<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>مشرقِ وسطیٰ میں نئی کشیدگی(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-03/11506</link><pubDate>Thu, 03 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-03/11506</guid><description>امریکہ اور ایران کے درمیان عسکری تصادم کی نئی لہر نے مشرقِ وسطیٰ کو ایک بار پھر ایسی ہولناک اور بے قابو جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے جس کے شعلے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے رہے ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے جنوبی ایران کے ساحلی علاقوں‘ جزیرہ قشم اور بندر عباس میں مختلف تنصیبات پر بمباری کی گئی جس کے جواب میں ایران نے اردن‘ کویت‘ بحرین‘ عراق اور متحدہ عرب امارات میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔ دو طرفہ حملوں کی حالیہ شدت یہ ظاہر کر رہی ہے کہ گزشتہ پانچ ماہ کے دوران امن کی جانب جو فاصلہ طے کیا گیا تھا‘ وہ شدید خطرے کی زد میں ہے۔ جنگ کی سنگین صورتحال‘ اس کے علاقائی اثرات اور اس کے نتیجے میں جنم لینے والے انسانی اور معاشی بحران نے پوری دنیا کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ انسانی المیہ اس وقت مزید سنگین ہو جاتا ہے جب شہری اجتماعات اور سول تنصیبات کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ امریکہ کی جانب سے ایران کے صوبہ ہرمزگان میں ایک ایسے گھر پر میزائل داغا گیا جہاں شادی کی تقریب جاری تھی۔اس موقع پر پانچ اموات کی اطلاعات ہیں۔

یہ حملہ رواں سال فروری میں بچیوں کے سکول پر امریکی میزائل حملے کا اعادہ ہے۔ شہری آبادی‘ سکولوں اور ہسپتالوں پر حملے نہ صرف جنگی قوانین اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہیں بلکہ یہ امریکہ مخالف جذبات کو ہوا دینے اور جنگ کی آگ کو مزید بھڑکانے کا سبب بن رہے ہیں۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بلاک کرنے کا اعلان بھی سامنے آیا ہے‘ جس نے عالمی معیشت کو مزید دھچکا پہنچایا ہے۔تیل کی قیمتیں اس وقت برطانوی منڈی میں 95ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہیں۔ آبنائے ہرمز توانائی کی ترسیل کی اہم ترین گزرگاہ ہے‘ جہاں سے دنیا کو فراہم کیے جانے والے کل خام تیل کا تقریباً20 فیصد گزرتا ہے۔ ابھی دنیا مارچ‘ اپریل کے انرجی بحران ہی سے نمٹنے میں مصروف تھی کہ تازہ بندش نے تیل کی قیمتوں میں نیا اچھال برپا کر دیا ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمتیں بلند ترین سطح پر ہیں جبکہ رسد میں تعطل کے خدشے کی وجہ سے معاشی کساد بازاری کا خطرہ سنگین ہو چکاہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے اس بگڑتے ہوئے منظرنامے کے ہنگام پاکستان کا سفارتی محاذ پر مسلسل متحرک رہنا خوش آئند ہے۔
