<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>پائیدار معیشت کی بنیاد(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-21/11295</link><pubDate>Sun, 21 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-21/11295</guid><description>وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگ زیب نے قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث سمیٹتے ہوئے کہا کہ مالی سال 2026-27 ء کا بجٹ گزشتہ دو سالوں میں حاصل کی گئی ترقی کو پائیدار بنیاد فراہم کرے گا۔ بجٹ کے حوالے سے یہ باتیں خوش آئند ہیں اور صنعتی اور کاروباری حلقے بھی بجٹ پر عمومی اطمینان کا اظہار کرتے ہیں مگر معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کیلئے مزید بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ معاشی استحکام کیلئے ملکی برآمدات میں اضافہ ایک ناگزیر عمل ہے‘ تاہم ملک عزیز کے وسائل اور صلاحیتوں کے مقابلے میں ہماری برآمدات خاصی کم ہیں اور ان میں نمو نہایت سست ہے۔ پچھلے پانچ برس کا جائزہ لیا جائے تو برآمدات کا سالانہ حجم 31ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے جبکہ رواں مالی سال کے پہلے گیارہ ماہ کے دوران برآمدات گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں تقریباًساڑھے پانچ فیصد کم ہیں۔ گزشتہ مالی سال کے پہلے گیارہ ماہ میں 29.563 ارب ڈالر کی برآمدات ہوئیں جبکہ رواں سال کے اس عرصہ میں 27.904 ارب ڈالر کی۔

برآمدات کا جمود یا تنزل معیشت کے حوالے سے تشویشناک منظر کشی کرتا ہے۔ضروری ہے کہ اس حوالے سے درپیش رکاوٹوں کودورکیا جائے۔ یہ رکاوٹیں زیادہ تر بیرونی نہیں داخلی ہیں۔ عالمی سطح پر پاکستان کی مصنوعات کو بدستور اہمیت حاصل ہے اور دنیا کے تمام بڑے ممالک میں ان مصنوعات کی کھپت ہے ۔ حکومتی سطح پر بھی پاکستانی مصنوعات کو ترجیحی سہولیات حاصل ہیں جیسا کہ یورپ میں جی ایس پی پلس ‘ امریکہ میں اس خطے کے دیگر ممالک کی نسبت کم ٹیرف اور چین کیساتھ تجارتی معاہدے کے تحت چینی مارکیٹ تک ڈیوٹی فری رسائی۔ان سہولتوں سے برآمدات میں اضافہ ہونا چاہیے مگر یہاں اسکے برعکس ہے۔ صنعتی ترقی کی راہ میں رکاوٹوں کی وجوہات ڈھکی چھپی نہیں۔ مہنگی توانائی‘ ٹیکسوں کی اونچی شرح ‘ مہنگے قرضے ‘ سکیورٹی کے مسائل ‘ بیرونی سرمایہ کاری میں کمی اور سیاسی عدم استحکام صنعتی ترقی کی راہ کی بڑی رکاوٹیں ہیں۔ آنیوالے مالی سال کو اگر پائیدار ترقی کی بنیاد بنانا ہے تو ان رکاوٹوں کو دور ہونا چاہیے ۔حکومت نے بجٹ میں صنعتی شعبے کیلئے بعض ٹیکسوں کی شرح میں کمی کا جو فیصلہ کیا ہے اسکی اہمیت اپنی جگہ مگر یہ کافی نہیں۔ صنعتی ترقی کیلئے سستے قرض‘ سستی توانائی ‘ سرمایہ کاری کیلئے پُر کشش حالات اور ملک میں امن و امان یقینی بنانا ہو گا۔
امریکہ ایران جنگ کی وجہ سے توانائی کی عالمی قیمتوں میں اضافہ باعثِ تشویش تھا مگر اب جبکہ یہ تنازع ختم ہو چکا اور امن کی جانب پیش رفت ہو رہی ہے تو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے بعد بجلی کے نرخوں میں کمی اور شرح سود میں بھی کمی کی ضرورت ہے تا کہ صنعتیں سستی توانائی کے ساتھ ساتھ مالی وسائل کے حصول میں بھی آسانی محسوس کریں۔ حالیہ برسوں کے دوران ملک میں بیرونی سرمایہ کاری کے رجحان میں کمی واقع ہوئی۔ رواں مالی سال کے پہلے گیارہ ماہ کے دوران 1.6ارب ڈالر کی خالص براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری ہوئی جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 28 فیصد کم ہے۔برآمدات اور سرمایہ کاری سمیت معیشت کے متعدد اہم شعبوں میں سال بسال کمی تشویش کا باعث ہے اور آنے والے مالی سال کو اگر معاشی نمو ‘ ترقی اور استحکام کا سال بنانا ہے تو ان مسائل کے اسباب کو سمجھ کر ان کا ازالہ کیے بغیر ایسا ممکن نہ ہو گا۔
نئے مالی سال کو معاشی ترقی کا سال بنانے کیلئے معاشی فیصلوں میں توازن اور اعتدال کی ضرورت ہو گی۔ بجٹ کی حد تک اسکے آثار موجود ہیں تاہم ہمارے ہاں کوئی پتہ نہیں چلتا کہ حکومتیں منی بجٹ کی صورت میں کب اپنے پہلے فیصلوں کو تبدیل کر دیں۔مالی سال 2027ء میں سابقہ غلطیوں کو دہرانے کی قطعی گنجائش نہیں۔ پاکستان کو معاشی استحکام اسی صورت حاصل ہو سکتا ہے جب معاشی فیصلہ سازی میں ان عوامل کو پیش نظر رکھا جائے جو اس وقت ملکی معیشت کے پاؤ ں کی زنجیر بنے ہوئے ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بنوں میں دہشت گردی(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-21/11294</link><pubDate>Sun, 21 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-21/11294</guid><description>گزشتہ روز بنوں میں یکے بعد دیگرے دو بم دھماکے‘ جن میں سات افراد جاں بحق اور تین زخمی ہوئے‘ دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرات کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق اس سال مئی میں ملک میں دہشت گردی کے 128واقعات ہوئے جن میں سے57واقعات خیبرپختونخوا میں ہوئے۔ صوبے کے جنوبی اضلاع خاص طور پر بنوں کا علاقہ دہشتگردی کے ان واقعات سے شدید متاثر ہے۔ بظاہر اس کی وجہ قبائلی پٹی سے جغرافیائی قربت بھی ہو سکتی ہے اور ان علاقوں میں سکیورٹی کا کمزور نظام بھی جس کا فائدہ اٹھا کر دہشت گرد اس علاقے میں مسلسل متحرک ہیں۔ دہشت گردی کی یہ لہر جو براستہ قبائلی پٹی افغانستان سے براہِ راست جڑی ہوئی ہے ‘ کو توڑنے کیلئے صوبے میں سکیورٹی کے انتظامات پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔

دہشت گردی کے حوالے سے خیبر پختونخوا کے چیلنجز بڑے ہیں؛ چنانچہ بچاؤ کے اقدامات کو بھی اسی حساب سے بڑا ہونا چاہیے۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ پولیس کی تربیت اور ہتھیاروں پر حکومت خصوصی اخراجات کرے۔ خیبر پختونخوا حکومت نے اس بجٹ میں 191ارب روپے امن وامان کے انتظامات کیلئے مختص کیے ہیں جو کہ مالی سال 2026 ء سے 25 فیصد زیادہ ہے۔ سکیورٹی انتظامات کے بجٹ میں اضافہ صوبائی حکومت کی عزم کی دلیل ہے مگر اعدادوشمار کا فائدہ اسی صورت میں برآمدا ہو سکتا ہے جب یہ رقوم پوری اور درست ترجیحات پر صرف ہوں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مہنگائی میں اضافہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-21/11293</link><pubDate>Sun, 21 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-21/11293</guid><description>وفاقی ادارۂ شماریات کی تازہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے کے دوران 25اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے سے ہفتہ وار مہنگائی کی شرح 15.28فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سالانہ بنیادوں پر پیاز کی قیمت میں تقریباً 80فیصد‘ ٹماٹر 69فیصد‘ آٹا 59فیصد‘ بجلی 60فیصد اور ایل پی جی کی قیمت میں تقریباً 53فیصد اضافہ ہوا ۔ حکومت کی جانب سے مہنگائی میں کمی کے دعوے تو کیے جاتے ہیں مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ شہریوں کی اکثریت اب خوراک‘ بجلی‘ ایندھن اور دیگر بنیادی ضروریات پوری کرنے کیلئے شدید جدوجہد کر رہی ہے۔ منافع خوری‘ ذخیرہ اندوزی‘ ناقص نگرانی اور بازاروں پر مؤثر کنٹرول کا فقدان قیمتوں کو مسلسل اوپر دھکیل رہا ہے۔ تاہم سب سے تشویشناک پہلو عوام کی گرتی ہوئی قوتِ خرید ہے۔

