<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>امریکہ ایران تنازعے کا حل(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-03/11159</link><pubDate>Sun, 03 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-03/11159</guid><description>امریکہ ایران جنگ تیسرے مہینے میں داخل ہو چکی ہے۔ اگرچہ متحارب فریقین میں عملی جنگ بندی ہے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ یکم مئی کو امریکی کانگرس کو لکھے گئے خط میں 28 فروری کو شروع ہونے والا تنازع ختم ہونے کا مژدہ سنا چکے ہیں مگر عملی صورتحال اس سے مختلف ہے۔ امریکہ اور ایران میں جنگ بندی اپنی جگہ مگر آبنائے ہرمز اس جنگ بندی کے عملی فوائد سے بدستور محروم ہے۔ رکاوٹیں اسی طرح ہیں‘ بلکہ پہلے سے بڑھ کر‘ نتیجتاً توانائی کی قیمتوں پر جنگ بندی کے متوقع مثبت اثرات کا کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا۔ تیل کی عالمی منڈی میں قیمت آج بھی 108 ڈالر سے زائد ہے‘ گیس کے نرخ بھی جنگ سے پہلے کے مقابلے میں 60 فیصد بڑھ چکے ہیں اور ترسیل کے مسائل اپنی جگہ ہیں؛ چنانچہ جنگ بندی نے متحارب فریقین کو مہینہ بھر کی گھمسان کی لڑائی کے بعد عارضی وقفہ تو فراہم کر دیا ہے مگر امن کی جانب پیش رفت کی سست روی سے دنیا اس جنگ کے منفی اثرات‘ خاص طور پر معاشی اثرات کو اب بھی اسی شدت سے بھگت رہی ہے۔ اس صورتِ حال میں پاکستان کی کوششوں سے امریکہ ایران مذاکرات کی پیش رفت ہوئی اور اسلام آباد میں 11اپریل کو دونوں ملکوں کے براہِ راست مذاکرات سے پائیدار امن کی جانب بڑھنے کا امکان نظر آیا تاہم اس کے بعد کے تین ہفتوں میں فریقین میں پس وپیش جاری ہے۔

اس دوران جنگ بندی میں توسیع ہو جانا ایک بڑی پیش رفت ہے لیکن بحری تجارت کے لیے مشکلات اب بھی اسی طرح ہیں۔ پاکستان کے ذریعے امریکہ ایران تجاویز کا تبادلہ جاری ہے مگر فریقین ابھی تک اس نکتے تک پہنچنے میں کامیاب نظر نہیں آتے جہاں دونوں میں نتیجہ خیز بات چیت کی ابتدا ہو سکے۔ ایران نے امریکہ کو بحری ناکہ بندی ختم کرنے کی شرط پر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی اور جوہری معاملات پر بات چیت کو دوسرے مرحلے تک مؤخر کرنے کی تجویز دی تھی مگر ایران کی ان تجاویز کو امریکہ کی جانب سے قبولیت نہیں مل سکی‘ بلکہ امریکہ میں اسے بحری ناکہ بندی کی حکمت عملی کی کامیابی کا نتیجہ سمجھا گیا۔ اب امریکی ذرائع ابلاغ میں ایران کی جانب سے امریکہ کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے اپنی شرائط میں نرمی کا عندیہ دیا جا رہا ہے۔ وال سٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ کے مطابق ایران نے جنگ کے خاتمے کے لیے واشنگٹن کو ایک نئی تجویز پیش کی ہے جس میں ایران ناکہ بندی کے فوری خاتمے کی تجویز سے بھی دستبردار ہو گیا ہے۔ بظاہر یہ لچک تنازعے کے پائیدار حل کی جانب پیش رفت کے لیے کافی بنیاد فراہم کرتی ہے لیکن باہمی اعتماد کا بحران اس سلسلے میں فریقین کے لیے اب بھی بڑی رکاوٹ ہے۔
دونوں دھڑے اس جنگ سے فاتحانہ نکلنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے ضروری سمجھتے ہیں کہ فریق ثانی زبانِ حال میں اس کی برتری کا اعتراف کرے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کا سلسلہ اس خواہش کا آئینہ دار ہے‘ دوسری جانب ایرانی بھی جو بات حکومتی مذاکراتی نمائندگان کے منہ سے نہیں کہلوانا چاہتے وہ پاسدارانِ انقلاب کے جنگجوؤں سے کہلوا لیتے ہیں۔ اس سینگ پھنساؤ پالیسی کا نتیجہ امریکہ اور ایران کے لیے جو کچھ بھی ہو مگر باقی دنیا کے لیے کافی مہنگا سودا بن چکا ہے۔ توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور بے یقینی کی وجہ سے عالمی معیشت سخت دباؤ میں ہے۔ ملکِ عزیز کی مثال سامنے ہے جہاں پٹرولیم کی قیمتیں عوامی قوتِ خرید سے باہر ہو چکی ہیں۔ ایشیا کے دیگر ممالک میں بھی معاشی حالات اور احساسات تھوڑے بہت فرق کے ساتھ ایسے ہی ہیں اور مغرب میں بھی؛ چنانچہ ایران امریکہ تنازعے کا فی الفور حل عالمی مفاد کا تقاضا بن چکا ہے۔ جنگ بندی کا وقفہ غنیمت ہے مگر کوشش یہ ہونی چاہیے کہ جہاں تک ہو سکے جلد از جلد فریقین اس بحران کو سمیٹیں تا کہ عالمی معیشت کی جان میں جان آئے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>امن کی بحالی(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-03/11158</link><pubDate>Sun, 03 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-03/11158</guid><description>پاکستان میں گزشتہ کچھ برسوں سے دہشت گردی کی جو لہر اٹھی تھی‘ حالیہ کچھ مہینوں کے دوران اس میں نمایاں کمی آئی ہے ۔ اپریل کے مہینے میں دہشت گرد حملے مارچ کے مقابلے میں 42 فیصد کم تھے۔ مارچ میں دہشت گردی کے 146 واقعات کے مقابلے اپریل میں یہ تعداد 85 رہی۔ اگر رواں سال کے ابتدائی دو مہینوں (جنوری‘ فروری) کا موازنہ مارچ اور اپریل سے کیا جائے تو سال کے پہلے دو ماہ قدرے پُرتشدد رہے‘ خصوصاً فروری کا مہینہ کافی خون ریز رہا‘ مگر اسی دوران سکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ مہارت اور نئی دفاعی ڈاکٹرائن جسے ’’آپریشن غضب للحق‘‘ کا نام دیا گیا‘ خاصے مؤثر ثابت ہوئے ہیں اور ان کامیاب کارروائیوں کے نتائج دہشت گردی کے واقعات میں کمی کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔

غضب للحق کے ذریعے افغانستان میں فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف مؤثر کارروائیاں کی گئیں۔ امن کی بحالی سے پاکستان کے اس دیرینہ مؤقف کی تصدیق ہوئی کہ پاکستان کو درپیش سکیورٹی خدشات کے تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں۔ دہشت گردی کے واقعات میں نصف کے قریب کمی یقینا ایک بڑی کامیابی ہے اور اس تسلسل کو برقرار رکھنے کیلئے بچے کھچے عناصر کا تعاقب بھی ضروری ہے‘ جو ابھی تک روپوش ہیں یا سرحد پار سے نئی سازشوں کے جال بُن رہے ہیں۔ جب تک فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کا مکمل صفایا نہیں ہو جاتا‘ پائیدار امن کا خواب ادھورا رہے گا۔ </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سیسے کی آلودگی‘ سنگین خطرہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-03/11157</link><pubDate>Sun, 03 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-03/11157</guid><description>یونیسیف اور وزارتِ صحت کی ایک مشترکہ رپورٹ میں ملک کے سات بڑے شہروں میں‘ ایک سے تین سال عمر کے 40 فیصد بچوں کے خون میں سیسے کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے۔ سیسہ انسانی صحت کیلئے ایک خطرناک دھات ہے‘ جس کی انسانی جسم بالخصوص بچوں کیلئے کوئی بھی مقدار محفوظ تصور نہیں کی جاتی مگر ملک کے سات شہروں میں بچوں کے خون کے تجزیوں سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ سیسہ نہ صرف ماحول کے ذریعے بچوں کے خون میں شامل ہو رہا ہے بلکہ یہ زہر ان کے اعصابی نظام پر حملہ آور ہو کر ان کی ذہنی نشوونما کو بھی متاثر کر رہا ہے۔ جب ملک کی نسلِ نو ذہنی اور جسمانی طور پر صحت مند نہیں ہو گی تو وہ فعال اور کارآمد قوم کیسے بن سکے گی۔

