<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>نئے صوبوں کا معاملہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-06/11515</link><pubDate>Sun, 06 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-06/11515</guid><description>گزشتہ روز لاہور میں ’قومی پالیسی ڈائیلاگ‘ کے پلیٹ فارم سے سیاسی رہنماؤں‘ صحافیوں‘ صنعتکاروں اور وکلا نے ملک میں انتظامی بنیادوں پر نئے صوبائی یونٹس کی تشکیل کے حوالے سے فکر انگیز گفتگو کی اور معقول تجاویز سامنے آئیں۔ وزیر داخلہ محسن نقوی کا اس موقع پر خطاب بطورِ خاص قابلِ ذکر ہے جنہوں نے سسٹم کو ری سیٹ کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور نئے صوبوں کی ضرورت و اہمیت کو واضح کیا۔ صوبوں کی انتظامی تقسیم قومی تقاضا ہے اور اسے عوامی فلاحی اور ترقیاتی نقطۂ نظر سے انجام دینا ہوگا۔ اس معاملے میں سیاسی موشگافیاں اور صوبائیت کی رنگ آمیزی کسی طرح جائز نہیں۔ اصولی طور پر اس معاملے میں عوامی رائے کا احترام کرنا ہو گا۔ اگر عوام کی مرضی ہے تو انتظامی یونٹس کے معاملے میں سیاسی حیل حجت بے معنی ہے‘ کیونکہ نئے صوبوں کے معاملے پر سب سے بڑے سٹیک ہولڈرز عوام ہی ہیں۔ ملک کے چاروں صوبوں میں عوامی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں اور انتظامی مسائل چھوٹے انتظامی یونٹس کی سب سے بڑی دلیل ہیں۔ کوئی صوبہ ایسا نہیں جو یہ دعویٰ کر سکے کہ وہ عوام کے ان بنیادی مسائل سے نمٹ چکا ہے۔

تعلیم اور صحت کی محرومیاں‘ کم خوراکی کے عارضے‘ بے روزگاری کا کلنک‘ نوجوانوں کے مستقبل کی بے یقینی‘ سماجی بد امنی اور بڑھتے ہوئے جرائم‘ معاشی بدحالی‘ صنعتوں کی حالتِ زار۔ پاکستان کا کون سا صوبہ ہے جو اِن مسائل سے نکل سکا ہے؟ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد صوبوں کو وافر مالی وسائل دستیاب ہونے کے باوجود یہ مسائل جوں کے توں ہیں؛ پس ثابت ہوا کہ مسائل کی وجہ وسائل کی کمی نہیں ان کی تقسیم کا ناقص نظام اور جوابدہی کا فقدان ہے‘ لہٰذا ضروری ہو جاتا ہے کہ مزید ٹامک ٹوئیاں مارنے کے بجائے مسئلے کو اُس کی بنیاد سے حل کرنے کی طرف آئیں۔ ان حالات میں سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ قومی مفادات کے ساتھ کھڑی ہوں۔ نئے انتظامی یونٹس کی تشکیل کا ہر فیصلہ قومی اتفاقِ رائے سے ہونا چاہیے‘ مگر سیاسی جماعتوں کو اس کام میں معاونت کرنی چاہیے اور نئے انتظامی یونٹس کی تشکیل کے دلائل اور بنیادی حقائق کے معاملے میں سیاسی بصیرت کا ثبوت دینا چاہیے۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے اگلے روز ایک ٹیلی ویژن انٹر ویو میں اس حوالے سے جو کہا وہ خوش آئند ہے کہ ملک کی جتنی بڑی آبادی ہے ایسے میں چاروں صوبوں کے نظام کو ان کے موجودہ دارالحکومتوں سے نہیں چلایا جا سکتا۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اس مرکزیت کے ساتھ آبادی کا دباؤ ہے‘ سسٹم اوورلوڈڈ ہے لہٰذا انتظامی طور پر سسٹم میں توازن کی ضرورت ہے۔ عوام  کو اچھی تعلیم‘ صحت‘ صفائی‘ صاف پانی اور امن و امان چاہیے‘ یہ تمام ایشوزکسی سیاسی نعرے یا سیاسی جماعت کے مفاد سے بڑے ہیں؛ چنانچہ سیاسی جماعتوں کو اس بحث میں صحیح اور اصولی مؤقف کے ساتھ سامنے آنا چاہیے نہ کہ صوبوں کی تقسیم کے جائز مطالبے پر جذباتیت کی رو میں بہہ کر ایسی رائے قائم کر لیں جو عوامی اور قومی مفادات سے متصادم ہو۔ کوئی سیاسی جماعت نئے انتظامی یونٹس کے اصولی مطالبے کو رد نہیں کر سکتی کیونکہ اس کیلئے زمینی حقائق واضح اور دوٹوک ہیں۔
پچھلے  79برس میں ملکی آبادی تین کروڑ 37لاکھ سے بڑھ کر 25کروڑ 90لاکھ تک پہنچ چکی مگر صوبائی ڈھانچہ وہی کا وہی ہے‘ شہر وہی ہیں اور سہولیات کی فراہمی کیلئے جو ادارہ جاتی نظام ہے اس کی گنجائش اور صلاحیت ختم ہو چکی ہے۔ ان حالات میں کوئی ملک بھی ترقی کی سیڑھیاں نہیں چڑھ سکتا۔ ہمیں آئندہ دو دہائیوں کے دوران ان بنیادی مسائل سے نکلنا ہو گا تاکہ پاکستان کی پہلی صدی کی تکمیل تک ہماری سمت اور رفتار درست ہو چکی ہو اور انسانی و معاشی ترقی تسلی بخش سطح پر پہنچ جائے۔ بے ڈول صوبائی ڈھانچے اور مسائل کے انبار کیساتھ یہ ممکن نہیں ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سائبر کرائمز‘ بڑا چیلنج(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-06/11514</link><pubDate>Sun, 06 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-06/11514</guid><description>قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں سائبر کرائمز‘ غیر قانونی سموں اور شہریوں کے بائیو میٹرک ڈیٹا کے حوالے سے سامنے آنیوالے انکشافات تشویشناک ہیں۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ این سی سی آئی اے نے ایک کارروائی کے دوران چھ لاکھ سے زائد شہریوں کا فنگر پرنٹس اور بائیو میٹرک ڈیٹا برآمد کیا جسے سمیں نکلوانے‘ مالی اور دیگر سنگین جرائم کیلئے استعمال کیا جا رہا تھا۔ اگرچہ پی ٹی اے کے مطابق گزشتہ ڈھائی برس کے دوران دوسروں کے نام پر جاری تقریباً ایک کروڑ 82لاکھ غیر قانونی سمیں بلاک کی جا چکی ہیں لیکن اہم سوال یہ ہے کہ شہریوں کا بائیو میٹرک ڈیٹا‘ جو اصولاً نادرا‘ بینکوں‘ ٹیلی کام کمپنیوں اور اس طرح کے دیگر اداروں کے پاس محفوظ ہونا چاہیے‘ جرائم پیشہ عناصر تک کیسے پہنچ رہا ہے؟ اگر ان اداروں کے اندر سے حساس ڈیٹا چوری ہو رہا ہے تو محض غیر قانونی سمیں بلاک کرنا یا چند ملزمان کی گرفتاری مسئلے کا حل نہیں۔

حکومت کو بائیو میٹرک تصدیق کے موجودہ طریقہ کار میں خامیوں کا جائزہ لے کر جدید ٹیکنالوجی‘ بالخصوص چہرے اور آنکھوں کی شناخت جیسے زیادہ محفوظ نظام متعارف کرانے چاہئیں۔ اس کیساتھ ساتھ ٹیلی کام کمپنیوں‘ بینکوں اور سرکاری اداروں کے ڈیٹا سسٹمز کا باقاعدہ سکیورٹی آڈٹ‘ ملازمین کی نگرانی اور ڈیٹا لیک میں ملوث عناصر کیخلاف سخت اور بلاامتیاز کارروائی یقینی بنانا ہو گی۔ سائبر جرائم کے واقعات میں تحقیقات اور گرفتاریاں اپنی جگہ اہم ہیں مگر اصل کامیابی اس وقت ہو گی جب ان جرائم کیلئے استعمال ہونیوالے راستے ہی بند کیے جائیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پٹرولیم لیوی کا بوجھ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-06/11513</link><pubDate>Sun, 06 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-06/11513</guid><description> سرکاری دستاویزات کے مطابق موجودہ حکومت اپنے دور اقتدار کے آغاز‘ یعنی 4 مارچ 2024ء سے اب تک‘ اپنی ڈھائی سالہ مدت میں عوام سے پٹرولیم لیوی کی مد میں مجموعی طور پر 3137ارب روپے وصول کر چکی ہے۔ وفاقی حکومت نے مالی سال 2026ء میں 1567ارب‘مالی سال2025ء میں 1220 ارب جبکہ اپریل سے جون 2024ء کی سہ ماہی میں پٹرولیم لیوی کی مد میں 299 ارب 63 کروڑ روپے وصول کیے۔ اس وقت بھی حکومت پٹرول اور ڈیزل پر فی لٹر 80‘ 80 روپے پٹرولیم لیوی جبکہ 5‘ 5 روپے کلائمیٹ سپورٹ لیوی وصول کر رہی ہے۔ اسکے علاوہ پٹرول اور ڈیزل پر کاربن لیوی کی مد میں 50ارب روپے سے زائد الگ وصول کیے گئے۔

