<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>بجٹ‘ محصولات اور اعتماد کا بحران(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-31/11235</link><pubDate>Sun, 31 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-31/11235</guid><description>وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگ زیب نے کچھ روز پہلے کہا تھا کہ آئندہ بجٹ میں ٹیکس دہندگان پر مزید بوجھ نہیں ڈالا جائے گا بلکہ ٹیکس نیٹ کو وسعت دے کر معیشت کے ان شعبوں کو ٹیکس کے دائرہ کار میں لایا جائے گا جو اَب تک ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں۔ بظاہر یہ ایک خوش آئند اعلان ہے کیونکہ ہمارے ہاں ٹیکس کا نظام طویل عرصے سے عدم توازن کا شکار ہے۔ یہاں تنخواہ دار طبقہ‘ رجسٹرڈ کاروبار اور دستاویزی معیشت سے وابستہ لوگ تو ٹیکس ادا کرتے ہیں جبکہ معیشت کا ایک بڑاحصہ اس ذمہ داری سے تقریباً آزاد ہے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا اس بار واقعی صورتحال مختلف ہو گی یا ماضی کی طرح اضافی بوجھ پھر انہی طبقات پر پڑے گا جو پہلے ہی ٹیکس نیٹ میں ہیں؟ مالی سال 2026-27 ء کے لیے ایف بی آر کا ہدف 15267 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے جورواں مالی سال کے مقابلے میں  تقریباً 13.7 فیصد یا 1833 ارب روپے زیادہ بنتا ہے۔ ان اضافی محصولات کے لیے آئی ایم ایف نے جو اصلاحات تجویز کی ہیں ان میں صوبوں کو اضافی 430ارب روپے جمع کرنے کے علاوہ پٹرولیم لیوی میں اضافے سمیت کئی طرح کے اقدامات شامل ہیں۔ آئی ایم ایف کی ان ہدایات کی روشنی میں بظاہر یہ ماننا مشکل ہے کہ آنے والا بجٹ نئے ٹیکسوں سے بالکل پاک ہو گا‘ بلکہ سوال یہ ہونا چاہیے کہ نیا مالی بوجھ کتنا ہو گا۔

جہاں تک ٹیکس نیٹ کو بڑھانے اور کمپلائنس اور انفورسمنٹ کی بات ہے تو یہ اصولی طور پر درست بلکہ ناگزیر ہے کہ غیردستاویزی معیشت کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔ ملکِ عزیز کی معیشت کا ایک بڑا حصہ بدستور نقد لین دین پر مشتمل ہے اور مختلف اندازوں کے مطابق معیشت کا ایک وسیع حصہ مکمل طور پر دستاویزی نظام سے باہر ہے۔ اگر ہول سیل اور ریٹیل تجارت‘ ریئل اسٹیٹ اور زرعی آمدنی کے بڑے حصے اور دیگر غیررجسٹرڈ شعبے ٹیکس نظام میں شامل ہو جائیں تو نہ صرف محصولات میں اضافہ ہو سکتا ہے بلکہ ٹیکس نظام میں انصاف بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ ہر سال بجٹ سے پہلے یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ٹیکس چوری کرنیوالوں اور ٹیکس نیٹ سے باہر شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے گا لیکن بجٹ کے نفاذ کے بعد یہ بھاری پتھر کوئی بھی نہیں اٹھاتا اور ٹیکس کا بوجھ حسبِ معمول بالواسطہ ٹیکسوں اور پہلے سے ٹیکس دینے والوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس بار بھی عوام اور ماہرینِ معیشت ’مزید ٹیکس‘ کے بجائے ’مزید ٹیکس دہندگان‘ کے حکومتی دعوے کو محتاط نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔ معیشت کا سب سے بڑا چیلنج صرف محصولات اکٹھے کرنا نہیں بلکہ عوامی اعتماد بحال کرنا بھی ہے۔ جب ایک ٹیکس گزار ملازم اپنی تنخواہ سے باقاعدگی سے ٹیکس کٹتا دیکھتا ہے مگر غیر رجسٹرڈ شعبوں کو کوئی نہیں پوچھتا تو اس سے نظام کے بارے میں بے اعتمادی پیدا ہونا یقینی ہے۔ یہی احساس ٹیکس کلچر کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنتا ہے۔ چنانچہ محض ٹیکسوں میں اضافہ یا نئے اہداف مقرر کر دینا مسئلے کا حل نہیں اصل ضرورت انتظامی اصلاحات‘ ڈیجیٹل معیشت کے فروغ‘ ٹیکس چوری کی روک تھام‘ سرکاری اخراجات میں کفایت شعاری اور اقتصادی سرگرمیوں کے فروغ کی ہے۔
اگر صنعتیں اور کاروبار ترقی کریں گے تو محصولات خود بخود بڑھیں گے لیکن اگر معاشی سرگرمی سست رہی اور محصولات کا بوجھ صرف موجودہ ٹیکس دہندگان پر پڑتا گیا تو سرمایہ کاری‘ روزگار اور معاشی نمو پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ اس نقطہ نظر سے آئندہ بجٹ حکومت کیلئے ایک امتحان ہے۔ اگر واقعی غیردستاویزی معیشت کو ٹیکس نیٹ میں لانے کیلئے مؤثر اور قابلِ عمل اقدامات کیے جائیں تو یہ ایک مثبت پیش رفت ہو گی لیکن اگر ماضی کی روایت برقرار رہی اور محصولات کا بھاری بوجھ تنخواہ دار طبقے اور دستاویزی معیشت پر ڈالا گیا تو نہ صرف عوامی بے چینی بڑھے گی بلکہ ٹیکس نظام پر اعتماد بھی مزید کمزور ہو گا۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>فری لانسنگ آمدنی(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-31/11234</link><pubDate>Sun, 31 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-31/11234</guid><description>سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 10 ماہ کے دوران پاکستانی فری لانسرز نے 95 کروڑ 90 لاکھ ڈالر زرِمبادلہ کمایا جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں یہ رقم 64 کروڑ 20 لاکھ ڈالر تھی۔ ایک سال کے دوران فری لانسرز کی آمدنی میں 49 فیصد اضافہ اس شعبے کی غیر معمولی ترقی کو ظاہر کرتا اور اس شعبے میں آمدنی کے روشن امکانات کاعکاس ہے۔ ایسے وقت میں جب روایتی ملازمتوں کے مواقع محدود ہو رہے ہیں‘ فری لانسنگ کا شعبہ نوجوانوں کیلئے روزگار کا ایک مؤثر اور پُر کشش متبادل بن کر ابھر رہا ہے۔ اندازوں کے مطابق فری لانس پلیٹ فارمز کی مارکیٹ کی مالیت 2025ء میں چھ ارب ڈالر سے زیادہ تھی اور 2033ء تک یہ 24 ارب ڈالر سے تجاوز کر سکتی ہے۔ سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ‘ مصنوعی ذہانت‘ ڈیجیٹل مارکیٹنگ‘ کانٹینٹ کری ایشن‘ گرافک ڈیزائننگ‘ ویڈیو پروڈکشن اور ای کامرس جیسے شعبے اس مارکیٹ کی بنیاد ہیں۔

