<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>رابطہ کاری اور ہم آہنگی(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-25/11135</link><pubDate>Sat, 25 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-25/11135</guid><description>ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے دورۂ پاکستان سے کئی امیدیں وابستہ ہیں۔گزشتہ روز انہوں نے ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ اسلام آباد‘ مسقط اور ماسکو کا دورہ شروع کر رہا ہوں‘میرے دوروں کا مقصد دو طرفہ معاملات پر اپنے شراکت داروں کے ساتھ قریبی رابطہ کاری اور علاقائی پیش رفت پر مشاورت کرنا ہے۔بظاہر یہ پیشرفت گزشتہ روزنائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور عراقچی کی ٹیلی فونک گفتگو کے بعد ہوئی۔ امریکی صدر کے مشرق وسطیٰ کیلئے خصوصی نمائندے سٹیو وٹکاف اور داماد جیرڈ کشنر کی بھی پاکستان آمد کی اطلاع ہے۔اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ گزشتہ دنوں ایران امریکہ مذاکرات کے دوسرے دور میں پیدا ہونے والی رکاوٹ کو دور کرنے کیلئے اسلام آباد کی پُر عزم کوششیں جاری ہیں۔ پچھلے چند دنوں کی امریکہ ایران صورتحال میں تناؤ کا عنصر فریقین کے مذاکراتی عمل کیلئے مزاحم ثابت ہوا‘ جسکے اثرات رواں ہفتہ اسلام آباد میں متوقع مذاکرات کے دوسرے دور کے التوا کا سبب بنے‘ تاہم پاکستان کی مسلسل کوششوں کے نتیجے کے طور پر ایرانی وزیر خارجہ کی مختصر وفد کے ساتھ پاکستان آمد معاملات کی روانی میں معاون ثابت ہو گی۔

امریکہ ایران مذاکرات دہائیوں پر پھیلے ہوئے عدم اعتماد‘ خدشات‘ تحفظات اور اندیشوں کو محیط ہیں؛ چنانچہ ہتھیلی پر سرسوں جمانے کی توقع بے محل ہو گی۔ ہمیں یہ مان کر چلنا چاہیے کہ یہ جوئے شیر لانے کا کام رک رک کر چلے گا اور اس دوران کئی بار غیر متوقع تعطل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ متوازن نقطہ نظر یہ ہو گا کہ ان مذاکرات کے دھاگے کو ٹوٹنے سے بچایا جائے۔ اس سے قطع نظر کہ مذاکرات نتیجے تک پہنچنے میں کتنا وقت لیتے ہیں‘اصل بات یہ ہے کہ رابطہ کاری کا تسلسل برقرار رہے۔ پاکستانی قیادت اسی حکمت عملی پر کاربند ہے۔ اسلام آباد میں متوقع دوسرے مذاکراتی دور میں بظاہر ناکامی کے باوجود فریقین سے رابطہ کاری اور امن و استحکام کے قیام کی پاکستانی کوششوں کا اعتراف‘ متعصب اور غیر منصف ذہنوں کے علاوہ دنیا بھر کو ہے۔ بدھ کی صبح ختم ہونے والے سیز فائر کے دورانیے میں توسیع بھی پاکستانی تجویز ہی پر ہوئی۔ صدر ٹرمپ اس کا ذکر پاکستانی حوالے کے ساتھ تفصیلاً کر چکے ہیں۔ دونوں ملکوں کو چاہیے کہ امن کی کوششوں کو نتیجہ خیز بنانے کیلئے سنجیدگی اور خلوص کے ساتھ اقدامات کریں۔
اس کیلئے دونوں جانب سے قدم اٹھنے چاہئیں۔ پاکستان کی تجویز پر ایران کی جانب سے تجارتی جہازوں کیلئے آبنائے ہرمز کو کھولنا بلا شبہ ایک بڑی پیش رفت تھی مگر امریکہ کی جانب سے جاری ناکہ بندی کے اثرات آزاد تجارت میں رکاوٹ کا سبب بن رہے ہیں اور یہ ایران کو بھی ردعمل میں بندشیں عائد کرنے کی طرف لانے والا عمل ہے۔ امریکہ کا ماننا ہے کہ اس کی ناکہ بندی ایران کو مذاکرات کیلئے جلد آمادہ کر سکتی ‘ لیکن یہ پہلو بھی مد نظر رہے کہ اس دباؤ کا الٹا اثر بھی ہو سکتا ہے۔ بات چیت میں معیاری پیش رفت کیلئے دونوں فریقوں کو پیچھے ہٹنا ہو گا۔ دوسرے فریق کو کمزور اور مذاکرات کیلئے مجبور محض سمجھ لینا امن عمل کے ڈھانچے کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور فریقین میں اعتماد سازی کیلئے بہت بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ایسی صورتحال میں رائے عامہ کا دو حصوں میں بٹ جانا اور امن کے حامیوں کے مقابلے میں دفاعی طاقت پر انحصار کرنے کے حامی دھڑوں کے اثر و رسوخ میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔ اسلئے ضروری ہے کہ فریقین سب سے پہلے اعتماد سازی کے اقدامات میں سنجیدگی دکھائیں تاکہ نیتوں پر شک کی گنجائش نہ رہے۔
ابھی تک اس ضمن میں کوئی بڑا قدم نہیں اٹھایا گیا بلکہ آبنائے ہرمز ایک فریق کی جانب سے کھولے جانے کے بعد دوسرے کی جانب سے ناکہ بندی نے جو تھوڑا بہت اعتماد بنا تھا‘ اسے بھی تحلیل کر دیا ہے۔ امریکہ اور ایران کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ان کے درمیان بداعتمادی کی دیوار کا گرنا ہر دو ممالک کے علاوہ علاقائی اور عالمی امن کیلئے بھی بڑی اہمیت کا حامل ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مہنگائی کے اسباب(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-25/11134</link><pubDate>Sat, 25 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-25/11134</guid><description>وفاقی ادارۂ شماریات کے مطابق 23اپریل کو ختم ہونے والے کاروباری ہفتے کے دوران ہفتہ وار مہنگائی میں سالانہ بنیادوں پر 14فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ ہوا ۔ رپورٹ کے مطابق ایک سال کے دوران بجلی تقریباً 55فیصد‘ گیس 50‘ پٹرول 44‘ ڈیزل 37‘ آٹا 36اور خشک دودھ تقریباً 11فیصد تک مہنگا ہوا ہے۔ روز افزوں مہنگائی کی وجہ سے متوسط اور غریب آدمی شدید معاشی مسائل کا شکارہے ۔ مہنگائی میں اضافے کے بنیادی عوامل میں توانائی (بجلی، گیس، پٹرول) کی بڑھتی ہوئی  لاگت‘ ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری اور بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ شامل ہیں۔ روزمرہ استعمال کی اشیائے خورونوش پر 18 فیصد تک جی ایس ٹی عائد ہے‘ جبکہ پٹرول اور ڈیزل پر عائد لیوی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو کم نہیں ہونے دیتی۔

صرف گزشتہ ڈیڑھ ماہ کے دوران حکومت نے لیوی کی مد میں عوام سے 180ارب روپے وصول کیے۔ بجلی کے بلوں میں بھی مختلف نوعیت کے ٹیکس اور سرچارج شامل ہیں۔ یوں براہِ راست اور بالواسطہ ٹیکسوں کا دباؤ نہ صرف مہنگائی میں اضافے کا سبب بن رہا ہے بلکہ عوام کی قوتِ خرید کو بھی تیزی سے کم کر رہا ہے‘ جس کے نتیجے میں متوسط اور نچلے طبقے کی زندگی مزید مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ حکومت کو مہنگائی کے تدارک کیلئے مارکیٹ میکانزم کو ریگولیٹ کرنے کے ساتھ ساتھ ٹیکسوں کے غیرمعمولی بوجھ میں کمی اور عوام کی قوتِ خرید بڑھانے پر بھی توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>اتائیوں کا مسئلہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-25/11133</link><pubDate>Sat, 25 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-25/11133</guid><description>ملکِ عزیز میں صحت کا شعبہ سنگین بحران سے دوچار ہے جس سے شہریوں کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ ایک خبر کے مطابق پنجاب میں اس وقت ایک لاکھ سے زائد اتائی کام کر رہے ہیں۔ یہ غیر تربیت یافتہ افراد نہ ادویات کے اثرات سے پوری طرح آگاہ ہوتے ہیں اور نہ ہی خوراک کی درست مقدار سے‘ جس کے باعث مریضوں کی جانیں داؤ پر لگ جاتی ہیں۔ صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو جاتی ہے جب یہ عناصر غیر محفوظ طریقۂ علاج سے خطرناک بیماریوں جیسے ہیپاٹائٹس اور ایڈز کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں کیونکہ ایک ہی سرنج بار بار اور طبی آلات بھی جراثیم سے پاک کیے بغیر دوبارہ استعمال کرتے ہیں۔ دیگر صوبوں میں بھی اسی قسم کی صورتحال کا سامنا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اور محکمہ صحت اتائیوں کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کریں۔

