<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>سیلاب کے خدشات اور پیشگی انتظامات(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-28/11401</link><pubDate>Tue, 28 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-28/11401</guid><description>ملک بھر میں مون سون کی بارشوں کا سلسلہ جاری ہے اور کئی علاقے بالخصوص صوبہ پنجاب اس وقت سیلابی خدشات کی زد میں ہے۔ ایک طرف مون سون کے نئے سپیل سے مختلف شہروں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ ہے جبکہ دوسری جانب دریاؤں میں پانی کی بلند ہوتی سطح خطرے کی گھنٹی بجا رہی ہے۔ پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق دریائے سندھ میں کالا باغ‘ چشمہ اور تونسہ کے مقام پر‘ دریائے راوی میں سدھنائی کے مقام پر اور نارروال کے نالہ بسنتر میں نچلے درجے کا جبکہ وزیر آباد میں نالہ پلکھو میں اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ بالائی علاقوں میں بارشیں رکنے سے دریائے چناب میں سیلابی صورتحال میں کمی ہو رہی ہے تاہم بھارت کی آبی جارحیت اور باکھڑا ڈیم سے پانی چھوڑنے کے باعث مرالہ‘ خانکی‘ قادر آباد اور تریموں کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے۔ دریائے ستلج اور جہلم میں اس وقت پانی کا بہاؤ نارمل ہے۔ دوسری طرف فیروزوالا میں شدید بارش کے باعث کئی علاقے زیر آب آ گئے جبکہ نالے میں طغیانی سے ریلوے کا ایک پُل بھی بہہ گیا جس سے لاہور سے فیصل آباد ریلوے سیکشن پر ٹرین آپریشن عارضی طور پر معطل ہو گیا اور متعدد ٹرینوں کے روٹس تبدیل اور بعض ٹرینیں منسوخ کر دی گئیں۔ مریدکے‘ منڈی بہاء الدین‘ چنیوٹ‘ سیالکوٹ‘ مظفر گڑھ اور جھنگ سمیت متعدد علاقوں میں پانی کھیتوں میں داخل ہونے سے ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں۔ محکمہ موسمیات 29جولائی سے بارشوں کے نئے سلسلے کا امکان ظاہر کر رہا ہے۔

بھارت میں پنجاب کے دریاؤں پر بنائے گئے اکثر ڈیم پہلے ہی بھر چکے ہیں اس لیے اُن علاقوں میں رواں ہفتے مزید بارشوں کی صورت میں اضافی پانی پاکستان کی طرف ہی چھوڑا جانے کا خدشہ ہے۔ اس صورتحال میں ضروری ہے کہ ممکنہ خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکمت عملی تشکیل دی جائے۔ بھارت کی جانب سے کتنا پانی چھوڑا جا سکتا اور اسکے ہمارے علاقوں میں جو اثرات ہو سکتے ہیں اس حوالے سے متعلقہ اداروں کو چوکس رہنا چاہیے۔ پانی آنے کے بعد تو صرف ریسکیو ہی کا کام کیا جا سکتا‘ اپنے شہروں کو سیلابوں سے محفوظ بنانے کیلئے ہمیں دیرپا پلاننگ کرنا ہو گی۔ عالمی موسمیاتی تغیرات کے ساتھ بے موسمی اور غیرمعمولی بارشیں اب معمول بن چکی ہیں اور بارشوں کے نقصانات کی شدت ہر سال بڑھتی جا رہی ہے۔ گزشتہ برس مون سون میں بارشوں اور سیلاب سے ملک کو 822ارب روپے کا نقصان ہوا۔ دو لاکھ سے زائد افراد ملک بھر میں اپنی ملازمتوں سے محروم ہو گئے جبکہ ملک کی معاشی نمو بھی شدید متاثر ہوئی اور جی ڈی پی نمو کا ہدف تک کم کرنا پڑا۔ ہمارے لیے سیلاب سماجی سے زیادہ اب معاشی بقا کا بھی مسئلہ بن چکے ہیں۔ گزشتہ برس مون سون سیزن میں ملک بھر میں اوسط بارش 172.8 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی‘ جو معمول کی 140.9 ملی میٹر بارش سے 23 فیصد زیادہ تھی۔ موسمیاتی ماہرین رواں سال بھی زیادہ بارشوں اور ایل نینو اثرات کے سبب مون سون کے فوری بعد سے 2027ء کے ابتدائی مہینوں تک بارشوں کی کمی اور خشک سالی کا خطرہ ظاہر کر رہے ہیں۔
موسمیاتی تبدیلیوں کو پلٹنا تو ہمارے بس میں نہیں مگر مناسب حکمت عملی اور منصوبہ بندی سے اسکے نقصانات کو کم ضرور کیا جا سکتا ہے اور یہ اسی صورت ممکن ہے جب ہم اس کیلئے بروقت تیار ہوں۔ نئے آبی ذخائر کی تعمیر سے نہ صرف سیلابی پانی کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے بلکہ خشک سالی میں یہ پانی کی فراہمی کا موثر ذریعہ بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔ دریائی گزرگاہوں‘ برساتی نالوں اور شہروں میں سیوریج سسٹم کی توسیع اب ناگزیر ہو چکی ہے۔ ہر سال مون سون کے موسم میں اربوں روپے اور زرعی پیداوار میں کمی کا نقصان اٹھانے سے کہیں بہتر ہے کہ اس حوالے سے پائیدار اور دیرپا منصوبہ بندی کی جائے۔ سیلاب سے بچاؤ کا ایک ہی راستہ ہے کہ پانی آنے سے پہلے پانی سے بچاؤ کا بندوبست کیا جائے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>آزاد کشمیر انتخابات کا پہلا مرحلہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-28/11400</link><pubDate>Tue, 28 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-28/11400</guid><description>آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے بارہویں عام انتخابات کا پہلا مرحلہ گزشتہ روز مجموعی طور پر خیریت سے مکمل ہو گیا۔ پہلے مرحلے میں میرپور ڈویژن کے تین اضلاع میرپور‘ کوٹلی اور بھمبر کے 13انتخابی حلقوں میں پولنگ ہوئی جہاں ووٹروں نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔ یہ مرحلہ اس اعتبار سے اہم تھا کہ اس نے نہ صرف انتخابی انتظامات کا عملی امتحان لیا بلکہ آئندہ مراحل کیلئے کئی ایسے اسباق بھی چھوڑے ہیں جن سے صرفِ نظر نہیں کیا جا سکتا۔اگرچہ انتخابی عمل مجموعی طور پر ہموار رہا‘ تاہم بعض پولنگ سٹیشنوں پرووٹروں کے طویل انتظار‘مبینہ دھاندلی‘ انتخابی ضابطہ کار کی خلاف ورزی‘ بیلٹ باکس اٹھائے جانے‘ لڑائی جھگڑے اور فائرنگ سے متعلق واقعات نے سوالات بھی اٹھائے ہیں۔

انتخابات کا دوسرا مرحلہ چھ دن بعد مظفرآباد ڈویژن کے نو انتخابی حلقوں میں منعقد ہونا ہے۔الیکشن کمیشن آزاد کشمیر کو چاہیے کہ وہ آئندہ مراحل کیلئے مؤثر انتظامات یقینی بنائے۔ پولنگ عملے کی پیشہ ورانہ تربیت‘ حساس پولنگ سٹیشنوں پر بہتر نظم و نسق‘ سکیورٹی کے جامع انتظامات‘ بروقت مواصلاتی سہولت اور ووٹروں کی آسان رہنمائی کو یقینی بنایا جائے تاکہ ہر شہری بلا خوف و خطر اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر سکے۔شفاف‘ منظم اور پُرامن انتخابات ہی جمہوری نظام کی حقیقی بنیاد ہوتے ہیں۔ اگر پہلے مرحلے میں سامنے آنے والی خامیوں کا بروقت تدارک کر لیا جائے تو باقی مراحل نہ صرف زیادہ منظم انداز میں مکمل ہو سکتے ہیں بلکہ عوام کا انتخابی عمل پر اعتماد بھی مضبوط ہوگا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>وبائی امراض اور حفاظتی اقدامات(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-28/11399</link><pubDate>Tue, 28 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-28/11399</guid><description>ہر سال مون سون میں سیلابی صورتحال کیساتھ ایک اور خطرہ بھی دستک دیتا ہے مگر انتظامیہ کو اسکی شدت کا احساس اس وقت ہوتا ہے جب ہسپتالوں کے وارڈ مریضوں سے بھرنے لگتے ہیں۔ ایک خبر کے مطابق 26جولائی کو لاہور کے صرف پانچ سرکاری ہسپتالوں میں بارشی پانی سے پیدا ہونیوالے جلدی امراض اور گیسٹرو کے سات سو سے زائد مریض رپورٹ ہوئے۔ ملک کے دیگر علاقوں میں بھی‘ جہاں بارشی پانی جمع ہے‘ کم و بیش ایسی ہی صورتحال کا سامنا ہے۔ مون سون کے موسم میں گیسٹرو‘ ہیضہ اور جلدی امراض کے پھیلنے کی بنیادی وجوہات جگہ جگہ کھڑا بارشی پانی ‘ آلودہ پانی کا پینے کے پانی میں شامل ہونا اور آلودہ خوراک ہے۔ کھڑا پانی مچھروں اور دیگر بیماری پھیلانے والے حشرات کی افزائش گاہ بن جاتا ہے۔

