<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>مشرقِ وسطیٰ میں نئی کشیدگی(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-03/11506</link><pubDate>Thu, 03 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-03/11506</guid><description>امریکہ اور ایران کے درمیان عسکری تصادم کی نئی لہر نے مشرقِ وسطیٰ کو ایک بار پھر ایسی ہولناک اور بے قابو جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے جس کے شعلے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے رہے ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے جنوبی ایران کے ساحلی علاقوں‘ جزیرہ قشم اور بندر عباس میں مختلف تنصیبات پر بمباری کی گئی جس کے جواب میں ایران نے اردن‘ کویت‘ بحرین‘ عراق اور متحدہ عرب امارات میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔ دو طرفہ حملوں کی حالیہ شدت یہ ظاہر کر رہی ہے کہ گزشتہ پانچ ماہ کے دوران امن کی جانب جو فاصلہ طے کیا گیا تھا‘ وہ شدید خطرے کی زد میں ہے۔ جنگ کی سنگین صورتحال‘ اس کے علاقائی اثرات اور اس کے نتیجے میں جنم لینے والے انسانی اور معاشی بحران نے پوری دنیا کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ انسانی المیہ اس وقت مزید سنگین ہو جاتا ہے جب شہری اجتماعات اور سول تنصیبات کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ امریکہ کی جانب سے ایران کے صوبہ ہرمزگان میں ایک ایسے گھر پر میزائل داغا گیا جہاں شادی کی تقریب جاری تھی۔اس موقع پر پانچ اموات کی اطلاعات ہیں۔

یہ حملہ رواں سال فروری میں بچیوں کے سکول پر امریکی میزائل حملے کا اعادہ ہے۔ شہری آبادی‘ سکولوں اور ہسپتالوں پر حملے نہ صرف جنگی قوانین اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہیں بلکہ یہ امریکہ مخالف جذبات کو ہوا دینے اور جنگ کی آگ کو مزید بھڑکانے کا سبب بن رہے ہیں۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بلاک کرنے کا اعلان بھی سامنے آیا ہے‘ جس نے عالمی معیشت کو مزید دھچکا پہنچایا ہے۔تیل کی قیمتیں اس وقت برطانوی منڈی میں 95ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہیں۔ آبنائے ہرمز توانائی کی ترسیل کی اہم ترین گزرگاہ ہے‘ جہاں سے دنیا کو فراہم کیے جانے والے کل خام تیل کا تقریباً20 فیصد گزرتا ہے۔ ابھی دنیا مارچ‘ اپریل کے انرجی بحران ہی سے نمٹنے میں مصروف تھی کہ تازہ بندش نے تیل کی قیمتوں میں نیا اچھال برپا کر دیا ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمتیں بلند ترین سطح پر ہیں جبکہ رسد میں تعطل کے خدشے کی وجہ سے معاشی کساد بازاری کا خطرہ سنگین ہو چکاہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے اس بگڑتے ہوئے منظرنامے کے ہنگام پاکستان کا سفارتی محاذ پر مسلسل متحرک رہنا خوش آئند ہے۔
دفتر خارجہ نے حالیہ کشیدگی کو تشویشناک اور ناپسندیدہ قرار دیا ہے‘ تاہم متحارب ممالک کی مذاکرات کی طرف واپسی کے حوالے سے عزم اور امید کا اظہار بھی کیا ہے۔ پاکستان کا یہ اصولی مؤقف رہا ہے کہ جنگ کبھی مسئلے کا پائیدار حل نہیں ہو سکتی اور طاقت کا استعمال صرف تباہی لاتا ہے۔اسلام آباد نے ہمیشہ فریقین پر زور دیا کہ وہ اشتعال انگیزی کے بجائے سفارتکاری سے معاملے کو سلجھانے کی کوشش کریں کیونکہ عالمی اور علاقائی امن کے تحفظ کا یہی واحد راستہ ہے۔ موجودہ تعطل کو ختم کرنے اور مشرقِ وسطیٰ کو مستقل بنیادوں پر پُرامن بنانے کیلئے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت اور فریم ورک معاہدہ ہی وہ واحد قابلِ عمل راستہ ہے جو دونوں ممالک کو مستقل اور پائیدار جنگ بندی کی طرف لے جا سکتا ہے۔
پاکستان اور قطر کی ثالثی سے تیار کیا جانے والا یہ فریم ورک ایسا جامع دستاویز ہے جس میں دونوں ممالک کے جائز تحفظات کو دور کرنے اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کیلئے تمام ضروری نکات شامل کیے گئے۔ جنگ کی طوالت نہ تو واشنگٹن کو اس کے جیو پولیٹکل مقاصد حاصل کرنے میں مدد دے گی اور نہ ہی تہران کے تحفظات کو دور کر پائے گی۔ ضروری ہے کہ امریکہ اور ایران میدانِ جنگ کو چھوڑ کر اسلام آباد فریم ورک کے تحت مذاکرات کی میز پر آئیں۔ پائیدار امن اور عالمی استحکام صرف مذاکرات اور سفارتکاری میں ہی پنہاں ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کرکٹ کی زبوں حالی(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-03/11505</link><pubDate>Thu, 03 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-03/11505</guid><description>لارڈز ٹیسٹ میں شکست کے بعد کرکٹ بورڈ کی جانب سے ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کرنیوالے سات کھلاڑیوں کی واپسی اور ٹیسٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ اور باؤلنگ کوچ سے ذمہ داریاں واپس لینے پرہنگامہ مچا ہوا ہے۔ کرکٹ نہ صرف پاکستانیوں کا پسندیدہ کھیل ہے بلکہ قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کو بہترین سہولتیں‘ تربیتی مواقع اور بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتیں منوانے کے بھرپور مواقع بھی میسر ہیں‘ لیکن اسکے باوجود کارکردگی کا گراف مسلسل نیچے جا رہا ہے۔ گزشتہ 27 ٹیسٹ میچوں میں 18 شکستیں‘ دو ڈرا اور صرف سات فتوحات اس صورتحال کی سنگینی واضح کرنے کیلئے کافی ہیں۔ انگلینڈ کیخلاف حالیہ ٹیسٹ سیریز بھی اسی زوال کی ایک اور افسوسناک مثال ہے۔ چاروں اننگز میں پاکستان 200 رنز کا ہندسہ عبو نہ کر سکا۔ ٹیم کا کوئی بھی شعبہ مضبوط دکھائی نہیں دیا۔

بیٹنگ میں تسلسل اور مزاحمت کا فقدان تھا‘ باؤلنگ میں وہ دباؤ اور جارحیت نظر نہیں آئی جو انگلینڈ جیسی ٹیم کے خلاف ضروری تھی۔ تاہم سوال صرف کھلاڑیوں کا نہیں‘ بورڈ اور ٹیم مینجمنٹ کا بھی ہے۔ انتظامیہ کو ٹیم میں بار بار اکھاڑ پچھاڑ کے بجائے ایک واضح‘ طویل مدتی اور میرٹ پر مبنی پالیسی بنانا ہو گی۔ ساتھ ہی ڈومیسٹک کرکٹ کا معیار بلند کرنے‘ نوجوان کھلاڑیوں کی مناسب تربیت‘ فٹنس کے سخت معیار‘ جدید کوچنگ اور کارکردگی کے شفاف احتساب کو یقینی بنانا ہو گا۔ قومی کرکٹ کو وقتی فیصلوں اور ہنگامی ردِعمل سے نہیں بلکہ مستقل مزاجی‘ بہتر منصوبہ بندی اور مضبوط نظام سے دوبارہ عروج کی طرف گامزن کیا جا سکتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>انسانی جان چالان سے زیادہ قیمتی(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-03/11504</link><pubDate>Thu, 03 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-03/11504</guid><description>لاہور میں ٹریفک وارڈن کی غفلت کے باعث حادثے کا شکار ہونے والا موٹر سائیکل سوار نوجوان پانچ روز تک زندگی اور موت کی کشمکش میں رہنے کے بعد جاں بحق ہو گیا۔ واقعے کی سامنے آنیوالی سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق ٹریفک وارڈن موٹر سائیکل سوار کو روکنے کیلئے سڑک کے درمیان میں آگیا‘ جسکے نتیجے میں یہ حادثہ پیش آیا۔ ٹریفک پولیس کے اپنے وضع کردہ ایس او پیز کے مطابق اہلکار کو کسی سواری کو روکنے کیلئے محفوظ فاصلے سے ہاتھ یا الیکٹرانک بٹن کے ذریعے سڑک کے کنارے رکنے کا اشارہ کرنا ہوتا ہے۔ اگر کوئی شہری نہ رکے تو اہلکار کو سواری کا نمبر نوٹ کرکے وائرلیس کے ذریعے اطلاع دینا ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ سیف سٹیز اتھارٹی کو مطلع کرکے متعلقہ سواری کو ٹریک کیا جا سکتا ہے۔

