<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے معاشی اثرات(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-27/11141</link><pubDate>Mon, 27 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-27/11141</guid><description>مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی علاقائی عدم استحکام کی صورتحال نے پاکستان کی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ معاشی ماہرین اور بین الاقوامی اداروں کی حالیہ رپورٹس معاشی خطرات کے سنگین ہونے اور شرح نمو میں کمی کے خدشات ظاہر کر رہی ہیں۔ گزشتہ دنوں آئی ایم ایف کی ریجنل اکنامک آؤٹ لُک رپورٹ میں مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے باعث پاکستان کی معاشی شرح نمو میں تقریباً 0.6 فیصد تک کمی کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا تاہم اب ماہرینِ معیشت توانائی کی بڑھتی قیمتوں اور مقامی سطح پر سپلائی کی رکاوٹوں کے سبب ملکی معیشت پر دباؤ اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونی والی صورتحال کے باعث جی ڈی پی گروتھ کی شرح‘ رواں مالی سال کیلئے جس کا ہدف 4.2 فیصد تھا‘ ڈھائی سے تین فیصد تک رہنے کا عندیہ دے رہے ہیں۔ یہ گراوٹ ایک ایسے معاشی بحران کی غمازی کر رہی ہے جو ملکی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بھڑکنے سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں ہونے والا ہوشربا اضافہ پاکستان جیسے ملک کیلئے ناقابلِ برداشت بوجھ ثابت ہوا ہے۔

پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کا تقریباً 80 فیصد خلیجی ممالک سے درآمد کرتا ہے اور ملکی معاشی تناؤ کی سب سے بڑی وجہ عالمی منڈی میں خام تیل اور گیس کی قیمتوں کا بے قابو ہونا ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش اور سپلائی چین میں رکاوٹ کے سبب عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتیں 100ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہیں۔وسط فروری سے اب تک برینٹ کروڈ کی قیمتوں میں 48 فیصد اضافہ ہو چکا جبکہ مقامی سطح پر بھی پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں 52 فیصد تک بڑھ چکی ہیں۔گزشتہ دو ماہ کے دوران صرف پٹرول کی قیمت میں 135روپے سے زائد کا اضافہ ہو چکا۔ ٹرانسپورٹیشن اخراجات بڑھنے کے اثرات تمام اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر اثر انداز ہوئے اور مہنگائی کی ایک نئی لہر اٹھی جس نے سب سے زیادہ نچلے طبقات کو متاثر کیا۔ توانائی کا یہ بحران صرف پٹرولیم مصنوعات تک محدود نہیں ‘ بجلی اور گیس کے نرخوں میں بھی اضافہ ہو رہا۔ پاکستان میں بجلی کی پیداوار کا غالب حصہ درآمدی ایندھن پر منحصر ہے‘ جس کی وجہ سے بجلی کے ٹیرف میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ صنعتی شعبہ جو پہلے ہی توانائی کی بلند قیمتوں اور خام مال کی سپلائی میں رکاوٹوں کے باعث سست روی کا شکار تھا‘ اب مزید دباؤ میں آ گیا ہے۔ ماہرین خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ پیداواری لاگت میں اضافے سے مقامی صنعتیں عالمی مارکیٹ میں مسابقت کے قابل نہیں رہیں گی جس سے برآمدات میں کمی اور تجارتی خسارے میں مزید اضافے کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔
گیس کی قلت نے نہ صرف گھریلو صارفین بلکہ کھادوں اور دیگر اہم صنعتوں کو بھی متاثر کیا ہے جس سے زرعی پیداوار پر منفی اثرات کا خدشہ ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک نے خبردار کیا ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی طول پکڑتی ہے تو پاکستان جیسے ممالک میں مہنگائی کی شرح 17 فیصد تک جا سکتی‘ جو معاشی استحکام کی کوششوں کو صفر کر سکتی ہے۔ لامحالہ کوئی بھی شعبۂ زندگی خطے میں جاری کشیدگی کے اثرات سے محفوظ نظر نہیں آتا۔ پاکستان کی معیشت جو برسوں کی جدوجہد کے بعد استحکام کی طرف مائل تھی‘ اب دوبارہ غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔ درآمدی بل میں اضافے اور زرِمبادلہ پر بڑھتے دباؤ سے معاشی استحکام خطرے میں ہے۔ اس صورتحال میں آپشنز نہایت محدود ہیں۔ علاقائی استحکام کے لیے کوششوں کے ساتھ ہنگامی بنیادوں پر توانائی کے متبادل ذرائع پر بھی توجہ دینی چاہیے۔ موجودہ حالات میں عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ نئے سرے سے مذاکرات کر کے معاشی ریلیف حاصل کرنا بھی ضروری ہوتا جا رہا ہے۔ اگر مشرقِ وسطیٰ بالخصوص آبنائے ہرمز میں حالات جلد معمول پر نہ آئے تو معاشی شرحِ نمو کا ہدف حاصل کرنا تو دور کی بات‘ اقتصادی پہیے کو رواں رکھنا ہی بڑا چیلنج بن جائے گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کامیاب سیٹیلائٹ لانچنگ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-27/11140</link><pubDate>Mon, 27 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-27/11140</guid><description>سپارکو نے چین کے تائی یوان سیٹیلائٹ لانچ سنٹر سے مقامی طور پر تیار کردہ الیکٹرو آپٹیکل سیٹیلائٹ ’’ای او-3‘‘ کی کامیاب لانچنگ کر کے ایک اہم سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ یہ پیش رفت ملکی ماہرین کی سائنسی مہارت کا ثبوت ہے۔ ای او تھری سیٹیلائٹ شہری منصوبہ بندی‘ قدرتی آفات سے نمٹنے‘ غذائی تحفظ اور ماحولیاتی تحفظ جیسے اہم شعبوں میں اعلیٰ معیار کا تصویری ڈیٹا فراہم کرے گا۔ ملک عزیز میں جس طرح موسمیاتی تبدیلیاں سنگین صورت اختیار کرتی جا رہی ہیں ایسے میں بروقت اور درست ڈیٹا پالیسی سازی اور ہنگامی ردِعمل دونوں کو مؤثر بنا سکتا ہے۔ مزید برآں جدید سینسرز اور اے آئی پر مبنی ڈیٹا پروسیسنگ کے ذریعے حاصل ہونے والی معلومات زرعی پیداوار کی پیشگوئی‘ آبی وسائل کے بہتر استعمال اور شہری پھیلاؤ کے نظم و نسق میں بھی کلیدی کردار ادا کریں گی۔

چین کے تعاون سے حاصل ہونیوالی یہ کامیابی ملک کی بڑھتی ہوئی سائنسی صلاحیتوں کی عکاسی کرتی ہے‘ تاہم ضروری ہے کہ اس شعبے میں خود انحصاری کو فروغ دیا جائے۔ تحقیق و ترقی میں سرمایہ کاری‘ مقامی ٹیکنالوجی کی تیاری اور انسانی وسائل کی تربیت پر توجہ دے کر ہی یہ کامیابیاں پائیدار بنائی جا سکتی ہیں۔ ای اوتھری کی کامیاب لانچنگ ایک امید افزا آغاز ہے مگر اصل چیلنج اس ٹیکنالوجی کو قومی ترقی کے عملی اہداف سے ہم آہنگ کرنا ہے۔ اگر اس سیٹیلائٹ سے حاصل ہونیوالے ڈیٹا کو مؤثر حکمت عملی کیساتھ استعمال کیا گیا تو یہ ملک کو مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے میں ایک مضبوط بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کاروباری اعتماد میں کمی(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-27/11139</link><pubDate>Mon, 27 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-27/11139</guid><description>ملک میں کاروباری اعتماد کا جائزہ لینے کیلئے کیے گئے ایک تازہ سروے کے مطابق 2026 ء کی پہلی سہ ماہی کے دوران نجی شعبے کے کاروباری اعتماد میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ ’گیلپ بزنس کانفیڈنس انڈیکس‘ کیلئے ملک بھر میں 510 کاروباری اداروں میں کیے گئے سروے کے مطابق صرف 41 فیصد اداروں نے اپنی کارکردگی کو اچھا قرار دیا‘ جو2025ء کی آخری سہ ماہی کے مقابلے میں 13 فیصد کم ہے۔ کاروباری ادارے مستقبل کے بارے میں بھی مایوسی کا شکارہیں اور 57فیصد اداروں نے مستقبل کے بارے میں منفی خدشات کا اظہار کیاہے۔ ملک کی مجموعی معاشی سمت کا سکور بھی منفی 32 فیصد تک پہنچ گیا ہے جو گزشتہ سہ ماہی میں منفی آٹھ فیصد تھا۔ اسی طرح 37 فیصد کاروباری اداروں نے مہنگائی کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا ہے۔