حالیہ قومی اقتصادی سروے کے مطابق ملک کی 29 فیصد آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ اس صورتحال میں صرف وقتی ریلیف کافی نہیں۔ حکومت کو ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری کے خلاف سخت کارروائی‘ قیمتوں کی مؤثر نگرانی‘ سستے بازاروں کے دائرہ کار میں توسیع اور سب سے بڑھ کر روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ اگر حکومت نے فوری اور موثر اقدامات نہ کیے تو بڑھتی ہوئی مہنگائی صرف معاشی دباؤ ہی نہیں بلکہ سماجی بے چینی اور عدم استحکام کو بھی جنم دے سکتی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پاکستان کا اونچا نام(مجیب الرحمٰن شامی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mujeeb-ur-rehman-shami/2026-06-21/52159/78468681</link><pubDate>Sun, 21 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mujeeb-ur-rehman-shami/2026-06-21/52159/78468681</guid><description>نیا راگ ہے ساز بدلے گئے‘ زمانے کے انداز بدلے گئے۔ اُٹھ کہ اب بزمِ جہاں کا اور ہی انداز ہے‘ مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے۔ اقبالؒ نے جو کچھ برسوں پہلے کہا تھا‘ وہ آج ہم پر صادق آ رہا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بند ہو چکی۔ دونوں کے صدور مفاہمت کی دستاویز &#39;&#39;اسلام آباد اکارڈ‘‘ یعنی معاہدۂ اسلام آباد پر دستخط کر چکے۔ وزیراعظم پاکستان ثالث کے طور پر اپنا نام بھی ثبت کر چکے۔ گویا اس تاریخی دستاویز پر تین افراد کے دستخط ہیں‘ صدر ڈونلڈ ٹرمپ‘ صدر مسعود پزشکیان اور وزیراعظم شہباز شریف۔ پاکستان کا نام اونچا ہوا‘ پوری دنیا میں بلند ہوا‘ ہر طرف سے مبارکباد آئی‘ داد ملی‘ تحسین کے الفاظ ملے۔ دو متحارب ممالک کو ایک ساتھ بٹھانے‘ ان کے درمیان بات چیت کرانے اور انہیں مثبت نتیجے تک پہنچانے میں پاکستان کامیاب ہوا: یہ اُس کی دین ہے‘ جسے پروردگار دے۔یہ درست ہے کہ قطر پاکستان کے شانہ بشانہ رہا۔ سعودی عرب‘ چین‘ ترکیے اور دوسرے دوست ممالک کی معاونت بھی حاصل رہی لیکن یہ بھی درست ہے کہ قائدانہ کردار پاکستان نے ادا کیا۔ سب نے اسے آگے کیا‘ سب نے اس پر اعتماد کیا۔ تہران اور واشنگٹن اس کے ذریعے بات کرتے رہے‘ ایک دوسرے کو سمجھتے اور سمجھاتے رہے‘ یہاں تک کہ مشترکہ الفاظ کی تلاش میں کامیاب ہو گئے۔ 14نکات طے پائے اور باقاعدہ سرکاری طور پر جاری کر دیے گئے۔ واشنگٹن سے متن کا اعلان ہوا‘ تہران نے بھی اسے نشر کیا۔ اسلام آباد نے بھی مشتہر کر دیا۔ فریقین اپنی اپنی فتح کا ڈنکا بجا رہے ہیں‘ اسے مقابل کی شکست قرار دے رہے ہیں۔ ایران اپنی دھن میں مگن ہے‘ صدر ٹرمپ اپنی بڑھکیں لگا رہے ہیں۔ اسرائیل پر احسان جتا رہے ہیں۔ میں نے تمہیں ایٹمی ایران سے بچا لیا‘ ایٹم بم ایران کے پاس آ جاتا تو اسرائیل کا نام و نشان مٹ جاتا‘ وہ اس کا پہلا نشانہ ہوتا۔ ایران نے حتمی اعلان کر دیا ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیار نہیں بنائے گا‘ ایٹمی دھماکہ نہیں ہو گا‘ ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔ صدر ٹرمپ اسے اپنی بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں‘ اس پر بغلیں بجا رہے ہیں‘ ایران کے بیلسٹک میزائلوں سے آنکھیں چرا ر ہے ہیں۔ انہیں اب ان میں کوئی خطرہ دکھائی نہیں دیتا۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ ایسے میزائل تو کئی دوسرے ملکوں کے پاس بھی ہیں‘ ایران نے بنا لیے‘ ذخیرہ کر لیے تو اس پر کسی کو اعتراض کا حق کیسے مل گیا؟ تہران میں جشن منایا جا رہا ہے‘ مجتبیٰ خامنہ ای کے نعرے بلند ہو رہے ہیں۔ امریکہ کے عزائم ناکام بنا دیے گئے‘ اس نے اور اسرائیل نے جو دعوے کیے تھے وہ پورے نہ ہو سکے۔ ایران میں حکومت کا خاتمہ ممکن نہ ہوا‘ اسے وینزویلا نہ بنایا جا سکا‘ ایرانی عوام کو آمادۂ بغاوت نہ کیا جا سکا۔ جوں جوں تنازع بڑھا‘ جوں جوں حملہ آور دباؤ بڑھاتے گئے‘ نقصان پہنچاتے گئے‘ خون بہاتے گئے‘ بستیوں کو جلاتے گئے‘ بم برساتے گئے‘ ایران کے عوام اپنی حکومت کے ساتھ جڑتے چلے گئے‘ آہنی دیوار بن گئے۔ آپس کی نفرتیں‘ کوتاہیاں‘ خامیاں سب نظر انداز ہو گئیں۔ حکومت اور عوام ایک دوسرے کے حامی‘ ایک دوسرے کے محافظ بن کر ایک دوسرے سے لپٹ گئے‘ چمٹ گئے۔ اسرائیل کو نشانہ بنایا گیا‘ ایران کے ڈرون اور میزائل وہاں جا پہنچے اور اس کا غرور خاک میں ملا دیا۔ آبنائے ہرمز کی بندش نے ایران کو نئی قوت سے آشنا کر دیا۔ دنیا بھر میں تیل کی سپلائی متاثر ہوئی‘ قیمتیں بڑھنے لگیں‘ یورپ اور امریکہ کے عوام کی بھی چیخیں نکلنے لگیں۔ صدر ٹرمپ سے سوال ہونے لگے: تم نیتن یاہو کی لڑائی کیوں لڑ رہے ہو؟ اس کی کٹھ پتلی کیوں بن گئے ہو؟ اس کے ہاتھ میں کیوں کھیل رہے ہو؟ مطالبہ زور پکڑتا گیا‘ پرائی جنگ سے باہر نکلو‘ امریکہ کو سکون دو اور دنیا بھر کو چین سے رہنے دو۔ نیتن یاہو تنہا ہوتا گیا‘ یہاں تک کہ جنگ بند کرنا پڑی‘ ٹرمپ نے ہاتھ اٹھا لیے‘ بزعم خود فتح کا جھنڈا لہرا دیا‘ اپنی ناکامی کو چھپانے کے جتن کرنے لگے۔ اب نیتن یاہو تلملا رہا ہے‘ امریکہ اسے ڈانٹ پلا رہا ہے‘ اس کی اوقات یاد دلا رہا ہے‘ ہم نہ ہوں گے تو تم کہیں نظر نہیں آؤ گے‘ تمہاری حفاظت سے ہاتھ کھینچا‘ تمہیں اسلحے کی سپلائی بند کی‘ تم پر ڈالر نچھاور کرنے سے توبہ کر لی تو تم تنکے کی طرح اڑ جاؤ گے‘ ایران اور عربوں کی پھونکیں طوفان بن کر چھا جائیں گی۔ایران اور امریکہ جو بھی کہیں‘ جو بھی دعویٰ کریں‘ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا جو بھی منظر دکھائیں‘ بنیادی بات یہ ہے کہ جنگ بند ہو چکی۔ مستقبل کا نقشہ کھینچا جا چکا‘ اب اس میں رنگ بھرنا ہے۔ فریقین کو ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھے رہنا ہے‘ تعمیرِ نو کا آغاز کرنا ہے۔ امریکہ مزید خفت سے بچ گیا۔ صدر ٹرمپ نے پھر &#39;&#39;امن کے پیامبر‘‘ کی چادر اوڑھ لی۔ ایران کے سامنے مواقع کا ایک نیا جہان کھل گیا۔ اس پر لگی پابندیاں ختم ہوں گی‘ آزادانہ تجارت کر سکے گا‘ تعمیر نو کے لیے فنڈ فراہم ہوں گے‘ اس کی معیشت آگے بڑھے گی‘ عوام کی مشکلات دور ہوں گی۔ آنے والے دنوں میں امریکہ کا بھی امتحان ہو گا اور ایران کا بھی۔ امریکہ کو اپنے عہد کا پاس رکھنا اور اپنی بگڑی ہوئی ساکھ کو سنوارنا ہے۔ ایران کو مستقبل گرفت میں لینا ہے‘ اپنی توانائیوں کو تعمیر و ترقی کے لیے بروئے کار لانا ہے۔ چودہ نکات جو طے ہو گئے ہیں فریقین ان پر پہرہ دیں‘ ان کے ساتھ جڑے رہیں۔ اسرائیل حالات کو خراب کرنے کی پوری کوشش کرے گا‘ کبھی لبنان کو نشانہ بنائے گا‘ کبھی کسی اور جگہ چھیڑ چھاڑ کرے گا۔ امریکی انٹیلی جنس بھی اپنے صدر کو خبردار کر رہی ہے لیکن نیتن یاہو جو بھی کرے گا اپنی قبر کھودے گا۔ اس کے جال میں پھنس کر ایران کو مشتعل ہونا چاہیے نہ امریکہ کو۔ ایران کو بطورِ خاص محتاط رہنا ہے۔ اسرائیل کو اس کی اوقات میں رکھنے کے لیے اس کے بہکاوے میں نہیں آنا‘ اس کی پھیلائی ہوئی کسی سازش کا شکار نہیں ہونا۔پاکستان بھی داد وصول کر چکا۔ اس کے فیلڈ مارشل کا ڈنکا بج چکا۔ وزیراعظم کا نام تاریخ میں درج ہو چکا۔ وزیر خارجہ اور داخلہ کے سر بھی سہرا سج چکا۔ اب آگے بڑھنا اور پاکستان پر جو اعتماد پیدا ہوا ہے‘ اس کا جو قد بڑھا ہے‘ اس سے فائدہ اٹھانا ہے۔ ایران کی تعمیر نو کے لیے 300ارب ڈالر فراہم کیے جا سکتے ہیں تو پاکستان کی معیشت کو سنبھالنے کے لیے ڈیڑھ‘ دو سو ارب ڈالر ہی مختص کر دیے جائیں۔ قرضوں کا بوجھ ہلکا ہو‘ ہم اپنے آپ میں آئیں۔ اپنا بوجھ آپ اٹھائیں۔ پاکستان کے ذمہ داران کو اب قدم نئی منزل کی طرف بڑھانا ہے۔ زادِ سفر فراہم ہو چکا‘ اب سفر کو تیز تر کرنا ہے۔ اور ہاں‘ پاکستان کی وزارتِ خارجہ کو بھی یاد رکھنا اور سلام پیش کرنا ہے۔ ہمارے سفارت کاروں اور دفتر خارجہ کے اہلکاروں نے جس مہارت اور نفاست سے اپنے قائدین کی معاونت کی‘ اس نے کایا پلٹ میں مدد دی ہے۔ ہماری مسلح افواج کی طرح وزارتِ خارجہ کے سپاہی بھی اہلِ اقتدار سے محفوظ رہے ہیں‘ ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو ماند نہیں کیا جا سکا۔ پولیس اور انتظامیہ کی تو درگت بنا ڈالی گئی لیکن پاکستان کے دونوں محافظ ادارے‘ افواج اور وزارتِ خارجہ‘ اپنے آپ کو بچانے میں کامیاب رہے۔ اب دوسرے قومی ادارے بھی آزاد کر دیے جائیں۔ سیاست اور اہلِ سیاست کو وہاں اپنی مرضی مسلط کرنے کی آزادی نہ رہے تو ان کی کارکردگی بھی مثالی ہو سکتی ہے۔ پاکستان مزید کامیابیاں سمیٹ سکتا ہے۔(یہ کالم روزنامہ &#39;&#39;پاکستان‘‘ اور روزنامہ &#39;&#39;دنیا‘‘ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_37052987.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پذیرائی ہوگئی اب آگے کی سوچیں(ایاز امیر)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-06-21/52160/76132438</link><pubDate>Sun, 21 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-06-21/52160/76132438</guid><description>بہت کچھ باقی ہے لیکن شروع کا معاہدہ تو ہو گیا۔ اس ضمن میں امریکی صدر پاکستان اور اس کی قیادت کا بارہا ذکر کر چکے ہیں۔ پاکستان کا بہت اچھا کردار رہا لیکن اسی کو سمیٹ کے تو نہیں بیٹھ جانا‘ ہمارے اپنے جھمیلے بہت ہیں‘ ان کے بارے میں کچھ غور و فکر ہونا چاہیے۔ مسائل کی بحث میں جانے سے پہلے ایک اور بات کرنی ضروری ہے‘ یہ جو یہاں کے لوگ کہتے نہیں تھکتے کہ سفارتی محاذ پر پاکستان کا یہ دوسرا بڑا کارنامہ ہے۔ پہلا کارنامہ وہ تھا جب امریکہ اور چین کو قریب لانے میں پاکستان نے ایک پل کا کردار ادا کیا۔ اس کارنامے کا اتنا ذکر نہ ہی ہو تو بہتر ہے۔ جولائی 1971ء میں جنرل یحییٰ خان نے ڈاکٹر ہنری کسنجر کی چین اڑان کے لیے سہولت کاری کی اور اُسی سال دسمبر میں مشرقی پاکستان پر ہندوستانی فوج کی چڑھائی ہوگئی اور پاکستان دولخت ہو گیا۔ اس معاہدے میں سہولت کار دیگر بھی رہے ہیں مگر ہمارا کلیدی کردار رہا ۔ لیکن بات ہو گئی‘ میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ پر دستخط ہو گئے۔ بہت سے پہلوؤں پر مذاکرات ہونے ہیں‘ اور ابھی سے معاہدے کے بارے میں اسرائیل میں بہت غصہ ہے اور امریکہ میں بھی صہیونی لابی سیخ پا ہے۔ یعنی ابھی بہت کچھ باقی رہتا ہے۔ ہم سہولت کار رہے‘ بہت اچھا کیا لیکن اب اپنے مسائل کی طرف بھی کچھ توجہ ہو جائے۔ جب باہر اتنی سہولت کاری رہی تو اندرون بھی کچھ کارنامے ہو جائیں تو وطنِ عزیز بہتری کی طرف چلنے لگے۔ اتنا تو ظاہر ہے کہ محض سہولت کاری سے نہ ڈالر آنے ہیں نہ معاشی بہتری ہونی ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان جو معاہدہ ہوا ہے وہ ایک فریم ورک ہے۔ اس فریم ورک میں رہتے ہوئے بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ اندرونی سیاسی مسئلوں کے لیے بھی کچھ فریم ورک ترتیب دے دیا جائے تو کتنا ہی بہتر ہو۔ کچھ تو پتا چلے کہ یہاں کے سیاسی مسائل کس انداز سے نبھائے جانے ہیں۔ بانیانِ پاکستان کا تصور تو کچھ ایسا تھا کہ یہاں کے مسائل عوام کی مرضی کے مطابق حل کیے جائیں گے۔ یعنی حکومتیں عوامی رائے سے بنیں گی اور پھر عوام کے نمائندے سوچ بچار کرکے کچھ ترتیب بنائیں گے کہ قومی ترجیحات کیا ہونی چاہئیں اور انہیں پورا کس احسن طریقے سے کرنا ہے۔ آئین تو اب بھی یہی کہتا ہے کہ اتنے وقفے بعد عوام کی طرف رجوع ہو اور حکومت سازی عوام کی رائے کے مطابق ہو۔ اب یہ دہرانے کی چنداں ضرورت نہیں کہ پچھلے الیکشنوں میں کیا ہوا اور انتخابات کے نام پر کیا تماشے رچائے گئے اور کیا کھلواڑ کیا گیا۔ تو سوال یہ ہے کہ پچھلی دفعہ تو ہو گیا لیکن آئندہ کیا ہونا ہے۔ آئندہ کس فارم 45یا فارم 47سے کام چلایا جانا ہے؟ہمیں معلوم ہے سعودیہ میں کون سا نظام رائج ہے۔ بادشاہت ہے اور اسی کے مطابق وہاں سب کچھ چلتا ہے۔ وہاں کا نظام یہ ہے۔ قطر‘ یواے ای‘ کویت‘ بحرین اور عمان میں بھی خاندانی بادشاہتیں قائم ہیں۔ ایران میں ایک الگ نظام ہے۔ اسلامی ریاست ہے جو اپنی قبولیت 1979ء کے ایرانی انقلاب سے جوڑتی ہے۔ انتخابات وہاں ہوتے ہیں لیکن آخری فیصلہ سپریم لیڈر اور غیر منتخب شدہ کونسل آف گارڈینز کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ ہمارا نظام بالکل مختلف ہے‘ یہاں قانون میں کوئی رہبر اعلیٰ کا تصور نہیں۔ حاکمیت اللہ کے احکام کو سامنے رکھ کر اللہ کے بندوں کے ذریعے چلائی جانی ہے۔ کم از کم فلسفہ یہ ہے‘ حالانکہ جیسا کہ ہم دیکھتے آئے ہیں آئین اور قانون کہتے کچھ ہیں اور ہوتا یہاں کچھ اور ہے۔ کبھی رہبر اعلیٰ فیلڈ مارشل ایوب خان کی صورت میں سامنے آ جاتا ہے‘ کبھی نصیب میں کوئی جنرل ضیا الحق لکھا ہوتا ہے۔ لہٰذا یہ کوئی محض ادبی مسئلہ نہیں پریکٹیکل مسئلہ ہے کہ حضور کون سا نظام یہاں چلنا ہے؟جن رہبروں کا نظام ہم نے دیکھا ان کی اجتماعی بصیرت اور کاوشوں سے جو قوم کا حشر ہوا وہ بھی ہمارے سامنے ہے۔ یہ نظام اتنا ہی اچھا ہوتا تو کسی رہبر کے نام پر یہاں بادشاہت قائم ہو جاتی اور انتخابات کے جھنجھٹ سے قوم کو نجات مل جاتی۔ایسے رہبروں کا ظہور صرف اسی سرزمین پر نہیں ہوا۔ تقریباً سارے مشرقی ایشیا میں جمہوریت کم اورغیر جمہوری حکومتیں زیادہ رہیں۔ تائیوان کا ظہور بھی کچھ اسی قسم کے حالات میں ہوا تھا۔ لیکن وہاں ہر لحاظ سے ترقی ہوئی۔ وہاں کی ساری قومیں ہم سے پیچھے تھیں۔ آج دیکھیں تو ترقی کی ایسی ایسی منزلیں اُن قوموں نے طے کی ہیں اور ہمارا گزارا مانگے تانگے پر چل رہا ہے۔ کبھی کسنجر بیجنگ بھیج رہے ہیں اور کبھی افغان جہاد کی تپش اور تنور میں چھلانگ لگا رہے ہیں۔ اور اسی پر ناز کر رہے ہیںکیونکہ تھپکیاں مل رہی ہیں اور اسی پر شادیانے بج رہے ہیں۔ ضیا الحق اور مشرف کا زمانہ نہیں بھولنا چاہیے۔ افغانستان میں امریکہ کو ہماری ضرورت تھی اور وہ ضرورت پورا کرنے کے لیے ہمارے حکمران بے قرار تھے۔ قوم کا سب کچھ اُس فرمانبرداری میں لگا دیا‘ کچھ توپ و تفنگ ملا‘ کچھ ڈالر اور ریال آئے اور ہمارے حکمران پھولے نہ سماتے کہ دیکھیں ہماری مدابرانہ صلاحیتوں کو کہ مغربی دارالحکومتوں میں ہماری کتنی پذیرائی ہے۔ دونوں موقعوں پر امریکہ نے افغانستان میں اپنا کام نکالا اور کام نکالنے کے بعد ہمیں پَرے کر دیا۔ اور ہمارے حکمران بے وفائی کا رونا روتے رہے۔ یہ ڈرامہ اتنی بار دیکھا جا چکا ہے لیکن پھر بھی قومی روش نہیں بدلی کہ ہمارے اکابرین ایسے ٹوٹکوں پر چلنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ایک بات تو پاکستانی قوم نے اس جنگ میں دیکھی ہو گی کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے لحاظ سے ایران کتنا آگے ہے۔ یہ سارے میزائل اور ڈرون جو ایران کے پاس ہیں وہ وہاں کے بنے ہوئے ہیں۔ امریکہ نے ایران کے شاہد ڈرون کا ماڈل سامنے رکھ کر اپنے ڈرون بنائے ہیں۔ اس سے کچھ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ تعلیم اور سائنسی تحقیق کا معیار ایران میں کتنا اعلیٰ ہے۔ تعلیم میں جو ترقی ایران نے کی ہے وہ ایرانی انقلاب کی وجہ سے ہے۔ تعلیم کے اوپر وہاں کے نظام نے پیسے خرچ کیے۔ اپنے عوام کو جہالت کے اندھیروں سے نکالا۔ ایرانی انقلاب کا ایک واضح حکم تھا کہ تعلیم پر توجہ دینی ہے۔ یہاں ایسا کیوں نہ ہوا؟ تعلیم ایک قومی ترجیح کیوں نہ بنی؟ ایران کے پاس تو تیل کی دولت ہے۔ یہاں تو ایسی کوئی چیز نہیں۔ محدود وسائل کا پھر بہتر استعمال ہونا چاہیے تھا۔ لیکن یہاں کے وسائل جیسے بھی تھے اللے تللوں پر لگتے رہے۔ امیر طبقات امیر ہوتے رہے اور جہاں قومی دولت لگنی چاہیے تھی وہاں ایسا نہ ہوا۔ اتنے ہی روشن خیال اور دور اندیش ہمارے رہبر ہوتے تو تعلیم اور صحت پر توجہ دیتے۔ دفاع مضبوط ہوتا‘ ایٹم بم بھی بنتا مگر ریاستی امور میں کچھ سادگی نظر آتی۔ لیکن اندازِ حکمرانی یہاں دیکھا جائے تو لگتا ہے کہ یہاں کے اللے تللوں نے کبھی ختم نہیں ہونا۔ کہنے کا مطلب یہ کہ ریاست کے نظام میں کوئی بہتری آنی چاہیے۔ عیاشی اور فضول خرچی کم ہو‘ جتنے بھی وسائل ہیں حقیقی ضروریات پر صرف ہوں۔ تعلیم وغیرہ میں پاکستانی قوم آگے ہو۔ سکول یونیورسٹیاں اچھی ہوںہسپتال اچھے ہوں۔ غربت اتنی نہ ہو جتنی کہ ہے۔ مختلف علاقوں میں جو بے چینی پھیلی ہوئی ہے وہ نہ ہو۔ شورش کی گھن گرج جو مغربی صوبوں میں سنائی دیتی ہے اس کا کچھ سدباب ہو سکے۔ آزاد کشمیر میں جو بے چینی کے آثار نمایاں ہوئے ہیں اُن کا کچھ کیا جائے۔ اس بے قرار  سرزمین کو سیاسی استحکام کیسے نصیب ہو اس کا کچھ سوچا جائے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_80573045.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>عوامی جائیدادوں پر قبضے کا اندھا قانون(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-06-21/52161/58711974</link><pubDate>Sun, 21 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-06-21/52161/58711974</guid><description>پاکستان کے عوام کی یہ جان کر جان ہی نکل گئی کہ قومی اسمبلی سے ایک قانون پاس ہو کر سینیٹ میں پہنچ گیاہے‘ جس کے تحت ٹیلی کام سیکٹر کی کمپنیوں کو یہ اختیارات دیے جارہے ہیں کہ وہ کسی کی بھی جائیداد پر اپنا ٹاور کھڑا کر سکتی ہیں‘ وہاں مشینری انسٹال کر سکتی ہیں اور تعمیرات بھی کر سکتی ہیں۔ اگر آپ نے اپنی جائیداد دینے سے انکار کیا تو وہ کمپنی آپ پر پانچ کروڑ جرمانہ کرا سکتی ہے۔ جب آپ یہ تفصیل پڑھ لیں گے تو آپ کو لگے گا کہ شاید ایسٹ انڈیا کمپنی کا دور لوٹ آیا ہے۔ جب لارڈ کلائیو کی قیادت میں ہندوستان پر قبضہ کیا گیا اور یہ کام بنگال سے شروع ہوا اور پورے ہندوستان تک پھیلتا چلا گیا اور ایک دن وہ تاجر کمپنی پورے ہندوستان کی مالک بن بیٹھی۔ جوں جوں اس بل کی تہیں کھلتی جائیں گی توں توں آپ کی آنکھیں بھی کھلتی جائیں گی اور وہی ایاز امیر صاحب والا فقرہ آپ کے ذہن میں آتا ہے کہ سوچتے ہیں اب مزید کیا بُرا ہو گا۔ لیکن پتہ چلتا ہے کہ نہیں ابھی تو بہت کچھ ہونا باقی تھا۔ یہ بل بھی اسی قسم کا ہے جو ابھی ہونا تھا۔ یہ بل جو کئی آئینی اور لیگل فورمز سے بڑے سکون سے پاس آتا ہوا سینیٹ میں آیا ‘ کے تحت ٹیلی کام کمپنیوں کو پاکستان بھر میں پارکس سے لے کر دیگر پبلک مقامات پر اپنے ٹاورز اور مشینری لگانے کی قانونی اجازت ہوگی۔ ملک بھر کی ہاؤسنگ سوسائٹیز کو بھی اس قانون کے تحت پابند کیا جارہا تھا کہ وہ کسی بھی ٹیلی کام کمپنی کے ساتھ تعاون کریں گے اور جس جگہ چاہیں گے وہ ٹاورز لگائیں گی‘ انکار نہیں ہوگا۔ سب سے مزے کی شق یہ ہے جس کے تحت ٹیلی کام کمپنیاں کسی بھی پاکستانی شہری کی کسی بھی جائیداد پرٹاور لگا سکتی ہیں‘ آپ کو کمپنی اپنی مرضی کا رینٹ آفر کرے گی‘ آپ وہ رینٹ نہ مانے تو وہ کمپنی سرکاری ادارے کے پاس جائے گی اور آپ کی شکایت کرے گی کہ آپ اسے زمین نہیں دے رہے۔ وہ سرکاری ادارہ آپ کا فیصلہ کرے گا اور جو فیصلہ کرے گا وہ قبول کرنا ہوگا۔ اگر آپ اس ادارے کے فیصلے کو نہ مانے تو پھر آپ پر پانچ کروڑ روپے جرمانہ ہوگا۔ اس قانون کے تحت آپ کسی عدالت وغیرہ میں بھی نہیں جاسکتے۔ آپ کا فورم صرف وہ ادارہ ہے جس کا چیئرمین بھی حکومت لگائے گی‘ اس کے ممبران بھی سرکاری افسران ہوں گے جن کا تعلق اسی وزارت سے ہے جو یہ بل لائی ہے۔ آپ یا تو کمپنیوں کا دیا ہوا رینٹ قبول کر لیں یا پانچ کروڑ جرمانے کے لیے تیار رہیں۔ اس بل کی تیاری انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت نے کی جس کے سیکرٹری خود ماضی میں مختلف ٹیلی کام کمپنیوں کے ملازم رہے ہیں اور انہیں کنٹریکٹ پر وزارت میں وفاقی سیکرٹری لگا یا گیا ۔ اب ان کمپنیوں کے سابقہ ملازم نے بل تیار کیا اور وزارت قانون سے لیگل رائے لے کر اسے منظور کرا لیا کہ ہاں یہ بل اب کابینہ میں منظوری کے لیے پیش کریں۔ مزے کی بات ہے سیکرٹری لا بھی ٹیکنوکریٹ ہیں اور انہیں بھی کنٹریکٹ پر سیکرٹری قانون لگایا گیا ہے۔ اب دو ٹیکنوکریٹس نے مل کر یہ بل تیار کیا اور کابینہ سیکرٹری کو بھیجا گیا جنہوں نے بغیر سمجھے ‘پڑھے یا اعتراض لگائے اسے کابینہ کے ایجنڈے پر رکھ دیا۔ شہباز شریف اور ان کے وزیروں کی فوج نے بھی بغیر اس بل کو پڑھے اور سمجھے منظور کر دیا کہ اب اسے پارلیمنٹ میں پیش کر دیا جائے۔ وہاں پارلیمانی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے اسے نیشنل اسمبلی کے ایجنڈے پر رکھ کر ہاؤس میں متعارف کرا دیا جس پر قانون کے تحت اس بل کو اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی میں ریفر کر دیا گیا جس کے پندرہ سے زائد ایم این ایز ممبر ہیں کہ وہ اس بل کو دیکھیں۔ اس دوران وہ بل پیپلز پارٹی کے لیجسلیٹو گروپ کو بھی بھیجا گیا جس میں پارٹی کے سینیٹ اور قومی اسمبلی کے دس اراکین ہیں۔ ان کا کام ہے وہ کسی بھی بل کو پڑھ کر اپنی رائے سے پارٹی کو آگاہ کریں کہ آیا اس بل پر ووٹ کرنا ہے یا نہیں۔ نوید قمر اور شیری رحمن بھی اس گروپ کا حصہ ہیں۔ اس پی پی پی گروپ نے اپنے تئیں پی پی پی اراکین کو کہا کہ سب کلیئر ہے آپ اس کی حمایت میں ووٹ کرسکتے ہیں۔ کچھ پی پی پی اراکین نے اعتراض اٹھایاتو انہیں اس گروپ نے یقین دلایا کہ ہم نے تبدیلیاں کرا دی ہیں جو بعد میں جھوٹ نکلا۔ اس اثنامیں وزیر ٹیکنالوجی شزہ فاطمہ خواجہ نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی قائمہ کمیٹی کے اراکین سے بل کلیئر ا کرا کے اسمبلی میں ووٹنگ کے لیے پیش کرا دیا اور ساتھ ہی پورے ہاؤس سے یہ منظور کرا لیا جس کے 340 اراکین ہیں۔ کسی ممبر نے بل کو نہیں پڑھا یا سمجھا یا جان بوجھ کر چپ رہے۔ اب قانون کے تحت بل کو سینیٹ بھیجا گیا جہاں بل پیش ہوا تو اسے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی میں بھیجا گیا جس کی چیئرپرسن پی پی پی کی سینیٹر پلوشہ خان ہیں۔ جب وہاں کمیٹی ممبرز نے بل پڑھنا شروع کیا تو ان کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں کہ یہ کیسا لوگوں کی جائیدادوں پر قبضے کا بل ہے کہ کسی کمپنی کو آپ کی جگہ پسند آگئی تو وہ آپ کو اپنی مرضی کا کرایہ آفر کرے گی۔ آپ نے اعتراض کیا تو وہ حکومتی اتھارٹی کو شکایت کر کے آپ کو پانچ کروڑ جرمانہ بھی کرائے گی اور جائیداد بھی لے گی۔ خیر اس پر سینیٹر پلوشہ خان‘ سینیٹر افنان اللہ خان اورسینیٹر سعدیہ عباسی کی تعریف کرنی چاہیے جنہوں نے اس خطرناک بل کو پڑھا‘ سمجھا اور اس کو فورا ًروکا۔ جو کام وزارتِ قانون کو کرنا تھا‘ سیکرٹری کا بینہ نے کرنا تھا یا پھر شہباز شریف اور ان کی وزیروں کی کابینہ کا تھا کہ وہ اسے پڑھ کر روک دیتے یا پھر اسمبلی کی قائمہ کمیٹی ممبرز کا تھا‘ وہ ان تینوں سینیٹرزنے کیا۔ ذرا اندازہ کریں ہمیں کہا جاتا ہے کہ اگر ٹیکنوکریٹس ملک کو چلائیں تو یہ جنت بن جائے گا۔ سیکرٹری آئی ٹی اور سیکرٹری لا دونوں ٹیکنوکریٹس اور پرائیوٹ سیکٹرز سے کنٹریکٹ پر فیڈرل سیکرٹریز لگے ہیں۔ یہ بل ان دونوں ٹیکنوکریٹس کی مشترکہ کارروائی ہے جو چند کمپنیوں کو پچیس کروڑ لوگوں کی جائیدادوں اور ہزاروں ہاؤسنگ سوسائٹیز پر حق دے رہے تھے کہ وہ اپنی مرضی کی جہاں جگہ دیکھیں کھمبے گاڑ دیں اور کوئی انکار کرے تو پانچ کروڑ جرمانہ بھی لگوا دیں۔ دیکھ لیں اس ملک کے وزیراعظم اور کابینہ سے لے کر اسمبلی اراکین تک کتنی سنجیدگی سے قانون سازی کررہے ہیں۔ میری وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی شزہ فاطمہ خواجہ سے بات ہوئی تو انہوں نے تسلیم کیا کہ ان کی وزارت سے اس بل میں غلطیاں ہوئی ہیں‘ لیکن یہ وہ غلطیاں اس وقت مان رہی ہیں جب میں نے یہ خوفناک سٹوری اپنے ٹی وی شو میں بریک کی جس پر شور مچا ورنہ شزا خواجہ صاحبہ یہ بل تو کابینہ اورقومی اسمبلی سے پاس کرا چکی تھیں۔ اگرسینیٹرز بھی وہی کرتے جو قومی اسمبلی نے کیا تو پچیس کروڑ لوگوں کا باجا بج گیا تھا۔ ویسے میرے خیال میں اگر وزیراعظم‘ درجنوں وزرا‘ وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی شزہ فاطمہ خواجہ‘ سیکرٹری ٹیکنالوجی‘ وزیر قانون اور سیکرٹری لاء سمیت اسمبلی کے 340 ایم این ایز اپنے اپنے گھروں کے سامنے اس بل کی شقوں کے تحت کمپنیوں کو ان کی شرائط پر ٹاورز لگانے کی اجازت دیتے ہیں تو پھر میرے خیال میں کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ وہی بات اگر یہ بل بہت نیک کام ہے جو وزیراعظم‘ ان کے وزیروں اور اسمبلی اراکین نے کیا ہے تو پھر یہ نیک کام وہ اپنے اپنے گھروں‘جائیدادوں پر ٹاور لگوا کرکریں۔ہم سب ساتھ دیں گے۔ </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پاکستان کے بدخواہوں کی شکست(رشید صافی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-06-21/52162/38461186</link><pubDate>Sun, 21 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-06-21/52162/38461186</guid><description>دہائیوں سے عالمی جیو پالیٹکس کے اُفق پر سلگتے قضیے کی حیثیت رکھنے والے مشرقِ وسطیٰ میں 28فروری سے شروع ہونے والے واقعات اور بالآخر 18 جون کو طے پانے والے معاہدے نے روایتی عالمی سیاست کے تمام مروجہ اصولوں کو بدل ڈالا ہے۔ ایران اور امریکہ کے مابین مفاہمتی یادداشت پر فریقین کے دستخط اور ثالث کے طور پر وزیراعظم شہباز شریف کے توثیقی دستخط محض ایک سفارتی دستاویز نہیں بلکہ اکیسویں صدی کے بین الاقوامی تعلقات میں ایک نئے دور کا نقطہ آغاز ہے۔ چودہ نکات پر مشتمل اس جامع امن معاہدے کی تمام تر تفصیلات منظرِ عام پر آ چکی ہیں اس لیے یہاں اعادے کی ضرورت نہیں تاہم اس سفارتی معرکے کے بعد پیدا ہونے والا سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اس طویل اور اعصاب شکن جنگ کے خاتمے میں کلیدی کردار ادا کرنے کے بعد پاکستان کو کیا حاصل ہوا؟ کچھ لوگ تو سادگی میں یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ پاکستان حالات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کم از کم اپنے قرضوں میں ہی ریلیف حاصل کر سکتا تھا۔ اگر ہم بنظر عمیق اس کا جائزہ لیں تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ پاکستان نے اس ثالثی کے ذریعے وہ سفارتی سرمایہ حاصل کر لیا ہے جو آنے والی دہائیوں تک ہماری خارجہ پالیسی اور معاشی استحکام کا ضامن رہے گا۔ عالمی سفارت کاری کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ طویل اور بے نتیجہ جنگیں جب فریقین کو تھکا دیتی ہیں تو انہیں میدانِ جنگ سے باعزت واپسی اور اپنی ساکھ بچانے کے لیے ایک ایسے نجات دہندہ کی ضرورت ہوتی ہے جس کی دیانت اور صلاحیتوں پر اعتماد ہو۔ ایران اور امریکہ اعصاب شکن دلدل سے نکلنے اور اپنی ساکھ بچانے کے لیے فیس سیونگ کے متلاشی تھے۔ ایسے نازک موڑ پر پاکستان کا بطور ثالث سامنے آنا اور دونوں طاقتوں کو ایک میز پر بٹھا دینا اسلام آباد کی غیرمعمولی سفارتی مہارت کاثبوت ہے۔ تہران اور واشنگٹن کا پاکستان کی ثالثی پر اعتماد کرنا یہ ثابت کرتا ہے کہ پاکستان خطے کا واحد ملک ہے جو ایک اسلامی ریاست اور سپر پاور ہونے کے دعویدار ملک کے ساتھ یکساں سکیورٹی اور سفارتی روابط برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بہت سے ممالک تو اسے بھاری پتھر سمجھ کر پیچھے ہٹ گئے تھے مگر پاکستان نے نہ صرف اپنے کاندھوں پر یہ بوجھ اٹھایا بلکہ حتی الامکان غیر جانبدار رہ کر دکھایا۔