دفتر خارجہ نے حالیہ کشیدگی کو تشویشناک اور ناپسندیدہ قرار دیا ہے‘ تاہم متحارب ممالک کی مذاکرات کی طرف واپسی کے حوالے سے عزم اور امید کا اظہار بھی کیا ہے۔ پاکستان کا یہ اصولی مؤقف رہا ہے کہ جنگ کبھی مسئلے کا پائیدار حل نہیں ہو سکتی اور طاقت کا استعمال صرف تباہی لاتا ہے۔اسلام آباد نے ہمیشہ فریقین پر زور دیا کہ وہ اشتعال انگیزی کے بجائے سفارتکاری سے معاملے کو سلجھانے کی کوشش کریں کیونکہ عالمی اور علاقائی امن کے تحفظ کا یہی واحد راستہ ہے۔ موجودہ تعطل کو ختم کرنے اور مشرقِ وسطیٰ کو مستقل بنیادوں پر پُرامن بنانے کیلئے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت اور فریم ورک معاہدہ ہی وہ واحد قابلِ عمل راستہ ہے جو دونوں ممالک کو مستقل اور پائیدار جنگ بندی کی طرف لے جا سکتا ہے۔
پاکستان اور قطر کی ثالثی سے تیار کیا جانے والا یہ فریم ورک ایسا جامع دستاویز ہے جس میں دونوں ممالک کے جائز تحفظات کو دور کرنے اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کیلئے تمام ضروری نکات شامل کیے گئے۔ جنگ کی طوالت نہ تو واشنگٹن کو اس کے جیو پولیٹکل مقاصد حاصل کرنے میں مدد دے گی اور نہ ہی تہران کے تحفظات کو دور کر پائے گی۔ ضروری ہے کہ امریکہ اور ایران میدانِ جنگ کو چھوڑ کر اسلام آباد فریم ورک کے تحت مذاکرات کی میز پر آئیں۔ پائیدار امن اور عالمی استحکام صرف مذاکرات اور سفارتکاری میں ہی پنہاں ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کرکٹ کی زبوں حالی(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-03/11505</link><pubDate>Thu, 03 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-03/11505</guid><description>لارڈز ٹیسٹ میں شکست کے بعد کرکٹ بورڈ کی جانب سے ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کرنیوالے سات کھلاڑیوں کی واپسی اور ٹیسٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ اور باؤلنگ کوچ سے ذمہ داریاں واپس لینے پرہنگامہ مچا ہوا ہے۔ کرکٹ نہ صرف پاکستانیوں کا پسندیدہ کھیل ہے بلکہ قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کو بہترین سہولتیں‘ تربیتی مواقع اور بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتیں منوانے کے بھرپور مواقع بھی میسر ہیں‘ لیکن اسکے باوجود کارکردگی کا گراف مسلسل نیچے جا رہا ہے۔ گزشتہ 27 ٹیسٹ میچوں میں 18 شکستیں‘ دو ڈرا اور صرف سات فتوحات اس صورتحال کی سنگینی واضح کرنے کیلئے کافی ہیں۔ انگلینڈ کیخلاف حالیہ ٹیسٹ سیریز بھی اسی زوال کی ایک اور افسوسناک مثال ہے۔ چاروں اننگز میں پاکستان 200 رنز کا ہندسہ عبو نہ کر سکا۔ ٹیم کا کوئی بھی شعبہ مضبوط دکھائی نہیں دیا۔

