<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>جنگ بندی، مذاکرات اور امن(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-18/11372</link><pubDate>Sat, 18 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-18/11372</guid><description>پاکستان اور چین کے وزرائے خارجہ کی شنگھائی میں ہونے والی ملاقات میں دوطرفہ امور کے علاوہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کا تنازع بھی زیر غور آیا اور اطلاعات کے مطابق وزرائے خارجہ نے امریکہ اور ایران پر فوری جنگ بندی اور مذاکرات کی بحالی کیلئے زور دیا۔ امریکہ اور ایران میں طویل سفارتی کوششوں کے بعد اسلام آباد مفاہمتی یادداشت ممکن ہوئی جس سے بڑی توقعات وابستہ تھیں تاہم 8 جولائی سے شروع ہونے والی کشیدگی امن کوششوں کے مستقبل کیلئے بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ دونوں ممالک ہفتہ بھر سے ایک دوسرے کو نشانہ بنا رہے ہیں اور آبنائے ہرمز کی گزرگاہ پہلے سے زیادہ خطرے کا سامنا کر رہی ہے۔ یہ صورتحال پاکستان اور چین سمیت خطے کے سبھی ممالک کیلئے تشویش کا باعث ہے کیونکہ ان ممالک کی توانائی کی ضرورت کے زیادہ تر وسائل اسی راستے سے آتے ہیں۔ کشیدگی کے ماحول میں اس آبی گزرگاہ سے تجارت معمول کے مطابق جاری رہنا ممکن نہیں اور عالمی قیمتوں کا دباؤ اس کے علاوہ ہے۔ چین کیلئے تشویش کا مسئلہ یہ بھی ہے کہ وہ ایران کے خا م تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی بندش کے پاکستان کی معیشت پر بھی منفی اثرات ہیں۔ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کی ایک تحقیق کے مطابق اس بحران نے پاکستان کے بیرونی تجارتی شعبے کو خطرے میں ڈال دیا ہے اور آبنائے ہرمز کی بندش سے جی سی سی ممالک کو پاکستان کی برآمدات میں ممکنہ طور پر ڈیڑھ سے دو ارب ڈالر کی کمی آ سکتی ہے جبکہ جی سی سی سے پاکستان کی درآمدات خاص طور پر توانائی میں بھی بڑی کمی ہو سکتی ہے اور یہ بحران پاکستان کی مقامی پیداوار اور عالمی برآمدات کو غیر مستحکم کر سکتا ہے۔ اس کیساتھ ساتھ توانائی کی بلند قیمتوں سے پاکستان کے درآمدی بل میں ہونیوالا اضافہ  کرنٹ اکاؤنٹ خسارے اور بیرونی قرضوں میں اضافے کا سبب ہے۔ پاکستان اور چین‘ جو اس علاقائی کشیدگی کے معاشی متاثرین میں شامل ہیں‘ کی جانب سے اس صورتحال میں امریکہ اور ایران کو تحمل اور سفارتکاری کی جانب متوجہ کرنے کی اہمیت واضح ہے۔
پاکستان اور چین نے مارچ کے آخر میں مشرقِ وسطیٰ اور خلیج میں قیام امن کیلئے پانچ نکاتی فارمولا بھی پیش کیا تھا جس میں فوری جنگ بندی‘ مذاکرات کے آغاز‘ شہری انفراسٹرکچر اور اہم تنصیبات کے تحفظ اور آبنائے ہرمز کی سکیورٹی پر زور دیا گیا تھا۔ اُن دنوں امریکہ ایران جنگ پانچویں ہفتے میں داخل ہو چکی تھی‘ گھمسان کا رن پڑا تھا اور دونوں جانب بڑے نقصانات کی خبریں آ رہی تھیں‘ تاہم پاکستان کی جانب سے امن کیلئے اٹھائے گئے قدم نتیجہ خیز ثابت ہوئے اور سات اپریل کو امریکہ اور ایران میں جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا جو مذاکراتی عمل سے ہوتا ہوا جون کے وسط میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر منتج ہوا جس میں پائیدار امن کو حتمی شکل دینے کیلئے 60 روز کی مدت مقرر کی گئی تھی اور برگن سٹاک مذاکرات کی صورت میں خوشگوار پیش رفت کا آغاز ہوا۔ یہ جون کے تیسرے اور چوتھے ہفتے کے واقعات ہیں۔ مگر جولائی کے پہلے ہفتے کیساتھ ہی امریکہ ایران کشیدگی دوبارہ شروع ہو گئی اور یہ سلسلہ اب دوسرے ہفتے میں داخل ہو چکا ہے۔
ان حالات میں جب متحارب ملک امن معاہدے پر دستخط کر چکے اور پائیدار امن کیلئے سنجیدہ نظر آتے تھے‘ یہ تشویشناک امر بدستور ایک سوال ہے کہ اس امن عمل کے پٹری سے اترنے کی کیا وجہ بنی؟ حقیقت جو بھی ہو‘اس نے قیامِ امن کی ان کوششوں کیلئے شدید خطرات پیدا کر دیے ہیں جن سے دنیا کو بڑی امیدیں تھیں۔ امریکہ اور ایران دونوں کو اس صورتحال کے بھیانک نتائج کا اندازہ ہونا چاہیے اور امن کی قدر وقیمت کا بھی۔ فریقین کا مذاکرات کی میز پر واپس آنا ازبس ناگزیر ہے۔ یہی ان متحارب ملکوں کے مفاد میں ہے‘ خطے اور دنیا کے مفاد میں بھی۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بھارت کی آبی جارحیت(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-18/11371</link><pubDate>Sat, 18 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-18/11371</guid><description> واپڈا کے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ چار روز کے دوران ہیڈ مرالہ کے مقام پر دریائے چناب میں پانی کی آمد میں 21 ہزار 600 کیوسک کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ چار روز قبل دریائے چناب میں پانی کا بہاؤ 71 ہزار 900 کیوسک تھا جو کم ہو کر 50 ہزار 300 کیوسک رہ گیا ہے۔ پانی کی یہ کمی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دریائے چناب کے گرد واقع اضلاع سیالکوٹ‘ گجرات‘ منڈی بہاء الدین اور حافظ آباد میں چاول کی فصل اپنی نشوونما کے اہم مرحلے میں ہے۔ ان علاقوں کی زرعی معیشت کا بڑا انحصار دریائے چناب کے پانی پر ہے‘ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف چاول بلکہ خریف کی دیگر فصلیں بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ پانی کی یہ کمی قدرتی نہیں بلکہ بھارت کی آبی جارحیت کا نتیجہ ہے۔

سندھ طاس معاہدے کے تحت دریائے چناب کے پانی پر پاکستان کا حق ہے تاہم معرکہ حق میں پاکستان کے ہاتھوں ہزیمت اٹھانے کے بعد سے بھارت آبی جارحیت جیسے اوچھے ہتھکنڈوں پر اُتر آیا ہے۔ اگر پانی کے بہاؤ کو سیاسی دباؤ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے تو یہ خطے کے امن و استحکام کیلئے خطرناک نظیر ثابت ہو گا۔ پاکستان نے اس معاملے کو عالمی سطح پر مؤثر انداز میں اٹھایا ہے اور پاکستانی مؤقف کو اہمیت بھی ملی ہے۔ تاہم موجودہ حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ سفارتی کوششوں میں مزید تیزی لائی جائے اور تمام متعلقہ بین الاقوامی فورمز پر اس مسئلے کو پوری قوت سے اجاگر کیا جائے۔ </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>عالمی اے آئی تعاون تنظیم(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-18/11370</link><pubDate>Sat, 18 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-18/11370</guid><description>پاکستان کا عالمی اے آئی تعاون تنظیم(WAICO) کا بانی رکن بننا بلاشبہ ایک اہم سفارتی‘ تکنیکی اور تزویراتی پیشرفت ہے۔ اس تنظیم میں شمولیت مصنوعی ذہانت کے شعبے میں پاکستان کے عزم کا اظہار اور اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ مستقبل کی معیشت‘ صنعت‘ صحت‘ زراعت اور قومی سلامتی کا بڑا انحصار مصنوعی ذہانت پر ہو گا۔ اس تنظیم کا بنیادی مقصد مصنوعی ذہانت کے میدان میں عالمی تعاون کو فروغ دینا‘ ترقی پذیر ممالک کو جدید ٹیکنالوجی تک مساوی رسائی فراہم کرنا اور عالمی سطح پر اے آئی مساوات قائم کرناہے۔ پاکستان کیلئے اس تنظیم کا بانی رکن بننا اسلئے بھی اہم ہے کہ اسے مستقبل کی عالمی پالیسی سازی‘ مشترکہ تحقیق‘ استعدادِ کار میں اضافے اور جدید ٹیکنالوجی کے تبادلے میں مؤثر کردار کا موقع ملے گا۔

