<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>پاک ترکیہ تجارت اور ہم آہنگی(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-05/11333</link><pubDate>Sun, 05 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-05/11333</guid><description>وزیراعظم شہباز شریف نے ترکیہ کے دورے کے دوران استنبول میں صدر رجب طیب اردوان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان اور ترکیہ میں باہمی تجارت کا حجم پانچ ارب ڈالر تک بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا اور دو طرفہ تجارت‘ اقتصادی زونز میں سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون بڑھانے پر زور دیا۔ دونوں ملکوں کے درمیان  مذہبی‘ تاریخی اور ثقافتی رشتے گہرے ہیں مگر ان مضبوط تعلقات کا وہ معاشی فائدہ حاصل نہیں کیا جا سکا جس کی دونوں ملکوں میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دوطرفہ تجارت گزشتہ کئی برسوں سے اپنی حقیقی استعداد سے بہت کم رہی ہے۔ دونوں ملکوں کی باہمی تجارت کا موجودہ حجم ڈیڑھ ارب ڈالر کے قریب ہے‘ مگر اس میں پانچ ارب ڈالر تک نمو کی صلاحیت پائی جاتی ہے؛ چنانچہ دونوں ممالک نے کئی مواقع پر تجارت کو پانچ ارب ڈالر تک بڑھانے کا عزم ظاہر کیا لیکن عملی طور پر تجارتی حجم اس ہدف سے خاصا دور ہے۔ اس کی بنیادی وجوہات میں محدود تجارتی روابط‘ بعض اشیا پر محصولات کی بلند شرح‘ بینکنگ سہولتوں کی کمی اور نجی شعبے کے درمیان محدود روابط شامل ہیں۔ ان رکاوٹوں کو دور کرنے کے اقدامات کئے جائیں تو پاک ترکیہ تجارت میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔

پاکستان کے پاس زرعی پیداوار‘ معدنی وسائل‘ نوجوان افرادی قوت‘ ٹیکسٹائل‘ آئی ٹی سروسز اور اقتصادی راہداری کی صورت میں ایسی صلاحیت موجود ہے جو ترک سرمایہ کاروں کیلئے پُرکشش ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر دونوں ممالک اپنی اپنی معاشی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں تو دوطرفہ تجارت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے اور مشترکہ سرمایہ کاری کے ذریعے نئی منڈیاں بھی حاصل کی جا سکتی ہیں اور اس کے نتیجے میں برآمدات میں اضافہ‘ روزگار کے نئے مواقع اور صنعتی ترقی کی نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔ سیاحت بھی ایک ایسا شعبہ ہے جس میں وسیع امکانات موجود ہیں۔ ترکیہ دنیا کے کامیاب ترین سیاحتی ممالک میں شمار ہوتا ہے ‘ ترکیہ کے تجربات سے استفادہ کرتے ہوئے پاکستان میں سیاحتی صنعت کو جدید خطوط پر استوار کیا جاسکتا ہے۔ زرعی شعبے میں بھی اشتراک کے بے شمار مواقع موجود ہیں۔ ترکیہ جدید زرعی مشینری‘ فوڈ پراسیسنگ اور ویلیو ایڈیشن میں مہارت رکھتا ہے اور پاکستان میں ان شعبوں میں کام کرنے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ ہمارا زرعی شعبہ مشینری کی کمیابی اور جدید رجحانات سے ناواقفیت اور ویلیو ایڈیشن کی ناکافی سہولیات کی وجہ سے نقصان اٹھاتا ہے۔
ترکیہ کے تجربے سے سیکھ کر اور مشترکہ منصوبوں کے ذریعے پاکستانی زرعی مصنوعات کو عالمی منڈیوں تک بہتر رسائی مل سکتی ہے۔ مگر ان امکانات سے استفادے کیلئے سرمایہ کار دوست ماحول‘ شفاف پالیسیاں‘ ٹیکس اصلاحات اور کاروباری آسانیوں کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان اور ترکیہ میں اعتماد‘ تاریخی دوستی اورہم آہنگی اس مقصد کیلئے مضبوط بنیاد فراہم کرسکتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس اعتماد کو تجارت‘ سرمایہ کاری‘ صنعت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں ٹھوس نتائج میں تبدیل کیا جائے تاکہ دونوں برادر ممالک مشترکہ ترقی اور خوشحالی کے نئے دور کا آغاز کر سکیں۔ پاکستان اور ترکیہ میں اعتماد اور ہم آہنگی خطے میں پائیدار امن کی ضمانت ہے۔ دونوں ممالک مسلم دنیا کی اہم دفاعی قوت ہیں اور عالم اسلام میں امن‘ استحکام اور خوشحالی کی خواہش دونوں جانب پائی جاتی ہے۔
ایران امریکہ امن مذاکرات میں دونوں ملکوں میں قریبی ہم آہنگی رہی جس کا ذکر گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف اور صدر اردوان کی پریس کانفرنس میں بھی کئی بار آیا۔ ترکیہ اور پاکستان میں یہ ہم آہنگی خطے میں پائیدار امن کے مستقبل کی اہم ضرورت ہے اور اس کو مضبوط بنانے کیلئے دونوں ملکوں میں معاشی مراسم مزید گہرے ہونے چاہئیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>حیران کن ٹیکس نظام(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-05/11332</link><pubDate>Sun, 05 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-05/11332</guid><description>ایف بی آر کے اعداد و شمار نے ایک بار پھر ملکی ٹیکس نظام کی حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ مالی سال 2026ء میں تنخواہ دار طبقے سے 633 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا گیا جبکہ ریٹیلرز‘ برآمد کنندگان اور رئیل اسٹیٹ جیسے بڑے تجارتی شعبوں سے 435 ارب روپے۔ حقیقت یہ ہے کہ تنخواہ دار طبقہ ٹیکس وصولی کا آسان ترین ذریعہ ہے۔ ملازمین کی تنخواہوں سے ٹیکس براہِ راست کٹتا ہے اور یہ رقم بیٹھے بٹھائے ایف بی آر کے پاس پہنچ جاتی ہے‘ دوسری جانب وہ شعبے جہاں ماہانہ اربوں روپے کا کاروبار ہوتا ہے ایف بی آر اُن سے اتنا بھی ٹیکس وصول نہیں کر پاتا کہ تنخواہ دار طبقے کے برابر آ جائیں۔ ملک کو اس وقت مالیاتی خسارے‘ بڑھتے ہوئے قرضوں اور محدود وسائل جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔

ایسے حالات میں ٹیکس چوری اور غیر دستاویزی معیشت مزید برداشت نہیں کی جا سکتی۔ اگر ریٹیلرز‘ بڑے تاجروں‘ رئیل اسٹیٹ کے کاروبار اور دیگر زیادہ آمدن والے شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں شامل کر لیا جائے تو نہ صرف قومی محصولات میں نمایاں اضافہ ممکن ہے بلکہ تنخواہ دار طبقے کو بار بار قربانی کا بکرا بنانے کی ضرورت بھی نہیں رہے گی۔ ایک مضبوط معیشت اسی وقت وجود میں آتی ہے جب ٹیکس کا بوجھ سب پر انکی مالی استطاعت کے مطابق یکساں تقسیم ہو۔ تنخواہ دار طبقہ اپنی ذمہ داری مسلسل نبھا رہا ہے اب ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ ٹیکس انصاف کو یقینی بنائے۔ جو لوگ اور شعبے زیادہ کماتے ہیں انہیں بھی قومی خزانے میں اسی تناسب سے اپنا حصہ ڈالنا ہوگا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>غفلت اور حادثات(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-05/11331</link><pubDate>Sun, 05 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-05/11331</guid><description>سوات کی سیف اللہ جھیل میں کشتی الٹنے سے ایک ہی خاندان کے چھ افراد کی المناک موت ہمارے ہاں سیاحتی نظام میں سنگین انتظامی کمزوریوں اور حفاظتی غفلت کا واضح ثبوت ہے۔ مبینہ طور پر اس بد قسمت کشتی میں سوار سیاحوں نے لائف جیکٹیں نہیں پہن رکھی تھیں۔کشتی کے الٹنے کی وجہ جو بھی ہو مگر سیاحوں نے اگر معیاری لائف جیکٹیں پہنی ہوتیں تو اس حادثے سے بچنے کے امکانات کئی گنا زیادہ ہوتے۔ان قواعد و ضوابط پر عملدرآمد کی ذمہ داری سیاحوں کو سروسز مہیا کرنیوالوں پر عائد ہوتی ہے مگر اصل ذمہ داری علاقے کی انتظامیہ کی بنتی ہے جنہیں اپنی حدود میں ان قواعد پر عملدرآمد یقینی بنانا ہوتا ہے‘ مگر مقامی انتظامیہ کی جانب سے ایسے اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

