<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>نئے صوبوں کے قیام کا مطالبہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-31/11410</link><pubDate>Fri, 31 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-31/11410</guid><description>ملک میں نئے صوبوں کے قیام کا مطالبہ ایک بار پھر اُبھر کر سامنے آیا ہے۔ اس بار یہ مطالبہ پہلی اکنامک سمٹ میں ملک کی سرکردہ شخصیات کی جانب سے کیا گیا ہے جنہوں نے ملک میں انتظامی و مالیاتی ڈھانچے کی بہتری اور گورننس کے مسائل کے حل کیلئے نئے صوبوں کی ضرورت کا احساس اجاگر کیا۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں نئے انتظامی یونٹس یا صوبے ہی مسائل کا حل ہیں‘ عام آدمی کو بنیادی سہولتیں چاہئیں جو ہم نہیں دے پاتے‘ آج بھی لوگ گھنٹوں سفر کر کے عدالت جاتے ہیں۔ وزیر داخلہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ صوبوں کے معاملے کو عوامی سطح پر لے کر جانا ہوگا۔ چیئرمین دنیا میڈیا گروپ میاں عامر محمود کااکنامک سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ نئے انتظامی یونٹس نہ بنانے سے گورننس کے مسائل بڑھ رہے ہیں‘ صوبے کے ہر علاقے تک پہنچنا‘ ہر مسئلے کو خود دیکھنا اور ہر شہری تک رسائی حاصل کرنا ایک ہی انتظامی ڈھانچے کیلئے ممکن نہیں۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر احسن بھون کا کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل وَن کے مطابق نئے ایڈمنسٹریٹو یونٹس بنائے جا سکتے ہیں‘ یہی بنیادی مسائل کا حل ہے‘ سیاسی جماعتیں اتفاقِ رائے سے فیصلے کریں۔ دیکھا جائے تو پاکستان 1947ء سے آج تک صرف چار صوبوں پر مشتمل ہے جبکہ آبادی‘ جو قیامِ پاکستان کے وقت تین کروڑ کے لگ بھگ تھی‘ آج 25کروڑ سے زائد ہو چکی ہے۔ 1951ء کی مردم شماری کے مطابق پنجاب کی آبادی تقریباً دو کروڑ‘ سندھ کی 60 لاکھ‘ صوبہ سرحد بشمول فاٹا کی آبادی 58 لاکھ اور بلوچستان کی محض 11 لاکھ تھی۔

آج صوبوں کی آبادی چھ سے سات گنا تک بڑھ چکی لیکن انتظامی نظام تقریباً اب بھی وہی ہے۔ انتظامی صورتحال کو آبادی کی شرح نمو کے مطابق تبدیل نہیں کیا گیا‘ نتیجتاً وسائل اور مسائل میں شدید عدم توازن پیدا ہو چکا ہے۔ ہمارے صوبوں کاحجم اور آبادی دنیا کے اکثر ممالک کے مجموعی حجم اور آبادی سے بھی زیادہ ہے۔ اس صورتحال میں صوبے نہ اپنے وسائل کو صحیح طرح ترقی دے پاتے ہیں نہ ہی مسائل کا ازالہ کر سکتے ہیں۔ آبادی کے لحاظ سے پاکستان دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے‘ اگر اس سے اوپر کے چار ممالک میں انتظامی یونٹس کی تعداد کا جائزہ لیں تو چین میں 34 انتظامی یونٹس‘ بھارت میں 28 ریاستیں اور آٹھ وفاقی علاقے‘ امریکہ میں 50 ریاستیں اور انڈونیشیا میں 38 صوبے ہیں۔ یہ تو آبادی میں پاکستان سے بڑے ممالک کا حال ہے‘ اگر ہم علاقائی ممالک کی بات کریں تو ایران میں 31 صوبے ہیں۔ بنگلہ دیش‘ جو مشرقی پاکستان کی صورت میں ایک انتظامی یونٹ تھا‘ آج اس کا انتظامی سسٹم آٹھ یونٹس پر مبنی ہے۔ سری لنکا جیسے چھوٹے سے ملک میں بھی نو صوبے ہیں۔ اس موازنے سے یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ ہم بڑی آبادی والے صوبوں کو چھوٹے انتظامی یونٹس میں تقسیم نہ کر کے دنیا کیلئے ایسی منفی مثال پیش کر رہے ہیں جو محض مسائل پیدا کرتی ہے۔ سیاستدان‘ انتظامی ماہرین‘ سرمایہ کار‘ ماہرینِ معیشت‘ صنعتکار غرض قومی زندگی کا ہر قابلِ ذکر حلقہ اصولی طور پر چھوٹے انتظامی یونٹس کے مطالبے کے حق میں ہے۔ اب تو معاشی اور انتظامی حالات بھی اس نہج پر پہنچ چکے کہ جہاں اس کے سوا اور کوئی راستہ دکھائی نہیں دیتا۔
وزیر داخلہ کا یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ جب تک اس مسئلے کی بنیاد کو ٹھیک نہیں کریں گے‘ یہ ملک ایسا ہی رہے گا۔ لہٰذا ضرورت مسئلے کی بنیاد کو ٹھیک کرنے کی ہے۔ اکنامک سمٹ میں اس مطالبے کی گونج اس حقیقت کا مظہر ہے کہ کاروباری حلقے جو معیشت کے نباض ہوتے ہیں‘ وہ زیادہ بہتر جانتے ہیں کہ سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کیلئے چھوٹے انتظامی یونٹ ہی زیادہ موزوں اور سازگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگر صوبے چھوٹے ہوں تو کاروباری طبقے کو حکومت تک رسائی اور مسائل کے حل میں آسانی ہو گی جس کا براہ راست فائدہ معیشت کو ہو گا۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>قرضوں کا بوجھ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-31/11409</link><pubDate>Fri, 31 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-31/11409</guid><description>گورنر سٹیٹ بینک کے مطابق رواں مالی سال کے دوران پاکستان کو 21ارب 50کروڑ ڈالر کی بیرونی ادائیگیاں کرنی ہیں‘ ان میں تقریباً 3ارب 50کروڑ ڈالر صرف سود کی ادائیگی کی مد میں ہیں۔ یہ رقم آئی ایم ایف کی توسیعی فنڈ سہولت کے تحت سالانہ ملنے والی مالی معاونت سے بھی زیادہ ہے۔ ہماری معیشت ابھی تک حقیقی معنوں میں پیداواری معیشت نہیں بن سکی‘ نتیجتاً حکومت کو ہر سال نئے قرضے لینا پڑتے ہیں جن کا بڑا حصہ پرانے قرضوں اور ان پر واجب الادا سود کی ادائیگی میں صرف ہو جاتا ہے۔ اس دلدل سے نکلے بغیر پائیدار معاشی استحکام حاصل کرنا ممکن نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت قرضوں کے حصول کو معاشی حکمت عملی کا مستقل حصہ بنانے کے بجائے قومی آمدنی اور مالیاتی وسائل میں اضافے پر توجہ دے۔

اس مقصد کیلئے برآمدات میں نمایاں اضافہ ناگزیر ہے کیونکہ مضبوط برآمدی شعبہ ہی زرِمبادلہ کے ذخائر میں مستقل اضافہ اور بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت پیدا کر سکتا ہے۔ تاہم یہ ہدف صرف اسی صورت حاصل ہو سکتا ہے جب صنعت کو سستی اور بلا تعطل توانائی‘ مناسب مالی سہولتیں اور کاروبار دوست ماحول فراہم کیا جائے جبکہ زرعی شعبے کو سستے زرعی مداخل اور جدید ٹیکنالوجی میسر ہو تاکہ پیداوار اور برآمدی استعداد میں پائیدار اضافہ ہو۔ اس کیساتھ ساتھ آئی ٹی اور فری لانسنگ‘ معدنی وسائل‘ سیاحت اور بیرونی سرمایہ کاری جیسے شعبوں پر بھی خصوصی توجہ دینا ہوگی۔ ان اقدامات کے بغیر معاشی خودمختاری کا حصول ممکن نہیں۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>خطرناک عمارتیں، خاموش خطرہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-31/11408</link><pubDate>Fri, 31 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-31/11408</guid><description>گزشتہ روز لاہور اور فیصل آباد میں دو خستہ حال مکانوں کی چھتیں گرنے سے 13افراد جاں بحق اور آٹھ زخمی ہو گئے۔ ہر سال مون سون میں ایسے حادثات معمول بن چکے ہیں‘ لیکن کسی چھت یا عمارت کا اچانک گر جانا محض قدرتی آفت کا نتیجہ نہیں ہوتا بلکہ اکثر یہ خستہ حال تعمیرات‘ بروقت مرمت نہ ہونے‘ غیر معیاری تعمیر‘ اضافی بوجھ اور حفاظتی اصولوں سے غفلت کا شاخسانہ ہوتا ہے۔ اگر مون سون سے قبل خطرناک عمارتوں کی نشاندہی‘ ان کا معائنہ اور ضروری مرمت کو یقینی بنایا جائے تو ایسے بہت سے سانحات سے بچا جا سکتا ہے۔ اس ضمن میں شہریوں کی ذمہ داری بھی کم نہیں۔ خستہ حال گھروں میں رہنے والے افراد کو بارشوں کے آغاز سے پہلے اپنی چھتوں‘ دیواروں اور بنیادوں کا معائنہ کرانا چاہیے۔

