<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>چھوٹے انتظامی یونٹس کی تشکیل(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-08/11521</link><pubDate>Tue, 08 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-08/11521</guid><description>اسلام آباد کو صوبائی طرز پر خود مختار یونٹ بنانے کا ڈرافٹ وزیراعظم کو پیش کر دیا گیا ہے‘ جس میں اسلام آباد کیلئے صوبائی طرز کی انتظامی اور مالی خودمختاری‘ منتخب اسمبلی اور اپنے چیف ایگزیکٹو کی سفارش کی گئی ہے۔ اس وقت جب ملک میں نئے انتظامی یونٹس کا مطالبہ زور پکڑ چکا ہے یہ پیش رفت خوش آئند ہے۔ انتظامی بنیادوں پر نئے صوبائی یونٹس کے قیام کی ضرورت و اہمیت ظاہر و باہر ہے۔ یہ مطالبہ آوازِ خلق بن چکا ہے اور یہ باور کیا جا رہا ہے کہ چھوٹے انتظامی یونٹس کی تشکیل سے حکومت اور عوام میں فاصلے سمٹ سکتے ہیں‘ ترقی کے وسائل کی ترسیل کا عمل بہتر ہو سکتا ہے اور صوبائی خود مختاری کے حقیقی فوائد عوام تک پہنچ سکتے ہیں۔ ہمارے ہاں اکثر مسائل اور محرومیاں خواہ وہ تعلیم اور صحت کے حوالے سے ہوں یا ترقی اور خوشحالی کے‘ حکومت اور عوام کے فاصلوں کی وجہ سے ہیں۔ صوبوں کا حجم بہت بڑا ہے مگر صوبوں میں ترقی اور خوشحالی کے ثمرات یکساں نظر نہیں آتے۔

صوبائی دارالحکومتوں سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع شہر ‘ قصبے اور دیہات اس ترقی کے مظاہر سے محروم ہیں جو صوبائی دارالحکومتوں کا مقدر ٹھہرتی ہے۔ ترقی کے اس تفاوت کا نتیجہ یہ ہے کہ ملک بھر میں صوبائی دارالحکومتوں کی جانب نقل مکانی کا رجحان بہت بڑھ چکا ہے جس سے ان بڑے شہروں میں مزید کئی طرح کے مسائل جنم لیتے ہیں۔ یہ صورتحال بذاتِ خود صوبوں کی انتظامی تقسیم کی ضرورت کو واضح کرتی ہے۔ بہت اچھا ہوتا کہ یہ کام کئی دہائیاں پہلے ہو چکا ہوتا۔ اگر نہیں ہوا تو اسے مزید التوا میں ڈال کر مزید قومی نقصان سے بچنا چاہیے۔ یہی ملکِ عزیز کے عوام کی ترقی‘ خوشحالی‘ امن وسلامتی اور سماجی اطمینان کی بنیاد ہے۔ ان حالات میں جب چاروں صوبوں میں نئے انتظامی یونٹس کی تشکیل کا معاملہ زیر بحث ہے‘ وفاقی دارالحکومت اسلام آبا د کو نئے انتظامی ماڈل میں ڈھالنے کے حوالے سے ہونے والی پیش رفت ایک مستحسن اقدام ہے۔ مجوزہ منصوبے کے مطابق وفاقی دارالحکومت کو اپنی حکومت‘ اسمبلی اور انتظامی ڈھانچہ‘ اختیار اور مالیاتی خودمختاری دینے کی تجاویز پیش کی گئی ہیں۔
اسلام آباد شہر اقتدار کہلاتا ہے مگر اس کے باوجود اس شہر کے انتظامی حالات قابلِ رحم ہیں۔ بڑھتے ہوئے جرائم‘ بے ہنگم آباد کاری‘ تجاوزات‘ شہری سہولتوں کی عدم فراہمی اور عوامی زندگی کیلئے بڑھتے ہوئے مسائل شہر اقتدار کے باسیوں کیلئے ہی نہیں پورے ملک کیلئے باعثِ تشویش ہیں۔ پمز ہسپتال میں آتشزدگی کے حالیہ واقعے کو ایک عبرتناک مثال سمجھنا چاہیے کہ وہ شہر جو ملک کا صدر مقام ہے وہاں کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال میں ایک درمیانے درجے کی آگ کی ایمرجنسی سے نمٹنے کی صلاحیت بھی نہیں۔ یہ واقعات ان دائمی مسائل کی نشاندہی کرنے کیلئے کافی ہیں جو وفاقی دارالحکومت کے انتظامی نظام کو لاحق ہیں۔ اب جبکہ وزیراعظم کو اسلام آباد کی صوبائی طرز پر تشکیل کا مسودہ پیش کر دیا گیا ہے تو حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اس معاملے میں پُرعزم انداز سے آگے بڑھے‘ اس کام کی تکمیل کا کریڈٹ لے اوراس کیساتھ چاروں وفاقی اکائیوں میں انتظامی یونٹس کی تشکیل کا کام شروع کرے۔
اس سلسلے میں سیاسی اتفاقِ رائے کی ضرورت و اہمیت میں دو رائے نہیں۔ اصولی طور پر اس اہم قومی ایجنڈے کی تکمیل کیلئے سیاسی جماعتوں کو چاہیے تھا کہ پورے اعتماد کے ساتھ اس کام میں حصہ لیتیں۔ انتظامی بنیادوں پر صوبائی یونٹس کی تشکیل نوشتۂ دیوار ہے۔ یہ پاکستان کے عوام کا مقدر ہے اور مضبوط اور مستحکم پاکستان کی بنیاد۔ اب تک جو سیاسی دھڑے اس معاملے میں پس و پیش کا شکار ہیں ان کی اس گومگو کو وقتی شبہات کا نتیجہ سمجھنا چاہیے۔ امید کی جاتی ہے کہ وقت کیساتھ جب وہ اس معاملے پر مزید غور کریں گے اور صوبائی سطح پر انتظامی یونٹس کی ناگزیریت ان پر واضح ہو گی تو وہ بھی اپنے نقطہ نظر پر نظر ثانی کریں گے۔ ابھی اس معاملے میں شبہات کو اچھالنے کے بجائے اتفاق رائے اور مفاہمت کی کوششوں کی ضرورت ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>چینی، پالیسی کا تضاد(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-08/11520</link><pubDate>Tue, 08 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-08/11520</guid><description>وفاقی حکومت نے گزشتہ سال درآمد کی گئی چینی کو دوبارہ برآمد کرنے کا عمل شروع کرتے ہوئے ایک لاکھ سات ہزار 739 ٹن چینی کی برآمد کے لیے ٹینڈر جاری کر دیے ہیں۔ حکومت نے گزشتہ برس 50 ارب روپے کی لاگت سے تقریباً تین لاکھ ٹن چینی درآمد کی تھی۔ سوال یہ ہے کہ قیمتی زرِ مبادلہ خرچ کرنے سے پہلے مقامی ضروریات کا درست تخمینہ کیوں نہیں لگایا گیا‘ کہ اب وہی درآمد کی گئی چینی برآمد کرنا پڑ رہی ہے۔ قومی زرمبادلہ سے مہنگی چینی درآمد کر کے اسے دوبارہ برآمد کرنا کوئی مستحکم اور دانشمندانہ پالیسی نہیں۔ اس سے قبل گزشتہ برسوں کا تجربہ یہ رہا ہے کہ پہلے ملکی ضرورت سے زائد ذخائر کا دعویٰ کرکے چینی برآمد کی گئی اور پھر قلت پیدا ہوئی تو مہنگی چینی درآمدکرنا پڑی۔ لیکن اس بار درآمد شدہ چینی کو ہی برآمد کیا جا رہا ہے۔

یہی طرزِعمل گندم کے معاملے میں بھی دیکھنے کو ملتا رہا ہے۔ یہ صورتِ حال طویل مدتی فوڈ سکیورٹی پالیسی کے لیے سنجیدہ سوال ہے۔ اس دوران عوام کو چینی کی قلت اور گراں فروشی جیسے مسائل جبکہ حکومت کو قیمتی زرمبادلہ کا زیاں بھگتنا پڑا لہٰذا اس معاملے کو محض تخمینے کی غلطی قرار دے کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کو مؤثر بنانے کے ساتھ ساتھ نیشنل فوڈ سکیورٹی اور ٹریڈنگ کارپوریشن کے نظام میں موجود خامیوں کا بھی جائزہ لینا ہو گا کہ کیا وجہ ہے کہ درآمد شدہ چینی بروقت مارکیٹ میں فراہم نہ کی جا سکی اور گوداموں میں پڑی رہ گئی۔ </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ہسپتال ویسٹ ری سائیکلنگ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-08/11519</link><pubDate>Tue, 08 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-08/11519</guid><description>ہسپتالوں کے پلاسٹک کچرے کی ری سائیکلنگ اور اس سے انسانی ضرورت کی اشیا کی تیاری کی شکایات کے باوجود اس گھناؤنے دھندے کی روک تھام کیلئے مؤثر اقدامات نہ ہونا باعث تشویش ہے۔ ایک خبر کے مطابق صوبہ سندھ کے تمام سرکاری ہسپتالوں سے نکلنے والے طبی فضلے کو صرف 5 ٹیچنگ ہسپتالوں میں سائنسی بنیادوں پر تلف کیا جاتا ہے ۔یہ صورتحال کئی سوال پیدا کرتی ہے ۔ بنیادی بات یہ ہے کہ صوبائی حکومتیں یہ جاننے کے باوجود کہ ہسپتالوں کا کچرا انسانی صحت کیلئے نہایت خطرناک ثابت ہو سکتا ہے‘ اس کچرے کو ٹھکانے لگانے کے مشینی انتظامات میں ناکام کیوں ہیں۔

