<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>گڈ گورننس اور قومی استحکام(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-01/11413</link><pubDate>Sat, 01 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-01/11413</guid><description>ملکِ عزیز کو داخلی و خارجی نوعیت کے جن پیچیدہ چیلنجز کا سامنا ہے‘ ان کے حوالے سے ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کی پریس کانفرنس گہرے فکری تجزیے کی دعوت دیتی ہے۔ پریس کانفرنس کا مرکزی خیال یہ تھا کہ ملکی سلامتی کا دار ومدار صرف عسکری طاقت یا میدانِ جنگ میں دشمن کے خلاف حاصل کی جانے والی کامیابیوں پرنہیں ہوتا‘ اس کے لیے گڈ گورننس بھی ضروری ہوتی ہے۔ ترجمان پاک فوج کی جانب سے اس حقیقت کا اظہار بھی کیا گیا کہ ریاست کے بنیادی ڈھانچے اور انتظامی امور میں بہتری لائے اور عوام کو بنیادی سہولتیں مہیا کیے بغیر طویل مدتی استحکام کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔انہوں نے انتظامی بنیادوں پر صوبوں کی تقسیم کے تصور کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ 1972ء میں پاکستان کی آبادی سات ‘ آٹھ کروڑ تھی جو اَب بڑھ کر 25 کروڑ تک پہنچ چکی ہے جبکہ انتظامی ڈھانچہ اب بھی چار صوبوں پر مشتمل ہے‘ اس صورتحال میں نئے تقاضوں کے مطابق سوچنے کی ضرورت ہے۔ ملکِ عزیز میں انتظامی بنیادوں پر صوبوں کی تخلیق کا تقاضا ایسی حقیقت ہے جس کی جانب مسلسل توجہ دلائی جا رہی ہے‘ ملک میں حکمرانی کے چیلنجز پر بھی بات ہوتی رہتی ہے۔

فی الحقیقت گڈ گورننس اور نئے انتظامی یونٹس کی تشکیل لازم و ملزوم حقیقتیں ہیں؛ چنانچہ ضروری ہو چکا ہے کہ پرانے اور فرسودہ انتظامی ڈھانچے پر اصرار جاری رکھنے اور پبلک سروس کی صورتحال کو مزید بحرانوں سے دوچار کرنے کے بجائے نئے تقاضوں کو تسلیم کرنے میں مزید تاخیر نہ کی جائے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے قومی سلامتی سے متعلق امور اور دہشت گردی کے حوالے سے بھی تفصیلی گفتگو کی جس کے مطابق رواں سال اب تک دہشت گردی کے خلاف 40 ہزار 348 آپریشن کیے جا چکے ہیں جن میں 2084 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے دوران 819 اہلکار اور 322 شہری شہید ہوئے جبکہ رواں سال 28خودکش حملے ہوئے‘ جن میں زیادہ تر افغان شہری ملوث تھے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے دہشت گردی کے پیچھے بھارت اور افغانستان کے گٹھ جوڑ کو صراحت کے ساتھ واضح کیا اوربتایا کہ معرکۂ حق میں ناکامی کے بعد دشمن نے بلوچستان پر توجہ مرکوز کر لی ہے اور پاکستان میں دہشت گردی بھارت اور افغانستان کا مشترکہ ایجنڈا ہے۔ ترجمان پاک فوج نے کہاکہ دہشت گردوں سے بات چیت کی کوئی گنجائش نہیں‘ انہیں یا تو آئین اور قانون کے مطابق ہتھیار ڈالنا ہوں گے بصورتِ دیگر سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رہیں گی۔ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف جاری کارروائیاں اس ریاستی عزم کی غمازی کرتی ہیں کہ پاک سر زمین پر کسی بھی دہشت گرد گروہ کو پنپنے کی اجازت نہیں دی جائے گی‘تاہم عسکری کامیابیوں کے ثمرات کو برقرار رکھنے کیلئے ضروری ہے کہ سیاسی استحکام‘ معاشی بہتری اور سماجی انصاف کو یقینی بنایا جائے۔ جب تک عام آدمی کے بنیادی مسائل حل نہیں ہوں گے پائیدار امن ممکن نہیں ہو سکتا۔
اس وقت ملک میں جاری منفی پروپیگنڈا‘ جھوٹی خبروں اور ڈیجیٹل دہشت گردی کے ذریعے معاشرے میں جو زہر گھولنے کی کوشش کی جا رہی ہے اس کا مقابلہ کرنے کے لیے اجتماعی بیداری کی ضرورت ہے اور دشمن کی ان سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے تمام طبقات کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ملک کو درپیش مسائل کا حل الزام تراشی یا سیاسی رسہ کشی میں نہیں جامع قومی اتفاقِ رائے‘ آئین کی بالادستی‘ بہتر حکمرانی اور اداروں کی مضبوطی میں ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس میں اٹھائے گئے نکات کو ایک روڈ میپ کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے تاکہ ملک کو درپیش بحرانوں سے