<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>دہشت گردی کے اسباب(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-12/11184</link><pubDate>Tue, 12 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-12/11184</guid><description>اندیشوں کے عین مطابق بنوں میں پولیس چوکی پر دہشت گردی کے حالیہ سنگین وقوعے کی منصوبہ بندی میں بھی افغان دہشت گردوں کی نشاندہی ہوئی ہے۔ اس حوالے سے احتجاجی مراسلہ دینے کیلئے افغان ناظم الامورکو گزشتہ روز دفتر خارجہ طلب کیا گیا تھا۔ افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردانہ حملوں کیلئے مسلسل استعمال کرنے پر پاکستان کے شدید تحفظات کا اعادہ کرتے ہوئے افغان فریق پر یہ بھی واضح کیا گیا کہ پاکستان اس وحشیانہ فعل کے مرتکب افراد کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ افغانستان میں دہشت گردوں کی آماجگاہیں پاکستان سمیت پورے خطے کی سکیورٹی کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ اصولی طور پر دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائی افغانستان کی عبوری حکومت کی ذمہ د اری تھی‘ جو خود یا علاقائی ممالک کے ساتھ مل کر دہشت گردوں کی سرکوبی کیلئے مشترکہ کارروائیاں کرتی‘ مگر ہوا اس کے برعکس۔ نہ صرف یہ کہ افغان رجیم نے دہشت گردوں کے وجود سے انکار کیا بلکہ اُن کے جرائم پر بھی ہمیشہ پردہ ڈالنے کی کوشش کی اور دہشت گردی کے واقعات کے گمراہ کن عذر تراشے۔

اس کا نتیجہ یہ ہے کہ دہشت گردی کا ناسور پھیلتا چلا گیا۔ گزشتہ پانچ برس کے دوران‘ جب سے افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت قائم ہوئی ہے‘ پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا اور دہشت گردانہ حملوں کی شدت بھی بڑھتی چلی گئی۔ دہشت گردی کے ان سبھی واقعات کے ڈانڈے افغانستان سے ملے۔ یہ دہشت گردی میں استعمال ہونیوالا اسلحہ اور گولہ بارود ہو یا دیگر ہتھیار‘ دہشت گردی اور افغانستان بہرحال لازم وملزوم رہے۔ اس اندوہناک صورتحال کے بارے افغانستان کو خبردار کرنے کیلئے حکومتی سطح پر جو کچھ ممکن تھا پاکستان کی جانب سے کیا گیا۔ اعلیٰ سطحی وفود متعدد مرتبہ کابل کا دورہ کر چکے‘ افغانستان میں مقیم دہشت گردوں کے حوالے سے شواہد افغان عبوری حکومت کے حوالے کئے گئے‘ علمائے کرام کو بھی بروئے کار لایا گیا مگر ایک ہمسایہ ملک ہونے کے ناتے افغانستان کی جو ذمہ داریاں بنتی تھیں نہ ان کا لحاظ کیا گیا اور نہ ہی عالمی قواعد وضوابط کی پاسداری کی گئی۔
افغانستان کے حکمرانوں نے بیشتر اوقات پاکستان کی شکایات کا ذمہ دارانہ جائزہ لینے کی زحمت ہی نہیں کی‘ بجائے اس کے مسئلے کو خلط مبحث سے مزید الجھایا گیا۔ اس صورتحال میں پاکستان کے پاس اپنے دفاع میں اقدامات کے سوا کوئی چارہ باقی نہیں بچتا تھا‘ جسے پاکستان نے افغان فریق کی غیر فعالیت کے بعد اختیار کیا۔ فروری کے آخر میں شروع کی گئی ان کارروائیوں کے اہم نتائج سامنے آئے۔ دہشت گردی کے واقعات جو گزشتہ برس میں روز کا معمول بن چکے تھے‘ ان کارروائیوں کے بعد ان میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ خیبر پختونخوا پولیس کی ایک رپورٹ کے مطابق افغانستان میں دہشتگردوں اور ان کے حامیوںکے خلاف آپریشن غضب للحق کے بعد خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں 65 فیصد کمی آئی۔ سکیورٹی صورتحال پر نظر رکھنے والے ایک تحقیقی ادارے کی مارچ کی رپورٹ کے مطابق اس سال فروری میں دہشت گردی کے واقعات میں 132 عام شہری لقمہ اجل بنے‘ جبکہ مارچ میں یہ تعداد 39 تھی‘ یہ 70 فیصد کمی ظاہر کرتی ہے۔
اپریل میں بھی دہشتگردی کے واقعات میں کمی آئی اور ان واقعات میں ہونیوالی اموات میں بھی۔ سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کے جانی نقصان میں بھی نمایاں کمی ہوئی‘ جو مارچ میں 59تھی اور اپریل میں 28‘ یعنی 53 فیصد کمی آئی۔ یہ اعداد وشمار واضح کرتے ہیں کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف شروع کیا گیا آپریشن غضب للحق نتائج خیز ہے اور وقت کی ضرورت بھی۔ پاکستان کو اس کی ضرورت پیش نہ آتی اگر افغان رجیم کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہوتا۔ یہ اعداد وشمار پاکستان کے اس دیرینہ مؤقف کی بھی تائید کرتے ہیں کہ دہشت گردی کے اسباب افغانستان میں ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>آئی ٹی برآمدات(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-12/11183</link><pubDate>Tue, 12 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-12/11183</guid><description>وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت آئی ٹی و ٹیلی کام کے جائزہ اجلاس میں بتایا گیا کہ رواں مالی سال ملک کی آئی ٹی برآمدات 4.5 سے 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے کا تخمینہ ہے۔ مالی سال کے پہلے نو ماہ کے دوران آئی ٹی برآمدات کا حجم تین ارب 39 کروڑ ڈالر تک پہنچ چکا ہے جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 20 فیصد زیادہ ہے۔ گزشتہ مالی سال کے دوران ملک کی مجموعی آئی ٹی برآمدات تین ارب 80 کروڑ ڈالر رہیں جو ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح تھی۔ اس سال چار ارب ڈالر سے زائد برآمدات کا ہدف عبور ہونا اس شعبے کی ترقی کو واضح کرتا ہے اور اس فیلڈ میں موجود بے پناہ پوٹینشل کو بھی اجاگر کر تا ہے۔ پاکستان دنیا میں فری لانسنگ خدمات فراہم کرنے والے ممالک میں سرفہرست ہے۔

لاکھوں نوجوان عالمی کمپنیوں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے قیمتی زرِ مبادلہ ملک میں لا رہے ہیں۔ مگر ان نوجوانوں کو اب بھی بینکاری مسائل‘ ادائیگیوں اور وصولی کی رکاوٹوں‘ ٹیکس پیچیدگیوں‘ انٹرنیٹ کے ناقص نظام اور بین الاقوامی پلیٹ فارمز تک محدود رسائی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ آئی ٹی سیکٹر کو قومی اقتصادی حکمتِ عملی کا مرکزی ستون بنائے۔ اگر جامع منصوبہ بندی‘ پائیدار پالیسیوں‘ تیز رفتار انٹرنیٹ‘ معیاری تکنیکی تعلیم اور سرمایہ کاری دوست ماحول کو یقینی بنایا جائے تو یہ شعبہ آنے والے برسوں میں ملکی معیشت کو حقیقی استحکام فراہم کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>شعبہ صحت کا بحران(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-12/11182</link><pubDate>Tue, 12 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-12/11182</guid><description>12مئی کو نرسوں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے‘ جس کا مقصد اس شعبے سے وابستہ افراد کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہے جو دن رات مریضوں کی دیکھ بھال‘ علاج معالجے میں معاونت اور انسانی جانوں کے تحفظ کیلئے خدمات انجام دیتے ہیں۔ پاکستان کے تناظر میں یہ دن صرف تعظیم و تحسین تک محدود نہیں رہتا بلکہ ایک سنگین بحران کی نشاندہی بھی کرتا ہے۔ پاکستان نرسنگ کونسل کے مطابق ملک میں رجسٹرڈ نرسوں کی تعداد صرف ایک لاکھ 19 ہزار 737 ہے جبکہ موجودہ آبادی اور عالمی طبی معیار کے مطابق یہ تعداد کم از کم 11 لاکھ تک ہونی چاہیے۔یہ فرق ایک ایسے نظامِ صحت کی کمزوری کی علامت ہے جو پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہے۔لاکھوں کی تعداد میں نرسوں کی کمی کے اثرات براہِ راست مریضوں کی جانوں کے تحفظ اور علاج کے معیار پر پڑ رہے ہیں۔

