<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>ایران امریکہ کشیدگی‘ عالمی امن خطرے میں(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-11-03/11689</link><pubDate>Tue, 03 Nov 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-11-03/11689</guid><description>مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی کشیدگی‘ عدم استحکام اور بحرانوں کی زد میں ہے‘ ایسے میں ایران پر ممکنہ امریکی جوہری حملے سے متعلق سامنے آنے والے دعوے عالمی امن کیلئے انتہائی تشویشناک ہیں۔ امریکی صحافی ٹکر کارلسن نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دباؤ پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے کے امکان پر غور کر سکتے ہیں۔ اس نوعیت کے دعوے عالمی برادری کو سنجیدہ غور وفکر پر مجبور کرتے ہیں۔ ٹکر کارلسن کے بیان کے مطابق ایران میں پہاڑوں کے اندر واقع مبینہ جوہری تنصیبات کو تباہ کرنے کیلئے روایتی امریکی ہتھیار ناکافی ثابت ہو سکتے ہیں جس کے باعث جوہری حملے کا امکان زیرِ بحث آنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ تاہم یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کسی فوجی ہدف کو تباہ کرنے میں دشواری جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا جواز فراہم نہیں کرتی کہ جوہری حملے کے اثرات کسی مخصوص فوجی تنصیب تک محدود نہیں رہتے بلکہ تابکاری‘ انسانی ہلاکتوں‘ ماحولیاتی تباہی اور طویل مدتی اثرات کی صورت میں پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔ عالمی سیاست میں کسی فریق کے مفادات اس کیلئے اہم ہو سکتے ہیں مگر ان مفادات کو انسانیت کی بقا پر فوقیت نہیں دی جا سکتی۔ ایران کے خلاف کسی بڑے فوجی آپریشن کے نتائج بھی انتہائی سنگین ہوں گے۔

خلیجِ فارس اور آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے اہم راستے ہیں اور یہاں پہلے ہی امریکہ اور اسرائیل کی بھڑکائی ہوئی آگ پوری دنیا کی معیشت کیلئے ڈرائونا خواب ثابت ہو رہی ہے۔ اس خطے میں کشیدگی میں اضافہ تیل‘ گیس اور دیگر اشیا کی تجارت کو مزید متاثر کر ے گا‘ جس کے نتیجے میں عالمی منڈیوں میں قیمتیں مزید بڑھیں گی اور مہنگائی میں مزید اضافہ ہو گا۔ یہ صورتحال صرف ترقی پذیر ممالک کیلئے تشویش کا باعث نہیں ترقی یافتہ ممالک میں بھی اس وقت بحرانی صورت پیدا ہو چکی ہے۔ یورپ کے سات آٹھ ممالک میں عوامی مظاہرے اور امریکہ کے آج ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں صدر ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو جن شدید چیلنجز کا سامنا ہے اس کی ایک بڑی اور بنیادی وجہ یہی مشرق وسطیٰ کا بحران ہے جس نے توانائی کی قیمتوں کو شدید متاثر کیا ہے اور مہنگائی کا مسئلہ شدت اختیار کر چکا ہے۔ ایسے حالات میں پاکستان جیسے ممالک‘ جو توانائی کی درآمدات پر انحصار کرتے ہیں‘ اس بحران سے کم متاثر نہیں۔ ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ نقل وحمل‘ صنعت‘ زراعت اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔ جہاں تک جوہری ہتھیاروں کی بات ہے تو فی زمانہ ان کے استعمال کے بارے سوچنا بھی پاگل پن ہے۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ امریکہ ایسی حرکت کرتا ہے تو یہ دیگر جوہری طاقتوں کیلئے ایسی کارروائی کی نظیر ثابت ہو گی۔ یہی وہ خطرہ ہے جسے دنیا کسی صورت نظر انداز نہیں کر سکتی۔ اس صورتحال میں اقوام متحدہ‘ عالمی طاقتوں اور بین الاقوامی سفارتکاری سے وابستہ اداروں اور شخصیات کو بروئے کار آنے کی ضرورت ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان اختلافات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات‘ قابلِ تصدیق معاہدوں اور باہمی ضمانتوں کے ذریعے تلاش کرنے کی جو کوشش پاکستان‘ قطر اور دیگر ممالک کی جانب سے جاری ہے اس کا کامیابی سے ہمکنار ہونا ہی عالمی امن کی ضمانت ہے۔ اس کشیدگی کے خاتمے‘ علاقائی امن کی حمایت اور تنازعات کے مذاکراتی حل کیلئے عالمی سطح پر آواز بلند کی جانی چاہیے۔ دنیا کسی تباہ کن عالمی جنگ کی متحمل نہیں ہو سکتی؛ چنانچہ عالمی امن کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے عناصر کو خبردار کرنے کی ضرورت ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ عالمی تباہی کے شعلوں کو بھڑکانے کے بجائے انہیں بجھانے کی کوشش کی جائے کیونکہ تصادم کی صورت میں تباہی کی قیمت چند حکومتیں نہیں پوری انسانیت ادا کرے گی۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سموگ کا مسئلہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-11-03/11688</link><pubDate>Tue, 03 Nov 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-11-03/11688</guid><description>لاہور میں سموگ کا مسئلہ ایک بار پھر بے قابو ہو چکا ہے جس نے صوبائی دارالحکومت کو ایک گیس چیمبر میں تبدیل کر دیا ہے۔ شہر کا مجموعی ایئر کوالٹی انڈیکس 500 سے تجاوز کر کے انتہائی مضر سطح پر پہنچ گیا ہے۔ گزشتہ روز علامہ اقبال ٹاؤن میں یہ سطح 912 تک ریکارڈ کی گئی۔ یہ اعداد وشمار صرف فضائی آلودگی کی سنگینی کو ہی ظاہر نہیں کرتے بلکہ لاکھوں شہریوں کی صحت کیلئے بھی ایک بڑا خطرہ ہیں۔ اس وقت ہسپتال سانس‘ آنکھوں اور گلے کی بیماریوں میں مبتلا مریضوں سے بھرے ہوئے ہیں‘ یعنی سموگ اب ایک سالانہ وبائی مرض کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ اگر اس کے اسباب کا جائزہ لیا جائے تو پنجاب سیکٹرل امیشن انوینٹری کی ایک رپورٹ کے مطابق فضائی آلودگی کا 39 فیصد اخراج ٹرانسپورٹ سے‘ 24 فیصد صنعت سے اور 16 فیصد توانائی سے ہوتا ہے۔ یعنی ٹریفک کا زہریلا دھواں اس کا سب سے بڑا سبب ہے اور سب سے کم توجہ بھی اسی پر دی جاتی ہے۔

دوسری طرف شہر بھر میں جگہ جگہ جاری طویل تعمیراتی منصوبوں نے بھرپور حصہ ڈالا ہے۔ کھدی ہوئی سڑکیں اور ان سے اُڑنے والا گرد وغبار فضا کو مزید آلودہ بنا رہا ہے۔ سموگ سے نمٹنے کیلئے دیر پا حکمت عملی اور مسلسل محنت کی ضرورت ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام کو جدید بنانا‘ تعمیراتی سائٹس پر دھول کے حوالے سے سخت قواعد و ضوابط اور صنعتوں میں ماحول دوست ٹیکنالوجی کے فروغ کو اس مہم کا مستقل حصہ بنانا چاہیے۔ ماحولیاتی ایمرجنسی اب کوئی ہنگامی اقدامنہیں رہی بلکہ یہ ہماری مستقل ضرورت بن چکی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>آن لائن فراڈ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-11-03/11687</link><pubDate>Tue, 03 Nov 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-11-03/11687</guid><description>نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے آن لائن انویسٹمنٹ کے نام پر دو ارب روپے کا بڑا مالی فراڈ بے نقاب کیا ہے۔ یہ گروہ فرضی خریداری اور سرمایہ کاری کے نام پر لوگوں کا پیسہ ہتھیاتا‘ شروع میں کچھ منافع دکھاتا اور پھر سب کچھ لے کر رفوچکر ہو جاتا۔ یہ واقعہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ ملک میں ڈیجیٹل فراڈ کا دھندہ کس حد تک سرایت کر چکا ہے۔ اس وقت پاکستان میں رپورٹ ہونے والے سائبر کرائم کے تقریباً60 فیصد جرائم مالیاتی فراڈ سے متعلق ہیں۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی ایک مشترکہ رپورٹ کے مطابق مالیاتی سائبر فراڈ کی وجہ سے پاکستانی معیشت کو جی ڈی پی کے تقریباً 2.5 فیصد کے برابر نقصان پہنچ رہا ہے۔ یہ رقم آج کے حساب سے تین ہزار ارب سے زائد بنتی ہے۔