نتیجتاً ہسپتالوں پر مریضوں کا بوجھ بڑھتا ہے اور صحت کا نظام دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے۔ یہ صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ حکومت موسمی وباؤں کا انتظار کرنے کے بجائے پیشگی منصوبہ بندی کو اپنی پالیسی کا مستقل حصہ بنائے۔ رہائشی علاقوں سے بارشی پانی کی فوری نکاسی‘ واٹر سپلائی لائنوں کی نگرانی‘ صاف پانی کی فراہمی اورجراثیم کش سپرے وقت کی اہم ضرورت ہے۔ شہری بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور پینے کیلئے ابلا ہوا یا فلٹر شدہ پانی استعمال کریں۔ اس موسم میں معمولی سی احتیاط بھی بڑے نقصان سے بچا سکتی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سیکرٹری داخلہ سے چیئرمین سی ڈی اے تک(محمد اظہارالحق)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-07-28/52375/86115776</link><pubDate>Tue, 28 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-07-28/52375/86115776</guid><description>یہ کہانی وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے متعلق ہے۔ اس دردناک‘ عبرتناک‘ مضحکہ خیز اور حیران کن حقیقی کہانی سے آپ آسانی کے ساتھ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ریاست کہاں کھڑی ہے! کس طرف جا رہی ہے اور نوشتۂ دیوار کیا ہے! اس کہانی کو پورے ملک پر پھیلا کر دیکھیے!!اسلام آباد کے عین وسط میں سیکٹر جی سکس فور ہے۔ اس کے ایک طرف‘ چھ منٹ کی ڈرائیو پر معروف ترین فائیو سٹار ہوٹل ہے۔ دوسری طرف‘ چھ منٹ ڈرائیو پر ہی چیئرمین سی ڈی اے کا دفتر ہے۔ یہ سیکٹر شہر کا دل ہے۔ اس کی سٹریٹ پینسٹھ (65) میں‘ گھروں کے عین درمیان‘ مسجد کی بغل میں ایک چھوٹا سا خالی پلاٹ تھا۔ یہ پلاٹ ایک اوپن ایئر لیٹرین بنا ہوا تھا۔ یہاں کوڑا پھینکا جاتا تھا۔ بدبو کے بھبکے اٹھتے تھے۔ سی ڈی اے نے بدبو میں خاطر خواہ اضافہ کرنے کیلئے یہاں ایک چھکڑا رکھ دیا تھا۔ اس کا ڈھکنا نہیں تھا۔ جب چھکڑا انسانی فضلے اور کوڑے سے بھر جاتا تو پورا پلاٹ کوڑے دان کے طور پر استعمال ہوتا۔ بدترین پہلو معاملے کا یہ تھا کہ مسجد جانے والے اس &#39;&#39;خوشبو‘‘ سے گزر کر مسجد پہنچتے تھے۔ کچھ بے بس افراد نے اس کالم نویس سے مدد مانگی۔ پہلے فون پر کوشش کی۔ متعلقہ ممبر سی ڈی اے سے فون پر بات کرنا ناممکن ثابت ہوا۔ پھر کالم لکھا۔ کالم اُس وقت کے چیئرمین سی ڈی اے کو ارسال کیا۔ جواب ملا نہ ایکشن ہوا۔ اُس وقت سی ڈی اے کے باس‘ وفاقی سیکرٹری داخلہ بات سنتے بھی تھے‘ جواب بھی مرحمت فرماتے تھے۔ ان کے حکم پر غلاظت والا چھکڑا ہٹا لیا گیا۔ اب یہ سی ڈی اے کا کام تھا کہ اس پلاٹ کو کوڑے دان کے بجائے بچوں کیلئے پارک میں تبدیل کر دیتا۔ مگر یہ کوڑے دان ہی رہا۔ فضلے کا ڈھیر ہی رہا۔ اگر چیئرمین صاحب یا متعلقہ ممبر صاحب دفتر سے اٹھ کر شہر کا دورہ کرتے تو اس سنڈاس پر نظر پڑتی۔ بیورو کریسی اور منتخب میئر میں یہی فرق ہوتا ہے۔چار دن پہلے متاثرین میں سے چند نے دوبارہ رابطہ کیا۔ پرنالہ اپنی جگہ پر واپس آ چکا تھا۔ سی ڈی اے نے چھکڑا دوبارہ رکھ دیا تھا۔ بدبو دور سے استقبال کرتی تھی۔ تعفن فضا میں چاروں طرف پھیلتا تھا اور گھروں اور راہگیروں کو اپنی لپیٹ میں لیتا تھا۔ اندازہ لگائیے جو ادارہ شہر کی صفائی کا ذمہ دار تھا وہ اسے گندگی سے بھر رہا تھا۔ سیکرٹری داخلہ کے بارے میں معلوم ہوا کہ ملک سے باہر ہیں۔ ڈی جی سینی ٹیشن صاحبہ سے رابطہ کیا۔ ان تک رسائی ممکن نہ ہوئی۔ ایک مردِ خدا نے مدد کی۔ اور نہ صرف چھکڑا ہٹوایا بلکہ پلاٹ کی صفائی بھی کرائی۔ اب اگلا مرحلہ یہ تھا کہ ایک بورڈ آویزاں کیا جائے کہ یہاں کوڑا اور غلاظت ڈالنا منع ہے۔ وقتی طور پر میں خود وہاں پہرہ دیتا رہا۔ محلے کی ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ بچی بھی پہرہ دیتی رہی۔ معلوم ہوا کہ کوئی فیصل صاحب اس سیکٹر کے سینی ٹیشن انسپکٹر ہیں۔ ان کی خدمت میں درخواست کی۔ ان کا حکم واضح تھا کہ بازار جائیے! بورڈ بنوائیے‘ آ کر نصب کیجیے۔ چاروں کونوں پر بانس نصب کیجیے۔ ان کے گرد سبز پلاسٹک یا کپڑا پھرائیے تا کہ کوڑا نہ پھینکا جا سکے۔ ان سے پوچھا کہ اس سارے عمل میں سی ڈی اے کا کیا کردار ہو گا؟ انہوں نے فرمایا کہ سی ڈی سے آپ کو اس کارِ خیر کی اجازت لینا پڑے گی۔ انسپکٹر صاحب کی اس فیاضانہ مدد سے دل باغ باغ ہوا اور روح نہال ہوئی۔ ڈی جی سینی ٹیشن تو رسائی سے بالا تھیں۔ خوش بختی ذرا سی مسکرائی اور ڈائریکٹر صاحب سے رابطہ ہو گیا۔ انہوں نے ادارے کی طرف سے گارڈ بھیجنے کا عندیہ دیا اور بھیجا بھی!غروبِ آفتاب سے بیس منٹ پہلے‘ آب پارہ بازار کی ایک تنگ اور بند گلی کے آخر میں واقع‘ مزید تنگ سیڑھیاں چڑھ کر میں اوپر پہنچا تو یہ ایک فراخ دکان تھی۔ نوجوان دکاندار کو بتایا کہ ایک بورڈ بنوانا ہے جس پر لکھا ہو کہ &#39;&#39;یہاں کوڑا پھینکنا منع ہے‘‘۔ اس نے مسکراتے ہوئے کہا: ابھی بن جائے گا اور یہ کہ میں بیٹھوں۔ بیٹھ کر سانس بحال کیے۔ پھر ادھر ادھر دیکھا۔ صوفہ نما چبوترے پر ایک بزرگ دراز تھے۔ ایک نوجوان ان کی ٹانگیں اور پاؤں داب رہا تھا۔ان سے گپ شپ ہوئی۔ یہ میرے پسندیدہ شہر‘ سیالکوٹ کے نکلے۔ کیا نرم لہجہ تھا اور کیا شیرینی تھی ان کی باتوں میں۔ انہوں نے چائے منگوائی۔ میں مکس چائے سے اور وہ بھی میٹھی‘ پرہیز کرتا ہوں مگر ان کا جذبہ دیکھ کر انکار نہ کر سکا۔ ان کے تینوں بیٹے ان کے ساتھ اسلام آباد ہی میں رہ رہے تھے۔ کلام پاک میں باپ کے پاس موجود رہنے والے بیٹوں کو نعمت قرار دیا گیا ہے۔ (بنین شھودا)۔ عشا کے وقت بورڈ تیار کر کے گھر پہنچا دیا گیا۔ دوسرے دن اسے جائے &#39;&#39;واردات‘‘ پر نصب کرا دیا گیا۔ لیکن مسئلہ یہاں ختم نہیں ہوتا‘ شروع ہوتا ہے!مسئلہ یہ ہے کہ یہاں بچوں کیلئے پارک بنے مگر کیسے بنے؟ جس چھوٹے پلاٹ کو اس فقیر نے کوڑے اور غلاظت سے دوسری بار رہائی دلوائی ہے‘ اس کے ساتھ کچھ اور بھی جگہ خالی ہے۔ اگر کسی طاقتور &#39;&#39;زمین خور‘‘ نے اس ساری جگہ پر قبضہ کر لیا اور سی ڈی اے اس کے سامنے بے بس ہو گیا تو بچے ایک پارک سے محروم ہو جائیں گے۔ پہلی گزارش وفاقی سیکرٹری داخلہ سے ہے جو سی ڈی اے کے مدار المہام ہیں‘ کہ ازراہِ لطف‘ سٹریٹ 65‘ سیکٹر جی سکس‘ فور کا دورہ کریں اور متعلقہ حلقوں کو ہدایات دیں کہ اردگرد رہنے والوں کو تعفن بھری فضا کے بجائے صاف ستھری فضا مہیا کریں۔ دوسری گزارش سی ڈی اے کے چیئرمین سے ہے۔ حضور والا!! یہاں بچوں کیلئے پارک بنوا دیجیے۔ تین چار خوبصورت بنچ! چند جھولے! کچھ فرشی گھاس! یقین کیجیے بچے خوش ہوں گے تو آپ کے بخت کا ستارہ اور بھی چمکے گا۔ تیسری گزارش سی ڈی اے کے محکمہ پارک کے ممبر سے ہے کہ اتنا چھوٹا سا کام تو ان کے اپنے دائرہِ اختیار میں ہے۔ اے افسران کرام! اے سیکرٹری داخلہ صاحب! اے چیئرمین بہادر! سی ڈی اے! آج آپ مقتدر ہیں۔ کل اختیار ہو گا نہ اقتدار۔ ایسا کام سامنے آئے تو توشہ آخرت سمجھ کر کیجیے۔ شعلہ بھڑکا ہوا ہو تو اس پر پڑنے والی پانی کی ننھی سی بوند بھی بولتی ہے۔ شعلہ بجھ جائے تو گھڑوں کے گھڑے انڈیل دیجیے۔ سب لاحاصل ہو گا۔پس نوشت: اس کام کیلئے تقریباً دو سال سے سی ڈی اے کی بلند فصیلوں سے سر ٹکرا رہا ہوں۔ صرف تین حضرات ایسے ملے جو اس ادارے کے بے کنار خاردار میں تین پھولوں کی طرح ہیں۔ ایک صاحب جو سی ڈی اے کے پبلک ریلیشنز کے سربراہ ہیں۔ سچے‘ جان لڑا کر کام کرنے والے! ذمہ داری کے احساس سے سرشار۔ کام کر کے سائل کو باقاعدہ جواب دیتے ہیں۔ دوسرے  ڈائریکٹر جنرل سینی ٹیشن۔ نرم گفتار۔ تعاون پر آمادہ۔ تیسرا وہ نوجوان جو ہیلپ لائن پر بیٹھتا ہے۔ از حد مددگار! خوش اخلاق۔ وعدے کا پابند اور یہ جو خصوصیت ہے‘ ہم سب جانتے ہیں کہ کس قدر کمیاب ہے۔ کاش! ادارے کے سب افسر اور اہلکار ایسے ہو جاتے جیسے یہ حضرات ہیں۔ ناصر کاظمی یاد آگیا:کل یہ تاب و تواں نہ رہے گی‘ ٹھنڈا ہو جائے گا لہونامِ خدا‘ ہو جوان ابھی‘ کچھ کر گزرو تو بہتر ہے</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_57182973.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ہمارے محفوظ مسکنوں کی تباہی(خالد مسعود خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-07-28/52376/45708613</link><pubDate>Tue, 28 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-07-28/52376/45708613</guid><description>قارئین بھی یہ سوچتے ہوں گے کہ یہ کالم گھسیٹ کس قسم کے قصے لے کر بیٹھ جاتا ہے۔ کبھی امریکہ کے میدانوں میں بے دریغ مارے جانے والے اَرنا بھینسوں کے قصے اور کبھی افریقہ میں مرنے والے سپر ٹسکر ہاتھیوں کی کہانی سنانے لگ جاتا ہے۔ساری مخلوق کو خوش کرنا اور راضی رکھنا انسانی بس سے باہر کی بات ہے۔ اور مجھے تو اپنے کالموں کی مقبولیت کے بارے میں ویسے بھی کوئی خوش فہمی نہیں ہے۔ لیکن میں جب مسلسل سیاسی معاملات پر لکھتے لکھتے تنگ آ جاتا ہوں تو اس لاحاصل اور بے نتیجہ تحریروں سے تھوڑا فرار حاصل کرنے میں ہی عافیت سمجھتا ہوں اور سیاسی معاملات کی بے فیض گلی سے کہیں دور نکل جاتا ہوں۔ ایمانداری کی بات ہے کہ بہت کچھ لکھنا چاہتا ہوں مگر بہت سی باتیں صرف اس لیے نہیں لکھتا کہ جو چھپ ہی نہیں سکتیں‘ بھلا ان کے لکھنے کا فائدہ کیا؟ پہاڑوں‘ جنگلوں‘ میدانوں‘ ندی نالوں‘ جانوروں‘ پرندوں‘ جھیلوں اور قدرت کے ان تمام مظاہر پر لکھنا میرا شوق بھی ہے اور ان موضوعات میں لکھنے کی آزادی بھی میسر ہے۔ کسی معترض کو ان بے ضرر موضوعات سے نہ کوئی شکایت ہے اور نہ مجھے لکھنے میں کوئی رکاوٹ ہے لہٰذا میں شوق اور آزادی کو یکجا کرتا ہوں اور اس قسم کی تحریریں لکھنے بیٹھ جاتا ہوں۔ مجھے گمان ہے کہ یہ موضوعات بہت سے قارئین کیلئے غیر دلچسپ اور بور ہوں گے‘ تاہم مجھے یہ بھی یقین ہے کہ بہت سے قارئین جو اس قسم کے موضوعات سے دلچسپی رکھتے ہیں‘ وہ میری ان تحریروں کو ماحولیات کے تحفظ یا اس کے شعور کو فروغ دینے کی ایک کوشش سمجھتے ہوئے میری اس کاوش کو پسند بھی کریں گے اور اتفاق بھی۔یہ مسافر دیارِ غیر میں بعض ایسی چیزیں دیکھنے کا شوقین ہے جو شاید عام طور پر مسافروں کی نظر میں نہیں جچتیں۔ وہ فلاڈیلفیا میں امریکہ کے سکے ڈھالنے والی سب سے بڑی منٹ ہو‘ امریکی جنگِ آزادی میں استقامت‘ قربانی اور عزم کی علامت رکھنے والا ویلی فورج میدان ہو یا فلاڈیلفیا کے وسط میں واقع متروک جیل ایسٹرن سٹیٹ پینیٹنشری (اصلاح خانہ) ہو‘ مسافر اس قسم کی جگہوں پر گھنٹوں گزار کر بھی بور نہیں ہوتا۔تین چار سال قبل ہیوسٹن میں گزرتے ہوئے ایک بل بورڈ پر نظر پڑی جس پر &#39;&#39;Gun Show‘‘ کا اشتہار درج تھا۔ دو روز بعد وہ گن شو منعقد ہونا تھا۔ &#39;&#39;گن شو‘‘ کا نام پڑھ کر دل میں پرانا شوق انگڑائی لینے لگا اور مقررہ دن میں وہاں جا پہنچا۔ وہاں منعقدہ شو میں ہزاروں لوگ تھے اور ہزارہا قسم کے ہتھیار تھے۔ جدید ترین خودکار رائفلوں‘ پستولوں حتیٰ کہ مشین گنوں سے لے کر پرانے سنگل ایکشن ریوالور‘ متروک بندوقیں اور ایسے ایسے عجیب و نایاب کیلیبر دیکھنے کو ملے جن کے بارے میں صرف پڑھا یا سنا تھا۔ اس گن شو میں کمرشل اور انفرادی طور پر اسلحہ فروخت کرنے والوں کے سینکڑوں سٹال اور میزیں اسلحے سے بھری پڑی تھیں۔ خوردہ فروش دکاندار‘ ہول سیلرز‘ درآمد کنندگان‘ اسلحہ فروش اور اسلحہ بنانے والی کمپنیاں‘ غرض ہر قسم کے اسلحہ سے متعلق لوگ ادھر آئے ہوئے تھے۔ کچھ شوقین Gun Collectors اپنی اپنی کولیکشن لے کر آئے ہوئے تھے۔ میرے لیے یہی شوقین اس شو کی اصل جان تھے اور میری نظریں ادھر ہی لگی ہوئی تھیں۔اسی گن شو میں بڑی عمر اور مضبوط کاٹھی کا ایک گورا‘ جینز اور جیکٹ پہنے‘ ایک چھوٹا سا سٹال لگائے بیٹھا تھا۔ اس کے سامنے آٹھ دس بڑے بور کی بریک ایکشن‘ سنگل نالی اور دو نالی ایکسپریس رائفلیں رکھی ہوئی تھیں۔ یہ سب بڑی جسامت کے شکار‘ یعنی Big Game کیلئے استعمال ہونے والی رائفلیں تھیں۔ اس کی اس نادر اور نایاب کولیکشن میں .375 ہالینڈ اینڈ ہالینڈ کی ایک ڈبل رائفل تھی‘ .400 اور .450 نائٹرو ایکسپریس کی دو رائفلوں کے ساتھ ایک .500 نائٹرو ایکسپریس ڈبل رائفل بھی موجود تھی۔ تاہم میرے لیے سب سے زیادہ دلچسپی کا مرکز اس کی .577 نائٹرو ایکسپریس ڈبل رائفل تھی۔ میں نے اس سے پوچھ کر یہ وزنی رائفل اٹھا کر بھی دیکھی۔ اس نے بتایا کہ یہ اس کو اپنے باپ سے ورثے میں ملی ہیں اور اس نے اپنی جوانی میں ان کے ساتھ افریقی جنگلی بھینسوں (کیپ بفلو) کا بہت زیادہ شکار کیا ہے اور چند ہاتھی بھی مارے‘ تاہم اس کے باپ نے ان رائفلوں سے بلامبالغہ افریقہ میں سینکڑوں بڑے جانور مارے تھے۔ مجھے اس رائفل کو دیکھنے کا ایک عرصے سے اشتیاق تھا۔ افریقہ میں بگ گیم ٹرافی ہنٹنگ کرنے والے شکاریوں نے اس رائفل سے جتنا قتلِ عام کیا اور افریقی حیاتِ جنگلی کو جتنا نقصان پہنچایا‘ شاید کسی ایک بور کی رائفل نے اتنا نقصان نہیں پہنچایا ہو گا۔ 1890ء میں ایجاد ہونے والے اس بور نے‘ جو پہلے سے موجود بڑے بور کی دوسری رائفلوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ طاقتور اور جاں لیوا کارتوس پر مشتمل تھی‘ ہاتھی کے شکاریوں میں بہت جلد مقبولیت حاصل کر لی۔ممکن ہے میرا یہ خیال درست نہ ہو اور بعد میں آنے والے مزید بڑے بور کی رائفلوں مثلاً .600 اور .700 نائٹرو ایکسپریس کے ساتھ اس سے بھی زیادہ ہاتھی‘ گینڈے اور جنگلی بھینسے مارے گئے ہوں لیکن میری نظر سے اب تک جو کچھ گزرا ہے اس کے مطابق سب سے زیادہ ہاتھی غالباً اسی .577 نائٹرو ایکسپریس سے مارے گئے۔ صرف چار معروف شکاریوں کے ریکارڈ‘ کتابیں اور واقعات پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ گورے شکاریوں نے افریقہ میں جس انداز سے ہاتھیوں‘ گینڈوں اور جنگلی بھینسوں کا شکار کیا وہ محض شکار نہیں بلکہ باقاعدہ قتلِ عام تھا۔ ایک ایک شکاری نے سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں کی تعداد میں بگ فائیو کا شکار کیا۔ افریقہ میں بگ فائیو سے مراد ہاتھی‘ گینڈا‘ جنگلی بھینسا‘ شیر اور چیتا ہیں۔مشہور شکاری جیمز ایچ سُدرلینڈ نے .577 نائٹرو ایکسپریس ڈبل رائفل سے 1300 سے 1600 کے درمیان ہاتھی مارے۔ اسی طرح ڈیف بینک نے اسی رائفل سے ایک ہزار سے زیادہ ہاتھیوں کا شکار کیا۔ کوئنٹن جارج اور جون اے ہنٹر نے ایک ایک ہزار سے زائد گینڈوں کا شکار کیا جبکہ پیٹ پیئرسن نے تو حد ہی کر دی۔ اس نے .577 نائٹرو ایکسپریس سے 2000 ہاتھی مارے۔ اندازہ لگائیں کہ یہ صرف پانچ شکاریوں کا ذکر ہے۔ ابھی انہی شکاریوں نے اس دوران جو بھینسے‘ شیر اور چیتے مارے ہوں گے ان کا تذکرہ نہیں ہے۔ آج گورے تحفظِ جنگلی حیات کیلئے جتنے سرگرم ہیں اس کے پیچھے ایک احساسِ ندامت ہے جس کا وہ کفارہ ادا کر رہے ہیں کہ روئے ارض پر بہت سے جانور صرف انہی کے اندھا دھند شکار‘ شیر اور چیتے کی کھالوں کے کاروبار‘ ٹرافی ہنٹنگ‘ ہاتھی کے دانت اور گینڈے کے سینگ اکٹھا کرنے اور بیچنے کی لالچ نے تقریباً تقریباً نیست ونابود ہونے کے قریب پہنچا دیے۔ امریکہ میں نابود ہونے کے خطرے سے دوچار جانوروں کے مسکن محفوظ رکھنے کیلئے Endangered Species Act of 1973 نامی قانون تھا۔ یہ قانون خطرے سے دوچار جانوروں کے محفوظ مسکن کو تحفظ دیتا تھا۔ اب اس قانون میں ٹرمپ ایڈمنسٹریشن نے تبدیلی کرتے ہوئے یہ قرار دیا ہے کہ جانوروں کے تحفظ سے مراد اُن کو مارنے یا شکار کرنے سے روکنا اور پابندی لگانا ہے۔ ان کے محفوظ مسکن کی تباہی ان کے تحفظ کے آڑے نہیں آتی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب خطرے سے دوچار جانوروں کے مسکن ہی محفوظ نہ رہے تو رہنے والے کہاں محفوظ رہتے ہیں؟ یہ حال انسانوں اور جانوروں پر یکساں لاگو ہے۔ ٹرمپ کے آنے کے بعد بعض معاملات میں امریکہ کا حال بھی ہمارے جیسا ہو گیا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90500073.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کبھی حکمران عوام بن کر سوچیں گے؟(ڈاکٹر حسین احمد پراچہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-07-28/52377/21457747</link><pubDate>Tue, 28 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-07-28/52377/21457747</guid><description>ٹائٹل میں پوچھے گئے سوال کا جواب بظاہر نفی میں ہے‘ یعنی ہمارے حکمران کبھی عوام بن کر نہیں سوچیں گے۔ اس کے کیا اسباب ہیں‘ کالم میں ہم انہی اسباب پر اظہارِ خیال کریں گے۔یوں تو کئی دہائیوں سے مہنگائی ہمارا بنیادی مسئلہ رہا ہے مگر اب کے جو افراطِ زر کا عالم ہے پہلے کبھی نہ تھا۔ مہنگائی اشیا کی قیمتوں اور صارفین کی قوتِ خرید کے درمیان بڑھتے ہوئے تفاوت کا نام ہے۔ ایک طرف لوگوں کی آمدنی نہایت محدود ہے اور دوسری طرف روپے کی قدر میں کمی اپنی انتہا کو پہنچی ہوئی ہے۔ پہلے ہی مہنگائی نے تقریباً نصف آبادی کو زندہ درگور کر رکھا تھا‘ اس پر مستزاد  حکمرانوں کی بے حسی ہے۔ حکومت کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 30 فیصد آبادی خطِ غربت سے نیچے ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کی فی کس ماہانہ آمدنی 8483 (یومیہ 283 روپے تقریباً) یا اس سے کم ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس رقم میں کوئی فرد یا خاندان کیا زندہ رہ سکتا ہے؟ مگر کوئی جیے یا مرے یہ حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں۔اب حکومت نے روزانہ کی بنیاد پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا نظام قائم کر کے مہنگائی کے عفریت کو کھلی چھوٹ دے دی ہے۔ عام صارف کو کیا پتا کہ سعودی آئل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا‘ برینٹ کروڈ کی قیمتیں بڑھی ہیں یا ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کے نرخ اوپر گئے ہیں۔ حکومت کسی بھی سسٹم کے آئل کی قیمتوں میں اضافے کو بنیاد بنا کر ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھاتی چلی جا رہی ہے۔ چاہے پاکستان اس سسٹم کے تحت آئل درآمد کرتا ہو یا نہ کرتا ہو۔ یہ حکومت کی بھول ہے کہ عوام کو کیا پتا۔ گلوبل ویلیج میں سوشل میڈیا کی برکت سے عوام بے خبر بن کر بھی سب خبر رکھتے ہیں۔ پٹرولیم مصنوعات میں روزانہ اضافے کے نظام سے وطنِ عزیز میں پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹرز کو مکمل آزادی مل گئی ہے‘ جب چاہتے ہیں کرایوں میں حسبِ منشا اضافہ کر دیتے ہیں۔ بیچارا کوئی مسافر پوچھ لے تو اُن کے پاس گھڑا گھڑایا جواب تیار ہے کہ جناب! ہم تو حکومت کے پٹرولیم اضافوں کے پابند ہیں۔ اوّل تو حکومت کا ٹرانسپورٹروں کے کرایوں کی روزمرہ کی بنیاد پر مانٹیرنگ کا کوئی طریق کار نہیں۔ نیز حکومت کسی صوبے کی ہو اُس کی کوئی خاص رِٹ نہیں۔ اسی طرح بڑے تاجر بھی اپنی مرضی کے نرخ مقرر کر لیتے ہیں‘ کوئی پوچھے تو کہتے ہیں کہ اشیائے ضروریہ کے نقل وحمل کے اخراجات کہاں سے کہاں جا پہنچے ہیں۔ منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کو کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے۔ پٹرولیم قیمتوں میں روزمرہ اضافے کے نتیجے میں اگر آپ سبزیوں اور پھلوں کے نرخ معلوم کریں تو وہ آسمان پر پہنچے ہوئے ہیں۔ لاہور میں ہماری بستی کے ساتھ ہفتہ بازار لگتا ہے۔ جمعہ بازار ہو یا ہفتہ‘ اتوار بازار! اس کا تصور یہ ہے کہ دکانوں کے بڑے بڑے کرایوں کے بغیر براہِ راست منڈی سے آنے والی اشیائے خورونوش کی قیمتیں بہت کم ہوں گی۔ مگر ایسا نہیں ہے! یہاں بھی سبزی و پھل فروش آپس میں ایکا کر لیتے ہیں۔ لہٰذا وہ ٹماٹر 500 روپے اور گوبھی 300 روپے کلو سے کم فروخت کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔ انہیں اس گراں فروشی سے روکنے والا کوئی نہیں۔پٹرولیم لیوی ایک سراسر ظالمانہ و ناانصافی پر مبنی طریق کار ہے۔ تیل کی خریداری حکومت اور آئل امپورٹرز کا کام ہے۔ جتنے کا تیل درآمد ہوتا ہے اس پر مناسب منافع شامل کر کے عوام کو فروخت کیا جانا چاہیے۔ دنیا کے اکثر ممالک میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ یہاں حکومت عوام سے اگلی تیل خریداری کے پیسے لے کر اور کئی طرح کے ٹیکسز لگا کر عوام کو مہنگا پٹرول اور ڈیزل وغیرہ فروخت کرتی ہے۔ اب آئیے بنیادی سوال کی طرف کہ حکومت عوام بن کر کیوں نہیں سوچتی؟ اس لیے ایسا نہیں سوچتی کیونکہ حکومت اپنے آپ کو عوام کے سامنے جوابدہ نہیں سمجھتی۔ انہیں عوام کا کوئی دکھ درد محسوس ہوتا ہے اور نہ ہی اُن کی طرف سے ہونے والے احتساب کا ڈر خوف ہے۔ بندۂ مزدور و سفید پوش کے حالات کتنے تلخ ہیں اس سے حکمرانوں کو کوئی سروکار نہیں۔ اس لیے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ انہیں عوام نے مسندِ اقتدار پر بٹھایا ہے اور نہ ہی وہ انہیں اتار سکتے ہیں۔