<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>تجارتی خسارہ، خطرے کی گھنٹی(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-06/11336</link><pubDate>Mon, 06 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-06/11336</guid><description>مالی سال 2025-26ء ایسے حالات میں اختتام پذیر ہوا جب ایک طرف معاشی استحکام کے دعوے کیے جا رہے تھے جبکہ دوسری جانب بیرونی تجارت کے اعداد وشمار تشویش میں اضافہ کر رہے تھے۔ ادارۂ شماریات کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران ملک کا تجارتی خسارہ 39.47 ارب ڈالر تک پہنچ گیا جو ایک سال پہلے کے مقابلے میں 21.57 فیصد زیادہ تھا۔ اس عرصے میں برآمدات تقریباً 30.13 ارب ڈالر رہیں‘ جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً چھ فیصد کم تھیں جبکہ درآمدات 69.6 ارب ڈالر تک جا پہنچیں۔ جون کے مہینے میں ماہانہ تجارتی خسارہ تقریباً ساڑھے چار ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا جو جون 2025ء کے مقابلے میں 57 فیصد زیادہ تھا۔ ہر حکومت برآمدات بڑھانے اور معیشت کو صارف اور درآمدی کے بجائے پیداواری اور برآمدی معیشت بنانے کے دعوے کرتی ہے مگر یہ اعداد وشمار واضح کرتے ہیں کہ ملکی معیشت بدستور درآمدات پر حد سے زیادہ انحصار کر رہی ہے اور برآمدی شعبہ مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ اگرچہ خام تیل‘ صنعتی خام مال‘ مشینری اور دیگر ضروری اشیا کی درآمدات میں اضافہ کسی حد تک معاشی سرگرمیوں کی بحالی کی علامت سمجھا جا سکتا ہے لیکن جب اس کے مقابلے میں برآمدات سکڑنے لگیں اور غیر پیداواری مقاصد کی درآمدات کا حصہ بڑھنے لگے تو تجارتی عدم توازن معیشت کیلئے بگاڑ کر سبب بنتا ہے۔

جہاں تک برآمدات میں کمی کے اسباب کی بات ہے تو اس کی کئی وجوہ ہیں‘ مثال کے طور پر صنعتی شعبہ مہنگی توانائی‘ بلند شرح سود اور ٹیکسوں کا غیر معمولی بوجھ پیداواری لاگت میں اضافہ کرتا ہے‘ اس طرح عالمی منڈی میں سخت مسابقت جیسے مسائل کا سامنا کرنا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ اسباب ٹیکسٹائل‘ چاول اور دیگر روایتی برآمدی شعبوں کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہیں۔ ملکِ عزیز کی معیشت مسلسل ایک ہی چکر میں گھوم رہی ہے‘ جب معاشی سرگرمیاں بڑھتی ہیں تو درآمدات تیزی سے بڑھنے لگتی ہیں‘ نتیجتاً زرمبادلہ پر دباؤ بڑھتا ہے‘ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ پیدا ہوتا ہے اور پھر سخت معاشی اقدامات ناگزیر ہو جاتے ہیں۔ اس صورتحال سے نمٹنے کا حل یہ ہے کہ برآمدات میں مسلسل اور پائیدار اضافہ کیا جائے اور درآمدات پر پابندیاں لگا کر نہیں بلکہ برآمدی صلاحیت کو بڑھا کر معاشی استحکام حاصل کیا جائے۔ اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ ہماری برآمدات اب بھی چند روایتی مصنوعات اور محدود منڈیوں تک مرکوز ہیں۔ ویلیو ایڈڈ مصنوعات‘ آئی ٹی کی خدمات‘ فارماسیوٹیکل‘ زرعی پراسیسنگ اور معدنی وسائل کی برآمدات میں بے پناہ امکانات ہیں مگر ان شعبوں کو وہ توجہ نہیں مل سکی جس کے یہ مستحق ہیں‘ اور برآمدی تنوع کے بغیر پاکستان عالمی منڈی میں اپنی مسابقت بہتر نہیں بنا سکتا۔
ضروری ہے کہ برآمد ی شعبے کو سستی اور بلاتعطل توانائی فراہم کی جائے‘ ٹیکس ریفنڈز بروقت ادا کیے جائیں‘ صنعتی شعبے کو جدید ٹیکنالوجی کے حصول میں سہولت اور مدد دی جائے اور نئی بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی کیلئے تجارتی سفارتکاری کو فعال بنایا جائے۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کے برآمد کنندگان کو آسان قرضے اور تکنیکی معاونت فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔ نئے مالی سال میں معاشی منصوبہ سازوں کیلئے سب سے بڑا امتحان یہی ہوگا کہ وہ برآمدات کو کس حد تک بڑھا سکتے ہیں۔ اگر برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہوا تو بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ روپے پر دباؤ‘ زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی اور بیرونی قرضوں پر انحصار کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ ضروری ہے کہ برآمدی شعبے کو ترجیح بنایا جائے‘ صنعتی اصلاحات پر عمل کیا جائے اور ویلیو ایڈیشن کو فروغ دیا جائے تاکہ ملکی معیشت کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔ درآمدی معیشت سے برآمدی معیشت کی طرف منتقلی کو ملکی معیشت کے استحکام کی بنیاد سمجھنا چاہیے کیونکہ اسی طرح معاشی خودمختاری‘ روزگار کے نئے مواقع‘ زرمبادلہ کے مضبوط ذخائر اور پائیدار اقتصادی استحکام ممکن ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>جعلی ادویہ کی روک تھام(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-06/11335</link><pubDate>Mon, 06 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-06/11335</guid><description>ملک میں ایڈز اور ہیپاٹائٹس کے پھیلائو اور جعلی اور زائد المیعاد ادویہ کی روک تھام کیلئے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی (ڈریپ) کی جانب سے ادویات پر بار کوڈ لگانے اوردوبارہ قابلِ استعمال سرنجوں کی تیاری‘ فروخت اور درآمد پر یکم جنوری سے مکمل پابندی کا اعلان وقت کی اہم ضرورت ہے۔ یہ اقدام طبی شعبے میں شفافیت لانے اور غیر معیاری مصنوعات کے سدباب میں اہم کردار ادا کرے گا۔ ادویات کے پیکٹوں پر میعاد کے حوالے سے بار کوڈ پرنٹ کرنے کی تجویز 2015ء میں سامنے آئی تھی اور 2017ء میں کابینہ نے اس کی منظوری دی تھی مگر گزشتہ آٹھ سال میں اس جانب کوئی خاص پیشرفت نہ ہو سکی حالانکہ اس دوران زائد المیعاد ادویات کو نئی تاریخ کے ساتھ مارکیٹ میں بیچنے کے کئی بڑے سیکنڈلز سامنے آئے۔

اسی طرح ایڈز اور دیگر متعدی امراض کے پھیلاؤ کی ایک بڑی وجہ سرنجوں کا غیر محفوظ اور دوبارہ استعمال دیکھا گیا ہے‘ لہٰذا اس تناظر میں یہ فیصلے اہم ہیں‘ تاہم محض قوانین بنا دینا کافی نہیں‘ اصل چیلنج ان قوانین پر سختی سے عملدرآمد کرانا ہے۔ متعلقہ انتظامیہ کو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ مقررہ مدت کے بعد مارکیٹ میں موجود تمام ادویات پر بار کوڈ موجود ہو جبکہ قابلِ تجدید سرنجوں کی فروخت پر بھی سختی سے قدغن لگانا ہو گی۔ اس کے ساتھ ساتھ ہسپتالوں اور کلینکس میں طبی آلات کو جراثیم کش بنانے کے عمل اور دیگر طبی پروٹوکولز پر بھی سو فیصد عملدرآمد یقینی بنانا ہوگا۔ عوام میں اس حوالے سے شعور بیدار کرنا بھی ناگزیر ہے تاکہ لوگ خود بھی اس حوالے سے محتاط رہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>محفوظ تعلیمی ادارے ضرور مگر…(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-06/11334</link><pubDate>Mon, 06 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-06/11334</guid><description>کاہنہ ٹیوشن سنٹر حادثے کے بعد پنجاب میں تعلیمی اداروں اور اکیڈمیوں کے خلاف کریک ڈاؤن اور نوٹسز کے اجرا کا سلسلہ تیز کر دیا گیا ہے۔ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹیز نے سات سو سے زائد تعلیمی اداروں کو حتمی نوٹس جاری کرتے ہوئے تین دن میں رجسٹریشن کرانے کی مہلت دی ہے۔ طلبہ کی حفاظت یقینی بنانے کیلئے انتظامی اقدامات بلاشبہ ناگزیر ہیں لیکن کسی ایک واقعے کی بنیاد پر سینکڑوں تعلیمی اداروں پر بندش کی تلوار لٹکا دینا بھی درست نہیں۔ یہ امر فراموش نہیں کیا جانا چاہیے کہ ان اکیڈمیوں میں لاکھوں بچے زیر تعلیم ہیں‘ جو فرسودہ سکولنگ سسٹم کی کمیوں کو پورا کرنے کیلئے ان کا رخ کرتے ہیں۔ پنجاب میں پہلے ہی ایک کروڑ سے زائد بچے سکولوں سے باہر اور تعلیم سے محروم ہیں۔

