<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>انتظامی بحران کا حل(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-17/11638</link><pubDate>Sat, 17 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-17/11638</guid><description>ملکِ عزیز جن سنگین مسائل سے دوچار ہے ان میں بدانتظامی‘ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم‘ تعلیمی پسماندگی‘ صحت کی ناقص سہولتیں‘ کمزور نظامِ انصاف اور علاقائی محرومیوں کے مسائل نمایاں ہیں۔ اس حوالے سے گزشتہ روز پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروسز اکیڈمی میں زیر تربیت افسران سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین دنیا میڈیا گروپ میاں عامر نے جن خیالات کا اظہار کیا ان میں ملک کے ان مسائل کا حل موجود ہے۔یہ حقیقت ظاہر و باہر ہے کہ بحیثیت قوم ہماری ترقی کی رفتار ہماری صلاحیتوں کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ پاکستان کا جغرافیہ‘ رقبہ‘ موسم‘ آبادی ‘ سبھی عوامل بے مثال ہیں۔ یہ اجزا کسی بھی قوم اور ملک کو ترقی کی بلندیوں پر پہنچانے کے بنیادی عناصر سمجھے جاتے ہیں‘ مگر ہمارے ہاں یہ عناصر مطلوبہ نتائج فراہم نہیں کرپا رہے۔ ہماری معاشی سست روی کے اسباب گوناگوں ہیں مگر ان کا نقطہ آغاز وہ انتظامی بحران ہے جو صوبوں کے غیر معمولی حجم کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ پچھلے دنوں ورلڈ اکنامک فورم کی جانب سے شائع کیے گئے ایک آرٹیکل میں اس حوالے سے لکھا گیا کہ 1951ء سے پاکستان کی آبادی میں سات گنا سے زیادہ اضافہ ہو چکا ہے مگر 26کروڑ کے قریب آبادی اب بھی انہی چار انتظامی صوبوں میں رہتی ہے جن میں باہم کوئی مطابقت نہیں۔

انتظامی حدود اس کا تعین کرتی ہیں کہ حکومتیں محصولات کیسے جمع کرتی ہیں‘ عوامی فنڈز کیسے تقسیم کرتی ہیں‘ بنیادی ڈھانچے کی منصوبہ بندی کیسے کرتی ہیں‘ ہنگامی حالات کا مقابلہ کیسے کرتی ہیں اور کارکردگی کو کیسے جانچتی ہیں۔ جب انتظامی نقشے آبادی اور معیشت کی بدلتی حقیقتوں سے مطابقت کھو دیتے ہیں تو حکمرانی کے مسائل شدت اختیار کر لیتے ہیں۔ جب تک اس ساختی خرابی کو دور نہیں کیا جاتا معاشی ترقی کی رفتار میں مطلوبہ تیزی ممکن نہیں۔ عالمی بینک اور ورلڈ اکنامک فورم کی رپورٹوں میں یہ نکتہ واضح طور پر بیان کیا جا چکا ہے کہ پاکستان میں وسائل کا رخ صوبائی دارالحکومتوں اور چند بڑے شہروں پر مرکوز ہے۔ مثال کے طور پر پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں فی کس صوبائی اخراجات تقریباً 31 ہزار روپے ہیں‘ جبکہ دیگر سبھی اضلاع میں سات ہزار روپے فی کس۔ جو علاقہ صوبائی دارالحکومت یا مرکز سے جتنا دور ہے وہاں ترقی‘ صحت‘ تعلیم اور انفراسٹرکچر کی صورتحال اتنی ہی پسماندہ ہے۔ اس طرح دیو ہیکل صوبوں میں مسائل کا انبار بڑھتا جا رہا ہے۔ سکول سے باہر بچوں کی تعداد کے حوالے سے پاکستان دنیا میں پہلے نمبر پر ہے‘ بچوں میں سٹنٹنگ کی شرح 40 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ بھوک‘ غربت اور بیروزگاری خطے میں بلند ترین سطح پر ہے۔ ان اعداد وشمار کے تناظر میں یہ اندازہ لگانا چنداں مشکل نہیں کہ ہمارا قومی مستقبل کیا ہو گا۔
اب سوال محض اتنا ہے کہ ہم اب بھی ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں گے یا ان مسائل کے حل کی جانب عملی قدم اٹھائیں گے۔ دنیا کے کئی ممالک کو ہمارے جیسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا تو انہوں نے انتظامی یونٹس کو مختصر رکھنے اور اختیار اور اقتدار کو عوامی دہلیز تک پہنچا کر مسائل کا حل نکالا۔ ہم اس عمل سے گریزاں کیوں ہیں؟ ہمارے تمام بڑے معاشی‘ سماجی‘ انتظامی اور سیاسی مسائل کا پائیدار حل چھوٹی انتظامی اکائیوں کی تشکیل اور بااختیار بلدیاتی نظام کے قیام میں مضمر ہے۔ عالمی ماہرین اور بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس میں بھی یہی حل تجویز کیا گیا ہے کہ پاکستان کو اب چار صوبوں کے جمود کو توڑکر ملک کو خالص انتظامی بنیادوں پر چھوٹے یونٹس میں تقسیم کرنا ہو گا۔ جب اقتدار اور فنڈز براہِ راست عوام کی دہلیز تک پہنچیں گے تو دور دراز کے محروم اضلاع بھی خود کفالت اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو سکیں گے۔ وقت آ گیا ہے کہ گورننس کی بہتری اور معاشی استحکام کی خاطر بڑے صوبوں کی روایت کو خیرباد کہہ کر مرکزیت کا جمود توڑا جائے‘ وگرنہ پسماندگی‘ غربت اور محرومی کی یہ خلیج وقت کے ساتھ ساتھ مزید وسیع ہوتی چلی جائے گی۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>آٹا بحران(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-17/11637</link><pubDate>Sat, 17 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-17/11637</guid><description>وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ کنزیومر پرائس انڈیکس کے مطابق کراچی کے شہری ملک بھر میں سب سے مہنگا آٹا خریدنے پر مجبور ہیں‘ جہاں 20 کلو آٹے کا تھیلا 3540 روپے تک پہنچ چکا ہے۔ کراچی ہی نہیں‘ ملک کے تقریباً تمام بڑے شہروں میں آٹے کی قیمتیں بلند ترین سطح پر ہیں۔ رپورٹ کے مطابق حیدرآباد میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 3480‘ اسلام آباد میں 3373‘ راولپنڈی میں 3333‘ پشاور میں 3300‘ کوئٹہ میں 3220 اور سیالکوٹ میں 3133 روپے تک فروخت ہو رہا ہے۔ آٹا بحران کی بڑی وجوہات میں ذخیرہ شدہ گندم کی مارکیٹ سپلائی میں رکاوٹیں‘ مہنگی بجلی اور ڈیزل کی وجہ سے پسائی اور ترسیل کے بلند اخراجات‘ گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری وغیرہ شامل ہیں۔رواں سال ملک میں 29ملین ٹن سے زائد گندم پیدا ہوئی جبکہ ایک ملین ٹن گندم بیرونِ ملک سے بھی درآمد کی جا رہی‘ اور یہ تمام ذخائر ملکی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے کافی ہیں۔

آٹا بحران پر قابو پانے کیلئے ایک مستقل پالیسی بھی ناگزیر ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ آئندہ گندم سیزن کیلئے‘ جس کا آغاز 15 اکتوبر سے ہو چکا ہے‘ بلاتاخیر گندم کی پُر کشش امدادی قیمت کا اعلان کرے تاکہ زیادہ سے زیادہ کسان گندم کی کاشت کی طرف راغب ہوں اور گندم کی بمپر فصل حاصل کی جا سکے۔ نیز گندم کی خریداری اور ذخیرہ کاری کے حوالے سے بھی پائیدار اور ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔ یہ عوام کی بنیادی غذا کا معاملہ ہے‘ اسے ہر سال نئے تجربے کی نذر نہیں کیا جا سکتا۔ </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>غربت، سنگین مسئلہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-17/11636</link><pubDate>Sat, 17 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-17/11636</guid><description>آج دنیا بھر میں غربت کے خاتمے کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ پاکستان میں یہ مسئلہ سنگین صورت اختیار کر چکا ہے۔ یو این ڈی پی کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی 38.3فیصد آبادی غربت کا شکار ہے۔ عالمی ادارہ برائے خوراک و زراعت کی رپورٹ بھی اس بحران کی سنگینی واضح کرتی ہے جسکے مطابق ملک کی 60 فیصد سے زائد آبادی صحت بخش اور غذائیت سے بھرپور خوراک خریدنے کی مالی سکت کھو چکی ہے۔ ان حالات میں حکومت کو چاہیے کہ ملک سے غربت کے خاتمے کیلئے محض امدادی رقوم کی تقسیم جیسے اقدامات پر اکتفا نہ کرے بلکہ اس کیلئے ایسا معاشی اور سماجی ڈھانچہ قائم کرے جو شہریوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے مواقع فراہم کرے۔ چین کی مثال اس ضمن میں غیرمعمولی اہمیت رکھتی ہے جس نے چار دہائیوں میں تقریباً 80 کروڑ افراد کو انتہائی غربت سے باہر نکالا ہے۔

