<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>سانحہ پمز اور سسٹم کی ناکامی(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-30/11494</link><pubDate>Sun, 30 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-30/11494</guid><description>وفاقی دارالحکومت میں سرکاری شعبے کا سب سے بڑا ہسپتال (پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز) کس طرح مسائل اور بحرانوں کی دلدل میں دھنسا ہوا ہے اس کا کسی حد تک اندازہ اس تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ سے ہو جاتا ہے جو وزیراعظم کی جانب سے پمز کے شعبۂ زچہ بچہ میں آتش زدگی کے دلخراش وقوعے کی انکوائری کے لیے تشکیل دی گئی تھی۔ ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا کہ پمز میں آتشزدگی یا ہنگامی صورتحال کے حوالے سے کوئی تفصیلی ایس او پیز یا ٹریننگ موجود نہیں۔ وارڈ میں کوئی فائر الارم‘ سپرنکلر سسٹم بھی موجود نہ تھا۔ پمز کے 13ایس اوپیز میں صرف دو ذیلی سیکشنز میں آگ یا ہنگامی صورتحال کا تذکرہ پایا گیا‘ یعنی اتنا بڑا ادارہ اس صورتحال کے لیے تیار ہی نہیں تھا حالانکہ صرف ایک ماہ پہلے‘ جولائی میں پمز کے نرسنگ ہاسٹل میں آتشزدگی کا واقعہ ہوا۔ ہسپتال میں آگ جیسی ہنگامی صورتحال کے حوالے سے کوئی افسر موجود نہیں‘ ایک اسسٹنٹ ڈائریکٹر کو اضافی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ کے مطابق واقعے کے وقت سپر وائزری سٹاف ڈیوٹی پر موجود نہ تھا۔

واقعے کے وقت دو نرسیں‘ ایک خاتون گارڈ اور ہاؤس آفیسر وارڈ میں موجود تھے۔ آگ لگنے کے چھ منٹ بعد ایمرجنسی سروسز کو کال گئی جبکہ پہلا ایمرجنسی ریسپانس اس کے 15منٹ بعد پہنچا۔ اس ابتدائی رپورٹ میں قرار دیا گیا ہے کہ وفاقی دارالحکومت کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال میں کوئی چیز بھی معیار کے مطابق نہیں پائی گئی۔ آزادانہ تحقیق اور اعداد و شمار بھی یہی ثابت کرتے ہیں کہ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کا وجود خوفناک درجے کے انتظامی خلا میں ڈگمگا رہا ہے‘ جس کا ہو سکتا ہے کسی کو احساس بھی نہ ہوتا مگر 26اگست کے اس سانحے نے اس ادارے کے داخلی بحران کو طشت از بام کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ ہسپتال کے متاثرہ حصے میں آگ بجھانے وا لے  آلات موجود تھے مگر یہ کوئی ایسا نظام نہیں تھا جوآگ یا دھویں کو محسوس کر کے خود کار طریقے سے کام کرنا شروع کر دے۔ ان آلات کو بروقت استعمال کرنے کے لیے وہاں تجربہ کار افراد کا ہونا ضروری تھا مگر اس ایمرجنسی کے وقت جو ڈاکٹر اور نرسیں موقع پر موجود تھیں‘ انہیں آگ بجھانے یا کسی قسم کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی کوئی تربیت نہیں تھی؛ چنانچہ صبح چھ بجکر 35منٹ پر جب آگ لگی تو ہسپتال کا عملہ سب سے پہلے اپنی جان بچانے کے لیے بھاگنے والوں میں شامل تھا۔
بادی النظر میں ریسکیو 1122 کو آگ کی اطلاع میں تاخیر کی وجہ بھی یہی بنی کہ ہسپتال کا جو عملہ موقع پر موجود تھا اس طرح کے حالات میں سنبھل ہی نہیں پایا۔ بتایا جاتا ہے کہ نوزائیدہ بچوں کی نرسری کو احتیاطاً تالہ لگایا گیا تھا مگر بدقسمتی سے تالے کی چابی جس کے پاس تھی وہ خود موقع پر موجود نہیں تھا۔ کسی ہسپتال کے معاملے میں اس سے بڑی بے احتیاطی نہیں ہو سکتی‘ مگر اسے کسی ایک یا چند ایک افراد کی حرکت باور کرنے کے بجائے حقیقت پسندانہ نقطۂ نظر یہ ہے کہ اس واقعے کو نظام کی ناکامیوں کے وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے۔ ایسا اس لیے ضروری ہے کہ یہ اس نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں‘ ہسپتالوں میں اس سے ملتے جلتے واقعات پچھلے چند برسوں کے دوران تواتر سے پیش آئے ہیں‘ ہر واقعے کی انکوائری بھی ہوئی‘ ذمہ داروں کا تعین کر کے ان کے لیے سزائیں بھی تجویز کی گئیں مگر پرنالہ وہیں کا وہیں ہے۔ یہ اس سسٹم کی ناکامیوں کا ایک واضح ثبوت ہے جس میں احساسِ ذمہ داری اور جوابدہی موجود نہیں اور ہر سانحے کے بعد چند روزہ چیخ پکار اور دوڑ دھوپ کے بعد ہم پھر اسی نظام کے ساتھ سمجھوتہ کر لیتے ہیں اور ایک اور سانحے کی تیاری شروع ہو جاتی ہے۔
 پمز کے اس وقوعہ سے کئی روز پہلے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد میں ایک کانفرنس میں سسٹم کی ناکامی کا ذکر کیا  تھا‘ اس اندوہناک وقوعے نے اس ناکامی کے ثبوت فراہم کر دیے ہیں‘ اور اس ضرورت کو مزید واضح کر دیا ہے کہ اب ملک میں ایسے چھوٹے انتظامی یونٹس قائم کیے بغیرچارہ نہیں جہاں ادارے ایگزیکٹو کی براہِ راست اور بہتر نگرانی میں کام کریں۔ پمز میں پیش آنے والا یہ سانحہ بظاہر وسائل کی کمی کا نتیجہ معلوم نہیں ہوتا۔ اب تک کے سبھی شواہد اس وقوعے کو انتظامی بحران اور ذمہ داری اور جوابدہی کے فقدان کا نتیجہ ثابت کرتے ہیں۔ جاپان کی مالی امداد سے قائم کیا جانے والا یہ طبی ادارہ ہمارے  ہاں سرکاری سطح پر مثالی اداروں کو چلانے اور معیار برقرار رکھنے کی ناکافی صلاحیت کی دلیل ہے۔ ایسے کتنے ہی منصوبے گنوائے جا سکتے ہیں جو کسی دوسرے ملک یا عالمی ادارے کی مالی امداد سے شروع کیے گئے‘ اور جن سے یہ امیدیں تھیں کہ  عوامی خدمت اور ملکی ترقی میں معاون ثابت ہوں گے‘ مگر ان اداروں کی ناکامی نے ان امیدوں کو خاک میں ملا دیا۔ پاکستان سٹیل ملز بھی اس کی ایک مثال ہے۔
روس کے تعاون سے قائم کی جانے والی یہ اپنے وقت کی ایشیا کی سب سے بڑی سٹیل ملز ہمارے ہاتھوں سفید ہاتھی میں تبدیل ہوئی اور قومی خزانے پر بوجھ بن گئی۔ یہ تعجب خیز صورتحال ہمارے لیے سنجیدہ سوالنامہ بن چکی ہے کہ آخر ہمارے ہاتھوں میں آ کر یہ سونے جیسے ادارے مٹی کیوں ہو جاتے ہیں؟ سسٹم کی ناکامی کے سوا بظاہر کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی‘ اور اس کا حل چھوٹے انتظامی یونٹس کی تشکیل کے سوا نظر نہیں آتا‘ جہاں وسائل کی نگرانی اور جوابدہی کا عمل زیادہ مؤثر اور یقینی ہو۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>نیپال، سیلاب ایک انتباہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-30/11493</link><pubDate>Sun, 30 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-30/11493</guid><description>نیپال میں گلیشیر ٹوٹنے سے آنے والا تباہ کن سیلاب 600 سے زائد انسانی جانیں نگل چکا ہے جبکہ سینکڑوں افراد لاپتہ ہیں۔ یہ المناک قدرتی حادثہ پاکستان کیلئے ایک سنجیدہ انتباہ ہے جہاں گلیشیرز تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ ڈائریکٹر انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی گلگت بلتستان نے تو گزشتہ روز پاکستان کی صورتحال کو نیپال سے بھی زیادہ گمبھیر قرار دیا۔گزشتہ برس مئی میں قومی اسمبلی میں پیش کی گئی معلومات کے مطابق گلیشیرز کے پگھلنے سے ملک میں تین ہزار سے زائد جھیلیں وجود میں آچکی ہیں‘ جن میں متعدد کسی بھی وقت پھٹ کر تباہ کن سیلاب کا باعث بن سکتی ہیں۔

