<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>قومی سلامتی کا تقاضا(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-03/11419</link><pubDate>Mon, 03 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-03/11419</guid><description>گزشتہ ماہ دہشت گردی کے حوالے سے رواں سال کا سب سے خونریز مہینہ ثابت ہوا۔ ملک میں سکیورٹی صورتحال پر نظر رکھنے والی ایک تنظیم کی رپورٹ کے مطابق اُس مہینے کم از کم آٹھ خو د کش حملے ہوئے جن میں سے پانچ میں بارود بھری گاڑیوں کو استعمال کیا گیا تھا۔ جولائی میں دہشت گردی کے واقعات میں سکیورٹی فورسز کے کم از کم 112 اہلکار اور 93 عام شہری شہید ہوئے۔ جون میں یہ تعداد بالترتیب 26‘ 52 اور مئی میں 68‘ 71 تھی۔ قابلِ غور بات یہ ہے کہ گزشتہ ماہ ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی تعداد بھی رواں سال کے کسی دوسرے مہینے سے دگنا تھی۔ جولائی میں 401 دہشتگرد ہلاک ہوئے جبکہ جون اور مئی میں بالترتیب 184 اور 270۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا دہشتگردی کے نشانے پر ہیں۔ ہفتے کے روز شمالی وزیرستان میں دہشتگردی کے ایک واقعے میں پاک فوج کے ایک میجر بہادری سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کر گئے جبکہ اتوارکے روز سوات کے علاقے میں دہشتگردی کے واقعے کم ازکم پانچ پولیس اہلکار شہید ہو گئے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا دہشتگردی کا مسلسل ہدف ہیں۔ بظاہر اس کی پہلی اور بنیادی وجہ ان صوبوں کی جغرافیائی صورتحال ہے۔

ہر دو صوبوں کی سرحدیں افغانستان سے ملتی ہیں اور افغانستان اس وقت عملاً فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کا ٹھکانہ ہے۔ افغانستان سے یہ توقع کی گئی تھی کہ دو دہائیوں کی جنگ کے بعد وہاں کا اقتدار سنبھالنے والے نئی شروعات کریں گے اور خطے کے ممالک کے ساتھ بھائی چارے کے اصولوں کو ترجیح دیں گے مگر حقیقتاً اس کے برعکس ہوا اور اگست 2021ء سے کابل پر مسلط طالبان نے وہیں سے کام شروع کیا جہاں وہ دو دہائی پہلے چھوڑ کر گئے تھے۔ پاکستان اور خطے کے دیگر ممالک کی خواہش تھی کہ افغانستان کو ہر ممکن مدد فراہم کر کے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے قابل بنایا جائے مگر طالبان کی عبوری حکومت نے ہمسایوں کے خلوص کا یہ صلہ دیا کہ آتے ہی دہشتگردوں کو جیلوں سے چھوڑنا شروع کر دیا‘ نتیجتاً پاکستان میں دہشتگردی میں 2021ء کے وسط سے اضافے کا جو سلسلہ شروع ہوا وہ آج پانچ سال بعد بھی اسی طرح جاری ہے۔ سکیورٹی فورسز نے ان ابھرتے ہوئے خطرات کا بھرپور صلاحیتوں سے مقابلہ کیا اور انسدادِ دہشتگردی کی مسلسل کارروائیوں کا نتیجہ یہ ہے اس خطرے کو ماضی کی طرح ملک بھر میں پھیلنے سے روکا گیا ہے۔
دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر چھاپہ مار کارروائیاں مسلسل جاری ہیں اور سکیورٹی فورسز کا زیادہ تر جانی نقصان انہی کارروائیوں میں ہوا ہے۔ ان جرأتمندانہ اقدامات کا نتیجہ یہ ہے کہ ملک کے دیگر حصے دہشتگردوں کے حملوں سے محفوظ ہیں۔ البتہ ضروری ہے کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بھی امن بحال اور ان علاقوں میں معاشی ترقی کے امکانات کو فروغ دیا جائے‘ مگر یہ اسی صورت ممکن دکھائی دیتا ہے جب خطرے کو اُس کے نقطہ آغاز پر روکا جائے اور وہ افغانستان ہے جہاں کی عبوری انتظامیہ اس ذمہ داری کے احساس سے بے بہرہ ہے۔ ماضی میں پاکستان نے بیشمار ایسی کوششیں کیں کہ طالبان اس ذمہ داری کو باور کریں مگر اس کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا‘ الٹا طالبان کی عبوری حکومت دہشتگردوں کے ساتھ کھڑی ہو گئی جس پر افواج پاکستان کو افغانستان میں خطرے کے مقامات کو نشانہ بنانا پڑا۔
مستقبل میں پائیدار امن کے حوالے سے کیا کیا جانا ضروری ہے اس پر غور کیا جائے تو حل کی کئی صورتیں سامنے آتی ہیں جن پر بیک وقت کام کرنے کی ضرورت ہے۔ سب سے اہم یہ ہے کہ سرحد پار ایسے مقامات جن کے بارے یقینی شواہد موجود ہیں کہ پاکستان میں سلامتی کے خطرات کا سبب بن رہے ہیں‘ وہ پاکستان کا جائز ہدف ہیں۔ دوسری بات یہ کہ دہشت گردی سے متاثرہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں معاشی منصوبوں‘ عوامی ترقی اور فلاح و بہبود کے اقدامات کو تیز کیا جائے۔ دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے کیلئے ہمہ جہت اقدامات وقت کا تقاضا ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>آزاد کشمیر الیکشن، اصلاحات اور رواداری(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-03/11418</link><pubDate>Mon, 03 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-03/11418</guid><description>آزاد کشمیر میں انتخابات کے دوسرے مرحلے کے دوران مظفر آباد ڈویژن کی نو اور مہاجرین کی 12 نشستوں کیلئے پولنگ ہوئی تاہم اس دوران بھی سیاسی کشمکش اور الزام تراشی کے وہی مناظر دیکھنے کو ملے جو اس سے قبل پہلے مرحلے میں دیکھنے کو ملے تھے۔ 27 جولائی کو پہلے انتخابی مرحلے کے بعد یہ امید کی جا رہی تھی کہ متعلقہ ادارے اور سیاسی قیادت اپنی خامیوں سے سبق سیکھیں گے‘ سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کریں گے اور ووٹ کے تقدس کو یقینی بنانے کیلئے شفافیت کے نئے معیارات قائم کریں گے۔ مگر افسوس کہ یہ توقعات پوری نہ ہو سکیں اور وہی پرانے مناظر ایک بار پھر دہرائے گئے جن سے انتخابی عمل کی شفافیت مجروح ہوتی اور عوام کا جمہوریت پر اعتماد متزلزل ہوتا ہے۔

