<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>دہشت گردی، سنگین خطرہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-08/11342</link><pubDate>Wed, 08 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-08/11342</guid><description>بلوچستان کے ضلع زیارت میں پولیس چوکی پر دہشت گردی کے واقعے میں پولیس کے نو اہلکاروں کی شہادت کا واقعہ دہشت گردی کے اسی سلسلے کی کڑی ہے جس کا سامنا پاکستان کو گزشتہ کئی برسوں سے کرنا پڑ رہا ہے۔اگرچہ سکیورٹی فورسز نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے پندرہ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا تاہم پولیس اہلکاروں کا جانی نقصان اندوہناک ہے۔ ایک سکیورٹی تھنک ٹینک کی سہ ماہی رپورٹ کے مطابق گزشتہ تین ماہ کے دوران ملک بھر میں دہشت گردی کے267 واقعات ہوئے جن میں سے 92فیصد خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ہوئے۔ گزشتہ ماہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں جمع کرائی گئی ایک رپورٹ کے مطابق 2025ء میں پاکستان کو افغانستان کی جانب سے 5300سے زائد دہشت گردانہ حملوں کا سامنا کرنا پڑا جن میں 1200سے زائد افراد جاں بحق ہوئے۔ یہ اعداد و شمار یہ ثابت کرنے کیلئے کافی ہیں کہ ملک کے مغربی حصوںمیں دہشت گردی کا اصل محرک افغانستان ہے۔ حالیہ واقعات میں ایک تشویشناک پہلو یہ سامنے آیا ہے کہ دہشت گرد اپنے گھناؤنے مقاصد کیلئے جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال بھی کر رہے ہیں۔

جنوبی وزیرستان کی شہری آبادی پر کواڈ کاپٹر کے ذریعے کیا جانے والا حملہ اس نئی حکمتِ عملی کا ثبوت ہے۔ اس سے قبل ٹانک‘ کرک اور باجوڑ میں بھی اس نوعیت کے حملے ہو چکے ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف سکیورٹی اداروں کو جدید حربی و فضائی نگرانی کے آلات اور اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی سے لیس کرنے کی متقاضی ہے بلکہ دہشت گردی کے مستقبل سدباب کیلئے فوری اقدامات کا بھی تقاضا کرتی ہے۔ دہشت گردی کی حالیہ لہر اور اسکی وجوہات کا جائزہ لیں تو دو بنیادی عوامل سامنے آتے ہیں۔ پہلا کالعدم تنظیموں کی جدید اور مہلک ہتھیاروں تک رسائی ہے۔ افغانستان سے امریکی اور نیٹو افواج کے انخلا کے بعد جو جدید ترین عسکری سازوسامان‘ بشمول نائٹ ویژن دوربینیں‘ تھرمل سکوپ اور جدید ترین رائفلیں وہاں رہ گئیں‘ وہ دہشت گردوں کے ہاتھ لگ گئیں اور ان ہتھیاروں نے دہشت گرد وں کی چھپ کر اور اندھیرے میں حملہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کیا۔ دوسرا بڑا عامل افغانستان سے دہشت گردوں کو بلا روک ٹوک ملنے والی کمک اور محفوظ پناہ گاہیں ہیں۔جب تک اس کمک کا مستقل سدباب نہیں کیا جاتا‘ تب تک اندرونِ ملک سکیورٹی آپریشنز سے سو فیصد نتائج حاصل کرنا محال ہے۔
داخلی اسباب پر نظر ڈالی جائے تو یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ دہشت گردوں کا زیادہ زور خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے انہی اضلاع کی طرف ہے جہاں طویل عرصے سے غربت‘ بیروزگاری اور سماجی بدحالی دہشت گردی کی آگ کو بھڑکانے میں ایندھن کا کام کر رہی ہے۔لہٰذا سکیورٹی انتظامات کو بہتر بنانے کیساتھ ساتھ ان علاقوں کی سماجی و معاشی حالت کو سدھارنا بھی ریاست کی اولین ترجیح ہونا چاہیے۔ قبائلی پٹی کے علاقوں میں فوجی کارروائیوں سے دہشت گردوں کا صفایا کرنے کے بعد ان علاقوں میں معاشی سرگرمیوں کو ترقی دینا بنیاد ی منصوبے کا حصہ تھا۔ فوجی آپریشنز سے دہشت گردوں کی بیخ کنی کر دی گئی مگر ترقیاتی منصوبے جو سول حکومتوں نے انجام دینے تھے تشنہ تکمیل رہ گئے‘ یوں دہشت گردوں کیلئے اس زمین سے دوبارہ پنپنے کا امکان باقی رہ گیا۔
بلوچستان کے شورش زدہ علاقوں میں بھی معاشی حالات دگرگوں ہیں جو انتہا پسندوں کو پروپیگنڈا کرنے اور مقامی لوگوں کو ورغلانے یا مجبور کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ یہ حالات دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے جامع حکمت عملی کا تقاضا کرتے ہیں‘ جس میں آپریشنل کارروائیوں کے علاوہ متاثرہ علاقوں کی سماجی اور معاشی ترقی سے انہیں مضبوط کرنے کی منصوبہ بندی بھی ہونی چاہیے۔ دہشت گردی سے ہم قومی وملکی سطح پر بہت نقصان اٹھا چکے‘ اب قومی یکجہتی کے ساتھ صف آرا ہونا ہو گا اور پائیدار حکمت عملی کیساتھ ان خطرات سے نمٹنا ہو گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کی اہمیت(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-08/11341</link><pubDate>Wed, 08 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-08/11341</guid><description>وزیراعظم شہباز شریف نے سمیڈا کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں اور کاروبار کو قرضوں کی فراہمی کیلئے سٹیٹ بینک آف پاکستان اور کمرشل بینکوں کے اشتراک سے ایک جامع حکمت عملی مرتب کرنے کی ہدایت کی ہے۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتیں مضبوط اور مستحکم معیشت کی بنیاد بنتی ہیں۔ وطنِ عزیز میں بھی ایس ایم ایز معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ مختلف معاشی رپورٹس کے مطابق یہ شعبہ جی ڈی پی میں تقریباً 40 فیصد حصہ ڈالتا ہے‘ برآمدات میں اس کا حصہ 25 فیصد سے زائد ہے جبکہ نان ایگریکلچر ورک فورس کا تقریباً 80فیصد  اسی شعبے سے وابستہ ہے۔ لیکن اتنی اہمیت کے باوجود یہ شعبہ گوناں گوں مسائل کا شکار ہے ‘ سرمایہ تک محدود رسائی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔

بیشتر چھوٹے کاروباری افراد بینکوں کی سخت شرائط‘ بھاری ضمانتوں‘ قرضوں کی منظوری میں غیر ضروری تاخیر اور بلند شرح سود کے باعث مالیاتی نظام سے فائدہ نہیں اٹھا پاتے۔ اگر کمرشل بینک ایس ایم ایز کیلئے آسان شرائط پر قرضے‘ کم شرح سود‘ تیز رفتار منظوری اور جدید ڈیجیٹل فنانسنگ کے نظام متعارف کراتے ہیں تو نہ صرف اس شعبے میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہو گا بلکہ روزگار کے لاکھوں نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ آسان قرضوں کی فراہمی کیساتھ ساتھ حکومت کو پیچیدہ رجسٹریشن اور ٹیکس نظام‘ سرکاری اداروں کی سست روی اور توانائی کی بلند قیمتوں جیسے مسائل پر بھی توجہ دینا ہو گی۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>گیس مہنگی رہے گی؟(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-08/11340</link><pubDate>Wed, 08 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-08/11340</guid><description>اوگرا کی جانب سے سوئی ناردرن اور سوئی سدرن گیس کمپنیوں کے اوسط ٹیرف کو 1793سے کم کرکے 1705 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کیے جانے کے باوجود وفاقی حکومت نے صارفین کے لیے موجودہ قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ایک خبر کے مطابق حکومت گیس اسلئے سستی نہیں کرنا چاہتی تا کہ گیس کمپنیوں کو مالی خسارے سے بچایا جاسکے۔ تاہم ریگولیٹری ادارے کی جانب سے قیمتوں میں کمی کا فائدہ صارفین تک منتقل نہ ہونا مایوس کن ہے۔ گھریلو صارفین پہلے ہی مہنگائی‘ بڑھتے ہوئے یوٹیلٹی بلوں اور کم ہوتی قوتِ خرید کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ گیس کی قیمتوں میں کمی کا براہِ راست فائدہ عام صارفین کو ملنا چاہیے تھا تاکہ ان کے ماہانہ اخراجات میں کچھ کمی آتی۔