بیٹنگ میں تسلسل اور مزاحمت کا فقدان تھا‘ باؤلنگ میں وہ دباؤ اور جارحیت نظر نہیں آئی جو انگلینڈ جیسی ٹیم کے خلاف ضروری تھی۔ تاہم سوال صرف کھلاڑیوں کا نہیں‘ بورڈ اور ٹیم مینجمنٹ کا بھی ہے۔ انتظامیہ کو ٹیم میں بار بار اکھاڑ پچھاڑ کے بجائے ایک واضح‘ طویل مدتی اور میرٹ پر مبنی پالیسی بنانا ہو گی۔ ساتھ ہی ڈومیسٹک کرکٹ کا معیار بلند کرنے‘ نوجوان کھلاڑیوں کی مناسب تربیت‘ فٹنس کے سخت معیار‘ جدید کوچنگ اور کارکردگی کے شفاف احتساب کو یقینی بنانا ہو گا۔ قومی کرکٹ کو وقتی فیصلوں اور ہنگامی ردِعمل سے نہیں بلکہ مستقل مزاجی‘ بہتر منصوبہ بندی اور مضبوط نظام سے دوبارہ عروج کی طرف گامزن کیا جا سکتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>انسانی جان چالان سے زیادہ قیمتی(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-03/11504</link><pubDate>Thu, 03 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-03/11504</guid><description>لاہور میں ٹریفک وارڈن کی غفلت کے باعث حادثے کا شکار ہونے والا موٹر سائیکل سوار نوجوان پانچ روز تک زندگی اور موت کی کشمکش میں رہنے کے بعد جاں بحق ہو گیا۔ واقعے کی سامنے آنیوالی سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق ٹریفک وارڈن موٹر سائیکل سوار کو روکنے کیلئے سڑک کے درمیان میں آگیا‘ جسکے نتیجے میں یہ حادثہ پیش آیا۔ ٹریفک پولیس کے اپنے وضع کردہ ایس او پیز کے مطابق اہلکار کو کسی سواری کو روکنے کیلئے محفوظ فاصلے سے ہاتھ یا الیکٹرانک بٹن کے ذریعے سڑک کے کنارے رکنے کا اشارہ کرنا ہوتا ہے۔ اگر کوئی شہری نہ رکے تو اہلکار کو سواری کا نمبر نوٹ کرکے وائرلیس کے ذریعے اطلاع دینا ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ سیف سٹیز اتھارٹی کو مطلع کرکے متعلقہ سواری کو ٹریک کیا جا سکتا ہے۔

ایسی واضح ہدایات کے باوجود ایک ٹریفک وارڈن کا موٹر سائیکل سوار کو روکنے کیلئے کیا گیا یہ عمل سنگین سوال اٹھاتا ہے۔ یقینا ٹریفک قوانین کی پابندی ہر شہری کا فرض ہے‘ مگر اسکا مطلب یہ نہیں کہ خلاف ورزی کرنیوالوں کیخلاف ٹریفک اہلکار اپنے اختیارات سے تجاوز کریں اور لوگوں کی جان کو خطرے میں ڈالنے کا سبب بنیں ۔ مذکورہ وقوعے کے ذمہ دار ٹریفک اہلکار کو معطل کر دیا گیا مگر ایک قیمتی جان کا زیاں ایسا معاملہ نہیں کہ جسے معطلی سے دبادیا جائے۔ ایسے واقعات سخت محکمانہ کارروائی کا تقاضا کرتے ہیں تاکہ مثال قائم ہو اور آئندہ ایسے عمل دہرائے نہ جائیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پمز! ایسا ہی رہے گا!(محمد اظہارالحق)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-09-03/52592/84719605</link><pubDate>Thu, 03 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-09-03/52592/84719605</guid><description>&#39;&#39;آپ کو حیرت نہیں ہوئی۔ پمز میں کسی ڈاکٹر کی انگلی نہیں کٹی‘ کوئی نرس زخمی نہیں ہوئی‘ کسی فائر مین کو آگ نہیں لگی‘ اور چودہ بچے جاں بحق ہو گئے۔ کہاں تھے یہ لوگ؟ کیا سروس ڈِلیوری ہوئی؟ یہ تو فکس ہو گا۔ اسے فکس کیے بغیر اب اور گفتگو نہیں ہو گی‘‘۔ یہ دلگیر بیان وفاقی وزیر جناب مصدق ملک کا ہے۔ اب جناب پرویز رشید کی تجویز دیکھیے: &#39;&#39;سی ایم ایچ ہسپتال کی کبھی آپ نے شکایت نہیں سنی ہو گی‘ کیونکہ فوج کے سپاہی سے جنرل تک سی ایم ایچ سے اپنا علاج کرواتے ہیں۔ یہ قانون بنائیں کہ حکومت سے تنخواہ اور مراعات لینے والوں اور ان کے اہلِ خانہ کا علاج سرکاری ہسپتال میں ہو گا اور بچے سرکاری سکولز میں جائیں گے تو دنوں میں ہسپتال اور سکول عالمی معیار کے ہو جائیں گے‘‘۔کیسی مخلصانہ اور دردمند تشویش لاحق ہے ان دونوں صاحبان کو۔ دل سے ان کیلئے واہ واہ بھی اٹھتی ہے اور دعا بھی! آگے چلنے سے پہلے ایک لطیفہ‘ بلکہ ظریفانہ حکایت سن لیجیے جو مولانا احتشام الحق تھانوی مرحوم سنایا کرتے تھے۔ مغلوں کے عہدِ زوال کا واقعہ ہے۔ ایک شہزادہ پیدائش کے بعد حرم سرا ( زنان خانہ) ہی میں رہا۔ مردوں میں اُٹھا بیٹھا نہ حرم سرا سے کبھی باہر نکلا۔ یہاں تک کہ جوان ہو گیا۔ سوئے اتفاق سے حرم سرا میں کہیں سے ایک سانپ آ گیا۔ بیگمات‘ کنیزوں اور خواجہ سراؤں میں سراسیمگی پھیل گئی۔ خواتین چلائیں کہ &#39;&#39;کسی مرد کو بلاؤ‘‘۔ ساتھ ہی شہزادے نے بھی چلانا شروع کر دیا کہ کسی مرد کو بلاؤ! اب یہ جو دونوں زعما ہیں‘ جناب مصدق ملک اور جناب پرویز رشید‘ اقتدار کی اگلی صفوں میں ہیں۔ ایک صاحب وفاقی وزیر ہیں‘ اور عام وزیر نہیں طاقتور وزیر ہیں۔ دوسرے صاحب شریف خاندان کے انتہائی پرانے اور قریبی وفادار ہیں اور ایوانِ بالا کے رکن بھی! تعجب ہے کہ پالیسی سازوں میں شمار ہوتے ہوئے بھی یہ بے بس عوام کی طرح پکار رہے ہیں کہ &#39;&#39;کسی مرد کو بلاؤ!‘‘۔ جناب پرویز رشید یہ تجویز اپنے قائد جناب نواز شریف کو کیوں نہیں پیش کرتے؟ بڑے میاں صاحب کا ایک اشارہ ہو گا اور جناب پرویز رشید صاحب کی تجویز قانون کی شکل اختیار کر لے گی۔ بڑے میاں صاحب تو ساحری بھی کرنا جانتے ہیں۔ صادقین مصور تھے۔ شاعری کی طرف آئے تو شاعری کو ساحری قرار دیا۔اک بار میں ساحری بھی کرکے دیکھوںکیا فرق ہے شاعری بھی کرکے دیکھوںتصویروں میں اشعار کہے ہیں میں نےشعروں میں مصوری بھی کرکے دیکھوںمگر بڑے میاں صاحب سیاست میں ساحری کرنا جانتے ہیں۔ یہ ساحری ہی تو ہے کہ انتخابات میں دو بار شکست کھانے والے صاحب کو وزیراعظم بنا دیا۔ جو تجویز جناب پرویز رشید عوام کو دے رہے ہیں‘ وہ ازراہِ کرم بڑے میاں صاحب کی خدمت میں پیش کیجیے۔ ذرا سا اشارۂ ابرو ہو گا تو تمام وزرا اور بیورو کریسی سرکاری ہسپتالوں کا رخ کر لے گی! بات جناب پرویز رشید نے جو کی ہے‘ بہت صحیح کی ہے؛ علاج اس کا وہی آبِ نشاط انگیز ہے ساقی! اور جو کچھ جناب مصدق ملک فرما رہے ہیں (کہ یہ تو فکس ہو گا‘ اسے فکس کیے بغیر اب اور گفتگو نہیں ہوگی) تو یہ کسے کہہ رہے ہیں؟؟ آپ ایک طاقتور کابینہ کے طاقتور رکن ہیں‘ آپ لوگوں نے ہی تو فکس کرنا ہے۔ یہ بات آپ کابینہ میں کہیے۔ وزیراعظم سے کہیے۔ عوام سے کہنے کا تو کوئی فائدہ نہیں!میں جب بھی بیرونِ ملک گیا ہوں‘ اور تارکینِ وطن کی وہ باتیں سنی ہیں جن میں پاکستان کے بارے میں نا امیدی اور مایوسی ہوتی ہے تو ہمیشہ ان کی خدمت میں یہی عرض کرتا رہا ہوں کہ ایسی بات نہیں‘ ہمارا ملک اتنا بھی برا نہیں! مایوس ہونے کی کوئی بات نہیں۔ ملک کے اندر بھی یہی بات کی۔ پڑھے لکھے لوگوں کو باہر جانے سے روکنے کی کوشش کی۔ ملک کے اندر رہ کر ملک کی خدمت کرنے کی ترغیب دی۔ اس پر بہت سے لوگوں نے اختلاف بھی کیا۔ کچھ نے مذاق بھی اڑایا۔ لیکن سچ یہ ہے کہ پمز میں چودہ بچوں کی دردناک موت کے بعد میرا یقین متزلزل ہو گیا ہے۔ اب انسان کس منہ سے دوسرے سے کہے کہ یہ ملک اتنا خراب نہیں۔ یہیں رہو! ہاں! تمہاری اور تمہاری اولاد کی حفاظت کی کوئی ذمہ داری نہیں۔بچی کو بے آبرو کر کے مار دیا گیا۔ پھر کنویں میں پھینک کر اوپر لکڑیوں کا انبار ڈال دیا گیا‘ مگر قاتل کو اس لیے پولیس کے ریمانڈ میں نہیں دیا گیا کہ اس کی عمر کم ہے۔ اسے جوڈیشل ریمانڈ میں بھیجا گیا۔ صاف نظر آرہا ہے کہ اسے سزا بھی اسی حساب سے دی جائے گی۔ سوشل میڈیا جنسی حوالے سے عفریت بن چکا ہے۔ کوئی پابندی نہیں۔ پندرہ سال سے کم عمر کے لڑکے جنسی بھوک میں درندے بن رہے ہیں۔ قتل و غارت کر رہے ہیں۔ کوئی سد باب نہیں۔ مسلکی اعتبار سے سوشل میڈیا پر آگ بھڑک رہی ہے۔ یہ ہولناک آگ بجھانے کی کسی کو کوئی فکر نہیں۔ کوئی قدم نہیں اٹھایا جا رہا۔ چودہ بچوں کی ہلاکت! اور سزا کیا دی گئی؟ ذمہ داروں کو معطل کر دیا گیا۔ یعنی اس عرصے کی تنخواہ پوری ملے گی۔ برطرف نہیں کیا گیا۔ ظاہر ہے کہ کچھ عرصے کے بعد بحال بھی تو کرنا ہے۔ پہلے دو سفید ہاتھی تھے۔ پی آئی اے اور سٹیل مل۔ دہائیوں سے سرطان زدہ! خدا خدا کر کے پی آئی اے بکی۔ (یہ کہانی کہ کیسے بکی اور ریاست کے ہاتھ کیا آیا؟ لمبی ہے) پمز کو بھی پی آئی اے سمجھیں یا سٹیل مل! اربوں روپے اس ادارے کو دیے جا رہے ہیں مگر یہ کھنڈر کی صورت اختیار کر رہا ہے۔ بدعنوانی اور سفارش کا گڑھ! مریضوں کیلئے قتل گاہ! ایک معمر ڈاکٹر نے‘ جو سالہا سال اس میں رہا‘ بتایا ہے کہ ہاؤس جاب کے امیدوار ڈاکٹروں سے دو دو لاکھ روپے کا نذرانہ لیا جاتا ہے۔ یہاں پہلے کون سا سرکاری ادارہ درست ہوا ہے؟ پمز کی اصلاح کی امید کس برتے پر رکھی جائے؟ یہ جیسا ہے‘ ویسا ہی رہے گا۔ کوئی جھٹکا اسے راہِ راست پر نہیں لا سکتا۔ تقسیم کے وقت ریلوے اچھی بھلی ملی تھی۔ جی ٹی ایس (گورنمنٹ ٹرانسپورٹ سروس) کیا شاندار ادارہ تھا۔ سب ٹوٹ پھوٹ گئے۔ نااہلی اور کرپشن کا شکار ہو گئے۔ خواجہ سعد رفیق نے مرتی ہوئی ریلوے کے سانس بحال کیے مگر خواجہ صاحب زبانِ حال سے یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ: میں بہادر ہوں مگر ہارے ہوئے لشکر میں ہوں! پمز کو نجی شعبے کے حوالے کیا جائے تو عوام کچلے جائیں گے۔ دارالحکومت میں دوسرا سرکاری ہسپتال پولی کلینک ہے۔ ذرا مستقبل بینی اور دور اندیشی کا حال دیکھیے کہ آج تک سنگل سٹوری ہے۔ ایک بدنما‘ بد شکل ڈھانچہ! ایک بہت بڑی جھونپڑی!! جب بنا رہے تھے تو کسی نے نہ سوچا کہ عمارت تین یا چار منزلہ ہونی چاہیے۔