<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>کاوشِ امن، اسلام آباد اکارڈ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-07/11082</link><pubDate>Tue, 07 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-07/11082</guid><description>مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور ایران اور امریکہ کے مابین جاری جنگ کو ختم کرنے کیلئے پاکستان کی جانب سے پیش کیا گیا ’اسلام آباد اکارڈ‘ اس وقت عالمی سیاست کا مرکز بن چکا ہے۔ اگرچہ پاکستانی دفتر خارجہ کی جانب سے کسی امن معاہدے کی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی تاہم اتنا ضرور کہا گیا ہے کہ امن عمل جاری ہے۔ برطانوی نیوز ایجنسی کے مطابق یہ جنگ بندی کا ایک ایسا جامع فریم ورک ہے جو نہ صرف دو ممالک بلکہ پوری دنیا کو ایک بڑے عالمی بحران سے بچانے کی آخری کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ دو مراحل پر مشتمل اس امن کاوش کا مقصد مسئلے کا پائیدار حل نکالنا ہے۔ اس منصوبے کی حساسیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان اس وقت واحد سفارتی رابطہ چینل کے طور پر امریکی نائب صدر اور ایرانی وزیر خارجہ کیساتھ مسلسل رابطے میں ہے‘ جو اس بات کی علامت ہے کہ خطے میں امن کے قیام کیلئے بھرپور کوششیں پس پردہ جاری ہیں اور متحارب ملکوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے تمام سفارتی چینل استعمال کیے جا رہے ہیں۔ مجوزہ امن معاہدے کا سب سے اہم نکتہ 45روزہ جنگ بندی کا نفاذ ہے‘ جس کا مقصد فریقین کو اشتعال انگیزی سے روک کر بات چیت کی طرف لانا ہے۔

اس کیساتھ ساتھ عالمی تیل کی تجارت کی شہ رگ سمجھے جانیوالے آبنائے ہرمز کو کھولنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ توانائی کی عالمی منڈیوں میں پھیلا ہوا اضطراب اور دنیا کے معاشی مستقبل پر چھائے بے یقینی کے بادل ختم ہو سکیں۔ تاہم وقت کی قلت اس پورے عمل کیلئے سب سے بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو منگل تک کی ڈیڈ لائن نے صورتحال کو بارود کے ڈھیر پر لا کھڑا کیا ہے۔ اس ڈیڈ لائن کے ختم ہونے کے بعد ایران کی اہم انرجی تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کا خدشہ ہے جس کے بعد ایسا ردِعمل سامنے آ سکتا ہے کہ جنگ کے شعلے کسی قابو میں نہیں رہیں گے۔ اگرچہ عالمی امور کے ماہرین دونوں ممالک میں فوری معاہدے کے امکانات کو کم دیکھ رہے ہیں مگر اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ جنگ کے پھیلاؤ کو روکنے کا واحد ذریعہ مسلسل کوششیں اور مکالمہ ہی ہے۔ جنگ کا خاتمہ محض ایک سیاسی ضرورت نہیں بلکہ پوری دنیا کی بقا کا تقاضا بن چکا ہے۔ حملوں میں مزید شدت کی قیمت انسانیت کو اس انداز میں چکانا پڑے گی کہ جس کا مداوا کرنا بھی ممکن نہیں ہوگا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی دنیا میں طاقت کا توازن بگڑا ہے‘ اس کا خمیازہ معصوم شہریوں اور کمزور معیشتوں کو بھگتنا پڑا ہے۔ 28 فروری سے جاری اس تنازع کے عالمی معیشت پر اثرات انتہائی ہولناک ہو چکے ہیں۔
عالمی جی ڈی پی کو اب تک اربوں ڈالرز کا نقصان ہو چکا ہے اور سپلائی چین متاثر ہونے سے اشیائے خور ونوش کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہو چکا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ دنیا میں اس وقت 80 کروڑ سے زائد افراد شدید بھوک کا شکار ہیں اور اگر یہ جنگ مزید وسیع ہوتی ہے تو افراطِ زر اور غذائی قلت کی وجہ سے مزید کروڑوں انسان خطِ غربت سے نیچے چلے جائیں گے۔ توانائی کے بحران نے پہلے ہی ترقی پذیر ممالک کی کمر توڑ دی ہے اور امن کاوشوں کی ناکامی کا مطلب عالمی سطح پر ایک ایسی معاشی کساد بازاری ہوگا جس کی مثال ماضی قریب میں نہیں ملتی۔ جنگ بندی‘ قیام امن اور علاقائی استحکام کیلئے پاکستان کی کوششیں اگرچہ نیک نیتی اور خلوص پر مبنی ہیں مگر ان کی کامیابی کا انحصار واشنگٹن اور تہران کی لچک پر ہے۔ اگر فوری طور پہ کوئی بریک تھرو نہ ہوا تو دنیا ایک ایسے اندھے کنویں میں گر جائے گی جہاں سے واپسی کا راستہ شدید تباہی سے ہو کر گزرتا ہے۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی برادری امن کی کوششوں کو تقویت دے تاکہ انسانیت کو اُس عظیم المیے سے بچایا جا سکے جو صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ہر ملک کی معیشت اور ہر گھر کی دہلیز تک اس کے اثرات محسوس کیے جائیں گے۔ </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>نئی مارکیٹ ٹائمنگ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-07/11081</link><pubDate>Tue, 07 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-07/11081</guid><description>وفاقی حکومت نے توانائی بچت کیلئے آج سے پنجاب‘ خیبر پختونخوا‘ بلوچستان‘ اسلام آباد‘ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بازار‘ شاپنگ مالز اور تجارتی مراکز رات آٹھ بجے‘ جبکہ بیکریاں‘ ریسٹورنٹس‘ تنور اور شادی ہالز کو رات 10بجے بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے‘ تاہم میڈیکل سٹوروں کو ان پابندیوں سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ یہ فیصلہ محض ایک انتظامی حکم نہیں بلکہ ایک وسیع تر معاشی اور توانائی حکمت عملی کا حصہ ہے‘ جس کا مقصد ملک میں بڑھتے ہوئے ایندھن کے بحران کے اثرات کو کم کرنا اور توانائی کے غیر ضروری استعمال کو روکنا ہے۔ موجودہ علاقائی اور عالمی صورتحال‘ خصوصاً مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور اسکے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کیلئے شدید مالی دباؤ کا باعث بن رہا ہے۔

ایسے میں توانائی کی بچت کے اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔ توانائی کی بچت محض حکومتی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک اجتماعی قومی فریضہ ہے‘ جس میں ہر فرد کا کردار اہم ہے۔ اگر تاجر برادری‘ کاروباری طبقہ اور شہری اس فیصلے پر سنجیدگی سے عمل کرتے ہیں تو اس کے مثبت اثرات بہت جلد ظاہر ہو سکتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ یہ پہلو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ عوامی مشکلات میں غیر معمولی اضافہ کر چکا‘ اس صورتحال میں حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ صرف پابندیوں اور کنٹرول تک محدود نہ رہے بلکہ عوام کو معاشی ریلیف دینے کیلئے بھی مؤثر اور عملی اقدامات کرے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>دہشت گردی کے خلاف پختہ عزم(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-07/11080</link><pubDate>Tue, 07 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-07/11080</guid><description>حکومت کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق آپریشن غضب للحق کے تحت اب تک مجموعی طور پر 796 دہشت گرد ہلاک اور 1043زخمی کیے جا چکے جبکہ افغانستان کے اندر اُن کے 81 ٹھکانوں کو فضائی کارروائی کے ذریعے تباہ کیا گیا ہے۔ دہشت گردوں کی عسکری صلاحیت کو کمزور کرنے کیلئے 286 چوکیاں‘ 249ٹینک‘ بکتر بند گاڑیاں‘ توپیں اور ڈرون بھی تباہ کیے گئے۔ یہ اعداد و شمار اس امر کی واضح عکاسی کرتے ہیں کہ ریاست پاکستان اپنی سرحدوں اور شہریوں کے تحفظ کیلئے فیصلہ کن اقدامات کر رہی ہے۔ شمالی وزیرستان کے غلام خان سیکٹر میں 2 اور 3 اپریل کی درمیانی شب سرحد پار سے دہشت گردوں کی جانب سے کیے گئے حملے کو ناکام بنانا بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے جس میں 37 خوارج ہلاک اور 80 سے زائد زخمی ہوئے۔

