<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>امن کیلئے موقع کی تلاش(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-27/11398</link><pubDate>Mon, 27 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-27/11398</guid><description>امریکہ اور ایران کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف حملوں میں توقف کی خبر خوش آئند ہے۔ اطلاعات کے مطابق گزشتہ دو روز میں دونوں ملکوں نے ایک دوسرے پر کوئی حملہ نہیں کیا۔ عالمی میڈیا کی خبروں کے مطابق امریکی صدر نے ایران کے خلاف امریکی فوجی حملوں کو مزید وسیع نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دوسری جانب اقوام متحدہ میں امریکہ کے سفیر نے ہر سطح پر بات چیت جاری ہونے کا عندیہ دیا ہے جبکہ کیتھولک مسیحیوں کے پیشوا پوپ لیو بھی مشرق وسطیٰ میں قیام امن پر زور دے رہے ہیں۔ ایران پر امریکی حملے رکنے کی وجہ خواہ پیٹریاٹ میزائلوں کے ذخیرے میں کمی ہے یا خلیج فارس میں امریکہ کے عرب اتحادیوں کی دوری‘ یہ اقدام متحارب فریقین کیلئے امن کی جانب بڑھنے کا موقع پیدا کر سکتا ہے۔ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پائیدار امن کیلئے تیار کی گئی تھی اور یہ امید تھی کہ امریکہ اور ایران اس پر بنیاد پر اپنے نصف صدی کے قصے کو سلجھالیں گے مگر بدقسمتی سے فریقین نے امن کے بجائے ایک بار پھر جنگ کا انتخاب کیا۔ ان حملوں میں دونوں جانب جانی اور مالی نقصان ہوا مگر اس کا سب سے زیادہ نقصان امن کی کوششوں کو پہنچا۔ اب جبکہ حملے رکنے اور مذاکرات کی بحالی کیلئے سفارتی کوششوں کی خبریں ہیں تو ضروری ہے کہ فریقین جنگ بندی کیلئے سنجیدگی دکھائیں۔ خلیج کی جنگوں کے عالمی معیشت پر شدید اثرات ہوتے ہیں۔

اس کا فوری اثر تیل کی قیمتوں پر سامنے آتا ہے۔ اس وقت عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل کے قریب ہیں۔ دو ہفتے قبل جب جھڑپوں  کا یہ سلسلہ شروع ہوا تیل کی قیمت 75 ڈالر فی بیرل کے قریب تھی۔ تیل کی قیمتوں سے بڑھ کر اس صورتحال کے منفی اثرات عالمی تجارتی تحفظ اور اعتماد کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز جس کا کنٹرول امریکہ اور ایران میں تنازعے کی اصل وجہ بنا ہوا ہے‘ دنیا میں توانائی کی اہم ترین گزر گاہ ہے۔ عالمی تجار ت کیلئے شاہ رگ کی حیثیت رکھنے والے ایسے سمندری راستوں کو ہر طرح کے تنازعات سے محفوظ ہونا چاہیے‘ یہی عالمی مفاد میں ہے۔28 فروری سے پہلے آبنائے ہرمز بھی ایسا ہی محفوظ آبی راستہ تھا‘ مگر امریکہ کے ایران پر حملے نے اس عالمی حیثیت کی گزرگاہ کو تنازعے کا مرکز بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ایسا نہیں لگتا کہ امریکہ میں جنگ کی حکمت عملی طے کرنے والے دماغوں نے ان خطرات کا پیشگی اندازہ کیا تھا۔ اس تنازعے کو طول دینا متحارب ممالک کیلئے بھی نقصاندہ ہے۔ ایران کو انفراسٹرکچر کی تباہی کا سامنا ہے جبکہ امریکہ کے اسلحے کے ذخائر انتہائی نچلی سطح پر پہنچ چکے ہیں‘ مگر دنیا اس ایران امریکہ تنازعے کے بھیانک اثرات سے کہیں زیادہ متاثر ہے۔ توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں‘ مہنگائی اور عالمی بے اعتمادی اسی کا نتیجہ ہے۔
آبنائے ہرمز کی طرح بحیرہ احمر کے دہانے پر باب المندب میں پیدا ہونے والا تنازع بھی تشویش کا باعث ہے۔ یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کی بحری ناکہ بندی پر پاکستان کا دوٹوک مؤقف برمحل اور اصولی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں مسلم ممالک کو ایک مشترکہ اور سنگین خطرے کا سامنا ہے۔ یہ حالات مسلم ریاستوں میں باہمی تعلق مضبوط کرنے اور ماضی کی کدورتوں کو بھلاکر ایک دوسرے کے قریب ہونے کا تقاضا کرتے ہیں‘ نہ کہ آپس میں ٹکرا کر اپنی قوت کو ضائع کرنے اور خود کو مزید کمزور کرنے کا۔ ان حالات میں او آئی سی اور خلیجی ممالک کی تنظیم جی سی سی کو بھی کچھ کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ کوئی اجلاس‘ ملاقاتوں کا کوئی سلسلہ اور رابطہ کاری کی کوئی کوشش خطے کی مسلم ریاستوں کوآپس میں الجھنے کے بجائے مستقبل کی جانب دیکھنے اور مل کر چلنے کا موقع فراہم کر سکتی ہے۔ خلیجی ممالک کے پاس ترقی‘ استحکام اور مستقبل کے خطرات سے خود کو بچانے کے وسائل موجود ہیں۔ ضروری ہے کہ ان وسائل سے استفادہ کریں اور ایک دوسرے کیلئے اچھے ہمسایے اور حقیقی معنوں میں اسلامی برادر ہونے کا ثبوت فراہم کریں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بارشیں اور حادثات(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-27/11397</link><pubDate>Mon, 27 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-27/11397</guid><description> حالیہ بارشوں نے کئی علاقوں میں شدید تباہی مچا ئی ہے۔ گزشتہ روز مزید دس افراد بارشوں سے ہونے والے حادثات میں جاں بحق ہو گئے۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق گزشتہ ایک ماہ میں مون سون کی طوفانی بارشوں سے آنے والے سیلابی ریلوں‘ لینڈ سلائیڈنگ‘ مکانات کے گرنے اور دیگر حادثات میں اب تک 107 افراد جاں بحق اور تقریباً 350 زخمی ہو چکے ہیں۔ جانی نقصان کے حوالے سے خیبر پختونخوا سب سے زیادہ متاثر ہوا جہاں 55 افراد جاں بحق ہوئے۔ پنجاب میں 36 اموات ہو چکی ہیں۔ بارشوں سے بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد بھی ہزاروں میں ہے اور لوگوں کی املاک اور مویشی بھی سیلابی ریلوں کی نذر ہو چکے ہیں۔ مون سون بارشوں کی وجہ سے ملک کے اکثر ندی‘ نالے اور دریا بھی بپھرے ہوئے ہیں جبکہ کئی علاقے سیلاب کے خدشات کی زد میں ہیں۔

پاکستان میں ہر سال مون سون کی بارشیں تباہی کا نیا باب ثابت ہوتی ہیں لیکن اس کے باوجود حکومت اور متعلقہ اداروں کی طرف خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے جاتے جس کے سبب شہریوں کو جان و مال کا نقصان بھگتنا پڑتا ہے۔ یہ ابھی مون سون کا تیسرا سپیل ہے جبکہ موسمیاتی ماہرین ستمبر کے وسط تک بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے کی پیش گوئی کر رہے ہیں‘ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں تیز کرنے کے ساتھ ساتھ مزید بارشوں کے پیش نظر نالوں کی بروقت صفائی اور سیوریج کی خامیاں دور کرنے کیلئے تمام ممکنہ اقدامات جلد مکمل کیے جائیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ادویات بھی مہنگی(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-27/11396</link><pubDate>Mon, 27 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-27/11396</guid><description>ادویہ ساز کمپنیوں کی طرف سے ادویات کی قیمتوں میں 70 فیصد سے 1600 فیصد اضافے کی خبریں تشویشناک ہیں ۔ اگرچہ ڈریپ کی جانب سے دوائوں کی قیمتوں میں 50 فیصد سے زائد اضافہ کرنے والی 37 فارما کمپنیوں کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں مگر یہ معاملہ اب فوری حکومتی توجہ اور ڈی ریگولیشن پالیسی پر نظر ثانی کا متقاضی ہے۔ عالمی حالات اور ملکی معاشی صورتحال کو جواز بنا کر ادویہ ساز کمپنیاں ہر چند ماہ بعد قیمتوں میں من چاہا اضافہ کر لیتی ہیں اور حکومت ڈی ریگولیشن پالیسی کے تحت محض تماشا دیکھتی ہے۔ فروری 2024ء کی ادویات ڈی ریگولیٹ پالیسی کے تحت حکومت صرف جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں کے تعین کا اختیار رکھتی ہے جبکہ باقی ادویات کی قیمتیں فارماسیوٹیکل کمپنیاں اپنی مرضی سے مقرر کر سکتی ہیں۔

