<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>معرکۂ حق کا سال!(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-10/11178</link><pubDate>Sun, 10 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-10/11178</guid><description>معرکۂ حق بنیانٌ مرصوص کی فتح کا پہلا سال پاکستانی قوم کو مبارک ہو۔اس عزت کیلئے ربِ ذوالجلال کا جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے۔ یہ سال قومی تاریخ میں عزم‘ اتحاد ‘ قومی غیرت اورملی جذبے کی روشن مثال بنا۔اس سال اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پاکستان نے ملکی سرحدوں کے مثالی دفاع سے لے کر عالمی سفارتی عروج تک بہت سے شعبوں میں نمایاں  منزلت حاصل کی۔ معرکۂ حق کی سب سے بڑی کامیابی قومی اتحاد کا فروغ ہے۔اس قومی معرکے کی بدولت بلا تفریق پوری قوم ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوئی اور قومی مفادات کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ یہی اتحاد پاکستان کی اصل طاقت ہے جو ہر مشکل وقت میں قوم کو مضبوط بناتا ہے۔معرکۂ حق نے پاکستان کی نوجوان نسل میں حب الوطنی کے جذبے کو جو تابانی بخشی وہ خاص طور پر قابلِ ذکر ہے۔پاکستان کی نوجوان نسل بھارتی ابلاغی اور ثقافتی حملوں کا بڑا ہدف رہی ہے اور اس کے اثرات ڈھکے چھپے نہیں تھے‘ تاہم معرکۂ حق کی فتح نے ہماری نوجوان نسل کو اپنی قومی صلاحیتوں کا درست ادراک فراہم کر کے انہیں جو فکری توانائی فراہم کی ہے اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج سائبر سپیس میں پاکستانی نوجوان پہلے سے کہیں زیادہ اعتما د کے ساتھ اپنا مافی الضمیر پیش کررہے ہیں۔

عالمی اور علاقائی سطح پر بھی پاکستان کو اس فتح عظیم سے بے پناہ ثمرات حاصل ہوئے۔ دنیا نے پاکستان کی طاقت اور اہمیت کو اس حقیقت کے آئینے میں ملاحظہ کیا ہے جو معرکۂ حق کی صورت میں پاکستان کی باصلاحیت اور جرأت مند مسلح افواج کی جوانمردی سے تشکیل دیا گیا ہے ۔ عالمی سیاست میں ایک ناگزیر مڈل پاور کے طور پر ابھرتا ہوا پاکستان معاصر تاریخ کی ایک مستند سچائی ہے ۔امریکہ اور ایران کے مابین ثالثی میں پاکستان کے کلیدی کردار نے اس حیثیت کو مزید واضح کر دیا ہے۔اپنے قومی مفادات‘ مسئلہ کشمیر اور مسلم اُمہ کے مسائل کے حوالے سے بھی بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا مؤقف اب پہلے سے زیادہ مؤثر ہے‘ اور دنیا اسے نظر انداز نہیں کر سکتی۔ پاکستان نے ہمیشہ امن‘ استحکام اور خطے میں بہتر تعلقات کی بات کی ہے مگر ساتھ ہی یہ واضح کیا ہے کہ قومی سلامتی اور خودمختاری پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ یہی اصولی مؤقف پاکستان کی طاقت اور وقار کی علامت ہے۔ معرکۂ حق کا ایک سال مکمل ہونے پر پوری قوم کو اس عزم کا اعادہ کرنا چاہیے کہ پاکستان کی سلامتی‘ ترقی اور استحکام کیلئے پہلے سے زیادہ پُر عزم جدوجہد کی ضرورت ہے ۔
اس معرکے کی قوت اور اعتماد کو اپنی طاقت بنا کر قومی جذبے کے ساتھ ترقی کا سفر جاری رکھیں تو منزل دور نہیں۔ ہمیں ذاتی اور سیاسی اختلافات اور مفادات سے بالاتر ہو کر قومی یکجہتی ‘ استحکام اور ترقی کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اتحاد‘ نظم و ضبط اور قومی مفاد کے جذبے ہی سے قومیں مضبوط بنتی اور ترقی کرتی ہیں۔ اگر ہم معرکۂ حق کے جذبے کے ساتھ متحد رہے تو کوئی طاقت پاکستان کو ترقی اور کامیابی کی راہ پر آگے بڑھنے سے نہیں روک سکتی۔ معرکۂ حق صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک ایسا قومی سفر ہے جو ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ قوم متحد ہو تو ہر چیلنج کا مقابلہ کامیابی سے کیا جا سکتا ہے۔ یہی اتحاد‘ حوصلہ اور عزم پاکستان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔ سیاسی قیادت کوبھی چاہیے کہ سماج میں ان صفات کے عملی ثبوت مہیا کریں ۔ مفادات کی سیاست کے بجائے قومی عزم کے ساتھ نسبت کو نمایاں کریں اور پاکستان کی ترقی کے سفر میں مل کر چلنے پر اتفاق کریں۔ پاکستان کو قدرت نے بے پناہ وسائل اور امکانات سے نوازا ہے‘ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان سے استفادہ کیا جائے۔ اس کے لیے جن حالات کی ضرورت تھی وہ موجود ہیں‘ قوم میں عزم اورجذبہ مثالی ہے ۔ یعنی لوہا گرم ہے اور اسے قومی ترقی کی صورت میں ڈھالنا مشکل نہیں ہونا چاہیے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پٹرولیم لیوی کا بوجھ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-10/11177</link><pubDate>Sun, 10 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-10/11177</guid><description>حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تقریباً 15 روپے فی لٹر اضافہ کر کے عوام پر مہنگائی کا ایک نیا بم گرا دیا ہے۔ اس اضافے کے بعد پٹرول اور ڈیزل کی قیمت تقریباً 415 روپے فی لٹر تک جا پہنچی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ حالیہ اضافے کی وجہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ نہیں بلکہ حکومت کی جانب سے پٹرولیم لیوی کی مد میں زیادہ سے زیادہ ریونیو اکٹھا کرنے کی خواہش ہے۔ یعنی پٹرولیم مصنوعات حکومت کیلئے ٹیکس اکٹھا کرنے کا آسان ذریعہ بن چکی ہیں۔ اس وقت حکومت پٹرول پر 117روپے لیوی سمیت مجموعی طور پر تقریباً 145 روپے فی لٹر ٹیکس وصول کرتی ہے جبکہ ڈیزل پر 70 روپے فی لٹر ٹیکس عائد ہیں۔ حکومت رواں مالی سال کے پہلے دس ماہ کے دوران عوام سے تقریباً 1330 ارب روپے پٹرولیم لیوی کی مد میں وصول کر چکی ہے۔ یہ اعداد و شمار اس حقیقت کا ثبوت ہیں کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعلق عالمی منڈی سے کم اور حکومت کی مالیاتی کمزوریوں سے زیادہ ہو چکا ہے۔ یہی وجہ ہے خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں پاکستانی حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بہت زیادہ اضافہ کیا ہے۔

