<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>نئے صوبے، بہتر طرزِ حکمرانی(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-14/11539</link><pubDate>Mon, 14 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-14/11539</guid><description>وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان کو کوئٹہ میں بیٹھ کر کنٹرول نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق صوبوں کی تشکیل لسانی بنیادوں پر نہیں بلکہ انتظامی ضرورتوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہونی چاہیے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کا یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک کے انتظامی ڈھانچے‘ صوبوں کے وسیع رقبے اور بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث پیدا ہونے والے مسائل پر سنجیدہ بحث جاری ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے موجودہ انتظامی اور صوبائی نقشے اور اس سے پیدا ہونے والی مشکلات کے پیش نظر نئے انتظامی یونٹس کے منطقی مطالبے کو کسی صورت رد نہیں کیا جا سکتا۔ نئے صوبوں کا قیام ایک اہم قومی معاملہ ہے‘ لہٰذا اس معاملے کو سیاسی کشمکش یا وقتی مفادات کی نذر کرنے کے بجائے قومی مفاہمت اور پارلیمانی اتفاقِ رائے کے ساتھ آگے بڑھانا چاہیے۔ خوش آئند بات ہے کہ مختلف سیاسی حلقوں سے اس مسئلے کو پارلیمانی راستے سے حل کرنے کی بات سامنے آ رہی ہے۔ وزیراعظم کے سیاسی مشیر رانا ثنا اللہ نے بھی حال ہی میں کہا کہ اگر عوام نئے صوبے چاہتے ہیں تو انہیں کوئی نہیں روک سکتا اور صوبوں سے متعلق معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث نتیجہ خیز ثابت ہو سکتی ہے۔

یقینا اس موضوع پر حتمی فیصلہ پارلیمان ہی کے ذریعے ہونا چاہیے‘ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ عوامی اور ماہرین کی سطح پر ہونے والی بحث اور تجاویز کی اہمیت کو نظر انداز کر دیا جائے۔ سوشل میڈیا‘ عوامی حلقوں اور مختلف فکری و سیاسی مباحث میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی حمایت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ لوگ بڑے صوبوں کے موجودہ انتظامی ڈھانچے کو اپنے مسائل کے حل کیلئے ناکافی سمجھتے ہیں۔ عوام یہ باور کر چکے ہیں کہ چھوٹے انتظامی یونٹس نہ صرف حکومت کو عوام کے قریب لا سکتے ہیں بلکہ بہتر نگرانی‘ تیز تر فیصلہ سازی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم میں بھی مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ یہاں یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ مؤثر بلدیاتی نظام نئے صوبوں کا متبادل نہیں۔ بااختیار اور مضبوط بلدیاتی ادارے یقینا شہری اور عوامی مسائل کے حل میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں مگر صرف بلدیاتی انتخابات کروا دینا کافی نہیں۔ ماضی میں بھی بلدیاتی انتخابات ہوتے رہے ہیں لیکن یہ ادارے اپنے حقیقی مقاصد حاصل کرنے میں بڑی حد تک ناکام رہے کیونکہ اختیارات‘ مالی وسائل اور انتظامی فیصلوں کیلئے انہیں صوبائی حکومتوں پر انحصار کرنا پڑا‘ نتیجتاً وہ آزاد اور بااختیار مقامی حکومتوں کے بجائے صوبائی نظامِ حکومت کی توسیع بن کر رہ گئے۔
بلدیاتی اداروں کی کامیابی کیلئے ضروری ہے کہ انہیں مناسب مالی وسائل‘ انتظامی خودمختاری اور فیصلہ سازی کے حقیقی اختیارات حاصل ہوں۔ ملک عزیز اس وقت کئی سنگین شہری‘ انسانی اور سماجی مسائل سے دوچار ہے۔ آبادی میں تیز رفتار اضافہ‘ غربت‘ بیروزگاری‘ تعلیمی نظام کی کمزوریاں‘ بچوں کی غذائی ضروریات‘ شہروں میں بڑھتا ہوا آبادی کا دباؤ‘ بنیادی سہولتوں کی کمی اور سرمایہ کاری کے محدود مواقع ایسے مسائل ہیں جن سے نمٹنے کیلئے مؤثر‘ تیز رفتار اور مقامی سطح پر جوابدہ حکمرانی کی ضرورت ہے۔ریاستی نظام کو عوام کیلئے مؤثر‘ جوابدہ اور قابلِ رسائی بنانے کیلئے نئے صوبے ناگزیر ہیں اور اس میں مزید تاخیر دانشمندانہ نہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں‘ سیاسی جماعتیں‘ ماہرین اور سول سوسائٹی اس موضوع پر سنجیدہ قومی مکالمے کا آغاز کریں‘ پارلیمان اس بحث کو باقاعدہ آئینی اور قانونی عمل کے ذریعے آگے بڑھائے اور اتفاقِ رائے پیدا کرکے ایسے انتظامی یونٹس تشکیل دیے جائیں جو عوامی مسائل کے حل‘ معاشی ترقی اور بہتر طرزِ حکمرانی میں معاون ثابت ہوں۔ پاکستان کے موجودہ حالات میں انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کا قیام محض ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ بہتر حکمرانی کی بڑھتی ہوئی ضرورت بن چکا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پٹرول سبسڈی‘ آسان رسائی ناگزیر(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-14/11538</link><pubDate>Mon, 14 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-14/11538</guid><description>وزیراعظم شہباز شریف نے موٹرسائیکل‘ رکشے اور چھوٹی گاڑیوں کیلئے پٹرول پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف کا اعلان کیا ہے۔ یہ بظاہر خوش آئند اقدام ہے لیکن اس رعایت کے حقیقی ثمرات عوام تک پہنچانا بڑا چیلنج ہو گا۔ قبل ازیں رواں سال اپریل میں بھی اسی نوعیت کی ایک سکیم کا اعلان کیا گیا تھا مگر پیچیدہ طریقہ کار کے باعث اس کا دائرہ کار انتہائی محدود رہا اور مستحقین کی ایک بڑی تعداد اس کے ثمرات سے محروم رہی۔ ماضی کے اس تجربے کو سامنے رکھتے ہوئے حکومت کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ ایسی سکیموں کی کامیابی کا دارو مدار صرف پُرکشش اعلانات پر نہیں بلکہ ان کے شفاف اور مؤثر نفاذ پر ہوتا ہے۔ موجودہ معاشی حالات میں جب پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں‘ اس ریلیف سکیم کو حقیقی معنوں میں نچلی سطح تک منتقل کرنے کیلئے حکومت کو آسان شرائط اور رجسٹریشن کا سہل طریقہ کار اپنانا چاہیے۔

پاکستان میں ایک بڑا طبقہ ایسا ہے جو پیچیدہ رجسٹریشن کے سبب ایسے ریلیف سے محروم رہتا ہے لہٰذا ضروری ہے کہ یہ طریقہ ایسا سہل ہو کہ ہر عام اور اَن پڑھ رکشہ ڈرائیور یا موٹر سائیکل سوار کی اس تک رسائی ممکن ہو سکے۔ اگر یہ سکیم محض اعلانات یا محدود طبقے تک ہی محدود رہی تو پہلے سے مایوس لوگوں میں اضطراب اور اشتعال کو مزید بڑھاوا دے گی۔ ضروری ہے کہ حکومت اپنے اعلانات کو عملی شکل دینے کیلئے آسان راہ کا انتخاب کرے تاکہ پریشان حال عوام کو پٹرول سبسڈی کی شکل میں حقیقی ریلیف میسر آ سکے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پمز جائزہ رپورٹ اور طبی نظام(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-14/11537</link><pubDate>Mon, 14 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-14/11537</guid><description>اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے پمز ہسپتال کی جائزہ رپورٹ ملک کے پورے طبی انفراسٹرکچر پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ رپورٹ میں فائر سیفٹی کے ناقص انتظامات سمیت ایڈمنسٹریشن‘ کلینکل‘ نرسنگ اور بائیو میڈیکل جیسے بنیادی شعبوں میں جن سنگین خامیوں اور بے قاعدگیوں کا انکشاف کیا گیا ہے وہ یہ ثابت کرنے کیلئے کافی ہیں کہ ملک کے بڑے سرکاری ہسپتالوں میں طبی نظام کس حد تک کھوکھلا ہو چکا ہے۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا کہ 26 اگست کو پمز ہسپتال میں 14 نومولود بچوں کا جان لیوا سانحہ اچانک پیش آنے والا حادثہ نہیں تھا بلکہ برسوں پر محیط مجرمانہ غفلت‘ غیر تربیت یافتہ عملے‘ بائیو میڈیکل آلات کی دیکھ بھال میں سستی اور سکیورٹی پروٹوکولز کی عدم موجودگی کا شاخسانہ تھا۔

