<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>لوڈشیڈنگ کا حل پائیدار توانائی پالیسی(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-17/11111</link><pubDate>Fri, 17 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-17/11111</guid><description>گرمی کی شدت میں اضافے کیساتھ ہی طویل لوڈ شیڈنگ عوام کیلئے شدید کربناک ہو چکی ہے۔ اگرچہ لوڈ شیڈنگ ملک کا دیرینہ مسئلہ ہے تاہم گزشتہ روز پریس بریفنگ میں وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری کا کہنا تھا کہ ایندھن کی فراہمی میں تعطل اور ایل این جی نہ ہونے کی وجہ سے بجلی کی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے‘ یہ عارضی لوڈشیڈنگ ہے‘ ایل این جی آنے اور پن بجلی کی پیداوار بڑھنے سے بجلی بحران ختم ہو جائے گا۔ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق اس وقت ملک میں بجلی کی مجموعی طلب 20 سے 21 ہزار میگا واٹ ہے جبکہ بجلی کی پیداوار 14ہزار میگاواٹ کے لگ بھگ ہے۔ اس وقت چار سے پانچ ہزار میگاواٹ کے شارٹ فال کا سامنا ہے جبکہ زیادہ کھپت کے دورانیے میں یہ فرق چھ ہزار میگاواٹ تک پہنچ جاتا ہے۔ پیداوار اور طلب کے اس بڑے فرق کی وجہ سے ملک بھر میں چھ سے سولہ گھنٹے کی اعلانیہ و غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے۔

یہ صورتحال گرمی کے اس موسم میں گھریلو صارفین کیلئے تو اذیت کا باعث ہے ہی‘ ملکی صنعتوں کیلئے تباہ کن ثابت ہو رہی ہے۔ پیداواری عمل میں بار بار خلل سے نہ صرف اشیا کا معیار متاثر ہوتا ہے بلکہ متبادل مہنگے ذرائع سے لاگت بھی بڑھ جاتی ہے‘ جس سے مسابقت متاثر ہوتی ہے اور بالآخر اس کا خمیازہ کم پیداوار اور بیروزگاری کی صورت میں برآمد ہوتا ہے۔ حکومت کا یہ کہنا ایک حد تک درست کہ اس بحران کی بڑی وجہ ایل این جی کی قلت ہے مگر دیکھا جائے تو بجلی کے پیداواری اور تقسیم کار شعبے تہ در تہ مسائل کے سبب مجسم بحران بن چکے ہیں۔ بجلی کی طلب اور رسد کا مسئلہ محض آج کا نہیں بلکہ گزشتہ کئی دہائیوں سے پاکستان اس مسئلے سے نبرد آزما ہے۔ اس دوران کئی حکومتیں آئیں اور گئیں‘ بجلی کے مہنگے ترین منصوبے مکمل ہوئے مگر لوڈشیڈنگ کا مسئلہ بدستور ہے۔ گزشتہ چار‘ پانچ برسوں میں بجلی کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ کر کے اسے عوام کیلئے ناقابلِ رسائی بنا دیا گیا مگر اس کے باوجود بھی حکومت صارفین کی بجلی کی ضروریات پوری نہیں کر پا رہی۔ اس وقت ملک کی کُل بجلی کی پیداوار کا تقریباً 52فیصد ملکی ذرائع جبکہ 46فیصد سے زائد درآمدی گیس اور تیل پر منحصر ہے۔ عالمی منڈی میں توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور درآمدات میں مشکلات کی وجہ سے پاور پلانٹس اس وقت اپنی پوری صلاحیت کے مطابق کام نہیں کر پا رہے۔ گیس پر چلنے والے پلانٹس یا تو بند پڑے ہیں یا انتہائی کم صلاحیت پر چل رہے ہیں جس سے نیشنل گرڈ میں بجلی کی فراہمی کم ہو گئی ہے۔
یہاں یہ سوال ابھرتا ہے کہ ایل این جی کی ترسیل میں رکاوٹ تو حالیہ ایک ڈیڑھ ماہ کا مسئلہ ہے‘ اس سے قبل بھی لوڈ مینجمنٹ اور بجلی چوری کی روک تھام کی خاطر چند گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ معمول کا حصہ تھی۔ درحقیقت پاکستان کا مجموعی انرجی سٹرکچر اس بحران کا حقیقی ذمہ دار ہے۔ درآمدی تیل وگیس پر حد سے زیادہ انحصار ملکی معیشت کیلئے میٹھا زہر ثابت ہو رہا ہے۔ اس سے نہ صرف زرمبادلہ کے ذخائر پر بوجھ پڑتا ہے بلکہ بجلی کی قیمتیں بھی اتار چڑھائو کا شکار رہتی ہیں۔ جب تک ہم مہنگے درآمدی ایندھن کے بجائے مقامی اور سستے ذرائع کی طرف نہیں بڑھیں گے‘ گردشی قرضوں اور شارٹ فال کا یہ گورکھ دھندہ ختم نہیں ہوگا۔ حکومت کو روایتی تھرمل پاور پلانٹس کے بجائے قابلِ تجدید توانائی بالخصوص سولر انرجی کے فروغ پر توجہ دینی چاہیے۔ اسی طرح ہائیڈل اور ونڈ انرجی کے منصوبوں سے سستی بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔ ایک دیرپا اور مستقل توانائی پالیسی کے بنا بجلی کے بحران کا حل ممکن نہیں ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے ہم عارضی بنیادوں پر فیصلے کر رہے‘ اب ہمیں ایک ایسی جامع انرجی پالیسی کی ضرورت ہے جو توانائی کی پیداوار میں مقامی ذرائع کا حصہ بڑھائے‘ ترسیل اور تقسیم کے نقصانات کو کم کرے اور قوم کو لوڈشیدنگ کے عذاب سے مستقلاً نجات دلائے۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>وقتی ریلیف اور مستقل معاشی استحکام(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-17/11110</link><pubDate>Fri, 17 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-17/11110</guid><description>سعودی عرب کی جانب سے دو ارب ڈالر کے نئے ڈپازٹ کی وصولی اور موجودہ پانچ ارب ڈالر کے ڈپازٹ کی تین سال کیلئے رول اوور کی پیشرفت بلاشبہ ملکی معیشت کیلئے ایک بڑے اور فوری ریلیف کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس وقت جب ملک کو بیرونی ادائیگیوں‘ زرمبادلہ کے دباؤ اور آئی ایم ایف پروگرام کے اہداف کے درمیان توازن قائم رکھنے کا چیلنج درپیش ہے‘ یہ مالی معاونت وقتی طور پر استحکام کی ایک مضبوط دیوار فراہم کرتی ہے۔ تاہم اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ ملک کے زرِمبادلہ کے ذخائر کا بڑا انحصار اب بھی دوست ممالک کی مالی معاونت اور قرضوں پر ہے۔ مستقل معاشی استحکام کیلئے قرضوں کے بجائے ملکی آمدن میں اضافہ ناگزیر ہے۔ اس مقصد کیلئے برآمدات میں نمایاں اضافہ اولین ترجیح ہونی چاہیے۔

پاکستان کو اپنی برآمدی بنیاد کو وسیع اور متنوع بنانے کی ضرورت ہے تاکہ زرمبادلہ کے مستقل ذرائع پیدا ہو سکیں۔ اس کیساتھ ساتھ صنعتی اور زرعی شعبوں میں پیداواری لاگت کم کرنے اور مراعات کے ذریعے مسابقت بڑھانے کی اشد ضرورت ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو برآمدات کو فروغ دے کر بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کو کم کر سکتا ہے۔ مزید برآں ٹیکس نیٹ کی توسیع‘ غیر رسمی معیشت کی دستاویزی شکل اور سرمایہ کاری کیلئے سازگار ماحول کی فراہمی بھی دیرپا معاشی استحکام کے بنیادی ستون ہیں۔ موجودہ پیشرفت ایک وقتی ریلیف ضرور لیکن ہمیں اس موقع سے فائدہ اٹھا کر ملک کو قرضوں کے چکر سے نکال کر پائیدار معاشی ترقی کی سمت بڑھانا ہو گا۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>تیل و گیس کے نئے ذخائر(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-17/11109</link><pubDate>Fri, 17 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-17/11109</guid><description>آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ نے خیبرپختونخوا کے ضلع کوہاٹ کے نشپا بلاک میں واقع براگزئی ایکس-1 کنویں سے تیل و گیس کے ایک بڑے ذخیرے کی دریافت کا اعلان کیا ہے‘ جسے ملکی تاریخ کی سب سے بڑی دریافت قرار دیا جا رہا ہے۔ او جی ڈی سی ایل کے مطابق اس کنویں سے ابتدائی طور پر یومیہ تقریباً 15ہزار بیرل تیل اور 45ملین مکعب فٹ گیس حاصل ہو رہی ہے جبکہ 2028ء تک اس پیداوار کو بڑھا کر 25ہزار بیرل یومیہ تیل اور 60 ملین مکعب فٹ گیس تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ معاشی اعتبار سے بھی یہ دریافت غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ اندازوں کے مطابق اس کنویں سے سالانہ تقریباً 57 ارب روپے کی آمدن متوقع ہے جبکہ درآمدی ایندھن پر انحصار کم ہونے سے سالانہ تقریباً 329 ملین ڈالر کے زرمبادلہ کی بچت ممکن ہو سکے گی۔

