<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>دہشت گردی کے چیلنجز(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-27/11580</link><pubDate>Sun, 27 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-27/11580</guid><description>خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات قومی سلامتی کے حوالے سے تشویش کا باعث ہیں۔ گزشتہ روز ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک پولیس چوکی پر خود کش حملے میں 12افراد شہید ہوگئے۔ اسی روز بلوچستان کے ضلع دُکی میں سڑک تعمیر کرنے و الی ایک کمپنی کے کیمپ پر دہشت گردوں کے حملے میں 18 مزدوروں کو اغوا کرلیا گیا جبکہ گزشتہ ہفتے کوہاٹ میں پولیس لائنز کی مسجد میں دہشت گردی کے واقعے میں25افراد شہید ہو گئے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے سبھی واقعات کے سرے افغانستان سے ملتے ہیں جبکہ پاکستان میں خودکش حملوںکے 80 فیصد واقعات میں افغان شہری ملوث پائے جاتے ہیں۔ افغانستان سے پاکستان کو دہشت گردی کے خطرات ماضی میں بھی لاحق رہے ہیں مگر 2021ء میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد دہشت گردی میں غیر معمولی اضافہ ہوا‘ جس کا واضح سبب یہ ہے کہ افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کو طالبان حکومت کی سرپرستی اورسہولت کاری حاصل ہے۔پاکستان بارہا افغانستان سے مطالبہ کر چکا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کیلئے استعمال نہیں ہونی چاہیے اور طالبان حکومت دوحہ معاہدے سے متعلق اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔ پاکستان نے اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر بھی افغانستان سے پیدا ہونے والے دہشت گردی کے خطرے کو اجاگر کیا ہے۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے جنرل اسمبلی سے حالیہ خطاب میں جہاں دیگر علاقائی اور عالمی معاملات پر گفتگو کی وہیں افغانستان کی جانب سے درپیش دہشت گردی کے خطرات کا بھی تفصیلی ذکر کیا اور دنیا کو بتایا کہ افغانستان کی سرزمین فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندستان کے زیراستعمال ہے‘یہ بیرونی مالی معاونت سے چلنے والے گروہ افغانستان کے اندر موجود محفوظ پناہ گاہوں سے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے مقصد سے کارروائیاں کرتے ہیں۔اس صورتحال کا فوری اور مکمل خاتمہ ہونا چاہیے اور افغان حکام کو اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں اور دہشت گردوں کے خلاف قابلِ تصدیق اور فیصلہ کن اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ افغان سرزمین دوبارہ کبھی پاکستان یا کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہو۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی نیویارک میں ای سی او کے غیر رسمی وزارتی اجلاس میں کہا کہ افغانستان سے دہشت گردی علاقائی امن اور ترقی کو متاثر کر رہی ہے۔ انہوں نے طالبان حکومت سے دہشت گرد گروہوں کے خلاف ٹھوس اور قابلِ تصدیق کارروائیوں کا مطالبہ کیا۔ پاکستان کی افغانستان سے یہ توقع غیر معمولی نہیں بلکہ بنیادی سکیورٹی اصولوں کے مطابق ہے۔
کسی ملک کی سرزمین دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کیلئے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ پاکستان کا ہمیشہ یہ مؤقف رہا ہے کہ پُرامن اور مستحکم افغانستان خطے کے مفاد میں ہے۔ طالبان حکومت اگر پاکستان کے جائز سکیورٹی خدشات دور کرنے کیلئے فتنہ الخوارج ٹی ٹی پی‘فتنہ الہندستان بی ایل اے اور دیگر وابستہ گروہوں کے خلاف مؤثر‘ ٹھوس اور قابلِ تصدیق کارروائیاںکرتی ہے تو اس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری کی امید کی سکتی ہے اور تجارتی روابط جن کا کھلنا افغانستان کے مفاد میں ہے ‘ بحال ہونے کی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے۔ان حالات میں جب افغانستان کی جانب سے دہشت گردی کے خطرات شدت اختیار کر چکے ہیں پاکستان کو ایک طرف اپنی سرحدوں اور شہریوں کے تحفظ کیلئے مؤثر اقدامات جاری رکھنے چاہئیں اور دوسری طرف عالمی سطح پر شواہد پر مبنی سفارتی مہم مزید تیز کرنی چاہیے۔ پاکستان کا بنیادی اور اصولی مطالبہ واضح ہے کہ افغان سرزمین سے پاکستان کیخلاف دہشت گردی بند ہو‘ دہشت گرد گروہوں کے خلاف قابلِ تصدیق کارروائی ہو اور خطے کو امن‘ تجارت اور ترقی کا راستہ دیا جائے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>موسمیاتی بحران(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-27/11579</link><pubDate>Sun, 27 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-27/11579</guid><description>وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں کے دوران موسمیاتی آفات سے چار کروڑ سے زائد پاکستانی متاثر ہوئے‘ جن میں چھ ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہو گئے جبکہ ملکی معیشت کو بھی بھاری نقصان برداشت کرنا پڑا۔ یہ اعداد و شمار ایسے موقع پر عوام کے سامنے آئے ہیں جب عالمی سطح پر ایل نینو کے دوبارہ شدت اختیار کرنے کے امکانات زیرِ بحث ہیں۔ ایک حالیہ رپورٹ میں فروری 2027ء تک شدید گرمی کے باعث دنیا بھر میں چار لاکھ 51 ہزار سے زائد اضافی اموات کا تخمینہ ظاہر کیا گیا ہے۔ پاکستان ایل نینو سے شدید متاثرہ ممالک میں سرفہرست ہے‘ اس لیے یہاں کسی بھی بڑے موسمیاتی تغیر کے اثرات کو معمولی سمجھنا دانش مندی نہیں۔ ملکِ عزیز موسمیاتی تبدیلی سے بیک وقت کئی طرح سے متاثر ہے۔

ہر سال بڑھتا ہوا درجہ حرارت ہیٹ ویوز کی شدت میں اضافے کا سبب بن رہا ہے‘ گلیشیرز کے تیز پگھلاؤ سے فلیش فلڈز کا خطرہ رہتا ہے جبکہ طویل مدت میں گلیشیرز کے سکڑنے سے پانی کی دستیابی متاثر ہو سکتی ہے۔ زراعت بھی اس بحران سے محفوظ نہیں۔ غیر معمولی گرمی‘ پانی کی قلت‘ بے وقت بارشیں اور سیلاب فصلوں کی پیداوار متاثر کرتے ہیں جسکے نتیجے میں خوراک کی قیمتوں اور غذائی تحفظ کے مسائل سنگین ہو سکتے ہیں۔ مستقبل میں موسمیاتی تبدیلیوں کے ان ممکنہ خطرات سے نمٹنے کیلئے پیشگی منصوبہ بندی  ضروری ہے۔ حکومت عالمی موسمیاتی تبدیلی کو اکیلے نہیں روک سکتی لیکن بہتر منصوبہ بندی سے نقصانات کو کم ضرور کر سکتی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>نیا نصاب(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-27/11578</link><pubDate>Sun, 27 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-27/11578</guid><description>پنجاب کے سرکاری سکولوں میں مونٹیسوری سے پانچویں جماعت تک نصابی کتب کا بوجھ 25فیصد کم کرنے اور جدید ٹیکنالوجی کو تعلیم کا حصہ بنانے کی منظوری خوش آئند ہے۔ یہ فیصلہ اس امر کا عکاس ہے کہ صوبے میں روایتی طرزِ تعلیم سے آگے بڑھنے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پنجاب سمیت ملک بھر میں ایک عرصے سے ایسا تعلیمی نظام رائج ہے جس میں بچوں پر نصاب کا غیرضروری بوجھ ڈالنے اور معلومات یاد کرنے کو سیکھنے پر فوقیت حاصل رہی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بہت سے نوجوان تعلیم حاصل کرنے کے باوجود عملی زندگی کی ضروری مہارتوں اور جدید علوم سے محروم رہتے ہیں۔ تاہم اصل امتحان صرف نیا نصاب تیار کرنا نہیں بلکہ اسے مؤثر انداز میں لاگو کرنا ہے۔