سفارشی کلچر اس ملک کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ ہر نااہل کے سر پر ایک نہ ایک چھتری ہے جو اسے سزا سے بچا لیتی ہے۔ یہ فلاں کا بندہ ہے۔ اسے نہ چھیڑا جائے۔ یہ فلاں کا بندہ ہے‘ اس کا تبادلہ نہیں کرنا۔ فلاں کو سزا نہیں دینی۔ دیں گے تو ایک فون آئے گا اور آپ کیا‘ آپ کا باس بھی جھاگ کی طرح بیٹھ جائے گا! رہی سہی کسر &#39;&#39;حکم امتناعی‘‘ (سٹے آرڈر) نکال دیتا ہے۔ میرا ذاتی تجربہ ہے۔ کسی کا تبادلہ بھی کرتے تھے تو سٹے آرڈر لے آتا تھا اور اکڑ اکڑ کر پھرتا تھا۔ عجیب بات یہ ہے کہ سٹے آرڈر جاری کرتے وقت فریقِ ثانی سے پوچھا ہی نہیں جاتا کہ تبادلہ کیوں کیا ہے یا سزا کیوں دی ہے۔ ملازمت کیلئے انٹرویو لیتے ہیں تو جیبیں چِٹوں سے بھری ہوتی ہیں۔منیر اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہےکہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_57182973.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پہلے اپنے مسئلے حل کریں(خالد مسعود خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-09-03/52593/63212531</link><pubDate>Thu, 03 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-09-03/52593/63212531</guid><description>سندھ کے عوام دو معاملات میں بہت ہی زیادہ حساس ہیں۔ اتنے حساس اور جذباتی کہ وہ ان دو معاملات پر کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ پنجاب میں رہنے والوں کو اس کا اندازہ بھی نہیں ہو سکتا۔ ان میں سے ایک صوبہ سندھ کو تقسیم کرنے کا مسئلہ ہے اور دوسرا معاملہ دریائے سندھ کے پانی کا ہے۔ یہ دو ایسے مسئلے ہیں جن پر اندرونِ سندھ کے عوام زرداری صاحب کو بھی‘ جو اندرون سندھ اپنی سیاسی گرفت کی بنیاد پر خود کو سندھ کے سیاہ و سفید کا مالک سمجھتے ہیں‘ دھو کر رکھ سکتے ہیں۔ اس بات کا زرداری صاحب کو شاید پہلے پوری طرح اندازہ نہیں تھا لیکن انہیں اس کا حقیقی تجربہ 18 اپریل 2025ء کو دریائے سندھ پر نئی نہروں کی تعمیر کے خلاف ہونے والی ہڑتال سے ہو چکا ہے۔ اس پہیہ جام ہڑتال میں عملی طور پر سندھ اور پنجاب کے درمیان نو دن تک ٹریفک مکمل بند رہی۔ زرداری صاحب پوری کوشش کے باوجود اس ہڑتال کو ختم کرانا تو رہا ایک طرف‘ نرم بھی نہیں کروا سکے۔ اگر زرداری صاحب کو سندھ میں اپنی پارٹی کی مقبولیت اور اندرون سندھ کے عوام کی جانب سے پارٹی پالیسی یا حکم کی اندھی تقلید کے بارے میں کوئی غلط فہمی تھی تو وہ اس واقعے کے بعد بالکل ہوا ہو گئی۔ زرداری صاحب بڑے سمجھدار آدمی ہیں‘ انہیں بخوبی علم ہے کہ وہ پانی یا سندھ کی تقسیم میں سے کسی ایک مسئلے پر بھی سمجھوتا کریں گے تو سندھ کی سیاست سے فارغ ہو جائیں گے۔گزشتہ سال نئی نہروں والے مسئلے پر صوبہ سندھ کی سڑکوں کی بندش والا معاملہ یہ تھا کہ حکومت پہلے سے تعمیر شدہ کچھ نہروں کا فیز ٹو اور کچھ نئی نہریں ڈیزائن کر رہی تھی۔ اگرچہ بعض خبروں میں چھ نئی نہریں نکالنے کا قصہ بیان کیا جاتا ہے جبکہ یہ سب نہریں نئے سرے سے تعمیر نہیں ہو رہی تھیں۔ اس منصوبے میں چھ نہروں کے نام ضرور تھے مگر مکمل طور پر نئی نہریں صرف دو تھیں۔ دیگر چار نہریں پہلے سے ہی تعمیر شدہ ہیں‘ ان میں صرف توسیع کا مرحلہ درپیش تھا۔ توسیع دی جانے والی چار نہروں میں سے ایک کا تعلق صوبہ سندھ کی زمینوں کو سیراب کرنے سے تھا۔ ان چھ نہروں میں سے ایک دریائے سندھ سے چشمہ بیراج کے مقام سے نکلنے والی چشمہ رائٹ بینک کینال تھی جس کا پانی فیز ٹو کے ذریعے خیبر پختونخوا کے ڈیرہ اسماعیل خان ڈویژن میں استعمال ہونا تھا۔ دوسری نہر تونسہ بیراج سے نکلنے والی کچھی کینال تھی۔ یہ نہر پنجاب میں سے گزرتی ضرور ہے مگر اس کا پانی بلوچستان میں ڈیرہ بگتی‘ نصیرآباد‘ بولان اور جھل مگسی کے بے آباد رقبے کی سیرابی کیلئے استعمال ہونا تھا۔ اس منصوبے میں اس نہر کا فیز ٹو تعمیر ہونا تھا جبکہ اس کا فیز ون پہلے سے ہی تعمیر ہو چکا ہے۔ تیسری نہر 2014ء میں گدو بیراج سے نکالی جانے والی رینی کینال کا فیز ٹو ہے‘ جس سے سندھ کے گھوٹکی‘ سکھر‘ سانگھڑ‘ خیرپور اور میرپور خاص کے نسبتاً بنجر علاقوں کو سیراب کرنا تھا‘ یعنی یہ پانی سندھ میں ہی استعمال ہونا تھا۔ چوتھی گریٹر تھل کینال ہے‘ اس کا فیز ون بھی پہلے سے مکمل ہو چکا ہے اور اس نہر کا فیز ٹو آگے تعمیر ہونا تھا‘ جو چوبارہ وغیرہ کی زمینوں کو سیراب کرنے کیلئے تھا۔ صوبہ سندھ والوں کو ایک تو اس نہر کی توسیع پر شدید اعتراض تھاتاہم اصل تنازع پانچویں نہر یعنی چولستان کینال پر تھا۔ یہ نئی نہر تھی اور جھگڑے کا مرکز یہی نہر تھی۔ چھٹی نہر تھر کینال تھی‘ جس سے سندھ کے صحرائے تھر کو سرسبز کرنا مقصود تھا۔ لہٰذا یہ چھ نہریں تمام کی تمام نئی نہیں تھیں‘ ان میں سے چار نہریں تو ایسی تھیں جن کا دوسرا مرحلہ تعمیر کرنے کا منصوبہ تھا اور دو نہریں بالکل نئے سرے سے بنانا مقصود تھیں۔جیسے ذکر ہوا کہ جس نہر پر اہلِ سندھ کو سب سے زیادہ اعتراض اور تحفظات تھے وہ چولستان کینال تھی‘ تاہم عجیب بات یہ ہے کہ چولستان کینال کا بنیادی منصوبہ دریائے سندھ کے بجائے دریائے ستلج کے سیلابی پانی کو چولستان کے ریگزاروں میں پہنچا کر اسے قابلِ کاشت بنانے سے متعلق تھا۔ لیکن سندھ سے تعلق رکھنے والے بعض آبی ماہرین کا یہ کہنا تھا کہ دریائے ستلج میں سیلابی پانی اتنی بڑی نہر کیلئے درکار پانی کا مستقل ذریعہ نہیں ہو سکتا کیونکہ ستلج میں سیلابی پانی کی آمد کا دارو مدار دریائے ستلج میں بھارت کی طرف سے آنے والے سیلابی ریلے پر مشتمل ہوتا ہے‘ جو نہ صرف یہ کہ پانی کی آمد کا کوئی مستقل ذریعہ نہیں بلکہ ہر سال سیلاب کے دنوں میں بھی اس کی آمد ناقابل بھروسہ ہے۔ محض غیر معمولی بارشوں پر منحصر سیلابی پانی کی امید پر مشتمل یہ منصوبہ نہ صرف یہ کہ قابل عمل نہیں بلکہ اس پر کسی صورت بھی انحصار نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ بالآخر اس نہر میں پانی کی کمی کو دریائے سندھ کے پانی سے پورا کیا جائے گا اور صوبہ سندھ‘ جو پہلے ہی پانی کی شدید کمی کا شکار ہے‘ ان نہروں کے بننے سے پانی کے شدید بحران کا شکار ہو جائے گا۔