ایک نرس کو بعض اوقات درجنوں مریضوں کی دیکھ بھال کرنا پڑتی ہے جس سے نہ صرف جسمانی و ذہنی دباؤ بڑھتا ہے بلکہ طبی غلطیوں کا بھی احتمال ہوتا ہے۔ نتیجتاً مریضوں کو بروقت اور معیاری دیکھ بھال میسر نہیں آتی۔ اس بحران کی بنیادی وجوہات میں کم تنخواہیں‘ محدود سہولتیں اورطویل ڈیوٹی اوقات شامل ہیں۔ حکومت کو نرسوں کی تنخواہوں اور مراعات میں نمایاں اضافہ‘ نئی بھرتیوں میں تیزی اور تربیتی معیار میں بہتری لانی چاہیے بصورت دیگر طبی نظام مزید دباؤ کا شکار ہو سکتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>چار سو پندرہ روپے فی لیٹر(محمد اظہارالحق)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-05-12/51930/86345803</link><pubDate>Tue, 12 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-05-12/51930/86345803</guid><description>مجھے غریبوں سے نفرت ہے۔ ہم غریب ہمیشہ رنگ میں بھنگ ڈالتے ہیں۔ ہم اَپر کلاس کی خوشیاں نہیں دیکھ سکتے۔ ہم حسد کرتے ہیں۔ ہم تُھڑ دِلے ہیں‘ ہمارے دل چھوٹے ہیں۔ ہم اپنے چھوٹے چھوٹے مسئلوں میں پڑ کر بالائی طبقے کے رنگ میں بھنگ ڈالتے ہیں اور پھر خوش ہوتے ہیں۔ محمد خان جونیجو صاحب نے اپنی وزارتِ عظمیٰ کے دوران افسروں کو بڑی گاڑیوں سے نکال کر چھوٹی کاروں میں بٹھا دیا تھا۔ ایک وفاقی سیکرٹری کا نائب قاصد ہر روز پوچھتا کہ صاحب کے لیے چھوٹی کار کب آئے گی۔ پوچھا گیا تمہیں کیا مسئلہ ہے؟ کہنے لگا: مجھے تو کبھی گاڑی ملنی نہیں‘ یہ چھوٹی میں بیٹھے گا تو خوشی ہو گی۔ہماری تنگ دلی کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ ہم آج کل اُس طبقے کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں جو پٹرول اپنی جیب سے نہیں ڈلواتا۔ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ ان کے پٹرول کی قیمت‘ آخرِکار‘ کن کے کندھوں پر آن پڑتی ہے۔ مفت پٹرول کے &#39;&#39;حقدار‘‘ معمولی لوگ نہیں۔ اگر میں ان لوگوں کی تفصیل بتاؤں تو میرے ایڈیٹر کی قینچی ایکشن لینے پر مجبور ہو جائے گی‘ اس لیے آپ تھوڑے لکھے کو بہت سمجھیں۔ آ ج کی نسل اس فقرے‘ یعنی تھوڑے لکھے کو بہت سمجھیں‘ سے واقف نہیں۔ آج سے پچاس ساٹھ سال پہلے جب گاؤں گاؤں ڈاکخانے نہیں ہوتے تھے‘ ہر گاؤں میں ڈاکیا (پوسٹ مین) ہفتے میں ایک یا دو بار آیا کرتا تھا۔ وہ ناخواندہ دیہاتی عورتوں اور مردوں کو خط پڑھ کر سنایا کرتا تھا اور ان کی طرف سے خطوط لکھتا بھی تھا۔ اٹک چکوال وغیرہ کے زیادہ نوجوان فوج میں ہوتے تھے۔ جب ان کے ماں باپ نے خط میں کوئی ضروری بات لکھوانا ہوتی تھی تو تاکید کے طور پر آخر میں لکھا جاتا تھا &#39;&#39;تھوڑے لکھے کو بہت سمجھیں‘‘۔ آپ بھی تھوڑے لکھے کو بہت سمجھیں اور خود ہی اندازہ لگا لیجیے کہ سرکاری خزانے سے مفت پٹرول حاصل کرنے والے کون لوگ ہیں۔ بہرطور ہم غریب ان سے حسد اور نفرت کرتے ہیں۔ دو دن پہلے جب پٹرول چار سو روپے فی لیٹر سے چار سو پندرہ روپے فی لیٹر ہو گیا تو ہمارا پیمانۂ صبر لبریز ہو گیا۔ ہم سب غریب اکٹھے ہو کر اس مراعات یافتہ طبقے کے پاس گئے۔ پہلے تو ہمیں دیکھ کر یہ لوگ گھبرائے مگر ہم نے یقین دلایا کہ ہم بھی انسان ہیں۔ اس پر اس طبقے کی نمائدگی کرنے والے نے ہمیں بتایا کہ ٹھیک ہے تم انسان ہو مگر یہ مت بھولو کہ انسان دو قسم کے ہوتے ہیں۔ اعلیٰ اور ادنیٰ۔ تم ادنیٰ انسان ہو اور ہم اعلیٰ انسان ہیں۔ اب بتاؤ کہ ہمارے پاس کیوں آئے ہو؟ ہم غریبوں نے جواب دیا کہ آپ حضرات فیصلہ ساز طبقے سے تعلق رکھتے ہیں‘ ہم غریب پٹرول کی مہنگائی سے نہ صرف پریشان ہیں بلکہ جاں بلب کیفیت میں ہیں۔ خدا کے لیے پٹرول کی قیمت کم کیجیے۔ ہم غریبوں کا یہ مطالبہ سن کر مفت پٹرول حاصل کرنے والا یہ طبقہ بہت حیران ہوا۔ ان کا نمائندہ کہنے لگا: ہمیں تو معلوم ہی نہیں کہ پٹرول کی کیا قیمت ہے۔ ہمارا پٹرول تو سرکار کے ذمہ ہے۔ ہم نے بتایا کہ صاحب بہادر! پٹرول چار سو پندرہ روپے فی لیٹر ہے اور ہمارے لیے موت ہے۔ اس پر امرا کے اس نمائندے کوغصہ آ گیا۔ کہنے لگا: تم لوگوں کا مسئلہ یہ ہے کہ چھوٹے چھوٹے معاملات میں پڑے رہتے ہو اور اُن خوشیوں کو بھول جاتے ہو جو بطور قوم تمہیں حاصل ہوئی ہیں۔ یہ دیکھو کہ ایران اور امریکہ کی جنگ ہمارے ملک نے رکوائی۔ یہ کتنا بڑا کارنامہ ہے جو پاکستان نے انجام دیا۔ اس مسرت کے مقابلے میں پٹرول کی مہنگائی کی آخر کیا حیثیت ہے۔ تمہیں تو اس بات پر خوشی منانی چاہیے کہ ایران اور امریکہ کے نمائندے ہمارے ہاں آئے اور تقریباً نصف صدی کے بعد ان دونوں ملکوں کی باہمی بات چیت ہمارے ملک میں ہوئی۔ اب اگر مستقبل قریب میں صدر ٹرمپ بھی یہاں تشریف لاتے ہیں تو ہماری کتنی عظیم الشان کامیابی ہو گی۔ مگر تم لوگ ہمہ وقت شکایات کا انبار لگاتے پھرتے ہو۔ کبھی مثبت پہلو بھی تو دیکھا کرو! اس بات پر بھی غور کرو کہ قوموں کو قربانیاں دینا پڑتی ہیں۔ تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ خواص نے قربانی دی ہو۔ جنگ میں بھی عام سپاہی زیادہ کام آتے ہیں اور پنج ہزاری اور دس ہزاری کمانڈر کم! قربانی ہر قوم کے عوام دیتے ہیں۔ یہاں بھی قربانی تمہی دو گے۔ تمہاری گاڑیاں‘ تمہارے رکشے‘ تمہارے موٹر سائیکل‘ تمہاری سوزوکیاں اگر کھڑی ہو گئی ہیں تو کون سی قیامت آ گئی ہے۔ یاد رکھو! اعلیٰ طبقے کے لوگ جو فیصلے کرتے ہیں ان کی قیمت تم عوام ہی ادا کرتے ہو۔ کیا تم بھول گئے ہو کہ اس سے پہلے بھی قربانی کے بکرے تمہی لوگ بنے ہو۔ ہم تو صرف فیصلے کرتے ہیں۔ ہم نے جب &#39;&#39;افغان جہاد‘‘ کا فیصلہ کیا تھا تو اس &#39;جہاد‘ میں کن کے بچے شہید ہو ئے تھے؟ تمہارے! ہم تو صرف جہاد کے فضائل بتاتے تھے۔ ہم جرنیل تھے یا قاضی! ہمارے بچے تو امریکہ میں تھے۔ ان میں سے کوئی میدان میں گیا نہ شہید ہوا۔ وہ تو آج بھی بڑے بڑے شہروں میں بڑے بڑے بزنس کر رہے ہیں۔ اب ان جرنیلوں اور ان قاضیوں کے نام کیا لینے! تم خود سمجھدار ہو ان طالع آزماؤں اور مذہب کے نام پر تم غریبوں کے بچوں کو مروانے والوں کے نام تمہیں یقیناً معلوم ہیں! تب بھی تم نے قربانی دی! تم غریبوں کے بچے لڑنے گئے اور واپس نہ آئے۔ حیرت ہے کہ سالہا سال سے ذلیل وخوار ہونے کے بعد بھی تم غریب‘ ہم اعلیٰ طبقے سے امیدیں لگا ئے بیٹھے ہو! یہ مستقل مزاجی ہے یا ڈھٹائی؟ ہم اعلیٰ طبقے کے بیٹوں اور بیٹیوں نے تمہارے کتنے ہی بچے اور بچیاں اپنی عفریت نما گاڑیوں کے نیچے کچل دیں۔ ابھی سترہ اپریل کو جس بچے کو لاہور میں کچلا گیا وہ تباہ حال پھیپھڑوں کے ساتھ موت وحیات کی کشمکش میں ہے۔ خود انصاف کی عدالتوں کے مسند نشین مقتولوں کے گھروں میں جا کر بہ زور یا بہ زر &#39;&#39;معافی‘‘ حاصل کرتے ہیں! تم کس برتے پر ہمارے پاس آئے ہو؟ کیا تمہیں نہیں معلوم تمہاری دنیا اور ہے‘ ہماری اور! ہمیں تو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی پٹرول سرکاری کھاتے میں ملتا ہے۔ نہ صرف پٹرول بلکہ سٹاف بھی! تم جانتے ہو صدر صاحب‘ جناب وزیراعظم‘ وزرائے اعلیٰ‘ ایک ایک وزیر‘ ایک ایک مشیر‘ منتخب اداروں کا ایک ایک رکن سرکاری خزانے کو کتنے میں پڑتا ہے۔ تم بیکار میں ہمارا قیمتی وقت ضائع کر رہے ہو۔ کیا تم نے ہمارے اونچے طبقے کے کسی فرد کو کبھی کسی پٹرول پمپ پر گاڑی میں پٹرول ڈلواتے دیکھا ہے؟ یا کسی بازار میں سودا سلف لیتے؟ یا کسی سرکاری ہسپتال میں اپنا مریض دکھاتے؟ یا کسی سرکاری سکول میں اپنا بچہ داخل کراتے دیکھا ہے؟ اگر ابھی تک نہیں جان سکے تو اب جان لو کہ پاکستان ایک نہیں‘ دو ہیں! ایک تمہارا‘ ایک ہمارا! تمہاری زمین اور ہے‘ ہماری اور! تمہارا سورج اور ہے‘ ہمارا اور! ہماری قسمت دو نقطوں والے قاف سے ہے‘ تمہاری کسمت ایک جانور والے کاف سے ہے۔ ہم لینڈ کروزروں‘ ہیلی کاپٹروں اور جہازوں پر سفر کرتے ہیں‘ تم رکشوں‘ ویگنوں‘ بسوں اور اپنی بے وقعت‘ چھوٹی بدہیئت گاڑیوں میں! ہمارے اور ہمارے بچوں کے ساتھ گارڈ ہوتے ہیں‘ تمہارا ساتھ تو تمہارا سایہ بھی نہیں دیتا! ہمارے بچے پیدائش سے پہلے ہی ارب پتی اور کروڑ پتی ہوتے ہیں۔ تمہارا کوئی بچہ رُل کُھل کر‘ دھکے مُکّے کھا کر‘ اعلیٰ تعلیم حاصل کر بھی لے تو نوکری کے لیے بھاگ بھاگ کر آدھا ہو جاتا ہے اور پھر ناامید ہو کر بیرونِ ملک چلا جاتا ہے۔ ہمارے بچے بھی بیرون ملک جاتے ہیں مگر اپنے محلات اور اپنے اپارٹمنٹوں میں قیام کرنے اور اپنے کارخانوں کا معائنہ کرنے! جاؤ! اپنے گھروں کو لوٹ جاؤ! پٹرول سستا نہیں ہو گا۔ مرتے ہو تو مر جاؤ!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_57182973.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ایک لاہوری ولیمے کا حال حویلہ(خالد مسعود خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-05-12/51931/23038106</link><pubDate>Tue, 12 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-05-12/51931/23038106</guid><description>ضروری نہیں کہ ہر بات میں ذریعۂ معلومات کا نام لکھا جائے یا اس شخصیت کو افشا کیا جائے۔ آخر بندے نے بعد میں بھی دوستوں سے ملنا ہوتا ہے۔ پہلے بھی کئی دوست اس بات پر مجھ سے ناراض ہو چکے ہیں جنہیں بڑی مشکل سے منت ترلے کرکے منایا اور آئندہ کیلئے محتاط رہنے کا وعدہ کیا تب جا کر کہیں بات بنی۔ سو یہ عاجز اس سلسلے میں پہلے کی نسبت اب محتاط ہو گیا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ دوستوں کا نام ظاہر نہ کیا جائے۔ میں نہیں چاہتا کہ ان کے ساتھ میرے پرانے تعلقات محض ایک کالم کی نذر ہو جائیں۔ ویسے بھی کالم تو ہر دوسرے دن لکھنا ہوتا ہے جبکہ دوست تو برسوں‘ بلکہ عشروں کی سرمایہ کاری کا ثمر ہوتے ہیں۔ ایک کالم کیلئے زندگی کے اتنے برسوں کی سرمایہ کاری اور وہ بھی اس عمر میں برباد کرنا بھلا کہاں کی عقلمندی ہے؟ ایروں غیروں کی خیر ہے ان کے معاملے میں پرانی عادتوں سے کام چلایا جا سکتا ہے لیکن اب پرانے دوستوں کی خفگی اور ناراضی برداشت کرنے کا حوصلہ کم پڑتا جا رہا ہے اور ان کی تالیفِ قلب اب پہلے کی نسبت کہیں عزیز تر ہو گئی ہے۔پچھلے دنوں ملتان کے ایک سیاستدان کے بیٹے کا لاہور میں ولیمہ تھا۔ قارئین! ملتان کے سیاستدان کے بیٹے کے لاہور میں ولیمے پر یاد آیا کہ ملتان کے اکثر سیاستدان الیکشن ملتان میں لڑتے ہیں لیکن سیاسی مستقبل کی منصوبہ بندی کے نتیجے میں وہ تعلقاتِ عامہ پر مشتمل بڑے فنکشن اور فیملی تقریبات لاہور میں کرتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں اپنی سیاسی حیثیت کو مزید مستحکم کرنے اور لیڈر شپ کی نظروں میں اپنی مضبوط سیاسی بنیادوں کا مظاہرہ کرنے کیلئے وہ لاہور کو ملتان پر ترجیح دیتے ہیں۔ انہیں طاقت کے مرکز میں اپنی پبلک ریلیشننگ کی طاقت کا مظاہرہ کرنا ہوتا ہے اور اس کیلئے ملتان کے مقابلے میں لاہور زیادہ بڑے اور وسیع سیاسی منظر نامے پر مشتمل ہے۔ اپنے تعلقات کی مضبوطی کا بھرپور مظاہرہ لاہور میں ہی ہو سکتا ہے جہاں بہتر میڈیا کوریج اور زیادہ سے زیادہ نامور لوگوں کا اجتماع ان کیلئے مستقبل میں سود مند ثابت ہو سکتا ہے۔ ویسے بھی لاہور سے ملتان کون آئے گا؟ جبکہ با مروت ملتانی اس قسم کا دعوت نامہ ملنے پر ماتھے پر بل اور زبان پر شکوہ لائے بغیر کسی نہ کسی طرح لاہور پہنچ جاتے ہیں۔ ہم نے بارہا دیکھا کہ ملتان میں ہونے والی کسی تقریب میں میزبان نے لاہوری دوستوں کو دعوت نامہ بھیجا تو دس میں سے بمشکل دو لوگ ملتان آئے جبکہ اس کے مقابلے میں ہمارے کسی ملتانی دوست نے لاہور میں تقریب منعقد کی اور اپنے دس ملتانی دوستوں کو دعوت نامہ بھجوایا تو ملتان سے بارہ دوست لاہور پہنچ گئے۔ بات ملتان والوں کی روایت پرستی اور با مروت طبیعت تک پہنچ گئی تاہم فی الحال ہمارا موضوع لاہور میں ہونے والے ملتانی سیاستدان کے بیٹے کے ولیمے میں شریک ہمارے ایک دوست کی بیان کردہ کہانیاں ہیں۔ جو کچھ واقعاتی ہیں اور کچھ حالات و واقعات سے اخذ کردہ ہیں۔ ویسے تو یہ دوست اس ولیمے کے انتظامات‘ کھانے اور مہمانداری کے معاملے میں بھی کافی شاکی تھا اور دورانِ گفتگو کم از کم تین بار تو اس نے اس بات پر چچ چچ کرتے ہوئے افسوس اور مایوسی کا اظہار کیا کہ اتنی بڑی سوشل گیدرنگ میں کھانے کی &#39;&#39;مین ڈش‘‘ مٹن کے بجائے برائلر مرغے کا قورمہ تھا اور ہر میز پر کولڈ ڈرنک کی شکل میں ڈیڑھ لٹر والی بوتل رکھی ہوئی تھی۔ اس دوست نے اس ولیمے کا موازنہ پہلے یوسف رضا گیلانی کے فرزند عبدالقادر کے ولیمے سے کیا تاہم ساتھ ہی اس ولیمے کے سپانسرز کا نام بھی لے دیا اور پھر شاہ محمود قریشی کے بیٹے زین قریشی کے ولیمے کی تعریف کرتے ہوئے حالیہ ولیمے کی مذمت میں دوچار مزید تبصرے کیے جو طوالت کی وجہ سے بیان نہیں کیے جا رہے۔میں نے اپنے اس کہانی باز دوست سے کہا کہ بھائی جان! اب آپ برائلر مرغ اور ڈیڑھ لٹر والی بوتل کے صدمے سے باہر آ جائیں اور سرائیکی والا کوئی &#39;&#39;حال حویلہ‘‘ دیں تاکہ آپ کی وہاں موجودگی سے ہم جیسے فقیر بھی موجودہ صورتحال سے آگاہی حاصل کو سکیں۔ وہ بتانے لگا کہ اس نے اپنی میز پر موجود پی ٹی آئی کے ایک لیڈر سے عمران خان کی طرف سے اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کی مبینہ تجویز کے حوالے سے پوچھا تو وہ کہنے لگا کہ فی الحال اس کے علم میں ایسی کوئی بات نہیں تاہم خان صاحب اور ان کی بہنیں ان کی رہائی کے سلسلے میں پی ٹی آئی کے منتخب نمائندوں کی کارکردگی سے ازحد مایوس ہیں اور ان منتخب نمائندوں کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اس عوامی جم غفیر کو سڑکوں پر لانے میں مکمل طور پر ناکام ہیں جس کا نقشہ خان صاحب اپنے ذہن میں بنائے بیٹھے ہیں۔ پی ٹی آئی کے لیڈر از حد محتاط ہیں اور ورکر باہر نکلنے کے بجائے سوشل میڈیا پر دل کے پھپھولے جلا کر مطمئن ہیں کہ انہوں نے اپنا کام سرانجام دے دیا ہے۔ لوگ آہستہ آہستہ عملی جدوجہد‘ احتجاج اور سڑکوں پر آنے سے خوفزدہ بھی ہیں اور کسی نتیجے سے مایوس بھی ہیں۔ خان صاحب ناراض ہیں کہ ان کے نام پر ووٹ لینے والے مصلحت اور خوف کا شکار ہیں۔ لہٰذا ایسے لوگوں کا جو کسی قسم کی عملی جدوجہد کیلئے راضی نہیں ہیں‘ اسمبلیوں میں موجود رہنے کا کیا جواز ہے ؟ہمارا وہ دوست بتانے لگا کہ کھانے کے دوران اس کی ملاقات ملتان کے ایک ایم پی اے سے ہوئی تو اس نے اس سے متوقع استعفوں کے بارے میں اڑتی ہوئی خبر کے حوالے سے پوچھا کہ کیا وہ اپنی صوبائی اسمبلی کی نشست سے مستعفی ہوگا تو اس نے ایک لمحہ توقف کیے بغیر کہا کہ بھائی جان ! آپ کا کیا خیال ہے میں اتنا بیوقوف ہوں کہ استعفیٰ دے دوں‘ ادھر میں استعفیٰ دوں گا ادھرحکومت وہاں پر ضمنی الیکشن کروا دے گی۔ وہاں سے میرا مخالف جیت جائے گا اور میں گھر بیٹھ جاؤں گا۔ اگلے الیکشنوں میں مجھے کون پوچھے گا ؟ میرے استعفے سے کون سا خان صاحب نے باہر آ جانا ہے۔ جہاں جہاں سے کوئی مستعفی ہوگا وہاں وہاں الیکشن ہو جائے گا۔ پھر وہ رکنِ اسمبلی کہنے لگا کہ میں تو یہ کہہ رہا ہوں‘ باقی لوگ تو یہ بھی نہیں کہیں گے لیکن حال سب کا میرے جیسا ہے۔ پورے ملتان میں شاید صرف ایک رکنِ صوبائی اسمبلی اور ایک سینیٹر کے علاوہ کوئی بھی استعفیٰ نہیں دے گا۔ سب لوگ بظاہر اسمبلیوں کے اندر رہتے ہوئے سیاسی اور جمہوری جدوجہد کا بیانیہ بنائے ہوئے ہیں۔ جنوبی پنجاب کی حد تک تو مجھے گمان ہے کہ جیل میں مقیم شاہ محمود قریشی بھی شاید استعفیٰ نہیں دیں گے۔ میرا دوست کہنے لگا: شاہ محمود قریشی سے مجھے یاد آیا تو میں نے وہاں دو چار دوستوں سے شاہ محمود قریشی کے سیاسی مستقبل کے بارے میں پوچھا تو ایک کائیاں قسم کے سیاستدان نے بتایا۔ میں نے اپنے دوست کی قطع کلامی کرتے ہوئے پوچھا یہ کائیاں سے تمہاری کیا مراد ہے ؟ تو کہنے لگا کائیاں سیاستدان وہ ہوتا ہے جس کے اپنی پارٹی سے‘ اپنے سیاسی لیڈر اور اپنی مقامی اتھارٹیز سے تعلقات یکساں خوشگوار ہوں۔ پھر میرے دوست نے مجھے ڈانٹتے ہوئے کہا کہ درمیان میں دخل نہ دیا کرو اور بات خاموشی سے سنا کرو۔ میں خاموش ہو گیا۔ باتیں سننے کا چسکا بڑی بری چیز ہے۔ کہنے لگا کہ اس کائیاں سیاستدان نے بتایا کہ ہائبرڈ سسٹم میں دراڑ آگئی ہے اور ایک بندے کی فراغت پر ہوم ورک ہو رہا ہے۔ اگر بات بن گئی تو حالیہ سیٹ اَپ میں سے ایک فریق نکل جائے گا اور دوسرا آ جائے گا اور اگر بات نہ بنی تو سب اسی تنخواہ پر کام کرتے رہیں گے۔ پہلی صورت میں ایک اور پیٹریاٹ کا ظہور ہوگا۔ جیل میں بند ایک بندے کی لاٹری نکلنے کا امکان ہے۔ میں نے پوچھا: اس سارے ڈرامے کا پروڈیوسر کون ہے اور ہدایتکار کے فرائض کون سر انجام دے رہا ہے ؟ وہ کہنے لگا: جن باتوں کو لکھنے کی ہمت اور چھپنے کا امکان نہ ہو ان پر نہ تو سر کھپانا چاہیے اور نہ ہی وقت ضائع کرنا چاہیے۔ بندے کو حتی الامکان حد تک لاحاصل معاملوں میں سر گھسانے سے پرہیز کرنا چاہیے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90500073.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>اماں جی!(ڈاکٹر حسین احمد پراچہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-05-12/51932/38439105</link><pubDate>Tue, 12 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-05-12/51932/38439105</guid><description>دس مئی کو جب میں یہ سطور قلم بند کر رہا ہوں تو ساری دنیا میں مدر ڈے منایا جا رہا ہے۔ بڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھتے ہوئے پلٹ کر دیکھتا ہوں تو ماں کے رشتے کے مقابلے میں دنیا کے سارے رشتے ہیچ محسوس ہوتے ہیں۔ ماں قدرت کا انمول تحفہ ہے۔ اس سے بڑی ہستی خدا نے تخلیق نہیں کی۔ علامہ اقبال نے ماں کی بے پایاں شفقت و محبت اور اولاد کیلئے اس کی لازوال فکرمندی کا نقشِ دوام ذیل کے اشعار میں بیان کر دیا ہے۔زندگی کی اوج گاہوں سے اُتر آتے ہیں ہم  محبتِ مادر میں طفلِ سادہ رہ جاتے ہیں ہمدنیا کی ساری مائیں اپنے بچوں پر شفقت و محبت نچھاور کرنے اور اُن کی ذرا سی پریشانی پر تڑپ اٹھنے کے اعتبار سے ایک جیسی ہوتی ہیں۔ مگر اماں جی کو اللہ نے بہت سی ایسی صفات بھی عطا کی ہوئی تھیں کہ انہیں بآسانی ایک مثالی ماں کا رتبہ دیا جا سکتا ہے۔ اماں جی نے بھیرہ کے معزز پراچہ خاندان کی انتہائی قابلِ احترام شخصیت حافظ محمد حیات صاحب کے گھر آنکھ کھولی تھی‘ جو تجارت کے پیشے سے منسلک تھے مگر اُن کا دل زیادہ ترخانۂ خدا میں اٹکا رہتا تھا۔ ہماری نانی محترمہ بھی گہرا دینی شغف رکھتی تھیں اور گھر کی فضا کو اسلامی سانچے میں ڈھالنے کیلئے وہ اپنے شوہر کا ساتھ دیتی تھیں۔ اماں جی کی تربیت اسی دینی ماحول میں ہوئی تھی۔ ہمارے والد محترم مولانا گلزار احمد مظاہری کا لڑکپن سے میلان دینی تعلیم کی طرف تھا مگر ان تاجر پیشہ لوگوں میں کوئی دین کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لے‘ یہ ایک انہونی بات تھی تاہم یہ انہونی ہو کر رہی۔ والد صاحب اللہ کے رنگ میں یوں رنگے گئے کہ انہیں اس رنگ کے علاوہ کوئی اور رنگ جچتا تھا نہ سجتا تھا۔ والد صاحب ایسی رفیقۂ حیات کے متمنی تھے جو دینی سرگرمیوں میں معاون ثابت ہو۔ حافظ صاحب کی منجھلی بیٹی میں دیگر صفات کے علاوہ دینداری کی خوبی بدرجۂ اتم موجود تھی۔ ابا جی کے خاندان نے وہاں رشتے کا پیغام بھجوایا جو تھوڑی بہت رد و کد کے قبول کر لیا گیا۔اماں کا ابّا جی کے ساتھ اور ابّا جی کا جماعت اسلامی کے ساتھ بیک وقت سنجوگ 1940ء کی دہائی کے اواخر میں ہوا۔ یہ 1950ء کے اوائل کا واقعہ ہے۔ ابا جی سرگودھا کے اردو بازار میں کتابوں کی دکان &#39;&#39;مکتبہ گلزارِ اسلام‘‘ چلا رہے تھے۔ دکان پر ہر وقت گاہکوں اور علم دین کے پیاسوں کا ہجوم رہتا تھا۔ سبب اس کا یہ تھا کہ کاؤنٹر کے پیچھے ایک مردِ خلیق مسکراہٹ کے ساتھ ان کے استقبال کیلئے موجود رہتا تھا۔ تب ہمارا گھر دکان کے اوپر تھا۔ یہ شہر کا نہایت پُررونق علاقہ تھا۔ اتنے پُرسکون اور پُررونق شب و روز کے دوران اچانک ایک شب والد صاحب نے گھر آ کر اعلان کیا کہ ہمیں اگلے ہفتے مولانا محترم (مولانا مودودیؒ) کے حکم کی تعمیل میں میانوالی روانہ ہونا ہوگا۔تب میانوالی میں جماعت اسلامی کا کام بہت کم تھا۔ پچاس کے عشرے میں میانوالی جانے والے کو لوگ یوں ہمدردی کے ساتھ دیکھتے کہ جیسے کوئی کالا پانی بھیجا جا رہا ہو مگر والدہ صاحبہ نے ابا جی سے کہا جو آپ کی مرضی وہی ہماری مرضی۔ ہم راضی برضا ہیں۔ اماں جی کوئی حرفِ شکایت زبان پر لائے بغیر اپنے دو چھوٹے بچوں کے ہمراہ اپنے میاں کے ساتھ میانوالی کی طرف چل پڑیں۔ میانوالی کے پانچ چھ سالہ عرصۂ قیام کے بعض واقعات میرے ذہن میں یوں نقش ہیں کہ جیسے یہ کل کی بات ہو۔ میں ان دنوں دوسری جماعت کا طالب علم تھا۔ بشیر نام کا ایک ہم جماعت میرا دوست تھا‘ جوہر شام ہمارے گھر سے کھانا لے کر جاتا تھا۔ ایک روز سکول میں میرا اپنے دوست سے کسی بات پر جھگڑا ہو گیا۔ میں نے غصے میں آ کر بشیر کو ایک تھپڑ رسید کر دیا۔ گھر آ کر مجھے بہت ندامت ہوئی‘ میں سارا دن بہت اداس رہا۔ دل ہی دل میں دعا کر رہا تھا کہ بشیر آ جائے اور معاملہ رفع دفع ہو جائے۔ اس روز جب گہرا اندھیرا چھا گیا تو اماں جی نے پوچھا کہ آج بشیر نہیں آیا۔ میں نے سکول کا سارا واقعہ انہیں سنایا۔ یہ سُن کر انہیں بہت رنج ہوا۔ انہوں نے مجھے بہت سختی سے سمجھایا کہ کسی پر ہاتھ نہیں اٹھاتے اور کسی زیردست پر تو ہاتھ اٹھانے سے عرش کانپ جاتا ہے۔ اسی شام کو میں نے بشیر کے گھر کھانا پہنچایا اور اپنے کیے کی اس سے معافی طلب کی۔جب جماعت اسلامی پر حکومت کی طرف سے کوئی آفت آتی تو ابا جان سب سے پہلے اس کی لپیٹ میں آ جاتے اور انہیں پسِ دیوارِ زنداں بھیج دیا جاتا۔ اس مجموعی آفت کے علاوہ بھی اپنے جوشِ خطابت کی بنا پر آئے دن انہیں پابند سلاسل ہونا پڑتا۔ آزمائش کی ان گھڑیوں میں اماں جی کا وقار اور حوصلہ قابلِ دید اور قابلِ داد تھا۔یہ 1960ء کے لگ بھگ کا واقعہ ہے۔ ایوب خانی مارشل لاء کی دہشت اپنے عروج پر تھی۔ حکومت نے ایک تقریر کی پاداش میں ابا جی کی گرفتاری کے احکامات جاری کرتے ہوئے بھیرہ میں ہمارے آبائی گھر کے صدر دروازے پر بھی یہ نوٹس چسپاں کروا دیا کہ جو شخص مولانا گلزار احمد مظاہری کو پناہ دے گا یا ان کی معاونت کرے گا اسے بھی پکڑ کر حوالۂ زنداں کر دیا جائے گا۔ یہ نوٹس پڑھ کر محلے میں سکوتِ مرگ طاری ہو گیا مگر آفرین ہے ہماری اماں پر کہ ان کے عزم و حوصلے اور صبر و استقامت میں ذرا سی بھی لرزش پیدا نہیں ہوئی۔ انہوں نے ہمیشہ ہماری تربیت میں یہ شعور شامل کیا کہ تمہارے والد گرامی کا سلسلہ قید و بند سر جھکا کر نہیں سر اٹھا کر چلنے والا ہے۔ یہ سلسلۂ قید و بند پھر اگلی جنریشن میںچلتا رہا۔ بھائی ڈاکٹر فرید احمد پراچہ بارہا پسِ دیوار زنداں گئے۔ اماں جی نے نہایت صبر و حوصلے کیساتھ اس آزمائش کو بھی برداشت کیا۔پہلی اولاد ہونے کے ناتے اماں جی مجھ پر اپنی خصوصی شفقت و محبت نچھار کرتیں۔ یوںبھی جو بیٹا آنکھوں سے اوجھل ہو تو اس کیلئے محبت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ میں بالعموم کوچۂ سیاست سے بچ بچا کے ہی چلا کرتا تھا۔ ہماری تو بس &#39;&#39;ٹریک ٹو‘‘ سیاست تھی۔ جب میں 1960ء کی دہائی میں گورنمنٹ کالج سرگودھا میں سیکنڈ ایئر کا طالب علم تھا تو ایک بار کچھ خوش پوش کالج آئے اور مجھے‘ زیڈیو خان اور فاروق گیلانی کو ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مقامی سرکٹ ہاؤس لے گئے۔ سرکٹ ہاؤس تو محض بہانہ تھا جبکہ حوالات ہمارا ٹھکانہ تھا۔ والد صاحب اور بھائی فرید پراچہ تو مہینوں جیل میں رہا کرتے تھے۔ میں تو صرف دو دن حوالات میں رہا مگر میرے بہن بھائیوں نے مجھے بتایا کہ تمہارے حوالات جانے پر پہلی مرتبہ اماں جی بہت مضطرب و پریشان دکھائی دیں۔ دو روز کے بعد ضمانت منظور کرلی گئی۔ گھر پہنچنے پر والدہ صاحبہ بہت خوش ہوئیں۔ انہیں پریشانی یہ تھی کہ حسین کچھ زیادہ باہمت نہیں اس لیے حوالات میں گھبرا نہ جائے۔1994ء میں جب تعطیلات کے بعد میں ان کی دعاؤں کی چھاؤں میں واپس طائف روانہ ہوا تو اس وقت ان کی صحت بالکل ٹھیک تھی۔ وہاں پہنچنے کے چند ہفتے بعد ان کی اچانک بیماری کی اطلاع ملی۔ بچپن کے عزیز دوست ڈاکٹر سجاد حسین پروفیسر آف یورالوجی سروسز ہسپتال لاہور میں ان کے معالج تھے‘ گویا ان کا بیٹا ہی ان کا علاج کر رہا تھا مگر اس کے باوجود میں نے لاہور آنے کا ارادہ کر لیا۔ اس دوران ان کی طبیعت اچانک بہت بگڑ گئی۔ سفری دستاویزات کی عدم تکمیل کی بنا پر میں لاہور کیلئے عازم سفر نہ ہو سکا مگر وہ سفرِ آخرت پر روانہ ہو گئیں۔اماں مجھ سے اکثر کہا کرتیں: سین! (وہ مجھے حسین کی بجائے سین کہہ کر پکارتی تھیں) تم ہمیشہ آنے میں تاخیر کر دیتے ہو‘ جہاں پہنچنا ہو ٹھیک وقت پر پہنچا کرو۔ میں اپنی تمام تر بھاگ دوڑ کے باوجود جب طائف سے لاہور پہنچا تو ان کی تدفین ہو چکی تھی۔ والد محترم  کا انتقال 1986ء میں ہوا جبکہ والدہ 1994ء میں دارِ فانی سے کوچ کر گئیں۔ وہ اچھرہ کے قبرستان میں والد صاحب کی پائنتی دفن ہوئیں۔ چھوٹے بھائی سعید کے ساتھ جب میں قبرستان حاضر ہوا تو مجھے ان کی قبر سے آتی ہوئی صدا سنائی دی: سین! تم حسبِ معمول آج بھی تاخیر سے آئے ہو۔ کوئی بات نہیں‘ آ تو گئے ہو۔تم بعد دفن بھی اگر آؤ تو مرحبا! ؍بازو سرِ سر یر کشادہ رکھیں گے ہم</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_70033906.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>افرطِ زر سے کیسے نمٹا جائے؟(شاہد کاردار)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-kardar-/2026-05-12/51933/79926102</link><pubDate>Tue, 12 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-kardar-/2026-05-12/51933/79926102</guid><description>ہم نے گزشتہ کالم میں بحث کی تھی کہ صرف شرح سود تبدیل کرنے سے افراطِ زر پر اثر نہیں پڑتا کیونکہ پاکستان میں افراطِ زر کے متعدد اور بھی عوامل ہیں۔ سٹیٹ بینک نے ابھی تک دیگر عوامل کو نظر انداز کرکے صرف شرح سود ہی کو مہنگائی روکنے کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے‘ حالانکہ محض شرح سود پر توجہ مرکوز کرنے سے معاشی نمو اور روزگار کو نقصان پہنچتا ہے۔ سٹیٹ بینک کو ایسی حکومت کا بھی سامنا ہے جو بے تحاشا اخراجات کر رہی ہے۔ ان حالات میں مرکزی بینک کو بیک وقت معاشی نمو بڑھانے‘ افراطِ زر کم کرنے اور زرِ مبادلہ کی شرح کو مستحکم رکھنے کے لیے درکار ہتھیار میسر نہیں۔ متعدد ملکوں میں صرف افراطِ زر کو ہی تنہا ہدف نہیں سمجھا جاتا‘ مثلاً چین اور امریکہ کے مرکزی بینک قیمتوں کے استحکام کے ساتھ ساتھ روزگار بڑھانے کو بھی اپنی ذمہ داری میں شامل کرتے ہیں۔ہماری معیشت دباؤ اور مندی کا شکار ہے جس میں اجرت اس تناسب سے نہیں بڑھتی جس اعتبار سے قیمتیں بڑھتی ہیں‘ کیونکہ معاشی ترقی کی رفتار کم ہے اور اس کی نسبت افرادی قوت میں اضافہ کی رفتار زیادہ ہے۔ لہٰذا افراطِ زر سے محنت کش‘ کارکنان زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ زیادہ شرحِ سود کے ذریعے قلیل مدتی غیر ملکی سرمایہ کاری (سٹاک مارکیٹ‘ حکومت کے قلیل مدتی ٹی بلز اور طویل مدتی پی آئی بیز) کو اپنی طرف مائل کیا جا سکتا ہے اور مزید قرض بھی لیا جا سکتا ہے۔ اس سے روپے کی قدر بھی بلند رہتی ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ روپے کی قدر کو اس طریقے سے بلند سطح پر رکھنا بنیادی معاشی اشاریے اور برآمدات کی صلاحیت سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اس طرح سے حاصل کیا گیا سرمایہ غیر یقینی صورتحال کی ہلکی سی جھلک دیکھتے ہی بھاگ جاتا ہے۔ مسئلہ ادائیگی کی صلاحیت کا ہے نہ کہ صرف نقدی کی دستیابی کا۔ ذخائر بڑھانے‘ موجودہ قرض کی ادائیگی اور تجارتی خسارے کو پورا کرنے کے لیے مزید قرض لینا ایک ایسے بوجھ کو مزید بڑھا دیتا ہے جو پہلے ہی تیزی سے سکڑتی ہوئی اور صنعتکاری سے محروم ہوتی ہوئی معیشت کے لیے بہت بھاری بوجھ ہے۔ یہ عمل مستقبل کی ذمہ داریوں کو پورا کرنا مزید مشکل بنا دیتا ہے۔خلاصہ یہ ہے: الف) طلب کے اہم عوامل بشمول مالیاتی خسارہ‘ ترسیلاتِ زر اور بڑی غیر رسمی؍ نقدی معیشت پر شرحِ سود میں تبدیلیوں کا اثر نہیں ہوتا۔ب) لاگت میں اضافے کے عوامل بشمول درآمدی پابندیاں‘ ذخیرہ اندوزی اور اجارہ داریاں بھی شرحِ سود میں رد وبدل سے متاثر نہیں ہوتیں۔ تاہم یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا سٹیٹ بینک کا کوئی کردار نہیں؟ کیا حقیقی منفی شرحِ سود (جو افراط زر سے کم ہو) کا بچت یا افراط زر کی توقعات پر کوئی اثر نہیں ہوتا؟ ظاہر ہے کہ جب شرح سود کم ہو گی تو لوگ بینکوں سے سرمایہ نکال کر سونے‘ ڈالر‘ رئیل اسٹیٹ یا لسٹڈ کمپنیوں میں لگائیں گے جہاں انہیں زیادہ شرح منافع ملنے کی توقع ہو گی۔درحقیقت پاکستان میں بچت کی شرح طویل عرصے سے تقریباً جمود کا شکار ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہوتا ہے کہ سرمایہ مختلف اثاثوں کے درمیان منتقل ہوتا رہتاہے‘ اس میں مجموعی اضافہ نہیں ہوتا۔ تقریباً 45 فیصد گھرانے ایسے بینک اکائونٹس کے حامل ہیں جن پر سود نہیں ملتا اور زیادہ تر وہ لین دین کیلئے ہوتے ہیں۔ باقی 55 فیصد میں سے بڑی اکثریت (70 فیصد سے زائد) بچت اکائونٹس پر مشتمل ہے‘ جو عملاً کرنٹ اکائونٹس کی طرح ہی کام کرتے ہیں۔ سٹاک مارکیٹ میں فعال تاجروں کی تعداد ہر ہفتہ 25 ہزار سے بھی کم ہے۔ حال ہی میں پراپرٹی کے کاروبار میں نمایاں کمی کے بعد اس تعداد میں تھوڑا اضافہ ہوا ہے۔ مہنگائی سے بچاؤ کے طور پر لوگ رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کرتے تھے لیکن اس میں بھی رکاوٹ آگئی کہ ایف بی آر نے ٹیکس ریونیو بڑھانے کے لیے جائیداد کی قیمتوں پر نظرِ ثانی کرکے انہیں بڑھا دیا اور جائیداد کے حقیقی لین دین پر بلند شرحوں سے ٹیکس لگا دیے۔ صرف یہی نہیں بلکہ اگر کوئی خالی پلاٹ کا مالک ہے تو اس پر بھی تصور کر لیا گیا کہ آمدن ہو رہی ہے اور اس تصوراتی آمدنی پر ٹیکس لگا دیا گیا۔اندرونی طلب میں کمی‘ عالمی سیاسی کشیدگی اور ملکی سطح پر زرمبادلہ کے سخت کنٹرول کے باعث اب سرمایہ سونے کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔ یہ صرف اس لیے نہیں ہو رہا کہ لوگ بہتر منافع کے لیے بینکاری نظام سے رقوم نکلوا رہے ہیں‘ اس کے اصل عوامل یہ ہیں: سیاسی عدم استحکام‘ گہری معاشی اور پالیسی غیر یقینی‘ بڑی اور تیزی سے بڑھتی غیر رسمی اور غیر دستاویزی معیشت اور ٹیکس سے بچائی گئی رقوم میں اضافہ۔ یہ بچتیں حقیقی شرحِ سود سے قطع نظر باضابطہ بینکاری نظام میں آتی جاتی رہتی ہیں اور بڑی مقدار میں سرمایہ لاکرز میں چلا جاتا ہے یا ایران جنگ سے پہلے تک دبئی منتقل ہو رہا تھا۔صنعتی شعبے کا بڑا حصہ کئی وجوہات کی بنا پر اپنی کام جاری رکھنے اور مسابقت میں رہنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔ مثال کے طور پر وہ ادارے جنہوں نے عارضی معاشی بحالی سہولت (ٹی ای آر ایف) کے تحت قرض لیا‘ موجودہ شرحوں پر بھاری قرض کی ادائیگی کا بوجھ اٹھا رہے ہیں جبکہ وہ اپنی مکمل استعداد سے کم پر کام کر رہے ہیں کیونکہ ان کے اخراجات (توانائی‘ ورکنگ سرمایہ وغیرہ) حریفوں اور تجارتی شراکت داروں کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ قلیل اور درمیانی مدت میں کیا کیا جا سکتا ہے؟ زیادہ تر ضروری اصلاحات کا تعلق مالی امور (بجٹ کے اخراجات) اور گورننس سے ہے۔ غذائی اشیا کی مہنگائی سے نمٹنے کے لیے دہری حکمتِ عملی درکار ہے: درمیانی مدت میں فصلوں کے پیٹرن کو بدلنا اور پیداوار میں اضافہ کرنا‘ اور فوری طور پر ہمسایہ ممالک کے ساتھ تجارت کھولنا‘ جس سے سمگلنگ کم ہوگی۔ اسی طرح سولر ٹیوب ویلز پر درآمدی محصولات ختم کرنا‘ ہائی سپیڈ ڈیزل پر محصولات اور پٹرولیم لیوی کم کرنا اور کھاد بنانے والی کمپنیوں کو یوریا کی قیمتیں کم کرنے پر مجبور کرنا۔اجارہ داریوں کا خاتمہ کیا جائے‘ صرف تجارت کھول کر نہیں بلکہ درآمدی ٹیکسوں میں نمایاں کمی یا مکمل خاتمے کے ذریعے تاکہ حقیقی مقابلہ بازی کی فضا پیدا ہو۔ سیمنٹ کی صنعت 60 فیصد سے کم صلاحیت پر چل رہی ہے مگر اجارہ داری قیمتوں کے ذریعے 26 فیصد منافع کما رہی ہے۔ کھاد کی صنعت گیس کی فراخدلانہ سبسڈی (بنیادی خام مال) سے فائدہ اٹھاتی ہے حالانکہ 35 فیصد سے زیادہ مجموعی اور 23 فیصد سے زیادہ خالص منافع کما رہی ہے‘ جو ایپل کمپنی کے 22 فیصد منافع سے بھی زیادہ ہے۔ اس سطح پر مقامی کھاد کی قیمتوں کے لیے حکومت اور مسابقتی کمیشن کی سخت نگرانی ضروری ہے۔ مالی خسارہ (سرکاری بجٹ کا) کم کرنا۔ اس کیلئے وفاقی حکومت کو محدود کیا جائے۔ اس ضمن میں درج ذیل اقدامات کیے جانے چاہئیں: وفاقی حکومت کی ڈویژنز (وزارتوں) کو دو تہائی تک کم کرنا‘ زائد عملے کو ایک مشترکہ پول میں رکھنا اور نئی بھرتیوں‘ گاڑیوں کی خریداری اور نئی ترقیاتی سکیموں پر پابندی لگانا اور سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام کا جائزہ لے کر کم ترجیحی یا کم خرچ ہونے والے منصوبوں (جن پر 20 فیصد سے کم خرچ ہوا ہو) کو ختم کرنا کیونکہ اب تک ان پر جو خرچ ہوا وہ عملے کی تنخواہوں‘ گاڑیوں‘ دفاتر‘ بجلی اور ٹیلی فون کے اخراجات ہیں‘ اور صوبائی نوعیت کے منصوبے متعلقہ صوبوں کو منتقل کرنا۔ بجلی کے ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن نظام میں سرمایہ کاری (ڈسٹری بیوشن کے شعبہ میں انتظامی نجکاری کے ذریعے) تاکہ تکنیکی خامیوں اور گورننس کی کمزوریوں کو دور کیا جا سکے۔ ممکن ہے ہمیں یہ ضرورت بھی پڑے کہ ایسے اقدامات کیے جائیں جن کے تحت حکومتی قرض پر افراط زر کی شرح سے کم شرحِ سود پر قرض واپس کیا جائے اور واپسی کی مدت میں توسیع حاصل کی جائے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_78012569.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>آرٹ آف دی ڈیل(رشید صافی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-05-12/51934/88752698</link><pubDate>Tue, 12 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-05-12/51934/88752698</guid><description>بین الاقوامی تعلقات میں پس پردہ ہونے والی گفتگو عام میڈیا کی شہ سرخیوں سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہوتی ہے۔ اس وقت تہران اور واشنگٹن کے درمیان جاری خفیہ سفارت کاری کچھ اسی نوعیت کی ہے۔ اگرچہ عالمی میڈیا کے ذریعے کچھ معلومات باہر آ رہی ہیں‘ لیکن ان کی بنیاد پر کسی خوش فہمی میں مبتلا ہونا قبل از وقت ہو گا۔ کل تک جو امیدیں ایک جامع معاہدے سے وابستہ تھیں‘ فریقین کے حالیہ بیانات نے ان پر مایوسی کے سائے گہرے کر دیے ہیں۔ یہ صورتحال ایک ایسی سفارتی گرہ بن چکی ہے جہاں ایک فریق &#39;&#39;سب کچھ‘‘ حاصل کرنے کی تڑپ میں ہے جبکہ دوسرا &#39;&#39;کچھ بھی‘‘ کھونے پر آمادہ نہیں۔ تہران کا بنیادی مطالبہ تمام محاذوں پر فوری اور پائیدار جنگ بندی ہے تاکہ خطے میں جاری انسانی اور معاشی بحران کو روکا جا سکے۔ ایران محض کاغذ کے ایک ٹکڑے پر دستخط نہیں چاہتا بلکہ وہ مستقبل میں کسی بھی ممکنہ امریکی جارحیت کے خلاف ٹھوس بین الاقوامی ضمانتوں کا متقاضی ہے۔ ایران کے مطالبات کی فہرست میں تیل کی برآمدات پر عائد پابندیوں کا خاتمہ‘ بحری ناکہ بندی کا فوری خاتمہ اور بیرونِ ملک منجمد اثاثوں کی مکمل بحالی شامل ہیں۔ وال سٹریٹ جرنل جیسے بین الاقوامی ذرائع یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ ایران عارضی طور پر یورینیم کی افزودگی روکنے پر تیار ہے‘ تاہم ایرانی حکام ان خبروں کی تردید کر کے اپنی نیوکلیئر پوزیشن کو مذاکرات میں بطور ہتھیار استعمال کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس تمام تر کشیدگی میں پاکستان کا کردار اب بھی کلیدی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ جنگ کے خاتمے کی امریکی تجویز پر ایران کا مفصل جواب پاکستان کے ذریعے ہی واشنگٹن تک پہنچایا گیا‘ جس کی تصدیق خود وزیراعظم شہباز شریف نے بھی کی ہے۔ یہ پاکستان کی متوازن خارجہ پالیسی کا ثمر ہے کہ وہ ان دو عالمی حریفوں کے درمیان ایک قابلِ اعتماد پُل کا کردار ادا کر رہا ہے۔ لیکن تشویشناک موڑ تب آیا جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے اس جواب کو مسترد کر دیا۔ امریکہ کا اصرار ہے کہ ایران یا تو یورینیم افزودگی سے مکمل دستبردار ہو جائے یا پھر کم از کم طویل مدت تک اس عمل کو روکنے کی ضمانت دے۔ واشنگٹن اس کے بدلے مرحلہ وار پابندیاں ہٹانے کا فارمولا پیش کر رہا ہے جبکہ ایران پہلے معیشت کی بحالی اور آبنائے ہرمز جیسے سٹرٹیجک معاملات پر بات کرنا چاہتا ہے۔ یہ ڈیڈ لاک ثابت کرتا ہے کہ بداعتمادی کی خلیج آج بھی اتنی ہی گہری ہے جتنی کہ پہلے دن تھی۔دوسری جانب عالمی برادری کی نظریں صدر ٹرمپ کے دورۂ بیجنگ پر لگی ہوئی ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ چین ایران کا اہم معاشی اتحادی اور اس کے تیل کا بڑا خریدار ہے۔ تاثر تھا کہ ٹرمپ بیجنگ پہنچنے سے قبل مشرقِ وسطیٰ کے اس قضیے کو سلجھا لیں گے تاکہ صدر شی جن پنگ کے سامنے وہ ایک فاتح کے طور پر کھڑے ہو سکیں اور انہیں چینی قیادت کے گلے شکوؤں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے بدھ کی شام بیجنگ پہنچنے کے باقاعدہ اعلان نے اس بحث کو مزید مہمیز دی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا کی خبروںکو دیکھیںتو بظاہر لگتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کا معاملہ پس منظر میں چلا گیا ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ یہ ملاقات محض ایک رسمی نہیں بلکہ عالمی معیشت کے نئے خدوخال طے کرنے کا فورم ثابت ہو گی۔ امریکی صدر بخوبی جانتے ہیں کہ چین کے ساتھ کشیدگی کے باوجود امریکی کمپنیوں کیلئے چینی مارکیٹ ناگزیر ہے۔ جنوری 2025ء کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم 660 ارب ڈالر سے متجاوز ہے جبکہ سرمایہ کاری 260 ارب ڈالر سے زائد ہے۔ صدر ٹرمپ کے ٹیرف میں اضافے کے سخت فیصلوں سے اگرچہ تجارتی خسارہ بڑھا‘ لیکن امریکی کارپوریٹ سیکٹر آج بھی چین کے انفراسٹرکچر اور ہنرمند افرادی قوت کا متبادل تلاش کرنے میں ناکام ہے۔ تناؤ کے باوجود امریکی کمپنیاں چین میں اپنی موجودگی کو ایڈجسٹ کر رہی ہیں۔ صدر ٹرمپ ایک طرف امریکی کمپنیوں کیلئے چینی مارکیٹ میں آسانیاں پیدا کرنا چاہتے ہیں اور دوسری طرف چین سے معاشی رعایتیں حاصل کرنے کے خواہش مند ہیں۔ یہ مقصد اسی صورت حاصل ہو سکتا ہے جب امریکہ چینی مفادات کا لحاظ کرے۔ چونکہ ایران چین کی انرجی سکیورٹی کیلئے اہم ہے اس لیے قوی امکان ہے کہ بیجنگ میں ہونے والی ملاقات کے دوران یا اس سے قبل مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے کا کوئی بڑا گرینڈ ڈیزائن سامنے آ جائے۔مشرقِ وسطیٰ کی فضا پر چھائے بارود کے گہرے بادل اس وقت کسی بڑے فیصلے کے منتظر ہیں اور بساط کے تمام مہرے اب ایک ایسے حل کی تلاش میں ہیں جو خطے کو کھلی جنگ کے دہانے سے نکال کر استحکام کی طرف لے جائے۔ ایران اور امریکہ کے مابین جاری یہ سرد جنگ اگرچہ ابھی کسی منطقی انجام تک نہیں پہنچی لیکن واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان ہونے والی براہِ راست گفتگو اس تعطل کو توڑنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ اس سفارتی منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ امریکی صدر کے دورۂ چین سے محض چند روز قبل ایرانی وزیر خارجہ کا دورۂ بیجنگ ہو چکا ہے‘ جس کے بعد چین کے پاس تہران کا مکمل کیس موجود ہے۔ لیکن یہاں اصل امتحان صدر ٹرمپ کی ڈیل میکنگ صلاحیت کا ہے جس کے ذریعے وہ ہمیشہ &#39;&#39;امریکہ فرسٹ‘‘ کے اصول کو مقدم رکھتے ہیں۔ ٹرمپ بخوبی جانتے ہیں کہ بیجنگ اس وقت ایران کے اہم اتحادی کے طور پر میز پر بیٹھا ہے‘ وہ صورتحال کو اپنے حق میں استعمال کرنے کا ہنر بھی جانتے ہیں۔ وہ چین کو مشرقِ وسطیٰ میں سہولت کاری کا موقع دے کر بدلے میں بیجنگ سے وہ تجارتی مراعات حاصل کرنا چاہیں گے جن کا مطالبہ وہ پچھلے کئی برسوں سے کر رہے ہیں۔ اس تناظر میںدیکھا جائے تو صدر ٹرمپ کیلئے یہ محض ایک سیاسی ملاقات نہیں بلکہ ایک تزویراتی سودے بازی ہے۔ وہ چین پر یہ واضح کر چکے ہیں کہ اگر بیجنگ خطے میں اپنے توانائی کے مفادات اور ایرانی تیل کی سپلائی کا تحفظ چاہتا ہے تو اسے تہران کو ایٹمی پروگرام اور علاقائی مداخلت پر ایسی ضمانتوں پر مجبور کرنا ہو گا جو واشنگٹن کیلئے قابلِ قبول ہوں۔ ٹرمپ براہِ راست جنگ کے بجائے چین کے کندھے کو استعمال کر کے ایران کو ایک ایسے طویل مدتی معاہدے میں جکڑنے کی کوشش کریںگے جس سے امریکہ کی سکیورٹی ترجیحات پوری ہوتی ہوں۔ یوں ٹرمپ نہ صرف مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجوں کے اخراج کا راستہ ہموار کریں گے بلکہ اپنی معیشت کیلئے چین سے بڑے تجارتی فوائد بھی سمیٹیں گے۔ یہ ان کی سیاست کا وہ خاصا ہے جہاں وہ امن کو ایک ایسی پروڈکٹ کے طور پر بیچتے ہیں جس کی قیمت دوسرے فریق کو چکانا پڑتی ہے۔ قوی امید ہے کہ سفارت کاری کی یہ پیچیدہ راہداری بالآخر امن کی روشن شاہراہ پر نکلے گی‘ جہاں مفادات کے ٹکراؤ کے بجائے تعاون کی نئی راہیں ہموار ہوں گی۔ اگر بیجنگ میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان برف پگھلتی ہے تو اس کا سہرا جہاں چین کی ثالثی کو جائے گا وہاں اسے ٹرمپ کی &#39;&#39;آرٹ آف دی ڈیل‘‘ کی فتح بھی تسلیم کیا جائے گا اس لیے بیجنگ میں دو بڑے رہنماؤں کی ملاقات ایک ایسی دستاویز لکھ سکتی ہے جو آنے والی دہائیوں تک مشرقِ وسطیٰ اور عالمی معیشت کا رخ متعین کرے گی۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/222_48272610.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>چوٹی کا عالم فاضل(نسیم احمد باجوہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/naseem-ahmed-bajwa/2026-05-12/51935/17006501</link><pubDate>Tue, 12 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/naseem-ahmed-bajwa/2026-05-12/51935/17006501</guid><description>آج ہم بات کریں گے ایک ایسی شخصیت کی جو علامہ اقبال اور علامہ عنایت اللہ مشرقی کے بعد بجا طور پر علامہ کہلائی۔ وہ 1900ء میں Lviv (یوکرین) کے اُس گھرانے میں پیدا ہوئے جو آسٹریا؍ ہنگری کی شہریت رکھتا تھا اور مذہباً یہودی تھا۔ وہ عام یہودی خاندان نہ تھا بلکہ ان کے آبائو اجداد میں کئی ایسے ربی بھی شامل تھے جن کا مقام یہودیت کے بڑے علما جیسا تھا۔ انہوں نے آسٹریا کے دارالحکومت ویانا کی یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی۔ (اگر آپ کو یورپ کا کوئی عظیم الشان اور خوبصورت شہر دیکھنے کا موقع ملے تو آپ ویانا کو ضرور چنیں)۔