<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>دفاعِ وطن اور شہدا کی قربانیاں(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-22/11214</link><pubDate>Fri, 22 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-22/11214</guid><description>چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ ملک بھر میں پائیدار امن اور استحکام کے حصول تک دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قومی قوت کے ساتھ جاری رہے گی۔ جنرل ہیڈکوارٹرز راولپنڈی میں پاک فوج کے افسران اور جوانوں کو عسکری اعزازات دینے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فیلڈ مارشل نے دہشت گردی کے خلاف دفاعی اداروں کی مسلسل کوششوں کی تعریف کی اور شہدا کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا امن اور سلامتی شہیدوں کی عظیم قربانیوں اور فرض سے بے لوث وابستگی کا نتیجہ ہے۔ گزشتہ تقریباً دو دہائیوں سے پاکستان ایک ایسی جنگ کی زد میں ہے جس میں دھرتی کے ہزاروں بچوں کو اپنی جان قربان کر کے وطن کے دفاع کا تقاضا نبھانا پڑا۔ یہ جنگ ملکی بقا اور قومی سلامتی کا ایسا معرکہ ہے جس میں مسلح افواج اور قانون نافذ کرنیوالے ادارے فرنٹ لائن پر سینہ تان کر کھڑے ہیں۔

کسی بھی قوم کا سب سے بڑا اثاثہ اس کے وہ جوان ہی ہوتے ہیں جو اپنے آج کو قوم کے کل پر قربان کر دیتے ہیں۔ فیلڈ مارشل نے اپنے خطاب میں اس حقیقت کو احسن انداز میں اجاگر کیا کہ شہدا اور غازی اس قوم کا دائمی اور لازوال فخر ہیں‘ انکی عزت‘ تکریم اور ان کے خاندانوں کی قربانی ہر پاکستانی کیلئے ایک مقدس امانت کا درجہ رکھتی ہے۔ ہمارے غازیوں نے عزم وہمت کی جو داستانیں رقم کی ہیں‘ وہ بھی آنیوالی نسلوں کیلئے مشعلِ راہ ہیں۔ اگر ہم دہشتگردی کے خلاف جنگ کی ہولناکی اور پاکستان کی قربانیوں کا جائزہ لیں تو  اعداد وشمار لرزا دینے والے ہیں۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران دس ہزار سے زائد فوجی افسران اور جوانوں نے مادرِ وطن پر اپنی جانیں نچھاور کی ہیں اور اس طرح سکیورٹی فورسز نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور بے پناہ لگن کے ذریعے ملکی سرحدوں اور اندرونی امن کا تحفظ ممکن بنایا۔ اگر ہم گزشتہ پانچ برس کا جائزہ لیں تو سکیورٹی امور سے متعلق ایک ادارے کی رپورٹ کے مطابق 2021ء میں 226 سکیورٹی فورسز اہلکار شہید ہوئے‘ 2022ء میں 379‘ 2023ء میں 532‘ 2024ء میں 754 اور 2025ء میں 1229۔ انہی سالوں میں دہشت گردی کا نشانہ بننے والے شہریوں کی تعداد بالترتیب 215‘ 229‘ 398‘ 582 اور 655 تھی۔ یعنی سکیورٹی فورسز کے جوان عام شہریوں کی نسبت کہیں زیادہ قربانیاں پیش کر رہے ہیں اور ان قربانیوں کا ثمر ہمیں محفوظ پاکستان کی صورت میں نظر بھی آ رہا ہے۔
آج کا پاکستان اسکی نسبت کہیں زیادہ محفوظ اور مامون ہے‘ جتنا کہ ایک ڈیڑھ دہائی قبل تک۔ یہ سب سکیورٹی فورسز کی پیشہ وارانہ قابلیت‘ عملی حکمت عملی اور بے لوث قربانیوں ہی کا نتیجہ ہے۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ پاکستان کے علاقائی اور عالمی بدخواہ اپنے تمام تر مادی‘ مالی و عسکری وسائل کیساتھ ریاست کو کمزور کرنے کے درپے ہیں اور اپنی پراکسیز کے ذریعے ملک کی بنیادوں کو کمزور بنانا چاہتے ہیں مگر دشمنوں کی تمام تر سازشوں کے باوجود‘ سکیورٹی فورسز کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز نے دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کو جڑوں سے اکھاڑ پھینکا ہے اور ان کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا ہے۔ مادرِ وطن کے یہ جانباز حقیقی معنوں میں ملک و قوم کیلئے نویدِ حیات ثابت ہوئے ہیں۔ شہدا کا لہو قوم کو یہ پیغام دیتا ہے کہ حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں‘ قوتِ اخوتِ عوام اور یکجہتی ہی ہماری سب سے بڑی طاقت ہے۔ شہدا کی قربانیوں کا قرض نہیں اتارا جا سکتا مگر ان نظریات اور مقاصد کیساتھ‘ جن کیلئے شہدا نے اپنی جانیں قربان کیں‘ ہم اپنی وفاداری اور وابستگی ظاہر کر کے انہیں خراجِ تحسین ضرور پیش کر سکتے ہیں۔ دفاعِ وطن کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنی صفوں میں اتحاد برقرار رکھیں‘ انتہا پسندانہ سوچ کی حوصلہ شکنی کریں اور دفاعی اداروں کیخلاف منفی پروپیگنڈا اور جعلی خبروں کی بیخ کنی کریں۔ بیرونی اور سرحدی محاذ پر ہمارے جوان مستعد کھڑے ہیں‘ اندرونی محاذ پر دفاعِ وطن کی ذمہ داری ہمیں نبھانا ہے۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>زرعی اجناس کا بڑھتا درآمدی بل(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-22/11213</link><pubDate>Fri, 22 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-22/11213</guid><description>وفاقی ادارۂ شماریات کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی دس مہینوں کے دوران غذائی اجناس کی درآمدات سالانہ بنیادوں پر تقریباً 14فیصد اضافے کے بعد سات ارب 84کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی ہیں جبکہ اسی مدت میں غذائی برآمدات 32 فیصد سے زائد کمی کے ساتھ چار ارب 19کروڑ ڈالر تک رہیں۔ ایک زرعی ملک کیلئے یہ صورتحال نہ صرف لمحۂ فکریہ بلکہ پالیسی سازی کے مجموعی ڈھانچے پر بھی سنگین سوالات اٹھاتی ہے۔ غذائی برآمدات میں کمی کی بڑی وجہ مہنگے زرعی مداخل کے باعث پیداوار میں ہونے والی کمی ہے۔ کھاد‘ بیج‘ زرعی ادویات‘ ڈیزل اور بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے کسان کی کمر توڑ دی ہے۔ ایسے حالات میں زرعی شعبے سے بہتر پیداوار کی توقع عبث ہے۔

رہی سہی کسر موسمیاتی تبدیلیوں نے پوری کر دی ہے۔ پاکستان  موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثرہ ملکوں میں شامل ہے مگر زرعی شعبے کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کیلئے سنجیدہ منصوبہ بندی دکھائی نہیں دیتی۔ غذائی برآمدات میں کمی متزلزل اور روز بدلتی زرعی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ حکومت کسانوں کو سستے اور معیاری زرعی مداخل اور ارزاں نرخوں پر بجلی کی فراہمی یقینی بنائے۔ اگر زرعی تحقیق‘ جدید آبپاشی نظام‘ موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ بیجوں اور زرعی ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے تو نہ صرف زرعی شعبے کو پائیدار بنیادوں پر استوار کیا جا سکتا ہے بلکہ ملک غذائی خود کفالت کی منزل حاصل کرنے کے بعد زرعی برآمدات میں اضافے کی راہ بھی ہموار کر سکتا ہے۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ٹرینوں کی بندش(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-22/11212</link><pubDate>Fri, 22 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-22/11212</guid><description>پاکستان ریلویز نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث آٹھ مسافر ٹرینیں بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ریلوے کو متوسط اور نچلے طبقے کیلئے ایک شہر سے دوسرے شہر سفر کا سب سے آسان اور قابلِ عمل ذریعہ سمجھا جاتا ہے اور اس فیصلے سے سب سے زیادہ متاثر یہی طبقات ہوں گے۔ چند روز قبل ہی وزارتِ ریلوے نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان ریلوے نے گزشتہ مالی سال میں دو ارب 41کروڑ روپے منافع کمایا اور مجموعی آمدن 93ارب روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔ اس اعلان کے بعد امید پیدا ہوئی تھی کہ شاید پاکستان ریلوے ایک بار پھر اپنے پائوں پر کھڑا ہو رہا ہے مگر ٹرینوں کی بندش کے حالیہ فیصلے نے اس خوش فہمی کو بڑی حد تک زائل کر دیا ہے۔

