<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>مہنگائی کے خدشات اور تدارک(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-17/11369</link><pubDate>Fri, 17 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-17/11369</guid><description>آئی ایم ایف کی ورلڈ اکنامک آئوٹ لُک رپورٹ نے پاکستان میں عوام کی زندگیوں کو براہِ راست متاثر کرنے والے مسئلے‘ مہنگائی کے حوالے سے سنگین خدشات کا اظہار کیا ہے۔ آئی ایم ایف رپورٹ کے مطابق پاکستان میں مہنگائی کی اوسط شرح 8.4 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے‘ جو حکومت کے طے کردہ ہدف 8.2 اور گزشتہ سال کی 7 فیصد شرح کے مقابلے میں واضح طور پر زیادہ ہے۔ اگرچہ اس رپورٹ میں پانچ برس کیلئے مہنگائی سنگل ڈیجٹ یعنی نو فیصد تک رہنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے مگر یہ رپورٹ اس مفروضے پر قائم ہے کہ وسط جولائی سے مشرقِ وسطیٰ بالخصوص آبنائے ہرمز میں حالات معمول پر آنا شروع ہو جائیں اور دوبارہ فروری کی سطح پر پہنچ جائیں۔ اگر مشرقِ وسطیٰ کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو یہ سنبھلنے کے بجائے مزید گمبھیر ہوتے دکھائی دے رہے ہیں اور وہ اثرات‘ جو مہینوں بعد پاکستان پر مرتب ہونا تھے‘ ابھی سے نظر آنا شروع ہو گئے ہیں۔ ملک میں پٹرول کی قلت اسکی واضح مثال ہے۔ اگرچہ نیشنل کوآرڈی نیشن اینڈ مینجمنٹ کونسل کے اجلاس میں پٹرولیم کے ملکی ذخائر پر اطمینان کا اظہار کیا گیا ہے اور وزیراعظم شہباز شریف نے پٹرول کی قلت کرنیوالوں کیخلاف سخت کارروائی کی ہدایات بھی جاری کی ہیں مگر دیکھا جائے تو پاکستان کو بیرونی جھٹکوں سے زیادہ داخلی مارکیٹ میکانزم سے خطرہ ہے۔ عالمی بحرانوں کے اثرات باقی ملکوں پر اس طرح نہیں مرتب ہوتے جتنا خمیازہ پاکستان کے عوام کو بھگتنا پڑتا ہے۔ وجہ ہے کمزور حکومتی رِٹ اور مارکیٹ پر غیر مؤثر گرفت۔ آئے روز آٹے‘ چینی کی قیمتوں میں ہونے والا اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مہنگائی اور قلت محض عالمی اثرات کا شاخسانہ نہیں بلکہ یہ داخلی کمزوری ہے جو بیرونی تلاطم کو کئی گنا بڑھا کر پیش کر رہی ہے۔ اس صورتحال میں حکومت کا رویہ بھی دفاعی دکھائی دیتا ہے‘ جو قیمتوں میں اضافے کا ملبہ عالمی منظر نامے‘ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی اور بین الاقوامی آئل مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ پر ڈال کر خود کو بری الذمہ سمجھتی ہے۔ اگرچہ ایک درآمدی معیشت ہونے کے ناتے پاکستان بین الاقوامی مارکیٹ میں ہونے والی کسی بھی ہلچل سے براہِ راست متاثر ہوتا ہے اور عالمی سطح پر ایندھن اور مال برداری کے اخراجات بڑھنے سے درآمدی اشیا کی قیمتیں خود بخود بڑھ جاتی ہیں لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہونا چاہیے کہ ملک میں پیدا ہونے والی اشیا کے دام میں بھی من چاہا اضافہ ہو جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ بیرونی عوامل کو تبدیل نہ کر پانے کے باوجود ایک مضبوط‘ فعال اور سنجیدہ اندرونی حکمتِ عملی کے ذریعے عالمی معاشی جھٹکوں کے منفی اثرات کو کافی حد تک محدود کیا جا سکتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک اپنی معیشت کو بیرونی جھٹکوں سے بچانے کیلئے حفاظتی بیریئر قائم کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں عالمی بحرانوں کا مقابلہ کرنے کیلئے اندرونی سطح پر کوئی ٹھوس انسدادی ڈھانچہ ہی موجود نہیں۔ لہٰذا اب حالات کا تقاضا ہے کہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے حکومت مارکیٹ کنٹرول کے نظام کو بہتر اور مضبوط بنائے۔ جب تک مارکیٹ میں ریاستی رِٹ قائم نہیں ہوگی تب تک معاشی پالیسیوں کے فوائد عام آدمی تک نہیں پہنچ پائیں گے۔ ناجائز منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی محض تجارتی جرائم نہیں بلکہ سنگین معاشی دہشتگردی کی شکل اختیار کر چکے ہیں جن سے آہنی ہاتھوں نمٹنے کی ضرورت ہے۔ اس کیساتھ ساتھ سپلائی چین کی شفافیت کو بھی یقینی بنانا ہوگا تاکہ کوئی مڈل مین مصنوعی طور پر قیمتوں کو متاثر نہ کر سکے۔ آئی ایم ایف کی رپورٹ اور مشرقِ وسطیٰ کے حالات ہمیں خبردار کر رہے کہ آنیوالے دن مزید کٹھن ہو سکتے ہیں‘لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت ایک جامع حکمت عملی مرتب کرے۔ اندرونی استحکام ہی وہ ڈھال ہے جو ہمیں بیرونی طوفانوں سے بچا سکتی ہے۔ جب تک ہم مارکیٹ کے اندرونی بگاڑ کو ٹھیک نہیں کرلیتے تب تک عالمی حالات کے یرغمال بنے رہیں گے۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>حفاظتی ٹیکوں سے محروم بچے(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-17/11368</link><pubDate>Fri, 17 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-17/11368</guid><description>ایک خبر کے مطابق ملک میں چھ لاکھ 51ہزار بچے پیدائش کے بعد حفاظتی ٹیکوں سے مکمل طور پر محروم ہیں۔ ویکسین سے محروم بچوں کی تعداد میں اضافہ خسرہ‘ پولیو‘ کالی کھانسی‘ تشنج اور دیگر ایسی بیماریوں کے دوبارہ پھیلاؤ کا سبب بن سکتا ہے جن پر دنیا کے بیشتر ممالک قابو پا چکے ہیں۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ بحران مستقبل میں ایک بڑے عوامی طبی سانحے کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق پاکستان اُن پانچ ممالک میں شامل ہے جہاں خطے کے تقریباً 90 فیصد ایسے بچے موجود ہیں جنہیں کوئی ویکسین نہیں لگائی گئی۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اس فہرست میں شامل دیگر ممالک؛ افغانستان‘ صومالیہ‘ یمن اور سوڈان جنگ‘ بدامنی یا ریاستی انہدام کا شکار ہیں جبکہ پاکستان میں اس بحران کی بنیادی وجوہات انتظامی نااہلی‘ حفاظتی ٹیکہ جات کے نظام کی خامیاں‘ دور دراز علاقوں تک رسائی کا فقدان اور ویکسین سے متعلق رائج غلط فہمیاں ہیں۔ حفاظتی ٹیکے بچوں کو جان لیوا اور معذور کر دینے والی بیماریوں سے محفوظ رکھنے کا مؤثر ذریعہ ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ معمول کے حفاظتی ٹیکہ جات کو قومی ترجیح قرار دے‘ حفاظتی ٹیکہ جات کے پروگرام میں شفافیت اور دور افتادہ علاقوں تک ویکسین کی رسائی یقینی بنائی جائے‘ کولڈ چین نظام کو جدید بنایا جائے۔ علاوہ ازیں والدین میں آگاہی پیدا کرنے کیلئے مؤثر قومی مہم بھی ناگزیر ہے تاکہ ویکسین سے متعلق غلط فہمیاں ختم ہوں اور وہ اپنے بچوں کو بروقت حفاظتی ٹیکے لگوائیں۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ڈنکی کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-17/11367</link><pubDate>Fri, 17 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-17/11367</guid><description>ایف آئی اے حکام کے مطابق 12 پاکستانی نوجوانوں کو انسانی سمگلروں نے یورپ بھجوانے کا جھانسا دے کر ایران میں اغوا کر لیا اور ان کے اہلِ خانہ سے بھاری تاوان طلب کیا جا رہا ہے۔ یہ واقعہ ایک مرتبہ پھر اس تلخ حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ غیر قانونی طور پر بیرونِ ملک جانے کا راستہ روشن مستقبل نہیں بلکہ جان‘ مال اور عزت کیلئے سنگین خطرات کا سندیسہ ہے۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ چار برسوں کے دوران غیر قانونی طور پر یورپ جانے کی کوشش میں 335 پاکستانی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے لیکن ان المناک واقعات کے باوجود ڈنکی کا رجحان ختم نہیں ہو رہا۔ اگرچہ گزشتہ چند برسوں کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں نے انسانی سمگلروں کے خلاف کریک ڈاؤن تیز کیا ہے اور غیر قانونی سفر کے مختلف راستوں کو بند کرنے کی کوشش کی ہے‘ تاہم حقیقت یہ ہے کہ ایک راستہ بند ہوتا ہے تو انسانی سمگلر فوراً دوسرا راستہ تلاش کر لیتے ہیں۔ اب پرانے روٹس کے بجائے ملائیشیا‘ ازبکستان‘ بیلاروس‘ موریطانیہ اور سینیگال جیسے نئے راستے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ انسانی سمگلروں کے خلاف کریک ڈاؤن کیساتھ ساتھ نوجوانوں میں آگاہی بھی پھیلائے۔ نوجوانوں کو بھی چاہیے کہ وہ غیر قانونی ہجرت کے بجائے تعلیم‘ ہنر اور قانونی امیگریشن کے ذرائع اختیار کریں۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مراعات کو ٹھوکر کیوں نہیں؟(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-07-17/52309/26675876</link><pubDate>Fri, 17 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-07-17/52309/26675876</guid><description>مجھے پارلیمنٹ کی کوریج کرتے چوبیس سال ہوگئے ہیں‘ 2002ء کے بعد میں نے تقریباً ہر پارلیمنٹ میں ایک بات مشترک دیکھی ہے۔ وہاں بیٹھے ارکان یا ان کے لیڈران میں سے کوئی نہ کوئی اس ایوان پر لعنتیں بھیج رہا ہوتا ہے یا اسے برا بھلا کہہ رہا ہوتا ہے۔ جو اس کے ممبر منتخب ہوتے ہیں‘ وہی اس پارلیمنٹ کی حیثیت اور اعلیٰ اخلاقی جواز کا جنازہ نکال رہے ہوتے ہیں۔ ابھی مولانا فضل الرحمن کی بات سے یاد آیا کہ ہر دور میں یہ سب اپنے سیاسی گھر کو برا بھلا کہنے سے نہیں چوکتے۔ مولانا صاحب نے کہا ہے کہ ہم اس پارلیمنٹ کو ٹھوکر پر رکھتے ہیں۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ عمران خان جب دھرنا دے کر بیٹھے تھے تو وہ روز پارلیمنٹ پر لعنت بھیجتے تھے۔ شیخ رشید کا دل کرتا تھا کہ وہ اس کو آگ لگا دیں‘ سب کچھ جلا دیں۔ آج کل وہی شیخ رشید گلہ کرتے پائے جاتے ہیں کہ لوگ اور میڈیا والے مجھے بھول گئے ہیں‘ کوئی ملنے نہیں آتا۔ ان کی اس بات سے مجھے بھارتی سپر سٹار راجیش کھنہ یاد آتے ہیں‘ 2012ء میں جن کی موت پر ان کے دوست کا کہنا تھا کہ اپنی جوانی میں راجیش کو یقین تھا کہ نہ وہ بوڑھا ہو گا نہ ہی اسے موت آئے گی کہ اس کا سٹارڈم ہی اتنا بڑا تھا کہ اسے لگتا تھا اپُن ہی بھگوان ہے مگر پھر امتیابھ بچن اور ونود کھنہ کے عروج نے راجیش کھنہ کو گہنا دیا۔ بعد میں شیخ رشید کی طرح‘ ان سے بھی کوئی ملنے نہیں جاتا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ راجیش کھنہ تنہائی اور ڈپریشن کا شکار ہو کر اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ ایک دور تھا کہ بقول مشہور وِلن رضا مراد‘ بالی وُڈ میں کہا جاتا تھا &#39;&#39;اوپر آقا، نیچے کاکا‘‘ اور پھر وہی کاکا تنہائی میں اس دنیا سے گیا۔ آپ کہیں گے کہ بات کہاں سے کہاں چلی گئی لیکن کیا کریں کہ اپنے اپنے وقت پر سب کو یہ لگتا ہے کہ وہی اس دنیا کو چلاتے ہیں‘ وہی اَن داتا ہیں‘ ان کے لفظوں اور رویوں میں راجیش کھنہ والی جھلک آتی ہے کہ ان پر زوال نہیں آئے گا۔ اب ذرا مولانا صاحب کا بیان سنیں کہ میں اس پارلیمنٹ کو اپنی ٹھوکر پہ رکھتا ہوں۔ بہت سارے لوگ کہیں کہ یہ دھاندلی زدہ پارلیمنٹ ہے‘ فارم سینتالیس والے ارکان بیٹھے ہیں‘ اس پارلیمنٹ کا کیا تقدس اور کیا احترام۔ مان لیا کہ ایسا ہی ہوگا لیکن پھر آپ اس پارلیمنٹ کا حصہ کیوں ہیں جو جعلی مینڈیٹ سے بنی ہے اور آپ کے بقول‘ وزیراعظم کا مینڈیٹ بھی مشکوک ہے۔ مان لیا کہ مولانا صاحب ایک اصولی بات کر رہے ہیں کہ پارلیمنٹ اپنی قدر کھو چکی ہے لہٰذا اس کی کیا حیثیت‘ لیکن پھر سیاسی اور انسانی اخلاقیات کے بھی کچھ تقاضے ہیں اور مولانا صاحب کو ان پر زیادہ عمل پیرا ہونا چاہیے کہ وہ ایک بڑی مذہبی شخصیت بھی ہیں بلکہ ان کا سارا ووٹ بینک مذہبی ہے۔ ایک عام سیاستدان اور ایک مذہبی رہنما میں کچھ تو فرق ہونا چاہیے اور وہ الگ لگنا اور بہتر نظر آنا چاہیے۔مولانا صاحب کے پاس ایک بڑا موقع تھا کہ وہ اپنا اور اپنی پارٹی کا جھنڈا سیاسی واخلاقی طور پر بلند کرتے لیکن اس کو بھی انہوں نے سیاسی موقع جانا‘ نہ کہ اپنی اور پارٹی کی ساکھ کو بہتر کرنے کا موقع۔ انہیں چاہیے تھا کہ وہ مثال قائم کرتے اور ثابت کرتے کہ جو کام شہباز شریف یا آصف زرداری کرتے ہیں وہ کام ایک مذہبی لیڈر نہیں کرتا‘ چاہے وہ سیاستدان ہی کیوں نہ ہو۔ وہ اپنے عمل سے بتاتے کہ یہی فرق ہوتا ہے جب کوئی مذہبی لیڈر سیاست میں آتا ہے تو اخلاقی‘ سیاسی اور ذاتی اخلاقیات کے لحاظ سے وہ دنیاوی فوائد کے شکار سیاستدانوں سے بہتر ہوتا ہے۔ مذہبی جماعت اپنا سیاسی نقصان کر لے گی لیکن وہ ایسا مفاد نہیں لے گی جو ناجائز ہو۔ لیکن مولانا صاحب اس موقع سے فائدہ نہ اٹھا سکے۔ یہ موقع تھا جب پی ٹی آئی کی خواتین کی مخصوص سیٹیں چھین کر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کو دی گئیں۔ اس وقت مولانا کی پارٹی نے بھی پی ٹی آئی کی خواتین کی سیٹوں پر ہاتھ اسی طرح صاف کیا جیسے پیپلز پارٹی اور نواز لیگ نے۔ پی ٹی آئی کو وہ سیٹیں نہ دینے کی وجہ تکنیکی تھی مگر پھر سوال یہ ہے کہ اگر وہ سیٹیں عمران خان کی پارٹی کو کچھ لیگل ایشوز سے نہیں مل رہی تھیں تو پھر نواز شریف یا زرداری صاحب کی پارٹی کا ان پر کیا حق بنتا تھا؟ سب توقع کر رہے تھے کہ مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی والے کہیں گے کہ یہ سیٹیں ہمارے ووٹوں کے بدلے نہیں‘ ہم اپنا کوٹہ لے چکے‘ اگر لیگل ایشوز کی وجہ سے یہ سیٹیں پی ٹی آئی کو نہیں دے رہے تو ہمیں بھی مت دیں‘ ان سیٹوں کو خالی رہنے دیں۔ یہی انصاف کا تقاضا ہے کہ جو چیز ہماری ہے ہی نہیں‘ ہم وہ کیسے لے لیں۔ یہ تو ایسے ہی تھا کہ کسی کا بٹوہ سڑک پر گرا ہوا آپ کو ملے تو آپ اسے اپنی ملکیت قرار دے کر جیب میں ڈال لیں اور یہ جواز پیش کریں کہ میں نے کسی کی جیب تو نہیں کاٹی‘ نہ کوئی چوری کی ہے۔ یہ سڑک پر گرا پڑا ملا تھا‘ میری قسمت کہ میں اس وقت اس طرف سے گزرا تو مجھے نظر آ گیا۔ جو باکردار ہوتے ہیں وہ بٹوے کے مالک کو تلاش کرتے ہیں یا پھر تھانے میں جمع کرا دیتے ہیں کہ کوئی رپٹ لکھوانے آئے تو اسے دے دیں۔ پی ٹی آئی کی مخصوص سیٹوں پر یہی کیا گیا کہ ان تینوں جماعتوں کا کہنا تھا کہ انہوں نے کسی سے سیٹیں مانگی تو نہیں‘ اگر الیکشن کمیشن نے ہمیں الاٹ کر دی ہیں تو ہمارا کیا قصور ہے۔ یہ وہی سڑک پر گرے بٹوے والا معاملہ تھا کہ ہماری قسمت تھی ہمیں مل گیا‘ لہٰذا اب یہ ہمارا ہے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کی سیاسی بدنیتی سمجھ آتی ہے لیکن مولانا صاحب نے یہ کام کیوں کیا؟ لہٰذا ثابت ہوا کہ سیاسی جماعتیں ہوں یا مذہبی‘ مائنڈ سیٹ ایک ہی ہے کہ سڑک پر گرا بٹوہ ہمارا ہے اور ہم اسے اپنی جیب میں ڈالیں گے۔اب مولانا صاحب اسی پارلیمنٹ پر برس رہے ہیں جہاں وہ 1988ء سے رکن بن کر آ رہے ہیں۔ اس پارلیمنٹ نے انہیں عزت دی‘ نام دیا‘ پروٹوکول دیا۔ کیا کچھ نہیں دیا؟ آج وہ کہتے ہیں وہ اسے اپنی ٹھوکر پہ رکھتے ہیں۔ یہی پارلیمنٹ انہیں ہر ماہ سات آٹھ لاکھ روپے تنخواہ دیتی ہے‘ سیشن الائونس الگ ملتا ہے‘ بلیو بلکہ ڈپلومیٹک پاسپورٹ پوری فیملی کو ملتا ہے‘ گاڑیاں الگ‘ دنیا بھر کے دورے‘ ٹی اے ڈی اے... کیا یہ سب مالی فوائد‘ تنخواہیں اور مراعات بھی ٹھوکر پہ ہیں؟ مجھے ایک افسوس رہا کہ ڈکٹیٹر پارلیمنٹ کی بے توقیری ایک دفعہ کرتے ہیں جب وہ پارلیمنٹ توڑ کر خود حکومت شروع کر دیتے ہیں۔ وزیراعظم‘ کابینہ اور پارلیمنٹ سب کچھ ختم۔ لیکن سیاستدان جو پارلیمنٹ کے اندر اور باہر‘ دونوں جگہ ہیں‘ ہر روز اس پارلیمنٹ کی بے توقیری کرتے پائے جاتے ہیں‘ جب وہ ایک ایک سال پارلیمنٹ کے اجلاس میں نہیں جاتے۔ انہیں پارلیمنٹ صرف اس وقت اچھی لگتی ہے جب خود وزیراعظم بن جائیں۔ اگر وہ وزیراعظم نہیں تو پھر پارلیمنٹ پر تبرہ پڑھیں گے‘ اس کو برا بھلا کہیں گے‘ یا ٹھوکر پر رکھنے جیسے بیانات دیں گے۔ جب یہ لوگ خود اپنے سیاسی گھر کی عزت نہیں کرتے اور اسے مقدس نہیں مانتے تو پھر باقی کیونکر اس کی عزت کریں گے یا اس کو مقدس جانیں گے؟ اگر کوئی آپ کے گھر یا گھر کے مکینوں کو گالی دے یا نقصان پہنچائے تو آپ برداشت کریں گے؟ یہ پارلیمنٹ آپ کا سیاسی گھر ہے۔ یہ بھی آپ کی فیملی کی طرح ہے‘ جس کا تقدس آپ پر فرض ہے۔ یہی وہ ایوان ہے جہاں سے آپ ہر ماہ لاکھوں روپے تنخواہ لیتے ہیں‘ جہاں سے آپ نے بیوی بچوں سمیت تاحیات بلیو پاسپورٹس لے رکھے ہیں تاکہ دنیا کو بتا سکیں آپ کے پاس سبز نہیں بلکہ بلیو پاسپورٹ ہے کیونکہ سبز پاسپورٹ کی ساکھ خراب ہے لہٰذا آپ کو پارلیمنٹ کا ممبر ہونے کے ناتے پورے خاندان سمیت بلیو پاسپورٹ درکار ہے۔ پاسپورٹس‘ تنخواہوں‘ ترقیاتی فنڈز اور دنیا بھر کے سیر سپاٹوں کیلئے پارلیمنٹ بہت اچھی ہے ورنہ تو اسے اپنی ٹھوکر پر رکھتے ہیں۔ لیکن سب اتنے سیانے ضرور ہیں کہ وہ صرف پارلیمنٹ کو ٹھوکر پر رکھتے ہیں‘ اس سے جڑی اپنی اور خاندان کی بے تحاشا مراعات کو کوئی ٹھوکر نہیں مارتا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>صوبدار معینوی(رسول بخش رئیس)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-07-17/52310/71288728</link><pubDate>Fri, 17 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-07-17/52310/71288728</guid><description>یہ ایک غریب خاندان کے سیاسی کارکن کی کہانی ہے جو اپنی صلاحیتوں اور زندگی کو کچھ خوابوں‘ کچھ سیاسی گھرانوں کی نذر کر بیٹھے۔ ساجد منصور قیصرانی کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ اسلام آباد اور ڈیرہ غازی خان کے پرانے وقتوں کے ادبی اور سیاسی حلقوں میں بہت مقبول شخصیت ہیں۔ ہمارے کالج کے زمانے کے دوست چلے آتے ہیں۔ آج ہی ان کی طرف سے صوبدار معینوی کے بارے میں دوستوں سے معلومات اکٹھی کرنے کا حکم نامہ جاری ہوا تو ان کی فیس بک وال پر کچھ لکھ ڈالا۔ یہ ایک ہم جیسے دیہاتی کی لمبی کہانی ہے جو تحصیل تونسہ کے گاؤں‘ یا اب ایک چھوٹے سے قصبے منگروٹھہ سے اٹھا اور ڈیرہ غازی خان کالج میں داخلہ لیا۔ ضلع ڈیرہ غازی خان کے تمام علاقوں کی نسبت تونسہ‘ جو ہمارے بچپن کے زمانے کی جغرافیہ کی کتاب میں تحصیل سانگھڑ تھا‘ سے آئے ہوئے طلبہ زیادہ قابل‘ محنتی اور جفاکش تھے۔ تعلیم کا معیار وہاں کے سکولوں میں سب سے بڑھ کر تھا۔ کالج میں ہم نے 1966ء میں داخلہ لیا تو وہ چند سال قبل وہاں سے جا چکے تھے۔ وہ سیاسی شعور‘ نظریاتی آگاہی اور کشمکش کا دور تھا۔ ہم شروع ہی سے طلبہ سیاست میں دلچسپی رکھتے تھے۔ اسی حوالے سے ہم نے صوبدار معینوی کا نام ایک روشن خیال‘ ترقی پسند اور متحرک سیاسی کارکن کے طور پر سنا۔ ان کی سب سے بڑی شہرت یہ تھی کہ ان کا تعلق ایک غریب خاندان سے تھا‘ مگر انہوں نے لاہور سے ایم اے انگلش کیا‘ اور نیشنل عوامی پارٹی کے کارکن کے طور پر کہیں کام کرتے تھے۔ ڈیرہ غازی خان کالج میں چار برسوں کے دوران ہم نے صوبدار معینوی کو کہیں نہ دیکھا۔ شاید میرے ہم جماعتوں میں یا معاصر سیاسی کارکنوں میں سے کوئی انہیں ڈیرہ میں ملا ہو مگر ہمارے دل میں حسرت رہی کہ صوبدار معینوی سے ملیں۔ اس درویش کے دل میں اپنی محنت اور لگن سے اپنا راستہ بنانے اور آگے نکلنے کی منزلیں طے کرنے والوں کی بہت قدر ہے۔ اس لیے دل میں صوبدار معینوی سے ملنے کی تمنا تھی۔وقت گزرتا گیا اور ہم جامعہ پنجاب میں پہنچے اور وہاں کی تعلیمی سرگرمیوں کیساتھ نیشنلسٹ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کیساتھ وابستہ ہو گئے۔ یہ مارکسزم اور اشتراکیت کا پرچار کرنے والی ایک نظریاتی تنظیم تھی‘ اور ہم بھی تب سرخ انقلاب کا خواب دیکھا کر تے تھے۔ ہم نے عملی تعلق ہر قسم کی سیاست سے اُس دن چھوڑ دیا جب جامعہ پنجاب کی کلاس میں بطور استاد قدم رکھا۔ اس سے دو سال قبل جب 15 فروری 1973ء کو ذوالفقار علی بھٹو نے نیشنل عوامی پارٹی کی بلوچستان حکومت کو چلتا کیا توصوبدار معینوی کا نام اور شہرت ہمارے ڈیرہ غازی خان کے سیاسی اور علمی دائروں میں آسمان کو چھونے لگی۔ بھٹو صاحب نے نواب اکبر خان بگٹی کو گورنر لگایا اور گورنر راج نافذ کر دیا۔ نواب صاحب نے صوبدار معینوی کو اپنا سیاسی مشیر مقرر کیا تو ہمارا کالج کے اوائل کے زمانے کا تجسس اور انکے بارے میں جستجو کی تڑپ مزید بڑھ گئی۔ کچھ دوستوں کے مطابق وہ ایک امام مسجد کے بیٹے تھے جو انتہائی کسمپرسی کی زندگی بسر کرتے تھے۔ اب ان کا بیٹا ایک صوبائی وزیر کے درجے پر پہنچا تو ہمارے وسیب میں ہر طرف داد و تحسین برسنے لگی کہ نچلی سطح سے اٹھ کر کوئی وزارت کے درجے پر پہنچا ہے۔ بدقسمتی سے ان کی وزارت صرف گیارہ ماہ چلی جو اکبر بگٹی کے بطور گورنر استعفے کے ساتھ ہی ختم ہو گئی۔ 1975ء کے شروع میں میری جامعہ پنجاب میں بطور لیکچرر تعیناتی تو ہو چکی تھی مگر پڑھانا ستمبر میں شروع کیا۔ ہم سب نوجوان لیکچرار &#39;&#39;کنوارے‘‘ اساتذہ کے ہاسٹل میں رہتے تھے جو صرف اس مقصد کیلئے بنایا گیا تھا اور اس کا نمبر بھی دس تھا۔ ایک دن وہاں صوبدار معینوی سے ملاقات ہوئی تو معلوم ہوا کہ وہ یہیں ایک کمرے میں رہتے ہیں۔ صوبدار معینوی سے اپنے کالج‘ زبان‘ ثقافت اور نظریاتی ہم آہنگی کئی حوالوں سے تھی جو دیکھتے ہی دیکھتے ایک طرح کی دوستی میں تبدیل ہو گئی۔آخری دوپہر کی ڈھلتی شام ہم سیر کیلئے کیمپس کے اندر سڑکوں پر نکل جاتے۔ ہمارے تجسس اور استفسار کے باوجود وہ اپنے ماضی کے بارے میں زیادہ بات نہیں کرتے تھے۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ کوئی چیز چھپا رہے ہیں۔ کریدتا تو انہیں ضرور تھا مگر دبی ہنسی کے ساتھ خاموش ہو جاتے۔ ذاتی نوعیت کے سوال ان سے کرتا کہ صوبدار صاحب! آپ نے ابھی تک شادی کیوں نہیں کی۔ وہ ایک دو عشق کے حقیقی یا فرضی قصے‘ کچھ حالیہ ملاقاتوں کا تذکرہ بھی کرتے۔ ایسا محسوس ہوتا کہ انہیں ہماری طرح دنیا جہاں کی فکر لاحق نہیں۔ کسی کام‘ نوکری یا بات کی جلدی نہ تھی۔ ان کی طبیعت میں انتہائی اطمینان اور سکون دیکھا۔ اکثر بلوچستان اور ملکی سیاست پر بات ہوتی رہتی تھی۔ ہمارا مؤقف ملتا جلتا تھا۔ ایک بار تو ان سے پوچھ لیا کہ آپ نواب اکبر بگٹی کے مشیر کیوں بنے‘ جب آپ کی دیرینہ جماعت کی جمہوری حکومت کا انہوں نے تختہ الٹنے میں بنیادی کردار ادا کیا تھا۔ وہ کہتے کہ نواب سے بہت پرانا اور ذاتی رشتہ ہے۔ دوستوں کے دوست ہیں۔ انہوں نے حکم دیا تو انکار کرنا ممکن نہ تھا اور میں تو اب بھی ان کے ساتھ ہوں۔ نواب صاحب اُن دنوں اکثر لاہور کی کچھ مخصوص محفلوں میں دیکھے جا سکتے تھے۔ وہ مال روڈ پر پنج ستارہ ہوٹل میں رہائش رکھتے اور صوبدار صاحب ہر وقت ایک مصاحب‘ دوست اور مشیر کے طور پر ان کے ساتھ ہوتے۔ ایک دفعہ وہ مجھے بھی نواب صاحب سے ملوانے اپنے ساتھ لے گئے۔ انہوں نے میرا تعارف مزاری قبائل کے راجن پور کے علاقے سے کرایا جو بگٹی قبائل کے قریب ہے۔ پوچھا کہ میں بلوچ ہوں؟ عرض کی کہ ہم جاٹ ہیں۔ وہ سوال مجھے ان سے نہیں کرنا چاہیے تھا جو اپنی جوانی کی بے باکی میں کر بیٹھا: نواب صاحب! یہ جو بھٹو صاحب نے جمہوری حکومت کا خاتمہ کیا تو وہ آپ کے نزدیک آئینی عمل تھا؟ ان کا جواب تھا کہ میں نے آج تک پاکستان کا کوئی آئین خود پڑھا نہیں‘ کوئی پڑھتا ہے تو سن لیتا ہوں۔ اس سوال کا جواب میرے سیاسی مشیر صوبدار دیں گے۔ کچھ دنوں بعد صوبدار صاحب وہاں سے غائب ہوئے اور پھر ان سے کبھی ملنا نصیب نہ ہو سکا۔ان ملاقاتوں کے دو تین سال بعد میں تعلیم کیلئے امریکہ چلا گیا۔ وہ ضیاء الحق کے دور کا دوسرا سال تھا۔ ان دنوںصوبدار معینوی جیسے پرانے کارکن اپنی زندگی اور آزادی بچانے کیلئے یا تو ملک چھوڑ چکے تھے یا کہیں روپوش تھے۔ چند سال بعد واپس آیا تو صوبدار معینوی کے بارے میں پرانے نظریاتی دوستوں سے معلوم کرنے کی کوشش کی۔ ایک محفل میں ایک ایسے شخص سے ملاقات ہوئی جو کئی سال جیل کاٹ کر رہا ہوا تھا اور اس نے اطلاع دی کہ صوبدار کہیں قید میں ہیں اور کچھ باتیں ان سے منسوب کیں جو عقل ماننے کیلئے تیار نہ تھی۔ ان کے بارے میں شروع میں تو تجسس تھا جو آج بھی قائم ہے۔ ان کی شخصیت اور سیاسی زندگی کی کئی الجھی گتھیاں ہیں جنھیں سلجھانے کیلئے میری تگ و دو جاری رہے گی۔ سنا ہے وہ کسمپرسی کے عالم میں اپنے ہی علاقے میں پڑے پڑے کہیں دم توڑ گئے اور لاوارث قرار دے کر کہیں دفن کر دیا گیا۔ اس بارے میں تحقیق جاری ہے۔ بات دراصل یہ ہے کہ ہم جیسے دیہاتیوں‘ غریب خاندانوں سے تعلق رکھنے والے سیاسی کارکنوں کا بے حد استحصال ہوتا رہا ہے۔ وزارت سے بھی انہیں کچھ نہ ملا۔ بڑے لوگوں سے تعلقات اور شناسائی ضرور تھی اور کچھ نام بھی مگر وہ کس کام کے جب اپنے وسائل زندگی گزارنے کیلئے نہ ہوں۔ وہ زمانہ خوابوں کا تھا‘ انقلابوں کے خوابوں کا۔ ہم تو اس دیوانگی سے بہت جلد نکل آئے مگر معینوی کی طرح جو کسی وجہ سے نہ نکل پائے‘ وہ اپنی زندگی سیاسی گھرانوں کی نذرکر بیٹھے۔ ان کی کہانی کے آخری برسوں کے بارے میں جانکاری جاری رہے گی۔ وہ ہماری زندگی میں کامیابی‘ روشن خیالی اور شہرت کا استعارہ تھے مگر کیا پتا تھا کہ برے وقت میں کوئی بھی ساتھ نہ ہوگا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_33241568.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ایران امریکہ ایم او یو ختم؟(ڈاکٹر رشید احمد خاں)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr-rasheed-ahmad-khan/2026-07-17/52311/15230448</link><pubDate>Fri, 17 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr-rasheed-ahmad-khan/2026-07-17/52311/15230448</guid><description>ایران اور امریکہ کے مابین فریم ورک معاہدے پر فریقین کے دستخط کو ابھی ایک ماہ کا بھی عرصہ نہیں ہوا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران پر فضائی حملے شروع کر دیے۔ آبنائے ہرمز کے ساتھ ملنے والے ایرانی ساحل پر واقع ایران کی دفاعی تنصیبات اور بندرگاہوں پر امریکی حملوں کا سلسلہ سات اور آٹھ جولائی کو شروع ہوا تھا۔ امریکہ کا دعویٰ ہے کہ اس نے یہ حملے ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز میں متبادل راستہ اختیار کرنے پر دو جہازوں کو نشانہ بنانے کے جواب میں شروع کیے ہیں۔ ان حملوں میں امریکی سینٹرل کمانڈ کے ایک بیان کے مطابق 80 ایرانی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ مگر تازہ حملوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب امریکہ نے ایران کے وسطی اور شمالی حصوں کو بھی نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ کے نشریاتی ادارے سی این این نے امریکہ کے دفاعی حلقوں کے حوالے سے یہ خبر بھی دی ہے کہ صدر ٹرمپ ایران پر حملوں کے دائرے کو مزید وسیع کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ ایک امریکی اخبار نے امریکی دفاعی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ آبنائے ہرمز میں ایرانی جزیروں پر قبضہ کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ان اقدامات کا مقصد ایران کی عسکری قوت کو کمزور کرنا ہے تاکہ آبنائے ہرمز میں سے تجارتی بحری جہاز اور آئل ٹینکر آزادانہ طور پر گزر سکیں۔ صدر ٹرمپ نے ایران کو بین الاقوامی منڈی میں تیل فروخت کرنے کی جو اجازت دی تھی‘ وہ بھی واپس لے لی ہے اور اس کے ساتھ ایران کی بحری ناکہ بندی کو بھی دوبارہ بحال کر دیا ہے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ 17 جون کو ایران اور امریکہ نے جس ایم او یو پر دستخط کیے تھے وہ عملاً اب معطل ہو چکا ہے۔ ایران کی طرف سے بھی یہ اعلان سامنے آیا ہے کہ صدر ٹرمپ کے ان اقدامات سے ایم او یو غیر مؤثر ہو چکا ہے۔ صدر ٹرمپ کے بیانات سے بھی یہ تاثر جاتا ہے کہ ایم او یو ختم ہو چکا ہے کیونکہ اب صدر ٹرمپ صرف آبنائے ہرمز میں آزادانہ اور بلا روک ٹوک جہاز رانی کی حمایت نہیں کرتے بلکہ ایران کے ساتھ ایک نئی ڈیل کا مطالبہ کر رہے ہیں‘ جس پر آمادہ نہ ہونے کی صورت میں صدر ٹرمپ نے ایران کو اسی طرز کی دھمکی دی ہے جو انہوں نے اپریل میں جنگ بندی سے پہلے دی تھی۔ یعنی ایران کے تمام پلوں‘ ریلوے نیٹ ورکس اور پاور پلانٹس کو تباہ کر دیا جائے گا۔ اس تناظر میں پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پرعملدرآمد جاری رہنا چاہیے۔ پاکستان مسائل کے حل کیلئے مذاکرات پریقین رکھتا ہے‘ ایران امریکا تنازع کسی کے مفاد میں نہیں‘پاکستان آبنائے ہرمزسے تجارت اورتیل کی بہ آسانی ترسیل پریقین رکھتا ہے۔ یاد رہے کہ جون میں ایران اور امریکہ کے مابین طے پا جانے والے ایم او یو کو سوائے اسرائیل کے‘ باقی ساری دنیا میں خوش آمدید کہا گیا تھا۔ ان میں امریکہ کے اتحادی نیٹو کے رکن ممالک بھی شامل تھے۔ خود صدر ٹرمپ نے ان الفاظ میں ایم او یو کا دفاع اور تعریف کی تھی: &#39;&#39;ایم او یو کے تحت امریکہ نے وہ تمام مقاصد حاصل کر لیے ہیں جو وہ ایران کے ساتھ جنگ کے ذریعے حاصل کرنا چاہتا تھا‘‘۔ یعنی ایران کے ساتھ تنازع کا خاتمہ‘ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور اس بات کی ضمانت لینا کہ ایران کبھی ایک ایٹمی طاقت نہیں بنے گا۔ مگر 8 جولائی کو ایران پر حملوں کا سلسلہ شروع کرنے کے بعد صدر ٹرمپ نے صحافیوں کے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ &#39;&#39;ایم او یو کی اب کوئی حقیقت نہیں رہی‘ امریکہ ایران کے ساتھ اپنی شرائط پر نئی ڈیل چاہتا ہے اور اگر اس نے ایک ہفتے تک اس پر آمادگی ظاہر نہ کی تو اس کے مواصلاتی نظام کے علاوہ توانائی پیدا کرنے والے پلانٹس کو تباہ کر دیا جائے گا‘‘۔ گزشتہ تیرہ ماہ کے دوران امریکی صدر کی جانب سے ایران سے متعلق اپنے ہی بیانات سے مکرنے کی یہ تیسری بڑی مثال ہے۔ پہلی مثال گزشتہ سال جون میں امریکہ کے بھاری بمبار بی ٹو طیاروںکے ذریعے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ تھا‘ حالانکہ اس وقت جنیوا میں ایران اور امریک کے مندوبین بات چیت میں مصروف تھے۔ اس موقع پر چین کی طرف سے کہا گیا تھا کہ امریکہ نے ایران پر یہ حملہ کرکے بین الاقوامی سیاست میں اپنی ساکھ ختم کر دی ہے۔ اس موقع پر صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران کی جوہری صلاحیت کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔ دوسرا واقعہ 28فروری کو امریکہ اور اسرائیل کا ایران پر حملہ ہے۔ اس حملے میں ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای شہید ہوئے۔ پاکستان اور دیگر ملکوں کی کوششوں سے فریقین کیلئے قابلِ قبول ایک فریم ورک معاہدہ طے پایا۔ اس پر عملدرآمد کی خاطر 60 دن کا ایک شیڈول بنایا گیا لیکن ابھی تین ہفتے بھی نہیں ہوئے تھے کہ ٹرمپ نے ایران پر دوبارہ حملوں کا سلسلہ شروع کر دیا‘ جو ٹرمپ کے اپنے بیان کے مطابق پچھلے حملوں سے زیادہ سخت ہیں۔ گزشتہ ایک ہفتے میں امریکی حملوں کے نتیجے میں دفاعی تنصیبات کی تباہی کے علاوہ ایران میں جانی نقصان بھی ہوا ہے‘ لیکن ان حملوں سے امریکہ بری طرح بے نقاب ہو گیا ہے۔ یہ ثابت ہو گیا ہے کہ صدر ٹرمپ کی کسی بات یا وعدے پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ اپنی طاقت اور فوج کے بل بوتے پر امریکہ ایران کو ناقابلِ تصور نقصان پہنچا سکتا ہے‘ مگر اخلاقی طور پر صدر ٹرمپ شکست کھا چکے ہیں۔ اب کوئی بھی ملک امریکی صدر کی بات پر اعتبار نہیں کرے گا۔ امریکہ ایک سپر پاور ہے اور اس کے مفادات صرف مشرقِ وسطیٰ یا خلیج فارس ہی نہیں بلکہ دنیا کے ہر کونے میں پھیلے ہوئے ہیں۔ اسی طرح ایران واحد ملک نہیں جس کے ساتھ امریکہ کو ڈیل کرنا پڑ رہی ہے۔ دنیا کے ہر خطے کے ممالک کو امریکہ کے ساتھ ڈیل کرنا پڑتی ہے‘ مگر ایسا کرتے وقت ان کے ذہن میں صدر ٹرمپ کی شخصیت کی وہ خصوصیات ضرور ہوں گی جن کا مظاہرہ انہوں نے ایران کے حوالے سے کیا ہے۔ دنیا ابھی تک یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ جب صدر ٹرمپ نے خود ایم او یو کو اپنی فتح قرار دیا تھا تو پھر اس پر عملدرآمد کیلئے طے شدہ شیڈول فقط ایک میٹنگ سے آگے کیوں نہیں بڑھ سکا؟امریکہ کی طرف سے ایران پر حملوں کے نئے سلسلے نے مشرقِ وسطیٰ اور خلیج فارس میں بہت خطرناک صورتحال پیدا کر دی ہے۔ صدر ٹرمپ اپنے الٹی میٹم پر عملدرآمد کیلئے تیار بیٹھے ہیں۔ اب یہ بات یقینی طور پر کہی جا سکتی ہے کہ اگر امریکہ نے ایران کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ وسیع کیا اور زمینی فوجیں داخل کر دیں تو جنگ خلیج فارس تک محدود نہیں رہے گی بلکہ مشرقِ وسطیٰ کا پورا خطہ اس کی لپیٹ میں آ جائے گا کیونکہ یمن میں ایران کے حامی حوثی قبائل بھی حرکت میں آ گئے ہیں۔ انہوں نے سعودی عرب پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ساتھ حملہ کیا ہے۔ ادھر عراق میں ایران کے حامی گروپ نے اعلان کیا ہے کہ &#39;&#39;اگر ایران کے خلاف امریکہ نے جنگ کا دائرہ وسیع کیا تو وہ فوری طور پر اس میں شامل ہو کر ایران کا ساتھ دیں گے‘‘۔ ایران نے امریکہ کے تازہ ترین حملوں کے جواب میں آبنائے ہرمز کو بند کرکے مشرقِ وسطیٰ اور خلیج فارس سے تیل اور گیس کی سپلائی بند کر دی ہے۔ اگر امریکی حملوں میں تیزی آئی تو یمن کے حوثی بحیرہ احمر اور بحرِ ہند کو ملانے والی آبی گزرگاہ باب المندب کو تجارتی جہازوں کے لیے بند کر سکتے ہیں۔ اس سے عالمی معیشت اور خصوصاً ان ملکوں پر‘ جو اپنی توانائی کی ضروریات کا بیشتر حصہ مشرقِ وسطیٰ اور خلیج فارس سے برآمد کرتے ہیں‘ بری طرح اثر پڑے گا اور دنیا پہلے کے مقابلے میں کہیں بڑے بحران کا شکار ہو سکتی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90264263.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پروٹوکول کلچر(اسد طاہر جپہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/asad-tahir-jappa-/2026-07-17/52312/41464294</link><pubDate>Fri, 17 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/asad-tahir-jappa-/2026-07-17/52312/41464294</guid><description>صاحب کی گاڑی لگا دی جائے۔ صاحب کی گاڑی لگ گئی ہے۔ صاحب گھر سے دفتر کیلئے روانہ ہونے والے ہیں۔ صاحب دفتر کیلئے نکل پڑے ہیں۔ صاحب آنے والے ہیں اور صاحب جانے والے ہیں۔ صاحب آگئے ہیں اور صاحب چلے گئے ہیں۔ ان آنیوں جانیوں کے انداز و اطوار میں طاقت و اختیار کے راز پنہاں ہیں۔ وطنِ عزیز میں افسرانِ بالا اور اعلیٰ سرکاری شخصیات کیلئے پروٹوکول ایک نشہ بھی ہے اور طاقت و اقتدار کا استعارہ بھی۔ یہی وجہ ہے کہ ہر خاص و عام میں پروٹوکول کی خواہش یکساں طور پر کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ اس لیے ایک عام آدمی بھی یہ کوشش کرتا ہے کہ وہ اپنا بجلی کا بل بینک میں جمع کرانے کیلئے کھڑکی کے سامنے قطار میں کھڑا ہونے کے بجائے اندر منیجر کے سامنے والی کرسی پر بیٹھ کر چائے پیتے ہوئے منیجر صاحب کے توسط سے جمع کرائے اور وہیں بیٹھے ہوئے ادائیگی کی رسید اُس کے حوالے کر دی جائے۔ اسی طرح وکلا‘ تاجر اور کئی دیگر طبقات بھی اپنی گاڑیوں پر مخصوص طرز کی نمبر پلیٹ لگاتے ہیں جس سے یہ تاثر تقویت پاتا ہے کہ جیسے وہ گاڑی کسی بڑی سرکاری شخصیت کے زیرِ استعمال ہے۔ ذاتی گاڑی پر سبز نمبر پلیٹ اور نیلی بتی کا استعمال عام بات ہے۔ بعض اوقات موٹر سائیکل کی نمبر پلیٹ پر مختلف اقسام کے سرکاری اور ذاتی حوالے درج کروا کر خود کو عوام سے برتر ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ دوسری طرف سرکاری طور پر پروٹوکول کا ایک طے شدہ نظام موجود ہے۔ سرکاری گاڑی کے آگے پیچھے سائرن‘ روڈ بند اور پولیس کے چاق وچوبند مسلح گارڈز‘ یہ تمام مناظر ہر بڑے شہر کے سرکاری دفاتر میں عام ہیں۔ اس کی چند بڑی وجوہات ہیں۔ سب سے اولین وجہ نو آبادیاتی ورثہ ہے جہاں صاحب بہادر کلچر رائج تھا۔ انگریز دور میں ڈپٹی کمشنر‘ کمشنر اور گورنر کو صاحب اور لاٹ صاحب کہا جاتا تھا۔ ان بڑے عہدوں پر فائز صاحبانِ جاہ و حشمت کیلئے بڑی بڑی محلات نما رہائش گاہیں اور عالیشان دفاتر قائم کیے گئے تھے تاکہ محکوم عوام پر ان کا رعب و دبدبہ قائم کیا جا سکے اور انہیں کنٹرول کرنا آسان ہو۔ یہی وجہ ہے کہ عام آدمی ان صاحبان کے دفتر اور سرکاری رہائش گاہ کے قریب سے بھی نہیں گزرتا تھا اور سرکاری گاڑی دیکھ کر سڑک سے دور ہٹ جاتا تھا۔ آزادی کے بعد پاکستان میں استعمار کا نظام تو بدل دیا گیا لیکن ہمارے سرکاری امور سے وابستہ صاحبان کا طرزِ عمل بدلا نہ ہی ذہن تبدیل ہوا۔ اشرافیہ اور عوام کے درمیان ایک واضح لکیر کھینچ دی گئی جس کے نتیجے میں آج بھی افسرانِ بالا خود کو رعایا سے اوپر سمجھتے ہیں اور عوام بھی انہیں خود سے برتر سمجھ کر عزت دیتے ہیں۔ اسی طرح سرکاری پروٹوکول کی دوسری بڑی وجہ سکیورٹی کے خطرات اور تحفظ کے مسائل ہیں۔ پاکستان میں گزشتہ دو دہائیوں سے ٹارگٹ کلنگ اور خودکش حملے بہت بڑھ گئے ہیں جس کے نتیجے میں کارِ سرکار سے منسلک تمام اہم اداروں اور ان میں تعینات افسران میں سرکاری گاڑیوں‘ ڈالا کلچر اور مسلح گارڈز کی مانگ بڑھ گئی۔ یہ الگ بات کہ اصل میں خطرہ صرف پانچ فیصد لوگوں کو ہے مگر 95 فیصد دیگر افسران بھی پروٹوکول کی دوڑ میں شامل ہیں کیونکہ یہ سب کچھ سٹیٹس کی علامت بن چکا ہے۔پاکستان میں اب طاقت کا معیار گاڑی کا حجم اور مسلح گارڈز کی تعداد ہے۔ روٹ لگوا کر روڈ بند کرانا پروٹوکول کی اعلیٰ ترین شکل ہے۔ اس کے برعکس مغربی ممالک میں پروٹوکول کا رواج نہیں اور قانون کی عملداری سب کیلئے یکساں ہے۔ ان معاشروں میں سرکاری عہدیداروں میں خود احتسابی کا عنصر نمایاں ہے۔ عوامی سطح پر شعور زیادہ پختہ ہونے کی وجہ سے عوام کے سامنے جوابدہی بھی خاصی سخت ہے۔ اس کے نتیجے میں وہاں سرکاری وسائل کا استعمال بہت احتیاط سے کیا جاتا ہے اور کفایت شعاری کو عوامی سطح پر کافی پذیرائی ملتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وزرا سمیت تمام بڑے عہدوں پر فائز افراد پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرتے نظر آتے ہیں۔ برطانیہ کا وزیراعظم پارلیمنٹ کی کینٹین سے اپنا برگر خود خریدتا نظر آتا ہے تو نیدرلینڈز کا وزیراعظم سائیکل پر سوار ہو کر دفتر جانا پسند کرتا ہے۔ ان معاشروں میں کوئی بڑا افسر یا وزیر اگر ٹریفک سگنل توڑے تو حسبِ ضابطہ قانون حرکت میں آتا ہے اور بلا تفریق و امتیاز جرمانہ ہوتا ہے۔ یہ سب کچھ اس لیے ممکن ہے کہ قانون سب کیلئے برابر ہے۔ مگر عجیب بات یہ ہے کہ پاکستان میں سبھی پروٹوکول پسند کرتے ہیں۔ شادی بیاہ کی تقریبات میں کسی بڑی شخصیت یا وزیر کی آمد کا اعلان اور استقبال کا خاص اہتمام کیا جاتا ہے۔ لوگ پہلے سے قطار بنا کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ دفتر میں بڑے صاحب کے تشریف لانے پر ہر خاص و عام کا کھڑے ہونا لازم ہے۔ بلکہ صاحب کی گاڑی ان کی رہائش گاہ سے دفتر کیلئے روانہ ہو تو دفتر کے طول و عرض میں بڑے صاحب کی آمد کا بگل بجا دیا جاتا ہے۔ دفتر کے مرکزی دروازے سے لے کر داخلی راستوں اور راہداریوں پر عام آدمی کی نقل و حرکت روک دی جاتی ہے اور جب تک صاحب بہادر اپنے دفتر میں کرسی پر براجمان نہ ہو جائیں تب تک دفتر میں نیم کرفیو نافذ رکھا جاتا ہے۔ہمارے ہاں پروٹوکول ضرورت سے زیادہ نفسیات کا مسئلہ ہے۔ یہاں افسر طاقت دکھانا چاہتا ہے‘ اور عوام طاقت دیکھنا چاہتے ہیں۔ مثلاً اگر کوئی بڑا افسر یا وزیر سائیکل پر سوار ہو کر دفتر کیلئے روانہ ہو تو لوگوں کی اکثریت اسے عجیب نظروں سے دیکھے گی بلکہ شاید اسے فاتر العقل شخص قرار دے دیا جائے۔ پروٹوکول کی یہ لت اب سرکاری اداروں اور افسران سے نکل کر نجی شعبے سے وابستہ افراد تک پہنچ چکی ہے بلکہ اب تو ہر دولتمند تاجر اور کاروباری شخصیت نے اپنی مہنگی گاڑی کے آگے پیچھے ڈالے اور ذاتی مسلح گارڈز کی ایک بٹالین رکھی ہوتی ہے۔ شادی بیاہ اور دیگر سماجی اجتماعات میں بڑی بڑی گاڑیوں سے اترنے والے حضرات جب پنڈال میں داخل ہوتے ہیں تو ان کے ذاتی محافظوں نے انہیں اپنے حصار میں لے رکھا ہوتا ہے۔ یہ ڈھونگ رچانے کا مقصد کسی خطرے سے نمٹنا نہیں بلکہ دوسروں پر اپنی طاقت‘ دولت اور سماجی حیثیت کا رعب طاری کرنا ہوتا ہے۔سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وائرل ہونے کا شوق بھی پروٹوکول کے حصول میں شدت لایا ہے۔ گزشتہ چند برسوں سے بیرونِ ممالک سے پاکستان آنے والے افراد میں پروٹوکول کی طلب میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے کیونکہ اب ذاتی خرچ پر بھی پروٹوکول کا پورا نظام کرائے پر حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس کا عملی مظاہرہ آئے روز مختلف ائیرپورٹس پر دیکھنے کو ملتا ہے جو سوشل میڈیا کی زینت بن جاتا ہے۔ بیرونِ ممالک سے وطن واپسی سے چند روز قبل یہ طے کر لیا جاتا ہے کہ ایئرپورٹ پر پھولوں کے گلدستے کون پیش کرے گا اور گل پاشی پر مامور افراد کی تعداد کتنی ہو گی۔ مزید برآں ایئرپورٹ سے گھر تک کا سفر مجموعی طور پر کتنی گاڑیوں اور کتنے مسلح گارڈز کے ساتھ طے کیا جائے گا۔ اب یہ اصول وضع کر لیا گیا ہے کہ انسان کی قدر اس کے کردار اور شخصیت سے نہیں بلکہ اس کی ظاہری بود و باش اور پروٹوکول سے ہو گی۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ اکثر پروٹوکول کا پورا پیکیج چند گھنٹوں کے رعب و دبدبے کی نمائش کیلئے لیا جاتا ہے۔ طے شدہ پروگرام کے تحت گاڑیوں کا قافلہ ایئرپورٹ پہنچتا ہے‘ جہاں دروازے کھولنے کیلئے مسلح گارڈز بھی موجود ہوتے ہیں۔ متذکرہ شخصیت کے استقبال پر گل پاشی شروع ہو جاتی ہے‘ تصاویر بنانے کیلئے موبائل کیمرے حرکت میں آتے ہیں اور قافلہ پورے جاہ و جلال سے گھر کی طرف روانہ ہو جاتا ہے۔ گھر پہنچ کر دوبارہ تصاویر بنتی ہیں اور گاڑیوں سے مسافر کا سامان نکال کر متعلقہ کمپنی کو پروٹوکول کے تمام پیکیج کی ادائیگی کر دی جاتی ہے اور یوں کرائے پر حاصل کیا گیا سارا پروٹوکول پل بھر میں ختم ہو جاتا ہے۔ اس طرح وہ وی آئی پی دوبارہ عام آدمی بن کر عوام میں گھل مل جاتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_34710710.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کیس پر کھیس(آصف عفان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/asif-afan-/2026-07-17/52313/73617721</link><pubDate>Fri, 17 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/asif-afan-/2026-07-17/52313/73617721</guid><description>اخبارات کا پلندہ اُلٹا پلٹا کر پڑھنے کے باوجود ڈھونڈے سے کوئی ایسی خبر نہیں ملتی جو سوشل میڈیا پر جاری دانشوری اور دور کی کوڑی لانے والوں کی کسی خبر کی تائید و تصدیق کر سکے۔ دوسری طرف حکومت کیلئے آزمائشیں اور مشکلات کی توجیہات اور جواز پیش کرنے والے کہیں نقطے ملا رہے ہیں تو کہیں مستقبل کے خاکے بنا کر پیش کر رہے ہیں‘ کوئی وزیراعظم کے مستقبل کو پریشان قرار دے رہا ہے تو کوئی وفاقی کابینہ میں اہم وزرا کو قلمدان سے محروم کیے جانے کی خبروں پر ریٹنگ لے رہا ہے۔ مخصوص وزرا کی کارکردگی پر سوال اٹھانے والے کابینہ کے دیگر ارکان کو نجانے کس کارکردگی پر پاسنگ مارکس دے رہے ہیں حالانکہ سبھی کی جمع تفریق کا حاصل نامعلوم اہلیت اور صفر کارکردگی کے سوا کچھ نہیں‘ البتہ خود کو چوٹی کا سیاستدان سمجھنے والے پرانی چوٹیوں پر ہی گھوم رہے ہیں۔ انہیں احساس ہی نہیں کہ حالات یکسر بدل چکے ہیں‘ ان کی چرب زبانی اور بے باکی حکومت کیلئے جوابدہی اور سبکی کا باعث بنتی چلی آرہی ہے جبکہ زبانی جمع خرچ سے کام چلانے والوں کی وزارتیں ویسے ہی سرکاری بابوؤں کے مرہونِ منت ہیں۔ ہر دور میں شاہ کے مصاحب بنے رہنے والے شاہ بدلنے کے بعد حالات کی تبدیلی کا اندازہ ہی نہیں کر پائے۔ ان کی نظروں میں آنے کی وجہ کارکردگی نہیں بلکہ وہ زبان و بیان ہے جو آئے روز حکومت کو مشکلات سے دوچار کرنے کا باعث ہے۔ سسٹم کی دھجیاں اُڑانے سے لے کر گورننس پر کڑے سوالات اور سرکاری افسران کی لوٹ مار سمیت بیرونِ ملک جائیدادوں کے قصوں سے انقلابی بھاشن تک اسمبلی کے فلور پر بیان کرنے والے حکومتی بنچوں کو کونے جھانکنے پر مجبور کرتے ہیں۔ اسی طرح برادرِ کلاں کے دیگر قریبی بھی سنیارٹی اور قربت کے زعم میں ایجنڈا آئٹمز کو مسلسل نظرانداز کرتے چلے آرہے ہیں۔ حلقے کی سیاست اور لچھے دار گفتگو کے ماہر وزارت کے جھمیلوں سے خود کو بوجوہ دور ہی رکھتے ہیں۔ مطلوبہ اہلیت سے عاری فائل ورک اور گراؤنڈ ورک سمیت دیگر تکنیکی امور میں بھی نہلے ہی پائے گئے ہیں۔ ایسے میں لمبی زبان اور عقل کا فقدان حکومت کے ساتھ ساتھ خود اپنے لیے بھی جوابدہی اور کڑے سوالات کا باعث بنتا چلا گیا۔ حکومتی کارکردگی پر اٹھنے والے سوالات کو مزید کڑا اور جواب سے محروم بنانے والوں میں اہم کردار انہی وزرا کا ہے جو قلمدان تو لیے پھرتے ہیں لیکن قلم کے ہنر اور تقاضوں سے نابلد پائے گئے ہیں۔ کارکردگی پر کڑے سوالات کا دائرہ بڑھائیں تو وہ وفاقی وزرا بھی زد میں آتے ہیں جو سیاسی پس منظر تو نہیں رکھتے لیکن وزیراعظم کے قریبی ہونے کی وجہ سے قلمدان سنبھالے ہوئے ہیں‘ کوئی قربانیوں کا تاوان وصول کر رہا ہے تو کوئی وفاداریوں کی قیمت۔ اسی طرح بنائی جانے والی کابینہ جوابدہی کے بوجھ تلے روزبروز دھنستی چلی جا رہی ہے۔ جب کابینہ کارکردگی سے خالی ہے تو حکومت کے پاس لے دے کے مصالحانہ کوششوں اور ثالثی کی غرض سے کیے جانے والے چند دوروں کے سوا کچھ نہیں بچتا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز نے اپنی کابینہ میں وفاقی ماڈل سے پرہیز کیا ہے‘ کابینہ میں نئے اور جوان چہرے آزمائے گئے ہیں۔ کارکردگی جیسی بھی ہو لیکن سپیڈ اور آنیاں جانیاں قابلِ تقلید ہیں۔ خود مختار پالیسی کے تحت ملک کا سب سے بڑا صوبہ چلانا یقینا بڑا کریڈٹ ہے‘ البتہ بیشتر وزرا کی حالت اور کارکردگی سے گمان ہوتا ہے کہ یہ سبھی اپنا بھرم بچاتے پھر رہے ہیں۔ ان کے محکمے خودکار نظام کے تحت اس طرح چلائے جا رہے ہیں کہ فیصلہ سازی میں وزرا کا کردار محض نمائشی اور فوٹوسیشن تک محدود ہے یعنی بیوروکریٹک ماڈل نے وزارتوں کو اس طرح جکڑا ہوا ہے کہ چھوٹے بڑے فیصلوں سے لے کر منصوبوں تک سبھی کا انحصار وزرا کے بجائے سرکاری بابوؤں کا مرہونِ منت ہے۔ محکمانہ تبادلوں میں وزرا کی صوابدید تو درکنار‘ ان کی رائے اور مشورہ بھی شاید زائد از ضرورت سمجھا جاتا ہے۔ البتہ سوشل میڈیا پر ان کی محکمانہ سرگرمیاں دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ سارا نظام انہی کے اشاروں پر چل رہا ہے جبکہ درونِ خانہ حقیقت یکسر مختلف ہے۔ ناقدری کے باوجود چند وزرا حلقے کی سیاست سے لے کر محکمانہ اجلاسوں کی صدارت سمیت اضلاع کے دوروں‘ حادثات اور غمی خوشی میں پیش پیش دکھائی دیتے ہیں جبکہ بیشتر &#39;جو مل گیا اسی کو مقدر سمجھ لیا‘ کے مصداق صابر شاکر بنے شریکِ اقتدار ہونے کے احساس ہی سے سرشار ہیں۔ وفاقی حکومت سے لے کر  صوبائی حکومتوں تک کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے منیر نیازی کا یہ شعر بطور استعارہ شامل کیا جا سکتا ہے: منیرؔ اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ سندھ کا باوا آدم تو ویسے ہی نرالا ہے۔ کونے کونے میں بربادی و بدحالی کے مناظر کارکردگی کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ جیسے یہ باعثِ شرمندگی نہیں بلکہ باعثِ تفاخر ہے۔ وہ ناخوب کو خوب بنانے کا بیانیہ بھی خوب بناتے ہیں۔ کے پی اور بلوچستان کی گورننس پر سوالات اٹھانے سے پہلے کئی ایسے سوالات ازخود کھڑے ہو جاتے ہیں جن پر تبصرے کے بجائے احتیاط اور اختصار ہی بہتر ہے۔ البتہ پنجاب پہ منیر نیازی کے مذکورہ شعر کا دوسرا مصرع کمال فٹ ہوتا ہے۔ اِک ہنگامہ سا برپا ہے‘ افراتفری کا عالم ہے‘ محکمے جادوئی رفتار سے بھاگے پھر رہے ہیں۔ ضابطے اور قانون تلوار لیے ہدف کی تلاش میں ہیں‘ ہر کام کے دام طے ہیں‘ ادارے شنوائی سے انکاری اور غریب ماری زوروں پر ہے‘ پھیری لگانے والوں سے لے کر کھوکھوں اور دکانوں سمیت فیکٹریاں چلانے والے بھی یکساں اور مسلسل پریشان ہیں۔ کاسمیٹک گورننس نے عوام کی حالتِ زار کے ساتھ ساتھ شکل و صورت بھی بگاڑ ڈالی ہے‘ کہیں روٹی کا حصول مشکل ہے تو کہیں ضروریاتِ زندگی خواب بنتی چلی جا رہی ہیں۔ جینے کی پابندی اور مرنے کی آزادی کا ماڈل اس طرح لاگو ہے کہ دن کے اجالے رات کی تاریکی سے زیادہ بھیانک منظر پیش کر رہے ہیں۔ کہیں قتلِ طفلاں کی منادی ہے تو کہیں مرگِ نو جاری ہے‘ انسان نما سفاک بھیڑیے قانون اور ریاست کے لیے آئے روز چیلنج کا باعث بن رہے ہیں۔ معصوم بچوں کی پامالی اور مسلسل ہلاکتیں روز مرہ کے واقعات بن چکے ہیں۔ رپورٹ ہونے والے واقعات پر چند دن کا تماشا ہوتا ہے اس کے بعد کیس پر کھیس ڈال دیا جاتا ہے۔ بدنامِ زمانہ منشیات فروش پنکی کیس ہو یا غیر ملکی خواتین سے زیادتی کا کیس‘ سرگودھا کی منتہیٰ ہو یا چکوال کی ہانیہ‘ یہ سبھی المناک واقعات اور حادثات وقت کی گرد پڑتے پڑتے بالآخر قبر بن جائیں گے۔ گویا: جتنی خبریں اُتنی قبریں۔ اس تناظر میں اَن گنت قبرستان ماضی کے واقعات کو اپنی قبروں میں دبائے ہوئے ہیں۔ تحقیقات‘ انکوائریاں‘ ٹرائل سمیت سبھی حیلے اور جواز نظر کا دھوکا ہیں۔ ہماری یادداشت بھی اس قدر کمزور ہو چکی ہے کہ تازہ سانحہ پرانے سانحے کی جگہ پر اس طرح قابض ہو جاتا ہے جیسے پرانا کبھی تھا ہی نہیں۔ کوئی ایک آدھ سانحہ ہو تو دل و دماغ میں اسے جگہ بھی دیں۔ اب آئے روز ملنے والے ڈھیروں صدمات کہاں دلِ ناتواں میں سما سکتے ہیں۔ ادھر کوئی ہائی پروفائل واقعہ رونما ہوا‘ اُدھر کھیس بُننا شروع کر دیا جاتا ہے اور موقع ملتے ہی کیس پر کھیس ڈال کر قصہ پاک کر دیا جاتا ہے۔ </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_65560900.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>اے پُتّر ہٹّاں تے نئیں وکدے…(امیر حمزہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ameer-hamza/2026-07-17/52314/93220300</link><pubDate>Fri, 17 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ameer-hamza/2026-07-17/52314/93220300</guid><description>ستمبر 1965ء کے دن بھی کیا یادگار دن تھے۔ میری عمر تب چھ سات سال تھی۔ انڈیا کے خلاف افواجِ پاکستان کے ساتھ ساری قوم یکجہت اور یک رنگ تھی۔ میجر عزیز بھٹی کی شہادت کا نرالا رنگ زباں زدِ عام تھا۔ چونڈہ کے مقام پر دنیا کی سب سے بڑی ٹینکوں کی جنگ کی گھن گرج تھی۔ شیر دل جوانوں کی قربانیوں سے فتح ان کے سنگ تھی۔ لاہور ریڈیو سے ایک ترانہ بار بار کانوں میں رَس گھولتا تھا: &#39;&#39;اے پُتّر ہٹّاں تے نئیں وکدے، کی لبھنی ایں وچ بازار کُڑے‘‘۔ اردو میں اس کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ مائوں کے یہ شیر دل جگر گوشے جو &#39;&#39;لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ کی اساس کے حامل پاک وطن کی حفاظت کیلئے جانیں قربان کر رہے ہیں‘ ان کی قیمت منڈیوں اور بازاروں میں نہیں لگ سکتی۔ اور تم لوگ ان کی قیمت کرنسی کے کاغذوں پر لگا رہے ہو؟ تعجب ہے ایسی سوچ پر۔ قارئین کرام! صوفی تبسم کو اللہ تعالیٰ فردوس میں مسکراہٹ عطا فرمائے۔ ان کے قلم سے ایسے الفاظ رقم ہوئے کہ وہ جواب ہیں ہر ایسی سوچ کا... جی ہاں! ساٹھ سال بعد بھی ہر اُس فکر اور اپروچ کا‘ جو شہدا کے پاکیزہ خون کو بازار کے کاغذی پُرزوں کے ساتھ میزان میں رکھے۔ لوگو! ذہن میں بٹھا لو۔ شہیدوں کے خون کا خریدار خود خالق کائنات ہے۔ اس کے علاوہ کوئی نہیں۔ ہو بھی کیسے؟ کوئی قیمت دے ہی نہیں سکتا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: مومنوں کے ساتھ ان کی جانوں کا کاروبار میں نے کیا ہے۔ سورۃ التوبہ میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: &#39;&#39;یقینا اللہ نے خرید لی ہیں اہلِ ایمان سے ان کی جانیں بھی‘ اور ان کے مال بھی‘ اس قیمت پر کہ ان کیلئے جنت ہے۔ وہ جنگ کرتے ہیں اللہ کی راہ میں‘ پھر قتل کرتے بھی ہیں اور قتل ہوتے بھی ہیں‘ یہ وعدہ اللہ کے ذمہ ہے سچا تورات‘ انجیل اور قرآن میں‘ اور اللہ سے بڑھ کر اپنے عہد کو پورا کرنے والا کون ہے ؟ پس خوشیاں مناؤ اپنی اس تجارت پر جس کا سودا تم نے اس کے ساتھ کیا ہے۔ اور یہی ہے بڑی کامیابی‘‘ (آیت: 111)۔ یہاں پر اللہ تعالیٰ نے &#39;&#39;فَیَقْتُلُوْنَ وَیُقْتَلُوْن‘‘ کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔ اب ذرا حدیبیہ کا منظر ذہن میں لائیں۔ قرآن مجید کی &#39;&#39;سورۃ الفتح‘‘ کو سامنے رکھیں۔ مولا کریم آگاہ کرتے ہیں: &#39;&#39;(میرے رسولﷺ) کوئی شک و شبہے میں نہ رہے۔ وہ افراد جو آپ (کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر) اپنی قیمت لگوا رہے تھے تو وہ اللہ سے کاروبار کر رہے تھے‘‘۔ جی ہاں! بات واضح ہو گئی قیمت اللہ لگاتا ہے۔ مگر قیمت لگتی اُس کی ہے جو حضورﷺ کے راستے پر لڑتا ہے۔ اپنے وطن کے باسیوں کی عزت‘ ان کے مال اور جان کی حفاظت کیلئے لڑتا ہے۔ ایمان‘ تقویٰ اور جہاد فی سبیل اللہ کی خاطر لڑتا ہے۔ اپنی بٹالین کا نام &#39;&#39;فَیَقْتُلُوْنَ وَیُقْتَلُوْن‘‘ رکھتا ہے۔ ان کے گھوڑوں کے ٹاپوں سے جو دھول اٹھتی ہے‘ اللہ کریم &#39;&#39;العادیات‘‘ میں اس کی قسم اٹھاتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں حق کی خاطر ان کے جو قدم اٹھتے ہیں اللہ تعالیٰ اس کی اہمیت وعظمت کا احساس و ادراک کراتے ہیں۔ایک دن احباب کی مجلس میں موجود تھا۔ پاک فضائیہ کے ایک ٹیکنیشن بھی وہاں موجود تھے۔ پاک فضائیہ کے ایک شیر دل پائلٹ کا واقعہ سناتے ہوئے بتانے لگے: پائلٹ جب جہاز کو فضا سے رَن وے پر اتارنے لگا تو اس کے پچھلے حصے میں آگ لگ گئی۔ اسے صورتحال بتائی گئی کہ وہ جمپ لگا دیں مگر پائلٹ کی کوشش یہ تھی کہ پاک وطن کا انتہائی قیمتی طیارہ کسی طرح بچ جائے۔ وہ رَن وے کے قریب تھا مگر جب تک طیارہ رَن وے پر رکا تب تک دروازہ کھلنے کا آٹو میٹک سسٹم آگ کی وجہ سے ناکارہ ہو چکا تھا۔ طیارہ لینڈ کرتے ہی ہم آگ بجھانے لگ گئے مگر ایک ماں کا لخت جگر‘ باپ کا جگر پارہ‘ بچوں کا باپ‘ ایک خاتون کے دل کا راج‘ ملک کا ایک طیارہ بچاتے بچاتے شہید ہو گیا۔ ہم سب اہلِ مجلس کی آنکھوں میں ایسے عظیم سپوتوں کیلئے عقیدت و محبت کے پانیوں کی تیرگی تھی۔ زبان پر خراجِ تحسین کی تنویر تھی۔ اسی طرح راشد منہاس کی عظمت کو سلام کہ اس نے پاکستان کا طیارہ بھارت نہیں جانے دیا اور غدار انسٹرکٹر پائلٹ سے لڑ کر‘ اس طیارے کو پاک وطن کی پاک سرزمین پر گرا کر اہلِ پاکستان کی عزت وآبرو کو اوجِ ثریا کے عروج سے ہمکنار کر دیا۔ صوفی غلام مصطفی تبسم کے کلام کو نور جہاں مرحومہ کے بول نے کیا دوام بخشا &#39;&#39;اے پُتّر ہٹاں تے نئیں وکدے، کی لبھنی ایں وچ بازار کُڑے‘‘۔ مجھے یاد آیا! میرے ابا جی حضرت مولانا نذیر احمدؒ نے خطبہ جمعہ میں شہدا کی یادوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مندرجہ بالا پنجابی شعر پڑھا۔ آج ہو سکتا ہے کہ فتوے لگنا شروع ہو جائیں مگر تب برداشت تھی‘ سینے فراخ تھے‘ تنگ نظری سے وہ معاشرہ آزاد تھا۔ نور جہاں اس دنیا سے رخصت ہوئیں تو 23 دسمبر 2000ء کا دن تھا۔ رمضان المبارک کی ستائیسویں تاریخ تھی۔ اللہ ہی اپنی مہربانیاں جانے کہ وہ کہاں کہاں کرتا ہے اور کیسے کرتا ہے؟آج سے کوئی پچیس‘ ستائیس سال پہلے کی بات ہے۔ لاہور میں آرمی کی ہائوسنگ سکیم میں تین تین منزلہ اپارٹمنٹ تھے۔ میں نے کرائے پر ایک اپارٹمنٹ لیا۔ یہاں پر شہدا کی فیملیز بھی رہتی تھیں۔ ان میں ایک فیملی میجر سبکتگین شہید کی تھی۔ وہ سیاچن میں شہید ہوئے تھے۔ لڑائی جاری تھی‘ فائرنگ ہو رہی تھی۔ کہا گیا کہ فائرنگ ذرا رک لینے دیں مگر وہ اپنی منزل پر جا کر پوزیشن لینا چاہتے تھے۔ جان ہتھیلی پر رکھ کر شوقِ شہادت لیے وہ بڑھتے چلے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں شہادت عطا فرما دی۔ شادی کو پانچ سال ہوئے تھے‘ چار بیٹیاں اللہ نے دیں۔ سب سے چھوٹی بیٹی پانچ ماہ کی تھی۔ میجر شہید کی بیوہ اور ہم لوگ پڑوسی تھے۔ محترمہ ریحانہ کے ساتھ میری اہلیہ بشریٰ کی دوستی ہو گئی۔ میرے دو بیٹے ان کے پاس پڑھنے جاتے تھے۔ محترمہ ریحانہ نے اپنے شہید شوہر کے بوٹ دروازے پر رکھے ہوتے تھے۔ وہ روز جوتے پالش کرکے یہاں رکھ دیتیں اور ننھی بچیوں کو حوصلہ دے کر کہتیں کہ ان کے شوہر کے شوز موجود ہیں‘ وہ اللہ سے ملنے گئے ہیں۔ بس ملاقات لمبی ہو گئی ہے‘ صبر کرو۔ محترمہ ریحانہ صحافی تھیں۔ ریڈیو اور ٹی وی پر ان کی معاشرتی تحریریں ڈرامے بن کر چلتے تھے۔ میری اہلیہ بھی صحافت کرتی تھیں‘ انہوں نے میجر صاحب پر ایک کالم بھی لکھا۔ آج کالم لکھنے سے قبل ہم میاں بیوی نے ریحانہ باجی سے رابطہ کیا۔ کہنے لگیں: جب سے میں نے &#39;شہدا اور منڈی کی کرنسی‘ کی بات سنی ہے دل زخمی ہے‘ آنکھوں سے آنسو رواں ہیں۔ آپ تو جانتے ہیں کہ میں نے اپنی جوانی کی حفاظت کی۔ پھر بچیوں کی جوانیوں کی حفاظت کی‘ ان کو پڑھایا لکھایا‘ چاروں کو ڈاکٹر بنایا۔ بڑی بیٹی لیفٹیننٹ کرنل ہے۔ دوسری گائناکالوجسٹ ہے۔ ایک چائلڈ سپیشلسٹ ہے۔ چوتھی بھی اپنے شعبے کی ماہر ہے۔ سب کی شادیاں ہو چکی ہیں۔ چاروں ملک وقوم کی خدمت کر رہی ہیں۔ میرا پیغام یہ ہے کہ شہدا کی عزت کو ہاتھ سے جانے نہ دیں‘ سچے مسلمان اور پاکستانی بنیں۔محترمہ ریحانہ باجی‘ جو اَب بزرگی کی عمر میں ہیں‘ بیٹیاں اپنے اپنے گھروں میں ہیں‘ ایسے حالات میں یقینا شوہر بھی یاد آتے ہیں کہ بڑھاپا ایک دوسرے کا سہارا ہوتا ہے۔ بیٹا بھی کوئی نہیں کہ بیٹا ہو تو گھر آباد رہتا ہے۔ انہوں نے دعوت دی کہ ذرا مل بیٹھا کریں۔ ان کی بہن بشریٰ امیر دیر تک باتیں کرتی رہیں۔بہرحال! ہم لوگ وارثانِ شہدا کے زخموں پر مرہم نہ رکھ سکیں تو کم از کم خاموش رہیں۔ یہ ملک و ملت کے محسن ہیں۔ ریحانہ باجی نے یہ بھی بتایا کہ چند سال قبل میری بینائی بالکل ختم ہو گئی تھی۔ میں نے اپنے اللہ کے حضور فریاد کی کہ اے مولا کریم! میری آنکھوں کو روشن کر دے میں اب صرف قرآن پڑھوں گی۔ آپ دونوں کا فون آیا تو میں قرآن ہی پڑھ رہی تھی۔ میں نے کہا: میری بہن تو اللہ کی ولی ہے‘ کرامت کا اظہار ہو گیا ہے۔ اللہ اللہ! شہیدوں کے ایسے ورثا سے تو دعا کرانی چاہیے۔ یاد رہے! شہدا کی بیوگان کو اللہ کے رسولﷺ نے اُمت کی مائیں کہا ہے۔ یہ ایک اعزاز ہے۔ پاک وطن  کے شہیدوں کو سلام کہ ان کی تکریم سے ہماری تکریم وابستہ ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_68712266.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>