جب وہ مشرقِ وسطیٰ کے تعلیمی دورے پر گئے تو اسلام کا مطالعہ کرنے کے بعد دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے۔ 1926ء میں انہوں نے اپنا پیدائشی مذہب یہودیت ترک کرکے اسلام قبول کر لیا۔ اس بلند پایہ عالم و فاضل شخصیت نے اپنا پرانا نام Leopold Weiss ترک کرکے محمد اسد اختیار کیا اور ایسی بے مثال کتابیں لکھیں جن میں سرفہرست قرآن پاک کا عربی سے انگریزی میں ترجمہ The Message of the Quran ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں قیام کے دوران انہوں نے عربی زبان پر بھی عبور حاصل کیا۔ جن اہم عرب شخصیات سے ان کے دوستانہ تعلقات قائم ہوئے ان میں سعودی عرب کے شاہی خاندان کے افراد بھی شامل تھے۔ مشرقِ وسطیٰ کے بعد وہ ہندوستان آئے۔ یہاں ان کا قیام لاہور‘ سری نگر‘ ایبٹ آباد اور ڈلہوزی میں رہا۔ (ڈلہوزی مری‘ شملہ اور نینی تال کی طرح ایک مشہور تفریحی مقام ہے)۔جون 1932ء میں محمد اسد کراچی پہنچے اور وہاں سے لاہور آئے جہاں ان کی علامہ اقبال سے کئی ملاقاتیں ہوئیں۔ اقبالؒ نے نہ صرف انہیں ہندوستان میں قیام کرکے نئی اسلامی مملکت پاکستان کی نظریاتی بنیادوں کو علمی اور عالمانہ خطوط پر استوار کرنے پر آمادہ کیا بلکہ صحیح بخاری کے چند ابواب کا انگریزی ترجمہ کرنے کی ذمہ داری بھی سونپی۔ قائداعظم نے قیامِ پاکستان کے بعد اسلامی حکومت کے سیاسی‘ معاشی اور معاشرتی پہلوؤں پر تحقیق کے لیے جو ادارہ قائم کیا علامہ محمد اسد کو اس کا ڈائریکٹر مقرر کیا گیا۔ جب وزیراعظم لیاقت علی خان نے 1947ء میں انہیں سعودی عرب حکومتِ پاکستان کی نمائندگی کے لیے بھیجنے کا فیصلہ کیا تو مسئلہ یہ پیش آیا کہ علامہ کے پاس کوئی سرکاری سفری دستاویز موجود نہ تھی۔ اس مشکل کو حل کرنے کے لیے اُن کے نام پر ایک پاسپورٹ جاری کیا گیا جو پاکستان کا پہلا پاسپورٹ تھا۔ کمال یہ ہے کہ پاکستان کا پہلا سرکاری پاسپورٹ اس شخصیت کو جاری ہوا جو بلاشبہ ملک کے سب سے زیادہ تعلیم یافتہ افراد میں شمار ہوتی تھی۔ علامہ اسد نے یہ پاسپورٹ 1992ء میں اپنی وفات تک استعمال کیا۔سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان گہرے برادرانہ تعلقات قائم کرنے میں علامہ اسد کے کردار کی غیر معمولی اہمیت ہے۔  اسلام قبول کرنے سے پہلے بھی وہ صہیونیت کے مخالف اور فلسطین پر فلسطینیوں کے دو ہزار سالہ حق کے حامی تھے۔ آج اس قوم نے اپنے جن عظیم محسنوں کو فراموش کر دیا ہے ان میں علامہ محمد اسد بھی شامل ہیں۔ اُن کی زندگی پر ایک فلم بھی بنائی گئی جس کا نام تھا &#39;&#39;روڈ ٹُو مکہ‘‘ یعنی مکہ مکرمہ کی طرف جانے والی شاہراہ۔ یہ نام اُن کی اُس تصنیف سے مستعار ہے جس میں انہوں نے اپنی قبولِ اسلام کی داستان قلمبند کی ہے۔ علامہ اسد نے دو شادیاں کیں۔ پہلی بیوی Elsa Schiemann تھیں جنہوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد منیرہ اسد کا نام اختیار کیا۔ یہ شادی1927ء سے 1952ء تک رہی۔ دوسری اہلیہ حمیدہ اسد تھیں۔ ان کی واحد اولاد ایک بیٹا طلال تھا۔ 23فروری 1992ء کو علامہ محمد اسد نے Mijas (سپین) میں وفات پائی اور وہیں آسودۂ خاک ہوئے۔علامہ محمد اسد ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔ وہ صحافی‘ سیاح‘ مصنف‘ مترجم‘ کئی زبانوں کے ماہر‘ سیاسی مفکر اور سفارتکار تھے۔ وہ سات نہایت عمدہ کتابوں کے مصنف اور قرآن پاک کے مترجم تھے۔ میرے علم کے مطابق (اور کاش یہ بات غلط ثابت ہو) ان  کی ان سات کتابوں میں سے شاید ایک بھی پاکستان کی کسی یونیورسٹی کے بی اے یا ایم اے اسلامیات کے نصاب میں شامل نہیں۔ جس قوم نے ڈاکٹر حمید اللہ جیسی شخصیت کو فراموش کر دیا‘ جنہوں نے نصف صدی پیرس میں صرف اسلامی موضوعات پر تحقیق‘ تصنیف اور ترجمے میں گزار دی‘ وہ علامہ محمد اسد کو کیسے یاد رکھ سکتی ہے؟جنوری 1957ء یا 1958ء کی بات ہے‘ پنجاب یونیورسٹی لاہور کے زیرِاہتمام ایک بین الاقوامی اسلامی‘ خالصتاً عالمانہ کانفرنس منعقد ہوئی۔ اُن دنوں میں ایم اے او کالج لاہور کی یونین کا صدر تھا۔ وائس چانسلر نے یونیورسٹی انتظامیہ کی معاونت کے لیے جن طلبہ و طالبات کو رضاکارانہ طور پر تین دن خدمات انجام دینے کے لیے منتخب کیا میں بھی ان میں شامل تھا۔ ان تین دنوں میں جن 24عالم‘ فاضل اساتذہ اور دانشوروں نے تحقیقی مقالے پیش کیے‘ ان میں علامہ محمد اسد سرفہرست تھے۔ میری خوش قسمتی کہ مجھے ان سے تین مرتبہ ملنے اور مختصر گفتگو کا موقع ملا۔ دوپہر کے کھانے کے وقفے میں یا شام کو کانفرنس کی کارروائی ختم ہونے کے بعد میرے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ جرمن اور پولش اُن کی مادری زبانیں تھیں۔ 13برس کی عمر تک وہ عبرانی اور قدیم زبان Aramaic سیکھ چکے تھے جبکہ 25برس کی عمر تک انہوں نے انگریزی‘ فرانسیسی‘ فارسی اور عربی میں بھی لکھنا اور پڑھنا سیکھ لیا تھا۔ جب وہ سعودی عرب گئے تو زیادہ وقت بدو قبائل کے ساتھ گزارا اور سعودی مملکت کے بانی شاہ عبدالعزیز السعود کے ساتھ گہری دوستی قائم کی۔ ابنِ سعود کے حکم پر ہی انہوں نے قسطنطنیہ جا کر یہ معلومات اکٹھی کیں کہ بغاوت کرنے والے اخوان کی مالی معاونت کون کر رہا ہے۔دوسری عالمی جنگ شروع ہوئی تو ہندوستان کی برطانوی حکومت نے جرمن نسل سے تعلق رکھنے کی انہیں یہ &#39;&#39;سزا‘‘ دی کہ انہیں پانچ برس تک جیل میں رکھا گیا۔ قیامِ پاکستان کے بعد وہ وزارتِ خارجہ کے مشرقِ وسطیٰ ڈویژن میں ڈپٹی سیکرٹری مقرر ہوئے اور اقوامِ متحدہ میں پاکستان کی نمائندگی بھی کی۔ انہوں نے قرآن کا جو ترجمہ 17برس کی عالمانہ تحقیق کے بعد مکمل کیا‘ وہ Marmaduke Pickthall اور عبداللہ یوسف علی کے تراجم کے ہم پلہ سمجھا جاتا ہے۔ اسلام کی تشریح اور تفسیر کرتے ہوئے وہ اجتہاد‘ عقل اور فہم کو اپنی رہنمائی کا بنیادی اصول قرار دیتے تھے۔ علامہ اسد کی خدمات اور انہیں &#39;&#39;مذاہب کے درمیان پل تعمیر کرنے والا‘‘ تسلیم کرتے ہوئے ویانا میں اقوامِ متحدہ کے دفاتر کے قریب ایک راہداری کا نام Muhammad Asad Platz رکھا گیا ہے۔یہ مضمون دو ایسی باتوں پر ختم ہوگا جو مضمون نگار کے لیے باعثِ خوشی ہیں۔ پہلی یہ کہ 23مارچ 2013ء کو حکومتِ پاکستان نے ان کے اعزاز میں یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا تھا۔ دوسری یہ کہ 1957ء میں علامہ اسد اپنی اہلیہ کے ساتھ جوہر آباد (خوشاب) میں چودھری نیاز علی صاحب کے گھر گئے اور وہاں چند روز قیام کیا۔ جوہر آباد میرا دوسرا آبائی گاؤں ہے کیونکہ میرے والدین نے وہاں اپنا گھر تعمیر کیا تھا جس میں وہ پچیس برس مقیم رہے۔ میرا ایک بھائی اور والدہ محترمہ وہیں ابدی نیند سو رہے ہیں۔ میں خوش ہوں کہ حال ہی میں جب جوہر آباد گیا تو چودھری نیاز علی مرحوم کے گھر جانے کا موقع بھی ملا اور مجھے اس کمرے میں بیٹھنے کا اعزاز بخشا گیا‘ جہاں علامہ محمد اسد اور ان کی اہلیہ نے چند دن قیام کیا تھا۔ جوہر آباد کے لیے اس سے زیادہ قابلِ فخر بات اور کیا ہو سکتی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_32258580.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>