نیپال کے تباہ کن سیلاب نے ہمیں دکھا دیا ہے کہ گلیشیر کے انہدام‘ لینڈ سلائیڈ یا گلیشیائی جھیل کے اچانک پھٹنے کے بعد سیلابی ریلہ اتنی تیزی سے آبادیوں تک پہنچ سکتا ہے کہ لوگوں کو سنبھلنے کا موقع تک نہیں ملتا۔ چنانچہ ملک میں ممکنہ طور پر متاثرہ تمام وادیوں میں جدید ارلی وارننگ سسٹم کی بلاتاخیر تنصیب اور اسے فعال رکھنے کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔ علاوہ ازیں ملک میں دریاؤں‘ ندی نالوں اور برساتی گزرگاہوں پر تجاوزات کا خاتمہ‘ غیر محفوظ تعمیرات کی روک تھام اور نئی آبادیوں کی منصوبہ بندی میں سیلابی خطرات کو بنیادی معیار بنانا ہو گا۔ پیشگی تیاری ہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعے پاکستان نیپال جیسے سانحے کو انسانی المیے میں تبدیل ہونے سے روک سکتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>’’ نعرہ بازوں‘‘کا ہجوم(مجیب الرحمٰن شامی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mujeeb-ur-rehman-shami/2026-08-30/52568/53925260</link><pubDate>Sun, 30 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mujeeb-ur-rehman-shami/2026-08-30/52568/53925260</guid><description>اسلام آباد میں وفاقی حکومت کے زیر انتظام چلنے والے سب سے بڑے ہسپتال پمز (پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز) میں بچوں کی نرسری عین اُس دن آتشیں دھماکے سے اُڑ گئی جب پوری پاکستانی قوم بلکہ پورا عالمِ اسلام اپنے رسولِ اکرم و معظمﷺ کی ولادت کا جشن منا رہا تھا۔ پاکستان کے مختلف شہروں میں فوجی دستے توپوں کی سلامی اپنے آقا و مولاﷺ کے حضور پیش کر رہے تھے کہ اس المناک خبر نے منظر تبدیل کر دیا‘ مسرت کے لمحات غم کی گھڑیوں میں تبدیل ہو گئے۔ 14نومولود لقمۂ اجل بن گئے تھے۔ ایک ایک‘ دو دو دن کے بچے بِن کھلے مرجھا گئے تھے۔ پورا ملک سوگ میں ڈوب گیا‘ ہر شخص کو یوں محسوس ہو رہا تھا کہ اس کا بچہ اس سے چھین لیا گیا ہے۔ تحقیقات کے مطالبے ہونے لگے‘ ذمہ داروں کو سزا دینے پر زور دیا جانے لگا۔ وزیر صحت مصطفی کمال تو کراچی میں تھے‘ وزیراعظم نے ایک اعلیٰ سطح اجلاس بلایا اور سیکرٹری صحت کو ان کے نہ صرف عہدے سے ہٹایا بلکہ معطل بھی کر دیا۔ تحقیقات کے لیے کمیٹی قائم کی گئی‘ جسے 48گھنٹے میں ابتدائی اور ایک ہفتے میں حتمی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کر دی گئی۔ وزیراعظم نے تو یہ احکامات جاری کر کے (بزعم خود) عوامی غم و غصے کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی لیکن پمز کے اندر اور باہر کسی کو چین نہیں تھا۔ اس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے اپنی کمیٹی بنا دی‘ سی ڈی اے حرکت میں آئی اور تحقیق و تفتیش کے لیے اپنے کارندے میدان میں اتار دیے۔ شہری انتظامیہ بھی لنگر لنگوٹ کس کر میدان میں اُتر آئی اور ذمہ داروں سے تفتیش کے لیے اپنی حرکات کا مظاہرہ کرنے لگی۔ اسی پر بس نہیں ہوا‘ قومی اسمبلی اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹیاں بھی ہڑ بڑا کر اُٹھیں۔ ان کے ارکان جائے وقوعہ پر پہنچے‘ وزیراعظم اور وزیر صحت کے لّتے لینے لگے۔ استعفوں کا مطالبہ زور پکڑ گیا۔ وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال‘ جو سانحہ گُل پلازہ کے بعد سندھ حکومت کے ذمہ داروں سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے پائے گئے تھے‘ اب پیپلز پارٹی اور اس کے ہم نواؤں کی زَد پر تھے۔ غیرجانبدار مبصرین بھی &#39;&#39;ہائی مورل گراؤنڈ‘‘ کی توقع لگائے بیٹھے تھے۔ وزیر صاحب ٹیلی ویژن سکرین پر بغلیں جھانکتے دکھائی دے رہے تھے۔ اشاروں کنایوں میں یہ اطلاع فراہم کر رہے تھے کہ انہوں نے وزیراعظم کو استعفیٰ پیش کیا تھا تاہم وہ قبول نہیں کیا گیا۔ وہ بھی &#39;&#39;ذمہ داروں‘‘ کو سخت سزا دینے کے مطالبے میں پوری قوت سے شریک تھے۔ سوشل میڈیا پر دھینگا مشتی شروع تھی۔ سیکرٹری صحت پر جو نزلہ گرا اس کا سبب پوچھا جا رہا تھا‘ ایگزیکٹو ڈائریکٹر اپنی نشست پر جم کر بیٹھے تھے‘ دوسرے منصب دار بھی جوں کے توں تھے‘ سیکرٹری بے چارے &#39;&#39;عضوِ ضعیف‘‘ کی مانند نزلے کی زد میں آ گئے تھے۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ کمیٹی پر کمیٹی بنانے کے بجائے وزیراعظم کی نامزد کردہ کمیٹی کی رپورٹ کا انتظار کر لیا جاتا‘ باقی سب کچھ اس کے بعد ہوتا لیکن یہاں صبر کا یارا کسی کو نہیں تھا۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں نے اپنی کمیٹی قائم کر کے تحقیقات کا اعلان کر دیا۔ قائدین حزبِ اختلاف وزیراعظم اور وزیر صحت کے استعفوں کا مطالبہ کرنے میں مگن تھے لیکن کوئی سُن نہیں رہا تھا۔ حادثے کی سنگینی اپنی جگہ‘ اس میں مزید سنگینی یہ پیدا ہو گئی اور ہوتی چلی جا رہی ہے کہ ہم بحیثیت قوم نظم و ضبط سے عاری نظر آ رہے ہیں‘ نہ احتیاطی تدابیر پر یقین رکھتے ہیں‘ نہ ادارہ جاتی اصلاح پر‘ گویا ہنگامہ اٹھانے اور ایک دوسرے کو زچ کرنے کے علاوہ ہمیں کوئی اور کام نہیں آتا۔ ماضی میں کتنے چھوٹے بڑے حادثے ہوئے‘ کتنی تباہ کاریاں ہوئیں لیکن تحقیقات کا کوئی مؤثر انتظام نہیں کیا گیا۔ نہ ہی ذمہ داروں کا تعین کر کے انہیں سزا دینے کی روایت مستحکم کی جا سکی۔ پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کے قتل کی واردات سے لے کر سقوطِ ڈھاکہ سے ہوتے ہوئے سانحۂ پمز تک پہنچ جائیے‘ ایک ایسی دردناک کہانی کا تسلسل ہے کہ چھپائے نہیں چھپتا۔ ہاؤ ہو کے عالم میں پاکستان ریڈ کریسنٹ کے سابق چیئرمین ڈاکٹر سعید الٰہی نے وزیراعظم اور کئی دوسرے مقتدرین کو ایک خط لکھ کر جو نکات پیش کیے‘ وہ ہم تک بھی پہنچے۔ ان کے اٹھائے گئے انتہائی سنجیدہ سوالات یقینا تحقیقات کا محور ہونے چاہئیں۔ وہ پوچھتے ہیں:٭... کیا اس سانحے کی ذمہ دار دانستہ انتظامی غفلت تھی؟٭... کیا فائر الارم اور آگ بجھانے کا سامان فعال اور قابلِ استعمال تھا؟٭... کیا مناسب مقدار میں پانی اور ہنگامی وسائل دستیاب تھے؟٭... کیا بجلی کا نظام محفوظ تھا اور اس کی مناسب دیکھ بھال کی جا رہی تھی؟٭... کیا ہنگامی راستے اور اخراج کے دروازے قابلِ رسائی تھے؟٭... کیا عملہ آگ لگنے کی ہنگامی صورتحال میں مؤثر طریقے سے کارروائی کرنے کیلئے تیار تھا؟٭... کیا کھڑکیاں اور دروازے امدادی کارکنوں کیلئے قابلِ رسائی تھے؟٭... کیا باقاعدہ &#39;&#39;فائر ڈرلز‘‘ اور ہنگامی ردِعمل کے منصوبے موجود تھے؟٭... کیا کسی افسر‘ سرکاری اہلکار‘ ٹھیکیدار یا ادارے نے اپنی قانونی یا پیشہ ورانہ ذمہ داری پوری کرنے میں ناکامی کا مظاہرہ کیا؟٭... کیا غفلت‘ بدعنوانی‘ ناقص انفراسٹرکچر یا ضابطہ جاتی ناکامی نے ان اموات میں کوئی کردار ادا کیا؟٭... کیا ریسکیو 1122یا سی ڈی اے کے فائر فائٹرز کو اطلاع دی گئی تھی‘ ان کا ردِعمل کیا تھا؟ رسپانس ٹائم اور عملی کارروائی کیا تھی؟٭... ضلعی انتظامیہ کا ردِعمل کیا تھا؟اگر شواہد سے مجرمانہ غفلت ثابت ہو جائے تو جن افراد کو قانوناً ذمہ دار قرار دیا جائے‘ ان کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔ ایسے اقدامات بھی کیے جائیں کہ کوئی ایسا شخص بیرونِ ملک فرار نہ ہونے پائے۔ ڈاکٹر سعید الٰہی کا مطالبہ ہے کہ فوری طور پر ملک بھر میں سرکاری اور نجی اداروں کے فائر اینڈ لائف سیفٹی آڈٹ کا حکم دیا جائے جہاں بھی حفاظتی انتظامات میں سنگین خامیاں پائی جاتی ہوں‘ وہاں فوری اصلاحی اقدامات لازمی قرار دیے جائیں۔ڈاکٹر صاحب کے اٹھائے گئے سوالات اور لاتعداد ذہنوں میں پیدا ہونے والے لاتعداد خدشات کا ازالہ کیسے ہو گا؟ درست سمت میں کوئی قدم اٹھایا بھی جا سکے گا یا نہیں‘ اس سے قطع نظر یہ بات بہرحال یاد رکھنے کی ہے کہ ہمیں بحیثیت قوم اپنے مزاج اور انداز پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ ہم نعرہ بازوں کا ہجوم بن کر رہ گئے ہیں‘ مستقل مزاجی اور ثابت قدمی کے ساتھ ادارہ جاتی اصلاح کا عزم جب تک نہ کیا جائے گا‘ ہم ایک حادثے کے بعد دوسرے کا شکار ہوتے چلے جائیں گے۔ سفارش‘ غفلت اور کرپشن کے ناسور ہمارے تعاقب میں ہیں یا یہ کہیے کہ ہمیں نگلنے کو ہیں۔ زبانی جمع خرچ سے کسی قوم کی تقدیر اب تک بدلی ہے‘ نہ بدلی جا سکے گی۔(یہ کالم روزنامہ &#39;&#39;پاکستان‘‘ اور روزنامہ &#39;&#39;دنیا‘‘ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_37052987.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مسئلہ وسائل کی ناہمواری کا ہے(ایاز امیر)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-08-30/52569/88650632</link><pubDate>Sun, 30 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-08-30/52569/88650632</guid><description>کہنا تو چاہیے تھا کہ مسئلہ غربت کا ہے لیکن جہاں معصوم جانوں کی بات ہو الفاظ سوچ کے چننے پڑتے ہیں۔ پہلا سوال تو یہ ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں آج کل کون جاتا ہے؟ یا تو افسر جن کی دیکھ بھال ہو جاتی ہے‘ یا بے چارے وہ لاچار جن کے پاس پرائیویٹ علاج کرانے کے وسائل نہیں ہوتے۔ جہاں بچے کی ڈلیوری کا معاملہ ہو باوسیلہ افراد سرکاری ہسپتالوں میں نہیں جاتے‘ چاہے وہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال چکوال ہو یا پمز اسلام آباد۔ جس کے پاس تھوڑے سے بھی وسائل ہوں ڈلیوری کے لیے پرائیویٹ کلینک یا پرائیویٹ ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے۔ اسی لیے ان ڈاکٹروں کی چاندی لگی ہوئی ہے۔ جہاں تک یہ بات ہے کہ سرکاری ہسپتال بدانتظامی کا شکار ہیں تو یہ ہمارا عمومی مسئلہ ہے کیونکہ جس ادارے کو دیکھیں وہاں پاکستانی معاشرے کی خاصیتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ رشوت چلتی ہے‘ سفارشیں کارفرما ہوتی ہیں اور بڑوں سے لے کر نیچے طبقے تک کام کرنے کا شوق ناپید ہوتا ہے۔ عسکری ادارو ں کی بات اور ہے مگردوسرا کون سا شعبہ یا محکمہ ہے جہاں دیانت یا لگن نام کی چیز نظر آئے۔ ایک سرکاری محکمے کا کوئی نام تو لے جہاں رشوت اور بدعنوانیاں نہیں پائی جاتیں۔ محکمہ مال ہو یا پولیس‘ واپڈا ہو یا کوئی اور محکمہ قائداعظم والی تصویر جیب میں نہ ہو تو کام ہونا تو دور کی بات رہی آپ کو سننے کے لیے کوئی تیار نہ ہو گا۔ انگریز یہاں ریلوے چلا گئے‘ ہندوستان میں ریلوے نظام ٹھیک سے چل رہا ہے ہم سے نہ چلایا گیا اور اب تو ریلوے نظام تباہی کے دہانے سے آگے پہنچ چکا ہے۔ روسیوں نے ہمیں کراچی میں سٹیل مل لگا کے دی وہ ہم سے نہ چلی۔ ایک زمانے میں پی آئی اے کا نام ہوا کرتا تھا لیکن کچھ عرصہ گزرنے کے بعد پی آئی اے کو بھی معاشرے کی عمومی خاصیتوں نے دھر لیا۔ ان سب تباہیوں کے  تناظر میں اسلام آباد کے بڑے ہسپتال یعنی پمز کا حال کیسے مختلف رہ سکتا تھا؟ یہ ہسپتال جاپان کے پیسے سے بنا اور شروع دن سے ہی جب اس کی کنسٹرکشن ہو رہی تھی تو نظر آتا تھا کہ پاکستانی ہاتھ اس منصوبے کو لگ گئے ہیں کیونکہ کنسٹرکشن کا معیار بہت غیرمعیاری تھا۔ باہر کا پیسہ کسی پراجیکٹ کے لیے آ رہا ہو اور یہاں کام ٹھیک سے ہو جائے یہ ناممکن ہے۔ اس میں گھپلے ہونے ہی ہیں۔ نیلم جہلم پراجیکٹ کا حال دیکھ لیں۔ پراجیکٹ مکمل ہوا تھا کہ اُس میں نقص آنے لگے اور اب ناجانے کس قسم کی مرمت کے لیے پراجیکٹ بند پڑا ہے۔ کسی اور ملک میں ایسا ہوتا تو گردنیں اُڑ جاتیں لیکن یہاں کون پوچھنے والا ہے۔  ایسا مضحکہ خیز معاشرہ بن چکا ہے کہ بری امام کے گرد کم طاقت رکھنے والے افراد کے گھر مسمار کیے جائیں تو کچھ نہیں ہوتا۔ کانسٹیٹیوشن ایونیو والی بلڈنگ کی بے ضابطگیوں کا مسئلہ سامنے آئے تو وزیراعظم کا دفتر حرکت میں آ جاتا ہے۔ عدالت کے آرڈر ہیں کہ پراجیکٹ غیر قانونی ہے لیکن اوپر کی مداخلت کی وجہ سے کوئی گمنام قسم کی انکوائری چل رہی ہے‘ بلڈنگ کھڑی ہے اور اُس کے بااثر مکینوں کی آنیاں جانیاں جاری ہیں۔ پمز میں یہ اندوہناک واقعہ ہو گیا کہ معصوم جانیں لقمۂ اجل بن گئیں نہیں تو سالوں سے پمز کے حالات تو ایسے ہی ہیں۔ سارے سپیشلسٹ بیٹھے ہوئے ہیں‘ ساروں کی پرائیویٹ پریکٹس ہے۔ دفتری اوقات میں جن کے پاس جائیں تو لمبا منہ بن جاتا ہے‘ شام کو پرائیویٹ کلینک میں فیس دیں توچہرے پر مسکراہٹ پھیل جاتی ہے۔ یہ پہلو بھی قابلِ غور ہے کہ پمز صرف اسلام آباد کی آبادی کو کور نہیں کرتا۔ پورے شمالی پنجاب کے مریض جب ان کا علاج کہیں اور نہ ہو سکے تو پمز کی طرف آتے ہیں۔ یعنی اس ادارے پر مریضوں کا بوجھ بہت ہے اور وہ اس لیے کہ عوام  کو طبی سہولتیں فراہم کرنا وہ تو یہاں کی کبھی ترجیح نہیں رہی۔ چکوال کا ڈی ایچ کیو اچھا بھلا بڑا ہسپتال ہے‘ ڈاکٹروں سے بھرا پڑا ہے لیکن تھوڑی سی پیچیدہ بیماری ہوئی اور ڈاکٹروں نے فوراً بے نظیر ہسپتال کا یا پمز کا لکھ دیا۔ برسوں سے ایسا ہوتا رہا ہے کہ گاؤں یا چکوال کے لوگ آ کے کہتے کہ پمز جا رہے ہیں کسی ڈاکٹر سے پلیز کہہ دیں۔ ایگزیکٹو ڈائریکٹر یا کسی اور کو فون کیا بھی اور وہاں سے ریسپانس بھی آیا لیکن یہ تو انفرادی رسائی کی بات ہوئی۔ حالات ہی پمز کے ایسے ہیں کہ کوئی ایمرجنسی میں پہنچے تو یوں سمجھیے کہ رُل جاتا ہے۔ کوئی سفارش یا پہچان ہو گئی تو کام ہو گیا نہیں تو حالات کیا ڈاکٹروں کے لیے اور کیا مریضوں کے لیے بس ویسے ہی ہیں۔ سرکار اپنے کاموں میں لگی رہتی ہے۔ حکمرانی کے اللے تللے دیکھیں تو کہیں ختم نہیں ہوتے۔ مانگے تانگے پر ملک چل رہا ہے لیکن فضولیات کے لیے یہاں پیسہ بہت ہے۔ جو عوام کی بنیادی سہولتیں ہیں اس پر بس زبانی جمع خرچ ہوتا ہے۔ نظامِ صحت اور نظامِ تعلیم یہ ہماری ریاست میں کہاں بڑی ترجیحات رہی ہیں؟ اگر صحت کے حوالے سے پرائیویٹ ہسپتالوں کا رخ کرنا پڑتا ہے تو پڑھائی کے شعبے میں بھی یہی صورتحال ہے۔ نچلی سطح پر سرکاری سکولوں میں مجبور اور لاچار لوگ ہی جاتے ہیں۔ میں گاؤں میں دیکھتا ہوں کہ پرائیویٹ سکول کھلے ہوئے ہیں‘ جس کے پاس تھوڑے سے وسائل بھی ہوں انہی سکولوں میں اپنے بچے کا داخلہ کرتے ہیں۔ یہ جو پمز کا واقعہ ہوا ہے اس کا کیا کہیں؟ مجبوری اور بدقسمتی کی داستانوں میں سے ایک اور داستان۔ دو سرکاری ہسپتال ہیں اسلام آباد میں‘ ایک پمز دوسرا پولی کلینک وہ ہم سے ٹھیک طرح چلتے نہیں اور یار لوگ اسی پر خوش ہوتے ہیں کہ ملک کا پروفائل بڑھ گیا ہے‘ پاکستان کی بات واشنگٹن اور تہران میں سنی جاتی ہے۔ گناہ کی فہرستیں ہم نے خوامخواہ لمبی بنائی ہوئی ہیں حالانکہ سب سے بڑا گناہ پاکستان میں غریب ہونا ہے۔ غربت کے مارے آپ ہوں تو جینا یہاں مشکل ہے۔ ہر چیز کے لیے محتاج ہونا ہر چیز کے لیے ہاتھ اٹھانا۔ سڑکوں پر حال دیکھ لیں‘ کسی بڑی گاڑی کو ٹریفک والا نہیں روکے گا۔ موٹرسائیکل سواروں کو دھر لیا جائے گا۔ تھانے میں قدم رکھیں تو محرر سے لے کر ایس ایچ او تک اوپر سے نیچے نظر دوڑائے گا کہ کتنے کی اسامی ہے اور کتنا دینے والا ہو سکتا ہے۔ پٹواری کو پہلے شیرینی نہ پیش کی جائے تو اوپر  دیکھے گا نہیں۔ کسی سرکاری ہسپتال کی ایمرجنسی میں چلے جائیں ڈاکٹر بیزار نظر آئیں گے۔ تعیناتی کے لیے مرتے ہیں‘ تب جتنا ناک رگڑنا پڑے اس کے لیے تیار ہوں گے‘ سرکاری ہسپتال میں تعیناتی ہو گئی تو پرائیویٹ پریکٹس کا سوچنے لگیں گے۔ جہاں تک بڑے ہیں ان کی بات نہ کیجئے۔ عجیب پاکستانی بیماری ہے کہ جن کے پاس بہت ہے وہ (پنجابی کا لفظ ہے) &#39;رجتے‘ نہیں۔ اوپر سے لے کر نیچے تک بدعنوانی اور رشوت لینا سرکاری کردار کا حصہ بن گیا ہے۔ ایک زمانہ تھا کہا جاتا تھا کہ سی ایس ایس اور پی ایس پی کے افسر رشوت نہیں لیتے۔ عدلیہ کے بارے میں بھی ایک زعم ہوا کرتا تھا۔ سب زعم ختم ہو گئے ہیں۔  جس کا جتنا بس چلے بہتی ندی میں ہاتھ چلاتا ہے۔لی کوان یو‘ سنگارپور کے تاریخی وزیراعظم‘ اگلے روز ان کی ایک پرانی تقریر سن رہا تھا۔ کہہ رہے تھے کہ جن معاشروں میں کرپشن اور بدعنوانی اوپر سے نیچے رچ بس جائے یہ کیفیت پھر عام طریقوں سے ٹھیک نہیں ہو سکتی۔ درست کرنے کے لیے پھر ایک انقلاب چاہیے ہوتا ہے۔ یہاں کون انقلاب لائے گا؟ یہاں تو بس ایسا ہی کام چلتا رہے گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_80573045.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>گجرات سے مکہ تک(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-08-30/52570/35472684</link><pubDate>Sun, 30 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-08-30/52570/35472684</guid><description>جب بھی تاریخ پر نئی ریسرچ کے بعد نئی کتاب چھپتی ہے تو پہلا خیال ذہن میں یہی آتا ہے کہ اگر آرکیالوجسٹ‘ ریسرچرز اور مورخ نہ ہوتے تو ہمیں قدیم زمانوں کے قصے کون سناتا۔ ہم کتنے اَن پڑھ اور لاعلم ہوتے کہ آج جس دنیا میں ہم رہ رہے ہیں یہ کتنا طویل سفر کر کے یہاں تک پہنچی ہے۔ پچھلے ہفتے دو ایسی کتابیں خریدیں کہ دل اَش اَش کر اُٹھا۔ ان مورخین اور لکھاریوں کے لیے دل سے دعا نکلی۔ پہلی کتاب رومن جنرل جولیس سیزر پر ہے جو آکسفورڈ کے پروفیسر اینڈرین گولڈ وردی نے لکھی ہے اور دوسری بھارتی مورخ سنجے سبرامنیم(Sanjay Subrahmanyam) نے لکھی ہے جس کا نام ہے Across the Green Sea۔ جولیس سیزر پر لکھی گئی کتاب میں کیا نئی چیز ہو سکتی ہے؟ اس پر تو ہزاروں کتابیں لکھی گئی ہیں تو پھر ایک اور کتاب کیوں؟ مجھے ویک اینڈ پر کراچی جانا تھا تو ساتھ رکھ لی‘ جہاز میں اس کا تعارف پڑھنا شروع کیا اور یقین کریں مجھے لگا آج سے پہلے سیزر کے بارے کچھ علم ہی نہ تھا حالانکہ لیہ کالج میں اپنے مرحوم استاد جی ایم صاحب سے بی اے انگلش لٹریچر کلاس میں جولیس سیزر پڑھا۔ پڑھا کیا یوں کہیں بیت گیا تھا۔ جیسا جولیس سیزر لیہ کے اُن محترم استاد صاحب نے پڑھایا وہ پھر کبھی ذہن سے نہ اترا۔ خیر اس کتاب کے تعارف میں مصنف نے سیزر کے بارے جو لکھا مجھے لگا آج تک مجھے تو ایک فیصد بھی علم نہ تھا کہ  اُس دور کے کیا حالات تھے اور سیزر کا بچپن‘ جوانی اور فتوحات اور سب سے بڑھ کر وہ کس ماحول میں پیدا ہوا تھا۔ میرے لیے یہ حیران کن بات تھی حالیہ آرکیالوجی کی دریافتوں سے جو کچھ مواد مل رہا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ابھی دنیا کو رومن دور کی اُس تہذیب کے بارے شاید ایک فیصد علم ہوا ہے۔ باقی کا علم کہیں دفن ہے یا ضائع ہو گیا۔ اس مورخ کی محنت اور جس طرح اس نے یہ کتاب لکھی ہے اس پر رشک آیا۔ میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ ریسرچ اور کتاب لکھنا گورے پر ختم ہے لیکن بھارتی مورخ سنجے نے میری یہ غلط فہمی دور کر دی۔ اس سے پہلے بھارتی مورخ Abraham Eraly نے بھی ہندوستان کی تاریخ خصوصاً سلطنتِ دہلی اور مغلوں پر کیا شاندار کتابیں لکھی ہیں۔ اب میں پہلی دفعہ سنجے سبرامنیم سے متعارف ہوا ہوں جو امریکہ میں رہتے ہیں اور کیا کمال تعارف ہوا ہے۔ ابراہم ارالی کی موت کا جو دکھ تھا کہ اتنے بڑے مورخ سے دنیا محروم ہو گئی تھی وہ اب سنجے صاحب کی یہ کتاب پڑھنے سے کم ہو رہا ہے۔ یہ کتاب دراصل ہندوستان کے عرب‘ افریقہ‘ ایران اور شام تک تجارتی اور مذہبی تعلقات کو سامنے لاتی ہے۔ آپ کو اندازہ ہوتا ہے کہ تاریخی طور پر ہندوستان کتنا امیر اور خوشحال خطہ رہا ہے۔ اس کتاب میں سولہویں صدی کے سلطنتِ عثمانیہ کے اہم مورخ Jar Allah Muhammad Ibn Fahdکی لکھی تاریخ سے حوالے لیے گئے ہیں۔باقی تفصیلات چھوڑ کر ہم گجرات کے سلطان مظفر شاہ کو ہی دیکھ لیتے ہیں جو 1511ء سے1525ء تک حکمران رہے۔ سلطان مظفرشاہ ہر سال بہت بڑا عطیہ مکہ بھیجا کرتا تھا۔ساری رقوم جو گجرات سے مکہ جاتیں وہ خواجہ تاج الدین لاری وصول کرتے تھے جو ایرانی النسل تھے اور مکہ میں گجرات کے حکمران کی طرف سے بھیجی گئی رقومات اور دیگر اشیا کے امین تھے۔ آدھا عطیہ مکہ اور آدھا مدینہ میں تقسیم کیا جاتا۔ مارچ 1519ء میں یہ خبر مکہ میں پھیل گئی کہ گجرات سے تین کشتیاں جدہ آرہی ہیں جن میں مکہ کے وہ لوگ بھی واپس لوٹے ہیں جو ہندوستان گئے ہوئے تھے۔ انہی دنوں ایک شاہی کشتی پر سلطان مظفر شاہ کے ہاتھوں سے لکھا قرآن پاک بھی تحفہ کے طور پر لایا گیا۔ اس تحفے کے ساتھ سلطان مظفر شاہ نے سولہ ہزار دینار کے علاوہ مہنگے ملبوسات اور دیگر قیمتی اشیا بھی بھیجیں۔ اس پر مکہ میں ایک بڑی تقریب کا انعقاد کیا گیا جہاں سلطان مظفر شاہ کے ہاتھ سے لکھے قرآن شریف کی تقریب کی گئی اور اسے بڑی مناسب جگہ پر رکھ دیا گیا تاکہ سب اس کی زیارت کر سکیں۔ پتہ چلا کہ گجرات کا سلطان مظفر مکہ میں زمین خریدنے کا خواہشمند بھی تھا جہاں وہ مدرسہ بنانا چاہتا تھا۔ جو زمین سلطان مظفر کو چاہیے تھی وہ شام کے ایک تاجر کی ملکیت تھی جو کچھ عرصہ پہلے ہندوستان آیا ہوا تھا اور اس کی ملاقات سلطان سے ہوئی تاہم زمین کی منتقلی میں خاصی تاخیر ہوئی تو سلطان پریشان ہوا اور مکہ میں اپنے ایجنٹس پر دباؤ ڈالا کہ معاملہ جلد از جلد نمٹایا جائے۔ پتہ چلا کہ اس زمین کی خرید و فروخت کی اجازت عثمانیہ سلطنت کے سلطان سلیم سے لینی ہو گی۔ خیر کچھ دنوں بعد اجازت مل گئی اور مظفرشاہ کا مدرسہ تیار ہو گیا جس کو چلانے کے لیے دس بندوں کا انتخاب کیا گیا جن کو تنخواہیں اور دیگر مراعات سلطان کے خزانے سے دی جاتی تھیں۔ ان سب باتوں سے پتہ چلتا ہے کہ سولہویں صدی میں گجرات بہت امیر علاقہ تھا جہاں سے مکہ‘ جدہ‘ مشرقی افریقہ‘ ایران‘ شام تک تجارتی سرگرمیاں ہوتی تھیں۔ مکہ کے دانشور گجرات دربار کو اپنے لیے مستقل امداد اور سرپرستی کا موجب سمجھتے تھے۔ 1510ء کے بعد پرتگالیوں نے سمندر میں تجارتی اور دیگر جہازوں پر حملے کر کے لوٹ مار شروع کر دی تھی۔ جس پر سلطنتِ عثمانیہ نے اس پر غور کرنا شروع کر دیا کہ انہیں ان قذاقوں کے ہندوستان میں ٹھکانوں پر حملے کرنے چاہئیں۔ اس دوران ہندوستان کے حالات بڑی تیزی سے بدلنے لگے۔ 1535ء اکتوبر میں ایک دن جدہ میں ہندوستان سے چھ کشتیاں لنگر انداز ہوئیں تو مقامی تاجر حیران ہوئے کہ یہ اچانک کیسے آ گئیں۔ ان کی آمد کی خبر نہ تھی۔ پتہ چلا کہ شاہی کشتیاں گجرات کے سلطان مظفرشاہ کے بیٹے بہادر شاہ کی ہیں۔ اس کی سلطنت پر مغل سلطان ہمایوں نے قبضہ کر لیا تھا اور بہادر شاہ نے اپنا سارا خزانہ‘ ہیرے جواہرات‘ سونا چاندی اور دیگر قیمتی تحائف اور نقدی سمیٹ کر جہازوں میں ڈال کر اپنے بھائی اور بیوی اور باقی اہم لوگوں کو جدہ بھیج دیا۔ کل دو ہزار لوگ وہاں سے روانہ ہوئے۔ ان میں دو کشتیاں ایسی تھیں جو سلطان آف عرب اور عجم سلیمان ابن عثمان کے لیے تحائف سے بھری ہوئی تھیں۔ اس سامان میں 350 صندوق قیمتی اشیا اور تحائف سے بھرے ہوئے تھے جن میں سونے کے سکے بھی تھے۔ چند صندوقوں میں سات سے دس ہزار دینار بھی بھرے ہوئے تھے جو وہاں مختلف مساجد کے تین اہم لوگوں کے لیے تھے جو اُن کی دیکھ بھال کرتے تھے۔ اتنی دولت دیکھ کر گورنر جدہ نے سب کچھ روک لیا تاکہ پہلے استنبول میں سلطان یا گورنر مصر سے پوچھ لیں کہ ان کا کیا کرنا ہے کیونکہ یہ بہت زیادہ دولت تھی جو بہادر شاہ نے اپنے بھائی اور بیوی کے ساتھ بھیجی تھی۔ مکہ کے اہم لوگوں کے لیے بھی بہت سے تحائف لائے گئے تھے۔ تاہم جدہ کے گورنر نے گھریلو استعمال  کی چیزوں کے علاوہ سب کچھ ضبط کر لیا۔ ہندوستان کے دو ہزار افراد کا یہ قافلہ کچھ بھی نہ کر سکتا تھا تاہم انہوں نے منت کی کہ کم از کم چند ضرورت کی چیزیں تو واپس کر دیں۔ سلطنتِ عثمانیہ کے گورنر مصر نے جو رپورٹ سلطان کو استنبول بھیجی اس میں لکھا تھا کہ بہادر شاہ کا کچھ پتہ نہیں وہ زندہ ہے یا مر گیا‘ اگر اگلے سیزن تک وہ نہ آیا تو سب کچھ ضبط کر کے مالِ غنیمت شمار کیا جائے گا کیونکہ نہ اس کے بچے ہیں نہ ہی رشتہ دار‘ صرف اس کی بیوی اس دولت کے ساتھ آئی ہے جو پچیس لاکھ سونے کے سکوں کے برابر مالیت کی ہے۔وقتی طور پر سب کچھ جدہ میں ضبط کرانے کے بعد اب سوال پیدا ہوا کہ وہ کہاں جائیں اور کہاں رہیں گے۔ آخر کسی کو خیال آیا کہ برسوں پہلے گجرات کے سلطان مظفر شاہ نے ایک مدرسہ تعمیر کرایا تھا۔ ہندوستان سے لی گئی اپنی دولت ضبط کرانے کے بعد وہ سب جن میں گجرات کی اشرافیہ عمادالملک‘ سلطان بہادر کی نرس سمیت خواتین کی بڑی تعداد بھی شامل تھی‘ اپنے محافظوں کے ساتھ مکہ کو چل پڑے۔ شامی تاجر سے خریدی گئی زمین پر بنایا گی وہی مدرسہ آج گجرات کے شاہی خاندان کی جائے پناہ ثابت ہوا تھا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مشرق وسطیٰ، چھ ماہ کی جنگ کی قیمت(رشید صافی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-08-30/52571/47106840</link><pubDate>Sun, 30 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-08-30/52571/47106840</guid><description>کسے معلوم تھا کہ سات اکتوبر 2023ء کو حماس کی جانب سے اسرائیل کے خلاف &#39;&#39;طوفان الاقصیٰ‘‘ کے نام سے شروع کی جانے والی کارروائی آگے چل کر ایک ایسی ہولناک جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہو گی جس کے شعلے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے بلکہ عالمی معیشت اور جغرافیائی سیاست کی بنیادیں بھی ہلا کر رکھ دیں گے۔ جب حماس کے فدائین نے اسرائیل کی سخت ترین سکیورٹی کی رکاوٹیں توڑ کر اپنے قیدیوں کی رہائی کی راہ ہموار کی اور اسرائیل کے متعدد افراد کو یرغمال بنایا تو ابتدائی طور پر اسے ایک مقامی عسکری واقعے کی نظر سے دیکھا گیا مگر بعد کے حالات نے ثابت کر دیا کہ اس واقعے نے ایک ایسی چنگاری کا کام کیا جس نے درجن بھر ممالک کو براہِ راست جنگ میں دھکیل دیا۔ تل ابیب کے توسیع پسندانہ عزائم اور جارحانہ پالیسیاں دنیا سے ڈھکی چھپی نہیں تھیں تاہم حماس کی جانب سے اٹھائے جانے والے قدم کے بعد اسرائیل نے اسے اپنی دفاعی جارحیت کا جواز بنایا اور غزہ پر چڑھائی کر دی۔ غزہ کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا گیا۔ بین الاقوامی انسانی قوانین اور مسلمہ عالمی اصولوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ہسپتالوں‘ پناہ گزین کیمپوں اور تعلیمی اداروں کو بے دریغ نشانہ بنایا گیا‘ جس نے اکیسویں صدی کے المناک انسانی المیے کو جنم دیا۔ غزہ کا ایشو ہی دراصل مشرقِ وسطیٰ بحران کی بنیاد ہے۔ جون 2025ء میں ایران اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے شدید عسکری تصادم کی اصل وجہ بھی قضیۂ فلسطین ہی تھا۔ اسرائیل ایران کی دفاعی اور جوہری صلاحیتوں کو اپنے تزویراتی وجود کیلئے خطرہ تصور کرتا آیا ہے اور اس عداوت کی بنیادی وجہ تہران کی جانب سے مظلوم فلسطینیوں کی غیر متزلزل اخلاقی و عسکری حمایت ہے۔ جب 2025ء میں جنیوا میں ایران اور امریکہ کے درمیان جاری حساس جوہری مذاکرات بغیر کسی تصفیے کے ناکام ہوئے تو اسرائیل نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایران پر حملہ کر دیا۔ اس تناظر سے یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ اس خطے میں بدامنی کا اصل محور مسئلہ فلسطین ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چینی صدر شی جن پنگ نے بھی اپنے بیانات میں اس فکری نکتے پر زور دیا کہ جب تک مسئلہ فلسطین کا منصفانہ اور پائیدار حل تلاش نہیں کیا جاتا‘ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی میں ہونے والے جانی و مالی نقصان کے اعداد و شمار کا احاطہ کرنا مشکل ہے‘ تاہم الجزیرہ کی جانب سے پیش کی گئی ایک تجزیاتی رپورٹ میں جنگ کے ابتدائی چھ ماہ کے دوران ہونے والے تباہ کن اثرات کا ڈیٹا فراہم کیا گیا ہے۔ 28فروری 2026ء کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر مشترکہ اور وسیع پیمانے پر حملوں کا آغاز کیا جس کے نتیجے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور اہم عسکری قیادت شہید ہو گئی‘ جبکہ ایران بھر میں جوہری اور عسکری تنصیبات کو نقصان پہنچایا گیا۔ ان حملوں کے ردِعمل میں ایران نے خلیجی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں پر میزائل داغے جبکہ لبنان کی مسلح تنظیم حزب اللہ نے شمالی اسرائیل کو اپنے راکٹوں کا ہدف بنایا۔ اس کے جواب میں اسرائیلی فورسز نے لبنان میں کارروائیاں کرتے ہوئے ایک موقع پر لبنان کے بڑے حصے پر تسلط قائم کر لیا۔ تاہم چھ ماہ کی معرکہ آرائی کے باوجود کوئی بھی فریق فیصلہ کن برتری حاصل نہ کر سکا اور تمام تر سفارتی کوششیں ناکام ہو گئیں۔ مختلف ممالک کی وزارتِ صحت اور سرکاری اداروں سے حاصل کردہ اعداد و شمار کے  مطابق جنگ کے دوران مجموعی ہلاکتوں کی تعداد کم از کم 7900 تک جا پہنچی ہے۔ ایرانی جوابی کارروائیوں میں 60اسرائیلی اور 18امریکی سکیورٹی اہلکار ہلاک جبکہ 757 زخمی ہوئے۔ اس کے علاوہ لبنان میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 4350 افراد جاں بحق اور 12ہزار 510 زخمی ہوئے۔ خلیجی خطے میں 28 ہلاکتیں درج کی گئیں جبکہ ایران میں جاں بحق افراد کی تعداد 3527 تک پہنچ چکی ہے۔ جنگی حالات کی مانیٹرنگ کرنے والے بین الاقوامی ادارے آرمڈ کانفلکٹ لوکیشن اینڈ ایونٹ ڈیٹا کے مطابق اس عرصے میں امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر 3580 حملے کیے جبکہ جواباً ایران اور اس کے حلیفوں نے امریکی و اسرائیلی اہداف کو 2053 بار نشانہ بنایا۔اس جغرافیائی تزویراتی جنگ کا سب سے بڑا معاشی دھچکا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کی صورت میں سامنے آیا۔ یہ آبی گزرگاہ عالمی توانائی کی ترسیل کی سب سے اہم شریان شمار ہوتی ہے‘ جہاں سے جنگ سے قبل روزانہ 50آئل ٹینکرز اور 50کے قریب تجارتی جہاز گزرتے تھے‘ جن کے ذریعے کروڑوں بیرل خام تیل‘ ایل پی جی اور پیٹرو کیمیکل مصنوعات کی ترسیل ممکن ہوتی تھی۔ امریکہ اور اسرائیل کے حملے میں آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے اگلے ہی روز‘ دو مارچ 2026ء کو ایران نے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا۔ پاسداران انقلاب نے اس گزرگاہ پر جہاز رانی روک دی اور سمندرمیں سرنگیں بچھا دیں‘ جس کے باعث روزانہ گزرنے والے جہازوں کی تعداد 100سے گھٹ کر اوسطاً محض پانچ رہ گئی۔ یہ پانچ جہاز بھی صرف ایرانی حلیف ممالک کے ہوتے تھے جنہیں پاسداران انقلاب کی خاص اجازت حاصل ہوتی تھی۔ اپریل کی عارضی جنگ بندی اور جون کے عبوری معاہدوں کے بعد یہ اوسط بڑھ کر 20جہاز تک پہنچی مگر 14 جولائی کو امریکہ کی جانب سے دوبارہ ناکہ بندی پر یہ تعداد پھر پانچ تک گر گئی۔ مجموعی طور پر چھ ماہ میں روزانہ اوسطاً صرف سات جہاز اس راستے سے گزر سکے۔ بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کے مطابق 26 اگست تک اس گزرگاہ میں 70  حملے ریکارڈ کیے گئے جن میں 19 ملاح ہلاک ہوئے۔جنگ کی طوالت نے امریکی مالیات اور عالمی معیشت پر ناقابلِ تلافی اثر ڈالا ہے۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے سینیٹ کی سماعت کے دوران تصدیق کی کہ ایران جنگ پر امریکہ کے براہِ راست اخراجات 37.5 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔ تاہم پینٹاگون کے اندرونی تخمینوں کے مطابق مجموعی اخراجات 80 سے 100 ارب ڈالر کے درمیان ہیں‘ جس میں تباہ شدہ طیاروں کی تبدیلی‘ اڈوں کی مرمت اور ہتھیاروں کے ذخائر کی بحالی شامل ہے۔ اس دوران عالمی تیل کی مارکیٹ بھی شدید ترین عدم استحکام کا شکار ہوئی۔ برینٹ خام تیل کی قیمت جو جنگ سے قبل 72.48 ڈالر فی بیرل تھی‘ 30 اپریل کو بڑھ کر 120.88 ڈالر فی بیرل کی بلند ترین سطح تک جا پہنچی یعنی قیمتوں میں 67 فیصد کا ڈرامائی اضافہ ہوا‘ جس نے مغربی ممالک سمیت پوری دنیا کیلئے افراطِ زر اور مہنگائی کا نیا طوفان برپا کر دیا۔ اسی دباؤ کے تحت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بحری ناکہ بندی میں نرمی اور معاہدوں پر مجبور ہوئے‘ جس کے بعد تیل کی قیمتیں 88.58 ڈالر کی سطح پر آئیں۔ توانائی کے اس بحران سے نمٹنے کیلئے بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے 32 رکن ممالک نے 11 مارچ کو اپنے ہنگامی ذخائر سے 400 ملین بیرل تیل جاری کرنے کا تاریخی فیصلہ کیا۔ اس کے باوجود امریکہ کا اپنا سٹرٹیجک پٹرولیم ریزرو گھٹ کر 290ملین بیرل پر آ گیا جو اس کی کل گنجائش کا صرف 41 فیصد ہے اور نومبر 1982ء کے بعد امریکی تاریخ کی کم ترین سطح شمار ہوتی ہے۔ سیاسی میدان میں اس جنگ کا خمیازہ امریکی انتظامیہ کو اٹھانا پڑا ہے۔ ایک امریکی سروے کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت کی شرح گر کر 33فیصد پر آ گئی ہے‘ جبکہ 65فیصد عوام نے ان کی جنگی پالیسی کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ 80فیصد امریکیوں کا ماننا ہے کہ امریکہ مشرقِ وسطیٰ کی اس طویل اور لاحاصل دلدل میں بری طرح پھنس چکا ہے۔ صرف 16فیصد لوگ اس کی جلد خاتمے کی توقع رکھتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار اور بڑھتا ہوا انسانی المیہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ جب تک مسئلہ فلسطین کا پائیدار‘ عادلانہ اور خودمختار حل تلاش نہیں کیا جاتا تب تک نہ تو مشرقِ وسطیٰ میں امن قائم ہو سکتا ہے اور نہ ہی عالمی معیشت کو اس دیرپا تباہی سے بچایا جا سکتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/222_48272610.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>اک نہ ڈگیں پنگھوڑیاں اُتے(عمران یعقوب خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-08-30/52572/65688676</link><pubDate>Sun, 30 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-08-30/52572/65688676</guid><description>کسی شاعر نے آسمانی بجلی سے کہا تھا:اک نہ ڈگیں پنگھوڑیاں اُتےتے اک نہ ڈگیں کلے مسافر اُتےیعنی ایک تو بچوں کے پالنے پر نہ گرنا کہ وہ معصوم ہوتے ہیں اور خود کو بچانے کے قابل نہیں ہوتے‘ دوسرا اکیلے مسافر پر نہ گرنا کہ وہ وطن سے دور ہوتا ہے اور وطن والوں کو اسکی واپسی کی آس ہوتی ہے۔ ممکن ہے آسمانی بجلی نے شاعر کی بات مان لی ہو لیکن پمز والوں نے شاعر کی نصیحت کو نظر انداز کیا اور پنگھوڑوں پر بجلی گرا دی۔ ایک ساتھ کئی معصوم روحیں عالم برزخ کی طرف پرواز کر گئیں۔پمز ہسپتال اسلام آباد میں جو قیامت برپا ہونا تھی ہو چکی‘ اس کے باوجود یقین نہیں آ رہا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے۔ کیا ہسپتال میں پیدا ہونے والے نومولودوں کی دنیا میں سانسیں ہی اتنی لکھی تھیں یا ہم نے‘ کرپشن کی بنیادوں پر قائم اس نظام نے ان سے زندگیاں چھین لیں‘ انہیں بڑا ہونے‘ فروغ پانے اور اپنے اپنے آدرش پالنے کا موقع ہی فراہم نہ کیا۔ عدم آباد کی منزلوں کے مسافر بن چکے 14 بچوں کا قاتل کون ہے؟ یہ تو ایک سے زیادہ انکوائری کمیٹیاں تلاش کر ہی لیں گی‘ لیکن سوال یہ ہے کہ یہ کمیٹیاں جو نتائج مرتب کریں گی حقیقتاً وہی سچ ہو گا؟ قابل اجمیری صاحب کے دو اشعار یاد آ رہے ہیں:راستہ ہے کہ کٹتا جاتا ہےفاصلہ ہے کہ کم نہیں ہوتاوقت کرتا ہے پرورش برسوںحادثہ ایک دم نہیں ہوتاآپ ہو سکتا ہے میری اس بات سے اتفاق کریں کہ پمز ہسپتال کا سانحہ بھی یکدم رونما نہیں ہوا۔ اس کی تیاری اسی وقت سے شروع ہو گئی تھی جب ہسپتال جیسے حساس ادارے میں فائر سیفٹی کا اہتمام کرنے کے ذمہ داران نے اپنا یہ فرض پورا نہیں کیا تھا۔ جب ہنگامی انخلا یقینی بنانے کے ذمہ داروں نے دروازوں پر تالے لگا دیے اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے انتظامات کی ضرورت پر کوئی توجہ نہ دی۔ جب ہسپتال کو گزشتہ تین برسوں میں ملنے والے 22ارب روپے کے فنڈز میں سے فائر سیفٹی کے نظام پر چند کروڑ روپے بھی خرچ نہیں کیے گئے۔ جب ایک ماہ قبل اسی ہسپتال میں آتشزدگی کا ایک واقعہ رونما ہونے کے باوجود مزید واقعات کے سد باب کیلئے کوئی ٹھوس اقدام نہ کیا گیا۔ اتنی زیادہ غفلت کے بعد کسی سانحے کو رونما ہونے سے روکنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔آتشزدگی کے واقعات ویسے ہی بڑے خوفناک ہوتے ہیں کہ ذرا سی انگلی یا ہاتھ جل جائے تو ہفتوں اس کے اثرات محسوس ہوتے رہتے ہیں چہ جائیکہ پورا جسم ہی آگ کی لپیٹ میں آ جائے۔ ہسپتالوں میں آتشزدگی کے واقعات زیادہ حساس نوعیت کے ہوتے ہیں کیونکہ وہاں مریض علاج کیلئے داخل ہوتے ہیں اور ان میں سے زیادہ تر آگ لگنے کی صورت میں خود کو بچا پانے کی پوزیشن میں نہیں ہوتے۔ پھر کہیں آگ لگ جائے تو ہر کسی کو خود کو بچانے کی فکر لاحق ہوتی ہے‘ ایسی صورت میں مریضوں کو بچانا زیادہ مشکل ہو جاتا ہے‘ چنانچہ اس مسئلے کا ٹھوس حل ایسے انتظامات ہیں جو آتشزدگی کے خدشات کو ستر‘ اسی فیصد سے دس بیس فیصد پر لے آئیں۔یہاں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہر کوئی اس وقت متحرک ہوتا ہے جب کوئی بڑا سانحہ یا حادثہ ہو جاتا ہے جبکہ دنیا کے دوسرے ممالک خصوصاً ترقی یافتہ ممالک میں پہلے سے طے شدہ پروٹوکول‘ اصول و ضوابط اور حفاظتی انتظامات کا نفاذ اس شدو مد کے ساتھ کیا جاتا ہے کہ وہاں ایسے سانحات نہیں ہوتے۔ وہاں غفلت شعاری کا رواج نہیں‘ ہر چیز پر چیک رکھنے کا چلن ہے۔ وہاں انتظامیہ کو معلوم ہوتا ہے کہ کسی ہسپتال کی لفٹیں کتنی کارگر ہیں‘ اس کی میعاد کتنی ہے‘ ہسپتال کی مشینیں کب ایکسپائر ہوں گی‘ یہ کب تک تبدیل ہونی چاہئیں‘ اور کب کب میڈیکل سے وابستہ آلات کی مینٹینس کرنا ضروری ہو گا۔ وہاں ہنگامی اخراج کیلئے مختص دروازوں کو  مقفل نہیں کیا جاتا بلکہ مستقلاً چالو حالت میں رکھا جاتا ہے کہ نا جانے کب ان کو کھولنے اور استعمال کرنے کی ضرورت پیش آ جائے۔یہ بات غیرضروری اور سیاق و سباق سے ہٹ کر ہے کہ پمز میں نومولودوں کی اموات جھلسنے سے نہیں بلکہ دھواں اور کالک سانس کے ذریعے جسم میں جانے سے ہوئیں‘ اصل بات اور زمینی حقیقت یہ ہے کہ انسانی جانیں ضائع ہوئی ہیں۔ وہ روحیں گھائل ہوئی ہیں جو خود کو بچانے کا یارا بھی نہیں رکھتی تھیں۔ زندگیاں تو ضائع ہو گئیں دھوئیں سے گئیں یا جھلسنے سے‘ اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ یہ بات بھی غیرضروری سی لگتی ہے کہ ہسپتالوں میں سگریٹ نوشی پر مکمل پابندی عائد کی جائے گی تاکہ آتشزدگی کے واقعات کو روکا جا سکے۔ یہ بات درست ہے کہ دیگر پبلک مقامات کی طرح ہسپتالوں میں بھی سگریٹ نوشی پر مکمل پابندی عائد ہونی چاہیے لیکن اصل توجہ ہسپتالوں میں استعمال ہونے والے برقی آلات کیلئے کی گئی وائرنگ اور اس وائرنگ میں استعمال ہونے والے برقی تاروں پر مبذول کی جانی چاہیے۔کیا اس حقیقت سے انکار کیا جا سکتا ہے کہ بجلی کے غیرمعیاری اور پرانے تاروں کی وجہ سے ملک میں اکثر خطرناک آتشزدگی اور شارٹ سرکٹ کے حادثات رونما ہوتے رہتے ہیں‘ جن سے قیمتی انسانی جانوں اور املاک کا نقصان ہوتا ہے؟ مقررہ معیار سے کم تر تار زیادہ لوڈ برداشت نہیں کر سکتے۔ زیادہ لوڈ پڑے تو یہ تار پہلے گرم ہوتے ہیں اور پھر ان پر چڑھے پلاسٹک یا ربڑ میں آگ لگ جاتی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ پمز ہسپتال میں بھی اسی طرح آگ لگی ہو۔ ضروری ہے کہ گھروں اور دفاتر میں ہمیشہ معیاری اور منظور شدہ موٹائی کے تاروں کا استعمال یقینی بنایا جائے اور پرانے یا بوسیدہ تاروں کو فوراً تبدیل کیا جائے۔ ہسپتالوں کے سلسلے میں ان ضوابط کا اطلاق زیادہ شدت کے ساتھ ہونا چاہیے۔ یہ دیکھنے کی بھی اشد ضرورت ہے کہ بجلی کے ایسے غیرمعیاری اور ناقص تار تیار کہاں ہوتے ہیں اور پھر فروخت کیلئے مارکیٹ میں کیسے پہنچ جاتے ہیں۔ معیاری اشیائے صرف عوام تک پہنچانے کے ذمہ دار ادارے اور افراد کہاں سوئے پڑے ہیں؟کالم تکمیل کے آخری مراحل میں تھا کہ سانحہ پمز کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم شہباز شریف کو پیش کر دی گئی۔ رپورٹ میں پمز ہسپتال میں علاج اور ناکافی سہولیات کا ذکر موجود ہے اور یہ بھی لکھا ہے کہ کوئی چیز عالمی معیار کے مطابق نہیں۔ رپورٹ میں وزیراعظم کو ذمہ داروں کے خلاف فوری کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔ تحقیقاتی رپورٹ میں پمز ہسپتال کے اندر علاج معالجے اور فائر سیفٹی کی ناکافی سہولیات کی نشاندہی کرتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ وہاں کوئی بھی حفاظتی بندوبست عالمی معیار کے مطابق نہیں تھا۔جس ہسپتال کو حکومت ہر سال اربوں روپے فراہم کرتی ہو اس کی یہ حالت ہے تو یہ اندازہ لگانے کیلئے ذہن پر زیادہ زور دینے کی ضرورت نہیں ہو گی کہ باقی سرکاری ہسپتالوں کی حالت کیا ہو گی۔ میری نظر میں دو چیزیں ضروری ہیں۔ ایک یہ کہ سانحہ پمز کے ذمہ داران کو کڑی سزا ملنی چاہیے اور یہ سزا ان کی پمز سے معطلی اور کسی اور ہسپتال میں تعیناتی نہیں ہونی چاہیے بلکہ ان کے میڈیکل لائسنس منسوخ کیے جانے چاہئیں اور تاحیات کسی میڈیکل عہدے کیلئے نااہل قرار دیا جانا چاہیے۔ دوسرا تمام سرکاری ہسپتالوں کی اوورہالنگ ہونی چاہیے۔ خفیہ طریقے سے پتا چلایا جانا چاہیے کہ باقی سرکاری ہسپتالوں میں کیا ہو رہا ہے اور اصلاحِ احوال کیسے ممکن ہے۔ یہ کام پمز جیسا ایک اور سانحہ رونما ہونے سے پہلے ہو جائے تو بہتر ہو گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_58350786.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بلوچستان کی محرومی اور سرداری نظام(محمد عبداللہ حمید گل)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-abdullah-hameed-gull/2026-08-30/52573/53615492</link><pubDate>Sun, 30 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-abdullah-hameed-gull/2026-08-30/52573/53615492</guid><description> میں نے گزشتہ کالم میں بلوچستان کی پسماندگی اور وہاں کے لوگوں کی محرومیوں کی تصویر دکھانے کی کوشش کی تھی۔ آج کا کالم صوبے کے سرداری اور قبائلی نظام کے حوالے سے ہے کیونکہ اس نظام اور یہاں کے سرداروں‘ نوابوں کو بلوچ عوام کی پسماندگی اور صوبے میں ہونے والی شورش سے بری الذمہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔بلوچستان میں تقریباً 70 بڑے‘ درمیانے اور چھوٹے قبائلی سردار ہیں جنہیں عموماً نواب اور سردار کہا جاتا ہے۔ یہ تقریباً 46بلوچ قبائل کی نمائندگی کرتے ہیں۔ نمایاں قبائل میں بگٹی‘ مری‘ مینگل‘ بزنجو‘ جمالی‘ رِند اور رئیسانی شامل ہیں۔ صوبے کی تاریخ میں اس امر کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ کئی دہائیوں تک متعدد قبائلی سرداروں نے اپنے اپنے علاقوں میں بالادستی قائم رکھنے کیلئے جدید تعلیم‘ سماجی و معاشی ترقی کی حوصلہ شکنی کی۔ بعض سرداروں نے قبائلی کنٹرول برقرار رکھنے اور اپنے احکامات منوانے کیلئے مبینہ طور پر نجی ٹارچر سیل اور مسلح جتھے بھی بنائے۔ یعنی قبائلی برادریوں کی اکثریت غربت‘ جہالت اور مفلسی کا شکار رہی اور دوسری جانب سردار اور نواب صوبائی سیاست پر تسلط قائم رکھنے کے ساتھ ساتھ اقتدار کی مراعات و فوائد سے پوری طرح مستفید ہوتے رہے۔ جبکہ بااثر سرداری طبقہ کی صوبے میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال‘ بڑھتی دہشت گردی سمیت علیحدگی پسندوں کی کارروائیوں سے وابستگی بھی وقتاً فوقتاً ظاہر ہوتی رہتی ہے۔ ان عناصر کو دشمن و غیر ملکی خفیہ اداروں کی بھی حمایت حاصل ہے۔ سیاسی سطح پر سردار صوبے کی پسماندہ حالت کا ذمہ دار مسلسل وفاق‘ پنجاب اور مقتدرہ کو قرار دیتے رہے ہیں۔ یہ جبری گمشدگیوں اور مسنگ پرسنز جیسے ایشوز کو بھی وفاقی پلڑے میں ڈالتے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ صوبے کے قدرتی وسائل سے تو ریاست فائدہ اٹھا رہی ہے لیکن مقامی آبادی کو اس سے مسلسل محروم رکھا جا رہا ہے۔ (حالانکہ نواب اکبر بگٹی بلوچستان کے گورنر اور وزیراعلیٰ دونوں عہدوں پر فائز رہے اور قبائلی علاقے میں پیدا ہونے والی قدرتی گیس کی وفاقی حکومت کی جانب سے دی جانے والی رائلٹی کی بڑی رقوم حاصل کرنے والوں میں شامل تھے)۔ بلوچستان ملک کے کل رقبے کے تقریباً 44فیصد حصے پر مشتمل ہے‘ اس کے باوجود یہ ملک کا سب سے کم آبادی والا صوبہ ہے‘ جہاں آبادی وسیع و عریض علاقوں میں بکھری ہوئی ہے۔ بلوچ اس صوبے کا سب سے بڑا نسلی گروہ ہیں‘ جس کے بعد پشتون اور براہوی آتے ہیں۔ پشتون آبادی زیادہ تر افغانستان سے متصل شمالی اضلاع میں سکونت پذیر ہے۔ صوبے کی سیاسی‘ سماجی اور معاشی ترقی کی راہ میں حائل بڑی وجوہات میں ایک گہری اور مضبوط وجہ سرداری نظام بھی ہے‘ جس نے طاقت کو ایک محدود قبائلی اشرافیہ کے ہاتھوں میں مرکوز کر رکھا ہے۔ صوبے کے چند بڑے قبائل اور ان کے سرداروں کی تفصیل کچھ یوں ہے: بگٹی قبیلہ: نواب اکبر بگٹی کو ایک زمانے میں پاکستان کے سیاسی نظام میں سب سے بااثر اور قابلِ اعتماد بلوچ رہنماؤں میں شمار کیا جاتا تھا۔ پھر 2004ء میں انہوں نے ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھا لیے اور اکتوبر 2006ء میں ایک کارروائی کے دوران قتل ہو گئے۔ ان کے حامی ان کی موت کا ذمہ دار پرویز مشرف کی حکومت کو ٹھہراتے ہیں۔ ان کی موت نے بلوچ علیحدگی پسند تحریک کو تقویت دی۔ ان کے پوتے براہمداغ بگٹی بعد ازاں بلوچ ریپبلکن آرمی (BRA) کے سربراہ کے طور پر سامنے آئے اور اس کے بعد سے بیرونِ ملک مقیم ہیں۔ تاہم بگٹی خاندان کے اندر سیاسی وابستگیاں مختلف رہی ہیں۔ ڈیرہ بگٹی سے تعلق رکھنے والے سرفراز بگٹی بلوچستان کے وزیراعلیٰ کے منصب پر فائز ہیں۔ خاندان کے دیگر افراد جن میں شاہ زین بگٹی اور کئی دوسرے رشتہ دار شامل ہیں‘ ملک کے سیاسی نظام میں فعال رہے ہیں‘ جبکہ خاندان کے بعض دیگر افراد نے الگ سیاسی راستے اختیار کیے۔مری قبیلہ: مرحوم نواب خیر بخش مری کئی دہائیوں تک اثرورسوخ کے حامل قبائلی رہنماؤں میں شمار ہوتے رہے۔ ان کا صاحبزادہ حیربیار مری بلوچ نیشنل موومنٹ سے تعلق رکھتا ہے اور وہ بیرونِ ملک مقیم ہے‘ جبکہ ان کے ایک اور بیٹے نواب چنگیز مری نے مرکزی دھارے کی صوبائی سیاست میں اپنا کردار برقرار رکھا اور صوبائی اسمبلی کے رکن بھی رہے۔ ایک ہی خاندان کے اندر سیاسی راستوں کا یہ واضح تضاد اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ خود بلوچستان کے بااثر قبائل اور خاندانوں کے اندر بھی سیاسی تقسیم موجود ہے۔مینگل قبیلہ: سردار اختر مینگل بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے سربراہ‘ صوبے کے نمایاں ترین سیاسی رہنماؤں میں شامل ہیں۔ وہ بلوچستان کے وزیراعلیٰ سمیت دیگر اہم سیاسی عہدوں پر بھی فائز رہ چکے ہیں۔ ان کے والد سردار عطا اللہ مینگل بھی بلوچستان کی وزارتِ اعلیٰ کے منصب پر فائز رہے۔ کئی برسوں تک اختر مینگل نے مختلف وفاقی حکومتوں کے ساتھ سیاسی تعلقات قائم رکھے۔ تاہم 2018ء کے انتخابات کے بعد سیاسی طور پر خود کو نظرانداز کیے جانے کے بعد وفاقی حکومت اور مقتدرہ کے بارے میں ان کا مؤقف بتدریج زیادہ سخت ہوتا گیا۔ جبکہ اختر مینگل کی ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ سے ہمدردی بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ ماہ رنگ بلوچ کی گرفتاری کے بعد اختر مینگل ایک مرتبہ پھر سامنے آئے۔ انہوں نے احتجاجی مظاہروں کا اہتمام کیا‘ شٹر ڈاؤن ہڑتالوں کی اپیل کی اور وڈھ سے کوئٹہ تک لانگ مارچ کی قیادت کی۔ ان کا یہ مؤقف ہے کہ بلوچستان کو کئی دہائیوں سے وفاق کی جانب سے امتیازی سلوک کا سامنا رہا ہے۔ اپنے اس مؤقف کو تقویت دینے کیلئے حال ہی میں انہوں نے سوشل میڈیا پر بیان دیا کہ اگر بلوچستان کے پاس 800 کلومیٹر طویل ساحلی پٹی اور بے پناہ معدنی دولت نہ ہوتی تو پاکستان کے حکمران اس صوبے سے بھی اسی طرح دستبردار ہونے پر آمادہ ہو جاتے جیسے 1971ء میں مشرقی پاکستان الگ ہوا۔ انکے اس بیان پر شدید تنقید ہوئی۔ سوشل میڈیا پر کہا گیا کہ وہ خود وڈھ‘ خضدار‘ بولان‘ مچھ اور دیگر علاقوں میں وسیع پیمانے پر کان کنی کی لیز سے فائدہ اٹھاتے رہے ہیں جبکہ دوسری جانب خود کو محروم بلوچ آبادیوں کا نمائندہ اور محافظ قرار دیتے ہیں۔اس لیے اب یہ سوال زیادہ شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا بلوچستان کی پسماندگی کو صرف وفاقی پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیا جا سکتا ہے یا پھر کئی دہائیوں سے جاری قبائلی اجارہ داری نے بھی صوبے کے مسائل میں نمایاں کردار ادا کیا ہے؟ یہ دعویٰ کہ پاکستان بلوچستان کی معدنی دولت کو &#39;&#39;نگل‘‘ رہا ہے‘ اس پر وفاقی حکومت کی ایک رپورٹ کے مطابق 2024ء کے معاشی اعداد و شمار کے مطابق کان کنی اور معدنیات کا شعبہ ملک کی مجموعی قومی پیداوار (GDP) میں تقریباً تین فیصد حصہ ڈالتا ہے جبکہ معدنیات کی برآمدات مجموعی قومی برآمدات کا ایک نہایت معمولی حصہ ہیں۔ لہٰذا اس دعوے کا جائزہ زیادہ متوازن اور جامع انداز میں لینے کی ضرورت ہے۔ ایک بنیادی سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ طویل عرصے تک اقتدار میں رہنے والے سرداروں نے اپنے ہی حلقوں میں پائیدار ترقی کیلئے آخر کیا اقدامات کیے؟ ناقدین کے مطابق بعض سرداروں کے بارہا گورنر‘ وزیراعلیٰ‘ وفاقی وزیر اور پارلیمنٹیرین جیسے اہم عہدوں پر فائز رہنے کے باوجود ان کے علاقوں میں ایسے بہت کم انقلابی اور دیرپا منصوبے دکھائی دیتے ہیں جنہیں براہِ راست ان کی قیادت کا نتیجہ قرار دیا جاسکے۔ بہت سے قبائلی رہنماؤں نے اقتدار میں رہتے ہوئے اس کے فوائد اور مراعات سے بھرپور استفادہ کیا‘ لیکن سیاسی اثر و رسوخ کم ہونے کے بعد ریاست مخالف بیانیہ اختیار کرلیا۔ مختلف ادوار میں شورشوں کو ہوا دینے والے متعدد بااثر قبائلی رہنماؤں نے خود افغانستان‘ یورپ یا دیگر ممالک میں جلاوطنی اختیار کرلی‘ اور طویل عرصے تک جاری رہنے والے تنازع کا نقصان عام قبائلی افراد نے برداشت کیا۔کئی دہائیوں سے یہ بیانیہ بلوچ قوم پرست سیاست کا مرکزی حصہ رہا ہے کہ وفاق پر پنجاب کا غلبہ ہے اور پاکستان آرمی کو &#39;&#39;پنجابی فوج‘‘ کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے۔ اسی ملک دشمن بیانیے کو بنیاد بنا کر بلوچستان کو اندھیروں میں دھکیلا جا رہا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_62843609.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>