اس کیساتھ ساتھ عوامی سطح پر شعور اجاگر کرنا بھی ناگزیر ہے تاکہ لوگ صرف مستند معالجین سے ہی رجوع کریں۔ اتائیت کے فروغ کی بڑی وجہ صحت کے سرکاری نظام کی کمزوریاں ہیں۔ سرکاری ہسپتالوں میں سہولیات کی عدم دستیابی لوگوں کو مجبور کرتی ہے کہ وہ متبادل راستے اختیار کریں۔ لہٰذا سرکاری شعبۂ صحت کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے اور عوام کو معیاری اور بروقت علاج کی سہولت فراہم کی جائے تاکہ وہ اتائیوں کے پاس جانے پر مجبور نہ ہوں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>’کلٹ‘ کی نفسیات(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-04-25/51828/92030007</link><pubDate>Sat, 25 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-04-25/51828/92030007</guid><description>کیا عمران خان ایک کلٹ ہیں؟ اس سوال کے جواب کیلئے یہ جاننا ضروری ہے کہ کلٹ کیا ہوتا ہے؟میں اس موضوع پر پہلے بھی لکھ چکا۔ شاید میں نے ہی پہلی بار شخصیت پرستی پر مبنی اس طرزِ عمل کو اس اصطلاح سے تعبیر کیا تھا۔ یہ  بات خلافِ واقعہ ہو تو بھی‘ یہ واقعہ ہے کہ میں نے اس موضوع پر کئی بار قلم اٹھایا۔ اس کے باوصف خیال ہوتا ہے کہ اس پر مزید لکھا جائے۔ اس کا ایک سبب تذکیر ہے۔ بھول جانا انسان کی عادت ہے‘ اس لیے لازم ہے کہ یاد دہانی کرائی جاتی رہے۔ دوسرا سبب یہ ہے کہ ابھی ایک گروہ کو تعلیم کی مزید ضرورت ہے۔ اسے جب اس کا مصداق ٹھیرایا جاتا ہے تو وہ ردعمل میں ناراض ہوتا ا ور اپنی طرف اس نسبت کو رد کرتا ہے۔ بعض غصے کا اظہار بھی کرتے ہیں۔ اس کیفیت میں وہ جو کچھ کہتے ہیں‘ وہ بالواسطہ اس کی تصدیق کرتا ہے کہ وہ ایک کلٹ ہیں لیکن اس کا شعور نہیں رکھتے۔کلٹ مذہبی پس منظر میں پیدا ہونیوالی ایک اصطلاح ہے۔ ہر مذہب میں کچھ لوگ اُسکے حقیقی نمائندہ ہوتے ہیں۔ انکی زبان سے مذہب کی تعلیمات واحکام جاری ہوتے ہیں۔ انکے فرامین اور طرزِ عمل ہی سے مذہب کا ڈھانچہ مرتب ہوتا ہے۔ وہی معیارِ حق ہوتے ہیں۔ وہ جہاں کھڑے ہو جائیں‘حق بھی وہاں قائم ہو جاتا ہے۔ وہ موجود ہوں تو مذہب کے باب میں فرقان ہوتے ہیں۔ اس کا بدیہی نتیجہ ہے کہ جو ان کے ساتھ ہوتا ہے وہ حق پر اور جو ان کے خلاف ہو‘ وہ باطل پر ہوتا ہے۔ ان کی موجودگی میں غیر جانبدار نہیں رہا جا سکتا۔ جو ایسا کرتا ہے وہ منافق کہلاتا ہے اور اس کا انجام انکار کرنے والوں سے بھی بدتر ہوتا ہے۔ اسلام میں یہ حیثیت صرف اور صرف سیدنا محمدﷺ کو حاصل ہے۔ اسلام کے مصادر میں اس بات کو بغیرکسی ابہام کے بیان کیا گیا ہے اور ان کے اصل مخاطبین کو انہی تین گروہوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ معاملہ اگر رسولوں کا ہو جو انبیاء میں بھی ایک خاص مقام رکھتے ہیں تو ان کے مخاطین پر اللہ تعالیٰ کے طرف سے اتمامِ حجت کی جاتی اور ان کے مخالفین کو عذاب کی وعید سنائی جاتی ہے۔ اتمامِ حجت کا مطلب ہے حق اس طرح واضح ہو جائے کہ اس کے انکار کا عقلی واخلاقی جواز باقی نہ رہے۔مرورِ زمانہ کیساتھ‘ جب مذہب کی حقیقی نمائندہ ہستی سے زمانی بُعد پیدا ہو جاتا ہے تو اسی روایت کے اندر‘ بعض ایسی شخصیات نمودار ہوتی ہیں جنہیں کسی سبب سے یہ حیثیت حاصل ہو جاتی ہے کہ لوگ انہیں مذہب کے حقیقی نمائندے کا قائم مقام سمجھنے لگتے ہیں۔ ان سے پھر وہ اوصاف اور خصوصیات منسوب کر دی جاتی ہیں جو مذہب کی اصل نمائندہ ہستی کیلئے خاص ہوتی ہیں۔ مثال کے طور نبی یا رسول کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ وہ خدا سے براہِ راست ہدایت پاتا ہے۔ اب ایک غیر نمائندہ شخصیت کے بارے میں بھی مان لیا جاتا ہے کہ اسے خدا سے براہِ راست ہدایت ملتی ہے۔ یا یہ کہ وہ بھی اب حق وباطل کیلئے فرقان اور پیمانہ ہے۔ آپ اس کیساتھ ہیں تو حق پر ہیں‘ مخالف ہیں تو لاریب باطل کے طرفدار ہیں۔ اسکے مخاطبین بھی اتمامِ حجت ہونے کے بعد‘ اگر اس شخصیت کا ساتھ نہ دیں تو وہ بھی آخرت اور دنیا میں عذاب کے مستحق ہو جاتے ہیں۔ یہ بات‘ کبھی دعوے کیساتھ مانی جاتی ہے اور کبھی زبانِ حال سے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نبی ہونے کا دعویٰ تو نہیں کیا جاتا لیکن عملاً اسے یہی حیثیت دے دی جاتی ہے۔ یہ کام اکثر لاشعوری سطح پر ہوتا ہے۔ اس میں یقین اتنا مستحکم ہو جاتا ہے کہ توجہ دلانے کے باوجود‘ لوگ مان کر نہیں دیتے۔اس بات کو ہم ایک مثال سے سمجھ سکتے ہیں۔ مسلمانوں میں تصوف کی جو روایت پروان چڑھی‘ اس میں ایک گروہ ایسا بھی ہے جس نے اس بات کو مانا کہ نبیﷺ کے بعد بھی ایسی ہستیاں ہوتی ہیں جو خدا سے براہِ راست ہدایت پاتی ہیں۔ وہ اسے نبی نہیں کہتے لیکن ان میں نبی کی خصوصیات کو مان لیتے ہیں۔ شاہ اسماعیل شہید‘ جنہیں برصغیر میں وہابیوں کا امام مانا جاتا ہے‘ اپنی کتاب &#39;عبقات‘ میں ایسی ہستی کا تعارف کراتے ہوئے لکھتے ہیں: &#39;&#39;اور حق جہاں یہ ہستی گھومتی ہے‘ اس کے ساتھ ہی گھومتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے  کہ یہ ہستی ملا اعلیٰ کے ساتھ شامل اور معصوم ہوتی ہے۔ چنانچہ حق وہی قرار پاتا ہے جو اس کے سینے میں نمایاں ہوتا ہے۔ حق اس ہستی کے تابع ہوتا ہے‘ وہ حق کے تابع نہیں ہوتی‘‘۔ (عبقہ 11)۔ ان ہستیوں کے بارے میں یہ بھی لکھا کہ یہ اپنے علوم وہیں سے پاتے ہیں جہاں سے فرشتے‘ اور یہ کسی کے مقلد نہیں ہوتے۔کیا عمران خان صاحب کو بھی یہی حیثیت دے دی گئی ہے؟ اگر یہ کہا جائے کہ انکے حمایت کرنیوالے اہلِ حق اور انکے مخالفین اہلِ باطل ہیں۔ وہ جو مؤقف اختیار کریں‘ وہی حق ہے۔ جو ا نکے بارے میں غیر جانبدار یا نیوٹرل ہے وہ جانور یا منافق ہے۔ اور یہ کہ ا ن کے مخالفین پر اتمامِ حجت ہو چکا اور انکار کے بعد وہ آخرت کے عذاب کے مستحق ہو گئے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے ان کو وہ حیثیت دے دی جو مامور من اللہ ہستیوں کیلئے خاص ہے۔ اس کیلئے زبان سے دعویٰ کیا جائے یاصرف زبانِ حال سے مانا جائے‘ دونوں کا نتیجہ ایک ہی ہے۔ اسی کو کلٹ کہتے ہیں۔ میں اس کے بے شمار شواہد پیش کر سکتا ہوں کہ عمران خان صاحب کو لوگ یہی حیثیت دینے لگے ہیں۔ آج ہی میں فیس بک پر ٹی وی ڈراموں کے ایک اداکار خالد انعم صاحب کا پیج دیکھ رہا تھا۔ وہ خان صاحب کے زبردست حامی ہیں۔ انہوں نے سیدنا حسینؓ کا ایک قول لکھا: &#39;اگر حق کو پہچان نہیں سکتے تو باطل کے تیروں پر نظر رکھو۔ جہاں وہ لگ رہے ہیں وہی حق ہے‘۔ اس کا سیاق وسباق واضح ہے۔کلٹ ضرورت سے بھی بنائے جاتے ہیں۔ پروپیگنڈا سے ایک فرد کی شخصیت تراشی جاتی اور اسے دوسروں سے ممتاز دکھایا جاتا ہے۔ اسی طرح عمران خان صاحب کی شخصیت کو تراشا گیا۔ جنہوں نے یہ منصوبہ بنایا‘ پوری قوم ان سے واقف ہے۔ ان کی زندگی کے واقعات کو اس طرح پیش کیا گیا جیسے انسانی تاریخ میں یہ سب کچھ پہلی بار ہو رہا ہے۔ یہاں بے شمار لوگوں نے ذاتی وسائل سے ہسپتال بنائے۔ خان صاحب نے بنایا تو اسے تاریخ کا منفرد واقعہ بنا کر پیش کیا گیا۔ اَن گنت خواتین وحضرات نے تعلیمی ادارے بنائے لیکن نئی نسل کو بتایا گیا کہ نمل یونیورسٹی جیسا ادارہ کبھی نہیں بنا۔ یہاں جہانگیر خان جیسے کھلاڑی پیدا ہوئے جنہیں صدی کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں شامل کیا گیا۔ قوم کو مگر یہ باور کرایا گیا کہ کرکٹ ورلڈکپ سے بڑا کارنامہ کسی نے سرانجام نہیں دیا۔ یہاں سید مودودی جیسے مفکر پیدا ہوئے جنہوں نے کروڑوں انسانوں کے افکار کو بدل ڈالا۔ ذوالفقار علی بھٹو جیسے راہنما اٹھے جنہوں نے نئی سوچ دی۔ نوجوانوں کو مگر بتایا گیا کہ یہ کارنامہ خان صاحب نے پہلی مرتبہ انجام دیا ہے۔ یہ الگ بات کہ انہوں نے جو شعوردیا اسکے مظاہر دیکھ کر شرفا کانوں کو ہاتھ لگاتے ہیں۔ پھر جمہوریت کیلئے لوگوں نے ایسا ایسا ریاستی جبر سہا کہ ان کے ذکر سے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ یہاں بتایا گیا کہ ایسا ظلم جو خان صاحب پر ہوا‘ تاریخ میں نہیں ہوا۔ اسی طرح کلٹ تراشا گیا جسے لوگوں نے کم علمی کے باعث یا غیر شعوری طور پر سچ مان لیا۔ کلٹ کے ماننے والوں میں کسی دلیل کا گزر نہیں ہوتا۔ آج جو خان صاحب کی مخالفت میں لب کھولے‘ چاہے برسوں تعریف میں رطب اللسان رہا ہو‘ اسے گھر پہنچا دیا جاتا ہے۔ اس کی دہائی دینے والے بہت ملیں گے۔ سوشل میڈیا پر بیٹھے‘ کلٹ نفسیات کی آبیاری کرتے ہیں۔ کلٹ کو ماننے والے صرف انہی کو سنتے اور انکے جھوٹ کو سچ سمجھتے ہیں۔سیاست میں مکالمے کی ایک ہی صورت ہے۔ یہ مانا جائے کہ نواز شریف‘ آصف زرداری‘ عمران خان‘ یہ صاحبان اقتدار کے کھیل کے کھلاڑی ہیں۔ یہ ممکن ہے کوئی کسی کی نظر میں دوسروں سے بہتر ہو۔ ان میں لیکن مامور من اللہ کوئی نہیں کہ اقتدار کے اس کھیل کو حق وباطل کا معرکہ مان کر اسے فرقان قرار دیا جائے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مگس کو باغ میں جانے نہ دیجو(خالد مسعود خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-04-25/51829/99466580</link><pubDate>Sat, 25 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-04-25/51829/99466580</guid><description>صوبے میں پاکستان کی تاریخ کا سب سے مؤثر امن و امان قائم کرنے کی دعویدار حکومتِ پنجاب نے دفعہ 144 کے تحت رحیم یار خان اور راجن پور میں کچے کے علاقے اور اس سے متصل نشاندہی کردہ حساس علاقوں میں سڑکوں اور پولیس چیک پوسٹوں کے قریب گنے کی کاشت پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اس حکمنامے کا مقصد ان علاقوں میں کچے کے ڈاکوؤں اور جرائم پیشہ افراد کی نقل و حرکت کو محدود کرنا اور ان کو گنے کی فصل میں چھپنے اور کمین گاہیں بنانے سے روکنا ہے۔ اس حکمنامے کے مطابق اونچی فصلیں جرائم پیشہ افراد کیلئے چھپنے کی سہولت فراہم کرتی ہیں۔ ڈاکوؤں اور جرائم پیشہ افراد کی سرکوبی اور قلع قمع کیلئے حکومت کے اس مؤثر طریقہ کار اور فوری ایکشن پر جہاں ہم ایسے نابغہ روزگار منصوبہ سازوں کی دوراندیشی کے معترف ہیں وہیں ہمیں اس سے ملتا جلتا بلکہ بعینہٖ ویسا ایک لطیفہ نما قصہ یاد آ گیا۔مسئلہ یہ ہے کہ یادداشت کی تمام تر کمزوری‘ نسیان اور بھول جانے کی عادت کے باوجود اس فقیر کو ایسے موقعوں پر کوئی لطیفہ‘ کوئی کہانی‘ کوئی قصہ یا کوئی واقعہ اللہ جانے کیسے یاد آ جاتا ہے۔ کاش اس عاجز کا دماغ دیگر مواقع پر بھی اسی طرح حاضر دماغی‘ چستی اور چاق و چوبند ہونے کا مظاہرہ کرتا رہے تو کیا ہی بات ہے۔ قصہ یوں ہے کہ کسی صاحب کی بیوی کا کسی سے آنکھ مٹکا چل رہا تھا۔ عاشق کی دیدہ دلیری اور محبوبہ کی بے خوفی کا یہ عالم تھا کہ کہیں لُک چھپ کر ملنے کے بجائے محبوبہ کو اس کے گھر میں آ کر ملنا شروع کر دیا۔ قارئین ! اپ کو تو علم ہی ہوگا اور اگر علم نہیں بھی تو میں بتا دیتا ہوں کہ اس قسم کے معاملات میں سب سے لا علم شخص شوہر نامدار ہوتا ہے جبکہ ارد گرد کے لوگوں کو یہ سب کچھ دکھائی دے رہا ہوتا ہے اور انہیں ایسی باتوں کا علم بھی ہوتا ہے۔ تاہم گلی محلے میں ایسے معاملات کو موضوع گفتگو بنا کر چسکا لینے والے ہمسایے جونہی لاعلم شوہر کو آتا دیکھتے ہیں موضوع گفتگو تبدیل کر لیتے ہیں۔ محبوبہ اور اس کا آشنا بھی اپنی احتیاط کا تمام تر زور اس بات پر لگاتے ہیں کہ بس گھر والوں کو ان تعلقات کا علم نہ ہو اور اس میں وہ کچھ عرصہ تک کامیاب بھی رہتے ہیں تاوقتیکہ کوئی منہ پھٹ یا شر پسند ہمسایہ بالاخر یہ قصہ شوہر کو بتا دیتا ہے۔ یہاں بھی معاملہ ایسا ہی تھا‘ کسی نے شوہر کو سارا قصہ سنا دیا۔اسے جب معلوم ہوا کہ فلاں شخص اس کی عدم موجودگی میں اس کے گھر آتا ہے تو اس نے عین وقت پر چھاپہ مار کر اس کو رنگے ہاتھوں پکڑنے کا منصوبہ بنایا۔ مقررہ وقت پر آشنا صاحب بھی تشریف لے آئے اور تھوڑی ہی دیر کے بعد ان کی توقع کے خلاف شوہر بھی گھر پہنچ گیا۔ کیا دیکھتا ہے کہ اس کی بیوی آشنا کے ساتھ ڈرائنگ روم کے صوفے پر بیٹھی راز و نیاز میں مصروف ہے۔ شوہر کو دیکھ کر آشنا تو خاموشی سے نکل گیا جبکہ دبنگ ٹائپ بیوی نے الٹا شوہر پر چڑھائی کر دی کہ اسے اس طرح بتائے بغیر اچانک نہیں آنا چاہیے تھا۔ ٹھنڈے مزاج کے شوہر میں غصہ اور غیرت کافی حد تک مفقود تھی سو اس نے جھگڑا کرنے کے بجائے ازخود یہ تصور کر لیا کہ اس چھاپے کے بعد اب دوبارہ ایسا کچھ نہیں ہوگا۔ لیکن چار چھ دن کے بعد اسے اطلاع ملی کہ ڈھیٹ عاشق نے اس کی غیر موجودگی میں دوبارہ اس کے گھر آنا شروع کر دیا ہے۔ معاملہ کیونکہ کھل چکا تھا اس لیے محلے کے ایک دو بزرگوں نے اسے اس سلسلے میں کوئی فیصلہ کن اور سخت قدم اٹھانے کا مشورہ دیا۔ اگلے روز اس نے دوبارہ ریڈ کیا تو صورتحال جوں کی توں تھی۔ ایک بار پکڑے جانے اور بغیر کسی بازپرس آسانی سے نکل جانے کے بعد عاشق کا حوصلہ اور اعتماد پہلے کی نسبت بڑھ چکا تھا؛چنانچہ اگلی بار اس نے صوفے سے اٹھ کر اپنی محبوبہ کے شوہر سے باقاعدہ ہاتھ ملایا‘ سلام دعا لی اور بڑی سہولت سے کھسک گیا۔ شوہر نے اپنی تمام تر بے غیرتی کے باوجود محلے کے بزرگوں کے کہنے سننے اور اکسانے کے بعد اس سلسلے میں بہرحال ایک فیصلہ کن قدم اٹھانے کا پختہ ارادہ کر رکھا تھا جو اس نے اٹھا لیا۔ اگلے روز ایک بزرگ نے اسے روک کر پوچھا کہ کیا تم نے اس بار کوئی ایکشن لیا ؟ وہ کہنے لگا: چاچا جی ! میں نے تو سارا قصہ جڑ سے مکا دیا ہے اور اس سارے معاملے کو سرے سے ہی ختم کر دیا ہے۔ اب نہ ہوگا بانس نہ بجے گی بانسری۔ بزرگ نے گھبرا کر پوچھا: کہیں تم نے اپنی بیوی کوقتل تو نہیں کر دیا؟ وہ کہنے لگا: میں نے اس سے زیادہ پکا اور محفوظ بندوبست کیا ہے۔ میں نے کل شام وہ صوفہ ہی بیچ دیا ہے جس پر بیٹھ کر یہ حرام کاریاں کرتے تھے۔ اب دیکھتا ہوں یہ بدذات کس پر بیٹھ کر رنگ رلیاں مناتے ہیں ؟کچے کے ڈاکو اور جرائم پیشہ لوگوں کی سرگرمیاں روکنے کیلئے حکومتِ پنجاب کی جانب سے دفعہ 144 کے تحت کچے سے متصل سڑکوں اور پولیس چوکیوں کے اردگرد گنا کاشت کرنے پر پابندی سے مسئلہ حل کرنے سے مجھے صوفہ اٹھوا کر بیوی کے آشنا کا مکو ٹھپنے والا قصہ یاد آ گیا۔ حکومت اور انتظامیہ کی جانب سے ڈاکوؤں کی سرکوبی‘ کچے کے علاقے کو ڈاکوؤں سے پاک کرنا‘ لوگوں کو پُرامن ماحول فراہم کرنا‘ اس علاقے کے کاشتکاروں کو ڈاکوؤں کے خوف سے آزاد کراتے ہوئے آزادانہ نقل و حرکت اور کاشتکاری کی آسانی فراہم کرنے کے بجائے سرکار گنے کی کاشت پر پابندی لگا کر اپنا فرض پورا کر رہی ہے۔ اس ملک کا کاشتکار پہلے ہی مرا ہوا ہے‘ اسے کسی نقد آور فصل سے روکنا اس پر مزید ظلم و زیادتی کے مترادف ہے۔ لے دے کر اب چند فصلیں ہیں جہاں سے کاشتکار کو دو چار پیسے مل رہے ہیں بصورت دیگر کاشتکار اور ہماری زراعت کا مجموعی طور پر ایسا برا حال ہے کہ بیان نہیں کیا جا سکتا۔ گزشتہ سال گندم نے کمر توڑ کے رکھ دی‘ رہی سہی کسر کپاس نے نکال دی۔ یہی حال دیگر فصلات کا ہے۔ سبزیاں کسی حد تک چھوٹے کاشتکار کیلئے ذریعۂ آمدنی ہوا کرتی تھیں لیکن آج کل سبزیاں ٹکے ٹوکری ہیں اور لاگت بھی پوری نہیں ہو رہی۔ پیاز‘ آلو‘ بھنڈی‘ بینگن‘ کدو‘ گوبھی‘ مٹر‘ کھیرے‘ مرچیں اور ٹماٹر‘ غرض جس سبزی کا نام لیں گزشتہ کئی سال کی نسبت ریکارڈ کم قیمت پر فروخت ہو رہی ہے۔ حقیقت میں سبزیاں اپنی لاگت سے بھی کہیں کم قیمت پر فروخت ہو رہی ہیں۔ کسی سبزی کو استثنا نہیں‘ سب کا برا حال ہے۔ زیادہ تفصیلات میں جانے کیلئے کالم کا دامن تنگ ہے۔ فی الوقت صرف ٹماٹر کی فصل کا تجزیہ پیش کروں تو اس کی فصل پر فی ایکڑ اٹھنے والے اخراجات اور آمدنی کا جدول حسبِ ذیل ہے۔ یہ میر پور خاص کے ایک کاشتکار کی تفصیل ہے باقی سب جگہ بھی انیس بیس کے ساتھ یہی حال ہے۔ لیزر لیولنگ: 10 ہزار روپے۔ خرچہ کاشت ؍بجائی: 22 ہزار روپے۔ گرین یارڈ مینیور: 19 ہزار روپے۔ بیج: 1156 روپے فی پیکٹ‘ (3 پیک) کل قیمت: 13 ہزار 770 روپے۔ نرسری ٹرے: (35 عدد) فی ٹرے: 2530 روپے۔ گرین نیٹ: 25ہزار روپے۔ ڈی اے پی: 15ہزار روپے۔ زرخیز کھاد: (ڈیڑھ بیگ) :15 ہزار 825 روپے۔ کین گوارا کھاد: 15 ہزار 800 روپے۔ چنائی: 25ہزار روپے۔ پیسٹی سائیڈ سپرے: 39 ہزار روپے۔ خرچہ ٹرانسپورٹ: 1 لاکھ 19 ہزار روپے۔ یہ سارا خرچہ: 3 لاکھ 21 ہزار 925 روپے فی ایکڑ بنتا ہے۔ پیداوار ؍ آمدن: کل پیداوار 20 ہزار 400 کلو گرام۔ کل شاپر: 1700 ۔فی شاپر وزن :12 کلوگرام۔ اوسط ریٹ فی شاپر: 110 روپے۔ کل آمدنی: 1 لاکھ87 ہزار روپے۔ یعنی کل اخراجات 3 لاکھ 21 ہزار 925 روپے فی ایکڑ جبکہ کل آمدن 1 لاکھ87ہزار روپے ہوئی۔ اس طرح ٹماٹر کے کاشتکار کا خالص نقصان فی ایکڑ 1 لاکھ34 ہزار 925 روپے بنتا ہے۔ ڈاکوؤں کے قلع قمع کیلئے گنے کی کاشت پر پابندی سے ایک شعر یاد آگیا۔ مگس کو باغ میں جانے نہ دیجوکہ نا حق خون پروانے کا ہو گا</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90500073.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ستاروں پر کمند ڈالنے والے جوان(ڈاکٹر حسین احمد پراچہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-04-25/51830/70037969</link><pubDate>Sat, 25 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-04-25/51830/70037969</guid><description>اللہ تبارک و تعالیٰ ان دنوں اس خطے بالخصوص پاکستان پر بہت مہربان ہیں۔ اسی لیے ہر روز مرشد اقبالؒ کا کوئی نہ کوئی خواب شرمندۂ تعبیر ہو جاتا ہے۔ مرشد کا ایک خواب یہ بھی تھا کہگراں خواب چینی سنبھلنے لگےچینی سنبھلنے ہی نہیں لگے بلکہ مثالی انداز میں سنبھل چکے ہیں اور ساری دنیا کے سامنے اپنا امن پسند قوت اور معیشت کا قابلِ تقلید نمونہ پیش کر چکے ہیں۔ زمین کے قریب ترین سیارچے چاند پر انسان کے اترنے کی کہانی تو اب پرانی ہو چکی ہے۔ اب خلا میں گھومتی ہوئی دوسری دنیاؤں اور کہکشاؤں کو مسخر کرنے کیلئے چین امریکہ و روس سے کہیں آگے نکلتا ہوا محسوس ہو رہا ہے۔ چین نے اپنے اگلے خلائی پروگرام کیلئے دو پاکستانی خلا بازوں کو بھی منتخب کیا ہے۔ یہ خبر پاکستان کیلئے باعثِ مسرت و انبساط ہونے کے ساتھ ساتھ باعثِ فخر بھی ہے۔ چینی خلائی سٹیشن پر دو میں سے ایک خلا نورد خلائی مشن پر جائے گا۔ یہ دونوں خوش قسمت اور بلند حوصلہ خلا باز اقبال کے شاہین اور پاکستان ایئر فورس کے ہوا باز ہیں۔ محمد ذیشان علی اور خرم داؤد۔ دونوں پاکستانی پائلٹس کو چین کی خلا باز سپیس ایجنسی نے منتخب کیا ہے۔ ان پاکستانی خلا نوردوں کی ایڈوانس تربیت خلا باز سنٹر آف چائنا (اے سی سی) بیجنگ میں ہو گی۔ جمعرات کے روز ان قابلِ فخر جوانوں نے وزیراعظم سے چینی سفیر کی موجودگی میں ملاقات کی۔ اب تک یہ دونوں ہوا باز خلا نورد بننے کیلئے بیجنگ روانہ ہو چکے ہوں گے۔ اس قابلِ فخر پروگرام کی ایک بہت بڑی افادیت و اہمیت یہ ہے کہ اب پاکستان کا خلائی ادارہ سپارکو سیٹلائٹس تک محدود رہنے کے بجائے چین کے تعاون کے ساتھ خلاؤں کے سفر پر اپنی حیثیت میں بھی جا سکے گا۔ پاکستان کیلئے یہ بہت بڑی خوشخبری ہے۔ چین پاکستان کے ساتھ دوستی و ہمسائیگی کے اعلیٰ ترین تقاضوں کے مطابق یہ رشتہ نبھا رہا ہے۔ امریکہ ایٹمی قوت اور خلائی تسخیر کو اپنی چودھراہٹ مزید مستحکم کرنے کیلئے استعمال کرتا ہے۔ امریکہ کا دعویٰ یہ ہے کہ میں اتنی بڑی قوت ہوں اس لیے ساری دنیا کو میرے سامنے سرنگوں ہونا چاہیے۔ اسی طرح انسانوں کی باہمی امن و سلامتی کیلئے کام کرنے والے اداروں کو بھی امریکہ پرِکاہ کی حیثیت نہیں دیتا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یو این او ہو یا سلامتی کونسل‘ عالمی عدالتِ انصاف ہو یا مسیحیوں کا پوپ‘ سب کو امریکی مرضی کے تابع ہونا چاہیے۔ اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں غزہ‘ لبنان اور ایران میں ساری تباہی و بربادی امریکہ براہِ راست یا اسرائیل کے ذریعے کر رہا ہے۔امریکہ کو ایٹم بم ملا تو اس نے اسے ہیروشیما اور ناگاساکی پر گرانے میں دیر نہیں لگائی۔ کل اس کی دسترس میں کوئی بہت بڑی خلائی تسخیر آ جاتی ہے تو وہ اسے اپنے رعب و دبدبے میں اضافے کیلئے ہی استعمال کرے گا۔ اس کے برعکس چین کی اعلانیہ پالیسی یہ ہے کہ ایٹمی و سائنسی ترقی کی طرح وہ خلاؤں کی تسخیر کو ساری دنیا کی فلاح و بہبود کیلئے استعمال کرنے کا مشن رکھتا ہے۔ چین اسی پروگرام پر عمل پیرا ہے۔ وہ سیاروں اور ستاروں کی تسخیر اور اس سے حاصل ہونے والے فوائد کو ساری دنیا کا مشترکہ اثاثہ سمجھتا ہے۔ جو پاکستانی خلا باز چین کے تعاون سے خلا میں جائے گا‘ وہاں وہ کئی طرح کے سائنسی تجربات‘ خاص طور پر کششِ ثقل کے بارے میں تحقیق کرے گا۔ چاند پر ہماری زمین کی نسبت کشش چھ گنا کم ہے۔ اسی طرح باقی خلائی مقامات پر کیا صورتحال ہو گی‘ اسی کا اندازہ کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ بعض نہایت اہم نوعیت کی سائنسی تحقیقات بھی کی جائیں گی۔ اس تحقیق سے نتائج بھی ترتیب دیے جائیں گے تاکہ ان کی روشنی میں زمین پر مختلف سائنسی مراکز اور ریسرچ سنٹرز میں خلاؤں کی لامتناہی دنیاؤں کے بارے میں زیادہ سے زیادہ آگہی حاصل کی جا سکے۔منگل کے روز امریکی خلائی مرکز ناسا نے ایک نئی ٹیلی سکوپ کی نقاب کشائی کی ہے۔ اس ٹیلی سکوپ کے خلا میں جانے سے ایک ایسی کھڑکی کھل جائے گی جس کے ذریعے ہزارہا نئے سیارے اور ہمارے سولر سسٹم سے باہر لاکھوں نہیں بلکہ اربوں دنیائیں بڑے واضح وژن کے ساتھ سامنے آ جائیں گی۔ تاریک دنیائیں بھی دیکھی جا سکیں گی۔ کروڑوں نوری سال کی دوری سے چلی ہوئی یہ شعاعیں اب خلا میں پہنچ رہی ہیں۔ آج خلائی سائنس ہمیں بتا رہی ہے کہ ہر لحظہ یہ کائنات پھیلتی بھی جا رہی ہے اور منکشف بھی ہوتی جا رہی ہے۔ دیکھیے اقبال نے قرآن میں غوطہ زن ہو کر کتنی بڑی حقیقت کو کتنے واضح اسلوب میں بیان کر دیا تھا: یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید؍ کہ آ رہی ہے دمادم صدائے کن فیکوناوپر ہم نے جس امریکی ٹیلی سکوپ کا ذکر کیا ہے اسے نینسی گریس رومن کا نام دیا گیا ہے۔ 1925ء کو اس دنیا میں وارد اور 2018ء میں سوئے عدم روانہ ہونے والی نینسی ناسا کے شعبۂ فلکیات کی چیف تھی۔ نینسی نے ہبل نامی خلائی ٹیلی سکوپ بنائی تھی۔ یہ ٹیلی سکوپ اس کی کئی دہائیوں پر پھیلی ہوئی شبانہ روز محنت کا ثمر تھی۔ انہی بنیادوں پر کام کو آگے بڑھاتے ہوئے خلاؤں کیلئے ہبل سے سو گنا بہتر جو ٹیلی سکوپ بنائی گئی ہے اس پر چار ارب ڈالر کی لاگت آئی ہے۔ نئی ٹیلی سکوپ کو نینسی رومن کے نام سے پکارا جانا اس خاتون ماہرِ فلکیات کی خدمات کا اعتراف ہے۔مرشد اقبالؒ کا سب سے بڑا خواب اسلام کی عظمتِ رفتہ کی واپسی ہے۔ تبھی تو انہوں نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ:کبھی اے نوجواں مسلم! تدبر بھی کیا تُو نےوہ کیا گردوں تھا تُو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تاراسپین میں مسجدِ قرطبہ کی زیارت کے موقع پر اقبال نے یہاں پر مسلمانوں کی شان و شوکت اور ان کی علمی و تحقیقی عظمت کو یاد کر کے کہا تھا: آبِ روانِ کبیر تیرے کنارے کوئی؍ دیکھ رہا ہے کسی اور زمانے کا خوابماضی کو یاد کرکے علامہ اقبالؒ مستقبل کا سنہری خواب دیکھ رہے تھے۔ اقبال کے نقوشِ پا تلاش کرتا ہوا یہ طالب علم اپنی بیگم رخسانہ کے ساتھ مسجدِ قرطبہ سپین جا پہنچا۔ وہاں ہمیں دو رکعت نفل ادا کرنے کی توفیق عطا ہوئی۔ &#39;&#39;ایں سعادت بزورِ بازو نیست‘‘۔ امریکہ نے دنیا کو گلوبل ویلیج کا نعرہ تو دیا ہے مگر اس نے تباہ کن ہتھیار بنا کر اس &#39;&#39;عالمی گاؤں‘‘ کا امن‘ چین اور سکون تباہ و برباد کر دیا ہے۔ اب موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کرکے ایک طرف ایران کی معیشت کا گلا گھونٹنا چاہتا ہے اور دوسری طرف موجودہ امریکی پالیسی نے اژدھا بن کر ساری دنیا کی اقتصادیات کو ہڑپ کر رکھا ہے اور یورپ و ایشیا بلکہ امریکہ میں بھی لوگ ہولناک مستقبل کے بارے میں سوچ کر نہایت مضطرب و پریشان ہیں۔ اب نئی خلائی تسخیر سے انسانیت کو امریکہ سے خیر کی امید نہیں البتہ مزید شر کا خدشہ ہے۔ علامہ اقبالؒ نے سچ ہی تو کہا تھا کہڈھونڈنے والا ستاروں کی گزرگاہوں کااپنے افکار کی دنیا میں سفر کر نہ سکاآج خلدِ بریں میں اقبالؒ کو جب ستاروں پر کمند ڈالنے والے پاکستانی مسلم خلا نوردوں محمد ذیشان علی اور خرم داؤد کی تسخیرِ کائنات کے سفر پر روانگی کی خبر ملی ہو گی تو انہیں کتنی خوشی ہوئی ہو گی۔ ایسے جوانوں کے بارے میں ہی مرشد نے فرمایا تھا:محبت مجھے اُن جوانوں سے ہے؍ ستاروں پر جو ڈالتے ہیں کمند</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_70033906.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کپیسٹی چارجز؟(افتخار احمد سندھو)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/iktakhar-ahmed-sandhu/2026-04-25/51831/74449857</link><pubDate>Sat, 25 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/iktakhar-ahmed-sandhu/2026-04-25/51831/74449857</guid><description>ہمارے ملک کے غریب عوام کو چند سال قبل آئی پی پیز کی لوٹ مار کی دردناک کہانی کے ساتھ کپیسٹی چارجز کے بارے میں پہلی بارمعلوم ہوا تھا لیکن اس کے بعد پتا چلا کہ انہیں تو مقتدر طبقات پچھلے 78سال سے کپیسٹی چارجز کے نام پر دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں‘ اور اتنا لوٹ رہے ہیں جتنا لوٹا جا سکتا ہے۔ پاکستان میں گزشتہ تین سالوں کے دوران بجلی 155 فیصد مہنگی ہو چکی ہے اور آئی پی پیز کو کپیسٹی چارجز کی مد میں مسلسل پیمنٹس اس کی بڑی وجہ ہے۔ بجلی مہنگی ہونے کے باعث کئی علاقوں میں بجلی کے بل گھروں کے کرایوں سے بھی زیادہ ہو گئے ہیں۔ بجلی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث مہنگائی نے عام آدمی کا جینا محال کر دیا ہے۔ پاور سیکٹر میں درآمدی فیول سے چلنے والے انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) سے طویل مدتی معاہدے قومی خزانے اور عوام پر بھاری بوجھ بن چکے ہیں۔ پاکستان ایک طرف ایک ارب ڈالر کی قسط کیلئے آئی ایم ایف کی کڑی شرائط ماننے پر مجبور ہے تو دوسری جانب آئی پی پیز کے ساتھ کیے گئے معاہدے ہر سال قوم کے اربوں ڈالر نگل رہے ہیں۔ صارفین سے وصول کیے گئے بجلی کے بلوں میں سے بھاری رقم کپیسٹی پیمنٹس کی مد میں نکل جاتی ہے۔ وزارت توانائی کی اپنی دستاویز کے مطابق 2013ء سے 2024ء کے دوران 10 برس میں آئی پی پیز کو آٹھ ہزار 344ارب روپے کپیسٹی چارجز کی مد میں ادا کیے گئے۔ کپیسٹی چارجز کی مد میں پچھلے صرف دو سال میں دو ٹریلین (2000 ارب) روپے ادا کیے گئے ہیں۔ صارفین سے اس بجلی کے پیسے بٹورے جاتے ہیں جو انہوں نے کبھی استعمال ہی نہیں کی۔ لیکن ملک کی محبت میں یہ بوجھ برداشت کیا جا رہا ہے۔ لیکن کتنی دیر ایسا ممکن ہو گا؟ افتخار عارف کے بقول:مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نےوہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھےدیکھنا یہ ہے کہ یہ کپیسٹی چارجز کیا ہیں؟ بجلی کی طلب اور رسد کے درمیان نہ ختم ہونے والا فرق پاکستان میں توانائی کے مسائل کی جڑ ہے‘ جس کی وجہ سے حکومتوں نے فیصلہ کیا کہ ملک میں مزید بجلی پلانٹس کی ضرورت ہے۔ اس لیے انہوں نے ملک بھر میں بجلی کے بہت سے نئے پلانٹس لگائے جن میں سے بہت سے انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) تھے۔ ان پاور پلانٹس کیلئے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی گئی اور ان کو لگانے والوں کے ساتھ معاہدوں میں طے پایا کہ کپیسٹی پیمنٹس زمین کی خریداری‘ ڈیزائن‘ تنصیب‘ ٹیکس‘ انشورنس‘ انتظامیہ‘ قرض خدمات اور ایکویٹی پر واپسی کے اخراجات کی قیمت پر مبنی ہوں گی۔ اب اس سارے عمل کا زبردست (یا پریشان کن) حصہ یہ ہے کہ معاہدوں کو ان چیزوں کے خلاف طے کیا جاتا ہے جو اتار چڑھاؤ کا شکار ہوتی ہیں‘ بشمول شرح تبادلہ اور شرح سود۔ لیکن جیسا کہ پاکستان میں ہوتا آیا ہے‘ حکومتی فیصلہ سازوں نے ضرورت سے زیادہ دماغ چلایا اور فائدے کو نقصان میں بدل دیا۔ آئیڈیا تو یہ تھا کہ بجلی کی ضرورت سے زیادہ فراہمی ہونی چاہیے لیکن فیصلہ ساز یہ بھول گئے کہ اس زائد بجلی کی ترسیل کے لیے گنجائش بھی اتنی ہی ہونی چاہیے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اب پاکستان میں ضرورت سے زیادہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت تو ہے لیکن اس بجلی کو صارفین تک پہنچانے کا کوئی طریقہ نہیں‘ اس لیے پلانٹس کیلئے کپیسٹی چارجز عائد ہیں اور حکومت کو انہیں ادا کرنا پڑتا ہے۔ عوام آئی پی پیز کے ان ہاتھیوں کو مسلسل پال رہے ہیں۔ حکومت آئی پی پیز ماہانہ کپیسٹی چارجز چھوڑ دیں تو بجلی کے بل بڑی حد تک کم ہو جائیں گے۔ مہنگے بجلی بلوں نے عوام کے ساتھ ملکی معیشت اور صنعت کو تباہ کر دیا ہے۔ آسان الفاظ میں سمجھیں تو اگر ایک آئی پی پیز کے پاس 100 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ہے اور وہ صرف 60 میگاواٹ پیدا کرتا ہے‘ تب بھی اسے پورے 100 میگاواٹ کی ادائیگی ہو گی۔ کپیسٹی چارجز سے آئی پی پیز کے ساتھ حکمرانوں کے پیٹ بھی بھر رہے ہیں۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے عوام پیدا ہی کپیسٹی چارجز ادا کرنے کیلئے ہوئے ہیں کیونکہ ان کی مہینے بھر کی کمائی بجلی بلوں پرصرف ہو جاتی ہے۔ ساغر صدیقی بھی اسی بات کا رونا روتا رہا:جس عہد میں لٹ جائے فقیروں کی کمائی اس عہد کے سلطان سے کچھ بھول ہوئی ہےاور تو اور یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ایران میں جنگی حالات کے خاتمے تک پاکستان کو قطر سے ایل این جی نہیں ملے گی۔ قطر نے پاکستان کو گیس کی عدم سپلائی کے بارے میں پیشگی آگاہ کر دیا تھا۔ مارچ کیلئے قطر سے آٹھ ایل این جی کارگو آنے تھے لیکن صرف دو ہی آئے۔ جس کی وجہ سے ملک میں ایل این جی کی لوڈ مینجمنٹ کرنا پڑی۔ جنگ کی وجہ سے قطر پاکستان کو ایل این جی نہیں دے رہا مگر 2013ء سے2018ء تک نواز شریف اور شاہد خاقان عباسی کی حکومت کی طرف سے کیے گئے معاہدوں کے باعث پاکستان کو ایل این جی ٹرمینلز سے گیس کی سپلائی نہ ہو‘ تب بھی ایل این جی ٹرمینلز کو کپیسٹی چارجز کی ادائیگی کرنا پڑے گی۔ ہم تقریباً 423 کروڑ روپے روزانہ کپیسٹی چارجز کی مد میں قطر گیس کو ادائیگی کر رہے ہیں۔بات یہ ہے کہ صرف آئی پی پیز اور ایل این جی ٹرمینلز والے ہی پاکستان کے غریب عوام سے کپیسٹی چارجز نہیں لے رہے‘ اس ملک کی اشرافیہ اور مقتدرہ میں شامل طبقات قیام پاکستان سے لے آج تک کپیسٹی چارجزوصول کر رہے ہیں۔ مقتدر طبقات میں شامل ہر طبقے نے اپنا حصہ بقدر جثہ وصول کیا ہے اور ہنوزکر رہا ہے۔ سیاستدانوں اور عوام کے منتخب نمائندوں کا کام قانون سازی کے ذریعے ملکی اور عوامی مسائل حل کرنا ہے اور اسی عوامی اور قومی خدمت کے عوض وہ ماہانہ لاکھوں روپے تنخواہ اور مراعات وصول کرتے ہیں‘ اسمبلی کا اجلاس بیشک دو دو‘ تین تین ماہ نہ ہو لیکن وہ تنخواہ اور مراعات مسلسل وصول کر رہے ہیں۔ یہ کپیسٹی چارجز نہیں تو کیا ہے؟ ہمارے تاجر‘ بزنس مین اور صنعتکار بھی چیزوں کو انتہائی مہنگے داموں فروخت کر کے عوام سے کپیسٹی چارجز وصول کر رہے ہیں۔ ہمارا وہ ادارے جن کی اولین ذمہ داری عوام کی رہنمائی ہے‘ وہ بھی عوام کی رہنمائی کرنے کے بجائے قومی خزانے سے کپیسٹی چارجز وصول کر رہے ہیں۔ اور عوامی مسائل اجاگرکرنے کے بجائے حکومتوں کے گن گاتے ہیں۔نظام عدل کا کام عوام کو عدل وانصاف فراہم کرنا ہے لیکن ملک عزیز میں عدل و انصاف کی کیا حالت ہے یہ ورلڈ جسٹس پراجیکٹ کی سالانہ رپورٹ سے واضح ہو جاتا ہے جس کے مطابق پاکستان دنیا میں 143ممالک میں 130 ویں نمبر پر ہے۔ ہمارے بیورو کریٹس جو پبلک سرونٹ یعنی عوامی خادم ہیں‘ وہ مخدوم بنے ہوئے ہیں اور جی بھر کر قومی خزانے کو لوٹ رہے ہیں۔ ہمارے نام نہاد مذہبی رہنما بھی عطیات کے نام پر عوام سے کپیسٹی چارجز بٹور رہے ہیں۔ اور عوام بے چار ے ہر طرح کے کپیسٹی چارجزادا کرنے کے باوجود اندھیرے میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ بقول علامہ اقبال:ہم کو تو میسر نہیں مٹی کا دیا بھیگھر پیر کا بجلی کے چراغوں سے ہے روشن</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/228_40817243.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>صحت کا شعبہ زبوں حالی کا شکار(جویریہ صدیق )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/javeria-siddique/2026-04-25/51832/24764012</link><pubDate>Sat, 25 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/javeria-siddique/2026-04-25/51832/24764012</guid><description>مجھے جب بھی کوئی ایمرجنسی ہوتی ہے تو سرکاری ہسپتال کا رخ کرتی ہوں‘ کیونکہ مجھے ایسا لگتا ہے کہ وہاں ایمرجنسی میں موجود ڈاکٹر زیادہ قابل ہیں اور عملہ بھی ہر وقت موجود ہوتا ہے جبکہ ہسپتال بھی بڑے ہوتے ہیں۔ تاہم جب کوئی معمولی مسئلہ ہو تو نجی شعبے کی طرف جاتی ہوں۔ نجی ہسپتال جدید سہولتوں کے باوجود ایمرجنسی چھوٹی بناتے ہیں۔ انکا زیادہ دھیان کلینکس پر ہوتا ہے۔ میں جہاں علاج کیلئے جاتی ہوں وہاں او پی ڈی بہت اچھی ہے مگر ایمرجنسی بہت چھوٹی اور وہاں سہولتیں بھی کم ہیں۔ اسلام آباد میں اگر کسی کو کوئی ایمرجنسی ہو جائے تو پمز یا پولی کلینک ہی بہتر آپشن ہیں۔ شہر میں ایک بڑا نجی ہسپتال ہے لیکن اتنا ہی مہنگا بھی ہے۔ ایک بار مرہم پٹی کرانے کا میرا بل جب 15ہزار بنا تو میں دنگ رہ گئی کہ یہ کتنا مہنگا ہے۔ جب دوبارہ وہی ڈریسنگ کرانے پمز گئی تو طبی سامان بلیو ایریا کی فارمیسی سے خود خریدا جسکا بل 1500 کے لگ بھگ تھا جبکہ ہسپتال میں سو روپے لگے۔ یہ سب دیکھ کر سوچ میں پڑ گئی کہ کاش! ان سرکاری ہسپتالوں پر ہی صحیح طرح توجہ دی جائے۔لاہور‘ کراچی اور پشاور کے سرکاری ہسپتالوں میں جانا ہوا تو وہاں بھی ایسی ہی صورتحال تھی۔ ہر ہسپتال میں بدبو آپ کا استقبال کرتی ہے۔ عملہ اور ڈاکٹر بہت قابل ہیں لیکن سہولتیں دستیاب نہیں۔ ایک دوست ڈاکٹر بتا رہی تھیں کہ سرجری کرتے ہوئے آپریشن تھیٹر کی لائٹ چلی گئی جبکہ ہسپتال کا جنریٹر بھی خراب تھا۔ شکر ہے کہ مریض کی جان بچ گئی‘ ورنہ کیا سے کیا ہو جاتا۔ سرکاری ہسپتالوں میں سینٹرل کولنگ یا ہیٹنگ سسٹم اول تو ہوتا نہیں اور اگر کہیں موجود ہو تو چل نہیں رہا ہوتا۔ دوسری جانب آپ کسی نجی ہسپتال میں جائیں تو ایک مہک آپ کا استقبال کرتی ہے۔ تیز اے سی یا ہیٹر آپ کو موسم کی شدت کا احساس نہیں ہونے دیتے۔ وہ الگ بات کہ جب بل آتا ہے تو مریض کی جیب کٹ جاتی ہے۔ بطور بیوہ‘ جب میں روٹین چیک اَپ کے بعد ہسپتال بل دے رہی ہوتی ہوں تو شدت سے اس کا احساس ہوتا ہے۔ بطور سویلین بیوہ مجھے حکومت کی جانب سے کوئی رعایت کیوں نہیں ملتی؟ آج کل کسی بھی شعبے کا ماہر ڈاکٹر پانچ ہزار سے کم فیس نہیں لیتا۔ خون کا ایک بنیادی ٹیسٹ بھی دو‘ تین ہزار کا ہو گیا ہے۔ اگر سرکاری ہسپتال جائیں تو گھنٹوں لائن میں لگیں۔ گندگی‘ بدبو اور شور برداشت کریں اور آخر میں پتا چلتا ہے کہ ڈاکٹر سیٹ سے اٹھ گیا ہے۔ ٹیسٹ کیلئے جائو تو کئی کئی ماہ بعد باری آتی ہے‘ وہ بھی اگر مشین خراب نہ ہو تو۔ اس لیے میرے جیسے لوگ نجی شعبے کا رخ کرنے پر مجبور ہیں۔ وہاں بنیادی بلڈ ٹیسٹ اور ایک دو ڈاکٹرز سے چیک اَپ کے بعد پچیس‘ تیس ہزار کابل آرام سے بن جاتا ہے۔ ایسے میں انسان سوچ میں پڑ جاتا ہے۔ متوسط طبقے کے مسائل الگ ہیں اور غریب عوام کے الگ۔ وہ تو ایسے ہسپتالوں میں جا رہے ہیں جہاں ایڈز‘ یرقان اور ہیپاٹائٹس جیسی متعدی بیماریاں مفت بانٹی جا رہی ہیں کیونکہ حفظانِ صحت کے اصولوں کا خیال نہیں رکھا جا رہا۔ عملے کی غفلت بھی ہے اور سرکار کی عدم توجہی بھی۔ نئے گملے رکھ دینے سے یا نیا بورڈ لگا دینے سے ہسپتال جدید نہیں ہو جاتے۔ وہاں پر ضروری مشینری فراہم کرنے‘ ادویات کی فراہمی‘ سہولتیں دینے سے اور قابل عملے سے تبدیلی آتی ہے۔ حکمران اشرافیہ کو چاہیے کہ ذرا سرکاری ہسپتالوں اور ڈسپنسریوں کا چکر لگائیں‘ ان کو اپنی کارکردگی نظر آ جائے گی۔مجھے یاد ہے کہ محترمہ بینظیر بھٹو نے بطور وزیراعظم چھوٹے طبی مراکز منصوبے کا آغاز کیا تھا۔ ان طبی مراکز میں بچوں کو ویکسین لگتی تھی‘ بنیادی بیماریوں اور خاندانی منصوبہ بندی کی ادویات بھی دستیاب ہوتی تھیں۔ لیڈی ہیلتھ ورکرز بھی مقرر کی گئی تھیں تاکہ پولیو کے قطرے پلانے میں مدد ملے اور حاملہ خواتین کی بھی معاونت ہو۔ یہ ایک اچھا منصوبہ تھا‘ ایسے منصوبوں پر ہر صوبے میں کام ہونا چاہیے۔ مگر جس ملک کے حکمران اپنا علاج بیرونِ ملک سے کراتے ہوں‘ وہاں کیسے صورتحال بہتر ہو سکتی ہے؟ ابھی ایک ہوشربا انکشاف ہوا ہے کہ پنجاب کے ایک ہسپتال سے بچوں میں ایچ آئی وی یعنی ایڈز کا مرض کیسے پھیلا۔ استعمال شدہ سرنج کا استعمال اس کا سبب بنا۔ سندھ میں بھی یہ مرض تیزی سے پھیل رہا ہے۔ اس حوالے سے گزشتہ تین چار سال سے مسلسل خبریں آ رہی ہیں۔ اس کی بڑی وجہ طبی عملے کی غفلت اور استعمال شدہ طبی آلات کا استعمال ہی ہے۔ کتنے ہی لوگ اینڈو سکوپی اور گردوں کے ڈائلیسز کیلئے جاتے اور نئی بیماریاں لے کر آ جاتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ مشینیں صاف نہیں ہوتیں۔ بلڈ بینکوں میں جراثیم آلود خون‘ بیوٹی پارلر اور باربر شاپس میں استعمال شدہ ریزر‘ قینچی اور ناخن سنوارنے والے ٹولز اور غیر محفوظ دندان سازی کے آلات خطرناک امراض کے پھیلائو کا باعث بن رہے ہیں۔ پارلر یا باربر کے پاس ہمیشہ اپنا شیور اور ذاتی کٹ لے کر جائیں۔ پاکستان میں 75.8 فیصد آبادی 15 سے 64 سال کے درمیان ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کہتا ہے کہ پاکستان میں خواتین کی اموات کی بڑی وجہ دل کی بیماریاں‘ سٹروک‘ زچگی کے عمل میں پیچیدگی‘ ذیابیطس‘ سانس کے امراض‘ جگر کی بیماریاں‘ نمونیہ اور بریسٹ کینسر ہیں۔ مردوں میں اموات کی 30 سے 55 فیصد وجہ دل کے امراض ہیں۔ اس کے بعد سٹروک‘ پیدائشی امراض‘ ٹی بی‘ سانس اور پھیپھڑوں کے امراض اور کینسر وغیرہ شامل ہیں۔ حادثات سے بھی کثرت سے اموات ہوتی ہیں۔ ملک میں ٹی بی کے بھی نئے کیسز سامنے آ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ملیریا اور ہیپاٹائٹس کی شرح بھی بڑھ رہی ہے۔ خود کشی کی شرح چھ فیصد سے زائد ہے۔ کیا آپ نے پاکستان میں کبھی خودکشی سے روکنے کی ہیلپ لائن کا سنا ہے؟ کتنے ہی لوگ غلطی سے زہریلی شے کھانے کے سبب مر جاتے ہیں‘ کبھی پوائزن کنڑول ہیلپ لائن کا سنا ہے؟ پاکستان میں ماحولیاتی آلودگی حتیٰ کہ ہاتھ نہ دھونے کی وجہ سے ہونیوالی بیماریوں کے سبب بھی اموات ہو رہی ہیں۔ یہ شرح بہتر کی جا سکتی ہے اگر طبی سہولتیں بہتر ہوں لیکن افسوس کہ ان مسائل پر کسی کی توجہ ہی نہیں۔ ملکی آبادی ڈھائی فیصد سالانہ کے حساب سے بڑھ رہی ہے مگر طبی سہولتیں آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔ ان حالات میں پنجاب کے سرکاری ہسپتال میں یہ مقابلہ ہو رہا تھا کہ سی سیکشن سرجری کون ڈاکٹر جلدی کرے گا اور اس کی وڈیو بھی بن رہی تھی۔ نجی ہسپتالوں میں پرائیویسی کے معاملات قدرے بہتر ہیں مگر سرکاری ہسپتالوں سے تو میت تک کی تصاویر لیک کر دی جاتی ہیں۔ مشہور شخصیات کا وزٹ‘ لیب رپورٹس اور بیماری کی نوعیت تک میڈیا سے شیئر کر دی جاتی ہے۔ رہی سہی کسر پولیس پوری کر دیتی ہے‘ جو کبھی نجی طبی تفصیلات کو نہیں چھپاتی۔ ہسپتالوں میں ایسے کائونٹرز کی ضرورت ہے جو حادثات اور سانحات کے متاثرین کو ہمدردی دیں۔ بیماری یا حادثے میں طبی امداد کے ساتھ ہمدردی کی بھی ضرورت ہوتی ہے لیکن ہمارے ملک میں ماہرِ نفسیات بہت کم ہیں اور جو ہیں وہ عوام کی پہنچ سے باہر ہیں۔ ایک طرف مہنگے نجی ہسپتال ہیں اور دوسری طرف سرکاری ہسپتال‘ جہاں علاج اور ڈاکٹر موجود ہیں مگر مشینوں اور ادویات کی کمی ہے۔ سرکاری ہسپتالوں کو صفائی ستھرائی اور نئی مشینوں کی اشد ضرورت ہے۔ وہاں غریب افراد کو مفت ادویات اور علاج کی سہولت ملنی چاہیے۔ لیبز کو جدید اور مشینوں کو ٹھیک ہونا چاہیے۔ ہمیں ہر روز کسی نئے ترقیاتی منصوبے‘ کسی نئے پل یا نئی سڑک کا سنگ بنیاد رکھنے کی خبریں سننے کو ملتی ہیں لیکن نئے ہسپتالوں کا ذکر نہیں ہوتا۔ ملک میں دل کے امراض‘ شوگر‘ موٹاپے‘ بلڈ پریشر جیسے تیزی سے بڑھتے امراض کو لے کر ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کرنی چاہیے۔ خواتین کی بڑی تعداد شرم کی وجہ سے نسوانی مسائل زیر بحث نہیں لاتی‘ ان کی بیماریوں پر بھی بات ہونی چاہیے۔ چھاتی کا سرطان‘ بچہ دانی کے امراض‘ حمل کے مسائل کو شرم کے ساتھ منسلک مت کریں۔ یہ بھی ویسی ہی توجہ مانگتے ہیں جیسے دوسرے امراض۔ ہم تبھی فلاحی ریاست بن سکتے ہیں جب اپنے ہسپتالوں کو صاف کریں گے‘ جب وہاں غریبوں کا علاج مفت ہو گا‘ جب وہاں استعمال شدہ آلات استعمال نہیں ہوں گے اور سب سے بڑھ کر‘ ہر مریض کو سب سے پہلے ایک معزز انسان سمجھا جائے گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_38020467.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>اتمامِ حجت(مفتی منیب الرحمٰن )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-04-25/51833/30952489</link><pubDate>Sat, 25 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-04-25/51833/30952489</guid><description>جنگ دنیا کا سب سے مہنگا کھیل ہے‘ تباہی ہے‘ ہلاکت ہے‘ انسانی جانوں اور اَملاک کا بے تحاشا نقصان ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: &#39;&#39;دشمن سے مقابلے کی تمنا نہ کرو اور اللہ سے عافیت کا سوال کرتے رہا کرو اور اگر تمہارا دشمن سے مقابلہ ہو جائے تو ثابت قدم رہو اور کثرت سے اللہ کو یاد کرو‘‘ (دارمی: 2484)۔ (2) &#39;&#39;اے لوگو! دشمن سے مقابلے کی تمنا نہ کرو اور اللہ سے عافیت کا سوال کرتے رہا کرو‘ لیکن اگر تمہارا دشمن سے مقابلہ ہو جائے تو صبر واستقامت سے کام لو اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے۔ پھر فرمایا: اے اللہ! کتاب کو اتارنے والے‘ بادلوں کو چلانے والے اور لشکروں کو شکست دینے والے! تو ان کافروں کو شکست دے اور ان کے خلاف ہماری مدد فرما‘‘ (بخاری: 2966)۔ (3) &#39;&#39;دشمن سے مقابلے کی تمنا نہ کرو‘ کیونکہ تم نہیں جانتے کہ شاید تمہیں ان کے ذریعے آزمایا جائے اور اللہ سے عافیت کا سوال کرتے رہا کرو‘ پس جب وہ غراتے اور چیختے چلاتے ہوئے تم تک آپہنچیں‘ تو زمین پر جمے رہو اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یہ عرض کرو: اے اللہ! ہمارے اور ان کے رب! ہماری اور ان کی پیشانی ترے دستِ قدرت میں ہے اور تو ہی انہیں مار نے والا ہے‘ پس جب وہ تمہارے قریب آ پہنچیں تو ان پر چڑھ دوڑو اور جان لو! جنت چمکتی ہوئی تلواروں کے نیچے ہے‘‘ (مصنَّف عبدالرزاق: 9513)۔