<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>امن سب کی ضرورت(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-30/11232</link><pubDate>Sat, 30 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-30/11232</guid><description>صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ معاہدے کیلئے اپنے مطالبات کی ایک فہرست ٹروتھ سوشل کے ذریعے پیش کی ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کو یہ ماننا پڑے گا کہ وہ کبھی جوہری ہتھیار یا بم نہیں بنائے گا‘ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھول دیا جائے‘ کوئی ٹول ٹیکس لاگو نہیں ہو گا اور تمام بارودی سرنگوں کو ختم کر دیا جائے۔ صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا عندیہ دیا ہے اور ایران اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے تعاون سے افزودہ یورینیم کو امریکی نگرانی میں بازیاب کرنے اور ناکارہ بنانے کا کہا ہے۔ اسی بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ دیگر ’’کم اہم معاملات‘‘ پر اتفاق ہو چکا ہے۔ امریکی صدر کی ان شرائط پر فریق ثانی کا کیا رد عمل ہے‘ یہ ابھی دیکھنا باقی ہے۔ مگر یہ واضح ہے کہ ایران کی جوہری صلاحیت امریکہ ایران تنازعے کی بنیادی وجہ ہے۔ اگرچہ ایران کا مؤقف یہ رہا ہے کہ جوہری ہتھیار حاصل کرنا اس کا مطمح نظر نہیں اور ایران جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) کا دستخطی بھی ہے‘ مگر اس کے باوجود ایران کا جوہری پروگرام امریکہ کیلئے شبہات کا باعث رہا ہے اور صدر ٹرمپ نے اسی خطرے کو بنیاد بنا کر گزشتہ برس ایران پر حملہ کیا اور رواں سال کی جنگ بھی اسی بہانے شروع کی گئی۔ جس کی قیمت ایران‘ امریکہ‘ خلیجی خطے اور دنیا بھر کو برداشت کرنا پڑ رہی ہے۔ متحارب ملکوں‘ متاثرہ خطے اور دنیا کو اس مشکل سے نکالنے کیلئے نتیجہ خیز پیش رفت ناگزیر ہے۔ یہ واضح ہے کہ کوئی فریق اس تنازعے کو طول دینے کا خواہش مند نظر نہیں آتا نہ ہی اس میں سے کسی کیلئے کوئی فائدہ ہے۔ امریکہ جو دنیا کی سب سے بڑی معیشت اور عسکری طاقت ہے‘ یہ اس کے حق میں بھی نہیں۔ دوسری جانب خلیجی ریاستوں نے امریکہ کی اس مہم جوئی سے ناقابلِ تلافی نقصان اٹھایا ہے۔ توانائی کی رسد ہی نہیں اس خطے کے امن‘ استحکام اور اعتماد کو بھی گہری ٹھیس پہنچی اور اس کے ناقابلِ فراموش معاشی اثرات ہیں۔ امریکہ پر اس مہم جوئی کے اثرات بھی واضح اور تلخ ہیں خاص طور پر تیل کی قیمتوں‘ مہنگائی اور دفاعی اخراجات میں اضافے کے تناظر میں۔ چونکہ دنیا کی تقریباً 20فیصد تیل کی تجارت آبنائے ہرمز سے گزرتی ہے اس لیے کشیدگی کے دوران خام تیل کی قیمتیں 120ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئیں جس کے نتیجے میں امریکہ کی کئی ریاستوں میں پٹرول کی قیمت چار ڈالر فی گیلن سے تجاوز کر گئی۔ اس تنازع کے باعث 2026ء میں امریکہ میں مہنگائی کی شرح تین سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ اپریل میں پٹرول کی قیمتوں میں 5.5فیصد اضافے کے ساتھ مہنگائی کا دباؤ بڑھ گیا۔ دوسری جانب امریکی دفاعی اخراجات میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ پینٹاگون کے ایک سینئر عہدیدار نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ ایران میں امریکہ کی جنگ پر اب تک 29بلین ڈالر لاگت آئی ہے تاہم بعض ڈیموکریٹک رہنماؤں اور کئی ماہرینِ اقتصادیات کا خیال ہے کہ یہ تخمینہ خاصا ’’محتاط‘‘ ہے۔ ان ماہرین اور قانون سازوں کے خیال میں اس جنگ کی اصل لاگت 630بلین ڈالر اور ایک ٹریلین ڈالر کے درمیان ہو سکتی ہے۔ واضح رہے ٹرمپ انتظامیہ نے آئندہ برس کیلئے ڈیڑھ ٹریلین ڈالر کے دفاعی بجٹ کا مطالبہ کیا ہے جو امریکہ کے موجودہ دفاعی اخراجات سے 42فیصد زیادہ اور دوسری عالمی جنگ کے بعد سے امریکی فوجی اخراجات میں سب سے بڑا اضافہ ہے۔ یہ صورتحال کسی بھی طرح سے ایران کی عسکری مہم جوئی کو امریکہ کے حق میں ثابت نہیں کرتی؛ چنانچہ اس سلسلے کو جہاں تک ممکن ہو جلد از جلد بند ہونا چاہیے۔ خلیجی خطے کیلئے بھی‘ دنیا کیلئے بھی‘ اور خود امریکہ کیلئے یہی بہتر ہے۔ کوشش کی جانی چاہیے کہ پائیدار جنگ بندی اور امن معاہدے میں غیرضروری رکاوٹیں مسئلہ نہ بنیں۔ یہ جس قدر جلد ہو اتنا ہی سبھی فریقین کیلئے بہتر ہے۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پٹرولیم قیمتیں(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-30/11231</link><pubDate>Sat, 30 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-30/11231</guid><description>حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 22‘ 22 روپے فی لٹر کمی کا اعلان کیا ہے‘ جس کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 381 روپے 78 پیسے جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 380 روپے 78 پیسے فی لٹر ہو گئی ہے۔ اس کمی کی بنیادی وجہ گزشتہ ہفتے کے دوران برینٹ خام تیل کی قیمت میں تقریباً 11 فیصد جبکہ امریکی خام تیل کی قیمت میں تقریباً 10 فیصدتک ہونے والی نمایاں کمی ہے۔اس عالمی رجحان کو بنیاد بناتے ہوئے حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان ضرور کیا ہے لیکن  حکومت اب بھی پٹرولیم لیوی اور دیگر ٹیکسز کی صورت میں صارفین سے بھاری رقوم وصول کر رہی ہے۔ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق اپریل 2024ء سے مارچ 2026ء کے دوران حکومت نے صرف پٹرولیم لیوی کی مد میں عوام سے 2725 ارب روپے سے زائد رقم وصول کی ہے‘ جو کہ اسی عرصے میں آئی ایم ایف سے لیے گئے دونوں قرض پروگراموں کے مجموعی حجم (تقریباً 2340 ارب روپے) سے بھی زیادہ ہے۔ یہ اعداد و شمار اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ ریاستی محصولات کا بڑا حصہ پٹرولیم لیوی کی مد میں عوام سے حاصل کیا جا رہا ہے۔ اس لیے پٹرولیم لیوی اور ٹیکسوں کے موجودہ ڈھانچے میں بنیادی تبدیلی کے بغیر عوام کو کوئی ریلیف میسر نہیں آ سکتا۔ حکومت کو چاہیے کہ تیل کی عالمی قیمتوں میں کمی کے ثمرات عوام تک پہنچانے کیساتھ ساتھ پٹرولیم لیوی میں کمی بھی یقینی بنائے۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>موسمیاتی ناانصافیاں(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-30/11230</link><pubDate>Sat, 30 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-30/11230</guid><description>وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے دوشنبے میں منعقدہ عالمی واٹر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے  کہا پاکستان عالمی کاربن اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ رکھنے کے باوجود موسمیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثرہ ممالک میں سرفہرست ہے‘اور یہ کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے دنیا کو اجتماعی اور سنجیدہ اقدامات کرنا ہوں گے۔ صنعتی ترقی کی دوڑ میں شامل بڑے اور ترقی یافتہ ممالک نے گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران ماحول کو جس بے رحمی سے آلودہ کیا اس کے سزا اب پوری دنیا خصوصاً غریب اور ترقی پذیر ممالک بھگت رہے ہیں۔ مگر حیرت انگیز امر یہ ہے کہ جن ممالک کی صنعتی ترقی اس تباہی کا بنیادی سبب بنی ‘ وہ ماحولیاتی تحفظ کیلئے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہے۔ پاکستان اس موسمیاتی ناانصافی کی ایک واضح مثال ہے جہاں غیرمعمولی بارشوں‘ ہیٹ ویوز‘ گلیشیرز کے تیز پگھلاؤ‘ خشک سالی اور تباہ کن سیلابوں نے شدید تباہی مچائی ہے۔ اسلئے عالمی برادری خصوصاً ترقی یافتہ ممالک پر یہ اخلاقی اور انسانی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ماحولیاتی تحفظ اور کلائمیٹ فنانسنگ کیلئے کیے گئے وعدوں کو عملی شکل دیں۔ پاکستان کو محض ہمدردی نہیں بلکہ عالمی ماحولیاتی کانفرنسوں میں کیے گئے وعدوں کے مطابق عملی تعاون‘ جدید ٹیکنالوجی اور مالی معاونت کی ضرورت ہے تاکہ اس عالمی بحران کے تباہ کن اثرات نمٹا جا سکے۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>عید‘ رشتہ دار اور کتابیں(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-05-30/52026/11589967</link><pubDate>Sat, 30 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-05-30/52026/11589967</guid><description>عید ملن کا نام ہے۔ یہ روابط بحال کرنے کے دن ہیں۔ یہ اُن سے ملاقات کا موقع ہے جن سے ہم سال بھر نہیں مل پاتے۔ مجھے وہ دن یاد ہیں جب میں ہر عید باقاعدگی کے ساتھ گاؤں میں منایا کرتا تھا۔ عید گاہ میں اُن احباب سے بھی ملاقات ہو جاتی جن سے پچھلی عید پر ملے تھے۔ یہ سلسلہ اُس وقت تک باقی رہا جب تک والدین زندہ رہے۔ وہ رخصت ہوئے تو یہ معمول بھی چھوٹ گیا۔ تاہم اللہ کا شکر ہے کہ اب عید کے دن رشتہ داروں اور عزیز و اقارب سے ملاقات ہو جاتی ہے۔ ہمیں اس رواج کو زندہ رکھنا چاہیے کہ عہدِ حاضر رشتوں کیلئے ملک الموت ثابت ہوا ہے۔ عید کے دن بھی اگر ہم اعزّا سے نہ مل پائیں تو کب ملیں گے؟مجھ جیسے مگر ان دنوں میں بھی کتاب سے رشتہ نہیں توڑ سکتے۔ اس بار عید کی چھٹیاں قدرے طویل ہیں۔ خیال یہی ہے کہ نئی موصول ہونے والی کتابیں ان دنوں میں نظر سے گزر جائیں گی۔ میرے لیے چھٹیوں کا اس سے بہتر مصرف کوئی اور نہیں۔ عیاشی کا تصور بھی میرے نزدیک یہی ہے۔ فرصت اور کتابوں کی صحبت ایک ساتھ میسر ہوں تو اس سے بڑی تفریح کا تصور محال ہے۔ کتابیں ایک سے زیادہ ہیں۔ دیکھیے‘ ان دنوں میں کتنوں کا ساتھ رہتا ہے۔ آج عید کا تیسرا دن ہے اور دو کتابیں ختم ہو چکیں۔ خیال ہوا کہ ان کے مطالعے میں آپ کو بھی شریک کر لوں۔پہلی کتاب ہے &#39;&#39;پیارے مولانا‘‘۔ اس میں جناب الطاف حسن قریشی کا مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کے بارے میں ایک طویل مضمون‘ اُن کے دو انٹرویو اور ایک غزل شامل ہے۔ کتاب کو قابلِ مطالعہ بنانے کے لیے یہ مواد کافی تھا اور مگر اس پر مستزاد‘ جناب مجیب الرحمن شامی کے دو مضامین‘ جناب آباد شاہ پوری اور نظر زیدی کا ایک ایک مضمون بھی کتاب میں شامل ہیں۔ یوں اس کتاب کی افادیت دوگنا ہو گئی ہے۔ اس کتاب کے مطالعہ سے مجھے یہ احساس ہوا کہ مولانا کے حالتِ زندگی‘ ان کے افکار و نظریات اور ان کے شخصی اوصاف سے واقفیت اور تعارف کے لیے یہ کتاب کفایت کرتی ہے۔شخصیت مولانا مودودی کی ہو اور اس کی تصویر قریشی صاحب کے قلم سے کھینچی گئی ہو تو پڑھنے والا بے اختیار پکار اٹھتا ہے:ذکر اُس پری وش کا اور پھر بیاں اپناعلم میں اگر حسنِ کردار کی آمیزش ہو جائے تو پھر اس پیکر خاکی کو ابوالاعلیٰ کہتے ہیں۔ حسنِ فطرت‘ حسنِ بیان اور حسنِ خُلق کے ایسے نمونے قدرت کے ٹیکسال میں کم ہی ڈھلتے ہیں۔ جناب الطاف حسن قریشی کو حُسن کے اس مرقع کو بہت قریب سے اور بار ہا دیکھنے کا موقع ملا۔ اس کے بعد ان کے پاس کوئی راستہ اس کے سوا نہیں تھا کہ وہ ان کے سحر میں مبتلا ہو جائیں۔ علم کے راستے‘ وہ مولانا سے متعارف ہوئے اور پھر کردار کے راستے‘ وہ ان کے دل میں اُتر گئے۔ فکری قربت اور تعلقِ خاطر نے ان سے مولانا کی وفات پر جو مضمون لکھوایا‘ وہ ان کے بہترین مضامین ہی میں شمار نہیں ہوتا‘ یہ مولانا کے تعارف کا بھی بہترین ذریعہ ہے۔ فکر ونظر کی دنیا میں مولانا کا حصہ کیا تھا اور وہ کس کردار کے حامل تھے‘ انہوں نے کمال مہارت کے ساتھ اس مضمون میں ان سوالات کے جواب دیے ہیں۔ مولانا کے دو انٹرویو بھی کتاب کا حصہ ہیں۔ انٹرویو کے فن میں قریشی صاحب کا جو امتیاز تھا‘ یہ انٹرویو اس کا مظہر ہیں۔ غزل بھی خاصے کی چیز ہے۔ دو شعر دیکھیے:حق تھا‘ حق کی مثال تھا‘ کیا تھاسیدِ خوش خصال تھا‘ کیا تھاتخت تھا‘ تاج تھا‘ نہ لشکر تھافاتحِ بے مثال تھا‘ کیا تھاکتاب میں جناب مجیب ا لرحمن شامی کے جو رشحاتِ قلم شامل ہیں‘ تاثیرمیں وہ بھی کم نہیں۔ مولانا کی زندگی کے ابتدائی دور سے متعلق نادر معلومات کو انہوں نے خوبصورتی کے ساتھ جمع کر دیا ہے۔ &#39;قومی ڈائجسٹ‘ کے سید مودودی نمبر کے لیے انہوں نے مولانا کی جو قلمی تصویر بنائی تھی‘ وہ ادب کا شاہکار ہے۔ اسے بھی اس کتاب میں شامل کر دیا گیا ہے۔ شامی صاحب کی بنائی ہوئی ایسی تصاویر اور بھی ہیں جن کو دیکھ کر یہ سیکھا جا سکتا ہے کہ الفاظ سے مصوری کیسے ہوتی ہے۔ یہ البم الگ سے مرتب ہو جانا چاہیے۔ شامی صاحب کو بھی کوئی&#39; ایقانِ حسن‘ مل جائے تو یہ کام سہل ہو سکتا ہے۔آباد شاہ پوری صاحب کا ایک تاثراتی مضمون بھی اس کتاب کا حصہ ہے۔ وہ ایک عمدہ لکھاری تھے۔ انہوں نے جماعت اسلامی کی تاریخ لکھنے کا آغاز کیا تھا۔ غالباً اس کی ایک ہی جلد شائع ہو سکی۔ مولانا سے ان کو بے پناہ عقیدت تھی۔ جناب نظر زیدی نے مولانا کی زندگی کے دلچسپ واقعات کو ایک مضمون میں جمع کر دیا ہے جو اس کتاب میں شامل ہے۔ مولانا کی بزلہ سنجی‘ خوش طبعی‘ خوش ذوقی و خوش گفتاری ان واقعات سے عیاں ہے۔ کتاب پڑھ کر خیال ہوتا ہے کہ اس کے لیے &#39;پیارے مولانا‘ سے بہتر کوئی عنوان نہیں ہو سکتا تھا۔دوسری کتاب ان تاریخ ساز شخصیات کے تعارف پر مبنی ہے‘ انسان کا تہذیبی سفر جن کی اجتماعی کاوشوں کا مرہونِ منت ہے۔ &#39;&#39;999ٹریلین ڈالر کی کتاب‘‘ کو علامہ عبدالستار عاصم صاحب نے مرتب کیا ہے۔ ادب‘ سائنس‘ طب و جراحت‘ فنونِ لطیفہ‘ کھیل اور تعمیرات‘ علم و افکار‘ ایجاد و تخلیق کی دنیا سے تعلق رکھنے والی 101شخصیات کا تعارف‘ بہت دلچسپ انداز میں کرایا گیا ہے۔ اس میں مصنوعی ذہانت سے لے کر مجسمہ سازی و موسیقی اور طبیعات سے لے کر سماجی علوم تک‘ کم و بیش ہر علم و فن کے لوگ شامل ہیں۔ مرتب نے ابتدائیے میں یہ واضح کیا ہے کہ اس میں انبیا اور دینی شخصیات کو دانستہ شامل نہیں کیا گیا کہ &#39;وہ عام انسانوں سے کہیں بلند مقام و مرتبہ رکھتے ہیں۔اس طرح کی کتابیں دنیا کی ہر زبان میں لکھی جاتی ہیں۔ &#39;سو بڑے آدمی‘ (The Hundred) بھی اسی نوعیت کی کتاب ہے جسے عالمگیر شہرت ملی۔ ایسی کتابوں میں شخصیات کا انتخاب مصنف کے ذوق سے تعلق رکھتا ہے اور ایسی کوئی فہرست حتمی اور مکمل نہیں ہوتی۔ عبدالستار عاصم صاحب نے سہل اور دلچسپ انداز میں یہ تعارف لکھے۔ یہ اسلوب ایسی کتابوں کی ناگزیر ضرورت ہے۔ ڈاکٹر فرید احمد پراچہ صاحب نے اپنی تقریظ میں اس مجموعے کو سراہا ہے۔ ان جیسے مذہبی آدمی نے بھی عاصم صاحب کی ہم نوائی کی ہے کہ انسانی تہذیب کے جمال‘ فروغ اور ارتقا کے لیے مجسمہ سازی‘ موسیقی‘ فلم سازی اور تمام فنونِ لطیفہ اتنے ہی اہم ہیں جتنے طبیعیاتی اور سماجی علوم۔ مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی۔ واقعہ یہ ہے کہ علم و فن کے یہ سب مظاہر مل کر تہذیب کو توانا اور سماج کو انسانوں کے لیے رہنے کے قابل بناتے ہیں۔ ہر پڑھے لکھے بالخصوص مذہبی ذہن رکھنے والے کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے۔ان کتابوں کی صحبت نے عید کے تاثر میں اضافہ کیا جو خوشی سے عبارت ہے۔ تین روز عزیز و اقارب سے ملے۔ دن کو اُن کی محبتیں سمیٹیں اور راتوں کو کتابوں سے ہم آغوش ہوئے۔ اعزّا کے ساتھ طویل محفلیں ہوئیں۔ دن کے اجالے میں شروع ہونے والی یہ مجالس کبھی رات گئے تمام ہوئیں۔ رشتے اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت ہیں اگر ہم اس کا ادراک کر سکیں۔ یہی سبب ہے کہ ہمارے دین میں صلہ رحمی اور خاندان سے تعلق کو بہت اہمیت دی گئی ہے۔ رشتہ داروں کے ساتھ اگر کتابیں بھی خاندان میں شامل کر لی جائیں تو زندگی کے ہر دن کو یومِ عید بنایا جا سکتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>دو فون نمبر اور اداروں کی ذمہ داری(خالد مسعود خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-05-30/52027/42667221</link><pubDate>Sat, 30 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-05-30/52027/42667221</guid><description>میں نے یہ قصہ یا واقعہ چند سال قبل کہیں پڑا تھا۔ یہ واقعہ کس ملک سے متعلق تھا اب مجھے پوری صحت کے ساتھ یاد نہیں تاہم واقعہ بیان کرنے اور کرنسی کا ذکر کرنے کی غرض سے ہم فرض کر لیتے ہیں کہ یہ واقعہ برطانیہ کا ہے۔ وہاں کسی بینک کے ہیڈ آفس میں ڈیجیٹل بینکنگ کے شعبہ میں متعین دو تین سسٹم ماہرین نے بینک کے اکاؤنٹنگ سسٹم میں اپنی تکنیکی مہارت بروئے کار لاتے ہوئے اس طرح تبدیلی کی کہ اس بینک کے اکاؤنٹ ہولڈرز کی جمع شدہ رقم سے ہر ماہ دو چار پنس اپنے جعلی قائم کردہ اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کرنے شروع کر دیے۔ (یہاں پنس سے مراد کرنسی کی سب سے چھوٹی اکائی ہے۔ جیسے ہمارے پاکستان میں پیسہ‘ امریکی ڈالر اور یورپی یورو میں یہ بنیادی اکائی سینٹ ہے) خیر اب ہوا یوں کہ اس بینک کے لاکھوں اکاؤنٹ ہولڈرز کے اکاؤنٹس میں سے ہر ماہ دو چار پنس نکل کر اس فراڈیے گروپ کے اکاؤنٹ میں چلے جاتے تھے۔ ان فراڈ کرنے والوں نے بطور اختیاط اپنے سسٹم میں ایسا کیا کہ ایسے کسی اکاؤنٹ سے یہ دو چار پنس ہرگز منہا نہ ہوں جس میں سے دو چار پنس نکلنے سے رقم کا بنیادی ہندسہ تبدیل ہو جائے۔ مثال کے طور پر اگر اس اکاؤنٹ میں 2410پاؤنڈ اور ایک پنس ہے تو اس اکاؤنٹ سے دو چار پنس ان کے قائم کردہ اکاؤنٹ میں ٹرانسفر نہیں ہوں گے۔ اس احتیاط کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ رقم کا آخری ہندسہ تبدیل نہ ہو اور وہ بہرحال 2410پاؤنڈ ہی رہے۔ محض دو تین پنس نکلنے کی وجہ سے وہ 2409پاؤنڈ نہ ہو جائے۔ ان جعلسازوں کا خیال تھا کہ لوگ اپنے اکاؤنٹس میں جمع شدہ رقم کا حساب اگر بہت زیادہ احتیاط سے بھی رکھیں تو وہ آخری پاؤنڈ کا حساب رکھتے ہیں۔ کوئی شخص بھی اپنے اکاؤنٹ میں جمع شدہ رقم میں پنس وغیرہ کبھی یاد نہیں رکھتا۔ ان کی یہ سوچ عملی اور منطقی طور پر بالکل درست تھی۔ان فراڈیوں کا کام سال ہا سال تک نہایت آرام اور سکون سے چلتا رہا تاوقتیکہ ایک دن ان کی پلاننگ اور توقع کے برعکس ایک یہودی پنشنر نے بینک میں شکایت کی کہ اس کے اکاؤنٹ سے ہر ماہ دو تین پنس غائب ہو جاتے ہیں۔ بینک کیلئے یہ ایک غیرمعمولی واقعہ تھا۔ اس یہودی نے پچھلے ایک سال کے اکاؤنٹ کی تفصیل بینک والوں کو فراہم کی جس میں ہر ماہ اس کے اکاؤنٹ سے دو تین پنس نکل کر کسی نامعلوم اکاؤنٹ میں ٹرانسفر ہو جاتے تھے۔ دو چار پنس کی ماہانہ ٹرانسفر میں یہ احتیاط ملحوظ خاطر رکھی گئی تھی کہ اس کے اکاؤنٹ میں جمع شدہ رقم کا پاؤنڈوں والا آخری عدد تبدیل نہ ہو لیکن اس کے باوجود ہر ماہ دو تین پنس کا اکاؤنٹ سے نکلنا اس یہودی کی آنکھ سے نہ بچ سکا۔ جب اس نے اپنے اکاؤنٹ کا پچھلے ایک سال کا جائزہ لیا تو اس پر انکشاف ہوا کہ یہ صرف اس ماہ کا واقعہ نہیں بلکہ اس کے اکاؤنٹ سے تو ہر ماہ دو تین پنس غائب ہو رہے ہیں۔ اس اکاؤنٹ ہولڈر کی شکایت پر بینک والوں نے تحقیق شروع کی تو ایک نہایت ہوشربا صورتحال سامنے آئی۔ ہزاروں بلکہ لاکھوں اکاؤنٹ ہولڈرز کے اکاؤنٹس میں سے ہر ماہ تین چار پنس اس مقصد کیلئے بنائے گئے جعلی اکاؤنٹ میں ٹرانسفر ہو رہے تھے۔ بظاہر تین چار پنس کے معمولی غتربود سے شروع ہونے والے فراڈ کی ماہانہ مجموعی رقم کئی ہزار پاؤنڈ تک جا پہنچتی تھی۔ بینک کے ہیڈ آفس میں بیٹھے ہوئے ڈیجیٹل سسٹم کو چلانے پر مامور یہ دو تین لوگ اب تک لاکھوں پاؤنڈ کا ایسا غیرمحسوس فراڈ کر چکے تھے جس پر کسی کی نظر پڑنا محال تھا۔ بھلا تین چار پنس کے اکاؤنٹ سے نکل جانے پر جبکہ آپ کی رقم کا آخری ہندسہ بھی تبدیل نہ ہوا ہو‘ کیسے پکڑا جا سکتا تھا؟ لیکن یہ سب کچھ پکڑا گیا اور بینک نے اس کے بعد ایسی احتیاطی تدابیر کیں جن میں ایک پنس تک کو سسٹم میں ہیر پھیر کے ذریعے نکالنا ناممکن بنا دیا گیا۔ میں نے جو یہ واقعہ پڑھا تھا بعد میں مَیں نے حسبِ عادت اس کی تصدیق کرنے کی کوشش کی تو کسی مستند حوالے سے یہ واقعہ کہیں درج دکھائی نہیں دیا۔ دوسرے لفظوں میں یہ واقعہ محض فکشن تھا لیکن یہ دل کو لگنے والی ایک ممکنہ فراڈ کی ایسی کہانی ضرور تھی جسے بینک کے ڈیجیٹل سسٹم میں ہیر پھیر کے ذریعے عملی طور پر دہرایا جانا ممکن تھا۔ مجھے برسوں قبل پڑھا ہوا یہ واقعہ اس لیے یاد آیا کہ آج کل مملکتِ خداداد پاکستان میں بینک فراڈ بڑے دھڑلے سے کیے جا رہے ہیں۔ آپ کو فون آتا ہے اور اٹھانے پر دوسری طرف سے مخاطب شخص اپنے آپ کو بینک کا نمائندہ قرار دیتے ہوئے آپ کی بائیو میٹرک کی تجدید نہ ہونے کے باعث اکاؤنٹ بلاک ہو جانے کی اطلاع دیتا ہے۔ پھر اس بہانے وہ آپ کی بینک معلومات تک رسائی حاصل کر لیتا ہے۔ مورخہ28اپریل کو مجھے فون نمبر 03246479750 سے واٹس ایپ کال آئی۔ کالر آئی ڈی کے طور پر اس کال میں عمر رضا کا نام آ رہا تھا اور ساتھ بینک کا لوگو بھی لگا ہوا تھا۔ پہلے تو اس نے میرا نام لے کر میرے نام کی تصدیق کی کہ آپ فلاں صاحب ہیں؟ میں نے اپنے نام کی تصدیق کی۔ پھر وہ کہنے لگا کہ آپ کا فلاں برانچ میں اکاؤنٹ ہے اور میں آپ کے بینک کی برانچ سے عمر رضا بات کر رہا ہوں۔ آپ آج کسی وقت بینک میں آ کر اپنی بائیو میٹرک کروا لیں بصورت دیگر آپ کا اکاؤنٹ بلاک ہو جائے گا۔ ایمانداری کی بات ہے میں نے فوری طور پر کوئی غیرمعمولی بات محسوس نہ کی اور کال کرنے والے کو کہا کہ ٹھیک ہے میں واپسی پر اپنے بینک کی برانچ سے ہوتا جاؤں گا۔ بات یہاں تک رہتی تو ٹھیک تھا‘ اب اس نے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے مجھے کہا کہ اگر آپ چاہیں تو اپنی بائیو میٹرک برانچ میں آئے بغیر اپنے فون کے ذریعے سٹیٹ بینک کی ویب سائٹ پر بھی کر سکتے ہیں۔ میں نے اسے کہا کہ میں اس جھنجٹ میں پڑنے کے بجائے اپنے بینک کی برانچ میں جانا پسند کروں گا۔ آپ کا اطلاع کرنے کا بہت بہت شکریہ!اب وہ تھوڑا گھبرا سا گیا۔ کہنے لگا: میں نے آپ کو ایک لنک وٹس ایپ کیا ہے اس پر کلک کریں اور سٹیٹ بینک کی ویب سائٹ پر اپنی بائیو میٹرک کروا لیں۔ میں نے اپنا وٹس ایپ کھولا تو اس پر ایک لنک تھا۔ میں نے اسے کہا کہ نہ میں کسی لنک پر کلک کروں گا اور نہ ہی وٹس ایپ پر کوئی ایپ کھولوں گا‘ آپ یوں کریں میرا اکاؤنٹ بلاک کر دیں۔ اب تو وہ باقاعدہ برافروختہ ہو گیا۔ مجھے سنانے کیلئے کسی کو بآواز بلند کہنے لگا کہ اس کے سارے اکاؤنٹ بلاک کر دو۔ اللہ مجھے معاف کرے۔ میں نے اسے جلدی سے دو گالیاں دیں اور فون فوراً بند کر دیا۔ مجھے دو دن پہلے ہی کامران نے بتایا تھا کہ اب یہ فراڈیے ناکامی پر گالیاں کھا کر گھبرا کر فون بند کرنے کے بجائے جوابی گالیاں نکالنے پر آگئے ہیں۔ میں نے اس کے جوابی وار کرنے سے پہلے ہی فون بند کر دیا۔ وٹس ایپ دوبارہ چیک کیا تو اس نے تب تک وہ لنک ڈیلیٹ کر دیا تھا۔ چار دن قبل فون نمبر 03237447291 سے اسی قسم کی کال آئی۔ وہی کہانی کہ اگر آپ نے آج ہی بائیومیٹرک نہ کروائی تو آپ کا اکاؤنٹ بند ہو جائے گا۔ وہ ابھی مزید کچھ کہنا چاہتا تھا مگر میں نے اس کی بات کاٹ کر کہا کہ اگر آپ میرا اکاؤنٹ فوراً سے بیشتر بلاک کر دیں تو آپ کی بہت مہربانی ہو گی اس طرح مجھے آپ جیسے فراڈیوں کی کالز سے نجات مل جائے گی۔ یہ کہہ کر میں نے فون بند کر دیا۔ اس کالم میں ان دو نمبروں کی نشاندہی کے بعد اب یہ NCCIA اور ایف آئی اے وغیرہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان موبائل نمبروں کے حامل افراد کے خلاف کارروائی کریں۔ یہ ادارے صرف یوٹیوبروں اور سرکار کے خلاف ٹویٹ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے کیلئے نہیں بنائے گئے بلکہ عوام الناس کی عزت‘ جان اور مال کی حفاظت کرنا بھی ان کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90500073.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کتب خانوں سے لے کر سکرینوں تک(ڈاکٹر حسین احمد پراچہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-05-30/52028/56194698</link><pubDate>Sat, 30 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-05-30/52028/56194698</guid><description>زمانوں سے اہلِ مشرق نے کتاب کے مطالعے کے ساتھ طرح طرح کے حسین و جمیل تصورات وابستہ کر رکھے ہیں۔ اہلِ فارس بھی کتاب کے بڑے دلدادہ ہیں مگر انہوں نے محو اور مگن ہو کر کتاب سے لطف اٹھانے کیلئے تین شرائط کی یکجائی کو ضروری گردانا ہے۔ فراغتی و کتابی و گوشۂ چمنی۔ یعنی فرصت کے لمحات میسر ہوں‘ کتاب کا ساتھ ہو اور کنج چمن ہو۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے ایک عرب صاحبِ ذوق نے ان تین چیزوں کے ساتھ آبِ رواں کی اضافی شرط بھی عائد کی تھی۔ البتہ مطالعۂ کتب کے حوالے سے مشرق ہی میں بعض ایسے &#39;&#39;بلانوش‘‘ بھی ہوتے ہیں کہ جنہیں جب اور جہاں کتاب میسر ہو وہیں مطالعے میں مگن ہو جاتے ہیں۔ گویا جس جگہ بیٹھ کے پی لیں وہی مے خانہ بنے۔مغرب میں چھوٹے بڑے ہزاروں کتب خانوں کی موجودگی کے باوجود کتابیں پڑھنے والوں نے کتاب بینی کیلئے کوئی روحانی و زمانی شرط اپنے اوپر عائد نہیں کر رکھی۔ چار پانچ دہائیاں پہلے تک مغرب میں کتاب بینی کا زبردست رواج تھا۔ آپ کسی ایئر پورٹ پر ہوں‘ کسی ریلوے سٹیشن یا بس سٹینڈ پر ہوں یا جہاز اور گاڑی کے اندر‘ آپ کو تقریباً ہر مسافر کے ہاتھ میں کتاب یا کوئی میگزین نظر آتا تھا۔ جاپان کا سفر کرنے یا وہاں مقیم رہنے والے لوگوں نے بتایا کہ ٹرین یا ٹرام میں سفر کرتے ہوئے مسافر جاپان کے پلیٹ فارموں پر بنے ریڈنگ پوائنٹس پر جاتے اور وہاں رکھی ہوئی کتابوں یا رسالوں میں سے کوئی اٹھا لیتے تھے۔ بعض اوقات رش کے دوران گاڑی میں کھڑے جھولتے ہوئے مسافر بھی کتاب پڑھنے میں مگن رہتے تھے اور جس سٹاپ پر وہ اترتے وہاں کی مطالعہ گاہ میں وہ کتابیں واپس رکھ دیتے۔ یوں کتابوں کی آمد و رفت جاری رہتی۔1990ء کی دہائی میں انٹرنیٹ کے رواج پا جانے کے بعد اب آپ کو یورپ و امریکہ اور جاپان وغیرہ میں دورانِ سفر کتاب نہیں سمارٹ فون یا لیپ ٹاپ ہر ہاتھ میں نظر آتا ہے۔ آن لائن ٹرانسفر آف نالج کے رواج پانے کے بعد بڑی بڑی لائبریریاں ہتھیلی میں پکڑے ہوئے سمارٹ فون میں سما جاتی ہیں۔ گویا علوم و فنون آپ کی مٹھی میں موجود ہیں۔ جب بھی کسی کتاب کو طلب کریں گے وہ ہاتھ باندھے آپ کی خدمت میں فوراً حاضر ہو جاتی ہے۔ بہرحال کتابوں کی آن لائن منتقلی کے باوجود &#39;&#39;بادہ ظرف قدح خوار‘‘ دیکھ کر پیش کیا جاتا ہے۔ ہر سیل فون میں اتنی گنجائش نہیں ہوتی کہ اس جامِ جم میں جہاں بھر کے ہر شعبے کا احوال پیش کیا جا سکے۔ تاہم لائبریریوں میں اب ای بک سیکشن بنائے جا رہے ہیں تاکہ جو قاری اوراق والی مطلوبہ کتاب کتب خانے میں نہ پائے تو پھر وہ ڈیجیٹل سیکشن میں نیٹ پر کتاب تلاش کرے جو اسے بالعموم مل جائے گی۔ کیونکہ ای لائبریری میں ہزاروں نہیں لاکھوں کتابیں قاری کی راہ تک ہوتی ہیں۔ زمانے کی رفتار کا ساتھ نہ دینے والوں کو اب یہ خدشہ لاحق ہے کہ آن لائن کتابوں کا کلچر جس تیزی سے رواج پا رہا ہے اس سے یہ لگتا ہے کہ اب کاغذی کتابوں کا دور ختم ہونے والا ہے۔ تبھی تو جناب سعود عثمانی نے کہا ہے:کاغذ کی یہ مہک یہ نشہ روٹھنے کو ہےیہ آخری صدی ہے کتابوں سے عشق کیعثمانی صاحب نے کاغذی کتابوں سے جدائی کے لمحات و خدشات کو جذب و سوز سے بیان مگر میں شاعرِ محترم کو یقین دلاتا ہوں کہ کتابوں سے عشق کم نہیں ہو گا بلکہ بہت بڑھے گا۔ ہماری خوش قسمتی تھی کہ دورِ طالب علمی میں گورنمنٹ کالج سرگودھا میں پروفیسر غلام جیلانی اصغر‘ ڈاکٹر خورشید رضوی‘ ملک افضل اور پروفیسر عزت علی جیسے کتابوںکے شائقین اساتذہ اور دوستوں میں حافظ محمد سعید اور سیّد فاروق گیلانی جیسے کتاب بینی کا ذوق رکھنے والوں کا ساتھ میسر تھا۔ یہ وسیع و عریض کالج کی خوش قسمتی تھی کہ اسے مختلف ادوار میں پروفیسر سراج الدین آذر‘ پروفسر یو کرامت اور پروفیسر احمد عابد علی جیسے کتاب دوست پرنسپل ملے۔ ان شخصیات نے کالج لائبریری کو مختلف علوم کے کتابی خزانوں سے بھر دیا۔مجھے آج تک یاد ہے کہ ہمارے کالج کے ایک نائب لائبریرین شاہ صاحب تھے۔ چابیوں کا ایک بڑا گچھا ہر وقت ان کی کمر کے گرد بندھا رہتا۔ شاہ صاحب کیٹیلاگ دیکھے بغیر کتابوں کے سمندر سے گوہرِ مطلوب نکال لاتے مگر کسی کتاب کی جدائی شاہ صاحب پر یوں گراں گزرتی جیسے باپ پر بیٹے کی جدائی۔ کتاب دوست زمانے کے بعد کئی دہائیوں تک سرکاری کالجوں اور پبلک لائبریریوں کا دورِ زوال تھا۔ اس پس منظر میں جب میری ملاقات پنجاب میں پبلک لائبریریوں کے سربراہ سے ہوئی تو مجھے دلی مسرت ہوئی۔ وہ یقینا کوئی شُبھ گھڑی ہو گی جب ان جیسی کتاب دوست شخصیت کا کتابوں کے کلچر کو فروغ دینے کیلئے انتخاب ہوا۔ وہ پنجاب کی پبلک لائبریریوں میں تقریباً تین دہائیوں کے بعد وسیع تر اور گراں قدر اضافے کر چکے ہیں۔ ان کا کتابوں سے عشق گورنمنٹ کالج سرگودھا کی لائبریری کے شاہ صاحب کی کتابوں سے گہری وابستگی سے بالکل مختلف ہے۔ شاہ صاحب کتابوں سے جدائی گوارا نہ تھی جبکہ یہ صاحب چاہتے ہیں کہ خوشبو کی طرح روایتی کاغذی کتابیں سرکاری لائبریریوں اور ڈیجیٹل لائبریری کے ذریعے گھر گھر پہنچیں۔ موصوف پنجاب پبلک لائبریری اور قائد اعظم لائبریری لاہور سے سینٹرل لائبریری بہاولپور اور پبلک لائبریری حضرو اٹک تک کی سولہ لائبریریوں کو وسعت دے رہے ہیں۔ قائداعظم لائبریری لاہور نہ صرف قارئین کے ذوقِ مطالعہ کیلئے زیادہ سہولتیں فراہم کرتی ہے بلکہ سنجیدہ نوعیت کے تخلیقی و تحقیقی کام کرنے والی تنظیموں کو علمی و ادبی نوعیت کے سیمینار منعقد کرنے کیلئے ہال کے علاوہ دیگر مدد بھی فراہم کرتی ہے۔ قائداعظم لائبریری علم‘ تحقیق اور مطالعے کے فروغ میں ایک ممتاز ادارے کی حیثیت رکھتی ہے۔ گزشتہ چار پانچ برس سے لائبریری انتظامیہ نے بھی ادارے کی بہتری‘ جدید سہولیات کی فراہمی اور قارئین کو زیادہ سے زیادہ آرام دہ ماحول مہیا کرنے میں بعض اہم اقدامات کیے ہیں۔ لائبریری کے ذخیرہ کتب میں بہت بڑا اضافہ ہوا ہے۔ شاید کم لوگوں کو معلوم ہو گا کہ باغ جناح لاہور میں جس عمارت میں آج قائداعظم لائبریری قائم ہے‘ 1866ء میں یہی عمارت لاہور جمخانہ کے طور پر تعمیر کی گئی تھی۔ یہ عمارت اس دور کے برطانوی افسران کیلئے ایک سماجی و تفریحی مرکز تھا۔ کئی دہائیوں کے بعد 1981 میں صدر ضیا الحق نے اس جگہ لائبریری قائم کرنے کی منظوری دی اور بعد ازاں 1984ء میں لائبریری کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ اس حوالے سے ہم نے پنجاب میں پبلک لائبریریوں کے سربراہ سے پوچھا کہ اب ساری دنیا میں روایتی کاغذی کتابیں لائبریریوں کی شیلفوں سے آن لائن سکرینوں پر منتقل ہو رہی ہیں تو کیا آپ &#39;آئینِ نو‘ سے ڈر رہے ہیں اور طرزِ کہن پر اڑ رہے ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ ایسا ہرگز نہیں‘ حکومت تیزی سے سارے پنجاب کی کاغذی کتابوں کو ڈیجیٹلائز کر رہی ہے۔ اس طرح پنجاب بھر کی لاکھوں نادر کتابیں لیپ ٹاپ اور سیل فونوں کی سکرینوں پر منتقل ہو جائیں گی۔ پھر اس آن لائن سسٹم کو دنیا بھر کے عالمی آن لائن علمی خزانوں سے منسلک کر دیا جائے گا۔ یوں پنجاب کے کسی گاؤں میں بیٹھا ہوا طالب علم‘ آکسفورڈ‘ کیمبرج‘ ہارورڈ‘ برکلے اور سٹینفورڈ کے علمی و تحقیقی خزانوں سے استفادہ کر سکے گا۔ گویا اب علم کے متلاشیوں کے پاس علم کا بحرِ بیکراں خود چل کر آئے گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_70033906.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>عوامی بے حسی(افتخار احمد سندھو)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/iktakhar-ahmed-sandhu/2026-05-30/52029/81139224</link><pubDate>Sat, 30 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/iktakhar-ahmed-sandhu/2026-05-30/52029/81139224</guid><description>دوسری جنگِ عظیم کے دوران امریکی صدر فرینکلن ڈیلانو روز ویلٹ نے کہا تھا کہ کوئی اُس وقت تک آپ کے حقوق کو سلب نہیں کر سکتا جب تک کہ آپ خود اپنے حقوق سرنڈر نہیں کر دیتے‘ اور کوئی آپ کو آپ کے حقوق پلیٹ میں رکھ کر نہیں دیتا‘ اس کے لیے جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔ بلاشبہ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ اس ملک کے عوام کبھی اپنے حقوق کے لیے نہیں نکلے۔ یہ جب بھی سڑکوں پر نکلے کسی اور کے لیے نکلے‘ اور زیادہ تر پاکستان کے مقتدر طبقوں کے ہاتھوں سیاست اور مذہب کے لیے استعمال ہوئے۔ انہیں صرف ٹشو پیپر کی حیثیت حاصل ہوئی۔ پاکستان کے عوام کو اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے جو کہ وہ کر نہیں رہے بلکہ ان پر بے حسی طاری ہے اور اسی وجہ سے ان پر مسلسل ظلم جاری ہے۔ بقول شخصے:سنا ہے ڈوب گئی بے حسی کے دریا میںوہ قوم جس کو جہاں کا امیر ہونا تھاپاکستان کے مقتدر طبقوں نے انہیں کٹھ پتلی بنا کر دو وقت کی روٹی کے حصول میں الجھائے رکھا اور اپنی عیاشیوں کا سامان ان کی خون پسینے کی کمائی سے کیا۔ یہ سلسلہ جاری و ساری ہے۔ کسی دانشور نے ٹھیک کہا تھا کہ عوام کو دو وقت کی روٹی میں الجھا دو وہ کبھی بھی تمہاری طاقت‘ چوری یا سازش پر سوال نہیں کریں گے۔ یہ جملہ محض ایک سیاسی طنز نہیں بلکہ ایک گہری سچائی ہے جو پاکستان میںمسلسل دہرائی جا رہی ہے۔ عوام کی اسی بے حسی کے باعث ان کے ساتھ بھیڑ بکریوں جیسا سلوک ہوتا ہے۔ ہر طرح کا ٹیکس دینے کے باوجود عوام بنیادی انسانی حقوق سے محروم رہتے ہیں‘ انہیں پینے کا صاف پانی میسر نہیں ہوتا‘ بیمار ہو جائیں تو دوا نہیں ملتی‘ ان کے بچے تعلیم کی نعمت سے محروم ہیں۔ ان تمام محرومیوں کے باوجود عوام اپنے بنیادی انسانی حقوق کے حصول کے لیے کبھی بھی سوال نہیں کرتے۔اس امر میں کوئی شک نہیں کہ خدا نے انسان کو سوچنے‘ سمجھنے‘ پرکھنے‘ اختیار کرنے اور ترک کرنے جیسی منفرد صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ خدا انسان کو کٹھ پتلی نہیں بنانا چاہتا‘ اس نے انسان کو اپنی اطاعت کی دعوت بھی تعقل‘ تفکر‘ تدبر اور اختیار کے ساتھ دی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جتنے بھی مصلح آئے انہوں نے انسانوں کو مطلق العنان حکمرانوں کے سامنے کٹھ پتلی بننے سے روکا کیونکہ جب آدمی انسانیت کی سطح سے گر کر کٹھ پتلی بن جاتا ہے تو وہ عقل‘ فہم اور شعور کے ہوتے ہوئے بھی بے جان مجسموں کی طرح زندگی گزارتا ہے اور صرف بے جان مجسموں کی طرح زندگی نہیں گزارتا بلکہ اس سے بھی بدتر حال میں گر جاتا ہے اور بغیر سوچے سمجھے مذہبی اور سیاسی آمروں کے اشاروں پر چلنے لگتا ہے اور جب آمروں کے اشاروں پر حرکت کرنے لگتا ہے تو اس کی اپنی سوچ‘ فکر‘ شعور‘ دانائی اور حتیٰ کہ حرکت تک گویا سلب ہو جاتی ہے۔امریکی صدر روز ویلٹ کی اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کی کہانی بڑی دلچسپ ہے۔ روز ویلٹ دونوں ٹانگوں سے معذور تھا۔ 39برس کی عمر میں اسے پولیو ہوا جس کی وجہ سے اس کا نچلا دھڑ مفلوج ہو گیا۔ اس نے وہیل چیئر کا سہارا لے کر اپنا سیاسی کیریئر جاری رکھا۔ وہ امریکہ کا بتیسواں صدر بنا اور وہ واحد امریکی صدر تھا جو چار بار الیکشن جیت کر برسراقتدار آیا۔ وہ 1933ء سے 1945ء یعنی اپنی موت تک صدارت کے فرائض ادا کرتا رہا۔ اس کے دور میں امریکہ کو دو بڑے بحرانوں‘ کساد بازاری اور جنگ عظیم دوم کا سامنا کرنا پڑا۔ فرینکلن روز ویلٹ نیویارک کے ایک امیر گھرانے میں 30جنوری 1882ء کو پیدا ہوا۔ اس کے والد جیمز روز ویلٹ بزنس مین تھے۔ فرینکلن جیمز کی دوسری بیوی سارہ ڈیلانو کا اکلوتا بیٹا تھا۔ فرینکلن روز ویلٹ ابھی نوجوان تھا کہ باپ کا انتقال ہو گیا۔ روزویلٹ کی زندگی میں اس کی ماں سارہ ڈیلانو کا کردار بہت نمایاں ہے۔ اکلوتا بیٹا ہونے کی و جہ سے وہ ماں کی آنکھوں کا تارہ بن گیا۔ سارہ جنون کی حد تک بیٹے کی حفاظت کرتی تھی۔ فرینکلن ہارورڈ گیا تو سارہ نے ہارورڈ کے نزدیک ٹاؤن ہاؤس خرید لیا تاکہ بیٹے کے قریب رہے۔ فرینکلن نے سیاست میں آنے سے پہلے ہارورڈ یونیورسٹی اور کولمبیا لاء سکول میں تعلیم حاصل کی۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے صدر ووڈرو ولسن کے ماتحت بحریہ کے اسسٹنٹ سیکرٹری کے طور پر خدمات انجام دیں۔ پھر وہ نیویارک کے گورنر اور بعد میں صدر بن گئے۔ روز ویلٹ نے امریکی تاریخ کی بدترین کساد بازاری سے نمٹنے کے لیے بہت سے معاشی اور سماجی پروگرام متعارف کرائے‘ ان میں سویلین کنزرویشن کور‘ پبلک ورکس ایڈمنسٹریشن‘ اور سوشل سکیورٹی ایکٹ شامل تھے۔ ان پروگراموں کی بدولت وفاق کے ڈھانچے میں بہتری آئی‘ امریکیوں کے لیے ملازمتوں کے دروازے کھلے اور انہیں معاشی تحفظ میسر آیا۔ روز ویلٹ نے معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے ایمرجنسی بینکنگ ایکٹ نافذ کیا۔ بینکوں میں جمع شدہ رقوم کی حفاظت کے لیے فیڈرل ڈپازٹ انشورنس کارپوریشن بنایا۔ سٹاک مارکیٹ کو ریگولیٹ کرنے کے لیے سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن قائم کیا۔ روز ویلٹ نے 1935ء میں سوشل سکیورٹی کا نظام متعارف کرایا۔ اس نظام کے تحت بزرگوں‘ بے روزگاروں اور معذوروں کو مالی امداد فراہم کرنے کا انتظام کیا۔ سوشل سکیورٹی کو امریکہ کے سوشل ویلفیئر سسٹم میں سنگِ بنیاد کی حیثیت حاصل ہے۔ روز ویلٹ نے وفاق کی تعمیر و ترقی کے لیے جو پروگرام شروع کیے ان کے تحت ہزاروں سڑکیں‘ پل‘ سکول اور عوامی عمارتیں تعمیر کی گئیں نیز وفاق کے بنیادی ڈھانچے کو جدید بنایا اور لاکھوں شہریوں کے لیے روزگار کا انتظام کیا۔دوسری جنگ عظیم میں روز ویلٹ نے برطانیہ اور سوویت یونین کے ساتھ مضبوط اتحاد قائم کیا۔ اتحادیوں کو جنگی ساز و سامان کی فراہمی کے لیے امریکہ کے کارخانوں میں پیداور بڑھائی گئی۔ امریکہ کی فوجی امداد اور قیادت کے بل بوتے پر یورپ کے ممالک محوری طاقتوں کو شکست دینے میں کامیاب ہوئے۔ روز ویلٹ کی قیادت میں یالٹا کانفرنس نے جنگ کے بعد کے ورلڈ آرڈر یا عالمی نظام کو تشکیل دینے اور اقوام متحدہ کی بنیاد رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ روز ویلٹ کا انتقال اپریل 1945ء میں دوسری جنگ عظیم کے خاتمے سے چند ماہ قبل ہوا۔اس کالم کے آغاز میں درج کیے گئے روز ویلٹ کے قول کی روشنی میں پاکستان کے عوام کے طرزِ عمل کا جائزہ لیا جائے تو عجیب حیرت سے واسطہ پڑتا ہے۔ ہمارے لوگ ظلم پر ظلم برداشت کرتے ہیں لیکن اپنی حقوق کے لیے تگ و دو نہیں کرتے۔ حالیہ برسوں میں عوام دوست حکومت نے پٹرولیم لیوی کی مد میں آئی ایم ایف کے دو قرض پروگراموں سے بھی زیادہ رقم عوام سے وصول کر لی لیکن یہ عوام بولے تک نہیں۔ وفاقی حکومت نے صرف دو سال میں شہریوں سے پٹرولیم لیوی کی مد میں دو ہزار 700ارب روپے سے زائد کی ریکارڈ وصولی کی۔ سر کاری دستاویزات کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ ‘جولائی 2025ء سے مارچ 2026ء کے دوران ایک ہزار 205ارب روپے سے زائد کی لیوی وصول کی گئی جبکہ گزشتہ مالی سال میں وفاقی حکومت نے 1220ارب 21کروڑ روپے لیوی وصول کی تھی۔ وفاقی حکومت نے اپریل 2024ء سے لے کر مارچ 2026ء کے دو سال کے دوران پٹرولیم لیوی کی مد میں 2725ارب وصول کیے جو کہ جو کہ آئی ایم ایف کے دونوں قرض پروگراموں کی مجموعی رقم سے بھی زیادہ ہے۔ آئی ایم ایف کے جاری دونوں قرض پروگراموں کی مجموعی رقم موجودہ ایکسچینج ریٹ کے حساب سے پاکستانی کرنسی میں تقریبا 2340 ارب روپے بنتی ہے۔ اس کے علاوہ اپریل سے جون 2024 ء کی سہ ماہی میں لیوی کی وصولی 299ارب 63کروڑ روپے تھی۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/228_40817243.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>عالمی طاقتوں کی نئی حکمت عملی(جویریہ صدیق )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/javeria-siddique/2026-05-30/52030/17076091</link><pubDate>Sat, 30 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/javeria-siddique/2026-05-30/52030/17076091</guid><description>ایران امریکہ اور اسرائیل کی جنگ سے پہلے دنیا کا منظر نامہ کچھ اور تھا اور اب حالات کچھ اور ہیں۔ کچھ دوست دوست نہ رہے تو کچھ نئے دوست اور اتحاد سامنے آئے۔ سفارتکاری جلد رنگ بدل لیتی ہے۔ کبھی برسوں کی محنت ضائع چلی جاتی ہے تو کبھی کچھ دنوں کی محنت برسوں کا کام کر جاتی ہے۔ ہندوستان ایک مدت سے پاکستان کے خلاف سفارتکاری کرتا رہا۔ اپنے مراسلوں‘ سفارتکاری‘ فلمز اور آرٹیکلز میں پاکستان کو دہشت گرد کہتا رہا جبکہ پاکستان تو خود دہشت گردی کا شکار تھا اور اس کے خلاف جنگ لڑ رہا تھا۔ بھارت نے پاکستان کے خلاف بھاری سرمایہ کاری کی لیکن پاکستان کو تنہا نہ کر سکا۔ حالیہ امریکہ ایران جنگ کے بعد پاکستان نے ذمہ داری کا ثبوت دیا۔ پاکستان کی امن کاوشوں کو دنیا بھر میں سراہا گیا۔ جب اس جنگ کا آغاز ہوا تو سب کو یہ لگ رہا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل کو دفاعی طور پر برتری حاصل ہے تو ایران بہت جلد پسپا ہو جائے گا‘ مگر ایسا نہیں ہوا۔ اپنی سپریم قیادت کھو دینے کے باوجود ایران نے مقابلہ جاری رکھا۔ وہاں کے عوام جرأت و بہادری کے ساتھ ڈٹ گئے۔ اسرائیل کا آئرن ڈوم ایرانی حملوں کے سامنے بے بس نظر آیا۔ اسرائیلی ملک چھوڑ کر بھاگنے لگے۔ خلیجی ممالک میں بھی خوف کا ماحول پیدا ہو گیا کیونکہ ایران نے خطے میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ خلیجی ممالک میں دنیا کے امیر ترین لوگوں کی سرمایہ کاری ہے اور یہ سیاحت اور فنونِ لطیفہ کے مراکز ہیں۔ وہ تو سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ ایسی پُر امن جگہوں پر بھی میزائل گریں گے۔ خلیجی ممالک اس صورتحال کے لیے تیار نہیں تھے کہ جنگ ان کی طرف بھی آجائے گی۔ اسی طرح ساری دنیا کو اس وقت شدید دھچکا لگا جب ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کردیا‘ جس سے دنیا بھر میں تیل کی ترسیل متاثر ہوئی۔ امریکہ کی کھلی دھمکیوں کے باوجود ایران نہیں جھکا‘ یہاں تک کہ امریکہ کو مذاکرات کیلئے پاکستان آنا پڑا۔ تاہم اس وقت تو بات نہیں بن سکی لیکن جنگ بندی کی وجہ سے لوگوں نے سکھ کا سانس لیا کہ وہ اب معمول کی سرگرمیاں کر سکیں گے اور سفر کر سکیں گے۔ اس سے پاکستان کے قومی وقار میں مزید اضافہ ہوا۔ تیل کی ترسیل میں بندش کی وجہ سے بہت سے ممالک متاثر ہوئے۔ پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے جہاں جنگ کے بعد مہنگائی میں بہت اضافہ ہوا‘ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ بھی اس میں شامل ہے۔ یہ اضافہ عام آدمی کی کمر توڑ رہا ہے۔ پاکستان کو سفارتی سطح پر تو کامیابیاں نصیب ہو رہی ہیں مگر معیشت پر سوالیہ نشان لگا ہوا ہے۔ مہنگائی‘ ٹریفک جام‘ وی آئی پی روٹس‘ انصاف کی عدم فراہمی‘ اشرافیہ کو اس طرف بھی دیکھنا ہو گا اور جو مسائل حل طلب ہیں ان کو حل کرنا ہو گا۔ جیسے امریکہ اپنے مفادکے لیے اپنی سفارتکاری کو بدل رہا ہے۔ پہلے اس کا جھکاؤ بھارت کی طرف تھا اب پاکستان کی طرف نظر آرہا ہے۔ وہ امریکہ جس نے اپنے زعم میں ساری دنیا پر ٹیرف لگا دیے تھے وہ اب انہی ممالک کے ساتھ مذاکرات کررہا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دورۂ چین بہت اہمیت کا حامل ہے۔ چین حالیہ حالات میں اہم طاقت کے طور پر ابھرا ہے اور تمام ممالک اس کے ساتھ اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں۔ امریکہ کی یہ خواہش ہے کہ چین ایران کو کسی قسم کی معاونت نہ فراہم کرے۔ امریکی صرف ایران کے معاملے میں نہیں یوکرین اور روس کے معاملے میں بھی چین کو اپنے ساتھ ملانا چاہتے ہیں۔ امریکہ کے صدر کا خود چین جانا عالمی معاملات میں تبدیلی اور طاقت کے کھیل کو واضح کرتا ہے۔ چین بطور قوم معاشی ترقی کی منازل طے کررہا ہے۔ وہ خود کو عالمی جنگوں اور تنازعات سے دور رکھتا ہے۔چین میں ایران کے وزیر خارجہ کی آمد بھی اہم ہے جو خطے میں چین کی طاقت اور اہمیت کا مظہر ہے۔ چین تین ماہ سے جاری جنگ کا خاتمہ چاہتا ہے۔ امریکہ نے چین کی کچھ توانائی کی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کی تھیںصدر ٹرمپ کے حالیہ دورے کے بعد وہ بھی نرم کردی جائیں گی۔ اس دورے میں اہم تجارتی معاہدے ہوئے‘ دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر ٹیرف بھی کم کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ صدر ٹرمپ اس دورے سے اپنے ملک میں مڈٹرم الیکشن میں کامیابی سمیٹنا چاہتے تھے مگر ان کو خاص کامیابی نہیں ملی۔ تاہم چین نے ان کا کا اچھا استقبال کیا اور دونوں ممالک کی اہم شخصیات ایک دوسرے سے ملیں۔ اس دورے میں امریکہ اپنی بڑی کاروباری شخصیات کو بھی لے کر آیا۔ چین اب عالمی نظام کا محور ہے۔ چین اس وقت ایران کی خاموش حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس وقت شاید ابھی چین امریکہ کے دوران بہت بڑا بریک تھرو نہیں ہوا لیکن دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری آئی ہے۔ امریکہ کے صدر کے بعد روس کے صدر ولادیمیر پوتن چین گئے۔ روس اب چین پر زیادہ انحصار کرتا ہے۔ دونوں کے درمیان اچھے سفارتی تعلقات ہیں۔اس دوران پاکستان کو بھی داد دینا ہو گی کہ اس نے اپنی خارجہ پالیسی میں ایران‘ سعودی عرب‘ امریکہ اور چین سب کو متوازن رکھا۔ یوکرین جنگ کے بعد روس کا انحصار چین پر مزید بڑھ گیا۔ صدر ٹرمپ کے دورۂ چین کے فوری بعد صدر پوتن کا دورہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بیجنگ اور واشنگٹن کے درمیان نئے تعلقات کا دور بھلے شروع ہورہا ہو لیکن ماسکو اور بیجنگ میں پہلے والی گرمجوشی قائم ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان چا ہزار کلو میٹر طویل سرحد ہے اس لیے مستحکم روس ہی چین کے حق میںہے۔ دونوں کے درمیان اہم تجارتی معاہدے ہیں۔ چین روسی قدرتی ایندھن کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ دونوں ممالک قدرتی گیس کی پائپ لائن کے منصوبے پر بھی کام کررہے ہیں۔ روس اور امریکہ کے علاوہ پاکستان‘ برطانیہ‘ سربیا اور تاجکستان کے رہنماؤں نے بھی چین کے دورے کیے۔ چین‘ پاکستان اور سعودی عرب موجودہ صورتحال میں خاموشی سے اثر انداز ہورہے ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ امن قائم ہو جائے۔ چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی حال ہی میں ایران کا دورہ کرکے آئے ہیں۔ پاکستان بڑے محتاط انداز میں امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کروا رہا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف گزشتہ دنوں چین کے دورے پر تھے جبکہ کچھ ہی دن پہلے صدر آصف علی زرداری بھی چین کا دورہ کرکے آئے ہیں۔ دوسری جانب صدر ٹرمپ کا بیان سامنے آیا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات آخری مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں جبکہ امریکی سیکرٹری خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایسا معاہدہ طے پا سکتا ہے جس سے مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کا خاتمہ ہو جائے۔ ممکنہ معاہدے کی شرائط اور نکات تو منظر عام پر نہیں آئے لیکن سفارتی مبصرین کے مطابق اگر مذاکرات کامیاب ہو گئے تو آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی‘ ایران کو تیل فروخت کرنے کی آزادی ہو گی اور لبنان میں جنگ کا خاتمہ ہو جائے گا۔ امریکہ اس بات کا خواہاں ہے کہ ایران اپنا جوہری پروگرام محدود کر دے لیکن ایران اس پر نہیں مانے گا۔ ایران نے جس طرح ایک سپر پاور کا مقابلہ کیا ہے وہ تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے۔ اس جنگ میں پاکستان کا سفارتی کردار بھی بہت اہمیت اختیار کرگیا ہے۔ اگرچہ پاکستان اس وقت بہت سے معاشی اور سیاسی مسائل کا شکار ہے لیکن سفارتی حکمت عملی نے اسے عالمی دنیا کی سفارتکاری میں صفِ اول میں لاکھڑا کیا ہے۔ یہ نیا منظر نامہ دنیا کے لیے نیک شگون ثابت ہو گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_38020467.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کون جیتا، کون ہارا!(مفتی منیب الرحمٰن )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-05-30/52031/81611611</link><pubDate>Sat, 30 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-05-30/52031/81611611</guid><description>ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں: &#39;&#39;موجودہ دور میںجنگ تباہی ہے‘ ہلاکت ہے‘ بربادی ہے‘ قومی‘ ملکی اور ملّی وسائل کا ضیاع ہے‘ جنگی قوانین صرف فائلوں کی زینت ہیں‘ برسرِ زمین وہ نافذ ہوتے ہوئے نظر نہیں آتے‘ غزہ کی حالیہ جنگ اور ایران پر امریکہ و اسرائیل کا حملہ اس کا بیّن ثبوت ہے۔ اسی لیے کہاجاتا ہے: محبت اور جنگ میں سب کچھ جائز ہے‘‘۔ ایران پر مسلّط کردہ امریکہ و اسرائیل کی جنگ میں کون جیتا اور کون ہارا‘ یہ تاحال ایک متنازع مسئلہ ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایران کی تباہی مثالی ہے مگر اس کے باوجود امریکہ و اسرائیل کیلئے فتح کا دعویٰ محلِّ نظر ہے کیونکہ اسرائیل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بچہ جمورا بناکر ایران پر حملے کیلئے آمادہ کیا کہ 48گھنٹے میں ایران گھٹنے ٹیک دے گا‘ حکومت زمیں بوس ہو جائے گی اور امریکہ واسرائیل فتح کے شادیانے بجاتے ہوئے ایران میں ایک کٹھ پتلی حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے‘ لیکن یہ خواب ہنوز شرمندۂ تعبیر ہے۔ جنگ موقوف کرکے مذاکرات شروع کیے اور پھر مذاکرات کا سلسلہ یکدم منقطع کرکے امریکہ واسرائیل دوبارہ حملہ آور ہو گئے‘ مگر پانچ ہفتے کی جنگ کے باوجود فیصلہ کن فتح حاصل نہ کر سکے۔ اسی لیے بعض تجزیہ کار جنگی مقاصد کے حصول میں ناکامی پر امریکہ کو شکست خوردہ قرار دے رہے ہیں۔ ایران نے جنگ کی بھاری قیمت ادا کی۔ را اور موساد کا نیٹ ورک ان کی بنیادوں میں جڑ پکڑ چکا تھا‘ اس لیے ان کی قیادت کی پہلی دو تین درجوں (Tiers) کو امریکہ و اسرائیل نے کامیابی سے نشانہ بنایا مگر حکومت بدلی نہ جا سکی۔ ایران کے ریاستی ادارے بے انتہا نقصان برداشت کرنے کے باوجود قائم رہے‘ انہوں نے بھاری قیمت ادا کرنے کے باوجود شکست قبول نہیں کی‘ اس لیے تجزیہ کار اس جہت سے ایران کو فاتح قرار دے رہے ہیں۔ اگرچہ اس کا ملکی وملّی وجود زخموں سے چور چور ہے۔ انہوں نے حالیہ انسانی تاریخ میں بے مثال مزاحمت کا ثبوت دیا ہے اور قربانیوں سے ان کے حوصلے پست نہیں ہوئے۔ مقامِ رہبری کا تسلسل بھی قائم رہا‘ ریاستی جمہوری ادارے بھی بدترین حالات کے باوجود نیست و نابود نہیں ہوئے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ کے پہلے مرحلے پر دعویٰ کیا کہ ہم نے ایران کے ایٹمی پروگرام اور انکی بحری اور فضائی افواج کو تباہ کر دیا ہے مگر اُنکی قوتِ مزاحمت کو مکمل طور پر پامال نہیں کر سکے۔ ایران نے جدید تاریخ میں پہلی بار اسرائیل وامریکہ اور انکے حلیفوں پر حملے کر کے یہ ثابت کیا کہ ایسا بھی نہیں ہے کہ کوئی انہیں چھو نہ سکے۔ ایران نے اپنی میزائل اور ڈرون صلاحیت کا کامیابی کیساتھ استعمال کیا اور امریکہ واسرائیل کے دفاعی حصار کو کسی حد تک توڑنے میں کامیاب رہے۔ ان دونوں ممالک کا دشمن کے فضائی حملوں کو فضا میں مداخلت کرکے تحلیل کرنے کا نظام یعنی آئرن ڈوم یا فضائی دفاعی نظام ناقابلِ شکست ثابت نہ ہو سکا اور امریکہ واسرائیل کو بھی اس جنگ کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑی۔ سرِدست جنگ میں غیر معیّنہ مدت کیلئے وقفہ ہے اور بظاہر پاکستان کی ثالثی کے ذریعے جنگ بندی کے معاہدے میں دوماہ کی توسیع ہوتی نظر آرہی ہے۔ دوماہ میں تفصیلی معاہدہ طے پانے کی نوید سنائی گئی ہے۔ اگرچہ ٹرمپ کے دھمکی آمیز بیانات کا سلسلہ بھی جاری ہے لیکن ایرانیوں کا عزم ابھی توڑا نہیں جا سکا‘ مستقبل کا حال اللہ کو معلوم ہے۔کہا جاتا ہے کہ امریکی صدر فیصلہ کن فتح نہ ملنے کے سبب مایوس ہیں۔ امریکہ نے اس جنگ کی قیمت تو بہت ادا کی ہے لیکن قوم کو کامیابی کی نوید سنانے کیلئے کچھ نہیں ہے۔ اسی طرح ٹرمپ کا چین کا دورہ اور چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات بھی نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئی اور اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ کوئی مشترکہ اعلامیہ جاری نہیں ہوا۔ صرف دو سو بوئنگ طیاروں اور سویا بین کی خریداری کی بات سننے میں آئی ہے لیکن کوئی ٹھوس معاہدہ سامنے نہیں آیا۔ چینی صدر نے امریکہ پر تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت روکنے کیلئے دباؤ ڈالا اور وہ کسی حد تک کارگر ثابت ہوا ہے۔ پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان کسی معاہدے تک پہنچنے کیلئے کافی محنت کی ہے اور سفارت کاری کی مہارت کا ثبوت دیا ہے اور ابتدائی طور پر کامیابی بھی حاصل کی ہے۔ پاکستان کے اس کردار کی عالمی سطح پر پزیرائی کی جارہی ہے۔ امریکہ اور عرب میڈیا سے ایسے اشارات مل رہے ہیں کہ فریقین مفاہمت کے قریب ہیں۔ اس مہم کو سر کرنے میں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیرداخلہ محسن نقوی کی کاوشوں کو امریکہ سمیت ساری دنیا تسلیم کر رہی ہے اور کواڈ کے اجلاس میں شرکت کیلئے آئے ہوئے امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے دہلی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا: &#39;&#39;ہم افزودہ یورینیم کو ایران کے پاس رہنے نہیں دیں گے‘‘ یہ امریکہ کے رویے میں تنزّل ہے کیونکہ پہلے وہ کہتے تھے کہ اسے ہم لازماً اپنے پاس امریکہ لے آئیں گے۔ اس سے معلوم ہوا کہ چین اور روس نے درپردہ کردار ادا کیا ہے اور ممکن ہے کہ ایران کا افزودہ یورینیم روس کی تحویل میں دے دیا جائے اور چین اس کی نگرانی کیلئے ضامن کے طور پر کردار ادا کرے۔ پس اب یہ بات درست معلوم ہو رہی ہے کہ امریکہ اپنی جنگ چھیڑنے کے فیصلے پر پچھتا رہا ہے کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے نیتن یاہو کے ساتھ مل کر ایران پر حملہ کرنے کا جو منصوبہ بنایا وہ تدبیر و تدبّر سے عاری تھا۔ مدبّر اُس حکمران کو کہتے ہیں جو کسی اقدام سے پہلے اس کے نتائج پر غور کرے اور اس بات کا جائزہ لے کہ ان نتائج کے حصول کے امکانات کس قدر ہیں۔ دراصل امریکی صدر کے پاس اپنی قوم کو مطمئن کرنے کیلئے کوئی اطمینان بخش جواب نہیں ہے جبکہ اس جنگ میں مختلف روایات کے مطابق امریکہ کا مجموعی نقصان 25سے 100ارب ڈالر تک کا ہو چکا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے قضیے سے جلد نکل کر کیوبا وغیرہ میں کوئی نئی رونق لگانا چاہتا ہے تاکہ امریکی قوم کا ذہن امریکہ ایران جنگ سے پھر جائے مگر شاید یہ آسان نہیں ہو گا اور نومبر 2026ء کے وسط مدتی انتخابات میں شاید ڈونلڈ ٹرمپ کو اس کی قیمت چکانی پڑے۔فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پاکستان کی خواہش یہ ہے کہ ایران مزید تباہی سے بچ جائے اور وہ تمام وسائل جو اس جنگ کے طولانی ہونے پر خرچ کرنے پڑیں‘ انہیں اپنے ملک کی بحالی اور اپنے منجمد وسائل کی بازیابی پر خرچ کرے۔ تاوانِ جنگ کا ملنا تو شاید آسان نہ ہو لیکن منجمد اثاثوں کا مل جانا یعنی Defreezeہونا اور تجارتی پابندیوں سے نکل جانا بہت بڑی کامیابی ہے۔ اسے اس ممکنہ یا متوقع یا زیرِ اندیشہ جنگ پر خرچ ہونے والے وسائل کو اپنی قومی تعمیرِ نو پر خرچ کرنا چاہیے۔ اس جنگ نے خلیجی ممالک کو بھی یہ احساس دلایا کہ اپنے دفاع کیلئے امریکہ پر انحصار کرنا خود فریبی کے سوا کچھ بھی نہیں ہے کیونکہ جب حقیقی جنگ برپا ہوئی تو امریکی فوجیوں نے ان ممالک میں قائم امریکی اڈوں کو خالی کردیا اور ہوٹلوں اور نجی عمارتوں میں منتقل ہو گئے۔ایران پر مسلط کردہ امریکی واسرائیلی جنگ نے جدید جنگ کے سارے میکانزم اور فلسفے کو تبدیل کردیا ہے۔ افغانستان پر اتحادی افواج کی یلغار اور ماضی میں عراق پر امریکی یلغار کے موقع پر فضائی برتری کافی تھی۔ جب فضا سے ملک کا دفاعی اور شہری ڈھانچہ تباہ وبرباد کردیا گیا تو پھر ان کے منحوس قدم برسرِ زمیں آگئے مگر اب پاکستان و بھارت کی جنگ اور ایران جنگ نے یہ ثابت کیا کہ تنہا فضائی قوت اور برتری بھی غلبے کیلئے کافی نہیں ہے۔ اب میزائل‘ راکٹ اور ڈرونز حملے بھی غلبے یا دشمن کے عزائم کو ناکام بنانے کی دلیل بن چکے ہیں۔ پس جدید جنگ کا پورا سائنسی سیٹ اَپ تبدیل ہوگیا ہے۔ اسی لیے بھارت آپریشن سندور کو ناتمام کہنے کے باوجود دوبارہ حملے کی ہمت نہیں کر سکا کیونکہ پاکستان کے پاس برابر یا بہتر جوابی حملے کی صلاحیت موجود ہے اور اقتصادی برتری‘ پانچ گنا بڑے رقبے‘ کئی گنا زیادہ دفاعی افواج کے باوجود بھارت کو اپنی فیصلہ کُن فتح کا اب یقین نہیں رہا۔ لہٰذا اندیشہ ہائے دور دراز کے پیشِ نظر انہوں نے دوبارہ حملہ نہ کر کے دانشمندی کا ثبوت دیا ہے۔نوٹ: یہ کالم منگل کی صبح لکھا گیا ۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_61172381.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>