تاہم کسی بھی بین الاقوامی تنظیم کی رکنیت اسی وقت حقیقی ثمرات دیتی ہے جب ملک کے اندر موزوں اور مؤثر پالیسیاں موجود ہوں۔ حکومت کو چاہیے کہ اے آئی کے حوالے سے جامع قومی حکمت عملی ترتیب دے‘ نوجوانوں کو اے آئی‘ پروگرامنگ‘ ڈیٹا سائنس‘ سائبر سکیورٹی اور دیگر جدید ڈیجیٹل مہارتوں کی معیاری تعلیم فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ حکومت کو عالمی اے آئی تعاون تنظیم کی رکنیت کو دانشمندانہ منصوبہ بندی‘ مؤثر سرمایہ کاری اور مستقل مزاجی کے ذریعے قومی ترقی کی منزل میں تبدیل کرنا چاہیے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>انتہاپسند بیانیوں کا نیا تصادم(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-07-18/52315/57700353</link><pubDate>Sat, 18 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-07-18/52315/57700353</guid><description>ہماری نئی نسل میں کم ہی ہوگا جس نے طارق علی کا نام سنا ہو۔ طارق علی اُس نظریاتی کشمکش کا ایک متحرک کردار تھے جو اب طاقِ  نسیاں کی نذر ہو چکی۔ یہ اسلام اور اشتراکیت کی کشمکش تھی۔ اس میں اعلیٰ تعلیم کے ادارے رزم گاہ تھے۔ طارق علی بائیں بازو کی نمائندگی کرتے تھے۔ دوسرا فریق اسلامی جمعیت طلبہ تھی۔ یہ کشمکش تمام ہوئی اور بایاں بازو قصہ پارینہ بنا۔ اگر اس کا کوئی نمائندہ زندہ ہے تو اس نے لبرل ازم کا چولا پہن رکھا ہے۔ جمعیت البتہ اسی شناخت کے ساتھ زندہ ہے۔ سوال کیا جا سکتا ہے کہ جب ایک کشمکش ختم ہو چکی اور ایک فریق اپنی صف لپیٹ چکا تو دوسرا فریق کیسے زندہ ہے یا اس کی زندگی کا جواز کیا ہے؟ اس پر پھر کبھی بات ہو گی۔ آج مجھے طارق علی یاد آئے تو اس نظریاتی کشمکش کے پس منظر میں۔ ان کو یاد کرنے کی ایک خاص وجہ ہے۔جب القاعدہ اور امریکہ کی لڑائی عروج پر تھی تو ان کی ایک کتاب شائع ہو ئی: انتہاپسند بیانیوں کا تصادم (Clash of Fundamentalisms)۔ یہ عنوان ہی بتا رہا ہے کہ کتاب کا مضمون کیا ہو گا۔ ان کے نزدیک ایک انتہا پسندی دوسری انتہا پسندی سے متصادم تھی۔ امریکہ اور مغرب نے مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں‘ اپنے نوآبا دیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لیے &#39;نادیدہ تشدد‘ کا ارتکاب کیا۔ القاعدہ اس کا ردِعمل ہے جو عمل کی طرح انتہا پسندانہ ہے۔ طارق علی کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ امریکہ اور مغرب ہیں جنہوں نے اپنے مقاصد کے حصول کے لیے مسلم انتہا پسندوں کو اسلحہ فراہم کیا اور تشدد کا راستہ دکھایا۔ اپنے نظریاتی پس منظر کے ساتھ‘ وہ یہاں افغانستان کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ میرا اضافہ یہ ہے کہ القاعدہ نے اس ورلڈ آرڈر کو ماننے سے انکار کیا جس پر دنیا نے اجماع کر لیا تھا۔ امریکہ نے بھی یہی کیا جب وہ عراق پر حملہ آور ہوا۔ القاعدہ کا بنیادی مطالبہ غلط نہیں تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ امریکہ مشرقِ وسطیٰ سے نکل جائے۔ القاعدہ کو مگر انتہاپسند اور دہشت گرد مانا گیا۔ وجہ مطالبہ نہیں‘ طریقہ کار تھا۔مشرقِ وسطیٰ آج پھر دو انتہاپسند بیانیوں کا رزم گاہ بن گیا ہے۔ امریکہ اور ایران دونوں میں سے کوئی ایک فریق ایسا نہیں جس نے جلتی پر پانی ڈالا ہو۔ دونوں تیل ڈال رہے ہیں۔ کوئی فریق جنگ کے شعلوں کو کم کر نے کی کوشش نہیں کر رہا۔ زیادہ متاثر ایران ہے جس کی سرزمین میدانِ جنگ بنی ہوئی ہے۔ امریکہ کا نقصان معاشی ہے‘ جانی یا سماجی نہیں۔ عقل کا تقاضا یہ ہے کہ ایران امن کی طرف لپکے‘ بطورِ خاص اُس وقت جب معاہدۂ اسلام آباد نے اسے ایک شاندار موقع بھی فراہم کر دیا ہے۔ اس معاہدے سے ایران نے بہت کچھ حاصل کیا۔ ہر منصف مزاج نے امریکہ کو جارح قرار دیا جس سے ایران کو ایک اخلاقی برتری ملی۔ یہ تاثر قائم ہوا کہ امریکہ ایران کو زیر کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ اسرائیل کو ہر محاذ پر پسپائی اختیارکرنا پڑی۔ پاکستان جیسا ملک کھل کر ایران کے ساتھ کھڑا ہو گیا۔ امریکہ نے ایران کی تعمیرِ نو کے لیے تین سو بلین ڈالر فراہم کرنے کی تجویز پیش کی۔ ایران کے اثاثے واپس ملنے کا امکان روشن ہو گیا۔ عرب ممالک بھی دوستی کا ہاتھ بڑھانے پر آمادہ دکھائی دیے۔ عقلِ عام کا تقاضا یہ تھا کہ ان کامیابیوں کو سمیٹا جاتا۔ اگر صدر ٹرمپ کی طرف سے کوئی احمقانہ بات کی گئی تو ایسی باتوں کو اسی طرح نظر انداز کیا جاتا جیسے یورپی ممالک کی قیادت نے کیا ہے۔ اُن پر صدر ٹرمپ نے بارہا تنقید کی لیکن انہوں نے قرآن مجید کو نہ مانتے ہوئے بھی اس کی ہدایت پر عمل کیا کہ جب معاملہ جاہلوں سے آن پڑے تو گریز سب سے بہتر حکمتِ عملی ہے۔ ایران والے تو ماشاء اللہ قرآن مجید پر ایمان رکھنے والے ہیں۔ انہیں چاہیے تھا کہ ان ہفوات سے درگزر کرتے اور اس خیر کو سمیٹنے کی کوشش کرتے جو اس معاہدے کے نتیجے میں پیدا ہوا۔افسوس کہ ایران یہ نہ کر سکا۔ اس نے انتقام کا نعرہ لگایا اور صدر ٹرمپ کی سطح پر اتر کر اس کا جواب دیا۔ امریکہ کے ساتھ تصادم کے امکانات کو بڑھاتے ہوئے‘ عرب ممالک سے تعلقات کی بہتری کو اہمیت نہیں دی۔ اپنی پراکسیز کو بند نہیں کیا۔ اس حکمتِ عملی کے نتیجے میں ایران پر حملوں میں شدت آ گئی۔ جانوں اور املاک کے زیاں کا عمل رک نہیں سکا۔ ہرمز کے بند ہونے کا نقصان امریکہ سے زیادہ چین اور دوسرے ممالک کو ہے۔ ان کی خواہش ہے کہ تجارت کا یہ راستہ کھلا رہے۔ اگر یہ صورتِ حال اسی طرح بر قرار رہی تو ایران کو جو برتری ملی تھی‘ وہ کم ہوتی جائے گی۔ وہ امکانات بھی اس کی ہتھیلی سے پھسلنا شروع ہو جائیں گے جو معاہدۂ اسلام آباد نے پیدا کیے۔اس نقطہ نظر کے جواب میں یہ دلیل بے معنی ہے کہ امریکہ جارحیت کر رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہماری حکمتِ عملی کیا ہونی چاہیے؟ امریکہ کواس جارحیت سے روکنا یا اس کو مزید اشتعال دلانا؟ اسرائیل اور امریکہ میں فرق ہے۔ اگر وہ ایران پر دس بم پھینکتا تھا تو ایران کے دو تین میزائل بھی اسرائیل کی سرزمین تک پہنچ جا تے تھے۔ کم سہی لیکن اسرائیل کا جانی نقصان ہو رہا تھا اور ملک حالتِ جنگ میں تھا۔ اس لیے اسرائیل کا مفاد اس میں تھا کہ جلد از جلد جنگ ختم ہو۔ امریکہ کا معاملہ یہ نہیں ہے۔ اس کی سرزمین محفوظ ہے۔ جنگ اگر جاری رہتی ہے تو امریکی حکومت پر عوام کا دباؤ ویسا نہیں ہو سکتا جو اسرائیلی عوام کا اپنی حکومت پر تھا۔ دوسری طرف ایرانی عوام پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ ایرانی قوم نے جس استقامت کا مظاہرہ کیا ہے‘ اس کو مزید نہیں آزمانا چاہیے۔ اس سے عوامی اضطراب میں اضافہ ہو گا۔ ایرانی قوم کے کئی برس جنگ کی نذر ہو گئے۔ آٹھ سال عراق کے ساتھ۔ پھر امریکہ کے ساتھ مسلسل تصادم کی کیفیت۔ لبنان اور شام کی خانہ جنگی میں عملی شرکت۔ پراکسیز پر اتنا اصرارکہ پاکستان جیسے خیرخواہ کے مشوروں کو بھی کوئی اہمیت نہیں دی۔ پاکستان کو مجبور ہو کر وارننگ دینا پڑی کہ اس حکمتِ عملی کے نتیجے میں‘ پاکستان اور ایران میں تصادم ہو سکتا ہے۔ ایرانی قیادت کو سمجھنا ہوگا کہ معاملہ بہت سنجیدہ ہو چکا۔یہ بات سیاسی قیادت تو سمجھ سکتی ہے‘ عسکری اندازِ نظر نہیں جو انتقام کے نعرے لگا رہا ہے۔ ایران کو انقلابی نہیں‘ سیاسی سوچ کی ضرورت ہے۔ اس انقلابی سوچ نے ایران کی سیاسی قیادت کو بھی مشکل میں ڈال رکھا ہے۔ ریاست کے اندر موجود متبادل نظام نے صدر اور دوسرے ذمہ داران کی حیثیت کو مجروح کیا ہے۔ انقلابی سوچ کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اختلاف کرنے والا ہر آدمی  غدار قرار پاتا ہے۔ سرخ انقلاب اور سبز انقلاب کی تاریخ اس پر گواہ ہے۔ اس خوف سے اصلاح پسند ایران میں کھل کر بات نہیں کر سکتے۔ یہ اندیشہ بڑھ رہا ہے کہ انتہا پسندوں کا یہ تصادم مزید بربادی کا سبب بن سکتا ہے۔ طارق علی نے تو نہیں لکھا مگر واقعہ یہ ہے کہ سوویت یونین اور امریکہ کی کشمکش بھی انتہاپسند بیانیوں ہی کا تصادم تھا۔ تصاد م اور جنگ غیر فطری ہیں۔ ان کو محدود وقت ہی کے لیے برداشت کیا جا سکتا ہے‘ جیسے ہم بیماری کو برداشت کرتے ہیں۔ بیماری آ جائے تو ہم علاج میں جلدی کرتے ہیں۔ جنگ ایک بیماری ہے۔ عقل کا تقاضا ہے کہ ایران اس سے نجات کے لیے جلدی کرے۔ وہ تصادم پسندوں کے بجائے مصلحین کی طرف رجوع کرے۔سوئے مادر آ کہ تیمارت کند</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پرندے‘ جانور‘ شکار اور سپر ٹسکر ہاتھی(خالد مسعود خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-07-18/52316/88700427</link><pubDate>Sat, 18 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-07-18/52316/88700427</guid><description>آپ اسے &#39;&#39;چور چوری سے جائے، ہیرا پھیری سے نہ جائے‘‘ سمجھ لیں یا تھوڑے مہذب الفاظ میں پنجابی کی اس کہاوت سے تعبیر کر لیں کہ عادتیں سروں کے ساتھ جاتی ہیں‘ یعنی عادتیں زندگی بھر انسان کے ساتھ رہتی ہیں اور مرنے پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ حالانکہ یہ مسافر شکار سے تقریباً ریٹائر ہو چکا ہے لیکن جانوروں‘ پرندوں‘ جنگلوں اور شکار حتیٰ کہ بندوقوں سے اس کی دلچسپی ہزار کوشش کے باوجود ختم نہیں ہو پا رہی؛ چنانچہ ان میں سے کوئی چیز کہیں دکھائی دے جائے تو قدم خود بخود رک جاتے ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے کھلے عام تالابوں‘ جھیلوں اور ندی نالوں میں تیرتی یا کناروں پر چلتی پھرتی مرغابیاں‘ قاز (Goose) یا ہنس دکھائی دیں تو ہاتھوں میں کھجلی ضرور ہوتی ہے لیکن اب اس کھجلی پر کسی حد تک قابو پانے کا ہنر سیکھ لیا ہے۔ اگرچہ امریکہ میں صرف ضبط ہی کافی نہیں بلکہ شکار کے سخت قوانین‘ لائسنس‘ پرمٹ اور سیزن کی پابندیاں بھی درمیان میں آ جاتی ہیں۔ ہزار بار دل کرتا ہے کہ سیزن میں یہاں آؤں‘ لائسنس حاصل کروں اور برادرِ عزیز کے پاس پڑی ہوئی اپنی 300 ونچسٹر میگنم رائفل سے شکار کروں۔ سینکڑوں بار سڑکوں سے گزرتے ہوئے سفید دم والے ہرن اپنی جھلک دکھاتے ہیں۔ برادرِ بزرگ کے گھر کے پچھلے صحن میں بنے ہوئے چھوٹے سے مچھلیوں کے تالاب پر پانی پینے آ جاتے ہیں۔ میری لینڈ میں بالٹی مور کے اندر اپنے دوست عرفان یعقوب کے گھر سے ذرا باہر نکلوں تو آٹھ آٹھ‘ دس دس ہرنوں کے غول چہل قدمی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ دل مچلتا ہے‘ لیکن مجبوری بھی ہے۔شکار میرا شوق تھا اور دوست بھی ایسے ملے جو شاید مجھ سے کہیں بڑھ کر اس لت میں مبتلا تھے۔ یوں یہ سلسلہ چلتا رہا یہاں تک کہ دوست بکھر گئے‘ جانور اور پرندے خطرناک حد تک کم ہو گئے۔ زندگی کی دیگر مصروفیات نے سر اٹھا لیا‘ نظر نے بھی دھوکا دینا شروع کر دیا اور اب گھٹنے بھی جواب دے رہے ہیں‘ اس لیے حالات پہلے جیسے نہیں رہے۔ لیکن دل کم بخت آج بھی ان چیزوں کو دیکھتا ہے تو مچل اٹھتا ہے۔شکار کے علاوہ جانوروں سے میری دلچسپی بچپن ہی سے رہی ہے۔ شاید میں پہلے بھی ذکر کر چکا ہوں کہ گرمیوں کی چھٹیاں لاہور میں گزرتی تھیں۔ ماموں محمود اللہ صدیقی کے لوہاری دروازے کے اندر واقع گھر سے میں چڑیا گھر کے ٹکٹ کے پیسے لے کر پیدل نکلتا‘ نئی انارکلی سے گزرتا‘ مال روڈ پر چلتے ہوئے چڑیا گھر پہنچ جاتا۔ دو‘ تین یا چار گھنٹے وہاں گزارتا اور پھر پیدل ہی واپس ماموں کے گھر آ جاتا۔ اس زمانے میں تھکاوٹ نام کی کسی چیز سے ہماری کوئی واقفیت نہ تھی۔ میرا دوسرا پسندیدہ گھر شادباغ میں تایا نواز کا گھر تھا۔ اگرچہ وہ چڑیا گھر سے کافی فاصلے پر تھا لیکن ہر دوسرے یا چوتھے دن میں ضد پکڑ لیتا کہ مجھے چڑیا گھر جانا ہے۔ اللہ تعالیٰ تائی اقبال کو غریقِ رحمت کرے وہ کسی نہ کسی بچے کو ڈانٹ کر کہتیں کہ بچہ ملتان سے آیا ہوا ہے اگر ہم اس کا خیال نہیں رکھیں گے تو کون رکھے گا؟ کبھی بھائی پرویز اور کبھی بھائی خالد کی ڈیوٹی لگتی کہ وہ مجھے چڑیا گھر دکھا کر لائیں۔ دونوں بھائی میری اس بار بار کی فرمائش سے تنگ آ چکے تھے لیکن بھائی پرویز اللہ تعالیٰ انہیں خوش رکھے‘ یہ کام بڑی خوش دلی سے کرتے جبکہ خالد بھائی سارا راستہ منہ پھلائے رہتے۔ بہرحال تائی کے حکم کے آگے کسی کو انکار کی مجال نہ تھی اور یوں اس چڑیا گھر کے شوقین کا کام چلتا رہتا تھا۔ یہی حال میں بہاولپور میں نانی اماں کے گھر کرتا۔ میری سگی نانی اماں کو تو میری والدہ مرحومہ نے بھی شاید ہوش میں نہیں دیکھا تھا۔ بہاولپور والی نانی اماں کی ایک بیٹی تھی جو خاندانی جائیداد کے چکر میں قتل کر دی گئی تھی۔ میری والدہ نے کبھی اپنی حقیقی والدہ کی شفقت نہیں دیکھی تھی۔ سو اب بہاولپور والی نانی اماں ہی ہماری نانی اماں تھیں جنہوں نے میری والدہ کو اپنی بیٹی بنایا ہوا تھا۔ سکول میں چھٹیاں ہوتیں تو میں دو چار دن کے لیے بہاولپور چلا جاتا۔ ہر روز صبح ان کا ملازم مجھے سائیکل پر بہاولپور کے چڑیا گھر میں چھوڑ آتا۔ سستا زمانہ تھا‘ نانی اماں روزانہ پانچ روپے علاوہ چڑیا گھر کے ٹکٹ کے‘ خرچ کے لیے دیتی تھیں۔ اس میں سے بیشتر پیسوں سے چڑیا گھر کے باہر بیٹھے ہوئے چنے والوں سے بندروں کے لیے چنے خریدے جاتے۔ دوپہرکے وقت نانی اماں کا ملازم آتا‘ پورے چڑیا گھر میں مجھے تلاش کرتا کسی درخت کے نیچے دستر خوان بچھاتا‘ ٹفن کیریئر کھول کے مجھے کھانا کھلاتا اور پھر وہ واپس چلا جاتا۔ پھر وہ دوبارہ چار بجے کے لگ بھگ‘ جب چڑیا گھر بند ہونے والا ہوتا‘ آتا اور مجھے واپس لے جاتا۔ میں بہاولپور سال میں دو تین بار جاتا‘ تین چار روز کے اس قیام کے دوران بلاناغہ چڑیا گھر جایا جاتا۔ پھر سب کچھ خواب وخیال ہو گیا۔ادھر امریکہ میں بے شمار جانور ہیں‘ پرندے ہیں‘ بندوقیں ہیں اور سب سے بڑھ کر قانونی پابندیوں کے ساتھ ہمہ قسم کے مواقع ہیں۔ غرض پرانے شوق کی آبیاری کے لیے ہر چیز موجود ہے۔ جانوروں سے دلچسپی بلکہ محبت آج بھی برقرار ہے۔ یہاں جنگلی حیات کے تحفظ کے انتظامات دیکھ کر خوشی ہوتی ہے۔ دل چاہتا ہے کہ یہی ماڈل پاکستان میں بھی نافذ کیا جائے تاکہ معدوم ہوتی جنگلی حیات کو نئی زندگی مل سکے۔ تاہم امریکہ میں جنگلی حیات کے تحفظ کی کاوشوں کو سراہنے کے باوجود یہ حقیقت ذہن سے نہیں نکلتی کہ روئے زمین پر جنگلی حیات کو جتنا نقصان بندوق‘ بارود اور ان دونوں کو عروج پر لے جانے والے گوروں نے پہنچایا شاید ہی تاریخ میں کسی اور نے پہنچایا ہو۔ گوروں نے ٹرافی ہنٹنگ کے نام پر جانوروں کا ایسا قتلِ عام کیا کہ خدا کی پناہ۔ امریکی بائسن کے بارے میں چند روز پہلے لکھ چکا ہوں۔ چند روز پہلے خبر ملی کہ کینیا کے امبوسیلی نیشنل پارک میں موجود ایک اور سپر ٹسکر ہاتھی جس کا نام &#39;&#39;ون ٹن ٹسکر‘‘ تھا‘ مر گیا ہے۔ اس ہاتھی نے باون برس کی عمر پائی اور خوش قسمتی سے کسی شکاری کا نشانہ بننے کے بجائے طبعی موت مرا۔ایک زمانہ تھا جب افریقہ کے جنگلوں میں شاید سینکڑوں سپر ٹسکر ہاتھی موجود تھے۔ ٹسک کی اردو &#39;باہر نکل ہوا دانت‘ ہے۔ ہاتھی کے علاوہ والرس اور وارتھوگ کے دانت کو بھی ٹسک کہا جاتا ہے۔ سپر ٹسکر ان ہاتھیوں کو کہا جاتا ہے جن کا ہر بیرونی دانت سو پاؤنڈ‘ یعنی تقریباً 45کلو گرام سے زیادہ وزنی ہو۔ ایسے دانت اتنے لمبے ہوتے ہیں کہ تقریباً زمین کو چھونے لگتے ہیں۔ یہ ہاتھی جینیاتی اعتبار سے بھی عام ہاتھیوں سے کسی حد تک مختلف ہوتے ہیں لیکن ان کی یہی خوبی‘ یہی شاندار اور دیوہیکل دانت‘ ان کے لیے سب سے بڑی مصیبت بن گئے۔ہاتھی دانت کی غیر قانونی تجارت کرنے والے شکاریوں نے اور اس سے پہلے قانونی طور پر ٹرافی ہنٹنگ کرنے والوں نے ان سپر ٹسکر ہاتھیوں کا اس بے رحمی سے شکار کیا کہ آج دنیا بھر میں سخت ترین حفاظتی اقدامات کے باوجود ان کی تعداد شاید ایک یا دو درجن سے زیادہ نہیں رہی۔ ون ٹن ٹسکر بھی انہی نایاب سپر ٹسکر ہاتھیوں میں شامل تھا جو پانچ جولائی کو کینیا میں اس دنیا سے رخصت ہوا۔ اس سے پہلے اسی امبوسلی نیشنل پارک میں مقیم دنیا بھر میں مشہور سپر ٹسکر‘ کریگ‘ چون برس کی عمر گزارنے کے بعد تین جنوری 2026ء کو اپنی طبعی موت مرا۔تحفظِ جنگلی حیات کے حلقوں میں اس بات پر خوشی کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ کم از کم یہ دونوں سپر ٹسکر ہاتھی اپنی طبعی موت مرے‘ جبکہ ماضی میں کئی سپر ٹسکر‘ ہاتھی دانت کی ناجائز تجارت کرنے والے شکاریوں کے ہاتھوں مارے گئے۔ 2014ء میں تساوو نیشنل پارک کینیا میں غیر قانونی شکاریوں نے سپر ٹسکر ساتاؤ کو مار کر اس کے دانٹ کاٹ لیے‘ بالکل ویسے ہی جیسے پاکستان میں اقتدار پر قبضہ کرنے والے جمہوریت کے دانت کانٹ کر لے جاتے ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90500073.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بابا گھر پر ہیں(ڈاکٹر حسین احمد پراچہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-07-18/52317/44066990</link><pubDate>Sat, 18 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-07-18/52317/44066990</guid><description>میں نے اپنے ایک بے تکلف اعلیٰ افسر دوست کو اپنی بپتا سنانے کا آغاز کیا تو موصوف نے موضوع کو بھانپتے ہوئے کہا کہ پہلے ہمارا قصہ سنو اس کے بعد آپ کی بات سنیں گے۔ میں نے عرض کیا کہ بسم اللہ کیجئے!قارئین کرام! یہ واقعہ سو فیصد حقیقی ہے۔انہوں نے بتایا کہ چند روز قبل میں اپنے گھر کے ڈرائنگ روم میں کچھ لکھنے پڑھنے کا کام کر رہا تھا کہ  اچانک محسوس ہوا کہ جیسے کچن سے بیگم صاحبہ کی ڈری سہمی ہوئی ہلکی ہلکی آوازیں آ رہی ہیں۔ میں اُٹھ کر کچن میں گیا تو بیگم صاحبہ کسی سے فون پر التجا کر رہی تھیں۔ خوف کی شدت سے ان کا رنگ زرد پڑ چکا تھا۔ انہوں نے مجھے چپ رہنے کا اشارہ کیا۔ اس دوران فون پر دوسری طرف جو شخص بات کر رہا تھا اس سے وہ کہہ رہی تھیں کہ میرے پاس گھر میں تو صرف 35 ہزار روپے ہیں تین لاکھ تو نہیں۔اُن صاحب کے بقول‘ میں نے سرگوشی کے انداز میں غصے سے پوچھا کہ ماجرا کیا ہے؟ بیگم نے رندھی ہوئی آواز میں کہا کہ بیٹے حامد کی زندگی کا سوال ہے جسے کچھ لوگوں نے اغوا کر لیا ہے۔ حامد لاہور کی ایک یونیورسٹی سے ڈگری مکمل کر کے وہاں پر ہی انٹرن شپ کر رہا ہے۔ دھمکی دینے والے شخص نے ماں کو اس کے بیٹے کی آواز سنائی جو روتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ ماں! مجھے بچاؤ‘ مجھے بچاؤ‘ یہ بڑے ظالم لوگ ہیں۔ اُن صاحب کی بیگم نے انہیں بتایا کہ کال کرنے والوں کا کہنا ہے کہ وہ سی ٹی ڈی سے تعلق رکھتے ہیں‘ آپ کے بیٹے کا نام ٹیررازم لسٹ میں تھا۔ جب ہم نے اسے ہاسٹل سے اٹھا لیا تو ابتدائی تفتیش سے ہی ہمیں معلوم ہو گیا کہ یہ بچہ بے قصور ہے۔ اب ہم اسے چھوڑ دیں گے مگر اس کیلئے آپ کو دو لاکھ اٹھاسی ہزار روپے دینا ہوں گے۔اُن صاحب کی بیگم نے کہا کہ گھر پر میرے پاس صرف 35 ہزار روپے ہیں۔ &#39;&#39;سی ٹی ڈی‘‘ والوں نے دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے گھر میں کسی اور کو نہیں بتانا۔ فون بند نہ کریں اور کسی قریبی موبائل بینکنگ شاپ سے یہ رقم ہمیں ابھی ٹرانسفر کریں جس کے بعد ہم آپ کو آپ کے بیٹے کے زندہ سلامت رہنے کی ضمانت دیں گے۔ باقی رقم بعد میں ادا کر دیں۔ اُن صاحب کی بیگم نے انہیں جلدی سے گاڑی نکالنے کو کہا۔ کئی اعزازات حاصل کرنے والے ہمارے دوست نہایت مضبوط اعصاب کے مالک ہیں‘ مگر یہاں معاملہ ان کے لخت جگر کا تھا۔ وہ فوری طور پر چابی لے کر لان میں آ گئے۔ اُن کے پیچھے پیچھے حامد کی والدہ بھی اپنی چادر اور پرس سنبھالتی ہوئی گاڑی کے پاس پہنچ گئیں۔ اس دوران دل پر قابو پاتے ہوئے قدرے غور و فکر سے کام لیا تو انہوں نے اپنے ایک پولیس افسر دوست کو  کال کی اور اسے بتایا کہ حامد اغوا کاروں کے نرغے میں ہے آپ اس کا فی الفور پتا لگائیں۔ پولیس افسر نے موصوف سے ان کے بیٹے کے بارے میں کچھ معلومات دریافت کیں مگر آفت کی اس گھڑی میں بھلا انہیں معلومات کا ہوش کہاں تھا۔ پولیس افسر نے کہا کہ آپ بیٹے کا موبائل نمبر ہی بتا دیں۔ ادھر حامد کی والدہ فی الفور موبائل بینکنگ شاپ پر پہنچنا چاہتی تھیں۔پولیس افسر کو حامد کا نمبر وٹس ایپ کرتے ہوئے معاً ہمارے دوست کو خیال آیا کہ میں خود ہی کیوں نہ حامد کو فون کر لوں۔ انہوں نے دھڑکتے دل کے ساتھ حامد کا نمبر ملایا تو ادھر سے بیٹے نے نارمل حالات میں جی ابو کہہ کر ان کی کال سنی۔اُن صاحب نے اس سے پوچھا کہ وہ کیا کر رہا ہے۔ اس نے بتایا کہ آج ورک فرام ہوم کرنا ہے‘ اس لیے میں تاخیر سے جاگا ہوں۔ انہوں نے فوری طور پر اپنی بیگم کے ہاتھ سے ان کا فون لے کر اسے اپنے ہاتھ سے ڈھانپ لیا اور ان کی بات اپنے فون پر حامد سے کروائی۔ ماں کو حامد کی آواز سن کر بھی یقین نہ آیا کہ وہ ابھی تک اغوا کاروں کے دباؤ اور ان کی دھمکیوں کے زیر اثر تھیں۔ انہوں نے بار بار حامد سے پوچھا کہ کیا تم خیریت سے ہو۔ اس نے کہا کہ سب خیریت ہے‘ میں تو اپنے کمرے میں ہوں۔ البتہ مجھے کچھ دیر پہلے ایک کال آئی تھی اور اس نے پوچھا تھا کہ کیا تم فلاں فلاں کے بیٹے ہو؟ میں نے ہاں میں جواب دیا۔ جب انہوں نے پوچھا کہ تمہارے بابا کہاں ہیں؟ تو میں نے بتایا کہ میں گھر سے باہر ہوں جبکہ بابا گھر پر ہیں۔ مکمل تسلی کے بعد اُن صاحب نے بیگم صاحبہ کا فون پکڑ کر آن ویٹنگ اغوا کاروں کی دنیا کی ہر زبان بالخصوص پنجابی مغلظات سے تواضع کی۔گزشتہ چند برسوں سے آن لائن جرائم اور بینک فراڈ عروج پر ہیں۔ سائبر کرائمز نے سارے ملک میں مختلف انداز میں جال بچھا رکھے ہیں مگر پنجاب تو ان جرائم کی آماجگاہ بن چکا ہے‘ شاید اپنی خوشحالی اور کثرتِ آبادی کی بنا پر۔