<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>مذاکرات اور توقعات(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-20/11120</link><pubDate>Mon, 20 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-20/11120</guid><description>امریکہ اور ایران کے مذاکرات کے دوسرے دور کی پیش رفت نظر آ رہی ہے۔ اس مقصد سے امریکی وفد آج اسلام آباد پہنچ رہا ہے۔ ایرانی نمائندگان کی آمد بھی آج ہی متوقع ہے۔ دونوں ملکوں کی جنگ بندی کا طے شدہ وقفہ بدھ کے روز مکمل ہو رہا ہے‘ اس سے قبل پائیدار امن کے قیام کی جانب پیش رفت بے حد اہم ہے۔ مذاکرات کے پہلے دور کے بعد پاکستان کی جانب سے بھرپور سفارتی کوششوں کے اثرات کا جائزہ لیا جائے تو ایران اور امریکہ آج پہلے سے کہیں زیادہ قریب اور ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ بہتر رابطے میں ہیں۔ اس امن عمل کی شروعات کے ساتھ دونوں ملکوں میں بالواسطہ پیغام رسانی ہوتی رہی تاہم گزشتہ روز صدر ٹرمپ کی ایرانیوں کے ساتھ براہ راست گفتگو کی خبریں بھی آ رہی تھیں۔ اس قسم کی پیش رفت مذاکراتی عمل میں فاصلے سمیٹنے کیلئے اہم ہوتی ہے۔ اس موقع پر یہ کہنا بھی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ فریقین زبانی جنگ بندی کا نفاذ بھی یقینی بنائیں تاکہ ایک دوسرے کا اعتماد حاصل کرنا آسان ہو سکے۔ ایران اور امریکہ کے مذاکرات کی کامیابی صرف ان دو ملکوں کی ضرورت نہیں پوری دنیا کی معیشت کیلئے اس کی خاص اہمیت ہے۔

آبنائے ہرمز کی بندش سے توانائی کی قیمتوں میں اضافہ دنیا بھر کیلئے تشویش کا باعث ہے۔ خام تیل اور ایل این جی کے علاوہ توانائی کے دیگر اہم وسائل اور صنعتی مواد کی سپلائی بھی اس کشیدگی سے متاثر ہو رہی ہے۔ اٹلانٹک کونسل کی ایک رپورٹ کے مطابق ایران جنگ سے پہلے جیٹ فیول کا تقریباً 20 فیصد‘ ڈیزل کا 10 فیصد‘ امونیا کی طلب کا 23 فیصد اور ہیلیم کی پیداوار کا 33 فیصد خلیج فارس کے راستے دنیا کو پہنچ رہا تھا جبکہ عالمی سطح پر بحری جہازوں کے ذریعے فراہم کی جانے والی سلفر کا نصف حصہ اور ایلومینیم کا نو فیصد خلیج فارس سے گزر کر آتا تھا۔ اس خلیج میں کشیدگی کی وجہ سے عالمی سطح پر خوراک کی قلت کے مسائل سے بھی خبردار کیا جا رہا ہے۔ ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق اگر جنگ جولائی تک جاری رہی اور تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر رہی تو تقریباً ساڑھے چار کروڑ مزید افراد خوراک کی شدید کمی کا شکار ہو جائیں گے۔
ان اندیشوں سے دنیا کو بچانے کا یقینی طریقہ یہی ہے کہ امریکہ اور ایران کسی معاہدے تک پہنچیں‘ خلیج فارس میں جنگ کا مکمل خاتمہ ہو اور بحری گزرگاہیں معمول کے مطابق کھل سکیں؛ چنانچہ مذاکرات کے دوسرے دور میں مندوبین کی ذمہ داریاں اور ان سے توقعات پہلے سے زیادہ ہوں گی۔ دنیا بھر کی نظریں پہلے بھی اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات پر تھیں مگر حالیہ دور کی اہمیت اور حساسیت اس لیے زیادہ ہے کہ یہ مذاکرات جنگ بندی کی مدت کے اختتام کے قریب ہو رہے ہیں‘ اور حالیہ دنوں ایک بار پھر دونوں فریق جنگی دھمکیوں پر اُتر آئے ہیں۔ صدر ٹرمپ ابھی کل ہی کہہ رہے تھے کہ ایران نے معاہدہ نہ کیا تو اس کے ساتھ وہ کیا جائے گا جو کوئی امریکی صدر نہ کر سکا۔ اُدھر ایران کے پاسداران بھی بدستور رجز خوانی کر تے سنائی دے رہے ہیں۔ دوسری جانب یمن کے حوثی باب المندب کی بندش کی دھمکی دینے لگے ہیں۔ یہ گزرگاہ بحیرہ احمر کی طرف بحری نقل و حرکت کا دروازہ ہے۔
اس پیچیدہ صورتحال میں پاکستان کی جانب سے ایران امریکہ مذاکرات کوکامیاب بنانے اور خطے میں امن واستحکام کو فروغ دینے کیلئے جو سفارتی کوششیں کی جا رہی ہیں‘ نہایت مستحسن ہیں۔ قوی امکان ہے کہ ایران اور امریکہ مذاکرات کے اس دور میں کسی نتیجے پر ضرور پہنچ جائیں گے‘ اور جو 11 اپریل کے مذاکرات میں حاصل نہ ہو سکا وہ اس دور میں حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ یہ نیک تمنائیں اپنی جگہ مگر ایران اور امریکہ کے مذاکرات تک ہر لمحہ تجسس بھرا ہو گا۔ امیدوں اور آرزوؤں سے لبریز۔ یہ مذاکرات حسبِ توقع کامیابی سے ہم کنار ہوں‘ خلیجی خطے میں امن قائم ہو تو دنیا سکھ کا سانس لے اور عالمی اقتصاد کو نمو کا بھرپور موقع حاصل ہو۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>عازمین حج اور روڈ ٹو مکہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-20/11119</link><pubDate>Mon, 20 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-20/11119</guid><description>اتوار کے روز پاکستان سے حج فلائٹس کا باقاعدہ آغاز ہو گیا اور اسلام آباد سے پہلی حج پرواز 270 عازمین کو لے کر مدینہ منورہ روانہ ہوئی۔ چند سال پیشتر اس سفر میں ایئر پورٹس پر امیگریشن اور کسٹمز کی طویل قطاریں عازمین کیلئے باعثِ مشقت ہوا کرتی تھیں‘ تاہم سعودی حکومت کے تعاون سے شروع ہونے والے ’روڈ ٹو مکہ‘ منصوبے نے اس سفر کو اب آسان بنا دیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت جانے والے عازمین کی امیگریشن اور کسٹمز کی تمام کارروائیاں نامزد ایئرپورٹس پر ہی مکمل کر لی جاتی ہیں‘ جس کے بعد سعودی عرب پہنچنے پر طویل انتظار اور دوبارہ امیگریشن کے عمل سے نہیں گزرنا پڑتا۔ اب تک عالمی سطح پر دس ممالک کو اس منصوبے کا حصہ بنایا گیا ہے۔

پاکستان میں اس منصوبے کا آغاز اگرچہ 2019ء میں ہوا تھا مگر کورونا کی عالمی وبا کے سبب یہ سلسلہ دو سال تک معطل رہا‘ 2022ء میں اسے دوبارہ بحال کیا گیا اور ابتدائی طور پر یہ اسلام آباد تک محدود تھا۔ دوسرے مرحلے میں اسے کراچی تک وسیع کیا گیا اور رواں سال لاہور کو بھی اس منصوبے کا حصہ بنایا گیا ہے۔ امسال روڈ ٹو مکہ منصوبے کی گنجائش میں تقریباً دگنا اضافہ کیا گیا ہے اور تقریباً 95 ہزار 800 عازمین (سرکاری حصے کا 80فیصد) اس سے استفادہ کریں گے۔ رواں سال ملک کے آٹھ بڑے شہروں سے حج پروازیں روانہ ہوں گی‘ ضرورت اس امر کی ہے کہ آئندہ سالوں میں اس کا دائرہ کار دیگر شہروں تک بھی بڑھایا جائے تاکہ پاکستان بھر کے عازمین یکساں طور پر اس سہولت سے مستفید ہو سکیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>غذائی درآمدات کا بوجھ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-20/11118</link><pubDate>Mon, 20 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-20/11118</guid><description>ادارہ شماریات کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ (جولائی تا مارچ) میں ملک کی غذائی درآمدات سات ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں‘ جو گزشتہ سال سے 15 فیصد زیادہ ہیں۔ یہ اعداد وشمار پاکستان جیسے ملک کیلئے لمحہ فکریہ ہیں جس کی معیشت کی بنیاد ہی زراعت پر استوار ہے۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ دالوں کی درآمدات میں 24 فیصد کمی کے باوجود مجموعی غذائی درآمدات میں تقریباً 94 کروڑ ڈالر کا بڑا اضافہ ہوا۔ سب سے بڑا بوجھ خوردنی تیل کی صورت میں نظر آتا ہے۔ ہر سال اربوں ڈالر کے خوردنی تیل کی درآمد ایک دائمی خطرہ بن چکی ہے‘ جس کا مستقل حل ناگزیر ہے۔