اگر ماضی کے حادثات سے سبق سیکھا جاتا اور ریگولیٹری قوانین پر سختی سے عملدرآمد ہوتا تو شاید یہ حادثہ پیش نہ آتا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اس جائزہ رپورٹ کو روایتی انکوائری رپورٹ سمجھنے کے بجائے ایک گائیڈ بُک کا درجہ دیا جائے اور پورے ملک کے طبی نظام کو نئی اور مضبوط بنیادوں پر استوار کیا جائے۔ حکومت کو چاہیے کہ ملک بھر کے تمام سرکاری ہسپتالوں کا اسی طرز پر سخت آڈٹ کرایا جائے اور وہاں سیفٹی اور کلینکل پروٹوکولز کو یقینی بنایا جائے۔ اسی صورت میں ایسے سانحات کا سدباب یقینی بنایا جا سکتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>صرف پندرہ سال(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-09-14/52658/83664954</link><pubDate>Mon, 14 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-09-14/52658/83664954</guid><description>اگر ہم صرف پندرہ سال کے لیے یکسو ہو سکیں تو ایک نئی قوم کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔ قوموں کی تاریخ میں پندرہ برس‘ دو منٹ میں گزر جاتے ہیں۔ماہرینِ نفسیات کا کہنا ہے کہ انسانی شخصیت پانچ سے سات برس کی عمر میں مکمل ہو جاتی ہے۔ شخصیت کی تشکیل کے باب میں بہت سے نظریات پیش کیے جاتے ہیں۔ ڈی این اے سے ماحول تک‘ کئی عوامل ہیں جن کا ذکر کیا جاتا ہے۔ ایک تحقیق یہ بتاتی ہے کہ انسانی شخصیت ڈی این اے کے تابع نہیں ہے۔ جینز بلیو پرنٹ کی طرح کام کرتے ہیں۔ یہ خارج سے سگنل موصول کرتے ہیں جو کسی جین کو فعال کر دیتے ہیں اور کسی کو غیر فعال۔ یہ ماحول اور خیالات ہیں جو سگنل یا اشارے دیتے ہیں۔ ان کا مرکز دماغ ہے۔ یہ ہمارے شعور اور لاشعور میں جنم لینے والے خیالات ہیں جو ایک کیمیکل کو جنم دیتے ہیں اور یہ ہماری جسمانی صحت اور سیلز کی حرکت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ لاشعور کی تشکیل بڑی حد تک بچپن میں ہو جاتی ہے۔ یہ تحقیق حیاتیاتی جبر کو نہیں مانتی۔ اس کے مطابق دماغ انسان کو کنٹرول کرتا ہے نہ کہ جینز۔یہ ڈاکٹر بروس لپٹن کی تحقیق ہے۔ یہ امریکی ہیں۔ انہوں نے 1971ء میں یونیورسٹی آف ورجینیا سے ترقیاتی حیاتیات میں پی ایچ ڈی کی۔ 1980ء کی دہائی تک یہ دہریے تھے۔ پھر اپنی اس تحقیق کے نتیجے میں انہوں نے خدا کو دریافت کیا۔ اپنی کتاب  Biology of Belief میں انہوں نے یہ تحقیق پیش کی ہے۔ ان کی اس تحقیق سے عدم اتفاق رکھنے والے بھی بہت ہیں۔ ناقدین کا خیال ہے کہ سائنسی اعتبار سے &#39;ایپی جنیٹکس‘ (Epigenetics) کا یہ مقدمہ ثابت نہیں ہے۔ ڈاکٹر لپٹن نے ا س کتاب میں اپنے دلائل اور بعض مشاہدات پیش کیے ہیں اور یہ بتایا ہے کہ وہ اس نتیجۂ فکر تک کیسے پہنچے۔ یہ کتاب اس خیال کو تقویت دیتی ہے کہ انسانی شخصیت بچپن میں مکمل ہو جاتی ہے اور اس کے ساتھ تعلیم اور ماحول شخصیت پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ علمِ نفسیات کی روشنی میں جو تعلیمی نفسیات وجود میں آئی اس میں بھی تسلیم کیا گیا ہے کہ یہ عمر کے پہلے پانچ سات سال ہیں جن میں شخصیت بنتی ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم جو انسان تیار کرتے ہیں‘ ان کا ٹیکسال گھر ہے یا وہ سکول جہاں سے وہ ابتدائی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ اگر یہ ادارے درست ہو جائیں تو ہم مطلوب انسان پیدا کر سکتے ہیں۔ ہمارا مطلوب انسان وہ ہے جسے کوئی سرکاری‘ سیاسی‘ عدالتی یا سماجی ذمہ داری سونپی جائے تو وہ اسے پوری دیانت داری اور اہلیت کے ساتھ ادا کرے۔ عدل وانصاف سے کام لے۔ سماجی اقدار اور انسانی حقوق کا خیال رکھنے والا ہو۔ اس کے اخلاق پاکیزہ ہوں اور اس سے انسانی جان و مال اور عزت و آبرو کو کوئی خطرہ نہ ہو۔ اس کا تصورِ زندگی جو بھی ہو‘ وہ انسانوں کے لیے باعثِ خیر ہو۔ اگر زندگی کے ہر شعبے میں ان اوصاف کے حاملین کا غلبہ ہو تو ہم ایسی قیادت پیدا کر سکتے ہیں جو سماج ا ور ریاست کی صورت بدل دے۔ اس طرح ہماری ان شکایات کا ازالہ ہو جو ہمیں اربابِ ریاست و سماج سے رہتی ہیں۔گویا کرنے کے کام دو ہیں۔ ایک یہ کہ والدین کو اس بارے میں حساس بنایا جائے کہ ان کی گود میں آنے والا بچہ ان کے لیے ایک آزمائش ہے۔ اگر اس کی تربیت کا خیال نہ رکھا گیا تو یہ سماج میں شر کا باعث بنے گا اور اس کے نتیجے میں آپ کو دنیا اور آخرت میں رسوائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ دوسرا کام یہ ہے کہ ہم پہلے بارہ سال کی تعلیم اُن خطوط پر استوار کریں جو طالب علم کی شخصیت میں وہ اوصاف پیدا کرے جو مطلوب ہیں۔ بارہ برس کی رسمی تعلیم مکمل ہونے پر وہ سولہ سترہ برس کا نوجوان ہو گا۔ اب وہ عمر کے اس مرحلے میں ہو گا جب وہ سماج کے بناؤ میں شریک ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد وہ ڈاکٹر بنے‘ انجینئر بنے‘ عالم بنے‘ سیاستدان بنے‘ ان شاء اللہ معاشرے کے لیے باعثِ خیر بنے گا۔آج جن والدین کے بچے اس عمر کو پہنچ چکے‘ ہم ان والدین اور ان کے بچوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ ایسے والدین کی تربیت کا مرحلہ گزر چکا۔ بچوں کی شخصیت میں بھی اب کوئی جوہری تبدیلی پیدا نہیں کی جا سکتی۔ اس لیے اب ہمیں نئے والدین اور اُن بچوں کو ہدف بنانا ہوگا گزشتہ ایک دو سال میں پیدا ہوئے ہیں۔ دوسرا ہمیں اپنے تعلیمی نظام کو نئے خطوط پر استوار کرنا ہو گا۔ میری تجویز ہے کہ والدین کو ان کی ذمہ داریوں سے آگاہ کر نے کے لیے‘ شادی سے پہلے ایک سرٹیفکیٹ کورس لازمی قرار دیا جائے۔ اس میں جہاں خاندانی نظام کے بارے میں آگاہی دی جائے‘ وہاں اس بات کی بھی تربیت دی جائے کہ بچے کی تعلیم و تربیت کتنی ضروری ہے اور اس میں والدین کی ذمہ داری کیا ہے۔ شادی کے لیے یہ سرٹیفکیٹ شرط ہو۔ انڈونیشیا میں نہضۃ العلما نے شادی کی عمر کو پہنچنے والے نوجوانوں کے لیے اس نوعیت کے کورسز بنائے ہیں۔ ایران میں شادی کے لیے قبل از نکاح کورس قانوناً ضروری ہے جس میں آنے والی زندگی کے تمام پہلوئوں کے بارے میں آگاہی دی جاتی ہے۔ ایران نے تو آنے والی نسلوں کو موروثی اور جینیاتی امرض سے بچانے کے لیے خون کے ٹیسٹ بھی لازمی قرار دیے ہیں۔ ہمیں بھی نئی نسل کوجسمانی اور اخلاقی امراض سے بچانے کے لیے اس کا اہتمام کرنا چاہیے۔سکولوں میں ابتدائی مرحلے کی تعلیم کو شخصیت کے تین پہلوئوں پر مرتکز کرنا چاہیے: تنقیدی شعور‘ اخلاقی تعمیر اور جمالیاتی ذوق کی آبیاری۔ تنقیدی شعور فلسفے کی تعلیم سے آئے گا۔ اخلاق کی تعمیر مذہبی تعلیم سے ہو گی۔ جمالیات کا شعور فنونِ لطیفہ سے پروان چڑھے گا۔ اگر بچے کی شخصیت میں یہ تین اوصاف پیدا ہو جائیں تو وہ سماج کو عقلی‘ اخلاقی اور جمالیاتی پہلو سے سمجھ سکے گا۔ یہ شعور اسے ایسا شہری بنائے گا جو معاشرے کے لیے صاحبِ خیر ہو۔ ان مضامین کی تعلیم کو عمر کے ساتھ ساتھ‘ بارہ سال تک جاری رکھا جائے۔ کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر‘ پھر ان کی ضرورت نہیں رہے گی۔ اس مرحلے میں طالب علم اپنے لیے ایک میدانِ عمل کا انتخاب کر چکے ہوں گے۔ کالج میں اس انتخاب کے مطابق‘ مختلف علوم کی تعلیم ہو اور یونیورسٹی میں ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو جلا بخشنے کے لیے سازگار ماحول دیا جائے۔اس کام کے لیے ریاضت چاہیے۔ اگر اس کو تسلسل کے ساتھ جاری رکھا جائے تو مجھے یقین ہے کہ ہم پندرہ برس میں وہ معاشرہ پیدا کر سکیں گے جو ہمارے اجتماعی اخلاقیات کا نمونہ ہو۔ اگر ہم نے تعلیم کو شتر بے مہار کی طرح چھوڑ دیا‘ جیسے وہ اب ہے تو اس کے نتیجہ میں ایک پراگندہ فکر نسل ہی پیدا ہو گی۔ اس کے بعد شاید وہ اصلاحی کوششیں بھی نتیجہ خیز ہو جائیں جن کے بے ثمر ہونے کا میں نے گزشتہ کالم میں ذکر کیا ہے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد‘ قوم کو تذکیر اور یاد دہانی کی ضرورت ہو گی اور یہ کام اصلاحی جماعتیں سرانجام دے سکتی ہیں۔ ان جماعتوں کو چلانے والے بھی جب اس تعلیم سے گزر کر آئیں گے تو انہیں اپنی حدود کا خیال ہو گا۔ پھر انہیں معلوم ہو گا کہ مذہب اخلاق کے تزکیے کے لیے ہے‘ کسی سیاسی مقصد یا مسلکی مفاد کے لیے نہیں۔ اس کے بعد سول سوسائٹی ا ور ریاست کے ذمہ داران سے بھی یہ توقع باندھی جا سکتی ہے کہ اپنے فرائضِ منصبی آئین‘ قانون اور اخلاقیات کے دائرے میں رہتے ہوئے ادا کریں گے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>نصیب اپنا اپنا(رسول بخش رئیس)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-09-14/52659/98283590</link><pubDate>Mon, 14 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-09-14/52659/98283590</guid><description>آپ نے سنا‘ پڑھا اور سمجھا ہو گا کہ انسان کی پہلی اور آخری پرورش گھر میں ہی ہوتی ہے۔ اوائلِ زندگی میں زبان‘ ثقافت‘ اخلاقیات‘ مذہب اور رویے جو بھی ہیں یا نہیں ہیں‘ تحت الشعور میں رچ بس جاتے ہیں۔ خیر‘ یہ تو ایک نظریہ ہے جس سے میں خود ذاتی طور پر اتفاق نہیں کرتا۔ میرا ماننا ہے کہ انسان کی سوشلائزیشن پوری زندگی جاری رہتی ہے۔ گھر سے باہر نکل کر بھی یہ عمل کتابیں پڑھنے‘ دور دراز کے ملکوں میں علم حاصل کرنے اور سفر کر کے دنیا کا مشاہدہ کرنے سے جاری رہتا ہے۔ ہم مختلف زاویوں‘ ذرائع اور لوگوں سے اپنی ذات کے میلان کے مطابق کم یا زیادہ‘ اثر قبول کرتے ہیں۔ بالا طبقات جو نسل در نسل اُسی کلاس سے چلے آتے ہیں‘ ان کی اولادیں بھی اکثر اپنی خاندانی روایات کے مطابق زندگی نہیں گزارتیں۔ ان میں بھی ہم فرق دیکھتے ہیں۔ اگر نہیں دیکھتے تو یہ ہیں ہمارے آج کل کے سیاسی حکمران گھرانے‘ جو ٹاپ پر تو دو ہی ہیں۔ ان دو میں سے ہر ایک کے ساتھ سینکڑوں سیاسی خاندانوں کا اتحاد ہے‘ جس سے وہ حکومتیں بناتے‘ چلاتے‘ بگاڑتے اور اپنی سیاست کا رنگ دکھاتے چلے آ رہے ہیں۔ ہماری اپنی زندگی اور ملکی تاریخ کا نصف صدی کے قریب کا زمانہ انہیں اقتدار میں دیکھتے گزرا ہے۔ پیپلز پارٹی کے ذوالفقار علی بھٹو صاحب کا ذکر کریں اور ان کے والدِ محترم‘ سر شاہنواز بھٹو کا بھی‘ تو اب ان کی چوتھی نسل اقتدار میں ہے۔دوسرے سیاسی گھرانے کے بانی میاں شریف صاحب مرحوم اور میاں نواز شریف صاحب ہیں۔ صنعتی اور کاروباری لوگوں کی پنجاب اور پاکستان میں کوئی کمی نہیں مگر جب انہیں ایک حکومت میں موقع ملا تو انہوں نے اپنی جگہ بنائی اور اپنی سیاست اور طاقت کو وسعت دیتے چلے گئے۔ بھٹو صاحب کو بھی موقع ایک ایسی ہی حکومت میں ملا تھا مگر بھٹو صاحب کی ذہانت‘ تاریخ‘ قانون اور سیاسی علوم میں گہرائی اور وسعت کے مقابلے میں ابھی تک میرے خیال میں کوئی دوسرا سیاستدان میدان میں نہیں آیا۔ آپ ان کی سیاست اور طرزِ اقتدار اور دیگر چیزوں سے تو اختلاف کر سکتے ہیں لیکن جہاں تک ان کے عالمی سطح کے مدبر اور سیاستدان ہونے کا تعلق ہے اس کے بارے میں میرے نزدیک کوئی دوسری رائے نہیں ہو سکتی۔ قومی سیاسی منظر نامے پر سکہ تو اب بھی ان دو خاندانوں کا چلتا نظر آ رہا ہے مگر سیاست میں چلنے کی ان کی اپنی طاقت گزشتہ دو‘ تین انتخابات میں تحلیل ہو چکی ہے۔ اگر کوئی کھڑا ہو کر کہیں یہ کہتا ہے کہ انہیں کسی اور جگہ سے چلایا جا رہا ہے تو میں اس بات کو تسلیم کرنے میں کوئی وقت ضائع نہیں کروں گا۔ آخری انتخابی معرکے کے حالات تاریخ کی کتابوں کے علاوہ دیواروں اور چہروں پر بھی لکھے نظر آ رہے ہیں۔ ایک تیسری طاقت اس ملک کی سیاست میں ابھری ہے یا ابھری تھی‘ جسے اب بند کر کے کام چلایا جا رہا ہے۔ اس بارے میں کچھ زیادہ بات کرنے کو جی نہیں کرتا۔ بہتر ہے کہ ہم سب خاموش رہیں۔اصل بات تو ان دو خاندانوں کی اُس اگلی نسل کی ہے جو آج کل اپنی سیاسی ذمہ داریاں سنبھالے‘ سب کو نظر آتی ہے۔ جو باتیں کچھ بڑوں کے بارے میں اخباروں میں لکھنے والے لکھتے تھے‘ وہ ان کی اگلی نسل کے نمائندوں پر بھی صادق آتی ہیں۔ اس بارے میں ہمیں تو کچھ زیادہ علم نہیں مگر جو کھوجی ادھر اُدھر سے شواہد جمع کر کے لکھتے اور بولتے رہتے ہیں ان کی تحریریں پڑھیں تو لگتا ہے کہ سیاسی شیروں کے پیٹ کبھی نہیں بھرتے۔ یہ صرف افریقہ کے جنگلوں میں رہنے والے شیروں کے بارے میں ہی آپ کہہ سکتے ہیں کہ جب وہ شکار کر کے اپنا پیٹ بھر لیتے ہیں تو چین کی نیند سو جاتے ہیں۔ جب تک بھوک انہیں نئے شکار کے لیے مجبور نہیں کرتی وہ کسی جانور کی طرف دیکھتے بھی نہیں۔ یہاں زبانِ خلق جو کچھ کہتی ہے ہم کانوں کو ہاتھ لگا کر آسمان کی طرف دیکھنے لگتے ہیں۔ ہماری نظر تاریخ پر ہے‘ اپنی سے زیادہ دوسری قوموں اور شخصیات کی تاریخ پر‘ حکمران طبقات کی تاریخ‘ ان کے عروج و زوال کی تاریخ پر۔ میں ذاتی طور پر ان لوگوں سے متاثر ہوں جنہوں اپنی محنت سے کمایا اور اپنا مقام بنایا مگر اس کا زیادہ تر حصہ معاشرے کو واپس کر کے پرانی سادگی پر زندگی کا آخری حصہ گزارا۔ ہماری سماجی اخلاقیات اور اس کے معیار کچھ ایسے ہو چکے ہیں کہ یہ وقت راج‘ دولت اور طاقت کا ہے۔ یہ رجحان اوپر سے شروع ہوا اور اب ہر سطح پر پھیل چکا ہے۔ ہم تو تماشائی ہیں‘ یہ تماشا اب دوسری تیسری نسل میں بھی دیکھ رہے ہیں۔ دولت سمیٹنے کا سلسلہ جو اسّی کی دہائی کے آخری سالوں میں شروع ہوا تھا اب بھی نہ صرف جاری ہے بلکہ بہت بڑھ چکا ہے۔ سندھ سے جو خبریں دہائیوں سے آ رہی ہیں وہ سب کو معلوم ہیں اور وہاں کھربوں خرچ ہونے کے بعد کیا ترقی ہوئی ہے‘ اس کے بارے میں ملک کے سب سے بڑے شہر کے لوگ ہی بتا سکتے ہیں۔ اندرونِ سندھ تو میرے دل کے قریب ہے‘ اس کے حالات بیان کروں تو دل دکھتا ہے۔