اگر مکان رہائش کے قابل نہ رہے تو وقتی طور پر متبادل انتظام کو ترجیح دینی چاہیے کیونکہ انسانی جان کسی بھی مالی نقصان سے زیادہ اہم ہے۔ دوسری جانب متعلقہ ادارے بارشوں سے قبل خستہ حال عمارتوں کا باقاعدہ سروے کریں اور جہاں ضرورت ہو وہاں فوری حفاظتی اقدامات یقینی بنائے جائیں۔ صوبائی حکومتوں کو گھروں کی تعمیر و مرمت کیلئے نرم اور آسان شرائط پر قرضوں کی سکیموں پر بھی توجہ دینی چاہیے تاکہ کم آمدن اور مستحق خاندان اس سہولت سے حقیقی معنوں میں فائدہ اٹھا سکیں۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ایسے مزے اور کہاں ملتے ہیں؟(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-07-31/52393/76918481</link><pubDate>Fri, 31 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-07-31/52393/76918481</guid><description>کبھی کبھی ایسی ایسی کہانیاں سننے کو ملتی ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ ابھی دو تین دن پہلے سینیٹ کی کابینہ کمیٹی کا اجلاس تھا‘ جس کی صدارت سینیٹر رانا محمود الحسن کر رہے تھے۔ ایجنڈے پر نیپرا تھا‘ اور اجلاس میں بجلی گھروں‘ بجلی کے بلوں اور دیگر ایشوز پر بریفنگ دی جانی تھی۔ کئی مواقع آتے ہیں جب آپ کو اپنے نمائندوں پر فخر محسوس ہوتا ہے۔ یہ اجلاس بھی اُن میں سے ایک تھا‘ جب سینیٹرز نے اپنی ذہانت سے ملکی بیوروکریسی اور افسران کا پوسٹ مارٹم کیا اور انہیں لاجواب کیا۔ وہ منظر قابلِ دید تھا۔ رانا محمود الحسن تیاری کے ساتھ آتے ہیں۔ اس کمیٹی کے ممبران بھی بڑے تگڑے ہیں۔ سینیٹر ایمل ولی خان‘ سیف اللہ ابڑو‘ سینیٹر عبدالقادر اور سینیٹر ڈاکٹر افنان اللہ خان نے اُس دن بجلی کے بحران پر ایسی خوبصورت گفتگو کی کہ سن کر مزہ آ گیا۔مجھے یاد پڑتا ہے‘ ایاز امیر نے قومی اسمبلی میں طالبان کے ساتھ معاہدے کے خلاف کی ایک جاندار تقریر کی تھی‘ اس دن میں وہاں موجود تھا۔ وہ تقریر یاد رکھی جائے گی۔ تقریباً پورا ہال طالبان کے ترجمان مسلم خان کی دھمکی سے دبکا بیٹھا تھا کہ اگر کسی نے مالاکنڈ اور سوات میں ایک متوازی ریاست بنانے کی مخالفت میں ووٹ دیا تو اس کی خیر نہیں۔ سب کے چہرے خوفزدہ تھے۔ اکیلے ایاز امیر تھے‘ جو اٹھے اور نہایت بہادری سے اس معاہدے کی مخالفت میں دلائل کے انبار لگا دیے۔ وہ کسی سے نہیں ڈرے۔ میرے دل میں ان کی عزت ہمیشہ کیلئے بڑھ گئی۔ اسی طرح 2014ء میں سینیٹ کی کمیٹی برائے خارجہ امور کا اجلاس تھا۔ دفتر خارجہ کے بڑے بڑے افسران موجود تھے۔ اس اجلاس میں جس طرح سینیٹر صغریٰ امام نے نیٹو سپلائی کو مفت راستہ دینے پر سب کی خبر لی تھی اور ان کے چہروں کی ہوائیاں اڑی ہوئی تھیں‘ وہ بھی کمال کا منظر تھا۔ موجودہ سینیٹ میں انوشہ رحمن بہت ذہین ہیں جبکہ بہادری میں پلوشہ خان سب سے آگے ہیں‘ جو اہم ایشوز کو بغیر خوف اور ڈر کے سامنے لاتی ہیں۔ کبھی میں شیری رحمان صاحبہ کی ذہانت اور بہادری کا بڑا قائل تھا لیکن جس طرح انہوں نے اسلام آباد میں ماحول کی بربادی اور درختوں کی کٹائی پر ذمہ داران کو کلین چٹ دی‘ اس سے دل ٹوٹ گیا کہ اکثر ہمارے لیے شہروں کی بربادی اور ماحول سے زیادہ تعلقات اہم ہو جاتے ہیں۔ میں 2000ء سے پارلیمانی کمیٹیوں کو کور کر رہا ہوں‘ ان پچیس‘ چھبیس برسوں میں بہت کچھ سنا اور دیکھا ہے لیکن ہر دفعہ کچھ نہ کچھ نیا نظر آتا ہے۔ اب کی دفعہ ہی دیکھ لیں۔ اجلاس میں پتا چلا کہ ملک میں 108آئی پی پیز ہیں اور ان میں سے کچھ صرف بیس فیصد پر چل رہے ہیں اور کچھ بالکل بند ہیں ‘ لیکن ادائیگی سو فیصد کی جا رہی ہے۔ اس اجلاس سے اگلے روز سینیٹ کی فنانس کمیٹی میں یہ انکشاف کیا گیا کہ یہ بجلی گھر انکم ٹیکس بھی نہیں دیتے اور انہیں &#39;&#39;ٹیکس ہالیڈے‘‘ حاصل ہے۔ اندازہ کریں‘ 1994ء سے ان کا ٹیکس ہالیڈے چل رہا ہے۔ اس اجلاس میں جو دستاویزات پیش کی گئیں ان کے تحت صرف پچھلے چار برسوں میں سات ہزار ارب سے زیادہ کی ادائیگیاں ان آئی پی پیز کو صرف کپیسٹی پیمنٹ کی مد میں کی گئی ہیں۔ کپیسٹی پیمنٹ کا مطلب ہے کہ یہ پلانٹ چلیں یا نہ چلیں‘ آپ ان سے بجلی خریدیں یا نہ خریدیں‘ ادائیگی آپ نے انہیں پوری کرنی ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ان آئی پی پیز کا آڈٹ بھی نہیں ہوتا‘ نہ مالی اور نہ ہی کارکردگی کا۔ اس سے بڑھ کر دلچسپ بات یہ ہے کہ ملکی خزانے پر اس قدر بھاری بوجھ کے ہوتے ہوئے بھی نیپرا چیئرمین کو لگتا ہے کہ ان کی تنخواہ کم ہے لہٰذا انہوں نے تنخواہ میں اضافے کی سمری وزیراعظم کو بھجوا دی ہے کہ کابینہ سے اس کی منظوری لے لیں۔ کابینہ نے منظوری نہیں دی تو چیئرمین اور ممبران نے خود ہی اپنی تنخواہیں بڑھا لیں کہ کابینہ کی خاموشی کو اقرار ہی سمجھا جائے۔ لہٰذا چیئرمین نے اپنی تنخواہ 32 لاکھ روپے مقرر کر لی۔ باقی ممبران اور افسران نے بھی اپنی اپنی تنخواہیں بڑھا لی ہیں۔ اس پر چیئرمین کمیٹی رانا محمود الحسن نے بڑا دلچسپ جملہ کہا کہ لگتا ہے نیپرا نے بھی وہی کام کیا جو ہمارے معاشرے میں کیا جاتا ہے کہ باپ بیٹی سے شادی کا پوچھنے جاتا ہے کہ فلاں سے کر دیں‘ کوئی اعتراض تو نہیں؟ اگر وہ خاموش رہے تو اسے رضامندی سمجھ لیا جاتا ہے۔ یہی کچھ نیپرا کے چیئرمین اور ممبران نے کیا کہ وزیراعظم کو سمری بھیجی گئی جواب نہ آیا تو اسے رضامندی سمجھ کر خود ہی تنخواہ بڑھا لی۔ آپ بتائیں‘ اس سے بہتر ملک اور کہاں ہوگا؟اس سے پہلے ایس ای سی پی نے بھی یہی کیا تھا اور بقول انوشہ رحمن‘ انہوں نے ایک ارب روپے سے زیادہ کا مالی فائدہ خود کو تنخواہوں اور مراعات کی صورت میں دیا۔ سترہ مہینے پیچھے سے تنخواہیں اور الاؤنسز بڑھا کر چیئرمین سمیت ایک ایک کمشنر اور افسر نے مبینہ طور پر کروڑوں روپے لیے تھے۔ وہ سب مال سمیٹ کر پتلی گلی سے نکل گئے۔ دلچسپ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب سینیٹر ایمل ولی خان نے کہا کہ یہاں نیپرا میں تو ایک ایک پیسے پر اربوں روپے دائیں بائیں ہو جاتے ہیں۔ چیئرمین نیپرا‘ جو سرکاری افسر تھے اور ان کو سابقہ نوکری سے ریٹائر کرا کے اس حالت میں چیئرمین لگایا گیا کہ وہ بیمار تھے اور ان کی کیموتھراپی چل رہی تھی‘ ذرا ان کے پہلے اور موجودہ گوشوارے منگوائے جائیں۔ اس پر سیکرٹری کابینہ ڈٹ گئے کہ وہ نیک نام شریف افسر ہیں‘ ان کی بدنامی ہو گی۔ یہ میرے لیے نئی بات تھی کہ گوشوارے منگوانے سے افسران کی بدنامی ہوتی ہے۔ میرے خیال میں تو ایماندار افسران کو خود اپنے گوشوارے کمیٹی میں پیش کرنے چاہئیں تاکہ ان کی نیک نامی میں اضافہ ہو۔ لیکن سیکرٹری کابینہ کو علم ہے کہ یہ روایت پڑ گئی تو کل کو کوئی ان کے گوشوارے بھی منگوا سکتا ہے۔ لہٰذا انہوں نے بڑی سمجھداری سے اس کی مخالفت کر کے بات ٹال دی۔ساہیوال میں جو کوئلے کا پلانٹ لگا ہے‘ اس پر ابڑو صاحب نے سوالات اٹھائے کہ کیسے اوور انوائسنگ دکھا کر 700ملین ڈالر کا چونا لگایا گیا۔ اسی طرح پورٹ قاسم پر بھی کوئلے کے پاور پلانٹ سے 800 ملین ڈالر کا چھکا لگایا گیا ہے۔ ذہن میں رہے‘ ساہیوال پلانٹ میں حکمرانوں کے قریبی افراد کے شیئرز ہیں۔ پورٹ قاسم پلانٹ ایک سابقہ رشتے دار کا ہے‘ جو ایک خلیجی ملک میں ہوتے ہیں۔ سب کچھ فیملی اینڈ فرینڈز پیکیج پر چل رہا ہے۔ سینیٹرز حیران تھے کہ بھلا کوئلے کا پلانٹ ساہیوال میں لگانے کی کیا تُک تھی؟ یہ تو ساحلی علاقوں میں لگتے ہیں۔ کمیٹی اجلاس میں کوئی نام لینے کی جرأت نہیں کر رہا تھا کہ یہ کس کی ملکیت ہے اور اسے کیوں پنجاب میں ہی لگانا تھا۔ لیکن مزے کا کام کچھ اور ہوا۔ جب نیپرا کے ایک افسر نے ہاتھ اٹھایا کہ وہ کچھ کہنا چاہتا ہے۔ پتا چلا وہ نیپرا میں آئی پی پیز کی انسپکشن اور مانیٹرنگ کرتا ہے۔ وہ کیا کہتا‘ الٹا سیف اللہ ابڑو اور ایمل ولی خان نے اس سے پوچھ لیا کہ آپ مانیٹرنگ کرتے ہیں‘ پاکستان میں کل کتنے آئی پی پیز ہیں؟ جواب دیا: 108۔ پوچھا گیا کہ وہ کب سے اس پوسٹ پر ہیں؟ جواب دیا: چھ سال ہو گئے ہیں۔ اس پر ابڑو صاحب نے پوچھا کہ ان چھ سالوں میں آپ نے کتنی دفعہ ان پلانٹس کا وزٹ کیا کہ وہ واقعی موجود ہیں‘ چل  رہے ہیں یا آپ کو ہر ماہ بل بھیج کر اربوں روپے لے رہے ہیں؟ یہ سوال کئی بار ان سے پوچھا گیا مگر وہ ٹالتے رہے‘ جس کا مطلب تھا کہ انہوں نے کبھی کسی پلانٹ کو وزٹ نہیں کیا۔ اندازہ کریں کہ انسپکشن افسر نے چھ برسوں میں اُن 108 بجلی گھروں کو وزٹ نہیں کیا‘ جو حکومت سے ماہانہ اربوں وصول کرتے ہیں لیکن اپنی تنخواہ ان سب نے لاکھوں روپے فوراً بڑھا لی ہے۔ اب آپ ہی فرمائیں کہ ایسے مزے اور کہاں ملتے ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مون سون(رسول بخش رئیس)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-07-31/52394/44831304</link><pubDate>Fri, 31 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-07-31/52394/44831304</guid><description>ہم تو ساون میں کھو جاتے ہیں‘ کچھ اور باتوں کی طرف دھیان ہی نہیں رہتا۔ جوش ملیح آبادی نے کہا تھا: اس فصل میں اس درجہ رہا بے خود و سرشار ؍ میخانے سے باہر مجھے دیکھا نہ کسی نے۔ اگر اپنے دل و نگاہ میں مظاہرِ فطرت کیلئے جگہ پیدا کی جائے تو پھر زندگی موسموں کے ردو بدل کے سنگ چلتی ہے۔ ہم اس کا ادراک نہ بھی کریں تو موسم کا اپنا جبر ہے جس کے مطابق بھیس اور بہت کچھ بدلنا پڑتا ہے۔ ہمارا تو ایک طویل عرصے سے ویسا ہی قریبی رشتہ ہے جو روح اور جسم کا ہوتا ہے۔ ہماری زندگی شروع تو دیہات کی زندگی سے ہوئی‘ جب وہاں جنگل اور کھیتوں کے قریب آنکھ کھولی۔ ہماری بستی کے کسان موزوں موسم کا انتظار کرتے اور اس کے مطابق اگلی فصل کی بوائی کیلئے تیاری کرتے۔ اس کیلئے تب زمین پر منہ اندھیرے ہل چلاتے اور مٹی نرم اور بھربھری ہونے کے بعد بیچ ڈال کر ہریالی کا انتظار کرتے۔ تازہ کھدی ہوئی مٹی کی مہک بچپن سے لے کر آج تک ہم دیہاتی لوگوں کی روحوں میں بسی ہوئی ہے۔ ہم نے وہ زمانہ دیکھا ہے جب دورِ جدید کا شور کرتا اور دھویں کے بادل چھوڑتا ٹریکٹر ہمارے علاقوں میں کسی نے نہ دیکھا تھا۔ کسان فجر کی اذان کے قریب بیل باڑے سے نکالتے‘ ہل اور پنجالی کندھے پر ڈالتے اور کھیتوں کی طرف روانہ ہو جاتے۔ بیلوں کے چلنے سے ان کے گلے میں ڈالے ہوئے گھنگھرو اور گھنٹیاں بجتیں تو ہم نیم خوابیدہ عالم میں محسوس کرتے کہ رت بدل چکی ہے۔ زیادہ مجھے &#39;&#39;اَسّو‘‘ اور &#39;&#39;کَتے‘‘ کے مہینے یاد پڑتے ہیں جب پہلے &#39;&#39;ساون‘‘ اور پھر &#39;&#39;بھادوں‘‘ رخصت ہو چکے ہوتے۔ ہمارے بڑے اور ہم بھی دیسی مہینوں کے آنے جانے کا حساب رکھتے۔ کاش آج بھی ہمار ا قومی نظامِ زندگی انکے مطابق چلتا‘ ان میں اپنائیت محسوس ہوتی ہے‘ انکا تعلق موسموں کے بدلنے سے ہے۔ ہر ماہ کی اپنی تاریخ‘ روایات اور اس کے ساتھ جڑی دیو مالائی داستانیں اور افسانوی کہانیاں ہیں۔ ماہ و سال وقت‘ موسم اور زندگی ہیں۔ ہمارے لیے ہر موسم غنیمت ہے۔ ایک انعام اور قدرت کی طرف سے تحفہ۔ وقت کی قدر کا تقاضا ہے کہ ہر موسم کے مزاج کے مطابق اپنے معمولات‘ لباس‘ خوراک‘ آرام اور کارہائے زندگی انجام دیں۔ ساون کی تو بات ہی کچھ اور ہے۔ ہم خوش نصیب ہیں کہ ایک بار پھر ساون کی رسیلی ہوائیں‘ نرم و گداز شبنمی ٹھنڈک اور ہر طرف سرمئی بادلوں کے گالے بھولے بھٹکے مسافروں کی طرح آسمان پر سرگرداں دیکھ رہے ہیں۔ہمارے علاقے کی ثقافت‘ رہن سہن‘ تہذیب‘ ادب اور موسیقی سے ساون کا گہرا تعلق ہے۔ میرا مقصد یہ ہرگز نہیں کہ آپ کے سامنے کئی تاریخی حوالے رکھ کر اس ماہ کی اہمیت پر لیکچر دینے لگوں۔ ساون کی کیفیت وہی محسوس کر سکتے ہیں جنہیں اس کا شعور اور موسموں کے فطری رنگوں سے دلی لگاؤ ہے۔ اپنے وقت یعنی زندگی سے لطف اٹھانے کا طریقہ سیانوں کے مطابق اُسے ایک تحفہ‘ فرصت‘ انعام اور نادر مہلت خیال کرنا اور ہر لمحہ حالتِ موجود میں جینا ہے۔ دیکھا ہے کہ مادیت پرستی‘ بھاگ دوڑ اور زر و دولت سمیٹنے کے دھندوں نے اکثریت کو اس رازِ زندگی سے محروم کر دیا ہے۔ ساون کے مہینے کی بھیگی صبح‘ گھاس پر بچھی اوس کی باریک تہہ‘ سورج کی پہلی کرنیں اور بادِ نسیم کا پتوں کے درمیان سے چھن چھن کر بدن کوچھونا انمول نہیں تو اور کیا ہے۔ بات شعور اور فطرت کی احسان مندی کی ہے۔ ساون برستا ہے تو اس کی بھی کئی حالتیں اور صورتیں ہوتی ہیں۔ کہیں رم جھم‘ بوندا باندی تو کہیں موسلا دھار بارش‘ گرج چمک اور بادلوں کی کڑک کے ساتھ! دور اندھیرے میں نکلتی آگ کی لکیریں کسے مسحور نہیں کریں گی۔ اس چمک میں سے جو رنگ بکھرتے ہیں چند لمحوں کیلئے آپ نے ان پر غور کیا ہو گا۔ بچپن میں تو ہم ساون کی بارش میں جنگلوں‘ میدانوں اور کھلی جگہوں پر دیوانہ وار بھاگتے اور بھیگتے رہتے تھے۔ اگر آپ ایسے تجربوں سے نہیں گزرے تو اب بھی کوئی دیر نہیں ہوئی۔ آج کل ساون رنگ جمائے ہوئے ہے۔ جس طرح آسمان سے گرتے بارش کے قطرے آزاد ہیں‘ آپ بھی خود کو کھلی فضا میں آزاد چھوڑ سکتے ہیں۔ جو تازگی‘ فرحت اور مسرت ہم آج بھی ان لمحات میں محسوس کر سکتے ہیں‘ وہ دنیا کے مشہور شہروں کے بازاروں میں کہاں۔ساون نے تو سب رنگ‘ بہاریں اور رونقیں خود کہیں سے اتار کر آپ کی دہلیز پر رکھ دی ہیں۔ یہ آپ پر ہے کہ ان سے فیضیاب ہونے کی کس قدر صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہم تو آپ کیلئے صرف دعا ہی کر سکتے ہیں کہ اپنے دیس کی ثقافتی روایات کا امین بنیں‘ ان میں بسیں اور ان میں سانس لیں۔ ساون آزادی‘ خوشی‘ محبت اور تجدید کا موسم ہے۔ &#39;&#39;ہاڑ‘‘ کے مہینے کی گرمی کی حدت ہمارے خطے میں اتنی بڑھ جاتی ہے کہ لگتا ہے کہ جھاڑیاں‘ درخت اور فصلیں اگر پانی نہ ہو تو سوکھنے کو ہیں ۔ پتے تو بکری کے کانوں کی طرح لٹکنا شروع ہو جاتے ہیں۔ پرندے ادھر اُدھر چونچ کھولے پانی کی بوند بوند کو ترستے ہیں اور ہم انسان اپنے گھروندوں میں اس طرح بند ہو جاتے ہیں جیسے باہر کوئی بہت بڑا خطرہ ہو۔ خیر ہمارے نزدیک تو ہاڑ میں جو خوبیاں ہیں وہ کسی اور وقت پر چھوڑتے ہیں کہ اس میں خربوزے‘ تربوز‘ ستو‘ کھیرے‘ سردائیاں اور لسی کے مٹکوں کے ساتھ باغات کی چھاؤں میں جمی محفلیں تو ہمیں آج بھی یاد ہیں۔ ہاڑ کے رخصت ہوتے ہی ساون پوری آب وتاب‘ شان وشوکت اور گرج چمک کے ساتھ اپنا رنگ جما لیتا ہے۔ زمین اور آسمان کا رشتہ گویا چشم زدن میں بدل جاتا ہے۔ ہر چیز نکھری نکھری محسوس ہوتی ہے۔ پیاس سے ماری نباتات میں نئی جان پڑ جاتی ہے۔ زرد اور جھلسی ہوئی زمین ہریالی کی چادر اوڑھنے لگتی ہے۔ میں نے پرندوں کو اس موسم میں کہیں زیادہ اپنے اپنے راگ بکھیرتے‘ سرمستی کے عالم میں محوِ ترنم دیکھا ہے۔ اُن کی خوراک کے تمام وسائل موجود ہوتے ہیں‘ جیسا کہ کیڑے مکوڑے‘ مختلف اقسام کے پھل‘ جس طرح آج کل جامن کے پیڑوں کی طرف پرواز کرتے اور شور مچاتے دیکھتا ہوں۔ شاید ہی کسی اور موسم میں ایسا ہوتا ہو۔ ہمارے اپنے قدم بھی ادھر اٹھ جاتے ہیں۔ساون میں مجھے تو آسمان کا رنگ بھی بدلا ہوا نظر آتا ہے۔ زمین تو کوئی اور ہی سیارہ معلوم ہوتی ہے۔ گھنگھور گھٹائیں‘ اچانک گہرے بادلوں کا کسی جانب تیزی سے چھا کر دن کو رات میں بدلنا اور جھڑی لگنے کے بعد کچھ اجالا اور پہاڑوں کے دامن سے بادلوں کا لپٹنا ایسے مناظر ہیں جن کا سال بھر انتظار رہتا ہے۔ ہماری دیسی روایات میں یہ وہ رُت ہے جب دور بیاہی بہنیں اپنے بھائیوں اور والدین کے گھر میں جاتیں‘ ساون کے کچھ دن گزارتیں اور تحائف سے لدی واپس آتیں۔ دل والوں کی تو اس موسم میں کیفیت ہی کچھ اور ہوتی ہے۔ کچھ پرانی باتیں‘ کچھ ادھورے خواب‘ نیم خوابیدہ چاہتوں اور بکھری ہوئی آرزوؤں کی کسک کو برسات کے چھینٹے تازہ کر دیتے ہیں۔ ساون کی آج کی صبح نجانے صوفی غلام مصطفی تبسم کا یہ شعر کیوں ذہن میں سمایا ہوا ہے:جانے کس کی تھی خطا یاد نہیںہم ہوئے کیسے جدا یاد نہیںہمارے پنجابی اور اردو کے شاعروں نے ساون کے حوالے سے جو کچھ تخلیق کیا ہے‘ شاید ہی کسی اور زبان کی ادبی روایت میں کسی ایک موسم کے حوالے سے اتنا لکھا گیا ہو۔ اوپر دل والوں کی بات کی تھی۔ جس طرح بارش سب گرد و غبار دھو کر ماحول کو صاف ستھرا کردیتی ہے‘ اسی طرح ساون دل کے داغ اور دھبے اور ذہن کی کثافتیں تحلیل کرنے کا سامان کرتا ہے۔ یہ صرف آم کھانے اور جھولے جھولنے کا موسم نہیں‘ اپنی کتابِ زیست کے گم شدہ اوراق تلاش کرنے‘ شعوری طور پر فطرت کی رنگینیوں میں کھو جانے اور روحانی بالیدگی حاصل کرنے کا بھی موسم ہے۔ بارش کا ہر چھینٹا ہمیں پیغام دیتا ہے کہ خوش رہیں اور بھرپور زندگی گزاریں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_33241568.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>اور اب بلیو پاسپورٹ کی بے توقیری(جاوید حفیظ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/javed-hafiz/2026-07-31/52395/28753675</link><pubDate>Fri, 31 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/javed-hafiz/2026-07-31/52395/28753675</guid><description>کچھ عرصہ پہلے تک بہت کم پاکستانیوں کو علم تھا کہ بلیو پاسپورٹ کیا ہوتا ہے‘ وہ صرف گرین پاسپورٹ سے واقف تھے لیکن پچھلے عشرے میں سیاسی حکومتوں نے بلیو پاسپورٹ ریوڑیوں کی طرح بانٹا ہے۔ آپ اندازہ لگائیں کہ تقریباً دو سال پہلے بلیو پاسپورٹ ہولڈرز کی تعداد 70 ہزار تک پہنچ گئی تھی جبکہ میری سروس کے دوران یہ تعداد دس ہزار کے لگ بھگ تھی۔قارئین کی آسانی کیلئے سب سے پہلے پاسپورٹ کی اقسام کی وضاحت ضروری ہے۔ پاکستانی پاسپورٹ تین قسم کے ہیں: ڈپلومیٹک یعنی سفارتی پاسپورٹ‘ جو سرخ رنگ کا ہوتا ہے۔ یہ سفارتکاروں کو دیا جاتا ہے یا اعلیٰ ترین سرکاری عہدیداروں کو‘ مثلاً صدرِ پاکستان اور وزیراعظم وہ اشخاص ہیں جو سفارتی پاسپورٹ رکھنے کا استحقاق رکھتے ہیں۔ ان افراد کی ایک باقاعدہ منظور شدہ لسٹ ہوتی ہے جو فارن آفس میں گاہے گاہے بطور ریفرنس استعمال ہوتی ہے۔ ڈپلومیٹک پاسپورٹ ایشو کرنے کا اختیار صرف فارن آفس کے پاس ہے۔ بلیو یعنی نیلا پاسپورٹ ان لوگوں کو دیا جاتا ہے جو سرکاری ڈیوٹی پر بیرونِ ملک بھیجے جاتے ہیں لیکن انکا رتبہ سفارتکارسے کم ہوتا ہے۔ مثلاً سفارتخانے میں اکائونٹنٹ یا سائفر اسسٹنٹ بلیو پاسپورٹ رکھتے ہیں اور یہ پاسپورٹ وزارتِ داخلہ ایشو کرتی ہے۔ بلیو پاسپورٹ رکھنے والوں کو سفارتی استثنیٰ بھی حاصل نہیں ہوتا۔ البتہ بلیو پاسپورٹ گرین پاسپورٹ سے قدر و منزلت میں بہتر ہے۔ بلیو پاسپورٹ پر آپ 55 ممالک بغیر پیشگی ویزہ جا سکتے ہیں‘ جن میں یورپ کے 12 ممالک بھی شامل ہیں۔ سبز یا گرین پاسپورٹ ہر پاکستانی شہری کو مل سکتا ہے اور یہ قدرو منزلت میں سب سے نیچے ہے۔ چند بین الاقوامی تنظیمیں ہر سال پاسپورٹس کی گریڈنگ کرتی ہیں کہ کون سے ممالک کے پاسپورٹ معتبر ہیں اور کون سے کمزور۔ اس عمل کیلئے ایک نیوٹرل یعنی غیر جانبدار پیمانہ یہ ہے کہ کس ملک کے شہریوں کو کتنے ممالک میں ویزہ فری انٹری کی سہولت ملتی ہے۔ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کا گرین پاسپورٹ دنیا کے کمزور ترین پاسپورٹس میں سے ہے۔ سروے کے مطابق صرف عراق‘ شام اور افغانستان کے پاسپورٹ ہمارے پاسپورٹ سے کمزور تر ہیں۔ دنیا کے صرف 29 ممالک میں سبز پاسپورٹ پر ویزہ فری انٹری ہے۔ اس وقت اقوام متحدہ کے ممبر ممالک کی تعداد 193 ہے‘ تو معلوم یہ ہوا کہ بیرونی ممالک کی اکثریت اس بات پر مصر ہے پاکستانی ان ممالک میں صرف اس صورت میں داخل ہوں اگر انکے پاس پیشگی ویزہ ہو‘ اور ویزہ دینے سے پہلے خوب چھان پھٹک کی جاتی ہے کہ آپ کن ممالک میں پہلے گئے‘ آپ کا بینک بیلنس کتنا ہے‘ کیا کسی نے آنے کا دعوت نامہ بھیجا ہے۔ یعنی ہر زاویے سے دیکھا پرکھا جاتا ہے کہ ویزہ حاصل کرنے والا شخص پاکستان واپس ضرور آئے۔ کچھ ملک تو پاکستان میں جائیداد اور پولیس کے کیریکٹر سرٹیفکیٹ جیسے ثبوت بھی مانگتے ہیں۔ بلیو پاسپورٹ پر 55ممالک میں ویزہ فری انٹری ہے‘ لہٰذا پاکستانی بزنس مین اور اشرافیہ کیلئے بلیو پاسپورٹ ایک پُرکشش ڈاکیومنٹ ہے۔دنیا بھر میں پاکستانی پاسپورٹ کی عدم مقبولیت کی ایک وجہ جعلسازی ہوا کرتی تھی لیکن مشین ریڈابیل پاسپورٹ کے آنے سے اس بات کا بڑی حد تک تدارک ہو گیا ہے۔ پوری دنیا کے ایئرپورٹس پر نصب کمپیوٹر ایک سیکنڈ میں پاسپورٹ کے کوائف پڑھ سکتے ہیں۔ میرے خیال میں اب دنیا کے اکثر ممالک ہمارا خوش دلی سے استقبال نہیں کرتے‘ اس کی بڑی وجہ انسانی سمگلنگ اور سیاسی پناہ ہے۔ بے شمار پاکستانیوں کی سیاسی پناہ کی درخواستیں ہیں جو یورپ اور دیگر ممالک کے پاس پڑی ہیں۔ترکیہ اور لیبیا کے راستے کشتیوں کے ذریعے غیر قانونی طور پر یونان اور اٹلی جانے والوں کی تعداد بے شمار ہے۔ اسے عرفِ عام میں ڈنکی لگانا کہا جاتا ہے۔ یہ لوگ اپنی منزلِ مقصود پر پہنچنے سے پہلے اپنے پاسپورٹ سمندر میں پھینک دیتے ہیں تاکہ داخلے کی تاریخ کا تعین نہ ہو سکے۔ وہاں پہنچ کر یہ لوگ درخواست دیتے ہیں کہ میرا پاسپورٹ گم ہو گیا ہے مگر میں کئی سالوں سے یہاں مقیم ہوں۔ ایسی صورت میں مقامی قانون وقتی رہائش کی اجازت دیتا ہے۔ سفارتخانے سے نیا پاسپورٹ مل جاتا ہے لیکن ان لوگوں کا بھی سوچیے جو ناقص کشتیوں پر اوور لوڈنگ یا کوسٹ گارڈ کی فائرنگ سے جان سے جاتے ہیں۔میں ایتھنر کے علاوہ مسقط میں بھی سفیر رہا ہوں۔ یہاں ایران کے راستے انسانی سمگلنگ ہوتی تھی۔ ہم وقفے وقفے سے ایسے گرفتار شدہ پاکستانیوں کو جز وقتی پاسپورٹ دیتے تھے‘ جنہیں عمانی حکومت ڈی پورٹ کر دیتی۔ ایف آئی اے کو بار بار لکھا گیا‘ کراچی پہنچنے پر ان لوگوں سے تفتیش بھی ہوتی۔ جب یہ معاملہ چلتا ہی گیا تو ایف اے آئی نے کہا وہ پاکستان ایمبیسی میں ایک افسر تعینات کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے کہا کہ مسئلہ پاکستان میں ہے‘ عمان میں نہیں لہٰذا ایف آئی اے پاکستان میں ہی انسانی سمگلنگ کی روک تھام کرے۔ جہاں تک عارضی پاسپورٹ ایشو کرنے کا تعلق ہے تو وہ سفارتخانے کا کمیونٹی ویلفیئر اتاشی ہر گرفتار شخص کو انٹرویو کرکے کر دیتا ہے۔ پھر وہ بحری جہاز کے ذریعے کراچی بھیجے جاتے ہیں اور ایف آئی اے کو پیشگی خبر ہوتی ہے۔ ایف آئی اے لالچی ایجنٹوں کو پکڑے اور عمان کی جانب انسانی سمگلنگ کو روکے۔ میرے ہوتے ہوئے ایف آئی اے کا افسر مسقط نہ آ سکا۔انسانی سمگلنگ سے بھی زیادہ خطرناک رجحان سیاسی پناہ کا ہے۔ 2023-25ء ایک لاکھ پچیس ہزار پاکستانیوں نے مختلف ممالک میں سیاسی پناہ کی درخواستیں دیں۔ یہ معلومات سینیٹ کو وقفہ سوالات میں بتائی گئیں۔ 2023-24ء میں 28 ہزار پاکستانیوں نے یورپی یونین کے ممبر ممالک میں سیاسی پناہ طلب کی۔ یاد رہے کہ برطانیہ اب یورپی یونین کا حصہ نہیں اور پچھلے سال برطانیہ میں فائل کی گئی سیاسی پناہ کی درخواستوں میں پاکستانی شہریوں نے اول پوزیشن حاصل کی۔ لہٰذا سمجھ میں آتا ہے کہ دنیا کے اکثر ممالک گرین پاسپورٹ کو مشکوک نظروں سے کیوں دیکھتے ہیں۔ درخواست دیتے وقت یہ لوگ یہ بھی لکھتے ہیں کہ میرا تعلق فلاں کمیونٹی‘ سیاسی جماعت یا طبقے سے ہے جس پر پاکستان میں بڑا ظلم ہو رہا ہے‘ لہٰذا پاکستان میں میرا نارمل زندگی گزارنا ناممکن ہے۔ اس درخواستوں میں جھوٹ اور مبالغہ آرائی خاصی ہوتی ہے اور یہ لوگ ملک کی بدنامی کا سبب بنتے ہیں۔حال ہی میں ایوانِ بالا کی ایک کمیٹی نے منتخب نمائندوں کے اہل خانہ کیلئے بھی بلیو پاسپورٹ کی اتفاقِ رائے سے سفارش کی ہے۔ بات یہیں ختم نہیں ہو جاتی! یہ سہولت اسمبلیوں کے سابقہ ممبران اور ان کے 28 سال عمر تک کے زیر کفالت بچوں کو بھی حاصل ہو گی۔ ساتھ ہی وزیر مملکت برائے امور داخلہ طلال چودھری کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم بلیو پاسپورٹ کی تعداد کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ پاکستانی شہریوں کیلئے ویزہ فری انٹری والے ممالک کی تعداد میں اضافہ ہو سکے۔ شنید ہے کہ بلیو پاسپورٹ بھی اب بیرونِ ملک پاکستان کی بدنامی کا سبب بننا شروع ہو گیا ہے۔ بلیو پاسپورٹ صرف اور صرف سرکاری ڈیوٹی کیلئے استعمال ہونا چاہیے۔ اس ضمن میں استثنیٰ صرف گریڈ 22 کے ریٹائرڈ افسروں کو حاصل ہے‘ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی عمر سروس میں گزار چکے ہوتے ہیں‘ متعدد ٹریننگ کورس کرتے ہیں‘ پروموشن کے کئی مراحل سے گزرتے ہیں اور زندگی کے بہترین سال سرکاری ڈسپلن میں گزارتے ہیں۔ اگر ایک ایم این اے کے بیٹے یا بیٹی کو ان افسران کے برابر استحقاق دے دیا جائے تو یہ سراسر زیادتی ہو گی۔ ایم این اے کا 28 سالہ بچہ اگر خودکفیل نہیں ہے تو وہ کسی بڑے استحقاق کا حقدار نہیں ہونا چاہیے۔ ہمیں ایسے اقدام سنجیدگی سے اپنانا ہوں گے جن کی وجہ سے بلیو اور گرین پاسپورٹ کی عزت بحال ہو سکے‘ ورنہ ہمارے پاسپورٹ کی قدرو منزلت علاقائی ممالک سے نیچے ہی رہے گی۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_85338835.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>میرا میلہ، میرا پنجاب(اسد طاہر جپہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/asad-tahir-jappa-/2026-07-31/52396/63919581</link><pubDate>Fri, 31 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/asad-tahir-jappa-/2026-07-31/52396/63919581</guid><description>ہم وہ خوش نصیب نسل ہیں جس نے انٹرنیٹ‘ کمپیوٹر اور موبائل فونز کے انقلاب سے پہلے والے دور کو بھی قریب سے دیکھ رکھا ہے۔ بیلوں کے ذریعے کاشتکاری کو دیکھا تو سادہ دیہاتی زندگی میں باہمی اشتراک سے فصلوں کی بوائی اور کٹائی بھی دیکھی۔ پھر ٹریکٹر‘ تھریشر اور ہارویسٹر کا زمانہ تیزی سے آگے بڑھا۔ ہم نے خط لکھ کر رابطے کیے اور خطوط کے جواب بھی تحریر کیے۔ عید کی خوشیاں اور محبتیں بانٹنے کیلئے خوبصورت کارڈ منتخب کیے اور خالص جذبات سے بھرپور الفاظ کا چناؤ کرکے دوستوں کو ارسال کیے۔ اسی طرح گھر میں ریڈیو کے بعد ٹیلی ویژن کی آمد ہوئی تو بعد میں ٹیلی فون بھی میسر آ گیا۔ کمپیوٹر اور موبائل فونز نے خط لکھنے اور عید کارڈز ارسال کرنے کی ضرورت اور اہمیت یکسر ختم کردی کیونکہ اب پیغام رسانی کیلئے انفرادی اور اجتماعی طور پر وٹس ایپ کا استعمال عام ہو چکا تھا۔ اسی طرح لڑکپن سے جوانی تک ہمارے دیہاتی علاقوں میں تفریحی سرگرمیوں کا محور ایک مقامی میلہ تھا‘ جس کی آمد کا سال بھر انتظار رہتا تھا۔ پنجاب میں میلہ صرف تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ یہ صدیوں پرانا ثقافتی ورثہ‘ سماجی وحدت اور بھائی چارے کا مرکز رہا ہے۔ میلہ ذات‘ برادری‘ امیر‘ غریب کی تفریق ختم کر کے تعصب و امتیاز کی ہر دیوار توڑ دیتا کیونکہ ہر کوئی ایک ہی تھڑے پر بیٹھ کر دوہڑا سنتا تھا۔ اسی میل ملاپ کے دوران شادی‘ صلح‘ رشتے داری کے امور بھی طے پا جاتے تھے۔ سال بھر کی خبریں اور گپ شپ یہیں سے ملتی تھیں۔ صوفیا کے عرس میں مسلم‘ سکھ‘ ہندو سب شریک ہوتے تھے۔ اس اعتبار سے میلہ پنجاب میں رواداری کی سب سے بڑی علامت اور سماجی بندھن کا مظہر تھا۔ علاوہ ازیں میلے کے موقع پر دیہات میں سالانہ بازار مقامی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی تھے۔ کسان کیلئے بیج‘ کھاد‘ ہل‘ بیل‘ چارہ یہیں سے خریدا جاتا تھا۔ فصل بکنے کے بعد یہی پیسہ خرچ ہوتا تو معیشت حرکت میں آتی جس میں تمام کاریگر کمہار‘ لوہار‘ ترکھان‘ جولاہے سال بھر کا سامان میلے کے موقع پر بیچتے تھے۔ خواتین اپنے لیے چوڑیاں‘ مہندی‘ کھسے‘ سوٹ خریدنے آتیں کیونکہ یہ ان کی سب سے بڑی سالانہ شاپنگ ہوا کرتی تھی۔ اس کے علاوہ کبڈی‘ نیزہ بازی‘ کشتی‘ گھوڑا ڈانس اور پہلوانی کے مقابلے ہوتے اور کھلاڑیوں کی شہرت یہیں سے شروع ہوتی تھی۔ موسیقی‘ داستان گوئی اور شعر و ادب سے وابستہ باصلاحیت فنکار اپنے فن کا مظاہرہ کرتے اور سامعین کے سامنے ڈھولا‘ کافی‘ وارث شاہ کی ہیر گا کر داد و تحسین وصول کرتے تھے۔ بوڑھے داستان گوئی کے ذریعے تاریخی واقعات نئی نسل کو سناتے اور اپنے دلآویز اندازِ بیان سے سننے والوں پر سحر طاری کر دیتے تھے۔ بازار میں تازہ مٹھائیوں اور موسمی پھلوں کی دکانیں سجائی جاتیں تو تمام روایتی کھانے‘ مشروبات اور ان کے اصلی ذائقے بھی زندہ رہتے تھے۔ ہمارے آبائی شہر بھوانہ کے نواحی گاؤں حویلی باٹا میں ساون کے مہینے میں ایک صوفی بزرگ حضرت میاں شیر فتح اللہ جلال الدین کے نام سے منسوب میلہ شیر باٹا صحیح معنوں میں ہماری پنجابی ثقافت کا علمبردار تھا جسے ہر سال بڑے چاؤ کے ساتھ سجایا جاتا اور اس میں شرکت کیلئے ہم سال بھر منتظر رہتے تھے۔ اب بھی ساون کا مہینہ شروع ہوتے ہی دل میں اس میلے سے وابستہ ہمارے بچپن کی اَن گنت حسین یادوں کے چراغ روشن ہو جاتے ہیں اور کئی دلکش مناظر ہماری آنکھوں کے سامنے گھوم جاتے ہیں۔ ہم اپنے بڑوں کے ساتھ ٹریکٹر پر سوار ہو کر بڑے ذوق و شوق سے اس میلے میں جاتے۔ میلہ محض تفریح کا ذریعہ نہیں تھا بلکہ اخلاص‘ احساس‘ محبت اور اپنائیت کی مٹی میں گندھے ہوئے مضبوط رشتوں کو مزید گہرا کرنے اور انہیں معاشرتی بندھن کی لڑی میں پرونے کا سبب بھی تھا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جیسے ہی میلے کے دن قریب آتے‘ شہروں میں بسنے والے تمام افراد اپنے آبائی گھروں کا رخ کرتے‘ اپنے دور دراز کے دوست احباب اور عزیز و اقارب کو خصوصی طور پر اس میں شرکت کیلئے مدعو کرتے۔ میلے پر آئے مہمانوں کی خاطر مدارت کا خوب اہتمام ہوتا‘ ایک دوسرے کے گھروں میں کھانے کی دعوت پر رات بھر محفلیں منعقد ہوتیں۔ باہمی میل جول اور بھائی چارے پر مبنی یہ تمام خوبصورت روایات ہمارے دیہاتی وسیب کا طرۂ امتیاز تھیں جو اَب ناپید ہو چکی ہیں۔اس کی بڑی وجہ گزشتہ دو دہائیوں میں انٹرنیٹ‘ کمپیوٹر‘ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سمارٹ فونز کا انقلاب ہے جس نے جہاں ذرائع ابلاغ کے پورے نظام کو یکسر تبدیل کر دیا ہے وہاں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے ریڈیو‘ اخبارات‘ ٹیلی ویژن‘ فلم‘ تھیٹر اور تفریح کے دیگر ذرائع اور وسائل کی قدر و منزلت اور ضرورت پر ضرب لگائی ہے۔ اب ہر شخص اپنے سمارٹ فون پر ہمہ وقت مصروف نظر آتا ہے۔ ہر فرد اپنا کانٹینٹ بنانے اور اس کی ترویج و اشاعت میں مکمل طور پر خود کفیل بھی ہے اور آزاد بھی۔ ہماری نوجوان نسل‘ جسے ڈیجیٹل جنریشن کہا جا سکتا ہے‘ میں سماجی رابطوں کے پلیٹ فارمز پر وائرل ہونے کا شوق کہیں زیادہ ہو چکا ہے اور وہ اپنا زیادہ تر وقت بھی وہیں گزارنا پسند کرتے ہیں۔ ان میں سے بیشتر نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو مونیٹائز کروا کر ڈالرز میں کمائی شروع کر رکھی ہے۔ ایک طرف انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس انقلاب نے سماجی رابطوں کو تیز ترین دور میں داخل کیا ہے تو دوسری طرف اس نے ہمارے سماجی ڈھانچے اور معاشرتی تنظیم کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں جس سے ہمارا صدیوں پرانا ثقافتی ورثہ بری طرح متاثر ہوا ہے۔ ہمارے روایتی میلوں ٹھیلوں کی رونقیں ماند پڑ گئی ہیں اور باہمی میل جول کے مواقع محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ اب ہر شخص اپنے موبائل فون کے ساتھ چپک کر ایک ورچوئل دنیا کا باشندہ بن چکا ہے جو انٹرنیٹ‘ کمپیوٹر سکرین اور موبائل فونز میں آباد ہے جہاں لوگ اپنے ماحول سے تو بیگانہ ہو چکے ہیں مگر ایک دوسرے کے ساتھ ہر لمحہ رابطے میں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب کسی کو سال بھر میلے کا انتظار نہیں رہتا کیونکہ سمارٹ فونز پر لوگ ہر لمحے اپنی پسند کی تفریح سے لطف اندوز ہوتے رہتے ہیں۔ نوجوانوں میں روایتی کھیل جیسے کبڈی اور ریسلنگ کے بجائے کمپیوٹر گیمز کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ دوسری طرف ملک میں دہشت گردی کے خوف سے بڑے اجتماعات کا انعقاد مشکل ہو گیا ہے۔ پولیس اور انتظامیہ میلے کی اجازت دینے سے گھبراتی ہے اور انہی خدشات کے باعث درگاہوں پر بھی سکیورٹی کے نام پر نت نئی پابندیاں لگ گئی ہیں‘ مگر اس ڈیجیٹل دور میں ان تاریخی روایات اور ثقافتی ورثے کو زندہ رکھنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ میلے ہماری قدیم ثقافت اور معاشرتی روایات کو زندہ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ثقافتی میلوں اور روایتی کھیلوں کا تسلسل نئی نسل کو اپنی تہذیب‘ ثقافت اور مثبت سرگرمیوں سے جوڑے رکھنے کا مؤثر ذریعہ ہے۔ میلہ ہی پنجاب کی اصل شناخت ہے۔ ڈھول کی تھاپ اور میلے کا شور زندگی کے استعارے ہیں جن میں ہماری تاریخ و ثقافت کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ خوش آئند امر یہ ہے کہ اس مرتبہ سلیم انور بھائی نے مقامی میلہ شیر باٹا کے انعقاد کیلئے ذاتی دلچسپی لی اور اس کی تمام رونقیں بحال کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ چند روز قبل وہ رسمِ چراغ ادا کرکے اس کا افتتاح کرتے نظر آئے تو پل بھر میں اس خوبصورت ثقافتی ورثے سے وابستہ ہمارے بچپن کے وہ دن لوٹ آئے اور شباب رُت کے گلاب لمحوں کی خوشبو کو بھوانہ کی فضاؤں سے نکل کر یہاں برطانیہ کے شہر لیسٹر پہنچنے میں زیادہ دیر نہیں لگی۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_34710710.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>عالمی سطح کا ریاضی دان(نسیم احمد باجوہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/naseem-ahmed-bajwa/2026-07-31/52397/36357523</link><pubDate>Fri, 31 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/naseem-ahmed-bajwa/2026-07-31/52397/36357523</guid><description>تحریک کا نام خاکسار تھا اور اس کی بنیاد اپنے عہد کے ممتاز ریاضی دان عنایت اللہ خان مشرقی نے رکھی۔ وہ 25 اگست 1888ء کو امرتسر کے ایک علمی اور متمول گھرانے میں پیدا ہوئے۔ سید جمال الدین افغانی جب پنجاب کے سفر پر امرتسر آئے تو ان کی میزبانی اسی خاندان نے کی۔ 1904ء میں جب ان کی عمر صرف سولہ برس تھی‘ انہوں نے ریاضی میں ایم اے کی ڈگری اوّل پوزیشن کے ساتھ حاصل کی۔ گورنر پنجاب نے انہیں اپنے گھر چائے پر مدعو کیا اور اعلیٰ سرکاری عہدے کی پیشکش کی مگر انہوں نے اسے قبول کرنے کے بجائے اعلیٰ تعلیم کیلئے انگلستان جانے کا فیصلہ کیا اور وہاں کیمبرج یونیورسٹی کے کرائسٹ کالج میں داخل ہوئے اور ایک بار پھر اوّل پوزیشن حاصل کی۔ انہیں فاؤنڈیشن سکالرشپ ملا‘ انجینئرنگ‘ ریاضی‘ طبیعیات اور دیگر سائنسی علوم میں متعدد اعزازات ملے۔ برطانوی اخبارات نے ان کی غیر معمولی ذہانت کو سراہا گیا اور وہ دورِ طالب علمی ہی میں بین الاقوامی شہرت حاصل کرنے والے اولین ہندوستانی طلبہ میں شمار ہونے لگے۔ بعدازاں انہوں نے سینٹرل گورنمنٹ آف انڈیا میں محکمہ تعلیم کے انڈر سیکرٹری کا عہدہ قبول کیا۔ 1924ء میں انہوں نے اپنی شہرہ آفاق کتاب &#39;&#39;تذکرہ‘‘ لکھی جس نے انہیں علمی دنیا میں ممتاز مقام دلایا۔ جدید افکار پر مبنی اس کتاب میں مسلمانوں کو جمود سے نکل کر اجتہاد اور انقلاب کی راہ اختیار کرنے کی دعوت دی گئی اور قرآنِ مجید کی تشریحات جدید علوم کی روشنی میں پیش کی گئیں۔ اس میں قدامت پرستی اور ملائیت پر سخت تنقید کی گئی۔جب میں 1956-59ء کے دوران پنجاب یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم تھا تو ایک سال لاء کالج اور آخری سال اورینٹل کالج کے ہاسٹل میں رہا۔ وہاں اشرف پہلوان بھی مقیم تھے جو نہ صرف کشتی کے اچھے کھلاڑی تھے بلکہ خاکسار تحریک کے کارکنوں میں نمایاں حیثیت رکھتے تھے۔ علامہ مشرقی کی وفات کے بعد وہ تحریک کے ایک دھڑے کے سربراہ بھی بنے۔ انہی کی وساطت سے ایک شام مجھے علامہ مشرقی سے ان کے گھر (غالباً اچھرہ ) میں ملاقات کا موقع ملا۔ بدقسمتی سے ان دنوں علامہ مشرقی اپنی تحریک کے زوال کے باعث شدید مایوسی اور دل گرفتگی کا شکار تھے۔ وہ ہماری آمد پر زیادہ خوش نہ دکھائی دیے اور زیادہ تر سر جھکائے خاموش بیٹھے رہے۔ میرے چند سوالوں کے جواب بھی مختصراً اور بے دلی سے دیے۔ یہ سردیوں کا موسم تھا اور ان کی سرد مہری نے ماحول کو مزید سرد کر دیا۔ طویل انتظار کے بعد جو چائے ملی وہ بھی ٹھنڈی تھی۔ آخرکار میں نے اجازت چاہی جو فوراً ہی مل گئی۔ واپسی پر میں نے اشرف پہلوان کی دلجوئی کرتے ہوئے کہا کہ اتنے بڑے آدمی کی زیارت بھی غنیمت ہے اور یہ ضروری نہیں کہ ہر بڑی شخصیت سے ہر ملاقات خوشگوار ہی ثابت ہو‘ خصوصاً جب وہ اس پر مسلط کر دی گئی ہو۔ اس ملاقات کے کوئی چار پانچ برس بعد 27 اگست 1963ء کو علامہ مشرقی نے 75 برس کی عمر میں وفات پائی اور لاہور میں سپردِ خاک ہوئے۔ جوانی میں وہ وسط ایشیائی ٹوپی پہنتے اور مونچھیں رکھتے تھے۔ بڑھاپے میں انہوں نے داڑھی رکھ لی تھی۔ 1931ء میں انہوں نے صرف تاریخ لکھنے یا اس پر خطبات دینے کے بجائے خود تاریخ کا کردار بننے کا فیصلہ کیا اور خاکسار تحریک کی بنیاد رکھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے متحدہ پنجاب کے شمالی اضلاع میں خاکی وردیاں پہنے‘ کندھوں پر بیلچے اٹھائے ہزاروں نوجوان فوجی نظم و ضبط کے ساتھ پریڈ کرنے لگے۔ آغاز صرف 90 کارکنوں سے ہوا مگر چند ہفتوں میں مزید تین سو افراد شامل ہو گئے۔ Roy Jackson نے2011ء میں شائع ہونے والی اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ 1942ء تک خاکساروں کی تعداد چالیس لاکھ تک جا پہنچی تھی۔ تاہم مجھے یہ اندازہ مبالغہ آمیز معلوم ہوتا ہے۔ جنگل کی آگ کی طرح یہ تحریک بالخصوص نچلے متوسط طبقے کے نوجوان مسلمانوں میں پھیل گئی۔ اس سے زیادہ ڈرامائی آغاز شاید ممکن نہ تھا۔دوسری جنگ عظیم کے دوران علامہ مشرقی نے برطانوی حکومت کو چالیس ہزار تربیت یافتہ افراد فوج اور پولیس کیلئے فراہم کرنے کی بھی پیشکش کی مگر حکومت نے قبول نہ کی۔ خاکسار تحریک کا مقصد ہندوستان کو انگریز کے اقتدار سے آزاد کرا کے ایسی حکومت قائم کرنا تھا جس میں ہندو اور مسلمان مل کر رہیں۔ خاکسار بننے کیلئے مذہب‘ ذات پات‘ سماجی حیثیت‘ تعلیم یا پیشے کی کوئی قید تھی۔ ہر نوجوان کیلئے دروازہ کھلا تھا۔ &#39;&#39;تذکرہ‘‘ کے بعد علامہ نے اپنے نظریات کی مزید وضاحت کیلئے &#39;&#39;عشرت‘‘ لکھی جو تحریک کی فکری اساس بنی۔ وہ سیاسی آزادی‘ سماجی انصاف اور تمام مذاہب کے پیروکاروں کے مساوی حقوق کے داعی تھے اور انقلابی زبان میں اپنا روایت شکن پیغام عام کرنے لگے۔19 مارچ 1939ء کا دن خاکسار تحریک کیلئے فیصلہ کن ثابت ہوا۔ خاکساروں اور پنجاب پولیس‘ جس کے اعلیٰ افسر انگریز تھے‘ کے درمیان خونریز تصادم میں ایک انگریز افسر اور تقریباً تین سو خاکسار مارے گئے۔ بچ نکلنے والے بہت سے خاکسار شاہی محلے میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ علامہ مشرقی کو بغیر مقدمہ قید کر لیا گیا۔ انہوں نے جیل میں بھوک ہڑتال کی اور جب حالت انتہائی تشویشناک ہو گئی تو19 جنوری1942ء کو رہا کر دیے گئے۔ اس کے بعد پنجاب‘ جو تحریک کی جنم بھومی تھا‘ میں خاکسار برائے نام رہ گئے البتہ جنوبی ہند خصوصاً موجودہ تامل ناڈو میں یہ تحریک کسی حد تک باقی رہی۔خاکسار تحریک تقسیمِ ہند کی مخالف تھی۔ 1942ء کے قحطِ بنگال میں اسی جماعت نے متاثرہ علاقوں میں خوراک پہنچانے کے لیے کافی کام کیا جبکہ 1947ء کے فسادات میں مسلمانوں‘ ہندوؤں اور سکھوں کی جانیں بچانے کی بھی کوشش کی۔ راولپنڈی میں ایک خاکسار رضاکار صرف اپنا بیلچہ لے کر محصور سکھوں کو بچانے پہنچ گیا لیکن قتل کر دیا گیا۔ چار جولائی 1947ء کو علامہ مشرقی نے تحریک کو باضابطہ طور پر ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ قیامِ پاکستان کے بعد اکتوبر 1947ء میں انہوں نے &#39;&#39;اسلام لیگ‘‘ کے نام سے نئی جماعت قائم کی مگر وہ کامیاب نہ ہو سکی۔ ان کی وفات کے بعد چند پیروکاروں نے خاکسار تحریک کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کی لیکن کامیابی نہ مل سکی۔ اشرف پہلوان نے بھی اسی نام سے ایک متوازی تنظیم بنائی۔ آج دونوں تاریخ کا حصہ ہیں۔ علامہ کے واحد پوتے فرحان مشرقی ان کے خانوادے کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اپنے عروج کے دور میں خاکسار تحریک &#39;&#39;الاصلاح‘‘ کے نام سے اپنا جریدہ بھی شائع کرتی تھی۔ 30 جولائی 1943ء کو بمبئی میں قائداعظم پر ان کے گھر میں قاتلانہ حملہ ہوا جو ناکام رہا۔ علامہ مشرقی نے اس حملے کی مذمت کی۔ اس کے بعد افواہ اڑی کہ حملہ آور خاکسار تھا مگر بمبئی ہائیکورٹ کے جسٹس Sir John Basil Blagden نے چار نومبر 1943ء کے فیصلے میں قرار دیا کہ اس الزام کے حق میں کوئی شہادت موجود نہیں۔ قیامِ پاکستان کے بعد علامہ مشرقی کم از کم چار مرتبہ گرفتار ہوئے۔ 1958ء میں ان پر مغربی پاکستان کے وزیراعلیٰ عبدالجبار خان کے قتل کی سازش اور 1962ء میں جنرل ایوب خان کی حکومت کا تختہ الٹنے کی منصوبہ بندی کا الزام لگا مگر دونوں مقدمات میں عدالت نے انہیں بری کر دیا۔1957ء میں انہوں نے اعلان کیا کہ وہ تین لاکھ رضاکاروں کے ساتھ لائن آف کنٹرول عبور کر کے کشمیر آزاد کرائیں گے مگر حکومتِ پاکستان نے رضاکاروں کو واپس بھیجنے میں کامیابی حاصل کر لی۔ علامہ مشرقی آٹھ کتابوں کے مصنف تھے جبکہ ان پر درجنوں کتابیں لکھی گئی ہیں۔ آج علامہ مشرقی ہماری جدید تاریخ کی بھولی بسری شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ اگر خاکسار تحریک جماعت احرار کی طرح قائداعظم اور مسلم لیگ کی اتحادی بن جاتی تو شاید اس کا انجام مختلف ہوتا۔ البتہ عوام دوستی‘ سامراج دشمنی‘ خدمتِ خلق‘ محنت کی قدر اور انقلابی جذبہ اس تحریک کی نمایاں خصوصیات تھیں مگر سیاست میں ایک بڑی غلطی کبھی کبھی پوری تحریک کا مقدر بدل دیتی ہے۔ علامہ مشرقی شہابِ ثاقب کی طرح افق پر نمودار ہوئے‘ سولہ برس تک پوری آب و تاب سے چمکے اور پھر تاریخ کا حصہ بن گئے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_32258580.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پاکستان اور توازن کا میزان(امیر حمزہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ameer-hamza/2026-07-31/52398/25321289</link><pubDate>Fri, 31 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ameer-hamza/2026-07-31/52398/25321289</guid><description>قرآن مجید کی ایک سورت ہے الغافر۔ اس کا ایک نام &#39;&#39;المومن‘‘ بھی ہے‘ یعنی جس سے انسانیت کو امن ملے اسے &#39;&#39;مؤمن‘‘ کہا جاتا ہے۔ وہ فرشتے جو عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں اور وہ فرشتے جو عرش کے گرد &#39;&#39;سبحان اللہ اور الحمد للہ‘‘ کا ورد کرتے ہیں‘ سورۃ المومن بتاتی ہے کہ وہ فرشتے مومنوں کے لیے بخشش کی دعا کرتے ہیں اور کہتے ہیں: &#39;&#39; اے ہمارے رب! آپ کی رحمت اور علم نے ہر چیز کو گھیرے میں لیا ہوا ہے لہٰذا ان لوگوں (مومنین) کو معاف فرما دے جو (غلطی اور گناہ کی صورت میں) واپس پلٹتے ہیں اور آپ کے راستے کو اختیار کرتے ہیں۔ از راہِ کرم! ایسے لوگوں کو جہنم کی سزا سے محفوظ فرما دیں‘‘ (المومن: 7)۔ کوئی بھی مومن اپنے اللہ کی رحمتوں کا نظارہ کرنا چاہے تو &#39;&#39;سورۃ الرحمن‘‘ کی تلاوت کرے مگر ترجمہ اور تفہیم کے ساتھ۔ ایسی تفہیم کہ جس سے علم حاصل ہو۔ فرمایا: قسم ہے آسمان کی (کہ اللہ نے) اس کو بلند کیا اور میزان قائم کر دیا۔ (اے انسانو!) میزان میں طغیانی نہ کرنا‘‘ (الرحمن: 7 تا 8)۔ پاک وطن کی سیاسی اور عسکری قیادت گزشتہ چند ماہ سے عالمی توازن کو میزان میں رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ مسلم ممالک کو سمجھایا جا رہا ہے کہ ہم نے آپس میں لڑنا نہیں ہے۔ امریکہ جیسی سپر پاور کہ جس کی عسکری تاریخ جنگوں اور جاپان پر ایٹم بموں کے حملوں سے عبارت ہے‘ اسے بھی سمجھانے کی بے حد کوشش کی کہ دنیا اب ایک کے بجائے متعدد پاوروں (ملٹی پولر) کی حامل بن چکی ہے لہٰذا جنگوں سے گریز کیا جائے۔ جنگ میں شہری آبادی اور اس کی ضروریات کے تحفظ کا اہتمام کیا جائے۔ عورتوں اور بچوں کے لیے رحمت و راحت کے پہلو کو اولین ترجیح بنایا جائے۔ پاکستان کی قیادت اس میں بڑی حد تک کامیاب رہی ہے۔ حالیہ جنگ بندی میں بھی اسلام آباد کی پُرامن یادداشت کو مان کر آگے بڑھنے کی بات کی گئی ہے۔ دوسرے لفظوں میں پاک وطن کی قیادت کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے کہ اس کی مصالحانہ کاوشیں قابلِ قدر ہیں۔زمین پر موجود دوربینیں ہوں یا وہ جو زمین کے مدار میں گردش کر رہی ہیں‘ ایک دوربین جس کا نام معروف خلائی سائنسدان جیمز ویب کے نام پر ہے اور وہ اب تک کی پہلی دوربین ہے جو سورج کے مدار میں بھیجی گئی ہے۔ زمین کے مدار میں جو سب سے بڑی دوربین ہے وہ &#39;&#39;ہبل سپیس‘‘ ہے۔ آسمان کی وسعتوں میں ان دوربینوں نے اربوں‘ کھربوں سیاروں کو کھنگال مارا مگر کہیں بھی زمین جیسا سیارہ نہیں مل سکا کہ جہاں زندگی کے آثار ہوں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہماری زمین ایک نہایت قیمتی گھر ہے جس کو ہم انسان تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ جی ہاں! مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ میرا پاک وطن اس کو بچانے کے لیے تلا ہوا ہے۔ خراجِ تحسین ہے ان اہلِ دانش کو جو امن کی اس جدوجہد میں حصہ ڈال رہے ہیں۔ یہی مؤمن ہیں۔ ان ہمدردانِ انسانیت کے لیے عرش اٹھانے والے فرشتوں کی دعائیں ہیں۔ ایسے اہلِ علم کے لیے عرش کے ارد گرد جو فرشتے ہیں ان کی دعائیں ہیں اور اس زمین پر ان ننھے معصوم فرشتہ نما بچوں کی دعائیں بھی اللہ کے عرش کو ہلانے والی ہیں کہ جو اپنے ماں باپ اور اپنے جیسے بچوں کے پرزے اڑتے اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔ وہ سہمے ہوئے بچے امن اور محبت کے حقدار ہیں۔ہماری زمین سمیت کوئی درجن بھر سیاروں کا ایک خاندان ہے جس کا سربراہ سورج ہے۔ ہر سیارے کے اپنے چاند بھی ہیں۔ کسی کا ایک ہے اور کسی کے دو ہیں۔ زحل کے چاند کی تعداد 274 بتائی جاتی ہے۔ یہ سب اسی خاندان کے افراد ہیں۔ جو چٹانیں اور پہاڑ نظامِ شمسی کے مداروں میں گھوم رہے ہیں‘ وہ بھی اسی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ سورج کی سلطنت جہاں ختم ہوتی ہے‘ اس بارڈر پر بھی ایسے لا تعداد &#39;پہاڑ‘ موجود ہیں‘ ان میں سے ایسے بھی ہیں جو اپنے مدار سے باہر نکلتے ہیں تو لگتا ہے کہ ان کا رُخ ہماری زمین کی جانب ہے۔ اگر کوئی ایک بھی دیوہیکل دمدار ستارہ ہماری زمین سے ٹکرا گیا تو زمین کا گولہ خلائوں میں بکھر جائے گا۔ تب نہ کوئی ملک رہے گا نہ کوئی تاریخ اور نہ کوئی تہذیب۔ مگر خلائی سائنسدان کہتے ہیں کہ مشتری نام کا ایک سیارہ کمال کا کام کرتا ہے۔ یہ ہماری زمین سے کروڑوں کلو میٹر دور ہے اور نظام شمسی کا سب سے بڑا سیارہ ہے۔ یہ سارے کا سارا گیس کا بنا ہوا ہے۔ اس کے اندر اس قدر کشش ہے کہ یہ ان دمدار ستاروں کو اپنی گرفت میں لے کر اپنے اندر چھپا کر گیس بنا ڈالتا ہے جو زمین کی جانب بھاگے جاتے ہیں تاکہ زمین کو تباہ کر دیں۔ ہمالیہ جیسے سائز کے پہاڑوں اور دیگر چٹانوں کو بھی اپنے اندر کھینچ کر یہ گیس بنا ڈالتا ہے جو زمین کی جانب بھاگ رہے ہوتے ہیں۔ بعض اوقات یہ ایسا بھی کرتا ہے کہ Comets(دمدار ستارے) وغیرہ کو نظام شمسی کی حدود سے باہر پھینک ڈالتا ہے۔ قارئین کرام! حیرت کی بات یہ ہے کہ مندرجہ بالا سارا سائنسی علم ہم لوگوں کو ایسے ترقی یافتہ ملکوں سے مل رہا ہے جو انسانیت کو یہ علم بھی دے رہے ہیں اور انتہائی مہلک بموں کی ایجاد سے انسانی بستیوں کو اجاڑ بھی رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سب کو ہدایت عطا فرمائے اور پاک وطن کی جدوجہد کو امن سے نوازے۔ہمارے نظام شمسی میں جتنے بھی چاند ہیں‘ وہ سب اپنے اپنے سیاروں کے حجم کے مقابلے میں بہت چھوٹے ہیں۔ ان کے برعکس زمین کا چاند واحد ایسا چاند ہے جو زمین کے سائز کے تناسب میں باقی نظامِ شمسی کے مقابلے میں کافی بڑا ہے۔ چاند کا قطر (Diameter) زمین کے قطر کا تقریباً ایک چوتھائی ہے۔ جی ہاں! یہ اتنا بڑا نہ ہوتا تو زمین پر زندگی کا وجود ممکن نہ ہوتا۔ اسی لیے تو ساری انسانیت کیلئے سرا سر رحمت بن کر آنے والے آخری رسول حضرت محمد کریمﷺ نے پہلی تاریخ کے چاند کو مخاطب کرکے فرمایا: &#39;&#39;اے اللہ! اس چاند کو ہم پر امن اور ایمان کے ساتھ طلوع فرما دے‘ سلامتی اور اسلام کے ساتھ روشن فرما دے‘ اے چاند! میرا اور تیرا رب اللہ ہے‘‘ (سنن ترمذی)۔ اللہ اللہ! رحمتِ دو عالمﷺ نے ساری انسانیت کو امن و سلامتی کی دعا میں شامل فرمایا۔ چاند ساری زمین پر چمکتا ہے۔ اس کے چمکنے کی ہر جگہ کو حضورﷺ نے اپنی دعا کے مبارک اور پُرنور لفظوں سے منور کرکے رب العالمین کے دربار میں پیش کیا۔ یاد رہے! اگر چاند ذرا سا بھی چھوٹا ہوتا یا وہ زمین سے تھوڑا سا بھی دور ہوتا تو ہماری زمین خلا میں ڈگمگانا شروع کر دیتی۔ سمندروں کا پانی ابلنے لگ جاتا اور زمین برف کا گولہ بن جاتی۔ یوں سب کچھ ختم ہو جاتا۔ اسی طرح چاند اور سورج کے سائز میں بہت بڑا فرق ہے مگر یہ ان کا زمین سے فاصلہ ہے کہ جس کے سبب یہ دونوں ہمیں ایک جیسے نظر آتے ہیں۔ اس فاصلے میں بھی اگر کچھ فرق آ جائے تو زمین سے چاند اور سورج کا ایک جیسا نظر آنا ناممکن ہے۔ جی ہاں! زمین ہو یا چاند‘ سورج یا دیگر سیارے! سب کو میزان میں رکھ کر بنانے والے نے توازن کے ساتھ بنایا ہے۔ اسے سائنسی زبان میں Fine Tuningکہا جاتا ہے‘ یعنی یہ ایسا باریک ترین توازن ہے جسے کسی ہستی نے قائم کیا ہے۔ اس توازن کو دیکھ کر فرینک ڈریک (Frank Drake)‘ کارل سیگن (Carl Sagan)اور سٹیفن ہاکنگ جیسے سینکڑوں سائنسدان پکار اٹھے‘ اور یہ پکار مسلسل بڑھتی جا رہی ہے کہ کوئی تو ہے جو اس نظامِ ہستی کو چلا رہا ہے! وہی اللہ ہے۔ وہی رحمان ہے کہ جس کے حبیب حضور کریمﷺ نے ریاستِ مدینہ میں پُرامن‘ پُرعدل نظام‘ میزان میں رکھ کر نافذ کیا۔ بین الاقوامی قوانین بھی انسانیت کو عطا فرمائے۔ میری دعا ہے کہ میرے پاک وطن کی بدولت دنیا کو امن ملے۔ ملک کے اندر بھی پاک وطن کو میزان ملے کہ دونوں کے ملنے ہی سے عزت دوبالا ہو گی اور پائیدار بھی ہوگی۔ان شاء اللہ تعالیٰ!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_68712266.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>