اب سنتے ہیں کہ خیبر پختونخوا کی حکومت نے اس حادثے کی تحقیقات کیلئے کمیٹی قائم کی ہے جو کشتی آپریشن‘ اجازت نامے‘ حفاظتی تقاضوں‘ کشتی چلانیوالے کی اہلیت اور دیگر پہلوؤں کا جائزہ لے گی۔ مگر نگرانی‘ معائنے اور احتساب کا یہی نظام حادثے سے پہلے موجود ہوتا تواس حادثے کی نوبت ہی نہ آتی ۔ یہ سانحہ ایک انتباہ ہے کہ حفاظتی انتظامات کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو ایسے حادثات مستقبل میں بھی رونما ہوتے رہیں گے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت وقتی کارروائیوں کے بجائے سیاحتی مقامات پر جامع حفاظتی انتظامات یقینی بنائے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>یہ کمزوری کا سبق پتا نہیں کہاں سے آیا(ایاز امیر)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-07-05/52237/39145687</link><pubDate>Sun, 05 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-07-05/52237/39145687</guid><description>سنہ 47ء سے پہلے مسلم قیادت کی سیاسی کاوشیں اس تصورپر مبنی تھیں کہ ہندو چھا جائیں گے اورہمارے لیے یہاں ٹھہرنے کی جگہ نہ رہے گی۔ متحدہ پنجاب دریائے سندھ سے لے کر دلی کے بارڈر تک پھیلا ہوا تھا۔ اس خطے کا سیاسی سربراہ ایک مسلمان تھا۔ متحدہ بنگال چٹاگانگ سے لے کر کلکتہ تک پھیلا ہوا تھا۔ اس خطے کا سیاسی سربراہ ایک مسلمان۔ دلی او ریوپی کی اشرافیہ بہت حد تک مسلمان۔ بھوپال میں مسلمان‘ حیدرآباد دکن میں مسلمان۔ ممبئی میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد۔ قائد اعظم اسمبلی کے لیے الیکٹ ہوتے تھے تو ممبئی کی ایک مسلمان سیٹ سے۔ پختونوں کے دیس کا سیاسی لیڈر مسلمان۔ سندھ مسلمانوں کے ہاتھوں میں اور بلوچستان بھی۔ آبادی کے تناسب سے زیادہ تعداد مسلمانوں کی ہندوستانی فوج میں۔ لیکن یوپی اور علی گڑھ سے آنے والا یہ پیغام کہ انگریزوں سے آزادی ملی تو سیاسی سبقت کانگریس کی ہو جائے گی۔ مسلمانانِ ہند اس پیغام سے متاثر ہوئے اور دوسری ہر سوچ کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ہندو اکثریت کے تصور کے اسیر ہو گئے۔ تقسیمِ ہند کا فیصلہ ہوا تو ہزار سالہ تاریخ کی نشانیاں پیچھے چھوڑیں اور ایک نئے تصورِ زندگی کی طرف چل پڑے۔ یہ سوچ کم ہی ذہنوں میں تھی کہ تقسیمِ ہند کا لازمی مطلب تقسیمِ پنجاب اور تقسیمِ بنگال بھی ہو گا۔ خونریزی بنگال میں ہوئی لیکن خون کے اصل دریا پانچ دریاؤں کی سرزمین میں بہے۔ ہندوستان کے حصے میں آنے والے پنجاب میں مسلمان صدیوں سے اچھے طریقے سے بس رہے تھے۔ تقسیمِ ہند کے وقت جو آگ بھڑکی تو ساری آبادی کو قتل و غارت کے ایک جہنم سے گزر کر اس طرف آنا پڑا۔ یہاں کے ہندو اور سکھ اُس طرف ہجرت پر مجبور ہوئے اور مسلمان اُدھر سے ادھر۔ 46ء تک کم ہی لوگوں کو گمان تھا کہ اتنے بڑے پیمانے پر نسل کشی کا سلسلہ جاری ہوگا۔ مارچ 1947ء سے آہستہ آہستہ ہنگامے شروع ہوئے جن کی زد میں اقلیتیں آنے لگیں۔ ہندو اور سکھ اقلیتیں یہاں کی تھیں‘ مسلمان اُس طرف کے پنجاب کی آبادی میں اقلیتی حیثیت رکھتے تھے۔ زمین اور آبادیوں کی تقسیم ہوئی تو بعد میں دریاؤں اور پانیوں کی تقسیم بھی کرنی پڑی۔ آج سُن رہے ہیں کہ ہندوستان نے یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ منسوخ کر دیا ہے۔ لیڈرانِ قوم یہ سمجھنے سے قاصر رہے کہ بٹوارے کے بعد دونوں ملکوں کا بھلا اسی میں ہے کہ پنجاب کی نسل کشی کے باوجود ہمسائیگی کے تعلقات روا رکھے جائیں۔ وجوہات بہت سی تھیں لیکن ان سب وجوہات کو ملا کر بارڈر کے دونوں طرف کشیدگی اور پھر دشمنی کی آگ بھڑکائی گئی۔ پاکستان اپنا دفاع امریکی قربت میں ڈھونڈنے لگا اور جوں جوں امریکہ کے قریب گیا برصغیر میں پڑی دراڑیں زیادہ گہری ہونے لگیں۔تقسیمِ ہند کا نظریہ مسلم دانشوروں کے ذہنوں میں پختہ ہوا تھالیکن پاکستان بننے کے بعد مخاصمت کا سبب مسئلہ کشمیربنا۔ کیونکہ یہ مسئلہ پیدا ہو چکا تھا‘ توپ و تفنگ کی تیاری بھی ضروری ہوگئی ہے۔ کبھی پانی کا مسئلہ اٹھتا کہ فلاں موسم میں ہندوستان نے دریاؤں کے پانیوں کے ساتھ چھیڑخانی کی ہے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ مخاصمت کی اصل وجہ مسئلہ کشمیر ہی رہا۔ 14اگست 1947ء سے پہلے مسلم لیگی قیادت کے کلام میں کشمیر کا ذکر شاذونادر ہی ہوتا تھا‘مسلم لیگ قیادت کی زیادہ  نظریں حیدرآباد دکن پر تھیں کہ کسی طرح وہ پاکستان کے حصے میں آ جائے۔ حالانکہ نقشہ سامنے ہوتو اس سوچ کی خام خیالی ظاہر ہو جاتی ہے۔ آزادیٔ ہند اور پاکستان کا معرضِ وجو دمیں آنا 14اور 15اگست 1947ء کے واقعات ہیں۔ اگست کے باقی پندرہ دن اور ستمبر کا پورا مہینہ کشمیر کے الحاق کا فیصلہ نہ ہوسکا۔ 26 اکتوبر کو مہاراجہ ہری سنگھ نے ہندوستان سے الحاق کا فیصلہ کیا اور اُس کے بعد محدود پیمانے پر ہندوستانی فوجیوں کی آمد ہوائی جہازوں کے ذریعے سرینگرایئرپورٹ پر شروع ہوئی۔ یعنی تقریبا ًاڑھائی ماہ وادیٔ کشمیر اور سرینگر ایئرپورٹ تیار پھل کی طرح نگاہوں کے سامنے لٹک رہا تھا اور ہماری قیادت اُس پھل کو اپنے ہاتھوں میں نہ لے سکی۔ ٹینکوں اور توپوں کی ضرورت نہ تھی۔ کوہالہ سے ایک دو بٹالین انفینٹری کے جیپوں اور ٹرکوں پر سوار سڑک پر ہو لیتے تو وادی نے پاکستان کے قبضے میں آ جانا تھا۔ آزاد کشمیر کے جو علاقے ہیں وہ بھی فوجی کارروائی کی وجہ سے پاکستان کے حصے میں آئے۔ یعنی سرینگر پر کوئی بڑا حملہ نہیں کرنا تھا صرف تھوڑی سی چڑھائی کی ضرورت تھی لیکن وہ نہ ہوسکی کیونکہ اتنی سوچ بچارمسلم لیگ قیادت نے کی ہی نہیں تھی۔بہرحال تقسیم ہو گئی‘ ایک نیا ملک معرضِ وجود میں آ گیا‘ تو پہلی ذمہ داری جو اس نئے ملک کی قیادت پر آتی تھی وہ نئے ملک کو ڈھنگ سے چلانا تھا۔ بنیاد ٹھیک سے رکھی جاتی‘ حکمرانی کے اصول وضع ہوتے جن سے کبھی روگردانی نہ ہوتی۔ نئے ملک کا آئین تو جلد بن جانا چاہیے تھا۔لیکن آئین کا مسئلہ سالوں لٹکتا رہا۔ اُس کی جگہ مقاصد بیان ہوتے رہے۔ آج جب بین الاقوامی قرضوں تلے ریاست دبی پڑی ہے مقاصد ہی بیان ہو رہے ہیں۔ شمالی اور وسطی ہندوستان سے جو مسلمان آبادی ہجرت کرکے نئے ملک میں آئی تھی بڑے ہونہار اورپڑھے لکھے لوگوں پر مشتمل تھی۔ بنگال اور دیگر صوبوں کی قیادتوں سے مل کر قوم کے مستقبل کے لیے ایک عوام دوست اور پروگریسو سوچ ترتیب دی جاتی۔ جمہوریت کا تصور دل سے لگایا جاتا۔ عوام کی رائے اور حمایت کو حکمرانی کی بنیاد سمجھا جاتا۔ لیکن جہاں تعمیرِ قوم کی طرف توجہ ہونی چاہیے تھی وہاں نظریے ترتیب پاتے رہے۔ جو سیاسی قیادتیں اس قوم کو نصیب ہوئیں بہت زاویوں سے ان کا معیار کوئی اتنا اعلیٰ نہ تھا۔ آپس کی لڑائیاں شروع ہونے لگیں‘ جمہوریت کے اصولوں کی پامالی شروع دن سے ہی یہاں کا وتیرہ بنتا گیا۔ پھر کچھ زیادہ دیر نہ لگی جب تصورِ جمہوریت کا پورا بستر گول کر دیا گیا۔ اور اقتدار کے اعلیٰ ایوانوں سے ایسے فرمودات آنے لگے کہ یہ قوم ابھی جمہوریت کے قابل نہیں۔ حکمرانی کے نام پر مشقیں ہونے لگیں جو آج تک جاری ہیں۔امریکہ کے خلاف ایران جس انداز سے کھڑا ہوا ہے اس سے ہمارے خطے پر گہرے اثرات پڑنا شروع ہو گئے ہیں۔ گلف کے برادر عرب ممالک امریکہ کے سب سے بڑے اتحادی تھے لیکن اس جنگ کی وجہ سے انہوں نے دیکھ لیا کہ جب امریکہ اپنے اڈوں کی حفاظت نہیں کر سکا تو ان کی حفاظت کیا کرنی تھی۔ یو اے ای کے علاوہ باقی ملکوں میں سوچ پیدا ہو رہی ہے کہ پرانے مفروضے اب نہیں چلنے والے اور نئے زاویوں پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں بھی سوچنا چاہیے کہ اس  کشکول والی ذہنیت کے چنگل سے کیسے نکلیں۔ اتنی بڑی آبادی اور قرضوں اور کمزور معیشت پر انحصار۔ کسی قو م کے لیے بھی یہ کوئی باعزت طریقہ نہیں۔ فرسودہ خیالات سے نکلیں کچھ ہمتِ مرداں پکڑیں۔ نئے راہوں پر چلنے کی اللہ ہمیں توفیق دے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_80573045.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>گورا گورنر‘ ہندوستانی مجسٹریٹ(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-07-05/52238/98581143</link><pubDate>Sun, 05 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-07-05/52238/98581143</guid><description> پاکستان میں کم ریٹائرڈ فوجی افسران کتابیں لکھتے ہیں۔ اگر لکھ لیں تو کالم نگار‘ میڈیا اور دانشور پیچھے پڑ جائیں گے کہ اس وقت ہی کیوں لکھی۔انہیں وہ کتاب بڑی سازش کا حصہ لگتی ہے‘ طعنہ دیا جاتا ہے جب سروس میں تھے تو اس وقت فلاں ایشو پر بات کیوں نہ کی۔ اگر سب کچھ غلط ہورہا تھا تو نوکری چھوڑ کیوں نہ دی۔ ایک دفعہ مرحوم دوست ڈاکٹر ظفر الطاف نے کوئی واقعہ سنایا‘ جس میں انہوں نے کسی بڑے اجلاس میں وزیرخزانہ سے اختلاف کیا لیکن پھر بھی فیصلہ وہی ہوا۔ میں نے کہہ دیا آپ کو نوکری چھوڑ دینی چاہیے تھی‘ غلط کام ہورہا تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے سنجیدہ انداز میں مجھے وہ بات سمجھائی کہ اسکے بعد کسی اچھے اور ایماندار افسر کو نہ کہا آپ نے احتجاجاً نوکری چھوڑ کیوں نہ دی۔ ڈاکٹر صاحب کا کہنا تھا کہ سرکاری افسر کسی کا ذاتی ملازم نہیں ہوتا کہ کوئی ناخوش ہو کر نکال دے یا وہ کسی بات پر ناراض ہو کر چھوڑ کر چلا جائے۔ وہ ریاستِ پاکستان کے ملازم تھے‘ انہیں تنخواہ وزیراعظم یا وزیر اپنی جیب سے نہیں دیتا تھا۔وہ عوام کے ٹیکس سے ملتی تھی۔ انہوں نے مقابلے کا امتحان پاس کر کے وہ نوکری لی تھی لہٰذا وہ کیوں چھوڑ دیتے۔ پھر وہ بڑا جوازپیش کرتے تھے کہ بھائی جان ( ڈاکٹر صاحب کا تکیہ کلام تھا)آپ چاہتے ہیں جو افسر کسی اجلاس میں غلط فیصلوں پر اعتراض کرتے ہیں اور انہیں رکوانے کی کوشش کرتے ہیں‘ وہ تو نوکری چھوڑ دیں لیکن جو غلط فیصلے کرتے ہیں وہ بیٹھے رہیں؟ مزاحمتی افسر کیوں چلا جائے؟ وہ کم از کم وہاں بیٹھا غلط حکمرانوں یا پالیسی میکرز کو ٹف ٹائم دے رہا ہے۔ آپ کو تو ان کا حوصلہ بڑھانا چاہیے تاکہ وہ ڈٹے رہیں اور انہیں احساس ہو کہ چلیں چند لوگ ان کی مزاحمت کی قدر کرتے ہیں۔ اس گفتگو نے مجھ پر اتنا اثر کیا کہ اس کے بعد کبھی کسی اچھے افسر کو زیرِ عتاب دیکھا تو اپنے قلم اور زبان سے اس کو بھرپور سپورٹ دی۔ اگرچہ اب ایسے افسر بہت کم رہ گئے ہیں جو مزاحمت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ اب تو اکثر ایک ہی رنگ میں رنگے گئے ہیں کہ نوکری یہاں کرو‘ پیسہ یہاں سے کماؤ اور باہر بھیجتے رہو۔ خیر بات کتاب لکھنے سے شروع ہوئی تھی۔ ہمارے ہاں بیوروکریٹس اب بھی کبھی کبھار کتابیں لکھ لیتے ہیں لیکن انہیں بہت کچھ سننا اور بھگتنا پڑتا ہے کہ اب کیوں بولے۔ ان کی ٹرولنگ شروع ہو جاتی ہے۔ یوں وہ بددل ہوتے ہیں اور پھر بڑے عرصے تک کوئی کتاب لکھنے کا نہیں سوچتا۔ میرا دوستوں کو کہنا ہوتا ہے کہ چلیں آدھا ہی سہی کچھ سچ تو باہر آیا۔ کچھ تو پتہ چلا کہ اندر کھاتے ان اہم مواقع پر کیا چل رہا تھا۔ جب سابق چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل شاہد عزیز کی کتاب &#39;&#39;یہ خامشی کب تک‘‘ آئی‘ جس میں انہوں نے بڑے انکشافات کیے تھے تو جنرل مشرف اور ان کے حامی بہت اَپ سیٹ ہوئے کہ 12اکتوبر کی بغاوت کی پلاننگ بہت پہلے ہو چکی تھی۔ انہوں نے مشرف دور کی بہت سی باتوں کو ایکسپوز کیا۔ میں نے وہ کتاب پڑھی اور اسی صفحے پر کالم بھی لکھے۔ میرا نکتہ تھا کہ آپ جنرل شاہد عزیز کو کتاب لکھنے پر تنقید کا نشانہ نہ بنائیں‘ یہ اُن کا ورژن آف ایونٹس ہے۔ انہوں نے جن کرداروں کا ذکر کیا ہے وہ سب زندہ ہیں۔ وہ جواب دینا چاہیں تو اپنی کتاب لکھ دیں اس طرح ہی مکالمہ چلتا ہے اور معاشرہ آگے بڑھتا ہے۔ اگر آپ کو یاد ہو‘ یہی کچھ سابق ڈی جی آئی ایس آئی اسد درانی کے ساتھ کیا گیا جب ان کی لکھی کتاب The Spy Chronicles پر کورٹ مارشل شروع کر دیا گیا کہ را کے چیف کے ساتھ بیٹھ کر پاکستان‘ امریکہ‘ بھارت اور افغانستان کے پرانے قصے کیوں ڈسکس کیے تھے۔ حالانکہ ذاتی طور پر میں سمجھتا ہوں کہ جنرل درانی کی وہ کتاب پاکستان بھارت کے سکیورٹی‘ انٹیلی جنس ایشوز کو سمجھنے کیلئے بڑی اہم ہے۔ بھارت میں اس کتاب کی تقریب رونمائی میں دو سابق وزرائے اعظم اور اہم لوگ شریک ہوئے اور ہمارے ہاں جنرل درانی کورٹ مارشل کی پیشیاں بھگت رہے تھے۔ اس طرح امریکہ میں ہر صدر یا وزیرخارجہ‘ سی آئی اے چیف یا ایف بی آئی کا باس ریٹائرمنٹ کے بعد کتاب ضرور لکھے گا۔ اسے کوئی طعنہ نہیں دیتا۔ ہمارے ہاں پہلے تو کوئی کتاب لکھتا نہیں اور اگر لکھ دے تو پھر وہی حشر ہوتا ہے جو جنرل شاہد عزیز کا ہوا تھا۔ آپ کو یاد ہو گا کہ اسامہ بن لادن کے پاکستان میں امریکن آپریشن کے بارے ابامہ اور ہیلری کلنٹن سے لے کر سی آئی اے چیف لیون پنیٹا تک سب نے اپنی اپنی کتابوں میں اس پر پورا باب لکھا اور بتایا کہ کیسے سب کچھ پلان کیا گیا تھا۔ ان کتابوں میں صدر زرداری‘ جنرل کیانی اور جنرل پاشا کا بھی خاصا ذکر تھا کہ انہیں فون کر کے کیا بتایا گیا اور ان کا کیا ردِعمل تھا۔ مجال ہے جنرل کیانی‘ جنرل پاشا یا صدر زرداری نے اپنی یادداشتیں لکھنے کی کوشش کی ہو کہ اس وقت کیا ہوا اور انہوں نے کیسے ہینڈل کیا۔ لیکن امریکیوں نے اپنی قوم اور میڈیا کو سب کچھ بتایا کہ انہوں نے اپنے ملک اور عوام کے فائدے کیلئے اپنے اقتدار میں کیا کیا کام کیے۔بات کتابوں سے چلی ہے تو کل ہی پرانی کتابوں سے بھارت کے ایک سابق لیفٹیننٹ جنرل ایس کے سنہا کی ایک کتاب‘ جو انہوں نے 2007ء میں لکھی تھی‘ ہاتھ لگ گئی۔ وہ مقبوضہ کشمیر اور آسام میں گورنر بھی رہے۔ وہ بھارتی فوج کے وائس چیف آف آرمی سٹاف رہے۔ خیر اس کتاب کو ان کی یادداشتوں کی ایک شکل سمجھ لیں۔ اس کتاب میں وہ ایک واقعہ لکھتے ہیں کہ بعض دفعہ دو انسان اگر انا کی لڑائی میں پھنس جائیں تو بات کہاں تک چلتی ہے۔ برسوں تک بھی آپ وہ نہیں بھولتے اور پوزیشن میں ہوں تو اس بندے کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ ان کے دادا پولیس افسر تھے۔ پکے قوم پرست۔ ہر وقت جیب میں استعفیٰ رکھتے تھے۔ ان کے بڑے بھائی بھی انگلش سرکار میں ڈپٹی مجسٹریٹ تھے اور جوانی میں اچھے پہلوان بھی تھے۔ برٹش افسران ان سے خائف بھی تھے۔ 