<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>پٹرولیم، تاریخی اضافہ اور اثرات(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-04/11073</link><pubDate>Sat, 04 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-04/11073</guid><description>ایران جنگ کی وجہ سے تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافے کو جواز بنا کر حکومت نے دوسری بار تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ کیا ہے۔ گزشتہ روز پٹرول کی قیمت میں فی لٹر 137 روپے 23 پیسے اور ڈیزل کی قیمت میں 184 روپے 49 پیسے اضافہ کیا گیا‘ اس سے قبل سات مارچ کو پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 55‘ 55 روپے فی لٹر اضافہ کیا گیا تھا۔ یوں مجموعی طور پر ایک ماہ کے دوران پٹرول کی قیمت میں 192.23 روپے اور ڈیزل کی قیمت میں 239.49 روپے کا بھاری اضافہ کیا گیا ہے۔ یہ اضافہ ایک ماہ پہلے کے مقابلے میں پٹرول کی قیمت میں 72 فیصد اور ڈیزل کی قیمت میں 85 فیصد بنتا ہے۔ اضافے کی یہ شرح عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے سے زیادہ ہے۔ جس روز امریکہ اور اسرائیل نے ایرا ن پر حملہ کیا‘ عالمی منڈی میں تیل کے سودے 72 ڈالر فی بیرل کے قریب ہوئے جبکہ تین اپریل کو تیل کی قیمت 109 ڈالر فی بیرل کے قریب تھی۔ یعنی تھوڑے بہت فرق کے ساتھ اس ایک ماہ کے دوران تیل کی قیمتوں میں ہونے والا اضافہ تقریباً54 فیصد بنتا ہے۔

مشرق وسطیٰ کے بحران کے توانائی کی عالمی قیمتوں پر اثرات سے انکار ممکن نہیں تاہم ملکی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر عائد بھاری ٹیکس صورتحال کو مزید گمبھیر اور ناقابلِ برداشت بنا دیتے ہیں۔ پٹرول کی نئی قیمت بھی بین الاقوامی مارکیٹ میں اضافے سے زیادہ اس لیے ہے کہ پٹرول پر عائد لیوی کو 106 روپے سے 161 روپے فی لٹر تک بڑھا دیا گیا ہے‘ یعنی 55 روپے فی لٹر کا اضافہ صرف اس مد میں جبکہ 24 روپے 11 پیسے فی لٹر سے زیادہ کسٹم ڈیوٹی اس کے علاوہ ہے۔ یہ دونوں ٹیکس خالصتاً وفاقی حکومت کی آمدن کیلئے ہیں؛ چنانچہ عام شہری جب موٹر سائیکل یا گاڑی میں پٹرول ڈلواتا ہے تو ان دو مدات میں 184 روپے 72 پیسے نقد حکومت کو ادا کرتا ہے۔ یہ رقم اُس خزانے میں جائے گی جس کا بے رحمانہ استعمال اس عام شہری کیلئے ایک بڑا سوال نشان ہے۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ملکی تاریخ کے بلند ترین اضافے کے بعد حکومت کی جانب سے عوام کے لیے مختلف رعایتوں کا عندیہ دیا گیا ہے۔ اصولی طور پر عوام کو کوئی رعایت دینے کا بہترین طریقہ یہ ہو سکتا تھا کہ حکومت پٹرول اور ڈیزل کی مد میں اپنی آمدنی کو مزید بڑھانے سے اجتناب کرتی۔ سپین کی حکومت کے ایک احسن فیصلے کی مثال دی جا سکتی ہے کہ اُس ملک میں 21 فیصد ویلیو ایڈڈ ٹیکس نافذ ہے۔
وہاں حکومت کے لیے جاری عالمی بحران کے پیش نظر تیل کی قیمت بڑھانا ناگزیر ہوا تو اُس نے یہ بوجھ عوام پر ڈالنے کے بجائے ویلیو ایڈڈ ٹیکس کی شرح 21 فیصد سے کم کر کے 10 فیصد کر دی‘ یعنی اپنی آمدن کم کر لی لیکن اپنے شہریوں پر بوجھ نہیں ڈالا۔ ہمارے ہاں اس کے برعکس ہو رہا ہے اورعالمی سطح پر توانائی کی بڑھتی قیمتیں حکومت کے لیے آمدنی بڑھانے کا ذریعہ بن چکی ہیں۔ حکومتی شاہ خرچیاں جوں کی توں ہیں اور انہیں مالی سہارا دینے کے لیے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر ٹیکس میں اضافہ حکومت کے لیے آسان آلہ کار بن چکا ہے۔ مگر یاد رہے کہ آخری تنکا اونٹ کی کمر توڑتا ہے۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔ اب اس کے بعد مہنگائی کے طوفان کا انتظار ہے جو پہاڑی علاقوں کے سیلاب کی طرح اوٹ میں چھپا ٹوٹ پڑنے کو ہے۔
عالمی ادارے خوراک کی قیمتوں میں نمایاں اضافے سے خبردار کر چکے ہیں مگر ملکی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں بے بہا اضافے کے اثرات صرف خوراک کی قیمتوں تک محدود نہیں رہیں گے۔ ان حالات میں حکومت کی اعلان کردہ ٹارگٹڈ سبسڈی کے اثرات کس حد تک مؤثر ثابت ہوتے ہیں اور عوام کے معاشی دباؤ میں کیا واقعی کوئی کمی واقع ہوتی ہے؟ یہ اس وقت کا سب سے اہم سوال ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مہنگائی اور منافع خوری(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-04/11072</link><pubDate>Sat, 04 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-04/11072</guid><description>وفاقی ادارۂ شماریات کے مطابق دو اپریل کو ختم ہونے والے کاروباری ہفتے کے دوران ملک میں ہفتہ وار مہنگائی کی شرح میں سالانہ بنیادوں پر 9.12 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ جن اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ان میں ایل پی جی‘ چکن‘ انڈے‘ دالیں‘ دودھ اور کپڑے سرفہرست ہیں۔ معاشی ماہرین کے مطابق مہنگائی میں اضافے کی بنیادی وجوہات میں توانائی کی بلند قیمتیں‘ درآمدی انحصار‘ منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی‘ اور سب سے بڑھ کر عوام کی کمزور معاشی سکت شامل ہیں جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے معاشی اثرات بھی مزید گہرے ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ جنگ کے معاشی اثرات اپنی جگہ‘ اس وقت منافع خور عناصر نے بھی عوام کا جینا دوبھر کر رکھا ہے۔ ایل پی جی اور اشیائے خورونوش کی مصنوعی قلت پیدا کر کے من چاہے نرخوں کی وصولی کے بعد اب ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بھی 25فیصد اضافہ کیا جا چکا ہے۔

منافع خوروں کو نکیل ڈالے بغیر مصنوعی مہنگائی کا خاتمہ ناممکن ہے۔ حکومت جنگی صورتحال کو مہنگائی میں اس ہوشربا اضافے کا ذمہ دار ٹھہرا کر اپنے فرائض اور ذمہ داریوں سے غافل نہیں ہو سکتی بلکہ ان حالات میں حکومت پر دوہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ مہنگائی کے مستقل تدارک کیلئے ایک ایسا جامع لائحہ عمل ناگزیر ہے جس میں ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری کے خلاف سخت کارروائی‘ مقامی پیداوار میں اضافہ‘ زرعی شعبے کو سہولتوں کی فراہمی اور سب سے بڑھ کر عوام کی آمدن میں حقیقی اضافہ شامل ہو۔ </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>تجارتی خسارہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-04/11071</link><pubDate>Sat, 04 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-04/11071</guid><description>سٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ کے دوران ملک کا تجارتی خسارہ تقریباً 23 فیصد اضافے کیساتھ 27ارب 81کروڑ ڈالر سے زائد ہو گیا ہے‘ جو گزشتہ برس 22 ارب 67کروڑ ڈالر تھا۔ تجارتی خسارے میں اضافے کی بنیادی وجہ درآمدات میں بے تحاشا اضافہ اور برآمدات میں کمی ہے۔ رواں مالی سال‘ جولائی تا مارچ کے دوران ملک کی مجموعی برآمدات 22ارب 73کروڑ ڈالر رہیں جبکہ 50ارب 54ڈالر سے زائد کی اشیا درآمد کی گئیں۔ یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ ملک کا تجارتی توازن واضح طور پر درآمدات کے حق میں جھکا ہوا ہے۔ تجارتی خسارے میں اضافے کا یہ رجحان وقتی یا اتفاقی نہیں بلکہ گزشتہ کئی سال سے تسلسل کیساتھ جاری ہے‘ جس پر حکومتی توجہ نہ ہونے کے برابر ہے۔