اس سنگین صورتحال کی سب سے بڑی وجہ صنعتی آلودگی کے پھیلاؤ سے متعلق قوانین کا غیر مؤثر ہونا ہے۔ فیکٹریاں اور کارخانے زہریلا دھواں اور فضلہ بلا روک ٹوک انسانی بستیوں اور شہری علاقوں میں خارج کر رہے ہیں جس سے سیسہ سانس کے ذریعے انسانی خون میں داخل ہو رہا ہے۔ جب تک صنعتی آلودگی پھیلانے والے عناصر کے خلاف آہنی ہاتھوں سے کارروائی نہیں کی جائے گی اور ماحولیاتی قوانین کو مؤثر طریقے سے نافذ نہیں کیا جائے گا تب تک اس زہر کے پھیلاؤ کو روکنا ناممکن ہے۔پینٹ‘ مسالوں اور کاسمیٹکس کی تیاری میں بھی سیسہ کی مقدار کو بلاتاخیر ضابطے میں لانا ہو گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>جان لڑانا پڑے گی(مجیب الرحمٰن شامی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mujeeb-ur-rehman-shami/2026-05-03/51876/36666276</link><pubDate>Sun, 03 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mujeeb-ur-rehman-shami/2026-05-03/51876/36666276</guid><description>ایران اور امریکہ کے درمیان رابطے جاری ہیں۔ پاکستان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے‘ اس کے ذریعے تجاویز کا تبادلہ ہو رہا ہے۔ تازہ ترین خبر یہ ہے کہ ایران کی طرف سے جو نئی تجاویز ارسال کی گئی تھیں‘ اُن پر صدر ٹرمپ نے اطمینان کا اظہار نہیں کیا۔ وہ تجاویز کیا ہیں اور کس نکتے پر عدم اطمینان ظاہر کیا گیا ہے‘ یہ واضح نہیں ہے۔ ایک سوال کے جواب میں وائٹ ہائوس کی ترجمان نے یہ کہہ کر بات ختم کر دی کہ اس مرحلے پر ہم تفصیل میں جانا پسند نہیں کرتے۔ جناب ٹرمپ نے امریکی کانگرس کو یہ خط بھی لکھ ڈالا ہے کہ ایران سے جنگ بندی ہو چکی۔ کہا جا رہا تھا کہ جنگ جاری رکھنے کے لیے امریکی کانگرس سے اجازت لینا پڑے گی‘ لیکن وہ اس الجھن سے یہ کہہ کر نکل آئے ہیں کہ جنگ تو بند کی جا چکی۔ الفاظ کی گولہ باری شدت سے جاری ہے۔ صدر ٹرمپ کبھی ایران سے مطالبہ کرتے ہیں کہ بس اتنا کہہ دے کہ ہم ہار گئے ہیں‘ گویا باقی باتیں سنبھال لی جائیں گی۔ کبھی ارشاد ہوتا ہے کہ ایران میں تو لیڈرشپ ہی موجود نہیں ہے۔ ایرانیوں کو خود نہیں پتا کہ انہوں نے کیا بات‘ کس سے کرنی ہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایرانی قیادت کو تہِ تیغ کیا جا چکا‘ وہاں اب ابہام ہے‘ کنفیوژن ہے‘ دھڑے ہیں‘ کوئی نظم موجود نہیں ہے۔ یہ دعویٰ بھی کیا جاتا ہے کہ ایران کی فضائی طاقت ختم ہو چکی‘ اس کی بحریہ بھی ڈبو دی گئی۔ انوکھا تجربہ ہو رہا ہے کہ بات چیت جاری ہو‘ لیکن الفاظ کے بم بھی گرائے جا رہے ہوں۔امریکی وزیر جنگ کو کانگرس میں تندو تیز سوالات کا سامنا کرنا پڑا ہے‘ صدر ٹرمپ کی مقبولیت میں بدستور کمی آ رہی ہے۔ امریکی رائے عامہ جنگ کے خلاف ہے‘ لیکن حکومتی اہلکاروں کی لفظی شعبدہ بازی جاری ہے۔ ایران بھی بدحواس نہیں ہوا۔ اس کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اپنے بیانات کے ذریعے قوم کو حوصلہ دلا رہے ہیں اور دشمن کو پچھاڑنے کے لیے پُرعزم ہیں۔ صدر ٹرمپ اور ان کے وزرا کی ایک ہی رٹ ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار نہیں بنانے دیں گے‘ جبکہ ایران اپنے قانونی حقوق اور مفادات کی حفاظت کا عزم کیے ہوئے ہے۔ جوہری بم بنانے کا نہ اُس نے پہلے کبھی ارادہ ظاہر کیا تھا‘ نہ اب کر رہا ہے۔ امریکہ کے ساتھ اس حوالے سے معاملات طے پا چکے تھے لیکن صدر اوباما کے کیے دھرے پر پریذیڈنٹ ٹرمپ نے پانی پھیر دیا۔ اپنے پچھلے دورِ صدارت میں ایران سے کیے گئے بین الاقوامی معاہدے سے پھر گئے اور اس دور میں تو باقاعدہ حملے کے مرتکب ہو گئے۔ جوہری بم بنانے کے بے سروپا الزامات لگانے کے بعد دھاوا بول دیا گیا۔ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملے کے نتیجے میں اور جو کچھ بھی ہوا ہو‘ وہ بہرحال نہیں ہوا جو حملہ آور چاہتے تھے۔ ایران کو وینزویلا نہیں بنایا جا سکا۔ اب بھی آبنائے ہرمز پر ایران قابض ہے۔ اس کی مرضی کے بغیر کوئی وہاں سے گزر نہیں سکتا۔ امریکہ نے جوابی ناکہ بندی کر رکھی ہے‘ ایران کی طرف آنے اور جانے والے جہازوں کا راستہ روکا جا رہا ہے‘ اس سے دنیا بھر کے مصائب میں اضافہ ہو گیا ہے‘ آبنائے ہرمز کی بندش نے تیل کی قیمتوں کو آسمان پر پہنچا دیا ہے۔ ہر ملک اس سے متاثر ہوا ہے اور ہر جگہ امریکہ مخالف جذبات زوروں پر ہیں۔ امریکہ اپنے نیٹو اتحادیوں کا اعتماد کھو چکا ہے۔ جرمنی سے اس نے اپنے پانچ ہزار فوجی واپس بلانے کا اعلان کر دیا ہے‘ گویا یورپ کے دفاع میں وہ اپنا کردار ختم (یا کم) کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ نتیجتاً وہ اپنے آپ کو محدود کر گزرے گا۔چین کسی مسلح تصادم میں براہِ راست شرکت پر تیار نہیں ہے۔ وہ اس محاورے سے لطف اندوز ہو رہا ہے کہ جب تمہارا دشمن غلطی کر رہا ہو تو اس کا ہاتھ نہ روکو۔ امریکہ اپنا دشمن آپ ہے۔ اپنی طاقت خود ضائع کرنے پر بضد ہے۔ پاکستان نے بڑی احتیاط اور ذہانت سے اپنا نقش جمایا ہے۔ اس نے جہاں سعودی عرب اور ایران کے درمیان معاملات بگڑنے سے بچانے میں کردار ادا کیا ہے‘ وہاں امریکہ اور ایران کے مابین بھی ایک ذمہ دار اور بااعتماد ثالث کے فرائض نبھائے ہیں۔ دونوں ملک اسے قدر کی نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی صلاحیتوں کا اعتراف کیا جا رہا ہے۔ وزیر خارجہ اسحق ڈار بھی دن رات ایک کئے ہوئے ہیں۔ ہر وہ شخص جو دنیا کو امن کا گہوارہ بنانا چاہتا ہے پاکستان اور اس کے رہنمائوں کے لیے دعاگو ہے۔ اس کی خواہش ہے کہ ثالثی مؤثر ثابت ہو امریکہ اور ایران کے درمیان نہ صرف مستقل جنگ بندی ہو بلکہ تعلقات بھی معمول پر آئیں۔اس جنگ سے پاکستانی معیشت بھی سخت دبائو میں ہے۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے‘ بجلی مہنگی ہو رہی ہے۔ بیرون ملک پاکستانیوں کی طرف سے آنے والی ترسیلاتِ زر متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ خلیجی ممالک پاکستان کے لیے زرِمبادلہ کا ایک بڑا سورس ہیں۔ وہاں مقیم پاکستانی ہر سال اربوں ڈالر کما کر اپنے وطن بھجواتے ہیں۔ کئی ماہرین معیشت پاکستان کے کرنٹ اکائونٹ میں بھاری خسارے کے خدشات ظاہر کر رہے ہیں۔ ابھی تک پاکستان نے اپنی معیشت کو سنبھالے رکھا ہے۔ پٹرول اور ڈیزل کی کمی نہیں ہو پائی لیکن مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ لازم ہے کہ پوری قوم صبر اور حوصلے کے ساتھ امتحان سے گزرے۔ داخلی محاذ پر استحکام برقرار ر کھنے کے لیے سیاسی ماحول کو سازگار بنانے کی ضرورت ہے۔ ہمارے سیاسی رہنمائوں کو سارے اختلافات پسِ پشت ڈال کر یکجا ہونا ہو گا۔ اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت تحریک انصاف اور حکومت کے درمیان ابھی تک تنائو موجود ہے۔ اعتماد سازی کی کوئی باقاعدہ کوشش سامنے نہیں آئی‘ ہمارے ذمہ داران کو معاملات حالات کے سپرد کرنے کے بجائے انہیں اپنے ہاتھ میں لینا ہو گا۔ ہمارے معاملہ سازوں کو اس کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔ پاکستان کے اندر ایسی معتبر شخصیات موجود ہیں جو فریقین کے درمیان پُل کا کردار ادا کر سکیں۔ انہیں متحرک کرنا چاہیے اور اپوزیشن کی شکایات کا ازالہ کرنے کا کوئی راستہ نکالنا چاہیے۔ خارجی محاذ پر کامیابیاں‘ داخلی محاذ پر ناکامی کی وجہ سے دھندلا بھی سکتی ہیں۔ پاکستان نے ستر کی دہائی میں امریکہ اور چین کے درمیان تعلقات بحال کرائے تھے‘ ہنری کسنجر کو اس طرح بیجنگ پہنچایا تھا کہ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہو سکی تھی۔ امریکہ اور چین کے اس مصافحے نے عالمی منظر نامہ تبدیل کر دیا لیکن پاکستان جس داخلی خلفشار میں اُلجھا ہوا تھا‘ اُسے سلجھانے کی کوئی تدبیر نہیں کی گئی۔ اُس وقت کے مقتدر اس اُمید میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہے کہ امریکہ ہمارے دشمنوں کے دانت کھٹے کر دے گا‘ لیکن جو ہوا‘ وہ سب کے سامنے ہے۔ سو باتوں کی ایک بات یہ ہے کہ کشتی کو ہوائوں کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا‘ اسے منزل پر پہنچانے کے لیے ملاحوں کو جان لڑانا پڑتی ہے۔(یہ کالم روزنامہ &#39;&#39;دنیا‘‘ اور روزنامہ &#39;&#39;پاکستان‘‘ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_37052987.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مہنگائی کے دور میں جینے کے انداز(ایاز امیر)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-05-03/51877/55282246</link><pubDate>Sun, 03 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-05-03/51877/55282246</guid><description>ہمارے بڑے سیاست اور کاروبار دونوں کرتے تھے۔ کاروبار میں آڑھت کا کام تھا اور کاروباری ذہن خوب رکھتے تھے۔ اس کے برعکس ہم مکمل نکمے ٹھہرے۔ کاروباری ذہن تو بالکل ہی نہیں رہا ‘ کوئی ہمیں چلتی ہوئی فیکٹری بھی دے دیتا تو تھوڑے ہی عرصے میں تباہی کے دہانے پر اُسے پہنچا دیتے۔ کچھ تو کتابوں نے تباہ کیا کیونکہ کتاب بینی کی وجہ سے تخیلات کی دنیا میں ہی گم رہتے۔ اور کچھ شاید قدرتی کاہلی تھی‘ کاروبار کی طرف آ نہ سکے۔ ایک عدد نوکری بھی کی لیکن وہ بھی راس نہ آئی۔ اب جب مہنگائی نے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے اور ہرمز کی گزرگاہ کا جلدی کھلنے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا‘ جس کی وجہ سے تیل کی قیمتوں نے اوپر ہی جانا ہے نیچے نہیں آنا‘ تو سوچ آتی ہے کہ مہنگائی کی وجہ سے خرچے بڑھ رہے ہیں اور آمدن وہی مسدود ہے توا یسا ہی چلتا رہا تو کریں گے کیا۔عادت سے مجبور قلم گھِسائی تو کرتے آئے ہیں کیونکہ کاہلی میں یہی کچھ راس آیا۔ آج دور البتہ قلم گھِسائی کا نہیں بلکہ یوٹیوب پر ڈالر کمانے کا ہے اور گو بہت سے خیرخواہ نصیحت کرتے آئے ہیں کہ جہاں روش یوٹیوب کی اتنی بن چکی ہے ہم بھی اُسی ڈگر پر چلنے کی کوشش کریں۔ لیکن وہی کمبخت کاہلی آڑے آتی ہے اور روز میز پر مائیک فِٹ کرنا اور سامنے کیمرے لگوانا ہم سے نہیں ہوتا۔ جو ایسا کرتے ہیں ہم اُن کی بہادری اور مستقل مزاجی پر داد ہی دے سکتے ہیں۔ ہمارے بس کی بات نہیں۔ لیکن عذر جو بھی ہو خرچے محض موجود نہیں بلکہ ہر نئے روز دیکھتے ہیں کہ بڑھ رہے ہیں۔ ایسے میں کیا کیا جائے؟ایک تو شکر ہے بے جا کی عیاشی ہمارے ذاتی نصاب میں موجود نہیں۔ مثلاً پینٹ سوٹ پہننا کب کا چھوڑ دیا اس لیے لباس کے زمرے میں اتنا خرچ نہیں ہوتا۔ شلوار قمیض کیلئے یار دوست کپڑا گفٹ کر دیتے ہیں اور اسی سے بھون روڈ کے ہمارے ٹیلر شلوار سوٹ تیار کر دیتے ہیں۔ بجلی کا علاج سولر سے ہو گیا ہے اور اُس کا جو لمبا سا بل آیا ہے وہ بس دیتے رہیں گے۔ پٹرول والا قضیہ البتہ بڑا بھاری ہے۔ ٹینکی فل کراتے ہیں تو نقد دینے کی ہمت سے گریز ہی کرتے ہیں‘ کریڈٹ کارڈ کا استعمال ہوتا ہے تاکہ دل کو فوری محسوس نہ ہو کہ کیا گزری ہے۔ کریڈٹ کارڈ کی ادائیگی آنکھیں بند کرکے مہینے بعد ہو جاتی ہے۔آزمودہ نسخہ جو سمجھ سکے ہیں یہی ہے کہ گندم کے دو تین بھڑولے گندم کٹائی کے سیزن میں بھر لیے جائیں تاکہ سال بھر گندم کے بارے میں سوچنا نہ پڑے۔ انڈے ہوں تو دیسی اور وہ باقاعدگی سے گاؤں سے آ جاتے ہیں۔ اب تو اپنے مرغے بھی رکھے ہوئے ہیں‘ ذبح کرنے کیلئے تھے لیکن درختوں کے نیچے اُن سے رونق اتنی بنتی ہے کہ چھری پھیرنے کا سوچا نہیں جاتا۔ باہر کے کھیت کے اب وہی مرغے مرغیاں مالک ہیں اور آگے سے اُن کے بچے بھی ہو رہے ہیں‘ یعنی تعداد بڑھ رہی ہے اور تھوڑے انڈے بھی آ جاتے ہیں۔ باقی ضرورت آس پاس سے پوری ہو جاتی ہے۔ ایک کام نہیں کر سکے اور وہ ہے دودھ کا انتظام اور بھینسوں کا رکھنا۔ ہمارا گاؤں بھگوال چکوال سے تھوڑا فاصلے پر ہے‘ بھینسیں رکھیں تو بھگوال میں رکھنی پڑیں اور اگر روز خود نگرانی نہ ہو سکے تو کام نہیں چلے گا۔ محترم شیخ رشید احمد کا لافانی قول بھی یاد آتا ہے کہ دودھ مل جائے تو بھینس آدمی کیوں رکھے۔ دودھ ٹھیک مل ہی جاتا ہے لہٰذا بھینس رکھنے کے خرچے سے ہم بچے۔اور ہماری کیا ضرورت ہے؟ ہاں شبِ غم کا المیہ تو رہتا ہے اور اُس کا کچھ نہ کریں تو یوں سمجھئے زندگی اجیرن ہو جائے۔ اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ زندگی کی بہت سی چیزوں میں بدقسمت رہے لیکن ایک اس چیز میں قسمت نے ساتھ دیا ہے اور شبِ غم کے معاملات کچھ باہر بیٹھے دوستوں کی وجہ سے اور کچھ اپنی جیب پر دست درازی کرتے ہوئے کام چل ہی جاتا ہے۔ سال کے دانے بھڑولوں میں ہوں چاندنی راتوں میں دل پر جو گزرتی ہے اُس کا بھی کچھ مداوا ہو جائے تو اور کیا رہ جاتا ہے۔ ہاں‘ الفت کی راہیں رہ جاتی ہیں لیکن مولا کے رنگ مہربان ہیں اور چکوال بیٹھے ہوئے اب لاہور کی رنگینیوں کی طرف جانے کا زیادہ جی نہیں کرتا۔ زمانۂ ٹیلی ویژن میں لاہور جانا پڑتا تھا اور وہیں دو تین روز قیام ہوتا تھا لیکن اب سفر طویل لگتا ہے اور چکوال کی آب وہوا ہی من کو زیادہ بھاتی ہے۔ بس انسان خوش رہے اور جو آس پاس کے حالات ہیں اُنہی پر قناعت کرنے کا ڈھنگ سیکھے۔اپنی کمائی سے خریدی ہوئی زمین زیادہ نہیں‘ جاگیرداری کے زمرے میں تو ہم کبھی آتے نہ تھے‘ لیکن پھر بھی اتنی ہے کہ تھوڑی سی لگن اور محنت سے اُس پر بہت کچھ ہو سکتا ہے۔ اپنی سبزیاں‘ اپنے فروٹ کے پیڑ‘ گائے بھینسیں‘ کچھ بھیڑ بکریاں‘یعنی رونق لگی رہے‘ لیکن مذاقاً نہیں سچ مچ کہہ رہے ہیں کہ کاہل ہیں۔ کامیاب زمینداری کیلئے زمین پر موجود ہونا ضروری ہوتا ہے۔ فارمنگ ایسی چیز نہیں کہ آپ بیٹھے دور ہوں اور پیچھے سے سب کچھ ٹھیک ہوتا رہے۔ مرحوم نواب کالا باغ کہتے تھے کہ سب سے بہتر کھاد زمین پر مالک کا قدم ہوتا ہے۔ لیکن نہیں‘ صبح ہماری کافی اور اخبار بینی اور یوٹیوب پر خبروں کی جانچ کرنے میں گزر جاتی ہے۔ یہی وقت ہوتا ہے زمین پر توجہ دینے کا لیکن کچھ پڑھ لیا‘ کچھ ورزش کی اور اُس کے بعد دیسی گھی کے پراٹھے کا چسکا کرنا ہو تو تھوڑے سے قیلولہ کی ضرورت پڑ جاتی ہے۔ اُٹھے تو ایک کپ کافی‘ چکوال میں ہوئے تو پھر تھوڑی سی مزید پڑھائی اور اُس کے بعد شب کے سائے آن ڈھلتے ہیں اور من کہیں اور چلے جانے کی سوچ میں ڈوبنے لگتا ہے۔ ہم جیسوں سے پھر خاک فارمنگ ہونی ہے۔سچ پوچھئے یہ عذر بنتا نہیں۔ معمارِ ماڈرن جرمنی اوٹو وان بسمارک سے زیادہ مصروف انسان کون ہو سکتا تھا۔ پیدائشی جاگیردار تھا اور ریاستی خدمات کے عوض مزید بڑی جاگیر عطا کی گئی‘ 17‘ 18 ہزار ایکڑ پر محیط۔ دارالحکومت برلن میں رہنا پسند نہیں کرتا تھا۔ کوئی موقع ہاتھ آیا تو زمینوں پر چلا جاتا۔ ریاست کے معاملات زیر نظر ہوتے اور جاگیر کے معاملات بھی چل رہے ہوتے۔ شاموں کو بھرپور طریقے سے شبِ غم کا مداوا ہوتا۔ جرمنی کا چانسلر وہ کچھ کر سکتا تھا تو ہم کون سے چانسلر اور کون سے جاگیردار کہ کچھ نہ کرنے کے عذر پیش کریں۔ بس وہی بات ہے کہ کاہلی آڑے آ جاتی ہے نہیں تو تاریخِ یورپ اور تاریخِ امریکہ پڑھیں تو عیاں ہوتا ہے کہ کتنے ہی بڑے سیاستدان اور مدبر تھے جن کا پیشہ زمینداری تھا۔ریاست ہائے متحدہ میں سو‘ دو سو سال پرانا گھر کوئی عجوبہ نہیں سمجھا جاتا۔ برطانیہ میں اس سے بھی زیادہ پرانے گھر اور قلعے اب تک آباد ہیں۔ ہمارے ہاں ایسا تاریخی تسلسل رہا نہیں۔ بادشاہتیں تھیں تو کچھ عرصہ بعد چلی گئیں۔ یورپ میں جس تسلسل سے بادشاہتوں کی کوکھ سے ماڈرن ریاستوں نے جنم لیا اُس تاریخی عمل سے ہم محروم رہے۔ یہی وجہ تھی کہ اغیار سے لوگ آئے اور اپنی فتوحات کی بنا پر یہاں کے حاکم بن گئے اور ایسے حاکم کہ اُن کی حاکمیت کے گہرے اثرات ہمارے معاشروں کا دائمی حصہ بن گئے ۔ کھیت کھلیان ہوں اور بیچ میں چھوٹا سا ٹھکانہ کہ شام کے سائے اتریں اور کوئی کتاب کھلے اور گزری بادشاہتوں کے مناظر سامنے سے گزریں۔ انسان کو اور کیا چاہیے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_80573045.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>اسلام آباد برباد ہو رہا ہے یا آباد؟(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-05-03/51878/11912875</link><pubDate>Sun, 03 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-05-03/51878/11912875</guid><description>جو بھی اسلام آباد پر حکمرانی کرنے آیا وہ اس شہر کو پہلے سے زیادہ خراب حالت میں چھوڑ کر گیا۔ اکثر وزرائے اعظم کا تعلق لاہور‘ ملتان یا سندھ اور بلوچستان سے رہا۔ اگرچہ میری یادداشت کے مطابق دو وزیراعظم اسی علاقے سے بھی بنے مگر حادثاتی طور پر۔ جب تک وہ خود کو یقین دلاتے کہ وہ وزیراعظم ہیں اتنی دیر میں ان کا وقت پورا ہو گیا۔ 2012ء میں یوسف رضا گیلانی سپریم کورٹ سے نااہل قرار پائے تو راجہ پرویز اشرف کو تقریباً سوا سال کیلئے وزیراعظم بنایا گیا۔ وہ ابھی خود کو یقین دلا ہی رہے تھے کہ میں اس ملک کا وزیراعظم ہوں کہ ان کا وقت ختم ہوگیا۔ نواز شریف 2017ء میں نااہل ہوئے تو شاہد خاقان عباسی کو وزیراعظم بنایا گیا‘ ایک سال بعد ان کی مدت بھی ختم ہو گئی۔ اگرچہ دونوں کا تعلق اسلام آباد ضلع سے نہ تھا لیکن وہ اردگرد کے علاقوں سے تھے۔ راجہ پرویز اشرف کا تعلق گوجر خان اور شاہد خاقان عباسی مری سے تھے۔مگر دونوں کو اسلام آباد پر توجہ دینے کا وقت نہیں ملا ‘ وہ نجی معاملات میں مصروف رہے۔ اگرچہ شاہد خاقان عباسی کے کریڈٹ پر اسلام آباد کا ایک کام ضرور ہے‘ جو بیان کرنا چاہیے۔ جب عمران خان نے 2014ء میں دھرنا دیا تو حکومت کیلئے کافی مسائل پیدا ہوئے۔ 126 دن تک وہ ڈی چوک؍ اولڈ پریڈ گرائونڈ میں بیٹھے رہے۔ حکومت کو احساس ہوا کہ ڈی چوک میں آنے کی اجازت دے کر بڑی غلطی کی تھی۔ پیپلز پارٹی دور میں ڈاکٹر طاہرالقادری دھرنا لے کر اسی گرائونڈ میں بیٹھے تھے۔ اس کے بعد سے جلسے جلوس یہیں ہونا شروع ہو گئے اور رہی سہی کسر عمران خان کے دھرنے نے پوری کر دی۔ نواز شریف حکومت نے عمران خان کا دھرنا ختم ہوتے ہی پورے ڈی چوک کو کھود ڈالا‘ بلکہ یوں کہیں کہ پارلیمنٹ چوک سے ڈی چوک تک پوری سڑک کھڈوں میں بدل دی تاکہ آئندہ یہاں کوئی پہنچ نہ سکے اور اگر پہنچ جائے تو بیٹھنے کی جگہ نہ ملے۔ یوں یہ پورا منظر جو کبھی بہت خوبصورت ہوا کرتا تھا‘بھدا اور بدنما ہو گیا ۔ سڑک بند کر دی گئی۔ مگر شاہد خاقان عباسی نے وزیراعظم بنتے ہی پہلا حکم دیا کہ فوری طور پر اس سڑک کو بحال کیا جائے اور اسے دوبارہ خوبصورت بنایا جائے۔ چند ہی دنوں بعد اس سڑک کی خوبصورتی بحال ہو گئی ۔یہ اُن کی وزارتِ عظمیٰ کا واحد اچھا کام ہے جو مجھے یاد ہے۔ یا پھر دوسرا کام یہ تھا کہ وہ وزیراعظم تو بن گئے لیکن انہیں وزیراعظم ہائوس میں رہنا نصیب نہیں ہوا۔ وہ ایف 8 سیکٹر میں اپنے گھر میں ہی رہائش پذیر رہے۔ اس کی دو وجوہات بتائی جاتی ہیں‘ ایک یہ کہ وہ سادہ مزاج ہیں اور انہیں علم تھا کہ سال بعد ویسے بھی اپنے گھر لوٹ جانا ہے تو اس ایک سال کیلئے وزیراعظم ہائوس میں رہ کر کیا کرنا ہے۔ دوسری وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ مریم نواز صاحبہ اُن دنوں وزیراعظم ہائوس سے میڈیا سیل کی نگرانی کرتی تھیں‘ اور شاید اس حق میں نہیں تھیں کہ ان کے والد صاحب کے جانے کے بعد انہیں آفس چلانے میں دقت ہو۔  تیسری وجہ کچھ حاسد یہ بتاتے تھے کہ شریف خاندان نے مجبوراً شاہد خاقان عباسی کو وزیراعظم تو بنا دیا لیکن وہ نہیں چاہتے تھے کہ وہ وزیراعظم ہائوس میں رہ کر خود کو واقعی وزیراعظم سمجھنا شروع کر دیں‘ جیسے محمد خان جونیجو کے بارے کہا جاتا ہے کہ جنرل ضیا نے انہیں مسکین سمجھ کر وزیراعظم بنوایا اور وہ ان کے سر کا درد بن گئے‘ جس سے چھٹکارا پاتے ہی وہ خود بھی اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ چاہے وجوہات کچھ بھی ہوں‘ شاہد خاقان عباسی بہرحال مریم نواز صاحبہ سے ناراض رہے کہ وہ ان کے ماتحت کام نہیں کریں گے۔ یہی اعتراض چودھری نثار علی خاں کو بھی تھا کہ مریم نوازکو اپنا سیاسی باس بنانا آسان نہیں ہو گا۔ چودھری نثار علی سے تمام تر اختلافات کے باوجود ان کی اس بات کی داد دینا ہو گی کہ انہوں نے سیاسی کیریئر تباہ کر لیا لیکن یس باس نہیں کہا اور گھر چلے گئے۔ چودھری نثار جیسے لوگوں کو پارلیمنٹ میں ہونا چاہیے تھا‘ ان کی غصے بھری تقریریں میں مِس کرتا ہوں۔اسی طرح راجہ پرویز اشرف بھی گوجر خان سے باہر نہ نکلے۔ ان کے بھائی راجہ جاوید اشرف ہی وزیراعظم بنے رہے ‘اور بہت سی باتین ان کے بارے مشہور رہیں۔ اب میں سمجھتا ہوں کہ راجہ پرویز اشرف اور شاہد خاقان عباسی کو یا تو وقت کم ملا یا ان کی توجہ سی ڈی اے پر نہیں گئی لہٰذا اسلام آباد اُن کے ادوار میں بڑی حد تک اکھاڑ پچھاڑ سے محفوظ رہا۔ اگرچہ نواز شریف دور میں میٹرو بس کے نام پر شہر میں سریا سیمنٹ ڈالا گیا اور اس کی شکل بہت تبدیل کی گئی لیکن اب بھی شہر اُس صورتحال سے بچا ہوا تھا جو اَب پچھلے دو سالوں میں نظر آنے لگی ہے۔ پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ سی ڈی اے‘ جو پہلے کابینہ ڈویژن کے ماتحت تھا‘ اسے وزارتِ داخلہ کے ماتحت کر دیا جائے۔ یوں وفاقی وزیر داخلہ جس کے ذمے ملک کی سکیورٹی‘ انٹیلی جنس اداروں اور دیگر سسٹم کی مانیٹرنگ اور کنٹرول تھا‘ وہ سی ڈی اے کے معاملات کو بھی دیکھنے لگا۔ 2019ء کے بعد ہر وزیر داخلہ ڈی ایم جی افسروں کو چیئرمین بنا کر اور باقی کو ڈیپوٹیشن پر لے آتا‘ اور اس کیلئے تگڑی سفارشیں چلتیں کیونکہ سی ڈی اے میں آ کر افسر چار پانچ کروڑ روپے کے پلاٹ کا مستحق ہو جاتا ۔ اگر اس سے پیچھے جائیں تو مشرف دور میں فیصل صالح حیات جب وزیر داخلہ تھے تو سی ڈی اے اُن کے ماتحت تھا اور ڈیپوٹیشن پر افسران دھڑا دھڑ سی ڈی اے لائے جا رہے تھے۔ ایک دن اُن افسروں نے آئی ایٹ میں واقع پرانے جی ٹی ایس بس اڈے کو گرا کر اسے پلاٹوں میں تبدیل کیا اور افسران کو الاٹ کر دیے۔ اکثر نے کروڑوں کے وہ پلاٹ بیچے اور نئے شکار کی تلاش میں نکل پڑے۔ پھر سی ڈی اے کابینہ ڈویژن کے پاس چلا گیا۔اسلام آباد چھوٹا سا شہر ہے‘ جہاں اس وقت 12 ہزار ملازمین صرف سی ڈی اے میں جاب کرتے ہیں۔ باقی افسران آتے جاتے دیہاڑیاں لگا جاتے ہیں۔ شہر گند سے گندگی میں بدلتا چلا گیا۔ ہر چیئرمین ہر سال تیس‘ چالیس ارب کے پلاٹ بیچ کر تنخواہیں اور مراعات پر خرچ کر دیتا ہے۔ ہزاروں درخت‘ جنگل اور گرین بیلٹس کٹتی رہتی ہیں اور ماحول تباہ ہوتا رہتا ہے۔ محسن نقوی صاحب کے دور میں سابق کمشنر لاہور محمد علی رندھاوا کو چیئرمین سی ڈی اے لگا یا گیا۔ ان کے دور میں پچھلے سال جولائی تا دسمبر‘ چالیس ارب کے پلاٹ فروخت کئے گئے‘ چالیس ہزار درخت کاٹے گئے‘ کئی کلومیٹر کے جنگل صاف کئے گئے اور جاتے جاتے وہ ڈی چوک سے ایوب چوک تک مزید درختوں کی بربادی کی منظوری دے گئے۔ اس دو سالہ کارکردگی کا نتیجہ ابھی چند دن پہلے اُس وقت سامنے آیا جب وزیر داخلہ محسن نقوی نے خود کہا کہ اگر مجھے سی ڈی اے میں کوئی کام کروانا ہو تو مجھے بھی دس لاکھ روپے دینے پڑیں گے تو کام ٹھیک ہو گا۔ کوئی جواب طلبی یا ذمہ داری قبول کرنے کا فیصلہ‘ کچھ نہیں۔ اب انہوں نے بری امام کے پاس ہزاروں لوگوں کے گھر گرا کر کہا ہے کہ یہاں نیویارک اور شنگھائی جیسی عمارتیں بنیں گی۔ پورا شہر سراپا احتجاج ہے لیکن ذمہ داروں کو کسی کی پروا نہیں۔ بری امام کے نواحی علاقوں کی ایک عورت کی وڈیو دیکھی جو اپنے گھر کے ملبے پر کھڑی رو رہی تھی کہ وہ صبح دوسروں کے گھر کام کرنے گئی‘ شام کو لوٹی تو بچے گھر کے ملبے پر بیٹھے تھے۔ دوسری طرف کانسٹیٹیوشن ایونیو بلڈنگ کو غیر قانونی قرار دیا گیا‘ جب پولیس پہنچی تو چند گھنٹوں میں شہباز شریف میں رحمدلی جاگ گئی کیونکہ بہت سارے پیاروں کے مہنگے فلیٹس وہاں ہیں اور آپریشن روک دیا گیا۔ بس یہی فرق ہے امیر اور غریب میں۔ اور یہی خوبصورتی ہے ہماری۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>آبنائے ہرمز: سٹرٹیجک کردار تاریخی تناظر میں(ڈاکٹر رشید احمد خاں)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr-rasheed-ahmad-khan/2026-05-03/51879/32171961</link><pubDate>Sun, 03 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr-rasheed-ahmad-khan/2026-05-03/51879/32171961</guid><description> تقریباً دو ماہ سے مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے دوران ایران کے جوہری پروگرام کے بعد سب سے زیادہ آبنائے ہرمز (خلیج فارس کو بحیرہ عرب سے ملانے والی آبی راہداری) کا ذکر ہو رہا ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ دنیا کے استعمال میں آنے والے تیل کی کُل مقدار کا تقریباً 21 فیصد اور ایل این جی کا 20 فیصد خلیج فارس کی اس تنگ آبی گزرگاہ سے مختلف ممالک میں پہنچتا ہے۔ ان ممالک میں چین‘ جاپان اور بھارت بھی شامل ہیں‘ جو دنیا کی پانچ بڑی معیشتوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان ممالک کی صنعتی اور معاشی ترقی کا انحصار بہت حد تک آبنائے ہرمز کے راستے درآمد کی جانے والی توانائی پر ہے مگر آبنائے ہرمز کے بند ہونے اور امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے سبب نہ صرف ان ممالک بلکہ خلیج فارس اور مشرق وسطیٰ سے تیل اور گیس درآمد کرنے والے دیگر ملکوں کی معیشت بھی بُری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ اس کے علاوہ دیگر اشیا مثلاً اناج‘ کھاد‘ مشینری اور ادویات وغیرہ کی تجارت میں بھی رخنہ اندازی ہو رہی ہے۔ اس وجہ سے آبنائے ہرمز کی عالمی اہمیت اور اس کے بند ہونے سے پیدا ہونے والے اثرات پر ہر حلقے میں تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں تیل تو 1908ء میں دریافت ہوا تھا مگر آبنائے ہرمز زمانہ قبل از مسیح سے نہ صرف علاقائی بلکہ اُس وقت کی دنیا کے معاملات خصوصاً تجارت میں اہم کردار ادا کرتی آئی ہے۔ آج کے کالم میں اس قدیم آبی گزرگاہ کے تاریخی اور جیو سٹرٹیجک تناظر میں اس کی بدلتی ہوئی اہمیت اور کردار کے بارے میں معروضات پیش کی جائیں گی۔آبنائے ہرمز کا نام خلیج فارس میں ایرانی ساحل پر واقع بندرگاہ‘ بندر عباس سے آٹھ کلومیٹر دور جزیرے ہرمز کی نسبت سے مشہور ہے۔ ماضی میں یہ تمام علاقہ قدیم سلطنت فارس کا حصہ تھا۔ اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس جزیرے کا نام قدیمی فارسی سلطنت کے مذہبی رہنما زرتشت کے کئی ناموں میں سے ایک (ہرمزد) کی نسبت سے رکھا گیا ۔ جزیرہ ہرمز اُس زمانے میں خلیج فارس کے راستے ہندوستان‘ مشرق وسطیٰ اور اس سے آگے یورپ اور افریقہ کے درمیان مختلف اشیا خصوصاً مسالہ جات پر مشتمل تجارت کا مرکز تھا‘ کیونکہ یہ آبنائے ہرمز کے عین دہانے پر واقع ہے۔ اس لیے اُس دور میں مختلف قومیں ہرمز اور اس کے ارد گرد سمندروں میں اپنی بحری موجودگی اور اثرو نفوذ قائم کرنے کی جدوجہد کرتی رہتی تھیں۔ ان میں قدیم مصر‘ سلطنت روم‘ عرب اور سلطنتِ عثمانیہ بھی شامل رہیں۔ 1453ء میں جب ترکوں نے قسطنطنیہ پر قبضہ کر کے جبرالٹر تک بحرِ روم پر اپنا غلبہ قائم کرلیا تو یورپی ملکوں نے مشرق اور مغرب کے مابین منافع بخش تجارت کو بحال رکھنے کیلئے ہندوستان کیلئے متبادل بحری راستہ تلاش کرنے کی کوششیں شروع کر دیں۔ ان کوششوں کے نتیجے میں کولمبس نے مغرب کی طرف سفر کرتے ہوئے 1492ء میں امریکہ دریافت کر لیا اور پرتگال کا ایک ملاح واسکوڈے گاما 1498ء میں ہندوستان کے مغربی ساحل پر موجود بمبئی کے نزدیک ایک مقام کالی کٹ تک پہنچ گیا۔ یوں پرتگیزی سمندر کے راستے ہندوستان پہنچنے والی پہلی یورپی قوم بن گئے۔ جب پرتگیزی بحرِ ہند کے اس شمال مغربی حصے میں پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ نہ صرف بحیرہ عرب اور خلیج فارس (آبنائے ہرمز) بلکہ یمن اور افریقہ کے درمیان سے گزرنے اور بحیرہ احمر اور بحر ہند کو ملانے والی تنگ آبی پٹی باب المندب کے راستے بھی بحری تجارت زوروں پر ہے۔ ہندوستان بلکہ جنوب مشرقی ایشیا اور چین سے تجارتی سامان آبنائے ہرمز اور باب المندب کے راستے بحیرہ روم کے مشرقی ساحل پر واقع بندرگاہوں تک پہنچایا جاتا تھا جہاں سے یورپی تاجر سامان چھوٹے جہازوں اور کشتیوں میں لاد کر یورپ کے مغربی ساحل پر واقع منڈیوں تک لے جاتے تھے۔ اس تجارت کی دو خصوصیات تھیں: ایک یہ کہ یہ پُرامن اور آزاد تجارت تھی۔ اگرچہ اس میں ایرانی‘ عرب‘ ترک اور مصری جہاز بھی شامل تھے مگر کسی قوم کی طرف سے بحر ہند کی منافع بخش تجارت پر اجارہ داری کی کوشش نظر نہیں آتی تھی۔ دوسری‘ یہ خالصتاً تجارتی جہاز تھے‘ ان میں اسلحہ یا مسلح افراد سوار نہیں ہوتے تھے۔سولہویں صدی کے آغاز میں پرتگیزی اپنے ساتھ مسلح جہاز لے کر آئے۔ ان کا مقصد نہ صرف بحر ہند کی تجارت پر اپنی اجارہ داری قائم کرنا تھا بلکہ وہ خلیج بنگال سے خلیج فارس تک اپنی سلطنت قائم کرنا تھا۔ چنانچہ انہوں نے آتے ہی بحر ہند میں تجارتی جہازوں پر حملے شروع کر دیے۔ چونکہ یہ جہاز غیر مسلح ہوا کرتے تھے اور بحر ہند میں بحری مسابقت کی کوئی روایت نہیں تھی‘ اس لیے پرتگیزی بہت جلد بحر ہند کی اس تجارت پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ اپنے اس قبضے کو مستحکم کرنے اور ایک ایمپائر کی مضبوط بنیاد رکھنے کیلئے پرتگیزیوں نے اپنے مشہور امیر البحر الفانسو ڈی البوقرق کی سرکردگی میں پہلے سوکوترا (Socotra) اور پھرہرمز کے جزیرے پر یکے بعد دیگرے 1507ء میں قبضہ کر لیا۔ جزیرہ سوکوترا یمن کے جنوب اور صومالیہ کے مشرق میں 380 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس کے ذریعے پرتگیزیوں کو باب المندب کے راستے بحر ہند اور بحر احمر کی تجارت پر کنٹرول حاصل کرنے میں مدد ملی۔ آج کل یہ جزیرہ یمن کا حصہ ہے اور یمن نے اس پر ایک ہوائی اور ایک بحری اڈا تعمیر کر رکھا ہے۔ ہرمز پر قبضے سے پرتگیزیوں کو بحیرہ عرب اور خلیج فارس کی منافع بخش تجارت کو اپنے ہاتھ میں لینے میں کامیابی ملی۔ بحر ہند کی تجارت پر اجارہ داری قائم کرنے اور اس پورے خطے کو اپنے کنٹرول میں لانے کیلئے پرتگیزیوں نے ہرمز کے بعد بحر ہند کے عین وسط میں واقع سیلون (موجودہ سری لنکا)‘ خلیج بنگال کے جنوب مشرق میں ساؤتھ چائنا سی کو بحر ہند سے ملانے والی آبی گزرگاہ آبنائے ملاکا پر قبضہ کر لیا۔ مگر ان سب میں زیادہ اہمیت جزیرہ ہرمز ہی کو حاصل تھی کیونکہ اُس زمانے میں بحر ہند کا یہ خطہ ہندوستان اور مشرق وسطیٰ کے مابین تجارتی سرگرمیوں کا سب سے بڑا مرکز تھا۔ پرتگیزیوں نے یہاں ایک قلعہ تعمیر کر رکھا تھا‘ جس کے آثار آج بھی باقی ہیں۔ پرتگیزیوں کی بحر ہند میں ایمپائر زیادہ دیر تک قائم نہ رہ سکی کیونکہ یورپ کی دیگر قومیں مثلاً ولندیزی‘ انگریزی اور فرانسیسی بھی بحر ہند کی تجارت سے فائدہ اٹھانے کیلئے میدان میں کود پڑیں۔ پرتگیزیوں کو سب سے زیادہ نقصان ولندیزیوں کے ہاتھوں پہنچا‘ جنہوں نے آبنائے ملاکا (1641ء) اور اُس کے بعد سیلون (1658ء) ان سے چھین لیا۔ لیکن سب سے کاری ضرب 1622ء میں انہیں پہنچ چکی تھی جب ایران اور برطانیہ نے ایک مشترکہ کارروائی میں جزیرہ ہرمز پر قبضہ کر لیا ۔ انگریزوں نے جزیرہ ہرمز کے بجائے باب المندب کے کنارے پر واقع عدن کے مقام پر ایک مضبوط بحری اڈہ قائم کیا‘ کیونکہ برطانیہ کی دفاعی پالیسی کا فوکس ہندوستان‘ برما اور ملایا کی نوآبادیاتی مقبوضات کا تحفظ تھا اور اس کیلئے وہ مصر میں بیٹھ کر بحر احمر کے راستے زیادہ مؤثر کارروائی کر سکتا تھا۔ 1869ء میں نہر سویز کھلنے سے عدن کی اہمیت میں مزید اضافہ ہوا۔ تاہم اُس زمانے میں سوویت روس کی وسطی ایشیا میں پیش قدمی سے برطانیہ نے ہندوستان کو ممکنہ روسی خطرے سے محفوظ کرنے کیلئے برٹش انڈیا حکومت کے ذریعے خلیج فارس کی ریاستوں کو ایسے دوطرفہ معاہدوں پر مجبور کر دیا جن کے تحت برطانیہ کی رضامندی اور اجازت کے بغیر وہ کسی اور ملک کے ساتھ تعلقات قائم نہیں کر سکتے تھے۔ اُس وقت جزیرہ نما عرب سلطنتِ عثمانیہ کا حصہ تھا‘ اس لیے ترکوں کے ساتھ کشیدگی اور روس کے ممکنہ ردعمل سے بچنے کیلئے برطانیہ نے خلیج فارس کی ان ریاستوں پر براہ راست نوآبادیاتی قبضے سے گریز کیا مگر دوطرفہ معاہدوں کے ذریعے اور غیر رسمی طریقے سے برطانیہ کو ان کی دفاعی اور خارجہ پالیسیوں پر مکمل کنٹرول حاصل ہو گیا۔ یہ کنٹرول 1971ء تک جاری رہا‘ جب برطانیہ نے نہر سویز کے مشرق میں واقع فوجی اڈوں کو خالی کرنے اور خلیج فارس کی ریاستوں کو مکمل آزادی دینے کے اعلان پر عملدرآمد شروع کیا۔ (جاری)</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90264263.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>آبنائے ملاکا، امریکہ چین کشمکش کا محاذ(محمد عبداللہ حمید گل)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-abdullah-hameed-gull/2026-05-03/51880/23494581</link><pubDate>Sun, 03 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-abdullah-hameed-gull/2026-05-03/51880/23494581</guid><description>دنیا ایک بار پھر نئی سرد جنگ کے دور میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے مگر اس بار مقابلہ نظریات کا نہیں معیشت اور سمندری گزرگاہوں پر کنٹرول کا ہے۔ امریکہ اور چین کے مابین جاری کشمکش اب کھلے میدانوں سے نکل کر ان تنگ آبی گزرگاہوں تک پہنچ چکی ہے جن سے عالمی معیشت کی سانسیں جڑی ہوئی ہیں۔ یہ ایک نئی قسم کی جنگ ہے۔ خاموش‘ پیچیدہ اور انتہائی خطرناک۔تاریخی طور پر دیکھا جائے تو امریکہ طویل عرصہ تک دنیا کی سب سے بڑی معاشی طاقت رہا۔ 19ویں صدی کے اختتام پر اس نے برطانیہ کو پیچھے چھوڑ کر عالمی معیشت کی قیادت سنبھالی‘ دوسری عالمی جنگ کے بعد تو اس کی صنعتی برتری اس حد تک تھی کہ 1960ء کی دہائی میں دنیا کی کُل صنعتی پیداوار کا تقریباً 36 فیصد امریکہ کے حصے میں آتا تھا‘ مگر اب امریکہ صنعتی اور معاشی زوال کی جانب رواں دواں ہے۔ اس وقت امریکہ کا معاشی حجم 31 ہزار 821 ارب ڈالر ہے جبکہ چین کی اکانومی کا حجم 20 ہزار 651 ارب ڈالر۔ مذکورہ اعداد وشمار سے امریکہ بظاہر چین سے آ گے دکھائی دیتا ہے مگر اصل مقابلہ سالانہ ترقی کا ہے‘ جس میں چین امریکہ سے آگے ہے۔ سالانہ ترقی کی شرح کے لحاظ سے صرف 2025ء میں چینی ترقی کی شرح پانچ فیصد رہی اور امریکہ کی ترقی کی شرح 2.2 فیصد۔ یعنی 2030ء تک چین دنیا کی سب سے بڑی معیشت بن کر ابھرے گا۔ امریکہ سمجھ چکا ہے کہ وہ اب معاشی میدان چین کا مقابلہ نہیں کر سکتا‘ اس لیے اب ہدف یہ نہیں کہ چین سے آگے نکلا جائے بلکہ یہ ہے کہ چین کی رفتار کو سست کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے جو طریقہ اپنایا جا رہا ہے وہ براہ راست جنگ نہیں بلکہ سپلائی لائنز کو نشانہ بنانا ہے‘ یعنی ایسی حکمت عملی جس کے ذریعے چین کی معاشی شہ رگوں پر دباؤ ڈالا جا سکے۔ یہی وہ پس منظر ہے جس میں حالیہ ہرمز کشیدگی سے واشنگٹن کے پالیسی سازوں کو ایک اہم سبق ملا ہے۔