صنعتی شعبے پر بھی اس فیصلے کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے‘ جو بجلی اور گیس کے بلند نرخوں کے باعث پیداواری لاگت میں مسلسل اضافے کا سامنا کر رہا ہے۔مہنگی توانائی کے باعث پیداواری لاگت بڑھے گی‘ نتیجتاً عالمی منڈی میں پاکستانی مصنوعات مسابقت پیدا نہیں کر سکیں گی۔ حکومت کو چاہیے کہ اس فیصلے پر ازسرِنو غور کرے اور کم از کم صنعتی شعبے کے لیے ایسا ٹیرف متعارف کرائے جو پیداواری لاگت میں کمی‘ برآمدات میں اضافے اور سرمایہ کاری کے فروغ کا ذریعہ بن سکے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بے مقصد کا یہ تماشا(ایاز امیر)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-07-08/52255/44675232</link><pubDate>Wed, 08 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-07-08/52255/44675232</guid><description>قوم کو لاحق دیگر دردِ سر کم نہ تھے کہ پانی کے مسئلے کی صورت میں ایک اور کا اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی پر  غم وغصہ ہے اور ایسے بیانات سننے کو ملتے ہیں کہ اپنے حصے کے پانی کی حفاظت کے لیے آخری حد تک جا سکتے ہیں۔ یہ کچھ ایسا ہی ہے جیسا کہ امریکہ نے آبنائے ہرمز کے ساتھ کیا۔ ایران جنگ سے پہلے اس واٹر وے سے دنیا کے تمام جہاز بلا روک ٹوک گزرتے تھے۔ امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا اور ایرانیوں نے آبنائے ہرمز بند کر دیا۔ یعنی پہلے جہاں مسئلہ نہیں تھا وہاں ایک نیا مسئلہ پیدا ہو گیا۔ سندھ طاس معاہدے نے جنگیں برداشت کیں‘ گزرے وقتوں میں کشیدگی کی تمام صورتوں کے باوجود معاہدے پر کوئی آنچ نہ آئی۔ لیکن اب جو ہندوستان کے ساتھ حالات کشیدہ ہوئے تو ہندوستان نے معاہدہ معطل کر دیا۔ یعنی جہاں پہلے کوئی مسئلہ نہ تھا اب پیدا ہو گیا ہے۔دریائے جہلم اور چناب کے پانیوں پر ہندوستان ویسے ہی اثر انداز ہو رہا ہے۔ چناب کے پانیوں پر اُس کا کنٹرول خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے‘ جب چاہے پانی کی ترسیل رک جاتی ہے اور جب پیچھے سے پانی کا دباؤ زیادہ ہو تو بغیر اطلاع دیے پانی چھوڑ دیا جاتا ہے جس سے نیچے کے علاقوں میں سیلاب والی صورت پیدا ہو جاتی ہے۔ جواب میں ہماری زبان سخت ہوتی ہے‘ پر سخت زبان سے تو یہ مسئلہ حل نہیں ہونا۔ہندوستان کے اس حربے کے اثرات ایک یا دو دن میں ظاہر نہیں ہونے‘ یہ تو سالوں کی بات ہے۔ جہلم اور چناب کے پانیوں میں ہندوستان مداخلت کرتارہا تو پنجاب اور سندھ کی زرعی معیشت پر برا اثر پڑے گا۔ کیا اس صورت میں میزائل چلا دیے جائیں گے؟ اس سوال کا جواب دینے کیلئے کوئی تیار نہیں۔  بغیر سوچے ویسے ہی بیانات داغ دیے جاتے ہیں جیسا کہ بلاول بھٹو نے ایک دو روز پہلے یہ کہہ دیا کہ پانی رکے تو جنگ ہو گی۔ جہلم اور چناب کے پانی جہاں سے شروع ہوتے ہیں‘ لائن آف کنٹرول عبور کرکے اُن مقامات پر ہم نے قبضہ کرنا ہے؟ملکوں میں مسائل ہوتے ہیں لیکن یہ جو کیفیت ہندوستان اور پاکستان میں قائم ہے یہ کوئی فطری یا نارمل بات نہیں۔ دانشمندی کا تقاضا تو یہ ہے کہ اس صورتحال کو ختم نہیں تو کم کیا جائے‘ لیکن عجیب ماجرا ہے ہم دو ممالک کا کہ بے عقلی کم کرنے کے بجائے جو منہ کھولتا ہے بگاڑ کی طرف ہی حالات کو لے جاتا ہے۔ ہمسایوں سے اچھے تعلقات چاہنا بزدلی کا سودا نہیں ہے۔ یہ ہندوستان اور پاکستان دونوں کے فائدے کی بات ہے۔ ہندوستان کی معیشت ہم سے بڑی ہے‘ وہ بہت کچھ سہہ سکتے ہیں مگر ہم تو پھنسے ہوئے ہیں‘ ایک طرف معیشت کی زبوں حالی اور دوسری طرف افغان بارڈر پر کشیدگی اور ہندوستان سے تعلقات خراب۔ اوپر سے یہ پانی والا مسئلہ۔ کم از کم آئندہ سالوں میں یہ تو دردسر نہ بنے۔ اور یہ تبھی ممکن ہے جب ہندوستان اور پاکستان میں آپس کے تعلقات کچھ بہتر ہوں۔جس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ شکوک وشبہات راتوں رات ختم ہو سکتے ہیں۔ نہیں ہوں گے‘ ہم ایک دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھتے رہیں گے۔ لیکن جہاں بہتری لائی جا سکتی ہے وہ اقدام تو کیے جائیں۔ یہ کہاں کی عقل مندی ہے کہ اسلام آباد میں ہندوستانی سفیر نہیں اور دہلی میں پاکستانی سفیر نہیں۔ آپریشن سندور ہو گیا‘ ایک دوسرے پر میزائل اور ڈرون حملے ہوئے‘ ہندوستان کے رافیل طیارے مار گرائے گئے۔ اس سے آگے بھی چلیں یا یہیں ہم نے پھنسے رہنا ہے کہ اتنے جہاز گرائے اور اتنا گراف ہمارا اونچا گیا۔ معرکے کے بارے میں ہم پھر بھی سچ پر ہیں‘ ہندوستان کی پوری کہانی افسانے اور مبالغے پر مبنی ہے۔ پھر بھی معرکہ ہو گیا اب آگے کی سوچیں۔ پہلا قدم تو ہے سفیروں کا تعینات ہونا اور پھر واہگہ اٹاری بارڈر پر تجارت کی بحالی۔ اتنا ہو جائے تو پھر فضا بنتی ہے ایسے اقدامات پر غور کرنے کے لیے کہ مزید راستے کھل جائیں‘ مظفرآباد سری نگر بس سروس چل پڑے‘ لاہور دہلی بس سروس بحال ہو‘ لوگوں کا آنا جانا شروع ہو۔ ایسے اقدامات ہوتے ہیں تو ہماری نیوکلیئر صلاحیت پر کوئی آنچ نہیں آئے گی۔ دونوں اطراف میزائل رہیں گے‘ لڑاکا جہاز موجود ہوں گے۔ واہگہ اٹاری بارڈر پر ہر شام پریڈ ہوتی رہے گی اور دونوں طرف سے آئے لوگ تالیاں بجاتے رہیں گے۔اور اگر بہتری کی طرف کچھ نہیں کیا جاتا اتنا تو پھر سوچا جائے کہ موجودہ صورتحال سے حاصل کیا ہونا ہے۔ سوائے بیان بازی کے اور تو کچھ نظر نہیں آتا کہ ایسی صورتحال سے حاصل ہو ۔ لہٰذا نئی دہلی اور اسلام آباد دونوں میں کچھ نئی سوچ پیدا ہو اور بہتری کی طرف کا کچھ سوچا جائے۔ ہندوستان کا بھلا ہوتا ہے یا نہیں ہمارا اس میں فائدہ ہے۔ ہمارے دو لمبے بارڈر ہیں اور دونوں پر صورتحال خراب ہے۔ افغانستان کا تو چلیں الگ مسئلہ ہے لیکن ہندوستان کے ساتھ تناؤ کی کیفیت‘ اس میں کمی لانے کی ضرورت ہے۔عجیب بات یہ ہے کہ ہمارے منتخب لیڈروں نے عمومی طور پر ہندوستان سے بہتر تعلقات چاہے ہیں۔ نواز شریف بہتری چاہتے تھے‘ عمران خان بھی۔ وزیراعظم بننے پر عمران خان کی پہلی تقریر سنی جائے‘ ہندوستان کا خاص ذکر ہے۔ لیکن منتخب لوگ پھر اس ضمن میں کچھ کر نہ پائے۔ اب صورتحال مختلف ہے۔ معاملات کسی منتخب قسم کے راہنما کے ہاتھ میں نہیں۔ فیصلہ سازی اس لیے زیادہ آسان ہے۔ جو طاقت کا اس وقت سرچشمہ ہے وہیں سوچ پیدا ہونی چاہیے کہ دیارِ غیر کی جنگیں تو ایک طرف رہیں اپنی صورتحال کا بھی کچھ کیا جائے۔ مطلب یہ ہے کہ جسے ہم بغرضِ احتیاط مقتدرہ کہتے ہیں جب تک وہ اس عمل میں شامل نہ ہو اس محاذ پر بہتری کی کوئی توقع نہیں کی جا سکتی۔یاد رہے کہ جنرل ضیا الحق کے زمانے میں دونوں ملکوں میںبڑا آنا جانا ہو گیا تھا۔ لاہور میں بسنت ہوتی اور بارڈر پار سے اتنے مہمان آئے ہوتے کہ لاہور کے کسی ہوٹل میں جگہ نہ ملتی۔ پھر مشرف آئے اور گو وہ واقعۂ کارگل کے خالق تھے‘ جب اقتدار سنبھالا تو دونوں ممالک میں آنا جانا پھر سے بڑھنے لگا۔ صحافیوں کے ٹولے اسلام آباد آتے اور ایسے ہی ٹولے یہاں سے وہاں جاتے۔ آگرہ کانفرنس ہوئی تو پورا ایک جہاز پاکستانی صحافیوں کا وہاں پہنچا ہوا تھا۔ دو تین روز ہم جیسے صبح شام انڈین ٹی وی سکرینوں پر بیٹھے ہوتے۔ اس پر غور کرنا ضروری ہے کہ وہاں سے بگاڑ کی طرف صورتحال کیسے گئی۔اب بھی ایسا موقع ہے کہ جنرل ضیا اور جنرل مشرف کی مانند بہتری کی طرف قدم اٹھائے جائیں۔ ہمارے ذمہ دار لوگ کچھ حرکت میں آئیں‘ کچھ روابط وہاں پیدا کیے جائیں۔ عمان یا کسی ایسی جگہ میل ملاقات ہو جائے۔ سفیروں کی تعیناتی پر بات ہو اور تجارتی رابطے بحال ہوں۔ پھر فضا بنے کچھ اور کرنے کی۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_80573045.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>20 سال کی عمر میں یہ حوصلہ کہاں سے آیا(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-07-08/52256/31838753</link><pubDate>Wed, 08 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-07-08/52256/31838753</guid><description>دو تین ایسے واقعات ہوئے ہیں جنہیں دیکھ‘ سن اور پڑھ کر سمجھ نہیں آتا کہ بعض دفعہ انسان میں اتنا حوصلہ کہاں سے آ جاتا ہے کہ وہ بغیر سوچے سمجھے یا نتائج کا ادارک کیے انتہائی قدم اٹھا لیتا ہے۔ کچھ ہفتے پہلے ایک 19سالہ لڑکی نے ایک 30سالہ شخص سے انتقام لینے کیلئے سوات کے ایک پولیس کانسٹیبل کے ذریعے اسلام آباد کے F-6 سیکٹر سے رات گئے اسے غوا کرایا اور پھر موٹر وے پر قتل کرا دیا۔ ایک واقعہ لاہور میں غیر ملکی خواتین کے اغوا کا ہے اور تیسرا واقعہ اسلام آباد میں فضائیہ کے گروپ کیپٹن عاصم کے اندوہناک قتل کا ہے۔ اتفاق دیکھیں کہ تینوں کیسز میں جو نوجوان ملوث ہیں ان کی عمریں انیس‘ بیس سال کے قریب بتائی جا رہی ہیں۔ اکثر کہا جاتا ہے کہ بچے گھر میں اپنے بڑوں کو دیکھ کر ہی سیکھتے یا جرائم کی طرف چل نکلتے ہیں۔ انہیں اعتماد ہوتا ہے کہ ان کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا اور وہ جو چاہتے ہیں کر گزرتے ہیں۔ اگرچہ دنیا بہادروں کی عزت کرتی ہے کیونکہ بہادر لوگ اکثر نتائج کا اندازہ کیے بغیر کوئی ایسا کام کر لیتے ہیں کہ تھوڑی سی سمجھ بوجھ والا بندہ پہلے دس دفعہ سوچے گا اورپھر اس سوچ بچار میں وہ کسی مرحلے پر ایک خطرناک نتیجے پر پہنچ کر اس کام کو ترک کر دے گا۔ اب دیکھیں تو ان تینوں کیسوں میں بیس‘ بیس سالہ رضا ڈار اور سعد عباسی اور مردان کی لڑکی نے کسی مرحلے پر نتائج کا نہیں سوچا‘ جو دل میں آیا کر گزرے۔ نتائج ایک طرف پورا ملک بھگت رہا ہے تو دوسری طرف گروپ کیپٹن اور اسلام آباد کے نوجوان کا خاندان ساری عمر دکھ اور تکلیف کی صورت میں بھگتے گا۔ میں اس مائنڈ سیٹ کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں جو انیس بیس سالہ نوجوان کو یہ حوصلہ دیتا ہے کہ وہ بیرونِ ملک سے دو خواتین کو باقاعدہ ویزے دلوا کر بلاتاہے اور پھر انہیں اغوا کر کے اپنے ڈوبے پیسے نکلوانے کی کوشش کرتا ہے۔ اس نوجوان کے پاس اتنا پیسہ بھی ہے کہ وہ بارہ‘ پندرہ کروڑ (پانچ لاکھ ڈالر) ان خواتین کو دے کر کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ جب آپ بیس سال کی عمر میں بچے کو اتنا پیسہ اور کچھ بھی کر گزرنے کا حوصلہ دیں گے تو پھر وہ کچھ بھی کر گزرے گا۔ کسی نے بھی اس نوجوان کو نہ سمجھایا کہ دھیان سے رہنا اور کوئی ایسا ویسا کام نہ کر بیٹھنا کیونکہ ہمارا خاندان اس وقت ملک کا حکمران ہے‘ حکمرانی ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے اور کسی وقت بھی تخت الٹ سکتا ہے اور ہمارے سیاسی مخالف ان چیزوں کو ہمارے خلاف استعمال کر سکتے ہیں۔ پاکستان جیسے ملکوں میں حاکمیت اور اقتدار کو خدا یا عوام کی طرف سے ذمہ داری کے بجائے ایک موقع تصور کیا جاتا ہے جس میں کھل کر لوٹ مچانی ہوتی اور پیسے اکٹھے کرنے ہوتے ہیں۔ جب بچے اپنے بڑوں کو اندھا دھند دولت کے پیچھے بھاگتے دیکھتے ہیں تو وہ بھی اس ہوس کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ان کو لگتا ہے کہ یہی وہ نروان ہے‘ گوتم بدھ کی طرح جس کی انہیں برسوں سے تلاش تھی۔برسوں پہلے جب میں ملتان میںڈان اخبار کیلئے رپورٹنگ کرتا تھا تو وہاں صوبائی کاٹن ریسرچ سنٹر کے ڈائریکٹر منیر صاحب سے اچھی دعا سلام ہوگئی۔ وہ خود بھی زرعی سائنسدان تھے۔ ایک دن کسی بڑی شخصیت کی کرپشن کی بات ہو رہی تھی‘ جو کاٹن سیڈ میں دو نمبری سے پیسہ کما رہی تھی۔ میں نے پوچھا کہ آخر اتنے امیر شخص کو مزید کتنی دولت درکار ہے؟ انہوں نے بہت خوبصورت جواب دیا۔ کہنے لگے: آپ اس ایشو کو ایک اور زاویے سے دیکھیں۔ جیسے آپ کو روزانہ کوئی نئی خبر چاہیے ہوتی ہے اور آپ روز بھاگ دوڑ کر کے خبر تلاش کرتے ہیں‘ ایسے ہی ان لوگوں کو دولت کمانے کا چسکا ہوتا ہے۔ وہ روزانہ کوئی بڑی ڈیل‘ کوئی بڑا کنٹریکٹ حاصل کرنا اور اپنا بینک بیلنس بھرنا چاہتے ہیں۔ یہ ایک طرح کا نشہ ہے جس کا کوئی اختتام نہیں۔ یہ ان کا اُسی طرح پیشہ ہے جیسے آپ کا صحافت ہے۔ مجھے سمجھ آ گئی کہ امیر ترین شخص بھی ہر روز پیسہ کمانا چاہتا ہے۔ وہ ایک دن بھی آرام نہیں کرنا چاہتا۔ اس لیے جب حکمران خاندانوں کے بچے اپنے اردگرد ہمہ وقت دولت کمانے کی باتیں سنتے ہیں تو پھر وہ اسی دھن کے ساتھ بڑے ہوتے ہیں۔سیانے کہتے ہیں کہ جب آپ کسی سے انتقام لینے نکلتے ہیں تو ذہن میں رکھیں آپ دو قبریں کھود رہے ہیں‘ ایک اپنے دشمن کی جس سے آپ نے اپنا حساب برابر کرنا ہے اور دوسری قبر خود اپنے لیے۔ اگر آپ لاہور اور اسلام آباد کے ان تینوں واقعات کو دیکھیں تو اندازہ ہو گا کہ ان سب میں بدلے کی آگ تھی‘ جس نے انہیں جلا کر بھسم کر ڈالا۔ لاہور کا رضا ڈار‘ ایبٹ آباد کا سعد عباسی اور مردان کی لڑکی‘ تینوں انتقام کے جذبے کا شکار ہوئے۔ رضا ڈار کو لگا کہ اس کے ساتھ دونوں لڑکیوں نے دھوکا کیا اور اس کے لاکھوں ڈالر ڈوب گئے۔ دھوکے کے بارے میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ کوئی اگر آپ کو دھوکا دے تو اس کا بدلہ نہیں لیا جاتا‘ دھوکے سے سبق سیکھا جاتا ہے۔ اگر آپ کی سادگی کا فائدہ اٹھایا گیا تب بھی اپنے آپ کو اگلے دھوکے سے بچائیں۔ غلطی آپ سے ہوئی کہ آپ نے غلط بندے پر بھروسہ کیا‘ لہٰذا اس سے سبق سیکھ کر آئندہ دھوکے سے بچیں‘ نہ کہ چاقو چھری لے کر بدلہ اور انتقام لینے نکل جائیں۔ انسان کو سب سے زیادہ تکلیف دھوکا کھانے سے ہوتی ہے۔ اسے یقین ہی نہیں آتا کہ کسی نے اسے بیوقوف بنا دیا۔ وہ پہلے خود پر غصہ کرتا ہے اور پھر وہ اس شخص کے پیچھے پڑ جاتا ہے۔ یہاں بھی یہی کچھ ہوا۔ لالچ انسان کی آنکھیں اور دماغ بند کر دیتی ہے اور انتقام کا جذبہ انسان کو اندھا کر دیتا ہے۔ ایسے میں وہ نتائج کا نہیں سوچتا اور اندھا دھند من چاہی کر گزرتا ہے۔ نتائج پھر وہ بھگتتے ہیں جن کے بل بوتے پر اتنا اعتماد آیا ہوا تھا۔رضا ڈار کو کوئی نہیں جانتا لیکن اس کے خاندان کو سب جانتے ہیں لہٰذا پورا خاندان ایک قیمت چکا رہا ہے۔ یہی کچھ اسلام آباد میں ہوا کہ بیس سالہ نوجوان یہ برداشت نہ کرسکا کہ ایک لڑکی کو اگر وہ زبردستی بائیک پر بٹھا کر کہیں لے جانا چاہتا ہے تو وہ اسے اپنا ذاتی معاملہ سمجھتا ہے‘ جس میں کسی کو حق نہیں کہ وہ مداخلت کرے۔ اگر کوئی جرأت کر کے اسے منع کرے گا تو وہ اسے گولی مار دے گا۔ کہیں نہ کہیں تو اس لڑکے کے ذہن میں یہ تصور پلتا رہا کہ وہ اس دنیا میں اپنی مرضی کرنے آیا ہے۔ وہ لڑکی سے دن دہاڑے‘ کسی بھی چوک میں زبردستی کر سکتا ہے اور آس پاس سے گزرتے لوگوں کو کوئی حق نہیں کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کریں‘ ورنہ انہیں وہ زندگی سے بھی محروم کر سکتا ہے۔ مردان کی لڑکی نے اپنے سابقہ دوست کو رات گئے اسلام آباد سے اس لیے اغوا کرایا کہ وہ شادی سے انکاری تھا۔جب نوجوان دیکھتے ہیں کہ ملک کا قانون طاقتوروں کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا تو ان کے اندر وحشی قسم کی جبلت پیدا ہوتی ہے جو انسان غاروں اور جنگلوں سے نکلتے وقت اپنے ساتھ لے کر نکلا اور صدیوں سے اسے اپنے اندر دبائے جدید معاشروں میں زندہ ہے۔ پوری دنیا میں انسان جبلی طور پر وحشی ہے‘ البتہ وقت کے ساتھ قوانین‘ سزائوں اور تعلیم وشعور کی مدد سے انہیں مہذب بنایا جاتا رہا ہے۔ ہمارے دوست جنید مہار اکثر کہا کرتے ہیں کہ بندے کو پتا ہو کہ وہ کوئی جرم کر کے بچ نہیں سکتا تو کسی حد تک وہ جرم سے باز رہے گا۔ جہاں خوف ختم ہو جائے وہاں بیس سالہ لڑکا دو غیر ملکی خواتین کو اغوا کر لیتا ہے‘ وہ دن دہاڑے گروپ کیپٹن کو قتل کر دیتا ہے اور انیس سالہ لڑکی آدھی رات کو ایک شخص کو گھر سے اغوا کر کے قتل کرا دیتی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>تعلیمی بجٹ کہاں خرچ ہو رہا ہے؟(شاہد صدیقی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-siddiqui/2026-07-08/52257/78902028</link><pubDate>Wed, 08 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-siddiqui/2026-07-08/52257/78902028</guid><description>آج کی دنیا میںکسی بھی ملک کی اصل طاقت اس کے قدرتی وسائل یا عسکری قوت کے بجائے اس کے انسانی وسائل سے متعین ہوتی ہے‘ اور انسانی وسائل کی تعمیر کا سب سے مؤثر ذریعہ تعلیم ہے۔ جدید معیشت‘ سائنسی تحقیق‘ ٹیکنالوجی‘ اختراع‘ سماجی ہم آہنگی اور جمہوری استحکام سب کا انحصار ایک مضبوط تعلیمی نظام پر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک تعلیم کو خرچ نہیں بلکہ مستقبل میں سرمایہ کاری تصور کرتے ہیں۔ ہر سال کا وفاقی بجٹ پاکستان میں تعلیم پر کم سرمایہ کاری کی وہی پرانی بحث دوبارہ چھیڑ دیتا ہے۔ اس سال کا بجٹ بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔ تعلیم پر سرکاری اخراجات‘ جو پہلے ہی جی ڈی پی کے محض 0.8 فیصد کے برابر تھے‘ مزید کم ہو کر پاکستان کی تاریخ کی سب سے نچلی سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ یہ بات ہر اس شخص کے لیے تشویش کا باعث ہونی چاہیے جو یہ سمجھتا ہے کہ تعلیم معاشی ترقی‘ سماجی نقل و حرکت اور جمہوری ارتقا کی بنیاد ہے۔مگر ناکافی فنڈنگ صرف آدھی کہانی ہے۔ اتنا ہی اہم یہ ہے کہ محدود وسائل کہاں خرچ کیے جا رہے ہیں۔ ایسے ملک میں جہاں مالی وسائل کمیاب ہیں‘ ہر روپے کی اپنی ایک opportunity cost ہوتی ہے؛ چنانچہ اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان تعلیم پر کافی خرچ کرتا ہے یا نہیں بلکہ یہ ہے کہ جو تھوڑا بہت خرچ ہوتا ہے وہ ملک کی سب سے فوری تعلیمی ضروریات پر لگایا جا رہا ہے یا نہیں؟ پاکستان کو غیر معمولی آبادیاتی چیلنج درپیش ہے۔پاکستان کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ دنیا کی نوجوان ترین آبادیوں میں سے ایک کے حامل اس ملک میں ہر سال لاکھوں مزید بچوں کو سکولوں تک رسائی درکار ہوتی ہے۔تازہ ترین پاکستان اکنامک سروے (2025-26ء) کے مطابق حکومت کا دعویٰ بھی یہی ہے کہ تعلیم کے تقریباً ہر مرحلے پر داخلوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اگر یہ دونوں رجحانات درست مان لیے جائیں تو ملک کے سرکاری سکولوں کے نظام کو تیزی سے پھیلنا چاہیے تھا۔ لیکن سرکاری اعداد و شمار اس کے بالکل برعکس صورتحال بیان کرتے ہیں۔ 2020-21ء اور 2024-25ء کے درمیان پرائمری سکولوں کی تعداد 180217 سے کم ہو کر 154964 رہ گئی‘ یعنی صرف چار برسوں میں 25 ہزار سے زائد سکول کم ہو گئے۔ مڈل سکولوں کی تعداد بھی 47182 سے کم ہو کر 43931 رہ گئی جبکہ سیکنڈری تعلیمی اداروں کی مجموعی تعداد 2756 ہزار سے گھٹ کر 2683 ہزار رہ گئی۔ اعداد وشمار میں یہ تضاد ایک بنیادی سوال کو جنم دیتا ہے کہ اگر زیادہ بچے سکول میں داخل ہو رہے ہیں اور سکولوں کی تعداد سکڑ رہی ہے‘ تو یہ اضافی طلبہ کہاں جا رہے ہیں؟ اس کا ایک ہی منطقی جواب ہو سکتا ہے کہ انہیں دستیاب سکولوں میں ٹھونسا جا رہا ہے‘ جس کے نتیجے میں کلاس رومز میں ہجوم‘ طلبہ اور اساتذہ کے تناسب میں اضافہ‘ اساتذہ پر بڑھتا دباؤ اور تعلیمی معیار میں کمی واقع ہو رہی ہے۔ یوں ہمارا سکڑتا ہوا سکول نیٹ ورک نظامِ تعلیم کو مضبوط بنانے کے بجائے نئے چیلنجز کو جنم دے رہا ہے۔ بدقسمتی سے باقی ماندہ سکولوں کی حالت بھی تشویشناک ہے۔ تعلیمی معیار صرف اساتذہ اور نصابی کتب پر منحصر نہیں ہوتا بلکہ اس ماحول پر بھی منحصر ہوتا ہے جس میں بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ تعلیم اداروں میں میسر سہولتیں تعلیمی عمل پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ پاکستان کے سرکاری سکولوں میں میسر سہولتوں کا جائزہ لیا جائے تو مایوس کن صورتحال سامنے آتی ہے۔ اکثر سرکاری سکولوں میں بجلی‘ پینے کا صاف پانی‘ بیت الخلا اور حفاظتی چار دیواری کوئی اضافی سہولتیں نہیں بلکہ بچوں کی صحت‘ تحفظ اور وقار کیلئے بنیادی ضروریات ہیں۔ پاکستان اکنامک سروے کے مطابق صرف 65 فیصد سرکاری سکولوں میں بجلی‘ 76 فیصد میں صاف پینے کے پانی کی سہولت‘ 77 فیصد میں بیت الخلا اور 75 فیصد میں چار دیواری موجود ہے۔ پرائمری سکولوں میں صورتحال اور بھی زیادہ خراب ہے جہاں صرف 59فیصد سکولوں میں بجلی میسر ہے۔ صوبائی تفاوت اس سے بھی زیادہ تشویشناک ہے۔ پنجاب نے ان سہولتوں کی فراہمی میں کافی پیشرفت کی ہے جبکہ بلوچستان جیسے صوبے کو بجلی‘ پینے کے پانی اور سکولوں کی محفوظ عمارتوں کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ ان حقائق کو حکومت کی ترقیاتی ترجیحات کا تعین کرنا چاہیے تھا۔ ایک ایسے ملک کو‘ جسے سکول جانے کی عمر کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کا سامنا ہے‘ سب سے پہلے اپنے سرکاری سکولوں کے نیٹ ورک کو وسعت دینے‘ موجودہ سکولوں کو اَپ گریڈ کرنے اور یہ یقینی بنانے میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے کہ ہر بچہ ایک محفوظ اور فعال تعلیمی ماحول میں تعلیم حاصل کرے۔لیکن پاکستان کا تازہ ترین بجٹ (2026-27ء) مختلف ترجیحات کی عکاسی کرتا ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے 12 جون کو قومی اسمبلی میں اپنی بجٹ تقریر میں اعلان کیا کہ وفاقی بجٹ 2026-27ء میں دانش سکولوں کے لیے تقریباً 22 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اسی طرح حکومت وزیراعظم لیپ ٹاپ سکیم کی مالی معاونت بھی جاری رکھے ہوئے ہے‘ جس کے تحت ایک لاکھ لیپ ٹاپس منظور کیے گئے ہیں۔ اپریل 2026ء تک 156 سرکاری اعلیٰ تعلیمی اداروں (ایچ ای آئیز) کے طلبہ میں 74427 لیپ ٹاپس تقسیم کیے جا چکے تھے۔ اس سکیم کی مجموعی منظور شدہ لاگت 16801 ارب روپے ہے‘ جبکہ رواں پی ایس ڈی پی میں اس کے تسلسل کیلئے 50 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ یہاں اس بات کو واضح کرنا ضروری ہے کہ سوال یہ نہیں کہ دانش سکولوں یا وزیراعظم لیپ ٹاپ سکیم کی تعلیمی افادیت ہے یا نہیں‘ اصل معاملہ ترجیحات کا ہے۔ ایسے ملک میں جہاں بچوں کی مطلق اکثریت عام سرکاری سکولوں میں پڑھتی ہے‘ جہاں داخلوں میں اضافے کے باوجود سکولوں کا نیٹ ورک سکڑ رہا ہے‘ اور جہاں ہزاروں سکول اب بھی بجلی‘ پینے کے پانی‘ بیت الخلا اور چار دیواری سے محروم ہیں‘ کیا ان منصوبوں کو سرکاری نظامِ تعلیم کو مضبوط بنانے پر ترجیح ملنی چاہیے؟ سرکاری بجٹ بالآخر ترجیحات کا اعلامیہ ہوتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ ایک منصوبے کو دیا گیا ہر روپیہ دوسرے کے لیے دستیاب نہیں رہتا۔ دانش سکولوں کے لیے مختص تقریباً 22 ارب روپے اور وزیراعظم لیپ ٹاپ سکیم میں مسلسل سرمایہ کاری کے بجائے‘ یہ رقم نئے سرکاری سکولوں کی تعمیر‘ ہجوم میں کمی اور ہزاروں موجودہ سکولوں کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنے میں لگائی جا سکتی تھی۔ اس طرح کی سرمایہ کاری طلبہ کی ایک نسبتاً مختصر تعداد کو فائدہ پہنچانے کے بجائے عام سکولوں کے لاکھوں بچوں کے تعلیمی ماحول کو بہتر بنا سکتی تھی۔یہ بات یقینی ہے کہ پاکستان کا تعلیمی بحران محض ناکافی فنڈنگ کا بحران نہیں بلکہ یہ اتنا ہی غلط ترجیحات کا بحران بھی ہے۔ تعلیم پر سرمایہ کاری بڑھانا بلاشبہ ضروری ہے‘ مگر محض اخراجات میں اضافہ کوئی مؤثر تبدیلی نہیں لا سکتا جب تک وسائل اکثریت کی ضروریات کے مطابق مختص نہ کیے جائیں۔ ہر تعلیمی بجٹ کا پہلا حق ان عام سرکاری سکولوں کا ہونا چاہیے جہاں لاکھوں پاکستانی بچے زیرِ تعلیم ہیں۔ جب تک ہر بچے کو قریبی سکول تک رسائی‘ مناسب کلاس رومز‘ بجلی‘ صاف پینے کا پانی‘ فعال بیت الخلا اور محفوظ چار دیواری میسر نہیں آ جاتی‘ پاکستان فلیگ شپ منصوبوں کو مضبوط سرکاری نظامِ تعلیم کا متبادل سمجھنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ پاکستان کا مستقبل اس بات سے طے نہیں ہو گا کہ وہ کتنے لیپ ٹاپ تقسیم کرتا ہے یا کتنے فلیگ شپ سکول بناتا ہے‘ بلکہ اس بات سے طے ہو گا کہ وہ ہر سرکاری سکول میں ہر بچے کو کس معیار کی تعلیم فراہم کرتا ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ تعلیم پر کچھ مزید رقم مختص کر دی جائے‘ بلکہ یہ ہے کہ کیا ریاست واقعی تعلیم کو قومی ترجیح سمجھتی ہے؟ جب تک سرکاری تعلیمی نظام کو مضبوط بنانے‘ اس کے بنیادی ڈھانچے‘ اساتذہ‘ تدریسی وسائل اور معیارِ تعلیم میں سنجیدہ سرمایہ کاری نہیں کی جاتی‘ تعلیمی بحران مزید گہرا ہوتا جائے گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_21538475.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پاک بھارت مذاکرات کے امکانات؟(سلمان غنی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/salman-ghani/2026-07-08/52258/11990233</link><pubDate>Wed, 08 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/salman-ghani/2026-07-08/52258/11990233</guid><description>پاکستان نے ہمیشہ بھارت کے ساتھ متنازع ایشوز پر مذاکرات کی بات کی لیکن بھارت نے ہمیشہ گریز کیا۔ خصوصاً نریندر مودی کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد سے اب تک دونوں ملکوں کے مابین مذاکرات پر ڈیڈ لاک ہے‘ جس کی بنیادی وجہ مودی حکومت کا کشمیر اور پانی کے ایشوز پر انتہا پسندانہ طرزِ عمل ہے۔ پاکستان کی تقریباً ہر حکومت نے برسرِاقتدار آنے پر یہی مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان اپنے ہمسایہ ممالک سے اچھے تعلقات اور بھارت کے ساتھ متنازع ایشوز پر مذاکرات کیلئے تیار ہے‘ لیکن ہر مرتبہ بھارت نے مذاکرات سے گریز کی پالیسی اختیار کی۔ امریکہ سمیت اہم عالمی قوتوں نے بھی پاکستان اور بھارت کے مابین تناؤ اور ٹکراؤ کے خدشات کے پیشِ نظر دونوں ممالک پر زور دیا کہ مل بیٹھ کر مذاکرات کے ذریعے اپنے باہمی تنازعات کا حل نکالیں۔ صدر ٹرمپ نے بھی جب کشمیر سمیت دیگر ایشوز پر ثالثی کی پیشکش کی تو بھارتی حکومت نے ضد اور ہٹ دھرمی پر قائم رہتے ہوئے اس امکان کو مسترد کر دیا۔جب عالمی سطح پر نظر دوڑائی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ متعدد ممالک نے نہ صرف اپنے باہمی تنازعات مل بیٹھ کر حل کیے بلکہ باہمی تعاون کے ساتھ آگے بڑھنے کا راستہ بھی اختیار کیا۔ اس طرح دنیا بھر میں جنگ و جدل کے بجائے مذاکرات کے رجحان کو تقویت ملی۔ اس ضمن میں کہا جاتا ہے کہ مذاکرات کی بات وہی کرتا ہے جس کا کیس مضبوط ہوتا ہے جبکہ مسائل کے حل کیلئے مل بیٹھنے سے وہی فریق گریز کرتا ہے جس کا مؤقف کمزور ہو اور جسے مذاکرات کی میز پر ایکسپوز ہونے کا خدشہ ہو۔ بھارت اس وقت اسی کیفیت سے دوچار دکھائی دیتا ہے۔ بھارت نے عالمی محاذ پر پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا مہم کو تیز کرتے ہوئے پاکستان کی پوزیشن کمزور کرنے کیلئے بہت زور لگایا اور دہشت گردی کے رجحانات سے پاکستان کو جوڑنے کی ناکام کوشش کی‘ لیکن پہلگام واقعے میں بھارت کی الزام تراشی بھارت کے اصل چہرے کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرنے کا باعث بنی۔ مذکورہ واقعے کو جواز بناتے ہوئے بھارت نے جب الزام تراشی کا سلسلہ شروع کیا تو پاکستان کی قیادت نے اس پر محض سیاسی ردِعمل دینے کے بجائے اسے ایک ٹیسٹ کیس بنانے اور اس کی شفاف تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا لیکن بھارت تحقیقات پر آمادہ نہ ہوا۔ دنیا نے پاکستان کے مؤقف کی پذیرائی کی اور یہی وہ نکتہ تھا جس نے پاکستان کے بڑے عالمی اور علاقائی کردار کی راہ ہموار کی۔ مئی 2025ء میں جب بھارت نے پاکستان پر جارحیت کی کوشش کی تو اسے منہ کی کھانا پڑی۔ افواجِ پاکستان نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ پاکستان دفاعی اعتبار سے ناقابلِ تسخیر ہے اور اس پر جارحیت مسلط کرنے کی ہر کوشش کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ دنیا بھر میں پاکستان کی اس کامیابی کو سراہا گیا۔ اس لیے کہ دنیا جانتی تھی کہ بھارت طاقت کے نشے میں سرشار ہو کر پاکستان پر چڑھ دوڑنے کے دعوے کرتا رہا لیکن اس کی جارحیت اس کیلئے بڑی حماقت ثابت ہوئی۔ عسکری میدان میں شکست کے بعد بھارت نے یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف آبی دہشت گردی کے عزائم ظاہر کیے تو پاکستان نے اس یکطرفہ اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے واضح کر دیا کہ اگر بھارت نے پاکستان کا پانی روکنے کی کوشش کی تو اسے سنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے۔ ایک جانب پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعات پر بھارت کی ضد اور ہٹ دھرمی قائم ہے تو دوسری جانب پاکستان اور بھارت کی 117 ممتاز شخصیات کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعظم نریندر مودی کو بھجوائے جانے والے مکتوب میں کشیدگی ختم کرنے‘ سفارتی تعلقات کی بحالی اور عوامی رابطوں کے فروغ پر زور دیا گیا۔ اس میں کہا گیا کہ اس عمل سے خطے میں امن و استحکام آئے گا۔ مذکورہ مکتوب‘ جس پر بھارت کے سابق آرمی چیف سمیت دونوں ملکوں کے سفارتکاروں‘ خارجہ امور کے ماہرین اور دانشوروں کے دستخط ہیں‘ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان اصل ایشوز سے صرفِ نظر کرتے ہوئے ہائی کمشنرز کی دوبارہ تقرری‘ ویزہ سروس کی بحالی اور کمرشل پروازوں کیلئے فضائی حدود کھولنے پر زور دیا گیا۔ پاکستان کا ہمیشہ سے اصولی مؤقف رہا ہے کہ بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات کیلئے کشمیر سمیت بنیادی تنازعات پر بیٹھ کر بات کی جائے اور دنیا کے دیگر ممالک کی طرح مسائل کا سیاسی حل نکالا جائے‘ لیکن اس راہ میں اصل رکاوٹ بھارتی قیادت کا انتہا پسندانہ رویہ ہے۔ اب مذکورہ مکتوب کے تناظر میں بڑا سوال یہی پیدا ہوتا ہے کہ کیا بنیادی تنازعات کو نظرانداز کرکے مذاکرات اور تعلقات کی بحالی کی خواہش پر کوئی پیش رفت ہو سکتی ہے؟ جب بھارتی قیادت کشمیر میں اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد سے گریزاں ہو اور سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ معطل کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف آبی دہشت گردی کے عزائم رکھتی ہو تو پھر دونوں فریق کسی مشترکہ نکتے پر کیسے متفق ہو سکتے ہیں؟ بھارت اس وقت عالمی اور علاقائی سطح پر رونما ہونے والی بڑی تبدیلیوں کا ادراک نہیں کر پا رہا کیونکہ افواج پاکستان کے ہاتھوں بھارت کو عبرتناک شکست اور بعد ازاں امریکہ ایران جنگ میں پاکستان کے ثالثی کے کردار نے خطے میں پاکستان کو ایک بڑے اور مؤثر کردار کا حامل بنا دیا ہے۔ محسوس ہوتا ہے کہ بھارت بدلے ہوئے حالات اور عالمی و علاقائی رجحانات کو سمجھنے سے قاصر ہے اور پاکستان سے بدلے کی آگ میں جلتا جا رہا ہے۔ ایسے میں پاکستان اور بھارت کی اعلیٰ شخصیات کی جانب سے لکھا گیا یہ مکتوب کیا کردار ادا کرے گا؟ اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دونوں وزرائے اعظم نے اس مکتوب کا جواب دینا بھی ضروری نہیں سمجھا۔ ویسے بھی پاکستان اور بھارت کے درمیان معاملات جس نہج پر پہنچ چکے ہیں‘ کسی بھی محاذ پر پیش رفت کیلئے اپنی اپنی ریاستی طاقتوں کو ساتھ لینا ناگزیر ہوگا کیونکہ اس کے بغیر اعلیٰ شخصیات کا کردار علامتی تو ہو سکتا ہے‘ حقیقی نہیں۔ &#39;شائننگ انڈیا‘ کا نعرہ لگا کر برسرِاقتدار آنے والی قیادت آج بھارت کو اس مقام پر لے آئی ہے کہ کینیڈا اور امریکہ سمیت متعدد ممالک اپنے ہاں دہشت گردی کے واقعات کی ذمہ داری بھارتی ریاست پر عائد کرتے نظر آئے ہیں۔ اسی طرح فاشسٹ مودی حکومت کی طرف سے بھارت کے اندر اقلیتوں کا جینا دوبھر کر دیا گیا ہے۔ بھارت کے اندرونی حالات نے اسے دفاعی پوزیشن پر لا کھڑا کیا ہے۔مقبوضہ جموں و کشمیر اور بھارت کی چکن نیک کہلانے والی ریاستوں کے معاملات آج بھی حل طلب سیاسی تنازعات اور آزادی کی تحریکوں کی یاد دلاتے ہیں لیکن بھارت اپنے اندرونی مسائل اور تضادات پر توجہ دینے کے بجائے پاکستان کیخلاف محاذ آرائی میں مصروف دکھائی دیتا ہے۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی اور انکی حکومت کیلئے سب سے بڑا مسئلہ پاکستان ہے اور وہ پاکستان کو اپنے عوام کے سامنے ایک مستقل خطرے کے طور پر پیش کرکے انکی توجہ اصل داخلی مسائل سے ہٹانا اور خود کو سیاسی طور پر محفوظ رکھنا چاہتے ہیں۔ کیا ایسا ممکن ہو پائے گا؟ فی الحال اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا تاہم اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ ذہنی ناہمواری‘ مذہبی تقسیم اور ذات پات کا نظام بھارت کے مستقبل کیلئے خطرناک بنتا جا رہا ہے۔ ان حالات کی سنگینی پر عالمی میڈیا بھی مسلسل تشویش کا اظہار کرتا دکھائی دیتا ہے۔ بھارت کو کوئی بیرونی طاقت ناکام نہیں بنا رہی یہ اس کی اپنی حکومتی پالیسیاں ہیں جو اسکی سلامتی اور مستقبل کیلئے خطرناک ثابت ہو رہی ہیں۔ مگر اس کی قیادت کو نہ اسکا احساس ہے اور نہ ہی ادراک۔ اس پر صرف پاکستان کا خوف سوار دکھائی دیتا ہے۔ دوسری جانب پاکستان نے بھارت کو عسکری محاذ پر شکست دینے کے بعد خود کو کسی نئے تناؤ کا شکار بنانے کے بجائے معاشی استحکام اور ترقی کی راہ اختیار کی ہے۔ دنیا اب اس خطے میں بھارت کے بجائے پاکستان کی طرف دیکھ رہی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/230_37874475.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کشمیراور خواجہ آصف کا بیان(محمد حسن رضا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-hasan-raza/2026-07-08/52259/34777236</link><pubDate>Wed, 08 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-hasan-raza/2026-07-08/52259/34777236</guid><description>بیڈ گورننس کی کئی نشانیاں ہیں‘ سب سے نمایاں یہ کہ عوام ناخوش ہو کر سڑکوں پر نکل آئیں۔ بدترین فیڈ بیک یہ ہے کہ وہ دھرنا دے دیں۔ نااہلی یہ ہے کہ ایک سال بعد بھی انہیں مطمئن نہ کیا جا سکے۔ اس سے زیادہ نااہلی یہ ہے کہ آگ بجھانے کے بجائے جلتی پر تیل کا کام کیا جائے۔ بزرگ سیاستدانوں سے عموماً فہم و فراست کی توقع کی جاتی ہے کہ وہ کسی تنازع کے دوران کوئی معقول حل پیش کریں گے‘ لیکن خواجہ آصف کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ آزاد کشمیر میں حالیہ احتجاج کے دوران ان کی طرف سے ایک ایسا بیان دیا گیا کہ دو ہفتے سے زائد گزر جانے کے باوجود کشمیری عوام کا غصہ ٹھنڈا ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ مگر خواجہ آصف کو اس کا ذمہ دار کون ٹھہرائے گا‘ کیونکہ ان کا تعلق نواز شریف گروپ سے ہے‘ شاید وزیر اعظم بھی ان کو کچھ کہنے کی پوزیشن میں نہیں۔ کیا خواجہ آصف کی طرف سے یہ بیان اپنے حلقے کی سیاست کو بچانے کیلئے دیا گیا؟ اور کیا سابق وزیراعظم پاکستان‘ مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں نواز شریف کی آنکھ سے کشمیر اس وقت اوجھل ہے؟ جب آزاد جموں و کشمیر انتخابی‘ عوامی اور آئینی بحران کے نازک موڑ پر کھڑا ہے؟ یہ سوالات جذباتی ضرور ہیں مگر بے بنیاد نہیں۔ جب ایک وفاقی وزیر قومی اسمبلی کے فلور پر مہاجر نشستوں کا دفاع کرتے ہوئے اپنے شہر‘ اپنے حلقے اور وہاں آباد کشمیری مہاجرین کا حوالہ دیتا ہے تو آزاد کشمیر میںیہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ کیا قومی قیادت پورے کشمیر کو دیکھ رہی ہے یا صرف اپنے ووٹ بینک کو؟ خواجہ آصف نے کہا کہ سیالکوٹ میں کشمیری مہاجرین کی بڑی تعداد جموں سے آئی اور انہوں نے قربانیاں دیں‘ مگر مسئلہ یہ ہے کہ جب بات کشمیر کی ہو تو بات صرف مہاجر اور مقامی کی نہیں ہونی چاہیے‘ بات وحدت‘ انصاف اور قومی ذمہ داری کی ہونی چاہیے۔آزاد جموں و کشمیر اس وقت ایک ایسے سیاسی دوراہے میں کھڑا ہے جہاں ایک طرف انتخابات ہیں‘ دوسرے طرف عوامی احتجاج اور بیچ میں 12 مہاجر نشستوں کا تنازع‘ اور اوپر سے سیاسی جماعتوں کی اپنی اپنی مصلحتیں۔ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات 27 جولائی 2026ء کو ہونے جا رہے ہیں۔ کل 45 نشستوں میں 33 نشستیں آزاد کشمیر کے اندرونی حلقوں سے جبکہ 12 نشستیں پاکستان میں مقیم جموں و کشمیر کے مہاجرین کیلئے مخصوص ہیں۔ یہی 12 نشستیں اس وقت کشمیر میں سیاسی بحران کا محور بنی ہوئی ہیں۔ یہاں سب سے پہلے اصولی بات واضح ہونی چاہیے۔ آزاد کشمیر کا عام شہری‘ اگر وہ بجلی‘ آٹے‘ ٹیکس‘ روزگار‘ صحت‘ تعلیم‘ نمائندگی یا حکمرانی پر سوال اٹھاتا ہے تو یہ اس کا بنیادی جمہوری حق ہے۔ اگر ایک دکاندار‘ مزدور‘ طالب علم یا سرکاری ملازم یہ پوچھتا ہے کہ اسے سستی بجلی کیوں نہیں ملتی‘ حکومتی وسائل کہاں خرچ ہوتے ہیں‘ سیاسی اشرافیہ کی مراعات کیوں برقرار ہیں‘ یا اس کے مستقبل کا فیصلہ اس سے پوچھے بغیر کیوں کیا جاتا ہے تو اس سوال کا جواب دلیل سے آنا چاہیے‘ لاٹھی سے نہیں۔مگر اسی کے ساتھ ایک دوسری لکیر بھی کھینچنا ضروری ہے۔ عوامی حقوق کی تحریک اور انتہا پسند بیانیہ دو مختلف چیزیں ہیں۔ احتجاج آئینی حق ہے مگر سرکاری املاک کو نقصان پہنچانا‘ ایمبولینس‘ ہسپتال‘ کاروبار اور عام شہری کو متاثر کرناعوامی حق کی نمائندگی نہیں کر تا۔ جو شخص کشمیری عوام سے محبت کرتا ہے‘ وہ ان کی تحریک کو تشدد‘ نفرت اور بیرونی پروپیگنڈا سے بھی بچانا چاہے گا۔ حکومت کے مطابق جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے 38 مطالبات میں سے 36 یا 37 تسلیم کیے جا چکے ہیں جبکہ اصل اختلاف مہاجر نشستوں جیسے آئینی معاملے پر باقی ہے۔آزاد کشمیر کی سپریم کورٹ نے جون 2026ء میں واضح کیا کہ 12مہاجر نشستوں کو آئینی تحفظ حاصل ہے ‘ انہیں انتظامی یا ایگزیکٹو آرڈر سے ختم نہیں کیا جا سکتا‘ اس کیلئے آئینی ترمیم درکار ہے۔ اس فیصلے کا مطلب یہ ہے کہ یہ معاملہ سڑکوں پر شور سے نہیں بلکہ آئینی راستے سے حل ہوگا۔مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے انتخابات میں سنجیدہ ہے‘ پارٹی ٹکٹوں کے انٹرویوز لاہور میں ہوئے‘ پارلیمانی بورڈ کے اجلاس ہوئے‘ تقریباً 90 فیصد ٹکٹ فائنل ہونے کی خبریں بھی آئیں مگر عام کشمیری کے ذہن میں سوال ہے کہ جب آزاد کشمیر میں احتجاج‘ گرفتاریاں‘ انتخابی بے یقینی اور آئینی تنازع عروج پر ہے تو (ن) لیگ کے صدر نوازشریف ا ور دیگر مرکزی قیادت زمین پر کیوں کم دکھائی دیتی ہے؟ اور تو اور پی ٹی آئی کا مشروط بائیکاٹ بھی اسی منظرنامے کا حصہ ہے۔ 2021ء میں پی ٹی آئی 26 نشستوں کے ساتھ آزاد کشمیر کی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری مگر اندرونی تقسیم‘ فارورڈ بلاک‘ وزارتِ عظمیٰ کی تبدیلیوں‘ قانونی رکاوٹوں اور انتخابی نشان کے مسائل نے اس کی پوزیشن کمزور کر دی۔ اب بائیکاٹ کو پارٹی عوامی یکجہتی کہتی ہے۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ اگر بڑی جماعتیں میدان سے باہر ہوں گی‘ اگر لوگ آزاد حیثیت سے لڑیں گے‘ اگر فارم 45 پر دوبارہ تنازعات اٹھیں گے تو کیا نئی اسمبلی عوامی اعتماد حاصل کر سکے گی؟یہاں احتجاج کرنے والوں کا بھی امتحان ہے۔ اگر ان کی تحریک واقعی عوامی حقوق کیلئے ہے تو اسے واضح  طور پر اعلان کرنا چاہیے کہ یہ تحریک پاکستان مخالف نہیں‘ ریاستی اداروں کے خلاف نفرت نہیں پھیلا رہی‘ تشدد کو قبول نہیں کرتی اور کسی بیرونی ایجنڈے کا حصہ نہیں۔ اگر کچھ عناصر کشمیر کے عوامی مسئلے کو پاکستان دشمنی میں بدلنے کی کوشش کریں تو تحریک کی قیادت  کو سب سے پہلے ان سے لاتعلقی اختیار کرنی چاہیے۔ آزاد کشمیر کا مسئلہ صرف اندرونی سیاست نہیں عالمی منظرنامہ بھی ہے۔ بھارت ایسے ہر بحران سے پاکستان کے خلاف بیانیہ بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر آزاد کشمیر میں بدامنی یا پاکستان مخالف نعروں کی وڈیوز وائرل ہوں گی تو دہلی کا میڈیا اسے اپنے مقصد کیلئے استعمال کرے گا۔ اس لیے اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ عوامی حقوق بھی تسلیم ہوں اور قومی وحدت بھی برقرار رہے۔ آج آزاد کشمیر کو کسی سیاسی نعرے کی نہیںبلکہ ایک نئے سماجی معاہدے کی ضرورت ہے۔ حکومت عوامی مطالبات کی مکمل فہرست جاری کرے‘ مہاجر نشستوں پر آئینی مکالمہ شروع ہو‘ مقامی نمائندگی کے خدشات دور کیے جائیں‘ مہاجر کشمیریوں کی تاریخی حیثیت محفوظ رکھی جائے۔ بجلی‘ آٹا‘ ٹیکس‘ روزگار‘ صحت اور تعلیم پر قابلِ عمل روڈ میپ دیا جائے‘ اور انتخابی عمل کو فارم 45 سے لے کر حتمی نتیجے تک شفاف بنایا جائے۔ سیاسی جماعتیں بھی کشمیر کو صرف سیٹوں کی گنتی نہ سمجھیں‘ یہ لوگوں کی زندگی کا سوال ہے اور پاکستان کے قومی وقار کا امتحان ہے۔خواجہ آصف‘ میاں نواز شریف‘ پی ٹی آئی‘ مسلم لیگ (ن)‘ پیپلز پارٹی‘ عوامی ایکشن کمیٹی سب کے سامنے ایک ہی سوال ہے کہ کیا وہ عوامی غصے کو سنیں گے یا اسے دشمنی سمجھ کر کچلیں گے؟ کیا وہ مہاجر اور مقامی کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کریں گے یا دونوں کو کشمیر کے مشترکہ مقدمے کا حصہ بنائیں گے؟کشمیری عوام کو احترام چاہیے‘ جواب چاہیے‘ انصاف چاہیے‘ شفاف نمائندگی چاہیے لیکن اس سب میں انتہا پسندوں کو راستہ نہیں ملنا چاہیے۔ یہی دانش مندی ہے‘ یہی قومی مفاد ہے اور یہی کشمیر کے ساتھ  وفاداری ہے۔ سیاستدانوں کو غیر ضروری بیان بازی سے گریز کرنا چاہیے‘ لیکن اگر ان کی جماعتیں انہیں ایسے بیانات سے نہیں روکتیں تو کہیں اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ یہ کسی پالیسی یا پلاننگ کے تحت ہو رہا ہے؟ سوال یہ ہے کہ کیا اب بھی ان کے ذہنوں میں یہ موجود ہے کہ شاید یہاں پر بھی فارم 45؍47 والی گیم چل نکلے گی؟ سیاسی حلقوں میں تو یہ بھی زیرِ بحث ہے کہ 2024ء کے عام انتخابات کے دوران پنجاب خصوصاً لاہور میں جو اہم شخصیات تعینات تھیں‘ اس وقت وہ آزاد کشمیر میں ذمہ داریاں ادا کررہی ہیں۔ کشمیر میں بہرحال پیپلزپارٹی کا سٹیک زیادہ دکھائی دے رہا ہے اور جتنا شور مچے گا‘ اتنی ہی مشکلات پیپلزپارٹی کیلئے بڑھیں گی۔ (ن) لیگ کو شاید انتخابات سے کچھ زیادہ امیدیں نہیں‘ اس لیے کھیل خراب بھی رہے تو انہیں کوئی مسئلہ نہیں! خواجہ آصف کے بیانات اس تھیوری کو تقویت دیتے ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/229_33941343.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>زندگی کی حقیقت(علامہ ابتسام الہٰی ظہیر )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-07-08/52260/15121371</link><pubDate>Wed, 08 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-07-08/52260/15121371</guid><description>انسان پوری زندگی مختلف طرح کے منصوبے مرتب کرتا اور مختلف قسم کے اہداف کے حصول کے لیے کوشاں رہتا ہے لیکن اکثر وہ اس حقیقت کو فراموش کر دیتا ہے کہ زندگی کا یہ سفر کسی بھی وقت اختتام پذیر ہو سکتا ہے۔ اس زمین پر جو بھی آیا ہے‘ اس کو ایک دن پروردگارِ عالم کی طرف واپس جانا ہی پڑے گا۔ تاریخِ انسانیت اس بات پر شاہد ہے کہ انتہائی قیمتی اور معزز لوگ بھی زمین پر بے مثال اور شاندار زندگی گزارنے کے بعد ایک دن تہِ خاک چلے گئے۔ اس زمین پر آنے والی مقدس ہستیاں بھی ایک وقتِ مقررہ پر اپنے پروردگار کے پاس لوٹ گئیں۔ وہ لوگ جنہوں نے اپنی زندگی کو اللہ اور اس کے رسولﷺ کے پیغام کو عام کرنے کیلئے وقف کیے رکھا‘ وہ لوگ بھی اس دھرتی پر ہمیشہ کے لیے نہ رہ سکے۔ ہر انسان نے اپنی زندگی میں اپنے اعزہ واقارب‘ دوست احباب اور قریبی رشتہ داروں کے جنازوں کو اٹھتے ہوئے دیکھا ہے لیکن اس کے باوجود نجانے کیوں انسان کے ذہن میں یہ خیال گردش کرتا رہتا ہے کہ شاید وہ خود موت کی وادی میںنہیں اترے گا‘ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح دوسروں کو موت آنی ہے‘ اسی طرح ہر انسان نے ایک دن قبر میں اترنا ہے۔ چنانچہ انسانوں کو ہمیشہ موت کے بعد والی زندگی کے لیے تیاری رکھنی چاہیے۔ میں نے زندگی میں مختلف دوست احباب کی اموات اور بہت سے قریبی اعزہ واقارب کو خود سے جدا ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔ اسی طرح مجھے زندگی میں بے شمار جنازوں میں شرکت کا موقع ملا ہے۔ ان جنازوں میں شرکت کے دوران ہمیشہ میں نے یہ محسوس کیا کہ زندگی ناپائیدار ہے اور موت سے کوئی فرار نہیں۔ چند روز قبل کھڈیاں کے قریب رہنے والے ایک قریبی ساتھی عطاء الرحمن نے بتایا کہ اس کی والدہ بیمار ہیں اور ان کو علاج معالجے کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ پانچ جولائی کی رات کو یہ اندوہناک اطلاع ملی کہ وہ صحت یاب نہیں ہو سکیں اور وفات پا گئی ہیں۔ عطاء الرحمن ایک نیک‘ سلجھا ہوا اور خدمتِ خلق کرنے والا نوجوان ہے۔ اس کی والدہ کی جدائی کی خبر سن کر مجھے شدید دھچکا پہنچا۔ میرے ذہن میں ماضی کے بہت سے واقعات ابھرنا شروع ہو گئے اور اپنی والدہ مرحومہ کے انتقال کے لمحات دماغ کی سکرین پر چلنے لگے۔ بچپن میں والدہ نے جس شفقت کا مظاہرہ مجھ سے کیا‘ اس کی یادیں بھی آنا شروع ہو گئیں۔ سکول جانے سے پہلے وہ میرے لیے ناشتے کا بندوبست کرتیں‘ سکول جاتے وقت میرے یونیفارم کو تیار کرتیں اور گھر واپس آنے پر کھانا کھلاتیں۔ وہ میری تعلیم کے حوالے سے بہت زیاددہ فکرمند رہتی تھیں۔ کم نمبر آنے پر دکھ اور رنج کا اظہار کرتیں اور اچھے نمبر آنے پر بہت زیادہ حوصلہ افزائی کرتی تھیں۔ والد محترم کے انتقال کے بعد انہوں نے ہماری بہت زیادہ دلجوئی کی اور اس بات کی بھرپور کوشش کی کہ ہمیں والد کی کمی محسوس نہ ہو۔ وہ ہماری تعلیم اور ضروریات کے حوالے سے پہلے سے بھی زیادہ مستعد ہو چکی تھیں لیکن شوہر کی جدائی کی وجہ سے وہ اکثر غمزدہ رہتی تھیں اور ان کی کمی کو بڑی شدت سے محسوس کیا کرتی تھیں۔ میرے ذہن کے کسی گوشے میں یہ بات نہیں تھی کہ وہ اچانک اس دنیائے فانی سے کوچ کر جائیں گی۔ والد محترم کے انتقال کے بعد وہ فقط پانچ برس زندہ رہیں اور 1992ء میں وفات پا گئیں۔ والدہ کی وفات یقینا میرے لیے بہت بڑا صدمہ تھا اور ان کی جدائی کو برداشت کرنا بظاہر بے حد مشکل محسوس ہوتا تھا۔ تاہم اللہ تبارک وتعالیٰ نے رحمت کی اور بتدریج صبر اور قرار عطا کیا‘ تاہم حقیقت یہ ہے کہ آج ان کو دنیا سے رخصت ہوئے 34 برس کا عرصہ بیت چکا ہے لیکن خوشی کے ہر موقع پر ان کی یاد ستاتی ہے اور دکھوں کا کوئی لمحہ ایسا نہیں کہ جب ان کی کمی محسوس نہ ہوتی ہو۔انسان کو زندگی میں خواہ کتنی ہی نعمتیں میسر کیوں نہ آ جائیں‘ وسائل اور مالی کشادگی کے حصول کے ساتھ ساتھ دنیا میں عزت ووقار بھی حاصل ہو جائے‘ تب بھی والدین کی جدائی کا صدمہ فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے کہ کسی کی دعا والدین کی دعا کا متبادل نہیں بن سکتی۔ اسی طرح جس شفقت‘ خلوص‘ محبت اور پیار کا مظاہرہ والدین اپنی اولادوں سے کرتے ہیں‘ اس کا متبادل کسی دوسرے کی شفقت اور محبت نہیں ہو سکتی۔ دنیا میں بہت سے لوگ عروج کے ساتھی ہوتے ہیں لیکن عروج ہو یا زوال‘ والدین ہمیشہ آپ کے ہمراہ ہوتے ہیں۔ دنیا میں بہت سے لوگ آسودگی اور راحت کے وقت آپ کے ساتھ ہوتے ہیں لیکن والدین ہر آن‘ ہر لحظہ اور ہر لمحہ آپ کے ساتھ ہوتے ہیں۔ بالخصوص والدہ کی محبت کا متبادل کسی دوسرے کی محبت نہیں ہو سکتی۔ ماں انسان کی کامیابی پر دل کی گہرائیوں سے مسرور ہوتی اور اولاد کی ناکامی پر اولاد سے بڑھ کر دکھ اور رنج محسوس کرتی ہے۔ اولاد کو تکلیف میں دیکھ کر جس طرح ماں کرب محسوس کرتی ہے اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے خالق ومالک اللہ تبارک وتعالیٰ نے کلامِ حمید میں بہت سے مقامات پر انسانوں کو والدین سے حسنِ سلوک کا حکم دیا ہے۔ خصوصاً سورۂ بنی اسرائیل کی آیات: 23 تا 24 میں اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;اور تیرا پروردگار صاف صاف حکم دے چکا ہے کہ تم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرنا۔ اگر تیری موجودگی میں ان میں سے ایک یا یہ دونوں‘ بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کے آگے اُف تک نہ کہنا‘ نہ انہیں ڈانٹ ڈپٹ کرنا بلکہ ان کے ساتھ ادب واحترام سے بات چیت کرنا۔ اور عاجزی اور محبت کے ساتھ ان کے سامنے تواضع کا بازو پست رکھے رکھنا اور دعا کرتے رہنا کہ اے میرے پروردگار! ان پر ویسا ہی رحم کر جیسا انہوں نے میرے بچپن میں میری پرورش کی ہے‘‘۔نبی کریمﷺ کی احادیث مبارکہ میں بھی والدین بالخصوص والدہ سے حسنِ سلوک کی تلقین کی گئی ہے۔ اس حوالے سے صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک صحابی رسول کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہﷺ! میرے اچھے سلوک کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے؟ فرمایا کہ تمہاری ماں ہے۔ پوچھا: اس کے بعد کون ہے؟ فرمایا کہ تمہاری ماں ہے۔ انہوں نے پھر پوچھا کہ اس کے بعد کون؟ آنحضرتﷺ نے تیسری بار فرمایا کہ تمہاری ماں ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ اس کے بعد کون ہے؟ رسول کریمﷺ نے فرمایا: پھر تمہارا باپ ہے۔والدین کی جدائی جہاں انسان کے لیے شفقت‘ محبت‘ پیار اور دعائوں کے خلا کا سبب بنتی ہے‘ وہیں زندگی کی یہ حقیقت بھی انسان پر واضح ہو جاتی ہے کہ جس طرح دنیا کے مخلص ترین اعزہ واقارب اس دنیائے فانی سے کوچ کر گئے ہیں‘ اسی طرح ہر انسان کو ایک دن اس دنیائے فانی سے کوچ کرنا پڑے گا اور موت کے بعد پروردگارِ عالم کی بارگاہ میں پیش ہونا ہو گا‘ جہاں انسان کی کامیابی یہی ہو گی کہ وہ آگ سے بچ کے جنت میں داخل ہو جائے۔ اس وقت دنیا کی ہیبت وحشمت‘ سرمایہ ومال‘ کنبہ وقبیلہ‘ حسب ونسب انسان کے کسی کام نہیں آئے گا بلکہ انسان کے اپنے اچھے اعمال ہی اس کے کام آئیں گے۔ چنانچہ انسان کو اس قسم کے صدمات کے موقع پر زندگی کی حقیقت کو صحیح طور پر سمجھتے ہوئے خود کو موت کے بعد آنے والی زندگی کے لیے ہمیشہ تیار رکھنا چاہیے اور اس حوالے سے تیاری کرتے رہنا چاہیے۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو دوسروں کی موت سے عبرت حاصل کرکے اپنی اصلاح کرتے اور سیدھے راستے پر چلنے کا عزم کرتے ہیں اور بدنصیب ہیں وہ لوگ جو گمان کرتے ہیں کہ موت ان کو اچکنے میں کامیاب نہیں ہوسکے گی۔ دعا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کو موت کے بعد آنے والی زندگی کی ابھی سے تیاری کرنے کی توفیق دے‘ آمین!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_19740082.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>