برآمدات میں اضافے اور درآمدات پر کنٹرول کے بغیر نہ تو تجارتی خسارے پر قابو پایا جا سکتا ہے اور نہ ہی معیشت کو ترقی کی جانب گامزن کیا جا سکتا ہے۔ اس کیلئے حکومت کو اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔ موجودہ علاقائی و عالمی صورتحال بھی جامع عملی اقدامات کی متقاضی ہے۔ پاکستان اپنے جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے عالمی تجارت میں اضافے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ ضروری ہے کہ تجارتی توازن کو اپنے حق میں کرنے کیلئے برآمدی صنعتوں پر خصوصی توجہ دی جائے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>لیڈر یا ریاست؟(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-04-04/51702/34209976</link><pubDate>Sat, 04 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-04-04/51702/34209976</guid><description>لیڈر ریاست سے بڑا ہو جائے تو دونوں میں سے کوئی ایک ہی باقی رہ سکتا ہے۔جب کو ئی فرد یہ گمان کرے کہ اُس کا وجود ریاست سے زیادہ اہم ہے یا کوئی گروہ یہ خیال کرے کہ اسے منزل نہیں راہنما چاہیے تو جان لیجیے کہ لیڈر ریاست سے بڑا ہو رہا ہے۔ معاملہ یہاں تک پہنچ جائے تو ایسا گروہ اُس وفا داری کا رخ لیڈر کی طرف موڑ دیتا ہے جس کی حقیقی مستحق ریاست ہوتی ہے۔ پھر اسے لیڈر کے بغیر ریاست کی کامیابی ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ ریاست کی کامیابیاں پھر اس کے دل ودماغ کا بوجھ بنتی چلی جاتی ہیں۔ وہ لیڈر کے بغیر ریاست کے وجود کو بے معنی سمجھنے لگتا ہے۔ اس گروہ کو ریاست اور لیڈر میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہو تو اس کا انتخاب لیڈر ہو تا ہے۔شیخ مجیب الرحمن کو اس زاویۂ نظر سے دیکھیے۔ شیخ صاحب ریاست سے بڑے ہو گئے تھے۔ ان کو اور ان کے عشاق کو پاکستان اور لیڈر میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا تھا۔ لیڈر کے انتخاب کا مطلب یہ تھاکہ ملک کا دولخت ہونا ناگزیر ہے۔ انہوں نے ریاست کی تقسیم کو قبول کر لیا‘ لیڈر کو نہیں چھوڑا۔ اس باب میں دیگر زاویہ ہائے نظر کو میں نظر انداز نہیں کر رہا۔ اگر عوامی لیگ انتخاب جیت گئی تھی تو ریاست کی باگ ڈور اسے سونپ دی جانی چاہیے تھی۔ ریاست نے لیکن اگر کسی مرحلے پر اپنی ذمہ داری ادا نہیں کی تو کیا لیڈر کو ریاست سے بڑا ہو جانا چاہیے تھا؟ اس کا جواب اثبات میں نہیں دیا جا سکتا۔ آج 4 اپریل ہے۔ ہم آج بھٹو صاحب کو یاد کرتے ہیں کہ اسی دن انہیں پھانسی پر لٹکایا گیا تھا۔ اس وقت بھی مقدمہ وہی تھا: ریاست بمقابلہ لیڈر۔ پیپلز پارٹی بالخصوص سندھ کے عوام ریاست کو بھٹو صاحب کا قاتل سمجھتے تھے۔ جذبات تھمنے کو نہیں آ رہے تھے۔ عوامی لیگ کی طرح بھٹو خاندان اور پیپلز پارٹی کو کسی ایک کا انتخاب کرنا تھا۔ لیڈر یا ریاست؟ مرتضیٰ بھٹو نے لیڈر کا انتخاب کیا اور بینظیر بھٹو نے ریاست کا۔ ریاست کے دستور اور قانون کو مان کر اس کی حدود میں رہتے ہوئے سیاسی جدوجہد کا فیصلہ کیا۔ سپہ سالار کو تمغۂ جمہوریت سے نوازا۔ پاکستان کے میزائل پروگرام کو آگے بڑھایا۔ لیڈر اور باپ پر ریاست کو ترجیح دی۔ بے نظیر بھٹو  کو بھی جب راولپنڈی میں قتل کیا گیا تو پرانے زخم ہرے ہو گئے۔ اس موقع پر آصف زرداری صاحب نے ریاست کا انتخاب کیا اور &#39;پاکستان کھپے‘ کا نعرہ لگایا۔ دوسری طرف مرتضیٰ بھٹو سیاسی لاوارث قرار پائے۔لیڈروں پر یہ وقت آتا ہے کہ انہیں اپنی ذات کے حصار سے نکلنا پڑتا ہے۔ نواز شریف صاحب کو بھی ریاست نے جہاز اغوا کا مجرم ٹھیراتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی۔ &#39;مجھے کیوں نکالا‘ کا شکوہ ساری قوم نے سنا۔ لیڈر نے مشکلات کے باوجود خو کو ریاست سے بڑا نہیں سمجھا۔ ولی خان نے پختون قومیت کی سیاست کی۔ راولپنڈی کے لیاقت باغ سے اپنی کارکنوں کی لاشیں اٹھائیں۔ یہ موقع تھا کہ وہ قومیت کے پرچم کو ریاست سے اونچا کر دیتے لیکن انہوں نے خود کو ریاست سے بڑا نہیں ہو نے دیا۔ یہ مرحلہ کم وبیش ہر  لیڈر کی سیاسی زندگی میں کم ازکم ایک بار ضرور آتا ہے۔ یہی لیڈر کا اصل امتحان ہوتا ہے۔سیاستدان غلطیاں کرتے ہیں اور ریاست بھی۔ ان کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔ اگر اصلاح کی غرض سے ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ ایک کی غلطی کو مگر دوسری غلطی کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔ ریاست کا مفاد بہرصورت مقدم رہتا ہے۔ یہ کلٹ میں ہوتا ہے کہ لیڈر مذہب اور ریاست سے بڑا ہو جاتا ہے۔ ان کے سامنے قرآن پیش کیا جاتا ہے مگر مقلدِ محض اپنے راہنما کی بات کو حرفِ آخر سمجھتا ہے۔  میں نے اپنی آنکھوں سے یہ سب کچھ دیکھا اور پڑھا ہے۔ یہی سیاست میں بھی ہوتا ہے۔ ریاست لوگوں کے لیے بے معنی ہو جاتی ہے اگر ان کا قائد اقتدار میں نہ ہو۔مجھے لگتا ہے کہ آج پھر پاکستان میں کئی ایسے گروہ پیدا ہو گئے ہیں جو اپنے لیڈر کو پاکستان پر ترجیح دیتے ہیں۔ یہی ہیں جو کبھی ہتھیار اٹھاتے ہیں اور کبھی سوشل میڈیا پر پاکستان کے خلاف زہر اگلتے ہیں۔ آج پاکستان عالمی سیاست میں ایک قابلِ ذکر کردار کا حامل ہے۔ یہ کردار کتنا نمایاں ہے‘ اس کا اندازہ یوں کیا جا سکتا ہے کہ بھارت میں صفِ ماتم بچھی ہوئی ہے۔ بھارت کا یہ ردعمل خود ایک پیمانہ ہے کہ یہ پاکستان کی ریاست کا پروپیگنڈا نہیں‘ امرِ واقعہ ہے۔ پاکستان آج دنیا کا واحد ملک ہے جس کا احترام ایران کو ہے اور امریکہ کو بھی۔ یہ توازن قائم رکھنا آسان نہیں۔ ایک گروہ مگر ایسا ہے کہ جسے یہ کامیابی کھٹک رہی ہے۔ اس کا بس نہیں چلتا کہ وہ بازی الٹ دے۔ وہ البتہ پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کر سکتا ہے کہ اس فن میں طاق ہے۔ ایسا ہی ایک گروہ وہ بھی ہے‘ پاکستان کے مقابلے میں جو طالبان کے ساتھ کھڑا ہے۔ ان کا مسلک ان کی نظر میں ریاست سے بڑا ہے۔ایک گروہ کا لیڈر رہا نہیں ہو رہا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ جس پاکستان میں ان کا لیڈر اقتدار کے ایوانوں میں متمکن ہونے کے بجائے جیل کی چار دیواری میں قید ہو‘ وہ پاکستان ان کے کسی کام کا نہیں۔ یہ مقدمہ اگر درست ہو کہ لیڈر جرم بے گناہی میں قید ہے تو بھی اس کا یہ ردعمل قابلِ قبول نہیں ہو سکتا کہ پاکستان کی کامیابی اس کی نظر میں کھٹکنے لگے اور وہ اس کو ناکامی میں بدلنے کی خواہش کرے۔ وہ ریاست پاکستان کا مذاق اڑائیں اور پاکستان مخالف بیانیے کو ترجیح دینے لگیں۔ یہ رویہ دراصل بتا رہا ہے کہ ان کی نظر میں لیڈر ریاست سے بڑا ہے۔ اس میں ان سے حماقتیں سرزد ہوتی ہیں‘ وہ ایک الگ داستان ہے۔ اس گروہ سے میری درخواست ہے کہ و ہ تنہائی میں اور اپنی مجالس میں اس طرزِ عمل کا جائزہ لے اور خود سے یہ سوال کرے کہ کیا اس رویے کو درست کہا جا سکتا ہے؟ اگر پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ بھی یہ کرتیں تو کیا یہ پاکستان کے حق میں ہوتا۔ عوامی لیگ اور ایم کیو ایم نے اس کے برعکس رویہ اپنایا۔ اس سے کیا ہوا؟ ایک طرف ان کے لیڈر باعثِ عبرت قرار پائے اور دوسری طرف ان کی جماعتیں بھی۔ ایک کو تاریخ نے پاکستان توڑنے کا مجرم قرار دیا اور دوسرے کا انجام ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔اس گروہ کو یہ بات سمجھنا ہو گی کہ ریاست اور لیڈر سے بیک وقت تعلق قائم رکھنے کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ ہے لیڈر کی محبت کو ریاست کی محبت کے تابع کر دیا جائے۔ عام زندگی میں دونوں محبتیں برقرار رہ سکتی ہیں۔ لیکن جب ریاست سے شکایتیں بڑھنے لگیں اور یہ دکھائی دے کہ کسی ایک انتخاب کرنا ہے تو پھر ریاست ہی کو ترجیح دینا چاہیے۔ اچھا لیڈر بھی وہی ہوتا ہے جو اپنے عشاق کو انتخاب کے مشکل میں نہیں ڈالتا‘ بینظیر بھٹو‘ نواز شریف اور ولی خان کی طرح۔ اس گروہ کا المیہ یہ ہے کہ اس کی باگ سوشل میڈیا کے رائے سازوں کے ہاتھ میں ہے جو ان میں مسلسل ریاست کے خلاف زہر بھرتے رہتے ہیں۔ انہوں نے اس گروہ کو اذیت پسند بنا دیا ہے۔ یہ دوسرے پر تنقید نہیں کرتے‘ اسے ایذا پہنچاتے ہیں۔ یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ انہیں اب پاکستان کی کامیابی ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ یہ رویہ متقاضی ہے کہ اس کا جائزہ لیا جائے۔ اس گروہ کو یاد رکھنا چاہیے کہ جب لیڈر کو ریاست کے بالمقابل لا کھڑا کیا جائے تو پھر دونوں میں سے ایک ہی باقی رہتا ہے۔ زیادہ امکان یہی ہوتا ہے کہ ریاست باقی رہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>جاتے جاتے مزید تباہیاں(ڈاکٹر حسین احمد پراچہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-04-04/51703/29468474</link><pubDate>Sat, 04 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-04-04/51703/29468474</guid><description>جمعرات کے روز جب پاکستان میں صبح کے چھ بجے تھے اس وقت امریکہ کی بعض ریاستوں میں بدھ کی شب آٹھ اور بعض میں نوبجے تھے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے اپنی قوم سے خطاب کو ساری دنیا میں توجہ سے سنا گیا۔ بعض لوگ یہ امید لگائے بیٹھے تھے کہ ٹرمپ نے جس طرح اچانک ایران پر حملہ کیا تھا‘ اب وہ اسی طرح اچانک ایران پر مسلط کردہ جنگ سے نکلنے کا اعلان کر دیں گے۔ مگر ہوا اس کے برعکس! ٹرمپ نے جنگ جاری رکھنے کا اعلان کر دیا۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں &#39;&#39;جنگ جاری رہے گی‘‘ کی بریکنگ نیوز تھی۔ایسا کیوں ہوا؟ ایسا اس لیے ہوا کیونکہ امریکی صدر ایران پر مسلط کردہ جنگ سے دامن چھڑانے کا فیصلہ تو کر چکے ہیں مگر فیس سیونگ اور اپنی اَنا کی تسکین کیلئے ادھر اُدھر ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں۔ ٹرمپ جاتے جاتے ایران‘ خلیجی ریاستوں بلکہ ساری دنیا کو کتنی ہولناک تباہی سے دوچار کر جائیں گے‘ اس کے بارے میں سردست کوئی حتمی بات نہیں کہی جا سکتی۔ڈونلڈ ٹرمپ دنیا کو اقتصادی تباہی سے دوچار کرنے کے علاوہ گھر پھونک تماشا دیکھ رہے ہیں۔ فاکس نیوز کے تازہ ترین سروے کے مطابق 60 فیصد سے زیادہ امریکیوں نے ٹرمپ کی اس بے مقصد جنگ کو مسترد کر دیا ہے۔ گزشتہ ہفتے امریکہ کے واجب الاحترام دانشور سینیٹر برنی سینڈرز اور معروف امریکی ایکٹر رابرٹ ڈی نیرو کی پکار پر واشنگٹن اور نیو یارک سمیت امریکہ کے تین ہزار شہروں میں 80 لاکھ امریکی شہری &#39;&#39;No Kings‘‘ اور ایران کے خلاف جنگ بند کرو کے بینروں کے ساتھ سڑکوں پر نکل آئے۔مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنے والے ٹرمپ کے متعصب حامی بھی اس وقت کھل کر ایران پر مسلط کی گئی جنگ کی بھرپور مذمت کر رہے ہیں۔ ٹرمپ کے ایک بہت قریبی مسلم مخالف مشیر سٹیو بینن‘ صحافی ٹکر کارلسن اور قدامت پسند میجوری ٹیلر گرین‘ جو سابق کانگریس وومن اور ٹرمپ کی قریبی ساتھی ہے‘ نے بھی ایران پر زمینی حملے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے ایران پر مسلط کردہ جنگ بند کرنے پر زور دیا ہے۔ امریکہ میں بدھ کی شب ڈونلڈ ٹرمپ کا خطاب اُن کے مجموعہ تضادات میں ایک اور شاہکار اضافہ ہے۔ منگل کے روز انہوں نے کہا تھا کہ ہم آبنائے ہرمز کو ہر قیمت پر کھلوائیں گے۔ بدھ کے خطاب میں وہ کہتے ہیں کہ ہمیں اس راستے سے آنے والے تیل کی کبھی ضرورت تھی اور نہ اب ہے۔ اگر یورپ والوں کو تیل کی ضرورت ہے تو ہم سے خرید لیں یا پھر بازوئے شمشیر زن آزمائیں اور جا کر ہرمز کھلوائیں۔میسج بین السطور یہی ہے کہ عربوں پر تباہی آتی ہے تو آئے‘ یورپ میں اقتصادی بھونچال آتا ہے تو آئے ہمیں پروا نہیں۔ ہمیں تو اب آبنائے ہرمز کو کھلوانے کی کوئی ضرورت نہیں۔جمعرات کے ہی روز ایران میں طبی تحقیقی مرکز‘ تہران کو کرج کے ساتھ ملانے والے پل اور کئی کارخانوں پر حملے کئے گئے۔ جواباً ایران نے تل ابیب اور کئی خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں اور ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ چین اور روس نے بھی اس تباہی کو روکنے کیلئے رابطے تیز تر کر دیے ہیں۔ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ معاہدہ کر لو ورنہ پتھر کے دور میں بھیج دیں گے۔ اس دھمکی کا ایران نے جواب دیا کہ ایک بھی امریکی فوجی ایران سے زندہ واپس نہیں جائے گا۔اب تک 35 روزہ جنگ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی زیر قیادت امریکہ کی مایوس کن کارکردگی سے ایک بات تو ثابت ہو چکی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ مسلسل بولتے اور بہت کم سوچتے ہیں اور پڑھتے تو شاید بالکل نہیں۔ انہیں ایرانی تہذیب‘ اُن کی جنگی صلاحیت‘ اُن کے جذبۂ حب الوطنی اور اُن کی تاریخِ مزاحمت کے بارے میں کوئی واقفیت نہیں‘ اس لیے وہ سطحی انداز کے غلط اندازے لگا کر پے بہ پے غلطیاں کرتے چلے جا رہے ہیں۔ایک دو روز قبل نصف صدی پہلے کا ایک کلپ نظر سے گزرا ‘اس میں شاہ ایران رضا شاہ پہلوی نے ایک کینیڈین اینکر خاتون کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ کینیڈا اور امریکہ جیسے ممالک اپنے آپ کو برتر اور ہمیں کمتر سمجھتے ہیں۔ دیگر چند دہائیوں کے بعد تمہیں اس خیال پر نظرثانی کی ضرورت پڑے گی۔ آبنائے ہرمز ہماری اقتصادی شہ رگ ہے۔ ایرانی اپنے وطن کے چپے چپے اور آبنائے ہرمز کے دفاع سے کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ شاہ کے بعد تقریباً پانچ دہائیوں میں ایران کی دینی قیادت نے بھی وطن کے دفاع کے جذبے میں مزید حدت اور شدت پیدا کر دی ہے۔ ایران کے رہبر اعلیٰ سیّد علی خامنہ ای اور وہاں کی عسکری و سیاسی قیادت نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے ثابت کر دیا ہے کہ ایران پر حملہ کرنے والے منہ کی کھائیں گے۔ کوتاہ نظر نیتن یاہو نے یہ نہیں سوچا تھا کہ ایرانی جدت پسند ہوں یا دین پرست مادرِ وطن کیلئے سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔آج کی مائیں وطن پر قربان ہونے والے اپنے شہید بیٹوں کو جس شان سے الوداع کہہ رہی ہیں‘ اس سے امریکہ کو ہی نہیں ساری دنیا کو یہ پیغام جا رہا ہے کہ ایران کو دھمکیوں اور گیدڑ بھبکیوں سے ڈرایا جا سکتا ہے نہ جھکایا جا سکتا ہے۔ ایک ایرانی ماں نے جذبۂ ایمانی سے سرشار ہو کر شہید بیٹے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: بیٹے! شہید ہو کر تم مجھے جس مقامِ بلند پر سرفراز کر گئے ہو اس پر میں ہی نہیں ساری ایرانی قوم فخر کرتی رہے گی۔