<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>اب نئی کفایت شعاری مہم؟(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-18/11551</link><pubDate>Fri, 18 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-18/11551</guid><description>وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے ملک کو درپیش معاشی بحران اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے تناظر میں نئی کفایت شعاری مہم کا اعلان کیا گیا ہے جس کے تحت سرکاری فیول کے کوٹے میں پچاس فیصد کٹوتی‘ غیر ملکی دوروں پر پابندی اور نئی اشیا اور گاڑیوں کی خریداری پر مکمل روک لگانے جیسے اقدامات شامل ہیں۔ حکومت کا یہ حالیہ فیصلہ بظاہر خوش آئند ہے‘ تاہم ماضی کے تجربات گواہ ہیں کہ مسئلہ پالیسیوں کی تشکیل کا نہیں بلکہ ان پر مستقل مزاجی سے عملدرآمد نہ ہونے کا ہے۔ معاشی ماہرین کے علاوہ عوامی حلقوں کا بھی یہ دیرینہ مطالبہ ہے کہ اس نوعیت کی مہمات کو چند ہفتوں یا چند مہینوں تک محدود رکھنے کے بجائے مستقل بنیادوں پر ملکی طرزِ حکمرانی کا حصہ بنایا جانا چاہیے تاکہ معیشت کو پائیدار استحکام حاصل ہو سکے۔ اگر ہم گزشتہ چند برسوں ہی کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ جون 2022ء میں بھی توانائی کی بچت کیلئے ایسے ہی اقدامات کا اعلان کیا گیا تھا۔ فروری 2023ء میں وفاقی کابینہ کی جانب سے تنخواہیں نہ لینے کا اعلان سامنے آیا تھا۔

فروری 2024ء کے الیکشن کے فوری بعد‘ مارچ میں حکومتی اخراجات کم کرنے کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا گیا تھا تاکہ قومی خزانے کا بوجھ کم کیا جا سکے۔ پھر جنوری 2025ء میں وفاقی اداروں کا حجم چھوٹا کرنے اور ڈیرھ لاکھ اسامیاں ختم کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ رواں سال بھی یہ دوسرا موقع ہے کہ حکومت نے کفایت شعاری مہم کا اعلان کیا ہے۔ قبل ازیں مارچ میں کفایت شعاری مہم کا اعلان کیا گیا تھا۔ مسئلہ یہ ہے کہ اس ضمن میں اعلیٰ سطح پر ارادے کی پختگی نظر نہیں آتی۔ ہر کفایت شعاری مہم کے چند ماہ بعد ہی تمام اعلان کردہ اقدامات سرد خانے کی نذر ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عارضی مصلحتوں کے تحت کی جانے والی یہ مشقیں اب ایک رسمی کارروائی بن کر رہ گئی ہیں اور حکومتی سنجیدگی پر سے عوام کا اعتماد اٹھتا جا رہا ہے۔ عوامی مایوسی کی ایک بڑی وجہ پالیسیوں کا تضاد بھی ہے‘ جس کی ایک واضح مثال بجلی اور فیول کی بچت کیلئے 2023ء میں منظور کی جانے والی پانچ سالہ قومی بجلی بچت پالیسی ہے‘ جسکے تحت توانائی کے ضیاع کو روکنے کیلئے مارکیٹوں کو جلد بند کرنے اور بجلی کی بچت کے دیگر منصوبے بنائے گئے تھے۔
اس پالیسی میں سولرائزیشن کو کلیدی اہمیت دی گئی تھی مگر دو سال بعد ہی اربابِ اختیار یہ بتانے لگے کہ سولرائزیشن نے ملکی توانائی کے ڈھانچے کو نقصان پہنچایا ہے۔ ایسی عارضی اور عبوری پالیسیوں کا یہی نتیجہ نکل سکتا تھا‘ جو آج ہمارے سامنے ہے۔ اس معاملے کا ایک افسوسناک پہلو یہ ہے کہ جب بھی کفایت شعاری کا اعلان کیا جاتا ہے تو کچھ ہی عرصہ بعد اعلیٰ گریڈز کے افسران اور قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کی تنخواہوں‘ مراعات اور الاؤنسز میں بھاری اضافہ کر دیا جاتا ہے‘ یا پھر نئی پُرتعیش گاڑیوں کی خریداری شروع ہوجاتی ہے۔ گزشتہ ایک ہفتہ کے دوران وفاقی حکومت نے چھ ارب 60کروڑ روپے مالیت کی بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری کی منظوری دی جبکہ پنجاب میں چار ارب 23 کروڑ کی لاگت سے سرکاری افسران کیلئے لگژری اپارٹمنٹس کی تعمیر کا منصوبہ زیرِ غور ہے۔ ایسے تضادات کی موجودگی میں کسی بھی کفایت شعاری مہم پر حقیقی معنوں میں عمل نہیں ہو سکتا۔ جب تک حکومتی سطح پر ترقیاتی اور غیر ترقیاتی بجٹ کے نام پر غیر ضروری منصوبوں کو سختی سے نہیں روکا جائے گا‘ تب تک فیول میں پچاس فیصد کٹوتی جیسے اقدامات کے خاطر خواہ نتائج نہیں مل سکیں گے۔ یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ معاشی اور سماجی اصلاحات کا سفر ہمیشہ اوپر سے نیچے کی طرف اثر کرتا ہے۔ اگر حکومت کفایت شعاری کے معاملے میں واقعی سنجیدہ ہے تو پہلے شاہانہ سرکاری اخراجات پر روک لگانا ہو گی۔ کفایت شعاری کیلئے اعلانات یا نوٹیفیکیشن کی نہیں بلکہ ایک ایسی مستقل‘ شفاف اور بلاامتیاز پالیسی کی ضرورت ہے جس کا اثر سب سے پہلے بالائی طبقے پر نظر آئے۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>صنفی امتیاز(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-18/11550</link><pubDate>Fri, 18 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-18/11550</guid><description>ورلڈ اکنامک فورم کی تازہ ترین گلوبل جینڈر گیپ رپورٹ 2026ء میں پاکستان کو 145ممالک کی فہرست میں 143ویں نمبر پر رکھا گیا ہے‘ جبکہ گزشتہ برس پاکستان 148 ممالک میں آخری نمبر پر تھا۔ صنفی برابری کا مجموعی سکور اب 56.7 فیصد سے بڑھ کر 59.5 فیصد ہو گیا ہے۔ بلاشبہ یہ بہتری خوش آئند ہے مگر صنفی امتیاز کے حوالے سے پاکستان اب بھی دنیا کے نچلے ترین ممالک میں شامل ہے۔ رپورٹ کے مطابق سب سے نمایاں تضاد تعلیم اور معیشت کے شعبوں میں دکھائی دیتا ہے۔ تعلیمی حصول میں پاکستان کا صنفی برابری کا سکور 91.7 فیصد کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا ہے‘ جو گزشتہ برس سے چھ فیصد بہتر ہے۔ اعلیٰ تعلیم میں خواتین کے اندراج کے اعتبار سے پاکستان عالمی سطح پر پہلے نمبر پر ہے۔

مگر سوال یہ ہے کہ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے باوجود خواتین کو روزگار کے بہتر مواقع میسر کیوں نہیں آ پاتے؟ رپورٹ کے مطابق معاشی شرکت و روزگار کے مواقع کے حوالے سے صنفی برابری کا سکور محض 36.4 فیصد ہے۔ اگرچہ گزشتہ برس کے مقابلے میں کچھ بہتری آئی ہے مگر یہ بہتری ابھی اس مقام تک نہیں پہنچی جہاں اسے صنفی مساوات کہا جا سکے۔ خواتین پاکستان کی آبادی کا تقریباً نصف ہیں۔ اگر ملک کی نصف آبادی کی صلاحیتوں کو محدود رکھا جائے گا تو ملکی ترقی کی رفتار بھی محدود رہے گی۔ خواتین کو تعلیم و روزگار کے برابر مواقع‘ محفوظ ماحول‘ منصفانہ اجرت‘ کاروباری مواقع اور فیصلہ سازی میں مؤثر نمائندگی دینا قومی معیشت کی ناگزیر ضرورت ہے۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ریلیف اور عملی اقدامات(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-18/11549</link><pubDate>Fri, 18 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-09-18/11549</guid><description>حکومت نے پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کیساتھ مذاکرات کے بعد پٹرول ریلیف پیکیج کو ملک بھر میں فعال کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم اصل کام محض ریلیف کا اعلان نہیں بلکہ اس سکیم کا زمینی سطح پر نفاذ ہے۔ رواں ماہ کے پہلے عشرے میں پٹرول کی قیمت میں 25 روپے فی لٹر سے زائد اضافے اور مہنگائی میں ہوشربا اضافے کے بعد حکومت نے 13 ستمبر کو موٹر سائیکلوں اور چھوٹی گاڑیوں کیلئے فی لٹر 100 روپے ریلیف کا اعلان کیا تھا مگر اس پورے عمل میں سب سے اہم فریق یعنی پٹرول پمپ مالکان کو ہی اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ نتیجتاً وہ شہری‘ جن کیلئے یہ سکیم بنائی گئی تھی‘ پانچ روز تک اس ریلیف سے محروم رہے۔ اب پٹرول پمپ مالکان سے معاملات طے پانے کے بعد اس سکیم کے باقاعدہ آغاز کا امکان ہے‘ تاہم حکومت کو اب بھی اعلانات تک محدود رہنے کے بجائے ضلعی اور تحصیل انتظامیہ کو فوری طور پر متحرک کر کے پٹرول پمپس کی رئیل ٹائم نگرانی یقینی بنانی چاہیے۔