توانائی کے بڑھتے ہوئے نرخ‘ طویل لوڈشیڈنگ اور پیداواری لاگت میں اضافہ مجموعی کاروباری ماحول کو غیر مستحکم بنا رہا ہے۔ یہ سروے معاشی پالیسی سازوں کیلئے ایک انتباہ ہے‘ جس کے نتائج مسلسل بگڑتی ہوئی صورتحال کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ بروقت اصلاحی اقدامات نہ کیے گئے تو اس کے اثرات مزید گہرے اور دیرپا ہو سکتے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت فوری عملی اقدامات کرے تاکہ نہ صرف مہنگائی اور توانائی کے بحران پر قابو پایا جا سکے بلکہ نجی شعبے کا اعتماد بھی بحال ہو۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پاکستانی سماج پر جنگ کے مذہبی اثرات(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-04-27/51840/33960247</link><pubDate>Mon, 27 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-04-27/51840/33960247</guid><description>ہمارے معاشرے پر جنگ کے مذہبی اثرات مرتب ہونے لگے ہیں جو متوقع تھے۔ اسی بنا پر ابتدا ہی میں توجہ دلائی تھی کہ اہلِ مذہب متنبہ رہیں۔ انہوں نے مگر اسی روش پر چلنے کو مناسب سمجھا‘ جس پر وہ برسوں سے چلے جا رہے ہیں۔ مذہبی تقسیم نمایاں ہونے لگی ہے مگر اس کی جہتیں ایک نہیں‘ دو ہیں۔ایک تقسیم تو وہی مسلکی ہے جو پہلے سے موجود ہے۔ اس میں شدت آتی جا رہی ہے۔ ایران کی حمایت میں شیعہ تنظیمیں متحد ہو رہی ہیں۔ مقصود یہ ہے کہ پاکستان کے اہلِ تشیع ایران کے حق میں عوامی دباؤ بڑھائیں تاکہ ریاست عربوں کے ساتھ تعلقات کے  سبب کوئی ایسا فیصلہ نہ کرے جو ایرانی مفادات سے متصادم ہو۔ ان تنظیموں میں دو طرح کے طبقات شامل ہیں۔ ایک وہ جو سیاسی شعور رکھتے ہوئے ایران کے حامی ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ یہ ولایتِ فقیہ کے تصور پر کھڑی ایک ریاست ہے۔ وہ مذہبِ تشیع کی اس سیاسی تعبیر کے مضمرات سے اچھی طرح آگاہ ہیں اور پاکستان میں بھی اسی ماڈل کو نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ اس تعبیر کو &#39;سیاسی اسلام‘ کہا جاتا ہے۔ دوسرا طبقہ وہ ہے جو شیعہ عصبیت میں ساتھ دے رہا ہے۔ وہ ولایتِ فقیہ کے تصور سے شعوری واقفیت رکھتا ہے نہ مذہب کو ایک سیاسی قوت کی نظر سے دیکھتا ہے۔ وہ مسلک کی فطری محبت میں ایران کا حامی ہے۔دوسری تقسیم &#39;سیاسی اسلام‘ اور روایتی اسلام کی ہے۔ اس تقسیم کے لحاظ سے اہلِ تشیع کا پہلا طبقہ اور جماعت اسلامی &#39;سیاسی اسلام‘ کے نمائندہ ہیں جبکہ دیگر مذہبی جماعتیں اور مسالک روایتی اسلام کے۔ جماعت اسلامی کے بانی مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی ہی نے &#39;سیاسی اسلام‘ کو فکری و علمی استدلال فراہم کیا۔ اس تعبیر نے سید روح اللہ خمینی اور مولانا مودودی میں ایک فکری قرب پیدا کیا۔ جماعت اسلامی نے ہمیشہ ایران کی دینی قوتوں کی حمایت کی۔ اکتوبر 1963ء کے &#39;ترجمان القرآن‘ میں خلیل حامدی مرحوم کا  مضمون &#39;ایران میں دین اور لا دینی کی کشمکش‘ شائع ہوا جس میں ان مظالم کا ذکر ہوا جو شہنشاہ کی طرف سے اسلام پسندوں پر ڈھائے جا رہے تھے۔ اس &#39;جرم‘ کے سبب &#39;ترجمان القرآن‘ پر چھ ماہ کی پابندی عائد کر دی گئی۔ خمینی صاحب نے جس طرح ولایتِ فقیہ کا تصور مستحکم کیاوہ ان کے کتاب &#39;حکومتِ اسلامی‘ میں بیان ہوا ہے۔ ایک رائے یہ ہے کہ انہوں نے مولانا کے علمی کام سے اثر قبول کیا۔ جب ایران میں انقلاب آیا تو انہوں نے مبارک باد کا پیغام دے کر ایک وفد مولانا مودودی کے پاس بھیجا۔ جماعت اسلامی نے جس طرح اس انقلاب کا خیر مقدم کیا‘ پاکستان کے اہلِ تشیع نے بھی نہیں کیا۔پاکستان کے دیگر مذہبی گروہوں نے اس انقلاب کے لیے زیادہ گرم جوشی کا اظہار نہیں کیا بلکہ درست تر الفاظ میں اس کی مخالفت کی۔ انقلاب کے چند برس بعد ایک دینی جریدے میں پاک و ہند کے سنی علما کا ایک متفقہ فتویٰ شائع ہوا جو اہلِ تشیع کے خلاف تھا۔ اسی فتوے کی بنیاد پر مولانا منظور نعمانی کی کتاب شائع ہوئی اور پھر اسی مضمون پر مشتمل مولانا سیدابو الحسن علی ندوی کا رسالہ &#39;دو متضاد تصویریں‘ بھی سامنے آیا۔ ان کتابوں اور فتووں میں اہلِ تشیع کی طرف تحریفِ قرآن جیسے عقائد کی نسبت کی گئی تھی۔ اہلِ سنت بالخصوص دیوبندی طبقے میں یہ دونوں شخصیات گہرے علمی اثرات رکھتی ہیں۔ میں خود ان کتابوں کے زیرِ اثر رہا۔ معاصر شیعہ علما نے اپنی طرف ان عقائد کی نسبت کو سختی سے رد کیا اور واضح کیا کہ اس باب میں ان کا عقیدہ وہی ہے جو اہلِ سنت کا ہے۔ پاکستان میں ایرانی سفرا نے اہلِ سنت کے علما سے ربط و ضبط بڑھایا اور اپنے طرزِعمل سے یہ پیغام دیا کہ وہ اور اہلِ سنت ایک ہیں۔ ان دنوں راولپنڈی میں مولانا سید چراغ الدین شاہ صاحب کی مسجد میں ایک جلسے کا انعقاد ہوا۔ فنِ خطابت کے ساتھ میری دلچسپی بچپن سے ہے۔ مولانا سید عبدالمجید ندیم مرحوم میرے پسندیدہ خطبا میں سے تھے۔ میں ان کی تقریر سننے گیا تھا۔ جلسے میں اچانک  سٹیج پر ہلچل ہوئی۔ معلوم ہوا ایرانی سفیر آئے ہیں۔ مجمع نے اضطراب کا اظہار کیا جیسے اسے یہ آمد پسند نہیں آئی۔ چراغ الدین شاہ صاحب نے سٹیج سے وضاحت کی کہ انہیں مدعو نہیں کیا گیا‘ وہ اپنی خواہش سے تشریف لائے ہیں۔ سفیر صاحب نے مختصر تقریر کی اور اتحاد کے اپنے پیغام کو دہرایا۔ اس طرح کی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ پاکستان کے علما کو ایران مدعو کیا جاتا رہا اور مذہبی سفارت کاری سے فاصلے کم کرنے کی سعی کی گئی۔ اس سے بریلوی علما رام ہوئے۔ دیوبندی بھی فی الجملہ اعتدال کی طرف آئے۔ تاہم یہ طبقات اس &#39;سیاسی اسلام‘ کے حامی نہ بن سکے‘ خمینی صاحب یا جماعت اسلامی جس کے موید تھے۔ یہ تقسیم بہر حال موجود رہی۔ اس کی ایک وجہ عرب دنیا بھی تھی‘ روایتی علما جس سے قرب محسوس کرتے ہیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ سب عرب انقلاب ایران کے مخالف تھے۔تقسیم کی یہ دونوں جہتیں آج پھر سے نمایاں ہو رہی ہیں۔ اگر یہ جنگ پھیلتی ہے اور عرب ممالک پر ایران کی طرف سے مزید حملے ہوتے ہیں تو یہ تقسیم کھل کر سامنے آجائے گی۔ شیعہ تنظیمیں‘ جماعت اسلامی اور سوشل میڈیا کے چند دانشور ایک طرف اور دیگر مذہبی گروہ ایک طرف۔ بعض بریلوی تنظیمیں ممکن ہے ایران کی حمایت میں کھڑی رہیں مگر اس کے اسباب میں سیاسی شعور شامل نہیں ہے۔ مجھے یہ دکھائی دے رہا ہے کہ اس جنگ کے بعد پاکستانی سماج وہیں کھڑا ہے جہاں انقلابِ ایران کے بعد کھڑا تھا۔ فرقہ وارانہ اختلاف کے ساتھ سیاسی اسلام اور روایتی اسلام کا فرق بھی اس میں کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستان سماجی طور پر اسی طرح مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کا حصہ بنتے دکھائی دیتا ہے جیسے یہ 1979ء کے بعد بنا تھا۔میں نے اسی لیے ابتدا ہی میں شیعہ راہنماؤں کو خبر دار کیا تھا کہ وہ خامنہ ای صاحب کی شہادت کو مسلکی رنگ نہ دیں اور ایران کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے وقت اپنی پاکستانی شناخت کو پیشِ نظر رکھیں۔ یہاں کی مسلکی حساسیت کو نظر انداز نہ کریں۔ انہوں نے مگر 1979ء کی طرح اسے ایک موقع جانا کہ وہ اس جنگ سے سیاسی مفاد کشید کریں۔ اس وقت اس کا ایک ردِ عمل آیا تھا۔ آج کیسے ہو سکتا ہے کہ اس کا کوئی ردِ عمل نہ ہو؟ رہی جماعت اسلامی تو اس کی درویش قیادت سودو زیاں سے بے نیاز ہے۔ اس لیے میں اسے مشورہ دینے کی جسارت نہیں کر سکتا۔ مولانا فضل الرحمن مجھے اعتدال پر کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ معاملہ امریکہ ا ور ایران کا ہے تو  وہ ایران کے ساتھ ہیں۔ بات عربوں تک جاتی ہے تو پھر اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ وہ کہاں کھڑے ہوں گے۔سو باتوں کی ایک ہی بات ہے کہ سیاسی معاملات میں ہمیں پاکستان کے مفادات کو اولیت دینی ہے۔ ایران اور عربوں سے ہمارا تعلق خیر خواہی کا ہے۔ اب تک ریاست نے بصیرت کے ساتھ معاملات کو ایک ایسے موڑ تک پہنچا دیا ہے جہاں امن کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔ تاہم صدر ٹرمپ جیسا متلون مزاج آدمی کچھ بھی کر سکتا ہے۔ اسی طرح ایران کے شدت پسند بھی توازن کو درہم برہم کر سکتے ہیں۔ اس صورت میں پاکستان کو کوئی فیصلہ کرنا پڑ سکتا ہے۔ پھر لازم ہو گا کہ عوام ہر تقسیم سے بالاتر ہو کر ریاست کے ساتھ کھڑے ہوں۔ خدشہ ہے کہ اس جنگ میں گروہی مفادات تلاش کرنے والے قومی وحدت کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ ریاست اور عوام کو متنبہ رہنا ہو گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ایک خیال(رسول بخش رئیس)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-04-27/51841/55068661</link><pubDate>Mon, 27 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-04-27/51841/55068661</guid><description> میرے ذہن میں عام لوگ ہیں‘ غریب دیہاڑی دار اور نچلے درجے کے ملازمین۔ بڑے لوگوں کی باتیں ہی کچھ اور ہیں۔ ہمارے ملک میں بڑے لوگوں کی اصطلاح امیر آدمیوں کیلئے استعمال ہوتی ہے۔ ان کے اس بڑے پن کی وجہ کوئی ذاتی کرشمہ اور کارنامہ نہیں بلکہ دولت کا حصول یا پھر صنعت‘ کاروبار اور زمینی جائیدادوں کی نسل در نسل منتقلی ہے۔ اس طبقے کے اندر بھی سماجی درجات موجود ہیں۔زمینداروں نے تاریخی طور پر کاروباری گھرانوں کو وہ عزت ہمارے معاشرے میں نہ دی جو اپنی کلاس کے لوگوں کو دیتے رہے ہیں۔ یورپ کے جاگیرداری معاشرے میں بھی صنعتی دور سے قبل کچھ ایسی ہی درجہ بندی تھی۔ صنعتی انقلاب اور اس کے بعد پیداواری وسائل نے یکے بعد دیگرے نئی دولت کی ریل پیل کو جنم دیا تو سیاست اور سماجی درجہ بندی میں بھی ایک انقلاب آ گیا۔ پرانے زمانے کے جاگیردار خاندانوں نے بھی یورپ میں بدلتے ہوئے ماحول کے مطابق اپنے رویے اور شعبے جدید سانچوں میں ڈھالنے شروع کر دیے۔ صنعتی انقلاب کی بنیاد کفایت شعاری تھی۔ اسکے بر عکس جاگیرداری معاشرے کی پہچان اسراف اور نمائشی زندگی ہے‘ جو ایک دوسرے کیساتھ مقابلہ بازی میں چلتی ہے۔ ابھی تک ہمارے ہاں جاگیردار معاشرے کی ثقافت کا پوری طرح غلبہ ہے۔ جدید تعلیم شہری زندگی کے پھیلاؤ اور ظاہری طور پر نئے طرزِ زندگی نے اسراف اور نمود و نمائش کی ثقافت کو کمزور نہیں کیا۔ ہمارا متوسط طبقہ بھی ہمیشہ اس ثقافت سے مغلوب رہا ہے اور اب بھی ہے۔ دکھاوے کی زندگی اور مصنوعی بڑے پن کا بھرم قائم رکھنے کیلئے قرض ‘کرپشن اور دو نمبری عام لوگوں کی عادتوں میں شامل ہو چکی ہے۔ ہمارا تعلق عام لوگوں سے رہتا ہے اور ذہن میں ایک سوال ہمیشہ رہتا ہے کہ آپ بچت کیوں نہیں کرتے ؟تو اُن کا گھسا پٹا جواب ایک ہی ہوتا ہے کہ کیا کریں مہنگائی کا زمانہ ہے‘ گزارہ مشکل سے ہو رہا ہے‘ بچت ممکن ہی نہیں۔ میرا اگلا سوال یہ ہوتا ہے کہ آپ کے بچے ماشاء اللہ کتنے ہیں؟ غریب لوگوں کا جواب ہمیشہ چھ اور دس کے درمیان ہی پایا جاتا ہے۔ ہم بات یہاں ختم کر لیتے ہیں کہ آگے بات کرنے کی گنجائش ہی نہیں رہتی۔ حال ہی میں کئی لوگوں سے اس موضوع پر ہلکی پھلکی گفتگو کا موقع ملا مگر بچت کے جواب میں حساب برابر یا خسارے میں دیکھا۔ مہنگائی کی بات پاکستان کے بننے کے بعد سے آج تک چل رہی ہے اور میرا اندازہ ہے کہ شاید اگلی کچھ نسلوں تک چلے۔ زندگی گزارنا بھی ایک فن ہے جس کی تیاری گھر‘سکول اور سماجی اداروں میں کامیاب معاشروں میں کی جاتی ہے۔ ہمارا مشاہدہ اپنے ملک تک محدود نہیں مگر اس کی سماجی کیفیات کو سمجھنے کا موقع دوسری تہذیبوں کے مقابلے میں زیادہ نصیب ہوا ہے۔ جس ملک میں بھی اور جس نے بھی بچت کو اپنا شعار بنایا وہ مشکل وقت میں نہ کسی کا محتاج ہوا اور نہ ہی نمائشی زندگی کے گرداب میں پھنس کر اپنی جائیداد اور وسائل کو برباد کر بیٹھا۔ اسی لیے تو سیانے ہمیشہ یہ کہتے آئے ہیں کہ دوسرے کی رکابی میں دیکھنے کی ضرورت نہیں‘ جو کچھ آپ کے دسترخوان پر ہے اسی سے لطف اندوز ہوں۔ کیسی بربادی میں لوگ پڑے ہوئے ہیں کہ اپنی نعمتوں کی لذت سے محروم ہیں کیونکہ نظریں کہیں اورمرکوز ہیں۔ مجھے کئی دہائیاں پہلے اپنی کلاس کے ساتھ‘ جس میں تقریبا 50 کے قریب طلبہ اور طالبات تھے ‘ایک کسان کی چند کنال زمین پر لگے چند پھلدار درختوں میں جانے کا اتفاق ہوا۔اُس نے بہت محبت سے اصرار کیا کہ ہم اس کے ہاں چند منٹ کے لیے ضرور ٹھہریں۔ اس کے پاس لیموں کا ایک پودا اور ایک کھجور کا درخت تھا۔ اس نے شیریں لیموں پانی فوراً بنایا اور ہمیں کچھ کھجوریں توڑ کر کھانے کے لیے دیں۔ اس کی فیاضی اپنی جگہ مگر جس بات نے آج تک میرے دل میں جگہ بنا لی وہ چند درختوں اور زمین کے اس چھوٹے سے ٹکڑے پر اس کی قناعت اور فخر ہے۔ اس کے لیموں پانی اور کھجور کا ذائقہ بڑے لوگوں کے پکوانوں اور بڑے باغوں کے اعلیٰ میووں سے کہیں بہتر محسوس ہوا۔ پہلے عرض کیا ہے کہ صنعتی انقلاب کی بنیاد کفایت شعاری پر تھی۔ قدیم کلیسائی نظام کے خلاف اصلاح کی تحریک اٹھی تو اس میں وقت کی پابندی‘ کام اور محنت کی عظمت ‘ لڑکیوں کی تعلیم اور بچت سر فہرست تھے۔ مؤرخین اور ماہرینِ سماجیات کا خیال ہے کہ سرمایہ داری نظام کی بنیاد اصلاح پسند پروٹیسٹنٹ فرقے کی مذہبی حکومت کی تشریح ہے۔ پس اندازی سے سرمایہ اور سرمائے سے سرمایہ کاری ممکن ہوئی۔ ہمارے معاشرے کے مقابلے میں جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک کے لوگ کفایت شعاری سے کام لیتے ہیں۔ اگرچہ اسراف کا طوفان عالمگیر نوعیت کا ہے‘ ان ملکوں میں عام لوگوں کی زندگیوں میں اعتدال دیکھا ہے۔ یورپ اور امریکہ میں جہاں اشتہار بازی نے اسراف کی آخری حدوں کو بھی عبور کیا ہوا ہے‘ باشعور متوسط طبقہ اور عام لوگ بچت کرتے ہیں۔ بچوں کی تعلیم کیلئے‘ برے وقتوں کیلئے اور اپنی عمر کے آخری حصوں کیلئے جاگیرداری معاشرے کی نمائشی زندگی نے ہر طبقے کی آنکھوں پر دبیز پردے چڑھائے ہوئے ہیں۔ اکثریت جو بنا پاتی ہے وہ روزمرہ کے معمول پر خرچ کر ڈالتی ہے۔ ہماری حکومتوں نے اپنی سستی سیاست کیلئے مفت خوری کے کئی پروگرام شروع کر رکھے ہیں۔ گھر بیٹھے بٹھائے مختلف موسموں میں حکومتوں کی طرف سے راشن فری ہے۔ اس سے نہ صرف اسراف بلکہ اوپر سے لے کر نیچے تک کرپشن کا کلچر پروان چڑھا ہے۔ آج سے نصف صدی قبل ریاستی پروگراموں کی وسعت میں ان کے فلاحی کردار پر زور تھا جو آہستہ آہستہ ختم ہو چکا ہے۔ ضروری ہے کہ لوگوں کو روزگار کے قابل ہنز میں مہارت دی جائے اس وقت فوری اور ریاستی وسائل پر انحصار ختم کیا جائے۔ ہماری روش بالکل مختلف ہے جہاں لوگوں کو راشن کے ساتھ سولر پینل‘ بھینس‘ مرغیاں اور سینکڑوں ارب روپوں کا کیش مفت ملے وہاں محنت اور خود انحصاری کیونکر ہماری عادتوں کا حصہ بنے گی؟ اگر منصوبہ سازی میں سیاسی مفاد کے بجائے قومی مفاد پر نظر رہتی تو ہر سال سینکڑوں ارب تعلیم اور ہنر مندی پر صرف ہوتے۔ کفایت شعاری اگر حکومتوں میں نہیں ‘حکمران طبقے میں نہیں اور یہاں تک کہ مڈل کلاس بھی نمائشی بھاگ دوڑ میں ہے تو عام لوگوں کو ہم کیسے قائل کریں۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ تقاریر اور نصائح بے اثر ہیں۔ اگر کسی بات کا اثر ہے تو وہ ہمارا ذاتی طرزِ زندگی‘ سادگی‘ کفایت شعاری ‘بچت اور دوسروں کی عزتِ نفس کا احترام سب کو نہیں تو کچھ لوگوں کی زندگیوں کو بدل سکتا ہے۔ یہ جو نئے انداز کے با اثر لوگ ہیں وہ کچھ اور بیچ رہے ہیں۔ پرانے طرز کے دانشوروں کی فکری اساس جدید نظریۂ زندگی پر ہے۔ نہ نمود و نمائش اور نہ ہی کسی کی دولت کی چمک سے مرعوب ہوتے ہیں۔ لوگوں کو بھی اس کی ترغیب سادگی اختیار کر کے دیتے ہیں۔ ہمارے ملکی تناظر میں اسراف معاشی سے کہیں زیادہ سماجی مسئلہ ہے جس کی بنیادیں جاگیرداری طرزِ زندگی میں ہیں۔ دکھ کی بات تو یہ ہے کہ ہمارے تعلیمی نظام میں بھی جدید افکار کو کہیں جگہ نہیں مل سکتی جنہیں اکثر مغربیت کے دھوکے میں نظر انداز کیا جاتا ہے۔ بچت‘ سادگی‘ محنت اور خود انحصاری تہذیب اور مذہب کی الجھنوں سے آزاد ہیں۔ یہ عالمگیر نوعیت کی اقدار ہیں اور جس آدمی نے بھی انہیں اپنی زندگی کا حصہ بنایا ہے وہ محتاجی اور کسمپرسی کی اذیت کا شکار نہیں ہوا۔مغربی دنیا کے امیر ترین لوگوں کا شعار بھی سادگی دیکھا ہے۔ وارن بفٹ کا نام کس نے نہیں سنا۔اس کی دولت کا اندازہ 149 ارب ڈالر ہے۔ وہ اسی گھر میں رہتا ہے جو اس نے 1958ء میں تقریباً 21 ہزار ڈالر میں خریدا تھا۔ وہ پرانی گاڑی خود چلا کر سفر کرتا ہے۔اس نے اپنی دولت کا 99 فیصد خیراتی کاموں پر صرف کر دیا ہے۔ یہ ہے وہ طرزِ زندگی جس کی بنیاد اقدار‘ دانشوری اور معاشرے اور لوگوں کے ساتھ گہرے رشتے پر ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_33241568.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>شعبۂ امراضِ بیانیہ(بابر اعوان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/babar-awan/2026-04-27/51842/73329320</link><pubDate>Mon, 27 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/babar-awan/2026-04-27/51842/73329320</guid><description>گزری جمعرات کے دن پشاور ہائی کورٹ ایبٹ آباد میں ڈویژن بینچ کے رُوبرو مقدمہ لڑنے گیا۔ شہرِ اقتدار سے نور پیر ویلے نکلنا پڑا کیونکہ ایبٹ آباد پہنچنے میں سوا دو یا ڈھائی گھنٹے تک لگ جاتے ہیں۔ نو بجے صبح عدالت بیٹھ گئی۔ کورٹ روم میں ساتھ والی سیٹ پر بیٹھے ایک سینئر وکیل کہنے لگے: ایران پر یو ایس‘ اسرائیل حملے سے پہلے میں نے سپریم کورٹ میں آپ کی گفتگو سنی تھی‘ جس میں آپ نے کہا تھا کہ ایران محض ایک ملک نہیں پورا برّاعظم ہے ۔ ایرانی بھی ترکوں کی طرح فتح ہونے والی  قوم نہیں‘ ایران ایک مکمل &#39;کیس سٹڈی‘ ہے۔ پھر بولے: اب تک ایران جس عزم و ہمت سے امریکی فائر پاور کا زعم خاک میں ملا رہا ہے‘ اس پر ہمارے سرکاری تجزیہ گَر کہتے نہیں تھکتے کہ ایران سرنڈر کر دے ورنہ اس کا حشر افغانستان اور غزہ والا ہو گا۔ چونکہ عدالت چل رہی تھی لہٰذا میں نے ان کے کان میں کہا جو بیانیہ بھی چِٹ پر لکھا ہوا قلمکار یا تجزیہ کار کو ملے گا اس کی پذیرائی نہیں رسوائی ہوتی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم وجود میں آنے کے بعد دو نمبری بیانیے کی رسوائی کسی ایک جگہ تک محدود نہیں رہتی بلکہ اسے ساری دنیا سنتی ہے اور چہار عالم دیکھتے بھی ہیں۔ اس لیے خبطِ عظمت کے مریض اکثر و بیشتر شعبۂ امراضِ بیانیہ کے ٹیکوں اور ٹیبلٹس کے درد سے چیختے ہوئے پائے جاتے ہیں۔بی بی سی نے حال ہی میں 13سے 16سال عمر کے کچھ بچوں کو اپنے پرائم ٹائم نیوز بلیٹن میں بلایا اور انٹرویو کیا‘ جس کا مقصد برٹش حکومت کی اس تجویز پر تبصرہ کرنا تھا کہ وہ سوشل میڈیا پر کچھ پابندیاں لگانا چاہتی ہے۔ نئی نسل کے انگریز بچے ایک ہی زبان یوں بول رہے تھے &#39;&#39;اس کا مطلب ہے برٹش گورنمنٹ خود اپنے بچوں کو بلاوجہ سزا دینا چاہتی ہے‘‘۔ یہ غیر سیاسی انگلینڈی بچے سوشل میڈیا کو نہ صرف اپنا طرزِ زندگی سمجھتے ہیں بلکہ یہ ان کے اٹھنے بیٹھنے‘ سٹڈی‘ کمیونیکیشن سمیت ہر شعبے کے لیے اٹوٹ انگ ہے۔ آپ پاکستان سمیت دنیا کے کسی ملک میں چلے جائیں ہر جگہ آپ کو گلوبل ویلیج کے بچے اپنے اس طرزِ زندگی کے حق میں ہم آواز ملیں گے۔ اس جنریشن زی کو نہ کوئی خرید سکتا ہے نہ ہی ڈرا سکتا ہے۔ کیونکہ یہ جنریشن اچھی طرح سے جانتی ہے انہیں دھمکانے والے سٹیٹ منیجرز پچھلی صدی کے درمیانی عشروں کے لوگ ہیں۔ یہ بچے جنہوں نے AI کے ذریعے امریکہ کے پاپولر ترین صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ایک کروڑ لوگ سڑکوں پر لا کھڑے کیے‘ یہ نئی نسل ثابت کرنا چاہتی ہے کہ ان کا یہ طرزِ زندگی ان سے کوئی نہیں چھین سکتا‘ نہ سرکار نہ گھربار والے۔ جنریشن گیپ کے باعث وہ لوگ جو ہماری طرح وٹس ایپ کو آئی ٹی کی سب سے بڑی ایجاد سمجھتے ہیں‘ ان کے خیال میں آئی ٹی کے ذریعے جس رفتار سے شعور اور انفارمیشن آئے اُسی رفتار سے انہیں واپس بھیجا جا سکتا ہے۔ اس وقت پاکستان کے لوئر مڈل کلاس سے لے کر اوپر تک‘ دیہاتی اور شہری یوتھ کی تقسیم کے بغیر ہر کوئی انفارمیشن ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتا ہے‘ اس کا یوزر بھی ہے اور اس کا چاہنے والا بھی۔ اسی وجہ سے prompted, paid content اور نئی نسل کو معلوم شدہ حقائق کے خلاف جیٹ رفتار سے بیانیے پِٹ رہے ہیں۔ سادہ سی بات ہے جس قدر پِٹنے والے بیانیے ہیں شعبۂ امراضِ بیانیہ میں اُسی رفتار سے رش بڑھتا جا رہا ہے۔آئیے شعبۂ امراضِ بیانیہ کا ہلکا سا ٹور لے لیں۔شعبۂ امراضِ بیانیہ کا پہلا وارڈ: اس وارڈ کے مریضوں میں امریکہ اسرائیل اور اُس کے مغربی اتحادی داخل ہیں۔ ان کے ہاں خبطِ طاقت کے مرض نے اس بیماری کو جنم دیا۔ ان کا گھریلو نسخہ یعنی خبطِ طاقت کا چارٹر ہی‘ جو اَب ان کو وارڈ میں کھینچ لایا‘ اس کے مطابق ان کا حق ہے کہ وہ جب چاہیں جس ملک پر جتنے ڈرونز مار دیں‘ بم پھینکنا شروع کر دیں‘ زیرِ حملہ ملک کے قدرتی وسائل چھین لیں۔ آپ اسے نیو اکنامک کالونیئل ازم کہہ سکتے ہیں۔ ان ملکوں کے مرض کی بنیاد یہ بیانیہ ہے کہ ہم جہاں جہاں پہ حملہ کرتے ہیں وہاں کے عوام کو جمہوری آزادیوں اور معاشی ترقی کی راہ پر ڈالنے کے لیے اپنے پلّے سے بمباری کا خرچہ اپنے ٹیکس پیئرز کی جیبوں سے نکالتے ہیں۔ جن ملکوں کو خوشحال کرنے کے لیے بمباری کی جاتی ہے‘ اُن کے ہاں کچھ شرپسند عناصر اس بمباری کے خلاف اَن پڑھ اور جاہل ہونے کی وجہ سے احتجاجاً بولتے ہیں جبکہ ان کے westofixed اشراف زادے یا سکالرز ان آزادیوں کے باتنخواہ حامی ہیں۔اپنے ہاں بڑے بڑے درباری تجزیہ کار اور فنکار جس کے بارے میں جو جی میں آئے یا چٹ پر لکھا مل جائے برملا بول دیتے ہیں ۔ بے تُکے بول کر بیانیے کی جنگ میں پہلے چھلانگ مارتے ہیں پھر گلے گلے تک ڈوبنے کے بعد اپنے نوحہ گروں اور ردالیوں کو پکارنے لگتے ہیں۔ موقع محل ہو یا نہ ہو وہ محنت کے دام کھرے کرنے کے لیے اپنے مالکان کو شعبۂ امراضِ بیانیہ کے پہلے وارڈ تک پہنچائے بغیر آرام سے نہیں بیٹھتے۔ اس وارڈ کے مریضوں کے حوالے سے یا دنیا کا کوئی اور مریض لے لیں‘ آئی ٹی کے تمام تھنک ٹینکس اس ایک نکتے پر متفق ہیں کہ امریکہ سمیت کوئی ملک فائر وال یا سپر سٹیل وال لگا کر انفارمیشن تک رسائی کے سیلاب پہ بند باندھنے میں کامیاب نہیں ہوا‘ نہ ہو سکتا ہے۔شعبۂ امراضِ بیانیہ کا آخری وارڈ: اس وارڈ میں تڑپنے اور سسکنے والے مریض وہ ہیں جو دوڑ کر ہر بیانیے کی سُپاری پکڑ لیتے ہیں۔ یہ سوچے سمجھے بغیر کہ اُن کے اپنے گھروں میں بھی نئی نسل کی اُمنگیں نئے طرزِ زندگی پر ہی چلتی ہیں۔ پھر ان کی باقی زندگی ابہام کے کوہِ ندا میں بھٹکتے گزرتی ہے۔ آنکھ پہ انگلی رکھ لینے سے سورج غائب نہیں ہوتا‘ نہ ہی چاند روشنی سے محروم۔ آنکھ پہ اُنگلی رکھنے والے کی لائن حقیقتوں کی دنیا سے کٹ جاتی ہے۔پرانے ذہن کی راکھ اور نئے دلوں کی امنگنہ دیکھ ایسی نگاہوں سے میرے خالی ہاتھبہت سے غم‘ کئی خوشیاں‘ کئی انوکھے لوگجنہیں اٹھا نہیں سکتا ہر ایک دشت نوردجو تھیلیوں کے شکم میں سما نہیں سکتے جو سوٹ کیس کی جیبوں میں آ نہیں سکتے</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_42786259.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>صلح اور جنگ کے درمیان(جاوید حفیظ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/javed-hafiz/2026-04-27/51843/35545505</link><pubDate>Mon, 27 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/javed-hafiz/2026-04-27/51843/35545505</guid><description>فروری کے اختتام سے دنیا ایک عذاب میں مبتلا ہے۔ ایران کی قیادت کو بے دردی سے امریکہ اور اسرائیل نے شہید کیا۔ انفراسٹرکچر‘ سکول اور یونیورسٹیاں بمباری کے نشانے پر رہیں۔ ایران نے اپنے دفاع میں تُرپ کا پتا کھیلا یعنی آبنائے ہرمز کو بند کر دیا۔ تیل کی قیمتیں بڑھنے لگیں‘ دنیا بھر کی سٹاک مارکیٹیں کنفیوژن کا شکار ہوئیں۔ آبنائے ہرمز بند ہونے سے صرف تیل اور گیس کی سپلائی پر اثر نہیں پڑا بلکہ کیمیائی کھادوں اور کنسٹرکشن میٹریل پر بھی اثر پڑا۔ تیل سے بھرے ہوئے سینکڑوں ٹینکر خلیج سے باہر نہ جا سکے۔ پاکستان سمیت کئی ممالک افراطِ زر یعنی قیمتوں میں اضافے کا شکار ہوئے۔پاکستان کئی طرح سے خلیجی ممالک سے جڑا ہوا ہے۔ ہمارے اہم ترین روحانی مراکز وہاں ہیں۔ ستر لاکھ پاکستانی ورکر وہاں کام کر رہے ہیں۔ اس سارے تناؤ کا خلیجی معیشت پر منفی اثر پڑا ہے۔ ہمارے ہاں ایل این جی اور تیل کا بیشتر حصہ خلیج سے آتا ہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ہمارے اہم تجارتی پارٹنر ہیں۔ پاکستان سے مغربی ممالک کو جانے والی بیشتر پروازیں خلیجی ممالک سے ہو کر جاتی ہیں‘ لہٰذا خلیج میں تناؤ کی کیفیت فوری طور پر پاکستان میں منفی نتائج کی صورت میں سامنے آئی۔ اچھی خبر یہ ملی کہ لبنان میں جنگ بندی ہو گئی۔ ایرانی قیادت اور حز ب اللہ میں تعاون ایک عرصے سے ہے۔ حزب اللہ اس قدر طاقتور ہے کہ لبنانی حکومت کئی سالوں سے اس کوشش میں ہے کہ حزب اللہ سے ہتھیار لے کر اسے غیر مسلح کر دیا جائے مگر کامیاب نہیں ہوسکی۔ شام سے بشار الاسد کی حکومت جانے کے بعد حزب اللہ اور ایران کا زمینی کمک کا راستہ ضرور متاثر ہوا ہے اور پھر اسرائیل نے شیخ حسن نصر اللہ سمیت حزب اللہ کی لیڈر شپ کو چن چن کر شہید کیا ‘مگر یہ سخت جان جماعت اسرائیل کے خلاف اب تک ڈٹی ہوئی ہے۔پچھلے دنوں اسرائیل نے جنوبی لبنان پر سخت بمباری کی۔ حزب اللہ نے بھی اسرائیلی جارحیت کا بھر پور جواب دیا۔ اسرائیل نے لیطانی دریا تک جنوبی لبنان کا کچھ علاقہ قبضے میں لے کر وہاں بفر زون قائم کردیا ہے۔ یہ علاقہ حزب اللہ کی عسکری سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے۔ بارڈر کی دوسری جانب اسرائیلی آباد کاروں کی بستیاں پچھلے دو سال سے حزب اللہ کے راکٹوں کی وجہ سے ویران ہیں۔ حزب اللہ پر دو جانب سے دباؤ ہے۔ بیروت اور تل ابیب کی قیادتیں اس کی دشمن ہیں‘ ایران بھی شدید دباؤ میں ہے‘ لیکن حزب اللہ ڈٹی ہوئی ہے۔ اسرائیل کا ہدف تھا کہ حزب اللہ کا مکمل خاتمہ کر دیا جائے گا مگر اسرائیل اپنے اس مقصد میں کامیاب نہیں ہوا۔ جب پاکستان نے ایرانی قیادت کو آبنائے ہرمز کھولنے کا کہا تو ایران کی لیڈر شپ متذبذب تھی کیونکہ یہ ایران کے ہاتھ میں ترپ کا کارڈ تھا۔ دوسری جانب ایران جنوبی لبنان پر مسلسل بمباری اور آبنائے ہرمز کے امریکی محاصرے کی وجہ سے دباؤ میں تھا۔ اگر دبئی‘ دمام‘ بحرین اور دوحہ میں سمندری جہاز پھنسے ہوئے تھے تو بندر عباس اور چا بہار کی پورٹس بھی آپریشنل نہیں تھیں۔ پھر پاکستان کی سمارٹ سفارت کاری کام کر گئی۔ چونکہ ہمارے براہِ راست اسرائیل سے تعلقات نہیں ہیں لہٰذا امریکہ سے درخواست کی گئی کہ وہ جنوبی لبنان پر اسرائیل کی بمباری بند کرائے تو ایران سے آبنائے ہرمز کھولنے کا کہا جا سکتا ہے؛ چنانچہ امریکہ نے ہماری بات مان لی اور دس دن کی جنگ بندی کا اعلان واشنگٹن سے ہوا۔ اسرائیلی لیڈر شپ اس بات پر بہت سیخ پا تھی کہ اتنی جلدی میں جنگ بندی کیوں ہوئی اور اعلان واشنگٹن سے کیوں ہوا۔ اسرائیل ایک عرصے سے صدر ٹرمپ سے اپنی باتیں منوا رہا تھا اور اب صدر ٹرمپ نے خود ہی فیصلہ کر لیا جو اسرائیلی قیادت کو پسند نہیں آیا۔دراصل ایک عرصے سے امریکہ میں اسرائیلی لابی بہت بااثر ہے۔ یہ لوگ ریپبلکن اور ڈیموکریٹک پارٹی‘ دونوں میں فعال ہیں۔ دونوں کے امیدواروں کو چندہ دیتے ہیں۔ آپ کو یاد ہو گا کہ اکتوبر 2023ء میں غزہ کی جنگ شروع ہوئی تو سابق صدر جو بائیڈن بھاگے بھاگے اسرائیل آئے اور بڑے فخر سے کہا کہ میں صہیونی ہوں۔ موصوف کا تعلق ڈیموکریٹک پارٹی سے تھا۔ ریپبلکن پارٹی میں اسرائیلی لابی کا اثر و رسوخ زیادہ ہے۔امریکن اسرائیل پبلک افیئرز کمیٹی (AIPAC) ایک مؤثر تنظیم ہے جو واشنگٹن میں اسرائیلی مفادات کا ہمہ وقت دفاع کرتی ہے۔ یہ تنظیم 1950ء کی دہائی میں بنائی گئی جب مشرق وسطیٰ میں مصدق اور جمال عبدالناصر جیسے قوم پرست اور پاپولر لیڈر ابھر رہے تھے۔ دراصل 1948ء میں اسرائیل کے قیام کا بڑا مقصد مشرقِ وسطیٰ میں مغربی ممالک کے مفادات کا دفاع تھا۔ ایپک اپنے ممبرز کی معلومات اور نام خفیہ رکھتی ہے مگر اس بات سے بہت سے لوگ واقف ہیں کہ امریکی صدر کے ایلچی برائے شرق اوسط سٹیو وٹکوف اور داماد جیرڈ کشنرAIPAC سے گہرے تعلقات رکھتے ہیں۔ دونوں کی اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے بھی گاڑھی چھنتی ہے۔ اسی وجہ سے ایران کو ان دونوں کے مصالحتی وفد میں شامل ہونے پر تحفظات رہے ہیں۔پاکستان کئی روز سے دنیا کی نگاہوں کا مرکز ہے۔ 10اور 11اپریل کو اسلام آباد مذاکرات کو کور کرنے کیلئے عالمی میڈیا ہمارے ہاں موجود تھا۔ عربی چینلز کو مذاکرات میں خاص دلچسپی تھی۔ دوحہ قطر کے معروف چینل العربی نے خاص طور پر اپنے اینکر کو اسلام آباد بھیجا۔ وہ اسلام آباد ہوٹل میں ٹھہرے اور وہیں ہوٹل کی چھت سے لائیو پروگرام کرتے رہے۔ مجھے بھی ایک انٹرویو کیلئے مدعو کیا گیا۔ امید و بیم کی کیفیت تھی۔ امریکی وفد ابھی اسلام آباد سے گیا نہیں تھا مگر صدر ٹرمپ نے ایران کے بحری محاصرے کا عندیہ دے دیا  اور یہ کوئی اچھا شگون نہیں تھا۔ ایک نسبتاً چھوٹا اور اقتصادی پابندیوں کا شکار ملک پوری دنیا کی سپر پاور کے سامنے ڈٹا ہوا تھا اور سپر پاور کیلئے یہ بات بڑی سبکی والی تھی۔العربیہ سعودی عرب کا مشہور چینل ہے‘ اس کے نمائندے دنیا بھر میں ہیں۔ اس چینل کی امریکہ کیلئے بیورو چیف نادیہ بلبیس امریکہ ایران مذاکرات کے دنوں میں خاص طور پر اسلام آباد آئیں اور بلیو ایریا کے پاس سٹوڈیو سیٹ کر لیا۔ مجھے انہوں نے طویل انٹرویو کیلئے مدعو کیا۔ عرب میڈیا میں لبنانی خواتین پیش پیش ہیں۔ فصیح عربی میں قادر الکلام ہیں اور عالمی حالات کو خوب سمجھتی ہیں۔ایک کامیاب ثالث کیلئے ضروری ہے کہ دونوں پارٹیوں کیلئے قابلِ قبول ہو‘ یعنی دونوں اسے صلح کرانے کیلئے کہیں۔ دوسری شرط یہ ہے کہ وہ مذاکرات میں لیے گئے فیصلوں پر عملدرآمد کرا سکے۔ دوسری شرط میں پاکستان قدرے کمزور ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ جنگ نے امریکہ کے عالمی قد کاٹھ میں کمی کی ہے۔ صدر ٹرمپ اسرائیلی وزیراعظم کی باتوں میں آ گئے۔ نیتن یاہو نے ٹرمپ کو باور کرایا کہ ایرانی ٹاپ لیڈر شپ ختم ہوئی تو ایرانی عوام ہمارے شکرگزار ہوں گے۔ تہران میں ہماری پسند کی حکومت بنے گی تو چین کے ساتھ تعاون والا معاہدہ ختم ہو جائے گا۔ ایران سے چین کو تیل نہیں ملے گا۔ یعنی ایک تیر سے دو شکار ہو جائیں گے۔ امریکہ اسرائیل کی باتوں میں آ گیا اور اب مخمصے کی حالت میں ہے۔اسرائیل اور ایران مشرقِ وسطیٰ کی دو بڑی طاقتیں ہیں۔ دونوں میں علاقائی برتری کیلئے جنگ لڑی جا رہی ہے۔ ہمیں ایران کا ممنون ہونا چاہیے کہ ایران نے یہ جنگ پوری تھرڈ ورلڈ کیلئے لڑی ہے‘ اور اس کا سب سے زیادہ فائدہ پاکستان کو ہوا ہے۔ ثالثی والے کردار سے پاکستان کی نیک نامی ہوئی ہے اور اگر خدانخواستہ تہران میں امریکہ اور اسرائیل کی پسند کی حکومت آ جاتی تو بھارت کے وارے نیارے ہو جاتے۔ موساد اور را مل کر وطنِ عزیز میں کھلواڑ کرتیں۔ میرا اندازہ ہے کہ امریکہ اور ایران دونوں اس دلدل سے نکلنا چاہتے ہیں۔ جنگ کی طوالت سے اگر کوئی ملک خوش ہے تو اسرائیل ہے۔ امریکہ کواپنا بحری حصار ختم کر دینا چاہیے تاکہ بات آ گے بڑھے اور پاکستان امن کیلئے مثبت کردار جاری رکھ سکے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_85338835.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>میٹر اسی طرح چلتا رہے گا؟(میاں عمران احمد)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mian-imran-ahmad/2026-04-27/51844/41655797</link><pubDate>Mon, 27 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mian-imran-ahmad/2026-04-27/51844/41655797</guid><description>پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان بجٹ سے قبل معاملات طے کیے جا رہے ہیں۔ تقریباً 2.8 کھرب روپے کی بچت دکھانے کا ہدف مقرر ہونے کی اطلاعات ہیں۔ اس کے ساتھ یہ بھی شرط رکھی گئی ہے کہ پاکستان اپنے زرمبادلہ کے ذخائر میں کم از کم 5.6 ارب ڈالر کا اضافہ کرے تاکہ ملک کو درپیش مالی دباؤ کم ہو اور بیرونی ادائیگیاں بہتر طریقے سے کی جا سکیں۔ اس سختی کا براہِ راست اثر عام لوگوں پر پڑسکتا ہے۔شاید اسی لیے بینظیرانکم سپورٹ پروگرام کا بجٹ بڑھا کر 845 ارب روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق صرف وفاقی حکومت ہی نہیں صوبوں کو بھی مالی نظم و ضبط دکھانا پڑ سکتا ہے۔ صوبوں کو مجموعی طور پر تقریباً 1.65 کھرب روپے کی بچت کا ہدف مل سکتا ہے۔ٹیکس کے نظام میں بھی بڑی تبدیلیاں متوقع ہیں۔ ایف بی آر کو تقریباً 15.5 کھرب روپے سے زیادہ ٹیکس جمع کرنے کا ہدف دیا جا رہا ہے۔ اس کے لیے حکومت کو نہ صرف ٹیکس دہندگان سے زیادہ وصولی کرنا پڑ سکتی ہے بلکہ تقریباً 10 لاکھ نئے لوگوں کو بھی ٹیکس نیٹ میں لانا پڑ سکتا ہے۔معیشت کی رفتار کے حوالے سے بھی محتاط اندازے لگائے جا رہے ہیں۔ حکومت چاہتی ہے کہ معیشت پانچ فیصد سے زیادہ ترقی کرے لیکن آئی ایم ایف کے مطابق اگلے سال شرح نمو تقریباً 3.5 فیصد رہ سکتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ معیشت کی رفتار سست رہنے کا امکان زیادہ ہے۔مجموعی طور پر دیکھا جائے تو آنے والا بجٹ ایک مشکل بجٹ ہو سکتا ہے۔ ایک طرف حکومت کو معیشت کو مستحکم کرنا ہے، قرضوں کا دباؤ کم کرنا ہے اور عالمی اداروں کا اعتماد بحال رکھنا ہے جبکہ دوسری طرف عوام کو مہنگائی اور مالی دباؤ سے بھی بچانا ہے۔ ان حالات میں ایف بی آر کی کارکردگی کا جائزہ لیے بغیر متوازن حکمت عملی تیار کرنا بڑا چیلنج ہو سکتا ہے۔زراعت اور تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لانا ضروری ہے۔ یہ کام آسان نہیں مگر درست فیصلے کیے گئے تو طویل مدت میں معیشت کو فائدہ ہو سکتا ہے۔ تاہم فوری طور پر عوام کو اس سختی کا بوجھ برداشت کرنا پڑسکتا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہو سکتی ہے۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں دوبارہ تقریباً 27 روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اس اضافے کے بعد پٹرول کی قیمت تقریباً 393 روپے فی لیٹر اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت تقریباً 380 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے۔