<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>آبی ذخائر اور بجٹ ترجیحات(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-08/11258</link><pubDate>Mon, 08 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-08/11258</guid><description>اس وقت جب پاکستان کی زراعت‘ صنعت اور کروڑوں انسانوں کی بقا کا ضامن‘ پانی ماحولیاتی خطرات کی زد میں ہے ملک کے آبی منصوبوں میں محدود سرمایہ کاری آبی و زرعی تحفظ اور کم لاگت بجلی کے پیداواری منصوبوں کے حوالے سے تضاد کو ظاہر کرتی ہے۔ پانی کی منصفانہ تقسیم‘ اس کی ذخیرہ اندوزی اور بجلی کی پیداوار کے منصوبے نہ صرف ہمیں ماحولیاتی خطرات سے بچا سکتے ہیں بلکہ کم لاگت توانائی بھی مہیا کر سکتے ہیں مگر بجٹ اور فنڈز کی تقسیم میں ان کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ وزارتِ آبی وسائل نے ملک کے مستقبل کو محفوظ بنانے کیلئے آئندہ مالی سال کیلئے969 ارب روپے کی ضرورت کا تخمینہ لگایا تھا لیکن حکومت کی جانب سے محض 179 ارب روپے کی رقم مختص کئے جانے کا سوچا جا رہا ہے‘ جسے ماہرین اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر قرار دیتے ہیں۔ گزشتہ بجٹ میں حکومت نے ترقیاتی فنڈ میں آبی ذخائر کیلئے مجموعی طور پر 140 ارب روپے مختص کیے تھے جن میں سے اب تک 106 ارب روپے ہی فراہم کیے جا سکے۔

ایسے وقت میں جب بھارت کی آبی جارحیت کے پیش نظر نئے آبی ذخائر کی تعمیر و توسیع ملکی دفاع کا ناگزیر تقاضا بن چکا ہے‘ آبی منصوبوں میں سرمایہ کاری حکومتی ترجیحات میں نظر نہیں آتی۔ واپڈا حکام کے مطابق اس وقت ملک کو چار بڑے جاری ہائیڈرو پاور منصوبوں پر کام کی رفتار بڑھانے اور پانی ذخیرہ کرنے کے نئے منصوبوں پر کام شروع کرنے کیلئے کم از کم 500 ارب روپے کی ضرورت ہے مگر قلیل مالی وسائل ان منصوبوں پر کام تیز کرنے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ثابت ہو رہے ہیں۔ یہ اسی عدم توجہی کا شاخسانہ ہے کہ وہ منصوبے جو آج سے کئی سال پہلے مکمل ہو کر آج ملک کو سستی بجلی اور وافر پانی فراہم کرنے کے قابل ہونے چاہیے تھے‘ وہ فنڈز کی قلت کے سبب آج بھی نامکمل ہیں۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ آبی منصوبوں کیلئے مختص بجٹ سے دسیوں گنا زائد رقوم حکومت نجی بجلی گھروں کو کپیسٹی پیمنٹس کی مد میں ادا کر رہی ہے۔ گزشتہ مالی سال میں کپیسٹی پیمنٹس کا حجم 1940 ارب روپے سے زائد تھا جبکہ کیلنڈر ایئر 2026ء کیلئے کپیسٹی چارجز کا تخمینہ دو ہزار ارب روپے سے زائد لگایا گیا ہے۔
یعنی پیداواری منصوبوں میں سرمایہ کاری کے بجائے حکومت اپنا بجٹ ایسے شگاف پُر کرنے میں صرف کر رہی ہے جن کا کوئی حاصل وصول نہیں۔ ایسے وقت میں جب پینے کے صاف پانی کی قلت اور زرعی زمینوں کے بنجر ہونے کا خطرہ سر پر منڈلا رہا ہے‘ آبی منصوبوں کیلئے انتہائی قلیل بجٹ اس حقیقت سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہے کہ پانی کے بغیر نہ تو معیشت چل سکتی ہے اور نہ ہی انسانی بقا کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ اگر جاری آبی منصوبوں پر فنڈز اور کام کی سست رفتاری کا جائزہ لیں تو یہ تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ جس رفتار یہ منصوبے آگے بڑھ رہے ہیں ان کی تکمیل کیلئے اب سال نہیں بلکہ کئی دہائیاں درکار ہوں گی۔ رواں سال فروری میں وزارتِ آبی وسائل کی جانب سے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ دریائے سندھ پر داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کا بجٹ اس قدر محدود ہو چکا ہے کہ موجودہ فنڈنگ کی رفتار سے اس منصوبے کو مکمل ہونے میں64 سال درکار ہوں گے جبکہ دیامر بھاشا ڈیم آئندہ46 برس میں اور کراچی واٹر سپلائی منصوبہ 10 برس بعد مکمل ہو گا۔
وہ منصوبے جنہیں چند برس میں مکمل ہو کر بروئے کار آنا چاہیے تھا وہ اگر دہائیوں پر محیط ہو جائیں تو ان کے معاشی فوائد کس کام کے رہیں گے۔ اس بحران کا ایک تشویشناک رخ یہ بھی ہے کہ تاخیر کے سبب تعمیراتی لاگت میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ پالیسی ساز انتہائی سنجیدگی کے ساتھ اپنی ترجیحات کا ازسر نوجائزہ لیں۔ موسمیاتی چیلنجز کے اس کٹھن دور میں آبی منصوبوں کو تمام دیگر ترقیاتی منصوبوں پر فوقیت دینا ہو گی کیونکہ پانی زندگی کی بقا ہے اور اس کے بغیر کوئی ترقیاتی منصوبہ کام نہیں آ سکتا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مہاجر نشستوں کا آئینی فیصلہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-08/11257</link><pubDate>Mon, 08 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-08/11257</guid><description>آزاد جموں وکشمیر سپریم کورٹ کی مہاجرین کی 12 نشستوں سے متعلق دائر کردہ صدارتی ریفرنس پر دی گئی آئینی رائے محض ایک عدالتی تشریح نہیں بلکہ ریاستی نظم‘ آئینی بالادستی اور سیاسی تنازعات کے حل کے طریقۂ کار پر ایک اہم اصولی فیصلہ ہے۔ اس فیصلے نے مہاجر نشستوں کے حوالے سے حکومت کے مؤقف کو آئینی بنیاد فراہم کرتے ہوئے اس امر کو واضح کر دیا ہے کہ مہاجر نشستیں آئین کے آرٹیکل 22 کے تحت تحفظ رکھتی ہیں اور انہیں کسی بھی وقتی فیصلے یا ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ اگر ان نشستوں کے ڈھانچے میں کسی قسم کی تبدیلی مطلوب ہو تو اس کیلئے ریاستی آئین کے آرٹیکل 33 میں ترمیم ناگزیر ہے۔ اس عدالتی رائے کے بعد یہ امر بھی واضح ہو جاتا ہے کہ کسی بھی احتجاجی گروہ کی طرف سے اپنے من پسند معاملات کو دباؤ سے یا سڑکوں پر حل کرنے کی کوشش آئینی دائرہ کار سے مطابقت نہیں رکھتی۔

مخصوص سیاسی مطالبات  منوانے کیلئے دبائو ڈالنا یا عوامی طاقت کا مظاہرہ کر کے مقاصد حاصل کرنا احتجاج کے حق کا ناجائز استعمال ہے۔ ایسی سرگرمیوں میں عوام کے مفاد کیلئے کچھ بھی نہیں ہوتا بلکہ الٹا اس سے ریاست کے تشخص پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور سرمایہ کاری اور سیاحت جیسے شعبوں کونقصان پہنچتا ہے۔ آئین وقانون میں کسی بھی تبدیلی کیلئے احتجاج‘ ہڑتال یا سڑکوں کی سیاست کے بجائے منتخب ایوان ہی واحد مسلمہ فورم ہے۔ یاستی نظام میں فیصلہ کن قوت منتخب اسمبلی اور آئین ہے‘ نہ کہ سیاسی دباؤ اور احتجاجی تحریکیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پرچون قیمتوں کا اندراج(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-08/11256</link><pubDate>Mon, 08 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-08/11256</guid><description> ہمارے ہاں اکثر اشیائے ضروریہ کی پرچون قیمتیں واضح طور پر درج نہیں ہوتیں اور یہ صورتحال خریداروں کے استحصال کا سبب بنتی ہے ۔ قیمت فروخت کے بارے واضح اطلاع خریدار کا بنیادی حق ہے کہ اسے پتا ہو کہ جو چیز وہ خریدنے کا فیصلہ کررہا ہے اس کے دام کتنے ہیں۔ مگر اشیائے ضروریہ تیار کرنے والی اکثر کمپنیاں پرچون قیمت پرنٹ کرنا ضروری نہیں سمجھتیں جس کا سارا فائدہ دکاندار کو جاتا ہے کہ وہ من مانی قیمت پر چیز فروخت کرے۔ مگر یوں لگتا ہے کہ حکومت نے صارفین کے اس اہم مسئلے پر عملی اقدامات کا فیصلہ کر لیا ہے؛ چنا نچہ نئے بجٹ میں اشیائے ضروریہ کی پرچون قیمت پرنٹ کرنا لازمی قرار دینے کی تجویز ہے۔ پرچون قیمت درج ہو تو مارکیٹ میں شفافیت پیدا ہو سکتی ہے اور صارفین کے حقوق کا تحفظ ہو گا۔