تاریخ گواہ ہے کہ قومیں اپنے اوپر مشکل وقت میں کیے جانے والے احسانات کو کبھی فراموش نہیں کرتیں۔ احسان شناسی کا یہ اصول بین الاقوامی تعلقات میں طویل المدتی اثاثہ ثابت ہوتا ہے۔ تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ دہائیوں قبل دوسری جنگ عظیم کے بعد تباہ حال جرمنی اور جاپان کی بحالی کا معاملہ ہو یا عوامی جمہوریہ چین کو دنیا سے متعارف کرانے میں سفارتی مدد کا‘ پاکستان نے اہم کردار ادا کیا۔ پی آئی اے دنیا کی پہلی غیر کمیونسٹ ایئرلائن تھی جس نے 1964ء میں بیجنگ کے لیے پروازیں شروع کر کے چین کو مغربی دنیا سے جوڑا۔ پاکستان نے اپنے محدود وسائل کے باوجود ان قوموں کے ساتھ تعاون کیا۔ آج دہائیاں گزر جانے کے بعد بھی برلن‘ ٹوکیو اور بیجنگ کے ایوانوں میں پاکستان کے اس تاریخی کردار کا احترام کیا جاتا ہے اور اسے غیر معمولی اہمیت دی جاتی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے اس بحران میں پاکستان نے جو سفارتی کردار ادا کیا اس کے سیاسی اور معاشی ثمرات آنے والے وقت میں پاکستان کی تجارتی مراعات اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کی شکل میں بار آور ہوں گے۔باضابطہ معاہدے کے بعد اب یہ بحث ثانوی حیثیت اختیار کر چکی ہے کہ جنگجو فریقین کو اپنے اہداف کے حصول میں کس حد تک کامیابی ملی۔ جنگوں کے خاتمے پر فتح اور شکست کے دعوے ہمیشہ سیاست کا حصہ رہے ہیں اور دونوں طرف کے بیانیے اپنے اپنے دفاع میں دلائل کے انبار لگاتے رہیں گے لیکن اس پورے منظرنامے کا ناقابل ِتردید سچ یہ ہے کہ دنیا اب پاکستان کو امن کے داعی اور بین الاقوامی بحرانوں کے حل کنندہ کے طور پر تسلیم کر رہی ہے۔ عالمی میڈیا اور تھنک ٹینکس میں پاکستان کا یہ تاثر اس روایتی اور منفی بیانیے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے کافی ہے جو پاکستان کو ایک طویل عرصے تک محض سکیورٹی ریاست یا بحرانوں کا مرکز بنا کر پیش کرتا رہا ہے۔ اس سفارتی کامیابی کا ایک اور پہلو پاکستان کی سول اور عسکری قیادت کے مابین ہم آہنگی کا اعتراف ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی یہ جنگ صرف دو ممالک کا تنازع نہیں تھی بلکہ اس کے اثرات عالمی توانائی کی سپلائی چین‘ بحری تجارتی گزرگاہوں اور دنیا بھر کی معیشتوں کو اپنی لپیٹ میں لے رہے تھے۔ ایسے پیچیدہ اور کثیر الجہتی بحران کو حل کرنے کے لیے جس فہم و فراست‘ سکیورٹی انٹیلی جنس اور سیاسی تدبر کی ضرورت تھی پاکستان کی قیادت نے اسے عالمی سطح پر تسلیم کرایا ہے۔ بین الاقوامی برادری یہ جان چکی ہے کہ پاکستان کی فیصلہ ساز قوتیں نہ صرف اپنے داخلی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہیں بلکہ وہ عالمی نظام کو کسی بڑی تباہی سے بچانے کے لیے عالمی سطح کا انتظام بھی سنبھال سکتی ہیں۔مشرقِ وسطیٰ کے اس تنازع کی جڑیں دہائیوں پرانے نظریاتی اور جغرافیائی اختلافات میں تھیں‘ جو تاریخ کے مختلف ادوار میں سر اٹھاتے رہے۔ ماضی میں اس خطے میں جتنی بھی جنگیں ہوئیں وہ کسی پائیدار امن معاہدے یا تنازع کے مستقل حل کے بغیر‘ عارضی جنگ بندی کے تحت ختم ہوئیں جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ چند برسوں کے سکوت کے بعد بارود کی بو دوبارہ پھیل جاتی تھی‘ مگر اس بار روایتی ڈگر سے ہٹ کر کام کیا گیا۔ پاکستان نے فریقین کو محض جنگ بندی پرآمادہ نہیں کیا بلکہ تنازع کی اصل وجوہات کو سامنے رکھتے ہوئے ایک ایسے جامع اور پائیدار فریم ورک پر راضی کیا ہے جو اگر برقرار رہا تو مشرقِ وسطیٰ کو ہمیشہ کے لیے امن اور معاشی خوشحالی کا گہوارہ بنا دے گا۔ بین الاقوامی امور کے ماہرین پاکستان کے اس کردار کی تعریف کرنے پر مجبور ہیں جس نے عارضی مرہم رکھنے کے بجائے مرض کا مستقل علاج تجویز کیا۔مشرقِ وسطیٰ میں سفارتکاری سے پاکستان کو جو بالواسطہ فائدہ حاصل ہوا ہے وہ روایتی بدخواہوں اور علاقائی حریفوں کو ملنے والا ایک سخت پیغام ہے۔ بھارت اوراسرائیل میں بیٹھے بعض عناصر جو طویل عرصے سے پاکستان کو سفارتی طور پر تنہا کرنے اور فنانشل ایکشن ٹاسک فورس جیسے بین الاقوامی فورمز پر گھیرنے کی سازشوں میں مصروف تھے‘ اب ایک گہرے صدمے کی حالت میں ہیں۔ پاکستان کے خلاف ان قوتوں کا ہر وہ بیانیہ دم توڑ چکا ہے جس کے تحت پاکستان کو ایک غیر مستحکم ریاست ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی تھی۔ جب دنیا کا بڑا بحران حل کرنے کے لیے واشنگٹن اور تہران جیسے متضاد مراکز اسلام آباد کی طرف دیکھ رہے ہیں تو نئی دہلی یا کسی اور ملک سے اٹھنے والی پاکستان مخالف آواز عالمی برادری کے لیے اپنی اہمیت کھو دیتی ہے۔ عالمی سطح پر کردار کے بعد پاکستان اب سرمایہ کاری کے لیے محفوظ ترین ملک کے طور پر ابھرے گا‘ سی پیک جیسے عظیم تجارتی منصوبوں کو نئی جلا ملے گی اور خلیجی ممالک کے ساتھ پاکستان کے روابط نئی بلندیوں پر پہنچیں گے۔ مشرقِ وسطیٰ جنگ میں ثالثی نے پاکستان کو عالمی سیاست کے حاشیے سے اٹھا کر مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔ یہ کامیابی مستحکم اور معاشی طور پر خود کفیل مستقبل کا پیش خیمہ ہے۔ اب یہ ریاستی اداروں‘ سیاسی قیادت اور عوام پر منحصر ہے کہ وہ اس سفارتی کامیابی سے حاصل ہونے والے وقار کو برقرار رکھیں‘ اپنی داخلی سمت کو درست رکھیں اور سیاسی و معاشی استحکام کے ذریعے اس سنہرے دور کا استقبال کریں جس کا آغاز تفتان سے لے کر واشنگٹن تک پھیلی اس سفارتکاری سے ہو چکا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/222_48272610.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بلند قامت ستون(عمران یعقوب خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-06-21/52163/92496864</link><pubDate>Sun, 21 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-06-21/52163/92496864</guid><description>آج جب پوری دنیا میں یومِ والد منایا جا رہا ہے تو میں مسلسل اس سوچ میں ہوں کہ اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ اپنی اولاد اور اپنے اہلِ خانہ کی نذر کر دینے والی عظیم ہستی کے لیے سال بھر میں صرف ایک دن منانا کہاں کا خراجِ تحسین ہے؟ ہم اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ اور اپنی کمائی گئی دولت کا ایک ایک پیسہ بھی اپنے والد کی خواہشات پوری کرنے کے لیے صرف کر دیں تو شاید پھر بھی اس کے احسانات کا بدلہ نہ دے سکیں‘ اپنے اولاد ہونے اور اس کے باپ ہونے کا حق ادا نہ کر سکیں۔ہم مسلمانوں کے لیے نبی اکرمﷺ کے احکامات اور ارشادات سے بڑھ کچھ نہیں۔ سنن ابنِ ماجہ میں درج ایک حدیث کا مفہوم یوں ہے: تم اور تمہاری دولت دونوں تمہارے والد کے ہیں۔ اسی موضوع کے تسلسل میں یہ ارشاد ہوا: تمہاری اولاد تمہاری بہترین کمائی ہے لہٰذا تم ان کے مال میں سے کھاؤ۔ مفہوم یہ ہے کہ والدین کے لیے اپنی اولاد کی کمائی میں سے اپنی ضرورت کے لیے کچھ لینا ان کا حق ہے۔ والد اللہ تعالیٰ کی طرف سے اولاد کے لیے ایک عظیم نعمت ہے۔ والد اولاد کے لیے اپنے اندر ایثار و وفا‘ الفت و شفقت‘ لطف و کرم‘ دانائی اور دست گیری کے گہرے سمندر سموئے ہوئے ہوتا ہے‘ اسی لیے وہ اولاد کی ضروریات پوری کرتے کبھی نہیں تھکتا۔ اگر اولاد والد کی اطاعت و فرماں برداری اور خدمت کرے تو اس کا یہ عمل اولاد کے لیے اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کے حصول کا سبب بن جاتا ہے۔والد ایک ایسا شجر ہے جو سایہ دار ہی نہیں ثمر بار بھی ہوتا ہے۔ وہ زمانے کی گرم و سرد خود سہتا ہے لیکن اولاد کو صرف پھل اور سایہ مہیا کرتا ہے۔ یہ ایک ایسا شفیق اور عظیم رشتہ ہے جو محبت‘ ایثار اور قربانی کا پیکر ہوتا ہے۔ باپ ایک ایسا سائبان ہوتا ہے جس کے سائے میں اولاد پوری بے فکری کے ساتھ پروان چڑھتی ہے۔ باپ ایک سورج کی مانند ہے جس سے بچے توانائی حاصل کرتے ہیں اور روشنی بھی‘ خواب حاصل کرتے ہیں اور خوابوں کی تعبیر بھی۔ اسی لیے باپ کے نہ ہونے سے ساری دنیا اندھیروں میں ڈوب جاتی ہے۔ باپ کے ہوتے ہوئے بچے بے فکری کی زندگی بسر کرتے ہیں اور جیسے ہی باپ کا سایۂ عافیت سر سے اٹھتا ہے فوراً اولاد کو محسوس ہوتا ہے کہ اس کے سر پر کتنا بوجھ آن پڑا ہے۔تم کو دیکھا تو یہ خیال آیازندگی دھوپ تم گھنا سایہجاوید اختر نے یہ شعر بلکہ یہ غزل کسی اور سیاق و سباق‘ کسی اور پیرائے میں لکھی ہو گی لیکن جب بھی یومِ والد آتا ہے مجھے اس لیے رہ رہ کر یاد آتے ہیں کہ میرے نزدیک زندگی کی کڑی دھوپ میں والد سے گھنا سایہ اور کوئی نہیں۔ والد سایہ ہی نہیں وہ ستون بھی ہوتا ہے جس کے گرد پورے گھر‘ پورے خاندان کے تاروپود بُنے ہوتے ہیں۔ وہ خاموش رہتا ہے۔ وہ بچوں کی پرورش‘ تحفظ اور بہتر مستقبل کے لیے دن رات محنت کرتا ہے۔ وہ خود کچھ نہ کھا کر بچوں کا پیٹ بھرتا ہے۔ وہ اپنے کپڑے نہ خرید کر بچوں کو ہر عید پر نئے کپڑے ضرور دلاتا ہے۔ وہ تمام تر مشکلات خندہ پیشانی سے برداشت کرتا ہے تاکہ بچوں کا مستقبل محفوظ بنا سکے۔ غرض جس پہلو سے بھی دیکھیں والد کی شخصیت ایک بے لوث محبت کرنے والے کے طور پر سامنے آتی ہے۔ ایک ایسا محبت کرنے والا جو خاموشی سے اپنی محبتیں نچھاور کرتا چلا جاتا ہے اور پتا بھی نہیں چلنے دیتا۔ پتا تب چلتا ہے جب وہ اس دنیا سے چلا جاتا اور زندگی کا پہیہ چلتے چلتے ایسا رکتا ہے کہ پھر گھومنے کا نام نہیں لیتا۔ تب بھری دنیا میں آپ خود کو تنہا محسوس کرتے ہیں اور اس احساس کی شدت کا کوئی پیمانہ اب تک بنا نہیں ہے۔ میں تو یہ کہتا ہوں کہ آج تک ایسے لفظ ہی وضع نہیں کیے جا سکے جو بچوں کے لیے والد کی محبت کی شدت کو ٹھیک ٹھیک بیان کر سکیں۔میاں محمد بخش نے کیا خوب کہا ہے:باپ مرے سر ننگا ہووے تے ویر مرن کنڈ خالیماواں باجھ محمد بخشا کون کرے رکھوالیماں مرے تے ماپے مکدے پیو مرے گھرویلاشالا مرن نہ ویر کسے دے اجڑ جاندا جے میلہبھائی بھائیاں دے دردی ہوندےتے بھائی بھائیاں دیاں بانہواںباپ سراں دے تاج محمدتے ماواں ٹھنڈیاں چھاواںاس حقیقت سے کون انکار کر سکتا ہے کہ باپ کی شفقت‘ ڈسپلن اور قربانیاں شخصیت سازی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ کوئی والد اولاد کو یہ نہیں بتاتا کہ زندگی کیسے گزارنی ہے‘ وہ خود ایسے جیتا ہے جسے دیکھ کر اور پرکھ کر بچے خود بخود جینا سیکھیں۔ باپ بظاہر اپنے بچوں سے لاتعلق سا نظر آتا ہے لیکن یقین رکھیں اس کی نظر بچوں کی ہر ہر حرکت پر ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کوئی بچہ بہکنے لگتا  ہے تو سب سے پہلے باپ ہی اسے سہارا دیتا اور درست راستے پر لاتا ہے۔جن کے والدین زندہ ہیں وہ براہِ کرم اس نعمت کو انجوائے کریں‘ قیمتی لمحوں کو ضائع نہ جانے دیں۔ ان کے پاس بیٹھیں۔ ان سے باتیں کریں۔ ہنسی مذاق کریں۔ ان سے فرمائشیں کریں۔ ان کے ساتھ لاڈ کریں۔ ان کے ساتھ کوئی گیم کھیلیں۔ ان کے ساتھ مل کر ٹی وی دیکھیں۔ کمپیوٹر پر ان کے زمانے کی کوئی فلم لگائیں اور ان کے ساتھ بیٹھ کر خود انجوائے کریں اور انہیں بھی انجوائے کرائیں۔ آپ اگر جوان یا بوڑھے ہو چکے ہیں تو بھی اپنے والدین کے لیے آپ پیدائش کے پہلے دن والے بچے ہیں۔ وہ چلے گئے تو یقین کریں باقی کچھ نہیں بچے گا۔ ماں باپ چلے جائیں تو یقین جانیں زندگی طنابیں کٹے ہوئے خیمے کی طرح زمین بوس ہو جاتی ہے۔میں والد یا والدہ کے نام سے ایک دن منانے کے حق میں نہیں ہوں۔ ہم مسلمان ہیں اور ہمارا ایک ایک لمحہ‘ زندگی کا ایک ایک سانس ان کی یاد میں گزرتا ہے اور پھر بھی یہ خوف لاحق رہتا ہے کہ والدین کے حقوق کی ادائی میں کہیں کوئی غلطی‘ کوئی کوتاہی تو نہیں ہو گئی جو پکڑ کا باعث بنے۔راکب مختار یاد آتے ہیں:دھڑکن تھے‘ دعا تھے میرے ہونے کا یقین تھےخوشبو کے محافظ تھے محبت کے امیں تھےدکھ یہ ہے میرا یوسف و یعقوب کے خالقوہ لوگ بھی بچھڑے جو بچھڑنے کے نہیں تھےاے بادِ ستم خیز تیری خیر کہ تُو نےپنچھی وہ اڑائے جو اڑنے کے نہیں تھے</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_58350786.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>محرم الحرام کے عملی تقاضے(محمد عبداللہ حمید گل)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-abdullah-hameed-gull/2026-06-21/52164/31276430</link><pubDate>Sun, 21 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-abdullah-hameed-gull/2026-06-21/52164/31276430</guid><description>قتلِ حسین اصل میں مرگِ یزید ہے اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعدسانحۂ کربلا قربانی اور حق پسندی کی عظیم مثال ہے۔ حضرت امام حسینؓ نے یزید کی بیعت نہ کر کے باطل کے سامنے جھکنے سے انکار کیا‘ ظلم کے خلاف آواز بلند کی اور کربلا کے میدان میں اپنے اہلِ خانہ سمیت شہادت قبول کی مگر حق کو سرنگوں نہ ہونے دیا۔ کربلا ہمیں سکھاتا ہے کہ دین پر قربانی دینی پڑے تو گریز نہیں۔ حق پر ڈٹے رہنا ہی اصل کامیابی ہے۔ حضرت امام حسینؓ کی شہادت ملوکیت اور جبر و استبداد کی قوتوں کے خلاف مظلوموں اور حق پرستوں کیلئے قیامت تک مشعلِ راہ ہے۔ کربلا کا معرکہ یاد دلاتا ہے کہ حق کی خاطر کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جا سکتا۔ جذبۂ شبیری ایمان و یقین‘ سچائی اور اصول پرستی کی روایت کو جلا بخشتا ہے۔ واقعۂ کربلا اسلام کے ابدی پیغام اور جذبہ قربانی کی آبیاری کا سرچشمہ ہے۔ اسوۂ حسینؓ کا پیغام ہر قلبِ سلیم کیلئے ہے۔ اس معرکے میں امام حسینؓ کے ساتھ حق کی طاقت تھی‘ سچائی کی ڈھال تھی۔ آپؓ شجاعت و جرأت اور بہادری کے جذبے سے لیس میدانِ کربلا میں باطل کے سامنے سینہ سپر ہو کر کھڑے ہو گئے۔ بلاشبہ شہادتِ امام حسینؓ انسانیت کی فتح‘ اسلامی اصولوں کی سربلندی ہے۔ واقعۂ کربلا سے ملنے والا درس ہر حق پسند کا سہارا ہے‘ ہر باطل کے مقابل صداقت کا استعارہ ہے‘ ہر آمر کے مقابل انصاف کی آواز ہے۔ شہادتِ حسینؓ ہمیں امن کا پیغام دیتی ہے کیونکہ انہوں نے جس دین کو بچانے کیلئے قربانی دی وہ امن اور سلامتی کا دین ہے۔ اپنی جان اسلام کی راہ میں قربان کرکے امام حسینؓ نے شریعت کی حفاظت کی۔ اسلام کو تحفظ فراہم کیا۔دنیا کی تاریخ میں یہ واقعہ اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ اس میں مٹھی بھر افراد نے حق پر قائم رہنے کیلئے باطل سے ٹکر لی اور  اپنے جذبۂ صادق‘ پُرعزم استقامت‘ زبردست استقلال اور میدانِ کربلا میں شجاعت سے حق اور باطل کے فرق کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے اس طرح واضح کر دیا کہ اب کبھی کوئی باطل حق کا لبادہ اوڑھ کر لوگوں کو فریب دینے میں کامیاب نہ ہو سکے گا۔ نواسۂ رسولﷺ نے باطل‘ جابر اور ظالم کے سامنے سر جھکانے کے بجائے سر کٹانے کی جو لازوال مثال قائم کی وہ قیامت تک کیلئے تاریخ میں امر ہو گئی۔ حضرت فاطمہ الزہراؓ کے لعل نے اپنے لہو سے حق و باطل کے درمیان سچائی کی جو فیصلہ کن لکیر کھینچی اس نے یہ ثابت کر دیا کہ تاریخ میں وہی لوگ زندہ رہتے ہیں جو ظالم‘ باطل‘ آمر اور جابر قوتوں کے سامنے سر جھکانے کے بجائے سر کٹانے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ کربلا حق و باطل کی جنگ کا ایک نمونہ ہے۔ حق و باطل کی لڑائی آج بھی جاری ہے‘ لہٰذا قربانی کے جذبے کو فروغ دینے کی ضرورت بدستور موجود ہے۔ ہمیں عہد کرنا چاہیے کہ انتہا پسندی‘ عدم برداشت کے سدباب‘ اسلامی روایات کی پاسداری اور ملکی ترقی و خوشحالی کیلئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کریں گے۔کربلا کے میدان میں حضرات امام حسینؓ اور ان کے 72ساتھیوں نے یزیدی لشکر کے سامنے عزم و استقامت کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے بھوک‘ پیاس اور ظلم و جبر کا سامنا کرتے ہوئے اپنی جانیں قربان کیں لیکن باطل کے سامنے جھکنے سے انکار کیا۔ کربلا کا یہ پیغام انصاف اور انسانیت کا علمبردار ہے۔ کربلا کی جنگ مذہبی اور اخلاقی تعلیمات کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ حضرت امام حسینؓ کی قربانی ہمیں ایمان‘ صبر اور اخلاقی قوت کی تعلیم دیتی ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ایک مسلمان کا ایمان صرف نماز‘ روزے تک محدود نہیں بلکہ اس کے اعمال اور کردار میں بھی ظاہر ہونا چاہیے۔ حضرت امام حسینؓ نے اپنی جان کی قربانی دے کر ہمیں سکھایا کہ ظلم کے سامنے خاموش رہنا اور اس کے خلاف آواز بلند نہ کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔ آج کے دور میں بھی جب ہمیں ظالم حکومتوں‘ استحصال اور ناانصافی کا سامنا ہے‘ ہمیں کربلا کے پیغام کو یاد رکھنا چاہیے اور حق کیلئے کھڑے ہونا چاہیے۔کربلا کا واقعہ انسانی حقوق اور عزتِ نفس کی حفاظت کا درس دیتا ہے۔ حضرت امام حسینؓ نے ہمیں سکھایا کہ ہر انسان کی عزت و وقار کی حفاظت کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ ہمیں ہر قسم کی ناانصافی اور ظلم کے خلاف کھڑے ہونا چاہیے اور مظلوموں کی مدد کرنی چاہیے۔ آج کے دور میں کربلا کی تعلیمات کو اپنانا انتہائی ضروری ہے۔ کربلا کا پیغام ہمیں سماجی انصاف‘ حقوقِ انسانی اور مظلوموں کی حمایت جیسے مسائل پر رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ ہمیں اپنے معاشرتی ڈھانچے کی بنیاد عدل و انصاف کو بنانا چاہیے اور ہر قسم کی ناانصافی کے خلاف کھڑے ہونا چاہیے۔ کربلا کا پیغام مذہبی ہم آہنگی اور اتحاد کا علمبردار ہے۔ حضرت امام حسینؓ نے اپنی شہادت سے یہ واضح کیا کہ اسلام کا پیغام محبت‘ امن اور اتحاد ہے۔ ہمیں مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دینا چاہیے اور فرقہ واریت کے خلاف کھڑے ہونا چاہیے۔ ماہِ محرم توبہ‘ اصلاحِ نفس اور دین سے مضبوط وابستگی کا درس دیتا ہے۔ اگر ہم اس مہینے کے حقیقی پیغام کو سمجھ لیں تو یہ ہمارے لیے نئی روحانی زندگی‘ ایمان کی تازگی اور اللہ رب العزت کی قربت کا ذریعہ بن سکتا ہے۔کربلا کا واقعہ ہمیں اخلاقیات کا درس بھی دیتا ہے۔ حضرت امام حسینؓ نے اپنے اعمال اور کردار سے یہ واضح کیا کہ ایک حقیقی لیڈر وہ ہوتا ہے جو انصاف‘ صداقت اور اخلاقی قوت کے ساتھ عوام کی قیادت کرتا ہے۔ ہماری قیادت کو یہی اصول اپنانے چاہئیں۔ واقعۂ کربلا اور حضرت امام حسینؓ کی قربانی ہمیں زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ واقعۂ کربلا ہمیں حق و انصاف‘ قربانی‘ صبر اور اخلاقی قوت کا پیغام دیتا ہے جسے ہمیں اپنی عملی زندگیوں میں اپنانا چاہیے تاکہ ہم ایک بہتر اور عادل معاشرہ قائم کر سکیں۔ افسوس! آج اس پیغام کو امت مسلمہ نے پس پشت ڈال دیا ہے۔ ہم فقط یومِ عاشور کے موقع پر حضرت امام حسینؓ کی عظیم قربانی کو یاد کرکے اور اس کا ذکر کرکے یہ سمجھتے ہیں کہ حق ادا ہو گیا جبکہ حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا۔ حضرت  امام حسینؓ اور ان کے عظیم رفقا کی قربانیوں کو سارا سال یاد رکھنا اور ان کے پیغام کے مطابق عمل کرنا ضروری ہے۔ واقعۂ کربلا ہمیں ظالم کے خلاف کھڑا ہونے کا پیغام دیتا ہے لیکن اس وقت جبکہ فلسطین میں خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے‘ کشمیریوں پر ظلم و بربریت جاری ہے اور ایران بھی صہیونی جارحیت کا شکار ہو چکا ہے تو مسلم امہ خاموشی کی چادر اوڑھ کر سو رہی ہے۔ فلسطین اور کشمیر کے عوام ہماری طرف دیکھ رہے ہیں مگر افسوس کہ ہم پیغامِ کربلا کو سمجھ نہیں سکے۔ بروز قیامت ہم اس سوال سے کیونکر بچ پائیں گے کہ جب فلسطین میں ایک کربلا بپا تھی تو تم کہاں تھے؟معرکۂ کربلا مسلمانانِ عالم کی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہے کہ کس طرح امام عالی مقامؓ نے تنہا اور نہتے ہو کر بھی باطل قوتوں کے لاؤ لشکر کا مقابلہ کیا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں یومِ عاشور کے اصل پیغام‘ قربانی کے جذبے کو اپنی زندگیوں میں شامل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین! ماہِ محرم ہمیں اسلامی تاریخ کے ان روشن ابواب کی یاد دلاتا ہے جن میں قربانی‘ صبر و استقامت اور دین کیلئے بے لوث جدوجہد کی لازوال داستانیں رقم ہیں۔ یہ وہ مہینہ ہے کہ جس میں اپنی کمزوریوں کو دور کریں اور اللہ رب العزت کی رضا کو اپنی زندگی کا مقصد بنا کر ایک نئے عزم اور نئے حوصلے کے ساتھ آگے بڑھیں۔نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسم ِشبیری کہ فقرِ خانقاہی ہے فقط اندوہ و دلگیری</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_62843609.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>