<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>کربلا: اعلاء کلمۃ الحق کا آفاقی پیغام(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-26/11310</link><pubDate>Fri, 26 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-26/11310</guid><description>واقعۂ کربلا صبر‘ استقامت اور اعلاء کلمۃ الحق کاآفاقی پیغام ہے جس سے یہ درس ملتا ہے کہ حق کا ساتھ دینا ہی انسانی زندگی کا شرف اور معراج ہے۔ امام عالی مقام حضرت حسین ابن علی ؓ کی سیرت اور شہدائے کربلا کی عزیمت امتِ مسلمہ کیلئے حوصلے‘ عزم اور استقامت کا ایک ایسا سرچشمہ ہے کہ قریب 1400 برس سے جاری ہے‘ امتدادِ زمانہ کے ساتھ نہ اس کی تاثیر اور روانی میں کوئی کمی آئی اور نہ ہی اس سے وابستہ پیغام کی تازگی میں۔ عاشورا ہر دور کے انسان کو ظلم‘ ناانصافی اورجبرو استبداد کا مقابلہ کرنے کا درس دیتا ہے اور اصلاح کی ایسی تحریک ہے جو سماج میں عدل اور انفرادی سطح پر جذبۂ حریت اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے نفاذ کا دستور العمل ہے۔ضروری ہے کہ واقعۂ کربلا کو صرف ایک تاریخی واقعہ اور اس کے ساتھ وابستہ المناکیوں کے تناظر میں نہ دیکھا جائے بلکہ اسے ایک فکری تحریک اور ایک اصلاحی نظام کے طور پر سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ جناب ِحسین ابن علیؓ نے میدانِ کربلا میں اپنی اور اپنے اعزہ و اقربا کی عظیم قربانیاں پیش کرکے یہ ثابت کیا کہ باطل کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا ایک مومن کی شان نہیں۔

آج کے دور میں جب سماج طرح طرح کی خرابیوں سے آلودہ ہے ‘ حق تلفی ہے‘ ناانصافی ہے‘ بے رحمی اور انفرادی سطح پر مظلوم کا ساتھ دینے کے حوصلے پست ہیں ‘ان حالات میں ہمیں یہ سمجھنے کی کہیں زیادہ ضرورت ہے کہ واقعۂ کربلا صرف غم و سوگ کا استعارہ نہیں بلکہ حق‘ عدالت‘ حریت اور انسانی شرف و تکریم کی یادگار ہے۔ کوئی بھی فرد اور سماج جو فکرِ حسینؓ سے ہدایت کا اکتساب کرے تو ممکن نہیں کہ اس کی ذات میں وہ بنیادی تبدیلیاں واقع نہ ہوں جوفلسفۂ کربلا کا مطمح نظر ہیں۔ اس لیے اگر ہمیں ذاتی اور سماجی سطح پر ایسی معصیتوں کا سامنا ہے تو ضروری ہے کہ ہم فکرِ حسینؓ کے ساتھ اپنے تعلق کو مستحکم کریں۔ واقعۂ کربلا کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ یہ انسان کو اصولوں پر ثابت قدم رہنے کا درس دیتا ہے۔ حضرت امام حسینؓ نے اپنے عمل سے یہ واضح کیا کہ حق و باطل کی کشمکش میں اصل کامیابی ظاہری غلبے سے نہیں اصولی مؤقف پر ثابت قدمی سے حاصل ہوتی ہے۔فکرِ حسینؓ کا ایک پہلو انسانی وقار اور آزادی کا تحفظ بھی ہے۔ جب معاشروں میں حق گوئی کی آواز دبنے لگے‘ انصاف کمزور پڑ جائے اور اقتدار جوابدہی سے آزاد ہو جائے تو ایسے حالات میں کربلا کا پیغام مزید اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ یہ پیغام افراد کو اپنے ضمیر کی آواز سننے‘ اپنا محاکمہ کرنے اور حق بات کہنے کا حوصلہ دیتا ہے۔ آج کے دور میں جب دنیا مختلف سماجی‘ سیاسی اور اخلاقی بحرانوں سے گھری ہوئی ہے‘ واقعہ کربلا ہمیں یاد دلاتا ہے کہ سماج کی اصلاح صرف نعروں سے نہیں کردار اور عملی جدوجہد سے ممکن ہے۔
اگر ہم اپنے انفرادی اور اجتماعی معاملات میں دیانت‘ انصاف اور اصولوں کے ساتھ سچی وابستگی کو فروغ دیں تو بہتر اور متوازن سماج کی تشکیل ممکن ہو سکتی ہے۔ عالم اسلام کے کتنے ہی حصے ظلم و جبر کے نشانے پر ہیں۔ پچھلے کچھ عرصہ کے دوران ایک کے بعد ایک ایسی اندوہناک مثال سامنے آئی۔ غزہ میں اسرائیلی بربریت کا بازار ابھی گرم ہے کہ اس سال کے شروع میں ایران امریکی اور اسرائیلی حملے کا نشانہ بن گیا اور ایران میں جنگ بندی ہوئی تو لبنان میں ظلم و ستم کی تاریخ رقم کی جانے لگی۔ ادھر مقبوضہ کشمیر پون صدی سے پنجہ ٔاستبداد میں ہے۔ امت مسلمہ کو ان دکھوں سے نجات پانے کیلئے فلسفۂ کربلا سے کسبِ فیض کرنے کی ضرورت ہے ۔ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی اور قیام امن کی راہ ہموار کرکے ملکِ عزیز پاکستان نے ایک قابلِ فخر مثال قائم کر دی ہے کہ فی زمانہ مظلوم مسلم برادر ممالک کے مفادات کے تحفظ کی کیا ممکن صورتیں ہو سکتی ہیں۔ مسلم ممالک عالمی سطح پر نمایاں اثر و رسوخ اور مالی و عسکری قوت کے حامل ہیں مگر باہمی رنجشوں اور تفرقات نے اغیار کا کام آسان کیا۔ہمیں ایک منہج پر جمع ہونے کی ضرورت ہے۔ 
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>لینڈ ریکارڈ کی ڈیجیٹائزیشن(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-26/11309</link><pubDate>Fri, 26 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-26/11309</guid><description>ملک میں جائیداد سے متعلق تنازعات برسوں سے عدالتی نظام اور عوام دونوں کیلئے ایک بڑا مسئلہ رہے ہیں۔ وراثتی تقسیم‘ ملکیت کے دعوؤں‘ جعلی دستاویزات اور دہری فروخت جیسے معاملات نہ صرف شہریوں کو مالی اور ذہنی اذیت میں مبتلا کرتے ہیں بلکہ عدالتوں پر بھی مقدمات کا غیرمعمولی بوجھ ڈال دیتے ہیں۔ ایسے حالات میں حکومتِ پنجاب کی جانب سے فرد اور انتقال کے روایتی نظام کی جگہ گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ رائج کرنے کا فیصلہ اصولی طور پر خوش آئند ہے کہ اس سے جائیداد کا ریکارڈ مکمل طور پر ڈیجیٹائز ہونے کے بعد مالک کو ملکیت کا سرکاری سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے گا۔ تاہم کسی بھی اصلاحی منصوبے کی کامیابی صرف اس کے اعلان سے نہیں بلکہ اس کے مؤثر نفاذ سے مشروط ہوتی ہے۔

یہی وہ پہلو ہے جس پر اس وقت سنجیدہ توجہ کی ضرورت ہے۔ خبروں کے مطابق صوبے میں ابھی تک تمام جائیدادوں کا ریکارڈ مکمل طور پر ڈیجیٹائز نہیں ہوا جبکہ یکم جولائی سے گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کو لازمی قرار دینے اور فرد کے سابقہ نظام کی بندش کا اعلان کیا جا چکا ہے۔ اصلاحات سے متعلق جلدبازی بعض مسائل کو جنم دیتی ہے۔ ضروری ہے کہ جلد بازی میں پرانے نظام کو یکسر ختم کرنے کے بجائے نظام کو مرحلہ وار تبدیل کیا جائے۔ اس سے عوام کی مشکلات بھی نہیں بڑھیں گی اور سرکاری نظام پر جلد بازی میں نظام کی تبدیلی کا بوجھ بھی نہیں پڑے گا۔ ریونیو کے جدید نظام کی افادیت میں دو رائے نہیں‘ مسئلہ اس کی جانب سست روی کا ہے۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>تیل کی عالمی قیمتیں اور عوامی ریلیف(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-26/11308</link><pubDate>Fri, 26 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-26/11308</guid><description>امریکہ اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط اور باضابطہ مذاکرات کے آغاز کے بعد عالمی منڈی میںخام تیل کی قیمتیں تقریباً جنگ سے پہلے کی سطح پر پہنچ چکی ہیں۔ گزشتہ روز عالمی منڈی میں برینٹ کروڈ آئل کی قیمت 72.6 ڈالر فی بیرل تک آ گئی جبکہ 28فروری کو یہ 72.4 ڈالر فی بیرل تھی۔خام تیل کی عالمی قیمتوں میں کمی کا براہِ راست فائدہ عوام کو ملنا چاہیے۔ اگرچہ حکومت نے گزشتہ ہفتے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی ہے لیکن یہ کمی عالمی منڈی میں آنے والی مجموعی گراوٹ کے مقابلے میں ناکافی محسوس ہوتی ہے۔ 28فروری کو ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بالترتیب 258 اور 275 روپے فی لٹر تھیں جبکہ اس وقت یہ قیمتیں 299اور 311روپے فی لٹر ہیں۔ یعنی پاکستانی صارفین جنگ کے خاتمے کے بعد بھی زیادہ قیمت ادا کرنے پر مجبور ہیں۔