یہ شرح واضح کرتی ہے کہ پاکستان میں ڈیجیٹل سکیورٹی اور پرائیویسی کے حوالے سے اب بھی بڑا خلا موجود ہے‘ جس کا یہ فراڈیے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ڈیجیٹل ناخواندگی کے علاوہ کم وقت میں زیادہ منافع کمانے کی حرص بھی ایسے گروہوں کا کام آسان کر دیتی ہے جو جعلی ایپس اور سوشل میڈیا کے ذریعے شہریوں کی جمع پونجی لوٹ رہے ہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ اس چیلنج سے نمٹنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر حکمت عملی وضع کی جائے۔ ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام کو مزید محفوظ بنانے کے ساتھ عوامی سطح پر آگاہی کی بھی اشد ضرورت ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مرنے سے پہلے یہ کام کر جائیے(محمد اظہارالحق)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-11-03/52958/63608800</link><pubDate>Tue, 03 Nov 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-11-03/52958/63608800</guid><description>حاجی صاحب کا انتقال ہوا۔ تدفین ہوئی‘ قُل ہوا‘ پھر ساتواں ہوا‘ پھر چالیسواں! دیگیں پکیں‘ دعائیں کی گئیں۔ کھانے والے آئے‘ ڈٹ کر کھایا۔ مونچھیں مروڑیں‘ کھانے کی کوالٹی پر تبصرے کیے۔ کچھ مثبت‘ کچھ منفی! اور اپنے اپنے گھر چلے گئے۔ چند روز کے بعد باہر سے آنے والے رشتہ داروں نے بھی رختِ سفر باندھا اور تسلیاں دے کر رخصت ہو گئے۔ سب کہہ گئے کہ جب بھی ضرورت پڑے‘ بتائیں! ہم آ جائیں گے۔ یہ اور بات کہ بتاتا کوئی نہیں۔ نہ کوئی آ سکتا ہے۔ یہ دنیا ہے! اور یہاں ہر فرد‘ ہر کنبہ‘ ہر خاندان‘ امیر ہے یا غریب‘ اپنے اپنے گورکھ دھندے میں پھنسا ہے۔ حاجی صاحب کی بیٹیاں جتنے دن رہیں‘ روز قبر پر جاتیں‘ روتیں‘ تلاوت کرتیں۔ پھر وہ بھی اپنے اپنے شوہروں کے ہمراہ اپنے اپنے گھروں کو چلی گئیں۔ سب کے بچے پڑھتے تھے۔سب چلے گئے تو پیچھے رہ گئے دو بیٹے‘ ان کی بیگمات‘ ان کے بچے اور حاجی صاحب مرحوم کی بیگم۔ مگر اب وہ بیگم نہیں‘ بیوہ تھیں۔ بیگم اور بیوہ میں بہت فرق ہے۔ اس فرق کو مرد نہیں سمجھ سکتے۔ وہی سمجھتی ہے جو راتوں رات بیگم سے بیوہ ہو جائے۔ بیگم اور بیوہ میں &#39;&#39;ب‘‘ اور &#39;&#39;ی‘‘ مشترک ہیں۔ اس کے بعد بیگم کا &#39;&#39;گُم‘‘ رہ جاتا ہے اور بیوہ کا &#39;&#39;وہ‘‘۔ یعنی بیگم گُم ہو جاتی ہے اور &#39;&#39;وہ‘‘ رہ جاتی ہے۔ کچھ عرصہ تو پہلے والا روٹین چلتا ہے مگر پھر تغیرات شروع ہو جاتے ہیں۔ دیواروں میں دراڑیں آنے لگتی ہیں۔ چھت کی کڑیاں ہلنے لگتی ہیں۔ پہلے کاروبار حاجی صاحب کے ہاتھ میں تھا‘ بیٹے ان کے معاون تھے۔ حاجی صاب شام کو آ کر ہر روز رقم اپنی بیگم کے ہاتھ میں دیتے تھے۔ بیگم مالک و مختار تھی۔ سودا سلف‘ کچن‘ مہمان نوازی‘ بچوں کی فیسیں‘ جملہ ضروریات و اخراجات‘ سب کی نگران بیگم تھی۔ مگر اب کاروبار بیٹوں کے ہاتھ میں تھا۔ دونوں نے کاروبار تقسیم کر لیا۔ شروع شروع میں تو دونوں بیٹوں نے فرمانبرداری کا ثبوت دیتے ہوئے رقم ماں کے ہاتھ میں دی مگر جلد ہی دونوں بیویاں مضطرب ہونے لگیں۔ کھسر پھسر ہونے لگی۔ شوہروں کے سامنے ساس کی شکایات شروع ہو گئیں۔ حاجی صاحب کی زندگی میں چُوں بھی کوئی نہیں کرتا تھا کیونکہ کاروبار بھی ان کا تھا اور وسیع و عریض مکان بھی ان کا تھا۔ بیٹوں نے ماں کے پاس جا کر لمبی تمہید باندھی اور لمبی کہانی سنائی جس کا لب لباب یہ تھا کہ چونکہ ماں کو بچوں کی تمام ضروریات کا علم نہیں اس لیے دشواریاں پیدا  ہوتی ہیں‘ چنانچہ اب دونوں بھائی رقم اپنی اپنی بیویوں کے ہاتھ میں دیں گے۔ ماں کو انہوں نے یقین دلایا کہ اس کی ضروریات کا پورا خیال رکھا جائے گا۔ آہستہ آہستہ یہ خیال بھی دھندلا ہونے لگا۔ بیٹے صبح ناشتہ کر کے چلے جاتے۔ شام  ڈھلے آتے اور ماں کو دروازے ہی سے سلام کر کے اپنے اپنے کمروں کا رُخ کرتے۔ ماں کو کبھی دواؤں کے لیے کہنا پڑتا‘ کبھی کسی اور ضروری چیز کے لیے۔ کھانا کمرے ہی میں بھیجا جانے لگا۔ زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ ماں کی حالت خراب ہونے لگی۔ لباس پرانا‘ کھانا کم اور بس یونہی سا۔ دینے والے ہاتھ مانگنے والے ہاتھ بن گئے۔ ایک دن ماں نے ہمت کی‘ دونوں بیٹوں کو بٹھایا اور کہا کہ وہ کوئی غریب یا بھکارن نہیں ہے! مکان اس کا ہے کیونکہ اس کے شوہر کے نام ہے۔ کاروبار بھی اس کے میاں کا ہے۔ اس نے کہا &#39;&#39;میں تمہاری بیویوں کی بدسلوکی سے تنگ آ چکی ہوں‘ تم لوگ میرے مکان سے نکلو اور میرے میاں کا کاروبار میرے حوالے کرو‘ میں اپنا مینجر رکھ کر سنبھال لوں گی‘‘۔ مگر یہ بیوہ کی لاعلمی تھی اور خوش فہمی۔ بیٹوں نے کسی لحاظ‘ کسی ادب آداب‘ کسی شرم وحیا کے بغیر بتایا کہ بیوہ شوہر کے مال واسباب کی‘ جاگیر اور مکان کی تنہا وارث نہیں ہوتی۔ اسے تو قانون کے مطابق معیّن حصہ ملتا ہے‘ باقی دیگر ورثا میں تقسیم ہوتا ہے۔ اس کے بعد بہت کچھ ہوا‘ جس کا ذکر غیر ضروری ہے۔ صرف یہ سن لیجیے کہ اب کیا صورتحال ہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ حاجی صاحب کی بیوہ ایک &#39;&#39;ضعیف خانہ‘‘ میں ہے‘ جسے فرنگی زبان میں &#39;&#39;اولڈ ہوم‘‘ کہتے ہیں۔ عید‘ بقر عید پر بیٹے باپ کی قبر پر جاتے ہیں پھر ماں کو بھی آ کر مل لیتے ہیں۔ رہے پوتے پوتیاں اور بہوئیں تو بڑھیا ان کی شکلیں بھول چکی ہے۔یہ کوئی افسانہ ہے نہ تخیلاتی نثر پارہ! یہ ایک سچی کہانی ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ ہم پاکستانی (اور شاید بھارتی اور بنگالی بھی) مغربی ملکوں کا مذاق اڑاتے تھے اور حقارت سے کہا کرتے تھے کہ یہ کم بخت نافرمان اپنے بزرگوں کو اولڈ ہومز میں چھوڑ آتے ہیں۔ اہلِ مغرب کی ایک مجبوری تھی۔ گھر کے سب افراد‘ بیٹا‘ بہو‘ پوتے پوتیاں کام پر جاتے ہیں یا سکولوں کالجوں میں۔ واپسی ان کی شام ڈھلے ہوتی ہے۔ ان کے پاس اس کے سوا کوئی اور متبادل نہ تھا۔ دن بھر بوڑھا یا بڑھیا اکیلی کس طرح رہے۔ میں نے آسٹریلیا میں اولڈ ہوم دیکھے ہیں۔ صاف ستھرے! فائیو سٹار نہیں تو فور سٹار ہوٹلوں سے کم نہیں۔ وقت پر دوائیں اور کھانا ملتا ہے۔ پھر یہ کہ وہاں رضاکار بہت ہیں۔ ایک اولڈ ہوم میں ترک رضاکار دیکھے‘ جو بوڑھوں کی خدمت کر رہے تھے۔ جو بوڑھے اپنے گھروں میں اکیلے رہتے ہیں‘ رضاکار ان کی بھی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ سودا سلف لا دیتے ہیں‘ گھر کی صفائی کر جاتے ہیں۔ سرکاری لائبریاں کتابیں ان بوڑھوں کے گھروں میں پہنچاتی ہیں۔ مگر ہمارے ملک میں ایسا نہیں۔ شاید ہی کوئی گھر ایسا ہو جہاں دن کے وقت بوڑھے باپ یا ماں کے پاس کوئی نہ ہو۔ اسے بھی چھوڑیے‘ یہاں کا مسئلہ یہ ہے کہ صاحبِ خانہ اپنی بیوی کے لیے کچھ بھی نہیں چھوڑتا۔ کچھ بے وقوف تو اپنی زندگی میں مکان بچوں کے نام کر دیتے ہیں۔ ابھی بیگم بیوہ بھی نہیں ہوتی کہ بیٹے اور بہوئیں ماں باپ‘ دونوں کو گھر سے نکال دیتے ہیں۔ ایسے بہت واقعات ہوئے ہیں جن میں کچھ نامی گرامی افراد کے نام بھی شامل ہیں۔ پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں اس وقت &#39;&#39;اولڈ ہوم‘‘ موجود ہیں اور کافی تعداد میں ہیں۔ مصدقہ تعداد معلوم نہیں۔ بہرحال ان اولڈ ہومز میں زیادہ تعداد ان بزرگ خواتین کی ہے جو بے گھر ہیں۔ یا وہ میاں بیوی جنہیں اولاد نے گھر سے نکال دیا۔مرد کماتا ہے‘ بچوں کو تعلیم دلواتا ہے‘ ان کی شادیاں کرتا ہے‘ اچھا مکان بنوا کر دیتا ہے۔ بھول اس سے یہ ہو جاتی ہے کہ وہ کوئی ایسا مکان‘ کوئی ایسا ذریعہ آمدنی نہیں چھوڑتا جو صرف بیوہ کی ملکیت میں ہو۔ چھت اپنی ہو تو غریب سے غریب بیوہ بھی بے  گھر نہیں ہو سکتی۔ جب تک اس کے اعضا کام کرتے ہیں‘ وہ اپنا کھانا پکا لے گی۔ کپڑے بھی دھو لے گی۔ بستر کے ساتھ لگ گئی تو کوئی بیٹی‘ بہو یا پڑوسن آ کر مدد کر دے گی۔ مگر گھر اپنا نہیں تو امارت بھی اس کے کام نہیں آئے گی۔ ایسا بھی نہیں کہ سعادت مند بچوں کا وجود عنقا ہو چکا۔ ابھی ہماری قدریں تمام کی تمام مرحوم نہیں۔ ابھی اگر ایک آنکھ پتھر کی ہے تو کم از کم دوسری آنکھ میں حیا کی رمق موجود ہے۔ بہت گھروں میں اولاد بوڑھوں کا خیال رکھتی ہے۔ ان کی خدمت کرتی ہے۔ یہ آخرت کی بہت بڑی کمائی ہے۔ مگر آپ کے بچے سعادت مند ہیں یا نہیں‘ آپ ہر حال میں اپنی موت سے پہلے اپنی اہلیہ کے لیے سر چھپانے کا بندو بست کر جائیں تا کہ آپ کے بعد وہ بیٹوں اور بیٹیوں کی محتاج نہ ہو۔ اگر مستقل آمدنی کا انتظام بھی کر جائیں تو کیا ہی کہنا! سرکاری ملازم اس لحاظ سے خوش قسمت ہیں کہ ان کے بعد ان کی بیوہ کو فیملی پنشن ملتی رہتی ہے۔ جس بیوہ کے پاس دام و درم ہے‘ اس کا بوجھ بھی کم محسوس ہوتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_57182973.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ٹیل‘ شانزے لیزے اور سیکرے کیور(خالد مسعود خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-11-03/52959/25476058</link><pubDate>Tue, 03 Nov 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-11-03/52959/25476058</guid><description>ملک خالد میری مسافرت اور سفروں کے بارے میں سرائیکی زبان کے جس سلینگ میں مثال دیتا ہے اسے کسی صورت لکھا نہیں جا سکتا۔ بلکہ لکھنا کیا‘ اس کو تو سُن کر خود مرے کان کی لوئیں سرخ ہو جاتی ہیں‘ بھلا اب ایسی مثال لکھی کیسے جا سکتی ہے؟ قارئین! مجھے علم ہے کہ سفر کی جمع اسفار ہے لیکن سفروں لکھنا مجھے جتنا لطف دیتا ہے اسفار لکھنے میں اس کا عشرِ عشیر بھی مزہ نہیں آتا۔ اللہ تعالیٰ جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے مرحوم امجد اسلام امجد کو‘ انہوں نے ایک بار ایک واقعہ سنایا کہ کسی مشاعرے میں استاد کی موجودگی میں اس کا شاگرد غزل پڑھ رہا تھا۔ شاگرد کی غزل استاد نے کانٹ چھانٹ اور مرمت کے بعد درست کر دی تھی۔ شاگرد نے کسی ایک مصرعے کو پڑھتے ہوئے اس میں اپنی مرضی سے تبدیلی کر دی۔ اب مجھے مکمل صحت کے ساتھ تو وہ مصرع یاد نہیں‘ تاہم یادداشت کے زور پر تھوڑی بہت ممکنہ اونچ نیچ کے ساتھ مصرع تھا کہ &#39;&#39;اے کہ تیرے چتون سے چاندنی برستی ہے‘‘۔ شاگرد نے استاد گرامی کی موجودگی میں مصرع یوں پڑھا کہ اے کہ تیری پتون سے چاندنی برستی ہے۔ اب خدا جانے اس لفظ پتون کا کیا مفہوم ہے‘ تاہم میں تو وہی لکھ رہا ہوں جو امجد صاحب سے سنا تھا۔ مشاعرے کے بعد استاد نے شاگرد کی کلاس لیتے ہوئے کہا: ابے! میں نے تیری غزل کا مصرع ٹھیک کر کے یہاں &#39;&#39;چتون‘‘ لکھا تھا۔ الو کی دم‘ تو نے وہاں مشاعرے میں اس کو پتون پڑھ دیا۔ شاگرد کہنے لگا: استاد جی ذرا میری بات سنیے۔ مجھے معلوم ہے یہ لفظ چتون تھا لیکن استاد یہاں پہ پتون جو مزہ دے ریا تھا وہ چتون میں نہیں نہیں آ ریا تھا۔ بھلے قواعد کے اعتبار سے غلط ہی سہی مگر بہرحال سفروں ایک ایسا لفظ ضرور ہے جو سمجھ میں آتا ہے۔ میں نے یہ واقعہ سن کر امجد صاحب سے اپنی نالائقی کا اعتراف کرتے ہوئے پوچھا: امجد صاحب میری اردو بھی زیادہ قابل فخر نہیں‘ اور میرا علم بھی خاصا محدود بلکہ کمزور واقع ہوا ہے۔ یہ پتون لفظ ہے کیا؟ امجد صاحب کہنے لگے: اس معاملے میں یوں سمجھو کہ میرا علم بھی تمہارے علم کے برابر ہی ہے۔ سو یہ مسافر سفر کی جمع اسفار لکھنے کے بجائے جب سفروں لکھتا ہے تو اسی شاگرد کی طرح مزہ آتا ہے جو چتون کو پتون لکھ کر خوش تھا۔مانچسٹر اُترنے کے اگلے روز میں دو دن کے لیے پیرس چلا گیا۔ محض دو دن کے لیے پیرس جانے کا بظاہر کوئی منطقی جواز میرے پاس بھی نہیں‘ تاہم ضروری نہیں کہ ہر چیز کا کوئی منطقی جواز ہی ہو۔ بابر نے کہا کہ پیرس کے حالات کچھ ٹھیک نہیں اور وہاں خاصے ہنگامے ہو رہے ہیں۔ یہ خبریں اخباروں اور ٹی وی چینلز کے ذریعے ہم تک پہنچ رہی ہے اور مصدقہ ہیں‘ لہٰذا بہتر ہوگا کہ تم پیرس نہ جاؤ۔ میں نے کہا: بابر میاں! ایک زمانہ تھا‘ جب ہم طالب علم تھے‘ حکومت کے خلاف جلوس نکلا کرتے تھے۔ جب بھی کوئی بڑا مسئلہ درپیش ہوتا تھا‘ عوام سڑکوں پر آتے تھے‘ طلبہ جلوس نکالتے تھے۔ لاٹھی چارج‘ آنسو گیس اور پتھراؤ معمول کی بات ہوتی تھی۔ گرفتاریاں بھی ہوتی تھیں‘ تاہم اس سارے ہنگامۂ ہاؤ ہُو سے لگتا تھا کہ عوام میں تھوڑا دم ہے‘ احتجاج کا کیڑا موجود ہے‘ حقوق سلب کرنے والوں کے خلاف آواز بلند کرنے کا جذبہ زندہ ہے اور اجتماعی مسائل پر دیگر اختلافات پس پشت ڈال کر کندھے سے کندھا ملانے کا حوصلہ موجود ہے۔ پھر آہستہ آہستہ سب کچھ ختم ہو گیا۔ لے دے کے دھرنے رہ گئے ہیں۔ اور اب یہ دھرنے ہیں‘ کنٹینرز ہیں‘ قبل از وقت گرفتاریاں ہیں‘ پرچے ہیں‘ سڑکوں کی بندش ہے‘ لمبے لمبے ریمانڈ اور لمبی لمبی سزائیں ہیں‘ لیکن نہیں ہے تو وہ ہلچل نہیں ہے۔ وہ جذبہ مفقود ہے جو مشترکہ مسائل پر عوام کو اکٹھا کر دیتا تھا۔ چلیں‘ ادھر نہ سہی اِدھر ہی سہی۔ مہنگائی‘ بیروزگاری‘ عالمی کساد بازاری اور ایران امریکہ کی جنگ کے باعث پیدا ہونے والے عام آدمی کے مسائل پر عوام باہر نکل رہے ہیں۔ ان چیزوں پر اگر پیرس کے عوام سڑکوں پر ہیں تو پیرس کے ساتھ یہ منظر بونس میں دیکھنے کو ملے گا۔ بابر کہنے لگا: بھائی! آپ کو سمجھانا اور سفر سے باز رکھنا مشکل ہی نہیں‘ ناممکن کام ہے۔ سو آپ جائیں‘ اللہ آپ کا نگہبان ہو۔میرے ذہن میں اس کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں تھا کہ میں 21 اکتوبر کا دن صرف اور صرف اپنے ساتھ گزارنا چاہتا تھا۔ میں نے ایک چھوٹا سا رک سیک اٹھایا اور پیرس سے اسی کلومیٹر کا فاصلے پر ایک قصبہ Beauvais‘ جسے فرانسیسی میں بووے کہتے ہیں‘ سے چار کلومیٹر دور ٹیل (Tille) کے چھوٹے اور نہایت پُرسکون سے گاؤں کے ایک سرے پر ایک چھوٹا سا کمرہ لیا۔ رک سیک کمرے میں پھینکا اور اس گاؤں کی سڑکوں پر چلنا شروع کر دیا۔ موسم اچھا خاصا سرد تھا اور ہلکی بارش تھی جو مسلسل برس رہی تھی۔ میں بالکل خالی الذہن تھا اور بلا سوچے اس گاؤں کی سڑکوں پر چلتا رہا حتیٰ کہ اندھیرا ہو گیا۔ میری جیکٹ مکمل بھیگ چکی تھی مگر مجھے نہ اس کا احساس تھا اور نہ فکر تھی۔ کافی دیر کے بعد مجھے احساس ہوا کہ میں راستہ بھول چکا ہوں۔ لیکن فکر مندی مجھ سے کوسوں دور تھی۔ بھلا یہ گاؤں تھا ہی کتنا بڑا کہ مجھے راستہ کھو جانے پر فکر ہوتی۔ تھوڑی ہی دیر بعد پہلے مجھے اپنی گلی اور پھر کمرہ مل گیا۔ میں نے کمرے میں آ کر جیکٹ اتاری جو مکمل بھیگ چکی تھی۔ پھر میں نے دروازہ کھولا اور اس میں کھڑا ہو گیا۔ باہر کمرے کے سامنے لکڑی کا بہت خوبصورت برآمدہ تھا لیکن 21 اکتوبر کی رات مجھے کمرے کے باہر جا کر برآمدے میں کھڑا ہونے کی ہمت ہی نہ ہوئی۔باہر بارش برس رہی تھی اور سرد ہوا بھی چل رہی تھی۔ اللہ جانے میں کب تک دروازے میں کھڑا رہا تاوقتیکہ میرے ہاتھ سُن ہو گئے‘ میں تب سردی سے کانپ رہا تھا۔ میں نے دروازہ بند کیا اور اندر آکر ہیٹر کے سامنے بیٹھ گیا۔ مجھے نہیں معلوم میں کب تک جاگتا رہا پھر میں جاکر بستر میں لیٹ گیا۔ بارش یکدم تیز ہو گئی۔ برآمدے کی چھت پر بارش کے قطرے مسلسل جلترنگ بجا رہے تھے۔ علی الصبح جب میں اٹھا تو بارش رک چکی تھی اور آسمان صاف ہو چکا تھا۔ اگلی صبح میں بس پکڑ کر پیرس چلا گیا۔ اس سے پہلے میں تین بار پیرس آ چکا تھا مگر اس بار میں قریب بارہ سال بعد پیرس آیا تھا اور یہ درمیان میں سب سے لمبا عرصہ تھا۔ بووے ایئرپورٹ سے بس پر بیٹھ کر ڈیڑھ گھنٹے میں پورٹ مائیوٹ (Porte Maillot) پیرس پہنچ گیا۔ کسی سے پوچھا کہ یہاں سے شانزے لیزے جانے کا کیا طریقہ ہے‘ تو معلوم ہوا کہ یہاں سے میٹرو روٹ نمبر ایک پکڑوں تو تین چار منٹ میں آرک ڈی ٹریمف پہنچ جائوں گا۔ بھلا مجھے کیا جلدی تھی؟ میں وہاں سے پیدل چل پڑا۔ بائیس چوبیس منٹ بعد میں شانزے لیزے کے فٹ پاتھ پر کیفے جارج فائیو میں بیٹھا کافی پی رہا تھا۔ ایمانداری کی بات ہے کہ ایک کپ کافی کے لیے آٹھ یورو دیتے ہوئے تھوڑی تکلیف محسوس ہوئی مگر پھر سوچا اللہ جانے پھر اس شہر میں دوبارہ آنا نصیب میں ہو گا یا نہیں۔ سو اس پل کو غنیمت جانو اور فی الحال یورو کو روپوں سے ضرب دے کر کافی کا مزہ کرکرا نہ کرو۔مجھے پیرس میں جو جگہ سب سے شاندار لگتی ہے وہ سیکریکیور بیسیلیکا (سیکرڈ ہارٹ) ہے۔ میں اس جگہ کئی بار آیا ہوں مگر ایک بار پھر جانے کی ہوس برقرار ہے۔ مومارت کی پہاڑی کے اوپر بنے ہوئے سنگ سفید کے اس چرچ تک پہنچنے کے کئی ذرائع ہیں اور میں یہ سب استعمال کر چکا ہوں۔ سامنے والی 222 سیڑھیوں سے لے کر بائیں طرف سے آنے والے چھوٹی سی کیبل کار نما ٹرام کے ذریعے بھی‘ جسے فونی کولر کہتے ہیں۔ آخری بار مرحوم امجد اسلام امجد (اللہ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے) کے ساتھ ادھر آیا تھا۔ جس کیفے میں ان کے ساتھ کافی پی تھی وہ میرے سامنے تھا مگر میرا اکیلے اس کیفے میں جانے کے لیے دل ہی نہیں مانا۔ بس میں نے دل کی مانی اور رکے بغیر اوپر چلا گیا جہاں سے سارا پیرس دکھائی دیتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90500073.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سنگاپور کے وزیر خارجہ کا دورۂ پاکستان اور ہمارے ایوان(ڈاکٹر حسین احمد پراچہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-11-03/52960/33379842</link><pubDate>Tue, 03 Nov 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-11-03/52960/33379842</guid><description>صرف چند دہائیوں میں سنگاپور کے مچھیروں کی بستی سے جدید ترین شہری ریاست بن جانے کا کرشمہ یا معاشی ماڈل دنیا بھر کی یونیورسٹیوں اور ترقیاتی اداروں میں بطور خاص پڑھا اور پڑھایا جاتا ہے۔ اسی سنگاپور کے وزیر خارجہ ڈاکٹر ویوین بالا کرشنن چند روز قبل پاکستان کے دورے پر آئے تو ان کی وزیراعظم شہباز شریف‘ چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحق ڈارسے الگ الگ ملاقاتیں ہوئیں۔ سنگاپور کے وزیر خارجہ پاکستان کے ساتھ اپنے تجارتی و علاقائی تعلقات کی مضبوطی کیلئے بہت سی آفرز اور تجاویز بھی اپنے ہمراہ لائے تھے۔ جیو اکنامکس کے کئی منصوبے بھی انہوں نے پیش کیے مگر ہم نے نہیں دیکھا کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ جیسے ہمارے ایوانوں یا تجارتی و خارجہ امور کی پارلیمانی کمیٹیوں میں سنگاپور کے وزیر خارجہ کے دورے کے حوالے سے کوئی اہم بحث ہوئی ہو۔دراصل گزشتہ چند دنوں سے ہمارے بعض وزرائے کرام‘ ایک بزرگ سیاستدان اور نو آموزانِ سیاست مولانا فضل الرحمن کے خلاف مہم میں مصروف ہیں۔ مولانا گزشتہ نصف صدی کے دوران ہمیشہ اپنا وزن جمہوریت کے پلڑے میں ڈالتے نظر آئے ہیں۔ مولانا صاحب کا طرزِ خطابت نپا تلا اور ہلکے پھلکے مزاج سے مرصع ہوتا ہے۔ وہ سوچ سمجھ کر بولتے اور خوب بولتے ہیں۔ تاہم گزشتہ چند ہفتوں کے دوران وہ آئین کے تناظر میں زورِ خطابت دکھا رہے تھے۔تاہم لفظ &#39;&#39;ریاست‘‘ کے استعمال میں مولانا کے عرفان سے خاصی بھول ہوئی ہے۔اس سلسلے میں وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ کا طرزِ عمل قابلِ ستائش ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ مولانا صاحب نے عمران خان کے دورِ حکومت میں علی الاعلان (ن) لیگ کا ساتھ دیا تھا۔ مولانا انتخابِ الفاظ میں اپنا ثانی نہیں رکھتے مگر جوشِ خطابت میں زبان کی لرزش کے بارے میں انہیں خود ہی وضاحت کرنی چاہیے تاکہ دوطرفہ بیان بازی کا سلسلہ تھم جائے۔ واپس آئیے سنگاپور کے وزیر خارجہ کے دورے کی طرف۔ اُن کا دورہ کثیر المقاصد تھا۔ تاہم اس کا اہم ترین نکتہ تجارتی تعلقات کی وسعت تھا۔ اس کے علاوہ موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے معلومات اور اقدامات کے بارے میں ریسرچ و تجربات کا تبادلہ بھی اُن کے ایجنڈے میں شامل تھا۔اگلے برس &#39;ایسوسی ایشن آف ساؤتھ ایسٹ ایشین نیشنز‘ (آسیان ) کی چیئرمین شپ سنبھالنے سے قبل اس کے ایک اہم رکن پاکستان کی حمایت حاصل کرنا بھی سنگاپور کے وزیر خارجہ کے دورے کا حصہ تھا۔ پاکستان اور سنگاپور کے مابین تجارتی منظر نامہ اور درآمد و برآمد کا گوشوارہ پیش کرنے سے قبل آپ کو یہ بھی بتا دوں سنگاپور کے وزیر خارجہ ویوین بالاکرشنن نے دونوں ممالک کی یونیورسٹیوں میں ٹریڈنگ اور جیو اکنامکس کے حوالے سے ہونے والے ریسرچ ورک اور سکالرز کے تبادلے کی بھی پیشکش کی ہے۔ سنگاپور کے شاہراہِ ترقی پر تیز رفتار سفر کے آغاز کے بارے میں اتنی بات یاد رکھنے کی ہے کہ جب سنگاپور کو 1959ء میں خود مختاری ملی اس وقت وہ مچھیروں کی ایک ساحلی بستی تھا۔ اس وقت کے وزیراعظم لی کوآن یو نے 1963ء میں ملائیشیا کے ساتھ کنفیڈریشن میں شمولیت اختیار کرلی مگر صرف دو سال کے بعد ‘ 1965ء میں ملائیشیا نے سنگاپور کو علیحدہ کر دیا۔ اب لی کوآن یو نے سنگاپور کے ایک الگ ریاست ہونے کی حیثیت کو قبول کرتے ہوئے اپنے قدموں پر کھڑا کرنے کا تہیہ کر لیا۔لی کوآن یو کے سامنے مسائل کا انبار تھا۔ ہر طرف غربت ہی غربت اور بیروزگاری تھی۔ نسلی‘ لسانی اور علاقائی عصبیتیں ترقی کے راستے میں روڑے اٹکا رہی تھیں۔ سنگاپور میں بڑی قومیتیں چینی النسل‘ ملایا اور انڈین تھے۔ ساحلی ریاست کے قدرتی وسائل نہ ہونے کے برابر تھے۔ اس کے علاوہ سیاسی و معاشی عدم استحکام تھا۔ ان حالات میں باہمی صلاح مشورے اور گہرے غور و خوض کے بعد لی کوآن یو نے ریاست کی ترقی کیلئے چھ ستونوں کا منصوبہ پیش کیا اور اس پر عمل بھی کر کے دکھایا۔ جدید ریاست کے ان ستونوں میں سے اہم ترین کرپشن کا خاتمہ ہے۔ دیگر نکات میں دیانتدار اور نظم و ضبط کی پابند انتظامیہ‘ ہر دباؤ سے آزاد عدلیہ‘ بیرونی سرمایہ کاری‘ وسیع تر تعلیم و ریسرچ اور ٹیکنالوجی کی تربیت شامل ہیں۔ اس کے علاوہ نسلی و لسانی تعصبات کا خاتمہ اور قومی ہم آہنگی بھی ایجنڈے میں شامل تھی۔ سنگاپور کی سیاسی قیادت اور عوام آج بھی ان چھ اصولوں پر دل و جان سے ایمان رکھتے اور اُن پر عمل پیرا ہیں۔ اسی چھ نکاتی منصوبے کا ثمر ہے کہ محض نصف صدی میں ہی تسلسل کے ساتھ‘ سنگاپور اب پہلے سے بڑھ کر تیز رفتاری سے ترقی کر رہا ہے۔ چھوٹا سا ملک ہونے کے باوجود اس کے شہری ساری دنیا میں سر اٹھا کر چلتے ہیں۔ ہماری سنگاپور کے ساتھ تجارت تو ہے مگر اس کا حجم بہت کم ہے۔ پاکستان سنگاپور کو کروڈ آئل اور معدنی تیل برآمد کرتا ہے۔ اس کے علاوہ ہیوی مشینری‘ ٹیکسٹائل مصنوعات‘ سلے اَن سلے کپڑے‘ ادویات‘ شوز اور سپورٹس اشیا وغیرہ ایکسپورٹ کرتا ہے جبکہ پاکستان سنگاپور کی ریفائنریوں سے پٹرولیم مصنوعات‘ بجلی اور الیکٹرانک اشیا‘ انڈسٹری میں استعمال ہونے والے کیمیکلز‘ پلاسٹک اشیا اور میڈیکل آلات وغیرہ درآمد کرتا ہے۔ 2025ء کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان نے سنگاپور کو 27 کروڑ 81 لاکھ ڈالر کی ایکسپورٹس کیں جبکہ وہاں سے پاکستان نے ایک ارب 21 کروڑ ڈالر کی اشیا امپورٹ کیں۔ تجارتی خسارہ واضح ہے۔ اب سنگاپور کے وزیر خارجہ نے تجارت کو مزید وسعت دینے اور سرمایہ کاری کے فروغ کے حوالے سے کئی تجاویز وزیراعظم پاکستان کے ساتھ ملاقات میں پیش کی ہیں۔ہماری یونیورسٹیاں نالج ری سائیکل کرتی ہیں۔ کم ہی ایسا ہوتا ہے کہ ہماری یونیورسٹیوں کا کوئی نیا تخلیقی و تحقیقی کارنامہ دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بنا ہو۔ پاکستان اس وقت جس معاشی دلدل اور غربت و بیروزگاری میں پھنسا ہوا ہے‘ اس کی وجہ کرپشن کی انتہا‘ سوچ کا انجماد اور معاشی و سماجی افکارِ تازہ کا فقدان ہے۔ کسی زمانے میں پاکستانی قیادت سنگاپور سے اکتسابِ فیض کرنے میں دلچسپی رکھتی تھی مگر ہماری اشرافیہ شاید لی کوآن یو کے کڑے ترقیاتی ماڈل سے خوفزدہ ہو گئی۔ اس ماڈل کی پہلی شرط کرپشن کا مکمل خاتمہ اور اعلیٰ تربیت یافتہ مستعد انتظامیہ ہے۔ آج بھی سنگاپور کا چھ نکاتی معاشی و اصلاحی ماڈل بروئے کار لایا جائے تو چند برسوں میں کایا پلٹ سکتی ہے مگر ہمارے تو مسائل ہی اور ہیں۔ ہر حکومت کو یہاں اپنی بقا کی فکر دامن گیر رہتی ہے۔پاکستان G24 ممالک گروپ کا چیئرمین منتخب کر لیا گیا ہے۔ یہ افریقہ‘ ایشیا اور لاطینی امریکہ کے ترقی پذیر ممالک کا گروپ ہے اس میں چین کو بھی خصوصی دعوت پر شامل کیا جاتا ہے۔ ہمیں حیرت ہے کہ اس گروپ میں پاکستان کے پاس کون سی ایسی بات ہوگی جو دیگر ترقی پذیر ممالک کو متاثر کر سکے۔آج کے دور میں جیو پولیٹکل اہداف کے حصول کیلئے جیو اکنامکس کا تصور بہت اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ چین ایک بڑا ملک ہے‘ وہ اپنی معاشی طاقت کو اپنی عالمی حیثیت مضبوط کرنے کیلئے بڑے بھرپور طریقے سے استعمال کر رہا ہے۔ سنگاپور ایک بالکل چھوٹا سا ملک ہے مگر اپنے جغرافیائی محل وقوع اور اپنی پورٹ سے فائدہ اٹھا کر اپنے ویژن اور محنت سے ایک بہت بڑا عالمی تجارتی مرکز بن چکا ہے۔ چند سال پیشتر سے پاکستان میں جیو اکنامکس کا تصور زیر بحث آنے لگا ہے۔ پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے شاندار محل وقوع بخشا ہے۔ پاکستان جنوبی و مغربی ایشیا اور وسطی ایشیا کے سنگم پر واقع ہے۔ چین و امریکہ سے اپنے تعلقات اور برادر ملک سعودی عرب کی اشیر باد سے پاکستان سارے ایشیا میں معاشی کارروائیوں کو بامِ عروج تک پہنچا سکتا ہے۔ بس اس کی وہی ایک سنگاپور والی شرط ہے: زیرو کرپشن اور سیاسی دباؤ سے آزاد اور مستعد انتظامیہ وعدلیہ۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_70033906.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>افسروں کے پوشیدہ فوائد(شاہد کاردار)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-kardar-/2026-11-03/52961/67338482</link><pubDate>Tue, 03 Nov 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-kardar-/2026-11-03/52961/67338482</guid><description>سول سروس کی اصلاحات میں افسروں کے معاوضہ کا موضوع بہت اہم ہے۔ سرکاری افسران کا مؤقف ہے کہ نجی شعبے کے مقابلے میں ان کی تنخواہیں کم ہیں جس کے باعث ان میں کام کا جذبہ اور کارکردگی کم ہو جاتی ہے۔ درحقیقت وہ عموماً صرف اپنی نقد تنخواہ کا نجی شعبے کی تنخواہ سے موازنہ کرتے ہیں اور خود کو ملنے والی غیر نقد مراعات‘ سہولتوں اور دیگر خصوصی فوائد کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ یہ پوشیدہ معاوضہ ان پر اٹھنے والے اصل اخراجات کو واضح نہیں کرتا۔ صرف یہی نہیں بلکہ یہ سہولتیں اور مراعات ٹیکس سے مستثنیٰ ہیں۔ معاوضہ کے وہ اہم اجزا جو سرکاری تنخواہوں کے اعداد و شمار میں پوری طرح ظاہر نہیں ہوتے ان کی مختصر تفصیل کچھ یوں ہے:الاؤنسز: ضیافت و مہمان نوازی کے اخراجات‘ خصوصی تنخواہ‘ تعلیمی قابلیت کا الاؤنس‘ اعلیٰ عہدوں کے الاؤنسز اور دیگر فوائد۔ سرکاری رہائش گاہیں: فرنیچر سے آراستہ رہائش گاہیں‘ جو اکثر اہم اور مہنگے علاقوں میں واقع ہیں اور جہاں حفاظت اور باغبانی کی خدمات بھی فراہم کی جاتی ہیں۔ ان کی دیکھ بھال اور تزئین ومرمت کے اخراجات مختلف مدات کے تحت حکومت سے وصول کیے جاتے ہیں جن میں &#39;&#39;سرکاری عمارتوں‘‘ کی مرمت و دیکھ بھال اور ترقیاتی اخراجات شامل ہیں۔ بنیادی سہولتوں کے اخراجات: سرکاری رہائش گاہوں میں بجلی‘ گیس اور ٹیلی فون کے اخراجات حکومت ادا کرتی ہے۔ گھریلو ملازمین: قاصد (چپڑاسی)‘ صفائی کرنے والا عملہ اور دیگر ملازمین جو بعض صورتوں میں اعلیٰ سرکاری افسران کے گھروں پر خدمات انجام دیتے ہیں۔ سرکاری گاڑیاں: سرکاری گاڑیاں ڈرائیوروں کے ساتھ فراہم کی جاتی ہیں اور ان کے ایندھن کے اخراجات بھی حکومت برداشت کرتی ہے۔ یہ گاڑیاں اکثر نجی طور پر استعمال کی جاتی ہیں جو غیر قانونی ہے۔ پائیڈ کی سٹڈی کے مطابق‘ ایک سرکاری گاڑی کی لاگت گریڈ 20 سے 22 کے افسران کی نقد تنخواہ کے برابر ہو سکتی ہے۔ اعلیٰ افسران کو منسلک سرکاری اداروں کے ذریعے اضافی گاڑیاں بھی دستیاب ہوتی ہیں جبکہ ان اداروں کو اکثر متعلقہ ایندھن‘ ٹیلی فون اور دیگر اخراجات بھی برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ میڈیکل کی سہولتیں: سرکاری افسران اور ان کے اہلِ خانہ کے علاج معالجہ کے اخراجات حکومت برداشت کرتی ہے۔ پائیڈ کی سٹڈی کے مطابق‘ تنخواہ کی سلپس میں درج میڈیکل الاؤنس کے علاوہ وفاقی حکومت میڈیکل اخراجات کی واپسی کی مد میں ہر ماہ 2.3 ارب روپے سے زیادہ خرچ کرتی ہے۔ اداروں کے بورڈز کی رکنیت: ایسے اداروں کے بورڈز میں تقرریاں جن میں حکومت کی ملکیت یا مالی مفاد شامل ہو‘ اور بڑے اداروں میں ڈائریکٹر کی حیثیت سے ایک افسر کو ڈھائی کروڑ روپے سالانہ تک فیس ادا کی جا سکتی ہے۔ بین الاقوامی تعیناتیاں: ملٹی نیشنل اداروں (جیسے ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف) میں پاکستان سے متعلق مخصوص اور نمایاں عہدوں پر تقرریاں۔ سوشل کلب: بڑے شہروں میں ایسے سوشل کلبوں (جیسے لاہور جمخانہ‘ اسلام آباد کلب وغیرہ) تک رسائی جہاں رکنیت اور خدمات انتہائی رعایتی نرخوں پر فراہم کی جاتی ہیں۔ ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے بعد فوائد: اعلیٰ سرکاری افسران کو رعایتی قیمت پر یا مفت رہائشی پلاٹ فراہم کیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ بعض صورتوں میں انہیں ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی دو سال تک سرکاری رہائش گاہیں بغیر کرایہ ادا کیے اپنے پاس رکھنے کا حق حاصل ہوتا ہے۔ سماجی تحفظ: ملازمت کا تحفظ اور پنشن سمیت متعدد پنشن سے متعلق اور دیگر فوائد‘ جن میں زندگی کا انشورنس‘ میڈیکل سہولتیں اور مستقبل کی مالی بچت کے فنڈز شامل ہیں۔ پنشن کا بوجھ خاص طور پر قابل ذکر ہے۔ اوسط عمر میں اضافے سے حکومت کی مستقبل کی مالی ذمہ داریاں بڑھ رہی ہیں جو پہلے ہی خاصی زیادہ ہو چکی ہیں۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی مجموعی پنشن کی مالی ذمہ داریاں (سرکاری یونیورسٹیوں‘ پی آئی اے‘ ریلوے‘ ڈسکوز کو شمار کیے بغیر) 35 ہزار ارب روپے سے تجاوز کر چکی ہیں۔ پنشن: سرکاری ملازمین 25 سال کی ملازمت مکمل کرنے کے بعد اپنی آخری تنخواہ اور ملازمت کی مدت سے منسلک قابلِ ذکر پنشن کے حقدار ہوتے ہیں۔ پنشن کی رقم آخری بنیادی تنخواہ کا 70 فیصد ہوتی ہے۔ پائیڈ کے مطالعہ کے مطابق پنشن لینے والے کی وفات کے بعد اس کے خاندان کے مختلف افراد کو بھی پچاس فیصد پنشن کے حقوق حاصل ہو جاتے ہیں۔ مستحق ورثا کی تعداد 13 تک ہے۔ پنشن میں وقتاً فوقتاً کیے جانے والے اضافے کی وجہ سے بعض صورتوں میں اس کی رقم ریٹائر ہونے والے ملازم کی آخری تنخواہ کے قریب یا اس سے بھی زیادہ ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ‘ سرکاری ملازمین ملازمت سے سبکدوشی کے وقت اپنی پنشن کے ایک حصہ کو یکمشت رقم (Commutation) میں تبدیل کروا کر وصول کر سکتے ہیں۔ موجودہ نظام میں کمیوٹیشن کی رقم کا حساب مستقبل میں اس کی ویلیو کو پوری طرح مدنظر رکھ کر نہیں کیا جاتا۔ گریجویٹی: ملازمت سے سبکدوشی کے وقت سرکاری ملازمین اپنی آخری تنخواہ سے منسلک گریجویٹی کے بھی حقدار ہوتے ہیں جو آخری بنیادی تنخواہ کے 40 گنا کے برابر ہوتی ہے۔ موجودہ نظام کے تحت ملازمین اپنی مستقبل کی پنشن یا گریجویٹی کے لیے کوئی رقم جمع نہیں کراتے۔ اس کی پوری لاگت حکومت برداشت کرتی ہے۔ جنرل پراویڈنٹ (جی پی) فنڈ: سرکاری ملازمین جنرل پراویڈنٹ فنڈ میں اپنی بنیادی تنخواہ سے حصہ ڈالتے ہیں اور اتنی ہی رقم حکومت کو بھی اس میں ڈالنا پڑتی ہے۔ سرکاری ملازمین کو اپنی جمع کرائی گئی رقم پر انہیں تاریخی طور پر اچھی شرح سے منافع ملتا ہے۔ بہبود فنڈ: ملازمین ایک بہبود فنڈ میں اپنی بنیادی تنخواہ کا دو فیصد رقم جمع کراتے ہیں جو قبل از وقت وفات یا معذوری کی صورت میں مالی فوائد فراہم کرتا ہے اور انہیں اس فنڈ پر بہت فیاضانہ شرح سے منافع ملتا ہے جو عمومی شرح سود سے 30 فیصد زیادہ بھی ہو جاتا ہے۔ اجتماعی انشورنس: سرکاری ملازمین اجتماعی انشورنس کے تحت آتے ہیں جس کے فوائد متعلقہ ملازم کی سالانہ تنخواہ کے ڈھائی گنا کے برابر ہیں۔ چھٹیاں: سرکاری ملازمین ہر ماہ چار چھٹیوں کے حقدار ہیں۔ وہ ایک سال بھر چھٹیاں نہ لے کر انہیں جمع کر سکتے ہیں اور چھ ماہ کی چھٹیوں کے عوض نقد رقم بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ ان میں سے بعض غیر مالی فوائد صوابدیدی بنیادوں پر اور منتخب افسروں کو دیے جاتے ہیں۔ ان مراعات اور سہولیات سے سرکاری ملازمین کی مجموعی تعداد کے 15 فیصد سے بھی کم افراد مستفید ہوتے ہیں۔ تاہم ان فوائد کو منتخب لوگوں میں تقسیم کرنے سے ایک اور مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ جب زیادہ لاگت والی مراعات تک رسائی کا انحصار کسی بڑے عہدیدار کی صوابدید پر ہو تو اس سے باہمی مفادات کے تحت احسانات کا تبادلہ فروغ پاتا ہے‘ یعنی فائدہ پہنچانے والا متعلقہ افسر سے اپنے من پسند کام کرواتا ہے اور گورننس مزید کمزور ہوتی ہے۔اب تک ہم نے سول سروس پر جو گفتگو کی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ ادارہ وقت کے تقاضوں کے مطابق ڈھلنے میں ناکام رہا ہے۔ اس کے اونچے عہدوں پر ایسے لوگ براجمان ہیں جو کسی ایک شعبہ میں خصوصی مہارت نہیں رکھتے۔ حکومت کا حجم بنیادی فرائض کی نسبت بہت زیادہ بڑا ہو چکا ہے۔ ایک ہی کام کے لیے متعدد محکمے قائم کر دیے گئے ہیں۔ سیاسی مداخلت عام ہے۔ افسروں کی پروموشن اور جوابدہی کا شفاف نظام موجود نہیں۔ ریگولیشنز کی بھرمار ہے جس سے کاروبار کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ حکومت اعلیٰ افسروں کی سہولتوں پر بے تحاشا خرچ کرتی ہے لیکن ان کی نقد تنخواہ نجی شعبہ کے مقابلے میں کم ہے۔ اس سارے نظام کو کیسے ٹھیک کیا جائے‘ اس پر ہم اپنے اگلے مضمون پر بحث کریں گے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_78012569.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پاکستان کا افغانستان کو انتباہ(رشید صافی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-11-03/52962/31708903</link><pubDate>Tue, 03 Nov 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-11-03/52962/31708903</guid><description>پاکستان نے دہشت گردی کی حمایت بند نہ کرنے کی صورت میں افغانستان کو سخت نتائج کی تنبیہ کی ہے۔ حالات بتا رہے ہیں کہ پاکستان کا ردعمل شاید اس بار ماضی سے کافی مختلف ہو اس لیے افغان قیادت کو چاہیے کہ وہ پاکستان کے اس انتباہ کو سنجیدگی سے لے۔ جب پاکستان افغان سرزمین کے دہشت گردی میں استعمال کے حوالے سے ٹھوس شواہد پیش کر رہا ہے تو انکار کی مزید گنجائش نہیں رہتی۔ نہ ہی آج کے ٹیکنالوجی کے دور میں شواہد کو یکسر جھٹلایا جا سکتا ہے۔ اقوام متحدہ‘ امریکہ‘ یورپی یونین کے علاوہ مسلم ممالک بھی پاکستان کے مؤقف کی تائید کر رہے ہیں۔ ایسا ممکن ہی نہیں کہ اکثریتی ممالک جو مؤقف پیش کر رہے ہیں وہ درست نہیں اور افغانستان کا جو مؤقف ہے وہ درست ہو۔ عالمی برادری زمینی حقائق کو پرکھ کر ہی کسی کی حمایت یا مخالفت کا فیصلہ کرتی ہے۔ پاکستان افغانستان کو آج جن سنگین نتائج سے متنبہ کر رہا ہے‘ دونوں ممالک کے تعلقات اس سطح پر آنے میں افغانستان کی طالبان قیادت کا اہم کردار ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ افغانستان سے اگست 2021ء میں امریکی افواج کا انخلا ہوا تو عمومی تاثر یہ تھا کہ خطے میں اب امن قائم ہو گا۔ بالخصوص پاکستان کے اکثریتی حلقے اس لیے بھی خوش تھے کہ افغانستان کے ساتھ ہمارے دیرینہ مراسم ہیں۔ مشترکہ ثقافت‘ مذہبی ہم آہنگی اور سرحدیں مشترک ہونے کے علاوہ ایک اہم نکتہ یہ تھا کہ افغانستان کا کافی حد تک معاشی انحصار پاکستان پر تھا۔ سو خیال تھا کہ افغان طالبان کبھی بھی کوئی ایسا قدم نہیں اٹھائیں گے جس سے دونوں ملکوں کے تعلقات کشیدہ ہوں۔ ان عوامل کے علاوہ سوویت یونین کے خلاف جنگ میں افغانستان کی حمایت کا عالمی سطح پر جو ماحول بنا تھا‘ ہم اس کا بھی حصہ تھے اس لیے سیاسی اور عسکری حلقے طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کو پاکستان کیلئے اہم تبدیلی کے طور پر دیکھ رہے تھے مگر ابھی طالبان کو اقتدار میں آئے ایک سال کا عرصہ بھی نہیں گزرا تھا کہ افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں ہونے لگیں۔ ابتدا میں ان کارروائیوں کو معمولی سمجھا گیا اور پاکستان نے وہی راستہ اختیار کیا جو ایک پڑوسی ملک دوسرے پڑوسی ملک کیلئے نرم گوشہ رکھتے ہوئے اختیار کرتا ہے مگر افغان قیادت کی طرف سے مسلسل پاکستان کے مؤقف کو نظر انداز کیا جاتا رہا۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دینے سمیت ہر وہ قابلِ قدر راستہ اختیار کیا جس سے ہمسائیگی خراب نہ ہوتی ہو۔ حکومتی اور سفارتی سطح پر جب بات چیت کامیاب نہ ہوئی تو اُن علما کرام پر مشتمل اعلیٰ وفد کو افغانستان بھیجا گیا جنہیں طالبان اپنے استاذ کہتے ہیں۔ مگر امارت اسلامیہ اور اسلامی نظام کی دعویدار حکومت نے علما کرام کی بات بھی تسلیم نہیں کیا۔افغان مہاجرین جن کی دہائیوں سے پاکستان میزبانی کر رہا تھا‘ انہیں مرحلہ وار واپس بھیجنے کا عمل شروع کیا گیا‘ مہاجرین کی واپسی کا فیصلہ یقینا پاکستان کیلئے آسان نہ تھا مگر قومی سلامتی کیلئے یہ مشکل فیصلہ کرنا پڑا تاکہ افغان قیادت ہوش کے ناخن لے۔ لڑکھڑاتی معیشت کے ساتھ لاکھوں مہاجرین کی وطن واپسی افغان طالبان کیلئے نیا امتحان ثابت ہوئی۔ انہوں نے یہ مشکل تو جیسے تیسے برداشت کی تاہم شدت پسند عناصر کو تحفظ فراہم کرنے سے پیچھے نہیں ہٹے۔ اسی طرح افغانستان کی اقتصادی شہ رگ سمجھی جانے والی دو اہم تجارتی گزرگاہوں؛ طورخم اور چمن بارڈ کو بند کر دیا گیا۔ آج ان تجارتی گزرگاہوں کو بند ہوئے ایک سال سے زائد عرصہ بیت چکا ہے۔ اس دوران بلاشبہ دونوں اطراف کی تاجر برادری کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے مگر اس ضمن میں پاکستان کا مؤقف بجا ہے کہ تجارت کے لیے قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جا سکتا۔ افغان قیادت اس کے باوجود اپنی سرزمین پر موجود شدت پسند عناصر کو تحفظ دینا ترک نہ کیا۔ جب تمام روایتی حربوں کے بعد بھی افغان قیادت نے دہشت گرد عناصر کی پشت پناہی اور سرپرستی ختم نہیں کی اور افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں متواتر جاری رہیں تو پاکستان نے انتہائی مصدقہ اطلاعات پر افغانستان میں موجود شدت پسند عناصر کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ چونکہ افغان قیادت بھی بخوبی جانتی تھی کہ جن لوگوں کو نشانہ بنایا گیا ہے وہ پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث تھے‘ اس لیے افغان طالبان نے روایتی مذمت سے آگے کچھ نہیں کہا۔آج ایک بار پھر پاکستان افغان قیادت کو متنبہ کر رہا ہے تو افغانستان کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ پچھلے کچھ عرصے کے دوران افغانستان سے متصل پاکستان کے صوبہ خیر پختونخوا میں سیاسی سطح پر بہت کچھ تبدیل ہو چکا ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پی ٹی آئی طالبان کیلئے نرم گوشہ رکھتی ہے۔ افغانستان میں رجیم چینج کے بعد کالعدم ٹی ٹی پی کو پاکستان میں بسانے کی بات ہو یا دہشت گردوں کے خلاف وفاقی سطح پر حکمت عملی‘ ہر موقع پر پی ٹی آئی نے ایسا مؤقف اختیار کیا کہ جس سے اس کا سیاسی بیانیہ متاثر نہ ہو۔ پی ٹی آئی نے طالبان کے حوالے سے جو پالیسی اختیار کی اس سے کیا حاصل ہوا‘ یہ الگ بحث ہے؛ تاہم طالبان کو یہ بات بخوبی سمجھ لینی چاہیے کہ اگر ماضی میں پی ٹی آئی کی صورت ان کیلئے خیبر پختونخوا میں سیاسی سطح پر کوئی نرم رویہ پایا بھی جاتا تھا تو وہ اب انہیں میسر نہیں رہا۔ اب وفاقی سطح پر جو پالیسی تشکیل پائے گی‘ صوبے میں بھی اسی پر عمل درآمد ہو گا۔ خیبر پختونخوا میں شدت پسند عناصر کے خلاف آپریشن جاری ہے‘ سکیورٹی فورسز روزانہ کی بنیاد پر دہشت گردوں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ ترجمان پاک فوج لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے دراصل افغانستان کو یہ پیغام دیا ہے کہ جب پاکستان میں شدت پسندوں کیلئے جگہ تنگ ہو گی تو وہ افغانستان کا رخ کریں گے اور پاکستان کی افواج کو اگر ضرورت پڑی تو ان کا پیچھا کرتے ہوئے افغانستان کے اندر بھی کارروائی سے گریز نہیں کیا جائے گا۔ کابل انتظامیہ کو چاہیے کہ پاکستان کی تنبیہ کو سنجیدگی سے لے‘ بالخصوص ایسے موقع پر جب ایک صوبے کی حکومت کو دہشت گردی کی قومی پالیسی سے اختلاف کی بنیاد پر ختم کیا جا چکا ہے۔ ایسے موقع پر جب بھارت پاکستان میں دہشت گردی کا سب سے بڑا سپانسر ہو‘ اور افغان طالبان رجیم بھارت کی پراکسی کے طور پر کام کر رہا ہو۔ ایسے موقع پر جب عالمی برادری پاکستان کے مؤقف کی حمایت کر رہی ہے اور امریکہ نے افغانستان کے ساتھ مذاکرات میں سہولت کاری کی پیشکش کر کے اور افغان سرزمین سے جنم لینے والی دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے مؤقف کی توثیق کر کے اپنا تعاون ظاہر کیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ نے جی 20کے وزرائے خارجہ اجلاس میں کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ پاکستان دہشت گردی کا نشانہ بنے۔ امریکی وزیر خارجہ کے بیان سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ امریکہ افغان طالبان پر زور دینے میں پاکستان کا ساتھ دے رہا ہے تاکہ ٹی ٹی پی‘ بی ایل اے اور دیگر کالعدم دہشت گرد گروہوں کے خلاف ٹھوس کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔ اس پس منظر کے بعد کہا جا سکتا ہے کہ اب بال افغان قیادت کے کورٹ میں ہے وہ پاکستان کے انتباہ کو کس نگاہ سے دیکھتی ہے۔ اگر ماضی کی روش قائم رہی تو پاکستان کو شدت پسند عناصر کے خلاف کارروائی کا جواز حاصل ہو جائے گا‘ بھلے وہ افغانستان کے اندر ہی کیوں نہ کرنی پڑے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/222_48272610.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>جو نقشِ کہن تم کو نظر آئے مٹا دو(نسیم احمد باجوہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/naseem-ahmed-bajwa/2026-11-03/52963/73266250</link><pubDate>Tue, 03 Nov 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/naseem-ahmed-bajwa/2026-11-03/52963/73266250</guid><description>علامہ اقبال نے بالِ جبریل کے نام سے اپنے کلام کا دوسرا مجموعہ (پہلا بانگِ درا تھا) شائع کیا تو اُس میں ایک کمال کی انقلابی نظم بھی شامل کی جس کا عنوان تھا: &#39;&#39;فرمانِ خدا فرشتوں سے‘‘۔ اقبال نے اس نظم میں فرشتوں کا نام شاید شاعرانہ رعایت کے تحت لکھا وگرنہ جو فرمان لکھا وہ انسانوں کے نام ہے۔ آٹھ اشعار پر مشتمل اس نظم کے ابتدائی سات اشعار کے دوسرے مصرعوں کو اکٹھا کیا جائے تو وہ یہ ہیں: کاخِ امرا کے در و دیوار ہلا دو۔ کنجشک فرو مایہ کو شاہیں سے لڑا دو۔ جو نقشِ کہن تم کو نظر آئے مٹا دو۔ اس کھیت کے ہر خوشۂ گندم کو جلا دو۔ پیرانِ کلیسا کو کلیسا سے اُٹھا دو۔ بہتر ہے چراغِ حرم و دَیر بجھا دو۔ میرے لیے مٹی کا حرم اور بنا دو۔ کیا یہ ولولہ انگیز مصرعے ہمارے تنِ مردہ اور مفلوج ذہنوں میں زندگی‘ روشنی‘ حرکت اور برکت پیدا کرنے کیلئے کافی نہیں؟ اگر یہ بھی اپنے مطلوبہ نتائج پیدا نہیں کر سکتے تو پھر اقبال کی ایک اور کمال کی نظم‘ ساقی نامہ کا یہ شعر ہماری حالتِ زار کا ماتم کرتا ہے:بجھی عشق کی آگ‘ اندھیر ہے؍ مسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہےلندن میں موسمِ خزاں کی ایک اُداس شام جب یہ سطور لکھی جا رہی ہیں تو سارا فرانس‘ البانیہ‘ سپین‘ بلجیم‘ تیونس اور پاکستان کا پڑوسی ملک بھارت زبردست ہنگاموں کی زد میں ہیں۔ پیرس میں مظاہرین کی تعداد پانچ لاکھ سے زائد تھی۔ طلبہ و طالبات‘ محنت کش‘ ٹریڈ یونین کارکن‘ اشتراکی ذہن رکھنے والے‘ چھوٹے سرکاری ملازمین‘ پیلی جیکٹ مہم کے اراکین وغیرہ ان میں شامل تھے جن میں بڑی تعداد نوجوانوں کی تھی۔ پیرس اور دیگر شہروں میں عومی غم و غصہ آگ کے شعلوں کی صورت میں ظاہر ہوا ہے۔ ہزاروں نوجوان گرفتار کیے گئے ہیں۔ فرانس کے بہت سے شہروں کی فضا آنسو گیس کی بے پناہ بمباری سے بوجھل ہے۔ مظاہرین کو واٹر کینن سے بے تحاشا نشانہ بنایا گیا مگر تعلیمی نظام میں بے شمار خرابیوں اور مہنگائی کے خلاف ہونے والے مظاہروں کی شدت میں کمی نہ آ سکی۔مندرجہ بالا چھ ممالک میں در و دیوار کو ہلا دینے والے مظاہروں کی وجوہات مختلف ہیں مگر ان میں ایک قدر مشترک ہے اور وہ ہے نقشِ کہن (Status Quo) سے شدید بیزاری‘ نفرت اور عدم تعلقی۔ بھارت میں بظاہر ناقابلِ شکست بھارتیہ جنتا پارٹی کی مودی حکومت نے فسطائی نظام کے قیام کی طرف ایک اور قدم بڑھاتے ہوئے ڈیڑھ کروڑ لوگوں (زیادہ تر مسلمانوں) کے نام ووٹروں کی فہرست سے نکال دیے تو اُْسے &#39;کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے غیظ و غضب کا سامنا کرنا پڑا۔ البانوی عوام جمہوری حقوق مانگتے ہیں۔ انہوں نے انور خُوجا کے 41 سالہ آمرانہ دور کا عذاب جیسے برداشت کیا‘ صرف وہی جانتے ہیں۔ اُس کا جانشین 15 برس سے آمر مطلق بن کر کرسی پر جما بیٹھا ہے۔ لگتا ہے کہ اب اہلِ البانیہ کا صبر جواب دے چکا ہے۔ ادھر ایفرو عرب تیونس وہ پہلا ملک ہے جہاں عرب بہار کا پہلا جھونکا آیا مگر بدقسمتی سے مصر کی طرح‘ وہاں بھی عوام کی نمائندہ جمہوری حکومت کی جگہ امریکہ اور مغربی طاقتوں کی کٹھ پتلیوں نے لے لی۔ کتنا اچھا ہو اگر تیونس میں عرب بہار کا دوسرا جھونکا آئے اور وہاں کے عوام کی ایک فرسودہ‘ عوام دشمن اور گلے سڑے نظام سے جان چھوٹ جائے۔ قارئین کو شاید یقین نہ آئے کہ یورپ میں سرمایہ دارانہ نظام نے شدید معاشی ناانصافی اور سماجی ناہمواری پیدا کی ہے۔ مراعات سے محروم طبقہ گاہے گاہے اس کے خلاف عَلم بغاوت بلند کرتا رہتا ہے۔ یورپ کے جن ممالک مثلاً جرمنی‘ بلجیم‘ ہالینڈ اور اٹلی میں ترقی پسند اور عوام دوست سیاسی جماعتیں برسر اقتدار آکر اقبال کے درج بالا &#39;&#39;فرامین‘‘ پر عمل کرنے کے بجائے سرمایہ داری نظام سے پُرامن بقائے باہمی کی خاطر مصالحتی حکمت عملی اختیار کرتی ہیں‘ وہاں کے عوام اُن سے بدظن ہو کر دائیں بازو کی انتہا پسند سیاسی جماعتوں کی حمایت کرتے ہیں اور مزید ذلیل وخوار ہوتے ہیں۔ ان دنوں اٹلانٹک کے اُس پار‘ جنو بی امریکہ کے سب سے بڑے ملک برازیل میں بھی بالکل یہی سیاسی ڈرامہ دہرایا جا رہا ہے۔ بدقسمتی سے لاطینی امریکہ کے جن ممالک میں مثلاً چلی اور ارجنٹائن میں ماضی قریب میں انتخابات ہوئے‘ وہاں دائیں بازو کی نیم فسطائی جماعتوں کو ہی کامیابی ملی۔ اس المیے کی ساری ذمہ داری ترقی پسند سیاسی جماعتوں کی ناکام‘ نیم دلانہ اور مصالحتی حکمت عملی پر عائد ہوتی ہے۔ سب سے عبرتناک مثال بھارت کی مغربی ریاست (مغربی بنگال) کی ہے۔ جہاں جیوتی باسو کی 34 سالہ طویل کمیونسٹ حکومت کو سکول کی ایک آرٹ ٹیچر (ممتا بینر جی) کی نوزائیدہ پارٹی خس و خاشاک کی طرح بہا کر لے گئی تھی۔ اب 15 سالہ حکومت کے بعد ممتا بینر جی کو مودی کی بی جے پی کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ خود ہمارے ملک میں ذوالفقار علی بھٹو کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ وہ یہ نعرہ بلند کرکے مسندِ اقتدار پر براجمان ہوئے کہ سوشلزم (اشتراکیت) ہماری معیشت ہے۔ مگر اُنہوں نے اپنے دورِ اقتدار میں اشتراکیت کے لفظ کو اسی طرح بدنام کیا جس طرح جنرل ضیاء الحق نے اسلامی نظام کو بدنام کیا۔ آپ نے یقینا جوابِ شکوہ میں اقبال کا یہ مصرع پڑھا ہوگا:پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سےآج دنیا میں دو قومیں مظلوم ہیں۔ ایک ہیں کشمیری اور دوسرے ہیں فلسطینی۔ غزہ جنگ میں 74 ہزار سے زیادہ فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ ایک برس جاری نام نہاد جنگ بندی کے بعد اسرائیل کی وحشیانہ بمباری سے شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد ڈیڑھ ہزار سے زائد ہے۔ اس ظلمِ عظیم کے خلاف ایک بلند آواز خود اسرائیل سے آئی ہے‘ جو ایک دستاویزی فلم کی صورت میں منظر عام پر آئی ہے۔ فلم کا نام ہے Naza۔ اس فلم کو بین الاقوامی سطح پر دکھانے کی دیر تھی کہ اسرائیل میں جیسے زلزلہ آ گیا۔ یہ فلم غزہ میں فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم کے ناقابلِ تردید مناظر دکھاتی ہے۔ اس فلم کے بہادر‘ اُصول پرست اور جان ہتھیلی پر رکھ کر سچ بولنے والے پروڈیوسر کا نام ہے Jonathan Glazer۔ اسرائیلی حکومت نے فلم ساز کو ہر قسم کی تادیبی کارروائی کا نشانہ بنایا۔ فلم بنانے والے تمام افراد کو اسرائیل کی شہریت سے محروم کر دیا گیا۔ دنیا بھر کے اخبارات اور ٹیلی ویژن کمپنیوں نے اس فلم پر تعریف و ستائش اور مبارک کے پھول برسائے ہیں۔ امریکہ میں یہودی لابی کے زیر اثر دو بڑے اخبارات؛ نیو یارک ٹائمز اور لاس اینجلس ٹائمز بھی اس فلم کی تعریف کرنے اور اس کی حق گوئی کو خراجِ تحسین پیش کرنے میں کسی سے پیچھے نہیں رہے۔ کتنی ستم ظریفی ہے کہ ایک عرب ملک نے اسرائیل کے ساتھ اپنی قابلِ صد مذمت دوستی کے تحت مذکورہ چشم کشا اور بصیرت افروز فلم کی مذمت کی ہے۔ قارئین یہ پڑھ کر خوش ہوں گے کہ مذکورہ فلم کے پروڈیوسر کو مبارک دینے والوں میں یہ کالم نگار بھی شامل ہے۔ اقبال نے اپنی کمال کی شاعری میں حق گوئی اور بے باکی کی جو تعریف کی ہے‘ میں نے اس کا انگریزی ترجمہ کر کے فلم کے پروڈیوسر کو بھیج دیا اور ان کا شکریہ کا جواب بھی وصول کیا۔برطانیہ کے شاہی صوبہ‘ سکاٹ لینڈ میں وہاں برسر اقتدار سیاسی جماعت نے برطانیہ سے آزادی (دوبارہ لکھتا ہوں آزادی) حاصل کرنے کیلئے ریفرنڈم کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ برطانوی حکومت نے اس &#39;ملک دشمن‘ کارروائی کا ہرگز برا نہیں منایا۔ اُن کا مؤقف یہ ہے کہ اگر وہاں کے عوام کی اکثریت برطانیہ سے آزاد ہونا چاہتی ہے تو اُنہیں اس کا پورا حق حاصل ہے۔ پچھلے ریفرنڈم میں 45 فیصد عوام نے علیحدگی جبکہ 55 فیصد نے برطانیہ سے الحاق کا فیصلہ سنایا تھا۔ ادھر کینیڈا کے مغربی صوبے Alberta میں بھی گزشتہ ماہ اسی نوعیت کا ایک ریفرنڈم کرایا گیا جس میں 25 فیصد نے علیحدگی اور 75 فیصد نے کینیڈا سے الحاق کا فیصلہ سنایا۔ اسے کہتے ہیں: قوتِ اُخوتِ عوام اور سلطانی جمہور۔ یہ ہوتا ہے آزاد ملکوں کا شیوہ۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_32258580.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>