حقیقت یہی ہے کہ ریلویز آج بھی شدید مالی‘ انتظامی اور تکنیکی مسائل میں گھرا ہوا ہے۔ یہ ادارہ سالہا سال سے مسلسل عدم توجہی‘ ناقص منصوبہ بندی اور فرسودہ نظام کا شکار رہا ہے۔ اس میں نہ تو بروقت جدید اور تیز رفتار ٹرینوں کا اضافہ کیا گیا اور نہ ہی موجودہ ٹرینوں میں معیاری سہولتوں کی فراہمی یقینی بنائی جا سکی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان ریلوے میں جامع اصلاحات کی جائیں۔ مال بردار ٹرینوں کے نظام کو مزید فعال بنا کر اور جدید ٹکٹنگ سسٹم‘ ٹریکس کی اَپ گریڈیشن اور نئی کوچز کی شمولیت سے ادارے کی کارکردگی بہتر بنائی جا سکتی ہے۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>اندرا گاندھی اور وزیراعظم ہائوس کی ایمبولنس… (3)(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-05-22/51990/53286894</link><pubDate>Fri, 22 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-05-22/51990/53286894</guid><description>راجیو گاندھی نے ابھی ماں کی آخری رسومات ادا کرنی تھیں اور تین دن سے دہلی آگ میں جل رہا تھا۔ سکھوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر مارا جا رہا تھا۔ راجیو گاندھی کو مشورہ دیا گیا کہ اس وقت انہیں وہی کچھ کرنا ہو گا جو 1947ء کے ہندو مسلم فسادات میں مہاتما گاندھی اور نہرو نے کیا تھا۔ دہلی کے سابق کمشنر کنور مہندر سنگھ بیدی سحر نے اپنی یادداشتوں میں لکھا ہے کہ مسلمانوں پر جب حملے شروع ہوئے تو گاندھی جی اپنی لاٹھی لے کر وہاں بیٹھ گئے اور مسلمانوں کی جانیں بچائیں۔ خوفزدہ مسلمان گاندھی جی کو دہلی سے باہر نہیں جانے دیتے تھے کہ انہیں خطرہ تھا کہ ان کے باہر جاتے ہی ہندو ان کے محلوں پر دھاوا بول دیں گے۔ دہلی کی بعض مسجدوں میں پاکستان سے گئے ہندو مہاجرین کو بسایا گیا تھا مگر گاندھی نے وہ مسجدیں خالی کرا لیں۔ گاندھی جی نے دہلی انتظامیہ کو منع کیا کہ جو مسلمان پاکستان چلے گئے ہیں‘ ان کے خالی گھر کسی ہندو مہاجر کو الاٹ نہ کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حالات نارمل ہونے پر وہ خود پاکستان جا کر دہلی کے اُن مسلم خاندانوں کو واپس لا کر ان کے گھروں کی چابیاں ان کے حوالے کریں گے۔ کنور مہندر سنگھ لکھتے ہیں کہ ایک رات وزیراعظم نہرو کو بتایا گیا کہ ہندوئوں کا ایک جتھہ مسلمانوں کے محلوں پر حملے کر رہا ہے۔ ان کے بقول وہ دوڑتے ہوئے وہاں گئے اور قتل وغارت رکوائی۔ اب راجیو گاندھی کیلئے وہ لمحہ آن پہنچا تھا جو برسوں پہلے ان کے نانا نہرو پر آیا تھا۔ جب راجیوگاندھی ان علاقوں میں خود گئے جہاں سینکڑوں سکھوں کو قتل اور ان کے گھروں کو جلایا گیا تھا تو حالات میں بہتری کی کچھ امید پیدا ہوئی۔ راجیو گاندھی کو دہلی کی بربادی اور قتل عام کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر اندازہ ہوا کہ حالات کس قدر خراب ہیں اور اپنی ماں کی آخری رسومات کو بھول کر ریاست کی رِٹ قائم کرنا ہو گی۔ راجیو گاندھی نے فوری طور پر بھارت کے آرمی چیف کو فون کیا اور انہیں سخت ہدایات دیں کہ فوج کی مدد سے فوری طور پر حالات کو قابو میں لایا جائے۔ دوپہر تک انڈیا گیٹ پر بھارتی فوجی دستوں نے پٹرولنگ شروع کر دی تھی۔ فوج کو البتہ دیر سے بلایا گیا‘جس کی وجہ سے سکھوں کا بڑے پیمانے پر جانی ومالی نقصان ہو چکا تھا۔ فوج بلانے کا فیصلہ راجیو گاندھی نے اُس وقت کیا تھا جب انہوں نے خود ان علاقوں کا دورہ کیا جہاں لہو کی بدترین ہولی کھیلی گئی تھی۔فوج طلب کیے جانے کے چند گھنٹوں کے بعد اندرگاندھی کی آخری رسومات شروع ہو گئیں۔ جب گاندھی جی کو قتل کیا گیا تو ان کے آخری دیدار کیلئے ان کی میت بھارتی عوام کے سامنے رکھ دی گئی تھی۔ بڑی تعداد میں لوگ آئے تاکہ اپنے لیڈر کا آخری دیدار کر سکیں۔ وزیراعظم نہرو اور لال بہادر شاستری کی موت کے بعد بھی ان کے آخری دیدار کیلئے بہت بڑی تعداد میں لوگ باہر نکلے۔ لیکن جب اندرا گاندھی کا جسد خاکی گن کیرج پر لایا گیا تو میت کا چہرہ کھلا رکھا گیا اور جب اسے شمشان گھاٹ لیجایا جا رہا تھا تو اس وقت دہلی کی سڑکیں سنسان تھیں۔ بھارتی عوام کے بارے مشہور تھا کہ وہ اپنے وزیراعظم کے آخری دیدارکیلئے ہزاروں کی تعداد میں نکلتے ہیں‘ لیکن اس دن اندرا گاندھی کا آخری دیدار کرنے کوئی نہیں نکلا تھا۔ اس کی وجہ وہی خوف تھا جس نے بھارتی شہریوں کو گھروں سے باہر نہیں نکلنے دیا۔ راجیو گاندھی اپنی ماں کی ارتھی کے قریب کھڑے تھے اور حیران تھے کہ وہ اپنی ماں کی وراثت کو کیسے سنبھالیں گے۔ راجیو کو بیٹا ہونے کے ناتے اپنی ماں کی خوبیوں اور کمزوریوں کا بخوبی علم تھا اور یہ کہ وہ کس مزاج کی وزیراعظم تھیں۔ راجیو کو احساس ہوا کہ ان کی ماں کی کمزوریاں ہی ان کے قتل کا سبب بنیں۔ راجیو کو یہ بھی احساس تھا کہ ان کی ماں کی سکیورٹی میں بڑے پیمانے پر غفلت بلکہ مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا گیا۔پولیس گائیڈ لائنز کے مطابق وزیراعظم کی سکیورٹی میں وزیراعظم کے گرد سکیورٹی کا ایک حصار ہونا چاہیے تھا۔ جس صبح انہیں قتل کیا گیا‘ ایسا کچھ نہیں تھا۔ وہاں کوئی سکیورٹی حصار نہیں تھا۔ اس دن ستونت سنگھ‘ جس نے اندرا گاندھی کو گولی ماری‘ اس کے وزیراعظم ہائوس میں ڈیوٹی کا کوئی جواز نہیں تھا۔ وہ گورداسپور کے اپنے گائوں میں دو ماہ کی چھٹیاں گزار کر واپس وزیراعظم ہائوس ڈیوٹی کرنے پہنچا تھا۔ اس وقت بھارتی پنجاب میں گولڈن ٹیمپل آپریشن کے خلاف شدید ردِعمل سامنے آ رہا تھا۔ سکھ سمجھتے تھے کہ اندرا گاندھی نے مسلح فوجی دستوں سے ان کے مقدس مقام پر چڑھائی کر کے سنگین گستاخی کی اور ان کے مذہبی جذبات مجروح کیے۔ بپھرے ہوئے سکھ انتقام لینے کیلئے بے چین تھے۔ ستونت سنگھ کے افسران کو اس وقت تک اسے وزیراعظم ہائوس کی سکیورٹی ڈیوٹی سے دور رکھنا چاہیے تھا جب تک یہ تسلی نہ ہو جاتی کہ وہ چھٹیوں کے دوران گائوں میں عسکریت پسندوں یا اُن سکھوں سے رابطے میں نہیں رہا جو اندراگاندھی کی جان لینا چاہتے تھے۔ ستونت سنگھ نے واپس پہنچ کر ایک ساتھی سمیت اپنی ڈیوٹی وزیراعظم ہائوس کے اندر لگوا لی اور حملے کیلئے بہانہ تلاش کر رہا تھا۔ اس نے اپنے ڈیوٹی افسر کو کہا کہ اس کا پیٹ خراب ہے‘ اس وجہ سے اسے ایسی جگہ ڈیوٹی دی جائے جہاں سے واش روم قریب ہو۔ دوسرے گارڈ بنیت سنگھ کے بارے بھی ڈیوٹی افسران کو یہ اطلاع ملی تھی کہ وہ دہلی کے گوردوارے میں سکھ عسکریت پسندوں سے ملتا رہا ہے۔ اسے ان رپورٹس کے بعد دہلی آرمڈ پولیس کے سکواڈ سے ہٹا دیاگیا تھا۔ تاہم حیران کن طور پر اندرا گاندھی نے اصرار کر کے مستقبل کے اپنے قاتل کو دوبارہ وزیراعظم ہائوس کی ڈیوٹی پر بحال کرایا۔ خود راجیو گاندھی کو بھی وزیراعظم ہائوس میں آتے جاتے ستونت سنگھ کے عجیب وغریب رویے پر کچھ شک ہوا تھا اور ایک دفعہ تو اسے وزیراعظم ہائوس کے سکیورٹی دستے سے ہٹوا بھی دیا تھا۔اندرا گاندھی کے قتل کے چار ماہ بعد وزیراعظم راجیو گاندھی نے بھارتی صحافی ایم جے اکبر کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ وہ وزیراعظم آفس میں میٹنگ کرتے تھے اور جب وہ رات کو ایک یا دو بجے پیدل اپنی رہائش گاہ کی طرف جا رہے ہوتے تو دو‘ تین دفعہ ستونت سنگھ کی عجیب وغریب حرکتوں پر انہیں حیرانی ہوئی۔ راجیو نے بتایا کہ وہ وہاں کھڑا ہو کر اپنی بندوق کا رخ میری طرف کر لیتا۔ اگرچہ دیگر سکیورٹی گارڈ بھی ساتھ ہوتے لیکن میں سوچتا کہ اگر وہ ٹریگر دبا دے تو اتنے قریب سے چلائی گئی گولی کو کون روک سکتا ہے‘ وہ تو پہلے ہی پوزیشن لے کر کھڑا ہے۔ ان واقعات کے بعد راجیو نے اسے سکیورٹی سے ہٹوا دیا لیکن ان کی ماں اسے واپس لے آئی۔ گولڈن ٹیمپل آپریشن کے بعد اندرا گاندھی کو بہت دھمکیاں مل رہی تھیں۔ کئی خطوط موصول ہوئے۔ بی بی سی دہلی آفس کو بھی اندرا گاندھی کو قتل کرنے کی دھمکی بھرا خط بھیجا گیا‘ تاہم اندرا گاندھی نے ان سب کی انکوائری نہیں کرائی نہ ہی انہیں سنجیدہ لیا۔ اتنے بڑے واقعے کے بعد بھی قاتلوں کو موقع پر قتل کر کے رہے سہے ثبوت بھی ختم کر دیے گئے کہ اس سب کے پیچھے کون تھا۔ جب اندرا گاندھی کو ملنے والی دھمکیاں بہت سنگین ہو گئیں تو اِنڈو تبت بارڈر پولیس کے کمانڈوز وزیراعظم کی سکیورٹی کیلئے لائے گئے مگر انہوں نے قاتلوں کو موقع پر ہی گولیاں مار دیں۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق اندرا گاندھی کو سامنے اور پیچھے‘ دونوں طرف سے بیس گولیاں ماری گئی تھیں۔یہ سب تفصیلات پڑھتے ہوئے مجھے تین ہزار سال پرانا یونانی ڈرامہ &#39;&#39;ایڈی پس کنگ‘‘ یاد آیا کہ ہونی ہو کر رہتی ہے۔ بیٹے نے جس سکیورٹی گارڈ کو مشکوک سمجھ کر سکیورٹی سے ہٹوایا‘ اس کی ماں اسے واپس لے آئی کہ اس کے ہاتھوں ہی اسے قتل ہونا تھا۔ راجیو کو ماں سے شکایت تو تھی ہی لیکن اسے علم نہ تھا کہ ایک دن وہ خود بھی اپنی سکیورٹی غفلت کی وجہ سے مارا جائے گا۔ وہی یونانی کہاوت کہ ہونی ہو کر رہتی ہے۔ (ختم)</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>دیہات میں شہری بلائیں(رسول بخش رئیس)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-05-22/51991/47853125</link><pubDate>Fri, 22 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-05-22/51991/47853125</guid><description>ہم دیہات کے اصل قدیمی ماحول میں پیدا ہوئے‘ جہاں فطری بہائو کھیتوں سے لے کر کھانے پینے‘ رہن سہن‘ روایات‘ تہواروں اور عام تعلقات تک تھا۔ آبپاشی رہٹ کنوئوں سے یا سیلابی پانی سے ہوا کرتی تھی۔ تقریباً ہر گھر میں گائے‘ بکریاں‘ بھیڑیں اور مرغیاں عام سی بات تھی۔ کسی کے پاس کچھ زیادہ تو کسی کے پاس کم۔ کم خاندا ن ایسے تھے جو دوسروں کو محتاج ہوتے۔ ابھی دودھ فروخت کرنا معیوب سمجھا جاتا تھا۔ لوگ ضرورتمندوں کو مفت دیا کرتے تھے۔ کھانوں کا یہاں ذکر کرنا زیادہ اہم ہے کہ جس انداز میں شہری زندگی کا عکس دیہات میں تیزی سے پھیل رہا ہے‘ وہ غریبوں کے بچوںکیلئے‘ خصوصاً صحت کیلئے تباہ کن ہے۔ گوشت کھانے کا رواج ہی نہ تھا۔ گائے کا گوشت تو مجبور ی میں کھایا جاتا اور گائے ذبح بھی اس وقت کی جاتی جب بیمار‘یا قریب المرگ ہوتی۔ ہندو تہذیب کی چھاپ نمایاں تھی۔ تحت الشعور میں تقدس تھا لیکن مشہور تھا کہ گائے کا گوشت ہضم نہیں ہوتا‘ فائدے سے زیادہ نقصان کا اندیشہ ہے۔ بکری یا بھیڑ کا گوشت بھی عام طور پر لوگوں کو میسر نہ ہوتا۔ اپنی بھیڑ بکریاں ہوتیں لیکن صرف مجبور ی کے تحت ہی ذبح کی جاتیں۔ شادی بیاہ کے موقع پر اکثر جگہوں پر بکرے کا گوشت پکتا۔ اگر لوگ گائے کا سنتے تو اسے میزبان کی کنجوسی یا غربت خیال کیا جاتا۔ ہمارے گھروں میں اکثر دالیں اور سبزیاں پکتیں اور وہ بھی شام کے وقت۔ صبح کے ناشتے میں گندم کی تازہ روٹی مکھن اور لسی کے ساتھ۔ دوپہرکو صبح کی پکی چپاتیاں‘ پیاز اور اچار یا پھر دوبارہ لسی کا مٹکا سامنے رکھ کر نوش کرتے۔ صرف دور سے مہمان آنے کی صورت میں دوپہر کو کھانا تیار ہوتا۔وہ سادگی‘ پاکیزگی‘ کم خوری اور نامیاتی سبزیاں وپھل‘ اب ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہمارے کسی اور جنم میں تھے۔ کبھی نہیں سنا تھا کہ آموں کے پیڑوں اور سبزیوں کے کھیتوں میں کوئی کھاد ڈالی جاتی ہے یا ان پر کیمیائی ادویات کا سپرے کیا جاتا ہے۔ جہاں کہیں کوئی رہٹ کنواں تھا جس کا پانی بیل جوت کر نکالا جاتا‘ وہاں ہر قسم کی سبزی کاشت ہوتی تھی۔ ہر خاندان سبزیوں میں تقریباً خودکفیل ہوتا اور اگر ضرورت سے زیادہ پیدا ہوتیں تو اپنے عزیزوں اور دوستوں میں تقسیم کی جاتیں۔ یہ بات درست ہے کہ پیداوار کم ہوتی تھی‘ مگر اسوقت آبادی بھی کم تھی۔ آبادی بڑھی تو خوراک کی پیداوار بڑھانے کے نئے طریقے ایجاد ہونے لگے۔ مغرب کی سائنسی ترقی کے ثمرات ہمارے ہاں بھی کھادوںاور کیڑے مار ادویات کی صورت نمودار ہونے لگے۔ بیج بھی نئے تیار ہوئے۔ کاش میں لفظوں میں اپنے علاقے کی قدیم گندم اور چاولوں کا ذائقہ اور خوشبو بیان کر سکتا۔ وہ قسمیں صدیوں سے ہمارے ہاں پیدا ہو رہی تھیں۔ کہیں نہ کہیں چاولوں کی اُس قسم کے چند پودے کئی سال پہلے تک کھیتوں میں کہیں نظر آ جاتے تھے۔ عزیزوں اور دوستوں سے کئی بار درخواست کی کہ انہیں بچائیں اور علیحدہ رکھیں۔ کیا کریں! سب کی اپنی اپنی ترجیحات ہیں۔ سنا ہے کہ وہ قسم سندھ کے کچھ زمینداروں کے پاس اب بھی دستیاب ہے کہ اب سوغات کے طور پر وہ چاول‘ جسے ہم سٹھڑی کہتے تھے‘ محفوظ ہے۔ یہ چونکہ فصل صرف ساٹھ دنوں میں تیار ہو جاتی تھی‘ اسلئے اسے سٹھڑی کہتے تھے۔ دیسی گندم کی بھی تلاش جاری ہے‘ شاید کہیں سے مل جائے۔ اب میکانکی اور سرمایہ داری زراعت میں ہدف زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل کرنا ہے تاکہ منافع کمایا جائے‘ جو آج کل کی ہر فصل میں بھاری سرمائے کی وجہ سے ضروری ہو چکا ہے۔ہمارے دیہاتی لوگوں کے کھانے پینے کی عادات گزشتہ چند دہائیوں میں یکسر بدل چکی ہیں۔ ہمارے چھوٹے سے قصبہ نما گائوں میں ایک بھی چائے خانہ نہیں تھا۔ اب کم از کم دس پندرہ تو ضرور ہوں گے‘ جہاں منوں کے حساب سے روزانہ دودھ پتی صبح سویرے شروع ہوکرشام تک چلتی رہتی ہے۔ لوگوں کی کھانے پینے کی عادتیں دیکھتے ہی دیکھتے تبدیل ہو گئی ہیں۔ یہ صرف چائے کی لت نہیں‘ دو نمبر بلکہ تین نمبر بیکریاں‘ جو بڑے شہروں میں نجانے کیسے ماحول میں رس‘ جنہیں مقامی لوگ پاپے کہتے ہیں‘ بنا کر دیہات میں روزانہ سپلائی کرتی ہیں۔ جس حالت میں فارمی مرغیوں کو غلیظ ویگنوں میں بند کرکے ملک کے مختلف علاقوں اور شہروں کے اندر لے جاتے دیکھتے ہیں‘ ہمارا جی ایسے گوشت کو کھانے کی طرف راغب نہیں ہوتا۔ ہم پرانے لوگ جو ٹھہرے! مگر نئے لوگ دیہات میں منوں کے حساب سے خرید کر کے گھرلے جاتے ہیں۔ ساتھ ہی مہنگائی کا رونا بھی روتے رہتے ہیں۔ دیہات اور دیہاتیوں میں کبھی توند نکلے شخص کو نہیں دیکھا تھا۔ لوگ شکل وصورت سے اور ذہنی طور پر بھی صحتمند نظر آتے تھے۔ کسی کو غصہ کرتے‘ لڑائی جھگڑا کرتے اور اچانک مزاج بگڑتے نہیں دیکھا تھا۔ اب یہ ہمارے دیہات میں عام مشاہدے میں آتا ہے کہ ایک ہی محفل میں کوئی بات ہو یا نہ ہو‘ غصہ‘ گھبراہٹ اور زبان کی تندی محسوس ہوتی ہے۔ میری نظر ہمیشہ سماجی اور معاشی حالات کے بڑھتے ہوئے اعصاب شکن دبائو کے ساتھ لوگوں کے کھانے پینے کی عادات کی طرف جاتی ہے۔ چائے نوشی‘ مرغن غذائیں‘ گوشت ہی گوشت اور روٹیوں کے ڈھیر اب معمول کے دستر خوان ہیں۔ دال سبزی کا کچھ نہ کچھ رواج ابھی باقی ہے‘ مگر جب یہ بھی گھی میں تیر رہی ہوتی ہیں تو عام آدمیوں میں بلڈ پریشر‘ شوگر‘ دل کے دورے‘ معدے کی تیزابیت‘ پھولا ہوا منہ اور آگے نکلی ہوئی توند اب عام ہیں۔ دودھ اور مسالوں میں ملاوٹ اب اتنی ہے کہ ہاتھ لگانے کو جی نہیں چاہتا۔ یہ دیکھ کر حیرانی کی انتہا نہیں رہتی کہ دودھ کی سپلائی دیہات میں نزدیک کے بڑے قصبوں سے ہو رہی ہوتی ہے‘ جہاں کوئی ڈیری فارم بھی نہیں۔ &#39;&#39;دودھ سازی‘‘ کی چھوٹی چھوٹی خفیہ فیکٹریاں موجود ہیں۔ شہروں کا حال تو پہلے ہی برا تھا‘ اب یہ وبا دیہات تک پھیل چکی ہے۔ اسلام آباد کے مضافات میں اپنے جنگل میں قیام کے دوران ایک ہمسائے سے دودھ منگوایا تو اُسے باہر پھینکنے میں ہی غنیمت جانی کہ شکل اور بو سے اس مائع کا دودھ سے دور دور تک کوئی تعلق نہ تھا۔ جب معاشرہ اوپر کے طبقات کی کرپشن‘ لوٹ مار اور لاقانونیت کی وجہ سے زوال پذیر ہو تو دیہات اور عام آدمی بھی ایسی ہی پست اخلاق روش اختیار کرتے ہیں۔ کاروبار ی شہری معیشت اور اس کی دو نمبری نے دیہاتی زندگی کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ہم پرانے لوگ تازہ‘ خالص اور نامیاتی کی تلاش میں سر کھپاتے ہیں مگر اس زمانے میں یہ نعمتیں آسانی سے دستیاب نہیں ہو سکتیں۔ کاشتکاروں کو نامیاتی سبزیاں اور پھل کاشت کرنے کی ترغیب دینا ایسے ہی ہے جیسے انہیں فاقہ کشی پر راضی کرنا۔ اگرچہ بڑے شہروں میں یہ فیشن عام ہو رہا ہے کہ جہاں نامیاتی سبزیاں مل جائیں تو متمول افراد زیادہ سے زیادہ قیمت دینے کیلئے تیار رہتے ہیں۔ اچھی بات ہے کہ اگر یہ رجحان عام ہو جائے۔ اصل بات تو یہ ہے کہ مناسب پیداوار کے ساتھ انہیں محفوظ طریقوں سے اگانے کا نامیاتی ہنر عام کیا جائے‘ جس سے اکثریت بالکل نابلد ہے۔ ہمارا اپنا تجربہ اور مشاہدہ ہے کہ کم از کم اپنے لیے ایسی سبزیاں اور پھل اگائے جا سکتے ہیں۔ کیڑے مکوڑے اگر حصہ دار بن جائیں تب بھی ہم کوئی کیمیائی دوائی استعمال نہیں کرتے۔ غیر کیمیائی مادے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ محنت اور تردد کچھ زیادہ کرنا پڑتا ہے‘ مگر جو ذائقہ نامیاتی سبزیوں میں ہے‘ وہ بازار سے خریدی چیزوں میں نہیں۔ دنیا بھر میں یہ طریقے سکھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ امریکہ میں ایک ایسے ہی رسالے کو جس کا نام نامیاتی باغبانی تھا‘ برسوں سبسکرائب کیا اور وہ سارے ساتھ لایا۔ اب تو رسالوں کی ضرورت نہیں‘ سب کچھ آپ انٹرنیٹ پر دیکھ سکتے ہیں۔ دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے دیہات بھی اپنی سادگی اور پاکیزگی سے محروم ہو رہے ہیں۔ شہروں کی طرف سے اور بھی بلائیں آئی ہیں‘ مگر ان کا ذکر پھر سہی۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_33241568.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>28ویں ترمیم بمقابلہ 18ویں ترمیم(کنور دلشاد)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/kunwar-mohammad-dilshad/2026-05-22/51992/16717770</link><pubDate>Fri, 22 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/kunwar-mohammad-dilshad/2026-05-22/51992/16717770</guid><description>18ویں آئینی ترمیم میں تبدیلی پاکستان میں وفاق اور صوبوں کے درمیان قائم آئینی توازن کو تبدیل کر سکتی ہے۔ 18ویں ترمیم کو 1973ء کے آئین کے بعد صوبائی خودمختاری کی سب سے مضبوط آئینی ضمانت قرار دیا جاتا ہے کیونکہ اس ترمیم کے ذریعے مرکز سے متعدد اختیارات صوبوں کو منتقل کیے گئے تھے۔اب اٹھائیسویں ترمیم میں اکثر اختیارات دوبارہ مرکز کو منتقل کرنے کی تیاریاں ہیں۔ 18ویں ترمیم کے حوالے سے بادی النظر میں یہ تاثر پیدا ہوا کہ اس سے وفاق کے مالی اختیارات محدود ہوئے‘ تاہم حقیقت یہ ہے کہ اس ترمیم نے مشترکہ قانون ساز فہرست کو ختم کیا‘ متعدد اختیارات صوبوں کو منتقل کیے‘ مشترکہ مفادات کونسل کو مضبوط بنایا۔ تعلیم‘ صحت‘ ثقافت‘ بلدیاتی نظام‘ معدنیات اور مختلف انتظامی شعبوں پر صوبائی اختیار میں اضافہ کیا۔ قدرتی وسائل اور بجلی سے متعلق معاملات میں صوبوں کی شرکت کو زیادہ مؤثر بنایا۔ صدر کے اختیارات محدود کیے گئے اور پارلیمانی وفاقی نظام کو بحال کیا گیا۔ اس طرح یہ ایک بڑی غیرمرکزی آئینی اصلاح ثابت ہوئی۔ممکنہ 28ویں ترمیم کے تحت مشترکہ قانون ساز فہرست کی بحالی زیرِ غور ہے۔ تعلیم کے شعبے کو دوبارہ وفاق کے سپرد کرنے کی تجویز بھی سامنے آ رہی ہے جس کے بعد وفاق چاروں صوبوں میں یکساں تعلیمی نصاب نافذ کر سکتا ہے۔ صحت کے شعبے میں بھی 18ویں ترمیم کے بعد بنیادی اختیار صوبوں کو منتقل ہو چکا ہے‘ اگر شعبۂ صحت دوبارہ وفاق کے پاس جاتا ہے تو اس شعبے کے سبھی امور مرکز کے زیرِ انتظام آ سکتے ہیں۔ اس صورت میں بجٹ سازی‘ منصوبہ بندی‘ ریگولیشن اور قومی سطح کی صحت پالیسیوں کا کنٹرول وفاق کے پاس ہو گا۔ معدنیات کا شعبہ ایک حساس سیاسی مسئلہ بن سکتا ہے۔ اس وقت صوبوں کے پاس قدرتی وسائل پر نسبتاً مضبوط آئینی دعوے موجود ہیں۔ اگر صوبائی اختیارات واپس لیے گئے تو معدنیات‘ گیس‘ پن بجلی اور دیگر وسائل پر صوبائی کنٹرول کمزور پڑ سکتا ہے۔ پن بجلی کے منافع‘ بجلی منصوبوں پر مشاورتی اختیارات‘ فاٹا کے ضم شدہ اضلاع کی فنڈنگ اور قدرتی وسائل میں صوبائی شرکت جیسے معاملات دوبارہ تنازع کا باعث بن سکتے ہیں۔ آئین کے آرٹیکل 157کے عملی اختیارات پر بھی نظرثانی ناگزیر تصور کی جا رہی ہے۔ 18ویں ترمیم کا ساتویں این ایف سی ایوارڈ سے بھی گہرا تعلق ہے جس کے تحت صوبوں کے مالی حصے میں اضافہ کیا گیا تھا۔ ممکنہ 28ویں ترمیم میں صوبوں کی مالی خودمختاری محدود ہو سکتی ہے۔پاکستان ایک وفاقی ریاست ہے لیکن موجودہ آئینی ڈھانچے میں صوبوں کو حاصل خودمختاری کی وجہ سے بعض حلقوں کے نزدیک وفاق نسبتاً کمزور دکھائی دیتا ہے۔ اگر یہ اختیارات واپس لیے گئے تو نظام دوبارہ وفاقیت کی طرف جا سکتا ہے جہاں بڑے شعبوں پر وفاق کا غلبہ ہوگا۔ اگرچہ 28ویں ترمیم میں چند شقوں کی تبدیلی کے باوجود پاکستان بدستور 1973ء کے آئین کے تحت ایک وفاقی ریاست ہی رہے گا‘ تاہم انتظامی خودمختاری‘ پالیسی سازی کے اختیارات‘ آئینی قوت اور آزادانہ صوبائی پالیسیوں پر مرکز کا اثر بڑھ جائے گا۔ بعض حلقوں کے مطابق 18ویں ترمیم نے فیڈریشن کو بتدریج کنفیڈریشن کی طرف دھکیلنے کی راہ ہموار کی جبکہ صوبوں کو ملنے والے وسیع اختیارات کے باوجود عام آدمی کی حالت بہتر نہ ہو سکی۔ خصوصاً سندھ کے حوالے سے یہ تاثر موجود ہے کہ وہاں جاگیرداروں اور سیاسی اشرافیہ کا غلبہ زیادہ مضبوط ہوا ہے اور اداروں پر مخصوص سیاسی جماعتوں کے اثرات نمایاں ہیں۔ لہٰذا 28ویں سے پہلے یہ طے کرنا نہایت ضروری ہو گا کہ کون سی آئینی دفعات میں تبدیلی ناگزیر ہے۔نئے صوبے بنانے کیلئے آئین کے آرٹیکل 239 میں ترمیم کر کے صوبوں سے بعض اختیارات وفاق کو منتقل کرنے کی تجاویز بھی زیرِ غور بتائی جاتی ہیں۔ اسی طرح ووٹرز کی عمر 18 برس سے بڑھا کر 25برس کرنے کی تجویز بھی زیرِ بحث ہے۔ 2002ء سے قبل ووٹر کی عمر 21سال تھی اور یہی حد 1973ء کے آئین میں بنیادی حیثیت رکھتی تھی‘ تاہم جنرل پرویز مشرف نے آئین کی معطلی کے دوران ووٹر کی عمر 18سال مقرر کر دی تھی۔ اس سے قبل پانچ نومبر 1996ء کو صدر فاروق لغاری نے بینظیر حکومت برطرف کرنے کے بعد صدارتی آرڈیننس کے ذریعے ووٹرز کی عمر 21 سے کم کر کے 18 سال کرنے کی کوشش کی تھی لیکن اس وقت کے نگران وزیر قانون جسٹس فخر الدین جی ابراہیم نے اس آرڈیننس کے مسودے کو مسترد کر دیا تھا۔ اس وقت 28ویں ترمیم کے مختلف مسودات پسِ پردہ تیاری کے مراحل میں بتائے جا رہے ہیں۔اگر سیاسی منظر کا جائزہ لیا جائے تو سفارتی محاذ پر حالیہ کامیابیوں کے بعد پاکستان کیلئے بین الاقوامی سطح پر نسبتاً سازگار فضا بنتی دکھائی دے رہی ہے۔ عالمی حالات جس انداز میں پاکستان کے حق میں ہموار ہو رہے ہیں ان میں مقتدر حلقوں کو داخلی مسائل پر توجہ مرکوز کرنا ہو گی۔ کرپشن اب بھی قومی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھی جاتی ہے۔ قائداعظم محمد علی جناح نے 11اگست 1947ء کو آئین ساز اسمبلی کے اجلاس میں کرپشن کو ناسور قرار دیا تھا۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی خود یہ اعتراف کر چکے کہ گزشتہ تین برسوں میں تقریباً سو ارب ڈالر غیرقانونی طور پر ملک سے باہر منتقل کیے گئے۔ ملک کو کرپشن کی لعنت نے بہت مضبوطی سے جکڑ رکھا ہے۔ اس دلدل سے نکلنے کیلئے حکومت کو سخت اور جارحانہ انسدادِ کرپشن پالیسی اختیار کرنا ہوگی۔ پاکستان کے آڈیٹر جنرل کی رپورٹس میں پنجاب میں کھربوں روپے کی بے ضابطگیوں کا ذکر سامنے آ چکا ہے جبکہ قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جنرل (ر) نذیر بٹ 13 کھرب روپے کی ریکوری کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ بھارت میں چار برس بعد پٹرول کی قیمت میں معمولی اضافہ بھی شدید عوامی اور سیاسی ردعمل کا باعث بنا ہے جبکہ ہمارے ہاں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ایک معمول بن چکا ہے اور پارلیمنٹ اور سیاسی جماعتیں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔ شاید پہلی بار ہے کہ جہازوں کیلئے استعمال ہونے والا ایندھن سستا ہے اور موٹر سائیکلوں میں ڈلنے والا پٹرول مہنگا ہے۔ پی آئی اے کی نئی انتظامیہ میں بااثر اشرافیہ کی موجودگی کے باعث پہلی مرتبہ جہازوں کا ایندھن پٹرول سے سستا ہو چکا ہے۔آئین کے آرٹیکل 244 کے تھرڈ شیڈول کے آخری پیراگراف میں &#39;&#39;Will of People‘‘ کے مطابق عملدرآمد کی بات کی گئی ہے۔ بعض حلقے اس کی تشریح یوں کرتے ہیں کہ اگر عوام کی اکثریتی رائے یہ ہو جائے کہ حکومت عوامی خواہشات کے برخلاف پالیسیاں بنا رہی ہے تو ریاستی مداخلت کا جواز پیدا کر سکتے ہیں۔ اسی دلیل کو بنیاد بنا کر پانچ جولائی 1977ء کو مارشل لاء نافذ کیا گیا تھا کیونکہ مارچ 1977ء کے انتخابات کے بعد ملک بھر میں احتجاجی تحریکیں شروع ہو گئی تھیں۔ اسی طرح 12اکتوبر 1999ء کو جب جنرل پرویز مشرف نے اقتدار سنبھال کر آئین معطل کیا تھا تو اس وقت جنرل ہیڈکوارٹرز راولپنڈی میں پرویز مشرف کے ساتھ لیفٹیننٹ جنرل عزیز خان‘ میجر جنرل شاہد عزیز‘ میجر جنرل احسان الحق کے علاوہ شریف الدین پیرزادہ اور عبدالحفیظ پیرزادہ بھی موجود تھے۔پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرانے کیلئے سفارتی سطح پر بھرپور سرگرم ہے اور بظاہر یہ کوششیں کچھ نتائج بھی دے رہی ہیں۔ دونوں ممالک کی جانب سے آنے والے بیانات سے مذاکرات کے نئے دور کے امکانات ظاہر ہو رہے ہیں۔ تاہم اس کشیدگی نے عالمی منظر نامے پر پہلے ہی تبدیلیوں کو جنم دے دیا ہے۔ پاکستان کو اس صورتحال میں ایک نیا سفارتی کردار ملا ہے اور محسوس ہوتا ہے کہ ریاستی ادارے اسی تناظر میں اپنی جغرافیائی سیاست کو ازسرِ نو ترتیب دے رہے ہیں۔ اس مقصد کیلئے محض جزوی تبدیلیاں کافی نہیں ہوں گی بلکہ موجودہ حکمتِ عملی کا جامع جائزہ لینا ہوگا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_15667905.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ایک ادارہ، 109نوبیل انعام(اسد طاہر جپہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/asad-tahir-jappa-/2026-05-22/51993/95987654</link><pubDate>Fri, 22 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/asad-tahir-jappa-/2026-05-22/51993/95987654</guid><description>عالمی شہرت یافتہ کیمبرج یونیورسٹی کو دیکھنا اک خواب تھا‘ جو گزشتہ دنوں اس وقت شرمندۂ تعبیر ہوا جب میں جیفری چوسر کے شہر کینٹربری سے واپس لیسٹر کیلئے عازمِ سفر ہوا تو برادرم ڈاکٹر اطہر منصور جوآج کل کیمبرج یونیورسٹی میں ایک اہم عہدے پر فائز ہیں‘ نے مجھے کھانے پر مدعو کر لیا۔ دو گھنٹوں میں انہوں نے مجھے کیمبرج یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات کا دورہ کرایا اور اس عظیم الشان درسگاہ کے تاریخی و تحقیقی ورثے پر بھرپور بریفنگ دی۔ بلاشبہ یہ عظیم الشان درسگاہ آٹھ سو سال سے زیادہ قدیم اور درخشندہ روایات کی امین ہے۔ یہ دنیا کی چند قدیم ترین اور سب سے معتبر جامعات میں سے ایک ہے۔ 1209ء میں کیمبرج کی بنیاد اس وقت رکھی گئی جب آکسفورڈ یونیورسٹی کے کچھ سکالرز مقامی لوگوں سے تنازع کے بعد کیمبرج آ کر آباد ہوئے۔ ابتدائی طور پر یہ غیررسمی تعلیم کا مرکز تھا مگر 1231ء میں بادشاہ ہنری سوم کی شاہی منظوری کے بعد اسے قانونی حیثیت اور تحفظ ملا۔ اس کے بعد اس تاریخی درسگاہ نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور دن دُگنی رات چوگنی ترقی کی۔ 1284ء میں پیٹر ہاؤس کیمبرج کا پہلا کالج بنا۔ اس کے بعد پیمبروک‘ کنگز‘ سینٹ جانز اور ٹرینیٹی کالج جیسے ادارے قائم ہوئے اور اب کالجز کی تعداد 31 تک پہنچ چکی ہے۔ 