میرے اور آپ کے پنجاب کی محترم وزیراعلیٰ‘ شنید ہے کہ انہیں نواز شریف صاحب اپنا سیاسی وارث بنا چکے ہیں اور اپنی زیرِ نگرانی ان کی تربیت بھی کر رہے ہیں۔ ان کے کارناموں کی مہم اور ان کے وزیروں اور مشیروں کی طرف سے ان کی تعریفیں سن کر پنجاب کا ہر باشندہ اب فخر محسوس کرنے لگا ہے کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے بعد کوئی تو کام کا وزیراعلیٰ ہمیں نصیب ہوا ۔ پنجاب میں سکولوں سے باہر ایک کروڑ کے قریب بچے‘ ان کے علاوہ کسان‘ مزدور اور وہ غریب لوگ کیا جانیں کہ ان کے حکمرانوں کے بھاگ جاگے ہوئے ہیں۔ سب سے بڑے صوبے کی اعلیٰ ترین وزارت‘ یہ کوئی کم عزت کا درجہ نہیں۔ پھر ایک ہی خاندان میں پانچویں وزارتِ عظمیٰ‘ چھٹی یا ساتویں وزارتِ اعلیٰ‘ تاہم مشکل معاشی دور میں شاہ خرچیاں اگلی سیاسی نسل کے بارے میں بہت کچھ بتاتی ہیں۔ اپنے ملک کے بارے میں ہمیں سب پہلے بھی کچھ خوش فہمی تھی اور اب بھی رہے گی کہ ہمیں تو اس زمین سے محبت ہے مگر ان سیاسی گھرانوں کے سیاسی اور غیر سیاسی کارناموں کو دیکھ کر کئی سوال اٹھتے ہیں۔ اب زیادہ سوال تو عوام کی بے بسی‘ اقتدار کے جھوٹے رویوں اور فنِ سیاست کے بارے میں اٹھتے ہیں۔ ٹرکوں پر لکھی تحریر پر اب کچھ زیادہ غور کرنے کو جی چاہتا ہے: نصیب اپنا اپنا!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_33241568.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بہت دیر کی مہربان آتے آتے(جاوید حفیظ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/javed-hafiz/2026-09-14/52660/32105316</link><pubDate>Mon, 14 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/javed-hafiz/2026-09-14/52660/32105316</guid><description>قارئین جانتے ہیں کہ اسرائیل کا پودا برطانوی استعمار نے لگایا تھا۔ 1917ء میں اعلانِ بالفور ہوا۔ یہ ایک مختصر سا خط تھا جس میں وعدہ کیا گیا تھا کہ برطانوی حکومت فلسطین میں یہودیوں کے وطن کی حمایت کرتی ہے۔ آرتھر بالفور اُس وقت برطانیہ کے وزیر خارجہ تھے اور یہ خط برطانوی یہودیوں کے سربراہ والٹر روتھ شیلڈ کو لکھا گیا تھا۔ دراصل برطانیہ کو متمول یہودی کمیونٹی کی پہلی عالمی جنگ میں حمایت درکار تھی۔ برطانیہ کو مکمل یقین تھا کہ فلسطین جلد اس کے مکمل کنٹرول میں آ جائے گا اور پھر ایسا ہی ہوا۔ عربوں کو ترکی سے بدظن کیا گیا‘ انہیں کئی سبز باغ دکھائے گئے۔ مثلاً بالفور کے خط میں یہ بھی لکھا گیا تھا کہ یہودیوں کے فلسطین جانے سے عربوں کے حقوق متاثر نہیں ہوں گے۔ مگر آج صورتحال بالکل مختلف ہے۔ آج فلسطین کے عرب اپنے ہی وطن میں &#39;ریڈ انڈین‘ بنے ہوئے ہیں۔ یہودی آبادکار روزانہ مغربی کنارے پر فلسطینیوں پر بندوقیں تانے ہوتے ہیں اور اسرائیلی حکومت اغماض سے کام لیتی ہے۔ 1947ء تک فلسطین میں یہودی آبادی 32 فیصد ہو چکی تھی جبکہ عرب 67 فیصد تھے۔ نومبر 1947ء میں اقوام متحدہ نے فلسطین کی تقسیم کا فارمولا وضع کیا۔ اس فارمولے کے تحت فلسطین کا 55 فیصد حصہ یہودیوں کو ملنا تھا جبکہ 42 فیصد عربوں کو۔ القدس جسے یہودی یروشلم کہتے ہیں‘ کو بین الاقوامی شہر کا درجہ دیا جانا مقصود تھا۔ عربوں نے یہ پارٹیشن پلان رد کر دیا کیونکہ انہیں اپنی آبادی سے کہیں کم رقبہ مل رہا تھا۔ اب برطانیہ سمیت 12مغربی ممالک نے اعلان کیا ہے کہ مغربی کنارے پر بنی ہوئی یہودی بستیوں پر تجارتی پابندیاں لگائی جائیں گی۔ امریکہ اس مشترکہ اعلان کا حصہ نہیں ہے؛ البتہ کینیڈا اور فرانس برطانیہ کے ساتھ ہیں۔ اگرچہ اس مشترکہ اعلامیے کی اہمیت علامتی سی ہے لیکن غزہ کے شہیدوں کا خون کسی حد تک رنگ ضرور لا رہا ہے۔ نیرنگیٔ زمانہ دیکھئے کہ دوسری عالمی جنگ کے خاتمے پر برطانیہ اور فرانس مل کر مڈل ایسٹ کے ممالک کے اپنی پسند کے نقشے بنا رہے تھے۔ 1956ء میں برطانیہ‘ فرانس اور اسرائیل نے مل کر مصر پر ہوائی حملے کیے۔ مصر کا قصور یہ تھا کہ جمال عبدالناصر نے نہر سویز کو قومیانے کا اقدام کیا تھا‘ تب امریکہ نے سہ فریقی حملے کی مذمت کی تھی۔ آج امریکہ دل و جان سے اسرائیل کے ساتھ ہے اور برطانیہ اسرائیل کی پالیسیوں پر تنقید کر رہا ہے۔ اسرائیل نے فوراً ردعمل دیا اور کہا کہ برطانیہ تیس روز کے اندر القدس میں اپنا قونصلیٹ بند کر دے؛ البتہ تل ابیب میں برطانوی سفارتخانہ موجود رہے گا۔ اسرائیل کی اپنی پالیسی وقت گزرنے کے ساتھ واضح طور پر شہرت پسند ہوتی گئی ہے۔ شامیر اور رابین جیسے لیڈر چاہتے تھے کہ فلسطینیوں کے ساتھ معاملات طے ہو جائیں اور کسی طرح بقائے باہمی کا راستہ نکل آئے۔ اسی سپرٹ کے تحت اوسلو کا معاہدہ ہوا۔ یہ کوئی آئیڈیل معاہدہ نہیں تھا‘ اس میں پانچ سال کا روڈمیپ دیا گیا تھا کہ اس دوران فائنل بارڈر‘ فلسطینی مہاجرین کی واپسی اور القدس کی حتمی حیثیت کے بارے میں گفت و شنید ہو گی‘ لیکن وہ پانچ سال کبھی پورے نہ ہو سکے۔ اُس وقت بھی حماس کو اوسلو معاہدے پر اعتراضات تھے‘ یہودی شدت پسند بھی اوسلو معاہدے کے خلاف تھے۔ اسی معاہدے کی وجہ سے اسرائیلی لیڈر اسحاق رابین کو قتل کر دیا گیا۔ شدت پسند معاشروں میں معتدل مزاج لیڈرز کی زندگیاں خطرے میں رہتی ہیں۔ 1948ء میں مہاتما گاندھی نے کہا تھا کہ پاکستان کو اس کے حصے کے اثاثے دیے جائیں‘ تو انہیں قتل کر دیا گیا۔ گاندھی قتل ہوئے تو آر ایس ایس نے انڈیا میں شیرینی بانٹی۔ موجودہ حکمران پارٹی بی جے پی اسی آر ایس ایس سے نکلی ہے۔اسحاق رابین کا قتل ہوا تو بنیامین نتین یاہو کی لیکوڈ پارٹی اقتدار میں آ گئی۔ لیکن آج کے اسرائیل میں بات لیکوڈ پارٹی سے بھی آگے نکل گئی ہے۔ مخلوط حکومت میں دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی چھ جماعتیں شامل ہیں جو اس بات پر مکمل یقین رکھتی ہیں کہ فلسطین پر صرف یہودیوں کا حق ہے۔ ان میں سے کئی اس بات پر راسخ ہیں کہ مسجد اقصیٰ کی جگہ یہودی معبد ہونا چاہیے۔ اس مخلوط حکومت کا ایک اتحادی اتمار بن گویر آئے روز جلوس لے کر مسجد اقصیٰ کے باہر پہنچا ہوتا ہے اور فلسطین پر یہودی حقوق کی حمایت میں نعرے لگاتا ہے۔ وہ اسرائیلی کابینہ میں وزیر بھی ہے۔مغربی کنارے پر 146یہودی بستیاں بن چکی ہیں اور ان سب کو اسرائیلی حکومت کی سرپرستی حاصل ہے۔ حکومت نئی یہودی بستیوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ ان بستیوں کیلئے نئی سڑکیں بنتی ہیں‘ ٹیکس معاف کیے جاتے ہیں۔ مشرقی القدس جو مغربی کنارے کی طرح مقبوضہ علاقہ ہے‘ وہاں اڑھائی لاکھ یہودی آباد کیے گئے۔ نئی یہودی بستیاں بنانے کیلئے فلسطینیوں کے گھر آئے دن مسمار ہوتے ہیں۔ جو لوگ مزاحمت کرتے ہیں ان پر اسرائیلی پولیس گولیوں کی بوچھاڑکرتی ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کے اعداد وشمار کے مطابق مغربی کنارے میں اس سال ایک سو جبکہ غزہ کی پٹی میں نو سو فلسطینی شہید ہوئے۔ مغربی کنارے میں شہید ہونے والوں میں دو طرح کے لوگ ہیں؛ ایک وہ جو اسرائیلی پولیس کی گولیوں کا نشانہ بنے اور دوسرے وہ جنہیں مسلح یہودی آباد کاروں نے قتل کیا۔ فلسطینیوں کی کھڑی فصلیں تباہ کر دی جاتی ہیں‘ زیتون کے باغات اجاڑ دیے جاتے ہیں۔ سب سے زیادہ ظلم جنین کے مہاجر کیمپ پر ہوتے ہیں‘ جسے اسرائیلی حکومت باغیوں کا گڑھ قرار دیتی ہے۔ 1967ء تک مغربی کنارہ اردن کے کنٹرول میں تھا جبکہ غزہ مصر کے پاس۔ اس جنگ کے نتیجے میں دونوں علاقے اسرائیل کے قبضے میں آ گئے۔ سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 338 اور 442 اس بات کا تقاضا کرتی ہیں کہ اسرائیل مقبوضہ علاقوں کو خالی کر دے اور وہاں فلسطینی ریاست بنائی جائے۔ دونوں قراردادوں کو بھاری اکثریت سے پاس کیا اور آج جب برطانیہ اور بارہ مغربی ممالک یہودی بستیوں سے تجارت بند کرنے کا اعلان کر رہے ہیں تو دلیل یہی ہے کہ یہ بستیاں فلسطینی ریاست کے قیام میں رکاوٹ بن جائیں گی۔ اسرائیل نے جان بوجھ کر بین الاقوامی قراردادوں کو اہمیت نہیں دی۔ غور کریں تو بھارت مقبوضہ کشمیر میں اسرائیل پالیسی کو کاپی کر رہا ہے۔اوسلو معاہدے سے بھی اسرائیل نے یکطرفہ فائدہ اٹھایا اور دنیا بھر میں ڈھنڈورا پیٹا کہ پی ایل او نے ہمیں تسلیم کرکے مسلح جدوجہد ختم کر دی ہے۔ اوسلو معاہدے کے بعد کئی ممالک بشمول مسلم ملک نے اسرائیل کو تسلیم کیا۔ 1967ء کی جنگ کے بعد اسرائیل کیلئے امریکی سپورٹ میں واضح اضافہ ہوا لیکن یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ صدر ٹرمپ جیسا اسرائیل نواز لیڈر امریکہ کی تاریخ میں نہیں آیا۔ ایک عرصے سے اسرائیلی حکومت کی شدیدخواہش تھی کہ امریکی سفارتخانہ تل ابیب سے القدس شفٹ ہو جائے لیکن ٹرمپ سے پہلے کسی صدر نے اسرائیلی حکومت کی یہ ڈیمانڈ نہیں مانی۔ وجہ یہ ہے کہ مشرقی القدس مقبوضہ علاقہ ہے اور مقبوضہ علاقے میں سفارتخانہ رکھنا غیر قانونی قبضے کو تسلیم کرنے کے مترادف ہے۔ مگر ٹرمپ نے اپنی پہلی ٹرم میں 2017ء میں امریکی ایمبیسی کو تل ابیب سے القدس شفٹ کر دیا۔ اس وقت باقی سفارتخانے تل ابیب میں ہیں جبکہ صرف دو القدس میں۔سوال یہ ہے کہ اس وقت برطانیہ اور دیگر مغربی ممالک کو فلسطینی حقوق کا خیال کیوں آ رہا ہے؟ اس وقت تقریباً 7.5 لاکھ یہودی مغربی کنارے اور القدس میں ناجائز طریقے سے آباد ہو چکے ہیں۔ حال ہی میں اسرائیلی حکومت نے مقبوضہ علاقے میں ایک ہزار یہودی گھر بنانے کی منظوری دی ہے۔ ایک سوال یہ بھی ہے کہ مغربی کنارے پر موجود یہودی بستیوں کے ساتھ ان بارہ ممالک کی تجارت کتنی ہو گی۔ میرے خیال میں یہ اقدام محض علامتی ہے۔ غزہ میں قتلِ عام کے بعد یورپی رائے عامہ میں جو غم وغصہ دیکھا گیا یہ اسے کسی حد تک ٹھنڈا کرنے کی کوشش ہے ‘اس سے زیادہ کچھ نہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_85338835.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>جی ایس پی پلس‘ قطر تجارت اور ورچوئل اثاثے(میاں عمران احمد)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mian-imran-ahmad/2026-09-14/52661/97198460</link><pubDate>Mon, 14 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mian-imran-ahmad/2026-09-14/52661/97198460</guid><description>پاکستان کی معیشت برآمدات‘ زرمبادلہ کے ذخائر اور آئی ایم ایف پروگرام کے دباؤ کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ایسے میں یورپی یونین کی جانب سے جی ایس پی پلس کے نئے فریم ورک کا اعلان پاکستان کیلئے ایک اہم چیلنج ہو سکتا ہے۔ موجودہ جی ایس پی پلس ممالک کو خودکار توسیع نہیں ملے گی بلکہ پاکستان سمیت تمام ممالک کو دوبارہ درخواست دینا ہوگی اور 27 کے بجائے 32 بین الاقوامی کنونشنز پر عملدرآمد کا عہد کرنا ہوگا۔بظاہر یہ محض ایک انتظامی کارروائی دکھائی دیتی ہے لیکن حقیقت میں پاکستان کی حکمرانی‘ انسانی حقوق‘ مزدوروں کے حقوق‘ ماحولیات اور قانونی نظام کیلئے امتحان ہو سکتا ہے۔ اصل مسئلہ نئے کنونشنز پر دستخط کرنا نہیں بلکہ ان پر مؤثر عملدرآمد ثابت کرنا ہے۔ اس معاملے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 2024ء میں پاکستان نے یورپی یونین کو تقریباً ساڑھے سات ارب یورو مالیت کی برآمدات کیں۔ جی ایس پی پلس کی بدولت پاکستانی برآمد کنندگان کو تقریباً 73 کروڑ یورو کی ٹیرف بچت حاصل ہوئی۔ ٹیکسٹائل‘ گارمنٹس اور ہوم ٹیکسٹائل کی برآمدات کا بڑا حصہ اسی رعایتی رسائی کی وجہ سے یورپی منڈی میں مسابقت برقرار رکھے ہوئے ہے۔ اگر نئی شرائط پوری نہ کر جا سکیں تو پاکستانی مصنوعات پر دوبارہ 9 سے 12 فیصد تک درآمدی ڈیوٹی عائد ہو سکتی ہے۔ ایسی صورت میں بنگلہ دیش‘ ویتنام اور دیگر علاقائی ممالک کے مقابلے میں پاکستان کی برآمدات کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔ برآمدات میں کمی کا مطلب صرف زرمبادلہ میں کمی نہیں بلکہ لاکھوں ملازمتوں کا خطرے میں پڑ جانا بھی ہے۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان نے 2014ء میں جی ایس پی پلس حاصل کرنے کے بعد اس موقع سے کتنا فائدہ اٹھایا؟ اس عرصے میں پاکستان کی برآمدات میں 108 فیصد اضافہ ہوا لیکن برآمدی ڈھانچہ آج بھی ٹیکسٹائل تک محدود ہے۔ ہائی ٹیک مصنوعات‘ انجینئرنگ‘ فارماسیوٹیکل اور ویلیو ایڈڈ صنعتوں کا حصہ اب بھی محدود ہے‘ یعنی رعایت کا فائدہ تو اٹھایا لیکن مطلوبہ کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔ دوسری جانب پاکستان اور قطر کے درمیان مذاکرات ایک ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب دنیا میں تجارت کے روایتی راستے تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔ بیلٹ اینڈ روڈ سمٹ کے موقع پر وفاقی وزیر تجارت اور قطر کے وزیر مملکت برائے خارجہ کے درمیان ہونے والی ملاقات میں مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے ذریعے پاکستان کو ترکیہ اور یورپی منڈیوں سے جوڑنے کیلئے مذاکرات ہوئے۔پاکستان اس وقت برآمدات بڑھانے کے دباؤ کا شکار ہے۔ مالی سال 2026 ء میں پاکستان کی مجموعی برآمدات تقریباً 33 ارب ڈالر کے قریب رہیں جبکہ درآمدات 60 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں‘ جس کے نتیجے میں ملک کو بڑے تجارتی خسارے کا سامنا ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈیوں میں شمار ہوتی ہے۔ ایسے میں اگر پاکستان کو خلیجی ریاستوں‘ ترکیہ اور یورپ تک تیز اور کم لاگت رسائی مل جاتی ہے تو اس کے معاشی نمایاں فوائد ہو سکتے ہیں۔ قطر اس منصوبے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ دنیا کی بڑی ایل این جی برآمد کنندہ ریاست ہونے کے ساتھ ساتھ قطر علاقائی لاجسٹکس اور سرمایہ کاری کا مرکز بھی ہے۔ پاکستان اور قطر کے درمیان تجارت تقریباً چار ارب ڈالرہے جبکہ قطر میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد پاکستانی مقیم ہیں جو سالانہ تقریباً ایک ارب ڈالر زرمبادلہ وطن بھیجتے ہیں۔ تاہم یہاں ایک بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان واقعی اس موقع سے فائدہ اٹھانے کیلئے تیار ہے؟ گزشتہ کئی دہائیوں سے یہ علاقائی تجارت کے بیشمار منصوبوں کا حصہ بنتا رہا‘ سی پیک کو خطے کاگیم چینجرقرار دیا گیا‘ وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ تجارتی راہداریوں کے اعلانات ہوئے‘ افغانستان کے ذریعے سینٹرل ایشیا تک رسائی کے منصوبے بنے‘ لیکن نتائج زمینی سطح پرتوقعات کے مطابق سامنے نہیں آئے۔پاکستان اور افریقی ممالک نے پاکستان افریقہ اکنامک کونسل کے افتتاح کے موقع پر 2030ء تک باہمی تجارت کو 15 ارب ڈالر تک پہنچانے کا عزم کیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان موجودہ رفتار کے ساتھ یہ ہدف حاصل کرسکتا ہے؟ پاکستان اور افریقہ کے درمیان مجموعی تجارت تقریباً پانچ ارب 63 کروڑ ڈالر سے زیادہ ہے۔پاکستان کی افریقہ کو برآمدات دو ارب 39 کروڑڈالر جبکہ درآمدات تین ارب 24 کروڑ ڈالر سے زیادہ ہیں۔ تقریباً 85 کروڑ ڈالر کا تجارتی خسارہ درپیش ہے۔ افریقہ میں پاکستان کئی مصنوعات مسابقتی حیثیت رکھتی ہیں۔ چاول‘ ٹیکسٹائل‘ کپڑا‘ سیمنٹ‘ کھیلوں کا سامان‘ سرجیکل آلات‘ ادویات‘ زرعی مشینری‘ ٹریکٹر‘ آئی ٹی سروسز اور حلال گوشت ایسے شعبے ہیں جن میں پاکستان اپنی برآمدات بڑھا سکتا ہے۔ آئی ٹی کا شعبہ بھی کئی مواقع پیدا کر سکتاہے۔ پاکستان کی آئی ٹی اور سروسز میں موجودہ معاشی و تجارتی صلاحیت تقریباً پونے تین ارب ڈالر ہے‘ جسے بہتر رابطوں کے ذریعے دُگنا کیا جاسکتا ہے۔ اگر پاکستان افریقہ کو صرف چاول اور ٹیکسٹائل فروخت کرنے کے بجائے سافٹ ویئر‘ فِن ٹیک‘ ای کامرس‘ سائبر سکیورٹی اور طبی ٹیکنالوجی فراہم کرے تو برآمدات میں تیزی آسکتی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے وفاق اور صوبوں کے درمیان بہتر رابطے‘ فی ایکڑ پیداوار میں اضافے‘ جدید ٹیکنالوجی‘ لائیو سٹاک اور زرعی برآمدات کو بڑھانے کی ہدایت کی ہے اور فی ایکڑ پیداوار بڑھانے کیلئے تمام ممکنہ اقدامات کرنے پر زور دیا ہے۔ پاکستان کی معیشت میں زراعت بنیادی ستون کی حیثیت رکھتی ہے لیکن اس شعبے کی اصل صلاحیت استعمال نہیں ہو رہی۔ ملکی جی ڈی پی میں حصہ تقریباً 23.4 فیصد جبکہ روزگار میں حصہ 33 فیصد ہے۔ اس کے باوجود زرعی شعبے کی مجموعی شرح نمو صرف 2.89 فیصد رہی ہے۔ گزشتہ مالی سال گندم کی پیداوار 29.61 ملین ٹن‘ چاول 9.99 ملین ٹن اور گنے کی پیداوار 89.45 ملین ٹن تھی۔ چاول کی پیداوار میں خاص طور پر یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ زیرکاشت رقبہ کم ہونے کے باوجود فی ہیکٹر پیداوار میں 6.6 فیصد اضافہ ہوا جو بہتر بیج‘ جدید آبپاشی‘ زرعی مشینری اور سائنسی طریقہ کاشت کا نتیجہ ہے۔ اسی طرح لائیو سٹاک بھی پاکستان کی معیشت کا اہم شعبہ ہے۔ حالیہ اکنامک سروے کے مطابق زرعی ویلیو ایڈیشن میں 62.4 فیصد حصہ ہے اور اس کی مالیت 6.2 ٹریلین روپے سے زیادہ ہے۔ 80 لاکھ سے زائد دیہی خاندان اس شعبے سے وابستہ ہیں‘ مگر عالمی گوشت کی برآمدات میں پاکستان کا حصہ اب بھی ایک فیصد سے کم ہے۔مسئلہ جانوروں کی کمی نہیں بلکہ جدید نظام کی کمی ہے۔ وزیر مملکت اور پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین نے اقوام متحدہ رکن ممالک پر زور دیا کہ ڈیجیٹل اثاثوں پر صرف بحث کرنے کے بجائے اب ایسے عالمی ادارہ جاتی اور ریگولیٹری ڈھانچے تشکیل دیے جائیں جو عالمی مالیاتی نظام کی اگلی نسل کو منظم کرسکیں۔ اس اجلاس میں پاکستان کی تجویز پر کوئی باقاعدہ قرارداد منظور نہیں ہوئی اور نہ ہی رکن ممالک کی جانب سے کسی اجتماعی ووٹنگ کے ذریعے اس تجویز کی منظوری دی گئی ہے لیکن یہ ضرور واضح ہوا کہ ڈیجیٹل مالیاتی نظام‘ بلاک چین اور ڈیجیٹل اثاثے اب عالمی مالیاتی بحث کے مرکزی موضوعات بنتے جا رہے ہیں۔اگر پاکستان کی دی گئی تجاویز پر عمل درآمد ہو جائے تو سب سے بڑا ممکنہ فائدہ ترسیلاتِ زر میں ہو سکتا ہے۔ پاکستان نے مالی سال 2025-26 ء میں تقریباً 41.6 ارب ڈالر کی ترسیلاتِ زر حاصل کیں۔ اگر بلاک چین‘ سٹیبل کوائنز اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے ذریعے بیرونِ ملک پاکستانیوں کی رقم کم لاگت میں اور تیزی سے پاکستان پہنچ سکے تو موجودہ ترسیلاتی لاگت میں کمی سے پاکستانی خاندانوں کو فائدہ ہوسکتا ہے اور ملک کو زیادہ زرمبادلہ رسمی بینکاری چینلز کے ذریعے مل سکتا ہے۔ عالمی سطح پر ورلڈ بینک کے مطابق ترسیلات بھیجنے کی اوسط لاگت اب بھی تقریباً 6.36 فیصد ہے جبکہ عالمی ہدف تین فیصد ہے جو کہ بلاک چین ٹیکنالوجی سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/212_71532147.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>اسلام آباد کا مستقبل(جویریہ صدیق )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/javeria-siddique/2026-09-14/52662/85592577</link><pubDate>Mon, 14 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/javeria-siddique/2026-09-14/52662/85592577</guid><description>اسلام آباد کو پردیسیوں کا شہر کہا جاتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ اس میں بسنے والے عوام ہوں یا پھر اس پر حکومت کرنے والے‘ زیادہ تر اپنی عید‘ اپنی چھٹیاں اور خوشی غمی اپنے آبائی علاقوں میں مناتے ہیں۔ میں نے جب سے ہوش سنبھالا ہے خود کو اسلام آباد میں پایا ہے۔ اب کوئی پوچھے کہ آپ کا تعلق کہاں سے ہے تو مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ میرا تعلق اسلام آباد ہی سے ہے۔ تعلیم یہاں حاصل کی‘ ایک مدت سے اپنے والدین کے ساتھ یہاں رہائش پذیر ہوں‘ اور صحافت بھی یہاں سے شروع کی۔ مجھے یہ شہر بہت پسند ہے۔ بے فکری کے بچپن میں مجھے گرمیوں اور سردیوں کی چھٹیاں بالکل پسند نہیں تھیں۔ وجہ یہ تھی کہ سکول کی چھٹیوں میں بہت سے ساتھی طالبعلم اپنے گاؤں یا شہروں میں چلے جاتے تھے تو مجھے اچھا نہیں لگتا تھا۔ تب سب کچھ ویران سا ہو جاتا تھا۔ گھر سے متصل پارک‘ آپا جی سے ناظرہ پڑھنے والے بچے اور ٹیوشن میں بچے بہت کم ہو جاتے تھے۔ میری قریبی دوستیں بھی مثلاً منال لالہ موسیٰ چلی جاتی تھی‘ فائزہ میرپور‘ شبنم ہری پور اور میں اکیلی ہی تھی جو اسلام آباد میں رہتی تھی۔ اسلام آباد میں ایک ایسی آبادی بھی ہے جو کئی دہائیوں سے یہاں مقیم ہے۔ میرے والدین کی طرح وہ اس شہر کو آباد کرنے والے ہیں‘ جنہوں نے ایک جنگل نما شہر میں قدم رکھا تھا۔ امی بتاتی ہیں کہ اسلام آباد میں پہلے صرف آبپارہ اور کوہسار مارکیٹ ہوتی تھی۔ خریداری کیلئے اکثر راولپنڈی جانا پڑتا تھا۔ ہر طرف جنگل اور سناٹا ہوتا تھا اور جنگلی جانوروں کی بہتات تھی۔ جب میں پیدا ہوئی اسلام آباد ایک جدید شہر بننے کی طرف گامزن تھا۔ میں نے اپنے بچپن میں اسلام آباد میں وہ دور دیکھ رکھا ہے جب یہاں بہت ہریالی تھی۔ موسم بہت ٹھنڈا اور خوشگوار ہوتا تھا۔ ہم اکثر رات کا کھانا اور آئس کریم ایف ٹین مرکز سے کھاتے تھے۔ ایف نائن پارک میں ایئر شو دیکھا کرتے تھے اور لوک ورثہ میں میلہ دیکھنے جایا کرتے تھے۔ کھیل وتفریح کے لیے پلے لینڈ‘ شکرپڑیاں‘ سپورٹس کمپلیکس اور چڑیا گھر تھے۔ زیادہ تفریح کا دل ہوتا تو چھتر پارک اور مری بھی قریب تھے۔ فضا میں سبزے اور ہریالی کی خوشبو ہوا کرتی تھی۔ پرندے‘ پھول‘ پودے‘ تتلیاں اور جگنو عام تھے۔ اس وقت غضب کی بارشیں ہوا کرتی تھیں لیکن مجال ہے کہ کبھی سکول بند ہوا ہو یا کبھی ندی نالوں کو اوور فلو ہوتے دیکھا ہو۔ جب دھوپ نکلتی تو سڑکیں ایسے صاف ہو جاتی تھیں کہ جیسے یہاں پانی کی ایک بوند بھی نہیں پڑی۔ کچرا اٹھانے کے لیے گاڑی آیا کرتی تھی۔ پمز ہسپتال اتنا صاف ستھرا تھا کہ ہمارے والدین صرف اس پر خصوصاً اس کے چلڈرن وارڈ پر اعتماد کرتے تھے۔ وہاں ہنستا مسکراتا سٹاف‘ کھلونے اور بار بار ہوتی صفائی مجھے آج بھی یاد ہے۔ پی این سی اے آرٹ اور کلچر کا مرکز ہوا کرتا تھا۔ مصوری‘ میوزک‘ کیلیگرافی‘ کولاج میکنگ سمیت بہت سے کورسز کیے اور متعدد بار انعامات جیتے۔ اس وقت ریڈیو پاکستان جانا اعزاز کی بات سمجھا جاتا تھا۔ میں نے وہاں تقریری مقابلہ بھی جیتا تھا۔ ریڈیو پاکستان کا ایف ایم ون او ون بہت مقبول تھا۔ اس طرح شہر میں قاعدے اور قوانین پر سختی سے عمل کیا جاتا تھا۔ ہر گھر کو ایک کیاری اور ٹیرس لازمی بنانے کا حکم تھا۔ درخت کاٹنے کی اجازت نہیں تھی۔ کبھی ٹریفک جام کا سنا تک نہیں تھا‘ سڑکیں خالی ہوتی تھیں۔ اس وقت مزید سناٹا ہو جاتا تھا جب پردیسی عید‘ شبِ برات‘ سردی اور گرمی کی چھٹیوں میں اپنے آبائی گھروں کو چلے جاتے تھے۔آپ بھی سوچ رہے ہوں گے کہ میں اتنی چھوٹی چھوٹی تفصیلات کیوں بتا رہی ہوں۔ وہ اس لیے کہ اب کچھ سالوں سے یہ شہر بدل گیا ہے۔ اب یہ وہ شہر ہی نہیں رہا جس میں پل‘ بڑھ کر ہم جوان ہوئے۔ اب ایک سیکٹر سے دوسرے سیکٹر میں جانے کے لیے ایک بدنما پل یا انڈر پاس سے گزر کر جانا پڑتا ہے۔ ہمیں تو یہ کہا گیا تھا کہ نئی سڑکوں سے سگنل فری کوریڈور بنے گا۔ یہاں تو یہ حال ہو گیا ہے کہ نیو بلیو ایریا جانے والی گاڑیوں کی قطاریں ایف ٹین سے ایف الیون تک کی سڑک تک اپنی باری کا انتظار کر رہی ہوتی ہیں۔ سرینگر ہائی وے پر ناکے اور ٹریفک جام روز کا معمول ہے۔ ہر طرف سہولت کے نام پر مٹی‘ کچرا‘ آلودگی اور بے ہنگم تعمیرات دیکھ رہی ہوں۔ سرکاری پانی نہیں‘ بجلی کا نظام بوسیدہ ہو گیا ہے‘ اکثر گلیاں اندھیرے میں ڈوبی ہوتی ہیں‘ پبلک پارکس میں سے اکثر کے جھولے ٹوٹے ہوئے ہیں۔ گھاس بڑھی ہوئی‘ پبلک ٹوائلٹس کا فقدان ہے‘ سرکاری ہسپتال میں بنیادی سہولتوں کا فقدان ہے‘ ریسکیو سروس جدید نہیں‘ اکثر علاقے اب بھی قدرتی گیس سے محروم ہیں۔ تمام روٹس پر پبلک ٹرانسپورٹ نہیں چلتی۔ نکاسیٔ آب کا نظام ٹھیک نہیں‘ ندی نالوں کی جگہوں پر قبضہ ہو چکا ہے۔ مہنگائی بہت ہے اور شہری ترقیاتی ادارہ اپنے نئے سیکٹرز میں ان لوگوں کو فوقیت نہیں دیتا جن کو یہاں رہتے ہوئے تیس سے چالیس سال ہو گئے اور وہ کرائے کے گھروں میں مقیم ہیں۔ اب کرائے اتنے زیادہ ہیں کہ اللہ کی پناہ! کیا یہ ان کا حق نہیں کہ ان اسلام آباد میں ان کا اپنا گھر‘ ان کی اپنی چھت ہو؟ہمارے ہاں صرف انڈر پاسز‘ پل اور مصنوعی سجاوٹ کو فوقیت دی جاتی ہے۔ تعلیم‘ صحت‘ بنیادی حقوق‘ روٹی‘ کپڑا اور مکان بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ اسلام آباد صرف شاہراہِ دستور کا نام نہیں‘ جی نائن‘ جی 6‘ آئی نائن‘ جی الیون‘ ای الیون‘ ایف ٹین اور گولڑہ بھی اس کے حصے ہیں۔ اسلام آباد کو واقعی ایک نئے نظام کی ضرورت ہے‘ جس کو یہاں کے مقامی خود چلائیں۔ اس کے لیے اختیارات کی تقسیم مقامی سطح تک ہونی چاہیے۔ تاہم جس بھی قومیت سے تعلق رکھنے والے شخص کی رہائش یہاں پر دو دہائیوں سے ہو‘ اس کو اس نظام میں حصہ ملنا چاہیے‘ وہ کرائے پر رہتا ہو یا اس کی اپنی رہائش ہو‘ ان سب کو موقع دیا جائے۔ اب اسلام آباد کے لیے نئے نظام کی تجاویز دی گئی ہیں جس کے مطابق اسلام آباد کو صوبائی طرز کی انتظامی اور مالی خود اختیاری حاصل ہو گی جس میں ایک ایگزیکٹو اور 27 رکنی اسمبلی ہوگی‘ جس میں خواتین کی پانچ مخصوص نشستیں اور ایک اقلیتی نشست ہوگی۔ قومی اسمبلی میں بھی اسلام آباد کی سات نشستیں قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ میرے نزدیک ایسا ہونا چاہیے لیکن کیا عوام کو بھی یہ حق حاصل ہو گا کہ وہ ان نشستوں پر الیکشن لڑ سکیں؟ یا پھر پاکستان کے چند سیاسی خاندان اور ان کے رشتہ دار ہی الیکشن پر چھائے رہیں گے۔پاکستانی سیاسی خانوادوں کے نزدیک جمہوریت کا مطلب اقتدار اُن کے بہن بھائیوں‘ بیٹے‘ بیٹیوں‘ بہو‘ دامادوں کو ملنے کا نام ہے۔ اب جو نئے انتخابات ہوں گے وہاں فارم 45 اور 47 کے درمیان معاملہ الجھ تو نہیں جائے گا؟ مخصوص نشستوں پر ہمیشہ اقربا پروری ہوتی آئی ہے اس لیے خواتین کی نشستوں پر براہِ راست عوام ووٹ دیں۔ اسلام آباد کو صوبہ بنانے کے لیے آئین میں ترمیم بھی کرنا ہو گی۔ بظاہر تو نظام میں شامل لوگ اس سے متفق نظر آ رہے ہیں لیکن پیپلز پارٹی کا مؤقف صوبوں کی تقسیم پر سب کے سامنے ہے۔ اسلام آباد کے عوام تو اس تبدیلی پر خوش نظر آ رہے ہیں لیکن کیا پہلے سے موجود چہرے جو اَب تک ڈِلیور نہیں کر سکے وہ نئے نظام میں کچھ کر پائیں گے؟ ہمیں نئے نظام کے ساتھ نئے چہروں کی بھی ضرورت ہے جن کے ساتھ کرپشن کا کوئی بیگیج نہ ہو۔ تجاویز کے مطابق اسلام آباد کی نئی اسمبلی کو وہی اختیارات حاصل ہوں گے جو دیگر صوبائی اسمبلیوں کے پاس ہوتے ہیں تاہم اسلام آباد کی سکیورٹی وفاق کے پاس ہوگی۔ مگر صوبہ ہو‘ نئی اسمبلی ہو یا بلدیاتی نظام‘ جب تک وسائل کی منصفانہ تقسیم نہیں ہو گی‘ میرٹ پر فیصلے نہیں ہوں گے‘ اقربا پروری ختم نہیں ہو گی‘ احتساب کا عمل کڑا نہیں ہو گا‘ معاملات حل نہیں ہو سکتے۔ اسلام آباد کا ماسٹر پلان اَپ گریڈیشن مانگ رہا ہے۔ ہمیں نئے پُل نہیں چاہئیں‘ بنیادی انسانی ضرورت کی چیزوں پر کام کریں گے تو ہی افاقہ ہوگا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_38020467.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>صلہ رحمی(علامہ ابتسام الہٰی ظہیر )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-09-14/52663/54436806</link><pubDate>Mon, 14 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-09-14/52663/54436806</guid><description>عصری معاشروں میں لوگوں کی بڑی تعداد معاشی معاملات میں الجھی ہوئی ہے۔ لوگ مختلف طرح کی پریشانیوں اور مسائل کا شکار ہیں جس کی وجہ سے رشتہ داروں کے حقوق کو بہت مرتبہ نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس بات کا مشاہدہ بھی کیا جا سکتا ہے کہ بہت سے لوگ مال کی فراوانی اور اثر و رسوخ بڑھنے کے بعد اپنے رشتہ داروں کے حقوق کو فراموش کر دیتے ہیں۔ انسان خواہ کتنا بھی مصروف کیوں نہ ہو ‘ اسے اپنے رشتہ داروں کے حقوق کو ادا کرنے کے لیے وقت نکالنا چاہیے۔ اسی طرح انسان خواہ کتنی بھی ترقی کیوں نہ کر جائے‘ اسے اپنے رشتوں کو نبھانے کے لیے تگ و دو کرتے رہنا چاہیے۔ اس حوالے سے کتاب و سنت میں بہت خوبصورت نصیحتیں کی گئی ہیں۔اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الرعد کی آیات: 20 تا 23 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;جو اللہ کے عہد (و پیمان) کو پورا کرتے ہیں اور قول و قرار کو توڑتے نہیں۔ اور اللہ نے جن چیزوں کے جوڑنے کا حکم دیا ہے وہ اسے جوڑتے ہیں اور وہ اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں اور حساب کی سختی کا اندیشہ رکھتے ہیں۔ اور وہ اپنے رب کی رضامندی کی طلب کے لیے صبر کرتے ہیں اور نمازوں کو برابر قائم رکھتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دے رکھا ہے اسے چھپے (اور) کھلے خرچ کرتے ہیں اور برائی کو بھی بھلائی سے ٹالتے ہیں ان ہی کے لیے عاقبت کا گھر ہے۔ ہمیشہ رہنے کے باغات جہاں یہ خود جائیں گے اور ان کے باپ دادائوں اور بیویوں اور اولادوں میں سے بھی جو نیکوکار ہوں گے‘ ان کے پاس فرشتے ہر ہر دروازے سے آئیں گے‘‘۔ ان آیات مبارکہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ہمیں نماز‘ زکوٰۃ اور دیگر اچھے امور کی انجام دہی کے ساتھ رشتوں کو بھی جوڑنا چاہیے۔جہاں اللہ تبارک وتعالیٰ نے مذکورہ آیات میں صلہ رحمی کی اہمیت کو اجاگر کیا وہیں قطع رحمی کی مذمت کرتے ہوئے سورۃ الرعد ہی کی آیت: 25 میں ارشاد فرمایا ہے: &#39;&#39;اور جو اللہ کے عہد کو اس کی مضبوطی کے بعد توڑ دیتے ہیں اور جن چیزوں کے جوڑنے کا اللہ نے حکم دیا ہے انہیں توڑتے ہیں اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں‘ ان کے لیے لعنتیں ہیں اور ان کے لیے (آخرت میں) برا گھر ہے‘‘۔ سورۃ البقرہ کی آیت: 27 میں بھی اللہ تبارک وتعالیٰ نے صلہ رحمی نہ کرنے والوں کی مذمت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: &#39;&#39;جو لوگ اللہ کے مضبوط عہد کو توڑ دیتے ہیں اور اللہ نے جن چیزوں کے جوڑنے کا حکم دیا ہے‘ انہیں کاٹتے ہیں اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں‘ یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں‘‘۔ سورۂ محمد کی آیات: 22 تا 23 میں زمین پر اقتدار ملنے کے بعد قطع رحمی کرنے والوں کی مذمت کرتے ہوئے اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;اور تم سے یہ بھی بعید نہیں کہ اگر تم کو حکومت مل جائے تو تم زمین میں فساد برپا کر دو اور رشتے ناتے توڑ ڈالو۔ یہ وہی لوگ ہیں جن پر اللہ کی پھٹکار ہے اور جن کی سماعت اور آنکھوں کی روشنی چھین لی ہے‘‘۔ قرآن مجید کی ان آیات سے یہ سمجھنا کچھ مشکل نہیں کہ اللہ تبارک وتعالیٰ صلہ رحمی کو پسند کرتے اور قطع رحمی کو ناپسند کرتے ہیں۔اسی طرح جب ہم احادیث طیبہ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ان میں بھی صلہ رحمی کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے اور قطع رحمی کی صراحت سے مذمت کی گئی ہے۔ اس حوالے سے چند اہم احادیث درج ذیل ہیں:1: صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا &#39;&#39;جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے اپنے مہمان کی عزت کرنی چاہیے اور جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہیے کہ وہ صلہ رحمی کرے اور جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو‘ اسے چاہیے کہ اچھی بات زبان سے نکالے ورنہ چپ رہے‘‘۔ 2: صحیح بخاری میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا &#39;&#39;جو چاہتا ہو کہ اس کے رزق میں فراخی ہو اور اس کی عمر دراز ہو تو وہ صلہ رحمی کیا کرے‘‘۔ رزق کی فراخی اور عمر کی درازی کی خواہش ہر شخص کے دل میں موجود ہوتی ہے‘ اس خواہش کو پورا کرنے کے لیے انسان کو صلہ رحمی کا اہتمام کرنا چاہیے۔ 3: جامع ترمذی میں حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا &#39;&#39;لوگو! سلام کو عام کرو‘ کھانا کھلائو اور رات میں جب لوگ سو رہے ہوں تو نماز پڑھو‘ تم لوگ سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جائو گے‘‘۔ جب انسان سلام کو عام کرے گا اور کھانا کھلانے کی رغبت رکھے گا تو جہاں وہ مساکین اور غریبوں کے ساتھ حسنِ سلوک کرے گا وہیں رشتہ داروں کے ساتھ بھی تعلقات نبھائے گا اور خاطر مدارت کا اہتمام کرے گا۔ 4: سنن نسائی میں حضرت سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا &#39;&#39;مسکین آدمی کو صدقہ دینا صرف صدقہ ہے جبکہ قرابت دار کو صدقہ دینا صدقہ بھی ہے اور صلہ رحمی بھی‘‘۔ 5: صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ &#39;&#39;کسی کام کا بدلہ دینا صلہ رحمی نہیں ہے بلکہ صلہ رحمی کرنے والا وہ ہے کہ جب اس کے ساتھ صلہ رحمی کا معاملہ نہ کیا جا رہا ہو تب بھی وہ صلہ رحمی کرے‘‘۔احادیث مبارکہ میں جہاں صلہ رحمی کی تحسین کی گئی ہے وہیں قطع رحمی کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ اس حوالے سے چند اہم احادیث درج ذیل ہیں:1: صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا &#39;&#39;رحم کا تعلق رحمان سے جڑا ہوا ہے پس جو کوئی اس سے اپنے آپ کو جوڑتا ہے اللہ پاک نے فرمایا کہ میں بھی اس کو اپنے سے جوڑ لیتا ہوں اور جو کوئی اسے توڑتا ہے میں بھی اپنے آپ کو اس سے توڑ لیتا ہوں‘‘۔ 2: صحیح مسلم میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا &#39;&#39;رحم (خونی رشتوں کا سارا سلسلہ) عرش کے ساتھ چمٹا ہوا ہے اور یہ کہتا ہے: جس نے میرے تعلق کو جوڑ کر رکھا اللہ اس کے ساتھ تعلق جوڑے گا اور جس نے میرے تعلق کو توڑ دیا اللہ تعالیٰ اس سے تعلق توڑ لے گا‘‘۔ 3: صحیح بخاری میں حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریمﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ &#39;&#39;قطع رحمی کرنے والا جنت میں نہیں جائے گا‘‘۔بسا اوقات انسان جب رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک کرتا ہے تو وہ اس کے حسنِ سلوک کا اچھے طریقے سے جواب نہیں دیتے جس سے انسان بددل ہو جاتا ہے۔ ایسے انسان کو دل شکستہ نہیں ہونا چاہیے بلکہ نبی کریمﷺ کی اس حدیث شریف کو ذہن میں رکھنا چاہیے۔ صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کی: اللہ کے رسولﷺ! میرے (بعض) رشتہ دار ہیں‘ میں ان سے تعلق جوڑتا ہوں اور وہ مجھ سے تعلق توڑتے ہیں‘ میں ان کے ساتھ نیکی کرتا ہوں اور وہ میرے ساتھ برائی کرتے ہیں‘ میں بردباری کے ساتھ ان سے درگزر کرتا ہوں اور وہ میرے ساتھ جہالت کا سلوک کرتے ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا &#39;&#39;اگر تم ایسے ہی ہو جیسے تم نے کہا ہے تو تم ان کو جلتی ہوئی راکھ کھلا رہے ہو اور جب تک تم اس روش پر رہو گے‘ ان کے مقابلے میں اللہ کی طرف سے ہمیشہ ایک مددگار تمہارے ساتھ رہے گا‘‘۔صلہ رحمی کے حوالے سے کتاب وسنت کی تعلیمات واضح ہیں کہ جو شخص یہ کام کرے گا‘ اللہ تبارک وتعالیٰ اس کے لیے دنیا وآخرت کی کشادگیاں پیدا کرے گا اور جو شخص اس حوالے سے اللہ اور اس کے رسولﷺ کے احکامات کو نظر انداز کرے گا‘ وہ دنیا و آخرت کی بہت سی برکات سے محروم ہو کر اللہ تبارک وتعالیٰ کی ناراضی کا حقدار ٹھہرے گا۔ دعا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کو صلہ رحمی کرنے کی توفیق دے‘ آمین!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_19740082.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>