<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>پٹرولیم بحران اور مجوزہ لاک ڈائون(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-16/11545</link><pubDate>Wed, 16 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-16/11545</guid><description>مشرقِ وسطیٰ کے سنگین ہوتے بحران اور عالمی مارکیٹ میں تیل کی مسلسل بڑھتی قیمتوں کے سبب پاکستان کو اس وقت شدید معاشی دباؤ کا سامنا ہے اور اس دبائو نے حکومت کو ہنگامی اقدامات پر غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ عالمی سطح پر اس وقت تیل کی قیمتیں 108 ڈالر فی بیرل کے لگ بھگ ہیں جبکہ سپلائی لائن کی بندش کا معاملہ بھی سنگین ہو گیا ہے۔ ان حالات میں وفاقی سطح پر ’سمارٹ لاک ڈاؤن‘ نافذ کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔ اس مجوزہ منصوبے کے تحت سرکاری اور نجی دفاتر میں ہفتے میں محض چار دن کام کرنے اور جمعہ‘ ہفتہ اور اتوار کے روز بازاروں اور کاروباری مراکز کو مکمل بند رکھنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ بظاہر اس اقدام کا مقصد ایندھن کی کھپت کو کم اور روزمرہ کی نقل و حرکت کو محدود کرنا ہے تاکہ قومی خزانے پر تیل کے درآمدی بل کو کم کیا جا سکے۔ تاہم یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ اس قسم کی پابندیاں معیشت کو عارضی ریلیف فراہم کریں گی یا معاشی اور سماجی بحران کو مزید گہرا کرنے کا سبب بنیں گی۔

محسوس ہوتا ہے کہ مجوزہ لاک ڈاؤن میں محض سرکاری ملازمین کو پیشِ نظر رکھا گیا ہے حالانکہ معاشرے کے انتہائی کمزور طبقے یعنی دیہاڑی دار مزدوروں پر اسکے اثرات تباہ کن ہوں گے۔ ملکی معیشت کا بڑا حصہ غیر رسمی شعبے پر انحصار کرتا ہے‘ جہاں لاکھوں افراد روزانہ کی بنیاد پر کما کر اپنے گھروں کا چولہا جلاتے ہیں۔ اگر بازار اور تجارتی سرگرمیاں ہفتے میں تین دن کیلئے معطل کر دی جائیں گی تو ریڑھی بانوں‘ دکانوں پر کام کرنیوالے ہیلپرز اور دیہاڑی دار مزدوروں کی آمدنی شدید متاثر ہو گی۔ سمارٹ لاک ڈاؤن کی تجویز میں نچلے اور پسماندہ طبقے کے معاشی تحفظ کا کوئی ٹھوس اور جامع منصوبہ اب تک سامنے نہیں آ سکا۔ لہٰذا لازم ہے کہ ایسے کسی بھی فیصلے سے قبل اسکے مضمرات اور معاشرے پر پڑنے والے اثرات کا عمیق جائزہ لیا جائے۔ ماضی پر نظر دوڑائی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ توانائی کی بچت اور معاشی بحرانوں سے نمٹنے کیلئے پہلے بھی سمارٹ لاک ڈاؤن‘ بازاروں کی جلد بندش اور کام کے اوقات میں کمی جیسے حربے آزمائے گئے۔ کورونا کی عالمی وبا کے دوران اور رواں سال مارچ‘ اپریل میں ایندھن اور بجلی کی بچت کیلئے ایسے ہی فیصلے کیے گئے تھے مگر انکا کوئی خاطر خواہ اور پائیدار نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ وجہ یہ ہے کہ کاروباری اوقاتِ کار کو محدود کرنے سے گاڑیوں اور ایندھن کے استعمال میں کمی نہیں آتی بلکہ محض وقت تبدیل ہو جاتا ہے۔
کاروباری دن اگر کم کر دیے جاتے ہیں تو باقی دنوں میں رش اور دباؤ دُگنا ہو جاتا ہے۔ 2023ء میں پانچ سالہ قومی بجلی منصوبہ بھی پیش کیا گیا تھا‘ سوال یہ ہے کہ نصف سے زائد مدت گزر چکی‘ اس پر کیا پیشرفت ہے؟ ماضی کے یہ تجربات اس بات کا ثبوت ہیں کہ سطحی اقدامات درپیش مسئلے کا پائیدار حل فراہم نہیں کر سکتے۔ پٹرولیم بحران کا اصل اور پائیدار حل تو ماحول دوست اور قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع کے فروغ میں پنہاں ہے۔ حکومت کو شمسی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں پر سرمایہ کاری کرنی چاہیے تاکہ فرنس آئل پر انحصار بتدریج کم ہو سکے۔ دوسری جانب اس وقت بڑے شہروں میں بھی پبلک ٹرانسپورٹ شہر کے دس سے پندرہ فیصد حصے کو ہی کور کرتی ہے‘ جسکے باعث نجی سواری ایک ناگزیر ضرورت بن جاتی ہے۔ مربوط‘ جامع‘ بروقت اور مؤثر پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم ہی سڑکوں سے نجی ٹریفک کے بوجھ کو حقیقتاً کم کر سکتا ہے۔ سب سے اہم اقدام حکومتی سطح پر کفایت شعاری کا حقیقی مظاہرہ ہے۔
یہ مضحکہ خیز معلوم ہوتا ہے کہ پٹرول بچانے کیلئے غریب کی دکان تو بند کرا دی جائے لیکن حکومتی اراکین اور سرکاری افسران کے پروٹوکولز اور پٹرول کوٹے میں کوئی کمی نہ کی جائے۔ عوام پر پابندیاں عائد کرنے سے پہلے حکمرانوں کو خود کو رول ماڈل کے طور پر پیش کرنا ہو گا۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ لاک ڈاؤن کے بجائے طویل مدتی معاشی اصلاحات پر توجہ دے تاکہ ملک کو مستقل بنیادوں پر ایسے بحرانوں سے نکالا جا سکے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سرکاری اداروں کا خسارہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-16/11544</link><pubDate>Wed, 16 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-16/11544</guid><description>کابینہ کمیٹی برائے سرکاری ملکیتی کاروباری اداروں کے حالیہ اجلاس میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق قومی خزانے پر سرکاری کاروباری اداروں کا بوجھ کم ہونے کے بجائے بڑھتا جا رہا ہے۔ مذکورہ اعداد و شمار کے مطابق 2025ء کی دوسری ششماہی کے دوران خسارے میں چلنے والے سرکاری کاروباری اداروں کا مجموعی خسارہ 342 ارب 80 کروڑ روپے رہا‘ جبکہ منافع بخش سرکاری اداروں کے منافع میں بھی 91 فیصد کمی آئی‘ جو 2024ء کی دوسری ششماہی کے 427ارب روپے کے مقابلے میں 2025ء کی اس مدت میں محض 35 ارب روپے رہ گیا۔ حکومت کی جانب سے اصلاحات اور سرکاری کاروباری اداروں پر غیرمعمولی اخراجات کے باوجود ان اداروں میں اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی صلاحیت کا فقدان افسوسناک ہے۔

ہر سال ان اداروں پر سالانہ کھربوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں‘ مگر عملی صورتحال یہ ہے کہ ان سرکاری کارپوریٹ اداروں پر غیر معمولی رقم خرچ کرنے کے باوجود نہ تو عوام کو سستی خدمات ہی میسر آ پاتی ہیں‘ اور نہ ہی قومی خزانے کو کوئی فائدہ پہنچتا ہے۔ سرکار کی ملکیت میں چلنے والے کاروباری اداروں کا خسارہ اب اتنا بڑھ چکا ہے کہ حکومت کیلئے ان کو چلانا نا ممکن ہو چکا ہے۔ ان اداروں کی بہتری کیلئے اب محض سبسڈی یا وقتی اصلاحات کافی نہیں‘ اس مسلسل خسارے کا مستقل اور پائیدار حل ان کی مرحلہ وار‘ شفاف اور قومی مفادات کے تحت کی جانے والی نجکاری ہے‘ جس میں مزید تاخیر نہیں کی جانی چاہیے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>نئے سکولوں کی ضرورت(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-16/11543</link><pubDate>Wed, 16 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-16/11543</guid><description>ایک غیرسرکاری تنظیم کی رپورٹ کے مطابق ملک میں تقریباً ڈھائی فیصد سالانہ کی شرح سے بڑھتی آبادی کے پیشِ نظر 2040ء تک 57ہزار نئے سرکاری سکولوں کی ضرورت ہو گی‘ جن سب سے زیادہ سکول‘ تقریباً 19 ہزار پنجاب میں درکار ہیں۔ پنجاب میں اس وقت تقریباً 38 ہزار سرکاری سکول موجود ہیں جبکہ پانچ سے 16 سال کی عمر کے لگ بھگ ایک کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ والدین کی کمزور معاشی سکت کے علاوہ لاکھوں بچے کے سکولوں سے باہر ہونے کی ایک بڑی وجہ دوردراز علاقوں میں سرکاری سکولوں کی عدم موجودگی بھی ہے۔ بڑھتی آبادی کی ضروریات کے پیشِ نظر نئے سکولوں کے قیام کی ضرورت تو ہے ہی‘ مگر سرکاری سکولوں میں تعلیمی معیاری کی بہتری بھی ناگزیر ہے۔