جب ہسپتالوں میں ایسی سہولتیں نہیں ہوں گی اور پلاسٹک کا یہ کچرا مناسب طریقے سے تلف نہیں ہو گا تو یہ اندیشہ موجود ہے کہ یہ ان کچرا فروشوں کے ہاتھوں میںپہنچ جائے گا جو اس میں سے پلاسٹک کے اجزا کو الگ کر کے وہ پلاسٹک ری سائیکل کرنے کیلئے فیکٹریوں میں بھیجیں گے۔ یہ عمل نہ صرف ماحولیاتی اعتبار سے بلکہ طبی اعتبار سے بھی نہایت خطرناک ہے ۔ حکومتوں کو چاہیے کہ اس معاملے میں خصوصی انتظامات کریں اور ہسپتالوں کے پلاسٹک کی تلفی کے مناسب بندوبست یقینی بنائیں اور ہر ممکن طریقے سے اس پلاسٹک کی ری سائیکلنگ اور اس سے انسانی ضرورت کی اشیا تیار کرنے کیلئے اس کے استعمال کی روک تھام یقینی بنائیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>دخل در معقولات(محمد اظہارالحق)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-09-08/52622/95321356</link><pubDate>Tue, 08 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-09-08/52622/95321356</guid><description>مناظرہ‘ جو مکالمے سے آغاز ہوا‘ دو بڑوں کے درمیان ہو رہا ہے۔ایک طرف برادرِ عزیز وجاہت مسعود ہیں۔ منفرد اور سرور آور طرزِ نگارش کے مالک۔ لکھتے ہیں تو تاریخ اور اردو ہی نہیں‘ عالمی ادب بھی دست بستہ‘ سر جھکائے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے۔ ابوالفضل کے بھائی فیضی نے اپنے بارے میں فخریہ کہا تھا:دست و پائی عروسِ معنی را؍ بمدادِ قلم خضاب کنموجاہت مسعود بھی یہ دعویٰ کر سکتے ہیں کیونکہ عروسِ معنی کی حنا بندی کرتے ہیں تو ادب کے طالبعلم اَش اَش کر اٹھتے ہیں۔ &#39;&#39;سہروردی کی سیاست بیتی‘‘ کا ترجمہ ان کا تازہ کارنامہ ہے۔ پاکستان میں اصل تاریخ کو عمداً‘ اِخفا میں رکھا جا رہا ہے۔ شیخ مجیب الرحمان اور سہروردی جیسے سیاستدانوں کی آپ بیتیاں ریکارڈ کی تصحیح کیلئے ناگزیر ہیں۔ وجاہت مسعود جرأت مند صحافی ہیں۔ اس فقیر کا انٹرویو  لیا تو سرکاری ٹی وی نے بنگلہ دیش کے قیام کے اصل اسباب انٹرویو سے کاٹ دیے۔ وجاہت مسعود صاحب نے اپنے کالم میں  سب کچھ بیان کر ڈالا۔ دوسری طرف راشد محمود لنگڑیال ہیں کہ جن کے جوہر اب کھل رہے ہیں۔ سرکاری غلام گردشوں میں موڑ  کاٹ کاٹ کر سامنے والا منظر دھندلا دکھائی دیتاہے۔ حضورِ شاہ‘ کمرِ زرّیں باندھ کر کھڑے رہنے سے صلاحیتیں مایوس ہو کر رخصت ہو جاتی ہیں۔ مگر راشد لنگڑیال ایک نعرۂ مستانہ لگا کر سامنے آئے ہیں کہ بقول رومی:ہلہ ہُش دار! کہ در شہر دو سہ طرّار اندکہ بہ تدبیر‘ کُلہ از سرِ مہ بر دارندہوشیار! کہ شہر میں دو تین زیرک ایسے بھی ہیں جو تدبیر سے چاند کے سر سے بھی ٹوپی اتار لیں۔وجاہت مسعود صاحب نے یہ خبر بھی دی ہے کہ لنگڑیال صاحب شاعر بھی ہیں! سبحان اللہ! شاعری اور محصولات کا حساب کتاب! اس فقیر کا شعر ہے:مری شاعری اور میرا معاشتو گویا یہ چشمہ چٹانوں میں تھالغت پر راشد لنگڑیال کو غیر معمولی دسترس ہے۔ تحریر مشّاقی اور پختہ کاری پر شاہد ہے۔ہمارے قصبے میں چار بھائی تھے۔ ایک ہیڈ ماسٹر‘ دوسرا بینکار‘ تیسرا کرنل‘ چوتھا بدقسمتی سے چِٹا اَن پڑھ! گدھے پر ریت ڈھوتا تھا۔  نام فتح محمد تھا۔ سب اسے &#39;&#39;پھتّا ریت والا‘‘ کہتے تھے۔ سماجی سطح پر بھائیوں کے ساتھ موازنہ ہوتا تو نظر ہی نہ آتا مگر جب چار بھائیوں اور ایک باپ کے چار بیٹوں کو گنا جاتا تو اسے باقاعدہ شمار کیا جاتا۔ اس سے محاورہ بنا کہ &#39;&#39;پھتّا وچ بھراواں گَتّا‘‘۔ گَتّا گننے کا فعل مجہول ہے‘ یعنی Counted۔ مطلب یہ کہ جب بھائیوں کو گنا جاتا ہے تو پھتا ریت والا بھی ان میں شامل ہوتا ہے۔ اس مناظرے میں اس فقیر کے دخل در معقولات کی بس اتنی ہی اہمیت ہے جتنی برادر شماری میں پھتے کی تھی۔ اس کیلئے بھی پیشگی معذرت!دونوں زعما کا مناظرہ ایک عجیب دوراہے پر آگیا ہے۔ سخن گسترانہ بات قیام پاکستان پر آ پڑی ہے۔ وجاہت مسعود صاحب نے  لکھا ہے کہ &#39;&#39;راشد بھائی کا مقدمہ یہ ہے کہ تقسیم درست تھی‘‘۔ اچھی بات یہ ہے کہ وجاہت صاحب نے اس حقیقت کی تغلیط نہیں کی! وقت ثابت کر چکا ہے کہ تقسیم درست تھی۔ تاہم وجاہت صاحب نے بھارتی مسلمانوں کی حالتِ زار کا موازنہ اُن چند واقعات سے کیا ہے جو پاکستان میں غیر مسلموں کے ساتھ پیش آئے۔ یہ موازنہ غیر حقیقی ہے (یہ فقیر &#39;&#39;اقلیت‘‘ کی اصطلاح کو درست نہیں گردانتا مگر کیا کیا جائے سکہ رائج الوقت یہی ہے)۔ بنیادی دلیل اس سلسلے میں یہ ہے کہ پاکستان میں غیر مسلموں کے ساتھ جو واقعات ہوئے وہ کسی حکومتی پالیسی کا نتیجہ نہ تھے‘ حکومت اور عوام سب اس نوع کے افسوسناک واقعات کی مذمت کرتے رہے ہیں۔ ایسے واقعات کی پشت پر ہندو دشمنی یا مسیحی دشمنی نہیں ہوتی۔ یہ تو ہجوم گردی کا شاخسانہ ہوتا ہے۔ اور حکومتوں کی نالائقی!! کہ آج تک لاؤڈ سپیکر کا غلط‘ اشتعال انگیز استعمال نہیں روک سکیں۔ لاؤڈ سپیکر اگر ہجوم اکٹھا کرنے اور مشتعل کرنے کیلئے استعمال ہو تو اس کا ذمہ دار مسجد کے مولوی صاحب کو یا مؤذن کو یا مسجد کمیٹی کے سربراہ کو ٹھہرانا چاہیے اور سزا دینی چاہیے۔ حکومت کو اس ضمن میں واضح قانون بنانا ہو گا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کئی مسلمان بھی اس ہجوم گردی کا شکار ہو چکے ہیں۔ پاکستان میں غیر مسلموں کے خلاف کوئی آر ایس ایس ہے نہ بی جے پی! یہاں کوئی امیت شاہ ہے نہ کوئی ادتیا ناتھ!! جناب وجاہت مسعود سے بہتر کون جانتا ہے کہ یو پی‘ جو مسلم آبادی اور مسلم تمدن کا گڑھ ہے‘ ایک پروہت کے ظالمانہ تعصب میں جکڑا ہوا ہے۔ اس نے مسلمانوں کی زندگی جہنم بنا رکھی ہے۔  وہ اُس اجتماع کی صدار ت کر رہا تھا جس میں ایک ہندو نے ہندو نوجوانوں کو ترغیب دی تھی کہ مری ہوئی مسلمان خواتین کی آبرو ریزی کرو۔ ادتیا ناتھ نے اس ترغیب پر کوئی اعتراض نہ کیا۔ یہ نوجوان &#39;&#39;ہندو یووا واہنی‘‘ نامی تنظیم کا رکن تھا۔ یہ تنظیم خود ادتیا ناتھ نے بنائی ہے۔ پاکستان کے کسی وفاقی یا صوبائی حکمران نے کبھی ہندوئوں کے مارے جانے کو کتے کے مارے جانے سے تشبیہ  نہیں دی۔ مودی نے گجرات کے مسلم کُش فسادات کے بعد ایسی ہی بات کی جو پوری دنیا میں مشہور ہوئی۔ ایک سوچی سمجھی سکیم کی رو سے آسام میں مسلمانوں کی شہریت ختم کی جا رہی ہے۔ یہاں تک کہ کئی مسلمانوں کی‘ جو تیس تیس برس بھارتی آرمی میں رہے‘ شہریت کو چیلنج کیا جا رہا ہے۔ 2024ء میں وزیراعظم مودی نے مسلمانوں کو &#39;&#39;گھس بیٹھیا‘‘ (مداخلت کار) کہا اور ہندوؤں سے کہا کہ &#39;&#39;مسلمان تمہاری خوراک‘ تمہاری بیٹیاں اور تمہاری سرزمین چرا رہے ہیں‘‘۔ یو پی کے بی جے پی لیڈر لکشمی کانت باجپائی نے دعویٰ کیا کہ ریاست میں ننانوے فیصد آبرو ریزی مسلمان کرتے ہیں جو کہ سفید جھوٹ ہے۔ 2021ء میں بی جے پی کے خواتین ونگ نے فیس بک پر لکھا کہ &#39;&#39;مسلمانوں کا ایک ہی علاج ہے‘ ہندو بھائیوں کو چاہیے کہ دس دس آدمیوں پر مشتمل گروپ بنائیں‘ گلیوں میں مسلمانوں کی ماؤں اور بہنوں کی اجتماعی آبرو ریزی کریں اور پھر انہیں بیچ بازار پھانسی دیں تاکہ لوگ دیکھیں‘‘۔ 2021ء میں ہندو انتہا پسندوں نے دو ایپس متعارف کرائیں‘ جن کے نام ہیں &#39;&#39;بُلّی بائی‘‘ اور &#39;&#39;سلّی ڈیلز‘‘۔ ان ایپس پر مسلم خواتین کے فوٹو اور تفصیلات مشتہر کیے گئے تاکہ ان کی نیلامی کی جائے۔ 180 خواتین کو اس جعلی نیلام گھر میں فروخت کیا گیا۔ یہ وہ صحافی‘ آرٹسٹ اور ایکٹوسٹ خواتین تھیں جو مودی کی پالیسیوں کی مخالف تھیں۔