پٹرولیم قیمتوں کے حوالے سے یہ طرزِ عمل انتہائی حیران کن ہے۔ جب عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہوتا ہے تو ایک لمحہ ضائع کیے بغیر اس کا پورا بوجھ عوام پر منتقل کردیا جاتا ہے اور جب عالمی قیمتیں کم ہوتی یا مستحکم رہتی ہیں تو عوام کو ریلیف دینے کے بجائے پٹرولیم لیوی بڑھادی جاتی ہے۔یوں ناقص ٹیکس نظام اور حکومتی مالیاتی ناکامیوں کا بوجھ عوام مہنگے پٹرول اور ڈیزل کی صورت میں برداشت کرتے ہیں۔ ملک میں ٹیکس وصولی کا شفاف نظام آج بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ متعدد ایسے شعبے ہیں جو ٹیکس سے مکمل یا جزوی طور پر آزاد ہیں اور انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں مگر ڈیزل‘ پٹرول ‘ دودھ اور دیگر ضروریاتِ زندگی پر بلا خیز ٹیکس لاگو کیا ہوا ہے۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ پورے معاشی نظام کو متاثر کرتا ہے۔ اس سے ٹرانسپورٹ مہنگی ہوتی ہے‘ اشیائے خور و نوش کی قیمتیں بڑھتی ہیں‘ صنعتی لاگت میں اضافہ ہوتا ہے جس سے مہنگائی کا ایک نیا طوفان جنم لیتا ہے۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ ایسے فیصلے کرتے وقت عوامی مشکلات‘ قوتِ خرید اور غربت میں اضافے کا کوئی خیال نہیں کیا جاتا۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ حکومت سنجیدہ معاشی اصلاحات سے مسلسل فرار اختیار کر رہی ہے۔ ٹیکس چوری روکنے‘ بڑے تاجروں اور بااثر طبقات کو ٹیکس نیٹ میں لانے‘ غیر رسمی معیشت کو دستاویزی بنانے اور سرکاری اخراجات کم کرنے جیسے اقدامات پر توجہ دینے کے بجائے ہر بار پٹرولیم لیوی بڑھانے کا آسان راستہ اختیار کیا جاتا ہے۔ یہ پالیسی نہ صرف غیر منصفانہ بلکہ معاشی طور پر بھی تباہ کن ہے۔ حکومت کو ایران امریکہ کشیدگی یا عالمی توانائی بحران جیسے حالات کو ریونیو بڑھانے کا سنہری موقع سمجھنے کے بجائے عوامی ریلیف کو ترجیح دینی چاہیے۔ضروری ہے کہ حکومت اپنی پالیسیوں پر سنجیدگی سے نظر ثانی کرے۔ عوام اب مزید مہنگائی اور ٹیکسوں کا بوجھ اٹھانے کی سکت نہیں رکھتے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ایک دوسرے کی طاقت(مجیب الرحمٰن شامی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mujeeb-ur-rehman-shami/2026-05-10/51918/28771917</link><pubDate>Sun, 10 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mujeeb-ur-rehman-shami/2026-05-10/51918/28771917</guid><description>پورے پاکستان بلکہ پوری دنیا میں جہاں جہاں پاکستانی بستے ہیں‘ معرکہ حق کی &#39;&#39;سالگرہ‘‘ منائی جا رہی ہے۔ ایک سال پہلے مئی کے اسی مہینے کے انہی دنوں میں بھارت پاکستان پر حملہ آور ہوا تھا یا یہ کہیے کہ پہلگام میں دہشت گردی کی ایک واردات کو &#39;&#39;جواز‘‘ بنا کر اُس نے اس حماقت کا ارتکاب کر ڈالا تھا۔ پاکستان پر الزام لگایا گیا‘ الزام لگانے والا خود ہی منصف بن گیا‘ فیصلہ صادر کر دیا کہ یہ سب کِیا دھرا پاکستان کا ہے۔ اسی نے دہشت گرد مقبوضہ کشمیر میں بھجوائے ہیں اور کنٹرول لائن سے تین سو کلو میٹر اندر گھس کر خون کا دریا بہا دیا ہے۔ پاکستان نے بار بار کہا‘ ایک نہیں ہزار بار کہا کہ ہمارا اس واردات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہم نے ایسے کسی دہشت گرد کو نہیں پالا پوسا جو لاکھوں بھارتی سپاہیوں کو چیرتا ہوا‘ پہلگام پہنچے اور خونی کھیل کھیلے۔ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اس الزام کی بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی غیرجانبدار بین الاقوامی فورم کو یہ معاملہ سونپ دیا جائے۔ بھارت ثبوت پیش کرے اور ثابت کرے کہ اس کے پیچھے ہمارا ہاتھ ہے‘ تو ہم ہر سزا بھگتنے کو تیار ہوں گے۔ لیکن بھارتی نیتاؤں نے اس مطالبے پر کان دھرنے کے بجائے‘ اس کی تائید کرنے کے بجائے اپنی رٹ جاری رکھی‘ الزام لگاتے اور دھمکیاں دیتے چلے گئے۔ اس سے اس شبے نے تقویت پکڑ لی کہ یہ سب ان ہی کا کِیا دھرا ہے۔ اس &#39;&#39;فالس فلیگ آپریشن‘‘ کے پیچھے ان ہی کے اپنے خفیہ کارندے ہیں۔ انہوں نے پاکستان پر حملہ کرنے کا جواز تراشنے کے لیے یہ کارروائی ڈالی ہے۔ ان دنوں امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس اپنی بھارت نژاد اہلیہ کے ساتھ نئی دہلی میں براجمان تھے جبکہ نریندر مودی سعودی عرب میں سواگت کے مزے لوٹ رہے تھے۔ وہ واپس آئے تو سیدھا مقبوضہ کشمیر جانے کے بجائے صوبائی انتخابی مہم میں شریک ہونے پہنچ گئے‘ ووٹروں کو ورغلانے اور اشتعال دلانے لگے۔ پاکستان کا بیانیہ دنیا بھر میں گونج رہا تھا۔ بین الاقوامی تحقیقات کے مطالبے پر کان دھرے جا رہے تھے اور دور و نزدیک پاکستان کے مؤقف کی اصابت کا اعتراف کیا جا رہا تھا۔ بھارت نے دنیا بھر میں اپنے وفود بھیجے‘ پاکستان نے بھی بلاول بھٹو زرداری کے زیر قیادت معتبر سیاستدانوں کا ایک وفد یورپ اور امریکہ کے دورے پر روانہ کیا۔ وہ آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کر کے رائے عامہ ہموار کرتے رہے‘ پاکستان کی پیش قدمی جاری رہی لیکن بھارت اپنی بات رٹو طوطے کی طرح دہراتا چلا گیا‘ یہاں تک کہ پاکستان پر چڑھ دوڑا۔ پاکستان پر فضائی حملہ کیا‘ آبادیوں کو نشانہ بنایا‘ اور ڈنکے بجانے لگا کہ ہم نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو تاراج کر ڈالا ہے۔ بھارتی میڈیا زہر اگلنے لگا‘ پاکستان کے مختلف شہروں پر قبضہ کرنے کی خبریں نشر ہونے لگیں۔ یہ دعویٰ تک کر ڈالا گیا کہ وزیراعظم شہباز شریف فرار ہو گئے ہیں‘ گویا بھارتی پرچم پاکستانی سرزمین پر لہرا رہے ہیں۔ پاکستان کی افواج نے حملہ آوروں کو دبوچ لیا‘ اس کے لڑاکا طیارے مار گرائے۔ ایئر ڈیفنس سسٹم کو ناکارہ بنا دیا۔ رافیل گِدھوں کی طرح پھڑ پھڑا رہے تھے‘ پاکستانی فضائیہ فضاؤں پر چھا چکی تھی۔ چار روز جاری رہنے والی جنگ میں بھارت کو منہ کی کھانا پڑی‘ صدر ٹرمپ کی مداخلت پر جنگ بندی ہوئی‘ دونوں ملکوں میں ایٹمی جنگ کا خطرہ ٹل گیا کہ دونوں ایٹمی ہتھیاروں سے لیس تھے اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے تھے۔ وہ دن جائے اور آج کا آئے صدر ٹرمپ اپنے سر پر اس جنگ بندی کا سہرا سجائے ہوئے ہیں۔ وہ بار بار اعلان کر چکے ہیں کہ بھارتی طیارے مار گرائے گئے‘ دو‘ تین سے ہوتے ہوئے گنتی آٹھ تک بلکہ اس سے بھی آگے پہنچ چکی ہے۔ بھارت نے پاکستان پر جو ڈرون چھوڑے تھے وہ بھی مٹی کا ڈھیر بن گئے‘ ہانپتی کانپتی بھارتی فضائیہ امان طلب کرنے لگی۔ جنگ بند ہوئی لیکن پاکستان کی طاقت اور صلاحیت کی دھاک بٹھا گئی۔ اس کی مسلح افواج نے جنرل عاصم منیر کے زیر قیادت تاریخ کا رُخ بدل ڈالا تھا۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں فیلڈ مارشل بنایا گیا‘ چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیا ادارہ قائم ہوا‘ جس کی سربراہی انہیں سونپی گئی۔ فضائی اور بری افواج کی صلاحیتوں کی دھوم مچ گئی‘ پاکستان نئی بلندیوں اور نئی رفعتوں کو چھونے لگا۔گزشتہ ایک سال کے دوران جہاں پاکستان کا قد اونچا ہوا ہے‘ وہاں اس پر دوستوں کے اعتماد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں استحکام لانے کے لیے اس کے کردار کا اعتراف کیا جا رہا ہے۔ بھارت جسے چین کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار کیا جا رہا تھا‘ امریکی تھپکیاں اس کو مست کیے ہوئے تھیں‘ اپنی اہمیت اور افادیت کھو بیٹھا ہے۔ چین کے مقابلے کی بات تو رہی ایک طرف‘ وہ تو پاکستان کے سامنے بھی ٹھہر نہیں پایا۔ پانچ گُنا چھوٹے ملک نے اس کے گھٹنے ٹکوا دیے ہیں۔گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان کا رخ آسمان کی طرف ہے اور بھارتی قیادت پر زمین تنگ ہے۔ ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملے کے بعد پاکستان نے ثالث کے طور پر جو کردار ادا کیا‘ اس کی بھی دنیا بھر میں تحسین کی جا رہی ہے۔ امریکہ اور ایران کے وفود کو اسلام آباد میں آمنے سامنے بٹھایا گیا اور اب بھی دونوں ملکوں کے درمیان پاکستان ہی رابطہ بنا ہوا ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف مرجع خلائق ہیں۔ پوری دنیا ان کا اعتراف کر رہی ہے‘ ان کی مساعی کی شکر گزار ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان باقاعدہ دفاعی معاہدہ ہو چکا ہے اور دونوں ملک ایک دوسرے کی سلامتی کے ضامن بن گئے ہیں۔ پاکستان نے ایران‘ امریکہ‘ سعودی عرب اور چین کے ساتھ اعتماد سازی کی ہے اور داد کا مستحق ٹھہرا ہے۔ ایک سال پہلے تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا کہ پاکستان اس طرح اپنی طاقت اور صلاحیت کا اظہار کرے گا۔ بلندیوں کا سفر جاری ہے۔ سول اور فوجی قیادت ایک دوسرے کے شانہ بشانہ مصروفِ عمل ہے۔ اپنے اپنے سر پر سہرا سجانے کے بجائے‘ ایک دوسرے کا اعتراف کیا جا رہا ہے۔ وزیراعظم فیلڈ مارشل کے لیے رطب اللسان ہیں‘ تو فیلڈ مارشل اور فوجی ترجمان وزیراعظم کو داد دے رہے ہیں۔ دونوں کی بات درست ہے‘ دونوں نے کمال کر دکھایا ہے۔ دو قالب یک جان ہو کر نئی تاریخ لکھ ڈالی ہے‘ پاکستانی قوم کو یقین دلا دیا ہے کہ ریاستی ادارے اسے ناقابلِ تسخیر بنا سکتے ہیں اس کی حفاظت کا حق ادا کر سکتے ہیں۔ اے کاش ہمارے اہلِ سیاست بھی یہی روش اپنا لیں‘ ایک دوسرے کا اعتراف کرنے لگیں‘ ایک دوسرے کی طاقت بن جائیں‘ تو پھر پاکستان کو اور آگے بڑھانا آسان ہو جائے گا۔ دفاعی طور پر عظیم پاکستان کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہی نہیں ہونا‘چلنا بلکہ دوڑنا ہے۔ اپنے عوام کو آسانیاں فراہم کرنی ہیں‘ انہیں مالا مال کرنا ہے۔ ایک دوسرے کی طاقت بن کر ہی ہم ہر میدان میں جھنڈے گاڑ سکیں گے: ہر &#39;&#39;محاذِ جنگ‘‘ پر ہم لڑیں گے بے خطر!!(یہ کالم روزنامہ &#39;&#39;پاکستان‘‘ اور روزنامہ &#39;&#39;دنیا‘‘ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_37052987.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سیاست کا جنازہ(ایاز امیر)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-05-10/51919/15505984</link><pubDate>Sun, 10 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-05-10/51919/15505984</guid><description>ایک طرف معرکۂ حق اور دوسری طرف ایران جنگ میں ثالثی کے درجات‘ ان دونوں عوامل کے بیچ میں ریاستی حاکمیت کا رعب و دبدبہ بڑھ گیا ہے اور روایتی سیاست کا حشر ہو گیا ہے۔ بڑے بڑے پھنے خانوں کے زمانوں میں کسی نہ کسی صورت سیاست زندہ رہتی تھی۔ اقتدار کی سختی کے باوجود اپوزیشن کی سیاست چلتی رہتی تھی۔ یہ دور ایسا آیا ہے کہ تمام پرانی روایات اندھیروں میں گم ہو گئی ہیں۔ جو سیاست باقی ہے وہ اس خاص قسم کی جو سرکار کی سرپرستی میں ہی چل سکتی ہے۔ پی ٹی آئی کے ساتھ وہ ہوا ہے کہ اس کی سیاست اڈیالہ جیل کی ملاقاتوں تک محدود ہو گئی ہے۔اہلِ نظر مانیں گے کہ ایسا دور کبھی دیکھا نہیں۔ سیاست تو ایک طرف رہی صحافت کے حالات ایسے بن چکے ہیں کہ ساری کاٹ اس میں سے نکل گئی ہے۔ اول تو اخبارات کی وہ وقعت نہیں رہی جو ایک زمانے میں ہوا کرتی تھی اور جو بچی ہے اس پر احتیاط کے سائے بہت گہرے پڑ گئے ہیں۔ میڈیا کا نیا چہرہ یوٹیوب کی صورت میں ہے۔ باہر کے ملکوں میں یوٹیوبر اور پوڈکاسٹ کرنے والوں کا بڑا چرچا ہوتا ہے لیکن پاکستان میں رہتے ہوئے یوٹیوب پر زیادہ کمالات دکھانا اتنا آسان نہیں۔ آج کے ماحول میں چھوٹی چھوٹی بات پر دھر لیا جانا ایسا اچنبھا نہیں رہا۔ اس وجہ سے یوٹیوب پر بھی احتیاط کا دامن مضبوطی سے پکڑنا ضروری سمجھا جاتا ہے۔امریکہ میں اس سال کانگریس کے مڈٹرم الیکشن ہونے ہیں اور صدارتی انتخاب کا سال 2028ء ہے۔ لیکن اب سے صدارتی انتخاب کے بارے میں چہ میگوئیاں اور قیاس آرائیاں شروع ہو گئی ہیں۔ وہاں کی سیاست میں ایک زندہ پن ہے جو جاری و ساری رہتا ہے۔ انگلستان میں لوکل الیکشن ہوئے ہیں جس میں کیئر سٹارمر کی لیبر پارٹی پٹ کے رہ گئی ہے۔ لوکل الیکشن کے نتائج کی بنیاد پر مستقبل کی سیاست کے اندازے اب سے شروع ہو گئے ہیں۔ یہاں کی سیاست کو پچھلے انتخابات کا جو ٹیکہ لگا اور جس طریقے سے فارم 47کی بدولت نتائج مرتب کیے گئے عام آدمی کا دل روایتی سیاست سے بہت حد تک بیزار ہو چکا ہے۔ خیال پختہ ہو چلا ہے کہ انتخابی عمل میں نتائج پہلے سے طے ہوں تو اتنے تجسس یا تگ و دو کی ضرورت کیا رہ جاتی ہے۔ گزرے وقتوں کے شہسواروں نے بڑی کوشش کی کہ سیاست کا کیڑا پاکستان کے جسمِ خاکی سے نکال دیا جائے۔ کوئی کامیاب نہ ہوا سوائے اب جو ہم دیکھ رہے ہیں۔ بے شک یار دوست کہتے رہیں کہ لوگوں کی سوچ وہیں ہے جہاں تھی اور موقع آئے تو پھر دیکھیں کیسا طوفان برپا ہوتا ہے۔ بات درست ہے اور اس سے انکار ممکن نہیں لیکن وہ موقع کہاں سے آئے گا اور اس کی اجازت کون دے گا؟ مسئلہ تو یہ ہے۔ ملکی ماحول صرف سیاست سے نہیں بنتا۔ میڈیا ایک ماحول بناتا ہے‘ وکلا کا بہت اہم رول ہوتا ہے۔ پرانے وقتوں میں عدلیہ سے کچھ نہ کچھ امید جڑی رہتی تھی۔ لیکن جیسا کہ ہم دیکھ سکتے ہیں پورے ملکی منظر نامے پر حالات کا سٹیم رولر کچھ یوں پھرا ہے کہ کیا وکلا برادری اور کیا دوسرے‘ سب کی روح جیسے کھینچ لی گئی ہو‘ یہ کیفیت بن چکی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ دیہاڑیاں سب کی لگی ہوئی ہیں کیا صحافی اور کیا وکیل یا کوئی اور‘ اپنے اپنے دھندوں میں لگے ہوئے ہیں اور اسی میں خوش معلوم ہوتے ہیں۔ مہنگائی کا رونا بجا۔ لیکن مہنگائی اور خراب معاشی حالات کا زیادہ اثر ان طبقات پر پڑتا ہے جن کی آواز اتنی ہوتی نہیں اور اسی وجہ سے جن کے معمولات ریاستی ترجیحات میں اتنا وزن نہیں رکھتے۔ بڑے مفادات کا تحفظ تو ریاست کرتی ہے لیکن جہاں تک عام لوگوں کا تعلق ہے انہیں نمائشی مہمات سے یا لیپ ٹاپ کی تقسیم جیسی چھوٹی موٹی سکیموں سے خوش رکھا جاتا ہے۔ ایسی شعبدہ بازیاں چلتی رہتی ہیں اور چونکہ موجودہ تمام کا تمام سیاسی ڈھانچہ غیرنمائندہ طریقوں سے معرضِ وجود میں لایا گیا شعبدہ بازی اور نمائش پر انحصار کچھ زیادہ ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔معرکۂ حق اور سفارتی کامیابیوں کے باوجود سرکار کے وفادار حلقے بھی اتنا تو مانیں گے کہ پاکستان کے معاشی حالات کمزور ہیں۔ اور اقوام عالم میں پاکستان کو اپنا جائز مقام تب تک حاصل نہیں ہو سکتا جب تک پاکستان معاشی طور پر مضبوط نہ ہو۔ ثالثی کے حوالے سے پاکستان کا جتنا بھی چرچا ہوا ہے اس بات کو چھپا نہیں سکتے کہ یو اے ای کے پیسے دینے کے بعد سعودی عرب ہماری مدد کو نہ آتا تو ملک مشکل میں پڑ جاتا۔ آبادی دیکھیں ہماری کہاں ہے‘ اس لحاظ سے ہمارا شمار بڑے ملکوں میں ہوتا ہے لیکن ملکی معاملات چلانے کا یہ کوئی طریقہ نہیں کہ مانگے تانگے پر کام چلے۔ معاشی حالات ٹھیک ہونے کے لیے یہ خیال سامنے رہے کہ عوام کی رائے اور عوام کی شمولیت قومی معاملات کا حصہ ہونی چاہیے۔ یہ تب ہی ممکن ہے جب جمہوری اصولوں کی پاسداری ہو اور آئینی تقاضے پورے کیے جائیں۔ سچ پوچھئے موجودہ حالات میں ایسا کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔اگلے الیکشن 2029ء میں ہونے ہیں۔ وہ بھی اگر کسی نے مہربانی کی اور قوم کو اس قابل سمجھا۔ لیکن اول تو الیکشن کی بات کوئی کرتا نہیں اور کرے بھی تو الفاظ سے بیزاری جھلکتی ہے کہ حالات یونہی رہے تو جیسے پچھلے الیکشن تھے آئندہ بھی ایسے ہی ہوں گے۔ پچھلے انتخابات کے وقت ریٹرننگ آفیسروں نے جو کاغذاتِ نامزدگی کے ساتھ کیا اس کارروائی کا بہت حد تک مداوا ہائیکورٹوں سے ہو گیا تھا۔ اب عدالتی صورتحال بدل چکی ہے اور چھبیسویں اور ستائیسویں آئینی ترمیمات کے بعد ہائیکورٹوں کے خدوخال میں تبدیلی آ چکی ہے۔ یوں تصور جنم لیتا ہے کہ کہیں دو اڑھائی سال بعد الیکشن ہوئے بھی تو کاغذاتِ نامزدگی کے ساتھ جو ہونا ہو گا ریٹرننگ آفیسروں کی سطح پر ہو جائے گا اور ہائیکورٹوں والا تردد بے اثر ثابت ہوگا۔ہماری جنریشن کا سورج اب ڈھل رہا ہے۔ کیا خواب ہم نے دیکھے کہ جمہوریت ہو گی‘ رواداری قائم ہو گی‘ پاکستان کا شمار ترقی یافتہ ممالک میں ہو گا۔ اب جب سائے لمبے ہو رہے ہیں تو نظر یہی آتا ہے کہ سیاسی حالات میں کسی بہتری کے بجائے ناامیدی کی ایک کیفیت جنم لے رہی ہے۔ جنرل ضیا کے دور میں مستقبل کے حوالے سے قوم کا ایک بہت بڑا حصہ امید رکھتا تھا کہ اس دھرتی پر مہذب سیاسی طور طریقے پروان چڑھیں گے۔ اب حالات کچھ یوں بنے ہیں کہ اس قسم کی خوش فہمی کی گنجائش معدوم ہو گئی ہے۔ خوامخواہ تنقید کی بات نہیں‘ صحیح قیادت کا خلا ہمارے ہاں موجود ہے۔ معیشت سے لے کر تعلیم و تدریس کے شعبوں تک انقلابی اصلاحات کی ضرورت سے تو کوئی انکار ممکن نہیں۔ کیا نمائشی مہمات سے ہی اس ملک کے معاملات چلنے ہیں؟ بہت کچھ کرنے کو ہے‘ اصلاحِ احوال کی بہت ضرورت ہے۔ قومی ترجیحات کا تعین کرنا اور پھر ان کو حاصل کرنے کا لائحہ عمل مرتب کرنا‘ یہ کسی اچھے سیاسی عمل سے ہی ممکن ہو سکتا ہے۔ لیکن جب مختلف بندشوں کا رواج پڑ چکا ہو تو صرف سیاسی عمل نہیں سیاسی سوچ مفلوج ہو جاتی ہے۔ ایسے معاشرے پھر جہاں ہوتے ہیں وہیں کے رہ جاتے ہیں۔ آگے نکلنے کی صلاحیت نہیں رہتی۔ خدا نہ کرے ہمارے ساتھ ایسا ہو۔ ایران جنگ کے تناظر میں اس خطے میں ایک نئی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔ پاکستان میں بھی کسی نئی صبح کا آغاز ہو۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_80573045.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>جنگ کب تک چلے گی؟(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-05-10/51920/61847417</link><pubDate>Sun, 10 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-05-10/51920/61847417</guid><description>میں اس تاریخی حقیقت کو اچھی طرح سمجھتا ہوں کہ ہر ملک یا ریاست کو اپنی بقا کے لیے ایک دشمن کی ضرورت ہوتی ہے‘ ورنہ وہ ریاست بہت جلد خطرات میں گھر جاتی ہے جو زیادہ تر اندرونی ہوتے ہیں۔ پہلے بھی اپنے کالموں میں اس موضوع پر روشنی ڈال کر وضاحت کر چکا ہوں‘ لہٰذا مجھے اس ایشو کو دوبارہ چھیڑنے کی ضرورت نہیں۔ دشمن تو ہر ریاست کو درکار ہوتا ہے لیکن کیا ہمہ وقت اس کی تکرار بھی ضروری ہے؟پچھلے سال مئی میں لڑی گئی پاک بھارت جنگ کو ایک سال مکمل ہو چکا ہے۔ بھارت میں اس ایک سال کو الگ انداز سے جشن کے طور پر منایا جا رہا ہے اور ہمارے ہاں مختلف انداز میں۔ دونوں ملکوں کے عوام اور میڈیا اپنی اپنی جگہ خوش اور مطمئن ہیں کہ جنگ ہم نے جیتی تھی۔ ہم اس جنگ میں فتح کے دعوے پر خوشی منانے کا حق رکھتے ہیں کیونکہ ہمارے دعوؤں کی تصدیق عالمی سطح پر مختلف ممالک کے علاوہ جنگی ماہرین بھی کر چکے ہیں۔ خصوصاً رافیل طیاروں کو نشانہ بنانے کی بات اب کوئی راز نہیں رہی۔ فرانس سے لے کر امریکہ بلکہ بھارت کے دفاعی ماہرین بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ پاکستان ایئرفورس نے بھارت کے رافیل طیارے مار گرائے اور ایسا خوف پیدا کیا کہ بھارت نے فوری طور پر وہ جدید طیارے‘ جنہیں وہ فرانس سے ساٹھ ہزار کروڑ ادا کرکے پاکستان کو سبق سکھانے کے لیے لایا تھا‘ نہ صرف گراؤنڈ کر دیے بلکہ انہیں پاکستانی سرحد سے دو ڈھائی سو کلومیٹر دور منتقل کر دیا گیا۔اب دیکھتے ہیں کہ اس جنگ سے کیا فائدہ ہوا اور کیا نقصان۔ ایک سال بعد اب ہم اس پوزیشن میں ہیں کہ اس پورے منظرنامے کا جامع جائزہ لے سکیں۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ جنگ نریندر مودی کی ایک سیاسی مجبوری تھی اور وہ ہر قیمت پر یہ جنگ چاہتے تھے۔ اُس وقت بہار کے الیکشن قریب تھے اور بی جے پی کی اپوزیشن پارٹیاں ہمیشہ یہ تنقید کرتی ہیں کہ جب بھی ہندوستان میں کوئی ریاستی چناؤ قریب آنے لگتا ہے تو پاکستان کا نام جلسوں جلوسوں میں زور شور سے لیا جانے لگتا ہے اور مسلمانوں کی زندگی مزید مشکل کر دی جاتی ہے۔ یہ بات طے ہے کہ ہندوستان کی سیاست اور میڈیا چینلز کی ریٹنگز پاکستان کے نام پر چلتی ہیں‘ لہٰذا انہیں پاکستان سے بات چیت یا دوستی میں کوئی فائدہ نظر نہیں آتا۔ بی جے پی ویسے بھی اس درجے کی سیاسی ذہانت یا اپروچ نہیں رکھتی کہ وہ نہرو‘ مرارجی ڈیسائی‘ واجپائی یا من موہن سنگھ کی طرح پاک بھارت تعلقات کو اہمیت دے۔ اگرچہ ہماری طرف سے بھی ماضی میں کچھ ایسی غلطیاں ہوئیں جن کی وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان بہتر تعلقات کی جو شمع روشن ہوئی تھی‘ وہ جلد بجھ گئی۔ کبھی ہم نے موقع گنوا دیا اور کبھی بھارت نے۔ اور اب شاید قدرت چاہتی ہے یا پھر ہم دونوں ملکوں کو تاریخ کے جبر کے تحت دشمنی ہی سوٹ کرتی ہے۔ وہی بات کہ اگر پاکستان اور بھارت دوست بن گئے تو پھر دونوں ملکوں کے حکمران کیا کریں گے؟ شاید  ہم سب بے روزگار ہو جائیں گے‘ اسلحہ ساز فیکٹریاں ویران ہو جائیں گی اور ان میں کام کرنے والے لوگ بے روزگار ہو جائیں گے۔ اگر آپ گہرائی میں جا کر سوچیں تو امن کے انسانوں کو فائدے کم اور نقصانات زیادہ نظر آتے ہیں جبکہ جنگ اور بربادی میں بہت فائدہ ہے۔ ایک تو بیرونی خطرے کے پیشِ نظر ریاست متحد رہتی ہے‘ حکمرانوں کو حکمرانی کرنے میں آسانی رہتی ہے اور وار انڈسٹری بھی چلتی رہتی ہے۔اب آپ پوچھیں گے کہ بھارت کو اس جنگ سے کیا فائدہ ہوا؟ اگر آپ پچھلے ایک سال پر نظر ڈالیں تو اب تک چار بھارتی ریاستوں میں الیکشن ہوئے ہیں جہاں بی جے پی کا پلڑا بھاری رہا ہے۔ باقی چھوڑیں‘ مغربی بنگال میں اسے جو فتح ملی ہے وہ ناقابلِ یقین ہے۔ وہاں ممتا بینر جی جیسی سولہ‘ سترہ سال سے وزیراعلیٰ رہنے والی سیاسی رہنما اپنی سیٹ تک ہار گئیں۔ اگر آپ وہاں کی الیکشن مہم  کو فالو کریں تو پتہ چلے گا کہ وہاں بھی پاکستان کے نام پر الیکشن لڑا گیا اور مسلمان ہی ٹارگٹ بنے۔ مودی نے اس لیے بھی بڑی محدود جنگ لڑی کہ وہ اپنے ووٹرز کو صرف یہ پیغام دینا چاہتا تھا کہ وہ کانگریس کے برعکس پاکستان پر حملہ کر سکتا ہے۔ ہندوستانیوں  کو اس بات کی پروا نہیں کہ جنگ میں ان کے کتنے جہاز گرے‘ وہ صرف اس بات پر خوش ہیں کہ ان کے وشو گرو نے پاکستان پر حملہ کیا۔ پاکستان نے جواب میں ان کا کیا نقصان کیا‘ وہ اس پر توجہ نہیں دینا چاہتے۔دوسری طرف دیکھا جائے تو پاکستان جس پر یہ جنگ تھوپی گئی تھی اور جس نے اپنا دفاعی حق استعمال کیا‘ یہاں بھی اس جنگ کا فائدہ ہوا ہے۔ اب آپ کہیں گے کہ بھلا جنگیں کب انسانوں کا بھلا کرتی ہیں لیکن آپ نے وہ مشہور قول ضرور سنا ہوگا کہ بعض دفعہ امن قائم کرنے کے لیے بھی جنگ ضروری ہو جاتی ہے۔ معرکہ حق میں کامیابی کے بعد ہمارے اندر ایک نیا اعتماد پیدا ہوا ہے۔ ورنہ پوری دنیا سمیت ہمیں خود بھی یقین نہیں تھا کہ بھارت جیسے بڑے ملک کے ساتھ ہم روایتی جنگ میں اس سطح کی کامیابی حاصل کر سکتے تھے۔ دنیا میں ہمارا وقار بڑھا ہے کہ اب امریکہ اور ایران جیسے ملکوں کی جنگوں کے سیز فائر اور امن معاہدے ہمارے ہاں ہو رہے ہیں۔ ان سب ملکوں کا ہم پر اعتماد بڑھا ہے۔ افواجِ پاکستان کا مقام مزید بلند ہوا ہے۔ یقینی طور پر جنرل عاصم منیر بھی اس جنگ کی وجہ سے فیلڈ مارشل بنے اور صدر ٹرمپ گزشتہ ایک سال سے ان کی تعریف کرتے پائے جاتے ہیں۔ لیکن ایک اہم سوال میرے ذہن میں مسلسل ابھرتا رہتا ہے کہ جنگ ہوئے ایک سال گزر گیا۔ بھارت میں مودی اس جنگ کو بنیاد بنا کر چار الیکشن جیت چکا ہے۔ ہم نے بھی دنیا بھر میں اپنی ساکھ بہتر کر لی۔ اب کب تک دونوں ملکوں میں یہ جنگی فضا قائم رہے گی؟اب روز خبریں آتی ہیں کہ بھارت مزید ہزاروں کروڑ روپے خرچ کر کے نیا جدید اسلحہ خرید رہا ہے اور جواباً پاکستان سے خبریں آتی ہیں کہ ہم بھی چین اور دیگر ممالک سے جدید جنگی جہاز اور دیگر اسلحہ خرید رہے ہیں۔ ایک سال میں شاید ہی کوئی دن ایسا گزرا ہو جب دونوں ملکوں میں اس جنگ کا ذکر نہ ہوا ہو۔ کیا اس کا کوئی اختتام بھی ہوگا یا پھر دونوں ممالک اسی جنگ کو لے کر اگلے کئی برس گزار دیں گے؟ دونوں ملکوں کا پیسہ جنگی اسلحے کی دوڑ پر خرچ ہوتا رہے گا یا کچھ اپنے اپنے لوگوں کی زندگیاں بہتر بنانے پر بھی خرچ کیا جائے گا؟ اس وقت پاکستان میں ڈھائی کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں نے عوام کی کمر توڑ دی ہے۔ اتنا پٹرول کا بل نہیں بنتا جتنا اس پر حکومت فی لٹر ٹیکس وصول کر رہی ہے۔بھارت سے آنے والے وڈیو کلپس دیکھیں تو ان کی ٹرینوں میں انسانوں کی حالت دیکھ کر حیرانی ہوتی ہے کہ ایک طرف اربوں ڈالر خرچ کر کے نیا اسلحہ خریدا جا رہا ہے اور دوسری طرف غربت کی تصویریں دل دہلا دیتی ہیں۔ بھارت کے حکمرانوں پر اپنے لوگوں پر خرچ کرنے کے بجائے جنگی اسلحے کا جنون طاری ہے۔ ہماری معاشی حالت بھی زیادہ اچھی نہیں۔ ابھی آئی ایم ایف نے سوا ارب ڈالر کی قسط جاری کرنے کے لیے جو نئی شرائط منوائی ہیں ذرا ان پر عمل ہونے دیں‘ پھر دیکھیے کیا حشر ہوتا ہے۔ مان لیا کہ امن یا اپنے دفاع کیلئے کبھی جنگ لڑنی پڑتی ہے۔ اب جنگ لڑ لی۔ اب تو دونوں ملک بیٹھ کر بات کریں۔ ماحول کو کچھ نرم کریں۔ جنگی فیکٹریوں کو مزید کاروبار نہ دیں۔ دونوں ملک اپنے عوام کا بھی سوچیں جو اس جنون کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔ کہیں تو بریک لگائیں۔ کافی لڑ لیا۔ کافی میزائل ایک دوسرے پر فائر کر لیے۔ کچھ وقفہ دیں پلیز۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>معرکہ حق کے ہر ہیرو کو سلام(رشید صافی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-05-10/51921/87397382</link><pubDate>Sun, 10 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-05-10/51921/87397382</guid><description>10مئی کا دن پاکستان کی تاریخ میں درخشاں باب کے طور پر درج ہو چکا ہے‘ جب پاکستان کے شاہینوں نے فضاؤں کی وسعتوں میں‘ سمندروں کی لہروں پر اور زمین کے سینے پر اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کے تکبر کو خاک میں ملا کر ثابت کر دیا کہ جنگیں محض عددی برتری سے نہیں بلکہ ایمان کی حرارت اور جذبۂ شہادت سے جیتی جاتی ہیں۔ آج جب ہم معرکۂ حق کا ایک سال مکمل ہونے پر جشن منا رہے ہیں تو پوری قوم کا سر سجدۂ شکر میں جھکا ہوا ہے۔ مئی 2025ء کا معرکہ محض ایک عسکری  تصادم نہیں تھا بلکہ یہ حق اور باطل کے درمیان ایک واضح لکیر تھی۔ بھارت کی جانب سے جارحیت کا جو ناپاک خواب دیکھا گیا اسے پاکستان کے سپوتوں نے خاک میں ملا دیا۔ معرکۂ حق میں فتح نے خطے میں طاقت کے توازن کو ایک نئی سمت دی ہے۔ ذرا تصور کریں چند برس پہلے تک ہم عالمی برادری کو مسئلہ کشمیر سمجھانے کی کوشش کر رہے تھے اور کہاں آج دنیا پاکستان کو ایک ایسی قوت کے طور پر دیکھ رہی ہے جس کے بغیر امن کا خواب ادھورا ہے۔ کبھی بھارتی لابی کی طرف سے ہماری آواز کو عالمی سطح پر دبانے کی کوشش کی جاتی تھی آج ہم عالمی سفارت کاری کا ایسا اہم حصہ بن چکے ہیں کہ دنیا کے بڑے تنازعات کے حل کے لیے سب کی نظریں پاکستان پر لگی ہیں۔ یہ معرکۂ حق کی کامیابی کا ہی ثمر ہے کہ آج ہم عالمی سطح پر ایک معتبر اور ذمہ دار قوم  کے طور پر پہچانے جا رہے ہیں۔ معرکۂ حق کی کامیابی میں جہاں جذبۂ حب الوطنی کارفرما تھا وہاں جدید حربی ٹیکنالوجی اور مربوط کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کا بھی کلیدی کردار رہا۔ مئی 2025ء کے ان فیصلہ کن لمحات میں پاکستان کی تینوں مسلح افواج نے جس ہم آہنگی اور یگانگت کا مظاہرہ کیا اس نے دشمن کے اوسان خطا کر دیے۔ پاکستان نے پہلی بار ملٹی ڈومین آپریشنز کے ذریعے سائبر‘ سپیس‘ انفارمیشن اور الیکٹرانک وار فیئر کی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ دشمن کا مواصلاتی نظام مفلوج کر دیا گیا اور اس کی تکنیکی برتری کا زعم پلک جھپکتے میں بکھر گیا۔ پاکستان کے شاہینوں نے فضائی حدود میں وہ جوہر دکھائے کہ دنیا کے دفاعی ماہرین ورطۂ حیرت میں ڈوب گئے۔ یہ محض اتفاق نہیں تھا بلکہ یہ دہائیوں کی ریاضت‘ جدید خطوط پر استوار تربیت اور اپنے دفاعی نظام کو خود کفیل بنانے کی لگن کا نتیجہ تھا۔اس معرکے کا ایک اہم پہلو بیانیے کی جنگ تھی۔ ایک طرف بھارتی میڈیا اور قیادت کا جھوٹا پروپیگنڈا تھا اور دوسری طرف پاکستان کا ذمہ دارانہ رویہ۔ پاکستان کے اداروں‘ میڈیا اور عوام نے جس صبر اور سچائی کا دامن تھامے رکھا اسے پوری دنیا نے سراہا۔ دشمن کے زہریلے بیانات اور جھوٹی خبریں خود ان کے لیے رسوائی کا باعث بنیں جبکہ پاکستان نے عالمی سطح پر اپنا  مثبت امیج برقرار رکھا۔ غیرملکی میڈیا نے دیکھا کہ پاکستان کا مؤقف حقیقت سے قریب تر ہے جبکہ بھارت کا حقیقت سے کوسوں دور‘ جس سے بھارت بوکھلا کر رہ گیا۔ یوں دیکھا جائے تو بھارت کو میدانِ جنگ میں اٹھائی جانے والی ہزیمت سے بڑھ کر اصل میں اس ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا جو صدیوں تک اس کا پیچھا کرتی رہے گی۔ یہ معرکہ ثابت کرتا ہے کہ سچائی کی طاقت ایٹم بم سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔ پاکستان کی فتح محض میدانِ جنگ تک محدود نہ تھی بلکہ یہ اخلاقیات اور سچائی کے محاذ پر بھی ایک عظیم کامیابی تھی۔معرکہ حق کی داستان ان ہیروز کے تذکرے کے بغیر ادھوری ہے جنہوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے۔ آج شہرِ اقتدار سے لے کر وطن کے چپے چپے تک جو جشن کا سماں ہے اس کی بنیاد ان شہیدوں کے لہو پر رکھی گئی ہے جو منوں مٹی تلے ابدی نیند سو رہے ہیں۔ وہ مائیں جنہوں نے اپنے لخت جگر قربان کیے‘ وہ بہنیں جن کے بھائیوں نے سرحدوں کی حفاظت کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا اور وہ بچے جن کے سروں سے باپ کا سایہ اٹھ گیا۔ یہ سب معرکۂ حق کے ہیرو ہیں۔ معرکۂ حق میں نمایاں کردار ادا کرنے والے افراد کو آج تمغہ جرأت و بہادری اور قومی اعزازات سے نوازا جا رہا ہے‘ مہذب قومیں اپنے ہیروز کو ایسے ہی نوازا کرتی ہیں لیکن ملک کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے اور پاکستان کو ایٹمی قوت سے ہمکنار کرنے میں کسی بھی اعتبار سے کردار ادا کرنے والا ہر شخص خراجِ تحسین کا مستحق ہے۔معرکۂ حق کی فتح ایک طویل سفر کا پڑاؤ ہے۔ اس کی بنیاد اس دن رکھی گئی تھی جب پاکستان نے ایٹمی قوت بننے کا فیصلہ کیا تھا۔ وہ تمام سائنسدان‘ انجینئرز اور پالیسی ساز جنہوں نے نامساعد حالات کے باوجود پاکستان کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے کے لیے دن رات ایک کیے‘ وہ سب معرکۂ حق کے ہیروز ہیں۔ معرکۂ حق نے پاکستانی قوم کو ایک لڑی میں پرو دیا ہے۔ معرکۂ حق کا ایک سال مکمل ہونے پر آج ہر شہری خود کو ملک کا سپاہی محسوس کر رہا ہے۔ یہ یکجہتی ہی ہماری سب سے بڑی طاقت ہے۔ دشمن نے ہمیں اندرونی طور پر تقسیم کرنے کی سازش کی لیکن اس معرکہ نے ثابت کر دیا کہ جب بات وطن کی سلامتی کی  ہو تو پوری قوم ایک جسم اور ایک جان بن جاتی ہے۔ معرکۂ حق میں نصیب ہونے والی یہ عظیم فتح محض ایک عسکری کامیابی  نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا خاص انعام اور اعزاز ہے جس نے ہمیں عالمی برادری میں ایک بلند مقام عطا کیا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ اعزاز حاصل کرنے سے زیادہ مشکل اس کی پاسداری اور اسے برقرار رکھنا ہوتا ہے۔ اللہ نے ہمیں جس مقامِ رفیع پر فائز کیا ہے وہاں قائم رہنے کے لیے ہمیں جہد مسلسل اور ہمہ وقت بیداری کو اپنا شعار بنانا ہو گا۔ جس طرح کسی بھی کھیل یا میدان میں اپنے ٹائٹل کا دفاع کرنے کے لیے سرتوڑ کوشش اور پہلے سے دوچند محنت درکار ہوتی ہے بالکل اسی طرح اس کامیابی کی حفاظت کرنا بھی ہماری قومی ذمہ داری ہے۔ معرکۂ حق میں عبرتناک شکست کے زخم چاٹتا مودی اپنے دامن سے ناکامی کا داغ دھونے کے لیے دوبارہ مہم جوئی کی کوشش ضرور کرے گا مگر اسے یاد رکھنا چاہیے کہ اب کی بار اسے پہلے سے کہیں زیادہ دندان شکن اور بھرپور جواب ملے گا۔معرکۂ حق کے بعد جہاں دنیا بھر کی نظریں ہم پر لگی ہیں‘ وہیں پاکستان سے وابستہ عالمی توقعات میں بھی بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ بالخصوص عالم اسلام کی ہم سے امیدیں ایک فطری امر ہیں کیونکہ مضبوط اور مستحکم پاکستان پورے خطے اور مسلم امہ کے لیے حوصلے کی علامت ہے۔ ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہو گا کہ ناقابلِ تسخیر دفاع کے خواب کو مستقل تعبیر دینے کے لیے توانا اور مستحکم معیشت ناگزیر ہے۔ جس بے مثال جذبے اور یکسوئی کے ساتھ ہم نے ملک کے دفاع کو فولادی بنایا‘ اب وقت آ گیا ہے کہ اسی شدت اور اخلاص کے ساتھ معیشت کی بحالی اور استحکام پر بھی توجہ مرکوز  کی جائے۔ یقیناً ہمارے اربابِ اختیار اس حساسیت سے غافل نہیں ہوں گے کیونکہ معاشی خود انحصاری ہی وہ زینہ ہے جو ہمیں عالمی قیادت کے منصب پر فائز رکھ سکتا ہے۔ معرکۂ حق کی فتح کا تقاضا ہے کہ ہم دفاع اور معیشت‘ دونوں محاذوں پر خود کو اتنا مضبوط کریں کہ آنے والی نسلیں پُروقار‘ خوشحال اور محفوظ پاکستان کی وارث بن سکیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/222_48272610.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ٹرمپ کو چین سے کیا ملے گا؟(عمران یعقوب خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-05-10/51922/42786981</link><pubDate>Sun, 10 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-05-10/51922/42786981</guid><description> ڈونلڈ ٹرمپ بھی بہت مخولیے ہیں۔ پرلے روز کہہ رہے تھے: میں ایران کے خلاف جنگ کی حمایت نہیں کرتا اور نہ ہی میں جنگوں کو پسند کرتا ہوں۔ مرزا غالب نے غالباً انہی کے لیے کہا تھا:اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیںجناب اگر آپ ایران کے خلاف جنگ کی حمایت نہیں کرتے تو ایک طے شدہ معاہدے کو ختم کیوں کیا؟ اور پھر ایران کو مذاکرات میں انگیج کیوں کیا؟ اور پھر ان مذاکرات کے نتائج کا انتظار کیے بغیر جنگ کیوں شروع کر دی؟ اگر آپ جنگ کے حامی نہیں ہیں تو ایران کی جانب سے معقول تجاویز کو تسلیم کر کے ایک جامع معاہدے کی راہ ہموار کیوں نہیں کرتے؟ اگر آپ جنگ کے حق میں نہیں تو پھر وینزویلا میں کیا کِیا گیا؟ کسی ملک کے منتخب صدر کا کوئی یہ حال کرتا ہے؟ ایران کے برعکس انہوں نے چین کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ چین کے ساتھ لڑنے کے بجائے بہتر تعلقات رکھنا زیادہ سود مند ہے۔ غالباً بلکہ یقینا اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکہ نے چین کے ساتھ ایران کا سا سلوک کرنے کی کوشش کی تو اس کے امریکہ کو سخت نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ ہر سوراخ سے گنڈوئے (کیچوے) ہی نکلیں‘ کسی سوراخ سے کوئی موذی جانور بھی تو برآمد ہو سکتا ہے۔ شاید اسی موقع پر کہتے ہیں کہ &#39;&#39;ڈاہڈے دا ستی ویہاں سو ہوندا اے‘‘۔ مطلب یہ کہ ویسے تو بیس ضرب پانچ سو ہوتا ہے لیکن اگر کوئی طاقتور یہ کہے کہ نہیں بیس ضرب سات سو ہوتا ہے تو اس کی یہ بات بھی ماننا پڑتی ہے کہ اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ چین کے بارے میں بات کرتے ہوئے ٹرمپ صاحب کی زبان میں پیدا ہونے والی اس حلاوت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ امریکی صدر اگلے ہفتے چین کا دورہ کرنے والے ہیں۔ دورے میں دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ طور پر تجارت‘ ٹیکنالوجی اور ایران جنگ سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ ٹرمپ انتظامیہ چین کے ساتھ امریکہ کے تجارتی خسارے کو کم کرنے اور امریکی مصنوعات کے لیے چینی مارکیٹ تک زیادہ رسائی حاصل کرنا چاہتی ہے۔ علاوہ ازیں امریکہ چاہتا ہے  کہ چین امریکی ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری اور انٹیلیکچوئل پراپرٹی کی خلاف ورزیوں کو روکے۔ امریکہ کا چین سے یہ مطالبہ بھی ہے کہ وہ ایران کو ہتھیاروں کی فراہمی بند کرے‘ جو واشنگٹن کے لیے بجا طور پر ایک اہم سکیورٹی ایشو اور تشویش کا باعث ہے۔ سوال یہ ہے کہ موجودہ حالات میں چین امریکہ کے یہ مطالبات تسلیم کرنے کے لیے تیار ہو جائے گا؟امریکا اور چین نے اسلحے کی جنگ تو نہیں لڑی البتہ ٹیرف وار ضرور کی ہے۔ اپریل 2025ء تک صورت حال یہ تھی کہ امریکہ نے چین کی درآمدی اشیا پرمرحلہ وار 245فیصد تک ٹیرف عائد کر دیا تھا جس کے جواب میں چین نے بھی امریکی مصنوعات پر ٹیکس کو 125فیصد تک بڑھا دیا ۔ پھر 12مئی 2025ء کو امریکہ اور چین نے ابتدائی طور پر 90 روز کے لیے ایک دوسرے کی مصنوعات پر محصولات واپس لینے پر اتفاق کر لیا۔ یہ اعلان سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں دنیا کی دو سب سے بڑی معیشتوں کے حکام کی جانب سے طویل تجارتی مذاکرات کے اختتام پر سامنے آیا تھا۔ اس حوالے سے جاری کیے گئے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ 14 مئی تک امریکہ چینی مصنوعات پر محصولات کو عارضی طور پر 245 فیصد سے کم کر کے 30 فیصد کر دے گا جبکہ چین امریکی درآمدات پر محصولات کو 125 فیصد سے کم کر کے 10 فیصد کرے گا۔ تب اعلامیہ میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ فریقین نے چین کے نائب وزیراعظم ہی لیفنگ اور امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ اور امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر کی قیادت میں اقتصادی اور تجارتی تعلقات کے بارے میں بات چیت جاری رکھنے کے لیے میکانزم بنانے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ گویا چین کے ساتھ ٹیرف وار میں بھی امریکہ کی حالت ویسی ہی تھی جیسی اب ایران کے ساتھ مسلح جنگ کے بعد ہے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ پچھلے کچھ عرصے میں امریکہ خصوصاً صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا گراف نیچے آیا ہے۔حال ہی میں امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ‘ ٹی وی چینل اے بی سی نیوز اور اپسوس کی جانب سے کرائے گئے مشترکہ پول میں 59فیصد امریکیوں کی رائے میں صدر ٹرمپ کی ذہنی صلاحیت ایسی نہیں جو ملک کی قیادت کے لیے درکار ہے۔ پول کے مطابق 55فیصد بالغ امریکیوں کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کی جسمانی صحت عہدے کی مناسبت سے اچھی نہیں‘ البتہ 40فیصد نے کہا کہ ٹرمپ ملکی قیادت کے لیے مکمل اہل ہیں جبکہ ایک فیصد امریکیوں نے سوال کا کوئی جواب نہیں دیا۔ سروے میں حصہ لینے والے 67فیصد شرکا نے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ ٹرمپ اہم فیصلے کر سکتے ہیں۔ اس پول کے رزلٹ اس امر کا ثبوت ہیں کہ امریکہ کے اندر بھی صدر ٹرمپ کی شہرت میں کمی واقع ہو رہی ہے۔ لیکن امریکی صدر طویل عرصہ تک برسر اقتدار رہنے کی سوچ رکھتے ہیں۔ انہوں نے چھوٹے کاروباروں سے متعلق ایک تقریب کے دوران عہدہ چھوڑنے کے حوالے سے آٹھ یا نو سال کا ذکر کیا تھا۔ ٹرمپ نے کہا تھا کہ جب وہ آٹھ یا نو سال بعد عہدہ چھوڑیں گے تو اس سہولت سے خود بھی فائدہ اٹھا سکیں گے۔ ان کے اس بیان پر سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔ان حالات میں صدر ٹرمپ کا دورۂ چین بہت زیادہ بارآور نہیں ہو سکتا۔ امریکی جریدے &#39;ٹائم میگزین‘ کا بھی کہنا ہے کہ صدرٹرمپ کا دورۂ چین بے نتیجہ رہنے کا امکان ہے اور دونوں ملکوں میں کسی بڑے معاہدے کی توقع کم ہے۔ چین اپنی حکمت عملی اور مضبوط معیشت کے سبب مضبوط پوزیشن میں ہے‘ جبکہ امریکہ ایران کی جنگ اور آبنائے ہرمز کے بحران کی وجہ سے دباؤ کا شکار ہے۔ ٹائم کے مطابق اس صورتحال میں بیجنگ بڑے سمجھوتوں پر آمادہ دکھائی نہیں دیتا۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقاتیں زیادہ تر علامتی نوعیت کی ہوں گی۔ کچھ اور بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا بھی یہی ماننا ہے کہ امریکی صدر کا دورۂ چین زیادہ تر علامتی نوعیت کا ہو گا اور اس سے کسی بڑے یا عملی معاہدے کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ رپورٹ کے مطابق امریکہ اور چین کے درمیان طویل عرصے سے جاری تجارتی‘ ٹیکنالوجی‘ انسانی حقوق اور جغرافیائی سیاسی اختلافات اب بھی برقرار ہیں اور دونوں ممالک بار بار مذاکرات کے باوجود کسی اتفاقِ رائے تک نہیں پہنچ سکے ۔چین کے وزیر خارجہ وانگ ای نے بیجنگ میں اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ملاقات کے دوران امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کو ناجائز قرار دیا۔ ایک ایرانی نیوز ایجنسی کے مطابق چینی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے اور خطے میں استحکام لانے کے لیے مکمل جنگ بندی بہت ضروری ہے۔ چین اور ایران کے تعلقات کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ چین ایران کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور اس کی خام تیل کی فروخت کا بڑا خریدار بھی ہے‘ جس نے تہران کی معیشت کو سہارا دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ دوسری طرف امریکہ ہے جس کے پاس چین کو دینے کے لیے کچھ بھی نہیں ۔ یہ بھی ایک اشارہ ہے کہ ٹرمپ کو دورۂ چین سے شاید کچھ بھی نہیں ملنے والا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_58350786.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>عالمی سپر پاور کا بدلتا منصب(محمد عبداللہ حمید گل)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-abdullah-hameed-gull/2026-05-10/51923/81714332</link><pubDate>Sun, 10 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-abdullah-hameed-gull/2026-05-10/51923/81714332</guid><description>26دسمبر 1991ء کو ماسکو کے کریملن پر لہراتا سرخ پرچم جب خاموشی سے اترا تو صرف ایک ریاست نہیں ٹوٹی تھی بلکہ ایک عہد اپنے اختتام کو پہنچا تھا۔ سوویت یونین کے انہدام کے ساتھ پہلی سرد جنگ بھی تاریخ کے صفحات میں دفن ہو گئی۔ دنیا نے سکھ کا سانس لیا‘ امریکہ نے فتح کا اعلان کیا اور یہ تصور عام ہوا کہ اب نظریاتی کشمکش کا باب بند ہو چکا ہے۔ فرانسس فوکویاما نے لکھا کہ تاریخ ختم ہو گئی‘ مگر آج 2026ء میں اگر عالمی منظرنامے کا جائزہ لیا جائے تو صاف محسوس ہوتا ہے کہ سرد جنگ کا خاتمہ نہیں ہوا تھا بلکہ یہ محض ایک وقفہ تھا۔ وہی کشمکش‘ وہی طاقت کا کھیل‘ صرف کردار اور طریقۂ کار بدل گئے ہیں۔ اس بار میدان میں امریکہ کے مقابل چین کھڑا ہے‘ ایک ایسی طاقت جو خاموشی سے ابھر کر عالمی نظام کو چیلنج کر رہی ہے۔1991ء کے بعد امریکہ نے چین کو گلے لگایا۔ سوچ یہ تھی کہ تجارت سے چین امیر ہو گا اور امیر ہو کر جمہوری ہو جائے گا۔ 2001ء میں چین ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کا رکن بنا۔ امریکی فیکٹریاں چین منتقل ہوئیں‘ سب خوش تھے۔ تاہم 2008ء میں جب امریکہ معاشی بحران میں ڈوبا تو بیجنگ اولمپکس کی روشنی میں ایک نیا چین کھڑا تھا۔ پُراعتماد‘ امیر اور خاموشی سے بحری بیڑے بناتا ہوا چین۔ 2009ء میں جب امریکہ کو خطرے کی بُو محسوس ہوئی تو اوباما نے چین کو کاؤنٹر کرنے کیلئے &#39;&#39;Pivot to Asia‘‘ پالیسی کا اعلان کیا۔ اس کہانی میں اصل موڑ 2011ء میں تب آیا جب امریکی دفاعی دستاویز میں پہلی بار چین کو &#39;&#39;Peer Competitor‘‘ یعنی برابر کا حریف لکھا گیا۔ جنوبی چینی سمندر میں چین نے جزیرے بنانا شروع کیے۔ 2012ء میں شی جن پنگ آئے اور &#39;&#39;میڈ اِن چائنا 2025ء‘‘ کا اعلان ہوا‘ یعنی اب چین صرف کھلونے نہیں بلکہ مائیکرو چپس‘ مصنوعی ذہانت اور فائیو جی بھی بنائے گا۔ واشنگٹن میں خطرے کی گھنٹی بج چکی تھی۔ 2017ء میں ٹرمپ کی قومی سلامتی حکمتِ عملی میں باضابطہ لکھا گیا کہ &#39;&#39;چین اور روس نظرثانی پسند طاقتیں ہیں‘‘۔ اسی دن دوسری سرد جنگ کا باضابطہ آغاز ہو گیا۔آج دنیا میں عسکری اور معاشی طور پر صرف دو ہی مضبوط طاقتیں ہیں‘ امریکہ اور چین۔ عسکری محاذ پر متعدد مبصرین چین کو کئی میدانوں میں آگے دیکھتے ہیں۔ اس کے پاس ڈرون سوارمز ہیں جو آسمان کو مکھیوں کے چھتے میں بدل دیں۔ &#39;&#39;بیڈو‘‘ سیٹیلائٹ سسٹم ہے جو جی پی ایس کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر کھڑا ہے‘ اور سٹیلتھ بمبار ہیں جو ریڈار کی نبض پر ہاتھ رکھ کر گزر جائیں۔ اس کے نیٹ ورک سینٹرک جنگی ڈاکٹرائن کی جھلک دنیا نے مئی 2025ء میں دیکھی جب پاکستانی شاہینوں نے J-10C فائٹر جیٹ‘ PL-15 میزائل‘ بیڈو‘ اواکس اور ریئل ٹائم سیٹیلائٹ امیجز کے امتزاج سے ایک ایسا جال بنایا جس نے یورپ کے فخر &#39;&#39;رافیل‘‘ کو دھول چٹا دی۔ چین کے طیارہ بردار اور ڈرون بردار بحری بیڑے‘ ہائپرسونک میزائل اور نئے سٹیلتھ جہاز ابھی میدانِ جنگ میں اپنے جلوے نہیں دکھا سکے۔ دوسری طرف نام نہاد سپر پاور امریکہ ہے جو پچھلے 30 برس سے مسلسل جنگ میں ہے۔ اس کا تقریباً ہر نیا ہتھیار عراق کی ریت‘ افغانستان کے پہاڑوں اور بحیرۂ احمر کے پانی میں آزمایا جاتا ہے۔ ایک کے پاس تجربہ گاہ ہے اور دوسرے کے پاس اپنے حریف کی جنگوں سے حاصل کیا گیا تجربہ۔2025ء کے اعداد و شمار کے مطابق امریکہ کی معاشی شرح نمو تقریباً 28.8ٹریلین ڈالر ہے جبکہ سالانہ ترقی کی شرح 2.5فیصد کے لگ بھگ ہے۔ چین دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے‘ اس کا حجم 18.5ٹریلین ڈالر ہے مگر سالانہ ترقی کی شرح 5.2فیصد ہے۔ ترقی کے اسی نمبر سے امریکہ خوفزدہ ہے کیونکہ اگر چین کی معاشی ترقی اسی رفتار سے جاری رہی تو 2035ء سے پہلے چین دنیا کی نمبر وَن معیشت بن جائے گا۔ واشنگٹن جانتا ہے کہ چین کو روکنا ناممکن ہے اور یہیں سے واشنگٹن کی &#39;&#39;Slow China Policy‘‘ جنم لیتی ہے۔ اس نئی سرد جنگ کا سب سے اہم محاذ توانائی ہے۔ چین دنیا کا سب سے بڑا تیل درآمد کنندہ ہے اور اس کی معیشت کا دارومدار بیرونی توانائی پر ہے۔ امریکہ نے اسی کمزوری کو ہدف بنایا اور ایران‘ روس اور وینزویلا جیسے ممالک پر پابندیاں عائد کر کے چین کی سپلائی لائن متاثر کرنے کی کوشش کی۔ ایران چین کو تیل فراہم کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہے۔ حالیہ ایران امریکہ کشیدگی اور ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا مگر چینی جہاز ہرمز سے آزادانہ گزرتے رہے۔ جب امریکہ نے دیکھا کہ ہرمز بند کرنے سے چین کو فرق نہیں پڑا تو امریکی بحریہ نے ایران کی بحری ناکہ بندی شروع کر دی۔ یہیں سے کہانی میں ایک نیا کردار داخل ہوتا ہے‘ چین کی خاموش طاقت‘ شیڈونگ صوبے میں بنی چھوٹی &#39;&#39;ٹی پاٹ ریفائنریز‘‘۔ انہیں &#39;&#39;ٹی پاٹ‘‘ اس لیے کہتے ہیں کہ ان کی شکل چائے کی کیتلی جیسی ہوتی ہے۔ یہ امریکی پابندیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ایران اور روس سے سستا تیل حاصل کرتی رہی ہیں۔ یہ چین کی کل ریفائننگ کا 25فیصد ہیں۔ چینی ٹی پاٹ ریفائنریز کو ایرانی تیل پر آٹھ سے دس ڈالر فی بیرل رعایت ملتی ہے۔ مارچ میں انہوں نے ریکارڈ 18لاکھ بیرل یومیہ ایرانی تیل درآمد کیا۔ ان کے پاس جنگ سے پہلے خریدا ہوا سٹاک بھی موجود تھا‘ اسی لیے جب چین کی سائنو پیک ریفائنری کی پیداوار 7.6 فیصد گر گئی تو ٹی پاٹس 54.58 فیصد استعداد پر چل رہی تھیں۔ یہی وہ نظام ہے جس نے چین کو پابندیوں کے اثرات سے بڑی حد تک محفوظ رکھا۔ پھر اپریل میں امریکہ نے چین کی ہینگلی پیٹرو کیمیکل سمیت کئی ٹی پاٹ ریفائنریز پر پابندی لگا دی‘ 35کمپنیاں اور 19بحری جہاز بلیک لسٹ کر دیے گئے۔ امریکی وزیر خزانہ نے اسے مالی طور پر گلا گھونٹنے سے تشبیہ دی جبکہ چین نے غیرمعمولی ردِعمل دیتے ہوئے نہ صرف ان پابندیوں کو مسترد کیا بلکہ عالمی مالیاتی اداروں کو بھی خبردار کر دیا۔ یہ اقدام اس بات کا اشارہ ہے کہ چین اب دفاعی نہیں بلکہ جارحانہ پوزیشن میں آ چکا ہے۔سرد جنگ کا دوسرا مرحلہ پہلی سرد جنگ سے مختلف ہے۔ اس بار معیشتیں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں اور ان کی باہمی تجارت کا حجم 700ارب ڈالر ہے۔ امریکہ چین کو روک نہیں سکتا‘ صرف سست کر سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز سے &#39;&#39;ٹی پاٹ‘‘ تک امریکہ &#39;&#39;Slow China Policy‘‘ کے ذریعے چین کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرتا ہے جبکہ چین ان رکاوٹوں سے ایسے بچ نکلتا ہے جیسے اسے پہلے سے اس کھیل کا اندازہ ہو۔ چین نے دو ٹوک الفاظ میں امریکہ اور ڈونلڈ ٹرمپ پر واضح کر دیا ہے کہ &#39;&#39;ایئر فورس ون‘‘ کے بیجنگ اترنے سے قبل آبنائے ہرمز کا مسئلہ حل کریں کیونکہ چین کیلئے اس کی انرجی سکیورٹی پالیسی سب سے اہم اور مقدم ہے۔کیا امریکہ کا دور ختم ہو رہا ہے؟ مگر یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ عالمی طاقت کا توازن تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ چین اب صرف ایک معاشی قوت نہیں بلکہ ایک مکمل سٹریٹجک چیلنجر بن چکا ہے۔ چین کی جانب سے یوان اور ڈیجیٹل یوان میں تجارت کی دھمکی دراصل عالمی مالیاتی نظام کو چیلنج ہے۔ اگر چین واقعی ڈالر کے متبادل نظام کو نافذ کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ امریکہ کی عالمی برتری کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہوگا۔ یوں &#39;&#39;کولڈ وار 2.0‘‘ جو 2017ء میں ٹرمپ کے دورِ حکومت میں باضابطہ طور پر شروع ہوئی تھی‘ آج 2026ء میں ٹرمپ ہی کے دورِ حکومت میں امریکہ کے سپر پاور سٹیٹس کے خاتمے کے ساتھ اپنے انجام کو پہنچتی دکھائی دیتی ہے۔ چین نے ببانگِ دہل پوری دنیا کے سامنے امریکی پابندیوں کا انکار کر کے یہ واضح پیغام دے دیا ہے کہ امریکہ اب سپر پاور نہیں رہا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_62843609.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>