<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>مشرقِ وسطیٰ کا بحران اور مہنگائی کا مسئلہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-12/11446</link><pubDate>Wed, 12 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-12/11446</guid><description>سٹیٹ بینک آف پاکستان کی ششماہی مانیٹری پالیسی رپورٹ میں متنبہ کیا گیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے جیو پولیٹکل چیلنجز عالمی سطح پر مہنگائی میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں جس سے مجموعی معاشی منظرنامہ متاثر ہو سکتا ہے۔ یہ رپورٹ ملکی معیشت پر بیرونی اثرات کو واضح کرتی ہے۔ مانیٹری پالیسی رپورٹ کے مطابق معیشت کی نمو کے امکانات کے باوجود افراطِ زر اب بھی ایک بڑا خطرہ ہے۔ اس وقت معاشی استحکام  کی نازک ڈور کا ایک سرا ملکی اصلاحات سے جڑا ہے اور دوسرا مشرقِ وسطیٰ کے بحران اور عالمی منڈیوں میں خام تیل کی قیمتوں کے اثرات کے ساتھ۔ فروری 2022ء میں یوکرین جنگ اور توانائی کی منڈیوں میں اچھال کے سبب افراطِ زر کی شرح دہرے ہندسے میں داخل ہو گئی تھی اور مئی 2023ء میں یہ 37.97 فیصد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی تاہم سخت فیصلوں اور پالیسی ریٹ میں اضافے سے یہ بتدریج کم ہونا شروع ہوئی اور جنوری 2025ء میں اکہرے ہندسے میں واپس آ گئی مگر یہ کمی عارضی ثابت ہوئی اور کچھ اونچ نیچ کے ساتھ رواں سال فروری میں ایران پر امریکی حملے کے بعدافراطِ زر میں دوبارہ اضافہ شروع ہو گیا ۔ توانائی کی بلند تر قیمتیں اورخام مال کی مہنگی درآمدات ملکی معیشت کے لیے سب سے بڑی مشکلات پیدا کررہی ہیں۔

عالمی سطح پر توانائی کی سپلائی چین کی بندش اور بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز جیسے اہم تجارتی گزرگاہوں پر بحری جہازوں کی آمد و رفت میں رکاوٹوں کے باعث مال برداری اور انشورنس کے اخراجات میں بے پناہ اضافہ ہو چکا۔ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمدی تیل اور گیس سے پورا کرتا ہے اس لیے مشرقِ وسطیٰ میں کسی بھی قسم کی کشیدگی یا سیاسی تصادم پاکستان کیلئے براہِ راست مہنگائی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ دوسری جانب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ اور عالمی اجناس کی قیمتوں کا بڑھتا ہوا رجحان براہِ راست پاکستان کے تجارتی توازن پر دباؤ بڑھا رہا ہے۔ یہ صورتحال زرِمبادلہ کے ذخائر اور ترسیلاتِ زر پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ سٹیٹ بینک کی مذکورہ رپورٹ میں زرعی شعبے پر موسمیاتی تبدیلیوں اور ایل نینو کے اثرات کا بھی ذکر کیا گیا ہے جو فوڈ سکیورٹی اور مجموعی افراطِ زر کیلئے پوشیدہ خطرہ ہیں۔ زرعی پیداوار میں کمی سے نہ صرف زرِمبادلہ پر بوجھ پڑ سکتا ہے بلکہ اشیا کی قیمتیں بھی آسمان کو چھونے کا خدشہ ہے۔ دوسری جانب اندرونِ ملک گڈز ٹرانسپورٹ کی ہڑتال بھی معاشی خدشات میں اضافہ کر رہی۔ ڈر ہے کہ زرعی اجناس کی ترسیل میں اگر تاخیر ہوئی تو اربوں روپوں کا نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ صنعتی مالکان کی جانب سے بھی مختلف خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
کارگو کی نقل و حرکت میں خلل صنعت اور برآمدات کے لیے سنگین نتائج کا باعث بنتی ہے۔ ماضی میں بھی ایسی رکاوٹوں اور برآمدی کھیپ کی بروقت ترسیل نہ ہونے کے سبب مالی نقصانات‘ پیداوار میں تعطل اور برآمدات میں گراوٹ جیسے نقصانات بھگت چکے ہیں۔ ان حالات میں جب بیرونی محاذ کے ساتھ ساتھ داخلی سطح پر بھی سپلائی چین کے بحران کا سامنا ہو اور موسمیاتی تبدیلیاں زرعی شعبے کو خطرے میں ڈال رہی ہوں اور تو محض چند پالیسی اقدامات کے ذریعے مہنگائی پرقابو پانا ممکن نہیں رہتا بلکہ اس کیلئے جامع انتظامی اور سٹرکچرل اصلاحات کی ضرورت ہوتی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ سپلائی چین کی نگرانی سخت کرے اور ناجائز منافع خوری کا تدارک یقینی بنائے۔
پائیدار ترقی کیلئے درآمدات پر اپنا انحصار کم کرنا‘ متبادل توانائی کے ذرائع کو فروغ دینا اور اپنی برآمدی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہوگا تاکہ عالمی منڈی کے جھٹکوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔ اربابِ اختیار کو چاہیے کہ صنعتی روانی اور مالی سکت میں اضافے کیلئے ایسی پالیسیاں بنائیں جو مقامی پیداوار کو مہمیز دیں۔ مالی سکت میں اضافہ ہی وہ حل ہے جو مہنگائی کا مقابلہ کرنے میں آسانی فراہم کر سکتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>عوام بدحال‘ نمائندے خوشحال(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-12/11445</link><pubDate>Wed, 12 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-12/11445</guid><description>اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں اور مراعات کے حوالے سے دنیا نیوز کی خصوصی رپورٹ ہمارے معاشی اور سیاسی نظام کے ایک نہایت اہم تضاد کو نمایاں کرتی ہے۔ ایک طرف ملک کا عام شہری مہنگائی‘ بیروزگاری‘ کم آمدنی اور بڑھتے ہوئے اخراجات کے درمیان پس رہے ہیں مگردوسری جانب منتخب نمائندوں کی تنخواہوں اور مراعات میں مسلسل اور حیران کن اضافہ ہوا۔  گزشتہ دو دہائیوں کا جائزہ لیا جائے تو 2006ء میں ایک رکن پارلیمنٹ کو تنخواہ اور الاؤنسز کی مد میں تقریباً 52 ہزار روپے ماہانہ ملتے تھے جبکہ 2026ء میں یہ رقم تقریباً 9 لاکھ 88 ہزار 500 روپے تک پہنچ چکی ہے۔

خطے کے دیگر ممالک کے پارلیمنٹیرینز کی تنخواہوں اور مراعات کیساتھ اس کا موازنہ کیا جائے تو یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ نیپال میں رکن اسمبلی کو تقریباً 600‘ سری لنکا میں 1180‘ بنگلہ دیش میں 1400‘ بھارت میں تقریباً 2913 ڈالر ماہانہ ملتے ہیں جبکہ ملک عزیز میں ایک رکن پارلیمنٹ 3530ڈالر سے زائد رقم وصول کرتا ہے۔ ہر ملک میں پارلیمانی نمائندوں کو سہولتیں دی جاتی ہیں مگر مراعات کا تعین ملکی آمدن اور خزانے کی گنجائش کو سامنے رکھ کر ہونا چاہیے۔ ایسے وقت میں جبکہ ملک قرضوں‘ مالیاتی خسارے اور محدود وسائل کے سنگین مسائل سے دوچار ہے‘ضروری ہے کہ اراکین پارلیمنٹ کی مراعات کا ازسرنو جائزہ لیا جائے۔ تنخواہوں اور مراعات میں شفاف‘ معقول اور قابلِ احتساب نظام وضع کیا جانا چاہیے اور ہر اضافے کو کارکردگی اور ملکی معاشی حالات سے مشروط ہونا چاہیے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ذہنی صحت کے مسائل(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-12/11444</link><pubDate>Wed, 12 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-12/11444</guid><description>عالمی ادارۂ صحت کے مطابق پاکستان کی تقریباً 34 فیصد آبادی ڈپریشن‘ انزائٹی اور ذہنی دباؤ جیسے امراض کا شکار ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق دنیا میں ہر آٹھواں شخص جبکہ پاکستان میں تقریباً ہر تیسرا شخص ذہنی صحت کے مسائل سے دوچار ہے۔ اس صورتحال کو عوامی صحت کے ایک المیے کے طور پر لینا چاہیے کہ جہاں دیگر عوارض انتہائی صورت اختیار کر چکے ہیں وہیں ذہنی امراض کی شرح بھی خوفناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ اس صورتحال کے اسباب ڈھکے چھپے نہیں۔ معاشی اور سماجی مسائل ذہنی اور نفسیاتی مسائل کی بہت بڑی وجہ ہیں۔