اس وقت ملک کے بیشتر بازاروں میں ایک ہی کمپنی کی ایک ہی طرح کی مصنوعات مختلف دکانوں پر مختلف نرخوں پر فروخت ہوتی ہیں۔ صارفین کو اکثر معلوم ہی نہیں ہوتا کہ کسی شے کے نرخ کیا ہیں‘ جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بعض دکاندار اپنی مرضی کے نرخ وصول کرتے ہیں۔ اگرچہ یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ متعدد اشیا پر قیمت درج ہونے کے باوجود دکاندار من مانی قیمتیں وصول کرتے ہیں‘ اس لیے ضروری ہے کہ مقررہ نرخ سے زائد قیمت وصول کرنیوالوں کیخلاف بھی کارروائی کی جائے۔ </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>متبادل معاشی نظام ناگزیر ہے(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-06-08/52081/33857984</link><pubDate>Mon, 08 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-06-08/52081/33857984</guid><description>انسان کا بنیادی مسئلہ کیا ہے؟ معیشت یا اخلاق؟اس سوال کا جواب تلاش کرتے ہوئے‘ عام طور پر ہم نظریاتی بحثوں میں الجھ جاتے ہیں۔ پھر اشتراکیت‘ سرمایہ داری اور اسلام کے مجوزہ نظام ہائے معیشت پر گفتگو شروع ہو جاتی ہے۔ تجربہ یہ ہے کہ اس کا نتیجہ بھی وہی نکلتا ہے جو اس سوال کا نکلا تھا کہ مرغی پہلے یا انڈا؟ اخلاقی تطہیر کے بغیر معاشی مسئلہ حل نہیں ہوتا مگر اس کے لیے جس وجود کی اخلاقی تطہیر مطلوب ہے اس کا &#39;ہونا‘ لازم ہے۔ اس کے ہونے کا مطلب‘ ترجیحاً مادی وجود کا اثبات ہے جس کی سلامتی معیشت کا مسئلہ ہے۔ جس اخلاقی وجود کا تذکیہ مقصود ہے‘ اس کے لیے ایک مادی وجود لازم ہے۔ گویا پہلے اس کے لیے زندہ رہنے کا سامان میسر ہو۔ ہر آدمی کو یہ سامان تبھی فراہم کیا جا سکتا ہے جب انصاف پر مبنی ایک معاشی نظام موجود ہو۔ انصاف ایک اخلاقی قدر ہے۔ اس کے لیے اخلاقی طور پر زندہ معاشرہ لازم ہے۔ بات گویا وہیں آ کر ٹھیر گئی: مرغی پہلے یا انڈا؟اس لیے کسی نظریاتی بحث میں الجھے بغیر‘ ہمیں بطور واقعہ اس مسئلے کو سمجھنا ہے۔ تناظر ظاہر ہے کہ پاکستان ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے اخراجات ہمارے وسائل سے زیادہ ہیں۔ یہ مسئلہ ریاست کا ہے اور عام پاکستانی کا بھی۔ چند آسودہ حال لوگوں کا استثنا ہے۔ اخراجات کی کوئی حتمی فہرست ہمیں میسر نہیں۔ یہ ایک موضوعی معاملہ ہے۔ ان کا تعلق ضروریات سے ہے جو مختلف ہوتی ہیں۔ ہم ضروریات کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں: بنیادی اور اضافی۔ بنیادی وہ ہیں جن کا تعلق فرد کی سلامتی اور بقا سے ہے۔ اضافی وہ ہیں جو میسر آ جائیں تو فرد اور سماج‘ دونوں کے لیے باعثِ خیر ہیں۔ تاہم اگر یہ موجود نہ ہوں تو بقا کو خطرہ لاحق نہیں ہوتا۔ بنیادی ضروریات میں خوراک‘ گھر‘ لباس‘ تعلیم اور صحت شامل ہیں۔ بعض ضروریات اور بھی ہیں جن کی تکمیل لازم ہے لیکن اس وقت میرے پیشِ نظر صرف مادی وجود کی بقا ہے۔معاشی توازن اس وقت قائم ہو گا جب چوبیس کروڑ افراد کو بنیادی ضرویات پورا کرنے کے لیے وسائل میسر ہوں۔ ریاست کی سطح پر ہم یہ وسائل تین طرح سے جمع کرتے ہیں۔ ایک قرض لے کر‘ دوسرا محنت سے‘ تیسرا ٹیکسوں سے۔ وسائل کی فراہمی اصلاً اس کی ذمہ داری ہے۔ اس لیے ہم اس بحث کو ریاست تک محدود رکھتے ہیں۔ ریاست ان تینوں شعبوں میں اپنی صلاحیت صرف کرتی ہے۔ اس کا زیادہ انحصار قرض پر ہے۔ دوسرا محنت پر۔ اس میں ملک کے اندر اور باہر پاکستانیوں کی محنت شامل ہے۔ تیسرا‘ ریاست زندگی کو سہل بنانے کے لیے جو نظام قائم کرتی ہے‘ اسے چلانے کے لیے عوام سے ٹیکس لیتی ہے۔ اس وقت حالت یہ ہے کہ تینوں ذرائع سے ہونے والی آمدن اخراجات کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ اس کا جو علاج ڈھونڈا گیا ہے‘ اس میں ایک طرف مزید قرض لیا جاتا ہے۔ دوسری طرف ٹیکس میں آئے دن اضافہ کیا جاتا ہے۔ تیسرا محنت سے زیادہ آمدن حاصل کرنے کوشش کی جاتی ہے۔ اس محنت میں صنعت وتجارت بھی شامل ہے۔آج صورتِ حال یہ ہے کہ تیسرا طریقہ توقعات سے بہت کم آمدن دے رہا ہے۔ اس لیے حکومت کا انحصار پہلے دو ذرائع پر مسلسل بڑھ رہا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ معیشت پر قرض کا بوجھ بڑھتا جا رہا ہے اور عوام سے ان کی استعداد سے کہیں زیادہ ٹیکس لیا جا رہا ہے۔ یہ ٹیکس اتنا بڑھ چکا ہے کہ اب ان کی برادشت سے باہر ہو گیا ہے۔ ریاست نے جو معاشی نظام اپنا رکھا ہے وہ مکمل طور پر ناکام ہو چکا۔ یہ وہ معاشی ماڈل ہے جس میں زیادہ قرض لینے اور عوام پر ٹیکسوں میں اضافے کو کامیابی سمجھا جاتا ہے۔ محصولات کا معاملہ یہ ہے کہ ریاست مال داروں سے‘ حسبِ قانون ٹیکس لینے میں بُری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ اس کا ازالہ وہ اس طرح کرتی ہے کہ تنخواہ دار طبقے اور عوام پر ٹیکسوں میں مزید اضافہ کرتی جاتی ہے۔ دوسرا یہ کہ عوام سے جن خدمات کے صلے میں ٹیکس لیا جاتا ہے‘ ان پر اخراجات مزید کم کر دیتی ہے۔ مثال کے طور پر وہ عوام سے اس وعدے پر ٹیکس لیتی ہے کہ وہ ان کے بچوں کو مفت تعلیم فراہم کرے گی۔ وہ یہ وعدہ پورا نہیں کر رہی۔ کم وبیش دو کروڑ ساٹھ لاکھ بچے سکول سے باہر ہیں۔ جب مجموعی قومی آمدن کا اعشاریہ آٹھ فیصد تعلیم پر خرچ ہو گا تو اس کا نتیجہ یہی ہو سکتا ہے۔قرض ظاہر ہے کہ واپس بھی کرنا ہوتا ہے‘ سود کے ساتھ۔ اس طرح ہر سال اخراجات کا تیسرا حصہ قرض کی ادائیگی پر صرف ہوتا ہے۔ اس سے قرض کم نہیں ہوتا‘ بڑھ جاتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ حکومت جتنا قرض واپس کرتی ہے‘ اس سے زیادہ لے لیتی ہے۔ یہی نہیں سود اضافی ہے جو اسے دینا ہی ہوتا ہے۔ اسی طرح ہمارے بہت سے وسائل دفاع پر خرچ ہو جاتے ہیں جو ظاہر ہے کہ آمدن کے تین ذرائع ہی سے پورے کیے جاتے ہیں۔ یہ ایک ایسا ناگزیر خرچ ہے جس سے مفر نہیں۔ جب بھارت جیسا ہمسایہ ہو جو آپ کے حصے کا پانی بھی آپ کو نہ دے تو آپ کیا کریں گے؟ صرف محفوظ سرحدوں کی صورت میں دفاعی اخراجات کم ہو سکتے ہیں اور فی الحال اس کا کوئی امکان نہیں۔میں ماہرِ معیشت نہیں ہوں‘ یہ ایک عامی کا مشاہدہ اور تجربہ ہے۔ معیشت ہر آدمی کا مسئلہ ہے۔ اس لیے اس کے وہ پہلو سمجھنا مشکل نہیں جن کا تعلق عقلِ عام کے ساتھ ہے۔ میرے نزدیک مذہب ہو یا سیاست و معیشت‘ عقلِ عام سے مسائل حل ہوتے ہیں۔ عقلِ خاص نے صرف مسائل کو پیچیدہ بنانے کی خدمت سرانجام دی ہے۔ اس لیے اس معاملے کو اگر عقلِ عام کی نظر سے دیکھا جائے تو شاید ہم اس کا کوئی حل تلاش کر سکیں۔ حل وہی ہے: اخراجات اور وسائل میں توازن۔ بڑھتے ناگزیر اخراجات کے لیے محنت کے عنصر پر زیادہ توجہ نہ کہ قرض اور ٹیکسوں پر اضافے پر۔اس وقت اس قوم کا وہی امامِ برحق ہو گا جو اس توازن کے لیے کوئی فارمولا دے سکے گا۔ میں جانتا ہوں کہ یہ دو دن میں حل ہونے والا مسئلہ نہیں ہے۔ المیہ مگر یہ ہے کہ کسی طرف سے کوئی حل پیش کیا گیا ہے نہ حکومت اس عزم کا اظہار ہی کر سکی ہے کہ وہ اس نظام کی تشکیلِ نو میں سنجیدہ ہے۔ آج عملاً آمدن کے تین کے بجائے دو ذرائع ہیں: قرض اور عوام پر ٹیکسوں میں اضافہ۔ صنعت بانجھ ہو چکی۔ بجٹ آنے ولا ہے۔ اس میں ٹیکسوں میں مزید اضافہ کر دیا جائے گا۔ کہا جائے گا کہ عوام پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ یہ اتنا بے اثر اور بے رحم جملہ ہے کہ اس کو دہراتے ہوئے بھی شرم آتی ہے۔ معلوم نہیں کہنے والوں کو کیوں نہیں آتی۔آج کسی سیاسی جماعت یا ماہرِ معیشت کے پاس کوئی متبادل موجود نہیں۔ باتیں ہیں یا وعظ ونصیحت۔ یہاں پہنچ کر بحث پھر اخلاقیات سے جڑ جاتی ہے۔ &#39;حکمران طبقہ اگر دیانتدار ہو تو مسائل حل ہو سکتے ہیں‘۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہے مگر ٹیکس تو صاحبانِ وسائل نہیں دے رہے۔ بد دیانتی صرف حکومت کا نہیں عوام کا مسئلہ بھی ہے۔ اصلاح کی طرف پہلا قدم یہ ہے کہ حکومت کے پاس متبادل معاشی ماڈل موجود ہو اور وہ عزم بھی جو اسے کامیاب بنانے کے لیے لازم ہے۔ پہلے کام کے لیے اہلِ دانش کو حکومت کی مدد کرنی چاہیے۔ دوسرے کے لیے سماجی دباؤ بڑھنا چاہیے جو رائے ساز اداروں اور میڈیا کا کام ہے۔ موجودہ معاشی نظام عوام کے مادی مسائل حل کرنے میں ناکام ہو چکا۔ اس پرا صرار معاشی بر بادی کو یقینی بنانا ہے۔ متبادل معاشی نظام ناگزیر ہو چکا۔اک آبلہ پا وادیٔ پُرخار میں آوے</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>معاشرہ سازی(رسول بخش رئیس)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-06-08/52082/85459758</link><pubDate>Mon, 08 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-06-08/52082/85459758</guid><description> معاشرے سے ہی ہماری پہچان‘ بہبود‘ خوشحالی اور روشن خیالی‘ غرض یہ کہ زندگی کا ہر پہلو مرتب ہوتا ہے۔ ہم جو کچھ ہیں‘ بن سکے یا نہ بن سکے‘ اپنے مخصوص ابتدائی ماحول کے مرہونِ منت ہیں۔ یہاں دو باتیں تو طے ہیں: معاشرہ ہمیں بگاڑتا یا نکھارتا ہے‘ اور ہم اپنی سیاست کے اُس پہلو سے جسے ہم سماجی پالیسی کہتے ہیں‘ اس کی سمت‘ راستہ کا تعین کرتے اور بہتری کی منزلیں طے کرتے ہیں یا کر سکتے ہیں۔ چونکہ ہماری محدود علمی صلاحیت کا تعین سیاست اور ریاست سے ہوتا ہے اس لیے ہم اول الذکر کو سدھار اور زوال کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ کئی ہزار سال پہلے یونان کے ایک فلسفی نے جو بات کہی اُس کی عظمت اور حقیقت جدید دور میں کہیں زیادہ نمایاں ہوئی ہے۔ اُس نے کہا تھا کہ تمام انسانی علوم میں سیاست سب سے بالا درجے پر ہے۔ یہ اس لیے ہے کہ سیاست ہی معاشرے کے تمام پہلوئوں کا تعین کرتی ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ وہ ماحول فراہم کرتی ہے جس میں ہر انسان اپنی دو حتمی اور فطری ضروریات پوری کر سکے۔ ایک خوشی اور دوسری اچھی زندگی۔ یہ طویل بحث ہے کہ خوشی کیا ہے اور ہم کیسے خوش یا ذہنی طور پر صحت مند رہ سکتے ہیں اور یہ بھی کہ اچھی زندگی میں کون سے رویوں کو شمار کریں گے۔ ان کے درمیان بہت سی ایسی باتیں ہیں جو ہمارے محسوسات سے تعلق رکھتی ہیں اور ان کا معروضی طور پر احاطہ کرنا ناممکن ہے۔ ایک اور بات بھی نہایت اہم ہے کہ ہر دور میں ہمارے مادی حالات تبدیل ہوتے رہے ہیں جن کا تعلق ہماری زندگیوں کے اُن گوشوں سے ہے جو ہمیں یا تو شہرت اور اطمینان کی نعمتوں سے نوازتے ہیں یا مایوسی اور اندھیروں کی طرف دھکیل دیتے ہیں۔ مادی حالات دنیا میں سیاست کی وجہ سے ہی تبدیل ہوئے اور ہوتے رہے ہیں۔ یہ سیاست جنگ‘ امن اور سلامتی اور معاشی ترقی کی ہو سکتی ہے‘ یا پھر اس کے متضاد۔ اگر نہ کوئی خواب ہوں‘ نہ منزل اور نہ کوئی راہبر تو پھر سیاست خود غرضی‘ ذاتی مفاد اور لوٹ کھسوٹ کے دائروں میں گھومتی ہے۔ پھر اہلِ سیاست مال سمیٹنے کے نت نئے حربے تلاش کر لیتے ہیں۔ہمارے نزدیک سیاست کوئی خودمختار کھیل نہیں‘ یہ طاقتور انسانوں‘ افراد اور معاشرے کے ہاتھ کا آلہ کار ہے جس سے آپ اپنے لیے جنت کا سا معاشرہ ترتیب دے سکتے ہیں یا وہ حالات پیدا کرسکتے ہیں جہاں انسان کسمپرسی‘ بدحالی‘ بیروزگاری‘ غربت اور بدنظمی میں اپنی زندگیاں برباد کر لیں۔ سیاست کا حتمی مقصد اور مطمح نظر انسان اور اُس کی زندگی ہے کہ یہ وجودی نعمت صرف ایک محدود مدت کے لیے ہے۔ اس سے بڑی کوئی اور دولت‘ مقام اورمرتبہ نہیں۔ اگر یہ ہے تو سب کچھ ہے‘ یہ نہیں تو سب مٹی کا ڈھیر ہے‘ وہ مٹی جہاں کچھ بھی نہیں اُگ سکتا۔معاشرہ سازی کے حوالے سے کسی بھی ریاست کی سماجی پالیسی بہت اہمیت رکھتی ہے۔ یہ وہ طریقہ کار ہے جس سے انسانوں کے مقدر اور معاشروں کی ترتیب بدلی جا سکتی ہے۔ اس بات پر ہمیشہ یہ درویش زور دیتا ہے کہ سیاست شعوری عمل ہے۔ اچھا معاشرہ بنائیں یا حکمران طبقات اپنی بداعمالیوں اور کرپشن سے اسے برباد کردیں‘ دونوں شعوری ہیں۔ ان میں ان کا ارادہ اور طاقت شامل ہیں۔ مغرب کی ترقی کی بات چھوڑیں‘ اب تو ترقی کے کئی مشرقی حوالے بھی ہیں جن میں جاپان‘ چین‘ تائیوان اور جنوبی کوریا کے علاوہ مسلم ممالک میں ترکیہ اور ملائیشیا کی مثالیں دی جا سکتی ہیں۔ خلیجی ریاستوں کو اس زمرے میں اس لیے شامل نہیں کرسکتاکہ ان کے ریت‘ سریا اور سیمنٹ کے برجوں میں روح نہیں ہے۔ معیار یہ نہیں کہ تیل کی دولت اور کمزور ملکوں کی لوٹی ہوئی ناجائز دولت کے محافظ بن کر ایک صارف اور مصنوعی معاشرہ بنائیں۔ اگر آزادیٔ فکر اور اختلافِ رائے کی بادِ نسیم نہ چلے تو پھر فرد سماجی گھٹن کا شکار ہو جاتا ہے یا فکری بادِ سموم کے جھکڑ اُس کے در پے ہو جاتے ہیں۔ خیر ہم کس کس کی بات کریں کہ اب زمانہ ہی بدل گیا ہے کہ مادیت پرستی نے بہت سی ایسی فطری نعمتوں سے معاشروں کو محروم کر رکھا ہے۔ جہاں کی ہم مثالیں دیتے تھے اب تو وہاں بھی کوئی اور رسم چل نکلی ہے۔خیر بات سماجی پالیسی کی ہو رہی تھی جو ہر نوع کی خوشحالی اور مادی ترقی کو مرتب اور متحرک کرتی ہے۔ جاپان روایتی‘ قدامت پسند معاشرہ تھا۔ اس کے انیسویں صدی کے بادشاہوں نے تعلیم اور سائنسی ترقی کو ملکی طاقت کا ذریعہ خیال کرکے انقلابی تبدیلیوں کی ایسی بنیاد رکھی کہ انقلاب در انقلاب کا سلسلہ چل نکلا۔ چین انقلاب کے نتیجے میں‘ جو ہماری آزادی کے دو سال بعد واقع ہوا‘ آج دنیا کی دوسری بڑی معیشت بن چکا ہے۔ ایک عظیم ناقابلِ تسخیر عسکری طاقت بھی۔ یہ باتیں کسے معلوم نہیں۔ ہمارے کون سے حکمران ماضی اور حال کے ہیں جنہوں نے چین کو ابھرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ مغرب میں تو اُن کے اثاثے‘ ٹھکانے‘ اولادیں اور سرمایہ کاری ہے‘ کیا انہیں معلوم نہیں کہ سماجی ترقی کیسے انقلابی تبدیلیوں کے طاقتور انجن کے طور پر کام کرتی ہے۔ سماجی ترقی میں ہماری نسبت سے تین پہلو اہم ہیں اور یہ سب بدحال معاشروں کو اس صورتحال سے باہر نکالنے کا کرشماتی کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ یہ پہلو سب کے لیے یکساں معیاری تعلیم‘ دوسرے نمبر پر صحت کا نظام اور تیسرے نمبر پر بہودِ آبادی ہیں۔ ہمارے مبصرین ان امور کی نشاندہی مختلف پیرایوں میں کرتے رہے ہیں۔ہماری تو خیر کوئی اہمیت نہیں‘ اُن عالمی اداروں کی ہم بات کرتے ہیں جو ہر سال ہماری سماجی ترقی کے بارے میں رپورٹیں شائع کرتے ہیں۔ ہمارے اپنے ادارے بھی بجٹ سے ایک دن پہلے سالانہ جائزہ عوام اور حکمرانوں کے سامنے رکھتے ہیں۔ ہم دنیا میں تو نچلی سطح پر اس لحاظ سے ہیں ہی‘ مگر جنوبی ایشیا میں بھی افغانستان کے بعد پست ترین ہیں۔ ہمارے زوال کی ذمہ دار سیاست نہیں تو اور کیا ہے؟ مغربی لوگ کہتے تھے کہ چینی افیونی ہیں‘ یہ کیسے ترقی کر سکتے ہیں۔ پھر ترقی کے خواب تو مغرب کے معاشرہ سازوں کے تھے۔ لیکن چین نے انگڑائی لی۔ آج اس کی گاڑیوں اور ہر نوع کی برآمدات نے عالمی مارکیٹ کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ اپنی سماجی بدحالی کے ذمہ داروں کا تعین کریں تو نسل در نسل ایک ہی گروہ نظر آتا ہے۔ وسائل کی کبھی کمی تھی اور نہ اب ہے۔ اصل میں سیاسی ترجیحات اور سیاسی خاندان جنہیں آپ جو بھی سیاسی یا سماجی شناخت دیں‘ وہ اپنی شخصی تعمیر میں انتہا درجے کے رجعت پسند واقع ہوئے ہیں۔ ظاہری لبادوں‘ نعرہ بازی اور کھوکھلے منشوروں پر کبھی نہ جائیں۔ آخر کوئی تو جواب دے‘ کسی کو تو ذمہ دار ٹھہرائیں کہ آبادی کو روکنے‘ سب کے لیے یکساں اور معیاری لازمی عام تعلیم اور صحت کے شعبوں میں ہم وہ نتائج کیوں نہیں حاصل کر سکے جو دیگر ممالک کے حصے میں آئے۔ ہماری معیشت کے کئی طبقے ہیں جو ٹیکس ادا نہیں کرتے۔ انہوں نے اپنی انجمنیں بنائی ہوئی ہیں اور سب سڑکوں پر آ جاتے ہیں‘ دھمکیاں دیتے ہیں اور معاملات طے کر کے ٹیکس نیٹ سے صاف بچ نکلتے ہیں۔ وسائل پیدا کیے جاتے ہیں اور منصفانہ ٹیکس سے بہتر اور کون سا طریقہ ہو سکتا ہے؟ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام اس وقت معاشی وسائل کا سب سے بڑا ضیاع ہے۔ گزشتہ سال 716 ارب روپے یعنی تقریباً ڈھائی ارب ڈالر بھکاری پن پر ضائع کر دیے گئے۔ یہ رقم غریبوں کو معیاری تعلیم‘ بہبود آبادی اور صحت کی سہولتوں کی فراہمی پر خرچ کریں تو تقدیر بدل سکتی ہے۔ ووٹوں اور نوٹوں کی سیاست میں ہم بھکاری ہی بنیں گے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_33241568.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بجٹ اور ملکی معیشت(میاں عمران احمد)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mian-imran-ahmad/2026-06-08/52083/32890621</link><pubDate>Mon, 08 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mian-imran-ahmad/2026-06-08/52083/32890621</guid><description>جون کا مہینہ شروع ہوتے ہی پاکستان میں بجٹ کے حوالے سے قیاس آرائیاں شروع ہو جاتی ہیں اور عوام میں نئی امیدیں اور خدشات پیدا ہونے لگتے ہیں۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ آنے والا بجٹ عوام دوست ہوگا لیکن بجٹ میں عوام دوستی ڈھونڈنا عام انسان کے بس کی بات نہیں۔ بجٹ میں ایک نیا روڈ میپ بھی دیے جانے کی تیاری ہے۔ روڈ میپ کا سُن کر عوام کو خوش نہیں ہونا چاہیے کیونکہ تجربہ بتاتا ہے کہ یہ راستہ اکثر سیدھا ان کی جیبوں تک جاتا ہے۔ اسی راستے پر چلتے ہوئے حکومت نئے ریونیو اقدامات کا اعلان کر سکتی ہے کیونکہ پرانے اقدامات اب عوام کو بہت اچھی طرح یاد ہو چکے ہیں اور ان کی تکلیف بھی معمول بن چکی ہے۔ حکومتی دعویٰ ہے کہ دوسے تین لاکھ ماہانہ تنخواہ لینے والوں پر ٹیکس بوجھ میں تقریباً پانچ فیصد کمی لائی جا سکتی ہے۔ ڈیویڈنڈ انکم پر بھی ٹیکس 15 فیصد سے کم کیا جا سکتا ہے۔ موبائل فونز پر ٹیکس کی شرح کم ہو سکتی ہے‘ ایکسپورٹرز پر ایک فیصد ایڈوانس ٹیکس ختم ہو سکتا ہے‘ کارپوریٹ انکم ٹیکس کی موجودہ 29 فیصد شرح اور سپر ٹیکس میں نرمی کی جا سکتی ہے۔ لیکن حکومت یہ بتانے سے گریزاں ہے کہ بجٹ میں ٹیکس اہداف تقریباً 1200 ارب سے بڑھ کر 1500 ارب طے کر لیے گئے تو وہ ٹیکس کہاں سے حاصل کیا جائے گا؟ کیا ٹیکس فائلرز پر ہی مزید بوجھ ڈالا جائے گا یا نان فائلرز کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے گا؟ زیادہ امکانات یہی ہیں کہ پرانے ٹیکس گزاروں پر ہی بوجھ بڑھایا جائے گا۔ ایسی صورت میں ریلیف بے معنی ہو جاتا ہے۔ اصل ریلیف اس وقت دیا جا سکتا ہے جب ٹیکس اہداف 1200 ارب روپے سے کم کیے جائیں۔ٹیکس نیٹ اور ٹیکس بیس بڑھانے کے لیے حکومت نے فکسڈ ٹیکس آسان سکیم متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ نئی سکیم سے تقریباً 50 ارب روپے سالانہ آمدن ہو سکتی ہے اور تقریباً 35 لاکھ تاجروں کا احاطہ کیا جا سکتا ہے۔ وہ تاجر جن کا سالانہ کاروبار 20 کروڑ روپے تک ہے‘ صرف ایک فیصد فکسڈ ٹیکس ادا کرکے اس سکیم کا حصہ بن سکیں گے۔ انہیں پوائنٹ آف سیل سسٹم‘ آڈٹ اور پیچیدہ ٹیکس کارروائیوں سے بھی استثنا دے دیا جائے گا۔ اگر وہ پہلے سے وِد ہولڈنگ ٹیکس ادا کر رہے ہیں تو اسے ایڈجسٹ بھی کیا جا سکے گا۔ تاہم اس سکیم پرکچھ بنیادی سوالات بھی ہیں۔ مثال کے طور پر 20 کروڑ روپے سالانہ کاروبار کرنے والا تاجر اگر صرف ایک فیصد کی بنیاد پر ٹیکس ادا کرتا ہے تو کیا یہ واقعی منصفانہ ٹیکس نظام کہلائے گا؟ دوسری جانب ایک تنخواہ دار آدمی اپنی آمدنی کا کہیں زیادہ حصہ براہ راست ٹیکس کی شکل میں ادا کرتا ہے۔ حکومت نے گزشتہ برس بھی &#39;&#39;تاجر دوست‘‘ سکیم کو انقلابی قرار دیا تھا لیکن مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر سکی۔ اس کی بنیادی وجہ ناقص عملدرآمد‘ تاجروں کی محدود دلچسپی اور اعتماد کے فقدان کو قرار دیا گیا تھا۔ اب حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس بار یہ سکیم تاجروں کی مشاورت سے تیار کی گئی ہے اور ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھا گیا ہے۔ اگر فکسڈ ٹیکس آسان سکیم کے ذریعے واقعی 30 سے 35 لاکھ نئے یا غیر فعال تاجروں کو ٹیکس نظام میں شامل کر لیا جاتا ہے تو یہ پاکستان کی مالیاتی تاریخ میں ایک بڑا سنگ میل ہو سکتا ہے لیکن اگر یہ سکیم بھی صرف اعلانات اور پریس کانفرنسوں تک محدود رہی تو حکومت ایک مرتبہ پھر محصولات کے اہداف پورے کرنے کے لیے تنخواہ دار طبقے‘ صنعت اور موجودہ ٹیکس دہندگان پر مزید بوجھ ڈال سکتی ہے۔حکومت نئے بجٹ میں سٹیشنری کی اشیا پر جی ایس ٹی 10 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کا ارادہ رکھتی ہے‘ یعنی ٹیکس میں 80 فیصد اضافہ۔ پاکستان کی سٹیشنری مارکیٹ کا حجم تقریباً 700 ارب روپے سالانہ ہے‘ جس کا تقریباً 65 فیصد حصہ سکولوں اور کالجوں سے جڑا ہے۔ اس فیصلے سے اندازاً 36 ارب روپے اضافی ریونیو حاصل ہو سکتا ہے‘ مگر اس کے نتیجے میں عوام پر تعلیمی اخراجات کا بوجھ بڑھ جائے گا۔ یعنی تعلیم مزید مہنگی ہو جائے گی۔ پچھلے سال پہلی مرتبہ سٹیشنری پر 10 فیصد جی ایس ٹی لگایا گیا تھا جس پر سخت عوامی ردعمل آیا۔ بعد ازاں پارلیمانی سفارشات کے باوجود اسے واپس نہیں لیا گیا۔ اب 18 فیصد تک اضافہ اس بوجھ کو مزید بڑھا دے گا۔ یہ اضافہ ایسے وقت میں کیا جا رہا ہے جب ملک میں پہلے ہی تقریباً دوکروڑ 63 لاکھ بچے سکول نہیں جاتے‘ تعلیم پر حکومتی خرچ جی ڈی پی کے ایک سے ڈیڑھ فیصد کے درمیان ہے اور مہنگائی نے قوتِ خرید کو کمزور کر دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ریونیو بڑھانے کے لیے بچوں کی تعلیم ہی رہ گئی ہے؟ کیا حکومت کے پاس ٹیکس اکٹھا کرنے کے لیے کوئی بہتر متبادل موجود نہیں؟دوسری جانب وفاق اور صوبائی حکومتیں آئندہ مالی سال میں تقریباً 3.2 ارب ڈالر کے غیر ملکی قرضے لینے کا ارادہ رکھتی ہیں‘ جو مجموعی ترقیاتی بجٹ کا تقریباً 22 فیصد بنتا ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان کو مالی سال 2026-27ء میں تقریباً 21.2 ارب ڈالر اور اس کے بعد تقریباً 30 ارب ڈالر کی بیرونی فنانسنگ درکار ہو سکتی ہے۔ قرضوں کے بوجھ کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ صرف بیرونی قرضوں پر سود کی ادائیگی تقریباً چار ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے جبکہ مجموعی قرضوں کی سروسنگ 7.8 کھرب روپے تک جا سکتی ہے۔ یعنی نئے بجٹ کا ایک بڑا حصہ ترقیاتی کاموں کے بجائے قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہو سکتا ہے۔ اس پس منظر میں سٹیٹ بینک کی پالیسی بھی اہم ہے۔ گزشتہ دو برسوں میں سٹیٹ بینک نے مارکیٹ سے تقریباً 27 ارب ڈالر خرید کر زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دیا ہے۔ اس پالیسی سے وقتی طور پر روپے کو استحکام حاصل ہوا لیکن ساتھ ہی یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ آیا یہ استحکام حقیقی مارکیٹ ڈیمانڈ کی بنیاد پر ہے یا انتظامی مداخلت کا نتیجہ۔ حکومت آئندہ مالی سال کے بجٹ کے لیے ڈالر کے مقابلے میں روپے کا ایکسچینج ریٹ 290 روپے فی ڈالر رکھنے کا ارادہ رکھتی ہے جو پچھلے سال کی نسبت تقریباً 3.5 فیصد کم ہے۔ اگر ڈالر ریٹ کو مارکیٹ کے مطابق ایڈجسٹ نہ کیا گیا تو اگلے صرف ایک مالی سال میں پاکٹ فنانسنگ 16 ارب ڈالر سالانہ تک پہنچ سکتی ہے‘ جس سے ایکسپورٹس متاثر ہو سکتی ہیں۔وفاقی حکومت آئندہ مالی سال کے بجٹ میں پانی اور پن بجلی کے شعبے کے لیے صرف 179 ارب روپے مختص کرنے پر غور کر رہی ہے جبکہ واپڈاکے مطابق کم از کم 500 ارب روپے درکار ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان‘ جسے پانی کی قلت‘ مہنگی توانائی‘ موسمیاتی تبدیلیوں اور آبی تنازعات کا سامنا ہے‘ آبی وسائل پر برائے نام سرمایہ کاری کا متحمل ہو سکتا ہے؟ ملک کی تقریباً 80 فیصد زرعی پیداوار دریائے سندھ کے نظام پر منحصر ہے۔ زراعت ملکی جی ڈی پی کا تقریباً 24 فیصد اور برآمدات کا بڑا ذریعہ ہے جبکہ لاکھوں افراد کا روزگار اسی شعبے سے وابستہ ہے۔ پانی کی کمی کا مطلب صرف فصلوں میں کمی نہیں بلکہ خوراک کی مہنگائی‘ دیہی غربت اور معاشی عدم استحکام بھی ہے۔ واپڈا اس وقت آٹھ بڑے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ گزشتہ مالی سال میں بھی اس شعبے کو صرف 106 ارب روپے فراہم کیے گئے جس کے باعث کئی منصوبوں کی رفتار متاثر ہوئی۔ 969 میگاواٹ صلاحیت کا نیلم جہلم منصوبہ گزشتہ تین برس سے بند پڑا ہے۔ اگر بروقت مرمت اور فنڈنگ فراہم کی جاتی تو ملک کو ہر سال اربوں روپے مالیت کی سستی پن بجلی حاصل ہو سکتی تھی۔ اگر آنے والے بجٹ میں اس شعبے کے لیے صرف 179 ارب روپے مختص کیے جاتے ہیں تو منصوبوں کی بروقت تکمیل کا امکان کم ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/212_71532147.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>28ویں ترمیم اور قیاس آرائیاں(کنور دلشاد)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/kunwar-mohammad-dilshad/2026-06-08/52084/21469834</link><pubDate>Mon, 08 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/kunwar-mohammad-dilshad/2026-06-08/52084/21469834</guid><description>کچھ عرصہ سے یہ قیاس آرائیاں کی جارہی تھیں کہ حکومت 28ویں آئینی ترمیم سے پیچھے نہ ہٹی توحکومتی اتحاد میں شگاف پڑ سکتا ہے کیونکہ 28ویں ترمیم کے تحت 18ویں ترمیم میں تبدیلی کی جو بات کی جاتی ہے وہ پیپلز پارٹی کو منظور نہیں۔تاہم صدر آصف علی زرداری نے عیدالاضحی کے موقع پر اپنی پارٹی کے اہم ذمہ داران سے جو گفتگو کی اس سے ہر گز یہ تاثر نہیں ملتا کہ ان کے دل میں کوئی ناراضی ہے۔ عوامی اجتماع سے خطاب میں صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ ہمیں ملک اور مقتدرہ کو مضبوط کرنا ہے۔ صدر زرداری نے اپنے پارٹی رہنماؤں کو یہ بھی ہدایت کی کہ وہ عوام سے رابطے مضبوط رکھیں۔پیپلز پارٹی اس وقت اقتدار میں ہے اور اسے عوام اور مقتدرہ دونوں کی ضرورت ہے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کا اتحاد جو ماضی میں سیاسی ناممکنات میں سے تھا بظاہر اتنی جلدی ٹوٹنے والا نہیں البتہ بعض مفادات اور فیصلوں پر اختلافات پیدا ہو سکتے ہیں جیسا کہ 28ویں ترمیم کے ذریعے 18ویں ترمیم کی روح کو تبدیل کرنے کا معاملہ۔ زرداری صاحب ایک عوامی سیاسی جماعت کی قیادت کر رہے ہیں مگر وہ کارپوریٹ سیکٹر کی سوچ کے بھی حامل ہیں۔ وہ سیاست میں مفاہمت کی پالیسی پر گامزن ہیں اور اپنے مخالفین سے بھی گرم جوشی سے مصافحہ کرنے کا ہنر رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اپنے دورِ اقتدار میں انہوں نے دیگر سیاسی جماعتوں کو اپوزیشن میں شامل ہوکر حزبِ مخالف کو مضبوط کرنے کا موقع دینے کے بجائے اقتدار میں شریک کر لیا تھا۔ تاہم اس وقت یہ کہنا کہ زرداری صاحب یا ان کی جماعت مقتدرہ کی ضرورت بن چکے ہیں‘ شایددرست نہیں کیونکہ عالمی سطح پر بدلتے حالات نے مقتدر حلقوں کی اہمیت میں بہت اضافہ کیا ہے اور اس وقت ان کی پوزیشن خاصی مضبوط ہے۔ اب پیپلز پارٹی کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ معاملات کو آگے بڑھانے میں کس طرح اپنا کردار ادا کر سکتی ہے۔زرداری صاحب لنگڑے گھوڑوں پر دائو لگانے کے عادی نہیں‘ وہ کامیاب گھوڑوں پر داؤ لگانے کے ماہر ہیں۔ اب یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ان کی ہدایت پر کون سے سیاسی گھوڑے عوام میں زیادہ مقبولیت حاصل کرنے کے لیے دوڑتے ہیں‘ خدمت اور رابطوں میں تیزی لاتے ہیں‘ اپنی ناراضیاں ختم کرتے ہیں اور پارٹی قیادت و عوام کے مفادات پر پورا اترتے ہیں۔ یہ وقت تبدیلی کا ہے‘ جس میں سوچ اور طریقے دونوں کو بدلنے کی ضرورت ہے۔دوسری جانب یہ بھی مد نظر رہنا چاہیے کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین دو الگ سیاسی جماعتیں ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹ کا حصہ نہیں۔ صوبائی سطح پر پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین نمایاں ہے جس کے سربراہ آصف علی زرداری ہیں جبکہ بلاول بھٹو زرداری پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین ہیں‘ لہٰذا آصف علی زرداری کو سیاسی باگ ڈور مکمل طور پر پیپلز پارٹی کے سپرد کر کے بلاول بھٹو زرداری کو آگے لانا چاہیے۔ بلاول بھٹو کی پارٹی حیثیت الیکشن ایکٹ 2017ء کی دفعہ 203 کے تناظر میں پہلے ہی زیر بحث ہے۔ وہ بیک وقت دو سیاسی جماعتوں کے عہدیدار نہیں رہ سکتے۔ الیکشن کمیشن کے ریکارڈ کے مطابق بلاول بھٹو زرداری پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین کے وائس چیئرمین ہیں‘ جو قانونی طور پر نااہلیت کے زمرے میں آ سکتا ہے۔شنید ہے کہ ان کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں ایک مقدمہ بھی زیر سماعت ہے ۔صدر زرداری نے اپنی حالیہ تقریر میں کراچی کے عوام کے پانی کے مسئلے کا ذکر نہیں کیا۔ کراچی میں پانی صرف نلکوں سے نہیں بلکہ اربوں روپے کی ایک متوازی معیشت کے ذریعے بھی بہتا ہے۔ کراچی میں سالانہ اربوں روپے کا پانی کا کاروبار ہوتا ہے جس میں بڑا حصہ بااثر اشرافیہ تک پہنچتا ہے جبکہ باقی رقم مختلف سطحوں پر بندر بانٹ کی نذر ہو جاتی ہے۔ شہر کے لاکھوں شہری پانی کی ایک ایک بوند کو ترستے ہیں مگر پانی مافیا اور اس کے سرپرستوں کیلئے یہ بحران سونے کی کان بن چکا ہے۔شاید یہی وجہ ہے کہ اب کراچی کے عوام کھلے عام مطالبہ کر رہے ہیں کہ کراچی کو وفاق کے زیر انتظام دے دیا جائے۔ اس کی آئینی بنیاد بھی ہے کہ اگر کسی صوبے کو معاشی ابتری کا سامنا ہو تو آئین کے آرٹیکل 147کے تحت وفاق مداخلت کر سکتا ہے۔اطلاعات کے مطابق مقتدر حلقوں کی خواہش ہے کہ 28ویں ترمیم منظور کرا کے 18ویں ترمیم کی بعض اہم شقیں حذف کر دی جائیں۔ یہ بھی شنید ہے کہ زرداری صاحب نے ایک وزیر کے توسط سے 28ویں ترمیم پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری اس کے بارے میں شدید تحفظات رکھتے ہیں۔ مقتدر حلقوں نے ایک وفاقی وزیر کے ذریعے آصف علی زرداری کو قائل کرنے کی کوشش کی ہے لیکن ابھی تک ڈیڈ لاک برقرار ہے۔ اسی لیے وفاقی بجٹ کو 10 جون تک مؤخر کیا گیا۔ شنید ہے کہ ایم کیو ایم نے بھی وفاقی بجٹ کی منظوری میں اعتماد کا ووٹ دینے سے انکار کر دیا تھا۔ ان کا مطالبہ مقامی حکومتوں کے حوالے سے آئین کے آرٹیکل 140-A میں بنیادی تبدیلیاں لانے کا ہے جسے پیپلز پارٹی نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ اس لیے 28ویں ترمیم کی منظوری تک ملک میں بے یقینی کی کیفیت برقرار رہ سکتی ہے۔ مجموعی طور پر یوں لگتا ہے کہ چاروں صوبائی حکومتیں اور وفاق بہتر کارکردگی دکھانے میں ناکام ہیں۔ وفاقی وزیر خزانہ بھی وفاق کی کارکردگی کو مؤثر ثابت کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔دوسری جانب امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی ایک بار پھر ایسے موڑ پر آ کھڑی ہوئی ہے جہاں معمولی غلط اندازہ بھی پورے خطے کو ایک بڑے بحران کی طرف دھکیل سکتا ہے۔ایران امریکہ جنگ میں خلیجی ممالک اپنی دفاعی صلاحیتوں کا بھرم پہلے ہی کھو چکے ہیں کیونکہ اُن کا انحصار اُن امریکی فوجی اڈوں پر تھا جنہیں ایران حملوں کی پہلی ہی لہر میں تباہ کر چکا ہے۔ اب امریکہ خلیجی ممالک کا اعتماد بھی کھو رہا ہے۔تاہم امریکہ ایران کشیدگی میں کمی اور خطے میں ثالثی کے کردار سے پاکستان کے عالمی اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔ سول اور عسکری قیادت متعدد مواقع پر اس بات کا اعادہ کر چکی ہے کہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام صرف مذاکرات‘ سفارت کاری اور باہمی احترام کے ذریعے ہی ممکن ہے۔امریکہ اور ایران میں کشیدگی کے حالیہ واقعات کے بعد وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے لیے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا اہم پیغام لے کر تہران گئے۔ پاکستان کو اس وقت نہ صرف ایران اور امریکہ کا اعتماد حاصل ہے بلکہ چین‘ ترکیہ‘ قطر اور سعودی عرب بھی ثالثی کی کوششوں میں پاکستان کا بھرپور ساتھ دے رہے ہیں‘ لہٰذا اس اعتماد کی روشنی میں پاکستان کے معاشی ماہرین یہ رائے رکھتے ہیں کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد جس طرح بعض یورپی ممالک نے سوئٹزرلینڈ کے بینکاری نظام کے ذریعے مالیاتی لین دین کے معاہدے کیے جس سے سوئٹزر لینڈ کی معیشت بہت مضبوط ہوئی‘ اسی طرز پر اگر ایران کے ساتھ پاکستان کے بینکوں کے ذریعے عالمی ترسیلات کا کوئی مؤثر معاہدہ ہو جائے تو ملک کی معیشت کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_15667905.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>رزقِ خاک لہو(سعود عثمانی )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-06-08/52085/28445657</link><pubDate>Mon, 08 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-06-08/52085/28445657</guid><description>بھارتی ریاست مغربی بنگال کی سابق وزیراعلیٰ ممتا بینر جی نے جو چونکا دینے والا انکشاف کیا ہے‘ وہ پڑھ کر مجھے آٹھ جنوری 2026ء کا دن یاد آگیا جب میں ڈھاکہ یونیورسٹی میں طالبعلم رہنما شریف عثمان ہادی کی پندرہ‘ بیس دن پرانی قبر پر فاتحہ کیلئے کھڑا تھا۔ بنگال کے قومی شاعر قاضی نذرالاسلام کے پہلو میں اس تازہ قبر نے دسمبر 2025ء میں انسانوں کا وہ جم غفیرجنازے میں دیکھا تھا جس کی بنگلہ دیش کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ میں سانولے رنگ کے اس پُرعزم اور جوشیلے نوجوان کیلئے دعا کرتے ہوئے سوچ رہا تھا کہ 32سال بھی کوئی مرنے کی عمرہے۔ میں نے اپنے دکھ کا اظہار اپنے کالم &#39;&#39;نوجوان خواب کی موت‘‘ میں کیا تھا۔ اب تازہ انکشاف سے وہ زخم پھر تازہ ہو گیا ہے۔ ممتا بینر جی بی جے پی کے مخالف رہنماؤں میں ہیں اور طویل مدت تک مغربی بنگال میں بی جے پی کے سامنے دیوار بنی رہیں۔ اب کولکتہ میں ایک سیاسی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے پاس ہادی قتل کیس کی بہت سی معلومات ہیں۔ ان کے مطابق مغربی بنگال کی سپیشل ٹاسک فورس نے ملزمان کو گرفتار کیا تھا‘ جس کے بعد امیت شاہ نے ذاتی طور پر ان سے رابطہ کیا اور کہا کہ وہ اس معاملے پر مزید بات نہ کریں۔ ممتا نے یہ بھی اشارہ دیا کہ اگر وہ بعض نام ظاہر کر دیں تو بنگلہ دیش میں بڑا سیاسی ہنگامہ کھڑا ہو سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے وہ نام عوام کے سامنے نہیں رکھے۔ 12دسمبر 2025ء کو ڈھاکہ میں شریف عثمان ہادی کو قتل کیا گیا اور قاتل مغربی بنگال فرار ہو گئے۔ شریف عثمان ہادی ڈھاکہ کے حلقے سے فروری 26ء کے انتخابات کے امیدوار تھے اور نہایت ہردلعزیز مقرر تھے۔ 2024ء کی حسینہ مخالف تحریک میں انہوں نے سرگرم حصہ لیا تھا۔ اس قتل پر پورے بنگلہ دیش میں کہرام مچ گیا اور قاتلوں کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا گیا ۔ اس قتل کے باعث بنگلہ دیش میں مودی مخالف جذبات بھی شدید ہو گئے تھے۔ عبوری حکومت نے اس سلسلے میں بھارت سے رابطہ کیا۔ اُس وقت ممتا بینر جی مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ تھیں اور انہی کے زمانے میں مغربی بنگال کی سپیشل ٹاسک فورس نے دو افراد کو گرفتار کیا تھا جو اس قتل میں ملوث سمجھے جاتے تھے۔ یہ اس مقدمے کی ایک اہم پیشرفت تھی۔ بی جے پی مغربی بنگال میں اپنی حکومت نہ ہونے کے سبب ایک حد سے زیادہ ریاستی امور میں دخل نہیں دے سکتی تھی۔ یہ سارا پس منظر ممتا بینر جی کے اس تازہ بیان کو سمجھنے کیلئے ضروری ہے۔ تاحال اس بیان پر امیت شاہ یا بھارتی وزارتِ داخلہ نے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ بنگلہ دیشی وزارتِ خارجہ کی جانب سے محتاط ردِعمل سامنے آیا ہے۔ وزیر مملکت برائے خارجہ نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے سیاسی رہنما کے بیانات پر تبصرہ کرنا ان کا کام نہیں تاہم ہادی قتل کیس کے ملزمان کو واپس لانے اور قانونی کارروائی کیلئے بھارت کے ساتھ سفارتی رابطہ جاری ہے۔ یہ ردِعمل بتاتا ہے کہ بنگلہ دیش اسے سیاسی تنازع بنانے سے بچنا چاہتا ہے لیکن ان سوالوں کے جواب ابھی تک نہیں ملے ہیں کہ قاتل کون تھے؟ ان کے محرکات کیا تھے؟ کیا وہ کسی سیاسی نیٹ ورک سے وابستہ تھے؟ سرحد پار ان کے روابط اگر تھے تو کس سے تھے؟ اور سب سے اہم سوال یہ کہ ممتا بینر جی جن ناموں اور معلومات کا حوالہ دے رہی ہیں‘ وہ دراصل کیا ہیں؟تازہ خبر یہ ہے کہ ممتا بینر جی کے خلاف کولکتہ میں بغاوت کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ ایک وکیل رِنکی سنگھ کی شکایت پر یہ مقدمہ درج ہوا ہے جس کا کہنا ہے کہ بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات خراب کرنے کیلئے ممتا کافی مدت سے سرگرم ہیں۔ اب وزارتِ داخلہ پر اس قتل میں ملوث ہونے کا بیان دے کر ممتا بینر جی نے دونوں ملکوں میں کشیدگی بڑھا دی ہے۔ کہا جا رہا کہ ممتا بینر جی کو گرفتار کیا جا سکتا ہے۔ خیر یہ مقدمہ ایک طرف لیکن اگر ممتا بینر جی کا یہ دعویٰ درست ہے تو مودی سرکار کے بارے میں کئی سوالات اٹھاتا ہے۔ پہلا سوال تو یہ کہ وزیر داخلہ نے خاموش رہنے کو کیوں کہا؟ کیا کوئی ایسی حساس بات تھی جس کے پیشِ نظر وہ چاہتے تھے کہ بات باہر نہ آئے۔ کیا یہ صرف سفارتی نزاکت کا معاملہ تھا؟ کیا تحقیقات ابھی جاری تھیں اور قبل از وقت انکشافات سے نقصان پہنچ سکتا تھا‘ یا واقعی کچھ ایسے نام اور روابط موجود ہیں جن کے سامنے آنے سے دونوں ممالک میں سیاسی بحران پیدا ہو سکتا ہے؟ ان سوالات کے جوابا ت فی الوقت نہیں دیے جا سکتے لیکن بادی النظر میں ممتا بینر جی نے مرکزی حکومت کے اس قتل میں ملوث ہونے کا اشارہ دیا ہے۔یہ بات کہ اگر وہ کچھ نام ظاہر کردیں تو بنگلہ دیش میں بڑا طوفان کھڑا ہو سکتا ہے‘ ظاہر کرتی ہے کہ ممکنہ طور پر کئی بڑے نام شریف عثمان ہادی کے قتل میں ملوث ہو سکتے ہیں۔ کوئی شک نہیں کہ شریف ہادی گزشتہ چند برسوں میں بنگلہ دیش کی نوجوان سیاست کی نمایاں ترین شخصیات میں شمار ہونے لگے تھے۔ وہ &#39;&#39;انقلاب منچ‘‘ کے ترجمان اور اُن نوجوان چہروں میں شامل تھے جو 2024ء کی طلبہ تحریک کے بعد قومی سطح پر ابھرے۔ وہ محض ایک احتجاجی مقرر نہیں تھے بلکہ 2026ء کے انتخابات میں فعال سیاسی کردار ادا کرنے کی تیاری کر رہے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی مقبولیت روایتی سیاسی جماعتوں کیلئے بھی توجہ کا مرکز بن چکی تھی۔ اس قتل کی اہمیت صرف ایک سیاسی کارکن کی ہلاکت تک محدود نہیں تھی‘ ہادی اس نوجوان نسل کی علامت بن چکے تھے جو شیخ حسینہ کے بعد بنگلہ دیش کی نئی سیاسی سمت متعین کرنا چاہتی ہے۔ چنانچہ ان کی موت کو محض ایک فوجداری واردات کے بجائے ایک سیاسی سانحے کے طور پر لیا گیا۔ یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ عثمان ہادی بہت سے لوگوں کیلئے سیاسی خطرہ بن چکے تھے۔قتل کی تحقیقات کے دوران ہی اطلاعات سامنے آئیں کہ بعض مشتبہ افراد بھارت کے علاقے مغربی بنگال میں موجود ہیں یا وہاں پہنچ چکے ہیں۔ یہی وہ مرحلہ تھا جہاں یہ مقدمہ داخلی معاملے سے نکل کر ایک علاقائی سیاسی مسئلہ بن گیا۔ بنگلہ دیشی حکومت نے بعد ازاں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے اداروں سے بھی معاونت طلب کی تاکہ تحقیقات کو زیادہ شفاف اور قابلِ اعتماد بنایا جا سکے۔ یہ اقدام اس بات کی علامت تھا کہ ڈھاکہ اس مقدمے کو غیرمعمولی اہمیت دے رہا تھا لیکن یاد رہے کہ وہ عبوری حکومت والا ڈھاکہ تھا۔ آج کی حکومت کیلئے یہ معاملہ اتنااہم دکھائی نہیں دیتا‘ اور اس کی دلیل بنگلہ وزارتِ خارجہ کا ممتا جی کے بیان پر حالیہ ردِعمل ہے۔ایک نہایت اہم رُخ موجودہ بی این پی حکومت کے بھارت سے تعلقات ہیں جو حسینہ واجد کے بعد سے نچلی سطح پر پہنچ چکے ہیں۔ اگرچہ عبوری حکومت کے مقابلے میں بی این پی کا رویہ کافی لچکدار ہے لیکن سیاسی مجبوریوں اور عوامی جذبات کو مدنظر رکھتے ہوئے وہ ایک حد سے زیادہ لچک کا مظاہرہ نہیں کر سکتی۔ حسینہ واجد اور عوامی لیگ کے کئی رہنماؤں کے بھارت فرار کے بعد عوامی تاثر یہ تھا کہ ان کے فرار میں بی این پی کے مقامی رہنماؤں کی مدد شامل تھی۔ لہٰذا یہ معاملہ ایک بار پھر بھارت‘ بنگلہ دیش تعلقات میں ایک بڑا مسئلہ بن کر سامنے آ سکتا ہے۔ بی این پی نہیں چاہے گی کہ یہ مسئلہ بنے۔ شریف ہادی سے انہیں زیادہ ہمدردی بھی نہیں‘ نہ ان کے قاتل گرفتار کرنے میں کوئی خاص دلچسپی ہو سکتی ہے۔ تاہم انہیں ہرحال میں اس تاثر سے بچنا ہے کہ وہ بھارت نواز ہیں۔ بنگلہ دیش کا موجودہ عوامی موڈ دیکھتے ہوئے اسے ایک سیاسی موت کہا جا سکتا ہے۔ اس لیے لگتا ہے کہ طارق ضیا کی حکومت درمیانی راستہ اختیار کرے گی یعنی عوامی اطمینان کیلئے کچھ اقدامات لیکن درحقیقت اس معاملے کو کھٹائی میں ڈال دیا جائے گا۔ اس کا مطلب ہے کہ ایک اور خونِ خاک نشین بالآخر رزقِ خاک ہو جائے گا۔ ایک اور مقدمے‘ ایک اور فائل اور ایک اور قبر میں اضافہ اور بس۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_81278520.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>جھوٹ سے اجتناب(علامہ ابتسام الہٰی ظہیر )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-06-08/52086/64286738</link><pubDate>Mon, 08 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-06-08/52086/64286738</guid><description>وہ اخلاقی برائیاں جو انسان کے ایمان کے لیے انتہائی ہلاکت خیز ہیں ان میں سے ایک برائی جھوٹ کا بولنا ہے۔ بہت سے لوگ زندگی کے مختلف معاملات میں جھوٹ سے کام لیتے ہیں جبکہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے سچائی کو اختیار کرنے کی تلقین کی ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الاحزاب کی آیات: 70 تا 71 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سیدھی (سچی) باتیں کیا کرو تاکہ اللہ تمہارے کام سنوار دے اور تمہارے گناہ معاف فرما دے‘‘۔انبیاء کرام علیہم السلام کی دعوت کا ایک امتیازی پہلو یہ تھا کہ وہ ہمیشہ سچائی کی دعوت دیتے رہے اور اس حوالے سے انہوں نے معاندین کی دشمنی‘ لوگوں کی مخالفت اور بااثر لوگوں کے دباؤ کی کوئی پروا نہ کی۔ وہ اس بات کو سمجھتے تھے کہ لوگوں کی اصلاح کے لیے حق بات کرنا ضروری ہے؛ چنانچہ انبیاء کرام علیہم السلام توحید کی دعوت کو بغیر کسی آمیزش اور کمی بیشی کے لوگوں کے سامنے رکھتے رہے۔ بہت سے لوگوں نے ان کی دعوت کی وجہ سے ان کی مخالفت کی لیکن انہوں نے اس حوالے سے کسی قسم کی لچک کا مظاہرہ نہیں کیا۔ نہ تو حق وباطل کی آمیزش سے کام لیا اور نہ ہی حق کو چھپانے پر آمادہ وتیار ہوئے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کے کلام میں بھی حق وباطل کی آمیزش اور حق کو چھپانے سے شدت سے منع کیا گیا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ البقرہ کی آیت: 42 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;اور حق کو باطل کے ساتھ خَلط مَلط نہ کرو اور نہ حق کو چھپاؤ تمہیں تو خود اس کا علم ہے‘‘۔ اسی طرح اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۃ البقرہ ہی کے ایک اور مقام پر حق چھپانے والوں کے بارے میں بڑی سخت وعید سنائی ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ البقرہ کی آیات: 159 تا 160 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;جو لوگ ہماری اتاری ہوئی دلیلوں اور ہدایت کو چھپاتے ہیں باوجودیکہ ہم اسے اپنی کتاب میں لوگوں کے لیے بیان کر چکے ہیں ان لوگوں پر اللہ کی اور تمام لعنت کرنے والوں کی لعنت ہے۔ مگر وہ لوگ جو توبہ کر لیں اور اصلاح کر لیں اور (حق) بیان کر دیں تو میں ان کی توبہ قبول کر لیتا ہوں‘‘۔ ان آیات مبارکہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کسی بھی طور پر دین اور اس کے ابلاغ کے حوالے سے حق چھپانے کو پسند نہیں فرماتے۔زندگی کے بہت سے دیگر معاملات میں بھی سچائی کی اہمیت انتہائی زیادہ ہے۔ قرونِ اولیٰ اور اسلام کے ابتدائی دور کے حکمران لوگوں سے جو وعدہ کرتے‘ اس پر پورا اترتے تھے۔ آج کل اس بات کا جائزہ لیا جا سکتا ہے کہ بہت سے سیاسی رہنما عوام سے غلط بیانی کرتے اور سیاسی حمایت حاصل کرنے کے لیے جھوٹ سے کام لیتے ہیں جبکہ ان کی نیت میں پہلے ہی سے یہ بات موجود ہوتی ہے کہ وہ عوام سے کیے گئے وعدوں کو پورا نہیں کریں گے۔ کاروباری معاملات میں بھی سچائی سے کام لینا انتہائی ضروری ہے۔ بہت سے لوگ اچھے اور برے مال کو ملا کر بیچتے‘ صاف مال کو سامنے کرتے اور گھٹیا مال خریدار کو دے دیتے ہیں‘ جھوٹی قسمیں کھاتے اور مال کو بیچتے ہوئے اس میں ایسے اوصاف کو بیان کرتے ہیں جو حقیقی نہیں ہوتے۔ وعدے کو عام طور پر وقت ٹالنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ کاروباری طور پر مال کا تقاضا کرنے والوں سے جھوٹے وعدے کر لیے جاتے ہیں اور جب مال یا رقم کی ادائیگی کا وقت آتا ہے تو نیا وعدہ کر لیتے ہیں۔ وہ اس بات کو فراموش کر دیتے ہیں کہ انسان کو اپنے وعدوں کے حوالے سے اللہ کی بارگاہ میں جوابدہ ہونا پڑے گا۔ سورۂ بنی اسرائیل کی آیت: 34 میں ارشاد ہوا: &#39;&#39;اور وعدے پورے کرو کیونکہ قول وقرار کی باز پرس ہونے والی ہے‘‘۔کاروبار میں پورا تولنا اور پورا ماپنا سچائی ہی کا مظہر ہے۔ اس کے مدمقابل ماپ تول میں کمی بیشی کرنا درحقیقت جھوٹ ہی کی ایک قسم ہے۔ کاروباری معاملات میں جھوٹ اور بدعنوانی سے کام لینے والی ایک پوری قوم اللہ کے غضب کا نشانہ بنی۔ حضرت شعیب علیہ السلام قوم مدین کے لوگوں کو اللہ کی توحید کے ساتھ ساتھ پورا ماپنے اور پورا تولنے ہی کی دعوت دیا کرتے تھے لیکن ان کی قوم کے لوگ اس برائی کو چھوڑنے پر آمادہ وتیار نہیں ہوئے اور اللہ کے غضب کا نشانہ بنے۔ قومِ شعیب کا واقعہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید کے کئی مقامات پر بیان فرمایا ہے‘ جن میں سے ایک مقام سورۂ ہود کی آیات: 84 تا 95 ہے‘ جن میں یہ واقعہ کچھ یوں بیان کیا گیا ہے: &#39;&#39;اور ہم نے مدین والوں کی طرف ان کے بھائی شعیب کو بھیجا‘ اس نے کہا: اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں اور تم ناپ تول میں بھی کمی نہ کرو‘ میں تو تمہیں آسودہ حال دیکھ رہا ہوں اور مجھے تم پر گھیرنے والے دن کے عذاب کا خوف (بھی) ہے۔ اے میری قوم! ناپ تول انصاف کے ساتھ پوری پوری کرو‘ لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دو اور زمین میں فساد اور خرابی نہ مچاؤ۔ اللہ کا حلال کیا ہوا جو بچ رہے تمہارے لیے بہت ہی بہتر ہے‘ اگر تم ایمان والے ہو‘ میں تم پر کچھ نگہبان نہیں ہوں۔ انہوں نے جواب دیا کہ اے شعیب! کیا تیری صلا ۃ تجھے یہی حکم دیتی ہے کہ ہم اپنے باپ دادوں کے معبودوں کو چھوڑ دیں اور ہم اپنے مالوں میں جو کچھ چاہیں اس کا کرنا بھی چھوڑ دیں‘ تو تُو بڑا ہی باوقار اور نیک چلن آدمی ہے۔ کہا: اے میری قوم! دیکھو تو اگر میں اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل لیے ہوئے ہوں اور اس نے مجھے اپنے پاس سے بہترین روزی دے رکھی ہے‘ میرا یہ ارادہ بالکل نہیں کہ تمہاری مخالفت کر کے خود اس چیز کی طرف جھک جاؤں جس سے تمہیں روک رہا ہوں‘ میرا ارادہ تو اپنی طاقت بھر اصلاح کرنے کا ہی ہے۔ میری توفیق اللہ ہی کی مدد سے ہے‘ اسی پر میرا بھروسا ہے اور اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں۔ اور اے میری قوم (کے لوگو) کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کو میری مخالفت ان عذابوں کا مستحق بنا دے جو قوم نوح اور قوم ہود اور قوم صالح کو پہنچے ہیں۔ اور قوم لوط تو تم سے کچھ دور نہیں۔ تم اپنے رب سے استغفار کرو اور اس کی طرف توبہ کرو‘ یقین مانو کہ میرا رب بڑی مہربانی والا اور بہت محبت کرنے والا ہے۔ انہوں نے کہا: اے شعیب! تیری اکثر باتیں تو ہماری سمجھ میں ہی نہیں آتیں اور ہم تو تجھے اپنے اندر بہت کمزور پاتے ہیں‘ اگر تیرے قبیلے کا خیال نہ ہوتا تو ہم تو تجھے سنگسار کر دیتے‘ اور ہم تجھے کوئی حیثیت والی ہستی نہیں گنتے۔ انہوں نے جواب دیا کہ اے میری قوم کے لوگو! کیا تمہارے نزدیک میرے قبیلے کے لوگ اللہ سے بھی زیادہ ذی عزت ہیں کہ تم نے اسے پس پشت ڈال دیا ہے‘ یقینا میرا رب جو کچھ تم کر رہے ہو‘ سب کو گھیرے ہوئے ہے۔ اے میری قوم کے لوگو! اب تم اپنی جگہ عمل کیے جاؤ میں بھی عمل کر رہا ہوں‘ تمہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ کس کے پاس وہ عذاب آتا ہے جو اسے رسوا کر دے اور کون ہے جو جھوٹا ہے۔ تم انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ منتظر ہوں۔ جب ہمارا حکم (عذاب) آ پہنچا تو ہم نے شعیب کو اور ان کے ساتھ (تمام) مومنوں کو اپنی خاص رحمت سے نجات بخشی اور ظالموں کو سخت چنگھاڑ کے عذاب نے دھر دبوچا‘ جس سے وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے ہوئے ہو گئے۔گویا کہ وہ ان گھروں میں کبھی بسے ہی نہ تھے‘ آگاہ رہو (اہلِ) مدین کے لیے بھی ویسی ہی دوری (پھٹکار) ہو جیسی دوری ثمود کو ہوئی‘‘۔سچائی انسان کو بہت سی اخلاقی برائیوں سے بچاتی ہے۔ جب انسان اس بات کو اپنے دل میں راسخ کر لیتا ہے کہ اس نے ہر موقع پر سچائی سے کام لینا ہے تو بہت سی برائیوں سے باز آ جاتا ہے۔ جھوٹ یقینا ایک بہت بڑا وبال اور سچائی یقینا اللہ تبارک وتعالیٰ کی بہت بڑی عطا ہے۔ انسان کو زندگی کے تمام شعبوں میں سچائی سے کام لینا چاہیے اور جھوٹ سے اجتناب کرنا چاہیے کہ یہی دنیا وآخرت کی سربلندی کا راستہ ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_19740082.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>