نکال کر ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے اور عام آدمی کے مسائل کے حل کی بنیاد رکھی جا سکے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کوئٹہ کان حادثہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-01/11412</link><pubDate>Sat, 01 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-01/11412</guid><description>کوئٹہ کے نواحی علاقے سورینج میں کوئلے کی دو کانوں میں پیش آنے والے المناک حادثے میں 34کان کنوں کی موت نے  کان مزدوروں کی زندگیوں کے تحفظ سے متعلق سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق یہ حادثہ کان میں میتھین گیس بھر نے کی وجہ پیش آیا۔بلوچستان میں کوئلے کی کانوں میں حادثات معمول بن چکے ہیں۔ گزشتہ برس ان حادثات میں 90 کان کن جان کی بازی ہار گئے۔ اس کے باوجود حالات میں کوئی بنیادی بہتری دکھائی نہیں دیتی۔ ایک رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں تقریباً 60 ہزار افراد کوئلے کی کان کنی کے شعبے سے وابستہ ہیں مگر متعدد کانوں میں حفاظتی سازوسامان اور نگرانی کے مؤثر نظام کے بجائے روایتی طریقوں پر انحصار کیا جا تا ہے۔ ہزاروں فٹ گہری کوئلہ کانوں میں کان کن جدید آلات‘ مشینری‘ سانس لینے کیلئے ماسک‘ آکسیجن سلنڈر اور گیس کی مقدار ناپنے والے آلات کے بغیر کام کرنے پر مجبور ہیں۔

اس صورتحال کی ذمہ داری صرف کان کے مالکان اور ٹھیکیداروں پر نہیں متعلقہ حکومتی اداروں پر بھی عائد ہوتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اور متعلقہ حکام کوئلہ کانوں میں بین الاقوامی معیار کے حفاظتی ضوابط پر عملدرآمد یقینی بنائیں‘ جدید ٹیکنالوجی اور گیس مانیٹرنگ نظام کی تنصیب لازمی قرار دی جائے‘ اور حفاظتی تقاضے پورے نہ کرنے والی کانوںکو بند کیا جائے۔ بصورت دیگر المناک حادثات ہوتے رہیں گے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سکول بند؟(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-01/11411</link><pubDate>Sat, 01 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-01/11411</guid><description>محکمہ سکول ایجوکیشن پنجاب نے مزید 555 سرکاری سکول بند کرکے انہیں قریبی سکولوں میں ضم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ محکمے کا مؤقف ہے کہ یہ فیصلہ ان سکولوں میں طلبہ کی کم تعداد کی وجہ سے کیا گیا ہے۔سرکاری سکولوں کی بندش کا فیصلہ اس ملک میں کیا جارہاہے جہاں‘ یونیسیف کے مطابق تقریباً دو کروڑ باسٹھ لاکھ بچے سکولوں سے باہر ہیں‘ان میں سے ایک کروڑ سے زائد پنجاب سے ہیں۔اگر ان سکولوں میں داخلوں کی تعداد کم تھی تو حکومت کو ان وجوہ کی تلاش کرنی چاہیے جو سرکاری سکولوں کی جانب رجحان میں کمی کا سبب بن رہے ہیں۔ سکولوں میں مزید سہولتیں فراہم کرنے اورانکی افادیت بڑھانے کے بجائے سکول بند کردینا تو ہر لحاظ سے غیر منطقی اقدام ہے۔

تعلیم اور صحت شہریوں کے آئینی حقوق ہیں اور انکی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے مگر ان حقوق کی فراہمی کے بجائے لیت و لعل کے حربے اپنائے جاتے ہیں۔اس صورتحال نے ملک میں طبقاتی تفریق میں اضافہ کیا ہے۔ مالی طور پر مستحکم شہری نجی اداروں سے تعلیم اور صحت کی سہولیات حاصل کر لیتے ہیں مگر غریب شہریوں کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔ یہ صورتحال ملک میں تعلیم سے محروم بچوں کی تعداد میں اضافے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ کم داخلوں کی بنا پر سکول بند کر نے کے بجائے سکولوں میں سہولیات بڑھانے پر سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مسلم لبرلزم…مصطفی اکیول کا جواب(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-08-01/52399/62177946</link><pubDate>Sat, 01 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-08-01/52399/62177946</guid><description>چند دن پہلے میں نے ممتاز دانشور مصطفی اکیول کی کتب کو بنیاد بنا کر &#39;مسلم لبرلزم‘ پر ایک کالم لکھا تھا‘ جو آج کے دور میں اس کے سب سے بڑے داعیان میں شمار ہوتے ہیں۔ تفصیلی تبصرے سے دانستہ گریز کرتے ہوئے‘ میں نے خود کو اس بات تک محدود رکھا کہ میرے نزدیک اس تصور کے خدو خیال کیا ہیں۔ اس پر برادر مصطفی نے ایک وضاحتی مضمون لکھا ہے۔ میں اسے یہاں نقل کر رہا ہوں۔ مقصود یہ ہے کہ ان کا مؤقف ان کی زبانی بیان ہو جائے۔ میں مسلم لبرلزم کے بارے میں جو رائے رکھتا ہوں‘ ان شاء اللہ کسی اگلے کالم میں بیان کر وں گا۔ یہ معاصر مسلم سماج میں اٹھنے والے مباحث کو سمجھنے کی ایک کوشش ہے جن سے ہم الگ نہیں رہ سکتے۔مصطفی لکھتے ہیں: &#39;&#39;کتاب (Why, As A Muslim, I Defend Liberty)‘‘ کے مصنف کی حیثیت سے جس کا اردو ایڈیشن حال ہی میں شائع ہوا ہے۔ مجھے &#39;روزنامہ دنیا‘ میں خورشید ندیم صاحب کا فکر انگیز تبصرہ اور تحسین آمیز کلمات پڑھ کرخوشی ہوئی تاہم ان کے تبصرے میں چند ایسے نکات سامنے آئے ہیں جن کی وضاحت سودمند ثابت ہو سکتی ہے۔ لبرل ازم ایک ایسا سیاسی نظریہ ہے جو اس امر کا مدعی ہے کہ حکومتوں کو معاشرے پر مخصوص عقائد یا طرزِ زندگی مسلط نہیں کرنے چاہئیں۔ اس کے برعکس‘ حکومتوں کو افراد کے حقوق اور آزادیوں کا تحفظ کرنا چاہیے اور افراد کو اس شرط کے ساتھ اپنی مرضی سے جینے کی آزادی ہونی چاہیے کہ وہ دوسروں کے حقوق کی پامالی نہ کریں۔ مثال کے طور پر فرانسیسی جمہوریہ کو‘ جو مذہب کے معاملے میں مغرب کی کمترین لبرل حکومتوں میں شمار ہوتی ہے‘ مسلم خواتین کے عوامی مقامات پر حجاب اوڑھنے کے حق میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔ یا بھارتی حکومت کو مسلمانوں کی جانب سے گائے کے گوشت کی پیداوار یا استعمال کرنے کو جرم قرار نہیں دینا چاہیے‘ اور نہ ہی تبدیلیٔ مذہب کے انسداد پر مبنی ایسے قوانین وضع کرنے چاہئیں جو قبولِ اسلام کو محدود کرتے ہوں۔ جب اس نوع کے غیر مسلم احکامات و قوانین کا سوال درپیش ہوتا ہے تو ہمارے مسلم بھائی اکثر یہ محسوس کرتے ہیں کہ لبرل ازم کیوں معقولیت رکھتا ہے۔ لیکن یہ ادراکِ وجدانی ایک سوال بھی اٹھاتا ہے: کیا ہم مسلمان دوسروں کو وہ تمام آزادیاں دینے کیلئے تیار ہیں جو اپنے لیے چاہتے ہیں؟ اگر نہیں‘ تو پھر ہم کس بنیاد پر اپنی آزادیوں کا دفاع کر سکتے ہیں؟ اس سوال سے نبرد آزما ہونے کا عمل‘ پہلے میرے وطنِ عزیز ترکیہ میں اور بعد ازاں عالمی سطح پر‘ مجھے اس بات پر قائل کر چکا ہے کہ ہمیں ایک حقیقی و مصدقہ مسلم لبرل ازم کی ضرورت ہے یا جیسا کہ میں اکثر تعبیر کرتا ہوں &#39;&#39;اسلامی لبرلزم‘‘ کی‘ کیونکہ میرے استدلال کا مرجع و ماخذ مصادرِ اسلام یعنی قرآن و سنت اور ساتھ ہی اسلام کی فقہی و کلامی روایت ہیں۔ تاہم اسی نکتے پر خورشید ندیم صاحب باریک بینی سے تنقید کرتے ہیں اور یہ دلیل دیتے ہیں کہ میری کاوش &#39;&#39;لبرل پیراڈائم کو معیار مان کر اسلام کی تعبیرِ نو‘‘ پیش کرتی ہے۔ اس کے جواب میں مَیں یہ عرض کروں گا کہ اگر یہ سچ ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام کی تعبیر پہلے ہی &#39;&#39;استبدادی پیراڈائم کو معیار مان کر‘‘ کی جا چکی ہے۔مثال کے طور پر قرآنی نص&#39;&#39;دین میں کوئی جبر نہیں‘‘ پر غور کیجیے‘ جو مذہبی آزادی کی ایک قابلِ قدر بنیاد ہے۔ اگر ہم اپنے کلاسیکی مفسرین کا مطالعہ کریں تو اکثر نے اس آیت کو یا تو جہاد سے متعلق آیات سے &#39;&#39;منسوخ‘‘ قرار دیا‘ یا پھر اس کے دائرہِ کار کو محض اس حد تک محدود کر دیا کہ اہلِ کتاب یعنی یہود ونصاریٰ اسلامی قلمرو کے تحت اپنے مذہب پر قائم رہ سکیں۔ اگرچہ مؤخر الذکر صورت بھی رواداری کا ایک عظیم مظاہرہ تھا‘ تاہم &#39;&#39;لا اکراہ‘‘ کا یہ اصول مسلمانوں پر اطلاق تک توسیع نہیں پا سکا۔ یہی سبب ہے کہ پاکستان کے سابق چیف جسٹس‘ ایس اے رحمان نے‘ البقرہ: 256 کو &#39;&#39;انسانیت کی مذہبی تاریخ میں آزادیٔ ضمیر کا ایک بینظیر چارٹر‘‘ قرار دیتے ہوئے‘ افسوس کا اظہار بھی کیا تھا کہ &#39;&#39;خود مسلم علما کی جانب سے اس کے وسیع انسانیت پرور مفہوم کو کمتر و محدود کرنے کی کوششیں کی گئیں‘‘۔ آج ہم اپنے کلاسیکی علما کے احترام کو ملحوظ رکھتے ہوئے‘ اس &#39;&#39;انسانیت پرور‘‘ مفہوم کا احیا کر سکتے ہیں لیکن ایک ایسے نئے زاویۂ نظر کے ساتھ جس کی اجازت ان کا عہد نہیں دیتا تھا۔ جیسا کہ میری نئی مرتب کردہ کتاب &#39;&#39;دین میں کوئی جبر نہیں‘‘ میں استدلال کیا گیا ہے۔یہ قضیہ اس سے کچھ مختلف نہیں جو ابتدائی دور کے متعدد اسلامی جدیدیت پسندوں (اور حتیٰ کہ بعد کے بعض روایتی علما) نے غلامی کے باب میں پیش کیا تھا۔ یعنی ہماری شریعت نے صدیوں تک اس کی اجازت دی‘ کیونکہ وہ ان ادوار کا معمول و رواج تھا‘ لیکن غلاموں کو آزاد کرنے کے قرآنی اخلاقی حکم (البلد: 13) کا اطلاق اب عالمگیر سطح پر آزادی کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ (تاہم اس کے باوجود‘ انیسویں صدی کے جن مسلم داعیانِ انسدادِ غلامی نے یہ استدلال پیش کیا تھا‘ ان پر &#39;&#39;یورپیوں کو خوش کرنے‘ اسلام کو نابود کرنے اور شریعت کو معطل کرنے‘‘ کی سعی کا الزام لگا کر مذمت کی گئی‘ جیسا کہ ہارون بشیر نے اپنی کتاب Slavery, Abolition, and Islam میں واضح کیا ہے)۔ ہماری صدی کا مسئلہ غلامی سے آزادی نہیں‘ بلکہ دیگر آزادیاں ہیں: آزادیٔ مذہب‘ آزادیٔ اظہار‘ سب کیلئے قانونی مساوات‘ جمہوری حاکمیت اور معاشی آزادی۔ میں ان اصولوں کا دفاع اسلئے کرتا ہوں کیونکہ میں نے بچشمِ خود دیکھا ہے کہ کس طرح ان اصولوں نے متعدد مغربی ممالک بشمول چند دیگر ممالک جیسے کہ جاپان یا جنوبی کوریا کو زیادہ پُرامن‘ خوشحال اور طاقتور بنایا۔ میں امت مسلمہ کیلئے بھی اسی کامیابی کی تمنا رکھتا ہوں۔اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ آج مغرب میں موجود ہر شے قابلِ تحسین ہے۔ وہاں متعدد مفاسد بھی ہیں مثلاً روایتی خاندانی نظام کا انحطاط‘ معنویت کا بحران اور سیاسی شدت پسندی۔ نیز بعض لوگوں کے نزدیک &#39;&#39;لبرلزم‘‘ کا مفہوم لامتناہی لذت کوشی پر مبنی ایک اباحیت پسندانہ عالمی نقطۂ نظر بن چکا ہے‘ جو اکثر بالآخر نشے کی لت‘ عدمیت (nihilism) یا انسانی فطرت کی مسخ ہونے پر منتج ہوتا ہے۔ میں ان میں سے کسی بھی شے کی وکالت نہیں کرتا اور نہ ہی میں کسی ایسی &#39;&#39;مطلق آزادی‘‘ کا حامی ہوں جو نفاذِ امن‘ شائستگی‘ ایمانیات یا اخلاقیات کے کسی بھی احساس سے عاری ہو۔ تاہم تمدنی (civic) وسائل کے ذریعے ایمان واخلاق کی پاسبانی کرنے اور ریاستی جبر کے ذریعے انہیں مسلط کرنے کے درمیان زمین و آسمان کا فرق ہے۔ مؤخر الذکر طریقہ جدید دور میں کارگر ثابت نہیں ہوتا؛ جیسا کہ مذہب اور اخلاقیات کی پاسبانی کے سلسلے میں ایران کے ناکام تجربے نے اسے نہایت واضح طور پر عیاں کر دیا ہے۔ مجھے خوشی ہوئی کہ خورشید ندیم صاحب نے اس استدلال کو ایک &#39;&#39;چشم کشا‘‘ امر کے طور پر پایا۔ جہاں خورشید ندیم صاحب میرے مؤقف کو سب سے زیادہ کمزور حتیٰ کہ انکے الفاظ میں &#39;&#39;بے بس‘‘ پاتے ہیں وہ قرآن اور جنسی اخلاقیات کا باب ہے۔ میں ان سے پُرزور گزارش کروں گا کہ وہ گناہوں اور جرائم کے درمیان قائم کردہ میرے تفریق کے نکتے پر زیادہ دقیق نظر سے غور فرمائیں۔ قرآن متعدد ذاتی گناہوں کی مذمت کرتا ہے لیکن حدود کو ان میں سے صرف چند ایک کیلئے مخصوص رکھتا ہے؛ یعنی وہ جو جان‘ مال یا خاندان کے ضرر سے متعلق ہیں۔ یہ امتیاز آج بھی مسلم معاشروں کی رہنمائی کر سکتا ہے۔ یعنی جدید بیورو کریٹک ریاست کی سرد و بے روح مشینری کے بجائے نصیحت کے دل نشیں راستے کے ذریعے اخلاقیات کا فروغ اور اسکے فقدان پر تنقید۔ مجھے امید ہے کہ یہ پیشرفت ہمارے عہد کے ان اہم موضوعات پر مزید مکالمات کا نقطۂ آغاز ثابت ہو گی۔ میں فدا الرحمن صاحب کا ممنون ہوں جنہوں نے میری کتاب کا ترجمہ کیا‘ خورشید ندیم صاحب کا کہ انہوں نے اس پر نقد ونظر فرمائی‘ اور &#39;روزنامہ دنیا‘ کا جس نے یہ پلیٹ فارم مہیا کیا‘‘۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>چھ سال پرانی ملاقات کی تازہ صورتحال …(2)(خالد مسعود خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-08-01/52400/75152273</link><pubDate>Sat, 01 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-08-01/52400/75152273</guid><description>وزیراعلیٰ بزدار کو نو نکات پر مشتمل فہرست پکڑانے کے بعد اخلاقی طور پر میں اپنی ذمہ داری پوری کر چکا تھا۔ اس سے آگے کا دائرہِ کار سرکار کے ذمہ تھا۔ تاہم میں اپنے شہر کی بہتری کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی طبیعت کے برخلاف نہ صرف عثمان بزدار سے ملاقات کی بلکہ بعد میں وزیراعلیٰ آفس میں اپنے ایک مہربان دوست کو بھی یہ کاغذ بھجوا دیا۔ عام سرکاری افسروں کے برعکس وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں اہم جگہ پہ بیٹھا یہ دوست ایسے کاموں کو دھکا لگانے اور ان کا پیچھا کرنے میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتا۔ وہ دوست مجھے ان نو معاملات کے سلسلے میں ہونے والی پیشرفت سے وقتاً فوقتاً آگاہ بھی کرتا رہا۔ کچھ معاملات میں پیشرفت صفر تھی‘ تاہم دو معاملات میں باقاعدہ پیشرفت دکھائی دینا شروع ہو گئی۔ ملتان تا ہیڈ محمدوالا روڈ‘ جو ستر‘ اسی کلومیٹر کے فاصلے کو کم کر کے محض پندرہ سولہ کلومیٹر کر دیتی تھی‘ اس پر کام شروع ہو گیا۔جب میں نے یہ فہرست عثمان بزدار کو پکڑائی تب ہنس کر وزیراعلیٰ کو کہا کہ ہیڈ محمدوالا روڈ کا پوائنٹ سب سے پہلے اس لیے لکھا ہے کہ آپ بذاتِ خود اس سڑک میں ہونے والی بہتری سے فائدہ اٹھانے والے لوگوں میں ہوں گے۔ آپ وزیراعلیٰ ہوں یا نہ ہوں‘ تونسہ سے ملتان آنے جانے کیلئے آپ بہرحال یہی راستہ استعمال کریں گے۔ تاہم آپ کے ساتھ ساتھ مخلوقِ خدا بھی اس سڑک میں ہونے والی توسیع اور بہتری سے بہرہ مند ہو گی۔ عثمان بزار میری بات سن کر مسکرائے اور کہنے لگے: بات تو آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔سب سے پہلی پیشرفت بھی اسی سلسلے میں دکھائی دی اور سڑک کی توسیع کیلئے جو ایک سرکاری طریقہ کار ہے‘ اس کے مطابق اس سڑک کی دوسری لین بنانے کا پی سی ون تیار ہوا‘ پھر ٹینڈر ہوا‘ ٹینڈر کھلا‘ پھر اس پر باقاعدہ پیشرفت ہوئی اور بالآخر کام شروع ہو گیا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اس سڑک کی چوڑائی میں اضافہ کرنے کیلئے سرکار کو اردگرد کی نجی زمین کے حصول کی ضرورت ہی پیش نہ آئی کیونکہ ابتدائی طور پر جب یہ سڑک بنی تو اس کے دونوں جانب مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے زمین پہلے سے ہی خرید لی گئی تھی۔ ہمارے ہاں سرکاری کاموں میں عموماً ایسی دور اندیشی دکھائی نہیں دیتی تاہم یہ قدم مستقبل میں سڑک کو چوڑا کرنے کے سلسلے میں بہت کارآمد ثابت ہوا۔ دیکھا یہ گیا ہے کہ عام طور پر مزید زمین کی خریداری پر ہی جا کر معاملہ اٹک جاتا ہے جیسا کہ اس وقت ملتان کے بوسن روڈ کے ساتھ ہو رہا ہے۔ شہر سے بہاء الدین زکریا یونیورسٹی کی جانب جانے والی یہ سڑک شہر کے دوسری جانب ہونے والی تمام تر توسیع کے ساتھ رابطے کی واحد سڑک ہے۔ ملتان کی اس مرکزی سڑک پر روزانہ گھنٹوں ٹریفک پھنسی رہتی ہے اور مستقبل میں اس سڑک پر ٹریفک کے دباؤ میں بے تحاشا اضافہ متوقع ہے۔ اس سڑک کو فی الوقت چوڑا کرنے کیلئے دونوں اطراف کی زمین کی خریداری کیلئے درکار گیارہ ارب روپے کی رقم کا سُن کر ہی سرکار کان لپیٹ کر بھاگ گئی ہے۔ ہاں! اگر یہ معاملہ لاہور کا ہوتا تو علیحدہ بات تھی۔ خیر بات کہیں اور چلی گئی۔ ان نو نکات میں سے کئی پر تو رتی برابر پیشرفت نہ ہوئی‘ تاہم دو نکات پر ہونے والی پیشرفت کافی حوصلہ افزا تھی۔ ایک یہی ملتان تا ہیڈ محمدوالا سڑک کو دو رویہ کرنے والا معاملہ تھا۔ تاہم صورتحال یہ ہے کہ پانچ سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا اور اس سڑک میں دو تین جگہیں نہایت ہی معمولی سے کام کی وجہ سے تکمیل میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔ امریکہ روانگی سے چند روز پہلے اس سلسلے میں کمشنر ملتان سے بات ہوئی تو انہوں نے متعلقہ محکمے کو اس سلسلے میں سختی سے ہدایت کی کہ اس مسئلے کو اب مکمل کر کے یہ باب بند کیا جائے۔ اب واپس جا کر دیکھوں گا کہ یہ سڑک سو فیصد مکمل ہو گئی یا نہیں۔ دوسرا معاملہ جس پر تب پیشرفت شروع ہوئی وہ ملتان میں پیٹ سکینر کی تنصیب تھی۔ وزیراعلیٰ نے اس سلسلے میں متعلقہ محکمے کو فیزیبلٹی بنانے اور دیگر درکار مراحل طے کرنے کا حکم دیتے ہوئے پیٹ سکینر کی خریداری اور تنصیب کے مرحلوں کو تیز کرنے کی ہدایت کی۔ اب یہاں مسئلہ یہ آن پڑا کہ ملتان میں نیوکلیئر میڈیسن کا جو ادارہ کام کر رہا تھا (مینار) اور جس کے پاس پیٹ سکینر کو چلانے کی صلاحیت موجود تھی‘ وہ وفاقی حکومت کے زیر انتظام تھا اور پنجاب حکومت اس ادارے میں اپنا پیٹ سکینر نصب نہیں کر سکتی تھی۔ حکومت پنجاب نے اس انتہائی قیمتی مشین کو نشتر ہسپتال میں نصب کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس سارے معاملے میں وزیراعلیٰ آفس میں تعینات ہمارا دوست نہ صرف یہ کہ اس سلسلے میں مجھے باخبر بھی رکھ رہا تھا‘ بلکہ وہ اس سلسلے میں درپیش سرکاری اور تکنیکی رکاوٹوں کو دور کرنے کیلئے پورا زور بھی لگا رہا تھا۔ مجھے جب علم ہوا کہ اس انتہائی حساس اور تکنیکی طور پر پیچیدہ مشین کو اس کے اصل مقام پر نصب کرنے کے بجائے محض مرکزی اور صوبائی حکومت کے زیر اہتمام اداروں کو مسئلہ بناتے ہوئے نشتر ہسپتال میں نصب کیا جا رہا ہے تو مجھے تشویش ہوئی کہ اس ڈیڑھ‘ دو ارب سے زائد مالیت کی مشینری کو اگر ناتجربہ کار ہاتھوں میں دے دیا گیا تو نہ صرف یہ کہ اس سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھایا جا سکے گا بلکہ تکنیکی ماہرین کی عدم موجودگی کے باعث اس مشین کے خراب ہونے اور اس صورت میں غیر معینہ مدت تک بند رہنے کی وجہ سے اس خطے کے عوام کا اس ساری سہولت سے جزوی طور پر محروم ہو جانے کا خدشہ ہے‘ جسے فراہم کرنے کی غرض سے حکومت اربوں روپے خرچ کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں مَیں نے اپنے دوست کے توسط سے ایک نوٹ بھیجا جس میں بتایا کہ پیٹ سکینر کو چلانا بہرحال نیوکلیئرمیڈیسن کا کام ہے نہ کہ اونکالوجی (کینسر) والوں کا۔ یہ دونوں بالکل علیحدہ علیحدہ کام ہیں اور پیٹ سکینر کو چلانے کیلئے بالکل مختلف تکنیکی مہارت درکار ہے۔ تب بھیجا گیا نوٹ من وعن درج ذیل ہے۔&#39;&#39;مینار اور انمول کے پیٹ سکینرز تو اٹامک کمیشن کے ماتحت ہیں لیکن آغا خان کا پیٹ سکینر وہاں نیوکلیئر میڈیسن کے ماتحت کام کر رہا ہے۔ جناح پوسٹ گریجوایٹ میڈیکل سنٹر میں بھی پیٹ سکینر نیوکلیئر میڈیسن اور ریڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے تحت کام کر رہا ہے۔ شوکٹ خانم لاہور جو مکمل طور پر کینسر کے علاج کا ہسپتال ہے‘ وہاں بھی یہ دو مشینیں نیوکلیئر میڈیسن اینڈ ریڈیالوجی کے ماتحت ہیں اور پشاور والی مشین بھی اسی طریقہ کار سے چل رہی ہے۔ شوکت خانم میں اس کے بیک اَپ کو نیوکلیئر انجینئرنگ اور نیوکلیئر فزکس والے دیکھتے ہیں۔ آغا خان‘ شوکت خانم اور جناح ہسپتال میں سے کہیں بھی یہ انکالوجی ڈیپارٹمنٹ کے ماتحت نہیں ہے۔ آرمی کا ایک ادارہ ہے جس کا نام آرمڈ فورسز انسٹیٹیوٹ آف ریڈیالوجی اینڈ امیجنگ (AFIRI) ہے۔ وہاں پیٹ سکینر لگا تو یہ معاملہ آن پڑا کہ یہ کس شعبہ کے ماتحت ہوگا۔ دوسال بعد ایک کافی لمبی تحقیق کے بعد یہ فیصلہ ہوا کہ اسے نیوکلیئر میڈیسن اینڈ ریڈیالوجی والے چلائیں گے۔ پیٹ سکینر وغیرہ کو دنیا بھر میں زیادہ تر نیوکلیئر میڈیسن والے اور کہیں کہیں ریڈیالوجی والے آپریٹ کرتے ہیں لیکن انکالوجی والے کہیں بھی پیٹ سکینر نہیں چلا رہے۔ یہ سراسر اور سوفیصد نیوکلیئر میڈیسن کا کام ہے اور اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ اسے نیوکلیئر فزیشن ہی چلاتے ہیں نہ کہ انکالوجی والے۔ حتیٰ کہ پاکستان میں اس کو چلانے کیلئے لائسنس بھی پاکستان نیوکلیئر ریگو لیٹری اتھارٹی (PNRA) دیتی ہے۔ شیخ زید ہسپتال کے مریض انمول کی پیٹ سکین سہولت استعمال کرتے ہیں۔ انمول اور شیخ زید ہسپتال کے درمیان طے ہونے والے ایم او یو کی طرز پر نشتر ہسپتال اور مینار کے درمیان بھی ویسا ہی معاہدہ ہو سکتا ہے‘‘۔میری تمام تر کوششوں اور دلائل کے باوجود وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مابین حائل انتظامی اور تکنیکی مسائل کے باعث پیٹ سکینر کی نشتر ہسپتال میں تنصیب شروع ہو گئی ہے۔ ان شااللہ یہ کام جلد ہی مکمل ہو جائے گا اور یہ پیٹ سکینر عنقریب کام شروع کر دے گا۔ (جاری)</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90500073.