1516ء میں یونیورسٹی نے ایک اہم تاریخی سنگِ میل عبور کیا اور ایراسمَس نے کیمبرج میں یونانی نئے عہد نامے کا ترجمہ کیا اور ایک منفرد تعلیمی نظام کی بنیاد رکھی۔ 1546ء میں ہنری ہشتم نے ٹرینیٹی کالج قائم کیا۔ 1584ء میں کیمبرج یونیورسٹی پریس کا آغاز ہوا جو آج بھی دنیا کا سب سے پرانا مسلسل چلنے والا پریس ہے جو علمی کتب اور تحقیقی رسائل کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کرتا آرہا ہے۔ 19ویں صدی میں یونیورسٹی میں کئی اصلاحات متعارف کرائی گئیں اور 1856ء کے کیمبرج یونیورسٹی ایکٹ کے ذریعے نصاب میں توسیع کی گئی جس کے نتیجے میں تاریخ‘ جدید زبانیں اور سائنس جیسے مضامین شامل کیے گئے۔ اسی طرح پرنس البرٹ نے قدرتی سائنس اور جدید تاریخ کو فروغ دیا۔ یوں کیمبرج یونیورسٹی تاریخی اعتبار سے جدید سائنسی علوم کا گہوارہ رہی ہے۔ اس کی کیونڈش لیبارٹری بین الاقوامی سطح پر فزکس کی تحقیق کا مرکز ہے جہاں الیکٹران‘ نیوٹران اور ڈی این اے کی ساخت جیسی دریافتیں ہوئیں۔ ریاضی اور فزکس کے شعبوں میں آئزک نیوٹن‘ جیمز کلارک میکسویل اور سٹیفن ہاکنگ جیسے بلند پایہ سائنسدان اسی درسگاہ سے وابستہ رہے۔ بیسویں صدی کے اوائل میں کیمبرج نے پی ایچ ڈی ڈگریاں دینا شروع کیں اور ریاضی کے مضمون میں پہلی ڈگری 1924ء میں دی گئی۔ 1858ء میں قائم ہونے والا کیمبرج انٹرنیشنل ایجوکیشن کا ادارہ اب 160 سے زائد ممالک کے 10 ہزار کے لگ بھگ تعلیمی اداروں میں امتحانات اور لاکھوں طلبہ و طالبات کو ہر سال تعلیمی اسناد فراہم کرتا ہے۔ IGCSE اور اے لیول اسی نظام کا حصہ ہیں۔ آج یہ دنیا کی پانچ بڑی جامعات میں شمار ہوتی ہے اور سو سے زائد نوبیل انعام یافتہ افراد اس عظیم الشان درسگاہ سے وابستہ رہے ہیں۔یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کیمبرج یونیورسٹی نے سائنس‘ ادب‘ سیاست اور فلسفے میں کئی ایسی شخصیات پیدا کی ہیں جنہوں نے وقت کا دھارا بدل دیا۔ ان میں سے چند عالمی شہرت یافتہ افراد کا ذکر ضروری ہے۔ جان ملٹن کو انگریزی زبان و ادب میں نمایاں مقام حاصل ہے۔ وہ 1625ء سے 1632ء تک کرائسٹ کالج کیمبرج میں زیر تعلیم رہا اور اس کی کتاب Paradise Lost انگریزی ادب کے مستند شاہکار کا درجہ رکھتی ہے۔ سر آئزک نیوٹن 1661ء میں ٹرینیٹی کالج کیمبرج میں داخل ہوئے اور بعد ازاں حرکت کے تین قوانین‘ کششِ ثقل کا نظریہ اور کیلکولس کی بنیاد رکھی۔ ان کی کتاب Principia Mathematica کو جدید فزکس کی بنیاد مانا جاتا ہے۔ نیوٹن لگ بھگ 27سال تک شعبۂ ریاضی کے پروفیسر رہے۔ چارلس ڈارون 1836ء میں کرائسٹ کالج کیمبرج میں قدرتی الٰہیات کی تعلیم کیلئے داخل ہوئے مگر ان کی دلچسپی قدرتی سائنس میں بڑھ گئی۔ ڈارون نے نظریۂ ارتقا اور قدرتی انتخاب پیش کیا جبکہ شہرہ آفاق کتاب On the Origin of Species نے حیاتیات کو ہمیشہ کیلئے بدل دیا۔ اسی وجہ سے اسے جدید حیاتیات کا باپ کہا جاتا ہے۔ رابرٹ اوپن ہائمر 1924ء میں کرائسٹ کالج کیمبرج سے فارغ التحصیل ہوا اور مین ہٹن پروجیکٹ کے سائنسی ڈائریکٹر‘ &#39;&#39;ایٹم بم کے باپ‘‘ کے نام سے مشہور ہوا۔ ایلن ٹیورنگ نے 1930ء کی دہائی میں کنگز کالج کیمبرج سے ریاضی اور منطق کے مضامین میں تعلیم حاصل کی‘ اس نے ٹیورنگ مشین ایجاد کی جو جدید کمپیوٹر کی بنیاد بنی۔ اسی نے دوسری عالمی جنگ میں جرمن کوڈ &#39;&#39;Enigma‘‘ توڑ کر اتحادیوں کی فتح میں کلیدی کردار ادا کیا۔ جارج ششم نے 1920ء میں کیمبرج سے تعلیم حاصل کی اور 1936ء سے 1952ء تک برطانیہ کے بادشاہ رہے۔ برٹرینڈ رسل نے ٹرینیٹی کالج کیمبرج سے 1893ء میں ریاضی میں فرسٹ کلاس ڈگری لی اوررسلز پیراڈاکس دریافت کیا۔ انہیں 1950ء میں ادب کا نوبیل انعام ملا۔ جیمز واٹسن اور فرانس کرک نے 1953ء میں کیونڈش لیبارٹری میں تحقیق کے دوران ڈی این اے کا ڈبل ہیلکس ڈھانچہ دریافت کیا۔ اس دریافت نے جینیات اور بائیو ٹیکنالوجی کے دروازے کھول دیے جس کے اعتراف میں دونوں عظیم سائنسدانوں کو 1962ء میں نوبیل انعام ملا۔ سٹیفن ہاکنگ 1962ء میں ٹرینیٹی ہال کیمبرج میں پی ایچ ڈی کیلئے آیا اور 1979 ء سے 2009ء تک یہاں پروفیسر رہا۔ اس نے بلیک ہولز اور کائنات کی ابتدا پر انقلابی کام کیا اور ہاکنگ ریڈی ایشن کا نظریہ پیش کیا۔ موٹر نیورون بیماری کے باوجود اس نے A Brief History of Time جیسی شاہکار کتاب لکھی جس نے پیچیدہ سائنس کو عام فہم بنا دیا۔ پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام نے 1950ء میں سینٹ جان کالج کیمبرج سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی اور بعد ازاں الیکٹروویک یونیفکیشن تھیوری پیش کی جس پر 1979ء میں انہیں نوبیل انعام دیا گیا۔ اس منفرد اعزاز کی بدولت وہ پہلے پاکستانی نوبیل انعام یافتہ سائنسدان تھے۔ جوزف سٹیگلیٹز بلاشبہ ایک بلند پایہ معیشت دان تھے جو 1970ء کی دہائی میں ٹرینیٹی کالج کیمبرج میں طالبعلم رہے۔ معیشت پر منفرد کام کیلئے انہیں 2001ء میں نوبیل انعام ملا۔ وہ عالمی بینک کے چیف اکنامسٹ بھی رہے۔نوبیل انعام یافتہ افراد کی تعداد کے حوالے سے امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی سب سے آگے ہے جبکہ کیمبرج دوسرے نمبر پر ہے جس کی غیر مصدقہ تعداد 120اور مصدقہ سرکاری تعداد 109ہے جس میں 36نوبیل انعام صرف فزکس کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں سلطنتِ برطانیہ کا دنیا بھر میں پھیلا ہوا راج ہو یا بیسویں صدی میں امریکہ کا سپر پاور بننے کا راز‘ یہ مقام و مرتبہ یقینی طور پر کیمبرج اور ہارورڈ جیسی تاریخی درسگاہوں کے درودیوار سے جڑا ہوا ہے۔ یہاں پر ایک اہم سوال ہے کہ اگر 1631ء سے 1653ء تک مغل شہنشاہ شاہجہان آگرہ میں اپنی بیوی ممتاز محل کی محبت میں تاج محل تعمیر کرانے کے بجائے ایک عالیشان یونیورسٹی قائم کرا دیتا تو کیا برصغیر پاک و ہند کی تاریخ و تہذیب یہی ہوتی یا اس سے مختلف ہوتی؟</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_34710710.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کالا دھن اور چِٹّا پاؤڈر(آصف عفان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/asif-afan-/2026-05-22/51994/80427783</link><pubDate>Fri, 22 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/asif-afan-/2026-05-22/51994/80427783</guid><description>ملک بھر میں اُدھم کا سماں ہے‘ کہیں 28ویں ترمیم پر دانشوری برابر جاری ہے تو کہیں پنکی لیکس پر پوائنٹ سکورنگ۔ ماضی کی ڈان لیکس ہوں یا پاناما لیکس سبھی نے کہیں بھونچال کا سماں پیدا کیا تو کہیں دربدری کا باعث بنیں لیکن گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ سبھی کردار باکردار ہو کر بلند مقام پا چکے ہیں۔ اسی طرح پنکی لیکس پر طوفان اٹھانے والے بھی خاطر جمع رکھیں! یہ چسکا بھی وقتی ہی ثابت ہو گا۔ عدالت میں دبنگ پیشی کی وڈیو وائرل نہ ہوتی تو شاید پنکی کی گونج گلی کوچوں سے ایوانوں تک جاتی اور نہ اداروں کو آہنی ہاتھ استعمال کرنا پڑتا۔ ایک وڈیو نے متعلقہ اداروں کے چھکے چھڑانے کے علاوہ ان سبھی کی نیندیں بھی اُڑا ڈالی ہیں جو چشم پوشی پر نازاں اور شاداں تھے۔ دور کی کوڑی لانے والے تو برملا کہتے ہیں کہ پنکی کے خلاف کریک ڈاؤن یونہی نہیں ہوا۔ حکمران اشرافیہ کو ہوش تب آیا جب نشے کی آگ نے ان کے گھروں کو لپیٹ میں لے لیا۔ آفرین ہے اس ملک کے قانون اور اس کے رکھوالوں پر‘ سالہا سال سے پنکی انواع و اقسام کے جان لیوا نشوں کی کیمیاگری کے ساتھ کروڑوں اربوں روپے کا دھندا کرتی رہی اور کسی کو کچھ دکھائی دیا نہ سجھائی۔ لاہور سے لے کر کراچی تک &#39;نارکوٹکس کوئین‘ کا راج کیونکر قائم رہا اس کا عقدہ روز بروز کھلتا چلا جا رہا ہے۔ سینکڑوں خریداروں کی فہرست میں سبھی خاص الخاص ہیں۔ اس کے سبھی کلائنٹس دھن دولت سے مالا مال اور معاشرے میں اپنا اپنا مقام رکھتے ہیں۔ ان سینکڑوں میں بیسیوں ایسے بھی شامل ہیں جن کے نام اور مقام سے سبھی واقف ہیں۔ کوکین اور دیگر مہنگے ترین نشوں کی سپلائی کا وسیع نیٹ ورک چلانے والی انمول پنکی نے سبھی کے مول تول رکھے تھے۔ تبھی تو دو درجن کے قریب مقدمات اور بلاک شناختی کارڈ کے باوجود کھلے عام دھندہ جاری رہا۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں پیش ہونے والی 30 صفحات پر مشتمل چشم کشا رپورٹ نے مزید پرچے آؤٹ کر ڈالے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے کچھ ارکان اس رپورٹ کو ایجنڈا بنانے سے نہ صرف گریزاں تھے بلکہ زیر بحث نہ لانے کی توجیہات بھی پیش کرتے رہے کہ پولیس تحقیقات جاری ہیں‘ ملزمہ ریمانڈ پر ہے‘ کیس زیر سماعت ہے وغیرہ وغیرہ۔ ایسے پردہ نشینوں کے نام اب بے پردہ ہو چکے ہیں جو پنکی نیٹ ورک سے استفادہ کے عوض بالواسطہ تو کہیں بلاواسطہ اسے سپورٹ بھی کرتے رہے۔ نشے کے مہلک اثرات اپنی جگہ لیکن پنکی کیمیا گری نے اس نشے کو جان لیوا بنا ڈالا۔ کالے دَھن اور چِٹّے پاؤڈر کی تاریخ کئی دہائیوں پر مشتمل ہے۔ 1979ء سے قبل پاکستان میں چرس‘ گانجا‘ افیون اور شراب کا نشہ چلتا تھا جس میں جان جانے کے واقعات شاذ و نادر ہی سامنے آتے تھے‘ پھر جب افغان مہاجرین آئے تو ہیروئن کا تحفہ ساتھ لے کر آئے‘ اس چِٹّے پاؤڈر نے جہاں نوجوان نسلوں کو گھن کی طرح کھانا شروع کیا وہاں اپنی نسلیں اور دن سنوارنے کے خواہشمندوں نے اسے دھندہ بنانے میں کوئی عار محسوس نہ کیا۔ اس مکروہ دھندے سے آنے والے کالے دھن نے نہ صرف ان کے حوصلے بڑھا ڈالے بلکہ دیکھا دیکھی کئی پرانے غریب نئے امیر بن کر کم مایا بستیوں سے شہر کے پوش علاقوں میں جا بسے۔ جوں جوں یہ دھندہ بڑھتا چلا گیا توں توں گلی کوچوں سے لے کر تعلیمی اداروں سمیت ملک کے کونے کونے تک جا پہنچا۔ کسی کا دھندہ چوری چھپے تو کسی کا کھلے عام چلتا رہا‘ کس علاقے میں کس کا پاؤڈر بکتا رہا سب کو سبھی جانتے تھے۔ اس کالے دھن کے زور پر ایک نئی اشرافیہ وجود میں آئی جو دیکھتے ہی دیکھتے معززین کے طور پر مانے جانے لگے۔ کلف لگی قمیص شلوار پر ویسٹ کوٹ زیبِ تن کیے ان سبھی محفلوں میں پائے جاتے جن کے تانے بانے ایوانوں تک جاتے تھے اور چشمِ فلک نے نجانے کتنوں کو ریڈ کارپٹ استقبال اور اگلی نشستوں پر براجمان دیکھا اور بیشتر ایوانِ اقتدار کی زینت بھی بنے۔ ہوسِ زر بڑھی تو کیمیکل نشہ کوکین‘ کرسٹل‘ آئس‘ ایکس ٹیسی سمیت نجانے کیسے کیسے جان لیوا نشے ایجاد کر ڈالے۔ آج یہی عفریت جہاں لاکھوں زندگیاں نگل چکا ہے وہاں کروڑوں جانیں اس لت میں لت پت ہیں۔سونے کے بھاؤ ملنے والا یہ نشہ اس اشرافیہ کیلئے متعارف کرایا گیا جو ڈرگ مافیا کو تحفظ دینے کی قدرت رکھتا ہے۔ سپلائی اینڈ ڈیمانڈ کو ضرورتوں کی دلالی کے فارمولے میں اس طرح فٹ کیا گیا کہ سبھی ایک دوسرے کی ضرورت بنتے چلے گئے۔ اشرافیہ کی بگڑی اولادیں آسان ہدف ثابت ہوئیں‘ کوئی پارٹی ہو یا رنگین محفل‘ رنگ جمانے کے لیے سبھی پنکی اور پنکی جیسوں کی محتاج ہوتی چلی گئیں۔ شہر کے مخصوص علاقوں میں قائم شیشہ کیفیز سمیت چائے خانوں کے سموکنگ ایریاز دھوئیں کے بادل بناتے نوجوان بچے بچیوں سے بھرے ہوتے ہیں۔ اسی طرح تعلیمی اداروں کے گردوپیش میں نشے کے آسان مواقع اور مراکز بارے سبھی خاص و عام بخوبی جانتے ہیں۔ نوجوان نسل کی تباہی اور ہلاکتوں کے ہوش اڑا دینے والے اعداد و شمار دیکھ کر جون ایلیا کا ایک شعر یاد آرہا ہے: ہو رہا ہوں میں کس طرح برباد دیکھنے والے ہاتھ مَلتے ہیںڈیمانڈ کی جمع تفریق کریں تو ایسی درجنوں خواتین ناکافی ہیں۔ دوسری طرف اس ہولناک صورتحال کے نقطے ملائیں تو بننے والے خاکوں میں بھیانک منظرناموں کے علاوہ سبھی شکلیں بند آنکھ سے بھی دیکھی جا سکتی ہیں جو بوجوہ اس نیٹ ورک میں بندھے ہوئے ہیں‘ کوئی خریدار ہونے کے ناتے مافیا کی بقا کا بیڑہ اٹھائے ہوئے ہے تو کوئی کالے دھن سے حصہ وصول کر کے شراکت داری نبھا رہا ہے‘ سب کو سبھی جانتے ہیں۔ خاطر جمع رکھیے! یہ دھماچوکڑی بس کچھ دن جاری رہے گی اس کے بعد کوئی نیا سکینڈل لانچ کر کے توپوں اور کیمروں کا رخ پھیر دیا جائے گا۔ ہمارے ہاں ایسے ایشوز کی ٹائم لائن طے ہوتی ہے۔ یہ پہلا کیس ہے نہ آخری‘ ارمغان کیس کی تحقیقات کا دائرہ جب اس مقام پر پہنچا تھا تو اس وقت اداروں کا دائرہ کار بوجوہ سکڑ گیا تھا۔ یہ تو ایک برانڈڈ مہرہ ہے‘ اس کو مکافات کا ایندھن بنانے کے پیچھے کیا عوامل کارفرما ہیں یہ عقدہ بھی آنے والے دنوں میں کھل ہی جائے گا۔ گمان غالب ہے کہ کلائمکس تک 28ویں ترمیم کا اصل مسودہ منظوری کے مراحل کی طرف رواں دواں ہو‘ جس میں 18ویں ترمیم کے سبھی بینی فشریز بے بس اور آمادگی پر مجبور نظر آئیں گے‘ بصورتِ دیگر گورننس پر اٹھنے والے کڑے سوالات کا دائرہ مالی بے ضابطگیوں سمیت بدانتظامیوں سے ہوتا ہوا نجانے کہاں تک پہنچے۔ پیپلز پارٹی کا باری بدلنے کا مطالبہ جہاں الٹا پڑ چکا ہے وہاں صدارت سمیت دیگر آئینی عہدوں کے عوض دی گئی یقین دہانیوں اور بلند بانگ دعوؤں کا حساب بھی مانگ لیا گیا ہے‘ حساب میں پورا نہ اترنے کی قیمت 28ترمیم کی منظوری کی صورت میں چکانا پڑ سکتی ہے۔ دوسری طرف سیاسی پنڈت جہاں وزارتِ عظمیٰ کو خطرات سے دوچار قرار دے رہے ہیں وہاں تختِ پنجاب پر بھی خطرات کے بادلوں کی خبر دے رہے ہیں۔ ایک زیر گردش خبر کے مطابق وزارتِ عظمیٰ کیلئے ایک اور میراتھن شروع ہونے کو ہے‘ جس میں وفاقی وزیر داخلہ کے علاوہ وزیراعلیٰ پنجاب بھی شامل نظر آئیں گی۔ اس تناظر میں علی ڈار کی راج نیتی میں ٹریننگ کو بھی معانی خیز قرار دیا جارہا ہے اور کسی سرپرائز کی صورت میں وہ تختِ پنجاب میں متبادل وزیراعلیٰ بھی ہو سکتے ہیں۔ </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_65560900.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے مگر؟(امیر حمزہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ameer-hamza/2026-05-22/51995/23771662</link><pubDate>Fri, 22 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ameer-hamza/2026-05-22/51995/23771662</guid><description>اللہ تعالیٰ نے سات آسمان بنائے۔ آسمان کا لغوی معنی رفعت اور بلندی ہے۔ عربی کا زبان کا لفظ &#39;&#39;سُمُوٌ‘‘ آسمان سے لیا گیا ہے۔ جس شخص کا اخلاق اور کردار بہت بلند ہو اسے &#39;&#39;سُمُوٌ‘‘ کہہ دیا جاتا ہے۔ الطاف حسن قریشی کا شمار بھی انہی شخصیات میں ہوتا ہے‘ جو پاک سرزمین کے آسمان کا ایک روشن آفتاب تھے۔ الطاف حسن صاحب سے بات کرکے لطف آتا تھا‘ نرمی اور گداز کا احساس ہوتا تھا۔ ان کی ایک خوبصورت عادت تھی کہ ہر رمضان میں کسی ایسے دوست کو افطاری کی دعوت دیتے جس کے ساتھ ان کے مزاج میں ہم آہنگی کا سامان ہوتا اور پھر کھل کر تبادلۂ خیالات ہوتا۔ یہ بات انہوں نے مجھے اُس وقت بتائی جب افطار کی دعوت کے بعد دیر گئے تک ہم تبادلۂ خیال کرتے رہے۔ وہ میرے بزرگ بھی تھے اور دوست بھی۔ میرے لیے یہ بہت بڑا اعزاز تھا کہ انہوں نے افطار کے مہمانوں کی پُرلطف فہرست میں مجھ جیسے عاجز کو بھی شامل کیا۔ مجھے &#39;اردو ڈائجسٹ‘ میں کچھ عرصہ لکھنے کا بھی موقع ملا۔ ان کے ڈائجسٹ نے معاشرے کو سنورا۔ تہذیب پیدا کی‘ اخلاق درست کیے۔ قوم کے اندر حضور نبی کریمﷺ کی محبت کے فانوس روشن کیے۔ پاکستانیت کے چراغ جلائے۔ فرقہ پرستی کے کینسر کو دلائل کی شعاعوں سے ادھ موا سا کر دیا۔ قائدؒ اور اقبالؒ کی فکر کو پاک سرزمین کا آسمان بنانے کی بھرپور جدوجہد کا بیڑہ اٹھایا۔ان کا جسد خاکی جامعہ اشرفیہ کی علمی سرزمین پر تھا تو روح آسمانوں کی رفعتوں میں اللہ تعالیٰ کے پاس تھی۔ ان کے بھتیجے جناب ذکی اعجاز کا شکریہ کہ ان کی اطلاع پر بروقت جنازے میں پہنچ گئے۔ الطاف صاحب کی میت کے ساتھ ہمسفر ہونے کا موقع یوں ملا کہ ان کے فرزند ارجمند طیب قریشی نے مجھے بھی اس گاڑی میں بٹھا لیا جس میں میت کی چار پائی تھی۔ میانی صاحب کی زمین میں کتنے آسمان مدفون ہیں‘ اس کا شمار نہیں۔ یہاں موجود ہم سب لوگوں نے صحافت کے ایک درخشاں و تاباں آفتاب کو زمین میں مدفون کر دیا۔ اللہ کے آخری رسول حضور نبی کریمﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ جس نے کسی مسلمان کا جنازہ پڑھا اسے ایک &#39;&#39;قیراط‘‘ کا ثواب ملے گا۔ اسی طرح جس نے تدفین میں حصہ لیا اسے بھی ایک قیراط کا اجر ملے گا۔ ساتھ یہ بھی فرمایا کہ ایک قیراط اُحد پہاڑ کے برابر ہے۔ یعنی جو جنازے کی دعائوں میں شامل ہو گیا اور پھر قبر پر جو دعا مانگی جاتی ہے‘ اس میں بھی شامل ہو گیا تو وہ دو قیراط کا ثواب لے گیا۔ میری خوش قسمتی کہ جناب الطاف حسن قریشی صاحب کی قبر پر دعا کرانے کا اعزاز مجھے دیا گیا۔ اللہ تعالیٰ ان کی قبر کو جنت کا گلستان بنائے۔اللہ کے رسولﷺ کے فرامین کی روشنی میں مومن کے الوداعی سفر کی کیفیت کچھ یوں ہے کہ مومن کا ایک قدم جب دنیا میں ہوتا ہے اور دوسرا قدم اگلے جہان میں تو مومن کے مقام ومرتبے کے مطابق فرشتے اس کے پاس آ جاتے ہیں۔ کسی کے پاس چند فرشتے‘ کسی کے پاس سینکڑوں‘ کسی کے پاس ہزاروں‘ اور کوئی خوش قسمت ایسا بھی ہوتا ہے کہ جہاں تک مومن کی نظر جاتی ہے فرشتے ہی فرشتے نظر آتے ہیں۔ یہ بہت بڑا استقبال اور ایسا نورانی استقبال ہوتا ہے کہ دنیا کی کوئی زبان اس کی عظمت ورفعت کا حال بیان نہیں کر سکتی۔آخر پر موت کا فرشتہ آتا ہے۔ السلام علیکم کہتا ہے‘ اور سر کے پاس (سرہانے) بیٹھ جاتا ہے۔ مومن مرد یا مومن خاتون کو مخاطب کرکے کہتا ہے: اے پاکیزہ روح! اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کی جانب آ جائو۔ پاکیزہ انسان کی پاکیزہ روح خوشیوں سے سرشار ہو کر بیتاب ہو جاتی ہے کہ جسم کے اس قید خانے سے نکلے اور اپنے رب کریم کے پاس پہنچ جائے۔ اب وہ اس طرح نکلتی ہے جیسے پانی کی مشک سے ایک قطرہ ٹپک پڑتا ہے اور &#39;&#39;ملک الموت‘‘ کے ہاتھ میں آ جاتی ہے۔ جنت سے لائے گئے لباس میں یہ روح محو استراحت ہو جاتی ہے۔ اس سے کستوری کی خوشبوئیں پھوٹ پھوٹ نکلتی ہیں۔ فرشتے اسے ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں اور آسمان کی جانب محو پروازہو جاتے ہیں۔ آسمانِ دنیا کا دروازہ آتا ہے تو دربان پوچھتا ہے: کون ہے؟ روحانی مومن کا نام مع ولدیت بتایا جاتا ہے تو &#39;&#39;مرحبا‘‘ کہتے ہوئے دروازہ کھول دیا جاتا ہے۔ اسی طرح ہر دروازے سے گزر کر پروٹوکول  کے ساتھ ساتویں آسمان پر روحانی انسان پہنچتا ہے تو اس کے خالق و مالک کی جانب سے ندا آتی ہے: اے بندے! تجھ پر اللہ تعالیٰ کی رحمتیں ہوں اور اس جسم پر بھی کہ جسے تو چھوڑ آیا ہے۔ اب اللہ تعالیٰ کے حکم سے یہ روحانی مومن انسان اپنے چھوڑے ہوئے وجود کے پاس آتا ہے تو میت پہ رونے والوں کو آواز دیتا ہے کہ اس کو جلدی سے لے چلو۔ وہ اس لیے جلدی چاہتا ہے کہ کہاں ساتوں آسمانوں کے نظارے اور کہاں اس فانی دنیا کی کوڑا نما زندگی کہ جس سے جان چھوٹ گئی۔ جی ہاں! آخرکار خاکی وجود مٹی کی نذر ہوا اور مومن کے روحانی وجود کو قرار آ گیا۔لیجئے جناب! جسدِ خاکی قبر میں اتارا گیا‘ دعا کا اختتام ہوا اور لوگ چل دیے۔ اللہ تعالیٰ نے جانے والوں کے قدموں کی چاپ اپنے روحانی بندے کو بھی سنوا دی۔ دنیا سے رابطہ ختم ہوا اور اب حساب کتاب والے فرشتے آ گئے۔ مومن کے سامنے اب ایک نیا منظر ہے۔ آفتاب غروب ہونے کو ہے۔ بندۂ مومن فرشتوں سے کہتا ہے: ارے بھئی! ذرا ٹھہرو! ٹائم تھوڑا ہے‘ مجھے عصر کی نماز ادا کر لینے دو۔ اللہ اللہ! کامرانی کا یہ پہلا زینہ ہے۔ مومن نمازی ہے۔ کامران ہو گیا ہے۔ اب فرشتے پوچھتے ہیں: تیرا رب کون ہے؟ تیرا دین کیا ہے؟ تیرا نبی کون؟ وہ جواب دیتا ہے: اللہ میرا رب ہے۔ اسلا م میرا دین ہے۔ حضرت محمدﷺ میرے نبی ہیں۔ خالق و مالک کی طرف سے آواز آتی ہے: میرے بندے نے سچ کہا۔ میرا بندہ کامیاب ہو گیا۔اب اگلا منظر کچھ یوں ہے جیسے ہلکا سا اندھیرا چھا گیا ہو۔ مگر ساتھ ہی ایک انتہائی خوبصورت اور نورانی وجود سامنے آ جاتا ہے۔ اس وجود کا چہرہ بے حد روشن ہے۔ کامیاب مومن یا مومنہ کہتے ہیں: ہم اکیلے کے پاس آپ کون ہیں؟ اس قدر مونس وغمخوار‘ سراپا پیار ہی پیار۔ الفت و محبت اور نور ہی نور۔ وہ کہتا ہے: میں تمہارا نیک عمل ہوں۔ اللہ اللہ! کامیاب وکامران روحانی انسان کے سامنے اب اس کا اپنا عمل ایک نیک وجود کی صورت میں ہے۔ وہ جو انسانیت کا غمخوار بنا رہا‘ بے بسوں کے کام آتا رہا‘ بیوائوں اور یتیموں کا سہارا بنا رہا‘ چغل خوری‘ حسد‘ لالچ‘ حرام خوری اور بدگمانی سے محفوظ رہا... اللہ تعالیٰ کی طرف سے آواز آتی ہے: میرے بندے کے لیے جنت کے دروازے کھول دو۔ ریشمی بستر لگا دو۔ جی ہاں! اب علیین والے گلستانوں میں اس کو مرتبے کے مطابق اعلیٰ مقام مل جاتا ہے۔ فوت شدہ جنتی رشتہ داروں سے ملاقاتیں شروع ہو جاتی ہیں۔ جنت کے دروازے کھل کر اپنے اندر کے نظارے دکھلاتے ہیں۔ مومن کہتا ہے: اللہ کریم! قیامت قائم فرما! تاکہ میں جنت میں داخل ہو جائوں۔اے اللہ کریم! اپنے بندے الطاف حسن قریشی اور ہم سب کے پیاروں کے لیے ایسے نظارے مقدر فرما دے‘ آمین!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_68712266.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>