یہ پالیسی مقابلے کی فضا پیدا کرکے سستی اور معیاری ادویات کی فراہمی کیلئے تشکیل دی گئی تھی مگر اسے منافع خوری کا نیا ذریعہ بنا لیا گیا ہے۔ یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ اب ہر مہینے ہی ادویہ کی قیمتیں بڑھا دی جاتی ہیں اور بعض ادویات کی قیمتوں میں 1600 فیصد سے بھی زائد اضافہ ہو چکا ہے۔ اگر حکومت نے اب بھی اس معاملے میں فوری مداخلت کرتے ہوئے عملی اقدامات نہ کیے تو ملک میں صحت کی سہولتیں مزید مہنگی اور ناقابلِ رسا ہو جائیں گی اور عنقریب ایک نیا طبی بحران ہمارا منتظر ہو سکتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کیا جنوبی ایشیا کا نوجوان بیدار ہو رہا ہے؟(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-07-27/52369/25753505</link><pubDate>Mon, 27 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-07-27/52369/25753505</guid><description>کیا پاکستان کے نوجوان کو بھی اُسی طرح اٹھ کھڑا ہونا چاہیے جیسے بنگلہ دیش اور بھارت کا نوجوان کھڑا ہوا ہے؟ کیا نوجوانوں کا یہ تحرک کسی بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے؟ کیا تینوں ممالک کی سماجی حرکیات ایک جیسی ہیں؟پہلے بنگلہ دیش کو دیکھ لیتے ہیں۔ یہاں برپا ہونے والی تحریک کے محرکات سیاسی تھے۔ حکومت کا ظلم جب ناقابلِ برداشت ہو گیا تو نوجوان اٹھ کھڑا ہوا۔ اس تحریک کو دیگر سیاسی اور غیر سیاسی قوتوں کی تائید حاصل ہو گئی۔ ایک رجیم کا خاتمہ ہو گیا جو اپنے ہی ظلم کا بار نہ اٹھا سکا۔ غالب کے الفاظ میں &#39;آپ اپنی آگ کے خس و خاشاک ہو گئے‘۔ نوجوان پہلے مرحلے میں کامیاب رہے۔ ان کو خیال ہوا کہ اب ایک بڑی عوامی تائید ان کی پشت پر ہے۔ انہوں نے انتخابی میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا۔ جماعت اسلامی سے اتحاد کیا۔ اس تحریک کے اکثر نوجوانوں کا تعلق وہاں کی اسلامی جمعیت طلبہ سے تھا جو سب سے زیادہ حسینہ واجد کے ظلم کا نشانہ تھی۔ انتخابی نتائج سامنے آئے تو معلوم ہوا کہ نوجوانوں کے حصے کی بارش‘ بی این پی کی چھت پر برس گئی۔ انتخابات نے بتایا کہ سیاسی عمل ہماری خواہشات یا کسی ایک واقعے کے تابع نہیں ہوتا۔ نوجوان طلبہ کی یہ تحریک اب بنگلہ دیش کی تاریخ کا ایک باب بن چکی۔ جو نوجوان جان کی بازی ہارے‘ ان کی یاد منانے والے اب وہی ہیں ان کے ساتھ جو خون کے رشتے میں بندھے ہیں۔اب بھارت کی سنیے! بھارت کے نوجوانوں کی یہ تحریک بھی ایک وقتی مسئلے کے لیے اٹھی۔ یہ غیر سیاسی مسئلہ ہے۔ اس میں شامل نوجوان کسی نظریے یا کسی سیاسی ایجنڈے کی بنیاد پر جمع نہیں ہیں۔ یہاں مولانا حسین احمد مدنی کا ذکر ہے۔ مہاتما گاندھی کا نام لیا جا رہا ہے۔ مولانا عامر عثمانی کی نظم بھی پڑھی جا رہی ہے۔ فیض صاحب جیسے سرخ ترقی پسندوں کا کلام بھی گایا جا رہا ہے۔ جذبات کو زندہ رکھنے کے لیے یہ سب آزمائے ہوئے نسخے ہیں۔ فیض صاحب کا کلام پڑھنے والا ممکن ہے کہ اشتراکی نظریات سے ناواقف ہو۔ عامر عثمانی کی نظم سنانے والا شاید یہ نہ جانتا ہو کہ یہ نظم کس کی ہے۔ اس تحریک کے غیر سیاسی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔ ان کا بنیادی مطالبہ مان لیا گیا ہے۔ احتجاج ختم ہو گیا‘ اس لیے اب اس تحریک کے جوش وخروش میں بھی کمی آ جائے گی۔ اس سے مستقبل میں سیاسی تبدیلی کی جو توقعات باندھی جا رہی ہیں‘ ان کے پورا ہونے کا امکان کم ہے۔ان تجربات کا تجزیہ کرتے وقت‘ ہمیں اُس عوامی تحریک کو بھی سامنے رکھنا چاہیے جو &#39;عرب بہار‘ کے عنوان سے تاریخ کا حصہ بن چکی۔ کچھ عرصہ اس کا غلغلہ رہا۔ یہ بھی مگر خطے میں کوئی بڑی تبدیلی لائے بغیر قصہ پارینہ بن گئی۔ تیونس‘ جہاں سے یہ تحریک اٹھی‘ آج ایک ایسے سیاسی نظام کے شکنجے میں ہے جو ظلم سے عبارت ہے۔ راشد الغنوشی جیسی شخصیت آج بھی جیل میں ہے۔ پچاسی برس کے اس عالمی شہرت یافتہ راہنما کو عمر قید کے ساتھ‘ دہشت گردی کے نام پر تیس سال کی مزید سزا بھی سنائی گئی ہے۔ راشد الغنوشی وہ آدمی ہیں جنہوں نے مسلم ڈیمو کریٹس کی بنیاد رکھی۔ ان کے خیالات انتہا پسندی سے کوسوں دور ہیں۔ وہ تو &#39;سیاسی اسلام‘ کے بنیادی تصور ہی سے الگ ہو چکے۔ اس کے باوجود سزا بھگت رہے ہیں۔ تیونس‘ بوعزیزی کا ملک ہے جس کی قربانی سے عرب بہار شروع ہوئی اور اس کا انجام‘ میں نے آپ کو بتا دیا۔ مصر کا تحریر سکوائر بھی کبھی اس کا مرکز تھی۔ آج وہاں جنرل سیسی کا اقتدار پہلے سے زیادہ مستحکم ہے۔سماجی علوم کے ماہرین ان تحریکوں کو &#39;نان موومنٹس‘(Non Movements) کا نام دیتے ہیں۔ کسی سماج میں موجود اضطراب کسی وقت پھٹ پڑتا ہے اور لوگ اپنے غصے کا اظہار کرتے ہیں۔ لوگ‘ کسی راہنما کا انتظار نہیں کرتے اور منظم ہونے لگتے ہیں‘ کسی سوچے سمجھے منصوبے کے بغیر۔ ایسی تحریکیں مسائل کی موجودگی کا احساس تو دلاتی ہیں مگر ان کے پاس مسائل کا کوئی حل ہوتا ہے نہ حکمتِ عملی۔ یوں وہ کوئی نقش چھوڑے بغیر تاریخ کا حصہ بن جاتی ہیں۔ پاکستان میں یہ تجربات ہو چکے۔ منظور پشتین کی تحریک بھی ایسی ہی تھی۔ بڑے بڑے جلسے مگر کوئی نتیجہ نہیں۔ بلوچستان میں ماہ رنگ نے بھی کچھ وقت کے لیے رنگ جمایا مگر اس سے کوئی نتیجہ خیز تحریک برآمد نہ ہو سکی۔ اشراکیت کی باسی کڑی میں بھی ابال آیا اور کچھ نوجوانوں نے فیض کی نظمیں سنائیں۔ عوام اس کی جانب مگر متوجہ نہیں ہو سکے۔یہ خیر خواہی یا دیانت کا مسئلہ نہیں‘ میں ان کے جذبات کی قدر کرتا ہوں مگر ایسی تحریکوں سے کسی بڑی تبدیلی کی توقع نہیں رکھتا۔ سماجی یا سیاسی تبدیلی کچھ عوامل کے تابع ہوتی ہے۔ ان کو سمجھے بغیر‘ کوئی حکمتِ عملی نتیجہ خیز نہیں ہو سکتی۔ ان میں سب سے بڑا عامل ریاست ہے۔ ریاست کیا ہے؟ اس میں طاقت کے مراکز کہاں ہیں؟ ان مراکز کے سوچنے کا انداز کیا ہے؟ ریاست سے تصادم کے کیا نتائج نکل سکتے ہیں؟ یہ سب سوالات صرف ایک عامل سے جڑے ہیں۔ ایک عامل سماجی بُنت بھی ہے۔ سماج میں مذہب کی کیا حیثیت ہے؟ غالب مذہبی و سماجی تصورات کی موجود گی میں‘ کیا سماجی تبدیلی کی کوئی تحریک کامیاب ہو سکتی ہے؟ ان سے صرفِ نظر کیا ممکن ہے؟ کسی ہمہ گیر تبدیلی کی خواہش‘ ان سوالات کا جواب تلاش کیے بغیر پوری نہیں ہو سکتی۔پاکستان کا نوجوان مسائل کو سمجھنے لگا ہے۔ تاہم وہ اُن کے حل کے بارے میں یکسو نہیں ہے۔ میں اس پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ وہ اس یکسوئی کے بغیر میدانِ عمل میں نکلنے کے لیے آمادہ نہیں۔ ہمارے مسائل سیاسی بھی ہیں اور سماجی بھی۔ معاشی تو ہیں ہی۔ بھارت اور بنگلہ دیش کے برخلاف‘ ہم ایک ہائبرڈ نظام کا تجربہ کر رہے ہیں۔ آئیڈیل میرے نزدیک اب بھی یہی ہے کہ سماج کو ریاست پر مقدم رکھا جائے۔ قوم کا بیانیہ سماج سے اٹھے اور ریاست ایک سہولت کار بن کر اس کو حقیقت کا روپ دے۔ آج صورتِ حال اس کے برعکس ہے۔ بیانیہ ریاست بناتی ہے اور سماج کو پابند کیا جاتا ہے کہ وہ اس کو قبول کرے۔ اس حکمتِ عملی نے سماجی تبدیلی کی قوتوں کوکمزور کیا ہے۔ ان میں یہ سکت نہیں کہ وہ ترتیب کو بدل سکیں۔ سیاسی جماعتیں بھی چونکہ ایک درجے میں اس ریاستی بندوبست کا حصہ ہیں‘ اس لیے ہائبرڈ نظام میں‘ عوام ایک حد تک شریک ہیں۔ اس تجربے کو ابھی اپنے نتائج دکھانے ہیں۔اس پس منظر میں‘ میرے نزدیک‘ اہلِ دانش کو ذہن ساز کی سطح پر یہ کوشش جاری رکھنی چاہیے کہ تبدیلی کے لیے ہماری ترتیب درست ہو جائے۔ عوام مخدوم ہوں اور ریاست خادم۔ ممکن ہے کہ اس عمل کے نتیجے میں خود پالیسی ساز اس بات کا ادراک کرنے لگیں۔ ریاست بھی تجربات سے سیکھتی ہے جیسے اس نے سیکھا کہ &#39;جہاد ریاست کے بغیر نہیں ہونا چاہیے‘۔ ممکن ہے وقت کے ساتھ یہ حقیقت بھی خود کو منوا لے کہ ریاست کا کام بیانیہ سازی نہیں‘ عوامی بیانیے کو پالیسی میں ڈھالنا ہے۔ اس سے پہلے نوجوانوں کو بنگلہ دیش یا بھارت کی طرح سڑکوں پر نکالنے کی خواہش محمود نہیں۔ تاہم ریاست کو خبردار رہنا چاہیے کہ اس کے لیے تساہل کی کوئی گنجائش نہیں۔ نوجوانوں نے میرا تجزیہ پڑھ کر قدم نہیں اٹھانا۔ جب پانی سر سے گزرنے لگے تو لوگ نتائج سے بے پروا ہو کر نکل آتے ہیں۔ اس کی قیمت ریاست اور عوام دونوں ادا کرتے ہیں۔ ریاست کو ایسا وقت آنے سے پہلے‘ مسائل کو حل کرنا ہو گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>نوجوان، بیداری اور خوف(رسول بخش رئیس)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-07-27/52370/33765804</link><pubDate>Mon, 27 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-07-27/52370/33765804</guid><description>انقلاب آئیں یا نہ آئیں‘ ہماری نسل کے لوگوں کو اب اس سے کوئی سروکار نہیں۔ جو ہم لا سکتے تھے‘ وہ تو لا نہ سکے۔ خواب دیکھنا بند تو نہیں کیے مگر اب خواب کچھ اور ہیں۔ بہرحال دل میں ایک خلش اور خوابیدہ خواہش ضرور موجود ہے اور تادمِ زیست رہے گی کہ دنیا میں امن ہو‘ انصاف ہو‘ استحصال ختم ہو‘ غربت نہ رہے اور سب لوگ آسودہ زندگی گزاریں۔ ہمارے انقلاب کے دنوں کے خواب کچھ ایسے ہی تھے۔ کروڑوں انسان جنہوں نے نوآبادیاتی اور سامراجی نظام سے آزادی حاصل کرنے کیلئے جدوجہد کی‘ ان کے رہنمائوں نے قید کاٹی اور نجانے کتنے سولیوں پہ چڑھ گئے اور گولیوں کا نشانہ بنے۔ ان کے خواب بھی انصاف‘ قانون کی بالادستی‘ حقوق اور معاشی خوشحالی تھے۔ زیادہ تر بلکہ سب نظریات‘ اشتراکیت ہو یا سرمایہ داری نظام‘ وہ بھی اسی طرح کے سنہری خواب دکھاتے ہیں۔ مگر اس منزل تک پہنچنے کے سب کے راستے جدا ہیں۔ کچھ عرصہ ہماری اشتراکیت سے نظریاتی وابستگی رہی تو ہم مائوزے تنگ‘ لینن اور کارل مارکس کے فلسفوں کے ساتھ پوری دنیا میں انقلابی تحریکوں کا مطالعہ کرتے۔ شاید آپ یقین نہ کریں‘ یہ سب کچھ ہم نے جامعہ پنجاب میں چند سال کے دورِ طالبعلمی میں کیا۔ تب کتابیں پڑھنا اور علمی گفتگو کرنا باشعور نوجوانوں کی پہچان تھی۔ یہ سب کچھ دکھاوے یا کسی پر رعب ڈالنے کیلئے نہ تھا بلکہ خفیہ‘ خاموشی اور محدود دائرے میں سیاسی اور فکری شعور کا خود اختیاری سفر تھا۔ زمانہ بدلتا رہا اور ہم بھی۔ زیادہ تر افراد کا اندازِ فکر وعمل زمان ومکان میں آنے والی تبدیلیوں کے تابع ہوتا ہے۔ کم از کم اپنے بارے میں تو بلاجھجک کہہ سکتا ہوں کہ دیہات سے شہروں اور باہر کی دنیا کے سفر‘ قیام اور زندگی گزارنے کا سماجی اور فکری اثر ہوا جو عمر بھر ساتھ رہا۔ کوئی اس کا برملا اظہار کرے نہ کرے‘ شعوری لاشعوری طور پر دوسرے معاشروں کی اچھی باتیں ہماری اپنی سوچ اور اخلاقیات کا حصہ بن جاتی ہیں۔بات زمانے کے بدلنے کی ہو رہی تھی‘ اشتراکی انقلابوں کے بارے میں بھی سوال اٹھنے لگے کہ جس سحر کی امیدیں ان سے بندھی تھیں‘ وہ ذاتی آمریت اور خاندانی بادشاہتوں میں تبدیل ہو گئیں۔ باقی دنیا کے ممالک میں بھی لوگ سوچنے پر مجبور ہو گئے کہ آخر میں انجام سٹالن اور مائو ہیں تو بہتر ہے اس طرف کا سفر ہی نہ کیا جائے۔ سرمایہ داری نظام اور اس کی پیدا کردہ عدم مساوات سے محروم طبقہ نہ پہلے خوش تھا اور نہ اب ہے۔ مزدور جو کارخانوں میں کام کرتے ہیں‘ ان کے بارے میں ہمارے اشتراکی مفکرین کی خوش فہمی یہ تھی کہ وہ سرمایہ داری نظام کے خلاف بغاوت کریں گے اور انقلاب پکے ہوئے پھل کی طرح ان کی جھولی میں آن گرے گا۔ اس کیلئے ضرورت اس بات کی ہے کہ مزدوروں میں ان کے معاشی استحصال اور تنظیمی قوت کا شعور اجاگر کیا جائے۔ وہ بھی نہ ہوا‘ اور ہم نے دیکھا کہ چین اور سوویت یونین اور مشرقی یورپ کے سب ممالک نے اشتراکیت سے تائب ہو کر سرمایہ داری نظام کے بڑے پیر ومرشد کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔اب آتے ہیں اصل مسئلے کی طرف کہ وہ انقلاب کیوں نہ آئے اور خصوصاً مارکس کا مزدور جسے وہ سرمایہ داری نظام کا گورکن کہتا تھا‘ وہ کیوں متحرک نہ ہو سکا؟ ہمارے زمانے کے نوجوانوں کی بیداری اور گزشتہ صدی کی ساٹھ کی دہائی میں عالمی سطح پر چلنے والی تحریکوں کے پیچھے ایک اہم مفکر ہربرٹ مارکوزے تھا۔ ہمارے ملک میں نہ اس وقت نہ اب لوگ اسے جانتے ہیں۔ یہ تو آپ کو ماننا پڑے گا کہ تاریخی طور پر یہ درست ہے کہ نوجوانوں کی بیداری کی تاریخ امریکہ میں شروع ہوئی اور اس میں بنیادی بات ویتنام کی جنگ میں جبری بھرتی تھی۔ جنگ ایک واقعاتی امر تھا۔ اصل بات تو &#39;&#39;کائونٹر کلچر‘‘ تحریک تھی۔ اس کا متبادل اردو میں نہیں ملا کہ &#39;برعکس ثقافت‘ تو کوئی بات نہ ہوئی۔ ہاں‘ روایت اور غالب افکار کے خلاف مزاحمت کی بات کریں تو شاید کام چل جائے۔ اس فلسفے اور تحریک پر اس وقت کچھ لکھنا مقصود نہیں۔ نوجوانوں اور ان کی بیداری جو ہمیشہ سے ایک سرسبز موضوع رہا ہے‘ ہمارے مفکرین اور مبصرین اس پہ روشنی کم ہی ڈالتے ہیں۔ اس کی وجہ بھی کچھ سمجھ میں آتی ہے۔ مارکوزے کا خیال تھا کہ کارخانوں کے مزدور اور معاشی طور پر متوسط طبقہ صارف معیشت کا حصہ بن چکے ہیں۔ وہ انقلاب میں نہیں بلکہ سرمایہ دارانہ نظام ہی میں آسودگی محسوس کرتے ہیں کہ اب وہ اس کا حصہ بن چکے ہیں۔ اب نوجوان ہی تھے جو اس نظام کے خلاف اپنے رویوں سے مزاحمت کر رہے تھے۔ مارکوزے نوجوانوں کو بھڑکا نہیں رہا تھا بلکہ ان کی تحریک کے سماجی اور نفسیاتی عناصر کو بغور دیکھ رہا تھا کہ ان کی بے چینی اور اضطراب کی بنیادی وجہ کیا ہو سکتی ہے۔ اس کے خیال میں بڑھتی ہوئی عدم مساوات‘ دولت اور مراعات کا ایک غالب طبقے کے ہاتھ میں ارتکاز‘ ناانصافی اور ساتھ ہی نظام کو چلانے کیلئے نوجوان طبقے کی کمائی پر انحصار۔ کائونٹر کلچر تحریک کا فکری اور عملی نکتہ یہ تھا کہ ہمیں نہ وہ کامیابی چاہیے جیسے محفوظ نوکری‘ گھر‘ گاڑی اور اچھا معاشی مستقبل‘ جسے آپ اس کی معراج تصور کرتے ہیں‘ اور نہ ہی وہ کام جو آپ نظام کی صحت کو قائم رکھنے کیلئے ضروری خیال کرتے ہیں۔ لیکن یہ نوجوانوں کی تحریک میں ایک اقلیت تھی۔ سیاسی اور فکری طور پر باشعور نوجوان نظام کے اندر رہتے ہوئے اور کچھ دیگر طریقوں سے ناانصافی اور عدم مساوات کو ختم کرنے کیلئے کوشاں تھے۔ روایتی سیاسی جماعتوں میں کچھ نے جگہ بنا کر نظریاتی رخ موڑنے کی کوشش کی‘ جیسے امریکی ڈیمو کریٹک پارٹی یا برطانیہ کی لیبر پارٹی اور یورپی ممالک میں سوشل ڈیمو کریسی سے وابستہ سیاسی جماعتیں۔ اس تحریک کا نتیجہ یہ تھا کہ ہم نے دو تین عشروں تک یورپ اور امریکہ میں فلاحی ریاست کے نظریے اور سیاست کو غالب دیکھا۔ اسّی کی دہائی میں ان کے چراغوں کی روشنی مدہم پڑنے لگی۔آج کی نوجوان تحریکیں عرب بہار سے لیکر بنگلہ دیش‘ نیپال‘ جہاں اس نے کامیابیوں کے جھنڈے گاڑے ‘ اب کاکروچ جنتا پارٹی کی صورت میں آپ بھارت کے شہروں میں پھیلتی دیکھ رہے ہیں۔ یہ کہنا تو مشکل ہے کہ اتنی بڑی ریاست میں کوئی بہت بڑی تبدیلی وہ لا سکیں گے مگر سرمایہ داری نظام کے ساتھ کرپشن بھی ہو‘ انتخابات میں دھاندلی کا رواج بھی رکھا جائے اور ایک طبقے کی مذہبی جنونیت اور تشدد کی کہانیاں بھی آسمان کو چھو رہی ہوں تو شاید کوئی بھی طاقتور چین سے نہ سو سکے۔ عرب بہار کے علاوہ ہمارے غیر عرب پڑوسی ممالک میں اٹھنے والی نوجوانوں کی تحریکوں کو کچل دیا گیا۔ ہم اپنی بات نہیں کرتے‘ اور نہ ہی کرنے کی ضرورت ہے۔ یہاں چونکہ سب کچھ ٹھیک چل رہا ہے‘ سب کچھ کنٹرول میں ہے‘ کہیں بھی کوئی سڑکوں پہ نہیں نکل رہا تو راوی سب چین نہیں لکھے گا تو کیا لکھے گا؟ پہلے ایک نکتہ چھوڑا تھا کہ ہمارے بڑے مبصرین اور مفکرین نوجوانوں کے بارے میں کچھ زیادہ بات نہیں کرتے۔ وجہ خوف ہے کہ کہیں بھڑوں کا یہ چھتّا عذاب نہ بن جائے۔ چلو انہیں لیپ ٹاپ وغیرہ تقسیم کرتے ہیں اور جامعات کو کہتے ہیں کہ ان کی سیر وتفریح کا بندوبست کریں۔ بھڑوں کا چھتّا اپنے جسم و روح کا رشتہ قائم رکھ کر آرام میں رہے گا‘ اور ہم بھی۔ اصل صورتحال کچھ مختلف ہے۔ امریکی جامعات سے لے کر ہر یورپی ملک کی جامعات تک نوجوان غزہ میں نسل کشی‘ ایران کے خلاف اسرائیلی اور امریکی جنگ‘ نسلی امتیاز اور بڑھتی ہوئی عدم مساوات کے خلاف مظاہرے کرتے رہے ہیں۔ خاموش اب بھی نہیں‘ دنیا میں کہیں بھی نہیں۔ جنگل میں کام کرتے ہوئے مجھے بھڑوں سے واسطہ پڑتا ہے ۔ ایک ہفتہ پہلے ان کا حملہ ناکام کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا تھا۔ چھوٹے چھتے کا حجم بڑھتا رہتا ہے‘ ایک کے بعد دوسرا اور تیسرا اور پھر دیکھا کہ جنگل کا ایک حصہ ان کے قبضے میں آ چکا ہے۔ نوجوان بیداری کی تحریکوں کی صورتحال بھی ایسی ہی ہے۔ بات نظام میں انصاف‘ قانون کی حکمرانی اور استحکام اور عدم مساوات کے خاتمے کی ہے‘ ورنہ بڑے لوگ خوف میں رہیں گے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_33241568.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>برآمدات، کریڈٹ ریٹنگ اور پالیسی ریٹ کے اثرات(میاں عمران احمد)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mian-imran-ahmad/2026-07-27/52371/45538848</link><pubDate>Mon, 27 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mian-imran-ahmad/2026-07-27/52371/45538848</guid><description>حکومت نے امریکہ سے 10 ارب ڈالر کی مالی سہولت کی درخواست کی لیکن امریکی صدر نے 10 فیصد ٹیرف لگا دیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلے ایمرجنسی اختیارات کے تحت دنیا بھر پر ریسیپروکل ٹیرف لگائے‘ سپریم کورٹ نے انہیں ختم کر دیا‘ پھر عارضی 10 فیصد ٹیرف نافذ کیا‘ 10 فیصد عارضی ٹیرف کی مدت 24 جولائی کو ختم ہو گئی۔ اب سیکشن 301 فورسڈ لیبر کے تحت 60 ممالک پر 10 سے 12.5 فیصد کے نئے ٹیرف لگا کر تقریباً وہی تجارتی پالیسی نئے قانونی فریم ورک میں واپس لے آئے ہیں۔ نیا جواز یہ تلاش کیا گیا ہے کہ جن ممالک پر بچوں سے لیبر کا کام لیا جاتا ہے اور لیبر قوانین عالمی معیار کے مطابق نہیں ان پر ٹیرف لگایا جائے گا۔ امریکہ پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے۔ مالی سال 2024-25ء میں پاکستان کی مجموعی برآمدات تقریباً 33 ارب ڈالر تھیں‘ جن میں سے ساڑھے پانچ سے چھ ارب ڈالر کی مصنوعات امریکہ کو برآمد کی گئیں۔ یعنی پاکستان کی تقریباً 18 فیصد برآمدات کا انحصار امریکی منڈی پر ہے۔ امریکہ پاکستانی ٹیکسٹائل‘ ملبوسات‘ بیڈ ویئر‘ تولیے‘ سرجیکل آلات اور چمڑے کی مصنوعات کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی تجارتی پالیسی میں معمولی تبدیلی بھی پاکستان کے برآمدی شعبے پر اثر ڈال سکتی ہے۔ پاکستان کی برآمدی معیشت پہلے ہی متعدد مشکلات کا شکار ہے۔ ملک کی کل برآمدات تقریباً 33 ارب ڈالر ہیں جبکہ ویتنام کی برآمدات 400 ارب ڈالر سے زیادہ ہیں‘ بنگلہ دیش کی برآمدات 50 ارب ڈالر کے قریب ہیں۔ ویتنام پر امریکی ٹیرف 12.5 فیصد ہے جبکہ پاکستان پر 10 فیصد۔ انڈیا اور بنگلہ دیش کے ٹیرف پاکستان کے برابر ہیں‘ لیکن پاکستان کیلئے اس فرق سے فائدہ اٹھانا مشکل ہے کیونکہ ویتنام اور بنگلہ دیش میں کاروباری لاگت پاکستان کی نسبت بہت کم ہے۔ بھارت برآمد کنندگان کو ایکسپورٹ کی مد میں بھاری سبسڈی دیتا ہے جس کے باعث وہ کم قیمت میں مال تیار کر سکتے اور بیچ سکتے ہیں۔ عالمی تجارت میں صرف ٹیرف ہی فیصلہ کن عنصر نہیں ہوتا توانائی کی قیمتیں‘ پیداواری لاگت‘ کرنسی کی شرح تبادلہ‘ لاجسٹکس‘ بندرگاہوں کی کارکردگی اور تجارتی معاہدے بھی اتنے ہی اہم ہوتے ہیں۔ پاکستان میں برآمدات بڑھانے کی باتیں تو ہر حکومت کرتی ہے لیکن عملی طور پر برآمد کنندگان کو جن مسائل کا سامنا ہے وہ اکثر پالیسی سازوں کی توجہ سے دور رہتے ہیں۔ وفاقی ٹیکس محتسب نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے فاسٹر سیلز ٹیکس ریفنڈ سسٹم میں ایک بنیادی خامی کی نشاندہی کرتے ہوئے فوری اصلاحات کا کہا ہے۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کسی ایکسپورٹر نے خام مال یا دیگر اشیا قانونی طور پر خریدی ہوں‘ سیلز ٹیکس ادا کیا ہو اور برآمد بھی کر دی ہوں لیکن اس کا سپلائر اپنے سیلز ٹیکس ریٹرنز بروقت جمع نہ کرائے‘ انوائس اَپ لوڈ کرنے میں غلطی کر دے یا ایف بی آر کے نظام میں کسی وجہ سے مشکوک قرار پا جائے۔ ایسی صورت میں فاسٹر سسٹم اکثر پورا یا جزوی ریفنڈ روک دیتا ہے حالانکہ ایکسپورٹر کی جانب سے تمام قانونی تقاضے پورے کیے جا چکے ہوتے ہیں۔ سپلائر کی غلطی یا تکنیکی خرابی کا بوجھ برآمد کنندہ پر ڈالا جا رہا ہے۔ اس عمل سے برآمد کنندگان کا کروڑوں روپے کا ورکنگ کیپٹل پھنس جاتا ہے‘ انہیں اضافی فنانسنگ حاصل کرنا پڑتی ہے اور عالمی منڈی میں ان کی مسابقت متاثر ہوتی ہے۔ یوں فاسٹر سسٹم‘ جس کا مقصد ریفنڈ کی تیز اور خودکار ادائیگی تھا‘ بعض معاملات میں برآمدات کے فروغ کے بجائے ان کے لیے رکاوٹ بن رہا ہے۔ بظاہر یہ چھوٹا سا تکنیکی مسئلہ ہے لیکن اس کی وجہ سے اربوں روپوں کے ریفنڈز رک رہے اور بیرونی سرمایہ کاری اور ملکی برآمدات متاثر ہو رہی ہیں۔ملک کے لیے گزشتہ چند برس معاشی اعتبار سے کافی مشکل رہے ہیں۔ 2023ء میں عالمی مارکیٹ میں پاکستان ڈیفالٹ کے دہانے پر کھڑا تھا۔ زرمبادلہ کے ذخائر چند ہفتوں کی درآمدات تک محدود ہو گئے تھے‘ بینک لیٹر آف کریڈٹس کی تصدیق سے گریز کر رہے تھے اور بیرونی قرضوں کی ادائیگی سب سے بڑا چیلنج بن چکی تھی۔ لیکن اب عالمی ریٹنگ ایجنسی ایس اینڈ پی گلوبل نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ کو منفی بی سے بڑھا کر بی کر دیا ہے جو ایک مثبت پیش رفت ہے۔ یہ مسلسل دوسرا سال ہے کہ پاکستان کی ریٹنگ میں بہتری آئی ہے۔ 2025ء میں پاکستان کی ریٹنگ CCC پلس سے منفی بی اور اب B تک پہنچ چکی ہے۔ کریڈٹ ریٹنگ کسی ملک کی مالی ساکھ کا پیمانہ ہوتی ہے۔ دو سال پہلے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر چند ارب ڈالر تک گر گئے تھے جبکہ اب مجموعی ذخائر 20 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں۔ عام آدمی کے لیے اس ریٹنگ کا سب سے بڑا فائدہ درآمدی اخراجات میں کمی کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے۔ 2022ء اور 2023ء کے بحران کے دوران درآمد کنندگان کو ایل سی کنفرمیشن چارجز کی مد میں بھاری اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑے تھے۔ جب کسی ملک کی مالی ساکھ بہتر ہوتی ہے تو بین الاقوامی بینک تجارت کے لیے کم رسک پریمیم وصول کرتے ہیں‘ جس سے درآمدی لاگت کم ہو سکتی ہے اور قرضوں کی لاگت میں کمی ہو سکتی ہے۔ پاکستان کے مجموعی بیرونی قرضے اور واجبات تقریباً 130 سے 140 ارب ڈالر کے درمیان ہیں۔ اگر عالمی مالیاتی منڈیاں پاکستان کو کم خطرناک ملک سمجھنے لگیں تو حکومت اور پاکستانی بینک نسبتاً کم شرح سود پر فنڈنگ حاصل کر سکتے ہیں۔ عالمی سرمایہ کار کسی ملک میں سرمایہ لگانے سے پہلے اس کی کریڈٹ ریٹنگ کو دیکھتے ہیں۔ پاکستان اب بھی سرمایہ کاری کے درجے سے کافی نیچے ہے۔ عالمی معیار کے مطابق سرمایہ کاری کے قابل ممالک کی ریٹنگ BBB منفی یا اس سے اوپر ہوتی ہے‘ پاکستان ابھی بی کی سطح پر ہے۔ عالمی اداروں نے پاکستان کی سمت کو درست قرار دیا ہے لیکن منزل ابھی دور ہے۔کاروباری حلقے اور سرمایہ کار اس امید میں تھے کہ سٹیٹ بینک پالیسی ریٹ میں مزید کمی کرے گا تاکہ صنعت‘ تجارت اور تعمیراتی شعبے کو سہارا مل سکے لیکن سٹیٹ بینک نے شرح سود 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بظاہر یہ ایک معمول کا فیصلہ لگتا ہے مگر اس کے پیچھے خلیج کی صورتحال‘ تیل کی غیر مستحکم قیمتیں اور پاکستان کی کمزور معیشت کا گہرا تعلق ہے۔ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات اور خام تیل کی درآمدات تقریباً 16 ارب ڈالر ہیں جو کُل درآمدات کا تقریباً 27 فیصد بنتا ہے۔ ایسے میں خلیجی خطے میں جنگ یا کشیدگی کا مطلب ہے کہ تیل مزید مہنگا ہو سکتا ہے‘ بحری نقل وحمل کے اخراجات بڑھ سکتے ہیں اور انشورنس لاگت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ یہی وہ خدشات ہیں جو سٹیٹ بینک کو محتاط رہنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔ پاکستان 2023ء میں تاریخ کی بلند ترین شرح سود 22 فیصد تک پہنچ چکا تھا۔ اس کے بعد سٹیٹ بینک نے مختلف مراحل میں شرح سود میں تقریباً 10.5 فیصد پوائنٹس کی کمی کی اور اسے 11.5 فیصد تک لے آیا تاہم مہنگائی کا خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ مئی 2026ء میں افراطِ زر کی شرح 11.7 فیصد ریکارڈ کی گئی جو سٹیٹ بینک کے پانچ سے سات فیصد کے ہدف سے کہیں زیادہ ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ سٹیٹ بینک مستقبل کے خطرات کو نظرانداز کرنے کے لیے تیار نہیں۔خلیج کی جنگ کا ایک اور پہلو بھی ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان کو سالانہ 35 سے 40 ارب ڈالر کے قریب ترسیلاتِ زر موصول ہوتی ہیں اور نصف سے زیادہ خلیجی ممالک سے آتی ہیں۔ اگر اُس خطے میں کشیدگی طویل ہو جائے‘ معاشی سرگرمیاں متاثر ہوں یا تیل پیدا کرنے والے ممالک کی مالی پوزیشن دباؤ کا شکار ہو تو اس کے اثرات پاکستانی کارکنوں اور ترسیلاتِ زر پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ کم ترسیلاتِ زر اور مہنگا ایندھن پالیسی ریٹ پر دباؤ مزید بڑھا سکتے ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/212_71532147.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>گالی سے پیدا ہونے والی تحریک(سعود عثمانی )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-07-27/52372/58107553</link><pubDate>Mon, 27 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-07-27/52372/58107553</guid><description>شاید تاریخ میں پہلی بار ہوا کہ ایک بُرے لقب بلکہ گالی کے جواب میں ایک تحریک اُٹھ کھڑی ہوئی اور نوجوانوں کے دلوں کی دھڑکن بن گئی۔ دہلی میں نوجوانوں کے احتجاجی جلوسوں کا سلسلہ رکا نہیں اور تازہ ترین نتیجہ یہ ہے کہ بھارتی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ یہ نوجوانوں کا سب سے بڑا مطالبہ تھا‘ باقی مطالبات اتنے مشکل نہیں ہیں اور بظاہر وہ بھی مان لیے جائیں گے۔ مودی حکومت کی پوری تاریخ میں کسی عوامی مطالبے کے سامنے ڈھیر ہو جانے کی یہ پہلی مثال ہے۔ یہ ایک بڑا موڑ ہے اور ممکنہ طور پر نظام بدلنے کا ایک نیا راستہ بھی۔ دہلی کے بعد کولکتہ‘ پٹنہ اور کیرالا وغیرہ میں بھی احتجاج شروع ہو چکے ہیں۔بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریا کانت نے 15 مئی 2026ء کو جعلی ڈگری سے جڑے ایک مقدمے میں جب یہ ریمارکس دیے کہ کچھ بے روزگار نوجوان کاکروچ کی طرح ہیں جو میڈیا ‘ وکلا وغیرہ میں گھس جاتے ہیں‘ تو اُن کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ اس جملے سے بھارتی نوجوانوں میں کیسا غم وغصہ جنم لے گا۔ کوئی بھی نہیں سوچ سکتا تھا کہ اس جملے سے ایک تحریک اُٹھ کھڑی ہوگی۔ ایک طنز‘ ایک لقب اور ایک گالی نوجوانوں کی تحریک بن گئی۔ ردعمل کو دیکھتے ہوئے چیف جسٹس نے بات سنبھالنے کی کوشش کی اور کہا کہ یہ تبصرہ صرف جعلی ڈگری والوں کے لیے تھا‘ لیکن تیر کمان سے نکل چکا تھا۔ یہ بہت اہم بات ہے کہ بظاہر معمولی سی بات پر تیر کیوں کمان سے نکل جاتا ہے؟ جب معاشرے میں ظلم اور ناانصافی‘ سفارش اور رشوت اوپر سے نیچے تک سرایت کر جائے اور عام آدمی کے لیے زندگی اجیرن ہو جائے تو پھر وہ معاشرہ خس وخاشاک کے ایک ڈھیر پر بیٹھا ہوتا ہے۔ ہمارا معاشرہ بھی کوئی مختلف نہیں‘ یہ بھی خس وخاشاک کا ڈھیر ہے‘ کب کس چنگاری سے مشتعل ہو جائے‘ ہم نہیں جانتے۔16 مئی 2026ء کو ابھیجیت دیپکے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کاکروچ جنتا پارٹی کے قیام کا اعلان کیا۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) دراصل بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) پر طنز کے طور پر رکھا گیا نام تھا۔ ابھیجیت بنیادی طور پر ڈیجیٹل کمیونیکیشن سٹریٹجسٹ ہیں۔1995ء میں اورنگ آباد‘ مہاراشٹر میں پیدا ہونے والے اس نوجوان نے صحافت میں گریجویشن کے ساتھ امریکی بوسٹن یونیورسٹی سے پبلک ریلیشنز میں ماسٹرز کیا ہے۔ وہ دہلی کی عا م آدمی پارٹی میں رضاکارانہ شامل رہے اور دہلی اسمبلی الیکشن 2020ء میں طنزیہ مزاحیہ مہم یعنی میم کمپین میں انہی کا دماغ تھا۔ ابھیجیت دیپکے نے کہا کہ یہ روایتی پارٹی نہیں بلکہ ان نوجوانوں کی تنظیم ہے جو خود کو سیاست کے مرکزی دھارے سے الگ سمجھتے ہیں۔ نام سے لے کر پیغام تک سیاسی طنز اس جماعت کا سب سے بڑا ہتھیار تھا اور ہے۔ ابھجیت نے اپنے ڈیزائن بنانے کے لیے اے آئی ٹولز کا بھی استعمال کیا‘ صرف پانچ دن میں انسٹاگرام پر اس کے ایک کروڑ فالوورز ہو گئے اور 22 مئی تک یہ تعداد دو کروڑ کو پار کر گئی۔ طنزیہ طور پراختیار کیے گئے ایک لفظ نے ایک تحریک کی شکل اختیار کر لی۔سی جے پی نہ سیاسی پارٹی ہے نہ الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ ہے‘ نہ مذہبی جماعت ہے۔ فی الحال صرف دہلی تک محدود ہے۔ پارٹی نے منشور کے طور پر پانچ بڑے مقاصد رکھے ہیں۔ ان میں ریٹائرمنٹ کے بعد چیف جسٹس کو راجیہ سبھا یعنی قانون ساز اسمبلی میں نہ جانے دینا‘ ووٹر لسٹ سے نام کاٹنے پر الیکشن کمیشن پر غیر قانونی اقدام کا مقدمہ‘ خواتین کو 50 فیصد ریزرویشن دینا اور جماعت بدلنے والے لیڈروں پر ایوان کی رکنیت کی 20 سالہ پابندی لگائے جانے کے عزائم شامل ہیں۔ اس تحریک نے بھارتی حکومت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ دہلی میں جنتر منتر کے علاقے میں روز لاکھوں نوجوان جمع ہو رہے ہیں۔ یہ سب غیر مسلح ہیں‘ احتجاجی ہیں اور پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں کے تشدد کے باوجود اپنے مطالبات سے ہٹنے کو تیار نہیں۔ یہ مطالبات اور ان کا پس منظر بھی عجیب تھا۔ بس وہی چھوٹی سی چنگاری والی بات ہے۔ہوا یہ کہ میڈیکل کے داخلہ ٹیسٹوں میں پیپر لیک ہوئے۔ پیپر لیک اب بھارت اور پاکستان میں عام سی خبر ہے۔ لوگ بھی اس کے عادی ہو گئے ہیں‘ طالبعلم بھی اپنی حق تلفی پر خون کے گھونٹ پی کر چپ ہو رہتے ہیں۔ بھارت میں NEET UG کے نام سے اہلیت اور میڈیکل داخلے کا امتحان ہوتا ہے۔ اس سال مئی میں یہ امتحان ہوئے اور 23 لاکھ کے لگ بھگ طالبعلموں نے یہ امتحان دیا۔ پیپر لیکس کی تصدیق ہونے پر یہ ٹیسٹ کینسل ہوئے اور دوبارہ لیے گئے لیکن معاملہ صرف انہی امتحانات کا نہیں تھا‘ سبھی امتحانات میں یہ روز مرہ کا معمول ہے کہ اشرافیہ کے بچوں کو پہلے سے جوابات معلوم ہوتے ہیں اور وہی کامیاب ہوتے ہیں۔ یعنی صرف میڈیکل کے طالبعلم نہیں ہر شعبے میں نوجوانوں کی حق تلفی ہو رہی ہے۔ سی جے پی کے مطابق ان حق تلفیوں سے 20 لاکھ سے زیادہ نوجوان متاثر ہوئے اور 12 بچے تو خود کشی کر چکے ہیں؛ چنانچہ دہلی میں جنتر منتر کے علاقے میں سی جے پی کی دعوت پر 20 جولائی کو لاکھوں نوجوان احتجاج کے لیے جمع ہو گئے۔ لیکن پہلے یہ بھی سمجھ لیں کہ جنتر منتر کیا ہے ؟ستمبر 2005ء میں ہم لوگ جے پور راجستھان‘ بھارت میں جنتر منتر کی عمارت کے سامنے کھڑے تھے۔ یہ جے پور کے راجہ سوائی جے سنگھ دوم کی 1723ء میں بنائی ہوئی ان پانچ عمارتوں میں سے ایک ہے جو مختلف بھارتی شہروں میں اجرام فلکی کے مشاہدے کے لیے بنائی گئی تھیں۔ یعنی رصدگاہ۔ ان میں سے ایک عمارت دہلی میں بھی ہے۔ کافی عرصے سے یہ مقام دھرنوں‘ ریلیوں‘ جلسوں اور جلوسوں کا مرکز ہے۔ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ پارلیمنٹ ہاؤس کے بالکل قریب سنسد مارگ‘ کناٹ پیلس نئی دہلی پر واقع ہے؛ چنانچہ یہاں لاکھوں کا اجتماع مسائل بھی پیدا کرتا ہے۔ابتدائی مطالبے یہ تھے کہ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان استعفیٰ دے‘ تمام امتحانات میں شفافیت اور این ٹی اے نظام میں اصلاح کی جائے‘ پیپر لیکس سے متاثرہ طلبہ کے لیے معاوضہ دیا جائے اور دوبارہ امتحان ٹھیک ہوں۔ نیز یہ کہ خود کشی کرنے والے طلبہ کے لیے انصاف ہو۔ پہلا مطالبہ منظور ہو چکا اور باقی کی بھی امید ہے۔ احتجاج میں مشہور سماجی کارکن سونم وانگ چُک بھی شامل ہوئے جنہوں نے 21 دن کی بھوک ہڑتال کی اور بعد میں طبیعت بگڑنے پر ہسپتال میں داخل کرنا پڑا۔ 20 جولائی کو دہلی پولیس نے شام پانچ بجے اجازت ختم ہونے کاکہہ کر سی جے پی کا &#39;&#39;سانسد چلو مارچ‘‘ روکا۔ مظاہرین نہیں رکے تو پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کے گولے پھینکے۔ کچھ وڈیوز میں خواتین مظاہرین کو تھپڑ مارنے کے مناظر بھی دیکھے گئے۔ سرکاری طور پر پولیس نے 60 مظاہرین کے زخمی ہونے کا بتایا جبکہ سی جے پی کے بانی کے مطابق 150 سے زیادہ مظاہرین ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ سوشل میڈیا وڈیوز میں پولیس کی بے رحمی صاف دیکھی جا سکتی ہے۔ نوجوانوں نے بھی اشتعال میں پولیس پر حملے کیے۔ پولیس کے مطابق 118 پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ اب احتجاج اور مظاہرے دوسرے شہروں تک پھیل چکے ہیں۔ یاد ہوگا کہ بنگلہ دیش میں اسی جین زی نے 14 سال سے حکمران حسینہ واجد کی حکومت الٹ دی تھی۔ بی جے پی ڈرتی ہے کہ یہاں بھی یہ سلسلہ قابو سے باہر نہ ہو جائے؛ چنانچہ سی جے پی کا سوشل اکاؤنٹ بلاک کر دیا گیا۔ اس سے پہلے مئی میں سابقہ اکاؤنٹ بھی بلاک کیا گیا تھا۔ ان مظاہروں پر &#39;&#39;پاکستانی‘‘ کا ٹیگ لگانے کا عمل بھی مسلسل جاری ہے۔ پیپر لیکس کا معاملہ اب پس منظر میں جاتا دکھائی دیتا ہے اور حکومت مخالف جماعتیں مثلاً کانگریس اس تحریک کو کیش کرنے کے لیے تیار ہیں۔کاکروچ پارٹی کا کیا مستقبل ہے‘ اس سے کون سی نئی جماعتیں پھوٹ سکتی ہیں جو سیاسی بھی ہوں؟ یہ سب مستقبل میں چھپا ہے۔ میں تو یہ جانتا ہوں کہ سی جے پی پہلی ایسی تحریک ہے جو ایک گالی سے پیدا ہوئی۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_81278520.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ایک قوم دو قانون(جاوید حفیظ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/javed-hafiz/2026-07-27/52373/89772393</link><pubDate>Mon, 27 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/javed-hafiz/2026-07-27/52373/89772393</guid><description>حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اللہ کے آخری رسولﷺ نے فرمایا کہ &#39;&#39;تم سے پہلے وہ قومیں تباہ کر دی گئیں جو معزز نسب سے متعلق شخص کو چوری کرنے پر چھوڑ دیتی تھیں‘‘ (یعنی شریف النسب اشخاص کے گناہوں سے اغماض کرتی تھیں)۔ اسی حدیث مبارکہ میں آگے فرمایا کہ چوری ثابت ہونے پر یہ اقوام محض کمزور لوگوں پر قانون کا نفاذ کرتی تھیں۔ مزید تاکید کیلئے فرمایا کہ خدا کی قسم میری بیٹی بھی چوری کرے تو اس کے بھی ہاتھ کاٹ دیے جائیں گے۔ یہ تھے اسلام کے دو اعلیٰ وارفع اصول جن کی وجہ سے دینِ حق نے مختصر عرصہ میں حیران کن فروغ پایا۔ اب آتے ہیں زمانہ حال کی جانب ۔وطن عزیز کی تشکیل اس لیے ہوئی تھی کہ ہم اپنی زندگی اسلامی اصولوں کے مطابق گزار سکیں لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم اپنے نصب العین سے بہت دور ہیں۔میں عمومی طور پر بین الاقوامی موضوعات پر لکھتا ہوں لیکن ہمارے داخلی حالات اور ان کی خرابیاں بھی خامہ فرسائی کا تقاضا کرتی ہیں۔ جس وزارت میں مجھے سالہا سال کام کرنے کا موقع ملا اس کے قریب ہی ایک بہت نمایاں اور فلک بوس عمارت ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہاں اشرافیہ کے بھی بہت خاص لوگ رہتے ہیں‘ عام آدمی اسے صرف دور سے دیکھ سکتا ہے۔ شاہراہِ دستور پر واقع یہ عمارت اگر واقعی اسم بامسمیٰ ہے تو اسے قانون کی پاسداری میں سب سے آگے ہونا چاہیے تھا مگر ایسا نہیں ہے۔ سی ڈی اے سے منظوری ہوٹل کی تعمیر کیلئے لی گئی لیکن وہاں بلند و بالا رہائشی عمارتیں تعمیر کر دی گئیں۔ کئی سال تک یہ عمارتیں بنتی رہیں لیکن متعلقہ اداروں نے عملاً آنکھیں بند کئے رکھیں۔ یہاں سے چند منٹ پیدل کی مسافت پر متعلقہ ادارے کا دفتر ہے لیکن کسی نے اس جانب دیکھنے کی زحمت نہیں کی۔اس عمارت میں سنا ہے کہ دو سو سے زائد اپارٹمنٹس ہیں‘ چار بیڈ روم کے فلیٹ کی قیمت بیس کروڑ یا اس سے زائد بتائی جاتی ہے اور ایسے اپارٹمنٹ کے مالک کو ماہانہ چھ سے آٹھ لاکھ روپے کرایہ مل سکتا ہے۔ مجھے چک شہزاد اور پارک روڈ والی فارم ہائوس سکیم یاد آ گئی جس کا مقصد اسلام آباد کے مکینوں کیلئے سبزیاں اور فروٹ مہیا کرنا تھا‘ لیکن یہ خوردنی اشیا اب ترنول اور فتح جنگ سے آتی ہیں جبکہ پارک روڈ پر اشرافیہ نے محلات تعمیر کر لیے‘ ابتدائی منظور شدہ نقشے میں جن کی کوئی گنجائش نہ تھی۔ ہمارے ہاں اشرافیہ کو بخوبی علم ہے کہ ہر غیر قانونی کام کو بالآخر ریگولرائز کرایا جا سکتا ہے‘ یہی سوچ ہمیں شاہراہِ دستور کی مذکورہ عمارت میں بھی نظر آتی ہے۔مبینہ طور پر بلڈر نے زمین کی قیمت کے ساڑھے سترہ ارب روپے سی ڈی اے کو ادا کرنا تھے لیکن صرف دو ارب 90کروڑ روپے ادا کئے گئے۔ شنید ہے کہ یہاں ایک سابق چیف جسٹس کا بھی فلیٹ ہے‘ وہی جو دوسروں کو وعظ و نصیحت کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔ ایک دفعہ کسی لوئر عدالت کی انسپکشن کیلئے گئے‘ جج صاحب کی میز پر موبائل فون پڑا دیکھا تو اٹھا کر دور پھینک دیا کہ تمہارا کام مقدمات سُن کر انصاف فراہم کرنا ہے‘ فون سننا ہے تو کہیں اور جا کر سنو۔ 2019ء میں سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ بلڈر سے بقیہ رقم وصول کی جائے اور فلیٹ مالکان کے حقوق کا احترام کیا جائے مگر کیا اس فیصلے سے زمین کی غیر قانونی تعمیرات کو تحفظ مل جاتا ہے؟ یہاں مجھے لاہور میں فیروزپور روڈ پر کلمہ چوک کے پاس بنائی گئی وہ فلک بوس عمارت کا کیس یاد آتا ہے جس میں کئی منزلیں غیر قانونی طور پر اضافی بنا دی گئی تھیں۔ سپریم کورٹ کے جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے فیصلہ دیا کہ تمام غیر قانونی منزلیں گرا دی جائیں اور اس فیصلے پر عمل ہوا۔ یہاں مجھے نسلہ ٹاور کراچی کا کیس بھی یاد آ رہا‘ جو مبینہ طور پر ایسی زمین پر تعمیر ہوا جہاں سروس روڈ بننا تھی اور چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ عمارت غیر قانونی بنی تھی‘ اسے گرا دیا جائے اور بلڈر تین ماہ کے اندر فلیٹ مالکان کے پیسے واپس کرے۔ بعد میں بلڈر کا انتقال ہو گیا اور فلیٹ مالکان در بدر ہو گئے۔ حال ہی میں آئینی عدالت نے نسلہ ٹاور کی مسماری کا سبب بننے والے سپریم کورٹ کے احکامات واپس لے لیے ہیں‘ البتہ آئینی عدالت کا کہنا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کا اختیار بنیادی طور پر صوبائی حکومت کا ہے‘ عدلیہ کا نہیں۔ فیصلہ یہ بھی صحیح ہے۔ اصل قصور تو کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا تھا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا اتھارٹی کے ذمہ داران کو کٹہرے میں کھڑا کیا گیا؟ بات یہ ہے کہ نسلہ ٹاور میں اشرافیہ نہیں رہتی تھی لہٰذا انہیں اپنے ناکردہ گناہوں کی سزا مل گئی۔ البتہ شاہراہِ دستور کے مکینوں کو نکالنے کا نوٹس خود وزیراعظم نے لیا۔ کوئی دو مہینے پہلے وزیراعظم نے کابینہ کی ہائی لیول کمیٹی بنائی کہ معاملے کی تہہ تک جائے۔ ایک انگریزی کہاوت ہے کہ جب کوئی فیصلہ نہ کرنا ہو تو کمیٹی بنا دو؛ چنانچہ وہی ہوا‘ ایک جے آئی ٹی بنا دی گئی۔ کیا اس کا کچھ نتیجہ بھی نکلے گا؟ میں نے جس بھی شخص سے یہ سوال کیا اس کا جواب تھا کہ صفر نتیجہ نکلے گا۔اب آتے ہیں اسلام آباد کے ایک مال کی جانب جہاں بلڈر نے تین اضافی فلور خلافِ قانون بنا لیے۔2021ء میں اسلام آباد کی احتساب عدالت نے فیصلہ دیا کہ غیر قانونی فلور بنانے کی پاداش میں مالک کو سات سال قید ہو گی۔ دو متعلقہ افسروں کو پانچ اور تین سال قید کی سزا سنائی گئی۔ جرمانہ اس کے علاوہ تھا۔ معاملہ اپیل میں گیا تو سزائیں معاف ہو گئیں۔ مالک نے شروع میں سارا ملبہ سرکاری افسروں پر ڈال دیا کہ منظوری متعلقہ ادارے نے دی تھی۔ بعد میں وہ افسر بھی بری ہو گئے۔ کہا گیا کہ قصور کسی فرد کا نہیں تھا بلکہ ادارے کا تھا۔ مال کی عمارت اسلام آباد کے ایک پوش سیکٹر میں آج بھی پوری شان وشوکت سے کھڑی ہے۔ کسی مغربی ملک میں یہ واقعہ پیش آتا تو طوفان کھڑا ہو جاتا‘ متعلقہ وزیر کو استعفیٰ دینا پڑ جاتا لیکن ہم مٹی پائو والی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ یہاں قانون اشرافیہ کے ساتھ خصوصی سلوک کرتا ہے۔2017ء میں کوئٹہ میں دن دہاڑے عطا اللہ نامی ٹریفک کانسٹیبل کو ایک ایم پی اے کی گاڑی نے کچل دیا لیکن نہ ایم پی اے کو سزا ہوئی اور نہ ہی کانسٹیبل کی فیملی کو فوری مالی مدد ملی۔ 2021ء کی بات ہے کہ رات گئے اسلام آباد کی سرینگر ہائی وے پر ایک تیز رفتار گاڑی نے چار نوجوان کچل ڈالے۔ چاروں غریب گھرانوں سے تعلق رکھتے تھے اور اسلام آباد نوکری کی تلاش میں آئے تھے۔ معاملہ جلد ہی رفع دفع ہو گیا کیونکہ تیز رفتار گاڑی ایک اعلیٰ عہدے پر فائز خاتون کی تھی۔ کسی کو کوئی سزا نہیں ہوئی اور وہ خاتون بھی اپنی کرسی پر براجمان رہیں۔ چند مہینوں کی بات ہے کہ بری امام مزار کے نواح میں نورپور شاہاں میں قائم ایک کالونی کے مکانوں پر بلڈوزر پھیر دیے گئے۔ ضلعی ایڈمنسٹریشن نے یہ کارروائی تجاوزات ہٹانے کے نام پر کی۔ یہ کالونی پچھلے کوئی پچاس سال سے وہاں قائم تھی اور یہ وہ لوگ تھے جن کے ہاتھوں سے دارالحکومت آباد ہوا۔ ان غریبوں کی کالونی تو انتظامیہ کی کارروائی کا شکار ہو گئی مگر یہی انتظامیہ ان سیاسی شخصیات کے سامنے بے بس نظر آتی ہے جنہوں نے ایک یونیورسٹی کی اراضی پر قبضہ کیا تھا۔پاکستان کی بقا اسی میں ہے کہ یہاں قانون کی حکمرانی قائم ہو۔ غریب عوام کو انصاف مہیا کرنا اور اشرافیہ کو قانون کی گرفت میں لانا ہوگا۔ سو فیصد میرٹ لاگو کرنا ہو گا تاکہ ہمارا مستقبل اُن بستیوں والا نہ ہو جن کا حال مذکورہ بالا حدیث شریف میں بیان کیا گیا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_85338835.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>امیر العظیم کی رحلت(علامہ ابتسام الہٰی ظہیر )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-07-27/52374/90159249</link><pubDate>Mon, 27 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-07-27/52374/90159249</guid><description>دنیا میں جو شخص بھی آیا ہے اس کو ایک دن اس دنیا سے جانا ہو گا۔ اس زمین پر شر انگیزی اور فساد برپا کرنے والے لوگ اپنے بُرے اعمال کی وجہ سے بُرے ناموں سے یاد کیے جاتے ہیں جبکہ بہت سے لوگ اپنے اچھے کردار اور مثبت طرزِ زندگی کی وجہ سے سماج پر گہرے نقوش چھوڑ جاتے ہیں۔ جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل امیر العظیم بھی انہی شخصیات میں شامل تھے جنہوں نے اپنے کردار و عمل سے سماج پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ امیر العظیم 1958ء میں پیدا ہوئے اور 22 جولائی 2026ء کو 68 برس کی زندگی گزارنے کے بعد اس دنیائے فانی سے کوچ کر گئے۔ اس دوران انہوں نے بہت سی دینی تحریکات میں مؤثر انداز میں حصہ لیا۔ اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم اعلیٰ رہے اور سٹوڈنٹس یونین پر لگنے والی پابندیوں کے خلاف کردار ادا کیا۔ جسٹس افتخار چودھری کی معزولی کے بعد جب ان کو بحال کرنے کے لیے تحریک چلائی گئی تو اس میں بہت سے دیگر رہنمائوں کے ساتھ انہوں نے متحرک اور نمایاں کردار ادا کیا اور اس دوران شدید زخمی بھی ہوئے۔ قید وبند کی صعوبتوں کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا اور سماج میں مختلف حوالوں سے اپنی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے ادا کرتے رہے۔ایک متحرک اور نمایاں رہنما ہونے کے باوجود انہوں نے ہمیشہ عاجزی و انکساری کے راستے کو اختیار کیا اور کبھی بھی کسی کو حقیر نہیں جانا۔ ہر ایک کے ساتھ گرم جوشی سے پیش آتے رہے اور جس حد تک ممکن ہوا‘ لوگوں کے کام آنے کی کوشش کرتے رہے۔ جو شخص بھی ان کے طرزِ زندگی کو دیکھتا‘ ان سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔ مجھے بھی برسوں سے ان کو نہایت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ جب بھی ملاقات ہوتی وہ انتہائی خوش اخلاقی سے پیش آتے اور معاشرے میں مثبت تبدیلی کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے ہمیشہ پُرعزم ہوتے۔ امیر العظیم جماعت اسلامی کے سابق امیر قاضی حسین احمد مرحوم کے قابلِ اعتماد ساتھیوں میں شامل رہے اور ایک مرتبہ ان کے ہمراہ میری رہائش گاہ پر بھی تشریف لائے۔ امیر العظیم سراج الحق صاحب کے بھی بااعتماد ساتھیوں میں شامل تھے اور ان کے ہمراہ بھی مرکز قرآن وسنہ لارنس روڈ پر ہونے والی تقریب ختم بخاری شریف میں تشریف لائے۔ چند ماہ قبل مرکز قرآن و سنہ لارنس روڈ لاہور میں دفاعِ شعائر اللہ کے حوالے سے ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس تقریب میں ملک کے دیگر قومی رہنمائوں کے ساتھ امیر العظیم کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ اس موقع پر بھی انہوں نے اپنے جذبات کا نہایت خوبصورت انداز سے اظہار کیا اور دفاعِ شعائر اللہ کے حوالے سے ہر قسم کی قربانی دینے کیلئے تیار رہنے کا اعلان کر کے شرکا اور سامعین کو یکسو ہونے کی تلقین کی۔ ان کی تقریر سادہ اور دلنشین ہوتی تھی۔ وہ بغیر کسی تکلف کے اپنے ما فی الضمیر کا اظہار بڑے مؤثر انداز میں کر دیا کرتے تھے۔ ان کا لہجہ ہر قسم کے تصنع اور بناوٹ سے پاک تھا جس کو سن کر ہر ذی شعور انسان ان کا مزید قدردان بن جاتا تھا۔امیر العظیم مختلف انتخابی معرکوں میں حصہ بھی لیتے رہے۔ گو ان کو اس حوالے سے نمایاں کامیابی نہ مل سکی لیکن انہوں نے فتح اور شکست سے بے نیاز ہو کر اپنی جدوجہد جاری رکھی۔ 2018ء کے الیکشن میں متحدہ مجلس عمل کے لاہور سے قومی اسمبلی کے امیدوار تھے۔ مجھے ان کے جلسے میں شرکت اور خطاب کرنے کا موقع ملا۔ انہوں نے اس موقع پر بھی بڑی مؤثر اور مدلل گفتگو کی۔ ان کی انتخابی تقریر نظریاتی کارکنان کے لیے حوصلے اور امید کا باعث تھی۔ عوام کے ساتھ غلط بیانی کرنے کے بجائے وہ ان کو ملک و ملت کے لیے کام کرنے کی دعوت دیتے۔ میں نے ہمیشہ ان کو مستقل مزاجی کے ساتھ بغیر کسی لچک کے اپنے مؤقف کو پیش کرتے دیکھا۔ ان کو عوامی مسائل کے حل سے بہت دلچسپی تھی اور جب بھی کبھی کوئی شخص اپنا مسئلہ ان کے سامنے جا کر بیان کرتا تو اس مسئلے کو حل کرنے کی بھرپور انداز سے کوشش کرتے اور اپنے روابط کو اس سلسلے میں بھرپور طریقے سے استعمال کرتے۔ وہ غریبوں کے ہمدرد اور مظلوموں کا درد رکھنے والے تھے۔ کسی عام آدمی کا کام بھی بڑی دلچسپی سے کرانے کی کوشش کرتے اور ان کے کاموں کے حوالے سے رابطہ کرنے میں کوئی جھجھک محسوس نہ کرتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ بعض لوگوں کے مسائل کو حل کرانے کے لیے انہوں نے مجھ سے بھی رابطہ کیا۔ ان کے یہ روابط انسانیت کے لیے ان کے دل میں موجود احساسات کو واضح کیا کرتے تھے۔ وہ ملک کی ایک معروف سیاسی جماعت کے جنرل سیکرٹری کی حیثیت سے دنیا سے رخصت ہوئے لیکن انہوں نے کبھی بھی ایک سینئر رہنما کے طرزِ زندگی کو اپنانے کی کوشش نہیں کی بلکہ ہمیشہ کارکن کے روپ میں نظر آتے۔ کئی مرتبہ جلسوں‘ اجتماعات اور پروگراموں میں بغیر کسی پروٹوکول کے تن تنہا آ کر اس بات کو ثابت کرتے کہ عوامی خدمت کے لیے ہٹو بچو کے نعرے لگانا کچھ ضروری نہیں ہے۔ امیر العظیم کی طبیعت میں تحمل‘ بردباری اور متانت پائی جاتی تھی۔ وہ جوش میں بھی کبھی آپے سے باہر نہیں ہوتے تھے۔ ان کو اختلاف کرنے کا ڈھنگ تھا اور کبھی بھی بڑے سے بڑے مخالف کی پگڑی اچھالتے ہوئے نظر نہیں آتے تھے۔ وہ مخالفت میں بھی رواداری اور دلیل کے قائل تھے اور مدلل انداز میں اپنے مؤقف کو لوگوں کے سامنے پیش کرتے تھے۔ ایک سینئر رہنما ہونے کے باوجود جس سادگی سے انہوں نے اپنی زندگی کے ایام گزارے یقینا وہ دوسرے رہنمائوں کے لیے ایک مثال ہے۔ ان کی انکساری اور اخلاق کو دیکھ کر کبھی یہ محسوس نہیں ہوتا تھا کہ وہ عوام کی ایک بڑی تعداد کے دلوں میں گھر کیے ہوئے ہیں۔ انہوں نے جس بہادری اور خندہ پیشانی سے 19 برس تک ایک تکلیف دہ بیماری کو برداشت کیا‘ وہ بھی ان کی شخصیت کی عظمت کی دلیل ہے۔امیر العظیم کے جنازہ میں ہر طبقۂ زندگی کے لوگوں کی کثیر تعداد نے شرکت کرکے واضح کیا کہ وہ واقعتاً لوگوں کے دلوں میں بستے تھے۔ ان کے جنازے میں جہاں سیاسی و مذہبی رہنمائوں کی کثیر تعداد شریک تھی‘ وہیں عوام کا بھی جم غفیر تھا۔ ہر شخص ایک منکسر المزاج‘ بااخلاق‘ بردبار اور متواضع شخصیت کے انتقال پر شدید غمزدہ تھا۔ امیر العظیم کی رحلت کے دن میں نے بھی محسوس کیا کہ گویا ایک قریبی عزیز آج دنیا سے رخصت ہو گیا ہے۔ ان کی شائستگی‘ خوش اخلاقی‘ متانت اور تحمل کے بہت سے واقعات دماغ کی سکرین پر چلنے لگے اور یوں محسوس ہوا کہ ہم ایک ہر دلعزیز اور قیمتی انسان سے محروم ہوگئے ہیں۔امیر العظیم کی وفات نے ایک مرتبہ پھر اس حقیقت کو واضح کیا ہے کہ اس دنیا میں جو شخص بھی آیا ہے اس کوجلد یا بدیر اس دنیائے فانی سے کوچ کرنا ہوگا۔ وقتِ مقررہ کے آ جانے کے بعد کوئی بھی شخص اس دنیا میں نہیں رہ سکتا۔ انسان اپنے ہمراہ مال و دولت‘ عہدہ ومنصب اور شہرت کو نہیں بلکہ اچھے اعمال ہی کو لے کر جائے گا۔ ملک و ملت کی محبت اور خدمتِ انسانیت کے جذبے سے سرشار امیر العظیم کی وفات جہاں جماعتِ اسلامی کے رہنمائوں اور کارکنان کے لیے بہت بڑا دھچکا ہے‘ وہیں مختلف طبقاتِ زندگی نے بھی ایک بڑے صدمے کو محسوس کیا ہے۔ یقینا امیر العظیم کی وفات سے ایک بہت بڑا خلا پیدا ہوا ہے جو طویل مدت تک پُر نہ ہو سکے گا۔ ان کے انتقال سے سماج ایک ایسی شخصیت سے محروم ہو گیا جو اتحاد‘ رواداری‘ سنجیدگی‘ اخلاق اور سادگی کا نہ صرف یہ کہ درس دیتی بلکہ خود ان اوصاف کو اپنی ذات میں جمع کیے ہوئے تھی۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ان کی بشری خطائوں کو معاف فرمائے‘ ان کے درجات کو بلند کرے اور ان کے پسماندگان اور وابستگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے‘ آمین!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_19740082.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>