<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>مفت بجلی کی سہولت ختم(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-18/11113</link><pubDate>Sat, 18 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-18/11113</guid><description>پاور ڈویژن کی جانب سے پاور سیکٹر کے گریڈ 17سے 22تک کے ملازمین کو دی جانے والی مفت بجلی کی سہولت کا خاتمہ  حکومتی کفایت شعاری مہم سے ہم آہنگ اقدام ہے اورتوانائی کے شعبے کے خسارے کو کم کرنے کی جانب ایک عملی پیشرفت۔ ایک اندازے کے مطابق گریڈ 17سے 22تک کے افسران کو سالانہ تقریباً سات کروڑ پچاس لاکھ یونٹس بجلی مفت فراہم کی جاتی ہے‘ جس کی مالیت تقریباًساڑھے چار ارب روپے بنتی ہے۔ حالیہ فیصلے کے بعد قومی خزانے پر پڑنے والا یہ اضافی بوجھ ختم ہو جائے گا۔ اس اقدام سے ادارہ جاتی شفافیت اور مالی نظم و ضبط کو بھی فروغ ملے گا جو کسی بھی معیشت کی بہتری کیلئے ناگزیر ہے۔ بجلی کے نرخوں میں مسلسل اضافے کے باعث یہ عام شہری کی قوتِ خرید سے باہر ہو چکی ہے‘ ایسے میں مخصوص طبقات کو مفت بجلی کی فراہمی معاشرتی عدم توازن کو مزید گہرا کرتی ہے۔

اس فیصلے سے نہ صرف حکومت کے مالی بوجھ میں کمی آئے گی بلکہ ایک حد تک سماجی مساوات کی بحالی بھی ممکن ہو سکے گی۔ اصلاحات کا یہ عمل یہاں رکنا نہیں چاہیے۔ حکومت کو دیگر سرکاری اداروں میں دی جانے والی بھاری مراعات اور سبسڈیز کا بھی ازسرِنو جائزہ لینا ہوگا۔ غیر ضروری اخراجات میں کمی‘ شفافیت میں اضافہ اور وسائل کے مؤثر استعمال کے بغیر معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار نہیں کیا جا سکتا۔ اگر حکومت اسی تسلسل کے ساتھ جرأتمندانہ فیصلے کرتی رہی تو نہ صرف معیشت مستحکم ہوگی بلکہ حکومت پر عوام کا اعتماد بھی بحال ہو سکے گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مہنگائی مستقل مسئلہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-18/11112</link><pubDate>Sat, 18 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-18/11112</guid><description>حکومت کی طرف سے مہنگائی پر قابو پانے کے دعوؤں کے باوجود ہر ہفتے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ وفاقی ادارۂ شماریات کے مطابق گزشتہ ہفتے کے دوران 17 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے سے ہفتہ وار مہنگائی کی شرح میں سالانہ بنیادوں پر 12 فیصد سے زائد اضافہ ہوا۔ گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے‘ جب سے ایران امریکہ جنگ کے باعث پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ‘ عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں۔ اس دوران پٹرول‘ ڈیزل‘ گیس‘ بجلی‘ ٹرانسپورٹ کرایوں اور تمام اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے باعث غریب عوام کیلئے جسم و جان کا رشتہ برقرار رکھنا مشکل ہو چکا ہے۔ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے حکومت کو نہ صرف مارکیٹ میکانزم پر گرفت مضبوط کرنا ہو گی بلکہ کم آمدنی والے طبقے کی قوتِ خرید میں اضافے کے اقدامات بھی کرناہوں گے۔

عوام کی قوتِ خرید میں کمی کا ایک بڑا سبب اقتصادی جمود اور صنعتی شعبے کی زبوں حالی ہے جس کے سبب ملک میں روزگار کے مواقع اور قوتِ خرید میں کمی آئی ہے۔حکومت کو دوطرفہ اقدامات کرنا ہوں گے۔ملک میں صنعت اور کاروبار کے لیے معتدل ماحول فراہم کرنا ہو گا تا کہ لوگوں کی آمدنی بڑھ سکے ‘ دوسری جانب مارکیٹ فورسز کو قانونی دائرہ کار میں لانا ہو گا تا کہ عوام کے استحصال کو روکا جاسکے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>