<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>مذاکرات یا نیا بحران؟(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-04/11162</link><pubDate>Mon, 04 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-04/11162</guid><description>امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی عالمی امن کیلئے بڑا خطرہ اور عالمی معیشت کیلئے لوہے کا چنا بن چکی ہے۔ گزشتہ ماہ پاکستان کی کاوشوں سے دونوں ملکوں میں جنگ بندی اور مذاکرات سے صورتحال میں بہتری اور امن کے قیام کی امید پیدا ہوئی تاہم مذاکرات کے دوسرے دور میں تاخیر اور اس حوالے سے درپیش رکاوٹیں تشویش کا باعث ہیں۔ اگرچہ فریقین میں بالواسطہ رابطے قائم ہیں اور پائیدار امن کی تجاویز کا تبادلہ ہورہا ہے مگر بات اس سے آگے نہیں بڑھ سکی۔ پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم کے ایک حالیہ بیان کے مطابق ایران نے پاکستان کے ذریعے ایک نیا مذاکراتی منصوبہ امریکہ تک پہنچا یا ہے اور مذاکرات میں پیش رفت بقول اُن کے امریکی رویے پر منحصر ہے۔ ایران کی جانب سے مذاکراتی تجاویز بظاہر اس بات کی علامت ہیں کہ ایران سفارتی حل کا خواہاں ہے مگر دوسری جانب سے کوئی گرم جوشی نظر نہیں آرہی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے تجاویز موصول ہونے کی تصدیق کی ہے اور ان کے سوشل میڈیا بیان کے مطابق ان تجاویز پر تفصیلی غور کیا جائے گا۔ لیکن اسی بیان کے ساتھ انہوں نے یہ کہہ کر کہ ’’میں تصور بھی نہیں کر سکتا کہ یہ قابلِ قبول ہوگا کیونکہ انہوں نے انسانیت اور دنیا کے ساتھ جو کچھ پچھلے 47برسوں میں کیا ہے اس کی قیمت ابھی تک ادا نہیں کی ہے‘‘ اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

ایک طرف مذاکرات کی باتیں اور دوسری جانب کشیدگی کے اشارے‘ امریکہ ایران مذاکرات کی اس صورتحال نے عالمی برادری کو اندیشوں سے دوچار کر رکھا ہے۔ ایران کا مؤقف واضح ہے کہ اگر امریکہ سنجیدہ ہے تو اسے اپنا رویہ بدلنا ہوگا۔ یہ مطالبہ غیرمنطقی نہیں کیونکہ یکطرفہ دباؤ اور دھمکیوں کے ذریعے پائیدار امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ مگر امریکہ اور ایران کے درمیان تصادم بڑھتا ہے تو اس کے اثرات صرف ان دونوں ملکوں تک محدود نہیں رہیں گے‘ جیسا کہ پچھلے دو ماہ کے حالات میں دیکھا گیا ہے کہ اس تنازعے کے اثرات نے پوری دنیا کو لپیٹ میں لیا ہے اور عالمی معیشت کو متاثر کیا ہے۔ خلیجی خطہ پہلے ہی عدم استحکام کا شکار ہے‘ کسی نئی جنگ کی صورت میں وہاں کی صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔ پراکسی جنگوں میں اضافہ ہو سکتا ہے اور شدت پسند گروہوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے‘ جو عالمی سلامتی کیلئے بھی بڑا خطرہ ہو گا۔ معاشی لحاظ سے بھی اس کشیدگی کے دور رس اثرات ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ توانائی کی پیداوار کا مرکز اور خلیج فارس عالمی توانائی کی اہم گزر گاہ ہے۔ اس خطے میں تصادم کی صورت میں سب سے پہلے توانائی پر اثر پڑتا ہے‘ لیکن یہ اثرات صرف توانائی تک محدود نہیں عالمی سطح پر خوراک کی پیداوار پر بھی اس بحران کے دور رس اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
تیل اور گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے عالمی معیشت پہلے ہی شدید دباؤ میں ہے اور مہنگائی میں روز افزوں اضافہ ہو رہا ہے جس سے لوگوں کی قوتِ خرید بری طرح متاثر ہو رہی ہے‘ ایسے میں خوراک کی پیداوار اور سپلائی کے خطرات عالمی سطح پر ایک اور طرح کے بحران کا پیش خیمہ ثابت ہوں گے۔ کشیدگی کے اس ماحول میں امید کی ایک ہی کرن ہے اور وہ ہے مذاکرات کا عمل۔ ایران کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز اس بات کا ثبوت ہیں کہ سفارتی راستہ اب بھی کھلا ہے۔ مگر یہ آپشن لامحدود مدت کیلئے دستیاب نہیں ہو سکتا۔ اگر امریکہ سنجیدگی کا مظاہرہ کرے اور دھونس کے بجائے بات چیت کو ترجیح دے تو پائیدار حل تک پہنچنا ناممکن نظر نہیں آتا۔ دنیا اس وقت کسی نئے بڑے تنازع کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ امریکہ اور ایران کو ذمہ داری کا مظاہرہ  کرنا ہوگا اور ایسے اقدامات سے گریز کرنا ہو گا جو صورتحال کو مزید خراب کریں۔ امن کا راستہ مشکل ضرور ہے لیکن یہی واحد راستہ ہے جو خطے اور دنیا کو بڑے بحران سے بچا سکتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>موسمیاتی تبدیلیاں اور زراعت(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-04/11161</link><pubDate>Mon, 04 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-04/11161</guid><description>انٹرنیشنل فوڈ پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے مطابق پنجاب کے 80فیصد سے زائد کسان موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثر ہو رہے ہیں۔ صوبے میں بارشوں کا غیرمتوازن نظام اور بڑھتا ہوا درجہ حرارت فصلوں کے قدرتی سائیکل کو متاثر کر رہا ہے جس سے زرعی معیشت کی بنیادیں ہل گئی ہیں۔ اپریل کی غیرمتوقع بارشوں سے گندم کی کٹائی متاثر ہوئی ہے تو جولائی اور اگست کی شدید بارشیں کپاس اور چاول کیلئے خطرہ بن جاتی ہیں۔ گزشتہ برس سیلاب سے پنجاب میں 24 لاکھ ایکڑ پر فصلیں تباہ ہوئی تھیں۔ اس تباہ کن صورتحال کا مقابلہ کرنے کیلئے سب سے پہلے تو زرعی پالیسی کو موسمیاتی حقائق کے مطابق ڈھالنا ہو گا۔ حکومت کو فوری طور پر کلائمیٹ سمارٹ ایگریکلچرکو مرکزی حکمت عملی کے طور پر اپنانا چاہیے جس میں مختصر دورانیے کی فصلوں‘ گرمی اور پانی کی کمی برداشت کرنے والی اقسام کو فروغ دینا شامل ہے۔

دوسرا کسانوں کو ڈیجیٹل ایگریکلچر پلیٹ فارمز کے ذریعے موسم کی بروقت پیشگوئی‘ فصلوں کی کاشت کے اوقات‘ بیماریوں اور کیڑوں کے حملوں سے متعلق فوری رہنمائی فراہم کی جائے۔ تیسرا‘ زرعی انشورنس اور مالی تحفظ کا نظام ناگزیر ہے۔ موسمیاتی آفات کے باعث ہونے والے نقصانات کا بوجھ اکیلا کسان برداشت نہیں کر سکتا‘ حکومت فصل بیمہ سکیموں کو عام کرے۔ اگر فوری اور سائنسی بنیادوں پر اقدامات نہ کیے گئے تو پنجاب کی زرعی بنیادیں کمزور پڑ سکتی ہیں جس سے ملک کا غذائی تحفظ شدید خطرے میں آ سکتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>نئے پولیو کیس(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-04/11160</link><pubDate>Mon, 04 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-04/11160</guid><description> خیبرپختونخوا کے اضلاع بنوں اور شمالی وزیرستان سے پولیو کا ایک‘ ایک کیس رپورٹ ہونے کے بعد رواں برس ملک بھر سے رپورٹ شدہ کیسوں کی تعداد تین ہو گئی ہے۔ نئے پولیو کیسوں کے بعد نہ صرف پولیو فری پاکستان کی منزل ایک مرتبہ پھر نظروں سے اوجھل ہو گئی ہے بلکہ یہ کیس پولیو کے حوالے سے ہائی ویلیو ٹارگٹڈ ایریاز کی بھی نشاندہی کرتے ہیں۔ گزشتہ برس بھی بنوں سے تین جبکہ شمالی وزیرستان سے پانچ پولیو کیس رپورٹ ہوئے تھے۔ بعض رپورٹس میں ان دونوں اضلاع میں نئے پولیو کیسز کی وجہ ویکسی نیشن کی کمی ہے جس کا سبب ان اضلاع میں پولیو ٹیموں پر مسلسل ہونے والے حملے ہیں۔ اپریل میں ہونے والی ملک گیر پولیو مہم کے دوران بھی بنوں میں تین پولیو اہلکاروں کو اغوا کر لیا گیا تھا۔

