<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>معاشی ترقی کا عزم اور حقائق(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-16/11366</link><pubDate>Thu, 16 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-16/11366</guid><description>وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت استحکام کی راہ پر گامزن ہے اور رواں سال ملک میں معاشی ترقی اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کا سال ہو گا۔ ایف بی آر اصلاحات پر جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حکومت کا مقصد کاروبار میں آسانیاں پیدا کرنا‘ سرمایہ کاری اور برآمدات کو فروغ دینا اور ٹیکس کے نظام کو شفاف اور آسان بنانا ہے تاکہ کاروباری برادری کا اعتماد بڑھ سکے۔ حکومت نے ترقی کا جو فارمولا بیان کیا ہے اس کی اصابت سے انکار نہیں کہ کاروبار کرنے میں آسانی‘ سرمایہ کاری و برآمدات کا فروغ اور آسان ٹیکس نظام ہی معاشی ترقی کو مہمیز دیتے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ اس پیمانے پر اگر جاری صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو ہم کہاں کھڑے ہوتے ہیں۔اگر کاروباری اعتماد کی بات کی جائے گزشتہ ماہ جاری کردہ بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے کے مطابق پاکستان میں کاروباری اعتماد میں نو فیصد کمی آئی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی‘ بڑھتی مہنگائی‘ ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ‘ سپلائی چین میں رکاوٹیں اور پالیسی غیر یقینی وہ عوامل ہیں جن کے سبب سرمایہ کار یہاں سرمایہ لگانے سے گریزاں ہیں۔ 70 سے 80 فیصد ادارے نہ صرف سرمایہ کاری کے فیصلے مؤخر کر رہے بلکہ اکثر اپنے کاروبار کو سمیٹ رہے ہیں۔

برآمدات کی بات کریں تو گزشتہ مالی سال برآمدات کا حجم30.13 ارب ڈالر رہا جو طے کردہ ہدف 35 ارب ڈالر سے لگ بھگ 14 فیصد کم ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ مالی سال 25ء کی نسبت بھی برآمدات میں چھ فیصد گراوٹ آئی۔ بعینہ معاملہ بیرونی سرمایہ کاری کا ہے۔ گزشتہ مالی سال کے گیارہ ماہ کے دوران بیرونی سرمایہ کاری میں 28.4فیصد کمی آئی۔ 1999ء سے 2025ء تک‘ پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کا حجم دو ارب ڈالر کے لگ بھگ رہا ہے‘ جو 400 ارب ڈالر سے بڑی معیشت اور 25کروڑ آبادی والے ملک کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔ اگر ٹیکس اصلاحات کی بات کی جائے تو پاکستان کا ٹیکس نظام بدستور تضادات کا شکار ہے۔ ٹیکس ریونیو میں مسلسل اضافے کے باوجود حکومت ٹیکس اہداف حاصل کرنے میں ناکام چلی آ رہی ہے۔ گزشتہ مالی سال کے بجٹ میں 14131 ارب روپے ٹیکس ہدف مقرر کیا گیا تھا جسے بعد ازاں آئی ایم ایف کیساتھ نظر ثانی میں کم کر کے 13979 ارب روپے کر دیا گیا مگر مالی سال کے اختتام تک 13003 ارب روپے ٹیکس ہی جمع ہو سکا اور لگ بھگ 975 ارب روپے کے ٹیکس خسارے کا سامنا رہا۔
اب نئے مالی سال میں 15264 ارب روپے کا ٹیکس ہدف رکھا گیا ہے‘ جس کیلئے زیادہ انحصار بالواسطہ ٹیکسوں اور پٹرولیم لیوی پر ہے۔ حالانکہ ایک معیاری ٹیکس نظام کو شفاف اور بلاواسطہ ہونا چاہیے‘ تاکہ ہر طبقے پر اس کا بوجھ لادنے کے بجائے صرف متمول طبقات پر ہی ٹیکس عائد کیا جائے۔ لہٰذا ٹیکس اصلاحات ہنوز تشنہ تعبیر ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں تجارتی خسارہ 39 ارب 47 کروڑ ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔ اگرچہ 41 ارب 60 کروڑ ڈالر کی ترسیلاتِ زر نے ملکی معیشت کو مضبوط سہارا فراہم کیا اور کرنٹ اکائونٹ خسارہ سرپلس رہا مگر معاشی ماہرین کے نزدیک یہ پائیدار حکمتِ عملی نہیں ہے۔ سات برسوں میں ترسیلاتِ زر تقریباً دُگنی ہو چکی ہیں مگر اسی عرصے کے دوران برآمدات تیس ارب ڈالر کے قریب جمود کا شکار ہیں۔ پھر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ترسیلات بنیادی طور پر کھپت کو سہارا دیتی ہیں‘ سرمایہ کاری کو نہیں۔
لہٰذا ترسیلاتِ زر کا بڑھتا حجم عارضی معاشی سہارا تو ہو سکتا ہے مگر سرمایہ کاروں کے بڑھتے اعتماد یا وسیع تر معاشی خوشحالی کی عکاسی نہیں کر سکتا۔ پائیدار ترقی درآمدات و برآمدات میں توازن‘ شفاف ٹیکس نظام‘ صنعتکاری و سرمایہ کاری کے فروغ اور آسان کاروبار میں پہناں ہے۔ قومی معیشت میں نمو کی صلاحیت سے انکار نہیں مگر اس کیلئے جس تندہی کی ضرورت ہے وہ اب تک نظر نہیں آتی۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سست رفتار انٹر نیٹ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-16/11365</link><pubDate>Thu, 16 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-16/11365</guid><description>سست رفتار انٹرنیٹ اور غیرمستحکم نیٹ ورک کے مسائل شدت اختیار کر چکے ہیں ۔ حالیہ دنوں یہ مسئلہ قومی اسمبلی میں بھی زیر بحث رہا جہاں قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اجلاس میں سست انٹر نیٹ اور کمزور نیٹ ورک پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ یہ مسئلہ اب صرف دور دراز علاقوں تک محدود نہیں بڑے شہروں میں بھی سست رفتار انٹرنیٹ کی شکایات عام ہیں۔ اگرچہ حکومت فائیو جی سپیکٹرم کی نیلامی کر چکی اور 22 بڑے شہروں میں فائیو جی سروسز کے آغاز کا اعلان بھی کیا جا چکا ہے تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس نظر آتے ہیں۔ صارفین کو آج بھی سست انٹرنیٹ اور غیر مستحکم نیٹ ورک کا سامنا ہے۔ تعلیم‘ ای کامرس‘ بینکاری‘ سرکاری خدمات‘ آن لائن کاروبار اور صنعتی سرگرمیوں کا بڑا حصہ انٹرنیٹ پر انحصار کرتا ہے‘ اس لیے سست رفتار انٹرنیٹ براہِ راست پیداواری صلاحیت اور اقتصادی سرگرمیوں کو متاثر کرتا ہے۔

سب سے زیادہ نقصان آئی ٹی انڈسٹری اور فری لانسرز کا ہوتا ہے۔ خصوصاً دور دراز علاقوں میں۔ ضروری ہے کہ انٹرنیٹ سروسز کی رفتار اور معیار میں حائل تمام تکنیکی‘ انتظامی اور توانائی سے متعلق رکاوٹوں کو ترجیحی بنیادوں پر دور کیا جائے تاکہ ملک میں ڈیجیٹل معیشت کا فروغ ممکن بنایا جا سکے۔اسی طرح موبائل نیٹ ورک کے مسائل کو بھی دور کیا جانا ضروری ہے۔اس وقت بڑے شہروں میں تو شاید یہ مسئلہ نہ ہو یا کم ہو مگر چھوٹے شہروں اور قصبوں دیہات میں موبائل نیٹ ورک کے مسائل کافی زیادہ ہیں جن کا ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جانا ضروری ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ڈگریوں کی تصدیق میں تاخیر(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-16/11364</link><pubDate>Thu, 16 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-16/11364</guid><description>اعلیٰ تعلیم روشن مستقبل کی بنیاد ہوتی ہے مگر جب تعلیم مکمل کرنے کے بعد ڈگری کی تصدیق جیسے بنیادی مرحلے میں غیر ضروری رکاوٹیں پیش آئیں تو برسوں کی محنت بھی غیریقینی صورتحال سے دوچار ہو جاتی ہے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم و تربیت کے حالیہ اجلاس میں انکشاف کیا گیا کہ غیرمجاز کیمپسز سے وابستہ ہزاروں طلبہ کی ڈگریاں تاحال تصدیق کی منتظر ہیں۔ یہ معاملہ محض انتظامی سستی کا نہیں بلکہ نوجوانوں کے تعلیمی اور پیشہ ورانہ مستقبل سے جڑا ہوا ایک اہم قومی مسئلہ ہے۔ بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم‘ سکالرشپ‘ ملازمت یا پیشہ ورانہ رجسٹریشن کیلئے تصدیق شدہ اسناد بنیادی تقاضا ہیں۔