برطانوی جریدے اکانومسٹ کے سرورق پر شائع ہونے والی صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی تصاویر شائع ہوئی ہیں۔ ٹرمپ کی شعلے اگلتی تصویر ہے جبکہ چینی صدر کی ایک باوقار تصویر ہے جس کے اوپر کیپشن ہے &#39;&#39;جب تمہارا دشمن کسی بڑی غلطی کا مرتکب ہو رہا ہو تو کوئی مداخلت نہ کرو‘‘۔ آج دنیا ایران کے ساتھ ہے اور ٹرمپ نے امریکہ کو عالمی تنہائی کا تحفہ دیا ہے۔ٹرمپ کی غلطیوں کے باوجود چین پاکستان کے ساتھ مل کر کبھی پانچ نکاتی فوری جنگ بندی کا منصوبہ پیش کرتا ہے اور کبھی براہِ راست اس کا وزیر خارجہ دنیا بھر میں رابطے تیز کر دیتا ہے۔بدھ کی شب ٹرمپ کے خطاب سے قبل ایرانی صدر نے امریکی عوام کے نام پیغام میں انہیں بتایا کہ امریکی عوام سے اُن کی کوئی دشمنی نہیں بلکہ ہمدردی ہے۔ دنیا کو تباہی سے دوچار کرنے کے ساتھ ساتھ ڈونلڈ ٹرمپ &#39;&#39;امریکہ فرسٹ‘‘ کو بھی اقتصادی کساد بازاری اور سیاسی افراتفری سے دوچار کر دیا ہے۔ ٹرمپ سے جو اختلاف کرتا ہے وہ اس کے خلاف عملی یا زبانی ایکشن پر دیر نہیں کرتے‘ کوئی غور و فکر نہیں کرتے۔ ایران میں ناکامی ٹرمپ کی پالیسی کی وجہ سے ہو رہی ہے مگر اس کا ملبہ انہوں نے اپنی فوج کے سربراہ جنرل رینڈی جارج پر ڈال کر انہیں جبری ریٹائر کر کے گھر بھیج دیا ہے۔فرانسیسی صدر کو ٹرمپ نے بیوی سے تھپڑ کھانے کا طعنہ دیا ہے۔ 3نومبر 2026ء کے امریکہ میں ہونے والے انتخابات میں ایوانِ نمائندگان کی 435اور سینیٹ کی 35 سیٹوں پر ہونے والے انتخابات میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کی بنا پر ریپبلکن کی بدترین شکست کی پیش گوئیاں کی جا رہی ہیں۔ جمعرات کے روز ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کے بعد دنیا بھر میں اقصادی بھونچال آ گیا ہے۔ پاکستان میں پٹرول 458.41اور ڈیزل 520.35 روپے فی لیٹر ہو گیا ہے۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں مہنگائی کا طوفان آ رہا ہے۔ ہمارے عرب بھائی امریکی کمبل سے جتنی جلدی جان چھڑا لیں اُن کیلئے اتنا ہی بہتر ہے۔ علمِ نفسیات کا معمولی طالبعلم بھی جانتا ہے کہ جب کوئی شخص جھنجھلاہٹ اور دھمکیوں پر اتر آئے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے پاس دلیل اور طاقت ختم ہو چکے ہیں۔ٹرمپ کا ایران سے اگلے دو تین ہفتوں میں نکل جانا نوشتۂ دیوار ہے مگر جاتے جاتے وہ کتنی تباہیاں کر جاتے ہیں اس کے بارے میں کوئی حتمی اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_70033906.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>متکبر، سنکی، خبطی سربراہ(سعود عثمانی )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-04-04/51704/56061839</link><pubDate>Sat, 04 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-04-04/51704/56061839</guid><description>اگر کالم کا یہ عنوان پڑھ کرآپ کا ذہن موجودہ دور کے کسی خاص سربراہِ مملکت کی طرف جاتا ہے تو مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں۔ میرے ذہن میں بھی وہی ہے۔ اس میں آپ کا یا میرا کوئی بھی قصور نہیں۔ قصور ہے تو اس تکبر ‘سنک ‘ خبط کا ‘جو کسی سربراہ میں کوٹ کوٹ کر بھردیے گئے ہوں‘یا پھر ان لوگوں کا جو جاننے پرکھنے کے باوجوداسے دماغی شفا خانے کے بجائے اس کرسی تک پہنچادیتے ہیں جہاں اس کی میز کے سامنے طاقت اور اختیار کے سارے بٹن استعمال کی ترغیب دے رہے ہیں۔لیکن میرا ذہن ایک اور طرف بھی جاتا ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ کسی غیر متوازن شخص کو طاقت کے اعلیٰ ترین اختیارات مل گئے ہوں۔ تاریخ ان مریض افراد اور اقوام کے لرزہ خیز واقعات سے بھری پڑی ہے جن کا حوالہ ظلم‘ بربریت اور انسانی تاریخ کے بد ترین جرائم میں ہر بارآتا ہے۔ سکندر و چنگیز کے ہاتھوں سے جہاں میں سو بار حضرت ِانساں کی قبا چاک ہوتی رہی۔ مجھے تو حیرت ہے کہ ہر شہر او رہر ملک میں سروں کے مینار بنانے کے باوجود کئی اقوام مکمل ناپید ہوجانے سے کیسے بچ گئیں۔ غور کیجیے ‘بنی نوع انسان کیلئے ہمیشہ وہ دور مہلک ترین ثابت ہوا جب کسی ذہنی مریض یا نفسیاتی بیمار کو بے حساب طاقت مل جائے۔ جب تک اختیار اور طاقت نہیں تھی‘ ایسا مریض اپنے معاشرے کیلئے بھی زیادہ خطرناک نہیں تھا‘ لیکن طاقت مل گئی تو وہ پوری دنیا کیلئے سب سے بڑا خطرہ بن کر سامنے آیا۔اس نے اپنی تسکینِ طبع کیلئے وہ وہ کام کیے جنہوں نے سینکڑوں ہزاروں نہیں ‘ کروڑوں زندگیاں ختم کرکے رکھ دیں۔ میرا یہ نظریہ نہیں ہے کہ تنہا وہ غیر متوازن شخص ساری صورتحال کا ذمہ دار ہوتا ہے‘ یقینا دیگر عوامل ‘ قوموں کی زیادتیاں اور ناانصافیاں بھی حتمی تباہی میں حصہ ڈالتی ہیں۔ میرا کہنا صرف یہ ہے کہ ایک ہی دور کے کئی ذہنی مریضوں میں جو سربراہی تک پہنچتے ہیں ‘ سب سے بڑا اور خطرناک ذہنی بیمار ایک ہوتا ہے اور بدقسمتی سے وہی طاقتور ترین ہوتا ہے۔ یہ سب مل کر دنیا کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کرتے ہیں۔ لیکن قدرت کا عجیب نظام ہے۔ کسی قوم کے عین بھرپورعروج کے زمانے میں ایک ایسا سربراہ کرسی پرآجاتا ہے جو طاقت کے نشے میں وہ کام کرگزرتا ہے جو اس کی طاقت بھی خاک میں ملا دیتا ہے اور اس کی قوم بھی ایک صدی پہلے کے وقت میں دھکیلی جاتی ہے۔ایک اور بات بھی تاریخی حقیقت ہے۔ ذہنی مریض کسی خاص زمانے‘ قوم ‘ مذہب‘ مسلک اورعلاقے سے نہیں ہوا کرتے۔ یہ ہر کہیں ہوتے ہیں۔ لا مذہبیت اور دہریت چونکہ خود ایک مذہب ہے اس لیے وہ بھی اسی دائرے میں شامل ہے۔ ذہنی مرض اگر نظریے اور مذہب و مسلک کے جنون سے مل جائے تو یہ دوآتشہ تباہی ہے۔ تاریخ بھی ان مثالوں سے بھری پڑی ہے اور آپ ہندوتوا کے نئے جنم میں بھی دیکھ سکتے ہیں۔ کیاآپ کو علم ہے کہ فرانس کے چارلس ششم کو پاگل چارلس کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اسے یقین تھا کہ اس کا جسم شیشے کا بنا ہوا ہے اور وہ اپنے ہی نائٹس پر اچانک حملے کرکے مار دیتا تھا۔ دہلی کے بادشاہ محمد بن تغلق کی بربریت تو ایک طرف ‘اس کے ظالمانہ احکام سوچتا ہوں تو یقین ہوجاتا ہے کہ وہ اس دور کا بڑا ذہنی مریض تھا ورنہ کون اپنی رعایا کو دہلی چھوڑ کر اس نئے دارالحکومت تغلق آباد پیدل جانے کا حکم دیتا ہے جو ابھی بنا بھی نہیں تھا۔ تغلق آباد کے سیاہ کھنڈرآج تک اس کے ذہنی خلل کی یادگار بنے کھڑے ہیں۔ڈاکٹر ناصر غائمی کی کتابA First-Rate Madnessپڑھ لیجیے۔ ابراہم لنکن سے تھیوڈور روز ویلٹ اور لنڈن جانسن تک کیسے حیرت انگیز نام نظرآتے ہیں۔ کتاب میں چرچل اور گاندھی تک کے نام ہیں۔ اس کتاب پر بات کسی اور وقت لیکن مصنف بتاتا ہے کہ بعض اوقات مشکل اوقات میں ان کے ذہنی مرض ان کی صلاحیتوں کو بڑھا بھی دیا کرتے تھے۔قدیم زمانے چھوڑ دیں ‘دنیا کی قریبی تاریخ پر نظر ڈالیں۔ یورپ کے بیشتر ممالک نوآبادیوں کو پھیلانے ‘ قوموں کو غلام بنانے کا جنون رکھتے تھے۔ انگریز اُن میں سر فہرست تھے۔ اس زمانے میں برطانیہ کا سورج ڈوبتا نہیں تھا لیکن یہ کوئی نہیں بتاتا کہ اس طاقت کیلئے انگریزوں کے ہاتھ کہنیوں تک مظلوموں کے خون میں ڈوبے ہوئے تھے۔یہ یورپینز کے جنون کا دور تھا۔جرمنی کا ایڈولف ہٹلر 1933ء میں برسر اقتدارآیا۔اس کے دماغ میں نسل ‘ طاقت کا زعم اور تکبر ‘ سنک اور خبط مل کر ہلچل مچاتے تھے۔