<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>بجٹ اور توقعات(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-10/11264</link><pubDate>Wed, 10 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-10/11264</guid><description>وفاقی بجٹ برائے مالی سال 2026-27 ء کی تیاری کے اس اہم مرحلے پر معاشی ماہرین کی جانب سے سفارشات پیش کی جا رہی ہیں‘ جو معیشت کو سہارا دینے اور اسے پائیدار راستے پر گامزن کرنے میں اہم ثابت ہو سکتی ہیں۔ ماہرینِ معیشت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ حکومت کو بجٹ میں قلیل مدتی استحکام کے روایتی اقدامات اور آئی ایم ایف کے اہداف سے آگے بڑھ کر اپنی توجہ انسانی ترقی‘ پیداواری صلاحیتوں میں اضافے اور طویل مدتی سرمایہ کاری پر مرکوز کرنی چاہیے۔ طویل عرصے سے جاری معاشی جمود‘ مہنگائی کے طوفان اور بیرونی قرضوں کے بوجھ نے ملکی معیشت کو اس حد تک نڈھال کر دیا ہے کہ اب بجٹ خسارہ مزید قرضوں کے بغیر پُر نہیں کیا جا سکتا‘ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ آنے والا بجٹ ان مسائل پر توجہ دے جن سے معاشی بنیادوں میں سدھار لایا جا سکے۔ دیرینہ معاشی مسائل بالخصوص غربت میں کمی لانے اور ترقیاتی فوائد کو عوام تک منتقل کرنے کی جانب عملی پیش رفت کرنا ہو گی۔ اس وقت معاشی منظرنامے میں جو سب سے بڑا اور سنگین چیلنج ہے وہ غیر متوازن اور غیر منصفانہ ٹیکس نظام ہے۔

معاشی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ بالواسطہ ٹیکس کو مزید بڑھانے‘ جو متوسط اور کم آمدنی والے گھرانوں کو سب سے زیادہ متاثر کرتا ہے‘ کے بجائے بجٹ میں ادارہ جاتی اصلاحات‘ ٹیکس بیس کو وسیع کرنے اور پیداواری صلاحیت کو بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ ٹیکس کی شرح کو درست کرنے سے نہ صرف ملک کی صنعتی مسابقت بہتر ہو سکتی ہے‘ مقامی و بیرونی سرمایہ کاری کو راغب کیا جا سکتا ہے بلکہ اس سے برآمدات میں بھی اضافہ ممکن بنایا جا سکتا ہے۔اب تک کی ٹیکس پالیسی میں پہلے سے ٹیکس دینے والے شعبوں پر ہی دبائو بڑھایا گیا‘ یہ ناقص پالیسی اب مزید نہیں چل سکتی۔ ملک کو عبوری اور وقتی فیصلوں کے بجائے ٹیکس سسٹم میں دیرپا‘ گہری اور جامع اصلاحات کی ضرورت ہے۔ جب تک ٹیکس چوری کے راستے بند نہیں کیے جاتے اور اس نظام کو مکمل ڈیجیٹائز کر کے مربوط نہیں کیا جاتا تب تک مالیاتی خسارے کا کوئی حل ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ تنخواہ دار اور متوسط طبقہ بالواسطہ ٹیکسوں کا سب سے بڑا شکار ہے جو پہلے ہی شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ لہٰذا معاشی ماہرین کے مطابق تنخواہ دار طبقے پر ٹیکسوں کا بوجھ کم کرنا‘ مارکیٹ میں نئی ملازمتوں اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا اب معاشی بقا کیلئے ناگزیر ہو چکا ہے۔ جب تک عوام کی قوتِ خرید بہتر نہیں ہو گی صنعتوں کے مال کی کھپت بھی نہیں بڑھ سکتی۔ صنعتی ایندھن کی قیمتوں میں کمی لانا بھی ناگزیر ہو چکاہے۔
جب ملکی صنعتوں کو سستی توانائی اور خام مال پر کم ٹیکسز کی سہولت میسر ہو گی تو برآمدات میں ازخود اضافہ ہوگا جس سے تجارتی خسارہ کم ہو گا اور زرِمبادلہ کے ذخائر کو سہارا ملے گا۔ ایسے وقت میں جب ملک کو موسمیاتی تبدیلیوں کے شدید ترین اثرات کا سامنا ہے‘ بجٹ میں ماحولیاتی تحفظ کیلئے فنڈنگ میں خاطر خواہ اضافہ ہونا چاہیے ۔ حالیہ عرصے میں بے وقت بارشوں اور شدید گرمی کی لہروں نے زراعت کو خاصا نقصان پہنچایا ہے ‘ اس کی تلافی کے اقدامات پر بھی حکومتی توجہ ضروری ہے۔ پاکستان کو اب روایتی بجٹ کے بجائے ’گرین بجٹ‘ کی طرف منتقل ہونا پڑے گا‘ جہاں ترقیاتی منصوبوں کو کلائمیٹ کے تحفظ سے مشروط کیا جائے۔ اس کے ساتھ ہی تیزی سے بڑھتی غربت اور مہنگائی کی لہر سے نبرد آزما متوسط اور پسماندہ طبقات کو بچانے کیلئے سماجی تحفظ کے اقدامات کا دائرہ وسیع کرنا ہو گا۔ سماجی اخراجات کو مالی بوجھ کے بجائے قومی پیداوار اور معاشی مسابقت میں سرمایہ کاری کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ پالیسی سازوں کو یہ ادراک کرنا چاہیے کہ بجٹ مالیاتی اداروں کے قرضوں کی شرائط پوری کرنے کی دستاویز نہیں ہوتا بلکہ اس کا مقصد ایک مستقل‘ طویل مدتی اور مستحکم معاشی روڈ میپ مہیا کرنا ہونا چاہیے جو ملکی معیشت اور مالیاتی انتظام کو مضبوط و مستحکم بنا سکے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>تیزاب گردی سنگین جرم(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-10/11263</link><pubDate>Wed, 10 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-10/11263</guid><description>سپریم کورٹ آف پاکستان نے تیزاب گردی سے متعلق ایک کیس میں فیصلہ دیتے ہوئے ہائی کورٹس کو ہدایت کی ہے کہ تیزاب گردی کے مقدمات کا ٹرائل ہر صورت چار ماہ میں مکمل کیا جائے۔ عدالت عظمیٰ نے عام شہریوں کو تیزاب کی کھلی فروخت پر مکمل پابندی عائد کرنے اور متاثرین کیلئے قومی بحالی فنڈ قائم کرنے کے بھی احکامات جاری کیے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب چند روز قبل کوئٹہ اور گھوٹکی میں دو خواتین کو تیزاب گردی کا نشانہ بنایا گیا۔ ایک غیر سرکاری تنظیم کی رپورٹ کے مطابق ملک عزیز میں ہر سال تقریباً 200 خواتین تیزاب گردی کا شکار ہوتی ہیں جبکہ ایک دوسری رپورٹ کے مطابق 1994ء سے 2018ء کے درمیان مجموعی طور پر 9340خواتین اس وحشیانہ جرم کا نشانہ بنیں۔

تیزاب گردی کے متاثرین کے مسائل صرف جسمانی نہیں ہوتے‘ یہ ایک ایسا جرم ہے جو چہرے سے زیادہ شناخت‘ اعتماد اور سماجی وجود کو مسخ کرتا ہے۔اگرچہ ملک میں تیزاب گردی کیخلاف قوانین موجود ہیں جن میں سخت سزائیں اور فروخت کی ریگولیشن شامل ہے لیکن ان پر عمل درآمد کمزورہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تیزاب کی فروخت پر سخت لائسنسنگ اور مکمل ڈیجیٹل نگرانی کا نظام نافذ کیا جائے اورمتاثرین کیلئے فوری طبی‘ نفسیاتی اور مالی امداد کو یقینی بنایا جائے۔ اس سماجی المیے کے خاتمے کیلئے حکومت‘ عدلیہ اور معاشرے کو مشترکہ طور پر سنجیدہ اور مسلسل اقدامات کرنا ہوں گے۔ بصورت دیگر معاشرے کے ناسور خواتین کے خلاف یہ سنگین جرم جاری رکھیں گے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ہیٹ ویو(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-10/11262</link><pubDate>Wed, 10 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-10/11262</guid><description>محکمہ موسمیات نے 12جون تک ملک کے بیشتر علاقوں میں شدید گرمی اور ہیٹ ویو کی وارننگ جاری کی ہے۔ خاص طور پر سندھ کے متعدد اضلاع میں درجہ حرارت 51 اور پنجاب میں 48 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا کہا گیا ہے۔ ہیٹ ویو کے خطرات کے پیشِ نظر عوامی سطح پر احتیاط انتہائی ضروری ہے۔ ماہرین کے مطابق عوام کو صبح 11بجے سے شام چار بجے تک غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کرنا چاہیے۔ اگر باہر جانا ہو تو سر کو ٹوپی‘ کپڑے یا چھتری سے ڈھانپا جائے۔ ہلکے رنگ کے ڈھیلے ڈھالے سوتی کپڑے استعمال کیے جائیں اور پانی کا استعمال معمول سے زیادہ رکھا جائے۔

بزرگ افراد‘ بچے‘ حاملہ خواتین‘ مریض اور کھلے آسمان تلے کام کرنے والے مزدور ہیٹ ویو سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔والدین کو چاہیے کہ بچوں کو دھوپ میں کھیلنے سے روکیں۔ اس صورتحال میں حکومتی اداروں کی ذمہ داری بھی بڑھ جاتی ہے۔ محکمہ صحت‘ ضلعی انتظامیہ اور مقامی حکومتوں کو ہسپتالوں میں ہیٹ سٹروک وارڈز‘ ہنگامی طبی سہولیات اور عوامی آگاہی مہمات کو مزید فعال بنانا چاہیے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اور عوام مل کر نہ صرف موجودہ گرمی کی لہر کے اثرات کم کرنے کیلئے اقدامات کریں بلکہ طویل المدتی بنیادوں پر ایسے فیصلے بھی کریں جو آنیوالی نسلوں کو ایک محفوظ اور قابلِ رہائش ماحول فراہم کر سکیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>جہاں بات بنائے نہ بنے(ایاز امیر)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-06-10/52093/47096350</link><pubDate>Wed, 10 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-06-10/52093/47096350</guid><description>بات کیا بنے جب احتیاط لازم ہو جائے اور سیدھی بات کہنا اتنا آسان نہ رہے۔ لیکن کیا کیا جائے ماحول ہی کچھ ایسا ہے جس کا مرکزی جزو احتیاط ہے۔ ایسے میں بات گول مول ہی ہو سکتی ہے‘ اشارے کنائیوں میں‘ الفاظ کے چناؤ سے۔ مختلف محاذوں پر جنگ جرمنی کیلئے مشکل تھی۔ افغانستان پر حملہ کرتے ہوئے امریکہ نے عراق پر چڑھائی کر دی تو اُس کیلئے مشکل پیدا ہوئی۔ لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ توانائیاں ہماری مختلف محاذوں پر بکھری ہوئی ہیں۔ کوئی ایک سمت بھی شورش سے خالی نہیں‘ خیبر پختونخوا ہو یا بلوچستان۔ اور اب ہمارے کشمیر میں ایک صورتحال پیدا ہوئی ہے جس کے بارے میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ ناخوشگوار تھی اور جیسے حالات بنے ایسے نہ بنتے تو اچھا تھا۔خیر نیک خواہشات پالنے سے کیا فرق پڑتا ہے‘ حالات بدل تو نہیں جاتے۔ البتہ اتنا تو کہا جا سکتا ہے کہ ہر طرف دیکھیں تو  یوں لگتا ہے کہ پھنسے ہوئے ہیں۔ یہ اچھی بات ہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی شورشوں کی گونج پنجاب تک نہیں پہنچتی۔ یہاں شادی ہالوں کا کاروبار بھرا اور زوروں پر ہے۔ اسلام آباد کے ایک دو علاقے ہیں جو شادی ہالوں سے دھنسے پڑے ہیں۔ وہاں جانا ہو تو گماں گزرتا ہے کہ اس بظاہر غریب ملک میں دولت کی کوئی کمی نہیں۔ مہمانوں کی تعداد اور میزبانی کے انداز دیکھ کر حیرت ہونی چاہیے لیکن یہاں سب معمول کا کام لگتا ہے۔ چکوال اور نزدیک کے اضلاع کا البتہ یہ مسئلہ ہے کہ ساری آبادی کا سپاہ سے گہرا تعلق ہے۔ میری دانست میں ضلع چکوال میں کوئی قبرستان نہیں جس میں ایک دو یا اُس سے زیادہ شہیدوں کی قبریں نہ ہوں۔ ان قبرستانوں سے گزریں تو جن شورشوں کا سامنا وطنِ عزیز کو ہے اُس کا کچھ اندازہ ہو جاتا ہے۔معیشت کا ذکر نہ ہی کیا جائے تو اچھا ہے کیونکہ اس کے ذکر سے تشویش کیا ہونی ہے بوریت طاری ہو جاتی ہے کیونکہ معیشت کے حوالے سے اعداد وشمار کو سُن سُن کر پوری قوم کے کان پَک چکے ہیں۔ اب ہمیں کون بتائے کہ مملکت قرضوں تلے دبی پڑی ہے۔ یہ کوئی خبر نہیں کیونکہ کچھ نہ کچھ شعور رکھنے والا ہر شخص اس حقیقت کو سمجھتا ہے۔ یہ بھی جانتا ہے کہ قرض پر اللے تللے  کرنا ہماری قدرتی کیفیت بن چکی ہے۔ یہ قرضہ جات کا سلسلہ شروع تو بہت پہلے ہوا تھا لیکن اب یہ نشہ آور عادت بن چکی ہے۔ قرضوں کے بغیر ہماری قوم کا جینا اب محال ہے۔ یہ بھی ہے کہ ہاتھ پھیلانے سے جو شرم آنی چاہیے وہ کب کی جا چکی ہے۔ اس حوالے سے اکابرینِ ملت میں ایک دھڑلا سا پیدا ہو چکا ہے۔ مانگنے میں کچھ عار محسوس نہیں ہوتی۔ اسے قوم کا  اعزاز ہی سمجھنا چاہیے۔پاکستان جب ایک نئے ملک کی حیثیت سے معرضِ وجود میں آیا تو گو مسائل بہت تھے‘ کئی اعتبار سے ہم ایک خوش قسمت قوم تھے۔ بیشتر تیسری دنیا نوآبادیاتی چنگل سے ابھی آزاد نہیں ہوئی تھی۔ یہاں سے انگریز گئے اور ایک ایسا نظام پیچھے چھوڑ گئے جس میں اور تمام قباحتوں کے باوجود لکھنے اور بولنے کی آزادی تھی۔ اخبارات تھے‘ سیاسی اجتماعات کا رواج تھا‘ یہ تصور زندہ  تھا کہ حکمرانی کے پیچھے عوامی رائے اور حمایت کا ہونا ضروری ہے۔ چین میں خانہ جنگی جاری تھی یعنی انقلابِ چین کی فتح کو کچھ دیر تھی۔ ملائیشیا اور سنگاپور آزاد نہیں تھے۔ جنوبی کوریا کی حقیقت تو تھی لیکن اُس کا وجود کہیں نظر نہیں آتا تھا۔ ماسوائے چند ممالک کے پورا افریقہ نوآبادیاتی اندھیروں میں ڈوبا ہوا تھا۔ یورپ دوسری جنگِ عظیم کی تباہ کاریوں سے نکلا نہیں تھا۔ جاپان تباہ‘ جرمنی تباہ۔ یہاں پنجاب میں تقسیمِ ہند کی وجہ سے خونریزی کے دریا بہے لیکن مملکت اپنے قدموں پر کھڑی ہو رہی تھی۔ مستقبل روشن لگتا تھا کہ قوم کی تقدیر قوم کے ہاتھوں میں ہے اور اس دیس کے باسی جس انداز سے چاہیں دیس کو چلا سکتے ہیں۔مگر منزل کا تعین نہ ہو سکا۔ فضول بحثوں میں قوم کا وقت ضائع ہونے لگا اور آزادی کے فلسفے کی بجائے زور زبردستی کا تصور اس سرزمین پر پیدا ہونے لگا۔ قانون کی حاکمیت کا فلسفہ انگریز حاکموں نے روشناس کرایا لیکن یہاں جو سورما نمودار ہونے لگے اُن کا خیال تھا کہ یہ قوم‘ اَن پڑھ اور جاہل‘ جمہوریت کے نازک تقاضوں کے لیے تیار نہیں۔ ایوب خان سے پہلے بھی قانون کی حاکمیت کے تصور کے ساتھ کھلواڑ کیا گیا اور خود ایوب خان نے جمہوریت کی پوری بساط کو لپیٹ دیا۔ وہ سلسلہ پھر جاری رہا گو بیچ میں جمہوریت کی شمع جلتی بجھتی رہی۔ اب تو یوں لگتا ہے کہ اُس بیچاری شمع کے ساتھ جو ہونا تھا ہو گیا۔ قوم کے ساتھ بھی  کچھ یوں ہو رہا ہے کہ قوم کے دلوں میں یہ خیال گھر کر رہا ہے کہ شاید یہی ہماری تقدیر ہے اور اس سے بہتر کے ہم قابل نہیں۔پر یہ چوبیس پچیس کروڑ کی آبادی ہے‘ آدم زادوں کی کوئی تھوڑی تعداد تو نہیں۔ اس کا بنے گا کیا؟ یا جو تھانیداری نظام اس  قوم کے نصیب میں آیا ہے وہی چلتا رہے گا؟ دنیا میں قوموں نے ترقی کی ہے‘ اپنے لیے بہتر مواقع پیدا کئے ہیں‘ اپنے  لوگوں کو آگے لے کر گئی ہیں۔ کیا ہمارے کھاتے میں یہی لکھا ہوا ہے کہ یہاں جو فضول باتیں روا رکھی جاتی ہیں اُنہی کی گونج ہم سنتے رہیں گے؟ کچھ ہنر ہوتا‘ کچھ سمت درست ہوتی‘ کچھ میرِ کارواں بہتر مل جاتے تو اس پورے خطے میں‘ ہندوستان سے لے کر وسطی ایشیا تک اور یہاں سے لے کر پورے مشرقِ وسطیٰ تک‘ یہ قوم اپنا منفرد مقام بنا سکتی تھی۔ 1947ء میں دنیا کے نقشے پر جب پاکستان نمودار ہوا عرب ممالک کی تو کوئی حالت نہ تھی۔ گلف کی بادشاہتیں پتا نہیں کس زمانۂ قد یم میں گُم تھیں۔ تیل اور گیس کے کرشمات تو بہت بعد کی بات ہیں۔ پھر ماننا پڑے گا ہم کچھ کر نہ سکے‘ پتا نہیں کس تھانیداری ذہنیت کے اسیر اور غلام ہو کر رہ گئے۔ حاکموں کو دیکھیں کس اوسط درجے کے نمونے ہمیں نصیب ہوئے۔ بھٹو جیسا کوئی ذہین آدمی آیا بھی تو اپنی کمزوریوں اور حالات کی نذر ہو گیا۔ کوئی 804 آیا جو بہت کچھ کر سکتا تھا وہ کچھ اپنے کو اور کچھ ایک پیج کو سنبھال نہ سکا۔ تھانیداری نظام کچھ زیادہ ہی طاقتور ثابت ہوا۔تھانیداری نظام وقتی علاج ہے۔ ٹیکے کی مانند جسم کے کسی حصے کو سُن کر سکتا ہے فالج زدہ یا نیم مردہ جسم کو صحت یاب نہیں کر سکتا۔ ایک بار نہیں بارہا ہم نے یہ دیکھا۔ سارے جو ہمارے شہسوار تھے اپنے زمانوں میں ان کے بڑے چرچے ہوا کرتے تھے۔ سورج ان کا ڈھلا تو مسائل ہی پیچھے چھوڑ کر گئے۔ پر یہ کوئی نئی باتیں نہیں‘ انہیں دہرا دہرا کر زبانیں تھک چکی ہیں۔ اسی لیے دل سے یہ آواز اُٹھتی ہے کہ چھوڑو نصیحت کے کام۔ یہ بیماریاں لاعلاج ہیں۔ اردو زبان کے جو عظیم شعرا رہے ہیں کیا وہ تجزیے اور نصیحت فرمایا کرتے تھے؟ دورِ زوال سے گزر رہے تھے اور اپنی لازوال شاعری کہتے رہے۔ یہاں کون سا میر یا غالب؟ اب تو فیض اور جالب جیسے بھی اس سرزمین پر نہیں رہے۔ دور ہی کچھ ایسا مادہ پرست ہو گیا ہے اور اوپر سے کمپیوٹروں کی زبان سے نکلنے والی مصنوعی ذہانت کے ایسے عجوبات کہ شاعری رہی نہ فنِ خطابت۔ایسے میں دلِ نازک کا کیا کرنا سوائے اس کے کہ شام ڈھلے کچھ موسیقی اور شاعری کا رس کانوں میں گھل جائے۔ یادوں کی بارات آنکھوں کے سامنے سے گزرے۔ ایک عدد اور مثال میں غالب کی تقلید ہو جائے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_80573045.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>آگ کا دریا(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-06-10/52094/22704426</link><pubDate>Wed, 10 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-06-10/52094/22704426</guid><description>سینیٹ یا قومی اسمبلی کی کمیٹیوں میں بہت کچھ سننے کو ملتا ہے‘ یا یوں کہہ لیجیے کہ ہمارے جیسے رپورٹرز کی خبروں کی بھوک یہیں آ کر مٹتی ہے۔ جس دن کوئی خبر نہ ملے عجیب سی بے چینی رہتی ہے‘ اور پھر ان لوگوں کا خیال آتا ہے جو سگریٹ نہ پینے کی وجہ سے بے قرار ہو جاتے ہیں۔ خبر تلاش کرنا اور پھر اسے بریک کرنا ایک الگ ہی نشہ ہے‘ جو آپ کو روزانہ درکار ہوتا ہے۔ اسی لیے مجھے پارلیمانی کمیٹیاں پسند ہیں جہاں یہ نشہ پورا ہوتا ہے۔ویسے بھی یہ انسان کا مزاج ہے کہ وہ روز کوئی نئی خبر‘ نئی کہانی یا نیا قصہ سننا یا سنانا چاہتا ہے۔ اس لیے اکثر جو بھی ملے گا سلام دعا کے بعد یہ ضرور پوچھے گا: &#39;&#39;کیا خبر ہے؟‘‘ یا &#39;&#39;آج کی کیا نئی تازی ہے؟‘‘ یا پھر کہے گا: &#39;&#39;یار کوئی گپ ہی سنا دو‘‘۔ ان کمیٹیوں کے اجلاسوں میں یہ تینوں چیزیں آپ کو ملتی ہیں۔ آپ کو خبر بھی ملتی ہے‘ نئی تازی بھی اور سب سے بڑھ کر گپ شپ بھی۔ آج کی سن لیجیے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس تھا۔ ایم این اے راجہ خرم نواز اس کے چیئرمین ہیں۔ یہ ان چند کمیٹیوں میں سے ایک ہے جہاں پورے ممبران موجود ہوتے ہیں اور کبھی کورم کا مسئلہ نہیں ہوا‘ جیسے دوسری کمیٹیوں کے اجلاسوں میں ہوتا ہے‘ جہاں بعض اوقات چیئرمین اکیلا بیٹھا دس پندرہ ممبران میں سے دو ممبران کا انتظار کر رہا ہوتا ہے تاکہ کورم پورا ہو اور اجلاس شروع ہو سکے۔ دو ممبران بھی نہیں آتے جبکہ متعلقہ وزیر‘ سیکرٹری اور درجنوں افسران موجود ہوتے ہیں اور سب کورم کے لیے دو ارکان کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں۔ فون پر بڑی منت سماجت کے بعد دو ممبران آتے ہیں‘ باقی پھر بھی نہیں آتے۔ خیر داخلہ کمیٹی میں کبھی کورم کا مسئلہ نہیں ہوا کیونکہ اس میں بڑے بڑے افسران نے آنا ہوتا ہے جن سے ممبران نے سوالات کرنے ہوتے ہیں۔ اس سے آگے کچھ نہیں لکھوں گا ورنہ مجھے ان اجلاسوں سے بین بھی کیا جا سکتا ہے‘ لہٰذا سمجھداری کا تقاضا یہی ہے کہ کمیٹی کے دروازے خود پر بند نہ کراؤں تاکہ آپ کو کبھی کبھار نئی تازی‘ نئی خبر اور گپ شپ کی لذت سے آشنا کرتا رہوں۔یہ شاید واحد اجلاس ہے جس میں وزیرِ مملکت برائے داخلہ‘ سیکرٹری داخلہ‘ ڈی جی ایف آئی اے‘ آئی جی اسلام آباد‘ ڈی جی نارکوٹکس‘ چیئرمین سی ڈی اے‘ کمشنر اسلام آباد‘ سکیورٹی اداروں کے افسران اور چاروں صوبوں کے آئی جیز یا چیف سیکریٹریز تک شریک ہوتے ہیں‘ اگر ان کا ایجنڈا ہو۔ اس سے اندازہ لگا لیجیے کہ بھلا کون سا ایم این اے ایسے اجلاس سے دور رہنا پسند کرے گا۔ خیر آج اس اجلاس میں جو اہم ایجنڈا تھا اس کیلئے ڈی جی ایف آئی اے عثمان انور سمیت سیکرٹری داخلہ خرم آغا اور وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چودھری موجود تھے۔ اس اجلاس میں جو اہم ایشو زیرِ بحث تھا وہ آپ روز پڑھتے رہتے ہیں کہ ایئرپورٹس سے ایف آئی اے شہریوں کو آف لوڈ کر رہی ہے حالانکہ ان کے پاس لیگل ویزے موجود ہوتے ہیں۔ اس پر ارکانِ اسمبلی خصوصاً نصیر صاحب نے  نکتہ اٹھایا کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے جب ہر ایک کے پاس ویزا بھی موجود ہے اور ٹکٹ بھی۔ آپ کو کیا مسئلہ ہے؟ اسی طرح پیپلز پارٹی کے آغا رفیع اللہ اور قادر پٹیل نے بھی یہ اہم معاملات ڈی جی ایف آئی اے کے سامنے اٹھائے کہ بعض مشرقِ وسطیٰ کے ممالک ارکانِ اسمبلی اور سینیٹرز تک کو سفارتی پاسپورٹ ہونے کے باوجود یا تو اپنے ملک میں داخل نہیں ہونے دے رہے یا پھر آف لوڈ کر رہے۔ ان دونوں ممبران نے بڑے زور و شور سے صومالیہ میں قزاقوں کے ہاتھوں تاوان کیلئے اغوا کیے گئے پاکستانیوں کی حالتِ زار پر بھی آواز اٹھائی جنہیں چھڑانے کیلئے اب تک حکومت نے کوئی مؤثر کوشش نہیں کی۔ طلال چودھری نے جو باتیں کمیٹی کے سامنے رکھیں وہ ہوشربا تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں انسانی سمگلنگ میں ملوث مافیا نئے نئے راستے تلاش کر کے لوگوں کو یورپی ممالک بھیج رہا ہے‘ جس کے باعث یورپ نے پاکستانیوں پر بہت سختیاں کر دی ہیں اور اب جو لوگ قانونی طریقے سے ویزا حاصل کرنا چاہتے ہیں انہیں مشکلات کا سامنا ہے۔ اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کیلئے طلال چودھری نے انکشاف کیا کہ چند دن قبل ایک ایم این اے کا رات کو فون آیا کہ ان کے جاننے والے ایک نوجوان کو ایئر پورٹ پر ایف آئی اے نے روک لیا ہے۔ ایم این اے کا کہنا تھا کہ اس کے پاس سری لنکا کا اصلی ویزا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے لیٹر پیڈ پر لکھ کر ذاتی ضمانت دینے کو تیار ہیں کہ وہ واپس لوٹ آئے گا۔ اس پر طلال چودھری نے ایف آئی اے سے پوچھا تو انہوں نے اس لڑکے کو بلا کر تفصیلات معلوم کیں کہ تم سری لنکا کیا کرنے جا رہے ہو؟ اس نے جواب دیا کہ وہاں حضرت آدمؑ کے قدموں کے نشانات ہیں اور وہ ان کی زیارت کا خواہاں ہے۔ اس سے پوچھا گیا کہ کیا وہ کبھی حج یا عمرے پر گیا ہے؟ اس نے جواب دیا کہ نہیں وہ کبھی نہیں گیا۔ سری لنکا بھی پہلی بار جا رہا تھا۔ اس نوجوان کا باپ رکشہ ڈرائیور ہے۔ پتا چلا کہ انسانی سمگلروں نے اب نیا راستہ ڈھونڈ لیا ہے۔ وہ پہلے کسی عام سے ملک کا سیاحتی ویزا لگوا کر دیتے ہیں پھر وہاں سے لوگوں کو ڈنکی کے ذریعے نکال کر یورپ تک پہنچاتے ہیں۔ اب سری لنکا بھی اس فہرست میں شامل ہو رہا ہے جہاں سے ایسے افراد کو پہلے شرم الشیخ (مصر) تک لے جایا جاتا ہے اور پھر سرحدی ممالک سے گزارتے ہوئے یورپ کے ساحلوں تک پہنچایا جاتا ہے۔ کچھ بچ جاتے ہیں اور باقی ڈوب جاتے ہیں۔ اس پر ڈی جی ایف آئی اے عثمان انور نے بھی ایک واقعہ سنایا کہ اب یہاں سے یہ سب ڈنکی لگانے والے کسی نہ کسی ملک کا درست ویزا لے کر نکلتے ہیں اور آگے جا کر ان ممالک سے غائب ہو جاتے ہیں جس سے پاکستانی پاسپورٹ کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔ وہ بتانے لگے کہ کچھ عرصہ پہلے ایک ماں اور بیٹا عمرہ کرنے کیلئے سعودی عرب گئے۔ عمرہ ادا کرنے کے بعد ماں تو پاکستان واپس آ گئی جبکہ نوجوان سعودی عرب سے غائب ہو گیا اور وہاں سے انسانی سمگلروں کے ذریعے سرحدی ممالک سے ہوتا ہوا یورپ جانے والی کشتی پر سوار ہو گیا۔ ڈی جی نے انکشاف کیا کہ حال ہی میں جو کشتی ڈوبی ہے جس میں بہت سے پاکستانی جاں بحق ہوئے‘ ان میں اس خاتون کا بیٹا بھی شامل تھا۔ اس کے علاوہ ڈوبنے والے درجنوں پاکستانیوں کی لاشوں کی شناخت بھی نہیں ہو پا رہی۔اسی طرح بہت سے ممالک کے ایئرپورٹس پر پاکستانی سفارتی پاسپورٹس کے غلط استعمال کا بھی انکشاف ہوا۔ ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ پاکستانی ایئرپورٹس پر تو سفارتی پاسپورٹ کے اصلی یا نقلی ہونے کا پتا چل جاتا ہے لیکن دبئی‘ ابوظہبی‘ دوحہ وغیرہ میں ایسا نہیں ہو پاتا اور وہاں ان کا غلط استعمال ہو رہا ہے جس کی وجہ سے پاکستانی پارلیمنٹیرینز کیلئے بھی مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ ایک اور انکشاف بھی کیا گیا کہ ایسی مشکوک امیگریشن کے سب سے زیادہ کیسز سیالکوٹ ایئرپورٹ سے رپورٹ ہو رہے ہیں۔ اکثر لوگ اپنی پروازیں سیالکوٹ ایئر پورٹ سے بک کرواتے ہیں اور وہاں بعض امیگریشن اہلکاروں کے ساتھ ملی بھگت کر کے نکل جاتے ہیں۔ ڈی جی نے ایف آئی اے کے ایک افسر کا بتایا جو اس کام میں ملوث تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک ہزار افراد نے ایک ملک کیلئے اسی افسر کے ذریعے کلیئرنس حاصل کی۔ اب اسے معطل کر دیا گیا ہے۔ بات وہی کہ معطل ہونے سے پہلے وہ سات نسلوں کیلئے پیسہ اکٹھا کر گیا ہے جبکہ بدنامی پورا ملک بھگتے گا‘ یا پھر وہ نوجوان جو آگ کا دریا عبور کر کے یورپ پہنچنا چاہتے ہیں۔میں اس اجلاس سے بوجھل دل کے ساتھ اٹھ تو آیا لیکن مسلسل اُس ماں کے بارے میں سوچ رہا ہوں جسے ڈھال بنا کر بیٹا عمرے پر سعودی عرب لے گیا‘ ماں کو اکیلے جہاز پر پاکستان واپسی کیلئے بٹھا دیا اور خود وہاں سے غائب ہو کر چند دن بعد یورپ کے سمندروں میں ڈوب گیا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ستر کی دہائی اور میں …(2)(شاہد صدیقی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-siddiqui/2026-06-10/52095/58138923</link><pubDate>Wed, 10 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-siddiqui/2026-06-10/52095/58138923</guid><description> پروفیسر وِکٹر مل ریٹائرمنٹ کے بعد گورڈن کالج سے ملحق اپنی وسیع و عریض کوٹھی میں رہتے تھے اور اپنے گھر میں پڑھایا کرتے تھے۔ میں نے پروفیسر مل کی کلاس میں اس لیے داخلہ لیا تھا تاکہ گورڈن کالج میں ایم اے انگلش میں داخلہ لینے میں آسانی ہو۔ گورڈن کالج سے ایم اے انگلش کرنا میرا خواب تھا۔ انگریزی میں دلچسپی کا بیج شیخ اشرف صاحب نے بویا تھا جو کیپٹل کالج کے پرنسپل تھے۔ میں نے تبھی اپنی زندگی کے دو اہم فیصلے کر لیے تھے۔ ایک یہ کہ میں نے اعلیٰ تعلیم انگریزی زبان و ادب میں حاصل کرنی ہے اور دوسرا یہ کہ میں نے تدریس کے شعبے سے وابستہ ہونا ہے۔ ان دونوں فیصلوں کا محرک شیخ اشرف صاحب کی دلآویز شخصیت اور ان کی تدریس کا مسحور کن انداز تھا۔ پروفیسر مل کی کلاسز میں میرے سامنے انگریزی ادب کا دلربا دریجہ کھلتا چلا گیا۔ چونکہ پروفیسر مل کی کوٹھی گورڈن کالج ہی کا ایک حصہ تھی اس لیے میں ہر روز آتے جاتے گورڈن کالج کی سرخ اینٹوں والی عمارت کو دیکھتا اور سوچتا کہ ایک دن میرا نام بھی اس کے طالب علموں میں شمار ہو گا۔ لیکن کہانی میں آگے بڑھنے سے پہلے مختصراً 70ء کی دہائی کے اہم واقعات کا اعادہ کرنا چاہوں گا۔ اس دہائی کا آغاز 1970ء کے الیکشن سے ہوا تھا جس کے نتیجے میں مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب الرحمن کی عوامی لیگ اور مغربی پاکستان میں بھٹو کی پیپلز پارٹی نے اکثریت حاصل کی تھی۔ ابتدا میں ڈھاکہ میں قومی اسمبلی کا اجلاس بھی بلا لیا گیا تھا لیکن پھر نامعلوم وجوہات کی بنا پر اس وقت کے حکمران جنرل یحییٰ خان نے اسمبلی کا اجلاس منسوخ کر دیا۔ اس کے ردِ عمل میں مشرقی پاکستان میں بے چینی بڑھتی گئی۔ احتجاج پر قابو پانے کیلئے آپریشن کیا گیا جو سقوطِ مشرقی پاکستان کا باعث بنا۔ اس کی پاداش میں یحییٰ خان کو مستعفی ہونا پڑا اور اس کی جگہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کو ملک کی سربراہی سونپی گئی۔ بھٹو کے کارناموں میں 1972ء میں ہونے والا شملہ معاہدہ‘ 1973ء کا متفقہ آئین اور 1974ء میں دوسری اسلامی سربراہی کانفرنس کا انعقاد شامل ہیں۔ اسی سال بنگلہ دیش کو بھی تسلیم کر لیا گیا اور پھر قادیانیوں کو ایک آئینی ترمیم کے ذریعے غیرمسلم قرار دے دیا گیا۔ 1977ء میں منعقد ہونے والے انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگا کر بھٹو کے خلاف تحریک شروع کی گئی جس کا نتیجہ ضیا الحق کے پانچ جولائی 1977ء کے مارشل لاء کی صورت میں ظاہر ہوا۔ ادھر ملکی سطح پر یہ سب کچھ ہو رہا تھا اور ادھر میں پروفیسر وِکٹر مل کے گھر میں ہونے والی انگلش لٹریچر کی کلاسز اٹینڈ کر رہا تھا۔ اسی دوران خبر ملی کہ گورڈن کالج میں ایم اے انگلش میں داخلے کی تاریخ آ گئی ہے‘ میں اسی دن کا انتظار کر رہا تھا۔ فوراً داخلے کی درخواست دے دی۔ کچھ دنوں بعد انٹرویو کال آئی۔ انٹرویو ہوا اور مجھے گورڈن کالج میں داخلہ مل گیا۔وہ میرے لیے ایک یادگار دن تھا جب میں نے جوبلی ہال کے اوپر ایک کمرے میں ایم اے انگلش کی کلاس کی ابتدا کی۔ گورڈن کالج میں تعلیم کے علاوہ کھیلوں‘ مباحثوں‘ تقریری مقابلوں اور ڈراموں پر بھی خصوصی توجہ دی جاتی تھی۔ کالج میں ڈرامے کے انچارج نصر اللہ ملک صاحب تھے۔ کیا باغ و بہار شخصیت تھے۔ معروف اداکار راحت کاظمی‘ شجاعت ہاشمی اور نیّر کمال کا شمار ان کے شاگردوں میں ہوتا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب گورڈن کالج کے پرنسپل معروف دانشور خواجہ مسعود تھے جن کی متحرک قیادت کا اثر گورڈن کالج کے در و بام پر نظر آتا تھا اور پھر گورڈن کالج میں نامور اساتذہ کی ایک کہکشاں تھی جس میں سجاد شیخ‘ آفتاب اقبال شمیم‘ توصیف تبسم‘ سجاد حیدر ملک اور نصر اللہ ملک جیسے لوگ شامل تھے۔ نصر اللہ ملک کتابوں کے عاشق تھے اور گفتگو کے رسیا۔ ان کا مضمون تو تاریخ تھا لیکن ان کی دلچسپی کا میدان ڈرامہ تھا۔ نصراللہ ملک کی شخصیت کو بیان کرنا ہو تو ایک ہی لفظ میرے ذہن میں آتا ہے Unorthodox۔ سینیٹر پرویز رشید بھی اولڈ گڈ گورڈونین ہیں۔ انہوں نے مجھے گورڈن کالج کے زمانے کا ایک قصہ سنایا جس سے نصراللہ ملک صاحب کی شخصیت کو جاننے میں مدد ملتی ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ اُن دنوں لیاقت باغ میں‘ جو گورڈن کالج کے ہمسایے میں واقع ہے‘ ہر سال ایک میلہ منعقد ہوتا تھا۔ اُس سال بھی میلہ چل رہا تھا اور میلے میں دلچسپ کھیل تماشوں اور کھانے پینے کے سٹالوں کے علاوہ ایک تھیٹر بھی آیا ہوا تھا جس میں اُس زمانے کی مشہور پنجابی گلوکارہ بالی جٹی بھی اپنے فن کا مظاہرہ کر رہی تھی۔ میلوں کی روایت کے مطابق تماش بین جب &#39;&#39;ویلیں‘‘ دیتے تو ان کا نام لاؤڈ سپیکر پر نشرہوتا۔ پرویز رشید اور ان کے دوستوں کو شرارت سوجھی انہوں نے ویلیں دے کر اپنے اساتذہ کے نام بتانے شروع کر دیے۔ کسی نے اپنا نام خواجہ مسعود بتایا کسی نے نصراللہ ملک اور کسی نے وِکٹر مل۔ اب لاؤڈ سپیکر پر بلند آواز میں ان ناموں کا اعلان کیا جا رہا تھا۔ گورڈن کالج کچھ ہی فاصلے پر تھا۔ کالج میں جب طالب علموں نے اپنے اساتذہ کے نام سنے تو انہیں حیرت ہوئی کہ ان کے اساتذہ بالی جٹی کے تھیٹر میں دادِ عیش دے رہے ہیں۔ خواجہ مسعود اور دوسرے اساتذہ سر جوڑ کر بیٹھ گئے کہ اس صورتحال سے کیسے نپٹا جائے۔ اسی دوران پرویز رشید اور ان کے ساتھی ہنستے ہوئے کالج کے گیٹ سے اندر داخل ہوئے۔ خواجہ مسعود اور دوسرے اساتذہ کو یقین تھا کہ یہ شرارت اسی ٹولی نے کی ہے۔ اب عالم یہ تھا کہ پرویز رشید اور ان کے ساتھی سر جھکائے کھڑے تھے اور خواجہ مسعود ان کی سرزنش کر رہے تھے۔ اتنی دیر میں نجانے کہاں سے پروفیسر نصر اللہ ملک نمودار ہوئے اور پرویز رشید کو گلے لگاتے ہوئے بلند آواز میں کہا: تم نے دل خوش کر دیا ہے میرا لیکن میں ایک بات پر تم سے ناراض ہوں‘ تم لوگ مجھے اپنے ہمراہ تھیٹر لے کر کیوں نہیں گئے۔ گورڈن کالج کی روشوں پر چلتے ہوئے مجھے اکثر یہ احساس ہوتا کہ کیسے کیسے نامور لوگ انہی روشوں پر چلتے ہوں گے۔ انہی میں اداکار شیام بھی تھا جو گورڈن کالج سے پڑھ کر بالی وڈ میں گیا اور نام کمایا۔ گورڈن کالج کی انہی روشوں پر بلراج ساہنی اور جگن ناتھ آزاد بھی چلتے ہوں گے۔ جگن ناتھ آزاد کالج کے رسالے گورڈونین کے ایڈیٹر بھی تھے۔ بہت عرصے بعد مجھے بھی گورڈونین کے مدیر ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔ میں چاہوں تو گورڈن کالج کی یادوں پر ایک کتاب لکھ سکتا ہوں۔ مختصر یہ کہ گورڈن کالج محض ایک کالج نہیں تھا ایک تہذیب‘ ایک تاریخ اور ایک ثقافت کا نام تھا۔ یہاں کے فارغ التحصیل طلبہ نے زندگی کے مختلف شعبوں میں نمایاں کردار ادا کیا۔ 1979ء کے سال کی اہمیت کی کئی وجوہات ہیں۔ میرے لیے یہ سال اس لیے اہم ہے کہ میں نے اس سال گورڈن کالج سے ایم اے انگلش کی ڈگری مکمل کی تھی اور ایم اے انگلش میں اپنی کلاس میں پہلی پوزیشن حاصل کی تھی۔ 1979ء پاکستان کی تاریخ میں ایک اور وجہ سے بھی یاد رکھا جائے گا۔ اسی سال ملک کے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو قتل کے الزام میں پھانسی دی گئی ۔ بہت سالوں بعد سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ یہ ایک غلط عدالتی فیصلہ تھا۔ مجھے وہ دن یاد ہے جب بھٹو کی پھانسی کی خبر مختلف اخبارات کے ضمیموں کے ذریعے ہم تک پہنچی۔ پھانسی گھاٹ سے لاش کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے گڑھی خدا بخش کے ان کے آبائی قبرستان لے جایا گیا جہاں سخت پہرے اور چند لوگوں کی موجودگی میں لاش کو سپردِ خاک کر دیا گیا۔ یوں پاکستانی سیاست کے ایک متحرک کردار کو ہمیشہ کیلئے خاموش کر دیا گیا۔ (جاری)</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_21538475.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>