ایسے میں اگر طلبہ مہینوں تک اس عمل کی تکمیل کے منتظر رہیں تو نہ صرف قیمتی مواقع ضائع ہوتے ہیں بلکہ انہیں مالی نقصان اور ذہنی دباؤ کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس مسئلے کا ایک اور افسوسناک پہلو غیرمجاز کیمپسز کا قیام ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ڈگریوں کی تصدیق کے پورے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے۔ ریکارڈ کی مکمل ڈیجیٹائزیشن‘ خودکار تصدیقی نظام‘ واضح وقت کی پابندی اور مؤثر نگرانی سے نہ صرف تاخیر کا خاتمہ ممکن ہے بلکہ شفافیت اور اعتماد میں بھی اضافہ ہو گا۔اس کے ساتھ ساتھ تعلیم کے میدان میں غیر قانونی اقدامات کی مؤثر روک تھام اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی پر بھی توجہ دی جانی چاہیے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بس کر دو یار! خدا کے لیے بس کر دو(محمد اظہارالحق)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-07-16/52303/40104020</link><pubDate>Thu, 16 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-07-16/52303/40104020</guid><description>میں پہلے مذہبی اور مسلکی مسائل علما سے سیکھتا تھا۔ میرے لیے تمام مکتب ہائے فکر کے علما قابلِ احترام تھے‘ اس لیے کہ ان کے پاس علم تھا۔ قوتِ برداشت تھی۔ نرم گفتار تھے۔ شفقت سے پیش آتے تھے۔ ان میں سنی تھے‘ شیعہ تھے‘ دیوبندی تھے‘ بریلوی تھے‘ اہلِ حدیث تھے۔ یہ ایسے لوگ تھے کہ اپنا مؤقف بیان کرتے مگر دوسروں پر تنقید کرتے نہ ان کی تنقیص کرتے‘ نہ ان کی تردید کرتے‘ نہ کسی پر حملہ کرنے کی ترغیب دیتے۔ میں نے دیکھا کہ یہ علما جب ایک دوسرے سے ملتے تو پورے احترام اور خلوص سے ملتے۔لیکن اب مجھے مسلکی اور مذہبی مسائل زبردستی سکھائے اور پڑھائے جا رہے ہیں۔ میرے دونوں ہاتھ باندھ کر میرا منہ بزور کھول کر‘ مسائل میرے منہ میں ٹھونسے جا رہے ہیں۔ یہ سکھانے‘ پڑھانے اور ٹھونسنے والے کون ہیں؟ یہ عالم ہیں نہ علامے‘ مجتہد ہیں نہ آیت اللہ! ان میں کوئی دودھ بیچنے والا ہے‘ کوئی ریڑھی بان ہے‘ کوئی مستری ہے‘ کوئی مزدور۔ کسی نے چار کتابیں رٹ رکھی ہیں‘ کوئی بارہ جماعت فیل ہے‘ کوئی بیروزگار ہے اور وقت گزاری کے لیے فرقہ واریت پھیلا رہا ہے۔ سوشل میڈیا ان کے ہتھے چڑھ گیا ہے۔ انہیں مسجد اور امام بارگاہ میں کوئی مؤذن یا ماشکی بھی نہ لگائے مگر سوشل میڈیا پر یہ عالم فاضل بنے ہوئے ہیں۔ جو مسائل پندرہ سو سال سے غیر حل شدہ چلے آ رہے ہیں‘ انہیں یہ افلاطون زادے‘ سوشل میڈیا پر ایک لحظے میں حل کرنا چاہتے ہیں!ان نیم خواندہ ملاؤں اور نام نہاد مسٹروں کی محبوب ترین تختۂ مشق فیس بک ہے۔ ہائے بیچاری فیس بک! ہائے بیچارہ مارک زکر برگ! جس نے فیس بک ایجاد کی۔ ایک طرف فیس بک کا موجد اور اس کی بیوی ہے جو اربوں ڈالر خرچ کر کے دنیا سے بیماریاں ختم یا کم کرنا چاہتے ہیں۔ دکھی انسانیت کی خدمت کرنا چاہتے ہیں۔ دوسری طرف ہم پاکستانی ہیں جو اسی فیس بک کے ذریعے قوم کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا چاہتے ہیں۔ ملکی اتحاد کو پارہ پارہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ زور اس بات پر نہیں کہ ہم مسلمان ہیں۔ سارا زور اس بات پر ہے کہ ہم سنی ہیں‘ ہم شیعہ ہیں‘ ہم دیوبندی ہیں‘ ہم اہلِ حدیث ہیں‘ ہم بریلوی ہیں‘ ہم حیاتی ہیں‘ ہم مماتی ہیں! مارک زکر برگ خود کیا کہتا ہے‘ سنیے: &#39;&#39;جو دنیا ہم چاہتے ہیں‘ وہ ہم فوراً تو حاصل نہیں کر سکتے لیکن ہم آج سے اس پر کام کرنا تو شروع کر سکتے ہیں‘‘۔ یہ ہے وہ دنیا جو فیس بک کا بانی حاصل کرنا چاہتا ہے۔ مگر ہم کون سی دنیا چاہتے ہیں؟ غراتی ہوئی‘ چنگھاڑتی ہوئی۔ جس کے گلے کی رگیں سرخ ہوں۔ جس کے منہ سے جھاگ نکل رہی ہو۔ جس کے ایک ہاتھ میں تلوار ہو‘ دوسرے میں بم! جس کے کندھے پر بندوق ہو۔ جس کی کمر سے خنجر لٹک رہا ہو۔ جس کا نعرہ تکفیر ہو۔ فلاں مشرک ہے‘ فلاں بدعتی ہے‘ فلاں گستاخ ہے‘ فلاں جہنمی ہے‘ فلاں فلاں کا دشمن ہے‘ فلاں فلاں کا مخالف ہے! الامان والحفیظ! اے بدقسمت زکر برگ!! آ کر دیکھ! تیری فیس بک کس طرح استعمال ہو رہی ہے۔ مجھے ڈر ہے وہ خودکشی نہ کر لے۔ کپڑے پھاڑ کر جنگل کو نہ نکل جائے۔ بال بکھیر کر سینہ کوبی نہ شروع کر دے۔ کنویں میں چھلانگ نہ لگا دے۔ خود سوزی نہ کر لے۔ کنپٹی پر پستول رکھ کر گولی نہ چلا دے۔میں فیس بک کھولتا ہوں۔ سامنے ایک سیاستدان‘ جنہوں نے کچھ عرصہ پہلے ایک کشتی چھوڑ کر دوسری کشتی میں پناہ لی تھی‘ ایک مولانا کو وارننگ دے رہے ہیں کہ چوبیس گھنٹوں میں معافی نہ مانگی تو تھانے میں درخواست دے دوں گا۔ سکرول کرتا ہوں۔ ایک لمبا چوڑا مضمون یا بیان‘ اس بارے میں ہے کہ فلاں قسم کا نکاح جائز ہے یا نہیں۔ اور نیچے جاتا ہوں۔ ایک پوسٹ پر لکھا ہے کہ فلاں مسلک اپنے سوا سارے جہان کو کافر سمجھتا ہے۔ اور یہ کہ اگر یہ سچ ہے تو فلاں پر لازم ہے کہ فلاں پر لعنت بھیجے۔ اور اگر جھوٹ ہے تو پھر فلاں پر لعنت بھیجے۔ مزید سکرول کرتا ہوں۔ پندرہ صدیوں پہلے کے حالات پر دھواں دار گفتگو بلکہ مناظرہ ہو رہا ہے۔ فریقین ایک ہی مسلک‘ ایک ہی گروہ سے وابستہ ہیں مگر کشتوں کے پشتے لگ رہے ہیں۔ مزید نیچے جاتا ہوں۔ پوسٹ پر لکھا ہے فلاں کو کس نے قتل کیا؟ یاد رہے کہ یہ قتل صدیوں پہلے ہوا تھا۔ اس کے بعد والی پوسٹ میں یقین سے اطلاع دی جا رہی ہے کہ فلاں فلاں عقیدے پر یقین رکھنے والوں کے لیے نجات &#39;&#39;سراسر ناممکن‘‘ ہے۔ یہ سلسلہ ختم ہونے میں نہیں آتا۔ میں کانوں کو ہاتھ لگاتا ہوں اور آنکھیں بند کر کے بستر پر دراز ہو جاتا ہوں۔یہ تو فیس بک کا حال ہے۔ یوٹیوب جس مصیبت سے گزر رہی ہے‘ وہ ایک الگ داستان ہے۔ پے پال ایک بین الاقوامی کمپنی ہے جو دنیا بھر میں ترسیلِ زر کا کام کرتی ہے۔ اس کے تین ملازموں نے مل کر یوٹیوب کی بنیاد ڈالی۔ ان تین میں ایک بنگالی نژاد جاوید کریم بھی تھا۔ جاوید کریم (اُس وقت) کے مشرقی جرمنی میں پیدا ہوا۔ باپ بنگلہ دیشی تھا جبکہ ماں جرمن! مشرقی جرمنی میں نسلی تعصب کی وجہ سے یہ خاندان مغربی جرمنی چلا گیا۔ وہاں بھی یہی حال تھا۔ پھر یہ کنبہ امریکہ چلا آیا۔ یوٹیوب کے دوسرے دو بانیوں میں ایک سٹیو چَین تھا اور تیسرا چاڈ ہرلے! یوٹیوب پاکستان میں جس اذیت سے گزر رہی ہے‘ ان تینوں بانیوں کو ڈھونڈ رہی ہے کہ کیا اسے اس لیے پیدا کیا تھا کہ مولوی صاحبان کے ہتھے چڑھ جائے؟ اور اس کی چیخیں نکل آئیں۔ &#39;&#39;یو ٹیوبر مولوی صاحبان‘‘ کا ایک پورا سلسلہ ہے جس نے دھومیں مچائی ہوئی ہیں۔ ان مولوی صاحبان کو سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ مذہب کے نام پر جو چاہیں کہہ لیں‘ کوئی ان سے سوال نہیں کر سکتا۔ سوال کرنا چاہے تو کہاں کرے گا؟ وہ تو مورچوں میں چھپ کر گولا باری کر رہے ہیں! ان گولہ باری کرنے والوں میں ہر مسلک‘ ہر فرقے‘ ہر گروہ کے &#39;&#39;مردانِ کار‘‘ شامل ہیں! یہ حضرات قوم کو اور امت کو مسلسل‘ تقسیم در تقسیم در تقسیم کے عمل سے گزار رہے ہیں۔ ساتھ تجوریاں بھی بھر رہے ہیں۔ اپنے اپنے حصے کے بے وقوف سب کو ملے ہوئے ہیں۔ وقت پاکستانیوں کے پاس وافر ہے۔ جس قوم کے سپوت دو گاڑیوں کے جائے حادثہ پر گھنٹوں کھڑے ہو کر &#39;&#39;تماشا‘‘ دیکھ سکتے ہیں‘ وہ یوٹیوب پر پہروں بیانات‘ مناظروں‘ مجادلوں‘ فقہی جھگڑوں سے محظوظ کیوں نہیں ہو سکتے! کچھ یوٹیوبر‘ مذہب کا لبادہ اوڑھے‘ ملک سے باہر براجمان ہیں۔ عالمی اسٹیبلشمنٹ کی ریشمی نرم گود میں بیٹھ کر اسی کی ترجمانی کرتے ہیں۔ ایران اسرائیل‘ امریکہ کی جنگ میں کھل کر امریکہ اور اسرائیل کا ساتھ دیا ہے۔ ان کی کامیابی کا راز یہ ہے کہ ہر کچھ عرصہ کے بعد مؤقف تبدیل کر لیتے ہیں اور برملا تبدیل کر لیتے ہیں! ملک کے اندر‘ ایک یوٹیوبر صاحب کی سوئی‘ اللہ انہیں سلامت رکھے‘ شادیوں پر اٹکی ہوئی ہے۔ زیادہ شادیاں کرو‘ زیادہ اولاد پیدا کرو‘ مسلمانوں کی آبادی بڑھاؤ۔ اس مہم میں کامیابی کے گُر بھی بتاتے ہیں: مثلاً یہ کہ پہلے گھر میں جھوٹ بولو کہ دوسری (یا تیسری یا چوتھی) شادی کر لی ہے۔ اس سے طوفان اُٹھے گا۔ اگر طوفان سنبھال لو‘ تو بس پھر شادی کر لو۔ اگر نہ سنبھلے تو نہ کرو۔ نوٹ کیجیے کہ اس گُر کی بنیاد جھوٹ پر ہے۔ ایک اور یوٹیوبر صاحب برملا‘ فخر سے‘ سینہ تان کر‘ دعویٰ کرتے ہیں کہ &#39;&#39;ہم تو بات ہی اختلافی مسائل پر کرتے ہیں‘‘۔ ماشا اللہ! کسی گروہ‘ کسی مسلک‘ کسی مکتب فکر کو معاف نہیں کرتے۔ ناوک نے تیرے صید نہ چھوڑا زمانے میں!! زبان بھی کافی تیز اور لہجہ جارحانہ پایا ہے۔ ایک دن اقبال پر برس رہے تھے کہ فلاں شعر غلط ہے۔ بس کر دو یار! خدا کے لیے بس کر دو!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_57182973.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سب دیہاڑی لگا رہے ہیں(خالد مسعود خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-07-16/52304/96632687</link><pubDate>Thu, 16 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-07-16/52304/96632687</guid><description>اپنی مرضی اور آزادی سے لکھنے اور اس کے چھپنے کے درمیان ڈر نہیں دیگرمجبوریاں حائل ہیں۔ جب توجہ کیا بات لکھنی ہے سے زیادہ اس بات پر ہو کہ کیا نہیں لکھنا تو بھلا پھر لکھنے کا خاک مزہ رہ جاتا ہے۔ سو یہ مسافر جب کیا لکھنا ہے اور کیا نہیں لکھنا کی دہری مشقت سے تنگ آجاتا ہے تو پھر ان موضوعات پر لکھنا شروع کر دیتا ہے جس میں سوچ کا پنچھی لامتناہی پرواز کرنے پر قادر ہوتا ہے۔ جانور‘ درخت‘ جنگل‘ قدرت کی صناعی‘ مظاہرِ فطرت اور کھو جانے والی چیزوں کا &#39;پِٹ سیاپا‘ اس مسافر کے پسندیدہ موضوعات ہیں۔ آپ کہیں گے ان جنگلوں‘ پرندوں‘ جانوروں‘ اور رب کی حسین دنیا کے بارے لکھتے لکھتے درمیان میں یہ بے جوڑ &#39;پِٹ سیاپا‘ کیسے آ سکتا ہے ؟ یہ تو مخمل میں ٹاٹ کے پیوند سے بھی زیادہ بدنما جوڑ ہے۔ لیکن مسافر کیا کرے ‘ یہ بات درست ہے کہ کھو جانے والی چیز کا خواہ دیر سے ہی سہی‘ بالآخر صبر آ جاتا ہے لیکن جب وہی کھوئی ہوئی چیز بار بار‘ گھڑی گھڑی آپ کے سامنے آ جائے تو بھلا صبر تا دیر کیسے قائم رہ سکتا ہے ؟ اب دنیا دیکھنے کا شوقین یہ مسافر دورانِ سفر اپنی آنکھیں اور دل و دماغ کی کھڑکیاں بند تو نہیں رکھ سکتا۔ سو اپنی کھوئی ہوئی میراث کو دیکھتا ہے تو اس کے دل سے ہوک اٹھتی ہے اور پھر قلم اسے لفظ و حرف کا قالب عطا کرنے چل پڑتا ہے۔ ایک دوست کا ملتان سے فون آیا تو پوچھنے لگا کہ گزشتہ سے پیوستہ کالم میں تم نے لاس اینجلس میں پولیس کے ہاتھوں مرنے والے کسی پالتو کتے کا ذکر کیا تھا۔ کیا ادھر لوگوں کو اور کوئی کام نہیں اور میڈیا کے پاس بھی کوئی کام کی خبر نہیں کہ اب پولیس کے ہاتھوں ایک پالتو کتے کو گولی لگنے کا واقعہ اتنا اہم ہو گیا ہے۔ پھر از راہِ تجسس خود ہی پوچھنے لگا کہ دراصل یہ معاملہ ہے کیا ؟میں نے کہا: ہمارے ہاں انسانی جان دراصل اتنی بے وقعت اور ارزاں ہو چکی ہے کہ اب وہ تقریباً اپنی خبریت ہی کھو چکی ہے۔ ہمارے ہاں انسان کتے کی موت مرتے ہیں اور کسی کے کان پر جوں نہیں رینگتی اس کے مقابلے میں ادھر کتے مرتے ہیں تو خبر میڈیا کی زینت بنتی ہے جبکہ سول سوسائٹی اسے سوشل میڈیا پر بھگتا کر فارغ کرنے کے بجائے باقاعدہ سڑکوں پر نکل کر احتجاج کرتی ہے۔ ایک شعر ضیاالحق ہنگامہ سے منسوب ہے اور کتے کی موت مرنے والے اردو محاورے کے برعکس دوسری صورتحال کا عکاس ہے۔ایک کتا دوسرے کتے سے یہ کہنے لگابھاگ ورنہ آدمی کی موت مارا جائے گامیری مارسیل نیویارک کی رہائشی تھی اور روزگار کے سلسلے میں 2014ء میں لاس اینجلس منتقل ہو گئی۔ وہ نیویارک میں رہائش پذیری کے دوران سے ہی نیویارک کی باسکٹ بال ٹیم &#39;&#39;نیویارک نکس‘‘ کی زبردست مداح تھی۔ اس کی اپنی ٹیم سے محبت لاس اینجلس شفٹ ہو جانے کے باوجود جاری رہی۔ اس روز نیویارک نکس کا فائنل مقابلہ سان انٹونیو سپرز کے ساتھ تھا‘ جو نکس نے جیت کر تریپن سال بعد این بی اے چمپئن شپ اپنے نام کر لی۔ خاتون نے اپنے اپارٹمنٹ میں اپنی ٹیم کی جیت پر زور زور سے نعرے مارتے ہوئے رقص کرنا شروع کر دیا جس پر پڑوسیوں کو لگا کہ ساتھ والے اپارٹمنٹ میں کچھ گڑبڑ ہے جو پڑوسن یوں شور مچا رہی ہے۔ انہوں نے خوشی اور مسرت سے مچائے جانے والے شور کو خطرہ سمجھتے ہوئے فوری طور پولیس کو اطلاع کر دی۔ ہماری پولیس کے برعکس جو واردات کی بروقت اطلاع ملنے کے باوجود گھنٹوں وقوعہ پر نہیں آتی تاوقتیکہ اسے یہ یقین نہ ہو جائے کہ ملزمان واردات کر کے محفوظ مقام تک نہیں پہنچ گئے ہیں‘ لاس اینجلس پولیس چند ہی منٹ میں وہاں پہنچ گئی۔ پولیس نے پڑوسیوں کی اطلاع کے مطابق بتائے گئے گھر کا دروازہ بجایا۔ دروازہ کھلنے پر اس خاتون کا دوسالہ کتا جیمسن‘ جس نے نیویارک نکس کی جرسی پہنی ہوئی تھی اپنی مالکن کے جشن مسرت سے خود بھی خاصا خوش اور پُرجوش تھا بھاگ کر باہر آیا اور بقول مالکن پولیس کی جانب دوستانہ انداز میں لپکا تاہم پولیس نے اس کے دوستانہ انداز میں اپنی جانب بڑھنے کو خطرے کا باعث سمجھا اور اس پالتو کتے کو گولی مار دی۔ میری مارسیل کے مطابق اسے لگا کہ جیمسن کو دو گولیاں ماری گئی ہیں تاہم متعلقہ پولیس اہلکار کے باڈی کیم (جسم پر لگا ہوا کیمرہ) کا جائزہ لینے کے بعد پتا لگا کہ اسے دو نہیں‘ چار گولیاں ماری گئی تھیں۔ اب پورے امریکہ میں اس پر احتجاج ہو رہا ہے کہ ایک چھوٹے سے بے ضرر پالتو کتے کو اس بے دردی اور بے رحمی کے ساتھ کیوں مارا گیا۔ اور کتے کی موت پر قانونی چارہ جوئی کیلئے &#39;&#39;جسٹس فار جیمسن‘‘ کے نام پر فنڈ ریزنگ ہو رہی ہے۔ مورخہ 6 جولائی تک اس مہم کے نتیجے میں دو لاکھ49ہزار 179 ڈالر یعنی سات کروڑ روپے کے لگ بھگ رقم اکٹھی ہو چکی ہے اور ابھی یہ مہم جاری ہے۔ یہ رقم جیمسن کی آخری رسومات‘ قانونی کارروائی‘ انصاف کے حصول‘ وکیلوں کی فیس اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے استعمال کی جائے گی۔ ادھر دو دو کروڑ روپے میں گاڑیوں کے گولڈن نمبر خریدنے والوں کے ملک میں ریمنڈ ڈیوس کے ہاتھوں قتل ہونے والے دو نوجوانوں فیضان حیدر اور محمد فہیم کیلئے فنڈ اکٹھا کرنے کی مہم شروع ہوئی تو اس میں چند ہزار روپے بھی اکٹھے نہ ہوئے جبکہ خون بہا میں دیت کے بیس کروڑ روپے مبینہ طور پر خود حکومت پاکستان نے ادا کیے تھے۔ یعنی قاتل کو قانونی کارروائی سے بچانے کیلئے خون بہا مبینہ طور پر حکومت نے ادا کیا۔ جس ریاست نے اپنے بے گناہ شہریوں کے خون کی حفاظت کرنا تھی اس نے اپنے مقتولین کا خون بیچا اور اس کی ادائیگی بھی خود کی۔ سرکار کو اتنی جرأت بھی نہ ہوئی کہ اپنے غیر سرکاری آقا سے اپنے مجرم کے جرم کے عوضانے میں دیت کی رقم ہی مانگ سکتی۔ مقتولین کا خون بہا مقتولین کے ورثا کو مقتولین کی محافظ ہونے کی ذمہ دار ریاست نے اپنے پلّے سے ادا کیا۔ اگر ہماری حکومتیں امریکی قاتل کے جرم کا خوں بہا ادا کر سکتی ہیں تو امیروں‘ رئیسوں اور طاقتوروں کے بگڑے ہوئے بچوں کی گاڑیوں تلے روندے جانے والے خاک نشینوں کا خون بہا کیوں ادا نہیں کر سکتیں؟ امریکی قاتل کی دیت کے عوض رہائی اور اس سلسلے میں حکومتی ادائیگی کا یہ سارا انتظام مبینہ طور پر ایک معزز ریاستی ادارے کے سربراہ نے اپنی نگرانی میں کروایا۔ اداروں کی بات چلی تو حالیہ ایک واقعے میں جہاں ایک طرف لاہور میں دو غیر ملکی خواتین کے اغوا‘ تاوان‘حبس بے جا‘ تشدد‘ اور زیادتی والے واقعے میں ملوث اونچے خاندان کے چشم و چراغ کو عالمی سطح پر پاکستان کی عزت و آبرو برباد کرنے کا موجب قرار دیا جا رہا ہے تو دوسری طرف ان دو خواتین کی برآمدگی اور بعد ازاں پولیس کی کارروائی کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہوئے پنجاب پولیس کے حق میں بیان حاصل کر کے ادارے کی کارکردگی کے جھنڈے گاڑے جا رہے ہیں۔ لیکن اس سارے خرابے میں یہ کسی کو یاد نہیں رہا کہ لاہور پولیس کے اعلیٰ افسروں نے کس طرح ان خواتین کی برآمدگی کا سہرا پولیس کی فوری کارروائی‘ حکومت پنجاب کی بروقت ہدایات اور ڈار خاندان کی اعلیٰ اخلاقی اقدار اور پولیس کی پیشہ ورانہ مہارت سے جوڑتے ہوئے سارا کریڈٹ لینے کی جو پریس کانفرنس کی تھی اس سے عالمی سطح پر پاکستانی اداروں کی کتنی بھد اڑی اور اس کا ملکی عزت و آبرو پر کیا منفی اثر پڑا ہے۔ کسی کو اندازہ ہے کہ بین الاقوامی نشریاتی اداروں پر اس پریس کانفرنس کے حوالے سے چلنے والی خبر کے برعکس برآمدگی کی اصل حقیقت کھلنے پر ادارے اور اس کے اعلیٰ افسران کی جو ساکھ متاثر ہوئی ہے اس کے اثرات کتنے نقصان دہ ہیں۔ لیکن یہاں کسی کو ملکی عزت‘ قومی آبرو اور ریاستی ساکھ کی پروا نہیں۔ سب دیہاڑی لگا رہے ہیں اور کسی کو رتی برابر پروا نہیں۔ نہ سول سوسائٹی کو‘ نہ مقتدرہ کو‘ نہ افسرشاہی کو اور نہ ہی حکمرانوں کو۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90500073.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>امریکہ‘ ایران جنگ اور نظریاتی دائرے(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-07-16/52305/69274346</link><pubDate>Thu, 16 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-07-16/52305/69274346</guid><description>امریکہ ایران معرکے میں‘ ایران کی حمایت کا مطلب کیا اس نظام کی تائید ہے جو اس وقت ایران میں نافذ ہے؟یہ سوال‘ اس وقت اشتراکی حلقے میں زیرِ بحث ہے مگر میرا خیال ہے کہ اس کو کسی ایک نظریاتی دائرے تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ اس بحث میں ہر وہ آدمی شریک ہو سکتا ہے جسے اس معرکے سے دلچسپی ہے۔ اشتراکی نظامِ فکر میں‘ اس حمایت کا محرک سلبی ہے۔ یعنی امریکی سامراج کی مخالفت۔ یہ حلقہ اسے ایک تاریخی عمل کے طور پر دیکھ رہا ہے جو سرتاپا مادی ہے۔ اس تعبیر کے مطابق القاعدہ کی حمایت کا جواز بھی پیدا ہو جاتا ہے اگر وہ امریکہ کے خلاف کھڑی ہوتی ہے۔ اشتراکی نظامِ فکر میں کسی مذہبی حکومت کیلئے کوئی جگہ نہیں لیکن ایران امریکہ معرکے میں‘ اس فکر کے وابستگان معاملات کو اس زاویے سے نہیں دیکھ رہے۔ اشتراکیوں کی طرح‘ ہمارا مذہبی طبقہ بھی امریکہ کی مخالفت میں گرم جوش ہے۔ ان کے ہاں بھی امریکی مخالفت‘ کسی کی تائید کیلئے جواز بن جاتی ہے۔ اسی وجہ سے بعض سنی جماعتیں بھی ایران کیساتھ کھڑی ہیں۔ کیا سوچ کا یہ انداز درست ہے؟ کیا عالمی سیاست کو اس نظر سے دیکھا جانا چاہیے؟اس بحث کو ایک اور زاویے سے دیکھیے۔ ایران کی مذہبی حکومت شام میں بشار الاسد کی حامی تھی۔ شام کی خانہ جنگی میں ایران نے اس رجیم کی بھرپور نصرت کی۔ پاکستان تک سے فدائین کو جمع کیا گیا جو شام میں بشار الاسد کے ساتھ مل کر مخالفین سے لڑے۔ قاسم سلیمانی کا اس مہم جوئی میں جو کردار تھا‘ سب اس سے واقف ہیں۔ یہ کہا جاتا ہے کہ بشار الاسد کے ہاتھوں لاکھوں شامیوں کا قتلِ عام ہوا۔ یہ سلسلہ ان کے والد حافظ الاسد کے دور سے جاری تھا۔ اس عمل کو ایرانی تائید میسر رہی۔ ایران کا یہ کر دار ان حلقوں میں کہیں زیرِ بحث نہیں آتا جو آج ایران کے حق میں سرگرم ہیں۔ معلوم ہوا کہ حمایت و مخالفت کا پیمانہ ظلم نہیں۔ ایسا ہوتا تو ہر ظالم کے خلاف آواز اٹھائی جاتی۔ یہ زاویہ نظر امتیازی ہے۔ ہم نے ہر ظلم کی مخالفت نہیں کرنی‘ ہمیں امریکی ظلم کے خلاف کھڑا ہونا ہے۔  کیا یہ سوچ درست ہے؟یہ پیچیدہ سوالات ہیں۔ ان کو اخلاقی حوالے سے دیکھیں تو جو جواب سامنے آئے گا وہ اس سے مختلف ہو گا جو انہیں مادی و تاریخی  عمل کے طور پر دیکھنے سے ملتا ہے۔ مسلمان کا زاویۂ نظر تو اخلاقی ہونا چاہیے۔ اسے یہ نہیں دیکھنا کہ اس کی رائے کی زد کس پر پڑتی ہے۔ اس کیلئے حکم یہ ہے کہ کسی قوم کی دشمنی‘ اسے انصاف سے دور نہ کر دے۔ اسے انصاف کی بات کر نی چاہیے اس سے صرفِ نظر کرتے ہوئے کہ اس کا فائدہ کسے پہنچتا ہے۔ اسلام اس گروہی عصبیت کو نہیں مانتا جو حق بات کہنے میں مانع ہو۔ یہاں اسلامی نقطہ نظر‘ اشتراکی نقطہ نظر سے اصولی طور پر مختلف ہو جاتا ہے۔ اشراکیت کے نزدیک سامراج کی مخالفت فی نفسہٖٖ مطلوب ہے۔ اسلام کا ورلڈ ویو اثباتی ہے‘ سلبی نہیں۔میں اس رائے کے پس منظر میں کارفرما جذبے کو سمجھ سکتا ہوں جو غلط نہیں ہے۔ سامراجیت ایک برائی ہے۔ غلبے کی نفسیات نے زمین کو فساد سے بھر دیا ہے۔ اس کے خلاف آواز اٹھانا لازم ہے۔ نظریاتی اندازِ نظر کا مگر ایک مسئلہ ہے۔ اس میں صرف وہ  سامراج قابلِ مذمت ہوتا ہے جو دوسرے نظریاتی پیراڈائم میں جنم لیتا ہے۔ مسلمان کا نقطہ نظر یہ ہونا چاہیے کہ غلبے کی اس نفسیات کا ظہور‘ جس طبقے‘ مذہب یا آئیڈیالوجی کو ماننے والوں کے ہاں ہو گا‘ قابلِ قبول نہیں۔ سامراج امریکی ہو یا روسی‘ عباسی ہو یا فرانسیسی‘ ہمارے نظامِ فکر میں اس کیلئے کوئی جگہ نہیں۔ اسی طرح ظلم‘ ظلم ہے۔ اس کا ارتکاب جو بھی کرے گا‘ قابلِ مذمت ہو گا۔ سوال یہ ہے کہ اس اصول کا اطلاق ہم ایران امریکہ جنگ پر کیسے کر سکتے ہیں اور ایران کے داخلی معاملات کو کیا لازماً اس کا حصہ ہونا چاہیے؟اس جنگ میں ایران کی حمایت کا ایک اخلاقی جواز موجود ہے۔ امریکہ ایران پر حملہ آور ہوا۔ اُس کے راہنما کو ان کے گھر جا کر  قتل کیا۔ دنیا کا کوئی قانون‘ کوئی اخلاقی ضابطہ اس کی تائید نہیں کر سکتا۔ جب معاملہ اس جنگ تک محدود ہو گا تو یہ بحث غیر متعلق ہو جائے گی کہ ایران کا داخلی نظام کیا ہے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے کہ وینزویلا کے سیاسی نظام سے قطع نظر‘ کسی دوسرے ملک کو یہ حق حاصل نہیں تھا کہ اس کے صدر کو اس کے گھر سے اٹھا لیا جائے۔ لہٰذا اگر کوئی امریکہ کے مقابلے میں ایران کی حمایت کرتا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ ایران میں قائم نظام کو بھی درست سمجھتا یا اس کی تائید کرتا ہے۔نظریاتی پیراڈائم میں بنیادی خرابی یہ ہے کہ یہ کلی تائید چاہتا ہے یا کلی مخالفت۔ اس میں درمیانہ راستہ نہیں ہوتا۔ آئیڈیالوجی ایک تعصب کو جنم دیتی ہے۔ مذہب کو آئیڈیالوجی بنانے کا ایک نتیجہ یہ نکلا کہ مذہب ہدایت کے بجائے عصبیت بن گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عملی زندگی میں یہ ممکن نہیں ہوتا کہ افراد‘ گروہوں یا نظریات کو آپ سیاہ اور سفید میں بانٹ سکیں۔ خیر اور شر کو ایک دوسرے سے جدا کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ اشتراکیت میں ایک خیر بھی چھپا ہوا ہے۔ اشتراکیت ہی نے سرمایہ داری کو لگام ڈالی اور انسانیت کو مارکس جیسا مفکر دیا۔ انسانی سماج کو متوازن بنانے میں‘ اس کا غیر معمولی حصہ ہے۔ اسی طرح سرمایہ داری نے سرمایے کے فطری بہاؤ کو جس طرح سماجی حقائق سے ہم آہنگ کیا‘ وہ بھی ایک خدمت ہے۔ نظریاتی سیاست میں جب لوگوں نے کوشش کی کہ ایک نظریے  کی طے شدہ تمام حدود کی پابندی کی جائے تو کوئی قابلِ عمل نظام بن نہ سکا۔ سب کو پیوند لگانا پڑا۔ سرمایہ دارانہ ریاست کو ویلفیئر سٹیٹ کا تصور لینا پڑا اور اشتراکیت کو بھی کھلی منڈی کیلئے جگہ بنانا پڑی۔ اس پر لینن اوردوسرے اشتراکی مفکرین نے لکھا ہے۔&#39;اسلام پسندوں‘ کو بھی اس امتحان سے گزرنا پڑا۔ جب انہوں نے جمہوریت‘ انتخابی نظام‘ سرمایہ داری‘ اشتراکیت‘ ہر چیز کو &#39;جاہلیتِ جدیدہ‘ قرار دے کر مسترد کر دیا تو ان کیلئے قدم اٹھانا دوبھر ہو گیا۔ انہیں اب راستہ نکالنا تھا۔ اس کیلئے &#39;حکمتِ عملی‘ کے دائرے میں اس جاہلیت کیلئے جگہ پیدا کی گئی۔ جیسے دو برائیاں سامنے ہوں تو کم تر کو قبول کرنا چاہیے۔ مولانا مودودی نے اس پر عالمانہ بحث کی ہوئی ہے جو &#39;تفہیمات‘ حصہ سوم میں موجود ہے۔ اس پر مولانا امین احسن اصلاحی کی تنقید بھی اہم ہے۔ میرا تاثر یہ ہے کہ یہ بحث حکمتِ عملی کی نہیں‘ آئیڈیالوجی کی ہے۔ انسان ساختہ سر گرمی‘ علمی ہو یا عملی‘ غلطی سے خالی نہیں ہوتی۔ ایسے معاملات میں ہمارے دین کی تلقین یہ ہے کہ ہمیں حق کے ساتھ کھڑا ہونا ہے‘ کسی خاص گروہ کے ساتھ نہیں۔ اس میں فطری عصبیتوں کی رعایت موجودہے اور ان سے وابستگی کا دائرہ بھی بتا دیا گیا ہے۔امریکی جارحیت کے خلاف ایران کی حمایت کے ساتھ‘ ہم ایرانی حکمتِ عملی کا بھی جائزہ لیں گے اور اس کے غلط یا صحیح ہونے پر اپنی رائے دیں گے۔ ایک معاہدے نے اس کیلئے جو امکانات پیدا کیے تھے‘ اگر انہیں ضائع کیا جائے گا تو اس پر تنقید ہوگی۔ اسی طرح اگر عرب ممالک سے چھیڑ چھاڑ جاری رہے گی تو اس کے مضر اثرات پر بھی بات ہو گی۔ یہ ایران کے ساتھ خیر خواہی کا تقاضا ہے اور حق پرستی کا بھی۔ نظریاتی دائروں میں سوچنے والوں کو اس پر غور کرنا چاہیے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کاغذی نان اور چھدامی بھڑبھونجا(عمران یعقوب خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-07-16/52306/90745815</link><pubDate>Thu, 16 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-07-16/52306/90745815</guid><description>ملک میں گندم اور آٹے کی قیمت بڑھنے سے روٹی اور نان کی قیمت بھی بڑھنے لگی ہے اور یہ اضافہ اس حقیقت کے باوجود کیا جا رہا ہے کہ ابھی تھوڑا عرصہ پہلے ہی روٹی اور نان کی قیمت میں اضافہ کیا گیا تھا اور سادہ روٹی 20روپے میں جبکہ نان 30روپے میں فروخت ہو رہا تھا حالانکہ سرکاری ریٹ سادہ روٹی 14روپے اور نان 20روپے ہے۔ گندم اور آٹے کی بڑھتی قیمتوں کو جواز بنا کر نان بائی ایسوسی ایشن نے روٹی کی قیمت کو پہلے 14روپے سے 20روپے کیا اور نان 30روپے میں بیچنے کا اعلان کیا تھا۔ جب اس پر انتظامیہ اور عوام کی جانب سے کوئی خاص ردِ عمل سامنے نہ آیا تو اب قیمتوں میں مزید اضافے کی باتیں کی جا رہی ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ سادہ روٹی شاید 25روپے کی ہو جائے اور نان 35روپے میں بکنے لگے۔ انتظامیہ نان بائیوں کو قیمتیں بڑھانے سے روک سکے گی یا نہیں‘ اس کا فیصلہ وقت ہی کرے گا۔ فی الحال تو عوام سہمے بیٹھے ہیں کہ اگر نان واقعی 35روپے کا اور سادہ روٹی 25روپے کی ہو گئی تو کیا ہو گا؟ہمارے لیے تو 35روپے کا نان خریدنا شاید اتنی اچنبھے کی بات نہ ہو کہ ہم نے نان کی قیمت کے ایک روپے سے 30روپے تک پہنچنے کے پورے ارتقائی عمل کا خود مشاہدہ کیا ہے۔ 1994ء کی بات ہے کہ سادہ روٹی آٹھ آنے (پچاس پیسے) کی اور نان ایک روپے کا ہوتا تھا۔ اُس سال چھوٹی عید کے بعد سادہ روٹی ایک روپے کی ہو گئی اور نان دو روپے کا ہو گیا۔ اس کے دو اڑھائی ماہ بعد ہی یعنی بڑی عید کے بعد سادہ روٹی ڈیڑھ روپے کی ہو گئی اور نان تین روپے کا کر دیا گیا تھا۔ پھر روٹی اور نان کی قیمتوں کے منہ زور گھوڑے کو روکنا کسی کے بس میں نہ رہا جس کا نتیجہ آج ہم روزمرہ خوراک کے اہم ترین جزو کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کی صورت میں دیکھ رہے ہیں۔ یہ سلسلہ رکتا نظر نہیں آتا۔ہم نے تو خیر یہ سب دیکھا‘ پرکھا اور کسی نہ کسی طور برداشت بھی کر لیا‘ لیکن سوچتا ہوں روٹی کی قیمت 25 روپے اور نان کی قیمت 35 روپے سن کر ان لوگوں کا کیا حال ہوتا ہو گا جنہوں نے ہمارے دور سے بھی سستے زمانے دیکھے ہیں۔ وہ بزرگ جو اپنے زمانے میں تین پیسے اور چھ پیسے (ایک آنے ) کی روٹی خریدتے تھے یا جنہوں نے دیسی گھی آٹھ دس روپے کلو خریدا یا جو آٹا ایک روپے کا دس کلو فروخت ہونے کے چشم دید گواہ ہیں‘ وہ کیا محسوس کرتے ہوں گے؟ ممکن ہے آج کی جنریشن چھ پیسے کی روٹی کا سن کر حیران ہو لیکن یہ حقیقت ہے کہ ایک زمانے میں کھانے پینے کی چیزیں نہایت سستی ملتی تھیں۔ اور یہ تو ایک آسان سا معاشی کلیہ ہے کہ چیزیں سستی ہوں تو قوتِ خرید خود بخود اس قدر مستحکم ہو جاتی ہے کہ عام آدمی کا ماہانہ بجٹ بہ آسانی چلتا رہے۔ یہ تب کی بات ہے جب بے لگام کمرشل ازم کا جن ابھی بوتل سے باہر نہیں نکلا تھا اور سب حلال کی کھاتے تھے‘ صرف جائز منافع کماتے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد ابتدائی برسوں میں ایک آنے‘ دو آنے اور چار آنے (چوّنی) میں روٹی اور سالن مل جاتا تھا۔ تب کئی ہوٹل یا تنور تو ایسے بھی ہوتے تھے جہاں آٹھ آنے کی دال اور روٹی فری مل جاتی تھی‘ یعنی آٹھ آنے میں کوئی بھی فرد پیٹ بھر کر کھانا کھا سکتا تھا۔ اب آٹھ آنے کا کوئی دھکا بھی نہیں دے گا۔