یہ مشتے نمونہ از خروارے ہے۔ بی جے پی کے حکومت میں آنے کے بعد نفرت انگیز تقاریر اور بیانات میں پانچ سو فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس اضافے کے اثرات بھی اسی حساب سے ہیں۔ گائے کے نام پر بے شمار مسلمانوں کو کچل ڈالا گیا ہے۔ مسلمان ہر شعبۂ زندگی میں حاشیے کی طرف دھکیلے جا رہے ہیں۔ ملازمتوں میں ان کا حصہ آبادی کے تناسب سے کم ہے‘ از حد کم!! مسلم لڑکیوں کو ملازمت کے حصول کیلئے ہندو نام اپنانے پڑتے ہیں۔ اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ جب ایک حکومت کی پالیسی ہی یہ  ہو گی کہ مسلمانوں پر عرصۂ حیات تنگ کر دیاجائے اور اس پالیسی کے نفاذ کیلئے تمام حکومتی ذرائع اور سرکاری وسائل کو بروئے کار لایا جائے گا تو مسلمان کتنی بڑی مصیبت میں گرفتار ہوں گے!! الحمدللہ پاکستان میں آج تک کسی حکومت نے ہندو‘ سکھ اور مسیحی برادریوں کے خلاف معاندانہ پالیسی نہیں بنائی۔ جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا ہے‘ ہجوم گردی اور اشتعال انگیزی کے سبب‘ جہاں غیر مسلموں کو نقصان پہنچا ہے وہاں مسلمان بھی اس کا شکار ہوئے ہیں۔ ہم پاکستانی سوچ بھی نہیں سکتے کہ کسی غیر مسلم پاکستانی کو نقصان پہنچایا جائے!! وہ ہمارے اجتماعی وجود کا حصہ ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_57182973.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>رسم دنیا بھی ہے موقع بھی ہے دستور بھی ہے(خالد مسعود خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-09-08/52623/60035867</link><pubDate>Tue, 08 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-09-08/52623/60035867</guid><description>اگر آپ ایک سو کلوگرام گنجائش والی بوری میں ایک سو بیس کلوگرام گندم بھرنے کی کوشش کریں تو اول تو وہ اس میں سمائے گی ہی نہیں اور ادھر ادھر بکھر جائے گی‘ تاہم اگر آپ اس سلسلے میں زور زبردستی کرتے ہوئے ایک سو بیس کلوگرام گندم کو سو کلوگرام گنجائش والی بوری میں بھرنے پر آ ہی جائیں تو نتیجہ یہ نکلے گا کہ وہ بوری پھٹ جائے گی۔ ہم ملتان والوں کے ساتھ بھی یہی ہوا ہے۔ کم استعداد کے حامل اداروں اور ان میں بیٹھے ہوئے افسران کی استعدادِ کار سے کہیں زیادہ ترقیاتی فنڈز ملنے کی صورت میں اس شہرِ ناقصاں  کی بوری پھٹ چکی ہے۔ نتیجتاً ملتان جگہ جگہ سے اُدھڑا پڑا ہے۔ تفصیل اس صورتحال کی یہ ہے کہ ملتان میں تعینات ایک انتظامی افسر نے تختِ لاہور سے اپنے پرانے تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے ملتان کیلئے تاریخی قسم کا ترقیاتی بجٹ منظور کروا لیا۔ اسے شاید یہ اندازہ نہیں تھا کہ ملتان کے ترقیاتی ادارے اور ان میں عرصۂ دراز سے بیٹھے ہوئے افسران اس قسم کی باتوں کے عادی نہیں تھے۔ ماضی میں ملتان کو گزارے لائق اور بالکل معمولی سا تقریباً ناقابلِ ذکر قسم کا ترقیاتی بجٹ ملتا تھا جو ترقیاتی اداروں میں بیٹھے ہوئے نالائق افسران کی نالائقی کا پردہ رکھ لیتا تھا۔ ایک اردو محاورے کے عین مطابق کہ ننگی نہائے گی کیا نچوڑے گی کیا؟ یہ معمولی قسم کے فنڈز نہانے اور نچوڑنے کے مرحلے سے پہلے ہی برابر ہو جاتے تھے۔ سو ایک تو ملنے والا فنڈ نہایت معمولی ہوتا تھا‘ اوپر سے اس فنڈ میں افسران کا کھانچہ اسے مزید ہلکا کر دیتا تھا۔ سو آدھے فنڈز ترقیاتی کاموں میں اور آدھے فنڈز افسران کی جیبوں میں چلے جاتے تھے اور راوی ہر طرح سے چین لکھتا تھا۔ لیکن اس بار معاملہ تھوڑا مختلف اور مشکل ہو گیا۔ ملنے والے ترقیاتی فنڈز افسران کی استعدادِ کار اور ترقیاتی محکموں کی اوقات سے بہت زیادہ تھے۔ آپ اندازہ لگائیں کہ صرف سیوریج کے معاملات کو بہتر بنانے کیلئے‘ پرانی سیوریج لائنیں تبدیل کرنے اور نئی ڈالنے کیلئے پنجاب ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت ملتان ڈویژن کو 76 ارب روپے اور واسا ملتان کو 27ارب روپے کے فنڈز جاری کردیے گئے۔ ملتان اور اہلِ ملتان نے محمد بن قاسم کے حملے کے دوران اس کے ساتھ آنے والے عرب فوجیوں کی واپسی کے بعد اس شہر میں کبھی اکٹھے &#39;&#39;27 عرب‘‘ نہیں دیکھے تھے‘ کجا کہ ستائیس ارب روپے مل جائیں۔ ایسے میں چچا غالب کا ایک شعر یاد آ گیا ہے:اسد خوشی سے مرے ہاتھ پاؤں پھول گئےکہا جو اس نے ذرا میرے پاؤں داب تو دے27ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ کا سُن کر پہلے تو ترقیاتی ادارے کے افسران کے ہاتھ پاؤں پھول گئے اور پھر اتنی بڑی رقم پر پیداگیری کے امکانات کا سوچ کر انکے منہ سے رال بہنے لگی۔ اب آپ خود اندازہ لگائیں کہ بندے کے ہاتھ پاؤں پھولے ہوں اور منہ سے رال ٹپک رہی ہو تو بھلا ایسے میں مناسب طریقے سے کام کیسے ہو سکتا ہے؟ اوپر سے مسئلہ یہ بھی ہو کہ وہ کام انکی استعدادِ کار سے کہیں اونچے درجے کا ہو۔ لہٰذا فی الوقت حالات یہ ہیں کہ ملتان ہر جگہ سے پھٹا پڑا ہے‘ بالکل اس بوری کی طرح جس میں اسکی گنجائش سے زیادہ مال بھرنے کی زبردستی کوشش کی گئی ہو۔کئی کلو میٹر طویل سدرن بائی پاس‘ جو ملتان شہر کو نیشنل ہائی وے (این فائیو) یعنی ملتان لاہور شاہراہ سے ملاتا ہے‘ اب اسے ملتان ایونیو کا نام دے کر ایک نئی شکل دینے کی کوشش کی گئی ہے اور ایمانداری کی بات یہ ہے کہ یہ منصوبہ جمالیاتی اعتبار سے اور تکنیکی و عملی اعتبار سے نہایت شاندار ہے لیکن فی الحال معاملہ اس منصوبے کے خوبصورت‘ شاندار‘ کارآمد اور اس سے ملنے والی متوقع سہولتوں کا نہیں بلکہ یہ ہے کہ اب اس مسلسل زیر تعمیر پروجیکٹ کو مکمل ہو جانا چاہیے۔ اس کو مکمل کرنے کی ڈیڈ لائن دو بار تو گزر چکی ہے اور ابھی اس کے فوری طور پر مکمل ہونے کا کوئی امکان کم از کم مجھے تو دکھائی نہیں دے رہا۔ سو سڑک کا کئی کلو میٹر کا حصہ دونوں طرف سے کھدا ہوا ہے۔ یہی حال گلگشت کالونی ملتان میں تزئین و آرائش کی شکار برانڈ روڈ کا ہے۔ فروری میں یہ منصوبہ شروع ہوا تھا اور اسے جون میں مکمل ہونا تھا لیکن ابھی تک وہاں گرد‘ دھول‘ مٹی اور گڑھوں کے علاوہ کچھ دکھائی نہیں دے پا رہا۔ ہاں البتہ سائیڈوں پر  ٹف ٹائل لگ رہی ہے۔ اس جگہ کے دکاندار اور کاروباری حضرات گزشتہ دو عیدین کو تو کسی نہ کسی طرح رو پیٹ کر گزار چکے ہیں  لیکن اب ان کے صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہو چکا ہے۔ وجہ صرف یہ ہے کہ کام کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے ذمہ دار اداروں کے پاس یکدم شروع کیے جانے والے ان تمام پروجیکٹس کو بروقت مکمل کرنے کی نہ صلاحیت ہے اور نہ وہ اپنی اس نالائقی کا اعتراف کرتے ہوئے دوسروں سے کچھ سیکھنے پر راضی ہیں۔ صرف یہی نہیں‘ اس خطے کے واحد ٹرشری کیئر نشتر ہسپتال کے باہر والی سڑک کا بھی یہی حال ہے۔ عام شہریوں کی حد تک تو یہ چیزیں پھر بھی کسی حد تک قابلِ برداشت اور قابلِ معافی ہو سکتی ہیں لیکن جہاں ہسپتال تک مریضوں کی رسائی اور خاص طور پر ایمرجنسی علاج کے منتظر مریضوں کا مسئلہ ہو‘ وہاں اتنی تاخیر باقاعدہ جرم شمار ہوتی ہے۔ ملتان کے سب سے قدیمی بازار &#39;&#39;شاپنگ سنٹر‘‘ چوک بازار کا بھی یہی حال ہے۔ ٹف ٹائل لگ تو رہی ہے‘ لیکن لگنے میں ہی نہیں آ رہی۔ حسین آگاہی روڈ کئی ماہ سے میدانِ جنگ کا نقشہ پیش کر رہی ہے۔ ڈیرہ اڈا تا پل شوالہ‘ حسن پروانہ روڈ کئی ماہ سے اکھڑی ہوئی ہے۔ دہلی گیٹ تا دولت گیٹ سڑک تاخت و تاراج ہونے کا مفہوم سمجھنے کیلئے ملاحظہ فرمائی جا سکتی ہے۔ ابدالی روڈ سے ڈیرہ اڈا لنک روڈ‘ جو قدیمی ابدالی مسجد اور کارڈیالوجی ہسپتال کے گیٹ نمبر دو اور تین کے سامنے سے گزرتی ہے‘ وہ بھی واسا کے ہاتھ چڑھی ہوئی ہے اور موہنجودڑو کی ہمشیرہ محترمہ دکھائی دیتی ہے۔ یہ وہ سڑکیں ہیں جنہیں یہ آوارہ گرد بذاتِ خود خراب و خستہ حال میں دیکھ چکا ہے‘ اس کے علاوہ اگر کچھ سڑکیں اس مسافر کی نظر سے بچ گئی ہیں تو اس کیلئے معذرت خواہ ہوں۔ تاہم یہ وہ سڑکیں ہیں جو اس 27ارب روپے کے محیرالعقول ترقیاتی بجٹ کے آنے کے بعد باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت توڑی گئی ہیں اور متعلقہ محکموں کی نالائقی اور صلاحیت کی کمی کی وجہ سے نشانِ عبرت بنی ہوئی ہیں۔ ان منصوبہ بندی سے خراب کی گئی سڑکوں سے قطع نظر وہ تمام راستے‘ گلیاں اور سڑکیں جو پہلے سے ہی خستہ و بدحال تھیں ان کا نہ تو کوئی شمار ہے اور نہ ہی کوئی گنتی۔اب آپ لوگ سوچ رہے ہوں گے کہ آخر اس ملتانی لکھاری کو کیا سوجھی ہے کہ وہ اپنے شہر میں سیوریج کے مسائل کے حل کیلئے ملنے والی 27ارب روپے کی خطیر رقم ملنے کے باوجود نہ تو خوش ہے اور نہ ہی مطمئن۔ تو قارئین! میں اس ساری پیشرفت سے خوش بھی ہوں اور مطمئن بھی‘ تاہم اس خوشی اور اطمینان کے ساتھ ساتھ پریشان اور متردد بھی ہوں کہ جب یہ ساری سڑکیں بمعہ برانڈ روڈ اور ملتان ایونیو‘ بالکل تیار ہو جائیں گی تو پھر دیگر محکمے از قسم سوئی گیس اور ٹیلی فون وغیرہ والے سڑک کھودنے کیلئے آ جائیں گے اور سڑک کھود  کر نہ صرف یہ کہ اسے نئے سرے سے برباد کر دیں گے بلکہ اسے دوبارہ مرمت بھی نہیں کریں گے۔ کم از کم میں نے تو آج تک یہی دیکھا ہے کہ سڑک بننے کے چند ہی روز بعد اسے دوبارہ کھودنے والے پہنچ جاتے ہیں۔ بوسن روڈ سے میرے گھر کی طرف جانے والی سڑک جب بن کر تیار ہو گئی تھی تو حسبِ روایت اسے سوئی گیس والوں نے کھود کر رکھ دیا۔ آج چھ سات مہینے ہو گئے ہیں اس کھدائی کی مرمت کے لیے کوئی نہیں آیا۔ میری تو بس اتنی درخواست ہے کہ آدھا ملتان کھدا پڑا ہے‘ لہٰذا جس نے بھی کھدائی کا شوق پورا کرنا ہے ابھی کر لے۔ یہ کام سڑکیں بننے کے بعد یاد آیا تو 27 ارب روپے کا تختہ ہو جائے گا۔ جو کرنا ہے ابھی کر لیں‘ رسم دنیا بھی ہے موقع بھی ہے دستور بھی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90500073.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>فلسطینیوں کی بے دخلی، امتِ مسلمہ عملی قدم اٹھائے(ڈاکٹر حسین احمد پراچہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-09-08/52624/42718169</link><pubDate>Tue, 08 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-09-08/52624/42718169</guid><description>پہلے اسرائیل کے وزیر دفاع نے غزہ سے سارے فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کی تجویز دی اور اب ایک اور انتہا پسند وزیر نے فلسطینیوں کی بے دخلی کا باقاعدہ منصوبہ پیش کر دیا ہے۔ دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے وزیر ایتمار بن گویر نے کہا ہے  کہ اہلِ غزہ کا اس کے علاوہ کوئی حل نہیں کہ انہیں یہاں سے نکال باہر کیا جائے۔ اس وزیر کی ہرزہ سرائی کے مطابق پہلے سال یہاں سے ڈھائی لاکھ اہلِ غزہ کو جبری امیگریشن کے ذریعے دوسرے ملکوں میں بھیجا جائے گا جبکہ اگلے چھ برس میں باقی ماندہ 20 لاکھ غزہ کے مکینوں کو ترکیہ‘ ایتھوپیا اور جمہوریہ کانگو بھیج دیا جائے گا۔ اس کے منہ میں خاک!حماس اور اسرائیلی حکومت کے مابین 7 اکتوبر 2023ء کو شروع ہونے والی جنگ ٹھیک دو برس کے بعد 10 اکتوبر 2025ء کو سیز فائر کے ذریعے بند ہوئی ۔ امریکہ‘ قطر‘ مصر اور ترکیہ نے سفارتکاری سے کام لیتے ہوئے یہ معاہدہ کرایا مگر نیتن یاہو نے فائر بندی کا حقیقی احترام نہیں کیا۔ اب اکتوبر 2026ء کی آمد آمد ہے‘ گویا معاہدہ ہوئے ایک برس گزر چکا مگر اس دوران اسرائیل نے اپنے اوپر عائد کردہ ذمہ داریاں پوری نہیں کیں۔ اہلِ غزہ کیلئے غذائی وطبی امداد کو بلا روک ٹوک آنے نہیں دیا۔ اس دوران اسرائیل نے بار بار فائر بندی کی خلاف ورزیاں کیں اور فضائی و زمینی حملوں سے اہلِ غزہ کو نشاہ بنایا‘ اور عورتوں اور بچوں کو اُنکے کیمپوں اور کھنڈرات میں شہید کیا۔ اس سے پہلے دو سالہ جنگ میں اسرائیل نے کم از کم 80 ہزار اہلِ غزہ کو شہید کیا اور تقریباً پونے دو لاکھ کو شدید زخمی کیا۔ اتوار کے روز 62بچوں سمیت ایک سو میتوں کو کھنڈرات سے نکال کر دفن کیا گیا۔ اس دوران دنیا نے لائیو دیکھا کہ کیسے ظالم اسرائیلی حکومت نے غزہ کے بچوں‘ بوڑھوں اور جوانوں کو خوراک کے چند لقموں کیلئے تڑپایا۔  اسرائیل کے انہی غیر انسانی مظالم کی بنا پر ساری دنیا میں اسکی مذمت کی گئی۔ دو اسرائیلی وزیروں کی طرف سے اہلِ فلسطین کی غزہ سے نسلی تطہیر کے بارے میں اقوام متحدہ کے شعبۂ انسانی حقوق نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ گزشتہ جمعرات اور جمعہ کے روز انتہا پسند اسرائیلی وزیروں کے غیر انسانی منصوبے کی یو این نے شدید مذمت کی اور اسے اقوام متحدہ کے چارٹر کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔دوسری طرف اسرائیلی فوج‘ پولیس اور دیگر سکیورٹی فورسز ٹینکوں اور بندوقوں کے زور پر مغربی کنارے کے فلسطینیوں کو پناہ گزین کیمپوں اور اُن کے ملکیتی گھروں سے جبری طور پر بے دخل کر رہی ہیں۔ اُن کی زمینوں پر غیر قانونی عمارات تعمیر ہو رہی ہیں۔ 2025ء میں غاصب فورسز نے 33 ہزار فلسطینیوں کو کیمپوں سے نکالا اور جون 2026ء میں مغربی کنارے کے علاقے جنین‘ نور شمس اور طولکرم سے 33 ہزار سے زائد فلسطینیوں کو بے دخل کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق آفس کے مطابق اس جارحانہ اور بہیمانہ کارروائی کیلئے جہازوں سے بمباری اور ٹینکوں سے گولہ باری کی گئی اور بلڈوزروں سے ملبے کو صاف کیا گیا۔ حال ہی میں مغربی کنارے کے ایک کیمپ پر اسرائیلی آپریشن کے دوران دلوں کو تڑپا دینے والا منظر دیکھنے میں آیا‘ جب ایک فلسطینی خاتون تمام تر حملہ آوروں کو نظر انداز کرتے ہوئے کیمپ میں موجود ایک درخت سے لپٹ گئی۔ اس نے کہا کہ تم میری سرزمین‘ میرے کیمپ اور میرے شجر سے مجھے جدا نہیں کر سکتے۔ صاحبو! کیسی بے بسی ہے بیچارے فلسطینیوں کی۔ زمین اُنکی‘ ریاست اُنکی‘ ملکیت اُنکی مگر انہیں بزور بندوق وہاں سے بے دخل کیا جا رہا ہے۔ 1948ء میں بھی صہیونی غاصب لاکھوں فلسطینیوں کو ارضِ فلسطین سے باہر دھکیل چکے ہیں۔ انہیں بچانیوالا اور غاصب اسرائیلیوں کو غیر قانونی اقدام سے روکنے والا کوئی نہیں۔اسرائیلیوں کے یہ گھناؤنے عزائم و جرائم سامنے آنے پر گزشتہ جمعۃ المبارک کو حماس کے قائدین نے دنیا بھر کے عربوں اور مسلمانوں سے بھرپور اپیل کی ہے کہ وہ اسرائیلی وزیروں کی فلسطینیوں کی غزہ سے جبری بے دخلی کے زہریلے بیانات کا فی الفور نوٹس لیں اور غاصب صہیونی ریاست کو شٹ اَپ کال دیں۔ حماس کے ترجمان حازم قاسم نے دنیا بھر کے مسلمانوں کو پکارا ہے۔ اس وقت دنیا کی کُل آبادی تقریباً سوا آٹھ ارب ہے۔ اس آبادی میں سے دو ارب مسلمان ہیں؛ یعنی دنیا کی آبادی کا ایک چوتھائی! جبکہ اسرائیل کی آبادی زیادہ سے زیادہ ایک کروڑ ہے۔ امریکہ اور اسرائیل نے جب ایران پر مشترکہ جنگ مسلط کی تھی تو ایران نے صرف میزائلوں کی قوت سے اسرائیل کو ناقابلِ فراموش سبق سکھایا ۔ تاہم اسے مزید سبق سکھانے کی ضرورت ہے۔ 6 ستمبر بروز اتوار پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک‘ جن میں ترکیہ‘ سعودی عرب‘ قطر‘ مصر‘ انڈونیشیا‘ متحدہ عرب امارات اور اردن شامل ہیں‘ نے اسرائیلی وزیروں کی طرف سے اہلِ غزہ کی بے دخلی کے حوالے سے جو ہرزہ سرائی کی گئی ہے‘ اس کی بھرپور مذمت کی ہے۔ تاہم ملتِ اسلامیہ کو معلوم ہونا چاہیے کہ اب معاملہ مذمت کے رسمی بیانات سے کہیں آگے بڑھ چکا ہے۔ رابطہ عالم اسلامی اور او آئی سی جیسی عرب اور اسلامی ممالک پر مشتمل تنظیمیں تو زمانے سے موجود ہیں مگر ان کا دائرہ کار بڑا محدود تھا۔ 7 اگست 2026ء کو مقدس ترین شہر مکۃ المکرمہ میں سعودی عرب‘ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان ایک تاریخی معاہدہ طے پایا‘ جس میں حرم کی پاسبانی بھی ہے اور عالم اسلام کی نگرانی بھی۔ اس مشترکہ دفاعی معاہدے کے بعد گمان یہ تھا کہ &#39;&#39;گریٹر اسرائیل‘‘ کیلئے غاصب صہیونی ریاست کے قدم رک جائیں گے‘ نیز اسرائیل ارضِ فلسطین اور دیگر عرب ملکوں کے بارے میں زبان سنبھال کر بات کرے گا۔ عالمی تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس معاہدے کا واضح سگنل اسرائیل تک پہنچے گا اور مستقبل میں وہ محتاط بھی ہو جائے گا اور فلسطینیوں کو اُن کی زمین پر حاصل مالکانہ حقوق کے سلسلے میں بھی کوئی مداخلت اور جارحیت نہیں کرے گا۔ مگر خوئے بد اتنی جلدی اپنا رویہ بدلنے پر  آمادہ نہیں ہوتی۔ اب مکہ دفاعی معاہدے کی طرف سے اسرائیل کو ایک واضح پیغام جانا چاہیے۔ دوسری طرف امریکہ اور ایران کے مابین ایک بار پھر بڑھتی ہوئی کشیدگی کو ختم کرانے‘ ایک دوسرے کے بحری جہازوں پر حملے رکوانے اور معاہدۂ اسلام آباد کے مطابق فریقین کو مذاکرات کی میز پر فیصلہ کن بات چیت کیلئے لانے کی بھی ضرورت ہے۔صدر ٹرمپ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر پر اعتماد کا اظہار کرتے ہیں اور اس جنگ سے نکلنا بھی چاہتے ہیں‘ مگر ساتھ ساتھ اپنی اَنا کی کلغی بھی بلند رکھنا چاہتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان پر اعتماد کریں اور پاکستانی قیادت ایک بار پھر شٹل ڈپلومیسی کو اپنا مشن بنائے اور امریکہ اور ایران کے مابین پائیدار امن کا معاہدہ یقینی بنائے۔ بلاشبہ ایران گزشتہ کئی ماہ سے فولادی عزم کا مظاہرہ کر رہا مگر زمینی حقائق‘ بڑھتے معاشی مسائل اور خطے کے مسلم ممالک کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے خدشات کے پیش نظر ایران کو مدبرانہ حکمت عملی سے کام لیتے ہوئے امریکہ کیساتھ امن معاہدے کا موقع نہیں گنوانا چاہیے۔ نیٹو کی طرز کا مسلم دفاعی اتحاد خواب وخیال اور تمنا و خواہش سے آگے بڑھ کر ایک حقیقت بن چکا۔ اسلامی دنیا کے تین مضبوط ترین ممالک کے بعد دیگر بہت سے مسلم ممالک اس دفاعی اتحاد کا حصہ بننے کے خواہشمند ہیں۔اس معاہدے کے مطابق مذکورہ تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر حملہ تینوں پر حملہ تصور ہوگا۔ معاہدۂ مکہ کا فورم غزہ اور مغربی کنارے کو دفاعی معاہدے کا حصہ ڈکلیئر کر کے اسرائیل کو واضح پیغام دے کہ ارضِ فلسطین پر کوئی حملہ ہم سب پر حملہ تصور ہوگا اور ہم فلسطینی بھائیوں کے دفاع کیلئے مشترکہ ردعمل سے کام لیں گے۔ اسرائیل یو این او کی قراردادوں کے مطابق جون 1967ء کی حدود میں واپس جائے‘ فلسطینی علاقے خالی کرے اور دو ریاستی فارمولے پر عملدرآمد کرے‘ وگرنہ محض مذمت کا زمانہ لد چکا‘ اب امتِ مسلمہ مل کر ارضِ فلسطین کا دفاع کرے گی۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_70033906.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پیداواری شعبہ کو سزا دینے کا نظام(شاہد کاردار)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-kardar-/2026-09-08/52625/14194266</link><pubDate>Tue, 08 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-kardar-/2026-09-08/52625/14194266</guid><description>ہم نے گزشتہ کالموں میں ملک کے ٹیکس نظام کا جائزہ لیتے ہوئے دیکھا کہ یہ نظام رسمی اور دستاویزی کاروبار پر بے تحاشا مالی بوجھ ڈالتا اور اسے سزا دیتا ہے۔ اس نظام کے کئی متنازع پہلو ہیں جن پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے مثلاً ملک میں رائج جنرل سیلز ٹیکس کا نظام بھی ایک بڑے ساختی تضاد کا شکار ہے۔ یوں تو ملک میں جنرل سیلز ٹیکس کی شرح بلند ہے جو اس وقت 18 فیصد ہے لیکن یہاں ایک صاف‘ جدید‘ ویلیو ایڈیشن پر مبنی ٹیکس (وی اے ٹی) کا نظام موجود نہیں۔ اِن پٹ کریڈٹ کا سلسلہ ٹوٹ چکا ہے اور اس کی وجوہات ہیں: وسیع پیمانے پر ٹیکس سے استثنا‘ خصوصی شرحیں‘ دستاویزی کمزوریاں‘ پرچون شعبہ میں کمزور تعمیل‘ ٹیکس واپسی (ریفنڈ) کے تاخیری طریقہ کار اور وفاقی و صوبائی قانونی دائرہ اختیار کا باہمی تصادم۔ درست طور پر تشکیل دیا جائے تو ویلیو ایڈیشن ٹیکس صرف آخری صارف کے خرچ پر عائد ہوتا ہے جبکہ کاروباری مراحل کے درمیان ہونیوالے تمام لین دین پر ٹیکس نہیں لگتا کیونکہ ان پر اِن پٹ ٹیکس کریڈٹ کا نظام لاگو ہوتا ہے۔ پاکستان میں صورتحال یہ ہے کہ جنرل سیلز ٹیکس اکثر پیداوار اور رسمی معیشت پر براہِ راست ٹیکس میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ قوانین کی پابندی کرنیوالے کاروبار بروقت ان پٹ ٹیکس کا کریڈٹ (کٹوتی) حاصل نہیں کر پاتے۔ اسکا بڑا سبب ہیں: ڈیجیٹل نظام میں رکاوٹیں یا غیر تصدیق شدہ سپلائرز۔ جنرل سیلز ٹیکس کی واجب الادا ریفنڈ کی رقوم بھی اکثر سرکاری ادارے جان بوجھ کر روک لیتے ہیں تاکہ ماہانہ ٹیکس وصولی کے اعداد و شمار کو مصنوعی طور پر زیادہ ظاہر کر سکیں۔ سیلز ٹیکس کے نظام کی ساختی مضبوطی کو حالیہ قانون سازی نے مزید نقصان پہنچایا ہے‘ خصوصاً سیلز ٹیکس قانون کے تیسرے ضمیمہ کے ذریعے شامل کی گئی شقوں نے۔ تیار شدہ اشیا کے کارخانے سے نکلنے کے مقام پر ٹیکس وصولی کو بنیادی ذریعہ بنا لیا گیا ہے۔ یوں اس نظام نے جنرل سیلز ٹیکس کو صارف پر ٹیکس کے بجائے عملاً پیداوار پر ایکسائز ڈیوٹی میں تبدیل کر دیا ہے۔ اس تبدیلی سے مقامی صنعتکاروں پر بھاری بوجھ پڑ گیا ہے جبکہ تھوک اور پرچون تجارت کے وسیع شعبے بڑی حد تک نگرانی سے باہر ہیں۔پاکستان میں غیر منقولہ جائیداد (رئیل اسٹیٹ) پر ٹیکس کا نظام بھی بگڑا ہوا ہے۔ موجودہ فریم ورک ایسا ہے جس میں جائیداد کی خرید و فروخت کے عمل کو متعدد ٹیکسوں کی صورت میں سزا ملتی ہے۔ جب بھی کوئی جائیداد خریدی یا فروخت کی جاتی ہے تو اس پر کیپٹل گین ٹیکس‘ سٹیمپ ڈیوٹی‘ منتقلی کے محصولات اور ایڈوانس ٹیکس عائد کیے جاتے ہیں۔ اس نظام سے جائیداد کی خرید و فروخت میں روانی کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے‘ اثاثوں کی حقیقی قدر مسخ ہوتی ہے اور خریدار اور فروخت کنندہ دونوں کو ترغیب ملتی ہے کہ وہ دہرے معاہدوں کے ذریعے لین دین کی اصل مالیت کم ظاہر کریں۔حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ہاں تعمیر شدہ عمارت پر تو ٹیکس ہے لیکن خالی پلاٹ پر کوئی ٹیکس نہیں ہے۔ ہمارے پورے صوبہ پنجاب کی پراپرٹی ٹیکس کی مد میں وصولی ممبئی شہر کی اس مد میں وصولی کے 10 فیصد سے بھی کم ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ جائیداد پر ٹیکس کا بگڑا ہوا ڈھانچہ ہے۔ صرف تعمیر شدہ جائیداد پر پراپرٹی ٹیکس عائد ہوتا ہے جبکہ خالی‘ غیر استعمال شدہ اور ڈویلمپنٹ کی منتظر زمین پر تقریباً کوئی سالانہ مستقل ٹیکس نہیں لگتا حالانکہ اس کی قیمت سڑکوں‘ گلیوں کی تعمیر‘ پانی‘ نکاسی آب اور پارکوں پر ہونے والے سرکاری اخراجات کے باعث مسلسل بڑھتی رہتی ہے لیکن سرکاری ادارے پلاٹ مالکان سے ان اخراجات کی وصولی میں ناکام رہتے ہیں۔ ایک مؤثر ٹیکس ڈھانچہ ہو تو اس میں زمین کی ملکیت پر مارکیٹ کی قیمت کی بنیاد پر قابلِ پیش گوئی سالانہ پراپرٹی ٹیکس عائد کیا جانا چاہیے جبکہ خرید و فروخت کے مرحلہ پر عائد محصولات میں نمایاں کمی کی جانی چاہیے۔ ایسی تبدیلی سے قیاس آرائی کی غرض سے زمین روک کر رکھنے (ڈویلمپنٹ کی منتظر پراپرٹی خریدنے) کی حوصلہ شکنی ہو گی‘ رہائش کی لاگت کم ہوگی اور یہ عمل غیر منقولہ جائیداد کو اس کے بہترین معاشی استعمال کی طرف لے جائے گا۔ اس کے برعکس‘ پاکستان کی پالیسی ایسی ہے جو جائیداد کی خرید و فروخت کے عمل کو سزا دیتی ہے جبکہ غیر پیداواری دولت کے ذخیرہ کو تحفظ فراہم کرتی ہے۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو پاکستان کی ٹیکس پالیسیاں پیداواری سرمایہ کو سزا دیتی ہیں جبکہ غیر پیداواری دولت جمع رکھنے کو انعام دیتی ہیں۔ ایک باقاعدہ کمپنی قائم کرنا‘ ہنرمند ملازمین کو ملازمت دینا‘ صنعتی مشینری درآمد کرنا‘ دستاویزی فروخت میں اضافہ کرنا اور رسمی بینکاری ذرائع استعمال کرنا‘ ان سب پر بھاری مالی بوجھ عائد کیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس‘ کچھ ایسے کام ہیں جن سب پر ٹیکسوں کی شکل میں بہت کم مالی لاگت آتی ہے جیسے شہری علاقوں میں خالی پلاٹوں کو قیاس آرائی کی غرض سے سنبھال کر رکھنا‘ غیر ریکارڈ شدہ غیر رسمی کاروبار چلانا‘ غیر دستاویزی نقد دولت جمع کرنا اور بغیر ٹیکس والی زرعی سرگرمیوں میں مشغول رہنا۔ اسی صورتحال سے واضح ہو جاتا ہے کہ نجی سرمایہ صنعتی ایجاد و اختراع اور کاروباری اداروں کی نشوونما میں کیوں نہیں لگایا جاتا اور اسکے بجائے پلاٹوں کی خرید و فروخت اور کرایہ خوری پر مبنی سرگرمیوں کا رُخ کیوں کرتا ہے۔پاکستان کے ٹیکس قوانین پر عمل درآمد کا انتظامی طریقہ کار بھی ایسا ہے جس سے یہ ساختی نقصان مزید بڑھ جاتا ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران ایف بی آر نے مالی معلومات کا بے پناہ ذخیرہ جمع کر لیا ہے اور یہ کام لازمی بینکاری ریکارڈ‘ گاڑیوں کی رجسٹریشن اور جائیداد کے دستاویزات کے ذریعے کیا گیا۔ تاہم صرف معلومات تک رسائی انتظامی قابلیت کے مترادف نہیں ہوتی۔ محصولات جمع کرنے والا ایک جدید اور مؤثر ادارہ تیسرے فریق سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کو کئی مقاصد کیلئے استعمال کرتا ہے جیسے ہدفی (ٹارگٹڈ) اور رسک کی بنیاد پر آڈٹ کرنا‘ دولت میں بڑے تفاوت کی نشاندہی اور تنازعات کا فوری تصفیہ۔ اس کے برعکس‘ پاکستان کی ٹیکس انتظامیہ اکثر انہی معلومات کو کچھ اور کاموں کے لیے استعمال کرتی ہے جیسے ود ہولڈنگ ٹیکس کٹوتیوں کے جواز کے طور پر اور آڈٹ کے لاتعداد نوٹس دینے کے لیے۔ ان معلومات کو لین دین پر ایسے محصولات لگانے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے جو بعد میں ایڈجسٹ نہیں ہوتے۔ مزید یہ کہ اس ڈیٹا کو بینک اکاؤنٹس کو منجمد کرنے‘ نئے ٹیکس دہندہ کیٹیگریز کو تشکیل دینے اور رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان کے خلاف دباؤ پر مبنی وصولی کی مہمات چلانے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ طریقہ کار قلیل مدت میں ٹیکس وصولی تو ممکن بنا دیتا ہے مگر اور چیزیں بھی جنم لیتی ہیں جیسے عدالتی مقدمات‘ ہراسانی‘ کاروباری خلل‘اداروں پر گہرا عدم اعتماد۔ مزید برآں‘ موجودہ ٹیکس بنیاد سے ہی قلیل مدت میں زیادہآمدنی حاصل کرنے کی کوشش کا یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ طویل مدت میں ٹیکس بنیاد کو وسیع کرنے کا عمل مسلسل کمزور ہوتا جاتا ہے۔ٹیکس اصلاحات پر کوئی بھی بحث اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی جب تک قومی بیلنس شیٹ کے اخراجات کا جائزہ نہ لیا جائے۔ شہریوں اور کاروباری اداروں سے یہ مطالبہ نہیں کیا جا سکتا کہ وہ غیر معینہ مدت تک بڑھتے ہوئے ٹیکس کا بوجھ برداشت کریں جبکہ وہ دیکھ رہے ہیں کہ ریاست بے تحاشا غیر ضروری اخراجات کرتی جا رہی ہے جن میں ضرورت سے زیادہ بڑی انتظامی افسر شاہی‘ ناقابلِ عمل سرکاری ادارے‘ بے تحاشا مراعات‘ مہنگے سرکاری پروٹوکول‘ بااثر طبقے کے خصوصی الائونسز اور کم افادیت رکھنے والی صوابدیدی ترقیاتی سکیمیں شامل ہیں۔ جو حکومت اپنے اخراجات کو معقول بنانے سے انکار کرتی ہے اس کے پاس یہ اخلاقی جواز نہیں رہتا کہ وہ اپنے شہریوں سے مالی قربانی طلب کرے۔ پاکستان کو درمیانی مدت کا ہدف مقرر کرنا چاہیے کہ ٹیکس اور جی ڈی پی کے تناسب کو 15 یا 16 فیصد تک پہنچایا جائے‘ لیکن موجودہ ٹیکس شرحوں میں اضافہ کرنے‘ نئے اضافی ٹیکس متعارف کرانے‘ یا ناقابلِ ایڈجسٹ سورس پر ٹیکس کٹوتیوں میں مزید اضافہ کر کے اس ہدف کو حاصل کرنے کی کوشش کی گئی تو معیشت کا سکڑاؤ مزید تیز ہو جائے گا۔ </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_78012569.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>اسلام آباد سے نئے صوبوں کا آغاز؟(رشید صافی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-09-08/52626/83421061</link><pubDate>Tue, 08 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-09-08/52626/83421061</guid><description>معاشی و انتظامی طور پر مفلوج ہونے کے باعث پاکستان کا 79 سالہ گورننس ماڈل اپنی افادیت کھو چکا ہے اور نئے صوبوں کا قیام سیاسی نعرے بازی کے بجائے ریاست کی ترجیح بن چکا ہے۔ ماضی میں یہ معاملہ عموماً الیکشن کے قریب وقتی بیانیے تک محدود رہتا تھا اور بعد میں غیر فعال ہو جاتا تھا لیکن موجودہ حالات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس بار اقتدار کے شراکت دار اور ریاست کے فیصلہ ساز ادارے اس آئینی و انتظامی بحالی کے لیے غیر معمولی طور پر سنجیدہ ہیں۔ ماضی میں نئے صوبوں کی حمایت کرنے والی آوازیں اقلیت میں تھیں اور مرکزی اقتدار کے حامل حلقوں کی شدید مخالفت کا شکار ہو جاتی تھیں تاہم آج صورتحال بالکل مختلف ہے‘ اب نہ صرف عوامی و سیاسی سطح پر اکثریت انتظامی تقسیم کے حق میں کھڑی ہے بلکہ کھلے عام ہونے والے مکالموں نے اس تاثر کو مضبوط قومی بیانیے کی شکل دے دی ہے۔اس قومی تبدیلی کی ایک بڑی وجہ پاکستان کا آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک بن جانا اور موجودہ انتظامی ڈھانچے کا ڈیلیور نہ کرنا ہے۔ موجودہ صورتحال میں مرکزیت پسند گورننس کا ماڈل عوام کو بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی میں مکمل ناکام ہو چکا ہے۔ اس تناظر میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا یہ مؤقف نہایت اہمیت کا حامل ہے کہ موجودہ نظام کو آئین کی حدود میں رہتے ہوئے مکمل  طور پر ری سیٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس تلخ حقیقت کا اعتراف کیا کہ تعلیم‘ صحت اور انصاف جیسے بنیادی حقوق ہر شہری کو ملنے چاہئیں‘ مگر ہمارے زوال پذیر نظامِ تعلیم کا عالم یہ ہے کہ پانچویں جماعت کا بچہ عام جملہ پڑھنے سے قاصر ہے۔ جب کروڑوں کی آبادی والے اضلاع اور ڈویژنز صوبائی دارالحکومت سے سینکڑوں کلو میٹر دور ہوں تو عوام کو انصاف اور سہولتوں کی فراہمی ایک خواب بن کر رہ جاتی ہے۔ اسی پس منظر میں انتظامی بہتری کے لیے صرف اضلاع اور تحصیلیں بنانا ہی کافی نہیں بلکہ بڑے صوبوں کو انتظامی بنیادوں پر تقسیم کرنا اور دارالحکومتوں کو بااختیار بنانا ناگزیر ہو چکا ہے۔ اس سلسلے کی سب سے پہلی اور اہم  کڑی کے طور پر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کو نئے انتظامی ماڈل میں ڈھالنے کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ اس سلسلے میں اعلیٰ سطح خصوصی کمیٹی نے جامع اور مفصل ڈرافٹ وزیراعظم کو پیش کر دیا ہے‘ جو وفاقی دارالحکومت کو صوبائی طرز کی انتظامی اور مالی خودمختاری دینے کی واضح سفارش کرتا ہے۔ اس مجوزہ فریم ورک کے تحت 27رکنی کیپٹل ٹیریٹری اسمبلی تشکیل دی جائے گی جس میں 21ارکان براہِ راست عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوں گے جبکہ خواتین کے لیے پانچ اور اقلیتوں کے لیے ایک مخصوص نشست رکھی جائے گی۔ اس اسمبلی کے انتخابات الیکشن کمیشن کے تحت ہوں گے۔ اس منصوبے میں سب سے نمایاں پہلو منتخب چیف ایگزیکٹو کا عہدہ ہے جو میئر یا وزیراعلیٰ کہلائے گا اور براہِ راست منتخب اسمبلی کے سامنے جواب دہ ہو گا۔ چیف سیکرٹری‘ چار سیکرٹریز اور 27انتظامی محکموں پر مشتمل یہ ڈھانچہ نہ صرف اسلام آباد کو بجٹ اور انتظامی امور میں خودمختاری دے گا بلکہ ملک بھر میں نئے صوبوں اور بااختیار انتظامی اکائیوں کے قیام کے لیے مثالی نمونہ بھی ثابت ہو گا۔ ممکنہ طور پر نئے صوبوں کا آغاز اسلام آباد میں نئے نظام سے ہو گا۔نیشنل پالیسی ڈائیلاگ اور مکالموں کے ذریعے اس مسئلے کو عوامی سطح پر لانے کی حکمت عملی دراصل ایک گہرے سیاسی شعور کی عکاس ہے۔ ہمارے سیاسی کلچر میں جماعتیں عمومی طور پر عوامی نبض کو دیکھ کر اپنے بیانیے ترتیب دیتی ہیں۔ جب تک عوامی سطح پر اتفاقِ رائے یا سازگار ماحول نہ بنے سیاسی جماعتیں آئینی ترمیمی بل پاس کرانے کا رسک نہیں لیتیں۔ اس وقت سیاسی منظرنامے پر نظر دوڑائی جائے تو پاکستان پیپلز پارٹی کے علاوہ تقریباً تمام اہم سیاسی جماعتیں اور مقتدر حلقے نئے صوبوں کی تشکیل کی ضرورت کو تسلیم  کر چکے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف جو بظاہر موجودہ سیٹ اَپ پر سخت تحفظات رکھتی ہے‘ وہ بھی نئے صوبوں کی حمایت پر آمادہ دکھائی دیتی ہے۔اس تمام تر مثبت پیش رفت کے سامنے سب سے بڑی آئینی اور سیاسی رکاوٹ پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے متوقع ہے۔ پیپلز پارٹی روایتی طور پر 1973ء کے آئین کی جغرافیائی ساخت اور بالخصوص سندھ کی تقسیم کے خوف کے تحت  صوبوں کی جغرافیائی تبدیلی کی مخالف رہی ہے۔ سندھ میں قوم پرست سیاست کا دباؤ اور اندرون سندھ میں اپنے ووٹ بینک کی حفاظت پیپلز پارٹی کو کسی بھی نئے صوبے کی حمایت سے روکتی ہے ۔ اسے خدشہ ہے کہ اگر پنجاب یا خیبر پختونخوا میں نئے صوبے بنے تو کراچی یا دیگر خطوں میں بھی تقسیم کے مطالبات زور پکڑیں گے۔ اب سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کب تک اس مزاحمت کا اشارہ دیتی رہے گی؟ اور کیا مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان آئندہ کی گورننس‘ اتحاد اور آئینی ترمیم سے متعلق لندن میں ہونے والی ملاقاتوں میں اس گرہ کو کھولا جا سکے گا یا نہیں؟پاکستان میں نئے صوبوں کا قیام محض سیاسی یا لسانی تقسیم کا معاملہ نہیں بلکہ یہ معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کی ضمانت ہے۔ جنوبی پنجاب‘ ہزارہ‘ سندھ اور بلوچستان کی وسیع جغرافیائی حدود کو مدنظر رکھا جائے تو موجودہ صوبائی ڈھانچہ انتظامی اور معاشی طور پر مفلوج ہو چکا ہے۔ تمام تر وسائل کا صرف ایک ہی صوبائی دارالحکومت میں مرکوز ہو جانا دور دراز کے اضلاع میں شدید احساسِ محرومی پیدا کرتا ہے۔ اگر ملک کو محض انتظامی بنیادوں پر تقسیم کر کے آٹھ یا 10 نئے صوبے تشکیل دیے جائیں تو نہ صرف گورننس کا معیار بہتر ہو  گا بلکہ ہر خطہ اپنے مقامی وسائل کو مؤثر انداز میں استعمال کر کے ترقی کر سکے گا۔ بھارت‘ امریکہ اور نائیجیریا جیسے کثیر آبادی والے ممالک کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں‘ جنہوں نے وقت کے ساتھ نئی انتظامی اکائیاں بنا کر اپنے وفاق کو مضبوط کیا اور جمہوریت کے ثمرات کو براہِ راست عوام کی دہلیز تک پہنچایا۔انتظامی اصلاحات اور نئے صوبوں کا قیام جہاں طرزِ حکمرانی کی بہتری کے لیے ناگزیر ہے وہیں اس ضمن میں چیلنجز بھی حائل ہیں۔ سب سے پہلا امتحان نئے سیکرٹریٹ‘ اسمبلیاں اور بیوروکریسی کے ڈھانچے کی تشکیل کے لیے درکار مالی اخراجات اور این ایف سی ایوارڈ کے تحت وسائل کی نئے سرے سے منصفانہ تقسیم ہے۔ دوسرا بڑا چیلنج لسانی تعصبات کا ابھرنا ہے جس سے بچنے کیلئے ضروری ہے کہ نئے یونٹس کی بنیاد قومیت کے بجائے صرف انتظامی سہولت‘ جغرافیائی اور آبادی کے تناسب پر رکھی جائے۔ اسلام آباد کا مجوزہ نیا ماڈل‘ نیشنل پالیسی ڈائیلاگ کا ارتقا اور سیاسی جماعتوں میں بنتا ہوا اتفاقِ رائے اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اب معاشی و انتظامی حقیقتیں روایتی سیاسی حکمت عملیوں پر غالب آ چکی ہیں۔ اگر مسلم لیگ (ن)‘ پی ٹی آئی اور مقتدر حلقے مل کر پیپلز پارٹی کو ایک جامع قومی میثاقِ گورننس پر راضی کر لیتے ہیں تو لندن اور اسلام آباد میں ہونے والی یہ سیاسی مشاورتیں ملک کے مستقبل کا نقشہ بدل سکتی ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/222_48272610.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>دل پھر طوافِ کوئے ملامت کو جائے ہے(حافظ محمد ادریس)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/hafiz-muhammad-idreess/2026-09-08/52627/22392901</link><pubDate>Tue, 08 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/hafiz-muhammad-idreess/2026-09-08/52627/22392901</guid><description>1970ء کے الیکشن کی انتخابی مہم سال بھر جاری رہی۔ شیڈول کے مطابق ملک بھر میں قومی اسمبلی کا الیکشن 10دسمبر 1970ء کو ہوا اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات 17 دسمبر کو منعقد ہوئے۔ انتخابات کے نتائج سے معلوم ہو چکا تھا کہ مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ کو بہت بڑی کامیابی ملی ہے اور مغربی پاکستان میں بحیثیت مجموعی پیپلز پارٹی کا پلہ بھاری ہے۔ انتخابی نتائج آنے پر بھٹو صاحب نے جماعت اسلامی کو نشانۂ تنقید بناتے ہوئے یہ بھی کہہ دیا تھا کہ میں فکس اَپ کر دوں گا! خیر ہمیں ایسی دھمکیوں سے کیا لینا دینا تھا۔ ان انتخابات میں جماعت اسلامی کو مرکز میں صرف چار اور ہر صوبائی اسمبلی میں‘ بشمول مشرقی پاکستان (سوائے بلوچستان کے) صرف ایک ایک نشست پر کامیابی ملی۔ اس صورتحال پر میں اور جیل میں قیام کے دوران ہمارے حلقے میں شامل ہونے والے تمام قیدی بھائی کافی غمزدہ تھے۔ میں نے اپنے سب ساتھیوں کو حوصلہ دینے کی مقدور بھر کوشش کی اور پیپلز پارٹی کے حامیوں سے ٹکرائو کے بجائے انہیں مبارکباد اور خیر سگالی کا پیغام دیا۔ اس پر فریقین کے ہر شخص کا مثبت تاثر سامنے آیا۔ 17دسمبر کی رات کو تقریباً دس بجے جیل حکام میرے پاس بیرک میں آئے اور کہا کہ آپ کی رہائی کے احکامات آ چکے ہیں۔ یہ سن کر میں نے کہا کہ میں کل چلا جائوں گا۔ جواب ملا کہ جیل قواعد وضوابط کے مطابق آپ کو ایک گھنٹہ مزید رکھنا بھی ممکن نہیں۔ جیل میں حکام کی اپنی مجبوریاں تھیں اور میرے لیے رات کے وقت اچانک جیل سے نکلنے کے اپنے مسائل تھے۔ بحث وتکرار کے دوران میں نے کہا کہ رات کے اس وقت میں کہاں جائوں گا۔ کہا: آپ پریشان نہ ہوں‘ ملازمین میں سے کسی کے گھر رہائش کا بندوبست ہو جائے گا۔ بیرک کے قیدی جو سو رہے تھے‘ اس بحث مباحثے کے نتیجے میں جاگ اٹھے۔ افسران نے یہ بھی کہا کہ دفتر کے کسی کمرے میں بستر لگا دیتے ہیں۔ میں نے کہا: مجھے یہ تجویز منظور نہیں۔ پھر کہا: آپ کیلئے ہم تانگہ منگوا دیتے ہیں‘ آپ ٹرین یا بس سے اپنے گھر چلے جائیں۔ میں نے سوچا کہ اب مزید تکرار اور بحث سے کچھ حاصل نہ ہو گا اس لیے کہا کہ یہ ٹھیک ہے‘ تانگہ منگوا دیجیے۔ چنانچہ دوستوں سے ملتے ملاتے اور جیل سے نکلتے نکلتے گیارہ بج گئے۔ 1970ء میں ساہیوال جیسے شہر میں دسمبر کی راتوں میں نو دس بجے کے بعد ایسا سناٹا چھا جاتا تھا کہ وہ محاورہ عملی شکل میں نظر آتا ہے کہ یہاں تو جن پھر گیا ہے۔جب میں تانگے میں بیٹھا تو کوچوان نے پوچھا: کہاں جائیں گے؟ میں نے جماعت اسلامی کے دفتر بیری والاچوک کا پتا بتایا۔ تقریباً ساڑھے گیارہ بجے ہم دفتر پہنچ گئے۔ ایک ہُو کا عالم تھا۔ دروازہ کھٹکھٹایا تو قدرے تاخیر سے دروازہ کھلا۔ ناظم دفتر سید منور حسین بخاری صاحب آنکھیں مَلتے ہوئے دروازہ کھول کر حیران و پریشان ہو کر میری طرف دیکھنے لگے۔ علیک سلیک کے بعد پوچھا کہ آپ اس وقت کیسے آئے ہیں؟ میں نے ازراہِ مذاق سرگوشی کے انداز میں کہا: شور نہ کیجیے‘ میں جیل سے نکل کر تانگے میں بیٹھا اور وہاں سے بھاگ آیا۔ یہ سن کر وہ مزید گھبرا گئے اور کہنے لگے کہ پیر اشرف صاحب کو بھی بتا دوں ؟ میں نے کہا کہ پیر صاحب کو تکلیف نہ دیں‘ میرے پیر آپ ہی ہیں۔ پیر محمد اشرف صاحب اُس وقت جماعت اسلامی ساہیوال کے ضلع امیر تھے۔ بعد میں مولانا فتح محمد صاحب کے ساتھ قیم جماعت اسلامی صوبہ پنجاب بھی رہے۔ وہ دفتر کی بالائی منزل میں اپنی فیملی کے ساتھ مقیم تھے۔ بخاری صاحب نے کھانے کا پوچھا مگر میں نے انکار کر دیا اور کہا کہ بس ایک گرم بستر چاہیے‘ چنانچہ انہوں نے فوراً چارپائی بچھا کر بستر لگا دیا۔ وہ عجیب مخمصے اور تجسس میں تھے۔ جب میں چارپائی پر رضائی اوڑھ کر لیٹا تو پھر سے میرے پاس آ کر سرگوشی کے انداز میں پوچھا کہ آپ جیل سے کیسے بھاگے؟ میں نے کہا کہ صبح بتائوں گا۔ کہنے لگے: میں صبح تک تجسس اور فکرمندی میں پریشان رہوں گا۔ اب میری ہنسی چھوٹ گئی لہٰذا ان کو بتا دیا کہ میری رہائی کے احکام آ چکے تھے۔ چونکہ میری قید کی مدت پوری ہو چکی تھی‘ اس لیے جیل والوں نے رات ہی کے وقت زبردستی مجھے جیل سے نکال دیا۔ اس پر کہنے لگے: آپ کی قید کو سال پورا ہوگیا۔ میں نے کہا: جی ایسے ہی ہے۔ بعد میں کبھی کبھار ہم اس واقعے کو یاد کرتے تو بخاری صاحب اس پر ہنسنے لگتے۔ منور حسین بخاری کچھ ہی عرصہ کے بعد ساہیوال سے مرکز منصورہ آ گئے۔ یہاں ان کی ذمہ داری صوبائی دفتر میں لگی۔ انہوں نے مولانا فتح محمد مرحوم (سابق امیر جماعت صوبہ پنجاب) اور پھر میرے اور میرے بعد لیاقت بلوچ صاحب کے ساتھ سالہاسال ناظم دفتر کے طور پر ذمہ داری ادا کی۔ اللہ تعالیٰ مغفرت فرمائے‘ بڑی خوبیوں کے حامل تھے۔ مرحوم کے حالات ہماری کتاب &#39;&#39;عزیمت کے راہی‘‘ (جلد پنجم) میں درج ہیں۔فجر کی نماز پر پیر محمد اشرف صاحب سے ملاقات ہوئی اور انہیں سارے حالات بتائے۔ وہ بہت خوش ہوئے۔ پیر صا حب نے میری رہائی کی اطلاع لاہور بھجوائی‘ ٹرین پر بکنگ کرائی اور پُرلطف ناشتے کا اہتمام کیا۔ اتفاق سے اسی ٹرین پر کراچی کی طرف سے آتے ہوئے ناظم اعلیٰ اسلامی جمعیت طلبہ برادرم مطیع الرحمن نظامی (شہید) بھی لاہور جا رہے تھے (جنہیں مئی 2016ء میں بنگلہ دیش کی ظالم حسینہ واجد حکومت نے 73 برس کی عمر میں پھانسی کی سزا دی تھی)۔ ساہیوال سٹیشن پر جمعیت کے ساتھی ان کے استقبال کیلئے جمع تھے اور ساتھ ہی مجھے الوداع کہنے کیلئے بھی کئی احباب آ گئے تھے۔ساہیوال سے لاہور تک کا سفر بڑا یادگار تھا۔ برادر مطیع الرحمن کے ساتھ کئی سالوں سے قریبی تعلق تھا۔ مجھے گلے لگا کر بہت پیار دیا‘ فرطِ جذبات سے ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ راستہ بھر مختلف امور و مسائل پر تبادلہ خیالات ہوتا رہا۔ یوں لگا کہ تین گھنٹے کا سفر منٹوں میں طے ہو گیا ہے۔ لاہور ریلوے سٹیشن پر گاڑی پہنچی تو ساتھیوں نے ناظم اعلیٰ کا بھرپور استقبال کیا اور درویش کو بھی اپنی محبتوں سے نوازا۔ نعروں کی گونج نے سٹیشن پر موجود سب لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ ریلوے سٹیشن سے ہم سیدھے 5۔اے ذیلدار پارک‘ اچھرہ پہنچے۔ شام کا وقت ہو چکا تھا۔ مولانا مودودی اور دیگر قائدین نمازِ مغرب کیلئے تیار ہو چکے تھے۔ مولانا نے راقم کو گلے لگایا اور بہت پیار سے نوازا جس کی شیرینی آج تک رگ رگ میں رچی بسی ہے۔ اللہ مرشد کے درجات بلند فرمائے‘ آپ حقیقی مربی تھے۔ لاہور میں ایک دن قیام کے بعد اگلے روز میں گھر کی طرف روانہ ہوا اور شام تک گھر پہنچ گیا۔ اخبارات سے تمام اہل و عیال اور گائوں کے لوگوں کو میری رہائی کی اطلاع مل چکی تھی۔ یہاں بھی بھرپور استقبال ہوا۔ دو تین دن مسلسل مجلسیں لگتی رہیں۔ چند دن ہی گزرے تھے کہ جمعیت کا ایک وفد لاہور سے آیا۔ وہ یہ پیغام لے کر آئے تھے کہ یونیورسٹی انتخابات کا اعلان ہو چکا ہے اور جمعیت نے اس میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے‘ تاہم ہمارے صدارتی امیدوار حفیظ خان اور ان کے گھر والے ابھی تک الیکشن میں حصہ لینے پر آمادہ نہیں ہو رہے۔ احباب کا خیال تھا کہ میری کاوش سے یہ عقدہ حل ہو جائے گا۔والد صاحب اور تمام گھر والوں کے سامنے یہ صورتحال رکھی اور ان سب سے اجازت لے کر میں لاہور روانہ ہو گیا۔ اس موقع پر گائوں کے بعض سادہ لوح افراد کا تبصرہ یہ تھا کہ ابھی ایک سال قید کاٹ کر رہا ہوا ہے اور اب پھر اسی طرف بھاگا جا رہا ہے۔ خیر لاہور پہنچ کر حفیظ خان صاحب اور ان کے گھر والوں سے ایک دو ملاقاتوں کے بعد ان کی رضامندی حاصل ہو گئی۔ اس کٹھن کام میں ہمارے قریبی دوست افتخار فیروز نے بڑا کردار ادا کیا۔ افتخار فیروز مرحوم کے حالات ہماری کتاب &#39;&#39;عزیمت کے راہی‘‘ (جلد ہفتم) میں محفوظ ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_24721193.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>