اسی زمانے میں جوزف سٹالن کے بارے میں تو صاف کہا جاتا ہے کہ اس کے نفسیاتی مسائل تھے۔ یہی حال مسولینی کا بتایا جاتا ہے۔ جاپان کے وزیر اعظم ہائدیکی ٹوجو‘جنرل شیرو اشی ‘ اور شہنشاہ ہیرو ہیٹو ہی کی بات نہیں ‘ پوری جاپانی قوم جنگی جنون میں مبتلا تھی۔ایک ہی وقت میں اتنے جنونی اور ذہنی مریض سربراہوں کے یکجا ہوجانے کا نتیجہ دوسری جنگ عظیم کی صورت میں نکلا جس میں کروڑوں جانیں گئیں‘ملک بلکہ بر اعظم تباہ ہوگئے اور قومیں عشروں تک اس کے صدموں سے سنبھل نہیں سکیں۔ ایک ہی جنگ نے دنیا کی بڑی طاقتوں کو زمین بوس کردیا تھا۔1945ء سے بعد کی مختصر سی عمر میں دنیا نے کیسے کیسے نفسیاتی اور دماغی مریض سربراہ دیکھے۔کسی علاقے اور مذہب کی تخصیص کے بغیر۔ مصر کے بادشاہ فاروق کے عیاش کردار اور ناقابلِ توقع حرکات سے کتابیں بھری پڑی ہیں۔ کیاآپ جانتے ہیں کہ اس شاہ فاروق نے وِنسٹن چرچل کی جیبی گھڑی چرا لی تھی ؟کیاآپ جانتے ہیں کہ ترکمانستان کے سپر مرات نیازوف نے اپنے اور اپنے گھرانے کے ناموں پر سال کے بارہ مہینوں اور ہفتے کے دنوں کے نام رکھ لیے تھے‘ صحرا میں برف کا ایک محل بنانے کا حکم دیا تھا۔ اپنی خود نوشت سوانح &#39;روح نامہ‘ کو سکولوں کالجوں اور یونیورسٹیوں کا لازمی نصاب قرار دینے والے اس شخص کو بیسویں صدی کے بدترین ظالم حکمرانوں میں گنا جاتا ہے۔ یہ بھی ذرا پڑھیے کہ کمبوڈیا کے کمیونسٹ رہنما پول پوٹ نے کیسے اپنی ہی قوم کے پندرہ لاکھ لوگوں کا لرزہ خیز قتلِ عام کیا۔وہ ملک کو زرعی ملک بنانے کیلئے عجیب و غریب نظریات رکھتا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ یوگنڈا کے ڈکٹیٹر عیدی امین کے بارے میں اس زمانے میں کہیں پڑھا تھا کہ وہ خود بھی سابق چیمپئن باکسر تھا۔ اپنے دورِ حکومت میں کسی جگہ باکسنگ کا مقابلہ دیکھنے گیا۔ دیکھتے دیکھتے ذہنی رو کھسکی اور حضر ت خود رِنگ میں کود پڑے۔ دونوں باکسرز کو مار مار کر ناک آؤٹ کردیا۔چھ فٹ چار انچ اور دو سو پاؤنڈ وزنی ڈکٹیٹر یوگنڈا کا قصائی کہلاتا تھا۔ باکسر تو مکے سے پہلے دہشت سے ہی ناک آؤٹ ہوچکے ہوں گے۔اس شخص نے کیا کیا ظلم نہیں کیے اور کونسا خطاب ہے جو خود اپنے آپ کو عطا نہیں کیا۔ بشار الاسد تو طویل دورِ بربریت کے بعد ایک دو سال پہلے فرار ہوا ہے۔ کیاآپ کو علم ہے کہ اس نے شامیوں پر کیسے کیسے ظلم ڈھائے اور کیسا کیسا قتلِ عام کیا۔ لیکن جنون کی صرف یہی قسم نہیں ہے کہ سربراہ قتلِ عام کرائے۔ دماغی رو کچھ بھی کروا سکتی ہے۔ معمر قذافی دوسرے ملکوں کے دورے پر جاتا تھا تو اپنا خیمہ ساتھ لے جایا کرتا تھا اور کھلے آسمان تلے اسی میں ٹھہرتا۔ یہ سنکی ہونے کی علامت نہیں ؟ میں ان بادشاہوں کو بھی اسی زمرے میں گنتا ہوں جو دوسرے ممالک کے دوروں پر جاتے ہیں تو طیارے کیلئے سونے کی بنی سیڑھی ان سے پہلے پہنچ جاتی ہے تاکہ شہنشاہ سلامت اس پر قدم دھر کر نیچے آسکیں۔ تکبر ‘ سنک ‘ خبط تو شاید پڑھے لکھوں کے لفظ ہیں۔ عام آدمی تو پاگل کا لفظ آسانی سے استعمال کرتا ہے۔ دیکھ لیجیے میں نے اب تک یہ نہیں کہا کہ اس دور کا سب سے بڑا متکبر‘ خبطی اور سنکی سربراہ کون ہے۔ اور دنیا میں کون سے مزید سنکی اور خبطی لیڈر موجود ہیں۔ کیا بتانا ضروری ہے؟بھئی جہاں آپ کا ذہن جاتا ہے ‘ میرا ذہن بھی انہی کا نام لیتا ہے۔ </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_81278520.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بے حسی کی انتہا(افتخار احمد سندھو)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/iktakhar-ahmed-sandhu/2026-04-04/51705/70320511</link><pubDate>Sat, 04 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/iktakhar-ahmed-sandhu/2026-04-04/51705/70320511</guid><description>ایران امریکہ جنگ کی آڑ میں پاکستان کے &#39;عوام دوست‘ حکمرانوں نے موقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا ہے۔پٹرولیم‘ گیس اور بجلی مصنوعات کی قیمتوں بے تحاشا اضافہ کرکے حکمرانوں نے عملی طور پر ثابت کر دیا ہے کہ انہیں عوام کے ووٹوں کی ہرگز ضرورت نہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے‘ بلکہ یقین ہو چلا ہے کہ ہمارے حکمرانوں نے غریب آدمی کو زندہ درگو کرکے ملک سے&#39; غربت ختم‘ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کی آڑ میں بے حس حکمرانوں نے عوام پر پٹرول بم گرا دیا ہے۔ حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ملکی تاریخ میں سب سے بڑا اضافہ کر کے عوام دشمنی کا کھلا ثبوت دیا ہے۔ پٹرول کی قیمت میں 137 روپے 23 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 458 روپے 41 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ ڈیزل کی قیمت میں 184 روپے 49 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 520 روپے 35 پیسے ہو گئی ہے۔ پٹرول پر لیوی میں 55 روپے 24 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا جس کے بعد ایک لٹر پٹرول پر لیوی 160 روپے 61 پیسے ہو گئی ہے۔ پٹرول اور ڈیزل مہنگا ہونے سے بنیادی ضرورت کی ہر چیز مہنگی ہو جائے گی‘ ملک میں مہنگائی کا طوفان آئے گا جو غریب آدمی کو اپنے ساتھ بہا لے جائے گا۔ میں نے گزشتہ کالم میں بھی عرض کیا تھا کہ ایران امریکہ جنگ کے باعث مہنگائی سے اتنا ایران کے عوام متاثر نہیں ہوئے جتنے پاکستان کے عوام متاثر ہو رہے ہیں۔ کیا عجب تماشا ہے کہ جنگ ایران میں ہو رہی ہے اور مہنگائی پاکستان میں۔ پاکستان کے غریب عوام جائیں تو کہاں جائیں؟ کھائیں تو کیا اور کہاں سے کھائیں؟ اب تو واقعتاً زہر کھانے کی مالی استطاعت بھی نہیں رہی۔ پٹرول اور ڈیزل کے ساتھ فی کلو ایل پی جی کی قیمت میں 78 روپے یکمشت اضافہ کر کے عوام دشمنی کا ایک اور ثبوت فراہم کیا گیا ہے۔ اور تو اور بجلی کے بل میں گھریلو صارفین کیلئے 400 سے 1350 روپے اور کمرشل صارفین کیلئے ایک ہزار سے 18750 روپے تک کے فکس چارجز عائد کر دیے گئے ہیں۔ جب ڈیمانڈ نوٹس میں میٹر اور اس کے ساتھ ملنے والی دس‘ پندرہ فٹ تار کی قیمت ادا کر دی جاتی ہے تو پھر صارف کے ملکیتی میٹر پر رینٹ کیوں اور کیسا؟ گیس کے بلوں میں بھی فکس چارجز چھ سو روپے سے ایک ہزار روپے تک عائد کر دیے گئے ہیں۔ اس کو کہتے ہیں اندھیری نگری چوپٹ راج۔ بجلی‘ گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں بے تحاشا اضافہ کرکے حکومت نے آئی ایم ایف سے کیا گیا ایک اور وعدہ پورا کر دیا ہے۔ لگتا ہے کہ حکومت اپنی عیاشیوں اور اللوں تللوں کیلئے لیا گیا قرض اب غریب عوام کاخون نچوڑ کر ادا کرے گی۔دنیا بھر میں اس وقت معاشی استحکام کی جنگ جاری ہے اور پاکستان کے حکمران عوام کو لوٹنے میں لگے ہوئے ہیں۔ چین ہو یا امریکہ‘ جس ملک کی معیشت مضبوط اور مستحکم ہو گی وہی ملک دنیا پر حکمرانی کرے گا۔ امریکہ کا خلیج فارس میں آنے کا اولین مقصد خلیجی ممالک خاص طور پرایران کے تیل کے ذخائر پر قبضہ کرکے چین کے گرد گھیرا تنگ کرنا تھا۔ امریکہ کا ایک مقصد جی سی سی اور ایران کے درمیان ایک مستقل خلیج پیدا کرنا بھی تھا جس میں وہ کسی حد تک کامیاب رہا ہے۔ یٰسین ثاقب نے بالکل ٹھیک کہا تھا:کون عاشق خدا کی ذات کا ہے ؍ سارا جھگڑا معاشیات کا ہےعرب ممالک میں امریکہ پہلے ہی ان کی سکیورٹی اور تحفظ کی آڑ میں قابض ہے اور باقاعدہ فوجی اڈے بنا رکھے ہیں۔ ان اڈوں ہی سے ایران پر حملے ہو رہے ہیں۔ جواب میں ایران بھی ان امریکی اڈوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ اس وقت ایران کے پاس ایک بڑا کارآمد ہتھیار یا بہترین کارڈ آبنائے ہرمز کی سمندری گزر گاہ ہے‘ لیکن یہ ٹائم بم کی مانند ہے۔ وہ اسے زیادہ دیر تک بند نہیں رکھ سکتے۔ ایران عالمی توانائی کی فراہمی کے راستے کو ہمیشہ کیلئے بند نہیں کر سکتا۔ ایسا کرنا زیادہ سے زیادہ ممالک کو اپنے خلاف انتقامی کارروائی پر آمادہ کرنے کے مترادف ہے۔ اس لیے جتنا جلدی ممکن ہو‘ ایران کیلئے معاہدہ طے کرنا بہتر ہے۔ آبنائے ہرمز دو دھاری تلوار کی مانند ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ ایران پر دبائو بڑھتا رہے گا۔ اسی طرح جنگ کے خاتمے کیلئے امریکہ پر بھی دبائو بڑھ رہا ہے۔ خود امریکہ بھر میں ایران جنگ کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں جن میں لاکھوں افراد شریک ہو رہے ہیں۔ حکومت پر جنگ کے جلد خاتمے کیلئے دبائو بڑھایا جا رہا ہے کیونکہ یہ جنگ عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے لڑی جا رہی ہے۔ امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ دنوں جنگ بندی کے معاہدے پر ایران کے راضی نہ ہونے کی صورت میں جزیرہ خارگ کوملیامیٹ کرنے کی دھمکی دی تھی۔ انہوں نے زمینی کارروائی کے ذریعے اس جزیرے پر قبضہ کرنے کی دھمکی بھی دی۔البتہ فرانسیسی تحقیقی مرکز FMES کے پیئر رازوک کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے جنگی اہداف اب بھی مبہم ہیں۔ اس دھمکی کا مقصد ایران کو آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے پر مجبور کرنا‘ حکومتی تبدیلی‘ جوہری یا بیلسٹک میزائل پروگرام پر دبائو بڑھانا ہو سکتا ہے۔ سکاٹ لینڈ یونیورسٹی آف سینٹ اینڈریوز کے پروفیسر فلپس او برائن کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ جزیرہ خارگ پر قبضہ کرنا اور اور اس قبضے کو برقرار رکھنا دو الگ باتیں ہیں۔ امریکی فوج کیلئے ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کی زد میں رہ کر خارگ پر قبضہ برقرار رکھنا مشکل ہو گا۔ ایک رپورٹ کے مطابق جزیرہ خارگ ایرانی ساحل سے 30 کلومیٹر دور اور آبنائے ہرمز سے 500 کلومیٹر سے زیادہ فاصلے پر واقع ہے۔اس امر میں کوئی شک نہیں کہ امریکہ ایک ناقابلِ اعتبار ملک ہے اور مزید یہ کہ اس وقت اس ملک کا صدر ایک ایسا شخص ہے جس سے کچھ بھی بعید نہیں۔ وہ کسی وقت بھی کوئی بھی قلابازی لگا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت ایران کو جنگ بندی کیلئے ایک مضبوط ضمانت چاہیے اور وہ ضمانتی چین ہو سکتا ہے۔ اس وقت چین کا کردار بہت اہم ہے۔ چین بھی چاہتا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کے مئی میں چین کے دورے سے پہلے جنگ بندی ہو جائے۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا چین کا دورہ بھی اسی تناظر میں تھا۔ یہ امر خوش آئند ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس وقت پاکستان کو اچھی پوزیشن دی ہے اور پاکستان بہت اچھے طریقے سے معاملات کو لے کر چل رہا ہے۔ لیکن پاکستان تنہا اس پوزیشن میں نہیں کہ ایران امریکہ ڈیل کی صورت میں بطور ثالث کوئی ٹھوس ضمانت دے سکے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر ملکی معیشت مضبوط نہیں تو آپ کے مؤقف کی اہمیت بھی ختم ہو جاتی ہے۔ ہماری مضبوط سکیورٹی بھی کمزور معیشت کی وجہ سے اپنی اہمیت کھو رہی ہے۔ حکومت کی شاہ خرچیوں کے باعث معیشت انتہائی کمزور ہو چکی اور حکمران طبقہ دونوں ہاتھوں سے ملک کے وسائل لوٹ رہا ہے۔ سر کاری دستاویز کے مطابق رواں مالی سال میں وفاقی کابینہ کے اراکین‘ بشمول مشیر اور معاونین 40 کروڑ 72 لاکھ 16ہزار روپے تنخواہوں اور الائونسز کی مد میں وصول کر چکے ہیں۔ وزرا‘ مشیران‘ معاونین خصوصی کی 100 سے زائد گاڑیوں کی مرمت اور پٹرول پر 26 کروڑ روپے 64 لاکھ روپے خرچ ہو چکے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم معاشی طور پر خود کو زیادہ سے زیادہ مضبوط کریں۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ اپنی عیاشیوں‘ فضول خرچیوں کو فوری طور پر بند کریں۔ سب سے پہلے حکمرانوں کو اپنے شاہانہ اخراجات ختم کرنا ہوں گے۔ حکمران پہلے خود قربانی دیں پھر عوام پر مہنگائی کا بوجھ ڈالیں۔ حکومتِ پاکستان سے التجا ہے کہ عوام کو نوچنے کے بجائے سکون سے کھائیں‘ یہ قوم مہنگائی کے سبب پہلے ہی نیم مردہ ہے‘ اب بجلی‘ گیس اور پٹرول پر نئے نئے ٹیکس لگا کر اس کا پوسٹ مارٹم کیوں کیا جا رہا ہے؟</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/228_40817243.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>آغاز تحریک خلافت سے اور اختتام اردو جلوس پر(نسیم احمد باجوہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/naseem-ahmed-bajwa/2026-04-04/51706/29872007</link><pubDate>Sat, 04 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/naseem-ahmed-bajwa/2026-04-04/51706/29872007</guid><description>ڈاکٹر سید عبداللہ‘ جو اورینٹل کالج لاہور میں پڑھاتے پڑھاتے پرنسپل بنے اور تادیر اس عہدہ پر فائز رہے‘ میرا اُن سے واسطہ اس طرح پڑا کہ میں غیر نصابی سرگرمیوں میں بہت زیادہ حصہ لینے کی وجہ سے بی اے میں ایک سال ضائع کرنے کے بعد ایم اے میں بھی ایک سال ضائع کرنے میں مصروف تھا۔ بدقسمتی یہ کہ یہ عرصہ ایک سال سے دو سالوں میں تبدیل ہو گیا۔ میں اپنے تعلیمی نصاب سے اس قدر ناواقف تھا کہ مئی 1958ء میں فائنل امتحان دینے کی ہمت نہ پڑی۔ مئی 1959ء میں بھی یہی حالت تھی۔ آخر کار مئی 1960ء میں امتحان دے کر اچھے نمبروں میں پاس ہوا تو سجدۂ شکر بجا لایا۔ ایم اے میں داخلے سے ایک سال پہلے (اکتوبر 1957ء) میں پنجاب یونیورسٹی یونین کا صدارتی انتخاب (60 ووٹوں کے فرق سے) ہار چکا تھا‘ جس کا سخت صدمہ ہوا۔ فیصلہ کیا کہ اگلے برس ایم اے کے داخلہ میں توسیع کرائوں گا اور پھر دوبارہ صدارتی انتخاب میں حصہ لوں گا۔ جوں جوں مجھے اپنی کامیابی کے امکانات روشن ہوتے نظر آتے‘ مضطرب دل کو قرار آتا جاتا مگر قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ غالباً وہ مجھے اپنے بنیادی فرض (حصولِ تعلیم) سے کوتاہی کی سزا دینا چاہتی تھی‘ جس کا میں بجا طور پر مستحق تھا۔ اکتوبر 1958ء میں ملک میں پہلا مارشل لاء نافذ ہوا تو میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھا گیا۔ مارشل لاء کا مطلب تھا آمریت اور آمریت کا مطلب تھا آزادیٔ تحریر وتقریر پر سخت پابندی۔ انسانی حقوق کی پامالی۔ تمام جمہوری اقدارکی پامالی۔ مزدوروں‘ کسانوں اور طلبہ کی انجمنوں پر قدغن۔ سرکار کی حکمتِ عملی (چاہے وہ کتنی غلط اور عوام دشمن کیوں نہ ہو) سے اختلاف پر سزا (تشدد سے لے کر قید تک)۔ سوچا کہ اگر طلبہ یونین کا صدر بن گیا تو ایک سال ایسی بھیگی بلی بن کر گزاروں گا جو میائوں تک نہیں کر سکے گی‘ لہٰذا ایک اچھا فیصلہ کیا کہ میں الیکشن میں حصہ نہ لوں اور نہ ہی اپنے آپ کو اَن دیکھے مگر سنگین مسائل کی آگ میں جھونکوں۔ اس دوران لاہور میں قیام کا مسئلہ اورینٹل کالج کی ملکیت ایک ہاسٹل میں کمرہ مل جانے سے (بصد مشکل) حل ہو چکا تھا۔ میں نے یونیورسٹی کے وائس چانسلر (غالباً میاں افضل حسین یا پروفیسر یو کرامت‘ دونوں صاحبان نہایت عمدہ اور شائستہ انسان تھے) کو خط لکھ کر اپنا نام واپس لے لیا۔ وائس چانسلر نے بکمال مہربانی مجھے بلا کر سمجھانے کی کوشش کی کہ میں ایسا نہ کروں تاکہ سٹوڈنٹ یونین کو ایک بہتر صدر مل سکے مگر میں نے ان کا شکریہ ادا کیا اور اپنا فیصلہ نہیں بدلا۔ نجانے اورینٹل کالج کے پرنسپل ڈاکٹر سید عبداللہ تک اس کی خبر کس طرح جا پہنچی اور وہ سخت ناراض ہوئے۔ مجھے جواب طلبی کے لیے بلایا گیا۔ میں حاضرِ خدمت ہوا۔ جرم کا اعتراف کیا اور درخواست کی کہ میری معذرت قبول کی جائے۔ میں نے ان سے مارشل لاء کے خلاف ایک لفظ نہ کہنے کا وعدہ کیا۔ ڈاکٹر صاحب نے بکمال مہربانی درگزر فرمایا اور مجھے ہاسٹل سے نہ نکالا (جو بالکل یقینی لگتا تھا)۔تادِم تحریر مجھے سیّد صاحب کی پیدائش اور وفات کی تاریخوں کا پتا نہیں چل سکا۔ البتہ انہوں نے اردو اور فارسی ادب پر درجنوں کتب تحریر کیں‘ جن میں اردو ادب کی ایک صدی‘ مباحث (تحقیقی و تنقیدی مضامین کا مجموعہ)‘ اشاراتِ تنقید (اردو تنقید کے اصولوں پر مبنی تصنیف) کلچر کا مسئلہ اور شعرائے اردو کے تذکرے قابلِ ذکر ہیں۔ سیّد صاحب کو اُردو ادب میں سب سے زیادہ دلچسپی جس شاعر سے تھی وہ تھے میر تقی میر۔ شاید اُنہوں نے غالب کا یہ مصرع حرزِ جاں بنا لیا تھا: آپ بے بہرہ ہے جو معتقدِ میرؔ نہیںسیّد صاحب بتاتے تھے کہ میٹرک کا امتحان دینے کے لیے شرط تھی کہ عمر پندرہ برس ہو‘ اُن کی عمر تین ماہ کم تھی اس لیے وہ یہ امتحان نہ دے سکے۔ بددل ہو کر وہ اورینٹل کالج میں داخل ہوئے جہاں اُنہوں نے اُردو اور فارسی پڑھی اور اس طرح پڑھی کہ پچاس اور ساٹھ کی دہائیوں میں علمی اور ادبی حلقوں میں اُن کی علمیت کی دھاک بیٹھی ہوئی تھی۔ بلند پایہ ادیب گواہی دیتے تھے کہ وہ نہ صرف بہت اچھے استاد ہیں بلکہ اتنے اچھے نقاد بھی۔ مجھے ان کی ماہرانہ رائے سے اختلاف ہو تو کیونکر؟ جانتا ہوں کہ &#39;&#39;ولی را ولی شناسد‘‘۔ میں کس کھیت کی مولی ہوں کہ ان کے علمی کام پر اپنی (سراسر ناقص) رائے دوں۔ سیّد صاحب کا اعزا ز یہ بھی ہے کہ وہ اس تعلیمی ادارے کے سربراہ تھے جس میں سیّد وقار عظیم‘ ڈاکٹر عبادت بریلوی اور وزیر حسن عابدی جیسے نابغے پڑھاتے تھے‘ جہاں ہر ماہ منعقد ہونے والی ادبی محفل میں فیض صاحب اپنا کلام سناتے اور داد سمیٹتے تھے۔ (مجھے اس وقت فیض صاحب کا ذہانت سے چمکتا ہوا چہرہ ہی یاد آتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ چوٹی کے تقریباً تمام ادیب اور شاعر سیّد صاحب کی دعوت پر اورینٹل کالج کے طلبہ وطالبات کو اپنی نگارشات اور کلام سناتے اور اُن کے سوالوں کے جوابات بھی دیتے تھے)۔ مجھے نہ صرف ڈاکٹر صاحب نے اورینٹل کالج میں سر چھپانے کی جگہ دی بلکہ سر کے اندر دماغ کو بھی علمی سطح پر بلند کرنے کے مواقع بہم پہنچائے۔ اجازت دیجئے کہ میں انتظار حسین کی کتاب (ملاقاتیں) سے ایک کمال کے مضمون کا پہلا اور آخری پیراگراف نقل کروں۔&#39;&#39;لمبا قد‘ گورا رنگ‘ کمر قدرے جھکی ہوئی‘ سوٹ اُن کا لبادہ ہے۔ اردو ان کا اوڑھنا بچھونا ہے۔ لہجہ دھیما‘ فقرہ لمبا۔ غزل کے اعجازِ اختصار پر جان چھڑکتے ہیں مگر لطیفہ طویل سناتے ہیں۔ یہ ہوئے ڈاکٹر سیّد عبداللہ۔ میں ان کا نیاز مند ہوں۔ وہ مجھ پر شفقت کرتے ہیں اور ناراض رہتے ہیں۔ وہ کسی تقریب میں مقالہ پڑھیں اور تقریر کریں اور میں وہاں نہ جائوں یہ ناممکن ہے۔ بس قدم خود بخود اُس طرف کھنچے چلے جاتے ہیں۔ اس کے بعد میں کالم لکھتا ہوں اور دوسرے دن ان کا ناراصی بھرا رقعہ موصول ہوتا ہے۔ میں نادم ہوتا ہوں۔ توبہ کرتا ہوں کہ اب کوئی ایسی ویسی بات نہ لکھوں گا۔ ان کی خفگی رفتہ رفتہ زائل ہو جاتی ہے اور پھر وہی شفقت اور مہربانی مگر میں پھر ان کی کوئی تقریر سن لیتا ہوں اور پھر میرے پھوہڑ قلم سے کوئی ایسا ویسا فقرہ نکل جاتا ہے اور پھر اُن کا ناراضی نامہ موصول ہوتا ہے۔ یہ سلسلہ مدت سے جاری ہے۔ نہ میں ان سے بھاگ سکتا ہوں اور نہ اُن کی شفقت مجھے چھوڑ سکتی ہے‘‘۔انسانی تاریخ میں بڑے لوگوں کی اکثریت نے زندگی میں ناکامی کا سامنا کیا مگر لطیفہ یہ ہے کہ سیّد صاحب اور اس مضمون نگار میں ایک قدر مشترک دریافت ہوئی۔ مضمون نگار نے اپنی زندگی کے تین (بہترین) سال غیر نصابی سرگرمیوں میں اپنے آپ کو غرق کرکے برباد کئے۔ سیّد صاحب جب اورینٹل کالج پڑھنے گئے تو لاہور میں جمعیت علمائے ہند کا اجلاس ہو رہا تھا۔ سیّد صاحب وہاں جا پہنچے اور اتنے متاثر ہوئے کہ تحریکِ خلافت کے سرگرم رکن بن گئے اور جیل کی ہوا بھی کھائی۔ دس روپے مانگ کر علی گڑھ پہنچے اور وہاں سے دہلی میں جامعہ ملیہ! تعلیم سے فراغت پا کر واپس آئے اور ایبٹ آباد جا پہنچے۔ایوب خان کے زمانہ میں جب جلسے جلوس ممنوع تھے‘ سیّد صاحب نے &#39;&#39;اردو جلوس‘‘ ایجاد کیا۔ اس جلوس کے ساتھ تحریک شروع کی گئی کہ مال روڈ کے سائن بورڈ انگریزی سے اردو میں منتقل کئے جائیں۔ میاں بشیر احمد (انگریز سرکار میں پہلے مسلم چیف جسٹس میاں شاہ دین ہمایوں کے بیٹے) اور پروفیسر حمید احمد خان (جو مولانا ظفر علی خان کے سوتیلے بھائی تھے اور بعد میں پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر بنے) کے ساتھ دکان دکان گئے۔ دکانداروں کو اردو زبان میں سائن بورڈ لگانے پر قائل کیا۔ یہ تحریک زور وشعور سے چلی مگر سائن بورڈ زیادہ تر انگریزی میں رہے اور شاہراہِ قائداعظم ہنوز مال روڈ ہے۔ سیّد صاحب کی پہلی تحریک (خلافت کی بحالی) اور دوسری تحریک (اُردو سائن بورڈ) دونوں ناکام ہوئیں مگر ان ناکامیوں سے ان کی بڑائی رتی بھر متاثر نہیں ہوتی۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_32258580.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>غزوۂ بدر کے اسباق …(چہارم)(مفتی منیب الرحمٰن )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-04-04/51707/68629036</link><pubDate>Sat, 04 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-04-04/51707/68629036</guid><description>حضرت ابوعبیدہؓ بن جراح نے‘ جنہیں رسول اللہﷺ نے اس اُمت کے امین کا لقب عطا فرمایا تھا‘ اپنے والد عبداللہ بن جراح کو‘ حضرت مصعبؓ بن عمیر نے اپنے بھائی عبید بن عمیر کو اور حضرت عمرؓ فاروق نے اپنے ماموں عاص بن ہشام کو قتل کیا۔ ایسا فیصلہ کن نظارہ چشمِ فلک نے شاید ہی کبھی دیکھا ہو۔ رسول اللہﷺ کے چچا عباس بن عبدالمطلب اور چچا زاد عقیل بن ابی طالب اور نوفل بن حارث گرفتار ہوئے اور چار سو دینار فی کس فدیہ دے کر آزاد ہوئے۔معرکۂ بدر میں بعض خارقِ عادت واقعات بھی ظہور پذیر ہوئے‘ اُن میں سے چند یہ ہیں: (الف) حضرت عکاشہ الاسدی رضی اللہ عنہ کفار سے لڑ رہے تھے کہ اس معرکے کے دوران ان کی تلوار ٹوٹ گئی‘ وہ پلٹ کر رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: یا رسول اللہﷺ! میری تلوار تو ٹوٹ گئی ہے‘ اب میں کس چیز سے قتال کروں۔ سرورِ عالَمﷺ کے پاس ایک لکڑی پڑی تھی‘ آپﷺ نے وہ اٹھا کر اُنہیں دی اور فرمایا: عکاشہ! جائو! اس سے دشمن سے جہاد کرو۔ عکاشہؓ نے لکڑی کو ہاتھ میں پکڑ کر لہرایا تو وہ مضبوط تلوار بن گئی جس کا لوہا بڑا مضبوط تھا۔ عکاشہؓ اس کے ذریعے کفار سے لڑتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے فتح مبین عطا فرمائی۔ یہ تلوار &#39;&#39;العون‘‘ کے نام سے مشہور ہوئی اور پھر وہ تمام غزوات میں اسی سے جنگ کرتے رہے‘ یہاں تک کہ فتنۂ انکارِ ختم نبوت میں ایک جھوٹے مدعی نبوت طلیحہ اسدی نے ان کو شہید کر دیا۔ امام السِّیَر ابن اسحاق لکھتے ہیں: جب حضور انورﷺ نے یہ خوشخبری سنائی کہ میری امت کے ستّر ہزار آدمیوں کو بغیر حساب کے جنت میں داخل کیا جائے گا تو عکاشہؓ نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! دعا فرمائیے: اللہ مجھے بھی ان خوش نصیبوں میں شامل کر دے‘ حضورﷺ نے دعا فرمائی: &#39;&#39;اے اللہ! اسے بھی ان میں شامل فرما دے‘‘۔ اسی طرح ایک اور مجاہد سلمہؓ بن اسلم بن حریش کی جب تلوار ٹوٹی تو حضورﷺ نے انہیں خشک کھجور کی ٹہنی دی اور وہ بھی تلوار بن گئی اور ان کی شہادت تک یہ ان کے پاس رہی۔ (ب) غزوۂ بدر میں حضرت قتادہ کی آنکھ میں تیر لگا اور آنکھ کا ڈھیلا رخسار پر بہنے لگا‘ لوگوں نے اسے کاٹ کر الگ کرنا چاہا تو انہوں نے رسول اللہﷺ سے پوچھا: آپ نے انہیں اپنے پاس بلایا اور اپنے دستِ مبارک سے اس بہتے ہوئے ڈھیلے کو واپس آنکھ میں رکھ دیا اور اس پر اپنا دستِ مبارک پھیرا تو دونوں آنکھوں میں کوئی فرق نہ رہا۔ راوی لکھتے ہیں: &#39;&#39;انہیں یہ معلوم ہی نہیں ہوتا تھا کہ ان میں سے کون سی آنکھ پھوٹی تھی‘‘۔ (ج) رسول اللہﷺ القمر: 45 تا 46 کی آیۂ مبارکہ کو بطورِ دعا پڑھتے تھے: &#39;&#39;عنقریب یہ جماعتِ (کفار) پسپا ہو گی اور یہ پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے‘ بلکہ ان کا مقررہ وقت روزِ قیامت ہے اور قیامت بڑی خوفناک اور تلخ ہے۔ (د) جنگ سے ایک دن قبل رسول اللہﷺ نے میدانِ جنگ کا معائنہ فرمایا اور ایک مقام پر آپﷺ نے فرمایا: &#39;&#39;ان شاء اللہ! اس جگہ کل فلاں کی لاش پڑی ہو گی اور اس جگہ فلاں کی لاش پڑی ہو گی‘‘۔ حضرت عمرؓ فرماتے ہیں: اس ذات کی قسم جس نے ہمارے نبی کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا‘ ان کفار کی لاشیں رسول اللہﷺ کی بیان کردہ جگہوں سے ذرا بھی ادھر ادھر نہیں تھیں۔(ہ) حضرت ابوطلحہؓ بیان کرتے ہیں: جب کفار کی لاشیں ایک گڑھے میں ڈال دی گئیں تو اس کے کنارے کھڑے ہوکر رسول اللہﷺ نے ندا دی: &#39;&#39;ابوجہل! امیہ بن خلف! عتبہ بن ربیعہ! شیبہ بن ربیعہ! کیا تمہارے لیے یہ بات خوش آئند نہ ہوتا کہ تم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کر لیتے۔ مجھ سے میرے رب نے جو وعدہ کیا تھا‘ میں نے اُسے سچا پایا (تم بھی بتائو) اللہ اور اس کے رسول نے تم سے جو (ہلاکت کا) وعدہ کیا تھا‘ کیا تم نے اس کو سچا پایا‘‘۔ پھر آپﷺ نے فرمایا: &#39;&#39;تم اپنے نبی کے کتنے برے رشتے دار تھے‘ تم نے مجھے جھٹلایا اور لوگوں نے میری تصدیق کی‘ تم نے مجھے اپنے گھر سے نکالا اور لوگوں نے مجھے پناہ دی‘ تم نے مجھ سے جنگ کی اور لوگوں نے میری مدد کی‘‘۔ جب رسول اللہﷺ کفارِ مکہ کی ان لاشوں کو خطاب فرما رہے تھے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! انہیں مرے ہوئے تین دن گزر چکے ہیں‘ آپ آج انہیں پکار رہے ہیں: یہ بے روح جسم کیسے گفتگو کر سکتے ہیں‘ نبی مکرمﷺ نے فرمایا: &#39;&#39;میں جو اُن سے کہہ رہا ہوں‘ میری باتوں کو تم ان سے زیادہ نہیں سن رہے‘ وہ اب میری باتوں کو سن رہے ہیں‘ لیکن وہ جواب دینے کی صلاحیت سے محروم ہیں‘‘۔ (و) حضرت ابوحذیفہؓ بن عتبہ بن ربیعہ مکۂ مکرمہ کے نامی گرامی خاندان کے فرد تھے‘ اس خاندان کے نمایاں افراد عتبہ بن ربیعہ‘ شیبہ بن ربیعہ اور ولید بن عتبہ بدر میں قتل ہوئے اور جہنم رسید ہو گئے۔ جب کفار کی لاشوں کو گھسیٹ کر لایا جا رہا تھا تو اُن کے باپ عتبہ بن ربیعہ کی لاش بھی لائی گئی جو حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں جہنم رسید ہوا۔ یہ منظر ابوحذیفہؓ کے لیے بڑا حوصلہ شکن اور صبر آزما تھا‘ ان کی کیفیت کو دیکھ کر سرورِ عالمﷺ نے اُن سے فرمایا: ابوحذیفہ! اپنے باپ کی یہ حالت دیکھ کر تمہارے دل میں کچھ خیال تو پیدا نہیں ہوا‘ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! ہرگز نہیں! مجھے اپنے باپ کے انجام کے بارے میں کوئی شک نہیں‘ لیکن میں اپنے باپ کو بڑا صاحب الرائے‘ حلیم الطّبع اور فضیلتوں کا حامل سمجھتا تھا‘ مجھے امید تھی کہ ان کی فراست اور دانش مندی انہیں اسلام قبول کرنے پر آمادہ کر دے گی‘ لیکن ایسا نہ ہو سکا‘ اس لیے میں اُن کے اس انجام کو دیکھ کر بے حد رنجیدہ ہوں۔جب ابتدا میں رسول اللہﷺ کو مقامِ زفران پر پتا چلا کہ اب تجارتی قافلے کے بجائے کفارِ مکہ کے ایک منظم اور مسلّح لشکر سے مقابلہ ہو گا تو آپﷺ نے مہاجرین وانصار صحابۂ کرام کو جمع کر کے صورتِ حال سے آگاہ کیا اور ان کی رائے معلوم کی۔ حضرت ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما نے اپنے جانثارانہ جذبات کا اظہار کیا‘ لیکن شاید رسول اللہﷺ انصارِ مدینہ کی رائے جاننا چاہتے تھے‘ تو حضرت مقدادؓ بن عمرو کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہﷺ! اللہ نے آپ کو جو حکم دیا ہے‘ اس کے مطابق اپنا سفر جاری رکھیے‘ واللہ! ہم بنی اسرائیل کی طرح نہیں ہیں کہ جنہوں نے قومِ جبّارین کے ساتھ لڑائی سے گریز کرتے ہوئے موسیٰ علیہ السلام سے کہا تھا: &#39;&#39;اے موسیٰ! جائیے! آپ اور آپ کا رب (ان جبّارین سے) لڑ لیجیے‘ ہم یہاں (امن وسکون سے) بیٹھے ہوئے ہیں‘‘۔ اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا‘ اگر آپﷺ ہمیں برک الغماد تک بھی لے جائیں گے تو ہم آپ کے ساتھ مل کر جہاد کریں گے یہاں تک کہ آپ منزل تک پہنچ جائیں گے‘‘۔ حضرت سعدؓ بن معاذ نے اٹھ کر عرض کی: یا رسول اللہﷺ! لگتا ہے: آپ ہماری رائے جاننا چاہتے ہیں‘ تو سنیے: ہم آپ پر ایمان لائے اور ہم نے آپ کی تصدیق کی اور جو دعوتِ حق آپ لے کر آئے‘ ہم نے اس کے حق ہونے کی گواہی دی اور اس پر ہم نے پختہ عہد کیا کہ ہر فرمان کو سنیں گے اور آپ کی ہر بات کی اطاعت کریں گے‘ یا رسول اللہﷺ! آپ ہمیں جہاں لے کر جانا چاہتے ہیں‘ لے جائیں‘ ہم آپ کے ساتھ ہوں گے‘ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا: اگر آپ ہمیں سمندر میں کود جانے کا کہیں گے‘ تب بھی ہم آپ کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے اور ہم میں سے ایک شخص بھی پیچھے نہیں رہے گا۔ ہم اس بات کو ناپسند نہیں کرتے کہ آپ کل ہی ہمیں ساتھ لے کر دشمن کا مقابلہ کریں‘ ہم گھمسان کی جنگ میں صبر کرنے والے ہیں‘ دشمن سے مقابلے کے وقت ہم سچے ثابت ہوں گے‘ امید ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ہم سے وہ کارنامے سرزد ہوتے ہوئے دکھائے گا‘ جس سے آپ کی آنکھوں کو ٹھنڈک نصیب ہو گی۔ پس اللہ کے نام پر اپنی منزل کی طرف روانہ ہو جائیے۔ بدر کا معرکہ اس آیۂ مبارکہ کی عملی تصویر وتعبیر ہے: &#39;&#39;کتنی ہی چھوٹی جماعتیں ایسی ہیں جو اللہ کے اذن سے بڑی جماعتوں پر غالب آ گئیں‘‘ (البقرہ: 249)۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_61172381.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>