اگر پہلے مرحلے میں سامنے آنے والی خامیوں کا بروقت تدارک کر لیا جاتا تو دیگرمراحل کو نسبتاً زیادہ شفاف اور پُرامن بنایا جا سکتا تھا۔ کسی بھی صحتمند جمہوری معاشرے میں انتخابات محض اقتدار کی تبدیلی کا نہیں بلکہ عوام کے حقِ رائے دہی کے اظہار کا بنیادی ذریعہ ہوتے ہیں۔ جب انتخابی عمل میں انتظامی کمزوریاں سامنے آتی ہیں تو اس سے پورے نظام کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔ یہاں سیاسی جماعتوںپر بھی بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اپنے ذاتی اور گروہی مفادات کی خاطر انتخابی عمل کو متنازع بنانے سے گریز کریں اور تحمل و رواداری کا مظاہرہ کریں۔ انتخابات کے تیسرے مرحلے کو اب ہر لحاظ سے پُرامن اور شفاف بنانا چاہیے تاکہ انتظامی خامیوں کا مؤثر ازالہ کیا جا سکے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سرمایہ کاری گراوٹ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-03/11417</link><pubDate>Mon, 03 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-03/11417</guid><description>وزارتِ خزانہ کی ماہانہ آؤٹ لک رپورٹ کے مطابق ملک میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں تقریباً 34 فیصد کمی آئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2025-26ء میں بیرونی سرمایہ کاری دو ارب 47 کروڑ ڈالر سے کم ہوکر ایک ارب 63 کروڑ ڈالر رہ گئی۔ یہ اعداد وشمار اور سرمایہ کاری میں منفی رجحان ملکی معیشت کیلئے تشویشناک ہے۔ سرمایہ کاری میں منفی رجحان کا سبب سیاسی عدم استحکام‘ پالیسیوں میں عدم تسلسل‘ مہنگائی‘ بلند شرح سود اور کاروبار میں دشواری جیسے وہ سٹرکچرل مسائل ہیں جو طویل عرصے سے ملکی معیشت کیلئے چیلنج بنے ہوئے ہیں اور جن پرفوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کار ہمیشہ ایسے ماحول کے متلاشی ہوتے ہیں جہاں طویل مدتی استحکام‘ شفافیت اور سازگار ماحول میسر ہو۔

جب پالیسیاں بار بار تبدیل ہوں اور سیاسی بے یقینی کا عنصر غالب رہے تو سرمایہ کار اپنے سرمائے کو محفوظ رکھنے کیلئے دیگر معیشتوں کا رخ کر لیتے ہیں۔ توانائی کے بحران اور پیداواری لاگت میں اضافے جیسے عوامل نے بھی بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متزلزل کیا ہے۔ اس چیلنج سے نمٹنے کیلئے حکومت کو ہنگامی بنیادوں پر مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔ نیز وفاقی اور صوبائی سطح پر ایسا مربوط نظام وضع کرنا ہوگا جو سرمایہ کاری کے عمل کو تیز اور آسان بنائے۔ معیشت کو پٹری پر لانے کیلئے سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی ناگزیر ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مدارس اور اُردو(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-08-03/52411/51492518</link><pubDate>Mon, 03 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-08-03/52411/51492518</guid><description>&#39;&#39;اُردو زبان کی حفاظت چونکہ دین کی حفاظت ہے‘ اس زبان کی حفاظت حسبِ استطاعت واجب ہو گئی ہے اور باوجود قدرت کے‘ اس میں غفلت اور سستی کرنا معصیت بھی ہو گی اور موجبِ مواخذۂ آخرت بھی ہو گی‘‘ (امداد الفتویٰ، جلد: 4)۔