حکومت کو چاہیے کہ وہ پٹرولیم لیوی‘ ٹیکسوں اور دیگر مالیاتی تقاضوں کے درمیان ایک متوازن راستہ اختیار کرتے ہوئے عالمی منڈی میں کمی کا حقیقی فائدہ عوام تک منتقل کرے۔ عوام اس وقت شدید مہنگائی‘ کمزور قوتِ خرید اور معاشی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسے میں عالمی منڈی سے پیدا ہونے والا یہ مثبت موقع صرف حکومتی محصولات بڑھانے کیلئے نہیں بلکہ عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کرنے کیلئے استعمال ہونا چاہیے۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>خواجہ آصف کا بلاول کو ویل لیفٹ(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-06-26/52189/65161519</link><pubDate>Fri, 26 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-06-26/52189/65161519</guid><description>کچھ عرصے سے محسوس کیا ہے کہ خواجہ آصف نے آخرکار برسوں کی تپسیا (سخت محنت) کے بعد ایک لفظ سیکھ کر اس پر عمل کرنا شروع کر دیا ہے۔ پہلی دفعہ اس لفظ کے اثرات قومی اسمبلی میں بدھ کے روز نظر آئے جب بلاول بھٹو زرداری اپنا سارا غصہ وزیر دفاع خواجہ آصف پر نکال رہے تھے اور خواجہ صاحب ایسے بے نیازی سے بیٹھے تھے جیسے بلاول کا مخاطب کوئی اور ہے۔ یہ لفظ (well left) میں نے سنا یا پڑھا تو شاید بہت پہلے ہو گا لیکن اس کا مطلب مجھے میرے مرحوم دوست ڈاکٹر ظفرالطاف نے کرکٹ کی زبان میں سمجھایا تھا۔ وہ کہتے تھے کہ اچھا بیٹسمین فاسٹ باؤلر کی ہر تیز اور مشکل گیند کو نہیں چھیڑتا بلکہ وہ اسے سمجھداری سے وکٹ کیپر کو جانے دیتا ہے اور باؤلر کو بھی ستائشی نظروں سے دیکھتا ہے کہ کیا خوبصورت گیند کرائی تھی جو وہ نہیں کھیل سکتا تھا لیکن سمجھداری سے اسے چھوڑ سکتا تھا تاکہ کسی اور لُوز بال کا انتظار کرے اور اسے کھیلے۔ ڈاکٹر صاحب کہا کرتے تھے‘ جو بیٹسمین ہر گیند کو ہر حال میں کھیلنے کا شوقین ہوتا ہے وہ بہت جلدی آؤٹ ہو جاتا ہے۔ سمجھدار بیٹسمین سمجھداری سے ایک ایک گیند کا انتخاب کرتا ہے اور وہ لمبی اننگز کھیلتا ہے۔ اور یہ سمجھداری آتے آتے بڑا وقت لگتا ہے اور اس دوران آپ کئی دفعہ ایسی گیندوں پر آؤٹ ہو چکے ہوتے ہیں جو اَب چھوڑ دیتے ہیں کہ اس گیند کو کھیلنے میں خطرہ ہے۔ اس پر سٹروک کھیلا تو ممکن ہے چوکا بھی لگ جائے لیکن زیادہ امکان آؤٹ ہونے کا ہے۔ ڈاکٹر صاحب ویل لیفٹ کو پسند کرتے تھے۔ یہ بات صرف کھلاڑیوں تک محدود نہیں بلکہ عملی زندگی میں بھی ہم سب کے کام آتی ہے لیکن وہی بات کہ کوئی بھی یہ خوبی پیدائشی لے کر اس دنیا میں نہیں آتا۔ تجربوں کے بعد ہی آپ زندگی میں ویل لیفٹ کرنا سیکھتے ہیں۔ میں خود اب عمر کے اس حصے میں آکر ویل لیفٹ فلاسفی پر عمل کرنے کی کوشش کر رہا ہوں اور بڑی حد تک کامیاب بھی ہوں۔ اس پالیسی کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے پر محنت بہت کرنی پڑتی ہے اور خود کو روکنا بڑا مشکل ہوتا ہے لیکن جو فوراً ردِعمل دینے سے خود کو روک لیں ان کیلئے سب سے بڑا تحفہ ان کا ذہنی سکون ہوتا ہے۔ میرے اندر یہ خامی رہی ہے اور اب بھی کسی حد تک ہے کہ میں بہت سارے ردِعمل فوراً دینے کی کوشش کرتا آیا ہوں۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سوشل میڈیا پر بہت قریبی دوستوں سے تعلقات خراب ہوئے۔ کئی کئی نئی دشمنیاں بن گئی۔ بلکہ اب تو میں اکثر کہتا ہوں کہ کچھ صحافت اور کچھ میری اپنی وجہ سے آدھے شہر سے میں نہیں ملنا چاہتا اور آدھا شہر مجھ سے نہیں ملنا چاہتا۔ یہ بھی میری ویل لیفٹ سوچ کا نتیجہ تھا کہ ان لوگوں سے ملنا چھوڑ دیں جن سے آپ کو Toxic feeling آنا شروع ہو جائے یا جن کی کمپنی اب آپ انجوائے نہ کرتے ہوں یا وہ انجوائے نہ کرتے ہوں۔ خود پر زبردستی نہ کریں نہ دوسرے کو مجبور کریں کہ وہ آپ کے ساتھ چمٹا رہے۔ اگر آپ کچھ دیر کیلئے کسی کی بات کو اگنور کر دیں گے تو کچھ دیر بعد آپ کو محسوس ہوگا کہ آپ نے اچھا فیصلہ کیا تھا۔ میں نے خود نوٹ کیا ہے کہ جب جب فوری ردعمل دیا مجھے ہمیشہ تکلیف ہوئی۔ نقصان اٹھایا اور فائدہ شاید ہی کبھی ہوا ہو۔ فائدہ شاید آپ کے اندر قید اس جانور کو ہوتا ہے جو فوراً اگلے کو چبانا چاہتا ہے۔ اب اس جانور کو کیسے کنٹرول کیا جائے‘ اسے ویل لیفٹ کا نام بھی دیا جا سکتا ہے۔ اس لیے جب خواجہ آصف بے نیازی یا خاموشی سے بلاول بھٹو زرداری کی اپنے خلاف سخت تقریر سُن رہے تھے تو پریس گیلری سے انہیں دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ خواجہ صاحب اس وقت کیا سوچ رہے ہوں گے؟ میں خواجہ صاحب کو جنرل مشرف کی اکتوبر 2000ء کی پارلیمنٹ سے جانتا ہوں۔ تقریباً 24برس سے ان کو قریب سے دیکھا‘ سنا اور سمجھا ہے۔ جو پارلیمنٹرینز کسی کے ساتھ ویل لیفٹ پر یقین نہیں رکھتے تھے ان میں دو سرفہرست تھے۔ ایک خواجہ آصف اور دوسرے چوہدری نثار علی خان۔ یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ کوئی ان پر بات کر جائے اور وہ اسے ویل لیفٹ کر دیں۔ انہوں نے جواب دینا ہی دینا ہے۔ شاید خواجہ صاحب نے کبھی کبھار کسی کو بخش دیا ہو لیکن چوہدری نثار علی تو کسی کو رعایت دینے کے قائل نہ تھے۔ مجھے یاد آیا۔ 2015ء کی بات ہے‘ چوہدری نثار علی خان وزیر داخلہ تھے۔ میں ایک ٹی وی پر رات دس بجے شو کرتا تھا۔ ایک صبح پنجاب ہاؤس کے آپریٹر نے فون پر کہا کہ وزیر داخلہ بات کریں گے۔ کچھ دیر بعد چوہدری صاحب فون لائن پر تھے۔ بڑے عرصے کے بعد بات ہو رہی تھی۔ وہ اکثر ناراض ہی رہتے تھے۔ انہوں نے فوراً گلہ شکوہ کیا کہ میں نے کل رات کے پروگرام میں ان کے ایک فیملی ممبر پر گفتگو کی اور یہ بات نامناسب تھی۔ مجھے اندازہ ہو گیا کہ انہوں نے میرا شو نہیں دیکھا تھا ورنہ میں سمجھا تھا وہ فون میرا شکریہ ادا کرنے کیلئے تھا کیونکہ اس شو میں ان کی فیملی کے پوائنٹ آف ویو کی حمایت کی تھی۔ ان کو کسی نے بتایا تو انہوں نے بغیر پروگرام دیکھے مجھے ردِعمل دیا اور ناراضگی سے فون کال کی۔ میں نے کہا‘ آپ نے خود شو دیکھا ہے تو کہنے لگے کہ کسی نے بتایا تھا‘ خود پروگرام نہیں دیکھا۔ میں نے کہا‘ افسوس کی بات ہے ملک کا وزیر داخلہ سنی سنائی بات پر مجھے فون کر کے گلہ کر کے ناراض ہو رہا ہے۔ میں نے کہا‘ پہلے پروگرام دیکھ لیں‘ اگر آپ کو لگے کہ آپ کی فیملی بارے کوئی ایسی قابلِ اعتراض بات کی گئی ہو تو میں اپنے شو میں معذرت کر لوں گا۔ کہنے لگے‘ دیکھ کر آپ کو کال کرتا ہوں۔ مجھے اندازہ تھا ان کا معذرت بھرا فون آئے گا اور ساتھ شکریہ۔ اس بات کو آج گیارہ برس گزر گئے ان کی فون کال آج تک نہیں آئی کہ کہیں اپنی مِس انڈر سٹینڈنگ پر معذرت اور شکریہ ادا نہ کرنا پڑے۔ چوہدری نثار علی خان کو طویل عرصے میں صرف ایک دفعہ ویل لیفٹ کرتے دیکھا اور شاید وہ اب تک اس پر پچھتاتے ہوں گے کہ اُس دن وہ چپ کیوں رہے‘ کیوں انہوں نے چوہدری اعتزاز احسن کو موقع دیا کہ وہ ان کے خلاف ہاؤس میں تقریر کرتے رہیں اور نواز شریف جو وزیراعظم تھے‘ انہیں بولنے سے روک دیں۔ مجھے یقین ہے چوہدری نثار علی خان کو کتنی سخت محنت کرنی پڑی ہو گی کہ وہ چوہدری اعتزاز احسن کے ذاتی حملوں کو ویل لیفٹ کر دیں۔ اگرچہ ہمارے دوست میجر عامر ہمیشہ چوہدری نثار علی خان کے اس صبر اور ضبط کی داد دیتے رہے ہیں کہ انہوں نے جواب نہ دے کر اچھا کیا تھا لیکن میرے خیال میں جب بات آپ کی ذات پر الزامات تک آ جائے تو پھر آپ کو تمام تر نتائج کو ایک طرف رکھ کر جواب دینا چاہیے یا وضاحت دینی چاہیے تاکہ ریکارڈ درست رہے۔ لیکن شاید وقت سکھا دیتا ہے کہ ہر بات پر ری ایکٹ کرنا ضروری نہیں ہوتا۔ ایک دن کی بات ہوتی ہے اگلے دن نیا دن اور کوئی نیا ہنگامہ۔ سوشل میڈیا کی دنیا میں یہ بڑی نارمل سی بات ہے کہ لوگ شام تک بڑی سے بڑی خبر یا لڑائی بھول جاتے ہیں۔خواجہ آصف کو بلاول کے زبانی حملوں کے جواب میں خاموش دیکھ کر خیال آیا کہ وقت کے ساتھ وہ بھی سمجھداری سے کام لینا شروع ہو گئے ہیں۔ اس کا پہلا سائن اس وقت نظر آیا تھا جب وزیر ریلوے حنیف عباسی کی سخت تقریر کے بعد جواب نہ دیا‘ یہ سنجیدگی اور بدلتے مزاج کو ظاہر کرتا ہے ورنہ یہ کب ممکن تھا کہ خواجہ آصف خاموش رہتے۔ آج دوسری دفعہ خواجہ آصف کو بلاول کی تقریر پر ویل لیفٹ کرتے دیکھا۔ شاید خواجہ صاحب نے سوچا ہو کہ اب بھلا بلاول سے کیا سینگ اڑائیں۔ شاید پرانی یادیں آ رہی ہوں کہ یہیں کبھی وہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری پر سخت تقریریں کرتے تھے‘ بدلتے وقت کے ساتھ آج ان کا بیٹا وہی زبانی Belt treatment انہیں دے رہا تھا جو خواجہ صاحب برسوں سے دوسروں کو دیتے آئے ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>قریبی خطہ اور ہمارے امکانات(رسول بخش رئیس)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-06-26/52190/56141334</link><pubDate>Fri, 26 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-06-26/52190/56141334</guid><description>علاقائی حالات کبھی اتنے ہمارے حق میں نہ تھے جس طرح آج دکھائی دیتے ہیں۔ ہماری داخلی اور خارجہ پالیسیوں کا محور شمال اور مغرب ہی رہا ہے۔ افغانستان‘ وسطی ایشیا‘ ایران اور مشرقِ وسطیٰ کے عرب ممالک کی طرف ایک بہت بڑی تبدیلی کے آثارآہستہ آہستہ ایک دھندلے خواب سے حقیقت کا روپ دھار رہے ہیں۔ جنگوں کے نتائج تاریخ میں وہ نہیں ہوتے جو طاقتور ممالک کی فوجی اور سفارتی منصوبہ بندی میں تصور کیے جاتے ہیں۔ سب چھوٹی بڑی جنگوں کے بعد حالات کا رخ تاریخ میں ہم نے مختلف دیکھا۔ افغانستان میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے دو عشروں تک جنگ کی۔ ان کا پہلا زوردار بیانیہ یہ تھا کہ وہ ایک نئی قوم‘ نئی ریاست‘ نئے معاشرے اور نئے نظام کی تعمیر کریں گے۔ آخر میں ان کا حشر وہی ہوا جو روسیوں کا وہاں ہوا تھا۔ غالباًامریکی اپنی ویتنام کی لڑائی کی ہزیمت کو بھول چکے تھے۔ جاتے جاتے ایسے معاہدے کرنے پر مجبور ہوئے کہ اقتدار اُن کے ہاتھوں میں چلا گیا جنہیں وہ مکمل طور پر ختم کرنے آئے تھے۔ آج وہ ہمارے بھی دشمن بنے ہوئے ہیں۔ ہم نے تاریخ سے کچھ نہیں سیکھا مگر امریکیوں‘ روسیوں اور دیگر کئی ریاستوں کے اہلِ اقتدار نے بھی وہی کیا جو طاقت کے نشے میں مغرور لیڈر عموماً کرتے ہیں۔ غرور عقل کو اندھا اور دماغ کو مفلوج کر دیتا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کا غرور توآسمان کو چھُو رہا تھا۔ پتا نہیں امریکی قیادت ہماری پنجابی فلموں کی رسیا ہو چکی تھی یا اُن کو اپنی ہالی وڈ کی کاؤ بوائز اور وائلڈ ویسٹ کی کلاسیک کا گمان تھا کہ انہوں نے ایرانیوں کو ان کی تہذیب تک ملیامیٹ کرنے کی دھمکی دے ڈالی۔ گزشتہ چار ماہ کے امریکی یا مغربی دنیا کے اخبار اور رسائل اٹھا کر دیکھیں تو بڑھکوں اور بلند بانگ دعوؤں کی شہ سرخیاں آپ نمایاں پائیں گے۔ مگر رجیم چینج تو دور کی بات ہے‘ اس کے برعکس وہ ایرانی جو کچھ پالیسیوں کے خلاف تھے‘ وہ بھی حکومت کے ساتھ کھڑے نظرآئے۔ ایرانی قومیت پرستی کو ایک نئی طاقت نصیب ہوئی۔جنگ کے دوران اورآج دنیا بھر کی ہمدردیاں ایران کے ساتھ ہیں۔ اس کی ہمت‘ مزاحمت اور تین ماہ کی تباہ کن جنگ کے سامنے ثابت قدم رہنے کی تعریفیں کی جا رہی ہیں۔ فقط استقامت اور قربانی کے جذبے نے امریکہ کا تعمیر کردہ دفاعی نظام اور اس کی سماجی نفسیات خلیج فارس میں ریت کے ٹیلوں پر ڈھیر کر دی۔سب سے بڑی بات یہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی عسکری طاقت کا سحر‘ جو علاقائی حکمرانوں کے ذہنوں پر ایک عرصہ سے سوار تھا‘ ٹوٹ کر بکھرچکا ہے۔ بڑی طاقتور ریاستوں کی جارحیت کے خلاف دیگر ریاستوں کو بھی مزاحمت کی ہمت ملی ہے۔امریکہ پرعرب ریاستوں کا اعتماد اور اس کے اسلحے پر بھروسا اب قصۂ پارینہ سمجھیں۔ اس کا نہ اظہار ہوگا اور نہ آپ کوئی فوری تبدیلی ان کے تعلقات میں دیکھیں گے مگر یہ سب کو معلوم ہے کہ دور کا نام نہاد دوست دفاع کی ضمانت نہیں دے سکتا۔ سینکڑوں ارب ڈالرکے دفاعی حصار بھی ریت کی دیوار ثابت ہوئے۔ محض تسلیاں دینے کیلئے تو یہ کہا جا رہا ہے کہ اگر ایرانی ڈرونوں اور میزائلوں کی یلغار کو روکا نہ جاتا تو بہت زیادہ نقصان کا اندیشہ تھا‘ اصل بات کچھ مختلف ہے۔ ایران نے ثابت کر دیا ہے کہ کم فاصلوں کی وجہ سے وہاں ان ریاستوں کے شہر ‘ فوجی تنصیبات اور بیرونی طاقتوں کے اڈے مکمل طور پر اور زیادہ دیر تک جنگ کے شعلوں سے محفوظ نہیں رہ سکتے۔ جنگوں کے بارے میں ہماری اپنی سوچ اور کچھ تحقیق یہ ہے کہ جدید دور کی تمام جنگوں میں ہم نے کسی کو فاتح نہیں دیکھا۔ سب کے لوگ ہلاک ہوئے‘ زخمی ہوئے‘ اور پھر سماجی اور نفسیاتی زخم اتنے گہرے تھے کہ نسلوں تک چلتے رہے۔ ظاہر ہے کہ نقصان زیادہ تر ایران کا ہوا ہے‘ مگر یہ جنگ ان پر تھونپی گئی تھی۔ دوسری جانب طاقت کے ہوائی گھوڑوں پر سوار تھے مگر خطے کی ریت کی آندھی میں زمینی حقائق اور تاریخ کے اوراق الٹنے کی طرف ان کا دھیان نہ تھا۔ اندھے ہو گئے تھے۔ خلیجی ریاستوں میں دفاعی اور عسکری سوچ کے زاویے بدلیں گے۔ علاقائی حقیقت پسندی کا رجحان جلد یا بدیر غالب آئے گا۔ اس کی فکری ہوائیں چلنا شروع ہو گئی ہیں۔ عوام کی سطح پر تو ہم ایک عرصہ سے دیکھ رہے ہیں۔ اب دیکھیں بڑی طاقتوں پر انحصار کی اصلیت اور ایران کے خلاف غیر اعلانیہ دکھائی دینے والے حصار سے پرانی بھیڑیںکب آزاد ہوتی ہیں۔سعودی عرب‘ قطر اور عمان نے بہت ذمہ داری اور نئی علاقائی حساسیت کا اس جنگ میں ثبوت دیا۔ ان کی کاوشوں اور سفارتکاری نے امن معاہدے کی یادداشت کو ممکن بنایا ہے۔ ہم ان کے رویوں میں آہستہ آہستہ تبدیلی دیکھ رہے ہیں۔ آگے چل کراصل خطرات پر ان کی توجہ کو مرکوز ہوتا دیکھنا ہے۔ اس معاہدے کے خد و خال کا جائزہ لیں تو یہ صرف جنگ کے خاتمے تک محدود نہیں بلکہ ایران کے اقتدار‘ حقوق اور روشن معاشی مستقبل کی طرف بہت بڑی پیشرفت دکھائی دیتی ہے۔ 47 سال بعد ایران پر سے پابندیاں اٹھیں گی۔ منجمد اثاثے انہیں واپس کیے جائیں گے اور 300ارب ڈالر کی سرمایہ کاری اور تعمیرِ نو کیلئے عرب اور علاقائی ممالک کو راغب کیا جائے گا۔ایران کی ترقی اور اس کی فطری قومی توانائیاں بحال کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ امریکہ کی طرف سے عائد کردہ ہر نوع کی پابندیاں تھیں۔ ان کے خاتمے کے بعد ایران میں پوری دنیا کی سرمایہ کاری کیلئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ایران کے اندر ایک مؤثر نظامِ حکومت‘ ہنرمند اور اعلیٰ تعلیم یافتہ آبادی اور اس کے قدرتی وسائل اس کیلئے وہ مقام حاصل کرنے کیلئے اس طور پر کام کریں گے جو کبھی تاریخ میں اس کا تھا۔ہماری عسکری اور سیاسی قیادت نے انتہائی اہم‘ تعمیری اور ملک کے مفادات کے لحاظ سے اعلیٰ کردار ادا کیا ہے۔ اصل بحث اور پالیسیوں کا ہدف اس جنگ کے بعد کے اقتصادی مواقع پیدا ہونا ہے۔ خود ستائی بہت ہو چکی اب بڑے بڑے منصوبوں کی ضرورت ہے۔ ان کیلئے ہم اپنی علاقائی اہمیت اور محلِ وقوع کو ایران اور عرب ریاستوں کی سرمایہ کاری کیلئے کیسے عمل میں لا سکتے ہیں‘ یہ ایسا کلیدی سوال ہے جس کا جواب ہمارے اہلِ اقتدار کو ڈھونڈنے کی ضرورت ہے۔ہمیں بھی خطے میں امن‘ سلامتی اور نئے اقتصادی امکانات کے ساتھ تبدیل ہونے کی ضرورت ہے۔ ہمارے نظام کی کئی جہتیں ہیں جنہیں دوبارہ سے تعمیر‘ ترتیب اور متحرک کرنا دنیا اور علاقائی ممالک کے ساتھ قدم بہ قدم چلنے کیلئے ضروری ہوگا۔ دوسروں کی جنگیں ختم کرانے سے ہمیں یہ بھی سبق لینا ہوگا کہ ہم داخلی انتشار‘ دہشت گردی اور شدت پسندی کو بات چیت اور سیاسی معاہدوں سے ختم کریں۔ افغانستان اور افغان جہاں ہیں‘ یہ تو وہیں رہیں گے۔ نہ وہ کہیں جائیں گے اور نہ ہم اپنا وطن پاکستان کہیں اور لے جائیں گے۔ہماری کمزور دلیل‘ صحیح یا بے سود مشورہ سمجھیں‘ کہ بات چیت اور سفارتکاری کے سلسلے ان کے ساتھ کبھی ٹوٹنے نہ پائیں۔ اس طرح بھارت کو اب تو یقین کی حد تک باور کرا دیا گیا ہے کہ اس کی طرف سے جنگ اور جارحیت کے نتیجے میں اتنی تباہی ہوگی کہ یقین کرنا مشکل ہے۔یہ وہ مقام ہوتا ہے جب باہمی بقا اور باہمی سلامتی کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ ایک بات دہرا دیتا ہوں کہ تقریباً ایک صدی سے جنوبی ایشیا بے چینی‘ اضطراب اور عدم استحکام کا شکار ہے‘ اس لیے ہماری انفرادی اور اجتماعی کامیابیاں ہماری ممکنہ صلاحیت سے کم ہیں۔ لیکن یہ یک طرفہ معاملہ نہیں اور نہ ہو گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_33241568.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ایران امریکہ معاہدہ اور پاکستان کا کردار(ڈاکٹر رشید احمد خاں)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr-rasheed-ahmad-khan/2026-06-26/52191/62244672</link><pubDate>Fri, 26 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr-rasheed-ahmad-khan/2026-06-26/52191/62244672</guid><description>تقریباً ساڑھے تین ماہ کی جنگ کے بعد ایران اور امریکہ کے درمیان حتمی سمجھوتے کیلئے مذاکراتی عمل کا آغاز ہو چکا ہے۔ مذاکرات کے اس سلسلے کی پہلی نشست سوئٹزرلینڈ میں ہوئی جس میں ایرانی وفد کی قیادت سپیکر اسمبلی باقر قالیباف اور امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس نے کی۔ ان کے علاوہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر جبکہ قطر کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم الثانی بھی ثالث کی حیثیت سے وہاں موجود تھے۔ مذاکرات کا مقصد آئندہ 60 دنوں میں ایک طے شدہ فریم ورک کے تحت امریکہ اور ایران کے درمیان متعدد تنازعات کا حتمی حل تلاش کرنا ہے۔ ان میں سب سے اہم ایران کے جوہری پروگرام پر ایک ایسے سمجھوتے کا حصول ہے جس کے ذریعے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق ایران کے ایٹمی طاقت بننے کے امکان کو ختم کرنا مقصود ہے۔آج سے تقریباً بارہ برس قبل بھی اسی مقصد کیلئے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے‘ مگر اس معاہدے کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پہلی صدارتی مدت کے دوران مئی 2018ء میں ختم کر دیا تھا۔ سابق صدر اوباما کے دور کے معاہدے اور موجودہ مجوزہ ڈیل کے درمیان ایک نمایاں فرق یہ ہے کہ پہلے معاہدے کے مذاکرات میں ایران اور امریکہ کے علاوہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے دیگر چار مستقل اراکین چین‘ روس‘ برطانیہ اور فرانس کے ساتھ یورپی یونین کے نمائندے کی حیثیت سے جرمنی بھی شریک تھا جبکہ 21 جون 2026ء کو سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے ایران امریکہ مذاکرات پاکستان اور قطر کی ثالثی میں ہوئے۔ اس کامیاب سیشن کے بعد آئندہ 60 دنوں کے روڈ میپ کے مطابق مختلف تکنیکی کمیٹیاں جن متنازع امور پر غور کریں گی ان کی سہولت کاری کیلئے بھی پاکستان اور قطر کے حکام موجود رہیں گے۔نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار‘ جنہوں نے حال ہی میں قاہرہ میں مصر‘ ترکیہ اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کے ساتھ R-4 فورم کے تحت ملاقات کی‘ کا کہنا ہے کہ پاکستان اور قطر ایران امریکہ مذاکرات میں ثالث کی حیثیت سے جو کردار ادا کر رہے ہیں‘ اسے R-4 کے رکن ممالک کے علاوہ دیگر علاقائی ممالک کی بھی تائید حاصل ہے۔ ان کے مطابق مذاکراتی عمل کو مستحکم بنیاد فراہم کرنے اور اسے درست سمت میں برقرار رکھنے کیلئے پاکستان‘ ترکیہ اور مصر سمیت دیگر علاقائی ممالک مثلاً قطر‘ کویت‘ متحدہ عرب امارات اور عمان نے جو کردار ادا کیا ہے وہ مشرقِ وسطیٰ کو جنگ سے بچانے اور فریقین یعنی ایران اور امریکہ کو امن کی راہ پر لانے میں منفرد اور انتہائی اہم حیثیت رکھتا ہے۔ اوباما دور میں ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے معاہدے میں یورپی یونین کے نمائندے کی حیثیت سے جرمنی اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل اراکین کا کردار نمایاں تھا مگر علاقائی ممالک کو نہ شامل کیا گیا‘ نہ ان سے مشورہ کیا گیا اور نہ ہی ان کے قومی سلامتی مفادات کو پیشِ نظر رکھا گیا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکہ کے درمیان براہِ راست تصادم کو روکنے کیلئے علاقائی ممالک نے عملی اقدامات کیے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جنگ سے باز رہنے اور امن کو ایک اور موقع دینے پر آمادہ کیا۔ اس سلسلے میں پاکستان کے کردار کو سراہا جا رہا ہے اور نہ صرف علاقائی ممالک بلکہ امریکہ اور ایران کی جانب سے بھی یہ اعتراف کیا گیا ہے کہ امریکہ اور ایران کو مذاکرات کی میز پر لا کر 14نکاتی میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ پر متفق کروا کر پاکستان نے 21 جون کو سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات کیلئے ایک مضبوط پلیٹ فارم مہیا کیا۔ اس کے بغیر ان مذاکرات کا تصور بھی ممکن نہ تھا۔قطر کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن نے پاکستان کے کردار کی اہمیت بیان کرتے ہوئے الجزیرہ ٹی وی کو بتایا کہ اگر اسلام آباد میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ نہ ہوتا تو ہم آج یہاں‘ یعنی سوئٹزرلینڈ میں موجود نہ ہوتے کیونکہ اسی مفاہمتی یادداشت کی بدولت جنگ کا خاتمہ ممکن ہوا۔ اس کامیابی کی بنیاد 8 اپریل کو رکھی گئی تھی جب چالیس دن کی مسلسل جنگ کے بعد پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف دی ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کوششوں سے اسلام آباد میں امریکہ اور ایران مذاکرات کی میز پر بیٹھنے پر آمادہ ہوئے۔ قطر نے بھی اس عمل میں اہم کردار ادا کیا۔ ایران میں تعمیرِ نو اور معیشت کی بحالی کیلئے 300 ارب ڈالر کے فنڈ کے قیام کی تجویز قطر ہی کی جانب سے پیش کی گئی تھی۔ اسی تجویز نے میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ پر امریکی صدر کے دستخط کی راہ ہموار کی کیونکہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ٹیکس عائد کرنے کے اختیار پر اصرار کے باعث ڈیڈ لاک پیدا ہو گیا تھا۔وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان‘ قطر اور ترکیہ کی جانب سے ایران امریکہ جنگ رکوانے میں ادا کیا گیا کردار نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ دنیا کے دیگر خطوں میں بھی جنگ اور امن کے معاملات میں علاقائی ممالک کی جانب سے اپنے قومی مفادات کو ترجیح دینے کے بڑھتے ہوئے رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔ کون سوچ سکتا تھا کہ نیٹو ایران کے خلاف جنگ میں صدر ٹرمپ کا ساتھ دینے سے انکار کر دے گا؟ اس سے قبل کوریا‘ ویتنام اور افغانستان کی جنگوں میں نیٹو نے امریکہ کا بھرپور ساتھ دیا تھا۔ 1955 ء کے بغداد پیکٹ (بعد ازاں سینٹو) اور سیٹو میں بھی امریکہ کے کہنے پر برطانیہ اور فرانس نے شمولیت اختیار کی تھی حالانکہ ان معاہدوں کا ان ممالک کے اپنے سکیورٹی مفادات سے براہِ راست کوئی تعلق نہ تھا۔ تاہم ستر برس سے زائد عرصہ گزر جانے اور خصوصاً سرد جنگ کے خاتمے کے بعد قوموں کی ترجیحات میں بنیادی تبدیلیاں آ چکی ہیں۔ اب حکومتوں کے سامنے اپنے عوام کا معیارِ زندگی بلند کرنا‘ خوشحالی کو عام کرنا اور معیشتوں کو مضبوط بنانا زیادہ اہم اہداف ہیں۔ اور انہیں بخوبی علم ہے کہ یہ مقاصد جنگ کے ماحول میں نہیں بلکہ امن‘ استحکام اور تعاون کی فضا میں حاصل کیے جا سکتے ہیں۔مشرقِ وسطیٰ کے ممالک براہِ راست اور بالواسطہ طور پر 1948ء سے اب تک اسرائیل کے ساتھ ہونے والی چار جنگوں کی تباہ کاریوں سے متاثر ہو چکے ہیں۔ گزشتہ تقریباً تین برسوں سے غزہ میں اسرائیل فلسطینیوں کے خلاف مسلسل خونریز کارروائیاں کر رہا ہے۔ عراق اور شام میں بھی بڑی مشکل سے امن قائم ہوا ہے۔ اس پورے خطے میں خلیج فارس کی عرب ریاستیں کچھ عرصے سے امن اور استحکام کی فضا میں زندگی گزار رہی تھیں‘ جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے اپنے ہمسایہ اور دیگر ممالک کے ساتھ گہرے تجارتی تعلقات استوار کیے۔ مغربی ممالک کے علاوہ چین نے بھی ان ریاستوں میں بھاری سرمایہ کاری کر رکھی ہے جس کے نتیجے میں یہ ممالک جدید کمرشل مراکز اور جدید ترین انفراسٹرکچر کے قیام میں کامیاب ہوئے ہیں۔تاہم ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے مؤقف سے متاثر ہو کر ایران کے خلاف ایک ایسی جنگ کا آغاز کیا جو امریکی عوام کی نظر میں بھی بلاجواز‘ غیر اخلاقی اور غیر قانونی ہے۔اس صورتحال میں خلیجی ممالک کے ساتھ پاکستان‘ ترکیہ اور مصر نے مل کر ایک ایسا پریشر گروپ تشکیل دیا کہ امریکی صدر کو بالآخر اپنی جنگجویانہ پالیسی ترک کرنا پڑی اور امریکہ کو مذاکرات کی میز پر بیٹھنا پڑا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90264263.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>نصابِ کربلا(اسد طاہر جپہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/asad-tahir-jappa-/2026-06-26/52192/72289291</link><pubDate>Fri, 26 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/asad-tahir-jappa-/2026-06-26/52192/72289291</guid><description>واقعۂ کربلا بلاشبہ انسانی تاریخ میں عزم و استقلال اور صبر و استقامت کی سب سے زیادہ روشن اور درخشندہ مثال ہے‘ جس کا سب سے بڑا درس اخلاقی جرأت‘ حق گوئی اور اصول پرستی ہے۔ یہ محض ایک جنگ کا نام نہیں بلکہ قیامت تک کیلئے انسانی کردار کی عظمت کا نصاب مقرر کر دیا گیا ہے۔ اس نصاب میں کئی اہم موضوعات کو عملی طور پر ثابت کیا گیا ہے۔ اس کا پہلا سبق یہ ہے کہ حق پر ڈٹ جائیں چاہے اس راستے پر تنہا رہ جائیں۔ حضرت امام حسینؓ کے پاس صرف 72ساتھی تھے اور مقابلے میں یزید کا لشکرِ جرار۔ اس طرح تعداد کا فرق واضح تھا مگر اکثریت حق کی دلیل نہیں ہوتی۔ اگر بات اللہ اور رسول کریمﷺ کے بتائے ہوئے اصول و ضوابط کے خلاف ہو تو اکثریت والی دلیل باطل ہے۔ آج کے دور میں رشوت کا کلچر ہو‘ یونیورسٹی میں نقل چل رہی ہو‘ سوشل میڈیا پر جھوٹ وائرل ہو تو بھیڑ چال کے بجائے واقعۂ کربلا باطل کے سامنے کلمۂ حق بلند کرنا سیکھاتا ہے۔ اس نصاب کا دوسرا نمایاں سبق یہ ہے کہ مصلحت کی آڑ میں اصولوں پر سمجھوتہ مت کریں۔ یزید نے امام حسین رضی اللہ عنہ کو پیشکش کی کہ اگر وہ بیعت کر لیں تو عہدے‘ دولت سب ان کی ہو جائے گی مگر امام حسینؓ نے فرمایا کہ مجھ جیسا یزید جیسے کی بیعت نہیں کر سکتا۔ باطل سے سمجھوتہ دراصل کربلا کا انکار ہے۔ نوکری‘ کاروبار‘ شہرت کیلئے جھوٹ‘ دھوکہ‘ ظلم کو مجبوری کہنا شمر کا راستہ ہے۔ حسینؓ کا راستہ فقر تو قبول کر سکتا ہے مگر ذلت قبول نہیں۔ نصابِ کربلا کا تیسرا نمایاں موضوع خاتون کی عزت اور صبر کی انتہا ہے۔ کربلا میں تلوار مردوں نے اٹھائی لیکن صبر کا جھنڈا زینب بنت علیؓ نے تھامے رکھا۔ آپ نے 72لاشیں دیکھ کر فرمایا: ما رایت الا جمیلا (میں نے خوبصورتی کے سوا کچھ نہیں دیکھا)۔ یہ بے مثل عزم و ہمت ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ مصیبت میں حوصلہ نہ ہاریں‘ زبان سے شکوہ نہ کریں‘ دشمن کے دربار میں بھی حق کی آواز بلند رکھیں اور یہی اہلِ بیت کا طرۂ امتیاز ہے اور قابلِ فخر شیوہ بھی۔ آج کی مائیں‘ بہنیں جب گھر کے مسائل اور معاشی تنگی سہتی ہیں تو حضرت زینبؓ کی سیرت مینارۂ نور بن کر روشنی فراہم کرتی ہے۔ دوسری طرف علی اصغرؓ چھ ماہ کے تھے اور پانی کی ایک بوند کیلئے شہید کر دیے گئے۔ ظلم کی یہ داستان ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ ظالم بچوں کو بھی نہیں بخشتا جبکہ مومن بچوں کو کمزور سمجھ کر قربانی سے نہیں روکتا۔ آج ہم اپنے بچوں کو سچ‘ ایمان‘ غیرتِ ایمانی کی تربیت دیں۔اس منفرد نصاب کا چوتھا بڑا سبق یہ کہ ظلم پر خاموش تماشائی بھی مجرم قرار پاتے ہیں۔ کوفہ کے 40ہزار لوگوں نے خط لکھے کہ حسینؓ آپ آئیں مگر جب وقت آیا تو ان میں سے اکثر یزید کی فوج کے ساتھ کھڑے تھے۔ ظلم کے خلاف آواز نہ اٹھانا یا غیرجانبدار رہنا دراصل یزیدی لشکر کی مدد کرنے کے مترادف ہے۔ آفس میں کوئی زیادتی ہو‘ محلے میں کوئی کمزور پٹ رہا ہو یا سوشل میڈیا پر جھوٹ پھیل رہا ہو‘ چپ رہنا کربلا کا سبق ہے اور نہ حسینیت کا دم بھرنے والوں کی پہچان۔ فرات پر پہرہ لگا دیا گیا‘ چھ ماہ کے بچے کو پانی کی ایک بوند تک نہ مل سکی۔ بنیادی انسانی اشیائے خور و نوش مثلاً روٹی‘ پانی‘ دوا‘ تعلیم کو ہتھیار بنانا سب سے بڑا ظلم ہے۔ آج بھی محصور علاقوں میں دوا‘ غریب کا راشن‘ غریب کے بچے کا داخلہ بند کرنا یزیدی سوچ کا مظہر ہے جبکہ کربلا ہمیں &#39;انسان سب سے پہلے‘ کا درس دیتا ہے۔ نصابِ کربلا کا آخری اور سب سے معتبر باب یہ ہے کہ شہادت موت نہیں زندگی ہے۔ حضرت امام حسینؓ شہید ہوئے لیکن آج تک‘ 1400سال بعد بھی سلام یا حسینؓ کی صدائیں گونج رہی ہیں۔ ثابت ہوا کہ اصول پر مر جانا باطل کے ساتھ جینے سے ہزار گنا بہتر ہے۔ دنیا وقتی ہے‘ نام ہمیشہ کیلئے وہی رہتا ہے جو حق کے ساتھ کھڑا ہو۔ کاروبار ڈوب جائے مگر ایمان نہ بکے۔ عہدہ چلا جائے مگر ضمیر نہ بکے۔ایران نے اسی نصاب پر عمل پیرا ہو کر امریکہ اور اسرائیل کے خلاف مزاحمت کی نئی تاریخ رقم کی ہے اور اخلاقی برتری اپنے نام کی ہے۔ اگرچہ روحانی اعتبار سے کربلا کی فقید المثال قربانی اور مزاحمت کا موازنہ حالیہ ایران امریکہ کشیدگی سے نہیں کیا جا سکتا مگر یہ موازنہ چند ایک جنگی اصولوں کے تناظر میں کیا جا سکتا ہے۔ سب سے پہلے دونوں کے درمیان عددی برتری اور غیرمساویانہ وسائل کی قدر مشترک ہے۔ کربلا میں امام حسینؓ کے 72ساتھیوں کے مقابلے میں یزید کی فوج 30ہزار جنگجوؤں پر مشتمل تھی۔ ایران پر امریکی معاشی پابندیاں تھیں جبکہ ٹیکنالوجی اور عسکری بجٹ میں امریکہ کئی گنا بڑا ملک ہے۔ ایران خود کو محصور لیکن مزاحم کہتا ہے۔ دونوں صورتوں میں مقصد کو بیانیہ کی طاقت بنایا گیا ہے۔ کربلا میں حق پرستی اور آج کی کشیدگی میں قومی غیرت اور خود مختاری کیلئے مزاحمت کا بیانیہ ہے۔ کربلا میں فرات پر پہرہ لگایا گیا اور پانی بند کر دیا گیا جس کے نتیجے میں چھ ماہ کے علی اصغرؓ کو پانی نہیں ملا جبکہ حالیہ کشیدگی میں امریکہ کی زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی‘ ایران کے تیل پر پابندی‘ بینکنگ سسٹم سے نکالنا‘ دوا اور خوراک کی ترسیل میں رکاوٹیں ڈالنا اسی زمرے میں آتا ہے۔ تیسری بڑی قدرِ مشترک بیعت اور جھکنے کے مطالبہ پر مزاحمت کا اعلان ہے۔ کربلا میں یزید نے حضرت امام حسینؓ سے کہا‘ بیعت کر لو سب کچھ مل جائے گا جس پر حسینؓ نے انکار کیا۔ اسی طرح امریکہ کا ایران سے یہ مطالبہ کہ جوہری پروگرام ختم کرو‘ علاقائی اثر کم کرو جبکہ ایران کا مؤقف یہ رہا ہے کہ خودمختاری پر سودا نہیں۔ بیانیہ اور پروپیگنڈا چوتھا بڑا مشترکہ غور طلب نکتہ ہے۔ کربلا کے بعد یزیدی دربار میں قیدیوں کو باغی کہا گیا۔ بی بی زینبؓ نے کوفہ و شام کے دربار میں خطبے دے کر اصل روایت محفوظ کی جس میں قلم تلوار پر بھاری پڑا۔ ایران امریکہ کشیدگی میں دونوں اطراف سے سوشل میڈیا اور سرکاری میڈیا پر بیانیہ کی جنگ لڑی گئی‘ ایک طرف دہشت گردی کا راگ الاپا گیا جبکہ دوسری طرف استعمار کے خلاف مزاحمت کا استعارہ استعمال کیا گیا۔ اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ جنگ میدان میں کم جبکہ ذہنوں میں زیادہ لڑی جاتی ہے۔ اللہ ہمیں نصاب ِکربلا کا کامل فہم عطا فرمائے کیونکہ صرف نوحہ کناں ہونا یا ماتم کرنا حسینیت نہیں بلکہ ظلم کے خلاف مزاحمت اور حرفِ انکار ہی نصابِ کربلا کی حقیقت کو آشکار کرتاہے۔کربلا کا پیغام آج کے پاکستان کیلئے انتہائی اہم ہے۔ میدانِ سیاست میں ووٹ‘ کرسیِ اقتدار اور اختیار کے حصول کیلئے اصول پر سمجھوتا نہیں کرنا چاہیے۔ معاشرے میں برادری‘ ذات‘ شریکا کے نام پر کمزور کا حق نہ کھائیں اور نہ ہی ذاتی فائدے کیلئے جھوٹ بولا جائے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ گھر میں بچوں کو کامیاب بنانے کے ساتھ ساتھ درسِ حسینؓکی تربیت بھی لازم ہے۔ نمبروں کی دوڑ میں شامل ہونا اچھا ہے لیکن ظلم کے سامنے حرفِ انکار اس سے کہیں بہتر ہے۔ سوشل میڈیا پر جھوٹ‘ بہتان‘ گالم گلوچ کو ری ٹو یٹ کرنے کے بجائے اس کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم شمر کے پیروکار نہ بنیں بلکہ زینبؓ کا علم بلند کریں۔کربلا نے دنیا کو دو راستے دکھائے‘ ایک راستہ حسینؓ کا ہے جس میں تھوڑے لوگ‘ بھوک‘ پیاس‘ اور شہادت ہے لیکن بے پناہ عزت‘ تاریخ ِانسانی میں قابلِ فخر مقام‘ اور اگلے جہاں میں جنت یقینی ہے۔ دوسرا راستہ یزید کا ہے جس میں فوج‘ تخت‘ اقتدار تو ہے لیکن ذلت اور جہنم مقدر میں لکھا گیا ہے۔ نصاب ِکربلا ہر سال ہمیں یہ پوچھتا ہے کہ تم کس صف میں ہو؟ ظالم کے لشکر میں‘ خاموش تماشائیوں میں‘ یا حسینؓ کے ساتھیوں میں؟</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_34710710.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>اگلا مہورت(آصف عفان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/asif-afan-/2026-06-26/52193/14244392</link><pubDate>Fri, 26 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/asif-afan-/2026-06-26/52193/14244392</guid><description>انسانی تاریخ کی دلخراش اور لرزا دینے والی قربانی‘ سانحۂ کربلا کی یاد میں دنیا بھر کے کلمہ گو مغموم ہیں۔ نواسۂ رسولﷺ امامِ عالی مقامؓ کی کنبے اور ساتھیوں سمیت شہادت ظلم‘ آمریت اور جبر کے پرچارکوں کے لیے بلاشبہ ایک کھلا پیغام ہے کہ بظاہر دکھائی دینے والا ان سبھی کا غلبہ وقتی اور آنکھ کا دھوکہ ہے‘ جوں جوں بڑھتا ہے‘ توں توں گھٹتا بھی چلا جاتا ہے یعنی ظلم کی رات بھلے کتنی ہی طویل ہو جائے سورج کی پہلی کرن ہی اس رات کے خاتمے کی پیغام رساں ہوتی ہے۔ دہشت اور بربریت کی علامت سمجھے جانے والے جابر ترین حکمران آج تاریخ کے اوراق میں دفن ہو چکے ہیں‘ ان کا نام لیوا بھی کوئی نہیں‘ ان کا صرف ایک ہی تعارف ہے کہ یہ انسانیت سوز مظالم کی سبھی حدیں پار کر کے ہر حوالے سے مر چکے ہیں جبکہ ان کی بدمستی اور گھمنڈ کی بھینٹ چڑھ کر ناحق مارے جانے والے آج بھی زندہ اور تاریخ کے ناقابلِ فراموش ابواب ہیں۔ دورِ حاضر کی سپر پاور امریکہ بہادر اور اس کا پروردہ اسرائیل بھی اسی گمان اور مائنڈ سیٹ کے ساتھ آپے سے باہر ہو کر عالمی امن کو تہہ و بالا کر کے بارود سے خون کی ہولی کھیلنے نکلے تھے لیکن میرے رب کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ طاقت اور بے پناہ اسلحہ کے زور پر تسخیر کرنے کا خواب دیکھنے والوں کو وہ دھول چاٹنا پڑی کہ دنیا بھر میں ان کی سبکی اور جگ ہنسائی کے تماشے گھر گھر دیکھے گئے۔ ایران کی حیرت انگیز جنگی حکمتِ عملی نے سپرپاور کے تمام پول کھولنے کے ساتھ ساتھ اس کی ہیبت اور دہشت کے سارے بت چکنا چور کر ڈالے۔ چشمِ فلک نے یہ منظر بھی دیکھا کہ ترنوالہ سمجھنے والے اپنے گلے میں ہڈی پھنسنے کے بعد پاکستان کے مرہونِ منت نکلے‘ بیشک میرا رب جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلت کے گڑھوں میں اوندھے منہ گرا دیتا ہے۔ پیغام رسانی سے لے کر ثالثی کے سبھی اعصاب شکن مراحل میں پاکستان کا کردار دنیا بھر میں ممتاز اور مسلمہ ہے۔ خدا کرے یہ امن پائیدار رہے اور دھول چاٹنے والوں کی زبانوں پر اس کا ذائقہ ہمیشہ تازہ اور جما رہے‘ لیکن یہود و نصاریٰ کی فطرت و خصلت کا پرچہ قرآن حکیم نے کئی جگہ آؤٹ کیا ہے۔ سورۃ المائدہ میں اللہ رب العزت کا فرمانِ عالی شان ہے: (مفہوم) اے ایمان والو! یہود اور نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ۔ یہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں اور جو شخص تم میں سے ان کو دوست بنائے گا وہ بھی انہی میں سے ہو گا۔ بیشک اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔ اسی طرح سورۃ البقرہ میں فرمانِ الٰہی ہے: (مفہوم) اور یہودی اور عیسائی آپ سے ہرگز راضی نہیں ہوں گے یہاں تک کہ آپ ان کے طریقے کی پیروی نہ کرنے لگیں۔ آپ فرما دیجیے کہ یقیناً ہدایت تو اللہ ہی کی ہدایت ہے (اور وہی سچی ہدایت ہے)۔ اور اگر آپ اس علم کے بعد جو آپ کے پاس آ چکا ہے‘ ان کی خواہشات کی پیروی کریں گے تو اللہ کے مقابلے میں آپ کا کوئی دوست اور نہ ہی کوئی مددگار ہو گا۔ ان قرآنی تعلیمات پر غور و فکر کریں تو ماضی بعید و قریب سے لے کر لمحۂ موجود تک سبھی خاکے بخوبی دیکھے اور سمجھے جا سکتے ہیں‘ یعنی سمجھنے والوں کے لیے واضح اشارے ہیں۔ اس جنگ بندی کو مستقل منظرنامہ سمجھنے والے خاطر جمع رکھیں! عالمی طاقت ہونے کے خمار کا بخار جوں کا توں ہے۔ البتہ فیس سیونگ اور محفوظ واپسی کے لیے کچھ حجتیں مجبوری ضرور بن گئیں جنہیں کڑوی گولی سمجھ کر نگل تو لیا گیا ہے لیکن موقع ملتے ہی یہ اپنی اصلیت اور خصلت ضرور دکھائیں گے۔ اس ثالثی میں ضرورتوں کا خلوص اور مطالبوں کا سلام جہاں شاملِ حال ہے وہاں یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ:یہ شرافتیں نہیں بے غرض انہیں آپ سے کوئی کام ہے پاک امریکہ تعلقات کے سبھی تجربات اور مشاہدات کی جمع تفریق کریں تو لاحاصل ہی حاصل نکلتا ہے یعنی کام ختم دام ختم۔ غرض سے جڑے مراسم نبھانے والوں میں ضیا الحق ہوں یا پرویز مشرف دونوں ہی استعمال تو خوب ہوئے لیکن ملک و قوم کو بھی بس خرچ ہی کر ڈالا۔ انفرادی فائدے اٹھانے والوں سے لے کر مراعات اور آسانیاں حاصل کر کے دنیا سنوارنے والوں تک سب کو سبھی جانتے ہیں لیکن امریکی نوازشات کے ثمرات بس انہی خواص میں بندر بانٹ تک محدود رہے اور عوام کو ہونے والے خساروں کے انڈے بچے آج بھی برابر نکل رہے ہیں۔ افغان مہاجرین سے لے کر ان کے ساتھ آنے والی مہلک برائیاں جہاں ہماری کئی نسلیں نگل گئیں وہاں ان کی معاشی اجارہ داری بھی معیشت کو گھن کی طرح چاٹ گئی۔ افغان مہاجرین کو بھائی چارے کے نام پر گلے سے لگانے والے دراصل انہیں اپنی اکانومی بنا کر لائے تھے لیکن ملک کے اقتصادی اور سماجی ڈھانچے کو محض ڈھانچہ بنا کر رکھ دیا۔ اسی طرح مشرف نے بھی ڈو مور کے مطالبے کو اس طرح نصب العین بنایا کہ امریکی ایجنسیاں اور ادارے ملک بھر میں دندناتے پھرتے تھے‘ جس پر انگلی اٹھا دی اسے پارسل بنا کر پیش کیا جاتا رہا۔ افغان جہاد کے ہیرو ہوں یا نائن الیون کے سہولت کار‘ کوئی طولِ اقتدار تو کوئی استحکامِ اقتدار کے لیے اپنی اپنی ڈیوٹی ادا کرتا رہا۔خدا کرے کہ ثالثی کا ملک کو حقیقی فائدہ پہنچے ‘ لیکن جنگ بندی کو آئندہ جارحیت تک ایک وقفہ بھی کہا جا سکتا ہے۔ منہ کی کھانے کے بعد امریکہ بہادر کسی صورت یہ سُبکی زیادہ دیر برادشت نہیں کر پائے گا۔ نئی حکمتِ عملی اور نئے جواز اور توجیہات کے ساتھ وہ اوقات ضرور دکھائے گا۔ یہ جنگ مشرقِ وسطیٰ میں تقسیم اور نفاق کا بیج بونے کا سبب بھی بن چکی ہے‘ اس تناظر میں امریکہ اپنے اہداف کے تعاقب اور تسلسل میں کسی حد تک کامیاب بھی رہا ہے۔ پاکستان بھی مشرقِ وسطیٰ کی بعض ریاستوں کو کھٹکتا ہے۔ آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا! ماضی میں بھاری قیمتیں چکانے کی بدعت مزید دوام پکڑنے کے اشارے اور امکانات بھی بدستور موجود ہیں۔عالمی امن کے لیے گراں قدر خدمات کا سہرا ہم سجا چکے ہیں۔ مبارک‘ سلامت اور ستائش ہو رہی ہے۔ آبنائے ہرمز کی رونقیں بحال ہو چکی ہیں‘ ایران میں تعمیرِ نو اور بحالی کا کام جاری ہے۔ امریکہ اور اسرائیل خجالت کے بعد یقینا نئی شرانگیزی کے لیے اگلا مہورت نکال رہے ہوں گے۔ اس حال میں جان کی امان پاؤں تو عرض ہے کہ مملکتِ خداداد میں بسنے والے بھی توجہ کے طلبگار ہیں۔ وہ نسل در نسل پستے اور مرتے چلے آرہے ہیں۔ طرزِ حکمرانی پر اٹھنے والے کڑے سوالات مستقل لاجواب ہیں‘ گورننس کے نام پر سرکاری ادارے آپے سے باہر ہیں۔ قانون اور ضابطے دہرے معیار کے ساتھ اس طرح لاگو ہیں کہ تگڑا انہیں گھر کی باندی بنائے بیٹھا ہے تو ماڑے کی زندگی اجیرن ہے۔ روٹی کی بھوک سے لے کر بنیادی ضروریاتِ زندگی تک مستقل محرومی ہے‘ عزتیں سرِعام پامال ہیں تو دادرسی اور انصاف کونے جھانک رہے ہیں۔ ملک کے طول و عرض میں زندگی اس قدر مشکل ہے کہ بیان سے باہر ہے‘ آسمان کہاں کہاں گرے‘ زمین کہاں کہاں پھٹے۔ </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_65560900.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>راہِ حسینؓ اور امن کا پیغام(امیر حمزہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ameer-hamza/2026-06-26/52194/18527515</link><pubDate>Fri, 26 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ameer-hamza/2026-06-26/52194/18527515</guid><description>اللہ تعالیٰ نے چار مہینوں کو حُرمت والے مہینے قرار دیا ہے۔ ان کیلئے اپنی آخری الہامی کتاب میں &#39;&#39;حُرم‘‘ کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ ان چار مہینوں میں سے ایک مہینے کا نام &#39;&#39;محرم‘‘ ہے۔ یعنی محرم ایسا مہینہ ہے جس کا لفظی اور معنوی رشتہ براہِ راست قرآن مجید سے جڑا ہوا ہے۔ اسی مہینے میں اللہ تعالیٰ نے وطنِ عزیز کو عزت وتکریم سے نوازا۔ وزیراعظم شہباز شریف‘ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیر داخلہ محسن نقوی سوئٹرز لینڈ پہنچے۔ ان کی شبانہ روز محنتوں سے ساری دنیا کو امن کا پھل ملا۔ تیسری جنگِ عظیم کا خطرہ دور کرنے کا کام اللہ تعالیٰ نے پاکستان سے لیا۔ ہر پاکستانی کو اس پر فخر ہے۔ دنیا بھر میں بسنے والے پاکستانیوں کو دنیا کے ہر ملک میں عزت ملی ہے۔ فللّٰہِ الحمد!قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: &#39;&#39;جس وقت اللہ نے کائنات کو (کُن کہہ کر) بنایا اسی وقت اللہ کی کتاب میں اللہ کے ہاں مہینوں کی تعداد بارہ قرار پائی۔ ان میں سے چار کو حرمت والے مہینے قرار دیا گیا‘‘ (التوبہ: 36)۔ بخاری و مسلم میں روایت ہے کہ اللہ کے آخری رسولﷺ نے فرمایا: ذوالقعدہ‘ ذوالحجہ اور محرم کے مہینے متواتر اور مسلسل ہیں جبکہ رجب کا مہینہ جمادی (الثانی) اور شعبان کے درمیان ہے (یعنی تقریباً سال کے وسط میں ہے)۔ قارئین کرام! رجب کا معنی تعظیم وتوقیر اور ہیبت ہے۔ یعنی سارا سال عالمی سطح پر کچھ ایسے لوگ عالمی امن کیلئے کوشاں رہیں کہ ان کی کوششوں کو تعظیم و توقیر ملے۔ الحمدللہ! یہ تعظیم و توقیر پاکستان کے حصے میں آئی۔ ہمیں توقع کرنی چاہیے کہ پاک وطن کی گورننس کا فرسودہ نظام ایسے عادلانہ نظام کے ساتھ تبدیل ہو گا کہ جہاں میرٹ کا راج ہو گا‘ تب یہ تعظیم و توقیر بڑھتی ہی چلی جائے گی‘ ان شاء اللہ۔ متواتر مہینوں میں ذوالقعدہ پہلا مہینہ ہے۔ قعدہ کا معنی بیٹھنے کا طریقہ ہے۔ نماز میں درمیانی اور آخری تشہد میں بیٹھنے کو &#39;&#39;قعدہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس مہینے کا مطلب یہ ہے کہ عرب کے لوگ اگر جنگ کر رہے ہوتے تو اس مہینے میں جنگ چھوڑ کر گھروں کو چلے جاتے۔ اس کو &#39;&#39; حلوہ‘‘ کہا جاتا۔ گھروں میں بیٹھنے سے معاشرتی نظام بھائی چارے میں ڈھل جاتا۔ پھر سواری پر زین کس کر سامان لادا جاتا اور حج کیلئے اس پر بیٹھ کر یعنی &#39;&#39;قعدہ‘‘ کرکے لمبا سفر اختیار کیا جاتا‘ یوں امن حاصل کر کے اس ماہ کو &#39;&#39;ذوالقعدہ‘‘ کہا جاتا۔ اگلا مہینہ حج کا ہے۔ حج کا معنی قصد یعنی ارادہ ہے۔ حرم مکی میں آ گئے تو امن ہی امن۔ جی ہاں! اسلام سارا سال انسانیت میں امن کی بہار چاہتا ہے۔ لوگو! ہجری سال کا آخری مہینہ حج کا مہینہ ہے تو قمری اور ہجری سال کا پہلا مہینہ محرم کا مہینہ ہے۔ یہاں بھی پیغام یہ ہے کہ سال کے شروع سے لے کر آخر تک امن ہی امن کا نظام انسانیت کو دے سکتے ہیں تو ہجرت والے دے سکتے ہیں‘ حج والے دے سکتے ہیں اور محرم والے دے سکتے ہیں۔اللہ کے رسول حضور نبی کریمﷺ نے فرمایا &#39;&#39;زمان (وقت) گھوم کر اپنی اسی حالت پر واپس پلٹ آیا ہے جس دن اللہ تعالیٰ نے کائنات کو پیدا فرمایا تھا‘‘ (صحیح بخاری)۔ اللہ کے رسولﷺ نے یہاں &#39;&#39;استدار‘‘ کا لفظ ارشاد فرمایا‘ جس میں گولائی کا معنی پایا جاتا ہے۔ اپنے مدار میں گردش کا معنی پایا جاتا ہے۔ یاد رہے! ذرہ سے مجرّہ تک یعنی ذیلی ذرات سے کہکشائوں اور ان کے جھرمٹوں تک‘ ہر شے اپنے مدار میں گھوم رہی ہے۔ اسی گھمائو اور گردش میں ٹائم کا کردار پنہاں ہے۔ حضورﷺ ختم المرسلین ہیں‘ لہٰذا ٹائم یا زمانہ گھومتے ہوئے اپنے اصل پر واپس آ گیا ہے۔ قارئین کرام! حضورﷺ کی پیشگوئیوں کو سامنے رکھیں تو مسلم امت پچھلی تین چار صدیاں متواتر ماریں کھانے کے بعد آج ہمارے زمانے میں ذرا سنبھل کر طوفانوں کے سامنے کھڑی ہو گئی ہے۔ ایسے لگتا ہے جیسے زمانہ گھوم گھما کر پھر سے امت کے ساتھ کھڑا ہو گیا ہے۔ اس منظر کا آغاز ہم نے اس وقت دیکھا جب ہمارے فیلڈ مارشل نے &#39;&#39;بنیانٌ مرصوص‘‘ کا سلوگن قوم کو دیا اور انڈیا کو آدھے دن سے بھی کم وقت میں شکست سے دوچار کر دیا۔ اس دن سے امت ایسے اٹھنا شروع ہوئی کہ امریکہ اور اسرائیل کے سامنے ایران خم ٹھونک کر اور سینہ تان کر کھڑا ہو گیا۔ ایسے لگتا ہے جیسے پاک وطن کی افواج کے فیلڈ مارشل نے عالمی فیلڈ میں امن کے چوکے اور چھکے لگانا شروع کر دیے ہوں۔ خلیجی ممالک کیلئے حلم و حوصلے کا چھکا‘ ایران کو ذرا سنبھل کر چلنے کا مشورہ‘ دونوں کے مابین ذہانت سے معمور امن کی شٹل ڈپلومیسی‘ اعتماد کے پُل کی تعمیر‘ امریکہ کیلئے ذرا بچ کر چلنے کی کاوش اور نیتن یاہو کو ذرا گھور کر دیکھنے کا جتن۔ جی ہاں! جو دن بھی نیا بن کر طلوع ہوتا رہا‘ فیلڈ میں ہر گیند اک نئے زاویے سے وکٹ کو اڑاتی رہی۔ آخرکار چودہ نکات پر دستخط ہوئے۔ مجھے یوں لگا جسے قائداعظم کے چودہ نکات زندہ ہو گئے۔ تب چودہ نکات سے پاکستان بنا تھا۔ آج چودہ نکات سے پاک وطن اس قدر مضبوط بن کر ابھرا ہے کہ جس ایم او یو پر ایران اور امریکہ کے صدور نے دستخط کیے اور اس پر پیس میکر اور ثالث کی حیثیت سے وزیراعظم پاکستان کے دستخط ثبت ہوئے‘ اسے اسلام آباد میمورنڈم کا نام دیا گیا۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان زندہ باد۔ صدرِ ایران کی اظہارِ تشکر کیلئے اسلام آباد آمد مرحبا۔لوگو! نبوت و رحمت کے ٹریک پر خلافت راشدہ نے 30سال کا سفر طے کیا۔ یہ مبارک سفر ڈی ٹریک ہو گیا۔ یہ ڈی ٹریک نہ ہوتا تو پہلی یا دوسری صدی ہجری میں ہم متعدد سنگ ہائے میل عبور کر کے بعد ایسے سٹیشن پر کھڑے ہوتے جو اپنے وقت کا بہترین مشاورتی اور جمہوری نظام ہوتا۔ دنیا ہماری خوشہ چین ہوتی مگر ہم ملوکیت کا شکار ہو کر صدیوں تک اسی دلدل میں ہاتھ پیر مارتے رہے۔ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ بیس سال تک غیر مشاورتی اور غیر جمہوری نظام اور اس کی خرابیاں دیکھتے رہے۔ آخرکار انہوں نے اپنے نانا‘ ختم المرسلینﷺ کے دیے ہوئے سیاسی نظام کو بحال کرانے کیلئے اپنی اور اہلِ خاندان کی عظیم قربانیاں دے دیں۔ یہ اسی قربانی کا پھل ہے کہ کلمہ طیبہ کی بنیاد پر پاکستان حاصل کیا تو قائداعظمؒ نے جمہوری رویوں سے حاصل کیا اور آج اسی رویے کی وجہ سے پاکستان پاسبانِ ملتِ اسلامیہ ہے۔امام ابوبکر ابن ابی شیبہ‘ امام احمد بن حنبل‘ امام احمد بن منیع اور امام عبد بن حمید صحیح سند کے ساتھ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی ایک روایت لائے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ میں نے تپتے دن میں ایک خواب دیکھا کہ اللہ کے رسولﷺ تشریف فرما ہیں۔ سر مبارک کے بال بکھرے ہوئے اور ان میں (کربلا کا) گرد وغبار پڑا ہوا ہے۔ ہاتھ مبارک میں ایک شیشی ہے‘ جس میں خون ہے۔ میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسولﷺ! میرے ماں باپ قربان! یہ کیا چیز ہے؟ فرمایا: یہ حسین کا خون ہے اور اس کے ساتھیوں کا خون ہے۔ دن بھر سے میں اسے جمع کر رہا ہوں۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ کہتے ہیں: ہم نے اس دن کو دل میں رکھ لیا۔ جب خبر ملی تو اسی دن (10محرم) کو حسینؓ کی کربلا میں شہادت ہوئی تھی۔ قارئین کرام! یہی وہ خونریزی ہے جس سے امت کو بچانے کیلئے حضورﷺ وصیتیں کرتے رہے‘ نصیحتیں فرماتے رہے۔ ایک نظام دے کر گئے اور اس پر کار بند رہنے کی تلقین فرمائی۔ حضورﷺ اپنے رب کریم کے کرم سے پیغام دے گئے مگر ہم اہلِ اسلام اصل پیغام کی جانب آنے کے بجائے فرقہ ورانہ بحثوں میں الجھ کر رہ گئے۔ آئیے! اپنے اللہ کا شکر ادا کریں۔ زمانہ پھر گھوم کر آ گیا ہے۔ اس بار حج اور دنیا بھر کے مسلمانوں کیلئے قربانی کا دن ایک ہی تھا۔ حضرت حسینؓ کی شہادت کا دن دس محرم‘ جمعۃ المبارک کا دن تھا۔ آج بھی وہی دن ہے۔ سمجھ یہ آ رہی ہے کہ زمانہ پھر گھوم کر امت کی سربلندی کی نوید سنا رہا ہے۔ سرزمینِ حرمین اور سرزمینِ ایران کو پاکستان اتحادِ امت کی لڑی میں پرو چکا۔ یوں لگتا ہے جیسے باقی سارے ممالک بھی اس فیلڈ میں کھڑے ہیں‘ جدید اسلامی جمہوری شاہراہ پہ کھڑے ہیں۔ فیلڈ مارشل اور وزیراعظم مسکرا رہے ہیں۔ اہلِ پاکستان کو مبارکبادیں مل رہی ہیں۔ دنیا بھر کی انسانیت کو امن مل رہا ہے۔ عالمی امن زندہ باد۔ دنیا بھر کی انسانیت زندہ باد۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_68712266.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>