نئے مضامین اور جدید ٹیکنالوجی اسی وقت نتیجہ خیز ثابت ہوں گے جب سرکاری سکولوں کے اساتذہ خود ان پر دسترس رکھتے ہوں۔ حکومت کو چاہیے کہ نصاب کی تبدیلی کیساتھ اساتذہ کی مسلسل تربیت‘ مجموعی تعلیمی معیار کی بہتری‘ جدید تدریسی طریقوں‘ مناسب تعلیمی سہولیات اور طلبہ کی عملی مہارتوں پر یکساں توجہ دے۔ بچوں پر بھاری بستوں کا بوجھ کم کرنا یقینا ضروری ہے مگر اس سے کہیں زیادہ ضروری یہ ہے کہ ان کے ذہنوں پر رٹے کا بوجھ کم کرکے انہیں سوچنے‘ سمجھنے‘ سوال کرنے‘ تحقیق کرنے اور عملی مسائل حل کرنے کے قابل بنایا جائے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>جس نے سورج کی شعاعوں کو گرفتار کیا(مجیب الرحمٰن شامی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mujeeb-ur-rehman-shami/2026-09-27/52736/92590810</link><pubDate>Sun, 27 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mujeeb-ur-rehman-shami/2026-09-27/52736/92590810</guid><description>وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں سالانہ اجلاس سے پُرمغز خطاب فرمایا۔ ان کی تقریر کے دوران تالیاں گونجتی رہیں‘ انہیں براہِ راست سننے والے داد دیتے رہے‘ گویا ایک بڑی تعداد کی وہ کامیاب ترجمانی کر رہے تھے۔ اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو خطاب کیلئے آئے تو ارکان کی بڑی تعداد واک آؤٹ کر گئی۔ انہیں خالی کرسیاں نصیب ہوئیں جو اُن پر نفرین بھیجتی محسوس ہو رہی تھیں۔ وزیراعظم نے پوری مسلم اُمہ کے جذبات کی ترجمانی کی‘ جب آواز بلند کرتے ہوئے کہا کہ حرمین شریفین ہماری ریڈ لائن ہیں‘ سعودی عرب پرکسی طور کوئی حملہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔ کشمیر سے لے کر فلسطین تک‘ آبنائے ہرمز سے لے کر باب المندب تک اور غزہ سے لے کر نئی دہلی تک کوئی مسئلہ ایسا نہ تھا جس پر انہوں نے اقوام عالم کی توجہ نہ دلائی ہو۔ افغانستان میں جنم لینے والی دہشت گردی کا ذکر کرتے ہوئے بجا کہا کہ دنیا میں آج جو امن قائم ہے‘ پاکستان کی بہادر مسلح افواج اور عوام نے اپنے خون سے اس کی قیمت ادا کی ہے۔ پاکستان دہشت گردی کے سامنے دیوار بن کر نہ کھڑا ہوتا تو خدا جانے وہ کہاں کہاں اور کس کس کو لہولہان کر چکی ہوتی۔ بھارت میں مذہبی اقلیتوں کی زندگی جن مشکلات کا شکار ہے اور صدیوں پرانی مسجدوں کو جس طرح تاراج کیا جا رہا ہے‘ اس کی جھلک بھی انہوں نے پوری دنیا کو دکھائی اور ہندوتوا کے علمبرداروں کے مکروہ چہروں سے نقاب اُتار ڈالا۔ پاکستان‘ سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ مل کر امنِ عالم کو دوام دینے کیلئے جو کوششیں کر رہا ہے‘ اور جس طرح سہ فریقی دفاعی اتحاد نے مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کو استحکام دینے کیلئے پیش رفت کی ہے‘ اسے بھی اچھی طرح واضح کیا۔ جب وہ کہہ رہے تھے کہ پاکستان جنگ پر امن کو ترجیح دیتا ہے اور دنیا بھر میں قیام امن کیلئے کوشاں رہے گا تو ان کے سامعین کی تالیاں ان کی تائید کر رہی تھیں۔ اپنے سے کئی گنا بڑے بھارت کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے پر جب وہ اپنے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو خراجِ تحسین پیش کر رہے تھے اور ناقابلِ تسخیر پاکستانی قوم کا پورے اعتماد سے نام اونچا کر رہے تھے تو بھی ان کے سننے والے ان کی تائید کر رہے تھے۔ اقوام متحدہ کا ایوان ہی نہیں‘ پورا پاکستان بلکہ پوری ملتِ اسلامیہ اس کی تائید کر رہی تھی۔ بے شک‘ پاکستان نے اپنی دفاعی صلاحیتوں سے اقوام عالم میں ممتاز مقام حاصل کیا ہے‘ اس کے ساتھ ہی ساتھ ایران اور امریکہ کو مذاکرات کی میز پر لا کر عالمی منظر بدل ڈالا ہے۔ دونوں کے درمیان طے پانے والا معاہدہ اسلام آباد آج بھی امن کی چابی کے طور پر جانا جاتا ہے۔ چین کے عظیم المرتبت سربراہ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں یہ بات اچھی طرح واضح کر دی کہ قیام امن کیلئے معاہدہ اسلام آباد کی طرف لوٹنا ہو گا۔وزیراعظم جب نیو یارک میں اپنی دھاک بٹھا رہے تھے اور عالمی رہنماؤں سے حروفِ تحسین وصول کر رہے تھے‘ تو پاکستان میں تحریک انصاف کے لانگ مارچ نے اپنی طرف توجہ مبذول کرا رکھی تھی۔ وفاقی حکومت اسے روکنے کیلئے گزشتہ کئی دنوں سے سرگرم تھی۔ کئی مقامات پر رینجرز کو طلب کیا جا چکا تھا۔ جگہ جگہ کنٹینر کھڑے تھے‘ اسلام آباد کی طرف آنے والے راستے بند کیے جا رہے تھے۔ سہیل آفریدی اور ان کے رفقا دھمکیاں دے رہے تھے کہ ہم چالیس لاکھ کا &#39;&#39;پُرامن لشکر‘‘ لے کر اسلام آباد آئیں گے اور اپنے مطالبات منوائیںگے‘ اپنے اسیر قائد کیلئے آسانیاں حاصل کریں گے۔ وفاقی حکومت نے تہیہ کر رکھا تھا کہ کسی صورت &#39;&#39;پُرامن حملہ آوروں‘‘ کو دارالحکومت میں گھسنے نہیں دینا۔ تصادم کے آثار نظر آرہے تھے کہ وزیراعظم کی تقریر سے کچھ ہی گھڑیاں پہلے جناب سہیل آفریدی نے اپنا لانگ مارچ مؤخر کرنے کا اعلان کر دیا۔ یوں پاکستانیوں کی بڑی تعداد نے سکھ کا سانس لیا۔بین الاقوامی محاذ پر دھاک بٹھانے والی پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت سے بجا طور پر توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اپنی تمام تر صلاحیت داخلی محاذ پر بھی بروئے کار لائے گی۔ ایران اور امریکہ کو ایک میز پر بٹھانے والے اپنے حریفوں کو بھی اپنے سامنے بیٹھنے پر مجبور کر دیں گے‘ مفاہمت کی کسی یاد داشت پر اتفاق کر لیںگے‘ اس پر علی الاعلان دستخط ثبت کر دیں گے۔ لانگ مارچوں اور دھرنوں کی سیاست سے پاکستان کو نجات دلائیں گے۔ دارالحکومت کو محفوظ بنائیں گے‘ بے لگام خواہشات کو قانون کی زنجیر پہنائیں گے۔ وگرنہ اقبالؒ کی زبان میں یوں اظہارِ افسوس کرنا پڑے گا؎ڈھونڈنے والا ستاروں کی گزر گاہوں کااپنے افکار کی دنیا میں سفر کر نہ سکامزید یہ کہ ؎جس نے سورج کی شعاعوں کو گرفتار کیازندگی کی شبِ تاریک سحر کر نہ سکاحافظ محمد ادریس مرحومجماعت اسلامی کے سربلند رہنما اور دانشور حافظ محمد ادریس کم و بیش آٹھ عشرے اس دنیا میں گزار کر اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ وہ ایک عرصہ تک نائب امیر رہے۔ کئی اور تنظیمی ذمہ داریاں بھی سنبھالے رکھیں۔ لڑکپن ہی میں مولانا ابو الاعلیٰ مودودیؒ کے اسیر ہوئے تھے‘ آخری سانس تک ان کی فکر سے جڑے رہے۔ عاجزی اور انکساری کی تصویر تھے‘ چہرہ مسکراہٹ کا مسکن تھا۔ برسوں نمازِ تراویح میںقرآن کریم سنایا‘ نمازِ جمعہ کا خطبہ بھی ارشاد فرماتے رہے‘ سادہ الفاظ میں گفتگو کرتے اور دل میں اُتر جاتے۔ قلم کے بھی دھنی تھے۔ ستر سے زائد کتب شائع ہو چکی ہیں۔ روزنامہ &#39;&#39;دنیا‘‘ کیلئے گزشتہ دس سال سے کالم لکھ رہے تھے۔ سیرتِ رسولﷺ اور صحابہؓ ان کا خاص موضوع تھے۔ جماعت اسلامی کے اکابرین اور اپنے رفقا پر بھی انہوں نے دل کھول کر لکھا۔ ان کی زندگیوں کے احوال قلم بند کر کے آنے والی نسلوں کے لیے ایک انمول خزانہ چھوڑ گئے۔ انہیں جماعت اسلامی کا مورخ بھی کہا جا سکتا تھا۔ 1969ء میں جب پیپلز پارٹی کا طوطی بول رہا تھا‘ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی کا صدارتی الیکشن جیت کر اس پارٹی کے مخالف حلقوں کو توانائی فراہم کی‘ وہ نئے حوصلوں سے سرشار میدانِ انتخاب میں اترے۔ ان کے مقابلے میں (بعدازاں پیپلز پارٹی کے سر کردہ رہنما) جہانگیر بدر تھے۔ انتخابی ہنگامہ ختم ہوا تو اسی کے پیدا کردہ اثرات کے تحت جیل جانا پڑا۔ ایک بڑا وفد لے کر رات گئے وائس چانسلر علامہ علاؤالدین صدیقی(مرحوم) کی رہائش گاہ پر جا پہنچے۔ اپنا مطالبہ منوانے والے بعض طلبہ نے جذباتیت کا مظاہرہ کیا‘ توڑ پھوڑ کر ڈالی۔ اس کی پاداش میں سب دھر لیے گئے۔ اسلامی جمعیت طلبہ نے اپنے متعلقین کے خلاف تادیبی کارروائی کی‘ نومنتخب صدر بھی اس کی زد میں آئے۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے مذمت میں بیان جاری کیا۔ فوجی عدالت سے سزا یاب ہوئے اور پورا عرصۂ صدارت پسِ دیوارِ زنداں گزار دیا۔ بعد میں منظر عام پر آنے والی تفصیل کے مطابق بے چارے حافظ صاحب اور ان کے کئی رفقا کو چند جذباتی ساتھیوں کی خطا کا خمیازہ بھگتنا پڑا۔ رہائی ہوئی تو کچھ عرصہ بعد جماعت اسلامی میں شامل ہو کر پرانے سفر کا نیا آغاز کر دیا۔ مولانا مودودیؒ کی ہدایت پر کینیا میں جا مقیم ہوئے اور وہاں اسلامک مشن کو آگے بڑھاتے رہے۔ وہ ایک مثالی کارکن تھے‘ اپنے آپ کو کارکن ہی سمجھتے رہے۔ رہنمائی کا دعویٰ کیا‘ نہ ہی اس کا شوق دل میں پالا۔ جماعت اسلامی ان جیسے جانثاروں کی وجہ ہی سے آج بھی ترو تازہ اور حوصلہ مند ہے ؎بہار ہو کہ خزاں لا الہ الا اللہ(یہ کالم روزنامہ &#39;&#39;پاکستان‘‘ اور روزنامہ &#39;&#39;دنیا‘‘ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_37052987.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>حکمتِ عملی ہو تو ایسی(ایاز امیر)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-09-27/52737/97158027</link><pubDate>Sun, 27 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-09-27/52737/97158027</guid><description>اور بوکھلاہٹ ہو وہ بھی ایسی۔ جماعتِ معتوب نے محض اعلان کیا کہ دارالحکومت پر چڑھائی فلاں تاریخ سے شروع ہو گی۔ اور سرکارِ نامدار کے پیسنے چھوٹ گئے۔ کنٹینروں کی پکڑ دھکڑ‘ ہر چوراہے اور موڑ پر کنٹینروں کی آہنی دیوار۔ پولیس کی کمک  آس پاس کے اضلاع سے طلب۔ احتجاجیوں کے محاصرے سے پہلے سرکار نے دارالحکومت کا محاصرہ کر ڈالا۔ آنے جانے کے راستے بند‘ ٹریفک معطل حتیٰ کہ جی ٹی روڈ جس کا احتجاج سے واسطہ اتنا قریب نہیں اُس پر بھی رکاوٹیں۔ ہمارے ایک دوست جن کا سبزیوں کا بڑا کاروبار ہے بتا رہے تھے کہ بند گوبھی کی قیمت اعلانِ احتجاج سے پہلے اتنی تھی اور کنٹینروںکے کھڑے ہونے کے بعد چار گنا زیادہ ہو گئی۔ مزے کی بات البتہ یہ کہ پہلی بار احتجاجی جماعت کو کچھ عقل آئی اور اس نے احتجاج مؤخر کر دیا‘ یعنی 27ستمبر سے احتجاج چار اکتوبر تک کر دیا گیا ہے۔ کنٹینر وہیں کھڑے ہیں اور ان کی تعیناتی میں اب مزید توسیع کرنی پڑے گی۔ 27ستمبر کی ضروریات پوری کرنے کیلئے اسلام آباد پولیس نے 82کروڑ کی درخواست کی تھی‘ صرف 82کروڑ۔ چار اکتوبر کی توسیع کے بعد خرچہ دگنا ہو جائے گا۔ وفاقی وزیر عطا تارڑ جو کہ اپنی دانشوری کیلئے مشہور ہیں‘ نے للکرا مارا ہے کہ احتجاجی جماعت دوڑ  گئی‘ بھاگ گئی۔ ایک دو مرتبہ اور ایسی بھاگی تو حکومت کا کام ہو جائے گا۔ احتجاج دیگر ممالک میں بھی ہوتے ہیں اور حکومتی ردِعمل بھی ہوتا ہے۔ لندن اور امریکی شہروں میں لاکھوں کی تعداد میں ریلیاں نکالی جاتی ہیں۔ ایک طرف ریلی نکلتی ہے اور دوسری طرف معمول کی زندگی جاری رہتی ہے۔ کنٹینروں والا ناٹک  وہاں دیکھنے کو نہیں ملتا۔ یہ اسلامی جمہوریہ کا منفرد اعزاز ہے کہ کسی ریلی یا مارچ کا اعلان ہو اور اسلام آباد کے گرد ایک دیوارِ چین نہیں بلکہ متعدد کھڑی کر دی جاتی ہیں۔ اور یہ تو احتجاج کی بات ہے‘ جب یہاں ایران امریکہ مذاکرات کروائے جا رہے تھے تو کنٹینروں والا ناٹک اتنا دور تک پھیلایا گیا کہ تقریباً آدھا ملک مفلوج ہو گیا۔ مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ کا اعلان  ہوا اور گو نہ ایرانی آئے نہ امریکی بدقسمت دارالحکومت کو پھر سے بند کر دیا گیا۔ بعد میں خبریں آئیں کہ اس مشق پر اتنے  کروڑ روپے لگے اور حکومت سے اضافی گرانٹ کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ کہا گیا کہ مذاکرات سے پاکستان کا پروفائل اونچا ہو گیا‘ قومی وقار میں اضافہ ہوا۔ ضرور ہوا ہوگا لیکن جو خرچہ اسلامی جمہوریہ پر پڑا وہ پورا کرنے کیلئے کوئی آگے نہ آیا۔ بہرحال جہاں قومی عزت بڑھ رہی ہو وہاں خرچے کے حساب کتاب میں کیا جانا۔اس سے پہلے احتجاجی جماعت ڈی چوک والی جھَک مارتی تھی کہ وہاں تک ہم نے ضرور پہنچنا ہے اور وہیں پڑاؤ ڈالنا ہے۔  کبھی یہ سمجھ نہیں آئی کہ ایسا کیوں کیا جا رہا ہے اور ڈی چوک پر پہنچنے سے کس مقصد کے حصول کی توقع کی جا رہی ہے۔ ایک  عدد بار قافلے خیبرپختونخوا سے چلے اور حکومت خوب پریشر میں آئی۔ نومبر 26والا جو اسلام آباد مارچ تھا اچھا خاصا کامیاب رہا۔ کے پی کے سے آئے قافلے دارالحکومت کے باہر سنگجانی تک پہنچے۔ اسلام آباد سے باقی ملک کو ملاتی تمام سڑکیں بند کر  دی گئیں۔ اسلام آباد میں سبزیوں پھلوں اور دیگر کھانے کی اشیا کی قلت کی بات ہونے لگی۔ اسلا م آباد کے باہر ہی رہتے اور ڈی چوک والا ٹارگٹ نہ رکھا جاتا تو حکومت نے مزید پریشان ہونا تھا۔ لیکن کس کے کہنے پر یہ نہیں معلوم‘ قافلے اسلام آباد  کی طرف چل پڑے اور پھر ڈی چوک میں وہ ہوا جو دنیا جانتی ہے۔ اس بار ایسی حرکت کیا کرنی تھی‘ مارچ شروع ہی نہیں کیا گیا‘ کے پی کے میں کوئی اکٹھ ہوا ہی نہیں‘ اور پھر جب کنٹینروں کی دیواریں ہر جگہ کھڑی ہو چکی تھیں‘ پولیس والوں کی تھکاوٹ بھی شروع ہو گئی تھی‘ ایڈمنسٹریشن پریشر میں تھی‘ مارچ کے مؤخر ہونے کا اعلان کر دیا گیا۔ نہ کوئی لاٹھی چلی نہ کوئی ربڑ گولی فائر کرنے کی نوبت آئی۔ حکومت حیران پریشان اور احتجاجی جماعت نے خوبصورت چال چل دی۔ یعنی جو بخار حکومت پر پہلے ہی چڑھ چکا تھا اُس کو مزید لمبا کر دیا گیا‘ بغیر اپنی جیب سے کچھ خرچہ کیے۔ سَن زو (Sun Tzu) جس کا تعلق چین سے تھا اور جو تاریخ میں بہت بڑا ملٹری سٹریٹجسٹ سمجھا جاتا ہے‘ نے کہا تھا کہ بہترین فتح وہ ہوتی ہے جو بغیر کچھ جارحیت کیے‘ کچھ فائر کیے حاصل ہو جائے۔ یعنی آپ کی حکمتِ عملی ایسی ہو کہ مدِمقابل خود سے ہی پسپا ہو جائے۔ اس بار احتجاجی جماعت نے کچھ یوں ہی کیا ہے کہ اسلا م آباد پر مارچ کی صرف کال دی‘ کچھ اور نہیں کیا اور سرکار کی حالت ایسی کہ دیکھ کر فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ ہنسا جائے یا رویا جائے۔ بہتوں سے پھر سہیل آفریدی سیانا ہی نکلا۔ کوئی خاص بڑھک بھی نہیں ماری اور حکومت کی طرف سے مزاحیہ پروگرام پورا ہو گیا۔ راہِ عشق میں امتحان ابھی اور بھی ہیں دیکھتے ہیں چار اکتوبر تک کیا ہوتا ہے۔ وزیراعظم ظاہر ہے نیویارک کے دورے پر ہیں۔ یو این جنرل اسمبلی سے خطاب فرمایا‘ کچھ ملاقاتیں ہوئیں جن کے بارے میں کہنا مشکل ہے کہ حاصل کیا ہوا کیا نہ ہوا۔ بہرحال وزیراعظم اکثر دوروں پر ہی رہتے ہیں۔ کبھی یہاں گئے کبھی وہاں پائے گئے۔ اسی اثنا میں ان کی طرف سے خبر آئی ہے کہ محمود اچکزئی کو مذاکرات کی دعوت دی گئی ہے۔ کچھ مقصد حاصل کرنے کے حوالے سے ہمارے داخلی مذاکرات کچھ ایسے ہی ہوتے ہیں جیسا کہ ایران اور امریکہ کے رابطے۔ امیدیں بہت لگائی جاتی ہیں لیکن نکلتا ان میں سے کچھ نہیں۔ وزیراعظم کیا بات کریں گے محمود اچکزئی سے۔ ان کے پاس دینے کو ہے کیا کیونکہ  ہماری حکمرانی کی نزاکتیں سب سمجھتے ہیں کہ فیصلہ سازی کہاں اور کیسی ہوتی ہے۔ پھر بھی کچھ نہ ہونے سے مذاکرات کی  دعوت بہتر ہے۔ کچھ دن تبصرے چلیں گے‘ قیاس آرائیاں ہوں گی‘ دور کی کوڑیاں لائی جائیں گی اور پھر ظاہر ہے بیچ میں سے کچھ نہیں نکلے گا۔ یہاں سیاسی کہانی بس کہیں پھنسی ہوئی ہے۔ پہل تو سرکار کو کرنی چاہیے‘ سب کچھ اس کے پاس ہے‘  کنٹینروں سے لے کر مرضی کی آئین سازی تک۔ لیکن تحفظات ہیں کہ یوں کیا تو یہ ہو جائے گا‘ کچھ ایسا کیا تو فلاں نتائج برآمد ہو جائیں گے۔ ایسے وسوسوں کی ماری پوری قوم ہے۔ جسے رجیم چینج کہتے ہیں وہ تو چار ساڑھے چار سال پہلے ہو گئی لیکن سیاسی حوالے سے اُس کے بعد کوئی سمجھ نہیں آ رہی کہ آگے کیا کرنا ہے‘ کون سا قدم اٹھانا ہے۔ اس لیے سب کچھ منجمد پڑا ہے۔ بیرونی دورے جاری ہیں‘ آنیاںجانیاں ختم نہیں ہوتیں اور سب مزے میں ہیں۔ ایک نیا دردِ سر یمن کے کمبخت حوثیوں نے بنایا ہوا ہے۔ ایران امریکہ جنگ شروع ہوئی تو کم از کم حوثیوں والا محاذ ٹھنڈا پڑا تھا لیکن انہوں نے اب اس محاذ کو ایسا گرم کیا ہے کہ دوست ممالک پریشانی میں مبتلا ہیں۔ ایک طرف برادر سعودیوںکا معاملہ جن پر حوثیوں کے حملے جاری ہیں اور دوسری طرف یہ اندیشہ کہ کچھ نہ کریں تو مصیبت کچھ کریں تو پیچیدگیاں۔ اس ساری صورتحال کا موجب تو امریکہ ہے لیکن جہاں دنیا بھر کو ہم نصیحت کر سکتے ہیں امریکہ کو کچھ نہیں کہہ سکتے۔ امریکہ نے ہمیں دیا کچھ نہیں نہ وہاں سے کچھ ملنے کی توقع ہے لیکن تھپکی تو دی ہے‘ تعریفی کلمات ادا کیے ہیں اور ہم لاچاروں کیلئے یہی کافی ہے۔  </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_80573045.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سیانڑے پاکستانی اور عالمی لٹیرے(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-09-27/52738/95099138</link><pubDate>Sun, 27 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-09-27/52738/95099138</guid><description> بہت کم سرکاری افسران گزرے ہیں جو ادب لکھتے تھے‘ انہوں نے اپنا نام بنایا اور انہیں آج بھی پڑھا جاتا ہے۔ ان کی کتابیں آج بھی بیسٹ سیلر سمجھی جاتی ہیں۔ اب بیوروکریٹس کی وہ کلاس‘ جو کتاب پڑھتی اور لکھتی تھی‘ تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ اب کوئی سرکاری افسر آپ کو کتاب پڑھتا یا لکھتا نہیں ملے گا۔ اگر ملے گا تو صرف نوٹ گنتا‘ یا بقول خواجہ آصف پرتگال میں جائیدادیں خریدتا ملے گا۔ لہٰذا جب کوئی سرونگ افسر کوئی ایسی تحریر لکھے جس میں ملکی معیشت پر تبصرہ اس انداز میں کیا گیا ہو کہ آپ کو لگے آپ معیشت پر ایک ادبی شاہکار پڑھ رہے ہیں تو آپ کو خوشگوار حیرت ہوتی ہے۔چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال نے کچھ عرصہ سے ملکی معیشت پر لکھنا شروع کیا ہے تو ان کی تحریروں میں ادبی رنگ نے سب  کو متاثر کیا ہے۔ ان سے پہلی دفعہ تعارف قائمہ کمیٹی کے اجلاسوں میں ہوا تھا‘ جب وہ وفاقی سیکرٹری برائے پانی اور بجلی تھے۔ وہاں کئی دفعہ ان کی بریفنگز سنیں اور وہ سیدھی بات کرتے تھے چاہے کسی کو اچھی لگے یا بری۔ ان کے ساتھ ارکان کی کئی دفعہ شدید بحث بھی ہو جاتی تھی۔ بجلی کے مہنگے بلز اور اوپر سے آئی پی پیز کی لوٹ مار کی کہانیاں۔ ان سے سخت سوالات ہوتے تھے تو وہ بعض دفعہ سخت جوابات بھی دیتے تھے۔ تاہم ایک چیز ان کے اندر ضرور تھی جو بعد میں سینیٹ کی فنانس کمیٹی میں کھل کر سامنے آئی‘ وہ ہے ان کی حسِ مزاح اور برجستہ خوبصورت جملہ کسنے کی صلاحیت۔ جب وہ چیئرمین ایف بی آر بنے اور انہوں نے سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیرِ صدارت ہونے والے فنانس اجلاس میں شرکت کرنی شروع کی تو وہاں ان کے برجستہ جملوں سے کمیٹی میں چھائے سنجیدہ یا خشک ماحول میں قہقہوں کی آوازیں گونج اٹھتیں۔ یوں وہ کمیٹی اجلاسوں کو سنجیدہ گفتگو کے ساتھ ساتھ اپنی حسِ مزاح کے تڑکے کے ساتھ خوشگوار رکھتے ہیں۔میں تقریباً سب کمیٹیوں کے اجلاسوں میں جاتا رہتا ہوں اور مجھے ہر وفاقی سیکرٹری کے حوالے سے کچھ نہ کچھ اندازہ ہے کہ کون کس مزاج کا ہے۔ بعض سیکرٹریز تو اجلاس میں ایساسنجیدہ منہ بنا کر بیٹھتے ہیں کہ لگتا ہے اگر وہ تھوڑا سا بھی کسی بات پر مسکرائے تو جو آسمان انہوں نے اپنے کندھوں پر اٹھا رکھا ہے‘ وہ گر پڑے گا۔ خیر‘ لنگڑیال صاحب کی بات ہو رہی تھی‘ جن سے ایک دفعہ میری آئی فون پر لگنے والے پونے دو لاکھ ٹیکس پر لمبی بات ہوئی تھی۔ اس وقت تو مجھے لگا کہ وہ میری باتوں سے قائل ہو گئے ہیں کہ یہ ٹیکس نہیں ہونا چاہیے لیکن شاید میری ہاں میں ہاں اس لیے ملا دی ہو گی کہ کرنی تو اپنی مرضی ہے۔ انہوں نے سینیٹ کمیٹی میں اس ٹیکس کا یہ کہہ کر دفاع کیا کہ جو پانچ لاکھ کا فون لے سکتا ہے وہ دو لاکھ ٹیکس بھی دے سکتا ہے۔ میرا کہنا تھا کہ پھر تو یہ جدید ٹیکنالوجی صرف امیر طبقات اور ان کے بچوں تک ہی محدود رہے گی۔ لوئر مڈل یا مڈل کلاس تو اسے خریدنے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔انڈیا میں اس وقت ایک ڈالر ستانوے روپے تک پہنچ چکا ہے۔ آج جو فون وہاں ایک لاکھ روپے کا ہے ہمیں سات لاکھ روپے کا ملتا ہے۔ اب اندازہ کریں‘ آپ انڈیا کی نوجوان نسل کا کیسے آنے والے زمانوں میں جدت اور تخلیق میں مقابلہ کر سکیں گے۔ اب جو نئے فونز میں جدید ٹیکنالوجی آ رہی ہے‘ آپ کو تو چاہیے تھا کہ لیپ ٹاپ سکیم کی طرح مفت نہیں تو کم از کم رعایتی قیمت پر یہ فون  فراہم کرتے کہ اگلے چند برسوں میں دنیا بدلنے والی ہے۔ بدلنے والی بات شاید پرانی ہو گئی ہے‘ اب تو دنیا اے آئی کے ہاتھوں تباہ ہونے کی باتیں ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ ویسے تو پوری قوم‘ خصوصاً اوورسیز پاکستانی عمران خان کے دیوانے ہیں لیکن کسی کو یاد ہے کہ آئی فونز پر دو لاکھ کا ٹیکس ان کا ہی فیصلہ تھا جو شہباز شریف حکومت نے چار سال سے سینے سے لگا رکھا ہے کہ پیسہ مل رہا ہے۔ الٹا جو اوورسیز پاکستانی اپنا فون پی ٹی اے کے ساتھ رجسٹرڈ کراتے یا ایئرپورٹ پر پہلے پاسپورٹ کے ساتھ این او سی لیتے تھے‘ ان کا ڈیٹا بھی چوری ہو کر رجسٹریشن کیلئے پی ٹی اے کے پاس استعمال ہو رہا تھا۔عمران خان دور میں ڈالر مہنگا ہوا اور ساتھ ہی تقریباً سبھی درآمدی اشیا مہنگی ہوئیں۔ سوا سے ڈیڑھ لاکھ کا فون پانچ لاکھ کا ہو گیا اور اُس پر دو لاکھ مزید ٹیکس لگا دیا گیا۔ سارے نہیں تو زیادہ تر سیاستدانوں‘ وزیروں اور وفاقی سیکرٹریز کو فون تحفے میں ملتے ہیں‘ لہٰذا  ان کی بلا سے فون سات لاکھ کا ہو جائے یا سترہ لاکھ کا۔ اب راشد لنگڑیال صاحب کی تازہ تحریر پڑھ رہا تھا جو ڈالر کے بارے میں  تھی کہ وہ کیسے اس عام آدمی کو بھی روز متاثر کرتا ہے جس نے آج تک ڈالر کی شکل بھی نہیں دیکھی۔ ان کے کہنے کا مطلب ہے کہ ڈیزل‘ پٹرول اور گیس درآمد تو ڈالروں میں ہوتے ہیں لیکن پاکستان میں یہ روپوں میں بیچے جاتے ہیں۔ اگر 2018ء میں عمران خان سے پہلے ڈالر ایک سو پانچ روپے یا ایک سو دس روپے کا تھا ‘ اورعمران خان کی حکومت جاتے وقت 182 روپے کا تھا تو اس وقت پٹرول کی قیمت بھی کم ہو گی۔ لیکن آج ڈالر تقریباً 280روپے کا ہے تو بے شک تیل کی قیمت پچاس ڈالر فی بیرل ہی کیوں نہ ہو‘ پاکستان میں پھر بھی تیل مہنگا ہو گا ۔پاکستان کی معیشت کو ڈالر کے ساتھ جوڑنے کا کام شوکت عزیز نے پرویز مشرف دور میں کیا تھا کہ اب عالمی مارکیٹ کی جو قیمت ہو گی‘ وہی پاکستانیوں کو بھی دینی پڑے گی۔ اب وہ سلسلہ ختم ہوا کہ پورا سال پٹرول‘ ڈیزل کی قیمت ایک ہی رہے گی اور سال کے بعد بجٹ میں اضافہ ہو گا۔ اُس وقت بجٹ کی بڑی کشش یہی پٹرول‘ ڈیزل کی قیمت یا سرکاری ملازمین کی تنخواہ اور پنشن میں اضافہ تھا۔ پھر دھیرے دھیرے یہ سلسلہ سہ ماہی‘ پھر ماہوار‘ پھر پندرہ روز‘ پھر ہفتہ واراور اب روزانہ تک آ گیا ہے۔ جب ملک میں بجلی بھی درآمدی تیل اور ایل این جی سے بنے گی‘ اور اربوں ڈالر کی غذائی اجناس بشمول گندم بھی باہر سے منگوائیں گے تو پھر بیشک کسی نے ڈالر دیکھا ہے یا نہیں‘ سبھی ان اجناس کی یکساں قیمت ادا کریں گے۔ اندازہ کریں کہ ہم جو ڈالرز ادھار قرض پر لا رہے ہیں اور ان پر سات‘ آٹھ فیصد سود بھی دے رہے ہیں‘ وہ کہاں جا رہا ہے۔ابھی سینیٹ کی ایک کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی میں ایف آئی اے نے انکشاف کیا کہ دنیا بھر سے پاکستان کا وزٹ ویزہ لگوا کرچین‘ برما‘ انڈونیشیا‘ ویت نام‘ افریقی ممالک‘ ملائیشیا وغیرہ سے سینکڑوں فراڈیے پاکستان میں کال سینٹرز قائم کر کے 172 ارب روپے لوٹ کر نکل گئے ہیں‘ تقریباً ساڑھے چھ سو ملین ڈالر۔ یہ سب پیسہ کرپٹو کرنسی کے ذریعے پاکستان سے نکالا گیا۔ ہم دنیا بھر سے سات‘ آٹھ فیصد سود پر ڈالرز لا رہے ہیں اور یہ فراڈیے وزٹ ویزے لے کر پاکستانیوں کو جعلی سکیموں‘ بینک فراڈ‘ سم فراڈ‘ سرمایہ کاری سکیموں‘ شناختی کارڈ فراڈ‘ واٹس ایپ ہیک فراڈ کر کے نکل گئے ہیں۔ فراڈ کرنے کیلئے انہوں نے پاکستانی لڑکوں کو ان کال سینٹرز میں چند ہزار کی نوکری دی ہوئی تھی‘ جو رات بھر جاگ کر کام کرتے اور والدین کو بڑے فخر سے بتاتے تھے کہ ہمیں امریکہ کی کمپنیوں نے سیلز اور مارکیٹنگ کیلئے بھاری معاوضے پر ہائر کر رکھا ہے۔ یہ امریکی کمپنیوں کیلئے سیلز مین کے طور پر یہیں پنڈی کی ہاؤسنگ سوسائٹیز میں واقع کال سینٹرز میں اپنے ہی پاکستانیوں کے ساتھ ساری رات فراڈ کرتے ہیں۔ فراڈ کرنے کے سب جدید طریقے یہ غیرملکی فراڈیے باہر سے آ کر سمجھاتے اور ساتھ میں جدید آلات بھی لاتے ہیں۔ اور والدین خوش ہیں کہ ہمارا میٹرک پاس بچہ امریکی کمپنی میں جاب کرتا ہے۔ہر پاکستانی خود کو بڑا سیانڑا سمجھتا ہے۔ اگلے برما اور افریقہ سے آ کر ان سے اربوں لوٹ گئے ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>عالمی افق پر پاکستان کا سفارتی مقام(رشید صافی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-09-27/52739/29912477</link><pubDate>Sun, 27 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-09-27/52739/29912477</guid><description>دنیا اس وقت جغرافیائی‘ معاشی اور سٹرٹیجک تبدیلیوں کے دور سے گزر رہی ہے‘ جہاں طاقت کے روایتی مراکز تبدیل ہو رہے ہیں اور نئے اتحاد جنم لے رہے ہیں۔ ان حالات میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس بین الاقوامی سفارت کاری اور عالمی سیاست میں نہایت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ دنیا کو ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے اور مسائل کا مشترکہ حل تلاش کرنے کا موقع میسر آیا ہے۔ اس عالمی اجتماع میں پاکستان توانا آواز کے ساتھ موجود تھا۔ عالمی سطح پر سفارتی تبدیلیوں کے تناظر میں پاکستان کا عالمی سطح پر باوقار‘ متوازن اور ناگزیر ریاست کے طور پر ابھرنا پاکستانی قوم کے لیے قابلِ فخر ہے۔ مئی 2025ء کے معرکہ حق میں بھارت کے خلاف حاصل ہونے والی شاندار اور فیصلہ کن فتح نے خطے میں پاکستان کی عسکری اور دفاعی صلاحیتوں کا لوہا منوایا جس کے اثرات سفارتی اور معاشی میدانوں میں پذیرائی کی صورت میں نظر آ رہے ہیں۔ عالمی برادری پاکستان کو ایک علاقائی فریق کے طور پر نہیں بلکہ جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ میں امن‘ استحکام اور توازن کی ضمانت  سمجھتی ہے۔ اقوام متحدہ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خطاب نے پاکستان کی بین الاقوامی اہمیت پر مہر تصدیق ثبت کر دی۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف کو شاندار انسان کہنا اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے وزیراعظم کے خطاب کا کچھ حصہ شکریہ کے ساتھ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر شیئر کرنا امریکی پالیسی سازی کے ایوانوں میں پاکستان کے مثبت اثر و رسوخ کا واضح اعتراف ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں پاک بھارت کشیدگی کے دوران امن کی بحالی‘ انسانی جانوں کے ضیاع کو روکنے اور ثالثی کے لیے امریکی صدر کی مساعی کا اعتراف کیا جسے بین الاقوامی سطح پر بے حد سراہا گیا۔ یہ سفارتی توازن اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان جارحیت کا شکار ہونے کے باوجود امن اور معقولیت کا علمبردار رہا ہے۔ دنیا نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ پاکستان نے مشکل حالات میں بھی ذمہ دار ایٹمی طاقت کا کردار ادا کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب کا آغاز قرآن پاک کی سورۃ الانفال کی آیت مبارکہ سے کیا جس نے دنیا کو یہ باور کرایا کہ اسلام کی بنیاد ہی امن‘ عدل اور باہمی احترام پر مبنی ہے۔ وزیراعظم نے اپنے خطاب میں دنیا کے اہم بحرانوں اور ان کے اقتصادی و سماجی اثرات کا تفصیل سے احاطہ کیا اور عالمی رہنماؤں کو یاد دلایا کہ ترقی اور خوشحالی کی کوششیں اس وقت تک ناکام رہیں گی جب تک دنیا سے ناانصافی اور جنگ کے بادل چھٹ نہیں جاتے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے دنیا کی بڑی طاقتوں اور اقوام متحدہ کی توجہ اس  جانب مبذول کروائی کہ عالمی برادری کا دہرا معیار دنیا کے امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ مشرقِ وسطیٰ بالخصوص سعودی عرب کی سلامتی کا معاملہ پاکستان کی خارجہ پالیسی اور عوام کے جذبات کا بنیادی محور رہا ہے۔ وزیراعظم نے حرمین شریفین کی حرمت اور سعودی عرب کی دفاعی سلامتی کے حوالے سے دو ٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے اسے پاکستان کی ریڈ لائن قرار دیا۔ سعودی عرب کی سرزمین پر حوثی باغیوں کے ڈرون اور میزائل حملوں کی پُرزور مذمت کرتے ہوئے انہوں نے دنیا پر واضح کیا کہ حرمین شریفین کی سلامتی‘ بقا اور حرمت پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان سعودی عرب کے دفاع کے لیے ہر وقت اور ہر سطح پر کھڑا ہے اور اس معاملے میں کسی بھی قسم کی غفلت کی کوئی گنجائش نہیں۔ مکہ معاہدہ کی توثیق اور پاسداری کا اعادہ دراصل پاکستان کی اس پُرخلوص سوچ کا عکاس ہے کہ امت مسلمہ میں اتحاد‘ رواداری اور استحکام قائم رہے۔ وزیراعظم نے اپنے خطاب اور ملاقاتوں میں یہ نکتہ بار بار اٹھایا کہ مسلمان ممالک کے درمیان اتحاد وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ اس مؤقف سے جہاں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے تاریخی‘ دینی اور تزویراتی تعلقات کو مزید تقویت ملی ہے وہاں خطے میں تنازعات کے حل اور بین المسلمین یکجہتی کے لیے پاکستان کی سفارتی ساکھ بھی بے حد مضبوط ہوئی ہے۔ دنیا دیکھ رہی ہے کہ پاکستان کس طرح مشرقِ وسطیٰ میں امن کا ایک طاقتور اور قابلِ اعتماد داعی بن کر سامنے آیا ہے۔عالمی جیو پولیٹکل منظر نامہ تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ عالمی طاقتوں کے درمیان تعلقات کی کیمسٹری اور صف بندیاں تیزی سے بدل رہی ہیں جس کی ایک بڑی مثال امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے چینی صدر شی جن پنگ کی غیر معمولی پذیرائی اور امریکی فوجی اڈے پر چینی قیادت کا تاریخی اور پُرشکوہ استقبال ہے۔ یہ 1962ء کے بعد پہلا موقع تھا کہ کسی امریکی صدر نے ذاتی طور پر کسی غیرملکی رہنما کا اینڈریوز ملٹری بیس پر استقبال کیا۔ یہ تاریخی واقعہ دنیا میں چین کے ابھرتے ہوئے عالمی اثر و رسوخ‘ معاشی طاقت اور ناقابلِ تسخیر حیثیت کا کھلا اعتراف ہے۔ چین اور امریکہ جیسے حریفوں کے درمیان سفارتی اور عسکری سطح پر ہونے والی اس پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ آئندہ کی عالمی سیاست کا دارومدار صرف محاذ آرائی پر نہیں بلکہ باہمی احترام‘ تزویراتی شراکت داری اور تعطل کے خاتمے پر ہو گا اور اس پورے عمل میں ایشیا کا کردار مرکزی ہوتا جا رہا ہے۔ امریکی دورے کے دوران چینی صدر شی جن پنگ نے جس انداز میں پاکستان کا نام لیا اور اسلام آباد معاہدے کا ذکر کیا وہ سفارتی دنیا میں ایک انتہائی مخلص اور برادر ملک کے لیے تحسین کا اعلیٰ ترین معیار ہے۔ چینی صدر کے اس بیان نے پاکستان کے اس مرکزی اور مثبت کردار کو دنیا کے سامنے اجاگر کیا جو علاقائی امن و امان کی بحالی اور مذاکرات کے فروغ کے لیے خاموشی سے ادا کیا ہے۔ چینی صدر نے بین السطور دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ امن کا راستہ اسلام آباد سے ہو کر گزرتا ہے۔ چینی صدر کی جانب سے پاکستان کی پذیرائی اس بات کی گواہی ہے کہ دونوں ممالک کی شراکت داری محض چند معاشی یا تجارتی منصوبوں تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک اٹوٹ دفاعی‘ اخلاقی اور جیو سٹرٹیجک لڑی میں پروئی ہوئی ہے۔ چین اور پاکستان کی دوستی اب عالمی طاقتوں کی نظر میں خطے کی معاشی ترقی اور پائیدار امن کی بنیاد سمجھی جاتی ہے۔ اس سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ پاکستان کے بغیر اس خطے میں معاشی ترقی یا امن کا کوئی بھی فارمولا کامیاب نہیں ہو سکتا۔پاکستان کی اس متوازن‘ مضبوط اور اصولوں پر مبنی سفارت کاری کا ہی نتیجہ ہے کہ دنیا پاکستان کی اہمیت کا اعتراف کر رہی ہے۔ امریکہ‘ چین‘ ایران‘ اور عرب ممالک سمیت دنیا کی تمام بڑی معاشی و عسکری طاقتیں اس بات پر متفق ہیں کہ جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن‘ معاشی راہداریوں کے فروغ‘ توانائی کی ترسیل اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستان کا کردار انتہائی اہم ہے۔ پاکستان کی پوزیشن ایک ایسے اہم پل کی سی ہے جو مشرق اور مغرب‘ نیز مختلف معاشی بلاکس کو جوڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ دنیا اب پاکستان کی آواز کو نہ صرف سنتی ہے بلکہ اس کے فیصلوں اور پالیسیوں کو قدر کی نظر سے دیکھتی ہے۔ یہ تاریخی لمحہ پاکستان کے لیے جہاں ایک عظیم کامیابی اور باعثِ فخر مرحلہ ہے وہاں یہ اس امر کا تقاضا بھی کرتا ہے کہ ہم بحیثیت قوم اپنے داخلی معاشی استحکام‘ سیاسی یکجہتی اور قومی اتحاد کو مضبوط سے مضبوط تر بنائیں۔ اگر پاکستان اپنی معیشت کو اسی سفارتی کامیابی کی طرز پر مضبوط بنا لیتا ہے تو اس سفارتی اور عسکری وقار کے ثمرات سے ملک و قوم کے مستقبل کو ہمیشہ کے لیے تابناک اور محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/222_48272610.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بڑا شور سنتے تھے پہلو میں دل کا(عمران یعقوب خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-09-27/52740/49422017</link><pubDate>Sun, 27 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-09-27/52740/49422017</guid><description>یقین نہیں آتا کہ کوئی سیاسی پارٹی اس طرح بھی اپنی بھد اڑا سکتی ہے جس طرح پاکستان تحریک انصاف اڑا رہی ہے۔ پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے سے القادر ٹرسٹ کیس کے تناظر میں نو مئی 2023ء کو گرفتار کیا گیا تھا۔ اس کے بعد انہیں پانچ اگست 2023ء کو ان کی لاہور میں زمان پارک میں واقع رہائش گاہ سے توشہ خانہ کیس میں دوبارہ گرفتار کیا گیا۔ تب سے اب تک بانی پی ٹی آئی جیل میں ہیں اور ان کی پارٹی کی جیل سے باہر قیادت احتجاجی مظاہروں اور لانگ مارچ کی کم و بیش درجن بھر کالیں دے چکی ہے لیکن ہوتا یہ ہے کہ لانگ مارچ کا اعلان کیا جاتا ہے‘ تاریخ طے کی جاتی ہے‘ لانگ مارچ کے غبارے میں اتنی ہوا بھری جاتی ہے کہ دیکھنے‘ سننے والے سوچنا شروع کر دیتے ہیں کہ پتا نہیں کیا ہونے والا ہے لیکن پھر اچانک اس پھولے ہوئے غبارے کا وہ سرا ہاتھ سے نکل جاتا ہے یا از خود چھوڑ دیا جاتا ہے جہاں دبا کر ہوا کو روکا گیا ہوتا ہے اور اس میں سخت دباؤ کے تحت بھری گئی ہوا شوں شوں کر کے نکلنا شروع ہو جاتی ہے۔ لانگ مارچ مؤخر  کرنے سے اس بار تو غبارہ یوں سمجھیں پھٹ ہی گیا ہے۔ وجہ کیا ہے؟ یہ کسی کو معلوم نہیں اور لگتا ہے‘ یہ ایسی راکٹ سائنس ہے کہ کسی کو معلوم ہو بھی نہیں سکتی۔ ہر بار نتیجہ خواجہ حیدر علی آتش کے اس شعر جیسا نکلتا ہے:بڑا شور سنتے تھے پہلو میں دل کاجو چیرا تو اک قطرۂ خوں نہ نکلااور اس بار نتیجہ کچھ زیادہ ہی نکلا ہے۔سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کے دور میں بڑے بلند بانگ دعوے سننے کو ملتے رہے اور موجودہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا بھی ان سے کم نہیں ہیں‘ لیکن خان صاحب کے شاید وہ مقاصد پورے نہیں ہو سکے جن کو پیشِ نظر رکھ کر انہوں نے گزشتہ برس صوبے کا حکمران تبدیل کیا تھا۔ جو معاملات پہلے تھے‘ وہی اب بھی ہیں۔ جیسی چال پہلے تھی‘ اب بھی ہے۔ خان صاحب پہلے بھی جیل میں تھے‘ اب بھی جیل میں ہیں۔ ان کے حق میں کوئی دبنگ تحریک نہ پہلے چلائی جا سکی نہ اب چل پا رہی ہے۔ تحریک‘ احتجاج اور لانگ مارچ پی ٹی آئی کیلئے ایک ایسا گولہ بن چکے ہیں جو چھوٹنے سے پہلے ہی ایک ہلکی سی جھرجھری لے کر ٹھس ہو جاتا ہے۔ جس گولے سے زوردار دھماکے کے ساتھ پھٹنے کی توقع باندھی گئی ہوتی ہے اس میں سے ہلکا سا دھواں نکلتا ہے اور بس پھر اس کا The End ہو جاتا ہے۔ 27 ستمبر کے لانگ مارچ کا مکمل دی اینڈ ہو چکا ہے یا آئندہ ماہ اس کے تن مردہ میں نئی روح پھونکی جائے گی‘ پھر سے ہوا بھری جائے گی‘ اس بارے میں وثوق کے ساتھ کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ میرا ذاتی اندازہ یہ ہے کہ اگلی کوئی کوشش بھی کامیاب نہیں ہو سکے گی کیونکہ لانگ مارچ کا جو مومینٹم اب بن چکا تھا‘ ویسا بنانا آئندہ ماہ شاید ممکن نہ ہو۔ وہ جو آنند بخشی نے کہا تھا: مجھے تیری محبت کا سہارا مل گیا ہوتااگر طوفاں نہیں آتا کنارا مل گیا ہوتایہاں تو نہ طوفان آ رہا ہے نہ کوئی کنارا مل رہا ہے اور محبت کا سہارا ملتا بھی کہیں نظر نہیں آتی۔ صورتحال بالکل ایران امریکہ جنگ جیسی بن چکی ہے۔ نہ جنگ ہو رہی ہے‘ نہ امن قائم ہو رہا ہے۔ پھنسے ہوئے نزلہ و زکام کی مثال بھی دی جا سکتی ہے جس میں ناک نہ پوری طرح بہتی ہے‘ نہ ہی خشک ہوتی ہے۔ بس بندہ شوں شوں کرتا رہتا ہے۔ عرصے سے اب بس ایسی شوں شوں ہی سننے کو مل رہی ہے۔بے دلی کے ساتھ کیا گیا کوئی بھی کام نتیجہ خیز نہیں ہوتا۔ اگست کے آغاز میں جب وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے لانگ مارچ کیلئے 27 ستمبر کا دن دیا تو سب کو حیرت ہوئی تھی کہ ڈیڑھ پونے دو ماہ بعد کی تاریخ دینے میں پتا نہیںکیا منطق ہے۔ دو تین ہفتے گزرے تو یہ آوازیں اٹھنا شروع ہو گئیں کہ تیاری مکمل نہیں ہے اس لیے لانگ مارچ ملتوی یا مؤخر کیا جائے‘ اور یا للعجب یہ آوازیں خود پی ٹی آئی کے اندر سے اٹھ رہی تھیں‘ تاہم پارٹی کی اعلیٰ قیادت ڈٹی رہی کہ لانگ مارچ ضرور ہو گا۔ پھر جمعۃ المبارک کی سہ پہر اچانک پتا نہیں کیا ہو گیا کہ احتجاج مؤخر کر دیا گیا‘ اور یہ پہلا موقع نہیں کہ پلان ٹھس ہوا ہے‘ ایسا پی ٹی آئی کے ورکر اس سے پہلے کئی بار ہوتا دیکھ چکے ہیں۔ ہم بھی۔اور پی ٹی آئی پر ہی موقوف نہیں‘ اپنی جماعت اسلامی کو دیکھ لیں۔ پہلے احتجاج کیا گیا‘ پھر گورنر ہاؤسز کے باہر دھرنے دیے گئے‘ پھر اسلام آباد لانگ مارچ کا اعلان کیا گیا‘ لانگ مارچ شروع بھی ہو گیا لیکن جب میلہ جما‘ جب مومینٹم بنا تو وزیر اعظم کی ایک فون کال پر سب کچھ ہالٹ کر دیا گیا۔ پتا نہیں حکمرانوں کے پاس کون سی گیدڑ سنگھی ہے کہ اپوزیشن کا کوئی احتجاج جم ہی نہیں پا رہا‘ کوئی لانگ مارچ رنگ ہی نہیں پکڑ رہا۔ عین وقت پر غبارے سے ہوا شوں شوں کر کے نکل جاتی ہے اور پھر  ایک نئی تاریخ کا اعلان کر دیا جاتا ہے۔ میں تو اسے وزیر اعظم شہباز شریف کی خوش بختی ہی قرار دوں گا ورنہ کون سا معاملہ ہے جس پر احتجاج نہیں کیا جا سکتا‘ لانگ مارچ منعقد نہیں کیا جا سکتا۔باقی چیزیں اپنی جگہ لیکن میں اپنے مہربان وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ کا پی ٹی آئی کی جانب سے لانگ مارچ مؤخر کیے جانے کے بعد دیا گیا یہ بیان سن کر زیر لب ضرور مسکرا دیا ہوں جس میں انہوں نے پی ٹی آئی کی جانب سے لانگ مارچ کو مؤخر کرنے کے فیصلے پر ردِ عمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ دھرنوں سے بھاگ گئے‘ ہمت ہے تو آؤ۔ انہوں نے کہا کہ ان کی لانگ مارچ اور دھرنے کی کوئی تیاری بھی نہیں تھی۔ یعنی ایک طرف لانگ مارچ کے تناظر میں پورا اسلام آباد سیل کیا گیا اور دوسری طرف چیلنج بھی دیا جا رہا ہے کہ ہمت ہے تو آؤ اور لانگ مارچ کر کے دکھاؤ۔ ایک تو اپوزیشن کی لانگ مارچ کی بیل منڈھے نہیںچڑھ پا رہی اوپر سے عطا صاحب پی ٹی آئی والوں کو اشتعال دلا رہے ہیں۔میرا خیال ہے جتنی بار پی ٹی آئی کے ورکرز کو لانگ مارچوں اور احتجاجوں کی کالیں دی جا چکی ہیں اس سے تو اب تک وہ تھک چکے ہوں گے۔ شاید لانگ مارچوں میں شرکت کرنے سے وہ اتنا نہ تھکتے جتنا وہ اب تھک چکے ہوں گے۔ لیڈرشپ اور پھر سیاسی لیڈرشپ وہ ہوتی ہے جو اپنے فیصلوں پر قائم رہے۔ ٹھیک ہے کبھی کبھی یو ٹرن لے لینے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں لیکن زیادہ تر کیے گئے فیصلوں پر عمل درآمد ہونا چاہیے کہ یہ کسی سیاسی جماعت‘ کسی سیاسی لیڈر کے وقار اور ساکھ کا معاملہ ہوتا ہے۔کہا جا رہا ہے کہ اب پی ٹی آئی چار اکتوبر کو مارچ کرے گی۔ جب کالم لکھ رہا تھا تو ایک دوست پاس بیٹھا تھا۔ یہاں تک لکھ لینے کے بعد اسے سنایا تو وہ بولا کہ پی ٹی آئی کو اب بھی سوچ لینا چاہیے‘ ایک ہفتے میں تیاری تھوڑی ہو جاتی ہے‘ تیاری نہیں ہے تو پھر سوچ لیں‘ پہلی بار قطرۂ خوں نہیں نکلا تو ایک ہفتے بعد کیسے نکل آئے گا؟</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_58350786.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>آبنائے ہرمز سے با ب المندب تک(محمد عبداللہ حمید گل)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-abdullah-hameed-gull/2026-09-27/52741/80716785</link><pubDate>Sun, 27 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-abdullah-hameed-gull/2026-09-27/52741/80716785</guid><description>دنیا ایک بار پھر نئی سرد جنگ کے دور میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے مگر اس بار مقابلہ نظریات کا نہیں معیشت اور سمندری راستوں پر کنٹرول کا ہے۔ عالمی طاقتوں کے مابین جاری کشمکش اب کھلے میدانوں سے نکل کر ان آبی گزر گاہوں تک پہنچ چکی ہے جہاں سے عالمی معیشت کی سانسیں جڑی ہوئی ہیں۔ یہ ایک نئی قسم کی جنگ ہے۔ خاموش‘ پیچیدہ اور انتہائی خطرناک۔ اب ہتھیار بندوقیں نہیں بلکہ بندرگاہیں‘ سپلائی چینز اور تجارتی راستے ہیں۔ کسی ملک کو شکست دینے کیلئے اب جنگ ضروری نہیں‘ بس اس کی سپلائی لائن کاٹ دو۔ مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال میں آبنائے ہرمز اور باب المندب اس کی عملی تصویر پیش کرتے ہیں۔ جہاں دونوں عالمی آبی گزرگاہوں میں صرف پانی نہیں‘ عالمی سیاست معیشت اور طاقت کی کشمکش بھی واضح دکھائی دے رہی ہے۔