یہ مولانا اشرف علی تھانوی کا فتویٰ ہے۔ جو برصغیر کی دینی روایت میں حضرت تھانوی کی حیثیت سے واقف ہے‘ اسے اندازہ ہے کہ اُردو زبان کے فروغ میں اس فتویٰ کی کیا اہمیت ہے۔ یہ واقعہ ہے کہ اُردو کی حفاظت‘ فروغ اور ارتقا میں علما اور مدارس کا کردار غیر معمولی ہے۔ آج بھی اگر اُردو ایک زندہ زبان ہے تو یہ مدارس کا فیض ہے۔ جب کوئی زبان ایک مذہب کی زبان بن جاتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ امر ہو گئی۔ جب تک مذہب زندہ ہے‘ وہ زبان زندہ ہے۔ علما اور مدارس نے جب اُردو کو یہ حیثیت دے دی تو اس کے بعد یہ اپنی بقا کیلئے کسی دوسرے ذریعے کی محتاج نہیں رہی۔جو اسباب کسی زبان کو زندہ رکھتے ہیں‘ ان میں چار اہم تر ہیں۔ ایک یہ کہ وہ روزگار کی زبان ہو۔ دوسرا یہ کہ وہ علم کی زبان ہو۔ تیسرا‘ وہ ابلاغ کی زبان ہو۔ چوتھا یہ کہ وہ مذہب کی زبان ہو۔ اردو اگر علم‘ مذہب اور ابلاغ کی زبان ہے تو اس میں علما اور مدارس کا حصہ نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ریاست اسے روزگار کی زبان بنا سکی ہے نہ علم کی زبان۔ جس عدالت نے اسے سرکاری زبان بنانے کا فیصلہ دیا‘ وہ آ ج بھی اپنے فیصلے انگریزی زبان میں لکھتی ہے۔ ریاست اور اہلِ اقتدار کی عدم دلچسپی کے باوصف‘ اُردو آج علومِ اسلامیہ کی پہلی تین زبانوں میں شامل ہے۔ بیسویں صدی میں‘ بالخصوص تفسیر اور فکرِ اسلامی کی میدانوں میں‘ اُردو میں جو ادب تخلیق ہوا‘ اس کی مثال عربی سمیت کسی دوسری زبان میں موجود نہیں۔علما اور اہلِ مذہب نے اُردو کا ہاتھ اُس وقت سے تھام رکھا ہے جب یہ پاؤں پاؤں چلنا شروع ہوئی تھی۔ ابھی تو اس کا نام بھی نہیں رکھا گیا تھا۔ ڈاکٹر محمد ایوب قادری نے اپنی کتاب &#39;&#39;اُردو نثر کے ارتقا میں علما کا حصہ‘‘ میں یہ داستان لکھ دی ہے۔ ان کی تحقیق ہے کہ شاہ مراد انصاری نے 1771ء میں‘ تیسویں پارے کی تفسیر لکھی تھی۔ اس وقت اُردو کو &#39;ہندی‘ کہا جاتا تھا۔ اسے &#39;تفسیر مرادیہ‘ کا عنوان بھی دیا جاتا ہے۔ بعد میں یہ &#39;خدا کی نعمت‘ کے عنوان سے شائع ہوتی رہی۔ اس کی زبان اتنی سادہ ہے کہ آج بھی بآسانی سمجھ میں آ جاتی ہے۔ یہ جملہ دیکھیے: &#39;&#39;حمد اور شکرکا سجدہ‘ لائق ہے‘ سزاوار ہے‘ پاک پروردگار کے تئیں‘ جس خداوند نے اپنے فضل و کرم سے اور حضرت نبیﷺ کے طفیل سے&#39;عمّ‘ سیپارے کی تفسیر‘ ہندی زبان میں تمام کروا دی‘‘۔ پھر شاہ عبدالقادر کا ترجمۂ قرآن ہے جو آج بھی ذوق و شوق سے پڑھا جا تا ہے۔ یہ ترجمہ 1790ء میں لکھا گیا۔یہ علما اور مدارس تھے جنہوں نے اُردو کو مذہب کی زبان بناکر اس کی بقا کا سامان کر دیا۔ انگریزوں کی آمد سے پہلے‘ برصغیر کی سرکاری زبان فارسی تھی۔ 