<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>معاشی استحکام اور زمینی صورتحال(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-10/11527</link><pubDate>Thu, 10 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-10/11527</guid><description>عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی موڈیز کی جانب سے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں حالیہ بہتری اور معاشی آؤٹ لک کو مستحکم قرار دینا میکرو اکانومی کی سطح پر مثبت تاثرات پیدا کرتا ہے۔ موڈیز کی اسسٹنٹ نائب صدر گریس لِم نے پاکستان کی معیشت کو عالمی اور علاقائی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کیلئے بہتر پوزیشن میں قرار د یتے ہوئے کہا کہ2022ء کے عالمی تیل بحران کے مقابلے میں پاکستان کی معیشت مضبوط ہوئی ہے اور آبنائے ہرمز بحران کا پاکستان پر ممکنہ اثر نسبتاً کم ہو گا۔موڈیز کے مطابق پاکستان نے گزشتہ دو برس میں معاشی استحکام اور پائیداری حاصل کی اور مختلف چیلنجز کا سامنا کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کیا ۔ معاشی گنجائش میں اضافہ‘ افراطِ زر میں کمی‘ زرمبادلہ کے ذخائر کا استحکام ایسے عوامل ہیں جنہوں نے معیشت کو نسبتاً محفوظ سطح پر لا کھڑا کیا ہے۔عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی کے یہ تاثرات میکرو اکنامک بنیادوں پر تو معاشی بحالی اور استحکام کی نوید سناتے ہیں مگر یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ ملکی معیشت تاحال گہری سٹرکچرل کمزوریوں کی لپیٹ میں ہے‘ جن کا مداوا کیے بغیر طویل مدتی معاشی استحکام ممکن نہیں۔

میکرو اشاریوں میں نظر آنے والی بہتری کا عمیق جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ عبوری استحکام پیداواری صلاحیت میں اضافے کا نتیجہ نہیں بلکہ بنیادی طور پر قرضوں کی مینجمنٹ کا مرہونِ منت ہے۔ رواں سال اگست میں پانچ ارب ڈالر کا سعودی قرض تین سال کیلئے رول اوور ہونے‘ مئی میں پانڈا بانڈز اور رواں ماہ یورو بانڈز کے اجرا سے زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم اور قرضوں کی ادائیگی کا بوجھ کچھ کم ہوا ہے‘ لیکن معیشت کے بنیادی مسائل اب بھی اپنی جگہ برقرار ہیں۔ ملکی برآمدات کئی برسوں سے30سے 35ارب ڈالر تک محدود ہیں اور مینو فیکچرنگ کا شعبہ اس رفتار سے ترقی نہیں کر پا رہا جو معیشت کو غیر ملکی قرضوں کی بیساکھیوں کے بغیر چلا سکے۔ مختصراً یہ کہ عبوری استحکام کے باوجود نچلی سطح پر بحران اپنی پوری شدت کیساتھ موجود ہے اور یہ صورتحال موجودہ معاشی گنجائش کیلئے بھی ایک بڑا خطرہ ہے۔ میکرو اور مائیکرو معاشی اشاریوں کے مابین پایا جانیوالا تضاد ایک نئے معاشی بحران کی بنیاد بن رہا ہے۔ مائیکرو اکانومی یعنی عام آدمی‘ چھوٹے تاجر اور نچلا و متوسط طبقہ معاشی استحکام کے اثرات سے یکسر محروم ہے۔ بھاری بھرکم یوٹیلیٹی بلز‘ ٹیکسوں کے بڑھتے حجم اور روزگار کے محدود مواقع نے سماجی سطح پر شدید اضطراب پیدا کر رکھا ہے۔
میکرو سطح پر افراطِ زر کا سنگل ڈیجٹ میں آنا اپنی جگہ مگر بازار میں اشیائے خور ونوش کی قیمتیں اب بھی عام آدمی کی قوتِ خرید کا امتحان لے رہی ہیں۔دیگر معاشی اشاریے مثلاً پیداواری لاگت و منافع‘ طلب و رسد‘ خدمات اور اشیا کی قیمتیں اور اوسط اجرت وغیرہ‘ سب جمود یا تنزل کا شکار ہیں۔ اگر کہیں مثبت نمو کے آثار ہیں بھی تو نہایت محدود اور استثنائی حد تک۔ جب تک نچلی سطح پر کاروباری سرگرمیاں بحال نہیں ہوں گی اور عام آدمی کی آمدنی میں حقیقی اضافہ نہیں ہوتا‘بین الاقوامی ایجنسیوں کی ریٹنگز اور ملکی معیشت سے متعلق تاثرات عوام کیلئے بے معنی ہیں۔ موجودہ جیو پولیٹکل صورتحال کے تناظر میں عارضی معاشی بہتری کو برقرار رکھنا بھی ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ پائیدار معاشی استحکام کے حصول کا واحد راستہ یہی ہے کہ میکرو اور مائیکرو اکانومی‘ دونوں شعبوں کو ساتھ لے کر چلا جائے۔ حکومت کو اب اپنا رخ قرضوں اور ٹیکسوں کے طومار سے بدل کر حقیقی معاشی ترقی اور پیداواری صلاحیت میں اضافے کی طرف موڑنا ہوگا۔
طویل مدتی اور پائیدار معاشی استحکام اسی وقت ممکن ہے جب معاشی پالیسیاں صرف عالمی اداروں کو مطمئن نہ کریں بلکہ انکے مثبت اثرات عوامی زندگی میں بھی دکھائی دیں۔ جب تک عام پاکستانی معاشی طور پر مستحکم نہیں ہوتا معاشی استحکام کے دعوے ادھورے ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پٹرولیم مصنوعات کی مہنگائی(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-10/11526</link><pubDate>Thu, 10 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-10/11526</guid><description>مہنگائی کے ستائے عوام پر معاشی بوجھ بڑھانے کا سلسلہ جاری ہے۔ حکومت نے رواں ہفتے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں تیسری بار بڑھاتے ہوئے پٹرول کی قیمت میں 3 روپے40 پیسے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں6 روپے72 پیسے فی لٹر مزید اضافہ کر دیا ہے۔ تین روز کے دوران پٹرول کی قیمت میں مجموعی طور پر 23 روپے 88 پیسے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 14 روپے62 پیسے کا اضافہ کیا گیا۔ حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اس ہوشربا اضافے کا جواز مشرقِ وسطیٰ کی جنگی صورتحال اور عالمی منڈی میں پیدا ہونیوالی بے یقینی کو قرار دیتی ہے۔ بلاشبہ علاقائی جنگی صورتحال نے عالمی توانائی کی قیمتوں کو متاثر کیا ہے اور اسکے اثرات سے مکمل طور پر محفوظ رہنا کسی ملک کیلئے آسان نہیں مگر  یہ اثرات اس شدت کیساتھ صرف پاکستان ہی میں نظر آتے ہیں۔ خطے کے دیگر ممالک میں اس دوران پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بہت کم اضافہ ہوا۔

رواں سال یکم مارچ سے اب تک پاکستان میں پٹرول کی قیمت میں 112 روپے‘ جبکہ اسی عرصے میں بھارت میں صرف آٹھ روپے اور بنگلہ دیش میں تقریباً 24ٹکہ فی لٹر کے قریب اضافہ ہوا۔ اگر دوسرے علاقائی ممالک مشکل عالمی حالات کے باوجود قیمتوں میں اس بھیانک طریقے سے اضافہ نہیں کررہے تو صرف پاکستان ہی میں ایسا کیوں؟ عالمی بحران کے معاشی اثرات سے انکار نہیں کیا جاسکتا مگر پاکستان میں اس صورتحال کو جس طرح عوام کا معاشی بوجھ بڑھانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اس پر تشویش ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>حساس ڈیٹا کی چوری(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-10/11525</link><pubDate>Thu, 10 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-10/11525</guid><description>سائبر کرائم‘ اور عوامی شناخت اور حساس ڈیٹا کی چور بازاری خوفناک صورتحال اختیار کر چکی ہے۔ ایک خبر کے مطابق لاہور میں دو ملزمان کے قبضے سے تقریباً ایک کروڑ شہریوں کی حساس معلومات پر مشتمل تین ہزار جی بی ڈیٹا برآمد کیا گیا ہے ‘جس میں سم کارڈز کی ملکیت اور رجسٹریشن‘ کالوں کا تفصیلی ریکارڈ‘ صارفین کی لوکیشن‘ خاندانی شجرہ اور مختلف سرکاری اداروں سے متعلق حساس معلومات شامل ہیں۔  ملزمان نیشنل ڈیٹا بیس سے مشابہ ایک ویب سائٹ بنا کر اس ڈیٹا کی خریدو فروخت میں ملوث تھے۔  یہاں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں شہریوں کے حساس ڈیٹا تک ملزمان کی رسائی کیسے ہوئی؟

