<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>مہنگائی اور عوام کی بڑھتی مشکلات(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-10/11440</link><pubDate>Mon, 10 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-10/11440</guid><description>ملک میں مہنگائی کا جن ایک بار پھر بے قابو ہونے کے آثار دکھا رہا ہے۔ رواں مالی سال کے دوسرے ماہ (اگست) کے پہلے ہفتے میں مہنگائی کی رفتار میں 0.28 فیصد اضافہ یہ واضح کرتا ہے کہ مہنگائی میں کمی کے سرکاری دعوے ادھورے ہیں۔ سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 9.29 فیصد تک پہنچ جانا بلاشبہ تشویشناک ہے‘ خصوصاً ایسے وقت میں جب عام آدمی پہلے ہی بجلی‘ گیس‘ پٹرول اور اشیائے خورو نوش کے بڑھتے ہوئے اخراجات کا سامنا کر رہا ہے۔ وفاقی ادارۂ شماریات کے مطابق پچھلے ایک ہفتے کے دوران 20 ضروری اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ چکن کی قیمت میں 9.19 فیصد اور پیاز کی قیمت میں 10.14 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا جبکہ دال چنا‘ سرخ مرچ‘ چائے کی پتی‘ آٹا اور گھی بھی مہنگا ہوا۔ یہ اعداد وشمار صرف چند اشیا کی قیمتوں میں اضافے کی نشاندہی نہیں کرتے اس بنیادی مسئلے کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں کہ ملک میں خوراک اور ضروریاتِ زندگی کی قیمتوں کو مستقل بنیادوں پر قابو میں رکھنے کا نظام مؤثر نہیں۔ مہنگائی کا سب سے زیادہ بوجھ متوسط اور کم آمدنی والے طبقے پر پڑتا ہے۔ محدود آمدنی والا گھرانہ جب آٹا‘ دال‘ گھی‘ سبزی خریدتا ہے تو اس کے ماہانہ بجٹ کا بڑا حصہ صرف خوراک پر خرچ ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد بجلی کا بل‘ بچوں کی سکول فیس‘ علاج اور دیگر ضروریات پوری کرنا دشوار چیلنج بن جاتا ہے۔

قیمتوں میں معمولی اضافہ بھی ایسے خاندانوں کے بجٹ کو شدید متاثر کرتا ہے۔ چکن اور پیاز کی قیمتوں میں ایک ہفتے کے دوران 9.19 اور 10.14 فیصد اضافہ خاص طور پر قابلِ توجہ ہے۔ خوراک کی قیمتیں عموماً طلب اور رسد‘ موسمی صورتحال‘ ٹرانسپورٹ کے اخراجات اور مارکیٹ میں نگرانی کے فقدان سے متاثر ہوتی ہیں۔ اس تناظر میں یہ خدشہ موجود ہے کہ ان دنوں ٹرکوں کی ہڑتال سے اشیائے خورو نوش مزید مہنگی ہو سکتی ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ صرف سرکاری نرخ مقرر کر دینا مہنگائی کا حل نہیں‘ اصل ضرورت مارکیٹ کے مؤثر انتظام‘ سپلائی چین کی نگرانی‘ ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف عملی کارروائی کی ہے۔ متعلقہ اداروں اور انتظامیہ کو محض کاغذی کارروائی اور جرمانوں تک محدود رہنے کے بجائے مارکیٹ کی مسلسل نگرانی کا نظام قائم کرنا چاہیے۔ شاید پنجاب میں اس حوالے سے کچھ کام ہوا بھی مگر اسے نتیجہ خیز ہونا چاہیے۔ حکومت کو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ پیداواری لاگت میں اضافہ کہاں ہو رہا ہے اور اس کا کتنا حصہ حقیقی ہے اور کتنا اضافہ مصنوعی طور پر صارفین پر منتقل کیا جا رہا ہے۔
مہنگائی پر قابو پانے کیلئے قلیل مدتی اقدامات کیساتھ ساتھ طویل مدتی حکمت عملی بھی وضع کرنا ہو گی۔ زرعی پیداوار میں اضافہ‘ کسانوں کو مناسب قیمت‘ ذخیرہ کرنے کی بہتر سہولتیں‘ کولڈ سٹوریج ‘ مؤثر ٹرانسپورٹ نظام اور منڈیوں میں شفافیت اس حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔ یہ حقیقت بھی پیش نظر رکھنی چاہیے کہ مہنگائی محض معاشی مسئلہ نہیںسماجی مسئلہ بھی ہے۔ جب آمدنی میں اضافے کی رفتار قیمتوں میں اضافے سے کم ہو جائے تو لوگوں کی قوتِ خرید کم ہو جاتی ہے اور اس کے نتیجے میں معیارِ زندگی متاثر ہوتا ہے اور لوگ اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کیلئے قرض لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ یہی صورتحال طویل مدت میں معاشی اور سماجی بے چینی کو جنم دیتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت مہنگائی کے اعداد وشمار جاری کرنے پر اکتفا نہ کیا کرے بلکہ ہر اضافے کی وجوہات تلاش کرے اور ذمہ دار عناصر سے نمٹنے کی حکمت عملی لے کر آئے۔
مہنگائی کی شرح میں حالیہ اضافہ شاید معمولی دکھائی دے مگر عام آدمی کیلئے ہر اضافی روپیہ اہم ہوتا ہے۔ حکومت کی معاشی کامیابی کا اصل پیمانہ محض مجموعی معاشی اشاریے نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ عام خاندان کتنی آسانی سے اپنی بنیادی ضروریات پوری کر پاتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مہنگائی کو محض ایک شماریاتی مسئلہ سمجھنے کے بجائے عوام کی زندگی سے جڑا ہوا بنیادی مسئلہ تصور کیا جائے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ڈینگی کا منڈلاتا خطرہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-10/11439</link><pubDate>Mon, 10 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-10/11439</guid><description> مون سون بارشوں اور پانی کھڑا ہونے سے مچھروں کی افزائش کیلئے موافق ماحول پیدا ہوا ہے جس سے ڈینگی کے کیسوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ اسلام آباد اور راولپنڈی میں مون سون سیزن کے آغاز سے اب تک سینکڑوں مقامات ڈینگی لاروا برآمد ہونے پر سیل کیے جا چکے ہیں۔ لاہور شہر میں بھی 30 ہزار سے زائد ڈینگی ہاٹ سپاٹس کی نشاندہی کی گئی ہے۔ پنجاب کے علاوہ خیبر پختونخوا میں بھی ڈینگی بخار کے کیسز سامنے آئے ہیں‘ جو اس بات کا مظہر ہیں کہ حالیہ برسات کے بعد ملک کے بیشتر علاقوں میں ڈینگی کے پھیلائو کے سنگین خدشات موجود ہیں اور شہروں‘ قصبوں اور دیہات میں جگہ جگہ کھڑا پانی ڈینگی لاروا اور مچھروں کی افزائش گاہ بنا ہوا ہے۔ اس حوالے سے ذرا سی بے احتیاطی ڈینگی کے پھیلائو کا سبب بن سکتی ہے۔

ہر سال مون سون کے بعد ہزاروں افراد ڈینگی اور ملیریا میں مبتلا ہو جاتے ہیں جس کی بڑی وجہ نکاسی آب کے ناقص انتظامات‘ مچھروں کی افزائش کیلئے سازگار ماحول اور بے احتیاطی ہے۔ ضروری ہے کہ متعلقہ حکام تمام حساس علاقوں میں ڈینگی کنٹرول مہم کا فوری آغاز کریں اور مچھروں کی افزائش والی جگہوں پر سپرے کرایا جائے۔ پانی کی نکاسی کا بھی مؤثر انتظام یقینی بنانا چاہیے ۔ ساتھ ہی ساتھ عوام کو بھی چاہیے کہ وہ گھروں کی چھتوں‘ گملوں یا لان میں پانی کھڑا نہ ہونے دیں تاکہ مچھروں کو افزائش کیلئے ساز گار ماحول میسر نہ آ سکے۔ احتیاطی تدابیر اپنا کر ہی اس جان لیوا بیماری کو پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>میٹرو بسوں کی بندش؟(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-10/11438</link><pubDate>Mon, 10 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-10/11438</guid><description>لاہور کی میٹرو بس سروس‘ جو گزشتہ تقریباً ڈیڑھ دہائی سے لاکھوں افراد کی روزمرہ نقل وحرکت کا اہم ذریعہ ہے‘ اس وقت سنگین مالی و انتظامی بحران کا شکار ہے۔ آپریشنز چلانے والی نجی کمپنی نے ایندھن اور مالی وسائل کی عدم دستیابی کے باعث بس سروس کو 11 اگست سے معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف صوبائی دارالحکومت کے ریپڈ ٹرانسپورٹ نظام کیلئے بڑا چیلنج ہے بلکہ اس سے ہزاروں شہریوں کے روز مرہ معمولات بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ حکومتوں اور نجی آپریٹرز کے مالی معاملات سے جڑے تنازعات کا خمیازہ ہمیشہ عوام کو بھگتنا پڑتا ہے اور اس سے ہزاروں شہریوں کی زندگی متاثر ہوتی ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ کسی بھی شہر کی معاشی اور سماجی لائف لائن ہوتی ہے۔