ان احادیثِ مبارکہ کا جوہر یہ ہے کہ جنگ کسی کی بھی ترجیحِ اول نہیں ہونی چاہیے‘ لیکن اگر قضائے الٰہی سے دشمن جنگ مسلط کر دے تو پھر حالات کیسے ہی کیوں نہ ہوں‘ ثابت قدمی کا مظاہرہ کرنا چاہیے‘ پائے ثبات میں لغزش نہیں آنی چاہیے‘ حق کو غالب کرنے اور باطل کو نیست ونابود کرنے کیلئے آخری حد تک جانے سے بھی گریز نہیں کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: &#39;&#39;اے ایمان والو! جب تمہارا کسی فوج سے مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرو تاکہ تم کامیاب ہو جائو‘‘ (الانفال: 45)۔ حدیث مبارک میں فرمایا: &#39;&#39;ہلاک کرنے والے سات (بڑے) گناہوں سے بچو: صحابہ نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! وہ (بڑے) گناہ کون سے ہیں‘ آپﷺ نے فرمایا: اللہ کے ساتھ اس کے غیر کو شریک ٹھہرانا‘ جادوکرنا‘ قتلِ ناحق‘ سود کھانا‘ یتیم کا مال (ظلماً) کھانا‘ (جہاد کے وقت) دشمن کے مقابل پیٹھ پھیر دینا‘ ایسی پاک دامن مومنات پر بدکاری کی تہمت لگانا جو (اپنی پاکدامنی کے سبب) بدکاری کے تصور ہی سے ناآشنا ہوں‘‘ (بخاری: 2766)۔الغرض جہاد کے موقع پر پسپائی اختیار کرنے اور پیٹھ پھیرنے کو رسول اللہﷺ نے کبیرہ گناہوں میں شمار کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: &#39;&#39;اے ایمان والو! جب جنگ میں تمہارا کافروں سے مقابلہ ہو تو (حالات کیسے ہی دشوار کیوں نہ ہوں)اُن سے پیٹھ نہ پھیرو اور جس شخص نے جنگی حکمتِ عملی کے تحت یا مجاہدین کی کسی جماعت کوکمک پہنچانے کے ارادے کے بغیر اُس دن پیٹھ پھیری تو بیشک وہ اللہ کے غضب کے ساتھ لوٹا اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ کیا ہی برا ٹھکانا ہے‘‘ (الانفال: 15 تا 16)۔ اس آیۂ مبارکہ کی رو سے میدانِ جہاد میں اپنے مورچے سے ہٹنے کی مندرجہ ذیل صورتیں اللہ تعالیٰ کی وعید سے مستثنیٰ ہیں: (1) جنگی حکمتِ عملی کے تحت تازہ دم ہونے اور دوبارہ پلٹ کرحملہ کرنے کیلئے پیچھے ہٹے۔ (2) مجاہدین کے کسی ایسے گروہ کو کمک پہنچانے کیلئے پوزیشن تبدیل کرے جودشمن کے مقابلے میں دبائو میں ہے‘ کیونکہ یہ پسپائی جہاد سے فرار کیلئے نہیں ہے‘ بلکہ جہاد کے مقصد کو حاصل کرنے کیلئے ہے۔سطورِ بالا ہم نے تمہید کے طور پر لکھی ہیں۔ افغانستان سے ٹکرائو اور تصادم ہمارے لیے‘ ہماری ریاست وحکومت اور افواج کیلئے انتہائی تکلیف دہ اور ناگزیر انتخاب ہے؛ چنانچہ جب افغانستان سے پاکستان میں دراندازی کا سلسلہ شروع ہوا اور بلوچستان وخیبر پختونخوا حتیٰ کہ اسلام آباد میں دہشت گردی کے واقعات تسلسل کے ساتھ ہونے لگے‘ ہر ایک کو معلوم ہے کہ اس کے پیچھے بھارت کا انٹیلی جنس نیٹ ورک‘ جنگی تربیت اور سرمایہ ہے۔ حکومتِ پاکستان نے پہلے سفارتی ذرائع سے افغان حکومت کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ وہ یہ کام نہ کریں‘ یہ وہی بھارت ہے جو افغانستان پر سوویت یونین کی یلغار اور بعد میں اتحادی افواج کے قبضے کے دوران تحریکِ طالبانِ افغانستان کا شدید مخالف تھا‘ سوویت یونین اور اس کی مسلّط کردہ حکومت کا حامی تھا‘ حامد کرزئی اور اشرف غنی کے عہدِ اقتدار میں بھی بھارت طالبان کا مخالف رہا۔ جبکہ پاکستان نے ہر مشکل وقت میں عالمی دبائو کے باوجود تحریکِ طالبانِ افغانستان کی حمایت کی‘ انہیں اپنی سرزمین پر پناہ دی‘ ان کی نسلیں یہاں پروان چڑھیں۔ کئی افغان شہری پاکستان میں کاروبار کر کے امیر کبیر بن گئے‘ بعض شرقِ اوسط اور مغربی ممالک میں جاکر رہائش پذیر ہو گئے‘ وہاں کی شہریت اختیار کی‘ کاروبار اور ملازمتوں سے فیض یاب ہوئے‘ وہ سب پاکستانی پاسپورٹ اور پاکستانی قومی شناختی کارڈ لے کر جاتے رہے ہیں۔ اس پورے دور کو فراموش نہیں کرنا چاہیے‘ ناشکری اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: &#39;&#39;اور یاد کرو! جب تمہارے رب نے آگاہ کر دیا تھا کہ اگر تم نے شکر کیا تو میں ضرور تم پر اپنی نعمتوں میں اضافہ کروں گا اور اگر تم نے ناشکری کی تو بیشک میرا عذاب ضرور سخت ہے‘‘ (ابراہیم: 7)۔ (2) &#39;&#39;اللہ تمہیں عذاب دے کر کیا کرے گا اگر تم شکر ادا کرو اور ایمان لے آئو اور اللہ شکر کی جزا دینے والا خوب جاننے والا ہے‘‘ (النسآء: 147)۔ (3) &#39;&#39;اے آلِ دائود! تم شکر ادا کرنے کو اپنا شعار بنائو اور میرے بندوں میں سے شکر گزار کم ہیں‘‘ (سبا: 13)۔پاکستان نے افغانستان کے ساتھ اپنے تنازعات کم کرنے کیلئے سب سے پہلے سفارتی سطح پر کوششیں کیں‘ پھر جب سفارتی سطح کی کوششیں بار آور نہ ہوئیں تو اعلیٰ حکام کی سطح پر ملاقاتیں کیں‘ اس کے بعد حکومتِ پاکستان کے ذمہ داران نے امارتِ اسلامیہ افغانستان کے عمائدین کے ساتھ اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے مکالمہ کیا اور جب یہ بھی ناکام ہوا تو سعودی عرب‘ قطر اور ترکیے کو بیچ میں ڈالا تاکہ کوئی قابلِ قبول حل نکل آئے۔ لیکن امارتِ اسلامیہ افغانستان کے عمائدین کوئی یقینی معاہدہ کرنے اور ذمہ داری قبول کرنے سے انکاری رہے اور اس دوران پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں تسلسل کے ساتھ جاری رہیں‘ پھر ناگزیر طور پر پاکستانی افواج نے دہشت گردوں کی کمین گاہوں‘ تربیتی مراکز اور اسلحے کے ذخیروں پر حملے کیے تاکہ برائی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے۔اس سے پہلے پاکستانی علماء کا ایک ایسا وفد بھی مصالحت کی خاطر افغانستان گیا‘ جن کے ساتھ تحریکِ طالبان افغانستان کا استادی شاگردی کا رشتہ تھا۔ انہوں نے امارتِ اسلامیہ افغانستان اور ٹی ٹی پی کی قیادت سے ملاقاتیں کر کے ان کو قائل کرنے اور کوئی قابلِ قبول حل نکالنے کی کوشش کی‘ لیکن وہ بھی ناکام لوٹے۔ الغرض پاکستان نے ہر طرح سے اتمامِ حجت کیا‘ کیونکہ پاک افغان تصادم کی صورتحال نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پوری ملتِ اسلامیہ کیلئے تکلیف دہ ہے۔ جمعیۃ علماء اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمن بھی پاکستان کی وزارتِ خارجہ سے بریفنگ لے کر گئے‘ مگر مسئلہ پھر بھی حل نہ ہوا۔ اخگر مشتاق رحیم آباد ی کے یہ اشعار ہمارے حسبِ حال ہیں:ہنگامۂ آفات اِدھر بھی ہے‘ اُدھر بھی؍ بربادیِ حالات اِدھر بھی ہے‘ اُدھر بھی ٭ہونٹوں پہ تبسم‘ کبھی پلکوں پہ ستارے؍ یہ دل کی کرامات اِدھر بھی ہے‘ اُدھر بھی ٭بے چین اگر میں ہوں‘ تو وہ بھی ہیں پریشاں؍ در پردہ کوئی بات اِدھر بھی ہے‘ اُدھر بھی ٭ہر چند تکلف ہے ملاقات میں‘ لیکن؍ ارمانِ ملاقات اِدھر بھی ہے‘ اُدھر بھی ٭مجرم کسے گردانیے‘ کہیے کسے معصوم؍ اک سیلِ شکایات اِدھر بھی ہے‘ اُدھر بھی ٭کیوں کر کبھی نکلے گی‘ کوئی صلح کی صورت؍ اک تلخی ٔجذبات اِدھر بھی ہے‘ اُدھر بھی٭ افسوس بھری بزم میں بھی‘ مل نہیں سکتے؍ کچھ پاسِ روایات اِدھر بھی ہے‘ اُدھر بھی ٭نالے بھی شرر بار ہیں‘ نغمے بھی شرر بار؍ اک آتشِ جذبات اِدھر بھی ہے‘ اُدھر بھی ٭اَخگر ہی کا دامن نہیں نمناک شبِ غم؍ آنکھوں کی یہ برسات اِدھر بھی ہے‘ اُدھر بھی۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_61172381.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>