یہ بات درست ہے کہ صوبہ سندھ کے بہت سے علاقوں میں گزشتہ کئی سال سے پانی کی شدید کمی ہے۔ گزشتہ سال سندھ کے اضلاع سانگھڑ‘ میرپور خاص‘ نوابشاہ‘ بدین‘ ٹھٹھہ‘ مٹیاری اور عمرکوٹ وغیرہ میں دسمبر سے مئی تک پانی کی ایسی کمی تھی کہ گندم کی فصل کو پورا پانی نہیں مل سکا اور کپاس کی کاشت تاخیر سے اور کئی علاقوں میں سرے سے کاشت ہی نہ ہو سکی۔ ان علاقوں میں خشک سالی جیسی صورتحال دکھائی دیتی ہے اور فصلوں کی کاشت کے دوران پانی کی ضرورت پورا کرنے کیلئے مطلوبہ مقدار دستیاب نہیں ہے۔ ایسے میں صوبہ سندھ کے لوگوں کا مؤقف ہے کہ دریائے سندھ سے نہریں نکال کر چولستان وغیرہ کو آباد کرنے کا مطلب یہ ہے کہ سندھ کی قابل ِکاشت زمینیں بنجر ہو جائیں۔ہم لوگ ایران امریکہ تنازع میں پاکستان کی عالمی منظرنامے پر پذیرائی اور نیک نامی پر تالیاں بجا رہے ہیں اور خوشی سے بے حال ہو رہے ہیں‘ اگر ہم اس چکر میں پڑنے کے بجائے ملک میں پانی کی کمی سے متعلق مستقبل کے بارے میں تھوڑی سوچ بچار اور کچھ عملی اقدامات کر لیں تو وہ اس ملک کی زرعی بقا کا باعث بن سکتے ہیں‘ بصورت دیگر اگلے دس سال میں پانی کا مسئلہ اتنا سنگین اور شدید ہو جائے گا کہ ہمارے پاس مئی جون میں فصلوں کو دینے کے لیے پانی ہی نہیں ہوگا۔حکومتوں کو فوری دکھائی دینے والے ترقیاتی کام‘ جن کی نہ کوئی دیرپا اہمیت ہے اور نہ ہی ملک کی حقیقی ترقی میں ہی کوئی حصہ ہے‘ کرنے سے فرصت نہیں مل رہی۔ حکومتیں الیکٹرک بسوں‘ میٹرو منصوبوں‘ فلائی اووروں اور انڈر پاسوں کے چکر میں پڑی ہوئی ہیں جبکہ ملک کو اس وقت دیرپا بنیادوں پر مشتمل ایسے اقدامات کی ضرورت ہے جو آئندہ کیلئے معاشی استحکام کا باعث بن سکیں۔ اگلے آٹھ دس سال بعد جس روز یہ الیکٹرک بسیں کباڑ میں فروخت ہو رہی ہوں گی ہمارے پاس ان بجلی پر چلنے والی بسوں کو چارج کرنے کیلئے نہ بجلی ہوگی اور نہ ہی ان بسوں کو دی جانے والی سبسڈی دینے کی استطاعت ہو گی۔ سیلاب کی متوقع صورتحال ہمارے سامنے ہے۔ سندھ طاس پر بھارتی اقدامات اور ہٹ دھرمی کے پیش نظر اگر ہم اب بھی پانی کے مسئلے پر کوئی قومی ہم آہنگی پیدا نہیں کرتے تو آنے والے دن بہت بری صورتحال کا منظر نامہ پیش کر رہے ہیں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان صلح کروانے جیسی کوششوں پر مجھے کوئی اعتراض نہیں لیکن میرے خیال میں تیسرے گھر کی فکر کرنے سے کہیں اہم اور ضروری کام یہ ہے کہ ہم متنازع ہو جانے والے ڈیمز کے بارے میں اتفاق رائے اور ہم آہنگی پیدا کرتے ہوئے کوئی قابلِ عمل حل نکالیں کہ پانی پر اس ملک کی بقا اور ہماری زندگیوں کا دارو مدار ہے۔ خدا نہ کرے کہ ایسا ہو‘ مگر یہی صورتحال رہی تو چند سال بعد صوبے آپس میں پانی کی وجہ سے دست و گریبان ہو رہے ہوں گے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90500073.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>