<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>بڑھتی آبادی کا دبائو!(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-15/11193</link><pubDate>Fri, 15 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-15/11193</guid><description>وزیراعظم شہباز شریف نے بڑھتی ہوئی آبادی کے پیشِ نظر ہاؤسنگ سیکٹر میں جامع اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ حکومت کا یہ عزم ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبادی کا بے ہنگم پھیلاؤ‘ سکڑتی زرعی زمین اور شہری پھیلائو بڑے ملکی چیلنجز بن چکے ہیں۔ 2023ء کی ڈیجیٹل مردم شماری کے مطابق ملک کی مجموعی آبادی 24 کروڑ سے متجاوز ہے اور اس میں سالانہ 2.55 فیصد کی شرح سے اضافہ ہو رہا‘ جو نہ صرف جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ ہے بلکہ ملکی وسائل پر ایک ایسا بوجھ ثابت ہو رہا ہے جسے برداشت کرنا اب معیشت کے بس میں نہیں رہا۔ ہاؤسنگ سیکٹر کا براہِ راست تعلق زمین کے استعمال سے ہے‘ لہٰذا اس سیکٹر میں اصلاحات کی اہمیت محض رہائش کی فراہمی تک محدود نہیں بلکہ ملک کی غذائی ضروریات کا تحفظ بھی اسی کے ذریعے ممکن بنایا جا سکتا۔ جب تک رہائشی منصوبوں کو ایک ضابطے کے تحت نہیں لایا جاتا‘ تب تک آبادی کے سیلِ رواں کو منظم کرنا اور اسکے معاشی وسماجی اثرات سے نمٹنا ممکن نہ ہو گا۔ ہاؤسنگ سیکٹر کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ملک کو اس وقت تقریباً سوا کروڑ رہائشی یونٹس کی قلت کا سامنا ہے۔

اس قلت کو پورا کرنے کیلئے پے بہ پے رہائشی سکیموں کا جو طریقہ اختیار کیا گیا‘ اس نے ملک کے ماحولیاتی اور زرعی توازن کو درہم برہم کر کے رکھ دیا ہے۔ ہماری زرعی زمینیں‘ جو کبھی ملک کی فوڈ باسکٹ کہلاتی تھیں‘ اب تیزی سے کنکریٹ کے جنگلات میں تبدیل ہو رہی ہیں۔ زراعت پاکستان کی معیشت کا سب سے بڑا ستون ہے‘ یہ شعبہ جی ڈی پی میں تقریباً 24 فیصد کا حصہ دار ہے۔ اگر زرعی زمین رہائشی استعمال میں آ جائے گی تو نہ صرف خوراک کی پیداوار کم ہو گی بلکہ زرعی خام مال پر انحصار کرنے والی صنعتیں بھی مفلوج ہو کر رہ جائیں گی۔ اس کا ایک نتیجہ خوراک کے بحران اور زرعی درآمدات کے اربوں ڈالر کے بل کی صورت میں ہم پہلے ہی بھگت رہے۔ زرعی زمین کے نقصان کیساتھ بے ہنگم شہری پھیلاؤ ماحولیاتی اور انتظامی مسائل کو دوچند کرنے کا بھی سبب بن رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں ملک کے تمام بڑے شہروں کو اربن فلڈنگ کے بدترین تجربات سے گزرنا پڑا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ قدرتی ندی نالوں‘ نکاسیٔ آب کے راستوں اور گرین بیلٹس پر غیر قانونی تعمیرات ہیں۔ فضائی آلودگی اور سموگ سمیت روزانہ گھنٹوں ٹریفک جام جیسے متعدد مسائل بے ہنگم آبادی کے مسئلے سے جڑے ہوئے ہیں۔ تیزی سے بڑھتی آبادی صرف رہائش کا مسئلہ ہی نہیں پیدا کر رہی بلکہ تعلیم‘ صحت اور روزگار کے مواقع کو بھی سکیڑ رہی ہے۔ پاکستان کی دو تہائی سے زائد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے‘ جو ملک کیلئے قیمتی معاشی اثاثہ ثابت ہو سکتے لیکن مناسب منصوبہ بندی کی عدم موجودگی میں یہ کثیر طبقہ معاشی بوجھ بنتا جا رہا ہے۔
ہر سال دسیوں لاکھ نئے نوجوان روزگار مارکیٹ میں داخل ہوتے لیکن سست معاشی شرح نمو اور محدود صنعتی ترقی کے باعث انہیں نوکریاں نہیں ملتیں‘ نتیجتاً بیروزگاری اور جرائم کی شرح میں خطرناک شرح سے اضافہ ہو رہا۔ اس ہولناک صورتحال سے نکلنے کا واحد راستہ مناسب شہری منصوبہ بندی اور پائیدار زرعی حکمت عملی ہے۔ افقی کے بجائے شہروں کا عمودی پھیلائو اور بلند وبالا رہائشی عمارتوں کی تعمیر کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ روایتی کے بجائے جدید بلاکس تعمیرات نہ صرف لاگت میں کمی لا سکتی بلکہ بدلتے موسمی حالات سے بھی بہتر انداز میں نمٹ سکتی ہیں۔ معاشی نقطۂ نظر سے ہاؤسنگ سیکٹر ملکی معیشت میں نئی روح پھونکنے کی صلاحیت رکھتا ہے‘ کیونکہ اس کے ساتھ 40 سے زائد صنعتیں وابستہ ہیں‘ لہٰذا ہاؤسنگ سیکٹر میں اصلاحات محض ایک انتظامی ضرورت نہیں بلکہ ملک کے معاشی اور ماحولیاتی تحفظ کا معاملہ ہے۔ اگر آج ہم نے اپنی زمین‘ اپنی زراعت اور اپنے شہروں کو بچانے کیلئے جرأت مندانہ فیصلے نہ کیے تو غذائی قلت‘ ماحولیاتی تباہی اور معاشی ابتری جیسے مسائل ہمارے پیروں کی مستقل بیڑیاں بنے رہیں گے۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>قرضوں کا بوجھ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-15/11192</link><pubDate>Fri, 15 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-15/11192</guid><description>سٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق ملک کا مجموعی قرضہ تاریخ کی بلند ترین سطح‘ 80 ہزار 524 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے‘ جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں تقریباً 2636 ارب روپے زیادہ ہے۔ یہ اضافہ اس حقیقت کا عکاس ہے کہ حکومت اب بھی اپنے مالیاتی نظام کو سنبھالنے کیلئے بڑے پیمانے پر قرضوں پر انحصار کر رہی ہے۔ رواں مالی سال میں سب سے زیادہ اضافہ اندرونی قرضوں میں ہوا‘ جو تین ہزار ارب روپے سے تجاوز کر گیا۔ماہرین کے مطابق اس صورتحال کی بنیادی وجوہات مالی خسارہ‘ بلند شرح سود‘ کمزور ٹیکس نظام‘ درآمدات پر انحصار اور بڑھتے ہوئے سرکاری اخراجات ہیں۔ ملکی معیشت کئی دہائیوں سے قرضوں کے سہارے چل رہی ہے۔جب کوئی معیشت مسلسل قرضوں پر انحصار کرے تو اس کی پیداواری صلاحیت متاثر ہوتی ہے‘ سرمایہ کاری سست پڑ جاتی ہے اور عوامی فلاح کے شعبے نظرانداز ہونے لگتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ قرضوں کے انبار کے باوجود نہ تو مہنگائی کم ہو سکی ہے‘ نہ بیروزگاری اور نہ ہی عام آدمی کی زندگی میں بہتری آ سکی ہے۔ حکومت کو اب قرض لے کر وقتی معاشی استحکام کا تاثر دینے کے بجائے برآمدات‘ ترسیلاتِ زر اور بیرونی سرمایہ کاری کے فروغ پر خصوصی توجہ دینا ہو گی‘ جو قومی آمدنی میں اضافے کے حقیقی ذرائع ہیں۔ پاکستان کو قرض پر چلنے والی معیشت سے نکل کر پیداوار‘ برآمدات اور سرمایہ کاری پر مبنی معیشت کی جانب بڑھنا ہوگا کیونکہ پائیدار خوشحالی کا راستہ یہی ہے۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>دہشت گردی کے خلاف جنگ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-15/11191</link><pubDate>Fri, 15 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-15/11191</guid><description>پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے مطابق 13مئی کو بارکھان میں سینی ٹائزیشن آپریشن کے دوران بھارتی سرپرستی میں سرگرم فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائی میں سات دہشت گرد مارے گئے‘ تاہم شدید فائرنگ کے تبادلے میں پاک فوج کے میجر سمیت پانچ جوان وطن پر قربان ہو گئے۔ بلوچستان میں دہشت گردی کا دوبارہ سر اٹھانا محض ایک سکیورٹی مسئلہ نہیں بلکہ قومی سلامتی اور علاقائی استحکام کا ایک بڑا چیلنج ہے۔ گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور پرو وائس چانسلر کا اغوا بھی اسی خطرناک رجحان کی کڑی ہے۔ تعلیمی شخصیات کا اغوا اس بات کی علامت ہے کہ دہشتگرد عناصر صوبے کے تعلیمی اداروں‘ ترقیاتی منصوبوں اور قومی یکجہتی کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں۔یہ حقیقت اب کسی سے پوشیدہ نہیں رہی کہ ملک کے مغربی علاقوں میں بڑھتی دہشت گردی کا براہِ راست تعلق افغانستان میں موجود دہشت گردوں سے ہے۔