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>وفاق کے اتحادی کشمیر میں آمنے سامنے(ڈاکٹر حسین احمد پراچہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-08-01/52401/55929367</link><pubDate>Sat, 01 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-08-01/52401/55929367</guid><description>وفاق کی حلیف جماعتیں آزاد جموں و کشمیر کے پہلے مرحلے کے انتخابی نتائج کے بعد حریف بن کر آمنے سامنے کھڑی ہیں۔ ان دنوں بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز صاحبہ ایک دوسرے کے خلاف حریفانہ بیان بازی کر رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے (ن) لیگ پر انتخابی دھاندلی کے الزامات اور ان الزامات کے دفاع میں (ن) لیگ کے جوابات جہاں تلخ ہیں وہاں دلچسپ بھی ہیں۔ ان الزامات کے بعد بلاول بھٹو زرداری نے میرپور ڈویژن میں دوبارہ پولنگ کا مطالبہ کیا اور مسلم لیگ (ن) کو دھاندلی کی پیداوار قرار دیا۔ جواباً مریم نواز نے کہا کہ پیپلز پارٹی دھاندلی کی چیمپئن ہے‘ گھر کے بھیدی لنکا ڈھانے پر تلے ہوئے ہیں۔ بلاول بھٹو کا بنیادی سوال یہ ہے کہ آزاد کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے کیا یہ جمہوریت ہے؟ چیئرمین پیپلز پارٹی نے دعویٰ کیا کہ ہم عوامی مینڈیٹ کا تحفظ کریں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آزاد جموں و کشمیر میں ووٹ پر ڈاکا ڈالا گیا۔ ادھر سے محترمہ مریم نواز کا دلچسپ جواب آیا کہ الیکشن کا فیصلہ ریاست نہیں عوام کرتے ہیں۔یہ سوال و جواب اسلئے نہایت اہم ہیں کہ ان میں وہ بنیادی نکات اٹھائے گئے ہیں کہ جن کا تذکرہ عوام قیام پاکستان کے بعد پہلے &#39;&#39;جھرلو الیکشن‘‘ سے لے کر اب تک کرتے چلے آ رہے ہیں۔ پاکستان میں شاید ہی کوئی ایسا الیکشن ہو کہ جو عوام‘ اپوزیشن جماعتوں اور عالمی اداروں کے نزدیک یکساں طور پر فری اینڈ فیئر ہو۔ بلاول بھٹو نے یہ بنیادی نکتہ اٹھایا کہ میرپور ڈویژن میں ہونیوالے انتخابات کے جو نتائج سامنے آئے‘ یہ جمہوریت کیساتھ کھلا مذاق ہے۔ انہوں نے یہ سوال بھی کیا کہ ریاست اور انتخابات کا آپس میں کیا تعلق ہے۔ چلئے سات دہائیوں کے بعد ہی سہی بنیادی جمہوری و انتخابی سوالات اٹھائے تو گئے۔ بلاول بھٹو زرداری صاحب کو شاید اندازہ نہیں کہ بات نکلے گی تو پھر دور تلک جائے گی۔متحدہ پاکستان کے جو انتخابات 1970ء میں ہوئے‘ انکے بارے میں عالمی مبصرین کی بالعموم رائے تھی کہ یہ پاکستان کے پہلے نسبتاً آزاد و شفاف انتخابات تھے مگر پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو نے ان انتخابی نتائج کو تسلیم کرنے اور بھاری اکثریت سے جیتنے والے شیخ مجیب الرحمن کو بحیثیت وزیراعظم قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ بھٹو صاحب نے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ پہلی دستور ساز اسمبلی کے ڈھاکہ میں ہونیوالے افتتاحی اجلاس میں مغربی پاکستان سے جو رکن اسمبلی جائے گا اسکی ٹانگیں توڑ دیں گے۔ بھٹو صاحب کے اس انکار کا بھیانک انجام مشرقی و مغربی پاکستان کی جدائی تھی۔ بعد ازاں ذوالفقار علی بھٹو کو مغربی پاکستان کی تمام اپوزیشن پارٹیوں نے اپنا سربراہِ مملکت تسلیم کر لیا کیونکہ مغربی پاکستان کی کل سیٹوں کے اعتبار سے پاکستان پیپلز پارٹی اکثریتی جماعت تھی۔ چاہیے تو یہ تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو متفقہ اسلامی جمہوری دستور بنا کر خود بھی اسکی پاسداری کرتے‘ دوسروں سے بھی کراتے اور منتخب ایوان کو مضبوط کرتے مگر انہوں نے جمہوریت اور جمہوری اداروں کو مضبوط کرنے کے بجائے شخصی اقتدار کو دوام دیا۔ انہوں نے اپوزیشن کی صوبائی حکومتوں کو &#39;&#39;بزورِ شمشیر‘‘ توڑا پھر 1977ء کے انتخابات میں پری پول اور دورانِ پولنگ مبینہ طور پر زبردست دھاندلی کرائی۔ اس کا انتہائی ہولناک انجام ہوا۔ اپوزیشن جماعتوں نے اسی طرح انتخابی نتائج کو ماننے سے انکار کر دیا جیسے آج بلاول بھٹو زرداری آزاد میرپور ڈویژن کے نتائج کو قبول کرنے سے انکاری ہیں۔بلاول بھٹو نے انتخابی دھاندلیوں کے خلاف آزاد کشمیر کے چیف الیکشن کمشنر یا آزاد کشمیر کی عدالت عظمیٰ یا پاکستانی ایوان یا اعلیٰ عدلیہ سے اپیل کرنے کے بجائے ریاست سے اپیل کی ہے۔ اس کا جو جواب مریم نواز صاحبہ نے دیا ہے وہ بھی بہت دلچسپ ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی نتائج ریاست نہیں عوامی ووٹ مرتب کرتے ہیں۔ مریم نواز صاحبہ کے اس جواب پر فارسی زبان کا ایک مقولہ نوکِ زباں پر آ گیا ہے مگر یہ سوچ کر لب سی لینے کا فیصلہ کیا ہے کہ بقول آزاد انصاری:افسوس بے شمار سخن ہائے گفتنیخوفِ فسادِ خلق سے ناگفتہ رہ گئے1977ء کے انتخابات سے لے کر آج آزاد جموں و کشمیر کے پہلے مرحلے کے الیکشن تک‘ کوئی انتخاب ایسا نہیں کہ جسے فری اینڈ فیئر ہونے پر عالمی مانیٹرنگ اداروں‘ ملک کی سیاسی جماعتوں اور عوام الناس کی طرف سے سندِ قبولیت حاصل ہوئی ہو۔ ذوالفقار علی بھٹو کے 1977ء میں کرائے گئے انتخابات کے خلاف اپوزیشن کی تحریک کو عوامی تائید حاصل ہوئی۔ بھٹو صاحب نے پاکستان نیشنل الائنس سے مذاکرات کا آغاز کیا مگر بدقسمتی سے وہ کسی متفقہ حل پر نہ پہنچ سکے۔ اس کا نتیجہ نہایت ہولناک تھا۔ بھٹو صاحب کو ایک المناک انجام سے دوچار ہونا پڑا اور پاکستان میں جمہوریت کا بوریا بستر اگلے گیارہ برس کیلئے جنرل ضیا الحق نے مارشل لاء کے ذریعے گول کردیا۔ اسکے بعد کچھ انتخابات جزوی طور پر آزادانہ ہوئے اور پھر کبھی انتخابی نتائج مرتب کرنے والی آن لائن مشینیں خراب ہو گئیں یا فارم 47کا جنتر منتر آ گیا۔ انتخابات سے پہلے آزاد جموں و کشمیر میں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج کو روکنے کیلئے ڈائیلاگ واحد راستہ تھا۔ چند ماہ قبل حکومت نے مذاکرات کی حکیمانہ پالیسی اختیار کر کے چند مطالبات تسلیم کر لیے تھے اور کچھ کو اگلی قانون ساز اسمبلی کے حوالے کرنے پر اتفاق کر لیا مگر اس بار مذاکرات کو زیادہ اہمیت نہیں دی گئی۔ ایسے احتجاجی ماحول کا تقاضا تو یہ تھا کہ آزاد کشمیر میں صاف اور شفاف انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنایا جاتا۔آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات کو ماضی کی طرح یکبارگی کرانے کے بجائے تین مراحل میں تقسیم کرنے کی منطق بھی سمجھ سے بالا ہے۔ ایسے مرحلہ وار انتخابات کے پہلے مرحلے کے نتائج آئندہ مراحل کے انتخابات پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ جو پارٹی پہلے فیز میں فتح یاب ہوتی ہے اس کی اگلے مراحل میں کامیابی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ میرپور ڈویژن میں مسلم لیگ (ن) کی کامیابی دو اگست کو مظفر آباد اور بارہ کشمیری مہاجرین کی سیٹوں پر اثر انداز ہو گی۔ مرحلہ جاتی انتخابات کا آخری الیکشن 10اگست کو پونچھ ڈویژن میں ہو گا۔ملک کی دو بڑی سیاسی پارٹیوں کی کشاکش سے ملک کے بعض بنیادی مسائل الم نشرح ہو کر سامنے آئے ہیں۔ پاکستانی عوام کی طرف سے جن پارٹیوں کے خلاف مینڈیٹ چوری کا مقدمہ بار بار دائر کیا گیا تھا وہ خود ہی جمہوریت اور صاف شفاف انتخابات کی وکیل بن کر پاکستانی سیاست کے اکھاڑے میں ایک دوسرے کے خلاف ڈٹ گئی ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے ایک دوسرے پر مینڈیٹ چوری اور انتخابی دھاندلی کے الزامات کے بعد تین بنیادی حقائق عوام کے سامنے آئے ہیں۔ پہلا تو یہ کہ ملک میں جمہوریت نہیں‘ انتخابات فری اینڈ فیئر نہیں‘ تیسرا ریاست اور انتخابی سیاست کا آپس میں کیا تعلق ہے! بلاول بھٹو نے وہی بات کہی کہ جو اگرچہ ان کے خلاف جاتی ہے مگر انہوں نے کہا کہ بے داغ سنہری روپہلی جمہوریت ہونی چاہیے۔ ہم تو یہ کہیں گے کہ دیر آید درست آید۔ دیر سے سہی مگر یہ تو واضح ہو گیا کہ دونوں بڑی جماعتوں کی اب تک کی کامیابی میں دھاندلی کا بہت بڑا حصہ ہے۔اگر اس وقت دونوں بڑی سیاسی جماعتیں عوام الناس کے سامنے حلفاً میثاقِ فری اینڈ فیئر انتخابات کا فیصلہ کر لیں تو ہم ایک دوسرے کے آمنے سامنے آ کر ان کی باہمی کشمکش اور چپقلش کو بابرکت ہی سمجھیں گے۔ اس میثاق سے مایوس نوجوان بھی سکھ کا سانس لیں گے۔ دیکھیے یہ دونوں بڑی سیاسی پارٹیاں میثاقِ شفاف انتخابات کرتی ہیں یا نہیں!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_70033906.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>