2025ء سائبر کرائم رپورٹ ہونے والی کامیاب یا ناکام وارداتوں کے حوالے سے ٹاپ پر رہا۔ تقریباً پونے دو لاکھ مقدمات درج ہوئے تھے۔ پنجاب میں آن لائن وارداتوں میں بالعموم یہ ملزمان پولیس ‘ ایف آئی اے یا سی ٹی ڈی کے افسران و اہلکار بن کر فون کرتے ہیں۔ یہ بالعموم آپ کے بیٹے‘ بھانجے یا کسی اور قریبی عزیز کے اپنی تحویل میں ہونے کی دلفگار خبر سنائیں گے۔ وہ آپ کو &#39;تھانے‘ یا کرائم کنٹرول کے کسی دفتر بلائیں گے‘ یا فوری طور پر آن لائن رقم بھجوانے کا کہیں گے۔ آن لائن وارداتوں کی دوسری قسم بینک فراڈ کی ہے۔ آپ کے اکاؤنٹ کو بظاہر بینک سے بولنے والا شخص بند ظاہر کرے گا اور پھر چالاکی سے آپ کا پن کوڈ معلوم کرے گا اور پلک جھپکتے آپ کا اکاؤنٹ خالی کر دیا جائے گا۔اب آپ میری بپتا سنیے۔ گزشتہ ہفتے مجھے ایک انجان نمبر سے کال آئی! میں کیپٹن محمد زاہد فلاں ادارے سے بول رہا ہوں۔&#39; کیپٹن صاحب‘ نے مجھے میری کئی شخصی معلومات بتائیں اور پوچھا کہ کیا یہ درست ہیں؟ جو درست تھیں ان پر میں نے جی ہاں کہا‘ بعض معلومات بالکل غلط تھیں ان پر میں نے خاموشی اختیار کی اور تصحیح نہیں کی۔ مجھے اندازہ ہو گیا کہ یہ فیک کال ہے مگر &#39;&#39;کیپٹن صاحب‘ ‘کا اعتماد ساتویں آسمان پر تھا۔ کہنے لگے آئندہ رابطے کیلئے ہم آپ کو وٹس ایپ کے ذریعے ایک کوڈ بھیج رہے ہیں۔ اسے او کے کر دیں۔ عرض کیا جناب انہی اداروں نے ہمیں خبردار کر رکھا ہے کہ آپ نے کسی مشکوک میسج پر اوکے نہیں کرنا۔ اس پر &#39;&#39; کیپٹن صاحب‘‘ نے کہا کہ ہم ہی نے منع کیا تھا اب نئی ضرورتوں کے مطابق آپ ہمارے میسج کو اوکے کریں۔ اگر آپ او کے نہیں کریں گے تو اگلے آدھے گھنٹے میں آپ کے سارے اکاؤنٹ اور فون نمبر وغیرہ بند ہو جائیں گے۔ ہم نے &#39; &#39;کیپٹن صاحب‘‘ سے کہا کہ فلاں افسر ایک اہم ڈپارٹمنٹ میں کام کرتے ہیں‘ اُن سے پوچھ کر اوکے کر دوں گا۔ یہ سنتے ہی &#39;&#39;کیپٹن صاحب ‘‘فون بند کر گئے۔ اس سے پہلے ایسی فیک کالوں کا سن رکھا تھا مگر پہلی مرتبہ کال ایسی کال وصول کی۔اب سنیے ہمارے اعلیٰ افسر دوست والی واردات کیسے کی گئی۔ کہیں سے انہوں نے اُن صاحب اور ان کی فیملی کے نمبروں تک رسائی حاصل کی۔ ماہر سائبر ڈاکوؤں نے فون پر اُن کے بیٹے کی آواز ٹیپ کی اور پھر مصنوعی ذہانت کے ذریعے اس کی روتی اور مدد کیلئے آہ و زاری کرتی ہوئی آڈیو ماں کو سنائی تو اس کا تڑپ اٹھنا عین فطری تھا۔ بقول اُن کے اپنے سمیت چار غلطیاں ہوئیں۔ ان کے خیال میں سب سے بڑی غلطی ان کے بیٹے سے ہوئی جس نے فون کرنے والوں کو شناخت معلوم کیے بغیر انہیں بتا دیا کہ &#39;&#39;بابا گھر پر ہیں‘‘۔ اس انفارمیشن سے مجرموں نے ساری واردات کا پلان بنایا۔ ہمارے نزدیک سب سے بڑی غلطی ایسی آن لائن وارداتوں کے بارے میں عوام میں آگہی نہ ہونا ہے۔ مین سٹریم اور سوشل میڈیا کو ایسی آن لائن وارداتوں کے بارے میں آگہی گھر گھر پہنچانی چاہیے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_70033906.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>خود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیں(افتخار احمد سندھو)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/iktakhar-ahmed-sandhu/2026-07-18/52318/88257625</link><pubDate>Sat, 18 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/iktakhar-ahmed-sandhu/2026-07-18/52318/88257625</guid><description>1979ء سے لے کر اب تک ایران میں برسر اقتدار طبقے نے اپنے ملک کا بہت نقصان کیا ہے۔ امریکہ کے ساتھ جنگ کے باعث اس کے اڑتیس اضلاع کو شدید تباہی کا سامنا کرنا پڑا ہے لیکن اس پر انہیں کوئی ملال نہیں۔ نہ صرف ملال نہیں بلکہ ان کی بڑھکیں اور دعوے ابھی تک جاری ہیں۔ بقول جون ایلیا:میں بھی بہت عجیب ہوں اتنا عجیب ہوں کہ بسخود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیںاستاد نصرت فتح علی خان نے بھی ایک غزل میں اسی طرح کی صورتحال کی نشاندہی کی ہے:دیکھ لیلیٰ تیرے مجنوں کا کلیجہ کیا ہےخاک میں مل کے بھی کہتا ہے کہ بگڑا کیا ہےمیرے خیال میں ایرانی قیادت کو اس حد تک پہنچانے میں بڑا قصور ہمارے اردو وی لاگرز کا ہے جو پیسہ بنانے کے چکر میں ایران کی فتح کے گیت گا رہے ہیں اور چونکہ ایرانی اس زبان کو بڑی حد تک جانتے ہیں اس لیے وہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم یہ جنگ جیت رہے ہیں لیکن حقیقت میں اہل ایران نے فتح کی اس خام خیالی میںاپنا بہت جانی ومالی نقصان کیا ہے۔ اگر وہ اردو زبان نہ سمجھتے ہوتے تو شاید معاملہ اس حد تک نہ پہنچتا۔ ایران میں جس قدر تباہی ہوئی ہے اس کو اپنی سابق پوزیشن پر آنے کے لیے ایک لمبا عرصہ لگے گا۔ مظفر رزمی نے ٹھیک کہا تھا:یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نےلمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائیمیں اپنے گزشتہ سے پیوستہ کالم میں بھی عرض کی تھی کہ یہ معاشیات کا جھگڑا ہے اور اس لیے دونوں ملکوں کے مابین ہلکی پھلکی آنکھ مچولی جاری رہے گی۔ اپنے اپنے مفادات کے حصول تک یہ جنگ جاری رہے گی اور جنگ کی راکھ سے کوئی نہ کوئی چنگاری آگ پکڑتی رہے گی۔ یہ اسی بات کا نتیجہ ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو نئی دھمکی دی ہے کہ معاہدہ نہ کیا تو اگلے ہفتے ایران کے بجلی گھروں کو نشانہ بنا ئیں گے اور حملے تب تک جاری رہیں گے جب تک وہ یہ نہ کہہ دیں کہ بس بہت ہوگیا۔معاشیات کے چکر والی بات امریکی صدر کی زبان پر بھی آ ہی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران میں توانائی (اسی تیل پر تو امریکہ کی نظر بد ہے) کے اہداف کو آخری مرحلے میں دیکھا جائے گا۔ امریکی صدر کا ماننا ہے کہ ایران میں ابھی جنگ لڑنے کی صلاحیت باقی ہے لیکن یہ بہت زیادہ نہیں۔ صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز پر 20 فیصد ٹیکس لینے کے اعلان پر 24 گھنٹے سے بھی کم وقت میں یہ کہتے ہوئے یوٹرن لے لیا کہ آبنائے ہرمز میں ٹول ٹیکس لینے کا خیال ہی ان کے لیے ناپسندیدہ ہے۔سعودی عرب‘ پاکستان‘ ترکیہ‘ مصر اور قطر نے ایران کو ریلیف لے کر دیا تھا اور بڑی کوششوں کے بعد ایران اور امریکہ کے مابین جنگ بندی کا معاہدہ کرایا تھا لیکن ابھی اس معاہدے پرفریقین اور ثالثوں کے دستخطوں کی سیاہی بھی خشک نہ ہوئی تھی کہ دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر دوبارہ حملے شروع کر دیے اور یہ حملے ایک ہفتے سے مسلسل جاری ہیں۔ امریکہ ایران کی اہم تنصیبات کو نشانہ بنا رہا ہے اور جواب میں ایران نے بحرین‘ کویت‘ اردن اور شام میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ بدقسمتی سے اس جنگ کے دوران جانی اور مالی نقصان مسلم ممالک کا ہی ہو رہا ہے۔ اور ان مسلم ممالک میں تنصیبات کا ہونے و الا نقصان امریکہ انہی ممالک سے پورا کرے گا‘ بلکہ دگنا معاوضہ لے گا اور اس امر کا اعلان امریکی صدر ٹرمپ کئی بار کر چکے ہیں۔