بھارت بھی معرکہ حق میں ہونیوالی ہزیمت اور ناکامیوں کا بدلہ لینے کیلئے بلوچستان میں پراکسی دہشت گردی کو ہوا دے رہا ہے۔ اس نازک صورتحال میں ضروری ہے کہ ان دشمن عناصر اور انکے سرپرستوں کے خلاف مزید متحرک‘ منظم اور مستعد پالیسی اختیار کی جائے۔ پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ان عناصر کے خلاف پوری قوت سے سرگرم ہیں‘ اس جنگ میں پوری قوم کو ان کا پشت پناہ بننا ہو گا۔ 
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>400 کلو گمشدہ چاندی کی تلاش(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-05-15/51948/80695450</link><pubDate>Fri, 15 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-05-15/51948/80695450</guid><description>آج کل پارلیمان کا اجلاس ہو رہا ہے۔ صبح قومی اسمبلی کا سیشن ہوتا ہے تو دوپہر کے بعد سینیٹ کا اجلاس۔ اس دوران قائمہ کمیٹیوں کے اجلاس بھی چل رہے ہوتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ان اجلاسوں میں کورم پورا نہیں ہوتا۔ جو ارکانِ اسمبلی ایوان تک پہنچنے کیلئے تن‘ من‘ دھن کی بازی لگا دیتے ہیں وہ اب ہاؤس میں نظر نہیں آتے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ 340 ارکان کے ایوان میں کورم پورا کرنے کیلئے84 ارکان بھی موجود نہ ہوں؟ تقریباً ڈھائی سو ارکان آخر کہاں غائب ہوتے ہیں؟ ان سب کو اجلاس کا باقاعدہ نوٹس ملتا ہے کہ فلاں تاریخ کو اجلاس ہے‘ ہوائی جہاز کے فری ٹکٹ بھی بھیجے جاتے ہیں۔ اگر کوئی گھر سے گاڑی پر آ رہا ہو تو اسے گھر سے پارلیمنٹ لاجز تک پٹرول یا ڈیزل کا مکمل خرچہ دیا جاتا ہے۔ پھر اگر کمال مہربانی کرتے ہوئے وہ اجلاس میں چلا جائے تو اجلاس میں تھوڑی دیر بیٹھنے کا الگ سے بھاری الاؤنس ملتا ہے۔ اسی طرح اگر وہ قائمہ کمیٹی کا اجلاس اٹینڈ کرے تو ایک اجلاس کا ایک لاکھ روپے الگ سے ملتا ہے‘ اور ہر رکن چار پانچ کمیٹیوں کا ممبر ہوتا ہے۔ ان کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ اگر بالمشافہ شریک نہ ہوں تو کم از کم وڈیو کال پر ہی اجلاس اٹینڈ کر لیں تاکہ ایک لاکھ روپے ضائع نہ ہوں۔ اکثر تو صرف حاضری لگوا کر اجلاس سے رخصت ہو جاتے ہیں کہ ایک لاکھ پکا ہوا۔ ایک بار ایک قائمہ کمیٹی کے چار پانچ ارکان بیرونِ ملک سرکاری دورے پر تھے۔ انہوں نے ہوٹل لاؤنج میں بیٹھے بیٹھے وڈیو کال سے اجلاس میں شرکت کی۔ موبائل کیمرا آن کیا‘ چند لمحے اپنا چہرہ اسلام آباد میں جاری اجلاس میں دکھایا اور پھر وڈیو بند۔ حاضری لگ گئی‘ ایک ایک لاکھ پکا ہو گیا۔ کئی مرتبہ ایسا بھی ہوا کہ بیرونِ ملک جانے والے ارکان ایئر پورٹ جاتے ہوئے گاڑی سے چند لمحوں کیلئے وڈیو کال پر آئے اور پھر غائب ہو گئے۔ لیکن یہی ارکانِ ملک میں ہوتے ہوئے اسمبلی کے اجلاس میں نہیں آتے کیونکہ وہاں نہ آنے پر بھی تنخواہ پوری ملتی ہے۔ پورا مہینہ اجلاس نہ ہو تب بھی مکمل تنخواہ ملتی ہے۔بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی۔ ذرا ان کی مراعات پر بھی نظر ڈال لیں۔ تمام ارکانِ اسمبلی اور ان کے بچوں کو سفارتی پاسپورٹ ملتے ہیں‘ جن پر دنیا کے تیس ممالک میں ویزا آن آرائیول کی سہولت اور پروٹوکول ملتا ہے۔ ابھی آپ نے اقبال آفریدی کے بیٹے کا سنا ہو گا جس نے والد کی وجہ سے سفارتی پاسپورٹ حاصل کیا اور اٹلی جا کر سیاسی پناہ مانگ لی۔ اس کے علاوہ ہر رکن کو کروڑوں روپے کا ترقیاتی فنڈ ملتا ہے جس میں بقول شاہد خاقان عباسی تیس فیصد کمیشن کھایا جاتا ہے (یقینا سب نہیں کھاتے)۔ تمام ارکان اور ان کی فیملی کا علاج مفت ہوتا ہے۔ پھر قائمہ کمیٹیوں کے چیئرمین اور پارلیمانی سیکریٹریز کو سرکاری گاڑیاں‘ مفت پٹرول اور دیگر سہولتیں بھی ملتی ہیں۔ تنخواہیں انہوں نے خود ہی بڑھا کر سات‘ آٹھ لاکھ روپے ماہانہ تک پہنچا دی ہیں۔ لیکن اس سب کے باوجود نہ یہ لوگ ایوان میں آتے ہیں نہ ملک اور عوام کے مسائل پر بحث کو ترجیح دیتے ہیں۔ میرا 24 برسوں کا پارلیمانی رپورٹنگ کا تجربہ کہتا ہے کہ یہ سب بڑے سکون سے رہتے ہیں‘ انہیں عوام صرف اپوزیشن کے دنوں میں اچھے لگتے ہیں اور تب وہ عوام کے دکھ درد میں مرے جاتے ہیں۔ حکومت میں آتے ہی انہیں لگنے لگتا ہے کہ جو بھی عوامی مسائل یا حکومتی نااہلی پر بات کرتا ہے وہ دراصل ملک کے خلاف سازش کر رہا ہے‘ جمہوریت کا دشمن ہے یا غیرجمہوری قوتوں کے ساتھ مل کر سیاسی عدم استحکام پیدا کرنا چاہتا ہے۔ ایسے وقت میں انہیں جج‘ جرنلسٹ اور جنرل سب اپنے مخالف دکھائی دیتے ہیں۔آپ ہی بتائیں‘ سات‘ آٹھ لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ‘ فری عالمی و مقامی سفر‘ ڈالروں میں ٹی اے ڈی اے‘ ہر اسمبلی اجلاس کا الگ الاؤنس‘ قائمہ کمیٹی اجلاسوں کا ایک لاکھ روپے معاوضہ‘ کروڑوں کا ترقیاتی بجٹ‘ فیملی سمیت سفارتی پاسپورٹ‘ مفت علاج‘ سرکاری گاڑی‘ پٹرول اور ڈرائیور جیسی سہولتیں میسر ہوں‘ ہر ماہ محض چند دن اجلاس ہوں اور باقی دن یا تو اپنا کاروبار کریں‘ حلقے میں مزے سے رہیں یا ترقیاتی فنڈ کیلئے من پسند ٹھیکیدار تلاش کریں‘ مگر پھر بھی 340 ارکان کے ہاؤس میں 84 ارکان تک موجود نہ ہوں۔ آخر اس رویے اور اس جمہوریت کو کیا نام دیا جائے؟ ذہن میں رکھیے کہ اس ایوان میں پہنچنے کیلئے یہ لوگ کس قدر خوار ہوتے ہیں۔ لیڈروں کی خوشامدیں‘ پارٹی فنڈ کے نام پر کروڑوں کا چندہ‘ مار دھاڑ‘ جیلیں‘ حملے‘ پھانسیاں‘ یہ سب آخر کس لیے؟ اگر مقصد صرف تنخواہیں لینا اور مراعات انجوائے کرنا ہے تو پھر عوامی نمائندگی کا دعویٰ کیوں؟ جن عوام کے نام پر یہ اقتدار میں آتے ہیں وہی عوام بجلی‘ پٹرول اور ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے ذریعے ان کی تنخواہوں‘ لائف سٹائل اور مراعات کی قیمت ادا کرتے ہیں۔ بدلے میں عوام کو کیا ملتا ہے‘ مزید مراعات یافتہ اشرافیہ؟ایک خاتون سینیٹر سے اسی موضوع پر گفتگو ہو رہی تھی۔ کہنے لگیں: عوام ہمارے خلاف ہو گئے ہیں‘ انہیں لگتا ہے ہم لوگ بہت عیاشی کرتے ہیں‘ لوگ ہماری تنخواہوں سے لے کر پاسپورٹ تک ہر چیز پر اعتراض کرتے ہیں۔ میں نے پوچھا: اگر سیاست اور رکنیت میں کچھ حاصل نہیں ہوتا تو پھر آپ لوگ اسمبلی تک پہنچنے کیلئے جان کی بازی کیوں لگا دیتے ہیں؟ آخر کچھ تو ایسا ہے جو آپ کو تمام خطرات کے باوجود یہاں تک لے آتا ہے۔ ہمارے ساتھی سیاسی رپورٹر صدیق ساجد نے ایک ٹویٹ کے ذریعے دریا کو کوزے میں بند کر دیا۔ خالی اسمبلی ہال دیکھ کر انہوں نے لکھا: ایوانِ زیریں میں 236 ارکان کی حمایت والی حکومت قومی اسمبلی کا کورم پورا کرنے میں مسلسل ناکام؛ حالانکہ محض 84ارکان کی موجودگی لازمی ہے۔ مگر ارکان کی عدم دلچسپی کے باعث روز کورم ٹوٹ رہا ہے۔ قومی اسمبلی کا ایک دن کا اجلاس قومی خزانے پر دو کروڑ چالیس لاکھ روپے کا بوجھ ڈالتا ہے مگر کسی کو پروا نہیں جبکہ دعویٰ کفایت شعاری اور بچت کا کیا جاتا ہے۔ذرا اندازہ کیجیے‘ ایک اجلاس پر دو کروڑ چالیس لاکھ روپے خرچ ہو رہے لیکن اجلاس اس لیے شروع نہیں ہو پا رہا کہ اکثریتی ارکان کا اجلاس میں شرکت کا موڈ نہیں۔ انہی اخراجات کو پورا کرنے کیلئے اس ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھا کر عوام کو رلایا جا رہا ہے مگر عوام سے وصول کیا گیا پیسہ اسمبلی کے خالی ہالوں پر ضائع ہو رہا ہے۔ اگر ارکان کا اجلاس میں آنے کا ہی موڈ نہیں تو اجلاس بلایا کیوں جاتا ہے؟ شاید اب پہلے تمام ارکان کو فون کر کے پوچھنا پڑے کہ &#39;&#39;ظلِ الٰہی‘‘ کا موڈ کب بنے گا‘ تا کہ اجلاس رکھا جا سکے۔ اگر ایسا ہو جائے تو یقینا 340ارکان 300 الگ الگ تاریخیں دیں گے۔ بہرحال یہ طے ہے کہ جس پارلیمنٹ کو وزیراعظم اور ان کے وزرا سنجیدگی سے نہیں لیں گے اس کے ارکان بھی اسے سنجیدگی سے نہیں لیں گے۔ اب ایک دلچسپ مگر افسوسناک بات سنیں۔ بدھ کے روز سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ میں سینیٹر طلحہ محمود نے انکشاف کیا کہ کوئٹہ میں چھ سو کلو چاندی کسٹمز نے پکڑی جسے بعد میں لاہور منتقل کیا گیا مگر جب لاہور میں اس کا وزن کیا گیا تو وہ صرف دو سو کلو نکلی۔ یعنی کوئٹہ سے لاہور تک کے سفر میں چار سو کلوچاندی غائب ہو گئی۔ جمعرات کو سینیٹ فنانس کمیٹی کے اجلاس میں‘ جس کے طلحہ محمود بھی رکن ہیں‘ انہوں نے ایف بی آر افسران سے دوبارہ سوال کیا تو انہوں نے تصدیق کی کہ چار سو کلو چاندی راستے میں غائب ہو گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ معاملہ وزیراعظم شہباز شریف تک پہنچ چکا ہے اور انہوں نے ایف آئی اے کو تحقیقات کا حکم دیا ہے کہ یہ چاندی کہاں اور کیسے غائب ہوئی۔ ویسے حیرت یہ ہے کہ دو سو کلو چاندی خیریت سے لاہور پہنچ گئی۔ سو آج چار سو کلو چاندی پر فوکس رکھیے‘ جس کی تلاش بقول کمیٹی میں موجود افسران‘ ہمارے وزیراعظم کو بھی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کیا بدلے گا‘ کیا نہیں(رسول بخش رئیس)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-05-15/51949/91510457</link><pubDate>Fri, 15 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-05-15/51949/91510457</guid><description>اس وقت جو صورتِ احوال ہمارے اور دنیا کے سامنے ہے‘ بہت کچھ بدلتا نظر آرہا ہے۔ سب معاشی عذاب میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ مشرق سے لے کر بحرالکاہل کے آخری کنارے تک۔ ہمارے جیسے ممالک تو جنگوں کے بغیر ہی اپنی داخلی سیاسی لڑائیوں میں اُلجھ کر اکثریت کا جینا دشوار کیے رکھتے ہیں۔ یہ اور بات کہ اشرافیہ جہاں بھی ہو اور جس ملک میں بھی‘ وہ ہر صورتحال میں چین سے رہتی ہے۔ اپنی یا دوسروں کی جنگوں سے انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ابھی تک گونا گوں خرابیوں کی زد سے نکل نہیں سکے۔ ایک مسئلہ ختم ہوتا ہے تو دوسرا شروع ہو جاتا ہے۔ فساد‘ جنگیں‘ بحران اور سیاسی کشمکش خود رو جھاڑیوں کی طرح نہیں‘ کچھ انسان اپنے مفادات‘ حرص اور مزید کی تمنا کے مارے معاشروں اور انسانوں کی بربادی کا سامان فراہم کرتے رہتے ہیں۔ اس وقت ہم مشکل ترین صورتحال کا سامنا کررہے ہیں لیکن ہم اکیلے نہیں۔ ترقی پذیر سے لے کر ترقی یافتہ ریاستوں تک سب متاثر نظر آتے ہیں‘ کچھ کم تو کچھ زیادہ۔ کچھ ممالک زیادہ دیر تک معاشی بوجھ اٹھا سکتے ہیں مگر غریب اور پسماندہ پہلے ہی مشکلات کا شکار ہیں اور ان کے حالات مزید بگڑیں گے۔ ایران کے خلاف جنگ اور اس کی آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کی صورتِ مزاحمت نے طاقت اور سلامتی کے بہت بڑے بت غرق کردیے ہیں۔ امریکہ کی حلیف خلیجی ریاستوں کی خود اعتماددی جو کبھی آسمانوں کو چھوتی تھی اب ریت کے پرانے ٹیلوں پر ڈھیر ہو چکی ہے۔ امریکی سلامتی کا حصار جس کی پناہ میں آنے اور رہنے کی وہ بھاری قیمت ادا کرتے رہے ہیں‘ پہلے وہ تیل کی کمائی کی دولت کو ہتھیاروں کی خریداری کی صورت منتقل کرتے رہے ہیں اور اب ایران کے انتقامی حملوں کی زد میں آکر بھاری نقصان اٹھا چکے ہیں۔ جنگ بندی کی صورت میں بھی ان کی اور ان کے خلاف جنگی کارروائیاں مکمل طور پر ختم نہیں ہوئیں۔جنگ نے عدم تحفظ کا احساس پہلی مرتبہ اس شدت سے پیدا کیا ہے کہ آنے والے وقتوں میں جلد یا بدیر اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ ہم آہنگی کا ہنر سیکھنا پڑے گا۔ ان کا خیال تھا کہ جنگ تو اسرائیل اور امریکہ کررہے ہیں اور وہ صرف ایران کے جوابی حملوں کی زد میں آئیں گے۔ ان کا یہ اندازہ نہ کبھی اتنا معصومانہ تھا اور نہ ہی ایسی ممکنہ کارروائی سے وہ غافل رہے تھے۔ دفاعی انتظامات کر رکھے تھے اور امریکی مداخلت پر بھروسا بھی کچھ زیادہ تھا جس کا سحر ایرانیوں نے توڑ دیا۔ دفاعی حصار میں جو دراڑ ڈال دی گئی ہے وہ‘ میری دانست میں‘ کبھی مضبوطی سے بھر نہیں پائے گی۔ اب یہ ریاستیں کمزوری‘ عدم تحفظ اور خوف کے ملے جلے احساس سے شاید کبھی بھی چھٹکارا نہ حاصل کر سکیں۔ ایک طرف ان کا اسرائیل اور امریکہ کی طرف جھکاؤ بڑھنے کا امکان ہے اور دوسری طرف ایران کی عددی برتری‘ جغرافیائی اور قومی طاقت کا زعم مزید گہرا ہونے کا امکان ہے۔ دیکھنا یہ ہو گا کہ جب کبھی جنگ کے شعلے ٹھنڈے پڑیں گے تو کیا وہ جغرافیائی حقیقت پسندی سے کام لیں گے یا دولت کے زعم میں اپنی پرانی ڈگر پر چلتے رہیں گے۔ اماراتی دولت کے خزانوں پر بھی کاری ضرب پڑی ہے۔ سرمایہ دار‘ سیاح اور جائیدادوں کے کاروباری ابھی تو غائب ہو چکے۔ شاید جو دنیا کے کمزور ممالک کی لوٹ مار کا سرمایہ‘ جس کیلئے یہ محفوظ ٹھکانہ رہا ہے‘ وہ کوئی اور جگہ نہ پاکر کچھ دیر ٹکا رہے مگر سنا ہے کہ ان کی نیندیں بھی اڑ چکی ہیں کہ کہیں سب کچھ نہ گنوا بیٹھیں۔ ایک بات تو یقینی نظرآرہی ہے‘ وہ یہ کہ اس علاقے کی سلامتی‘ استحکام اور امن و امان کی فضا پر جنگ کے دھوئیں اور راکھ کے اثرات جلد نہیں مٹیں گے۔اس جنگ سے پہلے ہی دنیا کے تقریباً سب ممالک معدنی تیل کی معیشت سے نکلنے کی کوشش میں تھے۔ اب یہ رجحان اپنی مقبولیت کی انتہا کو چھو رہا ہے۔ ہمارے ملک میں تو عام لوگ اپنی جیب اور مہنگی بجلی کے جبر سے شمسی توانائی کا انقلاب لا چکے ہیں۔ آنے والے وقتوں میں شاید اکثریت کو میٹروں‘ تاروں اور سرکاری محکموں کی ضرورت ہی نہ رہے۔ ان کے خلاف بغاوت کے آثار آپ دیہات سے لے کر شہروں تک دیکھ سکتے ہیں۔ دنیا کے اکثر ممالک میں‘ چین جن میں سرفہرست ہے‘ گرین انرجی کا انقلاب آچکا ہے اور تیزی سے پھیلتا جارہا ہے۔ اب تیل اور گیس پر عالمی انحصار ختم تو نہیں کم ضرور ہوتا چلا جائے گا۔ جنگ کے اثرات میں سے نمایاں تبدیلی متبادل انرجی کے وسائل کی ترقی اب قیاس نہیں‘ ایک حقیقت کا روپ دھار چکی ہے۔ عام طور پر ہم شمسی توانائی کی بے پایاں دولت سے واقف نہیں لیکن دیگر ممالک میں ہوائی چکیاں‘ زمینی حرارت کا گھروں کو گرم رکھنے میں استعمال اور انرجی کے کم سے کم استعمال اور بچت کے طریقے ہیں‘ جن سے نہ صرف تیل پر انحصار کم ہوگا بلکہ ماحولیاتی تبدیلیوں کو بھی روک کر مناسب اور فطری سطح پر لانا ممکن ہو سکے گا۔ اپنی حیرانی میں تو کبھی کمی نہیں آتی کہ چھوٹی سی تبدیلیوں کو ہم نے آگے چل کر بہت بڑے رجحان میںڈھلتے دیکھا ہے۔ اپنے ہی علاقے میں اپنے دوست کی پچاس سی سی موٹرسائیکل بلکہ سائیکلی دیکھی تھی۔ اب ہر گھر میں کم از کم ایک موجود ہے۔ اس مرتبہ چند برقی سکوٹریاں بھی ٹوٹی پھوٹی سڑکوں پر دوڑتی دیکھیں تو معیشت کا اصول اور انسانوں کے بارے میں بنیادی کلیہ یاد آیا کہ ہم سب فطری طور پر افادیت پسند ہیں۔ اب لوگ فائدہ اسی میں دیکھ رہے ہیں کہ اپنے قدرتی وسائل سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کریں۔ اگر عوامی شعور اور عوامی خدمت کا جذبہ ہمارے حکمرانوں کے ذہنوں میں سما سکتا تو ایسے انقلاب بہت پہلے آ چکے ہوتے۔ ابھی تک اندازے ہیں لیکن صورتحال واضح نہیں کہ خلیج فارس اور مشرقِ وسطیٰ کے خطے میں نئی تزویراتی صف بندی ہو گی یا سب پرانی تنخواہ پر کام کریں گے۔ ہمارے ملک میں خوش فہمیوں‘ جذباتیت اور نعرہ بازی کا رجحان سیاست اور معاشرت میں دوسروں کی نسبت بہت زیادہ ہے۔ کبھی تو یہ خطرے کی حد سے بھی اوپر نظر آتا ہے۔ ہر جنگ اور عالمی تبدیلیوں کے پیشِ نظر ہمارے کچھ اہلِ دانش اپنی طاقت کی مبالغہ آرائی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اپنی معیشت کی زبوں حالی‘ تجارتی خسارے اور صنعتی جمود کی طرف کم ہی نظر جاتی ہے کہ طاقت کی ظاہری علامت کی بنیاد ٹھوس اور پائیدار صنعتی معیشت پر ہونا لازمی ہے۔ خیر یہ باتیں ہو رہی ہیں کہ نیا علاقائی تزویراتی اتحاد چند کلیدی ممالک کا ممکن ہے۔ یہ ہو یا نہ ہو‘ عصرِ حاضر کی معیشت میں عسکری اتحادوں کی نہیں بلکہ تجارتی‘ صنعتی اور پیداواری صلاحیتوں میں اضافے اور نئی ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری اور قومی وسائل کو ترقی دینے کی اہمیت ہے۔گیم چینجر سائنس‘ ٹیکنالوجی‘ زرعی تحقیق اور مارکیٹ سے مربوط جدید تعلیمی نظام ہیں۔ اگر ہم ایران کے خلاف جنگ کے اثرات سے نمٹنے میں کوئی بنیادی تبدیلی لا سکتے ہیں تو ہمیں ان شعبوں میں پانسہ پلٹنے کی حکمت عملی بنانا پڑے گی۔ سیانوں کی باتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ہر بحران‘ ہر مشکل صورتحال اور ہر چیلنج اپنے اندر اصلاح اور تدبیر کی روح رکھتا ہے۔ وژنری قیادت انہیں موقع سمجھ کر انقلابی تبدیلیوں کی راہ اپناتی ہے۔ دیگر اندھیروں میں رہ کر کبھی روشنی کی طرف نہیں آسکتے۔ بہت سے ملک دنیا میں بڑی تبدیلیوں کی طرف جائیں گے‘ ہمارے لیے بھی سنہری موقع ہے مگر کیا کریں‘ ہماری امیدوں کے خواب ہر دور میں چکنا چور ہوئے ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_33241568.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>زیرو ریفارم کی گورننس(بابر اعوان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/babar-awan/2026-05-15/51950/38123597</link><pubDate>Fri, 15 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/babar-awan/2026-05-15/51950/38123597</guid><description>عہدِ جدید کے ہائبرڈ حکمرانوں کا آرٹ آف گورننس دیکھ کر پرانے زمانے کے ڈرامے کا ایک کردار یاد آ رہا ہے۔ ایک ایسا فُقرا کردار جس کے ہاتھ میں چونی کا سکہ تھا‘ وہ محلے میں نکلتا اور جہاں چند لوگ جمع دیکھے وہاں کھڑا ہو جاتا تھا۔ پہلے کھنکھارتا پھر چونی کو ہوا میں اُچھالتا۔ بڑی حقارت سے محلے والوں کی طرف دیکھتا پھر چونی کو جھپٹ کر پکڑ لیتا اور ڈائیلاگ یہ بولتا کہ &#39;&#39;پیسہ بڑا ہے‘‘۔ اس وقت فارم 47 سے راج دربار میں آنے والے ملک کے 25کروڑ لوگوں کے سامنے کہتے نہیں تھکتے جب سے ہم واپس لوٹے ہیں پھر سے ترقی واپس آ گئی اور پاکستان کے پاس پیسہ بڑا ہے۔ سرکاری اداروں کے اعداد و شمار بھی کہتے ہیں کہ پیسہ بڑا ہے۔ لیکن کوئی یہ بتانے کی اخلاقی جرأت نہیں رکھتا کہ یہ سارے کا سارا بے پناہ و بے تحاشا پیسہ قرضوں کا ہے۔ ایسے قرضے جنہیں قوم نے اپنی ہڈیاں نچوڑ کر واپس بھی کرنا ہے۔آپ ٹیسٹ کیس کے طور پر کسی شعبۂ زندگی کو ہاتھ لگائیں‘ کہیں بھی کوئی بیرونی سرمایہ کاری نہیں آ رہی۔ جس کے نتیجے میں بے روزگاری ہے اور کنزیومر بدحال ہے۔ جب لوگوں کی قوتِ خرید ہی مر گئی ہو تب سمجھیں تاجر بے حال ہے۔ زراعت کی دنیا میں کسان کے لیے بجلی‘ ڈیزل‘ مشینری‘ لیبر ٹاسک اور باقی اخراجات میں سینکڑوں فیصد اضافہ ہوا جس سے آمدن محال ہے لہٰذا کسان کنگال ہے۔ دنیا بھر میں صنعتی انقلاب کے بعد سے ہر جگہ زندہ ریاستیں انڈسٹری کو اپنی رگوں میں دوڑنے والا تازہ خون سمجھ کر بچاتی ہیں۔ اپنے ہاں حکمرانوں کی توجہ صرف تین طرح کی انڈسٹری پر فوکس ہے۔ پہلی فلم انڈسٹری‘ دوسری تشہیر انڈسٹری اور تیسری ذاتی کاروبار انڈسٹری۔ پرائیویٹ سیکٹر کا ہر شعبہ نڈھال ہے ۔ ایسے میں جب معیشت کا پہیہ گڑھے میں اٹک چکا ہو بڑا پیسہ آئے گا کہاں سے؟زیرو ریفارم والی ہائبرڈ سرکار کے دیہاڑی لگانے اور پیسہ بنانے کی سادہ ترین مثال پٹرول کے ایک لیٹر سے اخذ کی جا سکتی ہے۔ ہمارے سا منے اس وقت نو مئی 2026ء کے روز کے پٹرول بل کی تفصیل پڑی ہے جس کے آغاز میں پٹرول کے ایک یونٹ یعنی ایک لیٹر کی قیمت 216.68روپے درج ہے‘ جس کے بعد پہلا ٹیکس پٹرولیم لیوی کے نام سے 117.41 روپے کا لگایا گیا ہے۔ دوسرا ٹیکس کسٹم ڈیوٹی کا کہہ کر 22.7 روپے کا تھوپا گیا ہے۔ اگلا ایک نا معلوم پریمیم ٹیکس 29 روپے فی لیٹر نافذ ہے۔ آئلز کمپنیز کا پرافٹ 8.64 روپے فی لیٹرچارج ہوا۔ کرنسی ایکسچینج ایڈجسٹمنٹ2.69 روپے فی لیٹر۔ کلائمیٹ سپورٹ لیوی2.50 روپے فی لیٹر۔ ایک عدد مزید حیران کن ٹیکس کا نام فریٹ مارجن رکھا گیا جو پاکستانی عوام کی جیب سے 7.25 روپے فی لیٹر مزید نکلوا لیتا ہے ۔ عین جمہوری ملک میں ایک لیٹر پٹرول کا بل ابھی جاری ہے‘ جس میں ڈسٹری بیوشن مارجن 7.87 روپے اینٹھا جا رہا ہے۔آٹھ مختلف قسم کے ان لیویز اور ٹیکسز کو جمع کریں تو 216 روپے لیٹر والے پٹرول پر 198 روپے فی لیٹر ٹیکس لگایا جا رہا ہے جس کی وجہ سے یہ ایشیا کا مہنگا ترین پٹرول پسماندہ ملکوں میں سے ایک کے بدحال ترین عوام کو 416.78 روپے میں بیچا جا رہا ہے۔ ایک وزیر نے تو ٹی وی کیمرے پر صاف کہہ دیا &#39;&#39;ہماری حکومت سے ٹیکس جمع نہیں ہو پا رہا‘ ایسے میں ہم پٹرول پر ٹیکس نہ لگائیں تو اور کیا کریں؟‘‘ اس بے بس نظام میں جو تاریخ لکھی جا رہی ہے اس میں انرجی سیکٹر کا کردار تباہ کن ہے۔ ملاحظہ کریں!لڑکھڑاتی قوم پر پٹرول بم کا تسلسل: بے روزگاری کی ماری ہوئی لڑکھڑاتی قوم اور لُولی لنگڑی معیشت نے کس طرح قوم کو لوٹا‘ اس کا ایک ثبوت سرکاری اعداد و شمار سے سامنے آیا جن کے مطابق ملک کی صرف دس بجلی کمپنیوں کی حد تک بجلی کے نام پر‘ باقی کھانچے اس میں شامل نہیں‘ مالی سال 2022-23ء سے شروع کر کے مالی سال 2024-25ء کی کلوزنگ پر صارفین سے 1900 ارب روپے سے زائد بھاری ٹیکس کی وصولیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ صرف گزشتہ سال بجلی استعمال کرنے والے صارفین سے 700 ارب روپے سے زیادہ ٹیکس وصول کیا گیا۔