اس کامیابی کے پیچھے صنعتی ترقی‘ زرعی اصلاحات‘ روزگار کے مواقع‘ بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری اور انسانی ترقی پر مسلسل توجہ جیسے عوامل کارفرما تھے۔ بنگلہ دیش نے بھی حالیہ برسوں میں غربت میں نمایاں کمی کی ہے جس میں زرعی شعبے‘ محنت کشوں کی آمدن اور سماجی ترقی نے کردار ادا کیا ہے۔ ہمیں بھی روزگار کی فراہمی‘ صنعتی پیداوار میں اضافے‘ چھوٹے کاروباروں کی سرپرستی‘ زرعی شعبے کی جدید کاری اور نوجوانوں کی فنی تربیت کو ترجیح دینا ہو گی۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>تحریک انصاف کی جان کس طوطے میں ہے؟(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-10-17/52856/61944499</link><pubDate>Sat, 17 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-10-17/52856/61944499</guid><description>کیا تحریک انصاف کی جان اقتدار کے طوطے میں تھی؟ جب اُس کی گردن مروڑ دی گئی‘ اس کی روح پرواز کر گئی؟دو باتیں ظاہر وباہر ہیں۔ گزشتہ چند سالوں میں تحریک انصاف نے اگر کہیں زندگی کا کوئی ثبوت فراہم کیا ہے تو اس کا اظہار کے پی میں ہوا۔ وزیراعلیٰ کے پی نے لاہور یا کراچی کا رخ کیا تو کچھ ہلچل دکھائی دی۔ اس کے بعد اور پہلے‘ وہی قبرستان والی خاموشی کا غلبہ ہے۔ دھرنے کا شور بلند ہوا تو صرف کے پی میں۔ سارا ملک اس سے لاتعلق رہا۔ صوبے میں حکومت کا خاتمہ تحریک انصاف کے لیے بڑا واقعہ تھا۔ اس پر بھی اگر احتجاج کی کوئی صدا بلند ہوئی تو پارلیمنٹ کے ایوانوں سے۔ اب تو کے پی میں بھی پُراسرار خاموشی چھائی ہوئی ہے۔ جیسے کچھ تھا ہی نہیں۔تحریک انصاف اگر سیاسی جماعت ہوتی تو اقتدار سے بے نیاز اپنی قوت کا اظہار کرتی۔ کوئی صدائے احتجاج بلند ہوتی‘ کوئی شور برپا ہوتا‘ کہیں صفِ ماتم بچھتی۔ ایسا کچھ نہیں ہوا۔ سیاسی جماعتیں اپنی زندگی کے لیے اقتدار کی محتاج نہیں ہوتیں۔ ان کا تکیہ عوام پر ہوتا ہے۔ خود تحریک انصاف کی اپنی تاریخ میں اس کی مثال موجود ہے۔ 2018ء میں تحریک انصاف کو اقتدار ملا تو نااہلی کی دیمک اس کو چاٹ گئی۔ ان کی مقبولت کا گراف نیچے آنے لگا۔ یہاں تک کہ جب اس کے خلاف عدم اعتماد ہو رہا تھا وہ غیر مقبولیت کی انتہا پر تھی۔ آئندہ انتخابات کے لیے ہر سیاسی کارکن کی خواہش تھی کہ اسے (ن) لیگ کا سائبان میسر آ جائے۔جیسے ہی اقتدار کا سورج غروب ہوا‘ تحریک انصاف میں جان پڑ گئی۔ عمران خان صاحب ایک متبادل سیاسی حکمت عملی کے ساتھ میدان میں اترے اوران کی عدم مقبولیت‘ مقبولیت میں بدلنے لگی۔ دو باتوں نے پی ٹی آئی کو نئی زندگی دی۔ ایک سیاسی بیانیہ‘ جو غلط ہونے کے باوجود مقبول ہوا۔ دوسری عمران خان کی قیادت۔ اقتدار سے ان کی رخصتی میں امریکہ کا ہاتھ نہ تھا نہ ریاست کا۔ حالات میں صرف ایک تبدیلی آئی تھی۔ جو ریاستی ادارے ان کی سرپرستی کر رہے تھے‘ انہوں نے اپنا دستِ شفقت اٹھا لیا اور یہ پیغام اہلِ سیاست تک پہنچ گیا۔ مخالفین کے لیے ریاست کی اتنی حمایت کافی تھی۔ یہ پیغام ملنے کے بعد بقا کے لیے انہوں نے عدم اعتماد کی تحریک ہی کا ساتھ دینا تھا۔عمران خان صاحب نے اپنی کمزوری کو اپنی طاقت میں بدل دیا۔ ایک بیانیہ بنایا جو عوامی حمایت حاصل کر سکتا تھا۔ پاکستان میں دو بیانیے ہمیشہ مقبول رہے ہیں۔ ایک مذہب اور دوسرا امریکی مخالفت۔ عمران خان صاحب نے دوسرے کو استعمال کیا اور کامیابی کے ساتھ۔ یوں انہوں نے صفیں الٹ دیں۔ بھاگتے ہوئے لوگ لوٹ آئے اور مقبولیت نے دوبارہ ان کے گھر کا رخ کر لیا۔ عمران خان صاحب کی شخصیت نے مایوس کارکنوں میں دوبارہ جوش و خروش پیدا کر دیا۔ یہ حکمت عملی کامیاب ثابت ہوئی۔ اس کے دو اسباب تھے۔ ایک یہ کہ پارٹی کے ساتھ ایسے لوگ وابستہ تھے جو متحرک تھے۔ دوسرے یہ کہ خود عمران خان عوام کے درمیان تھے جو مرکزِ کشش تھے۔تحریک انصاف کو یہ بات سیکھنی چاہیے تھی کہ سیاسی جماعتوں کے لیے اقتدار مستقل سہارا نہیں ہوتا۔ ان کو زندہ رہنے کے لیے عوامی تائید پر انحصارکرنا پڑتا ہے۔ سیاسی تنظیم موجود ہو تو مشکل حالات میں بھی زندہ رہا جا سکتا ہے۔ پیپلز پارٹی‘ ایم کیو ایم‘ جماعت اسلامی‘ اے این پی سمیت کئی مثالیں موجود ہیں کہ جن جماعتوں کی جڑیں عوام میں تھیں‘ انہوں نے خود کو مرنے نہیں دیا۔ بدلتے حالات میں خود کو زندہ رکھا۔ گزشتہ انتخابات کے بعد‘ پی ٹی آئی کے پاس موقع تھا کہ وہ اپنی صفوں کی ترتیت درست کرتی۔ اسے ایک صوبے کا اقتدار میسر تھا اور پارلیمنٹ میں بھی اس کی قابلِ ذکر نمائندگی موجود تھی۔ اگر ان میں سیاسی حس ہوتی تو وہ اپنی اس قوت کو منظم کرتے۔ سسٹم نے ان کے لیے جو جگہ پیدا کر دی تھی‘ اس سے فائدہ اٹھاتے۔ عمران خان صاحب کے متبادل کے طور پر‘ سیاسی بیانیہ اور تنظیم مضبوط بناتے۔ اس کے برخلاف انہوں نے یہ خیال کیا کہ ان کی اصل قوت ہیجان ہے۔ صوبائی حکومت نے عوام کے لیے فلاحی منصوبے بنانے کے بجائے‘ حکومتی وسائل کو بھی ہیجان برپا کرنے کے لیے استعمال کیا۔ وزیراعلیٰ‘ جوبھی آیا‘ اس نے بلند آہنگ ہونے کو اپنی قوت سمجھا۔یہ اندازِ سیاست عمران خان صاحب کا عطا کردہ تھا۔ علی امین گنڈاپور ہوں یا سہیل آفریدی‘ ان کا اپنا انتخاب تھا۔ اس سے واضح تھا کہ وہ خود ہی ہیجان پر مبنی سیاست کرنا چاہتے تھے۔ اس سے ایک طرف ریاست کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہوا اور دوسری طرف ان کو وہ سیاسی قیادت میسر نہ آ سکی جو تحمل اورصبر کے ساتھ سیاسی جدوجہد جاری رکھتی۔ جس نے حکمت کی بات کی‘ اسے نکو بنا دیا گیا۔ سیاست ٹیسٹ میچ ہے‘ ٹی ٹوینٹی نہیں۔ عمران خان صاحب کو یہ بات سمجھنا چاہیے تھی۔ وہ خود اس بات کا اظہارکرتے تھے کہ میں نے 26 سال سیاست کی۔ ان کو سمجھنا چاہیے تھا کہ پاشا‘ باجوہ یا کسی اور کا فیض لازم نہیں کہ ہمیشہ میسر رہے۔بتایا گیا کہ عمران خان نواز شریف نہیں بننا چاہتے۔ نواز شریف بننے کے لیے سیاست کے فن کو سیکھنا پڑتا ہے۔ کچھ نیم خواندہ اور نیم انقلابی لوگوں نے سیاست کے مفہوم کو بدلنے کی کوشش کی اور حکمت کو بزدلی کے مترادف بنا دیا۔ پاکستان میں کلثوم نواز صاحبہ نے سیاست کی اور علیمہ خان صاحبہ نے بھی۔ دونوں کے اندازِ سیاست کا فرق بتاتا ہے کہ دونوں کے تصوراتِ سیاست کتنے مختلف ہیں۔ 2022ء تک نواز شریف صاحب نے جو سیاست کی وہ سیاست کی روح کے مطابق تھی۔ اس کے بعد ان کی سیاست کا رخ بدلا‘ لیکن یہ اس وقت میرا موضوع نہیں۔ اس کا تجزیہ کسی دوسرے کالم میں۔ میں خود کو ان کی موجودہ سیاست سے متفق نہیں پاتا اور اس کا اظہار بھی کرتا ہوں۔آج تحریک انصاف نے اپنے لیے سب راستے بند کر دیے ہیں۔ سسٹم نے اس کے لیے جو راستے کھولے تھے‘ اس نے ان پر چلنے سے انکارکیا۔ ایک راستہ تھا کے پی کی حکومت۔ اس نے اسے اپنے ہاتھوں سے بند کر دیا۔ اب صرف پارلیمنٹ کا راستہ کھلا ہے۔ میں بارہا توجہ دلاتا رہا کہ تحریک انصاف کو سیاسی جماعتوں کے ساتھ معاملہ کرنا چاہیے۔ ان کے ساتھ باہمی احترام پر مبنی تعلق قائم کرنا چاہیے۔ وہی ان کے فطری حریف ہیں۔ اسی طرح ریاست کے ساتھ تصادم کے بجائے‘ اسے اپنے لیے امکانات تلاش کرنے چاہئیں تھے۔ لیکن چونکہ انہوں نے یہ طے کر لیا ہے کہ عقل وحکمت کی ہر بات کے لیے دل ودماغ کے دروازے بند رکھنے ہیں اور اپنی باگ ان وی لاگرز کے ہاتھ میں تھما دینی ہے جو انہیں جھوٹی خبریں دیتے اور سبز باغ دکھاتے ہیں۔ اس لیے وہ آج اس حال کو پہنچے۔تحریک انصاف کو آج بھی عوام میں مقبولیت حاصل ہے۔ یہ تعداد معمولی نہیں۔ اس کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ یہ عوامی حمایت اس کے لیے سیاسی طور پر کیسے مفید ہو سکتی ہے؟ یہ سیاسی سوال ہے اور سیاست کو انہوں نے گالی بنا کر اسے نواز شریف صاحب سے منسوب کر دیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ ہیجان سے تبدیلی آتی ہے۔ اقتدار ہو تو بھی ہیجان‘ نہ ہو تو بھی ہیجان۔ جب تک ان کا یہ اندازِ نظر باقی ہے‘ ان کے لیے راستے کھل سکتے ہیں نہ جیل کے دروازے۔ </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>شامل باجا(خالد مسعود خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-10-17/52857/73772791</link><pubDate>Sat, 17 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-10-17/52857/73772791</guid><description>ہم تینوں کے گزشتہ آخری سفر کا اختتام ویانا ایئرپورٹ پر ہوا۔ بابر اور صابر مانچسٹر کی فلائٹ پر سوار ہوئے جبکہ میں ویانا سے لندن روانہ ہو گیا جہاں چند دن اسد کے ساتھ گزارنے کے بعد میں نے ملتان چلے جانا تھا۔ حسبِ معمول سفر کی آخری مشترکہ منزل پر بیٹھ کر اگلے سفر کا مقام طے کیا گیا۔ قرعہ فال پرتگال کے نام نکلا۔بابر‘ صابر اور میں نے کئی سال قبل یہ طے کیا کہ ہم ہر سال چند روز کیلئے کہیں نہ کہیں اکٹھے جایا کریں گے۔ مختلف مجبوریوں اور مصروفیات کی وجہ سے یہ ہر سال جانے والا معاملہ کچھ زیادہ باقاعدگی سے نہیں چل رہا۔ تاہم ہر سال والی بات سے ہٹ کر‘ جب بھی وقت ملے ہم تینوں کسی نئی جگہ چل پڑتے ہیں۔ بابر اور صابر دونوں بھائی مانچسٹر میں رہتے ہیں۔ میں بھی پاکستان سے مانچسٹر آ جاتا ہوں اور پھر وہاں ہم اکٹھے ہو کر اپنی طے شدہ منزل کی جانب روانہ ہو جاتے ہیں۔ ہر سفر کے اختتام پر خواہ وہ مانچسٹر میں ہو یا کسی اور شہر میں‘ ہم ایئرپورٹ پر بیٹھ کر اگلے سفر اور اگلی منزل کا فیصلہ کرتے ہیں اور پھر اپنی اپنی منزل کی جانب روانہ ہو جاتے ہیں۔اس روز ویانا ایئرپورٹ پر ہمارے پیشِ نظر تین مقامات تھے: وارسا‘ روم اور لزبن۔ روم کو میں نے ویٹو کر دیا کہ صرف چار دن کے لیے روم جانا مجھے قبول نہیں۔ روم‘ پیسا اور فلورنس کے لیے زیادہ نہ سہی تو بھی سات دن درکار ہیں اور وہ دونوں سات دن کے لیے تیار نہ تھے۔ وارسا کا معاملہ مؤخر کرتے ہوئے بالآخر لزبن جانے کا طے ہو گیا۔ اگلے سال کبھی میں کہیں اور نکل جاتا تھا‘ کبھی صابر کو مصروفیات درپیش آ گئیں‘ کبھی بابر کی طبیعت ناساز ہو گئی۔ اس طرح یہ معاملہ لٹکتے لٹکتے دو سال پر محیط ہو گیا۔ دو سال بعد میں مانچسٹر پہنچا‘ دو تین دن مانچسٹر میں گزارے اور پھر ہم لزبن پہنچ گئے۔جہازوں کی بکنگ‘ سفر کے سارے معاملات کو میں نے اور بابر نے آپس میں تقسیم کر رکھا ہے بلکہ تقسیم بھی کیا‘ منصوبہ بندی کی حد تک سفر کے سارے معاملات میں فائنل کرتا ہوں جبکہ عملی طور پر سارا کام بابر کرتا ہے‘ مثلاً جہاں جانا ہے وہاں کے قابلِ دید مقامات کی فہرست بنانا اور ہر روز کا مکمل شیڈول بنانا میری ذمہ داری ہے جبکہ ان جگہوں کے لیے آن لائن ٹکٹوں کی خریداری بابر کے ذمے ہے۔ سفر کے لیے دن طے کرنا میرا کام ہے تاہم اس روز کی ہوائی پروازوں کا شیڈول مجھے بھیجنا بابر کا کام ہے۔ پرواز کی روانگی اور منزلِ مقصود پر آمد کا وقت مدنظر رکھتے ہوئے پرواز کا انتخاب میں کرتا ہوں جبکہ اس کی بکنگ کا سارا معاملہ بابر کے ذمہ ہے۔ اسی طرح رہائش کے لیے دو تین مختلف متبادل رہائش گاہوں کو تلاش کرنا بابر کی ذمہ داری ہے اور وہ اپنا کام کر کے ان تمام رہائش گاہوں کی تفصیلات اور لوکیشن مجھے بھجوا دیتا ہے۔ میں اس شہر میں اپنے روزانہ کے شیڈول اور لوکیشنز کو مدنظر رکھتے ہوئے رہائش گاہ کا انتخاب کرتا ہوں اور بابر اس کی بکنگ کرتا ہے۔ صابر اس دوران پان مسالا چبانے کے علاوہ کوئی کام نہیں کرتا۔میں نے اپنے سفری تجربے کے بعد دو تین لوگوں کے مشترکہ سفر اور سہولت کے ساتھ ساتھ کم خرچ ہونے کے باعث ایئر بی این بی (ایئر بیڈ اینڈ بریک فاسٹ) کے مختصر عرصے کے لیے کرائے پر ملنے والے اپارٹمنٹس کو ترجیح دیتا ہوں۔ امریکی شہر سان فرانسسکو سے کنٹرول ہونے والی یہ رہائشی سہولت ویسے تو پوری دنیا میں دستیاب ہے لیکن یورپ‘ آسٹریلیا اور خاص طور پر امریکہ میں یہ نہ صرف بہت مقبول ہے بلکہ ہوٹل کی نسبت کم خرچ ہونے کے باوجود سہولتوں اور آسانیوں کے حوالے سے ایسی شاندار رہائشی سہولت ہے کہ اس کے بعد ہوٹل میں رہنا بے مزہ لگتا ہے۔ امریکہ میں بچوں کے ساتھ کئی بار اس سہولت کو استعمال کرنے کے بعد تو میری سفری عادتیں باقاعدہ خراب ہو گئیں اور ہوٹل میں رہنا باقاعدہ مصیبت لگنے لگ گیا۔گیٹلن برگ میں پہاڑی کے قدموں میں بہتی ہوئی جھاگ اُڑاتی ندی کے عین اوپر واقع تین خواب گاہوں‘ لاؤنج‘ کچن اور ندی کے اوپر بڑھے ہوئے برآمدے والی اس رہائش گاہ میں ضرورت کی ہر شے موجود تھی۔ فریج میں دو درجن انڈے‘ ایک عدد بڑی ڈبل روٹی‘ دو لٹر والی دودھ کی بوتل اور کریم چیز پڑا ہوا تھا۔ باورچی خانے میں چائے کی پتی‘ چاکلیٹ پاؤڈر‘ تمام ضروری مسالا جات‘ کیچپ‘ کوکنگ آئل کی بوتل‘ آٹھ لوگوں کے لیے درکار مکمل ڈنر سیٹ‘ ساری کٹلری اور ڈش واشر موجود تھا۔ کچن کیبنٹ میں مختلف اقسام کی چٹنیاں اور ساسز موجود تھیں۔ ماسٹر بیڈکی وارڈ روب میں استری اور ہر کمرے کی الماری میں درجن بھر ہینگر لٹکے ہوئے تھے۔ لانڈری میں واشنگ مشین بمعہ واشنگ پاؤڈر اور ہر باتھ روم میں شیمپو‘ صابن‘ تولیے اور ڈھیروں ٹشو رول پڑے ہوئے تھے۔ لینن کیبنٹ میں اگلے کئی روز کی ضرورت کے پیش نظر دو درجن کے لگ بھگ تولیے اور بیڈ کورز پڑے ہوئے تھے اور لاؤنج میں موجود آئی لینڈ پر ایک عدد کافی مشین پڑی تھی جس کے ساتھ ایک بڑا ڈبہ کافی کے کیپسولز کا موجود تھا۔ غرض چند روزہ سفر اور قیام کے دوران ضرورت کی کیا چیز تھی‘ جو وہاں میسر نہیں تھی۔ گھر کے دروازے پر ڈیجیٹل لاک لگا ہوا تھا جو نہ صرف نمبر ٹچ کرنے سے کھلتا تھا بلکہ اس کا مالک گھر بیٹھے اپنے فون پر اس تالے کی ایپ سے اسکا نمبر جب چاہے تبدیل کر سکتا تھا۔ اس تالے کو کھولنے کا چار نمبروں پر مشتمل کوڈ ہمیں اس گھر کی بکنگ مکمل ہونے کے بعد کی جانیوالی ادائیگی کے فوراً بعد بذریعہ ای میل بھیج دیا گیا تھا۔ رہائش کے معاہدے میں رہائش گاہ (پراپرٹی) کو خالی کرتے وقت مکمل طور پر صاف کر کے اس کی بہترین حالت میں چھوڑنے کا انتباہ تھا اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں اس کا سارا خرچہ مقیم کے ذمے ڈالنے کی شق شامل تھی۔ قارئین! ان ساری تفصیلات کا مقصد سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ جہاں اس مسافر طبیعت قلمکار کو پڑھنے والے مسافر طبیعت قارئین اس تجربے سے فائدہ اٹھا سکیں‘ وہیں پاکستان میں ایئر بی این بی آپریٹ کرنے والے حضرات یہ جان سکیں کہ اس سہولت کا معیار دیارِ غیر میں کس حد تک بلند ہو چکا ہے۔ سفر نامے پڑھنے کے ساتھ ساتھ مستقبل کے مسافروں کے لیے سودمند اور معلوما ت کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ پیسہ اخبار کے ایڈیٹر منشی محبوب عالم نے 1900ء میں یورپ‘ مصر اور شام کا سفر کیا اور اس کی روداد اپنے پیسہ اخبار میں قسط وار شائع کی۔ بعد میں 1908ء میں انہوں ساڑھے نو سو سے زائد صفحات پر مشتمل &#39;&#39;سفر نامہ یورپ‘‘ شائع کیا۔ اس کا اردو زبان کے اولین سفر ناموں میں شمار ہوتا ہے۔ ابن انشا اپنی کتاب &#39;&#39;آوارہ گرد کی ڈائری‘‘ میں 1967ء میں یونیسکو کے زیر اہتمام اپنے یورپ کے سفر کی روداد میں جرمنی کے سفر سے متعلق ایک باب جس کا عنوان &#39;&#39;برلن ہمارا اور منشی جی کا‘‘ میں رقمطراز ہیں کہ ان کے اس سفر کے دوران منشی محبوب عالم کی 67 سال قبل لکھی گئی کتاب بڑی رہنما ثابت ہوئی۔ یہ کتاب ان کے لیے نہ صرف 1900ء کے یورپ اور 1967ء کے یورپ کا تقابلی موازنہ کرنے کے کام آئی بلکہ اس کتاب میں درج بہت سی چیزیں بشمول ہوٹل وغیرہ نہ صرف موجود تھے بلکہ ان کے بہت کام آئے۔میں حسبِ معمول لزبن جانے کے بجائے کہیں اور چلا گیا لیکن مجھے نہ صرف یہ کہ اپنے قلم کے اس طرح بہک جانے پر کوئی شرمندگی نہیں بلکہ مجھے یہ بھی یقین ہے کہ آپ نے بھی اس حرکت کا برا نہیں منایا ہو گا کیونکہ پہلی بات تو یہ ہے کہ اب آپ میری اس خراب عادت کے عادی ہو چکے ہوں اور دوسری بات یہ کہ میں بہک کر بھی کم از کم مسافرت کے دائرے سے باہر نہیں نکلا۔ ایئر بی این بی کا قصہ بھی سفر کا ہی حصہ ہے۔ سو اس تفصیل کو بھی لزبن کے سفر میں شامل باجا سمجھیے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90500073.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>لائبہ کی موت کے ہم کتنے ذمہ دار ہیں؟(ڈاکٹر حسین احمد پراچہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-10-17/52858/42879104</link><pubDate>Sat, 17 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-10-17/52858/42879104</guid><description>لائبہ کی خود کشی میرے لیے دہرا صدمہ ہے۔ ایک تو پاکستان کی نہایت ہونہار بیٹی کی اندوہناک موت اور دوسرا‘ اس کا تعلق انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد سے تھا‘ جو یونیورسٹی آج بھی میری یادوں اور دعائوں کا حصہ ہے۔ سالہا سال سے ہمارے معاشرے میں ایسی دل دہلا دینے والی خودکشیاں ہوتی آ رہی ہیں۔ ایسے ہر سانحہ کے بعد حکمرانوں کی طرف سے روٹین کے طور پر مجرموں کو کیفرِکردار تک پہنچانے‘ لواحقین سے تعزیت کرنے اور ان کی تھوڑی بہت اشک شوئی کے بعد رات گئی بات گئی والا معاملہ ہو جاتا ہے۔ پاکستان میں ہر سال خود کشی کرنے والے پریشان حال لوگوں کا کوئی ریکارڈ مرتب کیا جاتا ہے‘ نہ ہی ان سانحات کی وجوہات و اسباب کا تجزیہ ہوتا ہے۔ یہاں نہ تو ان کے تدارک کیلئے کوئی ریسرچ کی جاتی ہے اور نہ ہی اصلاحِ احوال کیلئے کوئی تجاویز منظر عام پر آتی ہیں۔ ہر واقعے کے بعد میڈیا پر شور مچتا ہے‘ حکمران دو چار روز صفِ ماتم بچھاتے اور پھر دیگر کاموں میں مشغول ہو جاتے ہیں۔ اس طرح کی خبریں عام ہیں کہ جامعات میں طلبہ بالخصوص طالبات کچھ نفسیاتی پریشانیوں اور جذباتی صدمات کی بنا پر زندگی کا چراغ گل کرنے پر تل جاتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ گولڈ میڈل کیساتھ بی ایس کی ڈگری حاصل کرنے والی طالبہ کی افسوسناک موت کا ذمہ دار کون ہے؟ماہرینِ نفسیات بتاتے ہیں کہ جب کوئی شخص ہر طرف سے مایوس ہو جاتا ہے‘ اپنے آپ پر اس کا اعتماد متزلزل ہو جاتا ہے‘ سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں مائوف ہو جاتی ہیں‘ جب اسے گرداب میں ٹامک ٹوٹیاں مارتے ہوئے حدِ نظر پر کوئی کنارہ نظر نہیں آتا تو پھر وہ اپنی جان لینے کے درپے ہو جاتا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ طالبہ کی خودکشی کی ذمہ داری ہمارے نظامِ تعلیم پر عائد ہوتی ہے یا ہمارا سماجی نظام اس کا ذمہ دار ہے۔ بہت سے ماہرینِ تعلیم و سیاست کے نزدیک اس کی سب سے بڑی ذمہ داری ہماری حکومتوں پر عائد ہوتی ہے۔ روز مرہ لیکچرز اور امتحانات کے علاوہ شاہراہِ حیات پر آگے بڑھنے‘ دنیا کے اعلیٰ تعلیمی مراکز تک آن لائن اپلائی کرنے اور سکالرشپس کے حصول کیلئے دنیا کی اکثر یونیورسٹیوں میں حوصلہ افزائی اور رہنمائی فراہم کی جاتی ہے‘ اسی طرح طلبہ وطالبات کے جذباتی ونفسیاتی مسائل کے حل کیلئے ہمدرد قسم کی ہیلپ لائن اور گائیڈنس کا نظام و اہتمام بھی ہوتا ہے۔ مذکورہ طالبہ کی ٹریجڈی سے تو یہ آشکار ہوتا ہے کہ اس کے خاندان نے اپنی صاحبزادی کے سنہرے تعلیمی سپنوں کو حقیقت کا روپ دینے کیلئے اپنی ملکیت میں موجود ہر شے کو قربان کر دیا مگر جس طرح اپنے ہدف کے حصول کیلئے اس نے ٹریولنگ ایجنٹس اور تعلیم سے غیر متعلقہ لوگوں کا راستہ اختیار کیا‘ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یونیورسٹی کے اندر یا باہر کوئی ایسا مؤثر نظام موجود نہ تھا اور نہ ہی ایسی کوئی ہیلپ لائن تھی جو اس کی مدد کرتی۔ اگر عملی تربیت ومعاونت کا کوئی اہتمام ہوتا تو اسے معلوم ہوتا کہ اسے کسی اعلیٰ غیر ملکی یونیورسٹی میں داخلے اور سکالرشپ کیلئے کسی ٹریولنگ ایجنٹ یا کنسلٹنٹ کے بجائے آ لائن اپلائی کرنا ہوتا ہے۔میں نے متعلقہ یونیورسٹی کے حکام سے رابطہ کرنے اور طلبہ و طالبات کی عملی تربیت کے کسی انتظام کی موجودگی کے بارے میں معلوم کرنے کی کوشش کی‘ شعبہ امورِ طالبات کی ڈائریکٹر صاحبہ کو کال بھی کی اور مسیج بھی مگر ان کی طرف سے کوئی جواب نہ آیا۔ شعبہ امور طلبہ کے ڈائریکٹر صاحب سے بات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ کچھ دیر بعد کال کریں گے مگر کال نہ آئی۔ یونیورسٹی کے وائس پریذیڈنٹ (اکیڈیمک) کے آفس میں مسیج چھوڑا مگر ان کی طرف سے بھی کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔ اگرچہ مذکورہ طالبہ تقریباً سال ڈیڑھ سال قبل یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہو چکی تھی‘ اس لیے اس کے ساتھ ہونے والے فراڈ سے اس کی مادرِ علمی کا کوئی تعلق نہیں مگر میں یونیورسٹی کے متعلقین سے براہِ راست معلوم کرنا چاہتا تھا کہ وہاں طلبہ وطالبات کی رہنمائی اور نفسیاتی و جذباتی صدمات کی صورت میں ان کی معاونت کا کیا انتظام ہے۔ تاہم خاکسار نے اپنی کوشش سے معلوم کیا کہ یونیورسٹی کی 14000 طالبات کیلئے ایک خاتون ڈائریکٹر اور اسی طرح 15000 طلبہ کیلئے ایک ڈائریکٹر ہے۔ ظاہر ہے کہ ڈائریکٹرز اور ایڈوائزر طلبہ کی اتنی بڑی تعداد کے ساتھ براہِ راست مکالمہ کر سکتے ہیں اور نہ ہی ان کی رہنمائی کر سکتے ہیں۔ دیگر سرکاری یونیورسٹیوں کی طرح مذکورہ یونیورسٹی میں بھی ایک طلبہ کونسلنگ سنٹر موجود ہے مگر ان سنٹرز کی حیثیت بالعموم بے روح ڈھانچوں سے بڑھ کر نہیں ہوتی۔ بیرونِ ملک یونیورسٹیوں میں ہی نہیں سکولوں تک میں نہایت اعلیٰ تعلیم یافتہ اور بہترین تربیت یافتہ گائیڈز ہوتے ہیں۔ یہ نہایت شفیق و مہربان شخصیات ہوتی ہیں جو سٹوڈنٹس کی رہنمائی کیلئے ہفتہ وار کنسلٹیشن سیشن کے علاوہ ہر وقت قابلِ رسائی ہوتے ہیں۔ طلبہ وطالبات کسی بھی پریشانی میں اپنے ان گائیڈز کے ساتھ بلا جھجک رابطہ کرتے ہیں۔ پاکستان کی چند اعلیٰ پرائیویٹ یونیورسٹیوں کے ہر ڈپارٹمنٹ میں زیادہ سے زیادہ آٹھ دس طلبہ کیلئے ایک پراکٹر ہوتا ہے جو ہفتہ وار میٹنگ میں طلبہ کی رہنمائی کرتا ہے۔ انہیں آگاہ کرتا ہے کہ بیرونِ ملک اعلیٰ دانش گاہوں میں آن لائن اپلائی کیسے کرنا ہے‘ اس کیلئے متعلقہ ڈپارٹمنٹ کے اساتذہ سے تعریفی و سفارشی لیٹرز کے حصول میں مدد کرتے ہیں۔یہ پراکٹرز طلبہ و طالبات کی دلجوئی اور حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ کسی بھی پریشانی میں انہیں ضرور ملیں اور رہنمائی حاصل کریں۔ ان اداروں میں سٹوڈنٹ ہیلپ لائن بھی ہوتی ہے۔ اسلامک یونیورسٹی میں دیگر سرکاری یونیورسٹیوں کی طرح شعبہ جاتی سطح پر ٹیٹوریل گروپس (Tutorial Group) کا کوئی انتظام واہتمام نہیں۔جرمن فلاسفر نطشے اور دیگر کئی اہم فلاسفروں کا کہنا ہے کہ فلسفے کا ایک ہی سنجیدہ اور گمبھیر مسئلہ ہے جس کا نام خودکشی ہے۔ یہ فلسفی یہ سوچتے ہیں کہ زندگی جینے کے قابل ہے یا نہیں۔ ہم اس بحث میں الجھنے کے بجائے اصل مسئلے کی طرف آتے ہیں کہ دنیا میں زیادہ تر خودکشیاں نفسیاتی وجذباتی الجھنوں کی بنا پر ہوتی ہیں۔ ماہرینِ نفسیات کا کامیاب تجربہ یہ ہے کہ خودکشی کے رجحات رکھنے والے لوگوں کو خطِ یاس سے شاہراہِ امید پر واپس لانے کیلئے ہمدردی‘ دلجوئی اور مکالمہ اکسیر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ لوگ بالعموم مریض نہیں ہوتے بلکہ کسی وقتی الجھن کا شکار ہو کر زندگی سے مایوس ہو جاتے ہیں۔ہائر ایجوکیشن کمیشن اسلام آباد کے چیئرمین جناب ڈاکٹر نیاز احمد ایک صاحبِ علم اور جہاندیدہ شخصیت ہیں۔ انہوں نے دنیا کی بہترین دانش گاہوں سے اکتسابِ فیض کیا اور اب بھی اعلیٰ یونیورسٹیوں کے تعلیمی وتربیتی پروگراموں اور طریقِ کار کے بارے میں تازہ ترین معلومات سے آگاہ رہتے ہیں۔ جناب ڈاکٹر نیاز احمد طلبہ و طالبات کی تعلیمی و نفسیاتی رہنمائی کیلئے ایک مؤثر انتظام ساری یونیورسٹیوں میں رائج کریں۔ ٹیٹوریل گروپس ہر شعبے میں تشکیل دیے جائیں‘ جہاں اساتذہ خانہ پُری نہیں بلکہ حقیقی رہنمائی‘ دلجوئی کا کلچر پروان چڑھائیں۔ طالبہ لائبہ جیسے سانحات کی ذمہ داری کسی ایک یونیورسٹی یا تعلیمی ادارے پر نہیں ڈالی جا سکتی بلکہ حقیقت میں ہم سب من حیث الکل اس کے ذمہ دار ہیں۔ جہاں قدم قدم پر فراڈ اور رشوت ستانی کی سرنگیں بچھی ہوئی ہوں وہاں اس طرح کے المیے اور سانحے ہوتے رہیں گے۔ حکومتیں سیاسی اکھاڑ پچھاڑ کے بجائے بنیادی اصلاحِ احوال کی طرف بھی کبھی متوجہ ہوں۔ لائبہ جیسے سانحات میں غمگین و رنجور خاندان کیلئے تعزیت و ہمدردی کے الفاظ اپنی معنویت کھو دیتے ہیں‘ تاہم ہماری دعا ہے کہ رب کریم غمزدہ خاندان کو صبرِ جمیل عطا کرے‘ آمین! اللہ لائبہ کی خطائوں کو معاف اور اس کی حسنات کو قبول فرمائے اور اسے اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے‘ آمین!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_70033906.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>تاریخ کا کوڑے دان(افتخار احمد سندھو)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/iktakhar-ahmed-sandhu/2026-10-17/52859/45823388</link><pubDate>Sat, 17 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/iktakhar-ahmed-sandhu/2026-10-17/52859/45823388</guid><description>تاریخ کا سبق یہ ہے کہ ماضی کے واقعات سے سیکھ کر ہم اپنے حال اور مستقبل کے فیصلوں کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ تاریخ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ طاقتور حکمران اور عظیم سلطنتیں بھی عوامی اعتمادکے بغیر قائم نہیں رہ سکتیں اور جو لوگ عوامی حمایت کھو دیتے ہیں وہ کسی بیرونی مدد کے باوجود زوال کا شکار ہو جاتے ہیں۔ پاکستان‘ ایران اور افغانستان کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں کہ لمحوں نے خطا کی اور صدیوں نے سزا پائی۔ مظفر رزمی نے بالکل ٹھیک کہا تھا:یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نےلمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائیمیں تاریخ کا ایک ادنیٰ سا طالب علم ہوں‘ دنیا کی تاریخ پڑھتے پڑھتے میری عمر گزری ہے اور تاریخ کا سبق یہ ہے کہ تاریخ سے کبھی کسی نے سبق حاصل نہیں کیا۔ اور اسی طرح ہم نے بھی بطور قوم تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ احمد فراز نے اپنی نظم &#39;&#39;محاصرہ‘‘ میں نامہ بر کو مخاطب کرتے ہوئے کیا خوب کہا تھا:یہ شرط نامہ جو دیکھا تو ایلچی سے کہا؍ اسے خبر نہیں تاریخ کیا سکھاتی ہےکہ رات جب کسی خورشید کو شہید کرےتو صبح اک نیا سورج تراش لاتی ہےلیکن بدقسمتی سے تاریخ ہماری &#39;&#39;تاریخی شہادت‘‘ کے باوجود ہمارے لیے کوئی نیا سورج تراش کر نہیں لائی اور اس کی وجہ یہی ہے کہ ہم نے تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ اور جو قوم تاریخ سے سبق نہ سیکھے تاریخ اُس کو اپنے قبرستان میں دفن کر دیتی ہے۔ چند افراد کا گناہ تو معاف کیا جا سکتا ہے لیکن کسی قوم کی بے حمیتی کا کوئی حل نہیں ہے‘ یہ ایک ناقابلِ معافی جرم ہے۔ بقول اقبال:فطرت افراد سے اغماض بھی کر لیتی ہےکبھی کرتی نہیں ملت کے گناہوں کو معاف1960ء کے اوائل تک پاکستان‘ ایران اور افغانستان تینوں ممالک سیکولرازم کے آئیڈیاز پر چل رہے تھے اور تینوں ملکوں میں بہت ترقی ہو رہی تھی۔ پنجاب یونیورسٹی میں بھی گورے گوریاں پڑھنے آتے تھے‘ تہران یونیورسٹی میں بھی اور اسی طرح کابل یونیورسٹی میں بھی گورے گوریاں پڑھتے تھے۔ آپ کوآج بھی انٹرنیٹ پراُس دور کی تصویریں مل جائیں گی۔ اس کے بعد ایک منظم طریقے سے ان کو بنیاد پرستی کے حوالے کر دیا گیا جس کے لیے کتابوں کے حوالے بھی موجود ہیں۔ اب تو کوئی چیز چھپی نہیں رہی‘ سب کچھ چھپ کر سامنے آ چکا ہے کہ امریکہ اور انگلینڈ سے مواد چھپ کے آتا تھا اور اس میں اپنے مطلب کی روایتیں شامل کی جاتی تھیں اور ان کو کتابوں کی صورت میں مذہبی لوگوں کے حوالے کر دیا گیا اور جو انتہا پسندانہ رویہ تھا وہ جہاد کے نام پر 1979ء تک عروج پر پہنچ گیا اور اس دوران افغانستان میں روس آ دھمکا۔ روس کو نکالنے کے لیے امریکہ بہادر آ گیا۔ پھر جو ساری صورتحال ہے وہ آپ کے سامنے ہے۔1979ء کے بعدان کو دوبارہ منظم کیا گیا۔ ایران سے شاہ کو بھگا دیا گیا اور امام خمینی آ گئے۔ ادھر پاکستان میں جناب ضیا الحق کو لایاجا چکا تھا اور افغانستان کو مجاہدین کے سپرد کر دیا گیا۔ آج افغانستان کی حالت دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ اس ملک اور وہاں رہنے والوں کی قسمت میں چین نہیں لکھا گیا۔ میں نے جب سے ہوش سنبھالا ہے افغانستان کو مسائل میں گھرا پایا ہے۔ افغانستان سے زیادہ بدقسمت کون سا ملک یا لوگ ہوں گے جن کو چالیس برس سے سکون نہیں۔ جو گھر ڈھونڈ رہے ہیں‘ پناہ ڈھونڈ رہے ہیں جو انہیں نہیں مل رہی۔ 1979ء میں روس کے ساتھ جنگ کے دوران افغانستان کے لاکھوں باشندے بے گھر ہوئے اور ان کو پناہ کیلئے پاکستان اور ایران ہجرت کرنا پڑی۔ دارالحکومت اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف شہروں میں پناہ گزیں کیمپ قائم ہوئے اور وقت گزرنے کے ساتھ افغان مہاجرین کیمپوں سے نکل کر ملک بھر میں پھیل گئے۔ پاکستان میں تو افغان مہاجرین کے ساتھ منشیات اور کلاشنکوف کلچر بھی آیا جس نے پاکستان کے امن اور نوجوانوں نسل کو تباہ کرکے رکھ دیا۔ پاکستان نے چالیس سال تک ان مہاجرین کا بوجھ اٹھایا اور اس کی بھاری قیمت ادا کی۔ اسی طر ح ایران میں لاکھوں کی تعداد میں افغان مہاجرین نے پناہ لی اور ایک وقت آیا کہ یہ لوگ ایران پر بھی بوجھ بن گئے۔ پچھلے چند سالوں میں لاکھوں کی تعداد میں افغان مہاجرین کو پاکستان سے نکالا گیا ہے یا وہ اس ملک کی زمین اپنے اوپر تنگ ہونے پر خود ہی واپس اپنے گھروں کو چلے گئے ہیں۔میں افغانستان کے پرانے وار لارڈ حکمت یار پر لکھی گئی کتاب پڑھ کر حیران ہوا ہوں کہ کبھی کابل اتنا خوبصورت شہر بھی ہوتا تھا۔ افغانستان ایسا بھی تھا۔ پھر خالد حسینی کا ناول The Kite Runner پڑھا تو دل مچل گیا کہ اگر اس ملک میں جنگ نہ ہوتی تو اس خوبصورت ملک کی سیر کو جاتا‘ اس کابل شہر کو دیکھتا جس کا نقشہ خالد حسینی نے اس غیر معمولی ناول میں کھینچا ہے‘ لیکن ان چالیس برسوں میں آگ اور خون کا جو کھیل افغانستان میں کھیلا گیا اور جتنی قتل وغارت وہاں ہوئی‘ اس کے بعد وہاں دیکھنے کو کیا رہ گیا ہے؟ جس خطے میں چالیس سال سے آگ بھڑک رہی ہو اور انسان گاجر مولی کی طرح کٹ رہے ہوں وہاں دیکھنے کو کیا بچا ہو گا؟ مجاہد حسین نے &#39;&#39;پنجابی طالبان‘‘ پر ایک کتاب لکھی ہے۔ ان کی کتاب میں تفصیل سے پاکستان میں مختلف طرح کی بنیاد پرستی کا تذکرہ ہے اور جہادی تنظیموں کے بارے میں ایسی تفصیلات ہیں جو مجھے کسی اور کتاب میں نظر نہیں آئیں۔ افغانستان میں اب بھی باقاعدہ کوئی حکومت نہیں ہے‘ جو حکومت ہے وہ ایک طرح سے وار لارڈز کی حکومت ہے‘ انہوں نے وہاں سسٹم کو مکمل طور پر یرغمال بنایا ہوا ہے۔ 80 فیصد لوگ اس حکومت کے ساتھ نہیں اور اس کو تسلیم نہیں کرتے لیکن ڈر کے مارے چپ ہیں۔ ایران اور پاکستان کے اندر بھی اکثر لوگ حکومت کو پسند نہیں کرتے لیکن خوفزدہ ہیں اور حکومت کے خلاف حرفِ اختلاف زبان پر نہیں لاتے۔ یہ ایک لاوا ہے جو بہت بڑی سطح پر پک رہا ہے۔ اب اس کے نیچے سے کیا نکلتا یا برآمد ہوتا ہے‘ اس کا ابھی کسی کو کچھ پتا نہیں لیکن لگتا یہ ہے کہ اس پورے علاقے کو ری سیٹ کرنے کا کہیں نہ کہیں پہ پروگرام بن چکا ہے۔ اب یہ پروگرام جب منظر عام پہ آئے گا تو پھر ہی پتا چلے گا لیکن خطرات یہ ہیں کہ اب اس ریجن کو نئے طریقے سے سیٹ کیا جا رہا ہے۔ پہلے جو جہاد کا فلسفہ دیا گیا اور اس کو ملاازم کے حوالے کیا گیا‘ لیکن اب لگتا ہے کہ اس کو کسی اور طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس کو کس طرف دھکیلا جاتا ہے۔اب مجھے یہ لگتا ہے کہ جیسے کہیں دور‘ افق کے اُس پار کوئی نیا سیٹ اَپ بن رہا ہے اور ان تینوں ممالک کو نئے طریقے سے &#39;&#39;ری سیٹ‘‘ کیا جا رہا ہے اور ان تینوں ملکوں کے پیچھے کوئی نئی حکمت عملی بن رہی ہے۔ اب وہ چین کے خلاف بن رہی ہے‘ امریکہ بنوا رہا ہے یا پھر چین امریکہ کے خلاف بنوا رہا ہے یا دونوں مل کر بنا رہے ہیں۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف ہیں لیکن ایجنڈا دونوں کا ایک ہے۔ اس طرح کے کئی معاملات ہیں جو ابھی نامعلوم ہیں اور جلد سمجھ میں آنے والے نہیں۔ لیکن اس پر ریسرچ ورک کیا جا رہا ہے۔ بھارت میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کا تعلق بھی اس خطے کو &#39;&#39;ری سیٹ‘‘ کرنے کے ساتھ ہے۔ پسِ چلمن کچھ نہ کچھ ضرور بلکہ بہت کچھ ہے۔ آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا۔ اگلے کالم میں اس پر تفصیلی روشنی ڈالیں گے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/228_40817243.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>طالب علموں کا نوحہ(جویریہ صدیق )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/javeria-siddique/2026-10-17/52860/35733712</link><pubDate>Sat, 17 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/javeria-siddique/2026-10-17/52860/35733712</guid><description>ملکی آبادی کا تقریباً 66 فیصد حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے‘ اس کے باوجود نوجوان‘ ان کا مستقبل یا ان کے مسائل حکومتی ترجیحات میں نظر نہیں آتے۔ ملک میں چھوٹے بچے جنسی استحصال کا شکار ہیں اور نوجوان محرومیوں‘ کم تعلیمی وسائل‘ بیروزگاری‘ طبی سہولتوں کے فقدان اور اچھی تفریح اور کھیلوں کے مواقع سے محروم ہیں۔ جب نئی نسل یہ دیکھتی ہے کہ وہ بنیادی حقوق سے محروم ہے‘ اسے کھل کر بولنے کی آزادی نہیں‘ اسے اچھے نمبروں کے باوجود اپنی پسند کی یونیورسٹی میں داخلہ نہیں ملتا‘ جیسے تیسے تعلیم مکمل کرنے کے بعد بھی نوکری نہیں ملتی تو نوجوان مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ہمارے ملک میں سوشل سروسز کا بھی رواج نہیں ہے۔ کیریئر اور ہیلتھ کونسلنگ کا سرے سے کوئی نظام موجود نہیں۔ بچے اپنی پریشانیوں میں غلط صحبت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ بدفطرت لوگ ان کو بلیک میل کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ آن لائن گیمز اور سوشل میڈیا پر وہ فراڈ کا شکار ہو تے ہیں۔ ان کی مدد کے لیے کوئی آگے نہیں آتا۔ جب وہ بچہ یا بچی خودکشی کر لیتا ہے‘ تب سب کو پتا چلتا ہے کہ وہ کس مشکل سے گزر رہا تھا۔ یہی مدد اس کو زندگی میں ملی ہوتی تو وہ لڑکا یا لڑکی شاید زندہ ہوتے۔ نوجوانوں جرائم پیشہ افراد کے ہاتھوں بلیک میل ہوتے ہیں‘ مایوسی یا ڈپریشن کا شکار ہو کر منشیات کے عادی ہو جاتے ہیں اور غیر ملکی سفر کے لیے جعلی ایجنٹس کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔ جعلی ایجنٹس اور انسانی سمگلرز انہیں سبز باغ دکھا کر‘ لاکھوں روپے اینٹھنے کے بعد انہیں غیر قانونی سفر کے دوران سمندری لہروں یا صحراؤں میں مرنے کیلئے چھوڑ دیتے ہیں۔ ایک اور مافیا بھی سرگرم ہے جو طالب علموں کو تعلیم کے نام پر لوٹ رہا ہے۔ یہ سٹوڈنٹ ویزا کنسلٹنٹس ہیں جو طالب علموں سے لاکھوں روپے بٹور کر انہیں جعلی دستاویزات تھما دیتے ہیں‘ جس سے ان کے غریب والدین کی زندگی بھر کی کمائی جاتی رہتی ہے‘ جس پر اکثر بچے شدید ڈپریشن میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ملک کا نوجوان سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے بھی پریشان ہے اور بہتر مستقبل کی تلاش میں بیرون ملک جانا چاہتا ہے۔ اس کا فائدہ جعل ساز اٹھاتے ہیں۔ ابھی اسلام آباد کی گولڈ میڈلسٹ طالبہ کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ قابلِ افسوس اور قابلِ مذمت ہے۔ اس کے مرنے کے بعد اس کا مجرم گرفتار ہوا۔ کاش کہ یہ سب اس کی زندگی میں ہوا ہوتا۔ ایک گولڈ میڈلسٹ بچی کی خواہش تھی کہ وہ بیرون ملک کسی اعلیٰ تعلیمی ادارے میں تعلیم حاصل کرے۔ یہ ایک جائز خواہش تھی۔ کاش کہ ہمارے ملک کی درسگاہیں عالمی رینکنگ میں ٹاپ پر ہوتیں تو ہمارے بچوں کو اچھی تعلیم کیلئے بیرون ملک کا رُخ نہ کرنا پڑتا۔ ہماری زیادہ تر جامعات میں سہولتوں کا فقدان ہے۔ اساتذہ کی تعداد کم ہے‘ نصاب پرانا ہے جو دورِ جدید کی ضروریات سے ہم آہنگ نہیں۔ بہت سی درسگاہوں کی عمارتیں بوسیدہ ہیں۔ جدید کمپیوٹر لیبز نہیں۔ دوسرے شہروں سے آنے والے بچوں کیلئے ہاسٹلز کے اچھے انتظامات نہیں۔ اگر ان حالات میں نئی نسل باہر پڑھنے یا باہر جانے کی خواہشمند ہے تو ان کو یہ موقع قانونی طور پر ملنا چاہیے۔ پہلے نوجوانوں کو ویزا کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا‘ اب ایئرپورٹ پر آف لوڈ ہونے کی داستانیں بھی سننے کو ملتی رہتی ہیں۔میری طالب علموں سے گزارش ہے کہ آپ سب کی زندگی بہت قیمتی ہے۔ اگر کبھی نمبر کم آ جائیں‘ یا پسند کی یونیورسٹی میں داخلہ نہ ہو‘ یا پسند کا رشتہ نہ ہو تو دل برداشتہ نہ ہوں۔ اپنے والدین کو اپنا دوست بنائیں‘ ان کو اپنے تمام مسائل سے آگاہ کریں۔ کسی باہر والے کو اپنا دوست یا مخلص نہ سمجھیں۔ اگر اعلیٰ تعلیم کے خواہشمند ہیں تو عالمی یونیورسٹیوں کی ویب سائٹس پر اس کی تمام معلومات درج ہوتی ہیں۔ جعلی ایجنٹس اور انسانی سمگلرز سٹڈی ویزا‘ سکالرشپ اور ورک پرمٹ کا جھانسا دے کر صرف پیسہ لوٹتے ہیں۔ جب بھی ایڈمیشن لینا ہو‘ پہلے یونیورسٹی کی ویب سائٹ پر جائیں‘ ان سے معلومات لیں اور براہِ راست اپلائی کریں۔ جن اداروں کو سفارت خانوں نے اپلائی اور ویزا کا کام دے رکھا ہے‘ ان کے علاوہ اپنا پاسپورٹ کبھی کسی کو مت دیں۔ یاد رکھیں‘ فیس ہمیشہ یونیورسٹی کے آفیشل اکاؤنٹ میں جمع ہوتی ہے۔ جعلی ایجنٹ آپ سے فیس اپنے اکاؤنٹ میں یا نقد رقم کی صورت میں مانگے گا‘ یہ دھوکا ہوتا ہے۔ والدین خود اپنے بچوں کا داخلہ کرائیں اور ایمبیسی سے اس کی تصدیق کریں۔ ایچ ای سی کی ویب سائٹ پر بھی تمام معلومات موجود ہیں۔ وہاں سے بھی بچے معاونت لے سکتے ہیں۔ امریکی سفارت خانہ‘ کامن ویلتھ اور یورپی یونین بھی اپنی ویب سائٹس پر سکالرشپس کی معلومات دیتے رہتے ہیں۔ اس کے ساتھ اپنے ویریفائیڈ (نیلے ٹک والے) سوشل میڈیا پیجز پر بھی وہ اس کا اعلان کرتے رہتے ہیں۔ اگر آپ کو ویزا یا یونیورسٹی کا فارم بھرنے کے لیے مدد چاہیے تو ایسے کنسلٹنٹ سے کام کرائیں جو ایس ای سی پی اور ایف بی آر سے رجسٹرڈ ہو۔ ایچ ای سی کی ویب سائٹ پر ہر سکالرشپ اور فنڈز کی تفصیل موجود ہوتی ہے۔ گوگل پر صرف یونیورسٹی کا نام لکھیں‘ سب تفصیلات سامنے آ جائیں گی۔ اس کے لیے کسی دوسرے تیسرے شخص پر بھروسہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ پاکستان کی بڑی جامعات اور ایچ ای سی بھی طالب علموں کو سکالرشپس دیتے ہیں۔ اسی طرح دنیا بھر کے ادارے پروفیشنلز کو فیلوشپ دیتے ہیں۔ اگر آپ کا داخلہ امریکہ یا برطانیہ میں نہیں ہوا تب بھی آپ کے پاس یورپ کے دیگر ملکوں‘ آسٹریلیا‘ کینیڈا اور چین میں بڑے پیمانے پر آپشنز موجود ہیں۔ یورپی یونین‘ چین اور ترکیہ طالب علموں کے لیے خصوصی داخلے فراہم کرتے ہیں۔بیرونِ ملک جانا اور وہاں پڑھنا ایک جائز خواب ہے‘ لیکن اس خواب کی تعبیر کے لیے غیر قانونی راستہ نہ اختیار کریں اور نہ ہی کسی فراڈ ایجنٹ کے جھانسے میں آئیں۔ ہمیں اس وقت اپنے ملک میں تعلیمی نظام کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ بچے وہ پڑھیں جس کے بعد ان کو نوکری بھی مل سکے۔ میرے سامنے کئی مثالیں موجود ہیں کہ اے آئی کرنے والے‘ فزکس اور میتھس والے اور میڈیا سٹڈیز میں ڈگری کرنے والے بچوں کو نوکریاں نہیں مل رہیں۔ اگر یونیورسٹیاں کوئی کورس پڑھا رہی ہیں تو اس کی نوکریاں بھی تو ہونی چاہئیں۔ کتنے بچے امورِ فلکیات پڑھنا چاہتے ہیں‘ خلاباز بننا چاہتے ہیں اور کتنے سائنسدان بننا چاہتے ہیں‘ لیکن ان کے لیے نوکریاں ہی نہیں۔ شارٹ کٹ کا استعمال کرتے ہوئے لوگ ٹک ٹاکر بن جاتے ہیں یا ڈیجیٹل پلیٹ فارم سے سکرپٹ پڑھنا شروع کر دیتا ہے‘ مگر سنجیدہ افراد کے لیے مطلوبہ اسامیاں نہیں۔ ان کے لیے جنہیں کام کرنا ہے‘ وہ بیرونی دوروں میں مصروف ہیں۔میری اب بھی گزارش ہے کہ نوجوانوں کے لیے حالات ٹھیک کریں‘ ان کے لیے تعلیم اور روزگار کے مواقع مہیا کریں۔ یونیورسٹی اور کالجوں میں ڈگری کے ساتھ فری لانسنگ‘ کوڈنگ یا کوئی اور ووکیشنل سکلز بھی دی جائیں۔ ان کے پاس ڈگری بھی ہو اور ہنر بھی۔ اس کے ساتھ نوجوانوں کو پڑھائی اور کاروبار کے لیے آسان شرائط پر قرضے دیے جائیں۔ بچوں پر سے فرسٹ آنے کا معاشرتی بوجھ ہٹانا چاہیے اور ہر تعلیمی ادارے میں کیریئر اور صحت سے متعلق کونسلنگ کا محکمہ ہونا چاہیے۔ اس کے ساتھ تعلیمی اداروں تک پہنچنے کے لیے طالب علموں کو پبلک ٹرانسپورٹ کے فری پاسز جاری کیے جائیں۔ شاید یہ سب کرنے سے مایوسی میں کمی آئے اور طالب علموں میں خودکشی کی شرح کم ہو جائے۔ بچوں کو انسان سمجھیں‘ وہ مشین نہیں ہیں۔ ان سے غلطی بھی ہو سکتی ہے‘ ان کے نمبر کم بھی آ سکتے ہیں۔ ہر بچے کا ہنر اور ٹیلنٹ الگ ہوتا ہے۔ اپنے بچوں سے شفقت سے پیش آئیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_38020467.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ہوا کسی کی نہیں!(مفتی منیب الرحمٰن )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-10-17/52861/64981126</link><pubDate>Sat, 17 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-10-17/52861/64981126</guid><description>ہمارے ہاں داخلی حالات میں ٹھیرائو نہیں ہے‘ تنائو ہے‘ نفرت ہے اور ایک حد تک انتقام کی فضا ہے۔ جنابِ عمران خان نے محمود خان اچکزئی اور علامہ راجا ناصر عباس کو اپنی جماعت کے لوگوں کی خواہش کے برعکس بالترتیب قومی اسمبلی اور سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف بنایا۔ ہماری دانست میں ان کیلئے مناسب تھا کہ کوئی درمیانی راستہ نکالتے تاکہ پارٹی اس انجام تک نہ پہنچتی۔ یہ کہنا کہ میں فلاں جگہ نہیں جائوں گا اور فلاں جگہ جائوں گا‘ بے معنی باتیں ہیں۔ جب آپ قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف بن کر مراعات لے رہے ہیں اور آپ نے خواستہ وناخواستہ اس نظام کو عملاً تسلیم کر لیا ہے‘ تو اب اسی کے اندر رہتے ہوئے حکمت وتدبر سے راستہ نکالنا چاہیے تھا۔ یہ کام ضد اور ہٹ دھرمی سے نہیں ہوتا‘ تحمل‘ تدبر اور ٹھنڈے مزاج سے ہوتا ہے۔ حکومت ہو یا حزبِ اختلاف‘ سب ایک ہی کشتی کے سوار ہیں۔ احمد فراز نے کہا تھا: میں آج زد پہ اگر ہوں تو خوش گمان نہ ہو؍ چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں مفہوم: اے بد خواہ! اگر آج میری شمعِ امید مخالف ہوائوں کی زَد میں ہے تو تجھے اس پر خوشی نہیں منانی چاہیے‘ کیونکہ جب ہوائیں چلیں گی تو باری باری سب کے چراغ گل ہوں گے اور انجامِ کار کسی کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔ پس سب کو ذاتی اور جماعتی ترجیحات اور تعصبات سے بالاتر ہو کر موجودہ نازک اور حساس حالات میں ملک کی بقا اور سلامتی کو ترجیح دینی چاہیے‘ اس کیلئے بعض اوقات ذاتی اور گروہی اَنا کی قربانی دینا پڑتی ہے۔ شاعر نے کہا ہے: چمن کی فکر کرو آشیاں کی بات چھوڑو؍ شجر گر نہ رہے‘ تو آشیانہ کہاں بنے گاسو سب کی ترجیحِ اول چمن کی حفاظت ہونی چاہیے‘ چمن سلامت رہے گا تو سب کو باری باری اپنے آشیانے بنانے کا موقع مل جائے گا۔ راحت اندوری نے کہا تھا:لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میںیہاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے جو آج صاحبِ مسند ہیں‘ کل نہیں ہوں گےکرائے دار ہیں‘ ذاتی مکان تھوڑی ہےلیکن اگر سب نے ہوش سے کام نہ لیا اور جوش سے مغلوب الغضب ہو گئے‘ نفرت وعداوت میں مبتلا ہوکر انتقام پہ اتر آئے یا یہ حکمتِ عملی بنالی کہ &#39;نہ کھیلیں گے نہ کھیلنے دیں گے‘ تو انجامِ کار کفِ افسوس مَلنے کے سوا ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔ محشر بدایونی نے کہا تھا: اب ہوائیں ہی کریں گی روشنی کا فیصلہ؍ جس دِیے میں جان ہو گی وہ دِیا رہ جائے گاگزشتہ دنوں بھارت کے حالات کے تناظر میں جاوید اختر کا کلام کسی نے بھیجا‘ یہ کافی حد تک ہمارے بھی حسبِ حال ہے: کسی کا حکم ہے ساری ہوائیں‘ ہمیشہ چلنے سے پہلے بتائیں؍ کہ ان کی سَمت کیا ہے‘ کدھر جا رہی ہیں؍ ہواؤں کو بتانا یہ بھی ہو گا‘ چلیں گی اب‘ تو کیا رفتار ہو گی؍ ہواؤں کو یہ اجازت نہیں ہے کہ آندھی کی اجازت اب نہیں ہے؍ ہماری ریت کی سب یہ فصیلیں‘ یہ کاغذ کے محل جو بن رہے ہیں‘ حفاظت ان کی کرنا ہے ضروری؍ اور آندھی ہے پرانی ان کی دشمن‘ یہ سبھی جانتے ہیں؍ کسی کا حکم ہے دریا کی لہریں‘ ذرا یہ سرکشی کم کر لیں‘ اپنی حد میں ٹھہریں؍ اگر لہروں کو ہے دریا میں رہنا‘ تو ان کو ہو گا اب چپ چاپ بہنا؍ کسی کا حکم ہے‘ اس گلستاں میں بس اک رنگ کے ہی پھول ہوں گے؍ کسی کو یہ کوئی کیسے بتائے‘ گلستاں میں کہیں بھی پھول یک رنگی نہیں ہوتے؍ کبھی ہو ہی نہیں سکتے‘ کہ ہر اک رنگ میں چھپ کر بہت سے رنگ رہتے ہیں؍ جنہوں نے باغ یک رنگی بنانا چاہے تھے‘ ان کو ذرا دیکھو؍ کہ جب اک رنگ میں سو رنگ ظاہر ہو گئے ہیں‘ توکتنے پریشاں ہیں‘ کتنے تنگ رہتے ہیں؍ کسی کو یہ کوئی کیسے بتائے‘ ہوائیں اور لہریں کب کسی کا حکم سنتی ہیں؍ یہ لہریں روکی جاتی ہیں تو دریا کتنا بھی ہو پُرسکوں؍ بیتاب ہوتا ہے اور اس بیتابی کا اگلا قدم سیلاب ہوتا ہے۔ہمارے ہاں سیاسی نفرتیں اتنی بڑھا دی گئی ہیں کہ مقتدرِ وقت سے نفرت کو ہم وطن سے نفرت میں بدل دیتے ہیں‘ یہ بھول جاتے ہیں کہ ہم سب کی آن‘ شان اور پہچان وطنِ عزیز پاکستان سے ہے۔ آزاد وطن کی قدر جاننا ہو تو مقبوضہ کشمیر‘ بھارت‘ فلسطین اور میانمار کے روہنگیا مسلمانوں سے پوچھو۔ آج ہمارا وطن ہر دور کے صاحبانِ اقتدار کے ہاتھوں داخلی طور پر بھی شدید مشکلات سے دوچار ہے اور چاروں طرف خطرات منڈلا رہے ہیں؛ پس ذاتی اور گروہی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر وطن کی بقا‘ تحفظ اور سلامتی کی فکر کرنی چاہیے‘ آپس میں لڑنے بھِڑنے اور ایک دوسرے کو گرانے کیلئے کافی وقت پڑا ہے۔ یہی سبق علامہ اقبال نے بھی دیا ہے: ڈالی‘ گئی جو فصلِ خزاں میں شجر سے ٹوٹ؍ ممکن نہیں ہری ہو سَحابِ بہار سے ٭ہے لازوال عہدِ خزاں‘ اس کے واسطے؍ کچھ واسطہ نہیں ہے اُسے برگ و بار سے ٭ہے تیرے گلستاں میں بھی فصلِ خزاں کا دور؍ خالی ہے جیبِ گل زرِ کامل عیار سے ٭جو نغمہ زن تھے خَلوتِ اوراق میں طُیور؍ رخصت ہوئے ترے شجرِ سایہ دار سے ٭شاخ ِبُریدہ سے سبق اندوز ہو کہ تو؍ ناآشنا ہے قاعدۂ روزگار سے ٭ملت کے ساتھ رابطۂ استوار رکھ؍ پیوستہ رہ شجر سے‘ امید بہار رکھ۔علامہ اقبال کی اس نظم کا خلاصہ یہ ہے: قدرت کا عام دستور یہ ہے کہ موسمِ خزاں میں درختوں کے پتے‘ پھول اور پھل جھڑ جاتے ہیں‘ مگر جب موسمِ بہار دوبارہ لوٹ کر آتا ہے تو وہی خشک شاخیں‘ پھول‘ پھل اور پتوں سے دوبارہ لد جاتی ہیں۔ مگر جو شاخ فصلِ خزاں میں درخت سے ٹوٹ کر جدا ہو گئی ہو‘ موسمِ بہار آنے پر بھی اس کا ہرا ہونا ممکن نہیں رہتا‘ پھر اس کیلئے موسمِ خزاں دائمی ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس جب تک وہ درخت سے جڑی رہتی ہے تو درخت کی رگوں کے ذریعے جڑوں سے اسے نمی ملتی رہتی ہے اور اس میں نمو (Growth) یعنی امکانی حیات کی صلاحیت باقی رہتی ہے اور موسمِ بہار آنے پر وہ دوبارہ ہری بھری ہوجاتی ہے۔ اسی طرح اگر افراد اپنی قوم‘ وطن اور ملّت سے جڑے رہیں تو مشکل دن کٹ جاتے ہیں اور آخرکار اچھا وقت بھی آ جاتا ہے۔علامہ اقبال کہتے ہیں: اے بندۂ مومن! ترے گلستانِ وطن پر بھی موسمِ خزاں کا دور طاری ہے اور ترا ضمیر ایمانِ کامل کی دولت سے خالی ہے۔ درختوں کے پھلوں‘ پھولوں اور پتوں پر جو پرندے چہچہارہے تھے‘ وہ اس شجرِ سایہ دار سے رخصت ہو چکے‘ کیونکہ موسمِ خزاں نے اُن کیلئے کوئی جائے امان باقی نہیں چھوڑی۔ وہ کہتے ہیں: اے بندۂ مومن! درخت سے کٹی ہوئی شاخ سے سبق حاصل کر کہ جب وہ درخت سے کٹ جائے تو امیدِ حیات ختم ہو جاتی ہے‘ زمانے کا دستور یہی ہے۔ پس ملّت کی مثال درخت کی ہے اور افراد اس کی شاخیں ہیں‘ لازم ہے کہ افراد ملت کے ساتھ اپنا رابطہ قائم ودائم رکھیں اور شجرِ ملّی سے جڑے رہیں‘ خزاں کا موسم گزر ہی جائے گا اور بہار نے آنا ہی ہے‘ سنتِ الٰہیہ یہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں یہی سبق دیا ہے : &#39;&#39;پس بے شک ہر دشواری کے ساتھ آسانی ہے‘ یقینا ہردشواری کے ساتھ آسانی ہے‘‘ (الانشراح: 5 تا 6)۔ عربی کا ایک قاعدہ ہے: اگر ایک کلام میں اسمِ معرفہ کا تکرار ہو تو ثانی سے پہلا ہی مراد ہوتا ہے اور اگر اسمِ نکرہ کا تکرار ہو تو دوسرا پہلے کا غیر ہوتا ہے؛ چنانچہ عربی شاعر نے کہا: جب تم پر کوئی مصیبت آ جائے تو سورۂ الم نشرح میں غور کرو‘ (اللہ کا وعدہ ہے) کہ ایک تکلیف کے بعد دو راحتیں ہیں‘ جب تم اس حقیقت کو سمجھ لو تو (تکلیف پر کڑھنے اور شکوہ کُناں ہونے کے بجائے) خوش ہو جائو۔فیض نے کہا تھا:دل ناامید تو نہیں‘ ناکام ہی تو ہےلمبی ہے غم کی شام‘ مگر شام ہی تو ہےاور ظہیر کشمیری نے کہا: ہمیں خبر ہے کہ ہم ہیں‘ چراغِ آخرِ شب؍ ہمارے بعد اندھیرا نہیں‘ اجالا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_61172381.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>