<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>وزیراعظم کی مذاکرات کی پیشکش(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-21/11472</link><pubDate>Fri, 21 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-21/11472</guid><description>پاکستان اس وقت ایک ایسے سیاسی گرداب کا شکار ہے جس کی شدت اور پھیلائو میں ہر گزرتے دن کیساتھ اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ سیاسی بے چینی اور احتجاجی کلچر کا دائرہ وسیع ہونے کے باوجود اسے سمیٹنے کی کوئی کوشش ہوتی نظر نہیں آ رہی۔ اگرچہ اس بحران کے خاتمے کے راہ سب کو معلوم ہے کہ حکومت اور اپوزیشن نیک نیتی سے مذاکرات کی میز پر بیٹھیں مگر دونوں فریق مذاکرات سے راہِ فرار اختیار کرتے نظر آتے ہیں۔ اب وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے اپوزیشن کو مذاکرات کی آفر سے ایک نئی امید پیدا ہوئی ہے۔ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کا یہ کہنا بجا ہے کہ بات چیت ہو گی تو ہی مسائل کا حل نکلے گا۔تاہم ضروری ہے کہ اس بار معاملہ صرف مذاکرات کی آفر تک محدود نہ رہے بلکہ عملی اقدامات بھی نظر آئیں۔ گزشتہ چند برس کے دوران فریقین کی جانب سے کتنی ہی بار مذاکرات کی آفر کی گئی‘ چند بیٹھکوں کا انعقاد بھی ہوا مگر ہر بار تان مزید تلخی پر آ کر ٹوٹی۔ سیاسی قیادت میں لچک کی کمی اور ’سب کچھ یا کچھ بھی نہیں‘ کی پالیسی نے بات چیت کے راستے مسدود کر دیے۔ کسی بھی جمہوری معاشرے میں بات چیت‘ مذاکرات اور مکالمہ ہی وہ واحد راستہ ہے جو تعطل کو ختم کرنے‘ پالیسیوں میں تسلسل لانے اور قومی یکجہتی پیدا کرنے کا باعث بنتا ہے۔

جمہوریت کا پہیہ تبھی رواں رہتا ہے جب ریاستی اکائیوں کے درمیان مکالمے کا دروازہ کھلا رہے۔ یہ حقیقت سب پر عیاں ہے کہ ہمارا ملک اس وقت ایک پیچیدہ معاشی بحران سے نبرد آزما ہے‘ عالمی اور علاقائی حالات جس کی گمبھیرتا میں مزید اضافہ کر رہے ہیں۔ ایسے میں عوامی اور سماجی تحفظ کا واحد راستہ معاشی جمود کو توڑنا اور داخلی استحکام کو برقرار رکھنا ہے۔ اسی طرح امن وامان اور بڑھتی ہوئی دہشتگردی کیخلاف بھی ملک کو ایک متفقہ قومی بیانیے کی ضرورت ہے۔ یہ صرف اسی صورت ممکن ہو گا جب سیاسی قیادت اپنے اختلافات بالائے طاق رکھ کر قومی سلامتی کے حوالے سے اقدامات کیلئے پر ایک پیج پر آئے گی۔ جب مذاکرات سے گریز کی راہ اپنائی جاتی ہے تو حکومت اور اپوزیشن کا ورکنگ ریلیشن شپ‘ جو نظمِ حکومت کو چلانے اور ریاستی بندوبست کو برقرار رکھنے کیلئے ضروری ہوتا ہے‘ مجروح ہونے لگتا ہے اور سیاسی قیادت میں پائی جانے والی تلخی نچلی سطح پر عوام کے ذہنوں میں بھی نفرت پیدا کرنے لگتی ہے‘ جس سے عدم برداشت اور تشدد کو فروغ ملتا ہے۔ آج کل ہمیں ایسی ہی صورتحال کا سامنا ہے۔ اگر یہ جائزہ لیا جائے کہ حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات میں کیا امر مانع ہے تو یہ بات تسلیم کرتے ہی بنتی ہے کہ دونوں اطراف کو ایک دوسرے پر اعتماد نہیں ہے۔ اکثر مذاکرات سے پہلے ایسی شرائط عائد کر دی جاتی ہیں جو دوسرے فریق کیلئے ناقابلِ قبول ہوتی ہیں۔
اس دائرے سے نکلنے کیلئے فریقین کو چاہیے کہ وہ کسی پیشگی شرط کے بغیر مذاکراتی میز پر بیٹھیں۔ بات چیت کا ایجنڈا صرف ملکی وقومی مفاد ہونا چاہیے۔ اعتماد سازی کے اقدامات کیلئے حکومت سیاسی ماحول کو متوازن بنانے کی کوشش کر سکتی ہے۔ اپوزیشن کو سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دی جائے۔ بدلے میں اپوزیشن احتجاج اور سڑکوں کو ترک کر کے اپنے مطالبات منوانے کیلئے جمہوری و پارلیمانی راستہ اپنائے۔ مذاکراتی تسلسل کو برقرار رکھنے کیلئے ایوان کے اراکین پر مشتمل ایسی کمیٹی بنائی جا سکتی ہے جس میں تمام پارلیمانی جماعتوں کے سینئر اور سنجیدہ ارکان کو شامل کیا جائے تاکہ اختتامی حل تک پہنچا جا سکے۔ ملک و قوم کے کئی قیمتی سال ہم بے جا سیاسی محاذ آرائی اور نفرت کی سیاست میں ضائع کر چکے۔ پاکستان اب مزید سیاسی عدم استحکام کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ بدلتے عالمی حالات کا مقابلہ کرنے کیلئے ضروری ہے کہ سیاسی قیادت اپنی اَنا کو پیچھے چھوڑ کر ملک وقوم کیلئے مذاکرات کی راہ اپنائے۔ سیاسی قیادت کو اپنے طرزِ عمل سے یہ ثبوت فراہم کرنا چاہیے کہ جمہوریت میں راستہ بند گلی سے نہیں بلکہ بات چیت سے نکلتا ہے۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بلدیاتی انتخابات، مزید تاخیر نہیں(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-21/11471</link><pubDate>Fri, 21 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-21/11471</guid><description>الیکشن کمیشن آف پاکستان اور حکومتِ پنجاب کے درمیان صوبے میں بلدیاتی انتخابات 15 دسمبر 2026ء سے 15 جنوری 2027ء کے درمیان کرانے پر اتفاق ہوا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ اتفاق ایک اور اعلان بن کر نہ رہ جائے بلکہ اسے عملاً انتخابی عمل میں تبدیل کیا جائے۔ پنجاب میں آخری بلدیاتی انتخابات 2015ء میں ہوئے تھے اور منتخب اداروں نے 31 دسمبر 2021ء کو اپنی مدت مکمل کی تھی۔ اس کے بعد گزشتہ تقریباً پانچ برس کے دوران بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کی کوششیں بار بار قانون سازی‘ حلقہ بندیوں اور انتظامی تقاضوں کی نذر ہوتی آئی ہیں۔ گزشتہ پچیس برس میں پنجاب میں صرف تین بار بلدیاتی انتخابات ہوپائے‘ اگر انتخابی تسلسل برقرار رہتا تو اس عرصے میں کم از کم چھ بلدیاتی انتخابات ہو سکتے تھے۔

اس کا سب سے بڑا نقصان عام شہریوں کو ہوا جن کے روزمرہ مسائل کے حل کیلئے مقامی سطح پر منتخب نمائندوں کا مؤثر نظام موجود نہیں۔ بلدیاتی ادارے جمہوریت کی نچلی مگر سب سے زیادہ عوامی سطح ہیں۔  متعدد شہری خدمات کے مسائل مقامی حکومتیں زیادہ مؤثر انداز میں حل کر سکتی ہیں۔ اب جبکہ پنجاب حکومت اور الیکشن کمیشن کے درمیان الیکشن کی مجوزہ تواریخ پر اتفاق ہو گیا ہے‘ ضروری ہے کہ ماضی کی غلطیوں کو دہرایا نہ جائے۔ حکومت کو ابھی سے تمام قانونی‘ انتظامی‘ مالی اور حلقہ بندی سے متعلق امور مکمل کر لینے چاہئیں۔ کوئی ایسا قانونی ابہام باقی نہیں رہنا چاہیے جسے عین موقع پر انتخابات کے التوا کا جواز بنایا جا سکے۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پاکستان کا عالمی ورثہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-21/11470</link><pubDate>Fri, 21 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-21/11470</guid><description>وفاقی وزرات قومی ورثہ و ثقافت کے مطابق ملک کے مزید 12 تاریخی و ثقافتی مقامات کو یونیسکو ورلڈ ہیرٹیج کی ٹینٹیٹو فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے۔ اس پیش رفت کے بعد ایسے پاکستانی مقامات کی تعداد 37 ہو گئی ہے جو مستقبل میں عالمی ورثے کا درجہ حاصل کرنے کیلئے زیرِ غور لائے جا سکتے ہیں۔ ٹینٹیٹو فہرست دراصل ان مقامات کی ابتدائی فہرست ہوتی ہے جنہیں کوئی ملک مستقبل میں یونیسکو کی ورلڈ ہیرٹیج لسٹ میں شامل کرانے کیلئے نامزد کرتا ہے۔ اس فہرست میں نئے شامل ہونے والے مقامات پاکستان کے تہذیبی تنوع کی بھرپور عکاسی کرتے ہیں‘ جو برصغیر کی ہزاروں سال پرانی تہذیبی‘ مذہبی‘ سیاسی اور ثقافتی تاریخ کے زندہ شواہد ہیں۔