مگر زیادہ تشویشناک امر یہ ہے کہ عوام کو ذہنی صحت کی بحالی کے مواقع خواہ وہ طبی اور نفسیاتی علاج کی صورت میں ہوں یا سماجی ‘ بہت کم میسر ہیں۔ بڑے شہروں میں تو پھر بھی کچھ ہسپتال یا طبی مراکز موجود ہیں مگر دور دراز کے علاقوں کی صورتحال کہیں زیادہ باعث تشویش ہے ۔اس کا نتیجہ بعض اوقات انتہائی المناک واقعات کی صورت میں بھی سامنے آتا ہے۔ خود کشی کے بڑھتے واقعات یا سنگین جرائم کی دیگر صورتوں کو ذہنی عوارض کی خوفناک صورتحال کا نتیجہ سمجھنا چاہیے۔ حکومت کو چاہیے کہ اس صورتحال کو سنجیدگی سے لے اور ذہنی صحت کو قومی صحت پالیسی کا ترجیحی حصہ بنایا جائے‘ اور ضلعی اور تحصیل سطح کے ہسپتالوں میں ذہنی صحت کی بنیادی خدمات لازماً فراہم کی جائیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بسلسلہ ایران صدر ٹرمپ کے سلگتے ارمان(ایاز امیر)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-08-12/52465/75461651</link><pubDate>Wed, 12 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-08-12/52465/75461651</guid><description>کیا ٹھیک کہا گیا ہے کہ جنگ شروع کرنا آسان ہے لیکن گلے پڑ جائے تو ختم کرنا مشکل ۔ صدر ٹرمپ کے ساتھ یہی کچھ ایران جنگ میں ہو رہا ہے۔ کس گھمنڈ سے پہلے حملے ہوئے کہ ایرانی قیادت ختم ہوئی اور بھرپور ہوائی حملے ہوئے تو رجیم دھڑام سے گر جائے گا۔ چند دنوں یا ہفتوں کی بات سمجھی جا رہی تھی‘ اب چھٹا مہینہ ہے اور صدر ٹرمپ نکلنے کی کر رہے ہیں اور نکلنے کا راستہ نہیں مل رہا۔ وال سٹریٹ جرنل نے وائٹ ہاؤس ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ صدر ٹرمپ کسی نیوکلیئر معاہدے کو بھی پیچھے چھوڑنے کے لیے تیار ہیں۔ صرف آبنائے ہرمز کھل جائے تو عزت بچانے کا راستہ مل جائے۔ فتح کا اعلان کر کے واپس مڑ جائیں گے۔ایران ہے کہ ایسی آسان راہِ فرار صدر ٹرمپ کو فراہم نہیں کر رہا۔ ایران نے پوری ایک فہرست مطالبات کی دے دی ہے کہ معاشی پابندیاں ختم ہوں‘ ضبط اثاثے واپس کیے جائیں‘ امریکی بحری محاصرہ ختم ہو تو پھر ہی آبنائے ہرمز سے بحری آمدو رفت بحال ہو سکتی ہے۔ حالت امریکہ کی یہ ہو گئی ہے کہ ان مطالبات کا ابھی تک کوئی خاطر خواہ جواب نہیں دیا گیا۔ بڑھکیں اور دھمکیاں صدر ٹرمپ کی کم ہو گئی ہیں۔ پوری دنیا جان چکی ہے کہ ایران پر میزائل پھونک پھونک کر امریکہ کا میزائل ذخیرہ خطرناک حد تک کم پڑ گیا ہے۔ اس ذخیرے کو پرانی حالت پر لانا مہینوںکا نہیں سالوںکا کام ہے۔آخری دور ایران پر بمباری کا تیرہ دن تک رہا اور حاصل کچھ نہ ہوا۔ حالیہ دنوں میں ایران نے ادھر اُدھر میزائل حملے کیے ہیں... بحرین‘ کویت‘ کئی بحری جہازوں پر... لیکن امریکہ کی طرف سے جواباً کوئی حملے نہیں آئے۔ جس کا مطلب یہ نہیں کہ امریکی عسکری طاقت میںکوئی کمی آئی ہے لیکن اتنا تو نظر آ رہا ہے کہ امریکہ کا پہلے والا جوش نہیں رہا۔ یہ اس لیے کہ تمام مفروضے ہوا میں تحلیل ہو گئے ہیں۔ امریکہ تو توقع کر رہا تھا کہ ہوائی حملے ہوں گے اور ایران سرنگوں ہو جائے گا۔ نئی قیادت جو آئے گی امریکہ کے اشاروں پر چلے گی۔ ایسا کہاں ہونا تھا‘ اور اب تو ایران کا اعتماد اور لہجہ قابلِ دید ہے۔ اب بھی امریکہ دنیا کا طاقتور ترین ملک ہے لیکن خلیج فارس میں بے بس نظر آ رہا ہے۔ اتنا جنگی سازو سامان جو بے وقوفی کی جنگ شروع کر کے کسی کام کا نظر نہیں آ رہا ۔ اتنے فوجی اڈے جو سب بیکار پڑے ہیں‘کہاں وہ شروع کی بڑھکیں اس حد تک کہ ایرانی تہذیب تباہ کر دی جائے گی‘ اور اب دانت پیسنے کے سوا کچھ کرنا محال نظر آنے لگا ہے۔جہاں تک برادر ملکوں کا تعلق ہے سچ پوچھیے وہاں صورتحال بالکل بھی اچھی نہیں۔ وہ گارنٹی کہ امریکہ اُن کا دفاع کرے گا وہ بھانڈا کب کا پھوٹ گیا۔ امریکی اپنے فوجی اڈے نہیں بچا سکے دوسروں کی حفاظت کیا کرنی ہے۔ ایران تو فتح نہ ہوا‘ برادر ملکوں کو حالات کے رحم و کرم پرچھوڑ دیا۔ وہاں تیل اور گیس کی تنصیبات زیادہ تر بند پڑی ہیں۔ تیل اور گیس کی ایکسپورٹ بند پڑی ہے۔ آئل ٹینکر لنگر انداز ہیں اور آبنائے ہرمز سے نکل نہیں پا رہے۔ دنیا میں سب سے طاقتور نیوی امریکہ کی ہے لیکن آبنائے ہرمز پر کنٹرول ایران کا ہے حالانکہ جو بحری جہاز تھے زیادہ تر تباہ ہو چکے ہیں۔ لیکن ایران کے میزائل اور ڈرون ہیں اور تیز رفتار کشتیاں جن کی مدد سے آبنائے ہرمز پر ایران کی مکمل گرفت ہے۔ وائٹ ہاؤس میں فرسٹریشن اور غصے کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ دنیا کے سب سے بڑے ایئرکرافٹ کیریئر اور مہنگے ترین بحری جہاز لیکن آبنائے ہرمز کے قریب جانے کی ہمت نہیں پڑ رہی۔ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدو رفت کے بارے میں جو مذاکرات ایران اور عمان کے درمیان ہو رہے ہیں وہ تو امریکی زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہیں۔ دونوں ممالک یہ معاملات خود طے کر رہے ہیں اور امریکہ کا اس میں کوئی کردار نہیں۔ ایران یہ بھی واضح کر رہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے نئے انتظام کے تحت جہازوں پر ٹول یا فیس لگے گی۔ مختلف ممالک یہ امید لگائے بیٹھے تھے کہ ایران اور عمان کا آپس میں معاہدہ ہو جائے تو آبنائے ہرمز کھل جائے گی لیکن ایران واضح کر رہا ہے کہ عمان سے معاہدہ ہو بھی جائے تو آبنائے ہرمز تب ہی کھلے گا جب امریکہ ایرانی شرائط مانے گا‘ شرائط جن کا ذکر اوپر ہو چکا ہے۔ امریکہ کو یہ سب کچھ سننا پڑ رہا ہے لیکن کچھ کرنے سے قاصر ہے۔ برادر ملک بھی ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر یہ سب منظر دیکھ رہے ہیں۔سوائے عمان کے خطے کے تمام ملک ایران پر حملے میں امریکہ کے معاون رہے۔ اڈے استعمال ہوئے‘ فضائی حدود ان کی استعمال کی گئیں۔ یو اے ای اس سلسلے میںکچھ زیادہ ہی آگے نکل گیا۔ امیدوں کے برعکس سب کچھ ہوا ہے تو برادر ملک پریشان بیٹھے ہیں۔ حوثیوں نے باب المندب کے پانیوں پر کنٹرول جما کر سعودیوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔ پریشانی اس لیے بھی ہے کہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ ساری صورتحال کب تک رہے گی۔ اب امریکہ بھی کچھ تھکا تھکا لگ رہا ہے اور کچھ سمجھ نہیں آ رہی کہ صورتحال سے کیسے نکلا جائے۔ ایران بھی کوئی آسان راستہ نہیں چھوڑ رہا۔ ایرانی ذرائع نے اب تو یہ بھی کہنا شروع کر دیا ہے کہ صدر ٹرمپ کے ہوتے ہوئے کوئی معاہدہ ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ اُن کی بات پر اعتبار نہیںکیا جا سکتا۔جہاں تک ہمارا تعلق ہے تو یہاں شروع کے دنوں میں شادیانے بجے‘ لیکن جب امن یادداشت کی دھجیاں اڑنے لگیں اور صورتحال پیچیدہ ہو گئی تو شادیانے تھوڑنے ماند پڑ گئے۔ ویسے بھی محض ہائی پروفائل سے کیا نکالا جا سکتا ہے۔ امریکہ سے قربت تو بڑھی لیکن وہاں سے کیا ملا اور اب ایران جنگ کے حوالے سے امریکہ جس کیفیت میں ہے وہاں سے کچھ زیادہ کی توقع بھی نہیں کی جا سکتی۔ برادر سعودی عرب اپنے معاملات میں مصروف ہے۔ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز تو ایک طرف رہے اب تو جیسا عرض کیا باب المندب سے آئل ٹینکروںکا گزرنا مشکل ہو رہا ہے۔ جہاں تک سہ فریقی دفاعی معاہدے کا تعلق ہے تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ احساسِ تحفظ کا ایک ذریعہ ہے۔ ایرانی بڑے تحمل سے چل رہے ہیں۔ اس حوالے سے اُنہوں نے زیادہ ردِعمل کا اظہار نہیں کیا۔ کون سی کوشش ہے جو امریکہ اور اسرائیل نے نہیںکی ایران کو زیر کرنے کیلئے۔ لیکن کامیاب نہیں ہوئے کیونکہ ایران کا اسلامی نظام بہت مضبوط ہے اور اس نظام کو عوام کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔ نظام کے مخالفین بھی ہیں لیکن اکثریت کے سامنے اُن کی کوئی حیثیت نہیں۔ اندرونی اتحاد ہے تو ایران امریکہ کا مقابلہ کر سکا۔ کتنے ہی لیڈر اُس کے مارے گئے لیکن حکومتی نظام میں کوئی خلا یا خلل پیدا نہیں ہوا۔ تیل کی ترسیل نہیںہو رہی معاشی مشکلات ہیں لیکن زندہ قوم ہے‘ مضبوط دیوار کی طرح امریکہ کے سامنے کھڑی ہے۔ قیادت‘ افواج اور عوام کا اتحاد مثالی ہے۔ داخلی کمزوری ہوتی اور لوگ نالاں ہوتے تو امریکی اور اسرائیلی حملوںکے نتیجے میں ایران کا شیرازہ بکھر گیا ہوتا۔ ایسا نہیں ہوا‘ ایرانی قوم کی جرأت اور حوصلے کی وجہ سے۔اپنے پہ بھی ہم کچھ نظر رکھیں۔ پاکستان کے موجود مسائل بھی خاصے پیچیدہ ہیں۔ پڑوس کی جنگ سے بہت کچھ سیکھنے کو مل سکتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_80573045.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>عمران خان کا انتقام(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-08-12/52466/92268964</link><pubDate>Wed, 12 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-08-12/52466/92268964</guid><description> انسانی مزاج بڑا دلچسپ ہے۔ بنانے پر آئے تو ایک چائے والے کو ڈیڑھ ارب آبادی کے ملک کا وزیراعظم بنا دے‘ الٹانے پر آئے تو پچاس سال سے حکمرانی کرتے بادشاہ کو لیبیا میں ایک پل کے نیچے مار ڈالے۔ انسانوں کو خوش یا راضی رکھنا آسان کام نہیں ۔ قران پاک میں خدا خود فرماتا ہے کہ انسان بڑا بے انصاف اور ناشکرا ہے۔ اگر انسان اُس خدا سے بھی‘ جس نے ہزاروں لاکھوں نعمتیں اس کو عطا کی ہیں‘ گلہ کرنے بیٹھ جاتا ہے تو کسی فانی بندے یا بادشاہ کی کیا اوقات ہے۔ سوال یہ ہے انسان کسی صورت خوش کیوں نہیں ہوتے ؟اور جب یہ علم ہے کہ انسان کی فطرت میں ناشکری ہے تو پھر دوسروں کے اوپر بادشاہ کیوں لگنا چاہتا ہے‘ اپنے لیے تخت یا دوسروں کے لیے تختہ کیوں چاہتا ہے؟ ایک گھر میں بعض دفعہ بہن بھائی بھی محبت پیار سے نہیں رہ سکتے اور بڑے ہوتے ہی جائیداد یا بچوں کے رشتوں پر جھگڑ پڑتے ہیں۔ تو ایک ملک جس کی آبادی ڈیڑھ ارب ہو یا پچیس کروڑ ہو‘ وہاں کیسے آپ سب کو خوش اور مطمئن کر سکتے ہیں؟ جب آپ کو علم ہے کہ انسان کو خوش اور مطمئن کرنا مشکل ہے تو پھر یہ بھاری پتھر اٹھانے کے لیے جنونی کیوں بن جاتے ہیں؟ اس کے لیے اتنی محنت‘ کوشش‘ مشکلات‘ جیل‘ جلاوطنی اور پھانسی تک بھگتنے کو تیار کیوں ہو جاتے ہیں۔ آخر اس حکمرانی میں ایسا کیا رکھا ہے کہ آپ ہر صورت سب سے بڑی کرسی پر بیٹھنا چاہتے ہیںچاہے اس کی کچھ بھی قیمت ہو۔ میں کوشش کے باوجود اس انسانی جذبے کو نہیں سمجھ سکا کہ آخر وہ کیا چیز ہے جو ان تمام خطرات کا سامنا کرنے کی جرأت و ہمت دیتی ہے۔ مان لیا کہ تاریخ میں یہ درج ہوجائے گا کہ فلاں ولد فلاں ملک کا وزیراعظم یا بادشاہ بنا تھا‘ تو اس سے آپ کو کیا فرق پڑے گا کہ آپ تو منوں تلے مٹی میں دبے ہوں گے۔یہ باتیں مجھے اس لیے یاد آ رہی ہیں کہ آج کل ہمارے دوست سلمان اکرم راجہ کی اپنی پارٹی لیڈروں کے ساتھ ایک مہا بھارت چل رہی ہے‘ جس میں اب تک سکور برابر چل رہا ہے۔ اس لڑائی میں پنجاب سے سلمان اکرم راجہ تو خیبر پختونخوا سے جنید اکبر خان‘ مشعال یوسفزئی‘ بیرسٹر گوہر اور دیگر آمنے سامنے ہیں۔ خیبر پختونخوا سے بندے بدلتے رہتے ہیں لیکن سلمان اکرم راجہ اکیلے ہی لڑتے رہتے ہیں۔ اب تازہ ترین لڑائی مشعال یوسفزئی کے ساتھ چل رہی ہے اور ایک دوسرے پر الزامات سوشل میڈیا پر کھڑکی توڑ ہفتہ منا رہے ہیں۔ شاید سلمان اکرم راجہ کو لگتا ہے کہ وہ گوربا چوف کی طرح روس کی کمیونسٹ پارٹی کے سیکرٹری جنرل ہیں جس کے سامنے کسی کو چوں تک کرنے تک کی اجازت نہیں ہے۔ دوسری طرف خیبر پختونخوا کے مزاج میں پنجاب کی سیاسی لیڈرشپ کے آگے سرنگوں ہونے کا مزاج نہیں۔ انہوں نے برسوں کی محنت کے بعد عمران خان کو تو مان لیا کہ چلو پشتو نہیں آتی لیکن جینز تو ہم سب کے ایک ہی ہیں۔ نیازی بھی کبھی افغان ہی تھے جیسے درانی‘ ترین‘ خاکوانی قبائل‘ جو پنجاب میں آ کر بس گئے تھے۔ عمران خان واحد بندہ ہے جسے پشتو نہیں آتی مگر پشتونوں نے اسے اپنا لیڈر مان لیا۔ ایک دفعہ ایک پشتون دوست نے مجھے یہ قصہ سنایا کہ ان کا ایک پنجابی دوست ان سے ملنے آیا‘ وہ گھر بیٹھے اُردو میں باتیں کر رہے تھے تو ان کی والدہ نے سن لیا۔ انہوں نے بیٹے کو بلا کر پوچھا: تمہارا دوست مسلمان ہے؟ انہوں نے بتایا کہ بالکل مسلمان ہے۔ تو ماں حیران ہو کر بولی: یہ کیسا مسلمان ہے جسے پشتو نہیں آتی۔ ہمارے ملک میں پشتون‘ سندھی اور بلوچ اپنی مادری زبانوں کے بارے میں بہت حساس ہیں۔ بات ہو رہی تھی پنجاب اور پختون لیڈروں کی‘ جو اس وقت دست وگربیاں ہیں اور ایک دوسرے پر الزامات لگا رہے ہیں۔ جب یہ لڑائی میں نے سوشل میڈیا پر دیکھی اور سلمان اکرم راجہ کا غصہ بھرا جواب سنا تو پتا نہیں کیوں مجھے ان سے کافی ہمدردی ہوئی۔ میں نے برسوں ان کی قابلیت اور کام کو بڑے قریب سے دیکھا ہے۔ وہ ان چند نامور وکیلوں میں سے ہیں جنہوں نے اپنی قابلیت اور محنت سے اپنا نام اور مقام بنایا ہے اور ان کا شمار سپریم کورٹ کے بڑے وکلا میں ہوتا ہے۔ ٹی وی شوز میں وہ بہت نپی تلی رائے دینے کے لیے مشہور تھے۔ ان کی میڈیا اور سول سوسائٹی میں بھی بہت عزت رہی ہے۔ جب عمران خان نے سپریم کورٹ میں پاناما کا مقدمہ کیا تو ان کی اس قابلیت کو سامنے رکھ کر ہی شریف فیملی نے سلمان اکرم راجہ کو اپنا وکیل بنایا۔ وہی تھے جنہوں نے پاناما کیس میں مشہور زمانہ قطری خط عدالت میں پیش کیا تھا۔ اس خط پر بڑی لے دے ہوئی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ اس کا مشورہ دینے والے بھی راجہ صاحب ہی تھے۔ نواز شریف کی طرح عمران خان کی بھی ایک خوبی ہے کہ وہ اپنے دوستوں اور محسنوں کو تو بھول سکتے ہیں لیکن اپنے مخالفین کو نہیں بھولتے‘ نہ ہی معاف کرتے ہیں۔ لیکن دونوں کا مخالفین کو فکس کرنے کا اپنا اپنا انداز ہے۔ اگر آپ عمران خان کو دیکھیں تو انہوں نے دو طرح سے اپنے دشمنوں یا مخالفین کو ہینڈل کیا یا ان سے سکور سیٹل کیا۔ پہلے دیگر جماعتوں کے وہ سیاستدان جو اُن پر دن رات تبرا پڑھتے تھے اور خانگی زندگی کی ناکامیوں پر ان کا مذاق اڑاتے تھے خان صاحب نے ان کو ایک ایک کر کے اپنی پارٹی میں شامل کر لیا۔ وہ سب اس چکر میں آتے چلے گئے کہ پی ٹی آئی کا بڑا ووٹ بینک بن چکا تھا لہٰذا وہ گالی گلوچ سیاسی بریگیڈ اس ووٹ بینک سے ایم این اے‘ سینیٹر یا وزیر بن جانے کے لالچ میں پی ٹی آئی میں آ گئی۔ خان صاحب نے ان کی کمزوری استعمال کی اور اب برسوں سے وہ خان کے گیت گاتے اور خوشامدیں کرتے ہیں۔ وہی جو پہلے دن رات تبرا پڑھتے تھے اب کہتے کہ خان تو فرشتہ ہے۔ خان نے سلمان اکرم راجہ کو بھی اپنی لسٹ میں رکھا ہوا تھا کہ پاناما کیس میں شریف خاندان کی وکالت کا بدلہ لینا تھا۔ خان کا انداز ہے کہ جو گڑ کھا کر مر جائے اسے زہر کیا دینا لہٰذا جیسے دوسروں کو گڑ کھلا کر اپنا گرویدہ بنایا ایسے ہی راجہ صاحب پرجال پھینکا گیا۔ انہیں لگا کہ تقدیر انہیں بڑا کردار ادا کرنے کا موقع دے رہی ہے‘ وہ ملک کی تقدیر بدل دیں گے۔ خان نے انہیں سیکرٹری جنرل بنا دیا‘ وہ شخص جس نے کبھی کونسلر کا الیکشن بھی نہیں لڑا تھا۔ کورٹ روم بحث اور سیاسی لڑائی کافرق راجہ صاحب کو معلوم نہ تھا۔ اب راجہ صاحب کی پچھلے تین سال میں یہ حالت ہو چکی ہے کہ ان کی پریکٹس چھوٹ چکی ہے‘ چوبیس گھنٹے وہ سیاست میں ہیں‘ کبھی وارنٹ نکل رہے ہیں تو کبھی عدالتوں میں پارٹی ورکرز اور لیڈروں کیلئے خوار ہو رہے ہیں۔ اب ہر روز کوئی نہ کوئی پارٹی لیڈر اٹھ کر ان پر الزامات لگا دیتا ہے۔ کبھی علیمہ خان ان پر سوال اٹھادیتی ہیں تو کبھی مشعال یوسفزئی الزامات لگا دیتی ہیں۔ کسی دن ان کا بیرسٹر گوہر تو کبھی جنید اکبر سے پھڈا ہو جاتا ہے۔ کبھی شیر افضل مروت اور کبھی شاندانہ گلزار کچھ کہہ دیتی ہیں۔ بشریٰ بیگم تو ان کے منہ پر ہی سخت زبان استعمال کرتی تھیں۔ ہمارا پڑھا لکھا‘ سمجھدار دوست سکون کے ساتھ رہ رہا تھا مگر اب روز سوشل میڈیا پر کسی نہ کسی کے ساتھ لڑ رہا ہوتا ہے۔ غصے میں خان کو اپنا استعفیٰ بھیجتا ہے تو وہ آگے سے تھپکی کے ساتھ جواب ملتا ہے کہ دل چھوٹا نہ کرو‘ لگے رہو۔ لگتا ہے کہ خان کا دل ابھی بھرا نہیں۔ مشعال یوسفزئی اور شاندانہ گلزار کے کانوں سے دھواں نکالنے والے الزامات سن کر لگتا ہے کہ خان کا سکور ابھی سیٹل نہیں ہوا۔ جب بھی سلمان اکرم راجہ پارٹی چھوڑنے لگتا ہے خان تھپکی دے کر فیض صاحب کا شعر سنا دیتا ہو گا۔ چند روز اور مری جان‘ فقط چند ہی روز۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سکولوں کی نارسائی سے تعلیمی نارسائی تک(شاہد صدیقی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-siddiqui/2026-08-12/52467/57885959</link><pubDate>Wed, 12 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-siddiqui/2026-08-12/52467/57885959</guid><description>پاکستان میں تعلیم کے حوالے سے ہونے والی گفتگو میں اعداد و شمار کا غلبہ رہتا ہے۔ کتنے بچے سکول میں ہیں‘ کتنے سکول سے باہر‘ کتنے سکول تعمیر کیے گئے اور داخلوں میں کتنا اضافہ ہوا۔ یہ سوالات اپنی جگہ اہم ہیں کیونکہ پاکستان میں آج بھی لاکھوں بچے اپنے آئینی حقِ تعلیم سے محروم ہیں اور انہیں سکول تک لانا ہماری قومی ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے‘ لیکن ایک اتنا ہی اہم سوال یہ ہے کہ بچوں کے سکول میں داخل ہونے کے بعد ان کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ سکول تک رسائی اور تعلیم تک رسائی ایک ہی بات نہیں۔ ایک بچہ سکول میں داخل ہو سکتا ہے‘ کئی برس تک کلاسوں میں بیٹھ سکتا ہے اور ایک جماعت سے دوسری جماعت میں ترقی بھی کر سکتا ہے لیکن سکول سے نکلتے وقت یہ بھی ممکن ہے کہ وہ نہ کسی تحریر کو سمجھ کر پڑھ سکے نہ اپنے خیال کو واضح انداز میں بیان کر سکے‘ نہ اعتماد کے ساتھ اعداد سے کام لے سکے اور نہ آزادانہ طور پر سوچ سکے۔ سکولنگ اور سیکھنے کے درمیان یہی فاصلہ پاکستان کے تعلیمی مسئلے کا مرکزی نکتہ ہے۔حال ہی میں جاری ہونے والی اینوئل سٹیٹس آف ایجوکیشن رپورٹ (ASER) نے ایک بار پھر اس مسئلے کی طرف توجہ دلائی ہے۔ بچوں کی پڑھنے اور ریاضی کی صلاحیت کے حوالے سے رپورٹ کے نتائج تشویشناک ہیں۔ بہت سے بچے کئی برس سکول میں گزارنے کے باوجود ایسے کام کرنے میں بھی دشواری محسوس کرتے ہیں جو اُن سے نچلی جماعتوں کے بچوں کی سطح کا ہوتا ہے۔ ان اعداد کے پیچھے ایک بڑا سوال موجود ہے۔ جب ہم کہتے ہیں کہ ایک بچہ تعلیم حاصل کر رہا ہے تو اس سے ہماری مراد کیا ہوتی ہے؟ ہماری تعلیمی منصوبہ بندی روایتی طور پر ان چیزوں پر توجہ مرکوز کرتی ہے جنہیں گنا جا سکتا ہے: سکول‘ کلاس روم‘ اساتذہ‘ داخل شدہ طلبہ اور نصابی کتابیں۔ یہ اعداد و شمار ضروری ہیں لیکن ان سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ بچے حقیقت میں کیا سیکھ رہے ہیں۔ سیکھنے کا عمل استاد اور طالب علم کے باہمی تعلق‘ کتابوں اور نئے خیالات سے تعارف اور سوال پوچھنے کی آزادی سے جنم لیتا ہے۔ اس کا اظہار اس اعتماد میں ہوتا ہے جس کے ساتھ ایک بچہ اپنے اردگرد کی دنیا کو سمجھنے لگتا ہے۔ہمیں سکولوں کی عمارتیں‘ نصابی کتابیں اور اساتذہ یقینا درکار ہیں لیکن محض ان کی موجودگی سیکھنے کی ضمانت نہیں دیتی۔ بہت کچھ اس بات پر منحصر ہے کہ استاد اور طلبہ کے درمیان رابطے کی نوعیت کیا ہے اور کلاس روم بچوں کو کس نوعیت کی فکری فضا فراہم کرتا ہے۔ کئی دہائیوں سے ہمارے تعلیمی نظام کا بڑا حصہ ایسی روایت کے زیرِ اثر رہا ہے جس میں علم استاد سے طالب علم تک منتقل ہوتا ہے‘ طالب علم اسے یاد کرتا ہے اور امتحان میں اسے دوبارہ پیش کرتا ہے۔ نصابی کتاب علم کا مرکز بن جاتی ہے اور امتحان اس کا آخری منصف۔ بچے اس نظام میں برسوں گزار سکتے ہیں لیکن ان میں تجسس‘ فہم اور فکری خودمختاری پیدا نہیں ہوتی۔ یہیں سے معیارِ تعلیم کا اہم سوال شروع ہوتا ہے۔ ہم بعض اوقات معیار کو امتحانی نتائج تک محدود کر دیتے ہیں۔ تعلیم کو بچوں میں پڑھنے‘ لکھنے اور حساب کی صلاحیت ضرور پیدا کرنی چاہیے لیکن اس کے ساتھ انہیں سوال کرنے‘ اپنے خیالات کا اظہار کرنے‘ مسائل حل کرنے اور کلاس روم سے باہر سیکھنے کا عمل جاری رکھنے کا اعتماد بھی دینا چاہیے۔ بنیادی خواندگی اور حساب کی مہارتیں ناگزیر ہیں لیکن یہ اچھی تعلیم کا نقطۂ آغاز ہیں‘ آخری منزل نہیں۔ اس بحث میں اساتذہ کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ اساتذہ کے بارے میں اکثر اس انداز میں بات کی جاتی ہے جیسے وہ خود مسئلے کا حصہ ہوں‘ بجائے اس کے کہ انہیں اصلاحات میں شراکت دار سمجھا جائے۔ ایک مختصر تربیتی ورکشاپ‘ نظرثانی شدہ نصابی کتاب یا نیا امتحانی نظام اپنے طور پر کلاس روم کے طریقۂ تدریس کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ اساتذہ کو معیاری ابتدائی تربیت‘ مسلسل سیکھنے کے مواقع اور پیشہ ورانہ اعتماد درکار ہے۔نصاب اور امتحانی نظام بھی تدریس کی نوعیت متعین کرتے ہیں۔ حقائق کے بوجھ تلے دبا ہوا نصاب اور فیصلہ کن اہمیت رکھنے والے امتحانات بحث‘ غوروفکر اور تخلیقی صلاحیت کیلئے بہت کم گنجائش چھوڑتے ہیں۔ جب امتحانات رٹے ہوئے مواد کو انعام دیتے ہیں تو اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں کہ اساتذہ امتحان کیلئے پڑھاتے اور طلبہ امتحان کیلئے پڑھتے ہیں۔ ہم تنقیدی سوچ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ایسا امتحانی نظام برقرار نہیں رکھ سکتے جو عملی طور پر مختلف رویے کی حوصلہ افزائی کرتا ہو۔ زبان اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے۔ بچے اس وقت مؤثر انداز میں نہیں سیکھ سکتے جب کلاس روم کی زبان خود اُن کے فہم کی راہ میں رکاوٹ بن جائے۔ اسی طرح معیارِ تعلیم کو صنف‘ جغرافیے‘ سماجی طبقے اور وسائل کی ناہمواریوں سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ کسی دور درازگاؤں کے سکول کا بچہ‘ جہاں نہ لائبریری ہو‘ نہ تربیت یافتہ اساتذہ اور نہ مناسب تعلیمی مواد‘ وسائل سے بھرپور شہری سکول کے بچے سے بالکل مختلف نقطے سے اپنا تعلیمی سفر شروع کرتا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار میں دونوں کو &#39;&#39;سکول میں داخل‘‘ قرار دیا جا سکتا ہے لیکن ان کے تعلیمی مواقع یکساں نہیں۔ اس طرح معیار دراصل مساوات اور انصاف کا سوال بھی ہے۔پاکستان بارہا تعلیم کو قومی ترجیح قرار دے چکا ہے لیکن سرکاری سرمایہ کاری اس دعوے کی حوصلہ افزا تصویر پیش نہیں کرتی۔ جیسا کہ پاکستان اکنامک سروے 2025-26ء کے مطابق تعلیم پر اخراجات ملک کے تعلیمی مسائل کی وسعت کے مقابلے میں بہت کم ہیں۔ تعلیم پر کم سرمایہ کاری کے اثرات براہِ راست کلاس روم تک پہنچتے ہیں۔ اساتذہ کی ناکافی تربیت‘ کمزور لائبریریاں‘ تعلیمی مواد کی قلت اور محدود تعلیمی معاونت اسی کا نتیجہ ہیں۔ ٹیکنالوجی کو اب اس مسئلے کے ممکنہ حل کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ سمارٹ کلاس رومز‘ ٹیبلٹس‘ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور مصنوعی ذہانت تعلیم کو بہتر بنا سکتے ہیں لیکن یہ کمزور تدریسی عمل کا متبادل نہیں۔ کسی بچے کے سامنے سکرین رکھ دینے سے سیکھنے کی نوعیت خود بخود تبدیل نہیں ہو جاتی۔ اگر کلاس روم کا کلچر بدستور رٹنے پر قائم رہے تو ٹیکنالوجی اسی پرانے طریقے کو محض ڈیجیٹل شکل دے گی۔ اس کی اصل تعلیمی اہمیت تب ہے جب وہ بچوں کو کھوجنے‘ سوال اٹھانے‘ تخلیق کرنے اور سمجھنے کے مواقع فراہم کرے۔اس لیے ASER-2025 محض تشویشناک اعداد و شمار پر مشتمل ایک اور رپورٹ نہیں یہ ہمیں اس بنیادی سوال پر غور کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے کہ ہم تعلیم کے ذریعے حاصل کیا کرنا چاہتے ہیں۔ برسوں سے ہم پوچھتے آئے ہیں کہ کتنے بچے سکول میں ہیں۔ اب ہمیں یہ پوچھنے کی ضرورت ہے کہ وہ وہاں کیا سیکھ رہے ہیں۔ کیسے سیکھ رہے ہیں‘ کون سے بچے پیچھے رہ جا رہے ہیں اور ہم اپنے سکولوں کے ذریعے کس طرح کے انسان اور شہری تیار کرنا چاہتے ہیں؟ داخلے‘ سکول‘ اساتذہ اور نصابی کتابیں اہم ہیں لیکن یہ صرف وہ حالات اور وسائل فراہم کرتے ہیں جن میں تعلیم وقوع پذیر ہو سکتی ہے۔ یہ بذاتِ خود تعلیم نہیں ہیں۔ اصل امتحان سکول کا دروازہ کھلنے کے بعد شروع ہوتا ہے۔ کلاس روم میں‘ استاد اور طالب علم کے تعلق میں‘ کسی کتاب یا خیال کے ساتھ بچے کے بامعنی مکالمے میں‘ اور اس جرأت میں کہ وہ ایسا سوال پوچھ سکے جس کا کوئی پہلے سے طے شدہ جواب نہ ہو۔ پاکستان کو سکول تک رسائی کے بڑے چیلنج کا سامنا ہے لیکن اس کے ساتھ سیکھنے کا اتنا ہی سنگین چیلنج بھی موجود ہے۔ ہم ایک مسئلے کے حل ہونے تک دوسرے کو مؤخر نہیں کر سکتے۔ ہمارے سامنے اصل کام صرف بچوں کو سکول تک پہنچانا نہیں بلکہ ان کے سکول میں گزارے گئے برسوں کو بامعنی بنانا ہے۔ یہی سکول تک رسائی اور تعلیم تک رسائی کے درمیان بنیادی فرق ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_21538475.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مکہ دفاعی معاہدہ، علاقائی محاذ پر اہم پیش رفت(سلمان غنی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/salman-ghani/2026-08-12/52468/55980238</link><pubDate>Wed, 12 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/salman-ghani/2026-08-12/52468/55980238</guid><description>پاکستان،سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مکرمہ میں طے پانے والے مشترکہ دفاعی معاہدے کو علاقائی محاذ پر ایک بڑی پیشرفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ معاہدہ جنگ و جدل کیلئے نہیں بلکہ جنگ اور جارحیت کا ارتکاب روکنے کیلئے ہے اور اس کا مقصد خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنانے کیلئے مل کر چلنا اور کسی جارحانہ اقدام کی صورت میں تینوں ملکوں کے اجتماعی دفاع کو مضبوط بنانا ہے۔ معاہدے کے مطابق کسی ایک پر حملہ تینوں ملکوں پر حملہ تصور ہوگا‘ جس سے مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے نمٹا جائے گا۔ ماہرین اس معاہدے کو صرف دفاعی معاہدے کے طور پر نہیں دیکھ رہے بلکہ اسے معاشی استحکام سے بھی جوڑ رہے ہیں۔ اس معاہدے کا ایک فریق پاکستان نیوکلیئر پاور‘ دوسرا سعودی عرب معاشی طاقت اور تیسرا ترکیہ جدید جنگی سازوسامان کے حوالے سے اہمیت کا حامل ہے۔ اس تناظر میں معاہدے کو خطے میں امن و استحکام اور معاشی چیلنجز سے نمٹنے کا بندوبست بھی قرار دیا جا رہا ہے۔مغربی میڈیا اس معاہدے کو خطے میں ایک اہم پیشرفت قرار دیتے ہوئے اس میں پاکستان کے کردار کو کلیدی بتا رہا ہے اور اسکی بنیاد امریکہ ایران جنگ کے دوران پاکستان کے سفارتی اور ثالثی کردار کو بنا رہا ہے۔ امریکہ ایران جنگ بندی میں پاکستان کے ثالثی کردار نے اسکی علاقائی اہمیت میں اضافہ کیا ہے اور اب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک اپنی سکیورٹی و سلامتی کیلئے پاکستان کی جانب دیکھ رہے ہیں۔ اسی بنا پر کہا جا سکتا ہے کہ یہ معاہدہ ایک طرف پاکستان کی علاقائی اور دفاعی اہمیت کو اجاگر کر رہا ہے تو دوسری جانب اسکا معاشی حیثیت کے حوالے سے بھی اہم کردار ہو گا۔ یہ معاہدہ تینوں ممالک کے اس مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ ایک محفوظ اور خوشحال مستقبل کو یقینی بنانے‘ اپنی اجتماعی سلامتی کو مضبوط بنانے اور خطے سمیت دنیا بھر میں امن‘ سلامتی اور استحکام کے فروغ کیلئے کام کریں گے۔ مذکورہ معاہدے کا اس حوالے سے تجزیہ ضروری ہے کہ اس کے خطے پر اثرات کیا ہوں گے‘ اپنے بنیادی مقاصد کے حصول کیلئے معاہدے کے فریق کیا اقدامات کریں گے اور سب سے اہم یہ کہ مذکورہ معاہدے کو امریکہ اور اس کے اتحادی کیسے دیکھ رہے ہیں۔ یہ صرف ایک دفاعی معاہدہ نہیں بلکہ علاقائی خطرات اور خدشات کے پیش نظر ایک سٹرٹیجک اعلان ہے جس کا مقصد خطے میں نیا سکیورٹی ڈھانچہ قائم کرنا ہے۔ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے نے خطے میں طاقت کا توازن تبدیل کر دیا ہے جسکی وجہ سے بھارت اور اسرائیل پریشان ہیں۔ بھارت اس معاہدے کو اپنے لیے خاص پیغام سمجھ رہا ہے اور اسے سمجھ آنا شروع ہوگیا ہے کہ کسی جارحیت کی صورت میں ترکیہ اور سعودی عرب بھی پاکستان کیساتھ کھڑے ہوں گے۔ جبکہ اسرائیل اس معاہدے کو اپنے لیے ممکنہ خطرے کے طور پر دیکھتا ہے‘ خاص طور پر جب سعودی عرب اور پاکستان فلسطینیوں کیلئے زیادہ فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ مکہ معاہدے پر دستخط کرنے والے تینوں ممالک کو اسرائیلی توسیع پسندی کے بارے میں تشویش ہے۔ اگرچہ تینوں ممالک روایتی طور پر امریکہ کیساتھ اچھے تعلقات کے حامی ہیں لیکن یہ معاہدہ علاقائی صورتحال میں امریکہ کے اثر و رسوخ میں کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ امریکہ پر انحصار کم کرتے ہوئے مقامی سلامتی کے ڈھانچے کی طرف بڑھنے کی سنجیدہ کوشش ہے۔یہ معاہدہ خطے کیلئے ایک نئی سمت کو ظاہر کرتا ہے جس نے بہت سے کھلاڑیوں کو اپنی حکمت عملیوں پر نظرثانی پر مجبور کر دیا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب امریکی سکیورٹی یقین دہانیوں پر اعتماد کم ہو رہا ہے‘ خلیجی  ممالک اپنی سلامتی کیلئے متبادل تلاش کر رہے ہیں۔ کویت پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدے کو حتمی شکل دے رہا ہے جبکہ بحرین اور اردن ایسے مذاکرات میں دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں جس بنا پر کہا جا سکتا ہے کہ یہ علاقائی تعاون کو مزید وسعت دینے کی طرف اشارہ ہے۔ قطر نے سعودی عرب کی مجوزہ بحری دفاعی اتحاد کی حمایت کی ہے‘ تاہم خلیجی تعاون کے حوالے سے اس کے تحفظات کے باعث وہ اس مرکزی اتحاد کا حصہ بننے میں محتاط نظر آتا ہے۔ متحدہ عرب امارات بھی اس اتحاد سے دور ہے‘ جس کی ایک وجہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان گرمجوشی اور تعلقات کی مضبوطی ہے۔ عمان عام طور پر غیرجانبدار پالیسی اپناتا ہے اور ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کی وجہ سے اس اتحاد کا حصہ بننے سے گریز کر سکتا ہے۔ البتہ تمام خلیجی ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ خلیجی ممالک کی سلامتی ایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ امریکہ ایران جنگ اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں نے انہیں اپنی سلامتی کیلئے متبادل راستے تلاش کرنے پر مجبور کر دیا ہے‘ جس کی وجہ سے یہ معاہدہ عمل میں آیا ہے۔جہاں تک اس معاہدے میں پاکستان کے کردار کا تعلق ہے تو اس میں پاکستان کا کردار کلیدی اور شراکت دار کا ہے۔ یہ کردار طویل سفارتی تاریخ‘ علاقائی اثر و رسوخ اور منفرد دفاعی حیثیت کا نتیجہ ہے۔ اگرچہ مکہ معاہدے پر دستخط وزیراعظم شہباز شریف نے کیے ہیں تاہم اس موقع پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی موجودگی کو معاہدے کی اہمیت و حیثیت کے حوالے سے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ انکی موجودگی پاکستان کی جانب سے اس معاہدے کو دی جانے والی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔ ملکِ عزیز کی عالم اسلام میں منفرد حیثیت اور اس کی ایٹمی طاقت اس اتحاد کو سٹرٹیجک وزن فراہم کرتی ہے جس سے اجتماعی دفاعی صلاحیت میں بے پناہ اضافہ ہوتا ہے۔ پاکستان اس اتحاد کا دفاعی‘ سفارتی اور سٹرٹیجک شراکت دار ہے جو اپنی فوجی طاقت‘ جوہری حیثیت اور علاقائی رسائی کے ذریعے اسے عملی اور مؤثر بناتا ہے۔ پاکستان کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ اس نے علاقائی کشیدگی میں بھرپور سفارتی کردار ادا کیا۔ خاص طور پر امریکہ ایران جنگ بندی میں پاکستان نے ایک قابلِ اعتماد پارٹنر کے طور پر کردار ادا کیا ہے۔ جہاں تک خلیجی ریاستوں کا تعلق ہے تو وہ اپنی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے حوالے سے اہم فیصلے عالمی اور اجتماعی مشاورت کے بعد کرتی ہیں۔ اگرچہ پاکستان اور ترکیہ کیساتھ معاہدے کے بعد بھی سعودی عرب کے امریکہ کیساتھ موجودہ سکیورٹی انتظامات تبدیل ہونے کا امکان نہیں‘ تاہم پاکستان‘ ترکیہ اور مصر سمیت خطے کے دیگر ممالک کیساتھ دفاعی اور سکیورٹی تعاون میں مزید وسعت آنے کے واضح امکانات ہیں۔ ایک ایسے خطے میں امن و استحکام کیلئے یہ پیشرفت ناگزیر ہے جو مسلسل عدم استحکام سے دوچار ہے مگر عالمی معیشت کیلئے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔طویل مدتی بنیادوں پر جائزہ لیا جائے تو ایران کو بھی خلیجی سکیورٹی کے علاقائی ڈھانچے کا حصہ ہونا چاہیے مگر اس منزل پر پہنچنے کیلئے تہران اور خلیجی ریاستوں کے درمیان باہمی اعتماد بحال کرنا ہوگا۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی اور سکیورٹی تعاون ایک مضبوط اور پائیدار علاقائی سکیورٹی ڈھانچے کا بنیادی ستون ہے۔ دونوں ممالک کے سکیورٹی خدشات میں نمایاں مماثلت پائی جاتی ہے اور دونوں ہی اپنے اپنے مفاد میں امن و استحکام اور سلامتی کی مضبوطی چاہتے ہیں۔پاکستان نے ماضی میں خلیجی ممالک کے سکیورٹی خدشات کا بروقت اور ذمہ دارانہ جواب دیا ہے اور کسی پر بھی جارحیت کی صورت میں پاکستان کی قیادت نے ان کے پاس جا کر‘ کاندھے سے کندھا ملا کر یہ ثبوت فراہم کیا ہے کہ ہم اچھے وقتوں میں ہی نہیں بلکہ برے وقت میں بھی ساتھ ہیں۔ لہٰذا خلیجی ممالک کو بھی چاہیے کہ وہ مستقبل میں پاکستان کے ساتھ مشاورت کا سلسلہ وسیع کرتے ہوئے دفاعی رابطوں اور سفارتی کردار کو فعال بنائیں۔ بدلتے حالات میں پاکستان اور خلیجی ریاستوں کے درمیان قریبی تعاون نہ صرف دونوں جانب کے مفادات کا تقاضا ہے بلکہ یہ پورے خطے کے پائیدار امن و استحکام کیلئے بھی ناگزیر ہے۔ویسے بھی مکہ دفاعی معاہدہ جنگ یا کسی جارحیت کیلئے نہیں بلکہ انہیں روکنے کیلئے وجود میں آیا ہے۔ حالات و واقعات ثابت کر رہے ہیں کہ یہ جنگ و جدل کا دور نہیں‘ مذاکرات اور ڈائیلاگ کا دور ہے اور مل بیٹھ کر مذاکرات اور ڈائیلاگ کے ذریعے ہی مسائل کا حل نکالا جا سکتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/230_37874475.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>خواہشیں‘ ڈیل‘ ڈھیل یا نیا سیاسی داؤ(محمد حسن رضا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-hasan-raza/2026-08-12/52469/70987972</link><pubDate>Wed, 12 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-hasan-raza/2026-08-12/52469/70987972</guid><description>پاکستان کا مسئلہ یہ نہیں کہ یہاں نظام موجود نہیں‘ اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہاں ایسا نظام موجود ہے جو خود کو زندہ رکھنے میں غیر معمولی طور پر کامیاب مگر عام آدمی کی زندگی بدلنے میں مسلسل ناکام رہا ہے۔ حکومتیں آتی جاتی ہیں‘چیف سیکرٹری بدلتے ہیں‘ بجٹ بڑھتے ہیں‘ نئی اتھارٹیاں بنتی ہیں‘ نئی گاڑیاں آتی ہیں‘ نئے منصوبے بنتے ہیں اور ہر چند سال بعد ایک نئی نسل اقتدار کے ایوانوں تک بھی پہنچ جاتی ہے‘ صرف ایک شخص وہیں کھڑا رہتا ہے جہاں کئی دہائیاں پہلے تھا‘وہ ہے عام پاکستانی۔ اسی لیے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا 30 جولائی کا جملہ معمولی سیاسی بیان نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ جس نظام کے تحت ہم زندگی گزار رہے ہیں وہ منہدم ہوچکا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب تک نئے یونٹ ذمہ داری نہیں لیں گے اور نئی قیادت سامنے نہیں آئے گی‘ حالات بدلنا مشکل ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی نظام تباہ ہوچکا ہے؟ اس سوال کا جواب کسی سیاستدان سے نہ لیجیے‘ اعدادوشمار دیکھتے ہیں وہ بھی مستند عالمی اداروں کی جانب سے جاری کیے گئے۔ ورلڈ بینک کی جون 2026 ء کی پاکستان میں مالیاتی وفاقیت سے متعلق تحقیق بتاتی ہے کہ 2005 ء میں ملک کے مجموعی سرکاری اخراجات کا تقریباً 10 فیصد مقامی حکومتوں کے ذریعے خرچ ہوتا تھا۔ 2024 ء میں یہ حصہ کم ہو کر صرف 4.7 فیصد رہ گیا۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ کہ ساتویں قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کے بعد صوبوں کو زیادہ وسائل ملنے کے باوجود مالی سال 2023ء میں صوبائی اخراجات کا 80 فیصد سے زیادہ جاری اخراجات میں چلا گیا جبکہ اضلاع میں وسائل کی تقسیم کئی مقامات پر غربت یا عوامی خدمات کی حقیقی ضرورت کے بجائے تاریخی طریقِ کار کی پیروی کرتی رہی۔ یعنی ہم نے اسے اختیارات کی منتقلی کہا مگر حقیقت میں اختیار کا صرف پتا تبدیل ہوا۔ اسلام آباد سے اختیار نکلا اور لاہور‘ کراچی‘ پشاور اور کوئٹہ میں آکر رک گیا۔ عوام تک نہیں پہنچا۔ اور میرے نزدیک نئے صوبوں کی سب سے بڑی دلیل یہی ہے۔ بہاولپور‘ ڈی جی خان‘ لیہ کا شہری لاہور کیوں دیکھے؟ ہزارہ کا شہری ہر بڑے انتظامی معاملے کیلئے پشاور کیوں جائے؟ مکران کے شہری کیلئے کوئٹہ اتنا دور کیوں ہو کہ صوبائی حکومت خود وفاقی حکومت جیسی محسوس ہونے لگے؟ نیا صوبہ دراصل فاصلے کی اصلاح ہے۔ شہری اور حکومت کے درمیان فاصلہ‘ ٹیکس اور خدمت کے درمیان فاصلہ‘ ووٹ اور جواب دہی کے درمیان فاصلہ۔ اس وقت اصل اختلاف صرف جماعتوں کا نہیں دو بڑے سیاسی گھرانوں کی آئندہ منزلوں کا بھی ہے۔ ابھی اس بات سے ہی اندازہ لگا لیں کہ جب حقیقی معنوں میں عوامی مسائل کے حل پر بات شروع ہوتی ہے تو ہمیشہ بڑے خاندانوں کیلئے مسائل پیدا ہوجاتے ہیں‘ سیاسی حلقوں میں ایک گھرانے کے بارے میں یہ تاثر موجود ہے کہ خاندان کے سربراہ‘ جو بزرگ رہنما ہیں‘ ایک مرتبہ پھر وزارتِ عظمیٰ تک پہنچنا چاہتے ہیں‘ اور اگر حالات اس راستے کو ممکن نہ بنائیں تو اگلی نسل سے آنے والی شخصیت کیلئے راستہ کھلا دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ خواہشات سرکاری فیصلے نہیں اہم ترین سیاسی حلقوں میں زیر گردش تصورات ہیں‘ مگر پاکستان کی سیاست میں خواہش اور حکمت عملی کے درمیان فاصلہ ہمیشہ بہت زیادہ نہیں رہا۔ دلچسپ تبدیلی یہ ہے کہ ایک اہم صوبے کی اہم ترین شخصیت ان دنوں وفاقی قیادت کیساتھ نمایاں اور مکمل ہم آہنگی دکھاتی ہے۔ سرکاری سطح پر بھی وفاق اور صوبوں کے درمیان تعاون اور رابطے پر زور دیا جارہا ہے۔ سیاسی معنی نکالنے والے اسے یوں دیکھتے ہیں کہ موجودہ بندوبست کو چیلنج کرنے کے بجائے پہلے اسے کامیاب ہونے دیا جائے اور پھر اپنی باری کا انتظار کیا جائے۔دوسری طرف ایک اور بڑا گھرانہ ہے۔ وہاں بھی اگلی نسل موجود ہے‘ قومی سطح کا تجربہ موجود ہے اور وزیراعظم ہاؤس تک پہنچنے کی خواہش کوئی راز نہیں‘ مگر خواہش ایک چیز ہے اور ملک کا اگلا سیاسی بندوبست دوسری۔ سب نے اپنی اپنی خواہشات شاید پہنچا دی ہیں‘ کوئی اپنی باری مانگ رہا ہے کوئی اپنی اولاد کی‘ کوئی مستقبل کی ضمانت‘ اس سب میں عوام کہاں ہیں‘ یہ آپ خود تلاش کریں۔کسی صوبائی حکومت یا جماعت کے خلاف مستقبل کے احتساب سے متعلق بہت سی سیاسی سرگوشیاں موجود ہوسکتی ہیں لیکن جب تک کوئی باقاعدہ کارروائی یا سرکاری ریکارڈ سامنے نہ آئے اسے حقیقت لکھنا مناسب نہیں۔ البتہ یہ کہنا درست ہے کہ پاکستان میں احتسابی اور انتظامی اداروں کی اندرونی ساخت میں تبدیلیاں سیاسی طاقت کے توازن پر ہمیشہ اثرانداز ہوتی رہی ہیں؛ چنانچہ جو لوگ آج بھی دبائو ‘ بلیک میلنگ‘ شور‘ سفارش یا پس پردہ تعلقات کے ذریعے ریاستی فیصلے موڑنے کا پرانا نسخہ ہاتھ میں لیے بیٹھے ہیںانہیں بدلتے ہوئے ماحول کو سمجھنا ہوگا۔ بعض اہم لوگوں سے میری گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ ملک کو کسی ایک سیاسی گھرانے کی خواہش کے مطابق نہیں بلکہ ریاستی ضرورت کے مطابق درست کرنے کی سوچ موجود ہے اور اس کیلئے مربوط حکمت عملی کے تحت کوششیں شروع کردی گئی ہیں۔ سمت اگر واقعی اداروں کو مضبوط کرنے‘ اختیارات تقسیم کرنے اور حکومت کو شہریوں کے قریب لانے کی ہے تو اسے محض سیاسی مخالفت کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔ عوام بھی اب شاید اسی نتیجے پر پہنچ رہے ہیں۔ وہ اس سیاست سے تنگ ہیں جس میں ایک خاندان کے بعد دوسرا اور ایک وارث کے بعد دوسرا وارث سامنے آتا ہے۔ عوام کی جانب سے اب سوال بہت سادہ ہے۔ آپ نے حکومت کی تو دکھائیے کیا کیا؟ اگر کسی جماعت نے واقعی اپنے صوبے میں کام کیا ہے‘ لوگوں کو سہولت دی ہے‘ نظام بہتر کیا ہے تو نئے سیاسی نقشے میں وہ اپنی طاقت اور حکومت دونوں برقرار رکھ سکتی ہے۔ جمہوریت میں کارکردگی سے بڑا انتخابی ہتھیار کوئی نہیں۔ میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ آئندہ انتخاب کی تیاری شاید موجودہ چار صوبوں کے نقشے پر نہ ہو‘ بلکہ نئے نقشے کے مطابق ہو جہاں انتظامی یونٹس؍ نئے صوبے موجود ہوں گے۔ نئے صوبوں کی بحث اب سرکاری سطح تک پہنچ چکی ہے۔ وزیر مملکت برائے قانون نے بھی تصدیق کی ہے کہ حکومت نئے صوبوں کے معاملے پر سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لینا چاہتی ہے‘ اگرچہ کتنے صوبے ہوں گے اور خاکہ کیا ہوگا‘ ابھی طے نہیں۔ مختلف سیاسی جماعتیں بھی نئے صوبوں یا انتظامی اکائیوں کے مطالبات سامنے لارہی ہیں۔ میں نے ایک باخبر شخصیت سے پوچھا کہ اگر معاملہ واقعی آگے بڑھ رہا ہے تو آئینی ترمیم کب؟ جواب ملا &#39;&#39;آئینی ترمیم کیلئے موسم بھی تو ہونا چاہیے‘‘۔ میں نے پوچھا: موسم کب آئے گا؟ مسکرا کر جواب دیا‘ وہ موسم اب دور نہیں‘ گھڑی شاید چل پڑی ہے۔ اب دیکھنا صرف یہ ہے کہ آئندہ بندوبست کس کی خواہش پر بنتا ہے‘ کس کی ضرورت پر اور کس کی کارکردگی پر۔ معاملہ کسی ڈیل تک پہنچتا ہے‘ کسی کو ڈھیل ملتی ہے یا کوئی نیا سیاسی داؤ چلتا ہے‘ اس کا فیصلہ ابھی باقی ہے۔ البتہ ایک فیصلہ اب ہوجانا چاہیے۔ پاکستان کا اگلا انتظامی نقشہ کسی صاحبزادے یا صاحبزادی کو وزیراعظم بنانے کیلئے نہیں بننا چاہیے۔ یہ اُس بچے کیلئے بننا چاہیے جو سکول سے باہر ہے‘اُس مریض کیلئے جسے ضلع چھوڑ کر بڑے شہر جانا پڑتا ہے‘ اُس کسان کیلئے جس کی فائل صوبائی دارالحکومت میں پڑی ہے اور اُس شہری کیلئے جو ووٹ اپنے گاؤں میں دیتا ہے مگر حکومت اسے سینکڑوں کلومیٹر دور ملتی ہے۔ نئے صوبوں کی اصل دلیل زمین نہیں فاصلہ ہے۔ عام آدمی اور حکومت کے درمیان فاصلہ۔ اگر نئے انتظامی یونٹس یہ فاصلہ کم کردیں تو پاکستان تقسیم نہیں ہوگا‘ زیادہ مربوط ہوگا۔ اختیار تقسیم ہوگا تو ذمہ داری تقسیم ہوگی‘ ذمہ داری تقسیم ہوگی تو جوابدہی بڑھے گی۔ اور شاید اسی دن یہ نظام‘ جسے آج ملک کا وزیر داخلہ بھی منہدم قرار دے رہا ہے‘ دوبارہ بننا شروع ہو گا۔ پاکستان کو کسی خاندان سے دشمنی کی ضرورت نہیں‘ کسی ادارے سے لڑائی کی ضرورت نہیں‘پاکستان کو صرف ایک ایسا بندوبست چاہیے جس میں ریاست طاقتور ہو مگر شہری بے اختیار نہ ہو اور شاید اب پہلی مرتبہ وقت آگیا ہے کہ حکومت وہاں پہنچے جہاں پاکستانی رہتا ہے نہ کہ پاکستانی ساری عمر حکومت تک پہنچنے کی کوشش کرتا رہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/229_33941343.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>دوستی کے تقاضے(علامہ ابتسام الہٰی ظہیر )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-08-12/52470/74471199</link><pubDate>Wed, 12 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-08-12/52470/74471199</guid><description>معاشرے میں رہتے ہوئے انسان اپنے ہم مزاج لوگوں کے ساتھ قربت محسوس کرتا ہے جبکہ طبیعت اور مزاج کے اختلاف کی وجہ سے لوگوں کے درمیان دوریاں بھی پیدا ہو جاتی ہیں۔ مزاج‘ مشاغل اور طبیعتوں کے یکساں ہونے کی وجہ سے اکثر تعلقات شناسائی سے دوستی میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ بعض لوگ معاشرے میں دوستوں کی رفاقت میں قریبی اعزہ واقارب سے بھی زیادہ سکون اور انسیت محسوس کرتے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ جہاں دِلی دوستی ہو وہاں حسد اور بغض نہیں پایا جاتا۔ کتاب وسنت میں دوستوں کے چنائو اور اُن کے حقوق اور فرائض کے حوالے سے بہت مفید اصول وضوابط بیان کیے گئے ہیں۔ کتاب وسنت کے مطالعہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ انسان کو اللہ تبارک وتعالیٰ کے دین کے مخالفین سے دوری اختیار کرنی چاہیے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الممتحنہ کی آیت: 4 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;(مسلمانو!) تمہارے لیے ابراہیم اور ان کے ساتھیوں (کے طرزِ عمل) میں بہترین نمونہ ہے جبکہ ان سب نے اپنی قوم سے برملا کہہ دیا کہ ہم تم سے اور جن جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو‘ ان سب سے بالکل بیزار ہیں ہم تمہارے (عقائد کے) منکر ہیں جب تک تم اللہ کی وحدانیت پر ایمان نہ لائو ہم میں (اور) تم میں ہمیشہ کے لیے بغض وعداوت ظاہر ہو گئی‘‘۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۃ الفرقان میں ایک ایسے شخص کا ذکر کیا جو اپنے دوست کی وجہ سے ناکام و نامراد ہو گیا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الفرقان کی آیات: 27 تا 29 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;اور اس دن ظالم شخص اپنے ہاتھوں کو چبا چبا کر کہے گا: ہائے کاش کہ میں نے رسول اللہ کی راہ اختیار کی ہوتی۔ ہائے افسوس! کاش کہ میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا۔ اس نے تو مجھے اس کے بعد گمراہ کر دیا کہ نصیحت میرے پاس آ پہنچی تھی اور شیطان تو انسان کو (وقت پر) دغا دینے والا ہے‘‘۔ ہم آج بھی اس بات کا مشاہدہ کر سکتے ہیں کہ بہت سے افراد غلط صحبت کی وجہ سے گمراہی کی دلدل میں اتر جاتے ہیں۔ اسی طرح اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۃ المائدہ میں دین کا ستہزا کرنے والے لوگوں کو دوست بنانے سے منع کیا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ المائدہ کی آیات: 57 تا 58 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;اے ایمان والو! ان لوگوں کو دوست نہ بنائو جو تمہارے دین کو ہنسی کھیل بنائے ہوئے ہیں (خواہ ) وہ ان میں سے ہوں جو تم سے پہلے کتاب دیے گئے یا کفار ہوں‘ اگر تم مومن ہو تو اللہ سے ڈرتے رہو۔ اور جب تم نماز کے لیے پکارتے ہو تو وہ اسے ہنسی کھیل ٹھہرا لیتے ہیں یہ اس واسطے کہ (وہ) بے عقل ہیں‘‘۔اس کے بالمقابل اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید میں اس بات کا ذکر کیا ہے کہ اہلِ ایمان ایک دوسرے کے دوست ہوتے ہیں اور مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کی مددگار ہوتی ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ التوبہ کی آیت: 71 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;مومن مرد و عورت آپس میں ایک دوسرے کے (مددگار و معاون) اور دوست ہیں‘ وہ بھلائی کا حکم دیتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں‘ نمازوں کو پابندی سے بجا لاتے ہیں زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اللہ کی اور اس کے رسول کی بات مانتے ہیں‘ یہی لوگ ہیں جن پر اللہ بہت جلد رحم فرمائے گا بیشک اللہ غلبے والا حکمت والا ہے‘‘۔ اسی طرح اللہ تبارک وتعالیٰ نے اللہ‘ رسولﷺ اور اہلِ ایمان سے محبت اور دوستی اختیار کرنے والے گروہ کو کامیاب گروہ قرار دیا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ المائدہ کی آیت: 56 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;اور جو شخص اللہ سے اور اس کے رسول سے اور مسلمانوں سے دوستی کرے‘ وہ یقین مانے کہ اللہ کی جماعت ہی غالب رہے گی‘‘۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید میں اس بات کا بھی ذکر کیا ہے کہ یوم حشر اہلِ تقویٰ کی دوستی برقرار رہے گی اور باقی تمام دوستیاں مٹ جائیں گی۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الزخرف کی آیت: 67 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;اس دن (گہرے) دوست بھی ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے سوائے پرہیزگاروں کے‘‘۔ کتاب و سنت میں جہاں دوستی کی بنیاد کا ذکر ہے وہیںدوستوں کے حقوق و فرائض کو بھی واضح کر دیا گیا ہے‘ جن میں سے چند اہم درج ذیل ہیں:1۔ نیکی کے کاموں میں تعاون اور برائی کے کاموں میں عدم تعاون: دوست کا اپنے دوست پر پہلا حق یہ ہے کہ وہ نیکی کے کاموں میں اس کے ساتھ تعاون کرے اور برائی کے کاموں میں تعاون نہ کرے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ المائدہ کی آیت: 2 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;نیکی اور پرہیزگاری میں ایک دوسرے کی امداد کرتے رہو اور گناہ اور ظلم و زیادتی میں مدد نہ کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو‘ بیشک اللہ سخت سزا دینے والا ہے‘‘۔2۔ اللہ کی اور رسول اللہﷺ کی اطاعت اور اعمالِ صالحہ کی تلقین: دوست کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ اپنے دوست کو اللہ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت اور اعمال صالحہ کی انجام دہی کی تلقین کرے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ التوبہ کی آیت: 71 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;مومن مرد و عورت آپس میں ایک دوسرے کے (مددگار و معاون اور) دوست ہیں‘ وہ بھلائی کا حکم دیتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں‘ نمازوں کو پابندی سے بجا لاتے ہیں زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اللہ کی اور اس کے رسول کی بات مانتے ہیں‘‘۔ 3۔ دوستوں کے لیے دعا: دوستوں کا انسان پر یہ بھی حق ہے کہ انسان ان کے لیے دعائے خیر کرتا رہے۔ اس حوالے سے طبقات ابن سعد اور سیر اعلام النبلاء میں حضرت ام الدرداءؓ نے حضرت ابوالدرداءؓ کے حوالے سے یہ اثر بیان کیا ہے کہ &#39;&#39;اللہ کی خاطر حضرت ابو الدرداءؓ کے 360 دوست تھے‘ وہ نماز میں ان سب کے لیے دعا کرتے تھے۔ میں نے ان سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: جو شخص اپنے بھائی کے لیے اس کی غیر موجودگی میں دعا کرتا ہے‘ اللہ تعالیٰ اس کے لیے دو فرشتے مقرر فرماتا ہے جو کہتے ہیں: تمہارے لیے بھی اسی طرح ہو۔ تو کیا میں یہ پسند نہ کروں کہ فرشتے میرے لیے دعا کریں‘‘۔4۔ بیمار پرسی: جب کوئی مسلمان دوست بیمار ہو تو اس کی بیمار پرسی کے لیے انسان کو ضرور پہنچنا چاہیے۔ احادیث مبارکہ میں اس کا بہت زیادہ اجر وثواب ذکر کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے صحیح مسلم میں حضرت ثوبانؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: &#39;&#39;جو شخص کسی بیمار کی عیادت کرتا ہے‘ وہ واپس آنے تک جنت کے باغ میں رہتا ہے‘‘۔5۔ دوست کے جنازے میں شرکت: اگر دوست کا انتقال ہو جائے تو اس کے جنازے میں شرکت کرنی چاہیے۔ مسلمان کے جنازے میں شرکت کرنا انتہائی اجرو ثواب کا باعث ہے۔ اس حوالے سے صحیح بخاری وصحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا: &#39;&#39;جو کوئی ایمان رکھ کر اور ثواب کی نیت سے کسی مسلمان کے جنازے کے ساتھ جائے اور نماز اور دفن سے فراغت ہونے تک اس کے ساتھ رہے تو وہ دو قیراط ثواب لے کر لوٹے گا۔ ہر قیراط اتنا بڑا ہو گا جیسے احد کا پہاڑ‘ اور جو شخص جنازے پر نماز پڑھ کر دفن سے پہلے لوٹ جائے تو وہ ایک قیراط ثواب لے کر لوٹے گا‘‘۔6۔ دوست کے اعزہ واقارب سے حسنِ سلوک: انسان کو اگر کسی سے محبت ہو تو اس کے انتقال کے بعد اس کے اہلِ خانہ اور اعزہ واقارب کے ساتھ حسن سلوک کرنا چاہیے۔ اس حوالے سے صحیح بخاری و صحیح مسلم میں حضرت سیدہ عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ آنحضرتﷺ حضرت سیدہ خدیجہؓ کا ذکر بکثرت فرمایا کرتے تھے اور اگر کبھی کوئی بکری ذبح کرتے تو اس کے ٹکڑے کر کے حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کی ملنے والیوں (ان کی سہیلیوں) کو بھیجتے تھے۔ دعا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کو دوستی کے تقاضے پورے کرنے کی توفیق دے‘ آمین!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_19740082.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>