پاکستان جیسے زرخیز خطے میں تیل دار اجناس کی مقامی کاشت پر توجہ نہ دینا ایک سنگین پالیسی خلا ہے‘ جس کی قیمت مہنگی درآمدات کی صورت میں ادا کرنا پڑ رہی ہے۔ موجودہ حالات متقاضی ہیں کہ زرعی پالیسی کو منظم کرتے ہوئے روایتی فصلوں تک محدود رہنے کے بجائے جدید ٹیکنالوجی اور بہتر بیجوں کے استعمال سے فی ایکڑ پیداوار میں کم از کم اس قدر اضافہ کیا جائے کہ مقامی طلب کو پورا کیا جا سکے۔ برآمدی صلاحیت رکھنے والی مصنوعات جیسے چاول‘ پھل وغیرہ کی عالمی معیار کے مطابق پروسیسنگ اور نئی منڈیوں تک رسائی سے نہ صرف تجارتی خسارہ کم کیا جا سکتا ہے بلکہ زرمبادلہ کے ذخائر کو بھی مستحکم بنایا جا سکتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مایوسی کا بیانیہ(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-04-20/51798/59282198</link><pubDate>Mon, 20 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-04-20/51798/59282198</guid><description>&#39;&#39;مذاکرات فلاں نے کیوں کیے؟ یہ تو فلاں کو کرنے چاہئیں‘‘۔ &#39;&#39;پہلے تو ملک میں ہونے والی ناانصافی کا ازالہ کریں اس کے بعد دنیا میں ثالثی کریں‘‘۔ &#39;&#39;ملک میں اتنے لوگ مار دیے گئے اور آپ مشرقِ وسطیٰ میں جانیں بچا رہے ہیں‘‘۔ &#39;&#39;یہ کیسی دانش ہے جو ملک میں ہونے والے مظالم پر خاموش رہتی اور باہر کے ظلم پر شمشیرِ برہنہ بن جاتی ہے‘‘۔یہ سوالات ایک طبقے کی طرف سے اٹھائے جاتے ہیں۔ بظاہر یہ پاکستان کی حالیہ کامیابی کو گہنانے کی ایک شعوری کوشش ہے۔ اس طبقے کے لیے اس کامیابی کو ہضم کرنا مشکل ہے ا ور انکار اس سے زیادہ مشکل۔ نہ جائے ماندن‘ نہ پائے رفتن۔ انکار آپ کے عقل وخرد پر سوالیہ نشان ہے اور اقرار سیاسی مؤقف پر۔ ان کی اس مشکل کو پس منظر میں رکھتے ہوئے‘ ان سوالات کا تجزیہ لازم ہے۔ بعض سوالات‘ ہو سکتا ہے کہ سنجیدگی کے متقاضی ہوں اور انہیں اس وجہ سے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ یہ سیاسی مایوسی کا بیانیہ ہے۔ دانش کو خود احتسابی کرنی چاہیے اور داخلی سیاست کا جائزہ بھی لیا جانا چاہیے۔آج ملک میں جو نظام قائم ہے‘ یہ مروجہ معنوں میں جمہوری نہیں ہے۔ ایک جمہوری نظام میں معیشت ہو یا سیاست‘ باگ سیاسی قیادت کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ وہی پالیسی ساز ہے اور قوتِ نافذہ بھی اسی کے پاس ہے۔ یہاں ایسا نہیں ہے۔ یہ ایک ہائبرڈ نظام ہے۔ اس میں قوت واختیار کا مرکز ایک نہیں ہے۔ وحدت نہیں تعدد ہے۔ جمہوریت متقاضی ہے کہ فیصلے کا حق عوام کے منتخب نمائندوں کے ہاتھ میں ہو۔ یہ مثالیت پسندی ہے۔ &#39;چاہیے‘ کی حد تک مجھے بھی اس سے اتفاق ہے۔ امرِ واقعہ مگر یہ ہے کہ کچھ ریاستی ادارے پارلیمان سے زیادہ طاقتور ہیں۔ دنیا بھی اُنہی کو مانتی ہے۔ برسبیلِ تذکرہ‘ پاکستان میں کبھی مثالی جمہوریت نہیں رہی۔ بعض وزرائے اعظم کا قد کاٹھ ایسا تھا کہ وہ سیاسی منظر نامے پر نمایاں دکھائی دیے۔ &#39;یہ صنّاعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے‘۔ واقعہ یہ ہے کہ ہم ایک ہائبرڈ نظام ہی میں جیتے رہے ہیں۔ جو آج اس کے سب سے بڑے ناقد ہیں‘ ان کا عہدِ اقتدار اس کی بدترین مثال ہے۔ جو شخص وزیراعظم ہوتے ہوئے اپوزیشن سے ملنا پسند نہ کرے  اور پارلیمان میں موجود سیاسی جماعتوں سے براہ راست بات کرنے کے بجائے ان سے رابطے کا کام ریاستی اداروں کے کارکنوں کے سپرد کر دے‘ اس کے حامیوں کو تو زیبا نہیں کہ وہ اس ہائبرڈ نظام کے خلاف آواز اٹھائیں۔حکومت اسی کی تسلیم کی جاتی ہے جس کے پاس قوتِ نافذہ ہو۔ اقتدار کی سیاست اصول پر نہیں‘ حقائق کی بنیاد پر کھڑی ہوتی ہے۔ اسی کو تسلیم کرتے ہوئے آگے بڑھنا ہوتا ہے۔ آج تحریک انصاف کو بھی اسی عدالتی نظام سے رجوع کرنا ہے۔ اسی  جیلر سے مراعات کے لیے درخواست کرنی ہے جو اس منصب پر تعینات ہے۔ گویا پی ٹی آئی نے زبانِ حال سے اس نظام کو قبول کیا ہوا ہے۔ اب اسی نظام نے دنیا کے سامنے بھی پاکستان کی نمائندگی کرنی ہے۔ اسی کے فیصلے‘ پاکستان کے فیصلے ہیں۔ اس پر یہ سوالات اٹھانا بے وقت کی راگنی ہے کہ فلاں نے مذاکرات کیوں کیے اور فلاں نے کیوں نہیں۔ دنیا آج افغانستان میں طالبان سے معاملہ کر رہی ہے۔ قانون کی زبان میں بات کریں تو اس حکومت کی کوئی اخلاقی اور قانونی بنیاد نہیں۔ ان کی حکومت مگر بالفعل قائم ہے اور قوتِ نافذہ رکھتی ہے۔ اس لیے اس موقع پر اس نوعیت کے سوالات کی کوئی عملی افادیت نہیں۔رہی بات ناانصافیوں کی تو اس پر آواز اٹھانی چاہیے مگر انہیں بھی خارجہ پالیسی سے نتھی کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اگر اس بات کو سچ مان لیا جا ئے کہ ناانصافی ہو رہی ہے تو کیا اس وجہ سے مشرقِ وسطیٰ میں امن کی کوشش نہیں کرنی چاہیے؟ کیا وہاں  قتلِ عام روکنے کے لیے کوئی کردار ادا نہیں کرنا چاہیے؟ اس کو خلطِ مبحث کہا جاتا ہے۔ یہ دو الگ معاملات ہیں اور انہیں الگ الگ ہی دیکھنا چاہیے۔ ہمیں اگر موقع ملا ہے کہ ہم جنگ کو روک کر عام لوگوں کی زندگی بچا سکتے ہیں تو ہمیں اس کے لیے بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے۔ اس کے ساتھ اگر پاکستان میں بے گناہوں کا خون بہایا جاتا ہے تو اس کے خلاف بھی ضرور آواز اٹھانی چاہیے۔ یہاں صرف اتنی گزارش ہے کہ ہر معاملے کو اس کی جگہ رکھ کر سمجھنا جائے۔اس الزام میں مگر کتنی حقیقت ہے کہ آج کل پاکستان میں بے گناہوں یا حکومت مخالفین کو قتل کیا جا رہا ہے؟ میری معلومات  کی حد تک یہ محض الزام ہے جس کا کوئی ثبوت نہیں۔ ہر دورِ حکومت میں‘ جب امن وامان کا مسئلہ پیدا ہو جائے اور ریاست کو بالقوت چیلنج کیا جائے تو ریاست طاقت کا استعمال کرتی ہے۔ اس نوعیت کے واقعات ہر دور میں ہوتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں کراچی یا اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے یا قونصلیٹ پر حملہ ہوا۔ بینظیر بھٹو صاحبہ کے دور میں‘ جب اعتزاز احسن صاحب وزیر داخلہ تھے تو اسلام آباد میں ایسا ہی واقعہ ہوا۔ اسی طرح وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا بھی اسلام آباد پر چڑھ دوڑے۔ ان واقعات کی روک تھام کے لیے ریاست نے جوابی کارروائی کی تو اس میں انسانی جانیں گئیں۔ ایک انسان کی جان کا جانا  یقینا ایک افسوسناک واقعہ ہے لیکن اس سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ریاست شہریوں کا قتلِ عام کر رہی ہے۔ بستیوں کو فساد سے بچانا بھی لازم ہوتا ہے کہ یہ انسانی جان کی حرمت کا تقاضا ہے۔ احتجاج یا سیاسی آزادی جب فساد بن جائے تو ریاست کو اقدام کرنا پڑتا ہے۔ یہ ممکن ہے کہ کہیں حدود سے تجاوز ہوا ہو۔ اس کی تحقیقات ہونی چاہیے لیکن اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ ملک میں ظلم کاکوئی نظام نافذ ہے‘ مبالغہ ہے۔