نویں جماعت کے حالیہ بورڈ نتائج کے مطابق پنجاب کے تقریباً 2200 سرکاری سکولوں میں کامیابی کی شرح 20 فیصد یا اس سے بھی کم رہی ہے۔ یہ صورتحال تعلیمی ڈھانچے کے ازسرنو جائزہ کی متقاضی ہے ۔ ناقص کارکردگی پر جہاں اساتذہ سے جوابدہی ہونی چاہیے وہیں سکولوں میں اساتذہ کی تعداد‘ کلاس رومز اور دیگر بنیادی سہولتوں کی فراہمی اور طلبہ کے معاشی حالات کو بھی پیشِ نظر رکھنا ہو گا۔ صوبائی حکومت کو ایک ایسا نظام تشکیل دینے کی ضرورت ہے جس میں نہ صرف ہر بچہ سکول میں داخل ہو بلکہ اسے معیاری تعلیم بھی ملے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>عرب صحرا پر چھائے دکھ درد کے بادل(ایاز امیر)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-09-16/52670/88527750</link><pubDate>Wed, 16 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-09-16/52670/88527750</guid><description>امریکیوں نے بھی مشرق وسطیٰ میں کیسی صورتِ حال پیدا کی ہے۔ اپنا نقصان تو کیا لیکن اپنے عرب اتحادیوں کو کہیں کا نہیں چھوڑا۔ بڑا اتحادی تو سعودی عرب تھا اور اُس کیساتھ جو ایک قسم کا سمجھوتا 1945ء میں طے پایا تھا وہ صدر فرینکلن روزویلٹ اور سعودی عرب کے شاہ عبدالعزیز کے درمیان تھا۔ یالٹا کانفرنس کے بعد نہر سویز کے قریب ایک امریکی بحری جہاز پر یہ تاریخی ملاقات ہوئی تھی۔ امریکی صدر کی نظر سعودی تیل پر تھی اور سعودی فرمانروا کو امریکی حفاظت درکار تھی۔ یعنی ایک طرف تیل اور دوسری طرف حفاظت کی ضمانت۔ اُس وقت سے لے کر اب تک امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات کی بنیاد یہ غیر تحریر شدہ سمجھوتا رہا ہے۔ امریکہ کا کارنامہ ہے کہ ایران پر حملہ کرکے صورتِ حال ایسی پیدا کی ہے کہ یہ باہمی انڈرسٹینڈنگ ہوا میں تحلیل ہو گئی ہے۔ یمن میں حوثیوں کی پیش قدمی کے بعد سعودی عرب پہ آشکار ہو گیا ہے کہ امریکی وعدے مشکل کی گھڑی میں کوئی معنی نہیں رکھتے۔انصاراللہ یا حوثیوں کی پیش قدمی شروع ہوئی اور سعودی عرب کے حمایتی پسپا ہونے لگے تو پچھلی جمعرات کو سعودی ولی عہد نے دو بار صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو فون کرکے مدد کی اپیل کی اور آگے سے جواب آئیں بائیں شائیں میں ملا۔ کیا گزری ہو گی سعودی ولی عہد پر۔ جب پچھلے سال صدر ٹرمپ نے قطر‘ یو اے ای اور سعودی عرب کا دورہ کیا تھا تو کیا کچھ عرب سربراہان نے اُن پر نچھاور نہیں کیا تھا۔ کتنی امیدیں ان سربراہان نے صدر ٹرمپ سے وابستہ کی ہوئی تھیں۔ اور اب جسے اپنا محافظ اور مہربان سمجھ رہے تھے اُس نے کیسے ان کیلئے تباہی کا سامان پیدا کیا ہے۔ کیا سوچ رہے ہوں گے یہ سارے سربراہان۔ سعودی عرب کیلئے یہ صورتِ حال بالکل نئی ہے ۔ آبنائے ہرمز بند‘ وہاں سے کوئی سعودی تیل باہر نہیں جا رہا۔ متبادل راستہ سعودیوں نے ملک کے دوسری طرف ینبع بندرگاہ پر بنایا۔ ایک بڑی پائپ لائن بچھائی گئی ہے‘ جسے مشرق مغرب پائپ لائن کہتے ہیں۔ اس پائپ لائن پر حملے ہوئے ہیں‘ جس سے ساری سپلائی بند ہو گئی ہے۔ پہلے کہا جا رہا تھا کہ مرمت دنوں کا کام ہے۔ اب بات اُس سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ تیس سال کے عرصے میں سب سے کم ایکسپورٹ سعودی تیل کی ہو رہی ہے۔ اور عالمی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ جہاں امریکہ نے ایران پر اس جنگ کے دوران ہزاروں حملے کیے ہیں سعودی عرب کی مشکل گھڑی میں کچھ حملے ان کیلئے بھی کر دیتے۔ لیکن وائٹ ہاؤس نے ایک قسم کا صاف انکار کیا کہ اسلحہ آپ کے پاس بہت ہے آپ کو خود کچھ کرنا چاہیے۔رہ جاتا ہے سوال سہ فریقی دفاعی معاہدے کا‘ جس پر سعودیہ‘ ترکیہ اور پاکستان نے دستخط کیے ہیں۔ درپردہ کوئی بات چیت چل رہی ہو تو اُس کے بارے میں ظاہر ہے کچھ نہیں کہا جا سکتا لیکن اب تک منظرِ عام پر ایسی کوئی بات نہیں آئی جس سے اندازہ لگایا جا سکے کہ سہ فریقی دفاعی معاہدے کے نتیجے میں انصار اللہ کی پیش قدمی کے بارے میں کچھ سوچ بچار ہوئی ہے یا نہیں۔ اتنی بات لوگوں کو سمجھ آ رہی ہے کہ اس مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔ شمالی یمن جو کہ انصار اللہ کا گڑھ ہے‘ پہاڑی علاقوں پر مشتمل ہے جہاں کسی باہر کی فوجی طاقت کا اترنا اتنا آسان نہیں۔ مصر کے جمال عبدالناصر نے 1962ء میں شمالی یمن میں مصری فوج بھیجی تھی جس سے بھاری نقصان مصری فوج کا ہوا۔ یہ تو سعودیہ کی حمایت یافتہ یمنی حکومت کی طرف سے بہت بڑی غلطی ہوئی کہ جولائی میں صنعا ایئرپورٹ پر حملہ کر دیا عین اُس وقت جب انصار اللہ کا ایک وفد آیت اللہ خامنہ ای کے جنازے میں شرکت کرکے صنعا واپس آ رہا تھا۔ موجودہ لڑائی تو وہاں سے شروع ہوئی۔ ویسے بھی ماضی میں انصار اللہ پر امریکہ نے فضائی حملے کرکے دیکھ لیا‘ دو ماہ کی بمباری سے امریکہ کا ایک بلین ڈالر کا اسلحہ ہوا میں تحلیل ہو گیا لیکن انصار اللہ کا کچھ نہ بگڑا۔ اُس سے پہلے سعودی عر ب اور یو اے ای نے یمن پر حملہ کیا تھا لیکن کچھ حاصل نہ ہو سکا۔ اور اب جو صورتِ حال ہے وہ دنیا کے سامنے ہے۔ سعودیہ کا سارا دارو مدار ہی تیل پر ہے اور اُس کی ترسیل دونوں اطراف سے بند ہے۔ سعودیہ کی نظروں میں بڑا دشمن تو ایران تھا۔ مرحوم شاہ عبداللہ نے صدر جارج بش سے کہا تھا کہ سانپ کو مارنا ہو تو سر پر وار ہونا چاہیے۔ اُن کا اشارہ ایران کی طرف تھا۔ لیکن جو تباہ کن صورتِ حال اب بنی ہے ایران کے ہاتھوں نہیں بلکہ امریکہ کی وجہ سے ہے۔حل تو معاملے کا یہ ہے کہ امریکہ کو ایک طرف رکھ کے سعودی عرب اور ایران میں کوئی سمجھوتا طے پائے۔ لیکن اتنا پرانا انحصار جو کہ سعودی عرب کا امریکہ پر رہا ہے‘ اُسے خیرباد کہنا سعودی قیاد ت کے لیے اتنا آسان نہ ہو گا۔ ایسا انحصار ایک نفسیاتی ضرورت بن جاتی ہے۔ اور اُس سے نکلنا آسان نہیں ہوتا۔ لیکن حل یہی ہے‘ سعودیہ میں موجود امریکی ملٹری اڈے ویسے ہی ایرانی میزائلوں کی وجہ سے ناکارہ ہو چکے ہیں۔ اُن میں مقیم امریکی فوجی کہیں ہوٹلوں میں قیام کرنے لگے ہیں۔ جہاں تک امریکی لڑاکا طیارے ہیں وہ سعودی عرب کے کسی کام نہیں آئے۔ سعودی عرب کا تیل عالمی تیل کی قیمتوں کے اُتار چڑھاؤ کا سبب بنتا تھا اور آج حالت یہ ہے کہ تیل کی ترسیل بند پڑی ہے۔ امریکی سمجھوتے سے سعودی عرب نے اور کیا حاصل کرنا تھا؟ لیکن پھر وہی بات ہے کہ پرانی عادت سے چھٹکارا حاصل کرنا آسان نہیں ہوتا۔ اس موڑ پر امریکہ کا رویہ بھی دیکھا جائے کہ سعودی عرب مصیبت میں پھنسا ہے اور امریکی جیسے کچھ ہوا ہی نہیں‘ بڑے اطمینان سے کہہ رہے ہیں کہ حوثیوں سے ہمارے رابطے قائم ہیں اور وہ کہہ رہے ہیں کہ بندش کا اطلاق صرف سعودی جہازوں پر ہے۔ صدر ٹرمپ کے بقول یہ ہم سیدھا کر لیں گے۔ انگریزی کا محاورہ ہے کہ کسی کو بس کے نیچے پھینک دینا۔ تجزیے اس موقع پر جو ہو رہے ہیں اُن میں یہ جملہ بھی استعمال ہو رہا ہے کہ امریکہ نے یہ کچھ مشرقِ وسطیٰ میں اپنے سب سے پرانے اتحادی کے ساتھ کیا ہے۔اپنی جملہ کمزوریوں کی وجہ سے مسلم دنیا نے اپنے آپ کو کتنا نقصان پہنچایا ہے۔ عراق پر حملہ ہوا سب چپ بیٹھے رہے‘ کچھ کرنا تو دور کی بات ہے مذمتی آواز ایک نہ اُٹھی۔ لیبیا کی تباہی کا سامان تیار کیا گیا مسلمان چپ رہے۔ مغربی طاقتوں نے شام میں گڑبڑ شروع کی مسلمان چپ رہے۔ غزہ میں بربریت کل کی بات ہے اور مخالفت میں مسلم ممالک ایک انگلی نہ اٹھا سکے۔ ایران پر پہلا حملہ پچھلے سال ہوا تو سب چپ رہے۔ اس سال فروری میں ایران پر جنگ مسلط کی گئی تو سارے سربراہان نے پھر چپ سادھے رکھی۔ گلف ممالک نے مذمت کیا کرنا تھی‘ ان سارے ملکوں میں موجود امریکی فوجی اڈے ایران پر حملوں میں استعمال ہوئے۔ آج یہ سارے ممالک بے یارو مددگار ہاتھ باندھے حالات کو دیکھ رہے ہیں۔ ان سب کا انحصار تیل اور گیس پر ہے جس کی ترسیل اس جنگ سے بری طرح متاثر ہوئی ہے۔مؤرخ ان واقعات کے بارے میں کیا فیصلہ صادر کریں گے؟ کہ اسرائیل اور امریکہ اپنے ناپاک عزائم لے کر ایران پر چڑھ دوڑے اور عملاً مسلم دنیا تماشائی بنی رہی۔ اور کچھ نہ کرتے اتنا کہنے کی ہمت تو ہوتی کہ ہماری دھرتیوں پر موجود فوجی اڈے ایران کے خلاف استعمال نہ ہوں۔ اتنا بھی کہتے تو صورتِ حال آج مختلف ہوتی۔ لیکن ریڑھ کی ہڈی کی بات ہے۔ وہ نہ ہو تو دنیا کا سارا تیل کس کام کا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_80573045.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ابھی تو بہت کچھ ہونا باقی ہے(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-09-16/52671/38322862</link><pubDate>Wed, 16 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-09-16/52671/38322862</guid><description>آج کل مریم نواز صاحبہ کی بیٹی کی شادی کا معاملہ زیرِ بحث ہے۔ یہ فطری سی بات ہے کہ حکمرانوں کی شادیاں عوام میں بہت دلچسپی پیدا کرتی ہیں۔ اگرچہ ہمارے ہاں برطانیہ‘ جاپان یا ناروے کی طرح شاہی خاندان تو نہیں ہیں لیکن حکمران بھی کوشش کرتے ہیں کہ ان مواقع کو استعمال کیا جائے تاکہ وہ رنگ اور تام جھام نظر آئے اور عوام ان شادیوں کو ویسے ہی حسرت سے یاد رکھیں جیسے لیڈی ڈیانا اور شہزادہ چارلس کی شادی تھی۔ بہت کم ارب پتی یا بڑے سیاسی گھرانے ہوتے ہیں جو ایسے مواقع پر سادگی کو ترجیح دیتے ہیں۔ ویسے تو دنیا میں ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں جنہوں نے بادشاہت تک چھوڑ دی کہ ہم اپنی پسند کی عورت کے ساتھ ایک سادہ اور عام زندگی گزارنا زیادہ بہتر سمجھتے ہیں۔ اورایسے بے نیاز لوگ بھی دنیا میں گزرے ہیں جنہیں ادب کے نوبیل پرائز کیلئے فون کر کے بتایا گیا تو لینے سے انکاری ہوگئے کہ ہم نے اس انعام کا کیا کرنا ہے۔ ایک تو ایسے ادیب بھی تھے جنہوں نے ناروے جا کر نوبیل پرائز لینے سے انکار کر دیا کہ فلاں جگہ ہر رات میں چاندنی میں گزارتا ہوں‘ اس انعام کی خاطر میں وہ رات کا منظر نہیں چھوڑ سکتا۔ ایک ہمارے ہاں کا طبقہ ہے کہ جو ریاستی ایوارڈ لینے کیلئے نیچے گرتا ہی چلا جاتا ہے۔  اپنے اپنے ظرف اور اپنی اپنی سمجھ کی بات ہے۔مان لیا کہ والدین کی اپنی خوشیاں ہوتی ہیں‘ ان کے پاس دولت بھی ہے اور خرچ کرنے کا حوصلہ بھی لیکن والدین کو ایک طرف رکھ کر میرے ذہن میں یہ بات آرہی ہے کہ یہ بچے لندن‘ نیویارک اور یورپ میں پڑھتے ہیں‘ وہیں پر رہتے ہیں‘ کیا وہاں کا ماحول ان پر کوئی اثر نہیں کرتا؟ کیا انہیں یورپین اندازِ زندگی‘ سادگی‘ سب کام اپنے ہاتھ سے کرنے کی عادت اور محنت متاثر  نہیں کرتی کہ وہ اپنے ملک لوٹ کر کم از کم یہ چیزیں خود پر اپلائی کریں۔ ہمارے ہاں کی دیسی ایلیٹ اور ولایتی ایلیٹ کی سوچ میں اتنا فرق کیوں ہے؟ یہاں بچوں کو شروع سے ہی یہ تربیت دی جاتی ہے کہ وہ غیرمعمولی انسان ہیں۔ وہ حکمرانی کرنے کے لیے پیدا ہوئے ہیں۔ ان کا رہن سہن اور سوچ اسی کے زیرِ اثر پروان چڑھتی ہے۔ لہٰذا وہ یورپ میں رہ کربھی وہی شاہانہ مزاج رکھتے ہیں۔ میں تو سوچتا ہوں کہ بچوں کو چاہیے تھا کہ وہ منع کر دیتے کہ انہیں اس پیمانے پر نمود و نمائش نہیں چاہیے۔ اس لیے جب وفاقی وزیر احسن اقبال ٹویٹ کرتے ہیں اور بغیر کسی کا نام لیے تنقید کرتے ہیں تو اس سے سیاسی طوفان اُٹھ کھڑا ہونا فطری بات ہے۔ اگرچہ یہ حیران کن ضرور ہے کہ اب تک کسی وزیر نے اپنی پارٹی کو اس طرح سادگی اپنانے کا مشورہ نہیں دیابلکہ سوچا بھی نہیں ہوگا۔ اگرچہ احسن اقبال اس ٹویٹ سے جڑی سیاسی گپ شپ کو مسترد کر رہے ہیں لیکن کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ ناخوش ہیں۔ جس طرح پچھلے ڈھائی برسوں سے شہباز شریف کی حکومت چل رہی ہے‘ بہت سے وزیر ناخوش ہیں۔ اب تک اس حکومت کا سارا زور بیرونِ ملک سفر پر رہا ہے۔ ملک کے اندرونی حالات پر توجہ کم ہی رہی ہے۔ یہاں سے اندازہ لگا لیں کہ وزیراعظم پچھلا پورا ایک سال ایوان میں نہیں آئے جبکہ عمران خان دور میں جب وہ قید میں تھے تو ہر اجلاس کے لیے پروڈکشن آرڈرز نکلوا کر دو دو گھنٹے تقریریں کیا کرتے تھے۔ اور جب وہ وزیراعظم بن گئے اور پھر پورا سال وہ ایوان سے دور ہی رہے۔ ان کی حکومت نے جس طرح اپنے اختیارات سرنڈر کیے ہیں اس سے ان کی پارٹی کے اندر ایک مایوسی در آئی ہے کہ اب اتنا بھی کیا کمپرومائز کرنا۔ کیا اب سیاست ختم ہوگئی ہے اور ہم ساری عمر سلیکشن کے بہانے ہی اقتدار میں آیا کریں گے! جو فتح اور جیت کا نشہ اور غرور تھا وہ اب ختم ہوگیا۔ اب آپ الیکشن ہار کر سوئیں تو اگلی صبح آپ جیتے ہوئے ہوں گے۔ جیتنے والے ہر امیدوار کے اندر جوفطری خوشی اور اونرشپ کا احساس ہوتا ہے وہ آپ کو یہاں نظر نہیں آتا۔ اس لیے اس حکومت میں سب سے زیادہ کورم کا مسئلہ پیدا ہورہا ہے حالانکہ ممبران کی تنخواہیں بڑھائی گئی ہیں‘ الاؤنس بڑھائے گئے ہیں‘ سیشن الاؤنس اور کمیٹیوں کے الاؤنس بڑھا کر تنخواہ دس بارہ لاکھ تک لے گئے ہیں لیکن وہ اونرشپ کہیں نظر نہیں آرہی جو کسی الیکٹڈ اسمبلی میں ہونی چاہیے۔ اوپر سے شہباز شریف صاحب نے شاید یہ طے کر لیا ہے کہ وہ بھلے وزیراعظم ہیں لیکن انہوں نے کہیں سے یہ احساس نہیں ہونے دینا ۔ اگرچہ وہ اس کو اپنی کامیابی سمجھ رہے ہیں کہ ڈھائی سال بغیر کسی پھڈے کے گزار چکے ہیں اور باقی کا عرصہ بھی اسی طرح گزار کر نیا ریکارڈ قائم کر لیں گے۔ جس طرح وہ پانچ سال پورے کرنا چاہ رہے ہیں‘ کیا اس کے بعد ان کی سیاست اور ہماری جمہوریت بچ جائے گی؟ کیا مسلم لیگ(ن) عوام میں جا کر ووٹ لے سکے گی یا پھر وہی امید رکھے گی کہ رات کو ان کے ہارے ہوئے امیدوار صبح کو جیت جائیں۔ جب سے وزیرداخلہ نے شہباز شریف اور مریم نواز کا پرفارمنس آڈٹ کیا ہے‘ اس کے بعد وفاقی وزیروں میں مایوسی اور غیریقینی بڑھی ہے۔ ان کا خیال تھا کہ اس پارٹی نے پرویز مشرف کے دور میں سخت ترین مشکلات دیکھیں لیکن پھر بھی ڈٹے رہے اور جھکے نہیں۔ لیکن اب جس طرح ایک وزیر نے سرعام اپنے ہی وزیراعظم کی کارکردگی کا پوسٹ مارٹم کیا اور وہ سب چپ رہے‘ اس سے پارٹی کے اعتماد اور قد کاٹھ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ پارٹی کے اندر خوداعتمادی کا بحران ہے اور میرے ذرائع یہ بتا رہے ہیں کہ سات سے آٹھ ایسے وزیر ہیں جو ابھی سے ادھر ادھر دیکھنا شروع ہوگئے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ موجودہ سسٹم شاید زیادہ دیر نہ چل سکے‘ لہٰذا کچھ نے ابھی سے خود کو مستقبل کے سیٹ اَپ کے ساتھ جوڑنے کے لیے کچھ نہ کچھ سرگرمیاں شروع کر دی ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ نواز شریف صاحب کی سیاست کا محور ان کی صاحبزادی ہیں اور اب وہ اس سے ہٹ کر کچھ سوچنے یا کرنے کو تیار نہیں۔ ان کا اگلا ہدف مریم نواز کو وزیراعظم بنوانا ہے۔ یہی کوشش آصف زرداری بلاول بھٹو کے لیے کررہے ہیں۔ لیکن (ن) لیگ کے کچھ اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر آپ عوامی سطح پر اپنی حمایت اس طرح کھو بیٹھیں‘ جیسے موجودہ صورتحال ہے تو آپ کے وہ طاقتور دوست بھی آپ کو وزیراعظم نہیں بنوا سکیں گے جن پر آپ تکیہ کر کے بیٹھے ہیں۔ سیاستدانوں نے 2008ء سے 2017ء تک کچھ سپیس لی تھی اور مقتدرہ بڑی حد تک پیچھے ہٹ گئی تھی اب وہ سپیس دوبارہ مقتدرہ نے لے لی ہے۔ بلکہ یوں کہیں کہ شہباز شریف نے بخوشی سب کچھ ان کی جھولی میں ڈال دیا اور وہ سب بھی ڈال دیا ہے جو انہوں نے شاید مانگا بھی نہیں تھا۔ میری مسلم لیگ (ن) کے ایک پرانے دوست سے ملاقات ہوئی‘ وہ خاصے مایوس تھے۔ میں نے پوچھا‘ کہاں آپ کی پارٹی نے مزاحمت کر کے ایک مقام بنا لیا تھا اور اب کہاں پہنچ گئی ہے۔ ایسا تو عمران خان کے دور میں بھی نہیں تھا‘ جنہیں سب کہتے تھے کہ حکومت جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید چلا رہے ہیں۔ وہ کچھ دیر چپ رہے اور پھر مسکرا کر کہا: بس دیکھتے جائیں ابھی تو بہت کچھ ہونا باقی ہے۔ انہوں نے جس لہجے میں کہا کہ &#39;&#39;ابھی بہت کچھ ہونا باقی ہے‘‘ اسے سُن کر ایک لمحے کے لیے میں بھی سُن ہوگیا کہ ابھی اور کیا دیکھنا باقی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>راولپنڈی کا ریلوے سٹیشن: ایک قدیم رومانس(شاہد صدیقی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-siddiqui/2026-09-16/52672/93492211</link><pubDate>Wed, 16 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-siddiqui/2026-09-16/52672/93492211</guid><description>کہتے ہیں ریلوے کا اپنا رومانس ہوتا ہے جس کا سحر تمام عمر ہمارے ساتھ چلتا ہے۔ میں ریلوے کی طلسماتی دنیا سے اُس وقت آشنا ہوا جب پہلی جماعت میں پڑھتا تھا اور ہم راولپنڈی کی ایک قدیم بستی مریڑ حسن میں رہتے تھے۔ ہمارے گھر کی پشت پر کوئی گھر  نہیں تھا۔ ساری جگہ خالی تھی۔ ایک نالہ بہتا تھا اور پھر ذرا اونچائی پر ریل کی پٹری تھی۔ ہمارے گھر کی دو کھڑکیوں سے ریل کی پٹری صاف نظر آتی تھی۔ جب بھی وہاں سے ٹرین گزرتی اس کی دھمک سے ہمارے گھر کی کھڑکیاں لرزنے لگتیں۔ گرمی کی دوپہروں  میں جب گھر کے بڑے سو رہے ہوتے اور کوشش کے باوجود مجھے نیند نہ آتی تو میں کھڑکی کی سلاخیں پکڑ کر پہروں ریل کی پٹری کو دیکھتا رہتا۔ جب اچانک کھڑکی لرزنے لگتی تو میں سمجھ جاتا کہ پٹری پر گاڑی آ رہی ہے۔ کچھ ہی دیر میں شور مچاتی گاڑی آتی۔ شور اتنا ہوتا کہ میں دونوں ہاتھوں کو اپنے کانوں پر رکھ لیتا۔ یوں ریل کی پٹری اور ریل سے میرا ایک خاص تعلق بن گیا تھا لیکن ابھی تک میں نے ریل میں سفر نہیں کیا تھا۔ پھر جلد ہی وہ دن بھی آ گیا جب مجھے ریل میں سفر کا موقع ملا۔ اُس وقت میری عمر چھ سات برس ہو گی۔ ہمارے ماموں کی شادی تھی اور بارات نے راولپنڈی سے لاہور جانا تھا۔ میں ٹرین میں کھڑکی کے پاس بیٹھا حیرت سے کھڑکی  سے باہر بھاگتے منظروں کو دیکھ رہا تھا۔ لاہور سے راولپنڈی واپسی پر بھی ہم ٹرین میں آئے لیکن یہ رات کا وقت تھا اور آسمان پر چاند چمک رہا تھا۔ مجھے یوں لگ رہا تھا کہ چاند بھی میرے ساتھ ساتھ بھاگ رہا ہے‘ یہ ایک عجیب سا احساس تھا۔ ریل اور پٹری کے ساتھ ساتھ ریلوے سٹیشن کی عمارت بھی میری ابتدائی یادوں میں شامل ہے۔ بعد میں ہم مریڑ حسن سے کینٹ کے ایک اور علاقے میں منتقل ہو گئے جہاں سے صدر کا علاقہ اور ریلوے سٹیشن بہت قریب تھے۔میرا ریل کا ایک اور یادگار سفر دوستوں کے ساتھ تھا جب میٹرک میں ہماری کلاس لاہور ٹرپ پر گئی تھی۔ اس سفر میں ہم نے زیادہ وقت سیٹوں پر بیٹھنے کے بجائے دروازے کے قریب کھڑے ہو کر آتے جاتے منظروں کو دیکھ کر گزارا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ جب  ریل لاہور کے قریب پہنچ رہی تھی تو فجر سے ذرا پہلے کا وقت تھا اور ہوا میں فرحت بخش خنکی تھی۔ ٹرین کا یہ سفر میرے سکول کی قیمتی یادوں میں سے ایک ہے۔ اب میں سکول کی فضاؤں سے نکل آیا تھا اور راولپنڈی کے گورڈن کالج میں پڑھتا تھا۔ اس کالج کی اپنی تاریخ ہے۔ لاہور کے گورنمنٹ کالج کی طرح گورڈن کالج بھی تقسیم ہند سے پہلے کا تعلیمی ادارہ تھا‘ جہاں تعلیم کے ساتھ ساتھ غیر نصابی سرگرمیوں پر بھی خاص توجہ دی جاتی۔ گورڈن کالج کے دن بھی کیسے سحر انگیز دن تھے۔ کالج کے بعد ہم اکثر کالج روڈ پر واقع زمزم کیفے میں بیٹھتے تھے۔ کبھی کبھار دوستوں کے ہمراہ ریلوے سٹیشن چلا جاتا جہاں ہم سٹیشن پر بنے چائے کے ڈھابوں سے چھوٹی چھوٹی پیالیوں میں چائے پیتے اور آتی جاتی ٹرینوں کو دیکھتے رہتے۔ بہت سے لوگ اپنے عزیزوں کے استقبال کیلئے آئے ہوتے۔ ٹرین کے رکتے ہی قلی بے قراری سے ٹرین کی طرف بھاگتے اور زبردستی لوگوں کا سامان اپنے سروں پر رکھ لیتے۔ یہ منظر اُس منظر سے بالکل مختلف ہوتا جب کچھ لوگ اپنے پیاروں کو رخصت کرنے کیلئے آتے۔ بعض دفعہ ٹکٹ خریدنے کے باوجود ٹرین میں سیٹ نہ ملتی۔ ایسے موقع پر تجربہ کار قلی مسافروں کا سامان کھڑکی سے سیٹ پر رکھتے تھے اور یوں سیٹ پر قبضہ کر لیا جاتا۔ مسافر اپنی سیٹوں پر بیٹھ جاتے اور  انہیں رخصت کرنے والے کھڑکیوں کو پکڑ کر باتیں کرتے رہتے۔ پھر ایک سیٹی بجتی‘ یہ ٹرین کے چلنے کی سیٹی ہوتی۔ اب ٹرین  آہستہ آہستہ چلنا شروع کرتی۔ اپنے پیاروں کو رخصت کرنے کیلئے آنے والے لوگ ٹرین کے ساتھ ساتھ چلنا شروع کر دیتے۔ یہ منظر میں کبھی نہیں بھول سکتا۔ بس کا سفر ہو یا جہاز کا‘ کہیں بھی ایسے منظر دیکھنے کو نہیں ملتے۔ یہ الوداعی منظر صرف ریلوے سٹیشن پر  نظر آتے ہیں۔ ریل کی سیٹی کا اپنا ایک رومانس ہے۔ اردو ادب میں تو ریل کی سیٹی ہجر کا استعارہ بن گئی۔ منیر نیازی کا یہ شعر ملاحظہ کیجئے: صبحِ کاذب کی ہوا میں درد تھا کتنا منیر؍ ریل کی سیٹی بجی تو دل لہو سے بھر گیا ہمارے گورڈن کالج کے سینئر اور معروف شاعر شعیب بن عزیز کے والد ریلوے میں ملازمت کرتے تھے۔ ان کی کوٹھی سٹیشن کے قریب تھی۔ انہی دنوں سینیٹر پرویز رشید اور شاہد مسعود بھی گورڈن کالج میں پڑھتے تھے۔ پرویز رشید راولپنڈی کی نئی بستی سیٹیلائٹ ٹاؤن میں رہتے تھے لیکن اپنے گھر جانے سے پہلے وہ اپنی سائیکل پر شعیب بن عزیز کو ریلوے سٹیشن کے قریب اس کے گھر چھوڑتے۔ یاد رہے کہ ریلوے سٹیشن اور سیٹیلائٹ ٹاؤن دو مختلف سمتوں میں واقع تھے۔ شاہد مسعود کا ایک تعارف یہ تھا کہ گورڈن کالج کی سٹوڈنٹس یونین کا صدر تھا لیکن اس کی اصل پہچان اس کی شاعری تھی۔ ریلوے سٹیشن پر بے مقصد وقت گزارنے والوں میں شاہد مسعود بھی شامل ہوتا۔ اسی دورِ آوارگی میں اس نے ریلوے سٹیشن پر بے مقصد گھومتے ہوئے پنجابی کا یہ شعر کہا تھا: اک دوجے نوں اک دوجے دے بیلی ہتھ ہلاؤندے؍ میں ٹیشن تے کلا کھلوتا‘ ڈبے لنگدے جاندے(دوست ایک دوسرے کو ہاتھ ہلا رہے ہیں لیکن میں سٹیشن پر تنہا کھڑا ہوں اور میرے سامنے ریل کے ڈبے جا رہے ہیں)ریلوے کا رومانس عام زندگی تک محدود نہیں اس کی جھلک ادب کی دنیا میں بھی نظر آتی ہے۔ ریل‘ ریل کی پٹری‘ ریل کی سیٹی اور ریلوے سٹیشن اردو شاعری کے استعارے بن گئے ہیں۔ ناصر کاظمی کی غزل کے یہ دو شعر سنیں اور چشم تصور میں کسی قصبے کے ایک ویران ریلوے سٹیشن کا منظر دیکھیں: میں بھی مسافر تجھ کو بھی جلدی؍ گاڑی کا بھی وقت ہوا تھا؍ اک اجڑے سے سٹیشن پر؍ تُو نے مجھ کو چھوڑ دیا تھا دیہات اور قصبوں کے سٹیشن پر گاڑی رکتی تو وہاں زندگی کے آثار جاگ اٹھتے۔یوں لگتا کچھ دیر کیلئے ہر طرف رونق بکھر گئی ہے۔  لیکن گاڑی چلے جانے کے بعد پھر وہی اداسی بھری خاموشی چھا جاتی۔ اس کیفیت کی ایک جھلک احسان دانش کے اس شعر میں نظر آتی ہے: جس طرح دیہات کے سٹیشنوں پر دن ڈھلے؍ اک سکوتِ مضمحل گاڑی گزر جانے کے بعداس سکوتِ مضمحل کی کیفیت کو وہی لوگ محسوس کر سکتے ہیں جنہیں دیہات کے سٹیشنوں پر جانے کا اتفاق ہوا ہو۔ ریل گاڑی کبھی  کبھی وقت کا استعارہ بھی بن جاتی ہے۔ راولپنڈی کے دلبر شاعر باقی صدیقی نے اپنی ماں بولی پوٹھوہاری زبان میں ایک مختصر نظم  لکھی تھی۔ کیا خوبصورت نظم ہے۔ &#39;&#39;بڑھاپا‘‘... گڈی لنگھ گئی ؍ تے پچھے رہ گیا بھاں بھاں کرنا ٹیشن؍تے شاں شاں کرنے کن ( ریل گاڑی گزر گئی؍ اور پیچھے رہ گیا بھاں بھاں کرتا ویران سٹیشن ؍ اور کانوں میں گونجتی شاں شاں کی آواز)آج ایک طویل عرصے کے بعد میں اپنے شہر راولپنڈی آیا ہوں تو سارے منظر بدلے بدلے لگ رہے ہیں۔ میں خاص طور پر بینک روڈ دیکھنے گیا جہاں کالج کے دنوں میں ہمارا روز کا آنا جانا تھا لیکن نجانے کیوں آج سب کچھ اجنبی لگ رہا تھا۔ وقت کے ساحر نے سب کچھ بدل دیا تھا۔ تب اچانک مجھے خیال آیا کہ کیوں نہ راولپنڈی کے ریلوے سٹیشن جاؤں جس کے در و بام سے میرے بیتے ہوئے دنوں کی کتنی ہی یادیں وابستہ ہیں۔ صدر سے ریلوے سٹیشن کا فاصلہ زیادہ نہیں۔ جب میں ریلوے سٹیشن کے پھاٹک پر پہنچا تو سورج غروب ہو رہا تھا اور اس کے دلکش رنگوں میں ریلوے سٹیشن کی پُرشکوہ عمارت اوربھی دل فریب نظر آ رہی تھی۔ اچانک مجھے یوں لگا جیسے بیتے ہوئے دن آنکھیں جھپکتے ہوئے اُٹھ بیٹھے ہیں۔ (جاری)</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_21538475.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سیاسی جماعتیں نئے صوبوں سے گریزاں؟(سلمان غنی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/salman-ghani/2026-09-16/52673/62115761</link><pubDate>Wed, 16 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/salman-ghani/2026-09-16/52673/62115761</guid><description>ملکِ عزیز میں نئے صوبوں کے حوالے سے جاری بحث فیصلہ کن موڑ پر ہے اور مختلف طبقاتِ فکر ملکی مسائل کے حل کیلئے قومی اتفاقِ رائے قائم کرتے ہوئے نئے صوبوں کی جانب بڑھنے کی بات کرتے نظر آ رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نئے صوبوں کا معاملہ ایک سنجیدہ مطالبہ ہے‘ اس لیے کہ موجودہ نظام اس طرح ڈیلیور کرتا دکھائی نہیں دے رہا جس کی ضرورت ہے‘ لہٰذا ریاستی نظام کو اس طرح استوار کرنے کی ضرورت ہے کہ حکومت جوابدہ اور مؤثر بن سکے۔پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام پر جاری بحث محض علاقائی‘ لسانی یا سیاسی گفتگو تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ اسے طرزِ حکمرانی اور ریاستی ڈھانچے میں اصلاحات کیلئے ایک جامع قومی ایجنڈے کا حصہ بننا چاہیے اور اس کی بنیاد گورننس کو ہونا چاہیے۔ ایک عرصے سے ملک میں گورننس ایک بڑا ایشورہی ہے اور سیاستدان اور خود حکمران بھی اس کی ضرورت و اہمیت کی بات کرتے ہیں‘ لیکن عملاً اسے یقینی بنانے کیلئے لائحہ عمل پر بات نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ مسائل بڑھتے جا رہے ہیں اور عوام کی جانب سے مایوسی اور بے چینی کا اظہار ہو رہا ہے۔ گورننس کی کمزوری کی دو بنیادی وجوہ ہیں ایک تو وہی صوبوں کا بہت بڑا حجم ‘ اور دوسرا ملک میں مضبوط بلدیاتی نظام کا نہ ہونا۔ دنیا بھر میں جہاں جمہوریت کامیابی سے چلتی ہے وہاں مقامی حکومتوں کا کردار کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ اس سے لوگوں کے مسائل حل ہوتے ہیں اور جمہوری نظام کو استحکام ملتا ہے۔  پاکستان کا بڑا مسئلہ یہ رہا ہے کہ نہ تو یہاں صوبوں کی بروقت تقسیم عمل میں لائی جاسکی‘ نہ نئے صوبے تشکیل دیے جاسکے اور نہ ہی فعال بلدیاتی نظام قائم کیا گیا۔سیاسی جماعتیں چھوٹے صوبوں کی ضرورت و اہمیت کو تو سمجھ نہ سکیں؛ البتہ اپنے منشور میں بلدیاتی نظام کو فعال‘ مؤثر اور مضبوط بنانے کا عزم ظاہر کرتی رہیں اور برسرِاقتدار آکر بلدیاتی انتخابات کرانے کا عندیہ بھی دیتی رہیں لیکن جو بھی جماعت برسرِاقتدار آئی اس نے اقتدار کو اپنے سیاسی مفادات کے تحفظ کا ذریعہ بنایا اور جمہوریت و سیاست کو نچلی سطح تک مضبوط بنانے میں سنجیدگی ظاہر نہیں کی۔ اپوزیشن میں بلدیاتی انتخابات کا عزم ظاہر کرنے والی جماعتیں بھی اقتدار میں آنے کے بعد اپنی ترجیحات بدل لیتی ہیں اور اپنے ہی اراکینِ اسمبلی کے دباؤ میں آ جاتی ہیں۔ اگر عدالتِ عظمیٰ یا الیکشن کمیشن کے دباؤ پر انتخابات کرانے بھی پڑیں تو ان اداروں کو ان کے اصل مقاصد سے ہم آہنگ کرنے کے بجائے ان کے اختیارات محدود کر دیے جاتے ہیں اور انہیں افسر شاہی کے ذریعے چلا کر اپنی حاکمیت برقرار رکھی جاتی ہے۔ بلدیاتی اداروں کا بنیادی مقصد اچھی گورننس کی فراہمی اور عوامی مسائل کا دہلیز پر حل ہوتا ہے لیکن یہ ادارے حکومتوں کے سیاسی مفادات کے تابع ہو کر اپنے بنیادی مقاصد سے ہٹ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں جمہوری عمل عملاً قانون ساز اسمبلیوں تک محدود رہتا ہے اور عوام کے بنیادی مسائل کو ترجیح نہیں ملتی۔ 18ویں آئینی ترمیم کو سیاسی جماعتیں صوبائی خودمختاری کے حوالے سے اہم قرار دیتی ہیں اور کہا جاتا تھا کہ اختیارات اور وسائل کی نچلی سطح تک تقسیم مؤثر گورننس کا ذریعہ بنے گی۔تاہم صوبائی حکومتوں نے وفاق سے وسائل اور اختیارات تو سمیٹ لیے لیکن ان کی تقسیم کا لائحہ عمل نہ بن سکا۔ مالی وسائل اور اختیارات بڑی حد تک صوبائی دارالحکومتوں تک محدود ہیں۔ اگر سیاسی جماعتیں اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے وعدوں کی پاسداری کرتیں تو خود بھی عوام میں مضبوط ہوتیں‘ ان کا عوامی نیٹ ورک وسیع ہوتا اور عوامی مسائل کا حل بھی ممکن ہو پاتا۔مگر یہ نہ ہو سکا اور ملک میں اچھی حکمرانی کا مسئلہ شدت اختیار کرتا گیا‘ یہی وجوہات نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی مؤثر دلیل بن چکی ہیں۔ موجودہ صورتحال میں گورننس کی بنیاد پر نئے صوبوں کے قیام کا مؤقف جاندار ہے ‘ کیونکہ چار صوبائی دارالحکومتوں میں اختیارات کا ارتکاز آج کے عوامی ‘ شہری‘ ترقیاتی اور معاشی مسائل کا حل پیش نہیں کر سکتا۔