لاہور جیسے گنجان آباد شہر میں‘ جہاں سڑکوں پر ٹریفک کا دباؤ اور ماحولیاتی آلودگی پہلے ہی تشویشناک حد تک زیادہ ہے‘ میٹرو بس جیسی سستی اور منظم سروس نے نچلے اور متوسط طبقے کو خاصی سہولت فراہم کی ہے۔ صوبائی حکومت اور متعلقہ حکام کو چاہیے کہ وہ معاملے کی حساسیت کو سمجھیں اور مسائل کو فوری طور پر حل کیا جائے تاکہ سروس میں کوئی تعطل نہ آئے۔ ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ آئندہ ایسی صورتحال سے بچنے اور مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس مسئلے کا پائیدار اور مستقل حل تلاش کیا جائے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>معاہدہ مکہ: چند سوالات(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-08-10/52453/86507348</link><pubDate>Mon, 10 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-08-10/52453/86507348</guid><description>معاہدہ ہو گیا۔ الحمدللہ۔ چند سوالات مگر آج بھی جواب طلب ہیں:1۔ کیا یہ امتِ مسلمہ کے اُس رومانوی تصور کی طرف مراجعت ہے‘ جسے اقبال کے اس مصرع میں بیان کیا گیا ہے کہ &#39;ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے‘؟ 2۔ یہ معاہدہ کس کے خلاف ہے؟ 3۔ کیا اس میں ایران بھی شامل ہو سکتا ہے؟ 4۔ کیا اس کے بعد مشرقِ وسطیٰ‘ بالخصوص سعودی عرب میں امریکی اڈوں کا کوئی جواز باقی ہے؟ 5۔ کیا یہ معاہدہ اس تاریخی کشمکش کو ختم کر دے گا جو خطے میں بالادستی کے لیے صدیوں پر محیط ہے؟امتِ مسلمہ کا رومانوی تصور کیا ہے؟ یہ نظامِ خلافت ہے۔ دنیا کے مسلم ممالک کا ایک سیاسی نظم ہو۔ اُن کا ایک خلیفہ ہو جسے امیر المومنین کہا جائے۔ سب مسلم ریاستوں میں اس کا سکہ چلتا اور اس کے نام کا خطبہ پڑھا جاتا ہو۔ ایک فوج ہو۔ موجودہ ممالک کی حیثیت صوبوں جیسی ہو۔ سب کے وسائل جمع ہوں اور باہم آمدو رفت میں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔ یہ گویا اُس مسلم سیاسی نظم کا احیا ہے جو سلطنتوں کے عہد میں قائم تھا۔ اس کی مثالی صورت تو خلافتِ راشدہ ہے مگر اموی یا عباسی سلطنتیں بھی اپنی کمزوریوں کے باوصف‘ اسی نظام کا تسلسل تھیں۔ آج عمرؓ ابن خطاب نہ سہی‘ کوئی عمرؒ بن عبدالعزیز ہی میسر آ جائے جس کے ہاتھوں خلافت کے اُس تصور کا احیا ہو جو ایک رومان کی صورت میں ہماری اجتماعی یادداشت کا حصہ ہے۔یہ معاہدہ نہ تو ایسے کسی تصور کا احیا ہے اور نہ ہی اس کا کوئی امکان ہے۔ آج کی مسلم مملکتیں قومی ریاست کے تصور پر کھڑی ہیں۔ ایسی ریاست جس میں اجتماعیت کی اساس رنگ ونسل یا جغرافیہ ہے۔ اس میں پاکستان اور اسرائیل‘ دو مستثنیات ہیں۔ برصغیر میں مسلم قومیت کو بھی نسلی قومیت کی طرح اجتماعیت کی اساس مانا گیا اور اسرائیل میں بھی یہودی مذہب کو یہی حیثیت دی گئی۔ بانیانِ پاکستان نے تصورِ پاکستان کو جدید قومی ریاست سے ہم آہنگ بنایا۔ اسرائیل میں بھی کوشش کی گئی۔ ایسی کاوشوں کے باوجود‘ امرِ واقعہ یہی ہے کہ دونوں ریاستیں مذہبی قومیت کی بنیاد پر قائم ہوئیں۔جدید ترکیہ اسی بنیاد پر قائم ہوا اور سعودی عرب بھی۔ عربوں نے ترکوں کے اقتدار سے نکلنے کے لیے انگریزوں سے اتحاد کیا اور &#39;ترکِ ناداں‘ نے بھی خلافت کی قبا چاک کر کے‘ ترک قومیت کا لبادہ اوڑھ لیا۔ خلافتِ عثمانیہ کے بعد‘ عرب قدیم قبائلی نظم کی طرف لوٹ گئے اور ترکیہ نے ریاست کے جدید تصور کو قبول کر لیا۔ یہی معاملہ ایران کا بھی ہے۔ انقلاب کے بعد بھی ایرانی قومیت کا تصور ماند نہیں پڑا۔ مزید یہ ہوا کہ اس نے مسلکی چولا بھی پہن لیا۔ آج تک سب اپنی اپنی شناختوں پر قائم ہیں۔ اس کے آثار نہیں کہ مستقبل قریب میں ان ممالک کی سوچ بدل جائے گی۔ سعودی عرب اپنے وسائل میں کسی کو شریک نہیں کرے گا اور ترکیہ میں بھی قومیت کا احساس کسی طور ایران سے کم نہیں۔ ترک کبھی عربوں کی قیادت کو قبول کریں گے اور نہ عرب ترکوں کی۔ لہٰذا اس معاہدے کو امتِ مسلمہ کے کسی رومانوی تصور سے کوئی تعلق نہیں۔یہ معاہدہ‘ اس تصور کی طرف مراجعت قرار دیا جا سکتا ہے جو علامہ اقبال نے پیش کیا تھا۔ اقبال نے بغیر کسی ابہام کے یہ بتایا تھا کہ نیا عالمی نظم قائم ہونے کے بعد‘ مسلمانوں میں اجتماعیت کی واحد ممکنہ صورت یہ ہے کہ مسلم ریاستیں‘ اپنے انفرادی تشخص کو باقی رکھتے ہوئے‘ پہلے مرحلے میں خود کو مضبوط بنائیں۔ دوسرے مرحلے میں ان کے مابین &#39;لیگ آف نیشنز‘ کی طرز پر ایک اتحاد قائم ہو جائے۔ یہ وہی اقوامِ متحدہ کا تصور ہے جس میں ہر ریاست کا انفرادی تشخص قائم ہے لیکن وسیع تر مفادات کے لیے‘ سب ایک معاہدے کا حصہ ہیں جسے اقوامِ متحدہ کا چارٹر کہا جاتا ہے۔ اس کے تحت رکن ممالک کے تعلقات قائم ہوتے اور جنگوں کے فیصلے ہوتے ہیں۔ مسلم ریاستوں کے حوالے سے &#39;مکہ معاہدہ‘ اس کی ابتدائی صورت قرار دی جا سکتی ہے‘ اگرچہ اقبال کے تصور کو متشکل کرنے کے لیے طویل سفر درپیش ہو گا۔ یہ معاہدہ ابھی صرف تین ممالک کے درمیان ہے۔ دوسرا‘ یہ صرف دفاعی معاہدہ ہے۔ اس کا معیشت یا دیگر معاملات سے کوئی تعلق نہیں۔ آج ہم صرف اتنا کہہ سکتے ہیں کہ یہ درست سمت میں پہلا قدم ہے اور اس کا خیر مقدم ہونا چاہیے۔ تاہم اس کے ساتھ زیادہ امیدیں وابستہ کرنا‘ کم از کم آج‘ خوش خیالی ہو گی۔اب آئیے دوسرے سوال کی طرف۔ اس کا کوئی متعین جواب نہیں۔ معاہدے کے مطابق اگر ایک ملک پر حملہ ہوتا ہے تو تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ اس سے کیا مراد ہے؟ اس کو مثال سے سمجھتے ہیں۔ اگر‘ خدا نخواستہ بھارت پاکستان پر حملہ آور ہوتا ہے تو سعودی عرب اور ترکیہ کی عسکری قوت پاکستان کے ساتھ کھڑی ہو گی۔ گویا یہ ممالک جنگ کا حصہ بن جائیں گے۔ اگر ایسا ہو گا تو بھارت خود کو حق بجانب سمجھے گا کہ سعودی عرب اور ترکیہ کو بھی اپنا دشمن تصور کرے۔ اب ان ممالک کے باہمی سفارتی تعلقات ہیں اور ان کے درمیان معاہدے موجود ہیں۔ اس صورت میں ان کا کیا بنے گا؟ ایک سوال اور بھی ہے۔ موجود دور میں کوئی ملک دوسرے پر حملہ نہیں کرتا۔ اگر کرتا ہے تو پہل کا الزام دوسرے پر لگاتا ہے۔ اس کا تعین کون کرے گا کہ پہل کس نے کی؟ یمن اور سعوی عرب کے تنازع کو دیکھ لیں یا سعودی عرب اور ایران کے اختلاف کو۔ سعودی عرب کے نزدیک ایران نے سعودی عرب پر حملہ کیا۔ ایران کا مؤقف ہے کہ اس نے سعودی عرب پر نہیں‘ وہاں موجود امریکی اڈوں پر حملہ کیا‘ جہاں سے ایران پر حملے ہو رہے تھے۔ کیا اس معاملے میں پاکستان یا ترکیہ کے لیے سعودی عرب کا دعویٰ کفایت کرے گا کہ وہ اس کی مدد کے لیے اپنی فوجیں میدان میں اتار دیں؟ معاہدے کی تفصیلات ہمارے سامنے نہیں۔ جب تک ہم ان سے بے خبر ہیں‘ اس معاہدے کی علمی صورت کا تعین مشکل ہے۔جہاں تک ایران کا معاملہ ہے تو وہ اس معاہدے میں شاید شامل نہ ہو سکے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ایران اس وقت سعودی عرب کے ساتھ براہ راست تصادم میں ہے اور اس کی وجہ یمن ہے۔ ایران اسی صورت میں اس معاہدے کا حصہ بن سکتا ہے جب وہ یمن سمیت‘ مشرقِ وسطیٰ میں اپنی تمام پراکیسز کو ختم کر دے۔ اس کا کوئی امکان نہیں۔ اس کے برخلاف‘ زیادہ امکان یہ ہے کہ ایران اور سعودی عرب متصادم ہو جائیں۔ یہ پاکستان اور ترکیہ کے لیے ایک کٹھن مرحلہ ہو گا۔ لہٰذا مجھے اس کا کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا کہ ایران کسی ایسے معاہدے کا حصہ بن سکے۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ یہ معاہدہ ایران کے توسیع پسندانہ عزائم کو روکنے کے لیے ہوا ہے۔ رہا چوتھا سوال تو اس معاہدے کے بعد‘ کم ازکم سعودی عرب میں تو امریکی اڈوں کا جواز باقی نہیں۔ تاہم یہ معاہدہ کسی رکن ملک کو اس کا پابند نہیں بناتا کہ وہ اس کی موجودگی میں کسی چوتھے ملک سے کوئی دفاعی معاہدہ نہیں کر سکتا۔ اس لیے امکان یہی ہے کہ امریکی اڈے تو سرِ دست وہاں موجود رہیں گے۔اب آئیے آخری سوال کی طرف۔ میں اس کے آثار نہیں دیکھتا۔ کیا مسلم قیادت اور عوام کی اس طرح قلبِ ماہیت ہو گئی ہے کہ وہ بتانِ رنگ و خوں کو توڑ کر‘ ایک ملت بن کر‘ صرف اسلام کی شناخت کے ساتھ زندہ رہنے پر آمادہ ہو گئے ہیں؟ کیا وہ تورانی‘ ایرانی‘ ترکی‘ عربی اور افغانی عصبیتوں کو چھوڑ چکے؟ ہم سب جانتے ہیں کہ ان سوالات کے جوابات نفی میں ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کا حالیہ تنازع ہی یہ بات سمجھانے کے لیے کفایت کرتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ہماری قسمت کے ستارے(رسول بخش رئیس)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-08-10/52454/79946152</link><pubDate>Mon, 10 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-08-10/52454/79946152</guid><description>جمود فطرت کو پسند نہیں کہ یہ اس کی روح کی نفی ہے۔ ہم کاشتکار لوگوں کو درختوں‘ پودوں اور فصلوں کا مشاہدہ کرنے کا موقع نصیب ہوتا رہتا ہے۔ ایک ہی زمین‘ ایک ہی موسم اور ایک ہی نوع کی فصل کے نتائج مختلف دیکھنے میں آتے ہیں۔ بوجوہ جہاں کہیں نشوونما رک جائے‘ مٹی میں قدرتی نم ہو لیکن کاشتکار غافل ہو جائے تو کشتِ ویران اس کا مقدر بن جاتی ہے۔ انسانوں میں بھی ایسا ہی دیکھا ہے۔ جامعات کی طویل زندگی میں ہماری کشت نوجوان تھے۔ سب کا ماحول اور پسِ منظر ایک جیسا تو نہ تھا مگر جب انہیں یکساں مواقع ملے تو سب کے جوہر کھلے۔ کچھ نے اس طرح جلدی بال و پَر نکالے اور محوِ پرواز ہوئے کہ کرشموں کا گمان ہونے لگا۔ ہزاروں زندگیاں بدلتے‘ سنورتے دیکھیں۔ شرط صرف یہ تھی کہ سب کو برابر اور یکساں مواقع میسر آئے۔ وہ سنہری دور تو ہمارے جامعہ پنجاب میں بیتے سالوں کا تھا کہ اکثریت وہاں تعلیم حاصل کرتی تھی۔ دیگر مشہور و معروف کالج بھی تھے جن میں ایک کالج جو لاہور مال روڈ پر آج بھی اپنی مثال آپ ہے‘ مگر آج اُس طرح محض حکمران طبقے کے لیے مخصوص نہیں جس طرح انگریزوں کے دور میں تھا۔ اب وہاں متوسط طبقے کے بچے بھی داخل ہوتے ہیں۔ ہزاروں ایسی مثالیں دنیا میں موجود ہیں کہ جب مختلف سماجی اور معاشی پس منظر کے بچوں کو یکساں‘ ایک جیسی تعلیم دی گئی تو سب کی خوابیدہ صلاحیتوں کو جِلا ملی۔ انسان ذاتی طور پر خوابوں‘ امنگوں‘ لگن اور محنت سے آگے بڑھتا رہتا ہے۔ اگر کہیں وہ جذبہ اور تحریک ماند پڑ جائے تو پھر جمود‘ زوال اور شکست کے علاوہ کچھ حصے میں نہیں آتا۔ معاشروں اور آج کی ریاستوں کا حال بھی کوئی مختلف نہیں۔دنیا میں زیادہ تر ایسے ممالک ہیں جہاں انتہائی محدود اقلیتوں نے وسائل اپنے ہاتھ میں لے کر ان پر قبضہ جما رکھا ہے۔ ان میں انقلابیوں سے لے کر خاندانی بادشاہتوں اور ہر نوع کے آمروں کی کہانیاں ایک جیسی ہیں۔ اقتدار کا گھوڑا ہی ایسا ہے کہ ایک دفعہ کوئی اس پر سوار ہو جائے تو اس سے اترنا ایسے حکمرانوں کو خوف میں مبتلا رکھتا ہے۔ اگر کوئی متفقہ طریقہ کار موجود نہ ہو یا اس بارے میں ہیرا پھیری ہوتی ہو تو گرانے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں رہتا۔ بات صرف شخصی حکومتوں کی نہیں آج بھی دنیا میں ایسے نظاموں کو مؤثر طریقے سے چلانے کے لیے حکمران طبقات اپنے درمیان سمجھوتے‘ معاہدے اور اتحاد قائم کرتے ہیں۔ حکمران اگر صرف بالا طبقات سے ہی اوپر آتے رہیں تو سمجھیں اُس معاشرے کی جان اور جسم جمود کے جنوں کے قبضے میں آ چکے ہیں۔ دوسرے لوگ صرف مزاحمت کی شاعری‘ انقلابی نعروں اور ادھر اُدھر کی سماجی تحریک چلا کر گزارہ کرتے رہتے ہیں۔ اس طرح معاشروں کا تخلیقی عمل رک جاتا ہے اور اہل قیادت کے امکانات بھی مسدود ہو جاتے ہیں۔ میرے ذہن میں کوئی ایک ملک نہیں بلکہ سامنے خصوصاً مسلم ممالک کی جدید تاریخ کے اوراق کھلے ہوئے ہیں۔ ملائیشیا سے لے کر مراکش تک پھیلی سب مسلم آبادیوں اور معاشروں میں مجموعی طور پر عدم اطمینان اور کشمکش کی کیفیت نظر آتی ہے۔ آزادی حاصل کرنے کے بعد ترقی‘ خوشحالی اور قومی طاقت کے حصول کی جو امیدیں باندھی تھیں وہ صرف ایک مخصوص طبقے کے مفادات کی نذر ہو گئیں۔ ہمارے ان ممالک میں بھی جب کبھی اور جہاں کہیں قیادت کے لیے یکساں مواقع میسر آئے‘ اس سے معاشرے کے بہترین صلاحیت کے لوگ نکل کر آگے آئے۔ تعلیم‘ بیورو کریسی‘ صحافت اور صنعت و تجارت میں جہاں کہیں برابری اور انصاف کا اصول دیکھا‘ قابل لوگ آگے آئے۔ ایسے ادوار اور مواقع ان ممالک کو کم ہی نصیب ہوئے۔ اکثریت میں آج بھی اشرافیہ کا قبضہ ہے۔ اس طبقے کا نظریہ یہ ہے کہ سماجی‘ سیاسی اور معاشی طور پر صرف اونچے طبقے کے لوگ ہی ملکوں کا نظام چلانے کی استعداد رکھتے ہیں۔ اپنی برتری جتانے اور عام لوگوں کو کمتر سمجھنے کے رویے انسانی فطرت کی نفی کرتے ہیں۔ اس کے لیے کوئی کھلے مکالمے نہیں ہوتے‘ بلکہ آپ یہ طرزِ زندگی‘ سماجی رویوں اور سب سے بڑھ کر سیاست میں دیکھ سکتے ہیں۔ اس لیے تو ہم جیسے ممالک جمود کا شکار ہیں۔ آگے بڑھنے کے لیے بار بار وہی لوگ گزشتہ ایک صدی سے سامنے آ رہے ہیں۔ انگریز دور کا وہ زمانہ بھی شامل کر لیں جب انتخابات کا آغاز ہوا تھا‘ وہی دو تین سو خاندان ہمارے حکمران ہیں۔ نظام ہی ایسا بنا لیا کہ صرف وہ اور ان کے گماشتے ہی ایوانوں میں دکھائی دیتے ہیں۔تمہید ذرا طویل ہو گئی۔ بات تو میں امریکی ریاست مشی گن میں عبدل السیّد (عبدالرحمن محمد السید) کی سینیٹ کے انتخابات کے لیے ڈیمو کریٹک پارٹی کی نامزدگی کی جیت پر کرنا چاہتا تھا۔ لندن کے میئر صادق خان اور زہران ممدانی سے لے کر السید کی شاندار کامیابی اُن معاشروں کی روشن مثالیں ہیں جہاں سیاسی قیادت کے لیے یکساں مواقع محض زبانی کلامی نہیںبلکہ ٹھوس حقیقت ہیں۔ لیکن یہاں تک پہنچنے کے لیے تاریخ میں بڑی تحریکیں چلیں‘ جدوجہد ہوئی اور نسل در نسل دانشور متحرک رہے۔ وہ کہانی ایک الگ باب ہے۔ زہران ممدانی کے اسرائیلی وزیراعظم کے بارے میں نظریے سے آپ واقف ہی ہوں گے کہ وہ عزہ میں نسل کشی کا مرتکب ہوا ہے اور میں اُسے گرفتار کر لوں گا۔ کسی مسلم حکمران کے منہ سے کبھی ایسے الفاظ سنے ہوں تو ضرور آگاہ فرمائیں۔ السید کے خیالات بھی ایسے ہی ہیں۔ شاید آپ کو یقین نہ آئے‘ مگر یہ بالکل درست ہے کہ اسرائیل کے حامی گروہوں نے 60 سے 65 ملین ڈالر اسے نامزدگی کے انتخابات میں ہرانے کے لیے صرف کیے ہیں۔ مقابلہ اتنا سخت تھا کہ وہ محض اعشاریہ پانچ کی اکثریت سے جیتے ہیں۔ نومبر میں دیکھیں کیا ہوتا ہے‘ کہ اب پوری دنیا کی نظریں اور امریکہ کے ترقی پسند حلقوں کی تمام کاوشیں انہیں جتوانے میں لگی ہوئی ہیں۔ اسرائیلی لابی پیسہ پانی کی طرح بہائے گی‘ جیسے اس نے نیویارک کے میئر کے انتخاب کے دوران کیا تھا۔ مگر عوامی رائے کے سیلاب کے سامنے کوئی بند نہ باندھا جا سکا۔ انسانوں کی برابری‘ انصاف اورحقوق کے لیے امریکہ اور یورپ کی مثالیںجچتی تو نہیں لیکن ایک ضروری نکتہ ان میں کھل کر سامنے آتا ہے‘ وہ یہ کہ نئے خیالات‘ نئے نظریات‘ فلسفے اور تخلیقی عمل برابری کے مواقع کے محتاج ہوتے ہیں۔ زندگی کے ہر میدان میں باصلاحیت قیادت شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر ہی ابھرتی ہے۔ ہمارے نزدیک ایک مخصوص طبقے کی برتری کا نظریہ فرسودہ‘ دقیانوسی اور احترامِ آدمیت کے تصور کے بھی منافی ہے۔ تاریخ کے جس موڑ پر اور جب کبھی کسی معاشرے اور ملک نے نسل‘ زبان اور سماجی حیثیت پر مبنی اشرافیہ کے حقِ حکمرانی کو آسمانی صحیفے کے بجائے شیطانی طرزِعمل خیال کرکے دور تاریخ کے صحرا میں دفن کیا‘ اس نے ایک دو نسلوں میں ہی ترقی کی نئی مثال قائم کر ڈالی۔ چین اور کسی حد تک جاپان بھی معروف معنوں میں جمہوری ممالک نہیں‘ مگر اپنے مخصوص نظاموں میں قیادت پیدا کرنے‘ صلاحیتیں اجاگر کرنے‘ یکساں مواقع فراہم کرنے اور قابل لوگوں کو آگے بڑھنے کا موقع دینے کا مستحکم اور منظم انتظام کیا ہوا ہے۔ جسٹس اے آر کیانی نے ایوب خان کے آئین کی مثال جو لائلپور کے گھنٹہ گھر سے دی تھی‘ وہ ان کے بعد ہمارے ملک میں دو چار خاندانوں پر صادق آتی ہے۔ ابھی تو ہم اپنی قسمت سمجھ کر خاموش اور غیر متحرک ہیں‘ ہمارے کاکروچ نجانے کہاں کھو گئے ہیں۔ شاید اُن کا ستارہ بھی گردش میں ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_33241568.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سرخ اونٹوں سے زیادہ قیمتی معاہدہ(سعود عثمانی )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-08-10/52455/19628631</link><pubDate>Mon, 10 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-08-10/52455/19628631</guid><description>یہ لگ بھگ ساڑھے تین ہزار سال پہلے کا مکہ ہے۔ قبیلہ بنو جرہم کا آخری سربراہ عمرو بن الحارث مضاض جرہمی جبل ابوقبیس پر چڑھا کہ مکہ کے حالات معلوم کرے۔ اس نے دیکھا کہ بیت اللہ کے صحن میں اس کے اونٹ ذبح کیے جا رہے ہیں۔ قبیلہ جرہم کی مکہ سے ہمیشہ کی جدائی کا وقت آ گیا تھا۔ اب بنو خزاعہ یہاں کے حاکم تھے۔ عمرو بن الحارث اپنے ساتھیوں سمیت مکہ سے نکلا اور رخصت ہوتے وقت وہ دل گداز شعر کہے جو آج بھی دل چیر دیتے ہیں: کان لم یکن بین الحجون الی الصفا ؍ انیس و لم یسمر بمکتہ سامر&#39;&#39;ایسا لگتا ہے کہ کوہ حجون سے کوہ صفا کے درمیان میرا کوئی دوست نہیں ہے اور نہ کبھی مکہ کی چاندنی راتوں میں کسی نے کبھی کہانیاں سنائی تھیں‘‘کعبۃ اللہ کے جنوب مشرق میں قریب 400 میٹر کے فاصلے پر وہ بلند پہاڑ ہے جسے جبل ابوقبیس کہا جاتا ہے۔ بیت اللہ سے قریب ترین پہاڑ یہی ہے۔ ابوقبیس سے ایک اور چھوٹی پہاڑی پھوٹتی ہے جس کا دامن ایک طرف ابوقبیس سے ملتا ہے اور دوسری طرف اس کا کچھ حصہ حرم مکہ کی حدود میں ہے۔ یہ صفا ہے۔ وہ خوش قسمت پہاڑ جس کا نام اللہ نے ذکر کیا اور اسے شعائر اللہ میں سے قرار دیا۔ اسی ابوقبیس اور صفا نے انسانی تاریخ کے کیسے کیسے مناظر دیکھے۔ یہیں ایک ماں بچے کو زمین پر لٹا کر کسی مدد اور پانی کی تلاش میں بے قرار ہو کر پہاڑوں کے درمیان پھرتی تھی۔ پہاڑیوں کے درمیان جہاں سے بچہ نظر آنا بند ہو جاتا وہ حصہ دوڑ کر طے کرتی۔ انہیں پہاڑوں نے اسماعیل علیہ السلام کی ایڑیوں سے زمزم پھوٹتے دیکھا۔ انہی نے ابرہہ کے ہاتھی کھائے ہوئے بھوسے کی طرح ڈھیر ہوتے دیکھے اور اسی صفا پر بنوہاشم کے ایک جوان نے کھڑے ہو کر کہا کہ اگر میں کہوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے دشمن حملہ آور ہونے کے لیے تیار ہے تو کیا میری بات پر یقین کرو گے؟ پھر انہوں نے یہی زمین تصدیق کرنے والوں پر اپنی فراخی کے باوجود تنگ ہوتے دیکھی۔ یہیں صفا کے دہکتے پتھروں پر وہ تصدیق کرنے والے لٹائے جاتے تھے جن کے سوختہ سینوں اور پیٹھوں کی رنگتیں ان کے صبر کی گواہی دیتی تھیں۔ اسی ابوقبیس کے ایک گوشے نے دارِ ارقم دیکھا جہاں کچھ لوگ چھپ کر جمع ہو جایا کرتے تھے۔ان پہاڑوں نے کیسے کیسے عہد وپیمان ہوتے دیکھے۔ یہیں مکہ کے سرداروں نے بنو ہاشم کے مقاطعے کا عہد کیا۔ یہیں مشرک سرداروں نے محمد (ﷺ) کو ختم کر دینے کا ناپاک منصوبہ بنایا۔ یہیں نوزائیدہ دین کی بنیاد جڑ سے اکھاڑ پھینکنے پر اتفاق کیا گیا۔ لیکن سبھی معاہدے ظلم پر مبنی نہیں تھے۔ یہیں مظلوموں کی مدد اور انصاف کا معاہدہ کیا گیا جس کے بارے میں نبی اکرمﷺ نے بعد میں فرمایا کہ مجھے یہ معاہدہ سرخ اونٹوں سے بھی زیادہ محبوب ہے۔ پھر ابوقبیس اور صفا نے بت گرائے جاتے اور کعبۃ المکرمہ کو صاف ہوتے دیکھا۔ یہ تاقیامت تبدیلی تھی۔ زمانہ تیزی سے گزرتا گیا۔ سرداروں کے چہرے بدلتے گئے۔ قومیں آتی‘ مٹتی گئیں۔ ہر دور آتا تو لگتا تھا کبھی ختم نہ ہو گا اور ختم ہوتا تو لگتا کبھی آیا ہی نہیں تھا۔ مکہ پر بڑی بڑی آزمائشیں گزریں۔ مکہ کے مکین بھوک جھیلتے‘ فاقے کاٹتے تھے۔ اس سنگلاخ‘ بنجر وادی میں جہاں کھیتی کا امکان ہی نہیں‘ ہر چیز باہر سے آتی تھی لیکن اہل مکہ بیت اللہ کا قرب وجوار چھوڑ کر کہیں نہیں گئے۔ انہیں ہر چیز سے زیادہ محبوب یہ گھر تھا۔ چلچلاتی دھوپ مطاف کے سنگ ریزے انگارے بناتی رہی۔ تیز بارشوں کے پہاڑی سیلابی ریلے آتے اور کعبہ کا طواف کرتے گزرتے رہے۔ لیکن ابوقبیس اور صفا اپنی جگہ کھڑے رہے۔پھر سختی اور تنگی کا یہ دور کٹ گیا۔ سیاہ سیال سونا زمین سے پھوٹتے چشمے کی طرح نکلا اور اپنے مالکوں کو دنیا کے امیر ترین انسان بنا گیا۔ کچھ زمانہ اور گزرا۔ پھر ایک سردار نے سوچا کہ بیت اللہ کے قرب میں ایک محل تو ہونا چاہیے جہاں سے ہمہ وقت کعبہ مشرفہ سامنے رہے۔ وہیں سے وہ خود اس کے مہمان اور دوسرے سردار ہاتھ باندھ کر بیت اللہ کی نماز میں شامل ہو سکیں۔ وہیںہٹو بچو کی آوازوں کے بغیر مگر پوری حفاظت کے ساتھ رمضان کا آخری عشرہ گزارا جا سکے۔ وہیں اہم معاہدوں پر کعبہ کو گواہ بنا کر دستخط کیے جا سکیں۔ 1980ء میںکوہ صفا اور جبل ابوقبیس کے پتھروں پر یہ محل کھڑا ہو گیا اور اسے قصر الصفا کہا گیا۔ جیسے قبیس نامی ایک شخص پہلے پہلے اس پہاڑ پر گھر بناکر اس کا حصہ بن گیا تھا‘ ویسے ہی قصر الصفا ابوقبیس کا ایک حصہ بن گیا۔سات اگست 2026ء کو صفا اور ابوقبیس کی تاریخی آنکھوں نے ایک اور بہت منفرد منظر دیکھا۔ جیسے یہ محل آج کے دن کے لیے ہی بنایا گیا ہو۔ دنیا کے تین بڑے اور طاقتور مسلم ملکوں کے سربراہ اور عمائدین محل کے بڑے کمرے میں ایک صف میں ہاتھ باندھے کھڑے تھے۔ سامنے شیشے کی دیوار کے پار بیت اللہ کی عمارت تھی۔ ایک امام جمعہ کی نماز پڑھاتا تھا اور اس کی آواز پورے حرم اور محل میں گونجتی تھی۔ یہ سربراہ ابھی ابھی ایک غیر معمولی معاہدے پر دستخط کرکے اس نماز میں شریک ہوئے تھے جس نے صرف اسلامی دنیا نہیں پوری دنیا میں لہریں اٹھا دی تھیں۔ مکہ سے اٹھنے والی یہ لہریں اپنے مدوجزر کے ساتھ دنیا میں پھیلتی گئیں اور کہیں خوشی‘ کہیں تکلیف‘ کہیں خوف اور کہیں اضطراب کی مزید لہریں اٹھاتی گئیں۔ ہر جگہ اس کا اثر ایک سا نہیں تھا لیکن اس بات کو سبھی مان رہے تھے کہ یہ بہت غیر معمولی عہد وپیمان ہے۔ سبھی کہہ رہے تھے کہ یہ مکہ دفاعی عہد مستقبل گیر واقعہ ہے۔ یہ وہ واقعہ ہے جو کبھی ناممکن سمجھا جاتا تھا۔ سات اگست نے اسے ممکن بنا دیا۔معاہدے کیا ہوتے ہیں؟ چند کاغذات کے مجموعے؟ یہ معاہدہ کہیں بھی ہو سکتا تھا۔ کہیں بھی ان کاغذات پر دستخط کیے جا سکتے تھے۔ لیکن مکہ‘ بیت اللہ‘ ابوقبیس اور صفا کو عینی گواہوں کو طور پر شامل کرنا اس معاہدے کو اہم ترین بناتا ہے۔ یہ گواہ دنیا کے کسی اور شہر میں نہیںمل سکتے تھے۔ تاریخ نے وہ معاہدے بھی محفوظ رکھے ہیں جو کعبہ کی دیوار پر لٹکا دیے جاتے تھے کہ یہی ان کی مضبوطی اور اہمیت کی علامت ہوا کرتی تھی۔ مکہ کا انتخاب علامت سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ قول وقرار ان لوگوں کے بیچ ہے جو کعبہ کی طرف رخ کرکے پانچ وقت کھڑے ہوتے ہیں اور جن کے نزدیک روئے زمین پر اس سے مقدس عمارت موجود نہیں ہے۔ یہاں کیے گئے عہد وپیمان سے پیچھے ہٹنا آسان نہیں۔ عمر بھر کا داغ ساتھ لے کر آتا ہے۔ اس معاہدے کے مضمرات پر بات ہو رہی ہے اور ہوتی رہے گی کہ یہ تینوں ملکوں کی حالیہ تاریخ کا اہم ترین واقعہ ہے۔ اس معاہدے میں شریک ملکوں کی اپنی اپنی طاقت اور اہمیت ہے‘ جسے دنیا خوب سمجھتی ہے۔ سعودی عرب دولت سے چھلکتا ملک ہے جسے اللہ نے معاشی فکر سے بے نیاز کر دیا ہے۔ بہت کم ملک دولت کی فراوانی میں سعودیہ کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ پاکستان فوجی‘ افرادی طاقت کا وہ ملک ہے جس کی دہشت دشمنوں پر طاری ہے۔ جوہری طاقت سے لیس واحد مسلم ملک۔ حرمین سے ٹوٹ کر محبت کرنے والے لوگ۔ بے مثال ہنرمند۔ ایسا ملک دنیا میں کوئی اور نہیں۔ اور ترکیہ دفاعی ساز وسامان‘ صنعتی ترقی‘ حربی طاقت اور جغرافیائی قوت سے لیس ایسا ملک جس نے برسوں حرمین کی خدمت کی۔ انہیں سینے سے لگا کر رکھا۔ حرمین کے چپے چپے پر ان کے نقش آج بھی ثبت ہیں۔ آج وہ حرمین کی محبت سے پیچھے کیسے ہٹ سکتے ہیں۔ ترکوں سے زیادہ محبت کرنے والی قوم ہے کوئی اور؟کچھ معاہدے جنگ کرنے کیلئے نہیں‘ جنگ روکنے کیلئے ہوتے ہیں۔ کچھ عہد ظلم کیلئے نہیں مظلوم کی مدد کیلئے کیے جاتے ہیں۔ کچھ ہتھیار جارحیت کیلئے نہیں حفاظت کیلئے بنائے جاتے ہیں۔ مکہ دفاعی معاہدہ جنگ روکنے کا معاہدہ ہے‘ ظالم کا ہاتھ روکنے کا معاہدہ ہے‘ باہمی حفاظت کا معاہدہ ہے۔ ایسا معاہدہ جو سرخ اونٹوں سے زیادہ محبوب ہونا چاہیے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_81278520.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>تجارتی خسارہ‘ کپاس اور معیشت(میاں عمران احمد)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mian-imran-ahmad/2026-08-10/52456/13890975</link><pubDate>Mon, 10 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mian-imran-ahmad/2026-08-10/52456/13890975</guid><description>پاکستان‘ سعودی عرب اور ترکی کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ بظاہر ایک دفاعی معاہدہ ہے‘ لیکن اس کے معاشی اثرات بھی انتہائی اہمیت کے حامل ہو سکتے ہیں۔ یہ معاہدہ خطے میں استحکام پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ معاشی تعاون کے نئے دروازے کھول سکتا ہے۔ پاکستان کی معیشت اس وقت سرمایہ کاری‘ برآمدات اور زرمبادلہ کے مسائل کا سامنا کر رہی ہے۔ ایسے میں سعودی عرب اور ترکیہ جیسے ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات پاکستان کے لیے معاشی آکسیجن ثابت ہو سکتے ہیں۔ سعودی عرب مشرق وسطیٰ کی سب سے بڑی معیشت ہے جس کی جی ڈی پی تقریباً ایک کھرب ڈالر سے زیادہ ہے جبکہ ترکیہ کی معیشت بھی 1.3 کھرب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔ دوسری طرف پاکستان کی معیشت تقریباً 410 ارب ڈالر کے حجم تک پہنچ چکی ہے۔ تینوں ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 2.7 کھرب ڈالر بنتی ہے جو دنیا کے کئی بڑے اقتصادی بلاکس کے برابر ہے۔سعودی عرب اس وقت پاکستان کو تیل فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے اور اس سال پاکستان کی سعودی عرب کو برآمدات 691.8 ملین ڈالر رہی ہیں۔ پاکستان کے پاس سعودی مارکیٹ میں اپنی برآمدات بڑھانے کی خاصی گنجائش موجود ہے۔ دوسری جانب ترکیہ اور پاکستان نے دوطرفہ تجارت کو پانچ ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے۔ اس وقت دونوں ممالک کے درمیان تجارت اس ہدف سے کافی کم ہے لیکن نئی شراکت داری کے بعد صنعتی تعاون‘ مشترکہ منصوبوں اور سرمایہ کاری میں اضافے کی توقع کی جا سکتی ہے۔ پاکستان کے لیے سب سے بڑا ممکنہ فائدہ سعودی سرمایہ اور ترکیہ کی صنعتی و تکنیکی مہارت کا امتزاج ہو سکتا ہے۔ سعودی عرب کے پاس سرمایہ ہے جبکہ ترکیہ کے پاس دفاعی صنعت‘ انجینئرنگ‘ تعمیرات‘ آٹومیشن اور مینوفیکچرنگ کا تجربہ ہے۔ اگر پاکستان اپنی افرادی قوت‘ جغرافیائی محل وقوع اور خام مال کو اس شراکت داری کا حصہ بنا سکے تو روزگار‘ برآمدات اور صنعتی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ معیشت صرف معاہدوں سے مضبوط نہیں ہوتی۔ پاکستان ماضی میں بھی کئی بڑے اقتصادی معاہدوں کا حصہ رہا ہے لیکن ان سے مکمل فائدہ حاصل نہیں کر سکا۔ اگر کاروباری ماحول بہتر ہو‘ توانائی کی لاگت کم کی جائے‘ ٹیکس نظام آسان ہو اور سرمایہ کاروں کو اعتماد فراہم کیا جائے تو یہ نیا اتحاد اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری‘ ہزاروں نئی ملازمتوں اور برآمدات میں اضافے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔دوسری طرف ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی اور جنگی ماحول کے باوجود پاکستان اور ایران نے دوطرفہ تجارت کو موجودہ 3.1 ارب ڈالر سے بڑھا کر 10 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر کر رکھاہے۔ ایرانی صدر کے حالیہ دورے میں بھی تجارتی منصوبوں کو جلد مکمل کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ آئندہ چند برسوں میں دونوں ممالک باہمی تجارت میں تقریباً 223 فیصد اضافہ کرنا چاہتے ہیں جو خطے کے موجودہ حالات کے تناظر میں ایک انتہائی بلند مگر اہم ہدف ہو سکتا ہے۔ پاکستان اور ایران نے 2028ء تک اس ہدف کے حصول کا وقت متعین کیا ہے اور دونوں ممالک کے مابین آزاد تجارتی معاہدے پر بھی مذاکرات جاری ہیں۔ یہ ہدف اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ پاکستان اور ایران تقریباً 900 کلومیٹر طویل سرحد کے ذریعے جڑے ہوئے ہیں۔ دنیا میں ایسے بہت کم ہمسایہ ممالک ہیں جن کے درمیان اتنی طویل سرحد ہونے کے باوجود تجارت اتنی محدود ہو۔ پاکستان کی مجموعی سالانہ تجارت 100 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ ایران کی تجارت بھی دسیوں ارب ڈالر پر مشتمل ہے لیکن دونوں ممالک کی باہمی تجارت اب بھی صرف تین ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے۔ دونوں ممالک نے گزشتہ چند برسوں میں متعدد سرحدی منڈیوں کے قیام پر اتفاق کیا ہے۔ مند پشین بارڈر مارکیٹ فعال ہو چکی ہے۔اگر سرحدی تجارت کو مکمل دستاویزی شکل دے دی جائے تو صرف بلوچستان اور سیستان بلوچستان کی تجارت ہی سالانہ ایک سے دو ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ تاہم اصل مسئلہ تجارت بڑھانے کا نہیں بلکہ اس کے راستے میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کا ہے۔ ایران پرامریکی پابندیوں کی وجہ سے بینکاری چینلز محدود ہیں جس کے باعث کاروباری افراد کو ادائیگیوں اور ایل سیز کھولنے میں مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ اسی وجہ سے دونوں ممالک کے مابین بڑی مقدار میں تجارت غیر رسمی ذرائع سے ہوتی ہے جو سرکاری اعدادوشمار میں شامل نہیں ہوتی۔ حقیقی سرحدی تجارت سرکاری اعدادوشمار سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ مالی سال2026-27ء کا آغاز پاکستان کی معیشت کے لیے ایک تشویشناک خبر کے ساتھ ہوا ہے۔ جولائی میں ملک کا تجارتی خسارہ تقریباً چار ارب ڈالر تک پہنچ گیا جو گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں تقریباً 25 فیصد زیادہ ہے۔ جولائی میں برآمدات 2.94 ارب ڈالر رہیں جبکہ درآمدات بڑھ کر 6.89 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں جس کے نتیجے میں تجارتی خسارہ 3.95 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا ہے۔ بظاہر برآمدات میں تقریباً 10 فیصد اضافہ ایک مثبت خبر ہے لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ درآمدات کی رفتار اس سے کہیں زیادہ تیز ہے۔ جولائی کا خسارہ اگر اسی رفتار سے جاری رہا تو سالانہ تجارتی خسارہ 45 سے 50 ارب ڈالر کی سطح تک پہنچ سکتا ہے۔ ایسے حالات میں زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھ سکتا ہے اور روپے کی قدر بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ ماضی میں پاکستان کو متعدد مرتبہ اسی وجہ سے آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا ہے۔سرکار کا مؤقف ہے کہ درآمدات میں اضافے کی ایک وجہ صنعتی خام مال اور مشینری کی درآمد ہے جو مستقبل میں پیداوار اور برآمدات بڑھانے میں مدد دے سکتی ہے۔ اگر واقعتاً ایسا ہے تو یہ خسارہ وقتی طور پر قابلِ قبول ہو سکتا ہے‘ لیکن اگر ماضی کو دیکھا جائے تو درآمدات بڑھنے سے برآمدات بڑھنے کی روایت نہیں رہی ہے بلکہ مقامی صنعت کو نقصان پہنچا ہے کیونکہ درآمدات کا بڑا حصہ صرف لگژری مصنوعات یا غیر پیداواری شعبوں پر مشتمل رہا ہے۔ اگر مستقبل میں بھی یہی روایت برقرار رہتی ہے تو یہ معیشت کے لیے بڑے خطرے کی علامت ہو سکتی ہے۔ملکی معیشت میں کپاس کو غیر معمولی اہمیت حاصل رہی ہے کیونکہ ٹیکسٹائل صنعت‘ جو ملکی برآمدات کا تقریباً 60 فیصد حصہ فراہم کرتی ہے‘ اسی فصل پر انحصار کرتی ہے۔ پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کی رپورٹ نے کپاس کے شعبے میں بحث چھیڑ دی ہے۔پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کے مطابق 31 جولائی 2026ء تک ملک بھر کی جننگ فیکٹریوں میں سات لاکھ 86 ہزار گانٹھوں کے مساوی کپاس پہنچی ہے جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 32 فیصد زیادہ ہے۔ یہ اعدادوشمار خوش آئند ہیں لیکن جب صوبہ وار اعدادوشمار پر نظر ڈالی جائے تو صورتحال مختلف دکھائی دیتی ہے۔ سندھ کی جننگ فیکٹریوں میں چار لاکھ 88 ہزار گانٹھوں کے مساوی ترسیل ہوئی ہے جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 67 فیصد زیادہ ہے۔ پنجاب کی جننگ فیکٹریوں میں صرف دو لاکھ 98 ہزار گانٹھوں کے مساوی کپاس پہنچی ہے جو گزشتہ سال کے مقابلے میں ایک فیصد کم ہے۔سوال یہ ہے کہ اگر پنجاب کی جننگ فیکٹریوں میں کپاس کی آمد ایک فیصد کم ہوئی ہے تو پھر پنجاب کی کراپ رپورٹنگ سروسز کس بنیاد پر یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ صوبے میں کپاس کی پیداوار 32 فیصد زیادہ رہی؟ یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ ماضی میں ملک میں ایک کروڑ 40 لاکھ گانٹھوں سے زائد کپاس پیدا ہوتی تھی لیکن حالیہ برسوں میں پیداوار کئی مرتبہ 50 سے 70 لاکھ گانٹھوں کے درمیان محدود رہی اور کپاس درآمد کرنا پڑی۔ کپاس کی پیداوار کا درست اندازہ لگانے کے لیے صرف سرکاری تخمینوں پر انحصار نہیں کیا جا سکتا۔ جننگ فیکٹریوں میں آنے والی پھٹی کے اعدادوشمار زیادہ قابلِ اعتماد سمجھے جاسکتے ہیں کیونکہ وہ عملی پیداوار کی عکاسی کرتے ہیں۔ اگر جننگ فیکٹریوں میں کپاس کم پہنچی ہے تو پیداوار میں غیر معمولی اضافے کے دعوؤں پر سوالات اٹھنا فطری بات ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/212_71532147.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>انگریز پاکستانی(نسیم احمد باجوہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/naseem-ahmed-bajwa/2026-08-10/52457/21911936</link><pubDate>Mon, 10 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/naseem-ahmed-bajwa/2026-08-10/52457/21911936</guid><description>اپریل 1964ء کی ایک دوپہر ایچیسن کالج کے سینئر سکول کے ہیڈ ماسٹر Mr. Dykes فیروز سنز میں کالج لائبریری کے لیے کتابیں خریدنے آئے اور جب ایک گھنٹے بعد وہ کالج واپس گئے تو اُن کی کار میں کتابوں کے علاوہ ہائر سیکنڈری کلاسز کو سیاسیات اور معاشیات پڑھانے والا ایک نیا استاد بھی تھا‘ جسے ایک گھنٹہ قبل وہ کتابوں کی دکان میں اتفاقاً ملے تھے۔ یہ نیا استاد یہ کالم نگار تھا۔ کالج پہنچ کر مجھے جو پہلا استاد ملا اُن کا نام Major Geoffrey Langlands تھا۔ ہیڈ ماسٹر نے میرا ان سے تعارف کرایا اور انہوں نے مجھے سٹاف روم لے جا کر سارے اساتذہ سے میرا تعارف کرایا۔ تمام اساتذہ جن میں انگریز بھی تھے‘ بڑی خوشدلی اور خیر سگالی سے ملے۔ وہیں صادق چیمہ سے بھی ملاقات ہوئی‘ جو بعد میں محکمہ زراعت کے سیکرٹری بنائے گئے۔ میجر جیفری ڈگلس لینگ لینڈز‘ جنہیں عام طور پر &#39;دی میجر‘ کہا جاتا تھا‘ برطانوی فوج کے سابق افسر تھے اور پاکستان میں فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد تعلیم کے شعبے سے وابستہ ہوئے۔ بہت جلد مجھے پتا چل گیا کہ انگریز میجر پاکستان میں مستقل آباد ہیں اور یہاں سے چلے جانے کا خیال بھی انہیں کبھی نہیں آیا۔ میجر 101 سال کی عمر میں اپنی وفات‘ 2 جنوری 2019ء تک پاکستان میں مقیم رہے۔ وہ 21 اکتوبر 1917ء کو کنگسٹن ہل برطانیہ میں پیدا ہوئے۔ کنگسٹن کالج میں تعلیم حاصل کی اور جغرافیہ کے مضمون میں خصوصی دلچسپی لی۔ 18 برس کی عمر میں‘ 1939ء میں برطانوی فوج میں بھرتی ہوئے اور 1953ء میں پاک فوج سے ریٹائر ہوئے تو ایچیسن کالج میں پڑھانے لگے‘ جس کے وہ آگے چل کر پرنسپل بھی بنے۔ ایچیسن کالج سے ریٹائر ہو کر رزمک میں کیڈٹ کالج کے پرنسپل بنے اور وہاں سے ریٹائر ہو کر چترال میں اپنے نام پر بنائے گئے تعلیمی ادارے‘ لینگ لینڈز سکول کے بانی اور سربراہ بنے۔ مشتاق لاشاری لندن میں سماجی تقریبات اور لیبر پارٹی کے حوالے سے سیاسی سرگرمیوں کے اہتمام میں بے مثال مہارت رکھتے ہیں۔ میجر جیفری کی عمر جب سو سال ہوئی تو ان کی سالگرہ کو دھوم دھام سے منانے کا خیال پاکستان میں اُن کے ہزاروں شاگردوں میں سے ایک کو بھی نہ آیا مگر داد دیں لاشاری صاحب کی عقابی نظر کو‘ جس نے چھ ہزارمیل دور ایک ضعیف انگریز استاد کی سوویں سالگرہ اور پاکستان کے لیے ان کی گراں قدر خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے لاہور میں ایک زبردست تقریب کا اہتمام کیا۔ مہمانوں کی تعداد سینکڑوں میں تھی۔ استاد راحت فتح علی خان نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا اور سب مہمانوں کو کھانا بھی کھلایا گیا۔ مگر اُس شام اہمیت نہ موسیقی کی تھی اور نہ کھانے کی۔ اس شام میجر لینگ لینڈز کے تقریباً پانچ سو سابق طلبہ‘ دوست اور مداح اُنہیں خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے اکٹھے ہوئے تھے۔ جو چند لوگ برطانیہ سے طویل سفر کر کے اس تقریب میں شرکت کے لیے لاہور آئے اُن میں یہ مضمون نگار بھی شامل تھا۔ میجر نے آٹھ برس برطانوی فوج اور تقریباً چھ برس پاک فوج میں خدمات انجام دیں مگر پاکستان میں یکے بعد دیگرے تین تعلیمی اداروں میں‘ 99 برس کی عمر تک کُل 46 سال تک پڑھایا۔ انہوں نے اپنے طالب علموں میں گھڑ سواری‘ تیراکی‘ پولو اور کوہ پیمائی کے شوق بھی جگائے اور انہیں پروان چڑھایا۔ بقول غالب:وفاداری بشرطِ اُستواری اصل ایمان ہےمیجر نے پاکستان سے وفاداری اور تقریباً نصف صدی پر پھیلی ہوئی اُستواری سے اپنا نام ہماری ملکی تاریخ میں سنہرے الفاظ میں لکھوایا۔ حکومت پاکستان نے اُن کی بے مثال خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے اُنہیں ہلالِ امتیاز اور نشانِ امتیاز کے اعزازت دیے۔ میجر کی عمر صرف ایک سال تھی جب اُن کے والد &#39;سپینش فلُو‘ کے متعدی مرض کا شکار ہو کر وفات پا گئے۔ یہ بیماری اس وقت دنیا میں لاکھوں افراد کی موت کا موجب بنی تھی۔ وہ جب دس برس کے ہوئے تو سرطان کے مہلک مرض نے ان کی والدہ کی جان لے لی۔ ان کے بعد میجر کے دادا اُن کے کفیل تھے۔ کنگز کالج ایک مہنگا پرائیویت تعلیمی ادارہ تھا‘ تاہم اس کا ہیڈ ماسٹر میجر کے خاندان کا دوست تھا لہٰذا اس نے یہ مہربانی کی کہ میجر کی فیس معاف کر دی۔ تعلیم سے فراغت کے بعد 1936ء سے 1939ء تک میجر نے لندن میں پڑھایا اور دوسری عالمی جنگ چھڑی تو وہ برٹش آرمی میں بھرتی ہو گئے اور بطور کمانڈو عالمی جنگ کی مشہور عسکری مہم Dieppe Raid  (آپریشن جوبلی) میں حصہ لیا۔ برطانوی حکومت نے انہیں دو اعزازات MBE اور CMG دیے۔ بعد ازاں تعلیم اور خدمت خلق کے شعبوں میں کام کرنے پر ملکہ برطانیہ کی جانب سے انہیں &#39;&#39;آرڈر آف برٹش امپائر‘‘ سے بھی نوازا گیا ۔جنوری 1944ء میں میجر برٹش انڈیا آ گئے اور یہاں بنگلور میں آفیسرز سلیکشن بورڈ میں تین سال کام کیا اور ترقی پاکر سارجنٹ میجر تک پہنچے۔ ستمبر 1944ء میں برٹش انڈین آرمی میں سیکنڈ لیفٹیننٹ کا کمیشن حاصل کیا۔ بنگلور کے بعد دہرہ دون سٹیشن میں تعینات رہے۔1947ء میں برصغیر پاک وہند کی تقسیم کے بعد میجر لینگ لینڈز نے پاکستان آنے کا فیصلہ کیا اور انہیں راولپنڈی ٹرانسفر کیا گیا جہاں انہوں نے پاکستان آرمی جوائن کر لی۔ پاک فوج میں وہ بطور انسٹرکٹر چھ سال تک خدمات انجام دیتے رہے۔ برٹش فوج کا پاکستان کے ساتھ کنٹریکٹ ختم ہوا اور برٹش آرمی کا پاکستان سے انخلا شروع ہوا تو میجر سے پاکستان میں رہنے کی درخواست کی گئی اور انہیں ایچیسن کالج لاہور میں تدریسی ذمہ داریوں کی پیشکش کی گئی۔ چند برس قبل میں کسی کام سے جب گلبرگ (لاہور) کے گورا قبرستان گیا تو قبرستان میں داخل ہوتے ہی مجھے میجر کی قبر نظر آ گئی۔ میرے قدم دیر تک وہیں جمے رہے۔ میرے دماغ میں 1964ء میں ان کے ساتھ گزارے ہوئے لمحات کی فلم چلنے لگی۔ اُن کی سوویں سالگرہ کی تقریب میں مَیں اُنہیں دور سے ہی دیکھ سکا تھا۔ قبرستان میں میجر کی آخری آرام گاہ کی پائنتی پہ کھڑے شخص نے اپنی آنکھیں بند کیں تو اُسے 1964ء میں ایچیسن کالج کے سٹاف روم میں تیز تیز قدموں سے داخل ہوتا میجر نظر آیا۔ میجر کی اصل خوبی یہ تھی کہ اُنہوں نے اپنے طلبہ میں محنت‘ نظم وضبط‘ حوصلہ‘ بُردباری اور خطرات کا بہادری سے مقابلہ کرنے کی خوبیاں پیدا کیں۔ 1988ء میں وہ وزیرستان میں شوقیہ اکیلے گھوم پھر رہے تھے کہ اُنہیں موٹا شکار سمجھ کر تاوان کے لیے اغوا کر لیا گیا۔ جب اغوا کنندگان کو پتا چلا کہ وہ کون ہیں تو انہیں اپنی غلطی کا احساس ہو گیا۔ انہوں نے میجر سے اس گستاخی کی معافی مانگی اور ان کے اعزاز میں شاندار ضیافت کا اہتمام کیا اور ایک بندوق بطور تحفہ پیش کی۔ میجر نے زندگی بھر شادی نہیں کی اور مجرد زندگی ہنسی خوشی‘ اطمینا ن اور سکونِ قلب کے ساتھ گزاری۔ ایک بار پرویز مشرف ان کا کالج دیکھنے چترال گئے تو میجر نے اُن سے دس لاکھ روپوں کا عطیہ مانگا۔ مشرف نے سرکاری خزانے سے انہیں پانچ کروڑ روپے دیے۔ اتنے بڑے عطیہ کے باوجود کالج ہمیشہ فنڈز کی کمی کا شکار رہتا کیونکہ میجر ذہین مگر نادار طالب علموں کی ایک بڑی تعداد کو فیس معافی کی رعایت دیتے تھے۔ یہ مضمون نگار اپنے محسنوں کی فہرست بنائے تو اس میں میجر جیفری لینگ لینڈز کا نام کافی اونچا لکھا جائے گا۔ ایچیسن کالج کے جن انگریز اساتذہ نے مجھے برطانیہ کے ایک اعلیٰ تعلیمی ادارے میں ملازمت دلوائی ان میں وہ بھی شامل تھے۔ برطانیہ خوش نصیب ہے کہ جہاں جیفری لینگ لینڈز پیدا ہوئے اور پاکستانیوں کی خوش نصیبی ہے کہ انہوں نے زندگی کا ایک لمبا عرصہ یہاں تعلیم و تدریس اور خدمتِ خلق میں گزارا اور اس دھرتی کی مٹی میں ابدی نیند سو گئے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_32258580.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مضبوط اور مستحکم پاکستان(علامہ ابتسام الہٰی ظہیر )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-08-10/52458/66767141</link><pubDate>Mon, 10 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-08-10/52458/66767141</guid><description>الحمدللہ امسال 14 اگست کو پاکستان 79 برس کا ہو جائے گا۔ پاکستان کا قیام ایک نظریاتی ریاست کی حیثیت سے ہوا تھا۔ قیام پاکستان کے لیے چلائی جانے والی تحریک میں حصہ لینے والے تمام قائدین اس اصولی مؤقف پر متفق تھے کہ برصغیر کے مسلمانوں کے سیاسی اور اجتماعی حقوق کا اس وقت تک تحفظ ممکن نہیں جب تک کہ ان کے لیے ایک علیحدہ مملکت کو حاصل نہ کر لیا جائے۔ گو برصغیر پر کئی صدیوں تک مسلم حکومت کر چکے تھے لیکن انگریز نے برصغیر پر تسلط کے بعد جس انداز سے مسلمانوں کو ہدف بنا کر ہندوئوں کو ان پر مسلط کرنے کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی‘ اس کے نتیجے میں اس بات کے امکانات وسیع پیمانے پر نظر آ رہے تھے کہ مسلمانوں کے لیے ایک ایسے وطن میں رہنا انتہائی مشکل ہوتا چلا جائے گا جہاںریاست کا انتظام وانصرام عددی اکثریت کی بنیاد پر ہندوئوں کے حوالے کر دیا جائے گا۔تقسیم برصغیر سے قبل ہی ہندوئوں کی ریاستی حکومتوں میں مسلمان اس انداز میں جبر کا نشانہ بنائے گئے کہ عام آدمی ذہنی طور پر پسماندگی کا شکار ہو چکا تھا اور معاشرے اور ریاست کی قیادت ایک طرف رہی‘ مسلمان اپنی شناخت کے اعتبار سے بھی مختلف قسم کے بحرانوں کا شکار ہو چکے تھے۔ ان حالات میں مسلم رہنمائوں کی یہ سوچ ہر اعتبار سے درست تھی کہ ایک علیحدہ وطن کے حصول کے ذریعے ہی مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ کیا جا سکتا ہے۔ دو قومی نظریے کے فروغ کے لیے قائداعظم محمد علی جناح‘ علامہ محمد اقبال‘ مولانا ظفر علی خان‘ مولانا محمد علی جوہر اور ان کے ہمراہ علمائے اسلام نے برصغیر کے طول وعرض میں مسلمانوں کو بیدار کرنے کی بھرپور انداز سے کوشش کی۔ اس تحریک میں ان علاقوں کے مسلم زعما اور عوام نے بھی حصہ لیا جو پاکستان کا حصہ نہیں بن سکتے تھے۔ اس لیے کہ ان کی یہ سوچ تھی کہ اگر ایک علیحدہ وطن حاصل ہوتا ہے تو اس کے نتیجے میں نہ صرف یہ کہ اس وطن میں بسنے والے مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ ہوگا بلکہ گردو نواح میں بسنے والے مسلمانوں کے حقوق کی بات بھی ہو گی اور اس کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی مسلمان مظلوم اور مغلوب ہوں گے‘ ان کی بھی شنوائی ہو سکے گی۔ قیامِ پاکستان کو یقینی بنانے کے لیے برصغیر کے قریہ قریہ اور نگر نگر میں &#39;&#39;پاکستان کا مطلب کیا... لا الہ الا اللہ‘‘ کا نعرہ لگایا گیا۔ اس خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے کے لیے مسلمانوں نے بڑی تعداد میں قربانیاں پیش کیں۔ آزادی کی منزل کو حاصل کرنے کے لیے لاکھوں کی تعداد میں مسلمانوں نے اپنے گھر بار کو چھوڑا‘ ہزاروں‘ لاکھوں مسلمانوں کو شہید کر دیا گیا‘ معصوم بچوں کو ذبح کر دیا گیا‘ مائوں‘ بہنوں کے دوپٹوں کو نوچا گیا لیکن مسلمان یہ تمام قربانیاں دینے کے بعد اس بات پہ مطمئن تھے کہ ایک علیحدہ وطن کے حصول کے نتیجے میں ان کے تمام دکھوں اور غموں کا ازالہ ہو جائے گا۔ پاکستان کا قیام بہت سی قربانیوں کے بعد ہوا اور آج اللہ تبارک وتعالیٰ کے فضل وکرم سے ہم ایک آزاد مملکت میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں بسنے والے مسلمان اپنی عبادات کو انجام دینے اور تہواروں کو منانے کے لیے ہر اعتبار سے آزاد ہیں۔ اگر آزادی کی نعمت کی قدر پوچھنی ہو تو بھارت کے مسلمانوں سے پوچھنی چاہیے جہاں عید قربان کے موقع پر مسلمانوں کو گائے ذبح کرنے سے روک دیا جاتا ہے‘ مسلمان بیٹیوں کو ان کے گھروں سے اغوا کر لیا جاتا اور مسلمان نوجوانوں کو انتقام کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ مسلمانوں کے استحصال اور استیصال کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا جاتا۔ یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا خصوصی فضل ہے کہ ہم آزاد فضا میں سانس لے رہے ہیں اور اپنے مذہبی معاملات کی انجام دہی میں ہر اعتبار سے آزاد ہیں لیکن اس کے باوجود ہم اس بات کو سمجھ سکتے ہیں کہ کئی معاملات میں پاکستان کو مزید محنت کرنے کی ضرورت ہے۔ اس وقت جن امور پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے‘ درج ذیل ہیں:1۔ معاشی معاملات کی اصلاح: پاکستان کے معاشی معاملات بہت سی سیاسی جماعتوں کے برسر اقتدار آنے اور ان کے معاشی پروگراموں کے نفاذ کے باوجود درست نہیں ہو سکے ہیں۔ معاشی معاملات اس لیے الجھے ہوئے ہیں کہ یہاں مضبوط منصوبہ بندی کا فقدان ہے۔ پاکستان میں صنعتکاری کو فروغ دینے کے لیے سنجیدہ کوششیں نہیں ہو سکیں۔ معاشی معاملات کی اصلاح کے لیے سب سے پہلی ذمہ داری حکومتِ وقت پہ عائد ہوتی ہے کہ وہ خود کو اور عوام کو اس بات پر آمادہ و تیار کرے کہ اپنے معاملات اپنے وسائل کی حدود میں انجام دینے کی سنجیدہ کوشش کی جائے۔ جب تک کفایت شعاری کو نہیں اپنایا جائے گا اور اخراجات و آمدن کے درمیان توازن پیدا نہیں ہو گا‘ اس وقت تک پاکستان کے معاشی معاملات کی اصلاح نہیں ہو سکتی۔ پاکستان کے معاشی معاملات کو بہتر بنانے کے لیے ذہین افراد کی حوصلہ افزائی کرنے کی ضرورت ہے اور صنعتکاری کو فروغ دینے کے لیے توانائی کو سستے نرخوں پر فراہم کرنے کی ضرورت ہے جس کے لیے قدرتی وسائل کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ پاکستان میں شمسی ‘ پانی اورہوا کے ذریعے توانائی کے پیداواری ذرائع کی کوئی کمی نہیں ہے۔ ان معاملات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اگر ان ذرائع کو صحیح طور استعمال کیا جائے تو پاکستان میں توانائی کا بحران ختم ہو سکتا ہے جس کے نتیجے میں اشیا کی قیمتوں میں خود بخود کمی آ جائے گی۔2۔ سیاسی استحکام: پاکستان میں تاحال سیاسی استحکام نہیں آ سکا۔ گزشتہ کئی عشروں سے انتخابات کے موقع پر سیاسی مخالفین ایک دوسرے پر دھاندلی کا الزام لگاتے ہیں جس کے نتیجے میں ملک میں سیاسی کشمکش اور افراتفری کی کیفیت اور فضا برقرار رہتی ہے۔ 1971ء میں ملک کے دولخت ہونے کی ایک بڑی وجہ سیاسی عدم استحکام ہی تھا۔ انتخاب جیتنے والی جماعت کو حکومت نہیں دی گئی جس سے پاکستان کے مشرقی حصے میں احساسِ محرومی پیدا ہوا اور یہ احساسِ محرومی بڑھتے بڑھتے یہاں تک پہنچ گیا کہ ملک دولخت ہو گیا۔ اس کے بعد بھی کئی مرتبہ دھاندلی کے الزامات لگائے جا چکے ہیں لیکن ابھی تک کوئی ایسا لائحہ عمل تیار نہیں کیا جا سکا جس پر پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں متفق ہوں اور ان کے تحفظات دور کیے جا سکیں۔ پاکستان کا قیام لا الہ الا اللہ کی بنیاد پر ہوا تھا لیکن لسانی تعصبات نے ملک کی وحدت کو کمزور کر دیا۔ آج بھی اگر مذہب کی افادیت کو صحیح طور پر استعمال کیا جائے تو ملک کو مضبوط اور مستحکم کیا جا سکتا ہے۔ بعض عناصر پاکستان کو نظریاتی ریاست کے بجائے قومی ریاست میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں حالانکہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ پاکستان جیسی کثیر القومی ریاست کو مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر ہی متحد رکھا جا سکتا ہے۔3۔ جرم و سزا کے مؤثر نظام کا قیام: پاکستان میں جرم وسزا کے مؤثر نظام کا قیام ملک کی ترقی اور استحکام کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ اگر ملک کے ہر فرد کو اس بات کا یقین ہو جائے کہ اس کو انصاف میسر آ سکتا ہے اور عدالتوں سے جاری ہونے والے فیصلوں کے بارے میں عدم اعتماد کے بجائے یقین اور اعتماد کی فضا پیدا ہو جائے تو ملک کے معاملات بہترین طریقے سے حل ہو سکتے ہیں۔ اس ضمن میں اس بات کو بھی ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ انسان خواہ کتنا بھی بااثر کیوں نہ ہو‘ اس کو قانون کے سامنے جوابدہ ہونا پڑے گا اور اس سلسلے میں نبی کریمﷺ کا اسوہ ہمارے سامنے موجود ہے کہ جنہوں نے بنی نوع انسان کو یہ بات سمجھائی کہ اگر بفرض محال نبی کی لختِ جگر بھی چوری کرے تو اس کے بھی ہاتھ کاٹ دیے جائیں گے۔ان تمام نکات پر توجہ دینے کے لیے حکمرانوں کے ساتھ ساتھ سیاسی ومذہبی رہنمائوں اور بااثر لوگوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست کی حیثیت سے مضبوط اور مستحکم فرمائے اور اس کو تاقیامت قائم ودائم رکھے‘ آمین!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_19740082.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>