<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>امن کوششیں اور چیلنجز(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-07/11255</link><pubDate>Sun, 07 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-07/11255</guid><description>امریکہ اور ایران میں گزشتہ ہفتے امن معاہدے میں پیش رفت کی اطمینان بخش خبریں آ رہی تھیں کہ اچانک صورتحال تبدیل ہوئی اور یکم جون سے ایک بار پھر دونوں جانب سے حملوں کی خبریں آنے لگیں۔ اس ہفتے کا کوئی دن نہیں گزرا جب دونوں ملکوں میں حملوں کا تبادلہ نہ ہوا ہو۔ یہ منظر نامہ سنگین اورتشویش کا باعث ہے ۔ اس وقت جب طرفین معاہدے کی پیش رفت کی تصدیق کررہے تھے اور اعلیٰ سطح پر اس کی تصدیق کی جارہی تھی‘ دوبارہ کشیدگی کی نوبت نہیں آنی چاہیے تھی۔ امریکہ اور ایران کو خود اس بات کی فکر ہونی چاہیے کہ جب متنازع امور میں بات اصلاح کی جانب بڑھنے لگی ‘ جوہری معاملات پر اتفاقِ رائے کی باتیں بھی کی جارہی تھیں اور ایران بھی اپنی شرائط تسلیم کر لیے جانے کے اشارے دے رہا تھا تو آخر کیا وجہ ہے کہ معاملات بننے کے بجائے بگڑنے لگے۔ یہ صورتحال امریکہ‘ ایران اور یقینی طور پر خطے کے ممالک اور باقی دنیا کیلئے بھی تشویشناک ہے۔ امریکہ اور ایران میں امن کیلئے پاکستان کی کوششیں اظہر من الشمس ہیں؛ چنانچہ دونوں ملکوںمیں ایک بار پھر کشیدگی پاکستان کیلئے بھی پریشانی کا باعث ہے۔

اس پس منظر میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا حالیہ دورۂ ایران خاص اہمیت کا حامل ہے ۔ وزیر داخلہ اور خود چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورے اس امر کا ثبوت ہیں کہ پاکستان ایران امریکہ کشیدگی کے خاتمے کیلئے کس خلوص ‘ جذبے اور لگن کیساتھ متحرک ہے ۔ یقینی طور پر ان کوششوں کے نتائج بھی سامنے آ رہے ہیں۔سب سے بڑی کامیابی تو یہی ہے کہ امریکہ‘ ایران جنگ بندی پر قائل ہو گئے اور بات چیت کا سلسلہ شروع ہوا۔ جنگ بندی کااحترام بھی دونوں فریقوں کی جانب سے جاری رہا تاہم یکم جون سے اب تک‘ ہفتہ بھرمیں جس طرح کشیدگی کے واقعات سامنے آئے ہیں اس پر پاکستان سمیت ان سبھی حلقوں کو تشویش ہے جو اس جنگ کا خاتمہ اور امریکہ اور ایران میں اتفاقِ رائے کی کوئی ایسی صورت دیکھنا چاہتے ہیں جو یقینی بنا سکے کہ آئندہ اس کشیدگی کا خاتمہ ہو گا‘ ملکوں کی خود مختاری کا احترام کیا جائے گااور خطے میں صلح اور امن کا ماحول قائم ہو گا۔ لیکن امریکہ اور ایران میں اعتماد کا فقدان اس پیش رفت میں بڑی رکاوٹ ہے۔ ایران اپنے منجمد اثاثوں سے خاطر خواہ رقوم حاصل کر نا جبکہ امریکہ ایران کی افزدوہ یورینیم کی منتقلی چاہتا ہے۔ ان معاملات میں کوئی بھی پیشرفت اسی صورت ممکن ہے جب فریقین ایک دوسرے پر اعتماد کریں۔ ایران اور امریکہ تاریخی طور پر باہمی عدم اعتماد کے بحران کا شکار ہیں۔
دونوں میں ایک طویل مدت سے براہِ راست رابطے کا کوئی ذریعہ نہیں اور دونوں کی علاقائی اور عالمی پالیسی اکثر ایک دوسرے سے متصادم رہی ہے؛چنانچہ عدم اعتماد کی وجوہ تو اپنی جگہ موجود ہیں لیکن موجودہ صورتحال میں اس کیفیت سے نکلنا ناگزیر ہے۔ پاکستان دونوں فریقوں میں ثالثی اور پیغام رسانی کا فریضہ خوش اسلوبی سے انجام دے رہا مگر امن کوششوں کی کامیابی کا تقاضایہ ہے کہ دونوں ملکوں میں اعتماد کی ٹھوس صورتیں موجود ہوں۔ ظاہر ہے یہ یکایک ہونیوالی چیز نہیں لیکن یہاں تک پہنچنے سے پہلے ایک دوسرے کے اعتماد کو ٹھیس پہنچانے والے اقدامات سے اجتناب کی ضرورت ہے۔ امریکہ اور ایران میں نئی کشیدگی اس تناظر میں بھی خطرناک ہے کہ یہ اعتماد کی بحالی کی ان کوششوں کیلئے نقصان دہ ہو سکتی ہے جو جنگ بندی اور امن مذاکرات کی صورت میں سامنے آئی ہیں۔
دونوں ملکوں کو بہرصورت تحمل کا مظاہرہ کرنا ہو گا تا کہ مفاہمت کے قریب پہنچنے میں آسانی ہو۔ اس سلسلے میں پاکستان کا بھر پور کردار دونوں ملکوں کیلئے امن کا پل تعمیر کرنے میں کافی مددگار ہے تاہم پائیدار امن کیلئے امریکہ اور ایران کو پورے عزم کے ساتھ آگے بڑھنا ہو گا۔امریکہ اور ایران میں پائیدار امن کا قیام دونوں ملکوں کی اپنی بڑی ضرورت ہے اور خطہ بھی اس کشیدگی کے بھیانک اثرات سے خلاصی چاہتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>گلگت بلتستان ،عوامی فیصلے کا دن(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-07/11254</link><pubDate>Sun, 07 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-07/11254</guid><description>آج گلگت بلتستان میں وہ میدان سج رہا ہے جس کا اس خطے کے عوام کو مہینوں سے انتظار تھا۔ گلگت بلتستان اسمبلی کے چوتھے عام انتخابات کیلئے آج24 جنرل نشستوں پر پولنگ ہو رہی ہے اور 9 لاکھ 63 ہزار 34رجسٹرڈ ووٹر اپنا حقِ رائے دہی استعمال کرتے ہوئے آئندہ پانچ برس کیلئے اپنے نمائندوں کا انتخاب کریں گے۔گلگت بلتستان اسمبلی کے پہلے عام انتخابات نومبر 2009ء میں منعقد ہوئے تھے۔ اس کے بعد تقریباً سترہ برس کے عرصے میں مختلف سیاسی جماعتوں کی تین حکومتیں اپنی آئینی مدت پوری کر چکی ہیں۔ یہ حقیقت ملک کے اس حصے میں جمہوری تسلسل اور سیاسی شعور کی عکاسی کرتی ہے۔ گلگت بلتستان پاکستان کا محض ایک انتظامی خطہ نہیں بلکہ قومی سلامتی‘ اقتصادی ترقی اور علاقائی رابطوں کے تناظر میں غیرمعمولی اہمیت کا حامل علاقہ ہے۔ یہ چین کی جانب سے پاکستان کا صدر دروازہ ہے اور پاک چین اقتصادی راہداری کا مرکزی راستہ بھی یہی خطہ ہے۔ قدرت نے اس علاقے کو بے شمار نعمتوں سے نواز رکھا ہے۔ دنیا کی بلند ترین چوٹیوں میں سے پانچ اسی خطے میں واقع ہیں جو دنیا بھر کے سیاحوں اور کوہ پیماؤں کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہیں۔ اپنے بے پناہ قدرتی حسن کی وجہ سے یہ خطہ پاکستان کی سیاحت کا چہرہ سمجھا جاتا ہے۔

ہر سال لاکھوں سیاح اس علاقے کا رخ کرتے ہیں اور قومی معیشت کو اربوں روپے کا ریونیو حاصل ہوتا ہے۔ اس خطے کی ایک اور نمایاں یہاں کے امن پسند‘ محنتی اور تعلیم دوست عوام ہیں۔ ملک میں شرح خواندگی کے اعتبار سے یہ خطہ ممتاز مقام رکھتا ہے۔ فرقہ وارانہ ہم آہنگی‘ باہمی احترام اور سماجی نظم و ضبط کے ایسے مظاہر یہاں دیکھنے کو ملتے ہیں جو ملک کے دیگر علاقوں کیلئے بھی مثال بن سکتے ہیں۔ تاہم بے پناہ قدرتی وسائل‘ جغرافیائی اہمیت اور انسانی صلاحیتوں کے باوجود گلگت بلتستان آج بھی متعدد بنیادی مسائل سے دوچار ہے۔ بے روزگاری تعلیم یافتہ نوجوانوں کا سب سے بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ اسی طرح بنیادی انفراسٹرکچر‘ سڑکوں‘ صحت کی سہولتوں اور جدید تعلیمی اداروں کی کمی بھی دیرینہ مسئلہ ہے۔ یہ حیران کن بات ہے کہ اتنے اہم خطے میں آج بھی کوئی میڈیکل اور انجینئرنگ یونیورسٹی موجود نہیں۔ پینے کے صاف پانی کی فراہمی‘ شہری سہولتوں کی کمی اور دور دراز علاقوں میں بنیادی خدمات تک رسائی کے مسائل بھی عوام کیلئے مستقل دردِ سر بنے ہوئے ہیں۔
