<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>سرحدی دہشت گردی اور افغانستان(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-26/11395</link><pubDate>Sun, 26 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-26/11395</guid><description> خیبر پختونخوا اور بلوچستا ن میں دہشت گردی کے پے در پے واقعات باعثِ تشویش ہیں۔ ملکِ عزیز کے یہ دونوں صوبے ایک مدت سے شدت پسندی کا سامنا کر رہے ہیں اور سکیورٹی ادارے قومی دفاع کیلئے اپنی پوری صلاحیتوں کیساتھ دشمن کا مقابلہ کرنے میں مصروفِ عمل ہیں۔ دہشتگردوں کیخلاف خفیہ اطلاعات پر مبنی کارروائیوں کی خبریں آئے روز موصول ہوتی ہیں اور وقتاً فوقتاً باقاعدہ آپریشن بھی ۔ بلوچستان میں پچھلے دنوں چمن کے علاقے میں دہشتگردی کے واقعات کے بعد آپریشن شعبان کے تحت انتہا پسندوں کے خلاف کارروائیاں کی گئیں جبکہ مستونگ کے علاقے میں حالیہ دنوں آپریشن العزم کے نام سے کارروائیاں جاری ہیں جن میں خبروں کے مطابق درجن بھر انتہا پسندوں کو ہلاک اور انکے ٹھکانوں اور کمین گاہوں کو تباہ کیا گیا۔ دوسری جانب خیبر پختونخوا میں اگلے روز دہشتگردی کے ایک واقعے میں وطن عزیز کے 15سپوت شہید ہوگئے جبکہ گزشتہ روز سکیورٹی فورسز نے جنوبی وزیرستان میں بروقت کارروائی کر کے ایک بڑے حملے کو ناکام بنایا اور کم از کم چار دہشتگردوں کو ہلاک کیا۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے مسلسل واقعات کا تجزیہ کیا جائے تو یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ ملک کے ان حصوں میں بد امنی کا براہِ راست تعلق سرحد پار کے حالات اور محرکات سے ہے۔

سرحدپار دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہیں پاکستان کی داخلی سلامتی کیلئے مسلسل خطرہ ہیں۔ اس صورتحال میں پاکستان کی سلامتی کا تقاضا ہے کہ دہشتگردوں کے محفوظ ٹھکانوں کا مؤثر سدباب کیا جائے ۔ افغانستان پاکستان کیلئے سکیورٹی خدشات کا مستقل محرک ہے۔ ماضی میں جب غیر ملکی افواج کا وہاں تسلط تھا اور انہی کی چھتری تلے افغان حکومتی ڈھانچہ کھڑا کیا گیا تو دہشتگرد عناصر کا تسلط قبائلی پٹی تک وسیع تھا‘جن کا قلع قمع کرنے کیلئے پاکستان نے طویل جدوجہد کی اور بے پناہ قربانیاں دیں۔ افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد امید تھی کہ افغان اچھے ہمسائے کی طرح نئی شروعات کریں گے اور اپنی زمین کو پاکستان کیخلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے مگر یہ آرزو بری طرح ناکام ہوئی اور طالبان کی عبوری حکومت کے قیام کیساتھ ہی پاکستان میں دہشتگردی کا دور عود کر آیا۔ یہ صورتحال اتفاقیہ نہیں تھی ‘ اسکے محرکات افغانستان کی زمین پر موجود تھے اور بدستور ہیں‘ جن سے نمٹنا وہاں کی حکومت کی ذمہ داری ہے مگر یہ ذمہ داری کبھی پوری نہیں کی گئی۔ پاکستان میں دہشت گردی کے مسلسل واقعات اس حقیقت کے شاہد ہیں کہ افغانستان عملاً پاکستان  کیلئے دشمن عناصر کی آماجگاہ ثابت ہو رہا ہے۔ یہ ایسی افسوسناک صورتحال ہے جس کی پاکستان کو ہر گز امید نہ تھی۔ دونوں ملکوں کے ثقافتی ‘ تجارتی اور تاریخی تعلقات کی نوعیت ایسی رہی ہے کہ انہیں آسانی سے جدا نہیں کیا جاسکتا تھا۔
افغانستان کے ہر طرح کے داخلی بحران میں ہر موقع پر پاکستان وہاں کے عوام کیلئے امیدوں کا مرکز ثابت ہوا اور اس ملک نے افغانوں کی کئی نسلوں کی پرورش کی۔ دونوں ملکوں میں 2600کلومیٹرسے زائد مشترکہ سرحد اور سرحد پار قبائل کی نسلی ‘ لسانی و ثقافتی جڑیں بہت گہری رہی ہیں۔ اس تعلق کا تقاضا تھا کہ اس کی آبیاری کی جاتی اور افغانستان پاکستان کیلئے صحیح معنوں میں دوست اور بھائی ثابت ہوتا۔ ایسا نہ ہونا باعثِ افسوس ہے۔پاکستان میں بڑھتی ہوئی دہشتگردی اور افغان سر زمین کا پاکستان کے دشمن عناصر کیلئے محفوظ ٹھکانا ثابت ہونا صرف پاکستان کیلئے نہیں افغانستان کیلئے بھی نقصان دہ ہے۔ پاکستان افغانستان کیلئے بحری تجارت سے لے کر وہاں کے عوام کی ضروریاتِ زندگی اور علاج معالجے کی سہولیات کا بنیادی ذریعہ تھا ۔مگر طالبان کی عبوری حکومت کی غفلت اور کینہ توزی نے افغانستان کو ان آسائشوں سے محروم کر دیا۔ دونوں ملکوں میں اچھے تعلقات کا امکان افغانستان کیجانب سے قومی سلامتی کے خطرات کے خاتمے سے مشروط ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پٹرولیم قیمتیں اور ٹیکس(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-26/11394</link><pubDate>Sun, 26 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-26/11394</guid><description>حکومت کے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں روزانہ کی بنیاد پر مقرر کرنے کے فیصلے کے بعد سے عوام کو مسلسل مہنگائی کے جھٹکے برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔ گزشتہ پانچ روز کے دوران پٹرول کی قیمت میں 20 روپے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 29 روپے فی لٹر سے زائد اضافے کے بعد پٹرول 335 روپے 18 پیسے اور ڈیزل 383 روپے 46 پیسے فی لٹر تک پہنچ چکا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اس مسلسل اضافے کی وجہ سے نہ صرف نقل و حمل کے اخراجات بڑھ گئے ہیں بلکہ اس کے اثرات روزمرہ استعمال کی ہر چیز پر بھی منتقل ہو رہے ہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ مقامی قیمتوں میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔ عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ سے صرفِ نظر ممکن نہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمت کا ایک بڑا حصہ مختلف ٹیکسوں اور مارجنز پر مشتمل ہے۔ 

اس وقت فی لٹر پٹرول پر 108 روپے 67 پیسے اور ڈیزل پر 96 روپے 86 پیسے پٹرولیم لیوی‘ ٹیکسوں اور مارجنز کی مد میں وصول کیے جا رہے ہیں۔ یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ عوام صرف عالمی قیمتوں کا ہی نہیں بلکہ بھاری مقامی ٹیکسوں کا بوجھ بھی اٹھا رہے ہیں۔ ایسے وقت میں جب مہنگائی پہلے ہی عوام کی قوتِ خرید کو شدید متاثر کر چکی ہے‘ حکومت کو کم از کم پٹرولیم مصنوعات پر عائد بھاری لیوی اور دیگر محصولات میں کمی کرنی چاہیے۔ اس سے نہ صرف ٹرانسپورٹ کے اخراجات کم ہوں گے بلکہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی کمی کی راہ ہموار ہو گی۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>غیر ضروری وزارتوں کا بوجھ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-26/11393</link><pubDate>Sun, 26 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-26/11393</guid><description>سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے ڈیولوشن کے مطابق غیرضروری وفاقی وزارتوں کے خاتمے سے سالانہ پانچ ہزار ارب روپے تک کی بچت ممکن ہے۔ یہ تجویز ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک مسلسل مالی دباؤ‘ بڑھتے قرضوں‘بھاری ٹیکسوں اور اخراجات میں اضافے کا سامنا کر رہا ہے۔ وفاق میں اسوقت 32 وزارتیں ہیں جن میں بعض ایسی وزارتیں یا ڈویژنز بھی شامل ہیں جن کے متعدد امور 18ویں ترمیم کے بعد آئینی طور پر صوبائی دائرہ اختیار میں آ چکے ہیں۔ یہ انتظامی تکرار قومی وسائل پر اضافی بوجھ ڈال رہی ہے۔ اصل مسئلہ وزارتوں کی تعداد سے زیادہ حکومتی ڈھانچے کا غیر ضروری پھیلاؤ ہے۔ ہر اضافی وزارت اپنے ساتھ وزرا‘ مشیروں‘ سرکاری گاڑیوں‘ دفاتر‘ عملے‘ رہائش اور دیگر مراعات کا ایک مستقل مالی بوجھ بھی لاتی ہے۔

اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ قومی خزانے کی کمی پوری کرنے کیلئے عوام پر نئے نئے ٹیکس عائد کیے جاتے ہیں ۔ ضروری ہے کہ وفاقی حکومت آئین کے مطابق تمام وزارتوں‘ منسلک اداروں اور خودمختار بورڈز کا غیر جانبدارانہ آڈٹ کرائے اور ڈپلیکیٹ محکموں کو یکجا کرے۔ اگر حکومت واقعی غیر ضروری وزارتوں اور فضول اخراجات کا خاتمہ کرنے میں کامیاب ہو جائے تو نہ صرف قومی خزانے پر بوجھ کم ہوگا بلکہ عوام کو بھی ٹیکسوں میں ریلیف‘ بہتر خدمات اور ریاستی وسائل کے زیادہ مؤثر استعمال کی صورت میں اسکے ثمرات مل سکتے ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>امیر بھی اور عظیم بھی(مجیب الرحمٰن شامی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mujeeb-ur-rehman-shami/2026-07-26/52363/12309762</link><pubDate>Sun, 26 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mujeeb-ur-rehman-shami/2026-07-26/52363/12309762</guid><description>امیر العظیم دنیا سے رخصت ہوئے ہیں تو اندازہ ہو رہا ہے کہ وہ کتنے امیر اور کتنے عظیم تھے۔ ان کی زندگی میں بھی ان کا اعتراف کرنے والے بہت تھے لیکن انتقال کے بعد تو یوں محسوس ہو رہا ہے کہ سیاست اور صحافت کی دنیا کے ہر شخص کو کچھ کھو جانے کا احساس ہوا ہے۔ ہر اک شے میں کسی شے کی کمی محسوس ہو رہی ہے۔ وہ اسلامی جمعیت طلبہ سے ہوتے ہوئے جماعت اسلامی میں پہنچے تھے۔ پنجاب یونیورسٹی کی طلبہ یونین کے صدر منتخب ہوئے‘ جیل میں تھے کہ اسلامی جمعیت طلبہ کے ارکان نے انہیں اپنا ناظم اعلیٰ چن لیا۔ طالب علمی کا دور ختم ہوا تو ادھر ادھر جھانکنے کے بجائے سر جھکا کر جماعت اسلامی میں داخل ہو گئے۔ جس راستے پر چلنے کا عہد کیا تھا اسی راستے پر چلتے رہے۔ پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ جماعت اسلامی میں بھی ہاتھوں ہاتھ لیے گئے۔ یہاں عہدوں کی بندر بانٹ ہوتی ہے نہ ان کے لیے لوگ ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہوتے ہیں۔ یہاں منصب ذمہ داری کا بوجھ اٹھانے کا نام ہے اس لیے اس کی تمنا دلوں میں کم ہی پالی جاتی ہے۔ امیر العظیم بھی اپنی مسکراہٹ اور انکساری کی بدولت ممتاز سے ممتاز تر ہوتے چلے گئے۔ جماعت اسلامی کے سیکرٹری اطلاعات بنے تو اسے نئی توانائی بخشنے میں لگ گئے۔ اس سے پہلے صفدر علی چودھری کا سکہّ چل رہا تھا۔ ان کی طاقت بھی دھیمے لہجے اور مسکراہٹ میں تھی۔ وہ ادیب تھے نہ خطیب لیکن دل میں اترتے چلے جاتے تھے۔ سید منور حسن کی امارت میں امیر العظیم نے سیکرٹری جنرل کا عہدہ سنبھالا‘ ان سے پہلے سید منور حسن‘ ان سے پہلے قاضی حسین احمد اور ان سے کہیں پہلے میاں طفیل محمد اس ذمہ داری کو نبھا چکے تھے۔ ان دنوں سیکرٹری جنرل کو &#39;&#39;قیم‘‘ کہا جاتا تھا۔ جماعت اسلامی اپنے سکے اپنی ٹکسال میں ڈھال رہی تھی‘ سیکرٹری جنرل کے بجائے اس نے اپنے &#39;&#39;منتظم اعلیٰ‘‘ کو قیم کا نام دے رکھا تھا لیکن پھر &#39;&#39;قیم‘‘ پر سیکرٹری جنرل غالب آ گیا &#39;&#39;جدت‘‘ نے قدامت پر قابو پا لیا۔ میاں طفیل محمد نے جماعت اسلامی کا نظم کھڑا کرنے اور اس کی مؤثر نگرانی کرنے میں کمال حاصل کیا تھا‘ مولانا مودودیؒ نے مسند خالی کی تو ارکانِ جماعت کی بھاری اکثریت نے &#39;&#39;قیم‘‘ کو اپنا امیر بنا لیا۔ میاں صاحب کا دورِ امارت ہنگامہ خیز رہا۔ 1970ء کے انتخابات کے بعد مشرقی پاکستان کا صدمہ برداشت کرنا پڑا تھا‘ اس کے بعد مغربی حصہ &#39;&#39;نیا پاکستان‘‘ بن کر ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے قبضے میں آ چکا تھا۔ میاں طفیل محمد 1970ء کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کے بائیں بازو کے ستون شیخ رشید کے مقابلے میں الیکشن ہارے تھے۔ امارت کی ذمہ داری ان کے کاندھوں پر آن پڑی تو &#39;&#39;بھٹو ازم‘‘ کے خلاف کھڑے ہو گئے۔ جیل میں ان کے ساتھ بدسلوکی ہوئی تو گویا ضبط کے بند ٹوٹ گئے۔ مولانا مودودیؒ سے لے کر جماعت اسلامی کے ادنیٰ کارکن تک سب کا خون کھولنے لگا‘ اس طرح کی بدتمیزی کا کوئی تصور اس سے پہلے قومی سیاست میں نہیں تھا۔ بھٹو صاحب کے جیالوں نے سیاسی اختلاف کو گھٹیا ذاتی دشمنی میں تبدیل کر دیا تھا۔ جماعت اسلامی میدان میں رہی‘ اتحادی سیاست کو فروغ دیا‘ پاکستان قومی اتحاد کی تشکیل میں نمایاں کردار ادا کیا‘ بالآخر بھٹو اقتدار سے نجات نصیب ہوئی۔ انتخابی دھاندلی کے بعد اٹھنے والے غم و غصے کے طوفان میں یہ کشتی ڈوبی‘ مارشل لاء نافذ ہوا تو بھٹو مخالف جرنیلی حکومت کے فطری اتحادی قرار پائے۔ پیپلز پارٹی کے ایک دھڑے نے الذوالفقار بنا لی اور طاقت کے ذریعے ضیاء الحق کا تختہ الٹنے کے وہم میں مبتلا ہو گیا۔ ان &#39;&#39;انقلابیوں‘‘ کے ساتھ وہ کچھ ہوا کہ ان کے اپنے عہدِ ستم کی کارروائیاں اس کے سامنے ماند پڑ گئیں۔میاں طفیل محمد جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کے خصوصی پشتیبان سمجھے جانے لگے۔ وہ بھی جالندھر کے آرائیں تھے‘ اس حوالے سے جنرل ضیاء الحق سے ان کے تعلق کے چرچے ہوئے‘ مخالفین نے انہیں جنرل صاحب کا ماموں مشہور کر دیا۔ اسی دوران طلبہ تنظیمیں مارشل لاء کی نظر میں کھٹکنے لگیں۔ ان کی منہ زوریوں نے ماحول کوگرمانا شروع کر دیا۔ سندھ اور بلوچستان کے قوم پرست بھی ان کی آڑ میں دندنانے لگے‘ سو مارشل لاء نے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جو اس سے پہلے سیاسی جماعتوں کے ساتھ کر چکا تھا۔ ان پر پابندی لگی‘ یہ سب کالعدم قرار پا گئیں۔ امیر العظیم طلبہ رہنما تھے‘ میدان میں ڈٹ گئے‘ سو ان پر جیل کے دروازے کھول دیے گئے۔ کئی ساتھی بھی اسی سلوک کے مستحق گردانے گئے۔ امیر العظیم نے طلبہ رہنماؤں کی ایسی تصاویر برادرم سلیم منصور خالد کے سپرد کیں جن میں تشدد کا نشانہ بننے والے طلبہ کے زخم نمایاں تھے۔ یہ تصویریں کیسے کھینچی گئیں اور کیسے جیل میں پہنچیں‘ یہ تو معلوم نہیں ہوا لیکن برادرم سلیم منصور خالد ملاقات کے لیے جیل گئے تو بنڈل اپنے ساتھ لے آئے۔ یہ تصویریں ماہنامہ &#39;&#39;قومی ڈائجسٹ‘‘ میں چھاپ دی گئیں۔ جنرل ضیاء الحق سے اس پر براہِ راست نوک جھوک ہوئی‘ ان کی انتظامیہ انہیں اصلی تسلیم کرنے پر تیار نہ تھی لیکن ہمارا اصرار اسے دباتا چلا گیا۔ جنرل ضیاء کے برادر نسبتی ڈاکٹر بشارت الٰہی مرحوم اور ان کے گہرے دوست میاں محمد یٰسین (مرحوم) کی معاونت سے اس طرح دھاوا بولا گیا کہ جنرل ضیاء الحق درِ زنداں کھولنے پر مجبور ہو گئے۔امیر العظیم رہا ہوئے تو ان کے دل میں پیپلز پارٹی کے بارے میں نرم گوشہ وسیع ہو چکا تھا۔ وہ اس سے مفاہمت کا راستہ تلاش کرنے والوں میں شمار ہونے لگے۔ جماعت اسلامی کا &#39;&#39;کراچی گروپ‘‘ بھی ایسے ہی خیالات میں مبتلا تھا۔ برادرِ عزیز محمد صلاح الدین اپنا قلم لے کر اس کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہو گئے۔ مجھے بھی اس شدت پسندی سے اتفاق نہیں تھا سو اس کے خلاف آواز بلند کی‘ میرے مضمون نے &#39;&#39;قومی ڈائجسٹ‘‘ اور&#39;&#39;نوائے وقت‘‘ میں شائع ہو کر بحث کو آگے بڑھایا۔ پیپلز پارٹی کو ایک سیاسی جماعت کے طور پر کردار ادا کرنے کا حق دینا اور اس سے رابطہ استوار کرنا جمہوری سیاست کے لیے لازم تھا۔ اس بحث نے سوچ کا رخ بدلا اور جماعت اسلامی کے ساتھ پیپلز پارٹی کے رابطے بحال ہوتے گئے۔امیر العظیم جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل بنے تو اپنی صلاحیت منواتے چلے گئے۔ عاجزی اور انکساری ان کی دولت تھی‘ اسی سے وہ امیر ہوئے اور اسی نے انہیں عظمت دلائی۔ انہوں نے اپنی ایڈورٹائزنگ ایجنسی بنائی‘ ایک ٹی وی چینل کا بھی اجرا کیا‘ اس کے ساتھ ساتھ جماعت اسلامی کی ذمہ داریاں بھی نبھاتے رہے۔ کینسر کا موذی مرض لاحق ہوا تو اس کو اپنے اوپر حاوی نہیں ہونے دیا۔ مسلسل نو برس اس سے برسر پیکار رہے۔ بستر علالت پر بھی مسکراہٹ ان کے چہرے پر تھی۔ مسکراتے مسکراتے اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے ان کی نمازِ جنازہ پڑھائی اور ہر مکتب فکر کے ہزاروں لوگوں نے انہیں الوداع کہا‘ انہیں یاد کیا اور اب تک کرتے چلے جا رہے ہیں۔ ان لوگوں کی تعداد بڑھ رہی ہے جو اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ تبدیلی لانی ہے تو کارکنوں کو لیڈر بنانا ہو گا۔ اپنے آپ کو تبدیل کرنے والے ہی دوسروں کو تبدیل کر سکتے ہیں۔ امیر العظیم جیسے آگے آئیں گے تو سب امیر ہو جائیں گے اور عظیم بھی۔(یہ کالم روزنامہ &#39;&#39;پاکستان‘‘ اور روزنامہ &#39;&#39;دنیا‘‘ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے) </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_37052987.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>نئی نسل بنام پرانی نسل(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-07-26/52364/47250440</link><pubDate>Sun, 26 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-07-26/52364/47250440</guid><description>بات نیپا ل اور بنگلہ دیش سے ہوتی ہوئی بھارت تک پہنچ گئی ہے۔ نوجوان نسل نے بھارت میں پیپر لیکس ایشو کو لے کر جس طرح وہاں وزیرتعلیم کا استعفیٰ لیا ہے وہ پوری دنیا میں ایک نئی مثال بن کر سامنے آیا ہے۔ پاکستان میں بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ صرف بھارت میں ممکن ہوا ہے‘ پاکستان میں ایسا ممکن نہیں۔ پاکستان میں بھی ایسا ہوچکا ہے۔ وہاں وزیرتعلیم سے استعفیٰ لیا گیا تو ہمارے ہاں سٹوڈنٹس کے احتجاج سے پیدا ہونے والے دبائو کے بعد جنرل ایوب خان کو استعفیٰ دینا پڑا تھا۔ جنرل ایوب کے اقتدار کے آخری دنوں میں کراچی میں طالب علموں کی ریلی پر ہونے والی فائرنگ سے ایک طالب علم کی موت کے بعد مظاہروں میں شدت آگئی جو کراچی سے پنجاب تک پہنچی اور پھر مشرقی پاکستان میں بھی مظاہرے شروع ہو گئے۔ ویسے بھی پاکستان میں فوجی حکومت دس سال ہی چلتی ہے اس کے بعد اسے جانا ہی ہوتا ہے۔ جنرل ایوب‘ جنرل ضیااور جنرل مشرف کے رجیم اس کی مثال ہیں۔ سیاسی وزیراعظم ہمارے ہاں بھٹو صاحب کے دور کو چھوڑ کر دو تین برس سے آگے نہیں بڑھ سکے اور مسلسل وزیراعظم تبدیل ہوتے رہے ہیں لہٰذا ایک سافٹ سیاسی انقلاب ہر دو تین سال کے بعد آتا رہتا ہے۔ لوگ مطمئن رہتے ہیں کہ چلیں حکومتیں بدل رہی ہیں ورنہ مظاہرے تو جنرل ایوب اور جنرل مشرف کے خلاف بھی شروع ہو گئے تھے‘ جب وہ تین برس کے بجائے دس برس تک اقتدار میں بیٹھ گئے۔ جنرل ضیابھی بہت غیرمقبول ہو چکے تھے اور آٹھ برس کے بعد 1985ء میں ان کا جانا ٹھہر گیا تھا۔ محمد خان جونیجو اکیلے ہی ان کیلئے بھاری ثابت ہوئے۔ سوال یہ ہے کہ لوگوں کو سڑکوں پر کیوں آنا پڑتا ہے؟ جو لوگ ان سے ووٹ لے کر پاور میں آتے ہیں وہ ان کے مسائل پر توجہ کیوں نہیں دے پاتے یا خود کو ذمہ دار کیوں نہیں سمجھتے؟ انہیں کیوں لگتا ہے کہ اب انہیں کوئی ڈکٹیٹ نہیں کراسکتا؟ میرا رپورٹنگ کا تجربہ کہتا ہے کہ حکومتوں کو غیرمقبول کرنے میں زیادہ تر بیوروکریٹ کلاس کا تعلق ہوتا ہے جو گراس روٹ لیول پر لوگوں کے مسائل کو ہینڈل نہیں کرتی بلکہ مسائل پیدا کرتی ہے۔ سیاسی حکمران بھی اچھے بیوروکریٹس کے بجائے ایسے بیوروکریٹس کو لگواتے ہیں جو اُن کے ذاتی ملازم بن کر اُن کی مالی اور سیاسی فلاح کا کام کریں نہ کہ عوام کو مطمئن رکھیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ معاشرے میں عدم اعتماد بڑھتا رہتا ہے۔ جو لیڈر ایک دفعہ پارلیمنٹ پہنچ جائے اس کے بعد وہ خود کو کسی کے آگے جوابدہ نہیں سمجھتا۔ اسے لگتا ہے اس نے ووٹ لے لیا ہے اب جو چاہے کرے۔ سیاستدانوں کو شوق ہوتا ہے کہ ان کا ڈیرہ آباد رہے اور اہلِ علاقہ ہر قسم کا کام لے کر ان کے پاس آئیں اور وہ اَن داتا بن کر وہ مسائل حل کریں تاکہ کل کو ووٹ انہیں پڑیں اور جو ووٹ نہیں دے گا اس کا جینا حرام کر دیں گے۔ مجھے خود یاد ہے کہ ہمارے گائوں میں ہم نے 1980ء اور 1990ء کی دہائیوں میں جس ایم پی اے؍ایم این اے کو ووٹ نہیں دیا اس نے میری سگی بہن جو سکول میں پڑھاتی تھی ‘کے لگاتارا دو درجن ٹرانسفر کرائے۔ آخرکار اللہ بھلا کرے ملتان کے ہمارے قابلِ احترام وکیل میاں عباس صاحب کا جنہوں نے ملتان ہائی کورٹ سے سٹے لے کر دیاتو ہماری بہن کے تبادلے رُکے۔ ذہن میں رکھیں وہ پرائمری سکول کی استاد تھیں۔ ٹرانسفر کرانے والے جماعت اسلامی کے ایم پی اے اور پیپلز پارٹی کے ایم این اے تھے۔ دیہات میں آپ کا جینا حرام کر دیا جاتا تھا۔ استاد ہوں‘ استانیاں یا کلرک اورمحکمہ صحت کی نرسز یا ڈاکٹرز‘ مرد وخواتین کسی کی خیر نہیں۔ یہ جمہوریت کا ماڈل چلتا رہا ہے۔ یہ تبادلوں کی سیاست عمران خان حکومت میں عثمان بزدار کے دور میں ختم ہوئی جب سسٹم کو آٹومیٹک کیا گیا اور مریم نواز صاحبہ نے بھی اسے جاری رکھا ہے۔ جمہوریت کا مطلب ہوتا ہے عوام آپ کو طاقت دے کر اقتدار دیتے ہیں اور آپ وہی طاقت واپس عوام کو ایک سسٹم کی شکل میں دیتے ہیں۔ ہم سب پرویز مشرف پر تنقید کرتے ہیں لیکن ان کے دور کی ضلعی حکومتیں اس ملک کی تقدیر بدل سکتی تھیں کہ مقامی لوگ خود پر حکومت کریں۔ ضلعی انتظامیہ اور فنڈز اُن کو دیے جائیں اور وہ خود خرچ کریں۔ انہیں کوئی لاہور ‘ کراچی‘ پشاور یا کوئٹہ سے نہ بتائے کہ آپ نے اپنے ضلع میں کیا کرنا ہے۔ ہمارے سیاستدانوں اور بیوروکریٹس نے اس نظام کو نہیں چلنے دیا۔ ڈپٹی کمشنرز کو اپنا سٹیٹس خطرے میں پڑتا دکھائی دیا اور انہوں نے ورلڈ بینک سے کروڑوں ڈالرز کے قرضے لے کر آکسفورڈ‘ کیمبرج‘ ہاورڈ میں داخلے لے لیے کہ ہم اپنی گورننس صلاحتیں بڑھانے جارہے ہیں۔ یہ 2001ء؍2002ء کی بات ہے۔ تو کیا ہوا ہمارے ہاں گورننس بہتر ہوگئی؟ الٹا آج خواجہ آصف کہتے ہیں کہ ہمارے بابوز پرتگال میں جائیدادیں خرید رہے ہیں۔ تھرڈ ورلڈ ممالک میں جب آپ گورننس بہتر نہیں کرتے تو عوام سڑکوں پر آتے ہیں۔ فیملی فرینڈز پیکجز شروع کرتے ہیں تو لوگوں کو ناانصافی لگتی ہے۔ یہ بات طے ہے کہ ہر نسل اپنے سے پہلے والی سے زیادہ تیز اور سمجھدار ہوتی ہے اور یہ کوئی انوکھی بات نہیں۔ اگر نئی نسل زیادہ تیز نہ ہوتی تو انسان یہاں تک نہ پہنچتا۔ یہ فطری ارتقائی عمل ہے جو انسانی تاریخ کے ساتھ جاری ہے۔ اب جو کچھ انڈیا میں ہوا ہے یا اس سے پہلے بنگلہ دیش میں ہوا وہ برسوں کا غصہ تھا جو اکٹھا ہورہا تھا۔ جب جمہوری حکومتیں مسلسل دھونس دھاندلی اور جبر سے حکمرانی کرنے لگتی ہیں اور خوف کا ہتھیار استعمال کرتی ہیں تو ایک مرحلے پر وہ خوف ختم ہو جاتاہے۔ اگرچہ ہر ملک میں ایسے انقلاب کی وجوہات مختلف ہوتی ہیں۔ ضروری نہیں جو وجوہات انقلابِ فرانس کی تھیں وہی روس میں بالشویک انقلاب کے وقت بھی تھیں یا جو کچھ بنگلہ دیش میں ہوا وہی بھارت میں ہورہا تھا۔ ہر معاشرے اور ملک کی مختلف وجوہات ہوتی ہیں۔ بہت کم معاشرے ہوتے ہیں جو مطمئن زندگی گزارتے ہیں۔ برطانیہ کو دیکھ لیں وہاں بھی عوام اپنے وزیراعظم سے مطمئن نہیں ہورہے اور اب ساتواں وزیراعظم آیا ہے۔ وہاں اس لیے پُرتشدد انقلاب نہیں آتے کہ وہاں وزیراعظم خوداستعفیٰ دے دیتا ہے اور یہی جمہوریت ہوتی ہے کہ مجھ سے کوئی بہتر لائو۔ تھرڈ ورلڈ ممالک میں ایک ہی وزیراعظم برسوں تک چمٹا رہتا ہے۔ حسینہ واجد سولہ سال سے تھیں تو مودی بارہ سال سے وزیراعظم ہیں۔ نئی نسل دیکھتی ہے کہ ان کے حکمران اُن سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں تو وہ ان کی حاکمیت ماننے سے انکاری ہو جاتے ہیں۔ اگر کسی کو یہ لگے کہ اس کا حاکم اس سے قابلیت اور اخلاقی قوت میں بہت کم ہے تو وہ کیونکر اس کی عزت کرے گا؟ جمہوریت ناگزیر ہے اور اس کے بغیر گزارہ نہیں کیونکہ اس نظام کی وجہ سے صدیوں سے جاری اقتدار کی کشمکش میں بہنے والا لہو بند ہوا۔ پہلے تو بادشاہ کو قتل کر کے ہی چہرہ بدلا جاتا تھا۔ اب آپ پانچ سال کے بعد اپنی مرضی کا حکمران لا سکتے ہیں۔ لیکن جب آپ کی مرضی کا حکمران ہر قیمت پر آپ کا حاکم لگ کر بیٹھنا چاہتا ہے چاہے اس کیلئے کتنا ہی لہو کیوں نہ بہانا پڑے‘ دھاندلی کرنی پڑے تو وہ جمہوری حاکم نہیں رہ جاتا۔ وہ بدترین آمر بن جاتا ہے۔ جو لوگ بھارت میں وزیرتعلیم کے استعفیٰ کو جمہوریت کی فتح قرار دے رہے ہیں وہ یاد رکھیں یہ استعفیٰ جمہوری اقتدار کی وجہ سے نہیں دیا گیا‘ورنہ وہ پیپر لیکس کے بعد ذمہ داری قبول کر کے خود استعفیٰ دے دیتا۔ یہ استعفیٰ نوجوانوں نے لیا ہے اور دینا پڑا ہے ورنہ مودی کا پورا اقتدار خطرے میں تھا۔ جمہوری انداز میں استعفیٰ بھارت کے سابق وزیر ریلوے لال بہادر شاستری ( بعد میں وزیراعظم) نے 1956ء میں ٹرین حادثے پر دیا تھا یا پھر جنوبی کوریا کے وزیراعظم نے 2014ء میں سمندر میں بچوں کی ڈوبنے والی کشتی میں ان کے والدین کے آنسو دیکھ کر دیا تھا کہ اس کی حکومت انہیں نہ بچا سکی۔ اس ٹریجڈی کی ذمہ داری قبول کرنے اوراستعفیٰ دینے سے شاید ان دکھی والدین کا دکھ کچھ کم ہوسکے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>جین زی کا دور(رشید صافی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-07-26/52365/64676332</link><pubDate>Sun, 26 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-07-26/52365/64676332</guid><description>تاریخ جب اپنا رخ بدلتی ہے تو وہ کسی روایتی راستے کی محتاج نہیں رہتی۔ برصغیر کی سیاسی تاریخ میں احتجاج اور تحریکوں کی طویل داستان ہے‘ جہاں احتجاج کی قیادت اکثر بڑی سیاسی جماعتیں کرتی تھیں اور مظاہروں کا مطلب جلاؤ گھیراؤ اور ہنگامہ آرائی ہوا کرتا تھا۔ لیکن جین زی نے اپنے منفرد اندازِ احتجاج سے ماضی کے مروجہ احتجاجوں کو غلط ثابت کیا ہے۔ حالانکہ نئی نسل کو اکثر &#39;ممی ڈیڈی‘ اور &#39;برگر بچے‘ کا طعنہ دیا جاتا تھا جن کے بارے میں عمومی خیال تھا کہ یہ محض سکرینوں تک محدود اور وقت ضائع کرنے والا طبقہ ہے۔ لیکن جب روایتی میڈیا سمیت پورا فکری طبقہ مصلحت پسندی کا شکار ہو کر سچ بولنے سے کترانے لگا تب جین زی نے بے خوف ہو کرجبر کے نظام کو چیلنج کیا۔ بنگلہ دیش میں طلبہ کی جانب سے حسینہ واجد کی برسوں سے قائم مضبوط حکومت کا تختہ الٹنے کا واقعہ ابھی دنیا کی یادداشت میں تازہ ہی تھا کہ بھارت میں جین زی نے اپنے حقوق کی خاطر سڑکوں پرآ کر یہ ثابت کر دیا کہ یہ نسل کسی بھی خطے میں ناانصافی کے خلاف سب سے متحرک اور ناقابلِ تسخیر قوت بن چکی ہے۔بھارت میں اس احتجاج کی چنگاری قومی امتحانات میں ہونے والی بدعنوانی‘ بے ضابطگیوں اور پیپر لیک سکینڈل سے بھڑکی۔ لاکھوں محنتی طلبہ کا مستقبل جب مٹھی بھر رشوت خوروں اور تعلیمی مافیا کے ہاتھوں داؤ پر لگا تو غصے کا ایک طوفان امڈ آیا۔ لیکن نریندر مودی اور ان کے وزرا نے شاید خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ طلبہ کی یہ وقتی ناراضی دیکھتے ہی دیکھتے ایک ایسی ملک گیر تحریک میں بدل جائے گی جو اُن کی حکومت کی بنیادیں ہلا کر رکھ دے گی۔ حکومتوں کا وتیرہ رہا ہے کہ وہ عوامی لاوے کو معمولی سمجھنے کی غلطی کرتی ہیں‘ تاہم جب سوسائٹی بالخصوص نوجوانوں میں ناانصافی کے خلاف لاوا پک رہا ہو تو اسے ایک بڑے عوامی احتجاج میں بدلنے کیلئے کسی بڑے سبب کی نہیں بلکہ صرف ایک چنگاری کی ضرورت ہوتی ہے۔ طلبا تحریک کی سب سے دلچسپ اور منفرد بات اس کا اندازِ احتجاج ہے۔ نئی دہلی کے تاریخی مقام جنتر منتر پر جب طلبا جمع ہوئے تو انہوں نے تشدد کی جگہ ناچ گانے‘ دف‘ گٹار کی دھنوں‘ طنزیہ نعرے بازی اور فنکارانہ انداز کو اپنا ہتھیار بنایا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ پُرامن اور تخلیقی احتجاج پُرتشدد مظاہروں سے کہیں زیادہ اثر انگیز اور کامیاب ہو سکتا ہے۔ طلبا تحریک کی سب سے بڑی کامیابی روایتی بھارتی میڈیا کے خلاف تصور کی جا رہی ہے۔ وہی میڈیا جو برسوں سے عوام کے مسائل سے آنکھیں چرا کر صرف حکومتی بیانیے کو فرضی سچ بنا کر بیچتا رہا‘ جب گودی میڈیا کے اینکرز اور نمائندے مظاہرین کی کوریج کیلئے جنتر منتر پہنچے تو نوجوانوں نے ان کا استقبال پھولوں سے نہیں بلکہ شدید تنقید‘ سخت نعرے بازی اور بائیکاٹ سے کیا۔ بین الاقوامی سطح پر بھی نیویارک ٹائمز اور الجزیرہ جیسے معتبر عالمی اداروں نے اپنی رپورٹس میں نہ صرف بھارتی میڈیا کے بارے گودی میڈیا کی اصطلاح کو نمایاں کر رہے ہیں بلکہ بھارتی میڈیا اور حکومتی گٹھ جوڑ کی تلخ حقیقت کو دنیا کے سامنے بے نقاب کر رہے ہیں۔ طلبا کا مؤقف تھا کہ جو میڈیا عوام کی آواز بننے کے بجائے اقتدار کا ترجمان بن جائے وہ ان کی کوریج کا حقدار نہیں ہے۔ جب روایتی میڈیا کے راستے بند ہوئے تو جین زی نے اپنے سمارٹ فونز کو ہی اپنا ہتھیار بنا لیا۔ انسٹاگرام‘ ایکس (ٹوئٹر) ٹک ٹاک اور لائیو سٹریمز کے ذریعے میمز‘ ریلز اور طنزیہ پوسٹس کا ایک ایسا سیلاب آیا جس کے سامنے مودی سرکار ٹھہر نہ سکی۔ جب دہلی پولیس نے جنتر منتر پر موجود پُرامن طلبا پر تشدد کیا اور انہیں حراست میں لیا تو گودی میڈیا نے اس خبر کو دبانے کی کوشش کی لیکن نوجوانوں کی بنائی ہوئی لائیو وڈیوز چند ہی منٹوں میں دنیا بھر کے کروڑوں فونز تک پہنچ گئیں۔ اس ڈیجیٹل پیش قدمی نے ثابت کر دیا کہ اب عوامی تائید کی جنگیں محض روایتی سٹوڈیوز میں نہیں بلکہ سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز پر بھی جیتی جا سکتی ہیں۔جین زی کو کمتر سمجھنے کی غلطی کی گئی تو اس کے نتائج بھیانک نکل سکتے ہیں۔ بھارت کے چیف جسٹس سوریا کانت نے ایک کیس کی سماعت کے دوران نوجوانوں کیلئے &#39;&#39;کاکروچ‘‘ کا لفظ استعمال کیا تھا۔ اس طنز کے بطن سے &#39;&#39;کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ کا جنم ہوا۔ ایک ایسا نام جو حکومتی غرور پر کاری ضرب بن گیا‘ دیکھتے ہی دیکھتے لاکھوں نوجوانوں کا سائبر مرکز بن گیا۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اعلیٰ شخصیات کا بولا ہوا ایک غیر محتاط لفظ کس طرح سیاسی بیداری اور باقاعدہ تحریک کا روپ دھار سکتا ہے۔ بھارت میں طلبا تحریک کو شروع میں محض امتحانات کے پیپر لیک ہونے کا مسئلہ سمجھا جا رہا تھا‘ لیکن وقت کے ساتھ اس کا دائرہ اتنا وسیع ہوا کہ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد اس میں شامل ہوتے چلے گئے۔ ڈاکٹرز‘ وکلا‘ سول سوسائٹی کی شخصیات‘ شوبز کے ستارے اور بالخصوص ان طلبہ کے والدین بھی اپنے بچوں کے شانہ بشانہ سڑکوں پر آ کھڑے ہوئے۔ یہ تحریک اب صرف تعلیم اور امتحانات کے نظام میں اصلاحات کی مہم نہیں رہی بلکہ یہ ہندوستان کے روایتی نظام‘ ناانصافی اور حکومت اور میڈیا گٹھ جوڑ کے خلاف ایک بڑی عوامی تحریک کی علامت بن چکی ہے۔ سوشل میڈیا پر چلنے والی اس منظم مہم کے اثرات اتنے شدید ہیں کہ تمام بڑے میڈیا نیٹ ورکس کے بائیکاٹ کے باوجود مودی حکومت کے پاؤں اکھڑنے لگے ہیں۔ وہ وزیراعظم نریندر مودی جو عموماً ایسے داخلی مسائل پر خاموشی اختیار کیے رکھتے ہیں‘ انہیں بالآخر اس معاملے پر اپنا خصوصی وڈیو بیان جاری کرنا پڑا۔ صرف یہی نہیں بلکہ اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو بچانے کیلئے مودی حکومت کو پیپر لیک مافیا کے خلاف سخت ترین اور فوری کارروائی کیلئے فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا باضابطہ اعلان کرنا پڑا اور وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو بھی گزشتہ روز استعفیٰ دینا پڑا۔ ایک ایسی حکومت کیلئے جو اپنے فیصلے مسلط کرنے کیلئے مشہور ہے‘ یہ پسپائی جین زی کی اخلاقی اور ڈیجیٹل فتح کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔مودی کو اپنی کرسی بچانے کیلئے وزیر تعلیم کو قربانی کا بکرا بنانا پڑا اور شاید بھارت میں وقتی طور پر حالات معمول پر آ جائیں تاہم طلبا تحریک سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ بھارت میں جاری جین زی کا احتجاج محض ایک ملک کا معاملہ نہیں‘ یہ ان تمام ممالک کے حکمرانوں کیلئے وارننگ ہے جو طاقت کے زور پر نظام کو چلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بنگلہ دیش سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ اور بھارت میں جین زی کی یہ بے خوف تحریک اس حقیقت پر مہرِ تصدیق ثبت کرتی ہے کہ آج کا نوجوان سہمے ہوئے شہریوں سے مختلف ہے۔ یہ وہ نسل ہے جو پروپیگنڈا کو سیکنڈوں میں بے نقاب کرنا جانتی ہے‘ جو زبردستی کے مسلط کردہ بیانیے کو قبول نہیں کرتی‘ جو اپنے حقوق مانگنا اور حاصل کرنا جانتی ہے۔ جین زی جدید دور کی ایک ایسی اَن دیکھی اور طاقتور قوت بن کر ابھری ہے جس کا نہ تو کوئی ایک روایتی رہنما ہے جسے گرفتار کر کے تحریک ختم کر دی جائے اور نہ ہی کوئی ایسا دفتر ہے جسے سیل کر دیا جائے۔ ان کا مرکز ہر وہ سمارٹ فون ہے جو ناانصافی کے خلاف بول رہا ہے۔ بھارت میں ہونے والے اس تاریخی احتجاج نے دنیا بھر کی حکومتوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ اب اگر انہوں نے نوجوانوں کی آواز نہ سنی تو پھر وہاں بھی جنتر منتر جیسے میدان ہر شہر میں سجے ہوں گے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/222_48272610.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>آزاد کشمیر، انتخابات اور تاریخ(کنور دلشاد)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/kunwar-mohammad-dilshad/2026-07-26/52366/16995375</link><pubDate>Sun, 26 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/kunwar-mohammad-dilshad/2026-07-26/52366/16995375</guid><description>27جولائی کو آزاد جموں و کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات ہو رہے ہیں۔ اس مرتبہ پہلی بار انتخابات ایک ہی روز کرانے کے بجائے تین مرحلوں میں منعقد کیے جا رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن آزاد کشمیر کے مطابق یہ فیصلہ امن و امان کی صورتحال اور حساس انتخابی حلقوں میں سکیورٹی فورسز کی مؤثر دستیابی کے پیشِ نظر کیا گیا ہے تاکہ ہر مرحلے میں فوج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے انتخابی عمل کو پُرامن‘ شفاف اور منظم انداز میں مکمل کر سکیں۔ پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن‘ دوسرے مرحلے میں دو اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کی 12 نشستوں جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں دس اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔ آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کی مجموعی طور پر 53 نشستیں ہیں‘ جن میں 45 عام نشستیں براہِ راست انتخابات کے ذریعے پُر کی جاتی ہیں جبکہ آٹھ نشستیں خواتین‘ علما‘ ٹیکنوکریٹس اور اووسیز کشمیریوں کیلئے مخصوص ہیں جو بعد ازاں منتخب اراکین کی نمائندگی کی بنیاد پر مختص کی جاتی ہیں۔ شنید ہے کہ الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے مرحلہ وار الیکشن کرانے کا فیصلہ سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بغیر کیا ۔ پاکستان میں بھی 1993ء تک مرحلہ وار انتخابات کرائے جاتے تھے۔ قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کرانے کیلئے تین سے سات روز تک کا وقفہ ہوتا تھا۔ جیسا کہ 1970ء میں ہونے والے عام انتخابات میں سات دسمبر کو قومی اسمبلی کے انتخابات منعقد ہوئے تھے جبکہ صوبائی اسمبلی کے انتخابات 17 دسمبر 1970ء کو کرائے گئے۔ اس کا گہرا اثر ملک کی سیاسی تاریخ پر پڑا اور جب حتمی نتائج آئے تو مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ نے قومی اسمبلی کی 163 نشستیں حاصل کر لیں۔ دس دن بعد مشرقی پاکستان اسمبلی کے انتخابات میں عوامی لیگ نے صوبائی اسمبلی کی تمام نشستوں پر بھی برتری حاصل کر لی۔ مغربی پاکستان میں قومی اسمبلی کی 83 نشستیں پاکستان پیپلز پارٹی نے حاصل کر لیں جبکہ چاروں صوبائی اسمبلیوں میں نتائج تقسیم ہو گئے۔ پاکستان میں پہلی مرتبہ ایک ہی روز میں عام انتخابات 1997ء میں منعقد ہوئے جس کیلئے صدر فاروق لغاری نے صدارتی آرڈیننس جاری کیا تھا ۔ بعد ازاں اٹھارہویں ترمیم میں اس کو آئینی و قانونی حیثیت دے کر آئین کے آرٹیکل 224 میں تحفظ دے دیا گیا۔ لیکن آزاد جموں و کشمیر کے الیکشن کمیشن نے ریاست میں مرحلہ وار انتخابات کا فیصلہ ازخود کیا ہے۔ اصولی طور پر وزیراعظم آزاد کشمیر اور صدر آزاد کشمیر کو صدارتی آرڈیننس کے ذریعے فیصلہ کرنا چاہیے تھا۔ بادی النظر میں آزاد کشمیر کے الیکشن کمیشن کو ازخود فیصلہ کرنے کے اختیارات نہیں ہیں۔اس وقت جبکہ سیاسی جماعتیں آزاد کشمیر میں حکومت بنانے کیلئے تگ و دو کر رہی ہیں‘ آزاد کشمیر میں ان کی تاریخ پر نظر ڈالنا ضروری معلوم ہوتاہے۔ آزاد جموں و کشمیر کے سابق صدر سردار عبدالقیوم خان نے جولائی 1975ء میں وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے نام خط لکھا تھا جس میں ان کی توجہ اس جانب دلائی گئی کہ اقوامِ متحدہ کی قرارداد کی روشنی میں آزاد جموں و کشمیر متنازع علاقہ ہے لہٰذا یہاں فی الحال پاکستان پیپلز پارٹی کے دفاتر قائم نہیں ہونے چاہئیں۔ سردار عبدالقیوم خان نے اپنے خط میں یہ بتانے کی کوشش کی تھی کہ آزاد کشمیر میں کسی بھی پاکستانی سیاسی پارٹی کے قیام سے کس طرح تحریکِ آزادی و الحاق متاثر ہو سکتی ہے‘ اس سے کسی پاکستانی لیڈر کو فائدہ نہیں پہنچے گا بلکہ یہ عین وہی راستہ ہو گا جو بھارت نے ریاست کو ضم کرنے کیلئے اختیار کیا ہے اور جس کی زبردست مخالفت حکومتِ پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر کی حکومت کی طرف سے کی جاتی رہی ہے۔ سردار عبدالقیوم خان نے خط میں یہ بھی لکھا تھا کہ پاکستان کے سابق وزیراعظم حسین شہید سہروردی اور فیلڈ مارشل ایوب خان بھی اپنی سیاسی پارٹیوں کی بنیاد آزاد کشمیر میں رکھنا چاہتے تھے لیکن میرے کہنے پر انہوں نے اپنا ارادہ ترک کر دیا۔اسی طرح کئی دیگر زعمائے ملت نے بھی‘ جن کا آزاد کشمیر میں پارٹیاں قائم کرنے کا حق بہت فائق تھا‘ سردار عبدالقیوم کی گزارشات کو قابلِ پذیرائی سمجھا۔ یہ بات قومی سطح پر طے شدہ تھی کہ ریاست کشمیر کی مکمل آزادی تک سیاست کا دائرہ وہاں تک وسیع نہ کیا جائے گا۔ وزیراعظم بھٹو نے سردار عبدالقیوم کی درخواست پر ملی نقطۂ نظر سے غور کرنے کے بجائے ان کی حکومت کو ایگزیکٹو آرڈر کے تحت برطرف کر دیا اور آزاد کشمیر میں پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھ دی۔ ذوالفقار علی بھٹو کے اس فیصلے کے بعد دیگر سیاسی جماعتوں نے بھی وہاں اپنے دفاتر قائم کر لیے لیکن آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی کے دفاتر قائم ہونے کے بعد جو پہلے انتخابات ہوئے ان میں پیپلز پارٹی کو ایک فیصد ووٹ بھی کاسٹ نہ ہوئے۔ تقریباً 98فیصد ووٹروں نے اُن انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا۔ اسی دوران وزیراعظم بھٹو نے کشمیر کے حالات کی مانیٹرنگ کیلئے وزارتِ اطلاعات و نشریات میں ایک سیل قائم کر دیا تھا جس کے سربراہ ایس ایم وسیم تھے‘ میں بھی اس سیل کا ممبر تھا لہٰذا کشمیر کی ساری سیاسی قیادت اس سیل کے ذریعے رابطے میں رہتی تھی۔ وزیراعظم بھٹو نے چوہدری محمد حسین‘ جو سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سلطان محمود کے والد تھے‘ کے ذریعے کشمیر کی اندرونی سیاست کا شیرازہ بکھیر دیا اور شیخ منظر مسعود کو آزاد کشمیر کا صدر مقرر کرا دیا‘ اور سردار عبدالقیوم کو نقصِ امن کے جرم میں گرفتار کر لیا گیا۔ بعد ازاں مسٹر بھٹو کے اقتدار سے سبکدوش ہونے کے بعد مارشل لاء حکام نے سردار قیوم کو جیل سے رہا کر کے آزاد کشمیر کی حکومت کا سربراہ مقرر کر دیا۔ اصولی طور پر آزاد جموں و کشمیر میں پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے دفاتر قائم کرنے کا آغاز وزیراعظم بھٹو نے کیا تھا‘ جس کی وجہ سے آزاد جموں و کشمیر کی ریاستی سیاسی جماعتیں پس منظر میں چلی گئیں۔اگر آزاد کشمیر کی جغرافیائی تاریخ کی بات کی جائے تو تقسیم سے قبل گلگت اور بلتستان کا علاقہ بھی ریاست جموں و کشمیر کا حصہ تھا۔ اس میں گلگت ایجنسی‘ جس میں بانہال‘ کوہِ غذر‘ یاسین اور چلاس کے علاقے‘ نیز ہنزہ اور نگر کی ریاستیں‘ بونجی اور استور کا سارا علاقہ شامل تھا۔لیکن آج کل حکومت آزاد کشمیر کے عمل دخل میں جو علاقہ ہے اس میں صرف تین ڈویژنزمظفرآباد‘ میرپور اور پونچھ آتے ہیں‘ اور اس میں بھی ہر ڈویژن کا کچھ نہ کچھ حصہ مقبوضہ کشمیر میں رہ گیا ہے۔ حکومت آزاد کشمیر کے زیرِ نگرانی کل رقبہ 13ہزار 297 مربع کلو میٹر ہے جسے عملاً صدرآزاد کشمیر کنٹرول کرتا ہے۔ادھر مشرق وسطیٰ کی صورتحال کی بات کی جائے تو وہاں جنگ کے شعلے پھر بھڑک اٹھے ہیں اور ایران امریکہ تصادم دوسرے ہفتے میں داخل ہو چکا ہے۔ ایران اب تک بھرپور مقابلہ کر رہا ہے لیکن اگر آگے چل کر ایران میں جنگ کی وجہ سے بدامنی پیدا ہوئی تو اس کے اثرات یہاں بھی محسوس کئے جاسکتے ہیں ۔ بلوچستان پہلے ہی تشویشناک صورتحال کا سامنا کر رہا ہے۔ بھارت اور افغان طالبان کی طرف سے بی ایل اے کو ملنے والی معاونت کی وجہ سے صوبے میں دہشت گردی میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ صوبائی یا وفاقی حکومت اس صورتحال کو مؤثر تدارک کرتی دکھائی نہیں دیتیں اس لیے سارا دباؤ اور بوجھ مقتدر حلقوں کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔ ملکی سالمیت کیلئے سب کو مل کر کردار ادا کرنا ہو گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_15667905.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>جنک فوڈ اور لوچڑے(عمران یعقوب خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-07-26/52367/70480429</link><pubDate>Sun, 26 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-07-26/52367/70480429</guid><description>پچھلے روز جنک فوڈ کا عالمی دن گزرا تو مجھے وہ پرانے زمانے یاد آ گئے جب خالص خوراک ملتی تھی اور ملاوٹ کو گناہ سمجھا جاتا تھا۔ میری جم پل لاہور کی ہے اور لاہور کے کھابے برصغیر بھر میں کہاں مشہور نہیں ہیں؟ لاہور کے باسیوں کو زندہ دلانِ لاہور کا خطاب پہلی بار سر سید احمد خان نے 1884ء میں اپنے دورۂ لاہور کے موقع پر دیا تھا۔ اگر یہ خطاب نہ دیا گیا ہوتا تو مجھے یقین ہے کوئی دوسرا لاہوریوں کو رنگ رنگ کے کھانے کھاتے دیکھ کر &#39;&#39;خوش خوراکانِ لاہور‘‘ کا خطاب دے دیتا۔ لاہوری اتنا کھاتے ہیں اور اتنا اچھا کھاتے ہیں کہ کھانے کا لفظ چھوٹا محسوس ہونے لگا‘ اسی لیے آج کل لاہور والوں کیلئے کھابوں کا لفظ مستعمل ہے۔لاہور میں کیا نہیں ملتا تھا حلوہ پوری‘ نہاری‘ حلیم‘ سری پائے‘ بونگ پائے‘ حلوہ مانڈہ‘ کڑاہ‘ پراٹھا‘ کچوری‘ دہی‘ دال پوری‘ سیخ کباب‘ شامی کباب‘ چپل کباب‘ تکے‘ تلی ہوئی مچھلی‘ فالودہ‘ رس ملائی‘ پریم کچوری‘ نون بربری‘ کھنڈ کلچے‘ پٹھورے‘ سادہ نان‘ تنوری روٹی‘ داس کلچہ‘ باقر خانی‘ شیر مال‘ سادہ کلچے‘ تافتان‘ آبی شیر مال‘ روغنی نان‘ بن‘ آلو والا نان‘ سادہ پراٹھا‘ مولی والا پراٹھا‘ قیمے والا پراٹھا‘ ساگ پراٹھا‘ باقر خانی‘ باداموں والی سردائی‘ دودھ جلیبی‘ چاٹی کی لسی‘ پیڑوں والی لسی‘ خطائی سادہ‘ خطائی میووں والی‘ سموسے‘ پکوڑے‘ بریانی‘ روسٹ‘ سبز چائے‘ برفی‘ میسو‘ بور کے لڈو‘ پیٹھی والے لڈو‘ خالص مکھن۔ جیم‘ پنیر‘ کریم‘ برگر‘ شوارمے وغیرہ اُس وقت متعارف نہیں ہوئے تھے۔شاید میرے قارئین یقین نہ کریں لیکن لاہور میں کچھ مقامات ایسے تھے جو اچھی لسی‘ بونگ پائیوں‘ حلوہ پوری اور نان چنوں کیلئے مشہور تھے۔ اگر کوئی تحقیق کرے تو شاید یہ عقدہ کھلے کہ لاہور میں ناشتے میں پورے پاکستان میں سب سے زیادہ چنے کھائے جاتے ہیں‘ اور چنے بھی انواع و اقسام کے۔ میں صرف آپ کو داس کلچے کی تاریخ بتا دوں تو آپ جان جائیں گے کہ لاہور میں تیار ہونے والے کھانوں میں اجزا کا کتنا خیال رکھا جاتا تھا اور معیار کتنا بہتر ہوتا تھا۔ داس کلچے تیار کرنے والوں کے مطابق برصغیر میں یہ کلچہ سب سے پہلے ایک ہندو نے تیار کیا تھا جس کا نام رام داس تھا۔ اس کی تیاری میں سوجی‘ میدہ‘ سونف کا پانی اور چنے کی دال کا پانی استعمال کیا جاتا ہے۔ داس کلچہ کھانے کے بہت سے لوازمات بھی ہیں۔ کلچہ‘ ساتھ میں آلو کی بھاجی ہوتی ہے‘ چنے ہوتے ہیں‘ سلاد ہوتی ہے اور بیسن کے بنے چھوٹے چھوٹے پکوڑے ہوتے ہیں جنہیں لوچڑا کہا جاتا ہے۔ داس کلچے کا ایک نوالہ توڑیے‘ آلو کی بھاجی اور چنے کا سالن اس پر رکھیے‘ اوپر سلاد کی تہہ چڑھائیے اور منہ میں ڈال لیجیے۔ اس کے بعد ایک لوچڑا منہ میں ڈالیے اور چبائیے۔ مزا نہ آئے تو پیسے واپس۔ وہ خوراکیں کھانے سے مزا آتا تھا‘ اسی لیے لوگ ڈھونڈ ڈھونڈ کر ایسی جگہیں تلاش کرتے تھے جہاں بہترین معیار کی یہ کھانے پینے کی اشیا دستیاب ہوتی تھیں۔ جنہوں نے داس کلچہ کھایا ہوا ہے وہ آج بھی تلاش کر کے کھانے یا خریدنے پہنچ جاتے ہیں۔ کچھ لوگ شاید میری بات کا یقین نہ کریں لیکن یہ حقیقت ہے کہ لاہور میں اب بھی ایسی پرانی دکانیں موجود ہیں جہاں سے کھابے حاصل کرنے کیلئے لاہوریے رات تین‘ چار بجے وہاں اکٹھا ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔یہ سب کہنے کا مطلب یہ ہے کہ تب جو کچھ بھی بازاروں میں ملتا تھا یا گھروں میں تیار ہوتا تھا‘ صحت کیلئے مضر نہیں ہوتا تھا۔ ان کھانوں یا کھابوں سے کسی نہ کسی طور جسم کو فائدہ ہوتا تھا‘ طاقت ملتی تھی‘ صحت بنتی تھی۔ تب دکانوں پر ایک دوسرے سے اچھا کھانا تیار کرنے کی دوڑ میں معیار کا بھی خاصا خیال رکھا جاتا تھا۔ جیسا کہ ابھی بیان کیا کہ داس کلچوں میں اب بھی سوجی‘ میدہ‘ سونف کا پانی اور چنے کی دال کا پانی استعمال کیا جاتا ہے۔ ایسی نفاست فاسٹ فوڈ یا جنک فوڈ میں کہاں؟ تب مروت تھی‘ حیا تھی اور دوسروں کی صحت کا خیال تھا۔ اب زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانے کی ایسی دوڑ لگی ہوئی ہے کہ حلال حرام ایک ہو چکا ہے۔ ایک ہفتہ پہلے کی ایک خبر پڑھیے۔ اس سے آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ آج کل جنک فوڈ کیسے تیار ہوتی ہے: پنجاب فوڈ اتھارٹی نے مردہ مرغیوں کی سپلائی ناکام بنا دی۔ 155ڈبلیو بی ٹھینگی میں لوڈر رکشہ میں موجود 20من سے زائد مردہ مرغیاں تلف کر دی گئیں۔ سپلائر کے خلاف ایف آئی آر درج کرا دی گئی اور لوڈر رکشہ پولیس کی تحویل میں دے دیا گیا۔ فوڈ اتھارٹی کے مطابق مردہ مرغیاں مختلف مقامات پر ہوٹلوں اور فاسٹ فوڈ پوائنٹس پر سپلائی کی جانی تھیں۔ یہ تو ایک لوڈر رکشہ پکڑا گیا۔ ایسے جانے کتنے لوڈر منوں مردہ مرغیاں لیے اپنی منزلوں پر پہنچ جاتے ہوں گے۔ ایسی خبریں ہر دوسرے چوتھے روز شائع ہوتی ہیں۔ حیرت ہے کہ اس کے باوجود فاسٹ فوڈ پوائنٹس پر رش کم ہونے میں نہیں آ رہا۔ اس سے تو یہی لگتا ہے کہ لوگ جان بوجھ کر اپنی موت کا سامان مول لے رہے ہیں۔جنک فوڈ کتنی خطرناک ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ ذیابیطس کو شکست دینے والے ایک شخص نے اپنی فیس بک پوسٹ پر لکھا کہ لوگوں کو بالقصد پروسیسڈ غذاؤں اور جنک فوڈ پر لگا کر موٹاپے کا شکار کیا جا رہا ہے‘ پھر یہ موٹاپا دیگر بیماریوں کا باعث بن کر انسان کو شوگر مافیا کے ہاتھ کی کٹھ پتلی بنا چھوڑتا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ پروسیسڈ اور جنک فوڈ میں فائبر کم اور کیلوریز زیادہ ہوتی ہیں‘ جو تیزی سے بلڈ شوگر بڑھاتی‘ اور انسولین کی مقدار میں اضافہ کرتی ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایسی غذائیں کھانے والوں کے جسم پر چربی جمع ہو جاتی ہے۔ وہ مزید رقمطراز ہیں کہ جنک فوڈز اکثر نشہ آور ذائقہ دار کیمیکلز پر مشتمل ہوتی ہیں جو زیادہ کھانے کی رغبت پیدا کرتے ہیں‘ چنانچہ یہ کھانے والے میں مزید کھانے کی طلب پیدا ہوتی رہتی ہے اور وہ مزید کھاتا جاتا ہے۔جنک فوڈ وہ غذا ہے جس میں کیلوریز‘ اضافی شکر‘ غیر صحت بخش چکنائی اور سوڈیم زیادہ ہوتا ہے جبکہ وٹامن‘ منرلز‘ فائبر‘ پروٹین کی صورت میں غذائیت بہت کم ہوتی ہے۔ شوگر ڈرنکس اور سافٹ ڈرنکس‘ ٹافیاں اور مٹھائیاں‘ فرائیڈ فاسٹ فوڈ جیسے فرائیڈ چکن‘ فرنچ فرائز‘ پیک شدہ سنیکس‘ کیک اور پیسٹریاں وغیرہ‘ چپس اور نمکوز‘ ہر طرح کے نوڈلز‘ ڈونٹس اور پیسٹریاں‘ برگر اور رنگ رنگ کے شوارمے آج کے دور کی جنک فوڈ ز ہیں جو بندے کو صحت مند بنانے کے بجائے بیماریاں بانٹ رہی ہیں۔ جیسا کہ درج بالا سطور میں عرض کیا جنک فوڈ موٹاپا پیدا کرتی ہے۔ یہ پیچیدہ بیماریاں پیدا کرتی اور بڑھاتی ہے۔ اس سے دانتوں اور ہاضمے کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ جلد کے مسائل جنم لیتے ہیں اور ایسی خوراک کھانے والوں کی قوتِ مدافعت کمزور ہو جاتی ہے۔ جنک فوڈ یادداشت کو کمزور کرتی ہے اور اس سے ہیپاٹائیٹس بھی ہو سکتی ہے۔ بڑوں پر تو جنک فوڈ کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہی ہیں بچے (جو جنک فوڈ کے سب سے زیادہ رسیا ہوتے ہیں) اس سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ جنک فوڈ وقتی طور پر تو مزا دیتی ہے لیکن اس کے جسم پر دور رس اثرات پڑتے ہیں۔ یہ جسم کے اہم نظاموں کو کمزور کر دیتی ہے۔عرض صرف یہ ہے کہ کھانی ہے تو اچھی غذا کھائیے۔ وہ جو آپ کیلئے صحت بخش ہو۔ گوشت کھانے کو دل چاہے تو بازار سے لا کر گھر میں تیار کر کے کھائیں۔ مچھلی کھانی ہے تو خود گھر میں تیار کریں۔ سبزیاں کھائیں‘ پھل کھائیں۔ چائے نہ پیئں لسی پیئں۔ روٹی کیلئے بغیر چھنا آٹا استعمال کریں۔ پھلیاں اپنے غذا کا حصہ بنائیں۔ سردیاں آئیں تو بادام‘ اخروٹ‘ چیا سیڈز‘ سورج مکھی کے بیج اور تل اپنی خوراک میں شامل کریں۔ انڈے کھائیں‘ دودھ پئیں‘ دہی پنیر استعمال کریں۔ پروسیسڈ آئل استعمال نہ کریں‘ سرسوں کا تیل‘ زیتون کا تیل‘ ایوکاڈو کا تیل اور ناریل کا تیل استعمال کریں۔ پھر دیکھیں کہ بیماریاں آپ سے کیسے دور بھاگتی ہیں۔ اور کچھ نہیں تو داس کلچے کھائیں۔ اس میں کم از کم لوچڑے تو ہوتے ہیں جو صحت کو کوئی بھی نقصان نہیں پہنچاتے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_58350786.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مشرقِ وسطیٰ کا بدلتا منظر نامہ اور قومی سلامتی کے تقاضے(محمد عبداللہ حمید گل)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-abdullah-hameed-gull/2026-07-26/52368/87738086</link><pubDate>Sun, 26 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-abdullah-hameed-gull/2026-07-26/52368/87738086</guid><description>امریکہ اور ایران کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی فوجی محاذ آرائی نے پہلے سے غیرمستحکم مشرقِ وسطیٰ کو ایک نہایت خطرناک موڑ کی طرف دھکیل دیا ہے۔ رواں ماہ جولائی کے آغاز سے میزائلوں اور ڈرون حملوں کے تبادلے میں نمایاں اضافے سے پورے خطے میں ایک بڑی جنگ کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتا تناؤ اب محض دو ریاستوں کے اختلاف کا معاملہ نہیں رہا بلکہ اس کے اثرات توانائی‘ تجارت‘ سرمایہ کاری‘ عالمی مالیاتی نظام اور بین الاقوامی تعلقات تک پھیل چکے ہیں۔ دنیا کے ایوان ہائے اقتدار‘ مالیاتی ادارے‘ توانائی کی منڈیاں اور سفارتی مراکز ایک ہی سوال کا جواب تلاش کر رہے ہیں کہ آیا معاملہ سیاسی گفت و شنید کے ذریعے سلجھ جائے گا یا دنیا ایک نئے عسکری بحران کی طرف بڑھ رہی ہے؟مشرقِ وسطیٰ ہمیشہ سے عالمی سیاست کا محور رہا ہے۔ تیل اور گیس کے بے پناہ ذخائر‘ اہم بحری گزرگاہیں‘ جغرافیائی محلِ وقوع اور مذہبی حساسیت نے اس خطے کو ہر دور میں عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز بنائے رکھا۔ یہی سبب ہے کہ یہاں پیدا ہونے والی بے چینی صرف خلیج تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کی بازگشت واشنگٹن‘ بیجنگ‘ ماسکو‘ لندن‘ پیرس‘ برلن اور ٹوکیو تک سنائی دیتی ہے۔ خلیجی ریاستیں اگرچہ واشنگٹن کے ساتھ اپنے قریبی سکیورٹی تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہیں لیکن انہیں تشویش ہے کہ اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو حالیہ برسوں میں تہران کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوششوں کے باوجود وہ براہِ راست اس تنازع کا حصہ بن سکتی ہیں۔ دوسری جانب ملکی سطح پر حالیہ واقعات کے بعد ایرانی عوامی رائے مزید سخت ہو گئی ہے جس سے ایران کی قومی قیادت کے اس عزم کو تقویت ملی ہے کہ وہ بڑھتے ہوئے فوجی اور اقتصادی دباؤ کے باوجود مزاحمت کا سلسلہ جاری رکھے گی۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا عراق کے نومنتخب صدر علی زیدی سے سفارتی رابطہ‘ جس کا مقصد ایرانی اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنا تھا‘ اور شام کے رہنما احمد الشرع کے ساتھ ان کی ملاقات‘ جس کا مقصد لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اسرائیل کی کوششوں کی حمایت کرنا بتایا جاتا ہے‘ علاقائی تنازع کو مزید وسعت دینے اور مزید فریقوں کو اس محاذ آرائی میں جھونکنے کا سبب بن سکتے ہے۔ اسرائیل نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ وہ ایران کی جانب سے کسی بھی براہِ راست حملے کا سخت جواب دے گا جبکہ ایران کے اندر سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے اور ممکنہ طور پر رجیم چینج کی سازش کی خبریں بھی مسلسل گردش کر رہی ہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ اسرائیل کے مفاد میں سمجھا جاتا ہے کیونکہ وہ خطے میں امن کے بجائے اس تصادم کے جاری رہنے کو اپنے حق میں تصور کرتا ہے۔ سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان جاری کشیدگی اس تنازع کو مزید وسیع کر سکتی ہے۔ اس تمام منظرنامے کا سب سے حساس پہلو آبنائے ہرمز ہے جہاں سے دنیا کے خام تیل کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔ اس اہم بحری راستے میں رکاوٹ پیدا ہو یا جہاز رانی متاثر ہو تو تیل کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس طرح عالمی سپلائی چین میں رکاوٹ اور مہنگائی کی نئی لہر پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ پاکستان جیسی درآمدی معیشت رکھنے والی ریاست پر اس کے منفی اثرات مزید شدید ہوں گے نتیجتاً وطن عزیز ایک نہایت نازک سٹریٹجک صورتحال میں ہے۔پاکستان ایک منفرد جغرافیائی محلِ وقوع رکھتا ہے۔ ایک طرف چین جیسا عالمی اقتصادی اور عسکری شراکت دار ہے‘ دوسری طرف افغانستان اور ایران کے ساتھ حساس سرحدیں ہیں‘ جبکہ عرب دنیا‘ خلیجی ممالک اور وسطی ایشیا کے ساتھ بھی اس کے گہرے تاریخی‘ مذہبی اور معاشی روابط ہیں۔ یہی جغرافیائی اہمیت پاکستان کو عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز بناتی ہے‘ لیکن اسی اہمیت کے باعث اسے پراکسی جنگوں‘ ہائبرڈ خطرات اور بیرونی مداخلت کے امکانات کا بھی سامنا رہتا ہے۔ چین کے ساتھ سی پیک پاکستان کی اقتصادی ترقی کا اہم ستون ہے۔ یہ منصوبہ صرف سڑکوں اور بندرگاہوں تک محدود نہیں بلکہ صنعتی ترقی‘ توانائی‘ روزگار‘ علاقائی تجارت اور وسطی ایشیا تک رسائی کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ اسی طرح امریکہ کے ساتھ تجارت‘ تعلیم‘ ٹیکنالوجی‘ سرمایہ کاری اور انسدادِ دہشت گردی جیسے شعبوں میں تعاون بھی پاکستان کے قومی مفاد میں ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ اس کے دیرینہ دفاعی تعلقات اور ایران کے ساتھ روایتی طور پر خوشگوار روابط اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ ہماری خارجہ پالیسی میں توازن مستقبل کی کامیابی کی ضمانت بن سکتا ہے۔ جو ایک طرف فوجی تنازع میں الجھنے سے گریز کرے اور دوسری طرف خطے میں استحکام کے فروغ کو یقینی بنائے۔ اس تنازع کی بدولت موجود غیریقینی صورتحال پہلے ہی عالمی مالیاتی منڈیوں میں شدید اتار چڑھاؤ‘ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور بین الاقوامی سپلائی چینز کی سلامتی سے متعلق بڑھتی ہوئی تشویش کا باعث بن چکی ہے۔ ایسے میں بیجنگ کا امریکہ پر سخت تنقید کرتے ہوئے یہ کہنا ہے کہ وہ ایسی مداخلت پسند پالیسیاں اختیار کر رہا ہے جنہوں نے دنیا کے مختلف خطوں میں عدم استحکام کو بڑھایا ہے۔ امریکہ چین کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس کی پیشگی فوجی موجودگی اپنے اتحادیوں کے تحفظ‘ سمندری راستوں پر آزادانہ آمدورفت کے تحفظ اور علاقائی جارحیت کی روک تھام کے لیے ضروری ہے۔ اسی دوران امریکہ نے چین اور روس پر یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ وہ ایران کو فوجی اہداف سے متعلق انٹیلی جنس معلومات فراہم کر رہے ہیں جس سے پہلے سے پیچیدہ جغرافیائی اور سیاسی کشیدگی میں ایک نئی جہت شامل ہو گئی ہے۔ تاہم امریکی خارجہ پالیسی کے ناقدین کے مطابق طویل فوجی مداخلتوں اور حکومتوں کی تبدیلی کی پالیسیوں نے پائیدار امن قائم کرنے کے بجائے اکثر عدم استحکام کو جنم دیا ہے۔ بھارت اور اسرائیل کے مطابق خطے میں طویل عدم استحکام ایشیا میں سٹریٹجک توازن کو ازسرِ نو تشکیل دے سکتا ہے اس لیے ان ممالک کا منصوبہ یہ ہے کہ پاکستان سعودی عرب‘ ایران یا حوثیوں سے متعلق کسی بھی تنازع میں عسکری طور پر الجھ جائے‘ جس کے نتیجے میں پاکستان کی سٹریٹجک توجہ اور وسائل دوسری سمت منتقل ہو جائیں۔ ایسی صورتِ حال سے بچنا پاکستان کی قومی سلامتی کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ پاکستانی قیادت کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں‘ جن میں ترکیہ اور دیگر دوست ممالک کے ساتھ اعلیٰ سطحی روابط شامل ہیں‘ ایران کے وزیرِ داخلہ کا اپنے پاکستانی ہم منصب کی دعوت پر اسلام آباد کا دورہ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان مسلسل رابطے اور تعاون کی عکاسی کرتا ہے۔ پاکستان آج اپنی تاریخ کے پیچیدہ ترین سکیورٹی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ اسے ایک ہی وقت میں بیرونی سرپرستی میں ہونے والی پراکسی جنگ‘ ہائبرڈ وارفیئر‘ سرحد پار دہشت گردی‘ اور جنوبی ایشیا سے مشرقِ وسطیٰ تک پھیلے ہوئے تیزی سے غیرمستحکم ہوتے علاقائی جغرافیائی و سیاسی ماحول جیسے خطرات درپیش ہیں۔ قومی سلامتی کے نئے تصور میں سائبر سکیورٹی‘ مصنوعی ذہانت‘ معلومات کی جنگ‘ میڈیا بیانیہ اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی حفاظت بھی اتنی ہی اہم ہو چکی ہے جتنی روایتی عسکری طاقت۔ دشمن اگر کسی ملک کے عوام کے ذہنوں میں شکوک‘ مایوسی اور تقسیم پیدا کرنے میں کامیاب ہو جائے تو وہ بغیر جنگ کے بھی اپنے مقاصد حاصل کر سکتا ہے اس لیے پاکستان کو سائبر دفاع‘ مصنوعی ذہانت‘ ڈیجیٹل نگرانی اور معلوماتی جنگ کے میدان میں اپنی صلاحیتوں میں فوری سرمایہ کاری کرنا ہو گی۔ ابھرتا ہوا کثیر القطبی (Multipolar) عالمی نظام پاکستان کے لیے بیک وقت مواقع بھی فراہم کرتا ہے اور خطرات بھی۔ محتاط سفارت کاری‘ مؤثر فوجی دفاعی صلاحیت اور داخلی استحکام کو مضبوط بنا کر پاکستان نہ صرف بیرونی سرپرستی میں ہونے والی پراکسی جنگ کا مقابلہ کر سکتا ہے بلکہ جنوبی ایشیا‘ وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے ایک اہم علاقائی استحکام فراہم کرنے والا ناگزیر کردار ادا کرکے نئے عالمی نظام میں اپنے لیے ایک مضبوط‘ باوقار اور بااثر مقام حاصل کر سکتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_62843609.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>