سم کارڈز کی ملکیت اور رجسٹریشن اور ان سے متعلق تفصیلات ٹیلی کام کمپنیوں کے پاس محفوظ ہوتی ہیں جبکہ شہریوں کا خاندانی شجرہ اور شناخت کا ڈیٹا نادرا کے پاس ہوتا ہے۔اگر یہ ڈیٹا ان اداروں سے چوری ہوا تو انکے نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ شہریوں کے کوائف پر مبنی ڈیٹا کی چوری اور خریدو فروخت کا یہ پہلا واقعہ نہیں‘ اس سے پہلے بھی ایسے واقعات منظر عام پر آ چکے ہیں مگر ہر نئے واقعے میں نیا طریقہ واردات یہ ظاہر کرتا ہے کہ دھندا کہیں رکا نہیں۔ شہریوں کا ذاتی ڈیٹا نجی اور سرکاری اداروں کے پاس امانت ہوتا ہے‘ اس امانت میں خیانت کیونکر ہوتی ہے‘ اسکا سراغ لگانا ضروری ہے تا کہ اس گھناؤنے جرم کا تدارک کیا جا سکے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>موذی سانپ کی پھنکار یں(محمد اظہارالحق)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-09-10/52634/67354366</link><pubDate>Thu, 10 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-09-10/52634/67354366</guid><description>نہیں معلوم یو پی کے وزیراعلیٰ ادتیا ناتھ کو بھارتی مسلمانوں کا دشمن نمبر ایک کہا جا سکتا ہے یا نہیں‘ ہو سکتا ہے مودی یا امیت شاہ یا کوئی اور درندہ ادتیا ناتھ سے بھی بڑا مسلمان دشمن ہو مگر یہ طے ہے کہ اگر ادتیا ناتھ کا بس چلے تو بھارت میں کوئی مسلمان زندہ بچے‘ نہ کوئی مسجد۔ یہ موذی‘ زہریلا سانپ مسلمانوں کو مسلسل ڈس رہا ہے۔ چار دن پہلے‘ چھ ستمبر کو‘ ایک اور مسجد شہید کر دی گئی۔ یہ ظلم سہارنپور میں ہوا۔ واقعہ کی تفصیلات پکار پکار کر کہہ رہی ہیں کہ یہ انہدام ادتیا ناتھ کے خصوصی احکام پر ہوا۔سہارنپور کی یہ مسجد 1911ء میں تعمیر ہوئی۔ کانگرس کے ممبر پارلیمنٹ عمران مسعود نے مسجد کی شہادت کے بعد ایک پریس کانفرنس میں خسرہ نمبر اور دیگر دستاویزات پیش کرتے ہوئے بتایا کہ یہ مسجد ایک مسلمان زمیندار خاندان کی زمین میں بنائی گئی۔ اس خاندان کے سربراہ وحید خان اور یعقوب خان تھے۔ یہ زمین مسجد کیلئے وقف کی گئی تھی اور اس ضمن میں تمام قانونی کارروائی مکمل کی گئی تھی۔ جب مسجد بنی‘ اس وقت کسی سرکاری دفتر کا دور دور تک کوئی نشان نہیں تھا۔ بہت عرصہ بعد اسی مسلم خاندان نے مسجد کے ساتھ والی زمین سرکار کو دی جہاں سرکاری دفتر بنا۔ غالباً یہ دفتر پھیلتا گیا اور ہوتے ہوتے مسجد دفتر کے احاطے کے اندر آ گئی۔ آر ایس ایس کے ایک کارکن نے عدالت میں درخواست دی کہ مسجد سرکاری زمین پر قائم ہے۔ یہ سفید جھوٹ تھا‘ مگر ضلعی مجسٹریٹ نے اس کے حق میں فیصلہ دیا۔ (اس حقیقت کو نوٹ کرنے کی ضرورت ہے کہ بھارت میں اس وقت انتظامیہ‘ عدلیہ اور پولیس بی جے پی بلکہ آر ایس ایس کی ورکر بنی ہوئی ہیں) مسجد انتظامیہ اس فیصلے کے خلاف 22دن کے اندر اندر اپیل کر سکتی تھی مگر اس سے پہلے کہ ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی جاتی ادتیا ناتھ کے خصوصی حکم پر فی الفور‘ راتوں راتوں مسجد کو شہید کر دیا گیا۔ اس دوران ممبر پارلیمنٹ اقرا حسن نے مسجد کی طرف جانے کی کوشش کی تو انہیں ان کے گھر میں نظر بند کر دیا گیا۔ معروف مسلمان صحافی اور ویلاگر ہدیٰ زری والا جیسے ہی سہارنپور پہنچیں‘ انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ عجیب بات یہ ہے کہ آج بھی مسجد اور سرکاری دفتر والی زمین وحید خان اور یعقوب خان کے نام پر اور عمارت وقف کے نام پر ہے۔جمعیت علمائے ہند اور جماعت اسلامی ہند نے بیک آواز اس انہدام کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اس اقدام سے انصاف اور قانون کو شدید دھچکا لگا ہے۔ سماج وادی پارٹی کے (ہندو) سربراہ اکھلیش یادیو نے بھی ادتیا ناتھ پر الزام لگایا ہے کہ مسجد کو منہدم اس لیے کیا گیا ہے کہ لوگوں کی توجہ اُس غبن سے ہٹائی جائے جو رام مندر کے عطیات میں کیا گیا ہے۔ اکھلیش یادیو کے اس بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ پنڈت ادتیا ناتھ مندر کیلئے دیے گئے عطیات میں غبن کر کے جرم کا مرتکب ہوا ہے۔ اکھلیش یادیو نے یہ بھی کہا کہ ایک سچا ہندو تمام دوسرے مذاہب کا احترام کرتا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے ممبر پارلیمنٹ سنجے سنگھ نے بھی مسجد کی شہادت کی شدید مذمت کی ہے۔ سنجے سنگھ نے کہا ہے کہ زمین کا خسرہ نمبر 539وحید خان اور یعقوب خان کے نام پر رجسٹرڈ ہے۔ مسجد تقسیمِ ہند سے بہت پہلے (1911ء میں) بنی تھی اور وقف بورڈ میں رجسٹرڈ ہے۔ عدالت کا فیصلہ یکطرفہ ہے کیونکہ وقف بورڈ کو مقدمے کا فریق ہی نہیں بنایا گیا۔ سنجے سنگھ نے ادتیا ناتھ کی حکومت پر یہ الزام بھی لگایا کہ یہ سب کچھ اس لیے کیا جا رہا ہے تاکہ یو پی میں نفرت پھیلائی جائے اور مذہب کا استحصال کرتے ہوئے آنے والے ریاستی انتخابات میں فائدہ اٹھایا جائے۔ سنجے سنگھ نے اس قانون کا حوالہ دیا جس کی رو سے کسی ایسی عبادت گاہ کو نہیں چھیڑا جا سکتا جو 1947ء سے پہلے کی بنی ہوئی ہے۔ یہاں سنجے سنگھ نے سوال کیا کہ پھر 1911ء کی تعمیر شدہ مسجد کو آپ کیسے گرا سکتے ہیں؟ ملبے سے ایسی اینٹیں بھی ملی ہیں جن پر 1909ء کا ہندسہ نقش تھا۔ ممکن ہے کہ مسجد 1911ء سے بھی پہلے کی ہو۔ ملبے کی تہہ سے ایک کنواں بھی بر آمد ہوا جو ابتدائی مطالعے کے بعد ایک صدی سے زیادہ پرانا ہے۔وزارتِ خارجہ پاکستان کے ترجمان نے مسجد کے انہدام کی مذمت کی ہے۔ اس نے اسے بھارت میں ہر روز بڑھتے ہوئے اسلامو فوبیا کا مظہر قرار دیا اور عالمی توجہ اس طرف مبذول کی۔ لیکن صرف مذمت کافی نہیں۔ مسلم ملکوں میں تعینات پاکستانی سفیروں کو حکم دیا جائے کہ ان ملکوں کو بی جے پی کی اسلام دشمنی سے کُلّی طور پر آگاہ کریں تاکہ مسلمان ممالک‘ خاص طور پر شرقِ اوسط کی ریاستیں مودی کو جپھیاں ڈالنے سے پہلے مودی حکومت کے کارنامے بھی دیکھ لیں۔ مانا کہ معاشی اور سیاسی عوامل زیادہ طاقتور ہیں مگر ایک شے شرم بھی ہوتی ہے اور حیا بھی! ان امیر اور طاقتور بادشاہوں کو کل خدا کی عدالت میں ان جپھیوں کا حساب بھی دینا ہو گا۔ ان ملکوں کی صرف ایک للکار ہی بھارت کیلئے کافی ہو گی! ہزاروں لاکھوں بھارتی ان ریاستوں میں ملازمتوں پر لگے ہیں۔ بھارت ان ریاستوں کی تنبیہ کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔ مگر یہ صرف اس وقت ممکن ہو گا جب پاکستانی سفارتخانے میزبان ملکوں کو جگانے کی کوششیں مسلسل کرتے رہیں۔ رہیں عالمی قوتیں تو ان کی اپنی ترجیحات ہیں اور تمام نام نہاد ماڈرن ازم کے باوجود یہ طاقتیں اسلام کی مخالف ہیں۔ اگر مسیحیوں کا مسئلہ ہو تو جنوبی سوڈان بھی الگ کیا جا سکتا ہے اور مشرقی تیمور بھی مگر مسلمانوں کیلئے کون کچھ کرے؟ خود مسلم ممالک ہی بے حس ہوں تو دوسروں کو کیا پڑی ہے!جب بھی یہ کالم نگار بھارتی مسلمانوں کی حالتِ زار پر قلم اٹھاتا ہے کچھ دوست یاد دلاتے ہیں کہ بھائی یہ بھارت کا اندرونی معاملہ ہے۔ دوسری طرف جب پاکستان میں غیر مسلم ہجوم گردی کا شکار ہو جائیں تو مغربی ملکوں سے پاکستان کو متعفن پیغامات (Stinkers) آنے شروع ہو جاتے ہیں۔ اس وقت کوئی نہیں کہتا کہ یہ پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے۔ بھارتی مسلمان ہمارے وجود کا حصہ ہیں۔ ان کا دفاع ایک قرض ہے جو پاکستان کو ادا کرنا ہی کرنا ہے۔ بھارتی مسلمان بھارت کے جتنے بھی وفادار ہوں انہیں پاکستان کا طعنہ ضرور دیا جاتا ہے۔ وہ بھارت کیلئے قربانیاں دیں پھر بھی انہیں دوسرے درجے کا شہری سمجھا جاتا ہے۔ اگر پاکستان ان کیلئے آواز نہ اٹھائے تو یہ ویسی ہی صورتحال ہو گی جس پر فراق گورکھپوری نے کہا تھا:تو پھر کیا عشق دنیا میں کہیں کا بھی نہ رہ جائےزمانے سے لڑائی مول لے‘ تم سے برا بھی ہوبدقسمتی یہ ہے کہ یوپی مسلمانوں کا اور مسلم تہذیب کا گڑھ ہے۔ لکھنؤ‘ آگرہ‘ کانپور‘ بریلی‘ علی گڑھ‘ سہارن پور‘ مراد آباد‘ الہ آباد‘ غازی پور‘ میرٹھ‘ گورکھپور‘ مظفر نگر‘ بدایوں‘ شاہ جہان پور‘ فرخ آباد‘ بلند شہر‘ امروہہ‘ فتح پور‘ جونپور‘ بارہ بنکی‘ اعظم گڑھ‘ بجنور‘ فیروز آباد اور کئی دوسرے قصبے اور شہر‘ جن سے مسلمانوں کا ماضی‘ تہذیب اور ثقافت وابستہ ہے‘ یوپی ہی میں ہیں۔ اور یوپی کا حکمران ادتیا ناتھ ہے جو انتہا درجے کا متعصب پنڈت ہے۔ ادتیا ناتھ بلکہ بی جے پی کی حکومت ہر جگہ سے مسلم آثار مٹانا چاہتی ہے۔ بھارتی مسلمان ایک بہت بڑی مصیبت میں گرفتار ہیں۔ مدرسے ختم کیے جا رہے ہیں‘ مسجدیں منہدم کی جا رہی ہیں۔ پاکستان کا اخلاقی‘ سفارتی اور تہذیبی فرض ہے کہ ان کیلئے دنیا میں آواز اٹھائے۔ آج کی دنیا میڈیا کی دنیا ہے۔ یورپ میں اگر غزہ کیلئے جلوس نکل سکتے ہیں تو بھارتی مسلمانوں کیلئے کیوں نہیں؟ کشمیر کیلئے کیوں نہیں؟</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_57182973.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>لوڈشیڈنگ، کپیسٹی چارجز اور انڈے کی ماہیت(خالد مسعود خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-09-10/52635/22732747</link><pubDate>Thu, 10 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-09-10/52635/22732747</guid><description>جب بھی میں کسی ایسے گمبھیر‘ پیچیدہ‘ گنجلک یا انتہائی تکنیکی معاملے میں پھنس جاؤں جسے میری ناقص عقل گہرائی تک سمجھنے اور اس کا حل نکالنے سے عاجز دکھائی دے تو میں ایسے معاملات پر زیادہ سر کھپانے اور اپنے آپ کو کوئی دانشور‘ ماہر یا ہرفن مولا ثابت کرنے کی کوشش کرنے کے بجائے سردار بلدیو سنگھ آف تلونڈی سابو کو یاد کرتا ہوں اور اس کا سیدھے سبھاؤ سامنے دکھائی دینے والے عملی حل کو ذہن میں لاتے ہوئے اپنے لیے آسانیاں پیدا کر لیتا ہوں۔ قصہ سردار بلدیو سنگھ کا یہ ہے کہ اس نے اپنے بیٹے کو اعلیٰ تعلیم کے حصول کیلئے ولایت بھیجا۔ بیٹے نے ولایت جا کر فلسفے میں داخلہ لیا اور بعد ازاں درجہ تخصیص میں اس نے علمِ منطق کا انتخاب کیا اور تعلیم مکمل کرنے کے بعد واپس تلونڈی سابو آ گیا۔ ولایت میں پڑھائی پر یونیورسٹی کی فیس‘ ہاسٹل میں رہنے اور کھانے کے خرچے کے علاوہ فضول خرچ بیٹے کے دیگر اخراجات پر کل ملا کر سردار بلدیو سنگھ کا لمبا چوڑا خرچہ ہو گیا۔ بیٹے کی ولایت سے واپسی کی اگلی صبح ناشتے کی میز پر سردار بلدیو سنگھ نے بیٹے سے پوچھا کہ وہ کیا پڑھ کر آیا ہے؟ جب اس نے یہ سوال کیا‘ ان دونوں کے سامنے ایک ایک پراٹھا اور ایک ایک انڈا پڑا ہوا تھا۔ بیٹے نے بڑے فخر سے بتایا کہ وہ فلسفہ پڑھ کر آیا ہے۔ باپ نے پھر پوچھا کہ فلسفے میں کیا پڑھا ہے؟ اس نے بتایا کہ وہ فلسفے میں Logic یعنی علمِ منطق پڑھ کر آیا ہے۔ سردار بلدیو سنگھ نے مزید پریشان ہو کر پوچھا: پُتر! یہ علم منطق کیا ہے؟ بیٹے نے کہا: منطق دراصل فلسفے کی وہ شاخ ہے جو صحیح سوچنے‘ دلیل کی ساخت اور درست استدلال کے اصولوں  کا مطالعہ کرتی ہے۔ بلدیو سنگھ جیسے شخص کیلئے اس قسم کی پیچیدہ گفتگو اور پریشان کن وضاحت کو سمجھنا بہت مشکل تھا۔ بیٹے نے باپ کی پریشانی بھانپتے ہوئے کہا کہ میں آپ کو ایک مثال سے سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں‘ اب یہی دیکھیں کہ آپ کے سامنے پلیٹ میں فرائی کیا ہوا ایک انڈا رکھا ہے۔ آپ جیسے عام لوگوں کے نزدیک یہ محض ایک انڈا ہے‘ تاہم یہ صرف ایک انڈہ نہیں بلکہ اس انڈے کے ساتھ جڑی ہوئی اس انڈے کی ماہیت بھی ہے۔ یعنی یہ ایک چیز نہیں بلکہ دو ہیں۔ ایک انڈہ اور دوسری اس کی ماہیت۔ بلدیو سنگھ اس دوران اپنا بیشتر انڈا کھا چکا تھا۔ اس نے باقی ماندہ بچے ہوئے انڈے کو منہ میں ڈالا‘ بیٹے کے سامنے رکھی انڈے کی پلیٹ کو اپنی جانب کھسکایا اور بولا: پُتر! میں تو تمہارے انڈے کے ساتھ اپنا پراٹھا کھا رہا ہوں‘ تم اپنا پراٹھا میرے اور اپنے‘ دونوں انڈوں کی ماہیت سے لگا کر کھا لو۔مجھ کم علم شخص کا بھی یہی حال ہے‘ اسے انڈے کی ماہیت کا تو علم نہیں چنانچہ انڈے کی وجودی حیثیت کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے معمولی علم کا پراٹھا کھا کر خوش ہو جاتا ہوں۔ سرکار کے بجلی والے معاملات میں پیچیدگی‘ گہرائی اور مسائل کیا ہیں؟ ان کے بارے میں اس فقیر کو زیادہ علم نہیں‘ تاہم موٹی موٹی چند باتوں کا پتا ہے اور ان کی بنیاد پر ذہن میں جو سوالات اٹھتے ہیں وہ عین وہی سوالات ہیں جو پاکستان کی اُس اٹھانوے فیصد آبادی کے ذہن میں ہیں‘ جسے لوڈ شیڈنگ کا بھی سامنا ہے اور جسے بجلی کا بل بھی ادا کرنا ہوتا ہے۔جولائی 2025ء سے مئی 2026ء تک گیارہ ماہ میں حکومت نے آئی پی پیز کو 29 کھرب 35 ارب روپے کی ادائیگیاں کی ہیں۔ اندازہ کریں کہ اس کُل ادا شدہ رقم میں سے آئی پی پیز کو بجلی پیدا کرنے کے عوض 11 کھرب 45 ارب روپے‘ جبکہ بجلی پیدا نہ کرنے کے عوض 17 ارب 90 ارب روپے ادا کیے گئے۔ بجلی پیدا نہ کرنے کے عوض ادا کی جانے والی رقم سے میری مراد کپیسٹی چارجز کی مد میں ادا کی جانے والی رقم ہے۔ گیارہ ماہ میں ادا کی جانے والی 29 کھرب 35 ارب روپے کی رقم کا صرف 39 فیصد بجلی کی خرید جبکہ 61 فیصد کپیسٹی چارجز کی مد میں ادا کیا گیا۔ جب کسی بجلی پیدا کرنے والی کمپنی سے اس کی کُل پیداواری استعداد کے مطابق طے شدہ معاہدے کے برعکس‘ پوری بجلی یا اس کا کچھ حصہ نہیں خریدا جاتا تو طے شدہ معاہدے سے کم یا نہ خریدی گئی بجلی کے عوض اس کو کپیسٹی چارجز کی ادائیگی کی جاتی ہے۔ معاہدے کے وقت بجلی کمپنیوں نے حکومتِ پاکستان سے بجلی کی فروخت کا معاہدہ اپنی اپنی پیداواری استعداد کے مطابق کیا تھا۔ مثال کے طور پر کسی نے سو میگاواٹ کی پیداواری استعداد کا بجلی گھر لگایا اور حکومت سے اس پیدا کردہ بجلی کی فراہمی کا معاہدہ کیا۔ اب اگر حکومت اس سے سو میگاواٹ بجلی خریدے گی تو وہ اس کی ادائیگی طے شدہ فی یونٹ قیمت کے مطابق کرے گی۔ اگر 80 میگاواٹ خریدے گی تو بقیہ نہ خریدی جانے والی 20 میگاواٹ بجلی کی ادائیگی ایک طے شدہ رقم کے مطابق کرے گی۔ اگر حکومت ان سے 60 میگاواٹ بجلی خریدے گی تو نہ خریدی جانے والی 40 میگاواٹ بجلی کے عوض اس کمپنی کو ادائیگی کرے گی۔ اسی طرح اگر 20 میگاواٹ خریدتی ہے تو بچ جانے والی 80 میگاواٹ اور بالکل نہ خریدنے کی صورت میں پورے سو میگاواٹ کا زر تلافی یعنی &#39;&#39;ڈنڈ‘‘ ادا کرے گی۔ یہ بات یاد رہے کہ کپیسٹی چارجز کی مد میں ادا کی جانے والی فی کلو واٹ قیمت خریدی جانے والی بجلی کی فی کلوواٹ قیمت سے کم ہوتی ہے۔ معاہدہ کرتے وقت بجلی کمپنیوں کا یہ موقف تھا کہ انہوں نے حکومتِ پاکستان سے اس کی ضرورت کے مطابق طے شدہ معاہدے کے تحت یہ بجلی گھر لگایا ہے‘ اس کیلئے انہوں نے بینکوں سے سود پر قرضے لیے‘ وہ سود کی مد میں ادائیگی‘ دیگر فنانشل اخراجات‘ عملے کی تنخواہیں‘ پلانٹ کی فرسودگی یعنی Depreciation اور لاگت پر کم از کم آمدن یعنی &#39;&#39;ریٹرن آن انویسٹمنٹ‘‘ کی مد اپنے پلانٹ کے کم استعداد پر چلنے کی صورت میں کپیسٹی چارجز لینے کے حقدار ہیں۔ انہیں اپنا پلانٹ نہ چلنے یا کم چلنے کی صورت میں یہ ادائیگیاں بہرحال کرنی ہیں۔ انہوں نے یہ ادائیگیاں بڑھا چڑھا کر سرکار کے گلے منڈھ دیں اور معاہدوں میں کپیسٹی چارجز کی مد ڈال دی۔ یہ بات الگ ہے کہ آئی پی پیز کے مالکان‘ فیصلہ سازوں اور ان معاہدوں کو قانونی شکل دینے پر مامور سرکاری افسران نے ہر چیز کی قیمت دگنی تگنی لگائی۔ ہر متعلقہ شخص اور کمپنی کے وارے نیارے جبکہ قوم کا دھڑن تختہ ہو گیا۔ سو اب سرکار بجلی خریدے‘ کم خریدے یا نہ خریدے‘ ہر صورت میں اسے بجلی کمپنیوں کو اس کی نصب شدہ استعداد یعنی انسٹالڈ کپیسٹی کے حساب سے ادائیگی کرنی ہی کرنی ہے۔گزشتہ کچھ عرصے سے لوڈ شیڈنگ دوبارہ عروج پر ہے۔ پاکستان میں بجلی کی کُل پیداواری صلاحیت 49 ہزار 651 میگاواٹ ہے۔ آئی پی پیز کی کل پیداواری صلاحیت 26 ہزار میگاواٹ کے لگ بھگ ہے جو بجلی کی کل ملکی پیداوار کا تقریباً 52 فیصد ہے۔ پرائیوٹ سیکٹر میں کاروباری و پیداواری یونٹس اور عام صارفین کی جانب سے اپنے لیے سولر بجلی پیدا کرنے کے بعد نیشنل گرڈ پر فی الوقت پندرہ ہزار میگاواٹ کی طلب کا لوڈ ہے اور سرکار یہ طلب‘ جو بجلی کی کُل ملکی پیداوار کا ایک تہائی ہے‘ پورا نہیں کر پا رہی۔ جو آئی پی پیز بھلے دنوں میں کپیسٹی چارجز کی مد میں بنا بجلی پیدا کیے گیارہ ماہ میں 17 کھرب 90 ارب روپے ڈکار چکے ہیں‘ اب ضرورت کے وقت کہاں ہیں؟ اب اگر وہ ایل این جی کی کمی کے بہانے بجلی فراہم کرنے سے قاصر ہیں تو ان پر بجلی سپلائی نہ کرنے کے عوض جرمانہ لگا کر ان کی سابقہ لوٹ مار کا ہرجانہ کیوں نہیں لیا جاتا؟ ان کو بجلی نہ لینے کے عوض مفت میں کپیسٹی چارجز ادا کرنے کے بجائے بجلی لے کر ادائیگی کیوں نہیں کی جا رہی؟ آئی پی پیز کو مفت میں ادائیگی کے بجائے قابل فروخت بجلی لے کر ادائیگی کرنے سے نہ صرف حکومت کو بچت ہو گی بلکہ لوڈشیڈنگ سے بھی نجات ملے گی۔ مجھے زیادہ پیچیدگیوں میں نہیں پڑنا‘ مجھے انڈے سے غرض ہے‘ اس کی ماہیت جائے بھاڑ میں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90500073.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پُل اور ووٹ بینک(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-09-10/52636/85429227</link><pubDate>Thu, 10 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-09-10/52636/85429227</guid><description>ایک پُل ووٹ بینک پر کیسے اثر انداز ہوتا ہے؟اسلام آباد میں ایک بائی پاس نو ماہ سے زیرِ تعمیر ہے۔ اسے جس تاریخ کو مکمل ہونا تھا‘ اسے گزرے تین ماہ ہو چکے۔ ہنوز دلّی دور است۔ چند ماہ پہلے تعمیر ہونے والی چھ رویہ شاندار سڑک کو اکھاڑ کر یہ منصوبہ شروع ہوا۔ کروڑوں روپے کا یہ زیاں اس وقت زیرِ بحث نہیں۔ ہم اپنی بات کو بائی پاس تک محدود رکھتے ہیں۔ نئی سڑک یا پُل کی تعمیر سے مسائل پیدا ہوتے ہیں جو قابلِ فہم ہیں۔ شہری جانتے ہیں کہ چند دن یا کچھ ماہ کی اس تکلیف کے بعد آسانی ہی آسانی ہے۔ اسلام آباد کے شہریوں کے لیے مگر یہ چند ماہ اتنے اذیتناک ہو جائیں گے‘ اس کا کسی کو اندازہ نہیں تھا۔ تعمیر شروع ہوئی تو گزر گاہ بند ہو گئی‘ جس پر روزانہ ہزاروں لوگ سفر کرتے ہیں۔ ایک متبادل راستہ دیا گیا جو ایک ہسپتال سے ہو کر گزرتا ہے۔ ہسپتال کے غیر آباد حصے سے ایک کچا راستہ نکالا گیا۔ یہ کم و بیش تین کلو میٹر پر مشتمل ہو گا مگر اس سے گزرنا جان جوکھوں کا کام ہے۔ جو پکی سڑک تھی‘ وہ ٹریفک کے رش کی وجہ سے کچھ ہی دنوں میں گڑھوں سے بھر گئی۔ کچے راستے کا حال تو اور بھی برا ہے۔ بارش ہو جائے تو جگہ جگہ پانی کھڑا ہو جاتا ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ اس پانی کی گہرائی کتنی ہے۔ آتشِ نمرود میں عشق کو بے خطر ہی کودنا پڑتا ہے۔ انسانوں پہ جو بیتی اس کی داستان الگ ہے‘ گاڑیوں کو اگر زبان مل جائے تو چیخ چیخ کر آسمان سر پہ اٹھا لیں۔ وہ یہ تو نہیں کر سکتیں مگر بعض احتجاجاً آگے بڑھنے سے انکار کر دیتی ہیں۔ جو رکتی نہیں وہ شاید ہی اپنی طبعی عمر پوری کر سکیں۔ ان کو یقینا جان لیوا امراض لاحق ہو چکے۔ دوسری طرف سے جو راستہ دیا گیا‘ اس کا عالم بھی یہی ہے۔انسانوں پر جو گزر رہی ہے وہ رنج و الم کی الگ داستان ہے۔ ہر گاڑی میں اے سی نہیں ہوتا۔ شدید گرمی کے موسم میں شیشے کھولنا پڑتے ہیں۔ مسافر جتنی گرد پھانکتے ہیں‘ اس کا حال ان کے پھیپھڑے ہی جانتے ہوں گے۔ بہت سے لوگ موٹر سائیکل پر سفر کرتے ہیں۔ بے شمار بچے صبح و شام سکول آتے جاتے ہیں۔ ان کی صحت پر پڑنے والے اثرات کا صرف اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ یہی نہیں‘ وقت کا ضیاع الگ مسئلہ ہے۔ ہر مسافر کم از کم ایک گھنٹہ معمول سے زیادہ اس سڑک پہ گزارتا ہے۔ مسافر یہاں سے گزرتے ہوئے اربابِ حل و عقد کو جن الفاظ میں یاد کرتے ہیں‘ ان کا صرف تصور ہی کیا جا سکتا ہے۔ اگر وہ سن لیں تو ان عہدوں کو لات ماریں اور گھر جا بیٹھیں۔یہاں سے گزرنے والے اس تکلیف کا ذمہ دار کسے سمجھتے ہیں؟ میں اس سوال کو ایک دوسرے زاویے سے آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔ عوام اپنا غصہ کس پر اتاریں گے؟ یہی سوال اس کالم کا اصل موضوع ہے۔ تین کرداراس بدانتظامی یا حادثے کے ذمہ دار ہو سکتے ہیں۔ ایک حکومت۔ یہ ایک مجمل لفظ ہے۔ ہر آدمی کے نزدیک اس کی تعریف مختلف ہے۔ ایک مفہوم البتہ مشترک ہے۔ وزیراعظم‘ وزیر اور منتخب نمائندے سب کے خیال میں &#39;حکومت‘ ہیں۔ دوسرے ذمہ دار کا نام سی ڈی اے ہے۔ ایک تیسرا ذمہ دار بھی ہے لیکن اس کا نام لینا ضروری نہیں۔ دوسرے اور تیسرے فریق کو عوام کی کوئی پروا نہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ یہ ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ ناراض ہوں گے تو ان کا کیا کر لیں گے۔ یہ بات عوام کو بھی معلوم ہے۔ عوام کا بس صرف حکومت پر چلتا ہے‘ وہ بھی تب جب وہ منتخب یا سیاسی ہو۔ یہ عوام کا حق بھی ہے کہ اگر وہ ان کے ووٹوں سے بنی ہے تو ان کے سامنے جوابدہ بھی ہے۔سوال یہ ہے کہ منتخب نمائندے‘ کیا عوام کے اذیت میں کمی کر سکتے تھے؟ میرا کہنا ہے کہ کر سکتے تھے۔ مثال کے طور سی ڈی اے سے انہیں یہ کہنا چاہیے تھا کہ وہ جو متبادل راستہ دے رہی ہے‘ اسے پکا کر دے۔ کم ازکم اتنا کہ وہ ایک سال تک چل جائے۔ اس پر زیادہ خرچ نہیں آنا تھا۔ جتنا بڑا یہ منصوبہ ہے‘ اس نسبت سے یہ اضافی خرچ ناقابلِ ذکر ہوتا۔ اگر کروڑوں روپے کی نئی تعمیر شدہ چھ رویہ سڑک‘ اس بائی پاس کے لیے اکھاڑی جا سکتی تھی تو متبادل راستے کے لیے چند لاکھ زیادہ کیوں خرچ نہیں کیے جا سکتے تھے؟ سی ڈی اے کو خود اس کا اہتمام کرنا چاہیے تھا لیکن اگر اس نے نہیں کیا تو پھر یہ اس علاقے کے منتخب نمائندے کا کام تھا کہ وہ اس سے متبادل پکے راستے کے لیے مطالبہ کرتا۔ چند لاکھ کے اضافی خرچ سے عوام ایک بڑی اذیت‘ مالی نقصان اور بیماریوں سے محفوظ رہ سکتے تھے۔ اس سے ووٹ بینک بھی بڑھ جاتا۔ یہ ایک منصوبہ نہیں ہے۔ ملک بھر میں نہ جانے کتنے ایسی بائی پاس اور پُل ہوں گے۔ایسا کیوں نہیں ہوتا ہے؟ اس کا ایک ہی جواب ہے: ہمارے گورننس ماڈل میں عوام ترجیح نہیں ہیں۔ اسی بائی پاس کے معاملے میں دیکھیں تو ایک ہاؤسنگ سوسائٹی سے وابستہ مفادات ہمیں زیادہ عزیز ہیں۔ ہمیں صرف یہ دیکھنا ہے کہ اس کے پلاٹوں کی قیمت کیسے زیادہ ہو سکتی ہے۔ یہی سوچ ہمیں ہر جگہ کارفرما دکھائی دے گی۔ کہیں ہمارا طے کردہ &#39;قومی مفاد‘ ترجیح ہے جس سے ضروری نہیں کہ عوام کو اتفاق ہو۔ کہیں برسرِ اقتدار طبقے کا خاندانی مفاد۔ کہیں ادارہ جاتی مفاد۔ عوام کا مفاد کس میں ہے؟ ان کی تعلیم کتنی اہم ہے؟ ان کی صحت کتنی ضروری ہے؟ ان سوالات کے جواب کے لیے صرف یہ دیکھ لیں کہ قومی بجٹ میں عوام کے لیے کتنا پیسہ رکھا جاتا ہے۔ ان کی تعلیم‘ ان کی صحت ہماری بجٹ کی ترجیحات میں کہاں ہے؟اب تو معاملہ یہاں تک آ پہنچا کہ انہیں بھی عوام کا خیال نہیں جن کا اقتدار ان کے ووٹوں کے مرہونِ منت ہے۔ انہیں شاید اندازہ نہیں کہ اس ایک منصوبے نے ان کے ووٹ بینک کوکس طرح متاثر کیا ہے۔ عوام کے تمام تر ناراضی اور غصے کا ہدف وہی ہیں۔ میرا اندازہ ہے کہ ان آٹھ نو ماہ میں‘ صرف ایک بائی پاس کی تعمیر نے ان کی عوامی تائید کو اتنا متاثر کیا ہے کہ اس کی تلافی آسان نہیں ہو گی۔ مسئلہ یہ نہیں کہ بائی پاس کیوں بنا۔ مسئلہ یہ ہے کہ اس کی تعمیر کے دوران میں عوام کی اذیت کو کم کرنے کے لیے کچھ نہیں کیا گیا۔ عوامی نمائندوں کا کام تھا کہ وہ متبادل راستوں کے لیے متحرک ہوتے اور یہ ممکن تھا۔ افسو س کہ ایسا کچھ نہیں ہوا۔ وہ دراصل اس سسٹم کے اسیر ہیں جس کے بارے میں ہمارے وزیر داخلہ بھی کہہ رہے ہیں کہ اس میں عوام کے لیے کوئی خیر نہیں۔ اس کو بدلنا ناگزیر ہو چکا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اس کو بدلنے کے لیے بھی عوام سے پوچھنا ضروری نہیں سمجھا جا رہا۔ قومی سطح پر کوئی مکالمہ نہیں ہوا۔ اس بار بھی خواص ہی فیصلہ کریں گے کہ عوام کے لیے کیا بہتر ہے۔عوام شاید اتنے باشعور نہ ہوں کہ غلط اور صحیح میں تمیز کر سکیں مگر اتنے بے حس بھی نہیں کہ گرد و غبار کے اثرات کو نہ سمجھ سکیں۔ وہ ان اثرات پر تو اپنے جذبات کا اظہار کر سکتے ہیں۔ وہ سکیورٹی سٹیٹ اور ویلفیئر سٹیٹ کا مطلب تو نہیں سمجھ سکتے مگر ووٹ دیتے وقت یہ تو دیکھ سکتے ہیں کہ کس نے ان کے لیے کیا کیا؟ سی ڈی اے پر ان کا بس نہیں چلتا مگر عوامی نمائندوں پر تو چلتا ہے۔ بھارتی فلم کا مشہور ڈائیلاگ لوگ دہراتے ہیں کہ ایک مچھر آدمی کو ہیجڑا بنا سکتا ہے۔ اسی طرح ایک پُل بھی سیاستدان کو اقتدار کے ایوانوں سے گھر پہنچا سکتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>نیا نقشہ، نئی دنیا(عمران یعقوب خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-09-10/52637/96602727</link><pubDate>Thu, 10 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-09-10/52637/96602727</guid><description>اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے گزشتہ جمعہ کے روز دنیا کے موجودہ نقشے میں تبدیلی کے حق میں ووٹ دیا جس کا مقصد براعظوں‘ خطوں‘ علاقوں اور ممالک کے حجم کو زیادہ درست انداز میں دکھایا جانا تھا۔ دنیا کے 164ممالک نے اس تجویز کے حق میں ووٹ دیا لیکن امریکہ وہ واحد ملک تھا جس کو یہ تجویز پسند نہیں آئی اور اس نے اس کے خلاف ووٹ کاسٹ کیا۔ دنیا میں اس زمین کا اب تک جو نقشہ استعمال کیا جاتا رہا وہ ایک مرکیٹر نقشہ (Mercator map) تھا جس میں گول زمین کو ایک سیدھے کاغذ پر دکھایا گیا تھا۔ یہ نقشہ 1569ء میں ایک فلیمش ماہرِ نقشہ سازی جیرارڈس مرکیٹر (Gerardus Mercator) نے تیار کیا تھا‘ اسی لیے اسے مرکیٹر میپ کہا جاتا ہے۔ فلیمش سے مراد بنیادی طور پر بلجیم کا شمالی خطہ ہے جو فلینڈرس یا فلیمش کہلاتا ہے۔ اس خطے کی بڑی آبادی ڈچ (ولندیزی) زبان بولتی ہے۔سب سے پہلے تو جیرارڈس مرکیٹر کو خراجِ تحسین کہ انہوں نے آج سے 457سال پہلے دنیا کا ایسا بہترین اور بالکل درست نقشہ تیار کیا جو اَب تک مستعمل ہے اور اس میں تبدیلی کی ضرورت محسوس کی بھی گئی تو خطوں اور علاقوں کو ان کے حجم کے مطابق دکھانے کے لیے‘ وہ بھی اس لیے کہ مرکیٹر نقشے میں زمین کو ایک قدرے جھکی ہوئی سطح پر دکھایا گیا ہے۔ اسی وجہ سے اس میں خطِ استوا کے قریب واقع ممالک اپنے اصل حجم سے چھوٹے دکھائی دیتے ہیں جبکہ قطبین کے قریب ممالک اپنے اصل حجم سے بڑے نظر آتے ہیں۔ ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق اس خامی کو دور کرنے کی کوشش میں ماہرینِ نقشہ سازی کی ایک ٹیم نے 2018ء میں مساوی رقبے پر مبنی ایک نقشہ تیار کیا تھا‘ جسے انہوں نے ایکوئل ارتھ پروجیکشن کا نام دیا تھا۔ فروری میں افریقی یونین کے 54 رکن ممالک نے اسے اختیار کیا اور کہا تھا کہ یہ تمام براعظموں‘ خصوصاً افریقہ کے حجم کو زیادہ درست انداز میں ظاہر کرتا ہے۔ اندازہ اس بات سے لگائیں کہ امریکہ‘ چین‘ انڈیا‘ جاپان‘ میکسیکو اور یورپ کے کئی علاقے مل کر بھی افریقہ جتنا رقبہ نہیں بناتے۔ یہ سارے ممالک اگر افریقہ کے اندر سمو دیے جائیں تو بھی براعظم افریقہ کا کچھ حصہ بچ رہے گا۔جیرارڈس مرکیٹر کے نقشے پر اس لیے تنقید کی جاتی رہی کہ اس میں افریقہ کو گرین لینڈ کے برابر سائز کا دکھایا جاتا ہے‘ حالانکہ حقیقت میں افریقہ اس سے 14گنا بڑا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے خطِ استوا کے قریب واقع ممالک کی ترقیاتی ضروریات اور صلاحیتوں کو کم کرکے پیش کیا جاتا ہے۔ یہ بات سمجھ میں آتی ہے۔ اس حوالے سے اس کاوش کو ایک اچھی کوشش قرار دیا جا سکتا ہے۔ سوشل میڈیا پر یہ معاملہ بڑے شدومد کے ساتھ اٹھایا جا رہا ہے کہ جاری کیے گئے نئے نقشے میں جموں و کشمیر کے بعض حصوں کو پاکستان اور چین کا حصہ دکھایا گیا ہے۔ اتوار کے روز انڈیا کی وزارتِ خارجہ نے نئے نقشے سے متعلق تنازع پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر اور لداخ کے وفاقی زیرِ انتظام علاقوں کو اقوام متحدہ کے مجوزہ عالمی نقشے میں صرف انڈیا کے سرکاری نقشے کے مطابق دکھایا جانا چاہیے اور کوئی بھی غلط یا گمراہ کن نقشہ قابلِ قبول نہیں ہو گا۔ پاکستان نے جموں و کشمیر کے متنازع خطے کے نقشے سے متعلق انڈیا کی وزارتِ خارجہ کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا کے یکطرفہ اقدامات اور غیر قانونی قبضہ جموں و کشمیر کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتے۔ پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ جموں و کشمیر کا تنازع اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود قدیم ترین حل طلب بین الاقوامی تنازعات میں سے ایک ہے۔ اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق جموں و کشمیر کے حتمی تصفیے کا فیصلہ سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی آزادانہ اور غیر جانبدار رائے شماری کے ذریعے ان کی مرضی کے مطابق ہونا چاہیے۔پھر فلسطین اسرائیل کی توسیع پسندانہ پالیسیوں کا شکار ہے جبکہ اس کے پشت پناہ مکمل جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کسی عالمی‘ اخلاقی قانون اور ضابطے کو خاطر میں نہیں لاتے۔ غزہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان شدید تنازع کا مرکز ہے‘ جسے بین الاقوامی سطح پر حل طلب اور حساس ترین مسئلہ مانا جاتا ہے۔ اسی طرح اقصائے چن اور لداخ کا سرحدی خطہ بھارت اور چین کے درمیان تنازع کا شکار ہیں۔ اقصائے چن ایک بلند و بالا‘ بنجر اور برف پوش علاقہ ہے‘ جو ہمالیہ کے شمال مغرب میں واقع ہے۔ اس پر چین کا کنٹرول ہے لیکن بھارت بھی اس پر دعویٰ رکھتا ہے۔ تجارت کے حوالے سے اہمیت کے حامل بحیرہ جنوبی چین پر چین اپنا کنٹرول بڑھا رہا ہے جبکہ تائیوان کے معاملے کو لے کر چین اور امریکہ کے مابین اختلافات پائے جاتے ہیں جو دونوں ملکوں کے مابین مسلسل کشمکش کا باعث ہیں۔ پھر بحیرہ احمر میں واقعہ جزیرہ نما کریمیا 1954ء میں یوکرین کا حصہ بنا تھا۔ اس وقت روس اور یوکرین دونوں سوویت یونین کا حصہ تھے تاہم روس نے کریمیا پر قبضہ کرنے کے بعد باڑ لگا کر اس کو یوکرین سے الگ کر دیا ۔ یہ تنازع اب تک برقرار ہے۔ اس معاملے کو لے کر یوکرین اور روس کے مابین گزشتہ چار سال سے جنگ جاری ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بھی ابھی تک ختم نہیں ہوئی ۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد کوریا کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ ایک شمالی اور دوسرا جنوبی کوریا کہلایا لیکن دونوں ملک اس بٹوارے سے ناخوش ہیں اور دونوں کے درمیان پورے علاقے پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے کشمکش مسلسل جاری رہتی ہے۔ اس کے علاوہ بھارت کی کئی ریاستیں بھی بھارت سے علیحدگی چاہتی ہیں اور اس حوالے سے آزادی کی تحریکیں زوروں پر ہیں۔کیا ہی اچھا ہوتا کہ دنیا کا نیا نقشہ ان تمام مسائل کو حل کر کے بنایا جاتا جس میں سبھی اقوام کو مستقبل کے حوالے سے مکمل تحفظ حاصل ہوتا۔ جنگیں ختم ہو جاتیں اور بقائے باہمی کے اصول کے تحت تمام ملک اپنے اپنے عوام اور پھر اس سے آگے بڑھ کر پوری انسانیت کے لیے سوچتے‘ لائحہ عمل مرتب کرتے اور ان پر عمل درآمد میں مصروف نظر آتے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ نئے نقشے میں یہ بھی واضح کیا گیا ہوتا کہ دنیا میں مساوی معیشت نافذ ہے اور یہاں رہنے والے اربوں انسان اب کسی معاشی بحران کا شکار نہیں ہیں۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ نئے نقشے میں یہ بھی نمایاں کیا جاتا کہ دنیا کی سب اقوام برابر ہیں اور کسی کو کسی پر کوئی برتری حاصل نہیں ہے اور اب دنیا بھر کے فیصلے کثرتِ رائے سے کیے جاتے ہیں جس کا فوری نتیجہ یہ نکلا ہے کہ دنیا بھر میں جنگیں ختم ہو چکی ہیں اور اب کسی ملک کو کسی دوسرے ملک سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ خطوں اور علاقوں کو ان کے اصل حجم کے مطابق دکھانا تو اچھی بات ہے لیکن کیا ہی اچھا ہوتا کہ دنیا کی آبادیوں کو بھی ان کے حجم کے مطابق وسائل کی فراہمی پر بھی توجہ دی جاتی۔ ان تمام معاملات کے نہ ہوتے ہوئے نیا نقشہ بھی کچھ ادھورا ادھورا سا نہیں لگتا؟</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_58350786.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>صوبے۔ من صوبے … (3)(سعود عثمانی )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-09-10/52638/52284835</link><pubDate>Thu, 10 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-09-10/52638/52284835</guid><description>نئے صوبے یا انتظامی یونٹس بننے کی بحث میں سب سے بڑا مسئلہ بداعتمادی کا ہے۔ عملی مسائل بھی ہیں لیکن بداعتمادی سے کم۔ سیاسی جماعتوں میں وہ جماعتیں جو ملک گیر ہیں اور ان کی سیاست بھی ملکی سطح کی ہے‘ اس وقت اس تجویز کو شبہات کی نظر سے دیکھ رہی ہیں۔ صرف دیکھ ہی نہیں رہیں‘ ان میں مولانا فضل الرحمن تو کھل کر مخالفت کا اظہار بھی کر رہے ہیں۔ آج کل جلسوں‘ پریس کانفرنسوں اور نجی محفلوں میں وہ بہت سے شبہات بیان کر رہے ہیں۔ جو سیاسی جماعتیں بات نہیں کر رہیں یا مصلحت کے تحت خاموش ہیں‘ وہ بھی دراصل شبہات کا شکار ہیں۔ اگر نئے صوبے بننے ہیں تو فیصلہ سازوں کیلئے بہتر راستہ یہ ہو گا کہ وہ کھل کر ان شبہات پر بات کریں اور یہ بداعتمادی کی فضا ختم کریں۔ یہ شبہات کیا ہیں؟ پہلا تو یہ کہ اچانک اس وقت نئے صوبوں کی تجویز دی جا رہی ہے‘ حالانکہ پہلے چار صوبوں کو ایوب خان کے دور میں ون یونٹ بنایا گیا اور بعد میں یحییٰ خان کے زمانے میں ون یونٹ توڑ کر چار صوبے بحال کر دیے گئے۔ اس وقت بھی یہ فیصلے سیاسی نہیں تھے اور اب بھی سیاسی نہیں ہیں۔ ایسے فیصلے عموماً منفی نتائج لے کر آتے ہیں۔ دوسرا‘ کیا اس نئے انتظام سے سیاسی جماعتوں کو کمزور کر کے نظام پر اپنی گرفت مزید مضبوط بنانا مقصود ہے؟ اس نئے انتظام میں صوبے کمزور ہوں گے اور انہیں کنٹرول کرنا آسان رہے گا۔ نیز جو معدنی وسائل اس وقت صوبوں کے اختیار میں ہیں‘ ان کے بارے میں مرکز کے فیصلے زیادہ اثر انداز ہوا کریں گے۔ ایک شبہ یہ ہے کہ اس وقت مطلوبہ قانون سازی کیلئے بڑی جماعتوں کی مدد لازمی ہے‘ جب جماعتیں غیر مؤثر ہو جائیں گی تو اپنی مرضی کی قانون سازی آسان ہو جائے گی۔یہ شبہات اور ان کے علاوہ بھی کئی دیگر اس وقت میڈیا میں روز بیان ہو رہے ہیں۔ خواجہ سعد رفیق نے اس معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ سارا معاملہ نیت کا ہے کہ یہ تجویز کس نیت سے دی جا رہی ہے۔ محسن نقوی صاحب واضح کر چکے ہیں کہ نئے یونٹس بن کر رہیں گے۔ اس کے ساتھ دو باتیں انہوں نے مزید کہی ہیں۔ ایک تو قومی اتفاق رائے کی‘ دوسری صوبائی شناخت نہ چھینے جانے کی۔ اگر یہ دونوں باتیں فیصلہ سازوں کی منشا ہیں تو پھر یہ بے اعتمادی ختم ہونی چاہیے۔ سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر انہیں اس تجویز کے قومی فائدوں کا یقین دلانا ضروری ہے۔ یہ اشد ضروری ہے کہ بڑی جماعتوں کو یہ اعتماد ہو کہ یہ نظام کسی ادارے کو مضبوط کرنے اور سیاسی جماعتوں کو کمزور کرنے کیلئے نہیں لایاجا رہا بلکہ یہ قومی مفاد میں ہے۔ جب تک سیاسی جماعتوں میں یہ یقین پیدا نہیں ہو گا یہ مرحلہ دشوار تر ہوتاجائے گا۔ بہتر ہوگا کہ ایوانوں کے اندر اور باہر‘ یہ اعتماد پیدا کیا جائے۔ کُل جماعتی کانفرنس بلائی جا سکتی ہے اور فرداً فرداً ملاقاتیں بھی ہو سکتی ہیں۔ قومی اتفاق رائے کے بغیر‘ جس کا وزیر داخلہ ذکر کر رہے ہیں‘ کوئی بھی من چاہا فیصلہ خواہ وہ درست نیت ہی سے کیوں نہ ہو‘ کسی بھی طرح مناسب نہیں ہے۔گزشتہ کالم میں عرض کیا تھا کہ بہت سی سیاسی جماعتوں کو اس میں فائدے بھی نظر آئیں گے اور وہ ضرور چاہیں گی کہ نظام کی تبدیلی کے ساتھ ان کی طاقت بڑھے۔ یہ بات انہیں باور کرانے کی ضرورت ہے۔ عرض کیا تھا کہ اصلاً یہ تجویز انصاری کمیشن کی طرف سے آئی تھی اور وہ سب محب وطن اور سیاسی و غیر سیاسی‘ ہر شعبے کے لوگ تھے۔ اس لیے فی نفسہٖ یہ تجویز ہر لحاظ سے بہتر ہے بشرطیکہ ٹھیک نیت اور ٹھیک طریقے سے عمل کیا جائے۔ نظام کی تبدیلی سے ملک کو آگے لے جانا مقصود ہو‘ مقصدعام آدمی کا فائدہ ہو۔ وہ عام آدمی جو ڈیرہ غازی خان کے دور دراز علاقے سے ہر مسئلے کے لیے لاہور کی طرف دیکھنے اور یہاں آنے پر مجبور ہے۔ یہی معاملہ دیگر صوبوں کا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بہت سے مسائل چھوٹے یونٹس بننے سے خود بخود مقامی سطح پر ٹھیک ہو سکتے ہیں۔یہ ایک بڑا سوال ہے کہ اگر ملکی حالات دیکھیں‘ سیاسی انتشار دیکھیں‘ حکومتی بندوبست دیکھیں تو اس وقت نئے صوبوں کی بحث کا کیا جواز ہے۔ تاہم ملک کا نازک دور تو بہت مدت سے چلا آ رہا ہے اور ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ معاشی بے حالی اور قرض پر قرض اٹھا کر نظام چلانے کے انتظام کی سکت بھی اب جواب دے رہی ہے۔ یہ سب تو کافی مدت سے ہے۔ اس وقت دو صوبے باقاعدہ آگ کی لپیٹ میں ہیں۔ گھر میں آگ لگی ہو تو کمروں کی نئی ترتیب اور تعمیر کے بارے میں کون بحث کرتا ہے؟ ترجیحی کام تو گھر بچانا ہے۔ لیکن انہی حالات میں اور اسی انتشار میں یہ بحث چھڑ گئی ہے اور سیاسی حلقوں میں باقی معاملات کو بھلا کر اس مسئلے پر مباحثے ہو رہے ہیں۔ فیصلہ ساز اگر نئے انتظامی یونٹس کا فیصلہ کیے بیٹھے ہیں تو اسی وقت کا انتخاب کیوں کیا گیا؟ اس کی وجوہات بھی سمجھ آتی ہیں۔ مقتدرہ اس وقت عالمی صورتحال میں خود کو مضبوط پوزیشن میں سمجھتی ہے‘ اور یہ حقیقت بھی ہے۔ کئی سیاسی جماعتوں کے منشور میں نئے صوبے بنانا شامل ہے اور ملک کا ایک بڑا طبقہ ان کے حق میں آواز بلند کرتا ہے‘ اس لیے ان کی طرف سے نئے یونٹس کیلئے حمایت کی جا سکتی ہے۔ اس وقت آئین کی رو سے لازمی ہے کہ صوبائی اسمبلیاں دو تہائی اکثریت سے نئے صوبوں کے حق میں قرارداد منظور کریں۔ اس کیلئے آئین میں ترمیم ہو سکتی ہے‘ اگرچہ یہ آسان نہیں ہوگا۔جو سوالات اور شبہات اوپر ذکر کیے گئے‘ ان کے جوابات بھی موجود ہیں۔ ہم یہ کیوں فرض کریں کہ یہ تجویز نیک نیتی سے نہیں دی جا رہی؟ اگر پہلے کچھ غلط فیصلے ہوئے یا چھوٹے صوبوں کی تجویز پر عمل نہیں ہو سکا تو کیا یہ معاملہ ہمیشہ کیلئے دفن کر دیا جائے؟ اب جبکہ نظام کی خرابیاں اور مسائل ہمارے سامنے روز بروز واضح ہو کر آ رہے ہیں‘ کیا اس نظام کو ہمیشہ کیلئے چلتا رہنے دیا جائے جس میں طاقت کچھ طبقات‘ جماعتوں اور گروہوں تک محدود ہے؟ اگر اس وقت عالمی حالات سازگار ہیں تو فائدہ کیوں نہ اٹھایا جائے؟ نیز اگر دیگر ملکوں مثلاً بھارت میں نئے صوبے بنانے سے کوئی مسئلہ نہیں ہوا تو ہمارے یہاں فرضی خوف کیوں پالے جا رہے ہیں؟نئے یونٹس بننے کا ایک اثر یہ ہو گا کہ سیاسی طاقت منقسم ہو جائے گی۔ طاقت کے مراکز چھوٹے ہو جانے سے انہیں سنبھالنا آسان رہے گا۔ نئے صوبوں کے میئر ہوں یا وزرائے اعلیٰ‘ ان کے اختیار کا دائرہ چھوٹا ہی رہے گا۔ مرکز کے مقابلے میں ان کی حیثیت کم رہے گی۔ موجودہ وزرائے اعلیٰ کی حیثیت سے بہت کم۔ رقبے اور آبادی کے اعتبار سے کسی صوبے کی اتنی طاقت ہو گی ہی نہیں کہ وہ مرکز سے محاذ آرائی کر سکے۔ آپ چاروں صوبوں کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں‘ ہر صوبے کی کسی نہ کسی دور میں مرکز سے محاذ آرائیاں رہی ہیں۔ اُس وقت اگر چھوٹا یونٹ ہوتا تو کیا اس محاذ آرائی کی نوبت آتی؟ پنجاب کی مثال پر باقی صوبوں کو قیاس کرلیں۔ پنجاب اس وقت لگ بھگ 13 کروڑ آبادی کا صوبہ ہے۔ فرض کیجیے کہ اس کے چار یونٹس؛ وسطی پنجاب‘ جنوبی پنجاب‘ بہاولپور اور پوٹھوہار بنا دیے جاتے ہیں‘ تو اوسطاً تین کروڑ کی آبادی کا ایک یونٹ بنے گا اور رقبہ بھی کم ہو جائے گا۔ اس لیے اتفاق رائے‘ صوبائی شناخت اور آئین کی پاسداری کے ساتھ نئے صوبے بنیں تو ملک کیلئے یقینا بہتر ہو گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_81278520.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>اَمرِت دھارا!(مفتی منیب الرحمٰن )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-09-10/52639/74282279</link><pubDate>Thu, 10 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-09-10/52639/74282279</guid><description>&#39;&#39;اَمرِت دھارا‘‘ سے مراد آبِ حیات یا ایسی دوا جو ہر مرض کا علاج ہو‘ اسے &#39;&#39;اکسیرِ اعظم‘‘ بھی کہتے ہیں۔ اس کے لغت میں کئی معانی ہیں‘ لیکن یہاں ہماری مراد وہ معنی ہے جو شروع میں لکھ دیا گیا ہے۔ آج کل ہمارے نظام کا &#39;&#39;اَمرِت دھارا‘‘ جنابِ سید محسن نقوی ہیں۔ ویسے منطق میں تو اجتماعِ نقیضین مُحال ہے‘ لیکن اُن کو یہ کمال حاصل ہے کہ وہ مُحال کو بھی ممکن بنا سکتے ہیں۔ وہ بیک وقت فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے بھی چہیتے ہیں اور صدر آصف علی زرداری کے بیٹے بھی کہلاتے ہیں۔ حالانکہ اس وقت دونوں کا ایجنڈا ایک دوسرے کی ضد اور نقیض ہے‘ لیکن نقوی صاحب کو دونوں کا اعتماد حاصل ہے اور رابطہ کاری کے فرائض بھی انجام دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان کرکٹ جس مقام پر پہنچ چکا ہے‘ یہ بھی اُنہی کا کارنامہ ہے۔ اُن کی سربراہی میں پاکستان کرکٹ ہمالیہ کی بلندیوں سے تحت الثریٰ تک جا پہنچا ہے‘ مگر انہوں نے لندن میں پاکستان ہائی کمیشن میں تنقید کرنے والوں کی بابت فرمایا: &#39;&#39;جنہوں نے خود کچھ نہیں کیا‘ ان کی تنقید سے کوئی فرق نہیں پڑتا‘ وہ تنقید سے نہ پہلے گھبرائے ہیں نہ اب گھبراتے ہیں‘ جو لوگ ان پر تنقید کرتے ہیں‘ ان کے آنے سے ہی کرکٹ تباہ ہوئی تھی‘ یہ لوگ کبھی کہتے ہیں: فلاں کو نکال دو‘ اورکبھی کہتے ہیں: فلاں کو کیوں کھلایا؛ البتہ اگر وسیم اکرم جیسے بڑے کھلاڑی بات کریں تو اسے سنجیدگی سے لیتے ہیں‘‘۔ لیکن وسیم اکرم کو تو آج تک پی سی بی نے کوئی بڑا منصب عطانہیں کیا۔ یہ اُن کی خوداعتمادی کی بیّن دلیل ہے‘ کیونکہ اُن کا &#39;&#39;کھونٹا‘‘ مضبوط ہے۔انہوں نے منتخب تاجروں اور صنعتکاروں کے اجتماع میں پہلی بار یہ وعید سنائی کہ نظام منہدم ہو چکا ہے‘ لوگوں کو حیرت ہوئی کہ ایک ایسا شخص نظام کے انہدام کی وعید سنا رہا ہے‘ جواس سے فائدہ اٹھانیوالوں میں شامل ہے۔ پس لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہونا فطری امر ہے کہ موصوف ایک منہدم نظام کا لازمی جُز کیوں بنے ہوئے ہیں۔ مگر جب انہیں اپنے فرمودات کے مابعد اثرات کا ادراک ہوا تو ایک وضاحت جاری کی کہ یہ نظام 79 سال سے بوسیدہ چلا آ رہا ہے‘ اس تعبیر کی رو سے معمار نے روزِ اوّل ہی سے پہلی اینٹ ٹیڑھی رکھی تھی‘ لہٰذا اوجِ ثریا تک دیوار ٹیڑھی ہی جائے گی‘ البتہ انہوں نے تسلی دی کہ وزیر اعظم سمیت موجودہ حکومتی ڈھانچہ اپنی مدت پوری کرے گا۔نئے صوبے بنانے کا طریقۂ کار آئین میں درج ہے‘ مگر اُس کی راہ میں پیپلز پارٹی پوری قوت کے ساتھ حائل ہے‘ کیونکہ اُنہیں صوبۂ سندھ کی تقسیم کسی بھی صورت میں قابلِ قبول نہیں ہے‘ بلکہ بعض نے متنبہ کیا ہے کہ سندھ میں اس کا ردِّعمل بلوچستان سے بھی شدید ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ چولستان کیلئے نئی نہروں کا منصوبہ مقتدرہ کو ترک کرنا پڑا‘ کیونکہ سندھی قوم پرست میدانِ عمل میں آ چکے تھے اور ان مسائل میں پیپلز پارٹی اور سندھی قوم پرست یکجان اور یک زبان ہوتے ہیں۔ دستور کے آرٹیکل 239(4) کی  رُو سے کسی صوبے کی حدود میں ردّوبدل کر کے نیا صوبہ تشکیل دینے کیلئے متعلقہ صوبائی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت سے قرارداد پاس کرنا ہو گی اور پھر اس کی متابعت میں پارلیمنٹ میں آئینی ترمیم کی منظوری درکار ہو گی۔ سرِدست یہ ہمالیہ سرکرنا کافی مشکل ہے۔ مقتدرہ کا اصل مسئلہ اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے قومی محاصل کا ایک بہت بڑا حصہ جو این ایف سی ایوارڈ کے ذریعے صوبوں کو منتقل ہوتا ہے‘ مقتدرہ اُسے رول بیک کرنا چاہتی ہے‘ لیکن صوبوں خاص طور پر صوبۂ سندھ کو اس پر رضامند کرنا عملاً انتہائی دشوار ہے۔ سب کو معلوم ہے کہ وفاق مالی اعتبار سے مشکل میں ہے۔ البتہ کسی حد تک یہ ممکن دکھائی دیتا ہے کہ صوبے مقتدرہ کے دبائو سے نکلنے کیلئے مقامی حکومتوں کو مالی وسائل منتقل کرنے پر وقتی طور پر آمادہ ہو جائیں‘ حالانکہ اس پر بھی قائم رہنا دشوار ہو گا کیونکہ صوبائی وسائل کو مقامی حکومتوں تک منتقل کرنے کیلئے صوبائی حدود کے اندر این ایف سی ایوارڈ کا کوئی نہ کوئی فارمولا بنانا ہو گا۔نئے صوبے بنانے کے حق میں جو دلائل دیے گئے ہیں‘ اُن میں آبادی اور رقبے کو بنیاد بنایا گیا ہے اور دنیا کے ممالک سے تقابل کیا گیا ہے۔ لیکن مخالفین کے پاس ان دلائل کا توڑ بھی موجود ہے‘ مثلاً: بھارت میں صوبۂ اتر پردیش کی آبادی کم وبیش پاکستان کے برابر ہے‘ نیز صوبہ بہار اور مہاراشٹر کی آبادی بھی پاکستان کے صوبۂ پنجاب سے زیادہ ہے۔ اسی طرح بھارتی صوبہ راجستھان رقبے کے اعتبار سے کم وبیش بلوچستان کے برابر ہے۔ بنگلہ دیش ایک قوم اور ایک زبان کا ملک ہونے کے سبب ایک وحدت پر مشتمل ہے اور اس میں صوبوں کا سرے سے کوئی تصور ہی نہیں ہے۔ آبادی اور رقبے کا تفاوت امریکہ کی ریاستوں میں بھی موجود ہے۔ بدقسمتی سے اس وقت پاکستان میں ایسی قومی وملّی قیادت نہیں ہے جو پاکستان کے سارے صوبوں میں یکساں طور پر مقبول ہو اور اُسے عوام کا اتنا اعتماد حاصل ہو کہ وہ پورے ملک کے عوام کو کسی ایک متفقہ فیصلے پر آمادہ کر سکے۔ افغانستان نے شروع ہی سے ہر ضلع کو ولایت کا درجہ دے رکھا ہے‘ لیکن وہاں ہماری طرح کا کوئی صوبائی یا مقامی حکومتوں کا سیٹ اَپ نہیں بلکہ ضلع کے نگرانِ اعلیٰ کو والی کہتے ہیں اور وہ سویلین شخص بھی ہو سکتا ہے‘ اس کیلئے ہماری طرح سروس کیڈر سے ہونا ضروری نہیں ہے لہٰذا پاکستان کو اس پر قیاس نہیں کر سکتے‘ اسی طرح ترکیے بھی غالب اکثریت کے اعتبار سے ایک قوم اور زبان والوں کا ملک ہے‘ لہٰذا وہاں ایسی مشکلات نہیں ہیں‘ جو ہمیں درپیش ہیں۔مزید صوبے بنانے کی صورت میں آئینی ڈھانچے میں کافی ترمیمات درکار ہوں گی‘ سینیٹ کی پوری ساخت بدل جائے گی اور ہو سکتا ہے کہ نئی ساخت میں سینیٹ کو کنٹرول کرنا بھی مشکل ہو جائے۔ قبائلی اضلاع کے پختونخوا میں انضمام کے سبب قومی اسمبلی کی براہِ راست منتخب نشستیں 272 کے بجائے 266 رہ گئی ہیں۔ لیکن صوبے کی آبادی میں اضافے کے بعد این ایف اسی ایوارڈ کا از سرِ نو تعیّن نہیں ہو سکا‘ اس لیے ضم شدہ اضلاع کیلئے بھی وفاق کو اپنے وسائل سے الگ سے دینا ہوتا ہے‘ اسی طرح &#39;&#39;گلگت بلتستان کونسل‘‘ اور آزاد کشمیر کیلئے بھی وفاق کو دینا ہوتا ہے۔ مقتدرہ نے خواہش ظاہر کی کہ بینظیر انکم سپورٹ فنڈ صوبے اپنے وسائل سے دیں‘ لیکن صوبۂ سندھ اس پر بھی راضی نہیں ہوا‘ بلکہ وفاق سے اس کے بجٹ کو بڑھانے کا مطالبہ کیا۔ بی آئی ایس پی کو صدر آصف علی زرداری نے اٹھارہویں آئینی ترمیم میں تحفظ دے رکھا ہے‘ صرف جنابِ عمران خان نے اپنے دور میں اس کو آئینی طور پر ختم کرنے کے بجائے &#39;&#39;احساس کفالت پروگرام‘‘ کے عنوان سے اپنا متبادل پروگرام شروع کیا تھا‘ اُس وقت انہوں نے یہ الزام بھی لگایا تھا کہ بی آئی ایس پی میں بڑی کرپشن ہے‘ لیکن پھر کسی کے خلاف کسی باقاعدہ کارروائی کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ موجودہ اتحادی فارمولے میں بی آئی ایس پی کی سربراہی بھی پیپلز پارٹی کے پاس ہے۔ جنابِ محسن نقوی نے لاہور میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا: &#39;&#39;نئے انتظامی یونٹ بن کر رہیں گے‘ کوئی فرد واحد یا سیاسی جماعت نہیں روک سکتی‘ نظام کی تشکیلِ نو ضروری ہے۔ جنوبی یا شمالی پنجاب بننے سے پنجابی کی شناخت اور سندھ میں نئے صوبے بننے سے سندھی کی شناخت کوئی نہیں چھین سکتا۔ تشکیلِ نو کا مطلب نظام توڑنا نہیں ہے‘ نئی انتظامی اکائیوں کا معاملہ عوام پر چھوڑ دینا چاہیے۔ پنجاب میں لاہور جیسا‘ سندھ میں کراچی جیسا اور خیبر پختونخوا میں پشاور جیسا کوئی اور شہر ہے‘‘۔ انہیں کون بتائے کہ ایسی مثالیں تو دنیا کے ہر ملک میں مل جائیں گی۔ انہوں نے ملفوف انداز میں زرداری صاحب کو چیلنج کرتے ہوئے کہا: &#39;&#39;میں نوکری پر رہوں یا نہ رہوں‘ اب پیچھے نہیں ہٹوں گا‘ جو مرضی کر لیں ممدانی اور صادق خان تو اب آئیں گے‘ ہم تحصیل‘ ضلع اور ڈویژن بنا سکتے ہیں تو صوبہ کیوں نہیں بنا سکتے‘‘۔ کس کی مجال ہے کہ ان سے پوچھے کہ آپ کا نام &#39;&#39;عوام‘‘ کب سے پڑ گیا‘ ممدانی اور صادق خان تو اوپر سے نازل نہیں ہوئے‘ عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوکر آئے ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_61172381.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>