زیرِ زمین پانی پر ٹیکس: ہم اس خطے کے باسی ہیں جہاں مشرق اور مغرب دونوں میں دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے چار ملکوں میں سے دو ملک چین اور بھارت ہمارے بارڈر پر ہیں۔ بھارت میں ٹیکس کے مقدمات کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے۔ چین میں Alternate Dispute Resolution کا قانون رائج ہے۔ عدالتیں کسی ٹیکس پیئر سے ہیرا پھیری یا دو نمبری پر انگریزی محاورے کے مطابق دم پر کھڑی ہو جاتی ہیں۔ امریکی ڈالر سو روپے سے نیچے لانے کے دعوے داروں نے ملک کو ٹیکسستان بنا چھوڑا ہے۔ سورج ٹیکس‘ گوبر ٹیکس کے بعد ملک کے سب سے بڑے صوبے میں زیرِ زمین پانی ٹیکس کی تفصیل بھی آ گئی۔ جس گھر میں بورنگ ہو گی‘ واٹر پمپ ہو گا وہ ٹیکس دے گا۔ سرکاری نلکے پر دو ٹیکس پہلے سے موجود ہیں۔ریفارمز پر سرکاری دروغ گوئی: ٹیکس نظام کو ہائبرڈ نظام نے سنجیدہ ادارے کے بجائے نوٹنکی بنا دیا ہے۔ کبھی ٹیکس جمع کرنے والے اہلکاروں کے خلاف بڑھکیں‘ کبھی آئی ٹی کے ذریعے ٹیکس نظام کو ٹرانسپیرنٹ اور منصفانہ بنانے کی اداکاری۔ کبھی ٹیکس کنسلٹنٹ کمپنیاں لا کر زبانی کلامی ریفارمز کے دعوے۔ مگر ہر ایسے شغلیہ ریفارم پروگرام کے بعد پتا چلتا ہے کہ نہ تو ملک میں ٹیکس نیٹ بڑھایا جا سکا ہے‘ نہ ہی ٹیکس سسٹم میں ریفارمز ہوئی ہیں۔ بڑے ٹیکس چور ٹیکس نہ دیں‘ اپنے بھاری خزانے‘ جائیدادیں دنیا کے دوسرے ملکوں میں بنائیں مگر وہاں جا کر اوورسیز پاکستانیوں کو کہیں کہ آپ پیسے پاکستان لے آئیں۔ ایسے نظام اور اس کے اہلکاروں پر کون اعتبار کرے گا۔ ابھی تک &#39;&#39;قرض اتارو ملک سنوارو‘‘ والے زخم بھرے نہیں۔انگلش لاء کی اصطلاح ہے Tainted hands۔ جن ہاتھوں پر کالک لگی ہو کوئی سفید پوش اسے کیوں گلے لگائے گا ؟ اور کون نوجوان اسے گال تھپتھپانے دے گا۔راج دربار کی مناسبت سے یہ دو شعر موزوں ہوئے۔بڈھوں کے ہاتھ آئے جوانوں کے محکمےسارے ہی کاسہ لیس ترقی پسند ہیںجتنے قصیدہ گو تھے‘ ہوئے اب وظیفہ خورطُوطی جو بولتے تھے سب نظر بند ہیں</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_42786259.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بلدیاتی نظام اور سیاسی ترجیحات(کنور دلشاد)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/kunwar-mohammad-dilshad/2026-05-15/51951/16267578</link><pubDate>Fri, 15 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/kunwar-mohammad-dilshad/2026-05-15/51951/16267578</guid><description>سیاست میں عوامی رائے سمندر کی لہروں کی مانند ہوتی ہے جو کب اور کس سمت رخ بدل لے‘ اس کا اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے۔ گزشتہ ہفتے برطانیہ کے بلدیاتی انتخابات میں مطلوبہ نشستیں نہ جیت پانے اور پھر سکاٹ لینڈ کے انتخابات میں شکست نے لیبر پارٹی کو شدید سیاسی دھچکا پہنچایا ہے۔ تقریباً ڈیڑھ سال قبل جب لیبر پارٹی نے سکاٹ لینڈ کی 57 میں سے 37 نشستیں جیت کر سب کو حیران کر دیا تھا تو یوں محسوس ہونے لگا تھا کہ سکاٹش نیشنل پارٹی کی سیاست قصۂ پارینہ بننے والی ہے۔ برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر کی قیادت میں لیبر پارٹی نے لندن کا اقتدار سنبھالا اور سکاٹ لینڈ میں بھی اس کے امیدواروں کے چراغ روشن ہو گئے۔ لیکن اب بلدیاتی انتخابات میں بھاری نقصان کے بعد برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر پر استعفے کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔ لیبر پارٹی 1400 سے زائد کونسل نشستیں ہار گئی ہے‘ ویلز اور سکاٹ لینڈ میں بھی اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ گرین پارٹی کو نمایاں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ برطانوی اخبار دی گارجین کے مطابق بلدیاتی اور علاقائی انتخابات میں پارٹی کی بڑی شکست کے بعد وزیراعظم سٹارمر شدید سیاسی دباؤ کا شکار ہیں اور ان کے استعفے کی توقع کی جا رہی ہے۔پاکستان کی بات کی جائے تو یہاں بلدیاتی ادارے زیادہ تر غیرجمہوری ادوار ہی میں فعال اور کامیاب رہے اور انہی ادوار میں ان کے انتخابات کا تسلسل بھی برقرار رکھا گیا۔ صدر ایوب خان نے امریکی انتخابی نظام کی پیروی کرتے ہوئے 1962ء میں بنیادی جمہوریتوں کا طریقۂ کار اختیار کیا۔ متحدہ پاکستان میں تقریباً 80 ہزار بنیادی جمہوریت ( بی ڈی) کے ارکان منتخب ہوئے مگر بعد ازاں اس ادارے کو الیکٹورل کالج کا درجہ دے کر سیاسی آلودگی کی دلدل میں دھکیل دیا گیا جس کے باعث یہ نظام سیاسی نفرت کا شکار ہو گیا۔ اگر صدر ایوب خان اس نظام کو ترقیاتی منصوبوں‘ یونین کونسل سے لے کر ڈویژن اور ڈسٹرکٹ کونسل کی سطح تک مضبوط کرتے اور انہیں انتظامی و مالیاتی خودمختاری فراہم کر دیتے تو یہ نظام ایک مثالی شکل اختیار کر سکتا تھا۔ اس نظام کی افادیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انڈونیشیا کے صدر سکارنو نے 1963ء میں پاکستان کے دورے کے دوران بلدیاتی اداروں کے نظام کے بارے میں صدر ایوب خان سے باقاعدہ بریفنگ لی۔ ایوب خان کی معاشی ٹیم‘ جس میں وزیرخزانہ محمد شعیب‘ پلاننگ کمیشن کے غلام فاروق‘ اور بعد ازاں وزیرخارجہ بننے والے ذوالفقار علی بھٹو شامل تھے‘ نے صدر سکارنو کو اس حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی تھی۔ صدر سکارنو اس نظام کا بلیو پرنٹ اپنے ساتھ انڈونیشیا لے کر گئے اور وہاں یہ نظام نافذ کیا۔ جولائی 2009ء میں جب مجھے انڈونیشیا کے صدارتی انتخابات کا جائزہ لینے کیلئے حکومتِ انڈونیشیا کی دعوت پر جکارتہ جانے کا موقع ملا تو میں نے وہاں کے انتخابی نظام کا مشاہدہ کیا۔ جب انڈونیشیا کے وزیرخارجہ نے بتایا کہ ان کے ملک کے بلدیاتی نظام کا بنیادی خاکہ صدر سکارنو پاکستان سے لے کر آئے تھے اور گزشتہ 55 برس سے یہ نظام کامیابی کے ساتھ نافذ العمل ہے‘ تو مجھے یہ جان کر سخت حیرت ہوئی ۔اس کے برعکس پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو نے اقتدار میں آنے کے بعد بلدیاتی ادارے ہی ختم کر دیے۔ بعدازاں صدر پرویز مشرف نے اپنے دور میں جنرل تنویر حسین نقوی کی معاونت سے لوکل گورنمنٹ سسٹم نافذ کیا۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سیکرٹری کی حیثیت سے میں نے 2001ء اور 2006ء میں بلدیاتی انتخابات کرائے‘ جن میں ملک بھر سے ڈیڑھ لاکھ سے زائد ارکان منتخب ہوئے۔ اس دور میں بیورو کریسی کے کئی اختیارات ناظمین کو منتقل کر دیے گئے تھے‘ تاہم جب الیکشن کمیشن آف پاکستان نے دسمبر 2008ء میں مارچ 2009ء کے بلدیاتی انتخابات کا شیڈول جاری کیا تو اُس وقت کی حکومت کے دباؤ پر یہ شیڈول واپس لینا پڑا۔ بعد ازاں آئین میں ترمیم کر کے بلدیاتی انتخابات صوبائی حکومتوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیے گئے اور آئین کے آرٹیکل 140-A کے تحت لوکل گورنمنٹ انتخابات کے اختیارات صوبوں کو منتقل کر دیے گئے۔آج وفاق اور پنجاب میں بلدیاتی انتخابات التوا کا شکار ہیں۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے وفاقی حکومت اور حکومتِ پنجاب سے انتخابی قوانین کے حوالے سے کئی مرتبہ رجوع کیا لیکن وفاق اور پنجاب کی عدم دلچسپی کے باعث چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کو یہ کہنا پڑا کہ حکومت بلدیاتی انتخابات کرانے میں سنجیدہ نہیں۔ پنجاب حکومت نے لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025ء نافذ کرنے کی بھی کوشش کی مگر متنازع شقوں کے باعث اسے اعلیٰ عدالتوں میں چیلنج کر دیا گیا۔ اب اطلاعات ہیں کہ 7 کلب روڈ لاہور میں بلدیاتی قوانین میں ترامیم کیلئے اجلاس ہو رہے ہیں۔ حکومتِ پنجاب میں لوکل گورنمنٹ انتخابات کرانے کیلئے ماہرین موجود ہیں مگر نیت اور سیاسی ارادے کے فقدان کے باعث جمہوری انداز میں قانون سازی نہیں ہو رہی۔دوسری جانب یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ صدر زرداری خرابیٔ صحت کے باعث مستعفی ہو سکتے ہیں اور شنید ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کووہ اپنے جانشین کے طور پر آگے لانا چاہتے ہیں‘ جو موجودہ حالات میں ممکن نظر نہیں آتا۔ ایران امریکہ کشمکش‘ خلیجی ریاستوں کے غیر یقینی مستقبل‘ افغانستان کے ذریعے پاکستان میں بھارتی مداخلت اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اپنی حکومتی ساکھ بچانے کی حکمتِ عملی کے حالات میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی شناخت بن کر ابھرے ہیں۔ صدر ٹرمپ کے علاوہ ایران‘ ترکیہ‘ مصر اور دیگر مسلم ممالک کی قیادت بھی ان کی جانب دیکھ رہی ہے جبکہ روس اور چین بھی ان کی دوراندیشی اور وژن سے متاثر دکھائی دیتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں صدرِ پاکستان کے اختیارات تقسیم کرنے کی تجاویز زیر بحث آ سکتی ہیں۔ اس ضمن میں آئینی ترمیم سے قبل وفاقی آئینی عدالت سے رائے لینے میں کوئی قباحت نہیں ہونی چاہیے۔ 8 جون سے قبل 28ویں آئینی ترمیم کے ذریعے این ایف سی ایوارڈ کی ازسرِنو تشکیل پر بھی غور ہو رہا ہے۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو صوبوں کے حوالے کرنے اور صحت و تعلیم جیسے اہم شعبے دوبارہ وفاق کے سپرد کرنے کی تجاویز زیرِ غور ہیں۔ عالمی مالیاتی اداروں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ صحت اور تعلیم کیلئے مختص اربوں روپے کے فنڈز صوبائی گورننس پر سوالیہ نشان ہیں۔ بین الاقوامی فنڈنگ ایجنسیاں صوبائی کارکردگی سے مطمئن نہیں اور فنڈز کے استعمال میں کرپشن کی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔ پنجاب میں سرکاری محکموں کے متبادل درجنوں کمپنیاں قائم کر دی گئی ہیں اور حکومت کے پسندیدہ بیوروکریٹس کو اعلیٰ عہدے دیے جا رہے ہیں جن کے ماہانہ تنخواہ ملینز میں ہے۔ پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری نہ ہونے کی ایک وجہ یہ بھی بتائی جا رہی ہے کہ حکومتی کمیٹیوں کے اخراجات اور مراعات کا بوجھ بھی سرمایہ کاروں پر ڈالا جاتا ہے۔ ملک میں کرپشن اور بیڈ گورننس کی جو صورتحال پیدا ہوئی ہے‘ اس کے بارے میں مؤقف اختیار کیا جا رہا ہے کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبوں کو ملنے والی وسیع مالیاتی اور انتظامی خودمختاری نے ترقیاتی منصوبوں میں رکاوٹیں پیدا کی ہیں۔28ویں آئینی ترمیم کے ذریعے گڈ گورننس کے حوالے سے مزید تبدیلیوں پر غور کیا جا رہا ہے۔ نیب کو مزید بااختیار بنانے‘ لوکل گورنمنٹ اداروں کو وفاق کے ماتحت کرنے اور آئین کے آرٹیکل 140-A میں ترمیم کی تجاویز بھی زیرِ غور ہیں۔ اس وقت سیاسی نظام اپنی افادیت کھو چکا۔ صوبائی حکومتوں کو احتساب کے دائرے میں لا کر ازسرِنو تشکیل دیا جانا چاہیے تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔ اس مقصد کیلئے ایک ایسا قومی روڈمیپ ترتیب دینا ہوگا جس کے تحت غریب اور پسماندہ طبقے کی حالت جنگی بنیادوں پر بہتر بنائی جائے۔ مضبوط دفاع کے ساتھ ایسی مستحکم معیشت ناگزیر ہے جس کے ثمرات پاکستان کے غریب ترین طبقے تک پہنچیں اور وہ خود کو معاشی و سماجی طور پر محفوظ محسوس کریں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_15667905.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>امریکی صدر کادورۂ چین(اسد طاہر جپہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/asad-tahir-jappa-/2026-05-15/51952/92770314</link><pubDate>Fri, 15 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/asad-tahir-jappa-/2026-05-15/51952/92770314</guid><description>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے تین روزہ دورے پر بیجنگ میں موجود ہیں اور یہ دورہ دو سپر پاورز کے سربراہان کی ملاقات اور اس میں ہونے والی گفتگو کے حوالے سے پوری دنیا کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ تقریباً نو سال بعد کسی بھی امریکی صدر کا یہ چین کا پہلا دورہ ہے۔ اس سے قبل بھی صدر ٹرمپ ہی 2017ء میں اپنے پہلے دورِ صدارت میں چین گئے تھے‘ بعد ازاں صدر جوبائیڈن نے اپنی مدتِ صدارت میں یہ روایت برقرار نہیں رکھی۔ صدر ٹرمپ کو اس دورے کی باضابطہ دعوت چینی صدر شی جن پنگ نے دی تھی۔ اصل میں یہ دورہ مارچ؍اپریل میں ہونا تھا لیکن ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے باعث یہ التوا کا شکار ہو گیا۔ امریکی وفد میں وزیر خارجہ مارکو روبیو‘ وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ‘ تجارتی نمائندے جیمیسن گرِیر کے علاوہ ایپل کمپنی کے ٹم کک‘ ٹیسلا کے ایلون مسک‘ بوئنگ اور Goldman Sachs کے سی ای اوز بھی شامل ہیں۔ علاوہ ازیں صدر ٹرمپ کے بیٹے ایرک اور بہو لارا بھی ذاتی حیثیت میں ان کے وفد میں شامل ہیں۔ چین اور امریکہ کو اس وقت کئی نازک مسائل کا سامنا ہے مگر اس دورے میں تین اہم موضوعات زیرِ بحث آئیں گے اور یہی اس دورے کا محور ہیں۔ اولین ترجیح ایران اور مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی ہے۔ امریکہ چاہتا ہے کہ چین ایران پر دباؤ ڈالے تاکہ آبنائے ہرمز کھلے اور جنگ ختم ہو۔ یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ چین ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے اور اس امر میں بھی کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ چین نے ایران کو جنگ بندی پر آمادہ کرنے میں بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق صدر ٹرمپ چین کی جانب سے ایران اور روس کو اشیا کی فراہمی کا معاملہ بھی اٹھائیں گے۔ اس کے علاوہ تجارتی جنگ اور ٹیرف کے معاملات بھی زیر بحث آئیں گے۔ چین اور امریکہ کے مابین 2025ء میں تقریباً 414.7 ارب ڈالر کی تجارت ہوئی۔ یاد رہے کہ ٹرمپ نے چین پر 20فیصد ٹیرف لگا رکھے ہیں جس کی وجہ فینٹینائل (ایک قسم کی ڈرگ)کی سمگلنگ روکنے میں ناکامی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں اور مبصرین کے مطابق دونوں فریق تجارتی جنگ بندی میں ایک سالہ توسیع پر غور کر رہے ہیں۔ سب سے زیادہ اہم اور تیسرا نمایاں موضوع تائیوان کا مسئلہ ہے۔ تائیوان چین کیلئے &#39;&#39;ریڈ لائن‘‘ ہے۔ صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ تائیوان کا واپس چین میں شامل ہونا دوسری عالمی جنگ کے بعد کے بین الاقوامی نظام کا حصہ ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہنا تھا کہ وہ تائیوان پر کم بات کریں گے جبکہ ان کی ترجیحات میں توانائی اور ایران پر گفتگو سر فہرست رہے گی۔اب ذرا اس امر کا جائزہ لیتے ہیں کہ کیا امریکہ کے کہنے پر چین ایران کو دباؤ میں لا کر آبنائے ہرمز کھلوا سکتا ہے؟ یہ درست ہے کہ چین کے پاس ایران پر دباؤ بڑھانے کے کچھ عملی ذرائع موجود ہیں لیکن یکطرفہ اور مکمل دباؤ ڈالنا اس کیلئے آسان ہرگز نہیں۔ سب سے پہلا ہتھیار معاشی ہے۔ چین ایران کے خام تیل کی برآمدات کا 80سے 90فیصد خریدتا ہے۔ چین روزانہ تقریباً 1.2سے 1.4 ملین بیرل ایرانی تیل لے رہا ہے‘ زیادہ تر رعایتی قیمت پر۔ لہٰذا اگر چین یہ خریداری روک دے یا کم کر دے تو ایران کی معیشت فوری دباؤ میں آ جائے گی کیونکہ ایران پر پہلے ہی عالمی پابندیاں ہیں۔ دوسرا سفارتی محاذ پر چین ہمیشہ ایران کے مفادات کا تحفظ کرتا آیا ہے۔ چین اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا مستقل رکن ہے اور ایران کا سب سے بڑا سیاسی حامی رہا ہے۔ 2023ء میں چین نے ہی سعودی عرب اور ایران کے تعلقات کی بحالی میں ثالثی کی تھی اور اس کی بات تہران میں وزن رکھتی ہے۔ تیسرا پہلو سرمایہ کاری اور انفراسٹرکچر کا ہے جس میں بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے تحت چین نے ایران میں بندرگاہوں‘ ریلوے اور توانائی کے منصوبوں میں اربوں ڈالر لگانے کا وعدہ کر رکھا ہے۔ ان منصوبوں کو روکنا یا سست کرنا بھی دباؤ کی ایک شکل ہو سکتی ہے۔ لیکن چین یکطرفہ اقدامات کیوں نہیں چاہے گا؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ آبنائے ہرمز کا کھلنا خود چین کے اپنے مفاد میں ہے کیونکہ اس کا 40فیصد سے زائد تیل وہیں سے گزرتا ہے۔ لیکن وہ ایران کو مکمل ناراض نہیں کرنا چاہے گا کیونکہ ایران روس اور چین پر مشتمل مغرب مخالف بلاک کا کلیدی حصہ ہے۔ یہ امکان بھی رد نہیں کیا جا سکتا کہ اگر چین بہت زیادہ دباؤ ڈالے تو ایران روس اور بھارت کی طرف جھک جائے۔ اگر بغور دیکھا جائے تو چین روایتی طور پر دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں براہِ راست مداخلت سے گریز کرتا ہے۔ وہ سفارتی اور معاشی ترغیبات کے ذریعے دباؤ کا محدود استعمال کرتا ہے مگر کھلی دھمکی سے نہیں۔ دوسری جانب ایران کے پاس بھی متعدد آپشنز موجود ہیں۔ ایران جانتا ہے کہ چین کو ایران کا سستا تیل چاہیے۔ اس لیے وہ مکمل طور پر جھکنے کے بجائے سودے بازی کرتا ہے۔ 2025ء کی جنگ میں چین ہی نے ایران کو جنگ بندی پر آمادہ کیا تھا لیکن یہ تب ممکن ہوا تھا جب ایران کو محسوس ہوا کہ جنگ جاری رکھنا اس کیلئے زیادہ نقصان دہ ثابت ہو گا۔ حالیہ دورے سے قبل بھی امریکی صدر ٹرمپ نے چین سے کہا کہ وہ ایران پر دباؤ ڈالے تاکہ آبنائے ہرمز کھلے اور جنگ ختم ہو۔ چینی میڈیا نے بھی تسلیم کیا ہے کہ چین نے ایران کو جنگ بندی پر راضی کرنے میں کردار ادا کیا لیکن یہ دباؤ یکطرفہ نہیں تھا۔ چین نے یہ کام اس لیے کیا کہ آبنائے ہرمز کی بندش سے چین کو تیل کی ترسیل میں خلل آ رہا تھا۔ علاوہ ازیں امریکہ نے اشارہ دیا تھا کہ اگر چین تعاون کرے تو ٹیرف اور تجارتی سہولتوں میں نرمی ہو سکتی ہے۔ چین ایران پر معاشی اور سفارتی دباؤ بڑھا سکتا ہے‘ اور ماضی میں بڑھایا بھی‘ لیکن یہ دباؤ یکطرفہ نہیں تھا کیونکہ چین ایران کو اپنے قریب رکھنا چاہتا ہے۔ عام طور پر سفارتی اور تجارتی تعاون مشروط ہوتا ہے اور چین اس کے بدلے امریکہ سے تجارتی اور سفارتی مراعات چاہتا ہے۔ یہ دباؤ ہمیشہ غیر اعلانیہ ہوتا ہے‘ چین کبھی اعلانیہ طور پر یہ سب نہیں کہے گا۔صدر ٹرمپ کے حالیہ دورے میں دونوں ممالک میں ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کے فروغ سے متعلق امور بھی زیر بحث آئیں گے۔ اسی ضمن میں ایرو سپیس‘ زراعت‘ توانائی‘ مصنوعی ذہانت اور فینٹینائل کنٹرول پر تعاون کے معاہدے متوقع ہیں۔ چین امریکہ میں مینوفیکچرنگ فنڈ قائم کرنے پر بھی غور کر رہا ہے۔ بلاشبہ عالمی سیاست‘ صنعت و تجارت اور معیشت کیلئے چین اور امریکہ دنیا کی دو سب سے بڑی معیشتیں اور منڈیاں ہیں۔ ان کے تعلقات کا رخ پوری دنیا کی معیشت‘ سپلائی چین اور سلامتی پر اثر انداز ہوتا ہے۔ صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے سربراہان کی سفارتکاری چین امریکہ باہمی تعلقات کو سٹرٹیجک رہنمائی دینے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وائٹ ہاؤس کی جانب سے اسے علامتی اہمیت کا ایک بڑا دورہ قرار دیا گیا ہے۔ نو سال بعد کسی امریکی صدر کا چین جانا اس بات کا اشارہ ہے کہ فریقین اپنے سفارتی روابط اور تجارتی تعاون میں استحکام کے حامی ہیں۔ یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ اس دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان کوئی بریک تھرو متوقع نہیں لیکن ایرو سپیس‘ زراعت اور توانائی میں چھوٹے معاہدے ہو سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ چین امریکہ تجارتی اور سرمایہ کاری بورڈ کے قیام پر بھی کام ہو رہا ہے۔ اس دورے کے ممکنہ نتائج کیا ہو سکتے ہیں؟ یہ دورہ علامتی اہمیت اور سودے بازی کا امتزاج ہے۔ مگر صدر ٹرمپ خود کہتے ہیں کہ وہ امریکی عوام کیلئے اچھی ڈیلز لے کر آئیں گے۔ اس تناظر میں حالیہ دورے کی کامیابی کو جانچنے کے یہ تین پیمانے ہو سکتے ہیں۔ اول‘ کیا ایران پر چین کا دباؤ بڑھتا ہے؟ دوم‘ کیا تجارتی جنگ بندی میں توسیع ہوتی ہے؟ سوم‘ کیا تائیوان اور ٹیکنالوجی پر تصادم کم ہوتا ہے؟ دونوں رہنمائوںکا ماننا ہے کہ چین اور امریکہ کو &#39; شراکت دار اور دوست‘ ہونا چاہیے۔ لیکن حقیقتاً دونوں ممالک کے مابین اعتماد کا فقدان ہے اور یہ دورہ اسی اعتماد کو جزوی بحال کرنے کی ایک کوشش ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_34710710.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>چاند، سمندر اور انسانی نفس ‘ ایک حیران کن راز(امیر حمزہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ameer-hamza/2026-05-15/51953/19985085</link><pubDate>Fri, 15 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ameer-hamza/2026-05-15/51953/19985085</guid><description>انسان جب رات کے سناٹوں میں آسمان کی طرف دیکھتا ہے‘ چاند کو اپنی خاموش روشنی بکھیرتے ہوئے پاتا ہے‘ سمندر کی لہروں کو بیتابی سے اٹھتے اور گرتے ہوئے دیکھتا ہے تو اُسے محسوس ہوتا ہے کہ یہ کائنات محض ایک حادثہ نہیں بلکہ ایک عظیم حکمت کا زندہ مظہر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اہلِ زمین کے لیے رات اور دن کا دورانیہ چوبیس گھنٹے مقرر فرمایا ہے۔ زمین پر سب سے بڑی مخلوق سمندر ہے‘ اور اللہ تعالیٰ نے چاند کی روشنی میں ایسی کشش رکھ دی ہے کہ وہ چوبیس گھنٹوں میں دو مرتبہ سمندروں کے پانی کو اوپر نیچے کر دیتی ہے۔ چاند کی اپنی کوئی روشنی نہیں‘ اس پر تو سورج کی روشنی کا عکس پڑتا ہے‘ مگر اسی عکس سے سمندروں میں مدّو جزر پیدا ہوتا ہے۔ انگریزی میں اسے Tide, Rise and Fall یا Ebb and flow کہا جاتا ہے‘ جبکہ ہمارے ہاں اسے جوار بھاٹا کہتے ہیں۔جب سورج‘ چاند اور زمین ایک ہی لائن میں آ جاتے ہیں تو سمندر کے پانی پر چاند کی کششِ ثقل کا اثر زیادہ ہو جاتا ہے۔ پانی بلند ہونا شروع ہو جاتا ہے‘ ساحلوں سے لہریں ٹکراتی ہیں اور لوگ حیرت سے اس منظر کو دیکھتے رہ جاتے ہیں۔ پھر جب زمین کا یہ حصہ چاند سے دور ہو جاتا ہے تو کشش کم پڑ جاتی ہے‘ پانی ساحل سے دور ہٹ جاتا ہے۔ یہ سب زمین کی محوری گردش کی وجہ سے ہوتا ہے۔انسانی زندگی بھی سورج‘ چاند اور زمین کی طرح ایک عظیم باطنی نظام کے تحت چل رہی ہے۔ جیسے سورج روشنی اور توانائی پیدا کرتا ہے اور اس کا عکس چاند پر پڑ کر سمندروں میں ہلچل پیدا کرتا ہے‘ اسی طرح روح قوت اور توانائی کا مرکز ہے۔ جب اس توانائی کا عکس نفس پر پڑتا ہے تو نفس روشن ہو جاتا ہے اور یہی روشنی انسانی جسم میں حرکت اور اضطراب پیدا کرتی ہے۔ جس طرح سورج اور چاند الگ الگ حقیقتیں ہیں‘ اسی طرح روح اور نفس بھی الگ الگ حقیقتیں ہیں۔ یاد رہے کہ نفس ایک ہی ہے مگر اس کی تین حالتیں ہیں۔ قرآنِ مجید نے ان حالتوں کو بیان فرمایا ہے۔ ایک وہ نفس جو انسان کو برائی کی طرف اکساتا ہے‘ یعنی نفسِ امّارہ۔ دوسرا وہ جو برائی پر ملامت کرتا ہے‘ یعنی نفسِ لوامہ۔ اور تیسرا وہ جو اطمینان اور سکون پا لیتا ہے‘ یعنی نفسِ مطمٔنہ۔ انسان کے اندر پیدا ہونے والی خرابی دراصل نفس کی خرابی ہے‘ اور نفس کو شیطان خراب کرتا ہے۔ جنات خود ایک انرجی ہیں جو آگ کے تیز ترین شعلے سے پیدا کی گئی ہے۔ انسانی نفس کی وہ منعکس توانائی جو روح سے حاصل ہوتی ہے‘ جب جسم سے نکلتی ہے تو انسان کے گرد ایک ہالہ بنا دیتی ہے۔ شیطان اسی انرجی سے رابطہ قائم کر کے اپنی منفی توانائی کے ذریعے انسان کے دل میں وسوسے پیدا کرتا ہے۔انسان کے سینے میں دل قدرے بائیں جانب ہوتا ہے اور شیطان عموماً بائیں طرف سے حملہ آور ہوتا ہے۔ قرآنِ مجید نے دل کو &#39;&#39;قلب‘‘ کہا ہے جبکہ &#39;&#39;فُؤَاد‘‘ کا لفظ بھی استعمال فرمایا ہے۔ ترجمہ کرنے والوں نے &#39;فُواد‘ کا ترجمہ بھی دل کیا ہے‘ حالانکہ فُؤَادْ &#39;&#39;فئید‘‘ سے ماخوذ ہے جس کا لغوی معنی حرارت اور حدّت ہے۔ گویا ایک ایسا نادیدہ غلاف جو دل کے گرد موجود ہے۔ شیطان جن اسی کے ذریعے وسوسہ اندازی کرتے ہوئے دل تک پہنچتے ہیں‘ پھر دل کے ذریعے خون میں شامل ہو کر پورے جسم میں گردش کرتے ہیں اور جہاں انہیں ٹھکانہ مل جائے وہاں نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے اپنی آخری کتاب میں واضح فرما دیا کہ انسانی نفس میں اس کی پرہیزگاری اور اس کی برائی‘ دونوں الہام کر دی گئی ہیں۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ نفس میں موجود برائی کے بڑھتے ہوئے لیول کو کم کیا جائے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنے اندر موجود تقویٰ کو مضبوط کرے تاکہ وہ برائی کا مقابلہ کر کے اسے شکست دے اور تقویٰ کو غالب مقام تک لے آئے۔ اسی مقصد کے لیے اللہ کے آخری رسولﷺ نے ایک عظیم دعا تعلیم فرمائی۔ جامع ترمذی میں حسن سند کے ساتھ اور امام حاکم نے امام مسلم کی شرط پر اسے روایت کیا: &#39;&#39;اے اللہ! میرے نفس میں بھلائی الہام فرما اور مجھے میرے نفس کی برائی سے بچا لے‘‘۔رسولِ کریمﷺ نے برے وسوسوں کا علاج بھی تعلیم فرمایا کہ بائیں کندھے پر تین بار ہلکا سا تھو تھو کرے اور تین مرتبہ &#39;&#39;اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم‘‘ پڑھے‘ اللہ تعالیٰ وسوسوں کو دور فرما دے گا۔ اگر رات کو ڈراؤنے یا شیطانی خواب آئیں تو اٹھ کر یہی عمل کرے۔ جب بھی وسوسوں سے پریشانی محسوس ہو‘ یہی علاج جاری رکھے۔ وسوسے دماغ میں پیدا ہوں تب بھی یہی علاج مؤثر ہے۔ قرآنِ مجید کی آخری دو سورتیں ( خصوصاً سورۃ الناس) ان وسوسوں کے علاج کا بہترین ذریعہ ہیں۔ اگر انسان ان دونوں سورتوں کے معنی اور مفہوم کو دل میں رکھتے ہوئے بار بار تلاوت کرے تو دل پر عجب سکون کی کیفیت اترتی ہے۔ ضروری ہے کہ انسان رات کوسونے لگے تو بستر پر بیٹھنے سے پہلے &#39;&#39;بسم اللہ‘‘ پڑھے اور ہاتھ سے بستر کو اس طرح جھاڑے جیسے کسی نادیدہ چیز کو ہٹا رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر اس کی غیر موجودگی میں کوئی شیطانی اثر وہاں موجود ہو تو دور ہو جائے۔ پھر دائیں کروٹ لیٹے‘ سونے کی دعائیں پڑھے‘ خاص طور پر آیت الکرسی اور آخری تین قل تین تین مرتبہ پڑھ کر سوئے۔ اگر ان کا مفہوم ذہن اور دل میں رکھ کر پڑھے تو فائدہ مزید بڑھ جاتا ہے‘ ان شاء اللہ تعالیٰ۔جب کوئی انسان دوسروں پر ظلم کرتا ہے‘ کسی کا حق مارتا ہے‘ حق دینے میں ٹال مٹول کرتا ہے‘ وعدہ خلافی کرتا ہے‘ دوسروں کی جائیدادوں پر قبضہ کرتا ہے‘ کرایہ دار ہو کر قابض بننے کی کوشش کرتا ہے‘ قانون کے چور دروازے استعمال کر کے ظلم کرتا ہے تو شیطان اس پر بہت جلد مسلط ہو جاتا ہے۔ رحمت کے فرشتے اس سے دور ہو جاتے ہیں۔ حسد کرنے والا‘ دوسروں کی نعمتوں پر بری نظر رکھنے والا‘ چغلیاں کر کے معاشرے میں فساد پھیلانے والا‘ پڑوسیوں کی عزتوں کو بری نگاہ ڈالنے والا دراصل شیطان کے لیے اپنے اندر کے راستے کھول دیتا ہے۔ اگر انسان اصلاح چاہتا ہے تو اسے اپنے نفس کو ملامت کرنے کے مقام تک لانا ہوگا۔ یعنی جب نفس برائی کی طرف مائل ہو تو اس کے اندر ایسی ندامت اور ملامت پیدا ہو کہ وہ خود کو برائی کرنے سے روکنے لگے۔ پھر اس نفس کو مطمٔنہ کے مقام تک پہنچانے کی کوشش کرے‘ اور جب وہاں پہنچ جائے تو مرتے دم تک اس مقام کی حفاظت کرے۔ اس حفاظت کا ایک طریقہ رسول اللہﷺ نے یہ بتایا کہ اولادِ آدم کا ہر انسان تین سو ساٹھ جوڑوں کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے۔ ہر روز ہر جوڑ کا صدقہ ادا کرنا چاہیے۔ یہ بھی فرمایا کہ جو شخص اللہ اکبر‘ الحمدللہ‘ لا الہ الا اللہ‘ سبحان اللہ اور استغفر اللہ کا ورد کرتا ہے‘ لوگوں کے راستے سے پتھر‘ کانٹا‘ ہڈی یا کوئی نقصان دہ چیز ہٹاتا ہے‘ نیکی کو پھیلاتا اور برائی کو دور کرتا ہے تو یہ بھی صدقہ ہے‘ گویا وہ اپنی نیکیوں سے‘ اپنے ذکر اذکار سے اپنے جوڑوں کا صدقہ ادا کر دیتا ہے۔ پھر وہ اس دن زمین پر چلتا ہے تو اس کا نفس آگ سے محفوظ کر دیا جاتا ہے۔ معلوم ہوا کہ دوسروں کی بھلائی کے چھوٹے چھوٹے کام بھی انسان کو وسوسوں کی شیطانی آگ سے دنیا میں محفوظ رکھتے ہیں‘ اور قیامت کے دن جہنم کی آگ سے اس کے تین سو ساٹھ جوڑوں کی حفاظت کا ذریعہ بن جائیں گے ان شاء اللہ تعالیٰ۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_68712266.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>