1906ء میں ان کا ایک جگہ ٹرانسفر ہوا تو بہت جلد ان کا پھڈا گورے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سے ہو گیا جس کا نام Sifton تھا۔ اس افسر نے دفتر بلایا اور پوچھ گچھ کی کہ اس نے حکومتی خزانے سے دو روپے کے بال پوائنٹ کیوں خریدے تھے؟ اس پر ان کے دادا کے بھائی نے وضاحت دی کہ انہوں نے سرکاری کاموں کیلئے وہ بال پین خریدے تھے۔ انہیں ہر روز بہت ساری انٹریز کرنی ہوتی ہیں۔ پین کے ساتھ سیاہی پھیل جاتی تھی لہٰذا بال پوائنٹس خرید لیے۔ ڈی سی سفٹن نے کہا کہ اپنی غلط حرکت پر تم جھوٹ بول رہے ہو۔ ان کے دادا کے پاس بہت سارے پین تھے جو انہوں نے جیب سے نکال کر انہیں دکھائے۔ ایک فاؤنٹین پین سونے کا بھی تھا۔ سب ڈی سی کی میز پر رکھ دیے۔ اس پر ڈی سی کو غصہ آیا اور اس نے کہا Bloody Indian۔ اس پر دادا کے بھائی کو غصہ آیا اور گورے ڈی سی کو گردن سے پکڑ لیا جو مدد کیلئے چلایا۔ اہلکار دوڑتے آئے اور اسے چھڑایا۔ یہ بہت بڑا جرم تھا کہ ایک انڈین نے گورے افسر پر ہاتھ اٹھایا تھا۔ سب کا خیال تھا کہ انہیں نوکری سے ڈسمس کر دیا جائے گا۔ ڈی سی نے پٹنہ میں کمشنر کو رپورٹ کیا۔ گرینڈ انکل نے اپنے باپ کو لکھا کہ کیا ہوا تھا۔ وہ بہار کے بڑے وکیل تھے اور گورنر بنگال کونسل کے ممبر تھے۔ ان کے گورنر جنرل اینڈریو ایرزر سے اچھے تعلقات تھے۔ اس پر انکوائری ہوئی جس میں گرینڈ انکل بے قصور نکلے کہ گالی دی گئی تھی۔ انہیں بے قصور قرار دیا گیا۔ نوکری بچ گئی لیکن بات یہاں ختم نہ ہوئی۔کچھ برس کے بعد ڈی سی سفٹن پہلے بہار کا چیف سیکرٹری اور پھر گورنر لگ گیا۔ اس نے پہلا حکم یہی دیا کہ یہ انڈین افسر کبھی ترقی نہیں پائے گا۔ وہ 1935ء میں ایس ڈی او ہی ریٹائر ہوئے‘ جب سفٹن گورنر تھا۔ گورا اگر اپنی زبان پر قابو نہ رکھ سکا تو دیسی افسر اپنے ہاتھوں پر۔ گورا گورنر لگ کر بھی ایک انڈین سے اپنا ذاتی انتقام لینا نہ بھولا تھا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>طاقتور آئینی منصب(کنور دلشاد)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/kunwar-mohammad-dilshad/2026-07-05/52239/58717500</link><pubDate>Sun, 05 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/kunwar-mohammad-dilshad/2026-07-05/52239/58717500</guid><description>یوں لگتا ہے کہ پنجاب ایک بار پھر اپریل 1993ء والے موڑ پر آن کھڑا ہوا ہے‘ جب منظور وٹو نے بطور سپیکر پنجاب اسمبلی وزیر اعلیٰ پنجاب غلام حیدر وائیں کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد پیش کی اور بعدازاں پنجاب کے وزیراعلیٰ منتخب ہوگئے۔ پنجاب کی سیاست میں اصل سوال یہ نہیں کہ سپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان اتنے بااثر کیوں دکھائی دے رہے ہیں بلکہ یہ ہے کہ آخر وہ کون سے سیاسی اور انتظامی عوامل تھے جنہوں نے ایک آئینی منصب کو صوبے کی سیاست کے اہم ترین مراکز میں شامل کر دیا۔ قدرت کا نظام یہی ہے کہ وہ خلا پیدا نہیں ہونے دیتی‘ جونہی اقتدار میں خلا پیدا ہونے لگتا ہے‘ قدرت اسے پُر کر دیتی ہے۔ اسی طرح سیاست میں طاقت بھی کبھی خلا برداشت نہیں کرتی۔ جب کسی نظام میں رابطے‘ رسائی اور اعتماد کا فقدان پیدا ہوتا ہے تو اسے کوئی نہ کوئی ادارہ یا شخصیت پُر کر دیتی ہے۔ پنجاب میں گزشتہ دو برس کے دوران ہونے والی پیشرفت بھی اسی حقیقت کی عکاسی کرتی ہے۔حکومتی ارکان کی ایک بڑی تعداد نجی محفلوں بلکہ بعض اوقات کھلے عام یہ شکایت کرتی رہی ہے کہ وزیراعلیٰ آفس تک ان کی رسائی محدود ہوتی جا رہی ہے۔ مسئلہ صرف وزیراعلیٰ کی مصروفیات کا نہیں بلکہ ایک غیر رسمی نظام کا بھی ہے۔ اس نظام نے منتخب نمائندوں اور اقتدار کے اصل مرکز کے درمیان فاصلے بڑھا دیے ہیں۔ حلقوں کے مسائل‘ ترقیاتی سکیمیں‘ انتظامی معاملات‘ تبادلوں کی سفارشات اور سیاسی شکایات اکثر وہیں رک جاتی ہیں جہاں سے انہیں آگے بڑھنا چاہیے۔ وزیراعلیٰ کی سرکاری مصروفیات اپنی جگہ نہایت اہم ہوتی ہیں۔ میرا ذاتی تجربہ یہ رہا ہے کہ جب میں نگران حکومت کا حصہ تھا تو جب بھی کوئی مشکل پیش آئی نگران وزیراعلیٰ محسن نقوی نے منٹوں میں مسئلہ حل کر دیا۔ اسی طرح انکا ہر مکتبۂ فکر کے لوگوں سے رابطہ رہتا تھالیکن موجودہ صورتحال میں شنید یہ ہے کہ عوام تو کیا ارکانِ اسمبلی کو بھی نہ صرف وزیراعلیٰ آفس بلکہ بعض وزرا تک بھی رسائی حاصل نہیں رہی۔ یوں حکومت کے اندر ایک واضح سیاسی خلا محسوس ہوتا ہے۔ یہی وہ خلا ہے جس کے باعث پنجاب اسمبلی کے سپیکر کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہوئی ہے۔ موجودہ حالات میں سپیکر صرف کارروائی چلانے والے آئینی عہدیدار نہیں رہے بلکہ ایک ایسے فورم کی حیثیت اختیار کر گئے ہیں جہاں ارکان کی بات سنی جا سکتی ہے اور اسمبلی کے قواعد و ضوابط کے ذریعے ان کے تحفظات کو آواز مل سکتی ہے۔ جب شہباز شریف 1997ء کے انتخابات کے بعد پنجاب کے وزیراعلیٰ منتخب ہوئے تو انہوں نے رانا ثناء اللہ کے ذریعے حکومت اور حکومتی ارکان کے درمیان مضبوط سیاسی رابطہ برقرار رکھا۔ اگر کسی رکن کی وزیراعلیٰ تک براہِ راست رسائی ممکن نہ ہوتی تو اسے یقین ہوتا تھا کہ رانا ثناء اللہ اس کی بات مناسب فورم تک ضرور پہنچا دیں گے۔ اسی طرح چوہدری پرویز الٰہی کے دورِ حکومت میں راجہ بشارت نے یہی کردار ادا کیا۔ وہ حکومتی ارکان‘ اتحادی جماعتوں اور وزیراعلیٰ کے درمیان ایک مؤثر پل ثابت ہوئے۔ موجودہ دور میں حکمرانی کا انداز مختلف دکھائی دیتا ہے۔ انتظامی فیصلوں کا غیر معمولی ارتکاز وزیراعلیٰ آفس میں نظر آتا ہے جبکہ سیاسی رابطوں کا روایتی نظام نسبتاً کمزور محسوس ہوتا ہے۔ بیوروکریسی کا کردار پہلے سے زیادہ نمایاں ہے‘ لیکن پارلیمانی سیاست صرف انتظامی کارکردگی سے نہیں چلتی۔ منتخب نمائندے حکمرانوں تک رسائی اور حکومتی فیصلوں میں شمولیت بھی چاہتے ہیں۔وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی روایت یہ تھی کہ وہ ہر چھ ماہ بعد مری میں واقع وزیراعظم ہاؤس میں تمام ارکانِ اسمبلی کو مدعو کرتے‘ ہر ایک کی بات سنتے اور اسی بنیاد پر فیصلے کرتے تھے۔ وہ اس مقصد کیلئے مسلسل تین دن وقف رکھتے تھے۔ اس دوران وزرا خوف زدہ رہتے تھے اور بیوروکریسی اس خدشے میں مبتلا رہتی تھی کہ کہیں ارکانِ اسمبلی ان کے خلاف شکایات یا ریمارکس پیش نہ کر دیں۔ یوں ایک ممکنہ احتساب کا ماحول قائم رہتا تھا اور وزیراعظم صبح سے شام تک ارکان کو براہِ راست رسائی فراہم کرتے تھے۔ اسی ماحول میں جب سپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے اسمبلی کے قواعد‘ استحقاق اور نگرانی کے اختیارات کو مؤثر انداز میں استعمال کیا تو حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے انہیں اپنے مسائل کے اظہار کے ایک مؤثر فورم کے طور پر دیکھنا شروع کر دیا۔یہ کسی ایک شخصیت کی غیر معمولی کامیابی سے زیادہ اس سیاسی خلا کی نشاندہی کرتا ہے جو حکمرانی کے موجودہ انداز میں پیدا ہوا ہے۔ ماضی سے یہی سبق ملتا ہے کہ جب اقتدار کے مرکز اور منتخب نمائندوں کے درمیان فاصلے بڑھ جائیں تو کوئی نہ کوئی متبادل خود بخود ابھر آتا ہے۔ پنجاب کی موجودہ سیاست شاید اسی اصول کی ایک نئی مثال ہے۔ دوسری جانب اگر وفاقی دارالحکومت میں بلدیاتی انتخابات کی بات کی جائے تو یہ شہر 2021ء کے بعد سے بلدیاتی حکومت سے محروم ہے۔ وفاقی اور پنجاب حکومت مقامی حکومتوں کے انتخابات کرانے میں سنجیدہ دکھائی نہیں دیتیں۔ مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے عندیہ دیا گیا تھا کہ ایم کیو ایم پاکستان کے مطالبے پر آئین کے آرٹیکل 140-A میں اہم ترمیم کر کے مقامی حکومتوں کے اختیارات میں اضافہ کیا جائے گا‘ میئر کو خودمختار بنایا جائے گا‘ قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کو دیے جانے والے 75ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز مقامی حکومتوں کو منتقل کیے جائیں گے اور میئر کے انتخابات براہِ راست کرا کے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی مداخلت ختم کی جائے گی۔ تاہم شنید ہے کہ یہ ترمیم فی الحال مؤخر کر دی گئی ہے۔ مقامی حکومتوں کی ایک خوبصورتی یہ ہے کہ عام آدمی کو بھی عوامی نمائندہ بننے کا موقع مل جاتا ہے‘ ورنہ ہمارے ملک میں سیاست اور حکومت صرف اشرافیہ تک محدود ہو گئی ہے۔ مقامی حکومتوں کے فوائد کاجائزہ لینا ہو تو امریکہ کے شہر نیویارک کے میئر ظہران ممدانی کی مثال سامنے ہے‘ جو محض ایک ہزار ڈالر خرچ کر کے امریکہ کے سب سے بڑے شہر کے میئر منتخب ہوئے۔ برطانیہ کے سابق وزیراعظم جان میجر کے والد لندن کے ایک سرکس میں مزاحیہ کردار ادا کرتے تھے۔ نوجوان جان میجر کی سیاست میں انٹری یونین کونسل کے کونسلر کے طور پر ہوئی‘ جب وہ بالکل بے روزگار تھے لیکن نظام نے انہیں وزیراعظم کے منصب تک پہنچا دیا۔ برطانیہ میں قانون یہ ہے کہ پارلیمانی انتخابات میں امیدوار اپنے ذرائع سے آٹھ سو پونڈ سے زیادہ خرچ کرنے کا مجاز نہیں‘ اور اگر وہ مقررہ حد سے تجاوز کرے تو سزا کا مستحق ہوتا ہے۔ دوسری جانب پاکستان میں الیکشن ایکٹ کی دفعہ 132 کے تحت انتخابی اخراجات پر پابندی ہونے کے باوجود امیدوار کروڑوں روپے خرچ کر کے اسمبلی کا رکن منتخب ہوتا ہے اور پھر اپنے اخراجات پورے کرنے کیلئے کرپشن کرتا ہے۔ یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ وفاق اور پنجاب کی گزشتہ مالی سال کی آڈٹ رپورٹس میں سامنے آنیوالی مالی بے ضابطگیوں کا نوٹس لینے کی تیاری ہو رہی ہے۔ ان رپورٹس کے مطابق پنجاب حکومت میں دس کھرب روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگیوں اور آڈٹ اعتراضات کی نشاندہی ہوئی‘ جن میں غیر مجاز ادائیگیوں کے متعدد کیسز‘ قواعد کے خلاف خریداری‘ ٹھیکوں میں بے قاعدگیاں‘ سرکاری رقوم کے غلط استعمال اور غیر شفاف اخراجات کے معاملات شامل ہیں۔ دوسری جانب وفاقی حکومت کی 23 وزارتوں اور ڈویژنوں میں بھی مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے 187 ارب روپے کے اضافی اخراجات سامنے آئے ہیں۔ اس کے علاوہ 19کھرب روپے کے بیرونی قرضوں اور 75ارب روپے کی ترقیاتی سکیموں میں قواعد کی خلاف ورزیوں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ ان اہم آڈٹ رپورٹس کے منظرِ عام پر آنے کے بعد حکومت کے شفافیت کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_15667905.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مضبوط پاکستان(رشید صافی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-07-05/52240/88916408</link><pubDate>Sun, 05 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-07-05/52240/88916408</guid><description>مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کی گرد بیٹھنا شروع ہوئی تو پس پردہ حقائق کی وہ پرتیں کھل رہی ہیں جنہوں نے عالمی مقتدرہ کے ہوش اُڑا دیے ہیں۔ نیویارک ٹائمز نے ایک ایسی چونکا دینے والی رپورٹ شائع کی ہے جس نے خطے کے سکیورٹی اداروں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ یہ محض ایک اخباری دعویٰ نہیں بلکہ اس ہولناک کھیل کا اعتراف ہے جو اسرائیل خطے میں کھیلنا چاہتا تھا۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے جب اسلام آباد میں مذاکرات کا دور چل رہا تھا تو تل ابیب اس سفارتی عمل کو سبوتاژ کرنے کے لیے بھیانک مہم جوئی کی تیاری کر رہا تھا۔ اسرائیل کا منصوبہ یہ تھا کہ اسلام آباد کے دورے کے دوران ایرانی وفد کے اعلیٰ ترین مذاکرات کاروں کو ہمیشہ کے لیے راستے سے ہٹا دیا جائے۔ بات صرف خطرے کی نہیں ہدف کی سنگینی کی ہے۔ اس مبینہ اسرائیلی منصوبے میں جن شخصیات کو نشانہ بنایا جانا تھا ان میں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف شامل تھے۔ یہ دونوں شخصیات اس وقت ایرانی مقتدرہ کا تزویراتی ستون ہیں۔ ان پر حملے کا مطلب یہ تھا کہ خطے کو ایک لامتناہی اور ہمہ گیر جنگ میں جھونک دیا جائے جس کے شعلے صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہ رہتے بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے۔ اسلام آباد ٹاکس میں شرکت کیلئے آنے والے ایرانی وفد کے طیارے کو نشانہ بنانے کیلئے اسرائیل کے مذموم منصوبے کے کئی پہلو تھے۔ اسرائیل بظاہر ایرانی سرزمین پر یا طیارے کو فضا میں نشانہ بنا کر اور اسے اپنی مرضی کا رنگ دے کر بیک وقت اس سے کئی مقاصد حاصل کرنا چاہتا تھا۔ یہ خطرہ اتنا شدید اور مصدقہ تھا کہ واشنگٹن انتظامیہ بھی حیرت زدہ ہو کر رہ گئی۔ اس موقع پر امریکہ نے کچھ قریبی ممالک کے ذریعے ایران کو اس ممکنہ قاتلانہ حملے سے متعلق پیشگی خبردار کر دیا۔ ایرانی حکام کو اسرائیلی انٹیلی جنس کی اس چال کا بخوبی اندازہ ہو چکا تھا اور وہ خطرے کو بھانپ چکے تھے؛ چنانچہ اپریل میں جب اس دورے کے فائنل راؤنڈ کی باری آئی تو ایرانیوں نے پاکستانی اور قطری ثالثوں سے اپنے تحفظات بیان کیے کہ جب تک ہمیں ٹھوس ضمانت نہیں ملتی کہ اسلام آباد میں ہمارے وفد کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا ہم جہاز میں نہیں بیٹھیں گے۔ یہ وہ مرحلہ تھا جہاں پاکستان کو اپنی دفاعی صلاحیت کا مظاہرہ کرنا تھا۔ پاکستان نے ایسی ضمانت دی جس کی مثال معاصر تاریخ میں نہیں ملتی۔ پاک فضائیہ کے جے ایف17 تھنڈر اور ایف16 طیاروں نے ایرانی وفد کے طیارے کو اپنے حصار میں لے لیا اور آمد سے لے کر واپسی تک فضا میں سکیورٹی زون قائم رکھا جس نے دشمن کے ریڈارز اور منصوبوں کو مفلوج کر کے رکھ دیا۔ جب ایرانی وفد اپنا مشن مکمل کر کے پاکستان سے واپس ایران روانہ ہوا‘ ایرانی حکام کا طیارہ فضا میں تھا تو پاکستانی اور ایرانی انٹیلی جنس کو اطلاع موصول ہوئی کہ اسرائیلی جنگی طیارے بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے عراق کے راستے ایرانی فضائی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں اور ان کا ممکنہ سافٹ ٹارگٹ یہی وفد ہے۔ یہ اطلاع فوری طور پر فضا میں موجود ایرانی طیارے کے کاک پٹ تک پہنچائی گئی اور ایمرجنسی پروٹوکولز کے تحت طیارے کا رخ تہران کے بجائے فوری طور پر مشہد ایئرپورٹ کی طرف موڑ کر اسے باحفاظت لینڈ کرا یا گیا۔ اس ہنگامہ خیز واقعے اور ہنگامی لینڈنگ کی تصدیق جب باقر قالیباف کے سینئر مشیر محمد مرانڈی نے کی تو دنیا کے سامنے یہ بات بالکل واضح ہو گئی کہ اسرائیل مسلم قیادت کو چن چن کر ختم کرنے پر تلا ہوا ہے۔ یہاں بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے جو نیویارک ٹائمز نے گول کر دیا اور وہ یہ ہے کہ اسرائیل کو اسلام آباد کی سرزمین پر یا پاکستانی حدود کے اندر اس وفد پر مہم جوئی کی جرأت کیوں نہ ہوئی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ پاکستان اسرائیل کی اس شرانگیزی اور اس کے ماضی کے ٹریک ریکارڈ سے بخوبی واقف تھا۔ پاکستانی دفاعی اداروں نے پہلے ہی فضا کے اندر سکیورٹی کے انتظامات کر رکھے تھے۔ پاک فضائیہ کے لڑاکا طیارے کئی گھنٹوں تک فضا میں محوِ پرواز رہے اور انہوں نے ایک ایسا الیکٹرانک دفاعی حصار قائم کیا جسے توڑنا کسی بھی جدید فضائیہ کے بس کی بات نہیں تھی۔ ایرانی قیادت کو یقین دہانی کرانے کا مطلب یہ تھا کہ اگر اس سفر کے دوران کوئی بھی ناخوشگوار واقعہ پیش آتا ہے تو اس کی تمام تر ذمہ داری ایٹمی طاقت کا حامل پاکستان اپنے اوپر لے گا اور پاکستان نے پس پردہ سفارتی چینلز کے ذریعے اسرائیل تک پیغام پہنچا دیا تھا کہ اگر اسلام آباد آنے والے وفد پر آنچ بھی آئی تو نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہنا۔ اس غیر مبہم انتباہ کے بعد اسرائیل کے پاؤں اکھڑ گئے اور اسے ایرانی وفد کے طیارے پر حملے کی جرأت نہ ہوئی۔ملک کی دفاعی صلاحیتوں کو جب عالمی پذیرائی ملتی ہے تو پاکستانی ہونے کے ناتے ہمارا سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو گئی کہ پاکستان یکسر تبدیل ہو چکا ہے۔ پوری دنیا پاکستان کے انٹیلی جنس اور عسکری اقدامات کو درست تسلیم کرنے پر مجبور ہے۔ اس کی تازہ ترین مثال یہ ہے کہ امریکہ نے افغانستان سے متصل سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف پاکستان کی حالیہ انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں کی نہ صرف بھرپور تائید کی ہے بلکہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے حقِ دفاع کی حمایت کا اعلان بھی کیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے اپنے خصوصی بیان میں تسلیم کیا ہے کہ پاکستانی عوام نے دہشت گردی کے ہاتھوں بے پناہ جانی و مالی نقصان اٹھایا ہے‘ اس لیے امریکہ اپنے دفاع کے لیے پاکستان کے قانونی حق کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ صرف امریکہ ہی نہیں یورپی یونین نے بھی دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے مؤقف کی تائید کی ہے‘ جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان نے علاقائی سلامتی پر جو سرخ لکیریں کھینچی ہیں‘ عالمی طاقتیں انہیں تسلیم کر رہی ہیں۔دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں طاقت کا روایتی توازن تیزی سے بدل رہا ہے۔ اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی نے خلیجی ریاستوں کو شدید ترین معاشی اور سٹریٹجک نقصان پہنچایا ہے جس کی وجہ سے ان کی برآمدات اور سلامتی کا احساس بری طرح متاثر ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خلیج تعاون کونسل کے روایتی ڈھانچے سے باہر نکل کر ایک نیا اور متحرک تزویراتی بلاک تشکیل پا چکا ہے جس کی قیادت سعودی عرب کر رہا ہے اور اس میں قطر‘ ترکیہ‘ مصر اور پاکستان جیسی اہم علاقائی طاقتیں شامل ہیں۔ امریکی جریدے &#39;فارن پالیسی‘ کے مطابق یہ نیا گروپ خطے میں طاقت کا نیا توازن قائم کرنے کیلئے وجود میں آیا ہے۔ اس نئے سٹریٹجک بلاک میں پاکستان کی شمولیت یہ ثابت کرتی ہے کہ مسلم دنیا کے دفاعی اور سفارتی امور میں پاکستان کی پوزیشن کتنی ناگزیر ہے۔ پاکستان کی عسکری قوت‘ ترکیہ کی جدید دفاعی ٹیکنالوجی‘ مصر کا جغرافیائی اثر اور سعودی عرب و قطر کا سفارتی و مالی وزن مل کر ایک ایسا بلاک بنا رہے ہیں جو مستقبل میں کسی بھی بیرونی جارحیت کے خلاف مضبوط ترین سفارتی اور دفاعی ڈھال ثابت ہوگا۔ اسلام آباد میں ایرانی وفد کو جو سکیورٹی فراہم کی گئی وہ اسی تبدیل شدہ پاکستان اور اس کے نئے علاقائی کردار کا ایک واضح اور عملی اعلان تھا‘ جس نے دنیا کو بتا دیا کہ پاکستان خطے میں امن قائم رکھنا بھی جانتا ہے اور اپنے دوستوں کی حفاظت کرنا بھی۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/222_48272610.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>العطش العطش(عمران یعقوب خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-07-05/52241/73036579</link><pubDate>Sun, 05 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-07-05/52241/73036579</guid><description>یورپ میں ریکارڈ توڑ گرمی کی لہر نے امیر‘ غریب سب کے کڑاکے نکال دیے ہیں اور یہ ثابت کر دیا ہے کہ مدر نیچر کے اپنے قوانین ہیں اور یہ سب کیلئے برابر ہیں۔ جو بھی ان کے ساتھ کھلواڑ کرے گا اسے پھر قدرت کے کھلواڑ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ 40ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے والے درجہ حرارت نے یورپ والوں کی مت مار دی ہے۔ ان کے معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر کر دیے ہیں۔ شدید ہیٹ ویو کے باعث یورپ بھر میں اب تک تقریباً 1500سے زائد اموات ریکارڈ کی جا چکی ہیں جبکہ یورپ کے تمام ملکوں کے سبھی ہسپتال گرمی سے متاثرہ مریضوں سے اٹے پڑے ہیں۔ صرف فرانس میں گرمی سے ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ سپین میں ہیٹ ویو کے باعث 327اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔ پولینڈ میں گرمی نے ایک صدی پرانا درجہ حرارت کا ریکارڈ توڑ دیا‘ جبکہ سربیا میں درجہ حرارت 39 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ ڈبلیو ایچ او یعنی عالمی ادارۂ صحت کا کہنا ہے کہ 15 کروڑ یورپی شہری شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں۔ شدید گرمی کے باعث جنگلات میں آگ لگنے کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں جبکہ البانیہ میں جنگلات میں لگنے والی آگ سے جھاڑیوں اور زیتون کے باغات کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔جس درجہ حرارت پر یورپ والے پگھلے جا رہے ہیں اور العطش العطش کی صدائیں بلند کر رہے ہیں وہ ہمارے یعنی برصغیر کے باسیوں کیلئے عام سی بات ہے۔ ہم ہر سال ایسا شدید موسم اور اس کی تیز دھوپ سہتے ہیں اور اُف تک نہیں کرتے بلکہ ہماری روزمرہ کی سرگرمیاں ایسے جاری رہتی ہیں جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ یہاں پنجاب میں موسم گرما میں درجہ حرارت 40 سے 46 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہتا ہے۔ پاکستان کا گرم ترین علاقہ صوبہ سندھ کا شہر جیکب آباد ہے۔ وہاں گرمیوں میں درجہ حرارت 52 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے۔ جیکب آباد دنیا کے بھی گرم ترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ سندھ میں دادو‘ موہنجودڑو‘ نواب شاہ اور بلوچستان میں تربت بھی پاکستان کے گرم ترین علاقوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ ان سبھی علاقوں کے باسیوں نے کبھی اتنا واویلا نہیں مچایا جتنا اہلِ یورپ اس وقت مچا رہے ہیں۔ ہمارے کسان اسی گرمی میں کھیتوں میں کام کرتے ہیں۔ ہمارے مزدور اسی چلچلاتی دھوپ میں سڑکیں کھود رہے ہوتے ہیں اور اسی طرح کے دوسرے محنت طلب کام کر رہے ہوتے ہیں۔ انہوں نے کبھی ایسی صدائے احتجاج بلند نہیں کی جیسی یورپ سے اٹھ رہی ہے‘ العطش العطش۔ماہرین کا کہنا ہے کہ فی زمانہ موسم جو تیور بدل بدل کر انسان کو اپنی موجودگی کا احساس دلا رہا ہے‘ اس کی وجہ روئے ارض پر رونما ہونے اور شدت اختیار کرنے والی موسمیاتی تبدیلیاں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ماحولیاتی بحران اور موسمیاتی تبدیلیاں آج کے دور کا سب سے بڑا عالمی چیلنج بن چکی ہیں‘ جن کے اثرات دنیا کے تقریباً ہر خطے میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔ پاکستان ان تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے دس بڑے ممالک میں شامل ہے۔ انہی اثرات میں سے ایک خطرناک اور تیزی سے بڑھتا ہوا مسئلہ ہیٹ ویو یا شدید گرمی کی لہر کا ہے۔ یہ ہیٹ ویوز نہ صرف انسانی صحت بلکہ زراعت‘ معیشت‘ ماحول اور بنیادی ڈھانچے پر بھی گہرے منفی اثرات مرتب کر رہی ہیں۔ ہیٹ ویو کب آنی ہے‘ کہاں آنی ہے‘ کتنی دیر رہنی ہے‘ اس بارے میں کوئی کچھ نہیں جانتا‘ نہ ہی جان سکتا ہے۔ہیٹ ویو کیا ہے؟ ہیٹ ویو سے مراد ایسی غیر معمولی گرمی کی لہر ہے جس میں ایک ہی علاقے میں مسلسل کئی دنوں یا کئی ہفتوں تک معمول سے کہیں زیادہ درجہ حرارت برقرار رہے۔ یورپ میں جاری ہیٹ ویو کی سب سے بڑی وجہ موسمیاتی تبدیلیاں ہیں۔ انسانی سرگرمیوں کے باعث فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ‘ میتھین اور دیگر گرین ہاؤس گیسوں کی مقدار مسلسل بڑھ رہی ہے۔ یہ گیسیں زمین کی حرارت کو فضا میں واپس جانے سے روکتی ہیں جس کے نتیجے میں عالمی درجہ حرارت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ جنگلات کی کٹائی‘ صنعتی ترقی‘ کوئلے‘ تیل اور گیس جیسے ایندھن کا بے تحاشا استعمال اور گاڑیوں سے خارج ہونے والی آلودگی اس مسئلے کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔ ان ایندھنوں کے جلنے سے 74فیصد کاربن ڈائی آکسائیڈ‘ 19فیصد میتھین‘ پانچ فیصد نائٹرس آکسائیڈ اور تین فیصد فلورینیٹڈ گیسز پیدا ہوتی ہیں۔ مضرصحت اور مضر ماحولیات گیسوں کے پیدا کرنے میں یورپ کا حصہ نو فیصد بنتا ہے۔ چین مضر گیسوں کا سب سے زیادہ اخراج کرتا ہے جو پوری دنیا میں ہونے والے اخراج کا 21 فیصد بنتا ہے۔ امریکا 14فیصد ایمیشن کرتا ہے جبکہ بھارت پانچ فیصد اخراج کا ذمہ دار ہے۔ ان سارے اخراجوں میں سے بھی انرجی کی پیداوار سے اور صنعتوں سے پیدا ہونے والی گیسوں کا حصہ سب سے زیادہ ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر عالمی درجہ حرارت میں اضافہ اسی رفتار سے جاری رہا تو یورپ میں ہیٹ ویوز مزید شدید اور طویل ہو جائیں گی۔ اس کے نتیجے میں پانی کی قلت‘ غذائی بحران‘ جنگلات میں آگ‘ بیماریوں اور معاشی نقصان میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ یورپ میں ہیٹ ویو موسمیاتی تبدیلی کے سنگین اثرات کی واضح مثال ہے۔ یہ مسئلہ صرف یورپ تک محدود نہیں بلکہ پوری دنیا کیلئے ایک انتباہ ہے کہ اگر ماحول کے تحفظ کیلئے بروقت اور موثر اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں ایسے واقعات مزید خطرناک شکل اختیار کر سکتے ہیں۔یورپ والے اگر مستقبل میں اس سے زیادہ شدت والی ہیٹ ویوز سے بچنا چاہتے ہیں تو انہیں اپنے طرزِ زندگی میں کچھ تبدیلیاں لانا پڑیں گی۔ ٹھیک ہے Luxurious زندگی گزارنے کی خواہش ہر بندہ کرتا ہے لیکن ایسی بھی کیا پُرتعیش زندگی جو آنے والی نسلوں کا مستقبل تاریک کر دے؟ ہیٹ ویو انسانی صحت کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہوتی ہے۔ مسلسل زیادہ درجہ حرارت کے باعث جسم میں پانی کی کمی‘ ہیٹ سٹروک‘ دل کی بیماریوں اور سانس کی تکالیف کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ہیٹ ویو یورپ کی زرعی پیداوار کو بھی شدید متاثر کر رہی ہے۔ کیا ہم آنے والی نسلوں کو ایک ایسی دنیا دے کر جائیں گے جو بار بار ہیٹ ویو کا شکار ہوتی ہے‘ جہاں موسمیاتی تبدیلیاں شدید بارشوں‘ قحط اور سیلابوں کا باعث بن رہی ہیں؟خدارا پٹرولیم مصنوعات کے استعمال میں کمی لائی جائے اور توانائی کے متبادل ذرائع اختیار کیے جائیں۔ اس کے علاوہ قابلِ تجدید توانائی‘ جیسے شمسی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں کو فروغ دیا جانا چاہیے تاکہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی لائی جا سکے۔ درخت لگانے‘ شہری علاقوں میں سبزہ بڑھانے اور دوسری ماحول دوست پالیسیوں پر بھی توجہ دی جانی چاہیے۔ حکومتوں اور اداروں کو اجتماعی لحاظ سے اور عام شہریوں کو انفرادی طور پر مشترکہ کوششوں کے ذریعے ماحول دوست پالیسیاں اپنانا چاہئیں تاکہ آنے والی نسلوں کو ایک محفوظ‘ صحت بخش اور متوازن ماحول فراہم کیا جا سکے۔ ہیٹ ویو سے نمٹنے کا واحد موثر راستہ عالمی تعاون‘ سائنسی منصوبہ بندی اور قدرتی وسائل کے ذمہ دارانہ استعمال میں پوشیدہ ہے۔دنیا میں بہت سے ادارے موسمیاتی تبدیلیوں کی رفتار کو کم کرنے اور پھر حتمی طور پر روکنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔ وہ اپنی کوششوں میں تبھی کامیاب ہو سکتے ہیں جب مضر ماحول گیسیں اور مواد خارج کرنے والے ممالک اس اخراج کو کم کریں گے۔ ہیٹ ویو گزر جائے تو اہلِ یورپ کو سر جوڑ کر بیٹھنا چاہیے تاکہ توانائی کے ایسے متبادل ذرائع ڈھونڈے جا سکیں جن سے آلودگی کم سے کم پھیلتی ہو۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_58350786.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>طالبان حکومت کا معاندانہ رویہ(محمد عبداللہ حمید گل)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-abdullah-hameed-gull/2026-07-05/52242/96738791</link><pubDate>Sun, 05 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-abdullah-hameed-gull/2026-07-05/52242/96738791</guid><description>تاریخ گواہ ہے کہ جب ساری دنیا نے افغانستان کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا‘ یہاں تک کہ ہندوستان‘ جو افغانوں سے دوستی کے دعوے کرتا تھا‘ اس نے بھی منہ پھیر لیا تب بھی ہم نے انہیں تنہا نہیں چھوڑا۔ دسمبر 1979ء سے فروری 1989ء تک افغانستان پر سوویت یونین کے حملے اور قبضے کے دوران اندازاً 18لاکھ افغان جان کی بازی ہار گئے‘ جن میں تقریباً تین لاکھ بچے بھی شامل تھے۔ اس دوران اور اس کے بعد بھی پاکستان نے کئی دہائیوں تک 50لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کیلئے اپنے دروازے کھلے رکھے۔ نہ صرف انہیں پناہ اور تحفظ فراہم کیا بلکہ تعلیم‘ صحت‘ روزگار کے مواقع اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بھرپور امداد بھی مہیا کی۔ بہت سے افغان مہاجرین نے پاکستان کے ساتھ گہرے سماجی اور معاشی تعلقات قائم کیے‘ اور جب ان کی وطن واپسی کا عمل شروع ہوا تو متعدد خاندان جذباتی انداز میں پاکستان کو الوداع کہتے ہوئے روانہ ہوئے۔ وسیع انسانی امداد فراہم کرنے کے علاوہ پاکستان نے افغان مزاحمت کی حمایت میں بھی اہم کردار ادا کیا اور سوویت افواج کو افغانستان سے انخلا پر مجبور کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ بدلے میں پاکستان کو کیا ملا؟ پاکستان کے سکیورٹی اہلکاروں پر حملے‘ بھارتی ایما پر پاکستانی سرزمین پر دہشت گردی‘ جارحیت‘ نفرت انگیز بیان بازی اور کالعدم دہشت گرد تنظیموں اور ان کے کارندوں کیلئے افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ وہی بھارت جو برسوں تک طالبان کو دہشت گرد قرار دیتا رہا‘ اگست 2021ء میں طالبان کے دوبارہ برسر اقتدار آنے کے بعد اپنی افغان پالیسی میں تبدیلی لے آیا جس میں پاکستان مخالف عنصر نمایاں ہے۔ طالبان کی عبوری حکومت کے ساتھ نئی دہلی نے سفارتی روابط بحال کیے‘ موجودہ حالات کے تناظر میں دونوں فریقوں کے تعلقات میں مزید اضافہ ہوا ہے جو علاقائی امن و استحکام کیلئے نیک شگون نہیں۔ جبکہ بلوچستان سے لے کر کراچی تک اسرائیل‘ بھارت‘ افغانستان گٹھ جوڑ اور بھارت کی پاکستان مخالف پراکسی وار بے نقاب ہو چکی ہے۔ وطنِ عزیز میں 2024ء کے آخر سے دہشت گردی کے واقعات میں بدترین اضافہ دیکھنے میں آیا جبکہ 2025ء اور رواں برس 2026ء خاص طور پر خونریز ثابت ہوئے ہیں۔ افسوس! آج افغانستان کی طالبان حکومت اسی ملک کے ساتھ دفاعی تعلقات استوار کرنے میں محو ہے جس کی فوجی مداخلت نے افغان عوام کو بے پناہ مصائب سے دوچار کیا تھا۔ ایسے میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ آخر وہ کون سی وجوہات ہیں جن کے باعث افغانستان کا رویہ پاکستان کے بارے میں تبدیل ہو گیا‘ جس نے برسوں تک لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دی اور مشکل ترین وقت میں اس کے ساتھ کھڑا رہا۔دوسری جانب اسلام آباد کی طرف سے بارہا تحفظات کے اظہار کے باوجود افغان حکام نے نہ تو دہشت گرد گروہوں سے اعلانیہ لاتعلقی اختیار کی اور نہ ہی ان کے ڈھانچے کو ختم کرنے کیلئے مؤثر اور واضح اقدامات کیے ہیں جبکہ پاکستان نے عالمی پلیٹ فارمز پر ثبوت بھی فراہم کیے ہیں کہ بیرونی طاقتیں‘ خصوصاً بھارت اور اسرائیل‘ افغانستان کی سرزمین کو پاکستان میں دہشت گردی اور  تخریبی کارروائیوں کیلئے استعمال کر رہے ہیں۔ طالبان کی عبوری حکومت دوحہ معاہدے پر پورا نہیں اُتر سکی۔ نہ وہ ایک جامع اور نمائندہ حکومت قائم کر سکی‘ نہ ہی خواتین کے بنیادی حقوق کا مؤثر تحفظ یقینی بنا سکی۔ افغان عبوری حکومت نے نہ صرف پاکستان کے سکیورٹی خدشات کو مسلسل نظر انداز کیا بلکہ سرحد پار دہشت گردی روکنے کیلئے تعاون کی متعدد پیشکشوں کو بھی قبول نہیں کیا۔ پاکستان نے گزشتہ چار دہائیوں میں طالبان کی سیاسی‘ سفارتی‘ انسانی سمیت دیگر شعبوں میں بھرپور حمایت کی۔اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کی رپورٹس کے مطابق افغانستان اس وقت دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے۔ یہاں سرگرم دہشت گرد تنظیموں میں القاعدہ‘ داعش خراسان‘ اسلامی موومنٹ آف ازبکستان (IMU)‘ ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ (ETIM)‘ تحریک طالبان پاکستان اور بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) شامل ہیں۔ روس کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق افغانستان میں 23دہشت گرد تنظیمیں موجود ہیں۔ پاکستان کے پاس بھی ایسے شواہد موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان میں سے بعض تنظیموں کو بیرونی عناصر سے مالی اور لاجسٹک معاونت حاصل ہوتی ہے تاہم متعلقہ ممالک ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔ متعدد عسکریت پسند گروپوں کو افغان سرزمین پر بھرتی‘ نظریاتی تربیت اور دہشت گردی کی منصوبہ بندی کے مواقع میسر ہیں اور وہ پاکستان میں مساجد‘ مدارس‘ جنازوں‘ بازاروں اور دیگر عوامی مقامات پر حملوں میں ملوث پائے جاتے ہیں۔ ان گروہوں نے ڈرون جیسے جدید ذرائع بھی استعمال کرنا شروع کر دیے ہیں۔ المیہ تو یہ ہے کہ جن افراد اور گروہوں نے کئی دہائیوں تک پاکستان میں پناہ لی‘ یہاں تعلیم‘ علاج‘ کاروبار اور دیگر سہولیات سے فائدہ اٹھایا‘ آج انہی کی حکومت کی سرپرستی میں افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔ ٹی ٹی پی کو طالبان کے بعض بااثر دھڑوں اور بیرونی عناصر کی حمایت حاصل ہے اور اب اس میں سابق طالبان جنگجو اور سابق افغان سکیورٹی اہلکاربھی شامل ہوئے ہیں۔ ملا عمر کے دورِ حکومت میں پاکستان اور افغانستان کے تعلقات اپنی تاریخ کے بہترین مرحلے میں تھے۔ کئی دہائیوں بعد پہلی مرتبہ پاکستان کی مغربی سرحد نسبتاً پُرامن اور محفوظ تھی۔ جب اکتوبر 1996ء میں ملا عمر کی قیادت میں پہلی طالبان حکومت قائم ہوئی تو بھارت طالبان کی مذہبی و نظریاتی پالیسیوں کی وجہ سے اس حکومت کے سخت ترین مخالف ممالک میں شامل تھا۔ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں بگاڑ 2001ء کے بعد پیدا ہوا‘ جب امریکہ کی قیادت میں افغانستان میں فوجی مداخلت اور حامد کرزئی کی سربراہی میں مغرب کی حمایت یافتہ حکومت کے قیام کے بعد بھارت کابل کا ایک اہم سٹریٹجک شراکت دار بن کر ابھرا۔ یاد رہے کہ یہ بھارت ہی تھا جو افغانستان اور ایران میں موجود اپنے سفارتی مشنز اور انٹیلی جنس نیٹ ورک کے ذریعے پاکستان اور طالبان مخالف سرگرمیوں میں ملوث رہا۔ ٹی ٹی پی نے اس وقت سابق فاٹا اور بلوچستان کے بعض علاقوں میں دوبارہ منظم ہونا شروع کر دیا تھا۔ بھارت نے اس دوران شمالی اتحاد سے وابستہ حکومتوں کی مسلسل حمایت جاری رکھی تو ادھر امریکہ نے بھی منافقانہ کردار نبھایا۔ ایک طرف پاکستان کے اتحادی ہونے کا تاثر دیتا رہا‘ دوسری طرف خفیہ کارروائیوں کے ذریعے پاکستان کو غیرمستحکم کرنے‘ اسکی جوہری صلاحیت کو کمزور کرنے اور ملک کو تقسیم کرنے کی سازش کرتا رہا۔ 20سالہ جنگ کے دوران امریکہ مسلسل افغانستان میں عدم استحکام کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہراتا رہا۔ جب اگست 2021ء میں امریکی اتحادی افواج کا افغانستان سے انخلا ہوا تو اپنے سیاسی اور عسکری اہداف حاصل نہ کر سکنے کی ناکامی کیلئے ایک مرتبہ پھر امریکہ نے پاکستان ہی کو موردِ الزام ٹھہرایا۔اگر دہشتگردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا مقصود ہے تو پاکستان کو انسدادِ دہشتگردی کی حکمت عملی کو وقتی ردِعمل کے بجائے قومی سلامتی کی مستقل پالیسی کا حصہ بنانا ہوگا۔ جب بھی دہشتگرد پاکستان پر حملہ کریں‘ انکے خلاف فوری‘ مؤثر اور فیصلہ کن کارروائی ہونی چاہیے تاکہ انکے ٹھکانے‘ تربیتی مراکز اور معاون نیٹ ورک مکمل طور پر تباہ کیے جا سکیں۔ ریاست کی پہلی ذمہ داری اپنی خودمختاری‘ علاقائی سالمیت اور اپنے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ہے۔ افسوس! پاکستان نے کئی دہائیوں تک افغانستان کی سیاسی‘ سفارتی اور انسانی سطح پر بھرپور مدد کی مگر اسکے بدلے میں پاکستان کے خدشات کو خاطر خواہ اہمیت نہیں دی گئی۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو صرف مذہبی یا تاریخی رشتوں کی بنیاد پر تعلقات میں بہتری لانا مشکل ہوگا۔ پائیدار امن اس وقت ممکن ہے جب پاکستان اور افغانستان کے تعلقات باہمی احترام‘ ایک دوسرے کی سلامتی کے تحفظ اور دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے اصولوں پر استوار ہوں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_62843609.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>