جب ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکی دی تو دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل خطرے میں پڑ گئی۔ تیل کی قیمتیں فوری بڑھ گئیں اور عالمی منڈیاں ہل کر رہ گئیں۔ یہ واقعہ محض ایک علاقائی کشیدگی نہیں تھا بلکہ امریکہ کیلئے ایک لیبارٹری ثابت ہوا کہ جب امریکہ نے دیکھا کہ کس طرح ایک تنگ سمندری راستے کو کنٹرول کر کے پوری عالمی معیشت کو یرغمال بنایا جا سکتا ہے۔ اور یہ کہ کسی ملک کو شکست دینے کے لیے ہمیشہ جنگ ضروری نہیں‘ بس اس کی سپلائی لائن کاٹ دو۔ لہٰذا یہی تصور اب چین کے خلاف ایک ممکنہ حکمت عملی کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔اگر ہرمز ایک تجربہ تھا تو آبنائے ملاکا اصل ہدف بنتی جا رہی ہے۔ یہ تقریباً 900 کلومیٹر طویل سمندری گزرگاہ بحرِ ہند کو جنوبی بحیرہ چین سے ملاتی ہے اور عالمی تجارت کی سب سے مصروف شاہراہوں میں سے ایک ہے۔ چین کے لیے اس کی اہمیت غیر معمولی ہے۔ اس کی 80 فیصد سے زیادہ تیل کی درآمدات اور تقریباً 90 فیصد سمندری تجارت اسی راستے سے گزرتی ہے۔ اور یہی انحصار سٹرٹیجک حلقوں میں Malacca dilemma کہلاتا ہے‘جو چین کی کمزوری نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کے درمیان جاری سٹرٹیجک کھیل کو بے نقاب کرتی ہے۔ Malacca dilemma کی اصطلاح پہلی بار چین کے سابق صدر ہوجن تاؤ نے 2003ء میں متعارف کرائی تھی۔امریکہ اس حقیقت سے پوری طرح آگاہ ہے کہ وہ صنعتی اور معاشی میدان میں چین کا مقابلہ نہیں کر سکتا‘ اس لیے اب وہ خاموشی سے اس خطے میں اپنی پوزیشن مضبوط کر رہا ہے‘ اور امریکہ اب ایک مکمل بحری ناکہ بندی کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے جس کا حتمی ہدف چین کو سمندر میں گھیرنا ہے‘ جس کے تحت امریکہ کا انڈونیشیا کے ساتھ دفاعی تعاون‘2024-25ء کی مشترکہ فوجی مشقیں بالخصوص Garuda Shield جیسی مشقیں اہم ہیں۔ اس مقصد کیلئے خطے کے دیگر ممالک سے فضائی راستوں کی مانگ سمیت سکیورٹی روابط اسی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ ملائیشیا اور سنگاپور جیسے ممالک کے ساتھ انٹیلی جنس شیئرنگ ‘بحری نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ واشنگٹن براہ راست قبضے کے بجائے ایک ایسا نیٹ ورک بنا رہا ہے جس کے ذریعے وہ اس اہم گزرگاہ پر اثر انداز ہو سکے۔ چین کے لیے یہ صورتحال واضح خطرہ ہے۔ بیجنگ کیلئے چار ہائی رسک زون میں آبنائے ہرمز‘ آبنائے ملاکا‘ آبنائے تائیوان اور بحیرہ جنوبی چین شامل ہیں۔ ایسا نہیں کہ چین اس سے بے خبر ہے‘ اس نے بھی اس گھیراؤ یعنی Malacca dilemma کو توڑنے کے لیے جامع حکمت عملی اپنائی ہے۔بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے تحت زمینی راستوں کو فروغ دیا جا رہا ہے تاکہ سمندر پر انحصار کم کیا جا سکے۔ پاک چین اقتصادی راہداری (CPEC) کے ذریعے گوادر بندرگاہ کو سنکیانگ سے جوڑنے کی کوشش بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے جو ملاکا کو بائی پاس کرنے کا ایک سٹرٹیجک متبادل ہے۔ میانمار کے راستے تیل اور گیس پائپ لائنز‘ وسطی ایشیا کے ساتھ توانائی کے معاہدے‘ روس کے ساتھ مل کر آرکٹک کے شمالی سمندری راستے پر کام اس بات کا اشارہ ہے کہ چین اس  dilemma سے نکلنے کے لیے ہر ممکن راستہ تلاش کر رہا ہے۔ ساتھ ہی وہ اپنی بحری قوت کو بھی تیزی سے مضبوط بنا رہا ہے اور جدید جنگی جہازوں اور میزائل سسٹمز کے ذریعے اپنی دفاعی صلاحیت میں اضافہ کر رہا ہے۔ اس کے پاس اب تین طیارہ بردار جہاز ہیں اور بحیرہ جنوبی چین میں مصنوعی جزیرے پر فوجی اڈے قائم کر چکا ہے۔ یہ تمام صورتحال 19ویں صدی کی گریٹ گیم کی یاد دلاتی ہے جب برطانیہ اور روس وسطی ایشیا میں اثر ورسوخ کے لیے برسرِ پیکار تھے۔ مگر آج کا کھیل مختلف ہے۔ اب میدان ہند بحرالکاہل ہے اور ہتھیار توپیں‘ بندوقیں نہیں بلکہ بندرگاہیں‘ سپلائی چینز اور تجارتی راستے ہیں۔ امریکہ کی حکمت عملی کو بعض ماہرین &#39;&#39;گرے زون وار فیئر‘‘ قرار دیتے ہیں یعنی ایسی کشمکش جو نہ مکمل جنگ ہے اور نہ مکمل امن۔ اس کے مقابلے میں چین &#39;&#39;اینٹی ایکسیس؍ ایریا ڈینائل‘‘ حکمت عملی پر کام کر رہا ہے‘ جس کا مقصد اپنے ساحلی علاقوں کو محفوظ بنانا اور حریف کی رسائی کو محدود کرنا ہے۔ نتیجتاً دنیا ایک بار پھر دو بڑے کیمپوں میں تقسیم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ انڈونیشیا‘ ملائیشیا‘ سنگاپور اور پاکستان جیسے ممالک اس کشمکش کے مرکز میں آ چکے ہیں۔ اگر آبنائے ملاکا میں کشیدگی بڑھتی ہے تو اس کے اثرات صرف چین تک محدود نہیں رہیں گے‘ پوری عالمی معیشت اس کی لپیٹ میں آ جائے گی۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ‘ اشیاکی قلت اور مہنگائی کا طوفان دنیا بھر کو متاثر کر سکتا ہے۔ مختصر یہ کہ &#39;&#39;آج ہرمز‘ کل ملاکا‘‘ صرف ایک جملہ نہیں بلکہ ایک ممکنہ عالمی منظرنامہ ہے۔ امریکہ کی بحری حکمت عملی اور چین کی اس کے خلاف جوابی کوششیں آنے والے دس برس کی عالمی سیاست کا رُخ متعین کریں گی۔ یہ ایک ایسا مقابلہ ہے جس میں فتح صرف طاقت سے نہیں بلکہ حکمت‘ صبر اور جغرافیے کی بہتر سمجھ بوجھ سے حاصل ہو گی۔ اگر دنیا نے اس کشمکش کو متوازن نہ رکھا تو یہ نئی سرد جنگ کسی بڑے بحران کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ اب ملاکا اگلا امتحان ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_62843609.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ہمارے دامن میں اک موتی بھی تھا(نسیم احمد باجوہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/naseem-ahmed-bajwa/2026-05-03/51881/18780471</link><pubDate>Sun, 03 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/naseem-ahmed-bajwa/2026-05-03/51881/18780471</guid><description>ہمارے دامن کے اُس موتی کا نام تھا اُستاد دامن اور ان کا ایک مجموعۂ کلام تھا &#39;&#39;دامن دے موتی‘‘۔ جنوری 1909ء میں ایک غریب درزی کے گھر پیدا ہوئے اور 75 برس درویشانہ زندگی گزاری۔ پاکستان میں ان کا درجہ عوامی (Folk) ہیرو کا تھا۔ بھارت اور پاکستان میں ان کے دوستوں کی تعداد ہزاروں اور مداحوں کی تعداد لاکھوں میں تھی۔ فیض صاحب سے لے کر احمد ندیم قاسمی تک اور اندرا گاندھی سے لے کر الطاف گوہر تک۔ اپنے وقت کے مشہور اداکار علاء الدین کو اُنہوں نے بیٹا بنایا ہوا تھا۔ کوچہ ڈوگراں‘ مستی چوک لاہور میں میراں بخش کے گھر پیدا ہوئے تو نام چراغ دین رکھا گیا۔ ان کے والد کی لوہاری دروازہ کے باہر درزیوں کی دکان تھی۔ بچپن میں چراغ دین کا رجحان پڑھنے کی طرف تھا مگر گھر کے حالات اچھے نہ تھے۔ سکول جانے کے ساتھ ساتھ والد کا کام میں ہاتھ بھی بٹاتے۔ ایک بار سکول میں اُستاد سے خاصی مار پڑی تو دوبارہ سکول نہ گئے۔ (یہ الفاظ لکھتے ہوئے مضمون نگار کو سکول میں گزرے دس تکلیف دہ سال یاد آتے ہیں)۔