ایسی واضح ہدایات کے باوجود ایک ٹریفک وارڈن کا موٹر سائیکل سوار کو روکنے کیلئے کیا گیا یہ عمل سنگین سوال اٹھاتا ہے۔ یقینا ٹریفک قوانین کی پابندی ہر شہری کا فرض ہے‘ مگر اسکا مطلب یہ نہیں کہ خلاف ورزی کرنیوالوں کیخلاف ٹریفک اہلکار اپنے اختیارات سے تجاوز کریں اور لوگوں کی جان کو خطرے میں ڈالنے کا سبب بنیں ۔ مذکورہ وقوعے کے ذمہ دار ٹریفک اہلکار کو معطل کر دیا گیا مگر ایک قیمتی جان کا زیاں ایسا معاملہ نہیں کہ جسے معطلی سے دبادیا جائے۔ ایسے واقعات سخت محکمانہ کارروائی کا تقاضا کرتے ہیں تاکہ مثال قائم ہو اور آئندہ ایسے عمل دہرائے نہ جائیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پمز! ایسا ہی رہے گا!(محمد اظہارالحق)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-09-03/52592/84719605</link><pubDate>Thu, 03 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-09-03/52592/84719605</guid><description>&#39;&#39;آپ کو حیرت نہیں ہوئی۔ پمز میں کسی ڈاکٹر کی انگلی نہیں کٹی‘ کوئی نرس زخمی نہیں ہوئی‘ کسی فائر مین کو آگ نہیں لگی‘ اور چودہ بچے جاں بحق ہو گئے۔ کہاں تھے یہ لوگ؟ کیا سروس ڈِلیوری ہوئی؟ یہ تو فکس ہو گا۔ اسے فکس کیے بغیر اب اور گفتگو نہیں ہو گی‘‘۔ یہ دلگیر بیان وفاقی وزیر جناب مصدق ملک کا ہے۔ اب جناب پرویز رشید کی تجویز دیکھیے: &#39;&#39;سی ایم ایچ ہسپتال کی کبھی آپ نے شکایت نہیں سنی ہو گی‘ کیونکہ فوج کے سپاہی سے جنرل تک سی ایم ایچ سے اپنا علاج کرواتے ہیں۔ یہ قانون بنائیں کہ حکومت سے تنخواہ اور مراعات لینے والوں اور ان کے اہلِ خانہ کا علاج سرکاری ہسپتال میں ہو گا اور بچے سرکاری سکولز میں جائیں گے تو دنوں میں ہسپتال اور سکول عالمی معیار کے ہو جائیں گے‘‘۔کیسی مخلصانہ اور دردمند تشویش لاحق ہے ان دونوں صاحبان کو۔ دل سے ان کیلئے واہ واہ بھی اٹھتی ہے اور دعا بھی! آگے چلنے سے پہلے ایک لطیفہ‘ بلکہ ظریفانہ حکایت سن لیجیے جو مولانا احتشام الحق تھانوی مرحوم سنایا کرتے تھے۔ مغلوں کے عہدِ زوال کا واقعہ ہے۔ ایک شہزادہ پیدائش کے بعد حرم سرا ( زنان خانہ) ہی میں رہا۔ مردوں میں اُٹھا بیٹھا نہ حرم سرا سے کبھی باہر نکلا۔ یہاں تک کہ جوان ہو گیا۔ سوئے اتفاق سے حرم سرا میں کہیں سے ایک سانپ آ گیا۔ بیگمات‘ کنیزوں اور خواجہ سراؤں میں سراسیمگی پھیل گئی۔ خواتین چلائیں کہ &#39;&#39;کسی مرد کو بلاؤ‘‘۔ ساتھ ہی شہزادے نے بھی چلانا شروع کر دیا کہ کسی مرد کو بلاؤ! اب یہ جو دونوں زعما ہیں‘ جناب مصدق ملک اور جناب پرویز رشید‘ اقتدار کی اگلی صفوں میں ہیں۔ ایک صاحب وفاقی وزیر ہیں‘ اور عام وزیر نہیں طاقتور وزیر ہیں۔ دوسرے صاحب شریف خاندان کے انتہائی پرانے اور قریبی وفادار ہیں اور ایوانِ بالا کے رکن بھی! تعجب ہے کہ پالیسی سازوں میں شمار ہوتے ہوئے بھی یہ بے بس عوام کی طرح پکار رہے ہیں کہ &#39;&#39;کسی مرد کو بلاؤ!‘‘۔ جناب پرویز رشید یہ تجویز اپنے قائد جناب نواز شریف کو کیوں نہیں پیش کرتے؟ بڑے میاں صاحب کا ایک اشارہ ہو گا اور جناب پرویز رشید صاحب کی تجویز قانون کی شکل اختیار کر لے گی۔ بڑے میاں صاحب تو ساحری بھی کرنا جانتے ہیں۔ صادقین مصور تھے۔ شاعری کی طرف آئے تو شاعری کو ساحری قرار دیا۔اک بار میں ساحری بھی کرکے دیکھوںکیا فرق ہے شاعری بھی کرکے دیکھوںتصویروں میں اشعار کہے ہیں میں نےشعروں میں مصوری بھی کرکے دیکھوںمگر بڑے میاں صاحب سیاست میں ساحری کرنا جانتے ہیں۔ یہ ساحری ہی تو ہے کہ انتخابات میں دو بار شکست کھانے والے صاحب کو وزیراعظم بنا دیا۔ جو تجویز جناب پرویز رشید عوام کو دے رہے ہیں‘ وہ ازراہِ کرم بڑے میاں صاحب کی خدمت میں پیش کیجیے۔ ذرا سا اشارۂ ابرو ہو گا تو تمام وزرا اور بیورو کریسی سرکاری ہسپتالوں کا رخ کر لے گی! بات جناب پرویز رشید نے جو کی ہے‘ بہت صحیح کی ہے؛ علاج اس کا وہی آبِ نشاط انگیز ہے ساقی! اور جو کچھ جناب مصدق ملک فرما رہے ہیں (کہ یہ تو فکس ہو گا‘ اسے فکس کیے بغیر اب اور گفتگو نہیں ہوگی) تو یہ کسے کہہ رہے ہیں؟؟ آپ ایک طاقتور کابینہ کے طاقتور رکن ہیں‘ آپ لوگوں نے ہی تو فکس کرنا ہے۔ یہ بات آپ کابینہ میں کہیے۔ وزیراعظم سے کہیے۔ عوام سے کہنے کا تو کوئی فائدہ نہیں!میں جب بھی بیرونِ ملک گیا ہوں‘ اور تارکینِ وطن کی وہ باتیں سنی ہیں جن میں پاکستان کے بارے میں نا امیدی اور مایوسی ہوتی ہے تو ہمیشہ ان کی خدمت میں یہی عرض کرتا رہا ہوں کہ ایسی بات نہیں‘ ہمارا ملک اتنا بھی برا نہیں! مایوس ہونے کی کوئی بات نہیں۔ ملک کے اندر بھی یہی بات کی۔ پڑھے لکھے لوگوں کو باہر جانے سے روکنے کی کوشش کی۔ ملک کے اندر رہ کر ملک کی خدمت کرنے کی ترغیب دی۔ اس پر بہت سے لوگوں نے اختلاف بھی کیا۔ کچھ نے مذاق بھی اڑایا۔ لیکن سچ یہ ہے کہ پمز میں چودہ بچوں کی دردناک موت کے بعد میرا یقین متزلزل ہو گیا ہے۔ اب انسان کس منہ سے دوسرے سے کہے کہ یہ ملک اتنا خراب نہیں۔ یہیں رہو! ہاں! تمہاری اور تمہاری اولاد کی حفاظت کی کوئی ذمہ داری نہیں۔بچی کو بے آبرو کر کے مار دیا گیا۔ پھر کنویں میں پھینک کر اوپر لکڑیوں کا انبار ڈال دیا گیا‘ مگر قاتل کو اس لیے پولیس کے ریمانڈ میں نہیں دیا گیا کہ اس کی عمر کم ہے۔ اسے جوڈیشل ریمانڈ میں بھیجا گیا۔ صاف نظر آرہا ہے کہ اسے سزا بھی اسی حساب سے دی جائے گی۔ سوشل میڈیا جنسی حوالے سے عفریت بن چکا ہے۔ کوئی پابندی نہیں۔ پندرہ سال سے کم عمر کے لڑکے جنسی بھوک میں درندے بن رہے ہیں۔ قتل و غارت کر رہے ہیں۔ کوئی سد باب نہیں۔ مسلکی اعتبار سے سوشل میڈیا پر آگ بھڑک رہی ہے۔ یہ ہولناک آگ بجھانے کی کسی کو کوئی فکر نہیں۔ کوئی قدم نہیں اٹھایا جا رہا۔ چودہ بچوں کی ہلاکت! اور سزا کیا دی گئی؟ ذمہ داروں کو معطل کر دیا گیا۔ یعنی اس عرصے کی تنخواہ پوری ملے گی۔ برطرف نہیں کیا گیا۔ ظاہر ہے کہ کچھ عرصے کے بعد بحال بھی تو کرنا ہے۔ پہلے دو سفید ہاتھی تھے۔ پی آئی اے اور سٹیل مل۔ دہائیوں سے سرطان زدہ! خدا خدا کر کے پی آئی اے بکی۔ (یہ کہانی کہ کیسے بکی اور ریاست کے ہاتھ کیا آیا؟ لمبی ہے) پمز کو بھی پی آئی اے سمجھیں یا سٹیل مل! اربوں روپے اس ادارے کو دیے جا رہے ہیں مگر یہ کھنڈر کی صورت اختیار کر رہا ہے۔ بدعنوانی اور سفارش کا گڑھ! مریضوں کیلئے قتل گاہ! ایک معمر ڈاکٹر نے‘ جو سالہا سال اس میں رہا‘ بتایا ہے کہ ہاؤس جاب کے امیدوار ڈاکٹروں سے دو دو لاکھ روپے کا نذرانہ لیا جاتا ہے۔ یہاں پہلے کون سا سرکاری ادارہ درست ہوا ہے؟ پمز کی اصلاح کی امید کس برتے پر رکھی جائے؟ یہ جیسا ہے‘ ویسا ہی رہے گا۔ کوئی جھٹکا اسے راہِ راست پر نہیں لا سکتا۔ تقسیم کے وقت ریلوے اچھی بھلی ملی تھی۔ جی ٹی ایس (گورنمنٹ ٹرانسپورٹ سروس) کیا شاندار ادارہ تھا۔ سب ٹوٹ پھوٹ گئے۔ نااہلی اور کرپشن کا شکار ہو گئے۔ خواجہ سعد رفیق نے مرتی ہوئی ریلوے کے سانس بحال کیے مگر خواجہ صاحب زبانِ حال سے یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ: میں بہادر ہوں مگر ہارے ہوئے لشکر میں ہوں! پمز کو نجی شعبے کے حوالے کیا جائے تو عوام کچلے جائیں گے۔ دارالحکومت میں دوسرا سرکاری ہسپتال پولی کلینک ہے۔ ذرا مستقبل بینی اور دور اندیشی کا حال دیکھیے کہ آج تک سنگل سٹوری ہے۔ ایک بدنما‘ بد شکل ڈھانچہ! ایک بہت بڑی جھونپڑی!! جب بنا رہے تھے تو کسی نے نہ سوچا کہ عمارت تین یا چار منزلہ ہونی چاہیے۔سفارشی کلچر اس ملک کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ ہر نااہل کے سر پر ایک نہ ایک چھتری ہے جو اسے سزا سے بچا لیتی ہے۔ یہ فلاں کا بندہ ہے۔ اسے نہ چھیڑا جائے۔ یہ فلاں کا بندہ ہے‘ اس کا تبادلہ نہیں کرنا۔ فلاں کو سزا نہیں دینی۔ دیں گے تو ایک فون آئے گا اور آپ کیا‘ آپ کا باس بھی جھاگ کی طرح بیٹھ جائے گا! رہی سہی کسر &#39;&#39;حکم امتناعی‘‘ (سٹے آرڈر) نکال دیتا ہے۔ میرا ذاتی تجربہ ہے۔ کسی کا تبادلہ بھی کرتے تھے تو سٹے آرڈر لے آتا تھا اور اکڑ اکڑ کر پھرتا تھا۔ عجیب بات یہ ہے کہ سٹے آرڈر جاری کرتے وقت فریقِ ثانی سے پوچھا ہی نہیں جاتا کہ تبادلہ کیوں کیا ہے یا سزا کیوں دی ہے۔ ملازمت کیلئے انٹرویو لیتے ہیں تو جیبیں چِٹوں سے بھری ہوتی ہیں۔منیر اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہےکہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_57182973.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پہلے اپنے مسئلے حل کریں(خالد مسعود خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-09-03/52593/63212531</link><pubDate>Thu, 03 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-09-03/52593/63212531</guid><description>سندھ کے عوام دو معاملات میں بہت ہی زیادہ حساس ہیں۔ اتنے حساس اور جذباتی کہ وہ ان دو معاملات پر کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ پنجاب میں رہنے والوں کو اس کا اندازہ بھی نہیں ہو سکتا۔ ان میں سے ایک صوبہ سندھ کو تقسیم کرنے کا مسئلہ ہے اور دوسرا معاملہ دریائے سندھ کے پانی کا ہے۔ یہ دو ایسے مسئلے ہیں جن پر اندرونِ سندھ کے عوام زرداری صاحب کو بھی‘ جو اندرون سندھ اپنی سیاسی گرفت کی بنیاد پر خود کو سندھ کے سیاہ و سفید کا مالک سمجھتے ہیں‘ دھو کر رکھ سکتے ہیں۔ اس بات کا زرداری صاحب کو شاید پہلے پوری طرح اندازہ نہیں تھا لیکن انہیں اس کا حقیقی تجربہ 18 اپریل 2025ء کو دریائے سندھ پر نئی نہروں کی تعمیر کے خلاف ہونے والی ہڑتال سے ہو چکا ہے۔ اس پہیہ جام ہڑتال میں عملی طور پر سندھ اور پنجاب کے درمیان نو دن تک ٹریفک مکمل بند رہی۔ زرداری صاحب پوری کوشش کے باوجود اس ہڑتال کو ختم کرانا تو رہا ایک طرف‘ نرم بھی نہیں کروا سکے۔ اگر زرداری صاحب کو سندھ میں اپنی پارٹی کی مقبولیت اور اندرون سندھ کے عوام کی جانب سے پارٹی پالیسی یا حکم کی اندھی تقلید کے بارے میں کوئی غلط فہمی تھی تو وہ اس واقعے کے بعد بالکل ہوا ہو گئی۔ زرداری صاحب بڑے سمجھدار آدمی ہیں‘ انہیں بخوبی علم ہے کہ وہ پانی یا سندھ کی تقسیم میں سے کسی ایک مسئلے پر بھی سمجھوتا کریں گے تو سندھ کی سیاست سے فارغ ہو جائیں گے۔گزشتہ سال نئی نہروں والے مسئلے پر صوبہ سندھ کی سڑکوں کی بندش والا معاملہ یہ تھا کہ حکومت پہلے سے تعمیر شدہ کچھ نہروں کا فیز ٹو اور کچھ نئی نہریں ڈیزائن کر رہی تھی۔ اگرچہ بعض خبروں میں چھ نئی نہریں نکالنے کا قصہ بیان کیا جاتا ہے جبکہ یہ سب نہریں نئے سرے سے تعمیر نہیں ہو رہی تھیں۔ اس منصوبے میں چھ نہروں کے نام ضرور تھے مگر مکمل طور پر نئی نہریں صرف دو تھیں۔ دیگر چار نہریں پہلے سے ہی تعمیر شدہ ہیں‘ ان میں صرف توسیع کا مرحلہ درپیش تھا۔ توسیع دی جانے والی چار نہروں میں سے ایک کا تعلق صوبہ سندھ کی زمینوں کو سیراب کرنے سے تھا۔ ان چھ نہروں میں سے ایک دریائے سندھ سے چشمہ بیراج کے مقام سے نکلنے والی چشمہ رائٹ بینک کینال تھی جس کا پانی فیز ٹو کے ذریعے خیبر پختونخوا کے ڈیرہ اسماعیل خان ڈویژن میں استعمال ہونا تھا۔ دوسری نہر تونسہ بیراج سے نکلنے والی کچھی کینال تھی۔ یہ نہر پنجاب میں سے گزرتی ضرور ہے مگر اس کا پانی بلوچستان میں ڈیرہ بگتی‘ نصیرآباد‘ بولان اور جھل مگسی کے بے آباد رقبے کی سیرابی کیلئے استعمال ہونا تھا۔ اس منصوبے میں اس نہر کا فیز ٹو تعمیر ہونا تھا جبکہ اس کا فیز ون پہلے سے ہی تعمیر ہو چکا ہے۔ تیسری نہر 2014ء میں گدو بیراج سے نکالی جانے والی رینی کینال کا فیز ٹو ہے‘ جس سے سندھ کے گھوٹکی‘ سکھر‘ سانگھڑ‘ خیرپور اور میرپور خاص کے نسبتاً بنجر علاقوں کو سیراب کرنا تھا‘ یعنی یہ پانی سندھ میں ہی استعمال ہونا تھا۔ چوتھی گریٹر تھل کینال ہے‘ اس کا فیز ون بھی پہلے سے مکمل ہو چکا ہے اور اس نہر کا فیز ٹو آگے تعمیر ہونا تھا‘ جو چوبارہ وغیرہ کی زمینوں کو سیراب کرنے کیلئے تھا۔ صوبہ سندھ والوں کو ایک تو اس نہر کی توسیع پر شدید اعتراض تھاتاہم اصل تنازع پانچویں نہر یعنی چولستان کینال پر تھا۔ یہ نئی نہر تھی اور جھگڑے کا مرکز یہی نہر تھی۔ چھٹی نہر تھر کینال تھی‘ جس سے سندھ کے صحرائے تھر کو سرسبز کرنا مقصود تھا۔ لہٰذا یہ چھ نہریں تمام کی تمام نئی نہیں تھیں‘ ان میں سے چار نہریں تو ایسی تھیں جن کا دوسرا مرحلہ تعمیر کرنے کا منصوبہ تھا اور دو نہریں بالکل نئے سرے سے بنانا مقصود تھیں۔جیسے ذکر ہوا کہ جس نہر پر اہلِ سندھ کو سب سے زیادہ اعتراض اور تحفظات تھے وہ چولستان کینال تھی‘ تاہم عجیب بات یہ ہے کہ چولستان کینال کا بنیادی منصوبہ دریائے سندھ کے بجائے دریائے ستلج کے سیلابی پانی کو چولستان کے ریگزاروں میں پہنچا کر اسے قابلِ کاشت بنانے سے متعلق تھا۔ لیکن سندھ سے تعلق رکھنے والے بعض آبی ماہرین کا یہ کہنا تھا کہ دریائے ستلج میں سیلابی پانی اتنی بڑی نہر کیلئے درکار پانی کا مستقل ذریعہ نہیں ہو سکتا کیونکہ ستلج میں سیلابی پانی کی آمد کا دارو مدار دریائے ستلج میں بھارت کی طرف سے آنے والے سیلابی ریلے پر مشتمل ہوتا ہے‘ جو نہ صرف یہ کہ پانی کی آمد کا کوئی مستقل ذریعہ نہیں بلکہ ہر سال سیلاب کے دنوں میں بھی اس کی آمد ناقابل بھروسہ ہے۔ محض غیر معمولی بارشوں پر منحصر سیلابی پانی کی امید پر مشتمل یہ منصوبہ نہ صرف یہ کہ قابل عمل نہیں بلکہ اس پر کسی صورت بھی انحصار نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ بالآخر اس نہر میں پانی کی کمی کو دریائے سندھ کے پانی سے پورا کیا جائے گا اور صوبہ سندھ‘ جو پہلے ہی پانی کی شدید کمی کا شکار ہے‘ ان نہروں کے بننے سے پانی کے شدید بحران کا شکار ہو جائے گا۔یہ بات درست ہے کہ صوبہ سندھ کے بہت سے علاقوں میں گزشتہ کئی سال سے پانی کی شدید کمی ہے۔ گزشتہ سال سندھ کے اضلاع سانگھڑ‘ میرپور خاص‘ نوابشاہ‘ بدین‘ ٹھٹھہ‘ مٹیاری اور عمرکوٹ وغیرہ میں دسمبر سے مئی تک پانی کی ایسی کمی تھی کہ گندم کی فصل کو پورا پانی نہیں مل سکا اور کپاس کی کاشت تاخیر سے اور کئی علاقوں میں سرے سے کاشت ہی نہ ہو سکی۔ ان علاقوں میں خشک سالی جیسی صورتحال دکھائی دیتی ہے اور فصلوں کی کاشت کے دوران پانی کی ضرورت پورا کرنے کیلئے مطلوبہ مقدار دستیاب نہیں ہے۔ ایسے میں صوبہ سندھ کے لوگوں کا مؤقف ہے کہ دریائے سندھ سے نہریں نکال کر چولستان وغیرہ کو آباد کرنے کا مطلب یہ ہے کہ سندھ کی قابل ِکاشت زمینیں بنجر ہو جائیں۔ہم لوگ ایران امریکہ تنازع میں پاکستان کی عالمی منظرنامے پر پذیرائی اور نیک نامی پر تالیاں بجا رہے ہیں اور خوشی سے بے حال ہو رہے ہیں‘ اگر ہم اس چکر میں پڑنے کے بجائے ملک میں پانی کی کمی سے متعلق مستقبل کے بارے میں تھوڑی سوچ بچار اور کچھ عملی اقدامات کر لیں تو وہ اس ملک کی زرعی بقا کا باعث بن سکتے ہیں‘ بصورت دیگر اگلے دس سال میں پانی کا مسئلہ اتنا سنگین اور شدید ہو جائے گا کہ ہمارے پاس مئی جون میں فصلوں کو دینے کے لیے پانی ہی نہیں ہوگا۔حکومتوں کو فوری دکھائی دینے والے ترقیاتی کام‘ جن کی نہ کوئی دیرپا اہمیت ہے اور نہ ہی ملک کی حقیقی ترقی میں ہی کوئی حصہ ہے‘ کرنے سے فرصت نہیں مل رہی۔ حکومتیں الیکٹرک بسوں‘ میٹرو منصوبوں‘ فلائی اووروں اور انڈر پاسوں کے چکر میں پڑی ہوئی ہیں جبکہ ملک کو اس وقت دیرپا بنیادوں پر مشتمل ایسے اقدامات کی ضرورت ہے جو آئندہ کیلئے معاشی استحکام کا باعث بن سکیں۔ اگلے آٹھ دس سال بعد جس روز یہ الیکٹرک بسیں کباڑ میں فروخت ہو رہی ہوں گی ہمارے پاس ان بجلی پر چلنے والی بسوں کو چارج کرنے کیلئے نہ بجلی ہوگی اور نہ ہی ان بسوں کو دی جانے والی سبسڈی دینے کی استطاعت ہو گی۔ سیلاب کی متوقع صورتحال ہمارے سامنے ہے۔ سندھ طاس پر بھارتی اقدامات اور ہٹ دھرمی کے پیش نظر اگر ہم اب بھی پانی کے مسئلے پر کوئی قومی ہم آہنگی پیدا نہیں کرتے تو آنے والے دن بہت بری صورتحال کا منظر نامہ پیش کر رہے ہیں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان صلح کروانے جیسی کوششوں پر مجھے کوئی اعتراض نہیں لیکن میرے خیال میں تیسرے گھر کی فکر کرنے سے کہیں اہم اور ضروری کام یہ ہے کہ ہم متنازع ہو جانے والے ڈیمز کے بارے میں اتفاق رائے اور ہم آہنگی پیدا کرتے ہوئے کوئی قابلِ عمل حل نکالیں کہ پانی پر اس ملک کی بقا اور ہماری زندگیوں کا دارو مدار ہے۔ خدا نہ کرے کہ ایسا ہو‘ مگر یہی صورتحال رہی تو چند سال بعد صوبے آپس میں پانی کی وجہ سے دست و گریبان ہو رہے ہوں گے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90500073.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>فالوورز(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-09-03/52594/84674109</link><pubDate>Thu, 03 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-09-03/52594/84674109</guid><description>بہن نے بہن کو قتل کر ڈالا۔ اس کو غصہ تھا کہ مقتولہ کے فالوورز کی تعداد اس سے زیادہ تھی۔&#39;فالوورز‘ بلاشبہ اس عہد کا عظیم فتنہ ہے۔ بظاہر اس نے سوشل میڈیا کی کوکھ سے جنم لیا ہے لیکن اس کی جڑیں انسانی فطرت میں پیوست ہیں۔ یہ وہی حبِ جاہ اور حبِ مال کا فتنہ ہے جو روزِ اوّل سے انسان کے دامن کے ساتھ لپٹا ہوا ہے۔ اس کا ظہور مذہب‘ ادب‘ فنونِ لطیفہ‘ صحافت... ہر شعبۂ حیات میں ہوتا آیا ہے۔ پاپولر ادب‘ پاپولر سیاست‘ پاپولر کالم نگاری‘ یہ سب اسی کے مظاہر ہیں۔ ایک جائز بات اس وقت فتنہ بن جاتی ہے جب وہ کسی کو اس طرح اپنی گرفت میں لے لے کہ ہر اخلاقی قدر اس کی نذر ہو جائے۔ مال کی طلب یا شہرت کی خواہش میں فی نفسہٖ کوئی برائی نہیں۔ یہ خواہش برائی اس وقت بنتی ہے جب کوئی اخلاقی قدر اس کی زد میں آئے۔ یہ خواہش اس طرح انسانی وجود کا احاطہ کر لے کہ ہر اخلاقی مطالبے کو بہا لے جائے۔ہمارے سیاسی کلچر کو &#39;فالوورز‘ کی طلب نے سب سے زیادہ برباد کیا ہے۔ تحریک انصاف نے اپنے پیغام کے ابلاغ کے لیے‘ سوشل میڈیا کو سب سے زیادہ مہارت کے ساتھ استعمال کیا ہے۔ اس میں کوئی برائی نہ تھی۔ دوسری سیاسی جماعتیں اگر اس دوڑ میں پیچھے رہ گئیں تو یہ ان کی نااہلی تھی۔ عمران خان صاحب کی مقبولیت نے حبِ جاہ و مال میں مبتلا بعض لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ انہوں نے محسوس کیا کہ اس دنیا میں ان کے لیے بہت کچھ ہے۔ &#39;فالوورز‘ زیادہ ہوں تو شہرت اور پیسہ ایک ساتھ آپ کے گھر کا رخ کر لیتے ہیں۔ انہوں نے عمران خان صاحب اور تحریک انصاف کی مقبولیت کو اپنی ان خواہشات کے تکمیل کے لیے استعمال کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ جو خان صاحب اور ان کے مرید سننا چاہتے ہیں‘ انہوں نے بیان کرنا شروع کیا‘ بلکہ مبالغے کے ساتھ۔ عمران خان صاحب کا تمام حلقہ اثر ان کے حلقۂ دام میں آ گیا۔ ان کی دکانوں سے انہیں وہ مال وافر مقدار میں میسر آگیا جس کی طلب بہت تھی۔ دھن اور شہرت ان پر برسنے لگے۔سوشل میڈیاکا اصول یہ ہے کہ فالوورز زیادہ ہوں گے تو پیسہ بھی زیادہ آئے گا۔ ان کی تعداد بڑھانے کے لیے تھوڑے سے سچ کے ساتھ‘ بہت سا جھوٹ بھی بکنے لگا۔ خوب رونق لگ گئی۔ آہستہ آہستہ سچ برائے نام رہ گیا۔ خواہشات کو خبر بنا کر بیچا جانے لگا۔ خریداروں کی کمی نہیں تھی۔ یوں ایک ایسا بیانیہ سیاست پر چھا گیا جس کی کوئی حقیقت نہیں تھی۔ سیاستدان کو کلٹ بنا دیا گیا۔ ذہن آلودہ ہو گئے۔ کاروبار جب چل نکلا تو دکانداروں کی تعداد بھی بڑھنے لگی۔ یہ ہوشیار لوگ تھے۔ انہوں نے تحریک انصاف کو اپنا یرغمال بنا لیا۔ اب تحریک انصاف کا بیانیہ وہ نہیں تھا جو اس کی قیادت بیان کرتی تھی یا جسے جماعت کے پالیسی کہنا چاہیے۔ یہ وہ تھا جو یوٹیوبر بناتے تھے۔ انہوں نے تحریک انصاف کو ریاستی اداروں کے ساتھ تصادم میں جھونک دیا۔ تحریک انصاف کی قیادت ان کے سامنے بے بس ہو گئی۔ دکانیں چل گئیں مگر سیاسی کلچر برباد ہو گیا۔ تحریک انصاف بھی بند گلی میں جا پہنچی۔کیا یہ جھوٹ کا کاروبار تھا؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنا مشکل نہیں۔ ایک سادہ سا ٹیسٹ ہے۔ کسی ایک ویلاگر کے وہ پروگرام دیکھ لیں جو تین ماہ میں نشر ہوئے۔ ان میں جو خبریں دی گئیں‘ یہ جانچ لیں کہ ان میں کتنی سچ ثابت ہوئیں؟ جو پیش گوئیاں کی گئیں‘ ان میں سے کتنی پوری ہوئیں؟ اگر جھوٹ کا تناسب زیادہ ہے تو اس سوال کا جواب اثبات میں ہے۔ میرا تجزیہ یہ ہے کہ جھوٹ نوے فیصد ہے۔ ان کی دی ہوئی خبر شاذ ہی سچ ثابت ہوئی۔ ان کی کوئی پیش گوئی شاید ہی پوری ہوئی ہو گی۔ انہوں نے مگر سیاسی انتہا پسندی‘ ہیجان اور نفرت پھیلا کر‘ ہمارے سیاسی کلچر کو وہ نقصان پہنچایا ہے کہ اس کی تلافی کے لیے نہیں معلوم کتنے برس درکار ہوں۔ تحریک انصاف کے بعض راہنماؤں نے ان کے خلاف اگر آواز اٹھائی تو وہ صدا بصحرا ثابت ہوئی۔ اس سے آپ ان کی گرفت کا اندازہ کر لیجیے۔ اگر یہ کہا جائے کہ عمران خان صاحب کی رہائی میں سب سے بڑی رکاوٹ فالوورز کی یہ خواہش ہے تو شاید اس میں مبالغہ نہ ہو۔فالوورز کا یہی فتنہ سماجی مسائل میں بھی سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے ایسے ایسے بیہودہ پروگرام دکھائے جاتے ہیں کہ دیکھنے والے کی تنہائی بھی ناپاک ہو جاتی ہے۔ ایک خاتون کا ا نٹرویو چل رہا ہے جس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ خسر کی شیطنت کا شکار رہی۔ انٹرویو کر نے والی بھی ایک خاتون ہے۔ ایسے سوال پوچھے جاتے ہیں جو صرف غلاظت کو اچھالتے ہیں۔ ناجائز تعلق کو اس کی جزئیات کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے۔ لفظوں میں جتنی عریاں تصویر بنانا ممکن ہے‘ بنا دی جاتی ہے۔ معلوم ہوتا ہے انٹرویو کرنے والی کا بھی اخلاقیات سے کوئی علاقہ نہیں۔ ان پروگراموں کا صرف ایک مقصد ہے: فالوورز میں اضافہ کرنا۔ اس نوعیت کے پروگرام چونکہ توجہ کھینچتے ہیں‘ اس لیے ان کے فالوورز کی تعداد بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ اب سماج کو اس کی کیا قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے‘ کسی کو پروا نہیں۔ایسے پروگرام بہت سے ہیں جن کا تعلق اس طرز کی بے ہودگی سے ہے۔ حکومتی ادارے ان پروگراموں کے بارے میں تو حساس رہتے ہیں جو ان کے خلاف ہوں لیکن معاشرے کی اخلاقی بربادی سے انہیں زیادہ سروکار دکھائی نہیں دیتا۔ فالوورز کی ہوس میں مبتلا ان لوگوں کی اکثریت اس ملک میں رہتی ہے۔ بعض چہرے تو جانے پہچانے ہیں۔ یہی نہیں‘ اخلاقی جرائم میں ملوث مجرموں کے انٹرویو تھانوں میں‘ پولیس کے موجودگی میں لیے جاتے ہیں۔ یہ غیر اخلاقی ہے اور غیر قانونی بھی۔ ان کا مقصد بھی معاشرتی اصلاح نہیں ہے۔ ایسے لگتا ہے جیسے کسی سکرپٹ پر مبنی پروگرام چل رہا ہے۔ یہ سب پیسہ کمانے کا ڈھنگ ہے۔ لسانی عریانیت کا ایک مظہر۔ اب جتنے فالوورز بڑھیں گے‘ اتنے ہی پیسے آئیں گے۔اس کا ایک ا ور پہلو خطرناک وڈیوز بنانا ہے۔ ٹرین کے آگے لیٹ کر وڈیو بنائی جا رہی ہے۔ اونچی عمارت سے لٹک کر وڈیو بن رہی ہے۔ ایسی کوششوں نے کئی افراد کی جان لے لی۔ یہ دنیا بھر میں ہوتا ہے اور ہمارے ہاں بھی ہو رہا ہے۔ بہت سی نوجوان لڑکیاں اس کاروبار میں ملوث ہیں۔ فالوورز کی تعداد ان کے لیے دیگر کاروباری مواقع پیدا کرتی ہے جیسے ماڈلنگ۔ اس عمل میں ان کے کئی عشاق پیدا ہو جاتے ہیں۔ اکثر یہ عشق یکطرفہ ہوتا ہے۔ معاشرے کی حساسیت بھی اس کا ایک پہلو ہے۔ بہت سے والدین اور اہلِ خانہ اس کو پسند نہیں کرتے جس کی وجہ سے گھر میں جھگڑے شروع ہو جاتے ہیں۔ ان میں بعض کا انجام بہت المناک ہوتا ہے۔ عاشق کے ہاتھوں قتل ہونے والی ایک نوجوان بچی کا مقدمہ عدالت میں ہے۔ دو دن پہلے خبر سنی کہ ٹیکسلا میں ایک خاتون اسی ضد میں والد اور بھائی کے ہاتھوں قتل ہو گئی۔اب لازم ہو گیا ہے کہ فالوورز بڑھانے کی اس خواہش کو قانونی اور اخلاقی دائروں میں قید کیا جائے۔ یہ افراد اور سماج‘ دونوں کے لیے خطرناک ہوتی جا رہی ہے۔ عوام کو روکنا مشکل ہے کہ اس کا تعلق عمومی اخلاقی حالت سے ہے۔ جب تک اس میں بہتری نہیں آئے گی‘ انہیں دیکھنے سے روکا نہیں جا سکتا۔ سماجی تعلیم کے ساتھ‘ یہ کوشش ہونی چاہیے کہ قانون حرکت میں آئے اور ایسے پروگرام بند کر دیے جائیں۔ مجھے حیرت ہے کہ سائبر کرائم والے ان معاملات میں کیوں متحرک نہیں ہوتے۔ کیا سماجی اخلاق ہمارا مسئلہ نہیں ہے؟ کیا ہمیں اپنے بچوں کا اخلاقی مستقبل عزیز نہیں؟</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کرکٹ میں آپریشن کلین اَپ(عمران یعقوب خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-09-03/52595/22769655</link><pubDate>Thu, 03 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-09-03/52595/22769655</guid><description>پاکستان کی کرکٹ ٹیم انگلینڈ کے خلاف مسلسل اپنا دوسرا ٹیسٹ میچ ہار گئی اور ان یکے بعد دیگرے شکستوں کے بعد ایک بار پھر کرکٹ کے حلقوں میں بیانات اور تنقید کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ اب ایک دوسرے پر الزامات دہرائے جائیں گے اور ایک دوسرے کو موردِ الزام ٹھہرایا جائے گا۔ کرکٹ ٹیم میں ایک بڑے آپریشن کلین اَپ کا اعلان کیا جائے گا۔ یہ کہا جائے گا کہ اب اہل کھلاڑیوں پر مبنی ٹیم منتخب کی جائے گی۔ ٹیم کے کھلاڑی یہ کہیں گے کہ فلاں فلاں وجہ سے ہم ہار گئے اور یہ کہ اب وہ محنت کریں گے تو اگلا میچ جیت کر دکھائیں گے۔ سابق کرکٹرز نے دورۂ انگلینڈ میں مایوس کن کارکردگی کے ٹیم کے حوالے سے کیے گئے فیصلوں پر کڑی تنقید کی ہے۔ سابق کپتان شاہد آفریدی نے کہا کہ ٹی ٹونٹی پلیئرز کو انگلینڈ میں ٹیسٹ میچ کیلئے شامل کرنا حیران کن فیصلہ ہے۔ سابق ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے کہا کہ تسلسل کے ساتھ تبدیلیاں کی جاتی ہیں جس کی وجہ سے ٹیم میں کوئی استحکام نہیں ہے۔ انگلینڈ کے سابق کپتان کیون پیٹرسن بھی پاکستان ٹیم میں ہونے والی تبدیلیوں پر حیران ہیں‘ انہوں نے کہا کہ کھلاڑیوں کو واپس بھیجنے سمیت اتنی تبدیلیاں‘ کیا واقعی یہ سب ہوا ہے؟ سابق پاکستانی کرکٹرز عاقب جاوید اور سعید اجمل کی جانب سے بھی کرکٹ کی صورت حال پر تنقید کی گئی ہے۔انگلینڈ کے ہاتھوں پہلا ٹیسٹ میچ ہارنے کے بعد برطانوی میڈیا رپورٹ میں انگلینڈ کے دورے پر موجودہ پاکستان ٹیسٹ ٹیم کو 50 برسوں کی کمزور ترین ٹیم قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ ہیڈنگلے کی خشک پچ پر بھی پاکستانی باؤلرز انگلش بلے بازوں کو پریشان نہ کر سکے اور میچ ہار گئے۔ سوال یہ ہے کہ 50 برسوں کی کمزور ترین ٹیم تیار یا منتخب کرنے کا ذمہ دار کون ہے؟ کس کو ان ناکامیوں کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے؟ کھلاڑیوں کو‘ کوچز کو؟ ٹیم سلیکٹرز کو ؟ کہیں نہ کہیں تو خرابی ہے جس کی وجہ سے ہم مسلسل میچز ہارتے جا رہے ہیں۔چلیں ٹیم کی پرفارمنس کا معاملہ تو ہے ہی‘ اور اس حوالے سے مناسب اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں‘ لیکن اس کے Parallel امام الحق اور محمد رضوان کے جو معاملات چل رہے ہیں ان کا کیا کیا جائے۔ جب ٹیسٹ میچوں کے دوران اس طرح کے معاملات ہوں گے تو پھر کامیابی کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ لارڈز ٹیسٹ میں چوتھے دن 194رنز سے شکست کے بعد وکٹ کیپر محمد رضوان اور اوپنر امام الحق کو ہنگامی بنیادوں پر واپس پاکستان بھیجنے کے بعد اطلاعات ہیں کہ آنے والے دنوں میں ان کرکٹرز کو بورڈ کی جانب سے سخت کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ امام الحق کی ماضی میں جعلی انجری کے بعد لارڈز ٹیسٹ میں پنڈلی کی تکلیف کے بعد دونوں اننگز میں بیٹنگ نہ کرنے پر بورڈ کو عالمی سطح پر جگ ہنسائی کا سامنا ہے اور اس معاملے میں بورڈ میں امام الحق کے خلاف اعلیٰ سطح کی کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا جا چکا ہے‘ جو اچھی بات ہے۔ دوسری طرف لارڈز ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں ایک رن پر انتہائی غیر ذمہ دارانہ شاٹ کھیل کر وکٹ گنوانے والے وکٹ کیپر محمد رضوان بھی بورڈ کی سخت نگرانی میں ہیں۔ کہا گیا ہے کہ محمد رضوان پر ڈسپلن کی خلاف ورزی کے حوالے سے بورڈ سخت تحفظات رکھتا ہے اور آنے والے دنوں میں محمد رضوان کو اس حوالے سے بورڈ باز پرس کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ٹیم کا کسی وجہ سے پرفارمنس نہ کر پانا کسی حد تک نظر انداز کیا جا سکتا ہے لیکن اس طرح کے معاملات کو اگر نظر انداز کیا گیا تو پھر ٹیم میں مسائل کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ جائیں گے۔ پرفارم نہ کرنا برداشت ہو سکتا ہے لیکن جان بوجھ کر ٹیم کو ہروانے کی کوشش کرنا قابلِ برداشت نہیں ہونا چاہیے۔میرے ذاتی خیال میں کسی کے مستعفی ہو جانے یا پاداش کے طور پر ایک عہدہ لے کر دوسرا عہدہ دے دینے سے کوئی فائدہ نہیں ہونے والا۔ جو پرفارم نہیں کر پا رہا‘ یا جو جان بوجھ کر پرفارم نہیں کرتا اس کے لیے ٹیم میں جگہ نہیں ہونی چاہیے۔ جب زیادہ لاڈ لڈائے جاتے ہیں تو کھلاڑی خود کو ٹیم کے لیے ناگزیر سمجھنا شروع ہو جاتے ہیں اور جان بوجھ کر آؤٹ ہو جاتے ہیں۔ یہ سلسلہ اب بند ہونا چاہیے۔ میرا چیئرمین پی سی بی محسن نقوی صاحب کو مشورہ ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ میں تجربہ کار افراد پر مبنی ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جو میچوں کے دوران کھلاڑیوں کی باڈی لینگویج اور کارکردگی اور آؤٹ ہونے کے طریقے پر گہری نظر رکھے۔ یہ باڈی نہ صرف خود کھلاڑیوں کی پرفارمنس پر نظر رکھے بلکہ میچوں کی ریکادڑنگز دیکھ کر بھی کھلاڑیوں کی کارکردگی کا جائزہ لے اور پھر اس کمیٹی کی تجاویز کو سامنے رکھ کر ٹیم سلیکٹ کی جائے۔ جس طرح امام الحق اور محمد رضوان کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا‘ اسی طرح سب کھلاڑیوں پر نظر رکھی جائے اور قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے کھلاڑیوں کے خلاف ضابطے کی کارروائی کی جائے۔ میرا خیال ہے کہ اس طرح کا سیٹ اَپ ٹیم کی کارکردگی بہتر بنانے میں ممد ثابت ہو سکتا ہے۔دوسرا کرکٹ بورڈ کھلاڑیوں کے ساتھ جو کنٹریکٹ سائن کرتا ہے اس میں کھلاڑیوں کے لیے مختلف میچوں کی وڈیوز کے ذریعے مخالف ٹیم کی کمزوریاں آشکار کرنے کا اہتمام کیا جانا چاہیے تاکہ وہ اس ٹیم کے خلاف میچ میں ایک اچھی اور میچ وننگ سٹرٹیجی بنا سکے۔ تیسرا یہ کہ بیٹنگ اور باؤلنگ‘ دونوں کوچز کو کھلاڑیوں کو یہ بتانا اور سکھانا چاہیے کہ ٹیم اگر مسائل کا شکار ہو جائے یعنی وکٹیں مسلسل گرنا شروع ہو جائیں تو پھر بعد میں آنے والے کھلاڑیوں کو وکٹ پر رکنا کیسے ہے۔ چونکہ کرکٹ بائی چانس ہوتی ہے‘ اس لیے میچ کے دوران کوئی بھی ٹیم مسائل کا شکار ہو سکتی ہے۔ جیتے گی وہی ٹیم ہے جو مسائل کے دوران بھی اپنے ہوش قائم رکھتی ہے۔ چوتھا یہ کہ باؤلرز کو بھی کچھ نہ کچھ بیٹنگ ضرور آنی چاہیے تاکہ نامساعد حالات پیدا ہوں تو ٹیل اینڈر ریت کی دیوار ثابت نہ ہوں بلکہ مخالف ٹیم کے سامنے ڈٹ جائیں اور اپنی ٹیم کو فتح سے ہمکنار کر سکیں۔یہ امر خوش آئند ہے کہ اس ساری صورت حال کے باوجود پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی پُر امید ہیں اور انہوں نے ٹیم پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جیسے بھی حالات ہیں یہی ٹیم پرفارم کرے گی۔ ان کا مؤقف ہے کہ لڑکوں پر اعتماد ہے‘ خود اعتمادی ہو تو بڑے سے بڑا امتحان بھی پاس ہو جاتا ہے‘ جیسے بھی حالات ہیں یہی ٹیم پرفارم کرے گی‘ تاہم وہ مستقبل میں نوجوان اور جونیئر کھلاڑیوں کو آگے لانے کے خواہش مند ہیں‘جو مستقبل میں ٹیم کی باگ ڈور سنبھال سکیں۔ اس سلسلے میں چیئر مین نے مستقبل میں انڈر 19اور جونیئر کرکٹرز کو زیادہ سے زیادہ مواقع کے ساتھ مکمل اعتماد دینے کی پالیسی اپنانے کی ہدایت کی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ٹیم کو آگے بڑھانے اور بھرپور پرفارمنس کے لیے تیار کرنے کے لیے ایسے ہی حوصلے‘ عزم اور یقین محکم کی ضرورت ہے۔ میں تو محسن نقوی کے اپنے ملک کے کھلاڑیوں پر اعتماد کی اس شدت کو دیکھ کر حیران ہوں۔ یہ اعتماد ٹیم کو ضرور کامران کر دے گا اور جلد پاکستان کی کرکٹ ٹیم دنیا کی بہترین ٹیموں میں شامل ہو جائے گی۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_58350786.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>صوبے۔ من صوبے(سعود عثمانی )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-09-03/52596/36573820</link><pubDate>Thu, 03 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-09-03/52596/36573820</guid><description>ہم سب ایسا مسافرخاندان لگتے ہیں جس کی اپنے قریبی سٹیشن سے ٹرین چھوٹ گئی۔ اس کے پاس کسی طرح سفر جاری رکھنے کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا‘ سو چلتے رہے۔ بہت مشکلیں اٹھائیں‘ بہت تکلیفیں جھیلیں‘ بہت مسائل کا سامنا کیا لیکن ہمت اور کچھ کامیابیوں کے ساتھ سفر جاری رہا۔ پھر بھی رہ رہ کر وہ چھوٹی ہوئی ٹرین یاد آتی رہی۔ اچانک کسی نے تجویز دی کہ وہ ٹرین اب اگلے سٹیشن پر پھر پکڑی جا سکتی ہے۔ دیر ہی سے سہی‘ منزل تک پہنچ جائیں گے۔ خاندان دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ کچھ کہتے تھے کہ یہ ٹھیک بات ہے‘ ٹرین پکڑنا ہی مسائل کا حل ہے۔ کچھ کہتے تھے کہ اب وہ موقع گزر چکا‘ حالات تبدیل ہو چکے‘ مسائل مختلف ہو چکے‘ اب ٹرین پر سوار ہونے کا مطلب ہے کہ پچھلے مسائل برقرار رہنا اور نئے مسائل کو جنم دینا۔ دونوں گروہوں میں شدت سے بحث جاری ہے۔ اب بحث میں احتجاج اور دھمکیوں کا رنگ بھی شامل ہوتا جا رہا ہے۔ آگے کیا ہوگا‘ دیکھتے جائیے۔صوبے یا منصوبے! کسی کو اپنے صوبے کا جغرافیہ اتنا مقدس لگتا ہے کہ اسے بدلنے کی بات تک گوارا نہیں۔ کسی کو لگتا ہے کہ یہ انتظامی یونٹس کون سے ہمیشہ سے چلے آ رہے ہیں‘ ہر دور میں ان میں تبدیلیاں آتی رہی ہیں۔ اب اگر نقشے میں مزید تبدیلیاں ہو جائیں تو کون سی قیامت آ جائے گی۔ دونوں طرف دلائل ہیں اور دونوں طرف جذبات۔ کچھ ملک کی بات کرتے ہیں اور کچھ صوبے کی۔ دل میں جھانکا جائے تو ہر ایک کے دل میں من چاہے صوبے ہیں &#39;من صوبے‘ کہہ لیجیے۔نام کچھ بھی رکھ لیں‘ نئے انتظامی یونٹس کا ذکر آتے ہی انصاری کمیشن کا ذکر لازمی ہو جاتا ہے۔ میرا ذہن 1983ء کے زمانے یعنی 43 سال پیچھے پہنچ جاتا ہے‘ جب ہمارے سمن آباد موڑ والے آبائی گھر میں اس کمیشن کی تجاویز پر روز و شب ملاقاتیں ہوا کرتی تھیں۔ کوئی شک نہیں کہ یہ کمیشن ان لوگوں پر مشتمل تھا جو نہ صرف مفاد پرستی اور سیاسی وابستگی سے دور تھے بلکہ یہ غیر متنازع ارکان حب الوطنی اور ملکی بہتری کے جذبے سے بھی سرشار تھے۔ اس کمیشن کے صدر محمد ظفر احمد انصاری تھے۔ کمیشن کے اہم ارکان میں جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری‘ جسٹس مولانا محمد تقی عثمانی‘ جسٹس (ریٹائرڈ) محمد افضل چیمہ‘ مولانا محمد مالک کاندھلوی‘ علامہ سید محمد رضی مجتہد‘ بیگم سلمیٰ تصدق حسین‘ اخوند زادہ بہرہ ور سعید‘ مفتی محمد حسین نعیمی‘ ڈاکٹر ضیا الدین احمد‘ ڈاکٹر منیر الدین چغتائی اور پروفیسر محمود احمد غازی شامل تھے۔ ڈاکٹر محمد حمید اللہ‘ محمد اسد اور سید حسین امام کو کمیشن کا اعزازی مشیر مقرر کیا گیا تھا۔ کمیشن کے سربراہ جناب ظفر احمد انصاری ہمارے گھر کے مستقل مہمانوں میں تھے‘ وہ لاہور میں اکثر ہمارے ہی گھر میں قیام کرتے تھے۔ عم مکرم مفتی محمد تقی عثمانی بھی کمیشن کے رکن تھے‘ لہٰذا ہمارا گھر ملاقاتوں کا مرکز بنا ہوا تھا۔ اب 2026ء میں ان افراد میں بہت سے رخصت ہو چکے لیکن ملکی تاریخ کے اس موڑ پر‘ ان حضرات سے بھی مدد لینی چاہیے جو اللہ کے فضل سے ہمارے درمیان موجود ہیں اور اس تمام بحث کے بہت سے پہلوؤں سے بہتر طور پر واقف رہے ہیں۔ اگر یہ فیصلہ اعلیٰ سطح پر زیر بحث ہے تو میری تجویز ہے کہ مفتی محمد تقی عثمانی سے حکومتی سطح پر اس معاملے پر مشاورت کرنی چاہیے۔حقیقت یہ ہے کہ 1983ء کا زمانہ ان فیصلوں کے نفاذ کیلئے بہت بہتر تھا‘ لیکن بدقسمتی سے کچھ فیصلے نہیں کیے جا سکے۔ اس کی وجوہات یقینا ہوں گی لیکن 2026ء میں یہ وجوہات پہلے سے زیادہ اور مزید پیچیدہ ہو چکی ہیں۔ بہت سے لوگوں کو شاید معلوم نہیں کہ یہ کمیشن بنیادی طور پر صوبوں اور انتظامی یونٹس کی تشکیل کیلئے نہیں بلکہ ریاست کے نظریاتی اور انتظامی ڈھانچے کو مضبوط اور بنیادی مقاصد کی روشنی میں استوار کرنے کیلئے بنایا گیا تھا۔ کمیشن کے پاس قوتِ نافذہ نہیں تھی‘ صرف تجاویز اور رپورٹس کی حد تک اختیار تھا‘ جو اس نے پورا کر دیا۔ اس کی تجاویز شائع شدہ شکل میں موجود ہیں۔ صوبوں کے بارے میں بظاہر کمیشن کے اندر بھی مختلف آرا تھیں۔خیر ٹرین اس وقت چھوٹ گئی لیکن نئے انتظامی یونٹس کے فائدے اور ممکنہ مسائل اب 2026ء کے حالات کی روشنی میں دیکھنا ہوں گے۔ میں ہمیشہ سے اس حق میں ہوں کہ چاروں صوبوں کے اندر خالص انتظامی بنیادوں پر نئے یونٹس بنانا بہتر ہے۔ لسانی‘ گروہی اور قومیتی بنیادوں پر یونٹس ملک کی یکجہتی کیلئے زہر رہے ہیں اور رہیں گے۔ لیکن اس نکتے سے ہٹ کر بھی نئے صوبوں کے بے شمار فائدے ہیں۔ ان پر ایک نہیں‘ کئی کالموں کی ضرورت ہو گی۔ اس کام میں عملی مسائل اور پیچیدگیاں کیا ہوں گی‘ یہ بھی سوچنا لازمی ہے۔ قومی اتفاقِ رائے بھی اس کیلئے لازمی ہے۔ ایسا ہی اتفاقِ رائے جیسا 1973ء کے آئین پر ہوا تھا۔ یہ اتفاقِ رائے کیا اب حاصل کیا جا سکتا ہے؟ سیاسی جماعتوں کی اس بارے میں پوزیشن آہستہ آہستہ واضح ہوتی جا رہی ہے۔ جن کا مؤقف واضح نہیں وہ آئندہ دنوں میں واضح ہو جائے گا۔ بدقسمتی سے سیاسی جماعتوں میں کئی اپنے مفاد سے اوپر اُٹھ کر ملک کیلئے سوچنے سے عاری ہیں۔ انہیں خوف ہے کہ چھوٹے یونٹس کی صورت میں ان کا مستقبل زیادہ روشن نہیں ہو گا۔ جب مستقبل غیر محفوظ لگتا ہو تو ان کی جیبوں سے لسانی‘ قومیتی اور صوبائی کارڈ نکل آتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں میں پیپلز پارٹی کا مؤقف کم و بیش واضح ہو چکا۔ پیپلز پارٹی پہلے ہی ایک صوبے کی حد تک سمٹ چکی ہے۔ یہ حقیقت ڈھکی چھپی نہیں کہ اسے شہری علاقوں خاص طور پر کراچی‘ حیدرآباد اور سکھر سے ووٹ نہیں ملتے۔ دیہی ووٹ کی بنیاد پر وہ مسلسل صوبے کی سربراہی سنبھالے ہوئے ہے۔ یہ ووٹ بینک کتنا حقیقی ہے‘ یہ ایک الگ سوال ہے۔ ان کا خوف ہے کہ اگر سندھ میں کئی انتظامی یونٹس بن گئے تو وہ ایک گوشے میں سمٹ جائے گی۔ سندھ کے بڑے شہروں میں اس کے سیاسی حریف طاقت میں ہیں۔ جس طرح اسے کراچی کی میئرشپ اور سندھ کی وزارتِ اعلیٰ ملی ہے وہ بھی سب کے علم میں ہے۔ اگر مقتدر حلقوں کا فیصلہ نئے انتظامی یونٹس ہیں تو ممکنہ کارڈ ان کے خلاف بھی جا سکتا ہے۔ صوبے کا کارڈ کتنی دیر تک کھیلا جا سکے گا؟ پارٹی کی نوجوان لیڈرشپ کا سیاسی مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ زرداری صاحب نے مقتدرہ سے بنا کر رکھنا سیکھ لیا ہے لیکن اب پیپلز پارٹی کیلئے یہ آسان فیصلہ نہیں ہے۔ ان کی طرف سے مخالفت اور احتجاج کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے‘ لیکن اگر ایم کیو ایم‘ جو نئے صوبوں کے حق میں ہے‘ ان کے خلاف کھڑی ہو جاتی ہے تو شہری علاقوں میں حکومت کیلئے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ ابھی جماعت اسلامی کا مؤقف واضح نہیں۔ وہ بھی سندھ کی سیاست اور فیصلوں میں اہم کردار ادا کرے گی۔جمعیت علمائے اسلام (ف) کا مؤقف روز بروز واضح ہوتا جا رہا ہے۔ مولانا فضل الرحمن کی سکھر کانفرنس اس سلسلے کی تازہ مثال ہے جس میں انہوں نے اس منصوبے کو رد کیا ہے۔ بظاہر مولانا کا مؤقف یہ ہے کہ اس وقت کے حالات میں یہ فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے کیونکہ ملک پہلے ہی بدامنی کی حالت میں ہے۔ مولانا فضل الرحمن یہ بھی کہہ چکے کہ اصولاً نئے صوبوں پر انہیں اعتراض نہیں لیکن اس وقت یہ شوشہ چھوڑنا کیا اہم معاملات سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے؟ جے یو آئی چاروں صوبوں میں طاقت رکھتی ہے اور علاقائیت یا لسانیت سے اس کا کبھی واسطہ نہیں رہا۔ اس لیے اس کا مؤقف نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس وقت پیپلز پارٹی کو ان کے مؤقف سے تقویت مل رہی ہے‘ لیکن میرے خیال میں نئے انتظامی یونٹس سے جے یو آئی کو بہت فائدہ ہو سکتا ہے۔ وہ کئی علاقوں میں‘ جہاں اس کی بھرپور طاقت ہے‘ اقتدار سنبھال سکتی ہے جو موجودہ نظام میں ممکن نہیں ہو سکا۔ کے پی میں نئے انتظامی یونٹس ان کیلئے پورے صوبے میں اپنی طاقت بڑھانے میں مؤثر ہوں گے۔ یہی صورت بلوچستان میں بھی ہے۔لیجیے! بات شروع ہوئی ہی تھی کہ گنجائش ختم ہو گئی۔ اگلی ملاقات میں مزید بات کرتے ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_81278520.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>NIEF کا قیام اور کارکردگی …(1)(مفتی منیب الرحمٰن )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-09-03/52597/69264445</link><pubDate>Thu, 03 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-09-03/52597/69264445</guid><description>سیلانی ویلفیئر انٹرنیشنل ٹرسٹ پاکستان کا ایک ممتاز رفاہی‘ فلاحی اور تعلیمی ادارہ ہے‘ مولانا بشیر فاروق قادری اس کے بانی چیئرمین ہیں۔ &#39;&#39;سیلانی سکول آف بزنس اینڈ اسلامک لیڈر شپ (SBIL)‘‘ اس کا ذیلی ادارہ ہے۔ اس کے تحت دارالعلوم میمن کے اشتراک کے ساتھ تین سال قبل نیشنل اسلامک اکنامک فورم(NIEF) کا قیام عمل میں آیا اور بلاسود بینکاری کے فروغ کیلئے سالانہ کانفرنسوں کا انعقاد شروع ہوا۔ 5 اگست 2026ء کو ایک مقامی ہوٹل میں تیسری سالانہ کانفرنس منعقد ہوئی۔ اس کانفرنس میں سٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر جناب جمیل احمد اور ڈپٹی گورنرجناب سلیم اللہ کے علاوہ صنعت وتجارت کی ممتاز شخصیات شہزاد پٹیل ‘ حمزہ تابانی‘ حسن بخشی ‘ عامر غازیانی ‘ اسامہ قریشی‘ فرحان حنیف ‘ عامر پراچہ اور بعض اسلامی بینکوں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی اور اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ یونی لیور کے عامر پراچہ نے کہا: میں سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ کے چیئرمین مولانا بشیر فاروق قادری سے کہوں گاکہ جہاں آپ اور اچھے کام کر رہے ہیں‘ ایک کام یہ بھی کریں: &#39;&#39;اس ملک میں سب سے اہم کام عدالتی اصلاحات پر کام کرنا ہے‘ اگر تین مہینے میں فیصلے ہونے لگیں تو اسّی فیصد برائیاں ختم ہو جائیں گی۔ آج اگر کسی کو اپنی زمین یا مکان خالی کرانا ہے‘ کوئی کسی کے پیسے کھا جاتا ہے‘ ٹیکس کے مقدمات ہیں‘ زمینوں کے مقدمات ہیں‘ لگ بھگ آٹھ کھرب روپے عدالتوں میں پھنسے ہوئے ہیں‘ تاریخ پر تاریخ لگتی ہے اور فیصلہ نہیں آتا۔ یہ پیسہ مارکیٹ میں آئے گا تو کاروبار میں لگے گا‘ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے‘ معاشی سرگرمیاں شروع ہوں گی‘ جی ڈی پی میں اضافہ ہوگا اور حکومت کو ٹیکس ملے گا‘ ورنہ خالی بھاشن دینے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ بعض اوقات ماتحت عدالتوں سے سپریم کورٹ تک مقدمات کے فیصلوں میں چالیس چالیس سال لگ جاتے ہیں۔ لہٰذا چیف جسٹس آف پاکستان‘ چیف جسٹس آئینی عدالت‘ چاروں ہائی کورٹس اور فیڈرل شریعت کورٹ کے چیف جسٹس صاحبا ن اورتمام ہائیکورٹ بارز کے صدور‘ وزیراعظم اور وزیر قانون کو بلائیں اور عدالتی اصلاحات پر بات کریں‘ انہیں کہیں کہ اس طرح پاکستان نہیں چلے گا‘ خود پاکستانی پیسہ لگانے سے ڈرتے ہیں‘ باہر سے کوئی سرمایہ کار کیسے آکر سرمایہ کاری کرے گا‘‘۔گورنر سٹیٹ بینک نے کہا: &#39;&#39;حالیہ برسوں میں بیرونِ ملک سے ترسیلاتِ زر میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور ہم نے فنڈز ٹرانسفر کو آسان بنایا ہے۔ باہر سے زرِ مبادلہ کمانے والوں کو یہ سہولت بھی دی ہے کہ وہ اُس کا پچاس فیصد فارن کرنسی اکائونٹ میں رکھ سکتے ہیں اور اپنے اخراجات پورا کرنے کیلئے ٹرانسفر بھی کر سکتے ہیں اور اس کیلئے سٹیٹ بینک کی منظوری کی ضرورت نہیں ہے‘ حتیٰ کہ بعض بینک فارن کرنسی کے حامل کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ بھی جاری کر رہے ہیں‘ جن کے ذریعے براہِ راست فارن کرنسی میں بیرونِ ملک ادائیگی ہو سکتی ہے۔ سٹیٹ بینک نے سٹیئرنگ کمیٹی بنائی ہے جو اسلامی بینکنگ پر کام کر رہی ہے اور اس سلسلے میں پیش آمدہ مسائل کو حل کرنے کیلئے سفارشات پیش کرتی ہے۔ روایتی سودی بینکاری سے متعلق جو قوانین اسلامی بینکاری سے متصادم ہیں‘ اُن کی نشاندہی کر کے حل کے بارے میں سوچا جاتا ہے اور ہم اپنے ریگولیٹری فریم ورک کو اسلامی بینکاری کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم نے AAOIFI یعنی بحرین میں قائم اسلامی مالیاتی اداروں کی آڈٹنگ اینڈ اکائونٹنگ تنظیم کے معیارات کو کافی حد تک اپنا لیا ہے۔ حکومت کی جانب سے 16 اپریل 2026ء کو ہائبرڈ صکوک کا اجرا بھی کر دیا گیا ہے اور اب تک حکومت نے ان کے ذریعے 1800 ارب روپے حاصل کیے ہیں‘‘۔ نوٹ: ہائبرڈ صکوک (Hybrid Sukuk) سے مراد ایسے صکوک‘ سیکورٹی سر ٹیفکیٹس یا بانڈز ہیں جن میں فنڈز اکٹھا کرنے کیلئے بیک وقت دو یا دو سے زیادہ مختلف اسلامی مالیاتی معاہدوں (مثلاً اجارہ‘ مضاربہ‘ مشارکہ یا مرابحہ) کو ایک ہی سرمایہ کاری میں یکجا کیا جاتا ہے۔ اس میں روایتی صکوک کی طرح صرف ایک طریقہ کار کے بجائے مختلف اسلامی کاروباری معاہدات کے امتزاج سے سرمایہ کاری کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ حکومت یا ادارے اپنے بڑے اثاثے (جیسے سڑکیں یا عمارتیں) اس میں استعمال کرتے ہیں تاکہ فنڈز کی فراہمی کو زیادہ مؤثر اور لچکدار بنایا جا سکے۔ سٹیٹ بینک نے ایس ای سی پی اور پاکستان سٹاک ایکسچینج کے ساتھ مل کر مختصر المیعاد صکوک کا بھی اجرا کیا ہے اور اس کے ذریعے حکومت نے 239 ارب روپے حاصل کیے ہیں۔ اس طرح اسلامی بینکوں کو سود پر مبنی ٹریژری بلز کا ایک متبادل نظام بھی فراہم کردیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ وفاقی حکومت اور اس کے اداروں کی تحویل میں جو غیر جاری اور جامد اثاثہ جات ہیں‘ ان کا مرکزی ریکارڈ مرتب کرنے کیلئے Asset Registry Company قائم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ وفاقی حکومت اور اس کے مختلف اداروں کے غیر جاری اور قابلِ اجارہ منجمد اثاثہ جات کو ایک بڑے پول کی شکل دی جائے گی اور اس کے ذریعے حکومت اپنی مالیاتی ضرورتوں کیلئے شریعہ کے مطابق مالی وسائل حاصل کر سکے گی۔ انہوں نے کہا: &#39;&#39;ہمیں بینکاروں‘ شریعہ ماہرین اورسرمایہ کاروں الغرض سب وابستگان کی اسلامی مالیاتی نظام کی استعداد کو بڑھانے کی ضرورت ہے‘‘۔ڈپٹی گورنر جناب سلیم اللہ نے مولانا بشیر فاروق قادری کی قیادت میں سیلانی ویلفیئر انٹرنیشنل ٹرسٹ کی خدمات کی تحسین کی اور کہاہم ان کی خدمات کو سلام پیش کرتے ہیں اور میرے لیے یہ بات قابل فخر ہے کہ میں اس کا حصہ ہوں۔ اسلامی بینکاری کی بابت انہوں نے کہا: &#39;&#39;اسلامی مالیاتی نظام کا مقصد صرف یہ نہیں کہ چونکہ ہم مسلمان ہیں‘ اس لیے ہمیں اس کی ضرورت ہے بلکہ ہمیں دنیا پر بھی یہ ثابت کرنا ہے کہ اسلام کا عطا کردہ اقتصادی نظام ہی حقیقت میں بالاتر نظام ہے اور انسانیت کی فلاح کا ضامن ہے۔ یہ بینکاری نظام سے وابستہ تمام طبقات کیلئے یکساں طور پر فیض رساں ہے۔ ان میں بنکوں کے کھاتہ دار‘ بینکوں سے سرمایہ کاری کیلئے مالی وسائل حاصل کرنیوالے سرمایہ کار‘ صنعتکار‘ بینکوں کے شراکت دار‘ تاجر طبقہ اور حکومت سب شامل ہیں‘ اسلامی مالیاتی نظام کی خوبصورتی تمام طبقات کی فلاح میں ہے‘‘۔ (یہ بہت بڑا دعویٰ ہے اور اس پر پورا اترنا سٹیٹ بنک آف پاکستان اور پورے بینکاری نظام‘ حکومت پاکستان اور دین سے محبت کا دعویٰ کرنے والے صنعتکاروں‘ تاجروں اور تمام کاروباری حضرات کیلئے ایک بڑا امتحان ہے‘ الغرض یہ ایک اجتماعی ملّی وقومی مشن کا تقاضا کر رہا ہے)۔ انہوں نے کہا: &#39;&#39;پاکستانی بینکاری نظام کے مالیاتی اثاثوں میں اسلامی بینکاری کا حصہ29 فیصد‘ نجی کاروباری اداروں کو دی جانیوالی مالیاتی سہولتوں میں 40 فیصد اور مجموعی بینکاری نظام میں شاخوں کی تعداد تقریباً 44 فیصد ہو چکی ہے۔ (نوٹ: یہ اُنکا بتایا ہوا تخمینہ ہے‘ حقیقی اعداد وشمار اوپر نیچے ہو سکتے ہیں)۔ ہمیں امید ہے کہ اگر اسی رفتار سے پیش قدمی جاری رہی تو یکم جنوری 2028ء تک ملک کے بینکاری اور مالیاتی نظام کا بڑا حصہ شریعہ کے مطابق ہو چکا ہو گا۔ حکومتِ پاکستان نے 2027ء تک کے عرصے کیلئے ایک باقاعدہ حکمتِ عملی اور خاکہ (Blue Print) منظور کر لیا ہے اور اس میں حکومت نے واضح کردیا ہے کہ یکم جنوری 2028ء سے بینکوں کے تمام مالی معاملات شریعہ کے مطابق ہوں گے۔ اس وقت سودی نظام پر مبنی جو عقود (Contracts) ومعاہدات جاری ہیں‘ اُن کی مدت ختم ہونے پر ان کی سود پر مبنی تجدید نہیں کی جا سکے گی بلکہ شریعہ کے مطابق نئے عقود اور معاہدات کرنے لازمی ہوں گے‘ البتہ تکمیلِ مدت تک موجودہ معاہدات کی پابندی لازمی ہو گی۔ آئندہ بیرونی مالیاتی سہولتیں حاصل کرنے کیلئے جہاں تک ممکن ہوگا شریعہ کے مطابق کرنے کی کوشش کی جائے گی‘ چونکہ بین الاقوامی مارکیٹ میں مختلف تحدیدات ہوتی ہیں‘ اسلئے اس معاملے میں عملی امکانات کو پیشِ نظر رکھا جائے گا لیکن ہماری ترجیح اسلامی مالیاتی نظام ہی رہے گی‘‘۔ (جاری)</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_61172381.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>