1835ء میں انگریزوں نے اسے انگریزی سے بدل ڈالا۔ یہی وہ دور ہے جب علما نے اپنے دینی ادب کو اُردو میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔ مولانا تھانوی کے فتوے کا پس منظر بھی یہی ہے۔ اس کے ساتھ انہوں نے مدارس قائم کیے اور اُردو کو تدریس کی زبان قرار دیا۔ اس نے اُردو کو توانا کر دیا اور اس کے دامن کو اتنا وسیع کر دیا کہ وہ بڑے علمی مضامین کا ابلاغ کر سکتی تھی۔ زبان و بیان کے اعتبار سے اُردو کا دینی ادب‘ روایتی ادب سے اگر زیادہ وقیع نہیں تو کسی طرح کم نہیں ہے۔ جو نثر شبلی‘ ابوالکلام‘ ابوالاعلیٰ اور مناظر احسن گیلانی نے لکھی‘ اس کی مثال تلاش کرنا آسان نہیں۔ شبلی تو اُردو کے عناصرِ خمسہ میں شامل ہیں۔شاعری میں بھی علما کا حصہ ناقابلِ انکار ہے۔ مولانا احمد رضا خان جیسی نعت کس نے لکھی ہوگی &#39;مصطفی جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام‘ آج بھی‘ جب پڑھی جاتی ہے تو وجد طاری کر دیتی ہے۔ دارالعلوم دیوبندکے بانی مولانا قاسم نانوتوی کا شعری ذوق بہت عمدہ تھا۔ انہوں نے ادب کی کتابیں صدر الدین آزردہ جیسے اساتذہ سے پڑھیں جو غالب کے شارح اور نقاد تھے۔ مولانا شعر کہتے تھے اور ان کی نعت بھی زبان زدِ عام ہے۔ دیوبند کے پہلے صدر المدرسہ مولانا یعقوب کی شاعری کا مجموعہ &#39;بیاضِ یعقوبی‘ ان کی شاعرانہ مہارت کا گواہ ہے۔ آج بھارت کے نوجوان احتجاجی جلسوں میں مولانا عامر عثمانی کی نظم پڑھتے ہیں۔ ان کا رسالہ &#39;تجلی‘ ہندوستان کے اہم ادبی جرائد میں شمار کیا جاتا تھا۔ وہ اس میں &#39;مسجد سے میخانے تک‘ کے عنوان سے کالم لکھتے تھے جسے اُردو کے اولین کالموں میں شمار کیا جانا چاہیے۔ مفتی محمد شفیع مرحوم کا تو پورا خانوادہ ہی شاعر ہے۔ زکی کیفی‘ ولی رازی اور مفتی تقی عثمانی کی شاعرانہ حیثیت مسلمہ ہے۔ پھر نئی نسل میں جو لوگ سب سے عمدہ شعر کہہ رہے ہیں‘ ان میں سعود عثمانی نمایاں تر ہیں۔ وہ جناب زکی کیفی کے صاحبزادے ہیں۔اُردو مذہب کی زبان بنی تو اس کا سماج سے زندہ تعلق قائم ہو گیا۔ مدارس نے اسے ایک حد تک روزگار کی زبان بھی بنا دیا۔ اسی طرح یہ علم اور ابلاغ کی زبان بنی۔ اس کے ساتھ زبان کی صحت کا بھی خیال رکھا گیا۔ پھر خطاطی کے ذریعے اس کے جمالیاتی پہلو کو بھی نمایاں کیا گیا۔ نفیس الحسینی المعروف نفیس رقم اسی روایت کی عطا ہیں۔ وہ نستعلیق میں ایک خطِ نفیسی کے موجد ہیں۔ نستعلیق کے علاوہ انہوں نے ثلث‘ نسخ‘ دیوانی‘ رقعہ‘ اعجاز اور کوفی خطوط میں بھی کمالات دکھائے۔ خانہ کعبہ سے لے کر مینارِ پاکستان تک‘ ہر اہم جگہ ان کے فن کے نمونے موجود ہیں۔ ان کا لکھا &#39;دیوانِ غالب‘ خاصے کی چیز ہے۔ وہ ایک عمدہ شاعر بھی تھے۔ کیا ریاست سمیت‘ کوئی ادارہ ایسا ہے جس نے اُردو کی ایسی ہمہ جہت خدمت کی ہو؟مدارس اور علما کی خدمات کے اس بیان کا مقصد یہ نہیں کہ اُردو کو زندہ رکھنے میں دوسرے شعبوں کی خدمت کا انکار کیا جا ئے۔ یقینا ان کا کردار بھی ہے لیکن قائدانہ کردار مدارس کا ہے۔ یہ ذمہ داری ریاست کی تھی کہ وہ اُردو کی حفاظت کرتی۔ افسوس کہ اس نے مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا۔ آج اُردو رسم الخط خطرات کی زد میں ہے۔ رومن میں اُردو لکھی جا رہی ہے اور اس باب میں کوئی قانون سازی ہو رہی ہے نہ ذہن سازی۔ بی ایس کی سطح پر انگریزی لازمی ہے لیکن اُردو نہیں۔ ہم ہندی کو اُردو سمجھتے ہیں‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ اُردو بطور زبان کسی سرپرست سے محروم ہے۔ قدیم بھارتی فلموں کے ٹائٹل پر‘ فلم کا نام ہندی‘ انگریزی اور اُردو‘ تینوں زبانوں میں لکھا جاتا تھا۔ آج اُردو کو خارج کر دیا گیا ہے۔ اگر فلم کا کردار کلام نہ کرے تو ہم لکھا ہوا سمجھ نہیں سکتے۔ہماری اشرافیہ نے اُردو سے قطع تعلق کر لیا ہے۔ وہ اپنے بچوں سے انگریزی میں بات کرتی ہے۔ اس نے اپنا احساسِ کمتری‘ نئی نسل کو منتقل کر دیا ہے۔ وہی پالیسی ساز بھی ہے اور رجحان ساز بھی۔ اس سے یہ توقع عبث ہے کہ وہ اُردوکی حفاظت کرے گی۔ اس ماحول میں اہلِ مدرسہ کی تحسین کی جانی چاہیے کہ انہوں نے اُردو کا دامن نہیں چھوڑا۔ دینی ادب تخلیق کیا جو ادب کا اعلیٰ نمونہ ہے۔ اس کے ساتھ افسانہ لکھا‘ کالم لکھا‘ شاعری کی‘ خطاطی کی۔ میں نے &#39;اسلامی ادب‘ کی تحریک کا دانستہ ذکر نہیں کیا کہ اس کا براہ راست تعلق مدارس سے نہیں۔ اس کو شامل کر لیں تو ایک نیا مقدمہ قائم کیا جا سکتا ہے کہ &#39;اہلِ مذہب نے سب سے زیادہ اُردو کی خدمت کی ہے‘۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>حسنِ کرشمہ ساز(رسول بخش رئیس)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-08-03/52412/25911049</link><pubDate>Mon, 03 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-08-03/52412/25911049</guid><description> وہ مشہور ضرب المثل تو آپ کی زبان پر بھی کبھی ضرور آئی ہو گی کہ جس گھر دانے‘ اس کے کملے بھی سیانے۔ یعنی جس گھر میں اناج یا مالی وسائل ہوں ‘ اس کے کم عقل لوگ بھی دانش مند مانے جاتے ہیں۔ یہ صرف ہماری تاریخ پر ہی منحصر نہیں پوری دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جن کے پاس طاقت‘ وسائل اور اقتدار کی کنجیاں ہوتی ہیں‘ بات اُن کی ہی معتبر ٹھہرتی ہے۔ وہی سیانے گردانے جاتے ہیں۔ اقتدار کے گھوڑے پر کوئی شہسوار سرپٹ دوڑتا جا رہا ہو تو حقیر مخلوق اور اُس کی آوازوں کی طرف دھیان نہیں جاتا۔ ہم تو ایک عرصہ سے کہہ اور لکھ رہے ہیں کہ نظام ٹھیک نہیں چل رہا‘ کچھ بھی تو ٹھیک نہیں۔ نہ کوئی سمت‘ نہ کوئی منزل اور نہ آئین کی طرف کوئی قدم۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ صوبائی حکومتوں کی کارکردگی‘ خصوصاً سندھ اور پنجاب میں‘ اشتہاری مہموں میں دکھائی دیتی ہے۔ آخر اٹھارہویں ترمیم کی فیوض وبرکات کا ارتکاز لاڑکانہ اور رائیونڈ میں ہوا ہے۔ ان کے تحفظ اور عوام کی نظروں میں جائزیت کے لیے عوام کا پیسہ ہی لگایا جائے تو کس نے سوال کرنا ہے۔ ہر تبصرہ نگار دہائیوں سے دوبڑے حکمران گھرانوں‘ اشرافیہ اور اقتدار کے مراکز سے وابستہ طفیلیوں کی کرپشن ‘ بے قاعدگیوں اور ملکی وسائل کی لوٹ مار کے بارے میں لکھتا چلا آ رہا ہے۔ اوپر سے چونکہ راوی سب چین ہی چین لکھتا ہے‘ اس لیے ہماری کمزور آوازیں ان کی طاقت کی گھن گرج میں دب کر رہ جاتی ہیں۔ اب بات چونکہ اوپر سے آئی ہے اس لیے میڈیا وزیرداخلہ کے فرمودات پر دن رات غور کرنے میں مصروف ہے۔ وہ ایک ایسی ہی تقریر میں پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ چند سالوں میں‘ یعنی جب سے اندرونی انقلاب آیا ہے‘ ایک سو ارب ڈالر منی لانڈرنگ کے ذریعے ملک سے نکل گئے ہیں۔ ہم کچھ کہہ نہیں سکتے‘ سوائے عام لوگوں کے لیے ایک سوال چھوڑ جانے کے‘ کہ آخر وہ کون لوگ ہیں جو ملک کی برآمدات کا قریباً تین گنا سرمایہ ان سالوں میں محفوظ ٹھکانوں میں منتقل کر چکے ہیں؟ یہ بھی سوال ان سے نہیں‘ اپنے لیے رکھ چھوڑتے ہیں کہ آخر اُن کے خلاف کوئی کارروائی کیوں نہ ہوئی؟قابلِ غوربات تو یہ ہے کہ وزیر موصوف خود اس نظام کا حصہ ہیںاور خاصے طاقتور وزیر ہیں اور وہ خود اس کی بوسیدگی اور ناکامی کا اعلان کر رہے ہیں۔ وطنِ عزیز کے معاشی‘ سیاسی اور سماجی جمود اور زوال کے بارے میں قومی اور بین الاقوامی سکالرز نے بہت کچھ لکھا ہے ‘ ان وجوہات پر سب نے بہت بحث کی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ سینکڑوں کتابیں اور ہزاروں مقالے ہمارے اہلِ اقتدار کی اور اہلِ سیاست کی نظروں سے نہ گزرے ہوں۔ یہ بھی کوئی راز کی بات نہیں کہ اصل تضادات نظام کے اندر کیا ہیں۔ کیوں یہ موروثی خاندان نصف صدی سے نسل در نسل اس ملک پر چھائے ہوئے ہیں؟ آخر وہ کیوں ڈھال یا فرنٹ کے طور پر ہر بدلتے موسم کے ساتھ‘ اکثرسیاسی لبادہ بدل کر‘ عوام کی خدمت کے لیے تیار ہو جاتے ہیں؟ بنیادی سوال یہ ہے کہ بارگاہِ عالی میں سرداروں‘ خانوں‘ ملکوں‘ چودھریوں‘ مخدوموں‘ گدی نشینوں اور دوسرے درجے کے درباریوں کی پذیرائی کیوں ہے؟واہ ری جمہوریت! زمانے کی کروٹ سمجھیں یا وقت کا تقاضا کہ سامراجی نظام نے سماج کو کنٹرول کرنے اور اپنی ترجمانی کے لیے جو خاندان تیار کیے تھے آزادی کے بعد سے وہی اقتدار میں نظر آتے ہیں۔ طرزِ حکمرانی نے تو بدلنا ہی تھا مگر وہ جو ریاست اور سیاست کے معاملات پرانے انگریزی دور میں طے ہوئے تھے کچھ مختلف اندا ز میں اپنا اثر دکھاتے رہے ہیں۔ ریاست کے کردار اور ملک کے جاگیرداری سماج پر موروثی خاندانوں کی گرفت دونوں کے لیے لازم و ملزوم رہی ہے۔ آپ ہی بتائیں کہ کون سا بڑا اور چھوٹا سیاسی خاندان ہے جو ریاست کی سرپرستی اور دست گیری کے بغیر آگے آیا ہو۔ یہاں کسی کا نام لینے کی ضرورت نہیں‘ جمہوری ادوار میں جو آئے یا لائے گئے انہوں نے نظام کو بدلنے کے بجائے اپنی کرسیاں مضبوط کیں کہ خاندانی سیاست اگلی نسلوں تک بغیر کسی چیلنج کے قائم رہے۔ ہماری سیاسی ثقافت کی روح میں مغلیہ شہزادوں کے ٹھاٹ باٹ‘ دربار‘ اُس زمانے کی عیش وعشرت اور طفیلی نظام رچا ہوا ہے۔ اُسی طرح اقتدار پر نظر رکھو اور لوٹ مار کرتے رہو۔ خوشامدی درباریوں کا لشکر ساتھ رکھو اور سیاسی نورا کشتی جاری رکھو۔ ایسے میں جمہوریت کی مالا جپنے میں کیا حرج ہے؟اس وقت جو نظام چل رہا ہے اسے کچھ لوگوں نے ہائبرڈ کانام دے رکھا ہے۔ اُردو میں اس کا ترجمہ جو دیکھا ہے‘ وہ یہاں لکھنا ممنوع کے زمرے میں آتا ہے۔ ہم نے پہلے ہی عرض کر دیا تھا کہ یہ نظام نہیں چلے گا۔ جو &#39;انقلاب‘ میں اتحادی بنے‘ انہوں نے دونوں ہاتھوں سے سمیٹا ہے‘ باقی دھندے بھی جاری ہیں۔ سب کو معلوم ہے کہ کراچی سے لے کر کریم آباد تک کیا ہو رہا ہے‘ مگر ہائبرڈ نظام کو صرف ایسے ہی چلایا جا سکتا تھا۔ بات تو سادہ اور آسان ہے کہ اگر طرزِ حکمرانی اور حکومت کی کارکردگی بہتر کرنا مقصود ہے تو اقتدار اور وسائل صوبوں میں مرتکز کرنے کے بجائے شہری اور مقامی حکومتوں کو منتقل کریں۔ موروثیوں کی سیاست کا تقاضا اس کے برعکس‘ سب کچھ اپنے ہاتھ میں رکھنا رہا ہے۔ اقتدار کی نچلی سطح تک منتقلی ان کی سیاست کے لیے زہرِ قاتل ہے۔ دوسری بات احتساب ہے‘ کرپشن اور بے قاعدگیوں‘ جعلی بھرتیوں اور اربوں کی ہیرا پھری کا احتساب‘ مگر قانون اور فیصلہ کرنے کی آزادانہ صلاحیت ہی ہوا میں اڑا دیں تو پھر وہی ہو گا جوآپ دیکھ رہے ہیں۔میری رائے میں چار صوبے اتنا بڑا مسئلہ نہیں نہ ہی آبادی کے لحاظ سے بڑا یا چھوٹا ہونا‘ اصل مسئلہ اقتدار کی جائزیت‘ حاکمیت کی جوابدہی‘ نادیدہ قوتوں اور سیاسی طفیلیوں کا پرانا اور تاریخی گٹھ جوڑ اور موروثی سیاسی گھرانوں کا غلبہ ہے۔ اگر جمہوریت اور آئین کی بالادستی ہوتی اور ان گھرانوں کو سرپرستی حاصل نہ ہوتی تو متبادل قیادت پیدا ہو سکتی تھی۔ ریاست انہیں ہاتھی کے دانتوں کی طرح رکھتی ہے اور وہ ہمارے اجتماعی وسائل سے مالامال ہونے کے مواقع پاتے ہیں۔ کچھ معلوم نہیں کہ آگے کا سیاسی نقشہ کیا ہوگا مگر کچھ ہونے والا ضرور ہے۔ اگر بنیادی تضادات حل نہ ہوئے‘ جو ہمارے نزدیک لولی لنگڑی ہی سہی جمہوریت حل کر سکتی ہے‘ تو پرانا کھیل جاری رہے گا۔ پرانی شراب نئی بوتلوں میں بھرنے والی بات ہو گی۔ بحران در بحران کی کیفیت میں رہنے کے بجائے آسان راستہ تو یہ ہے کہ مقامی اور شہری حکومتوں کو آئینی تحفظ‘ وسائل اور اختیارات کی منتقلی کے لیے اتفاق رائے پیدا کیا جائے۔ لیکن پھر یاد آتا ہے کہ مولانا حسرت موہانی نے کیا خوب کہا تھا:خرد کا نام جنوں پڑ گیا‘ جنوں کا خردجو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_33241568.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>