یہ صورتحال اس بات کا ثبوت ہے کہ افغان سرزمین سے سرگرم عناصر نہ صرف پاکستان کی سلامتی کیلئے خطرہ ہیں بلکہ پورے خطے کے امن کو داؤ پر لگا رہے ہیں۔ افغانستان میں آپریشن کیساتھ ساتھ پاکستان نے حالیہ دنوں اُرمچی میں چین کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت کرکے واضح کیا ہے کہ وہ پائیدار امن کیلئے پوری طرح سے سنجیدہ ہے۔ اب یہ ذمہ داری افغان عبوری حکومت پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اس موقع کو ضائع نہ کریں‘ دہشت گردی کے خاتمے میں عملی تعاون کریں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ایک عبرتناک تصویر(محمد اظہارالحق)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-04-07/51720/15271835</link><pubDate>Tue, 07 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-04-07/51720/15271835</guid><description>کہنے کو یہ محض ایک تصویر ہے! محض ایک فوٹو گراف!! لیکن یہ تصویر ملک کی نامرادی‘ تیرہ بختی اور بدنصیبی کی تفصیل ہے۔ ایسی تفصیل جو کئی صفحوں پر نہیں‘ کئی داستانوں پر نہیں‘ کئی کتابوں پر مشتمل ہے۔ کتابیں بھی ایسی جو کئی جلدوں میں‘ کئی حصوں میں ہوں!اس شرمناک تصویر میں ایک نوجوان‘ جو ایک سیاسی پارٹی کا سربراہ ہے‘ ایک معروف‘ عمر رسیدہ‘ سیاستدان سے مصافحہ کر رہا ہے۔ یہاں تک تو سب اچھا ہے۔ مصافحہ کرنے پر کوئی پابندی ہے نہ یہ ایسا فعل ہے جس پر معترض ہوا جائے۔ بلکہ مصافحہ عالمی کلچر کا ایک جزو ہے۔ لاس اینجلس سے لے کر یورپ‘ ایشیا اور افریقہ سے ہوتے ہوئے ٹوکیو تک سب ایک دوسرے سے مصافحہ کرتے ہیں۔ تاہم تصویر صرف مصافحے پر مشتمل نہیں‘ اس میں کچھ اور بھی ہے اور یہ &#39;&#39;کچھ اور‘‘ ہی ہے جو سب کچھ ہے۔تصویر میں نوجوان سربراہ کے ہمراہ دو معمر سیاستدان ہیں۔ ایک کی عمر 74 برس ہے۔ وہ کھڑا ہے‘ ہاتھ اس طرح باندھ رکھے ہیں جیسے نماز میں قیام کے دوران باندھے جاتے ہیں۔ دوسرا سیاستدان 76 سال کا ہے۔ اس نے ہاتھ تو نہیں باندھے ہوئے‘ مگر چہرے سے مجسمِ ریشہ خطمی لگ رہا ہے۔ نوجوان کی عمر 38سال ہے۔ 38کو دو سے ضرب دیجیے‘ جواب کیا آیا ہے؟ جواب 76 ہے۔ یعنی ایک سیاستدان کی عمر‘ نوجوان کی عمر سے دو گنا ہے۔ دونوں سیاستدانوں نے اپنی جوانی پارٹی کو دی۔ جدوجہد میں عمر گزاری۔ مقدمات کا سامنا کیا۔ جلسے کیے۔ جلوس نکالے۔ ماریں کھائیں۔ پارٹی کے ساتھ وفاداری نبھائی۔ اپنے گھر والوں کو نظر انداز کیا۔ دن رات‘ ہفتے مہینے سال پارٹی کے امور سلجھائے۔ سفر کیے۔ کبھی کراچی‘ کبھی لاہور‘ کبھی کوئٹہ‘ کبھی اسلا م آباد اور کبھی دبئی!! یہاں تک کہ ان کے بال سفید ہو گئے۔ وہ بوڑھے ہو گئے۔ پھر ایک دن یوں ہوا کہ یہ نوجوان پارٹی کا سربراہ بن گیا۔ یہ سفید سر والے‘ بے حد تجربہ کار‘ گرم و سرد چشیدہ اور سیاست میں کئی گنا زیادہ علم رکھنے والے بوڑھے‘ نوجوان کی اقتدا میں‘ خمیدہ کمر کھڑے ہو گئے! درباری کے درباری ہی رہے!اس بدقسمتی اور جمہوریت کے ساتھ سنگین مذاق میں صرف ایک پارٹی نہیں‘ پاکستان کی تمام بڑی‘ قابلِ ذکر پارٹیاں ملوث ہیں۔ (ہم ان پارٹیوں کی بات کر رہے ہیں جو ووٹ لیتی ہیں اور جن کے نمائندے پارلیمنٹ میں موجود ہیں) جس معمر سیاستدان سے نوجوان مصافحہ کر رہا ہے وہ بھی اپنی جماعت کا خاندانی سربراہ ہے۔ یہ سربراہی اسے اپنے مرحوم والد کے بعد وراثت میں ملی۔ اب اس کا فرزند یہ وراثت سنبھالنے کی تربیت حاصل کر رہا ہے۔وراثت‘ پیری مریدی میں ہو یا سیاست میں‘ بادشاہی میں ہو یا مسجد کی امامت میں‘ ہمیشہ میرٹ کُش ہوتی ہے۔ بادشاہوں نے زندگیاں خرچ کر کے‘ زخم کھا کھا کر‘ جنگیں جیت کر‘ سلطنتیں بنائیں۔ مگر ان کے نااہل وارثوں نے ان سلطنتوں کو یوں بکھیرا کہ سلطنتیں قصۂ پارینہ ہو گئیں۔ ایک خدا رسیدہ‘ نیک بزرگ درگاہ میں انتقال کرتا ہے تو اس کا بیٹا گدی پر بیٹھ جاتا ہے جس کا دین سے دور دور کا تعلق نہیں ہوتا۔ مسجد کا امام انتقال کرتا ہے تو اس کا بیٹا مصلّے پر کھڑا ہو جاتا ہے حالانکہ وہ اس نازک ذمہ داری کی قطعاً اہلیت نہیں رکھتا۔ ہمارے ہاں سیاسی پارٹیاں بھی وراثت کی بنیاد پر چل رہی ہیں! ہم نے جن ملکوں سے جمہوریت لی‘ وہاں ایسا نہیں ہوتا۔ نیوزی لینڈ سے لے کر امریکہ تک سیاسی پارٹیوں میں وراثت کا تصور ہی ناپید ہے۔ تحقیق کر کے دیکھ لیجیے۔ پارٹیوں پر خاندانی وراثت کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ چند برس بعد پارٹی کا سربراہ تبدیل ہو جاتا ہے اور ایک اور پارٹی ممبر سربراہ ہو جاتا ہے۔ یہ صرف پاکستان میں ہے کہ پارٹیوں پر تیس تیس‘ چالیس چالیس سال سے ایک ہی خاندان قابض ہے۔ پہلا سربراہ دنیا سے گیا تو بیٹی پارٹی کی سربراہ بنی۔ پھر داماد اور اب نواسا!! دوسری پارٹی کوئی بڑا منصب خاندان سے باہر جانے ہی نہیں دیتی۔ کسی پر اعتماد نہیں! کبھی بھائی چیف منسٹر بنتا ہے کبھی بھتیجا اور کبھی بیٹی! ایک بھائی وزارتِ عظمیٰ پر تین بار رہ چکا ہوتا ہے تو اس کے بعد دوسرا بھائی وزیراعظم بن جاتا ہے۔ایک اور پارٹی جو تبدیلی کا جھنڈا لہرا کر میدان میں آئی تھی‘ اس پر بھی بیس پچیس سال تک ایک ہی شخص کی ڈکٹیٹرشپ رہی۔ پارٹی کے اندر الیکشن ہوا تو الیکشن کرانے والوں کی چھٹی ہو گئی۔ اب پارٹی پر بہن کی حکومت ہے۔ترس آتا ہے اُن کارکنوں پر جن کی عمریں جلسہ گاہوں میں دریاں بچھانے‘ کرسیاں لگانے اور سٹیج بنانے میں کٹ جاتی ہیں۔ چلتی گاڑیوں کے ساتھ دوڑتے ہیں۔ ہوائی اڈوں پر استقبال کیلئے جمع ہوتے ہیں۔ مخالفین سے لڑائیاں کرتے ہیں۔ گالیاں کھاتے ہیں اور گالیاں دیتے ہیں۔ حالانکہ پارٹی سربراہ اور دیگر اہلِ خاندان کو ان کے نام تک نہیں معلوم! ان کی صورتوں سے آشنا نہیں! رحم آتا ہے ان سیاستدانوں پر جن کی زندگیاں پارٹی کا کام کرتے بیت گئیں۔ زندانوں میں گئے۔ ان پر حملے ہوئے۔ اہلِ خانہ نظر انداز ہوئے مگر ان میں سے کوئی وزیراعلیٰ بن سکتا ہے نہ وزیراعظم کے منصب کیلئے اس کے نام پر غور ہو سکتا ہے۔ سفید بالوں کے ساتھ‘ زندگی بھر کے تجربے کے ساتھ‘ کبھی انہیں دختر نیک اختر کے دربار میں کھڑا ہونا پڑتا ہے تو کبھی نواسے کے پیچھے چلنا پڑتا ہے۔کون سی جمہوریت؟ کیسی جمہوریت؟ جمہوریت وہ ہوتی ہے جس میں اپنی پارٹی کے سربراہ کا محاسبہ کیا جاتا ہے۔ اس سے سوال پوچھے جاتے ہیں۔ اس کے سامنے پارٹی کی پالیسیوں پر تنقید کی جاتی ہے۔ پارلیمانی جمہوریت میں اپوزیشن پارٹیاں شیڈو کابینہ بناتی ہیں۔ اپوزیشن پارٹی کے ا یم این اے یا ایم پی اے ہر وزیر کے مقابلے میں ایک ایک قلم دان کے انچارج بنتے ہیں۔ آج اگر مسلم لیگ (ن)اور پی پی پی حکومت میں ہیں تو اپوزیشن یعنی تحریک انصاف شیڈو کابینہ بناتی ۔ حکمران پارٹی کے وزیر خزانہ کے مقابلے میں اپوزیشن ایک ممبر کو شیڈو وزیر خزانہ بناتی۔ یہ شیڈو وزیر خزانہ‘ وزیر خزانہ کی پالیسیوں پر تنقید کرتا اور اپنی طرف سے متبادل پالیسیاں پیش کرتا۔ تصور یہ ہے کہ کل جب اپوزیشن اقتدار میں آئے گی تو یہ شیڈو وزیر خزانہ اصل وزیر خزانہ بنے گا اور اُن پالیسیوں کو عملی جامہ پہنائے گا جو اس نے شیڈو وزیر خزانہ کی حیثیت سے پیش کی تھیں۔ ان سب کاموں کیلئے محنت درکار ہے۔ اپوزیشن کو ٹھوس کام کرنا پڑتا ہے۔ اسی طرح تجارت‘ تعلیم‘ پٹرولیم‘ توانائی اور دیگر امور کیلئے شیڈو وزیر مقرر کیے جاتے ہیں جو رات دن محنت کر کے بتاتے ہیں کہ جب وہ حکومت میں آئے تو کیا کیا پالیسیاں نافذ کریں گے۔ ہماری جمہوریت میں اپوزیشن بھی محنت کرنے کیلئے تیار نہیں! اس کا کام نعرے لگانا‘ پارلیمنٹ میں ہنگامے بپا کرنا‘ کارروائی میں رکاوٹ ڈالنا اور بجٹ کی دستاویزات کو پھاڑ دینا ہے۔ برسر اقتدار وزیروں کو کھلی چھٹی ہے۔ وزیروں کو معلوم ہے کہ کوئی شیڈو وزیر ان کا تعاقب کر رہا ہے نہ کوئی ٹھوس تنقید ہی کر سکتا ہے۔ سب کا ایک ہی کام ہے۔ پارٹی کے سربراہ کو‘ جو مالک کی طرح ہے‘ ہر حال میں خوش رکھنا ہے۔ اس پورے خاندان کو خوش رکھنا ہے جو پارٹی پر تیس چالیس سال سے قابض ہے۔ اکبر آئے یا جہانگیر یا شاہجہان‘ پارٹی خاندان ہی میں رہنی ہے۔ اس لیے بادشاہ کو بھی خوش رکھنا ہے اور شہزادوں شہزادیوں کو بھی!! بادشاہ خاندان ہی سے بنے گا۔ درباری درباری ہی رہیں گے! اشارۂ ابرو کے منتظر رہیں گے۔ کبھی انہیں لندن طلب کیا جائے گا کبھی دبئی! اقبال نے کہا تھا: خرد کو غلامی سے آزاد کر۔ جوانوں کو پیروں کا استاد کر! مگر یہاں حساب الٹا ہے۔ بوڑھے استاد ہیں جو جوانوں کو بادشاہی کے گر بتاتے ہیں۔ یہ وہ بوڑھے استاد ہیں جو خود ہمیشہ درباری رہتے ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_57182973.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بیس جہاز اور کالم نگار کی اوقات(خالد مسعود خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-04-07/51721/25713317</link><pubDate>Tue, 07 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-04-07/51721/25713317</guid><description>اگر پاکستان میں نائن الیون جیسا دہشت گردی کا کوئی واقعہ پیش آتا اور کوئی جہاز کسی بلند و بالا عمارت سے ٹکرا دیا جاتا‘ تو پاکستان کی حکومت نے اس سلسلے میں کیا حفاظتی قدم اٹھانا تھا؟ میں نے یہ سوال حسبِ معمول اپنے سیاسی اور سماجی مرشد شاہ جی سے کیا۔ شاہ جی مسکرائے‘ ان کا مسکرانا اب ہمارے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ کبھی وہ طنزیہ مسکراتے ہیں‘ کبھی وہ استہزائیہ مسکراہٹ سے ہمیں نوازتے ہیں اورکبھی وہ صرف مسکراہٹ برائے مسکراہٹ کے فارمولے کے تحت ہمیں مسکرا کر دکھاتے ہیں‘ سو ہم شاہ جی کے مسکرانے پر توجہ کیے بغیر شاہ جی کی گفتگو کو سننے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے ایک دو لمحے کا توقف کیا‘ پھر کہنے لگے: اگر پاکستان میں نائن الیون جیسا کوئی واقعہ ہوتا اور کوئی ہوائی جہاز کسی بلند و بالا عمارت سے ٹکرا جاتا اور وہ عمارت منہدم ہو جاتی تو حکومتِ پاکستان نے آئندہ کیلئے ایسے واقعات کے سدباب کیلئے فوری طور پر موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی لگا دینی تھی۔ ہمارے ہاں ایسے واقعات اور مستقبل میں ان کے سد باب کیلئے حکومتی اقدامات اسی قسم کے ہوتے ہیں۔اب ایران پر اسرائیلی اور امریکی حملوں کے بعد عالمی منڈی میں تیل کا جو بحران پیدا ہوا ہے‘ اس پر بہت سے ممالک نے مختلف قسم کے اقدامات کیے ہیں۔ اس وقت سب سے مسئلہ یہ ہے کہ کسی نہ کسی طرح پٹرول اور ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں میں اضافہ اور اس کی سپلائی میں مشکل پیش آرہی ہے۔ یہ مسائل مستقبل میں مزید بڑھ سکتے ہیں۔ اس کے حل کیلئے انہوں نے جو اقدامات کئے ہیں اس میں سب سے اہم چیز‘ جس کو پیشِ نظر رکھا گیا ہے‘ وہ یہ ہے کہ عوام کو زیادہ سے زیادہ آرام‘ سہولت اور آسانی دی جائے۔ مثلاً میلبورن (آسٹریلیا) سے میری بیٹی نے بتایا کہ جیسے ہی یہ مسئلہ عوام کی مشکل کا باعث بنتا دکھائی دیا تو وکٹوریا سٹیٹ کی حکومت نے پوری ریاست میں تمام پبلک ٹرانسپورٹ بشمول بس‘ ٹرین اور ٹرام کا سفر عوام کیلئے مفت کر دیا۔ بعد میں ویسے تو پنجاب حکومت اور دیکھا دیکھی سندھ حکومت نے بھی یہ اعلان کیا ہے لیکن پاکستان کی حکومت کا جو فوری ردِ عمل تھا وہ یہ تھا کہ پاکستان میں موٹروے پر گاڑیوں کی رفتار میں کمی کر دی گئی اور چالانوں میں اضافہ کر دیا گیا۔ میں نے جو یہ کہا ہے کہ موٹروے پر سپیڈ کم کر دی اور چالان بڑھا دیے گئے تو اس سلسلے میں یہ ہوا کہ موٹروے پر LTV یعنی لائٹ ٹرانسپورٹ وہیکل جس میں کار‘ جیپ اور اسی قسم کی دیگر چھوٹی فور ویل  گاڑیاں ہیں‘ ان کی حد رفتار 120 کلو میٹر سے کم کرکے 100 کلو میٹر کر دی گئی اور HTV یعنی ہیوی ٹرانسپورٹ وہیکل کی رفتار 110سے کم کرکے 90 کلو میٹر فی گھنٹہ کر دی گئی۔ حکومت کا خیال تھا کہ اس طرح رفتار کم کرنے سے پٹرول کی بچت ہو گی‘ کھپت کم ہو گی اور فی لٹر گاڑی کی مائلیج بڑھ جائے گی‘ چلیں کسی حد تک یہ بات ٹھیک بھی ہے لیکن عملی طور پر ایسا نہیں ہو پا رہا۔ میں حالیہ دنوں میں کئی دفعہ موٹروے پر سفر کر چکا ہوں۔ میں نے یہ دیکھا ہے کہ لوگوں کو جہاں بھی شک ہو کہ یہاں سپیڈ چیک کیمرہ ہو گا‘ وہاں وہ رفتار کم کر لیتے ہیں اور جہاں ان کو یقین ہو کہ کیمرہ نہیں ہے تو وہ اپنی ساری تاخیر کی کسر نکال لیتے ہیں یعنی جس جگہ پہ ان کو کیمرہ ہونے کا شک ہو وہاں وہ اپنی رفتار کم کر کے 100کلو میٹر کے لگ بھگ کر لیتے ہیں لیکن اس جگہ سے آگے نکلتے ہی وہ اپنی رفتار 140کر کے ساری کسر اور تاخیر نکال لیتے ہیں۔موجودہ صورتحال کو ہم حکومت کیلئے Blessing in disguise کہہ سکتے ہیں۔ اس ملک میں عوام پر جب بھی کوئی مصیبت پڑتی ہے تو اس کو بہانہ بنا کر ٹیکس‘ کرائے میں اضافہ اور اپنی چیزوں کی قیمت بڑھا دیتی ہے۔ اس میں حکومت کو پیسے بچتے ہیں اور عوام کی جیب کٹ جاتی ہے۔ اب حکومت نے موٹر وے پر رفتار کم کرنے کے ساتھ ہی ایک اور بڑا مزیدار بندوبست کیا ہے۔ رفتار چیک کرنے والے سپیڈ کیمرے جو پہلے پورے سفر میں دو یا تین جگہوں پر ملتے تھے‘ اب ان کی تعداد ملتان سے اسلام اباد کے راستے میں کم از کم دس ہو چکی ہے۔ فیصل آباد سے پنڈی بھٹیاں تک برسوں سفر کے دوران مجھے کوئی کیمرے والا نظر نہیں آیا لیکن اب موٹر وے کے اس حصے پر دو تین جگہوں پر دکھائی دے رہے ہیں۔ ایک کیمرہ بھیرہ انٹرچینج سے ایک کلو میٹر پہلے کیمرہ لگا ہوا تھا اور دوسرا اس سے محض ایک کلو میٹر بعد لگا ہوا تھا۔ عام طور پہ جب لوگ انٹرچینج کے پاس پہنچ جاتے ہیں تو ان کا خیال ہوتا ہے کہ اب چیکنگ نہیں ہو گی اور وہ رفتار زیادہ کر لیتے ہیں۔لیکن  انٹرچینج سے نکلتے ہی دوبارہ کیمرہ لگا ہوا ہے۔ پچھلے اور اگلے انٹر چینج کے درمیان میں بھی کیمرے والا بیٹھا ہوا ہے۔ حکومت نے رفتار کم کی تھی تو اس کا بنیادی مقصد پٹرول کی کھپت کم کرنا تھا لیکن ہوا یہ ہے کہ لوگ اوسطاً اسی رفتار پر گاڑیاں چلا رہے ہیں جو رفتار کم کرنے سے پہلے تھی لیکن اب حکومت کو چالان کی مد میں وصول ہونے والی رقم کم از کم تین چار گنا بڑھ چکی ہے۔اب بندہ کس کس چیز کو روئے کہ اس دوران سرکار نے ٹول ٹیکس میں بھی اضافہ کر دیا۔ ٹول ٹیکس پٹرول سے نہیں چلتا؛ البتہ گاڑیاں ضرور پٹرول سے چلتی ہیں۔ سچ یہ ہے کہ لوگ مہنگا پٹرول اس لیے خرید رہے ہیں کہ حکومت اس پہ لیوی اور کئی قسم کے ٹیکس وصول کر رہی ہے لیکن ٹول ٹیکس کا پٹرول سے کوئی براہِ راست لین دین نہیں ہے۔ گاڑیوں کی رفتار بھلے کم کروائیں کہ اس سے پٹرول کی بچت ہو گی۔ تاہم اگر آپ کاخیال ہے کہ ٹول میں اضافے سے لوگ کم سفر کریں گے تو جنہوں نے مجبوراً سفر کرنا ہے وہ کریں گے۔ پٹرول کی قیمت جتنی ہو چکی ہے اس پر کوئی بندہ فضول اور غیرضروری سفر کی ہمت ہی نہیں کر سکتا۔ اب صرف وہی جائے گا جو از حد مجبور ہے لیکن سرکار ان مجبوروں سے ٹول ٹیکس نچوڑنے کے فکر میں ہے۔ سرکار نے یہ اضافہ فی الحال تو موخر کر دیا گیا ہے مگر کب تک ؟ حالات جیسے ہی نارمل ہوئے یہ اضافہ دوبارہ لاگو کر دیا جائے گا۔ ایک طرف پٹرول کی قیمت تو دوسری طرف چالان بڑھ گئے ہیں۔ اس ہنگامہ ہائے دار و گیر میں پنجاب حکومت نے فی بھینس 30روپے روزانہ کا گوبر ٹیکس لگا دیا ہے۔ کیا بھینس بھی پٹرول پہ چل رہی ہے جس کے استعمال پر ٹیکس لگایا گیا؟ بعد میں بھد اڑی تو تردید فرما دی۔ دنیا میں حکومتیں گوبر سے بائیو گیس بناتی ہیں‘ انرجی پیدا کرتی ہیں‘ ہمارے ہاں گوبر پر ٹیکس لگایا جاتا ہے۔ سرکار کو جس چیز میں بھی کسی پاکستانی کو چار پیسے کا فائدہ ہوتا دکھائی دیتا ہے اس نفع کو اپنے کھاتے میں ڈال لیتی ہے۔شاہ جی سے پوچھا کہ یہ جو آبنائے ہرمز سے تیل سے لدے ہوئے بیس جہاز پاکستانی جھنڈے لگا کر بخیروخوبی پُرامن طریقے سے گزرے ہیں‘ اب اس کے بعد تو پاکستان میں تیل کی ریل پیل ہو جانی چاہیے۔ خلیج فارس سے آنے والا پٹرول نزدیک ترین اور سستا پڑتا ہے تو قیمتیں کیوں آسمان پر پہنچ گئی ہیں؟ شاہ جی کہنے لگے: تمہارا کیا خیال ہے کہ جو پاکستانی جھنڈے لگے جہاز آبنائے ہرمز سے بحفاظت گزر رہے ہیں پاکستان آ رہے ہیں تو آپ بھولے بادشاہ ہیں۔ ممکن ہے کہ یہ پاکستانی جھنڈوں والے جہاز جو تیل لائے ہیں وہ سارے کا سارا تیل ٹرمپ کو بھجوا دیا گیا ہو۔ میں نے کہا کہ شاہ جی! بقول وفاقی وزیر بیرسٹر عقیل پاکستان میں تو صرف دو جہاز آئے ہیں‘ باقی اٹھارہ کہاں چلے گئے ہیں؟ کہنے لگے: ممکن ہے سرکار نے یہ اٹھارہ جہاز آگے بیچ کر نفع کما لیا ہو۔ ان برے حالات میں پیدا گیری کا موقع اگر مل ہی گیا ہے تو تمہیں کیا تکلیف ہے؟ ہماری حکومت جہاز پر اپنا جھنڈا لگا کر جو رسک لے رہی ہے‘ اس کا حق ہے کہ اس پر ٹیکس یا نفع وصول کرے۔ میں نے پوچھا کہ اس کا کوئی حساب کتاب بھی ہے؟ شاہ جی کہنے لگے کہ تم سے تو ملتان کے پرائیویٹ لفٹروں کا حساب نہیں لیا گیا اور چلے ہو تیل کے جہازوں کا حساب لینے۔ بندے کو اپنی اوقات کے مطابق بات کرنی چاہیے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90500073.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پاکستانی معیشت کب سدھرے گی؟(ڈاکٹر حسین احمد پراچہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-04-07/51722/63152150</link><pubDate>Tue, 07 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-04-07/51722/63152150</guid><description>وفاقی حکومت نے عوام الناس کے لیے پٹرول کا پروانۂ موت جاری کرنے کے بعد کمال مہربانی سے اسے عمر قید میں بدل دیا ہے‘ لیکن کم از کم 70 فیصد آبادی بھاری قیمتوں کے پہاڑ تلے دب کر بدستور کراہ رہی ہے۔ ایک نہیں‘ کئی ماہرینِ اقتصادیات و مالیات سے گفتگو ہوئی ہے۔ ان سب کی رائے یہ تھی کہ حکومت نے پٹرول کی قیمتوں کے عالمی بحران سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وسیع تر آبادی پر وہ بوجھ لاد دیا ہے جسے برداشت کرنے کی اس کے اندر ہرگز کوئی سکت نہ تھی۔ ہمیں تو یہ نوید سنائی گئی تھی کہ پاکستان کے جھنڈے والے بیس آئل ٹینکروں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے دیا گیا۔ حکومت نے خود اعتراف کیا کہ ہمارے پاس وافر پٹرول اور ڈیزل موجود ہے‘ اس لیے گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ یکایک یہ کیسے ہو گیا کہ سابقہ قیمتوں پر خریدے گئے پٹرول کی قیمت میں 137 روپے اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 184 روپے کا اضافہ کر دیا گیا؟ اس طرح پٹرول 458 روپے اور ڈیزل 520 روپے فی لیٹر ہو گیا۔ احساس سے عاری اور ناسمجھ وزیروں اور مشیروں نے یہ مشورہ دیا کہ یہ اچھا موقع ہے کہ تیل کے بحران کو عذر بنا کر اپنے اگلے پچھلے سارے خسارے دم توڑتے عوام سے وصول کر لیے جائیں؟ جنوبی ایشیا کے دیگر تمام ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں کیا گیا اضافہ کئی گنا زیادہ تھا۔بعد ازاں‘ جمعۃ المبارک اور ہفتے کی درمیانی شب حکومت نے پٹرول پر لیوی میں 80 روپے فی لٹر کمی کر دی جبکہ ڈیزل کی قیمتوں میں کوئی کمی نہیں کی گئی۔ اس دوران ٹرانسپورٹروں نے کرایوں میں 30 فیصد اور بعض روٹس پر 50 فیصد تک اضافہ کر لیا ہے۔ عام آدمی کو یہ معلوم نہیں کہ لیوی کیا ہے؟ لیوی بھی ایک طرح کا ٹیکس ہے جو حفظِ ماتقدم کے طور پر پٹرول اور ڈیزل پر اس لیے عائد کیا جاتا ہے تاکہ قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کی صورت میں محفوظ کردہ وسائل استعمال کرکے قیمتوں کو ایک حد سے نہ بڑھنے دیا جائے۔ 80 روپے فی لٹر کمی کے باوجود یہ اضافہ بالکل ناروا اور غیر حقیقت پسندانہ ہے۔ کراچی‘ لاہور اور اسلام آباد جیسے بڑے شہروں ہی نہیں بلکہ چھوٹے شہروں اور دیہات تک میں اشیائے خور و نوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں۔ اس دوران حکومت نے موٹر سائیکل سواروں اور چھوٹے بڑے لوڈرز اور ٹرکوں کو کچھ ریلیف دینے کا وعدہ کیا ہے۔دیکھیے بندۂ مزدور و مجبور کو اگلے چند دنوں میں کوئی ریلیف ملتا ہے یا ان پر کوئی نئی افتاد آن پڑتی ہے۔ یہ تو ایک وقتی صورتحال ہے‘ مگر گزشتہ تین چار دہائیوں سے ہم نے جو روش اختیار کر رکھی ہے‘ اس سے ہماری معیشت کبھی ترقی کے راستے پر نہیں آ سکتی۔ ہماری معیشت کا اصل مسئلہ کیا ہے؟ ہماری معیشت قرض در قرض اور سود در سود کے دائرے میں گھوم رہی ہے۔ ہمارے ماہرینِ اقتصادیات بنیادی نوعیت کے فیصلے کر کے اس منحوس دائرے سے باہر نکلنے کی کوئی تدبیر اختیار کرنے کی نہ صلاحیت رکھتے ہیں نہ ارادہ۔ ہم قرض کی مے پیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ رنگ لائے گی ہماری &#39;شہ خرچی‘ ایک دن۔ اگر ایک جملے میں اپنے جملہ اقتصادی عوارض کو بیان کیا جائے تو یہ کہا جائے گا کہ ہماری آمدنی کم اور ہمارا خرچ بہت زیادہ ہے‘ بلکہ ہمارے حکمرانوں کے شاہانہ اخراجات اور ان کے ٹھاٹ باٹ کو آئی ایم ایف والے یا دیگر غیرملکی دیکھتے ہیں تو وہ ہکا بکا رہ جاتے ہیں کہ یہ کیسے حکمران ہیں جو قرض کی دولت سے شاہانہ طرزِ زندگی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ہمارے بجٹ کا سارا خسارہ ٹیکسوں یا آمدنی بڑھا کر پورا کرنے کے بجائے مزید قرضے لے کر پورا کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ہماری برآمدات بہت کم ہیں۔ صرف ٹیکسٹائل کے شعبے میں ہم ایکسپورٹ کرتے ہیں۔ اگر آپ فیصل آباد میں بند ہو جانے یا بہت کم پیداوار پر آ جانے والی ٹیکسٹائل ملوں کے اعداد و شمار اکٹھے کریں تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ یہ ملیں بھی بوجوہ اپنی استعداد سے بہت کم کپڑا بنا رہی ہیں اور ہماری برآمدات بہت کم ہو گئی ہیں۔ ہم قرض کم کرنے کے بجائے مزید قرض لیتے ہیں اور اس قرض کی رقم نئے نئے معاشی منصوبے شروع کرنے اور نئے کارخانے لگانے کے بجائے پہلے سے لیے گئے قرضوں کا سود ادا کرنے اور اللوں تللوں میں اڑا دی جاتی ہے۔جون 2023ء میں ہمارے ذمے 71 کھرب روپے کا قرضہ واجب الادا تھا۔ دسمبر 2025ء میں یہ بڑھ کر تقریباً 79 کھرب ہو گیا۔ 2023ء میں ہمارے ذمے تقریباً 131ارب ڈالر بیرونی قرضہ تھا جو کم ہونے کے بجائے دسمبر 2025ء میں 138 ارب ڈالر ہو گیا۔ موجودہ حکومت بیرونی قرضوں کے ساتھ ساتھ ملکی بینکوں سے بھاری شرح سود پر بڑے بڑے قرضے لے کر ڈنگ ٹپا رہی ہے۔ عالمی بینک کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق تقریباً 45 فیصد پاکستانی خطِ غربت سے نیچے کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ان کی یومیہ آمدنی تین ڈالر سے بھی کم ہے۔ شدید مہنگائی میں آبادی کے اتنے بڑے حصے کو دو وقت کی روٹی بھی میسر نہیں۔ ان کے بچے بدترین غذائی قلت کی بنا پر ہڈیوں کا ڈھانچہ بن کر رہ گئے ہیں۔ موجودہ حکومت جب سے آئی ہے بڑی بڑی بیرونی سرمایہ کاری کے سبز باغ تو دکھا رہی ہے مگر سرمایہ کاری کے بجائے قرضوں میں بے تحاشا اضافہ کرتی جا رہی ہے۔عید کے دنوں میں ایک دو ایسی مجالس میں شرکت کا موقع ملا کہ جہاں ہمارے معاشی احوال سے براہِ راست متعلق چند شخصیات موجود تھیں۔ ایک صاحب کا کہنا تھا کہ ہمارے نام نہاد اقتصادی ماہرین بیرونی سرمایہ داروں کے سامنے پاکستان میں سرمایہ کاری کے عمومی فائدوں کا ایک عام آدمی کی طرح ذکر تو کرتے ہیں مگر فنی لحاظ سے سرمایہ کاری کے منصوبوں کی فزیبلٹی بنانے کی صلاحیت نہیں رکھتے‘ لہٰذا ایم او یوز سے آگے بات نہیں بڑھتی۔ متحدہ عرب امارات نے ہمیں بھاری شرح سود پر صرف دو ارب ڈالر کا قرضہ سٹیٹ بینک میں سیف ڈپازٹ کے طور پر دے رکھا تھا‘ وہ بھی انہوں نے واپس مانگ لیا ہے۔ قرض دینے والا جب چاہے اپنی رقم واپس طلب کر سکتا ہے مگر دیکھنا یہ ہے کہ ہمارے حکمرانوں کی عرب دنیا میں آنیاں جانیاں محض سیر سپاٹے تک محدود رہی ہیں اور وہ کوئی بڑی سرمایہ کاری لانے میں ناکام رہے ہیں۔اب تو امریکہ نے دنیا کو ایران سے تیل خریدنے کی خود اجازت دے دی ہے۔ یہ اجازت ملتے ہی بھارت نے ایران سے تیل منگوانا شروع کر دیا۔ اب ہمیں ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن کے زیرِ التوا منصوبے کو بلا تاخیر مکمل کر لینا چاہیے۔ نیز ایران سے سستا تیل بھی منگوانا شروع کر دینا چاہیے۔ ہماری معاشی حالت تب سدھرے گی جب ہماری حکمران اشرافیہ سدھرے گی۔ ہم اپنے حکمرانوں سے سیکنڈے نیوین ممالک کے سائیکل سوار حکمران بننے کی توقع تو نہیں رکھتے مگر کم از کم انہیں جنوبی ایشیا کے حکمرانوں جیسی سادگی تو اپنا لینی چاہیے۔ ہمارے حکمرانوں اور ان کے اقتصادی مشیروں کو یہ تو معلوم ہونا چاہیے کہ قرضوں کی دلدل میں دھنس کر کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_70033906.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کفایت شعاری۔ دعوے اور حقائق(شاہد کاردار)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-kardar-/2026-04-07/51723/77547061</link><pubDate>Tue, 07 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-kardar-/2026-04-07/51723/77547061</guid><description>ایران جنگ شروع ہونے کے بعد اگرچہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے کفایت شعاری کیلئے بعض اقدامات کیے ہیں لیکن یہ کافی نہیں کیونکہ حکومت کے مالیاتی نظام کا بحران اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ یہ منہدم ہونے کے قریب دکھائی دیتا ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو ٹیکس وصولی کا ہدف حاصل نہیں کر سکا۔ اس نے مقررہ ہدف کے مقابلے میں 610 ارب روپے کم جمع کیے ہیں۔ اس کے باوجود بڑے پیمانے پر کوئی ایسی سنجیدہ کوشش دکھائی نہیں دیتی جس کے ذریعے ملک میں رائج بے تحاشا سرکاری اخراجات اور مراعات کے کلچر کو مستقل طور پر ختم کیا جا سکے یا کم از کم اس میں نمایاں کمی لائی جا سکے۔سرکاری اخراجات آمدن سے کہیں زیادہ ہو چکے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں حکومت نے عوام کو تو کفایت شعاری کا بہت درس دیا لیکن خود فضول خرچیاں کرتی رہی۔ مثال کے طور پر گزشتہ تین برسوں میں وفاقی اور صوبائی بجٹوں میں تنخواہوں اور مراعات کی مد میں 65 فیصد اضافہ ہوا‘ جو افراطِ زر کی شرح سے کہیں زیادہ ہے۔ سرکاری مراعات کے اس کلچر کی جڑیں نہایت مضبوط ہو چکی ہیں حالانکہ ملک اس کا بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں رہا۔ سیاسی رہنما اور ریاستی اہلکار اکثر عوامی وسائل کو اپنی ملکیت سمجھتے ہیں۔ وہ اربوں روپے ایسے کاموں پر خرچ کر دیتے ہیں جن سے عام شہریوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا‘ بلکہ اس کے برعکس عوام کو اپنی جیب خالی کرنا پڑتی ہے تاکہ مراعات یافتہ طبقے کی عیش و عشرت برقرار رہ سکے۔کفایت شعاری کیلئے بڑے اور تسلسل کے ساتھ کیے جانے والے اقدامات کی اہمیت کا اندازہ ہم اپنی قومی معیشت کی زبوں حالی سے بخوبی لگا سکتے ہیں۔ ملک قرضوں میں جکڑا ہوا ہے۔ ہمارا مجموعی ملکی قرض (اندرونی اور بیرونی ملا کر) ٹیکس سے حاصل ہونے والی سالانہ آمدن کے مقابلے میں 650فیصد زیادہ ہے جبکہ ہمارے جیسے معاشی حجم رکھنے والے 20ممالک کا اوسط 214فیصد ہے۔ ہمیں آئندہ چار برسوں میں تقریباً 100ارب ڈالر کا بیرونی قرض واپس کرنا ہے‘ جو ہماری برآمدی آمدن کے 265 فیصد کے برابر ہے جبکہ پاکستان جیسے معاشی حجم کے ممالک میں یہ شرح 64 فیصد ہے۔ اس قرض پر سالانہ سود کی ادائیگی 3.6 ارب ڈالر ہے‘ جو 2022ء کے بعد سے 81 فیصد بڑھ چکی ہے۔ سود اور اصل زر کی واپسی مجموعی طور پر سالانہ برآمدی آمدن کا تقریباً 42 فیصد بنتی ہے۔ چین‘ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے سٹیٹ بینک میں 12.5 ارب ڈالر بطور سیف ڈپازٹ جمع کروا رکھے ہیں۔ ان تین ممالک سمیت دیگر ممالک سے دوطرفہ قرض تقریباً 34 ارب ڈالر ہے‘ جو ہمارے کل بیرونی قرض کا 38 فیصد بنتا ہے۔ قرضوں کی اس دلدل سے نکلنے کیلئے ضروری ہے کہ حکومتیں اپنے اخراجات میں کمی کریں اور اپنی چادر کے مطابق پاؤں پھیلائیں۔ آئیے اب سرکاری اخراجات کے بنیادی مسائل کا جائزہ لیتے ہیں۔ضرورت سے بڑا وفاقی ڈھانچہ: اٹھارہویں ترمیم کے تحت متعدد ذمہ داریاں صوبوں کو منتقل کی جا چکی ہیں لیکن اس کے باوجود وفاقی حکومت کا حجم مسلسل بڑھتا گیا ہے۔ اس وقت وفاق کے پاس 42 ڈویژنز‘ 400 سے زائد محکمے اور تقریباً ساڑھے چھ لاکھ ملازمین ہیں۔ اگر نام نہاد خودمختار اداروں کو بھی شامل کیا جائے تو یہ تعداد گیارہ لاکھ سے تجاوز کر جاتی ہے۔ ان میں سے کئی ادارے قیمتی کمرشل زمینوں پر قائم ہیں۔ اسلام آباد کے بلیو ایریا سے گزرنے پر متعدد ایسے سرکاری ادارے دکھائی دیتے ہیں جنہیں عجیب و غریب نام دیے گئے ہیں‘ اور شاید ہی کوئی واضح طور پر بتا سکے کہ وہ عملی طور پر کیا خدمات انجام دے رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے بہت سے اداروں کے فرائض غیرضروری یا متروک ہو چکے ہیں۔ حکومت نئی نئی ایجنسیاں قائم کرتی ہے اور ملازمتیں پیدا کرتی ہے جبکہ غیر ضروری ادارے ختم نہیں کیے جاتے کیونکہ ان سے فائدہ اٹھانے والے عناصر ان کی بندش کی ہر کوشش کو ناکام بنا دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر مالی سال 2024-25ء میں وفاق اور صوبوں نے 65 سے زائد نئے ادارے قائم کیے یا پرانے اداروں میں توسیع کی۔ سیاستدان ڈویژنز کے انضمام کی مخالفت کرتے ہیں کیونکہ کم ڈویژنز کا مطلب کم وزارتی عہدے ہیں‘ جبکہ بیوروکریسی بھی اس لیے مزاحمت کرتی ہے کہ سیکریٹری سطح کی اسامیوں میں کمی سے اختیارات اور مراعات متاثر ہوتی ہیں۔صوبائی حکومتوں کی ابتری: دوسری جانب صوبائی حکومتیں بڑے پیمانے پر روزگار فراہم کرنے والے دفاتر کی شکل اختیار کر چکی ہیں۔ یہاں افسران کو مختلف قسم کے الاؤنسز دیے جاتے ہیں۔ ملازمین کی فہرست میں غیرہنر مند چپڑاسیوں‘ چوکیداروں‘ ڈرائیوروں اور کلرکوں کی بھرمار ہے جبکہ حقیقی مہارت رکھنے والے پیشہ ور افراد کی کمی ہے۔ پنجاب میں 2000ء میں 22 محکمے تھے‘ جو اَب بڑھ کر 48 ہو چکے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی پنشن کا مجموعی بوجھ 3500 ارب روپے سے تجاوز کر گیا ہے‘ جس میں 2600 ارب روپے ان سرکاری کاروباری اداروں اور جامعات کا بوجھ بھی شامل ہے جن کی ضمانت حکومت نے لے رکھی ہے۔ریگولیٹری اداروں کی بھرمار اور ترقیاتی فنڈز کا ضیاع: ملک میں حکومت کے قائم کردہ ایک سو سے زائد ریگولیٹری ادارے موجود ہیں‘ جن کی وجہ سے مارکیٹ کا قدرتی توازن متاثر ہوتا ہے‘ مارکیٹ فورسز کو آزادانہ کام کرنے کا موقع نہیں ملتا‘ معاشی سرگرمیاں محدود ہو جاتی ہیں اور کاروبار کرنے کی لاگت بڑھ جاتی ہے۔ خودمختار اداروں کے نقصانات‘ سبسڈی کے اخراجات اور سرکاری املاک کی حقیقی مارکیٹ ویلیو سے فائدہ نہ اٹھانے کے منفی اثرات بالآخر وفاقی حکومت کو برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ مزید یہ کہ ہر سال ایک ہزار ارب روپے سے زائد رقم ایسے کاموں پر خرچ ہو جاتی ہے جو پہلے ہی صوبوں کو منتقل کیے جا چکے ہیں یا ایسے منصوبوں اور اداروں پر لگائی جاتی ہے جن کی ذمہ داری صوبوں کو اٹھانا چاہیے۔ ان مقاصد کے حصول کیلئے بہتر اور زیادہ مؤثر متبادل طریقے بھی موجود ہیں لیکن ان پر توجہ نہیں دی جاتی۔صورتحال کو مزید پیچیدہ بنانے والا ایک اور اہم عامل یہ ہے کہ وفاقی حکومت سیاسی نوعیت کے ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کرتی رہتی ہے‘ جن کے فوائد اور نقصانات کا کوئی مؤثر جائزہ لینے کا نظام موجود نہیں۔ یہ منصوبے بظاہر کم لاگت سے شروع کیے جاتے ہیں حالانکہ ابتدا ہی میں واضح ہوتا ہے کہ وقت کے ساتھ ان کی مدت اور لاگت دونوں میں اضافہ ہو گا۔ مثال کے طور پر نیلم جہلم منصوبے کا ابتدائی تخمینہ 85 ارب روپے تھا‘ جو بڑھ کر 800 ارب روپے تک جا پہنچا‘ اور اب یہ منصوبہ بند پڑا ہے۔ اسی طرح اسلام آباد ایئرپورٹ کا ابتدائی تخمینہ 150ا رب روپے تھا‘ جو بڑھ کر تقریباً ایک ہزار ارب روپے تک پہنچ گیا۔ منصوبوں کی منظوری کے ساتھ ہی اعلیٰ عہدوں پر عملہ تعینات کر دیا جاتا ہے جبکہ گاڑیاں‘ فون اور لیپ ٹاپ جیسے وسائل اصل کام شروع ہونے سے پہلے ہی خرید لیے جاتے ہیں۔ مزید یہ کہ یہ منصوبے برسوں تعطل کا شکار رہتے ہیں۔ وفاقی ترقیاتی پروگرام کے تحت اس وقت ملک میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی تعداد 1300سے زائد ہے‘ جنہیں مکمل کرنے میں 14سے 15سال درکار ہوں گے اور اس کے باوجود ہر سال نئے منصوبے شامل کیے جاتے رہتے ہیں۔ اس صورتحال کو بہتر کیسے بنایا جائے اور حکومت کے اخراجات اور آمدن میں توازن کیسے قائم کیا جائے‘ یہ ایک نہایت اہم سوال ہے جس پر ہم آئندہ گفتگو کریں گے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_78012569.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>اقوامِ عالم کا امتحان(رشید صافی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-04-07/51724/28819492</link><pubDate>Tue, 07 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-04-07/51724/28819492</guid><description>مشرقِ وسطیٰ کی فضاؤں میں چھایا ہوا لرزہ خیز سکوت بارود کے کسی بھی روایتی دھماکے سے زیادہ ہولناک ہے‘ جو بظاہر ایک ایسی عالمی تباہی کا دیباچہ ہے جس کی تپش پوری دنیا محسوس کرے گی۔ وقت کی نبض تھم چکی ہے اور عالمی سیاست کا محور ایک ایسے آتش فشاں پر آ کھڑا ہوا ہے جو کسی بھی لمحے پھٹ سکتا ہے۔ امریکی صدر کی جانب سے ایران کو دی جانے والی حالیہ دھمکی میں جہنم جیسے الفاظ کا استعمال اور ایرانی پاور پلانٹس و بنیادی انفراسٹرکچر پر حملوں کا اعلان کیا گیا ہے۔ امریکی صدر کی یہ دھمکی محض ایک عسکری بیان نہیں بلکہ عالمی امن کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو سکتی ہے۔ آبنائے ہرمز کو کھولنے کے الٹی میٹم نے سٹرٹیجک محاذ آرائی کو ایک ایسے نکتے پر پہنچا دیا ہے جہاں سے واپسی کا ہر راستہ بارود سے بھری سرنگوں سے گزرتا ہے۔ اگر واشنگٹن امریکی صدر کے بیانات کو عملی جامہ پہناتا ہے تو یہ معرکہ کسی ایک سرحد تک محدود نہیں رہے گا۔ عسکری ماہرین کے مطابق ایران پر براہِ راست حملے کی صورت میں پراکسی وار کا وہ سلسلہ شروع ہو گا جو بحیرۂ روم سے لے کر خلیجِ عدن تک پھیل جائے گا۔ لبنان میں حزب اللہ‘ یمن میں حوثی اور عراق و شام میں موجود مزاحمتی گروہ اسے اپنے وجود کی جنگ سمجھ کر پورے خطے میں امریکی تنصیبات اور اسرائیل کو نشانہ بنائیں گے۔ مزاحمتی گروہوں کی جانب سے حملوں کا یہ سلسلہ شروع ہو بھی چکا ہے‘ جو اس بات کی علامت ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کا دفاعی توازن بگڑ چکا ہے۔ یوں یہ جنگ چند دنوں کے اندر علاقائی آگ کی شکل اختیار کر سکتی ہے‘ جس کا ایندھن وہ عالمی معیشت بنے گی جو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل پر منحصر ہے۔امریکی صدر کی دھمکی کو عالمی دفاعی حلقے ٹیکٹیکل نیوکلیئر ہتھیاروں یا کم از کم جوہری تنصیبات پر مہلک روایتی حملوں سے تعبیر کر رہے ہیں۔ اگر ایران کے ایٹمی پاور پلانٹس یا یورینیم افزودگی کے مراکز کو نشانہ بنایا گیا تو یہ ایک ایسی ماحولیاتی خودکشی ہو گی جس کی مثال انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ جوہری پلانٹ کے ڈھانچے کی تباہی سے &#39;&#39;آئسوٹوپ‘‘ اور &#39;&#39;سیزیم‘‘ جیسے مہلک تابکار عناصر فضا میں بلند ہوں گے۔ یہ اخراج کسی ایک ملک کی سرحد کا پابند نہیں ہو گا بلکہ ہوا کے دوش پر سوار ہو کر یہ موت کا بادل ہزاروں میل کا سفر طے کر سکتا ہے‘ جس سے پورا خطہ ناقابلِ رہائش بنجر زمین میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ ایٹمی ری ایکٹرز کا پگھلنا فضا میں اتنی بڑی مقدار میں تابکاری چھوڑے گا جو چرنوبل یا فوکوشیما کے حادثات سے کہیں زیادہ ہولناک ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ یہاں دانستہ بمباری ہو گی۔ تابکاری ایک ایسا غنیم ہے جو نظر نہیں آتا لیکن نسلوں کو اپاہج کر دیتا ہے۔ اگر حملوں کے نتیجے میں تابکاری کا اخراج ہوتا ہے تو اس کی شدت فوری طور پر لاکھوں انسانوں کو ریڈی ایشن سِکنس میں مبتلا کر دے گی۔ انسانی جسم کے خلیات اور ڈی این اے اس زہر سے بری طرح متاثر ہوں گے‘ جس کے نتیجے میں کینسر جیسی موذی بیماریاں وبا کی طرح پھیلیں گی۔ سب سے ہولناک پہلو یہ ہے کہ یہ اثرات صرف موجودہ نسل تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ آئندہ پیدا ہونے والے بچے جینیاتی معذوریوں کا شکار ہوں گے۔ تابکاری انسانی جینز کے اندر وہ تبدیلیاں لاتی ہے جو صدیوں تک سفر کرتی ہیں‘ یعنی یہ حملہ صرف آج کے انسانوں پر نہیں بلکہ ان کے مستقبل پر بھی ہو گا۔ مٹی کی زرخیزی اور سمندری حیات کا خاتمہ خوراک کے ایک ایسے بحران کو جنم دے گا جس سے نکلنے میں دہائیاں نہیں بلکہ صدیاں لگیں گی۔ یوں جو لوگ براہِ راست بمباری سے بچ جائیں گے وہ بھوک‘ پیاس اور بیماریوں کے ہاتھوں بتدریج موت کے منہ میں چلے جائیں گے۔ایران کی جغرافیائی پوزیشن ایسی ہے کہ وہاں ہونے والی کسی بھی ایٹمی یا تابکار تباہی کا پہلا شکار اس کے ہمسایہ ممالک ہوں گے۔ ہواؤں کے رخ سے متحدہ عرب امارات‘ قطر‘ بحرین اور کویت وہ پہلے ممالک ہوں گے جہاں تابکار بادل چند گھنٹوں میں ڈیرے ڈال لیں گے۔ ان ممالک کے جدید ترین شہر‘ جو اپنی چمک دمک کیلئے مشہور ہیں‘ اچانک ایک سنسان قبرستان کا منظر پیش کرنے لگیں گے کیونکہ تابکاری سے بچنے کا واحد راستہ ان شہروں کو خالی کرنا ہو گا۔ سعودی عرب اور عمان کے ساحلی علاقے اس ہولناکی کی زد میں آئیں گے‘ جہاں ساحلِ سمندر پر رہنے والی کروڑوں کی آبادی کو فوری انخلا کے چیلنج کا سامنا ہو گا۔ مشرق کی جانب پاکستان کا صوبہ بلوچستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے براہِ راست متاثر ہوں گے۔ سیستان و بلوچستان کے ایرانی حصے میں ہونے والا کوئی بھی حادثہ پاکستانی سرحد کے اندر تابکار گرد اڑا لائے گا۔ اس لیے یہ ایک ایسی زنجیر ہے جس کی ایک کڑی ٹوٹنے سے پورا خطہ زندگی کی نعمت سے محروم ہو سکتا ہے۔ افغانستان پہلے ہی دہائیوں کی جنگ سے نڈھال ہے‘ اس نئی آفت کے سامنے مکمل طور پر بے بس ہو جائے گا۔خلیج کے پانیوں میں تابکاری شامل ہونے سے پینے کے پانی کی فراہمی (Desalination Plants) مفلوج ہو جائے گی۔ خلیجی ممالک کی اکثریت سمندری پانی کو میٹھا بنا کر استعمال کرتی ہے۔ اگر سمندر ہی تابکار ہو گیا تو یہ پلانٹس زہر سپلائی کرنے لگیں گے۔ پانی کی فراہمی بند ہونے کا مطلب یہ ہے کہ کروڑوں انسان پیاس سے مرنے کے دہانے پر پہنچ جائیں گے۔ ایندھن کے بحران کے بعد پانی کا یہ بحران اس جنگ کو ایک ایسے موڑ پر لے آئے گا جہاں انسان ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو جائیں گے اور انسانی تمدن کی بنیادیں ہل کر رہ جائیں گی۔ اس لیے امریکی صدر کو ایران پر مزید حملوں سے روکنے کیلئے صرف روایتی مذمت اور بیانات کافی نہیں۔ یہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کا اصل امتحان کا وقت ہے۔ سلامتی کونسل کو فوری طور پر مداخلت کرنی چاہیے تاکہ کسی بھی ملک کو جوہری تنصیبات پر حملے سے روکا جا سکے۔ اگر واشنگٹن کی اس مہم جوئی کے سامنے بند نہ باندھا گیا تو یہ بین الاقوامی قانونی ڈھانچے کا وہ انہدام ہو گا جس کے نتیجے میں عالمی ضابطے اپنی اہمیت کھو دیں گے اور کرۂ ارض پر انسانی اقدار کے بجائے لاقانونیت کا راج ہو گا۔جنگ کے معاشی اثرات اس قدر گہرے ہو سکتے ہیں کہ کوئی بھی ملک اس سے محفوظ نہیں رہے گا۔ تیل کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں گی جس سے عالمی ٹرانسپورٹیشن اور مینوفیکچرنگ لاگت میں ناقابلِ یقین اضافہ ہو گا اور دنیا ایک ایسی معاشی سرد جنگ میں داخل ہو جائے گی جہاں ہر ملک اپنے وسائل بچانے کی فکر میں ہو گا۔ یہ معاشی عدم استحکام خود امریکہ کے اندر سیاسی بحران پیدا کرے گا لیکن اس وقت تک شاید بہت دیر ہو چکی ہو گی۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کا موجودہ منظرنامہ محض دو ممالک کا تصادم نہیں بلکہ یہ زمین پر زندگی کی بقا کا سوال ہے۔ جوہری پلانٹس پر حملے کی صورت میں نکلنے والی تابکاری کسی کا پاسپورٹ‘ مذہب یا نظریہ نہیں پوچھے گی‘ وہ صرف موت بانٹے گی۔ اس سے پہلے کہ امریکی صدر دھمکیوں کو عملی شکل دیں اور امریکی حملے جدید انسانی تاریخ کا سیاہ ترین باب بن جائیں‘ اقوامِ عالم کو عملی کردار ادا کرنا چاہیے۔ بالخصوص دنیا کے مؤثر ممالک کو آگے بڑھ کر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے امریکی صدر کو انتہائی اقدام سے روکنا ہو گا کیونکہ انسانیت کو بچانے کا واحد راستہ امن‘ مذاکرات اور ایک دوسرے کے وجود کا احترام ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/222_48272610.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>گاہے گاہے باز خواں! …(2)(حافظ محمد ادریس)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/hafiz-muhammad-idreess/2026-04-07/51725/47838500</link><pubDate>Tue, 07 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/hafiz-muhammad-idreess/2026-04-07/51725/47838500</guid><description>گورنر مغربی پاکستان ایئر مارشل نور خان سے ملاقات کر کے ہم باہر نکلے تو جہانگیر بدر اور بارک اللہ خان باہر کھڑے تھے۔ واضح رہے کہ جہانگیر بدر اس وقت تک ہمارے تنظیمی حلقہ میں باقاعدہ کارکن نہیں تھے مگر وہ طلبہ سیاست میں ہمارے ہی ایک سیاسی کارکن تھے جو ہیلے کالج میں زیر تعلیم اور ہماری حمایت سے کالج یونین کے صدر منتخب ہوئے تھے۔ اس وقت تک ہمارے باہمی ذاتی تعلقات بہت خوشگوار تھے۔ ایئر مارشل (ر) نور خان کی تعلیمی پالیسی میں یونیورسٹی آرڈیننس اور یونیورسٹی یونین کے بارے میں بھی کچھ سفارشات تھیں مگر اِس وقت مجھے ان کی صحیح نوعیت اور تفصیل یاد نہیں؛ البتہ ہم نے عرض کیا تھا کہ جامعہ پنجاب کی یونین بحال ہونی چاہیے کیونکہ یہ ہمارا اور سبھی طلبہ وطالبات کا متفقہ مطالبہ ہے۔ اُس دور میں پنجاب یونیورسٹی میں اساتذہ کی ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جس کے سربراہ شعبہ انگریزی کے استاذ پروفیسر سراج تھے۔ انہی کے نام کی نسبت سے یہ کمیٹی سراج کمیٹی کے نام سے معروف ہوئی۔ سراج کمیٹی کو یونین کی بحالی کے بارے میں طلبہ نمائندوں سے صلاح مشورہ کر کے اپنی سفارشات مع مجوزہ دستور‘ یونیورسٹی سینیٹ کو پیش کرنا تھیں۔ اس کمیٹی کی تشکیل ہوتے ہی جمعیت نے مختلف یونیور سٹیوں اور کالجوں کی طلبہ یونینز کے دساتیر کی مدد سے ایک نہایت جامع دستوری خاکہ مرتب کیا۔ تنظیم کے ناظم کی حیثیت سے کمیٹی کے سامنے یہ خاکہ پیش کرنے کی ذمہ داری مجھے سونپی گئی۔ سراج کمیٹی نے بھی اپنی طرف سے ایک خاکہ شائع کیا تھا اور اس میں طلبہ نمائندوں کو ترامیم پیش کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ کمیٹی نے سینیٹ ہال میں اجلاس منعقد کیا۔ مجھے یاد ہے کہ طلبہ تنظیموں کی طرف سے عملی دستوری خاکہ صرف ہم نے ہی پیش کیا تھا۔ کمیٹی کے ہر رکن کو میں نے کاپی پیش کی اور اجلاس کے دوران اپنے مجوزہ خاکے کے متن کی تشریح بھی کی۔ کمیٹی کے ارکان کے نام یاد نہیں رہے؛ البتہ ایک رکن پروفیسر صاحب نے اپنی گفتگو میں ہماری پیش کردہ مثبت تجاویز کی تحسین فرمائی۔تاریخ تو یاد نہیں مگر یہ وہی دن تھا جس دن ہیلے کالج یونین کے انتخابات ہو رہے تھے۔ ہم یونیورسٹی سینیٹ ہال سے اجلاس ختم ہونے کے بعد باہر نکل ہی رہے تھے کہ ہیلے کالج کے طلبہ کا ایک جلوس یونیورسٹی کیمپس آ پہنچا۔ ہمارے دو حمایت طلبہ اور میرے ذاتی دوست صدر اور سیکرٹری منتخب ہوئے تھے۔ یہ بالترتیب جہانگیر بدر اور اعظم ملک تھے۔ جہانگیر بدر جن کو بعد میں حالات نے ہمارے مخالف کیمپ میں پہنچا دیا تھا‘ سیاسی مزاج رکھنے والے ہمارے بڑے اچھے حامیوں میں سے تھے۔ اس موضوع پر بہت کچھ لکھنے کو ہے مگر زیادہ تفصیل میں جانے کو جی نہیں چاہ رہا۔ سینیٹ ہال کے باہر ہم نے جہانگیر بدر (صدر) اور اعظم ملک (سیکرٹری) کو کامیابی پر مبارکباد دی اور باہم گلے ملے۔ دونوں طالب علم رہنمائوں نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے اپنی کامیابی کو طلبہ اتحاد کی کامیابی قرار دیا۔ طلبہ سیاست کے معروضی حالات میں ہمارے لیے ان کی کامیابی بڑی خوش آئند اور مسرت کا باعث تھی۔ ملک محمد اعظم مرحوم جوانی ہی میں وفات پا گئے اور آخری دم تک تحریک اسلامی کے ساتھ وابستہ رہے۔ اللہ ان کے درجات بلند فرمائے۔اجلاس سے فارغ ہونے کے بعد جب میں ہال سے باہر آیا تو بہت سے حامی طلبہ نے نتائج کے بارے میں پوچھا۔ میں نے مختصراً کہا: مثبت اور نتیجہ خیز‘ ان شاء اللہ! سراج کمیٹی کے ارکان نے اپنی کئی مجلسوں میں طلبہ یونین کے امور ومعاملات اور الیکشن کے موضوع پر بحث کی تھی۔ یہ آخری اجلاس طلبہ تنظیموں کے ساتھ اس روز سینیٹ ہال میں ہوا جو کافی طویل تھا۔ اس کے بعد کمیٹی نے یونین کی بحالی کی سفارش کی اور یہ سفارش منظور بھی ہو گئی مگر یونین کے عملاً بحال ہونے اور باقاعدہ انتخاب منعقد ہونے میں مزید کئی ماہ لگ گئے۔ یہ مارشل لاء کا زمانہ تھا اور ملک میں سیاسی جماعتوں کی جدوجہد اور پبلک سرگرمیوں پر مکمل پابندی تھی‘ تاہم چار دیواریوں کے اندر سب پارٹیوں کے اجلاس حسبِ حال منعقد ہوتے رہتے تھے۔یحییٰ خانی مارشل لاء کے دور میں مغربی پاکستان میں بھٹو نے اور مشرقی پاکستان میں مجیب اور بھاشانی نے جمعیت طلبہ کے مقابلے پر اپنی حامی تنظیموں کو منظم کرنے کی جانب خاصی توجہ دی۔ مشرقی پاکستان میں تو جمعیت کے مخالفین نے چھ نکات کے طوفانی اثرات سے فائدہ اٹھا کر خاصی قوت بہم پہنچائی تھی مگر مغربی پاکستان میں بھٹو کا روٹی‘ کپڑے اور مکان کا نعرہ طلبہ کو اس طرح مسحور نہ کر سکا جس طرح اس نے مغربی پاکستان بالخصوص پنجاب اورسندھ میں عوام الناس کو متاثر کیا تھا۔ عوام نے بھٹو کو نجات دہندہ اور مسیحا کا درجہ دے کر دیوانہ وار نعرے لگانا شروع کر دیے تھے۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ تعلیمی اداروں میں بھی طلبہ و اساتذہ کے درمیان بھٹو کے حامی روز بروز بڑھتے جا رہے تھے‘ اگرچہ عوام کی نسبت طلبہ و اساتذہ میں ان کی تعداد کم تھی۔مغربی پاکستان میں بحیثیت مجموعی اس دور میں بھی بائیں بازو کے طلبہ کی کہیں دال نہ گلی۔ پی ایس ایف کے ساتھ پی ایس او کی بنیاد رکھی گئی۔ پھر دونوں میں اتحاد بھی کرایا گیا مگر وہ کوئی میدان نہ مار سکے۔ مشرقی پاکستان میں جمعیت مخالف طلبہ تنظیمیں کافی طاقتور تھیں۔ اس دور کا مشہور تاریخی واقعہ ہمارے نہات عزیز دوست اور پُرعزم ساتھی عبدالمالک کی شہادت ہے۔ عبدالمالک شہید ڈھاکہ جمعیت کے ناظم اور ڈھاکہ یونیورسٹی کے نہایت ہونہار طالبعلم تھے۔ ان کی جرأت اور بے باکی عوامی لیگ کی طلبہ تنظیم &#39;چھاترو لیگ‘ اور دیگر سیکولر طلبہ تنظیموں کو بہت کَھلتی تھی۔ ڈھاکہ یونیورسٹی کیمپس میں طلبہ کے ایک جلسہ عام میں عبدالمالک بھائی نے سیکولر عناصر کو چیلنج کیا اور اپنی بے پناہ ذہانت اور فصاحت وبلاغت سے ان کو لاجواب کر کے حاضرین کے دل موہ لیے۔ اس ہزیمت کا بدلہ لینے کیلئے بدبخت غنڈوں نے اگلے ہی روز بڑی تعداد میں اس عظیم نوجوان پر یونیورسٹی کے احاطے میں حملہ کیا جس کے نتیجے میں عبدالمالک شدید زخمی ہو گئے۔ 13 اگست 1969ء کو وہ زخمی ہوئے اور 15 اگست کو ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لا کر جام شہادت نوش کر گئے۔ اللہ تعالیٰ اس عظیم مجاہد اور زندہ جاوید شہید کی قبر کو نور سے بھر دے‘ آمین! اس نے البدر اور الشمس کے جیالے مجاہدین کیلئے روشنی کا مینار تعمیر کر دیا تھا جنہوں نے اپنے مادرِ وطن کے دفاع کیلئے ایک تاریخ رقم کر دی۔ یہ بھی ہماری تاریخ کا المیہ ہے کہ وطن کا دفاع کرنے والے ان سپوتوں (رضا کاروں) کو بنگلہ دیش حکومت نے تو گردن زدنی قرار دیا ہی تھا مگر سرزمین پاک جس کیلئے انہوں نے بے لوث قربانیاں دی تھیں‘ اس نے بھی ان کی قدر نہ کی۔ یہاں کے کئی نام نہاد دانشور ان کو باغی اور دہشت گرد تک قرار دیتے رہے۔ کس اصول کے تحت؟ اس کا کوئی معقول جواب ان کے پاس نہیں ہے۔قدرت کا کمال دیکھیے کہ اگست 2024ء کے آغاز میں طویل عرصے کی بدترین آمریت‘ ظلم وستم اور جعلی عدالتوں کے ذریعے بے گناہ شہریوں کو موت کے گھاٹ اتارنے‘ نیز ہزاروں بنگالیوں کا قتل عام کرنے والی ظالم حسینہ واجد عبرتناک انجام کو پہنچ گئی۔ اس کے خلاف نوجوان اور طلبہ ملک کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک سروں پر کفن باندھ کر اٹھ کھڑے ہوئے تو دنیا کو بہت سے جعلی تصورات اور جھوٹے‘ لغو الزامات پر قائم آمریت کی اصلیت وحقیقت معلوم ہوئی۔ اب ہر نوجوان کی زبان پر تھا: میں کون؟ رضا کار! تُو کون؟ رضا کار! ہم سب کون؟ رضا کار! اسی دھرتی پر رضا کار کو غدار اور گردن زدنی قرار دیا گیا تھا‘ اب یہی لفظ عزت کی پہچان اور وقار کا نشان بن چکا ہے۔ مکتی باہنی کے مقابلے پر ڈٹ کر ملک کی سالمیت کا دفاع کرنے والے تنخواہ یافتہ کارندے نہیں‘ رضاکار تھے جو غدار اور گردن زدنی قرار پائے۔ بنگلہ دیش میں حکومت اور ذرائع ابلاغ نے لفظ رضاکار کو ایک بدترین گالی کا ہم معنی بنا دیا تھا۔ (جاری)</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_24721193.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>