سب سے بڑا خطرہ ماحولیاتی تبدیلیوں کا ہے۔ گلگت بلتستان اس وقت موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا براہِ راست سامنا کر رہا ہے۔ گلیشیرز کے تیز پگھلاؤ‘ گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے‘ سیلابوں‘ لینڈ سلائیڈنگ اور موسمی بے ترتیبی نے مقامی آبادی کی زندگیوں کو متاثر کیا ہے۔ ہر سال قیمتی جانوں‘ گھروں‘ فصلوں اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ نئی منتخب حکومت انتخابی وعدوں سے آگے بڑھ کر ان مسائل کیلئے عملی اقدامات کرے گی‘ عوامی توقعات پر پورا اترے گی اور گلگت بلتستان کو وہ مقام دلانے میں کامیاب ہوگی جس کا یہ حسین‘ باصلاحیت اور قومی اہمیت کا حامل خطہ مستحق ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>آزاد کشمیر میں پابندی؟(مجیب الرحمٰن شامی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mujeeb-ur-rehman-shami/2026-06-07/52075/31285325</link><pubDate>Sun, 07 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mujeeb-ur-rehman-shami/2026-06-07/52075/31285325</guid><description>آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد سے ایک ایسی خبر آئی جس نے دل کو اُداس کر دیا... یا یہ کہہ لیجیے کہ اس کی ویرانیوں میں اضافہ کر دیا۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر پابندی لگا دی گئی۔ صدر آزاد کشمیر نے فرمان جاری کیا ہے کہ اب اس تنظیم کو کسی بھی سرگرمی کی اجازت نہیں ہو گی۔ اس کے خلاف امن و امان کو نقصان پہنچانے کے معقول شواہد موجود ہیں۔ یہ تنظیم ریاست میں انتشار پیدا کرنے میں ملوث پائی گئی ہے۔ یہ معاشرے کو تقسیم کر رہی‘ عدم تحفظ کا احساس پیدا کر رہی اور نفرت کو فروغ دے رہی ہے۔ اس کے متعلقین کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی بھی کی جائے گی۔ اینٹی ٹیررازم ایکٹ حرکت میں آئے گا۔ ایکشن کمیٹی نے نو جون کو ریاست بھر میں پہیہ جام ہڑتال کی اپیل کر رکھی تھی۔ اسی روز آزاد کشمیر الیکشن کمیشن نے جولائی میں منعقد ہونے والے ریاستی اسمبلی کے انتخابات کیلئے امیدواروں کو کاغذاتِ نامزدگی داخل کرنے کی ہدایت کر رکھی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ریاست میں سیاحوں کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ وہاں کے ہوٹلوں میں مقیم غیرمقامی افراد کو واپس جانے کا حکم دے دیا گیا ہے۔ مختلف مقامات پر ہوٹل مالکان سے کہا گیا ہے کہ انہوں نے اگر کوئی پیشگی رقوم اپنے گاہکوں سے لے رکھی ہیں تو انہیں واپس کر دیں۔ آزاد جموں و کشمیر یونیورسٹی کے وہ امتحانات جو آٹھ جون کو شروع ہونا تھے‘ منسوخ کر دیے گئے ہیں۔ انٹرنیٹ کے ذریعے رابطہ بھی ممکن نہیں رہا۔ انسپکٹر جنرل پولیس کیپٹن (ریٹائرڈ) لیاقت علی ملک نے وفاقی حکومت سے 14ہزار اہلکار طلب کیے ہیں تاکہ قانون کے نفاذکو یقینی بنایا جا سکے۔ آئی جی نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ہماری اولین ذمہ داری لوگوں کی جان اور املاک کی حفاظت ہے‘ اور ہم اسے بہر طور پورا کریں گے۔آزاد کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے گزشتہ دو سال کے دوران ہڑتالوں اور مظاہروں کے ذریعے اپنے آپ کو منوایا ہے۔ اس کا آغاز تاجروں سے ہوا‘ اس میں سول سوسائٹی کے دوسرے طبقات‘ وکلا اور طلبہ بھی شریک ہوتے چلے گئے۔ اس نے 38نکاتی مطالباتی چارٹر پیش کیا تھا جس کے اکثر نکات تسلیم کیے جا چکے ہیں۔ ریاستی اور وفاقی حکومتوں سے طویل مذاکرات کے نتیجے میں آٹے اور بجلی کی قیمتوں میں کمی ہوئی اور آزاد کشمیر حکومت کے ذمہ داران کو حاصل مراعات اور تنخواہوں کا جائزہ لینے کی یقین دہانی بھی کرائی گئی لیکن جس نکتے پراختلاف ختم نہیں ہو سکا وہ ریاستی اسمبلی میں جموں و کشمیر کے مہاجرین کیلئے مختص 12 نشستیں ہیں۔ ایکشن کمیٹی کا مطالبہ ہے کہ انہیں یکسر ختم کر دیا جائے کہ اس کے ذریعے وفاقی ادارے ریاستی حکومت کو دباؤ میں رکھتے ہیں۔ یاد رہے کہ آزاد کشمیر کے دستور کے مطابق پاکستان میں مقیم جموں اور کشمیر سے آئے ہوئے مہاجرین کو اسمبلی میں نمائندگی دی گئی ہے۔ یہ مہاجرین (اور ان کی اولادیں) پاکستان کے مختلف شہروں میں آباد ہیں اور 12ارکان کو منتخب کر کے ریاستی اسمبلی میں بھیجنے کا آئینی استحقاق انہیں حاصل ہے۔ ایکشن کمیٹی کا کہنا ہے کہ یہ نشستیں پاکستان کی مختلف جماعتوں اور اداروں کے زیر اثر ہیں‘ اس لیے انہیں ختم کر دینا چاہیے‘ جبکہ ان کے مخالف اس استدلال کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں۔ کشمیر کی آزادی صرف ان لوگوں کا مسئلہ نہیں جو آزاد کشمیر کی حدود میں رہتے ہیں‘ مقبوضہ کشمیر میں محصور کشمیریوں اور وہاں سے نکالے جانے والے مہاجرین کو کسی طور ریاست سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ایک واقعاتی‘ نظریاتی‘ نفسیاتی اور جذباتی معاملہ ہے۔ مہاجرین کو ریاستی نظم و نسق سے الگ کر دینا تحریک آزادی کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔ بعض حلقوں کی طرف سے یہ تجویز پیش کی گئی ہے کہ آزاد کشمیر میں مقیم ارکانِ اسمبلی کو متناسب نمائندگی کی بنیاد پر مہاجرین کی نشستوں کیلئے نمائندگان منتخب کرنے کا حق دے دیا جائے‘ اس طرح منتخب ہونے والے آزاد کشمیر کے اندر مقیم افراد سے زیادہ جڑے رہیں گے لیکن ایکشن کمیٹی اس سے بھی متفق نظر نہیں آئی۔صدر آزاد کشمیر نے اس معاملے کی آئینی اور قانونی حیثیت واضح کرنے کیلئے سپریم کورٹ کو ریفرنس بھیجا تھا‘ اس پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا ہے۔ کسی بھی وقت اس کا اعلان ہو سکتا ہے۔ اس کی پابندی سب کو کرنا پڑے گی۔ اس سے قطع نظر مظاہروں اور دھرنوں کے ذریعے کتابِ آئین کو بدلا نہیں جا سکتا۔ مناسب تو یہ ہوتا کہ ایکشن کمیٹی کے ذمہ داران بھی انتخابی عمل میں شریک ہوتے‘ اگر انہیں اکثریت کی تائید حاصل ہو جاتی تو دستور میں ترمیم کر گزرتے لیکن انہوں نے یہ راستہ اختیار نہیں کیا‘ اپنا نقطہ نظر منوانے پر تُل گئے۔ ماضی میں پُرتشدد مظاہروں کے دوران کئی قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں‘ آئندہ کوئی اور المیہ بھی جنم لے سکتا ہے۔ ایکشن کمیٹی کے ایک کے سوا تمام مطالبات مانے جا چکے ہیں‘ اس لیے یہ توقع بے جا نہیں تھی کہ وہ اپنی طاقت دھرنوں اور مظاہروں کے بجائے انتخابی عمل میں حصہ لے کر منوائے۔ آزاد کشمیر میں آج تک ایسے حالات پیدا نہیں ہوئے کہ کسی عوامی تنظیم کو دہشت گرد قرار دے کر اس پر پابندی لگائی گئی ہو۔ اسباب جو بھی ہوں اور واقعات جو بھی ہوں اس اقدام کا منفی پیغام پوری دنیا میں جائے گا۔ ریاست آزاد جموں و کشمیر بجائے خود کسی کی منزل نہیں ہے‘ یہ تو ایک عبوری انتظام ہے پوری ریاست کو آزاد کرانا اور بھارت کے چنگل سے چھڑانا جس کا اولین مقصد ہے۔ بھارت کے مقبوضہ علاقے میں شہری آزادیاں سلب ہیں‘ اسے ایک بڑا جیل خانہ بنا دیا گیا ہے لیکن پاکستان کے زیر انتظام علاقہ آزاد اور خود مختار ہے اس کی یہ حیثیت برقرار رہنی چاہیے۔ یہاں بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے کی روایت کا خاتمہ ایک بڑا المیہ ہو گا۔ حکومتِ آزاد کشمیر اور ایکشن کمیٹی کے ذمہ داران دونوں پر لازم ہے کہ ووٹ کی طاقت کو تسلیم کریں۔ جو انتخابی عمل شروع ہو رہا ہے‘ اس میں حصہ لیں اور تحریک آزادیٔ کشمیر کی تقویت کا باعث بنیں۔ ایکشن کمیٹی کے رہنما اگر اس پر آمادہ ہوں تو پھر ان کے خلاف کوئی اقدام قابلِ مذمت ٹھہرے گا۔ اگر وہ انتخابی عمل کا حصہ بننے پر تیار نہ ہوں تو پھر سیاسی جماعتوں پر اعتماد کریں۔ کسی کی رائے کچھ بھی ہو‘ مطالبہ کچھ بھی ہو‘ سیاست کا جواب سیاست سے دینا لازم ہے۔ آزاد کشمیر کو بہرحال آزاد کشمیر رہنا چاہیے۔چٹائی حاضر ہےاسد اعوان سے کبھی ملاقات تو نہیں ہوئی لیکن سوشل میڈیا پر ان کے اشعار نظر سے گزرتے رہتے ہیں۔ ان سے ساہیوال کے حوالے سے بھی تعلق قائم ہو گیا ہے۔ یہ الگ بات کہ ان کا ساہیوال ضلع سرگودھا میں ہے جبکہ میرا ساہیوال (سابق منٹگمری) لاہور اور ملتان کے درمیان واقع ہے۔ منفرد لہجے کے مالک اسد اعوان کا شعری مجموعہ اردو بازار چوک لیہّ سے &#39;&#39;اردو سخن‘‘ نامی اشاعتی ادارے نے شائع کیا ہے۔ چند پُراثر اشعار سنیے اور سر دھنیے:٭کوئی ارادہ نہیں ہے نئی محبت کاپرانے روگ ہیں سینے میں پلنے والے بہت٭کب کھلے میرے لیے بازو میرے یاروں کےمیری حق گوئی پہ ہر عہد میں زنداں کھلے٭اداسیوں کے ٹھکانے ہیں آج گلیوں میںدیارِ جاں میں ہے خوف و ہراس ویسے بھی٭یہ ایک حجرۂ درویش ہے محل تو نہیںجناب بیٹھ بھی جائیں، چٹائی حاضر ہے٭جب کوئی نکلا نہیں میرے مقدر کا تو پھریہ ستاروں سے درخشاں آسماں ہو بھی تو کیا(یہ کالم روزنامہ &#39;&#39;پاکستان‘‘ اور روزنامہ &#39;&#39;دنیا‘‘ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_37052987.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سکیورٹی معاملات پر بھی نظر رکھی جائے(ایاز امیر)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-06-07/52076/69064728</link><pubDate>Sun, 07 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-06-07/52076/69064728</guid><description>سفارتی کوششوں کی وجہ سے بَلے بَلے ہوئی لیکن بنیادی مسائل ہمارے جوں کے توں ہیں۔ معاشی صورتحال تو خراب  ہے ہی اور اس میں بہتری کی کوئی گنجائش نظر نہیں آتی لیکن مغربی سرحد پر جو گڑبڑ کی کیفیت ہے اس پر بھی تشویش ہونی چاہیے۔ پوری خبریں آتی نہیں اور اس کی وجہ ہم سب کو پتا ہے‘ لیکن خبروں پر کنٹرول کا مطلب یہ نہیں نکلتا کہ صورتحال پر بھی کوئی کنٹرول ہے۔ چکوال فوجی علاقہ ہے۔ ہر گھر نہیں تو ہر تیسرے گھر سے کسی نہ کسی کا تعلق فوج سے ہے۔ ہمارے دیہات ایسے ہیں کہ حوالداروں اور صوبیداروں کی تو کوئی کمی نہیں لیکن اب افسروں کی تعداد بھی خاصی ہو چکی ہے۔ شادی بیاہ یا افسوس کے موقعوں پر لوگوں سے ملاقات ہوتی ہے تو خیبرپختونخوا اور بلوچستان کی صورتحال سے کچھ آگاہی ملتی ہے۔ کہانیاں سُن کر دل کو دھڑکا لگ جاتا ہے کہ کیسی صورتحال میں ہم آن کر پھنسے ہیں۔ شورش بلوچستان میں جاری ہے اور خیبرپختونخوا کے ایسے اضلاع بھی ہیں جہاں کسی قسم کی موومنٹ بڑی مشکل ہو گئی ہے۔ آپریشن جاری ہیں اور بڑی دلیری اور جوانمردی سے ہمارے لوگ لڑ رہے ہیں لیکن یہ بھی عیاں ہے کہ صورتحال میں جو بہتری آنی چاہیے وہ خاصی دور ہے۔ٹی ٹی پی کا وجود تو ایک لحاظ سے امریکہ مخالف افغان جنگ کا شاخسانہ ہے۔ یعنی ٹی ٹی پی اس جنگ کی ایک پراڈکٹ ہے۔ جب یہ جنگ جاری تھی اور اتنا یاد رہے کہ یہ 16سال جاری رہی تو کچھ سوچ بچار ہونی چاہیے تھی کہ یہ جو لوگ یہاں سے جاکر افغانستان میں لڑ رہے ہیں ان کا کیا بنے گا۔ امریکی افغانستان سے بھاگے اور ٹی ٹی پی کے مسئلے کے لیے ہمارے ادارے تیار نہیں تھے۔ مطعون سابق افسر جو سزا بھگت رہا ہے اُس کی سوچ تھی کہ یہ جو پانچ چھ ہزار جنگجو لوگ ہیں اور جنہوں نے جنگ کی تربیت افغانستان میں حاصل کی ہے انہیں یہاں لا کر کہیں رکھا جائے تاکہ ان پر نظر رہے اور وقت گزرنے کے ساتھ اس مسئلے کی شدت کم ہوتی جائے۔ لیکن شور یہاں اتنا مچا کہ دیکھیں جنگجوؤں کو پھر لایا جا رہا ہے اور پہلی جیسی شورش کے حالات یہاں پھر سے پیدا ہوں گے۔ وہ سلسلہ ختم ہوا اور نتیجہ یہ نکلا کہ یہ جنگجو ڈیورنڈ لائن کے اُس پار ہی رہے۔ انہیں تو ایک ہی کام آتا تھا‘ دہشت گردی کرنا۔ جب ڈیورنڈ لائن کے قریب کے افغان صوبوں میں انہوں نے اپنے ٹھکانے بنائے تو امریکہ کے خلاف جو کام کرتے تھے وہ پاکستان کے خلاف کرنے لگے۔ اب ہمارے لیے یہ دردِ سر بنا ہوا ہے اور اس کا کوئی حل نظر نہیں آرہا۔ جنرل باجوہ پتا نہیں آج کل کہاں ہیں‘ اللہ اُنہیں صحت دے‘ لیکن یہ سوال تو بنتا ہے کہ اُن کے زمانے میں جس سرحدی باڑ کا چرچا تھا ‘ اُس کا فائدہ کیا ہوا ‘ اگر اس کے باوجود حملے ہو رہے ہیں تو کیانتیجہ یہ نہیں نکلتا کہ باڑ پر خرچ فضول ہی رہا؟کوئی بتائے کہ اس پر ٹوٹل خرچہ تھا کتنا۔ لیکن اس بارے ایک لفظ نہیں کہا جاتا۔ بہرحال اب تو ظاہر ہے کہ باڑ کے باوجود حملے ہو رہے ہیں۔ ہم نے افغانوں کو یہاں سے نکال دیا‘ بارڈر بند کر دیا‘ تجارت جو ہوتی تھی وہ ختم کر دی گئی لیکن شورش کا مسئلہ جاری و ساری ہے۔ اس مسئلے پر زیادہ کچھ کہا بھی نہیں جا سکتا کیونکہ زیادہ کہنا اور زیادہ رائے کا اظہار کچھ اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ بہرحال اتنا تو ہے کہ خیبرپختونخوا کے کئی جنوبی اضلاع میں صورتحال خاصی تشویشناک ہے۔ پھر مسئلہ رہا بلوچستان کا۔ خبروں کے لحاظ سے بلوچستان کی صورتحال ایک بلیک ہول کی مانند ہو چکی ہے۔ جیسے کسی بلیک ہول سے کوئی روشنی نہیں نکلتی تو بلوچستان کے بلیک ہول سے جس قسم کی آگاہی ہونی چاہیے ایسی خبریں نہیں نکلتیں۔ بس کوئی بڑا واقعہ پیش آ جائے تو سرخیوں کا موضوع بن جاتا ہے نہیں تو بلیک ہول کی کیفیت جاری رہتی ہے۔ اگر لمبی مغربی سرحد پر یہ کیفیت ہے تو مشرقی سرحد ہماری ہندوستان والی ہے اور ہندوستان سے تو ہمارے معاملات ویسے ہی کشیدہ رہتے ہیں۔ سیاچن کے پہاڑوں سے لے کر بحیرۂ عرب کے پانیوں تک ہماری فورسز ڈپلائے ہیں۔ ایک زمانہ تھا کہ ہندوستان سے معاملات کشیدہ رہتے بھی تو مغربی سرحد پُرامن ہوا کرتی تھی۔ یہ نام نہاد افغان جہاد سے پہلے وقتوں کی بات ہے۔ ہندوستان سے جنگیں بھی ہوئیں لیکن افغانستان کے حوالے سے کوئی فکر نہ رہتی۔ اب صورتحال بالکل مختلف ہو چکی ہے اور ہمارے دونوں اطراف صورتحال کشیدہ اور خراب ہے۔ افغانستان سے جو نچلے درجہ حرارت کی جنگ جاری ہے یہ ایک دو دن کی بات نہیں‘ جب تک کوئی سفارتی حل نہیں نکالا جاتا اس نے اس وقت تک جاری رہنا ہے۔ افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر ہم بمباری وغیرہ کر سکتے ہیں لیکن اس سے طالبان کی حکومت ہماری بات مان جائے گی اور ٹی ٹی پی پر کوئی سخت پابندیاں لگ جائیں گی یہ سمجھنا خام خیالی ہے۔ ایسا نہیں ہونا اور اتنا بھی سب کو پتا ہے کہ ہوائی حملوں کا سلسلہ تادیر جاری نہیں رکھا جا سکتا۔ لہٰذا اس پر سنجیدہ سوچ بچار کی ضرورت ہے۔ محض سخت زبان کے استعمال سے کام نہیں چل سکتا اور خوا مخواہ سخت زبان سے اجتناب ہی کرنا چاہیے کیونکہ اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ٹی ٹی پی کے حوالے سے اتنا تو واضع ہے کہ بات کرنی ہے تو طالبان حکومت سے کی جائے۔ بلوچستان کے حوالے سے تو یہ بھی پتا نہیں کہ اگر بات کرنی ہو تو کس سے کی جائے۔ جو عناصر بندوق کی بولی بول رہے ہیں وہ تو کہیں پہاڑوں میں روپوش ہیں اور ویسے بھی نفسیاتی طور پر ریاستِ پاکستان بلوچستان کے شر پسند عناصر سے کسی قسم کی بات کرنے کی قائل نہیں۔ پھر یہی امید لگائی جا سکتی ہے کہ ریاستِ پاکستان کی طرف سے جو کارروائیاں کی جا رہی ہیں وہ بار آور ثابت ہوں اور سرکش عناصر کا قلع قمع ہو۔ البتہ فی الحال ایسا ہوتا نظر نہیں آتا۔ آپریشن جاری ہیں اور مجموعی صورتحال بدستور تسلی بخش نہیں۔رہ جاتا ہے ہندوستان کا مسئلہ اور یہاں بھی کسی قسم کی سفارتی پیش رفت کے قائل ہم نہیں لگتے۔ حالت یہ ہے کہ ہندوستان کا ذکر آئے توہمارے الفاظ اور لہجے سخت ہو جاتے ہیں‘ کئی دفعہ غیر ضروری طور پر۔ ہندوستان سے بیان آتے رہتے ہیں اور پاکستان کے بارے میں وہاں بہت غیرضروری گفتگو ہوتی ہے۔ لیکن ابھی تک یہ سوچ یہاں پختہ نہیں ہو سکی کہ ہر غیر موزوں بیان کا جواب دینا ضروری نہیں ہوتا۔ کئی دفعہ زیادہ بولنے کے بجائے چپ رہنے سے اعتماد کا اظہار زیادہ ہوتا ہے۔مسائل ہمارے ہیں اور شاید رہیں گے۔ لیکن یہ کہاں کی دانش ہے کہ بات چیت کے تمام دروازے بند رہیں؟ کشیدگی میں کمی لانا ہمارے فائدے کی بات ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_80573045.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>قائد اعظم سے دولتانہ تک(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-06-07/52077/46889537</link><pubDate>Sun, 07 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-06-07/52077/46889537</guid><description>میرے پچھلے دو تین کالم جو سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کے گورننس میں کردار کے بارے میں تھے انہوں نے قارئین میں کچھ دلچسپی پیدا کی ہے۔ اس طرح جو کچھ بیروزگاروں کے نوکری ملتے ہی اچانک بدلتے رویوں کے بارے میں لکھا اس پر بھی بحث ہو رہی تھی۔ بہت سے لوگوں کو میرا وہ کمنٹ بے رحمانہ لگا یا کچھ نے اسے میری بے حسی سے تعبیر کیا کہ اب میرے اندر تعلیم یافتہ بیروزگاروں کے لیے ہمدردی کم ہوگئی ہے۔ میرے خیال میں تعلیم یافتہ بیروزگار کو سب افسران‘ سسٹم یا اوپر بیٹھے سب اس وقت تک ہی بُرے لگتے ہیں جب تک وہ ان کے ساتھ جا کر نہیں بیٹھ جاتا۔ مجھے ایک لفظ سے بہت چڑ ہے جس کا نام سسٹم ہے۔ یہ وہ ٹرک کی بتی ہے جس کے پیچھے اس قوم کو لگا دیا گیا ہے کہ سسٹم ٹھیک ہو گا تو ملک ٹھیک ہو جائے گا۔ آج تک کسی نے سسٹم کو آنکھوں سے دیکھا ہو تو مجھے بتائے۔ ہاں اگر سرکاری دفاتر میں بیٹھے افسران اور اہلکاروں کو آپ سسٹم سمجھتے ہیں تو پھر اپنی غلط فہمی دور کر لیں کہ سسٹم ٹھیک ہو گا تو سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ وہ سب افراد یا افسران یا اہلکار آپ خود ہیں جو اس اَن دیکھے سسٹم کے ٹھیک ہونے کا انتظار کر رہے ہیں جو کبھی ٹھیک نہیں ہو گا کیونکہ وہ سسٹم آپ خود ہیں۔ جس دن آپ سرکاری دفاتر میں افسر یا اہلکار لگ کر لوگوں سے کام کرنے کے پیسے نہیں لیں گے‘ انہیں تنگ یا ذلیل نہیں کریں گے‘ پوری محبت اور احترام کے ساتھ قانونی کام میں رکاوٹ کے بجائے سہولت دیں گے‘ اُس دن سسٹم بدل جائے گا۔ لیکن یہ سسٹم نہیں بدلتا کیونکہ ہم سب کو یہ سسٹم بہت پسند ہے اس لیے تو ہم اس سسٹم کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔ ہر پڑھا لکھا بیروزگار اس لیے سرکاری نوکری چاہتا ہے۔ وہ دوسروں کے ساتھ وہی کچھ کرنا چاہتا ہے جو اُس کے ساتھ ہو رہا تھا۔ جب یہ سب وہی غلط کام کر رہے ہوتے ہیں جس کے خلاف یہ دھواں دھار بحث کرتے تھے تو ان سے پوچھیں تو جواب دیں گے کہ کیا کریں‘ سسٹم ہی ایسا ہے۔ سب نے اپنی کھال بچانے کے لیے ایک ٹرک ڈھونڈ کر اس کے پیچھے سرخ بتی پر لفظ سسٹم لکھ دیا ہے جو چلتا جا رہا ہے اور پوری قوم اس کے پیچھے لگی ہوئی ہے۔ خیر &#39;&#39;ایک تھا ڈپٹی کمشنر‘‘ والے کالم پر سابق وفاقی سیکرٹری طارق محمود نے ایک اہم کمنٹ میری فیس بک پر کیا۔ طارق صاحب خود ڈپٹی کمشنر اور کمشنر رہے ہیں۔ ان کی خودنوشت &#39;&#39;دامِ خیال‘‘ ان کے سروس کے طویل تجربات کے بارے میں ہے۔ شاندار آٹو بائیو گرافی ہے جس میں مشرقی پاکستان سے پاکستان تک کی بے شمار کہانیاں ہیں جو اس ملک کے حالات سمجھنے میں بہت مدد دیتی ہیں۔ طارق محمود ایک بڑے لکھاری ہیں اور ان کے ناول &#39;&#39;اللہ میگھ دے‘‘ نے بڑی شہرت پائی تھی۔ ڈاکٹر انوار احمد ان کی ملتان اور بہاولپور میں ڈپٹی کمشنر اور کمشنر کے عہدے پر رہتے ہوئے مشکل میں پھنسے انسانوں کی مدد کی کہانیاں ہمارے ساتھ شیئر کرتے رہے ہیں۔ طارق محمود کے اس پس منظر کو بیان کرنا اس لیے ضروری ہے کہ ان کا لکھا ہوا کمنٹ ہمیں سمجھنے میں آسانی رہے گی۔ وہ خود اس بیوروکریٹ کلاس سے تعلق رکھتے ہیں جو دھیرے دھیرے غائب ہو گئی ہے۔ خیر طارق صاحب لکھتے ہیں &#39;&#39;سیاستدانوں اور بیوروکریسی کے کل پرزوں کی اس کیفیت کے بارے اپنے ہم عصر کے والد کا قصہ سنانا چاہوں گا‘ 1950ء کے عشرے میں وہ بطور انڈر سیکرٹری تعینات تھے جو سیکشن آفیسر گریڈ سولہ؍ سترہ کا افسر ہوتا تھا۔ ممتاز دولتانہ وزیراعلیٰ تھے۔ کیبنٹ میٹنگ کی طوالت کی وجہ سے خلافِ روایت لنچ سرو کرنا پڑ گیا۔ پچاس روپے بارہ آنے کا کابینہ کے لنچ کا بل ان کے پاس آیا تو انہوں نے لمبا نوٹ تحریر کر کے سینئرز کے توسط سے دولتانہ صاحب کو بھیج دیا اور باور کرایا کہ قواعد میں اس کی گنجائش نہ تھی۔ نوٹ پر آبزرویشن لکھی کہ اب کیا کیا جائے۔ معاملہ دولتانہ صاحب کے پاس آیا کہ وزیراعلیٰ قواعد کو Relax کر سکتے ہیں۔ دولتانہ سوچ میں پڑ گئے اور پھر مہین سی مسکراہٹ کے ساتھ اپنی جیب میں سے رقم نکال کر ادائیگی کر دی‘‘۔ اب ایک اور شاندار سابق بیوروکریٹ اقبال دیوان کا کمنٹ پڑھیں۔ جب وہ سروس میں تھے تو کراچی کی ایک پارٹی نے ایک صوبائی وزیر کے ماتحت ڈائریکٹرز کو بلا کر رقم طلب کی اور ایک شاندار افطار پارٹی کا اہتمام ہوا۔ اس بات پر دیوان صاحب‘ جو بطور سیکرٹری اس افطار پارٹی میں شریک نہ ہوئے‘ کی جواب طلبی ہوئی کہ ان کی تنظیم اورکابینہ کے کئی اہم افراد شامل تھے تو وہ کیوں نہیں آئے۔ اقبال دیوان نے وزیر کو جواب دیا &#39;&#39;ہم چوری کے مال سے افطار کرکے اپنا روزہ خراب نہیں کرنا چاہتے۔ افطاراور ڈنرز بجٹ میں مذکور نہیں ہوتے‘‘۔ اس جواب کے کچھ دن بعد اقبال دیوان کا تبادلہ ہو گیا۔ اس طرح ڈاکٹر ظفر الطاف نے جب چیف سیکرٹری مسعود نبی نور کاحکم یہ کہہ کر ٹالا کہ جنرل ضیا کے کسی عزیز کو ہر ماہ دس ہزار روپے پہنچانے کا کام ڈپٹی کمشنر ساہیوال کا نہیں۔ وہ بھی پنجاب بدر کر دیے گئے مگر چونکہ کیبنٹ سیکرٹری اعجاز نائیک ڈاکٹر صاحب کے دوست عبدالحفیظ کاردار کے دوست تھے لہٰذا انہیں 1978ء کے وسط میں اسلام آباد میں ڈپٹی سیکرٹری کیبنٹ لگا دیا۔طارق محمود صاحب کے دولتانہ صاحب کے واقعہ سے ایک واقعہ مجھے بھی یاد آیا جو سابق سیکرٹری فنانس مرحوم غفور مرزا صاحب نے سنایا تھا۔ مرزا صاحب کا ڈاکٹر ظفر الطاف سے گہرا تعلق تھا لہٰذا وہ بھی تقریباً روز ہمارے ساتھ لنچ پر اکٹھے ہوتے تھے۔ مرزا صاحب کے پاس بھی کئی خوبصورت کہانیاں تھیں اور اس سے بڑھ کر ان کا وہ قصے‘ کہانیاں سنانے کا انداز بہت دلچسپ اور خوبصورت تھا۔ مرزا صاحب ایک دن کہنے لگے کہ وہ کچھ عرصہ کیبنٹ ڈویژن میں آرکائیو ڈپارٹمنٹ میں تعینات رہے۔ ان کے پاس کافی وقت ہوتا تھا تو انہوں نے وہاں پرانی فائلیں پڑھنی شروع کیں۔ ایک دن قائداعظم کے بارے فائل پڑھی۔ جب قائداعظم زیارت میں آخری دن گزار رہے تھے تو وہ کھانا پینا چھوڑ گئے جس کی وجہ سے بہت کمزور ہوئے تو ان کی Immunity کم ہوئی۔ ڈاکٹر الٰہی بخش پریشان ہوئے۔ فاطمہ جناح صاحبہ نے بھی کوشش کر کے دیکھ لیا۔ آخر فاطمہ جناح کو خیال آیا‘ انہوں نے کہا: شاید (موجودہ) فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے دو بھائی کُک تھے جن کا پکا ہوا کھانا انہیں بہت پسند تھا۔ اگر انہیں ڈھونڈیں تو ان کا پکا ہوا کھانا کھائیں گے۔ فوری طور پر ان کو تلاش کیا گیا۔ زیارت لے گئے۔ انہوں نے کھانا پکایا اور قائد کو سرو کیا گیا تو انہیں ذائقہ مانوس لگا تو کھانے لگے۔ اچانک رک گئے اور پوچھا یہ تو ان دو بھائیوں کا پکایا ہوا لگتا ہے۔ وہ کہاں سے ادھر آئے ہیں؟ اس پر فاطمہ جناح کو کہا گیا کہ اب آپ سنبھالیں۔ قائد کو بتایا گیا کہ وہ باورچی ڈھونڈ کر لائے گئے ہیں۔ اس پر قائداعظم ناراض ہوئے اور کہا: ریاستی وسائل پر آپ نے انہیں بلایا اور عوام کے پیسوں سے خرچہ کیا۔ فوری طور پر اپنی چیک بک منگوائی اور پوچھ کر کتنا خرچ ہوا‘ وہ رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی۔ غفور مرزا کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس فائل کے ساتھ قائد کا وہ چیک لگا ہوا دیکھا تھا۔ کہاں گئے قائد جیسے لوگ یا ممتاز دولتانہ جیسے کردار جو رولز رلیکس کرنے کے بجائے جیب سے ادائیگی کرتے تھے۔ اب تو بقول خواجہ آصف‘ پاکستانی بیوروکریٹس پرتگال میں جائیدادیں خرید رہے‘ پولیس افسران کینیڈا میں شہریتیں لے رہے ہیں جبکہ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا تھا کہ ارکانِ اسمبلی ہر ترقیاتی فنڈ میں 30فیصد کمیشن کھاتے ہیں ( یقینا سب نہیں کھاتے ہوں گے)۔ جو پرتگال جائیدادیں‘ کینیڈا شہریت یا 30فیصد کمیشن کھا رہے ہیں‘ آپ کا کیا خیال ہے کہ وہ اپنے دفاتر میں کھانے کا بل جیب سے دیتے ہوں گے؟ قائداعظم اور ممتاز دولتانہ سے ان سب نے ایک سبق سیکھا اور ہر وزیر یا بیوروکریٹ نے اپنے لیے لاکھوں کا &#39;&#39;انٹرٹینمنٹ الاؤنس‘‘ منظور کرا رکھا ہے۔ اب عوامی پیسے پر کھانا پینا‘ کھابے شابے غیرقانونی نہیں رہے۔ اب سب معاملہ لیگل ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>آزاد کشمیر: نئے عمرانی معاہدے کی ضرورت(رشید صافی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-06-07/52078/48958888</link><pubDate>Sun, 07 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-06-07/52078/48958888</guid><description>گلگت بلتستان کی 24 جنرل نشستوں پر آج الیکشن ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلزپارٹی کے امیدواروں کے علاوہ آزاد امیدواروں کی بڑی تعداد بھی انتخابی دوڑ میں شامل ہے۔دوسری طرف آزاد جموں و کشمیر میں الیکشن کمیشن کی جانب سے 27 جولائی 2026ء کو عام انتخابات کے انعقاد کا اعلان ایک ایسا اقدام ہے جو تمام سٹیک ہولڈرز کو اپنے مطالبات اور تحفظات کو قانونی اور ادارہ جاتی سانچے میں ڈھالنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ عام انتخابات محض حکومت کی تبدیلی کا نام نہیں ہوتے‘ الیکشن عوام کو یہ اختیار دیتے ہیں کہ وہ اپنی ترجیحات کا تعین اپنے منتخب نمائندوں کے ذریعے کریں۔ جب ریاست انتخابی عمل کی طرف بڑھ رہی ہو تو سیاسی اور سماجی قوتوں کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ اس عمل کو سبوتاژ کرنے کے بجائے اس کی مضبوطی کے لیے کام کریں۔ الیکشن سے قبل قانون ساز اسمبلی نے کشمیری مہاجرین کی 12نشستیں برقرار رکھنے کے حوالے سے جو قرارداد منظور کی ہے وہ اس حقیقت کا اظہار ہے کہ مستقل اور دیرپا فیصلے صرف ایوان کے اندر ہی ممکن ہیں۔ قرارداد یہ واضح کرتی ہے کہ مہاجرین کی نمائندگی ایک تاریخی اور آئینی حقیقت ہے جسے برقرار رکھنے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں‘ بار ایسوسی ایشنز‘ بار کونسل‘ سول سوسائٹی اور آئینی ماہرین کے ساتھ وسیع تر مشاورت کی ضرورت ہے۔ انتخابی پیچیدگیوں کو دور کرنا اور اصلاحات کو ہر ایک کے لیے قابلِ قبول بنانا عوامی نمائندوں کا خاصا اور ان کا آئینی مینڈیٹ ہے۔ جب اعلیٰ ترین فورم ان معاملات پر غور کرنے کے لیے موجود ہو تو کسی بھی دباؤ کے ذریعے فیصلے مسلط کرنے کی کوشش نہ صرف اس فورم کی اہمیت کو کم کرتی ہے بلکہ جمہوری ڈھانچے کو کمزور کرنے کا باعث بھی بنتی ہے۔آزاد جموں و کشمیر کی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کی جانب سے پے در پے ہڑتالوں اور احتجاج کا طریقہ کار عوامی مسائل کی آڑ میں شروع کیا گیا لیکن وقت کے ساتھ یہ طرزِ عمل تعمیری سیاست کے اصولوں سے دور ہوتا چلا گیا۔ جب حکومت نے کمیٹی کے 38میں سے 35مطالبات کو تسلیم کرتے ہوئے آٹے اور بجلی پر اربوں روپے کے ریلیف کو یقینی بنا دیا تو اس کے بعد بھی احتجاج کے تسلسل پر اصرار کرنا کسی بھی طور پر منطقی یا عوامی مفاد کے تابع دکھائی نہیں دیتا۔ یہ رویہ واضح طور پر مصالحتی رویوں سے انحراف اور تنظیمی انا پسندی کی عکاسی کرتا ہے جس میں بحران کے پائیدار حل کے بجائے تعطل کو برقرار رکھنے کی دانستہ کوشش دکھائی دیتی ہے۔ کسی بھی تحریک کا مقصد اگر عوامی فلاح ہو تو مطالبات کی اکثریت منظور ہونے کے بعد سفارتی اور انتظامی میز پر بیٹھ کر بقیہ مسائل کا حل نکالا جاتا ہے نہ کہ نظام کو مفلوج کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ماضی قریب میں اسی طرزِ عمل کے نتیجے میں ہونے والے احتجاج کے اثرات ہولناک اور خونریز ثابت ہوئے۔ پُرامن احتجاج کے دعوؤں کے برعکس جب ہجوم کی نفسیات حاوی ہوتی ہے تو اس کا نتیجہ قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع اور بڑے پیمانے پر پبلک اور پرائیویٹ پراپرٹی کی بربادی کی صورت میں نکلتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ محکمہ داخلہ نے امن و سلامتی کو لاحق خطرات اور شواہد کی بنیاد پر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 2014ء کے تحت کالعدم قرار دے کر اس کا نام فرسٹ شیڈول میں شامل کیا۔ ریاست کا یہ اقدام شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور قانون کی عملداری برقرار رکھنے کے لیے ایک ناگزیر انتظامی ضرورت بن چکا تھا کیونکہ کوئی بھی آئینی حکومت امنِ عامہ کو تباہ کرنے والے عناصر کو کھلی چھوٹ نہیں دے سکتی۔آزاد جموں و کشمیر کی جغرافیائی اور تزویراتی پوزیشن اسے دنیا کے دیگر خطوں سے ممتاز کرتی ہے۔ یہ علاقہ لائن آف کنٹرول پر واقع ہونے کی وجہ سے مستقل بیرونی خطرات اور ازلی دشمن بھارت کی جارحانہ نظروں کے سامنے ہے۔ ایسے حساس ماحول میں ریاست کے اندر کسی بھی قسم کا اندرونی خلفشار یا سکیورٹی خلا پیدا ہونا سکیورٹی کے سنگین مسائل کو جنم دیتا ہے۔ جب مقامی سطح پر قانون نافذ کرنے والے اداروں اور شہریوں کے درمیان تصادم کی فضا پیدا ہوتی ہے تو سرحد پار بیٹھے دشمن عناصر اس صورتحال کو پروپیگنڈا اور ہائبرڈ وارفیئر کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ وہ ان تحریکوں میں اپنے مہرے شامل کر کے اندرونی انتشار کو ہوا دیتے ہیں تاکہ بین الاقوامی سطح پر یہ تاثر قائم کیا جا سکے کہ یہ خطہ غیر مستحکم ہے۔ اس لیے عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت کو اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ ان کے احتجاج کا طریقہ کار کس طرح دشمن کو پاکستان اور آزاد کشمیر کے خلاف ایک ہتھیار فراہم کر رہا ہے۔ ملک کو اس وقت جن بیرونی اور اندرونی چیلنجز کا سامنا ہے‘ ان کا تقاضا ہے کہ ملکی صفوں میں مکمل اتحاد برقرار رکھا جائے۔ کسی بھی ایسی تحریک کو پنپنے کا موقع نہیں دیا جانا چاہیے جس کا فائدہ اٹھا کر دشمن عناصر اپنے مذموم مقاصد حاصل کر سکیں۔ احتجاج پر اصرار کرنا نہ صرف ملکی حالات کو دانستہ طور پر خراب کرنے کی کوششوں کو تقویت دیتا ہے بلکہ یہ دشمن کی اس سٹریٹجی کا حصہ بن جاتا ہے جس کا مقصد ریاست کو اندر سے کھوکھلا کرنا ہے۔جدید عمرانیات میں عوامی مسائل کے حل کے لیے سب سے معتبر اور پائیدار فورم مقننہ (Legislature) ہے۔ ڈنڈے‘ طاقت یا دھونس کے زور پر حاصل کیے جانے والے فیصلے عارضی نوعیت کے ہوتے ہیں اور ان کے پیچھے کوئی قانونی جواز موجود نہیں ہوتا۔ کشمیری مہاجرین کی 12 نشستوں کا معاملہ ہو یا دیگر بنیادی نوعیت کی انتظامی اصلاحات‘ ان کا حل سڑکوں پر نعرے بازی سے نہیں بلکہ قانون سازی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ جب تک منتخب اور نمائندہ ایوان موجود نہ ہو تب تک کسی بھی اصلاحاتی عمل کو قانونی اور آئینی تحفظ حاصل نہیں ہو سکتا۔ اس مقصد کے لیے 27 جولائی کے انتخابات ایک سنہری موقع ہیں جن کے ذریعے عوام اپنے حقیقی اور آئینی نمائندوں کو ایوان میں بھیج سکتے ہیں۔ جب ایوان وجود میں آ جائے گا تو طے شدہ آئینی طریقہ کار کے تحت تمام تصفیہ طلب معاملات پر بحث و تمحیص کی جا سکتی ہے۔ پارلیمانی سیاست کا یہ حسن ہے کہ وہاں ہر مؤقف کو دلیل کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے اور ماہرینِ قانون‘ بار کونسلز اور سول سوسائٹی کے ساتھ مل کر ایسی قانون سازی کی جاتی ہے جو طویل مدتی بنیادوں پر عوام کے حقوق کا تحفظ کر سکے۔ اس لیے عوامی ایکشن کمیٹی کو یہ سمجھنا ہو گا کہ وہ خود کو ایوان سے بالا تر کوئی طاقت تصور نہ کرے۔اگر وہ واقعی عوام کی خیر خواہ ہے تو اسے انتخابی عمل کا حصہ بن کر یا منتخب نمائندوں کے ذریعے اپنے مطالبات کو اسمبلی کے فلور پر اٹھانا چاہیے۔ دباؤ کی سیاست کے بجائے ادارہ جاتی سیاست کو فروغ دینا ہی باشعور قوم کی علامت ہے۔ عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت کو اپنے اندر موجود ان عناصر کی نشاندہی بھی خود کرنی چاہیے جو اس تحریک کو ذاتی یا بیرونی ایجنڈے کے تحت ریاست کے خلاف استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ آزاد جموں و کشمیر کے پائیدار استحکام اور روشن مستقبل کا دارومدار اس بات پر ہے کہ ہم اپنے ماضی کی غلطیوں سے سیکھتے ہوئے ایک نئے عمرانی معاہدے کی طرف بڑھیں۔ ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ مستقبل کی سیاست صرف اور صرف پارلیمنٹ‘ آئین اور قانون کے دائرے کے اندر ہو۔ جب ایوان مضبوط ہو گا تو بیرونی سازشیں خود بخود ناکام ہو جائیں گی اور عوام کو ان کے حقوق دہلیز پر میسر ہوں گے۔ دباؤ‘ ہڑتال اور انتشار کا راستہ صرف بربادی کی طرف جاتا ہے‘ جبکہ مکالمے‘ الیکشن اور ایوان کا فورم ہی ترقی‘ خوشحالی اور حقیقی عوامی بالادستی کا راستہ ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/222_48272610.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سائیکل کی یاد میں ایک کالم(عمران یعقوب خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-06-07/52079/84021733</link><pubDate>Sun, 07 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-06-07/52079/84021733</guid><description>جس روز میں گزشتہ کالم لکھ رہا تھا‘ اُس دن بائیسکل کا عالمی دن منایا جا رہا تھا۔ پہلے پروگرام بنا کہ بائیسکل پر لکھوں لیکن امریکی صدر نے نیتن یاہو کی کھال (جو ٹرمپ کے بقول انہوں نے بچا لی‘ لیکن جو مجھے بچتی نظر نہیں آتی) کا ذکر کر دیا تو ضروری تھا کہ پہلے کھالوں کے بارے میں لکھا جاتا۔ سائیکل یا بائیسکل اپنے زمانے کی شاہانہ سواری ہوا کرتی تھی۔ قیامِ پاکستان سے پہلے جو سائیکل پر سوار گزرتا اسے لوگ اسی طرح دیکھتے جیسے آج کل کسی کو لگژری گاڑی پر سوار گزرتے دیکھتے ہیں۔ اس وقت لگژری گاڑیوں کی قیمت کروڑوں روپے ہے۔ جس زمانے کا میں ذکر کر رہا ہوں تب سائیکل شاید اسی نوے روپے میں آ جاتی ہو گی لیکن اس وقت اسی نوے روپے بھی کسی کسی کے پاس ہوتے تھے۔ اسی سے اندازہ لگائیں کہ اپنے دور میں سائیکل کیسی شاندار سواری ہوتی تھی۔ مجھے بزرگوں کی باتوں سے پتا چلا کہ کسی گاؤں میں جس کے پاس سائیکل ہوتی تھی اس کی سب سے زیادہ عزت ہوتی تھی اور جب وہ سائیکل پر بیٹھ کر پیڈل مارتا ہوا کہیں سے گزرتا تھا تو سب کھڑے ہو کر اسے حسرت بھری نظروں سے دیکھا کرتے تھے۔ یہ اُس زمانے کی بات ہے جب لوگ زیادہ تر پیدل سفر کیا کرتے تھے یا گھوڑا یا تانگہ وغیرہ استعمال کرتے تھے۔ یہ وہی دور تھا جب پاکستان میں گاڑیاں نہیں ہوتی تھیں بلکہ جس کے پاس گھر کی سواریاں ایک سے دوسری جگہ لے جانے کیلئے اپنا تانگہ گھوڑا ہوتا تھا وہی سب سے زیادہ عزت دار کہلاتا تھا۔ تانگے گھوڑے کی حیثیت کسی زمانے میں لگژری گاڑی والی ہی تھی۔میری جم پل لاہور کی ہے اور لاہور بھی اندرون لاہور والا۔ اوپر گاؤں والی مثال ہمارے اندرون لاہور پر بھی صادق آتی ہے۔ جب میں چھوٹا تھا تو وہاں بھی سائیکل کسی کسی کے پاس ہوا کرتی تھی‘ زیادہ تر لوگ پیدل ہی اندرون شہر کی گلیوں میں سے ہوتے ہوئے دوسرے دروازے تک پہنچ جایا کرتے تھے۔ لوگوں کی زیادہ تر گردش اندرون شہر کے انہی بارہ دروازوں کے اندر رہتی تھی۔ میں کوئی بہت پرانے دور کی بات نہیں کر رہا‘ 70ء کی دہائی کی بات کر رہا ہوں۔ گورنمنٹ کالج لاہور 1864ء قائم ہوا تھا۔ میں نے اپنی اعلیٰ تعلیم اسی تعلیمی ادارے سے حاصل کی۔ تب یہ صرف گورنمنٹ کالج ہوا کرتا تھا ‘ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی نہیں بنا تھا۔ کتنے سادہ زمانے ہوا کرتے تھے اس کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ اس کالج میں پہلی موٹر بائیک 1932ء میں لائی گئی اور لانے والا کوئی اور نہیں مشہور و معروف خوشونت سنگھ تھے۔ ان کی موٹر سائیکل کا نام اے جے ایس (اے جے سٹیونسن اینڈ کو لمیٹڈ) بائیک تھا۔ اس کمپنی کی بنیاد 1909ء میں برطانیہ میں رکھی گئی تھی۔ برطانیہ سے جتنی بھی موٹر سائیکلیں ہندوستان لائی جاتیں کلکتہ (جو اَب کولکتہ ہو چکا ہے) کے راستے لائی جاتی تھیں۔ خوشونت سنگھ کے بقول 1930ء تک دہلی میں کُل موٹر سائیکلوں کی تعداد پانچ تھی۔ لاہور میں تعداد کتنی ہو گی اس کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ لوگ سائیکل کو دیکھ دیکھ کر حیران ہوتے تھے‘ موٹر سائیکل تو ان کیلئے کسی اُڑن کھٹولے سے کم نہ تھی۔ پطرس بخاری نے مرحوم (سائیکل)کی یاد میں لکھا کیونکہ اُس زمانے میں سائیکل ہی سب کچھ ہوتا تھا۔میں نے ہی نہیں دنیا میں اور بھی بہت سی معروف شخصیات نے سائیکل چلائی۔ تحریکِ پاکستان کی اہم رہنما اور قائد اعظم کی ہمشیرہ فاطمہ جناح فرصت کے لمحات میں سائیکل چلایا کرتی تھیں۔ جنرل ضیا الحق اکثر سائیکل پر دفتر جایا کرتے تھے۔ سابق نگران وزیر اعظم ملک معراج خالد بھی سائیکل چلایا کرتے تھے۔ بالی وڈ کے سپر سٹار شاہ رخ خان اکثر ممبئی کی سڑکوں پر سائیکل چلاتے دکھائی دیتے ہیں۔ سابق امریکی صدر بارک اوباما اپنی تعطیلات کے دوران خاندان کے ساتھ سائیکل کی سواری سے لطف اندوز ہوتے تھے۔ سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش باقاعدگی سے سائیکلنگ کرتے تھے۔ البرٹ آئن سٹائن کو سائیکل چلانے سے گہرا لگاؤ تھا۔ انسانی حقوق کے معروف امریکی رہنما مارٹن لوتھر کنگ جونیئر بھی سائیکل استعمال کرتے دیکھے گئے۔ آرنلڈ شوارزنیگر اب بھی فٹنس برقرار رکھنے کیلئے سائیکلنگ کو ترجیح دیتے ہیں۔ عالمی شہرت یافتہ گلوکارہ اور اداکارہ جینیفر لوپیز ساحلی علاقوں اور شہر میں اپنی سائیکل پر گھومنا پسند کرتی ہیں۔ بتانے والے بتاتے ہیں کہ معروف اداکار سکندر شاہین مال روڈ پر سائیکل پر کالج آتے جاتے اکثر دیکھے جاتے تھے۔ وہ گورنمنٹ کالج میں سائیکلنگ کے چیمپئن بھی تھے۔ فیض احمد فیض کی بیوی ایلس فیض سائیکل چلاتی تھیں۔ مہدی حسن خود سائیکلوں کے کاریگر تھے اور سائیکل چلاتے تھے۔ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد سائیکل چلاتے تھے۔ گزشتہ دنوں پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف انہوں نے راولپنڈی میں انوکھا احتجاج کرتے ہوئے سائیکل پر سفر کیا۔سائیکل نے کم و بیش دو سو سال شہروں کی سڑکوں اور دیہات کے کچے پکے راستوں پر حکمرانی کی لیکن اب سائیکل قصہ پارینہ بن چکی ہے۔ یہ گزرے وقتوں کی حسین یادگار بن کر رہ گئی ہے۔ پطرس بخاری نے تو طنزیہ اور مزاحیہ انداز میں مرحوم (سائیکل) کی یاد میں لکھا تھا لیکن حقیقت یہ ہے سائیکل اب حقیقتاً مرحوم ہو چکی ہے۔ اب آپ کو خال خال ہی کوئی سائیکل پر جاتا نظر آئے گا‘ زیادہ تر فوسل فیول پھونکتے نظر آئیں گے۔ روئے ارض اگر ماحولیاتی آلودگیوں کے نتیجے میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کی زد میں ہے تو اس کی ایک وجہ سائیکل کو تیاگ کر پٹرولیم مصنوعات پر چلنے والی موٹر سائیکلیں اور گاڑیاں اپنانا بھی ہے۔ سائیکل ایک ایسی ماحول دوست سواری تھی جو نہ تیل پھونکتی تھی نہ دھواں چھوڑتی تھی‘ چنانچہ نہ جیب پر بھاری پڑتی تھی نہ اس کی وجہ سے آلودگی جنم لیتی تھی اورنہ انسانی تنفس کو ویسا نقصان پہنچتا تھا جیسا اب پہنچ رہا ہے۔ سائیکل سوار ایک ٹکٹ میں دو مزے بھی لیتا تھا۔ سفر کا سفر ہوتا تھا اور ورزش کی ورزش۔ میں یہ بات دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ جو بندہ سائیکل استعمال کرتا ہے اسے کسی اور ورزش کی ضرورت نہیں رہتی۔ ہاں سائیکل کبھی چلتے چلتے پنکچر ہو جائے تو اس وقت کوفت ضرور ہوتی ہے لیکن اتنی کوفت نہیں ہوتی جتنی موٹر سائیکل کے پنکچر ہونے پر ہوتی ہے۔ایک محتاط اندازے کے مطابق ہر سال دنیا بھر میں ایک ارب سے زیادہ سائیکلیں تیار ہوتی ہیں۔ سب سے زیادہ سائیکلیں چین میں بنتی ہیں اور وہیں سب سے زیادہ استعمال ہوتی ہیں۔ چین دنیا میں سب سے زیادہ سائیکلوں والا ملک ہے۔ اسے کسی زمانے میں سائیکلوں کی بادشاہت والا ملک کہا جاتا تھا کیونکہ ہر کوئی سائیکل پر سوار سفرکرتا نظر آتا تھا۔ اگرچہ اب چین میں گاڑیوں کا استعمال بڑھ گیا ہے لیکن اب بھی کروڑوں لوگ روزانہ سائیکل استعمال کرتے ہیں اور چین میں بائیک شیئرنگ کا دنیا کا سب سے بڑا نظام موجود ہے۔ کوپن ہیگن کو سائیکلوں کا شہر کہا جاتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق شہر میں سائیکلوں کی تعداد گاڑیوں سے زیادہ ہے اور اس کیلئے انتظامیہ مسلسل کوششیں بھی کرتی آرہی ہے جس سے ماحول کو بہت فائدہ ہوا ہے اور اب شہر کی پہچان ہی سائیکل ہے۔ یہاں 10 میں سے 9 افراد کے پاس سائیکل ہے اور تقریباً 62فیصد لوگ اپنے دفتر یا سکول جانے کیلئے سائیکل کا استعمال کرتے ہیں۔ نیدرلینڈز یا ہالینڈ دنیا کا واحد ملک ہے جہاں سب سے زیادہ سائیکلیں چلائی جاتی ہیں۔ یہاں کی آبادی سے زیادہ سائیکلیں موجود ہیں۔ یہاں فی کس 1.3سائیکلیں موجود ہیں۔پاکستان میں سائیکلوں کی تعداد دوسے تین کروڑ بتائی جاتی ہے جو 25کروڑ کی آبادی میں بہت کم تعداد ہے۔ یہاں ورزش کیلئے تو ایک جگہ کھڑی سائیکل چلائی جاتی ہے لیکن کوئی سائیکل سڑک پر لے کر آنے کیلئے تیار نہیں کہ پتا نہیں لوگ کیا سوچیں گے۔ شاید سائیکلوں کو مرحومین میں شامل کر دینے کا ہی نتیجہ ہے کہ آج ہمارے ملک میں صحت کے مسائل میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_58350786.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سندھ طاس معاہدہ اور بھارتی آبی دہشت گردی(محمد عبداللہ حمید گل)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-abdullah-hameed-gull/2026-06-07/52080/70878626</link><pubDate>Sun, 07 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-abdullah-hameed-gull/2026-06-07/52080/70878626</guid><description>بھارت نے سندھ طاس معاہدے کی دھجیاں اڑاتے ہوئے 20مئی سے چناب بیاس رابطہ ٹنل منصوبے کے تحت پاکستان کے خلاف آبی جنگ کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ بھارتی ریاست ہماچل پردیش کے علاقے لاہول اسپیتی میں 23.5ارب ڈالر مالیت کے اس منصوبے کے تحت لگ بھگ نو کلو میٹر طویل سرنگ تعمیر کی جائے گی‘ جس کے ذریعے دریائے چناب کا سالانہ تقریباً دو ملین ایکڑ فٹ پانی بذریعہ سرنگ دریائے بیاس میں منتقل کیا جائے گا۔ اس منصوبے کی تکمیل کا ہدف 31جولائی 2029ء رکھا گیا ہے ۔ 1960ء کے سندھ طاس معاہدے کے تحت چناب‘ جہلم اور سندھ کے مغربی دریاؤں پر پاکستان کا حق تسلیم کیا گیا تھا۔بھارت کا یہ اقدام اقوامِ متحدہ کے واٹر کورسز کنونشن 1997ء اور ویانا کنونشن 1969ء کے آرٹیکل 60کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ پاکستان کو دریائے چناب پر اس سرنگ کی تعمیر کے خلاف فوری طور پر بین الاقوامی عدالتِ انصاف سے رجوع کرنا چاہیے۔ بھارت سندھ طاس معاہدے کی روح سے انحراف کرتے ہوئے مسلسل آبی دہشت گردی میں مصروف ہے جبکہ ہم اس معاہدے کی پاسداری کو  اپنا فرضِ اولین بنائے ہوئے ہیں۔ جب سندھ طاس معاہدہ طے پایا تھا تو ورلڈ بینک کے اُس وقت کے صدر یوجین رابرٹ بلیک نے انڈس بیسن ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کے آغاز کیلئے غیر معمولی ذاتی کوششیں کی تھیں۔ انڈس بیسن ڈویلپمنٹ فنڈ معاہدے کے تحت عالمی بینک نے 80ملین ڈالر بطور قرض‘ امریکہ نے 247ملین ڈالر‘ جرمنی نے 126ملین ڈالر بطور گرانٹ‘ کینیڈا نے 22.1ملین ڈالر‘ برطانیہ نے 20.86ملین ڈالر‘ آسٹریلیا نے 6.97ملین ڈالر‘ نیوزی لینڈ نے ایک ملین ڈالر اور بھارت نے بھی 62.06 ملین ڈالر فراہم کیے تھے۔ اس منصوبے میں دو بڑے ذخائرِ آب‘ چھ بیراج‘ آٹھ رابطہ نہریں‘ نکاسیٔ آب کا نظام‘ سڑکیں اور دیگر بنیادی ڈھانچے شامل تھے جو مقررہ وقت پر اور کرپشن کے بغیر مکمل ہوئے تھے۔ منگلا ڈیم ادارہ جاتی صلاحیت کی اعلیٰ مثال ہے جبکہ تربیلا ڈیم دنیا کا سب سے بڑا مٹی سے بھرا ہوا ڈیم بنا۔ تربیلا ڈیم کی تکمیل کے بعد پاکستان کی اوسط سالانہ جی ڈی پی نمو سات فیصد سے زیادہ رہی‘ جو اُس وقت ایشیا کی بلند ترین شرحوں میں شمار ہوتی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ واپڈا ہاؤس لاہور بھی اسی عظیم منصوبے کی ایک یادگار ہے۔ مسٹر بلیک کے اس اقدام کی سب سے نمایاں کامیابی اس کی غیرمعمولی کارکردگی تھی۔ منگلا ڈیم صرف چھ سال میں اور تربیلا ڈیم آٹھ سال میں مکمل کر لیا گیا۔ یہ منصوبے مقامی تعمیراتی اداروں اور انجینئرنگ ڈیزائن کنسلٹنٹس کی مدد سے پایۂ تکمیل تک پہنچے۔ بعد ازاں ہائڈل پاور کا کوئی بھی بڑا منصوبہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکا۔ 969میگاواٹ کا نیلم جہلم پراجیکٹ تکنیکی خامیوں اور ناقص تعمیراتی مواد کے انکشاف کے بعد 2022ء سے بند پڑا ہے۔ دیا مر بھاشا ڈیم‘ جس کا افتتاح صدر پرویز مشرف نے 2006ء میں کیا تھا‘ 2026ء میں بھی تاخیر کا شکار ہے۔ اس کے برعکس تربیلا اور منگلا ڈیم محدود ٹیکنالوجی کے باوجود وقت پر مکمل ہوئے۔اگر بھارت دریائے چناب کا پانی بیاس کی طرف موڑنے کی کوشش کرے گا تو اسے پاکستان سمیت ان تمام ممالک کے سامنے جوابدہ ہونا پڑے گا جنہوں نے اس منصوبے میں سرمایہ کاری کی تھی۔ سندھ طاس معاہدہ پاکستان پر بھارت کا کوئی احسان نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی عہد ہے جسے بھارت یکطرفہ معطل نہیں کر سکتا کیونکہ اس منصوبے میں عالمی برادری کی مالی شراکت شامل ہے۔ لیکن اس قانونی نکتے کو عالمی سطح پر کون اٹھائے گا؟ اگر حکومتِ پاکستان اس معاملے پر خاموش رہتی ہے تو اس مسئلے کو اقوامِ متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کے سامنے اٹھایا جائے تاکہ اس تاریخی اور قانونی پہلو کو مؤثر انداز میں پیش کیا جا سکے۔لمحۂ فکریہ یہ ہے کہ کالا باغ ڈیم کی مخالفت نے ملک کو پانی ذخیرہ کرنے اور سستی بجلی کے حصول سے محروم کر دیا۔ اس منصوبے کے التوا کے باعث توانائی کے بحران‘ درآمدی ایندھن پر انحصار اور سیلابی آفات جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ دوسری جانب مختلف غیرسرکاری تنظیموں اور بیرونی اثر و رسوخ نے آبی توانائی اور زرعی پالیسیوں پر اثر انداز ہو کر قومی مفادات کو نقصان پہنچایا۔ وطنِ عزیز کو اس وقت پانی کی قلت کے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ افسوس کہ زرعی ملک ہونے کے باوجود شہری اور دیہی علاقے پانی کے بحران کی زد میں ہیں۔ اس کی بنیادی وجوہات میں گاد سے بھرے آبی ذخائر‘ زیرِ زمین پانی کی تیزی سے گرتی ہوئی سطح اور بقا کیلئے ٹینکر مافیا پر بڑھتا ہوا انحصار شامل ہیں۔ تربیلا ڈیم‘ منگلا ڈیم‘ وارسک ڈیم‘ میرانی ڈیم‘ حب ڈیم‘ خانپور ڈیم‘ ست پارہ ڈیم‘ راول ڈیم‘ گومل زام ڈیم اور نیلم جہلم ڈیم جیسے ذخائر اپنی پانی ذخیرہ کرنے کی اصل صلاحیت کا ایک بڑا حصہ کھو چکے ہیں۔ مسلسل گاد جمع ہونے کے براہِ راست اثرات بجلی کی پیداوار‘ پینے کے پانی کی فراہمی اور صنعتی سرگرمیوں پر پڑ رہے ہیں۔ بدقسمتی سے متعلقہ اداروں کا ردِعمل اکثر بیانات اور وعدوں تک محدود رہا ہے۔چین‘ ترکیہ اور امریکہ جیسے ممالک نے اپنے ڈیموں کی صفائی اور دیکھ بھال کیلئے جدید طریقۂ کار اختیار کیے ہیں۔ پاکستان میں اس کے برعکس بہت سے ڈیم اپنی تعمیر کے بعد کبھی جامع صفائی کے عمل سے نہیں گزرے۔ حتیٰ کہ اسلام آباد جیسے ترقی یافتہ شہر میں بھی صورتحال تشویشناک ہے۔ اس پورے منظرنامے میں طاقتور ٹینکر مافیا سرگرم ہے‘ جس نے پانی کی قلت کو انتہائی منافع بخش کاروبار میں تبدیل کر دیا ہے۔ ملک میں پانی کی کمی کی ایک بڑی وجہ بارش کے پانی کو محفوظ نہ کرنا بھی ہے۔ دنیا بھر میں جدید رین واٹر ہارویسٹنگ سسٹمز وسیع پیمانے پر استعمال ہو رہے ہیں لیکن ہمارے ہاں یہ تصور ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے صرف سیمیناروں‘ کانفرنسوں اور کاغذی منصوبوں تک محدود ہے۔ اگرچہ ماہرین نے بارش کے پانی کے تحفظ کیلئے متعدد سفارشات پیش کیں مگر ان پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔اسلام آباد‘ لاہور‘ کراچی‘ پشاور اور کوئٹہ جیسے شہروں میں ہر سال لاکھوں گیلن بارش کا پانی ضائع ہو کر نالوں اور دریاؤں میں بہہ جاتا ہے۔ اگر بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے جدید طریقے اپنائے جائیں تو نہ صرف زیرِ زمین پانی کی سطح بہتر ہو سکتی ہے بلکہ پانی کی قلت پر بھی قابو پایا جا سکتا ہے۔ اسی طرح چھوٹے چھوٹے ڈیموں کی تعمیر بھی وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔ اگر مختلف شہروں میں چھوٹے ڈیم تعمیر کیے جائیں تو وہ پانی ذخیرہ کرنے‘ زرعی زمینوں کو سیراب کرنے‘ زیرِ زمین پانی کی سطح بہتر بنانے اور بجلی پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق پاکستان کیلئے فوری طور پر قومی سطح پر واٹر ایمرجنسی کا نفاذ ناگزیر ہو چکا ہے۔ اس اقدام کے تحت تمام بڑے ڈیموں کی صفائی اور گاد نکالنے‘ بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے نظام نافذ کرنے‘ ٹینکر مافیا کے خلاف سخت کارروائی کرنے اور ملک بھر میں چھوٹے ڈیموں کی تعمیر پر خصوصی توجہ دی جانی چاہیے۔ایک اور تلخ حقیقت ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی ہے۔ ایک وقت تھا جب پاکستان کو پانی سے مالا مال ملک سمجھا جاتا تھا لیکن آج فی کس پانی کی دستیابی خطرناک حد تک کم ہو چکی ہے۔ اگر یہ رجحان جاری رہا تو جلد ہی غذائی تحفظ‘ عوامی صحت‘ معیشت حتیٰ کہ قومی سلامتی کیلئے بھی یہ ایک بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی نے اس بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ گلیشیرز تیزی سے پگھل رہے ہیں‘ بارشوں کے نظام میں تبدیلی آ رہی ہے‘ مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ پانی کے ضیاع کو روکنے کیلئے ابھی تک کوئی مؤثر قومی مہم موجود نہیں۔ حکومت‘ میڈیا‘ ماہرین‘ تعلیمی اداروں اور سول سوسائٹی کو مل کر پانی کے تحفظ کیلئے قومی مہم شروع کرنی چاہیے۔ اگر ہم نے ابھی سنجیدگی سے اقدامات نہ کیے تو آنیوالی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔ کو سیاسی نعروں کی نہیں بلکہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ پانی زندگی ہے اور زندگی کا تحفظ ناگزیر ہے۔ چنانچہ قومی سطح پر فوری‘ سخت اور مؤثر فیصلے کرنے کا وقت آ چکا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_62843609.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>