دوسری جانب یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ ریلیف پیکیج کے باعث ٹرانسپورٹ‘ اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری اشیا کے نرخ مستحکم رہیں۔ عوام کو اعلانات سے نہیں بلکہ عملی نفاذ سے ریلیف ملے گا‘ لہٰذا حکومت کو پٹرول ریلیف سکیم کو کاغذی اعلانات سے نکال کر ملک کے ہر پٹرول پمپ اور ہر مستحق شہری تک مؤثر انداز میں پہنچانے کے اقدامات کرنے چاہئیں۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کنٹینروں کی سیاست(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-09-18/52682/29936070</link><pubDate>Fri, 18 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-09-18/52682/29936070</guid><description>آج کل اسلام آباد پھر سے کنٹینرز سے بھر دیا گیا ہے۔ یہ انتظامات متوقع طور پر تحریک انصاف کے اسلام آباد کی طرف مارچ یا چڑھائی کو روکنے کیلئے کیے جا رہے ہیں۔ تحریک انصاف نے مارچ کیلئے 27ستمبر کی تاریخ دی ہوئی ہے‘ لیکن دس دن پہلے ہی کنٹینرز منگوا کر سڑکوں کو بلاک کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ شہرِ اقتدار میں بھاری بھرکم اور دیوقامت کنٹینرز دیکھ کر عجب رعب اور خوف محسوس ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ان سینکڑوں کنٹینرز کا بل کتنا بنتا ہے اور کون دے رہا یا لے رہا ہے‘ یا اس سے بڑھ کر یہ پیسہ کس کی جیب میں جا رہا ہے اور اس کی ادائیگی کس کی جیب سے ہو رہی ہے؟ یاد کرنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ یہ کنٹینرز کا سلسلہ کب اور کیسے شروع ہوا۔ اپوزیشن پارٹیاں ہمیشہ سے احتجاج کرتی آئی ہیں اور اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ بھی ہوتے رہے ہیں۔ انیس سو نوے کی دہائی میں بینظیر بھٹو اور نواز شریف لانگ مارچ کرتے رہے اور ایک دوسرے کی حکومتیں گراتے بھی رہے۔ تاہم نواز شریف نے پہلا بڑا لانگ مارچ ججز کی بحالی کیلئے پیپلز پارٹی حکومت کے خلاف 2009ء میں کیا تھا‘ لیکن گوجرانوالہ پہنچنے سے پہلے ہی ججز کو بحال کر دیا گیا تھا‘ لہٰذا اسلام آباد پہنچنے کی نوبت نہیں آئی تھی۔ اگرچہ اس وقت بھی ہم اسلام آباد کے رہائشیوں کو سن گن مل رہی تھی کہ پنڈی اسلام آباد کے آنے جانے والے راستوں کو بند کیا جائے گا۔ لیکن تب تک کسی نے شہر کے اندر کنٹینرز نہیں دیکھے تھے‘ نہ کسی کو علم تھا کہ وہ کیسے ہمارے طرزِ زندگی کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جب یہ دیوقامت کنٹینرز ہماری زندگیوں کا حصہ بنے تو اندازہ ہوا کہ راجہ انور نے اپنی کتاب کا ٹائٹل &#39;&#39;چھوٹی جیل سے بڑی جیل‘‘ تک کیوں رکھا تھا۔ انہیں جیل سے آزاد ہونے کے بعد لگا تھا کہ وہ تو بڑی جیل میں آ گئے ہیں۔میں جولائی 1998ء میں پہلی دفعہ اسلام آباد آیا تھا تو یہ شہر بہت خوبصورت تھا۔ اگرچہ آبادی بڑھ رہی تھی لیکن پھر بھی سڑکیں خالی‘ ہر طرف درختوں کی قطاریں‘ تقریباً روز بارشیں اور خوبصورت راستے! پہاڑ اور سبزہ آپ کا استقبال کرتے تھے۔ میں ان دنوں اپنے آفس زیرو پوائنٹ سے چک شہزاد کی طرف موٹرسائیکل پر جاتا تھا‘ جہاں میری عارضی رہائش تھی۔ تب ایک عجیب سرشاری محسوس ہوتی تھی۔ اُس وقت تک اسلام آباد کی آبادی تقریباً آٹھ لاکھ تھی اور اب تقریباً پچیس لاکھ ہے۔ یوں جہاں شہر کی آبادی بڑھی‘ وہیں اس سے جڑے مسائل بھی بڑھے ہیں۔ جہاں بھی انسان ہوں گے‘ وہاں ہر قسم کے مسائل ہوں گے۔ جب کراچی میں حالات خراب ہوئے تو جو افورڈ کر سکتے تھے انہوں نے اسلام آباد کا رخ کر لیا اور یہاں شفٹ ہو گئے۔ اس کے بعد قبائلی علاقوں میں آپریشن شروع ہوئے تو وہاں سے بھی بڑی تعداد میں خاندانوں نے پنڈی اور اسلام آباد کا رخ کیا۔ اس کے ساتھ ہی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کا کلچر سامنے آیا اور اس 24 کلومیٹر کے شہر میں اس وقت تین‘ چار سو کے قریب قانونی اور غیر قانونی سوسائٹیاں ہیں۔ ان میں وہ شامل نہیں جنہوں نے لوگوں کے ساتھ اربوں کا فراڈ کیا۔ پھر ہمارے سرائیکی وسیب سے بیروزگاری کے مارے نوجوانوں نے بھی اس شہر کا رخ کیا اور یوں یہ شہر بھرتا چلا گیا بلکہ یوں کہیں کہ پھٹتا چلا گیا اور اب واقعی پھٹ چکا ہے۔ حالت یہ ہے کہ اسلام آباد میں آپ کو مارکیٹوں میں پارکنگ چھوڑیں‘ پیدل چلنے کی جگہ بھی نہیں ملتی۔ شہر گندگی سے بھرا ہوا ہے۔ یہ کراچی کی طرح ساحلی علاقہ‘ بزنس یا تجارتی شہر کبھی نہ تھا‘ نہ ہی سیالکوٹ‘ فیصل آباد یا گوجرانوالہ کی طرح صنعتی شہر تھا کہ یہاں لوگوں کو نوکریاں ڈھونڈنے میں آسانی رہتی تھی۔ یہ سرکاری ملازمین کا شہر تھا‘ جہاں اب ماسوائے ہاؤسنگ سوسائٹیوں اور کیفے کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ درخت‘ سبزہ‘ پہاڑ سب کاٹے جا رہے ہیں۔پچھلے دنوں لاہور سے ایک دوست آیا تو وہ شہر کی حالت دیکھ کر کافی دیر پریشان رہا۔ کہنے لگا کہ ہمارے جیسے لوگ جو شمالی علاقوں کو نہیں جا پاتے تھے‘ وہ اسلام آباد میں دو تین دن رہ کر شمالی علاقوں جیسی فضا اور ماحول کا مزہ لے لیتے تھے‘ اب یہ عیاشی بھی آپ لوگوں نے ہم سے چھین لی ہے۔ سارا شہر کنکریٹ سے بھر دیا ہے۔ درخت‘ سبزہ‘ جنگل‘ پہاڑ سب کٹ رہے ہیں۔ یہ کیا کر دیا ہے اس شہر کے ساتھ۔ یہ چھوٹا سا شہر پہاڑوں‘ درختوں‘ ندی نالوں‘ جنگلات اور پارکس کے ساتھ ہی اچھا لگتا ہے۔ میں چپ رہا کہ وہ تو ایک دو دن کیلئے آیا تھا اور اس کو ڈپریشن ہو گیا‘ ہمارے جیسوں کا دکھ سمجھیں جو تیس سال سے ادھر ہیں اور اب اس شہر کو پہچان نہیں پاتے۔ اب تو اپنے گھر کا راستہ بھی ڈھونڈنے سے ملتا ہے۔یاد آیا‘ اس شہر نے پہلی دفعہ کنٹینرز اس وقت دیکھے تھے جب رحمن ملک وزیر داخلہ تھے اور طاہرالقادری اپنے ساتھ ہزاروں فالوورز کے ساتھ چڑھائی کرنے آئے تھے۔ یہ کلچر طاہرالقادری صاحب نے ہی متعارف کرایا‘ جو اَب مستقل فیچر بن گیا ہے۔ اُن کو روکنے کے نام پر شہر کو کنٹینرز سے ڈھانپنے کا کام رحمن ملک نے شروع کیا تھا‘ جو اَب اتنا عام ہو چکا کہ پی ٹی آئی نے ادھر کا رُخ 27ستمبر کو کرنا ہے لیکن کنٹینرز دس دن پہلے سڑکوں پر لا کر کھڑے کر دیے گئے ہیں۔ یہ وہ کنٹینرز ہیں جو ملک کی امپورٹ ایکسپورٹ کیلئے کام آتے ہے۔ لیکن اس وقت یہ اسلام آباد کو محاصرے سے بچانے کے کام آ رہے ہیں۔ آپ کو کیا لگتا ہے‘ یہ کنٹینرز شہر کو بچانے کیلئے ہیں یا پھر اس پورے کھیل میں بڑا پیسہ بنانے کیلئے؟ یہ کنٹینرز کرائے پر لائے جاتے ہیں اور روزانہ کے حساب سے مالکان کو ان کا کرایہ ادا کیا جاتا ہے۔ یوں چودہ سالوں میں ملکی معیشت نے ترقی کی یا نہیں‘ لیکن ان کنٹینرز کے مالکان کا کاروبار خوب چمک رہا ہے۔ اب پتا چلا ہے کہ مبینہ طور پر اس کمائی میں بڑے بڑے لوگ بشمول کئی افسران شامل ہیں‘ جو کنٹینرز کی روزانہ کی کمائی میں باقاعدہ حصہ دار ہیں۔ لہٰذا یہ کنٹینرز کئی لوگوں کی جیبوں میں پیسہ لے جانے کا ذریعہ بن چکے ہیں۔پی ٹی آئی نے مئی 2022ء میں اسلام آباد کی طرف آزادی مارچ کیا تھا‘ اس دوران امن و امان کو برقرار رکھنے پر وفاقی حکومت نے 33 کروڑ 70 لاکھ روپے خرچ کیے۔ کنٹینرز اور گاڑیوں کے کرائے پر 21کروڑ 70لاکھ‘ آنسو گیس وغیرہ پر تین کروڑ 17لاکھ‘ کھانے پینے پر چار کروڑ 78لاکھ اور دیگر مدات میں چار کروڑ پانچ لاکھ روپے سے زائد اخراجات ہوئے۔ یہ سب پیسہ آپ لوگوں کی جیبوں سے‘ پٹرول اور گیس کی قیمتیں بڑھا کر ادا کیا گیا۔ وہ سب جو اسلام آباد پر چڑھائی کرنے آتے ہیں‘ وہ دراصل ان افسران‘ کنٹینر مالکان اور دیگر کی روزی روٹی کا ذریعہ بن چکے ہیں۔ ان کنٹینرز کے کھیل میں جو پیسہ کمایا جا رہا ہے اس کی تفصیل سن کر میرے ہوش اڑ گئے ہیں کہ کیسے اب کنٹینرز لگانا بھی نفع بخش کام بن چکا ہے۔یہی دیکھ لیں کہ 2022ء میں پی ٹی آئی کے مارچ کیلئے جو کنٹینرز لائے گئے تھے ان کا کرایہ 21کروڑ روپے ادا کیا گیا۔ آپ کا کیا خیال ہے‘ سارا کرایہ مالکان کی جیب میں گیا؟ اب بھی پی ٹی آئی کے مارچ سے دس دن پہلے جو اَن گنت کنٹینرز لا کر اسلام آباد کی سڑکوں پر کھڑے کیے گئے ہیں‘ ان کا روزانہ کا کرایہ کتنے کروڑ کا بنے گا اور کس کس کی جیب میں جائے گا؟ یار لوگوں کو داد دیں کہ انہوں نے اس کام سے بھی کمائی کا ذریعہ ڈھونڈ لیا اور دس دن پہلے ہی اسلام آباد کی سڑکوں پر کنٹینرز لا کر کھڑے کر دیے۔ حیران ہوں کہ ایسی کمائو سوچ والی قوم پر کہ اس پر 82ہزار ارب کا قرضہ کیسے چڑھ گیا‘ جس کا سالانہ سود ہی آٹھ ہزار ارب ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سونے کی چڑیا(رسول بخش رئیس)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-09-18/52683/89116351</link><pubDate>Fri, 18 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-09-18/52683/89116351</guid><description>وہ وقت اور زمانہ اور تھا۔ اُس کی دھندلی سی یادیں رہ گئی ہیں۔ تنہائی میں بیٹھتے ہیں اور حالاتِ حاضرہ کا نقشہ ذہن میں خوفناک چڑیل کی طرح اپنے دانت دکھاتا ہے تو ہم اچھے وقتوں کی کچھ خوبصورت یادوں سے دل کے زخموں پر مرہم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اُن کا ذکر آج اس لیے بھی ضروری ہے کہ پنجاب کے موجودہ حکمرانوں اور ماضی کے زمانے کے کچھ مہاراجوں کا موازنہ بھی کر کے دیکھ لیں کہ وہ کیا تھے اور یہ کیا ہیں۔ اس سے پہلے سونے کی چڑیا کا خیال اس لیے آیا کہ کبھی کبھار ہمیں پٹھانے خان یاد آتے ہیں۔ ان کی کئی کافیاں اور چند شامیں‘ جو اُن کی رفاقت میں گزریں‘ کو اپنی زندگی کا قیمتی سرمایہ سمجھتا ہوں۔ اُن سے باتیں آمنے سامنے بیٹھ کر ہوتی تھیں۔ اُن کے ایسے چاہنے والے جو اپنے گھروں میں مدعو کر کے محفل کا اہتمام کرتے‘ بہت کم تھے۔ البتہ موجودہ دور کے اعلیٰ پائے کے شاعر سرمد صہبائی ان میں سے ایک تھے۔ انہوں نے جو خوبصورت مضمون جو شاید گزشتہ سال لکھا‘ وہ اپنی مثال آپ ہے۔ دو تین دفعہ پڑھ چکا ہوں‘ ایک بار پھر پڑھنے کو جی چاہتا ہے۔ ان کے ہاں چند محفلوں میں پٹھانے خان کے قریب بیٹھنے کا موقع ملا۔ شام کا اندھیرا گہرا ہوتے ہی وہ سُروں کے ساتھ ساتھ اپنے مشکل وقت اور پہلی مرتبہ ریڈیو پاکستان ملتان میں گانے کا موقع ملنے کے علاوہ درباروں پر اپنی حاضریوں اور مجلسوں کا ذکر کرتے تو اُن پر مستی کی سی کیفیت طاری ہو جاتی۔ اُس زمانے میں کیسٹوں میں گانے ریکارڈ ہوتے تھے‘ اور یہ زبردست کام پہلے پہل لوک فنکاروں کو متعارف کرانے کیلئے لوک ورثہ‘ اسلام آبادکے ادارے نے شروع کیا تھا۔ وہ اب بھی اس درویش کے پاس محفوظ ہیں۔ اُن کو متعارف کرانے والے ایک ریکارڈ شدہ پروگرام میں اُس وقت کی مشہور ایکٹر عظمیٰ گیلانی تھیں۔ ایک سوال میں پوچھا کہ لاہور کب سے تشریف لا رہے ہیں‘ اور اسے آپ نے کیسا پایا؟ کہنے لگے &#39;&#39;پنجاب تو سونے کی چڑیا ہے‘ اور بلھے شاہ‘ شاہ حسین کی کافیاں ہیں‘ وہ مجھے یہاں کھینچ کر لائی تھیں۔ وہ مجھے نجم حسین سید صاحب نے سکھائیں اور تشریح بھی کی‘‘۔ یہ سن کر مجھے بھی جوانی کے وہ ماہ و سال یاد آتے ہیں جب میں بھی اُن کی محفلوں میں باقاعدگی سے جایا کرتا تھا۔ یہ سونے کی چڑیا والی بات پٹھانے خان نے اس مضمون میں شاید سنائی تھی کہ کیا خوشحالی ہے‘ دولت کی ریل پیل ہے! اس درویش کو ایسی خوشحالی سے کوئی غرض نہیں تھی۔ ان کا مطلب خوبصورتی سے تھا یا اچھی محفلوں سے تھا۔ چونکہ انہوں نے پنجاب کی تاریخی شہرت کے بارے میں سونے کی چڑیا کا حوالہ سن رکھا تھا‘ اس لیے پہلے حروف جو اُن کے منہ سے نکلے‘ وہ یہی تھے۔ پوری زندگی اپنا ہارمونیم کندھے پہ رکھے‘ اپنے شاگردِ خاص یٰسین خان کے ساتھ شہر شہر گھوم کر فن کا مظاہرہ کیا اور پھر اس ہارمونیم اور تن کے کپڑوں کے ساتھ اپنی مٹی میں جا کر آسودۂ خاک ہو گئے۔ یٰسین خان بھی اپنے رنگ کا منفرد آدمی تھا۔ جنہوں نے اسے دیکھا ہے‘ ان محفلوں میں وقت گزارا‘ جہاں وہ کتاب کھول کر کافیوں کے مصرعوں کے لقمے خان صاحب کو دیا کراتے تھے‘ وہ بھی شاید ان محفلوں کی رونق کا احاطہ نہ کر سکیں۔ پٹھانے خان اور یٰسین خان میرے نزدیک پنجاب کی دھرتی کے وہ کردار ہیں جو کھیتوں کھلیانوں سے لے کر دہکتے تنوروں پر آپ کیلئے روٹیاں لگاتے‘ بکریاں پالتے‘ مچھلیاں دریاؤں اور تالابوں سے نکالتے‘ گویا ہر وہ کام جو آپ کے طبقے کیلئے سودمند ہو‘ کرتے کرتے تھک ہار کر ہمیشہ کی نیند سو جاتے ہیں۔سونے کی چڑیا جن کے ہاتھ میں ہے اور رہی ہے‘ اُن طبقات کے علاوہ ماضی کے باہر والے‘ اور آزادی کے بعد اپنے اندر کے حکمرانوں نے اس چڑیا کے طلسمی انڈوں سے سونے کے پہاڑ کھڑے کر لیے۔ پنجاب کی سونے کی چڑیا کو نچوڑنے کیلئے جتنے حملے افغانوں‘ ترکوں اور ایرانیوں نے کیے اور نسل در نسل لوٹ مار کرتے رہے‘ وہ تاریخ ہم نے مسخ کر کے انہیں ہیرو کا درجہ دے رکھا ہے۔ پنجابی زبان میں ایک کتاب اس بارے میں آئی ہے۔ جلد وہ پڑھ کر اس کے بارے میں کچھ مزید آپ کی خدمت میں عرض کروں گا۔ سچ اور حق کی بات‘ اگر آپ کو گوارا ہو تو یہ ہے کہ صدیوں بعد پنجاب کا آبائی حکمران‘ جو میدان میں افغانوں کو اپنے ملک سے نکال کر واقعی شیرِ پنجاب بنا‘ وہ مہاراجہ رنجیت سنگھ تھا۔ فصل پکتے ہی افغان ہزاروں کی تعداد میں پنجاب میں وارد ہوتے اور سب کچھ لوٹ کر واپس چلے جاتے۔ مغلوں کے زوال کے بعد سندھ سے لے کر کشمیر تک وہ حکمران مقرر کرتے اور ہر علاقے کی مالیت‘ پروانۂ حکمرانی دینے سے پہلے وصول کرتے۔ جو کچھ مہاراجہ نے بنایا‘ وہ پنجاب کیلئے بنایا اور پنجاب میں ہی رہا۔ اسی زمانے میں انگریزوں کی کمپنی ہندوستانیوں سے اربوںنکال کر برطانیہ منتقل کر رہی تھی۔ پنجاب کی سونے کی چڑیا پر اس کی گہری نظر تھی۔ جب تک مہاراجہ زندہ تھے‘ انگریزوں کو جرأت نہ ہوئی کہ وہ ستلج کو پار کر سکیں۔ آج کا خیبر پختونخوا مہاراجہ کی فوج نے افغانوں کو نکال کر حاصل کیا۔ افغان انگریزوں کی منتیں کرتے تھے کہ سونے کی چڑیا کا ایک حصہ ہمیں واپس دلاؤ۔ انگریزوں کی تو اپنی نظر اس پر تھی۔ کاش ہم پنجاب کی اصلی تاریخ کبھی پڑھتے اور تعصب کی عینک اتار کر پڑھتے تو مہاراجہ اور ان کی سلطنت کے بارے میں افغانوں اور ان کے مقامی گماشتوں نے جو غلط فہمی پھیلائی ہے‘ اس کا گرد و غبار ذہنوں پر اتنی دیر نہ رہتا۔ ان کے بعد جو ہوا اسے پڑھیں تو ایسا لگتا ہے کہ اسی نوع کے ٹولے سونے کی چڑیا پر ٹوٹ کر پڑے ہوئے ہیں۔پنجاب اور ملک کے دیگر علاقوں میں سیاست بطور کاروبار کی تاریخ زیادہ گہری نہیں‘ سوائے افغانوں اور انگریزوں کی یلغار کے۔ گزشتہ نصف صدی کی بات ہمیشہ کرتے رہے ہیں تاکہ آپ آج کل کے حکمرانوں کا ماضی کے ایسے طاقتور لوگوں سے موازنہ کر سکیں۔ پنجاب‘ سندھ‘ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی لوٹ مار‘ جو صدیوں سے جاری ہے‘ اس کے مظاہر آپ خلیجی ریاستوں‘ فرانس‘ برطانیہ‘ امریکہ‘ آسٹریلیا وغیرہ میں دیکھ سکتے ہیں۔ یہ جو پاناما ملک ہے‘ جس کا نام عام پاکستانی نے اُس وقت سنا جب ہمارے بڑے بڑے حکمرانوں کی کمپنیاں وہاں نکل آئیں‘ یہ ملک کس مقصد کیلئے استعمال ہوتا ہے؟ سونے کی ایک نہیں‘ کئی چڑیاں ہیں جنہیں اتنا لوٹا گیا ہے کہ رکھنے کیلئے اپنے ملک میں اس دولت کی جگہ نہیں رہی۔ دوسروں کی جانب بھی‘ جو گماشتوں کا کردار ادا کرتے ہیں‘ بہت کچھ پھینکا جاتا ہے۔سب کے وارے نیارے ہیں۔ بے شک آپ احتجاج کریں‘ آپ گلا پھاڑ کر کہتے رہیں کہ یہ ہمارا جمہوری حق ہے‘ کچھ بھی نہیں ہو گا کہ وہ اتنے طاقتور ہو چکے ہیں کہ اب اقتدار بھی کوئی بڑی بات نہیں رہی۔ بس ایک عام سا کھیل ہے جو وہ ملک میں اپنی سیاسی دکان قائم رکھنے اور منافع در منافع حاصل کرنے کیلئے چلاتے رہیں گے۔ یہ گیارہ بارہ ارب والے جہاز اور اوپر کروڑوں کے اخراجات‘ اور پھر اسے ذاتی سیر و تفریح کیلئے استعمال کرنے والی بات تو رہ گئی۔ پھر ان ماضی کے افغانوں اور انگریزوں سے کیا گلہ؟ ہاں‘ وہ جو لندن کے مشہور زمانہ علاقے میں فلیٹ ہیں‘ اور کس حکمران گھرانے کے نہیں ہیں‘ وہ سونے کی چڑیوں کی جادوگری نہیں تو اور کیا ہے؟ ہم تو شکایتی ہیں؛ البتہ پٹھانے خان اور یٰسین خان کبھی کوئی حرف زبان پر نہیں لائے تھے۔ وہی ہمارے عوام کے نمائندے ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_33241568.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سعودی عرب اور حوثیوں کے مابین کشیدگی کے اثرات(ڈاکٹر رشید احمد خاں)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr-rasheed-ahmad-khan/2026-09-18/52684/79562963</link><pubDate>Fri, 18 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr-rasheed-ahmad-khan/2026-09-18/52684/79562963</guid><description>رواں برس 28 فروری کو جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر مشترکہ حملے شروع کیے تو بین الاقوامی امور کے تقریباً تمام ماہرین کی متفقہ رائے تھی کہ یہ جنگ خلیج فارس تک محدود نہیں رہے گی بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے دیگر حصے بھی اس کی لپیٹ میں آ جائیں گے۔ تقریباً سات ماہ کے بعد یمن کے حوثی باغیوں اور سعودی عرب کے درمیان شدید جھڑپوں نے یہ بات سچ ثابت کر دی ہے۔ اگرچہ فریقین کے درمیان جھڑپوں کا آغاز رواں سال جولائی میں ہی ہو گیا تھا مگر رواں ماہ کے پہلے ہفتے میں حوثی باغیوں نے جس برق رفتاری کے ساتھ آبنائے باب المندب کے ساتھ ساحل اور اہم جزائر پر قبضہ کیا ہے‘ اس نے ایک طرف سعودی عرب کیلئے مشکل حالات پیدا کر دیے ہیں تو دوسری طرف دنیا میں تیل اور گیس کی سپلائی کو مزید محدود کر دیا ہے۔ اگرچہ حوثی باغیوں نے آبنائے باب المندب کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد اعلان کیا ہے کہ بحیرہ احمر اور بحرِ ہند کو ملانے والے اس تنگ آبی راستے سے سوائے سعودی عرب کے باقی تمام ممالک کے ٹینکرز گزر سکتے ہیں‘ مگر سعودی عرب سے تیل کی سپلائی کی بندش عالمی تیل مارکیٹ کو بری طرح متاثر کر سکتی ہے کیونکہ آبنائے باب المندب کے راستے سے گزرنے والے تیل میں سب سے زیادہ حصہ سعودی عرب ہی کا ہے۔سعودی عرب نے آبنائے ہرمز کے راستے تجارتی بندش کی صورت میں تیل کی برآمدات جاری رکھنے کیلئے ایک 1200کلومیٹر لمبی آئل پائپ لائن تعمیر کی ہے اور اس کے مشرقی تیل کے ذخائر سے بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع بندرگاہ سے باب المندب کے راستے تیل برآمد کیا جا رہا تھا۔ مگر اب یہ سلسلہ بھی منقطع ہو گیا ہے کیونکہ حوثیوں نے اس پائپ لائن کو دو جگہ سے بمباری کر کے نقصان پہنچایا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس پائپ لائن کی مرمت کرنے اور اسے واپس آپریشنل حالت میں لانے کیلئے کم از کم دو ہفتے درکار ہوں گے۔ اس لیے سعودی عرب نے بحیرہ احمر کے ساحل پر اپنی بندرگاہوں کو تیل کی سپلائی بند کر دی ہے۔ سعودی عرب کے اس اقدام سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافہ ہونا شروع ہو گیا ہے۔ اس سے پاکستان جیسے وہ ممالک جو خلیج فارس اور باب المندب سے تیل درآمد کرتے ہیں‘ سخت مشکلات کا شکار ہیں‘ مگر حوثی باغی‘ جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہیں مبینہ طور پر ایران کی حمایت حاصل ہے‘ سعودی عرب کے ساتھ ان کی جھڑپیں اگرچہ دس سال سے جاری ہیں مگر اب ان میں شدت نے علاقائی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ پیدا کر دیا ہے کیونکہ سعودی عرب نے حوثی حملوں کے خلاف بیرونی مدد کے حصول کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مداخلت کی درخواست کی‘ لیکن ٹرمپ نے براہِ راست مداخلت کو مسترد کرتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ کے دفاع کیلئے ذمہ دار سینٹرل کمانڈ کی وساطت سے سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان حوثی حملہ آوروں کے خلاف انٹیلی جنس کی فراہمی پر مذاکرات کا اہتمام کیا۔ اطلاعات کے مطابق سعودی عرب نے برطانیہ سے بھی مدد کی اپیل کی مگر برطانوی حکومت نے بھی براہِ راست مداخلت سے معذرت کرتے ہوئے سعودی عرب کو حوثیوں کے خلاف جنگ میں مدد دینے کیلئے مشیروں پر مشتمل ایک ٹیم بھیجنے پر آمادگی ظاہر کی۔ مدد کی تلاش میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے مصر کا بھی دورہ کیا اور صدر عبدالفتاح السیسی سے ملاقات کی۔ یاد رہے مصر 2015ء میں سعودی عرب کی سربراہی میں قائم ہونے والے &#39;&#39;عرب کولیشن‘‘ کا رکن بھی ہے لیکن مصر نے بھی سعودی عرب کے دفاع کیلئے اپنی فوجیں بھیجنے سے انکار کیا ہے اور جنگ کے بجائے مشاورتی ذرائع سے پُرامن حل پر زور دیا ہے۔ اس ساری صورتحال میں جہاں تک مکہ دفاعی معاہدے کا تعلق ہے تو پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے مطابق ابھی اسے آپریشنل بنانے کیلئے ضروری ڈھانچہ اور اصولی قواعد تیار نہیں کیے جا سکے۔ حوثی باغیوں اور سعودی عرب کے درمیان جاری جھڑپوں کے فوری خاتمے کے کوئی آثار نظر نہیں آتے کیونکہ یہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کی توسیع ہے اور جب تک ایران‘ امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کسی نتیجے پر نہیں پہنچتی‘ یہ جنگ جاری رہے گی۔ اس جنگ کے جاری رہنے سے دنیا میں نہ صرف تیل‘ گیس اور دیگر اشیا کی قلت پیدا ہونے کا شدید خدشہ ہے بلکہ یورپ اور ایشیا کے کروڑوں باشندوں کی زندگیاں متاثر ہو سکتی ہیں۔ اس لیے کہ یہ جنگ ایک ایسی تنگ آبی گزرگاہ (آبنائے باب المندب) کے گرد گھومتی ہے جس نے نہر سویز کے راستے یورپ اور جنوب مشرقی ایشیا کے درمیان سفر اور دیگر ضروریاتِ زندگی کی ترسیل میں فاصلے کو کئی گنا کم کیا ہے۔اگر آبنائے باب المندب کو بلاک کیا جاتا ہے تو یورپ‘ خصوصاً مشرقی اور جنوبی یورپ‘ اور جنوب مشرقی ایشیا کے لوگوں کے درمیان نہر سویز کے راستے براہِ راست اور کم فاصلے والا رابطہ ختم ہو جائے گا۔ ان خطوں کے ممالک کو نہ صرف اپنی برآمدات میں کمی اور درآمدات کی قیمتوں میں اضافے کا سامنا کرنا پڑے گا بلکہ ہنگامی حالات مثلاً سیلاب‘ زلزلہ یا سونامی کی صورت میں انسانی جانوں کی حفاظت کیلئے بروقت امداد کی فراہمی میں بھی تاخیر کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ حوثی باغیوں اور سعودی عرب کے درمیان شروع ہونے والی یہ جنگ اگرچہ ابھی ڈرون‘ میزائل حملوں اور ہوائی جہازوں کی بمباری تک محدود ہے مگر خدشہ ہے کہ یہ بہت جلد زمینی حملوں میں تبدیل ہو جائے گی کیونکہ آبنائے باب المندب اور اس کے ساتھ ملنے والے ساحل پر حوثی باغیوں کے قبضے کو فضائی حملوں سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اس کیلئے &#39;&#39;آن گراؤنڈ‘‘ یعنی ٹینکوں‘ توپ خانے اور ہتھیاروں سے لیس فوج اور بحری جہازوں سے گولہ باری کی بھی ضرورت پڑے گی۔ زمینی حملے کیلئے نو ممالک پر مشتمل سعودی عرب کی سربراہی میں قائم ہونے والا فوجی اتحاد حرکت میں آ سکتا ہے۔ بحری کارروائیوں میں رواں سال اگست میں قائم ہونے والی &#39;&#39;ملٹی نیشنل میری ٹائم ڈیفنس کولیشن‘‘ کے تحت کارروائی ہو سکتی ہے۔ یہ تنظیم خصوصی طور پر بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب کے تحفظ کیلئے بنائی گئی ہے اور اس میں سعودی عرب‘ ترکیے‘ یمن‘ بحرین اور قطر کے علاوہ پاکستان بھی بحیثیت بانی رکن شامل ہے۔ خدشہ ہے کہ سعودی عرب اور یمن عرب اتحاد اور ملٹی نیشنل میری ٹائم ڈیفنس کولیشن کی مدد سے حوثیوں کو آبنائے باب المندب اور اس کے اردگرد علاقوں سے بے دخل کرنے کیلئے بیک وقت ہوائی‘ بری اور بحری حملہ کر سکتے ہیں۔ اس حملے کے نتیجے میں حوثی باغیوں کو آبنائے باب المندب اور حال ہی میں قبضے میں لیے گئے شہروں کو خالی کر کے پیچھے ہٹنا پڑ سکتا ہے‘ مگر اس سے یمن کا اندرونی مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ اس کی کیا وجہ ہے‘ اور یمن کا اصل مسئلہ کیا ہے؟ حوثی باغی کیا چاہتے ہیں؟ سعودی عرب کے یمن سے کیا مفادات وابستہ ہیں‘ اور اگر جنگ کی وجہ سے آبنائے باب المندب لمبے عرصے تک بند رہتی ہے تو اس کے علاقائی اور عالمی سیاست پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں؟ اور سب سے اہم یہ کہ کیا مکہ دفاعی معاہدہ حرکت میں آ سکتا ہے؟ اس کے نتیجے میں پاکستان کے ہمسایہ ممالک‘ خصوصاً ایران کے ساتھ تعلقات کس حد تک متاثر ہو سکتے ہیں؟ کیونکہ پاکستان نہ صرف مکہ دفاعی معاہدے میں شامل ہے بلکہ مشرقِ وسطیٰ اور خلیج کے عرب ممالک کے ساتھ ملٹی نیشنل میری ٹائم ڈیفنس کولیشن‘ جسے خاص طور پر بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے قائم کیا گیا ہے‘ میں بھی شامل ہے۔ ان سب سوالات کے جوابات آئندہ کالموں میں دیے جائیں گے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90264263.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سلطنت روم سے رومانیہ تک(اسد طاہر جپہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/asad-tahir-jappa-/2026-09-18/52685/82673655</link><pubDate>Fri, 18 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/asad-tahir-jappa-/2026-09-18/52685/82673655</guid><description>گزشتہ چند روز سے میں ایک بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کیلئے رومانیہ کے دارالحکومت بخارسٹ میں موجود ہوں جس میں میرا تحقیقی مقالہ بھی منتخب ہو چکا ہے۔ یہ ستمبر کی ایک دلآویز صبح ہے اور میں اس تاریخی شہر کی پتھریلی گلیوں میں کافی کا کپ ہاتھ میں لیے گھوم پھر رہا ہوں۔ میری ایک طرف انیسویں صدی کی فرانسیسی طرز کی عمارتیں ہیں جن کی بدولت اسے مشرقی یورپ کا چھوٹا پیرس (Little Paris) کہا جاتا ہے‘ اور دوسری طرف جدید طرزِ تعمیر کی شاہکار محل نما پارلیمنٹ کی عظیم الشان عمارت کا سایہ ہے جسے ڈکٹیٹر صدر نیکول چاؤ شیسکو کے حکم پر تیرہ برس کی طویل مدت میں اور لگ بھگ چار ارب یورو کی لاگت سے تعمیر کیا گیا تھا۔ آج کا رومانیہ مجھے اسی عجیب تضاد کی چادر میں لپٹا ہوا سلطنتِ روم کا استعارہ نظر آتا ہے۔ ایک ایسا روم جو کبھی بام عروج پر تھا‘ پھر زوال پذیر ہوا‘ اور آج تاریخی سلطنت کی ایک اولاد کی شکل میں میرے سامنے کھڑا ہے۔ رومانیہ صرف ایک ملک نہیں یہ سلطنتِ روم کی سوانح کا ایک روشن باب ہے۔ عروج و زوال کی اس داستان کو آسان بنانے کیلئے اسے تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ پہلا حصہ سلطنتِ روم کے جاہ و جلال اور حسن و جمال کا مظہر ہے جب دنیا روم کے قدموں میں تھی۔ یہ عروج کوئی ایک دن کا قصہ نہیں بلکہ پانچ سو سال کی مسلسل ریاضت تھی جسکے تین بنیادی ستون تھے۔ پہلا ستون فوجی نظم و ضبط پر مشتمل تھا۔ روم کی فوج دنیا کی پہلی پروفیشنل فوج تھی۔ ایک عام رومی سپاہی روزانہ 40کلو گرام وزن اٹھا کر 30کلو میٹر پیدل مارچ کرنے کی صلاحیت و طاقت رکھتا تھا۔ اسی فوج نے بحیرۂ روم کا سینہ چیر کر سمندر کے پانیوں پر حکمرانی کی۔ آج بخارسٹ سے صرف دو گھنٹے کی دوری پر آدمکلسی میں شہنشاہ تراجان کی فتح کی یادگار پر نصب ایک ٹرافی اسی فوجی برتری کی گواہی دے رہی ہے۔ اس سلطنت کا دوسرا ستون قانون و انصاف کا مربوط نظام تھا جسکے باعث روم نے دنیا کو یہ باور کرایا تھا کہ قانون بادشاہ سے بڑا ہوتا ہے۔ پوری رومی سلطنت میں ایک قانون‘ ایک سکہ‘ اور ایک ہی لاطینی زبان نافذ العمل تھی۔ ایک شامی تاجر اگر سپین میں مر جاتا تو اس کا مقدمہ بھی اسی قانون کے تحت ہوتا۔ یہی وہ نظام تھا جس نے رومی تجارت کو بین الاقوامی سطح پر بے پناہ فروغ دیا۔ تیسرا ستون سلطنتِ روم کی مسلسل توسیع اور مال و دولت کا حصول تھا۔ رومانیہ کا جنم بھی اسی عروج کا نقطہ کمال تھا۔ سنہ 101ء سے 106 عیسوی تک شہنشاہ تراجان نے دو خونریز جنگوں کے بعد ڈاسیا کو فتح کیا اور ڈاسیا ہی آج کا رومانیہ ہے۔ دراصل یہ روم کی آخری اور سب سے قیمتی فتح تھی۔ تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ ڈاسیا میں سونے اور چاندی کی کانوں سے روم کو اتنا سونا ملا کہ روم نے 123 دن تک جشن منایا‘ دس ہزار گلیڈی ایٹرز کی لڑائیاں ہوئیں اور پورے روم میں ٹیکس معاف کر دیا گیا۔ اسی دولت سے بادشاہ تراجان نے روم میں 35 میٹر اونچے ستون پر مشتمل وہ یادگاری فورم بنوایا جسکے کھنڈرات آج بھی آپ کو حیران کر دیتے ہیں۔ اس ستون پر کندہ 155 مناظر ڈاسیا کی جنگ کے عکاس ہیں۔ لہٰذا جب میں نے بخارسٹ کے قومی عجائب گھر میں ڈاسیا کے بادشاہ دیسی بالس کا ہیلمٹ دیکھا تو مجھے ایسا محسوس ہوا کہ سلطنتِ روم کے عروج کا زمانہ چند لمحات کیلئے لوٹ آیا ہو۔ اس وقت روم کی آبادی صرف دس لاکھ تھی مگر اس کی سرحدیں موجودہ عراق سے سکاٹ لینڈ تک پھیلی ہوئی تھیں۔ اس کہانی کا دوسرا حصہ سلطنتِ روم کے زوال کا احاطہ کرتا ہے کیونکہ وقت کا پہیہ چلتا رہتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ہر بڑی سلطنت اپنے ہی وزن سے گرتی ہے۔ روم کے زوال کے پانچ بڑے اسباب تھے‘ اور حیرت انگیز طور پر ان پانچوں کا تعلق رومانیہ سے جڑا ہے۔ اول: حد سے زیادہ پھیلاؤ کے نتیجے میں سلطنت اتنی بڑی ہو گئی کہ اس کی سرحدوں کی حفاظت ممکن نہ رہی۔ فوج کو ایک سرے سے دوسرے سرے تک پہنچنے میں کئی مہینے لگتے تھے۔ دوم: معاشی دیوالیہ پن نے اپنا کردار ادا کیا کیونکہ جنگوں پر اتنا سرمایہ خرچ ہوتا تھا کہ سکوں تک میں ملاوٹ شروع ہو گئی تھی۔ تیسری صدی عیسوی میں رومی سکے میں چاندی کی مقدار 95 فیصد سے کم ہو کر صرف پانچ فیصد رہ گئی اور مہنگائی آسمان پر پہنچ چکی تھی۔ رومیوں کے زوال کی تیسری نمایاں وجہ سیاسی عدم استحکام تھا جس کے باعث صرف 50 سال (235 سے 284ء) میں 20 سے زیادہ بادشاہ قتل ہوئے۔ فوج جسے چاہتی تخت پر بٹھا دیتی‘ جسے چاہتی قتل کر دیتی۔ چوتھی بڑی وجہ وحشی قبائل کا دباؤ تھا جس کے نتیجے میں شمال سے گوتھ‘ وینڈل‘ فرینک اور مشرق سے ساسانی حملے مسلسل بڑھ رہے تھے۔ آخر میں ان تمام اسباب کا نچوڑ 270ء میں نکلا۔ شہنشاہ اوریلیان‘ جو ایک بہت قابل فوجی تھا‘ اس نے وہ فیصلہ کیا جس نے روم کی پوری نفسیات بدل دی۔ اس نے حکم دیا کہ ڈاسیا خالی کر دیا جائے‘ تمام رومی لشکر‘ افسران اور انتظامیہ دریائے ڈینیوب کے جنوب میں واپس چلے جائیں۔ یہ رومی تاریخ کا پہلا باضابطہ پسپائی کا اعلان تھا۔ روم نے پہلی بار مانا کہ وہ اب اپنی فتوحات کی حفاظت نہیں کر سکتا۔ یوں رومانیہ ہی روم کے زوال کا پہلا نوحہ بنا‘ جس کے بعد زوال کی رفتار تیز ہو گئی۔ 395ء میں سلطنت مشرقی اور مغربی‘ دو حصوں میں بٹ گئی‘ جسے کئی صدیوں تک کسی دشمن نے میلی آنکھ سے نہیں دیکھا تھا۔ سنہ 410ء میں گوتھوں نے خود روم شہر کو لوٹ لیا۔ زوال کا یہ سلسلہ بڑھتا رہا اور 476ء میں آخری مغربی شہنشاہ رومولس آ گسٹولس کو ایک وحشی سردار اوڈوایسر نے تخت سے اتار دیا۔ سلطنتِ روم کے عروج و زوال کی اس داستان کا آخری اور تیسرا حصہ موجودہ رومانیہ ہے جو سلطنتِ روم کے کھنڈرات پر کھڑی ایک نئی تہذیب ہے اور جس کے دارالحکومت بخارسٹ میں گزشتہ چند دنوں سے میں گھوم رہا ہوں۔ دراصل یہ رومانیہ کا نیا جنم ہے۔ رومانیہ صدیوں تک تین ریاستوں میں بٹا رہا۔ والاچیا جس کا ہیرو ولاد ٹیپس تھا جس پر ڈریکولا کی کہانی بنی۔ مالدووا جس نے عثمانیوں کے خلاف جنگیں لڑیں‘ اور ٹرانسلوانیا جو ہنگری اور آسٹریا کے زیرِ اثر رہا۔ 1859ء میں الیگزینڈر کوزا نے والاچیا اور مالدووا کو ملایا‘ اور 1918ء میں ٹرانسلوانیا بھی ملا تو جدید رومانیہ بنا۔ دراصل یہ بکھرے ہوئے روم کو دوبارہ جوڑنے کی کوشش تھی۔ لہٰذا آج کی رومانی ثقافت اسی استعارے کی بہترین مثال ہے۔ یہاں 86 فیصد آبادی آرتھوڈوکس مسیحی ہے‘ ان کے گرجوں کی دیواریں اندر سے پوری طرح بازنطینی پینٹنگز سے سجی ہوتی ہیں‘ جیسے شمالی مالدووا کے وہ گرجا گھر جو یونیسکو کی تاریخی ورثے کی حامل عمارات میں شامل ہیں۔ آج کے جدید رومانیہ میں لاطینی زبان‘ مشرقی مذہب‘ اور فنِ تعمیر میں فرانسیسی‘ عثمانی اور کمیونسٹ تینوں رنگ نظر آتے ہیں اور یہی تنوع اس کا حقیقی حسن ہے۔ آج کا رومانیہ اب کوئی فراموش شدہ صوبہ نہیں بلکہ معاشی طور پر یہ یورپی یونین کی سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی معیشتوں میں سے ایک ہے۔ کلُوج ناپوکا شہر کو مشرقی یورپ کی سیلیکون ویلی کہا جاتا ہے‘ جہاں ہزاروں نوجوان آئی ٹی کمپنیوں میں کام کر رہے ہیں۔ یوکرین جنگ کے بعد رومانیہ کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے۔ یہ نیٹو کا اہم رکن ہے‘ امریکی فوج کا سب سے بڑا ہوئی اڈہ میخائل کوگالنیچانو یہیں ہے۔ بحیرۂ اسود پر اس کی بندرگاہ قونسٹانٹا آج یوکرین کے اناج کی دنیا تک ترسیل کا سب سے بڑا راستہ ہے۔ وہی کلیدی کردار جو کبھی رومی دور میں تھا‘ آج پھر اسی کے پاس ہے۔سلطنتِ روم سے لے کر رومانیہ تک کئی صدیوں پر محیط اس داستان سے ہمیں ایک ہی سبق ملتا ہے کہ ثبات صرف تغیر ہی کو حاصل ہے۔ وقت کے سمندر میں جانے کتنی سلطنتوں‘ اَن گنت بادشاہتوں اور شہنشاہوں کے سفینے ہمیشہ کیلئے ڈوب چکے۔ تاریخ کے کوڑے دان میں گمنامی کی چادر اوڑھے جانے کتنے ایسے کردار اوندھے منہ گرے پڑے ہیں جنہیں یہ خوش فہمی تھی کہ ان کی فصلِ گُل پر ہمیشہ رنگِ بہار ہی نمایاں رہے گا اور وہ خزاں رُت سے سدا ناآشنا رہیں گے۔وائے افسوس!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_34710710.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بے قصوروں کا قصوری وکیل(نسیم احمد باجوہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/naseem-ahmed-bajwa/2026-09-18/52686/37712853</link><pubDate>Fri, 18 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/naseem-ahmed-bajwa/2026-09-18/52686/37712853</guid><description>میاں محمود علی قصوری 1910ء میں قصور کے ایک ممتاز علمی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ گھر والوں نے تو نام محمود علی رکھا مگر جب بڑے ہوئے تو &#39;&#39;قصوری‘‘ نام کا حصہ بن گیا۔ پنجاب یونیورسٹی کے لاء کالج سے قانون کی ڈگری لینے کے بعد وہ برطانیہ گئے‘ جہاںایل ایل ایم کی ڈگری حاصل کی اور بیرسٹر بن کر لاہور واپس آئے۔ اُنہوں نے اپنی جرأت‘ بہادری‘ بے خوفی اور اُصول پسندی کی خوبیوں کی وجہ سے نہ صرف ملک کے اندر بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی خوب شہرت سمیٹی۔ وہ پاکستان میں چوٹی کے وکیل تھے‘ تاہم انسانی حقوق اور جمہوری اقدار کی حفاظت کی جدوجہد میں اس چوٹی کے وکیل کو بھی کئی بار جیل جانا پڑا۔میاں محمود علی قصوری سے میری ملاقاتوں کی داستان بہت دلچسپ ہے۔ ہوا یوں کہ 1953ء میں لائل پور کے گورنمنٹ کالج کے بین الکلیاتی مباحثے میں میرا تعارف اعجاز چشتی (مرحوم) سے اور ان کے توسط سے چشتی گھرانے کے سب افراد سے ہوا۔ مباحثہ میں اعجاز چشتی اورینٹل کالج لاہور کی نمائندگی کر رہے تھے۔ اقبال فیروز قائدِ ایوان اور میں قائد حزبِ اختلاف تھا۔ اُس وقت ہرگز اندازہ نہ تھا کہ حصولِ تعلیم کا مرحلہ ختم ہو جانے کے بعد زندگی حزبِ اختلاف ہی میں گزرے گی اور اس وجہ سے کتنی ہی مصیبتیں برداشت کرنا پڑیں گی۔ اگلے برس میرے والد صاحب جوڈاکٹر تھے‘ کا تبادلہ سیالکوٹ ہو گیا۔ 1954ء میں ایک روز اعجاز چشتی کا فون آیا اور انہوں نے یہ تکلیف دہ خبر سنائی کہ اُن کے بھائی (ریاض عرفی) جو محکمہ خوراک میں افسر تھے‘ کو رشوت لینے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ میں لاہور آکر اُن کی اخلاقی مدد کروں۔ بی اے کا ایک طالبعلم بھلا اُن کی کیا مدد کر سکتا تھا‘ اُلٹا اُن پر مہمان نوازی کا بوجھ ڈالتا۔ اسی ادھیڑ بن میں ابا جی سے ایک ہفتہ کے لیے لاہور جانے کی اجازت لے کر اُسی دن لاہور کیلئے روانہ ہو گیا۔ ریاض عرفی کے تینوں بھائیوں نے انہیں ضمانت پر رہا کرانے کے لیے اپنی جان لڑا دی۔ محمود قصوری صاحب ان کے وکیل تھے اور ہم اُنہیں ہر روز ملتے تھے۔ نچلی عدالت نے ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی‘ اب معاملہ ہائیکورٹ میں چلا گیا تھا۔ جس روز ہائیکورٹ میں کیس کی سماعت ہوئی‘ میں بھی وہاں موجود تھا۔ قصوری صاحب کے اچھے دلائل اپنی جگہ مگر میں ان کی پاٹ دار اور گرجدار آواز سے متاثر ہوا۔ وہ ضمانت کرانے میں کامیاب رہے۔ بعد ازاں ہم جیل کے عملے سے مل کر عدالتی حکم پر تعمیل کا انتظار کر رہے تھے کہ راولپنڈی سازش کیس میں سزا یافتہ سابق ایئر کمووڈر ایم کے (محمد خان) جنجوعہ وہاں نظر آئے۔ اُنہوں نے اپنا تعارف کرایا اور بتایا کہ وہ فرائض میں کوتاہی پر جیل کے افسروں کی خبر لینے آئے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ہمیں یہ بات سمجھ میں نہ آئی کہ یہ کام ایک قیدی کس طرح کر سکتا ہے‘ تاہم تھوڑی دیر بعد یہ منظر ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ جیل کے افسران جب ریاض عرفی کو ہمارے حوالے کرنے آئے تو اُنہوں نے ایک آتش زیرپا قیدی کو اپنا منتظر پایا۔ جنجوعہ صاحب اُن پر خوب گرجے برسے اور جیل افسران بھیگی بلی بن کر ان کے زبانی لاٹھی چارج کو برداشت کرتے رہے۔ وہ اپنی وضاحتیں پیش کر رہے تھے جو جنجوعہ صاحب اپنی جلالی کیفیت میں مسترد کرتے جا رہے تھے۔ ہم عرفی صاحب کو لے کر وہاں سے روانہ ہو گئے‘ نہیں معلوم کہ ہمارے جانے کے بعد یہ معاملہ کس طرح طے پایا۔ بہرکیف‘ بعد ازاں ہم قصوری صاحب کے گھر شکریہ ادا کرنے گئے۔ اُنہوں نے ہمیں چائے پلائی اور طے شدہ فیس سے نصف رقم لی۔ یہ ایک وکیل اور کلائنٹ کا رابطہ تھا۔ اس کے بعد میرا ان سے حقیقی تعارف 1966-67ء میں لاہور میں ہوا اور میری برطانیہ نقل مکانی تک یہ تعلق ایک نیاز مندانہ رشتے میں تبدیل ہو چکا تھا۔1966ء میں مجھے (اور سکندر جمالی مرحوم کو) صدارتی انتخابات میں مادرِ ملت فاطمہ جناح کی حمایت کرنے پر ایچیسن کالج لاہور کی ملازمت سے ایک منٹ کا نوٹس دیے بغیر بیک جنبش قلم برخاست کیا گیا تو میں اس نادر شاہی کے حکم کے خلاف ہائیکورٹ میں پٹیشن داخل کرنے کے لیے محمود قصوری صاحب کے پاس قانونی مدد مانگنے گیا۔ انہوں نے کالج میں ملازمت کے قواعد وضوابط (جو انگریز راج میں بنائے گئے تھے) پڑھ کر کہا کہ اگرچہ ہم ناکام ہوں گے مگر میں فیس لیے بغیر آپ کا مقدمہ لڑنے کے لیے تیار ہوں (وہ جانتے تھے کہ میں اُن کی فیس ادا کرنے سے قاصر ہوں)۔ سائل نے چون و چرا کیے بغیر ان کی ماہرانہ رائے کے آگے سرِ تسلیم خم کر دیا‘ ورنہ مقدمہ میں ناکامی سے دہرا صدمہ برداشت کرنا پڑتا۔میرے لیے یہ خبر خوشی کا باعث بنی کہ قصوری صاحب پیپلز پارٹی کے بانیان میں شامل ہیں۔ اُن کے وزیر قانون بنائے جانے پر یہ خوشی دگنی ہو گئی۔ 1973ء میں آئینِ پاکستان کا مسودہ تیار کرنے میں بھی اُن کا کردار کلیدی تھا۔ جب وہ وزارت چھوڑ کر پیپلز پارٹی سے علیحدہ ہوئے تو یہ باعثِ افسوس تو تھا مگر مقامِ حیرت ہر گز نہ تھا۔ اگرچہ قومی اسمبلی کے ضمنی انتخابات میں بھٹو صاحب کی چھوڑی ہوئی نشست جیت کر وہ پارلیمان کے رکن بنے تھے مگر جب بھٹو صاحب نے جمہو ری قدروں کو پامال کرتے ہوئے اور اپنے پرانے باس (فیلڈ مارشل ایوب خان) کے نقش قدم پر چلتے ہوئے نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) کے رہنمائوں کو گرفتار اور ان پر سراسر جھوٹے مقدمات چلوا کر اُنہیں جیلوں میں بند کرنا شروع کیا تو قصوری صاحب جیسے باضمیر اور بااُصول شخص کو بھٹو صاحب کی سیاسی رفاقت اور وزارت‘ دونوں کو خیرباد کہنا پڑا۔ ویسے بھی بھٹو صاحب نے جس طرح جے اے رحیم (جنہیں وہ ایک زمانہ میں اپنا قائد کہتے تھے) پر اپنی پروردہ پولیس فورس سے جسمانی تشدد کر کے اور بہت بے عزت کر کے انہیں وزارت سے ہٹایا تھا‘ اس کے بعد قصوری صاحب کا بھٹو کے ساتھ گزارہ مشکل ہو چکا تھا‘ جن کے چہرے پر پڑے ہوئے سب نقاب اُتر چکے تھے۔محمود قصوری صاحب نے قانونی پریکٹس کے ساتھ عملی سیاست میں یوں قدم رکھا کہ وہ قیام پاکستان سے پہلے انڈین نیشنل کانگریس اور آل انڈیا مسلم لیگ‘ دونوں میں شامل ہوئے۔ اس زمانے میں دونوں جماعتوں کی بیک وقت رکنیت کی اجازت تھی اور دونوں سیاسی جماعتیں باہم اتفاقِ رائے سے ایک ہی شہر میں ایک ہی وقت اپنا سالانہ اجلاس منعقد کرتی تھیں۔ قیام پاکستان کے بعد مسلم لیگ کا حال دیکھ کر وہ اس سے علیحدہ ہو گئے اور آزاد پاکستان پارٹی بنانے والوں میں شامل ہو گئے۔ اگلا مرحلہ نیشنل عوامی پارٹی (جو ترقی پسند اور بائیں بازو کی ملک گیر سیاسی جماعت تھی) میں شمولیت تھی۔ میاں محمود علی قصوری کا آخری سیاسی پڑائو ایئر مارشل (ر) اصغر خان کی تحریک استقلال تھی‘ جس کے ساتھ وہ 1987ء میں اپنی وفات تک وابستہ رہے۔بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ میاں محمود علی قصوری کو سوویت یونین کی طرف سے سٹالن امن انعام بھی دیا گیا تھا۔ وہ برطانیہ میں عالمی شہرت کے حامل فلاسفر اور عالمی امن کی خاطر جدوجہد کرنے والوں کے قائد برٹرینڈ رسل کے بنائے ہوئے &#39;&#39;رسل ٹریبونل‘‘ کے رکن بھی نامزد کیے گئے۔ اس ٹریبونل کا کام یہ تھا کہ ویتنام میں امریکی جنگی جرائم کی چھان بین کر کے عالمی رائے عامہ کو ہموار کیا جائے۔ اگرچہ قصوری صاحب کی شخصیت پر تعارفی مضامین تو بہت سے ہیں مگر میری نظر سے ان پر کوئی جامع کتاب نہیں گزری۔ ہفت روزہ فرائیڈے ٹائمز میں 22 اپریل 1993ء کو ان کے ایک بیٹے کا ایک مفید آرٹیکل شائع ہوا تھا۔ مضمون نگار نے ان کے خاندان سے رابطہ کر کے اتنے بڑے آدمی کی خدمات سے اگلی نسل کو متعارف کرانے کی درخواست کی تھی مگر افسوس کی بات ہے کہ ایسے بلند مرتبہ شخص کے ورثہ کو زندہ رکھنے کے لیے آج تک کچھ نہیں کیا گیا۔ </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_32258580.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>وہ کرسی اور یہ کرسی(امیر حمزہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ameer-hamza/2026-09-18/52687/76545791</link><pubDate>Fri, 18 Sep 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ameer-hamza/2026-09-18/52687/76545791</guid><description>اللہ کے آخری رسول‘ حضور نبی کریمﷺ نے اپنے ایک صحابی حضرت ابی ابن کعبؓ سے استفسار فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ اللہ کی کتاب (قرآن مجید) میں سب سے بڑھ کر عظیم آیت کون سی ہے؟ جواب دیا: اللہ اور اس کے رسولﷺ بہتر جانتے ہیں۔ حضورﷺ نے دوبارہ پوچھا تو حضرت ابی ابن کعبؓ نے آیت الکرسی کا نام لیا۔ اس پر حضورﷺ نے اپنے صحابی کے سینے پر معمولی سے دبائو کے ساتھ اپنا ہاتھ مبارک رکھا اور اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھاتے ہوئے فرمایا &#39;&#39;تمہیں یہ علم مبارک ہو‘‘۔ صحیح مسلم میں مذکورہ حدیث کو راقم نے سلیس انداز میں رقم کیا ہے۔ آیت الکرسی کا آغاز اللہ تعالیٰ کے ذاتی اسم مبارک سے ہوتا ہے۔ اس کے بعد ہر شریک کی نفی کے بعد اثبات کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے ایک ضمیر استعمال فرمایا جسے &#39;&#39;ھو‘‘ کہا گیا۔ حضرت سلطان باہوؒ نے مذکورہ ضمیر سے کمال محبت کرتے ہوئے اپنی شاعری میں اسے کثرت سے استعمال کیا ہے۔ آیت الکرسی کا اختتام &#39;&#39;عظیم‘‘ کے لفظ پر ہوتا ہے۔ یہاں یہ لفظ اللہ تعالیٰ کی صفت کے طور پر آیا ہے۔ راقم نے جب مذکورہ آیت میں اللہ تعالیٰ کے ذاتی اور صفاتی ناموں سمیت ضمیروں کو شمار کیا تو تعداد 21 تک پہنچ گئی۔ عربی لغت کے مفسر ڈاکٹر فاضل سامرائی کہتے ہیں کہ اس آیت کا پہلا لفظ اللہ ہے اور آخری لفظ عظیم ہے۔ اگر ان دونوں کو ملایا جائے تو ایک &#39;جملہ مکمل‘ بنتا ہے؛ یعنی &#39;&#39;اللہ ہی عظیم ہے‘‘۔ جی ہاں! اسی لیے تو حضور کریمﷺ نے آیت الکرسی کو عظیم آیت قرار دیا کہ یہ سارے قرآن مجید میں‘ سب آیات سے بڑھ کر عظمت کی حامل ہے۔امام جمال الدین المعروف ابن منظور اپنی شہرہ آفاق عربی لغت &#39;&#39;لسانُ العرب‘‘ میں اللہ کے رسولﷺ کی حدیث لائے ہیں کہ تمام آسمان اور زمینیں کرسی کے مقابلے میں اس طرح ہیں جیسے ساری زمین ایک ہموار میدان ہو اور اس میں ایک گول چھلّا (یا کنگن) پڑا ہو۔ اگر زمینی میدان ان کنگنوں اور چھلّوں سے بھر جائے تو انہیں کون شمار کرے گا؟ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی کرسی اس قدر بڑی اور وسیع ہے کہ اربوں کھربوں کائناتیں اس کے سامنے ہیچ ہیں۔ امام جمال الدین خزرجی انصاری لکھتے ہیں کہ عرب بادشاہ کرسی پر بیٹھ کر احکامات صادر کرتے تھے‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے تفہیم کے لیے کرسی کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ یاد رہے! بادشاہوں یا حکمرانوں کے لیے &#39;&#39;تخت‘‘ کا لفظ بھی استعمال ہوتا ہے‘ اسی لفظ کو عربی میں &#39;&#39;عرش‘‘ کہتے ہیں۔ قرآن مجید میں جس عرش کا ذکر ہے وہ اس قدر بڑا‘ عظیم اور کریم ہے کہ حضور کریمﷺ کے فرمان کے مطابق اس کی حیثیت اس قدر بڑی ہے کہ کرسی اس کے سامنے ایک وسیع میدان میں چھلّے کی مانند ہے۔ جی ہاں! ایسے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن مجید میں مذکور کرسی‘ اللہ کے احکامات کا ایک نورانی مرکز ہے۔ پھر سدرۃ المنتہیٰ بھی ہے۔ قرآن وسنت کی روشنی میں علماء کرام عرش کے بارے میں فرماتے ہیں کہ (قیامت میں) کائناتیں تباہ ہو جائیں گی مگر عرش نہیں۔ جی ہاں! عرش کی چھائوں میں ہی &#39;&#39;جنت الفردوس‘‘ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب‘ ختم المرسلینﷺ کو جب سدرۃ المنتہیٰ کے پاس اپنا مہمانِ خصوصی بنایا تو نجانے اللہ تعالیٰ نے کیا کچھ دکھلایا۔ حضورﷺ نے ان میں سے کچھ مناظر کو ہمارے لیے اس طرح کھول کر بیان فرمایا کہ جیسے آپﷺ نے اپنی عظیم نورانی آنکھوں سے یہ مناظر مشاہدہ فرمائے‘ ویسے ہی ہم پر بھی یہ معاملہ شرح ہو جائے۔ سرکارِ مدینہﷺ نے نہ کوئی تخت بنوایا‘ نہ کرسی بنوائی۔ بس ایک منبر تھا اور کھجور کی چٹائی کا مصلّیٰ تھا۔ لوگوں نے اس پر گدّا نما مسند بچھا دی تو حضورﷺ اس پر تشریف فرما ہو گئے۔ تاہم کئی بار حضورﷺ زمین پر ہی تشریف فرما ہو جایا کرتے تھے۔ جب یہود کے علاقے میں ان کا ایک فیصلہ کرنے تشریف لے گئے تو اپنے نیچے رکھا ہوا گدّا چھوڑ کر رسول کریمﷺ اس وقت زمین پر تشریف فرما ہو گئے‘ جب وہ تورات لے کر آئے۔ حضورﷺ نے تورات کا صحیفہ اس گدے پر پھیلا دیا۔ اسی طرح ایک بار قبرستان میں کسی کی تدفین میں ذرا تاخیر ہو گئی‘ حضورﷺ بھی وہاں موجود تھے۔ اب آپﷺ وہیں قبرستان میں‘ زمین پر تشریف فرما ہو گئے اور صحابہ کرام کو اگلی زندگی کے حقائق پر وعظ فرمانے لگے۔ ایک بار ہلکی سی چھڑی پکڑی‘ زمین پر کچھ لکیریں کھینچ کر صراطِ مستقیم اور دنیاوی اور اخروی زندگی کے حقائق سے آگاہ فرمانے لگے۔ صدقے اور قربان حکمرانی کے ایسے پُررحمت انداز پر... کہ اندازِ حکمرانی دیکھیں تو رحمت ہی رحمت۔ ساری انسانیت کے لیے راحت ہی راحت۔ صداقت اور امانت ہی امانت۔یاد رکھنا چاہیے کہ مرد اپنے گھر کا حکمران ہے‘ اس کی بیوی گھر کی خاتونِ اول ہے۔ فیکٹری یا کسی سرکاری اور پرائیویٹ ادارے کا سربراہ بھی اپنی جگہ حکمران ہے۔ مذہبی اور سیاسی جماعت کا سربراہ بھی حکمران ہے۔ ملکوں کے سربراہان تو بڑے حکمران ہیں۔ حکمرانی اگر حضور کریمﷺ کے اسوہ کی روشنی میں ہو گی تو سورۃ الدھر میں اللہ تعالیٰ نے ایسے انسان کو ایک خوشخبری سنائی ہے۔ اس سورت مبارکہ کا دوسرا نام &#39;&#39;الانسان‘‘ ہے۔ یعنی انسان وہ ہے‘ انسانیت اس کے پاس ہے جو &#39;&#39;الدھر‘‘ یعنی اپنے دورِ حکمرانی میں ظلم سے بچ گیا۔ عہد کی خلاف ورزی‘ جھوٹ‘ بددیانتی‘ اقربا پروری اور موروثیت کو نوازنے سے بچ گیا۔ جب وہ جنت میں داخل ہو کر ادھر ادھر &#39;&#39;دیکھے گا‘ پھر نظر ڈالے گا تو نعمتوں بھری عظیم وکبیر حکمرانی کے نظارے کرے گا‘‘۔ (الدھر: 20)۔سرکارِ مدینہﷺ جب جمعہ کے روز فجر کی نماز پڑھایا کرتے تھے تو دوسری رکعت میں &#39;&#39;سورۃ الانسان‘‘ تلاوت فرمایا کرتے تھے تاکہ آپﷺ کی امت کا ہر فرد فردوس کی حکمرانی کو بھولنے نہ پائے۔ مرنے کے فوراً بعد برزخ میں جو علّیین کا مقام ہے‘ وہاں ملنے والی عارضی مگر عظیم جاگیر کو بھولنے نہ پائے۔ دنیا کی حکمرانی کے بارے میں حضور کریمﷺ کا فرمان ہے کہ دو بھوکے بھیڑے جنہیں بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑ دیا جائے اس قدر نقصان نہیں پہنچائیں گے جس قدر وہ انسان نقصان پہنچائے گا جو مال اور اقتدار کا شدید حریص اور لالچی ہو۔ مال و منصب کی ہوس سے انسان اپنا دین برباد کر لے گا۔ (سنن ترمذی‘ سندہٗ صحیح)۔ اللہ اللہ! آج یہی حرص اور لالچ ہے جس کے قیدی بن کر ہم اہلِ اسلام اپنی اپنی حکمرانی کے دائرے میں‘ فرقہ واریت کا پرچم اٹھا کر لڑتے چلے جا رہے ہیں۔ یا اللہ! ہم پر رحم فرما۔آفرین ہے میرے پاک وطن کی قیادتوں پر۔ حضرت قائداعظم اور لیاقت علی خان سمیت تحریک پاکستان کے ان قائدین پر‘ جو برصغیر کے ساتھ ساتھ اہلِ فلسطین کو بھی نہیں بھولے۔ ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے عالمِ اسلام کو لاہور میں اکٹھا کیا۔ شاہ فیصل نے ان کا بھرپور ساتھ دیا۔ لاہور میں 1974ء کی سربراہی کانفرنس کا مطلب یہ تھا کہ لاہور پاکستان کا دل ہے تو عالم اسلام ہمارے دل میں بستا ہے۔ جنرل ضیاء الحق عربستان و ایران کی صلح کراتے کراتے اور اہلِ افغانستان کا مقدمہ لڑتے لڑتے اس دنیا سے چلے گئے۔ آج پھر میرا پاک وطن عالم اسلام کو جوڑنے کے لیے کوشاں ہے اور پاسبانِ حرمین شریفین بھی ہے۔ ضرورت کے مطابق کبھی اعلانیہ پا بہ رکاب ہوتا ہے تو کبھی خاموشی کے ساتھ صلح جوئی کی رکابوں میں پائوں جمائے‘ امن کے گھوڑے کو ایڑ لگا رہا ہوتا ہے۔ ایٹمی چھتری ہاتھ میں ہے تو بازو اور کندھے بنیانٌ مرصوص ہیں۔ بس دو چیزوں کی کمی کا احساس ہوتا ہے۔ سیاست پائیدار ہو جائے اور معاش کو استحکام مل جائے۔ اے مولا کریم! یہ دو نعمتیں بھی عطا کر دے‘ بے لاگ انصاف کا میزان بھی دیدے۔ پاک وطن اور اہلِ وطن کو اونچی اڑان دیدے۔ آمین یا رب العالمین!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_68712266.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>