پاکستان قدرتی حسن سے لے کر قدیم تہذیبوں‘ بدھ مت کے آثار‘ اسلامی فنِ تعمیر‘ تاریخی قلعوں اور منفرد مقامی ثقافتوں تک غیرمعمولی اہمیت کا حامل ہے لیکن اس دولت کو ہم معاشی قوت میں تبدیل نہیں کر سکے۔ اگر تاریخی اور ثقافتی مقامات کو عالمی معیار کے سیاحتی مراکز میں تبدیل کیا جائے تو نہ صرف غیرملکی سیاحوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے بلکہ مقامی روزگار‘ ہوٹلنگ‘ ٹرانسپورٹ‘ دستکاری اور دیگر شعبوں میں بھی زبردست سرگرمی پیدا ہو سکتی ہے۔حکومت کو ٹینٹیٹو فہرست میں شامل مقامات کو مستقل عالمی ورثے کی فہرست تک پہنچانے کیلئے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>وہ راز جو بھٹو‘ نواز شریف اور عمران خان نہ سمجھ سکے(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-08-21/52520/75779247</link><pubDate>Fri, 21 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-08-21/52520/75779247</guid><description>میں سازشی تھیوریوں پر یقین نہیں رکھتا‘ نہ ہی ان کے بارے میں لکھتا ہوں۔ میں نے کہیں پڑھا تھا کہ جب آپ کا ذہن کسی بات یا معاملے کو سمجھنے سے قاصر ہو جاتا اور آپ رک جاتے ہیں تو اس لمحے لفظ سازش آپ کے ذہن میں آتا ہے۔ مطلب جو بات آپ کی سمجھ میں نہیں آ رہی وہ سازش ہے۔ یہ وہ لفظ ہے جو آپ کی دماغی صلاحیت کے کم ہونے کا اعتراف بھی ہے اور آپ کو محفوظ راستہ بھی دیتا ہے کہ ہم خود کو الزام نہیں دیتے کہ اس پورے عمل کو سمجھ نہیں پا رہے‘ لہٰذا اپنی لاعلمی اور بے عقلی کو ہم سازش کے غلاف میں چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔آج میرا دل چاہ رہا ہے کہ میں کچھ سازشی تھیوریوں کو بے نقاب کروں کیونکہ میرا دماغ بھی ایک مرحلے پر پہنچ کر ان بڑے لوگوں کی گیم سمجھنے سے قاصر ہے‘ لہٰذا بہتر طریقہ یہی ہے کہ سازش ڈھونڈنے کی کوشش کی جائے۔ کچھ دوستوں سے سوشل میڈیا پر بات ہو رہی تھی کہ مجھے آج تک سمجھ نہیں آئی کہ ہمارے حصے میں ہی ایسے جمہوریت پسند کیوں آئے ہیں جنہیں عوام کو بچانا پڑتا ہے یا وہ عوام سے ہی پوچھتے رہتے ہیں کہ اب ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ جو مسلسل اپنی مظلومیت کا رونا روتے رہتے ہیں۔ ابھی کل ہی ایک جگہ طلبہ کے ساتھ مذاکرہ تھا جس میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی‘ سپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان‘ تیمور سلیم جھگڑا‘ فواد چودھری‘ قمرزماں کائرہ‘ احمد بلال محبوب اور میں شریک تھا۔ مشہور اینکر پرسن محمد مالک اس کارروائی کو چلا رہے تھے۔ بات نئے صوبوں پر ہو رہی تھی۔ اس پر سوال و جواب کے سیشن میں ایک صاحب نے کہا کہ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ پاکستان میں جو لوگ سیاست میں آتے ہیں‘ کیا انہیں علم نہیں ہوتا کہ مسائل حل کیسے کرنے ہیں؟ وہ اگر نہیں جانتے تو لیڈر کیوں بن جاتے ہیں؟ وہ حیران تھے کہ اگر آپ نے اقتدار ملنے کے بعد بھی یہی پوچھتے رہنا ہے اور آپ اگر خود کنفیوز ہیں تو پھر آگے بڑھ کر لیڈر کیوں بن بیٹھے ہیں؟ اس پر ہال میں سب نے تالیاں بجائیں کہ بات تو ٹھیک ہے کہ اگر سیاسی اشرافیہ میں صلاحیت ہی نہیں تو پھر وہ سیاست میں کیوں آئے ہیں۔ سیاست میں آپ اس وقت آتے ہیں جب آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کے پاس اس ریاست‘ ملک اور معاشرے کے مسائل کا حل موجود ہے اور آپ کو اگر اقتدار ملا تو آپ سب ٹھیک کر دیں گے۔ لیکن اقتدار ملنے کے بعد آپ عوام سے پوچھنے لگ جاتے ہیں کہ اب ہم کیا کریں۔ اسی بنا پر مجھے لگتا ہے کہ ہمارے سیاستدانوں نے پاکستان میں سیاست کرنے کا ایک ہی فارمولہ تلاش کر رکھا ہے اور وہ پرفارمنس نہیں بلکہ مظلومیت ہے۔ عمران خان کے جیل جانے سے پہلے (ن)لیگ اور پیپلز پارٹی والے خود کو مظلوم سمجھتے تھے‘ اور ان کے پاس درجنوں جواز تھے۔ پیپلز پارٹی بھٹو صاحب کی پھانسی اور بینظیر بھٹو کے قتل کو اور نواز شریف دہشت گردی کے الزام میں ہونے والی سزاؤں کو اپنے خلاف انتقام سمجھتے تھے۔ لہٰذا ان دو پارٹیوں کے لیڈران پرفارمنس سے زیادہ اپنے اوپر مظالم کی بات کرتے تھے۔ عمران خان کا زور اس بات پر تھا کہ ان دونوں پارٹیوں نے چالیس سال تک کچھ نہیں کیا بلکہ ملک کو لوٹا ہے۔ مزے کی بات ہے کہ عمران خان اپنے سیاسی مخالفین کے زخموں پر نمک چھڑکتے ہوئے کہتے کہ آج کے دور سے جنرل ضیا اور جنرل مشرف کا دور بہتر تھا۔ اب ذہن میں رکھیں جنرل ضیا دور میں بھٹو صاحب کو پھانسی دی گئی تھی اور جنرل مشرف کے دور میں نواز شریف کو چودہ برس سزا سنائی گئی تھی اور اسی دور میں بینظیر بھٹو قتل ہوئی تھیں۔ لیکن پی ٹی آئی والے اب بھی ان دونوں ادوار کو بہتر سمجھتے ہیں۔ وہی بات کہ جس تن لاگے سو تن جانے۔ پیپلز پارٹی کو ضیا دور برا لگتا ہے تو نواز شریف کو مشرف دور‘ اور پی ٹی آئی کو موجودہ دور برا لگتا ہے۔ایک اور دلچسپ پہلو ملاحظہ کریں! دنیا بھر میں سیاسی لیڈر عوام اور ریاست کے مسائل اور چیلنجز کا مقابلہ کرنے کیلئے سیاسی میدان میں اترتے ہیں۔ لوگوں کو یقین دلاتے ہیں کہ وہ ان کے بنیادی انسانی حقوق‘ معاشی ترقی کا تحفظ کریں گے‘ ان کو خطرناک عناصر سے بچائیں گے‘ وغیرہ وغیرہ۔ وہ لوگوں کو اپنی باتوں سے یقین دلاتے ہیں کہ صرف وہی ان کا تحفظ کر سکتے ہیں۔ وہ کرپشن نہیں کریں گے‘ فرینڈز اینڈ فیملی کے کاروبار کو پروموٹ نہیں کریں گے‘ نہ ہی سیاست سے مال کمائیں گے۔ بڑی حد تک وہ اپنی باتوں پر قائم بھی رہتے ہیں اور اگر انہیں لگے کہ وہ ڈِلیور نہیں کر پا رہے تو عہدے سے استعفیٰ دے کر الگ ہو جاتے ہیں‘ جیسے آج کل برطانیہ کی مثال دی جاتی ہے۔ لوگوں کو تو برطانیہ کے اُن چھ وزرائے اعظم کے نام تک شاید یاد نہ ہوں جو پچھلے دس برسوں میں بدلے ہیں۔ ایک ہم ہیں کہ نواز شریف اور عمران خان میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔ دونوں کو اپنے ہٹائے جانے پر سخت اعتراضات ہیں‘ چاہے ایک کو کورٹ آرڈر پر ہٹایا گیا اور دوسرے کو پارلیمنٹ کے اندر عدم اعتماد کے ذریعے ہٹایا گیا۔ برطانیہ میں چھ وزرائے اعظم نے خود یہ عہدہ چھوڑا‘ خود یا پھر پارٹی کے کہنے پر استعفیٰ دیا مگر وہاں کوئی آسمان نہیں گرا۔ ہمارے ہاں یہ تاثر بنا دیا گیا ہے کہ اگر نواز شریف‘ آصف زرداری یا عمران خان نہ رہے تو شاید کچھ نہیں بچے گا۔ ان سب نے اپنے اپنے فالوورز کی آنکھوں میں خود کو ایسا دیوتا بنا دیا ہے کہ ان کے حامیوں کو لگتا ہے اگر وہ نہ رہے تو دنیا چلنا بند کر دے گی۔ لہٰذا ان تینوں پارٹیوں کے لیڈروں نے اپنے اپنے کلٹ بنا لیے ہیں جو سارا دن ان کی عظمت کی کہانیاںسناتے رہتے ہیں۔ مزے کی بات ہے کہ جن لیڈروں نے عوام کے مسائل حل کرنے تھے‘ عوام کو الٹا ان کے مسائل حل کرنا پڑ رہے ہیں۔ جنہوں نے عوام کو ان کے حقوق دلانے تھے‘ الٹا عوام سب کام چھوڑ کر سڑکوں پر نکلے ہوتے ہیں کہ ہمارے لیڈروں کو ان کے حقوق دو۔ وہی اپنے لیڈروں کیلئے سڑکوں پر گولیاں کھاتے ہیں‘ جیلوں میں جاتے ہیں‘ کوڑے کھاتے ہیں‘ اپنے گھر تباہ کراتے ہیں‘ عدالتوں میں دھکے کھاتے ہیں اور سوشل میڈیا پر سارا دن اپنے لیڈر کو مظلوم ثابت کرنے کیلئے جھوٹی سچی کہانیاں گھڑتے رہتے اور مخالفین کو گالیاں دیتے رہتے ہیں۔ذوالفقار علی بھٹو سے نواز شریف اور عمران خان تک‘ ان سب کے مسائل کی وجہ مشترک ہے۔ تینوں تاحیات وزیراعظم رہنا چاہتے تھے اور اس کام کیلئے انہیں ایسے سپہ سالار چاہیے تھے جو اس کام میں ان کے مددگار ہوں اور وہ اگلا الیکشن جیت سکیں۔ سپہ سالار کو اس بات کا کچھ عرصے بعد پتا چلتا کہ سینئرز کو نظر انداز کر اسے ہی کیوں چنا گیا۔ پھر شاید وہ یہ سوچنے لگتے کہ اگر سب کام میرے ہی کندھوں پر بیٹھ کر کرنے ہیں تو میں خود کیوں نہ کر لوں۔ بھٹو صاحب جنرل ضیا کو ساتویں نمبر سے اوپر لائے تھے اور ان کے ذہن میں یہی وفاداری اور اگلا الیکشن تھا۔ نواز شریف بھی اسی لیے جنرل مشرف کو اوپر لائے کہ وہ سادہ ہیں‘ میں امیرالمومنین بن کر رہوں گا۔ مشرف کے بعد جنرل ضیا الدین بٹ بھی اس لیے لائے جا رہے تھے کہ تاحیات اقتدار میں رہنا ہے۔ عمران خان جنرل باجوہ کو مدتِ ملازمت میں توسیع دے کر یہی منصوبہ بنائے بیٹھے تھے کہ اگلا چیف 2022ء میں جنرل فیض کو بنائوں گا اور اگلا الیکشن پرفارمنس پر نہیں بلکہ فیض حمید کی مدد سے جیتوں گا۔ لیکن انہوں نے ان تینوں کے منصوبے بھانپ کر اپنا اپنا کھیل کھیلا اور سب کچھ الٹ دیا۔ یہ جن کو اپنے اقتدار میں توسیع کیلئے لائے تھے‘ وہی ان کیلئے جلاد اور صیاد بنے۔ اب مظلوم کون ہے‘ خود فیصلہ کر لیں۔ جمہوریت تاحیات اقتدار میں رہنے کا نام نہیں۔ یہ عام سی بات ذوالفقار علی بھٹو‘ نواز شریف اور عمران خان نہیں سمجھ سکے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>اتفاق اور بڑا اختلاف(رسول بخش رئیس)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-08-21/52521/41696265</link><pubDate>Fri, 21 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-08-21/52521/41696265</guid><description>یہ آج کی بات نہیں‘ بلکہ کئی عشروں سے طرزِ حکومت کی بگڑی ہوئی صورتحال نجی محفلوں میں کھسر پھسر سے لے کر حاکموں کی محفلوں اور بے شمار کانفرنسوں اور سیمیناروں میں زیرِ بحث رہتی ہے۔ ہر آنے والے دور میں سرفہرست مسئلہ اندازِ حاکمیت کا رہا ہے۔ کسی عام آدمی سے پوچھیں‘ شہری ہو یا دیہاتی‘ زمیندار ہو یا کاشتکار‘ یہاں تک کہ بڑا بزنس مین ہو یا سیاستدان‘ سب آپ کو بتائیں گے کہ سفارش اور ہتھیلیوں کو گریس اور فائلوں کو پہیے لگائے بغیر جائز کام نہیں ہوتے۔ ایک مرتبہ پھر سے یہی موضوع زیرِ بحث ہے مگر افسوس ہوتا ہے کہ آخر وہ لوگ‘ جو اس وقت حکومتوں میں بیٹھے ہوئے ہیں‘ اس مسئلے کو حل کیوں نہیں کرتے؟بات ذرا تلخ ہے مگر کرنا ضروری ہے۔ آپ کسی سرکاری ادارے کی بھرتیوں کی تاریخ اور شماریات اٹھا کر دیکھ لیں‘ حکومتی اداروں کے زوال کی کہانی جلی حروف میں آپ کے سامنے آ جائے گی۔ جس قومی ادارے نے کچھ کر کے دکھایا‘ جس نے ملک کیلئے کچھ کیا اور نام اور دولت کمائی‘ حکمرانوں کی نظریں اس پر جا پڑیں اور اقتدار سنبھالتے ہی اپنے بندے اس میں گھسانا شروع کر دیے۔ پہلے جمہوری دور میں قومی ہوائی کمپنی‘ واپڈا‘ نجی بینک‘ انشورنس کمپنیاں اور دیگر مالیاتی ادارے یوں سمجھیں کہ سونے کی چڑیا تھے۔ پارٹی کے جان نثار بھوکے بازوں کی طرح ان پر لپکے اور دو چار برسوں میں سب کچھ چٹ کر دیا۔ میں نے خود بااثر لوگوں کے قریبی رشتہ داروں کو ان اداروں کے علاوہ نیشنل بینک‘ سرکاری کارپوریشنوں اور دیگر سرکاری اداروں میں بڑی پوزیشنیں بغیر کسی میرٹ کے سنبھالتے دیکھا ہے۔ بات یہاں نہیں رکی۔ انہوں نے تو سروسز میں بھی بغیر مقابلے کے امتحان کے بھرتیاں کیں۔ اکثریت وزیروں‘ مشیروں اور اراکینِ اسمبلی کے قریبی رشتہ داروں اور دوستوں کی تھی۔ دیگر ادوار میں بھی جس کسی کو موقع ملا‘ اس نے دو قدم آگے بڑھ کر سرکاری اداروں پر قبضہ جما لیا۔ آج بھی کسی سرکاری دفتر میں جائیں تو آپ کو جہاں ایک دو آدمیوں کی ضرورت ہے وہاں دس‘ پندرہ لوگ فونوں پر نظریں گاڑے ملیں گے۔ سرکاری اداروں کی حالت کا اندازہ لگانا ہو تو‘ دعا کریں کہ آپ کو کسی بلڈنگ کا واش روم استعمال نہ کرنا پڑے۔سیاسی بھرتیاں‘ یہاں تک کہ جامعات‘ سکولوں اور کالجوں میں پہلے ایڈہاک (عارضی) اور پھر یونین بازی کر کے سب کو بغیر کسی شفافیت اور میرٹ کے پکا کر دیا گیا۔ یہ تو ہمارا آنکھوں دیکھا حال ہے۔ جامعات میں تو حال اس سے بھی برا ہے۔ ہر جگہ‘ ہر دور میں سیاسیوں نے بھرتیاں کیں‘ اتنی کہ ہر شعبے میں سات آٹھ سے لے کر دس‘ پندرہ بندے بیکار بیٹھے ہوئے ہیں۔ اگر کوئی گورننس کے بارے میں سوچے تو فیکلٹی اور سٹاف میں تناسب رکھا جاتا ہے۔ ایسے بے کار بیٹھے آدمیوں پر ایک لحاظ سے ترس آتا ہے کہ نوکری اور تنخواہ کے چکر میں ان کی پوری زندگیاں غیر پیداواری رہتی ہیں۔ کسی کا کسی کام میں جی نہیں لگتا۔ گورننس کے مسائل نہایت ہی سادہ ہیں‘ جو اختیارات کے غلط استعمال‘ جس کی کوئی جوابدہی نہیں‘ کی وجہ سے وقت کے ساتھ الجھتے چلے گئے ہیں۔ ہم اپنے قریبی پارک سے بات شروع کرتے ہیں۔ (آپ کا تجربہ مختلف ہو تو بھی ہمیں بتا سکتے ہیں) ڈیوٹی کا وقت تو آٹھ نو بجے شروع ہوتا ہے مگر آپ کو وہاں کوئی نظر نہیں آئے گا‘ بلکہ کسی دن اگر کچھ لوگ آتے بھی ہیں تو ایک دو گھنٹوں یا اس سے بھی کم وقت کے لیے‘ اور باقی وقت اپنے اپنے کاروباروں کے لیے روانہ ہو جاتے ہیں۔ جب کوئی جوابدہی کا اصول نہیں ہوتا‘ اور اگر ہو بھی مگر اس پر عمل نہ کیا جائے تو گورننس بد سے بدتر ہوتی چلی جاتی ہے۔ دوسری بات‘ سرکاری اداروں میں خواہ مخواہ کی رکاوٹیں ہوتی ہیں‘ اور ان کا مقصد بھی یہی ہوتا ہے کہ شہریوں کو زچ کر کے ان سے کچھ بٹورا جائے۔ یہ باتیں میں سنی سنائی نہیں کر رہا‘ جن بیچارے لوگوں کو مختلف محکموں نے لوٹا ہے یہ ان کی داستانیں ہیں۔سب سے بڑا مسئلہ گورننس کی تباہی ہے جس کی اصل بنیاد اور جڑ کرپشن ہے۔ ملکی تاریخ کا کوئی ورق اٹھا کر دیکھیں‘ یا ہر دور کا مطالعہ کریں‘ حتیٰ کہ اِس وقت بھی مختلف سرکاری اداروں میں روزانہ کی بنیاد پر سرگرمیوں کا جائزہ لیں تو گورننس کا اصلی مسئلہ سمجھ میں آ جائے گا۔ ظلم تو یہ ہے کہ ہر ادارے میں منظم انتظامی ڈھانچہ موجود ہے مگر جوابدہی اور احتساب کہیں بھی دیکھنے میں نہیں آتا۔ اگر اوپر سے لے کر نیچے تک پورے ادارے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہو تو حل آپ کہاں تلاش کریں گے! یہ چند مثالیں آپ کے سامنے اس لیے رکھی ہیں کہ سب لوگوں کا اتفاق ہے کہ سرکاری اداروں میں کرپشن ہے‘ بدانتظامی ہے اور احتساب نہیں‘ اور سب اسی بارے میں رو رہے ہیں۔ لیکن آپ کیا کریں گے جب کوئی صوبے یا ملک کا بااختیار حکمران چن چن کر مختلف اداروں میں ایسے خواتین و حضرات کو سربراہ بنائے جن کا مقصد صرف کمائی ہو اور ہر ایک کیلئے ٹارگٹ مقرر ہوں؟آگے چلیں! اگر آپ اقتدار میں آ کر قوانین ہی بدل لیں اور ان کا اطلاق ماضی کی دہائیوں تک لے جائیں‘ اور عدالتوں و احتساب کے اداروں کو بھی بزورِ قانون پابند کر دیں کہ اب دروازے بند ہو چکے ہیں اور وہ ماضی کے اندر جھانک کر بھی نہیں دیکھ سکتے تو ایسے میں ملک کے مختلف شعبوں میں سرکاری اداروں کے اہلکاروں اور دیگر کیلئے کیا پیغام جائے گا؟ کہتے ہیں ہم نے مجوزہ اصلاحات کر لیں تو گورننس بہت اچھی ہو جائے گی۔ حضور! اصلاحات کرنی ہیں تو آج ہی سے شروع کر دیں کہ سب سرکاری افسر اور اہلکار اپنے دفتروں میں وقت پر آئیں‘ وقت پر جائیں‘ کسی کا جائز کام نہ روکے رکھیں اور نہ کسی کا ناجائز کام کریں۔جو کام کرنے کے ہیں وہ تو سرکاری ملازمتوں‘ افسروں کی تعیناتیوں‘ اور ترقیاتی کاموں کے ٹھیکوں میں میرٹ اور شفافیت کے ساتھ ساتھ جواب دہی ہے۔ بے شک آپ جتنے صوبے بنانا چاہیں بنا کر دیکھ لیں‘ اور جس طرح کم از کم ہمارا مطالبہ ہے کہ صوبے بنائیں یا نہ بنائیں لیکن بااختیار مقامی حکومتیں تو ہر صورت میں ناگزیر ہیں۔ اصلاحات ضرور کریں مگر گورننس کسی صورت بہتر نہیں ہو گی اگر آپ میرٹ‘ شفافیت‘ قانون کی حکمرانی اور احتساب کیلئے تیار نہیں۔ ہر صورت میں اقتدار صرف 300سیاسی خاندانوں کے ہاتھوں میں ہی مرکوز رہے گا‘ اور وہ وہی کچھ گورننس کیلئے کرتے رہیں گے جو ابھی تک کرتے آئے ہیں۔ اگر عدالتوں میں انصاف اور احتساب بغیر کسی تفریق کے اور میرٹ پر ہو اور مقامی حکومتیں بااختیار ہوں تو پھر ہی حالات بہتری کی طرف جا سکتے ہیں۔ ہم جیسے لوگ تو ویسے ہی شکی مزاج ہیں‘ اس لیے جو مجوزہ اصلاحات کے خلاف بھانت بھانت کی بولیاں بول رہے ہیں‘ ہم ان کے جھانسے میں آ جاتے ہیں۔ ہمارے یقین کی بنیاد اس لیے بھی کمزور ہے کہ ہم نے اقتدار میں موجود جماعتوں کو کئی بار کرسیاں سنبھالتے‘ موجیں اڑاتے اور ہارنے کے بعد اگلے سیزن کی تیاری کرتے دیکھا ہے۔ میرے خیال میں صوبوں کی تعداد موجودہ سے کم یا زیادہ ہونا اصل مسئلہ نہیں۔ اگر ایک بااختیار مقامی حکومت قائم ہوتو وہاں سے بھی نئی قیادتوں کے ابھرنے کے امکانات ہوتے ہیں۔ اس طرح سیاسی گھرانوں کی اجارہ داری آہستہ آہستہ ٹوٹ جائے گی۔ دوسری بات یہ کہ احتساب‘ مالی کرپشن اور انتظامی بدعنوانیوں کے خلاف جب تک انصاف اور شفافیت کے ساتھ عمل درآمد نہیں ہو گا‘ تب تک کچھ بھی نہیں بدلے گا۔ یہ سوچنا کہ محض مزید صوبے بنانے یا نئی انتظامی اکائیاں کھڑی کرنے سے طرزِ حاکمیت بہتر ہو جائے گی‘ دیوانے کا خواب معلوم ہوتا ہے۔ مسئلے کی جڑ تو گورننس ہے‘ بلاتخصیص احتساب و انصاف اور مقامی حکومتوں کی صورت میں اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی۔ مگر کون سیانا ایسا کرے گاکہ اُس کے اقتدار کی مرکزیت بھی ختم ہو‘ سیاست بھی ڈوب جائے اور اکٹھا کیا ہوا دھن بھی خطرے میں پڑ جائے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_33241568.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>صدر ٹرمپ کی نئی حکمت عملی(ڈاکٹر رشید احمد خاں)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr-rasheed-ahmad-khan/2026-08-21/52522/63548196</link><pubDate>Fri, 21 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr-rasheed-ahmad-khan/2026-08-21/52522/63548196</guid><description>اپنی مرضی کا معاہدہ حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو زیر کرنے کے لیے ایک نئی حکمت عملی کا اعلان کیا ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت‘ ٹرمپ کے اپنے الفاظ کے مطابق‘ ایران پر ایسی معاشی اور تجارتی پابندیاں عائد کی جائیں گی کہ اس سے پہلے دنیا نے دیکھی نہیں ہوں گی اور ان کا مقصد ایران کے اندر ایسے حالات پیدا کرنا ہے جن سے تنگ آ کر ایرانی عوام موجودہ حکمرانوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔ یعنی رجیم چینج! جس کے لیے امریکہ اور اسرائیل نے مل کر رواں برس 28فروری سے 8اپریل تک ایران کے طول و عرض میں طیاروں‘ بحری جہازوں‘ آبدوزوں کے ذریعے لگاتار بم‘ میزائل اور ڈرون گرائے۔ مگر آخرکار مذاکرات کی میز پر بیٹھنا پڑا۔ ان مذاکرات‘ جن میں پاکستان‘ قطر اور سعودی عرب نے اہم کردار ادا کیا‘ کے نتیجے میں ایک فریم ورک معاہدے پر اتفاق ہوا تھا جس پر 18 جون کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ‘ ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے الیکٹرانک دستخط کیے‘ لیکن اس فریم ورک معاہدے میں درج سفارشات پر عمل درآمد کرنے کے بجائے صدر ٹرمپ نے امریکی سینٹرل کمانڈ کو ایران کے مزید فوجی ٹھکانوں اور تنصیبات کو تباہ کرنے کا حکم دے دیا۔ جواب میں ایران نے بھی خلیجی ممالک میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ جس سے ایران امریکہ جنگ نے ایک انتہائی خطرناک صورت اختیار کر لی۔ جسے مزید خراب ہونے سے بچانے کے لیے ایک دفعہ پھر پاکستان‘ سعودی عرب اور مصر کی کوششوں سے 28جون کو فریقین نے ایک دوسرے پر حملے بند کرنے اور بات چیت کے سلسلے کو دوبارہ شروع کرنے پر اتفاق کیا‘ مگر ایران نے کہا کہ بات چیت سے پہلے امریکہ کو ایم او یو کی شرائط پر عمل درآمد کرنا پڑے گا جن میں امریکہ کی طرف سے ایران کی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ‘ بین الاقوامی منڈی میں ایرانی تیل اور گیس کی فروخت پر پابندی کو اٹھانا اور ایران کے منجمد اثاثوں کو واپس ایران کے حوالے کرنا شامل ہے۔ مگر امریکہ نے 12جولائی کو ایران کے جنوبی حصے اور خلیج فارس کے ساحل پر واقع ایرانی دفاعی تنصیبات کو ہوائی اور بحری حملوں کا نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ امریکہ کی طرف سے ایران پر حملوں کا یہ تیسرا سلسلہ تھا اور اس دفعہ حملوں کا یہ سلسلہ تقریباً دو ہفتوں تک جاری رہا۔ صدر ٹرمپ کے مشیروں اور کابینہ کے سینئر ارکان نے جب انکشاف کیا کہ ایران کے خلاف طویل عرصے سے بمباری کے نتیجے میں امریکہ کے اسلحہ خانوں میں میزائلوں اور دیگر ہتھیاروں کی کمی ہو گئی ہے تو امریکی صدر نے نہ صرف سینٹ کام کو حملے روکنے کا حکم دیا بلکہ اعلان کیا کہ امریکہ اب ایران کے خلاف فوجی کارروائی کرنے کے بجائے معاشی جنگ شروع کرے گا۔مبصرین کا خیال ہے کہ ایران کے خلاف امریکی حکمت عملی میں یہ تبدیلی نہ صرف امریکی جنگی صلاحیت پر پڑنے والے دباؤ اور ایران کی طرف سے بے مثال مزاحمت کا نتیجہ ہے بلکہ اس میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی طرف سے ٹرمپ کو ایران پر اقتصادی پابندیوں کے ذریعے زیادہ سے زیادہ معاشی دباؤ ڈالنے کے منصوبے کا بھی کردار ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق نیتن یاہو نے ٹرمپ کو ایران میں رجیم چینج کے مقصد کو برقرار رکھنے پر آمادہ کرتے ہوئے مشورہ دیا کہ اس کو حاصل کرنے کے لیے فوجی طاقت کے بجائے معاشی دباؤ سے کام لیا جائے کیونکہ ایران کی معیشت پہلے ہی کمزور حالت میں ہے۔ دہائیوں سے نہ صرف امریکہ بلکہ یورپی یونین اور اقوام متحدہ کی طرف سے ایران پر کئی قسم کی اقتصادی پابندیوں نے نہ صرف ایران کی کرنسی کو ڈالر کے مقابلے میں انتہائی کمزور کر دیا ہے بلکہ افراطِ زر آسمان کی بلندیوں کو چھو رہا ہے اور بیروزگاری عام ہے۔ اس کے ساتھ کئی ماہ کی لگاتار بمباری نے ایران کے نہ صرف فوجی بلکہ سویلین انفراسٹرکچر کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے جس کی وجہ سے ایرانی عوام سخت مشکل حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔ میڈیا رپورٹس میں ان حالات کی بنا پر ایران کے عوام میں پائی جانے والی پریشانی اور تشویش کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ ایرانی اعلیٰ حکام کی طرف سے ایران کے عوام کو اپنی صفوں میں اتحاد برقرار رکھنے اور دشمن کی طرف سے ان میں نفاق ڈالنے کی کوششوں سے خبردار رہنے پر زور ظاہر کرتا ہے کہ ایران کی حکومت معاشی صورتحال کے بگڑنے کے خطرے سے آگاہ ہے اور وہ ایرانی عوام کو ان مشکلات کا سامنا کرنے کیلئے تیار کر رہی ہے۔امریکہ اور اسرائیل کو یقین ہے کہ معاشی صورتحال کی مزید خرابی سے ایرانی عوام میں موجودہ حکومت کے خلاف جذبات میں اضافہ ہو سکتا ہے اور انہیں توقع ہے کہ مہنگائی‘ بیروزگاری اور ضروری اشیا مثلاً دوائیوں کی قلت سے تنگ آ کر ایرانی عوام موجودہ حکمرانوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے۔ مگر اس کے برعکس بعض حلقوں میں یہ رائے بھی پائی جاتی ہے کہ جس طرح طاقت کے استعمال سے ایرانی عوام کو نہیں جھکایا جا سکا‘ اسی طرح اقتصادی پابندیوں کا گھیرا تنگ کر کے بھی امریکی ایران کو ہاتھ کھڑا کرنے پر مجبور نہیں کر سکیں گے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اقتصادی پابندیاں اتنے طویل عرصے سے ایران پر عائد ہیں کہ وہ اس کے عادی ہو چکے ہیں اور اب انہوں نے ان پابندیوں کے ساتھ جینا سیکھ لیا ہے۔ اس کے علاوہ انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے سامنے ہتھیار ڈالنے کا کیا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ عراق‘ لیبیا اور غزہ کی صورتحال ان کے سامنے ہے‘ اسے قبول کرنے کے بجائے وہ بھوک اور قلت کا سامنا کرنے کو ترجیح دیں گے۔دوسری وجہ یہ ہے کہ تقریباً چھ ماہ سے جاری جنگ اور عسکری کشیدگی میں امریکہ کی اپنے اہداف کے حصول میں ناکامی نے ایرانی عوام کے حوصلے بلند کر دیے ہیں اور ایران کا موجودہ سیاسی سیٹ اَپ پہلے سے زیادہ مضبوط ہے۔ اس کے علاوہ اقوام متحدہ اور اس سے پہلے لیگ آف نیشنز کے تجربات سے ثابت ہوتا ہے کہ کسی ملک کو محض اقتصادی پابندیوں سے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ یہ درست ہے کہ اقتصادی اور دیگر پابندیوں سے ٹارگٹ ملکوں کو متعدد مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے مگر اقتصادی پابندیوں کے اثرات سے بچ نکلنے کے بھی کئی طریقے ہیں۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ ایران نے اقتصادی پابندیوں کا ایک طویل عرصے سے سامنا کرتے ہوئے یہ طریقے نہ سیکھے ہوں۔ اس لیے صدر ٹرمپ اپنے دعوؤں کے باوجود اقتصادی پابندیوں کا دباؤ بڑھا کر ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور نہیں کر سکتے کیونکہ اقتصادی پابندیوں کے سسٹم کو مکمل طور پر لاگو نہیں کیا جا سکتا۔ ایران کے ہمسائے میں کتنے ملک ایسے ہیں جو ایران کے ساتھ مکمل طور پر تجارتی تعلقات اور مالی لین دین منقطع نہیں کریں گے۔ ایران کو اپنی معیشت کو زندہ رکھنے کے لیے کئی آپشن دستیاب ہیں۔ جلد یا بدیر صدر ٹرمپ کو معاشی دباؤ کا حربہ ترک کر کے کوئی دوسرا آپشن اختیار کرنا پڑے گا۔ جنگ کا آپشن تو اب خارج از امکان ہے کیونکہ اس کے استعمال سے صدر ٹرمپ کی اپنے ملک کے اندر ریٹنگ مزید گر جائے گی۔ اگر اپنی باقی ماندہ دو سالہ صدارتی مدت میں صدر ٹرمپ کے ذہن میں ایران کے ساتھ مسئلے کو سنجیدگی سے حل کرنے کا خیال آیا تو اب ان کے سامنے مذاکرات کے علاوہ اور کوئی آپشن نہیں ہو گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90264263.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>قول و فعل کا تضاد(اسد طاہر جپہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/asad-tahir-jappa-/2026-08-21/52523/76215001</link><pubDate>Fri, 21 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/asad-tahir-jappa-/2026-08-21/52523/76215001</guid><description>گزشتہ دنوں مجھے ایک دوست نے اپنے ہاں منعقد ہونے والی ایک تقریب میں شرکت کی دعوت دی اور یہ بھی بتایا کہ درس و بیان کیلئے تشریف لانے والے مہمانِ خصوصی مجھ سے بطورِ خاص ملنے کے خواہشمند ہیں۔ میں نے ہامی بھر لی اور طے شدہ دن پر اس کی رہائش گاہ پر‘ ذرا سی تاخیر کے ساتھ پہنچ گیا۔ وہاں جاکر دیکھا کہ ایک صاحب درس دے رہے تھے۔ میں چپ چاپ ڈرائنگ روم کے ایک کونے میں دیوار کے ساتھ لگ کر بیٹھ گیا۔ اُن صاحب نے کم وبیش دس منٹ دنیا کی بے ثباتی اور اس فانی زندگی کی غیر یقینی صورتحال کو واضح کیا۔ گفتگو کے دوران ان کی آنکھیں مسلسل بھیگ رہی تھیں جنہیں وہ ٹشو پیپر کی مدد سے‘ اپنا چشمہ اتار کر بار بار صاف کرتے۔ میرے دوست کا بیٹا ادب سے ان کے سامنے بیٹھا تھا اور ہر بار ضرورت پڑنے پر ٹشو پیپر کا ڈبہ ان کے سامنے رکھی میز کے وسط سے اٹھا کر ان کے آگے کر دیتا۔ جہاں ان کے اندازِ بیان میں روانی تھی وہاں لب ولہجے میں سوز و گداز بھی واضح جھلک رہا تھا۔ گفتگو کے اگلے مرحلے میں انہوں نے ریاضت و مجاہدہ کی افادیت پر زور دیا اور اپنی مثالیں بھی پیش کیں۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے تین مرتبہ حج کی سعادت حاصل کی ہے۔ اس کے بعد انہوں نے اگلے ماہ اپنے پندرہویں عمرے کی تیاری کا ذکر چھیڑ دیا اور اس سلسلے میں سامعینِ محفل سے دعاؤں کی درخواست بھی کی۔ لگ بھگ تیس منٹ کے بعد ان کا خطاب اختتام پذیر ہوا تو انہوں نے اجتماعی دعا کیلئے ہاتھ فضا میں بلند کر دیے۔ مجھ سمیت تمام حاضرین دعا میں شریک ہو گئے۔ دعا کے بعد میرے دوست نے اُن صاحب سمیت تمام شرکائے محفل کو دعوتِ طعام دیتے ہوئے ساتھ والے کمرے میں میز پر سجائے گئے انواع واقسام کے کھانوں کی طرف چلنے کا اشارہ کیا۔ ہم سب ان کے پیچھے پیچھے چلتے ڈائننگ ٹیبل کی کرسیوں پر بیٹھ گئے۔ کھانا شروع ہوتے ہی میرے دوست نے سب احباب کا اُن صاحب سے فرداً فرداًتعارف کرانا شروع کیا۔ تعارفی کارروائی کے بعد سب نے کھانے کے ساتھ مکمل انصاف کیا۔ کھانے کے بعد ہم واپس ڈرائنگ روم میں آئے تو تقریباً سبھی مہمانوں نے میزبان سے اجازت طلب کی۔ ایک ایک کر کے تمام افراد میزبان اور مہمانِ خصوصی سے مصافحہ کرتے اپنے اپنے گھروں کو لوٹنا شروع ہو گئے۔ میں نے سب سے آخر میں اُن صاحب سے الوداعی ہاتھ ملایا تو انہوں نے مجھے تھوڑی دیر مزید رکنے کا کہا۔جب تمام مہمان چلے گئے تو ڈرائنگ روم میں صرف میزبانِ محفل‘ مہمانِ خصوصی اور یہ خاکسار ہی رہ گئے تھے۔ میرے دوست نے اُن صاحب سے کہا کہ وہ مجھے پاکستان میں درپیش اپنے مسائل کی وضاحت کریں‘ جس کیلئے بطورِ خاص وہ مجھ سے ملنے کی متمنی تھے۔ اس پر وہ کہنے لگے کہ ان کا تعلق فیصل آباد کے ایک نواحی گاؤں سے ہے جہاں پر زرعی زمین کے ساتھ ان کی وسیع دیگر خاندانی جائیداد بھی ہے۔ وہ اکیلے بھائی ہیں جبکہ ان کی دو بہنیں ہیں۔ بڑی بہن وفات پا چکی ہے جبکہ چھوٹی بہن ابھی حیات ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ پانچ سال سے ان کی چھوٹی بہن نے وراثتی جائیداد میں سے اپنا حصہ لینے کیلئے عدالت میں کیس دائر کر رکھا ہے جس کے سبب انہیں سخت پریشانی لاحق ہے۔ کہنے لگے کہ ان کی اصل پریشانی یہ ہے کہ اگر عدالت چھوٹی بہن کے حق میں فیصلہ دے دیتی ہے تو پھر بڑی بہن کے شوہر اور بچے بھی اپنا حصہ مانگنے کیلئے دباؤ ڈالیں گے حالانکہ مرحومہ بہن غربت کے باوجود بہت صبر والی عورت تھی اور اپنی زندگی میں اس نے کبھی وراثتی جائیداد میں اپنا حصہ نہیں مانگا۔ وہ کہنے لگے کہ ان کا چھوٹا بہنوئی ایک لالچی آدمی ہے جس کے بہکاوے میں آکر ان کی بہن نے عدالت میں کیس دائر کر رکھا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک بڑے وکیل کی خدمات حاصل کر کے اب تک انہوں نے تاخیری حربے استعمال کر کے کیس کو لٹکا رکھا ہے مگر اب حالات بدل رہے ہیں۔ وہ کہنے لگے کہ آج کی نشست میں بطورِ خاص میں آپ سے ملنے کا خواہشمند تھا کہ شاید اس عدالتی معاملے میں آپ میری کچھ مدد کر سکیں۔ میں نے بڑے انہماک کے ساتھ ان کی گفتگو سنی اور پھر ادب سے یہ کہنے کی جسارت کی کہ قانونِ وراثت کے مطابق آپ کی دونوں بہنوں کا اپنے مرحوم والد کی جائیداد میں حصہ مختص ہے‘ اور دینِ اسلام کی تعلیمات اس سلسلے میں بڑی واضح ہیں۔ اس پر ان صاحب کا چہرہ سرخ ہونے لگا اور وہ سخت لہجے میں بولے کہ دین کی تعلیمات کا وہ مجھ سے زیادہ علم رکھتے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ میں مدد سے انکار کے بہانے تراش رہا ہوں۔ میں نے صورتحال میں پیدا ہونے والی تلخی کو بھانپ لیا اور فوراً اپنے میزبان دوست سے اجازت لے کر ڈرائنگ روم سے باہر نکل آیا اور اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔واپس گھر آتے ہوئے مجھے دورانِ محفل اُن صاحب کی گفتگو کا ایک ایک لفظ یاد آنے لگا اور میری توجہ ان کے پندرہویں عمرے کی تیاری کی طرف مبذول ہو گئی۔ میں یہ سوچتا رہا کہ بلاشبہ بار بار عمرہ کی سعادت‘ کعبۃ اللہ کا طواف‘ مدینہ طیبہ کی حاضری اور حرمین شریفین اور مقاماتِ مقدسہ کی زیارت مقدر والوں کو ہی نصیب ہوتی ہے مگر بیت اللہ اور شہر رسولﷺ کی طرف عازمِ سفر ہونے سے قبل اس بات کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے کہ کیا ہم نے اپنے اردگرد کا حق ادا کر دیا۔ مجھے یوں محسوس ہوا کہ جیسے آسمان سے آواز آ رہی ہو کہ اللہ کے گھر آنے سے پہلے‘ اے اللہ کے بندو! پہلے اپنے گھروں میں جھانک لو۔ دین اسلام میں انسانوں کے حقوق و فرائض کی ادائیگی بہت واضح ہے۔ علماء کرام کی متفقہ رائے ہے کہ فرض عبادت کے بعد حقوق العباد سب سے بڑا فرض ہے۔ حضور نبی کریمﷺ سے پوچھا گیا کہ کون سا عمل افضل ہے؟ فرمایا: کسی بھوکے کو کھانا کھلانا۔ (بخاری و مسلم) ایک اور روایت میں ہے کہ ایک عورت بہت عبادت گزار تھی لیکن اپنی زبان سے پڑوسیوں کو تکلیف دیتی تھی‘ آپﷺ سے اس سے متعلق سوال ہوا تو فرمایا: اس میں کوئی بھلائی نہیں‘ وہ جہنم میں جائے گی۔ (مسند احمد) علما کرام اس کی تشریح میں بتاتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ نیک اعمال کی کوئی قدر نہیں‘ دراصل دوسرے انسانوں کو ایذا دینا اور ان کا حق غصب کرنا‘ یہ اتنے بڑے گناہ ہیں کہ انسان کی بڑی بڑی نیکیاں بھی ان کے سامنے معمولی قرار پاتی ہیں۔ بلاشبہ حج اور عمرہ گناہوں کا کفارہ ہیں مگر یہ کسی کے حق غصب کرنے یا کسی کو دی گئی تکلیف کا مداوا نہیں کر سکتے۔ اس کیلئے متعلقہ افراد سے معافی طلب کرنا ضروری ہے۔ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں کہ اگر نفل عبادت کے پیسے سے کسی ضرورتمند کی حاجت پوری ہو جائے تو وہ زیادہ بہتر ہے۔ میں ان صاحب سے کہنا چاہتا تھا مگر کہہ نہیں پایا کہ قول و فعل کا یہ تضاد خدا کے نزدیک نہایت ناپسندیدہ ہے۔ اپنے پندرہویں نفلی عمرہ سے قبل اپنے گھر کی کھڑکی سے باہر جھانکیں اور اپنے گریبان میں جھانکیں۔ اپنے فرائض ادا کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے قرب وجوار میں موجود ضرورتمندوں کی حاجت روائی کریں۔ اس کے بعد حرم شریف میں کعبہ کے سامنے کھڑے ہو کر آپ کو جو سکون ملے گا وہ ہر لطف سے ماورا ہو گا۔ ممکن ہے کہ کسی ضرورتمند کی دعا ہی آپ کی لمبی عمر اور صحتمند زندگی کا وسیلہ بن جائے۔ عبادت گزار تو شاید اور بھی بہت ہوں مگر آپ کے اردگرد موجود بھوکے کو روٹی اور بے بس کو سہارا شاید آپ کے سوا کوئی نہ دے سکے۔ لہٰذا پہلے حقوق العباد کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کو پہچانیں۔ اس بات کا خیال رکھیں کہ آپ کے قریبی رشتہ داروں‘ ہمسایوں اور گرد ونواح میں کہیں کوئی دو وقت کی روٹی کا محتاج تو نہیں‘ کوئی ایسا مریض جس کی پاس ادویات خریدنے کی سکت نہ ہو‘ کسی غریب کی بیٹی کو رخصتی میں وسائل کی کمی کا سامنا نہ ہو۔ کیا خبر کہ ضرورتمندوں کی حاجت روائی کا اجر مالکِ کائنات کی بارگاہ میں بدنی عبادات سے کہیں زیادہ بڑھ کر ہو۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_34710710.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>باچا خان سے ایک ملاقات(نسیم احمد باجوہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/naseem-ahmed-bajwa/2026-08-21/52524/24998851</link><pubDate>Fri, 21 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/naseem-ahmed-bajwa/2026-08-21/52524/24998851</guid><description>1950ء کی دہائی کے وسط میں باچا خان کو صوبہ سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا) سے بے دخل کیا گیا تھا۔ باچا خان نے اس جلا وطنی کا کچھ عرصہ لائل پور میں وہاں کی ایک معروف اور ہردلعزیز شخصیت میر عبدالقیوم‘ جو ایک ممتاز وکیل تھے‘ کے گھر میں گزارا۔ میں اس وقت مقامی کالج کی سٹوڈنٹس یونین کا عہدیدار تھا (یا رہ چکا تھا) اور تقریری مقابلوں میں جوش وخروش سے حصہ لیتا تھا۔ اس وجہ سے میر عبدالقیوم مجھے اچھی طرح جانتے تھے اور بڑی شفقت سے پیش آتے۔ اُنہوں نے ایک دن مجھے گھر بلایا تاکہ میں ان کے مہمان سے مل سکوں۔ مجھے کچھ خبر نہ تھی کہ مہمان کون ہے۔ جب وہاں پہنچا تو دیکھا ایک بوڑھا شخص چارپائی پر لیٹا ہوا تھا۔ سر پر سفید بال‘ چھوٹی سفید داڑھی‘ عمر سے زیادہ بڑھاپے والا چہرہ۔ چہرہ شناسا تھا مگر پتا نہ تھا کہ وہ کون ہیں۔ میر صاحب نے بتایا کہ یہ باچا خان ہیں۔ باچا خان کو اپنے سامنے دیکھ کر نوجوان طالبعلم کو (جو اُن کا سالوں سے مداح تھا) خوشگوار حیرت ہوئی۔ میں نے ادب سے اُنہیں جھک کر سلام کیا اور کہا کہ اس شہر کو فخر ہے کہ آپ اس کے مہمان بنے۔ باچا خان مسکرائے اور اُٹھ کر بیٹھ گئے۔ دوبارہ مجھ سے ہاتھ ملایا‘ وہی ہاتھ جو پنڈت جواہر لال نہرو اور گاندھی سے لے کر علی برادران اور ابوالکلام آزاد تک سے مل چکا تھا۔ میر صاحب نے باچا خان کو دوبارہ لیٹ جانے کی درخواست کی تاکہ وہ آرام کر سکیں۔ اُنہوں نے اپنے پائوں سمیٹے تو میں پائنتی بیٹھ گیا اور سلسلۂ کلام بصد مشکل شروع کیا۔ سمجھ نہیں آتی تھی کہ اُن سے کیا کہوں اور کیا پوچھوں۔ باچا خان میری پریشانی بھانپ گئے اور مجھ سے چھوٹی چھوٹی دوستانہ باتیں کرنے لگے۔ میری تعلیم‘ والدین‘ بھائی بہنوں کے بارے میں پوچھا۔ برف پگھلی تو میں نے ڈرتے ڈرتے پوچھا کہ اب پاکستان کو بنے ہوئے سات برس گزر چکے ہیں‘ آپ اس حقیقت کو تسلیم کر کے صوبہ سرحد والوں کی قیادت کیوں نہیں کرتے؟ وہ یہ سوال سن کر کچھ دیر خاموش رہے اور پھر کہا کہ میں جانتا ہوں کہ اب میں کس ملک کا شہری ہوں۔ مگر حکومت مجھے قیام پاکستان کی مخالفت کی سزا دے رہی ہے۔ میں اس ملک میں بسنے والے تمام لوگوں کا دل و جان سے خیر خواہ اور خدمت گزار ہوں۔ اگرچہ یہ الفاظ باچا خان کے نہ تھے مگر یہ اُن کا وہ خلاصہ ہے جو 70 سال گزر جانے کے بعد بھی میرے حافظے پر نقش ہے۔ باچا خان دوپہر کو صرف دودھ پیتے تھے۔ گھر کے اندر سے دودھ کا بڑا جگ آیا تو ہم تینوں نے دودھ پیا۔ میں نے رخصت لی۔ اس سے پہلے کہ میر صاحب مجھے اپنے گھر دوبارہ بلاتے‘ اُن کا معزز مہمان گھر سے جا چکا تھا۔ نہ مجھے ان کی خدمت میں حاضر ہونے کا اعزاز دوبارہ مل سکا اور نہ لائل پور کو اُن کی میزبانی کا۔ فارسی محاورے کے مطابق حلوہ تو ہر شخص کئی بار کھاتا ہے مگر عید ہر روز نہیں ہوتی۔باچا خان رولیٹ ایکٹ کے خلاف عوامی غیظ وغضب کی لہر کے قائدین میں سے تھے۔ اس سیاسی سرگرمی نے اُنہیں گاندھی سے متعارف کرایا اور یہ تعارف آگے چل کر گہری دوستی میں بدل گیا۔ باچا خان کو بجا طور پر سرحدی گاندھی کہا جاتا تھا۔ 1920ء میں باچا خان خلافت تحریک میں بھی شامل ہوئے اور اپنے صوبے میں اس تحریک کے قائد چنے گئے۔ 1929ء میں کانگریس کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے بعد خدائی خدمتگار تحریک (سرخ پوش) شروع کی‘ جو 1947ء تک کانگریس کی ہر ممکن عملی مدد کرتی رہی۔ قیام پاکستان کے بعد باچا خان پختونستان کے قیام کیلئے جدوجہد کرتے رہے۔ اگرچہ یہ واضح نہیں کہ وہ وفاقِ پاکستان کے اندر پختونوں کیلئے ایک خودمختار انتظامی اکائی چاہتے تھے یا ایک علیحدہ ریاست۔ پاکستان اور افغانستان کی سرحد‘ ڈیورنڈ لائن کو افغان حکومت طویل عرصہ تک تسلیم نہ کرتی تھی‘ باچا خان کا بھی یہی نظریہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کی وصیت کے مطابق انہیں افغانستان میں (کابل کے مشرقی شہر) جلال آباد میں دفن کیا گیا۔ باچا خان نے ساری سیاسی زندگی کھدر کا بنا ہوا لباس پہن‘ فقیری اور درویشی کے عالم میں گزار دی جبکہ ان کے نظریے کے پیروکار اُنہیں احتراماً بادشاہ خان کہتے تھے۔ خدائی خدمتگار‘ عروج کے زمانہ میں جن کی تعداد ایک لاکھ تک جا پہنچی تھی‘ کو یہ حلف اُٹھانا پڑتا تھا کہ میں خدائی خدمتگار ہوں اور چونکہ خدا کو خدمت کی ضرورت نہیں اس لیے خدا کی مخلوق کی خدمت ہی خدا کی خدمت ہے۔ میں تشدد نہیں کروں گا اور نہ ہی کسی سے انتقام یا بدلہ لوں گا۔ مجھ پر چاہے کوئی کتنا ہی ظلم کرے‘ میں اسے معاف کر دوں گا۔ میں باہمی پھوٹ‘ گروہ بندی‘ دشمنی اور خانہ جنگی سے دور رہوں گا۔ میں رسم و رواج چھوڑ دوں گا‘ سادہ زندگی بسر کروں گا‘ نیک کام کروں گا‘ برائیوں سے جان بچائوں گا‘ اپنے اندر اچھے اخلاق اور اچھی عادات پیدا کروں گا۔ میں بیکاری کی زندگی نہیں بسروں گا۔ ہر روز دو گھنٹے جسمانی مشقت لازماً کروں گا۔ غور کیا جائے توآج ایک سو سال گزر جانے کے بعد ایسی تحریک پاکستان کی ایک بڑی ضرورت ہے۔ یہی ہمارے دکھوں کا علاج ہے۔ قوتِ اُخوتِ عوام نے ایک نیا ملک بنایا تھا‘ اب عوام کے کردار کو زنگ اور ذہن کو دیمک لگ گئی ہے۔ نجات کا واحد راستہ خدائی خدمتگار جیسی عوامی تحریک ہے۔پشاور کا ہوائی اڈا اور چارسدہ میں ایک یونیورسٹی باچا خان کے نام پر بنائی گئی۔ یہ تو اینٹوں اور پتھروں کی بنی ہوئی عمارتیں ہیں‘ مگر باچا خان کا جو مقام پختونوں کے دلوں میں ہے وہ بلند ہی رہے گا۔ باچا خان جیسا شخص خوشحال خان خٹک کی سرزمین پر ہی پیدا ہو سکتا تھا‘ جس نے (بقول اقبال) یہ وصیت کی تھی کہ اُسے کسی ایسے دور دراز مقام پر دفن کیا جائے کہ مغل شاہسواروں (جن سے خوشحال خان ساری عمر برسر پیکار رہے) کے گھوڑوں کے سموں سے اُڑتی ہوئی دھول بھی اُس کی آخری آرام گاہ پر نہ گر سکے۔باچا خان بڑے آدمی تھے اور بڑے آدمیوں سے غلطیاں بھی بڑی ہوتی ہیں۔ اُنہوں نے 1946ء میں صوبہ سرحد میں ہونے والے استصوابِ رائے (جس میں لوگوں سے قیامِ پاکستان کی رائے پوچھی گئی تھی) کا بائیکاٹ کیا تھا۔ باچا خان ساری زندگی مصر رہے کہ ایسا احتجاجاً کیا گیا تھا۔ میرا خیال یہ ہے (جو غلط بھی ہو سکتا ہے) کہ بائیکاٹ کی وجہ یہ تھی کہ سرخ پوش قیادت ووٹوں کی اکثریت ملنے کے بارے میں پُراعتماد نہ تھی۔ میرے لیے ہرگز ممکن نہیں کہ میں قیاس کے گھوڑے دوڑائوں‘ البتہ اس موقف کی حمایت میں ایک چھوٹی شہادت یہ ہے کہ 1946ء کے پُرآشوب دنوں میں پنڈت نہرو پختون رائے عامہ کو اپنے حق میں ہموار کرنے کیلئے خود باچا خان کے گھر‘ صوبہ سرحد گئے تھے‘ مگر وہاں اُن کا بڑا غیر دوستانہ استقبال کیا گیا۔ ہر جگہ مخالفانہ نعرے بازی اور کئی جگہ پتھرائو ہوا۔ باچا خان کے بھائی (ڈاکٹر خان) کی صوبائی حکومت پنڈت نہرو کی حفاظت نہ کر سکی اور اُنہیں ناکام ہو کر واپس جانا پڑا۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان بنا تو باچاخان دستور ساز اسمبلی کے رکن تھے اور انہوں نے پاکستان سے وفاداری کا حلف بھی اُٹھایا۔ باچا خان سیکولر ذہن رکھتے تھے مگر اس کے باوجود کشمیر اور فلسطین کے حقِ خودارادیت کی خاطر لڑنے اور جان دینے والوں کا باچاخان جیسے حریت پسند پر یہ اخلاقی حق بنتا تھا کہ وہ اُن کی حمایت میں آواز اُٹھاتے مگر انہوں نے مرتے دم تک کشمیری اور فلسطینی عوام کی کبھی حمایت نہ کی۔ کتنا اچھا ہوتا کہ وہ احتجاجاً بھارتی حکومت سے کوئی بھی بڑا اعزاز وصول نہ کرتے۔ یہ بدقسمتی تھی کہ ایسا شخص جو ایک بڑا قومی لیڈر بن سکتا تھا‘ اُس نے سارے ملک کو چھوڑ کر اپنے آپ کو صرف پختونوں کے حقوق کی ترجمانی تک محدود کر لیا۔ وہ مغربی پاکستان کا بھاشانی بن سکتے تھے‘ مگر وہ اس مسند پر نہ بیٹھے۔ یہ کردار آگے چل کر ان کے بیٹے (عبدالولی خان) نے ادا کرنا چاہا مگر اُس وقت تک پلوں کے نیچے سے بہت پانی بہہ چکا تھا۔ صد افسوس کہ اکیسویں صدی میں پیدا اور بڑی ہونے والی نسل باچا خان کے نام سے بھی واقف نہیں‘ حالانکہ سیاسی حسن و قبح اور اچھائیوں برائیوں کے باوجود برصغیر اور ہماری ملکی سیاست پر ان کے نقوش کبھی نہیں مٹائے جا سکتے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_32258580.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>حضور عالیشانﷺ اور سیرت کے موتی مرجان(امیر حمزہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ameer-hamza/2026-08-21/52525/69963837</link><pubDate>Fri, 21 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ameer-hamza/2026-08-21/52525/69963837</guid><description>اللہ تعالیٰ کے حبیب حضور عالیشانﷺ کا جو کلمہ پڑھتا ہے اس پر تلوار یا بندوق اٹھانا بہت بڑا اور عظیم جرم ہے۔ اللہ کی قسم! اس جرم کی ہولناکی سے دل پھٹنے لگ جاتا ہے جب اللہ اور اس کے رسولﷺ کا غضب قاتل پر قیامت ڈھانا شروع کرتا ہے۔ مسند احمد کی صحیح حدیث ہے کہ حضرت عقبہؓ بن مالک بتاتے ہیں کہ ایک دن ایک جہادی لشکر نے صبح کے وقت ایک علاقے کے لوگوں پر حملہ کیا۔ یہ بستی جس پر حملہ ہوا تھا‘ پانی کے قریب تھی۔ ان میں سے ایک آدمی جب باہر نکلا تو ایک مجاہد نے اس پر حملہ کر دیا۔ وہ کہنے لگا کہ میں تو مسلمان ہوں لیکن اس کے باوجود اسے قتل کر دیا گیا۔ یہ لشکر واپس مدینہ منورہ آ گیا۔ لشکر کی کارگزاری سننے کیلئے لوگ مسجد نبوی میں جمع ہو گئے۔ اس واقعے کے بارے اللہ کے رسولﷺ کو آگاہ فرمایا گیا تو آپﷺ خطبہ دینے کیلئے کھڑے ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ کی حمد کے بعد فرمایا: کیا حال ہو گیا ہے مسلمانوں کا کہ وہ ایسے شخص کو قتل کر رہے ہیں جو کہہ رہا ہے کہ میں مسلمان ہوں۔ اسلامی فوج کا وہ شخص جس نے قتل کیا تھا‘ وہ عرض کرنے لگا: اے اللہ کے رسولﷺ! اس نے جان بچانے کیلئے ایسا کہا تھا۔ یہ سننا تھا کہ حضورِ رحمت دو عالمﷺ نے اس سے چہرہ مبارک پھیر کر دوسری طرف کر لیا (یہ غصے اور غضب کا شدید ترین اظہار تھا)۔ صحابہ کرامؓ کہتے ہیں کہ آپﷺ کے نورانی چہرۂ مبارک پر غم اور غصے کے آثار تھے۔ اب آپﷺ نے اپنا دستِ مبارک پھیلایا اور تین مرتبہ فرمایا &#39;&#39;عزت و جلال والے اللہ نے مجھے بھی روک دیا ہے کہ جس نے مومن کو قتل کیا ہے اس کیلئے نرمی اور رحمت نہ دکھانا‘‘۔ لوگو! ذرا سوچو! یہ جنگ اور جہاد کے میدان کی بات ہے اور جس نے امن کی سرزمین پر مومن کو قتل کر دیا‘ دنیا کے سچے جھوٹے مفاد کی خاطر قتل کر دیا‘ قانون اپنے ہاتھ میں لے لیا‘ اس پر اللہ کے غصب کا کیا حال ہو گا؟ لوگو! اللہ نے اپنے رحمتوں بھرے مبارک رسولﷺ کے ساتھ ایسے قاتل کا تعلق ختم کر دیا ہے۔ اللہ اور اس کے رسولﷺ مقتول کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ربیع الاوّل کے مہینے کا پیغام یہ ہے کہ کلمے کی بہار اس کو ملے گی جو مقتول اور مظلوم کے ساتھ کھڑا ہو گا۔دوسری حدیث ملاحظہ کریں۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ حضورﷺ نے فرمایا &#39;&#39;جہنم کے سات دروازے ہیں‘ ان دروازوں میں سے ایک دروازہ ایسا ہے جو ہر اس شخص کیلئے ہے جو میری امت پر تلوار لہراتا ہے‘‘۔ جی ہاں! ہر کلمہ پڑھنے والا مومن ہے اور اس مومن کے قاتل کیلئے جہنم کا خاص دروازہ ہے۔ حضورﷺ نے مزید فرمایا: جو شخص مسلمانوں کے اندر سے نکلے (اور کفر کے فتوے لگا کر) میری امت کے لوگوں پر چڑھ دوڑے‘ نیک لوگوں کو بھی قتل کرے اور برے لوگوں کو بھی جان سے مار ڈالے۔ نہ مومنوں کی جان بخشی کرے اور نہ ہی( غیر مسلم اہلِ وطن) ذمیوں کو چھوڑے‘ ایسا شخص میرا امتی نہیں ہے۔ ایسے شخص کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی میرا اس سے کوئی واسطہ ہے۔ (مسند احمد) قارئین کرام! اب تو قاتل جب قتل کرتے ہیں تو درندوں کی درندگی بھی شرما اٹھتی ہے۔ مہلک کیمیکلز پلاتے ہیں۔ چہرے پر تیزاب ڈالتے ہیں۔ ترسا ترسا کر مارتے ہیں۔ بچوں تک کو درندے معاف نہیں کرتے۔ یہ سب کچھ آج کی دنیا میں ہو رہا ہے جبکہ اللہ کے رسولﷺ نے جنگوں کے ضابطے سکھلاتے ہوئے واضح طور پر بتایا &#39;&#39;لاشوں کو خراب نہ کرو۔ بچے مت قتل کرو۔ عبادت گاہوں میں بیٹھے لوگوں کو مت مارو‘‘۔لوگو! بڑے بڑے ظلم تو رہے ایک جانب‘ اللہ تعالیٰ نے جس ہستی کو تمام انسانی ادوار کیلئے سراسر رحمت بنا کر بھیجا وہ تو مادہ جانوروں پر اس قدر بھی ظلم برداشت نہیں کرتے کہ دودھ دوہتے وقت لوگوں کے ہاتھوں کے ناخن بڑھے ہوئے ہوں۔ کہیں وہ دودھ دوہنے لگیں تو ان کے ناخن تھنوں کو زخمی کر دیں اور خون رسنا شروع ہو جائے۔ اللہ کی قسم! حکمرانی ہو تو حضور جیسی باخبر حکمرانی کہ حضورﷺ کو معلوم تھا کہ فلاں علاقے کے لوگوں میں یہ چیز پائی جاتی ہے؛ چنانچہ حضرت سوادہؓ بن ربیع بتاتے ہیں کہ وہ حضورﷺ کی خدمت میں آئے۔ تعاون کی درخواست کی تو حضورﷺ نے انہیں اونٹ عنایت فرمایا اور ساتھ نصیحت فرمائی &#39;&#39;گھر واپس جائو تو لوگوں کو کہو کہ اپنے جانوروں کی غذا اچھی رکھو‘ ناخن کاٹا کرو‘ مویشیوں کا دودھ دوہتے وقت ان کے تھنوں کو خون آلود نہ کیا کرو‘‘۔ قارئین کرام! میرے حضورﷺ کی سیرت میں کیسے کیسے شفاف موتی اور مرجان ہیں کہ رحمتِ کائناتﷺ اونٹی‘ گائے‘ بھیڑ‘ بکری اور بھینس کے تھنوں کی بھی حفاظت کر رہے ہیں‘ اور ان مادہ جانوروں کے بچوں کی صحت کا بھی خیال کر رہے ہیں کہ یہ بچے خون رستے تھنوں کو منہ میں لے کر دودھ پئیں گے تو دودھ کے ساتھ خون کی ملاوٹ ہو جائے گی۔ یہ ملاوٹ صحت کیلئے نقصاندہ ہے۔ اسی طرح انسانوں کی صحت بھی متاثر ہو گی‘ ان کی صحت کا بھی تحفظ فرما دیا۔ ایسے مہربان‘ رفیق و رقیق حکمران‘ ریشم سے کہیں بڑھ کر نرم اور ملائم دل والے رحیم وکریم رسولﷺ پر لاتعداد درود اور سلام۔کھانے پینے کی چیزوں اور دودھ میں ملاوٹ کرنے والے قیامت کے دن کس منہ سے حوضِ کوثر کا پانی پئیں گے۔ یہ مبارک پانی تو دور کی بات‘ وہاں تک ایسے ظالموں کو جانے کون دے گا جن کی کیمیکل والی ملاوٹوں سے لاکھوں کروڑوں لوگ کینسر‘ شوگر‘ گردے اور دل و جگر کے مریض بن گئے۔ ایسے ظالموں کو روکنا کس قدر ضروری ہے‘ اس حدیث سے جان لیں۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ فرماتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسولﷺ کو فرماتے ہوئے سنا &#39;&#39;جب لوگ ظالم کو (ظلم کرتا ہوا) دیکھیں اور (اپنی ہمت کے مطابق) اس کو نہ روکیں تو ان سب لوگوں کو عنقریب اللہ تعالیٰ اپنے عذاب کے گھیرے میں لے لے گا‘‘۔ یعنی حکمرانوں کی ہمت یہ ہے کہ وہ عدل کو یقینی بنائیں۔ علماء‘ صحافی اور دیگر طبقات کے لوگ اپنی اپنی مہارتوں کے مطابق احسن انداز سے اپنا کردار ادا کریں‘ تبھی ہم سب لوگ اللہ تعالیٰ کے غضب اور اس کی سزا سے بچ پائیں گے۔ایک اور حدیث شریف ہے‘ حضرت عبداللہ بن عمروؓ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا &#39;&#39;جب تم میری امت کو دیکھو کہ وہ ظالم کو یہ نہیں کہہ رہی کہ تم ظالم ہو تو (ضمیر کی آواز اور) دعائوں کی قبولیت ان سے رخصت ہو جائے گی‘‘۔ لوگو! یہاں صرف حکمران نہیں بلکہ معاشرے کا ہر فرد ذمہ دار ہے۔ دھڑا پیٹنے والے‘ ظالم رشتہ دار کا ساتھ دینے والے‘ جھوٹی گواہی دینے والے‘ سچی گواہی کو چھپانے والے‘ مفاد درمیان میں آ جائے تو ظالموں کے ساتھی بن جانے والے! یہ ہم عوام نہیں تو اور کون لوگ ہیں؟ ہم میں سے ہر ایک کو اپنے اندر کا ظالم تلاش کرکے اسے سزا دینا ہو گی۔اللہ کے رسولﷺ نے تو یہاں تک فرمایا کہ اے مسلمانو! مظلوم (اگرچہ غیر مسلم ہی کیوں نہ ہو) اس کی بددعا سے بچو کیونکہ اس کی مظلومانہ فریاد کے سامنے کوئی پردہ حائل نہیں ہوتا۔ یعنی وہ فریاد سیدھی اللہ کے دربار میں پہنچتی ہے۔ اللہ تعالیٰ سب کا خالق ہے۔ کوئی اس کو مانے یا نہ مانے‘ یا مانے تو شرک کے ارتکاب سے مانے‘ اس اللہ کے آخری اور عظیم رسولﷺ کا کلمہ پڑھے یا نہ پڑھے‘ قرآن مجید کو آخری کتاب تسلیم کرے یا نہ کرے‘ یہ ایک الگ معاملہ ہے۔ لیکن اگر وہ مظلوم ہے اور ظالم وہ ہے جو توحید والا ہے‘ حضورﷺ سے محبت رکھنے والا ہے‘ مسلمان ہے‘ نمازی ہے تو اللہ ظالم کی نہیں بلکہ مظلوم کی فریاد سنے گا۔ صدقے قربان جائوں حضرت محمد کریمﷺ پر‘ جو یہ عدل اور رحمتوں بھرا دین لائے ہیں۔ جو رحمتِ کائنات ہیں۔ پھر میں کیوں نہ کہوں: پڑھو درود ایسے حامیٔ مظلوم پر! کہو سلام ایسے ہمدردِ انسانیت پر! پیش کرو خراجِ تحسین ایسے منصفِ اعظم پر! کہو نعت ایسے پیارے اور محبوب حضورﷺ کی! جن کی تعلیم موتی اور مرجان ہے۔نوٹ: تمام احادیث مسند احمد سے لی گئی ہیں اور سنداً صحیح ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_68712266.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>