ایسے میں تعلیمی اداروں کو یکسر بند کرنے کے بجائے حکومت کو چاہیے کہ وہ رجسٹریشن کیلئے معقول ٹائم فریم دے‘ نیز رجسٹریشن کے طریقہ کار کو بھی غیر ضروری طور پر پیچیدہ بنانے کے بجائے آسان‘ سہل اور آن لائن بنایا جائے تاکہ بچوں کے تعلیمی عمل میں تعطل نہ آئے۔ مزید برآں گلی محلوں میں چلنے والے چھوٹے ٹیوشن سنٹرز اور بڑے اکیڈمی نیٹ ورکس میں فرق کو بھی ملحوظِ خاطر رکھنا چاہیے۔ ایک ہی لاٹھی سے سب کو ہانکنے سے نقصان محض غریب اور متوسط طبقے کے بچوں کا ہوگا۔ حکومت کے کسی بھی انتظامی اقدام سے تعلیمی بندش کا تاثر نہیں ابھرنا چاہیے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>علامہ محمد اسد کے خطوط(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-07-06/52243/52229907</link><pubDate>Mon, 06 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-07-06/52243/52229907</guid><description>پاکستان کی فکری تاریخ کا پہلا باب جن شخصیات کا تذکرہ کیے بغیر نامکمل ہے‘ ان میں ایک محمد اسد بھی ہیں۔ وہ پہلے آدمی ہیں جن کو پاکستان کی شہریت دی گئی اور ان کے نام پاکستان کا پہلا پاسپورٹ جاری ہوا۔ یہ باتیں کسی ایسے فرد کے لیے کوئی انکشاف نہیں جسے پاکستان کی تاریخ کے فکری پہلو سے کوئی دلچسپی ہے۔علامہ اقبال سے ان کا تعلق رہا۔ وہ ان علمی کاوشوں کا براہ راست حصہ تھے جو پاکستان کی اسلامی تشکیل کے لیے‘ ابتدا ہی میں کی گئیں۔ اکتوبر 1947ء میں پنجاب کے وزیراعلیٰ نواب افتخار حسین ممدوٹ نے &#39;محکمہ احیائے ملتِ اسلامیہ‘ قائم کیا اور انہیں اس کا سر براہ بنایا گیا۔ وہ یہودی سے مسلمان ہوئے تھے۔ جرمن نو مسلم سکالر ولفرڈ ہوف مین نے کہا تھا کہ وہ اسلام کے لیے یورپ کا تحفہ ہیں۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے چودھری نیاز علی خاں کے نام ایک خط میں محمد اسد کے بارے لکھا: &#39;&#39;دورِ جدید میں اسلام کو جتنے غنائم یورپ سے ملے‘ ان میں یہ سب سے زیادہ قیمتی ہیرا ہے‘‘۔ محمد اسد کی یہی اہمیت ہے کہ اہلِ علم ان کی شخصیت اور افکار کے بارے میں متجسس رہے۔ ان کی کتابِ زندگی کے ایک ایک ورق کو پلٹا گیا۔ ان کے افکار میں اتر کر دیکھا گیا۔ ہر بڑے عالم اور مفکر کی طرح‘ ان کے خیالات کے گرد بھی اعتراضات کے تانے بانے بُنے گئے۔ ان کی دوسری بیوی بھی زیرِ بحث رہیں جس سے شادی کے لیے انہیں پاکستان کی وزارتِ خارجہ کو چھوڑنا پڑا۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد ارشد نے ان پر بہت کام کیا۔ محمد اکرم چغتائی نے بھی دادِ تحقیق دی۔ ڈاکٹر اکرام الحق یٰسین نے بھی ان پر کام کیا‘ بالخصوص ان کے جاری کردہ رسالے &#39;عرفات‘ پر۔محمد اسد پر کیے گئے تحقیقی کام کے کئی زاویے ہیں۔ کسی شخصیت کی تفہیم میں اس کی تحریروں کے ساتھ‘ اس کے خطوط کا مطالعہ بہت اہم ہے۔ خط میں انسان کھلتا ہے‘ بالخصوص جب وہ بے تکلف احباب سے مخاطب ہوتا ہے۔ دورِ حاضر کی ٹیکنالوجی نے فرد شناسی کا یہ باب بند کر دیا۔ اب کوئی خط نہیں لکھتا۔ اسد کے دور میں مگر یہ رواج موجود تھا۔ ڈاکٹر محمد ارشد ان خطوط کی کھوج میں لگے رہے اور اسد کے 151 مکاتیب ڈھونڈ نکالے۔ ان کو شائع کر دیا گیا۔ ڈاکٹر خالد ندیم ایک قدم آگے گئے اور انہوں نے ان خطوط کا اردو میں ترجمہ کر ڈالا۔ یہ ترجمہ &#39;مکاتیبِ علامہ محمد اسد‘ کے عنوان سے شائع ہوا اور گزشتہ ایک ماہ‘ میرے زیرِ مطالعہ رہا۔ڈاکٹر خالد ندیم کا تحقیقی کام حیران کن ہے۔ اُسے دیکھ کر میں سوچتا ہوں کہ ایک آدمی اتنی عرق ریزی کیسے کر سکتا ہے؟ انہوں نے &#39;کلیاتِ نثرِ اقبال‘ مرتب کی۔ اس میں اقبال کے تمام نثری کام کو جمع کر دیا گیا ہے۔ علامہ کے مضامین‘ تقاریر‘ کتابوں پر تبصرے‘ سب اس میں شامل ہیں۔ یہ کام پہلے بھی کیا گیا مگر ڈاکٹر صاحب کی تحقیق کے اپنے امتیازات ہیں جن کے بیان کا یہ موقع نہیں۔ 1200 سے زیادہ صفحات پر مشتمل ان کا ایک کام &#39;لفظیاتِ کلامِ اقبال (اردو)‘ بھی ہے۔ اس کا خاکہ رشید حسن خاں نے تیار کیا مگر اس کی عملی صورت گری ڈاکٹر خالد ندیم کے حصے میں آئی ہے۔ ان کے وسیع علمی و تحقیقی کام کا مکمل تعارف سرِ دست مقصود نہیں‘ صرف یہ واضح کرنا پیشِ نظر ہے کہ وہ اس کام کے اہل تھے اور اسد مرحوم کے مکاتیب کا یہ ترجمہ خود اس کا گواہ ہے۔ یہ بہت رواں ترجمہ ہے جس پر اصل کا گمان ہوتا ہے۔ اس پہ مستزاد ان کی تعلیقات اور حواشی ہیں جنہوں نے اس کی افادیت میں اضافہ کر دیا ہے۔محمد اسد مرحوم نے ان خطوط میں اپنی زندگی اور افکار کے بارے میں بہت سی باتیں لکھی ہیں۔ انہوں نے بتایا ہے کہ رابطہ عالمِ اسلامی نے ان کے ترجمہ وتفسیرِ قرآن پر پابندی کیوں لگائی۔ اس پر انہوں نے اظہارِ افسوس کیا اورمعترضین کا اصل مسئلہ بیان کیا۔ پھر ان خطوط میں ان اعتراضات کا جواب دیا‘ جو ان کے خیالات یا ذات پر کیے گئے۔ انہوں نے یہ بھی لکھا کہ جب ان پر ارتداد کا الزام لگا تو ایک شخص نے استقامت کے ساتھ میرا ساتھ دیا اور میرے وقار کا دفاع کیا۔ یہ مولانا مودودی تھے‘ درآں حالیکہ میں ان کی جماعت سے کبھی وابستہ نہیں رہا اور نہ ہی انہیں میری تمام آرا سے اتفاق تھا۔ پروفیسر خورشید احمد نے محمد اسد پر اپنے مضمون میں‘ جو &#39;ترجمان القرآن‘ میں شائع ہوا‘ انہیں اپنے علمی محسنوں میں شمار کیا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ جب وہ فکری دوراہے پر کھڑے تھے تو مولانا مودودی اور علامہ اقبال کے افکار اور کتب کے ساتھ‘ اگر کسی کتاب نے ان کا ہاتھ تھاما تو وہ محمد اسد کی کتاب تھی &#39;اسلام دوراہے پر‘ (Islam at the Crossroads)۔اس پس منظر میں ڈاکٹر محمد ارشد صاحب کی یہ &#39;تحقیق‘ حیرت میں ڈالتی ہے جسے ڈاکٹر خالد ندیم نے اس ترجمے میں نقل کیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ محمد اسد نے اپنی تفسیر میں عقل پسندی کو اہم جانا۔ انہوں نے ابومسلم اصفہانی اور زمخشری جیسے معتزلیوں اور محمد عبدہٗ اور رشید رضا جیسے نو معتزلیوں سے استفادہ کیا۔ اس کے بعد وہ لکھتے ہیں: &#39;&#39;ان (کے) مخالفین میں متبحر اور ثقہ علما شامل نہیں تھے۔ ان معترضین کی اکثریت پاکستان سے تعلق رکھتی تھی اور یہ سبھی مولانا مودودی کے پیروکار تھے۔ یہ لوگ غلط سلط انگریزی میں عرب علما کو اپنے اعتراضات سے آگاہ کرتے تھے جو ان کے اپنے مخصوص نقطہ نظر کی عکاسی کرتے تھے اور وہ سیاق وسباق سے ہٹ کر کیے جاتے تھے‘‘۔ (صفحہ 274) ارشد صاحب نے اپنی اس تحقیق کے حق میں کوئی شہادت پیش نہیں کی۔ اگر وہ ایسا کرتے تو ان کا مقدمہ مضبوط ہو سکتا تھا۔ میرا احساس تو یہ ہے کہ اگر محمد اسد کی علمی حیثیت کا کسی نے اعتراف کیا تو وہ جماعت اسلامی ہی کا حلقہ تھا۔ اس پر پروفیسر خورشید احمد مرحوم کا وہ مضمون گواہ ہے جو انہوں نے اسد کی وفات پر ترجمان القرآن میں لکھا۔محمد اسد نے سیلانی طبیعت پائی تھی۔ کسی ایک جگہ ٹک کر نہیں رہے۔ ایک جگہ انہیں پسند آ گئی اور وہیں گھر بنانے کا فیصلہ کر لیا۔ اگلے خط سے معلوم ہوا کہ چند ماہ بعد ہی دل وہاں سے اچاٹ ہو گیا ہے۔ ان خطوط سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے بیٹے طلا ل اسد‘ جو خود ایک نامور سکالر تھے‘ وہ اپنے والد سے خوش تھے اور نہ والد ان سے خوش تھے۔ پاکستان سے ان کی محبت تادمِ مرگ قائم رہی‘ اگر چہ وہ ذمہ دار لوگوں سے خوش نہیں رہے۔ یہ کہا جاتا ہے کہ اقوامِ متحدہ میں پطرس بخاری کے رویے نے انہیں بہت مایوس کیا۔ ان کے خلاف جو مہم چلی‘ وہ پطرس مرحوم کو اس کا محرک سمجھتے تھے۔ اس کا اظہار انہوں نے ممتاز حسن کے نام اپنے خط میں کیا۔محمد اسد کے یہ خطوط ایک شخصیت ہی کو نہیں‘ ایک عہد کو سمجھنے میں بھی بہت مدد گار ہیں۔ یقینا ان کے علاوہ بھی مکاتیب ہوں گے جو اس مجموعے میں شامل نہیں ہو سکے۔ مثال کے طور پر پروفیسر خورشید احمد صاحب نے اپنے نام ان کے ایک خط کا ذکر کیا ہے جو اس کتاب میں شامل نہیں۔ ڈاکٹر محمد ارشد اور ڈاکٹر خالد ندیم ہمارے شکریے کے مستحق ہیں کہ ا نہوں نے عوامی پذیرائی کے شوق سے لاتعلق ہو کر‘ سنجیدہ تحقیقی کام کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا‘ جس کے نتیجے میں ہمیں ایک اہم کتاب میسر آئی۔ ہمیں ڈاکٹر خالد ندیم کی اگلی کتاب کا انتظار ہے جس میں انہوں نے علامہ اقبال پر سلیم احمد مرحوم کی تمام تحریریں جمع کر دی ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>لاہور کا تازہ واقعہ(رسول بخش رئیس)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-07-06/52244/31004720</link><pubDate>Mon, 06 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-07-06/52244/31004720</guid><description>اخبارات میں دو غیر ملکی خواتین کے ساتھ زیادتی‘ جنسی ہراسگی‘ اغوا اور حراست میں رکھنے کی کہانی ہر صفحے پر پھیلی ہوئی ہے۔ سوشل میڈیا پر طوفان مچاہوا ہے ‘ اور ظاہر ہے کہ باہر کے ملکوں میں اس بارے جو کہا اور لکھا جائے گا اس سے ہماری اجتماعی تضحیک اور بدنامی کے داغ شاید بہت دیر تک مٹ نہ سکیں۔ عجیب بات ہے کہ ان خواتین کے نام اور اُن کی شہریت تک تو اب سب کو معلوم ہے مگر ان درندہ صفت ملزمان کا نام نہیں لیا جا رہا جن کا تعلق ایک ممتاز اور طاقتور سیاسی گھرانے سے بتایا جاتا ہے۔ ویسے تو کوئی دن نہیں گزرتا جب مزدور اور غریب طبقات کی نوجوان بچیوں کے اغوا ‘ دیگر صوبوں میں فروخت اور زیادتیوں کے علاوہ ان کے قتل کی خبریں گردش نہ کرتی ہوں۔ جنسی جرائم کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے جتنی کہ رپورٹ ہوتی ہے۔ بہت سے بیچارے خاندان بدنامی کے ڈر سے خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ حالیہ سالوں میں ایسے گھنائونے جرائم میں ملوث کئی مجرم &#39;&#39;اپنے ساتھیوں کی گولیوں سے‘‘ کیفر کردار تک بھی پہنچے ہیں۔ ایسے &#39;&#39;فوری اور فیصلہ کن‘‘ اقدامات ابھی تک صرف پنجاب میں ہو رہے ہیں۔ قانون اور انصاف کے تقاضے پورے کرنے کی اہمیت اور ضرورت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا ہے مگر عوامی سطح پر جو اس وقت عدم اعتماد کی فضا ہے وہ فوری اور فیصلہ کن پالیسی کے حق میں ہے۔ دکھ کی بات تو یہ ہے کہ &#39;&#39;فوری انصاف‘‘ کے باوجود جنسی زیادتی کے واقعات پیش آ رہے ہیں‘ اور شاید ان کا یکسر خاتمہ اس وقت کے ہمارے جیسے معاشرے کی فضا میں ناممکن ہے۔ ویسے تو مغربی ممالک میں بھی‘ جہاں قانون اور انصاف کا مؤثر نظام موجود ہے‘ خواتین کے خلاف جرائم ہوتے ہیں مگر فرق یہ ہے کہ وہاں مجرم سزا سے نہیں بچ سکتے۔ اپنے معاشرے میں جنسی حیوانیت کے سماجی اور معاشی پہلوؤں کے ساتھ بگڑی ہوئی سماجی نفسیات کا جب تک ہمارے اہلِ اقتدار جائزہ نہیں لیں گے اس وقت تک کوئی بھی مؤثر حل سامنے نہیں آئے گا۔ اور اگر ملزموں کا تعلق ہی حکمران طبقے سے ہو تو پھر قانون اور پولیس اس طرح حرکت میں نہیں آتی جس طرح ہم عام لوگوں کے واقعات میں دیکھتے ہیں۔لاہور کے تازہ واقعہ میں ابھی تک پولیس کا کردار ٹھیک ہے۔ ٹریفک کے اس سپاہی کو داد ملنی چاہیے جس نے فوری طور پر ون فائیو پر کال کرکے پولیس کی مدد طلب کی اور پولیس وہاں پہنچی۔ جو خبروں میں ہے ‘ اس کے مطابق ان خواتین کو ایک مکان سے دوسری جگہ منتقل کیا جا رہا تھاکہ راستے میں انہوں نے شور مچایا اور بوکھلاہٹ میں شاید گاڑی ٹکراتے ٹکراتے بچی مگر جب رفتارآہستہ ہوئی تو وہ دروازہ کھول کر بھاگ نکلیں۔ وہ اتنی خوفزدہ تھیں کہ پولیس پر بھی اعتماد کرنے کے لیے تیار نہ تھیں مگر اعلیٰ افسران اور خواتین پولیس آفیسرز کے وہاں پہنچنے پر انہیں اطمینان ہوا۔ ابھی تو مقدمہ درج ہوا ہے‘ بیانات قلمبند ہوئے ہیں‘ آگے دیکھیں کیا ہوتا ہے۔ معاملے کو اب نہ تو دبایا جا سکتا ہے‘ نہ ہی مٹی پاؤ اور آگے نکل جاؤ کا حربہ کام آئے گا۔ پتا نہیں‘ کم از کم آج کے دن میرے دل میں کچھ اعتماد کی لہر کیوں اُٹھ رہی ہے۔ کئی دفعہ ہمیں اپنی خوش فہمیوں پر بعد میں افسوس بھی ہوا ہے۔ نظام تو وہی پرانا ہے‘ ادھر اُدھر درستی کی نعرے بازی سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔ اس لیے یہ سوال اپنی جگہ پر موجود ہے کہ ان ملزمان کو قرار واقعی سزاملے گی یا چور دروازوں سے صلح صفائی ہو جائے گی۔ وزیراعلیٰ صاحبہ کی ایسے واقعات کے خلاف مؤثر کارروائی کے حوالے سے شہرت ہے۔ اسے برقرار رکھنے کے لیے تازہ واقعہ ایک ٹیسٹ کیس ہو گا۔ لوگ دیکھنا چاہیں گے کہ طاقتور اور بااثر خاندانوں کے لوگ پتلی گلی سے نکل جاتے ہیں یا قانون کا شکنجہ انہیں بھی عام لوگوں کی طرح کس کر کیفر کردار تک پہنچاتا ہے۔اس سے پہلے کہ سماجی نفسیات کی بابت کچھ کہوں‘ دو مشہور واقعات ذہن میں آتے ہیں۔ ایک ہمارے وقت کی مشہور ہیروئن شبنم کا کیس اور دوسرا ریمنڈ ڈیوس کی ڈرامائی رہائی کا ہے۔ اس لیے حیرانی نہیں ہو گی کہ کل ہم اخباروں میں پڑھیں کہ راضی نامہ ہو گیا ہے اور خواتین کے دل میں اب کوئی رنجش نہیں ہے۔ یہاں سماجی نقصانات کے حوالے سے دو ضروری باتیں لاہور کے تازہ واقعے کو سمجھنے کے لیے عرض کر دیتا ہوں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ہمارے ہر سطح اور طبقے کے لوگوں کا جس میں کسی پیشے اور سماجی پس منظر کی تخصیص نہیں‘ خواتین کے بارے میں انتہائی منافقانہ رویہ ہے۔ اپنی خواتین کی عزت کے لیے تو جان دینے کے لیے بھی تیار ہو جاتے ہیں مگر جب دوسروں کی بات آتی ہے تو سب کچھ جائز سمجھتے ہیں‘ بلکہ اپنی محفلوں میں فخر سے برملا اپنی ایسی کارروائیوں اور کمزوروں کے استحصال کا ذکر کرتے ہیں۔ گزشتہ مضمون میں فون کی عادت کے حوالے سے ایک سوال چھوڑا تھا کہ آخر گھنٹوں آنکھیں ٹکائے ان پڑھوں سے لے کر تعلیم یافتہ افراد تک کیا دیکھتے رہتے ہیں؟ خرافات کے علاوہ اور کیا ہو سکتا ہے؟ اور اب تک سٹائل اور طرزِ زندگی کے نام پر اشتہار بازی کے ذریعے سب کچھ بکتا ہے۔ سائبر کی دنیا خیالی دنیا ہے مگر اس میں انسانی صورتوں کا رنگ بھرنے سے حقیقت کا گماں پیدا کیا جا سکتا ہے۔ جہاں شعور سطحی اور ناپختہ ہو وہاں نتائج بے راہ روی کے سوا اور کیا ہو سکتے ہیں؟مغربی معاشروں کے بارے میں اور وہاں کی خواتین کے متعلق ہمارے ملک میں گمراہ کن نوعیت کے خیالات پیدا کیے گئے ہیں۔ اپنی معاشرتی پاکیزگی کے تو ترانے گائے جاتے ہیں‘ جن کا جنازہ ہر آئے دن لاہور کے تازہ واقعات جیسی خبروں کے ذریعے نکلتا رہتا ہے۔ مغربی دنیا کی خواتین کا ہمارے عام لوگوں‘ جن میں وہ بھی شامل ہیں جو اکثر وہاں کے دورے کرتے رہتے ہیں‘ کے ذہنوں میں جو تصور بنتا ہے وہ یہ ہے کہ بس قدم بڑھانے کی ضرورت ہے‘ وہ تو ہوتی ہی فلرٹ ہیں۔ حماقت‘ توہینِ ذات اور شخصی گراوٹ دیکھنی مقصود ہو تو آپ کو معاشرے کے مردوں کی اکثریت کی سماجی نفسیات میں جھانک کر اس کا نظارہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے ہاں وعظ ونصیحت‘ بزرگوں کے قصے اور پرانی تاریخ کے واقعات تو تواتر سے سنائے جاتے ہیں مگر ضبطِ نفس‘ زندگی میں توازن اور نظم کی روایات جڑ نہیں پکڑ سکیں۔ اس درویش کی یہ رائے رہی ہے کہ جدید معاشرو ں میں انسانوں کو ضبط میں رکھنے کے لیے قانون‘ انصاف‘ عدالتیں اور جدید ریاست کی عملداری بنیادی عوامل ہیں۔ اس کے ساتھ مؤثر اخلاقی تعلیم‘ خاندانی ماحول اور بامقصد زندگی گزارنے کی حکمت انتہائی ضروری ہے۔ معاشرے کے اخلاق اوپر والوں کی طاقت‘ رویوں اور طرزِ حکمرانی سے بے حد متاثر ہوتے ہیں۔ وہ جنہیں ہم ہیرو اور رول ماڈل اور معتبر شخص کے طور پر زندگی کے مختلف شعبوں میں دیکھتے ہیں‘ ان کا طرزِ عمل جوان نسل کو متاثر کرتا ہے۔ اب کیا کہیں‘ کس کا رونا روئیں کہ سب کے قصے کہانیاں‘ دراصل حقیقی واقعات دنیا میں کتابوں‘ رسالوں اور اخباروں کے صفحوں میں محفوظ ہو چکے ہیں۔ حکمرانوں کی ماضی کی بداعمالیوں خصوصاً کرپشن نے جو ملک کی بدنامی کی ہے‘ اس کے ساتھ دہشت گردی اور خواتین کے خلاف جرائم نے ہماری قومی شناخت اور وقار کو اور بھی نقصا ن پہنچایا ہے۔ لاہور کا تازہ واقعہ‘ اگر ملزم سزا سے بچ نکلے تو شاید قومی تشخص کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچانے کا باعث بنے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_33241568.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>صنعت کو سانس لینے دیں(میاں عمران احمد)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mian-imran-ahmad/2026-07-06/52245/17360640</link><pubDate>Mon, 06 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mian-imran-ahmad/2026-07-06/52245/17360640</guid><description>فیفا ورلڈ کپ دنیا کا سب سے بڑا کھیلوں کا مقابلہ ہے۔ فیفا دنیا کی سب سے بڑی سکرین بھی ہے۔ ہر چار سال بعد چار سے پانچ ارب لوگ ان مقابلوں میں ایک گیند کو دیکھتے ہیں۔ اور وہ گیند ایک مرتبہ پھر سیالکوٹ میں بنائی گئی ہے۔ 1982ء کے ورلڈ کپ کی ٹینگو اسپینا سے لے کر 1986ء کی ازٹیکا‘ 1990ء کی ایٹروسکو یونیکو‘ 1994ء کی کوئسٹرا‘ 1998ء کی ٹرائی کولور‘ 2002ء کی فیورنووا‘ 2006ء کی ٹیم گائسٹ‘ 2010ء کی جابولانی‘ 2014ء کی برازوکا‘ 2018ء کی ٹیلسٹار 18‘ 2022ء کی الرِحلہ اور 2026ء کی ٹریونڈا تک ورلڈ کپ کی تاریخ کی کئی یادگار گیندوں کے ساتھ سیالکوٹ کا نام بھی عالمی فٹ بال کی تاریخ سے جڑا رہا ہے۔ ان ناموں کے پیچھے پاکستانی مزدور ہیں۔ پاکستانی صنعتکار ہیں اور پاکستانی برآمد کنندگان ہیں۔ سیالکوٹ دنیا میں استعمال ہونے والی تقریباً 70 فیصد فٹ بالز تیار کرتا ہے۔ شہر سے سالانہ تقریباً چھ کروڑ فٹ بال برآمد کیے جاتے ہیں جبکہ ان کی برآمدی مالیت 18 سے 22 کروڑ ڈالر کے درمیان رہتی ہے۔ صرف جولائی 2025 ء سے اپریل 2026ء کے دوران سیالکوٹ نے تقریباً چار کروڑ 80 لاکھ فٹ بال برآمد کیے جن سے 22 کروڑ ڈالر سے زائد زرمبادلہ حاصل ہوا۔ پاکستان کی مجموعی سپورٹس گڈز برآمدات بھی مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ مالی سال 2025-26ء کے پہلے نو ماہ میں سپورٹس گڈز کی برآمدات 31 کروڑ 90 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئیں جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 13 فیصد زیادہ تھیں۔ صرف فٹ بال کی برآمدات ہی تقریباً 19 کروڑ 70 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئیں جو سالانہ بنیاد پر تقریباً 18 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ پاکستان فٹ بال بنا سکتا ہے یا نہیں‘ اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان پچاس نئے سیالکوٹ بنا سکتا ہے؟ اگر ایک شہر دنیا کی 70 فیصد فٹ بالز تیار کر سکتا ہے تو دوسرا شہر آئی ٹی خدمات کا عالمی مرکز کیوں نہیں بن سکتا؟ بلوچستان معدنیات‘ خیبر پختونخوا انجینئرنگ مصنوعات‘ سندھ فوڈ پروسیسنگ اور پنجاب ایگرو ٹیکنالوجی میں عالمی ویلیو چین کا حصہ کیوں نہیں بن سکتے؟ سیالکوٹ کی کامیابی کے بعد یہ کہنا شاید غلط نہیں کہ پاکستانی مزدور عالمی معیار کا کام کر سکتا ہے‘ پاکستانی صنعتکار عالمی مقابلے میں کامیاب ہو سکتا ہے اور پاکستانی مصنوعات دنیا کے سب سے بڑے سٹیج تک پہنچ سکتی ہیں۔وزیراعظم شہباز شریف نے استنبول میں ترک صدر رجب طیب اردوان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ پاکستان اور ترکیہ دو دل‘ ایک جان ہیں اور دونوں ممالک کے معاشی تعلقات ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان سالانہ تجارتی حجم پانچ ارب ڈالر تک بڑھایا جائے گا۔ اس وقت دونوں ممالک کے درمیان تجارت تقریباً 1.4 سے 1.5 ارب ڈالر کے قریب ہے‘ جس کا مطلب ہے کہ 5 ارب ڈالر کا ہدف حاصل کرنے کے لیے تجارت کو تقریباً تین گنا بڑھانا ہوگا۔ یہ اہداف حاصل ہو پاتے ہیں یا نہیں اس بارے کچھ کہنا قبل از وقت ہے لیکن ترکیہ سے معاشی پالیسیز کے حوالے سے کچھ سیکھا جا سکتا ہے۔ ترکیہ نے مینوفیکچرنگ کمپنیوں کے لیے کارپوریٹ ٹیکس 25 فیصد سے کم کرکے 12.5 فیصد کر دیا ہے۔ ساتھ ہی بیرونِ ملک موجود سرمایہ وطن واپس لانے کی سہولت دی گئی ہے جبکہ پاکستان کا راستہ اس کے برعکس نظر آتا ہے۔ پاکستان میں کارپوریٹ ٹیکس کی بنیادی شرح 29 فیصد ہے جبکہ سپر ٹیکس کے بعد بڑی کمپنیوں پر یہ بوجھ 39 فیصد تک پہنچ جاتا ہے۔ بینکوں کے لیے یہ شرح 49 فیصد تک جا سکتی ہے۔ مختلف ٹیکسوں کو ملا کر بعض کاروباروں پر مؤثر بوجھ 50 سے 60 فیصد کے قریب پہنچ جاتا ہے۔ نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔ پاکستان کی برآمدات گزشتہ مالی سال میں تقریباً 32 ارب ڈالر رہیں جبکہ ترکیہ کی برآمدات 260 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں۔ ترکیہ کی معیشت کا حجم تقریباً 1.3 ٹریلین ڈالر ہے جبکہ پاکستان کی معیشت تقریباً 410 ارب ڈالر کے قریب ہے۔ دنیا بھر میں ممالک سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے ٹیکس کم کر رہے ہیں۔ ترکیہ‘ پرتگال‘ بھوٹان اور دیگر ممالک کا مقصد یہی ہے کہ کاروبار کو سزا نہیں بلکہ ترغیب دی جائے۔ پاکستان میں صورتحال یہ ہے کہ دستاویزی اور ٹیکس ادا کرنے والے صنعتی شعبے مسلسل زیادہ بوجھ اٹھا رہے ہیں جبکہ معیشت کا ایک بڑا غیر دستاویزی حصہ ٹیکس نیٹ سے باہر ہے۔ پاکستان کو اپنی ترجیحات پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر برآمدات کو  60 یا 100 ارب ڈالر تک لے جانے کا خواب ہے تو فیکٹریوں کو ایک شکار نہیں بلکہ ترقی کا ذریعہ سمجھے جانے کی ضرورت ہے۔پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت جو ملک کی سب سے بڑی برآمدی صنعت ہے‘ ایک نئے بحران سے دوچار ہے۔ رواں سال جننگ سیزن شروع ہونے کے صرف ایک ماہ بعد سندھ کے ٹنڈو آدم سمیت کئی علاقوں میں جننگ فیکٹریاں بند ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ کپاس اور اس سے متعلقہ مصنوعات پر عائد 18 فیصد سیلز ٹیکس ہے جسے بجٹ میں کم نہیں کیا گیا۔ اعداد و شمار صورتحال کی سنگینی ظاہر کر رہے ہیں۔ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کے سپاٹ ریٹ ایک جھٹکے میں 4000 روپے کم ہو کر 17500 روپے فی من رہ گئے۔ پنجاب میں کپاس کی قیمت 5000 روپے کمی کے بعد 17800 روپے فی من تک گر گئی جبکہ سندھ میں قیمت 17500 روپے فی من تک آ گئی ہے۔ اسی طرح پھٹی کی قیمت 4800 روپے سے کم ہو کر 3400 روپے فی من اور کھل کی قیمت 5200 روپے سے گر کر 3500 روپے فی من رہ گئی ہے۔ پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات سالانہ 16 سے 17 ارب ڈالر کے درمیان ہیں اور ان کا انحصار بڑی حد تک مقامی کپاس پر ہوتا ہے۔ ایسے میں کپاس کی قیمتوں میں اچانک گراوٹ پورے ویلیو چین کو متاثر کر سکتی ہے۔ گزشتہ سیزن میں تقریباً 70 لاکھ گانٹھوں کی پیداوار ہوئی لیکن سرکاری ریکارڈ میں صرف 55 لاکھ گانٹھیں درج ہو ئیں یعنی تقریباً 15 لاکھ گانٹھیں غیر دستاویزی رہیں۔ زیادہ ٹیکس کی وجہ سے کاروبار کا ایک حصہ غیر رسمی معیشت کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔ حکومت کا مقصد ٹیکس وصولی بڑھانا ہے لیکن اگر اس کے نتیجے میں فیکٹریاں بند ہوں‘ کسانوں کو کم قیمت ملے اور کاروبار دستاویزی نظام سے باہر چلا جائے تو پالیسی اپنے مقاصد حاصل نہیں کر پاتی۔ کپاس کا شعبہ پہلے ہی موسمیاتی تبدیلی‘ شدید گرمی اور کم پیداوار جیسے مسائل کا شکار ہے ایسے میں ٹیکس کا اضافی بوجھ بحران کو مزید گہرا کر رہا ہے۔سٹیٹ بینک نے دو مراعاتی سکیمیں‘ سوہنی دھرتی ریمیٹنس پروگرام (SDRP) اور ٹیلی گرافک ٹرانسفر چارجز انسینٹو سکیم (TTCIS) بھی ختم کر دی ہیں۔ یہ وہ سکیمیں تھیں جن کے تحت بینکوں اور مالیاتی اداروں کو زیادہ ترسیلاتِ زر لانے پر اربوں روپے کی مراعات دی جاتی تھیں۔ مالی سال 2025ء میں پاکستان کو تقریباً 40 ارب ڈالر کی ترسیلاتِ زر موصول ہوئیں جبکہ رواں مالی سال میں یہ رقم 41 سے 42 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔ برآمدات تقریباً 32 ارب ڈالر ہیں۔ اس وقت ملک میں ڈالر لانے کا سب سے بڑا ذریعہ ترسیلاتِ زر ہے۔بینک اس پالیسی کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں جبکہ دوسری جانب بینکوں نے 2025ء میں تقریباً 640 ارب روپے منافع کمایا ہے۔ ان مراعات کے خاتمے سے بینکوں کی مجموعی کارکردگی پرمنفی اثرات پڑنے کے امکانات کم ہیں۔ آئی ایم ایف کا مؤقف ہے کہ جب ترسیلاتِ زر پہلے ہی ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہیں تو بینکوں کو دی جانے والی مراعات کا جواز کمزور ہو جاتا ہے۔ اسی لیے حکومت نے یہ اخراجات کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اصل سوال یہ ہے کہ کیا مراعات ختم ہونے کے بعد بھی ترسیلاتِ زر بڑھتی رہیں گی؟ اگر آئندہ سال بھی ترسیلات 42 ارب ڈالر کے قریب پہنچ جاتی ہیں تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس کامیابی کے اصل محرک بیرونِ ملک پاکستانی ہیں نہ کہ بینکوں کو دی جانے والی مراعات۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/212_71532147.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کیا پاک بھارت جنگ ٹل گئی؟(سعود عثمانی )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-07-06/52246/80003706</link><pubDate>Mon, 06 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-07-06/52246/80003706</guid><description> بظاہر وہ مہیب سایہ جس کا نام پاک بھارت جنگ ہے‘ دونوں ملکوں کے سر سے ہٹتا دکھائی دیتا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ آئندہ جنگ کا خدشہ نہیں رہا۔ مطلب صرف یہ ہے کہ وہ جو آپریشن سندور 2 کی بار بار دھمکی دی جا رہی تھی اور جون جولائی 2025ء میں ایسا لگتا تھا کہ یہ صرف دھمکی نہیں ہے‘ اب پس منظر میں چلی گئی ہے۔ اپنے عوام کو مطمئن رکھنے کے لیے جو بھی سرکاری بیانات دیے جائیں یا راج ناتھ اور امیت شاہ جو بھی سخت بیانات داغیں‘ عملی طور پر صورت حال یہ ہے کہ بھارت کے پاس دوبارہ رابطوں اور بات چیت کے علاوہ آپشن بہت محدود ہو چکے ہیں۔سوا سال پہلے کا پاک بھارت منظر ذہن میں لائیے۔ کیا ٹھنا ٹھنی اور جنگی صورت حال تھی۔ پہلگام واقعے کے بعد کشیدگی عروج پر پہنچی اور چار روزہ جنگ میں تبدیل ہو گئی۔ جنگ ختم ہوئی لیکن تناؤ مہینوں چلتا رہا۔ اس حد تک کہ کہا جاتا تھا کہ دوبارہ کسی وقت بھی جنگ شروع ہو جائے گی۔ بھارت کی طرف سے آپریشن سندور 2 کی بات مسلسل کی جا رہی تھی۔ پاکستان بھی تیزی سے اپنی تیاری کرتا دکھائی دے رہا تھا۔ یہ سب منظر آپ کے ذہن میں تازہ ہوں گے۔ لیکن حالات اتنی تیزی سے تبدیل ہوئے ہیں کہ اب میرے خیال میں براہ راست جنگ کا خطرہ بہت کم ہوگیا ہے۔ اگرچہ کنٹرول لائن پر چھیڑ چھاڑ‘ پراکسی جنگ اور داؤ پیچ چلتے رہیں گے لیکن براہ راست جنگ کا مہیب سایہ میرے خیال سے کافی دور ہٹ گیا ہے۔ اس کی وجہ بھارت کے عزائم اور نیت میں تبدیلی نہیں بلکہ اس کی بیرونی اور اندرونی مجبوریاں ہیں۔ انہی کے ساتھ سیاسی عدم ضرورت بھی۔ انہی کے باعث مودی حکومت چاہتی ہے کہ وہ خواہ عوام میں اپنا سخت تاثر بنائے رکھے لیکن درون خانہ اپنے مؤقف میں اتنی نرمی لے آئے کہ کسی حد تک رابطے اور راستے بحال ہو سکیں۔ بھارتی حکومت کی مجبوریاں اپنی جگہ لیکن ان کے ساتھ ایک اور اہم سچائی ہے۔ مودی حکومت ہمیشہ انتخابات جیتنے ا ور سیاسی فائدیاٹھانے کے لیے پاکستان سے جنگ کا ڈول ڈالتی ہے‘ اور ہمیشہ اس حکمت عملی کا انتخابی فائدہ بھی ہوتا ہے۔ اب کوئی نئے انتخاب سامنے نہیں ہیں اس لیے مودی حکومت کو ضرورت بھی نہیں ہے کہ وہ جنگ کا طبل بجائے۔ کیا آپ نے سوچا کہ یہ اچانک کیا ہوا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مکالمے کی فوری ضرورت اور رابطے بحال کرنے کی باتیں ہونے لگیں؟ مزید حیرت یہ کہ یہ آوازیں سب سے پہلے بھارت کے انتہا پسند حلقوں کی طرف سے اٹھی ہیں۔ کولمبو سری لنکا میں غیر سرکاری یا یوں کہہ لیجیے کہ نیم سرکاری وفود کی بات چیت بھی ہوئی۔ یہ خبریں بھی آئیں کہ سندھ طاس معاہدہ بحال کرنے اور پاکستانی فضائی حدود کھولنے پر گفتگو ہو رہی ہے۔ بھارت نے یہ کہا ہے کہ بات چیت سرکاری سطح پر نہیں ہو رہی لیکن اس نے بات چیت کا انکار نہیں کیا۔پہلی بات تو یہ ہے کہ مئی 2025ء کے بعد کی صورتحال پر نظر ڈالیں تو اصل مجبوریاں بھارت کی نظر آتی ہیں۔ پاکستان پر معاشی دباؤ اپنی جگہ اور سیاسی اور اندرونی خلفشار سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن یہ معاملات مئی 2025ء کی نسبت بہتر ہو چکے ہیں۔ اگر پاکستان اس وقت بھارت جیسی سات گنا بڑی طاقت سے نہیں ڈرا تو اب یہ خیال نہیں کیا جا سکتا کہ وہ سٹرٹیجک فاتح کی حیثیت میں ابھرنے کے بعد کسی بھارتی دباؤ میں آئے گا۔ خاص طور پر تب جب سیاسی اور عسکری قیادت پہلے سے بہتر پوزیشن پر ہے۔ اس لیے پاکستان کی طرف کوئی ایسی مجبوری نظر نہیں آتی جس کے دباؤ میں وہ اپنا مؤقف تبدیل کرے بلکہ اس کے برعکس میرا خیال یہ ہے کہ پاکستان کو بھارتی مجبوریوں کا ادراک کرتے ہوئے اپنی بہتر پوزیشن کا فائدہ اٹھا کر ایسی باتیں منوانی چاہئیں جو مئی 2025ء سے پہلے منوائی نہیں جا سکتی تھیں۔ یہ بھارتی مجبوریاں کیا ہیں‘ اس پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔  بھارتی مؤقف اپنی جگہ کہ یہ معاملات صرف پاک بھارت کے بیچ ہیں لیکن اس بات پر تقریباً تمام بین الاقوامی تجزیہ کار متفق ہیں کہ عالمی طاقتیں کسی صورت جنوبی ایشیا میں جنگ نہیں چاہتی تھیں۔ اس لیے عالمی دباؤ نے بھارت کو مجبور کیا ہوا ہے۔ دوسری طرف مئی 2025ء میں دنیا کو ادراک ہوا کہ پاکستان ایک مؤثر جنگی طاقت ہے جو روایتی جنگ میں رہتے ہوئے بھی بھارت کو سخت نقصان پہنچا سکتا ہے۔ پہلی مرتبہ بین الاقوامی دفاعی تجزیوں میں یہ بات نمایاں ہوئی کہ پاکستان نے محدود وقت میں مؤثر جوابی کارروائی کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔ بین الاقوامی اداروں کے مطابق جنوبی ایشیا میں ڈیٹرنس (Deterrence) کا توازن پہلے سے زیادہ نمایاں ہو گیا ہے۔ یہ ادراک دنیا کی بڑی طاقتوں کو اس سے پہلے بہت کم تھا؛ چنانچہ بھارت کو پاکستان کے سخت جواب نے جنوبی ایشیا میں ایک نیا فوجی توازن پیدا کیا۔ بھارت نے دنیا بھر میں اپنے جو وفد بھیجے تاکہ پاکستان کے خلاف رائے حاصل کی جا سکے‘ اُس کا فائدہ نہیں ہوا۔ یہ ایک سفارتی شکست تھی اور اس نے بھارت پر دباؤ بڑھا دیا۔ اسی دوران پاکستان کی سفارتی کامیابیوں اور امریکہ‘ روس‘ چین اور دیگر عالمی طاقتوں کے قریب ہو جانے نے بھارت کو ایک کونے میں دھکیل دیا۔ یہ عالمی دباؤ بھارت کے لیے نیا تھا ورنہ بھارت کی اہمیت عالمی ممالک میں تسلیم شدہ تھی لیکن اس سوا سال میں پاکستان نے تیزی سے اپنا قد بڑھایا اور امریکہ‘ ایران جنگ میں ثالث کا کردار ادا کرکے دنیا کی پسندیدگی حاصل کی؛ چنانچہ حالات مئی 2025ء کے حالات سے یکسر مختلف نظر آتے ہیں۔ موجودہ صورت حال میں عالمی دنیا سے پاکستان کے خلاف محاذ آرائی میں بھارت کو حمایت نہیں مل سکتی۔دوسرا دباؤ عسکری ہے۔ مئی میں بھارت کے زبردست نقصان کو اگرچہ چھپانے کی پوری کوشش کی گئی لیکن دنیا بھر میں اور خود بھارت میں اس کا چرچا مسلسل جاری ہے۔ عسکری حلقوں نے خود ان طیاروں کے نقصانات کا اعتراف کیا۔ حال ہی میں مئی 2025ء میں بھارتی فوجیوں کی ہلاکتوں کے اعتراف اور ان کے ناموں نے یہ نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ راج ناتھ نے اُن دنوں پارلیمنٹ میں یہ کیوں کہا تھا کہ بھارت کا کوئی فوجی نقصان نہیں ہوا۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اب بھی حقائق پوری طرح بیان نہیں کیے جا رہے۔ بھارتی فضائیہ کی خاص طور پر جو بھد اڑی اور جسے اعلیٰ افسر لفظوں کے بیچ چھپانے کی کوشش کرتے رہے‘ اس سے فوج کا مورال بہت نیچے آیا۔ اسی سے جڑا ہوا ایک معاملہ بھارتی فضائیہ کی موجودہ کمزوریاں ہیں جو مئی 2025ء کے بعد بہت کھل کر سامنے آ چکی ہیں۔ اس صورتحال میں آئی اے ایف کسی نئی جنگ کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ دوسری طرف پاکستان چینی جے 35 سٹیلتھ طیارے حاصل کر رہا ہے اور میزائل پروگرام بھی تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ یہ طاقتیں جوہری طاقت کے ساتھ اضافی ہیں۔ اس کے نتیجے میں بھارت کے اندر بھی یہ احساس پیدا ہوا ہے کہ آئندہ کسی بڑی عسکری کارروائی کی قیمت پہلے سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔اس صورتحال کا اندازہ صرف سیاسی اور فوجی حلقوں کو نہیں بلکہ معاشرے کے دوسرے طبقات کو بھی ہے۔ آر ایس ایس کے سیکرٹری جنرل دتاتریہ ہوسابلے کا یہ بیان کہ پاک بھارت مذاکرات شروع ہونے چاہئیں‘ ایک اشارہ محسوس ہوتا ہے جو بھارتی حکومت کے ایما پر دیا گیا ہے۔ ورنہ آر ایس ایس جیسی مسلم و پاکستان دشمن جماعت کے نظریات کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسی طرح حالیہ دنوں متعدد ممتاز پاکستانی اور بھارتی شخصیات نے دونوں حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ مذاکرات دوبارہ شروع کیے جائیں‘ سفارتی روابط بحال ہوں اور اعتماد سازی کے اقدامات کیے جائیں۔ اس اپیل میں دونوں ممالک کے سابق سیاستدان‘ دانشور اور سماجی رہنما شامل تھے‘ جو اس بات کی علامت ہے کہ سول سوسائٹی کی سطح پر بھی جنگ کے بجائے مکالمے کی خواہش موجود ہے۔ لیکن بھارتی مؤقف کی تبدیلی میں سیاسی‘ فوجی‘ اور عالمی دباؤ کے ساتھ ساتھ بہت اہم وجہ معاشی دباؤ بھی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_81278520.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مشرق وسطیٰ، دفاع اور سکیورٹی کے نئے منصوبے(ڈاکٹر رشید احمد خاں)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr-rasheed-ahmad-khan/2026-07-06/52247/83600565</link><pubDate>Mon, 06 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr-rasheed-ahmad-khan/2026-07-06/52247/83600565</guid><description>ایران کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کی حالیہ جنگ کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں جو نئی جیو پولیٹکل حقیقتیں کھل کر سامنے آئی ہیں ان میں سب سے نمایاں یہ ہے کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد ہوائی‘ بحری اور زمینی افواج کے وسیع اڈوں اور اردگرد کے سمندروں میں تین بحری بیڑوں کی مستقل موجودگی کے باوجود امریکہ خطے بالخصوص خلیج فارس میں اپنے اتحادیوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہا۔ ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی لگاتار اور بھاری بمباری کے باوجود ایران نے خطے میں امریکہ کی کم از کم 20 دفاعی تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔ ان میں بعض تنصیبات قطر‘ کویت‘ متحدہ عرب امارات‘ بحرین اور سعودی عرب میں قائم تھیں۔ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایران کی طرف سے کی گئی کارروائیوں میں ان ملکوں کی اپنی سول اور معاشی تنصیبات کو بھی سخت نقصان پہنچا۔ خطے میں قائم کردہ امریکی دفاعی نظام کا مقصد آبنائے ہرمز کے راستے تیل اور گیس کی برآمد کا تحفظ یقینی بنانا تھا مگر امریکہ اپنی جنگی قوت کے باوجود ایران سے اس اہم آبی گزرگاہ کو کھلوا نہیں سکا۔ نتیجتاً بین الاقوامی منڈی میں نہ صرف تیل اور گیس کی کم سپلائی کا بحران پیدا ہوا بلکہ خلیج فارس کی عرب ریاستوں کی معیشتیں سنگین خطرات سے دوچار ہو گئیں۔  اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے خلیج فارس کی عرب ریاستوں نے اپنے تحفظ کے لیے متبادل ذرائع تلاش کرنا شروع کر دیے ہیں کیونکہ حالیہ جنگ کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچی ہیں کہ اپنے دفاع اور تحفظ کے لیے وہ امریکہ پر انحصار نہیں کر سکتیں۔ اس سلسلے میں مختلف تجاویز سامنے آ رہی ہیں۔ امریکہ کی طرف سے بھی نہ صرف خلیج فارس بلکہ مشرق وسطیٰ کے پورے خطے کے لیے ایک نئے دفاعی اور سکیورٹی نظام کی تشکیل کے لیے اقدامات زیر غور آ رہے ہیں۔ حال ہی میں بحرین کی میزبانی اور امریکی سینٹرل کمانڈ کی قیادت میں ایک سکیورٹی کانفرنس بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ اس سے قبل امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ مارکو روبیو نے بحرین ہی میں امریکہ اور خلیج تعاون کونسل (GCC) کے دفاعی اہلکاروں کی ایک کانفرنس کی صدارت کی تھی۔امریکی سینٹرل کمانڈ کے تحت 2 جولائی کو ہونے والی علاقائی سکیورٹی کانفرنس کی طرح 25 جون کو ہونے والی خلیج تعاون کونسل کی کانفرنس کا فوکس بھی آبنائے ہرمز پر ایرانی کنٹرول کے خاتمے اور آبی گزرگاہ سے بلا روک ٹوک اور کمرشل جہازوں کی آزادانہ آمد و رفت تھا۔ ایران نے دونوں کانفرنسوں کے اعلامیہ میں درج مقاصد کو رد کیا ہے اور صاف اعلان کیا ہے کہ خلیج فارس کے خطے میں دفاع اور تحفظ کی ضمانت  صرف اس خطے کے ممالک ہی دے سکتے ہیں‘ باہر سے کسی ملک کا اس میں کوئی کردار نہیں۔ مشرق وسطیٰ میں تجویز کیے جانے والے دفاعی سٹرکچر کی کیا نوعیت ہے‘ اور یہ پرانے نظام کو کس حد تک تبدیل کر سکتا ہے‘ اس کا جائزہ لینے سے یہ بتانا ضروری ہے کہ پرانا نظام کیونکر ناکام ہوا۔ دوسری جنگ عظیم سے قبل مشرق وسطیٰ اور خلیج فارس کے خطے میں بیرونی دفاع اور اندرونی سلامتی کی ذمہ داری برطانیہ اور فرانس (شام اور لبنان میں فرینچ مینڈیٹ تھا) کے پاس تھی۔ ان ذمہ داریوں کو نبھانے کے لیے جو نظام (خصوصاً برطانیہ نے) قائم کیا گیا تھا اس کی ابتدائی شکل کا سہرا پرتگیزی جنرل الفانسو ڈی البوقرق (Afonso de Albuquerque) کو جاتا ہے‘ جس نے پندرہویں صدی کے آغاز میں آبنائے ہرمز کی اہمیت کو پہچانتے ہوئے جریزہ سوکوترااور پھر 1507ء میں ہرمز کے جزیرے اور پھر مشرق میں آبنائے ملاکا پر قبضہ کر لیا۔ پرتگیزیوں نے یہ دفاعی نظام اپنی حریف یورپی طاقت ہالینڈ (نیدرلینڈز) کو بحر ہند کے خطے میں اپنی سلطنت قائم کرنے سے روکنے کے لیے قائم کیا تھا اور یہ سٹرٹیجک پلان اتنا مؤثر تھا کہ پرتگیزی مغرب میں بحیرہ عرب سے لے کر مشرق میں خلیج بنگال تک‘ ایک لمبے عرصہ تک ان پانیوں میں اپنی سلطنت قائم رکھنے میں کامیاب رہے۔ آخر کار ہالینڈ نے 1641ء میں آبنائے ملاکا اور اس کے بعد 1658ء میں سیلون (سری لنکا) ان سے چھین لیا۔ اٹھارہویں صدی کی آخری دہائیوں میں ہندوستان پر قبضہ جمانے کے لیے برطانیہ اور فرانس کی جنگ کا نتیجہ اول الذکر کے حق میں نکلا تو لندن نے مشرق وسطیٰ اور بحر ہند کے خطے کا دفاع کرنے کے لیے اسی سٹرکچر کو اختیار کیا بلکہ اسے مزید مضبوط کرنے کے لیے مشرق میں سنگاپور‘ وسط میں کولمبو اور مغرب میں عدن میں فوجی اڈے قائم کیے۔ دوسری جنگ عظیم میں نقصانات اٹھانے کے بعد جب برطانیہ اور فرانس نے مشرق وسطیٰ کے دفاع کی ذمہ داری اٹھانے سے معذرت کی تو انہوں نے نئی ابھرتی ہوئی عالمی طاقت امریکہ کو نہر سویز سے لے کر آبنائے ملاکا تک اس وسیع اور اہم خطے کی دفاعی ذمہ داری سونپ دی۔ امریکہ نے نہ صرف پہلے سے موجود برطانوی اڈوں کو مزید وسعت دی بلکہ پانچویں جنگی بیڑے کو بحر روم میں مقیم چھٹے اور بحر ہند میں ساتویں بیڑے کی دفاعی ذمہ داریوں میں شامل کر دیا۔ البتہ مشرق وسطیٰ میں امریکہ کی انٹری‘ سوویت یونین کے ساتھ اس کی سرد جنگ کے آغاز کے ساتھ ہوئی۔ اس لیے 1950ء کے عشرے سے لے کر 1990ء میں سرد جنگ کے خاتمہ تک‘ مشرق وسطیٰ اور خلیج فارس کے دفاع کے لیے امریکی نظام کی سمت اور فوکس بیرونی طاقت یعنی سوویت یونین کی مداخلت کو روکنے پر مرکوز رہا۔ امریکہ نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ مشرق وسطیٰ اور خلیج فارس سے ایک ریاست اس کی علاقائی سیادت کو چیلنج کرنے کے لیے ابھرے گی۔ اگرچہ 1953ء میں ڈاکٹر مصدق کی قوم پرست حکومت نے اینگلو ایرانین آئل کمپنی کو قومی ملکیت میں لے کر اس انتہائی اہم شعبے میں امریکہ کی بڑھتی ہوئی بالادستی کو چیلنج کیا تھا مگر سی آئی اے کے ذریعے جتنی آسانی کے ساتھ امریکہ اور برطانیہ نے ایران میں رجیم چینج کر کے سابق شاہ ایران رضا شاہ پہلوی کو آئندہ 26 سال کے لیے تخت پر بٹھا دیا‘ اس سے امریکیوں کو یقین آ گیا تھا کہ مشرق وسطیٰ یا خلیج فارس کے اندر سے اب کوئی ملک مشرق وسطیٰ میں امریکی مفادات‘ جن میں اسرائیل کی سکیورٹی بھی شامل ہے‘ کو چیلنج کرنے کی جرأت نہیں کرے گا لیکن امریکیوں نے مشرق وسطیٰ کی حالیہ تاریخ میں رونما ہونے والے واقعات کا سنجیدگی سے جائزہ نہیں لیا‘ اس لیے وہ ان سے صحیح نتائج اخذ نہیں کر سکے۔1950ء کی دہائی میں مغرب مخالف عرب قوم پرستی کی لہر جس نے بغداد پیکٹ (بعد میں سینٹو) کی بنیادوں پر استوار مشرق وسطیٰ کے دفاعی نظام کو ناکام بنا دیا تھا‘ کسی بیرونی طاقت (سوویت یونین) کی پیدا کردہ نہیں تھی بلکہ مشرق وسطیٰ کے اندرونی محرکات کا نتیجہ تھی۔ اس میں 1948-49ء میں عربوں اور اسرائیل کے مابین پہلی جنگ میں نئی صہیونی ریاست اسرائیل کے ہاتھوں متحدہ عرب فوجوں کی شکست کا بھی بہت اہم دخل ہے۔ حالیہ ایران اور امریکہ‘ اسرائیل جنگ سے پیدا ہونے والی جن یقینی تبدیلیوں کا ذکر کیا جا رہا ہے ان کا زیادہ تر تعلق علاقائی یا عالمی سطح پر جیو پولیٹکل تبدیلیوں سے ہے مگر اس جنگ کا خطے کے ممالک کی اندرونی سیاست پر کیا اثر ہوگا‘ اس پر تجزیے اور تبصرے کم ہیں۔ تاہم مشرق وسطیٰ کے مستقبل کے سیاسی نقشے میں اس پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا‘ خاص طور پر اس وقت جب اس خطے کے دفاع اور سلامتی کے لیے نئے ابھرتے ہوئے ڈھانچوں کا جائزہ لیا جائے۔ </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90264263.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بیسویں صدی کا صوفی شاعر(نسیم احمد باجوہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/naseem-ahmed-bajwa/2026-07-06/52248/78720579</link><pubDate>Mon, 06 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/naseem-ahmed-bajwa/2026-07-06/52248/78720579</guid><description>پنجاب کی سرزمین کو یہ فخر حاصل ہے کہ اس پر چار بڑے صوفیا (بلھے شاہ‘ غلام فرید‘ شاہ حسین اور سلطان باہو) گزرے ہیں اور ان چاروں نے تصوف کے وہ چراغ روشن کیے جو صدیاں گزر جانے کے بعد بھی روشن ہیں۔ یہ چاروں کمال کے شاعر بھی تھے۔ یہ صوفیا کرام کا پنجابی شاعری پر بہت بڑا احسان تھا۔ بیسویں صدی میں شاعری کے میدان میں ایک اور صوفی ابھرا‘ اور وہ تھے صوفی غلام مصطفی تبسم۔ 4 اگست 1899ء کو وہ امرتسر میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم چرچ مشن ہائی سکول امرتسر میں حاصل کی۔ ایف اے اور بی اے ایف سی کالج لاہور سے کیا ‘ فارسی کی سند اسلامیہ کالج لاہور سے حاصل کی اور بی ٹی سینٹرل ٹریننگ کالج لاہور سے کیا۔ تین سال سینٹرل ماڈل سکول لاہور میں پڑھایا۔ 1927ء میں اپنی مادرِ علمی (سینٹرل ٹریننگ کالج) میں فارسی کے اُستاد رہے اور 1931ء میں گورنمنٹ کالج لاہور سے بطور لیکچرار وابستہ ہوئے اور 30 برس تک وہاں پڑھایا۔ ان کے نامور شاگردوں میں فیض احمد فیض‘ ن م راشد‘ شہزاد احمد‘ مصطفی زیدی اور مظفر علی سید شامل ہیں۔ زندہ دلانِ لاہور نامی ادبی گروپ نے دو جرائد (کارواں اور نیرنگِ خیال) کے ذریعے ایک تاریخی ادبی معرکہ لڑا۔ پطرس بخاری‘ امتیاز علی تاج‘ حفیظ جالندھری‘ عبدالمجید سالک اور ڈاکٹر تاثیر کے علاوہ صوفی تبسم بھی اس گروپ کے ہراول دستہ میں شامل تھے۔ صوفی صاحب قادر الکلام شاعر‘ قابل معلم‘ پختہ ادیب اور مستند نقاد تھے۔ اُردوکے علاوہ فارسی اور پنجابی یعنی تین زبانوں میں شاعری کرتے تھے۔ ان کے مجموعہ کلام &#39;&#39;انجمن‘‘ میں تینوں زبانوں کی شاعری ہے۔ اُنہوں نے افسانے اور ڈرامے بھی لکھے۔ بچوں کے لیے کئی نظمیں لکھیں اور &#39;&#39;ٹوٹ بٹوٹ‘‘ جیسا کردار تخلیق کیا۔ 1954ء میں گورنمنٹ کالج لاہور سے ریٹائر ہوئے تو لاہور میں ایرانی کلچرل سنٹر قائم کیا۔ 1957ء میں یہ ایرانی سفارتخانے کے حوالے کر دیا گیا اور اس کا نام &#39;&#39;خانہ فرہنگ ایران‘‘ رکھا گیا تو وہی اس کے پہلے ڈائریکٹر بنائے گئے۔کافی عرصہ ریڈیو پاکستان کے مشیر رہے۔ اقبال اکیڈمی لاہور کے نائب صدر اور پاکستان آرٹس کونسل (لاہور) کے صدر رہے۔ الحمرا کی نئی عمارت کی تعمیر میں بھی اُن کا اہم کردار رہا۔ علامہ اقبال (جن کے نوجوان مداحوں اور ملنے والوں میں صوفی صاحب سرفہرست تھے) کے جشنِ صد سالہ اور امیر خسرو کے 500ویں جشن کے انعقاد کا سہرا صرف اُن کے سر باندھا جا سکتا ہے۔ اُنہوں نے امیر خسرو کی مثنویاں مرتب کیں۔ شیکسپیئر کے چند ڈراموں کے علاوہ اقبال اور غالب کے کلام کا پنجابی ترجمہ کیا۔ حکومت پاکستان نے انہیں تمغہ خدمت اور ستارۂ امتیاز اور حکومت ایران نے اُنہیں تمغہ فضیلت سے نوازا۔ اُنہیں اُردو‘ فارسی اور پنجابی کے ہزاروں اشعار یاد تھے جو وہ عالم وجد میں سناتے تھے۔ آنکھیں بند کر کے مسکراتے ہوئے دھیمی آواز‘ جیسے خواب دیکھ رہے ہوں۔ساٹھ کی دہائی میں صوفی صاحب اپنے وقت کے نامور ہفت روزہ &#39;&#39;لیل و نہار‘‘ کے مدیر رہے۔ میرے لیے یہ مقامِ فخر ہے کہ میں نے دو برس ایک چھت تلے صوفی صاحب جیسی بڑی شخصیت کی رفاقت میں کام کیا۔ شاید ہی کوئی ہفتہ ایسا گزرتا ہو جب ہم نے مل کر چائے نہ پی ہو۔ وہ مجلسی انسان تھے۔ حمید اختر‘ مولوی محمد سعید‘ عبداللہ ملک‘ اختر میرزا اور آئی اے رحمان اس ادارے کے دو اخبارات (امروز اور پاکستان ٹائمز) میں کام کرتے تھے۔ صوفی صاحب کی خدمت میں یہ سبھی افراد اکثر حاضری دیتے تھے۔  صوفی تبسم سنجیدہ اور متین ہونے کے ساتھ بڑے خوش مزاج اور زندہ دل شخص بھی تھے۔ لطائف سنتے اور سناتے اور بچوں کی سی معصومیت سے دبی آواز میں ہنستے یا مسکرانے پر اکتفا کرتے۔ دفتر کے ساتھیوں کے ساتھ تعلق صرف دفتر تک محدود نہ رکھتے‘ ذاتی تعلق بھی گرمجوشی سے قائم رکھتے۔ یہاں اپنی مثال دینا لایعنی نہیں۔ میری اہلیہ کو طبی معائنہ کے لیے ایک ہسپتال جانا پڑا جس کے سربراہ صوفی صاحب کے پرانے دوست تھے۔ صوفی صاحب کو پتا چلا تو اصرار کر کے وہ خود ہمارے ساتھ گئے۔ ہسپتال میں کافی وقت لگ گیا مگر وہ سارا وقت ہمارے ساتھ رہے۔ میری طرح بے شمار لوگ اُن کے احسان مند ہیں۔ ذاتی مدد کے لیے کمر بستہ رہنا اُن کے کردار کا لازمی حصہ تھا۔ 79 برس کی عمر میں‘ 7 فروری 1978ء کو وہ اس لاہور سے ہمیشہ کے لیے رخصت ہو گئے جس کی وہ برسہا برس آبرو اور پہچان رہے۔ وہ 13 کتابوں کے مصنف تھے‘ جو شاعری اور تنقیدی مضامین کے مجموعے تھے۔ ان کی آخری یادگار &#39;علامہ اقبال سے آخری ملاقاتیں‘ ہے جو اُن کے بیٹے (صوفی گلزار احمد) نے اُن کی وفات کے بعد مرتب کر کے شائع کرائی۔ صوفی صاحب نے اپنی زندگی کے آخری سالوں میں دو بڑے صدمے دیکھے جنہوں نے انہیں ادھ موا کر دیا۔ ایک تھا اُن کی رفیقۂ حیات کی وفات کا صدمہ اور دوسرا جوان سال بیٹے (صوفی نثار احمد) کی وفات کا صدمہ۔ ان کی آخری آرام گاہ ان دونوں کی قبروں کے قریب باغ گل بیگم قبرستان میانی صاحب میں ہے۔انتظار حسین نے &#39;&#39;ملاقاتیں‘‘ کے نام سے خاکوں پر مشتمل جو کتاب مرتب کی‘ اس کتاب سے ایک اقتباس: &#39;&#39;صوفی صاحب کے سامنے امرتسر کا نام لے دو‘ بس پھر وہ شروع ہو جاتے ہیں۔ صوفی صاحب نے اپنے دادا کے گھر پرورش پائی ۔ دادا درویش صفت آدمی تھے۔ ان کے گھر میں صرف دو تھالیاں تھیں ایک میں وہ اور صوفی صاحب کی دادی کھانا کھاتے تھے اور دوسری میں وہ درویش جو اُن کا مہمان تھا۔ دادا کہتے تھے سامان کس دن کے لیے جمع کیا جائے۔ تیسری تھالی کس کے لیے رکھی جائے؟ ... صوفی صاحب کہتے ہیں کہ جب پریشانیاں گھیر لیتی تھیں تو وہ علامہ اقبال کی خدمت میں پہنچتے اور اُن کی باتیں خاموشی سے سنتے اور ساری پریشانیوں اور تکلیفوں سے نجات حاصل کر کے وہاں سے نکلتے۔ اُنہوں نے بتایا کہ علامہ حقہ پیتے رہتے۔ بہرحال اس کی نال منہ میں دبائے رکھتے اور باتیں کیے جاتے۔ صوفی صاحب نے کہا کہ وہ بھی حقہ کے بغیر بات نہیں کر سکتے۔ رات کو پیچ پیچ کر آنکھ کھلتی ہے تو اس کے ایک دو گھونٹ پی کر پھر سو جاتے ہیں۔ اب لے دے کے صرف حقہ ہی صوفی صاحب کا ساتھی رہ گیا تھا۔ باقی رہے فیض صاحب تو ان کا ہونا نہ ہونا برابر ہے۔ آج یہاں کل وہاں۔ ایک بار فیض صاحب سے کہنے لگے کہ تم ذرا ہماری تنہائی کا اندازہ لگائو کہ تم یہاں سے چلے جائو گے تو یہ دیواریں ہوں گی اور میں ہوں گا اور پھر اپنے دو اشعار سنائے:چشم نظارہ میں یہ کھلے کیا گرہ کشود؍ جب دیکھنا یہی دیوار و در دیکھنادیدار بزمِ یار تبسم کہاں نصیب؍ اب رہ گیا ہے کوچۂ دلدار دیکھنا‘‘صوفی صاحب کی ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے ساتھ وابستگی نصف صدی پر محیط ہے۔ اُن کے لکھے گیت نور جہاں‘ فریدہ خانم‘ نسیم بیگم اور غلام علی سمیت نامور گلوکاروں نے گائے۔ نور جہاں نے اُن کے لکھے ہوئے جنگی ترانے گائے‘ جو 65ء کی جنگ میں ریڈیو پاکستان نے نشر کیے۔ صوفی صاحب ایک باغ وبہار شخصیت تھے۔ اب تو وہ سماجی‘ ثقافتی اور تہذیبی سانچہ ہی ٹوٹ چکا جس میں صوفی صاحب اور اُن کے ہمعصر لوگ ڈھل کر بڑے ہوئے۔آخر پہ ایک مزاح پارہ: صوفی تبسم صاحب کو ان کا ایک قاری بہت پسند کرنے لگا مگر وہ صوفی کی پیش کو زیر سمجھا اور ان کو رشتہ بھیج دیا۔ بدلے میں صوفی صاحب نے‘ جنہوں نے ان دنوں داڑھی رکھی ہوئی تھی‘ اپنی داڑھی والی ایک تصویر اسے بھیج دی۔ مایوس عاشق نے جواباً لکھا &#39;&#39;صوفی تیرا ککھ نہ رہوے۔ میں نے تو اپنی اماں سے تیرے لیے بات بھی کر لی تھی‘‘۔ نوٹ: یہ قصہ مارچ 2021ء میں شائع شدہ ایک خود نوشت &#39;&#39;قصہ چار نسلوں کا‘‘ سے لیا گیا ہے‘ کالم نگار اس واقعے کی صحت کے بارے کچھ نہیں کہہ سکتا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_32258580.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>