<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>اسلام آباد امن مذاکرات(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-12/11096</link><pubDate>Sun, 12 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-12/11096</guid><description>امریکہ اور ایران کو مذاکرات کی میز تک لا نا پاکستان کی سفارتی صلاحیتوں کی معراج ہے ۔گزشتہ روز دونوں ملکوں سے اعلیٰ سطحی وفود اسلام آباد پہنچے اور دن بھر وفاقی دارالحکومت امن مذاکرات کے حوالے سے عالمی خبروں کا محور بنا رہا۔ بند دروازوں کے پیچھے شروع ہونیوالے اس اہم ترین مذاکراتی عمل کی تفصیلات تادم تحریر منظر عام پر نہیں آئیں مگر غیر ملکی ذرائع ابلاغ طرفین میں روبرو مذاکرات کی خبریں دے رہے ہیں۔ اگر واقعتاً ایسا ہے تو یہ ایک غیر معمولی پیش رفت ہے کہ 1979ء کے اسلامی انقلاب کے بعد واشنگٹن اور تہران کے درمیان یہ پہلی براہِ راست اور آمنے سامنے بات چیت ہے۔ ان مذاکرات میں مصروف وفود پر بھاری ذمہ داریاں ہیں۔ صرف ان کے اپنے ملکوں اور عوام کی جانب سے نہیں دنیا کی جانب سے بھی ‘ کیونکہ ایران امریکہ کشیدگی کا خاتمہ عالمی امن اور معاشی استحکام کیلئے بھی ناگزیر ہے۔حالیہ تقریباً چھ ہفتوں کی جنگ نے توانائی کی قیمتوں پر جو اثرات مرتب کیے ہیں اس سے عالمی سطح پر اس سوچ کو تقویت ملی ہے کہ جنگ انسانوں کے مستقبل کیلئے بے پایاں خطرہ ہے۔ یہ احساس مغرب اور مشرق میں یکساں موجود تھا ؛چنانچہ یورپی ممالک نے شروع دن سے اس سے اپنا دامن بچائے رکھا۔

امریکہ کے دیگر اتحادیوں میں سے بھی کوئی ایسا برآمد نہیں ہوا جسے اس جنگ کی آگ کو پھیلانے میں دلچسپی ہو۔ دوسری جانب پاکستان کی مخلص سفارتی کوششیں اس جنگ کے خاتمے کیلئے متحرک ہو گئیں اور چین‘ سعودی عرب‘ ترکیہ جیسے برادر ممالک کا تعاون اور حمایت شامل ہونے سے امن کی ان کوششوں کی کامیابی کے امکانات مزید روشن ہو گئے۔بطور ثالث پاکستان اس سلسلے میں جو کچھ کر سکتا تھا وہ کیا جا چکا ہے۔ متحارب فریقین کو تباہ کن جنگ بند کر کے مذاکرات کی میز پر لے آنے کے بعد اب امریکہ اور ایران کو اپنے اور دنیا بھر کے امن کیلئے سوچنا ہو گا۔ یہی ہر دو ممالک کے عوام بھی چاہتے ہیں۔ امریکہ سپر پاور سہی مگر جنگیں اس کی معیشت پر بھی بھاری پڑتی ہیں اور مہنگائی میں اضافہ عوام کیلئے ناقابلِ برداشت ہو جاتا ہے۔ اس جنگ کی وجہ سے توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے امریکی عوام کو دو سال کی بلند ترین مہنگائی کا سامنا ہے۔ اس صورتحال کے سیاسی اثرات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا؛خاص طور پر اس لیے بھی کہ اسی سال نومبر میں امریکہ میں وسط مدتی انتخابات بھی ہیں۔
الغرض کسی لحاظ سے بھی ایران امریکہ جنگ کا جواز نہیں بنتا ‘لہٰذا اس بکھیڑے کو جتنا جلد ہو سکے سمیٹنے میں بھلائی ہے۔ اس جنگ کو ختم کر کے دونوں ملکوں کو نئی شروعات کرنی چاہیے ‘ اور یہ ناممکنات میں سے نہیں۔اسلام آباد مذاکرات نے اس پیش رفت کیلئے زمین ہموار کر دی ہے اب یہ دونوں ملکوں کی قیادت پر ہے کہ وہ اس سے کتنا فائدہ اٹھاتی ہے۔اصولی طور پر دونوں ملکوں کو تلخ ماضی سے نکلنے میں کسی ناقابلِ عبور رکاوٹ کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔ جوہری ہتھیار امریکہ کی ریڈ لائن ہیں مگر ایران شروع دن سے اسی مؤقف پر قائم ہے کہ یہ اس کا مطمح نظر نہیں۔ اقوام متحدہ کا جوہری ادارہ بھی اس حوالے سے ایرانی مؤقف کی تائید کرتا ہے ۔حال ہی میں آئی اے ای اے کے سربراہ نے اس بات کو دہرایا ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام ہر چند کہ بہت بڑا ہے لیکن اس وقت اس کے پاس جوہری ہتھیار بنانے کا کوئی پروگرام نہیں۔دیگر متنازع امور پر بھی بات چیت ہو تو یقینا کوئی نہ کوئی حل نکل ہی سکتا ہے‘ مگر اس کیلئے ضروری یہ ہے کہ امن ترجیحِ اول ہو۔فی الوقت اس سلسلے میں سب سے بڑی اور بنیادی رکاوٹ اور امن کی کوششوں کیلئے سب سے بڑا خطرہ اسرائیل ہے ‘ جو امریکہ کی ہر اس کوشش کو سبوتاژ کرتا ہے جس سے مشرق وسطیٰ میں امن کی بحالی کا کوئی امکان پیدا ہوتا ہو۔
پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کے نتیجے میں ہونیوالی حالیہ جنگ بندی اور امنکوششوں کو بھی یہی خطرہ لاحق ہے ۔جنگ بندی کی شرائط میں واضح طور پر لبنان کے شامل ہونے کے باوجود جنگ بندی کا اعلان ہو جانے کے بعد اسرائیل کے بیروت پر وحشیانہ حملوں کی اور کیا وجہ ہو سکتی ہے سوائے اسکے کہ ایران اسرائیلی دہشت گردی کو جواز بنا کر جنگ بندی ختم کرے اور یوں امریکہ اس جنگ میں اٹکا رہے ۔امریکہ اور ایران پر اپنے عوام کی جانب سے یہ ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ دونوں اپنی اپنی پوزیشن کا از سر نو جائزہ لیں اور یہ دیکھنے کی کوشش کریں کہ ہر دو ملکوں کی دشمنی صرف اسرائیل کے مقاصد کو پورا کرنے کیلئے تو نہیں؟ اسلام آباد مذاکرات جیسے مراحل روز روز نہیں آتے ایسے نایاب مواقع کا بھر پور فائدہ اٹھانا ہی لیڈر شپ کی کامیابی کی دلیل ہے۔ اسلام آباد مذاکرات سے فائدہ اٹھا کر ایران اور امریکہ پائیدار امن قائم کر سکتے ہیں اور نصف صدی سے جاری اس تلخی کے دور کو ختم کیا جاسکتا ہے۔ یہ ایرانی مذاکرات کار وں کی بھی ذمہ داری ہے ‘ مگر صحیح معنوں میں اس وقت امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی صلاحیتوں کا امتحان ہے۔یہ ان کی سیاسی زندگی کی شاید سب سے بڑی اسائنمنٹ ہے‘ جس کی کامیابی اُنکے سیاسی مستقبل کیلئے یادگار بن سکتی ہے۔
ان کیساتھ امریکی نمائندہ برائے مشرقِ وسطیٰ سٹیو وِٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر ہیں ‘ مگر یہ شخصیات گزشتہ برس سے مذاکرات کررہی ہیں اور انہی مذاکرات میں ایران پر دو بار جنگ مسلط کی گئی۔ نائب صدر جے ڈی وینس کے آنے کا کچھ تو فرق پڑنا چاہیے۔ یہی بات ایرانی وفد کیلئے بھی کہی جاسکتی ہے کہ وزیر خارجہ عباس عراقچی کی سربراہی میں اس سال اور گزشتہ سال مذاکرات ہو چکے ‘ تمام تر نیک تمناؤں کیساتھ دیکھنا یہ ہے کہ محمد باقر قالیباف اور جے ڈی وینس کی موجودگی کیا رنگ لاتی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>روس کو آلو کی برآمد(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-12/11095</link><pubDate>Sun, 12 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-12/11095</guid><description>ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کے مطابق روس نے پاکستانی آلو کی درآمد پر عائد پابندی ختم کرتے ہوئے آٹھ  اپریل سے اس فیصلے پر عملدرآمد شروع کر دیا ہے۔ ابتدائی مرحلے میں تین کمپنیوں کو برآمد کی اجازت دی گئی ہے اور اگر یہ کمپنیاں روسی فائٹو سینیٹری تقاضوں پر پورا اتر کر تسلسل کے ساتھ برآمدات جاری رکھتی ہیں تو مستقبل میں مزید برآمد کنندگان کیلئے بھی دروازے کھلنے کا امکان ہے۔ یہ آلو کے کاشتکاروں اور برآمد کنندگان کیلئے نہایت اہم پیشرفت ہے کیونکہ رواں سیزن ملک میں آلو کی ریکارڈ پیداوار ہوئی ہے‘ جس کا تخمینہ تقریباً ایک کروڑ 20 لاکھ ٹن لگایا گیا ہے۔ یہ پیداوار ملکی ضروریات سے کہیں زیادہ ہے‘ لیکن بروقت برآمدی انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے آلو کے کاشتکاروں کو شدید مالی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔

ایسے میں روسی منڈی تک رسائی نہ صرف اضافی پیداوار کے دباؤ کو کم کرے گی بلکہ مقامی منڈی میں قیمتوں کے استحکام‘ کسانوں کی آمدنی کے تحفظ اور زرِ مبادلہ کے حصول میں بھی معاون ثابت ہوگی۔ اگر زرعی شعبے کو عالمی منڈیوں سے مؤثر انداز میں جوڑا جائے تو یہ نہ صرف دیہی معیشت کو مستحکم کر سکتا ہے بلکہ مجموعی قومی برآمدات میں بھی نمایاں اضافہ ممکن ہے۔ روسی منڈی کا دوبارہ کھلنا اسی سمت میں ایک مثبت قدم ہے‘ مگر اصل امتحان اس تسلسل اور وسعت کا ہے جو آئندہ پالیسی فیصلوں میں نظر آنی چاہیے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پاکستان کا لمحۂ عروج(مجیب الرحمٰن شامی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mujeeb-ur-rehman-shami/2026-04-12/51750/37093466</link><pubDate>Sun, 12 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mujeeb-ur-rehman-shami/2026-04-12/51750/37093466</guid><description>دنیا بھر کی نگاہیں اسلام آباد پر لگی ہیں۔ ایرانی اور امریکی وفود یہاں پہنچ چکے ہیں‘ امید کی جا رہی ہے کہ دونوں کے درمیان جلد مذاکرات شروع ہو جائیں گے۔ ابھی یہ کہنا مشکل ہے کہ وہ ایک دوسرے کے مقابل ایک ہی میز پر بیٹھے نظر آئیں گے یا الگ الگ کمروں میں بیٹھ کر ایک دوسرے تک اپنی بات پہنچائیں گے۔ یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ دونوں وفود کے درمیان مصافحوں اور مسکراہٹ کا تبادلہ ہو سکے گا یا نہیں۔ جیسے بھی ہو‘ جس طرح بھی ہو‘ دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام اسلام آباد پہنچ گئے ہیں تو یہ اس بات کا اعلان ہے کہ شکوک و شبہات کے باوجود انہیں امید کی کوئی کرن دکھائی دے رہی ہے یا یہ کہ وہ کوئی ایسی کرن تلاش کر سکتے ہیں۔ امریکہ‘ اسرائیل اور ایران کے درمیان کم و بیش چالیس روز تک جاری رہنے والی جنگ اب عارضی طور پر ہی سہی‘ بند ہو چکی ہے۔ اسرائیل اگرچہ لبنان پر حملوں کی شدت میں اضافہ کر کے ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کر چکا ہے لیکن امریکہ کو اسے ڈانٹنا پڑا ہے۔ ایران کے دو ٹوک مؤقف اور پاکستان کی بروقت مداخلت نے صدر ٹرمپ کو مجبور کیا کہ وہ اسرائیل کا ہاتھ روکیں۔ اب لبنان سے اس کا براہِ راست رابطہ ہو چکا ہے‘ دونوں کے درمیان مذاکرات کی میز الگ سے سجائی جا رہی ہے لیکن ایران کو اس اقدام سے کس قدر مطمئن کیا جا سکے گا یہ ابھی واضح نہیں ہے۔ پاکستان کی سفارت کاری کا لمحۂ عروج یہ ہے کہ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے اور ایک دوسرے کو برباد کرنے کا تہیہ کرنے والے امن کے لیے بات چیت پر آمادہ ہیں۔ یہ ایک ایسا کارنامہ ہے جو پاکستان نے اپنے ترکیہ اور چین جیسے دوستوں کے تعاون سے کر دکھایا ہے۔ پاکستان نے اس جنگ کے دوران جس توازن اور تدبر کے ساتھ اپنے آپ کو سنبھالا اور متحارب ممالک کے اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچنے دی‘ اسے سفارت کاری کی دنیا میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ دنیا بھر سے اس پر خراجِ تحسین موصول ہوا ہے۔ بھارت اور اسرائیل کے سوا ہر ملک خیر سگالی کے پیغامات بھیج رہا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کو فون کرنے والوں کا تانتا بندھا ہوا ہے۔ ڈپٹی وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی رابطوں کو مضبوط بنا گزرے ہیں۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی فراست اور ذہانت بھی اپنا لوہا منوا رہی ہے۔ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے یک جان ہو کر پاکستان کو ان بلندیوں تک پہنچا دیا ہے جن کا کچھ عرصہ پہلے تک تصور نہیں کیا جا سکتا تھا۔برطانیہ میں مقیم ممتاز پاکستانی نژاد دانشور عارف انیس کے بقول: &#39;&#39;آج دنیا نے پاکستان کو وہ دیکھا ہے جو پاکستان واقعی ہے۔ ایک ایسا ملک جو کہ عین وسط میں کھڑا ہو کر دونوں فریقوں سے بات کر سکتا ہے۔ جس پر دشمن بھی اعتماد کر سکتا ہے اور دوست بھی۔ آج نیو یارک ٹائمز‘ واشنگٹن پوسٹ‘ ٹیلی گراف‘ بلوم برگ‘ سی این این‘ الجزیرہ‘ رائٹرز‘ فاکس نیوز‘ این بی سی‘ سی بی ایس‘ اے بی سی‘ پی بی ایس‘ سی این بی سی‘ ٹائمز‘ نیوز ویک‘ ان سب میں ایک لفظ چمک رہا ہے &#39;&#39;پاکستان‘‘۔ اس لفظ کے آگے &#39;&#39;بم‘‘ نہیں &#39;&#39;پیس‘‘(PEACE) لکھا ہے‘ یہ لمحہ اربوں ڈالر کا ہے۔ یہ لمحہ ایٹمی دھماکے جتنا بڑا ہے۔ یہ لمحہ فوجی دفاع میں اہم ہے۔ ایٹم بم دشمن سے بچاتا ہے مگر برانڈ دوست بناتا ہے۔ آج پاکستان کو دوستوں کی ضرورت بم سے زیادہ ہے‘‘۔ عارف انیس مزید لکھتے ہیں: ایک پرانی کہاوت ہے کہ قوموں کی عزت میدانِ جنگ میں بنتی ہے۔ آج ایک نئی کہاوت لکھی جا رہی ہے کہ قوموں کی عزت اس وقت بنتی ہے جب وہ میدانِ جنگ میں لڑنے کے بجائے جنگ کو روک دیں۔ یاد رکھیں کہ آج کا دن وہ دن ہے جب برانڈ پاکستان نے کروٹ بدلی ہے۔ اللہ کرے ہم اور بھی ایسے دن دیکھیں۔ &#39;&#39;پاکستان ہمیشہ زندہ باد‘‘۔پاکستان نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا ہے۔ فریقین کو ایک دوسرے کی طاقت اور کمزوریوں کا احساس ہو چکا ہے۔ دنیا جان چکی ہے کہ کون کہاں کھڑا ہے۔ امریکہ نے اس جنگ میں ملوث ہو کر اپنا بڑا نقصان کر لیا ہے۔ نیتن یاہو نے ٹرمپ کو ورغلا لیا یا ٹرمپ کی بے تابیوں نے انہیں اپنے ہی جال میں پھنسا دیا‘ اس سے قطع نظر یہ ایک حقیقت ہے کہ دنیا کا کوئی ملک امریکہ کے ساتھ کھڑا نہیں ہوا۔ اس کے یورپی اتحادیوں نے بھی اس کا ساتھ دینے سے انکار کیا اور نیٹو کا وجود تک خطرے میں ڈال دیا ہے۔ آیت اللہ خامنہ ای کو نشانہ بنانے کے باوجود ایران میں &#39;&#39;رجیم چینج‘‘ نہیں ہو سکی۔ ایرانی عوام نے اپنی حکومت کے خلاف بغاوت نہیں کی‘ وہ اس کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہو گئے۔ ایران نے اپنی جنگی صلاحیتوں کا جو مظاہرہ کیا اس نے بھی دنیا کو ششدر کر دیا۔ اس کے ڈرون اور میزائل ختم ہونے میں نہیں آئے‘ اس کی زیر زمین دفاعی تنصیبات تک امریکی اور اسرائیلی بم نہیں پہنچ پائے۔ آبنائے ہرمز کو قابو کر کے اس نے پوری دنیا کی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا۔ امریکی بحری بیڑے اس کی گرفت کمزور کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ گویا جنگ ایران کی طاقت کے نئے مظاہرے کا سبب بن گئی۔ ہلاکتیں ہوئی ہیں‘ بم باری نے سکولوں‘ یونیورسٹیوں‘ شہری آبادیوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے لیکن آبنائے ہرمز پر ایرانی قبضہ برقرار ہے۔ اس کی اجازت کے بغیر کوئی جہاز وہاں سے گزر نہیں سکتا۔ صدر ٹرمپ کی مقبولیت داؤ پر لگی ہے۔ امریکی رائے عامہ ان کے خلاف ہو رہی ہے۔ انہیں لینے کے دینے پڑ رہے ہیں‘ اس کے باوجود وہ اندھی طاقت کے مالک ہیں‘ اور ایران کو &#39;&#39;پتھر کے زمانے‘‘ میں دھکیلنے کے دعوے کر سکتے ہیں۔ایران نے خلیجی ممالک کا منظر بھی بدل کر رکھ دیا ہے‘ وہاں موجود امریکی اڈے اب ان کی حفاظت کی ضمانت نہیں دے پا رہے‘ خطرے کی علامت بن گئے ہیں۔ عارضی جنگ بندی کو مستقل بنانے کے لیے امریکہ اور ایران کی اپنی اپنی شرائط ہیں اور اپنے اپنے اہداف۔ دونوں زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔ ایران نقصانات کا ازالہ چاہتا ہے‘ آبنائے ہرمز پر بالادستی برقرار رکھنے کا تہیہ کیے ہوئے ہے۔ آئندہ جنگ نہ چھڑنے کی ضمانت چاہتا ہے جبکہ امریکہ ایران کے ایٹمی پروگرام کی بیخ کنی اور آبنائے ہرمز میں کھلی آمدو رفت کا مطالبہ کر رہا ہے۔ فریقین اپنے اپنے حق میں جو بھی دلائل دیں انہیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ امن سب کے مفاد میں ہے۔ امریکہ کا چہرہ جتنا بھی گدلا ہو اور ساکھ کو جتنا بھی نقصان پہنچے‘ یہ جنگ اس کی سرزمین پر نہیں لڑی جا رہی۔ اس نے ایران کو نشانہ بنا رکھا ہے‘ ایرانی قیادت کو اپنے جغرافیے کا تحفظ پیشِ نظر رکھنا ہے۔ ممکن ہے ایران اور امریکہ کے درمیان معاملات طے پا چکے ہوں‘ پاکستان کی خاموش سفارتکاری رنگ دکھا چکی ہو صرف اعلان ہونا باقی ہو‘ ممکن ہے اسلام آباد مذاکرات میں ہر چیز طے نہ ہو سکے‘ کوئی دوسرا دور کسی دوسرے ملک میں اور تیسرا دور کسی تیسرے ملک میں چلے۔ لیکن بات چیت کی کامیابی یہی ہے کہ یہ ٹوٹنے نہ پائے۔ اسے جاری رہنا چاہیے‘ اور پائیدار امن کو ممکن بنانا چاہیے۔(یہ کالم روزنامہ &#39;&#39;پاکستان‘‘ اور روزنامہ &#39;&#39;دنیا‘‘ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_37052987.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>امریکہ کہاں آن پہنچا ہے(ایاز امیر)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-04-12/51751/28136797</link><pubDate>Sun, 12 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-04-12/51751/28136797</guid><description>امریکی خوشی سے اسلام آباد آکر ایرانیوں سے بات نہیں کر رہے۔ مجبوری سے آئے ہیں کیونکہ اور کوئی راستہ نہ رہا تھا۔ جنگ کے شروع کے دنوں میں صدر ٹرمپ نے کیا کہا تھا کہ ایک ہی ڈیمانڈ ہے کہ ایران غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈالے (Unconditional surrender)۔ وہ غیر مشروط حالت جو کسی مشتبہ یا ملزم کی تھانیدار کے سامنے بیٹھے تھانے میں ہوتی ہے۔ ہاتھ جوڑے ہوئے اور زمین پر گھٹنے لگائے۔ امریکی یہ چاہتے تھے۔ اور ایران پر حملہ اسی توقع کی بنیاد پر کیا گیا تھاکہ دو تین روز کی بمباری کے بعد اسلامی حکومت ختم ہو جائے گی اور اُس کے خلاف ایران کے عوام اُٹھ کھڑے ہوں گے۔ دنیا کی تاریخ کے سخت ترین حملے تھے اور ہفتوں جاری رہے۔ ایران کا بھاری نقصان ہوا‘ اس میں کوئی شک نہیں‘ تباہی ہوئی۔ لوگ مارے گئے‘ میناب ایلیمنٹری سکول کی تقریباً 165‘170 بچیاں ماری گئیں۔ لیکن گھٹنے کوئی نہ ٹکے‘ ایران کی طرف سے ترلے کوئی نہ کیے گئے۔ یہ تو امریکہ بہادر تھا جو آخر میں ہاتھ پیر مارنے لگا کہ کوئی نکلنے کا راستہ ملے۔ وہ جو انگریزی کا لفظ آج کل بہت استعمال ہوتا ہے‘ آف ریمپ (off ramp)ملے۔ آخر آف ریمپ پاکستان نے مہیا کیا۔ اور مولا کے رنگ دیکھئے کہ امریکہ کے نائب صدر کو پھر اسلام آباد آنا پڑا۔ان مذاکرات کا کیا نتیجہ نکلتا ہے دیکھنا پڑے گا۔ حتمی معاہدہ تو نہیں نکلے گا لیکن جنگ بندی پکی ہو جائے تو دو دن کے مذاکراتی عمل کا اتنا نتیجہ بھی خوش آئند سمجھا جائے گا۔ لیکن دیرپا معاہدے کے بغیر بھی کئی چیزیں واضح ہو گئی ہیں۔ سب سے بڑی بات تو یہ کہ خلیج فارس اور گلف کوآپریشن کونسل یعنی جی سی سی کے ممالک میں امریکی تھانیداری اور چودھراہٹ کو شدید دھچکا لگا ہے۔ جی سی سی کے بردار ممالک ‘ ہمارے تو سب برادر ہیں‘ سوچتے تو ہوں گے کہ کیسے امریکی اڈوں پر انحصار کر رہے تھے جو ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں سے اپنے آپ کو نہ بچا سکے‘ ہمارا دفاع انہوں نے خاک کرنا تھا۔ اس جنگ سے پہلے تو ان ملکوں کی یہ سوچ تھی کہ امریکی دفاعی معاہدوں اور اڈوں کے ہوتے ہوئے ان کا دفاع ناقابلِ تسخیر ہو گیا ہے اور ان کے میزائل شکن نظام کے ہوتے ہوئے کوئی چڑیا بھی ان کی طرف نہ آ سکے گی۔ لیکن اس جنگ میں ثابت ہو گیا کہ گلف ممالک کا تصورِ تحفظ شیشے کے قلعے کی مانند ہے۔ تیل تنصیبات پر حملوں نے ثابت کر دیا کہ گلف ممالک کا تمام تیل اور گیس انفراسٹرکچر ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کی زد میں ہے۔ امریکہ بھی ایسا دوست ثابت ہوا کہ حملے سے پہلے عرب اتحادیوں سے کسی قسم کے صلاح مشورے کی ضرورت محسوس نہ کی۔دوسری بات یہ ثابت ہو گئی کہ ایران جب چاہے آبنائے ہرمز کو بند کر سکتا ہے۔ کیا کیا یبلیاں صدر ٹرمپ نے نہ ماریں کہ ہمارے بحری جہاز آئل ٹینکروں کی حفاظت کریں گے۔ نیٹو اتحادیوں سے کہا کہ اس پانی کے راستے کو کھولنے میں مدد کریں۔ اور تو اور چین کی طرف اشارے کیے گئے کہ اس کے مفاد میں ہے کہ اس پانی کی گزرگاہ کو کھولا جائے۔ لیکن ایران نے کر دکھایا کہ اس کی اجازت کے بغیر کوئی بحری جہاز یہاں سے گزر نہیں سکتا۔ یعنی امریکہ کی دھمکیاں بڑھکیں ہی رہیں۔اور اب جو مذاکرات ہو رہے ہیں اس وقت بھی اکا دُکا جہاز ہی وہاں سے گزر رہا ہے‘ مکمل طور پر یہ اہم گزرگاہ ابھی تک نہیں کھلی۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا چھوڑیے امریکہ میں سوال اٹھ رہے ہیں کہ اس جنگ کی جھَک صدر ٹرمپ نے کیوں ماری۔ مقصد کیا تھا؟ کون سے سٹریٹجک مقاصد حاصل کرنے تھے؟ نیویارک ٹائمز میں آنکھیں کھول دینے والی ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے جس میں تفصیل سے بتایا گیا ہے کہ فروری کی 11تاریخ کو وائٹ ہاؤس کے سچوایشن روم میں ایک میٹنگ ہوئی جس میں اسرائیلی وزیراعظم نے پریزینٹیشن دی کہ یہ موقع ہے ایران پر حملے کرنے کا۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ امریکہ کوئی معصوم بچا تھا جسے کھینچ اور دھکیل کے اس جنگ کی طرف لایا گیا۔ 1979ء کے انقلابِ ایران سے لے کر آج تک ایران کو ہر امریکی حکومت اپنا بڑا دشمن ہی سمجھتی رہی ہے۔ لیکن کسی امریکی صدر نے اس قسم کے حملے کا نہیں سوچا۔ یہ ٹرمپ کا کارنامہ ہے کہ ایسے حملے کی طرف ذہنی طور پر مائل تھا اور پھر نیتن یاہو نے یوں سمجھیے صدر ٹرمپ کا ذہن پکا کیا۔مفروضہ البتہ یہی تھا اور بنیادی نکتہ نیتن یاہو نے یہی اُٹھایا کہ جنگ دیرپا نہیں ہوگی‘ دنوں میں فیصلہ ہو جائے گا اور ایرانی رجیم ختم ہو جائے گی۔ ٹرمپ کے ذہن میں یہ نقشہ اُبھرا کہ ایرانی رجیم کو ختم کرنے کی ہر کوئی بات کرتا آیا ہے لیکن صحیح معنوں میں اسے ختم کرنے کا اعزاز اس کے سر ہوگا۔ آرڈر پھر ہو گیا کہ جنگ شروع کی جائے۔ نتیجہ جو نکلا ہمارے سامنے ہے اور آج امریکی حکومت وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ثالثی قبول کرنے پر مجبور ہو گئی ہے۔ ویتنام کی جنگ میں امریکی سُبکی کو مکمل ہونے میں دس سال لگے۔ افغانستان میں امریکہ سولہ سال پھنسا رہا اور پھر جا کے کابل ایئرپورٹ سے افراتفری میں نکلنے کے مناظر ساری دنیا نے دیکھے۔ لیکن یہاں سُبکی کا جھومر چند ہفتوں میں ہی امریکہ کے ماتھے پر سج گیا ہے۔ سمجھ رہے تھے کہ ونیزویلا کا حشر ایران کاہوگا اور سامانِ عبرت اپنا تیار ہو گیا۔بہرحال مسلمان ممالک کی حالت تو دیکھی جائے۔ غزہ پر ظلم و بربریت کے پہاڑ گرتے رہے اور اُمہ میں سے ایک ملک بھی نہ تھا جو غزہ کے باسیوں کے دفاع میں انگلی بھی اٹھاتا۔ حزب اللہ نے اپنی تباہی کے امکان مول لیے لیکن جو کچھ کر سکتے تھے غزہ کے باشندوں کے دفاع میں کیا۔ عمل بے سود تھا ‘ غزہ میں قتل عام کا سلسلہ نہ رکا لیکن حزب اللہ نے ہمت تو دکھائی۔ یمن کے حوثیوں نے ہمت دکھائی اور جو کر سکتے تھے غزہ کے دفاع میں کیا۔ امریکی بمباری کا نشانہ بنے۔ امریکی بمباری کرتے ایک ماہ بعد تھک گئے‘ حوثیوں نے ہاتھ نہ جوڑے۔ رونا آتا ہے یہ منظر دیکھ کے کہ اتنے تیل کے ذخائر‘ اتنی دولت اور ساتھ ہی انتہا کی بے بسی۔ دفاعِ غزہ تو دور کی بات رہی کتنے ہی مسلم ممالک تھے جو اسرائیل سے رشتے استوار کر رہے تھے۔ غزہ پر قتل و غارت کے درمیان ہی پچھلے سال جون میں اسرائیل نے ایران پر حملہ کر دیا اور بارہ روزہ جنگ کے آخری روز صدر ٹرمپ نے B2 بمبار بھیج کر ایران کی جوہری تنصیبات پر بھاری بم گرائے۔ لیکن ایران نے ہاتھ روکے رکھے اور میزائلوں سے جواب دیا لیکن محتاط انداز سے کیونکہ جنگ کی طرف ایران جانا نہیں چاہتا تھا۔ لیکن اب ایران پر جنگ مسلط کی گئی اور اُسے مجبوراً اپنے وجود کی خاطر بھرپور جواب دینا پڑا۔ یہ آزمائش ایسے بنی کہ ایران تو ڈٹا رہا اور امریکی طاقت بے نقاب ہو گئی۔ یہی وجہ ہے کہ آج امریکی نائب صدر اسلام آباد میں تشریف فرما ہیں۔ ایران کی طرف سے غیر مشروط ہتھیار ڈلتے تو یہاں کسی نے آنا تھا؟ آرڈر واشنگٹن سے جاری ہوتے اور ونیزویلا کی طرح ایران امریکہ کے سامنے بے بس ہوتا۔سچ تویہ ہے کہ سنی شیعہ تمیزسے بے نیازایرانی قوم کی استقامت کی وجہ سے مردہ جسموں میں بھی ایک نئی جان آ گئی ہے۔ مرے ہوئے دلوں میں ایک نئی دھڑکن محسوس ہو رہی ہے۔ </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_80573045.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ایک تھا گورا،ایک تھا جے شنکر(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-04-12/51752/83199616</link><pubDate>Sun, 12 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-04-12/51752/83199616</guid><description>گیارہ اپریل بروز ہفتہ پاکستان کی تاریخ میں ایک نہایت اہم اور تاریخی دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ آنے والے دنوں اور برسوں میں جب عالمی جرائد اور اخبارات میں اس دن پر مضامین لکھے جائیں گے یا چند بڑے لوگ جب اپنی یادداشتیں لکھیں گے  تو اس میں اس دن کا ذکر ضرور کریں گے کہ آخر امریکہ اور ایران جنگ کے دہانے سے اسلام آباد کیسے پہنچے اور وہاں بند کمروں میں کیا کچھ طے پایا تھا۔جب میں یہ کالم لکھ رہا ہوں اسلام آباد میں ایرانی اور امریکی وفود کی ملاقاتیں جاری ہیں۔ مجھے اس بات کا علم نہیں کہ ان ملاقاتوں کا کیا نتیجہ نکلے گا‘ بہر حال نتیجہ کچھ بھی ہو لیکن دو جنگوں نے پاکستان کا امیج دنیا بھر میں بہت بلند کر دیا ہے۔ پہلی گزشتہ سال مئی میں ہونے والی پاک بھارت جنگ اور دوسری رواں سال فروری کے آخر میں اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران پر مسلط کی گئی جنگ تھی۔ دونوں نہایت خطرناک نوعیت کی جنگیں تھیں‘ دونوں میں نیوکلیئر تصادم کا خطرہ موجود تھا اور دونوں میں پاکستان کسی نہ کسی صورت براہِ راست یا بالواسطہ شامل رہا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ نریندر مودی کا وہی &#39;&#39;آپریشن سیندور‘‘ جسے بھارتی میڈیا نے کسی بلاک بسٹر فلم کی طرح پیش کیا تھا‘ اب مودی حکومت کے خلاف ایک چارج شیٹ کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔ اب بھارت میں یہ مؤقف سامنے آ رہا ہے کہ اگر یہ حملہ نہ کیا جاتا تو آج پاکستان کا قد عالمی سطح پر اتنا بلند نہ ہوتا جتنا اب ہو چکاہے۔ ایک سال پہلے بھارت جہاں کھڑا تھا وہاں سے وہ اچانک نیچے آ گرا ہے اور بھارتی قیادت حیران و پریشان ہے کہ اس کے ساتھ کیا ہو گیا ہے۔ بھارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ ہم تو پاکستان کے خلاف دنیا کو اکٹھا کرنے نکلے تھے تاکہ اسلام آباد کو تنہا کر سکیں مگر نتیجہ اس کے برعکس نکلا اور ہم خود تنہا ہو گئے۔ ایک معروف بھارتی ویلاگر کے مطابق بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر نے دنیا کے ڈیڑھ سو سے زائد دورے کیے تاکہ پاکستان کو عالمی سطح پر الگ تھلگ کیا جا سکے‘ مگر آج بھارت خود تنہائی کا شکار ہو گیا ہے۔ اگر ڈیڑھ سو دوروں کا دعویٰ مبالغہ ہو تو بھی گوگل کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں میں جے شنکر کی جانب سے سو کے قریب بیرونی دورے تو یقینی طور پر کیے گئے ہیں۔ اس ویلاگر کا کہنا تھا کہ اس کیریئر ڈپلومیٹ کو بی جے پی حکومت میں اس امید پر لایا گیا تھا کہ وہ اپنی مہارت اور سفارتی پس منظر کی بنیاد پر پاکستان کو سخت سفارتی دباؤ میں لے آئے گا مگر اس کے برعکس نتائج سامنے آئے۔ اس کے مطابق طویل عرصے بعد کوئی غیرسیاسی شخصیت بھارت کی وزیر خارجہ بنی مگر بھارت عالمی سطح پر مزید تنہا ہو گیا جبکہ ماضی میں سیاسی وزرائے خارجہ عالمی معاملات کو زیادہ بہتر انداز میں سنبھالتے تھے۔شاید یہی وجہ ہے کہ جب جے شنکر نے پارلیمنٹ میں اپوزیشن رہنماؤں کو موجودہ بحران پر بریفنگ دی اور ان سے پاکستان کی  امن کوششوں کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے نامناسب زبان استعمال کی‘ جس پر دنیا بھر میں حیرت کا اظہار کیا گیا۔ ایک ایسے کیریئر ڈپلومیٹ سے‘ جس کا خاندانی پس منظر بھی سفارت کاری سے جڑا ہو‘ اس طرح کی غیر سفارتی زبان کی توقع نہیں کی جا سکتی تھی۔ اگرچہ بھارت میں عمومی طور پر تجزیہ کار اور اینکرز پاکستان پر تنقید کرتے رہتے ہیں مگر اس موقع پر جے شنکر کے الفاظ نے خود بھارتی حلقوں کو بھی حیران کر دیا اور بعض نے اس کی مذمت بھی کی۔ یہ طرزِ عمل دراصل اس دباؤ اور مایوسی کا نتیجہ ہے جس کا اس وقت بھارتی حکومت سامنا کر رہی ہے۔ اب گودی میڈیا کی تنقید کا رخ بھی نریندر مودی اور جے شنکر کی طرف مڑ چکا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مودی کے قریبی ساتھی اجیت ڈوول‘ جو قومی سلامتی کے مشیر ہیں اور بھارت کے جدید چانکیہ سمجھے جاتے ہیں‘ ان حالات میں منظر سے غائب ہیں۔ یہ بھی ان کی حکمت عملی تھی کہ ایران پر حملوں سے دو دن قبل مودی اسرائیل پہنچے‘ جہاں ان کا پُرتپاک استقبال کیا گیا اور تقاریر ہوئیں۔ اسرائیل کے لیے انہوں نے جذباتی انداز میں &#39;&#39;فادر لینڈ‘‘ جیسے الفاظ بھی استعمال کیے۔ ایرانیوں کے لیے یہ ایک بڑا جھٹکا تھا کیونکہ ماضی میں وہ بھارت کو پاکستان پر ترجیح دیتے رہے تھے‘ خاص طور پر شاہِ ایران کے دور میں پاکستان کے ساتھ قریبی تعلقات کے باوجود انقلاب کے بعد ان تعلقات کا توازن بدل گیا تھا۔ اگرچہ پاکستان اور ایران کے تعلقات برقرار رہے مگر گرمجوشی بھارت کے حصے میں آئی اور اس پر کسی کو اعتراض بھی نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ہر ملک اپنے مفادات کے مطابق فیصلے کرتا ہے۔ یہی عالمی سیاست کا اصول ہے کہ مذہب‘ زبان یا ثقافت سے بڑھ کر قومی مفادات کو ترجیح دی جاتی ہے۔ ایران نے بھارت کو چاہ بہار بندرگاہ تک رسائی دی اور بھارت نے وہاں سرمایہ کاری بھی کی۔ تاہم ایران پر حملے سے قبل مودی کا اسرائیل میں ہونا اور بعد ازاں اسرائیلی حملوں میں ایرانی قیادت کا نشانہ بننا ایران کے اندر کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ ان حملوں میں ہونے والی شہادتوں پر بھارت نے نہ صرف مذمت سے گریز کیا بلکہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت پر تعزیت بھی نہیں کی۔ یہ معاملہ یہیں نہیں رکا۔ جب بھارتی پانیوں میں ایک ایرانی بحری جہاز پر امریکی حملے میں 87ایرانی اہلکار جاں بحق ہوئے تو بھی بھارت خاموش رہا حالانکہ یہ جہاز اور اس کے اہلکار بھارتی حکومت کی دعوت پر مشقوں میں شرکت کے لیے آئے تھے اور ایک پریڈ کا بھی حصہ بنے تھے۔ اس خاموشی نے ایران کو واضح پیغام دیا کہ بھارت اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے حتیٰ کہ ایران میں 168معصوم بچیوں سمیت بڑے جانی نقصان پر بھی اس نے کوئی ردِعمل ظاہر نہیں کیا۔ بھارت کے اندر بھی اس خاموشی پر شدید ردِعمل سامنے آیا کہ آپ نے ایران کے ساتھ 47برس پر محیط تعلقات کو کیسے نظر انداز کر دیا۔ بھارتی میڈیا نے ایران کی پرو کشمیر پالیسی اور صدیوں پرانے ثقافتی روابط کا حوالہ دیا۔ تعلیم یافتہ بھارتیوں کے لیے یہ بات ناقابلِ یقین تھی کہ ان کا &#39;&#39;وِشو گرو‘‘ اس حد تک امریکہ اور اسرائیل کے دباؤ میں آ جائے گا کہ وہ انسانیت سوز اسرائیلی اقدامات مذمت تک نہیں کر سکے گا۔اب بھارتی چینلز پر یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات پاکستان میں کیوں ہو رہے ہیں‘ ان کے بقول یہ مذاکرات نئی دہلی میں ہونے چاہئیں تھے کیونکہ ان کے ایران کے ساتھ طویل سفارتی و تجارتی تعلقات ہیں اور امریکہ کے ساتھ بھی دہائیوں پر محیط سٹریٹجک شراکت داری موجود ہے۔ سوال یہ ہے کہ امریکہ ایسے ملک کو کیوں اہمیت دے جسے خطے میں  چین کے مقابلے کیلئے تیار کیا گیا ہو مگر وہ اس کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا ہو اور اپنے سے کہیں چھوٹے ملک پاکستان کے سامنے مؤثر ثابت نہ ہو سکا ہو۔ اسی طرح ایران بھی ایسے ملک پر کیوں اعتماد کرے جس کا وزیراعظم حملوں سے چند روز قبل اسرائیلی قیادت کے ساتھ کھڑا تھا اور اسرائیل کو فادر لینڈ کہہ رہا تھا۔ جب کسی ملک کی قیادت خود کو حد سے زیادہ چالاک سمجھنے لگے تو نتائج بھی ایسے ہی نکلتے ہیں جیسے آج بھارت کو درپیش ہیں۔ جے شنکر کے سفارتی دوروں کے باوجود بھارت عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہو چکا ہے اور اب بھارتی سیاستدان اور اینکر سارا دن پاکستان پر تنقید کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔اب میرے ذہن میں یہ خیال آتا ہے کہ برطانوی دور میں سرکاری افسران کی ریٹائرمنٹ کی عمر ساٹھ برس مقرر کرنے میں شاید کوئی دانائی تھی۔ اگر مودی اور اجیت ڈوول ایک ستر سالہ ریٹائرڈ بیوروکریٹ کو وزیر خارجہ بنائیں گے تو پھر انہیں اسی قسم کے نتائج کے لیے تیار رہنا چاہیے جن کے ڈر سے انگریز نے ریٹائرمنٹ کی عمر ساٹھ سال مقرر کی تھی۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>دیرپا معاہدے سے ایک قدم دوری(رشید صافی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-04-12/51753/19061645</link><pubDate>Sun, 12 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-04-12/51753/19061645</guid><description>تاریخ ہمیشہ فاتحین سے نہیں بلکہ ان قوتوں سے عبارت ہوتی ہے جو تصادم کے طوفان میں مکالمے کی شمع روشن کرتی ہیں۔ اسلام آباد اس وقت عالمی سیاست کی دو حریف طاقتوں کے درمیان اُس ناگزیر سفارتی کوریڈور میں تبدیل ہو چکا ہے جہاں سے گزرے بغیر عالمی امن کا سفر ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ جنگ کے دو متحارب گروہوں کو قائل کر کے مذاکرات کی میز پر بٹھانا کوئی معمولی کام نہیں‘ اس کے لیے صرف سیاسی ارادے کی نہیں بلکہ اس خلوصِ نیت اور کمال سفارتکاری کی ضرورت ہوتی ہے جو ناممکن کو ممکن بنا دے۔ پاکستان نے دنیا کو دکھا دیا ہے کہ وہ محض جغرافیائی طور پر ہی اہم نہیں بلکہ عالمی امن کا ایک ایسا ناگزیر ستون ہے جس کے بغیر خطے اور دنیا میں استحکام کا خواب ادھورا ہے۔ مشرق وسطیٰ کے صحراؤں سے اٹھنے والی جنگ کی چنگاریاں جب یورپ اور ایشیا کی معیشتوں کو اپنی لپیٹ میں لینے لگیں تو دنیا امن کی تلاش میں تھی۔ اس بحران کے دوران پاکستان کی سول اور عسکری قیادت نے جس دور اندیشی کا ثبوت دیا وہ آنے والے وقتوں میں سٹریٹجک سٹڈیز کا حصہ بنے گا۔ فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے پس پردہ جو رابطے کیے گئے ان میں سے کچھ تو ریکارڈ کا حصہ ہیں لیکن جب کبھی مؤرخ اس کی تفصیلات سے پردہ ہٹائے گا تو دنیا دنگ رہ جائے گی کہ پاکستان نے کس مہارت سے ان شعلوں پر پانی ڈالا جو عالمی جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتے تھے۔آج اسلام آباد دنیا کی نظروں کا مرکز ہے۔ یہ محض ایک اتفاق نہیں بلکہ برسوں کی محنت کا ثمر ہے کہ امریکہ جیسی سپر پاور کی اعلیٰ ترین شخصیات آج پاکستان میں موجود ہیں۔ ایران کے ساتھ جنگ بندی مذاکرات کے لیے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس‘ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے معتمد خاص سٹیو وِٹکوف اور ان کے داماد جیرڈ کشنر کا اسلام آباد پہنچنا اس بات کی گواہی ہے کہ واشنگٹن اب پاکستان کے تزویراتی کردار کو نئی نظر سے دیکھ رہا ہے۔ صدر ٹرمپ کا یہ بیان کہ انہوں نے اسلام آباد مذاکرات کے لیے اپنی بہترین ٹیم بھیجی ہے‘ پاکستان کی سفارتی ساکھ پر عالمی مہرِ تصدیق ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا سفر بذاتِ خود ایک سفارتی داستان ہے۔ میری لینڈ سے روانگی کے بعد پیرس میں قیام اور پھر جارجیا‘ آذربائیجان‘ ترکمانستان اور تاجکستان سے گزرتے ہوئے چترال کے مقام سے پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہونا‘ ایک خاص تزویراتی پیغام تھا۔ مشرق وسطیٰ اور افغانستان کی فضائی حدود کو نظر انداز کر کے پاکستان کا انتخاب کرنا ظاہر کرتا ہے کہ اس وقت خطے میں سب سے محفوظ اور معتبر راستہ صرف پاکستان ہی فراہم کر سکتا ہے۔ جب صبح ساڑھے 10بجے نور خان ایئر بیس پر امریکی نائب صدر کے طیارے نے لینڈ کیا تو یہ محض ایک لینڈنگ نہیں تھی بلکہ پاکستان کے عالمی قیادت کے درجے پر فائز ہونے کا اعلان تھا۔