پھر یہ کہ ایسے واقعات کی ہمیشہ ایک سے زیادہ تعبیریں ہوتی ہیں۔ یہ تاریخ میں ہوا ہے اور آج بھی ہوتا ہے۔ اس میں کسی ایک فریق کے مؤقف کو بلاتحقیق‘ امرِ واقعہ کا بیان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ 2014ء کے دھرنے میں عمران خان صاحب نے اعلان کیا کہ اتنی لاشیں پمز میں پڑی ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ اس دھرنے میں خون کا ایک قطرہ نہیں بہا۔ میں اس پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں۔ کچھ لوگ چاہتے تھے ایسا ہو اور اس کے لیے مسلح لوگ طاہر القادری صاحب کے دھرنے میں موجود تھے جو ایک مسلح مذہبی گروہ کے کارکن تھے۔ وزیر داخلہ چودھری نثار علی خاں صاحب نے ان کے راہنما کوبلا کر متنبہ کیا اور انہیں وہاں سے اٹھانے کے لیے الٹی میٹم دیا۔ اگر وہ ایسا نہ کرتے تو آج ریاست کے نامۂ اعمال میں معلوم نہیں کیا رقم ہو تا اور نواز شریف صاحب اسی وقت فارغ ہو چکے ہوتے۔ میرا کہنا یہ ہے کہ ایسے واقعات کو بنیاد پر بنا کر‘ جن کی ایک سے زیادہ تعبیرات ہوں‘ یہ رائے دینا کہ ملک میں قتلِ عام ہو رہا ہے اور دانشور اس پر بات نہیں کرتے‘ مبالغہ آمیزی ہے جس کی کوئی اخلاقی اور قانونی بنیاد نہیں۔ یہ لازم نہیں کہ آپ ایک واقعے کی جس تعبیر کو درست سمجھ رہے ہیں‘ دوسرا بھی ایسا ہی سمجھتا ہو۔یہی وہ بیانیہ ہے جو پاکستان میں کسی سیاسی عمل کو آگے نہیں بڑھنے دیتا۔ اس نظام کے مخالفین جب اقتدار کی سیاست کر رہے ہیں تو اخلاقیات اور اصول کا مصنوعی چولا اتار کر سیاسی حقائق سے ہم کلام ہوں۔ ہائبرڈ نظام آپ کے لیے اجنبی نہیں‘ اس سے حجاب کیسا؟تو خدا ہے نہ مرا عشق فرشتوں جیسادونوں انساں ہیں تو کیوں اتنے حجابوں میں ملیں</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>غیر متوقع نتائج(رسول بخش رئیس)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-04-20/51799/44270718</link><pubDate>Mon, 20 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-04-20/51799/44270718</guid><description> اشارے ابھی تک مثبت ہیں کہ ایران کے خلاف جنگ کسی جامع علاقائی معاہدے پر ختم ہو سکتی ہے۔ اگلے چند دن اہم اور فیصلہ کن ہوں گے۔ ابھی کچھ خدوخال سامنے آئے ہیں اور وہ نکات بھی جن پر ابھی کوئی اتفاق نہیں ہو سکا۔ امن معاہدے کے امکانات کے ساتھ ساتھ جنگ کے خطرات بھی منڈلاتے نظر آتے ہیں۔ 40 روزہ اس جنگ نے پہلے ہی بہت کچھ بدل دیا ہے جس کے پورے خطے پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ ایران‘ امریکہ اور اسرائیل نے کیا کھویا اور کیا پایا‘ ایسا پیچیدہ اور بعض علمی اور سیاسی حلقوں میں ایسا نظریاتی اور جذباتی موضوع ہے کہ آئندہ کئی برسوں تک زیر بحث رہے گا۔ جیو پالیٹکس پر گہری نظر رکھنے والوں اور عالمی امور کے ماہرین کی آرا نہ کبھی ایک جیسی رہی ہیں اور نہ ہی ان کے بارے میں کوئی ایک خوش فہمی رکھنے کی ضرورت ہے۔ وقت کے ساتھ دیکھا ہے کہ ان کے زمینی حقیقتوں کو دیکھنے کے پیمانے اور تجزیے کی عینکیں تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔ زیادہ تر فوکس تو اس بات پر ہے اور رہے گا کہ امریکہ آخر اس تباہ کن جنگ سے کیا حاصل کرنا چاہتا تھا اور ابھی تک اس کے ہاتھوں میں کیا آیا ہے۔ شروعات تو اس سے ہوئی کہ وہ طاقت کے زور پر ایران کے اندر ایک انقلاب لا کر اسلامی رجیم کو چلتا کرے گا۔ اس کے لیے اسرائیلیوں اور امریکیوں نے اعلیٰ سیاسی اور عسکری قیادت کو نشانہ بنایا اور سلامتی کے اداروں اور فوجی صلاحیت کو تواتر سے تباہ کرتے رہے۔ ساتھ ایران کے عوام کو مخاطب کر کے اعلانات کرنا شروع کر دیے کہ راستہ ہموار کر دیا ہے‘ اب اُٹھو اور اقتدار اپنے ہاتھوں میں لے لو۔ وہ تو بیچارے اپنے نام نہاد نجات دہندوں کی دن رات کی بمباری سے اپنی جانیں بچاتے پھر رہے تھے۔ نہ انہیں نیند کی فرصت‘ نہ خوراک اور پانی کی فراہمی یقینی تھی۔ اس کا الٹا اثر یہ ہوا‘ ایرانی اپنے شہروں‘ گھروں اور تاریخی ورثہ کی تباہی دیکھ کر سب سیاسی اور نظریاتی اختلافات کو بھول گئے اور قومی ہم آہنگی کا مظاہرہ کرنے لگے۔ کہیں بھی ایران میں کوئی مظاہرہ نہ ہوا۔ اگر دیکھنے میں آئے تو وہ اس جارحانہ جنگ کے خلاف یورپ اور امریکہ میں تھے۔ ایران کے اندر فوجیں اتار کر وہ مزاحمت کی دلدل میں پھنسنے سے کتراتے رہے۔ سہارا لیا تو میزائلوں‘ بمبار طیاروں اور ڈرون حملوں کا کہ خوف اور تباہی کے سامنے ایرانی ہتھیار ڈال کر سلامتی کی بھیک مانگیں گے۔ ایسا کبھی ہوا ہے اور نہ ہو گا۔اکثر مبصرین کا خیال ہے کہ امریکہ دنیا میں اپنا اخلاقی مقام‘ جسے بنانے میں کم وبیش ایک صدی لگی‘ غزہ میں نسل کُشی اور ایران کے خلاف جنگ میں مکمل طور پر کھو چکا ہے۔ ہمارے نزدیک بھی امریکہ جدید فکر‘ روشن خیالی‘ آزاد روی اور علم وحرفت کی جدید تہذیب کا نمائندہ تھا‘ تاہم آزادی کے نام پر ابھی تک جو جنگیں افغانستان‘ عراق اور اب ایران میں لڑیں‘ ان میں اس جذبے کا خون ہی خون دیکھا۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد تین چار دہائیوں میں اس کا عالمی معیشت‘ ترقی اور علم وادب میں کردارآج کے دور سے کہیں مختلف تھا۔ اس کی جامعات ہر ملک کے لیے کھلی تھیں۔ غربت‘ جہالت‘ بیماری اور بھوک کے خاتمے کے لیے جامع ترقی اور تحقیق کے پروگرام تھے۔ آزادی اور جمہوریت کی راہیں علمی استعداد‘ صنعتکاری اور شخصی آزادیوں سے طے ہوتی رہیں۔ کئی ممالک آگے بڑھتے رہے اور وہاں صنعتی انقلاب کی شمعیں بھی روشن ہوتی رہیں۔ امریکہ کی روش گزشتہ ربع صدی میں بالکل اس کے الٹ رہی ہے۔ اب تو ملک کے اندر زبان کھولنا بھی خطرے سے خالی نہیں‘ اور باہر کی دنیا میں بھی ایسے رویوں اور حکمرانوں کی سرپرستی کی جا رہی ہے جو ٹرمپ اور غالب امریکی قدامت پسندوں کے ہمنوا ہیں۔ یورپ میں تو ایسی سیاسی طاقتوں کی کھلی پشت پناہی کی جا رہی ہے۔ تیسری دنیا کے ممالک میں انداز کچھ مختلف ہیں۔ بات یہاں چھوڑ دیں تو بہتر ہے۔امریکہ کی فوجی قوت کے بارے میں بہت کچھ کہا جا رہا ہے اور بہت کچھ لکھا بھی جائے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کے جدید اور مہلک ترین اسلحے نے ایران میں بہت تباہی مچائی مگر حاصل پھر کیا ہوا؟ ان کا مہلک ترین دفاعی نظام ایران کے سستے ترین ڈرونوں کا مؤثر طریقے سے مقابلہ نہ کر سکا۔ آئندہ کی فوجی حکمت عملی میں ڈرونوں کی افادیت اور ان کا استعمال‘ جو پہلے ہی یوکرین اورروس کی جنگ میں کلیدی کردار حاصل کر چکا ہے‘ سرفہرست ہو گا۔ اس لحاظ سے امریکہ اور اس کے علاقائی اتحادی دوبارہ سے اپنے دفاعی اتحادوں کا جائزہ لینے پر مجبور ہوں گے۔ ایران نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ جنگ کا ایک اہم مقصد‘ کہ حریفوں کو جارحیت کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑے‘ بڑی حد تک حاصل کر چکا ہے۔ کچھ خلیجی ممالک کے سلامتی کے حصار میں ایران نے اس قدر دراڑیں ڈال دی ہیں کہ شاید کبھی ان کو پُر نہ کیا جا سکے۔ سنا ہے دبئی کی رئیل اسٹیٹ‘ جس میں وطنِ عزیز کی اشرافیہ اور حکمران سیکڑوں ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر کے بیٹھے تھے‘ کی نیندیں حرام ہو رہی ہیں۔ ابھی تک ایک تہائی قیمت جنگ کے دھوئیں کی نذر ہو چکی ہے۔ اگر ایران اور امریکہ کا معاہدہ ہو جاتا ہے تو سرمایہ کاری کے سب راستے اس طرف کھلتے ہیں تو دنیا کی نظریں ایران اور پاکستان کی بندرگاہوں اور شہروں کی طرف ہوں گی۔ سیکڑوں ارب ڈالر کا اسلحہ کچھ ممالک کی تیل کی تنصیبات اور امریکی فوجی اڈوں کو مکمل تحفظ نہ دے سکا بلکہ ان کی دفاعی کمزوریاں زیادہ کھل کر سامنے آ گئی ہیں۔ خلیجی ممالک کو بھی ادراک ضرور ہو گا کہ امریکہ کی عالمی طاقت‘ جس پر وہ دہائیوں سے انحصار کرتے آئے ہیں‘ قابلِ بھروسہ نہیں رہی۔ اگر کہیں عقل ودانش اور دور اندیشی آنکھوں پر چڑھی دولت کی چربی کو پگھلا سکے تو لازمی طور پر علاقائی شناخت اور علاقائی تعاون کا احساس پیدا ہو گا۔ہر جنگ کے خلافِ توقع نتائج نکلتے ہیں۔ ایران کے خلاف جنگ نے تو ایک نئے علاقائی آرڈر کی راہیں کھول دی ہیں۔ دیکھیں ہمارے چار ممالک؛ ترکیہ‘ مصر‘ سعودی عرب اور پاکستان اپنی پرانی ڈگر تبدیل کرتے ہیں یا پھر واشنگٹن کی مرکزیت کا جدید عہد کرتے ہیں۔اس مقصد یہ ہرگز نہیں کہ کوئی نیا بلاک بنا کر امریکہ کی مخالفت کی جائے‘ بلکہ نئے آرڈر کی تشکیل کے لیے اپنی آواز اور مفادات کو محفوظ کیا جائے۔ ایسا کب تک ہوتا رہے گا کہ اسرائیل جب چاہے کسی بھی مسلمان آبادی اور ملک کے خلاف جنگ شروع کر دے اور سب بے بسی کے عالم میں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر صرف دعائیں مانگتے رہیں۔ غزہ کی نسل کشی اور ایران اور جنوبی لبنان کے خلاف جنگ نئی تزویراتی اور جیو پولیٹکل فکر کی دعوت دے رہی ہے۔ دیکھیں ہمارے حکمران کیا کرتے ہیں۔ جنگ کے اثرات کے نتیجے میں ایران یقینا تبدیل ہو گا۔ اس کی راکھ سے نئی فکر اور قیادت ابھرنے کے قوی امکانات ہیں۔ ایرانیوں کو بھی اپنے ماضی حال اور مستقبل کے بارے میں سوچنا ہو گا۔ ماضی کی پالیسیوں کی طرف شاید واپس جانا اتنا آسان نہ ہو۔ سیاسی افادیت کے لیے نعرہ بازی تو رہے گی مگر اپنی تنہائی اور داخلی معروضی سیاسی اور نظریاتی حقیقتوں سے صرف ِنظر کرنا اب ممکن نہ ہو گا۔ علاقے کے دیگر ممالک کی نسبت ایران کہیں زیادہ وقت کے چوراہے پر نظرآ رہا ہے۔ ابھی دیکھنا ہے کہ تعمیر نو‘ جس میں صرف عمارتیں کھڑی کرنا اور قومی تنصیبات کی بحالی نہیں بلکہ فکری اور ادارتی جہتوں کا تعین بھی شامل ہے‘ میں ایران کی سمت کیا ہوتی ہے۔ کسی انقلابی تبدیلی کی توقع نہیں مگر اصلاح پسند جو رجیم کا حصہ رہے ہیں‘ ان کی آوازیں معتبر تو پہلے بھی تھیں‘ اب ان کا احترام کتنا ہوتا ہے‘ طاقت کا توازن وہاں دیکھیں کیا رُخ اختیار کرتا ہے۔ ہماری ملکی قیادت نے امن وسلامتی کے حوالے سے بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ جنگ بندی کے بعد اگر معاہدہ کرانے میں بھی ہماری ثالثی کامیاب ہوتی ہے تو ہمارے لیے بھی یہ آگے بڑھنے اور اپنی نئی عالمی شناخت بنانے کافیصلہ کن لمحہ ہو گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_33241568.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>معرکہ لوڈشیڈنگ(بابر اعوان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/babar-awan/2026-04-20/51800/62987198</link><pubDate>Mon, 20 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/babar-awan/2026-04-20/51800/62987198</guid><description>تین مغل بادشاہ ایسے ہو گزرے ہیں جن کا ذکر ادب پاروں میں اب بھی پایا جاتا ہے۔ لیکن ان تینوں کے ذکر واذکار کے حوالے ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ ان میں سے آگرہ کے ایوانِ عشق‘ تاج محل کے علاوہ شہاب الدین محمد خرم المعروف شاہ جہاں کی دوسری وجہ شہرت بھی ہے۔ لیکن ان دونوں حوالوں پر نظامِ بادشاہی کے خاتمے کے بعد حریت پسند شاعروں نے ایسی طبع آزمائی کی جس نے ادبی دنیا میں بادشاہ کو برباد کر ڈالا۔شاہ جہاں کے پہلے شاہکار‘ تاج محل پر ایسے شاعر نے لفظی حملہ کیا جس کا ابتدائی زمانہ لدھیانہ میں گزرا۔ پھر وہ لاہور آ گئے۔ مگر لاہور کے کچھ شاہ پرست حلقوں سے ساحر لدھیانوی کا نباہ نہ ہو سکا؛ چنانچہ ان کا مستقل مستقر پھر سے بھارت ٹھہرا۔ تاج محل پر تاج محل کے عنوان سے ترقی پسند ساحر لدھیانوی نے طبقاتی نظریات کا یہ ڈرون چلایا۔یہ چمن زار‘ یہ جمنا کا کنارا‘ یہ محل یہ منقّش در و دیوار‘ یہ محراب‘ یہ طاقاِک شہنشاہ نے دولت کا سہارا لے کر ہم غریبوں کی محبت کا اُڑایا ہے مذاقمغل بادشاہوں کے زمانے تو لد گئے‘ جو اپنے دور کے غریبوں کی محبت کا مذاق اُڑایا کرتے تھے مگر اُن کی جگہ اب شغلیہ بادشاہوں نے لے لی ہے۔ جو محبت کے بجائے سیدھے سیدھے غریبوں کا مذاق اُڑاتے ہیں اور غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے عوام کی بھد بھی اُڑا رہے ہیں جس کا تازہ ثبوت معرکہ لوڈ شیڈنگ کا آغاز ہے۔ انرجی کی دنیا کے ایک بڑے رازدان کا کہنا ہے ہائبرڈ نظام کو مشورہ یہ دیا گیا کہ لوگ آئی پی پیز کو نقصان پہنچانے کے لیے سولر پینل سے ملنے والی قدرتی بجلی کو مِس یوز کر رہے ہیں اس لیے پیک آور ٹائم میں پھر سے لوڈ شیڈنگ برپا کر دی جائے۔ بات ہو رہی تھی شاہ جہاں کی جس کے بارے میں کچھ مقامی زبانوں‘ اُردو‘ سنسکرت اور ہندی کی روایتوں میں سے ایک عجیب روایت یہ ہے کہ شاہ جہاں کے عہد میں کچھ اعلیٰ درباری فنکار جھوٹ کا سالانہ مقابلہ کرواتے تھے۔ جو کوئی سب سے بڑا جھوٹ بولتا &#39;&#39;شاہ جہانی کوڑا‘‘ کا ٹائٹل مل جاتا۔ &#39;&#39;کوڑ‘‘ کئی مقامی زبانوں میں جھوٹ کو کہتے ہیں۔ ملک کے جنرل الیکشن 2024ء کی انتخابی مہم یاد آ گئی ہے۔ پی ڈی ایم سیریز ون اور پی ڈی ایم دوسری سیریز کی دو بڑی برسرِ اقتدار پارٹیوں کے لیڈروں نے بجلی سستی کرنے کا آئندہ کا پنج سالہ منظر نامہ یوں کھینچا۔ (ن) لیگ کی کمپین لیڈ کرنے والوں نے‘ لیڈر کی وڈیو نکال کر دیکھ لیں‘ ایک جلسے میں جاری دور کے بارے میں بجلی مفت دینے کا وعدہ ان لفظوں میں کیا کہ جو بھی پنجاب کے خاندان سو یونٹ سے کم بجلی استعمال کرتے ہیں اُن کو کبھی بھی بجلی کا بل نہیں آئے گا‘ غریب کا پنکھا بھی چلے گا‘ اس کی لائٹ بھی جلے گی اور میں نے سنا ہے اس کا فریج بھی چلے گا لیکن مہینے کا بِل نہیں آئے گا۔ انہوں نے مزید کہا &#39;&#39;ہم تھر کول سے کوئلے کی بجلی بھی بناتے ہیں اس لیے آپ ہمیں ایک اور موقع دیں ان شاء اللہ آپ کا عوامی حکومت آپ کو تین سو یونٹ فری میں دے گا اور کوئی بل نہیں بھیجے گا‘‘۔ شاہ جہانی کوڑے سے ایک اور بات یاد آتی ہے‘ جن خاندانوں کی دوسری اور تیسری نسل نے عوام سے مفت بجلی پر ووٹ مانگا تھا عوام نے انہیں ووٹ دینے سے انکار کیا۔ پھر فارم 47 نے الیکشن فتح کر لیا۔ہارے ہوئے لشکر نے جونہی ہارا ہوا الیکشن فتح کیا ساتھ آئی پی پیز کے کیپیسٹی چارجز کی فتوحات کا نیا آغاز ہو گیا۔ جن کی وجہ سے وزیرِ توانائی نے ایک انتہائی کنفیوژن زدہ پریس کانفرنس میں بجلی کی بدترین لوڈ شیڈنگ کا انتہائی بدترین دفاع کرنے کی ناکام کوشش کی۔ اس وقت ملک بھر کے سوشل میڈیا صارفین کروڑوں کی تعداد میں میمز اور تبصروں کی صورت میں بجلی مفت کرنے کے شاہ جہانی کوڑ مسلسل ایکسپوز کر رہے ہیں۔ مسئلہ توانائی کے حوالے سے دو حقائق انتہائی چشم کشا ہیں۔ توانائی کے بحران پر دو سوال دیکھنے کے قابل ہیں۔معرکہ توانائی پر چشم کشا سوالِ اول: اب اس میں کوئی شک وشبہ نہیں رہا کہ بجلی کا بحران حکومتی بدانتظامی کی وجہ سے پیدا ہوا۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ عوام 46 ہزار میگا واٹ پر بجلی گھروں کو کیپیسٹی چارجز دینے پر مجبور ہیں۔ وہ بھی پاکستانی روپے میں نہیں بلکہ امریکی ڈالروں میں۔ بجلی پھر بھی کیوں نہیں مل رہی؟ گھریلو اور کمرشل بجلی استعمال کرنے والوں کو سات سے 16 گھنٹے لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے۔ گرمی کا ابھی آغاز ہی ہوا کہ بجلی کا شارٹ فال چار ہزار  90میگاواٹ سے بڑھ چکا ہے۔ پیک آورز کے دوران بھی بجلی کی طلب 20 ہزار  520میگاواٹ ہے۔ جبکہ بجلی کی پیداوار  13ہزار  558میگا واٹ ہے۔ ایک سابق وزیرِ توانائی نے بتایا: جون سے اگست کے دوران بجلی کی ڈیمانڈ 20 سے بڑھ کر  30 سے  33ہزار میگاواٹ تک جا پہنچے گی۔ اگر لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کا دعویدار ہائبرڈ رجیم آج بجلی کی ڈیمانڈ پوری نہیں کر پا رہا تو جون سے اگست کے مہینے تک یہ ڈیمانڈ کس جادوئی چھڑی سے پوری کی جائے گی؟معرکہ توانائی پر چشم کشا سوالِ دوم: کیا ہائبرڈ سرکار دو حقیقتوں سے انکار کر سکتی ہے؟ پہلی‘ گیس کی ناقص‘ من پسند‘ سیاسی اور نان ٹرانسپیرنٹ تقسیم کی وجہ سے گیس پاور پلانٹس کو استعمال ہی نہیں کیا جا رہا۔ دوسری‘ یہ پاور پالیسی اور حکومتی پاور سیکٹر کی ناکامی ہے کہ پن بجلی کا سستا منصوبہ نیلم جہلم ہائیڈرو پروجیکٹ بھوت بنگلہ بن گیا ہے اور اس پر تالے پڑے ہیں۔ لوڈ مینجمنٹ ہر علاقے میں اپنی مرضی سے کی جاتی ہے۔ بجلی چور خوشحال اور ناجائز بل دینے والے عوام بدحال وبے حال۔کشتیاں غرقاب‘ طوفاں تیز‘ موجیں بے لگامپنجۂ گرداب‘ قہرِ ناخدا ہے دوستودل شکن حالات پر موقوف ہے اس کا جوابکون کس کا اس سفر میں راہنما ہے دوستوبات بنتی ہے تو عرضِ مدعا ہم بھی کریںکوئی اپنا بھی یہاں درد آشنا ہے دوستو </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_42786259.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سرمایہ کاری‘ توانائی اور برآمدات کے اثرات(میاں عمران احمد)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mian-imran-ahmad/2026-04-20/51801/12173817</link><pubDate>Mon, 20 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mian-imran-ahmad/2026-04-20/51801/12173817</guid><description>وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے دورۂ امریکہ کے دوران امریکی محکمہ خزانہ کے حکام سے ملاقات کی ہے جس میں توانائی‘ معدنی وسائل‘ مالیاتی نظام کی بہتری اور منی لانڈرنگ ودہشت گردی کی مالی معاونت روکنے کے نظام پر بات چیت ہوئی۔ ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کی صدر سے بھی ملاقات کی گئی جس میں مزید فنڈنگ کے امکانات پر بات ہوئی جبکہ منصوبوں پر عملدرآمد کی رفتار پر بھی غور کیا گیا۔ ان ملاقاتوں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ پاکستان کی موجودہ معاشی حکمت عملی کا بڑا حصہ بیرونی ذرائع پر انحصار کر رہا ہے‘ یعنی قرض اور عالمی اداروں کے تعاون پر زیادہ توجہ ہے۔ یہ حکمت عملی مختصر مدت میں ضروری بھی ہو سکتی ہے‘ خاص طور پر اس وقت جب ملک کو مالی دباؤ کا سامنا ہو۔ لیکن ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ صرف قرضوں سے معیشت کو مستقل بنیادوں پر مضبوط نہیں کیا جا سکتا۔ اصل بہتری اس وقت لائی جا سکتی ہے جب اندرونی پیداوار‘ برآمدات اور ٹیکس بیس میں اضافہ ہو۔ اگر یہ بنیاد مضبوط نہ ہو تو بیرونی فنڈنگ وقتی سہارا تو دے سکتی ہے مگر مستقل حل نہیں بن سکتی۔ اس وقت پاکستان کے لیے بیرونی مالی تعاون کے ساتھ ساتھ اندرونی معیشت خاص طور پر صنعت‘ زراعت اور برآمدات کو مضبوط کرنا بڑا چیلنج دکھائی دیتا ہے۔ دونوں پہلوؤں میں توازن ہی طویل مدتی استحکام کی طرف لے جا سکتا ہے۔ ان حالات میں اچھی خبر یہ ہے کہ پاکستان نے چار سال کے وقفے کے بعد 500 ملین ڈالر کا تین سالہ یورو بانڈ جاری کیا ہے۔ شاید عالمی سطح پر پاکستان کی معیشت پر اعتماد کچھ بہتر ہوا ہے۔ پاکستان نے 2022ء کے بعد سے براہ راست بین الاقوامی بانڈ مارکیٹ میں کوئی بڑا اجرا نہیں کیا تھا‘ اس دوران زیادہ تر انحصار عالمی مالیاتی اداروں اور دوست ممالک کے قرضوں پر رہا۔ اس مرتبہ اس بانڈ پر مثبت رسپانس کا مطلب یہ ہے کہ عالمی منڈی میں پاکستان کے قرضے لینے میں دلچسپی ظاہر کی گئی ہے۔ یہ معاملہ اس لیے اہم ہے کہ عالمی مالی منڈی میں کسی بھی ملک کی ساکھ اسی سے ظاہر ہوتی ہے کہ اس کے بانڈز کتنی آسانی سے فروخت ہوتے ہیں۔ ایسے اقدامات سے پاکستان کو اپنے قرضوں کا معیار قائم رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ مستقبل میں پانڈا بانڈ‘ سکوک اور چینی مارکیٹ میں بانڈ جاری کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ یہ پیش رفت بھی ایک مثبت اشارہ ہے کہ پاکستان کو عالمی مارکیٹ میں دوبارہ جگہ مل رہی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ایک اہم حقیقت یہ بھی ہے کہ یہ قرض ہے آمدن نہیں اور نہ ہی یہ ایسی سرمایہ کاری ہے جس سے ملک میں روزگار بڑھے اور جی ڈی پی میں بہتری آئے۔ ایسی سرمایہ کاری کے حوالے سے حکومت کو بڑے چیلنجز درپیش ہیں۔پاکستان میں یورپی یونین کی جانب سے تجارتی سرمایہ کاری کے نئے آپشن بھی سامنے آئے ہیں لیکن یورپی حکام کے مطابق فیصلوں میں تاخیر ہو رہی ہے اور اگر یہ تاخیر زیادہ بڑھی تو یہ موقع کسی اور ملک کی طرف جا سکتا ہے۔ یورپی یونین پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے جہاں سے پاکستان کو سالانہ تقریباً آٹھ ارب ڈالر کی آمدن ہوتی ہے جو کل برآمدات کا تقریباً 28 فیصد ہے۔ اس کے باوجود پاکستان میں یورپی کمپنیوں کی تعداد بہت کم‘ چند سو کے قریب ہے۔ اس کے مقابلے میں دیگر ممالک میں یہ تعداد ہزاروں میں ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان سرمایہ کاروں کے لیے مکمل طور پر پُرکشش ماحول نہیں بنا سکا اور حکومت کا فوکس بدستور قرضوں پر ہے۔ اسی تناظر میں یورپی یونین کی کاوش سے یورپی یونین اور پاکستان کے درمیان بزنس فورم منعقد کیے جانے کی اطلاع ہے جس میں بڑی یورپی کمپنیوں کے نمائندے شرکت کر سکتے ہیں۔ ممکن ہے کہ اعتماد کو بہتر کیا جا سکے اور قرضوں کے بجائے حقیقی سرمایہ کاری کے نئے راستے تلاش کیے جا سکیں۔ سرمایہ کار صرف دعوت پر نہیں آتے وہ استحکام اور یقین دیکھتے ہیں۔ اگر پالیسی میں تسلسل ہو‘ فیصلے تیز ہوں اور کاروباری ماحول آسان ہو تو سرمایہ کاری خود بخود بڑھ سکتی ہے۔ لیکن اگر غیر یقینی صورتحال برقرار رہے تو بڑے مواقع بھی صرف بات چیت تک محدود رہ سکتے ہیں۔پاکستان کا پاور ڈویژن معیشت کے لیے ایک بڑے چیلنج کی شکل اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ ملک میں تقریباً 45 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے جبکہ زیادہ سے زیادہ طلب عموماً 25 سے 28 ہزار میگاواٹ تک ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ملک میں 17 سے 20 ہزار میگاواٹ کا اضافی فرق موجود ہے۔ اس کے باوجود لوڈشیڈنگ کی جاتی ہے‘ جس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ پاور ڈویژن ایک وضاحت یہ دیتا ہے کہ لوڈشیڈنگ مہنگے ایندھن کے استعمال کو کم کرنے اور بجلی کے نرخوں میں تیزی سے اضافے کو روکنے کے لیے کی جاتی ہے۔ لیکن یہ دلیل کمزور دکھائی دیتی ہے کیونکہ یہ قیمت اور لاگت کے فرق کو نظر انداز کرتی ہے۔ جب دستیاب بجلی کو بند کیا جاتا ہے تو لاگت ختم نہیں ہوتی بلکہ صرف اس کی ترتیب بدل جاتی ہے۔ کیپیسٹی پیمنٹس‘ جو اَب دو کھرب روپے سے بھی زیادہ ہو چکی ہیں‘ پلانٹس بند کرنے سے ختم نہیں ہوتیں بلکہ جاری رہتی ہیں۔ 2006ء سے پہلے پاور سیکٹر میں گردشی قرضہ تقریباً نہ ہونے کے برابر تھا لیکن اس کے بعد یہ بڑھتے بڑھتے آج تقریباً دو کھرب روپے تک پہنچ چکا ہے‘ جبکہ توانائی کے مجموعی شعبے (بجلی اور گیس) کا قرض پانچ کھرب روپے سے زیادہ ہو چکا ہے۔ یہ اضافہ کسی ایک بحران کا نتیجہ نہیں بلکہ مسلسل غلط پالیسی کا نتیجہ دکھائی دیتا ہے۔ گردشی قرضہ تقریباً 15 فیصد سالانہ کی شرح سے دو دہائیوں تک بڑھتا رہا ہے۔ اگر یہی رجحان برقرار رہا تو 2030ء تک یہ آٹھ کھرب روپے سے بھی تجاوز کر سکتا ہے۔ یہ صورتحال کسی جنگ یا قدرتی آفت کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک مستقل نظامی کمزوری کی عکاسی کرتی ہے۔پاکستان میں خوراک کے شعبے کی صورتحال اس وقت واضح طور پر تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ کے دوران ملک کا فوڈ امپورٹ بل 15.22 فیصد بڑھ کر 7.09 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ اس کے مقابلے میں خوراک کی برآمدات 33.90 فیصد کم ہو کر 3.80 ارب ڈالر رہ گئی ہیں۔ اس طرح درآمدات اور برآمدات کے درمیان فرق مزید بڑھ گیا ہے۔ یہ اضافہ زیادہ تر چینی‘ خوردنی تیل اور دالوں کی درآمدات کی وجہ سے ہوا ہے۔ حکومت نے بعض اوقات مقامی مارکیٹ میں قیمتوں کو قابو میں رکھنے اور کمی پوری کرنے کے لیے بیرونی ممالک سے زیادہ خریداری کی ہے۔ پام آئل اور چینی کی درآمد میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ چینی کی درآمد میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ مقامی سطح پر پیداوار اور سپلائی میں مسائل موجود ہیں۔ اسی طرح دالوں اور دیگر خوردنی اشیاکی درآمد بھی بڑھ گئی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک اپنی کچھ بنیادی ضروریات کے لیے بیرونی سپلائی پر زیادہ انحصار کر رہا ہے۔ دوسری طرف خوراک کی برآمدات میں کمی دیکھی گئی ہے۔ چاول کی برآمدات خاص طور پر کم ہوئی ہیں جو پاکستان کی ایک اہم زرعی ایکسپورٹ ہے۔ سبزیوں اور کچھ دیگر زرعی مصنوعات کی برآمد بھی کم ہوئی ہے۔ ان کے مقابلے میں گوشت اور پھل کی برآمد میں معمولی اضافہ ہوا ہے‘ لیکن یہ مجموعی کمی کو پورا نہیں کر سکا۔ اس صورتحال کی کئی وجوہات ہیں۔ زرعی پیداوار میں مشکلات‘ پانی کی کمی‘ پیداواری لاگت اور جدید ٹیکنالوجی کا کم استعمال ان میں سرفہرست ہیں۔ اس کے علاوہ برآمدات کے معیار اور ویلیو ایڈیشن میں بھی مسائل موجود ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ درآمدات بڑھ رہی ہیں اور برآمدات کم ہو رہی ہیں۔ اگر یہ رجحان جاری رہا تو تجارتی توازن پر دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/212_71532147.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>خیر دیکھیں گے یہاں روشنیاں دوسرے لوگ(سعود عثمانی )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-04-20/51802/33876997</link><pubDate>Mon, 20 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-04-20/51802/33876997</guid><description>انسان کی عمر ہی کیا ہوتی ہے‘ یہی کوئی اوسطاً ساٹھ‘ ستر سال۔ لیکن اس مختصر سی مہلت میں انسان وہ کچھ دیکھ لیتا ہے جو یا صرف کتابوں میں ہے یا بزرگوں سے سنا تھا۔ اسی مدت میں ملکوں اور قوموں میں طاقت کے مراکز بدلتے رہنے کا وہ الوہی قانون دیکھ لیا جاتا ہے جو کتابِ سبز نے اس طرح بیان کیا ہے کہ &#39;&#39;اور ہم اسی طرح لوگوں کے درمیان دن الٹتے پلٹتے رہتے ہیں‘‘۔ قیصر وکسریٰ کا عروج اور زوال‘ مسلمانوں کا عروج و زوال‘تاتاریوں کا عروج و زوال‘ یورپ کا عروج و زوال تو وہ حقیقتیں ہیں جو ہم نے کتابوں میں پڑھیں‘ لیکن گزشتہ پچاس برس میں طاقت کے مرکز دنیا میں جس طرح بدلتے رہے ہیں اس کے ہم سب عینی شاہد ہیں۔ شعور کی آنکھ کھلی تو معلوم ہوا کہ یہ دنیا دو قطبی یعنی بائی پولر ہے۔ دنیا امریکہ اور سوویت یونین کی دو مہیب طاقتوں کے بیچ جھول رہی تھی اور دوسری عالمی جنگ کے بعد ایک نیا منظرنامہ ابھر رہا تھا۔ ہر ملک ان سے خوف کھاتا تھا۔ دونوں کی کوشش تھی کہ وہ زمینی‘ اقتصادی اور فکری قبضے کے ذریعے تمام ملکوں کو اپنا ماتحت بنا لیں۔ چین ابھی اس قابل نہیں تھا کہ سپر پاور کہلا سکے۔ آپس کی یہ جنگ یہاں تک پہنچی کہ ملکوں کے ہی نہیں‘ شہروں تک کے حصے بخرے کرکے ان پر اپنا اپنا قبضہ جما لیا گیا۔ دیوارِ برلن اور مشرقی ومغربی جرمنی تو ابھی کل کی بات ہے۔ پچاس‘ ساٹھ‘ ستر اور اسّی کی دہائیاں امریکہ اور سوویت یونین کی اس جنگ کی نذر ہو گئیں جسے دنیا سرد جنگ کے نام سے یاد کرتی ہے۔ شہریوں کی سمجھ نہیں آتا تھا کہ وہ دونوں ہاتھیوں سے بچ کر کدھر جائیں کہ ہر طرف ان کے پائوں تھے اور ہر جگہ ان کی سونڈیں لہراتی نظر آتی تھیں۔ ان سے بچ کر رہنا مشکل تھا‘ چنانچہ سبھی ملک ان کی اطاعت قبول کرتے رہے۔ پاکستان نے بھی امریکہ کے سائے میں پناہ بہتر سمجھی۔ یادش بخیر مشہور نقاد محمد حسن عسکری اُس زمانے میں کہا کرتے تھے کہ اگر دو غنڈوں میں سے ایک کے گروہ میں شامل ہونا ہے تو پڑوس کے غنڈے کے ساتھ ملنا چاہیے۔ یہ مشورہ کیسا تھا‘ یہ الگ بحث ہے لیکن بہرحال کئی لوگوں کا خیال یہی تھا۔1988ء کے لگ بھگ افغانستان میں شکست نے یونائیٹڈ سٹیٹس آف سوویت رشیا کی کمر توڑ دی۔ روس اندر کی شکست و ریخت سے اس طرح دوچار ہوا کہ اس کی ریاستیں نئے ملک بن کر دنیا کے منظر پر نمودار ہوئیں۔ سب سے بڑا فائدہ امریکہ کو ہوا اور دنیا نے دیکھا کہ اب دنیا کا ایک ہی قطب ہے۔ زمین یک قطبی (unipolar) ہو گئی۔ یہ دنیا کا نیا نظام تھا۔ دنیا اب ایک نئے شکنجے میں گرفتار ہو رہی تھی۔ بلا شرکت غیرے اس نیلے سیارے کو کنٹرول کرنے کا اپنا ہی مزہ تھا۔ یہ اور طرح کی شہنشاہیت تھی جو نوے کی دہائی کے اوائل میں شروع ہوئی۔ شہنشاہانہ مزاج کو کبھی اصول اور قانون کے تابع رکھا جا سکتا ہے بھلا؟ مسلم دانشور سمجھتے تھے اور درست سمجھتے تھے کہ اب باری مسلمانوں کی ہے‘ جسے مغرب بڑا خطرہ سمجھتا ہے۔ چنانچہ باری باری عراق‘ شام‘ لیبیا‘ ایران سمیت بہت سے ان ملکوں نے شہنشاہ کی مار سہی جو فرمانبرداری میں کسر اٹھا رکھتے تھے۔ ان ملکوں کے جرم کچھ اسی طرح کے تھے جیسے بھیڑیے نے بھیڑ کے بچے کا جرم بتایا تھا کہ اگر تو نے نہیں تو تیرے باپ نے میری ندی کا پانی گندا کیا ہو گا۔ امریکی حلیف بھی ان حملوں میں اس کے ساتھ تھے لیکن امریکہ کے دو طرح کے حلیف تھے۔ سگے حلیف اور سوتیلے حلیف۔ لیکن دنیا پھر بدل رہی تھی۔ قوموں کے دن پھر الٹ پلٹ رہے تھے۔ روس اگرچہ ٹکڑے ہوچکا تھا لیکن وہ اب بھی سپر پاور کے سنگھاسن سے نیچے نہیں اترا تھا۔ اس نے تیزی سے اپنی فوجی اور اندرونی طاقت بحال کر لی تھی۔ اگرچہ وہ اکیلا امریکہ کو ٹکر نہیں دے سکتا تھا۔ اسی دوران ایک تیسری طاقت نے اپنی طرف توجہ مبذول کرا لی۔ یہ چین تھا۔ اس نے ٹکرائو کی پالیسی نہیں اپنائی اور ملکوں کو زمینی قبضے کے ذریعے بھی اپنے زیر نگین نہیں کیا۔ اس کا نظریہ تھاکہ جیتنا تو ضروری ہے لیکن مزہ تب ہے جب لڑائی کیے بغیر جیتا جائے۔ اس کی اس پالیسی کا فائدہ اسے یہ ہوا کہ وہ جنگوں میں الجھے بغیر معاشی طاقت بنتا گیا‘ اس کا قد بڑھتا گیا حتیٰ کہ اس دیو کا سایہ امریکی زمین تک پہنچنے لگا۔ یہ ادراک روس کو بھی ہونے لگا۔ روس اور چین میں قدرِ مشترک یہ تھی کہ یہ دونوں نظریاتی طور پر سرمایہ دارانہ نظام کے مخالف تھے اور نظریاتی ہم آہنگی رکھتے تھے۔ چنانچہ امریکہ کے خلاف یہ اکثر ہم آواز ہونے لگے۔ 2020ء تک آتے آتے بتدریج چین کی طاقت اتنی بڑھ گئی کہ اب وہ اکیلا بھی امریکہ کو ٹکر دینے کے قابل ہو چکا تھا۔ دنیا کو نظر آ رہا تھا کہ دنیا کا منظر بدل رہا ہے اور اب وہ یک قطبی نہیں رہی۔ بس ایک دھچکے‘ ایک بڑے واقعے کا انتظار تھا۔ ایسا ہی کوئی بڑا واقعہ جس نے دنیا کو دو قطبی سے یک قطبی کر دیا تھا۔ اس بڑے واقعے سے پہلے چھوٹے لیکن اہم واقعات شروع ہوئے۔ غزہ میں اسرائیلی نسل کشی‘ امریکہ میں ٹرمپ کا دوسرا دورِ اقتدار‘ نیٹو میں دراڑیں‘ امریکی تکبر اور اپنے زعم میں ہر شخص کی تذلیل‘ اپنے حلیفوں کی تحقیر‘ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کو پیروں تلے روند دینا‘ یہ سب اہم واقعات تھے۔ دیوار میں شگاف پڑ رہے تھے اور کمزور ہوتی یک قطبی دیوار ایک زلزلے کی مار رہ گئی تھی۔2025ء اور 2026ء میں یکے بعد دیگرے دو بڑے زلزلے آئے‘ جن کا مرکز ایران میں تھا۔ 2026ء میں اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر ہزاروں فضائی‘ میزائل اور ڈرون حملے کیے اور ایرانی قیادت کی پہلی صف ختم کر دی۔ ان کے خیال میں چند دنوں میں ایران کو سرنگوں ہو جانا چاہیے تھا‘ لیکن یہ وہم نکلا! ایران کے جوابی حملوں میں امریکی خلیجی اڈوں اور اسرائیل میں ایرانی میزائلوں سے تابڑ توڑ تباہیوں نے انہیں سرنگوں کر دیا جو اس کی دور دور تک توقع نہیں کرتے تھے۔ ایران نے دنیا کا نرخرہ جسے آبنائے ہرمز کہتے ہیں‘ بند کر کے دنیا کی سانسیں روک دیں۔ یہ ایک نیا ہتھیار تھا جو جوہری بم سے کہیں زیادہ طاقتور ثابت ہوا۔ امریکہ ساری طاقت‘ سارے دعوؤں کے باوجود آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔ خلیجی ملکوں میں بغاوت ابھرنے لگی۔ دنیا کے دوسرے ملک سوچنے لگے کہ امریکی فوجی اڈے ان کی طاقت ہیں یا کمزوری؟ یہ ایک نئی دنیا تھی! یک قطبی دیوار گرنے کو تھی اور اس دیوار پر لکھا ہوا تھا کہ دنیا یک قطبی نہیں رہی‘ متعدد قطبی ہو چکی ہے۔ 1988ء سے شروع ہونے والی دنیا 2026ء میں نیا منظر دیکھ رہی تھی۔میں نے سہ قطبی نہیں‘ متعدد قطبی (Multipolar) دنیا لکھا ہے۔ امریکہ‘ روس اور چین تو تین بڑی طاقتیں ہیں ہی لیکن اب طاقتیں اس کے علاوہ بھی بن رہی ہیں۔ وہ چھوٹے ملک جن کے مسائل کسی بھی دور میں حل نہیں ہو سکے تھے‘ اپنا ایک اکٹھ بنا کر ایک بڑی طاقت بن رہے ہیں۔ ایک دوسرے کی حفاظت کی ذمہ داریاں لے رہے ہیں۔ویٹو کی طاقت بدلنے کی بات ہو رہی ہے۔ کل ہی پاکستان نے سلامتی کونسل میں ویٹو طاقت ختم کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ یہ ہو یا نہ ہو‘ یہ بات جرأت کے ساتھ بین الاقوامی پلیٹ فارم پر پیش ہونا ہی ایک بڑی تبدیلی کی نشانی ہے۔&#39;&#39;ہم اسی طرح لوگوں کے بیچ باری باری دن الٹتے پلٹتے رہتے ہیں‘‘۔ 2026ء یہی دن بدلنے کا موسم ہے۔ یہ ادراک جن کو نہیں ہوا‘ ہو جانا چاہیے۔ جنہیں ہو چکا‘ انہیں اگلے دور کی تیاری کرنی چاہیے۔ ہماری عمر تو انہی ایک دو طاقتوں کے سامنے سر جھکانے میں گزر گئی‘ اگلی نسلوں کو سر اٹھا کر جینا چاہیے۔ ہم تو جل بجھے لیکن امید ہے کہ روشنیاں اگلے دور کا مقدر ہوں گی ۔جل بجھیں گے کہ ہم اس رات کا ایندھن ہی تو ہیںخیر دیکھیں گے یہاں روشنیاں دوسرے لوگ</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_81278520.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>عدل و انصاف کی اہمیت(علامہ ابتسام الہٰی ظہیر )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-04-20/51803/92062747</link><pubDate>Mon, 20 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-04-20/51803/92062747</guid><description>انسانی معاشروں میں ہمیشہ سے بااثر لوگوں کا ایک طبقہ کمزور لوگوں کو دبانے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ اسی طرح قرابت داروں کے حق میں بات کرنے کا چلن بھی انسانی سماج کا حصہ رہا ہے۔ دشمن کے بارے میں غلط گفتگو کرنا اور اس کے عیوب کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنا بھی معاشروں میں کوئی نئی بات نہیں‘ حالانکہ یہ تمام باتیں انتہائی نامناسب ہیں اور اس حوالے سے کتاب وسنت کی تعلیمات بالکل واضح ہیں۔اللہ تبارک وتعالیٰ نے اہلِ ایمان کو اس بات کا حکم دیا ہے کہ انہیں اپنے یا اپنے قرابت داروں کے حق میں ایسی بات نہیں کرنی چاہیے جو خلافِ عدل ہو۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ النساء کی آیت: 135 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;اے ایمان والو! عدل وانصاف پر مضبوطی سے جم جانے والے اور خوشنودیٔ مولا کے لیے سچی گواہی دینے والے بن جائو‘ گو وہ خود تمہارے اپنے خلاف ہو یا تمہارے ماں باپ کے یا رشتہ دار عزیزوں کے (خلاف ہو)‘ وہ شخص اگر امیر ہو یا فقیر ہو تو دونوں کے ساتھ اللہ کو زیادہ تعلق ہے‘ اس لیے تم خواہشِ نفس کے پیچھے پڑ کر انصاف نہ چھوڑ دینا اور اگر تم نے کج بیانی یا پہلو تہی کی تو جان لو کہ جو کچھ تم کرو گے اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے‘‘۔ اس آیت مبارکہ میں جو اصول بیان کیا گیا ہے وہ بیک وقت سماج اور قانون کے حوالے سے اتنہائی اہمیت کا حامل ہے۔ نہ تو انسان کو سماجی معاملات وتنازعات میں حق بات کو چھپانا چاہیے اور نہ ہی قانونی حوالے سے ایسی گفتگو کرنی چاہیے جس میں حقیقت کو مسخ کر کے اپنے اعزہ واقارب کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی گئی ہو۔اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۃ المائدہ میں اس حقیقت کو بھی بیان کر دیا کہ انسانوں کو اپنے مخالفوں کے بارے میں بھی ایسی بات نہیں کرنی چاہیے جو خلافِ حقیقت ہو۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ المائدہ کی آیت: 8 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;اے ایمان والو! تم اللہ کی خاطر حق پر قائم ہو جائو‘ راستی اور انصاف کے ساتھ گواہی دینے والے بن جائو‘ کسی قوم کی عداوت تمہیں خلافِ عدل پر آمادہ نہ کر دے‘ عدل کیا کرو جو پرہیزگاری کے زیادہ قریب ہے‘ اور اللہ سے ڈرتے رہو‘ یقین مانو کہ اللہ تمہارے اعمال سے باخبر ہے‘‘۔ اس آیت مبارکہ میں جو اصول بیان کیا گیا ہے وہ بھی بیک وقت سماجی اور قانونی اعتبار سے بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ اگر انسان اس حد تک عادل ومنصف ہو جائے کہ وہ اپنے دشمن کے بارے میں بھی غلط گفتگو سے گریز کرے اور اس کے خلاف بھی باطل گواہی دینے پر آمادہ وتیار نہ ہو تو معاشرے میں امن اور خیر کو اس حد تک تقویت مل سکتی ہے کہ عام انسان اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔اللہ تبارک وتعالیٰ نے عدل کی اہمیت کو اس لیے بہت زیادہ اجاگر کیا کہ انسان نہ تو کسی کے حق میں غلط بات کرے اور نہ ہی مخالف کی شخصیت کو مسخ کرنے کی کوشش کرے۔ اگر ان رویوں کو اختیار کر لیا جائے تو معاشرے میں بہت سے تنازعات پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ بہت سے لوگ اپنے قرابت داروں کو نوازنے کیلئے غلط بیانی سے کام لیتے‘ اسی طرح بہت سے لوگ اپنے مفادات کے حصول کیلئے اپنے دشمنوں کی کردار کشی کرتے ہیں‘ جبکہ یہ بات کسی بھی طور پہ اسلامی تعلیمات سے مطابقت نہیں رکھتی۔قرآن مجید کے ساتھ ساتھ احادیث طیبہ میں بھی عدل کی اہمیت کو بہت زیادہ اجاگر کیا گیا ہے۔ صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: سات قسم کے آدمیوں کو اللہ تعالیٰ اپنے (عرش کے) سایہ میں رکھے گا جس دن اس کے سوا اور کوئی سایہ نہ ہو گا۔ (1) انصاف کرنے والا حاکم‘ (2) وہ نوجوان جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں جوان ہوا ہو‘ (3) وہ شخص جس کا دل ہر وقت مسجد میں لگا رہے‘ (4) دو ایسے افراد جو اللہ کے لیے محبت رکھتے ہیں‘ اسی پر وہ جمع ہوئے اور اسی پر جدا ہوئے‘ (5) ایسا شخص جسے کسی خوبصورت اور عزت دار عورت نے بلایا لیکن اس نے یہ جواب دیا کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں ‘ (6) وہ انسان جو صدقہ کرے اور اسے اس درجہ چھپائے کہ بائیں ہاتھ کو بھی خبر نہ ہو کہ داہنے ہاتھ نے کیا خرچ کیا اور (7) وہ شخص جو اللہ کو تنہائی میں یاد کرے اور اس کی آنکھیں آنسوئوں سے بہنے لگ جائیں۔ صحیح بخاری ہی میں حدیث مبارکہ ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: &#39;&#39;جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی اور جس نے امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے امیر کی نافرمانی کی‘ اس نے میری نافرمانی کی۔ امام (امیر) کی مثال ڈھال جیسی ہے کہ اس کے پیچھے رہ کر اس کی آڑ میں (یعنی اس کے ساتھ ہو کر) جنگ کی جاتی ہے اور اسی کے ذریعے (دشمن کے حملے سے) بچا جاتا ہے‘ پس اگر امام تمہیں اللہ سے ڈرتے رہنے کا حکم دے اور انصاف کرے اس کا ثواب اسے ملے گا‘ لیکن اگر بے انصافی کرے گا تو اس کا وبال اس پر ہو گا‘‘۔ اس حدیث پاک سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ حکام کو لوگوں کے درمیان انصاف کرنا چاہیے۔ جو حاکم اور عہدیدار انصاف کرے گا وہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف سے اجر کا حقدار ہوگا اور اس کے مدمقابل جو حاکم اور عہدیدار ناانصافی کرے گا اور اپنے اختیار کا غلط استعمال کرے گا اس کو اللہ تبارک وتعالیٰ کے سامنے جوابدہ ہونا پڑے گا۔صحیح بخاری میں حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ منبر پر بیان کر رہے تھے کہ &#39;&#39;میرے باپ نے مجھے ایک عطیہ دیا تو (حضرت نعمانؓ کی والدہ) عمرہ بنت رواحہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ جب تک رسول اللہﷺ کو اس پر گواہ نہ بنائیں میں راضی نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ (حاضر خدمت ہو کر) انہوں نے عرض کیا کہ عمرہ بنت رواحہ سے اپنے بیٹے کو میں نے ایک عطیہ دیا تو انہوں نے کہا کہ پہلے میں آپﷺ کو اس پر گواہ بنا لوں‘ رسول کریمﷺ نے دریافت فرمایا کہ اسی جیسا عطیہ تم نے اپنی تمام اولاد کو دیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ نہیں‘ اس پر آپﷺ نے فرمایا کہ اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان انصاف کو قائم رکھو؛ چنانچہ وہ واپس ہوئے اور ہدیہ واپس لے لیا‘‘۔ اس حدیث پاک سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ سماجی سطح پر والد اور سرپرست کو اپنی اولاد اور ماتحتوں کے ساتھ بھی انصاف سے کام لینا چاہیے اور والدین کو اپنی اولاد کے درمیان ہدیہ یا عطیہ دیتے ہوئے کوئی تفریق نہیں کرنی چاہیے۔احادیث مبارکہ کے مطالعہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ بااثر مجرم یا عام مجرم کے درمیان تفریق کی اسلام میں کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔ اس حوالے سے صحیح بخاری میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ بنی مخزوم کی ایک عورت نے چوری کر لی‘ قریش نے (اپنی مجلس میں) سوچا کہ نبی کریمﷺ کی خدمت میں اس عورت کی سفارش کے لیے کون جا سکتا ہے؟ کوئی اس کی جرأت نہیں کر سکتا تھا‘ آخر اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے سفارش کی تو آنحضرتﷺ نے فرمایا: بنی اسرائیل میں یہ دستور ہو گیا تھا کہ جب کوئی معزز آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور اگر کوئی کمزور آدمی چوری کرتا تو اس کا ہاتھ کاٹتے۔ اگر آج (بفرض محال) میری بیٹی فاطمہ نے چوری کی ہوتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹتا۔مذکورہ بالا آیات اور احادیث سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اسلام زندگی کے تمام شعبوں میں عدل وانصاف کا حکم دیتا ہے۔ اگرعدل وانصاف کو معاشرے میں قائم کر دیا جائے تو معاشرہ امن وسکون کا گہوارہ بن سکتا ہے اور معاشرے میں بسنے والے لوگ امن اور اطمینان کے ساتھ اپنی زندگی گزار سکتے ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ہمارے معاشرے کو عدل وانصاف کا گہوارہ بنائے تاکہ ہر شخص کو اس کے جائز حقوق صحیح طور پر میسر آ سکیں اور بدامنی اور بے سکونی کا خاتمہ ہو سکے‘ آمین!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_19740082.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>