<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>سرمایہ کاری، معاشی استحکام اور زمینی حقائق(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-29/11147</link><pubDate>Wed, 29 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-29/11147</guid><description>ملک میں سرمایہ کاری کے فروغ کے جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ اقتصادی ترقی کیلئے سرمایہ کاری کا فروغ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ دوسری جانب وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ ملکی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے۔وزیر خزانہ نے رواں مالی سال جی ڈی پی چار فیصد تک رہنے کی اُمید بھی ظاہر کی ہے۔ حکومت اقتصادی ترقی کیلئے سرمایہ کاری کے فروغ کو اولین ترجیح قرار دیتی ہے مگر اعداد وشمار اور کاروباری حالات اس کے برعکس تصویر پیش کر رہے ہیں۔ مالی سال 2022ء میں پاکستان میں سرمایہ کاری کی شرح جی ڈی پی کے تناسب سے 15.6 فیصد ریکارڈ کی گئی‘ جو امید افزا علامت تھی مگر اس کے بعد سے یہ شرح کم ہونا شروع ہو گئی۔ اگلے تین سال یہ بالترتیب 14.1 فیصد‘ 13.1 فیصد اور 13.8 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں 43 فیصد سے زائد کمی آئی۔ اگرچہ اب اعداد و شمار بیرونی سرمایہ کاری میں کچھ بہتری ظاہر کر رہے ہیں مگر یہ شرح اب بھی خطے کے دیگر ممالک جیسے بنگلہ دیش اور  بھارت کے مقابلے میں آدھی ہے‘ جہاں یہ تناسب 28 سے 33 فیصد ہے۔پاکستان میں سرمایہ کاری کے امکانات سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

سعودی عرب اور دیگر ممالک پاکستان میں آئی ٹی‘ زراعت‘ کان کنی اور تیل کی پیداوار جیسے شعبوں میں سرمایہ کاری کا اعلان بھی کر چکے ہیں مگر مسلسل پیش رفت کے باوجود حالات ابھی اس مقام تک نہیں آئے کہ ان سرمایہ کاری معاہدوں کو عملی صورت میں ڈھالا جا سکے۔ رواں سال توانائی اور کان کنی جیسے کچھ شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی شرح میں اضافہ ہوا ہے‘ لیکن دوسری جانب صنعتی توسیع اور نئی مشینری کی درآمد میں کمی کا رجحان پیداواری صلاحیت کے جمود کو ظاہر کرتا ہے۔ گزشتہ تین برس میں شرح سود میں نصف کمی کے باوجود نجی شعبے کو دیے جانے والے قرضوں میں وہ اضافہ نہیں دیکھا گیا جو معاشی نمو کیلئے ضروری سمجھا جاتا ہے۔ بزنس کانفیڈنس انڈیکس کی حالیہ رپورٹ چشم کشا ہونی چاہیے جس کے مطابق ملک میں بیشتر کاروباری ادارے مایوسی کا شکار ہیں اور نئے منصوبوں میں سرمایہ کاری سے گریز کر رہے ہیں۔ یقینا مشرقِ وسطیٰ کے حالات نے بھی معاشی بے یقینی کو بڑھاوا دیا ہے مگر پاکستان جیسے ملکوں کیلئے صورتحال مزید سنگین ہو جاتی ہے‘ جہاں یہ غیر یقینی سیاسی‘ معاشی اور قانونی ہر سطح پر موجود ہے۔ یہاں سرمایہ کار کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اگلے ماہ بجلی و گیس کے نرخ کیا ہوں گے‘ یا کون سا نیا ٹیکس متعارف کرا دیا جائے گا یا کرنسی کس قدر مستحکم رہے گی۔ جب مقامی سرمایہ کار ہی خوفزدہ ہو تو غیر ملکی سرمایہ کاری کی کیا امید کی جا سکتی ہے؟ ان حالات میں سرمایہ کاری یا شرح نمو میں نمایاں اضافے کی امید خوش گمانی سے زیادہ کچھ نہیں۔
اگر سرمایہ کاری کی راہ میں حائل رکاوٹوں کا جائزہ لیا جائے تو ان میں سرفہرست پالیسیوں میں عدم تسلسل ہے۔ ہر نئی حکومت یا ہر چند ماہ بعد عالمی مالیاتی ادارے کی نئی شرائط گزشتہ پالیسیوں کو یکسر تبدیل کر دیتی ہیں۔ سرمایہ کار کو ایسے ماحول کی ضرورت ہوتی ہے جہاں سالوں کا نہیں‘ دہائیوں کا منصوبہ بنایا جا سکے۔ دوسرا بڑا مسئلہ مہنگی توانائی کا ہے‘ جس کی وجہ سے ملکی مصنوعات عالمی منڈی میں مسابقت کی پوزیشن کھو چکی ہیں۔ مسلسل سیاسی تناؤ کی صورتحال نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ محض بیانات یا مختصر ریلیف پیکیجز سے سرمایہ کاری کو راغب نہیں کیا جا سکتا‘ اس کیلئے سیاسی و پالیسی استحکام اولین شرط ہے۔ حکومت کی ترجیحات درست ہو سکتی ہیں مگر اصلاحات کا سفر طویل اور خاصا کٹھن ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ زبانی دعووں سے نکل کر عملی اور پائیدار اصلاحات کا آغاز کیا جائے تاکہ پاکستان سرمایہ کاری کے لیے ایک محفوظ اور منافع بخش ملک بن سکے۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>گردشی قرض میں اضافہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-29/11146</link><pubDate>Wed, 29 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-29/11146</guid><description>ایک خبر کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے آٹھ مہینوں کے دوران پاور سیکٹر کے گردشی قرضے میں 224 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے جس کے بعد بجلی شعبے کا مجموعی گردشی قرضہ 1837ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ یہ گردشی قرض اس وقت پیدا ہوتا ہے جب حکومتی ادارے بجلی کا نظام چلانے والی کمپنیوں کو ادائیگی نہیں کر پاتے اور سود بڑھنے کے سبب  قرض کا حجم بھی بڑھتا چلا جاتا ہے۔ گزشتہ برس ستمبر میں حکومت نے بجلی کے شعبے کے گردشی قرض اور آئی پی پیز کی ادائیگی کیلئے 18 بینکوں کے کنسورشیم سے1225 ارب روپے قرض لیا تھا۔ اس سے پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ 2393ارب روپے سے کم ہو کر 1614ارب روپے پر آ گیا مگر اب پھر اس میں اضافہ جاری ہے۔

یہ صورتحال حکومتی پالیسی کی ناکامی کو ظاہر کرتی ہے جو نظام میں موجود نقائص کو دور کرنے کیلئے اصلاحات کے بجائے قرضوں کو آسان حل سمجھتی ہے ۔ بجلی بنانے سے لے کر اس کی ترسیل‘ تقسیم اور بلنگ کے نظام تک ہر شعبے میں اس قدر نقائص موجود ہیں کہ محض قرضوں سے ان خرابیوں کو دور نہیں کیا جا سکتا۔ گردشی قرضے کے حقیقی اسباب یعنی بجلی کے مہنگے پیداواری ذرائع‘ بجلی چوری‘ ناقص ترسیلی نظام اور گورننس جیسے مسائل کو جب تک عملی طور پر حل نہیں کیا جاتا‘ اس وقت تک گردشی قرضے کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ حکومت کو چاہیے کہ توانائی کے نظام میں موجود نقائص کو دور کرے تاکہ گردشی قرضے پرقابو پایا جا سکے اور عوام کو بلا تعطل اور سستی بجلی میسر آ سکے۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ہیٹ ویو کا خدشہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-29/11145</link><pubDate>Wed, 29 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-29/11145</guid><description>محکمہ موسمیات نے 29اپریل سے تین مئی تک جنوبی پنجاب‘ بالائی سندھ اور بلوچستان کے جنوبی اور مشرقی علاقوں میں درجہ حرارت میں چار سے چھ ڈگری سینٹی گریڈ تک اضافے کے پیشِ نظر ہیٹ ویو کی وارننگ جاری کی ہے۔ روز افزوں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہر سال بڑھتے ہوئے درجہ حرارت نے کرۂ ارض کے باسیوں کیلئے خطرے کی گھنٹیاں بجا دی ہیں۔ صرف 2024ء میں ال نینو موسمیاتی پیٹرن کی وجہ سے عالمی درجہ حرارت میں تقریباً 1.5ڈگری سینٹی گریڈ کا اضافہ ہوا ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثرہ 10ممالک میں شامل ہونے کی وجہ سے پاکستان میں بھی ہر سال گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ضروری ہے کہ متوقع ہیٹ ویو کے پیشِ نظر صحتِ عامہ کے تحفظ کیلئے پیشگی اقدامات کیے جائیں۔ عوامی مقامات پر پانی کی سبیلوں کا انتظام کیا جائے تاکہ لوگ پانی کی کمی کا شکار نہ ہوں۔

