<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>عالمی بحران کے اثرات(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-28/11144</link><pubDate>Tue, 28 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-28/11144</guid><description>سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے گزشتہ روز ایک فیصد اضافے کے ساتھ ملک میں شرحِ سود ساڑھے گیارہ فیصد کر دی گئی ہے۔ یہ فیصلہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کے تناظر میں کیا گیا جیسا کہ مانیٹری کمیٹی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع نے میکرو اکنامک آؤٹ لک کیلئے خطرات میں اضافہ کیا ہے‘ خاص طور پر توانائی کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی قیمتیں‘ مال برداری کے اخراجات اور انشورنس پریمیم اب پہلے سے نمایاں طور پر زیادہ ہیں۔ علاوہ ازیں سپلائی چین میں تعطل نے بے یقینی میں اضافہ کیا ہے۔ ان عالمی تبدیلیوں کے اثرات آنے والے وقت میں اہم معاشی اشاریوں پر ظاہر ہوں گے اور اگلی چند سہ ماہیوں کے دوران مہنگائی ہدف سے اوپر رہے گی۔ اسی بنیاد پر کمیٹی نے قیمتوں میں استحکام کی خاطر سخت مانیٹری پالیسی برقرار رکھنا ضروری خیال کیا۔ موجودہ حالات میں افراطِ زر میں اضافے کی وجہ سے شرح سود میں اضافے کی توقع کی جا رہی تھی‘ تاہم اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ ملک عزیز میں شرح سود ایشیائی خطے میں سب سے زیادہ ہے‘ اور بلند ترین سطح کی شرح سود کے معیشت کی نمو پر منفی اثرات اپنی جگہ ہیں۔

کاروبار کی ترقی بڑی حد تک سرمائے کی دستیابی کی مرہونِ منت ہوتی ہے مگر ساڑھے گیارہ فیصد کی شرح سود پہ لیے گئے قرضوں کے ساتھ کاروبار کی لاگت غیر معمولی طور پر بڑھ جاتی اور منافع کی شرح کم ہو جاتی ہے۔ پاکستان جیسے ممالک جہاں بیروزگاری کی شرح خاصی زیادہ ہے اور ملکی آبادی میں نوجوان سب سے زیادہ ہیں اور یہی طبقہ بیروزگاری کا سب سے بڑا شکار ہے‘ یہاں روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کیلئے جو اقدامات ناگزیر ہیں‘ سستے قرضے ان میں اہم ترین ہیں۔ نوجوان بیشتر صورتوں میں صرف اس لیے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے قابل نہیں ہو پاتے کہ ان کے پاس سرمایہ نہیں‘ اور سرمائے کی فراہمی کا عمل ایک کارِ دشوار ہے۔ معاشی صورتحال کا یہ تشویشناک پہلو ملکی معاشی منصوبہ سازوں کی توجہ چاہتا ہے تاکہ نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے میں در پیش رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے اور معاشی نمو میں تیزی آئے‘ صنعتی اور پیداواری سرگرمیاں تیز ہوں اور سرمائے کی حرکت میں اضافہ ہو سکے۔ مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے اثرات موجودہ کساد بازاری کا بنیادی سبب ہیں جس کے منفی اثرات نے عالمی معیشت کیلئے چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔ توانائی کی سپلائی میں رکاوٹوں اور عالمی قیمتوں میں بڑے اضافے کے علاوہ اس کشیدگی نے معاشی عدم تحفظ اور عدم اعتمادمیں بھی اضافہ کیا ہے‘ تاہم اس صورتحال میں بہتری کیلئے جاری سفارتی کوششیں درست سمت میں آگے بڑھتی دکھائی دیتی ہیں اور ان سے بڑی توقعات وابستہ ہیں۔
آبنائے ہرمز کی بندش کے معاشی اثرات کو کووڈ کی عالمی وبا سے زیادہ شدید قرار دیا جا رہا ہے۔ انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے مطابق گزشتہ ماہ دنیا کی تیل کی تقریباً 10 فیصد اور ایل این جی کے پانچویں حصے کی سپلائی متاثر ہوئی۔ یہ صورتحال عالمی معیشت کیلئے تباہ کن ہے۔ تیل کی قیمتیں بے قابو ہو چکی ہیں۔ اس وقت برینٹ کروڈ 108 ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔ توانائی کی بڑھتی قیمتیں اور عالمی معاشی اثرات آبنائے ہرمز کے تنازعے کے جلد از جلد حل کا تقاضا کرتے ہیں۔ یہ واضح ہے کہ سپلائی چین کا یہ بحران مزید کچھ عرصہ برقرار رہا تو اس کے تباہ کن اثرات ناقابلِ تلافی ہو جائیں گے۔ کمزور معیشت والے ممالک کیلئے یہ صورتحال پہلے ہی بڑا المیہ بن چکی ہے لیکن اس بحران کے تباہ کن اثرات بڑی معیشتوں کیلئے بھی تاریخی خطرہ ثابت ہو سکتے ہیں؛ چنانچہ ضروری ہے کہ آبنائے ہرمز کے معاملے کو ایران امریکہ تنازعے کے مجموعی فریم ورک سے الگ کیا جائے۔ نہ ایران اس پر بندشیں عائد کرے اور نہ امریکہ اس کی ناکہ بندی کرے۔ احسن صورت یہ ہو گی کہ متحارب فریق پائیدار امن کی طرف آئیں اور اس کا اہتمام باہمی مذاکرات سے ممکن ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سندھ طاس معاہدہ‘ عملدرآمد ناگزیر(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-28/11143</link><pubDate>Tue, 28 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-28/11143</guid><description>آبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ کی معطلی کے غیر قانونی بھارتی اقدام سے پاکستان کو مستقبل میں پانی کی کمی کا سامنا ہو سکتا ہے اور زراعت کے شعبہ پر بھی منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔ پاکستان کی 80 فیصد سے زائد زراعت اور پن بجلی کا انحصار براہِ راست سندھ‘ جہلم اور چناب دریائوں پر ہے مگر بالائی ریاست ہونے کے باعث بھارت ان کے بہائو پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔ پاکستان کے حصے کے دریائوں پر بھارت کے ڈیم اور آبی منصوبے سوچی سمجھی سازش کا حصہ ہیں اور یہ آبی جارحیت نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ پاکستان کی سلامتی کیلئے بھی خطرہ ہے۔ پاکستان بارہا واضح کر چکا کہ پانی اس کیلئے ریڈ لائن ہے‘ جسے عبور کرنے کے نتائج بہتر نہیں ہوں گے۔ 1960ء کے سندھ طاس معاہدے میں دونوں ملکوں کے مابین پانی کے مسئلے کو باہمی رضا مندی سے طے کیا گیا تھا اور کسی فریق کو یکطرفہ طور پر اس معاہدے کو ختم کرنے یا التوا میں ڈالنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

ورلڈ بینک‘ جو اس معاہدے کا ضامن ہے‘ پہلے ہی بھارت کو خبردار کر چکا کہ وہ کسی بھی صورت اس معاہدے کو یکطرفہ طور پر رد یا ختم نہیں کر سکتا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی ضامن اور ورلڈ بینک اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے بھارت کو معاہدے کی پاسداری پر مجبور کریں‘ ورنہ پانی کا یہ تنازع جنوبی ایشیا کے دو جوہری ممالک کے مابین ایک ایسے تصادم کی راہ ہموار کر سکتا ہے جس کے اثرات پوری دنیا محسوس کرے گی۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>خواتین کے خلاف جرائم میں اضافہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-28/11142</link><pubDate>Tue, 28 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-28/11142</guid><description>لاہور میں خواتین اور بچوں کے خلاف سنگین جرائم کے بڑھتے ہوئے کیسز انتظامی کارکردگی پر بڑا سوالیہ نشان ہیں۔ایک خبر کے مطابق رواں سال کے پہلے چار ماہ میں خواتین اور بچوں کے خلاف سنگین جرائم کی مجموعی تعداد 2174 تک پہنچ گئی ہے‘ جو گزشتہ سال کی اسی مدت میں 1983 تھی۔ خواتین سے اجتماعی زیادتی کے کیسز میں 12 فیصد اور بچیوں سے زیادتی کے واقعات میں 47 فیصد سے زائد اضافہ ہوا۔ شہر میں ہر روز اوسطاً 10 کے لگ بھگ خواتین اغوا ہو ئیں۔ چار ماہ میں 1104 کیس رپورٹ ہو چکے جو گزشتہ سال 934تھے۔ کمسن بچوں کے اغوا میںبھی گزشتہ سال کی نسبت 20 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ۔ کسی بھی مہذب معاشرے میں خواتین اور بچے سب سے زیادہ تحفظ کے حقدار ہوتے ہیں لیکن یہاں صورتحال بالکل برعکس نظر آتی ہے۔