پارلیمنٹ میں اس پر کھلی گفتگو ہونی چاہیے اورسیاسی جماعتوں سے پوچھنا چاہیے کہ انہوں نے ضلعی حکومتوں یا بلدیاتی نظام کو کیوں فعال اور مؤثر نہیں بنایا اور نئے صوبوں کے حوالے سے کیوں گریز پا ہیں۔پیپلز پارٹی نے سندھ اسمبلی میں نئے صوبوں کے قیام کے خلاف قرارداد منظور کرکے واضح کیا ہے کہ وہ سندھ میں نئے انتظامی یونٹس کو اپنی سیاست کیلئے خطرہ سمجھتی ہے۔ مسلم لیگ (ن) اگرچہ کھلے طور پر نئے صوبوں کی مخالفت نہیں کر رہی  لیکن پنجاب کو اپنا پاور بیس سمجھتے ہوئے یہ بھی پس و پیش کا شکار دکھائی دیتی ہے۔جبکہ تحریک انصاف جس کے رہنما ماضی میں نئے  صوبوں کے قیام کے حامی تھے‘ اب اس معاملے کو سیاسی بارگیننگ کیلئے استعمال کرتی نظر آ رہی ہے۔ اس میں کچھ حلقے نئے صوبوں کے حامی ہیں تاہم خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے دورۂ سندھ کے بعد تحریک انصاف کی رائے میں بھی تبدیلی نظر آتی ہے ۔ حکومت کی جانب سے وفاقی وزیر طارق فضل چودھری اور دیگر ذمہ داران نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ میں نئے صوبوں کے حوالے سے بحث اکتوبر میں ہو گی۔ بلاشبہ نئے صوبوں کا فیصلہ آئینی طریقہ کار کے مطابق پارلیمنٹ میں ہی ہونا چاہیے کیونکہ صوبائی حدود کے ازسرِنو تعین کے لیے آئین کے آرٹیکل 1 کے علاوہ آرٹیکل 239(4) کا بھی سامنا ہوگا‘ جس کے تحت صوبے کی حدود میں تبدیلی متعلقہ صوبے کی اسمبلی سے دو تہائی اکثریت کی منظوری سے مشروط ہے۔ یہاں مجوزہ 28ویں ترمیم سے متعلق قیاس آرائیاں بہت اہمیت رکھتی ہیں۔ بعض ذرائع مذکورہ آرٹیکل میں ترمیم کے ذریعے صوبائی اسمبلیوں کے اس اختیار کے خاتمے کی بات کر رہے ہیں۔اس وقت سیاسی قوتوں کے سامنے بڑا سوال یہ ہے کہ گورننس کے حوالے سے ان کا مقدمہ کیا ہے؟ سیاسی اور انتظامی قوتوں کو بلدیاتی حکومتوں کے قیام پر ضرور پیش رفت کرنی چاہیے کیونکہ یہ ایک بنیادی آئینی تقاضا ہے اور اس کا وعدہ انہوں نے 18ویں ترمیم میں کیا تھا کہ اختیارات اور وسائل کی نچلی سطح تک منتقلی یقینی بنائی جائے گی۔تاہم سولہ سال سے انہوں نے اختیارات اپنے مراکز تک محدود رکھے اور اب اس ناکامی کے نتائج سے وہ تشویش کا شکار نظر آتی ہیں۔ نظام کی اصلاح کے لیے اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی ناگزیر ہے ‘تاکہ عوام خود کو شریکِ اقتدار سمجھیں اور ترقیاتی عمل چند شہروں تک محدود رہنے کی بجائے مقامی سطح تک پہنچے‘ سکولوں‘ کالجوں اور ہسپتالوں کی صورتحال بہتر ہو اور کوئی ان کا والی وارث بن سکے۔مؤثر انتظامی یونٹس اور مضبوط بلدیاتی نظام کے قیام کی بنیاد گورننس اور قومی فلاح و بہبود ہونی چاہیے اور اس حوالے سے آئینِ پاکستان پر کاربند ہو کر آگے بڑھنا ہو گا۔پاکستان کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ اقتدار اور وسائل کو نچلی سطح تک منتقل کرنے کے لیے نئے صوبے اور بلدیاتی ادارے بنائے جائیں۔ نئے صوبے اور بااختیار بلدیاتی ادارے ایک دوسرے کے متبادل نہیں بلکہ بہتر حکمرانی کے تکمیلی ستون ہیں۔ اگر یہ اصلاحات شفافیت‘ میرٹ‘ عوامی مشاورت اور آئینی اصولوں کے مطابق نافذ کی جائیں تو ملک میں انتظامی کارکردگی‘ عوامی اعتماد اور متوازن علاقائی ترقی کو نمایاں فروغ مل سکتا ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ نئے صوبے یا انتظامی یونٹس کا قیام خالصتاً آئینی عمل ہے اور آئین کو بائی پاس کرکے نہ تو آگے بڑھا جا سکتا ہے اور نہ ہی نظام کو چلایا جا سکتا ہے۔ آج ملک ایک فیصلہ کن موڑ پر ہے‘ ہمیں اپنا ہاؤس اِن آرڈر کرنا ہو گا‘ گورننس کو یقینی بنانا ہو گا اور عوام کو شاملِ اقتدار کرنا ہو گا‘ اور اس کے لیے سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر اہم اور بڑے فیصلے کرنا ہوں گے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/230_37874475.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>تصویر جعلی زخم اصلی(محمد حسن رضا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-hasan-raza/2026-09-16/52674/52835607</link><pubDate>Wed, 16 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-hasan-raza/2026-09-16/52674/52835607</guid><description>اگر ملک کے سب سے بڑے صوبے‘ پنجاب کی وزیر اطلاعات کو اپنی جعلی وڈیو کے خلاف انصاف کیلئے مہینوں انتظار کرنا پڑے تو ایک لمحے کیلئے سوچئے کہ اس ملک کی عام خاتون کہاں کھڑی ہے؟ عظمیٰ بخاری کے ساتھ جو ہوا ‘اسے کسی سیاسی حمایت یا مخالفت کا معاملہ نہیں بنانا چاہیے۔ جولائی2024ء میں وہ اپنی جعلی وڈیو کے خلاف لاہور ہائیکورٹ پہنچیں۔ اگست میں چیف جسٹس عالیہ نیلم نے وفاقی تحقیقاتی ادارے کی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ تحقیقات اور عدالتی کارروائی چلتی رہی اور مارچ 2025ء میں ادارے کی پیشرفت رپورٹ کے بعد ان کی درخواست نمٹائی گئی۔ سوال بہت سادہ ہے‘ اگر وزارت‘ حکومت‘ وکلا‘ ذرائع ابلاغ اور ریاستی اداروں تک براہِ راست رسائی رکھنے والی ایک خاتون کو اپنی جعلی وڈیو کے خلاف اتنی طویل جنگ لڑنا پڑے تو ایک چودہ سالہ بچی‘ جس کا باپ مزدور ہے‘کیا کرے گی؟یہ سوال اس لیے زیادہ خوفناک ہے کہ تین ستمبر کو اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال‘ بچوں کے جنسی استحصال کے خلاف کام کرنے والی عالمی تنظیم اور انٹر پول نے پاکستان کے بارے میں ایک تحقیق جاری کی ہے۔ اس کا صرف ایک عدد پوری ریاست کی نیند اڑانے کیلئے کافی ہونا چاہیے۔ پندرہ لاکھ بچے! بارہ سے سترہ سال کے انٹرنیٹ استعمال کرنے والے تقریباً ہر سولہ میں سے ایک بچے کو محض ایک سال کے دوران ٹیکنالوجی کے ذریعے جنسی استحصال کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ شرح تقریباً چھ فیصد بنتی ہے جبکہ بچوں کی تعداد کا تخمینہ 15 لاکھ ہے۔ مگر مجال ہے کہ یہ 15لاکھ بچے ہماری قومی سیاست کا مرکزی موضوع بن جائیں۔ پاکستان میں نوجوانوں کی بات بہت ہوتی ہے۔ وزیراعظم کے نوجوانوں سے متعلق منصوبے ہوں یا چاروں صوبوں کے نوجوانوں کیلئے بنائے گئے پروگرام‘ تقریبات‘ سپورٹس ایونٹ‘ قرض‘ لیپ ٹاپ اور فنی تربیتی سکیمیں؛ ہر طرف یہی سنائی دیتا ہے کہ نوجوان ملک کا مستقبل ہیں۔ لیکن یہ ساری گفتگو الفاظ کا گورکھ دھندا محسوس ہوتی ہے۔ تقریب ہو گئی‘ تقریر ہو گئی‘ تصویر بن گئی‘ اعلامیہ جاری ہو گیا۔ یہ بھی امکان ہے کہ جہاں سے فنڈنگ آئی ہو ان کو ایک خوبصورت کتابچہ بھی بھجوا دیا گیا ہو‘ لیکن پھر نوجوانوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا گیا۔ اگر نوجوان واقعی ملک کا مستقبل ہیں تو یہ مستقبل بلیک میل ہو رہا ہو۔ ریاست کہاں ہے؟ کسی کی جعلی نازیبا تصویر بنا دی جائے تو اس کے ساتھ کون کھڑا ہو گا؟ اس تازہ تحقیق کا دوسرا عدد اور بھی زیادہ خوفناک ہے۔ 85 فیصد واقعات میں مبینہ مجرم بچے کا جانا پہچانا شخص تھا۔ یعنی ہماری برسوں پرانی نصیحت کہ اجنبی سے بچو‘ اب کافی نہیں۔ خطرہ دوست‘ واقف کار‘ ہم عمر یا اعتماد والے شخص سے بھی ہو سکتا ہے۔ پھر ایک اور عدد آتا ہے‘ 57 فیصد متاثرہ بچوں نے کسی کو بتایا ہی نہیں۔ یہ ہمارے خاندانی اور معاشرتی نظام پر عدم اعتماد کا اظہار ہے۔ سوال یہ کہ بچہ کیوں نہیں بتاتا؟ کیونکہ اسے ڈر ہے کہ اس سے موبائل چھین لیا جائے گا۔ بچی خوفزدہ ہے کہ سکول‘ کالج جانا بند ہو جائے گا۔ سوال مجرم سے پہلے اس سے ہو گا کہ تم نے اس سے بات کیوں کی؟ تصویر کیوں بھیجی؟ اسے دوست کیوں بنایا؟ مجرم جرم کرتا ہے اور ہمارا معاشرہ اس کیلئے خاموشی کا حفاظتی حصار کھڑا کر دیتا ہے۔ اب مصنوعی ذہانت نے ایسے درندوں کو ایک ایسا ہتھیار دے دیا ہے جس کیلئے کسی سکول کی تقریب‘ سالگرہ یا گھر میں کھینچی گئی ایک عام تصویر ہی کافی ہے۔ چند لمحوں میں بچے کو ایسی نازیبا حالت میں دکھایا جا سکتا ہے جس کا حقیقت میں کوئی وجود نہیں۔ پاکستان میں ہونے والی تحقیق میں بچوں نے مصنوعی ذہانت کے ذریعے جعلی نازیبا تصاویر اور وڈیوز بنائے جانے کے واقعات بھی بیان کیے۔عالمی منظرنامہ اس سے کہیں زیادہ خوفناک ہے۔ گیارہ ممالک کی تحقیق کی بنیاد پر اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال کا تخمینہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے ایک سال میں کم از کم بارہ لاکھ بچوں کی تصاویر نازیبا جعلی تصاویر میں تبدیل کی گئیں۔ بعض ممالک میں یہ شرح ہر 25 بچوں میں ایک تک پہنچتی ہے۔ یہاں لفظ جعلی ہمیں دھوکا دیتا ہے۔ تصویر جعلی ہے‘ لیکن صدمہ اصلی ہے۔ جسم جعلی ہے‘ لیکن چہرہ اصلی ہے۔ منظر جھوٹا ہے لیکن بلیک میلنگ اصلی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا اب تسلیم کر رہی ہے کہ مصنوعی ذہانت سے کیا گیا جنسی استحصال بھی استحصال ہی ہے۔ یہ واقعہ حقیقت میں نہ بھی ہوا ہو‘ لیکن بچے‘ اس کی شناخت‘ عزت‘ ذہنی سکون اور زندگی کو حقیقی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ہماری حکومت ہر جگہ بے بس نہیں۔ طاقتور کیلئے راستہ صاف کرنا ہو تو انتظامیہ فوراً حرکت میں آ جاتی ہے۔ اہم شخصیات کیلئے حفاظتی گاڑیاں درکار ہوں تو اربوں روپے نکل آتے ہیں۔ حکمرانوں کیلئے اربوں روپے کا جہاز‘ مہنگا ترین پروٹوکول‘ عالیشان دفاتر اور رہائش‘ بلٹ پروف گاڑیاں اور انتہائی تربیت یافتہ سکیورٹی اور سرکاری سہولت کا سوال ہو تو فائل رفتار پکڑ لیتی ہے۔ بڑے زمیندار‘ طاقتور کاروباری حلقے‘ سیاسی خاندان اور مختلف مفاداتی گروہ دہائیوں سے ریاستی فیصلوں پر اثرانداز ہونے کی طاقت رکھتے ہیں۔ مسئلہ یہ نہیں کہ پاکستان کے پاس کچھ کرنے کی صلاحیت نہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ حکومت کس کیلئے کتنی جلدی حرکت میں آتی ہے۔ ہماری سیاست کا المیہ بھی عجیب ہے۔ عوام کے مسئلے پر قومی اتفاق پیدا کرنا مشکل ہے۔ اختیارات کی نچلی سطح پر تقسیم ہو تو اختلاف‘ نئے صوبے بنانے پر اختلاف‘ تعلیم پر اختلاف‘ صحت پر اختلاف‘ ٹیکس اصلاحات پر اختلاف‘ بلدیاتی نظام پر اختلاف۔ لیکن چودھراہٹ یا اقتدار کا حساب بگڑ جائے‘ حکومت بنانے یا بچانے کا سوال آجائے‘ اختیارات نچلی سطح پر تقسیم کرنے کی بات ہو‘ نئے صوبے بنانے کی بات ہو تو ان سب سیاستدانوں کے مشترکہ مفادات خطرے میں پڑ جاتے ہیں‘ یہاں تک کہ برسوں سے ایک دوسرے کو چور‘ ڈاکو‘ غدار‘ کرپشن کا بادشاہ اور ملک کی تباہی کا ذمہ دار کہنے والے بھی ایک میز پر بیٹھنے کا راستہ تلاش کر لیتے ہیں۔ یعنی مفاد مشترک ہو تو دشمنی مستقل نہیں رہتی۔تو کیا پندرہ لاکھ بچے ہمارا مشترکہ مفاد نہیں؟ کیا وزیراعظم‘ چاروں وزرائے اعلیٰ‘ حکومت اور حزبِ اختلاف ایک مرتبہ ان بچوں کیلئے ایک میز پر نہیں بیٹھ سکتے؟ کیا پارلیمان‘ تحقیقاتی ادارے‘ پولیس‘ قومی کمیشن برائے حقوقِ اطفال‘ تعلیمی محکمے اور بچوں کے تحفظ کے ادارے مل کر یہ فیصلہ نہیں کر سکتے کہ کسی انسان کی مصنوعی ذہانت سے جعلی نازیبا تصویر بنانے والا خواہ کسی جماعت‘ خاندان‘ طبقے یا حیثیت سے تعلق رکھتا ہو‘ قانون اس کیلئے ایک ہو گا؟ یہاں عظمیٰ بخاری صاحبہ کا معاملہ پھر ہمارے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے۔ اگر ایک وزیر کی جعلی وڈیو بنانا گھٹیا‘ قابلِ مذمت اور قابلِ تعزیر حرکت ہے تو کسی سیاسی کارکن‘ صحافی‘ طالبہ‘ گھریلو خاتون‘ یا تیرہ سالہ بچی کیخلاف بھی یہ حرکت اتنی ہی گھٹیا اور قابلِ سزا ہونی چاہیے۔ جرم کی سنگینی متاثرہ شخص کے عہدے سے طے نہیں ہوتی۔ قانون کو چہرہ نہیں جرم دیکھنا چاہیے۔ اور سزا ایسی ہونی چاہیے کہ کسی عورت‘ مرد‘ بچے یا بچی کا چہرہ اٹھاکر اسے نازیبا منظر میں ڈھالنے والا اسے مذاق‘ سیاسی جنگ یا اظہارِ رائے کہہ کر بچ نہ سکے۔ اظہارِ رائے کی آزادی یا سیاسی اختلاف کسی عورت کی عزت اچھالنے کا اجازت نامہ نہیں۔ آن لائن جرائم سے بچانے کا نظام بھی ایمرجنسی ریسکیو سروس جیسا ہونا چاہیے۔ فوری ہیلپ لائن نمبر‘ چوبیس گھنٹے تربیت یافتہ عملہ‘ فوری ثبوت محفوظ کرنے کا طریقہ‘ جعلی تصاویر اور وڈیوز ہٹانے کا نظام‘ تربیت یافتہ تفتیش کار اور نفسیاتی مدد۔ بچے کو اپنی اذیت دس افسروں کے سامنے دس مرتبہ نہ سنانی پڑے۔ سکولوں میں بچوں کو یہ سکھایا جائے کہ آن لائن بلیک میلنگ کا سامنا کیسے کرنا ہے‘ اور والدین بھی خود کو بری الذمہ نہ سمجھیں۔ بچے کا موبائل چھین لینا تحفظ نہیں‘ اسکا اعتماد حاصل کرنا تحفظ ہے۔ قومیں اپنے بچوں سے محبت تقریروں‘ تقریبات‘ لیپ ٹاپ تقسیم کرنے اور تصویریں بنوانے سے ثابت نہیں کرتیں۔ وہ قانون‘ بجٹ‘ سزا‘ تحفظ اور عملی اقدامات سے ثابت کرتی ہیں۔ اگر طاقتوروں کے مفاد کیلئے برسوں کے دشمن ایک میز پر بیٹھ سکتے ہیں تو پندرہ لاکھ بچوں کیلئے پوری ریاست ایک میز پر کیوں نہیں بیٹھ سکتی؟</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/229_33941343.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>دعا کی قبولیت کے اسباب(علامہ ابتسام الہٰی ظہیر )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-09-16/52675/87897688</link><pubDate>Wed, 16 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-09-16/52675/87897688</guid><description> اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید میں جا بجا اپنے بندوں کو دعا مانگنے کا حکم دیا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ البقرہ کی آیت: 186 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;جب میرے بندے میرے بارے میں آپ سے سوال کریں تو آپ کہہ دیں کہ میں بہت ہی قریب ہوں‘ ہر پکارنے والے کی پکار کو جب بھی وہ مجھے پکارے‘ قبول کرتا ہوں‘ اس لیے لوگوں کو بھی چاہیے (کہ) وہ میری بات مانا کریں اور مجھ پر ایمان رکھیں‘ یہی ان کی بھلائی کا باعث ہے‘‘۔ اسی طرح سورۃ النمل کی آیت: 62 میں ارشاد ہوا: &#39;&#39;بے کس کی پکار کو جبکہ وہ پکارے‘ کون قبول کر کے (اس پر سے) سختی کو دور کر دیتا ہے؟ اور (کون) تمہیں زمین کا خلیفہ بناتا ہے؟ کیا اللہ کے ساتھ اور معبود ہے؟ تم بہت کم نصیحت وعبرت حاصل کرتے ہو‘‘۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے دعا کی اہمیت کو سورۃ المومن کی آیت: 60 میں بڑے خوبصورت انداز میں کچھ یوں واضح کیا: &#39;&#39;اور تمہارے رب کا فرمان (جاری ہو چکا) ہے کہ مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعائوں کو قبول کروں گا‘ یقین مانو کہ جو لوگ میری عبادت سے خودسری کرتے ہیں وہ ابھی ابھی ذلیل ہو کر جہنم میں پہنچ جائیں گے‘‘۔ مذکورہ بالا آیات سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ انسانوں کی دعائوں کو قبول و منظور فرماتے ہیں لیکن اس کے باوجود بہت سے لوگ یہ بات کہتے نظر آتے ہیں کہ ہماری دعا قبول نہیں ہوتی۔ دعا کی قبولیت کیلئے بعض اسباب کا اختیار کرنا ضروری ہے‘ اگر ان کا اہتمام کر لیا جائے تو اللہ تبارک وتعالیٰ کے فضل وکرم سے دعا کی قبولیت کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ چند اہم اسباب درج ذیل ہیں:1۔ اخلاص اور یقین سے دعا مانگنا: جب انسان اخلاص اور یقین سے دعا مانگتا ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ اس کی دعا کو قبول فرماتے ہیں۔ اس کے مدمقابل اگر کوئی اگر کوئی شخص بے یقینی اور دلِ غافل سے دعا مانگتا ہے تو اس کی دعا قبول نہیں ہوتی۔ اس حوالے سے صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا &#39;&#39;اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اپنے بندے کے گمان کے ساتھ ہوں اور جب بھی وہ مجھے یاد کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوں‘‘۔ جامع ترمذی میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: &#39;&#39;تم اللہ سے دعا مانگو اور اس یقین کے ساتھ مانگو کہ تمہاری دعا ضرور قبول ہو گی‘ اور (اچھی طرح) جان لو کہ اللہ تعالیٰ لاپروائی اور بے توجہی سے مانگی ہوئی‘ غفلت اور لہو ولعب میں مبتلا دل کی دعا قبول نہیں کرتا‘‘۔2۔ رزقِ حلال کا اہتمام: جو شخص رزق حلال کمانے کیلئے تگ و دو کرتا اور اس کے بعد اللہ تبارک وتعالیٰ سے دعا مانگتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی دعا کو قبول ومنظور فرماتے ہیں۔ صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: &#39;&#39;اے لوگو! اللہ تعالیٰ پاک ہے اور پاک (مال) کے سوا (کوئی مال) قبول نہیں کرتا اور اللہ نے مومنوں کو بھی اسی بات کا حکم دیا جس کا رسولوں کو حکم دیا‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: &#39;&#39;اے پیغمبرانِ کرام! پاک چیزیں کھائو اور نیک کام کرو‘ جو عمل تم کرتے ہو‘ میں اسے اچھی طرح جاننے والا ہوں‘‘۔ اور فرمایا : &#39;&#39;اے مومنو! جو پاک رزق ہم نے تمہیں عنایت فرمایا ہے اس میں سے کھائو‘‘۔ پھر آپﷺ نے ایک آدمی کا ذکر کیا کہ جو طویل سفر کرتا ہے‘ بال پراگندہ اور جسم غبار آلود ہے‘ (دعا کیلئے) آسمان کی طرف اپنے دونوں ہاتھ پھیلاتا ہے: اے میرے رب! اے میرے رب! جبکہ اس کا کھانا حرام کا ہے‘ اس کا پینا حرام کا ہے‘ اس کا لباس حرام کا ہے اور اس کو غذا حرام کی ملی ہے‘ تو اس کی دعا کہاں سے قبول ہو گی!‘‘۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات کے ذریعے دعا کرنا: اللہ تبارک وتعالیٰ کے خوبصورت نام ہیں اور انسان کو ان ناموں کے ساتھ اللہ تبارک وتعالیٰ کو پکارنا چاہیے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الاعراف کی آیت: 180 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;اور اچھے اچھے نام اللہ ہی کیلئے ہیں سو ان ناموں سے اللہ کو پکارا کرو‘‘۔ مثلاً رزق کیلئے &#39;&#39;یا رزاق‘‘، مغفرت کیلئے &#39;&#39;یا غفور‘‘ اور &#39;&#39;یا رحیم‘‘ کہہ کر دعا کی جا سکتی ہے۔ 4۔ دعا سے پہلے اللہ کی حمد و ثنا اور نبی کریمﷺ کی ذاتِ اقدس پر درود بھیجنا: سنن ابودائود میں حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہﷺ نے ایک شخص کو نماز میں دعا کرتے ہوئے سنا کہ اس نے اللہ کی حمد و ثنا کی تھی اور نہ ہی نبیﷺ پر درود پڑھا تھا‘ تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: &#39;&#39;اس نے جلدی کی‘‘۔ پھر اس شخص کو بلایا اور (اسے یا کسی دوسرے سے) فرمایا: &#39;&#39;جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو پہلے اپنے رب کی حمد و ثنا بیان کرے‘ پھر نبیﷺ کیلئے درود پڑھے‘ اس کے بعد جو چاہے دعا کرے‘‘۔5۔ سجدے میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگنا: سجدہ عاجزی کی انتہا ہے۔ جب انسان سجدے کی حالت میں اللہ تبارک وتعالیٰ سے دعا مانگتا ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ اس کی دعا کو قبول فرماتے ہیں۔ اس حوالے سے صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: &#39;&#39;بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب اس حالت میں ہوتا ہے جب وہ سجدے میں ہوتا ہے‘ لہٰذا اس میں کثرت سے دعا کرو‘‘۔6۔ تہجد اور رات کے آخری حصے میں دعا مانگنا: جب لوگوں کی اکثریت اپنے بستروں پر سوئی ہوتی ہے تو ایسے عالم میں جو شخص اللہ تبارک وتعالیٰ کی بارگاہ میں اپنی حاجات کو پیش کرتا ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ اس کی دعائوں کو قبول ومنظور فرماتے ہیں۔ اس حوالے سے صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ ہمارا پروردگار بلند (اور) برکت والا ہے‘ ہر رات کو اُس وقت آسمانِ دنیا پر آتا ہے جب رات کا آخری تہائی حصہ رہ جاتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ کوئی مجھ سے دعا کرنے والا ہے کہ میں اس کی دعا قبول کروں‘ کوئی مجھ سے مانگنے والا ہے کہ میں اسے دوں‘ کوئی مجھ سے بخشش طلب کرنے والا ہے کہ میں اس کو بخش دوں۔7۔ اذان اور اقامت کے درمیان دعا مانگنا: نماز دین کا ستون اور اسلام کا دوسرا اہم رکن ہے۔ اذان نماز کے بلاوے کا نام ہے۔ اذان اور اقامت کے درمیانی وقفے کو دعا کی قبولیت کے حوالے سے بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ جو شخص اس دوران اللہ تبارک وتعالیٰ کی بارگاہ میں دعا مانگتا ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ اس کی دعا کو قبول ومنظور فرماتے ہیں۔ اس حوالے سے سنن ابو دائود میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا &#39;&#39;اذان اور اقامت کے مابین دعا رد نہیں کی جاتی‘‘۔8۔ جلد بازی اور گناہ کی دعا سے اجتناب: جب انسان تسلسل کے ساتھ دعا مانگتا ہے اور دعا کے قبول نہ ہونے پر بھی مایوس نہیں ہوتا تو اللہ تبارک وتعالیٰ اس کی دعا کو قبول فرماتے ہیں۔ تاہم قطع رحمی اور گناہ کی دعا نہیں مانگنی چاہیے۔ اس حوالے سے صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول کریمﷺ نے فرمایا &#39;&#39;جب تک کوئی بندہ گناہ یا قطع رحمی کی دعا نہ کرے اور قبولیت کے معاملے میں جلد بازی نہ کرے‘ اس کی دعا قبول ہوتی رہتی ہے‘‘۔ عرض کی گئی: اللہ کے رسولﷺ! جلد بازی کرنا کیا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا &#39;&#39;وہ کہے کہ میں نے دعا کی اور میں نے دعا کی مگر مجھے نظر نہیں آتا کہ وہ میرے حق میں (یہ دعا)قبول کرے گا‘ پھر اس مرحلے میں (مایوس ہو کر) تھک جائے اور دعا کرنا چھوڑ دے‘‘۔اگر مذکورہ بالا اسباب کو اختیار کر لیا جائے تو دعا کی قبولیت کے امکانات روشن ہو جائیں گے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کی دعائوں کو قبول و منظور فرمائے‘ آمین!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_19740082.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>