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان جغرافیائی لحاظ سے ایک ایسے خطے میں واقع ہے جہاں تیل‘ گیس اور دیگر معدنی وسائل کی کمی نہیں تاہم ان وسائل کی تلاش اور مؤثر استعمال پر وہ توجہ نہیں دی جا رہی جس کی ضرورت ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ ملک بھر میں تیل و گیس کی تلاش کے عمل کو تیز کرے۔ اگر حکومت سنجیدگی سے اس سمت میں اقدامات کرے تو نہ صرف درآمدی ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکتا ہے بلکہ عوام کو سستی توانائی کی فراہمی بھی ممکن بنائی جا سکتی ہے۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>تین سو ارب ڈالر سے تین ارب ڈالر تک(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-04-17/51780/14808922</link><pubDate>Fri, 17 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-04-17/51780/14808922</guid><description>وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے گزشتہ دنوں کراچی میں بزنس مینوں سے خطاب کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ پاکستان سے پچھلے تین چار سالوں میں 100 ارب ڈالرز منی لانڈرنگ کے ذریعے باہر گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ لندن میں کیسے منی لانڈرنگ کی جاتی ہے۔ وٹس ایپ پر ایک پائونڈ کے نوٹ پر ایک نمبر لکھا ملے تو سمجھ لیں کہ پیسہ ٹرانسفر ہوگیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر دو تین بندوں کو اٹھا لیا جائے تو سب پتا چل جائے گا۔ یہ ذہن میں رکھیں کہ جن تین‘ چار سالوں میں سو ارب ڈالر باہر جانے کی بات کر رہے‘ یہ وہ دور ہے جب عمران خان کے خلاف تحریک اعتماد کامیاب ہونے کے بعد شہباز شریف وزیراعظم بنے تھے اور پنجاب میں وزیراعلیٰ پرویز الٰہی نے کمال سمجھداری سے اپنی حکومت خود توڑ دی تھی اور محسن نقوی پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ بن گئے تھے۔ بعد ازاں الیکشن ہوئے تو شہباز شریف دوبارہ وزیراعظم اور محسن نقوی وزیرداخلہ بنا دیے گئے۔ یوں ان تین‘ چار سالوں میں وہ اقتدار میں رہے اور دو سال سے زائد عرصے سے وزیر داخلہ ہیں‘ جن کے ماتحت اداروں کا کام منی لانڈرنگ کو روکنا ہے۔ اب وہ خود بتا رہے کہ ایک سو ارب ڈالر کی منی لانڈرنگ ہو چکی۔ اندازہ کریں کہ اس ملک میں ایک سو ارب ڈالرز موجود تھا‘ جو بقول وزیر داخلہ ہنڈی یا منی لانڈرنگ کے ذریعے بیرونِ ملک بھجوا دیا گیا۔ ایک طرف اپنے ملک کا ایک سو ارب ڈالر باہر چلا گیا اور دوسری طرف متحدہ عرب امارات نے کہا ہے کہ ہمارا ساڑھے تین ارب ڈالر واپس کرو‘ جو چھ فیصد سود پر اس نے پاکستان کے پاس رکھوایا ہوا تھا۔ اب ہمارے ہاتھ پائوں پھول گئے کہ کہاں سے لائیں ڈالر کیونکہ اگر ادائیگی کر دی تو فارن ریزرو پر بہت برا اثر پڑے گا اور ممکن ہے ڈالر کا ریٹ اوپر چلا جائے۔ لہٰذا ہنگامی طور پر سعودی عرب کے پاس پہنچے اور پھر قطر سے بات کی اور تقریباً چار سے چھ فیصد سود پر نیا قرضہ لے آئے۔ایک اور مزے کی بات سنیں۔ ایک عالمی معیشت دان نے چند روز قبل ایک ٹویٹ کیا کہ پاکستان کی کوششوں سے جو ایران اور امریکہ میں سیز فائر ہوا ہے‘ اس سے دنیا بھر کی معیشتوں کو تین ٹریلن (تین ہزار ارب ڈالر) کا فائدہ ہوا ہے۔ یعنی پاکستان کی وجہ سے دنیا کو تین ہزار ارب ڈالر کا فائدہ ہوا مگر وہ خود تین ارب ڈالر ادھار مانگتا پھر رہا ہے۔ دنیا پاکستان کی کوششوں کی وجہ سے ہزاروں ارب ڈالر کما رہی‘ سب کا کاروبار چل پڑا ہے اور ہم اس پر بھی نہیں رکے اور اپنے خرچے پر سب کے مذاکرات بھی کرا رہے ہیں اور دیگر ملکوں کے دورے بھی کر رہے تاکہ سب کو راضی کیا جائے اور جنگ مستقل طور پر بند ہو‘ جو بہت اچھی بات ہے کہ جتنا دنیا کا فائدہ ہے‘ اس سے زیادہ پاکستان کا فائدہ ہے۔ تاہم مقصد صرف یہ بتانا ہے کہ ہم اس وقت کس مشکل میں ہیں اور بیک وقت کئی محاذوں پر لڑ رہے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ دنیا بھر میں پہلی دفعہ پاکستان کا مثبت تشخص آسمان کو چھو رہا ہے اور پوری دنیا کے عوام‘ ان کے لیڈر اور سب سے بڑھ کر دنیا بھر کا میڈیا پاکستان کی تعریفوں کے پُل باندھ رہا ہے۔ ہمیں یقین نہیں آ رہا کہ وہ ممالک اور انکا میڈیا جو کبھی روزانہ ہمیں بدنام کرنے کے درپے رہتا تھا‘ اب ہمیں دنیا میں امن کا سفیر قرار دے رہا ہے۔اس جنگ کے دوران ہی خبر ملی کہ یو اے ای ناراض ہو گیا ہے لہٰذا اس نے پیسے واپس مانگے ہیں۔ وہی عرب امارات جہاں پاکستانیوں نے دس ارب ڈالر کی جائیدادیں خرید رکھی ہیں اور زیادہ تر ڈالر پاکستان سے غیر قانونی طریقے سے باہر گئے۔ کچھ برس قبل ایف آئی اے نے تحقیقات بھی شروع کی تھیں لیکن اس فہرست میں سول ملٹری افسران‘ سیاستدانوں‘ اینکرز‘ میڈیا ہائوسز اور کاروباری حضرات کی جائیدادوں کے نام پڑھ کر فائل بند کر دی۔ جہاں ملک کے صدر کا محل ہو‘ وزیر خارجہ کے بچوں کا بزنس ہو اور کچھ اہم وزیر وہاں سروسز دیتے رہے ہوں‘ وہاں آپ کیا کارروائی کر سکتے ہیں۔ اور تو اور ایک سابق ڈی جی آئی ایس آئی بھی دبئی میں ایک امریکی ہسپتال میں ٹاپ سکیورٹی جاب کرتے رہے اور پاکستان واپسی پر ایک سابق سینیٹر کی ہائوسنگ سوسائٹی کے ایڈوائزر لگ گئے۔ تنخواہ یقینا لاکھوں میں تھی۔ وہ سینیٹر جب پیپلز پارٹی دورِ حکومت میں وفاقی وزیر بنا تو ایک دوست کے بینک میں حکومت کے پچاس کروڑ روپے ڈپازٹ رکھوائے مگر وہ پیسہ ڈوب گیا۔ اس پر نیب کا کیس بھی بنا۔ تیرہ برس گزر چکے ہیں‘ کسی نے دوبارہ نیب سے نہیں سنا کہ اس پچاس کروڑ سکینڈل کا کیا بنا؟ ان حالات میں وزیر داخلہ کا یہ انکشاف کیسا لگتا ہے کہ ملک سے تین‘ چار سالوں میں ایک سو ارب ڈالر باہر بھیج دیے گئے۔ آپ کو یاد ہو گا کہ یہیں یہ بڑی خبر بریک کی تھی کہ اسحاق ڈار 2014ء میں وزیر خزانہ کے طور پر ایک سمری کابینہ میں لے کر گئے تھے جس میں انکشاف کیا گیا کہ سوئس بینکوں میں پاکستانیوں کے دو سو ارب ڈالر پڑے ہیں۔ یہ سمری ایف بی آر نے تیار کی تھی (میرے پاس آج بھی وہ سمری موجود ہے)۔ اس سمری میں تمام ڈیٹا اور سورسز بتائے گئے تھے کہ پاکستانیوں کے دو سو ارب ڈالر سوئس بینکوں میں موجود ہیں۔ اس پر نواز شریف کابینہ سے اجازت لی گئی کہ ہمیں سوئس حکومت کے ساتھ معاہدہ کرنے کی اجازت دیں‘ جس کے تحت سوئس بینک اُن پاکستانیوں کا سارا ڈیٹا فراہم کریں گے اور اگر اکائونٹ ہولڈرز سورسز نہ بتا سکے تو یہ پیسہ پاکستان کو ٹرانسفر ہو جائے گا۔ پاکستان ان لوگوں کو نوٹس دے کر خود بھی انکوائری کر سکتا تھا اور اگر مطمئن نہ ہو تو اکائونٹ میں پڑے ڈالرز پاکستان کو مل سکتے تھے۔ کابینہ نے اجازت دی‘ ایک وفد سوئٹزرلینڈ بھیجا گیا جس کا سربراہ ایف بی آر کے ایک زبردست افسر ڈاکٹر محمد اشفاق احمد کو بنایا گیا۔ طارق باجوہ اس وقت چیئرمین ایف بی آر تھے۔ وہاں جن سوئس حکام سے ملاقات ہوئی ان کے انچار ج نے بتایا کہ اسے پاکستان سے بہت محبت ہے کہ وہاں سوئس سفارتخانے میں اس نے بڑا عرصہ کام کیا ہے۔ اس کا بیٹا وہیں پیدا ہوا‘ لہٰذا وہ پاکستان کو اپنا گھر سمجھتا ہے۔ اس نے کہا کہ ہم تیار ہیں‘ آپ ایم او یو لائیں‘ ہم دستخط کر دیتے ہیں۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ وہ جلد ریٹائر ہو رہا ہے‘ اس لیے اس کی ریٹائرمنٹ سے پہلے یہ کام کرا لیں۔ ڈاکٹر اشفاق احمد واپس آئے تو اُن دنوں اسلام آباد میں عمران خان کا دھرنا شروع ہو چکا تھا۔ نواز شریف حکومت کو پیپلز پارٹی کی ضرورت پڑ گئی اور یوں یہ معاملہ کھٹائی میں پڑ گیا کیونکہ مبینہ طور پر پی پی پی کے بڑوں کے ڈالرز وہاں پڑے تھے‘ جن کی ریکوری کیلئے 1998ء میں بھی نواز شریف حکومت نے ایک کوشش کی تھی۔ بعد میں جسٹس افتخار چودھری بھی گیلانی حکومت سے سوئس حکومت کو خط لکھوا کر کیس کھلوانا چاہتے تھے لیکن صدر زرداری نہ مانے اور یوسف رضا گیلانی کو گھر جانا پڑا۔ شنید ہے کہ پیپلز پارٹی کے حکومت کے ساتھ تعاون کی یہی شرط رکھی گئی کہ سوئس معاہدہ ابھی سائن نہ کریں۔ الٹا ڈاکٹر اشفاق احمد کے خلاف انکوائری شروع کر دی گئی کہ تم نے ایم او یو پر رضامندی کیوں ظاہر کی۔ پھر وہ دو سو ارب ڈالر‘ جسے اس قوم نے مذاق بنا لیا ہے‘ جن کے اکائونٹس میں وہ پیسہ تھا‘ انہیں وقت مل گیا کہ یہ سارا پیسہ ادھر ادھر کر لیں۔ اب وزیر داخلہ کے سو ارب ڈالر والے بیان سے یاد آیا کہ پہلے اسحاق ڈار اور پھر عمران خان نے دو سو ارب ڈالر ملک میں واپس لانے تھے۔ یہ الگ کہانی ہے کہ عمران خان دور میں ان دو سو ارب ڈالر کا کیا بنا۔ مطلب جس ملک کے اپنے تین سو ارب ڈالر باہر پڑے ہیں‘ وہ متحدہ عرب امارت کے تین ارب ڈالر واپس کرنے کیلئے سعودی عرب سے قرض مانگ رہا ہے۔ ایسے ہیں ہم اور ہمارا پاکستان۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>حکیم دُسی(رسول بخش رئیس)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-04-17/51781/53120686</link><pubDate>Fri, 17 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-04-17/51781/53120686</guid><description>نام تو کچھ اور تھا اور وہ اچھی طرح مجھے یاد بھی ہے مگر لوگ 70سال قبل انہیں دُسی کہتے تھے۔ حکیم دُسی کی شہرت اپنے محدود علاقے سے زیادہ دور نہیں جا سکی۔ وہ نہایت ہی سادہ‘ دلچسپ اور بہت ذہین انسان تھے۔ اس علاقے میں وہ واحد شخص تھے جو ہندی زبان پڑھ اور لکھ سکتے تھے۔ اردو انہوں نے کبھی نہیں سیکھی تھی اور نہ ہی اس میں کوئی دلچسپی تھی۔ ان کے حکمت میں استاد‘ ملک کی آزادی سے بہت پہلے‘ ایک ہندو حکیم تھے جن کی خدمت میں وہ بہت عرصہ رہے اور ان سے حکمت کی تربیت حاصل کی۔ سب کچھ انہوں نے ہندی کی کتابیں پڑھ کر سیکھا تھا۔ آنکھ کھولتے ہی ہم سب بیمار ہوئے تو پہلی ملاقات حکیم دُسی سے ہوئی۔ شاید ہی کوئی بچہ ہو حکیم دُسی نے زبردستی لکڑی کے چھوٹے سے ٹکڑے کو دانتوں کے درمیان گھسا کر کڑوی دوائیاں جس کے منہ میں نہ انڈیلی ہوں۔ بڑے ہو کر بھی ان کی دکان سے دور سے گزرتے تھے۔ ہماری ان سے دوستی اس وقت ہوئی جب دانت توڑ آلے کے استعمال کا ہمارا زمانہ گزر چکا تھا۔ حکیم کی دکان قدرے کشادہ اور شہر کے بازار کے وسط میں تھی جس کے سامنے ایک اور بازار شروع ہوتا تھا۔ صبح ہوتے ہی تین حکیم اپنی حکمت کی دکانیں سجا لیتے۔ صرف ایک‘ جو کسی دور کے علاقے سے آ کر یہاں آباد ہوئے تھے اور وہ مولوی تھے‘ کے پاس بیٹھنے کے لیے کرسی اور مریضوں کے لیے ایک بینچ تھا جس کی ٹیک نہیں تھی۔ دُسی اور تیسرے حکیم کی نشست فرشی تھی۔ دُسی ان سب میں بہت مشہور تھے اور ان کا طریقہ علاج بھی منفرد تھا۔ کوئی بھی مریض چاہے کسی بھی مرض میں کیوں نہ مبتلا ہو‘ کی نبض پر کچھ دیر ہاتھ رکھتے اور پھر دوائیوں کی پڑیاں ایک مخصوص انداز میں اگلے پانچ سات دن کے لیے بنا کر مریض کے حوالے کر دیتے۔ پڑیوں کے ساتھ ایک دو چھوٹی بوتلوں میں مختلف رنگوں کا خود تیار کردہ سخت کڑوا محلول بھی استعمال کے لیے دیتے۔ کسی بھی مریض کو واپس آنے کی ضرورت نہ رہتی اور کچھ دوائیوں کے اثر اور زیادہ تر ان کے حکیمانہ مشوروں سے ہی صحت یاب ہو جاتے۔ دُسی اور یونانی حکمت ہمارے دور کی دیہاتی ثقافت کا حصہ تھے۔ لوگوں کو حکیموں کی مہارت پر پختہ یقین تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ صدیوں سے یہی طریقۂ طب پورے ہندوستان‘ ایران اور عرب دنیا تک پھیلا ہوا تھا۔ حکیم دُسی اکثر دوائیاں خود تیار کرتے۔ اس زمانے میں بڑے شہروں اور قصبوں میں جڑی بوٹیوں کی دکانیں ہوا کرتی تھیں جہاں سے دیہاتی حکیم اپنی ضرورت کے مطابق جڑی بوٹیاں خرید کر لایا کرتے تھے۔ دکان کی دیوار پر حکیم دُسی نے تختے شیلفوں کی صورت لگا رکھے تھے اور ٹین کے سینکڑوں ڈبے جنہیں وہ ہر سال خود سفید روغن کرتے اور ان پر ہندی سکرپٹ میں ان کے نام لکھے ہوئے تھے۔ دُسی کے علاوہ کوئی بھی انہیں نہیں پڑھ سکتا تھا کہ ان میں کیا ہے جب تک کہ کوئی کھول کر نہ دیکھتا۔ لیکن کسی کو بھی قریب پھٹکنے کی اجازت نہیں تھی۔ مریض ہر وقت نہیں آتے تھے۔ اکثریت صبح سویرے آتی اور دوائیاں لے کر ہر کوئی گھر کو چلا جاتا۔ جونہی دُسی حکمت سے کچھ فراغت حاصل کرتے‘ ان کی دکان پر اکثر ادبی نشست شروع ہو جاتی۔ دو مختلف آدمیوں کے پاس دو کتابیں تھیں۔ ایک کے پاس داستانِ امیر حمزہ اور دوسرے کے پاس ہزار داستان۔ ان میں سے ایک کتاب لے آتا اور پڑھنا شروع کر دیتا۔ حکیم دُسی خود بھی کہانی باز تھے جو اکثر ان کے مشاہدے پر مبنی ہوتیں۔ انہیں مرچ مسالا لگا کر جب وہ اپنے اردگرد کے لوگوں کو سناتے تو وہ ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو جاتے۔ داستانِ امیر حمزہ ان کی پسندیدہ کتاب تھی جسے وہ پڑھ تو نہیں سکتے مگر اسے سن کر سر دھنتے۔ ہماری دوستی ان سے اس ادبی نشست اور ان کی اپنی قصہ گوئی سے شروع ہوئی۔ اس وقت غالباً میں ساتویں‘ آٹھویں جماعت میں تھا۔ ہمارے علاقے میں نہ کتابیں میسر ہوتیں اور نہ ہی سکولوں میں کتب خانے تھے۔ کتابیں ہر سال ہمارے مڈل سکولوں کو کچھ نہ کچھ ضرور ملتیںجو لکڑی کے صندوقچوں میں ہمارے استاد بند کر کے رکھ دیتے۔ مجھے کتابیں پڑھنے کا شوق اس وقت ہوا جب ایک استاد نے مجھے اس دیمک زدہ صندوق کی صفائی کی ذمہ داری ڈنڈے کے زور پر سونپی۔ چھوٹی چھوٹی ہمارے دور کی جنتری کی سائز کی دیو‘ پریوں‘ شہزادوں اور شہزادیوں کی کہانیاں تھیں جو ہر روز استاد کی اجازت سے گھر لے جاتا اور اگلے دن مزید کی درخواست کرتا۔ اس کی ابتدا تو دُسی کی دکان سے ہوئی تھی۔ ایک اور نوجوان دکاندار تھا جو آداب عرض اور سلام عرض ڈائجسٹ منگوایا کرتا تھا اور پڑھنے کے بعد ہمیں بھی موقع فراہم کرتا۔ دُسی اپنے زمانے کا روشن خیال آدمی تھا۔ میں کالج میں داخل ہوا اور اس علاقے سے پہلا ہی فرد‘ تو سب لوگوں نے میری حوصلہ افزائی کی لیکن جو نصیحتیں اور شاباش مجھے حکیم دُسی سے ملتی اس کا اثر جادو سے کم نہ تھا۔ وہ اکثر کہتے کہ بڑے لوگ نہیں چاہتے کہ ہم عام آدمیوں کے بچے بھی لکھ پڑھ جائیں اور معاشرے میں اپنا مقام حاصل کریں۔ یہاں بچوں کو سکولوں میں پڑھانے کے خلاف کہانیاں گھڑی جاتی ہیں۔ آپ آگے بڑھے ہیں تو اب پیچھے کبھی نہ دیکھنا۔ دُسی نے اپنے تین بیٹوں کو سکول میں پڑھانے کے بہت جتن کیے مگر وہ کامیاب نہ ہو سکے۔ میری کامیابیوں پر اپنے بچوں سے بھی زیادہ خوش ہوتے۔ ہر دفعہ کالج سے چھٹیوں کے دوران اسی طرح دُسی کی قصہ گوئی کی نشستوں میں حاضری لگواتا۔حکیم دُسی بعد کے دور میں جب شہر جڑی بوٹیاں خریدنے جاتے تو ڈبوں میں بند دوائیاں بھی خرید کر لاتے۔ چونکہ وہ پڑھ نہیں سکتے تھے اس لیے انہیں نہیں پتا تھا کہ وہ کس مرض کا علاج ہیں۔ میری ذمہ داری تھی کہ میں ڈبی میں لکھی تحریریں دُسی کو پڑھ کر سناؤں۔ یہ کام مجھے کئی بار کرنا پڑتا تو پھر انہیں سمجھ آتی۔ صافی نامی خوف صاف کرنے والی دوا ان کی پسندیدہ دوائیوں میں سے تھی۔ مجھے خود کئی بار اسے پانی میں دو ڈھکن ملا کر پینے اور اپنا خون صاف کرنے کا مشورہ دُسی نے دیا تھا۔ کیا کہوں کہ مرتا کیا نہ کرتا۔ ویسے آپ کو اگر یہ تجربہ نہیں تو کبھی ضرور کر کے دیکھ لیں۔ دُسی کی طب کا بنیادی فلسفہ یہ تھا کہ سب بیماریاں خون کی خرابی سے پیدا ہوتی ہیں اور اس کی بنیادی وجہ بھاری اور مرغن غذا کا استعمال ہے۔ اپنے اکثر مریضوں کے علاج کی ابتدا انہیں ارنڈی کے تیل (Castor Oil) کی خوراک صبح کچھ کھانے سے پہلے پلا کر شروع کرتے۔ اکثر کی جو حالت بنتی وہ کچھ دن گھر ہی پڑے رہتے۔ پھر اس کے بعد ان کی طبیعت اور خون صاف ہونا شروع ہو جاتا۔ اس وقت جدید طب کے ڈاکٹر نہیں تھے۔ صرف شہروں میں تھے‘ دیہات میں بالکل نہیں۔ حکیموں کا ایسا راج تھا جن کا مہاراجہ دُسی تھا۔ ایک مقامی ڈاکٹر جدید تعلیم کے بعد یہاں آبسا مگر اس کا جدید ہسپتال ویرانی کا منظر پیش کرتا۔ تنگ آکر اس نے کپڑے کی دکان کھول لی اور وہ بھی نہ چل سکی۔ لوگوں میں حکیموں نے تاثر پھیلایا ہوا تھا کہ انگریزی دوائیاں گرم ہوتی ہیں اور اس گرم موسم کے علاقوں کے لیے موزوں نہیں۔ میرے خیال میں دیہات میں ہمارے دور کے حکیموں کا جادو ایک چھوٹی سی انگریزی دوا اسپرین نے توڑا۔ ریڈیو پر اس کی تشہیر سر درد اور بخار کے لیے ہوتی تو عام دکاندار بھی اس کے ڈبے لے کر گڑ شکر کے ساتھ بیچنا شروع ہو گئے۔ اس گولی کا راج چلا تو اس نے جدید طب کے دروازے کھول دیے۔ ہمارے دور کے حکیم دُسی جب اللہ کو پیارے ہوئے تو کوئی ان کی جگہ نہ لے سکا۔ البتہ اُس دور کی خون صاف کرنے والی دوا اب بھی دستیاب ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_33241568.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پوسٹ مذاکرات کے حالات(بابر اعوان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/babar-awan/2026-04-17/51782/57580599</link><pubDate>Fri, 17 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/babar-awan/2026-04-17/51782/57580599</guid><description>ہمیں میں نہ مانوں کبھی اچھا نہیں لگا لیکن ایک بات ایسی ہے جو میں نہ مانوں کے قابل تھی‘ ہے اور ہمیشہ رہے گی۔ یہی کہ امریکہ بہادر کا صدر چاہے کوئی بھی ہو وہ اسرائیل کے مفادات کے خلاف نہیں جا سکتا۔ یا یوں کہہ لیں کہ امریکہ کسی بھی مسلم ملک کو اسرائیل کے مقابلے پر ترجیح کیا‘ برابری کی لفٹ بھی نہیں کروائے گا۔ شہرِ اقتدار میں جب بھی بیرونِ ملک سے مہمان آئے نااہل حکمرا ن اہلِ وطن کے ساتھ &#39;&#39;ہنگر گیم‘‘ کھیلنا نہیں بھولتے۔ سیدھی بات ہے جب پورا دارالخلافہ &#39;&#39;کنٹینرستان‘‘ میں تبدیل کر دیا جائے۔ ہر سیکٹر کے چوک میں‘ ہر گلی کے نکڑ پہ ناکہ لگا ہو۔ میلوں لمبی ٹریفک لائنیں لگا کر سرکاری اہلکار وٹس اَیپ پر کھیل رہے ہوں۔ پھر ٹہلتے ٹہلتے گاڑی کے اندر فیملیوں کو جھانک کر پوچھتے ہوں کہ کہاں جانا ہے؟ ہر ناکے پر موٹر سائیکلوں کا طومار اکٹھا کر کے ایڈوانس عیدالاضحی کی مبارک بادی وصولنا نہیں بھولتے۔ ایسے میں سبزی‘ پھل‘ دودھ جیسی بنیادی اشیائے ضروریہ دارالخلافہ میں داخل کہاں سے ہوں گی؟ مختصراً یہ کہ بلا خوف و تردید اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ ٹریفک مینجمنٹ اور روڈ کنٹرول کے علاوہ باقی ہر کام بڑی محنت سے کیا جاتا ہے۔ امریکہ ایران ڈائیلاگ کے دوران جڑواں شہروں کو لاک ڈاؤن کر کے مسلسل پانچ روز تک بند رکھا گیا۔ امریکہ سے آنے والی خبریں بتاتی ہیں کہ اب دوبارہ دارالحکومت کو بند کرنے والے حرکت میں آئیں گے۔ایران امریکہ مذاکرات کے حوالے سے کچھ افراد کی توقعات ہیں کہ یہ کامیاب ہو سکتے ہیں۔ ہم نے امریکہ اسرائیل حقیقی گٹھ جوڑ پر ایک تبصرہ اوپر کر دیا۔ دوسرا یہ ہے کہ امریکہ کے باخبر صحافیوں نے صدر ٹرمپ کے بیٹے کے ایک بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات پبلک کی ہیں۔ اس حوالے سے شائع شدہ رپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز پر بیان بازی‘ نیویارک کی سٹاک مارکیٹ وال سٹریٹ کو اِن سائیڈ ٹریڈنگ کے لیے استعمال کرکے مبینہ طور پر دو سو ملین ڈالر ایک جھٹکے میں بنائے گئے۔ برسبیلِ تذکرہ یہ کہنا برمحل ہے کہ دنیا کا جو حکمران ڈیلر‘ ٹریڈر یا انویسٹر ہو گا وہ اپنی حکومتی حیثیت کو خاندانی سلطنت سمجھ کر ذاتی بزنس ایمپائر میں سرکاری وسائل جھونکے گا۔ ایسے حکمران کے لیے دھونس‘ فراڈ‘ منی لانڈرنگ‘ کِک بیکس‘ کمیشن اور رشوت خوری سب جائز ہوتا ہے۔ مسلمانوں کی روشن تاریخ کے ایک درخشاں باب سے ہمیں جو مثال ملتی ہے اس سے غیرمسلم تو کجا مسلم حکمران اشرافیہ بھی سبق سیکھنے سے کتراتی ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا مدینہ طیبہ میں بڑا کاروبار تھا۔ آپؓ جونہی خلیفہ بنے سیدھے اپنے مرکزِ کاروبار پر پہنچے اور اس پہ تالے لگا دیے۔ مدینہ کے باسیوں کے سوال پر کہ آپ نے ایسا کیوں کیا؟ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا جواب تھا کہ جسے کاروبارِ سلطنت سنبھالنے کی ذمہ داری پر لگایا جائے وہ ذاتی کاروبار نہیں کر سکتا‘ ذاتی کاروبار کی وجہ سے وہ کاروبارِ سلطنت سے انصاف نہیں کر سکے گا۔ اسی تصور کو ماڈرن نیشن سٹیٹ اور ویلفیئر سٹیٹس میں Conflict of Interest کہتے ہیں۔ یہ اصولِ قانون لاگو کرنے کے لیے دنیا کے تمام مہذب ملکوں میں قوانین اور ضابطے موجود ہیں۔ ان دنوں امریکہ میں کسی اور مسئلے پر اتنا شور نہیں جتنا ایران پر امریکہ اسرائیل حملے کے نتیجے میں عام آدمی کی معیشت اجاڑنے اور جنگ سے مقتدر اشرافیہ کے کاروبار میں جیٹ سپیڈ اضافے پر شور ہے۔ یہ بحث ٹرمپ کے بڑے حامیوں کی کافی تعداد‘ ٹکر کارلسن سمیت مخالف دھڑے کر رہے ہیں۔ یہ چھپے حقائق کھول کر وہ ڈٹ کر ٹرمپیانہ طرزِحکمرانی کے بخیے ادھیڑ رہے ہیں۔ پوسٹ مذاکرات کے حالات کے کچھ علیحدہ منظر نامے یوں ہیں:پوسٹ مذاکرات کا پہلا منظر نامہ: چلیے اپنے گھر سے شروع کرتے ہیں۔ پاکستان کو نام نہاد ترقی کی راہ پر گامزن ہوئے تین سال گزر چکے‘ اب چوتھا سال ہے‘ جس میں ترقی کی اڑانیں مزید اونچی ہو گئیں۔ شام سات بجے بجلی بند‘ آٹھ بجے کاروبار بند‘ نو بجے گیس بند‘ پھر بجلی بند‘ دس بجے شادی ہال بند۔ ہر روز صبح دوپہر شام مرحومہ اسپرو کی طرح تین وقت ہر شہر‘ ہر روڈ کی آرٹری پر گھنٹوں کے ناکے دیکھ کر عوام گھروں میں بند۔ ایک فکاہیہ شاعر نے خوب کہا:شکاگو میں دکانیں ہیں وہ سارا جھوٹ ہی نکلاتیری اونچی اڑانیں ہیں وہ سارا جھوٹ ہی نکلایہ سوال ہر شخص پوچھتا ہے کہ ہائبرڈ نظام بین الاقوامی اور سفارتی فتوحات کے بعد اب مہنگائی کے عفریت کو کب فتح کرے گا؟ ایک ایک ملک میں دس دس لش پش دوروں کا سب سے بڑا نتیجہ اور میزبانی یہ ہے کہ ہمیں یو اے ای کا قرضہ واپس کرنے کے لیے سعودی عرب اور قطر سے مزید قرضہ ملے گا۔ یہ قرضہ عام آدمی پر مزید بوجھ ڈال کر اسے جبری مشقت کے بیگار کیمپ میں دھکیلنے کے مترادف ہے۔ حق بات یہ ہے کہ ٹرمپ امن بورڈ کی ممبرشپ فیس میں سے پچاس ہزار ڈالر کا جرمانہ ادا کرکے عافیہ صدیقی کو رہا کروا لیا جائے۔ ویسے بھی پنجاب ایئر لائن کا پہلا جیٹ طیارہ آپریشنل ہے۔ جس طرح وطن سے بھاگنے والے نامزد ملزموں کو سپیشل جہاز ملتے آئے ہیں‘ اسی طرح شہباز شریف ٹرمپ پر نوبیل پرائز احسان کے جواب میں ڈاکٹر عافیہ کی رہائی مانگنے کی جسارت کر دکھائیں۔پوسٹ مذاکرات کا دوسرا منظر نامہ: جو میگا سائز کی اکانومی امریکہ کی ہے اسے درپیش خدشات اکانومی سے بھی بڑے ہیں۔ ہنگری میں 16 سال سے امریکی حمایت کی وجہ سے قابض وزیراعظم وِکٹر اوربن کو نئے الیکشن میں نئے اپوزیشن لیڈر Peter Magyar نے منہ کے بل گرا دیا۔ ہنگری الیکشن میں امریکہ کے وائس پریزیڈنٹ جے ڈی وینس نے کھلی مداخلت کی تھی۔ ہنگری کے جمہوری نازی کہلانے والے سابق وزیراعظم کے حق میں جے ڈی وینس نے ہنگری پہنچ کر جلسہ کیا تھا‘ وہ بھی پاکستان آنے سے صرف تین دن پہلے۔شہرِ اقتدار میں اکثر سفیروں سے آمنا سامنا رہتا ہے۔ پورا یورپ اس بات سے خوفزدہ ہے کہ کہیں امریکہ یہ جنگ نپولین وار‘ ورلڈ وار وَن اور دوسری عالمی جنگ کی طرح یورپ کی زمینوں تک نہ کھینچ لائے۔ امریکہ کو ایران سے مذاکرات کرکے اسے فتح قرار دینے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا۔ غیر سرکاری عرب اور انگلش میڈیا کے بڑے نام پوسٹ مذاکرات حالات کو اسی سٹینڈ پوائنٹ سے دیکھ رہے ہیں۔ ایران کو صفحہ ہستی سے مٹانے کا مطلب پورے خلیج کو نیوکلیئر ڈسٹ میں ڈبونا ہے۔ چین کی ایک تہائی سے زیادہ انرجی کو نذرِ آتش کرنا اور روس کی انرجی کے بحری راستے بند کرنا بھی۔ یورپ کی 65 فیصد انرجی کی ضروریات روس پوری کرتا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے پرشیئن گلف میں جس کمبل کو لاوارث سمجھ کر اٹھانے کے لیے چھلانگ لگائی تھی‘ وہ کمبل نہیں ریچھ نکلا اور حالات اب اس کے جپھے میں ہیں۔میر تقی میر یاد آ گئے:ڈھب ہیں تیرے سے باغ میں گل کےبو گئی کچھ دماغ میں گل کےجائے روغن دیا کرے ہے عشقخونِ بلبل چراغ میں گل کے</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_42786259.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>جدید طرز کی شادی(اسد طاہر جپہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/asad-tahir-jappa-/2026-04-17/51783/92923069</link><pubDate>Fri, 17 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/asad-tahir-jappa-/2026-04-17/51783/92923069</guid><description>یہ زیادہ پرانی بات نہیں جب شادی کی تمام رسومات کی ادائیگی میں اخلاقی اقدار اور معاشرتی روایات کو ملحوظِ خاطر رکھا جاتا تھا۔ خاص طور پر ہمارے دیہی علاقوں میں ان رسوم و رواج کی پاسداری قدرے سخت تھی۔ رشتہ طے کرتے وقت لڑکی کی شکل و صورت کے ساتھ ساتھ شرم و حیا کو بھی خاص اہمیت حاصل ہوتی تھی۔ شادی سے قبل لڑکے اور لڑکی کی ملاقات کا کوئی تصور نہ تھا کیونکہ اسے اخلاقی اعتبار سے معیوب سمجھا جاتا تھا۔ رشتہ طے کرنے کیلئے لڑکے کے والدین لڑکی والوں کے گھر آتے اور ہاں کی صورت میں لڑکی کو کچھ رقم بطور سلامی پیش کی جاتی جس کے بعد دونوں خاندانوں کی باہمی رضا مندی سے باقاعدہ منگنی کی رسم کیلئے وقت طے کر لیا جاتا۔ منگنی کے بعد شادی کے دن کا تعین ہو جاتا تو رخصتی سے چند روز قبل لڑکی مایوں بیٹھ جاتی جس سے اس کی نقل و حرکت گھر کی چار دیواری تک محدود ہو جاتی تاکہ اسے اہلِ خانہ کے علاوہ نا محرم لوگ نہ دیکھ سکیں۔ اس کی قریبی سہیلیاں اور گاؤں کی دیگر خواتین سر شام ڈھولک پر شادی بیاہ کے گیت گا کر گھر کی رونقیں دوبالا کر دیتیں۔ شادی والے روز بناؤ سنگھار کے بعد دلہن اپنے والدین کے گھر جس کمرے میں موجود ہوتی‘ وہاں تک رسائی صرف قریبی رشتے دار خواتین کو ہی ہوتی۔ صرف نکاح کے وقت نکاح خواں کے ساتھ دلہن کا باپ یا بھائی اس کی اجازت طلب کرنے اس کمرے میں داخل ہوتے اور چند لمحات پر مبنی اس رسمی کارروائی کے بعد واپس چلے جاتے۔ اسی طرح شادی میں شرکت کرنے والے تمام خواتین و حضرات کے لیے قیام و طعام کا الگ الگ انتظام کیا جاتا۔ دلہن کی رخصتی کیلئے ڈولی کو خاص طور پر سجایا جاتا۔ اگر دلہے کا گھر اسی گاؤں میں ہوتا تو دلہن کو ڈولی بٹھا کر چار افراد اپنے کندھوں پر اٹھائے اس کے سسرال تک پہنچا آتے۔ دور سے آئی بارات کی صورت میں دلہن کو گھر سے ڈولی میں بٹھا کر باہر گاڑی تک لایا جاتا جس میں سوار ہو کر وہ دلہے کے ساتھ اجنبی دیس روانہ ہو جاتی جہاں اسے ایک نئی زندگی کا آغاز کرنا ہوتا۔یوں ان تمام رسومات کی پابندی میں مایوں سے لے کر رخصتی تک دلہن پر کسی غیر کی نظر پڑنا ممکن نہیں تھا۔ وہ شرم و حیا کی چادر اوڑھ کر گھونگھٹ کی اوٹ میں دلہا کے گھر پہنچ جاتی۔ اس دوران دلہن شرمائی نظروں سے اپنے سسرال والوں کو دیکھتی اور نگاہیں جھکا لیتی۔ علاوہ ازیں رخصتی کے وقت رقت آمیز مناظر دیکھنے کو ملتے۔ جیسے ہی &#39;کہار‘ ڈولی کو کندھا دینے کیلئے آگے بڑھتے تو دلہن اپنے والدین‘ بہن بھائیوں اور دیگر اہلِ خانہ کے ساتھ لپٹ کر رونے لگتی کیونکہ اب وہ گھر اس کا نہیں رہا تھا۔ اسی گھر میں اب کے بعد وہ مہمان بن کر آیا کرے گی جہاں اس نے پیدائش سے لے کر جوانی تک کا سارا وقت گزارا اور جس کے در و دیوار کے ساتھ اس کا قلب و روح کا گہرا تعلق استوار تھا۔ اس جذباتی ماحول میں تقریباً ہر آنکھ اشکبار ہو جاتی کیونکہ وہاں موجود ہر شخص کو اپنی بہن یا بیٹی کی رخصتی کے لمحات یاد آنے لگتے۔پھر شادی ہالز بن گئے اور کئی برسوں تک ان میں خواتین اور مردوں کیلئے الگ انتظام کیا جاتا رہا۔ یا تو دو علیحدہ علیحدہ ہال ہوتے یا ایک بڑے ہال کے درمیان میں پردے کا بندوست کر دیا جاتا۔ تقریباً تمام شادی ہالز میں دلہن کیلئے ایک الگ کمرہ ہوتا جس میں پارلر سے تیار ہو کر دلہن کو بٹھایا جاتا اور بارات آنے کے بعد پوری شان و شوکت سے اسے خواتین والے ہال میں موجود سٹیج تک لایا جاتا جسے خاص طور پر تیار کرایا جاتا۔ نکاح کی رسم ادا کرنے کے بعد کچھ دیر کیلئے دلہے کو بھی اس طرف لا کر دلہن کے ساتھ بٹھا کر فوٹو گرافی کی جاتی‘ جس میں لڑکی کے خاندان‘ رشتہ داروں اور دوست احباب کو خصوصی ترجیح دی جاتی۔ کھانا کھاتے ہی لڑکے والوں کے مہمان اور دلہا کے ذاتی دوست احباب مردوں والے سٹیج پر ہی دلہے کے ساتھ تصاویر بنواتے‘ سلامی پیش کرتے اور وہیں سے اجازت طلب کرنے کے بعد واپسی کا سفر اختیار کرتے۔ جب مہمانوں کی اکثریت چلی جاتی تو آخر میں صرف دلہا دلہن کے خاندان کے افراد کے علاوہ چند انتہائی قریبی عزیزوں کی موجودگی میں رخصتی ہوتی اور دلہن کو دلہے کی گاڑی میں سوار کر دیا جاتا۔ دلہا کو گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر اور دلہن کو پیچھے بٹھایا جاتا اور عام طور پر اس کے ساتھ دلہے کی والدہ یا بہن کو بٹھایا جاتا۔ اس سے ملتا جلتا اہتمام ولیمہ کی تقریب کیلئے کیا جاتا۔ چند رشتے داروں اور انتہائی قریبی دوستوں کے علاوہ دلہن کو مردوں کی اکثریت نہیں دیکھ پاتی تھی۔ پھر آہستہ آہستہ شادی ہالز میں ایک ہی کشادہ ہال میں اہتمام شروع ہوا اور خواتین اور حضرات کے درمیان لگایا جانے پردہ ہٹا دیا گیا۔ اب دلہا اور دلہن ایک ہی سٹیج پر موجود نظر آتے۔ اس مشترکہ سٹیج کے سامنے کچھ دیر کیلئے بارات کے ساتھ آنے والے دلہے کے دوست اور رشتے دار بینڈ باجے کی دھنوں پر رقص کرتے اور ہلہ گلہ کرکے اپنی اپنی کرسیوں پر بیٹھ جاتے۔ پھر سوشل میڈیا کا زمانہ آگیا اور شادی کی تصاویر اور وڈیوز شیئر ہونے لگیں۔ ابتدائی طور پر خواتین کی تصاویر اور وڈیوز کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شیئر نہیں کیا جاتا تھا اور اگر غلطی سے کسی تصویر میں کوئی خاتون دور بیٹھے ہوئے بھی نظر آجاتی تو اس پر اعتراض کیا جاتا اور تصویر لگانے والے شخص سے رابطہ کر کے اس کو سوشل میڈیا سے ہٹا دیا جاتا۔ کئی مرتبہ نوبت لڑائی جھگڑے تک بھی پہنچ جاتی۔ مگر گزشتہ چند سالوں سے یہ سب کچھ قصہ پارینہ بن چکا ہے۔ اب شادی کی تقریبات نے ایک الگ روپ دھار لیا ہے۔ مہندی سے لے کر ولیمے تک تین روز رنگا رنگ تقریبات میں خواتین و حضرات مل کر ناچتے گاتے ہوئے نظر آتے ہیں اور یہ ہرگز پتا نہیں چلتا کہ ان میں لڑکے کی طرف سے کون ہے اور لڑکی کے مہمان کون سے ہیں۔ مہمانوں سے زیادہ جوش و خروش سے خود دلہا اور دلہن آگے بڑھ کر رقص کرتے ہیں‘ گانا گا تے ہیں جس کے باعث تقریب میں شریک دیگر لڑکے اور لڑکیاں بھی شامل ہو جاتے ہیں۔ اب لباس مختصر ہو چکے اور شرم و حیا کی چادر کہیں دور تک نظر نہیں آتی۔ رقص و سرود کی ان محفلوں میں منعقد ہونے والی اس ایک شادی کے دوران نجانے کتنے نئے جوڑے وجود میں آ جاتے ہیں۔ ان تمام تقریبات اور ان سے متعلقہ ناچ گانے کی تصاویر اور وڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کی جاتی ہیں۔ رقص کرنے والے اپنے اپنے دوست احباب کو باقاعدہ ٹیگ کرکے اپنی پرفرمانس سے متعلق رائے طلب کرتے نظر آتے ہیں۔ آج کے ماحول میں کون کس کے ساتھ محوِ رقصاں تھا‘ یہ قابلِ اعتراض نہیں رہا بلکہ بسا اوقات اہلِ خانہ کے رقص پر فخریہ انداز میں تبصرے بھی کیے جاتے ہیں۔ شادی کی دوران نکاح کی رسم کے بعد فوراً دلہا اور دلہن کا فوٹو شوٹ شروع ہو جاتا ہے۔ مہمانوں کی موجودگی میں وہ اس قدر وارفتگی سے تصاویر اور وڈیوز بنواتے ہیں کہ بالی وُڈ اور ہالی وُڈ کی رومانٹک فلموں کے مناظر بھی شرما جائیں۔ اخلاقی اقدار اور معاشرتی روایات اب قصہ پارینہ بن چکیں۔  </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_34710710.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>تراہ نکالو کام چلاؤ(آصف عفان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/asif-afan-/2026-04-17/51784/46580998</link><pubDate>Fri, 17 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/asif-afan-/2026-04-17/51784/46580998</guid><description>کیسے جادوئی سفر پہ رواں دواں ہیں‘ فیصلہ کرنا مشکل ہو چلا ہے کہ آگے جا رہے ہیں یا پیچھے۔ اُدھر عالمی سطح پر پاکستان کی پذیرائی اور بلّے بلّے ہو رہی ہے‘ اِدھر عوام کی ہائے ہائے اور دہائی کہیں تھمنے میں نہیں آ رہی۔ پٹرول‘ بجلی اور گیس سمیت بدترین بحران اور گرانی پر ماتم ضرور کریں لیکن اخبارات کی شہ سرخیاں اور خیر مقدمی تصاویر کے علاوہ ٹی وی چینلز پر آؤ بھگت کے مناظر بھی تو ہمارے اپنے ہی ملک سے جڑے ہوئے ہیں۔ عوام کا رونا دھونا تو ہمیشہ سے یونہی چلا آرہا ہے۔ ارے بھئی! رونے دھونے کو تو ساری عمر پڑی ہے‘ فی الحال جھوم کے ناچو‘ ناچ کے گاؤ‘ موجیں مارو‘ خوشی مناؤ۔ وزیراعظم سعودی عرب‘ قطر اور ترکیہ جبکہ فیلڈ مارشل ایران کے اہم ترین دورے پر ہیں۔ اُدھر وزیر باتدبیر نے ایسا پنڈورا باکس کھولا ہے‘جس کی جوابدہی خود ان پر بھی برابر عائد ہوتی ہے۔ حالیہ تین‘ چار برسوں میں خطیر رقوم کی بیرونِ ملک منتقلی خبر سے کہیں زیادہ وزیر داخلہ کا برملا اعتراف ہے۔ ترسیلات کے ذرائع پر گفتگو سے گریز کرتے ہوئے جناب نے یہ بھی کہا کہ کراچی سے ایک دو لوگوں کو اٹھا لیا جائے تو سب کو سب پتا چل جائے گا۔ خدا جانے کیا امر مانع ہے کہ وزارتِ داخلہ ان لوگوں کے خلاف قانونی کارروائی تو درکنار حقائق سے پردہ اٹھانے سے بھی گریزاں ہے‘ جبکہ متعلقہ حکومتی ادارے بھی اس گھٹالے پہ اب تک چپ ہیں۔ سابق وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے اپنی مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ تبصرہ کیا ہے کہ اگر دو بندے اٹھانے سے مسئلہ حل ہو سکتا ہے تو بات کرنے سے پہلے ان دو بندوں کو ضرور اُٹھا لینا چاہیے تھا۔ محسن نقوی قانونی کارروائی کریں یا نہ کریں لیکن انہوں نے ان دو بندوں کا تراہ تو نکال ڈالا ہے کہ وہ کسی بھی وقت اٹھائے جا سکتے ہیں۔ بھلے نہ بھی اٹھائے جائیں لیکن تیر نشانے پر ٹھیک جا لگا ہے‘ کارروائی ہو یا نہ ہو دونوں صورتوں میں رقوم بھجوانے والے بینی فشری وزارتِ داخلہ کے ریڈار پہ آچکے ہیں۔ اس طرح ان دو لوگوں سے جڑے ہوئے سبھی بینی فشری بھی یقینا سہم گئے ہوں گے‘ اس موقع پر مزید وضاحت اور تفصیل کے بجائے ایک پنجابی محاورے کے اُردو ترجمے سے کام چلاتے ہیں: &#39;&#39;مارنے سے بھگانا بہتر ہوتا ہے‘‘۔ یعنی تراہ نکالنے سے ہی جب کام چل جائے تو گرفتاریوں اور قانونی چارہ جوئی کے جھنجھٹ میں کون پڑے۔ تاہم یہ معمہ بھی حل طلب ہے کہ ایک ذمہ دار وزیر اتنے بڑے مالیاتی سکینڈل کا انکشاف کرے اور وارداتیوں کا بھرم بھی بدستور قائم رہے۔ سونے پہ سہاگا یہ کہ اس موقع پر سرکاری محکموں میں کاموں کا نرخنامہ بھی آؤٹ کر ڈالا گیا۔ ان سبھی قابلِ گرفت کالی بھیڑوں کے خلاف کارروائی کے بجائے ادھر اُدھر کی باتیں ناقابلِ فہم ہیں۔ مخصوص سرکاری بابوؤں کی تقرریوں اور تبادلوں سے ٹینڈر کا گماں ہو تو کیسی گورننس‘ کہاں کا میرٹ؟ حصہ بقدرِ جثہ بہتی گنگا میں کوئی ہاتھ دھوتا رہا ہے تو کوئی ڈبکیاں لگا کر بھی باز نہیں آرہا۔ سب کو سبھی جانتے ہیں کہ کون کہاں جھوم رہا ہے۔ من پسند افسران کی یلغار نے ماضی کے سبھی ریکارڈز ریکارڈ مدت میں توڑ ڈالے ہیں۔ خدا کی پناہ! ایسا ایسا اندھیر کہ بند آنکھ سے بھی سب صاف صاف دکھائی دے رہا ہے۔ یہ انکشاف صرف ایک مالی معاملہ نہیں بلکہ قومی سلامتی‘ معاشی استحکام اور ریاستی نگرانی پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ سوشل میڈیا پر طوفان کا سماں ہے۔ دور کی کوڑی لانے سے لے کر دانشوری بگھارنے کے علاوہ تانے بانے ملانے تک سبھی کچھ جاری ہے۔ اٹھائے جانے والے کڑے سوالات میں ایک سوال یہ بھی ہے کہ پی ڈی ایم کی حکومت سے لے کر لمحۂ موجود تک حکمرانی کے سبھی کردار اور ادوار کے نقطے ملائیں تو بننے والے خاکوں میں سبھی شکلیں آج بھی برسرِ اقتدار اور صاحبِ اختیار ہیں جبکہ نگران دور میں چند چہروں کی تبدیلی بس تکلّفاً اور محض ذائقہ بدلنے کے لیے تھی۔ عملاً سبھی ایک دوسرے کا تسلسل ہیں۔ وزارتیں اور ادارے اشاروں کنایوں میں ملزمان کے تراہ نکالنے کو ہی گورننس تصور کیے بیٹھے ہیں۔ گویا: تراہ نکالو کام چلاؤ۔ ملک سے اتنی بھاری اور خطیر رقوم کسی بھی طریقے سے بیرونِ ملک چلی جائیں تو اس کے اثراتِ بد ہر خاص و عام کو متاثر کرنے کے علاوہ بڑے سماجی بگاڑ کا باعث بھی بنتے ہیں۔ روپے کی قدر مزید گرنے کے علاوہ ڈالر بھی پہنچ سے باہر ہوتا چلا جاتا ہے۔ سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کے علاوہ روزگار کے مواقع بھی بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔ مہنگائی اور گرانی کے ساتھ ساتھ ریاست کا قرضوں پر انحصار بھی بڑھتا چلا جاتا ہے۔ ملک و قوم پہلے ہی زرمبادلہ کے ذخائر‘ قرضوں اور مہنگائی کے شدید دباؤ سے گزر رہے ہیں۔ ایسے میں نیا پنڈورا باکس معاشی انتشار اور بے یقینی کے ساتھ ساتھ مارو ماری کو بھی دوام بخشے گا۔ اربابِ حکومت اس واردات سے بخوبی آگاہ ہیں تو کردار اور چہروں کو بھی بخوبی جانتے ہوں گے ورنہ ان دو بندوں کو ریت میں سوئی کی طرح تھوڑی تلاش کرنا تھا؟ گویا: جتنی بڑی واردات اتنا بڑا فنکار‘ جتنی چھوٹی واردات اتنا بڑا مجرم۔ یعنی بڑے کو پکڑنا نہیں اور چھوٹے کو چھوڑنا نہیں۔ ان تین برسوں میں جہاں کاروباری حضرات نے بیرونِ ملک سرمایہ منتقل کرنے سے لے کر اثاثہ جات اور رہائشی سہولتیں حاصل کیں وہاں ایسے سرکاری بابوؤں کی بھی فہرست طویل ہے جو اس میراتھن میں کاروباریوں کو بھی پیچھے چھوڑ گئے ہیں۔ دھن دولت باہر بھجوانے کی دُھن میں ایسے ایسے کمالات دیکھنے اور سننے کو ملتے ہیں جو دیدہ دلیری اور دھونس دھاندلی کے سبھی ریکارڈ توڑ کر بھی تازہ دم اور دوڑ میں برابر شامل ہیں۔ انہی تین برسوں میں مخصوص انتظامی و پولیس افسران نے تو اس میراتھن میں جہاں سبھی تمغے ہتھیا لیے ہیں وہاں ماضی کے بیشتر ریکارڈ بھی چکنا چور کر ڈالے ہیں۔ جھاکا اترے افسران کی دیدہ دلیری کا عالم یہ ہے کہ جہاں اندرونِ ملک معیارِ زندگی سمیت نسلوں اور مستقبل کو محفوظ بنا چکے ہیں وہاں بیرونِ ملک بھی متوازی بندوبست کیے بیٹھے ہیں۔ کس کس کا نام لوں‘ سب کو سبھی جانتے ہیں۔ ویسے بھی نسلیں اور مستقبل سنوارنے کا بہترین اور مضبوط ترین ماڈل اس ٹرائیکا میں فِٹ ہو کر ہی بنتا ہے جو سیاستدان‘ سرکاری بابو اور بزنس مین پر مشتمل ہوتی ہے۔ یہ تینوں اگر ہاتھ ملالیں تو ان کے اٹھائے ہوئے طوفان کو کوئی نہیں روک سکتا تاہم ان سبھی کی رسائی اور تعلق راج نیتی سے ضرور ہونا چاہیے‘ تب کہیں جاکر ایک مضبوط اور مؤثر ٹرائیکا بنتی ہے۔ ہاؤسنگ سیکٹر میں سرکاری بابوؤں اور وزیروں سمیت اکثر بااثر سیاستدان سروسز اور سہولت کاری کے عوض پارٹنر شپ بھی بخوبی نبھاتے آرہے ہیں۔ یہ ماڈل ہاؤسنگ سیکٹر کی ہوشربا ترقی اور بے تحاشا پھیلاؤ کیلئے مؤثر ترین ہی ثابت ہوتا چلا آیا ہے۔ واجبی پسِ منظر رکھنے والے اس ٹرائیکا میں فِٹ ہو کر ترقی اور خوشحالی کے وہ کوہِ ہمالیہ بنا چکے ہیں جن پر چڑھ کر عوام اور ان کے مسائل بے معانی نظر آتے ہیں۔ جائز ناجائز کاموں کے ٹیرف سے لے کر منصوبوں میں شراکت داری جیسے ماڈل سرکاری بابوؤں کی اکانومی کا جہاں سنگِ میل ہیں وہاں بیرونِ ملک اثاثے اور شہریت بعد از ریٹائرمنٹ پُرسکون اور عیش بھری زندگی کی ضمانت ہیں۔ حکومت کاروباری طبقے کا تراہ ضرور نکالے لیکن ٹرائیکا میں فِٹ بابوؤں اور سماج سیوک نیتاؤں کا پرچہ بھی آؤٹ کرے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_65560900.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>خلیج کا جہان اور حضورﷺ کا دستر خوان(امیر حمزہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ameer-hamza/2026-04-17/51785/87390410</link><pubDate>Fri, 17 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ameer-hamza/2026-04-17/51785/87390410</guid><description>اللہ تعالیٰ کا بنایا ہوا ایک سمندری ٹکڑا ہے جسے بحیرہ عرب کہا جاتا ہے۔ اس سمندر کا پانی ایک مقام سے اوپر کو بڑھنا شروع کر دیتا ہے اور بڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔ یہ اتنا وسیع سمندری حصہ ہے کہ اس کی چوڑائی تین سو کلومیٹر سے بھی زائد ہے۔ اسے خلیج عمان کہا جاتا ہے۔ عمان وہی ملک ہے جس کا دارالحکومت مسقط ہے۔ یہ بائیں طرف ہے جبکہ دائیں طرف ایران ہے۔ یہ سمندر اوپر چڑھتے چڑھتے قدرے تنگ ہوتا چلا جاتا ہے۔ عمان کے بعد بائیں جانب متحدہ عرب امارات کا رقبہ شروع ہو جاتا ہے۔ ایک جگہ سے یو اے ای کا رقبہ دائیں جانب ایک تیر کی شکل میں اس قدر آگے بڑھتا ہے کہ اس کا آخری کنارہ عمان کی ملکیت بن جاتا ہے۔ اب سمندر دائیں طرف ہو کر ایران کی سرزمین کے اندر گھستا ہوا ایک موڑ بناتا ہے اور واپس پھر سیدھا ہو کر اوپر کو چڑھنا شروع کر دیتا ہے۔ اسی موڑ کا نام آبنائے ہرمز ہے‘ انگریزی میں جسے Strait of Hormuz کہتے ہیں۔ یہاں پر سمندر کی چوڑائی محض 32 کلومیٹر ہے۔ کہیں یہ زیادہ ہو کر بتدریج 39 کلومیٹر تک بھی پہنچ جاتی ہے۔ یہاں بحری جہازوں کی رفتار قدرے سست ہو جاتی ہے۔ ایک جزیرہ جو صدیوں پہلے یہاں آباد تھا‘ اسے جزیرۂ ہرمز کہا جاتا تھا۔ جس ایرانی صوبے کے ساتھ آبنائے ہرمز وابستہ ہے اس کا نام &#39;&#39;ہرمزگان‘‘ ہے۔ قارئین کرام! اوپر کو ہم اپنا سفر جاری رکھیں تو آگے سمندر کا نام &#39;&#39;خلیج فارس‘‘ ہے۔ ہمارے دائیں جانب مسلسل ایران ہے جبکہ بائیں جانب بحرین‘ قطر‘ سعودی عرب اور کویت جیسے عرب ممالک ہیں۔ آخری ملک کویت ہے جو خشکی کی جانب سے سعودی عرب اور عراق سے ملتا ہے جبکہ پانیوں کے حوالے سے اس کا بارڈر اس طرح ہے کہ عراق سے آتے ہوتے دو دریا فرات اور دجلہ باہم مل کر یہاں خلیج فارس میں گرتے ہیں۔ یہاں کویت‘ عراق اور ایران باہم ایک جگہ قریب ہوتے ہوئے اور ملتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔کویت کا پرانا نام کاظمیہ ہوا کرتا تھا۔ یہاں حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کی خلافت کے زمانے میں &#39;&#39;ذات السلاسل‘‘ کے نام سے ریاست مدینہ اور فارس کی ساسانی سلطنت میں ایک جنگ ہوئی تھی جس میں اللہ تعالیٰ نے اسلامی لشکر کو فتح سے نوازا۔ اسی جنگ میں سیف اللہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے فارس کے جرنیل ہرمز کو قتل کیا تھا۔ قارئین کرام! اب ہم واپسی کا سفر شروع کریں تو ہمارے بائیں جانب آخر تک ایران ہی ہو گا جبکہ دائیں جانب کویت ہوگا‘ جس کے پاس خلیج فارس میں نو عدد جزائر ہیں۔ قطر کے پاس بھی نو قدرتی جزائر ہیں۔ بحرین کو جزائر کا مجموعہ کہا جاتا ہے‘ جس کے جزائر کی تعداد 50کے قریب ہے۔ عمان کی سلطنت کے پاس پانچ بڑے جزائر ہیں جبکہ متحدہ عرب امارات جو سات ریاستوں کا ایک اتحاد ہے‘ کے پاس 200 سے زائد جزائر ہیں‘ جن میں سے سب سے زیادہ ابوظہبی کے حدود میں ہیں۔ یہ عبوری معلومات ہیں جو محض سمجھنے کیلئے قارئین کی خدمت میں پیش کی ہیں۔ ایران کی ملکیت میں ویسے تو چھوٹے بڑے سینکڑوں جزائر ہیں مگر 35 جزائر سٹرٹیجک اور جغرافیائی لحاظ سے اہم ہیں۔ حقیقت بہرحال یہی ہے کہ خلیج کا یہ سارا علاقہ دولت کے اعتبار سے سونے کی چڑیا ہے۔ ان پانیوں سے موتی اور مرجان نکلتے ہیں اور یہ علاقہ ان سرخ وسپید موتیوں کی فاختہ ہے۔ اس فاختہ کو امن درکار ہے مگر شکرے جو دور سے جھپٹتے ہیں‘ وہ امن کی فاختہ کو خون آلود کر دیتے ہیں۔ اس خون آلودگی کی پیشگوئی رحمت دو عالمﷺ نے ڈیڑھ ہزار سال قبل فرما دی تھی۔ حضورﷺ اہلِ اسلام کو مخاطب کر کے خبردار فرماتے ہیں: &#39;&#39;وہ وقت آیا چاہتا ہے جب دنیا کی مختلف اقوام تم پر ٹوٹ پڑنے کے لیے ایک دوسرے کو اس طرح دعوت دیں گی جس طرح بھوکے لوگ اپنے دستر خوان پر ایک دوسرے کو بلاتے ہیں۔ مجلس میں موجود ایک شخص نے پوچھا: کیا اس زمانے میں ہماری کم تعداد کی وجہ سے ایسا ہوگا؟ فرمایا: بالکل نہیں! اس کے برعکس تمہاری تعداد بہت زیادہ ہو گی۔ تمہاری حیثیت سیلاب کے اوپر جھاگ کی مانند ہو گی۔ اللہ تعالیٰ تمہارے دشمنوں کے سینے سے تمہارا رعب د دبدبہ نکال پھینکے گا اور تمہارے دلوں میں &#39;&#39;وہن‘‘ (کا مرض کوٹ کوٹ کر) بھر دے گا۔ ایک شخص نے پوچھا: وھن کیا چیز ہے؟ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا: دنیا سے (بے پناہ) محبت اور موت سے (بہت زیادہ) کراہت (کا نام وہن ہے)۔ (سنن ابو دائود، صحیح عند للبانی) اہلِ اسلام کے لیے اچھی خبر یہ ہے کہ گزشتہ تقریباً ایک صدی سے وسائل کی جو عالمی لوٹ مار جاری تھی‘ ایران میں اس کا خاتمہ ہے تو خاتمہ عرب دنیا میں بھی ہو رہا ہے۔ دونوں کے درمیان جو خلیج ہے‘ حضورﷺ کے فرمان کے مطابق یہ دستر خوان ہے۔ دونوں طرف کے مسلمان دائیں بائیں بیٹھ کر اسے اچھے طریقے سے کھائیں۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ بہتری کے حالات پیدا ہو گئے ہیں۔ پاکستان امن کا پاسبان بن کر سامنے آیا ہے۔ دستر خوان کے دونوں کناروں پر بیٹھے والے اپنے پاسبان کی نگرانی میں خود بھی کھائیں اور ساری دنیا کو بھی کھلائیں۔ انواع واقسام کے کھانوں (تیل‘ گیس اور معدنیات) کی تفصیل پچھلے کالم میں عرض کر چکا۔ یہ کھانے اس قدر زیادہ ہیں اور رنگ برنگ ہیں کہ یہاں سے جہازوں کے جہاز نکلتے ہیں۔ کویت سے چلتے ہوئے آغاز کرتے ہیں‘ خلیج فارس کا سفر طے کر کے ایران کے صوبہ ہرمزگان سے ملحق آبنائے ہرمز کو کراس کر کے بعض جہاز خلیج عمان میں داخل ہوتے ہی بائیں سمت سے بحیرہ عرب میں آ جاتے ہیں‘ یہاں سے وہ کھانے گوادر اور کراچی والوں کو دیتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں تو بھارت کو بہت زیادہ دیتے ہیں کیونکہ اس کا پیٹ کافی بڑا ہے۔ الغرض! آگے بڑھتے ہوئے مشرقِ بعید کے ملکوں کو دیتے ہوئے آبنائے ملاکا کو پار کرتے ہیں تو آگے چین کا شکم انڈیا سے کہیں بڑا ہے۔ یہ صنعت و حرفت کا شکم ہے۔ آگے کوریا‘ جاپان‘ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ تک یہ کھانا کھایا جاتا ہے۔ جو بحری جہاز بحیرہ عرب سے دائیں جانب مڑتے ہیں وہ مسقط اور یمن سے ہوتے ہوئے &#39;&#39;باب المندب‘‘ سے بحر احمر میں داخل ہو جاتے ہیں۔ اب ان کے دائیں جانب یمن کے بعد سعودی عرب کی پاک سرزمینِ حجاز ہے‘ جہاں مکہ مکرمہ‘ مدینہ منورہ اور حاجیوں کی بندرگاہ جدہ ہے۔ بائیں جانب افریقہ کے ممالک ہیں۔ یہ جہاز افریقہ کو تیل بانٹتے ہوئے نہر سویز پار کرتے ہیں تو دائیں جانب مشرق وسطیٰ ہے تو بائیں جانب شمالی افریقہ کے ممالک مصر‘ لیبیا‘ تیونس‘ الجزائر اور مراکش ہیں جبکہ سامنے ترکیہ اور یورپ ہے۔ جی ہاں! خلیج فارس سے نکلنے والے کھانوں سے چھ براعظموں ایشیا‘ افریقہ‘ یورپ‘ شمالی و جنوبی امریکہ اور آسٹریلیا کے لوگ اپنی ضرورتیں پوری کرتے ہیں‘ کھانے کھاتے ہیں اور جدید ٹیکنالوجی سے وابستہ آرام دہ زندگی گزارتے ہیں۔لوگو! یاد رکھو! یہ دستر خوان حضرت محمد کریمﷺ کا ہے۔ آنحضورﷺ اپنی مرضی سے تکلم نہیں فرماتے جب تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے حبیبﷺ کے لب مبارک نہیں کھلواتا۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں جو خزانے رکھے ہوئے تھے‘ وہ اُمت کے آخری حصے کیلئے تھے۔ ہم کلمہ پڑھنے والی اُمت ہیں۔ یہ خزانے حضورﷺ نے ہمارے لیے ارشاد فرمائے۔ ان میں خصوصی لوگ عرب اور ایرانی ہیں کہ جن کے علاقوں میں یہ دستر خوان ہے۔ وہ خود بھی کھائیں اور امت کا بھی خیال رکھیں۔ ویسے وہ خیال رکھتے بھی ہیں۔ اسی طرح باقی ساری انسانیت بھی ہمارے حضورﷺ کی امت ہے مگر امتِ دعوت ہے۔ وہ بھی اپنے حصے کا کھائیں۔ سب لوگ دستور کے مطابق حاصل کریں‘ اس لیے کہ ہمارے حضورﷺ تمام عالمین کے لیے سراپا رحمت ہیں۔ یہ اسی رحمت کی تقسیم ہے۔ خزانے پیدا کرنے والا &#39;&#39;رب العالمین‘‘ ہے۔ اس دستر خوان پر جو شکرے بن کر دور سے جھپٹنا چاہتے ہیں‘ دنیا بھر کی انسانیت انہیں اسلام آباد کا راستہ دکھلا رہی ہے۔ یورینیم مسئلے کا حل بھی یہاں ہو سکتا ہے۔ سلامتی کی فاختہ اسلام آباد سے اپنی پرواز کا آغاز کر چکی ہے۔ سونے کی چڑیا کی سنہری چونچ کے قطرے سے ان شاء اللہ سارے جہان کو امن ملے گا۔ </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_68712266.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>