جزیرہ نما عرب کے ایک طرف خلیج فارس اور آبنائے ہرمز تو دوسری جانب بحیرہ احمر اور باب المندب ہے۔ نقشے پر دیکھا جائے تو یہ دونوں گزرگاہیں جزیرہ نما عرب کے گرد ایک ایسے سٹرٹیجک شکنجے کے دو جبڑوں کی مانند دکھائی دیتی ہیں جن میں ایک طرف خلیج فارس کی توانائی اور دوسری طرف ایشیا‘ مشرقِ وسطیٰ اور یورپ کی بحری تجارت جکڑی ہوئی ہے۔ کئی دہائیوں تک آبنائے ہرمز اور باب المندب کو بنیادی طور پر تجارتی راستوں کے طور پر دیکھا جاتا رہا۔ تیل‘ گیس‘ ایل این جی‘ پیٹرو کیمیکلز‘ کھاد‘ اناج اور دیگر اہم اشیا انہی راستوں سے دنیا کے مختلف حصوں تک پہنچتی رہیں۔ مگر اب مشرقِ وسطیٰ کی جنگ میں آبنائے ہرمز اور باب المندب جیسے بحری تجارتی راستے جغرافیائی سیاست اور عسکری حکمتِ عملی کے Center of gravityبن چکے ہیں۔ آنے والے دنوں میں اگر جنگی دباؤ بڑھتا ہے تو ان آبی گزرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھے گی اور اگر سفارتی حل کی طرف پیش رفت ہوتی ہے تو بھی ان کی تزویراتی اہمیت ختم نہیں ہو گی کیونکہ جغرافیہ جنگ کے ساتھ تبدیل نہیں ہوتا۔ ماضی کی جنگوں میں کسی ریاست کی طاقت کا پیمانہ عموماً اس کی فوج‘ فضائیہ‘ بحریہ‘ میزائل اور بری فوج تھی۔ آج عسکری قوت کا معیار بدل گیا ہے‘ اب یہ اندازہ لگایا جائے گا کہ کون کسی سپلائی چین پر اثر انداز ہونے یا اسے قابو میں رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اگر کسی سمندری Choke point سے جہاز گزرنے میں خطرہ محسوس کریں تو لازمی نہیں کہ مکمل ناکہ بندی کا نفاذ ہو۔ صرف خطرے کا تصور ہی ان جہازوں کو راستہ بدلنے‘ سفر روکنے یا اضافی فیس ادا کرنے پر مجبور کر سکتا ہے جس کے نتیجے میں جنگی محاذ سے نکلنے والا دباؤ براہِ راست عالمی مارکیٹ میں منتقل ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ جنگ کا میدان عسکری تنصیبات سے نکل کر معاشی انفراسٹرکچر تک پھیل چکا ہے۔ تازہ رپورٹس کے مطابق ہرمز میں تجارتی آ مدورفت جنگ سے پہلے کے تقریباً 125بڑے تجارتی جہاز یومیہ سے بہت نیچے آ چکی ہے جبکہ باب المندب پر حوثیوں کی پیش قدمی نے بھی تیل کی ترسیل کو دباؤ میں ڈال دیا ہے۔خلیج فارس سے آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر سے باب المندب تک پھیلا ہوا یہ سمندری جغرافیہ دنیا کو اس بنیادی حقیقت کی یاد دہانی کرواتا ہے کہ عالمی طاقت صرف زمین پر قبضے کا نام نہیں‘ کبھی کبھی چند میل چوڑا سمندری راستہ بھی پوری دنیا کی معیشت کیلئے دباؤ کا مرکز بن جاتا ہے۔ اسی لیے آبنائے ہرمز سے باب المندب تک جاری کشمکش کو محض ایک علاقائی جنگ سمجھنا اس بحران کی اصل جہت کو نظر انداز کرنا ہو گا۔ مڈل ایسٹ میں کشیدگی بڑھنے سے قبل یہ چوک پوائنٹس صرف آبی گزرگاہیں تھیں جو علاقائی اور عالمی تجارت کیلئے پُرامن طریقے سے استعمال ہوتی تھیں۔ کل تک جو آبنائے عالمی تجارت کا راستہ تصور کی جاتی تھیں‘ آج وہ سٹرٹیجک دباؤ کے مراکز بن چکی ہیں اور جو پائپ لائن توانائی کی ترسیل کا ذریعہ تھی آج وہ جنگی منصوبہ بندی کا مین حصہ ہے۔ عالمی بحری تجارتی راستوں کی سلامتی علاقائی طاقت کے توازن سے وابستہ ہے‘ اور یہی جغرافیائی معیشت کا نیا چہرہ ہے۔ باب المندب بحیرہ احمر‘ نہرسویز اور بحرِ ہند کے درمیان اہم بحری دروازہ ہے۔ اگر ہرمز متاثر ہو اور باب المندب بھی غیر محفوظ ہو جائے تو دنیا کی معیشت کس سمت جائے گی؟ جواب صرف تیل کی قیمت میں اضافے تک محدود نہیں۔ پٹرول مہنگا ہو گا تو ٹرانسپورٹ متاثر ہو گی‘ بجلی کی لاگت بڑھے گی تو صنعت دباؤ میں آئے گی‘ اشیائے ضروریہ کی ترسیل مہنگی ہو گی تو مہنگائی کا بوجھ عام آدمی کے کندھوں پر منتقل ہو گا۔ خلیجی ممالک بھی ایک مشکل توازن قائم رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سعودی عرب‘ متحدہ عرب امارات‘ قطر‘ کویت‘ بحرین اور عمان ایک طرف امریکہ کے ساتھ اپنے دفاعی اور اقتصادی تعلقات رکھتے ہیں دوسری طرف ایران ان کا جغرافیائی ہمسایہ ہے۔ گزشتہ برسوں میں خلیجی ریاستوں نے یہ بھی محسوس کیا ہے کہ مسلسل کشیدگی اقتصادی ترقی کے ان منصوبوں کیلئے خطرہ بن سکتی ہے جن پر انہوں نے اربوں ڈالر خرچ کیے ہیں۔ سوال یہ بھی ہے کہ چین اور روس اس بدلتی صورت کو کس نظر سے دیکھ رہے ہیں؟چین کیلئے خلیج محض سیاسی خطہ نہیں بلکہ توانائی‘ تجارت اور عالمی اقتصادی رابطوں کا اہم مرکز ہے۔ بیجنگ نے گزشتہ برسوں میں سعودی عرب اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی میں کردار ادا کیا اور خطے میں اپنی اقتصادی موجودگی بڑھائی۔ روس بھی مشرقِ وسطیٰ میں اپنے سیاسی اور تزویراتی مفادات رکھتا ہے؛ چنانچہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اب صرف دو ملکوں کا تنازع نہیں رہا اس میں بڑی طاقتوں کے مفادات بھی شامل ہو چکے ہیں اور واشنگٹن کا اندرونی محاذ بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ امریکہ میں نومبر کے وسط مدتی انتخابات قریب ہیں۔ طویل جنگ‘ بڑھتے ہوئے دفاعی اخراجات‘ تیل کی قیمتوں اور مہنگائی جیسے معاملات امریکی سیاست میں اہم موضوعات بن سکتے ہیں۔ امریکی کانگریس کے بجٹ دفتر کے مطابق ایران جنگ پر یکم اگست تک محکمہ دفاع کے اخراجات 38ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے تھے جبکہ جنگ جاری رہنے کی صورت میں ماہانہ اخراجات تین ارب ڈالر تک بڑھ سکتے ہیں۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ ہرمز کے بعد باب المندب کا محاذ کہاں تک جائے گا؟ کیا خلیجی ممالک براہِ راست اس کشمکش میں مزید الجھیں گے؟ کیا ایران اور امریکہ کے درمیان کوئی سفارتی راستہ دوبارہ کھل سکتا ہے؟ کیا سعودی عرب اور ایران اپنے اختلافات کو کسی نئے مذاکراتی فریم ورک میں لے جا سکتے ہیں؟ اور کیا بڑی طاقتیں اس بحران کو وسیع تر جنگ میں تبدیل ہونے سے روک سکیں گی؟ پاکستان کیلئے یہ سوالات غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ ایران ہمارا ہمسایہ ہے‘ سعودی عرب کے ساتھ ہمارے تاریخی اور عوامی تعلقات ہیں‘ چین ہمارا اہم اقتصادی شراکت دار ہے۔ کل ہرمز‘ آج ملاکا‘ اب باب المندب صرف ایک جملہ نہیں‘ مستقبل کا ممکنہ عالمی منظر نامہ ہے۔ بڑی طاقتوں بالخصوص امریکہ کی بحری حکمت عملی اور چین کی اس کے خلاف جوابی کوششیں آئندہ دس برسوں کی عالمی سیاست کا رخ متعین کریں گی۔ یہ ایک ایسا مقابلہ ہے جس میں فتح صرف طاقت سے نہیں حکمت‘ صبر اور جغرافیے کی بہتر سوجھ بوجھ سے حاصل ہو گی۔ اگر دنیا نے اس کشمکش کو متوازن نہ رکھا تو یہ نئی سرد جنگ کسی بڑے بحران کا پیش خیمہ بن سکتی ہے کیونکہ آبنائے ہرمز سے باب المندب تک دنیا کیلئے ایک امتحان ہے۔ اب یہ سوال سامنے کھڑا ہے کہ آنے والے عالمی نظام میں توانائی کے راستوں‘ بحری تجارت اور جغرافیائی معیشت کی سمت کون متعین کرے گا؟</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_62843609.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>