<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>پائیدار امن کیلئے سفارتی کوششوں کی ضرورت(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-25/11392</link><pubDate>Sat, 25 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-25/11392</guid><description>کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں پاکستان کے وزیر خارجہ کی ایرانی ہم منصب کیساتھ ملاقات میں خطے کی صورتحال پر پاکستان کی جانب سے شدید تشویش کا اظہار کیا گیا اور فریقین کو پائیدار امن کیلئے سفارتی کوششیں شروع کرنے اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر مؤثر عملدرآمد اور تعاون کو آگے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحق ڈار نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات سے پیدا ہونے والے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تنازع کے مستقل حل کیلئے کردار ادا کرے۔ اس میں شک نہیں کہ مذاکرات‘ سفارتکاری اور باہمی احترام ہی تنازعات کے حل اور دیرپا امن و سلامتی کے قیام کا واحد پائیدار راستہ ہے۔ دنیا دیکھ چکی ہے کہ طویل اور تباہ کن تنازعات بھی بالآخر مذاکرات کے ذریعے طے پاتے ہیں۔ طاقت کی ایک حد ہوتی ہے اورکوئی بھی طاقت ہمیشہ جنگ نہیں لڑ سکتی ؛ چنانچہ امن کے مواقع کی قدر کرنی چاہیے اور ان سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ امریکہ ایران تصادم میں پاکستان کی کوششوں سے اسلام آباد یادداشت کی صورت میں قابلِ قدر پیشرفت ہوئی تھی مگر بدقسمتی سے فریقین اس روش پر چند قدم ہی آگے بڑھ سکے اور پھر تصادم کی جانب پلٹ گئے۔

یہ افسوسناک صورتحال قریب دو ہفتوں سے دو طرفہ حملوں کی صورت میں جاری ہے اور دونوں جانب جانی و مالی نقصان ہو رہا ہے۔ مگر سب سے بڑا نقصان مشرق وسطیٰ کے خطے میں امن کے امکانات کو لاحق خطرات کا ہے۔ دنیا کا یہ حصہ توانائی کی دولت سے مالا مال اور عالمی سرمایہ کاری کے جدید ترین انفراسٹرکچر کی بدولت دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کیلئے پُرکشش ہے‘ جسے ایران پر امریکی حملے سے پیدا ہونیوالے عدم استحکام نے جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کا ترقیاتی ماڈل اس قسم کے حالات کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اس خطے کی ترقی یہاں کے سیاسی‘ معاشی اور سکیورٹی استحکام کی وجہ سے ہے‘ یہی اس خطے کے سرکردہ ممالک کی وجہ شہرت رہی ہے۔ مگر ایران کے خلاف امریکی جنگ نے ترقی کے اس ماڈل کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں اور اسکے اثرات غیر معمولی ہیں۔ معاشی نقطۂ نظر سے اس تباہ کن صورتحال سے نکلنا صرف اس خطے کے ممالک کی ضرورت نہیں یہ پوری دنیا کے مفاد میں ہے‘ اور اس کیلئے سفارتی اقدامات کے سوا کوئی آپشن نہیں۔ امریکہ ایران جنگ کے اس دوسرے راؤنڈ میں کشیدگی کے پھیلاؤ کے اندیشے زیادہ باعثِ تشویش ہیں۔
تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل کی سطح کو چھو کر پیچھے ہٹی ہیں مگر بعید نہیں کہ کشیدگی شدت اختیار کرے تو توانائی کا عالمی بحران خوفناک صورت اختیار کر جائے۔ آبنائے ہرمز میں سے جہازوں کی آمدورفت عملاً نہ ہونے کے برابر ہے۔ اسکا مطلب یہ ہے کہ تیل کی ایک چوتھائی عالمی کھپت کے برابر کمی کا سامنا ہے۔ اسکے اثرات قیمتوں میں اضافے کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔ ایران اور خلیجی ریاستوں کیلئے مناسب ہے کہ اس کشیدگی کو باہمی دشمنی اور طویل مدتی رنجش کا سبب بننے سے حتی المقدور بچنے کی کوشش کریں کیونکہ ایران اور امریکہ کے معاملات کی جو بھی صورت ہو مگر خطے کے ممالک اور ایران نے یہیں رہنا ہے؛ چنانچہ کشیدگی اس درجے کو نہ پہنچے کہ ان زخموں کو بھرنا ممکن نہ رہے۔ ایران اور عرب ممالک کا مفاد باہمی تعلقات کی بہتری میں ہے۔ ایران کی جانب سے ہمسایہ ممالک میں کیے جانیوالے حملوں پر ان ممالک کی حکومتوں اور عوام کی تشویش سمجھ میں آتی ہے۔
ہرچند کہ ایران ان حملوں کا ہدف امریکی مفادات کو قرار دیتا ہے۔ ان حالات میں حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کیساتھ کشیدگی کو ہوا دینے اور بحری ناکہ بندی کی باتیں مزید تشویش کا موجب ہیں۔ ایران اور خطے کے عرب ممالک کو اعتماد سازی اور اچھی ہمسائیگی پر مبنی تعلقات کی بنیادوں کو مضبوط کرنے کی اشد ضرورت ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>گندم درآمد کا فیصلہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-25/11391</link><pubDate>Sat, 25 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-25/11391</guid><description>ملک میں گندم کے سنگین بحران کے پیشِ نظر وفاقی حکومت نے 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کے مطابق یہ فیصلہ گندم اور آٹے کی قیمتوں میں استحکام لانے اور سپلائی کا تسلسل برقرار رکھنے کیلئے کیا گیا ہے۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان جیسے زرخیز زرعی ملک کو‘ جہاں گندم بنیادی فصل ہے‘ اپنی ضروریات پوری کرنے کیلئے درآمدات کا سہارا کیوں لینا پڑ رہا ہے؟ اکنامک سروے 2026ء کے مطابق حالیہ سیزن میں ملک میں گندم کی پیداوار دو کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی جبکہ گزشتہ برس کے تقریباً 20 لاکھ ٹن ذخائر بھی موجود تھے۔ 115 کلوگرام فی کس سالانہ کھپت کے حساب سے ملک کی مجموعی ضرورت تقریباً تین کروڑ چھ لاکھ ٹن بنتی ہے۔ یہ اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ پیداوار اور دستیابی بظاہر ملکی ضرورت کے مطابق تھی مگر اسکے باوجود حکومت کو گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کرنا پڑا ۔

یہ صورتحال محض پیداوار کی نہیں بلکہ ناقص منصوبہ بندی‘ کمزور سپلائی چین اور مؤثر نگرانی نہ ہونے جیسے انتظامی و پالیسی مسائل کی نشاندہی کرتی ہے۔ یہ امر بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ درآمدی گندم مقامی گندم کے مقابلے میں مہنگی پڑتی ہے جس کا بوجھ عوام کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ مستقبل میں گندم کے حوالے سے دیرپا حکمتِ عملی ضروری ہے تاکہ ہر سال گندم بحران جنم نہ لے۔ حکومت کو اپنی زرعی پالیسیوں خصوصاً گندم پالیسی کا ازسرِنو جائزہ لینا چاہیے۔ ساتھ ہی ذخیرہ اندوزی‘ مصنوعی قلت اور ناجائز منافع خوری میں ملوث عناصر کیخلاف کارروائی بھی ضروری ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مہنگائی میں مزید اضافہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-25/11390</link><pubDate>Sat, 25 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-25/11390</guid><description>وفاقی ادارۂ شماریات کے مطابق 23جولائی کو ختم ہونے والے کاروباری ہفتے کے دوران 22 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جبکہ مہنگائی کی شرح 9.66 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سالانہ بنیادوں پر سب سے زیادہ اضافہ ٹماٹرکی قیمت میں‘ 253 فیصد ہوا جبکہ پیاز کی قیمت میں 81 فیصد‘ آٹا 74 فیصد‘ ایل پی جی 46 فیصد‘ ڈیزل 31 فیصد‘ بجلی 22 اور پٹرول کی قیمت میں 20 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران پٹرول کی قیمت میں 20 اور ڈیزل کی قیمت میں 55 روپے فی لٹر سے زائد اضافہ ہوچکا۔ اگرچہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کی وجہ عالمی منڈی میں ان کے نرخ بڑھنا ہے لیکن پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو جواز بنا کر ناجائز منافع خوری کا جو بازار گرم ہے اس نے عوام کی زندگی اجیرن بنا رکھی ہے۔