نان کی مجوزہ قیمت 35 روپے کا سن کر مجھے چھدامی بھڑبھونجا یاد آ گیا ہے۔ کیا آپ چھدامی بھڑبھونجے کو جانتے ہیں؟ میرے خیال میں تو آپ کو آگاہ ہونا چاہیے۔ نہیں جانتے تو میں بتا دیتا ہوں۔ ڈپٹی نذیر احمد کے ناول توبۃ النصوح میں ایک رات جب نصوح کے بیٹے سلیم کو رات کے وقت بھوک لگتی ہے تو وہ اپنے بھائی سے کہتا ہے کہ ایک تدبیر سمجھ میں آتی ہے کہ جاؤں‘ چھدامی بھڑبھونجے (بھنے ہوئے چنے بیچنے والا) کے یہاں سے گرم گرم خستہ چنے کی دال بنوا لاؤں۔ بس ایک دھیلے (پیسے) کی مجھ کو تم کو‘ دونوں کو کافی ہو گی۔ کیسا وہ زمانہ ہو گا کہ ایک دھیلے کے چنے دو بندوں کے لیے کافی ہوتے تھے اور کہاں یہ وقت کہ صرف ایک نان 35 روپے کا بکنے والا ہے‘ جو ایک بندے کے لیے بھی کافی نہیں ہوتا۔ نان بھی اتنے ہلکے جیسے کاغذی نان ہوں۔ ایک نان سے عام جسامت کے حامل بندے کا بھی پیٹ نہ بھرے‘ اسے دو تین کھانے پڑیں۔ تن و توش کا آدمی ہو تو چھ سات نان آسانی سے کھا لے۔ یعنی ایک وقت میں ایک آدمی کے لیے سو‘ ڈیڑھ سو روپے کے تو صرف نان ہی چاہیے ہوں گے‘ سالن کی قیمت اس پر مستزاد۔خبر یہ ہے کہ ملک بھر میں ایک سال کے دوران آٹے کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے۔ 10 جولائی 2025ء کے مقابلے میں 10جولائی 2026ء کے روز 20کلو آٹے کا تھیلا 1250روپے تک مہنگا ہو چکا ہے اور وفاقی ادارۂ شماریات کی دستاویزات کے مطابق کراچی کے شہری ایک سال قبل اور اب بھی ملک میں سب سے زیادہ مہنگا آٹا خریدنے پر مجبور ہیں۔ باقی صوبوں اور شہروں میں بھی حالات اس سے مختلف نہیں ہوں گے۔ کیا اربابِ بست و کشاد سے یہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ اگر ملک میں ضرورت کے مطابق گندم کی وافر مقدار موجود ہے تو پھر آٹا مسلسل مہنگا کیوں ہوتا جا رہا ہے؟ انتظامیہ میں سے کوئی ہے جو اس ناجائز منافع خوری کو روک سکے؟ نان روٹی کا کاروبار کرنے والوں کا شکوہ بجا ہے کہ گندم‘ آٹا اور میدہ وغیرہ مہنگا ملے تو وہ سستی روٹی کہاں سے فراہم کریں۔ اپنے پلّے سے عوام کو روٹی کھلانے سے تو رہے۔ جب حکومت گندم کی قیمتوں کو کنٹرول نہیں کرے گی تو نان بائی یا تو نان اور روٹی کی قیمت بڑھائیں گے یا پھر ان کا حجم اور وزن کم کرتے جائیں گے۔ پھر ویسے ہی کاغذی نان اور روٹیاں کھانے کو ملیں گی‘ جیسی اب مل رہی ہیں۔ کاغذی اخروٹ تو دیکھتے تھے‘ کیا خبر تھی کہ کاغذی نان بھی کھانا پڑیں گے۔فرضی ہے یا حقیقی‘ وَٹس ایپ پر پڑھا ایک واقعہ یاد آتا ہے۔ ایک تنور والا تھا جو پانچ روپے میں روٹی بیچتا تھا۔ اسے روٹی کی قیمت میں اضافہ کرنا درکار تھا جیسا کہ آج کل نان بائیوں کو درکار ہے لیکن بادشاہ کی اجازت کے بغیر کوئی روٹی کی قیمت نہیں بڑھا سکتا تھا؛ چنانچہ وہ بادشاہ کے پاس گیا اور کہا: بادشاہ سلامت مجھے روٹی کی قیمت 10روپے کرنی ہے۔ بادشاہ نے کہا کہ 30 روپے کی کر دو۔ تنور والے نے حیران ہو کر کہا کہ بادشاہ سلامت اس سے شور مچے گا‘ لوگ باہر نکل آئیں گے اور احتجاج کریں گے۔ بادشاہ نے کہا کہ تم اس کی فکر نہ کرو‘ میں سب کچھ سنبھال لوں گا‘ تم صرف اپنا منافع دیکھو اور روٹی 30 روپے کی کر دو۔ اگلے دن نان بائی نے روٹی کی قیمت 30 روپے کر دی جس پر پورے ملک میں کہرام مچ گیا اور لوگ احتجاج کرنے لگے۔ عوام بادشاہ کے پاس پہنچے اور شکایت کی کہ تنور والا ظلم کر رہا ہے‘ روٹی 30 کی روٹی بیچ رہا ہے۔ بادشاہ نے اپنے سپاہیوں سے کہا کہ تنور والے کو میرے دربار میں پیش کرو۔ سپاہی اسے پکڑ کر دربار میں لے آئے۔ بادشاہ نے غصے سے کہا: تم نے مجھ سے پوچھے بغیر قیمت کیسے بڑھا دی؟ یہ رعایا میری ہے‘ لوگوں کو بھوکا مارنا چاہتے ہو؟ بادشاہ نے تنور والے کو حکم دیا کہ تم کل سے آدھی قیمت پر روٹی بیچو گے‘ ورنہ تمہارا سر قلم کر دیا جائے گا۔ بادشاہ کا حکم سن کر عوام نے بادشاہ سلامت زندہ باد کے نعرے بلند کر دیے۔ اگلے دن سے روٹی 30 روپے کے بجائے 15 میں بکنے لگی‘ جو دراصل پانچ روپے سے بڑھا کر 15 روپے کی ہوئی تھی۔ عوام کی جانب سے انتظامیہ سے عرض صرف اتنی ہے کہ روٹی مہنگی ہونے کے مسئلہ بادشاہ کی طرح حل کرنے سے گریز کیا جائے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_58350786.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>نئے زمانے کے ٹھگ(سعود عثمانی )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-07-16/52307/13603035</link><pubDate>Thu, 16 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-07-16/52307/13603035</guid><description>فیس بک پر ایک پیغام نے چونکا دیا۔ وہ دوست امریکہ میں مقیم تھا اور ایسا پیغام اس کی طرف سے کبھی وصول نہیں ہوا تھا۔ پیغام بھی رومن اردو میں‘ جو اس کی عادت ہی نہیں تھی۔ اس سے رابطہ بھی وَٹس ایپ پر ہوا کرتا تھا‘ فیس بک پر نہیں۔ سلام اور حال چال کے بعد اس نے فوراً ہی چیٹ پر کہا: مجھے اک فوری کام پڑگیا ہے آپ سے۔ کچھ رقم پاکستان کے ایک اکاؤنٹ میں فوری بھیجنی ہے۔ دس ہزار روپے۔ میں دو دن بعد آپ کو واپس کر دوں گا۔ میں نے پوچھا: زبیر کا کیا حال ہے‘ اور اسلم صاحب آج کل کہاں ہیں؟ جواب آیا کہ دونوں خیریت سے ہیں‘ آپ میرا یہ کام فوری کر دیں۔ میں نے ایک ہی سانس میں اسے جتنا برا بھلا کہنا ممکن تھا کہہ دیا کیونکہ زبیر اور اسلم محض فرضی وجود تھے جن کا اس دوست سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ جواب میں اس نے مجھے فوراً بلاک کر دیا۔ اور یوں اس جعلی آئی ڈی سے رابطہ ختم ہو گیا۔یہ صرف ایک مثال ہے۔ ایسی بیسیوں مثالیں ہیں۔ میرے ساتھ کئی بار ایسا ہو چکا ہے کہ کسی جاننے والے نے فرینڈ ریکویسٹ بھیجی پروفائل میں اس کی تصویر بھی لگی تھی۔ اس خیال سے کہ شاید اس جاننے والے کی سابقہ آئی ڈی میں کوئی مسئلہ ہو گیا ہو گا‘ جو کہ ہو جاتا ہے‘ میں نے نئی آئی ڈی کو شامل کر لیا اور اسی شام اس نے یہ کہانی ڈال دی یعنی پیسوں کی درخواست کر دی۔ فیس بک اور ایکس وغیرہ پر چونکہ فون نمبر کی بھی ضرورت نہیں اس لیے دھوکے بازوں کا کام آسان ہو گیا ہے۔ خدا کا شکر کہ ہمیشہ یہ نوسربازی سمجھ آتی رہی اور کبھی نقصان نہیں ہوا لیکن ایسے لوگ مجھے معلوم ہیں جو دھوکے میں آگئے اور اچھا خاصا نقصان کر بیٹھے۔جیسے جیسے جدید دور میں جائز پیسے کمانے کے نئے طریقے ایجاد ہوئے ہیں‘ ویسے ویسے نو سربازی کے نت نئے طریقے بھی سامنے آرہے ہیں۔ سوشل میڈیا اور موبائل کے ملاپ نے فراڈ کے بہت سے راستے کھول دیے ہیں۔ یہ میرے ساتھ بہت مرتبہ ہوا اور میرا خیال ہے کم ہی لوگ بچے ہوں گے جن کے ساتھ یہ نہ ہوا ہو کہ اچانک کسی اجنبی نمبر سے کال آئی‘ بولنے والے نے پوچھا: آپ فلاں صاحب بول رہے ہیں۔ تصدیق کی تو پھر سوال کیا کہ آپ کا فلاں بینک کی فلاں برانچ میں اکاؤنٹ ہے۔ اس کی بھی تصدیق کر دی تو بولے: یہ اکاؤنٹ بلاک کیا جا رہا ہے کیونکہ سٹیٹ بینک کی ہدایات ہیں۔ اگر آپ اکاؤنٹ بلاک نہیں کرانا چاہتے تو اس کا ایک طریقہ ہے۔ پھر وہ طریقہ بتلایا جاتا ہے جس میں کسی خاص اکاؤنٹ میں پیسے بھجوانے ہوتے ہیں۔ خدا کا شکر کہ میں اس دھوکے میں بھی کبھی نہیں آیا لیکن متعدد لوگوں کے ساتھ یہ فراڈ بھی ہو چکا ہے بلکہ اب یہ دھوکا بھی پرانا ہو گیا ہے۔ اکثر اس طریقے میں کوئی اجنبی نمبر استعمال ہوتا ہے لیکن حد ہو جاتی ہے جب بینک کا آفیشل نمبر سکرین پر آئے لیکن وہ بھی دھوکا ہو۔ اسی سے ملتا جلتا ایک اور طریقہ یہ ہے کہ آپ کو بظاہر بینک سے کال آتی ہے اور آپ سے آپ کا بینک اور اے ٹی ایم پن کوڈ پوچھا جاتا ہے جو نہایت حساس کوڈ ہے۔ اگر آپ نے غلطی سے پن کوڈ بتا دیا یا اس کے بھیجے ہوئے لنک پر کلک کر دیا تو بس منٹوں میں آپ کے پیسے غائب ہونا شروع ہو جائیں گے۔ چنانچہ بہت محتاط رہنا پڑتا ہے اور بعض اوقات بینک کی اصلی کال بھی فراڈ لگتی ہے۔یہ صرف اندیشہ نہیں حقیقت ہے۔ تین چار ماہ پہلے رات ڈھائی بجے میرے فون پر کال آئی۔ رات کی کال اور وہ بھی جب سوتے میں جگا دے‘ پریشان کن اور تکلیف دہ ہوتی ہے۔ کوئی صاحب بولے: میں فلاں بینک کے کراچی دفتر سے بول رہا ہوں۔ آپ کا اکاؤنٹ نمبر فلاں ہے۔ کیا آپ سعود صاحب بول رہے ہیں۔ میں انجانے خطرے سے محتاط ہو گیا۔ سب سے پہلے تو یہ تصدیق کی کہ وہ واقعی بینک والا ہی ہے۔ اس نے کہا کہ ایک سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر آج رات آپ کے کارڈ سے ایک ادائیگی ہوئی ہے‘ کیا آپ نے کی ہے؟ ہمیں شک ہے کہ یہ آپ نے نہیں کی۔ میں پریشان ہو گیا۔ بات کرتے ہوئے اکاؤنٹ چیک کیا تو واقعی کئی ہزار روپے کی رقم اکاؤنٹ سے نکلی تھی۔ میں نے کہا یہ ادائیگی میں نے نہیں کی‘ یہ کوئی فراڈ ہے۔ اس نے کہا ٹھیک ہے۔ امید ہے آپ کی رقم آپ کو واپس مل جائے گی لیکن میں یہ کال متعلقہ شعبے میں ٹرانسفر کر رہا ہوں‘ وہ آپ کو اس کا طریقہ کار بتا دیں گے۔ پھر کسی اور صاحب نے بات کی۔ میں حد درجہ محتاط تھا کہ یہ فراڈ کی اطلاع ہے یا خود ایک فراڈ ہے۔ کافی دیر کے بعد جب مجھے یقین ہو گیا کہ یہ اصل بینک کے لوگ ہیں تو میں نے اس کے بتائے طریقے پر عمل کیا اور کچھ دن کے بعد وہ رقم اکاؤنٹ میں واپس آ گئی۔ایک اور نیا طریقہ جو اَب پرانا ہو چکا ہے‘ ڈیجیٹل بینک اکاؤنٹس سے متعلق ہے‘ جو آپ کے موبائل نمبر سے کھلتے ہیں۔ ان اکاؤنٹس میں رقم بھجوانے کی ایک حد مقرر ہے جس سے بہت بار لوگ تنگ ہوتے ہیں۔ نئے ٹھگوں نے کسی نمبر سے کال کرکے یہ حد بڑھانے کا جھانسا دینا شروع کیا اور وہ شخص جو اس حد تک تنگ تھا‘ اس دھوکے میں آ گیا اور رقم مطلوبہ اکاؤنٹ میں بھیج دی۔ ڈرامہ ایسے کیا جاتا ہے کہ اچھے بھلے ہوشیار لوگ پھنس جاتے ہیں۔ ایک اور طریقہ چل رہا ہے۔ آپ کو ایک نمبر سے کال آتی ہے کہ میں فلاں کوریئر سروس سے بول رہا ہوں‘ آپ کا پیکٹ ڈِلیور کرنا ہے اس لیے ایک لنک آپ کے وَٹس ایپ پر بھیجا ہے‘ اس پر کلک کر دیں۔ میں نے ڈانٹ کر کہا کہ اگر کوریئر سے بول رہے ہو تو پیکٹ ڈِلیور کردو‘ ایڈریس تمہارے پاس ہے‘ میں لنک پر کیوں کلک کروں۔ اس لنک پر کلک کرنے کا مطلب ہے اپنی معلومات اس ٹھگ تک پہنچا دینا۔ معلوم نہیں کتنے لوگ اس کا بھی شکار ہو رہے ہیں۔ خدا کا شکر کہ میں اب تک تو ایسی کالز کے باوجود محفوظ رہا ہوں۔کافی سال پہلے میں اپنے دفتر بیٹھا ہوا تھا‘ سردی کے دن تھے‘ ایک آدمی جو حلیے سے ریٹائرڈ سپاہی یا پولیس اہلکار لگتا تھا‘ چادر کی بکل مارے داخل ہوا۔ اس نے پوچھا کہ کیا وسیم صاحب آ گئے ہیں؟ میں نے کہا: کون وسیم صاحب؟ اس نے کہا کہ میں لاہور ایئر پورٹ پر کسٹم اہلکار ہوں‘ وسیم صاحب میرے بھائی ہیں اور یہاں ملنا طے ہوا تھا۔ کیا میں یہاں وسیم کا انتظار کر لوں؟ میری اجازت پر وہ بیٹھ گیا اور کچھ دیر بعد اپنی کہانی ڈالنی شروع کی۔ بولا: دراصل کسٹم والے جو ناجائز چیزیں پکڑتے ہیں سال بھر کے بعد اس کی نیلامی ہوتی ہے اور قیمتی چیزیں مارکیٹ سے آدھی سے بھی کم قیمت پر مل جاتی ہیں۔ وسیم کی بیٹی کی شادی ہے تو اسے بھی یہ چیزیں چاہئیں مثلاً ٹی وی‘ فریج وغیرہ۔ آپ وسیم کے دوست ہیں‘ اگر آپ کو چاہئیں تو آپ کو بھی دلوا دوں گا۔ میں کام میں مصروف تھا لیکن اس بات پر چوکنا ہو کر کام چھوڑ کر بیٹھ گیا۔ اب میں دیکھنا چاہتا تھا کہ وہ کس طریقے سے فراڈ کرے گا۔ میں نے ٹی وی‘ فریج وغیرہ کے ریٹ پوچھے‘ جن کی مارکیٹ قیمت کا مجھے اندازہ تھا۔ اس نے ناقابلِ یقین کم ریٹ بتائے اور کہا کہ آج نیلامی کا آخری دن ہے۔ اگر آپ دس فیصد رقم دے دیں تو میں ابھی آپ کی چیزیں بک کروا دیتا ہوں۔ مجھے اس کا یہ فراڈ تو سمجھ آ گیا تھا لیکن مجھے ڈر تھا کہ اس کی چادر میں کوئی ہتھیار نہ ہو اور میں دفتر میں اکیلا تھا۔ میں نے کہا: ٹھیک ہے‘ میرے بھائی کو بھی یہ چیزیں چاہئیں‘ ہم اکٹھے ہی خرید لیتے ہیں۔ یہ کہہ کر جیسے ہی میں نے فون کی طرف ہاتھ بڑھایا‘ وہ اتنا تجربہ کار ٹھگ تھا کہ سمجھ گیا کہ میں کسی کو بلاؤں گا۔ وہ اچھلا اور ایک سیکنڈ میں میرے دفتر سے بھاگتا ہوا نکل گیا۔ میں نے بھی اسے نہیں روکا بلکہ شکر کیا کہ ٹھگ اور اچکے سے نجات ملی۔زبان دان رہنمائی کریں کہ ٹھگ اور اچکے کی مونث کیا ہے۔ کیا میں ٹھگنی اور اچکی کہہ لوں؟ مجھے ان کے بھی واقعات سنانے ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_81278520.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ایران امریکہ تنازع!(مفتی منیب الرحمٰن )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-07-16/52308/54701267</link><pubDate>Thu, 16 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-07-16/52308/54701267</guid><description>امریکہ اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان ثالثوں کے ذریعے پسِ پردہ طویل سفارتکاری کے بعد 17 جون 2026ء کو ایک 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے‘ اس میں وزیراعظم پاکستان‘ چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی پسِ پردہ طویل سفارتکاری کا بڑا دخل تھا۔ آخری مرحلے میں قطر بھی اس میں شامل ہو گیا اور باقاعدہ مذاکرات کے پہلے اجلاس کیلئے سہولتیں بھی قطر نے فراہم کیں۔ یہ دستاویز طویل سفارتکاری اور عرق ریزی کے بعد مرتب ہوئی اور فریقین نے اس پر اتفاق کیا۔ اس کے بعد دنیا کو یہ بشارت سنائی گئی کہ آبنائے ہرمز 60 دن تک بلا روک ٹوک تجارتی بحری جہازوں کی آمد ورفت کیلئے کھلی رہے گی اور تجارتی بحری جہازوں کی آزادانہ آمدورفت شروع بھی ہو گئی۔ اس کے نتیجے میں عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں معتدبہ کمی آئی۔ عالمی سٹاک مارکیٹوں میں استحکام کے آثار نمودار ہوئے اور دنیا نے اطمینان کا سانس لیا۔ لیکن اس عالمی قرار وسکون کو چند ہی دن گزرے تھے کہ امریکہ اور ایران کے مابین پھر اختلافات رونما ہونے لگے اور 12جولائی کو ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز کو &#39;&#39;تاحکم ثانی‘‘ یا &#39;&#39;امریکی مداخلت ختم ہونے تک‘‘ بند کر دیا گیا ہے۔ یہ اعلان ایک تجاری جہاز پر وارننگ شاٹ فائر کرنے کے بعد کیا گیا‘ اس کے بعد ایران نے خطے کے ممالک میں امریکی اڈوں پر حملے بھی بڑھا دیے ہیں۔ اس کے برعکس امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ اور صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کھلا ہے اور بحری ٹریفک جاری ہے‘ امریکہ نے ایران کے دعووں کو ردّکرتے ہوئے مزید حملے بھی کیے ہیں۔ دراصل اس اختلاف کا سبب &#39;&#39;مفاہمتی یادداشت‘‘ کی شِق نمبر5 ہے‘ اس میں لکھا ہے: &#39;&#39;مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرنے کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران تجارتی جہازوں کوکسی ٹول ٹیکس کے بغیر 60دن تک خلیجِ فارس سے بحرِ عمان تک آمدورفت کیلئے محفوظ گزرگاہ دینے کی خاطر اپنی بہترین کاوشیں کرے گا‘‘۔ پس اس کی تعبیر وتشریح میں امریکہ اور ایران کا اختلاف ہے۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ اس شِق کی رُو سے آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول تسلیم کر لیا گیا ہے‘ لہٰذا آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں کی آمدورفت اس کے قائم کردہ نظام کے تابع ہو گی۔ ایران نے یہ اعلان کیا کہ تمام مال بردار بحری جہاز اُس کے متعلقہ نظام کے ساتھ رابطہ کریں گے اور ایران انہیں محفوظ راہداری دے گا‘ اس گزرگاہ کا تعیّن ایران کرے گا اور یہ صرف آبنائے ہرمز کی ایرانی حدود میں ہو گی‘ عمّانی حدود میں نہیں ہو گی۔ بہتر ہوتا کہ ایران کی اس تعبیر وتشریح کو قبول کر لیا جاتا اور دنیا کیلئے مسائل پیدا نہ ہوتے۔ آخر 60 دن ہی کی تو بات ہے‘ تفصیلی مذاکرات میں اس ابہام کو دور کیا جا سکتا تھا۔ مگر امریکہ نے ایران کی اس تشریح کو قبول نہ کیا۔ لہٰذا بعض تجارتی بحری جہاز عمان کی حدود کو استعمال کرنے لگے‘ اولاً ایران نے انہیں خبردار کیا‘ مگر جب انہوں نے ایرانی تنبیہ پر توجہ نہ دی تو ایران نے اُن پر ڈرون یا میزائل داغ دیے۔ اسے امریکہ نے معاہدے کی خلاف ورزی سے تعبیر کیا اورامریکی سینٹرل کمانڈ نے امریکی صدر کی ہدایت پر ایران پر براہِ راست بمباری شروع کر دی۔نہر سویز اور نہرِ پانامہ پر ٹول ٹیکس لیا جاتا ہے‘ لیکن آبنائے ہرمز اور ان دو نہروں میں بنیادی فرق یہ ہے کہ یہ نہریں زرِ کثیر صرف کر کے انسانوں نے بنائی ہیں اور ان کی نگہداشت پر بھی زرِ کثیر صَرف ہوتا ہے‘ کیونکہ تجارتی بحری جہازوں کیلئے گہرائی کو ایک خاص حد تک قائم رکھنا ضروری ہوتا ہے‘ جبکہ &#39;&#39;آبنائے ملاکا‘‘ اور &#39;&#39;آبنائے ہرمز‘‘ قدرتی بحری گزرگاہیں ہیں‘ یہ انسانوں کی بنائی ہوئی نہیں ہیں۔ لہٰذا آبنائے ہرمز کو نہر سویز یا نہرِ پانامہ پر قیاس نہیں کیا جا سکتا‘ کیونکہ قیاس کرنے کیلئے مَقیس (Analogized) اور مَقیس علیہ (The Basis for analogy) کے درمیان علّتِ مشترکہ (Common cause) کا ہونا ضروری ہے‘ جبکہ یہاں کوئی علتِ مشترکہ نہیں ہے۔ لیکن اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ ملکوں کو اپنی سرحدوں سے متصل سمندروں کو اپنی ملکیت یا زیرِ تصرف قرار دینے کیلئے ایک حد 12 ناٹیکل میل یعنی 22 کلومیٹر مقرر ہوتی ہے اور اس کے بعد 12 ناٹیکل میل کی مسافت متصل علاقہ کہلاتا ہے۔ نیز عالمی قوانین کے مطابق اس پر کسٹم‘ امیگریشن اور ٹیکس کے قوانین لاگو ہوتے ہیں۔الغرض یہ دلائل کا ٹکرائو ہے اور ایسا نہیں ہے کہ ایران کے پاس اپنا استحقاق جتانے کیلئے سرے سے کوئی دلیل ہی نہیں ہے۔ اس کے برعکس امریکہ‘ مغربی ممالک بلکہ دنیا بھر کے ممالک اسے آزاد بحری گزرگاہ قرار دینے اور قائم رکھنے پر مُصِر ہیں۔ لہٰذا اس قضیے کا حل آسان نہیں ہے‘ البتہ تفصیلی مذاکرات میں کوئی درمیانی راستہ نکالا جا سکتا ہے‘ بشرطیکہ فریقین کی نیت صحیح ہو اور انہیں مسائل پیدا کرنے کے بجائے اُن کے حل میں دلچسپی ہو۔ بحیثیتِ قوم امریکہ کی نفسیاتی بیماری یہ ہے کہ وہ &#39;&#39;حق طاقت ہے‘‘ کے اصول کو نہیں‘ بلکہ &#39;&#39;طاقت حق ہے‘‘ کے اصول کو بزورِ قوت منوانے پر تلا بیٹھا ہے اور موجودہ کئی عالمی مسائل کی بنیاد یہی ذہنی ساخت ہے۔ امریکہ دنیا کی قیادت چاہتا ہے اور وہ اس کے استحقاق کیلئے صرف طاقت کو کافی سمجھتا ہے‘ جبکہ قابلِ قبول عالمی قیادت کیلئے طاقت کے ساتھ ساتھ اخلاقی جواز بھی ہونا چاہیے اور امریکہ اس کا قائل نہیں ہے تاوقتیکہ اس سے برتر کوئی طاقت یا عالمی قوتیں مل کر اس کے مؤقف کے آگے سدِّ راہ نہ بن جائیں۔چین بلاشبہ دنیا کی دوسری بڑی اقتصادی قوت ہے اور دوسری بڑی فوجی قوت بننے کے مرحلے میں ہے‘ لیکن تاحال وہ امریکہ کے مساوی مادّی‘ اقتصادی اور حربی قوت نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ چاہے تو تائیوان کو چند گھنٹوں میں زیر کر دے مگر وہ امریکہ اور مغربی قوتوں سے ٹکرانا نہیں چاہتا‘ لہٰذا وہ حکمت سے کام لیتے ہوئے مناسب وقت کا انتظار کر رہا ہے۔ اسے ہانگ کانگ اور مکائو کے جزیروں کو اپنے زیرِنگیں لانے کیلئے طویل انتظار کرنا پڑا‘ ہانگ کانگ کیلئے تقریباً ایک صدی اور مکائو کیلئے اس سے بھی طویل عرصہ انتظار کرنا پڑا۔ مگر اُس نے اِس کیلئے جنگ کا راستہ اختیار نہیں کیا‘ یہ اس کی دور اندیشی کی دلیل ہے۔ دنیا کی بدقسمتی یہ ہے کہ امریکہ دور اندیش نہیں ہے‘ بلکہ کوتاہ اندیش ہے اور ہر وقت ہتھیلی پہ سرسوں جمانے کا شوقین اور دعویدار ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کو ناقابلِ تسخیر یا فوجی اعتبار سے ناقابلِ رسائی سمجھا جاتا تھا‘ لیکن اسرائیل امریکہ کے خلاف حالیہ ایرانی جنگ نے یہ ثابت کر دیا کہ یہ دونوں قوتیں ناقابلِ رسائی نہیں ہیں۔ اگرچہ ایران ان دونوں ممالک کو تاحال کوئی ناقابلِ تلافی یا مُعتَدبہ نقصان نہیں پہنچا سکا‘ لیکن ان کو چھوا ضرور ہے‘ سو ناقابلِ رسائی ہونے کا اَفسوں ٹوٹ گیا ہے۔ ایرانیوں کی پرواز کافی بلند ہے۔ علامہ اقبال نے کہا تھا: &#39;&#39;محبت مجھے ان جوانوں سے ہے؍ ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند‘‘۔ انھوں نے مزید کہا: &#39;&#39;ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں؍ ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں ٭قناعت نہ کر عالم رنگ و بو پر؍ چمن اور بھی آشیاں اور بھی ہیں ٭اگر کھو گیا اک نشیمن تو کیا غم؍ مقاماتِ آہ و فغاں اور بھی ہیں ٭تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا؍ ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں‘‘۔الغرض بلند ہمتی اور بلند پروازی بجا طور پر قابلِ قدر اور قابلِ تحسین وصف ہے‘ لیکن بلند ہمتی اور بلند پروازی اس حد تک ہونی چاہیے کہ پرواز بھی جاری رہے اور شاہین کواس قدر نقصان بھی نہ ہو کہ گر کر وہ اپناہی خاتمہ کر بیٹھے یا اُس کے ہاتھ سے معاملات کی باگ ڈور نکل جائے۔ حتمی معاہدے کیلئے &#39;&#39;کچھ دو اور کچھ لو‘‘ کی صلاحیت باقی رہنی چاہیے۔ نیز یہ بھی ضروری ہے کہ ایران ایسے اقدامات نہ کرے کہ پوری دنیا اُس کی مخالف ہو جائے‘ پڑوسی خلیجی ممالک کے ساتھ بھی اس کے تعلقات استوار نہیں ہیں‘ بلکہ ایک طرح سے خوف پر مبنی ہیں‘ پس لازم ہے کہ &#39;&#39;جیو اور جینے دو‘‘ کی کوئی صورت پیدا ہو اور پُرامن بقائے باہمی کا کوئی راستہ نکل آئے۔ کوئی بعید نہیں کہ یہ ممالک اس کے عوض مشکل دورسے نکلنے تک ایرانی معیشت کو سہارا دینے پر بھی آمادہ ہو جائیں۔،</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_61172381.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>