اگرچہ یہ واضح نہیں کہ چراغ دین &#39;اُستاد دامن‘ کب بنا‘ مگر جب بھی بنا اُس کی دھاک سارے پنجاب پر بیٹھ گئی۔ وہ ایک عوامی اور انقلابی شاعر تھے۔ اُنہوں نے کسی دور میں بھی سچائی کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیا‘ چاہے اس کی کتنی ہی سزا بھگتنا پڑی۔ وہ کئی بار جیل گئے‘ ان پر (آمرانہ دور میں) کئی بار جھوٹے مقدمات بنائے گئے لیکن اُنہوں نے کسی حکومت کے سامنے سر نہ جھکایا۔ ان کے پہلے مجموعۂ کلام کا ذکر ہو چکا‘ شاعری کی دوسری کتاب کا نام تھا &#39;&#39;ساری رات دا ڈنگیا دامن‘‘۔ وہ کہا کرتے تھے کہ میری ماں دھوبن تھی‘ جس کی وجہ سے میرے من میں میل نہیں اور باپ درزی تھا‘ اس لیے میں ساری عمر پیار کی ٹاکی ٹاکی (دھجیاں) محنت کے دھاگوں سے جوڑتا رہا۔ 3 دسمبر 1984ء کو جب اپنے خالق کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو ان کی وصیت کے مطابق انہیں مادھو لعل حسین کے مزار کے پاس دفن کیا گیا۔پچاس کی دہائی میں جب میں (پانچ برس میں بمشکل بی اے پاس کر کے) یونیورسٹی پہنچا تو بدقسمتی سے تعلیم کی طرف جزوقتی توجہ دی۔ میرا زیادہ وقت بین الکلیاتی مباحث لے جاتے۔ ہر سال جنوری سے مارچ کا دورانیہ اس لیے اہم ہوتا کہ سالانہ امتحانات اپریل میں ہوتے تھے اور اس سے پہلے کے پہلے تین ماہ امتحانات کی تیاری کیلئے فیصلہ کن ثابت ہوتے تھے۔ انہی دنوں ملک بھر میں بین الکلیاتی مباحثوں کا انعقاد سٹوڈنٹس یونین کے کیلنڈر میں سب سے اہم تقریب ہوتی تھی۔ ان مباحثوں میں شرکت کیلئے میں ساتھیوں کے ساتھ ملک کے مختلف شہروں کا سفر کیا کرتا تھا۔ ان مباحث کے دوران جن بہت سے طلبہ وطالبات سے تعارف ہوا ان میں ایک سہراب اسلم بھی تھے‘ جو غالباً لاء کالج کی نمائندگی کرتے تھے۔ 1966-67ء کی بیروزگاری کے زمانہ میں میری رہائش لوہاری دروازہ کے اندر ایک محلے میں تھی۔ اس دوران سہراب اسلم سے ملاقاتوں کی رفتار تیز ہو گئی۔ سہراب کا بھلا ہو کہ وہ ایک شام مجھے راوی روڈ کے قریب کے علاقے میں اُستاد دامن کے پاس لے گیا۔ وہ پگڑی اور خالصتاً دیسی لباس (کرتا اور تہبند) پہنے فرش پر بچھی ہوئی دری پر بیٹھے تھے۔ دائیں ہاتھ اُس وقت کے چوٹی کے اداکار علاء الدین تھے اور بائیں ہاتھ احمد ندیم قاسمی۔ جب کمرہ اتنا بھر گیا کہ بعد سے آنے والوں کو کھڑا ہونا پڑا تو ادبی محفل کی کارروائی شروع ہوئی۔ قاسمی صاحب نے ایک بہت اچھا افسانہ پڑھ کر سنایا اور بڑی داد وصول کی۔ علاء الدین نے ایک احتجاجی جلوس (غالباً ویتنام میں امریکی جارحیت کے خلاف) میں شرکت کی دعوت دی۔ اُستاد دامن نے ٹھیٹھ پنجابی لہجے میں حاضرین کا شکریہ ادا کیا اور ہر شخص سے ہاتھ ملا کر اُسے الوداع کہا۔ میری باری آئی تو کہا کہ آپ کو میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ میں نے جواباً کہا کہ سارا قصور سہراب اسلم کا ہے جو مجھے پہلے کبھی نہیں لایا۔ اگلے ماہ پھر آئوں گا اور اب آتا رہوں گا۔ یہ سن کر معزز میزبان مسکرائے اور گرم جوشی سے میرا ہاتھ دبایا۔ اندازہ لگایا جا سکتا کہ ایک پہلوان نما اور مضبوط قد کاٹھ کے مالک شخص کے ہاتھوں کی گرفت کتنی مضبوط ہو گی۔ مئی 1967ء میں برطانیہ آ جانے سے پہلے میں دو‘ تین بار اُستاد دامن کی خدمت میں حاضری دی۔ میری درخواست پر اُنہوں نے ایک بار اپنے اشعار بھی پڑھ کر سنائے۔ وہ جس انداز میں شعر پڑھتے تھے‘ وہ کافی ڈرامائی ہوتا تھا۔ اپنی پاٹ دار آواز کے زیر وبم سے وہ اشعار میں جان ڈال دیتے تھے۔ 1970ء میں میری پاکستان واپسی ہوئی تو ان کا پتا کیا۔ معلوم ہوا کہ وہ جیل میں ہیں۔ دوسری بار گیا تو پتا چلا کہ انہوں نے رہائش بدل لی ہے۔ چند برس بعد دوبارہ چکر لگا تو یہ بری خبر ملی کہ مجھے ان سے ملوانے والا دوست (سہراب اسلم) اب دنیا میں نہیں رہا۔ افسوس کہ اُن سے پھر ملاقات نہ ہو سکی اور خواہش حسرت میں تبدیل ہو گئی۔ استاد دامن نے ایک بار سب لوگوں کو بتایا کہ اُن کے خیالات کا شروع ہی سے حدود اربعہ عوم دوستی‘ معاشی انصاف‘ سماجی مساوات اور انسانی حقوق کے احترام کے چار ستونوں پر اُستوار ہے۔ یہی نظریات اُنہیں اشتراکی ذہن رکھنے والے بائیں بازو کے اہم سیاستدان میاں افتخار الدین کے پاس لے گئے۔ میاں افتخار صاحب نے انہیں عملی سیاست سے متعارف کرایا۔ دونوں کا تعارف کس طرح ہوا‘ یہ بھی عجب اتفاق ہے کہ اُنہوں نے نہ صرف میاں افتخار کے کپڑوں کا جوڑا سیا بلکہ انہیں اپنے کچھ اشعار بھی سنائے۔ میاں صاحب اتنے خوش ہوئے کہ استاد دامن کو کانگریس کے ایک بڑے جلسے میں اپنا کلام سنانے کی دعوت دے ڈالی۔ اس جلسے میں پنڈت نہرو بھی موجود تھے۔ انہوں نے اُستاد دامن کو &#39;شاعرِ آزادی‘ کا خطاب دیا۔ اُستاد دامن جس جلسے میں بھی اپنے انقلابی اور ولولہ انگیز اشعار سناتے اُس پر چھا جاتے اور (محاورتاً) جلسہ لوٹ لیتے۔ 1947ء میں لاہور ہندو مسلم فسادات کی لپیٹ میں آگیا۔ اُستاد دامن کا گھر اور دکان جلا دی گئی۔ اُن کی بیوی اور کم عمر بچی ان فسادات میں بچھڑ گئیں۔ اگرچہ کچھ عرصہ بعد وہ مل گئیں مگر فسادات کی سختیوں اور مناسب علاج نہ ہونے کے سبب جلد ہی دونوں فوت ہو گئیں۔ اُستاد دامن نے اس کے بعد دوبارہ شادی نہیں کی اور نہ اپنا گھر پھر بسایا۔ بقیہ زندگی درویشوں کی طرح ایک کوٹھڑی میں بے حد سادگی سے گزار دی۔ایک بار اُستاد دامن پر یہ جھوٹا مقدمہ بنایا گیا کہ اُن کے گھر سے ناجائز اسلحہ اور ایک توپ برآمد ہوئی ہے۔ جب مقدمہ عدالت میں چلا تو وکیل صفائی (غالباً میاں محمود علی قصوری) نے یہ ثابت کر کے اُنہیں بری کرایا کہ اُن کی کوٹھڑی اتنی چھوٹی ہے کہ اس میں توپ نہ تو داخل کی جا سکتی ہے اور نہ ہی رکھی جا سکتی ہے۔ فیض احمد فیض بھی اُستاد دامن کے مداحوں میں شامل تھے اور وہ اکثر ٹیکسالی گیٹ ان کو ملنے جایا کرتے تھے۔ فیض اور جالب کی طرح اُستاد دامن نے بھی ہمیشہ آمرانہ نظام کے تحت انسانی حقوق کو پامال کرنے والوں‘ سماجی انصاف سے انکار کرنے والوں اور کسانوں مزدوروں کا استحصال کرنے والوں کے خلاف شعر لکھے اور اس طرح لکھے کہ اشعار میں جان ڈال دی۔ وہ اپنے اشعار سے لوگوں کا خون گرما دیتے تھے۔ انہوں نے فلموں کیلئے بھی تین گیت بھی لکھے‘ جن میں سے دو میڈم نور جہاں نے گائے۔ اُن کے اشعارکی سادگی اور بے ساختہ پن دلوں کو موہ لیتا تھا۔ فیض‘ جالب‘ احمد فراز اور لائل پور کے احمد ریاض کی طرح اُستاد دامن کی ساری شاعری مزاحمتی تھی۔ ان کی شاعری اس لیے بھی زیادہ مؤثر اور دلوں میں اُتر جانے والی تھی کہ وہ اہل پنجاب کی مادری زبان میں تھی۔ وہ صحیح معنوں میں عوامی شاعر تھے۔ کسانوں‘ مزدوروں‘ کھیت کھلیان میں کام کرنے والے کاشتکاروں کے شاعر۔ ایسا انمول موتی جو ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ وپائندہ رہے گا‘ خصوصاً چھ ہزار میل دُور رہنے والے اس بوڑھے مداح کے دل میں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_32258580.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>