ملک کے بے روزگار نوجوان ان شعبوں میں عالمی معیار کی مہارتیں حاصل کرکے نہ صرف خود خوشحال ہو سکتے ہیں بلکہ ملک کیلئے اربوں ڈالر کے اضافی زرِمبادلہ کا حصول بھی ممکن بنا سکتے ہیں۔ اگر حکومت‘ تعلیمی ادارے‘ نجی شعبہ اور مالیاتی ادارے مل کر ایک جامع حکمت عملی اختیار کریں تو پاکستان نہ صرف خطے میں فری لانسنگ کا ایک بڑا مرکز بن سکتا ہے بلکہ آئی ٹی اور ڈیجیٹل خدمات کی برآمدات میں بھی نمایاں اضافہ کر کے معاشی استحکام کی جانب اہم پیش رفت کر سکتا ہے۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>جنگلات آتشزدگی(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-31/11233</link><pubDate>Sun, 31 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-05-31/11233</guid><description>گزشتہ روز بھی مارگلہ کے جنگلات میں لگنے والی آگ سے سینکڑوں درخت ختم ہو گئے۔ ایک روز قبل مری کے علاقے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی آگ کے باعث بھی تقریباً سات ایکڑ جبکہ کمالیہ کے جنگلات میں لگنے والی آگ سے  تقریباً ڈیڑھ سو ایکڑ پر محیط جنگل جل گیا۔ جنگلات میں آگ لگنے کے پیچھے قدرتی اسباب بھی ہو سکتے ہیں اور انسانی غلطی بھی تاہم  ان واقعات میں اکثر انسانی غلطی یا سازش  کارفرما ہوتی ہے۔ اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ کے مطابق مارگلہ نیشنل پارک میں آگ کے 80 سے 90 فیصد واقعات میں مقامی لوگ ملوث ہوتے ہیں۔ اگر یہی حقیقت ہے تو یہ نہایت افسوسناک صورتحال ہے جو پچھلے چند برسوں میں مارگلہ کے جنگلات کا بڑا حصہ ختم کر چکی ہے۔

رواں سال آگ کے واقعات میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ حکام کو اس جانب فوری متوجہ ہونا پڑے گا۔ لازمی ہے کہ جنگلات کے علاقے میں سگریٹ نوشی کی ممانعت ہو اور سیاحوں کو اُن خطرات سے آگاہ کیا جائے جو ایک معمولی سے چنگاری سے جنم لے سکتے ہیں۔ جنگلات کے علاقے کی نگرانی کیلئے عملے کی تعداد بھی بڑھانی چاہیے۔ وطنِ عزیز پہلے ہی موسمیاتی تبدیلیوں کی تباہ کاریوں کا شکار ہے‘ ایسے میں جنگلات کا تحفظ ناگزیر ہے تاکہ شدید موسمیاتی اثرات سے محفوظ رہا جا سکے۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>لے دے کے ڈھنگ کے دو کام ہی ہوئے(ایاز امیر)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-05-31/52032/40068733</link><pubDate>Sun, 31 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-05-31/52032/40068733</guid><description>پہلا تھا چین کے ساتھ تعلقات استوار کرنا اور اس میں ریاست یا اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ اتنا نہیں تھا جتنا کہ ایک شخص کا‘ ذوالفقار علی بھٹو۔ باقی حکومت اور کابینہ اُس وقت کی امریکہ نواز تھی اور چین سے کوئی اتنا لگاؤ نہیں تھا۔ بھٹو کی سوچ مختلف تھی اور چین کی اہمیت کا احساس وہ دلواتے رہے۔ 1962ء کی چین ہندوستان جنگ کے بعد ویسے بھی عسکری حلقوں کی آنکھیں ذرا کھل گئیں جب دیکھا کہ کس تیز رفتاری سے چینی لبریشن آرمی نے ہندوستان فوج پر سبقت حاصل کی ہے۔ پاک چین دوستی کی صحیح بنیاد تو 1963ء کے سرحدی معاہدے سے ڈلی۔ اُس معاہدے کے لیے جو مذاکرات ہوئے ان میں پاکستانی ٹیم کی قیادت بھٹو کر رہے تھے۔ جس طریقے سے پاکستان نے چین کی خوشنودی حاصل کی بھٹو کی جگہ کوئی اور ہوتا تو شاید ایسا ممکن نہ ہوتا۔دوسرا ڈھنگ کا کام ایٹم بم بنانا تھا۔ یہ فیصلہ بھی ریاست یا اسٹیبلشمنٹ کا نہیں تھا۔ اپنے دور میں صدر ایوب خان نے ایٹم بم بنانے میں کوئی دلچسپی نہ دکھائی۔ یہ 1974ء میں ہندوستان نے ایٹمی دھماکہ کیا تو بھٹو نے اس عزم کا اظہار کیا کہ یہ صلاحیت پاکستان بھی حاصل کرے گا۔ بھٹو نے کسی سے رائے نہ لی‘ جسے ہم اسٹیبلشمنٹ کہتے ہیں اس سے نہ پوچھا‘ کوئی قومی اتفاقِ رائے پیدا نہ کیا۔ بس فیصلہ کیا کہ ہندوستان نے دھماکہ کیا ہے تو ہم بھی صلاحیت حاصل کریں گے چاہے ہمیں اس کے لیے کچھ بھی کرنا پڑے۔ کوئی کمزور دل لیڈر ہوتا تو شاید ایسا نہ کر سکتا۔ اہم نکتہ البتہ یہ ہے کہ گو بڑے پائے کے اور سائنسدان بھی تھے‘ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن بھی موجود تھا‘ لیکن ایٹم بم بنانے کی صلاحیت پاکستان نے حاصل کی تو اُس میں اہم کردار ایک ہی شخص کا تھا‘ ڈاکٹر عبدالقدیر خان۔ ڈاکٹر اے کیو خان نہ ہوتے‘ ہاتھ پاؤں تو پاکستان نے مارنے تھے لیکن پاکستان اتنی آسانی سے اس صلاحیت کے قریب نہ پہنچ پاتا۔ بھٹو نے تو فرانس کے ساتھ نیوکلیئر ری پروسیسنگ پلانٹ حاصل کرنے کا معاہدہ کیا تھا۔ وہ پلانٹ ایسا تھا کہ اُس میں یورینیم کی افزودگی ہوتی تو پلوٹونیم بنتا جاتا اور پلوٹونیم ہی وہ مادہ ہے جس سے ایٹم بم بنتا ہے۔ امریکہ نے معاہدہ دیکھا تو بھٹو اور فرانس دونوں پر پریشر ڈالنا شروع کیا‘ اس غرض سے کہ معاہدہ منسوخ ہو۔ ساری گفتگو اور سارا پریشر اس نیوکلیئر ری پروسیسنگ پلانٹ کے بارے میں تھا اور یہ پلانٹ امریکی پریشرکی زد میں آ چکا تھا۔ بھٹو جب اس مخمصے میں پھنسا ہوا تھا تو ایک گمنام سائنٹسٹ جو کہ نیدرلینڈ میں قیام پذیر تھا‘ سے پیغام موصول ہوا جس میں ایٹم بم کا ذکر تھا۔ پاکستان کے ایٹم بم کی تاریخ تو یہاں سے شروع ہوتی ہے۔ وہ گمنام سائنسدان اے کیو خان تھے۔ اور بھٹو کو داد دینی پڑتی ہے کہ پیغام کی اہمیت اُس نے فوراً بھانپ لی۔ اے کیو خان نے گیس سنٹری فیوج ٹیکنالوجی کا بتایا کہ یہ طریقہ بھی ہے جس سے پلوٹونیم بن سکتا ہے۔ بھٹو نے فوراً حامی بھرلی اور کام شروع ہو گیا۔ پہلے ڈاکٹر اے کیو کو بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا‘ حکومت اور نوکر شاہی سے جس قسم کی معاونت ملنی چاہیے تھی وہ نہیں مل رہی تھی۔ بھٹو کو پتا چلا تو غلام اسحق خان‘ اے جی ایم قاضی اور آغا شاہی کی ایک کمیٹی بنائی کہ اے کیو خان کے سارے معاملات یہ کمیٹی طے کرے گی۔ وہاں سے کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز کا صحیح کام شروع ہوا اور ایٹم بم حاصل کرنے کے صحیح راستے پر پاکستان چل نکلا۔ ڈاکٹر اے کیو صرف سائنسدان نہ تھے بہت اعلیٰ منتظم بھی تھے۔ بلیو پرنٹ اور پلان اُن کے پاس تھے‘ طریقہ اُنہیں سب پتا تھا لیکن جو جو سامان کی ضرورت تھی وہ دنیا بھر سے حاصل کرنا تھا جہاں امریکہ پاکستان پر نظر رکھے ہوا تھا۔ سپیشل قسم کی مشینوں اور پرزہ جات کا حاصل کرنا کوئی آسان کام نہ تھا۔ اس کے لیے ایک پورا نیٹ ورک بنانا پڑا‘ دفتر کوئی ملائیشیا میں کھولا گیا کوئی ایجنٹ دبئی میں بٹھایا گیا۔ جرمنی میں لوگ تھے ان کو نیٹ ورک کا حصہ بنایا گیا۔ کئی پرزے اور مشینیں امریکی پابندیوں کے ہوتے ہوئے سمگل کرنا پڑیں۔ اس مقصد کے لیے سیٹھ عابد جیسے لوگ کام آئے۔ یعنی ایک طرف چھپ چھپا کر کہوٹہ میں سب کچھ کیا جا رہا تھا اور دوسری طرف دنیا بھر سے ضروری اشیا حاصل کرنے کے لیے ایک تگ و دو جاری تھی۔ اس سارے کام کو اکٹھا کرنا اور سمیٹنا ڈاکٹر اے کیو خان کا کام تھا۔ ان جیسا ڈائنیمک آدمی ہی ایسا کام کر سکتا تھا۔ یہاں یہ بھی کہنا ضروری ہے کہ ایٹم بم کا پروگرام شروع تو بھٹو نے کیا لیکن جنرل ضیا الحق نے اس میں کوئی کمی نہ آنے دی۔ کام تو سارا ڈاکٹر اے کیو خان کر رہے تھے لیکن پیسے کے لحاظ سے انہیں کھلی چھٹی تھی۔ جو وہ چاہتے انہیں زبان ہلانے کی دیر ہوتی اور غلام اسحق خان اور اے جی ایم قاضی وسائل مہیا کر دیتے۔ تب ہی جا کے پاکستان ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔ جیسے عرض کیا سائنسدان تو اور بھی تھے لیکن جس ہنر اور ہوشیاری کی ضرورت تھی وہ ڈاکٹر اے کیو خان نے خوب دکھائی۔یہ کام اتنا آسان ہوتا تو ایران بم نہ بنا لیتا۔ ان کے وسائل ہم سے زیادہ ہیں۔ اعلیٰ پائے کے سائنسدانوں کی تعداد ہم سے زیادہ ہے۔ ان کا مجموعی تعلیمی نظام ہم سے کہیں آگے ہے۔ لیکن اتنے سالوں سے لگے ہوئے ہیں اور بم ان سے نہیں بن سکا۔ ایٹمی صلاحیت حاصل کر لیتے تو اسرائیل اور امریکہ اتنی آسانی سے اس پر جھپٹ پڑتے؟ جنگ میں ایران نے بہت استقامت دکھائی‘ امریکہ اور اسرائیل کے دانت کھٹے کیے ہیں لیکن حملہ تو اس پر ہوا‘ ایک بار نہیں دو بار۔ بھاری نقصان اسے اٹھانا پڑا ہے۔ اور جنگ میں استقامت کے باوجود امریکہ اپنی مرضی کی شرائط ایران سے منوانا چاہتا ہے۔ میزائل اور ڈرون ٹیکنالوجی میں ایران بہت آگے جا چکا ہے لیکن بہت کچھ کرکے بھی ایٹم بم کا راز اس کے ہاتھ نہیں لگا۔ اور اگر ایسا ہو جاتا تو پھر امریکہ اور اسرائیل نے اس دیدہ دلیری سے ایران پر حملے نہیں کرنے تھے۔ شمالی کوریا کی مثال ہمارے سامنے ہے‘ امریکی پریشر سے بے نیاز ہے تو صرف اس لیے کہ اس نے ایٹمی ہتھیار بنا لیے ہیں۔پاکستان کا کمال اس لحاظ سے زیادہ بنتا ہے کہ ایک ایسا ملک جس سے اور ڈھنگ کے کام اتنے نہیں ہوئے‘ معیشت ناگفتہ بہ حالت میں قرضوں کے نیچے ملک دبا ہوا‘ بجلی کا قرض جسے سرکلر قرضہ کہا جاتا ہے ملکی گردن پر طوق کی مانند لٹکا ہوا ہے۔ اور ایسا ملک جہاں خطِ غربت سے نیچے آدھی آبادی رہتی ہے اس نے وہ کر لیا جو کسی اور اسلامی ملک سے نہیں ہو سکا۔ عراق نے کوشش کی اور اسرائیلیوں نے اس کے ری ایکٹر تباہ کر دیے۔ شام نے کچھ کرنا چاہا تو اسرائیل نے اس پر حملے کر دیے۔ کرنل معمر قذافی کی خواہش تھی کہ ایٹم بم بنائے۔ دولت کی کوئی کمی نہ تھی لیکن قذافی ناکام ہی رہے۔ اور مغربی ممالک نے حشر ان کا وہ کیا کہ موت کا وہ منظر دیکھا نہیں جا سکتا۔ مجھ جیسے لوگ ڈاکٹر اے کیوخان پر ناک چڑھایا کرتے تھے کہ یہ کیا نیوکلیئر نیوکلیئر لگے ہوئے ہیں۔ اس سے کیا ہو گا‘ کون سی چیز ناقابلِ تسخیر ہو جائے گی۔ دیگر مسلمان ملکوں کا حشر دیکھ کر اب اے کیو خان کی بات سمجھ آتی ہے کہ جس قسم کی حالت مسلمانوں کی بن چکی ہے ان کے دفاع کے لیے یہ چیز ضروری ہے۔ ایران نے اس میں دیر کر دی اور نقصان اُٹھانا پڑا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_80573045.