اس مرتبہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہوا ، یعنی اصل وجہ عالمی قیمت نہیں تھی‘ اس کے باوجود قیمتیں بڑھائی گئیں کیونکہ حکومت نے پٹرولیم لیوی بڑھا دی ہے۔ یہ اضافہ اصل میں قیمت کا نہیں بلکہ ٹیکس کاہے۔اب پٹرول پر فی لیٹر تقریباً 107 روپے سے زائد ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے جبکہ مجموعی طور پر پٹرول پر ٹیکس اور ڈیوٹیز ملا کر یہ رقم 134 روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہے۔ اسی طرح ڈیزل پر بھی مختلف ٹیکس شامل ہیں جن کی وجہ سے قیمت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ایف بی آر ٹیکس اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی اس لیے حکومت پٹرول اور ڈیزل جیسے آسان ذرائع سے زیادہ ٹیکس اکٹھا کر رہی ہے۔ رواں مالی سال میں پٹرولیم لیوی کے ذریعے حکومت نے تقریباً 1.2 کھرب روپے جمع کر لیے ہیں جو سالانہ ہدف کا تقریباً 82 فیصد ہے۔معاملات شاید یہاں نہ رکیں۔ آئی ایم ایف نے مزید ٹیکس بڑھانے کا مطالبہ بھی کر رکھا ہے۔ یعنی مستقبل میں فی لیٹر تقریباً 50 روپے کے قریب مزید اضافی ٹیکس لگ سکتا ہے جس سے مہنگائی اور بیروزگاری میں مزید اضافہ ہو گا۔ عوام کو مہنگائی اور مالی دباؤ سے بچانے کے لیے ملکی انرجی لاگت کو کم کرنے کے راستے تلاش کیے جانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کا آر ایل این جی نظام دو Floating Storage and Regasification Units (FSRU) پر چل رہا ہے جو سمندر میں کھڑے ہو کر ایل این جی کو گیس میں تبدیل کرتے ہیں۔ یہ نظام پاکستان ایل این جی لمیٹڈ اور سوئی ساردرن گیس لمیٹڈ کے ذریعے چلایا جا رہا ہے جنہوں نے طویل مدتی معاہدے کر رکھے ہیں۔ لیکن ان معاہدوں میں چند بنیادی خامیاں ہیں جو معیشت پر اضافی بوجھ بنتی دکھائی دے رہی ہیں۔ایک بڑی خامی یہ سامنے آئی ہے کہ پاکستان گیس کے لیے نہیں بلکہ صلاحیت (کپیسٹی) کے لیے ادائیگی کرتا ہے‘ یعنی اگر گیس نہ بھی آئے تب بھی روزانہ تقریباً پانچ لاکھ 38 ہزار ڈالر ادا کرنا پڑتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جہاز کھڑا ہے تو پیسے دینے ہی ہیں چاہے اس سے کوئی فائدہ ہو یا نہ ہو۔ اگر حساب لگائیں تو تصویر مزید واضح ہو سکتی ہے۔ روزانہ کی ادائیگی کے حساب سے پاکستان تقریباً 16 ملین ڈالر ماہانہ اور تقریباً 20 کروڑ ڈالر سالانہ ادا کر رہا ہے۔ دس سال میں یہ رقم تقریباً دو ارب ڈالر بنتی ہے‘ جبکہ دونوں جہازوں کی مجموعی قیمت تقریباً 40 سے 50 کروڑ ڈالر ہے، یعنی پاکستان چند سالوں میں ہی ان کی اصل قیمت کے برابر رقم ادا کر چکاہے‘ اس کے باوجود یہ جہاز پاکستان کی ملکیت نہیں بنے۔ماضی میں جب گیس مسلسل آ رہی تھی تو یہ مسئلہ چھپا رہا لیکن جیسے ہی سپلائی میں رکاوٹ آئی ان معاہدوں کی حقیقت سامنے آ رہی ہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ پاکستان گیس کے لیے نہیں بلکہ گیس نہ ہونے کے لیے بھی ادائیگی کر رہا ہے۔ یہ معاہدے اُس وقت کیے گئے جب ملک کو گیس کی شدید کمی تھی مگر آج بدلتے حالات میں یہ معاہدے معیشت پر بوجھ بن رہے ہیں۔ اگر بروقت اصلاح نہ کی گئی تو یہ ادائیگیاں جاری رہ سکتی ہیں اور زرمبادلہ پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان ان معاہدوں پر نظرثانی کرے گا یا یہ میٹر اسی طرح چلتا رہے گا؟ پاکستان کا آٹو سیکٹر اس وقت ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے۔ موجودہ آٹو پالیسی 30 جون کو ختم ہو رہی ہے مگر اس کے نتائج پہلے ہی سامنے آ چکے ہیں۔ ملک میں گاڑیاں بنانے کے بجائے زیادہ تر کمپنیاں درآمد شدہ پرزوں کو جوڑ کر گاڑیاں تیار کر رہی ہیں جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ملک ایک مضبوط صنعتی معیشت کے بجائے اسمبلی اکانومی بن رہا ہے۔ رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ میں سی کے ڈی اور ایس کے ڈی کٹس کی درآمدات 116 فیصد بڑھ کر 1.47 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں جبکہ گزشتہ چند سالوں میں آٹو پارٹس کا درآمدی بل چھ ارب ڈالر سے بھی زیادہ ہو چکا ہے۔ اس طرح زرمبادلہ بھی تیزی سے خرچ ہو رہا ہے۔یہ صورتحال پالیسی کی کمزوریوں کا نتیجہ معلوم ہوتی ہے۔ پاکستان اس وقت آئی ایم ایف پروگرام کے تحت معیشت کو سنبھالنے کی کوشش کر رہا ہے جہاں فوری استحکام پر زور دیا جا رہا ہے لیکن اس کا ایک نقصان یہ ہو رہا ہے کہ صنعتوں کو مقامی پیداوار بڑھانے کے بجائے درآمدات کے ذریعے کام چلانے کی سہولت مل رہی ہے جو طویل مدت میں نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ مقامی سطح پر پرزہ جات کی تیاری کے حوالے سے بھی صورتحال تسلی بخش دکھائی نہیں دے رہی۔ پرانی جاپانی کمپنیوں نے وقت کے ساتھ اپنی گاڑیوں میں 50 سے 70 فیصد تک مقامی پرزے شامل کیے ہیں مگر نئی آنے والی کمپنیوں میں یہ شرح عموماً 30 سے 40 فیصد کے درمیان ہے۔ پاکستان میں ہائبرڈ اور الیکٹرک گاڑیوں کی مانگ تیزی سے بڑھ رہی ہے، جو سالانہ 35 سے 40 ہزار یونٹس تک پہنچ چکی ہے۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ طلب بھی زیادہ تر درآمدی کٹس کے ذریعے پوری کی جا رہی ہے۔ یہی رجحان رہا تو پاکستانی شاید ماحول دوست گاڑیاں تو استعمال کرلیں لیکن مقامی صنعت کو ترقی دینے کا ہدف حاصل کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/212_71532147.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>اکابر علماء کرام کا اجلاس(علامہ ابتسام الہٰی ظہیر )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-04-27/51845/41638964</link><pubDate>Mon, 27 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-04-27/51845/41638964</guid><description>قاری صہیب احمد میر محمدی ملک کے مشہور عالمِ دین ہیں‘ جو ضلع قصور میں مرکز دارالاصلاح کے مدیر ہیں۔ اس ادارے کو حافظ یحییٰ عزیز میر محمدی رحمہ اللہ نے قائم کیا تھا۔ حافظ یحییٰ عزیز میر محمدی ایک عظیم روحانی اور علمی شخصیت تھے۔ لوگ اُن کے دروس میں بڑے شوق سے شریک ہوتے‘ ان سے حاصل کردہ علم پر عمل پیرا ہوتے اور اس کو آگے بھی پہنچاتے۔ ان کے بعد بہت سے قابل اساتذہ اس ادارے سے وابستہ ہوگئے اور اس نے مزید ترقی کی۔ اس ادارے میں طلبہ کی بڑی تعداد تعلیم حاصل کر رہی ہے اور یہاں سے فارغ التحصیل طلبہ ملک بھر میں دین کی تبلیغ اور تعلیم وتدریس سے وابستہ ہیں۔ اس ادارے میں وقفے وقفے سے ملک بھر کے جید علما کرام کو جمع کیا جاتا ہے اور مختلف امور پر اُن سے رائے لی جاتی ہے۔ گزشتہ دنوں بھی ایک اجلاس منعقد کیا گیا جس میں علما کرام کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور مختلف علمائے دین نے اپنی اپنی آرا کو لوگوں کے سامنے پیش کیا۔ ممتاز عالم دین مفتی عبدالستار حماد‘ ممتاز ماہر تعلیم ڈاکٹر نصیر اختر‘ سینیٹر ڈاکٹر حافظ عبدالکریم (امیر مرکزی جمعیت اہلحدیث)‘ قاری خلیل الرحمن جاوید اور دیگر علماء کرام نے اپنی بیش قیمت آرا کو علما اور اساتذہ کے سامنے بڑی شرح وبسط سے بیان کیا‘ جس سے سوچ و فکر کے بہت سے نئے زاویے سامنے آئے۔ مجھے بھی اس موقع پر اپنی چند گزارشات کو علما کرام کی موجودگی میں پیش کرنے کا موقع ملا۔ میں نے موقع کی مناسبت سے جن گزارشات کو علما کرام کے سامنے رکھا‘ ان کو کچھ ترامیم اور کمی بیشی کے ساتھ قارئین کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں:اللہ تبارک وتعالیٰ جمیع کائنات کے خالق ومالک ہیں اور انہوں نے اس کائنات کو ایک حکمت کے تحت تخلیق کیا ہے۔ قرآن مجید میں اس حقیقت کو مختلف مقامات پر بیان کیا گیا ہے کہ زمین وآسمان کی تخلیق بلامقصد نہیں کی گئی۔ اللہ تبارک وتعالیٰ اس حقیقت کو سورۃ الانبیاء کی آیات: 16 تا 17 میں کچھ یوں بیان فرماتے ہیں: &#39;&#39;ہم نے آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی چیزوں کو کھیلتے ہوئے نہیں بنایا۔ اگر ہم یونہی کھیل تماشے کا ارادہ کرتے تو اسے اپنے پاس سے ہی بنا لیتے‘ اگر ہم (ایسا) کرنے والے ہی ہوتے‘‘۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۃ الذاریات میں اس حقیقت کو بیان فرما دیا کہ انسانوں کی تخلیق کا بنیادی مقصد کیا تھا؟ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الذاریات کی آیت: 56 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;میں نے جنات اور انسانوں کو محض اسی لیے پیدا کیا ہے کہ وہ صرف میری عبادت کریں‘‘۔ اسی حقیقت کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۃ الملک کی ابتدائی دو آیات میں کچھ یوں بیان فرمایا: &#39;&#39;بہت بابرکت ہے وہ (اللہ) جس کے ہاتھ میں بادشاہی ہے اور جو ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ جس نے موت اور حیات کو اس لیے پیدا کیا کہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے اچھے کام کون کرتا ہے‘ اور وہ غالب (اور) بخشنے والا ہے‘‘۔ اس مقصد کے حصول کے لیے اللہ تبارک وتعالیٰ نے مختلف ادوار میں بہت سے انبیاء کرام علیہم السلام کو مبعوث فرمایا اور آخر میں پیغمبر آخر الزماں حضرت محمد کریمﷺ کو مبعوث فرمایا۔ جمیع انبیائے کرام اور نبی کریمﷺ کو جس دینِ حق کے ساتھ مبعوث کیا گیا وہ اسلام ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۃ المائدہ کی آیت: 3 میں اس حقیقت کو کچھ یوں بیان فرمایا: &#39;&#39;آج میں نے تمہارے لیے دین کو کامل کر دیا اور تم پر اپنا انعام بھرپور کر دیا اور تمہارے لیے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہو گیا‘‘۔ نبی کریمﷺ کے قلبِ اطہر پر قرآن مجید کا نزول ہوتا رہا اور عقائد‘ عبادات اور معاملات کے حوالے سے آیاتِ بینات کو آپﷺ کے قلب اطہر پر نازل کیا گیا۔ کتاب و سنت کی تعلیمات سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے‘ جس میں زندگی گزارنے کے تمام پہلوئوں کو نہایت احسن انداز میں واضح کیا گیا ہے۔ اسلام کو باقی تمام طرز ہائے زندگی پر اس لیے فوقیت حاصل ہے کہ زندگی گزارنے کے باقی تمام طریقہ ہائے کار کی بنیاد انسان کی عقل‘ تجربہ اور اس کے مشاہدہ پر ہے جبکہ دین کی بنیاد اللہ تبارک وتعالیٰ کی وحی ہے۔ چنانچہ ہمیں زندگی کے ہر شعبے میں اللہ تبارک وتعالیٰ کے قرآن اور نبی پاک حضرت محمد کریمﷺ کے فرامین کو اہمیت دینی چاہیے اور کسی بھی شخص یا گروہ کی بات کو اللہ کی کتاب اور رسول اللہﷺ کے فرمان پر فوقیت نہیں دینی چاہیے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انسانوں کی عقل اور شعور محدود ہے جبکہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا علم اور حکمت لا محدود ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ انسانوں کے نفع ونقصان کا تعین جس طریقے سے کر سکتے ہیں‘ اس طریقے سے خود انسان بھی اپنے نفع ونقصان کا فیصلہ نہیں کر سکتا۔ چنانچہ جو شخص بھی ایسی زندگی گزارنا چاہتا ہے کہ جس کے نتیجے میں دنیا میں امن اور اطمینان حاصل ہو اور آخرت میں انسان سربلند ہو تو اس کا سب سے بہترین راستہ یہی ہے کہ انسان اللہ کی کتاب اور نبی کریمﷺ کے فر امین کے ساتھ تمسک اختیار کرے۔ نبی کریمﷺ اور آپﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے نبی کریمﷺ اور ان کے بعد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو دنیا میں بھی سربلند کیا اور آخرت کی فلاح بھی اُن کا مقدر بن گئی۔ انسانیت کی فلاح اور عروج کا بہترین دور نبی کریمﷺ اور ان کے بعد آپﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا دور ہے جس کی مثال تاریخ بھی پیش کرنے سے قاصر ہے۔ ایسی زندگی گزارنے کے نتیجے میں دنیا میں امن اور اطمینان اور آخرت میں بھی کامیابی انسان کا مقدر بن جائے گی۔ کتاب و سنت پر عمل پیرا ہونے کے راستے میں متعدد رکاوٹیں حائل ہیں جن میں آبائو اجداد کی اندھی تقلید‘ اپنے مذہبی اور سیاسی رہنمائوں کی ہر بات کو حجت سمجھنا‘ اپنے گمراہ دوستوں کی پیروی کرنا اور اپنی خواہشات اور رسوم ورواج پر چلنا سر فہرست ہیں۔ بہت سے لوگ ان وجوہات کی بنیاد پر کتاب و سنت کی تعلیمات کو نظر انداز کر دیتے اور اللہ تبارک وتعالیٰ کے دین کو پس پشت ڈال دیتے ہیں جس کے نتیجے میں دنیا میں بھی ان کو مصائب‘ آفات اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور آخرت میں بھی ناکامی ان کا مقدر بن جائے گی۔ اس کے مدمقابل بہت سے لوگ اللہ اور رسولﷺ کی تعلیمات کے ساتھ وابستگی اختیار کرکے صراطِ مستقیم پر گامزن ہو جاتے ہیں۔دین وشریعت پر عمل پیرا ہونا جہاں کامیابی کی بنیاد ہے وہیں دین سے وابستگی کے دو اہم تقاضے بھی ہیں: جن میں سے ایک یہ ہے کہ ہمیں ہر اُس شخص کے ساتھ پیار اور محبت کرنی چاہیے جو اللہ اور اس کے رسولﷺ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کرتا ہے اور ایسے شخص سے دوری اختیار کرنی چاہیے جو اللہ اور اس کے رسولﷺ کی تعلیمات سے انحراف کرتا اور ان کو پس پشت ڈال دیتا ہے۔ اسی طرح دین وشریعت کے ساتھ محبت کا تقاضا یہ بھی ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کے دین کو اپنے اپنے دائرہ کار میں نافذ کرنے کی کوشش کی جائے۔ اپنے گھر‘ ادارے‘ دفتر اور محکمے میں کتاب و سنت کی تعلیمات کو نافذ کرنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔ اسی طرح مسلم حکمرانوں پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی ریاستوں اور مملکتوں میں اللہ تبارک وتعالیٰ کے دین اور شریعت کا نفاذ کر کے اللہ تبارک وتعالیٰ کی رضا کو حاصل کریں اور عوام الناس کو بھی آسانی فراہم کریں۔علماء کرام نے ان گزارشات کو نہایت توجہ کے ساتھ سنا اور بعد ازاں ایک پُرتکلف ظہرانے کے ساتھ یہ اجلاس مکمل ہوا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_19740082.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>