حکومت کی جانب سے جیسے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی ردو بدل پر بھی فوری عملدرآمد یقینی بنایا جاتا ہے‘ اشیائے ضروریہ کے سرکاری نرخوں پر عملدرآمد کے حوالے سے بھی ایسا سخت انتظام کیا جانا چاہیے۔ دوسری جانب عوام کی روز بروز کم ہوتی معاشی سکت ایک بڑا مسئلہ ہے۔ بے روزگار طبقے کو روزگار کی آسان فراہمی اور عوام کی معاشی سکت بڑھائے بغیر مہنگائی کا خاتمہ ممکن نہیں۔اس لیے حکومت کو اس جانب بھی توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>جنگ پھیل رہی ہے(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-07-25/52357/56544324</link><pubDate>Sat, 25 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-07-25/52357/56544324</guid><description>جنگ پھیل رہی ہے۔ اس کا بے لگام گھوڑا سر پٹ دوڑ رہا ہے۔ یہ جنگ کا مزاج ہے۔ جنگ آپ اپنی مرضی سے شروع تو کر سکتے ہیں‘ ختم نہیں کر سکتے۔یہ بات کوئی راز نہیں۔ ہر وہ آدمی جانتا ہے جسے دنیا کی تاریخ کی کچھ بھی خبر ہے۔ اس لیے صدر ٹرمپ جیسے لوگ دنیا کے لیے فساد کا پیغام ثابت ہوتے ہیں جو تاریخ کو جانتے ہیں نہ سیاست کے علم ہی سے واقف ہوتے ہیں۔ ان کے لیے تاریخ ان کی ذات سے شروع ہوتی اور ان کے مفاد پر ختم ہو جاتی ہے۔ ان کا خیال تھا کہ غزہ میں وہ ایک نئے شہر کی بنیاد رکھیں گے۔ اس راہ میں حائل رکاوٹوں کو انہوں نے آہستہ آہستہ ختم کر دیا یا غیر فعال بنا دیا۔ ایران کے بارے میں ان کا گمان یہی تھا کہ وہ جلد اس پر قابو پا لیں گے۔ معاملہ مگر الٹ ہو گیا۔ دوسری طرف ایران کی قیادت کا تجزیہ یہ ہے کہ اس جنگ کے پھیلنے سے اس کا بھلا ہو گا۔ اس کا طرزِ عمل یہ ہے کہ اگر ایران میں بربادی آتی ہے تو دوسرے ممالک کو بھی پُرسکون نہیں رہنا چاہیے۔ ایران کواس سے کوئی  غرض نہیں کہ خطے میں تباہی پھیلتی ہے یا امن۔ یہ قابلِ فہم ہے۔ اگر دوسروں کو اس کی پروا نہیں تو اسے کیوں ہو۔امریکہ مگر یہ نہیں چاہتا تھا۔ اُس کا منصوبہ یہ تھا کہ ایران کو فتح کرنے کے بعد جو مشرقِ وسطیٰ ہو گا‘ اس میں وہ اپنی مرضی سے جغرافیائی تبدیلیاں لا سکے گا۔ جنگ کا پھیلنا اس کے مفاد میں نہیں تھا۔ اس معاملے میں بھی ایران &#39;فاتح‘ ہے کہ اس نے جنگ کو پھیلا دیا ہے۔ اگر سعودی عرب اور حوثیوں کے مابین براہِ راست جنگ شروع ہوتی ہے تو پاکستان کو بھی اس میں شریک ہونا پڑے گا۔ یوں یہ جنگ مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہے گی۔ اس کے معاشی نتائج الگ ہیں‘ جو ہم تک پہنچ رہے ہیں۔ آئے دن پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں اضافہ اسی کا نتیجہ ہے۔ آج صورتِ حال یہ ہے کہ آنے والے کل کی کسی کو خبر نہیں۔ جنگ اسی کا نام ہے۔دوسری جنگِ عظیم کے بعد دنیا نے بہت کچھ سیکھا۔ یورپ اور جاپان جیسی ریاستوں نے جنگ سے ہمیشہ کے لیے نجات کو اپنی حکمتِ عملی کا حصہ بنایا۔ امریکہ اور سوویت یونین نے مگر سرد اور گرم‘ دونوں جنگوں کے لیے دروازے کھلے رکھے۔ ان جنگوں نے سوویت یونین کو روس تک محدود کر دیا۔ روس مگر آج بھی یوکرین سے سینگ پھنسائے ہوئے ہے۔ امریکہ نے افغانستان سے لے کر مشرقِ وسطیٰ تک‘ جنگ کا الاؤ روشن رکھا۔ وقت کے ساتھ اسلام کو ماننے والے انتہا پسند بھی اس جنگ کا حصہ بن گئے۔ افغانستان اور ایران میں اقتدار ان کو مل گیا۔ اس طرح دنیا دوبارہ عالمی جنگ کے دہانے پر آ کھڑی ہوئی۔یورپ آج بھی پُرامن ہے۔ یہاں کی تمام ریاستوں نے خود کو جنگ سے دور رکھا ہے۔ یہی سبب ہے کہ وہاں سکیورٹی سٹیٹ کے بجائے ویلفیئر سٹیٹ کا ماڈل اپنایا گیا۔ آج اگر دنیا میں کہیں لوگ آسودہ حال ہیں اور جنگ جیسے عذاب سے محفوظ ہیں تو وہ یورپین بالخصوص سکینڈے نیوین ممالک ہیں۔ برطانیہ نے اسرائیل کی بنیاد رکھ کر مشرقِ وسطیٰ میں فساد کی چنگاری بھڑکا دی مگر یورپ میں امن ہی کا ساتھ دیا۔ اس کا یورپ کو فائدہ ہوا۔ دنیا البتہ سرخ سامراج کا نشانہ بن گئی یا امریکی سامراج کا۔ رہی سہی کسر مذہبی انتہا پسندوں نے نکال دی۔ آج امریکہ جنگ کا علمبردار ہے یا یہ انتہا پسند۔ جنگ کبھی اسرائیل کا انتخاب نہیں ہو گا اگر امریکہ اس کی پشت پناہی نہ کرے۔ امریکہ کی پہلی جنگیں کسی حکمتِ عملی کے تحت تھیں‘ جن میں اسے کامیابی ہوئی۔ اس نے اپنے اہداف حاصل کیے۔ اخلاق یا قانون کسی سامراجی قوت کا کبھی مسئلہ نہیں رہا۔ امریکہ نے بھی اسے مسئلہ نہیں بنایا۔آج امریکہ کی قیادت ایسے شخص کے پاس ہے جس میں حکمتِ عملی طے کرنے کی صلاحیت ہی نہیں۔ وہ صرف اقدام کرنا جانتا ہے۔ اسی وجہ سے ایران کے ساتھ جنگ میں‘ نہ صرف امریکہ اہداف حاصل نہیں کر سکا بلکہ اس کے ساتھ جنگ کی لگام بھی ہاتھ سے نکل گئی۔ آج جنگ پھیل رہی ہے۔ ایرانی پراکسیز پوری طرح سرگرم ہو چکیں۔ لبنان میں حزب اللہ کو کمزور کیا گیا مگر اب حوثی متحرک ہو چکے۔ سعودی عرب کی قیادت نے حکمت کا مظاہرہ کیا اور خود کو جنگ سے دور رکھا۔ اب مگر حالات ایسے بن رہے ہیں کہ اس کا دور رہنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ سعودی عرب کی شرکت کے بعد کیا ہوگا‘ اس سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں۔ اس لیے کہ جنگ ایک بے لگام گھوڑا ہے۔پاکستان اگر سعودی عرب کے ساتھ معاہدے کے باعث‘ اس جنگ میں عملاً شرکت پر مجبور ہوتا ہے تو ایران کے ساتھ ہمارے تعلقات متاثر ہوں گے۔ پاکستان میں ایسے طبقات موجود ہیں جو پاکستان سے زیادہ ایران کے وفادار ہیں۔ وہ بھی غیر متحرک نہیں رہیں گے۔ یوں یہ جنگ پاکستان میں داخلی عدم استحکام پیدا کر سکتی ہے۔ یہ بات بھی ذہن میں تازہ رہنی چاہیے کہ ایران نے اگر اس جنگ کا مذہبی اور مسلکی تشخص برقرار رکھا تو مسلک کی بنیاد پر مشرقِ وسطیٰ کے معاشروں میں بھی اضطراب پیدا ہو سکتا ہے۔ یہ سب باتیں جنگ کے آغاز میں صدر ٹرمپ نے نہیں سوچی ہوں گی۔ وہ اس کی اہلیت ہی نہیں رکھتے۔ اس سے مگر حالات پر کوئی اثر نہیں پڑتا کہ کس نے کیا سوچا۔ جنگ نے اپنے اثرات دکھانے ہیں اور ہم دیکھنے پر مجبور ہیں۔ امریکہ جغرافیائی فاصلے کی وجہ سے ابھی جنگ کے براہِ راست اثرات سے محفوظ ہے۔ یہ امکان مگر موجود ہے کہ ایران کو دیوار سے لگا دینے کے بعد‘ اس کے فدائین متحرک ہوں اور امریکہ کو ایک نئی القاعدہ کا سامنا کرنا پڑے۔ لوگ اب اس کے بارے میں بات کرنے لگے ہیں۔دنیا میں کبھی ایک تحریک اٹھی تھی جو جنگ اور ایٹمی ہتھیاروں کے خلاف تھی۔ اس کو شک کی نظر سے دیکھا گیا اور اسے عوامی تائید نہیں مل سکی۔ واقعہ یہ ہے کہ دنیا کو آج بھی ایسی تحریک کی شدت سے ضرورت ہے جو عالمِ انسانیت کو جنگ سے نجات دلا نے کے لیے آواز اٹھائے۔ اس نجات کے لیے ٹرمپ جیسے لیڈروں اور انتہا پسندانہ مذہبی تعبیرات اور قیادت سے نجات ضروری ہے۔ جنگ کے نتائج کو بچشمِ سر دیکھنے کے بعد‘ کوئی ذی عقل جنگ کی حمایت نہیں کر سکتا۔ اس جنگ میں ہم نے یہ بھی دیکھ لیا کہ جنگ کو کسی ایک خطۂ زمین تک محدود رکھنا کسی کے بس میں نہیں۔ اگر ہمیں اس کا ادراک ہوگا تو ہم دنیا کے کسی خطے میں جنگ کی حمایت نہیں کریں گے۔ پھر یہ بات بھی سامنے رہے کہ دنیا کی بہت سے ریاستوں کو مجبوری میں اپنے دفاع پر وسائل سے بڑھ کر وسائل خرچ کرنا پڑتے ہیں۔ اس لیے سامراجی سوچ اور غلبے کی نفسیات کو بھی موضوع بنانا چاہیے۔ مثال کے طور پر اگر بھارت ایٹمی قوت نہ بنتا تو پاکستان کو اس کی ضرورت نہ ہوتی۔ یا اگر کشمیر جیسے تنازعات حل نہیں ہوتے تو جنگ کا امکان ختم نہیں ہو سکتا۔ اس لیے سفارتی سطح پر زیادہ سرگرمی کی ضرورت ہے جو جنگ کا پُرامن متبادل ہے۔جنگ کا خاتمہ ایک خواب ہے۔ اس کی تعبیر مگر موجود ہے۔ اگر یورپ کی متحارب ریاستیں پُرامن بقائے باہمی کا معاہدہ کر سکتی ہیں تو مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کیوں نہیں؟ پاکستان اور بھارت کیوں نہیں؟ یہ سوالات ان خطوں کی قیادت کو سوچنے کی دعوت دے رہے ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>امیر العظیم بھی رخصت ہوئے(خالد مسعود خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-07-25/52358/19404594</link><pubDate>Sat, 25 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-07-25/52358/19404594</guid><description>برادرِ عزیز امیر العظیم نہایت ہی عزم و حوصلے اور صبر کے ساتھ اپنی بیماری سے لڑتے ہوئے اپنے اللہ کے حضور پیش ہو گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ میرا رحیم و کریم مالک امیر العظیم پر اپنی رحمتیں نازل کرتے ہوئے ان کی آخرت کی منزلیں آسان فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے‘ آمین۔مجھے امیر العظیم سے اپنی پہلی ملاقات تو یاد نہیں کہ کب ہوئی لیکن آخری ملاقات یاد ہے۔ 24 مئی 2026ء کو‘ یعنی آج سے دو ماہ قبل برادرم طاہر علوی کے بیٹے کے ولیمے پر ناتواں‘ نڈھال لیکن حوصلہ مند امیر العظیم سے ملاقات ہوئی تو ان سے مل کر ہمیشہ کی طرح ہونے والی خوشی کے بجائے ملال ہوا اور دل اداس ہو گیا۔ مجھے علم تھا کہ امیر العظیم کی طبیعت کافی ناساز ہے مگر ایسے امیر العظیم کا تو کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا جیسا امیر العظیم اس دن میرے سامنے تھا۔ دوستی کے معاملے میں ہمارا یہ دوست ایسا تھا کہ اس کی مثال دینا محال ہے لیکن اسے اچھی طرح جاننے کے باوجود حیرت ہوئی کہ وہ اس حالت میں بھی دوستی نبھانے کے لیے ولیمے کی تقریب میں پہنچ سکتا ہے۔ ایسی حالت میں تو ہم جیسا بندہ ہسپتال کے بستر سے قدم نیچے نہ رکھے‘ کجا کہ ایک دیرینہ دوست کے بیٹے کے ولیمے میں شرکت کی غرض سے خاصا لمبا فاصلہ طے کر کے پہنچ جائے۔ ایمانداری کی بات ہے کہ امیر العظیم کی حا لت دیکھ کر دل میں عجب قسم کے وسوسے آئے مگر ہم جن سے محبت کرتے ہیں ان کے بارے میں جدائی کی حد پر جا کر سوچنے کے بجائے معجزوں کا انتظار کرتے ہیں۔ اُس روز میرے دل میں بھی معجزے کی شمع روشن ہوئی تھی جو 22 جولائی کو گُل ہو گئی۔امیر العظیم سے دوستی کو کئی عشرے بیت چکے ہیں۔ میں جب بہاء الدین زکریا یونیورسٹی سے اخراج کے بعد اپنی بحالی کے لیے لاہور ہائیکورٹ میں دائر کردہ درخواست کی پیروی کے لیے لاہور جاتا تو تاریخ پر حاضر ہونے کے لیے کئی دن لاہور رکنا پڑتا۔ تب ہمارے وکیل ارشاد قریشی تھے۔ ہم اپنے کیس کی تاریخ سے دو دن پہلے ان کے پاس دفتر پہنچ جاتے۔ حلیم الطبع ارشاد قریشی نہ صرف یہ کہ ہمارا کیس مفت لڑ رہے تھے بلکہ ہماری دو چار گھنٹے کی اپنے دفتر میں موجودگی کے دوران بسکٹ اور چائے وغیرہ سے تواضع بھی کرتے رہتے تھے۔ لاہور میں رہائش کے لیے پنجاب یونیورسٹی میں زیر تعلیم بہت سے دوستوں کے دل اور کمرے ہمارے لیے وا ہوتے تھے۔ امیر العظیم سے دوستی کا آغاز انہی دنوں ہوا جو نہ صرف قائم رہا بلکہ وقت کے ساتھ یہ تعلق مضبوط سے مضبوط تر ہوتا گیا۔بردرِ عزیز امیر العظیم دوستوں کے لیے نہ صرف یہ کہ ہمہ وقت چشم براہ رہتے تھے بلکہ دوستی نبھانے کے سلسلے میں اس درجے تک چلے جاتے تھے جو آج کل تقریباً مفقود ہی ہو چکا ہے۔ مجھے اس سلسلے میں ایک بار ذاتی طور پر ایسا تجربہ ہوا کہ جب اس کا سوچتا ہوں تو خیال آتا ہے کہ امیر العظیم دوستی نبھانے اور دوستوں کے لیے حد سے گزر جانے والا ایسا شخص تھا جو اس زمانے میں خال خال ہی باقی بچے تھے اور اب ان کی رخصتی کے بعد یہ خلا مزید بڑھ گیا ہے۔میں اپنے نہایت ہی عزیز مرحوم دوست احمد بلال کے پاس کراچی گیا تو اس نے مجھے بتایا کہ اس کی ایک بیوہ کزن جس کے دو تین چھوٹے چھوٹے بچے ہیں‘ نے اپنے شوہر کی وفات کے بعد لاہور کی ایک مہنگی رہائشی کالونی میں واقع اپنا مکان ایک وکیل کو کرائے پر دے دیا اور خود ایک چھوٹے سے کرائے کے مکان میں منتقل ہو گئی تاکہ وہ اپنے مکان سے ملنے والے کرائے سے گھر اور بچوں کے اخراجات پورے کر سکے۔ اس خاتون نے اس دوران ایک پرائیویٹ سکول میں نوکری بھی کر لی مگر جس وکیل کو مکان کرائے پر دیا تھا اس نے نہ صرف یہ کہ کرایہ دینا بند کر دیا بلکہ الٹا گھر کی ملکیت کا دعویٰ بھی کر دیا۔ احمد بلال نے مجھے اس مسئلے کا بتایا اور مدد طلب کی۔ میں نے یہ بات امیر العظیم سے کی تو انہوں نے اس مسئلے کو حل کرنے کی ہامی بھر لی۔ سچ تو یہ ہے کہ مجھے تب اس معاملے کی پوری سنگینی کا شاید اندازہ ہی نہیں تھا۔امیر العظیم نے ہامی کیا بھری‘ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ہر ممکن طریقہ آزمایا۔ پہلے تو اس وکیل سے ملاقات کر کے اس کو مکان مالکہ کے حالات اور مالی مشکلات کا بتایا اور کرائے کی ادائیگی یا گھر خالی کرنے میں سے ایک کام کرنے کا کہا مگر سب کچھ بے فائدہ نکلا۔ پھر امیر العظیم نے اس سلسلے میں علاقے کے معززین کو اکٹھا کر کے ایک پنچایت کی مگر یہ بھی بے نتیجہ ثابت ہوئی۔ امیر العظیم نے اس پر وکلا تنظیم کے ذریعے دباؤ ڈالا تو اس نے جواباً امیر العظیم کے خلاف اپنے حامی وکلا کی مدد سے ایک درخواست جمع کروا دی اور ایک روز گھر آنے پر 15 پر فون کر کے پولیس بلوا لی۔ امیر العظیم پولیس کے آنے پر ان کے ساتھ چل پڑے‘ وہ تو ان کے انچارج نے امیر العظیم کو پہچان لیا اور کہا کہ آپ نے بتایا کیوں نہیں کہ آپ کون ہیں۔ امیر العظیم نے کہا: میرا تعارف اتنا اہم نہیں جتنا یہ کہ آپ حقداروں کے لیے تو کچھ نہیں کرتے مگر ناجائز قابضین کے تحفظ کے لیے فوراً سے پیشتر پہنچ جاتے ہیں۔ ایمانداری کی بات ہے کہ یہ معاملہ اگر خود میرے ذمے ہوتا تو شاید میں اس سے دستبردار ہو جاتا مگر امیر العظیم کو داد دینا پڑتی ہے کہ انہوں نے نہ تو ہمت ہاری اور نہ ہی اپنی کوششوں میں کوئی کمی آنے دی۔ اس مسلسل بھاگ دوڑ اور پیچھا کرنے کے دوران امیر العظیم کو کسی ذریعے سے یہ علم ہوا کہ وکیل موصوف کی ایل ایل بی کی ڈگری جعلی ہے۔ امیر العظیم نے پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ امتحانات سے اس ڈگری کی تصدیق کرائی تو وہ واقعتاً جعلی نکلی۔ اب امیر العظیم نے اس وکیل کے وکالتی لائسنس اور بار کی رکنیت کی منسوخی کا معاملہ اٹھا دیا اور دونوں کام پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے بعد جعلی وکیل کو کہا کہ اگر آپ گھر خالی کر دیں تو معاملہ یہیں ختم ہو جائے گا بصورت دیگر میں آپ پر جعلی ڈگری‘ فراڈ وکالت اور گھر پر ناجائز قبضے کے سلسلے میں فوجداری کیس دائر کر دوں گا۔ اس نے امیر العظیم کی مستقل مزاجی‘ بے خوفی اور ڈٹے رہنے کا مظاہرہ دیکھتے ہوئے عافیت اسی میں جانی کہ گھر چھوڑ دے۔ آج بھی وہ خاندان امیر العظیم کو دعائیں دے رہا ہے۔ یہ صرف ایک واقعہ تھا۔اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم اعلیٰ اور جمعیت کے پلیٹ فارم سے پنجاب یونیورسٹی کے صدر رہنے والے امیر العظیم نے سیاسی حوالے سے اقتدار کی کرسی اور دنیاوی فوائد کی جانب جانے والے راستے کے بجائے نظریاتی راستے کا انتخاب کیا جو طویل بھی تھا اور کٹھن بھی۔ عملی زندگی میں آنے کے بعد بہت سے دیگر ہمعصر طلبہ کے برعکس اقتدار کے شارٹ کٹ کے طور پر سکہ رائج الوقت سیاسی جماعتوں میں شمولیت کے بجائے جماعت اسلامی کی راہ اختیار کی اور گزشتہ سات سال سے اس کے جنرل سیکرٹری کے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ وہ گزشتہ کچھ عرصے سے کینسر جیسے موذی مرض کا شکار تھے مگر اس تمام عرصہ میں بھی رخصت لینے اور آرام کرنے کے بجائے آخر دم تک اپنی تنظیمی اور جماعتی سرگرمیاں سر انجام دیتے رہے۔ عالی ہمت‘ باحوصلہ اور ہر آزمائش پر مسکرانے والا یہ دوست مورخہ 22 جولائی کو دارِفانی سے عالم جاودانی کی طرف روانہ ہو گیا۔ مجھے امید ہی نہیں یقین ہے کہ مالکِ روزِ جزا امیر العظیم کو آخرت کی منزلوں اور حساب میں وہی آسانیاں فراہم کرے گا جو اس کی تائید و اجازت سے اس کا یہ بندہ‘ دنیا میں مخلوقِ خدا کو فراہم کرتا رہا ہے۔ افسوس ہوا کہ میں اس کی نمازِ جنازہ میں شرکت نہ کر سکا‘ مگر اطمینان ہے کہ مالکِ کائنات ہم فقیروں کی دعائیں زمان و مکان سے بالاتر ہو کر سنتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90500073.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>امیر العظیم، استقامت کا کوہِ گراں(ڈاکٹر حسین احمد پراچہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-07-25/52359/69469320</link><pubDate>Sat, 25 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-07-25/52359/69469320</guid><description>ذرا چشمِ تصور سے سوچیے کہ ایک شخص کو اجل کا پیغام مل چکا ہے اور اسے معلوم ہے کہ کسی بھی لمحے اس فرمان پر عملدرآمد ہو سکتا ہے۔ اگر یہ سب کچھ معلوم ہونے کے باوجود اس شخص کے چہرے پرگھبراہٹ نہیں سکنیت ہو اور پریشانی نہیں مکمل اطمینان ہو تو ایسے شخص کو نفسِ مطمٔنہ ہی کہا جائے گا۔جناب امیر العظیم سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان طویل عرصے سے کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا تھے مگر انہوں نے بیماری کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے اور تادمِ واپسی رضائے الٰہی اور خدمتِ خلق کے مشن پر مستعدی و تندہی کے ساتھ کار بند رہے۔ دینی و دنیاوی اعتبار سے کسی اہم ذمہ داری پر فائز شخص کیلئے خوش خلقی اور خوئے دل نوازی سب سے اہم خوبیاں شمار کی جاتی ہیں۔ خوش اخلاقی وہ مقناطیس ہے جو لوگوں کو کشاں کشاں آپ اور آپ کے مشن کی طرف کھینچ لاتا ہے۔ اللہ کے رسولﷺ نے بھی اخلاقِ حسنہ کو مومن کی سب سے بڑی صفت قرار دیا ہے۔ مبدأ فیاض سے یہ صفات امیر العظیم صاحب کو فیاضی سے عطا کی گئی تھیں۔امیر العظیم صاحب 1958ء میں اس دنیا میں وارد ہوئے۔ وہ لاہور کے ممتاز تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم رہے اور پھر انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے ایم بی اے کیا۔ وہ طلبہ میں محبوب رہنما کے طور پر جانے اور پہچانے جاتے تھے۔ جامعہ کے طلبہ و طالبات نے انہیں 1982ء میں پنجاب یونیورسٹی سٹوڈنٹس یونین کا صدر منتخب کیا تھا۔ اُن کی صدارت کے ایک دو سال بعد صدر ضیا الحق نے ملک بھر میں طلبہ انجمنوں پر پابندی عائد کر دی۔ ان سے پہلے جاوید ہاشمی‘ فرید پراچہ‘ عبدالشکور‘ مسعود کھوکھر‘ لیاقت بلوچ اور ملک اختر جاویدپنجاب یونیورسٹی سٹوڈنٹس یونین کے صدور کے طور پر طلبہ کی ویلفیئر کیلئے فرائض انجام دیتے رہے۔ 1984 ء میں امیر العظیم نے طلبہ انجمنوں پر پابندی کے خلاف ملک بھر کی سٹوڈنٹس یونینز کیساتھ مل کر تحریک چلائی۔ وہ ایک جھوٹے مقدمے میں جیل بھیج دیے گئے۔ وہ پسِ دیوارِ زنداں تھے کہ جب انہیں اسلامی جمعیت طلبہ نے اپنا ناظم اعلیٰ چن لیا۔ طلبہ قیادت اور پنجاب یونیورسٹی کی سیادت کے بعد انہوں نے جماعت اسلامی میں شرکت کا فیصلہ کیا کہ کوئی اور سیاسی جماعت اُن کی نگاہوں میں جچی ہی نہیں۔ امیر العظیم صاحب طلبہ سیاست میں بہت معروف اور ممتاز تھے۔ 1960ء سے لے کر 1980ء تک حکمران اور سیاستدان طالب علم رہنماؤں کو بہت اہمیت دیتے تھے۔ امیر العظیم صاحب بھی چاہتے تو اپنے بعض دیگر ساتھیوں کی طرح کسی بڑی سیاسی جماعت میں شرکت کر کے منصبِ وزارت یا کوئی اہم عہدہ حاصل کر سکتے تھے مگر انہوں نے خوب غور و فکر کے بعد ایک نظریاتی جماعت میں شمولیت اختیار کی۔ وہ لاہور اور پنجاب میں جماعت اسلامی کی کئی اہم ذمہ داریاں بطریق احسن نبھاتے رہے۔ پھروہ جماعت کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات مقرر ہوئے۔ 2019ء سے وہ جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل تھے۔ اخلاقِ حسنہ کی صفات کے ساتھ ساتھ امیر العظیم صاحب ایک مدبر سیاستدان‘ ایک متحرک تحریکی کارکن و لیڈر اور ایک باوقار قومی رہنما تھے۔ یہ خاکسار عمر میں امیر العظیم سے بڑا ہے۔ اتنے اہم مراتب و مناصب کے باوجود وہ میرا دلی احترام کرتے تھے جو ایک چھوٹے بھائی کو بڑے بھائی کا کرنا چاہیے۔ آج اس بھائی کی جدائی سے دل بہت نڈھال ہے۔ جماعت اسلامی ملک کی وہ دینی و سیاسی جماعت ہے جو دو قومی نظریے کے مطابق روزِ اوّل سے پاکستان کو نظریاتی‘ اسلامی اور جمہوری و فلاحی ریاست بنانا چاہتی ہے۔ جماعت اقتدار میں ہو یا اقتدار سے باہر اس کی دیانت و امانت کی قسم اس کے مخالفین بھی کھاتے ہیں‘ یہی وہ اسباب ہیں جن کی بنا پر سیاست کا یہ طالبعلم ہمیشہ جماعت اسلامی کے ساتھ ہمدردی کا تعلقِ خاطر محسوس کرتا رہا ہے۔ تاہم اپنی کوتاہ علمی کے باوجود جس بات کو درست سمجھتا ہوں وہ اکابرِ جماعت تک قلم یا قول کے ذریعے پہچانے کی کوشش کرتا ہوں۔ محترم قاضی حسین احمد صاحب شفقت کا سلوک فرماتے تھے‘ سیّد منور حسن صاحب سے یک گونہ بے تکلفی تھی۔ جناب سراج الحق اور محترم حافظ نعیم الرحمن صاحب کے ساتھ احترامِ باہمی کا حسنِ تعلق قائم ہے۔ایک ڈیڑھ سال پہلے کی بات ہے کہ جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد صاحب کے اپنی جماعت سے کچھ اختلاف ہو گئے تھے۔ بہت سے نوجوان ملک کے اندر اور باہر سینیٹر صاحب کی سینیٹ میں جرأت و بیباکی کو بہت پسند کرتے تھے۔ البتہ جماعت کے بہت سے سینئر قائدین کی رائے تھی کہ سینیٹر صاحب کو کسی بھی مقامی و عالمی معاملے میں الگ سے نہیں‘ جماعت کے فورم سے کام کرنا چاہیے۔ اس سلسلے میں خاکسار کی رائے بھی یہ تھی کہ سینیٹر صاحب کو جماعتی نظم کا پابند ہونا چاہیے کیونکہ جماعت نے ہی انہیں خیبر پختونخوا کی امارت کا منصب بھی سونپا تھا اور سینیٹر بھی منتخب کرایا تھا۔ ادھر حافظ نعیم الرحمن صاحب سے بھی گزارش کی کہ وہ اتنے بڑے جماعتی اثاثہ سے براہِ راست افہام و تفہیم کی بنیاد پر معاملات طے فرمائیں۔ اس موضوع اور دیگر کئی سیاسی و نظری معاملات کے بارے میں امیر العظیم صاحب سے بے تکلف ملاقاتیں ہوتی رہیں۔ میری معلومات کے مطابق امیر العظیم صاحب دو تین بار بطورِ خاص لاہور سے اسلام آباد گئے اور انہوں نے سینیٹر مشتاق احمد صاحب کو جماعت کے اصولی مؤقف کے حوالے سے قائل کرنے کی کوشش کی۔ اس طرح کے معاملات کے بارے میں امیر العظیم صاحب سے جب کبھی ملاقات کی درخواست کی تو انہوں نے یہی کہا کہ آپ نہیں‘ میں حاضر ہوں گا۔ لہٰذا کبھی غریب خانے پر اور کبھی باہر ان سے بے تکلف بات چیت ہوتی رہی۔ اتنی بڑی جماعت کے سیکرٹری جنرل ہونے کے باوجود وہ بخوشی ملاقات کیلئے تشریف لاتے تھے۔ امیر العظیم صاحب کا یہ بہت بڑا وصف تھا کہ وہ مخاطب کا مؤقف مسکراتے ہوئے نہایت انہماک سے سنتے اور پھر اپنا نقطۂ نظر بیان کرتے۔ جماعتی معاملات میں اُن کا ذاتی زاویۂ نگاہ جماعتی مؤقف سے مختلف ہوتا۔ بعض حوالوں سے سینیٹر مشتاق صاحب بھی اس خاکسار کیساتھ احتراماً پیش آتے ہیں۔ ایک دو تفصیلی ملاقاتوں میں انہیں عرض کیا تھا کہ موج ہے دریا میں بیرونِ دریا کچھ نہیں مگر انہوں دریا سے باہر آنے کو ترجیح دی۔ وہ بھی یہی کہتے تھے کہ میں جماعت کے اجتماعی فیصلے کا پابند ہوں اور اس سے سرمو انحراف نہیں کر سکتا۔امیر العظیم صاحب کی وفات سے صرف پانچ چھ روز قبل میں اور بھائی فرید پراچہ عیادت کیلئے ان کے دولت خانے پر حاضر ہوئے۔ تب میں نے محسوس کیا کہ درد کی شدت اور نقاہت کے باوجود انہوں نے مسکراتے ہوئے مصافحے کیلئے ہاتھ بڑھایا۔ میں نے محسوس کیا امیر العظیم وہ سفید روح ہیں کہ جو اپنے ابدی دیس واپسی کیلئے بخوشی تیار ہے۔ علامہ اقبالؒ نے کہا تھا: موت کے آئینے میں تجھ کو دکھا کر رخِ دوست؍ زندگی تیرے لیے اور بھی دشوار کرےحیات و موت کی حقیقت سمجھنے کی ضرورت ہے۔ حیات بشری روح اور جسم کے باہمی تعلق کا نام ہے۔ موت اس تعلق کے ٹوٹنے اور روح کی اپنے ابدی وطن واپسی کا نام ہے۔ جناب امیر العظیم شریں بیانی اور نکتہ آفرینی سے مرصع مواد کے ساتھ ایک شعلہ نوا مقرر تھے۔ 23جولائی 2026ء کے روز منصورہ میں ہزاروں لوگوں کے ساتھ حافظ نعیم الرحمن صاحب کی امامت میں نمازِ جنازہ ادا کرتے ہوئے مجھے 18اپریل 2024ء کا دن یاد آ گیا۔ اُس روز حافظ صاحب نے امیر جماعت اسلامی کی امارت کا حلف اٹھایا تھا۔ اس موقع پر امیر العظیم صاحب نے جماعت کی دعوت و عزیمت اور پاکستانی سیاست کے حوالے ایک شاہکار تقریر کی تھی۔ 23جولائی کو وہ بولتا ہوا چمن خاموش تھا۔ اسے اپنے رب کی یہ پکار یقینا سنائی دے رہی ہوگی &#39;&#39;اے نفس مطمٔنہ اپنے رب کی طرف اس حال میں لوٹ آؤ کہ تو اس سے راضی ہو اور وہ تجھ سے راضی ہو‘‘۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_70033906.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کیا خوب قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور(افتخار احمد سندھو)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/iktakhar-ahmed-sandhu/2026-07-25/52360/59629298</link><pubDate>Sat, 25 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/iktakhar-ahmed-sandhu/2026-07-25/52360/59629298</guid><description>بلاشبہ ہمارے ملک کے حکمرانوں نے عوام کیلئے زندگی تنگ کرکے رکھ دی ہے‘ جیسے انہیں زندگی جینے کا کوئی حق نہیں۔ یوں لگتا ہے کہ عام آدمی پیدا ہی بجلی کا بل ادا کرنے کیلئے ہوا ہے۔ تخت لاہور کے بغل شیخوپورہ میں ایک انتہائی دردناک بلکہ قیامت خیز واقعہ پیش آیا ہے کہ زیادہ بجلی استعمال کرنے پر ایک باپ نے بیٹے کو قتل کر دیا۔ یہ واقعہ کوئی ایک نہیں‘ روزانہ ایسے کئی واقعات ہوتے ہیں لیکن رپورٹ نہیں ہو پاتے۔ بجلی کی قیمت میں اضافے کے باعث ہر دوسرے گھر میں لڑائی جھگڑے ہو رہے ہیں۔ لوگوں میں بجلی کے بل ادا کرنے کی سکت نہیں اور وہ ایک دوسرے کو جان سے مارنے پر اتر آتے ہیں‘ یہاں تک کہ ایک باپ نے اپنے حقیقی بیٹے کو قتل کر ڈالا۔ بجلی کے بل پوری قوم کو لے بیٹھیں گے کیونکہ اس سے بڑا عذاب اور کوئی نہیں ہے۔ بقول پروین شاکر:ہم تو سمجھے تھے کہ اک زخم ہے بھر جائے گا؍ کیا خبر تھی کہ رگِ جاں میں اُتر جائے گاجب بیٹے کا سر باپ کے کندھوں تک آ جائے تو باپ اپنے آپ میں پھولے نہیں سماتا اور اپنے دکھ درد بھول جاتا ہے کہ اس کو اپنے بڑھاپے کا سہارا مل گیا ہے۔ اس لیے بیٹے کو باپ کی کمر یعنی Backbone کہا جاتا ہے۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ بیٹے کیلئے اللہ کے پیارے نبیوں نے رو رو کر دعائیں کیں اور ان کی دعاؤں کو شرفِ قبولیت ملا۔ اور اسی بیٹے کی قربانی کے ذریعے جد الانبیا ابراہیم علیہ السلام کو آزمائش سے بھی گزرنا پڑا کہ بڑھاپے کے اکلوتے سہارے کی گردن پر چھری چلانا کوئی آسان کام نہیں۔ یہ آزمائش تھی جس پر اللہ کے نبی پورے اترے‘ لیکن شیخوپورہ میں ایسی کون سی قیامت آ گئی کہ ایک باپ نے اپنے جواں سال‘ شادی شدہ بیٹے کو قتل کر دیا۔ ابھی تو بیٹے کے ہاتھوں کی مہندی بھی خشک نہیں ہوئی تھی کہ باپ نے قیامت ڈھا دی۔ہمارے حکمرانوں نے بجلی اور پٹرول کی قیمتیں بڑھا بڑھا کر لوگوں کی زندگیاں عذاب بنا دی ہیں۔ لوگ نفسیاتی مریض بن چکے ہیں۔ شیخوپورہ میں باپ کے ہاتھوں ہونے والے قتل کا پرچہ حاکمِ وقت کے علاوہ ان حکمرانوں کے خلاف بھی کاٹا جانا چاہیے جنہوں نے آئی پی پیز کے ساتھ اس طرح کے معاہدے کیے ہیں کہ بجلی لیں یا نہ لیں‘ آئی پی پیز کو پیسے دینا پڑیں گے۔ اصل میں قاتل آئی پی پیز بھی ہیں‘ مقدمہ ان کے خلاف بھی درج ہونا چاہیے۔ ظلم تو دیکھیں کہ عوام کو کیسے نوچ نوچ کر کھا رہے ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں‘ اس لیے کہ چوکیدار چوروں سے ملے ہوئے ہیں۔ہمارے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے بالکل ٹھیک کہا تھا: کوئی شرم ہوتی ہے‘ کوئی حیا ہوتی ہے‘ جو کہ بدقسمتی سے ہمارے حکمرانوں میں نہیں ہے۔ بنگلہ دیش کے وزیراعظم نے کسی بھی سرکاری پروجیکٹ پرکسی سرکاری آدمی کے نام کا بورڈ لگانے سے منع کر دیا ہے۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ وہ کس کلاس سے تعلق رکھتا ہے‘ اس کے باوجود اس کو اتنی شرم آ گئی ہے مگر ہمارے حکمرانوں کو نہیں آتی۔ وہ اپنی کمپنی کی مشہوری پر تو خرچ کر رہے ہیں لیکن عوام کی حالت بدلنے کیلئے بالکل بھی تیار نہیں۔ کسی دوسرے ملک میں یوں ہوا ہوتا تو پورا معاشرہ حکومت کا تیا پانچہ کر چکا ہوتا لیکن ہمارے ملک میں لوگ بیروزگاری‘ غربت اور مہنگائی کی وجہ سے اپنے اپنے گھر میں ایک دوسرے کے ہاتھوں قتل ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔بلاشبہ غربت اور بھوک تہذیب کے آداب کو مٹا دیتی ہے۔ تاریخی اور موجودہ مثالوں کی روشنی میں ثابت ہو چکا ہے کہ غربت اور بھوک تہذیب کے زوال کا سبب بنتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں افلاس یعنی غربت آج کل ایک ایسا گمبھیر مسئلہ بن چکا ہے کہ جس کی وجہ سے کئی خاندانوں کے افراد کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ بھی امیر لوگوں کی طرح کھائیں‘ پئیں اور پہنیں لیکن غربت اور مہنگائی کے باعث یہ سب کچھ ممکن نہیں۔ افلاس غریب آدمی کے بچوں کو وہ تہذیب سکھا رہا ہے جو شاید کتابوں کی دنیا سے کوسوں دور ہے۔ یہ بچے شرارتیں کرنے اور کھیلنے کودنے کی عمر میں بے بسی کی خاموش تصویر بن کر رہ جاتے ہیں: افلاس نے بچوں کو بھی تہذیب سکھا دی ؍ سہمے ہوئے رہتے ہیں شرارت نہیں کرتےاس امر میں کوئی شک نہیں کہ کسی ملک کی فوجی طاقت اور دفاعی قوت کی بنیاد اور اس کے سیاسی استحکام کی لازمی شرط معاشی تعمیر ہے۔ معاشی و اقتصادی ترقی غربت کے خاتمے اور خود کفالت کیلئے ضروری ہے۔ خطِ غربت یا افلاس آمدنی کی وہ شرح ہے‘ جو سرکاری اعداد وشمار کے مطابق غذا‘ لباس اور مسکن جیسی ضروری اشیا کے لیے وافر مقدار کے ساتھ معیاری زندگی کے بنیادی حصول کے لیے درکار ہوتا ہے۔ افلاس کی اس سے بڑی مثال کیا ہو سکتی ہے کہ ہمارے حکمرانوں کی عیاشی‘ فضول خرچی اور اللوں تللوں کے باعث پاکستان مکمل طور پر غیر ملکی مالیاتی سہاروں کا محتاج ہو چکا ہے اور اپنی تھوڑی بہت پیداواری صلاحیت کو برقرار رکھنے کے لیے سامراج کا محتاج ہے اور عام آدمی کی حالت روز بروز پتلی ہو رہی ہے۔ وہ بیچارہ ہنسنا مسکرانا بھول گیا ہے۔ احمد جاوید نے ٹھیک کہاہے کہ کسی تہذیب کے افلاس کی انتہا یہ ہے کہ اس کی جمالیاتی قدریں بھی مانگے تانگے کی ہوں۔ بقول جون ایلیا:جو رعنائی نگاہوں کیلئے فردوسِ جلوہ ہے لباسِ مفلسی میں کتنی بے قیمت نظرآتییہاں تو جاذبیت بھی ہے دولت ہی کی پرودہ یہ لڑکی فاقہ کش ہوتی تو بدصورت نظرآتیغریب آدمی کو غربت اور مہنگائی کی وجہ سے ایک ایک روپیہ بچانا پڑتا ہے۔ کچھ کھانے کو دل ہی نہیں کرتا۔ جیسے کھانے میں لذت ہی نہیں رہی۔ کسی نے بالکل ٹھیک کہا ہے:مفلسی نے چھین لی لذت زبان سے؍ محنت کا پھل بھی اب میٹھا نہیں رہاغریب آدمی کی تو ساری محنت اور کمائی بجلی کا بل ادا کرنے پر صرف ہو جاتی ہے‘ وہ کھائے گا کیا‘ پیے گا کیا اور پہنے گا کیا؟ مہنگائی کے باعث اشیا کی قیمتوں کو آگ لگی ہوئی ہے۔ مہنگائی نے عام آدمی کو غریب سے فقیر بنا دیا ہے اور وہ زندہ رہنے کیلئے بھیک مانگنے پر مجبور ہے۔ اور یہ سب کچھ ہمارے مقتدر طبقات کا کیا دھرا ہے۔پاکستان کے سابق صدر ایوب خان ایک دفعہ بھارت کے دورے پر گئے‘ اس موقع پر ایک نغمہ گایا گیا جو اُن کے دل کے تاروں کو چھو گیا۔ ایوب خان کو یہ نغمہ اس قدر اچھا لگا کہ اس نغمہ نگار شاعر سے ملنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ جب صدر ایوب خان کو شاعر کے متعلق یہ بتایا گیا کہ اس شاعر کا تعلق پاکستان سے ہے تو وہ حیران رہ گئے۔ پاکستان واپس آتے ہی صدر ایوب نے اس شاعر سے ملنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے حکم دیا کہ اسے تلاش کیا جائے اور میرے سامنے لایا جائے۔ صدر کا حکم سنتے ہی ماتحتوں نے حکم بجا لانے کی کوششیں شروع کر دیں۔ ساغر صدیقی داتا دربار کے باہر کمبل میں لپٹے ہوئے زمانے کی ستم ظریفی کا رونا رو رہے تھے۔ لاکھ منتوں سماجتوں کے باوجود درویش شاعر نے ایوب خان کے پاس جانے سے انکار کر دیا‘ آخرکار جب اصرار بے حد بڑھ گیا اور ماتحت زبردستی پر اُتر آئے تو اُس فقیر نے پاس پڑی ہوئی سگریٹ کی ایک خالی ڈبی اٹھائی‘ اس میں سے ایلومینیم فوئل نکالی (جسے عام زبان میں کلی یا پنی کہتے ہیں) دکاندار سے قلم مانگا اور اس فوئل پر دو سطریں تحریر کرتے ہوئے کہا کہ جاؤ یہ جا کر صدر صاحب کو دے دو۔ لکھا تھا:جس عہد میں لٹ جائے فقیروں کی کمائی اس عہد کے سلطان سے کچھ بھول ہوئی ہےبدقسمتی سے ہم ووٹ دیتے وقت اکثر ایسے لوگوں کا انتخاب نہیں کرتے جو غریب اور عام آدمی کے دکھ درد کو سمجھتے ہوں۔ جب تک ہم کردار‘ خدمت اور دیانت داری کو بنیاد بنا کر اپنے نمائندے منتخب نہیں کریں گے‘ مثبت تبدیلی آنا مشکل رہے گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/228_40817243.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کرکٹ اور دیگر کھیلوں کا مستقبل(جویریہ صدیق )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/javeria-siddique/2026-07-25/52361/20369803</link><pubDate>Sat, 25 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/javeria-siddique/2026-07-25/52361/20369803</guid><description>پاکستان میں شاید ہی کوئی شخص ہو جس نے فیفا ورلڈ کپ کا فائنل نہ دیکھا ہو۔ مجھے خوشگوار حیرت ہوئی کہ کرکٹ کی دیوانی قوم چلو کچھ دیر تو اس کھیل کے حصار سے نکل کر کسی دوسرے کھیل کی طرف راغب ہوئی۔ پاکستانی بچوں اور نوجوانوں نے فیفا ورلڈ کپ کے تقریباً سارے میچ دیکھے‘ یہاں تک کہ رونالڈو کے شاندار کیریئر کے اختتام پر پاکستانی بچے بہت اداس نظر آئے۔ بچوں کا کھلاڑیوں سے پیار ایک بہت ہی منفرد جذبہ ہے۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ نئی نسل کرکٹ کے علاوہ بھی کسی کھیل کی طرف راغب ہوئی۔ نوجوان نسل نہ صرف فٹ بال اور اس کے کھلاڑیوں میں دلچسپی لے رہی ہے بلکہ یہ کھیل کھیلنا بھی چاہتی ہے۔ ورلڈ کپ کے دوران نوجوان اور بچے اپنے پسندیدہ فٹ بالرز کی کٹس خریدتے رہے‘ ان جیسے جوتے اور فٹ بال لے کر آئے۔ دوسری طرف فیفا کپ میں جس ملک کا فٹ بال استعمال ہوا اس ملک میں اس کھیل کی ترویج کیلئے کوئی تیار نہیں۔ 2030ء کا فیفا ورلڈ کپ سعودی عرب میں ہوگا۔ حکومت کو چاہیے کہ اپنے فٹ بال کے کھلاڑیوں کی کارکردگی بہتر بنانے پر توجہ دے تاکہ ہماری ٹیم بھی عالمی کپ میں کوالیفائی کر سکے۔ قومی کرکٹ ٹیم کی غیر یقینی کارکردگی شائقین کا بلڈ پریشر ہائی کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کرتی۔ پاکستانی عوام کی فٹ بال میں دلچسپی اس بات کو بھی ظاہر کرتی ہے کہ وہ اچھا کھیل دیکھنا چاہتے ہیں۔ اگر ہمارے ملک میں کرکٹ میچ ہو رہا ہو تو سڑکیں بند‘ راستے بند اور سٹیڈیمز میں شائقین کا داخلہ بند کر دیا جاتا ہے۔ایسے ماحول میں شائقین کھیلوں میں کم دلچسپی لیتے ہیں۔ ابھی سنا ہے کہ اسلام آباد میں ایک کرکٹ سٹیڈیم بننے جا رہا ہے۔ اس سے کرکٹ یا شائقینِ کرکٹ کو تو شاید کوئی فائدہ نہیں ہوالبتہ مارگلہ ہلز بری طرح تباہ ہوں گی۔فیفا ورلڈ کپ چونکہ امریکہ میں کھیلا جا رہا تھا‘ پاکستانی وقت کے مطابق فیفا کے میچز آدھی رات کو شروع ہوتے تھے لیکن شائقین پھر بھی پُرجوش انداز میں میچ دیکھتے تھے۔ فیفا ورلڈ کپ کے فائنل میچ کیلئے تو پاکستان میں مالز اور ہوٹلوں میں بڑی بڑی سکرینیں لگائی گئی تھیں جبکہ کئی شہروں میں انتظامیہ کی جانب سے بھی سکرینیں لگا ئی گئی تھیں۔ سی ڈی اے نے اسلام آباد کے ڈی چوک میں میلہ سجا رکھا تھا جہاں شہریوں کی بڑی تعداد میچ سے لطف اندوز ہوئی۔ زیادہ تر پاکستانی شائقین سپین کو سپورٹ کر رہے تھے۔ سپین کو سپورٹ کرنے کی ایک بڑی وجہ ان کے نوجوان کھلاڑی لامین یامال ہیں۔ وہ مسلمان ہیں‘ ان کے والدین ہجرت کر کے سپین آئے۔ جب وہ صرف تین ماہ کے تھے تو اقوامِ متحدہ کے ایک کیلنڈر کیلئے ارجنٹائن کے کھلاڑی میسی نے ان کی والدہ کے ساتھ انہیں فوٹو شوٹ کیلئے نہلایا تھا۔ یہ تصویر اٹھارہ سال بعد وائرل ہو گئی۔ بہت سے لوگ اس تصویر کو پسند کر رہے تھے تو بہت سے دوسرے لوگ میمز بنا کر ہنس رہے تھے۔ جس بچے کو کبھی میسی نے نہلایا تھا وہ 2026ء کے فیفا کپ میں میسی کے مد مقابل کھڑا تھا۔ لامین کا فٹ بال کیریئر شروع ہوا تو وہ اپنی محنت کی وجہ سے سپین کی ٹیم کا حصہ بن گئے۔ لامین فلسطین کے اعلانیہ حمایتی ہیں۔ارجنٹائن کو اس ورلڈ کپ میں فیورٹ قرار دیا جا رہا تھا لیکن مجھے لگتا ہے کہ سپین کی ٹیم کی محنت تو تھی ہی‘ ہم سب پاکستانیوں کی دعائیں بھی انہیں لگ گئیں اور وہ جیت گئے۔ سپین نے ارجنٹائن کو ایک صفر سے شکست دی اور اب چار سال وہ فٹ بال کی دنیا پر راج کرے گا۔ہار جیت کھیل کا حصہ ہوتی ہے لیکن کھلاڑیوں کا رویہ بھی بہت اہمیت رکھتا ہے۔ فائنل میں ارجنٹائن کے کھلاڑیوں کا رویہ ٹھیک نہیں تھا‘ وہ مغرور لگ رہے تھے۔ دوسری طرف سپین کے نوجوان کھلاڑی لامین کا جہاں کھیل بہت اچھا ہے‘ وہاں ان کا رویہ اور خیالات بھی بہترین ہیں۔ میں نے خود بھی فائنل میچ دیکھا‘میں نے دیکھا کہ جب لامین کی مخالف ٹیم کے کھلاڑی سے ٹکر ہوئی تو انہوں نے اس کو اٹھنے میں مدد دی۔ فائنل بہت سنسنی خیز تھا۔ بہت دن بعد ایسا پُرجوش مقابلہ دیکھا‘ اور اتنے اچھے انتظامات‘ اتنے اچھے گانے اور زندہ دل کراؤڈ‘ واہ کیا بات ہے۔ کاش ہم بھی ایسے ایونٹس اپنے ملک میں کرا سکیں لیکن ہمارے معاشی حالات اس چیز کی اجازت نہیں دیتے۔ سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد ہمارے ملک سے بڑے ایونٹس روٹھ گئے۔ کرکٹ پر فوکس ہونے کی وجہ سے دوسرے کھیل پاکستان سے تقریباً ختم ہو گئے ہیں۔ ایک وقت تھا کہ پاکستان سنوکر‘ سکواش‘ ہاکی اور فنِ پہلوانی میں راج کر رہا تھا۔ ایک وقت تھا جب پاکستان کا سکہ کرکٹ میں بھی چلتا تھا۔ اب پاکستان کھیلوں میں بہت پیچھے ہے۔ اولمپکس گیمز میں پاکستان کی کوئی متاثر کن کارکردگی نہیں۔ ایتھلیٹس سے زیادہ آفیشل دستے کا حصہ ہوتے ہیں۔ رگبی‘ فٹ بال‘ تیراکی‘ باسکٹ بال اور ٹینس میں ہم اپنا کوئی خاص وجود نہیں رکھتے۔ مجھے یہ دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ میرا خود بہت دل کرتا ہے کہ سائیکل چلاؤں یا پیڈل ٹینس کھیلوں لیکن اچھی سہولتیں وہاں ہیں جہاں ہر وقت وی آئی پی روٹس اور ٹریفک جام ہوتے ہیں‘ انسان وہاں جانے سے پہلے ہی ٹریفک میں تھک جائے۔ میرے گھر کے قریب ایف نائن پارک ہے لیکن وہاں کھیلوں کی کوئی سہولت نہیں اور خواتین گلی میں بیڈمنٹن نہیں کھیل سکتیں۔ خواتین کو ایسی جگہیں اچھی لگتی ہیں کہ وہ کچھ کھیل رہی ہوں یا واک‘ جم کر رہی ہوں تو لوگ انہیں نہ دیکھیں۔ ہم بطور معاشرہ کھیلوں‘ ورزش اور واک سے کوسوں دور ہیں۔ ملک میں موٹاپا‘ ذیابیطس جیسے امراض پھیل رہے ہیں اور عوام کا پسندیدہ مشغلہ صرف کھانا ہے۔ مرغن کھانے‘ بیکری آئٹمز اور چینی نے ہماری نسل کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ نہ ہی کوئی کھیلوں کی بات کرتا ہے‘ نہ ہی کوئی صحتمند طرزِ زندگی کی بات کرتا ہے۔ آئے روز ہمارے ملک میں غیر ضروری انڈر پاس اور پل بن رہے ہوتے ہیں۔ کبھی سنا کہ کوئی کھیل کا میدان بن رہا ہے‘ کسی پارک میں فٹ بال گراؤنڈ‘ کرکٹ پچ بن رہی ہو یا ٹینس کورٹ بنایا جا رہا ہو؟ایف الیون سے ایف ٹین کی طرف آئیں تو سینکڑوں بچے سڑک کنارے کرکٹ کھیل رہے ہوتے ہیں۔ آج تک اطراف کی آبادیوں میں کوئی چھوٹا پبلک پارک اَپ گریڈ نہیں ہوا اور نہ کوئی کھیل کا کوئی نیا میدان بنا۔ ہمارے ملک میں سڑک‘ پل اور مال فوری طور پر بن جاتے ہیں مگر جم‘ کھیل کا میدان اور سپورٹس کمپلیکس نہیں بنتے۔ اشرافیہ کی ساری توجہ کرکٹ کی طرف ہے۔ کرکٹ والوں کی ساری توجہ سٹارڈم‘ ماڈلنگ اور شہرت کی طرف ہے‘ تو سپورٹس کہاں ہیں؟ پاکستان کی آبادپچیس کروڑ سے زیادہ ہے‘ کیا سب ایک ہی کھیل کھیلیں گے؟ اول تو ہم کھیلوں والے عوام نہیں۔ بیٹھے رہنا‘ کھاتے رہنا اور باتیں کرنا ہم سب کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔ اوپر سے پالیسی اور وژن کا فقدان بھی ہے۔کھیل ہماری اشرافیہ کی ترجیح نہیں ہیں۔ حال سے ماضی کی طرف دیکھیں‘ 92ء کا کرکٹ ورلڈ کپ‘ 2017ء کی آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی‘2009ء ٹی ٹونٹی عالمی چیمپئن‘ جان شیر خان کا آٹھواں ورلڈ ٹائٹل 1996ء‘ محمد یوسف کا 1994ء میں عالمی سنوکر چیمپئن بننا‘ جہانگیر خان کے دس برٹش اوپن ٹائٹل اپنے نام کرنا‘ پاکستان کا ورلڈ ہاکی چیمپئن بننا‘ کیا تابناک ماضی تھا۔ پاکستان نے ہاکی میں تین گولڈ‘ تین سلور اور دو کانسی کے تمغے حاصل کیے اور اذلان شاہ کپ اس کے علاوہ تھا۔ 2026ء میں اولمپکس میں ارشد ندیم کا تمغہ پاکستان کو 32 سال بعد نصیب ہوا‘ 1992ء کے ہاکی تمغے کے بعد سے یہ اعزاز پاکستان کو نہیں ملا تھا۔ پاکستان میں بھی بہت ٹیلنٹ ہے لیکن اس کی سرپرستی‘ اونرشپ اور تربیت کرنے کو کوئی تیار نہیں۔ اس لیے کرکٹ کے علاوہ یہاں دیگر کھیلوں کا مستقبل مبہم ہے۔ کرکٹ کا مستقبل کیا ہے‘ اس پر بھی سوالیہ نشان لگا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_38020467.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>شگون …(2)(مفتی منیب الرحمٰن )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-07-25/52362/66649443</link><pubDate>Sat, 25 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-07-25/52362/66649443</guid><description>رسول اللہﷺ کا یہ فرمان کہ &#39;&#39;صفر کی کوئی حقیقت نہیں ہے‘‘ اس کے معنی یہ ہیں کہ ماہِ صفر کو جو لوگ منحوس تصور کرتے ہیں اور اس ماہ کی تیرہ تاریخ کو بعض لوگ تیرہ تیزی کہتے ہیں اور اس مہینے میں شادی نہیں کرتے‘ شریعت کی رُو سے یہ سب باتیں بالکل بے اصل اور باطل ہیں۔ امام احمد رضا قادری سے سوال ہوا: &#39;&#39;صفر کے آخری بدھ کے متعلق لوگوں میں مشہور ہے کہ اُس دن رسول اللہﷺ صحت یاب ہوئے تھے‘ لہٰذا وہ اس خوشی میں شیرینی تقسیم کرتے ہیں‘ بعض لوگ اس دن کو نَحس جان کر برتن توڑتے ہیں‘‘۔ آپ نے جواب دیا: &#39;&#39;آخری بدھ کی شریعت میں کوئی اصل نہیں اور اس دن برتن توڑنا مال ضائع کرنا ہے اور گناہ کا سبب ہے۔ اُس دن آپ کی صحت یابی کا بھی کوئی ثبوت نہیں‘ بلکہ جس مرض میں آپﷺ کا وصال ہوا‘ اُس کا آغاز صفر 11ھ کے آخری بدھ کے دن ہوا تھا اور ایک روایت کے مطابق حضرت ایوب علیہ السلام کی ا بتلا بھی بدھ ہی کے دن شروع ہوئی تھی‘‘۔رسول اللہﷺ کا یہ فرمان کہ &#39;&#39;ستارے کی کوئی اصل نہیں‘‘ یعنی نجومیوں کے یہ نظریات کہ ستاروں کی چالیں یا اُن کا کسی خاص برج میں ہونا انسانوں کی تقدیر پر اَثر انداز ہوتا ہے‘ یہ سب باتیں شریعت کی نظر میں باطل ہیں۔ علامہ اقبال نے کہا ہے:ستارہ کیا مِری تقدیر کی خبر دے گاوہ خود فراخیِ افلاک میں ہے خوار و زبوںبدشگونی کے شرک ہونے کے بارے میں علامہ علی القاری لکھتے ہیں: &#39;&#39;اگر کسی نے یہ اعتقاد کیا کہ نفع پہنچانے یا ضرر کو دور کرنے میں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی چیز مستقل مؤثر ہے تو یہ شرکِ جلی ہے۔ آپ نے اس کو شرک اس لیے فرمایا کہ وہ یہ اعتقاد کرتے تھے کہ جس چیز سے انہوں نے بدفالی لی ہے‘ وہ مصیبت پہنچانے میں ذاتی طور پر مؤثر ہے اور مؤثر بالذات مانے بغیر ان اسباب کا لحاظ کرنا شرکِ خفی ہے‘ خصوصاً جبکہ اس کے ساتھ جہالت اور ضُعفِ اعتقاد بھی ہو تو اس کا شرکِ خفی ہونا اور بھی واضح ہے‘‘ (مرقاۃ‘ ج: 9‘ ص: 6)۔ مُستقل مؤثر یا مؤثر بالذات ہونے کا معنی یہ ہے کہ جب وہ چیز ظاہر ہو تو نفع یا نقصان لازم ہو‘ جبکہ عام طور پر عالَمِ اسباب میں اسباب مؤثر بالذات نہیں ہوتے‘ جیسے دعا اور دوا وغیرہ‘ جب اللہ تعالیٰ کی مشیت ہوتی ہے تو مؤثر ہو جاتے ہیں اور اس کی مشیت نہ ہو تو مؤثر نہیں ہوتے۔علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں: &#39;&#39;خلاصہ یہ ہے کہ تمام دن اللہ تعالیٰ کے پیدا کیے ہوئے ہیں اور کوئی دن (اپنی ذات میں) نامسعود اور نامبارک نہیں ہے‘ اسی طرح تمام انسان اور اشیا اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ ہیں اور ان میں سے کوئی چیز اپنی ذات میں منحوس نہیں ہے۔ پس حادثات وآفات‘ بلائوں اور مصیبتوں کے نازل ہونے میں کسی چیز کا دخل نہیں ہے‘ ان تمام چیزوں کا تعلق اللہ تعالیٰ کی مشیت اور تقدیر سے ہے‘ کسی دن یا کسی چیزکا کسی شر کے پیدا ہونے یا کسی آفت کے نازل ہونے میں کوئی دخل اور اثر نہیں ہے‘ ہر چیز کا خالق اللہ تعالیٰ ہے اور بس! اسی لیے کسی بھی جائز اور صحیح کام کو کسی دن اور کسی چیز کی خصوصیت کی وجہ سے ترک کرنا جائز نہیں ہے اور کوئی دن اپنی ذات میں نحس نہیں ہے‘‘ (شرح صحیح مسلم‘ج:7‘ ص: 613)۔بعض لوگ الحجر کی بستی میں نبیﷺ کے نہ ٹھہرنے‘ وہاں کے پانی سے فائدہ نہ اٹھانے اور وادی مُحَسِّر میں تیزی سے گزرنے سے نحوست کے اثر انداز ہونے کا استدلال کرتے ہیں تو اس سے رسول اللہﷺ کا مقصد یہ تھا کہ ہمیں ایسے مقامات میں سیر وسیاحت کیلئے نہ جانا چاہیے‘ نہ وہاں ٹھہرنا چاہیے‘ بلکہ ان سے عبرت پکڑنی چاہیے اور ان قوموں کے انجام کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے ان پر عذاب کا سبب بننے والے کرتوتوں سے باز رہنا چاہیے۔ ایک مومن ہر نفع ونقصان کا مالک صرف اللہ کی ذات کو سمجھتا ہے‘ وہ ہر خیر اور ہر برائی اللہ کے اذن سے پہنچنے کا عقیدہ رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: &#39;&#39;جس شخص کو جو بھی مصیبت پہنچتی ہے وہ اللہ کے اذن سے پہنچتی ہے‘‘ (التغابن: 11)۔ حدیث پاک میں ہے: &#39;&#39;جان لو! اگر سب لوگ اس بات پر متفق ہو جائیں کہ تمہیں کوئی نفع پہنچائیں تو بھی صرف اتنا ہی فائدہ پہنچا سکیں گے جتنا اللہ نے تمہارے لیے (لوح تقدیر میں) لکھ دیا ہے اور اگر وہ تمہیں کوئی نقصان پہنچانے پر اتفاق کر لیں تو ہرگز کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے مگر وہ جو اللہ نے تمہارے لیے (تقدیر میں) لکھ دیا ہے‘ قلم اٹھا دیے گئے ہیں اور صحیفے خشک ہو چکے ہیں‘‘ (ترمذی: 2516)۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: &#39;&#39;ہر آدمی کا شگون اس کی گردن میں ہے‘‘ (مسند احمد: 14765) یعنی جو تقدیر میں لکھا ہے وہی ہوکر رہتا ہے۔ اگرکوئی بدشگونی کا شکار ہو جائے تو رسول اللہﷺ نے اس کا علاج بھی بتایا ہے۔ آپﷺ نے فرمایا: &#39;&#39;جس شخص کو بدشگونی نے کسی کام سے روک دیا وہ سمجھ لے کہ اس نے شرک کیا‘ صحابہ نے پوچھا: اس کا کفارہ کیا ہے؟ نبیﷺ نے فرمایا: (اس کا کفارہ یہ ہے کہ) تم یوں کہو: &#39;&#39;اَللّٰہُمَّ لَا خَیْرَ إِلَّا خَیْرُکَ وَلَا طَیْرَ إِلَّا طَیْرُکَ وَلَا إِلٰہَ غَیْرُکَ‘‘ ترجمہ: &#39;&#39;اے اللہ! تیری طرف سے ملنے والی خیر کے علاوہ کوئی خیر نہیں‘ تیرے شگون کے علاوہ کوئی شگون نہیں اور تیرے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں‘‘ (مسند احمد: 7045)۔رسول اللہﷺ نے ہر قسم کی بدشگو نی کو توکل سے دور کرنے کا حکم فرمایا ہے۔ آپﷺ نے ایک ساتھ تین مرتبہ ارشاد فرمایا: &#39;&#39;بدشگونی شرک ہے! اور ہم میں سے کوئی شخص ایسا نہیں ہے جس کے دل میں اس طرح کی کوئی بات نہ آتی ہو‘ مگر اللہ پر توکل سے یہ دور ہو جاتی ہے‘‘ (ابودائود: 3910)۔ آپﷺ نے فرمایا: &#39;&#39;تین چیزیں میری امت کو لازم ہیں: بدشگونی‘ حسد اور بدگمانی‘ ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہﷺ جس شخص میں یہ خصلتیں ہوں وہ ان کا تدارک کس طرح کرے‘ آ پﷺ نے فرمایا: جب تم حسد کرو تو استغفار کرو اور جب بدگمانی کرو تو اس پر جمے نہ رہو اور جب بدشگونی کرو تو وہ کا م کر گزرو‘‘ (معجم الکبیر للطبرانی: 3227)۔ بدشگونی سے بچنے پر نبیﷺ نے بے حساب جنت میں داخل ہونے کی بشارت دی ہے۔ فرمایا: &#39;&#39;میری امت میں سے ستر ہزار جنت میں بغیر حساب کے داخل ہوں گے اور یہ وہ لوگ ہیں جو دم کراتے ہوں گے نہ بدشگونی کرتے ہوں گے اور وہ اپنے رب پر ہی توکل کرتے ہوں گے‘‘ (بخاری: 6472)۔ دم کے متعلق یہ عقیدہ رکھنا کہ دم کرنے سے لامحالہ قطعی طور پر یہ بیماری دور ہو جائے گی اور دم ہی کو شافی سمجھے یا دم کرنے والے کو ہی کارسازسمجھ لے یا جس دم میں شرکیہ الفاظ ہوں‘ یہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر ایمان اور توکل کے خلاف ہے۔ اسلام سے پہلے جاہلیت میں لوگوں کی عادت تھی کہ وہ پرندے کو اڑاتے اگر وہ دائیں جانب چلا جاتا تو اس سے نیک فال لیتے اور اگر وہ بائیں جانب اڑتا تو اس سے بد فالی لیتے اور &#39;&#39;طیرۃ‘‘ اسے کہتے ہیں جو برائی میں ہوتی ہے اور &#39;&#39;فال‘‘ اس کو کہتے ہیں جو نیکی میں ہوتی ہے اور جو ان سب سے اعراض کرکے صرف اللہ تعالیٰ پر توکل کرتا ہے تو توکل کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ بے حساب جنت میں داخل فرمائے گا۔نبیﷺ نے بدشگونی لینے والوں سے برأت کا اظہار فرمایا ہے۔ آپﷺ نے فرمایا: وہ ہم میں سے نہیں ہے جو بدشگونی لے یا جس کیلئے بدشگونی لی جائے‘ جو کہانت (غیب کی خبریں دینے کا دعویٰ) کرے یا جس کیلئے کہانت کی جائے اور جو جادو ٹونا کرے یا جس کیلئے جادو کیا جائے‘‘ (معجم الاوسط: 4262)۔ حضرت فضلؓ بن عباس بیان کرتے ہیں: &#39;&#39;میں نبیﷺ کے ساتھ ایک دن باہر نکلا تو اچانک ایک ہرن نمودار ہوا اور وہ بائیں جانب مائل ہوا‘ میں آپﷺ کے ساتھ چمٹ کر کہنے لگا: یا رسول اللہﷺ! آپ نے برا شگون لیا ہے‘ آپﷺ نے فرمایا: بدشگونی وہ ہے‘ جو کام کرنے پر آمادہ کرے یا واپس لوٹا دے‘‘ (مسند احمد: 1824)۔ یعنی انسان کے دل میں وہم آئے اور وہ اس کو نظر انداز کرکے اپنا کام جاری رکھے تو یہ بدشگونی نہیں ہے‘ بلکہ اس کی وجہ سے اپنا ارادہ بدلنا یا اس کام سے رک جانا بدشگونی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_61172381.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>