‘ وہ یہ کہ ہر کام اور ہر چیز میں قواعد و ضوابط ڈال دیے کہ کوئی بھی کام ہوگا تو کون سا فارمولہ یا طریقہ کار استعمال ہو گا۔ پہلے سے ہی آپ تیار ہوں‘ کسی مصیبت یا مشکل کا انتظار مت کریں۔ انہوں نے وہ ماڈل بنا کر سب پر لاگو کیا اور پھر ان کی ریگولر مانیٹرنگ کی‘ مشقیں کیں‘ ہر تین ماہ بعد دوبارہ چیک کیا اور یوں ہر ادارے اور ذمہ دار کو پتا ہوتا ہے کہ کسی حادثے کی صورت میں سب سے پہلے اس نے کیا کرنا ہے اور ہر بندے کا اس حادثے یا مصیبت میں کیا کام ہے۔ لہٰذا وہاں ایمرجنسی یا مصیبت کے وقت لوگوں کے ہاتھ پاؤں نہیں پھولتے۔ وہ ان قواعد و ضوابط کو فالو کرتے اور بڑے نقصان سے بچ جاتے ہیں۔ اب تو بڑے بڑے بزنس مین‘ فیکٹریاں اور ہسپتال تک ان قواعد وضوابط کو فالو کرتے ہیں۔ اس کیلئے ایک عالمی معیار‘ ریٹنگز سرٹیفکیٹ متعارف کرایا گیا جو ہر اُس ادارے کو سرٹیفکیٹ دیتا ہے جو اُس کے طے شدہ معیار پر پورا اترتا ہو۔ یہ ادارہ ISOہے‘ جو اُس ادارے سے اپنی فیس لیتا اور پھر پورے سسٹم کو چیک کر کے بتاتا ہے کہ کہاں کہاں بہتری کی گنجائش ہے اور اگر وہ کمپنی ان کے معیار کو پورا کر لے تو اسے آئی ایس او سرٹیفکیٹ دیا جاتا ہے‘ جو اُس کمپنی کے عالمی سطح پر معیار اور ساکھ کا نشان سمجھا جاتا ہے اور اس کا بزنس راتوں رات اوپر چلا جاتا ہے۔پاکستان جیسے معاشروں میں مشینی یا سائنسی انداز میں تیاری کے بجائے ہر بات قدرت کی رضا پر ڈال دی جاتی ہے۔ حالانکہ قرآن کریم میں واضح طور پر لکھا ہے کہ کوشش کرو! کوشش سے ہی سب کچھ ملتا ہے۔ خدا کے مبعوث کردہ پیغمبروں تک نے مشکلات اٹھائیں‘ محنت کی اور کام کیا۔ لیکن ہمارے ہاں قدرت کی رضا کے تصور نے بہت سارے معاملات کو مشکل بنا دیا ہے۔ اب جب تک سر پر آسمان نہ گرے‘ ہم حرکت میں نہیں آتے اور مشکل میں ہمارے ہاتھ پاؤں پھول جاتے ہیں۔ دوسری طرف گورا اس کیلئے پہلے سے خود کو تیار کر کے بیٹھا ہے۔ یہ سب باتیں مجھے ملک کے مشہور نیوروسرجن ڈاکٹر خلیق الزماں کے انکشافات سن کر یاد آ رہی ہیں‘ جو پمز میں تیس سال تک سرجن کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔ ان کی باتیں سن کر آپ کے کانوں سے دھواں نکل آئے گا‘ کہ پورے ملک کو چھوڑیں‘ اسلام آباد جیسے چھوٹے سے شہر میں کیا ہو رہا ہے۔ ہسپتال انتظامیہ کی جو بدترین کارکردگی سامنے آئی ہے‘ وہ آپ کو حواس باختہ کر دے گی۔ وہ بتا رہے تھے کہ اس وقت ملک کے کسی بھی سرکاری ہسپتال کے پاس ISO سرٹیفکیٹ نہیں ہے‘ جو کسی بھی ادارے کیلئے عالمی معیار کی سروسز اور کارکردگی کا سب سے بڑا ثبوت مانا جاتا ہے۔ البتہ کچھ نجی ہسپتالوں نے آئی ایس او سرٹیفکیٹ لے رکھا ہے۔ آج تک وزیراعظم‘ کابینہ‘ وزرا‘ پارلیمنٹ اور بیوروکریسی سمیت کسی نے بھی اس بات پر توجہ نہیں دی کہ ہمارے سرکاری ہسپتالوں کے پاس ISO سرٹیفکیٹ کیوں نہیں ہے‘ جس کے بغیر دنیا کے اچھے ملکوں میں کوئی ہسپتال نہیں چل سکتا۔ شاید ہمارے سرکاری ہسپتالوں کی انتظامیہ کویہ تک علم نہیں کہ آئی ایس او کس بلا کا نام ہے۔ ہمارے ہاں انسانی جانوں کو کبھی اہمیت نہیں دی گئی اور جہاں 25کروڑ عوام ہوں‘ وہاں ویسے بھی کسی کو کسی کے مرنے جینے سے فرق نہیں پڑتا۔ فرق صرف ان کے پیاروں کو پڑتا ہے‘ جو عمر بھر اس تکلیف اور دکھ کا سامنا کرتے ہیں‘ جیسے اب پمز میں جاں بحق ہونے والے 14 نومولود بچوں کے والدین ہیں۔ ڈاکٹر خلیق الزماں کا یہ بھی کہنا تھا کہ باقی باتیں ایک طرف‘ اگر اس ہسپتال میں کسی نئے ڈاکٹر نے ہاؤس جاب کرنی ہو تو اس کا ریٹ دو لاکھ روپے ہے۔ اندازہ کریں کہ ایک ڈاکٹر ہاؤس جاب لینے کیلئے پیسے دینے پر مجبور ہے۔ ڈاکٹروں اور پروفیسروں کی الگ سے لڑائیاں اور لابیاں ہیں۔ سب کو یہی فکر ہوتی ہے کہ کوئی قابل بندہ آگے نہ بڑھ سکے‘ لہٰذا سازشیں اور داخلی لڑائیاں ہر وقت جاری رہتی ہیں۔ وہ بتا رہے تھے کہ ہسپتال میں آپ کو ہر لیول کا مافیا ملے گا۔ ہسپتال میں جو توجہ مریض کو ملنی چاہیے وہ ملے یا نہ ملے‘ لیکن اگر وزارتِ صحت سے کوئی آ جائے تو پورا ہسپتال؍انتظامیہ اسے ریسیو کرنے کیلئے باہر سڑک پر موجود ہوتی ہے۔ پمز ہسپتال کے موجودہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر پچھلے چار سال سے اس عہدے پر بیٹھے ہیں لیکن کسی نے ان کو کچھ نہیں کہا‘ مگر سیکرٹری ہیلتھ کو معطل کر دیا گیا۔ جس ہسپتال کے سربراہ کی نالائقی کی وجہ سے اتنا بڑا حادثہ ہو گیا اس سے کوئی جواب طلبی نہیں۔ سابق وفاقی وزیر صحت اور ممبر قومی اسمبلی عبدالقادر پٹیل نے میرے پروگرام میں بتایا کہ موجودہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر ان کے دور یعنی 2022ء میں بھی ہسپتال کے سربراہ تھے۔ سیکرٹری کی معطلی پر وہ کہنے لگے کہ رسی وہیں سے ٹوٹتی ہے جہاں سے کمزور ہو۔مطلب پمز کے سربراہ کا رسہ مضبوط ہے‘ لہٰذا وہ قائم ہیں اور سیکرٹری کی رسی کمزور تھی لہٰذا وہ ٹوٹ گئی۔دوسری طرف وزیراعظم نے اس سابق سیکرٹری داخلہ کو پمز حادثہ پر انکوائری کمیٹی کا سربراہ بنایا جس پر خود الزامات ہیں۔ اس سے بھی زیادہ دلچسپ گفتگو ایک ٹی وی شو میں مشعال یوسفزئی اور اختیار ولی کے درمیان ہوئی۔ جب پی ٹی آئی کی سینیٹر نے شہباز شریف سے پمز ہسپتال سانحہ پر استعفیٰ مانگا تو اختیار ولی نے جواب دیا کہ کیا پشاور لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں بچوں کے جاں بحق ہونے پر پی ٹی آئی کے وزیراعظم یا وزیراعلیٰ نے استعفیٰ دیا تھا؟ اس میں عوام کیلئے یہ پیغام ہے کہ نہ پی ٹی آئی کے وزیراعظم نے استعفیٰ دیا تھا‘ نہ ہی (ن) لیگ کا وزیراعظم استعفیٰ دے گا۔ عوام کے بچوں کے مرنے پر وہ استعفیٰ کیوں دیں؟</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>آم، آمدنی اور عدالت(رسول بخش رئیس)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-08-28/52557/15828634</link><pubDate>Fri, 28 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-08-28/52557/15828634</guid><description>ہمارے نزدیک جس نے اپنے ملک کے آم نہیں کھائے اس کا نام دنیا کے خوش بخت لوگوں کی فہرست میں شامل کرنے کیلئے کوئی تیار نہیں ہو گا۔ ہم جیسے درویش کچھ زیادہ خوش قسمت ہیں کہ کبھی کبھار آموں کے گھنے جھنڈ کے اندر کچھ وقت گزارنے‘ صبح و شام ٹہلنے اور فرصت ہو تو رات بسر کرنے کا بھی بندوبست کر لیتے ہیں۔ اگرچہ ہماری آم کھانے کی عادت وہ کبھی نہیں رہی جو ہمارے خطے کے سب سے بڑے آم شناس‘ اسد اللہ خاں غالب کی تھی۔ ہم زیادہ تر آموں کو درختوں کی ٹہنیوں کے ساتھ پیوستہ دیکھ کر خوش ہوتے ہیں۔ ہم جیسے کاشتکاروں کی توجہ پورا سال پیڑوں پر رہتی ہے۔ جنوبی پنجاب میں‘ جہاں آموں کے باغ صوبے کے دیگر حصوں کی نسبت کئی گنا زیادہ ہیں‘ وہاں کہاوت مشہور ہے کہ آموں کے درختوں کو بچوں کی طرح پالنا پڑتا ہے۔ فرق یہاں یہ ہے کہ انسانوں کے بچے تو جوان ہو کر اپنا کہیں گھر بسا لیتے ہیں اور والدین کی ذمہ داریاں ختم یا کم ہو جاتی ہیں۔ آموں کے پیڑوں کے بارے میں یہ نہیں کہہ سکتے۔ سارا سال ان پر نظر رکھنا پڑتی ہے۔ آج کل جب پھل اتارا جا چکا ہے اور سیزن آخری دنوں پر ہے‘ آم کے باغوں کی صفائی کا مرحلہ شروع ہو جائے گا۔ کچھ کھاد‘ خوراک کا بندوبست اور گرم علاقوں میں تقریباً ہر دو ہفتے بعد‘ یا اس سے بھی زیادہ‘ پانی دینا پڑتا ہے۔ ٹھنڈ پڑتے ہی کچھ سپرے اور کچھ محنت کے بعد ہم امیدِ بہار آنکھوں میں سجائے اگلے سال فروری کا انتظار کریں گے۔ عرض یہ ہے کہ درجۂ حرارت بڑھنے اور موسمی تبدیلیوں کے حوالے سے جن علاقوں پر سب سے زیادہ منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں‘ ہمارا ملک ان میں سب سے نمایاں ہے۔جب پتلی شاخوں میں خوابیدہ کلیاں پھولوں کی صورت میں اپنی آمد کا آہستہ آہستہ اعلان شوخی کے ساتھ کرتی ہیں تو موسم کے ستائے کسانوں کے دلوں کی دھڑکنیں تیز ہو جاتی ہیں۔ پھول نکلنے کے بعد اگر سردی کی کوئی نئی لہر آ گئی تو یوں سمجھیں کہ باغ آگ میں بھسم ہو گیا۔ کئی بار ایسا ہو چکا ہے۔ درختوں کے اندر چھپے کچھ پھول کچھ دیر بعد کلیوں کی شکل اختیار کرتے ہیں۔ اگر سردی کی کوئی اور لہر آ جائے یا گرمی کا موسم کچھ وقت پہلے آ جائے تو یہ پھول کلیاں بھی خدا حافظ کہہ کر زمین پر گر جاتے ہیں۔ آم تو ہوں گے‘ مگر ان کو دیکھنے اور تلاش کرنے کے لیے تیز نظر رکھنے والے لوگوں کی خدمات حاصل کرنا ہوں گی۔ اگر موسم نے ساتھ دیا اور باغ آموں سے بھر گیا تو اگلا سامنا آندھیوں کا کرنا ہوتا ہے۔ وہ باغوں کو ایسے جھنجھوڑتی ہیں جیسے کوئی جن انسان کو پکڑ لے اور اسے ہلا ہلا کر ہلکان کر دے۔ ہم قسمت کے مارے‘ آموں کے باغوں کے شوقین‘ ہر صبح گرے ہوئے آموں کی بوریاں بھرنے کے لیے بھی مزدور لگاتے ہیں۔ کچے قلمی آموں کا اچار بھی نہیں بنا سکتے۔ میں لوگوں کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ کچے آموں کو سبزی کے ساتھ پکا کر کھائیں‘ لیکن یہ گوشت خور قوم اس طرف دھیان نہیں دیتی۔ آندھیوں سے بچتے بچاتے کچھ آم درختوں پر اگر ٹک گئے ہوں تو ٹھیکے دار دو دو‘ تین تین کی ٹولیوں میں پھل کا جائزہ لیتے ہیں۔ چکر لگانے کے بعد اس سرد مہری سے رخصت ہوتے ہیں کہ اس سے زیادہ بدحال باغ انہوں نے آج تک نہیں دیکھا۔ ان کی اپنی دنیا ہے۔ بھائی بندی اور رازداری سے کام کرتے ہیں اور ہم ان کے سامنے بے بس ہیں۔ ہمیں مارکیٹ ویلیو کا شاید پانچواں‘ چھٹا حصہ مل جائے تو شکر کرتے ہیں کہ پہلے جو سارا سال خرچ کیا وہ تو نکلے‘ اور اگلے سال کے لیے امیدِ بہار کا سہارا ہو جائے۔ کچھ اور باتیں کروں تو دل گہرے زخم کی طرح دکھنا شروع ہو جاتا ہے۔ باغ فروخت کرتے وقت ہم طے کر لیتے ہیں کہ خاص مقدار میں ہمیں آم اسی طرح باکس میں بند کر کے دیں گے جس طرح وہ مارکیٹ میں فروخت کرتے ہیں۔ ہمارے ان مہربانوں میں سے آج تک کوئی ایسا معقول آدمی نہیں ملا جو کچھ اچھی نسل کے آموں پر ہمارا بھی نام لکھ دے۔ گزشتہ سال تو اپنے باغ کا ایک آم بھی نصیب نہ ہوا۔ اس سال کچھ ملا اور دو چار دانے اپنے حصے میں آئے تو شکر ادا کیا۔ جو درخت کسی زمانے میں بہت محبت کے ساتھ لگائے تھے وہ اپنی محبت لوٹا رہے ہیں۔ آم کھانے میں شاید نہیں مگر درختوں کے ساتھ انہیں لگا دیکھنا دیرینہ اور گہرا شوق ہے۔ نئی قسموں کو علاقے کی نرسریوں میں دور دور تک تلاش کرنا‘ زمین میں لگانا اور ہر روز دعاؤں میں یاد رکھنا اب بھی جاری ہے۔ کچھ لوگ تو طنز کرتے اور ہلکی پھلکی ہنسی بھی اپنے ہونٹوں پر بکھیرتے ہیں کہ بابا جو پودا لگا رہا ہے‘ اس کا پھل کب کھائے گا؟ یقین جانیے مجھے ان لوگوں کے تاثرات دیکھ کر انتہائی مسرت کا احساس ہوتا ہے۔ انہیں کیا سمجھاؤں کہ زندگی کا ہر سانس امید کے ساتھ جڑا ہونا چاہیے۔ جب یہ دولت آپ کے دل اور دماغ سے نکل گئی تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ زندہ ہیں یا اگلے جہان رخصت ہو گئے ہیں۔ کچھ قریبی دوست بھی فقرہ کس دیتے ہیں کہ چھوڑو! یہ بھی کوئی کام ہے‘ اب آرام کرو۔ ہمیں تو دل کا آرام چاہیے‘ جو درخت لگانے‘ ان کی نگہداشت کرنے‘ سائے میں کرسی ڈال کر کافی کی چسکی لینے اور سامنے درختوں پر پرندوں کی چہکار سے ملتا ہے۔آموں کے باغ اور ان کے لیے زمین کی خریداری کی منصوبہ بندی تقریباً نصف صدی پہلے اس غرض سے کی تھی کہ نوکری کا عرصہ مکمل کرنے کے بعد معقول معاشی وسائل حاصل ہوں گے۔ کبھی کوئی محتاجی تھی نہ ہے‘ سب کچھ ضرورت سے کہیں زیادہ میسر ہے۔ آموں کے درختوں سے محبت اور باغ لگانے کے شوق میں اتنے سال گزارنے کے بعد میرا زراعت کے بارے میں نظریہ جدید ہونے کے بجائے قدیم بلکہ قدامت پسند ہو گیا ہے۔ میں اسے سرمایہ کاری سمجھتا ہوں‘ نہ اس سے بڑی دولت کمانے کی فکر ہے۔ درخت اپنی رونقیں دکھاتے رہیں‘ اور آپ آزادی کے ساتھ جہاں چاہیں کرسی ڈال کر باغ کے ماحول‘ اس کے اندر کیڑے مکوڑوں اور پرندوں کا مشاہدہ کریں تو اس آمدنی کا آپ سرمایہ داری نظام کے حوالے سے تعین نہیں کر سکتے۔ اس کے لیے صرف ایک ہی معیار ہے اور وہ بھوٹان کے بادشاہ کا تصور ہے: آمدنی کی اصل صورت تو خوشی ہے‘ اگر یہ نہیں تو کچھ بھی نہیں۔ ہمارے جیسے باغوں کے کاشتکار اب اس نفسیاتی اطمینان‘ سفرِشوق کی مستی‘ فطرت پسندی اور پرانی روایت کو نبھانے ہی کو سب سے بڑی آمدنی خیال کرتے ہیں۔ ہم بھی پُرامید ہیں مگر ہماری اس آمدنی کو آپ اپنے سرمایہ داری نظام کے پیمانوں سے ہرگز نہیں ناپ سکتے۔ آم اور دیگر پھلوں اور اجناس کے بارے میں میری گزارش ہے کہ ایک ایک دانہ اگانے میں ہمارا خون پسینہ‘ دستیاب سرمایہ اور پورے سال کی نگرانی شامل ہوتی ہے۔ ہمارے لوگوں کو ان نعمتوں کی قدر نہیں۔ جب لوگوں کو روٹیاں چیرتے پھاڑتے‘ ٹکڑے ادھر اُدھر پھینکتے اور خصوصاً آموں کو وحشی انداز میں کھاتے دیکھتا ہوں تو ماؤزے تنگ کے آموں والا قصہ یاد آ جاتا ہے۔ کبھی ایک تفصیلی مضمون آپ کی نذر کیا تھا۔ پاکستان کی طرف سے تحفے میں دیے گئے یہ آم ماؤزے تنگ نے قربانی کے جذبے کے تحت پاسدارانِ انقلاب کے حوالے کیے۔ انہوں نے مختلف شہروں اور دیہات میں ٹوکریوں میں نمونے کے آم رکھ کر جلوس نکالے۔ ان کے ساتھ ان کے حصے میں جو ایک ایک آم آیا ہوتا‘ اسے پانی میں ڈال کر محلول تیار کرتے جسے ثواب کے طور پر تقسیم کرتے۔ جب ایک میڈیکل ڈاکٹر نے پھبتی کسی تو وہیں پر عدالت لگی اور اسے پھانسی کی سزا سنا دی گئی۔ ہم تو عدالتوں سے ویسے ہی دور رہتے ہیں۔ آموں کی بے حرمتی کرنے والوں کا کیا بگاڑ سکتے ہیں!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_33241568.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>آزاد کشمیر : اختلافات اور چیلنجز(ڈاکٹر رشید احمد خاں)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr-rasheed-ahmad-khan/2026-08-28/52558/52376566</link><pubDate>Fri, 28 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr-rasheed-ahmad-khan/2026-08-28/52558/52376566</guid><description>آزاد جموں وکشمیر سے آنے والی تازہ خبروں کے مطابق الیکشن کی فاتح جماعت مسلم لیگ (ن) نے وزیراعظم کیلئے بیرسٹر افتخار گیلانی کو نامزد کیا ہے۔ حالانکہ اس سے قبل شاہ غلام قادر کی نامزدگی کی خبریں گردش کر رہی تھیں۔ جس اجلاس میں بیرسٹر افتخار گیلانی کی نامزدگی کا فیصلہ کیا گیا‘ اُس کی صدارت وزیراعظم شہباز شریف کر رہے تھے اور اجلاس میں سابق وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر اور شاہ غلام قادر بھی موجود تھے۔ اطلاعات کے مطابق دونوں رہنمائوں نے پارٹی کے اس فیصلے سے اختلاف کیا ہے‘ اس طرح آزادکشمیر کی نئی حکومت تشکیل سے پہلے ہی اختلافات کا شکار ہو گئی ہے۔ موجودہ سیاسی صورتحال کے تناظر میں یہ اچھا شگون نہیں ہے کیونکہ نازک مواقع پر سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہوتی ہے وہ سیاسی استحکام ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے انتخابات میں بھاری کامیابی حاصل کرنے کے بعد اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ ریاست میں اقتدار سنبھالنے کے بعد اُن کی سب سے اہم اور پہلی ترجیح امن و امان کا قیام ہوگا لیکن اس جانب پہلا قدم اٹھانے سے پہلے ہی اعلیٰ سطحی پارٹی قیادت میں اختلاف پیدا ہونے کے بعد یہ مقصد حاصل ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ خاص طور پر ایسے موقع پر جبکہ ابھی انتخابات کی شفافیت پر بھی کئی سوالیہ نشان ہیں اور پیپلز پارٹی کا احتجاج جاری ہے۔ قومی اسمبلی کے ایک اجلاس کا بائیکاٹ کر کے پیپلز پارٹی نے جس طرح حکومت کی طرف سے قانون سازی کے عمل میں رکاوٹ ڈالی‘ اس کے تناظر میں آزاد کشمیر کے نئے وزیراعظم کے انتخاب اور حلف برداری کی تقریب کا بائیکاٹ بھی کیا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب یہ حقیقت بھی سب پر عیاں ہے کہ اگر تحریک انصاف انتخابات کا بائیکاٹ نہ کرتی آزاد کشمیر کا سیاسی نقشہ مختلف ہوتا۔ پچھلے (2021ء کے) انتخابات میں پی ٹی آئی نے قانون ساز اسمبلی کی 32نشستیں حاصل کی تھیں اور مسلم لیگ (ن) کی اسمبلی میں کم و بیش وہی پوزیشن تھی جو آج پیپلز پارٹی کی ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ مسلم لیگ نے آزاد کشمیر کی خصوصاً پچھلے پانچ برس کی سیاست سے کوئی سبق نہیں سیکھا کہ کس طرح دو تہائی اکثریت حاصل کرنے والی پی ٹی آئی اندرونی اختلافات کا شکار ہو کر اقتدارسے محروم ہو گئی۔ وزیراعظم کے عہدے کیلئے نامزدگی کے بعد ابھی نہ صرف اسمبلی میں جناب افتخار گیلانی کو ارکان کی اکثریت کے ووٹ حاصل کرنا ہوں گے بلکہ اس کے بعد کابینہ سازی کا مرحلہ بھی درپیش ہوگا۔ ان تمام مراحل سے کامیابی سے گزرنے کیلئے پارٹی کی صفوں میں اتحاد اشد ضروری ہے۔ اس سے بھی زیادہ اہم پارٹی کے مائنڈ سیٹ اور اپروچ میں بنیادی تبدیلی کی ضرورت ہے کیونکہ حال ہی میں وقوع پذیر ہونے والی اندرونی سیاسی اور بیرونی جیوپولیٹکل تبدیلیوں نے خطے میں دیگر قوموں کے علاوہ کشمیریوں کی سوچ پر بھی گہرا اثر ڈالا ہے۔ پاکستان کی سیاسی جماعتیں خصوصاً مسلم لیگ (ن)‘ جو نسلی بنیاد پر کشمیریوں سے زیادہ قربت کا دعویٰ کرتی ہے‘ جتنی جلدی اس تبدیلی کو سمجھ لیں اور اس کے مطابق اپنی پالیسی اور رویے میں مناسب تبدیلیاں کر لیں‘ ان کے حق میں بہتر ہے۔ سب سے پہلے تو ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ آزاد کشمیرکے اندرونی حالات نارمل نہیں ہیں۔ وفاقی حکومت اور آزاد کشمیر کے سیاسی رہنماؤں کی یہ توقع کہ انتخابات کے نتیجے میں حالات نارمل ہو جائیں گے‘ پوری نہیں ہوئی۔ ملک کی ایک بڑی جماعت نے الیکشن میں حصہ نہیں لیا۔ دوسری بڑی پارٹی انتخابات کے نتائج تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں‘ کیونکہ اس کے دعوے کے مطابق انتخابات میں وسیع پیمانے پر دھاندلی ہوئی۔ انتہائی کم ٹرن آؤٹ انتخابی مہم سے عوام کی عدم وابستگی کو ظاہر کرتا ہے۔ حکومت کی طرف سے جوائنٹ ایکشن کمیٹی پر پابندی جاری ہے اور اس کے رہنماؤں اور مظاہرین کو غدار اور ایجنٹ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان حالات میں امن واستحکام اور تعاون کی فضا کیسے قائم ہو سکتی ہے؟ بلاشبہ ریاست کے عوام محب وطن اور پاکستان کے وفادار ہیں۔ وہ محض اپنے حقوق کے حصول کی بات کرتے اور بدلے ہوئے حالات میں ریاست کے انتظامی اور سیاسی نظام میں ضروری تبدیلیاں چاہتے ہیں۔ ان حالات میں ڈیڈ لاک ختم کرنے کیلئے ریاست کو پہل کرنی چاہیے۔ غیر سیاسی اور غیر جانبدار طبقوں کی متفقہ رائے ہے کہ کالعدم ایکشن کمیٹی کے احتجاج کو کچلنے کیلئے ضرورت سے زیادہ طاقت استعمال کی گئی‘ دوسری طرف سے بھی پُرتشدد ردِعمل آیا اور دونوں طرف سے قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ اس سلسلے کو فوری طور پر روکنا ضروری ہے۔ نومنتخب حکومت اور مرکز باہمی مشاورت سے اس سمت قدم اٹھا سکتے ہیں۔ سبکدوش ہونے والے وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور نے ایک بیان میں کہا ہے کہ نئی حکومت کے سامنے سب سے بڑا چیلنج ایکشن کمیٹی کے ساتھ معاملات طے کر کے امن و امان کی صورتحال بحال کرنا ہے۔ اگرچہ حکومت کو دیگر چیلنجز کا بھی سامنا ہے مگر فیصل راٹھور کے اس بیان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ دوطرفہ کشیدگی کے نتیجے میں عوام کو جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اُن پر اندرون اور بیرونِ ملک تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ حال ہی میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے دورۂ انگلینڈ کے دوران برطانیہ میں مقیم پاکستانی نژاد برطانوی پارلیمنٹ کے ارکان کے ایک گروپ نے اُن سے ملاقات کر کے انہیں اپنے خدشات اور تشویش سے آگاہ کیا۔ برطانیہ میں تقریباً 10لاکھ کے قریب پاکستانی نژاد تارکین وطن مقیم ہیں اور اکثریت کا تعلق آزاد کشمیر سے ہے۔ نائب وزیراعظم نے پاکستانی نژاد ارکانِ برطانوی پارلیمنٹ کو یقین دلایا ہے کہ وہ آزاد کشمیر‘ وفاقی حکومت‘ دیگر سیاسی جماعتوں اور سٹیک ہولڈرز کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر کے‘ ریاست کے انتظامی اور سیاسی ڈھانچے میں تبدیلیوں پر اتفاقِ رائے حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔ جناب اسحاق ڈار کو اس مقصد کیلئے اپنی کوششوں کا فوری طور پر آغاز کر دینا چاہیے تاکہ یہ سلسلہ تھم سکے۔ دوسری جانب وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ کا ایک بیان سامنے آیا ہے کہ ایکشن کمیٹی کے 99فیصد ارکان محب وطن اور پاکستان کے وفادار ہیں‘ صرف ایک فیصد ایسے ہیں جن کے تانے بانے بیرونِ ملک سے ملتے ہیں۔اس دعوے کو درست تسلیم کرتے ہوئے درخواست کی جاتی ہے کہ محض ایک فیصد کے خلاف کارروائیوں سے 99فیصد کیلئے ایسی مشکلات نہ پیدا کریں جن کی وجہ سے ان کا اعتماد مجروح ہو۔ اور وہ ایک فیصد‘ جو گمراہ ہو چکے ہیں‘ ان کو بھی واپسی کیلئے امن اور سلامتی کا راستہ اختیار کرنے کی ترغیب دیں۔ سابق وزیراعظم فیصل راٹھور نے بالکل درست کہا کہ اس چیلنج کا کامیابی سے مقابلہ کرنے کیلئے ڈائیلاگ ہی واحد راستہ ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف بلوچستان کے حوالے سے بھی ایسی رائے کا اظہار کر چکے ہیں کہ تشدد اور تصادم کے مسئلے کا واحد حل ڈائیلاگ ہے۔ امید ہے کہ نئی حکومت آزاد کشمیر میں امن‘ تعاون اور خوشحالی کے ایک نئے دور کا آغاز کرنے اور باہمی اختلافات اور تنازعات کو حل کرنے کیلئے ڈائیلاگ کا آغاز کرے گی۔ پاکستان اور آزاد کشمیر کے عوام بھی یہی چاہتے ہیں۔ صرف چند کوتاہ اندیش ہیں جو طاقت کے استعمال کو اختلافات کے حل کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ تاریخ نے ہر دور میں ثابت کیا ہے کہ یہ اپروچ کامیاب نہیں ہو سکتی۔ پاکستان اور آزاد کشمیر کے سیاسی و انتظامی ذمہ داران کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اب سیاسی حرکیات تبدیل ہو چکی ہیں‘ اب عوام زیادہ باشعور ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90264263.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پمز آتشزدگی اور برطانیہ کا فائر سیفٹی نظام(اسد طاہر جپہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/asad-tahir-jappa-/2026-08-28/52559/22127227</link><pubDate>Fri, 28 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/asad-tahir-jappa-/2026-08-28/52559/22127227</guid><description>وطن عزیز میں بدھ کے روز عین اُس وقت جب جشنِ میلاد النبیﷺ کے موقع پر شہر شہر‘ قریہ قریہ اور ہر کوچہ و بازار کو جھنڈ یوں اور بینرز سے آراستہ کرکے جلوس نکالے جا رہے تھے‘ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے پمز ہسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے باعث وہاں پر موجود 16 معصوم بچوں میں سے 14 جل گئے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق اے سی کا کمپریسر پھٹنے سے آگ بھڑک اٹھی اور یہ اندوہناک سانحہ پیش آیا۔ مگر سب سے زیادہ تکلیف دہ بات وہاں پر موجود عملے کی مجرمانہ غفلت اور بے حسی ہے۔ موقع پر موجود تمام عملہ محض تماشا دیکھتا رہا۔ بنیادی وجہ ایک مرتبہ پھر مؤثر فائر سیفٹی نظام کی عدم موجودگی ہے۔ یہ پہلا سانحہ نہیں‘ اور جب تک ہم اس طرح کے قومی سانحات کو &#39;&#39;حادثہ‘‘ کہہ کر فائل بند کرتے رہیں گے تب تک اسی طرح کے دل لرزا دینے والے واقعات پیش آتے رہیں گے۔ یہاں پر ایک اہم سوال یہ ہے کہ آگ کیسے لگ جاتی ہے؟ اس کی پانچ بنیادی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ اوّل: پاکستان کے پبلک سیکٹر میں مینٹیننس کلچر کا جنازہ نکل چکا ہے جو کئی انسانی جنازوں کا سبب بنتا رہتا ہے۔ سرکاری ہسپتال میں اے سی لگ جاتا ہے‘ بل منظور ہو جاتا ہے لیکن اگلے 10 سال تک اس کی سروس نہیں ہو پاتی۔ کمپریسر میں گیس لیک ہو رہی ہو‘ تاریں ننگی ہوں‘ سرکٹ جل رہا ہو کسی کو کوئی پروا نہیں۔ کیوں؟ اس لیے کہ مینٹیننس کا بجٹ موجود نہیں ہے۔ اگر بہت بھی ہو تو کاغذی کارروائی مکمل کی جاتی ہے‘ مینٹیننس کیلئے اخبارات میں اشتہار چھپ جاتا ہے‘ ٹینڈر طلب کیے جاتے ہیں‘ ٹھیکیدار کا انتخاب ہوتا ہے اور مطلوبہ رقم منظور ہو کر قومی خزانے سے نکل جاتی ہے۔ اس طرح آڈٹ کے تقاضے پورے کرنے کیلئے فائلوں کا پیٹ بھرا جاتا ہے مگر موقع پر کام نہیں ہو پاتا جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک دن کمپریسر دھماکے سے پھٹ جاتا اور متعدد قیمتی انسانی جانیں لے جاتا ہے۔ دوم: فائر سیفٹی صرف کاغذوں تک ہے۔ قانون کہتا ہے کہ ہر بڑے ہسپتال میں‘ لازمی ہے کہ فائر الارم‘ سپرنکلر سسٹم اور ہر 50 فٹ پر فائر ایکسٹنگویشر (extinguisher) نصب ہو‘ ایمرجنسی ایگزٹ موجود ہو اور باقاعدگی سے عملے کی فائر ڈرل کرائی جائے مگر حقیقت یہ ہے کہ 80 فیصد سرکاری ہسپتالوں میں ایکسٹنگویشر کی مہر پانچ سال سے نہیں ٹوٹی‘ ایمرجنسی ایگزٹ پر سامان پڑا ہے‘ ڈیوٹی پر مامور عملے کو یہ نہیں پتا کہ آگ لگے تو پہلے کیا کرنا ہے۔ پمز میں اگر فائر الارم ہوتا‘ ڈیوٹی پر مامور عملہ تربیت یافتہ ہوتا تو 16 میں سے 14 بچے نہ مر جاتے کیونکہ تربیت یافتہ عملہ محض دو منٹ میں سب کو بحفاظت باہر نکال لیتا۔ سوم: ہمارے ہسپتالوں میں مریضوں کی تعداد 300فیصد زیادہ ہے۔ ایک کمرے میں چار کے بجائے 12 بیڈز ہیں‘ ایک ساکٹ میں تین تین ایکسٹینشن لگا دی گئی ہیں۔ علاوہ ازیں وارڈ میں ہیٹر‘ اے سی‘ مانیٹر‘ آکسیجن مشین سب کچھ ایک ہی بجلی لائن پر چل رہا ہے۔ دوسری طرف خریداری میں سب سے سستا اور غیر معیاری کمپریسر‘ سستے تار اور غیر پائیدار سوئچ خرید کر مال کھایا جاتا ہے اور انسانی جانوں کو خطرے میں ڈال دیا جاتا ہے۔ چہارم: ہمارے نظام میں جوابدہی کا فقدان ہے۔ مجرمانہ غفلت‘ کرپشن اور فرائض منصبی میں کوتاہی پر کوئی پوچھتا نہیں۔ متعلقہ افراد ریٹائر ہو جاتے ہیں‘ مینٹیننس انچارج تبدیل ہو جاتے ہیں اور فائلیں ہمیشہ کیلئے بند ہو جاتی ہیں۔ جب باز پرس نہیں ہو گی‘ سزا بھی نہیں ہو گی جس کے نتیجے میں غفلت مزید بڑھے گی۔ یہی وجہ ہے کہ لاہور‘ کراچی اور اسلام آباد سمیت ہر بڑے چھوٹے شہر کے سرکاری ہسپتالوں میں ہر سال شارٹ سرکٹ سے آگ لگتی ہے۔ دو چار دن یہ معاملہ خبروں کی زینت بنتا ہے‘ پھر سب بھول جاتے ہیں۔ پانچویں اور سب سے اہم وجہ عام انسانی جان کی قدر وقیمت نہ ہونا ہے۔ سب سے کڑوا سچ یہ ہے کہ ہم نے انسانوں کی درجہ بندی کی ہوئی ہے۔ اگر غریب کا بچہ سستے وارڈ میں مرتا ہے تو مرنے دیں۔ جنرل وارڈ میں 20 سال پرانا یونٹ چل رہا ہے تو کوئی فکر کی بات نہیں۔ دوسری جانب وی آئی پی وارڈ میں سہولتوں کا اعلیٰ ترین معیار یقینی بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جاتی۔ وہاں مہنگا ترین اے سی لگے گا‘ اس کی ماہانہ سروس بھی ہو گی۔ یہی دہرا معیار ہمیں لے ڈوبا ہے۔میں گزشتہ چند برسوں سے برطانیہ میں زیر تعلیم ہوں۔ یہاں ہسپتالوں کو عبادت گاہ کا درجہ دیا جاتا ہے‘ نہ کہ کسی سرکاری دفتر کا۔ اگر برطانیہ کے ہیلتھ کیئر اور سیفٹی نظام کا جائزہ لیں تو یہاں تین بڑے قوانین لاگو ہیں۔ سب سے پہلا ہیلتھ اینڈ سیفٹی ایکٹ 1974ء ہے‘ جس کے تحت یہ آجر کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملازم اور عوام (مریض) کی حفاظت یقینی بنائے۔ دوسرا ریگولیٹری ریفارم فائر سیفٹی آرڈر 2005ء ہے۔ اس میں ہر عمارت کیلئے ایک شخص نامزد کیا گیا ہے جو غفلت ثابت ہونے پر جیل جا سکتا ہے۔ تیسرا کیئر کوالٹی کمیشن ہے جو ہر ہسپتال کی سالانہ انسپکشن کرتا ہے اور اسے چار قسم کی درجہ بندی میں شامل کرتا ہے۔ خراب رپورٹ کی صورت میں اس ہسپتال میں کوئی مریض نہیں جاتا کیونکہ لوگ پہلے اس کی کارکردگی کا جائزہ لیتے اور پھر وہاں جانا پسند کرتے ہیں۔ 2019ء میں مانچسٹر رائل انفرمری میں آتشزدگی کا ایک چھوٹا سا واقعہ پیش آیا جس میں کوئی جانی نقصان تو نہیں ہوا مگر کیئر کوالٹی کمیشن نے ہسپتال میں موجود سہولتوں کو ناکافی قرار دیا۔ اس پر ہسپتال کے چیف ایگزیکٹو کو مستعفی ہونا پڑا اور برطانوی پارلیمنٹ میں بھی اس پر سوالات اٹھائے گئے۔ این ایچ ایس (نیشنل ہیلتھ سروس) کا سالانہ بجٹ تقریباً 180 ارب پاؤنڈ ہے اور اس میں سے 12 ارب پاؤنڈ مینٹیننس کیلئے مختص ہیں۔ ہر ہسپتال کو سالانہ اوسطاً چھ ملین پاؤنڈ محض بلڈنگ اور مشینوں کی اَپ گریڈیشن کیلئے ملتے ہیں۔ قانون یہ ہے کہ اگر مشین کا مینٹیننس ریکارڈ پورا نہیں تو انشورنس کمپنی کلیم نہیں دے گی۔ اس لیے ہر کمپریسر کی ہر چھ ماہ بعد سروس کی جاتی ہے اور اس کا ریکارڈ آن لائن موجود ہوتا ہے۔ قانون یہ ہے کہ کمپریسر چھت پر اور وارڈ سے کم از کم 50 میٹر دور ہو گا۔ ہر ہسپتال میں ایک کُل وقتی فائر سیفٹی منیجر تعینات ہوتا ہے۔ ہر نرس اور ڈاکٹر کیلئے سالانہ دو گھنٹوں پر مشتمل فائر سیفٹی ٹریننگ کورس پاس کرنا لازم ہے۔ ہسپتال میں ہر تین ماہ بعد ریڈ کوڈ ڈرل کی جاتی ہے جس میں رات تین بجے بھی بچوں کے وارڈ کی ڈرل کر کے ڈمی بچوں کو باہر نکالا جاتا ہے۔ اس میں وقت کی پابندی پر خاص توجہ دی جاتی ہے۔ اگر اس پوری مشق میں چار منٹ سے زیادہ وقت لگے تو وارڈ انچارج کو وارننگ دی جاتی ہے۔ ہسپتال کا عملہ جانتا ہے کہ اگر وہ وارڈ میں ایک گرم ساکٹ دیکھیں اور رپورٹ نہ کریں تو کل کو آگ لگنے کی صورت میں وہ جیل جا سکتے ہیں۔ ہسپتال کے ہر کمرے میں دو ایگزٹ لازمی ہیں۔ دیواریں اس طرح تعمیر کی جاتی ہیں کہ وہ 60 منٹ تک آگ کو روک سکیں۔ آکسیجن اور بجلی کی لائنیں الگ الگ ہیں۔ ہر وارڈ میں سموک اور ہیٹ ڈیٹیکٹر نصب ہیں‘ جو سیدھا فائر بریگیڈ اور ڈائریکٹر کے موبائل پر الرٹ بھیجتے ہیں۔ فرق واضح ہے کہ برطانیہ میں سخت قوانین بنائے گئے ہیں‘ جن کی موجودگی میں حادثے سے پہلے دس بیریئرز ہیں مگر پاکستان میں حادثے کے بعد دس بہانے ہیں۔ وقت آن پہنچا ہے کہ پاکستان میں برطانوی طرز پر ایک مربوط اور منظم فائر سیفٹی نظام رائج کیا جائے جس کیلئے مطلوبہ قانون سازی کی جائے۔ ملک بھر کے ہسپتالوں کا فائر سیفٹی آڈٹ کرایا جائے اور ان کو درکار وسائل اور ضروری سہولتوں کی فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ آئندہ آتشزدگی کے کسی نئے المناک حادثے میں قیمتی انسانی جانیں ضائع نہ ہوں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_34710710.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>لرزتی ہوئی دھرتی(جویریہ صدیق )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/javeria-siddique/2026-08-28/52560/43633458</link><pubDate>Fri, 28 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/javeria-siddique/2026-08-28/52560/43633458</guid><description>دنیا نے رواں برس جون میں عجب قدرتی منظر دیکھا کہ جب ایک ہی دن میں دنیا کے پانچ مختلف ممالک میں زلزلہ آیا۔ جون میں وینزویلا میں آنے والے پہلے زلزلے کی شدت 7.2 اور دوسرے کی 7.5 تھی۔ کیلیفورنیا (امریکہ) میں شدت 5.6‘ نیو گنی میں 5.1‘ فلپائن میں 4.9 اور جاپان میں 6.9 تھی۔ یہ تمام ممالک رِنگ آف فائر پر بنے ہوئے ہیں۔ یہ دراصل ایک جغرافیائی اصطلاح ہے جو بحرالکاہل کے گرد پھیلا ہوا طویل علاقہ ہے۔ اس رِنگ آف فائر میں دنیا کے 90 فیصد زلزلے آتے ہیں۔ اگست بھی اس حوالے سے تشویشناک ثابت ہوا۔ کولمبیا میں 7.4 شدت کا زلزلہ آیا جس سے متعدد عمارتیں منہدم ہوگئیں اور سینکڑوں لوگ لقمۂ اجل بن گئے۔ 17 اگست کو انڈونیشیا میں آنے والے 7.7 شدت کے زلزلے نے وہاں بھاری نقصان کیا۔ 13 ہزار لوگ اس زلزلے کے نتیجے میں بے گھر ہوگئے اور متعدد عمارتیں زمین بوس ہوگئیں‘ 1300 گھر مکمل تباہ ہو گئے۔ دو عالمی ادارے زلزلوں کے اعداد و شمار اور زمین کی نقل و حمل پر نظر رکھتے ہیں‘ وہ جغرافیائی تبدیلیوں کے حوالے سے بھی آگاہی دیتے رہتے ہیں۔ ان کے مطابق 5اگست سے 18 اگست تک چھ بڑے زلزلے آچکے ہیں‘ ان میں 5اگست کو فلپائن میں 6.3 شدت‘ اسی دن نیوزی لینڈ میں 6.3 اور انڈونیشیا میں 5.7شدت کا زلزلہ شامل ہیں۔ 6 اگست کو فلپائن میں 5.6‘ کولمبیا میں 7.4 اور انڈونیشیا کا 7.7 شدت کا بدترین زلزلہ آیا۔ اسی طرح پاکستان میں 19 اگست کو 5.3شدت کا زلزلہ آیا۔ دنیا میں یہ طبعی تغیرات اس وقت سے جاری ہیں جب سے دنیا وجود میں آئی ہے۔ زلزلوں کی پیش گوئی نہیں کی جاسکتی۔ ہماری زمین ٹیکٹونک پلیٹس پر کھڑی ہے‘ جب ان پرتوں میں ارتعاش پیدا ہوتا ہے تو ہم زلزلہ محسوس کرتے ہیں۔ آتش فشاں کے پھٹنے سے بھی زلزلے آتے ہیں۔ کوئی یہ نہیں بتاسکتا کہ زلزلے کب اور کہاں آئیں گے‘ بس ان خطوں کی نشاندہو سکتی ہے جو فالٹ لائن پر واقع ہیں۔ انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے بھی زلزلے آسکتے ہیں جیسا کہ کسی بہت بڑے ڈیم کو بھرنا‘ نیوکلیئر ٹیسٹ یا بہت گہری کھدائی اور زمینی پرتوں سے چھیڑ چھاڑ کرنا۔ جہاں سے زلزلہ شروع ہوتا ہے اس کو مرکز ایپی سنٹر کہا جاتا ہے‘ وہاں سے لہریں ملحقہ علاقوں تک محسوس کی جاتی ہیں۔پاکستان عربین پلیٹ‘ یوریشین پلیٹ اور انڈین پلیٹ کے جنکشن پر کھڑا ہے۔ انڈین پلیٹ پر مشرقی اور مغربی ریجن ہے جس میں سندھ‘ پنجاب اور آزاد کشمیر آتے ہیں۔ یوریشین پلیٹ پر بلوچستان‘ کے پی اور گلگت بلتستان آتے ہیں اور عرب پلیٹ پر ساحلی علاقے آتے ہیں۔ پاکستان میں پانچ سیزمک زون ہیں؛ زون ون کم رِسک والا علاقہ ہے اور زون 2 اے اور بی معتدل رِسک والے علاقے ہیں جبکہ زون 3 اور زون 4 بہت رسکی علاقے ہیں۔ زون 4 میں چمن فالٹ لائن بلوچستان‘ ہزارہ کشمیر فالٹ لائن اور مکران فالٹ لائن شامل ہیں۔ اب جب دنیا بھر میں سات شدت سے اوپر کے زلزلے آرہے ہیں اور ہم خود فالٹ لائن پر ہیں تو کیا ہمیں فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں؟ بالکل ہے! اور انتظامیہ کو اس طرف توجہ مبذول کرنی چاہیے۔ زلزلے روکے نہیں جاسکتے لیکن ان سے ہونے والے نقصانات کو کم ضرور کیا جاسکتا ہے۔ ہمیں سوچنا چاہیے کہ کیا ہماری عمارتیں زلزلوں کے جھٹکے سہہ سکتی ہیں یا ایسے زون جہاں پہلے بھی بڑے زلزلے آچکے ہوں‘ وہاں کنکریٹ اور سیمنٹ کے بڑے بڑے پروجیکٹس بنائے چلے جانا دانشمندی ہے؟ ایسی جگہوں پر ایسی مضبوط عمارتیں بنائی جانی چاہئیں جن کی بنیاد مضبوط ہو اور سٹرکچر کثیر المنزلہ نہ ہو۔ پرانی عمارتوں کی ریٹروفٹنگ کی جائے۔ اسی طرح یہ بھی دیکھنا ہے کہ کیا نئی اور پرانی عمارتوں میں ایمرجنسی ایگزٹ موجود ہے؟ کیا وارننگ سسٹم نصب ہے‘ کیا سرچ‘ ریسکیو اور ریلیف کے ادارے فعال ہیں؟ کیا سکول کالجوں میں زلزلے سے بچاؤ کی ڈرلز کرائی جاتی ہیں؟ ڈراپ‘ کور اور ہولڈ کی مشق کتنے لوگوں کو آتی ہے؟ کیا آپ کو ابتدائی طبی امداد کی تربیت دی گئی ہے؟ کتنے لوگ زخم کی ڈریسنگ کرنا جانتے ہیں؟ کیا کونسل اور تحصیل کی سطح پر ایمرجنسی کمیٹی موجود ہیْ کیا ان کے پاس وہ سہولتیں موجود ہیں جن سے وہ آگ بجھا سکیں یا زخمیوں کو ملبے سے نکال سکیں؟ کیا علاقہ مکینوں نے زلزلے کی صورت میں کسی میدان کو سیف زون بنا رکھا ہے؟ ان تمام سوالوں کا جواب بدقسمتی سے نفی میں ہے۔ ہم یہ کہہ کر معاملہ چھوڑ دیتے ہیں کہ جب وقت آئے گا تو دیکھا جائے گا۔ پاکستان میں تقریباً ہر ہفتے کوئی چھوٹا موٹا زلزلہ آتا رہتا ہے‘ ان سے ہونے والے نقصانات کا تخمینہ کون لگارہا ہے؟ چھوٹے زلزلے بھی عمارتوں کو آہستہ آہستہ کمزور کردیتے ہیں۔ کیا زلزلوں کے بعد پلوں‘ انڈرپاسز اور عوامی عمارتوں کا جائزہ لیا جاتا ہے؟ حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ بلڈنگ کوڈز کی پابندی یقینی بنائے۔ دریاؤں کے کناروں‘ پہاڑی علاقوں اور فالٹ لائن پر تعمیرات پر پابندی ہونی چاہیے۔ اَرلی وارننگ سسٹم ہونا چاہیے جس سے ابتدائی لہروں کی نشاندہی پر تمام لوگوں کے فونز‘ ٹی وی اور ریڈیو پر الرٹ نشر کیا جائے۔ کچھ سیکنڈز کے فرق سے بھی بہت سی جانیں بچائی جاسکتی ہیں۔ تمام سکول‘ کالج‘ سرکاری و نجی عمارتوں کے کمزور حصوں کو مضبوط کیا جائے اور خستہ عمارتوں کو ناقابلِ استعمال قرار دیا جائے۔ اس حوالے سے عوامی آگاہی پیدا کی جائے جس میں مقامی زبانوں کا بھی استعمال کیا جائے۔ سیف سکول اور سیف ہسپتال کا قانون نافذ کیا جائے۔ ریسکیو سسٹم فعال ہونا چاہیے۔ محض لاش اٹھانا ریسکیو نہیں ہوتا‘ انسانی زندگی بچانا اصل ریسکیو اور ریلیف ہوتا ہے۔ اس حوالے سے قومی آگاہی مہم شروع کرنی چاہیے جس میں ڈرل‘ ایمرجنسی کٹ اور ابتدائی طبی امداد کی ٹریننگ بھی شامل ہونی چاہیے۔ زلزلے کے بعد مقامی بحالی‘ معاوضہ پالیسی اور انشورنس کو تیز اور شفاف بنانا چاہیے۔ اسی طرح عوام کو بھی آگاہی ہونی چاہیے کہ زلزلے کی صورت میں کیا کرنا ہے۔ ایک بیگ گھر میں بھی تیار رکھیں جس میں کیش‘ خشک اشیائے خورونوش‘ ٹارچ‘ سیٹی‘ تولیہ‘ پانی‘ فرسٹ ایڈ‘ موبائل چارجر‘ ضروری کاغذات کی کاپیاں اور دیگر اشیا رکھی ہوں تاکہ زلزلے یا کسی اور ناگہانی آفت کی صورت میں بس یہ بیگ اٹھا کر چل دیں۔ زلزلے میں چیزیں گرنے لگتی ہیں‘ اس لیے بھاری چیزوں کو ہُک لگا کر دیواروں کے ساتھ جوڑیں۔ اپنے اردگرد اور رہائشی کمروں میں زیادہ کانچ کی سجاوٹی چیزیں نہ رکھیں۔ زلزلے میں سر کور کرکے میز یا سیڑھی کے نچلے حصے کی آڑ لینا ہوتی ہے‘ تاہم بہتر یہی کہ عمارت سے فوری باہر نکلا جائے۔ زیادہ افراد ملبے تلے دب جانے سے جاں بحق ہوتے ہیں۔ اس لیے حساس علاقوں میں زیادہ منزلوں والی عمارتیں تعمیر نہ کی جائیں اور ہر عمارت میں سیفٹی ایگزٹ لازمی ہونا چاہیے۔ زلزلہ میں کبھی لفٹ استعمال مت کریں بلکہ ہمیشہ سیڑھیوں سے نیچے اتریں۔ زلزلے کے بعد انسان خوف کا شکار ہو سکتا ہے۔ اگر بے چینی اور خوف بڑھ جائے تو ماہرِ نفسیات سے رجوع کریں۔ زلزلے کے بعد پوسٹ ٹرامیٹک سٹریس ڈِس آرڈر ہونا ایک فطری عمل ہے‘ جو تھراپی اور ادویات سے ٹھیک ہوجاتا ہے۔ میں نہ تو ڈرا رہی ہوں اور نہ کوئی سنسنی پھیلارہی ہوں۔ خود ہی سوچیں کہ ہمارے ملک میں جہاں تعمیرات ایک بارش نہیں سہہ پارہیں‘ کیا وہ مستقبل میں آنے والے زلزلوں کو برداشت کرنے کیلئے تیار ہیں؟ اب بھی وقت ہے! ہم زلزلوں کو تو نہیں روک سکتے لیکن ان سے ہونے والے نقصانات کو اپنی تیاری سے محدود ضرور کرسکتے ہیں۔ اس لیے لوکل ادارے تمام عمارتوں میں سروے کرائیں۔ پلوں‘ انڈرپاسز‘ خاص طور پر شاپنگ مالز اور تعلیمی اداروں کو چیک کریں۔ ہم نے زلزلے کے سائنسی امور پر تو بات کرلی‘ دینی پہلو کی طرف دیکھیں تو زلزلے کو اللہ تعالیٰ کی نشانی قرار دیا گیاہے اور بہت سی قومیں زلزلوں کے نتیجے میں تباہ ہوئیں۔ اس لیے ایسے مواقع پر توبہ استغفار کریں اور اپنے اعمال کی طرف توجہ دیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_38020467.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>رسالتِ مآبﷺ اور نظامِ حکومت(امیر حمزہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ameer-hamza/2026-08-28/52561/55213905</link><pubDate>Fri, 28 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ameer-hamza/2026-08-28/52561/55213905</guid><description>اللہ تعالیٰ نے خاتمِ رسالت ونبوت کیلئے جس شہر کا انتخاب کیا اسے اپنی آخری الہامی کتاب میں &#39;&#39;بَکَّہ‘‘ بھی کہا ہے۔ کعبۃ اللہ اور اس کے ارد گرد مسجد حرام کو بکّہ کہا گیا ہے۔ بکّہ کا معنی گھل مل جانا ہے‘ مگر عزت و شرف کی حفاظت کے ساتھ! مسجد حرام کے اردگرد کے علاقے کو بھی بکّہ کہا جاتا ہے۔ اسی بکّہ میں &#39;&#39;مُعلیٰ‘‘ نام کا ایک محلہ ہے۔ اس کا مطلب بلندی‘ شرف اور عظمت ہے۔ &#39;&#39;معلیٰ‘‘ کا وہ حصہ جہاں حضرت عبداللہ اور حضرت آمنہ کا گھر تھا‘ وہ صفا مروہ کے بالکل قریب‘ شرف وعزت میں بہت بلند گھر تھا۔ اسی گھر میں حضورﷺ تشریف لائے۔ مکہ کی وہ حدود جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے قائم کی تھیں‘ انہی حدود کو حضور کریمﷺ نے ازسر نو قائم فرمایا۔ ان حدود کے اندر حرمت والا مکہ شہر ہے۔ قرآن مجید نے اس کو &#39;&#39;اُم القریٰ‘‘ بھی کہا ہے۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے بعد اس سر زمین پر کوئی نبی یا رسول نہیں آیا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بنو اسرائیل کے آخری نبی تھے‘ وہ ختم المرسلین کی جلد آمد کی بشارت دے کر آسمانوں کی جانب چلے گئے۔ ان کے بعد قریب چھ سو سال تک زمین کسی بھی نبی اور رسول کے قدموں کا بوسہ نہیں لے سکی۔ آمدِ مصطفیﷺ کا زمانہ جوں جوں قریب آ رہا تھا‘ ختم المرسلین کی آمد کے نشانات اور چرچے واضح ہوتے جا رہے تھے۔ صحیح مسلم کی حدیث ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اولادِ اسماعیل علیہ السلام سے کنانہ قبیلے کا انتخاب کیا اور کنانہ کی اولاد سے قریش کا انتخاب کیا۔ جی ہاں! اللہ تعالیٰ اولادِ آدم سے بہتر سے بہترین نسلوں کا انتخاب کرتے ہوئے حضورﷺ کا نسب قریش تک لے آئے۔ حضورﷺ کے اجداد میں سے قُصَیْ ایک اہم سردار تھے۔ یہ یتیمی کی زندگی شام میں گزار رہے تھے‘ بڑے ہوئے تو ماں نے مکہ بھیج دیا۔ مکہ کا اقتدار اُس وقت بنو خزاعہ کے پاس تھا۔ یہ قریشی نہ تھے۔ اس وقت زم زم کا کنواں بند ہو چکا تھا‘ قریشی دربدر تھے‘ حالات ابتر تھے۔ جناب قُصی نے خزاعہ کے حکمران سردار کی بیٹی حُبَّی سے شادی کی۔ سسر کی وفات کے بعد قریش کو اپنی قیادت میں لے کر مکہ کا اقتدار سنبھالا اور &#39;مُعلیٰ‘ کے علاقے میں &#39;&#39;ندوہ‘‘ کے نام سے ایک مجلس مشاورت (پارلیمنٹ) بنائی۔ قریش کے دس قبائلی سرداروں کو اس کا ممبر بنایا۔ 22وزارتیں بنائیں اور سب میں تقسیم کیں‘ اہم وزارتیں اپنے پاس رکھیں۔ پھیلے ہوئے مکہ شہر اور مضافات کی بستیوں کو بلدیات کا نظام دیا۔ &#39;&#39;نادی‘‘ کے نام سے ہر بستی میں ایک مجلس گاہ بنائی‘ جہاں لوگوں کے مسائل مقامی سطح پر حل ہوتے۔ &#39;&#39;رفادہ‘‘ کے نام سے ٹیکس کا نظام نافذ کیا۔ یوں مکہ کی حکمرانی منظم ہو گئی۔ قُصی نے اپنے ممبر پارلیمنٹ کی عمر کم از کم چالیس سال مقرر کی‘ کوئی ذہین اور مہارت والا کم عمر ہوتا تو استثنا دیا جاتا۔ سورۃ الاحقاف میں اللہ تعالیٰ نے اسی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ &#39;&#39;جب وہ جوانی کی عمر کو پہنچا اور پھر چالیس سال کی عمر کو پہنچا‘‘۔ (آیت: 15)۔ یعنی جوانی تو 16‘ 18 سال کی عمر میں شروع ہو جاتی ہے مگر حکمرانی کیلئے آئیڈیل عمر 40 سال ہے۔ اس عمر میں ذہنی و شعوری پختگی آ جاتی ہے۔ چونکہ حضور ختم المرسلینﷺ کی نبوت کا اعلان بھی 40 سال کی مبارک عمر میں ہونا تھا لہٰذا اللہ نے حضورﷺ کے جد امجد حضرت قُصی کی زبان سے اس حقیقت کو نکلوا دیا اور قرآن مجید میں بھی واضح اعلان ہو گیا۔جناب قُصی نے بلدیاتی سسٹم کی مقامی حکمرانی کیلئے &#39;&#39;نادی‘‘ کا لفظ استعمال کیا تو اسی لفظ کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں متعدد بار استعمال فرمایا۔ جناب قُصی وہ حکمران ہیں جنہوں نے تمام قریش کو جمع کرکے حکمرانی کا ایک نظام بنایا۔ دارالندوہ میں اجلاس ہوتا اور قُصی صدارت کرتے تھے۔ ہر مسئلے کا حل یہاں نکلتا تھا۔ بنو خزاعہ نے قریش کو بے دخل کرکے مکہ کی حکمرانی چھینی تھی‘ انہوں نے ہی شام سے بت لا کر کعبہ میں رکھے تھے اور عربوں کو بت پرستی پر لگایا تھا۔ اس بت پرستی کے خاتمے کیلئے ضروری تھا کہ قریش کا اقتدار بحال ہو۔ وہ بحال ہو گیا۔ جناب قُصی کو اللہ تعالیٰ نے چار بیٹے دیے۔ بڑا عبد مناف تھا۔ عبد مناف مکہ کا آخری حکمران اور آخری متولیٔ کعبہ تھا۔ یہاں سے اک نیا خاندان شروع ہونے جا رہا تھا۔ اس خاندان کا نام بنو ہاشم طے تھا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے عبد مناف کو ایک بیٹا ہاشم عطا فرمایا۔ یہی وہ آخری خاندان ہے جس میں ختم المرسلین یعنی ہمارے حضورﷺ کا ظہور ہونا طے پا چکا تھا۔ حضرت ہاشم نے بلدیاتی نظام کو مزید بہتر کیا۔ عدل کو صاف شفاف کیا۔ مظلوموں کی داد رسی کا نظام بنایا۔ بین الاقوامی سطح پر عدن اور یمن کے باب مندب سے لے کر مکہ‘ مدینہ‘ خیبر‘ دومۃ الجندل اور تبوک سے ہوتے ہوئے غزہ اور گردو نواح میں تجارت کا پُرامن راستہ بنایا۔ قرآن مجید میں سورۃ القریش میں حضرت ہاشم کے اسی نظام کی بات کی گئی اور خوشخبری دی گئی ہے کہ انسانیت عنقریب اس گھر (بیت اللہ) میں ایک رب کی عبادت کرنے والی ہے۔ یعنی نظامِ مصطفیﷺ کی خوشخبری! حضرت ہاشم کے بعد ان کے بیٹے عبدالمطلب تشریف لائے تو ان کے زمانے میں ابرہہ کا واقعہ پیش آیا‘ جو ہاتھیوں کا لشکر لے کر کعبہ شریف کو ڈھانے آیا تھا۔ عبدالمطلب نے قریش کو اکٹھا کر کے کعبہ کا غلاف تھام کر واحد و یکتا معبودِ برحق سے مدد کی درخواست کی اور ساتھ ہی اظہار کیا کہ یہ بت کسی کام نہیں آ سکتے‘ یعنی توحید کی بات آگے بڑھ گئی۔ اب حضرت محمد کریمﷺ &#39;&#39;عام الفیل‘‘ میں اس دنیا میں تشریف لائے۔ حضرت عبداللہ کے بارے میں حضرت عبدالمطلب نے منت مانی تھی کہ ان کو قربان کروں گا۔ آخر 100 اونٹوں کے فدیے سے وہ بچ گئے۔ کیوں نہ بچتے‘ انہی کی پاک صُلب سے کائنات کے امام نے آنا تھا۔ اب حضرت عبداللہ اور حضرت آمنہ کی شادی ہو گئی تو ربیع الاوّل کے مہینے میں‘ سوموار کے دن‘ فجر کے وقت رب کریم کے حبیبﷺ تشریف لے آئے۔ الحمدللہ‘ مرحبا!حضورﷺ کی عمر مبارک 25 سال ہوئی تو ایک 40 سالہ بیوہ خاتون سیدہ خدیجہؓ سے نکاح کر لیا۔ سیدہ خدیجہؓ کو &#39;&#39;ملیکۃ العرب‘‘ کہا جاتا تھا۔ یہ انتہائی دانشور اور عرب کی عظیم تاجرہ خاتون تھیں۔ حضورﷺ کی عمر مبارک جب 40 برس ہوئی تو نبوت ورسالت کا ظہور ہوا۔ اولین مومنہ کا اعزاز مومنوں کی ماں کے حصے میں آیا۔ ہجرت کے بعد آپﷺ نے مدینہ کو حرم قرار دے کر اس کی حدود کا تعین فرمایا۔ اس کی بستیاں اور علاقے‘ نیز مضافات جہاں مختلف قبائل اور مذاہب کی حکمرانیاں تھیں‘ ان میں یہودی بھی تھے‘ بت پرست بھی تھے‘ چند ایک نصاریٰ بھی تھے‘ اب یہاں مسلمان اکثریت میں ہو گئے۔ ان سب کو بلدیاتی نظام دیا۔ مدینہ میں مردم شماری کرائی گئی۔ بچوں کو مسجد مکتب سکیم کے تحت علم سے مالا مال کرنا شروع کیا۔ 50 شقوں کے لگ بھگ ایک متفقہ آئین بنایا گیا‘ جسے میثاق مدینہ کہا جاتا ہے۔ اللہ کی زمین پر حقوق انسانی کا یہ واحد دستور‘ آئین اور قانون ہے جسے حضورﷺ نے اتفاقِ رائے سے نافذ فرمایا۔افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستان آج تک بلدیاتی نظام سے محروم چلا آ رہا ہے۔ 80 سالہ قومی زندگی میں بلدیاتی نظام کا دورانیہ چند سال سے زیادہ نہیں۔ آج ہمارے ڈھائی کروڑ بچے تعلیم سے محروم ہیں۔ اپریل 2010ء میں اٹھارہویں ترمیم منظور ہوئی‘ جس میں طے پایا تھا کہ ہر صوبہ قانون کے مطابق مقامی حکومتوں (بلدیاتی نظام) کو قائم کرے گا۔ سیاسی‘ اقتصادی‘ مالی ذمہ داریاں اور اختیارات مقامی حکومتوں کے نمائندوں کو دے گا۔ اختیارات اور مالی وسائل کو مبہم کر دیا گیا؛ چنانچہ گزشتہ 16 سالوں سے یہ نظام قائم نہ کر کے آئین پر عمل نہیں کیا گیا۔ آج کی تمام حکمران اور اپوزیشن جماعتیں اس جرم میں برابر کی شریک ہیں۔ اب سسٹم ناکام‘ معاشرہ تباہ ہو چکا ہے۔ ضرورت ہے کہ خاندانی اور اقربا پروری کے نظام کو فوری دیس نکالا دیا جائے۔ میرٹ اور عدل کی بنیاد پر نئے صوبے اور اختیارات کا حامل نبوی طرز کا بلدیاتی نظام پاک وطن کا مقدر بنایا جائے۔ 2026ء کے ربیع الاول کا یہی تقاضا ہے۔ اسی سے ہمارے پاک وطن میں بہار یعنی ربیع کا موسم آئے گا‘ ان شاء اللہ!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_68712266.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>