<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>امن کی جیت(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-16/11281</link><pubDate>Tue, 16 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-16/11281</guid><description>وزیر اعظم شہباز شریف نے امریکہ ایران امن معاہدے کو بجا طور پر امن کا سورج طلوع ہونے سے تعبیر کیا ہے۔ بلاشبہ یہ پیش رفت معاصر دنیا کیلئے ایک تاریخی واقعہ ہے اور عالمی امن کیلئے بے نظیر کارنامہ‘ جس کے اثرات علاقائی اور عالمی سطح پر معیشت‘ سماج اور اقوام کے باہمی تعلقات کی صورت میں سامنے آئیں گے۔ امن معاہدے کی تقریب اسی جمعۃ المبارک کو پاکستان کی میزبانی میں جنیوا میں متوقع ہے۔ امنِ عالم کی اس اہم پیشرفت پر وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ روز قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج دنیا نے امن کا تاریخی سنگ میل عبور کیا ہے‘ جنگ کے بعد امن کا سورج طلوع ہو گیا ہے‘ تین ماہ 16 دن کی بے پناہ آزمائشوں کے بعد امریکہ اور ایران نے تمام محاذوں پر جنگ کے مستقل خاتمے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس سفارتی فتح کیلئے پاکستان کا بنیادی کردار تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔ انتہائی درجے کی کشیدگی کے دوران پاکستان نے جس حکمت سے جنگ بندی کروانے میں کامیابی حاصل کی‘ فریقین کو اسلام آباد میں بالمشافہ مذاکرات تک لے کر آئے اور جس خلوص اور لگن کے ساتھ امن کیلئے کام کیا وہ پاکستان کی عالمی امن کیلئے بہت بڑی خدمت ہے جس نے پاکستان کی اہمیت اور عالمی کردار کو چار چاند لگائے ہیں۔

19جون کو جنیوا میں امن معاہدے پر امریکہ اور ایران کے دستخطوں سے مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ ایک نئے دور میں داخل ہونے کی امید ہے۔ تجارتی رکاوٹیں ہٹ جائیں گی‘ محاصرے  اُٹھ جائیں گے‘ حملوں کے خطرات ٹل جائیں گے اور خلیج فارس کے ممالک کو ایک دوسرے کے ساتھ نئی شروعات کا موقع میسر آئے گا۔ امید کی جاتی ہے کہ اس کشیدگی کے تلخ تجربے سے خلیجی خطے کے سبھی فریق بہت کچھ سیکھیں گے اور یقینی بنائیں گے کہ مستقبل میں اس خطے کو ایسے بھیانک تجربات سے دوبارہ نہ گزرنا پڑے۔ اس کیلئے ضروری یہ ہے کہ خطے کے ممالک سفارتی حکمت کے ساتھ آگے بڑھیں اور جنگ کی تلخ یادوں کو ماضی میں دفن کر دیں۔ اس کشیدگی نے خطے کے سبھی ممالک کو متاثر کیا ہے ۔ کسی کو کم‘ کسی کو زیادہ مگر خلیجی خطے کی سبھی دولت مند اور ترقی یافتہ ریاستوں کیلئے یہ صورتحال ڈراؤنا خواب ثابت ہوئی۔ اب اس آگ کو بجھانے کا وقت آیا ہے تو خطے کے سبھی ممالک کو اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور باہمی رنجشوں کو مٹانے اور اعتماد کو فروغ دینے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ خلیج کا وسائل سے مالا مال خطہ جنگ کی اس ناگہانی آفت کے اثرات سے نکل کر نئے جذبے اور زور وشور کے ساتھ ترقی کر سکے اور دنیا کو توانائی کی فراہمی اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے۔ یہی اس خطے کے مفاد میں ہے اور دنیا کے مفاد میں بھی۔
پائیدار امن کیلئے معاہدے کی شرائط پر عملدرآمد ناگزیر ہو گا۔ فریقین کو شرح صدر کے ساتھ یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ حالات جس نہج سے واپس آئے ہیں اس میں اعتماد کی بحالی وقت لے گی تاہم معاہدے کی طے شدہ شرائط پر فریقین کا عملدرآمد یہ ثابت کرے گا کہ وہ امن کیلئے کتنے مخلص اور سنجیدہ ہیں۔ امن معاہدے کے ہر دو فریقوں کو معاہدے کی پابندیوں کا پاس کرنا ہو گا۔ آبنائے ہرمز کی بحالی اور امریکہ کی جانب سے ایران کا محاصرہ اٹھا لینے کے علاوہ لبنان میں قیام امن اور اسرائیلی جارحیت کا خاتمہ بھی اس امن عمل کی کامیابی کا تقاضا ہے۔ ایسا نہ ہو کہ امریکہ اور ایران تو اپنی حد تک معاہدے کی شرائط کی تعمیل کریں مگر اسرائیلی حملے امن کی اس کاوش کے لیے بگاڑ پیدا کرنے کا سبب بنیں۔
کسی کو بھی یہ اجازت نہیں ہونی چاہیے کہ جارحیت مسلط کرے اور ملکوں کی خودمختاری کو ملیامیٹ کرتا پھرے۔ امریکہ ایران امن معاہدے سے جنگ کا خاتمہ تو ہو گیا ہے‘ آبنائے ہرمز کے کھلنے سے تجارتی سرگرمیاں بھی بحال ہو رہی ہیں اور تیل کی قیمتوں میں واضح کمی آ چکی ہے‘ تاہم مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن اسرائیلی طرزِ عمل سے مشروط ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بارشیں اور پیشگی اقدامات(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-16/11280</link><pubDate>Tue, 16 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-16/11280</guid><description>محکمہ موسمیات نے 16سے 20جون تک اسلام آباد‘ راولپنڈی‘ لاہور‘ سیالکوٹ‘ پشاور‘ سوات‘ چترال ‘ کراچی اور کوئٹہ میں شدید بارشوں اور طوفانی ہواؤں کا انتباہ جاری کیا ہے۔ ملک میں مون سون سیزن کی آمد آمد ہے مگر متعلقہ ادارے ابھی تک اس چیلنج سے نمٹنے کیلئے مکمل طور پر تیار دکھائی نہیں دیتے۔ اس تشویش کی ایک واضح مثال خیبرپختونخوا میں گزشتہ دنوں ہونے والی بارشیں ہیں جہاں ایک ہی روز میں بارشوں سے مختلف حادثات میں سات افراد جاں بحق اور 30 سے زائد زخمی ہو گئے۔ اس سے اداروں کی تیاری کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے اور سوچا جاسکتا ہے کہ اگر مون سون میں بارشیں معمول سے زیادہ ہوئیں تو جانی اور مالی نقصان کتنا بڑھ سکتا ہے۔

جاری ترقیاتی منصوبوں کے باعث شہروں میں جگہ جگہ سڑکیں ٹوٹی پڑی ہیں‘ سیوریج کا نظام پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے اور متعدد شہروں میں برساتی نالوں کی بروقت صفائی بھی نظر نہیں آتی؛چنانچہ گھنٹوں کی بارش بھی اربن فلڈنگ کا سبب بن سکتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ صوبائی حکومتیں اور ضلعی انتظامیہ مون سون سے قبل ہنگامی بنیادوں پر نکاسیِ آب کے نظام کی بہتری‘ برساتی نالوں اور سیوریج لائنوں کی مکمل صفائی اور آبی گزرگاہوں پر قائم تجاوزات کے خاتمے کو یقینی بنائیں۔ قدرتی آفات کو روکا نہیں جا سکتا لیکن بروقت منصوبہ بندی اور مؤثر انتظامات کے ذریعے ان کے نقصانات ضرور کم کیے جا سکتے ہیں۔ اس لیے متعلقہ اداروں کو بروقت پیشگی اقدامات یقینی بنانے چاہئیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>چکوال واقعہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-16/11279</link><pubDate>Tue, 16 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-16/11279</guid><description>چکوال میں ڈاکوؤں کے شبہے میں ایک پولیس اہلکار کی فائرنگ سے ایک بچی کے جاں بحق اور دو افراد کے زخمی ہو نے کے واقعے کو انتہائی حساس قرار دیتے ہوئے اعلیٰ سطح پر مانیٹرنگ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق واقعے کے دوران اہلکار کی جانب سے مبینہ طور پر ایس او پیز کی خلاف ورزی کی گئی‘ جس میں بغیر وارننگ فائرنگ کرنے اور شناخت کے معیار کو نظر انداز کرنے جیسے بنیادی پہلو شامل ہیں۔ یہ واقعہ شہری تحفظ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پیشہ ورانہ تربیت پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اہلکاروں کی تربیت میں اس پہلو پر خصوصی توجہ دیں کہ وہ مجرموں کے تعاقب میں جتنے مستعد ہوں‘ شہری جانوں کے تحفظ میں انہیں اس سے کہیں زیادہ محتاط ہونا چاہیے۔ چکوال کا یہ سانحہ عالمی میڈیا میں بھی زیر بحث آیا۔ یہ واقعہ اس ضرورت کو واضح کرتا ہے کہ پولیس اہلکاروں کی تربیت کو عالمی معیار کے مطابق اَپ ڈیٹ کیا جائے‘ فائرنگ پروٹوکول پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور ایس او پیز کی خلاف ورزی کو محض انفرادی غلطی کے بجائے ایک سنجیدہ انتظامی ناکامی کے طور پر دیکھا جائے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سات فیصد(محمد اظہارالحق)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-06-16/52129/43249267</link><pubDate>Tue, 16 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-06-16/52129/43249267</guid><description>یہ جو چلے جا رہا ہے‘ یہ کون ہے؟مشکل سے پاؤں اٹھاتا ہے۔ اگلا قدم چلنے سے پہلے ہانپنے لگتا ہے۔ مکھیوں کو اڑانے کی ناکام کوشش کر رہا ہے‘ کبھی جھرجھری لے کر‘ کبھی سر کو جھٹک کر‘ مگر رِستے ہوئے زخموں پر مکھیاں ٹوٹ پڑتی ہیں۔ اس ذی روح کیلئے راحت نام کی کوئی شے نہیں۔ صبح کی خنکی ہو یا گئی رات کا سناٹا‘ کڑکتی‘ چلچلاتی دوپہر کی اذیت ہو یا خون چوستے پسوؤں سے بھری شام‘ اس کیلئے ذرہ بھر سکون نہیں۔ اس بات کا کوئی امکان بھی نہیں کہ کوئی دور افتادہ راحت اس کے پاس سے گزر ے۔یہ کون ہے جو چلے جا رہا ہے؟ کبھی اس کی کھال سے بیگ بناتے ہیں‘ کبھی جیکٹیں اور کبھی جوتوں کے تسمے! کبھی کوئی اس کی پشت پر بیٹھ کر ہانکنے لگتا ہے۔ کوئی ہل میں جوتتا ہے اور کانٹوں بھری قمچیاں مارتا ہے۔ کبھی چراگاہ میں لے بھی جائیں تو پشت پر ڈنڈا رسید کر کے گالی دیتے ہیں اور اس کا گوشت کھانے کی دھمکی دیتے ہیں۔ اس کے جگر اور گردے‘ جو کبھی صحیح سلامت تھے‘ ایک ایک کر کے ناکارہ ہونے لگے ہیں۔ خوراک حد درجہ کم ہو گئی ہے۔ جو تھوڑی بہت گھاس کھاتا بھی ہے‘ ہضم نہیں ہوتی۔ معدے سے اٹھتی جلن صبح تک بے چین رکھتی ہے۔ دل کی رگیں تنگ ہو گئی ہیں۔ کمر میں مسلسل درد رہتا ہے۔ ٹانگیں جو کبھی فولاد کی طرح تھیں‘ کانپتی ہیں۔ مالک کو کوئی پروا نہیں۔ وہ اس سے سالہا سال فائدہ اٹھا چکا ہے۔ کسی رات‘ تنہائی میں سانسوں کی آمد و رفت رک جائے گی اور یہ گر پڑے گا۔یہ کون ہے؟ یہ ریٹائرڈ سرکاری ملازم ہے۔ اس نے کم و بیش 40 برس ریاست کی خدمت کی ہے۔ اس نے اپنی محنت اور دیانت سے ریاست کے کروڑوں اربوں روپے بچائے۔ لوگ کچھ بھی کہیں‘ چند کالی بھیڑوں کی وجہ سے تمام سرکاری ملازموں کے خلاف یاوہ گوئی اور ہرزہ سرائی کرتے رہیں‘ سچ یہ ہے کہ اس سرکاری ملازم نے چار دہائیاں‘ صبح سے شام تک کام کر کے ریاست کی مشینری چلائی۔ بسوں میں سفر کیا۔ سائیکل چلائی۔ غروبِ آفتاب کے بعد دفتر سے اٹھا۔ راتوں کو گھر میں بیٹھ کر فائلیں نمٹائیں۔ ساتھ ساتھ اپنے بچوں کو سکولوں میں داخلے دلوائے۔ بیوی بچے بیمار ہوئے تو انہیں ہسپتالوں میں لے کر گیا۔ چھٹی کبھی ملی کبھی نہ ملی۔ اتوار کو اتوار بازار میں سستے سودا سلف کی تلاش میں پھرا۔ کام کرتے کرتے کمر دہری ہو گئی۔ بینائی میں ضعف آ گیا۔ چلنے میں دقت ہونے لگی۔ ریٹائرمنٹ پر جی پی فنڈ‘ پنشن ملا کر بچوں کی شادیاں کیں۔ اکثریت کے پاس ریٹائرمنٹ کے وقت اپنی چھت نہیں ہوتی۔عوام میں یہ بات پھیلائی گئی کہ ہر سرکاری ملازم کرپٹ ہے۔ بد عنوان ہے۔ سائلین کو تنگ کرتا ہے۔ سچ کیا ہے؟ اس لکھنے والے نے 37 برس سرکاری ملازمت میں گزارے۔ درجنوں محکموں میں کام کیا۔ بیسیوں شعبوں سے واسطہ پڑا۔ اس پروردگار کی سوگند جس نے اپنے بندوں کی اکثریت کو حلال و حرام میں فرق کو سمجھنے کی صلاحیت بخشی‘ گنتی کے چند شعبوں کو چھوڑ کر سرکاری ملازموں کی اکثریت دیانتدار ہے‘ محنتی ہے اور ذمہ دار!! ایسا نہ ہوتا تو ریاستی مشینری جام ہو چکی ہوتی۔ ہسپتال‘ ٹرینیں‘ سکول‘ کالج‘ ڈاکخانے‘ تھانے‘ ایف بی آر‘ قومی بچت کے مراکز ٹھپ ہو چکے ہوتے۔ بجلی‘ گیس‘ پانی کا نظام تہ و بالا ہو چکا ہوتا۔ مسلح افواج اور دیگر سرکاری ملازموں کو تنخواہیں نہ ملتیں۔ ریگستانوں میں کوہستانی چوٹیوں پر‘ اور مورچوں میں بیٹھے ہوئے فوجیوں کو اشیائے خورو نوش نہ مل رہی ہوتیں‘ بیواؤں کی پنشن بند ہو جاتی۔ افغانستان کی سو فیصد آبادی پاکستان میں منتقل ہو چکی ہوتی۔ سڑکیں اور پُل بنانے والوں کو معاوضے ملنے بند ہو جاتے۔ ٹھیک ہے کہ کچھ سرکاری ملازموں نے یورپ‘ امریکہ اور کینیڈا میں جائدادیں خریدیں‘ حرام کی آگ اپنے اور اپنے بچوں کے پیٹ میں بھڑکانے والے یقینا موجود ہیں مگر ایسے جہنمی تعداد میں کم ہیں۔ ان کو بنیاد بنا کر تمام سرکاری ملازموں کو مطعون کرنا سخت نا انصافی ہے۔ غیر ذمہ دارانہ عمومی دعویٰ کرنا (Sweeping statement)دینا آسان ہے‘ ثابت کرنا مشکل ہے۔ کیا تمام ڈاکٹر لالچی ہیں؟ کیا تمام وکیل جھگڑالو ہیں؟ کیا تمام میوہ فروش خراب مال بیچتے ہیں؟ کیا تمام پاکستانی عہد شکن‘ دروغ گو اور خائن ہیں؟ کیا تمام علما دنیا دار ہیں؟ ہم سب جانتے ہیں کہ ان سوالوں کا جواب نفی میں ہے۔ تو پھر سرکاری ملازموں کی اکثریت بددیانت اور راشی کس طرح ہو سکتی ہے؟ابھی اگلے روز بجٹ کا اعلان ہوا ہے۔ زندگی کے فعال برس ریاست پر نچھاور کرنے والے ان ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی پنشن میں کتنا اضافہ ہوا ہے؟ سات فیصد!! یہ سات فیصد اضافہ کس طبقے نے تجویز کیا ہے اور منظور کیا ہے؟ وہ طبقہ جس کا ہر فرد ارب پتی نہیں تو کروڑ بلکہ کروڑوں پتی ضرور ہے۔ ان میں سے اکثر کی قیام گاہ‘ گاڑی‘ پٹرول‘ نوکر یہاں تک کہ کھانا پینا بھی سرکار کے ذمے ہے۔ یہ ریٹائرمنٹ کے بعد لاکھوں میں پنشن لیتے ہیں۔ پٹرول‘ بجلی‘ گیس‘ پانی‘ ٹیلیفون مرنے تک سرکاری خزانے سے ہے۔ تفصیل میں گئے تو Contempt کے جرم میں پکڑے جا ئیں گے۔ آپ پارلیمنٹ کے ارکان کی کل مراعات معلوم کریں۔ دل بیٹھ جائے گا۔ تنخواہ‘ سفری خرچ‘ سرکاری پاسپورٹ‘ کئی قسم کے الاؤنس‘ علاج معالجہ‘ غرض لاتعداد مراعات!! ان پر کسی قانون کا اطلاق بھی نہیں ہوتا! اسلحہ کی نمائش دھڑلے سے کرتے ہیں۔ گاڑی کے نیچے دے کر لوگوں کو مار دیں تو سزا ملنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا! ایک صاحب سینیٹ کے چیئرمین تھے تو اپنے آپ کو اور دیگر ارکان کو کیا کیا مراعات دے گئے‘ ڈھونڈ کر پڑھیے۔ دل سے ہوک اُٹھے گی۔ ایک خاتون لاکھوں کے قرضے معاف کرا گئیں۔ اس طبقے کے ارکان صبح لندن میں کرتے ہیں تو شام جنیوا میں۔ اور ساتھ وزیروں اور سیکرٹریوں کی فوج!! جو درباری بنے پھرتے ہیں! علاج ان کا یورپ سے ادھر ہوتا ہی نہیں۔ ہر شہر میں ان کے محلات ہیں۔ جہاز ان کیلئے رکشے جیسا ہے۔ دنیا کی سب سے مہنگی گاڑیاں ان کے پاس ہیں اور بے شمار ہیں۔ ان کے بچے‘ پوتے‘ نواسے یورپ میں ہیں۔ یہ ہے وہ طائفہ جس نے ریٹائرڈ سرکاری ملازموں کی پنشن سات فیصد بڑھائی ہے۔ حاتم طائی کی قبر پر لات ماری ہے اور بخل کی انتہا کر دی ہے۔ یہ وڈیرہ ذہنیت ہے۔ یہ فیوڈل مائنڈ سیٹ ہے۔ یہ طبقہ عوام کو رعایا گردانتا ہے اور اپنے آپ کو بادشاہ!! خدا کی قسم ! یہ وہ گروہ ہے جو سودا سلف لینے کبھی بازار گیا ہی نہیں۔ سرکاری ہسپتالوں اور سرکاری سکولوں کے کبھی قریب بھی نہیں پھٹکے! یہ سمجھ ہی نہیں سکتے کہ پنشن میں سات فیصد اضافہ اضافہ نہیں طمانچہ ہے! یہ اندازہ ہی نہیں کر سکتے کہ زندگی کی مشعل دونوں سروں سے کس طرح جلتی ہے!بارہا گفتہ ام و بارِ دگر می گویم! پہلے بھی بارہا بتایا ہے‘ ایک بار پھر عرض ہے۔ جو جانتا ہے وہ جانتا ہے‘ جو نہیں جانتا وہ جان لے کہ پاکستان میں امرا کی حکومت ہے۔ فرنگی اس نظامِ حکومت کو اولیگارکی (Oligarchy) کہتے ہیں۔ یعنی ایک چھوٹے سے طبقے کی حکومت جس کے پاس دولت ہے۔ فیصلہ سازی اس طبقے سے باہر نہیں جا سکتی۔ عوام کیلئے یہ ممکن ہی نہیں کہ فیصلہ سازی پر اثر انداز ہو سکیں۔ سادہ سی مثال آپ کے سامنے ہے۔ بجلی پیدا کرنے والی نجی کمپنیوں کا‘ زبردست شور کے باوجود‘ کوئی بال بیکا نہیں کر سکا۔ زیرو بجلی پیدا کرنے والے بھی اربوں روپے لے رہے ہیں۔ چینی کی مثال لے لیجیے۔ ہر سال برآمد کر کے اربوں کماتے ہیں۔ پھر مہنگی کر کے مزید اربوں اور پھر درآمد کر کے مزید در مزید کھربوں کماتے ہیں! کون؟ فیصلے کرنے والے! عوام پچیس کروڑ کیا‘ پچاس کروڑ بھی ہو جائیں تو کچھ نہیں کر سکتے! اولیگارکی زندہ باد! عوام مردہ باد!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_57182973.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>گدھے بھی کالم کے حقدار ہیں(خالد مسعود خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-06-16/52130/40504829</link><pubDate>Tue, 16 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-06-16/52130/40504829</guid><description>گزشتہ روز اخبار میں یہ خبر پڑھ کر خوشی ہوئی کہ پاکستان میں گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور تازہ ترین گدھا شماری کے  مطابق (اس گدھا شماری کو مردم شماری سے الگ سمجھا جائے) پاکستان میں ایک سال کے دوران گدھوں کی تعداد 60 لاکھ سے بڑھ کر 62 لاکھ ہو گئی ہے یعنی گزشتہ ایک سال کے دوران ملکِ عزیز میں دو لاکھ گدھوں کا اضافہ ہوا ہے۔ میں ذاتی طور پرگدھوں کی تعداد میں اس اضافے پر خوش ہوں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ گدھے بڑے معصوم اور بے ضرر جانور ہیں۔ انتہا سے زیادہ تنگ کرنے کی صورت میں بھی محض ایک آدھ دولتی جھاڑ کر دوبارہ اپنے کام میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ اس ملک میں انسانی آبادی میں روز افزوں اضافہ تو اس ملک کی معیشت پر بوجھ بن رہا ہے کیونکہ آبادی میں اس اضافے سے کام کرنے والوں کے بجائے مانگنے والوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے‘ ایسی صورت میں مجھے گدھا اس لیے پسند ہے کہ صابر اور شاکر ہونے کے ساتھ ساتھ گدھا نہایت محنتی اور کام کا شوقین جانور ہے۔ نفی ٔذات کا یہ عالم ہے کہ اپنے کمائے ہوئے رزقِ حلال میں سے خود کم کھاتا ہے اور اپنے مالک کو زیادہ کھلاتا ہے۔ میں گدھے کی اس خوبی کا موازنہ کسی بڑے آدمی سے نہیں کروں گا کہ وہ اسے اپنی ذات پر حملہ تصور کرتے ہوئے بات کو کہیں اور لے جائے گا۔گدھا بنیادی طور پر ایک نہایت شریف النفس جانور ہے‘ پٹتا ہے مگر ہمارے عوام کی طرح بولتا نہیں۔ اللہ جانے گدھا اس معاملے میں ہمارے عوام پر گیا ہے یا عوام گدھے پر گئے ہیں‘ تاہم دونوں کا مزاج اس معاملے میں ایک جیسا ہی ہے۔ کسی نے گدھے کو کہا کہ تمہیں رات کو چور کھول کر لے جائیں گے‘ گدھے نے گھٹیا کوالٹی کے گھاس کو کھاتے ہوئے سر اٹھائے بغیر مخاطب کو کہا کہ مجھے اس چیز کی رتی برابر بھی کوئی فکر نہیں کہ مجھے رات کو چور لے جائیں گے۔ میں یہاں ریڑھا کھینچتا ہوں اور شام کو گھاس کھاتا ہوں۔ چور بھی مجھ سے ریڑھا ہی کھنچوائے گا اور گھاس بھی بہرحال ڈالے گا۔گدھے میں بہت سی ایسی خوبیاں ہیں جس سے اگر ہم انسان کچھ سیکھ سکیں تو اس ملک میں بڑی بہتری پیدا ہو سکتی ہے۔ گدھا محنت کر کے کماتا ہے اور اپنی حق حلال کی کمائی میں سے تھوڑا سا خود کھاتا ہے اور اُس سے کہیں زیادہ اپنے مالک کو کما کر کھلاتا ہے۔ سردی‘ گرمی‘ دھوپ اور چھاؤں میں جان توڑ قسم کی محنت اور مشقت کرتا ہے۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے پیسوں کے انتظار میں گھنٹوں قطار بنا کر کھڑا نہیں رہتا‘ بینکوں کے باہر قطار نہیں لگاتا۔ گدھے کے اخلاقی اور معاشی معاملات کافی حد تک ہم سے بہتر ہیں۔ میں نے شاہ جی سے ایسے ہی ازراہِ تفنن گدھوں کے تعداد میں دو لاکھ اضافے کا ذکر کیا تو انہوں نے آگے سے ہمیشہ کی طرح پخ ڈالتے ہوئے اصل بات کے بجائے ادھر اُدھر کی سنانی شروع کر دی۔ کہنے لگے کہ یار پہلی بات تو یہ ہے کہ جس ملک میں ابھی تک انسانوں کی گنتی ٹھیک طرح سے نہیں ہو سکی وہاں گدھوں کی گنتی کے بارے میں اتنے یقین سے کہنا کہ یہ 60لاکھ سے 62لاکھ ہو گئے ہیں‘ بالکل غلط ہے۔ میں یہ دعویٰ اس لیے بھی کر سکتا ہوں کہ اُدھر قصبے میں کل ہی میرے ہمسائے کی گدھی نے ایک بچہ جنا ہے۔ اگر یہ مردم شماری اتنی درست ہوتی تو یہ اب 62لاکھ کے بجائے 62لاکھ ایک گدھا ہو چکی ہوتی کیونکہ گدھے کا بچہ بھی دراصل ایک چھوٹا گدھا ہی ہوتا ہے۔ اس ملک میں سارے اعداد و شمار محض تُکے کی بنیاد پہ چل رہے ہیں۔ مردم شماری‘ خانہ شماری اور زرعی اجناس کے پیداواری اعداد و شمار سب کے سب غلط بیانی‘ جھوٹ اور خود ساختہ مفروضوں پر مبنی ہیں۔ یہ سب دفتروں میں بیٹھ کر بنائے ہوئے ہیں۔ گدھے کا تو کوئی باقاعدہ ٹھور ٹھکانہ بھی نہیں ہوتا کہ گدھا شماری والے عام مردم شماری کی طرح اس کے گھر جا کر پوچھیں کہ گدھے بھائی جان آپ کے کتنے بہن بھائی ہیں‘ کتنے بچے ہیں‘ آپ کا ب فارم بنا ہے یا نہیں‘ اور اگر بنا ہے تو اس میں کتنے لوگوں کا اندراج ہے‘ والد صاحب حیات ہیں یا فوت ہو گئے ہیں؟تم خود بتاؤ کہ سڑکوں پہ گھومنے والے گدھوں کو کون گنتا ہے؟ اپنی ساری زندگی میں تم نے اس ملک کی سڑکوں پر کبھی کسی کو گدھے گنتے دیکھا ہے؟ پھر ایک لمحہ تؤقف کے بعد کہنے لگے: بہتر ہو گا کہ لگے ہاتھوں مردم شماری والے اپنے فارم کے ایک خانے میں گدھوں کا اندراج بھی کر دیا کریں۔ اس طرح گدھوں کی ممکنہ درست تعداد کا علم ہو جائے گا۔ میں نے کہا: شاہ جی آپ پھر شرپسندی پھیلا رہے ہیں۔ میں نے آپ سے کچھ اور بات کی اور آپ اس بات کو کسی اور ہی طرف لے گئے ہیں۔ شاہ جی آگے سے کہنے لگے کہ دراصل اس ملک میں گدھوں کی تعداد کے بارے میں آپ کا بنیادی تصور ہی غلط اور ناقص بنیادوں پر ہے۔ آپ دراصل اس گنتی میں صرف چار ٹانگوں والے گدھوں کو ہی گن رہے ہیں۔ ویسے تو مجھے اس گنتی میں بھی شک ہے کہ یہ قطعاً درست نہیں ہے اور اگر اس میں شکل و صورت سے قطع نظر ہمارے ہاں رائج الوقت گدھے کے بنیادی تصور پر پورا اترنے والوں کو بھی شامل کر لیں تو یہ تعداد کروڑوں تک پہنچ جائے گی۔ میں نے کہا: شاہ جی میں تو آپ سے بات کر کے پچھتا رہا ہوں‘ میں کیا سوال کرتا ہوں اور آپ کیا جواب دیتے ہیں۔ آپ ہمہ وقت مائل بہ شرپسندی ہی کیوں رہتے ہیں؟ شاہ جی نے میری بات سنی اَن سنی کرتے ہوئے گدھوں کی تعریف و توصیف شروع کر دی۔ شاہ جی ویسے تو بہت کم کسی پر مہربان ہوتے ہیں اور ہر وقت ہاتھ میں پکڑی تنقید و اعتراضات کی لاٹھی سے دوسروں کو ہانکتے رہتے ہیں۔ تاہم کبھی کبھار‘ جسے انگریزی میںOnce in a Blue Moon کہتے ہیں‘ کسی پر مہربان بھی ہو جاتے ہیں۔ گو کہ ایسا بہت کم ہوتا ہے لیکن جب مہربان ہوتے ہیں تو پھر مہربانی کے آخری درجے پر بیٹھ کر تعریف و توصیف کے ایسے دریا بہاتے ہیں کہ دل شاد اور عقل حیران رہ جاتی ہے۔ انسانوں کے بارے میں ان کی رائے ہمیشہ بہت سخت معیار سے گزر کر ہم تک پہنچتی ہے‘ تاہم گدھے کو انسانوں کے مقابلے میں خاص رعایت دیتے ہوئے کہنے لگے کہ گدھا ایک نہایت شاندار‘ باوقار اور ذمہ دار شخصیت کا حامل جاندار ہے۔ میں نے حیران ہو کر کہا: شاہ جی! یہ گدھے کی بھی کوئی شخصیت ہوتی ہے؟ شاہ جی نے مجھے گھور کر دیکھا اور کہا: تم نے زندگی میں اگر ایسی چیزوں پر کبھی غور کیا ہوتا تو تمہیں معلوم ہوتا کہ گدھا کیسی اعلیٰ و ارفع شخصیت کا مالک جانور ہے۔ اس کی طبیعت کا انکسار‘ محنت کی عادت‘ تھوڑا کھا کر زیادہ شکر کرنے کا جذبہ‘ مالک کے جائز و ناجائز مطالبات کے آگے سرِ تسلیم خم کرنے کا حوصلہ اور احتجاج یا انکار کے بجائے فنا فی مالک ہونے کی خصلت تم نے کسی اور مخلوق میں دیکھی ہے؟ ابھلا ایسا شاندار جانور دنیا میں اور کون ہو سکتا ہے؟پھر ایک دم جلال میں آ گئے اور مجھے کہنے لگے: باقی سب باتیں چھوڑو‘ تم گدھے کا خود اپنے ساتھ نہ سہی اپنے کسی دوست کے ساتھ موازنہ کر کے دیکھو تو تمہیں اندازہ ہو گا کہ بہت سی باتوں میں گدھے کو کئی باتوں میں فضیلت حاصل ہے۔ گدھے کے مقابلے میں کروڑ گنا آرام دہ زندگی گزارنے کے باوجود ہم ادھر اُدھر کا شکوہ شکایت کرتے رہتے ہو‘ کبھی تم نے گدھے کے منہ سے کوئی حرفِ شکایت سنا ہے؟ میں نے عرض کیا: شاہ جی! گدھے بولتے نہیں۔ اگر بولتے ہوتے تو ممکن ہے شکایت بھی کرتے۔ شاہ جی فرمانے لگے: بہتر ہو گا کہ آپ گدھے کے نفسیاتی مسائل پر گفتگو کرنے کے بجائے اس قوم کے نفسیاتی مسائل کے حل پر توجہ دیں۔ اس قوم کو نہ صرف اس کی اشد ضرورت ہے بلکہ اس ضرورت میں روز افزوں اضافہ بھی ہو رہا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90500073.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بجٹ: اعتراف سے اہداف تک(ڈاکٹر حسین احمد پراچہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-06-16/52131/15638427</link><pubDate>Tue, 16 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-06-16/52131/15638427</guid><description>اعتراف سے اصلاح کا دروازہ کھلتا ہے مگر اس کیلئے فولادی عزم و ارادے کی ضرورت ہوتی ہے۔ حکومتی ارادے کے بارے میں تو ہم کوئی پیشگوئی نہیں کر سکتے مگر حکومتی اعترافات کی ایک جھلک آپ کے سامنے ضرور پیش کریں گے۔ حکومت نے حالیہ اکنامک سروے میں تسلیم کیا کہ زرعی و صنعتی نمو کے اہداف حاصل ہو سکے اور نہ ہی برآمدات بڑھ سکیں۔ غربت 28.9فیصد تک پہنچ گئی۔ اعتراف تو حکومت نے کیا ہے مگر ادھورا۔ عالمی بینک سمیت دیگر کئی اداروں کی رپورٹوں کے مطابق پاکستان میں 45فیصد تک لوگ خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ہماری حکومت نے خطِ غربت کی اپنی تعریف وضع کر لی ہے۔ اس کے مطابق جو شخص 8483 روپے ماہانہ کماتا ہے وہ خطِ غربت سے اوپر ہے۔ بھلا آٹھ ہزار سے گھر چلتا ہے؟ یہ غریبوں سے مذاق نہیں تو اور کیا ہے۔ یہ آمدنی 30 ڈالر ماہانہ یعنی ایک ڈالر یومیہ بنتی ہے۔ جبکہ عالمی طور پر جو شخص تین ڈالر یومیہ سے کم کماتا ہے وہ خطِ غربت سے نیچے شمار کیا جاتا ہے۔ عالمی فارمولے سے غربت ناپی جائے پھر تو آدھی سے زائد پاکستانی آبادی خطِ غربت سے نیچے چلی جائے گی۔ بہرحال پاکستانی فارمولے کے مطابق بھی تقریباً ہر تیسرا فرد خطِ غربت سے نیچے ہے۔عمومی طور پر دیکھیں تو دیہی علاقوں میں غربت 36.2 فیصد جبکہ شہری علاقوں میں 17.4 فیصد ہے۔ علاقائی جائزہ لیں تو سب سے زیادہ غربت‘47 فیصد بلوچستان میں اور سب سے کم‘ 23فیصد پنجاب میں ہے۔ اقتصادی سروے کے مطابق پاکستان میں فی کس سالانہ آمدنی 1751 ڈالر سے بڑھ کر 1901 ڈالر ہو گئی ہے۔ اس اضافے سے ایک اور مسئلے کی نشاندہی ہوتی ہے کہ ملک میں طبقاتی تقسیم مزید بڑھ چکی ہے۔ پاکستان کے شہری علاقوں میں صرف دس فیصد ایلیٹ کلاس ملکی دولت کے 72 فیصد کی مالک ہے۔ حکومت بالآخر جمعۃ المبارک کے روز ایک ایسا بجٹ لانے میں کامیاب رہی جس کا سرِ عنوان بقول ثاقب لکھنوی یہ ہے کہ &#39;&#39;باغباں بھی خوش رہے راضی رہے صیاد بھی‘‘۔ یعنی آئی ایم ایف بھی خاموش اور حکومت بھی اپنی سابقہ روش پر قائم۔ لے دے کے حکومت نے بجٹ میں عوام کو جو ریلیف دیا ہے وہ بس اتنا ہے کہ تنخواہوں میں سات فیصد اضافہ اور کم از کم اجرت 10 فیصد بڑھائی جائے گی۔ یہ اضافہ اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہے۔ ملک کا مجموعی بجٹ 18771 ارب روپے کا ہے۔ اس میں دفاعی اخراجات کا حصہ 17.6 فیصد ہے۔ وفاقی بجٹ کا تقریباً 43 فیصد قرضوں کے سود کی ادائیگی کیلئے مختص کیا گیا ہے۔ اس بجٹ میں امیروں کے استعمال کی صرف چند چیزوں پر مزید ٹیکس لگایا گیا ہے جبکہ عام آدمی کے استعمال کی کم از کم 36 اشیا پر اضافی ٹیکس عائد کر دیا گیا ہے۔ ان میں دودھ‘ ڈیری مصنوعات‘ خوردنی تیل‘ گھی‘ بیکری آئٹمز‘ پلاسٹک کی گھریلو اشیا اور سینیٹری آئٹمز وغیرہ شامل ہیں۔حکومت کا کہنا ہے کہ ہم نے ڈوبتی ہوئی معیشت کی نیّا کو استحکام کے کنارے لگایا ہے۔بجٹ کے موقع پر حکومت نے خود یہ اعتراف کیا ہے کہ ملک میں اس وقت بیروزگاری 21برس کی بلند ترین سطح‘ 7.1 فیصد پر ہے۔ ایک اور تخمینے کے مطابق دیکھیں تو ملک میں 13سے 14کروڑ لوگ غربت کی لکیر سے نیچے ہیں۔ بیروزگاری اور کم مالی استعداد کی بنا پر تقریباً ڈھائی کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ بجٹ میں کچھ اہداف میں معمولی رد و بدل کیا گیا ہے مگر معیشت کو اپنے قدموں پر کھڑا کرنے کا کوئی قابلِ عمل پروگرام نہیں دیا گیا۔ چاہیے تو یہ تھا کہ بالواسطہ ٹیکسز کم سے کم ہوتے‘ لیکن بجٹ میں براہِ راست ٹیکسز 7613ارب اور بلاواسطہ ٹیکسز 7651 ارب روپے ہیں۔ بالواسطہ ٹیکسوں کی زد میں عوام کی اکثریت آتی ہے۔ ترقی یافتہ معیشتوں میں بالواسطہ ٹیکس کم سے کم اور براہِ راست ٹیکسوں کا حجم کہیں بڑا ہوتا ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق 2022ء میں داخلی قرضہ 31.1 ٹریلین روپے تھا جبکہ مارچ 2026ء میں یہ قرض 57.6 ٹریلین روپے ہو چکا ہے۔ جون 2022ء میں پاکستان کا بیرونی قرضہ ملا کر 127.7 ارب ڈالر تھا۔ اب یہ قرضہ 138 ارب ڈالر ہو چکا ہے۔ پہلا قرضہ ادا نہیں ہو پاتا اوپر سے اور قرضہ عوام پر لاد دیا جاتا ہے۔ آج ہر پاکستانی اوسطاً تین لاکھ 33 ہزار روپے کا مقروض ہے۔ عالمی اور ایشیائی بینک کے طویل مدتی قرضوں کے علاوہ ہم نے قلیل مدت کیلئے آئی ایم ایف اور کئی دوست ممالک سے قرضہ پکڑ رکھا ہے۔ ان قرضوں کی ادائیگی کی تلوار ہر وقت ہمارے سروں پر لٹکتی رہتی ہے۔ اس وقت پاکستان کے ذمے آئی ایم ایف کا تقریباً دس ارب ڈالر کا قرضہ ہے۔اب معیشت کے اصل مسائل کی طرف آتے ہیں۔ پاکستانی معیشت کی لائف لائن برقرار رکھنے میں اوورسیز پاکستانیوں کا سب سے اہم حصہ ہے۔ مالی سال 2025ء میں سمندر پارکام کرنے والے بھائیوں نے 38.3ارب ڈالر پاکستان ارسال کیے ۔ شہروں کی طرف نقل مکانی کے باوجود آج بھی زراعت ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ گندم‘ چاول‘ گنا اور مویشیوں کی افزائش سے ملکی آبادی کے ایک بڑے حصے کو روزگار ملتا اور اشیائے خور و نوش بھی مہیا ہوتی ہیں۔ کبھی ٹیکسٹائل کی برآمدات سے پاکستان کو بھاری زرِمبادلہ حاصل ہوتا تھا مگر اب کپاس کی جگہ جنوبی پنجاب میں گنا اگایا جاتا ہے۔ دوسری طرف اکثر ٹیکسٹائل ملیں بھی بند پڑی ہیں۔ ہماری معیشت بین الاقوامی قرضوں کے وینٹی لیٹر پر ہے۔ ملکی و غیرملکی ماہرینِ اقتصادیات ہماری معیشت کے بنیادی نقائص بیان کرتے اور اصلاحِ احوال کی طرف توجہ مبذول کراتے رہتے ہیں۔ ان نقائص میں شامل ہیں: کم ٹیکس‘ بھاری اندرونی و بیرونی قرضے‘ کم برآمدات‘ درآمدات کی بھرمار‘ سیاسی عدم استحکام‘ بیرونی سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر‘ فی ایکڑ کم زرعی پیداوار اور صنعتوں کا پہیہ جام۔ ہم ہر چند برس کے بعد سیاسی و معاشی عدم استحکام کا شکار ہو جاتے ہیں۔ پھر کوئی نجات دہندہ حکومت مزید قرضوں کے ذریعے معیشت میں استحکام لانے کی دعویدار بن کے آتی ہے مگر مستحکم معیشت اور بڑی شرح نمو کیلئے کوئی بڑی تبدیلی لانے سے قاصر رہتی ہے کیونکہ عوام سے کم سے کم رابطہ رکھنے والی حکومت کی زیادہ سے زیادہ توجہ اپنا اقتدار مینج کرنے پر ہوتی ہے۔ اب ذرا یہ بھی دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہماری طرح کچھ اور ملکوں کو اس طرح کے معاشی چیلنجز پیش آئے تو ان کا ردِعمل کیا تھا۔ مجھے یاد پڑتا ہے ایک بار ہم نے ویتنام کی خستہ حال معیشت کے شاہراہ ترقی پر تیز رفتاری کے ساتھ گامزن ہونے کا تفصیل سے تذکرہ کیا تھا۔ ویتنام‘ بنگلہ دیش اور انڈونیشیا وغیرہ کئی بار عدم استحکام کی زد میں آئے مگر ان کی ہمیشہ دو نکاتی پالیسی رہی کہ معیشت میں صرف مالی استحکام نہیں لانا بلکہ مستقل بنیادوں پر اس کی شرح نمو کو بڑھانا ہے اور روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرنے ہیں۔ ہماری پالیسی تیسری دنیا کی قدرے مستحکم معیشتوں کی طرح دو نکاتی نہیں محض یک نکاتی رہی ہے یعنی عارضی مالی استحکام اور بیرونی و اندرونی قرضوں کی بھرمار‘ حکومتی شاہانہ اخراجات اور مینو فیکچرنگ پر کوئی توجہ نہیں۔ حکومت اوورسیز پاکستانیوں کو چھوٹی صنعتیں لگانے کا موقع دے تو باہر سے پاکستانی دو گنا زرِمبادلہ بھیج سکتے ہیں۔ باہر سے لوگ زرمبادلہ لاتے ہیں‘ انڈسٹری کی فیزیبلٹی ہمراہ ہوتی ہے‘ سالہا سال سرکاری دفاتر میں دھکے کھاتے اور پھر دور دیسوں کو لوٹ جاتے ہیں۔ حکومت اپنے اقتصادی و سیاسی رویوں پر نظر ثانی کرے۔ حکومت نے بجٹ 2026-27ء کیلئے جو اہداف مقرر کیے ہیں ان میں چار فیصد گروتھ ریٹ اور مہنگائی 8.2 فیصد سے بڑھنے نہ دی جائے۔ ٹیکس جمع کرنے کیلئے ایف بی آر کا ہدف جی ڈی پی کا 15.26 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔ بات اعتراف و عارضی مالیاتی اہداف سے آگے بڑھ کر قرضوں سے نجات اور مستقل بنیادوں پر اقتصادی خوشحالی کی طرف آنی چاہیے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_70033906.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>تعلیمی بحران کی حقیقت(شاہد کاردار)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-kardar-/2026-06-16/52132/94716977</link><pubDate>Tue, 16 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-kardar-/2026-06-16/52132/94716977</guid><description>عام تاثر کے مطابق پاکستان میں تعلیمی بحران کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ تعلیم کا حصول لوگوں کی پہنچ میں نہیں۔ اس کے برعکس میری رائے میں اصل مسئلہ یہ ہے کہ لوگوں کیلئے تعلیم کے حصول میں کوئی کشش اور ترغیب نہیں ہے۔ جب تک ہم اس حقیقت کا سامنا نہیں کریں گے تعلیمی نظام پھیلتا تو جائے گا لیکن یہ نہ تعلیم فراہم کرے گا اور نہ معاشی مواقع۔ عوامی بات چیت میں ایک غالب بیانیہ ہے جو بہت سادہ اور فکری طور پر کمزور ہے۔ اس بیانیہ کے نکات اور تجویز کردہ نسخے خاصے جانے پہچانے ہیں: مزید سکول بناؤ‘ یونیورسٹیوں کی تعداد میں اضافہ کرو‘ مزید سرکاری سرمایہ تعلیم میں لگا دو۔ تاہم یہ سوچ ایک ناقص مفروضے پر مبنی ہے کہ وہ والدین جو اپنے بچوں کو سکول نہیں بھیجتے غیر عقلی رویے کے حامل ہیں۔ اس کے برعکس میرا ماننا یہ ہے کہ حقیقت میں ان والدین کا طرزِ عمل اپنے سامنے موجود معاشی حقائق اور ترغیبات کے عین مطابق ہے اور ان کا فیصلہ عقلی بنیادوں پر ہے۔ ہمارے ہاں ایک مفروضہ رائج ہو گیا ہے کہ تعلیم ایک ایسی اخلاقی نیکی ہے جس کے بارے میں کوئی سوال نہیں کیا جا سکتا اور اس نیکی کو حالات‘ ترغیبات یا نتائج سے قطع نظر فروغ دینا چاہیے۔ اس کے نتیجہ میں جذبات تجزیے کی جگہ لے لیتے ہیں اور وکالت سمجھ بوجھ کا متبادل بن جاتی ہے۔ بحث اس بات پر مرکوز ہو جاتی ہے کہ تعلیم پر مزید کتنا خرچ کیا جائے نہ کہ اس سوال پر کہ آیا ہمارا نظام اس خرچ کا جواز بھی فراہم کرتا ہے یا نہیں۔ ہمارے حکمرانوں کیلئے تعلیم کا مقصد اس سے حاصل ہونے والے نتائج نہیں بلکہ ان کے نزدیک سرکاری تعلیمی اداروں کے قیام کا مقصد سرپرستی کو فروغ دینا ہے۔ ایک ایسا ذریعہ جسکے ذریعے انتخابی حلقوں میں اساتذہ اور کم ہنر مند عملے کو نوکریاں دی جاتی ہیں۔ تعلیمی اداروں تک لوگوں کی رسائی کا ذکر کیا جاتا ہے لیکن ان کے معیار کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ نظام ظاہری طور پر پھیلتا ہے مگر اصل روح سے خالی ہوتا جاتا ہے۔اس سے پہلے کہ عام لوگوں سے یہ مطالبہ کیا جائے کہ وہ تعلیم پر زیادہ اخراجات کریں یا حکومتوں سے مزید وسائل مختص کرنے کا کہا جائے‘ ایک زیادہ بنیادی سوال یہ ہے کہ آخر کوئی شخص تعلیم میں سرمایہ کاری کیوں کرے؟ یہی وہ معاشی سوال ہے جس سے اس موضوع پر گفتگو سے مسلسل گریز کیا جاتا ہے۔ تعلیم میں حقیقی وسائل استعمال ہوتے ہیں بشمول وقت‘ پیسہ اور ایسی رقم جو کسی اور مصرف میں استعمال ہو سکتی ہے۔ ان وسائل کو استعمال کرنے کے بدلے میں سرمایہ کار کو کیا امید دی جاتی ہے: ایک غیر یقینی مستقبل کا منافع۔ تعلیم پر اخراجات ایک سرمایہ کاری ہے۔ ہر سرمایہ کاری کی طرح اس کی قدر متوقع منافع اور لاگت کے تقابل اور موازنہ پر منحصر ہے۔ اس زاویے سے تو پاکستانی لوگوں کا تعلیم پر خرچ نہ کرنے یا کم خرچ کرنے کا رویہ حیران کن نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا عقلی فیصلہ ہے۔ جب سکولوں کا معیار کمزور ہو‘ تعلیمی نتائج ناقص ہوں اور لیبر مارکیٹ مہارت اور تعلیم کو صلہ نہ دے تو تعلیم کا معاشی جواز ختم ہو جاتا ہے۔ کوئی خاندان اپنے بچوں کو صرف اسی صورت سکول بھیجتا ہے جب اسے یقین ہو کہ یہ قربانیاں مستقبل میں معاشی فائدہ پہنچائیں گی۔ جب حصولِ تعلیم کے بعد معاشی فائدہ ہونے کی امید نہ ہو تو خاندان تعلیم پر خرچ کرنے سے پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ اسے جہالت نہیں کہا جا سکتا بلکہ یہ عقلی بنیاد پر معاشی اپروچ ہے۔پاکستان میں لیبر مارکیٹ سے متعلق متعدد تحقیقی مطالعات سے پتا چلتا ہے کہ ہمارے ہاں تعلیم میں سرمایہ کاری پر منافع کی شرح تقریباً پانچ سے سات فیصد کے درمیان ہے جو عالمی معیار سے تقریباً آدھی ہے اور کام کاج شروع کرنے کے ابتدائی درجات میں تو اکثر نہ ہونے کے برابر۔ یہ فرق فیصلہ کن ہے۔ کسی شعبے میں اچھا منافع ہو تو سرمایہ کاری ہوتی رہتی ہے۔ کمزور منافع سرمایہ کاری کو روک دیتا ہے۔ ایک ایسی معیشت جہاں فارغ التحصیل نوجوان بیروزگار ہوں اور روزگار کے امکانات غیر یقینی‘ تو اس صورتحال سے واضح پیغام ملتا ہے کہ تعلیم قابلِ اعتماد طور پر ترقی کا ذریعہ نہیں۔ نوجوان اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں۔ تاہم اس مسئلے کا ایک پہلو اور بھی ہے کہ ہمارے ہاں تعلیم یافتہ فرد کی صلاحیت اور قابلیت کتنی اہمیت رکھتی ہے۔ دنیا کے فعال نظاموں میں ڈگریاں قابلیت اور پیداواری صلاحیت کی علامت ہوتی ہیں۔ پاکستان میں یہ علامت کمزور پڑ چکی ہے۔ نتائج کا تعین قابلیت سے کم اور تعلقات سے زیادہ ہوتا ہے۔ بھرتی‘ ترقی اور مواقع تک رسائی مہارت کے بجائے اثر ورسوخ کے نیٹ ورک کے ذریعے طے ہوتی ہے۔ ایسے ماحول میں ڈگری ایک دفتری ضرورت بن جاتی ہے۔ ایک خانے پر نشان لگانے جیسی چیز‘ نہ کہ صلاحیت کا معتبر ثبوت۔اس صورتحال کے نتائج توقع کے مطابق ہیں۔ پہلا‘ اسناد کی بے قدری۔ ڈگریاں بڑھتی جا رہی ہیں مگر ان کی اہمیت گھٹتی جا رہی ہے۔ طلبہ ڈگریاں اس لیے حاصل نہیں کرتے کہ تعلیم سے انعام ملتا ہے بلکہ وہ انتظامی رکاوٹیں عبور کرنے کیلئے درکار ہیں۔ دوسرا‘ ذہانت کا انخلا (Brain drain)۔ جو لوگ واقعی باصلاحیت ہوتے ہیں وہ بیرونِ ملک مارکیٹوں کی طرف چلے جاتے ہیں جہاں ان کی قدر کی جاتی ہے۔ تعلیم ملکی پیداوار میں سرمایہ کاری کے بجائے ایسی حکمت عملی بن گئی ہے جس کے ذریعے ملک چھوڑ کر باہر جایا جا سکے۔ تیسرا نتیجہ لاتعلقی ہے‘ یعنی طلبہ سمجھ جاتے ہیں کہ محنت اور کامیابی کے درمیان کمزور سا تعلق ہے لہٰذا وہ اپنی محنت کم کر دیتے ہیں۔پاکستان میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد غالب خواہش سرکاری نوکری ہے۔ غیر یقینی معیشت میں سرکاری ملازمت استحکام‘ مرتبہ اور تحفظ فراہم کرتی ہے۔ لاکھوں افراد محدود اسامیوں کیلئے مقابلہ کرتے ہیں۔ اس میں قابلیت اکثر ثانوی حیثیت رکھتی ہے۔ نتائج کا تعین تعلقات‘ سرپرستی اور سیاسی حمایت سے ہوتا ہے۔ تعلیم حاصل کرنے کا زمانہ انتظار کی تیاری میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ نظام میں اس بگاڑ کو ریاست نے خود بڑھایا ہے۔ تعلیمی اداروں کو سیکھنے سکھانے کے مراکز کے بجائے روزگار پیدا کرنے کے آلات سمجھ لیا گیا ہے۔ اساتذہ کو حکومت کے ہر قسم کے انتظامی فرائض میں لگا دیا گیا ہے‘ جیسے انتخابات‘ سروے‘ دفتری کام اور سیاسی سرگرمیاں۔ نتیجتاً  تعلیمی اداروں کی قیادت اکثر ایسے افراد کے ہاتھ میں ہے جن کا انتخاب علمی کارناموں کے بجائے دفتری سنیارٹی یا سیاسی قربت کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ معنی خیز بات یہ ہے کہ پالیسی سازی کیلئے ریاست کا بڑھتا ہوا انحصار غیر ملکی مشیروں اور بین الاقوامی قرض دہندگان پر ہے۔ اس ضمن میں مقامی ماہرین کو پس منظر میں دھکیل دیا گیا ہے۔ اس سے یہ پیغام ملتا ہے کہ خود ریاست کو بھی اپنے تعلیم یافتہ شہریوں کی سوچنے یا قیادت کرنے کی صلاحیت پر اعتماد نہیں۔ طلبہ ان اشاروں کو بخوبی سمجھتے ہیں کہ مارکیٹ قابلیت کے بجائے تعلقات کو اہمیت دیتی ہے۔ حکومت تخلیقی صلاحیت کے بجائے وفاداری کو انعام دیتی ہے۔ تعلیمی دنیا فکری کامیابی کے  بجائے اقتدار کے قریب ہونے والے کو نوازتی ہے۔ ایسے نظام میں تعلیم نہ اچھا معاشی منافع فراہم کرتی ہے اور نہ حقیقی سماجی احترام۔ ان حالات میں حصولِ تعلیم میں سرمایہ کاری کا کم ہونا حیران کن بات نہیں بلکہ اس صورتحال کا ناگزیر نتیجہ ہے۔پاکستان کے لیڈر تقریروں میں تعلیم کی اہمیت بیان کرتے رہتے ہیں جبکہ عملی طور پر ایسے اقدامات نہیں کرتے جو حصولِ تعلیم کو قیمتی اور قابلِ قدر بنا سکیں۔ ہماری قیادت تعلیم تک لوگوں کی رسائی بڑھاتی تو ہے مگر قابلیت کی حوصلہ شکنی کرتی ہے۔ وہ نظم وضبط کا مطالبہ کرتی ہے مگر خود اقربا پروری پر عمل کرتی ہے۔ وہ ڈگریوں کو اہمیت دیتی ہے لیکن علم کی قدر گھٹا دیتی ہے۔ تعلیم ایک ایسے نظام کو فائدہ نہیں پہنچا سکتی جو ذاتی سرپرستی پر قائم ہو اور نہ یہ ایک اخلاقی نعرے کے طور پر زندہ رہ سکتی ہے جب تک اسے معاشی طور پر ثمر آور شے نہ تسلیم کیا جائے۔ جب تک مارکیٹ‘ حکومت اور تعلیمی ادارے قابلیت کی بنیاد پر نہیں چلتے‘ تعلیم لوگوں کیلئے ایک کمزور اور غیر یقینی سرمایہ کاری رہے گی‘ گو ریاست کیلئے یہ ایک نعرے کے طور پر ہمیشہ کام کرتی رہے گی۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_78012569.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مشرقِ وسطیٰ میں امنِ نو(رشید صافی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-06-16/52133/27878474</link><pubDate>Tue, 16 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-06-16/52133/27878474</guid><description>سیاسیات اور بین الاقوامی تعلقات کی تاریخ شاہد ہے کہ جنگیں شروع کرنا آسان ہوتا ہے مگر اہداف کا حصول اور انہیں منطقی انجام تک پہنچا کر اپنی مرضی کے مطابق ختم کرنا مشکل عمل بن جاتا ہے۔ جب کوئی ریاست جنگ کا فیصلہ کرتی ہے تو وہ سٹرٹیجک کیلکولیشن کے تحت چند ہفتوں یا مہینوں کا منصوبہ بناتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ جنگیں اپنی راہیں خود متعین کرتی ہیں۔ دورِ حاضر اور ماضی کی تمام چھوٹی بڑی جنگیں اس حقیقت پر صادق آتی ہیں۔ ویتنام کی دلدل ہو‘ افغانستان کا طویل تنازع یا حال ہی میں رونما ہونے والے معرکے۔ سب اس بات کے گواہ ہیں کہ فاتح اور مفتوح کا موازنہ صرف ملبے کے ڈھیروں پر ہی کیا جا سکتا ہے۔ سب سے المناک پہلو یہ ہے کہ اب جنگوں کی آگ صرف فریقین تک محدود نہیں رہتی۔ گلوبلائزیشن کے اس دور میں جنگ کے جغرافیائی دائرے سے ہزاروں میل دور بیٹھے وہ ممالک اور عام انسان بھی اس کی تپش سے براہِ راست متاثر ہوتے ہیں جن کا اس تنازع سے دور دور کا کوئی لینا دینا نہیں ہوتا۔ اب جبکہ طویل گھٹن کے بعد مشرقِ وسطیٰ کے افق سے جنگ کے سیاہ بادل چھٹ رہے ہیں تو عالمی برادری نے سکون کا سانس لیا ہے‘ تاہم جنگ کے باقاعدہ خاتمے کے بعد اب وہ اصل اور لرزہ خیز حقائق بھی سامنے آنا شروع ہو جائیں گے کہ 28 فروری کو شروع ہونے والی اس ساڑھے تین ماہ کی خوفناک جنگ میں فریقین کا جانی ومالی نقصان کتنا ہوا‘ اور اس ہولناک تنازع کے سبب دنیا کی معیشتوں کو مجموعی طور پر کتنے کھرب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا۔کبھی کبھی عالمی سیاست کے بڑے کھلاڑیوں اور سپر پاورز کی سٹرٹیجک کیلکولیشن یکسر غلط ثابت ہوتی ہے۔ جس طرح زمین کی گہرائی میں کھدائی کے دوران اچانک کوئی سخت چٹان یا پتھر آ جانے سے پوری مشینری کا زور ٹوٹ جاتا ہے اور کھدائی کا عمل تعطل کا شکار ہو جاتا ہے‘ بالکل اسی طرح اس ساڑھے تین ماہ کے تنازع کے دوران آبنائے ہرمز کی جزوی و کُلی بندش نے دنیا کو ایک بڑا سبق سکھایا ہے۔ عالمی طاقتوں نے یہ جانا کہ صرف بے پناہ عسکری قوت‘ ٹیکنالوجی اور مادی وسائل کی فراوانی ہی فتح کی ضامن نہیں ہوتی بلکہ زمینی طاقتوں کے مقابل جغرافیائی و سٹرٹیجک اہمیت سے بھی انکار کی گنجائش نہیں ۔ آزاد مؤرخ جب بھی اس دور کا احاطہ کرے گا وہ اس بات کو نمایاں انداز میں لکھے گا کہ کس طرح چند ہفتوں کا عسکری جنون اور غلط سٹرٹیجک اندازے انسانیت کو ترقی کے سفر میں برسوں پیچھے دھکیل دیتے ہیں۔مشرقِ وسطیٰ کے بھیانک بحران کی تاریخ جب بھی لکھی جائے گی‘ امن کی کوششوں اور دنیا کو اس تباہی سے نکالنے والوں میں پاکستان کا نام سنہری اور نمایاں حروف میں درج ہو گا۔ جب عالمی طاقتیں بیانات کی جنگ اور فوجی ارتکاز میں مصروف تھیں پاکستان نے ذمہ دار اور امن پسند ریاست کے طور پر مخلصانہ سفارتی کوششوں کا آغاز کیا۔ پاکستان کی یہ سفارتکاری رنگ لا ئی ہے اور دنیا ایک بڑے عالمی سانحے سے بچ گئی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اس تاریخی سفارتی کامیابی کی تصدیق کرتے ہوئے عالمی برادری کو بتایا کہ امریکہ اور ایران کے مابین جامع امن معاہدہ طے پا گیا ہے۔ اس معاہدے پر دستخط کی تقریب 19 جون کو جنیوا (سوئٹزرلینڈ) میں منعقد ہو گی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹویٹر) پر جاری کردہ بیان میں لکھا کہ طویل اور پیچیدہ مذاکرات کے بعد یہ باضابطہ اعلان کیا جا رہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے مابین امن معاہدہ طے پا گیا ہے۔ دونوں فریقوں نے تمام محاذوں پر‘ بشمول لبنان میں فوری اور مستقل طور پر عسکری کارروائیوں کے خاتمے کا اعلان کیا ہے‘‘۔ وزیراعظم نے اس پیش رفت پر دونوں ممالک کی قیادت کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے خطے کو مزید تباہی سے بچانے کیلئے جنگ پر سفارتکاری کو ترجیح دی اور اس تنازع کے حل کیلئے سنجیدہ اور تعمیری کوششیں کیں۔ پاکستان کی جانب سے ان دیگر علاقائی ممالک کے کردار کی بھی تعریف کی گئی جنہوں نے ثالثی کے اس پورے عمل میں معاونت کی۔امن معاہدے کے حوالے سے واشنگٹن سے بھی مثبت بیانات آ رہے ہیں۔ امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کے ساتھ ہونے والی جنگ بندی اور امن معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے مشرقِ وسطیٰ میں نئے دور کے آغاز کی علامت قرار دیا ہے۔ فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں امریکی نائب صدر کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ نے خلیجی ممالک اور اپنے تمام علاقائی اتحادیوں کے ساتھ مل کر اس پیچیدہ معاہدے کیلئے ایسی حقیقی سیاسی اور سفارتی گنجائش پیدا کی جس کے بغیر یہ بڑی تبدیلی اور جنگ بندی ممکن نہیں تھی۔ صدر نے وہ حقیقی سپیس قائم کی جہاں اس خطے کے مستقبل کو مثبت انداز میں تبدیل کیا جا سکتا ہے اور اب ہمیں پوری امید ہے کہ ایرانیوں کے ساتھ تعلقات کے ایک نئے اور پُرامن دور کا آغاز ہو گا۔ جے ڈی وینس نے امید ظاہر کی کہ خطے میں استحکام کے بعد عالمی سطح پر توانائی اور تیل کی قیمتوں میں واضح کمی آئے گی جس سے عام صارفین کو ریلیف ملے گا۔انہوں نے کہا کہ 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی دستخطی تقریب میں وہ خود شرکت کریں گے جبکہ اس بات کا بھی امکان ہے کہ صدر ٹرمپ بھی اس موقع پر موجود ہوں اور اس معاہدے پر مہر تصدیق ثبت کریں۔خوش آئند اور اطمینان بخش پہلو یہ ہے کہ ایرانی حکام بھی اس امن معاہدے کی تصدیق کر رہے ہیں حالانکہ محض ایک دن پہلے تک خطے کی صورتحال یکسر مختلف اور انتہائی کشیدہ دکھائی دے رہی تھی‘ جہاں کسی بھی وقت وسیع تر جنگ چھڑ سکتی تھی۔ تاہم اس تاریخی موڑ پر ایرانی حکام نے اپنے اصولی مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے دنیا پر یہ واضح کیا کہ امریکہ کے ساتھ ہونے والا یہ معاہدہ کسی قسم کے بیرونی دبائو‘ پابندیوں یا مجبوریوں کا نتیجہ نہیں بلکہ یہ طویل سفارتی کوششوں‘ تہران کی دفاعی استقامت اور کئی ہفتوں پر محیط انتہائی پیچیدہ مذاکرات کا ثمر ہے۔ اس موقع پر ایرانی حکام نے پاکستان کے کلیدی کردار کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ یہ تمام مذاکرات پاکستانی ثالثی کے ذریعے ہی آگے بڑھے‘ جس کے نتیجے میں فریقین ایک دوسرے کے تحفظات کو سمجھتے ہوئے اس حتمی مفاہمت تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ ایران کے مطابق امن معاہدہ اس کے شہدا کی قربانیوں‘ عسکری مصلحت‘ سفارتی مہارت اور دفاعی استقامت کا عکاس ہے‘ نہ کہ کوئی مسلط کردہ فیصلہ۔ اس بات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ معاہدے کے اعلان سے محض چند گھنٹے قبل تک پورا ایران ہائی الرٹ اور جنگی تیاریوں میں مصروف تھا اور اسرائیل کی جانب سے بیروت پر کیے جانے والے حالیہ حملوں کے جواب میں ایک بڑے فوجی ردعمل پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا تھا۔ اگر جوابی حملہ کر دیا جاتا تو شاید یہ امن عمل ملبے کا ڈھیر بن جاتا اور ثالثی کی کوششیں کچھ عرصے کیلئے معطل ہو جاتیں۔ لیکن آخری لمحات میں عسکری ردعمل کے بجائے سفارتی راستہ اختیار کرنے کے فیصلے نے اس امن معاہدے تک پہنچنے کی راہ ہموار کی۔ 28 فروری 2026ء سے شروع ہونے والا یہ خونیں معرکہ اگرچہ اپنے پیچھے ہزاروں کہانیاں‘ معاشی نقصانات اور تلخ یادیں چھوڑ گیا ہے لیکن اس کا خاتمہ بین الاقوامی سفارت کاری اور عقل سلیم کی بہت بڑی فتح ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/222_48272610.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>صحرائے راجستھان میں کنول کا پھول(نسیم احمد باجوہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/naseem-ahmed-bajwa/2026-06-16/52134/83293361</link><pubDate>Tue, 16 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/naseem-ahmed-bajwa/2026-06-16/52134/83293361</guid><description>مہدی حسن کی زندگی میں اُن کے سامنے بیٹھ کر غزلیں سننے کا جو اعزاز مجھے نصیب ہوا اُس کا کریڈٹ شعیب عالم کو جاتا ہے جو لندن میں مہدی حسن کے میزبان تھے اور ہم اُن کے مدعو کئے گئے سینکڑوں مہمانوں میں سے ایک۔ شعیب وسطیٰ لندن میں فاسٹ فوڈ کی دکان چلاتے تھے اور فنکاروں کی میزبانی اُن کا مشغلہ تھا۔ مگر شعیب سے تعلق کس طرح قائم ہوا یہ بھی ایک دلچسپ کہانی ہے۔ میرے بیٹے فاروق‘ جو اُن دنوں لندن یونیورسٹی میں قانون پڑھ رہا تھا‘ کا یونیورسٹی میں ہم عصر اور روم میٹ بھارتی پنجاب سے تعلق رکھنے والا من پریت سنگھ بادل تھا۔ یہی من پریت سنگھ آگے چل کر بھارتی پنجاب کا وزیر خزانہ بنا۔ اُن دنوں تو من پریت ترقی پسند اور عوام دوستی کی باتیں کرتے نہ تھکتا تھا مگر جب مشرقی پنجاب کے سیاسی خارزار میں اُترا تو بی جے پی جیسی فسطائی تنظیم کا حلیف بن گیا۔ لندن سے وطن واپسی پر بائیں سے دائیں جانب سفر کرنے میں اسے زیادہ مشکل پیش نہ آئی۔ برصغیر کے اکثر سیاسی خاندانوں کی طرح اُس کے خاندان خصوصاً اس کے چچا پرکاش سنگھ بادل پر مالی بدعنوانیوں کے کئی الزامات ہیں۔ خاندان کی سرپرستی کے باوجود اسے لندن میں قیام کے دوران شام کو جزوقتی ملازمت کرنا پڑی۔ اتفاقاً اُسے شعیب کی دکان میں کام ملا۔ یہ تھا وہ پس منظر جس کے سبب مغربی لندن کے مضافات میں رہنے والے میاں بیوی نے مہدی حسن کو براہِ راست غزلیں گاتے دیکھا اور سنا۔ یہ حسرت ہی رہی کہ ایسی یادگار اور خوشگوار شام پھر آئے مگر دوبارہ ایسا نہ ہو سکا۔ اسی دوران ہم بھی مغربی لندن سے نقل مکانی کر کے پہلے وسطی اور پھر مشرقی لندن میں آباد ہو گئے‘ جس کا ایک نقصان یہ ہوا کہ شعیب سے رابطہ پہلے معطل اور پھر منقطع ہوگیا۔ آپ مجھ سے اتفاق کریں گے کہ انسانی تعلقات میں جغرافیہ کلیدی کردار اداکرتا ہے۔13 جون 2012ء کو جب کراچی میں 84 برس کی عمر پا کر مہدی حسن نے وفات پائی تو انہیں برصغیر ہندوپاک میں غزل کی گائیکی کا سب سے بڑا گلوکار‘ فنکار اور اُستاد مانا جاتا تھا۔ اُردو شاعری (جس کا چشمہ فارسی سے پھوٹا) میں غزل کا بڑا منفرد اور ممتاز مقام ہے۔ محبوب سے دوری اور قربت کے راستے میں ہزار رکاوٹیں‘ سماجی جبر‘ ہر طرح کی انسانی آزادی کے پائوں میں بیڑیاں اور ہاتھوں میں ہتھکڑیاں‘ نہ ختم ہونے والی خزاں اور حبس کا موسم‘ تپتی دھوپ اور سائے کا فقدان‘ آبلہ پائی اور دل شکستگی کے اَن گنت اسباب‘ نہ پورے ہونے والے خواب اور حسرتیں‘ چہار سو اُداسی اور جان لیوا تنہائی۔ یہ ہے غزل کی وہ روایت جسے میر تقی میر نے عروج تک پہنچایا۔ غزل کا جو مخصوص لہجہ ہے اسے مہدی حسن کی گائیکی نے زندگی‘ تازگی‘ خوشبو اور روئیدگی بخشی اور اس صنف کے ساتھ پورا انصاف کیا۔ وہ دنیا سے رخصت ہوئے تو نہ صرف ہندو پاک بلکہ برطانیہ کے ہر بڑے اخبار نے تعزیت نامہ (Obituary) شائع کیا۔مہدی حسن کو کلاسیکی موسیقی پر پورا عبور تھا۔ وہ غزل گاتے یا فلمی گیت‘ جس راگ کو وہ چنتے وہی اس کی ادائیگی کیلئے موزوں ترین ہوتا۔ برطانوی اخبار گارڈین کے مطابق مہدی حسن نے اپنی زندگی میں پچاس ہزار سے زیادہ غزلیں اور گیت گائے۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں شہنشاہِ غزل کا خطاب دیا گیا اور بجا طور پر دیا گیا۔ مہدی حسن (بھارت کی صحرائی ریاست) راجستھان کے ایک گمنام گائوں لُونا میں ایک پٹھان مغل خاندان میں پیدا ہوئے۔ اُن کا گھرانہ &#39;&#39; کلاونت‘‘ کہلاتا تھا‘ جس کا مطلب ہے پیشہ ور موسیقار اور گلوکار۔ گائیکی کا فن اُن کے والد عظیم خان اور چچا استاد اسماعیل خان نے انہیں بچپن ہی میں سکھایا۔ مشہور محاورہ ہے کہ ہونہار بروے کے چکنے چکنے پات۔ اگر اس کی عملی صورت دیکھنی ہو تو مہدی حسن کو دیکھ لیں جو جواں عمری میں ہی جے پور اور بڑودہ کے مہاراجوں کی محفلوں میں بلائے جانے لگے تاکہ اپنے فن کا مظاہرہ کریں۔ آزادی کے بعد بھارت میں پانچ سو سے زیادہ ریاستوں کی صف لپیٹ دی گئی۔ پہلوانوں سے لے کر فنکاروں اور گلوکاروں تک کے سرپرست خود سرکاری وظیفوں کے محتاج ہو گئے۔ ان حالات میں مہدی حسن کا ہجرت کر کے پاکستان آنے کا فیصلہ‘ چاہے اُن کیلئے ابتدائی طور پر کتنی ہی مشکلات کا باعث بنا‘ آگے چل کر درست ثابت ہوا۔ ابتدائی طور پر ریاستِ پاکستان خاصی مشکلات کا شکار تھی۔ جب مہدی حسن نے دیکھا کہ ان کی گائیکی کا کوئی مداح نہیں‘ یا اتنے مداح نہیں کہ وہ اپنے گھر کا چولہا جلا سکیں تو انہوں نے بائیسکل مرمت کرنے والی دکان پر ایک مستری کی شاگردی اختیار کر لی۔ خزاں کی تیز ہوا مہدی حسن کو اڑاتے اڑاتے سرگودھا لے گئی جہاں انہوں نے چک 49‘ جنوبی سرگودھا میں محمد اعظم لودھرا کے فارم پر ٹریکٹر چلانے کی تربیت لی اور اسے مرمت کرنے کا ہنر سیکھا۔ اتفاق سے اعظم لودھرا میرے ماموں زاد بھائی تھے۔ اسی فارم پر‘ جو آگے چل کر کینو کے ایک بڑے باغ میں تبدیل ہو گیا‘ مہدی حسن کو رہنے کیلئے ایک کٹیا بھی فراہم کی گئی۔ غروبِ آفتاب سے نصف شب اور پھر طلوعِ آفتاب تک اس کٹیا سے روزانہ گانے بجانے کی آوازیں آتیں تو سنسان و بیابان فارم پرستان میں تبدیل ہو جاتا۔ میں نے لندن میں مہدی حسن کو سرگودھا کے اس فارم پر دن کو ٹریکٹر چلانے اور شام کو ریاض کرنے کی بھولی بسری یاد دلائی تو وہ دم بخود ہو کر اور میرا ہاتھ تھام کر دیر تک خلا میں گھورتے رہے اور پھر گرمجوشی سے مجھ سے بغلگیر ہوئے۔ مہدی حسن 1952ء میں گمنامی کے اندھیرے سے شہرت کی روشنی کی طرف بڑھے اور ریڈیو پاکستان نے انہیں اپنے فن کے اظہار کا پہلا موقع دیا‘ اس کے بعد وہ ترقی‘ خوشحالی اور شہرت کی سیڑھی پر بڑی تیز ی سے چڑھتے چلے گئے۔ ایک وقت آیا کہ تمام بڑے شاعروں کی خواہش تھی کہ مہدی حسن ان کا کلام گائیں۔ وہ دیکھتے ہی دیکھتے برصغیر ہندو پاک میں گائیکی کے اُفق پر چھا گئے۔ اتنا عروج ان کے علاوہ صرف استاد نصرت فتح علی خان‘ نور جہاں اور غلام علی کو ملا۔ وہ برصغیر میں ایک طرح کا ثقافتی پُل بن گئے تھے۔ برصغیر کی معروف گلوکارہ لتا منگیشکر نے مہدی حسن کے بارے ایک بار کہا تھا کہ ان کے گلے میں بھگوان بولتا ہے۔ ماسوائے مہدی حسن کے کوئی نہیں جانتا کہ قطرے سے گُہر بننے کے عمل میں اس گلوکار پر کیا گزری؟ ریاض کرکے اپنی آواز کی تربیت کرنا کوئی آسان کام نہ تھا۔ دوسرا بڑا مسئلہ یہ تھا کہ مہدی حسن راجستھان کے رہنے والے تھے۔ وہ اُردو زبان سے نابلد تھے جبکہ غزلوں کا سارا سرمایہ اُردو (یا فارسی) میں تھا۔ فلموں میں گیت گانے کی پیشکش ہوئی تو زبان اُردو یا پنجابی ہوتی۔ مہدی حسن نے بڑی محنت سے اُردو زبان سیکھی۔ اُردو شاعری پڑھی اور اپنے دوست احباب سے اس کے معانی سمجھے۔ بہت جلد انہوں نے یہ راز پا لیا کہ وہ صرف گلوکار نہیں بلکہ اعلیٰ پائے کے کمپوزر بھی ہیں۔ ہر غزل کیلئے وہ مناسب راگ چن لیتے جو مخصوص غزل کا حق ادا کر سکے۔ یہ خوبی ان کے علاوہ جس بڑے گلوکار میں دیکھی ان کا نام تھا استاد نصرت فتح علی خان۔ مہدی حسن نے عالمگیر شہرت حاصل کی۔ اُنہوں نے دنیا کے متعدد ممالک کا دورہ کیا۔ جہاں بھی گئے‘ مداحوں نے ہال اس طرح بھرا کہ تل دھرنے کی جگہ نہ رہی۔ پھولوں کی پتیوں نے اُنہیں ڈھک لیا۔ نیپال کے حوالے سے انہوں نے ایک واقعہ سنایا کہ دورانِ گائیکی تھکاوٹ اتنی غالب آ گئی کہ وہ گیت کا اگلا شعر بھول گئے۔ قسمت دیکھیے کہ شاہِ نیپال (Birendra) کو وہ گیت یاد تھا‘ وہ اُٹھ کھڑے ہوئے اور مطلوبہ شعر خود گا کر سامعین کو محظوظ کیا۔ اس شاہی مداخلت پر مہدی حسن نے ہاتھ جوڑ کر بادشاہ کا شکریہ ادا کیا۔ مہدی حسن کو پاکستان اور بھارت کے علاوہ نیپال نے بھی اعلیٰ سرکاری اعزاز سے نوازا۔ مہدی حسن نے دو شادیاں کیں اور بدقسمتی سے دونوں بیویاں اُن کی زندگی میں وفات پا گئیں۔ زندگی کے آخری سال بیماریوں کا مقابلہ کرتے ہوئے گزرے ۔ پسماندگان میں انہوں نے 14 بچے چھوڑے ۔ </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_32258580.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>