یہ صورتحال متعلقہ حکام کیلئے باعث تشویش ہونی چاہیے کہ پوری دنیا میں معدوم ہو جانے والا مرض ہمارے ہاں نہ صرف اب بھی موجود ہے بلکہ ہر سال اسکے نئے کیس بھی سامنے آتے ہیں۔ پولیو کی وجہ سے پاکستان کو حج سمیت مختلف مواقع پر انسدادِ پولیو کی دوا اور پولیو سے پاک ہونے کے سرٹیفکیٹ کی اضافی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ متعلقہ حکام کو چاہیے کہ اس مرض کے خاتمے کے لیے آئندہ مہمات میں ہائی ویلیو ٹارگٹڈ ایریاز میں ہر صورت سو فیصد بچوں کی ویکسی نیشن یقینی بنائیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ایرانی مزاحمت کا راز(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-05-04/51882/45307230</link><pubDate>Mon, 04 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-05-04/51882/45307230</guid><description>ایرانی قوم کی مزاحمت نے ایک دنیا کو ورطۂ حیرت میں ڈال رکھا ہے۔ ایک عالمی قوت کے سامنے سود و زیاں سے بے نیاز ہو کر  کھڑا ہو جانا آسان نہیں۔ جارح قوت کو بھی اندازہ نہیں تھا کہ اسے ایسی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس کا خیال تھا کہ دو چار تھپیڑوں کے بعد یہ ناؤ اپنے ناخداؤں کے خلاف بغاوت کر دے گی اور کنارے سے ہم آغوشی کی تمنا میں نئے ناخدا ڈھونڈ لے  گی۔ پرکھنے کا یہ پیمانہ خرد نے ایجاد کیا ہے۔ تاریخ نے ہمیشہ اسی پیمانے سے فتح و شکست کا فیصلہ کیا ہے۔ بایں ہمہ یہ پہلو بھی تاریخ کے کسی باب کا عنوان ضرور بنتا ہے کہ کسی قوم نے مشکل حالات کا سامنا کیسے کیا؟ مؤرخ کا قلم داد نہ دے‘ شاعر یہ کہتے ہوئے اپنی گواہی ضرور تاریخ کے صفحات پر ثبت کر دیتا ہے کہ &#39;مقابلہ تو دلِ ناتواں نے خوب کیا‘۔ایران کے پیکرِ خاکی میں جاں کیسے پیدا ہوئی؟ بیسویں صدی کے آخری نصف میں ایرانی قوم تشکیلِ نو کے مرحلے سے گزری۔  ملک نہیں قوم بدل گئی۔ جغرافیہ نہیں تاریخ بدل گئی۔ جسم نہیں روح بدل گئی۔ کہانی کچھ یوں ہے کہ ایران پہلے سنی اکثریتی ملک تھا۔ اہلِ تشیع کا مقدمہ یہ ہے کہ مسلم تاریخ دراصل ان کی مظلومیت کی داستان ہے۔ انہیں بالجبر اقتدار سے محروم رکھا گیا اور ان کے  وجود کو مٹانے کے لیے سازشیں ہوئیں۔ ایک قلیل عرصے کے سوا‘ جب فاطمیوں کو حکومت ملی‘ وہ ظلم کا شکار رہے۔ بنو اُمیہ کے اقتدار سے اس مظلومیت کا آغاز ہوا‘ یہاں تک کہ ایران میں صفویوں کی حکومت قائم ہو گئی۔ صفوی اہلِ سنت تھے اور شافعی مذہب پر تھے۔ پھر ان میں ایک سردار نے مذہبِ تشیع اختیار کر لیا۔ اس کے بعد اس عہد کے چلن کے مطابق عوام کو بھی ملوک کا دین اپنانا پڑا۔ یوں ایران شیعہ اکثریتی ملک میں ڈھل گیا۔عہدِ مظلومیت میں اپنے وجود کو باقی رکھنے کے لیے اہلِ تشیع نے کئی حیلے کیے۔ انہیں زندہ رہنا تھا اور ساتھ ہی اپنے تشخص اور روایت کی حفاظت بھی کرنا تھی۔ بقا کی اس جنگ میں ان کے پاس تین ہتھیار تھے: نظریۂ امامت‘ فلسفۂ شہادت اور تقیہ۔ اثنائے عشری اہلِ تشیع کا عقیدہ ہے کہ آخری دور میں امامِ زمان‘ امام مہدی تشریف لائیں گے۔ وہ اس زمین پر انصاف پر مبنی نظامِ حکومت قائم  کریں گے اور تاریخ میں ان کے ساتھ ہونے والے مظالم کی تلافی کریں گے۔ اس عقیدہ کے مطابق امام کی موجودگی میں کسی غیر امام کا حق نہیں کہ وہ امت کی سیاسی و مذہبی قیادت کرے۔ آج آخری امام موجود ہیں لیکن غائب ہیں۔ چونکہ وہ موجود ہیں اس لیے اب کوئی سیاسی نظم قائم نہیں ہو سکتا جس میں کسی کی اطاعت لازم ہو۔ ہمیں اس دوران میں امام کی آمد کا انتظار کرنا ہے۔ اس کے  ساتھ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کو مذہبی تشخص کی بقا کے لیے استعمال کیا گیا۔ ہر سال ان کا یومِ شہادت منایا گیا۔ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے سیاسی مؤقف سے اہلِ اقتدار کو اختلاف تھا لیکن ان کی مذہبی و سماجی شخصیت مسلمانوں میں متنازع نہیں  تھی۔ یہ ایک بے ضرر سا تصورِ شہادت تھا جس میں امام کے فضائل کے بیان آہ و بکا اور ماتم کو کافی سمجھا جاتا تھا۔ سال میں چند دن سوگ منانے کا کسی کو نقصان نہیں تھا‘ اور اہلِ تشیع کو فائدہ یہ تھا کہ ان کا نظریہ زندہ رہ سکتا تھا۔مزید یہ ہوا کہ تقیہ کا فقہی تصور اپنا لیا گیا۔ اس کامطلب یہ تھا کہ اگر حالات مخالف ہوں تو اپنی شناخت کو خفیہ رکھتے ہوئے اکثریت سے ہم آہنگ اسلوبِ حیات اپنا لیا جائے۔ اس کی فضیلت کی روایات بھی لوگوں کو سنائی گئیں تاکہ انہیں اس طرزِ حیات پر اطمینان نصیب ہو۔ یہ طرزِ عمل آئمہ نے بھی اختیار کیا کہ دین کو اصل حالت میں باقی رکھنے کی یہی صورت تھی۔ اس کو اہلِ تشیع کے سوادِ اعظم نے اپنا لیا اور وہ بیسویں صدی تک اس پر عامل رہے۔ تاہم ایک آدھ گروہ ایسا بھی پیدا ہوا جس نے تلوار کے زور سے اقتدار لینے  کی کوشش کی اور اپنے مخالفین کو تہ تیغ کیا۔ جیسے مختار ثقفی۔ ثقفی کو تمام اہلِ تشیع قدر کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ مختارکا مزار کوفہ کی مسجدِ علی میں بنایا گیا ہے۔ مجھے بھی اسے دیکھنے کا موقع ملا۔اس فلسفۂ حیات اور طرزِ عمل کا نتیجہ یہ نکلا کہ شیعہ نے سنی اکثریت کے سامنے عملاً شکست تسلیم کر لی۔ اس نے سیاسی زندگی میں بے عملی کو جنم دیا۔ صفویوں کی حکومت سے اہلِ تشیع کو کوئی نظریاتی یا مسلکی فائدہ نہیں ملا۔ انہیں صرف اپنے اقتدار سے غرض تھی۔ جیسے آج بہت سے سنی حکمرانوں کا اہلِ سنت کو کوئی فائدہ نہیں۔ اس بے عملی کے ردِ عمل میں شیعہ علما میں ایک طبقہ پیدا ہوا جس نے ان قدیم تصورات کو چیلنج کیا۔ اس ردِعمل کو روح اللہ خمینی صاحب نے ایک منظم فکر اور سیاسی تحریک میں بدل دیا۔ انہوں نے امام کی غیر موجودگی میں ولایتِ فقیہ کو ایک قابلِ عمل متبادل کے طور پر پیش کیا اور شیعہ فکر پر مبنی حکومت کے لیے راستہ کھولا۔ دوسری طرف فلسفۂ شہادت کی تشکیلِ نو کرتے ہوئے شہادتِ حسین رضی اللہ عنہ کی مکمل سیاسی تعبیر کی۔ انہوں نے بتایا کہ اقتدار کا قیام امام کا اصل مقصد تھا اور ان سے تعلق اسی صورت میں ثابت ہو گا جب ان ہی کی طرح ایک سیاسی نظم کے قیام کی جد و جہدکی جائے۔اسی طرح خمینی صاحب نے تقیہ کے قدیم تصور کو بدل ڈالا۔ فقیہ اور عالم کے لیے انہوں نے تقیہ کو ناجائز قرار دیا۔ ان کے نزدیک یہ فقیہ اور عالم کی ذمہ داری ہے کہ وہ سیدناحسین رضی اللہ عنہ کی طرح میدان میں نکلے اور اسلام کی بقا کے لیے جنگ لڑے۔ یہ نماز اور روزے سے زیادہ اہم فریضہ ہے۔ انہوں نے لکھا: &#39;&#39;یہ وہ فریضہ ہے کہ جس کی ادائیگی کے لیے بعض اوقات خون بہانا لازم ہو جاتا ہے۔ کوئی خون خونِ حسین رضی اللہ عنہ سے زیادہ قیمتی نہیں لیکن اسلام کی خاطر یہ خون بھی بہہ گیا۔ ہمیں یہ بات سمجھنا اور اسے دوسروں تک پہنچانا ہو گا‘‘۔ (حکومتِ اسلامی)۔انہوں نے اپنی کتاب میں جہاں اسلامی حکومت کے قیام کو اسلامی فریضہ قرار دیا وہاں اس کے قیام کا لائحہ عمل بھی دیا۔ انہوں نے تجویز کیا کہ عاشورہ کو ایک عصری رنگ دے دیا جائے اور شہادتِ حسین رضی اللہ عنہ کو موجودہ حالات سے متعلق کر دیا جائے۔ انہوں نے علما اور طالب علم کو بطورِ خاص دعوت دی کہ وہ نکلیں اور سماج کے ہر طبقے تک یہ پیغام پہنچائیں۔ سنی اسلام میں بھی جو لوگ &#39;سیاسی اسلام‘ کے علم بردار ہیں اور حکومتِ الہیہ کے قیام کو دینی فریضہ قرار دیتے ہیں‘ ان کے ہاں بھی سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کو اسی پیرائے میں بیان کیا گیا۔ اس حوالے سے مولانا ابوالکلام آزاد اور مولانا مودودی کے شہادتِ حسین رضی اللہ عنہ پر مضامین اہم ہیں۔خمینی صاحب کی اس تعبیر اور پیغام کو قبولیتِ عام ملی۔ ان کے افکار اور جد وجہد نے ایرانی قوم کا شاکلہ بدل ڈالا۔ ان کے مذہبی تصورات بدل گئے۔ شہادت کو ان کے لیے گلیمرائز کر دیا گیا۔ &#39;تقیہ‘ قصۂ پارینہ بن گیا۔ اب وہ امام کا انتظار کر نے کے بجائے نائبِ امام کے اقتدار کے لیے میدان میں نکل آئے۔ ان میں وہ جوش و خروش پیدا ہوا کہ پہلے انہوں نے شہنشاہ کی فوج کو شکست دی اور پھر اپنے عہد کی سب سے بڑی سیاسی و فوجی قوت کے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہو گئے۔ خمینی صاحب نے ایک نئی شیعہ قوم تیار کر دی جو ایرانی نسلی افتخار کی دستار بھی پہنے ہوئے ہے۔ حیرت ہے امریکیوں نے اقدام سے پہلے اس تبدیلی کا اچھی طرح مطالعہ نہیں کیا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>آزادی کا خواب(رسول بخش رئیس)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-05-04/51883/46471097</link><pubDate>Mon, 04 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-05-04/51883/46471097</guid><description>ہو سکتا ہے کہ یہ انسانی نفسیات کا المیہ ہو کہ ہم بڑے لوگوں‘ ماضی کے افسانوی کرداروں اور وقت کی مٹی میں دفن تہذیبوں کے گن گاتے ہیں تو سستی کی سی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ اسی طرح گزرے دور کی طاقتور سلطنتوں اور حال کی بڑی طاقتوں کے عروج و زوال کے بارے میں بھی ہم نہ صرف اپنا سر کھپاتے ہیں بلکہ دلائل دے کر ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ شاید  یہ المیہ نہ ہو اور ایسے رویوں کا کوئی مثبت پہلو ہو اور ہمارا کوئی سبق لینا مقصود ہو‘ کوئی تحریک لینی ہو اور اپنے آپ کو اسی قالب میں ڈھالنے کی تمنا کو پختہ کرنے کا ارادہ ہو۔ شخصی کرداروں اور تہذیبوں کی بات پھر کبھی سہی۔ صرف آج کل ہی نہیں بلکہ جب سے ہم نے ہوش سنبھالا ہے‘ اُفق پر چھائے ہوئے معاشی‘ سیاسی اور نظریاتی نظاموں کے حامیوں اور مخالفوں میں نہ صرف لفظی جنگ بلکہ اینٹ پتھر سے لے کر بندوقوں تک کا بھی آزادانہ استعمال دیکھا ہے۔ نہ جانے دنیا بھر میں کتنے لاکھ انسان لقمۂ اجل اس لیے بنے کہ وہ اپنے نظریاتی خوابوں کی تعبیر کیلئے جن کو رکاوٹ خیال کرتے تھے انہیں گولیوں‘ قید اور تشدد کا نشانہ بنانا اپنے تئیں جائز خیال کرتے تھے۔ ایک وقت تھا جب نظریاتی دشمنوں کیلئے احترام تھا اور نہ آزادی سے سانس لینے کی گنجائش۔ عالمی سطح پر دو بڑی  طاقتیں دو متضاد نظاموں کے نظریاتی اور سماجی دائرے اور اثر و نفوذ کو پھیلانے کیلئے زور آزمائی تقریباً نصف صدی تک کرتی رہیں۔ پراکسی جنگیں کیں‘ نظریاتی حامیوں کی مدد سے دانشور حلقوں اور دیگر شعبوں میں جہاں کہیں پسندیدہ نظریاتی روشنی پھیل سکتی تھی‘ وہ کھلے چھپے ذرائع سے پھیلاتی رہیں۔ ہم اور ہماری عمر کے دیگر نوجوان تب نظریاتی کشمکش کے دور میں کسی نہ کسی نظریاتی حلقے سے جڑے ہوئے تھے۔ ایک تعداد وہ بھی تھی جو فکری ٹکراؤ سے آزاد حصولِ علم برائے نوکری کی قائل تھی۔ اہلِ فکر ان کے مقابلے میں میرے نزدیک وسیع المطالعہ تھے۔ وہ تاریخ‘ فلسفہ‘ عالمی اور فوجی سیاست کے دھاروں کو بہتر سمجھتے تھے۔ اس میں کسی ایک نظریے کی تخصیص نہیں۔ بڑی طاقتوں اور ان کے متبادل اور متصادم نظاموں کے چلانے اور انہیں دوسرے کیلئے قابلِ تقلید بنانے کی بالائی سیاست کا کھیل اور اس کا میدان ہماری تیسری اور چوتھی دنیا سے بہت دور تھا۔ زیادہ تر تاریخ اور علمی گفتگو پر چھاپ اسی کھیل کی ہے۔ وہ جو نظاموں کے ٹکراؤ کی جنگ اپنے اپنے ملکوں میں لڑ کر ایک دوسرے کے سر پھوڑتے رہے اور اکثر مایوسیوں اور ناکامیوں کی آگ میں جل کر راکھ ہو گئے‘ ان کی کہانی کسی نے نہیں لکھی۔ ادھر اُدھر ہم بعض کی ثابت قدمی‘ انتھک جدوجہد اور قربانیوں کا ذکر دیکھتے ہیں مگر وہ ذاتی اور خاندانی طور پر جن اذیتوں سے گزرے اس کا ادراک نہ کسی کو ہے اور نہ ہو سکتا ہے۔ ان کی آپ بیتیاں ان کے ساتھ ہی خاموش ہو گئیں۔ ہمارا اپنا کردار اس نظریاتی کشمکش کے پڑاؤ میں ایک مسافر کا سا تھا۔ اچھا ہوا کہ ان جنگی مشقوں میں زیادہ وقت ضائع نہ کیا اور اپنی زندگی کی تعمیر خود کرنے کا ہنر کہیں سے سیکھ لیا۔آزادی اسی ہنر کا دوسرا نام بلکہ اس کی روح ہے۔  کاش ہمارے قلم کی نوک میں وہ تاثیر ہوتی اور زبان کی آسودگی بھی میسر ہوتی تو خودی کے بارے میں کچھ لکھ ڈالتے۔ یہ ایک ایسا خیال ہے جو نیا تو نہیں مگر کبھی پرانا بھی نہیں ہوا۔ اس کی کوئی ایک مخصوص تہذیب یا زمانہ ہے اور نہ ہی مذہب یا رنگ و نسل۔ خودی  کے ذریعے راستہ بنانے اور آگے کے خواب دیکھ کر ان کی تعبیر اپنی کاوش سے کرنے کا تصور شخصی آزادی کا منشور ہے۔ ایک عرصہ  سے نظریات کے سلسلے میں آہستہ آہستہ ہم غیر مقلدوں کی صف میں شامل ہونا شروع ہو گئے۔ اس کا مطلب آپ ہرگز یہ نہ لیں کہ نظریاتی نوعیت کے لوگ یا نظریات کا ہمیں احترام نہیں۔ ہم ان کی بہت قدر کرتے ہیں‘ ان سے علمی اور فکری روشنی بھی حاصل کرتے ہیں مگر اپنا راستہ خود بنانے کے قائل ہیں۔اس لیے سب نظریات ‘ سب خیال ‘تمام افکار اور تمام نظاموں کے اہل دانش  قابلِ قدر ہیں کہ ان سے فیض یاب ہونے کا موقع تو سب کیلئے ہے۔ فرق یہ ہے کہ جانبداری میں ہر ایک کا اپنا رنگ دار جھنڈا‘ نعرے اور صف بندی ہے۔ دوسری طرف دور سے کھڑے ہو کر تماشا دیکھنے اور اپنی راہ چلنے کی بھی آزادی ہے۔ ہمارا ایک گہرا امریکی دوست اور کلاس فیلو جس سے اب بھی رابطہ رہتا ہے‘ اوائل جوانی میں نصاب کی کتابوں کے ساتھ البرٹ کیمواور ارنسٹ ہیمنگ وے کو پڑھتاتھا۔اس کے اس شوق کو دیکھ کر دیگر بھی متاثر ہوتے اور اس طرح ان کو پڑھنے کی خواہش کا اظہار کرتے تو وہ کہتا کہ آپ اس میں نہ پڑیں۔&#39;&#39; ادب اور سیاست‘‘ کا ایک کورس ہے۔ ہم بطور معاون اساتذہ ایک بہت بڑے گروہ کے ساتھ پڑھتے پڑھاتے ادب کے میدان میں سیاست سے بھی کچھ آگے نکل گئے۔ سیاست تو انسانوں کو پابند کرتی ہے قانون کا ‘تہذیب کا ‘ دستور کا‘ اخلاق کا اور معاشرے میں نظم و ضبط کا۔ مگر وہ آزادی جس کے  لفظی اور معنوی اظہار میں ہماری نسل کے لوگ ایک دوسرے کے گلے کاٹنے پر تلے ہوئے تھے‘ کیا اس نوع کی سیاست سے کبھی آزاد نہیں ہو سکتی۔ ایسی کوئی آزادی انارکی اور بے راہ روی کے زمرے میں آئے گی۔ راستے کا تصور بھی چلنے کی جگہ کو کانٹوں اور رکاوٹوں اور ہر طرح کی اذیت ناکیوں سے صاف رکھنا ہے۔ اپنا راستہ خود بنا کر آزادیٔ اخلاق کااعلیٰ معیار اس لیے ہے کہ اپنی تعبیر جس سے مراد اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کر کے دنیا میں اپنے مخصوص شعبے میں نافذ کرنا ہے ‘ زندگی کو بامقصد بناتا ہے۔ پتا نہیں ہمارے دانشور اور عام قاری ادبی شہ پاروں اور &#39;&#39;زیست و نازیست‘‘ کے فلسفوں کو کیسے پڑھتے اور سمجھتے ہیں‘ یہ ہمارا سروکار نہیں۔اگر ہے تو صرف اپنی آزادی اور اس راہ سے جو وقت کے ساتھ ساتھ اپنی منزلیں نئے سرے سے ترتیب دینے کی تحریک جاری رکھتی ہے۔ میرے نزدیک آزادی سے زیادہ جاذب‘ متحرک اور طاقتور کوئی اور جذبہ نہیں۔ باقی سب ذیلی‘ وقتی اور جذباتی نوعیت کے ہیں۔ اس دوست نے کہا تھا کہ اس میں نہ پڑیں کہ&#39;&#39; زیست و نازیست‘‘ کے فلسفوں میں آپ کہیں کھو نہ جائیں اور آزادی کا تصور مبہم نہ رہ جائے۔ اس سے روشنی حاصل کرنے کے بجائے اندھیروں کی طرف نہ نکل جائیں۔ اس کی بات دل کے تہہ خانے میں رکھ کر اس کی حفاظت کی ہے۔ اپنے ملک اور معاشرے میں بہت کچھ دیکھا‘ سنا ہے اور کچھ اس کے معاشرتی اور انسانی رویوں کے بارے میں پڑھا بھی ہے۔ ہمارے نزدیک سب ٹھیک ہیں۔ سب ٹھیک ٹھاک ہیں۔یہاں جو بات غالب نظر آتی ہے وہ اپنی آزادی کے نام پر یا پھر اس کے اظہار میں دوسروں کیلئے سوچ اور زندگی کے دائرے کو محدود کرنے کی روش ہے۔ جب کبھی سننا پڑتا ہے کہ کوئی کسی سے کہے کہ آپ غلط ہیں تو ہمیں تو فرعونیت اور عدم برداشت کی بُو آتی ہے۔ آپ سے اختلاف کا مطلب کسی سے دشمنی ‘ حق و باطل کا معرکہ نہیں بلکہ ایک شخص کا اپنے خیالات ‘ افکار اور طرزِ زندگی کا اظہار ہے جس پر کسی دوسرے کو تبصرہ کرنے کی اجازت نہیں۔ یہ سماجی تبصرہ نگاری جو ہر گھر سے شروع ہو کر گلی‘ محلوں ‘درسگاہوں اور وسیع معاشرتی اور سماجی میدانوں تک پھیل چکی ہے دوسروں کے  متعلق تنقیدی تبصرے ایک طرح کا نفسیاتی اور ذہنی تشدد ہے جو عام طور پر لوگ اخلاقیات کو بنیاد بنا کر جائز خیال کرتے ہیں۔  انہیں اس اذیتناکی کا شعور ہی نہیں کہ معصوم بچوں سے لے کر اَن پڑھ آدمیوں تک‘ جو مجبوری میں شاید اظہار نہ کر سکیں‘ ان کے اثرات ان کے تحت الشعور میں چلے جاتے ہیں۔ یہ رویے آزادی اور خودی کیلئے زہر سے بھی زیادہ مہلک ہیں۔ تخلیق اور ذاتی تعمیر کی صلاحیتیں معاشرے سے رخصت ہو جاتی ہیں۔ آزادی کے مخالفین ہمیشہ طاقتور حلقے رہے ہیں کہ انہیں اپنے نظاموں‘ نظریات اور طاقت کے زوال کا خوف لاحق رہتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_33241568.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ایک موٹر سائیکل دو سواریاں سستا پٹرول(بابر اعوان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/babar-awan/2026-05-04/51884/74100634</link><pubDate>Mon, 04 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/babar-awan/2026-05-04/51884/74100634</guid><description>جب کوئی سرزمین بے آئین ہو جائے تب اس پہ ایسے قوانین بنتے ہیں جو عوام سے بولنے کا حق چھین لیں۔ ڈکٹیٹر شپ‘ فاشزم‘ وَن مین رُول یا بادشاہت ان کے بھی دو کان ہوتے ہیں۔ ایک ساکت و جامد و عُمی‘ دوسرا اوپن ایئر تھیٹر۔ اس کان سے ہر طرح کے  مراثی تعریف و توصیف کرنے کا اعزازحاصل کرتے ہیں جبکہ دوسرا کان تنقید و تنقیص کرنے والوں کے لیے کبھی نہیں کھلتا۔ یہ  ریکارڈ کی بات ہے کہ پچھلے چار سال میں 1973ء کے دستور میں دیے گئے بنیادی حقوق‘ شہری آزادیوں‘ فریڈم آف پریس اور اظہارِ رائے کے حق کو روکنے کے لیے دیوار بر دیوار اور اَن گنت گنبدِ بے در بنا دیے گئے۔جب کسی سماج میں حالات ایسے ہوں تو اصلی شعر و ادب جنم لیتا ہے جو ایک طرف تخلیق کاروں کے لیے تادیب و تعذیب کے تندور جلاتا ہے جبکہ دوسری جانب خوشامد اور کاسہ لیسی کو ادب کی ریوڑیاں بنا کر تقسیم کرتا ہے۔ تاریخ کا سبق یہ ہے جونہی دستور بحال ہو عوام کی زبان پر مزاحمتی ادب تخلیق کرنے والوں کے لیے احترام کے گیت ابھرنے لگتے ہیں‘ ہمیشہ سے یہی حقیقی ادب کا سب سے بڑا اعزاز چلا آ رہا ہے۔ اس کا مقابلہ نہ سرکاری اعزازیہ کر سکتا ہے نہ درباری اعزازات۔ اس قبیل کے تخلیق کاروں کے سرخیل  شاعرِ عوام حبیب جالب کو معلوم نہیں کس موصوف کے کمالات پر اپنے عوام کا حرفِ مدعا یوں کہنا پڑا تھا: یہ اعجاز ہے حسنِ آوارگی کاجہاں بھی گئے داستاں چھوڑ آئےجو دامن پہ آئیں تو ہو جائیں رسواکچھ ایسے بھی اشکِ رواں چھوڑ آئےیہ فکرِ جالب‘ بے فکری کابینہ کے ایک وزیر کے بے تدبیر بیان کو دیکھ کر پھر سے اجاگر ہوئی۔ یادش بخیر جب ہائبرڈ نظام کی کاٹھ کی ہنڈیا نئی نئی چولہے پر چڑھائی گئی تب بھی اس ہمہ صفت موصوف نے کہا تھا کہ اگر ڈالر ایک سو روپے پاکستانی سے نیچے نہ لایا تو میرا نام بدل دینا۔ اسی وقت سے اہلِ عوامی ادب نے ڈالر کو موصوف کا مستقل تخلص کر دیا۔ پاکستان میں کذب بیانی قابلِ دست اندازیٔ پولیس جرم ہے۔ اسے Perjuryکہتے ہیں۔ یہ جرم کسی ایک قانون میں درج نہیں بلکہ کئی قوانین میں تحریر ہے مگر انسدادِ کذب بیانی کے قوانین پر عملدرآمد بالکل ووٹ کو عزت دینے کے عمل سے ملتا جلتا ہے کیونکہ &#39;&#39;ووٹ کو عزت دو‘‘ والا کمر شل نعرہ بھی اسی جتھے کا تھا۔ مگر ہوا یوں کہ ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگانے والوں نے ووٹ لیے بغیر عہدے سنبھالنے کے بعد ووٹ کی تقدیس اور محترمی و مکرمی ووٹر صاحب کو کتنی عزت دی‘ اس کا حساب کتاب ہم قارئینِ وکالت نامہ آپ پر چھوڑ دیتے ہیں۔ڈالرسرکار نے اپنے حالیہ بیان میں پٹرول کو عزت دیتے ہوئے 25کروڑ لوگوں کو دو راکٹ سائنس منصوبے ان لفظوں میں سمجھائے۔پہلا منصوبہ ایک موٹر سائیکل دو سواریاں: وزیر موصوف نے عام لوگوں کو پٹرول کی بے تحاشا مہنگائی کے پریشر سے محفوظ رہنے کا نایاب نسخہ پیش کیا۔ انکشاف یہ کیا ہے کہ اگر ایک موٹر سائیکل پر دو سواریاں بیٹھ جائیں تو پٹرول کی قیمت آدھی ہو جائے گی۔ تین سو روپے فی لٹر پٹرول دو پر تقسیم کریں تو پٹرول کا لٹر فی سواری 150روپے کا ہوا۔ پنجاب کے میلوں میں بھبکا مارنے کے بعد ڈھولچی سے کہا جاتا ہے &#39;&#39;مار اوئے ڈھولیا ڈھول‘‘ ابھی ڈھولچی نے ڈھول پر پہلی تھاپ لگائی تھی کہ پٹرول کی قیمت چار سو روپے فی لٹر پر چھلانگ لگا گئی۔ رپورٹ شدہ حقائق کے مطابق یکم فروری 2026ء سے لے کر اب تک پٹرول کی قیمت میں 56فیصداضافہ ہوا ہے۔ دوسری سائنس یہ سمجھائی گئی کہ ہم نے پٹرول کی قیمت چار سو روپے فی لٹر ہونے سے روک کر دکھا دی۔ ڈالر والی سائنس کی طرح یہ سائنسی فارمولہ بھی درست ثابت ہوا۔ 25کروڑ لوگوں کے وسیع عوامی مفاد میں اب پٹرول 399.8روپے فی لٹر میں بِک رہا ہے۔ کروڑوں روپے کی گاڑیاں اور اربوں روپے کے جہازوں میں مفت کا پٹرول انجوائے کرنے والوں نے چار سو روپے لٹر پٹرول پر 14پیسے فی لٹر کے حساب سے قوم کو ریلیفِ عظیم دیا۔ ڈیزل میں بھی ہائبرڈ نظام نے ڈنڈی نہیں ماری وہ بھی چار سو روپے فی لٹر پر پہنچنے سے پہلے اسے 399.58روپے پر قابو کر لیا گیا۔ اسی موقع پر شاعرِ پٹوار نے کہا تھا‘ ریلیف دے نعرے وجن گے۔دوسرا منصوبہ عالمی منڈیوں کا قصور: سرکاری بیانیے کے مطابق چونکہ ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کے بعد تیل کی عالمی منڈیوں میں گڑبڑ ہوئی اس لیے پٹرول‘ ڈیزل‘ مٹی کا تیل مہنگا کرنے میں حکومت کا کوئی قصور نہیں۔ اس بے بنیاد دعوے کی تردید کے لیے ایک بار پھر رپورٹ شدہ حقائق دیکھ لینا بہتر ہو گا۔آئیے پہلے چلتے ہیں لاہور سے 235میل دور بھارت کے دارلحکومت دہلی‘ جہاں پٹرولیم کی قیمتیں 278پاکستانی روپے فی لٹر پر برقرار رکھی گئی ہیں۔ یہ بھی ریکارڈ کی بات ہے کہ عالمی یا امریکی پابندیوں کی وجہ سے ایران سے ہمارے کوئی آفیشل ٹریڈ تعلقات نہیں ہیں۔ ہمارے مقابلے میں بھارت چا بہار سمیت ایران کا ٹریڈ پارٹنر تھا اور ہے۔ بھارت ایرانی تیل خرید کر استعمال کرتا ہے۔ دہلی سے آگے ڈھاکہ میں صرف 19فیصد اضافے کے ساتھ پٹرولیم کی قیمتیں 306روپے پاکستانی تک پہنچی ہیں۔ سادہ گنتی بتاتی ہے کہ دہلی میں پٹرول 122روپے اور ڈھاکہ میں 94روپے فی لٹر پاکستان سے سستا ہے۔اب آیئے! ایک ماسٹر ٹرِک کی طرف۔ ان تینوں قیمتوں میں فرق صرف پٹرولیم لیوی کا نہیں بلکہ اس ٹیکس کا ہے جو پاکستانی عوام ادا کر رہے ہیں۔ شہرِ اقتدار کے مقتدر ابھی اس ٹیکس میں مزید اضافہ کریں گے۔ لیویز مزید بڑھانے کا اعلان ہائبرڈ نظام پہلے کر چکا۔ اگلے تیس دن کے دوران مراحل میں پٹرول کی قیمت کئی صد روپے مزید بڑھائی جائے گی۔ وہ بھی قسطوں میں۔اصل مسئلہ ملک میں دولت کی غیرمنصفانہ تقسیم اور طبقاتی سماج میں دراڑیں ہیں۔ ریاست کے پاس عوام پر ٹیکسیشن کے علاوہ کوئی ذریعہ آمدن نہیں ہے۔ منیجرز کا مسئلہ نہ سستا پٹرول ہے نہ روٹی نہ عوام۔ باقی سب بے فیض‘ فریب سے آلودہ کہانیاں ہیں۔منبر پہ دل فریبی ٔآواز کا فسوںمحراب کی زباں پہ خطابت کی ساحریدامن پہ داغ ہائے ریا کی علامتیںدل میں نہ سوزِ عشق‘ نہ عرفاں‘ نہ راہبری</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_42786259.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ریفارمز‘ سرمایہ کاری اور ڈیجیٹل معیشت(میاں عمران احمد)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mian-imran-ahmad/2026-05-04/51885/99757283</link><pubDate>Mon, 04 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mian-imran-ahmad/2026-05-04/51885/99757283</guid><description>پاکستان کی معیشت اس وقت ایک ایسے رجحان کا شکار ہے جہاں اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں مگر اصلاحات نظر نہیں آ رہیں۔ گزشتہ چار برسوں میں پاکستان کے قرضوں اور واجبات کا حجم 55 کھرب روپے سے بڑھ کر 85 کھرب روپے تک پہنچ چکا ہے۔ یعنی 30 کھرب روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ یہ تقریباً ساڑھے سات کھرب روپے سالانہ‘ تقریباً 625 ارب روپے ماہانہ اور تقریباً 20 ارب روپے یومیہ اضافہ ہے۔سادہ الفاظ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہر روز حکومت اتنا قرض بڑھا رہی ہے جتنا ایک بڑے موٹروے منصوبے پر خرچ ہو سکتا ہے‘ مگر اس کے بدلے میں کوئی بڑا اثاثہ یا ترقیاتی منصوبہ سامنے نہیں آ رہا۔ بجلی کے شعبے کی صورتحال بھی مختلف دکھائی نہیں دیتی۔ گردشی قرضہ 2.2کھرب روپے سے بڑھ کر 3.2 کھرب روپے ہو چکا ہے۔ یعنی چار برسوں میں ایک کھرب روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ سرکاری ادارے بھی معیشت پر ایک بڑا بوجھ دکھائی دے رہے ہیں۔ پاکستان میں 110 سے زائد سرکاری ادارے ایسے ہیں جن کے مجموعی واجبات 30 کھرب روپے سے زیادہ ہیں۔ یہ ادارے ہر سال تقریباً 800ارب سے ایک کھرب روپے تک کا نقصان کرتے ہیں۔ پاکستان ریلوے چل رہی ہے مگر اپنے اخراجات پورے نہیں کرتی جبکہ سٹیل ملز پیداوار نہ ہونے کے باوجود وسائل استعمال کر رہی ہے۔ یعنی اثاثے تو موجود ہیں مگر ان سے آمدن نہیں ہو رہی۔ حکومتی اخراجات کا ایک اور پہلو بھی توجہ طلب ہے۔ وفاق اور چاروں صوبائی حکومتیں مل کر تقریباً 85,500 گاڑیوں کا بیڑا چلاتی ہیں۔ ان گاڑیوں کے ایندھن پر سالانہ تقریباً 114 ارب روپے خرچ ہوتے ہیں۔ یہ اخراجات اس بات کی نشاندہی کررہے ہیں کہ وسائل کا بڑا حصہ صرف نظام کو چلانے پر لگ رہا ہے نہ کہ معیشت کو آگے بڑھانے پر۔برآمدات کی صورتحال بھی حوصلہ افزا نہیں۔ چار برس پہلے پاکستان کی برآمدات تقریباً 32ارب ڈالر تھیں جو اَب 30ارب ڈالر سے بھی نیچے آ چکی ہیں۔ اگر ان تمام شعبوں کو ایک ساتھ دیکھا جائے تو صورتحال زیادہ اچھی دکھائی نہیں دیتی۔ اخراجات بڑھ رہے ہیں مگر کارکردگی اور اصلاحات نظر نہیں آ رہیں۔ یہ صورتحال شاید زیادہ دیر تک برقرار نہیں رہ سکتی‘ مشکل مگر ضروری فیصلے لینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔حکومت نہ تو ملکی اخراجات کم کرنے کو تیار دکھائی دے رہی ہے اور نہ ہی کاروباری طبقے کے اخراجات کم کرنے کیلئے کوشاں ہے۔ سوئی سدرن گیس کمپنی نے گیس کی قیمتوں میں اضافے کی تجویز دے دی ہے۔ درخواست کے مطابق اگر تمام خسارے شامل کیے جائیں تو قیمت میں اضافہ 286 فیصد تک جا سکتا ہے اور گیس تقریباً 6,855 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو تک پہنچ سکتی ہے جو صنعت کے لیے ناقابلِ برداشت ہے۔ اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ گیس کی کھپت 9.4فیصد کم ہوئی لیکن اخراجات 108فیصد بڑھ گئے جبکہ مجموعی مالی بوجھ 1.28کھرب روپے تک جا پہنچا ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ پرانے خسارے جو تقریباً 956ارب روپے ہیں وہ موجودہ صارفین پر ڈالے جا رہے ہیںجبکہ صنعت پہلے ہی مہنگی توانائی کے باعث پچاس فیصد تک گیس استعمال کم کر چکی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ چوری‘ لیکیج اور نااہلی جیسے مسائل جوں کے توں ہیں۔ پالیسی اور حکومتی اخراجات بھی قیمت میں شامل کیے جا رہے ہیں‘ جو انصاف نہیں۔ ایسے میں اوگرا کو سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ مسئلہ گیس مہنگی کرنا نہیں بلکہ نظام کو بہتر بنانا ہے۔ اسی طرح تیل کی اصل قیمت کے علاوہ لیوی اور اب غریب عوام کو دی جانے والی سبسڈی کا بوجھ بھی متوسط طبقے سے وصول کیا جارہا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات میں حالیہ دو اضافے عالمی قیمتیں بڑھنے کی وجہ سے نہیں بلکہ مبینہ طور پر سبسڈی دینے کیلئے کیا گیا ہے اور وہ سبسڈی کسے مل رہی ہے ابھی تک واضع نہیں ہو سکا کیونکہ عوامی سطح پر اکثریت کامؤقف یہی ہے کہ ایپ کام نہیں کر رہی اور سستا پٹرول نہیں مل رہا۔ تیل کی کمپنیاں امیر ہو رہی ہیں اور عوام غریب ہو رہے ہیں۔یکم فروری کو بنگلہ دیش میں پٹرول تقریباً 130 ٹکہ فی لٹر تھا اور اب تک زیادہ تبدیل نہیں ہوا۔ نئی دہلی میں پٹرول 94.72بھارتی روپے فی لٹر تھا اور آج بھی وہی ہے‘ اسی دن پاکستان میں پٹرول 257 روپے فی لٹر تھا جو اَب 399.86 روپے ہو چکا ہے‘ یعنی تقریباً 56 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ہمسایہ ممالک میں حکومت نے پٹرول پر ٹیکس کم کیے اور سرکاری آئل کمپنیاں کچھ نقصان برداشت کرتی رہیں تاکہ عوام کو فوری ریلیف مل سکے‘ اس کے برعکس پاکستان میں مقامی ریفائنریز کو بھی درآمدی قیمت کے برابر اور کئی مرتبہ اضافی ادائیگی کی گئی ہے۔ جس سے عوام پر بوجھ بڑھ گیا ہے۔صدرِ پاکستان چین کے پانچ روزہ دورے کے بعد پاکستان واپس آچکے ہیں۔ دورے کا مقصد پاکستان اور چین کے درمیان صنعت‘ زراعت اور بندرگاہوں کے شعبوں میں معاشی تعاون کو بڑھانابتایا جا رہا ہے۔ کئی معاہدوں پر دستخط بھی کیے گئے جن میں زرعی ٹیکنالوجی‘ سمندری پانی کو صاف کرنے کے منصوبے‘ چائے کے شعبے‘ مشینری‘ جانوروں کی ویکسین اور میڈیکل ٹیکنالوجی شامل ہیں۔یہ سب سننے میں مثبت لگتا ہے کیونکہ پاکستان کو اس وقت سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کی سخت ضرورت ہے۔ خاص طور پر سی پیک کے دوسرے مرحلے میں صنعت اور برآمدات پر توجہ دینا درست سمت ہے۔ اگر ان منصوبوں پر صحیح طریقے سے کام ہو جائے تو اس سے ملک میں روزگار بڑھ سکتا ہے اور معیشت کو سہارا مل سکتا ہے۔ لیکن اصل مسئلہ شاید یہاں سے ہی شروع ہوتا ہے۔پاکستان میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ معاہدے تو ہو جاتے ہیں مگر ان پر مکمل عملدرآمد نہیں ہو پاتا۔ فائلیں چلتی رہتی ہیں‘ منصوبے سست روی کا شکار ہو جاتے ہیںاور کئی مواقع ضائع ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سی پیک کے پہلے مرحلے کے باوجود ملکی برآمدات اور صنعتی ترقی میں وہ کامیابی حاصل نہیں کی جا سکی جس کی امید کی جا رہی تھی۔ چین مواقع دے سکتا ہے‘ مگر کامیابی خود حاصل کرنا ہوتی ہے۔ اگر ادارے مضبوط ہوں‘ پالیسی واضح ہو اور فیصلوں میں تسلسل ہو تو یہی معاہدے بڑی کامیابی میں بدل سکتے ہیں۔ ورنہ یہ صرف خبروں تک محدود رہ سکتے ہیں۔سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کیلئے وزیراعظم نے ورچوئل اثاثوں کو باقاعدہ قانونی دائرے میں لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مقصد کیلئے ورچوئل اثاثہ ایکٹ 2026ء نافذ کیا گیا ہے اور وزیراعظم نے ہدایت دی ہے کہ ایک مؤثر ریگولیٹری نظام جلد مکمل طور پر فعال کیا جائے تاکہ پاکستان میں ڈیجیٹل معیشت کو فروغ ملے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے۔ اس کے ساتھ نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل فنانس کی تربیت دینے پر زور دیا جا رہا ہے تاکہ مستقبل کی معیشت کیلئے افرادی قوت تیار ہو سکے۔ پاکستان کی تقریباً 64 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر ہے‘ جو اگر ڈیجیٹل فنانس میں مہارت حاصل کر لے تو ملک میں روزگار کے لاکھوں نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔حکومت نے ایک ریگولیٹری سینڈ باکس بھی متعارف کرایا ہے جہاں نئی ٹیکنالوجی کو محدود پیمانے پر آزمایا جاسکتا ہے۔سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بھی ورچوئل اثاثوں کو قانونی حیثیت دینے کے بعد واضح کیا ہے کہ اب اس شعبے میں ہر منصوبے یا پائلٹ پروجیکٹ کے لیے باقاعدہ اجازت ضروری ہوگی۔ عالمی ڈیجیٹل معیشت کا حجم 2024ء میں تقریباً 16 ٹریلین ڈالر تک پہنچ چکا تھا اور ہر سال اس میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسے میں اگر پاکستان اس شعبے میں سے ایک فیصد بھی حصہ حاصل کر لے تو یہ اربوں ڈالر کی معیشت بن سکتی ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اس کیلئے تیار ہے؟پاکستان میں مسئلہ اکثر پالیسی بنانے کا نہیں بلکہ اس پر عملدرآمد کا ہوتا ہے۔ ادارے کمزور ہیں‘ نظام سست ہے اور پالیسیوں میں تسلسل نہیں۔ اگر یہی صورتحال رہی تو یہ بڑا موقع بھی ضائع ہو سکتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/212_71532147.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>چٹاگانگ۔ پرانا اسلام آباد(سعود عثمانی )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-05-04/51886/91823594</link><pubDate>Mon, 04 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-05-04/51886/91823594</guid><description>چٹاگانگ کے ایک پُرہجوم بازار میں بس رکی اور مسافر اترنے لگے۔ ویسے تو پُرہجوم کا لفظ بنگلہ دیش کیلئے ہر جگہ درست ہے لیکن چٹاگانگ تو ملک کا دوسرا بڑا شہر بھی ہے۔ گاڑیاں‘ سائیکل رکشے اور بسیں ہر طرف تھیں۔ بنگلہ دیش میں آن لائن ٹیکسی ایپلی کیشنز بھی ہیں لیکن ان میںسب سے مقبول &#39;&#39;پتھاؤ‘ ‘ ( Pathao) ہے۔ ایک بات یہ کہ مجھے ملک میںہر جگہ انٹر نیٹ کی سپیڈ بہت اچھی ملی جو قابلِ تعریف ہے۔ ہم پتھاؤ کی ٹیکسی میں بیٹھے اور وہ کئی بازاروں سے گزار کر ہمیں ریڈیسن بلیو ہوٹل لے گئی جہاں ہماری بکنگ تھی اور ایک دن یہیں قیام کرنا تھا۔ ایک چھوٹی سی گنجان سڑک پر پنج ستارہ ہوٹل دیکھ کر ذرا حیرت ہوئی لیکن ہوٹل بہت اچھا‘ وسیع اور آرام دہ تھا۔ ایسی جگہوں پر میری ترجیح اوپر کی منزلوں پر ٹھہرنا ہوتا ہے۔ اس لیے کہ ٹریفک کا شور بھی کم ہوتا ہے اور شہر کا منظر صاف۔ سورج چھپنے کو تھا اور شہر کے چراغ روشن ہورہے تھے۔ باقی صدیقی کا کیا شعر ہے:داغِ دل ہم کو یاد آنے لگے؍ لوگ اپنے دیے جلانے لگےشہر ایک اور نام کئی۔ چٹاگانگ‘ چاٹگام‘ چاٹوگرام‘ چھٹالا سب اسی شہر کے نام ہیں جس کا سرکاری نام اب چاٹو گرام ہے۔ گرام کا لفظ وہی ہے جو ہمارے ہاں پنجابی میں گراں اور اردو میں گاؤں ہے۔ عبوری حکومت کے سربراہ ڈاکٹر یونس کا گرامین بینک انہی معنوں میں ہے یعنی گاؤں کا بینک۔ میں نے کہیں پڑھا کہ چاٹو بنگالی میں لالٹین یا قندیل کو کہتے ہیں اور اس جگہ اس کے کاریگر تھے۔ کچھ کہتے ہیں کہ یہ چھوٹو گرام تھا یعنی چھوٹا گاؤں۔ خیر جو بھی ہو‘ نئی بات یہ ہے کہ مغل دور میں اس شہر کا نام اسلام آباد رکھ دیا گیا تھا اور یہ نام کافی مدت تک مروج رہا۔ ایک کروڑ آبادی کا یہ شہر بنگلہ دیش کی ریڑھ کی ہڈی ہے‘ کیونکہ بندرگاہ کی حیثیت میں سمندری تجارت یہیں سے ہوتی ہے۔ بندرگاہ ہونے کی وجہ سے یہاں ٹیکسٹائل اور دیگر صنعتیں بھی لگیں اور اس طرح اس کی آبادی پھیلتی گئی۔ ایک طرف چٹاگانگ ہِل ٹریکٹ یعنی پہاڑی علاقے اور دوسری طرف دریائے کرنا فلی کے بیچ بسا ہوا شہر خوبصورت اور ہرابھرا ہے۔ کرنافلی یہاں سینکڑوں میل طویل سفر کے بعد تھک کر خود کو خلیج بنگال کی وسعت کے سپرد کردیتا ہے۔ کرنافلی نام بھی دلچسپ ہے۔ عربی میں قرنفل مسالے میں استعمال ہونے والی لونگ کو کہتے ہیں اور اس دریا میں لونگ کا بھرا ہوا جہاز ڈوب گیا تھا‘ سو عرب اسے اسی نام سے یاد کرنے لگے۔ اس بندرگاہ پر عباسی دور میں مسلمانوں کی حکومت بھی رہی۔ چٹاگانگ پہاڑی علاقے یعنی ہل ٹریکٹ کی خوبصورتی کا بہت ذکر سنا ہے لیکن یہ علاقہ قبائلی جنگجوؤں کی وجہ سے غیر محفوظ ہے اور ادھر جانے کی اجازت فوج سے لینا پڑتی ہے۔ یہ اجازت بھی محدود علاقے کے لیے ملتی ہے۔ آگے بھارتی سرحد ہے۔ کہتے ہیں کہ بھارت یہاں مسلسل مسائل بنائے رکھتا ہے لیکن پہاڑی علاقے کے علاوہ بھی چٹاگانگ میں دیکھنے کو بہت کچھ ہے۔حسینہ واجد کے خلاف تحریک میں ہر طبقے اور ہر شہر کے لوگ شامل تھے۔ جولائی 2024ء میں جب تحریک عروج پر تھی تو میں نے بنگلہ دیش پر کئی کالم لکھے تھے۔ ایسے ہی کالموں کے ذریعے نصرت نوری سے رابطہ ہوا جو خود قلم کار‘ سوشل ایکٹوسٹ اور سیاسی شعور والی خاتون ہیں۔ نصرت نوری چٹاگانگ سے ہیں۔ وہ مجھے کافی عرصے سے اچھے موسم میں بنگلہ دیش آنے کی دعوت دے رہی تھیں۔ اب چٹاگانگ آکر ان سے نہ ملنا بڑی زیادتی ہوتی۔ وہ خود بھی میرے بنگلہ دیش کے سفر کی فیس بک پوسٹس سے آگاہ تھیں اور چاہتی تھیں کہ ملاقات ضرور ہوسکے۔ دوسری طرف 12 جنوری کی رات چٹاگانگ پہنچنے پر ہمارے پاس صرف 24 گھنٹے تھے۔ 13 کو واپس ڈھاکہ کی فلائٹ تھی۔ رات کا وقت نکال دیں تو چٹاگانگ گھومنے کیلئے کچھ گھنٹے ہی بچتے تھے۔ وقت کم تھا چنانچہ یہ طے کیا کہ نصرت نوری میرے ہوٹل ہی آجائیں اور کچھ وقت لابی میں گپ شپ کرتے گزارا جائے۔ جلد ہی یہ خوبصورت‘ بوٹا قد ہنستی مسکراتی لڑکی ہوٹل پہنچ گئی لیکن خالی ہاتھ نہیں۔ نوری میرے لیے گلدستہ اور تحائف لائی تھیں۔ ان کا خلوص اور پاکستان سے محبت بہت قابلِ قدر تھی اور اپنے وطن سے بہت دور ایک اجنبی لڑکی سے اٹھتی اپنائیت کی لہریں محسوس کرنا ایک منفرد تجربہ تھا۔ ہم نے بھیگتی رات میں ایک خوبصورت گوشہ سنبھالا‘ کافی پی‘ گپ شپ کی‘ تصویریں کھنچوائیں اور بھاگتے دوڑتے وقت میں گنجائش نہ ہونے پر افسوس کیا۔ وہ چٹاگانگ کی خوبصورت جگہیں اور آبشاریں دکھانے کا ارادہ رکھتی تھیں لیکن ہمارے پروگرام پہلے ہی طے تھے اس لیے یہ بھی ممکن نہ تھا۔ زندگی میں بہت سے ارادے اور پروگرام کبھی مکمل نہیں ہوپاتے۔ بس ان کے خاکے اور ان سے جڑا افسوس دل میں رہ جاتا ہے۔نصرت نوری کو رخصت کرکے خیال آیا کہ ابھی کچھ وقت ہے کیوں نہ اسے شہر دیکھنے میں خرچ کریں چنانچہ میں اور حذیفہ نکلے۔ گاڑی منگوائی اور چٹاگانگ کی مشہور پتنگا بیچ کا رخ کیا جو شہر سے کوئی 15 کلومیٹر دور ہے۔ یہ راستہ دریائے کرنافلی کے دہانے کے قریب سے گزرتا ہے۔ یہیں دریا پر گاڑیوں کیلئے ایک زیر آب سرنگ بنائی گئی ہے جو ایک کنارے سے دوسرے پر لے جاتی ہے۔ شیخ مجیب کے نام سے منسوب یہ سرنگ جنوبی ایشیا کی پہلی زیرِ آب سرنگ کہلاتی ہے۔ سرنگ کا حصہ 3.3 کلومیٹر ہے۔ اکتوبر 2023ء میں حسینہ واجد نے اس کا افتتاح کیا اور یقینا یہ خوبصورت سرنگ ہے لیکن میں نے حیرت سے دیکھا کہ اس پر ٹریفک نہ ہونے کے برابرہے۔ بتایا گیا کہ 11 ہزار کروڑ ٹکہ(لگ بھگ 25 ہزار کروڑ روپے) سے بننے والا یہ راستہ اولیت کے شوق میں بنا تو لیا گیا لیکن اس کی افادیت نہ ہونے کے برابر یا بہت کم ہے ۔ بدقسمتی سے حکمرانوں کے شوق ایسے ہی ہوا کرتے ہیں۔ افتتاحی تقریب شاید آخری تقریبات میں سے ہوگی اور آخری فیتہ جو حسینہ واجد نے کاٹا۔پتنگا بیچ پر رات کے اندھیرے میں ایک طرف سمندر پر کشتیاں اور جہاز ہلکورے لیتے تھے اور دوسری طرف ساحل کے ساتھ ساتھ بے شمار دکانیں اور خوانچے لگے تھے۔ آپ کو سمندری غذاسے لے کر ہر طرح کی چاٹ‘ ناریل اور چٹ پٹی چیزیں یہاں مل جائیں گی۔ لیکن یہ عوامی تفریح گاہ کچھ خاص پسند نہ آئی۔ اگر آپ قدرے سکون کی فضا میں سمندر اور ہواؤں سے ہم کلامی کیلئے یہاں آئیں تو یہاں یہ ملنے والی نہیں۔ ہم کچھ ہی دیر یہاں ٹھہرے اور کچھ مرچ مسالے والے خوانچوں کی بوہنی کرواتے پھرتے رہے۔حذیفہ کو اندازہ ہوگیا تھا کہ مجھے پتنگا بیچ زیادہ بھایا نہیں‘ اور اب وہ اس فکر میں تھا کہ کون سی جگہ دکھا کر تلافی کی جائے۔ جلد ہی اس نے گاڑی ایک طرف موڑنے کو کہا۔ ہو ا میں نمی کی بو باس بڑھتی گئی اور جلد ہی ہم چٹاگانگ بوٹ کلب میں پہنچ گئے۔ یہ دریائے کرنافلی پر بنا ہوا خوبصورت کلب ہے جو بنگلہ دیش میرین اکیڈمی کے پہلو میں بنایا گیا ہے اور اشرافیہ کو سکون‘ خوبصورتی اور سہولتیں تینوں فراہم کرتا ہے۔ یہاں طعام گاہیں‘ لان‘ دریا کنارے کھانے پینے کی سہولت سمیت سبھی کچھ میسر ہے اور یقینا شاندار جگہ ہے۔ کھلی فضا میں مچھر بہت تھے اس لیے ہمیں اندر ہی پناہ لینا پڑی۔ یہاں گزارا وقت‘ لذیذ تنوری پراٹھا اور بھنا گوشت جسے کارا بھنا کہتے ہیں‘ یاد رہے گا۔ کارا یعنی کالا! اسلئے کہ بھوننے پر اس گوشت کا رنگ گہرا ہوجاتا ہے۔ میں پاکستانی شلوار کرتا پہنے ہوئے تھا اس لیے بھی لوگ مڑ مڑ کر دیکھتے اور خوش آمدید کہتے تھے اور خوشی ہوتی تھی کہ پاکستان ان کا پسندیدہ ملک ہے۔ چند مثالیں چھوڑ دی جائیں تو پورے ملک میں پاکستان کیلئے کوئی ناپسندیدگی اور نفرت نہیں دیکھی لیکن بہرحال وہ مثالیں بھی موجود ہیں۔ہم ہوٹل پہنچے تو شکم سیری‘ بھرپور دن‘ نئے منظروں کا خمار سب یکجا ہوکر نشے کی طرح آنکھوں میں بھرے ہوئے تھے۔ چٹاگانگ کی وہ پُرسکون ٹھنڈی سیاہ رات اور گہری بے خبر نیند بھی یاد رہے گی۔ کیا میں اسے &#39;&#39;کاری نیند‘ ‘ کہہ لوں؟</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_81278520.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>اعمال کی قبولیت کی دو شرائط(علامہ ابتسام الہٰی ظہیر )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-05-04/51887/35802653</link><pubDate>Mon, 04 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-05-04/51887/35802653</guid><description>انسانوں کی اکثریت یہ چاہتی ہے کہ ان کے اعمال اپنے پروردگار کی بارگاہ میں قبول ہو جائیں اور اس حوالے سے بہت سے لوگ اپنی بساط کے مطابق جستجو بھی کرتے رہتے ہیں‘ تاہم اعمال کی قبولیت کی دو اہم شرائط کو کئی مرتبہ نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ اعمال کی قبولیت کی پہلی شرط یہ ہے کہ انسان اپنی نیت کی اصلاح کرے اور اعمال کو خالصتاً اللہ تبارک و تعالی کی رضا کیلئے انجام دے۔ اس حوالے سے صحیح بخاری کی پہلی حدیث غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے۔صحیح بخاری میں علقمہ بن وقاص اللیثی سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو سنا اور آپ منبر پر موجود تھے‘ آپ فرما رہے تھے کہ میں نے رسول اللہﷺ کو سنا؛ آپؐ فرما رہے تھے کہ &#39;&#39; تمام اعمال کا دارومدار نیت پر ہے اور ہر عمل کا نتیجہ ہر انسان کو اس کی نیت کے مطابق ہی ملے گا۔ پس جس کی ہجرت ( ترک وطن ) دولتِ دنیا حاصل کرنے کیلئے ہو یا کسی عورت سے شادی کی غرض سے ہو پس اس کی ہجرت ان ہی چیزوں کیلئے ہو گی جن کے حاصل کرنے کی نیت سے اس نے ہجرت کی ہے‘‘۔ یہ حدیث واضح کرتی ہے کسی بھی انسان کے اعمال کی بنیاد اس کی نیت پر ہوتی ہے۔ اگر کوئی بھی شخص خالصتاً اللہ کی رضا کیلئے کوئی کام کرتا ہے تو وہ عمل اللہ تبارک و تعالی کی بارگاہ میں نیکی کی حیثیت سے درج کیا جائے گا جبکہ اس کے برعکس اگر کوئی عمل کسی اور مقصد کیلئے  کیا جاتا ہے تو اس کو اسی مقصد کے ساتھ جوڑا جائے گا۔جب کتبِ احادیث کا مطالعہ کیا جاتا ہے تو یہ بات سمجھ میںآتی ہے کہ بہت سے اچھے اعمال جب اخلاص کے بجائے دکھلاوے کی نیت سے کیے جاتے ہیں تو وہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی بارگاہ میں قبول نہیں ہوتے۔ اس حوالے سے صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: &#39;&#39;قیامت کے روز سب سے پہلا شخص جس کے خلاف فیصلہ آئے گا‘ وہ ہو گا جسے شہید کر دیا گیا۔ اسے پیش کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ اسے اپنی (عطا کردہ) نعمت کی پہچان کرائے گا تو وہ اسے پہچان لے گا۔ وہ پوچھے گا تو نے اس نعمت کے ساتھ کیا کیا؟ وہ کہے گا: میں نے تیری راہ میں لڑائی کی حتیٰ کہ مجھے شہید کر دیا گیا۔ (اللہ تعالیٰ) فرمائے گا تُو نے جھوٹ بولا۔ تم اس لیے لڑے تھے کہ کہا جائے: یہ (شخص) جری ہے۔ اور یہی کہا گیا‘ پھر اس کے بارے میں حکم دیا جائے گا تو اس آدمی کو منہ کے بل گھسیٹا جائے گا یہاں تک کہ آگ میں ڈال دیا جائے گا اور وہ آدمی جس نے علم پڑھا ‘ پڑھایا اور قرآن کی قرأت کی‘ اسے پیش کیا جائے گا۔ ( اللہ تعالیٰ) اسے اپنی نعمتوں کی پہچان کرائے گا‘ وہ پہچان لے گا۔ وہ (اللہ تعالیٰ) فرمائے گا : تُو نے ان نعمتوں کے ساتھ کیا کیا؟ وہ کہے گا : میں نے علم پڑھا اور پڑھایا اور تیری خاطر قرآن کی قرأت کی۔ ( اللہ ) فرمائے گا : تُو نے جھوٹ بولا‘ تُو نے اس لیے علم پڑھا کہ کہا جائے (یہ) عالم ہے اور تُو نے قرآن اس لیے پڑھا کہ کہا جائے : یہ قاری ہے‘ وہ کہا گیا۔ پھر اس کے بارے میں حکم دیا جائے گا کہ اسے منہ کے بل گھسیٹا جائے گا حتیٰ کہ آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ اور وہ آدمی جس پر اللہ نے وسعت کی اور ہر قسم کا مال عطا کیا اسے لایا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ اسے اپنی نعمتوں کی پہچان کرائے گا‘ وہ پہچان لے گا۔ اللہ فرمائے گا : تم نے ان میں کیا کیا؟ کہے گا : میں نے کوئی راہ نہیں چھوڑی جس میں تمہیں پسند ہے کہ مال خرچ کیا جائے مگر ہر ایسی راہ میں خرچ کیا۔ اللہ فرمائے گا: تم نے جھوٹ بولا ہے ‘ تم نے ( یہ سب ) اس لیے کیا تاکہ کہا جائے کہ وہ سخی ہے‘ ایسا ہی کہا گیا۔ پھر اس کے بارے میں حکم دیا جائے گا تو اسے منہ کے بل گھسیٹا جائے گا‘ پھر آگ میں ڈال دیا جائے گا‘‘۔ اس حدیث پاک سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جو شخص اللہ تبارک و تعالی کی رضا کے بجائے اپنے نام و نمودکیلئے کوئی کام کرے گا‘ اس کا وہ کام اللہ تبارک و تعالی کی بارگاہ میں مقبول نہیں ہوگا۔ مذکورہ بالا دونوں احادیث اخلاص کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہیں۔ اگر انسان مخلص ہو تو اللہ تبارک و تعالی اس کے اعمال کو قبول کر لیتے ہیں۔نیت کی اصلاح کے ساتھ ساتھ ایک اور شرط کو بھی اہمیت دینا انتہائی ضروری ہے۔ اس لیے کہ دنیا میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جن کے اعمال اخلاص کے باوجود بھی مقبول نہیں ہو سکیں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے اعمال نبی کریمﷺ کی سنت  مبارکہ کے مطابق نہیں ہوں گے۔ چنانچہ کوئی بھی انسان جب مخلص ہو کر کوئی عمل کرتا ہے تو اس کو اس عمل کو سنتِ نبوی شریف کے مطابق کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اللہ تبارک و تعالی نے قرآن مجید کے متعدد مقامات پر نبی کریمﷺ کے اسوہ حسنہ کی اہمیت کو اجاگر کیا۔سورۃ الاحزاب کی آیت: 21  میں ارشاد ہوا&#39;&#39; یقینا تمہارے لیے رسول اللہ میں عمدہ نمونہ (موجود) ہے‘ ہر اس شخص کیلئے جو اللہ تعالیٰ کی اور قیامت کے دن کی توقع رکھتا ہے اور بکثرت اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا ہے‘‘۔ اسی طرح اللہ تبارک و تعالی سورہ آل عمران کی آیت : 31 میں نبی کریمﷺ کی اتباع کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں &#39;&#39;کہہ دیجئے! اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو میری تابعداری کرو‘ خود اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ معاف فرما دے گااور اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا مہربان ہے‘‘۔ اس کے مد مقابل ایسا شخص جو نبی کریمﷺ کے فرامین مبارک سے انحراف کرتا ہے‘ اس کے بارے میں قرآن مجید کے متعدد مقامات پر سخت وعید سنائی گئی ہے۔ اللہ تبارک و تعالی سورۃ النور کی آیت: 63میں ارشاد فرماتے ہیں &#39;&#39;سنو جو لوگ حکمِ رسول کی مخالفت کرتے ہیں انہیں ڈرتے رہنا چاہیے کہ کہیں ان پر کوئی زبردست آفت نہ آ پڑے یا انہیں درد ناک عذاب نہ پہنچے‘‘۔ اللہ تبارک و تعالی نے قرآن مجید میں اہلِ ایمان کو اس بات کا حکم دیا ہے کہ وہ نبی کریمﷺ کی ہر بات کو بلا چون و چرا تسلیم کریں۔جو شخص اس حکم سے انحراف کرتا ہے‘ اس کو اپنے ایمان کی فکر کرنی چاہیے۔ اللہ تبارک و تعالی سورۃالنساء کی آیت میں ارشاد فرماتے ہیں &#39;&#39;سو قسم ہے تیرے پروردگار کی! یہ مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ تمام آپس کے اختلاف میں آپ کو حاکم نہ مان لیں‘ پھر جو فیصلے آپ ان میں کر دیں ان سے اپنے دل میں اور کسی طرح کی تنگی اور ناخوشی نہ پائیں اور فرمانبرداری کے ساتھ قبول کر لیں‘‘۔ ان آیاتِ مبارکہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ہر مومن و مسلمان کو دین کے تمام معاملات میں نبی کریمﷺ کی اتباع کرنی چاہیے اور کسی بھی طور پر آپﷺ کے اسوہ سے انحراف نہیںکرنا چاہیے۔ ایک شخص جو خلوصِ نیت سے اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کیلئے نماز ادا کرتا ہے لیکن نماز کی رکعتوں اور ارکان میں اضافہ کرتا ہے ‘ ایسے شخص کی نماز عنداللہ مقبول نہیں ہوگی۔ اسی طرح کوئی شخص جو حج یا عمرے کے سفرپر جائے اور طواف اور سعی کے چکروں کی تعداد میں اضافہ کرنا چاہے تو اس کے وہ چکر اللہ تبارک و تعالی کی بارگاہ میں مقبول نہیں ہوں گے۔چنانچہ اعمال کی قبولیت کیلئے جہاں اصلاحِ نیت ضروری ہے وہیں نبی کریمﷺ کی اتباع اور آپﷺ کی سنت سے تمسک کا اختیار کرنا بھی ضروری ہے۔ جو شخص ان دو شرائط کو پورا کر لیتا ہے‘ اللہ تبارک و تعالی اس کے اعمال کو قبول کر لیتے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالی ہماری نیت کی اصلاح فرما ئے‘ ہمیں نبی کریمﷺ کی حقیقی اتباع کرنے کی توفیق دے اور ہمارے اعمال کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے ،آمین!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_19740082.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>