شدید گرمی کے پیشِ نظر بلاتعطل بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ عوام کم از کم گھروں میں تو سکھ کا سانس لے سکیں۔ عوام بھی ہیٹ ویو کے پیشِ نظر غیر ضروری طور پر براہِ راست سورج کی تپش میں جانے سے گریز کریں اور پانی کا زیادہ استعمال کریں۔ خاص طور پر بزرگوں اور بچوں کا خیال رکھیں۔ روز افزوں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات محفوظ رہنے کیلئے حکومت ماحولیاتی تحفظ کو اپنی ترجیحات میں شامل کرے۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ثالثی اور سفارتکاری کے نئے تقاضے(ایاز امیر)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-04-29/51852/70054068</link><pubDate>Wed, 29 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-04-29/51852/70054068</guid><description>ایک بات ہم پاکستانیوں کو سمجھ آ جانی چاہیے کہ ایرانیوں نے جو مذاکرات بھی کرنے ہیں اپنی مرضی سے کریں گے‘ کسی کے ورغلانے میں نہیں آئیں گے۔ جو نئی تجویز وہ پیش کر رہے ہیں اُس کے تحت جنگ بندی مستقل بنیادوں پر پہلے ہو ‘ امن قائم رکھنے کی ضمانت ہو اور جوہری مسئلے پر مذاکرات بعد میں ہوں جب جنگ کا خطرہ ٹل جائے۔ اس سب کے عوض آبنائے ہرمز کھل جائے گا اور جہازوں کی آمدورفت شروع ہو جائے گی۔ امریکہ کے پاس کوئی ہتھیار نہیں ہے کہ وہ ایران کو اپنے ارادوں سے ہٹا سکے۔ امریکہ تو اس حالت میں پہنچ چکا ہے کہ اپنے مندوب اسلام آباد بھیجنے پڑے اور دوسرے راؤنڈ میں تو ایرانی وزیر خارجہ نے امریکی سفارت کاروں کا انتظار بھی نہیں کیا اور عمان کی طرف چل دیے۔ باامر مجبوری صدر ٹرمپ کو بڑھک مارنی پڑی کہ میں نے اپنے سفارت کاروں کو اسلام آباد جانے سے روکا ہے کیونکہ بے سود کی اٹھارہ گھنٹے کی فلائٹ جب کچھ حاصل بھی نہ ہو بے مقصد کی کارروائی ہوگی۔پاکستا ن کا کردار اچھا رہا لیکن سفارتکاری اب ایک نئے مرحلے میں جا چکی ہے جس میں ہماری عملداری ذرا کم ہو گئی ہے۔ اس میں کوئی افسوس کی بات نہیں ہونی چاہیے ‘ ہم نے جو کرنا تھا کر دیا اور اس کیلئے داد بھی وصول کی لیکن اب جب سفارتی عمل ایک اور سطح پر جا رہا ہے ہمیں اگر ضرورت پڑے کچھ کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے لیکن یہ احساس بھی رہے کہ پیغام رسانی تو ہم کر سکتے ہیں امریکہ کو امن اور شانتی کی راہ پر نہیں ڈال سکتے۔ یہ امریکہ نے خود فیصلہ کرنا ہے۔ جہاں تک ایران کا تعلق ہے اُس نے تو ثابت کر دیا ہے کہ وہ کسی قسم کا غیر ضروری دباؤ قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ۔ لہٰذاپاکستان کو اب یہ دیکھنا چاہیے کہ حالات کس طرف کروٹ لیتے ہیں۔اس جنگ نے ساری دنیا کو مشکل میں ڈال دیا ہے اور پاکستان پر جو مہنگائی کا نیا بوجھ پڑا ہے وہ بھی اس امریکی حماقت کی وجہ سے ہے۔ اب تو گاڑی کی ٹینکی میں تیل ڈلواتے وقت ڈر لگتا ہے کہ نرخ کہاں تک پہنچ جائے گا۔ ہم تو چلیں صرف مہنگائی کا ٹیکس دے رہے ہیں‘ برادر عرب ممالک کے حالات کا جائزہ لیا جائے اُن کو تو امریکہ نے مصیبت میں ڈال دیا ہے کیونکہ اُن کا سارا معاشی ماڈل تہس نہس ہو گیا ہے۔ تیل نکل رہا ہے نہ اُس کی ترسیل ہو رہی ہے‘ ہرمز بند ہے اور سینکڑوں کی تعداد میں ٹینکر وہاں لنگرانداز ہیں۔ ان کے تو بڑے تعلقات تھے امریکہ کے ساتھ‘ کوئی تحفتاً ٹرمپ کو ہوائی جہاز دے رہا ہے اور ٹرمپ کے پہلے دور میں ایک برادر ملک کی طرف سے سونے کے بڑے تحائف دیے جا رہے تھے۔ کہاں گئے وہ سارے تحائف اور اُن سے برادر ملکوں کو حاصل کیا ہوا؟ اتنا تو پوچھیں اپنے امریکی مہربانوں سے کہ کچھ ہم سے صلاح کر لی ہوتی کچھ ہمیں پیشگی اطلاع دی ہوتی۔ سارے مشورے اسرائیل سے ہی کرنے تھے تو پھر تحفے کے جہاز اور سونے کے تحائف بھی اسرائیل سے لینے چاہئیں تھے۔ امریکہ اسرائیل یاری نے برادر ملکوں کا حشر کر دیا ہے اور حالت یہ ہے کہ سب کچھ سہہ کر اونچی آواز میں کچھ کہہ بھی نہیں سکتے۔ سب سے زیادہ دانشمندی سعودی برادر دکھا رہے ہیں‘ اندر سے جتنا بھی غصہ ہو لبوں پر زیادہ کچھ نہیں لا رہے۔ ایک یو اے ای ہے جس کا غصہ قابو میں نہیں آ رہا۔ برا بھلا ایران کو کہہ رہے ہیں لیکن اس بات سے مکمل اجتناب کر رہے ہیں کہ یہ سارا جھمیلا یہ سارا غدر شروع کس نے کیا۔ ایرانی حملے تو جواباً آئے‘ مسئلے کا آغاز تو امریکہ اور اسرائیلی حملوں سے ہوا لیکن یو اے ای والے ہیں کہ اُس طرف جاتے ہی نہیں سارا غصہ ایران کیلئے بچا کے رکھا ہوا ہے ۔ یو اے ای کچھ امریکہ سے پوچھے کہ پنگا لینا تھا تو ہم سے بات تو کی ہوتی۔ یو اے ای والے اسرائیل سے پوچھ سکتے ہیں کیونکہ اسرائیل سے اُن کے بڑے زبردست تعلقات استوار ہیں۔ یو اے ای کا سارا معاشی ماڈل اس بات پہ چل رہا تھا کہ تاقیامت یہاں پر امن اور استحکام رہے گا۔ اگر یہ مفروضہ بنایا ہوا تھا تو امریکہ اور اسرائیل پر زور دیتے کہ کسی ایڈونچر میں نہ پڑو‘ ایڈونچر تم کرو گے مارے ہم جائیں گے۔ لیکن دولت کا گھمنڈ برج الخلیفہ جتنا اونچا تھا اور احتیاط کی بات ہمارے یو اے ای کے دوستو ںکو سوجھ ہی نہیں رہی تھی۔ نتیجہ اب سامنے ہے‘ ایئرپورٹ خالی‘ فلائٹیں کینسل‘ ہوٹل ویران‘ ٹورسٹ اور سیرسپاٹا کرنے والے غائب۔ بلڈنگوں کا نقصان پورا ہو جائے گا لیکن اعتماد کو جو دھچکا پہنچا ہے اُس کا علاج سالوں پر محیط ہوگا۔ ہمارے برادر ملک اسی پر ناز کرتے تھے کہ واشنگٹن میں ہمارا بڑا اثر ہے اور ہماری بات بڑی سنی اور مانی جاتی ہے۔ لیکن پچھلے سال جون میں جو ایران پر حملے ہوئے اُس کے بعد بھی برادر ملک یہ نہ سمجھ سکے کہ امریکہ اور اسرائیل حملے پھر کرسکتے ہیں اور اگر ایسا ہوا تو مجبوراً ایران کو بھی کچھ کرنا پڑے گا۔ لیکن یہ سب ممالک پتا نہیں کون سی نیند میں ڈوبے ہوئے تھے اور امریکہ کا بھی یہی حال تھاکہ حملے کا فیصلہ کرتے ہوئے یہ خیال خاطر میں نہ لائے کہ جب ہم اتنے میزائل اور بم ایران پر گرائیں گے تو ایران بھی کچھ کرنے پر مجبور ہو جائے گا۔ اور ایسا کرنے میں آبنائے ہرمز کا بند ہونا بھی شامل ہو سکتا ہے۔ لیکن بڑا مفروضہ تو اور تھا کہ بمباری ہوگی‘ ایرانی قیادت مٹ جائے گی اور ایران کا اسلامی نظام زمین بوس ہو جائے گا۔ وہ ہوا نہیں اور امریکہ کو وختہ پڑ گیا اور ایسا وختہ کہ اُس میں اب تک پھنسا ہو اہے اور باہر نکلنے کا راستہ نہیں مل رہا۔ یہ جنگ امریکہ میں خود بہت غیر مقبول ہے۔ بڑھکیں مارنا آسان ہے کہ ایران کا انفراسٹرکچر تباہ کردیں گے لیکن حملے پھر سے شروع کرنا صدر ٹرمپ کیلئے اتنا آسان نہیں۔ پانچ چھ ہفتوں کی جنگ میں امریکہ اور اسرائیل ویسے ہی اپنا بہت سارا مہنگا اور مہلک ترین اسلحہ پھونک چکے ہیں۔پیٹریا ٹ میزائل‘ ٹاماہا ک میزائل اور دوسروں کی تعداد میں حیرت انگیز کمی واقع ہوئی ہے اور کئی سال لگ جائیں گے ذخیرے کی اس کمی کو پورا کرتے ہوئے۔ ایرانیوں نے امریکی اڈوں کو اتنا نقصان پہنچایا ہے کہ اُن کی مرمت کیلئے ایک نیا خزانہ چاہیے ہوگا۔ اس صورتحال میں یہ کوئی آسان بات نہیں کہ صدر ٹرمپ ایک صبح اٹھیں اور ٹویٹ کر دیں کہ ہم حملے پھر سے شروع کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مؤقرتجزیہ کاروں کی بھاری اکثریت یہ کہہ رہی ہے کہ سارے پتے ایران کے ہاتھ میں ہیں امریکہ کے ہاتھ میں نہیں۔ اور تو اور جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز نے دو روز پہلے ایک بم پھینکا یہ کہہ کر کہ امریکہ ایرانی قیادت کے ہاتھوں بے عزت ہو رہا ے اور امریکہ کو مجبور ہو کر اپنے سفارتکار اتنے دور بھیجنے پڑ رہے ہیں۔ اب تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ امریکہ ایران سے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا کہہ رہا ہے اور ایرانی کہہ رہے ہیں کہ جنگ کا پہلے مکمل خاتمہ ہو اور جو پیچیدہ مسائل ہیں اُن پر مذاکرات ہوتے رہیں گے۔ حماقت اور غرور کے اس مربے نے امریکہ کو اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے۔ پاکستان نے جو کرنا تھا کیا اور خوب کیا۔ اب معاملات کہیں اور جا رہے ہیں اور ایسے میں پاکستان کو اپنے حالات پر توجہ دینی چاہیے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_80573045.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ایک کمینی سی خوشی(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-04-29/51853/49411529</link><pubDate>Wed, 29 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-04-29/51853/49411529</guid><description> جب سے بھارت میں عام آدمی پارٹی کے سات ممبران کی اپنی پارٹی چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہونے کی خبر پڑھی ہے تب سے ایک کمینی سی خوشی محسوس ہورہی ہے۔ اب آپ پوچھیں گے کہ اس میں کمینی خوشی والی کیا بات ہے؟ ویسے بھی یہ بھارت کا اندرونی سیاسی معاملہ ہے‘ بھارتی جانیں‘ ان کی سیاست اور ان کی سیاسی کرپشن ۔ لیکن ہمارا بھی اس خبر سے بڑا گہرا تعلق ہے کہ بھارت میں اس وقت سیاسی کرپشن ہو رہی ہے۔ وہاں بھی انفورسمنٹ ڈپارٹمنٹ نے ارکانِ پارلیمنٹ کے کاروباروں پر چھاپے مارے جس کے بعد ان سات ممبران نے حکومتی پارٹی جوائن کر لی۔ ان میں سے چار تو بڑے بزنس مین ہیں جن کے بارے میں مشہور ہے کہ انہوں نے عام آدمی پارٹی کو کروڑوں روپے کا چندہ دیا تھا یا کسی نہ کسی طرح پارٹی کی مدد کی تھی۔ لیکن آپ کا سوال ابھی تک جواب طلب ہے کہ ہمارا بھارت کے اس سیاسی سکینڈل سے کیا لینا دینا کہ وہاں کون اپنی پارٹی چھوڑ کر کہاں جا رہا ہے؟ ہمارا لینا دینا اس لیے ہے کہ یہی سسٹم ہمارے ملک میں بھی چلتا ہے کہ جب حکومت چاہے وہ دباؤ یا بلیک میل کرکے اپوزیشن ارکان کی وفاداریاں تبدیل کرا لے۔ یہ نظارے ہم 1985ء سے دیکھ رہے ہیں۔ بلکہ اگر اس سے پیچھے چلے جائیں تو آپ کو ہر دور میں یہی کچھ ہوتا دکھائی دے گا ‘اس حوالے سے آمریت یا جمہوری ادوار کا کوئی فرق نہیں۔ لیکن زیادہ تر یہ کلچر چار آمرانہ ادوار میں نمایاں ہوا‘ جب سیاستدانوں نے اپنے سیاسی‘ کاروباری یا ذاتی مفادات کیلئے وفاداریاں بدلیں۔اپنے ملک کی حد تک ہم اس صورتحال کے عادی ہو چکے ہیں بلکہ یہ اب کوئی ایسی خبر ہی نہیں بنتی کہ فلاں ممبر پارلیمنٹ نے وفاداری بدل لی ہے۔ لیکن یہ بات مجھ سے ہضم نہیں ہو رہی کہ بھلا بھارت میں یہ کلچر کیوں شروع ہے؟ وہاں وہی ہتھکنڈے کیوں آزمائے جاتے ہیں جو ہمارے ہاں رائج ہیں؟ بھارت پر حیرانی اس لیے ہو رہی ہے کہ وہاں 78سال سے جمہوریت ہے۔ کوئی مارشل لاء نہیں لگا کہ کہا جائے کہ وہاں سیاستدانوں پر آمروں کا دباؤ تھا لہٰذا وہ ملک کی سیاست کو ٹھیک کرنے کے بجائے بگاڑ گئے۔ دیکھا جائے تو بھارت میں صرف دو سالوں کو چھوڑ کر باقی سارا عرصہ جمہوریت رہی ہے۔ یہ دو سال وہ تھے جب اندرا گاندھی وزیراعظم تھیں اور انہوں نے 1975ء میں ایمرجنسی لگا دی جو مارشل لاء ہی کی ایک شکل تھی۔ ان دو برسوں میں ویسی ہی سیاسی‘ آئینی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہوئیں جو عموماً کسی مارشل لاء دور میں ہوتی ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ جب دو سال کے بعد اندرا گاندھی نے ایمرجنسی ہٹا کر الیکشن کرائے تو بھارت کی تاریخ میں پہلی دفعہ نہرو فیملی الیکشن ہاری جو بہت بڑا جھٹکا تھا۔ نہرو کی بیٹی جو تقریباً سترہ برس تک بھارت کی وزیراعظم رہی‘ وہ الیکشن ہار گئی۔ہمارے بہت سے بھارتی دوست اکثر پاکستان آتے تو بڑے فخر سے ہمیں بھارتی جمہوریت اور اس کی مضبوط روایات کی کہانیاں سناتے تھے۔ ہم نے اکثر گفتگو میں نوٹ کیا کہ بھارتی شہری ہوں یا صحافی‘ وہاں آئینی اور سیاسی عہدوں کا بڑا احترام ہے۔ ہمارے ملک میں لوگ بڑے دھڑلے کے ساتھ کسی بھی بڑے سے بڑے عہدے پر تنقید کرتے آئے ہیں لیکن بھارت میں کچھ روایات ایسی تھیں جو ہمارے ہاں نہیں تھیں‘ وجہ وہی مسلسل جمہوریت تھی۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ 2004ء میں پاکستان کے صحافیوں کا ایک گروپ بھارت گیا تو وہ ہمیں پارلیمنٹ کا سیشن دکھانے لے گئے۔ وہاں اس وقت خاصا شور شرابہ چل رہا تھا۔ کرسی پر بیٹھے لوک سبھا کے سپیکر نے کئی دفعہ آرڈر اِن دی ہاؤس کہا لیکن اس شور شرابے میں کسی پر اثر نہ ہوا۔ پھر انہوں نے اچانک اپنے ہاتھ میں پکڑے ڈنڈے کو زور سے فرش پر تین دفعہ مارا تو پورے ہال میں خاموشی چھا گئی۔ میں نے وہیں موجود ایک بھارتی صحافی سے پوچھا کہ یہ کیا ہوا‘ اچانک سب ہی خاموش کیوں ہو گئے۔ وہ کہنے لگا کہ جب ہاؤس میں بہت شور ہو اور ممبران قابو میں نہ آ رہے ہوں تو سپیکر کے اس عمل کا مطلب ہوتا ہے کہ بس اب کافی ہو گیا‘ اور سب ممبران احتراماً فوراً خاموش ہو جاتے ہیں۔یہ میرے لیے نئی بات تھی کیونکہ تب میں پاکستان میں ایک سال سے پرویز مشرف کی لائی ہوئی پارلیمنٹ کے اجلاس کی رپورٹنگ کر رہا تھا جہاں روز ہاؤس میں پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ کے اراکین مل کر سپیکر چودھری امیر حسین کا جینا مشکل کر دیتے تھے۔ وہ روزانہ سپیکر کے سامنے کھڑے ہو کر نہ صرف نعرے لگاتے بلکہ ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ کر سپیکر کے منہ پر ماری جاتی تھیں اور سپیکر صاحب یا تو اٹھ کر چیمبر میں چلے جاتے یا اجلاس مؤخر کر دیتے۔ لیکن بھارت‘ جو ہمارے لیے کئی حوالوں سے ایک رول ماڈل تھا‘ 2014ء میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد بگڑنا شروع ہوا۔ وہاں وزیراعظم مودی نے ایک جمہوری سیاستدان‘ جو عوام اور میڈیا کو جوابدہ ہوتا ہے‘ کے بجائے ایک اوتار؍دیوتا کی سی حیثیت اختیار کرنا شروع کی۔ میڈیا پر گرفت مضبوط کی گئی‘ پسندیدہ اینکرز لائے گئے اور ناپسندیدہ افراد کو نوکریوں سے نکلوایا گیا۔ مودی پر تنقید کرنا بھی گستاخی سمجھا جانے لگا‘ یوں مودی کے پسندکے میڈیا کو مودی کے نام سے جوڑ کر گودی میڈیا کا لقب دے دیا گیا۔بھارتی دوست اکثر پاکستان کے مذہبی تاثر اور آئینی ساخت کو تنقید کا نشانہ بنا کر فخر سے کہتے تھے کہ دیکھیں ہم سیکولر آئین کے مالک ہیں اور ہمارے ہاں جو آئینی آزادیاں ہیں وہ پاکستان میں ممکن نہیں‘ جیسے وہاں آئین کے تحت کسی بھی مذہب کا شخص وزیراعظم یا صدر بن سکتا ہے۔ یوں انہیں اپنی جمہوریت پر بہت فخر تھا‘ جو دھیرے دھیرے کم ہونا شروع ہوا۔ بھارت میں بھی وہی سختیاں شروع ہوئیں جو آپ کو پاکستان میں نظر آتی ہیں۔ وہاں بھی ایسے قوانین بنے جو مخالفین کو دبانے‘ جیل بھیجنے یا سیاسی طور پر کچلنے کیلئے استعمال ہونے لگے۔ وہاں کرکٹ بورڈ کا چیئرمین وزیر داخلہ کا بیٹا لگا۔ یوں بھارت میں جہاں سیاسی عہدے وفاداروں یا اہلِ خانہ میں تقسیم کرنے کا رواج کم تھا وہاں یہ روایت مضبوط ہو نے لگی۔ اقلیتوں کا جینا محال ہوا۔ اب وہاں احتسابی ادارے بھی بن گئے ہیں جو حکمرانوں کے سیاسی مخالفین کے کاروبار پر چھاپے مارتے ہیں۔ وہاں بھی ٹیکس حکام اس وقت کسی سیاستدان کو نوٹس بھیجتے ہیں جب وہ سرکار کو ٹف ٹائم دینا شروع کرتا ہے‘ اور پھر ایک دن ایسا آتا ہے کہ اسے آپشن دیا جاتا ہے کہ جیل جانا ہے یا بی جے پی جوائن کرنی ہے؟ اب یہی کچھ ہوا ہے جب سات پارلیمنٹرز‘ جن کا تعلق عام آدمی پارٹی سے تھا‘ بی جے پی میں شامل ہو گئے ۔ انہوں نے جمہوری روایات کے تحت استعفیٰ دے کر دوبارہ الیکشن لڑنے کے بجائے براہ راست پارٹی بدل لی۔ اس وقت پورے انڈیا میں اس پر شور مچا ہوا ہے کہ یہاں جمہوریت کرپشن اور سرکاری جبر کا شکار ہو گئی ہے۔ اب اگر سیاست یا کاروبار کرنا ہے تو بی جے پی کو جوائن کرنا ہوگا۔میری ایک انڈین دوست سے بات ہو رہی تھی جو مجھے کبھی پاکستان کی سیاسی اور جمہوری روایات کے خاتمے پر طعنے دیا کرتا تھا۔ میں نے کہا: قبلہ! جہاں ہم بغیر جمہوریت کے چار آمرانہ ادوار بھگتا کر 78برس بعد پہنچے ہیں آپ وہاں مسلسل جمہوریت کے ساتھ پہنچے ہیں۔ ہمارے ہاں بھی سیاسی وفاداریاں گن پوائنٹ پر تبدیل کرائی جاتی رہی ہیں اور آپ کے ہاں بھی اب وہی کچھ ہو رہا ہے۔ کم از کم اب آپ بھی طعنہ دینے کے قابل نہیں رہے۔ اُس انڈین دوست کی خاموشی مجھے ایک عجیب سی کمینی خوشی دے گئی کہ جمہوریت ہو یا آمریت‘ جو ایک دفعہ اقتدار کی کرسی پر بیٹھ جائے اس کا اترنے کو دل نہیں کرتا‘ اور وہ آخری دم تک ہر ہتھکنڈا استعمال کرتا ہے۔ اس خطے میں جمہوریت کے نام پر چلنا سرکاری ڈنڈا ہی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>تعلیم، ٹیکنالوجی اور پائیدار ترقی(شاہد صدیقی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-siddiqui/2026-04-29/51854/41622847</link><pubDate>Wed, 29 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-siddiqui/2026-04-29/51854/41622847</guid><description>ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں تعلیمی اداروں میں مصنوعی ذہانت غیر محسوس طریقے سے ہر چیز کو اپنے حصار میں لیتی جا رہی ہے۔ زندگی کے دوسرے شعبوں کی طرح تعلیم کے شعبے میں بھی مصنوعی ذہانت کے اثرات نمایاں ہو رہے ہیں‘ یہی وجہ ہے کہ تعلیمی اداروں میں ڈیجیٹل آلات کی طلب میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے اور آن لائن پلیٹ فارمز عام ہو رہے ہیں۔ اس بدلتی صورتحال میں ایک بنیادی سوال یہ جنم لیتا ہے کہ کیا ٹیکنالوجی نے واقعی سیکھنے کے عمل میں ایک بامعنی تبدیلی کا راستہ ہموار کیا ہے‘ یا ہم نے ٹیکنالوجی کو محض ایک اضافی سہولت کے طور پر شامل کیا ہے؟اس بنیادی سوال کی اہمیت پاکستان جیسے معاشروں میں زیادہ ہو جاتی ہے جہاں ڈھائی کروڑ سے زائد بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ یہ تو ہے رسائی (Access) کا معاملہ۔ دوسرا اہم چیلنج معیار کا ہے۔ وہ بچے جو سکولوں تک رسائی میں کامیاب ہو جاتے ہیں ان میں سے بیشتر کی کارکردگی بنیادی خواندگی اور حساب کی مہارتوں میں غیر تسلی بخش ہے۔ ASER کی رپورٹ میں دیے گئے اعداد وشمار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ سکولوں میں پانچویں جماعت کے طلبہ تیسری جماعت کے درجے کا کام کرنے میں مشکل محسوس کرتے ہیں۔ تعلیم کے میدان میں تیسرا بڑا چیلنج ڈراپ آئوٹ کا ہے۔ان مسائل کا سامنا کرنے کیلئے تعلیم کے شعبے کیلئے زیادہ رقم مختص کی جانی چاہیے لیکن ستم ظریفی دیکھیے کہ تعلیم کے شعبے میں سرکاری سرمایہ کاری میں اضافے کے بجائے سال بہ سال کمی ہو رہی ہے۔ پاکستان اکنامک سروے کے اعدادوشمار کے مطابق 2024-25ء کے پہلے نو ماہ میں حکومت نے جی ڈی پی کا صرف 0.8 فیصد تعلیم پر خرچ کیا۔ یہاں یہ بات اہم ہے کہ بین الاقوامی اداروں (یونیسکو) کے مطابق تعلیم پر جی ڈی پی کا کم از کم چار سے چھ فیصد خرچ کیا جانا چاہیے۔ درپیش مسائل کے حل میں ٹیکنالوجی سے مدد لی جا سکتی ہے‘ اور ایسے میں سوال یہ نہیں کہ ٹیکنالوجی کا تعلیم میں استعمال کرنا چاہیے یا نہیں‘ اصل سوال یہ ہے کہ ٹیکنالوجی کس طرح مؤثر استعمال میں لائی جائے تاکہ یہ سکولوں تک رسائی بڑھانے‘ تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں مددگار ثابت ہو سکے۔یہاں ایک غلط فہمی کی نشاندہی بھی ضروری ہے۔ اکثر ہم ڈیجیٹائزیشن کو ہی تعلیمی تبدیلی سمجھ لیتے ہیں۔ کلاس روم میں سمارٹ بورڈز‘ طلبہ کے ہاتھوں میں ٹیبلٹ یا آن لائن مواد کی دستیابی کو ترقی کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ لیکن اگر ہم روایتی رٹا سسٹم کو محض ڈیجیٹل شکل میں منتقل کر دیں تو اس سے کوئی تبدیلی نہیں آ سکتی۔ اس صورت میں ہم پرانے مسائل نئی شکل میں دہرا رہے ہوتے ہیں۔ حقیقی تبدیلی کا انحصار تدریسی عمل میں تبدیلی پر ہے۔ ہمیں ایسے تعلیمی ماحول کی ضرورت ہے جہاں طلبہ محض معلومات کے حصول تک محدود نہ رہیں بلکہ سوال کرنے‘ سوچنے اور تخلیق کرنے کی صلاحیت بھی پیدا کریں۔ رٹا کلچر کی جگہ تنقیدی سوچ کو‘ غیر فعال سیکھنے کی جگہ فعال جستجو کو اور یکساں تدریس کی جگہ مقامی ضروریات کے مطابق تعلیم کو فروغ دینا ہو گا۔ ٹیکنالوجی اس تبدیلی میں معاون ہو سکتی ہے مگر یہ اس کا متبادل نہیں بن سکتی۔یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ٹیکنالوجی خود مقصد نہیں بلکہ ایک ذریعہ ہے جس کا ہدف انسانی فلاح‘ شمولیت اور پائیداری ہے۔ اگر تعلیم کو ٹیکنالوجی کے اس تصور سے ہم آہنگ کیا جائے تو ٹیکنالوجی ان مقاصد کے حصول کیلئے مثبت کردار ادا کر سکتی ہے۔ ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال دور دراز علاقوں تک تعلیم کی رسائی کو بڑھا سکتا ہے‘ سیکھنے کے عمل کو زیادہ معیاری اور بامعنی بنا سکتا ہے اور مختلف معاشروں کے درمیان علمی روابط کو فروغ دے سکتا ہے۔ مگر اس خواب کی تعبیر اسی صورت میں مل سکتی ہے جب رسائی‘ معیار اور مساوات کے مسائل کے حل کرنے میں سنجیدگی دکھائی جائے۔ہمارے ہاں ایک بڑا چیلنج ٹیکنالوجی تک رسائی کا بھی ہے۔ اگر ٹیکنالوجی تک رسائی صرف چند طبقات تک محدود رہے گی تو یہ عدم مساوات کو کم کرنے کے بجائے مزید بڑھا سکتی ہے۔ پائیدار ترقی کا تصور محض ماحولیاتی تحفظ تک محدود نہیں اس میں وسائل میں اضافہ اور ان کا منصفانہ استعمال‘ سماجی انصاف اور ایسے نظام کی تشکیل بھی شامل ہے جہاں سب کو ترقی کے یکساں مواقع میسر ہوں۔ تعلیم اس عمل کا مرکزی ستون ہے‘ ٹیکنالوجی اس سارے عمل میں معاون ثابت ہو سکتی ہے بشرطیکہ اسے دانشمندی اور ذمہ داری سے استعمال کیا جائے۔ مصنوعی ذہانت سے معلومات تک رسائی مشکل نہیں رہی لیکن صرف معلومات تک رسائی کافی نہیں‘ طلبہ کو تنقیدی سوچ‘ تخلیقی صلاحیت اور مسائل حل کرنے کی مہارت کی بھی ضرورت ہے۔ یہ وہ صلاحیتیں ہیں جو فرد اور معاشرے‘ دونوں کی ترقی کیلئے ناگزیر ہیں۔ ٹیکنالوجی ان صلاحیتوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے‘ مگر اس کیلئے تدریسی حکمت عملی میں تبدیلی ضروری ہے اور یہ اتنا آسان نہیں۔ اس راستے میں کئی چیلنجز موجود ہیں۔سب سے بڑا مسئلہ ڈیجیٹل تقسیم کا ہے۔ یہاں مختلف طبقات کے درمیان ٹیکنالوجی تک رسائی میں واضح فرق پایا جاتا ہے۔ اساتذہ کی تربیت کا مسئلہ بھی اہم ہے کیونکہ بہت سے اساتذہ ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال نہیں کر سکتے۔ ایک مکتبِ فکر نے ٹیکنالوجی کو خود ایک حل سمجھ لیا ہے حالانکہ یہ منزلِ مقصود نہیں بلکہ منزل تک پہنچنے کا محض ایک ذریعہ ہے۔ ایک اور چیلنج اجنبی ثقافتی تناظر (Cultural Perspective) کا ہے۔ اکثر تعلیمی ٹیکنالوجیز ایسے معاشروں میں تیار ہوتی ہیں جو ہمارے معاشرے سے مختلف ہوتے ہیں۔ اگر ان ٹیکنالوجیز کو مقامی زبانوں‘ ثقافت اور ضروریات کے مطابق نہ ڈھالا جائے تو ان کی افادیت محدود ہو جاتی ہے۔ اسی طرح ڈیٹا کے تحفظ‘ نگرانی اور جوابدہی (Accountability) جیسے مسائل بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان تمام چیلنجز کے باوجود اساتذہ کا کردار بنیادی حیثیت کا حامل ہے۔ یہاں یہ بات سمجھنا اہم ہے کہ ٹیکنالوجی اساتذہ کی جگہ نہیں لے سکتی بلکہ ان کی اہمیت کو مزید اجاگر کرتی ہے۔ یہ اساتذہ ہی ہیں جو ٹیکنالوجی اور تعلیم کو باہم ملا سکتے ہیں۔ اس لیے اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت پر خاص توجہ کی ضرورت ہے۔ نصاب میں اصلاحات بھی ناگزیر ہیں۔ اگر نصاب فرسودہ رہے گا تو محض ٹیکنالوجی کے استعمال سے مثبت نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتے۔ دورِ حاضر میں ہمیں ایک ایسے نصاب کی ضرورت ہے جو تحقیق اور تخلیقی وتنقیدی سوچ کو فروغ دے۔ پالیسی کی سطح پر بھی سنجیدہ غور وفکر کی ضرورت ہے۔ صرف ٹیکنالوجی کو اپنانا کافی نہیں‘ بلکہ اس کو تعلیم سے ہم آہنگ بنانا بھی ضروری ہے۔ حکومتی سطح پر ایسی پالیسیاں ضروری ہیں جو مساوی رسائی کو فروغ دیں‘ تعلیمی اہداف سے ہم آہنگ ہوں اور پائیدار ترقی کو ترجیح دیں۔ ہمیں یہ اہم نکتہ سمجھنا ہوگا کہ تعلیم کا مقصد صرف مہارتوں کی فراہمی نہیں بلکہ شعور کی تشکیل ہے۔ ایک بامعنی تعلیم طلبہ کو یہ صلاحیت دیتی ہے کہ وہ اپنے گرد وپیش کو سمجھیں‘ اس پر سوال اٹھائیں اور اس میں مثبت تبدیلی لانے کی کوشش کریں۔ اصل مسئلہ ٹیکنالوجی کا استعمال نہیں بلکہ اس کا تعلیمی عمل کے ساتھ ایک بامعنی ربط ہے۔ باہم ربط کی عدم موجودگی میں ٹیکنالوجی عدم مساوات کو بڑھا سکتی ہے لیکن اگر ٹیکنالوجی کا دانشمندانہ استعمال کیا جائے تو یہی ٹیکنالوجی مؤثر تبدیلی کا ذریعہ ثابت ہو سکتی ہے۔ یہ بات تو طے ہے کہ مستقبل میں بھی ٹیکنالوجی تعلیم کا حصہ رہے گی‘ سوال صرف یہ ہے کہ ہم اسے کس انداز میں استعمال کرتے ہیں۔ ہمیں محض ڈیجیٹل تعلیم کی نہیں بلکہ ایک انسان دوست‘ مربوط اور پائیدار تعلیمی نظام کی ضرورت ہے‘ اور یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں ایک منصفانہ اور باشعور معاشرے کی طرف لے جا سکتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_21538475.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ایرانی وزیر خارجہ کا سفارتی مشن(سلمان غنی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/salman-ghani/2026-04-29/51855/38702379</link><pubDate>Wed, 29 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/salman-ghani/2026-04-29/51855/38702379</guid><description>امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے بعد جاری مذاکراتی عمل میں کوئی بڑا بریک تھرو تو سامنے نہیں آ سکا‘ تاہم پس پردہ سفارتی سرگرمیاں بدستور جاری ہیں جن کا بنیادی مقصد فریقین کے درمیان کشیدگی اور ٹکراؤ میں کمی لانا اور متنازع معاملات کا سیاسی حل تلاش کرنا ہے۔ اس ضمن میں پاکستان کا کردار غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکا ہے اور اسے چین‘ روس‘ سعودی عرب اور قطر سمیت متعدد اہم ممالک کی حمایت بھی حاصل ہے جس سے اسکی سفارتی کوششوں کو تقویت ملی ہے۔گزشتہ ہفتے پاکستان کی بھرپور کوششوں کے باوجود امریکہ اور ایران کے مابین مذاکرات کا دوسرا دور ممکن نہ ہو سکا تاہم ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے اسلام آباد‘ مسقط اور ماسکو کے دوروں کو غیرمعمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔ ان کے دورۂ اسلام آباد کے حوالے سے یہ توقع تو نہیں تھی کہ یہاں امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا کوئی باقاعدہ مرحلہ طے پا سکے گا‘ اگرچہ ایسی اطلاعات تھیں کہ امریکہ اپنی مذاکراتی ٹیم کے اہم ارکان کو اسلام آباد بھیج سکتا ہے‘ تاہم ایرانی وزیر خارجہ نے واضح کیا تھا کہ امریکی وفد سے کوئی باضابطہ ملاقات شیڈول میں شامل نہیں اور ایران پاکستان کو اپنے تحفظات سے آگاہ کرنا ضروری سمجھتا ہے۔ اسلام آباد میں عباس عراقچی کی وزیراعظم شہباز شریف‘ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے ساتھ ملاقات ہوئی۔ ان ملاقاتوں کا بنیادی مقصد یہی بتایا گیا کہ ایران اپنا مؤقف اور مطالبات پاکستان کے ذریعے امریکہ تک پہنچانا چاہتا ہے‘ جو پاکستان کے ثالثی کردار کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے دورۂ پاکستان‘ عمان اور روس کو علاقائی ہم آہنگی اور دوطرفہ تعلقات کے فروغ کے تناظر میں اہم قرار دیا جبکہ ان کے ترجمان کے مطابق ان ملاقاتوں میں جنگ کے خاتمے کی تازہ کوششوں پر بھی بات چیت کی گئی۔ اس پیش رفت سے یہ تاثر مضبوط ہوا کہ اگرچہ امریکہ اور ایران کے درمیان اختلافات برقرار ہیں تاہم دونوں فریق اپنے اپنے مفادات کے تحفظ کے ساتھ سفارتی راستے کھلے رکھنا چاہتے ہیں اور کسی نہ کسی سطح پر پیش رفت کے امکانات کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے بھی محتاط امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی جانب سے کچھ مثبت اشارے موصول ہوئے ہیں اور پیش رفت کا امکان موجود ہے۔ اس کے بعد اسلام آباد میں مذاکرات کے ممکنہ انعقاد سے متعلق خبریں گردش کرنے لگیں اور یہ تاثر ابھرا کہ امریکہ اعلیٰ سطحی وفد پاکستان بھیج سکتا ہے۔ تاہم ایرانی وزیر خارجہ کی عمان روانگی کے بعد یہ امکانات کمزور پڑ گئے اور بالآخر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک ٹویٹ سامنے آئی جس میں انہوں نے اپنے وفد کو اسلام آباد جانے سے روکنے کی اطلاع دی۔ صدر ٹرمپ نے اپنی ٹویٹ میں وزیراعظم شہبازشریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ابھی اسلام آباد جانے کی ضرورت نہیں‘ ایران کو بات کرنا ہوگی تو اس کیلئے فون کال کی جا سکتی ہے۔مذکورہ صورتحال میں دو نکات انتہائی اہم ہیں۔ اول یہ کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں وقتی ٹھہراؤ ضرور آیا ہے مگر یہ مستقل ہے یا عارضی‘ اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ دوم یہ کہ دونوں فریق مذاکرات کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے بالواسطہ طور پر پاکستان کے ذریعے رابطے میں ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سفارتی عمل مکمل طور پر تعطل کا شکار نہیں ہوا بلکہ مختلف سطحوں پر جاری ہے۔عالمی منظر نامے کی بات کی جائے تو اس جنگ پر دنیا کی واضح اکثریت حتیٰ کہ امریکہ کے اتحادی بھی جنگ کے بجائے مذاکرات کے حامی دکھائی دیتے ہیں۔ عمومی رائے یہی ہے کہ یہ جنگ نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی تباہ کن ثابت ہو رہی ہے‘ لہٰذا مسائل کا حل صرف سیاسی اور سفارتی ذرائع سے ہی ممکن ہے۔ اس تناظر میں پاکستان کو جو عالمی تائید حاصل ہوئی وہ اس کی متوازن اور غیر جانبدار خارجہ پالیسی کا عملی مظہر ہے۔ معاشی پہلو سے دیکھا جائے تو امریکہ ایران کشیدگی کے اثرات نہایت وسیع اور گہرے ہیں۔ پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافہ‘ سپلائی چین میں خلل اور عالمی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال نے ترقی پذیر ممالک کو شدید متاثر کیا ہے۔ اقوام متحدہ نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر اس صورتحال پر فوری قابو نہ پایا گیا تو کئی خطوں میں غذائی بحران شدت اختیار کر سکتا ہے جبکہ پاکستان‘ نیپال اور بنگلہ دیش جیسے ممالک پہلے ہی مہنگائی اور غربت کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز کی اہمیت اس صورتحال میں مزید بڑھ جاتی ہے جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی سپلائی گزرتی ہے جبکہ کھاد کے خام مال کی بڑی مقدار بھی اسی راستے سے منتقل ہوتی ہے۔ اگر آبنائے ہرمز کی بندش طوالت اختیار کرتی ہے تو پٹرولیم مصنوعات کی طرح امونیا اور نائٹروجن کی فراہمی بھی متاثر ہو سکتی ہے‘ جس کے اثرات براہِ راست زرعی پیداوار اور غذائی سلامتی پر مرتب ہوں گے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹس اس صورتحال کو عالمی معیشت کے لیے خطرے کی گھنٹی قرار دے رہی ہیں۔سیاسی سطح پر بھی اس بحران نے امریکہ کے کردار پر سوالات اٹھائے ہیں۔ صدر ٹرمپ کی پالیسیوں اور جارحانہ طرزِ عمل پر نہ صرف عالمی سطح پر بلکہ خود امریکی عوام اور اتحادیوں میں بھی تشویش پائی جاتی ہے۔ اس جنگی ماحول نے امریکہ کی عالمی ساکھ اور صدر ٹرمپ کی مقبولیت دونوں کو متاثر کیا ہے۔ حالیہ جنگ کے آغاز میں امریکہ اور اسرائیل نے محدود مدت میں ایران کو دباؤ میں لانے کی کوشش کی تاہم ایرانی ردِعمل نے ان دونوں ملکوں کے لیے صورتحال کو پیچیدہ بنا دیا۔ ایران کی جوابی حکمت عملی سے واضح کر دیا کہ وہ اس قسم کے دباؤ کے لیے پہلے سے تیار تھا جس کے نتیجے میں تنازع طول پکڑ گیا اور امریکہ اور اسرائیل کو فوری نتائج حاصل نہ ہو سکے۔نئی صورتحال میں عالمی اور علاقائی دباؤ کے باعث مذاکراتی عمل کو دوبارہ اہمیت مل رہی ہے۔ اگر براہ راست بات چیت ممکن نہیں تو بالواسطہ رابطے جاری ہیں اور ایران کے جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز جیسے حساس معاملات پر لچکدار رویہ ہی کسی پیش رفت کی بنیاد بن سکتا ہے۔ صدر ٹرمپ کے حالیہ بیانات سے بھی یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مکمل جنگی راستہ اختیار کرنے سے گریز کر رہے ہیں اور سفارتی آپشن کو کھلا رکھنا چاہتے ہیں۔ ایران کی داخلی معاشی صورتحال بھی اس فیصلے پر اثرانداز ہو رہی ہے۔ بندرگاہی سرگرمیوں میں کمی اور تیل کی برآمدات میں رکاوٹ نے اس کی معیشت پر دباؤ بڑھایا ہے جبکہ عالمی سطح پر بھی اسے سفارتی چیلنجز کا سامنا ہے۔ اسی لیے اس کے حالیہ سفارتی دوروں کو ایک عملی اور ضرورت پر مبنی حکمت عملی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ دوسری طرف امریکہ کو اگرچہ اس جنگ سے براہِ راست کوئی فوری خطرہ لاحق نہیں تاہم عالمی سطح پر اس کے کردار اور ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔ ایرانی ردِعمل نے اسے ایک مشکل سفارتی پوزیشن میں لا کھڑا کیا ہے‘ جہاں طاقت کے بجائے مذاکرات ہی واحد قابلِ عمل راستہ دکھائی دیتا ہے۔مجموعی طور پر صورتحال اس نہج پر پہنچ چکی ہے جہاں دونوں فریق دباؤ کا شکار ہیں اور ان کے لیے کسی واضح کامیابی کے بغیر آگے بڑھنا مشکل ہو رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب سنجیدہ حلقوں میں یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ مسائل کا حل جنگ میں نہیں بلکہ مذاکرات میں پوشیدہ ہے۔ اگر دونوں جانب سے لچک اور حقیقت پسندی کا مظاہرہ کیا جائے تو نہ صرف یہ بحران ٹل سکتا ہے بلکہ خطے میں پائیدار امن کی بنیاد بھی رکھی جا سکتی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/230_37874475.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>عوام خطرے میں، حکمران بے خبر(محمد حسن رضا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-hasan-raza/2026-04-29/51856/31568263</link><pubDate>Wed, 29 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-hasan-raza/2026-04-29/51856/31568263</guid><description>سندھ کے ایک چھوٹے سے گاؤں کا وہ باپ آج بھی سر پکڑے بیٹھا ہے جسے ڈاکٹر نے ایک ہی سانس میں بتایا کہ اس کے ایک یا دو نہیں‘ تینوں بچے HIV سے متاثر ہیں۔ نہ وہ یہ لفظ سمجھ سکا‘ نہ یہ کہ یہ بیماری آئی کہاں سے‘بس اتنا جانتا ہے کہ اس کے گھر کی ہنسی ایک لمحے میں ختم ہو گئی۔ یہ کوئی فلمی منظر نہیں‘ نہ کسی ناول کا اقتباس‘یہ ایک جیتی جاگتی حقیقت ہے جسے ہمارے ہاں ماننے‘ سمجھنے اور روکنے کے بجائے چھپانے میں لگے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار‘ عالمی اداروں کی رپورٹس اور مقامی طبی تنظیموں کے بیانات مل کر ایک ایسی تصویر پیش کر رہے ہیں جو نہایت خوفناک اور شرمناک ہے۔ سوال یہ نہیں کہ مسئلہ کتنا بڑا ہے‘ اصل سوال یہ ہے کہ حکومتیں اب تک کیا کر رہی تھیں اور آج بھی کیوں محض بیانات‘ اعلانات اور عالمی دنوں کی تقریبات تک محدود ہیں۔ یہ حقیقت اب چھپ نہیں سکتی کہ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہو چکا ہے جہاں ایچ آئی وی سب سے زیادہ تیزی سے پھیل رہا ہے۔ عالمی اداروں کے مطابق گزشتہ پندرہ برسوں میں پاکستان میں نئے ایچ آئی وی کیسوں میں 200فیصد سے زائد اضافہ ہو چکا ہے۔ 2010ء میں جہاں سالانہ نئے کیسز کی تعداد تقریباً 16 ہزار تھی‘ وہ 2024ء تک بڑھ کر 48 ہزار سے تجاوز کر چکے ہیں۔ کسی بھی ریاست کیلئے یہ ہنگامی صورتحال کا اعلان کرنے کیلئے کافی ہونا چاہیے تھا مگر پاکستان میں یہ الارم شاید فائلوں میں دب کر رہ گیا ہے۔ آج اندازاً تین لاکھ پچاس ہزار سے زائد افراد پاکستان میں ایچ آئی وی کیساتھ زندگی گزار رہے ہیں‘ لیکن ان میں سے تقریباً 80 فیصد کو یہ تک معلوم نہیں کہ وہ اس وائرس کا شکار ہیں۔ یعنی ہر 10 میں سے آٹھ افراد لاعلمی میں یہ وائرس آگے منتقل کر رہے ہیں۔ یہ لاعلمی کسی فرد کی ذاتی کوتاہی نہیں بلکہ ریاستی سطح پر ٹیسٹنگ‘ سکریننگ اور آگاہی کی ناکامی کا براہِ راست نتیجہ ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 2024 ء میں صرف 21 فیصد متاثرہ افراد ہی اپنے ایچ آئی وی سٹیٹس سے آگاہ تھے‘ جو خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں نہایت کم شرح ہے۔ سب سے زیادہ خوفناک اور تکلیف دہ حقیقت یہ ہے کہ یہ وبا اب کسی مخصوص گروہ تک محدود نہیں رہی۔ وہ بیانیہ جس کے پیچھے حکومت برسوں چھپتی رہی‘ اب زمین بوس ہو چکا ہے۔ ایچ آئی وی اب معصوم بچوں‘ گھریلو خواتین اور عام شہریوں تک پھیل چکا ہے۔ 2010ء میں 14 سال کے بچوں میں ایچ آئی وی کے نئے کیسز کی تعداد تقریباً 500 تھی جو 2023ء میں 1800 سے تجاوز کر گئی۔ حالیہ برسوں میں سامنے آنے والے آؤٹ بریکس میں بعض علاقوں میں متاثرہ افراد میں 80فیصد سے زیادہ بچے شامل تھے۔ یہ بچے نہ منشیات استعمال کرتے ہیں‘ نہ کسی جنسی بے راہ روی کا شکار۔ وہ صرف اس لیے ایچ آئی وی کے مریض بن رہے ہیں کہ کسی کلینک میں استعمال شدہ سرنج دوبارہ لگا دی گئی یا کسی بلڈ بینک نے بغیر سکریننگ کے خون چڑھا دیا۔ یہ محض غفلت نہیں بلکہ سنگین جرم ہے۔ ہر چند سال بعد پاکستان کے کسی نہ کسی شہر میں ایچ آئی وی کا ایک بڑا آؤٹ بریک سامنے آتا ہے۔جنوبی پنجاب کے ایک بڑے سرکاری ہسپتال میں ایچ آئی وی کے حالیہ کیسز نے ایک انتہائی سنگین حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے۔بین الاقوامی طبی جریدے Virusesکے مطابق ڈائیلسز کے مریضوں میں سامنے آنے والا یہ پھیلاؤ ہسپتال کے اندر سے ہوا ۔تحقیق کے مطابق انفیکشن 2023ء سے 2024ء کے دوران پھیلا جب متاثرہ مریض ملتان کے ایک ڈائیلاسز یونٹ میں زیر علاج تھے۔ اس کے بعد نشتر میڈیکل یونیورسٹی ہسپتال براہِ راست سوالات کی زد میں آ گیا مگر تاحال انتظامیہ یا صحت کے متعلقہ حکام کی جانب سے کوئی جامع وضاحت سامنے نہیں آئی۔ یہ واقعہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پنجاب میں ایچ آئی وی کے 31 ہزار سے زائد مریض رجسٹرڈ ہیں جبکہ ماہرین کے مطابق اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ اس کے باوجود صوبائی سطح پر صحت کے ذمہ داران کے بیانات اور دعوے زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔ ٹیسٹنگ‘ سکریننگ اور انفیکشن کنٹرول جیسے بنیادی معاملات آج بھی کمزور دکھائی دیتے ہیں۔ماضی میں بھی ایسے outbreaks سامنے آ چکے ہیں مگر ہر بار وقتی شور کے بعد معاملات دب جاتے ہیں۔ یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ محض اعلانات‘ دعوے اور بیانات اس بحران کا حل نہیں جب تک عملی اقدامات‘ سخت نگرانی اور ذمہ داروں کا تعین نہیں ہوگا ایسے المیے بار بار جنم لیتے رہیں گے۔لاڑکانہ‘ جیکب آباد‘ شکارپور‘ میرپور خاص‘ حیدرآباد‘ کراچی‘ تونسہ‘ اسلام آباد ہر جگہ کہانی ایک جیسی ہے۔ میڈیا میں شور مچتا ہے‘ حکام عارضی طور پر حرکت میں آتے ہیں‘ انکوائری کمیٹیاں بنتی ہیں‘ چند دن بیانات چلتے ہیں اور پھر سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے۔ ہزاروں متاثرہ بچوں کے بعد بھی نہ کسی بڑے ذمہ دار کو سزا ملتی ہے‘ نہ نظام میں کوئی بنیادی تبدیلی آتی ہے۔ حکومت اکثر فخر سے یہ دعویٰ کرتی ہے کہ ملک میں اینٹی ریٹرووائرل تھراپی مراکز کی تعداد بڑھا دی گئی ہے مگر یہ اعداد و شمار بظاہر جتنے خوش کن لگتے ہیں حقیقت میں اتنے ہی ناکافی ہیں کیونکہ آج بھی صرف 16 فیصد متاثرہ افراد زیرعلاج ہیں اور محض سات فیصد ایسے ہیں جن میں وائرس اس حد تک کنٹرول میں ہے کہ وہ دوسروں کو منتقل نہ ہو سکے۔ ہر سال پاکستان میں اندازاً 14ہزار سے زائد افراد ایڈز کے باعث جان کی بازی ہار جاتے ہیں جن میں بچوں کی تعداد ایک ہزار سے زیادہ ہے۔ ماں سے بچے میں ایچ آئی وی کی منتقلی کو روکنے کیلئے مؤثر علاج موجود ہے مگر ہمارے ملک میں صرف 14فیصد حاملہ خواتین کو یہ سہولت میسر ہے۔ ایک اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ غیر محفوظ طبی طریقے آج بھی عام ہیں۔ عالمی تخمینوں کے مطابق پاکستان میں سالانہ کروڑوں انجکشن غیر ضروری طور پر لگائے جاتے ہیں‘ جن میں سے بڑی تعداد غیر محفوظ ہوتی ہے۔ جعلی ڈاکٹر‘ غیر تربیت یافتہ عملہ‘ سرنجوں کا دوبارہ استعمال اور غیر معیاری بلڈ بینک آج بھی کھلے عام کام کر رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ضلعی انتظامیہ‘ صوبائی محکمہ صحت اور وفاقی نگران ادارے آخر کس چیز کی نگرانی کر رہے ہیں؟ اس بحران کا ایک گہرا سماجی پہلو بھی ہے۔ ایچ آئی وی سے جڑی بدنامی‘ خوف اور شرم کے باعث لوگ ٹیسٹ کروانے سے کتراتے ہیں مگر اس بدنامی کو کم کرنے کیلئے کوئی سنجیدہ‘ مسلسل اور قومی سطح کی آگاہی مہم نظر نہیں آتی۔ اگر حکومت واقعی سنجیدہ ہوتی تو ایچ آئی وی کو اخلاقی یا سماجی لیبل دینے کے بجائے خالصتاً صحتِ عامہ کا مسئلہ قرار دیتی۔ عالمی ادارے بار بار خبردار کر رہے ہیں کہ اگر فوری‘ مربوط اور ہنگامی اقدامات نہ کیے گئے تو پاکستان میں ایچ آئی وی ایک بے قابو وبا کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔ مگر صحت کیلئے مختص بجٹ پہلے ہی قومی آمدن کا ایک نہایت معمولی حصہ ہے اور اس میں بھی ایچ آئی وی جیسے جان لیوا مسئلے کو ترجیح حاصل نہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایچ آئی وی سے متعلق ڈیٹا مکمل اور شفاف نہیں۔ اصل تعداد شاید سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہوکیونکہ آبادی کی اکثریت تک ٹیسٹنگ کی سہولت ہی نہیں پہنچ پاتی۔ جب تشخیص نہیں ہو گی تو علاج ممکن نہیں اور جب علاج نہیں ہو گا تو وائرس پھیلتا رہے گا۔ یہ ایک شیطانی چکر ہے جسے توڑنے کیلئے مضبوط سیاسی عزم‘ سخت فیصلے اور بلاامتیاز کارروائی درکار ہے۔ اگر حکومت واقعی عوام کی صحت کے بارے میں سنجیدہ ہے تو اسے غیر محفوظ طبی عمل کو ناقابلِ ضمانت جرم بنانا ہو گا‘ بلڈ بینکوں کی سخت ریگولیشن اور بڑے پیمانے پر بندش ضروری ہو گی اور ملک گیر سطح پر مفت‘ آسان اور خفیہ ایچ آئی وی ٹیسٹنگ کی سہولت فراہم کرنا ہو گی۔ متاثرہ افراد کیلئے علاج کے ساتھ ساتھ سماجی تحفظ‘ قانونی مدد اور نفسیاتی سہولتیں بھی دینا ہوں گی۔ سب سے بڑھ کر‘ بچوں کے تحفظ کو محض نعروں کے بجائے عملی ترجیح بنانا ہو گا۔ یہ وقت سچ بولنے کا ہے‘ اعداد و شمار کو ماننے کا ہے‘ ایکشن لینے کا ہے اور جوابدہی یقینی بنانے کا ہے۔ ایچ آئی وی پاکستان کا مسئلہ ہے‘ مگر اس کا حل بھی پاکستان کے ہاتھ میں ہے۔ اگر حکومت واقعی چاہے!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/229_33941343.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>نماز کی ادائیگی(علامہ ابتسام الہٰی ظہیر )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-04-29/51857/25848939</link><pubDate>Wed, 29 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-04-29/51857/25848939</guid><description>نماز اسلام کا دوسرا رکن ہے اور قرآن مجید میں جا بجا مقامات پر اس کی ادائیگی کی تلقین کی گئی ہے۔ نماز کی ادائیگی میں کوتاہی کرنے والوں کے لیے کتاب اللہ اور احادیث مبارکہ میں سخت وعید سنائی گئی ہے۔ نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نمازِ باجماعت کا التزام فرماتے اور اپنی جملہ مصروفیات کو نماز کے اوقات میں ترک کر دیا کرتے تھے۔ نبی کریمﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا نماز میں خشوع وخضوع غیر معمولی ہوتا تھا۔ وہ دنیا کے تمام معاملات کو فراموش کر کے نماز پر پوری طرح توجہ دیا کرتے تھے۔اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید میں جابجا مقامات پر اُن اہلِ ایمان کی تحسین کی ہے جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ سورۃ المومنون میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے اُن مومنین کا ذکر کیا جن کے لیے اللہ تبارک وتعالیٰ نے فردوسِ بریں کے باغات کو تیار کر رکھا ہے۔ ان لوگوں کی جو نشانیاں بتلائی گئی ہیں‘ ان میں نماز کی حفاظت کے ساتھ ساتھ اس اہم فریضے کی ادائیگی میں خشوع اختیار کرنے کا بھی ذکر ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ المومنون کی ابتدائی آیات میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;یقینا ایمان والوں نے فلاح حاصل کر لی۔ جو اپنی نماز میں خشوع کرتے ہیں۔ جو لغویات سے منہ موڑ لیتے ہیں۔ جو زکوٰۃ ادا کرنے والے ہیں۔ جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ بجز اپنی بیویوں اور ملکیت کی لونڈیوں کے‘ یقینا یہ ملامتیوں میں سے نہیں ہیں۔ جو اس کے سوا کچھ اور چاہیں وہی حد سے تجاوز کر جانے والے ہیں۔ جو اپنی امانتوں اور وعدے کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ جو اپنی نمازوں کی نگہبانی کرتے ہیں۔ یہی وارث ہیں۔ جو فردوس کے وارث ہوں گے جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے‘‘۔ اسی طرح سورۃ الفرقان میں بھی اللہ تبارک وتعالیٰ نے رحمان کے خاص بندوں کی صفات میں سے اس صفت کا بھی ذکر کیا ہے کہ وہ راتوں کو اٹھ اٹھ کر نماز ادا کرتے ہیں۔ سورۃ الفرقان کی آیت: 64 میں ارشاد ہوا &#39;&#39;اور جو اپنے رب کے سامنے سجدے اور قیام کرتے ہوئے راتیں گزار دیتے ہیں‘‘۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۃ الذاریات میں بھی ان متقین کا ذکر کیا جن کو اللہ تبارک وتعالیٰ قیامت کے دن کامیاب فرمائیں گے۔ اس مقام پر اللہ تبارک وتعالیٰ نے اُن کی صفات کا ذکر کیا کہ وہ راتوں کو کم سویا کرتے ہیں اور اُن کی راتیں اللہ تبارک وتعالیٰ کی بندگی میں گزرا کرتی ہیں۔ سورۃ الذاریات کی آیات: 15 تا 19 میں ارشاد ہوا &#39;&#39;بے شک تقویٰ والے لوگ بہشتوں اور چشموں میں ہوں گے۔ ان کے رب نے جو کچھ انہیں عطا فرمایا ہے اسے لے رہے ہوں گے‘ وہ تو اس سے پہلے ہی نیکوکار تھے۔ وہ رات کو بہت کم سویا کرتے تھے۔ اور وقتِ سحر استغفار کیا کرتے تھے۔ اور ان کے مال میں مانگنے والوں کا اور سوال سے بچنے والوں کا حق تھا‘‘۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۃ المعارج میں بھی نمازوں پر دوام اختیار کرنے والے اہلِ ایمان کی تحسین کی ہے۔نماز کی ادائیگی جہاں اللہ تبارک وتعالیٰ کی قربت کا سبب ہے‘ وہیں اس کی وجہ سے انسان کو بہت سے روحانی اور نفسیاتی فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں۔ انسان کی زندگی میں مقصدیت پیدا ہو جاتی ہے اور وہ مسلسل اللہ تبارک وتعالیٰ کی بندگی میں مصروف رہنے کی وجہ سے لغویات اور گناہوں سے بچنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے نماز کے ان فوائد کا ذکر سورۃ العنکبوت کی آیت: 45 میں کچھ یوں فرمایا &#39;&#39;جو کتاب آپ کی طرف وحی کی گئی ہے اسے پڑھیے اور نماز قائم کریں‘ یقینا نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے‘ بیشک اللہ کا ذکر بہت بڑی چیز ہے‘ تم جو کچھ کر رہے ہو اس سے اللہ خبردار ہے‘‘۔ اس آیت مبارکہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کے فضل ورحمت سے نماز کی وجہ سے انسان منکرات اور فواحش سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔نماز فقط امتِ محمدی ہی پر فرض نہیں کی گئی بلکہ قرآن مجید سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ سابقہ انبیاء کرام اور رسل اللہ بھی نمازوں کو ادا کیا کرتے تھے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے بارے میں سورۂ مریم کی آیات: 54 اور 55 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;اس کتاب میں اسماعیل (علیہ السلام) کا واقعہ بھی بیان کرو‘ وہ بڑا ہی وعدے کا سچا تھا اور تھا بھی رسول اور نبی۔ وہ اپنے گھر والوں کو برابر نماز اور زکوٰۃ (ادا کرنے) کا حکم دیتا تھا‘ اور تھا بھی اپنے پروردگار کی بارگاہ میں پسندیدہ اور مقبول‘‘۔ اسی طرح سورۂ طٰہٰ کی آیات: 11 تا 15 میں اس بات کا ذکر کیا گیا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنی یاد کے لیے نماز کو ادا کرنے کا حکم دیا: &#39;&#39;جب وہ وہاں پہنچے تو آواز دی گئی: اے موسیٰ! یقینا میں ہی تیرا پروردگار ہوں‘ تو اپنی جوتیاں اتار دے‘ کیونکہ تو پاک میدان طویٰ میں ہے۔ اور میں نے تجھے منتخب کر لیا‘ اب جو وحی کی جائے اسے کان لگا کر سن۔ بیشک میں ہی اللہ ہوں‘ میرے سوا عبادت کے لائق اور کوئی نہیں؛ پس تو میری ہی عبادت کر‘ اور میری یاد کے لیے نماز قائم رکھ۔ قیامت یقینا آنے والی ہے جسے میں پوشیدہ رکھنا چاہتا ہوں تاکہ ہر شخص کو وہ بدلہ دیا جائے جو اس نے کوشش کی ہو‘‘۔ان آیاتِ مبارکہ سے یہ اندازہ لگانا کچھ مشکل نہیں کہ نماز کس قدر اہم فریضہ ہے۔ اس فریضے کی ادائیگی کے حوالے سے بہت سے لوگ کوتاہیوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس فریضے کی ادائیگی کے دوران ہونے والی بعض غلطیوں اور کوتاہیوں کو دور کرنے کیلئے انسان کو اپنی بساط کی حد تک بھرپور کوشش کرنی چاہیے۔ اس حوالے سے بہت سے لوگ غفلت اور لاعلمی کا شکار ہیں۔ بعض لوگ کئی ایسے امور سے ناواقف ہیں جو نماز کی ادائیگی کو بہتر بنانے میں معاون ہو سکتے ہیں۔ ہم اس بات کا مشاہدہ کر سکتے ہیں کہ کئی مرتبہ انسان غسل اور وضو کی ادائیگی دوران اپنے اعضا کو تر کرنے پر توجہ نہیں دیتا۔ اسی طرح کئی مرتبہ انسان نماز کی ادائیگی کے دوران بھی ارکان کی ادائیگی میں کوتاہی کا ارتکاب کرتا ہے۔ نماز کی ادائیگی کے دوران کئی مرتبہ حضوریٔ قلب کی بجائے دنیا سے متعلقہ امور کی سوچ بچار میں غرق رہتا ہے۔ یہ تمام امور اصلاح و توجہ طلب ہیں۔ برادرِ عزیز عمر فاروق قدوسی نے اس حوالے سے ایک خوبصورت کتاب کو مدوّن کیا ہے جس میں وضو‘ غسل‘ طہارت اور نماز کی ادائیگی کے دوران پائی جانے والی عمومی کوتاہیوں کا ذکر کیا ہے۔ جو غلطیاں نماز اور اس کی تیاری کے دوران کئی مرتبہ عام مسلمانوں سے سرزد ہو جاتی ہیں‘ اس کتاب میں مختلف فصلوں میں ان کا احاطہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس طرح کی پُرمغز اور مفید کتب کا مطالعہ یقینا انسان کے علم میں اضافے کا سبب بنتا ہے اور انسان کے عمل کی اصلاح کی بنیاد بھی بن جاتا ہے۔اللہ تبارک وتعالیٰ برادرِ عزیز کی اس کاوش کو قبول ومنظور فرمائے اور ہم سب کو اللہ کی رضا کے لیے نبی کریمﷺ کی سنت کے مطابق نماز کو ادا کرنے والا بنا دے‘ آمین!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_19740082.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>