حال ہی میں امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے زیر اہتمام سعودی عرب سمیت گیارہ عرب ممالک کے اجلاس کا مقصد بھی ایران کے خلاف ایک نیا اتحاد قائم کرنا تھا۔ اس کے بدلے میں یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف حملوں کیلئے امریکہ سے مدد طلب کی گئی۔ یمن کے صنعا ایئر پورٹ پر سعودی عرب کی میزائلوں سے بمباری بظاہر اسی سلسلے کی کڑی معلوم ہوتی ہے۔ ایران کے خلاف اتحاد میں شامل عرب ممالک کو امریکہ اپنا اسلحہ بیچے گا جو ایران کے خلاف استعمال ہو گا‘ لیکن ایرانی رجیم کو اس بات کی سمجھ نہیں آ رہی کہ خطے میں نقصان مسلم ممالک کا ہی ہو رہا ہے۔ دوسر ی طرف اسرائیل کبھی نہیں چاہے گا کہ ایران اور عرب ممالک کی آپس میں صلح ہو جائے کیونکہ 1947-48ء میں جب اسرائیل نے عربوںکے خلاف جنگ لڑی تھی تو اس نے اس وقت اپنے آپ کو بہت غیر محفوظ تصور کیا اور اسے ایک خفیہ ایجنسی کی ضرورت شدت سے محسوس ہوئی یوں 13 دسمبر 1949ء کو موساد کا قیام عمل میں آیا۔ اسرائیل سمجھتا تھا کہ مسلم ممالک کی تعداد بہت ہے اور یہ ہر وقت لڑنے پر آمادہ رہتے ہیں اس لیے ہمیں ان کے ارادوں کا پہلے سے معلوم ہونا چاہیے۔ جب 1973ء میں مسلم ممالک نے اسرائیل پر سرپرائز اٹیک کیا تو اس اٹیک کا انہیں پہلے سے علم تھا۔ لیکن اس سے قبل جب 1967ء میں اسرائیل نے مسلم ممالک پر حملہ کیا تو یہ بالکل لاعلم تھے۔ اس طرح 1956ء میں بھی اپنی انٹیلی جنس کی بدولت مسلم ممالک کی مت مار دی۔ بدقسمتی سے اب یہ موساد ایران کے اندر تک گھسی بیٹھی ہے اور وہاں کی فیصلہ ساز قیادت کے اندر سرایت کر چکی ہے۔ جیسا کہ اسرائیل نے پہلے حماس کو بنایا پھر مبینہ طور پر اس میں اپنے لوگ شامل کرائے جن کی مدد سے اسرائیل حماس کے فیصلے خود کراتا تھا۔ چونکہ پی ایل او ختم ہو چکی تھی اور اب اسرائیل کو ان کو مارنے کیلئے کوئی بہانہ چاہیے تھا تو اسے حماس مل گئی اور پھر اسرائیل نے حماس کے لیڈروں کو چن چن کر مارا۔ اور 2020ء کے بعد ان کو ایران مل گیا۔ اس دوران حماس نے حملہ کیا اور اس کے اہم رہنما مارے گئے اور اب وہ ایران سے بھی حماس والا سلوک کر رہے ہیں۔ وہ ایران کو چھیڑتے جا رہے ہیں اور وہ چھڑتا جا رہا ہے‘ لہٰذا میرا شک یقین میں بدل چکا ہے کہ ایرانی رجیم کے اندر موساد کے جاسوس گھر کر چکے ہیں اور وہ ان سے اپنی مرضی کے فیصلے کروا رہے ہیں۔ اسرائیل نہیں چاہتا تھا کہ ایران امریکہ جنگ بند ہو کیونکہ یہ دراصل اسرائیل کی ہار ہے۔ اس جنگ کا بند ہونا امریکہ اور ایران کی جیت ہے اور اسرائیل کی ہار لیکن اسرائیل یہ ہار تسلیم نہیں کر رہا اور اس نے اپنے پتے کھیل کر ان کو دوبارہ جنگ کی آگ میں دھکیل دیا ہے۔ اب یہ جنگ رکتی چلتی رہے گی کہ یہ ایک طرح سے یکطرفہ جنگ ہے کیونکہ ایران تو کچھ بھی نہیں کر رہا اور خالی بڑھکیں مار رہا ہے جبکہ امریکہ اس کو مارے جا رہا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ دعویٰ بے جا نہیں کہ ایرانی کی فضاؤں پر ہمارا مکمل کنٹرول اور قبضہ ہے۔اب کیا کیا جائے مسلمانوں کا‘ مسلمانوں کا مسئلہ یہی ہے کہ وہ عقل کی بات ماننے کو تیار نہیں اسی لیے پچھلے پانچ سو سال سے مار کھا رہے ہیں ۔ جب ان کو منع کیا جاتا ہے تو یہ سنتے نہیں اور ہر جنگ کے بعد پہلے سے زیادہ نقصان اٹھا تے ہیں اس کے باوجود جنگ سے باز نہیں آتے۔ اس کی یقینی وجہ یہ ہے کہ موساد مسلمانوں کی جہادی تنظیموں میں داخل ہو چکی ہے۔ اسرائیل کو چونکہ 1948ء میں اپنی کمزوری کا پتا چل چکا تھا اس لیے اس نے تمام جہادی تنظیموں میں اپنے لوگ فٹ کیے۔ خفیہ ایجنسی کے اوپر بہت زیادہ پیسہ خرچ ہوتا ہے اور پیسہ اسرائیل کے پاس بہت تھا اور اس نے یہ پیسہ خوب خرچ کیا اور نتیجہ آج ہم سب کے سامنے ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/228_40817243.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بچوں پر مظالم اور معاشرے کا گہرا سکوت(جویریہ صدیق )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/javeria-siddique/2026-07-18/52319/28537109</link><pubDate>Sat, 18 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/javeria-siddique/2026-07-18/52319/28537109</guid><description>ہمارے بچے محفوظ نہیں! اس پر بات کرنے پہ اکثر چپ کرا دیا جاتا ہے۔ ایسی باتیں مت کرو معاشرہ اس کو برداشت نہیں کر پائے گا‘ ہم تو بہت مہذب معاشرہ ہیں‘ یہاں تو رشتوں کا احترام ہے‘ اگر بچوں پر جنسی حملوں جیسے واقعات کو ہائی لائٹ کیا گیا تو ہماری بدنامی ہو گی۔ حالانکہ ایسے کیسز ہائی لائٹ کرنے سے بدنامی نہیں ہوتی بلکہ ایسے جرائم کرنے سے بدنامی ہوتی ہے۔ ایسے جرائم سے معاشرہ بگاڑ کا شکار ہوتا ہے۔ اگر معاشرے میں بچے محفوظ نہیں تو آپ کی قوم کا مستقبل محفوظ نہیں۔ ابھی اخبار پڑھتے ہوئے میرے سامنے خبریں کچھ یوں تھیں کہ کراچی میں ایک چھ سالہ بچے کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کر دیا گیا۔ اس کے مرنے کے بعد بھی اس سے زیادتی کی گئی اور اس کی نعش کو تیسری منزل سے نیچے پھینک دیا گیا۔ دوسری خبر یہ ہے کہ میرپور خاص میں جعلی عامل اور اس کے ساتھیوں نے دو کمسن بچیوں کے ساتھ زیادتی کی‘ ایک بچی ہلاک ہو گئی جبکہ دوسری بچی کی حالت تشویشناک ہے۔ تیسری خبر یہ ہے کہ تین بچیوں کو ہسپتال لایا گیا تو ان کی والدہ نے اس بات کا امکان ظاہر کیا کہ ان کے والد نے ان کو زیادتی کا نشانہ بنایا۔ چوتھی خبر لاہور کی ہے جہاں ایک بچی ٹیوشن سنٹر میں مردہ پائی گئی۔ اس کے گردن پر پھندے کا نشان تھا۔ ادھر سرگودھا میں رشتہ دار نے چھ سال کی بچی کو اغوا کرکے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔ اب یہ سانحات ہو رہے ہیں تو رپورٹ ہو رہے ہیں۔ یہ صرف خبریں نہیں بلکہ مردہ معاشرے کے منہ پر طمانچہ ہیں۔ اگر نئی نسل یہاں محفوظ نہیں‘ ان کو جینے کا حق حاصل نہیں تو ہمارا مستقبل کیا ہے؟ جنسی حملوں کے نتیجے میں بچے بچیاں مارے جا رہے ہیں‘ جو بچ جاتے ہیں وہ تمام عمر خوف‘ ڈر اور نفسیاتی امراض کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ساری عمر وہ اپنے آپ سے سوال کرتے ہیں کہ میرے ساتھ ایسا کیوں ہوا۔ ان بچوں کو تحفظ دینا ہم سب کا فرض ہے۔ بچے سانجھے ہوتے ہیں‘ سب کے بچوں کا خیال ویسے ہی رکھیں جیسے اپنے بچوں کا رکھتے ہیں۔ بعض لوگ اپنے بچوں کا بھی خیال نہیں رکھتے‘ وہ دوپہر کو خود سو جاتے ہیں اور بچوں کو باہر کھیلنے کیلئے بھیج دیتے ہیں۔ اس وقت وہ معصوم بچے گلی کے رحم وکرم پر ہوتے ہیں۔ کتنے ہی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا گیا ہے کہ اوباش بچوں کے ساتھ چھیڑخانی کر رہے ہیں۔ وہ معصوم تو ان حرکات کا مطلب بھی نہیں سمجھتے لیکن ڈر ضرور جاتے ہیں۔ اسی طرح بچوں کو بازار بھیجنا ایک بہت بڑا خطرہ بن چکا ہے۔ جب روز ایسے خوفناک واقعات ہو رہے ہیں تو کیا ہماری یہ ذمہ داری نہیں کہ ہم نے بچوں کو محفوظ رکھنا ہے‘ انہیں کسی بھی جگہ اکیلے نہ بھیجیں نہ ہی ان کو کسی کے پاس اکیلا چھوڑیں۔ ان کو خطرات سے آگاہ کریں کہ ان کے پوشیدہ اعضا کو کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا‘ اگر کوئی ایسا کرے تو شور مچا دیں اور اپنے والدین کو بتائیں۔ بہت سے بچے شرمندگی کی وجہ سے سہم جاتے ہیں اور اپنے والدین کو نہیں بتاتے اس طرح مجرم نڈر ہو جاتے ہیں۔ بچوں کو یہ بات سمجھائی جائے کہ وہ کسی طرح بھی قصور وار نہیں ہیں۔ اگر کوئی قصوروار ہے تو وہ مجرم ہے۔ معاشرے میں غربت‘ کرپشن‘ اقربا پروری‘ ناانصافی کی وجہ سے جرائم بڑھتے جا رہے ہیں۔ ایک اور وجہ یہ بھی کہ نوجوان نسل کھیلوں سے دور ہے اور موبائل پر اپنا وقت زیادہ گزارتی ہے۔ اب وہ وہاں کیا دیکھ رہے ہیں یہ کسی کو نہیں معلوم۔ ابھی جس کم سن بچے کو کراچی میں نشانہ بنایا گیا اس کے لواحقین نے یہ الزام عائد کیا کہ ملزم نے بچے کو تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے اس کی ریکارڈنگ بھی کی اور جس طرح تکلیف دے کر اس بچے کو قتل کیا گیا اس کی وڈیو مبینہ طور پر ڈراک ویب پر سیل کی گئی۔ اس حوالے سے پولیس اور قانون نافذ کرنے اداروں کو خصوصی تحقیقات کرنی چاہئیں۔ یہ بہت بڑا اور خوفناک الزام ہے۔ دنیا بھر میں ایسے جرائم سامنے آئے ہیں جن میں بچوں سے جسم فروشی کرائی گئی‘ ان کو بردہ فروشی‘ سمگلنگ اور جرائم میں استعمال کیا گیا۔بچے قالین بافی‘ بھٹوں‘ کارخانوں اور گھروں میں استحصال کا شکار ہو رہے ہیں۔ گھریلو ملازم بچے جہاں مارپیٹ اور بھوک کا شکار ہوتے ہیں وہیں اکثر انہیں جنسی زیادتی کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے۔ اسی طرح جو بچے اپنے گھروں میں رہتے ہیں وہ بھی خطرے کا شکار ہیں۔ اپنے بچوں کو خود ٹیوشن‘ مدرسے‘ سکول چھوڑنے جائیں۔ اگر وہ پارک یا گلی میں کھیل رہے ہیں تو ان پر نظر رکھیں۔ دادا دادی‘ نانا نانی‘ پھپھو اور خالہ کی بھی معاونت لی جا سکتی ہے۔ اگر ملازم آپ کے بچے کی دیکھ بھال کرتے ہیں تو کوشش کریں کہ خاتون ملازمہ رکھیں اور گھر میں اور باہر لاؤنج میں کیمرے نصب کریں۔ اپنے بچوں کو غیر لوگوں سے دوستی نہ کرنے دیں۔ اکثر ایسے افراد بچوں پر حملہ کرتے ہیں جن سے بچے مانوس ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ گلی محلوں میں اوباش اکثر بچوں کو تنگ کرتے ہیں۔ اسلام آباد کے سیکٹر جی الیون میں ایک بدفطرت آدمی چھوٹے بچے بچیوں کے ساتھ نازیبا حرکات کر رہا تھا‘ پولیس نے بروقت ایکشن نہیں لیا‘ اہل محلہ نے خود نگرانی کرکے اس آدمی کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا۔ بات پہلے چھیڑچھاڑ سے ہی شروع ہوتی ہے‘ پھر جب ان مجرموں کو موقع ملتا ہے یہ بچوں پر جنسی حملے کرتے ہیں اور ان کو قتل کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ اس وقت عوامی اور ملکی سطح پر مہم چلانے کی ضرورت ہے کہ ہم اپنے بچوں کو ایسے درندوں سے کیسے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ انہیں آگاہی دیں اور محفوظ ماحول دیں۔ دوسرا میڈیا اور سوشل میڈیا پر ایسے واقعات کو رپورٹ کرتے ہوئے بچے کی شناخت‘ اس کے ایڈریس کو چھپانا چاہیے۔ اس کے والدین اور رشتہ داروں سے بلاوجہ سوال نہ کئے جائیں۔ سیاستدان کیمروں اور پروٹوکول کے ساتھ ان کو پریشان نہ کریں۔ جس نے داد رسی کرنا ہوتی ہے وہ خاموشی سے بھی کر سکتا ہے۔ اکثر تھانے سے ایف آئی آرز رپورٹرز کو مل جاتی ہیں اور وہ من وعن سوشل میڈیا پر شیئر کر دیتے ہیں۔ حالانکہ اس میں نام‘ پتا اور واقعے کی تفصیل کو چھپانا ہوتا ہے۔ مجھے تو کچھ لوگوں کے ٹویٹس اور کانٹینٹ دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ یہ تو واقعے کو رپورٹ کرنے کے بجائے مزید ہیجان پھیلا رہے ہیں۔ واقعے کی مذمت کریں اور انصاف مانگیں لیکن جرم کرنے کا طریقہ لوگوں کو نہ بتائیں۔بچے اس قوم کا مستقبل ہیں ان کا صحتمند‘ خوش اور نڈر ہونا بہت ضروری ہے۔ جنسی حملوں کی وجہ سے بچے ڈر اور خوف کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس ضمن میں اساتذہ‘ ڈاکٹرز‘ ماہرین سماجیات اور علما کرام بھی اپنا مؤقف پیش کریں۔ وہ وجوہات قوم کے سامنے لائیں جن کی وجہ سے کچھ مرد بچوں پر حملہ آور ہیں۔ اسی طرح حکومت‘ پولیس‘ اساتذہ‘ سماجی کارکن اور ڈاکٹرز مل کر بچوں کو بچانے کیلئے حل نکالیں۔ ہم خاندانوں اور محلوں کی صورت میں رہتے ہیں‘ کیا ہم باریاں بدل کر بھی بچوں کی حفاظت نہیں کر سکتے؟ ایک ان کو سکول چھوڑ دے‘ ایک ان کو پک کر لے‘ ایک ان سب پر کھیلتے ہوئے نگرانی رکھے۔ ہم نے اپنے بچوں کو صحتمند زندگی دینی ہے۔ ان کو بولنا سکھائیں‘ ناں کہنا سکھائیں۔ گڈ ٹچ بیڈ ٹچ یعنی اچھے اور برے لمس میں فرق بتائیں۔ ان کو یہ باور کرائیں کہ کوئی ان کو چھو نہیں سکتا‘ ان کے کپڑوں سے ڈھکے ہوئے اعضا کو کوئی چھو نہیں سکتا۔ گھر کا ماحول ایسا رکھیں کہ بچے آپ سے ہر طرح کی بات کر سکیں۔ بچوں کو یہ بھی سمجھائیں کہ وہ کسی کی گود میں نہ بیٹھیں‘ کوئی انہیں بوسہ نہ دے‘ نہ ہی ان کو گلے لگائے۔ سوشل میڈیا پر کسی غیر کو دوست نہ بنائیں‘ کسی سے وڈیو کال مت کریں۔ آن لائن گیمنگ کے دوران اپنا کیمرہ اور مائیک بند رکھیں۔ اگر تمام تر احتیاط کے باوجود بھی بچہ کسی مسئلے کا شکار ہو تو اس کو الزام مت دیں۔ بچے کا طبی معائنہ کرائیں‘ پولیس کو رپورٹ کریں اور بچے کو نفسیاتی بحالی میں مدد دیں۔ یاد رکھیں کہ بچے پر حملہ صرف اجنبی نہیں کرتے یہ حملہ اکثر جاننے والوں کی طرف سے بھی ہوتا ہے۔ لہٰذا چپ مت رہیں‘ اپنے اور قوم کے بچوں کیلئے آواز اٹھائیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_38020467.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>تمہاری زلف میں پہنچی تو حُسن کہلائی!(مفتی منیب الرحمٰن )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-07-18/52320/27681323</link><pubDate>Sat, 18 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-07-18/52320/27681323</guid><description>ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو کنٹرول کرنے کے بارے میں حال ہی میں کئی بیانات دیے ہیں‘ انہوں نے کہا: &#39;&#39; ہم آبنائے ہرمز کو اپنے انتظامات کے تحت اپنی مرضی سے چلائیں گے اور آخرکار ہم اس کا پورانظم سنبھال لیں گے ہم &#39;&#39;محافظ فرشتے‘‘ کا کردار ادا کریں گے‘‘۔ اوّلاً انہوں نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا اعلان کرتے ہوئے کہا: &#39;&#39;ہم بیس فیصد ٹول ٹیکس بھی عائد کریں گے‘‘۔ شاعر نے کہا ہے: تمہاری زُلف میں پہنچی تو حُسن کہلائی؍ وہ تیرگی جو مرے نامۂ سیاہ میں تھی۔ یعنی ایران کا ٹول ٹیکس عائد کرنا ناقابلِ قبول اور امریکہ کو بیس فیصد کی شرح سے عائد کرنے کا استحقاق حاصل ہے‘ جبکہ ایران یہ استحقاق اپنے ساحلی پانیوں میں استعمال کر رہا ہے اور امریکہ اپنی سرحدوں سے ہزاروں کلومیٹر دور یہ حق حاصل کرنا چاہتا ہے۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آخرکار آبنائے ہرمز حسبِ سابق آزاد بحری تجارتی گزرگاہ ہی رہے گی‘ کیونکہ اس کے ساتھ پوری دنیا کا مفاد وابستہ ہے یا اگر ایران کوئی ٹول ٹیکس عائد بھی کرتا ہے تو وہ قلیل مقدار میں ہو سکتا ہے۔ امریکی دعوے پر تبصرہ کرتے ہوئے ایران نے کہا: بیس فیصد بہت زائد ہے‘ ہم مناسب شرح سے ٹول ٹیکس عائد کریں گے۔ اس دوران امریکہ ایران پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے اور امریکی حملوں کے ردعمل میں ایران بعض خلیجی ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ یہ حملے کس قدر مؤثر ہیں اور آیا ان حملوں کے نتیجے میں امریکہ یا خلیجی ممالک کا معتدبہ نقصان ہو رہا ہے یا نہیں‘ اس کی بابت کوئی قطعی معلومات دستیاب نہیں ہیں‘ بس متضاد دعوے ہیں۔ اکثر حملوں کے بارے میں خلیجی ممالک کا کہنا ہے کہ اپنے دافعِ میزائل نظام کے ذریعے وہ ایرانی حملوں کو بے اثر بنا رہے ہیں۔ البتہ مغربی میڈیا سے معلوم ہوا ہے کہ کویت کی شعبیہ بندرگاہ میں ایک &#39;&#39;امریکن ٹیکٹیکل آپریشن سنٹر‘‘ کو ایران نے نشانہ بنایا‘ اس میں امریکی ریزرو آرمی کے چھ فوجی ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے‘ ہلاک ہونے والوں میں سے کئی کی شناخت ہو چکی۔الغرض امریکہ ایران کا مسئلہ شدید الجھائو کا شکار ہے‘ چونکہ ایران نے قطر کے جہاز کو بھی نشانہ بنایا ہے‘ اس لیے قطر نے ثالثی سے دستبرداری کا اعلان کیا ہے۔ پاکستان کی پوزیشن بھی نازک ہے‘ کیونکہ ایران کے خلیجی ممالک اور یمنی حوثیوں کے سعودی عرب پر میزائل حملوں کے سبب پاکستان کیلئے ایران کا ساتھ دینا مشکل ہو جائے گا۔ ہمیں اندازہ نہیں ہے کہ امریکی حملوں کے نتیجے میں ایران کا کتنا نقصان ہو رہا ہے‘ نیز اگر ان حملوں کے نتیجے میں ایران کا اقتصادی اور فوجی ڈھانچہ تباہ ہوتا رہا تو ایران ایسے نقصانات کب تک اور کس حد تک برداشت کر سکتا ہے۔ رابطہ کاری تو قدرے آسان ہے لیکن ثالثی مشکل کام ہے کیونکہ ثالث کو ہر فریق کے غلط کو غلط کہنا پڑتا ہے اور حتمی معاہدے تک پہنچنے کیلئے فریقین کو &#39;&#39;کچھ لو اور کچھ دو‘‘ کیلئے قائل کرنا پڑتا ہے۔ مگر حال یہ ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ اور پاسدارانِ انقلاب کی قیادت دونوں انتہاپسند واقع ہوئے ہیں اور دونوں کے بارے میں پیشگوئی کرنا یا دونوں کو کسی کم از کم قابلِ قبول ایجنڈے پر متفق کرنا اور اس پر قائم رکھنا نہایت مشکل کام ہے۔صدر ٹرمپ نے حسبِ عادت بیس فیصد ٹول ٹیکس کا دعویٰ واپس لے لیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ برطانیہ اور خلیجی عرب ممالک نے اس کی مخالفت کی ہے اور امرِ واقع یہ ہے کہ ساری دنیا اس کی مخالفت کرے گی۔ تاہم انہوںنے کہا ہے: بیس فیصد ٹول ٹیکس سے دستبرداری کے عوض تیل پیدا کرنے والے ممالک اس کے مساوی رقم کی امریکہ میں سرمایہ کاری کرکے نفع حاصل کریں گے۔ خلیجی ممالک تو پہلے ہی ٹرمپ کے سابق دورے کے موقع پر بھاری سرمایہ کاری کے وعدے کر چکے ہیں۔ مگر امریکہ میں سرمایہ کاری کرنے یا فاضل مالی ذخائر جمع کرنے میں ہمیشہ خطرات مضمر رہتے ہیں‘ کیونکہ وہ جب چاہتا ہے کسی فرد‘ ادارے یا ملک کے اثاثوں کو منجمد کر دیتا ہے اور دنیا میں کوئی اسے چیلنج کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتا۔ امریکہ اور ایران نے &#39;اسلام آبادمفاہمتی یادداشت‘ کے ختم ہونے کا دعویٰ کیا ہے‘ لیکن صدر ٹرمپ اپنے بیانات میں یہ تاثر بھی دے رہے ہیں کہ اب بھی معاہدے کا امکان باقی ہے‘ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ ایران نے ہم سے ایک بار پھر معاہدہ کرنے کی خواہش کی ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر حتمی معاہدہ نہ ہو سکا تو ایک ہفتے کے بعد ہم ایٹمی تنصیبات اور ایرانی اثاثوں یعنی بجلی‘ پانی‘ گیس‘ پٹرول اور پیٹرو کیمیکل کی تنصیبات پر حملے کریں گے۔ نیز انہوں نے پلوں یعنی رَسل ورسائل کے ذرائع کو بھی تباہ کرنے کی دھمکی دی ہے۔ ہمیں اندازہ نہیں ہے کہ ایران کی صلاحیتِ مزاحمت ومدافعت حقیقت میں کتنی ہے اور وہ ان ممکنہ نقصانات کو برداشت کرنے کی کتنی استعداد رکھتا ہے۔ ہماری خواہش ہے کہ ایران کا بنیادی اقتصادی ڈھانچہ برقرار رہے تاکہ کسی ممکنہ حتمی معاہدے کے بعد وہ اپنی بحالی اورتعمیر نو کا اہتمام کر سکے۔ذرائع ابلاغ کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر کے فوجی مشیر اور پاسداران انقلاب کے سابق کمانڈر محسن رضائی نے اپنے حالیہ بیانات میں خبردار کیا ہے کہ دشمن ممالک اور ان کے اتحادیوں کی کسی بھی جارحیت کا شدت سے جواب دیا جائے گا اور اگر امریکہ یا اسرائیل نے ایران کے خلاف کسی بھی نئی فوجی کارروائی کا خطرہ مول لیا تو اس کا جواب انتہائی ہولناک ہوگا اور دشمن کو جانی نقصان اٹھانا پڑے گا۔ ان کا کہنا ہے: آبنائے ہرمز خطے میں دفاعی اور سٹرٹیجک لحاظ سے انتہائی اہم گزرگاہ ہے‘ جس کا تحفظ ایران کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے مؤقف اپنایا کہ ایران نے سفارتی مذاکرات میں ہمیشہ سنجیدگی دکھائی ہے‘ لیکن مخالف فریق نے اپنے وعدے پورے نہیں کیے‘ اس لیے ایران قومی سلامتی اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتا نہیں کرے گا۔ ایران نے آبنائے ہرمز کو اپنی طاقت بنا لیا ہے اور کسی بھی دوسری قوت کے مقابلے میں ساحل کے قریب ہونے کے سبب اُس کیلئے اس کا کنٹرول نسبتاً آسان ہے۔ ایران چاہتا تھا کہ عمان سے مل کر اس کیلئے کوئی طریقۂ کار وضع کرے اور درپردہ عمان کی اشیرباد بھی انہیں حاصل تھی۔ لیکن اب عمان نے ایران کے ساتھ مل کر اس کا طریقۂ کار وضع کرنے سے وقتی طور پر انکار کر دیا ہے‘ کیونکہ عمّان کیلئے خلیجی ممالک اور امریکی دبائو کا مقابلہ کرنا مشکل ہے۔پاکستان کیلئے امریکہ اور اسرائیل کے مقابل ایران کی حمایت آسان حکمتِ عملی ہے اور پاکستان کے عوام کیلئے بھی قابلِ قبول ہے‘ نیز پاکستان نے &#39;اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ پر فریقین کی رضامندی حاصل کرنے کیلئے بے انتہا محنت کی ہے۔ اب فریقین کی انتہا پسندی اور غیر مصالحانہ رویے کے باعث اس کے تارو پود کا بکھرنا پاکستان کیلئے انتہائی اذیت کا باعث ہے‘ کیونکہ یہ مفاہمتی یادداشت حتمی معاہدے کیلئے ایک بنیادی دستاویز ہے اور دوبارہ کسی ایسی دستاویز پر متفق ہونا مشکل ہوگا۔ نیز قطر کو بھی ثالثی میں دوبارہ شامل ہونے پر رضامند کرنا پڑے گا‘ کیونکہ سوئٹزرلینڈ کا مقام برگن سٹاک ریزورٹ جہاں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہونے کے بعد پہلا اجلاس ہوا تھا‘ وہ قطر کی ملکیت ہے اور قطر کیلئے دوبارہ اس کی میزبانی کرنا آسان ہوگا۔ اپنے عوام کی تسلی اور اُن کے جذبات کو بلند رکھنے کیلئے آتشیں بیان دینا شاید حکمتِ عملی کا حصہ ہو‘ لیکن ایران کی قیادت کو چاہیے کہ سفارتکاری کے آداب کو بھی ملحوظ رکھے۔ اسلام کی تعلیمات یہ ہیں: &#39;&#39;لوگو! دشمن سے ٹکرائو کی تمنا نہ کرو اور اللہ سے عافیت مانگو‘ مگر جب (قضائے الٰہی سے) ٹکرائو ہو جائے تو ثابت قدم رہو اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے‘‘ (بخاری: 2966)۔ امریکہ میں بھی صدر ٹرمپ پر یہ الزام ہے کہ انہوں نے اہداف اورممکنہ نتائج کا جائزہ لیے بغیر اسرائیلی وزیراعظم کے ایما پر ایران پر حملہ کر دیا ہے‘ اس جنگ میں امریکہ کا زرِ کثیر صَرف ہوا اورجانی نقصان بھی ہوا ہے۔ پس ٹرمپ انتہائی ذہنی انتشار کا شکار ہیں اور شب وروز متضاد بیانات دیتے رہتے ہیں‘ جن کا کوئی سر پیر نہیں ہوتا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_61172381.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>