جب تک پولیس پیشہ ورانہ بنیادوں پر جرائم کے خلاف کام نہیں کرے گی‘ سنگین جرائم کا گراف اسی طرح بلند ہوتا رہے گا۔ ضرورت ہے کہ روایتی پولیسنگ کے بجائے جدید سائنسی خطوط پر تفتیش کی جائے اور خاص طور پر ان علاقوں کی نشاندہی کی جائے جہاں یہ وارداتیں تواتر سے ہو رہی ہیں۔ حکومت کو اس ہنگامی صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے خواتین اور بچوں کے تحفظ کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے چاہئیں۔ </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>زخمی پرندہ اور ہارورڈ کا ایم بی اے(محمد اظہارالحق)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-04-28/51846/49191020</link><pubDate>Tue, 28 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-04-28/51846/49191020</guid><description>اُس دن میں نسبتاً فارغ تھا۔فراغت ایک ایسی اصطلاح ہے جس کا مطلب بدلتا رہتا ہے۔ فرنگی ایسی اصطلاح کو Relative term کہتے ہیں۔ کبھی فراغت اس لیے حاصل ہو جاتی ہے کہ واقعی کوئی کام نہیں ہوتا۔ کبھی کام ہوتا ہے مگر اسے مؤخر کر کے ذہن سے وقتی طور پر بوجھ ہٹا دیا جاتا ہے۔ میں بھی اُس دن اصلاً فارغ نہیں تھا۔ ادب کا طالب علم کبھی فارغ ہوتا بھی نہیں۔ شہر کے مرکز میں ایک کام سے گیا۔ کام ہو چکا تو مرکز کا چکر لگانے کو دل چاہا۔ پرانی یادیں ذہن میں لَو دینے لگیں۔ دکانیں جو ہمارے عہدِ شباب میں آباد تھیں‘ اب تھیں ہی نہیں۔ سنیما گھر مرحوم ہو چکا تھا۔ ریستورانوں کی بھرمار تھی۔ لوگ باگ اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے۔ دفعتاً یاد آیا کہ یہیں ایک بہت پرانے دوست کے بیٹے کی بھی دکان ہے۔ پتا کرتا کرتا وہاں پہنچ گیا۔ بیس اکیس برس کا ایک خوش وضع لڑکا کھڑا تھا۔ یہ میرے دوست کا پوتا تھا۔ اسے دیکھ کر اور اس سے بات کر کے دل خوش ہو گیا۔ کہنے لگا: ابو اندر دفتر میں بیٹھے ہیں۔ اندر گیا! یہ اس بہت بڑی دکان کا عقبی حصہ تھا‘ جسے ایک شاندار دفتر میں تبدیل کیا گیا تھا۔ میرے دوست کا بیٹا ماشاء اللہ‘ شان وشوکت کے ساتھ اس دفتر میں بیٹھا تھا۔ ملازم آ جا رہے تھے۔ مجھے دیکھ کر خوش ہوا۔ بات چیت ہوئی۔ اس کی کامیابیوں کا سن کر دل باغ باغ ہو گیا۔ وہ اس بہت بڑے کاروباری مرکز کی انجمنِ تاجران کا صدر تھا۔ بزنس اس کا مشرقِ بعید اور یورپ تک پھیلا ہوا تھا۔ محنت کی اور پروردگار نے خوشحالی عطا کی۔ وہیں بیٹھے بیٹھے میں سوچ میں گم ہو گیا۔ ایک بہت پرانا واقعہ یاد آ گیا۔یہ کئی دہائیاں پہلے کا قصہ ہے۔ ہم پانچ چھ یونیورسٹی فیلو اکثر وبیشتر مل بیٹھتے تھے۔ ایک دوست پریشان رہتا۔ اس کا مسئلہ یہ تھا کہ اس کے بچے‘ بقول اس کے‘ پڑھائی میں دلچسپی نہیں لے رہے تھے۔ عرفِ عام میں ایسے بچوں کو نالائق کا لقب دیا جاتا ہے۔ وہ اپنی یہ پریشانی اکثر ہمارے ساتھ شیئر کرتا۔ ایک دن میں نے اور ایک دوست نے‘ اس سے پوچھا کہ چلو مان لیا وہ پڑھائی میں ایسے نہیں کہ تمہیںمطمئن کر سکیں۔ یہ بتاؤ کہ وہ چاہتے کیا ہیں؟ کہنے لگا: وہ بزنس کرنا چاہتے ہیں‘ کہتے ہیں دکانیں ڈال دیں۔ ہم نے اسے کہا کہ تم اللہ کا نام لے کر انہیں دکانیں ڈال دو۔ اب معلوم نہیں اس نے ہمارا مشورہ مانا یا کوئی اور وجہ تھی‘ بہرطور اس نے بچوں کو دکانیں ڈال دیں۔ جس دکان پر میں اُس وقت بیٹھا چائے پی رہا تھا‘ یہ اْنہی بچوں میں سے ایک بچہ تھا جو اب بچہ نہیں‘ بلکہ ایک کامیاب اور خوشحال تاجر تھا! میں سوچ رہا تھا کہ اگر یہ‘ میرے دوست کی خواہش کے مطابق‘ بی اے یا ایم اے کر لیتا تو موجودہ آسودگی کا شاید ایک چوتھائی حاصل کر پاتا!!زندگی کی حقیقتوں میں ایک بڑی حقیقت یہ ہے کہ کوئی بچہ نالائق نہیں ہوتا۔ ہر بچے میں ایک چنگاری ضرور موجود ہوتی ہے۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ کسی بچے میں کوئی ٹیلنٹ نہ ہو۔ اس ٹیلنٹ کو دریافت کرنا پڑتا ہے۔ ہمارے ہاں مسئلہ یہ ہے کہ ماں باپ ہر بزرجمہر سے مشورہ کرتے ہیں کہ بچے کو کون سی لائن اختیار کرنی چاہیے۔ صرف بچے سے نہیں پوچھا جاتا کہ اس کی دلچسپی کس شعبے میں ہے۔ جانے نہ جانے گُل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے۔ ہمارے ہاں دو میں سے ایک خبط‘ ایک آزار‘ اکثر ماں باپ کو ضرور لاحق ہوتا ہے۔ ایک یہ کہ بچہ ہر حال میں ڈاکٹر یا انجینئر بنے‘ یا ملٹری میں جائے یا سول سروس میں جا کر افسر بنے۔ اس کے لیے اسے مجبور کیا جاتا ہے۔ ایک صاحب کے بچے کے نمبر کم تھے۔ پری میڈیکل میں داخلہ نہیں مل رہا تھا۔ مجھے حکم دیا کہ داخلہ دلواؤں۔ میں نے پوچھا کہ ابھی سے اس کی کارکردگی کا یہ حال ہے تو میڈیکل کس طرح کرے گا؟ مگر ایسی باتیں کوئی نہیں سوچتا۔ ملازمت کے دوران احباب اپنے تعلیم یافتہ بچوں کے روزگار کے لیے کہتے تھے۔ میں انہیں کہتا کہ مقابلے کا امتحان دلوائیں۔ سفارش کے بغیر اچھی ملازمت ملے گی۔ ایک دن اہلیہ نے کہا کہ ہر نوجوان کو آپ سی ایس ایس کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ آپ کیوں نہیں سمجھتے کہ ہر انسان کا ذوق‘ ذہنی سطح‘ پسند اور دلچسپی مختلف ہوتی ہے۔ دوسرا خبط یہ ہوتا ہے کہ بچہ باپ دادا کا پیشہ اپنائے۔ باپ دادا تاجر تھے تو یہ بھی تاجر بنے۔ وہ سیاست میں تھے تو یہ بھی الیکشن لڑے۔ وہ زمیندار تھے تو یہ بھی زمین داری کرے۔ وہ پروفیسر تھے تو یہ بھی استاد بنے۔ وہ وکیل تھے تو یہ بھی وکالت کرے۔ حالانکہ اکثر وبیشتر‘ ایسا نہیں ہوتا‘ نہ ہو سکتا ہے۔ اذہان اور طبائع مختلف ہیں۔ صلاحیتیں اور میلانات میں فرق ہوتا ہے۔ ہر کام ہر شخص کے بس میں نہیں ہوتا۔ ایک اور بیماری یہ ہے کہ بچے کو بس سرکاری نوکری ملے۔ پنشن ملے گی۔ ڈسپلن بھی نہیں ہو گا۔ مرضی سے جائیں اور جب چاہیںچھٹی کر لیں۔ گویا سرکاری نوکری عیاشی ہے یا پکنک! حالانکہ نوکریاں دینا‘ اصلاً نجی شعبے کا کام ہے۔کیا ملازمت حاصل کرنا بہتر ہے یا دوسروں کو ملازمتیں دینا؟؟ ایک پرانی حکایت ہے۔ کسی نے دیکھا کہ ایک زخمی پرندہ گھونسلے میں پڑا ہے۔ ایک اور پرندہ اُڑ کر آتا ہے اور زخمی پرندے کے منہ میں چوگ ڈالتا ہے۔ دیکھنے والے نے نتیجہ یہ نکالا کہ اگر اس بیمار پرندے کو بیٹھے بٹھائے خوراک مل رہی ہے تو وہ کیوں کام کرے۔ زخمی پرندے کا رازق اس کا بھی تو رازق ہے۔ اس کے مرشد نے اسے کہا کہ بیوقوف!! تُو زخمی پرندے کے بجائے وہ پرندہ کیوں نہیں بنتا جو زخمی پرندے کو خوراک بہم پہنچا رہا ہے؟ گاؤں کے ایک عزیز نے ایک دن پیشکش کی کہ کمال کا دیسی مرغ کھانا ہے توگاؤں کے قریب‘ بڑی شاہراہ پر ایک ریستوران ہے‘ وہاں آئیے تاکہ کھلایا جائے۔ ریستوران دیکھ کر حیرت کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ یہ کئی ایکڑ میں تھا۔ کئی ٹرک‘ کئی کاریں‘ کئی ویگنیں‘ کئی سوزوکیاں اور کئی موٹر سائیکل کھڑے تھے!! ایک طرف قطار اندر قطار‘ فیملیز کے لیے کمرے بنے تھے۔ دوسری طرف طویل برآمدوں میںکرسیاں اور میز رکھے تھے۔ کہیں تخت پوش تھے جن پر دیدہ زیب قالینیں بچھی تھیں! ایک طرف درجنوں چارپائیاں تھیں۔ ہر جگہ لوگ کھانا کھا رہے تھے یا چائے پی رہے تھے۔ کم از کم بیس پچیس کارندے مسلسل کام میں مشغول تھے۔ تنوروں پر روٹیاں پکائی جا رہی تھیں۔ باورچی طرح طرح کے سالن پکا رہے تھے۔ چائے الگ بن رہی تھی اور مسلسل بن رہی تھی۔ جو عزیز میزبانی کر رہے تھے‘ انہوں نے مالک سے ملاقات کرائی۔ ایک بے حد سادہ شخص‘ سر پر کپڑے کی ٹوپی پہنے‘ کاندھے پر چادر رکھے‘ ایک عام سی کرسی پر بیٹھا تھا۔ یقین نہیں آ رہا تھا کہ چوبیس گھنٹے چلنے والا یہ وسیع وعریض ریستوران یہ نیم تعلیم یافتہ شخص چلا رہا ہے۔ اس میں تکبر نام کا بھی نہیں تھا۔ بے حد نرم گفتار تھا۔ بتایا گیا کہ بکروں اور مرغیوں کی افزائش کا کام الگ ہے۔ گندم پیسنے کی مشین اس کی اپنی ہے۔ کھانے اور چائے کی کوالٹی ایسی ہے کہ ایک بار آنے والا بار بار آتا ہے۔ ارد گرد کے گاؤں سے کنبے بھی‘ شہریوں کی طرح‘ شام کا کھانا کھانے آتے ہیں۔ یہ سب کچھ دیکھ کر میرا تبصرہ بہت مختصر تھا۔ اگر بی اے ایم اے کرتا تو کسی ایک کو بھی ملازمت نہ دے سکتا۔ اب بیس پچیس بلکہ اس سے بھی زیادہ‘ خاندان اس کی وجہ سے پرورش پا رہے ہیں۔ کتنا ٹیلنٹ تھا اس عام سے دیہاتی میں کہ اتنا بڑا کاروبار چلا رہا تھا۔ اچھا ہوا کہ اس کے ماں باپ نے اسے ہارورڈ سے ایم بی اے نہ کرایا ورنہ &#39;&#39;ڈاؤن سائزنگ‘‘ کے فلسفے جھاڑ کر لوگوں کے گھر اجاڑ رہا ہوتا!!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_57182973.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>دائرے میں سفر کرنے والے ہم لوگ(خالد مسعود خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-04-28/51847/79447299</link><pubDate>Tue, 28 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-04-28/51847/79447299</guid><description>میں یہ بات شرحِ صدر سے کہہ رہا ہوں کہ مجھے ایران‘ امریکہ اور اسرائیل کے درمیان خواہ عارضی ہی سہی‘ مگر جنگ رکوانے میں پاکستان کے کردار پر خوشی بھی ہے اور فخر بھی ہے۔ دنیا میں پاکستان کا نام روشن ہونا‘ پاکستان کی عزت اور وقار میں اضافہ ہونا اور پاکستان کی اہمیت کو تسلیم کرانا دراصل ایک بڑے منظر نامے میں میری عزت میں اضافہ کرانے اور میری قدر ومنزلت میں بہتری لانے کے مترادف ہے۔ پاکستان کی عزت میری عزت ہے اور بحیثیت مسافر میں اپنے ملک کی عزت میں اضافے کا براہ راست بینی فشری بھی ہوں۔ میری خوشی‘ میری مسرت اور میرا فخر وانبساط سب اپنی جگہ لیکن مجھے اس ملک میں رہنے کے لیے بنیادی سہولتیں‘ روزمرہ کی آسانیاں اور اپنے حقوق کی پاسداری بھی درکار ہے۔ عالم یہ ہے کہ آبنائے ہرمز کو کھلوانے کی تگ ودو میں ہمارا اپنا اسلام آباد بارہ دن بعد کھلا ہے۔ خلیج فارس کی ناکہ بندی کے جواب میں ہم نے وفاقی دارالحکومت کی ناکہ بندی کر رکھی تھی۔ ایران کے بحری جہاز خلیج فارس سے نہیں نکل سکتے تھے اور ہم اسلام آباد میں داخل نہیں ہو سکتے تھے۔ عالمی سطح پر پاکستانی کردار کو سراہنا‘ اس کی تعریف کرنا اور اس پر خوش ہونا ایک خوش کن بات ہے لیکن اس تصوراتی خوشی کی بنیاد پر میں ان معاملات اور مشکلات کو کیسے نظر انداز کر سکتا ہوں جو مجھے روز مرہ کی زندگی میں درپیش ہیں۔گزشتہ روز اخبار میں خبر تھی کہ حکومت پنجاب نے 10 لاکھ جانوروں کی برآمد کے لیے چین کی ایک گلوبل میٹ کمپنی سمیت سات کمپنیوں کے ساتھ ایم او یو قسم کا کوئی معاہدہ کرتے ہوئے ایک نہایت اہم سنگ میل عبور کیا ہے۔ یہ خوشخبری اپنی جگہ لیکن مجھے یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ میں اب اس سنگ میل کو عبور کرنے پر صوبہ پنجاب کو ایک بڑے علاقائی منظر نامے کا حصہ بننے پر خوشی کا اظہار کروں یا بطور پاکستانی صارف آنے والے دنوں میں اپنی حالت کا اندازہ لگا کر پریشان ہو جاؤں کہ ایسی خوشخبریاں ہم جیسے عام آدمیوں کے لیے ہمیشہ بُری ہی ثابت ہوتی ہیں۔صورتحال یہ ہے کہ ملکِ عزیز میں گوشت کے نرخ پہلے ہی عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکے ہیں۔ اس میں مرغ‘ بکرے اور گائے کے گوشت کی کوئی تخصیص نہیں۔ ہر قسم کے گوشت کی قیمتیں اپنے اپنے میدان میں آسمان کو چُھو رہی ہیں۔ عالمی طاقتوں میں صلح کرانے‘ تیسری عالمی جنگ کے امکانات کو مدہم کرنے اور خطے کی جغرافیائی سالمیت کی حفاظت کرنے میں دن رات مصروف ہماری حکومت گوشت کو سرکاری نرخوں پر فروخت کرانے میں ناکام ہے اور عزائم اتنے بلند ہیں کہ ممکت خداداد کے وارثوں نے ساری دنیا کی سلامتی کی ٹھیکیداری کا بوجھ اپنے ناتواں کندھوں پر اٹھا رکھا ہے۔مرغ‘ گائے اور بکرے کے گوشت کے سرکاری اور مارکیٹ کے نرخوں میں دو چار روپے نہیں سینکڑوں روپے فی کلوگرام کا فرق ہے۔ اول تو سرکار کو مارکیٹ میں سرکاری نرخ لاگو کرانے چاہئیں اور اگر سرکاری نرخ حقائق کے منافی ہیں تو سرکار کو اپنے سرکاری نرخ درست کر لینے چاہئیں‘ اس طرح ہم دل جلانے سے اور سرکار جگ ہنسائی سے بچ جائے گی۔ لیکن سرکار دونوں میں سے کوئی بھی کام کرنے کے بجائے دھنیا پی کر سو رہی ہے۔ تاہم جب اس کی آنکھ کھلتی ہے تو وہ عالمی سطح پر کردار سرانجام دینے کیلئے چل پڑتی ہے۔ جس طرح صدر زرداری کسی نامعلوم مسئلے کو حل کرنے کیلئے چین پہنچے ہوئے ہیں۔ مجھے فکر اس بات کی ہے کہ جب یہ 10 لاکھ مویشی برآمد کر دیے جائیں گے تو ملکِ عزیز میں سپلائی اور ڈیمانڈ کے توازن میں جو تھوڑا مزید کھنچاؤ پیدا ہو گا اس کو مدنظر رکھتے ہوئے میرا خیال نہیں‘ یقین ہے کہ گوشت کی قیمتیں مزید بڑھ جائیں گی اور مہنگائی کے مارے ہوئے عام آدمی کی دسترس سے دور ہوتا ہوا گوشت اس کی پہنچ سے بالکل ہی باہر ہو جائے گا۔ ہمارے ہاں روایت ہے کہ مارکیٹ میں کسی چیز کی حقیقی کمی واقع ہونا تو رہا ایک طرف‘ اگر اس کے بارے میں صرف افواہ ہی اڑ جائے تو یار لوگ فوری طور پر قیمتوں میں اضافہ کر دیتے ہیں۔ رمضان کا مہینہ طلب میں اضافے کی وجہ سے دکانداروں‘ خوردہ فروشوں‘ ذخیرہ اندوزوں اور تاجروں کے لیے بے تحاشا نفع کا پیغام لے کر آتا ہے جبکہ دوسری طرف رسد میں کمی تاجروں‘ دکانداروں‘ کاروباری حضرات اور خوردہ فروشوں کے لیے ویسی ہی مبارک ثابت ہوتی ہے جیسے طلب میں اضافہ ان کے لیے سعد ثابت ہوتا ہے۔ دراصل ہمیں کسی نہ کسی بہانے عام آدمی کی جیب سے زیادہ سے زیادہ پیسے نکلوانے ہیں۔ ہمیں جس مہینے میں چیزیں سستی کر کے اجر حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے ہم اس میں قیمتیں بڑھا کر پیدا گیری کا موقع پیدا کر لیتے ہیں۔ ہمارے ہاں کا باوا آدم ہی نرالا ہے۔ آپ یقین کریں مجھے اس حکومتی کامیابی سے سوائے اس بات کے کوئی اختلاف نہیں کہ نمبر ٹانکنے کے لیے بغیر کسی باقاعدہ منصوبہ بندی کے اٹھائے جانے والے اس قسم کے اقدام آخرکار عوام کے لیے باعثِ مصیبت ثابت ہوتے ہیں۔ حکومتوں کا پہلا کام اپنے عوام کی خبر گیری‘ سہولتوں کی فراہمی اور ضروریاتِ زندگی کی بہ آسانی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ ہمارے ہاں کا ذخیرہ اندوز اور مِل مالک پہلے گندم کی فراوانی کی رپورٹ دیتا ہے‘ پھر گندم برآمد کرتا ہے‘ پھر ملکی ضرورت کے لیے گندم کی شارٹیج کا غلغلہ مچتا ہے اور پھر دوبارہ گندم درآمد کی جاتی ہے۔ زیادتی‘ کمی اور درآمد وبرآمد کے اس چکر میں سرمایہ دار‘ مل مالک اور ذخیرہ اندوز خریدنے‘ بیچنے‘ منگوانے اور بھجوانے کے چکر میں اربوں روپے کھرے کر لیتا ہے جس کا سارا بوجھ بالآخر عوام کی جیب پر پڑتا ہے۔ یہی حال چینی کے معاملے میں ہوتا ہے۔ ہر دوسرے سال شوگر ملز مالکان شور مچاتے ہیں کہ چینی ملکی ضرورت سے بہت زیادہ ہے۔ اس کے بعد زائد مقدار کی چینی باہر بھیج کر پیسے کھڑے کر لیے جاتے ہیں۔ چند روز بعد علم ہوتا ہے کہ ملک میں موجود چینی کے ذخائر ملک کی ضرورت سے کم ہیں۔ پھر اس کمی کو پورا کرنے کی غرض سے چینی درآمد کی جاتی ہے۔ ہر بار مل مالکان‘ برآمد کنندگان‘ ذخیرہ اندوز اور کاروباری حضرات نوٹ چھاپ لیتے ہیں جبکہ عوام کا بیڑا غرق ہو جاتا ہے۔ ہم آج تک یہ فیصلہ نہیں کر سکے کہ کس چیز کی حقیقی ملکی ضرورت کتنی ہے۔ اور یہ فیصلہ تو تب ہو اگر ہمیں ملکی آبادی کا صحیح علم ہو۔ مردم شماری اور سرکاری دعوے ایک طرف‘ سچ یہ ہے کہ اب تک اس ملک کی حقیقی آبادی کا تعین ہی نہیں ہو سکا۔ جب آبادی کے درست اعداد وشمار میسر نہیں تو بھلا ملکی ضروریات کا درست حساب کیسے لگایا جا سکتا ہے۔اسی خبر میں ملک میں لائیو سٹاک کے فروغ اور تحفظ کے لیے ضلعی بلکہ تحصیل کی سطح پر سٹیٹ آف دی آرٹ ویٹرنری ہسپتال قائم کرنے کے منصوبے کا اعلان بھی شامل تھا۔ اس لطیفے پر سر پیٹنے کو جی چاہا۔ ریاستیں دوررس نتائج کی منصوبہ بندی کرتی ہیں ادھر عالم یہ ہے کہ پہلی چیزیں بنائی جاتی ہیں‘ پھر بیچی جاتی ہیں‘ پھر دوبارہ خریدی یا بنائی جاتی ہیں۔ یادش بخیر ملتان میں گھنٹہ گھر کے پاس حسین آگاہی روڈ پر ایک وٹرنری یعنی جانوروں کا ہسپتال ہوا کرتا تھا۔ میں بچپن میں اپنے بیمار بلی کے بچے کا علاج کرانے کے لیے وہاں گیا۔ ہسپتال کے وسیع صحن میں درجنوں بھینسیں‘ دو چار گھوڑے اور آٹھ دس بھیڑ بکریاں علاج کے لیے آئی ہوئی تھیں۔ ہسپتال میں ہر قسم کے مریض جانور موجود تھے۔ پھر اس جگہ کی کمرشل حیثیت کو سامنے رکھتے ہوئے یہاں ایک عدد پلازہ بنا دیا گیا۔ ہسپتال ختم ہو گیا۔ اسے کسی متبادل جگہ پر بھی منتقل نہ کیا گیا۔ جب وہاں سے گزرتا ہوں تو مجھے ویٹرنری ہسپتال‘ اس میں کھڑی گائیں‘ بھینسیں‘ گھوڑے‘ بھیڑ بکریاں اور اپنا بیمار بلی کا بچہ یاد آتا ہے۔ یہ خبر پڑھ کر ایک بار پھر سب کچھ یاد آ گیا۔ ہم دائرے کے سفر کے مارے ہوئے ہیں۔ عشروں کی پُرصعوبت مسافت کے بعد کیا دیکھتے ہیں کہ وہیں کے وہیں کھڑے ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90500073.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کامیاب سفارت کاری اور ہمارے پرانے روگ(ڈاکٹر حسین احمد پراچہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-04-28/51848/23109791</link><pubDate>Tue, 28 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-04-28/51848/23109791</guid><description>پاکستان کو خارجہ محاذ پر ربِّ ذوالجلال نے غیر معمولی کامیابی عطا کی ہے۔ دنیا جہان کے مسائل ومعاملات الجھانے اور سلجھانے والا امریکہ ایران کے ساتھ اپنے تنازع کے حل کیلئے پاکستان کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور امریکی قائدین پاکستان کے اشارے پر اسلام آباد کی طرف اڑان بھرنے کیلئے &#39;&#39;پابہ پرواز‘‘ بیٹھے ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ نے بھی حا لیہ دنوں یکے بعد دیگرے اسلام آباد کے دورے کئے ۔ وہ امیدِ بہار کا سندیسہ دے کر مسقط گئے۔ اتوار کے روز ایرانی وزیر خارجہ مسقط کے دورے کے بعد اسلام آباد واپس آئے اور فیلڈ مارشل سے ملاقات کر کے روس روانہ ہو گئے۔ اسے شٹل ڈپلومیسی کہتے ہیں۔ دیکھیے میرے رب کی شان! اس شٹل ڈپلومیسی کا مرکز واشنگٹن ہے نہ ماسکو‘  نیو یارک ہے نہ لندن۔ اس کا مرکز اسلامی جمہوریہ پاکستان کا دارالحکومت اسلام آباد ہے‘ یہاں وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سیّد عاصم منیر ہیں۔ایران نے بھی پاکستان کی سفارتکاری کی بہت تعریف کی ہے۔ اب ذرا داخلی صورتحال کا بھی جائزہ لیتے ہیں۔ پاکستان میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بے پناہ اضافے سے ضروریاتِ  زندگی کی ہر شے کو پَر لگ چکے ہیں۔ اپنے وطن کی سربلندی سے ہر پاکستانی مسرور اور سرشار ہے مگر اب مہنگائی کی مسلسل اور ناقابلِ برداشت ضربوں سے چُور چُور ہے۔ وہ مسرت و شادمانی کے ان لمحات میں زبان پر کوئی شکوہ تو نہیں لانا چاہتا مگر اب معاملہ اس کی برداشت سے باہر ہو چکا ہے۔ پاکستان میں بندۂ مزدور ہی نہیں بندۂ سفید پوش بھی مہنگائی کے مسلسل تازیانوں سے بلبلا رہا ہے۔ اس کی آہ وفغاں اوپر آسمانوں تک پہنچ رہی ہے۔کم از کم70 فیصد پاکستانی مہنگائی کے صدموں سے ڈھیر ہو کر نالہ وفریاد بلند کر رہے ہیں‘ دوسری طرف آج سوشل میڈیا کے دور میں جب یہی پریشان حال پاکستانی حکمرانوں کے اللے تلّلے اور اپنے ادا کردہ ٹیکسوں کی رقوم سے اُن کے وی وی آئی پی پروٹوکولز  دیکھتے ہیں تو دہرے صدمے سے نڈھال ہو جاتے ہیں۔ یہی حال ہماری ایلیٹ کلاس کا ہے۔ اس کا کلچر شہنشاہوں والا اور اُن کے ادا کردہ ٹیکس جونیئر کلرکوں والے ہیں۔ حکمران زبانی جمع خرچ میں تو بہت کچھ کہتے ہیں‘ مستقبل کے سبز باغ بھی سابقہ حکمرانوں کی طرح دکھاتے ہیں اور سنہری خواب بھی آنکھوں میں سجاتے ہیں۔ وہی خواب جو آج تک خوابِ پریشاں ثابت ہوتے چلے آ رہے ہیں۔ مہنگائی کے ساتھ ساتھ بدترین قسم کی بیروزگاری بھی ہے۔ مزدور موجود مگر مزدوری نہیں ملتی۔ ڈگری یافتہ نوجوان موجود مگر  نوکری نہیں ملتی۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ ٹیچر موجود مگر ٹیچنگ جاب نہیں ملتی۔ بجلی کے کمر توڑ بلوں سے نجات کیلئے سفید پوشوں نے زیورات بیچ کر سولر لگوائے‘ اب حکومت کہتی ہے کہ سورج کی شعاعوں کا ٹیکس دو۔ ان حالات میں کوئی جائے تو کہاں جائے۔مہنگائی کے بعد ہمارا دوسرا سب سے بڑا داخلی مسئلہ بدترین بدامنی ہے۔ شاہراہیں‘ شہروں کی اندرونی سڑکیں اور گلیاں تک محفوظ نہیں۔ پاکستان میں جرائم کی سب سے زیادہ شرح کراچی میں ہے۔ روشنیوں کے شہر میں ہر گزرتے دن کے ساتھ قتل‘ رہزنی‘ ڈاکا وغارت گری‘ اغوا اور لوٹ مار جیسے جرائم بڑھتے جا رہے ہیں۔ پاکستان کے سب سے بڑے تجارتی وصنعتی مرکز میں چیونٹی مسلنا مشکل اور بندہ مارنا آسان ہے۔ بڑی وارداتوں کے پیچھے بڑے بڑے منظم جرائم پیشہ گروہ ہوتے ہیں۔ وہاں پولیس بھی ہے اور رینجرز بھی مگر جرائم کا سلسلہ رکنے میں نہیں آ رہا۔پہلے لاہور کے امن وامان کی مثال دی جاتی تھی‘ اب لاہور سمیت پنجاب بھر میں جرائم کی شرح بہت بڑھ چکی ہے۔ ہسپتالوں کی بدحالی کا معاملہ ہو یا امن وامان کی ابتر صورتحال کا‘ وزیراعلیٰ کی ایک خوبی یہ ہے کہ وہ ناقص کارکردگی کا اعتراف کرتی ہیں اور ذمہ داروں سے بازپرس کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتیں۔ چند روز پیشتر پنجاب میں جرائم کی شرح بالخصوص ڈکیتی‘ اغوا‘ راہزنی اور قتل وغارت گری کے واقعات میں بے پناہ اضافے پر وزیراعلیٰ نے متعلقہ افسران کا ہنگامی اجلاس بلایا۔ اس اجلاس میں پولیس کی ناقص کارکردگی کو وزیراعلیٰ نے شرمناک قرار دیا۔ ناقص کارکردگی والے اضلاع میں شیخوپورہ‘ فیصل آباد‘ گجرات اور گوجرانوالہ نمایاں ہیں۔ منشیات کے واقعات کے اعداد وشمار دیکھ کر شرم محسوس ہوتی ہے۔حکومت کو چاہیے کہ تعلیمی اداروں میں منشیات کا دھندا کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرے ۔اگر لاء اینڈ آرڈر پر گرفت مضبوط ہوتی تو پھر اتنی خوفناک قانون شکنی کی نوبت نہ آتی۔ اب آئیے بلوچستان کی طرف یہاں غربت وجہالت کی حالتِ زار کس سے پوشیدہ ہے۔ بدامنی کا یہ حال ہے کہ ایک لہر ختم ہوتی ہے تو دوسری شروع ہو جاتی ہے۔ کبھی پنجاب کی طرف آتی بسوں اور کبھی ٹرینوں میں معصوم انسانوں کا قتل عام۔ بلوچستان کے مشہور مقام چاغی میں معدنیات سائٹ پر سونے اور تانبے کی تلاش کا ایک پروجیکٹ جاری ہے۔ گزشتہ ہفتے وہاں دہشت گردوں نے حملہ کیا اور ایک ترک سمیت دس افراد کو بے دردی سے قتل کر ڈالا۔ ان میں سے پانچ ماہرینِ ارضیات اور دو گارڈز تھے۔ ان کے علاوہ آٹھ ورکرز شدید زخمی ہوئے۔ خیبر پختونخوا میں ان دنوں دہشت گردی کی کارروائیوں میں خاصی کمی دکھائی دے رہی ہے۔مہنگائی میں حالیہ شدت تو امریکہ‘ اسرائیل کی ایران پر مسلط کردہ چالیس روزہ جنگ سے خلیج میں تیل کی پیداوار اور سپلائی پر پڑنے والے اثرات کی بنا پر آئی ہے مگر ہمارے روگ بہت پرانے ہیں۔ یہ روگ کوئی ایسے لا دوا بھی نہیں۔ کراچی کی ہی مثال لیجیے۔ کم از کم ڈھائی کروڑ کی آبادی کا شہر‘ پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی وصنعتی مرکز‘ مگر پینے کا صاف پانی میسر نہیں۔ اس کیلئے مہنگے داموں پانی کا ٹینکر منگوانا پڑے گا۔ کراچی کی کچی آبادیوں کو تو چھوڑیے‘ وہاں کی پکی آبادیوں کی حالت بھی انتہائی افسوسناک ہے۔ اندرونِ سندھ کی حالت تو اور بھی خراب وخستہ ہے۔وہاں سڑکوں پر گہرے گڑھوں اور کھڈوں نے اور جگہ جگہ پھیلے ہوئے گندگی کے ڈھیروں نے ملک کے سب سے بڑے شہر کو ناقابلِ رہائش بنا دیا ہے۔ آج قدرت نے دنیا کی نظر میں ہمارا امیج بہت بلند کر دیا ہے۔ عرب دنیا کے میڈیا میں پاکستان کے بارے میں مضامین پڑھتا ہوں تو سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے۔ ہمارے حکمرانوں کو خارجہ ذمہ داریوں سے عہدہ برا ہوتے ہوئے گھر کی بھی خبر لینی چاہیے۔ ایک بار رک کر سوچنا چاہیے کہ اس طرح کیسے کام چلے گا۔ چند ہفتے قبل ایک دوست خلیجی ملک نے ہم سے ساڑھے تین ارب ڈالر کا قرضہ واپس مانگا تو ہماری پریشانی کا یہ عالم تھا کہ اب کیا بنے گا؟ آئی ایم ایف اور دیگر دوستوں سے لیے ہوئے قرض کے سہارے ہم کب تک سروائیو کر سکتے ہیں؟ اپنے قدموں پر ہم کب کھڑے ہوں گے؟ وطنِ عزیز میں حقیقی سیاسی استحکام کب لائیں گے؟ہمارے پرانے روگ کیا ہیں؟ غربت‘ جہالت‘ بدامنی‘ مہنگائی اور بیروزگاری وغیرہ مگر ہمارا سب سے بڑا روگ سیاسی ہے۔ ہماری ایلیٹ کلاس مل بانٹ کر کھاتی نہیں‘ خود ہی سب کچھ ہڑپ کرنا چاہتی ہے۔ اسی طرح وہ سارے کا سارا اقتدار خود ہی سمیٹ لینا چاہتی ہے اور نیچے تک لوکل حکومتوں کی صورت میں تقسیم کرنے پر آمادہ نہیں ہوتی۔ یہ عوام کی نہیں‘ ہماری حکمران ایلیٹ کی ناکامی ہے۔ جب تک ہماری ایلیٹ کلاس اپنا رویہ نہیں بدلتی اس وقت تک ہم داخلی روگ کے اسی منحوس دائرے میں گھومتے رہیں گے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_70033906.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>وفاق سے شکایات کا معاشی پہلو(شاہد کاردار)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-kardar-/2026-04-28/51849/17781031</link><pubDate>Tue, 28 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-kardar-/2026-04-28/51849/17781031</guid><description>پاکستان کا وفاق دباؤ میں ہے۔ وہ بندھن جو ہمارے وفاق کو ایک قومی معاہدہ میں جوڑے رکھتے ہیں‘ تناؤ کا شکار ہیں۔ یوںلگتا ہے جیسے چھوٹی وفاقی اکائیوں کا غصہ بڑھ رہا ہے۔ اس کی دو وجوہ ہیں۔ ایک‘ وفاقی اکائیوں کی جمہوری عمل سے بے اطمینانی اور دوسرا یہ احساس کہ ان کے اپنے اثاثوں اور قدرتی وسائل جیسے کوئلہ‘ گیس‘ بندرگاہوں کے استعمال اور قیمت کے تعین میں انہیں ایسے بامعنی اختیارات حاصل نہیں جو وہ چاہتے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے کوشش کی گئی کہ سندھ اور خیبر پختونخوا میں سینکڑوں ایکڑ زمین کارپوریٹ کھیتی باڑی کیلئے مختص کر دی جائے۔ اس اقدام سے بدگمانیاں پیدا ہو گئیں‘ نتیجتاً اسلام آباد کو پیچھے ہٹنا پڑا۔ دو صوبوں‘ خیبر پختونخوا اور بلوچستان یہ سمجھتے ہیں کہ سرحد پار تجارت پر اسلام آباد کی گرفت ہے جبکہ اس معاملہ میں ان کی مشاورت کو بھی اہمیت دی جانی چاہیے۔ سندھ کو شکایت ہے کہ دریائی پانی کی تقسیم کیلئے ارسا کا ادارہ باہمی اتفاق رائے سے ایک معاہدہ کے تحت قائم کیا گیا تھا لیکن اس معاہدے سے انحراف کی کوششں کی گئی۔ چھوٹے صوبوں نے ان تجاویز کو بھی تشویش کی نظر سے دیکھا کہ موجودہ صوبوں کو چھوٹی اکائیوں میں تقسیم کر دیا جائے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ عمل عملاً اٹھارہویں ترمیم کو کمزور کرنے کے مترادف ہو گا۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کو ازسر نو ترتیب دیا جائے تاکہ قومی محاصل میں صوبوں کا حصہ کم کر دیا جائے اور اخراجات کا زیادہ تر بوجھ صوبائی سطح پر منتقل کیا جائے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ صوبوں کے ساتھ یہ سب کچھ تو کیا جائے لیکن وفاقی حکومت کے حجم‘ اخراجات یا حد سے بڑھے ہوئے دائرہ کار کو معقول نہ بنایا جائے۔خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ایسی گہری سماجی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں جن کے سبب روایتی سیاسی اشرافیہ غیر متعلق ہو گئی ہے۔ یہاں پر قیادت اب نوجوانوں نے سنبھال لی ہے۔ ایک بے چین اور مشتعل نوجوان اب سیاسی بیانیے کی قیادت کر رہا ہے‘ اور بلوچستان میں آبادی کے بڑے طبقات بظاہر پاکستانی ڈھانچے کے اندر حل تلاش کرنے پر آمادہ نہیں۔ ان شکایات کا تعلق ریاست کی ساخت سے ہے اور ان کی جڑیں گہری ہیں۔خیبر پختونخوا کے خدشات میں وہ حقوق نہ ملنا سرفہرست ہیں‘ جن کا وعدہ کیا گیا تھا (جیسا کہ پن بجلی کے منافع کی بروقت ادائیگی)۔ ریاست کے اس طرزِ عمل سے مزید مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ پشتون پاکستانی ریاست میں بنیادی حصہ دار ہیں۔ وہ مسلح افواج‘ سول انتظامیہ‘ تجارت اور قومی نقل وحمل کے ڈھانچے میں نمایاں طور پر موجود ہیں‘ اس کے باوجود صوبے میں یہ تاثر موجود ہے کہ وہ وفاق میں مکمل طور پر قابلِ قبول شراکت دار نہیں سمجھے جاتے۔ یہ تاثر نہ صرف خطرناک ہے بلکہ یہ پاکستان کے بنیادی تصور کو کمزور کرتا ہے۔ چھوٹے صوبوں میں اس بے چینی اور اضطراب سے نمٹنے کیلئے ضروری ہے کہ وفاقی ڈھانچہ کی ازسرنو تشکیل کی جائے۔ایک قابلِ عمل وفاق اب آئین کی نئی صورت گری کا تقاضا کرتا ہے۔ اٹھارہویں ترمیم سے مزید آگے بڑھ کر صوبائی خود مختاری کو مضبوط بنانا ہوگا اور اہم قدرتی وسائل (کوئلہ‘ تیل‘ گیس‘ معدنیات) کا مکمل اختیار ان صوبوں کے حوالے کرنا ہوگا جہاں وہ موجود ہیں۔ تصور کریں اگر پاکستان کی موجودہ سیاسی معیشت (پولیٹکل اکانومی) کو امریکہ میں منتقل کر دیا جائے تو ایسی صورت میں ریاست ٹیکساس اپنے تمام تیل کے باوجود امیر نہ ہوتی۔ نیویارک اور واشنگٹن اس کی دولت پر موج کر رہے ہوتے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس وقت ٹیکساس کی ریاست اپنی زمین کی پیداوار کی مالک ہے اور اس کو کنٹرول کرتی ہے۔ پاکستان میں وسائل پیدا کرنے والے صوبوں کی شہ رگیں اور قیمتی ترین اثاثے عملاً اسلام آباد کے کنٹرول میں ہیں۔ تاہم وسائل کے استعمال میں صوبائی اشرافیہ کی بدعنوانی بھی اپنی جگہ ایک حقیقت ہے۔یہ سمجھا جاتا ہے کہ پنجاب اپنے ترقیاتی راستے کا تعین کرنے کیلئے آزاد ہے لیکن بلوچستان اور خاصی حد تک سندھ کے پاس اس سطح کی آزادی نہیں۔ ان کے چند بڑے بڑے اثاثے‘ معدنیات اور ساحلی پٹی وفاقی حکومت کے کنٹرول میں ہیں۔ خیبر پختونخوا کو بھی اسی طرح کے مسائل درپیش ہیں۔ اسے اپنی گیس پر کنٹرول حاصل نہیں اور خالص پن بجلی کے منافع کی ادائیگی میں مسلسل تاخیر کا سامنا رہتا ہے۔ یہ دعویٰ کمزور ہے کہ صوبے مشترکہ مفادات کونسل کے ذریعے وفاقی فیصلوں میں &#39;&#39;حصہ لیتے‘‘ ہیں یا رائلٹی کے ذریعے انہیں معاوضہ ملتا ہے۔ حقیقتاً صوبوں کی ان معاملات میں شرکت محدود ہے کیونکہ مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس شاذ ونادر ہی ہوتا ہے‘ سو یہ ادارہ مؤثر نہیں۔ رائلٹی کی مقدار بھی معمولی ہے۔ ان دونوںمیں سے کوئی بھی بات ایسی نہیں جس کی وجہ سے صوبوں کو اپنے وسائل کی ملکیت یا ان میں فیصلہ سازی کا اختیار ملتا ہو۔ ان امور میں وسائل کا استخراج‘ قیمت کا تعین اور لیز شامل ہیں۔ یہ معاملات تسلی بخش طور پر طے کرنے کی خاطر کوئی متبادل ادارہ بنانے کے بجائے ضروری ہے کہ حقیقی طور پر ایک بااختیار مشترکہ مفادات کونسل قائم کی جائے اور اس کا باقاعدہ اجلاس منعقد کیا جائے۔وفاقی ترجمان شکوہ کرتے ہیں کہ آئین کے آرٹیکل 158 کے تحت کسی ایک صوبے کے مقامی صارفین کو ترجیح دینے سے وسائل کا &#39;&#39;غیر پیداواری استعمال‘‘ ہوتا ہے اور یہ دوسرے صوبوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔ لیکن یہ مؤقف اس حقیقت کو نظرانداز کر دیتا ہے کہ پنجاب کی صوبائی حکومت اکثر گندم کی نقل وحرکت پر دفعہ 144 نافذ کر دیتی ہے جس سے وہ مارکیٹ کی قیمت سے کم نرخ پر گندم خرید کر اپنے صوبے کے شہریوں کو سبسڈی فراہم کرتی ہے۔ ناانصافی کے احساس کی کئی اور مثالیں بھی ہیں‘ مثلاً پنجاب اور سندھ اکثر گندم‘ کپاس اور متعلقہ مصنوعات خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو عالمی قیمتوں سے زیادہ پر فروخت کرتے رہے ہیں جبکہ مؤخر الذکر صوبوں کو مجبور کیا گیا کہ وہ گیس ملک کو عالمی قیمت سے کم پر فراہم کریں۔ صوبوں کوبین الاقوامی معیار سے کم رائلٹی دی جاتی ہے اور وہ بھی تاخیر سے۔ حالانکہ پالیسی ساز اس پر اصرار کرتے ہیں کہ مارکیٹ کو عالمی منڈی کی قیمتوں کے مطابق ہونا چاہیے‘ اس سے نجی سرمایہ کاری اور وسائل کی مؤثر تقسیم کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے‘ یہی اصول خیبر پختونخوا اور بلوچستان سے نکلنے والی معدنیات پر بھی لاگو ہونا چاہیے۔ وسائل پیدا کرنے والے صوبوں کو عالمی قیمتیں ملنی چاہئیں جیسے دیگر اشیا کے صارفین معمول کے مطابق ادا کرتے ہیں۔مزید برآں‘ اسلام آباد اُن ذمہ داریوں سے بھی چمٹا ہوا ہے جو اس کے دائرہ اختیار میں نہیں آنی چاہئیں۔ بلوچستان میں وہ اب بھی گوادر‘ گڈانی (چینی شراکت داروں کے ساتھ)‘ سیندک‘ ریکوڈک اور حتیٰ کہ صوبائی سڑکوں جیسے منصوبے چلا رہا ہے۔ اس سلسلے میں اکثر یہ جواز پیش کیا جاتا ہے کہ صوبے کے پاس یہ کام کرنے کی صلاحیت نہیں حالانکہ خود وفاقی ادارے بھی عملدرآمد کیلئے نجی ٹھیکیداروں کی خدمات لیتے ہیں۔ مرکز اپنی ذمہ داریاں چھوڑنے یا انہیں معقول حجم تک محدود کرنے سے انکاری ہے‘ حالانکہ اس کا دائرہ کار بہت زیادہ پھیلا ہوا ہے اور اہلیت محدود ہے۔ اکثر یہ دلیل دی جاتی ہے کہ اگر صوبوں کو وسائل سے متعلق اختیارات منتقل کیے گئے تو رقوم &#39;&#39;بدعنوان صوبائی اشرافیہ‘‘ کے ہاتھوں غلط استعمال ہو جائیں گی۔ یہ رویہ مضحکہ خیز ہے۔ جو لوگ یہ دلیل دیتے ہیں وہ خود پاک صاف نہیں۔ نہ وہ اُس صوبے کے ووٹروں کے سامنے جوابدہ ہیں۔ یہ رقوم اکثر ایسے منصوبوں پرخرچ کی جاتی ہیں جن کو صوبائی حکومتیں شاید خود ترجیح نہ دیتیں۔ اگر اس دلیل کو منطقی انجام تک لے جائیں تو مطلب یہ بنتا ہے کہ ہمیں &#39;&#39;ایماندار اور خیر خواہ‘‘ برطانوی راج کی کالونی رہنا چاہیے تھا۔ موجودہ غیر منصفانہ انتظام کے باعث پیدا ہونے والی خرابی کا حل واضح ہے کہ ایک حقیقی وفاقی نظام کا قیام عمل میں لایا جائے نہ کہ ایسا نظام جو مبہم اور غلط تصورات کے تحت بنایا گیا ہو۔ سمت درست کرنے کیلئے وقت بہت کم ہے۔ اگر ہم نے بہتری کیلئے اقدامات نہ کیے تو بگاڑ بڑھ جائے گا۔ وفاق مزید دبائو کا شکار ہو سکتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_78012569.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پاکستان کی متبادل تجارتی پالیسی(رشید صافی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-04-28/51850/94331610</link><pubDate>Tue, 28 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-04-28/51850/94331610</guid><description>پاکستان اور افغانستان کے مابین چین کے شہر اُرمچی میں سہ فریقی مشاورت کے بعد سفارتی فضائوں میں نمایاں تبدیلی محسوس کی جا رہی ہے۔ اس اہم نشست کے ثمرات اب سرحدوں پر نمایاں دکھائی دے رہے ہیں‘ جہاں دراندازی اور دہشت گردی کی لہر میں واضح ٹھہرائو آیا ہے۔ یہ پیش رفت محض ایک عارضی جنگ بندی نہیں بلکہ دونوں ریاستوں کے مابین سکیورٹی تعاون کے ایک نئے باب کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے‘ جو خطے میں پائیدار امن کی منزل کی جانب ایک فیصلہ کن قدم ہے۔ افغان عبوری حکومت کے رویے میں اس تبدیلی کی عکاسی افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی کے حالیہ بیان سے بھی ہوتی ہے۔ امیر خان متقی نے کابل میں وزارتِ خارجہ کے حکام‘ سفارت کاروں اور امارتِ اسلامیہ کے میڈیا سیل سے وابستہ افراد کے ایک خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایک سخت انتباہ جاری کیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا صارفین اور حکام کو دو ٹوک ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ پاکستان کے خلاف منفی پروپیگنڈے اور حساس معاملات پر غیر ذمہ دارانہ پوسٹوں سے مکمل اجتناب کریں۔ امیر خان متقی نے اس بات پر زور دیا کہ عوام اور میڈیا کو دو طرفہ تعلقات کی حساسیت کو سمجھنا چاہیے اور کسی بھی ایسی سرگرمی کا حصہ نہیں بننا چاہیے جو دونوں برادر ممالک کے مابین اشتعال انگیزی یا غلط فہمی کا باعث بنے۔ طالبان کی وزارتِ خارجہ سے جاری کردہ اس وڈیو پیغام میں انہوں نے واضح کیا کہ ارمچی مذاکرات کے بعد پاکستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے واضح اشارے ملے ہیں‘اب وقت آ گیا ہے کہ ڈیجیٹل محاذ آرائی اور دشمنی کے بجائے مفاہمت اور سنجیدہ گفتگو کے عمل کو فروغ دیا جائے۔