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بے روزگار بھی کچھ رحم کریں(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-05-31/52033/98825727</link><pubDate>Sun, 31 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-05-31/52033/98825727</guid><description>کچھ دیر پہلے سینئر صحافی راجہ لیاقت کی فیس بک پروفائل پر ایک وڈیو دیکھی۔ اس وڈیو میں تین پولیس اہلکار ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران کے سامنے کیمرے کی طرف پیٹھ کیے کھڑے تھے‘ جن پر الزام تھا کہ وہ پولیس ناکوں پر موٹر سائیکل سواروں کو روک کر پیسے بٹورتے تھے۔ تاہم اس وڈیو میں پیسے لینے کا طریقہ کچھ مختلف بتایا جا رہا تھا۔ وہ ہر ناکے پر بائیکرز کو روکتے اور اگر کاغذات کی پڑتال میں کوئی خرابی نہ ملتی تو ان کا فون لے لیتے‘ اسے الٹ پلٹ کر کے دیکھتے اور کہتے کہ اس فون میں گڑبڑ ہے‘ اس کی ٹمپرنگ کی گئی ہے‘ لہٰذا تین ہزار روپے نکالو۔ آج کل موبائل کیمروں نے رشوت لینے والوں کی زندگی کچھ مشکل کر دی ہے۔ جب یہ ناکے پر کھڑے اپنی &#39;&#39;انجینئرنگ‘‘ کا رعب جھاڑتے ہوئے پیسے پکڑ رہے تھے تو کسی دل جلے نے ان تینوں کی ریکارڈنگ کر لی۔ وہ ساری ریکارڈنگ اعلیٰ پولیس حکام تک پہنچی تو انہیں بلا لیا گیا اور یہ گفتگو اسی حوالے سے ہو رہی تھی۔ پولیس افسر طنزیہ انداز میں پوچھنے لگا کہ تم تینوں انجینئر ہو کہ فون کو ہاتھ لگاتے ہی پتا چل جاتا ہے کہ اس میں گڑبڑ ہے‘ اور وہ گڑبڑ ٹھیک کرنے کا ریٹ تین ہزار روپے ہے؟ ان میں سے ایک ملزم اہلکار کہنے لگا کہ وہ 19سال سے سروس کر رہا ہے اور اس نے پہلی دفعہ پیسے پکڑے ہیں‘ آئندہ ایسا نہیں کرے گا۔ اس پر پولیس افسر نے ایک بہت اہم بات کی جو ہمارے معاشرے اور انسانی نفسیات پر پوری اترتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو بھی بندہ کرپشن پر معطل یا برطرف ہوتا ہے وہ بحال ہو کر دوبارہ ضرور کرپشن کرتا ہے۔اندازہ کریں کہ اس بات میں کتنی گہرائی ہے۔ طویل سروس کے دوران ڈی آئی جی آپریشنز لاہور کے سامنے کتنے ایسے کیسز آئے ہوں گے کہ جنہیں کرپشن پر ملازمت سے برطرف کیا گیا وہ کسی نہ کسی طرح بحال ہوئے اور دوبارہ رشوت لیتے پکڑے گئے‘ اور پھر ان کے سامنے اسی طرح پیش ہوئے ہوں گے جیسے یہ اہلکار پہلی مرتبہ پیش ہوئے تھے۔ لہٰذا وہ یہ بات یقینا اپنے طویل تجربے کی بنیاد پر کہہ رہے ہوں گے کہ بحال ہو کر کرپٹ ملازم دوبارہ رشوت لینا شروع کر دیتا ہے بلکہ زیادہ اعتماد کے ساتھ یہ کام کرتا ہے۔وہ سوچتا ہے کہ جو بدنامی ہونی تھی یا یار دوستوں اور رشتہ داروں کو پتا چلنا تھا‘ وہ تو چل چکا۔ اب نیک بن کر کیا کرنا ہے؟ پھر اس پورے عمل میں اس نے سفارش ڈھونڈی ہو گی‘ یا کسی اور کو پیسے دے کر خود کو بحال کرایا ہوگا۔ اگر متعلقہ افسر رشوت نہیں لیتا ہو گا تو شاید اس سے بڑے افسر کو اپیل کی ہو گی۔ وہاں سے بھی بحالی نہ ہوئی ہو گی تو پھر آئی جی کو اپیل گئی ہو گی۔ اگر آئی جی نے بھی زیرو ٹالرنس رکھا ہوگا اور برطرفی پر مہر لگا دی ہوگی تو پھر سروسز ٹربیونل میں چیلنج کیا ہوگا۔ وہاں سے بھی انکار ہوا تو ہائی کورٹ سے سپریم کورٹ تک گیا ہوگا۔ کسی نہ کسی فورم پر وہ بحال ہو ہی جائے گا۔اوّل تو سروسز ٹربیونل تک جانے کی ضرورت ہی پیش نہیں آئے گی‘ اس سے پہلے ہی کوئی پیٹی بھائی اسے بحال کرا دے گا۔ اکثر افسران کو اپنی فورس کے مورال کی فکر رہتی ہے کہ اگر ایک کے خلاف ایکشن لیا تو سب کا مورال متاثر ہو گا‘ لہٰذا بس وارننگ دے کر بحال کر دو کہ جا بیٹا جہاں سے چھوڑا وہیں سے کام شروع کر دو‘ بس احتیاط کرنا کہ اب کی دفعہ تمہاری وڈیو یا آڈیو ریکارڈ نہ ہو تاکہ تم انکوائری میں صاف مُکر سکو اور ہم تمہارے خلاف کوئی کارروائی نہ کریں۔ میری کئی مرتبہ پولیس افسران سے بات ہوئی تو ان کے ذہن میں ایک ہی لفظ ہوتا تھا کہ کارروائی کرنے سے مورال ڈاؤن ہو گا۔مجھے اپنا مرحوم پولیس افسر دوست عمر شیخ یاد آ گیا۔ کیا زبردست افسر تھا جو پولیس فورس میں خصوصاً افسران اور کولیگز کے درمیان خاصا غیر مقبول تھا۔ شیخ صاحب تیز مزاج انسان تھے اور بعض اوقات جلدی ردِعمل دے دیتے تھے لیکن ان کی ایک بات عوام کو بہت پسند تھی۔ وہ ہمیشہ کہتے تھے کہ قانون توڑنے پر جو سزا عوام کو دی جاتی ہے وہی سزا پولیس اہلکاروں کو بھی ملنی چاہیے۔ وہ کہتے تھے کہ یہ کہنا غلط ہے کہ اس سے مورال ڈاؤن ہو گا‘ یہ کیا منطق ہے کہ کسی اہلکار نے غلط کام کیا ہے تو اسے اس لیے کچھ نہ کہو کہ مورال کم ہو گا۔وہ کہتے تھے کہ پولیس کی عوام میں عزت اور وقار اس وقت بڑھے گا جب پولیس اہلکار کو بھی غلط کام کرنے پر وہی سزا ملے گی جو عوام کو ملتی ہے۔ لیکن ہمارے ہاں الٹا تصور رائج ہے۔ اکثر افسران کی کوشش ہوتی ہے کہ اپنے ماتحتوں کے ہر جرم پر پردہ ڈال دو تاکہ ان کا مورال ڈاؤن نہ ہو۔ وہ افسران یہ نہیں سوچتے کہ جب اس سزا کا دوسرے اہلکاروں کو پتا چلے گا تو وہ خیال کریں گے کہ ہم سے یہ غلطی نہیں ہونی چاہیے‘ ورنہ ہمیں بھی یہی سزا مل سکتی ہے۔مجھے یاد ہے کہ عمر شیخ آر پی او ڈیرہ غازی خان تھے تو ایک قتل کیس میں ایک ڈی ایس پی نے ملزمان سے پیسے لے کر انکوائری خراب کر دی تھی۔ عمر شیخ نے خود تفتیش کی اور اس ڈی ایس پی کو اپنے دفتر میں بلا کر ہتھکڑی لگوا دی۔ وہ اکثر ایسا کرتے تھے۔ عوام سے زیادہ ان کا زور پولیس اہلکاروں کو درست کرنے پر ہوتا تھا۔ ان کا تصور ہی یہ تھا کہ پہلے پولیس فورس اپنے اندر اس قانون کا خوف پیدا کرے جس کے تحت وہ عوام کو پکڑ کر تھانے میں بند کرتی ہے اور سزائیں دلواتی ہے۔ یہ کیسا اصول ہے کہ جب کوئی عام آدمی جرم کرے تو اسے مار مار کر بھرکس نکال دو یا جیل بھجوا دو لیکن اگر وہی جرم کوئی پولیس والا کرے تو اسے صرف وارننگ دے دو؟ عمر شیخ وارننگ نہیں دیتے تھے بلکہ قصوروار اہلکاروں کو ہتھکڑی لگوا کر تھانے میں بند کروا دیتے تھے۔جب لاہور کے تین اہلکاروں کو اپنے افسر کے سامنے کھڑا دیکھا تو خیال آیا کہ کبھی یہ تینوں بھی بے روزگار رہے ہوں گے۔ یہ بھی صبح شام اٹھتے بیٹھتے اس سسٹم کو گالیاں دیتے ہوں گے کہ سیاستدان اور بیوروکریٹس اس ملک کو لوٹ کر کھا گئے‘ ہم غریب کدھر جائیں۔ ان تینوں کو بھی نوکری سے پہلے کسی پولیس اہلکار نے ناکے پر روک کر پیسے لیے ہوں گے جس پر انہوں نے پوری بستی میں ڈھنڈورا پیٹا ہوگا کہ دیکھو یہاں سب کرپٹ ہیں۔ سسٹم کو گالیاں اور حکمرانوں کے خلاف گفتگو اس وقت تک ایک غریب یا بے روزگار آدمی کرتا ہے جب تک خود اسے طاقت نہیں ملتی اور وہ اس سسٹم کا حصہ نہیں بن جاتا جسے وہ بے روزگار ہو کر روز گالیاں دیتا تھا۔ہو سکتا ہے یہ بات بڑی سخت اور بے حس لگے لیکن اب مجھے اکثر پڑھے لکھے بے روزگاروں پر ترس نہیں آتا۔ مجھے بھی لمبا تجربہ ہے۔ ان سب کا رونا دھونا اس لیے نہیں ہوتا کہ انہیں سرکار عوام سے ٹیکس لے کر جو تنخواہ دے گی وہ اسی میں گزارا کریں گے بلکہ وہ اوپر کی کمائی کے خواب دیکھتے ہیں۔ اپنی غربت دور کرنے کا آسان طریقہ انہیں سرکاری نوکری نظر آتا ہے۔ جن جن محکموں میں عوام سے رشوت لی جاتی ہے وہاں بیٹھے افسران اور اہلکار بھی کبھی عوام کا حصہ تھے‘ بے روزگار تھے‘ اور وہ بھی سسٹم کو گالیاں دیتے تھے۔ سب کو کرپٹ کہتے تھے۔ ہمیں سسٹم اس وقت تک برا لگتا ہے جب تک سسٹم ہمارے ہاتھ نہیں لگتا۔ یہ سب جو آج آپ سے پیسے لیتے ہیں یہ سب کبھی عوام تھے‘ پڑھے لکھے بے روزگار تھے۔ بس ایک چانس میٹرک یا ایف اے پاس غریب اور بے روزگار کو ملنے دیں‘ پھر دیکھیں وہ کیسے ہر حد پار کرتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>وزیراعظم سے ملاقات(مجیب الرحمٰن شامی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mujeeb-ur-rehman-shami/2026-05-31/52034/53356535</link><pubDate>Sun, 31 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mujeeb-ur-rehman-shami/2026-05-31/52034/53356535</guid><description>عید کے تیسرے روز وزیراعظم شہباز شریف سے ان کی رہائش گاہ (ماڈل ٹاؤن لاہور) میں ملاقات ہوئی تو وہ اپنے دورۂ چین کے حوالے سے پُرجوش تھے۔ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے امکانات کا تفصیل سے ذکر ہوا۔ انہیں امید تھی کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے منصوبوں میں نئی وسعت آئے گی اور دوطرفہ تعاون نئی بلندیوں کو چھونے لگے گا۔ وزیراعظم نے ہانگزو  میں معروف چینی کمپنی علی بابا کے ہیڈ کوارٹر کا دورہ بھی کیا تھا۔ ڈیجیٹل معیشت‘ ای کامرس‘ مصنوعی ذہانت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کیلئے وہ پُرعزم تھے۔ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کی تقریبات میں بھی انہوں نے شرکت کی اور چین کے اعلیٰ ترین رہنماؤں سے عالمی اور علاقائی امور پر نتیجہ خیز تبادلہ خیالات کیا۔ وزیراعظم کے ہمراہ ایک بڑا وفد تھا‘ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایران سے براہِ راست وہاں پہنچے اور چینی قیادت سے مشاورت میں شریک ہو گئے۔ فیلڈ مارشل کو بھی وہاں ہاتھوں ہاتھ لیا گیا۔ چینی نگاہوں کا وہ خصوصی مرکز تھے۔امریکہ کے صدر ٹرمپ اور روس کے صدر پیوٹن چند ہی روز پہلے چین کا دورہ کر چکے تھے۔ وزیراعظم وہاں پہنچے تو مبصرین ان کے دورے کا موازنہ ان سے پہلے ہونے والے دوروں سے کرتے رہے۔ امریکہ اور چین بڑی طاقتیں ہیں‘ پاکستان عالمی منظر نامے میں ان کی ہمسری کا دعویٰ تو نہیں رکھتا لیکن اس کا اپنا تشخص اور کردار ہے۔ اس نے کئی بار عالمی سیاست کا رُخ بدلا ہے۔ چین کے ساتھ اس کے تعلقات ہموار رہے ہیں‘ ہر آنے والے دن نے ان میں نئی وسعت اور نئی گہرائی دیکھی ہے۔ سوویت یونین کے  ساتھ چین کا نظریاتی اشتراک تھا‘ سوویت یونین اشتراکی دنیا کا امام تھا‘ چین میں سرخ انقلاب بعد میں آیا لیکن اختلافات پیدا ہوئے تو دونوں ایک دوسرے کے حریف سمجھے جانے لگے۔ افغانستان میں سوویت فوجیں داخل ہوئیں تو چین نے بھی انہیں واپس دھکیلنے میں سرگرم کردار ادا کیا۔ امریکہ کے ساتھ اس کے تعلقات تو ابتدا ہی سے حریفانہ تھے۔ امریکہ چیانگ کائی شیک کا اتحادی اور پشتیبان تھا۔ وہ تائیوان تک محدود ہو گئے تو امریکہ نے تائیوان ہی کو چین قرار دے لیا۔ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں وہ چین بن کر بیٹھا اور ویٹو پاور استعمال کرتا رہا۔ امریکہ کو چینی قیادت &#39;&#39;کاغذی شیر‘‘ قرار دیتی تھی اور جس ملک کے ساتھ چین کے تعلقات استوار ہوتے تھے وہ امریکہ کے دل کا کانٹا بن جاتا تھا۔ پاکستان کا شمار جب امریکہ کے باقاعدہ اتحادیوں میں ہوتا تھا‘ سیٹو اور سینٹو نے دونوں کو آپس میں باندھ رکھا تھا‘ اس وقت بھی پاکستان نے چین کے معاملے میں امریکی مؤقف کی ہمنوائی نہیں کی۔ تائیوان کو چین کا نمائندہ ماننے سے انکار کیا‘ عوامی جمہوریہ چین کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ اقوام متحدہ کی رکنیت کے حصول میں اس کا ساتھ دیتا رہا۔ چین کے ساتھ سرحدی سمجھوتہ کیا‘ پاک چین سرحد دوستی اور امن کی لکیر میں تبدیل ہو گئی۔ ان دنوں پی آئی اے بیرونی دنیا سے چین کے رابطے کا واحد ذریعہ تھی۔ حالات بدلے تو چین اور امریکہ کے درمیان رابطہ کاری میں پاکستان نے بنیادی کردار ادا کیا۔ ہنری کسنجر پاکستان ہی کے راستے (خفیہ طور پر) چین پہنچے اور دونوں ممالک کے درمیان باقاعدہ تعلق قائم ہوا۔ بعد ازاں صدر نکسن کے دورے نے عالمی منظر نامہ تبدیل کر کے رکھ دیا۔ پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات میں کبھی تلخی پیدا نہیں ہوئی۔ دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے ساتھ احترام کا رشتہ برقرار رکھا‘ چین بھارت جنگ کے بعد دونوں کے تعلق میں نئی وسعت دیکھنے میں آئی۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران چین نے پاکستان کا جس طرح ساتھ دیا اس نے تو پاکستانیوں کے دل موہ لیے۔ آج بھی چیئرمین ماؤزے تنگ‘ وزیراعظم چو این لائی اور وزیر خارجہ چن ژی کو پاکستان کے گھر گھر میں یاد کیا جاتا ہے۔ چن ژی کو تو لوگ پیار سے &#39;&#39;چن جی‘‘ کہہ کر پکارنے لگے تھے۔ جب وزیراعظم چو این لائی اور وزیر خارجہ چن ژی (جنگ کے بعد) پاکستان کے دورے پر آئے تو لاکھوں لاہوریوں نے سڑکوں پر نکل کر ان کے حق میں پُرجوش نعرے لگائے‘ پاک چین تعلق کو حکومتی سے عوامی بنا دیا۔ سعودی عرب اور ترکیہ کی طرح چین بھی دلوں میں گھر کر گیا۔ چین کے ساتھ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف جذباتی ہو گئے۔ عمران خان حکومت کی کوتاہیوں کا ذکر آیا لیکن پھر انہوں نے ماضی کے بجائے مستقبل کی طرف دیکھنا شروع کر دیا۔ انہیں یقین تھا کہ پاکستان کو معاشی استحکام دینے میں چین کی معاونت مؤثر اور نتیجہ خیز ہو گی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وزیراعظم شہباز شریف کے زیر قیادت پاکستان نے دفاعی اور سفارتی محاذ پر نئی بلندیوں کو چھوا ہے۔ گزشتہ سال بھارت نے پاکستان پر جو چڑھائی کی‘ وہ وزیراعظم نریندر مودی کی سیاسی زندگی کی سب سے بڑی حماقت ثابت ہوئی۔ پاکستان کی مسلح افواج نے حملہ آور کے جس طرح دانت کھٹے کیے‘ اس نے بھارت کا قد چھوٹا اور پاکستان کا بڑا ہی نہیں بہت بڑا کر دیا۔ پہلگام میں دہشت گردی کو بنیاد بنا کر بھارت پاکستان پر حملہ آور ہوا تھا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اس سانحے کی بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کر کے بھارتی قیادت کو بوکھلا دیا۔ وہ خود ہی مدعی‘ اور خود ہی مصنف بننے پر مُصر رہی‘ پاکستان کے بیانے نے دنیا بھر کو اپنی طرف متوجہ کیا اور اپنی اصابت کا قائل کر لیا۔ جنگ کے بعد امریکی صدر ٹرمپ سے جس طرح معاملہ کیا گیا اس نے بھی پاکستان کو نئی توانائی دی۔ غزہ کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے لیے ادا کیے جانے والے کردار نے بھی ہماری قیادت کی صلاحیت کو منوایا۔ سعودی عرب سے پاکستان کے دفاعی معاہدے نے پاکستان کے دائرہ کار کو نئی جہت سے آگے بڑھایا۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ساتھ وزیراعظم نے مثالی تعلقات برقرار رکھے۔ دونوں ایک دوسرے کا احترام کرتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں اور پاکستان کو نئی رفعتوں سے آشنا کر رہے ہیں۔پاکستان کی تاریخ فوجی اور سول قیادت کے درمیان کشمکش اور اس کے منفی اثرات سے بھری ہوئی ہے لیکن وزیراعظم شہباز شریف نے اپنی ذات کو اپنی نگاہ سے جس طرح اوجھل کر رکھا ہے‘ اس نے پاکستانی سیاست کو نیا رخ دے دیا ہے۔ پاکستان طاقتور فوج کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا اور طاقتور سیاسی اداروں کے بغیر بھی زندگی کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ سیاسی اور فوجی قیادت نے ایک دوسرے سے الجھ کر بہت نقصان اٹھایا اور پہنچایا ہے۔ اب ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر پیش قدمی کی جا رہی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اپنی حکمت عملی پر اپنے رب کے حضور شکر گزار تھے اور ان کے سامعین بھی حروفِ تحسین پیش کرنے میں بخل سے کام نہیں لے رہے تھے۔ برادرم سلمان غنی اور عزیزان عمر شامی اور عثمان شامی کے ساتھ گھنٹہ بھر جاری رہنے والی ملاقات کے دوران مستقبل نکھر کر سامنے آ رہا تھا۔ پاکستان کو معاشی طاقت بنانے اور پاکستانی عوام کو آسانیاں فراہم کرنے‘ ان کے اندر الجھاؤ کم کرنے اور حریفانِ سیاست کے ساتھ فراخدلانہ معاملہ سازی کے عزم میں سب برابر کے شریک رہیں تو پاکستان کو آگے بڑھنے سے کوئی روک نہیں سکتا۔ شہباز کی پرواز نئے آسمانوں کو چھو سکتی ہے۔(یہ کالم روزنامہ &#39;&#39;پاکستان‘‘ اور روزنامہ &#39;&#39;دنیا‘‘ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_37052987.