زیادہ دور نہ جائیں‘ گزشتہ چند برس کے دوران ارکانِ اسمبلی‘ بیورو کریسی اور اشرافیہ کے دیگر طبقات کی آمدنیاں حکومت کی مہربانیوں سے کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہیں۔ یہاں صرف ایک مثال ہی پیش کی جا رہی ہے۔ ہر رکن قومی اسمبلی کی تنخواہ ایک لاکھ 80 ہزار روپے تھی‘ جو اَب بڑھا کر پانچ لاکھ 19ہزار روپے ماہانہ ہو چکی ہے۔ قومی اسمبلی کے ارکان ہوں یا صوبائی اسمبلیوں کے‘ انہیں محض اپنے اور اپنے اہلِ خاندان کیلئے زیادہ سے زیادہ مراعات درکار ہیں۔ یہ حکمران و ارکانِ اسمبلی اپنے لیے اور اپنے اہل خانہ کے لیے بلیو پاسپورٹ کا حصول ضروری سمجھتے ہیں مگر یہ گرین پاسپورٹ کی عزت افزائی کی خاطر ملک میں سیاسی و معاشی استحکام لانے کیلئے بنیادی نوعیت کے اقدامات کرنے کے بارے میں ہرگز فکرمند نہیں۔ عوام الناس کی تعلیم‘ صحت اور علاج معالجہ کو حکومت اپنی ترجیح ہی نہیں سمجھتی۔ کسی بااعتماد و باوقار ملکی یا عالمی ادارے سے سروے کروا کے دیکھ لیں تو معلوم ہو جائے گا کہ ہمارے حکمران وفاقی ہوں یا صوبائی‘ اُن کے پروٹوکول میں اضافہ ہی ہوا ہے کمی نہیں ہوئی۔ جس ملک کا بال بال قرضوں اور سود در سود میں جکڑا ہوا ہے‘ اس کے ایوانِ صدر‘ وزیراعظم ہاؤس یا صوبائی راجدھانیوں کا پروٹوکول عرب دنیا کے بادشاہوں اور بڑی قوتوں کے حکمرانوں سے بڑھ کر ہوگا۔ جہاں تک عوام کا تعلق ہے اُن کے حصے میں حکومتوں کے بڑھتے ہوئے عالمی قرضوں اور بالواسطہ و براہ راست ٹیکسوں کا بوجھ ہی آ رہا ہے۔آج اسلامی دنیا میں کوئی عمرؓ بن خطاب جیسا حکمران نہیں۔ جو عوام میں سے تھا‘ عوام جیسا ہی نظر آتا تھا‘ عوام بن کر ہی سوچتا تھا‘ اُن کی خبرگیری رکھتا تھا اور اُن کی دستگیری بلا تاخیر کرتا تھا۔ آج غیر اسلامی دنیا خصوصاً سکینڈے نیوین ممالک سویڈن‘ ناروے اور ڈنمارک جیسی فلاحی ریاستیں &#39;عمرز لاء‘ سے استفادہ کرتی ہیں۔ وہاں کے حکمران حقیقی معنوں میں عوام کے منتخب کردہ ہوتے ہیں‘ وہ خود بھی &#39;&#39;عوام‘‘ ہی ہوتے ہیں اور منتخب ہو کر بلکہ وزیراعظم یا سربراہِ ریاست بن کر بھی عوام ہی رہتے ہیں۔ اُن کی سوچ بدلتی ہے نہ اپروچ۔ ہماری عمومی معاشی بدحالی کے دو سبب ہیں: پہلا سبب تو طبقاتی تقسیم ہے۔ ہمارے حکمران طبقۂ اشرافیہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ ماشاء اللہ وہ منہ میں سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہوئے۔ انہیں عوام کے مسائل کا کوئی ادراک نہیں مگر وہ عوام کے وسائل کو شیرِ مادر کی طرح اپنا حق سمجھتے ہیں۔ دوسرا سبب یہ ہے کہ ہمیں قرضوں کی مے پینے‘ ادھار تیل لینے اور کشکولِ گدائی لے کر دریوزہ گری کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں ہوتی۔ لہٰذا یہاں صرف پُرجوش تقریروں میں ایڑیاں رگڑنے سے بات آگے نہیں بڑھتی۔ہمارے اردگرد چین‘ سنگاپور اور ملائیشیا وغیرہ نے اپنی دنیا آپ پیدا کی ہے۔ وہ تیسری دنیا سے پہلی دنیا کی صف میں آ گئے ہیں۔ پاکستانی حکمران‘ اشرافیہ اور عوام الناس بالخصوص جین زی میں خلیج بہت بڑھ گئی ہے۔ جب لوگوں کو دو وقت کی روٹی نہیں ملے گی‘ بیروزگاری عروج پر ہو گی تو پھر غم وغصہ تو بڑھے گا۔ تاریخ یہی بتاتی ہے کہ اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے حکمرانوں کو کچھ اندازہ نہیں ہوتا کہ ان کے بارے میں عوام کے جذبات کا عالم کیا ہے۔ اسی لیے تو شاعر نے کہا ہے کہاے محو خواب غرفہ نشیں جھانک کر تو دیکھکن سیڑھیوں پہ ہے کف سیلاب زینے میںبظاہر امکان تو نہیں مگر ہماری دعا ہے کہ حکمران عوام بن کر سوچیں اور لوگوں کا دکھ درد بانٹیں۔ اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_70033906.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سٹیٹ بینک کی مہنگائی سے لڑائی؟(شاہد کاردار)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-kardar-/2026-07-28/52378/20657736</link><pubDate>Tue, 28 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-kardar-/2026-07-28/52378/20657736</guid><description>سٹیٹ بینک آف پاکستان ہر دو ماہ بعد نئی شرحِ سود کا اعلان کرتا ہے۔ یہ شرح بڑھانے پر کہا جاتا ہے کہ سٹیٹ بینک مہنگائی کے خلاف لڑ رہا ہے اور جب شرح کم کی جاتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ بینک کاروبار کی ترقی میں مدد دینا چاہتا ہے۔ دونوں صورتوں میں پیغام ہمیشہ ایک ہی ہوتا ہے: سٹیٹ بینک شرحِ سود کے ذریعے نہایت احتیاط سے معیشت کی رہنمائی کر رہا ہے۔ لیکن ایک بات ایسی ہے جس کے بارے میں عوام کو بہت کم بتایا جاتا ہے۔ آج ہم اس پوشیدہ نکتے پر بات کرتے ہیں۔ایک طرف سٹیٹ بینک مہنگائی کو قابو میں رکھنے کا دعویٰ کرتا ہے تو دوسری طرف خاموشی سے نجی بینکوں کو تقریباً 16ہزار ارب روپے قرض بھی دے رہا ہے۔ مرکزی بینک کے اس عمل پر عوامی سطح پر بہت کم بات ہوتی ہے لیکن اس کارروائی سے ایک واضح سوال جنم لیتا ہے: اگر سٹیٹ بینک معاشی نظام میں موجود رقم (زر) کی مقدار کم کرنا چاہتا ہے تو پھر وہ بینکاری نظام میں کھربوں روپے کیوں ڈال رہا ہے؟ اس سوال کا جواب اس بات میں پوشیدہ ہے کہ یہ رقم درحقیقت کس مقصد کیلئے استعمال ہو رہی ہے۔ یہ نئی فیکٹریوں یا پیداواری کاروباروں کی مالی معاونت کیلئے استعمال نہیں ہو رہی بلکہ یہ رقم حکومت کو اس کے بے تحاشا اخراجات میں مدد دینے کیلئے استعمال ہورہی ہے۔ حکومت ٹیکسوں کی مد میں حاصل ہونے والی آمدنی سے کہیں زیادہ خرچ کرتی ہے۔ اس فرق کو پورا کرنے کیلئے وہ نجی بینکوں سے قرض لیتی ہے۔ چونکہ حکومتی قرض کا حجم بہت زیادہ ہوتا ہے اس لیے بالآخر بینکوں کے پاس ڈپازٹس کیلئے رقوم کم پڑنے لگتی ہیں۔ پھر سٹیٹ بینک مداخلت کرتا ہے اور بینکوں کو قرض دیتا ہے تاکہ وہ حکومت کو قرض دیتے رہیں۔ اس طرح حکومت کا نظام چلتا رہتا ہے۔ بینکوں کے پاس رقوم کی دستیابی برقراررہتی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ نئی رقم (زر) بھی مسلسل نظام میں شامل ہوتی رہتی ہے۔ اسی عمل سے ملک کی مالیاتی پالیسی میں ایک بنیادی تضاد جنم لیتا ہے۔ سٹیٹ بینک کہتا ہے کہ وہ شرح سود بڑھا کر مہنگائی کو کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ بلند شرح سود کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگ اور کاروبار کم خرچ کریں‘ طلب میں کمی آئے اور قیمتوں میں اضافہ کی رفتار سست ہو جائے۔ لیکن جب کھربوں روپے نجی بینکوں میں ڈالے جائیں گے تو اس سے معاشی نظام میں دستیاب رقم (زر) کی مقدار بھی بڑھے گی۔ زیادہ رقم کا مطلب ہے زیادہ اخراجات جس سے قیمتیں مزید اوپر چلی جاتی ہیں۔ یعنی ایک پالیسی آگ بجھانے کی کوشش کر رہی ہے جبکہ دوسری مسلسل آگ بھڑکانے کیلئے اس میں ایندھن ڈال رہی ہے۔اگر حکومتی اخراجات بدستور بے قابو رہتے ہیں تو سٹیٹ بینک کے اس دعوے میں کوئی سنجیدگی نہیں کہ صرف شرحِ سود مہنگائی پر قابو پا لے گی۔ جب ہم حکومت کے حقیقی قرض کی لاگت کو دیکھتے ہیں تو یہ مسئلہ مزید واضح ہو جاتا ہے۔ ظاہری طور پر حکومت بلند شرحِ سود ادا کرتی ہے لیکن سٹیٹ بینک نجی بینکوں کو قرض دے کر منافع کماتا ہے اور بعد میں اس منافع کا بڑا حصہ دوبارہ حکومت کو منتقل کر دیتا ہے۔ نتیجتاً حکومت کی قرض لینے کی خالص لاگت نہایت معمولی رہ جاتی ہے۔ یہ لاگت نصف فیصد سے بھی کم ہے۔ جب قرض تقریباً مفت ہو تو کوئی بھی حکومت کم خرچ کیوں کرے گی؟دوسری جانب کاروباری حلقے مسلسل شرحِ سود میں کمی کا مطالبہ کررہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ قرضوں کی بلند لاگت سرمایہ کاری کو نقصان پہنچاتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ممکن ہے انہیں پہلے ہی کم شرح سود پر قرض مل رہے ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر سٹیٹ بینک نجی بینکوں میں رقم ڈپازٹ کرنا بند کر دے تو بینکوں کو ڈپازٹس حاصل کرنے کیلئے کہیں زیادہ سخت مقابلہ کرنا پڑے۔ اس کے نتیجے میں بازار کی شرح سود آج کی پالیسی شرح سے بھی زیادہ ہو جائے گی۔ دوسرے لفظوں میں موجودہ شرح سود پہلے ہی مصنوعی طور پر کم رکھی جا رہی ہے۔ اس لیے کاروباری ادارے ایک ایسی رعایت سے فائدہ اٹھا رہے ہیں جس کا انہیں مکمل طور پر احساس بھی نہیں۔ ایک اور غلط فہمی مہنگائی کی وجوہات سے متعلق ہے۔ بہت سے پالیسی ساز مہنگائی کا ذمہ دار تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں یا عالمی منڈیوں کو قرار دیتے ہیں۔ یہ عوامل یقینا قیمتوں پر اثر انداز ہوتے ہیں لیکن صرف عارضی طور پر۔ یہ عوامل قیمتوں میں ایک مرتبہ اضافہ کا سبب بن سکتے ہیں لیکن ان کی وجہ سے مہنگائی ہر مہینے مسلسل نہیں بڑھ سکتی۔ مہنگائی میں مسلسل اضافے کی وجہ معیشت میں زر کی رسد مسلسل بڑھنا ہے۔ جو اس وقت بڑھتی ہے جب سٹیٹ بینک حکومت کو قرض دینے کیلئے مالی معاونت کرتا ہے اور مسلسل نئی کرنسی چھاپتا رہتا ہے۔ سٹیٹ بینک سرکاری طور پر کہتا ہے کہ وہ مہنگائی کو ہدف بنانے کے نظام پر عمل کرتا ہے اور اس کا مقصد مہنگائی کو 5 سے 7 فیصد کے درمیان رکھنا ہے۔ لیکن مہنگائی کو ہدف بنانے کا یہ نظام صرف اسی وقت مؤثر ثابت ہوتا ہے جب حکومتیں اپنی مالی استطاعت کے اندر رہ کر اخراجات کریں۔پاکستان کو دیگر چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔ جیسے ٹیکسوں میں اچانک اضافہ‘ بجلی اور ایندھن کی قیمتوں میں غیر متوقع تبدیلیاں اور قواعد و ضوابط میں بار بار رد و بدل۔ ان عوامل کی وجہ سے مہنگائی سے متعلق توقعات متاثر ہوتی ہیں اور قیمتوں میں اضافے کو تقویت ملتی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ بیرونِ ملک سے آنے والی ترسیلاتِ زر (چودہ ہزار ارب روپے)‘ بینکاری نظام سے باہر گردش کرنے والی نقد رقم (بارہ ہزار ارب روپے)‘ جو بنیادی طور پر غیر رسمی‘ غیر دستاویزی کاروبار استعمال کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں غیر ملکی قرضے اور سٹیٹ بینک کی خصوصی مالیاتی سکیمیں بھی موجود ہیں۔ یہ تمام عوامل شرح سود کی تبدیلیوں سے متاثر نہیں ہوتے۔ تاہم مہنگائی بڑھانے والے یہ بنیادی عوامل نہیں ہیں۔ مہنگائی کے دباؤ کا سب سے بڑا ذریعہ بدستور حکومت ہے جو اپنی مالی استطاعت سے بڑھ کر اخراجات کر رہی اور اپنے بجٹ کی مالی معاونت کیلئے قرض پر انحصار کر رہی ہے۔ یہ قرض اب تقریباً 36 ہزار ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔ یہ رقم نجی بینکوں کے ڈپازٹس کے 120 فیصد کے برابر ہے۔ ایک اورعامل بھی ہے جس سے پتا چلتا ہے کہ موجودہ نظام اس طرح کام نہیں کر رہا جیسا کہ دعویٰ کیا جاتا ہے۔ ملک میں اکثر مہنگائی اس وقت بڑھتی ہے جب روپے کی قدر کم ہوتی ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے پروگراموں کے دوران پاکستانی کرنسی کی شرحِ مبادلہ عموماً مستحکم رکھی جاتی ہے جس سے مہنگائی میں کمی کا رجحان پیدا ہوتا ہے۔ جیسے ہی آئی ایم ایف کا پروگرام ختم ہوتا ہے اور روپے کی قدر گرتی ہے‘ مہنگائی تیزی سے واپس آ جاتی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارے ہاں مہنگائی بنیادی طور پر کرنسی کی شرحِ مبادلہ میں ہونے والی تبدیلیوں سے متاثر ہوتی ہے۔ اس صورت میں کہا جاسکتا ہے کہ قیمتوں کو قابو میں رکھنے کا اصل ذریعہ شرحِ سود نہیں ہے۔ یہ تو صرف اس پورے عمل کا ایک حصہ ہے۔اصل چوائس نہایت واضح اور سادہ ہے۔ یا تو حکومت کو اپنے اخراجات کم کرنا ہوں گے تاکہ سٹیٹ بینک حقیقی معنوں میں مہنگائی کو قابو میں رکھنے پر توجہ دے سکے یا پھر پالیسی سازوں کو یہ تاثر دینا بند کر دینا چاہیے کہ مہنگائی کو ہدف بنانے کا نظام مؤثر طریقے سے کام کر رہا ہے۔ آج ہمارے پاس دونوں صورتوں کی خرابیاں موجود ہیں۔ سٹیٹ بینک خود کو مہنگائی کے خلاف لڑنے والا مرکزی بینک ظاہر کرتا ہے جبکہ دوسری طرف وہ حکومت کے مالی خسارے کی معاونت کی خاطر خاموشی سے بے تحاشا مقدار میں نئی کرنسی بنا رہا ہے۔ اگلی بار جب کاروباری رہنما کم شرح سود کا مطالبہ کریں تو انہیں پہلے ایک مختلف سوال پوچھنا چاہیے: کس شرح سے کم؟ اگر بینکاری نظام سٹیٹ بینک کی اس پوشیدہ معاونت کے بغیر کام کر رہا ہوتا تو ممکن ہے شرحِ سود حقیقت میں کہیں زیادہ بلند ہوتی۔ سٹیٹ بینک کی موجودہ (پالیسی) شرح سود پہلے ہی رعایت یافتہ ہے۔ رقم کی حقیقی قدر عوام کی نظروں سے اوجھل رکھی جا رہی ہے۔ (یہ مضمون ڈاکٹر ندیم الحق کے اشتراک سے لکھا گیا۔)</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_78012569.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مشرقِ وسطیٰ جنگ اور صہیونی ذہنیت(رشید صافی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-07-28/52379/35882663</link><pubDate>Tue, 28 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-07-28/52379/35882663</guid><description>مشرقِ وسطیٰ میں طویل ہوتی جنگ کی اصل وجہ وہ صہیونی سوچ ہے جو اپنے سیاسی اور ذاتی مفادات کیلئے خطے کے امن کو بالائے طاق رکھنے پر تلی ہوئی ہے۔ اپریل میں طے پانے والے اسلام آباد میمورنڈم اور جون میں سوئٹزرلینڈ کے امن معاہدے کے بعد خطے میں صورتحال تیزی سے معمول پر آنے لگی تھی‘ امریکہ اور ایران سمیت تمام اہم علاقائی اور عالمی فریق اس پیشرفت کا خیرمقدم کر رہے تھے اور کئی ماہ سے جاری سفارتی کوششوں کے مثبت اثرات دکھائی دینے لگے تھے‘ تاہم اس پورے عمل کا ایک ایسا پہلو بھی تھا جو اسرائیلی قیادت کیلئے ناقابلِ قبول تھا‘ وہ یہ کہ ایران نے اس معاہدے کے ذریعے اپنی بنیادی شرائط منوا کر سفارتی میدان میں نمایاں کامیابی حاصل کر لی تھی۔ ایرانی مؤقف کی اس پذیرائی سے عالمی سطح پر یہ تاثر ابھرا کہ تہران نے جنگ کے اس مرحلے میں سیاسی اور اخلاقی برتری قائم کر لی ہے‘ جس کا براہِ راست مطلب اسرائیل کی ہزیمت اور اس کی طے شدہ پالیسی کی ناکامی تھا۔ صہیونی لابی اس صورتحال کو برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں تھی‘ چنانچہ انہوں نے واشنگٹن پر دباؤ بڑھایا تاکہ امریکہ کو ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی پر آمادہ کیا جا سکے۔ یہ سازش اس وقت عملی شکل اختیار کر گئی جب ایرانی قوم اپنے سابق سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں مصروف تھی۔ امریکہ نے انتہائی معمولی اور غیرمصدقہ واقعات کو جواز بنا کر ایران پر دوبارہ حملے شروع کر دیے۔ ایک ایسا اقدام جس نے عالمی برادری کو حیرت میں ڈال دیا کیونکہ فریقین کے درمیان باقاعدہ معاہدے کے تحت جنگ بندی نافذ العمل تھی۔ لیکن حقیقت میں یہ تل ابیب کی اسی دیرینہ خواہش کی تعمیل تھی جس کیلئے امریکہ نے ایک بار پھر پورے خطے کے امن کو داؤ پر لگا دیا۔اسرائیلی حکمتِ عملی کا دوسرا اہم مقصد یہ تھا کہ کسی طرح مسلم ممالک کو ایک دوسرے کے سامنے لا کھڑا کیا جائے۔ اس مقصد کیلئے خفیہ مقامات سے میزائل داغ کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ ایران نے سعودی عرب پر حملے کیے ہیں۔ تاہم سعودی قیادت نے اس چال کو وقت پر سمجھ لیا اور تدبر کے ساتھ تہران کے خلاف محاذ آرائی سے گریز کیا۔ جب مسلم ممالک کو آپس میں لڑانے کا یہ منصوبہ ناکام ہوتا دکھائی دیا تو اسرائیل نے جنگ کو دیگر محاذوں تک پھیلانے کا راستہ اختیار کیا۔ آج اگر اس تصادم کا دائرہ لبنان سے لے کر یمن تک پھیل رہا ہے تو صہیونی طاقتیں اسے اپنے لیے فائدہ مند سمجھتی ہیں۔ حوثیوں کے سعودی عرب پر حملے جہاں مسلم دنیا کیلئے تشویش کا باعث ہیں وہی صہیونی لابی کیلئے اطمینان کا باعث ہیں کیونکہ ان کی پالیسی ہمیشہ یہی رہی ہے کہ خطے میں تنازعات کی آگ بھڑکا کر خود اس کے اثرات سے محفوظ رہا جائے۔پاکستان‘ قطر اور ترکیہ جیسے ممالک نے اس بگاڑ کو روکنے کے لیے بھرپور سفارتی کوششیں کی ہیں لیکن یہ حقیقت اب آشکار ہو چکی ہے کہ امریکی پالیسی سازی پر اسرائیلی لابی کا دباؤ انتہائی شدید ہے۔ اگرچہ واشنگٹن میں ایسی آوازیں بھی ابھریں جنہوں نے امریکی عوام کے ٹیکسوں اور قومی مفادات کو غیرملکی تنازعات میں جھونکنے کی مخالفت کی مگر وہ لابی کے پروپیگنڈا کے سامنے مؤثر ثابت نہ ہو سکیں۔ اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات کاجائزہ لیا جائے تو یوں لگتا ہے کہ وہ اس جنگ کو طول دینے کے حق میں نہیں۔ ان کے بیانات سے محسوس ہوتا ہے کہ امریکہ اس تصادم سے نکلنے کی راہ تلاش کر رہا ہے۔ اسلام آباد مذاکرات اور سوئٹزرلینڈ کے فریم ورک نے امریکہ کو اس دلدل سے نکلنے کا ایک بہترین موقع فراہم کیا تھا لیکن صہیونی دباؤ کے تحت اس معاہدے کو سبوتاژ کر دیا گیا۔ پچھلے دو ہفتوں سے جاری شدید امریکی حملوں کے باوجود ایرانی قیادت اور عوام نے جس ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا ہے وہ عسکری ماہرین کے نزدیک ان کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ ایران نے اپنے اہم ترین رہنماؤں کو کھویا اور شدید معاشی دباؤ برداست کیا‘ لیکن نظریاتی طور پر وہ مزید متحد ہو کر سامنے آیا جس کا واضح ثبوت سابق سپریم لیڈر کے جنازے کے موقع پر دیکھا گیا۔ اس پس منظر میں یہ بات یقینی ہے کہ اگر یہ جنگ برسوں بھی جاری رہے تو بھی ایران کو عسکری طاقت کے ذریعے جھکانا ممکن نہیں ہو گا۔ ایسی صورتحال میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا سفارتکاری کے ذریعے وقار کے ساتھ اس تنازع کا خاتمہ ہی واحد منطقی راستہ نہیں؟ اس حوالے سے صدر ٹرمپ کا یہ بیان خوش آئند ہے کہ وہ مذاکرات کے ذریعے اس جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز کا یہ بیان کہ صدر ٹرمپ نے سفارتکاری کو موقع دینے کیلئے ایران پر فضائی حملے عارضی طور پر معطل کیے ہیں‘ ایک اہم پیشرفت ہے۔ ایران کے خلاف دو راتوں سے امریکی کارروائیوں کا رکنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان‘ قطر اور عمان کی ثالثی میں جاری کوششیں اب بھی فعال ہیں۔ تاہم یہ بات پیشِ نظر رکھنی ہو گی کہ پہلے ہی جنگ بندی کے باوجود امریکہ کی جانب سے دوبارہ حملے کرنے سے سفارتی عمل کو شدید دھچکا لگا ہے۔ اب اگر ثالثوں کی کوششوں سے فریقین دوبارہ مذاکرات کی میز پر بیٹھتے بھی ہیں تو ایران انتہائی تحفظات کے ساتھ آئے گا۔ اپریل میں جب پاکستان کی کوششوں سے اسلام آباد مذاکرات شروع ہوئے تھے تو تہران کو قائل کرنا آسان نہ تھا‘ لیکن انہوں نے ثالثوں کے اعتماد پر قدم آگے بڑھایا ۔ اب دوبارہ وہ اعتماد بحال کرنا قدرے مشکل ہو گا لیکن ایران بھی تو جنگ کا خاتمہ چاہتا ہے کیونکہ یہ جنگ ایران پر مسلط کی گئی ہے۔ چونکہ امن کا پائیدار راستہ مکالمے سے نکلتا ہے‘ اس لیے اگر سفارتکاری کو ایک ہزار بار بھی موقع دینا پڑے تو عالمی مفاد میں ایسا کیا جانا چاہیے۔ ایران نے بھی سفارتی راستے کھلے رکھنے کا اشارہ دیا ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے آسٹریا کے نشریاتی ادارے سے گفتگو میں واضح کیا کہ ایران نے معاہدے کے تحت 30دن کے اندر آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت کو محفوظ بنانے کا اپنا وعدہ پورا کیا لیکن اس مدت کے ختم ہونے سے پہلے ہی امریکہ نے نئے واقعات کو بنیاد بنا کر حملے کر دیے جبکہ ایران کے منجمد اثاثوں کو بحال کرنے کی شق پر بھی عمل نہیں کیا گیا۔ ایران کا یہ مؤقف ظاہر کرتا ہے کہ وہ اب بھی سفارتی حل کا حامی ہے بشرطیکہ طے پانے والے معاہدوں کی پاسداری کی جائے۔ امن کو سبوتاژ کرنے والا محرک اسرائیلی ہے‘ غزہ سے شروع ہونے والی جنگ کئی ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے اور یہ خالصتاً اسرائیل کے مفادات کی جنگ ہے اس لیے امریکہ کو اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنی ہو گی۔ جب تک اسرائیل کے امن دشمن اقدامات پر کھل کر بات نہیں ہوتی اور اس کا سدباب نہیں کر لیا جاتا‘ امن مذاکرات کا حتمی نتیجے پر پہنچنا آسان نہیں ہو گا۔ آئندہ سفارتی کوششیں اسی صورت کارگر ثابت ہو سکتی ہیں جب امریکہ اپنے کیے گئے وعدوں پر قائم رہے اور کسی تیسرے فریق کو اس امن عمل کو ناکام بنانے کی اجازت نہ دے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/222_48272610.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>عدالت میں پیشی(حافظ محمد ادریس)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/hafiz-muhammad-idreess/2026-07-28/52380/94434362</link><pubDate>Tue, 28 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/hafiz-muhammad-idreess/2026-07-28/52380/94434362</guid><description>جیل میں زاہد بخاری اور نسیم انصاری نے مجھے بتایا کہ پولیس افسر چودھری صدیق صاحب کو ان کے تھانے سے خصوصی طور پر بلوایا گیا اور پولیس نے ان کی وساطت سے معلوم کرنا چاہا کہ حافظ ادریس کہاں ہے۔ کچھ دیر تو انہوں نے ٹال مٹول کی مگر پھر استاذِ محترم پروفیسر عثمان غنی صاحب نے کہا کہ اگر صدیق صاحب کی موجودگی میں حافظ ادریس کو گر فتار نہ کیا گیا تو ممکن ہے گرفتاری کے وقت پولیس اہلکار اسے تشدد کا نشانہ بنائیں۔ یہ منطق زاہد کو متاثر کر گئی اور وہ اپنے ناظم کو &#39;&#39;تشدد‘‘ سے بچانے کیلئے اس رات شاہدرہ پہنچ گیا۔ میں نے اس کی بات سنی تو خوب ہنسا۔ میرے گاؤں میں تو عجیب سنسنی اور مضحکہ خیز خبریں پہنچیں۔ لوگوں کو یہاں تک بتایا گیا کہ اس شب مجھے حوالۂ پولیس نہ کیا جاتا تو خدشہ تھا کہ پولیس مجھے گولی مار دیتی۔ خیر جو ہوا سو ہوا۔ ہمارے خلاف اخبارات میں بیانات آ رہے تھے۔ میں نے ملاقات کیلئے آئے ڈیموکریٹک یوتھ فورس کے چیئرمین خلیق ارشد اشرفی کو ایک بیان لکھ کر دیا کہ وہ ان نکات کی روشنی میں اپنی طرف سے پریس کانفرنس کر دیں یا بیان اخبارات کو جاری کر دیں۔ خلیق ارشد اور دیگر ساتھی ہر روز دن میں کئی کئی بار ملنے کیلئے آیا کرتے تھے۔ خلیق ارشد کا وہ بیان اگلے روز کتر بیونت کے بعد اخبارات میں چھپ گیا۔ میری گرفتاری کے غالباً دوسرے یا تیسرے روز بارک اللہ خان بھی گرفتار ہو کر آگئے۔ ان کا اس پورے واقعے سے قطعاً کوئی تعلق نہ تھا‘ ان کی ایکشن کمیٹی نے بالواسطہ طور پر ممکن ہے کچھ کیا ہو مگر ان کا براہِ راست کوئی حصہ نہ تھا۔ مجھے ان کی گرفتاری پر دلی افسوس ہوا۔ دونوں گروپوں کے لوگ مسلسل گرفتار ہو کر آ رہے تھے۔ ایک تفتیشی پولیس افسر نے مجھے ایک تہہ خانے میں لے جاکر میرا بیان نوٹ کیا۔ تقریبا دو گھنٹے کی تفتیش کے دوران مختلف قسم کے سوالات بہت مہذبانہ انداز میں مجھ سے پوچھے جاتے رہے۔ میں نے کئی سوالوں کے جواب دیے اور کئی سوالوں کے جواب دینے سے معذوری ظاہر کی۔ بارک اللہ خان کے بارے میں مَیں نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ ان کا اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں۔ پوچھا گیا کہ وہ کون لوگ ہیں جن کا اس واقعے سے تعلق ہے۔ اس پر میں نے جواب دیا &#39;&#39;میں صرف اپنے بارے میں جانتا ہوں کہ میں وہاں موجود تھا اور کسی کے بارے میں مَیں کچھ نہیں کہوں گا‘‘۔ ایسے ہی ایک سوال پر میں نے عدالت میں بھی یہی جواب دیا تھا جس پر ملٹری کورٹ کے جج کرنل نوشاد شنواری نے اپنے مخصوص لہجے میں کہا: اچھا شیر کا بچہ سارا بوجھ خود ہی اٹھائے گا۔ایک روز عصر کے قریب ڈی ایس پی اصغر خان صاحب نے مجھے اپنے دفتر میں بلایا۔ گرم چائے اور خستہ بسکٹوں سے تواضع کرتے ہوئے کہنے لگے: ہم آج فلاں خاتون کو گرفتار کرنا چاہتے ہیں۔ یہ وہی طالبہ رہنما تھیں جن کا ذکر پہلے ہو چکا۔ وہ میرے اور جمعیت کے خلاف بہت زہر افشانی کرتی تھیں۔ میں یہ بات سن کر سوچ میں پڑ گیا۔ مجھے ان کا ارادہ اچھا نہ لگا۔ میں نے ان سے کہا: یہ درست ہے کہ وہ ہماری سخت مخالف ہے اور اس نے ہمارے خلاف کافی ادھم مچائے رکھا ہے‘ ہر طرح کے جھوٹے الزامات کا طومار بھی اس کا خاصہ ہے مگر میں ذاتی طور پر آپ سے درخواست کروں گا کہ اسے گرفتار نہ کیا جائے۔ انہوں نے پوچھا: کیوں؟ میں نے کہا: پہلی وجہ تو یہ ہے کہ مخالف ہونے کے باوجود وہ جامعہ کی طالبہ اور ایک خاتون ہے۔ میں طلبہ سیاست کے ایک ذمہ دار اور یونین کے منتخب صدر کی حیثیت سے اس کا بطور طالبہ احترام کرتا ہوں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ آپ کی پولیس فورس جتنی &#39;&#39;نیک نام‘‘ ہے وہ مجھ سے زیادہ آپ کے علم میں ہے۔ ابھی خانم کیس کے زخم لوگوں کے دلوں میں بالکل تازہ ہیں۔ (خانم میرے گاؤں کے قریب کے ایک گاؤں کی لڑکی تھی‘ اسے کسی کیس میں کھاریاں پولیس نے پکڑا تھا اور پولیس کسٹڈی میں اس کے ساتھ ایسا بہیمانہ سلوک کیا گیا تھا کہ وہ بے چاری اپنی جان سے گئی۔ یہ کیس اُنہی دنوں کا تھا اور اس کی تفصیلات شہ سرخیوں کے ساتھ اخبارات میں چھپ چکی تھیں)۔ ڈی ایس پی صاحب اس بات سے اس قدر متاثر ہوئے کہ انہوں نے میرے دوستوں اور اپنے ماتحت افسروں سے بھی تحسین کے انداز میں اس کا ذکر کیا۔ اس گفتگو کے بعد وہ مجھ سے اور زیادہ قریب ہو گئے۔ چند دنوں میں ان کے ساتھ کئی مزید نشستیں ہوئیں جن میں وہ مجھ سے یوں گھل مل کر بات کرتے جیسے مدتوں کا دوستانہ ہو۔ ان کے ماتحت پولیس اہلکاروں کیلئے بھی یہ باعثِ تعجب تھا کہ وہ ایک &#39;&#39;ملزم‘‘ کے ساتھ اتنے بے تکلف ہو گئے۔ اگرمیں کوئی بات کہتا تو وہ نہایت محبت اور غور سے سنتے۔چند دن تھانے کی حوالات میں گزارنے کے بعد سمری ملٹری کورٹ میں ہماری دو پیشیاں ہوئیں۔ دوسری پیشی کے بعد ہمیں کیمپ جیل اور جہانگیر بدر اور ان کے ساتھیوں کو کوٹ لکھپت جیل بھجوا دیا گیا۔ تقریباً پندرہ یا بیس دن اسی حال میں گزر گئے۔ جیل سے غالباً تین چار مرتبہ عدالت میں پیشیاں ہوئیں جن میں سے آخری پیشی میں کیس کی سماعت شروع ہو گئی۔ کرنل نوشاد شنواری کیس کی سماعت کر رہے تھے۔ وہ چین سموکر تھے اور عدالت میں بھی سگریٹ پینے سے باز نہ آتے تھے۔ معروف قانون دان ذکی الدین پال (مرحوم)‘ جو ابھی جج نہیں بنے تھے اور لاہور ہائیکورٹ و سپریم کورٹ میں پریکٹس کرتے تھے‘ وہ ہمارے ساتھ بطور مشیر عدالت میں بیٹھا کرتے تھے کیونکہ ان عدالتوں میں وکلا کیس میں بطور وکیل دلائل نہیں دے سکتے تھے۔ عدالت کی کارروائی کے دوران پال صاحب کا خیال تھا کہ ہم لوگ بری ہو جائیں گے۔ جس روز ہمارا فیصلہ سنایا جانا تھا اس سے ایک دن قبل جہانگیر بدر اور ان کے (غالباً) گیارہ ساتھیوں کو ایک ایک سال قید بامشقت کی سزا سنا دی گئی۔ اب ہمارا فیصلہ ہونا تھا۔ پولیس وین میں ہم جیل سے عدالت میں آئے‘ کرنل شنواری ہم سب کے چہروں کو غور سے دیکھتے رہے۔ پھر ہم سب کو باہر برآمدے میں بھیج دیا۔ خود بھی برآمدے میں نکل کر دیر تک ٹہلتے رہے اور سگریٹ پر سگریٹ پھونکتے رہے۔ پھر واپس عدالت میں گئے اور ہمیں دوبارہ عدالت کے کمرے میں طلب کیا گیا مگر پھر تھوڑی دیر بعد بغیر کچھ کہے سنے دوبارہ واپس باہر بھیج دیا۔ اب پیپلز ہاؤس کے دروازے بند کر دیے گئے اور سب حاضرین کو باہر نکال دیا گیا۔ باہر سڑک پر ایک بھاری مجمع لگ گیا۔میں نے اپنے دوستوں سے کہا کہ وہ سزا سننے کیلئے تیار ہو جائیں۔ اس روز پال صاحب نے مجھ سے سرگوشی کے انداز میں کہا کہ اگر کوئی عدالت ہوتی تو وی سی علامہ علاء الدین صدیقی صاحب کی گواہی کے بعد کسی بھی صورت میں آپ کو سزا نہیں مل سکتی مگر جان لیجیے کہ اب مخالف فریق کے ساتھ آپ کا معاملہ برابر کیا جانا ہے۔ آپ لوگوں میں سے بھی اتنے ہی طلبہ سزا پائیں گے جتنے فریقِ مخالف کے سزا پا چکے۔ میں نے دوستوں کو حوصلہ دیا۔ میں خود تو ذہنی طور پر سزا کیلئے تیار ہو چکا تھا۔ ادھر کرنل نوشاد شنواری کے دل میں ایک عجیب طوفان برپا تھا اور ان کے چہرے پر سب عیاں تھا۔ کچھ دیر بعد اجمل ملک کو بلایا گیا۔ کرنل نوشاد نے اپنے مخصوص پشتو لہجے میں فیصلہ سنایا جس کے مطابق اسے Acquit کیا گیا تھا مگر اجمل ملک سمجھے کہ شاید انہیں Commit کیا گیا ہے۔ ان کی صدائے احتجاج اور دہائی برآمد ے تک سنی گئی۔ اس لطیفے پر کرنل صاحب بھی ہنسے اور ہم بھی محظوظ ہوئے۔ پھر کرنل شنواری نے اردو میں فیصلہ سنایا جس پر اجمل ملک صاحب نے سکھ کا سانس لیا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتے ہوئے باہر نکلے۔ ایک سپاہی نے انہیں ہم سے ہاتھ بھی نہ ملانے دیا اور پکڑ کر باہر کے گیٹ تک دھکیلتا ہوا لے گیا۔ انہیں گیٹ سے باہر نکال کر گیٹ کیپر نے دروازہ فوراً بند کر لیا۔ </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_24721193.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>