افغان قیادت کے بدلے ہوئے لہجے کے پیچھے دو بڑے عوامل کارفرما ہیں۔ اول یہ کہ پاکستان نے حالیہ عرصے میں دراندازی کا مؤثر اور بھرپور جواب دیا ہے‘ جس سے یہ پیغام واضح ہو گیا کہ ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔ دوم‘ پاکستان نے اپنی معیشت اور تجارت کو افغانستان کے حالات سے غیر مشروط طور پر آزاد کرنے کے لیے اپنی سٹرٹیجک سمت تبدیل کر لی ہے۔ پاکستان نے وسطی ایشیائی ریاستوں تک رسائی کے لیے چین‘ کرغزستان‘ قازقستان کوریڈور کو اپنا کر یہ ثابت کیا ہے کہ پاکستان اب تجارتی راہداریوں کے لیے صرف ایک ہی راستے پر انحصار نہیں کرے گا۔ یہ تبدیلی نہ صرف معاشی لحاظ سے اہم ہے بلکہ اس نے پاکستان کو جغرافیائی سیاست میں ایک نیا اور مضبوط مقام عطا کیا ہے۔یہ حقیقت ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے مابین سرحدی تنازعات اور تجارتی گزرگاہوں کی بار بار بندش نے ماضی میں پاکستانی تاجروں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ اس غیر یقینی صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان نے شاہراہ قراقرم کو متبادل روٹ کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ اب پاکستانی تجارتی قافلے خنجراب کے بلند وبالا مقام سے گزر کر چین میں داخل ہوتے ہیں اور وہاں سے وسطی ایشیائی ریاستوں تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔ اس راستے کے فعال ہونے سے سرحدوں کی اچانک بندش کے خوف سے بھی نجات مل گئی ہے۔ یہ کوریڈور اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کی وسطی ایشیا تک رسائی اب کسی ایک ملک کی مرضی کی محتاج نہیں رہی۔ اس نئی تجارتی حکمت عملی کو بین الاقوامی سطح پر قانونی تحفظ فراہم کرنے کے لیے کواڈریلیٹرل ٹریفک اِن ٹرانزٹ ایگریمنٹ (QTTA) ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستان‘ چین‘ کرغزستان اور قازقستان کے مابین یہ چار فریقی معاہدہ ایک ایسی راہداری فراہم کرتا ہے جو افغانستان کو مکمل طور پر بائی پاس کرتی ہے۔ اس معاہدے کے تحت کسٹمز کے پیچیدہ طریقہ کار کو سادہ بنایا گیا ہے اور ٹرانزٹ فیسوں میں کمی کی گئی ہے‘ جس کی بدولت پاکستانی مصنوعات اب عالمی منڈیوں میں بہتر مسابقتی قیمتوں پر دستیاب ہو سکتی ہیں۔ یہ فریم ورک محض ایک تجارتی راستہ نہیں بلکہ خطے میں پاکستان کے معاشی اثر ورسوخ کو بڑھانے کا ایک مؤثر ذریعہ بن چکا ہے۔پاکستان کی حکمت عملی صرف شمال تک محدود نہیں بلکہ مغرب کی جانب بھی متبادل راستوں پر توجہ مرکوز ہے۔ ایران کے ذریعے ترکمانستان اور آذربائیجان تک رسائی اس کثیر جہتی منصوبے کا حصہ ہے۔ جب کبھی طورخم یا چمن کے بارڈرز پر تنائو بڑھے گا تو پاکستان تفتان بارڈر کے ذریعے اپنی تجارت کو رواں رکھے گا۔ یہ راستہ ان تاجروں کے لیے ایک نعمت ثابت ہوا ہے جو وسطی ایشیا کے ممالک کے ساتھ کاروبار کرنا چاہتے ہیں۔ اس متنوع تجارتی ماڈل کا بنیادی مقصد معیشت کو کسی بھی قسم کے اچانک سیاسی یا سکیورٹی بحران سے محفوظ رکھنا ہے۔ طویل مدتی وژن کے تحت پاکستان اب اپنی بندرگاہوں بالخصوص گوادر اور پورٹ قاسم کو سی پیک کے وسیع نیٹ ورک کے ذریعے براہِ راست چین اور شمالی علاقوں سے جوڑ رہا ہے۔ اگرچہ جغرافیائی طور پر افغانستان کا راستہ مختصر معلوم ہوتا ہے لیکن وہاں دائمی عدم استحکام کی صورتحال نے پاکستان کو ہمالیہ کے پار‘ چینی سرحدوں سے منسلک راستوں پر بھاری سرمایہ کاری کرنے پر آمادہ کیا۔ اس نئے تجارتی رخ نے عالمی برادری کو یہ پیغام دیا ہے کہ پاکستان اب ایک &#39;&#39;کنیکٹوٹی ہب‘‘ بن چکا ہے‘ جہاں سے تجارت کے متعدد راستے نکلتے ہیں۔ اس سے نہ صرف برآمدات میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ وسطی ایشیائی ریاستوں کو بھی بحیرہ عرب تک پہنچنے کے لیے ایک مستقل اور قابلِ بھروسا پارٹنر مل گیا ہے۔اُرمچی مذاکرات کے بعد کابل حکومت نے کالعدم ٹی ٹی پی کے خلاف کچھ اقدامات کیے ہیں اور ان کا گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے۔ اگرچہ یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ افغان طالبان پاکستان کے تمام تحفظات دور کرنے کے لیے مکمل طور پر سنجیدہ ہیں لیکن مجموعی فضا میں بہتری سے انکار ممکن نہیں۔ پاکستان اس وقت ایران اور امریکہ کے مابین ہونے والے مذاکرات پر بھی نظر رکھے ہوئے ہے کیونکہ ان مذاکرات کی کامیابی خطے میں استحکام لائے گی‘ جس کے بعد پاک افغان مذاکرات کا دوسرا دور زیادہ سازگار ماحول میں شروع ہو سکے گا۔ چین اس تمام عمل میں ایک مخلص ثالث اور معاشی شراکت دار کے طور پر ابھرا ہے۔ وہ خطے میں امن اور استحکام کو اپنے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کی کامیابی کے لیے ضروری سمجھتا ہے۔ صدرِ مملکت آصف علی زرداری کا دورۂ چین اس تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ سفارتی حلقوں کے مطابق اس موقع پر افغانستان سے دراندازی اور علاقائی سکیورٹی کے حساس معاملات پر بھی بات چیت متوقع ہے۔ پاکستان کی یہ سفارتی سرگرمی ظاہر کرتی ہے کہ وہ اپنے ہمسایوں کے ساتھ پُرامن بقائے باہمی کا خواہاں ہے لیکن ساتھ ہی اپنی معاشی اور دفاعی خودمختاری پر کسی قسم کی آنچ نہیں آنے دے گا۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان کی متبادل تجارتی اور سکیورٹی پالیسی ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ افغانستان کے ساتھ تعلقات کی بہتری کے لیے مذاکرات کا راستہ ہمیشہ کھلا رہے گا لیکن پاکستان نے اپنی معاشی تقدیر کو کسی ایک سرحد کے مرہونِ منت نہ رکھ کر دور اندیشی کا ثبوت دیا ہے۔ اب پاکستان کی تجارت ہمالیہ کی چوٹیوں سے لے کر بحیرہ عرب کے ساحلوں تک پھیلی ہوئی ہے‘ جو اس کے مستحکم معاشی مستقبل کی ضامن ہے۔ اُرمچی سے شروع ہونے والا یہ سفر اگر اپنی درست سمت میں جاری رہا تو نہ صرف پاکستان اور افغانستان بلکہ پورا وسطی ایشیا امن اور خوشحالی کا گہوارہ بن جائے گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/222_48272610.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>گاہے گاہے باز خواں…(5)(حافظ محمد ادریس)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/hafiz-muhammad-idreess/2026-04-28/51851/38644904</link><pubDate>Tue, 28 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/hafiz-muhammad-idreess/2026-04-28/51851/38644904</guid><description>جنرل محمد حسین انصاری مرحوم 1971ء کی جنگ میں مشرقی پاکستان میں خدمات سرانجام دے رہے تھے۔ وہ 2001ء میں جماعت اسلامی کے رکن بنے اور مرکزِ جماعت میں اعزازی خدمات سر انجام دیں۔ اسی دوران ان کی وفات 14جنوری 2004ء کو ہوئی۔ مرکز میں قیام کے دوران مرحوم سے بہت قریبی تعلقات قائم ہوئے‘ جن کی حسین یادیں اب تک دل میں موجزن ہیں۔ ان کی وفات پر میں نے ایک مضمون بھی لکھا جو میری کتاب &#39;&#39;عزیمت کے راہی‘‘ (جلد اول) میں بھی شامل کیا گیا ہے۔جنرل انصاری سے ایک دن سقوطِ مشرقی پاکستان کے موضوع پر بات ہو رہی تھی۔ اس موقع پر ان کا کہنا تھا: بلاشبہ یہ ہماری تاریخ کا بہت بڑا المیہ تھا لیکن بدقسمتی اور بدتدبیری سے مشرقی پاکستان میں معروضی حالات ایسے ہو گئے تھے کہ کوئی فوج بھی جنگ جاری نہیں رکھ سکتی تھی۔ البدر اور جماعت اسلامی کے کارکنوں کے سوا پورے مشرقی پاکستان میں بنگلہ دیش اور عوامی لیگ کی حمایت میں ساری آبادی ریاست کے خلاف ہو چکی تھی۔ مغربی پاکستان سے رابطہ ٹوٹ چکا تھا اور حالت یہ تھی کہ فوج کے لیے سبزی تک مغربی پاکستان سے آیا کرتی تھی۔ بہت سے کردار پردے کے پیچھے سقوطِ ڈھاکہ کے لیے منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ باہر کے دشمنوں کے ساتھ اپنوں کی سازشیں بھی دشمن کا کام آسان کرنے کا ذریعہ بن رہی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جنرل نیازی کی جگہ کوئی اور جرنیل ہوتا تو بھی وہی کرتا جو انہوں نے کیا۔ البتہ اپنا پستول خود دشمن کو پیش کرنا اچھا کام نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا &#39;&#39;میں جس محاذ (جیسور) پر ذمہ داری ادا کر رہا تھا وہاں میں نے اپنے ہم منصب بھارتی افسر سے کہا کہ میں نہ تو ہتھیار پھینکوں گا اور نہ ہی اپنے ہاتھ سے اپنا پستول کمر سے کھول کر تمہارے حوالے کروں گا؛ البتہ تم اتارنا چاہو تو اتار لو‘‘۔ جنرل نیازی صاحب نے اپنا پستول خود جنرل جگجیت سنگھ اروڑاکے حوالے کیا‘ یہی اصل غلطی تھی ورنہ باقی تو حالات واقعتاً ہاتھ سے نکل چکے تھے۔بات چل رہی تھی عبدالمالک شہید کی شہادت اور اس کے نتیجے میں میری گرفتاری کی۔ عبدالمالک کی شہادت پر مغربی پاکستان سے‘ میرے علم کی حد تک‘ صرف میں ہی گرفتار ہوا تھا۔ مشرقی پاکستان میں میری گرفتاری پر بڑے عظیم الشان احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ اس دور میں مشرقی پاکستانی طلبہ جب کبھی مغربی پاکستان آتے تو میرا نام سن کر چونک اٹھتے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ میری گرفتاری کے خلاف مظاہرے کرتے ہوئے زور زور سے نعرے لگاتے تھے: &#39;&#39;ادریس بھائی... مکتی چائی‘‘۔ میں اس کیس میں سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے باعزت طور پر بری ہوا۔ کیس سمری ملٹری عدالت منعقدہ پیپلز ہائوس میں سنا گیا اور میجر عزیز بھٹی نامی افسر نے سماعت کی۔ (موصوف میجر عزیز بھٹی شہید کے ہم نام تھے مگر یہ فردِ دیگر تھے۔ معروف میجر عزیز بھٹی (نشانِ حیدر) 1965ء کی جنگ میں شہادت پا چکے تھے)میں نے کیس کی سماعت کے دوران ایف آئی آر میں لگائے گئے الزامات کی تردید کی۔ جو فقرے میری طرف منسوب کیے گئے تھے‘ میں نے وہ کہے ہی نہیں تھے۔ تقریر ریکارڈ تو نہیں کی گئی تھی؛ البتہ اس وقت تک مجھے پوری طرح ازبر تھی اور دفاع میں شہادت دینے والے سب گواہوں کو بھی یاد تھی۔ دوتین طلبہ کے علاوہ معروف صحافی جناب چودھری جیلانی بی اے اور ایک مشرقی پاکستانی بھائی جو قاری تھے (نام یاد نہیں رہا) بطور گواہ پیش ہوئے۔ میجر صاحب نے کئی سوالوں کے بعد جیلانی صاحب سے یہ سوال بھی پوچھا کہ یہ طلبہ کا پروگرام تھا تو وہ وہاں کیوں شامل ہوئے؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں ایک ہفت روزہ جریدے (ایشیا) کا ایڈیٹر ہوں اور رپورٹنگ کے لیے بطور صحافی وہاں گیا تھا۔میجر صاحب سنجیدہ افسر تھے۔ ان کی گفتگو بڑی سپاٹ اور سادہ تھی۔ انہوں نے دوسرے گواہ قاری صاحب سے سوال کیا کہ وہ کس حیثیت میں اس پروگرام کا حصہ بنے؟ قاری صاحب نے کہا کہ وہ جمعیت کے سابق کارکن ہیں اور ان کا تعلق مشرقی پاکستان سے ہے‘ اس کے علاوہ ان کے عبدالمالک شہید سے بھی دوستانہ تعلقات تھے‘ اسی وجہ سے انہوں نے اس پروگرام میں شرکت کی۔ میجر صاحب نے مزید کوئی سوال نہیں کیا۔ البتہ مجھ سے کئی سوالات پوچھے جن کی تفصیل اب یاد نہیں۔ میں تقریباً سوا ماہ جیل میں رہا۔ برأت کے فیصلے سے دو روز قبل فوجی عدالت میں مجھے پیش کیا گیا اور عدالت نے میری ضمانت منظور کر لی۔ ضمانت کے وقت چودھری غلام جیلانی بی اے‘ جماعت اسلامی کے بزرگان کے علاوہ طلبہ کی بڑی تعداد پیپلز ہائوس میں موجود تھی۔ لاہور کے تمام اخبارات کے نمائندے اور فوٹو گرافرز بھی اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کر رہے تھے۔میری ضمانت کے اگلے روز برکت علی اسلامیہ ہال میں ایک جلسہ تھا‘ جو پہلے سے طے شدہ تھا اور اس کی خوب پبلسٹی کی گئی تھی۔ میرے جیل میں ہونے کی وجہ سے مقررین میں میرا نام شامل نہ تھا مگر ضمانت کے بعد طلبہ کا شدید اصرار تھا کہ مجھے بطور ناظمِ لاہور جمعیت ضرور خطاب کرنا چاہیے۔ چنانچہ میں نے بھی اس جلسے سے خطاب کیا اور میری تقریر کی رپورٹنگ تصویر کے ساتھ اس وقت ملک کے تمام نامور اخبارات میں شائع ہوئی۔ جلسے کے اگلے روز میں جب فیصلہ سننے کے لیے عدالت میں پہنچا تو میجر عزیز بھٹی نے اپنی حلیم طبیعت کے باوجود سخت برہمی کے انداز میں اخبار میری طرف بڑھاتے ہوئے سرزنش کی۔ کہنے لگے: تمہاری ابھی ضمانت ہوئی تھی‘ حتمی فیصلہ ہونا باقی تھا کہ تم نے باہر جا کر تقریر جھاڑ دی۔ تمہیں علم ہے کہ یہ مارشل لاء کا دور ہے؟‘‘۔ میں نے اپنی بے احتیاطی پر میجر صاحب سے معذرت کی تو وہ بالکل نارمل ہو گئے۔میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ بحیثیت مجموعی وہ شریف النفس انسان تھے اور اصولی طور پر ان کا یہ مؤقف بھی درست تھا۔ میں ضمانت پر رہا ہوا تھا‘ مجھے احتیاط برتنا چاہیے تھی مگر ساتھیوں نے مجبور کر دیا تو میں نے ہتھیار ڈال دیے۔ بہرحال فیصلہ وہی تھا جس کا ذکر اوپر ہو چکا؛ یعنی باعزت بری۔ میں اس دور میں لاہور کا طلبہ تنظیم کا ناظم تھا جب بھی جیل جاتا تو کسی ساتھی کو قائم مقام ناظم مقرر کر دیتا۔ اس وقت غالباً عبدالوحید سلیمانی قائم مقام ناظم مقرر کیے گئے تھے۔ جیل میں قیام کے دوران اسلامیہ کالج کے طلبہ سے خاصی دوستی پیدا ہو گئی تھی۔ یہ غالباً سات یا آٹھ طلبہ تھے‘ ان میںسے ایک پیپلز پارٹی کا بڑا سرگرم کارکن تھا اور اس کا نام تھا فاروق اعظم۔ دیگر طلبہ کسی تنظیم سے وابستہ نہیں تھے۔ یہ طلبہ فاروق اعظم کی عجیب گت بناتے تھے اور میں ان کو اس حرکت سے منع کرتا تھا۔اسلامیہ کالج کے ان طلبہ کو ملٹری عدالت سے چھ چھ ماہ کی قید بامشقت ہوئی تھی۔ سزا سننے کے بعد جب یہ واپس جیل میں آئے تو فاروق اعظم کی حالت دیدنی تھی۔ وہ بچوں کی طرح بلک بلک کر روتا تھا۔ دیگر سبھی بھی سخت پریشان تھے۔ میں نے ان سب کو اور بالخصوص فاروق کو تسلی دی کہ فکر نہ کریں‘ آپ کو جلد معافی مل جائے گی۔ فیصلے کے بعد ان طلبہ نے اپنے والدین کی وساطت سے ملٹری عدالت میں رحم کی اپیل دائر کر دی۔ کچھ ہی دنوں بعد ان سبھی طلبہ کی رحم کی اپیل منظور ہو گئی اور ضابطے کی کارروائی اور لکھت پڑھت کے بعد سب رہا کر دیے گئے۔ رہائی کے وقت یہ سب مجھ سے بڑی عقیدت کے ساتھ ملے اور میرے لیے دعائوں کے ہدیے پیش کیے۔ چند ہفتوں کی رفاقت کے بعد ان سب کے دل میں کافی نیک جذبات پیدا ہو چکے تھے۔ فاروق اعظم رہائی کے روز مجھ سے گلے مل کر خوشی کا اظہار اور بار بار شکریہ ادا کر رہا تھا۔ میں نے بھی اسے بہت پیار دیا۔ </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_24721193.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>