یہ اعداد و شمار اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعلق عالمی منڈی سے کم اور حکومت کی مالیاتی ضروریات سے زیادہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں پاکستانی عوام کو پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا کہیں زیادہ بوجھ اٹھانا پڑ رہا ہے۔ حکومت کی یہ پالیسی ناقص ٹیکس نظام اور مالیاتی ناکامیوں کا بوجھ عوام پر منتقل کرنے کے مترادف ہے۔ عوام پہلے ہی مہنگائی اور بھاری ٹیکسوں کا ناقابلِ برداشت بوجھ اٹھا رہے ہیں؛ پٹرولیم لیوی کی صورت میں انہیں مزید نچوڑنے کے بجائے حکومت اپنی مالیاتی اور ٹیکس پالیسی کی خامیوں کو دور کرے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کوئی ایسا راستہ(مجیب الرحمٰن شامی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mujeeb-ur-rehman-shami/2026-09-06/52610/87731704</link><pubDate>Sun, 06 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mujeeb-ur-rehman-shami/2026-09-06/52610/87731704</guid><description>سندھ اسمبلی نے اپنے ایک ممتاز رکن نثار کھوڑو صاحب کی پیش کردہ قرارداد کو کثرتِ رائے سے منظور کر لیا۔ اس میں کہا گیا ہے کہ: یہ ایوان کسی بھی ایسی تجویز‘ منصوبے‘ سکیم یا آئینی انتظام کو‘ خواہ اسے کوئی بھی نام یا عنوان دیا جائے‘ واضح طور پر مسترد کرتا ہے‘ جس کا مقصد سندھ کو تقسیم کرنا‘ اس کی موجودہ علاقائی حدود تبدیل کرنا یا اس کے علاقے سے کوئی نیا صوبہ قائم کرنا ہو۔ ایوان اس منصوبے کو بھی مسترد کرتا ہے جس کے تحت صوبے کے کسی بھی حصے کو وفاقی انتظام یا بندوبست کے تحت رکھا جائے۔ اس قرارداد کی منظوری سے پہلے تندو تیز تقریریں کی گئیں۔ صدر آصف علی زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور کی تقریر میں تو جذبات کا سمندر آمڈ آیا تھا: &#39;&#39;ہم سب اور سندھ کا بچہ بچہ اس بات پر متفق ہے کہ ہم سندھ کو تقسیم نہیں ہونے دیں گے۔ ہم سندھ کا سودا نہیں کریں گے۔ یہ دھرتی ماں ہماری ہے اور ہم اس کی حفاظت کریں گے۔ ان کا کہنا تھا: پیپلز پارٹی اس معاملے پر متحد ہے کہ سندھ کی وحدت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا۔ حتیٰ کہ اگر سندھ کے لیے استعفیٰ دینا پڑے‘ اسمبلی کی اکثریت چھوڑنا پڑے یا جان کی قربانی دینا پڑے تو وہ اس سے بھی دریغ نہیں کریں گی۔ انہوں نے اپنی شناخت کا حوالہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: &#39;&#39;میں بلوچ خاندان سے ہوں، لیکن سندھ کا پانی پیا ہے، اسے تقسیم نہیں ہونے دوں گی۔ ذوالفقار علی بھٹو شہید اور بے نظیر بھٹو شہید کے اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچاؤں گی‘‘۔ اپنے ساتھی ارکان کو مخاطب کرتے ہوئے یہ تک کہہ گزریں: &#39;&#39;آپ بے نظیر بھٹو کو کیا جواب دو گے، قیامت کے دن وہ ہمیں گریبان سے پکڑ کر پوچھے گی کہ ہم نے سندھ کیلئے کیا کِیا ہے؟ (محترمہ کو شاید یاد نہیں رہا کہ قیامت کے روز اپنے اعمال کا حساب اپنے رب کو دینا ہے‘ کسی اور کو نہیں)۔وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے بھی پُرجوش تقریر میں واضح کیا کہ سندھ وہ صوبہ ہے جس نے سب سے پہلے پاکستان کے حق میں قرارداد منظور کی تھی‘ اپنے آپ کو اس سے جوڑا تھا۔ اس صوبے کو کسی صورت تقسیم نہیں ہونے دیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے یہ دلچسپ نکتہ بھی پیش کیا کہ 1973ء کے اصلی دستور میں کسی صوبے کی تقسیم کا کوئی تصور موجود نہیں تھا۔ جنرل ضیا الحق کے دور میں اس حوالے سے ترمیم کی گئی۔ شاہ صاحب کی بات اس حد تک تو درست ہے کہ کسی صوبے کی جغرافیائی حدود میں تبدیلی کو جنرل ضیا الحق کے دور میں متعلقہ صوبائی اسمبلی کی دوتہائی اکثریت کی منظوری کے ساتھ مشروط کر دیا گیا تھا لیکن اس کا یہ مطلب نہیں لیا جا سکتا کہ اس ترمیم کے ذریعے نئے صوبوں کے قیام کا تصور آئین میں داخل کیا گیا‘ اس سے پہلے یہ ناقابلِ تصور تھا۔ شاہ صاحب اگر کسی آئینی ماہر کے ساتھ بیٹھ کر مطالعہ فرمائیں تو انہیں معلوم ہو جائے گا کہ 1973ء میں منظور کردہ دستوری متن کے مطابق کسی صوبے کی حدود میں ردوبدل کیلئے اس اسمبلی کی اجازت درکار نہیں تھی۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ کی دوتہائی اکثریت کو یہ اختیار حاصل تھا کہ وہ آئین میں کوئی بھی تبدیلی کر گزرے۔ 1973ء کے دستورکا بنیادی متن اگر مدنظر رکھا جائے تو پھر یہ کہا جائے گا کہ کسی بھی صوبے کی حدود میں ردوبدل صرف قومی اسمبلی اور سینیٹ کی دوتہائی اکثریت کے ذریعے کیا جا سکتا تھا۔ جنرل ضیاء کے دور (1985ء) میں دفعہ 239 میں ترمیم کر کے نئے صوبوں کا قیام مشکل بنا ڈالا گیا۔تاریخ کی ایک دلچسپ حقیقت یہ بھی ہے کہ جنرل ضیا الحق کے دور (1983ء) میں دستور میں ترامیم تجویز کرنے کیلئے مولانا ظفر احمد انصاری مرحوم کے زیر قیادت جو کمیشن قائم کیا گیا تھا اور جس میں بڑے جید علما اور قانون دان شامل تھے‘ نے سفارش کی تھی کہ تمام ڈویژنوں کو صوبوں کا درجہ دے دیا جائے۔ اس رپورٹ کے مطابق بڑے اور غیر متوازن صوبوں کو چھوٹی انتظامی اکائیوں میں تقسیم کر کے وسائل کی تقسیم کو متوازن اور وفاق کو طاقتور بنایا جانا تھا۔ اس وقت چاروں صوبوں کے کل اکیس ڈویژن تھے‘ ہر ڈویژن کو صوبے کا درجہ دینے سے اتنے ہی صوبے وجود میں آ جاتے۔ جنوبی پنجاب‘ ملتان‘ ڈیرہ غازی خان اور بہاولپور میں تقسیم ہو جاتا۔ جنرل ضیا الحق اس رپورٹ کے مطابق اقدام کرنا چاہتے تھے لیکن ایم آر ڈی کی تحریک نے مہلت نہ دی اور انہیں عام انتخابات کا اعلان کرنا پڑا۔ بعدازاں انہی کے ہاتھوں دفعہ 239 میں اس طرح ترمیم سرزد ہوئی کہ نئے صوبے بنانا مشکل تر بنا دیا گیا‘ متعلقہ صوبائی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت کی حمایت کی شرط نے منظر بدل ڈالا: ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ۔اس بحث سے قطع نظر‘ سندھ اسمبلی کی قرارداد نے ماحول کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ اگرچہ یہ اتفاقِ رائے سے منظور نہیں ہوئی‘ ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی پر مشتمل اپوزیشن نے اس کی حمایت کرنے کے بجائے واک آؤٹ کیا تاہم یہ بات معنی خیز ہے کہ کسی اپوزیشن رکن نے واضح طور پر سندھ کی تقسیم کا مطالبہ نہیں کیا‘ وہ انتظامی یونٹس کے قیام ہی پر زور دیتے رہے۔سندھ اسمبلی کی اس قرارداد کے بعد یہ بات ایک سو نہیں ایک ہزار فیصد عیاں ہو گئی ہے کہ پیپلز پارٹی اور اس کے جملہ ہم نوا کسی طور سندھ کی جغرافیائی حدود میں کسی نئے صوبے کے قیام کی اجازت نہیں دیں گے۔ مسلم لیگ(ن) نے ابھی تک کسی واضح مؤقف کا اعلان نہیں کیا۔ اس کے بعض وزرا دھیمے لہجے میں نئے صوبوں کے قیام کی حمایت کر رہے ہیں‘ لیکن اس پر جم کر بات نہیں کر پاتے‘ قیادت نے اس پر چپ سادھ رکھی ہے یا پیپلز پارٹی کی اوٹ لے لی ہے۔ جہاں تک تحریک انصاف کا تعلق ہے‘ اس کے منشور میں نئے صوبوں کے قیام کی تجویز موجود تھی لیکن فی الوقت اس کے رہنما اس حوالے سے محتاط الفاظ میں بات کر رہے ہیں۔ شدو مد سے مخالف کی جا رہی ہے نہ حمایت۔ یہ البتہ کہا جا رہا ہے کہ اس بارے میں فیصلہ عمران خان کریں گے۔ گویا‘ عمران خان کی حمایت حاصل کرنے کیلئے کچھ نہ کچھ ان کی نذر کرنا پڑے گا۔ باخبر سمجھے جانے والے اینکر پرسن اور تجزیہ کار اصرار کر رہے ہیں کہ مقتدرہ نئے صوبوں کے قیام کا فیصلہ کر چکی ہے‘ اسے بہرحال پیش قدمی کرنا ہے۔ اس میں کہاں تک صداقت ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن یہ بات بہرحال واضح ہے کہ اگر مسلم لیگ(ن) نے نئے صوبوں کے قیام کی حمایت کی تو اس کی وفاقی حکومت برقرار نہیں رہ سکے گی۔ اگر عمران خان اس سمت قدم بڑھاتے ہیں تو پھر ان کی مشکلات کو آسانیوں میں تبدیل کرنا ہو گا۔دستور کے مطابق اقدام کرنے کیلئے پہلے دستور میں ترمیم کر کے دفعہ 239 کا ابتدائی متن بحال کرنے کی تجویز بھی پیش کی جا رہی ہے‘ ایسا ہو گیا تو سینیٹ اور قومی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت فیصلہ کن ہو گی‘ صوبائی اسمبلیوں سے منظوری کی ضرورت پیش رہے گی لیکن یہ پاپڑ بیلنے سے پہلے اس سوال کا جواب دینا ہو گا کہ کیا پاکستانی ریاست اس وقت کسی نئے تنازعے کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے؟ کسی نئے محاذِ جنگ کی متحمل ہو سکتی ہے؟ صوبائی دارالحکومتوں میں اختیارات کا ارتکاز پریشان کن ہے‘ وسائل اور اختیارات کی نچلی سطح تک تقسیم کے بغیر ریاست مستحکم نہیں ہو گی۔ ہماری جمہوریت کے پاؤں زمین پر نہیں ٹک سکیں گے۔ اس بات سے اختلاف نہیں کیا جا سکتا لیکن اس کا ازالہ کرنے کیلئے ایسا راستہ تلاش کرنا ہو گا جس سے سرکشی اور انانیت کا سانپ تو مر جائے لیکن عصائے کلیمی موجود و مضبوط رہے۔(یہ کالم روزنامہ &#39;&#39;پاکستان‘‘ اور روزنامہ &#39;&#39;دنیا‘‘ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_37052987.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ذکر کس پری وش کا چھِڑ گیا(ایاز امیر)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-09-06/52611/43201094</link><pubDate>Sun, 06 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-09-06/52611/43201094</guid><description>کینیڈا میں مقیم ہمارے دوست مسرت صاحب نایاب قسم کے گانے بھیجتے رہتے ہیں۔ چند روز ہوئے ایک لوک گیت بھیجا جسے گایا ہے اپنے زمانے کے مشہور ایکٹر اور سنگر سُرندر اور ایک خاتون جس کا نام پہلی بار سنا‘ وحیدن بائی۔ گانا لگایا تو وحیدن کی آواز نے یوں سمجھیے مدہوش کر دیا۔ کیا گہرائی میں جانے والی آواز اور کتنی اونچی تان۔ گانا دو تین بار سنا اور پھر وحیدن کے بارے میں کچھ جاننے کیلئے انٹرنیٹ کی مدد لی۔ معلوم ہوا کہ آگرہ کے قریب فتح آباد میں پیدا ہونے والی وحیدن اپنے وقت کی مشہور ایکٹر اور گلوکارہ تھیں۔ بعد میں اُن کی بیٹی نواب بانو عرف نِمی نے فلموں میں بہت نام کمایا۔ وحیدن کی دوسری شادی عبدالحکیم سے ہوئی اور نِمی اسی شادی سے پیدا ہوئی۔ دلچسپ بات البتہ یہ ہے کہ وحیدن کی پہلی شادی ایک علی سکندر سے ہوئی جسے دنیا جگر مراد آبادی کے نام سے یاد کرتی ہے۔  جگر کے دو شعر ملاحظہ ہوں: اک لفظِ محبت کا ادنیٰ یہ فسانہ ہےسمٹے تو دلِ عاشق پھیلے تو زمانہ ہےاور دوسرا:ہم کو مٹا سکے یہ زمانے میں دم نہیںہم سے زمانہ خود ہے زمانے سے ہم نہیںیہ تھے علی سکندر جن سے وحیدن کی شادی ہوئی۔ لیکن شادی چل نہ سکی۔ ایک تو گھر میں عبدالحکیم کا آنا جانا کچھ زیادہ تھا اور علی سکندر کے دل میں کچھ شک پیدا ہونے لگا۔ گھر چھوڑ کے چلے گئے اور کوئی چھ ماہ ادھر اُدھر پھرتے رہے۔ اس دوران شادی گئی اور عبدالحکیم جو ایک ٹھیکیدارکے بیٹے تھے اُن سے بیاہ ہو گیا۔وحیدن کے کچھ گانے انٹرنیٹ پر ملتے ہیں اور ان میں چند بہت ہی عمدہ ہیں۔ لیکن مقصد اُن کی گائیکی پر کوئی مقالہ لکھنا نہیں۔ بس اُن کے بارے میں کچھ جانا اور خیال پھر اُس زمانے کی طرف گیا جب آگرہ جیسے شہر مسلم تہذیب کا گہوارا ہوا کرتے  تھے۔ یوپی کے کتنے ہی شہر ہیں جن کی نسبت کسی شاعر سے بنتی ہے: جوش ملیح آبادی‘ مجروح سلطان پوری‘ خمار بارہ بنکوی وغیرہ وغیرہ۔ اختری بائی گانے والی تھیں اور فیض آباد کا نام اُنہوں نے مشہور کیا۔ جس لفظ اشرافیہ کو ہمارے ہاں کوٹ کوٹ کے پیسا جاتا ہے یوپی کی اشرافیہ زیادہ تر مسلمان گھرانوں پر مشتمل تھی۔ وہاں کے رئیس اور زمیندار‘ مشاعروں میں جانے والے اور کوٹھوں کی سیڑھیاں چڑھنے والے‘ یہی لوگ تھے۔ مسلمان بادشاہتوں سے گہرا تعلق رہا تھا اور اسی رشتے سے بڑی بڑی زمینوں کے مالک بنے۔ جب جمہوری طرزِ حکمرانی کی پہلی اور کچی بنیادیں انگریزوں کے ہاتھوں ڈولنے لگیں تو پتا نہیں کون سا ڈر اور وہم ان جاگیرداروں کے دلوں میں بیٹھنے لگا۔ کہ ہر فرد کا ووٹ ہوا تو ہندو اکثریت کا راج ہو گا اور پتا نہیں ہمارے ساتھ کیا ہو جائے گا۔ تصورِ پاکستان کی سوچ یہاں سے شروع ہوئی تھی اور پھر زور پکڑتے ایک ایسی تحریک بنی جو تقسیمِ ہند پہ جا کے ختم ہوئی۔ یہ سوال بھی ذہن میں اُٹھتا ہے کہ دونوں اطراف ہجرت تو بہت وسیع پیمانے پر ہوئی‘ یہاں سے وہاں اور وہاں سے اس طرف‘ لیکن کیا وجہ تھی کہ یوسف خان عرف دلیپ کمار اور محمد رفیع جیسے لوگ جن کا تعلق خالصتاً اِن علاقوں سے تھا‘ یہاں نہ آئے؟ دلیپ کمار پشاور کے پٹھان لیکن وہاں ٹھہرنا اُنہوں نے پسند کیا۔ ایک لحاظ سے ٹھیک ہی کیا‘ شہرت جو وہاں ملی یہاں کہاں نصیب ہونی تھی۔ ثریا جمال شیخ گوجرانوالہ کی تھیں‘ شمشاد بیگم اور شیاما باغبان پورہ کی تھیں۔ وہ وہیں ٹِک گئیں۔ سعادت حسن منٹو یہاں آئے اور پچھتاتے ہی رہے۔ کچھ ایسے تھے جنہوں نے ارادہ تو یہاں ٹھہرنے کا کیا لیکن یہاں کے حالات دیکھ کر ارادے پر قائم نہ رہ سکے۔ جسے دنیا ساحر لدھیانوی کے نام سے یاد کرتی ہے تقسیم کے بعد تقریباً ایک سال لاہور میں رہے اور پھر ہندوستان چلے گئے۔ یہاں رہتے تو یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ خوار ہی ہوتے۔ شہرت کی بلندیوں پر پہنچے ایک تو اپنی شاعری کے بل بوتے پر اور پھر وہاں کی دنیا ذرا وسیع تھی‘ بمبئی میں مواقع زیادہ تھے۔ حیرانی ہوتی ہے یہ جان کر کہ عہد ساز ناول نگار قراۃ العین یہاں رہنے کے ارادے سے آئی تھیں لیکن جلد ہی فیصلہ بدل لیا اور میں نے کہیں پڑھا تھا کہ وزیراعظم جواہر لال نہرو نے خود اُن کی انڈین شہریت کا حکم دیا تھا۔ استاد بڑے غلام علی خان یہیں کے تھے۔ ریڈیو پاکستان سے منسلک رہے۔ کہتے ہیں کہ ریڈیو پاکستان کے تب کے سربراہ زیڈ اے بخاری کا رویہ اُن کے ساتھ کچھ اچھا نہ تھا۔ خان صاحب پھر ہندوستان چلے گئے اور وہیں کے ہو کے رہ گئے۔ بمبئی میں رہنے کیلئے باقاعدہ کوٹھی دی گئی۔ یہاں کس نے پوچھنا تھا۔ جوش صاحب کی کہانی دلچسپ ہے۔ اچھا بھلا اُن کا مقام ہندوستان میں تھا۔ پورا ہندوستان عزت کرتا تھا۔ پنڈت جواہر لال نہرو سے ذاتی دوستی تھی۔ پنڈت نہرو کہتے رہے کہ مت جاؤ لیکن ایک نقوی صاحب کمشنر کراچی تھے‘ اُنہوں نے کہہ رکھا تھا کہ کراچی آئیں گے تو جائیدادوں سے نوازے جائیں گے۔ جوش صاحب کی قسمت ہاری اور نقوی کی باتوں میں آ گئے۔ کراچی آئے تو دفتروں کے چکر لگنے لگے۔ کبھی کسی باغ کا کہا جاتا کبھی کسی اور جائیدادکا۔ &#39;یادوں کی بارات‘ میں خود بتاتے ہیں کہ کیسے رسوا ہوئے۔ کتاب ویسے پڑھنے والی ہے‘ ایک دفعہ انسان شروع کرے تو پڑھتا ہی جائے۔ بعد میں کچھ فارم ہاؤس وغیرہ اسلام آباد میں الاٹ ہوا۔ملک بنا تو کوشش ہوتی کہ شاندار ملک بنتا۔ بھائی چارے اور باہمی اعتماد کی فضا کو روا رکھا جاتا۔ لیکن تصورِ جمہوریت سے یہاں کوئی خاص قسم کی نفرت تھی۔ شاید یہی وجہ تھی کہ شروع دن سے ہی الٹے کام ہونے لگے۔ جو حکمران طبقہ بنا انگریزوں کے کاسہ لیس تھے۔ وہاں سے امریکہ کے کاسہ لیس بن گئے۔ تاریخِ پاکستان پڑھیں تو دل میں ملال اُٹھتا رہتا ہے کہ کیسے حکمران اس ملک کو نصیب ہوئے۔ کیا اُن کی سوچ تھی کیا ترجیحات۔ اور اس چکر سے ہم کبھی نکل نہ سکے۔ وہی کہانی جو شروع کے برسوں میں لکھی گئی وہ ہی دہرائی جاتی رہی۔ چین میں انقلاب سے جو سو سال پہلے تھے‘ اُس صدی کو &#39;بے عزتی کی صدی‘ کہا جاتا ہے۔ وہ سو سال ایسے تھے جن میں فرنگیوں نے چینی قوم کو ایڑھیوں تلے روندا اور بے عزت کیا۔ ہماری تاریخ کیا رہی ہے؟ انگریز کی جنگیں ہندو اور مسلم قوموں نے مل کر لڑیں۔ سکھ بھی اس کارِخیر میں شامل تھے۔ چند ہزار گورے دیسی لوگوں کی معاونت سے اتنے بڑے خطۂ ارض پر حکومت کرتے رہے۔ چینی قوم کو اپنی تذلیل یاد ہے۔ یہاں جو ہماری قوموں کے ساتھ ہوا اُسکا احساس تک نہیں ہے۔ انگریز کے ہاتھوں صرف یہاں کی قومیں بے عزت نہیں ہوئیں۔ پورے مشرقِ وسطیٰ کو دیکھ لیں‘ کون سا ملک ہے جو رسوائی کے سامان سے بچا رہا۔ اُردن کوئی ملک نہیں تھا‘ اُس کا نقشہ انگریزوں نے کھینچا اور وہاں ایک بادشاہ بٹھا دیا۔ عراق پر ایک اور بادشاہ بٹھایا اور وہاں کے تیل پر انگریزوں نے قبضہ کیا۔ انقلاب کی وجہ سے ایرانی قوم کا مزاج بدل گیا۔ امریکہ سے انحراف کیا‘ اسرائیل کو للکارا۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ اس نئے ایران کو برداشت نہیں کر سکا۔ اوپر سے یہ جنگ امریکہ کو مہنگی پڑ رہی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_80573045.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>میرے اوپر بھی وزیر بٹھائیں(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-09-06/52612/29177294</link><pubDate>Sun, 06 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-09-06/52612/29177294</guid><description> جو کچھ پمز میں ہوا ہے یہ نہ تو پہلی دفعہ ہے نہ ہی آخری دفعہ۔ ہاں ایک چیز نئی ہوئی ہے کہ پہلی دفعہ وفاقی سیکرٹری صحت‘ جن کو ایڈیشنل چارج دیا گیا‘ وہاں جا کر بیٹھ گئے ہیں اور اپنا خیمہ لگا لیا ہے کہ اب دیکھتا ہوں کام کیسے نہیں ہوتا اور کون اپنا کام  نہیں کرتا۔ اس کے بعد وزیر صحت مصطفی کمال نے بھی فیصلہ کیا کہ وہ بھی ایک دن ہسپتال میں بیٹھا کریں گے اور سب کی نگرانی کریں گے۔ ہوسکتا ہے اس سے حکومت اور وزیر صاحب کی بلے بلے ہوجائے کہ دیکھا ایک ہسپتال میں بچوں کی اموات کے بعد کیسے زیرو ٹالرنس سے کام لیا ہے کہ اب وہ خود ہسپتال میں بیٹھ کر اسے چلائیں گے اور سب کام کریں گے۔ کوئی بندہ اب کام چوری نہیں کرے گا۔ یہ سب کچھ دیکھ کر مجھے الگ قسم کا ڈپریشن سا محسوس ہورہا ہے۔ ایک سیکرٹری اور وزیر کو ہسپتال میں بیٹھ کر کیوں سینکڑوں سٹاف‘ ڈاکٹرز اور دیگر عملے سے کام کرانا پڑ رہا ہے؟ جب آپ کی کسی ہسپتال میں کسی پوسٹ پر تعیناتی ہوتی ہے تو آپ کو بتایا جاتا ہے کہ اس عہدے کی کیا شرائط ہوں گی۔ آپ کی اس عہدے سے متعلقہ ڈگری ہونی چاہیے‘ کچھ تجربہ ہونا چاہیے اور آپ کو دوسرے امیدواروں کا مقابلہ کر کے ہی وہ عہدہ ملے گا۔ ایک لمبے پراسس‘ جس میں تحریری ٹیسٹ‘ انٹرویو اور پھر سکروٹنی کے بعد سینکڑوں امیدواروں کو شکست دے کر ہی آپ کو وہ عہدہ ملتا ہے‘ جس کی آپ کو تنخواہ ملتی ہے۔ آپ خوشی خوشی پورے گھر‘ محلے‘ یاردوستوں کو بتاتے پھرتے ہیں‘ خوشی سے نہال ہوتے ہیں کہ دیکھو میں سرکاری ہسپتال میں ڈاکٹر‘ نرس‘سٹاف یا دیگر کسی پوسٹ پر لگ گیا ہوں۔ بلکہ پھر گھر والے بھی دلہا؍دلہن ڈھونڈنے نکل پڑتے ہیں جو ایسا؍ ایسی ہو جو اُن کے بیٹے یا بیٹی کی سیٹ کا مقابلہ کر سکے۔ یوں آپ اس جوش و جذبے سے کام شروع کرتے ہیں اور خود کو ہر صبح اہم سمجھ کر کام پر جاتے ہیں۔ وہ سب شکایتیں جو آپ کو کبھی عام شہری کے طور پر کسی بھی سرکاری محکمے سے تھیں‘ اس پوسٹ پر تعیناتی کے بعد آپ سوچتے ہیں کہ آپ کسی کے ساتھ ویسا سلوک نہیں کریں گے جو آپ کے ساتھ مختلف سرکاری دفاتر میں ہوتا تھا ۔ آپ بہت مختلف افسر یا اہلکار ہوں گے۔ ایمانداری سے اپنی ڈیوٹی کریں گے۔ اپنا پیسہ حلال کریں گے۔ عوام کی خدمت کریں گے۔ دکھی انسانیت کے دکھ کم کریں گے۔ اور پھر کیا ہوجاتا ہے کہ آپ دھیرے دھیرے اپنے کام سے تھکنا شروع ہوجاتے ہیں۔ آپ کو دلچسپی نہیں رہتی۔ آپ کو لگتا ہے کہ آپ کام کریں یا نہ کریں تنخواہ ملتی رہے  گی۔ اگر کسی نے شکایت کر دی اور کسی افسر نے کچھ ایکشن لینے کی کوشش کی تو آپ کی اپنی یونین ہے‘ جو فوراً ہڑتال کر دے  گی اور پورا ادارہ بند ہوجائے گا۔ آپ نے ایک کے خلاف ایکشن لیا تھا‘ ہم سب نے مل کر پورا دفتر یا ہسپتال ہی بند کر دیا‘  کر لو جو کرنا ہے۔ جو صاحب سرکاری دفاتر یا ہسپتالوں میں ہڑتال ہونے پر سرکاری ملازمین کو برا بھلا کہتے تھے‘ وہ اب خود وہی کام کر یا کرا رہے ہوتے ہیں۔ انہیں پہلے کرسی پر بیٹھا افسر یا کلرک فرعون لگتا تھا‘ اب وہ اس کی جگہ فرعون بن بیٹھے ہیں۔ اب وہ سب  کچھ بھول چکے ہیں کہ جب وہ عام شہری کی حیثیت سے ہسپتال یا ادارے میں اپنے علاج یا کام کیلئے آتے تھے تو اس وقت  ان کے ساتھ اس کرسی پر بیٹھے بندے کا کیا سلوک ہوتا تھا اور وہ خود کو کتنا بے بس اور چھوٹا محسوس کرتے تھے اور دل ہی دل  میں انہیں کتنا برا بھلا کہتے تھے۔ ہر بندہ انہیں برا لگتا تھا کہ جو کرسی لے گیا وہ اب کسی کی نہیں سنتا۔ ساتھ میں آپ سے ہر کام کے پیسے الگ سے لیتے تھے‘ اور تب آپ قسمیں کھاتے تھے کہ آپ حرام نہیں کھائیں گے۔ سوال یہ ہے کہ جب آپ سب تکلیفوں‘ مشکلوں‘ تعلیم اور مقابلے کے امتحان یا انٹرویوز پاس کر کے کسی سیٹ پر پہنچے ہیں تو آپ اپنا کام کیوں نہیں کرتے؟ اب آپ کو ایک سیکرٹری‘ وفاقی وزیر یا ہسپتال کے ایگزیکٹو افسر کی ضرورت کیوں محسوس ہوتی ہے کہ وہ آپ کے سر پر ڈنڈا لے کر کھڑا ہو تو آپ پھر ہی کام کریں گے‘ ورنہ آپ آرام سے کرسی پر بیٹھ کر خلقتِ خدا کو تنگ کریں گے یا پیسہ اکٹھا کریں گے اور شام کو ٹی وی پر حکومت اور سیاستدانوں کو گالیاں دیں گے کہ دیکھو ملک تباہ کر دیا‘ برباد کر دیا۔ آپ کو خود سے کیوں محسوس نہیں ہوتا کہ مجھے اس کام کیلئے یہ جان کر چُنا گیا تھا کہ میں دوسروں سے بہتر‘ پڑھا لکھا‘ قابل اور ذہین تھا۔ سینکڑوں نوجوان اس جگہ بیٹھنا چاہتے تھے لیکن میری برسوں کی محنت کام آئی اور میں یہاں سلیکٹ ہوا تو مجھے اب کسی اپنے سے بڑے افسر کی ضرورت نہیں ہے کہ وہ ہر صبح مجھے بتائے کہ آج میں نے سارا دن کیا کرنا ہے۔ یا میں نے اُس وقت ہی کام کرنا ہے جب وہ میرے سر پر بیٹھے۔ میں ڈر کے مارے کیوں کام کروں جبکہ مجھے اس کام کے پیسے ملتے ہیں۔ میری اس تنخواہ کے پیسے انہی عوام کے ٹیکس سے دیے جاتے ہیں یا وہ اس کام کی سرکاری فیس ادا کرتے ہیں۔ لہٰذا مجھے خود کو ان کا خادم سمجھ کر پیش آنا ہے نہ کہ ان کا حاکم اور حکمران یا فرعون بننا ہے۔ مزے کی بات ہے جو صاحبان اپنے اپنے محکمے میں فرعون بن جاتے ہیں‘ جب دوسرے محکمے میں اپنا کوئی کام کرانے جاتے ہیں تو وہ بھی سفارشیں ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں یا پھر جب وہ ان سے کام کے پیسے مانگتے ہیں تو انہیں کرپشن اور رشوت بری لگتی ہے۔ لیکن جب خود پیسے لے کر کام کرتے ہیں تو ان کا کہنا ہوتا ہے کہ کیا کریں جی سسٹم ہی ایسا ہے‘ ہم نہ لیں تو کام نہیں چلتا‘ ہم نے اوپر بھی دینا ہوتا ہے۔ اپنے لیے ہر سرکاری افسر یا اہلکار گنجائش نکال لیتا ہے لیکن دوسرے کو کرپٹ اور حرام کھانے والا سمجھتا ہے۔ مجھے آج تک سمجھ نہیں آئی کہ ہم حکومتوں پر تبرہ کیوں پڑھتے ہیں کہ وہ کرپٹ ہیں یا ان کے ادارے کرپٹ ہیں‘ کبھی سوچا ہے کہ آپ سب ہی ہیں جو اِن اداروں یا حکومتوں میں کام کررہے ہیں۔ آپ ہی ایماندار یا کرپٹ ہیں۔ یہ سب جو پولیس‘ واپڈا‘ ریونیو ‘ ٹریفک پولیس یا کسی بھی ادارے میں کام کررہے ہیں اور اپنی ڈیوٹیاں نہیں دے رہے یا لوگوں سے پیسہ بٹور رہے ہیں‘ یہ سب آپ ہی ہیں۔ کوئی آپ کا باپ تو کوئی بیٹا تو کوئی بھائی تو کوئی کزن ہے۔ کوئی دوست یا رشتہ دار ہے۔ آپ حکومت کو گالیاں نہ دیا کریں۔ آپ ان سب کو دیا کریں جو ہمارے اپنے ہیں۔ انہوں نے اپنی نااہلی اور کرپشن چھپانے کیلئے حکومت اور سسٹم کے الفاظ ایجاد کر رکھے ہیں۔ یہ سسٹم کیا ہوتا ہے؟ کرسی پر بیٹھا بندہ ہی سسٹم ہے۔ وہ اگر ایماندار ہے‘ محنتی اور قابل ہے اور اپنا کام پورا کرتا ہے تو سسٹم چل رہا ہے اور کامیاب ہے۔ اگر کسی عہدے پر بیٹھا بندہ کرپٹ‘ نالائق اور نااہل ہے تو سمجھ لیں پورا سسٹم ہی کرپٹ ہو چکا ہے۔ یہ سب آپ کے والد‘ بھائی‘ بیٹے یا رشتہ دار جو وہاں کام کررہے ہیں‘ وہی سسٹم ہیں۔ وہ کام کررہے ہوں تو سسٹم کامیاب ہے۔ وہ کام نہ کریں تو سسٹم بیٹھ گیا ہے۔ اب دور یہ آگیا ہے کہ سرکاری افسر یا اہلکار کو اپنی ڈیوٹی پوری کرانے کیلئے ایک ایک وزیر درکار ہے جو اُن کے سر پر کھڑا رہے تو یہ  بھاگ کر کام کریں گے‘ ورنہ نہیں۔ اب لاکھوں سرکاری ملازمین جو کام نہیں کرتے یا رشوت لیتے ہیں ان کیلئے لاکھوں وزیر کہاں سے لائیں جو اُن سے کام کرائیں؟</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ایران کو جھکانے کے امریکی حربے(رشید صافی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-09-06/52613/64735410</link><pubDate>Sun, 06 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-09-06/52613/64735410</guid><description>امریکی بحریہ کے سب سے اہم طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن کا مشرقِ وسطیٰ میں 286دن گزارنے کے بعد تھائی لینڈ پہنچنا عالمی سیاست اور عسکری تجزیہ کاروں میں زیر بحث ہے۔ کیلیفورنیا کے شہر سان ڈیاگو سے روانہ ہونے والا یہ بحری جہاز نو ماہ تک مسلسل سمندر میں رہا۔ امریکی بحریہ کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس جہاز نے اپنا مشن کامیابی کے ساتھ پورا کر لیا ہے‘ مگر سوال یہ ہے کہ اگر اس بیڑے کو مشرقِ وسطیٰ بھیجنے کا مقصد ایران پر عسکری دباؤ ڈالنا تھا تو یہ ہدف حاصل نہیں کیا جا سکا ۔ پھر یہ مشن کس بنیاد پر مکمل قرار دیا جا رہا ہے؟ ابراہم لنکن کی روانگی سے قبل ایسا خوف اور رعب کا ماحول پیدا کیا گیا تھا جس میں یہ باور کرایا گیا کہ ایران اس بحری جہاز کے قریب پھٹکنے کی جرأت بھی نہیں کر ے گا لیکن اس کے برعکس 286 ایام کی اس مسلسل کشمکش کے بعد بعض عسکری ذرائع اور تجزیاتی حلقوں کی جانب سے یہ حقائق سامنے آ رہے ہیں کہ طویل ترین بحری موجودگی کے باعث جہاز پر موجود اہلکار شدید ذہنی تناؤ کا شکار ہو چکے تھے۔ اس کے مقابلے میں ایران نہ صرف اسی استقامت کے ساتھ اپنی کھڑا رہا جیسے وہ پہلے دن تھا بلکہ اس شدید ترین معاشی و عسکری گھیراؤ کے نتیجے میں ایرانی عوام اور عسکری قیادت کا نظریاتی مؤقف مزید مضبوط ہوا ہے۔ یہ بات پوری طرح واضح ہو چکی ہے کہ واشنگٹن اپنی تمام تر بحری قوت کے باوجود ایرانی قوم اور اس کے انتظامی نظام کو جھکانے میں ناکام رہا ہے۔جب امریکی قیادت کو یہ اندازہ ہوا کہ صرف بحری بیڑے کی موجودگی اور عسکری نمائش سے ایران کو جھکایا نہیں جا سکتا تو صدر  ٹرمپ کی جانب سے تناؤ کو ایک نئے رخ پر منتقل کرنے کی کوششیں شروع کر دی گئیں۔ امریکی صدر اب ہر وہ حربہ استعمال کر رہے ہیں جس سے ایران کو امریکی برتری تسلیم کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔ اس سلسلے میں واشنگٹن بالآخر کچھ مغربی اتحادیوں کو بھی اپنے ساتھ ملانے میں کامیاب ہوگیا ہے۔ امریکہ‘ برطانیہ‘ فرانس اور جرمنی نے ایران کے ایٹمی معاملے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے جانے کیلئے سفارتی محاذ آرائی تیز کر دی ہے۔ یہ چاروں مغربی ملک بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے بورڈ میں ایران کے خلاف قرارداد لانے کی تیاری کر رہے ہیں جس میں یہ الزام عائد کیا جائے گا کہ تہران جوہری عدم تعاون کا مرتکب ہو رہا ہے۔ مغربی ممالک کی جانب سے پیش کی جانے والی اس مجوزہ قرارداد میں ایران سے یہ مطالبہ کیے جانے کا امکان ہے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام سے متعلق بین الاقوامی ذمہ داریوں اور معاہدوں کی پاسداری کرے اور آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کو تمام ایٹمی تنصیبات تک بلا تعطل رسائی فراہم کرے۔ اس وقت آئی اے ای اے اور مغربی طاقتوں کا سب سے بڑا اعتراض ایران کی جانب سے 60فیصد تک یورینیم کی افزودگی ہے‘ جسے وہ ایٹمی صلاحیت کے حصول کی جانب ایک بڑا قدم قرار دیتے ہیں۔ اگر آئی اے ای اے کے بورڈ آف گورنرز میں ایران کے خلاف عدم تعاون کی قرارداد منظور ہو جاتی ہے تو تقریباً 20سال بعد ایران کا جوہری کیس ایک بار پھر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پاس چلا جائے گا جس کے نتیجے میں تہران پر بین الاقوامی پابندیوں کی بحالی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ اگرچہ امریکہ نے چار ممالک کو اپنے ساتھ ملا لیا ہے لیکن چین اور روس کی اقوام متحدہ میں مستقل رکن کے طور پر  موجودگی امریکی عزائم کی راہ میں رکاوٹ بنے گی۔ اسی طرح جنوبی کوریا کی جانب سے آبنائے ہرمز میں امریکی اتحاد کی حمایت کیلئے بحری یا زمینی فوجی دستے بھیجنے کے ممکنہ منصوبے پر چین شدید تحفظات رکھتا ہے اور اس اقدام سے علاقائی مسائل اور کشیدگی کے امکانات بڑھ جائیں گے کیونکہ یہ معاملہ اب بحیرہ احمر اور بحر ہند سے ساوتھ چائنہ سی تک پہنچ رہا ہے۔ امریکہ تنازع کو چین تک بڑھا رہا ہے جسے چین آبی جنگ سمجھے گا۔ اس صورت میں جنگ کا دائرہ ہماری سوچ سے بھی زیادہ وسعت اختیار کر جائے گا۔سفارتی اور معاشی گھیراؤ کے ساتھ ساتھ امریکی صدر کی جانب سے ایران کی حساس عسکری و دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی  دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں۔ ان دھمکیوں میں خاص طور پر ایران کے اہم عسکری مرکز کوہِ کلنگ گزلا کا نام لیا گیا ہے۔ کوہِ کلنگ گزلا ایران کی ایک نہایت حساس اور حکمتِ عملی کے لحاظ سے اہم ترین زیرِ زمین عسکری و دفاعی تنصیب ہے جو کہ پہاڑی سلسلوں کی قدرتی گہرائی میں واقع ہونے کے باعث اعلیٰ ترین سطح کا دفاعی تحفظ رکھتی ہے۔ یہ مقام جغرافیائی طور پر اس طرح تیار کیا گیا ہے  کہ اس کے اندر دو ملحقہ اور انتہائی محفوظ ترین سرنگوں پر مشتمل جدید اور وسیع تر کمپلیکس قائم ہے‘ جسے روایتی فضائی حملوں‘ بنکر بسٹر بموں اور دیگر طاقتور بارودی دھماکوں سے محفوظ رکھنے کیلئے قدرتی چٹانوں کی گہری تہوں میں تراشا گیا ہے۔ اس کمپلیکس کو ایران کے دفاعی نظام میں کلیدی حیثیت حاصل ہے‘ جہاں جدید تکنیکی و عسکری اثاثہ جات اور حساس نوعیت کے انفراسٹرکچر کی حفاظت  ممکن بنائی جاتی ہے۔ اپنی غیرمعمولی قلعہ نما اور حکمت عملی کی صلاحیت کی وجہ سے کوہِ کلنگ گزلا کا شمار خطے میں ایران کے ناقابلِ  تسخیر عسکری مراکز میں ہوتا ہے۔ تاہم اگر امریکی انتظامیہ ان دھمکیوں کو عملی شکل دینے کی کوشش کرتی ہے تو ایران کے پاس صرف داخلی قومی اتحاد ہی واحد ڈھال نہیں ہے بلکہ اس کے پاس خطے میں موجود تمام امریکی عسکری اہداف اور اس کے اتحادی ممالک کی حساس تنصیبات پر حملہ کرنے کے مکمل عسکری آپشنز بھی موجود ہیں۔ اگر یہ کشیدگی واقعی ایک کھلی جنگ میں بدلتی ہے تو ایرانی ردِعمل  کی شدت امریکہ کے علاقائی اتحادیوں کیلئے انتہائی تباہ کن ثابت ہو گی۔ اس طرح کی باقاعدہ جنگ کا نقصان صرف تہران یا واشنگٹن تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کھلی جنگ کے شعلے پورے مشرقِ وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے‘ جس سے عالمی توانائی کے راستے اور خطے کا امن مکمل طور پر تباہ ہو کر رہ جائے گا۔مشرق وسطیٰ میں طاقت کے توازن کی بگڑتی صورتحال اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ عسکری میدان میں غلط کیلکولیشن متحارب گروہوں کیلئے ہی نقصان دہ نہیں بلکہ پورا خطہ تباہی کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ  بین الاقوامی سیاست اب بھی مذاکرات اور مکالمے کے بجائے طاقت کے استعمال سے مسائل کو حل کرنا چاہتی ہے۔ تاہم تاریخ گواہ ہے کہ تسلط کی کوششیں کبھی بھی نظریاتی جذبے کو مات دینے میں کامیاب نہیں ہو سکیں۔ امریکی قیادت کو یہ حقیقت تسلیم کرنی ہو گی کہ تہران کو سلامتی کونسل کے ذریعے معاشی اور سفارتی حصار میں قید کرنے کی کوششیں ہوں یا طاقت کے بے جا استعمال کی دھمکیاں‘ ان سے قومی نظریات کو مستقل طور پر دبایا نہیں جا سکتا۔ اگر عالمی طاقتوں نے یکطرفہ تسلط کی پالیسی کو ترک نہ کیا اور  سفارت کاری کے راستوں کی جگہ جنگ کے شعلوں کو ہوا دی تو اس آتش فشاں کے پھٹنے سے جو تباہی جنم لے گی‘ اس کا نقصان صرف ایک ریاست کا مقدر نہیں بنے گا بلکہ اس کی زد میں آنے والی دنیا کی تاریخ خود اپنے ہاتھوں سے اپنی بربادی کا سیاہ باب رقم کرے گی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ طاقت کے بجائے مساوات‘ باہمی احترام اور امن کے اصولوں کو ترجیح دی جائے ورنہ مشرقِ وسطیٰ کا یہ آتش فشاں پورے کرۂ ارض کو اپنے لپیٹ میں لے کر امن کے تمام خوابوں کو خاکستر کر دے گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/222_48272610.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ڈاکیا ڈاک لایا!(عمران یعقوب خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-09-06/52614/11242753</link><pubDate>Sun, 06 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-09-06/52614/11242753</guid><description>اگلے روز خط نویسی کا عالمی دن گزرا تو یاد آیا کہ ایک زمانے میں رابطوں یعنی کمیونی کیشن کا واحد ذریعہ صرف خطوط ہوا کرتے تھے۔ بادشاہ اپنی بات دوسرے بادشاہ یا عوام تک پہنچانے کیلئے خط لکھتے تھے۔ دور کے شہروں میں رہنے والے رشتے دار بھی خطوط کے ذریعے اپنے دل کی باتیں کرتے اور دوسرے رشتے داروں کے خیالات جانتے تھے۔ جوانی کی محبتوں اور الفتوں کے اظہار کا ذریعہ بھی خطوط ہی ہوا کرتے تھے۔ پڑھے لکھے یہ کام اپنے ہاتھ سے سرانجام دیتے تھے جبکہ اَن پڑھ اپنے قریبی ترین راز دان دوستوں سے اپنی اپنی دل پسندوں کے نام رقعے لکھواتے تھے۔ ہر محلے میں کوئی نہ کوئی ایسا شخص ضرور ہوتا جو پُرتاثیر محبت نامے لکھنے میں ماہر ہوتا تھا۔ محلے بھر کے عاشقان دل پذیروں کا اس کے در پر ہجوم لگا رہتا تھا۔ اب خطوط کا زمانہ لد چکا‘ اس کی جگہ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ میسجز نے لے لی ہے‘ لیکن خطوط کے زمانے والے اس ناسٹلجیا سے باہر نہیں نکل پائے ہوں گے۔خط لکھنے والے کو مکتوب حوالۂ ڈاک کر دینے کے بعد پھر اس کے جواب کا شدت سے انتظار شروع ہو جاتا تھا۔ باقاعدہ دن گنے جاتے تھے کہ خط ڈاک کے ذریعے دو یا تین دن میں مکتوب الیہ کو پہنچ گیا ہو گا اور آج اس نے جواب لکھا ہو گا اور اگلی جمعرات کو مجھے اس کا جوابی خط موصول ہو جائے گا۔ نامہ نگار اپنے حساب سے خط کے موصول ہونے کا جو دن طے کرتا اس روز صبح سے ہی ڈاکیے کا انتظار شروع ہو جاتا تھا۔ جوابی خط مل جاتا تو ٹھیک‘ بصورت دیگر اگلے دن کا انتظار شروع ہو جاتا تھا۔ یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ انتظار اگر زحمت ہے تو اس میں ایک مزہ بھی چھپا ہوا ہے‘ ایک کسک آمیز مزہ۔ اس دور کے فلمی گانوں میں بھی خطوط کا ذکر وافر ملتا تھا۔ فلم شاردا کا گانا آپ کا خط ملا آپ کا شکریہ۔ 1956ء کی فلم &#39;چن ماہی‘ کا گانا نی چٹھیے سجناں دی اے تینوں چُم چُم دل نال لاواں۔&#39; کنیا دان‘ کا گانا لکھے جو خط تجھے وہ تیری یاد میں ہزاروں رنگ کے نظارے بن گئے۔ &#39;سرسوتی چندرا‘ فلم کا گانا پھول تجھے بھیجا ہے خط میں پھول نہیں یہ میرا دل ہے۔ فلم &#39;دوستی‘ کا گانا چٹھی جرا سیاں جی کے نام لکھ دے‘ حال میرے دل کا تمام لکھ دے۔ فلم&#39; شکتی‘ کا گانا ہم نے صنم کو خط لکھا‘ خط میں لکھا اے دلربا دل کی گلی شہر وفا۔ فلم‘ سنگم‘ کا گانا یہ میرا پریم پتر پڑھ کر تم ناراض نہ ہونا۔ فلم&#39; پلکوں کی چھاؤں‘ کا گانا ڈاکیا ڈاک لایا‘ ڈاکیا ڈاک لایا‘ خوشی کا پیام کہیں‘ کہیں دردناک لایا۔ فلم&#39; سہاگ‘ کا گانا مجھ کو غمِ حالات کی تصویر سمجھنا اس خط کو میری آخری تحریر سمجھنا‘ اور کیا آپ جانتے ہیں کہ راجیش کھنہ کی پہلی  فلم کا عنوان آخری خط تھا۔اب تو کمیونیکیشن نہایت آسان ہو چکی ہے لیکن ایک دور ایسا بھی تھا جب خطوط کی ترسیل کیلئے کبوتروں کا استعمال بھی کیا جاتا تھا۔ فلم &#39;میں نے پیار کیا ‘کا کبوتر جا جا جا والا گانا تو آپ نے سن ہی رکھا ہو گا‘ یا فلم &#39;دُلا بھٹی‘ کا گانا واسطہ ای رب دا توں جانویں وے کبوترا‘ چٹھی میرے ڈھول نوں پہچانویں وے کبوترا بھی سن رکھا ہو گا‘ تو یہ خطوط لے جانے والے کبوتروں کی طرف ہی اشارے تھے۔ جب موٹر گاڑیاں ایجاد نہیں ہوئی تھیں تب خطوط رسانی یعنی ڈاک کی ترسیل کا کام گھوڑوں سے لیا جاتا تھا۔ گھڑ سوار ایک جگہ کے خطوط دوسری جگہ اور دوسری جگہ کے خطوط تیسری جگہ پہنچانے کیلئے وقف ہوتے تھے اور ڈاک کی باقاعدہ چوکیاں قائم کی جاتی تھیں جیسے آج کل ڈاک خانے ہیں۔ ستر اور اسی کی دہائی میں ریڈیو پاکستان لاہور سے ایک پروگرام نشر ہوا کرتا تھا‘ شیزان ہٹ پریڈ۔ یہ پروگرام شروع میں حسن جلیل پیش کرتے تھے‘ پھر حماد حسن پیش کرنے لگے تھے۔ اس پروگرام میں ہفتے بھر میں سامعین کی جانب سے سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے گانے ریٹنگ کے حساب سے سنائے جاتے تھے اور آخر میں سب سے زیادہ پسند کیا جانے والا گانا سنوایا جاتا تھا۔  حسن جلیل نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں بتایا کہ پہلا پروگرام نشر ہونے کے دوسرے تیسرے روز ریڈیو پاکستان لاہور کو صرف اس پروگرام کے حوالے سے 55000 خطوط موصول ہوئے تھے۔ پتا نہیں آپ نے ریڈیو پر فلمی گانوں کا فرمائشی پروگرام سن رکھا ہے یا نہیں‘ ایک زمانے میں ریڈیو پاکستان اور آل انڈیا ریڈیو سے بھی گانوں کے فرمائشی پروگرام چلا کرتے تھے۔ لوگ خط لکھتے تھے کہ ہمیں فلاں گانا سنوا دیں۔ وہ گانا فرمائش بھیجنے والوں کے ناموں کے ساتھ سنوایا جاتا تھا۔ ان پروگراموں کی پسندیدگی کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ پاکستان سے آل انڈیا ریڈیو اور بھارت سے ریڈیو پاکستان لاہور کے نام سینکڑوں خطوط آتے تھے۔ گھروں میں یہ پروگرام بڑی باقاعدگی سے سنے جاتے تھے۔جس زمانے کی میں بات کر رہا ہوں اُس دور میں فلمی ستاروں کو خط لکھنے کا بھی بڑا رواج تھا۔ ان خطوط میں فلمی اداکاروں اور اداکاراؤں کے ساتھ الفت کا اظہار کرتے ہوئے ان کی اداکاری کی تعریف کی گئی ہوتی تھی۔ ان میں سے کسی کسی خط کا نامہ نگار کو جواب بھی ملتا تھا۔ فروری 2021ء میں بی بی سی اردو میں ایک سٹوری شائع کی گئی جس میں انڈیا کی فیکٹ چیکنگ ویب سائٹ آلٹ نیوز کی شریک بانی عالیہ نازکی نے ایک دل گداز حقیقی کہانی شیئر کی تھی۔ ان کی پھوپھی کی وفات 2006ء میں ہوئی تھی۔ ان کی وفات کے بعد ان کا کچھ سامان کسی سٹور روم کے تہ خانے میں کئی سال تک پڑا رہا۔ پھر اس سامان میں موجود ایک پرانا البم عالیہ کے ہاتھ لگا۔ ان کی پھوپھی مہرالنسا نجمہ انڈین فلموں کی بہت بڑی مداح تھیں اور اپنی والدہ کی ناراضی کے باوجود اپنا خاصا وقت اس وقت کے فلم سٹارز کو خط لکھنے میں گزارتی تھیں۔ عالیہ کو اس پرانے البم میں اس وقت کے بڑے فلم سٹارز کے وہ خطوط بھی ملے جو انہوں نے نجمہ کو جواب میں لکھے اور اپنی دستخط شدہ تصاویر کے ساتھ بھیجے تھے۔ شمی کپور نے انگریزی میں‘ دھرمیندر نے اپنے ہاتھ سے لکھی ہندی میں تو سنیل دت نے خالص اور خوش خط اردو میں اس نوجوان لڑکی کے خطوط کے جواب دیے تھے۔ نجمہ کے خطوط  کے جواب دینے والوں میں کامنی کوشل‘ سادھنا‘ آشا پاریکھ‘ سائرہ بانو‘ تبسم‘ ثریا‘ راجندر کمار اور راج کمار بھی شامل تھے۔ ذرا تصور کریں کہ ہم اور آپ میں سے کوئی شاہ رخ خان‘ دیپیکا پاڈوکون‘ فواد خان یا ماہرہ خان کو خط لکھے اور ان کا اس طرح ہاتھ سے لکھا ہوا جواب آئے تو ہماری کیا حالت ہو گی۔ اس وقت کی نوجوان نجمہ کی حالت اِس سے سو گنا زیادہ دیوانوں جیسی ہوئی ہو گی۔خطوط کے زمانے میں قلمی دوستی کا بھی بڑا رواج تھا۔ مختلف رسالوں میں قلمی دوستی کے خواہش مندوں کے باقاعدہ پتے چھاپے جاتے تھے۔ جو جس کو چاہتا خط لکھ سکتا تھا۔ قلمی دوست کبھی ایک دوسرے سے ملے نہیں ہوتے تھے لیکن دل کی باتیں وہ ایسے ہی کرتے تھے جیسے صدیوں سے ایک دوسرے کو جانتے ہوں۔ قلمی دوست ڈاک کے ذریعے ایک دوسرے کو تحائف بھی بھیجتے تھے جو زیادہ تر کتابوں اور رسائل پر مشتمل ہوتے تھے۔ دورِ جدید میں برقی ذرائع ابلاغ نے حالات کی کایا پلٹ کر رکھ دی ہے۔ ای میل‘ ایس ایم ایس‘ ٹیلی فون‘ موبائل فون‘ واٹس ایپ نے فاصلو ں کی طنابیں کھینچ دی ہیں۔ جس رابطے کیلئے ماضی میں دنوں انتظار کرنا پڑتا تھا‘ وہ اب چند سیکنڈ میں ہو جاتا ہے۔ صرف رابطہ ہی نہیں ہوتا‘ ویڈیو بات چیت بھی ہو جاتی ہے۔ اس طرح مکتوب نگاری کا زور اب پہلے جیسا نہیں رہا لیکن یہ حقیقت ہے کہ اس کی اہمیت و افادیت کم نہیں ہوئی۔ میرے اور آپ جیسے پچاس برس سے زیادہ عمر کے لوگ اب بھی خطوط کے سحر سے نکل نہیں پائے ہیں۔ خط لکھنے‘ حوالۂ ڈاک کرنے‘ جوابی خط کا انتظار کرنے کا اپنا ہی مزہ تھا۔ اس کا حظ وہی اٹھا سکتے ہیں جو خط لکھتے رہے ہوں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_58350786.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>معرکہ ستمبر سے بنیانٌ مرصوص تک(محمد عبداللہ حمید گل)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-abdullah-hameed-gull/2026-09-06/52615/42453509</link><pubDate>Sun, 06 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-abdullah-hameed-gull/2026-09-06/52615/42453509</guid><description>بدروحنین کے جانشین‘ پاک دھرتی کے سپوت‘ افواجِ پاکستان کے جانباز و شاہین اپنی دھرتی ماں کی حرمت و سلامتی کیلئے ہر گھڑی تیار ہیں۔ انہوں نے 6ستمبر 1965ء سے مئی 2025ء کے آپریشن بنیانٌ مرصوص تک دشمن کو بتا دیا ہے کہ گھس کر کیسے مارا جاتا ہے۔ افواجِ پاکستان نے &#39;&#39;اپنے گھوڑے تیار رکھو‘‘ کے ارشادِ ربانی کو حرزِ جاں بنایا ہوا ہے اور اس ذمہ داری سے ہماری قابلِ فخر افواج کبھی غافل نہیں رہیں۔جذبۂ ایمانی اور حب الوطنی کی انتہا تھی کہ 1965ء کی جنگ میں بحری‘ بری اور فضائی افواج کے جانبازوں نے نامساعد حالات‘ محدود جنگی سازوسامان کے باوجود ایسے کارہائے نمایاں انجام دیے کہ اقوامِ عالم ورطۂ حیرت میں مبتلا ہو گئیں اور ہمارے جوانوں نے اپنی دلیری‘ شجاعت اور بہادری سے دشمن پر سکتہ طاری کر دیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ 1965ء کی جنگ نے پاکستانی قوم میں ایک نئی روح پھونک دی تھی۔ 6 ستمبر‘ یومِ دفاع پاکستان ہماری دفاعی اور عسکری تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔ اس دن شجاعت و خود اعتمادی کی دولت سے مالا مال افواجِ پاکستان کے جری جوانوں نے سرحدوں کی حفاظت کرتے ہوئے بہادر اور غیور پاسبانوں کی فہرست میں اپنا نام رقم کرایا۔ رَن آف کچھ کے محاذ پر پاکستان سے پنجہ آزمائی میں ذلت اٹھانے کے بعد چوروں کی طرح پاکستان کے دل لاہور پر حملہ کرنے والی بزدل بھارتی فوج کے خلاف افواجِ پاکستان نے جرأت و بہادری کے وہ جوہر دکھائے کہ دنیا ششدر رہ گئی۔ بھارت کے ریٹائرڈ ائیر مارشل بھارت کمار نے اپنی کتاب The Duels of the Himalayan Eagle - the First Indo-Pak Air War میں اعتراف کیا کہ 1965ء کی جنگ میں پاکستان کے مقابلے میں بھارت کو زیادہ نقصان اٹھانا پڑا تھا‘ یہاں تک کہ پاکستان نے صرف دو دن میں بھارت کے 35طیارے تباہ کر دیے۔ بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا نے اس کتاب کے حوالے سے ایک رپورٹ بھی شائع کی جس میں دعویٰ کیا گیا کہ بھارتی وزارتِ دفاع کے ریکارڈ میں تسلیم کیا گیا کہ 1965ء کی جنگ میں بھارت کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ۔ یہ قوتِ ایمانی ہی تھی جو عسکری قوت پر غالب رہی۔میجر مسعود اختر کیانی‘ جو چونڈہ میں شہید ہوئے‘ میجر عزیز بھٹی اور میجر شبیر شریف ایسے سپوت اور ان جیسے دوسرے دیگر شہدا کی قربانیاں اس ملک کے ماتھے کا جھومر ہیں۔ پاکستان اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان اور اس کی افواج مادرِ وطن کی محافظ اور اس کی حرمت کی امین ہیں۔ 6 ستمبر 1965ء کو بھارت نے رات کی تاریکی میں کئی انفنٹری ڈویژنز‘ ٹینکوں اور توپ خانے کی مدد سے لاہور پر تین اطراف سے حملہ کیا۔ لیکن ستلج رینجرز کے جوانوں نے بی آر بی نہر کا پل تباہ کرکے دشمن کے عزائم خاک میں ملا دیے۔ اس   صورتحال کو یقینی بنانا کسی طور معجزے سے کم نہ تھا۔ میجر راجہ عزیز بھٹی کی یونٹ 17پنجاب 103بریگیڈ کا حصہ تھی جو 10ڈویژن کی دفاعی بریگیڈ تھی۔ اس کمپنی کی دو پلاٹون بی آر بی نہر کے دوسرے کنارے پر تعینات تھیں۔ ان حالات میں جب دشمن تابڑ توڑ حملے کر رہا تھا اور اسے توپ خانے اور ٹینکوں کی پوری مدد حاصل تھی‘ 10 اور 11 ستمبر کی درمیانی شب کو  دشمن نے اس سارے سیکٹر میں بھرپور حملے کیلئے اپنی ایک پوری بٹالین (4 سکھ بٹالین) جھونک دی۔ اس صورتحال میں میجر عزیز بھٹی کو نہر کے کنارے پر لوٹ آنے کا حکم دیا گیا۔ انہوں نے اس دفاعی پوزیشن میں بھی دشمن کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔  آپ نے نہر کے کنارے پر کمپنی کو نئے سرے سے دفاع کیلئے منظم کیا۔ بھارتی فوج چھوٹے ہتھیاروں‘ ٹینکوں اور توپوں سے بے پناہ بارود برسا رہی تھی مگر میجر عزیز بھٹی نہ صرف دشمن کے شدید دباؤ کا سامنا کرتے رہے بلکہ اس کے حملوں کا تابڑ توڑ جواب بھی دیتے رہے۔ 12 ستمبر کو دشمن کے ایک ٹینک کا گولہ لگنے سے آپ شہید ہو گئے مگر اس وقت تک نہ صرف آپ نے اپنی یونٹ کا دفاع یقینی بنایا بلکہ دشمن کو بھی بھاری جانی و مالی نقصان پہنچایا۔ بھارت کے لیفٹیننٹ ہربخش سنگھ کے مطابق پاکستانی افواج بہادری سے لڑیں اور زمین کے ہر انچ کا خوب دفاع کیا۔ اپنی کتاب میں ہربخش سنگھ نے میجر عزیز بھٹی کی جرأت و بہادری کا بھی ذکر کیا ہے۔بھارت نے سب سے بڑا اور خطرناک حملہ سیالکوٹ کے محاذ پر کیا تھا۔بھارت نے پاک فوج کی توجہ لاہور کے محاذ سے ہٹانے کیلئے 600 ٹینکوں اور ایک لاکھ فوجیوں کے ساتھ سیالکوٹ میں چارواہ‘ باجرہ گڑھی اور نخنال کے مقام پر حملہ کیا‘ لیکن پاکستان کے عظیم سپوتوں نے مادرِ وطن کی حفاظت کیلئے اپنے سینوں پر بم باندھ کر بھارتی فوج کے ٹینکوں کو تباہ کیا۔ سیالکوٹ  کا قصبہ چونڈہ &#39;ٹینکوں کے قبرستان‘ کے نام سے مشہور ہے۔ اس جنگ میں پاکستان ایئرفورس نے بھی کمالِ فن کا مظاہرہ کیا  اور سترہ دن تک لڑی جانے والی اس جنگ میں بری افواج کو بھرپور مدد فراہم کی۔ ایک رپورٹ کے مطابق اس جنگ میں دشمن کے 129 لڑاکا طیاروں کو تباہ کیا گیا جبکہ پاکستان کے صرف 19 طیاروں کو نقصان پہنچا۔ مایہ ناز مجاہد سکواڈرن لیڈر  ایم ایم عالم نے 7 ستمبر کو سرگودھا میں ایک تاریخ ساز معرکے میں دشمن کے پانچ حملہ آور طیاروں کو ایک ہی وار میں یکے بعد دیگرے مار گرایا اور دنیا بھر کی فضائیہ کی تاریخ میں ایک لازوال مثال قائم کی۔پاک بحریہ کا کردار بھی ناقابلِ فراموش رہا۔ پاک بحریہ کے جہازوں نے بھارت کے پانیوں میں 200 ناٹیکل میل اندر جا کر بھارتی بحریہ کو ناکوں چنے چبوائے۔ اعلانِ جنگ ہوتے ہی پاک بحریہ کے جہاز پی این ایس بابر‘ خیبر‘ بدر‘ ٹیپو سلطان‘ جہانگیر‘ شاہجہاں اور عالمگیر پاکستان فلیٹ کموڈور ایس ایم انور کی کمانڈ میں دوارکا کی طرف روانہ ہوئے۔ بھارتی ریاست گجرات میں دوارکا کے مقام پر قائم ریڈار سٹیشن دشمن کے جہازوں کو فضائی حملوں کیلئے مسلسل رہنمائی فراہم کر رہا تھا جس کو تباہ کرنا ازحد ضروری تھا۔ اسکے علاوہ بھارتی بحریہ کے جہازوں کو بھارتی پانیوں سے باہر لانے کی حکمت بھی اس آپریشن کا حصہ تھی‘ جن کا سامنا کرنے کیلئے پاک بحریہ کی آبدوز غازی پہلے ہی سے بحرِ ہند میں موجود تھی۔ 6 ستمبر کو کراچی سے روانہ ہونیوالے پاک بحریہ کے جنگی جہاز 7 ستمبر کو جب دوارکا کے قریب پہنچے تو دفاعِ وطن کیلئے ہر حد سے گزر جانے کا جذبہ لیے آفیسرز اور سیلرز حکم کے منتظر تھے۔ جیسے ہی انہیں حکم ملا انہوں نے منصوبے کے مطابق تمام جہازوں سے 50‘ 50 گولے فائر کیے اور صرف تین منٹ میں دوارکا کو راکھ کا ڈھیر بنا دیا۔بھارت کے معروف عسکری تجزیہ کار ڈاکٹر بی سی چکرورتی History of the Indo-Pak War, 1965 میں رقمطراز ہیں کہ &#39;&#39;انڈیا کیلئے رَن آف کچھ کا آپریشن جان لیوا ثابت ہوا اور اسے اپنے سے کئی گنا چھوٹی عسکری قوت کی طرف سے انتہائی صبر آزما اور غیر متوقع مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا‘ جس کے باعث 6 ستمبر کو لاہور پر حملے کے بعد بھارت سفارتی سطح پر دنیا میں تنہا ہو کر رہ گیا‘‘۔ 15 ستمبر کو بھارتی وزیراعظم شاستری نے اپنی عسکری قیادت سے صاف صاف کہہ دیا کہ &#39;&#39;اب میں مزید دباؤ کا سامنا نہیں کر سکتا‘ دنیا کا کوئی بھی ملک ہمارے جنگی فتح کے دعووں کو گھاس نہیں ڈال رہا‘ اس لیے مجھے حتمی طور پر بتاؤ کہ تم دو‘ تین دن میں جنگ جیت سکتے ہو یا نہیں‘‘۔ بھارت کی عسکری قیادت نے جیسے ہی مزید مہلت کا تقاضا کیا شاستری نے ایک لمحے کی تاخیر کیے بغیر خود ہی سرنڈر کرنے کا فیصلہ کر لیا اور انتہائی مایوسی کے عالم میں یواین کے سیکرٹری جنرل کو جنگ بندی پر اپنی رضامندی کا مراسلہ بھیج دیا جسے تاریخ نویس &#39;&#39;جنگ بندی کی درخواست‘‘ بھی کہتے ہیں۔آج یومِ دفاع قومی‘ سیاسی و عسکری قیادتوں سمیت پوری قوم سے اس امر کا متقاضی ہے کہ اتحاد و یکجہتی کے تحت دفاعِ وطن کے تقاضے نبھائے جائیں۔ میں اپنے کالم کے توسط سے ان جانبازوں‘ غازیوں‘ شہیدوں کو سلامِ عقیدت پیش کرتا ہوں جن کے خون کی آبیاری سے مادرِ وطن محفوظ و مامون ہے۔ واقعی اے پتر ہٹاں تے نئیں وِکدے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_62843609.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>