دوسری جانب تہران سے بھی ایک انتہائی بااختیار وفد اسلام آباد پہنچ چکا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں وزیر خارجہ عباس عراقچی‘ دفاعی کونسل کے سیکرٹری اور مرکزی بینک کے گورنر کی موجودگی اس بات کی نشاندہی  کرتی ہے کہ ایران اس مذاکراتی عمل کو کس قدر اہمیت دے رہا ہے۔ پاکستان کی جانب سے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے دونوں وفود کا پُرتپاک استقبال کیا‘ اس نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ پاکستان کی سول اور عسکری قیادت ملک کو امن کا گہوارہ بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔ یہ منظر نامہ پاکستان کی اس متوازن خارجہ پالیسی کا عکاس ہے جس کی بنیاد غیرجانبداری اور عالمی مفاہمت پر رکھی گئی ہے۔ ایک طرف امریکہ کے ساتھ دیرینہ تعلقات کی بحالی اور دوسری طرف برادر ملک ایران کے ساتھ اعتماد کا رشتہ برقرار رکھنا‘ ایک ایسی سفارتی رسی پر چلنے کے مترادف تھا جس پر توازن برقرار رکھنا صرف پاکستان ہی کا خاصہ ہے۔اس وقت جب یہ تحریر لکھی جا رہی ہے‘ اسلام آباد کے بند کمروں میں مستقبل کی تاریخ رقم ہو رہی ہے۔ اگرچہ ابھی تک کوئی حتمی معاہدہ سامنے نہیں آیا لیکن ذرائع بتاتے ہیں کہ برف پگھلنا شروع ہو چکی ہے۔ یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ پاکستان ایک سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے۔ تصفیہ طلب معاملات کے حل کی آخری ذمہ داری فریقین پر ہی عائد ہوتی ہے لیکن ان فریقین کو ایک کمرے میں بٹھا کر مکالمے کی فضا پیدا کرنا ہی اصل کامیابی ہے۔ پاکستان اس مشن میں تنہا نہیں ہے۔ سفارت کاری کے اس فرنٹ لائن محاذ پر ہمیں سعودی عرب‘ مصر اور ترکیہ جیسے برادر ممالک کی بھرپور معاونت حاصل رہی۔ ان  ممالک کے ساتھ مل کر پاکستان نے ایک ایسا امن بلاک تشکیل دیا ہے جو جنگ کے بجائے مذاکرات اور گولی کے بجائے دلیل پر یقین رکھتا ہے۔ عالمی برادری بشمول اقوام متحدہ اور یورپی یونین پاکستان کی ان کوششوں کو سراہ رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس پاکستان میں ہونے والے امریکہ ایران مذاکرات کی کامیابی کے لیے پُرامید ہیں۔ انہوں نے پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے امریکہ اورایران کے مذاکرات کا خیرمقدم کیا ہے۔ اسی طرح پاکستان کی قیادت کو مختلف ممالک کے سربراہان کی جانب سے موصول ہونے والے ستائشی پیغامات کی فہرست طویل ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا اب پاکستان کو کسی مسئلے کا حصہ نہیں بلکہ ہر بڑے مسئلے کا حل سمجھتی ہے۔برسوں بعد پاکستان میں عالمی طاقتوں کا اس سطح پر اکٹھا ہونا اس بات کی نوید ہے کہ پاکستان کی تزویراتی اہمیت کو نظر انداز  کرنا ممکن نہیں۔ پاکستان نے ثابت کیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دی گئی قربانیاں رائیگاں نہیں گئیں ۔ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری یہ مذاکرات دیرپا اور حتمی معاہدے سے ایک قدم دوری پر ہیں۔ اگر یہ کسی حتمی نتیجے پر پہنچتے ہیں تو اس کا سب سے بڑا فائدہ عالم اسلام اور ایشیا کو ہو گا۔ مشرق وسطیٰ میں امن کا مطلب ہے عالمی معیشت کا استحکام‘ سستی توانائی کی فراہمی اور انسانی المیوں کا خاتمہ۔ اور اس عظیم مقصد کے پیچھے اگر کسی ملک کا عکس سب سے نمایاں ہے تو وہ پاکستان ہے۔ اس پس منظر میں دیکھا جائے تو مذاکرات کی میز پر بیٹھے وفود کے سامنے کوئی ایجنڈا نہیں بلکہ لاکھوں انسانی جانوں  کا مستقبل ہے۔ پاکستان نے اپنا فرض ادا کر دیا ہے‘ ہم نے شعلوں پر پانی ڈالا ہے‘ ہم نے راستے ہموار کیے ہیں اور ہم نے دنیا کو ایک بار پھر امن کا سفیر بن کر دکھایا ہے۔ اب فریقین پر منحصر ہے کہ وہ پاکستان کی اس بے لوث کوشش کو کس طرح ایک مستقل امن میں تبدیل کرتے ہیں۔ البتہ پاکستان کے لیے یہ لمحہ فخر کا ہے کہ دنیا کا ہر بڑا ملک اسلام آباد کی طرف دیکھ رہا ہے۔ ہم نے ثابت کر دیا کہ پاکستان امن کے ساتھ کھڑا ہے اور امن ہی پاکستان کی پہچان ہے۔ مؤرخ جب اس دور کی تاریخ لکھے گا تو وہ سنہری حروف میں درج کرے گا کہ جب دنیا جنگ کی آگ میں جل رہی تھی تو پاکستان وہ سرزمین تھی جہاں سے امن کی ٹھنڈی ہوائیں چلی تھیں اور جس نے عالمی سیاست کے بپھرے ہوئے سمندر کو سکون بخشا تھا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/222_48272610.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>اسلام آباد مذاکرات، امن کی فتح(عمران یعقوب خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-04-12/51754/91557047</link><pubDate>Sun, 12 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-04-12/51754/91557047</guid><description>پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے ایران امریکہ مذاکرات کے سبب اسلام آباد اس وقت عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ یہ مذاکرات ایک ایسے وقت پر ہو رہے ہیں جب کم و بیش چھ ہفتے کی جنگ کے بعد فریقین نے پاکستان کی تجویز پر دو ہفتے کی جنگ بندی اور باہمی بات چیت پر اتفاق کیا۔ جنگ کے باعث اب تک ہزاروں قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں‘ عالمی معیشت کو شدید دھچکے پہنچے ہیں جبکہ تیل کی ترسیل کے اہم راستے متاثر ہونے کے باعث توانائی کا عالمی بحران تیزی سے سر اٹھا رہا تھا۔ جنگ کے دوران ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کرنے کے فیصلے نے تیل اور گیس کی عالمی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ہر ملک‘ ہر قوم‘ ہر رہنما اور ہر فرد یہ سوچ رہا تھا کہ اگر جنگ تا دیر جاری رہی تو ہر عالمی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ جائے گی۔ یہ سوچ گہری ہوتی جا رہی تھی کہ خلیجی ممالک سے توانائی کے ذرائع کی ترسیل مکمل طور پر بحال نہ ہوئی تو یہ بحران نہ صرف دنیا بھر میں  گھریلو زندگی کو تہس نہس کر دے گا بلکہ صنعت و زراعت کا پہیہ بھی جامد ہو کر رہ جائے گا ‘جس کا نتیجہ مزید معاشی بدحالی کی صورت میں نکلے گا۔ ٹرانسپورٹ اور صنعت کا پہیہ بند ہو جاتا تو لا محالہ بے روزگاری بڑھتی جو عالمی کساد بازاری کا پیش خیمہ بن جاتی۔ اسی سوچ کے تحت عالمی سطح پر فوری جنگ بندی کی ضرورت تو شدت کے ساتھ محسوس کی جا رہی تھی لیکن کوئی بھی اس سلسلے میں آگے بڑھنے کو تیار نظر نہ آتا تھا۔ان حالات میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے معاملات کو سدھارنے کا بیڑا اٹھایا اور پہلے مرحلے میں جنگ بندی کے لیے امریکہ اور ایران‘ دونوں ممالک کی قیادت کے ساتھ رابطے قائم کیے‘ ان کے سامنے تجاویز رکھیں اور انہیں مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر اپنے مسائل حل کرنے کی صلاح دی تاکہ مزید تباہی اور جنگ کے ضمنی اثرات سے بچا جا سکے۔ اس سارے عمل کے دوران عقل اور دانش نے جگہ بنائی اور جنگ کے حوالے سے خراب ہوتے اور شدت اختیار کرتے ہوئے مسائل کو پیشِ نظر رکھ کر فریقین نے جنگ بندی اور بعد ازاں پاکستان کی ثالثی میں مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کیلئے رضامندی ظاہر کر دی۔ جب یہ کالم چھپ کر آپ کے سامنے آئے گا تو مذاکرات کا ایک دور مکمل ہو چکا ہو گا اور کچھ نہ کچھ نتائج بھی ہو سکتا ہے کہ سامنے آ چکے ہوں۔ عرب میڈیا نے بتایا ہے کہ ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے مطابق یہ مذاکرات 15دن تک جاری رہ سکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ وفود کے کچھ ارکان طویل قیام کر سکتے ہیں یا ہو سکتا ہے اگلے دور کے لیے پھر واپس آئیں۔ وقت جتنا بھی لگ جائے نتیجہ خیر کی صورت میں نکلنا چاہیے۔ یہی آج ہر امن پسند کی دعا ہے۔میری نظر میں مذاکرات کے لیے اسلام آباد کا انتخاب اس لیے کیا گیا ہے کہ سب سے پہلے پاکستان ہی نے امن کے لیے کوششوں  کا آغاز کیا اور حالیہ ہفتوں میں واشنگٹن اور تہران کے مابین ایک اہم ثالث کے طور پر سامنے آیا۔ پھر پاکستان کی ایران کے  ساتھ 900کلو میٹر طویل سرحد ہے اور دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات برادرانہ اور دوستانہ ہیں۔ ایران کی قیادت امن مذاکرات کے سلسلے میں پاکستان کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کی متعدد بار تعریف کر چکی ہے۔ مزید برآں پاکستان کو ایران اور  امریکہ دونوں کے قریب سمجھا جاتا ہے اور فی زمانہ یہ حقیقت بھی ہے۔ علاوہ ازیں پاکستان اس سے پہلے گزشتہ سال بھی امریکہ یران جنگ بند کرانے میں سرگرم کردار ادا کر چکا ہے۔ پاکستان نے ایران اور سعودی عرب کے اختلافات ختم کرانے اور دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ ان معاملات کو سامنے رکھا جائے تو پاکستان ہی اس جنگ کو فرو اور پھر ختم کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتا تھا؛ چنانچہ وہ یہ کردار ادا کر رہا ہے جس کی پوری دنیا کی جانب سے پذیرائی کی جا رہی ہے۔عراق‘ لبنان اور یمن میں جنگ کا مکمل خاتمہ‘ ایران کے خلاف جنگ کا مکمل اور مستقل خاتمہ‘ پورے خطے میں تمام تنازعات کا اختتام‘ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا‘ آبنائے ہرمز میں محفوظ اور آزادانہ نقل و حرکت کے لیے پروٹوکول اور شرائط کا قیام ایران کے پیش کردہ 10نکاتی منصوبے کا حصہ ہیں جبکہ ایران کی تعمیرِ نو کے اخراجات کے لیے مکمل معاوضے کی ادائیگی‘ ایران پر عائد تمام پابندیوں کا مکمل خاتمہ‘ امریکہ کے پاس منجمد ایرانی اثاثوں اور فنڈز کا فوری اجرا بھی ایرانی ایجنڈے کا حصہ ہے۔ (ایک غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق سینئر ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ قطر اور دیگر غیرملکی بینکوں میں موجود ایرانی منجمد اثاثے بحال کرنے پر رضامند ہو گیا ہے۔ وائٹ ہاؤس نے ایران کے اثاثے بحال کیے جانے سے متعلق خبر کی تردید کی ہے)۔ایران کے 10نکات میں خطے کے تمام اڈوں اور فوجی مراکز سے امریکی افواج کا انخلا اور جنگی نقصانات کے بدلے تہران کو ہرجانہ ادا کرنے کے مطالبات بھی شامل ہیں۔ تہران کے خلاف عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز اور امن کونسل کی قراردادوں کی منسوخی اور بیرون ملک منجمد  تمام ایرانی اثاثوں اور رقوم کی واگزاری کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔دوسری جانب امریکہ نے بارہا اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو کھولنا اور وہاں بحری جہاز رانی کی محفوظ واپسی ناگزیر ہے۔  صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس عزم کا اظہار بھی کیا ہے کہ واشنگٹن ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے یا یورینیم کی افزودگی کی اجازت نہیں دے گا۔ ٹرمپ انتظامیہ ایرانی میزائل پروگرام اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے خاتمے کی کوشش بھی کر رہی ہے۔ امریکہ کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ خطے میں مسلح ملیشیاؤں کی حمایت بند کی جائے‘ بالخصوص عراق اور لبنان میں۔ بالٹی مور سے میرے دیرینہ دوست پاکستانی نژاد ریپبلکن ساجد تارڑ نے خبر دی ہے کہ ان کی اطلاعات کے مطابق امریکہ کی 15شرائط میں سے 11جبکہ ایران کی جانب سے پیش کردہ 10شرائط میں سے سات پر اتفاق ہو چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اگر مذاکرات نتیجہ خیز ہونے کا امکان نہ ہوتا تو جے ڈی وینس پاکستان نہ جاتے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا مطمئن نظر آنا بھی کامیابی کی کہانی بیان کر رہا ہے۔گزشتہ کالم میں بھی عرض کیا تھا کہ ایسا ممکن نہیں کہ فریقین کے تمام مطالبات ہی تسلیم کر لیے جائیں۔ جنگ بند ہو جائے‘ ایران پر سے پابندیاں ہٹا لی جائیں‘ آئندہ جنگ نہ کرنے کی یقین دہانی کرا دی جائے اور ایران کے جنگ میں ہونے والے نقصانات کا ازالہ کر دیا جائے تو اس کے بدلے میں ایران اپنا ایٹمی پروگرام محدود (ختم نہیں) کرنے پر تیار ہو سکتا ہے‘ لیکن ایرانی قیادت شاید اپنے میزائل اور ڈرون پروگرام سے پیچھے نہ ہٹے کیونکہ یہ میزائل پروگرام ہی ہے جس نے اس جنگ میں ایران کو اپنے مخالفین پر برتری دلائی ہے۔ یہاں پھر وہی لطیفہ یاد آتا ہے کہ یہ سارے وہ معاملات ہیں جن پر ایران اوباما انتظامیہ کے دور میں ایک معاہدے کے مطابق عمل پیرا تھا۔ ٹرمپ صاحب نے وہ معاہدہ یک طرفہ طور پر ختم کر دیا اور اب اسی طرح کا ایک اور معاہدہ کرنے کے لیے ایران پر زور دے رہے ہیں۔دعا ہے کہ جنگ کے شر میں سے امن کا خیر برآمد ہو۔ ایران اور امریکہ کے مابین معاہدہ ہو جانا انہی دو ممالک کی نہیں‘ پاکستان اور باقی ساری دنیا کی بھی فتح ہو گی۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_58350786.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>اسلام آباد میں تاریخ رقم(محمد عبداللہ حمید گل)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-abdullah-hameed-gull/2026-04-12/51755/96681132</link><pubDate>Sun, 12 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-abdullah-hameed-gull/2026-04-12/51755/96681132</guid><description> اسلام آباد میں تاریخ رقم ہونے جا رہی ہے۔ و ہاں سجی بیٹھک نے اقوام عالم کو امن کی امید دلائی ہے اور وہاں ہو رہے مذاکرات پوری دنیا کی توجہ کا مرکز ہیں۔ دوسری طرف بھارت تلملا رہا ہے کہ اس کا کردار صفر ہو گیا ہے ۔ بے شک ہماری عسکری استعداد‘ تدبر اور اعلیٰ سفارت کاری کی دنیا پر دھاک بیٹھ گئی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف‘ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی کامیاب سفارتکاری رنگ لا رہی ہے۔ ایران کے ساتھ پاکستان کے تاریخی‘ ثقافتی اور جغرافیائی تعلقات ہیں جبکہ امریکہ کے ساتھ سٹریٹجک اور معاشی روابط اہمیت رکھتے ہیں۔ ایران اور امریکہ جیسے دو بڑے ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت‘ توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی امن پر بھی تھے۔ تاہم اس نازک مرحلے پر پاکستان نے دانشمندی‘ بصیرت اور متوازن سفارتکاری کا مظاہرہ کیا جو نہ صرف ایک بڑی کامیابی ہے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے بڑھتے ہوئے وقار کا واضح ثبوت بھی ہے۔ یہ کامیابی اتفاقیہ نہیں بلکہ پاکستان کی طویل سفارتی روایت‘ جغرافیائی اہمیت اور عالمی امور میں مسلسل کردار کا نتیجہ ہے۔ پاکستان ایک نہایت اہم جغرافیائی مقام پر واقع ہے جہاں ایشیا‘ مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا آپس میں ملتے ہیں۔ یہی محلِ وقوع اسے تجارتی راستوں‘ سیاسی روابط اور سفارتی تعلقات کے لیے ایک کلیدی مرکز بناتا ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) جیسے منصوبے اس اہمیت کو مزید اجاگر کرتے ہیں اور علاقائی روابط و عالمی تجارت میں پاکستان کے کردار کو مضبوط بناتے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ ہزاروں جانوں کا نذرانہ اور اربوں ڈالر کا معاشی نقصان اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان نے عالمی امن کے لیے کس حد تک قیمت ادا کی۔ اس کے باوجود عالمی سطح پر اسے وہ اعتراف دیر سے ملا جس کا وہ حقدار تھا۔ اب صورتحال بدلتی نظر آ رہی ہے‘ دنیا پاکستان کے کردار کو نہ صرف تسلیم کر رہی ہے بلکہ اسے قدر کی نگاہ سے بھی دیکھ رہی ہے۔اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے نمائندوں کو مذاکرات کی دعوت دینا محض ایک سفارتی قدم نہیں بلکہ ایک جرأت مندانہ اور دور اندیش فیصلہ تھا۔ حا لانکہ اسرائیل نے امن مذاکرات کو سبو تاژ کرنے کیلئے لبنان کو خون میں نہلا دیا جس پر ایران کی جانب سے کہا گیا تھا کہ اگر جنگ بندی میں لبنان کو شامل نہ کیا گیا تو یہ مذاکرات بے نتیجہ ہوں گے۔ ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف کی سربراہی میں ایرانی وفد اسلام آباد پہنچا جبکہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی شرکت اس بات کی غمازی ہے کہ امریکہ بھی چاہتا ہے کہ یہ مذاکرات کامیاب ہو جائیں۔ اس مکالمے کا مقصد صرف جنگ روکنا نہیں بلکہ پائیدار عالمی امن کی بنیاد رکھنا ہے۔ امریکہ ایران جنگ بندی میں کلیدی کردار ادا کرنے پر دنیا بھر میں عالمی قیادت ‘ عالمی ادارو ں اور عالمی میڈیا کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف اورفیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زبردست انداز میں تحسین و ستائش کا اعتراف کیا جا رہا ہے۔ سفارتکاری نے تباہی کے دروازے سے دنیا کو واپس کھینچ لیا ہے۔ اب سیاست نہیں بلکہ ریاست چمکانے کا وقت ہے۔ اگر مذاکرات کامیابی سے ہم کنار ہوتے ہیں تو اس کے نتیجے میں علاقائی اور عالمی امن و استحکام کی ضمانت مل جاتی ہے تو چہار دانگ عالم میں پاکستان کی سفارت کاری کا ڈنکا بجے گا۔تاہم اصل امتحان شروع ہے ؛چنانچہ سوال اب یہ نہیں رہا کہ جنگ ہوئی یا نہیں بلکہ یہ ہے کہ اب مذاکرات ثمرآور ہوں گے۔ جنگ بندی پر آمادگی بظاہر خوش آئند ہے لیکن اس کے پس پردہ ٹرمپ کے محرکات کو بھی مد نظر رکھنا ہوگاکیونکہ ٹرمپ کی سیاست ماضی میں بھی ہمیشہ دباؤ اور پھر ڈیل کی صورت پر چلتی رہی ہے۔ یہ بھی واضح رہے کہ تہران بھی 2018 ء والا نہیں رہا۔ اس نے آبنائے ہر مز کے ذریعے اقوام عالم بالخصوص امریکہ کو یہ پیغام دیا ہے کہ اگر اس پر جنگ مسلط کی گئی تو اس کی قیمت عالمی معیشت بھی ادا کرے گی۔ یورپی ممالک اگر ایران کے حملوں کو جائز قرار نہیں دے رہے تو امریکہ یا اسرائیل کو کھلی چھوٹ دینے کے حق میں بھی نہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ جنگ لمبی چلی تو تیل اورگیس کی قیمتیں آسمان پر جانے سے مہنگائی کی شدید لہرآئے گی ۔ مہاجرین کا نیا بحران یوکرین کے بعد ایک دوسرے بڑا جھٹکا ہو گا؛ چنانچہ اگر کسی ایک فریق نے بھی اپنی سیاسی انا کو قومی سلامتی سے بڑا سمجھ لیا تو یہی بحران بڑی خلیجی جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہو گا۔ساری دنیا میں اس جنگ بندی کو ایران کی مثالی فتح قرار دیا جا رہا ہے۔ جہاں تک امریکہ کا سوال ہے وہ اپنے آپ کو شاباش دے رہا ہے۔ امریکہ نے ایران میں رجیم چینج کے مقصد سے جنگ شروع کی تھی جس میں وہ ناکام رہا‘ دوسری طرف امریکہ کا سپر پاور کا غرور و تکبر بھی خاک میں مل گیا۔عالمی سیاست میں طاقت کا توازن تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے‘ نئی طاقتیں ابھر رہی ہیں۔ اس تبدیلی کے دور میں وہی ممالک کامیاب ہوتے ہیں جو حالات کے مطابق خود کو ڈھال سکیں۔1990ء میں امریکہ نے جو ادارے قائم کیے تھے‘ جنہوں نے امریکہ کے غیر قانونی اقدامات کوقانونی رنگ دیا وہ ادارے اب رہ نہیں پائیں گے‘ اب مغرب کے بجائے ایشیا طاقت کا مرکز بننے جا رہا ہے ۔ شنگھائی تعاون تنظیم ہو گی‘ ورلڈ بینک کی جگہ ایشین ڈیویلپمنٹ بینک‘ آئی ایم ایف‘ ایف اے ٹی ایف کے بعد برکس جیسے ادارے سامنے نظر آئیں گے۔ پیٹرو ڈالر کی اجارہ داری کا خاتمہ بھی قریب نظر آتا ہے۔ بنیادی طور پر یہ جنگ امریکہ کو لے ڈوبی ہے۔ امریکہ کی تنہائی اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کی سپر پاور کا سورج غروب ہو چکا ہے۔ اب امریکہ کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ اس کے غرور اور تکبر کے سامنے بے جا تحدیدات اور محدود وسائل کے باوجود ایران اس کے آگے سر نگوں نہیں ہوا بلکہ سیز فائر نے اسے طاقتور ملک بنا دیا۔ ایران کے 10نکاتی منصوبے میں عراق‘ لبنان اور یمن میں جنگ کا مکمل خاتمہ‘ ایران کے خلاف جنگ کا مکمل اور مستقل خاتمہ‘ پورے خطے میں تمام تنازعات کا اختتام‘ ایران کی تعمیرِ نو کے اخراجات کیلئے مکمل معاوضے کی ادائیگی‘ ایران پر عائد تمام پابندیوں کا مکمل خاتمہ‘ امریکہ کے پاس منجمد ایرانی اثاثوں اور فنڈز کی فوری رہائی اور جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے کی مکمل یقین دہانی‘ مندرجہ بالا شرائط کی منظوری کے ساتھ تمام محاذوں پر فوری جنگ بندی اور آبنائے ہر مز پر ایرانی کنٹرول ایجنڈے کا حصہ ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ دس نکاتی ایجنڈے میں ایران نے بڑا واضح بتا دیا ہے اور آبنائے ہرمز پر اس نے اپنا کنٹرول ثابت کر کے دکھایا ہے۔ دنیا کو سمجھ آگئی ہے کہ طاقت کا محور تبدیل ہو چکا ہے۔ بے شک اس میں خلیجی ممالک کا بھی نقصان ہوا ہے لیکن یہ ابتدا ہے اور اس کے بھی دور رس اثرات مرتب ہوں گے جن میں ان کی حکومتوں میں تبدیلی نہیں بلکہ نقشوں میں تبدیلی بھی ہو گی۔تاریخ گواہ ہے کہ وہی قومیں دنیا میں عزت پاتی ہیں جو مشکل وقت میں دانشمندی اور جرأت کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ پاکستان نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ نہ صرف اپنے قومی مفادات کا محافظ ہے بلکہ عالمی امن کا ذمہ دار حامی بھی ہے۔ اسلام آباد کی یہ سفارتی پیش رفت ایک نئے دور کی شروعات ہے۔ یہ نہ صرف پاکستان کے عالمی وقار میں اضافے کا سبب بنی ہے بلکہ دنیا کو یہ پیغام بھی دیا ہے کہ امن‘ استحکام اور تعاون کے لیے نئے راستے ابھی بھی ممکن ہیں۔ اگر یہ سمت برقرار رہی تو پاکستان آنے والے وقت میں عالمی امن کے قیام میں ایک کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_62843609.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>