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ابراہیمی معاہدہ، افواہیں اور حقائق(رشید صافی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-05-31/52035/17661158</link><pubDate>Sun, 31 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasheed-safi-/2026-05-31/52035/17661158</guid><description>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی یہ دیرینہ اور شدید خواہش ہے کہ مسلم اکثریتی ممالک اسرائیل کے ساتھ اپنے سفارتی اور تجارتی تعلقات کو استوار کر کے ابراہیمی معاہدے پر دستخط کریں۔ عالمی منظرنامے پر اسرائیل کو تسلیم کرانے اور خطے میں ایک نئے سکیورٹی آرکیٹیکچر کی تشکیل کے لیے امریکی صدر ٹرمپ خود کو سفارتی ثالث کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں مشرقِ وسطیٰ کی دہائیوں پرانی خارجہ پالیسی کو تبدیل کرنے کے لیے ابراہیمی معاہدہ متعارف کرایا تھا جس میں انہیں کسی حد تک کامیابی بھی حاصل ہوئی۔ اس جانب پہلا قدم امریکہ نے خود ہی اٹھایا جب دسمبر 2017ء میں ڈونلڈ ٹرمپ نے یروشلم کو پر اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرتے ہوئے امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کا اعلان کیا۔ صدر ٹرمپ پُرامید تھے کہ ان کی دیکھا دیکھی دیگر ممالک بھی اس میں شامل ہوں گے۔ اسی سٹریٹجک نقطہ نظر سے ستمبر 2020ء میں وائٹ ہاؤس کے لان میں متحدہ عرب امارات اور بحرین نے اسرائیل کے ساتھ رسمی تعلقات قائم کرنے کے معاہدے پر دستخط کیے۔ بعد ازاں سوڈان اور مراکش بھی اس معاہدے کا حصہ بن گئے‘ تاہم مسلم اُمہ اور عرب دنیا اس حساس معاملے پر اب بھی واضح طور پر دو حصوں میں تقسیم نظر آتی ہے۔ جہاں کچھ ممالک نے معاشی اور دفاعی ترجیحات کے تحت اسرائیل کو تسلیم کیا وہاں دوسری جانب سعودی عرب‘ قطر اور کویت جیسے بااثر ممالک اپنے اصولی مؤقف پر قائم ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ اسرائیل کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعلقات کا قیام فلسطین اسرائیل تنازع کے مستقل‘ منصفانہ اور دو ریاستی حل سے مشروط ہے۔28فروری 2026ء کو جب امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے ایران پر جنگ مسلط کی گئی تو ایک بار پھر یہ افواہیں گردش کرنے لگیں کہ ایران تو محض بہانہ ہے‘ اصل کام اسرائیل کو مسلم ممالک سے تسلیم کرانا ہے۔ اس تاثر کو تقویت اس وقت ملی جب صدر ٹرمپ نے گزشتہ دنوں اپنی ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا کہ اس نہایت پیچیدہ گتھی کو سلجھانے کے لیے امریکہ کی جانب سے کی گئی تمام کوششوں کے بعد یہ ضروری ہونا چاہیے کہ کم از کم یہ تمام ممالک بیک وقت ابراہیمی معاہدے پر دستخط کر دیں۔ ٹرمپ نے پاکستان اور سعودی عرب کا بالخصوص نام لیا کیونکہ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ عالم اسلام میں سعودی عرب اور پاکستان کی حیثیت کیا ہے۔ صدر ٹرمپ مشرق وسطیٰ جنگ کے تناظر میں برملا کہہ رہے ہیں کہ یا تو سب کے لیے ایک عظیم معاہدہ ہو گا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہو گا۔ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ ٹرمپ کے &#39;&#39;عظیم معاہدے‘‘ سے مراد ابراہیمی معاہدہ ہے۔ امریکی صدرکی طرف سے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کا مطالبہ ایسے وقت پر آیا ہے جب پاکستان ایران امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے اور ایران اور امریکہ کے درمیان حتمی معاہدے کے لیے پاکستان کی کوششیں فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دیتی ہیں۔ عالمی میڈیا تو یہاں تک کہہ رہا ہے کہ فریقین کے درمیان اتفاق ہو چکا ہے۔ صدر ٹرمپ کا سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بیان اس کا بڑا ثبوت ہے جس میں ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہاں پھنسے جہازوں اور ان کے عملے کو اب اپنے گھروں کو واپسی کی تیاری کرنی چاہیے۔ امریکی صدر نے مزید لکھا کہ ایران بھی بدلے میں اس بات کو یقینی بنائے کہ آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک کی بلا تعطل روانی یقینی بنائی جائے اور وہاں کسی بھی قسم کا ٹول یا اضافی فیس وصول نہیں کی جائے گی۔ ایران اور امریکہ کے درمیان سب سے اہم ایشو افزودہ یورینیم کا ہے‘ اس ضمن میں مبینہ طور پر طے ہوا ہے کہ امریکہ‘ چین‘ ایران اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے تعاون سے اس نیوکلیئر ڈسٹ کو زمین سے نکال کر تلف کیا جائے گا‘ مگر ایرانی حکام اس بات کی تردید کرتے ہیں۔ توقع تھی کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جو پوسٹ کی ہے اس کا باقاعدہ طور پر اعلان بھی کریں گے کیونکہ سوشل میڈیا پر ان کی اگلی پوسٹ پہلی سے مختلف ہوتی ہے مگر تشویشناک امر یہ ہے کہ اس حوالے سے وائٹ ہاؤس میں ہونے والی اہم میٹنگ بغیر نتیجے کے ختم ہو گئی ہے اور صدر ٹرمپ نے ایران معاہدے پر حتمی فیصلہ مؤخر کر دیا ہے۔ اس سے قبل امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے سنگاپور میں منعقد ہونے والی بین الاقوامی سکیورٹی کانفرنس کے موقع پر کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو ہمارے پاس ایران کے خلاف کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ امریکی حکام کی جانب سے اس طرح کے بیانات خدشات کو جنم دیتے ہیں۔ اس تناظر میں یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ ایران امریکہ مذاکرات ایک قدم آگے بڑھتے ہیں تو فریقین کے تلخ بیانات کے باعث دو قدم پیچھے چلے جاتے ہیں۔مذاکرات میں جب کسی قسم کا تعطل آتا ہے تو پاکستان پھر سے حالات کو معمول پر لانے کیلئے کوششیں تیز کر دیتا ہے تاکہ خطے میں امن قائم ہو اور دنیا کو معاشی ناہمواری سے چھٹکارا حاصل ہو سکے لیکن جب امن عمل کے درمیان سے ابراہیمی معاہدہ برآمد ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں پاکستان پر بھی دباؤ بڑھتا ہے تو سوالات پیدا ہونا فطری عمل ہے۔ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ امریکہ کی طرف سے پاکستان کے لیے غیرمعمولی توجہ کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ امریکہ پاکستان کو ابراہیمی معاہدے میں شامل کرنا چاہتا ہے جبکہ بعض حلقے تو یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کے عوض پاکستان کو بڑی پیشکش کی گئی ہے جس کے تحت پاکستان کو عالمی قوتوں سے بہت کچھ حاصل ہو سکتا ہے۔ ان گردش کرتی افواہوں کے ضمن میں ضروری تھا کہ ابراہیمی معاہدے سے متعلق حکومتی سطح پر وضاحت کی جاتی سو نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے پاکستان کے ابراہمی معاہدے میں شمولیت سے متعلق گردش کرنے والی افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے کہہ دیا ہے کہ اس حوالے سے پاکستان کی پالیسی بالکل واضح اور غیر مبہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم کرنے یا ایسے کسی معاہدے کا حصہ بننے پر غور نہیں کر سکتا جب تک فلسطینی مسئلے کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں اور 1967ء سے قبل کی سرحدوں کے مطابق نہیں نکلتا اور القدس الشریف فلسطینی ریاست کا دارالحکومت نہیں بن جاتا۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار اس وقت امریکہ کے دورے پر ہیں۔ بالعموم ایسے اعلیٰ سطح دورے کے موقع پر اس طرح کے بیانات سے گریز کیا جاتا ہے اور پالیسی بیان اپنی سرزمین سے ہی دیا جاتا ہے مگر اندازہ کیجئے اسرائیل کے حوالے سے پاکستان کا دو ٹوک مؤقف کس قدر واضح اور غیر مبہم ہے کہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اسرائیل سے متعلق پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم بیان امریکہ میں دیا حالانکہ اسحاق ڈار کی اپنے امریکی ہم منصب مارکو روبیو سمیت امریکی حکام سے اعلیٰ سطح ملاقاتیں ہونی ہیں۔ اس کے باوجود پاکستان کی طرف سے ابراہیمی معاہدے سے متعلق دو ٹوک مؤقف سامنے آنا بہت اہمیت کا حامل ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/222_48272610.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>چاچا کرکٹ اور آلو(عمران یعقوب خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-05-31/52036/28105015</link><pubDate>Sun, 31 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-05-31/52036/28105015</guid><description>پاکستان کے مشہور چاچا کرکٹ رواں برس بلکہ اگلے ہفتے ریٹائر ہو رہے ہیں۔ لاہور میں پاکستان اور آسٹریلیا کے مابین ہونے والا تیسرا ون ڈے میچ آخری میچ ہو گا جو 77سالہ عبدالجلیل عرف چاچا کرکٹ اپنے ملک میں سٹیڈیم میں بیٹھ کر دیکھیں گے‘ اس کے بعد وہ کبھی کسی سٹیڈیم میں نظر نہیں آئیں گے۔ ہم سب نے دیکھ رکھا ہے کہ چاچا کرکٹ میچ کے دوران کس طرح شائقین اور پاکستانی کھلاڑیوں کے حوصلے بڑھاتے تھے۔ وہ اب تک پاکستان کرکٹ ٹیم کے 500میچز سٹیڈیم میں بیٹھ کر دیکھ چکے ہیں۔ 1999ء کے ورلڈ کرکٹ کپ کے دوران انگلینڈ میں پاکستان ٹیم کی بھرپور حمایت کے بعد انہیں عالمی شہرت ملی تھی۔ انہوں نے پاکستان کی کئی تاریخی فتوحات اپنی آنکھوں سے دیکھیں‘ جن میں جاوید میاں داد کا 1986ء میں بھارت کے خلاف میچ میں آخری گیند پر چھکا اور 2017ء کی چیمپئنز ٹرافی کا فائنل بھی شامل ہیں۔ وہ شارجہ کرکٹ سٹیڈیم میں پاکستانی ٹیم کے مستقل حمایتی کے طور پر مشہور ہوئے تھے۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کی یونیفارم کٹ سے ہم آہنگ سبز اور سفید لباس اور ٹوپی ان کی پہچان بن گئے اور وہ چاچا کرکٹ کہلائے جانے لگے۔ ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق چاچا کرکٹ نے پہلی بار 1968-69ء کے سیزن میں لاہور میں انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ میچ سٹیڈیم میں دیکھا تھا یعنی انہیں کرکٹ میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے 58برس ہو چکے ہیں۔ اس سارے عرصے میں انہوں نے کرکٹ کے میدان میں میچوں کے حوالے سے بہت سے Thick and Thins دیکھے لیکن کبھی دلبرداشتہ نہیں ہوئے‘ لیکن حالیہ برسوں میں قومی ٹیم کی ناقص کارکردگی نے انہیں مایوس کر کے رکھ دیا ہے۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کی ناقص کارکردگی سے تو پوری قوم مایوس ہے۔ چاچا کرکٹ تو ریٹائرڈ ہو جائیں گے‘ سوال یہ ہے کہ قوم کیا کرے‘ کدھر جائے؟آج جب میں یہ کالم لکھ رہا ہوں تو آلوؤں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ آلو دنیا کی اہم ترین غذائی فصلوں میں شمار ہوتا ہے اور چاول اور گندم کے بعد انسانی خوراک کے لیے سب سے بڑی فصل ہے۔ آلو دنیا کی اہم غذائی فصلوں میں شمار ہوتا ہے اور اس کی پیداوار تقریباً ہر براعظم میں کی جاتی ہے۔ آلو کاربوہائیڈریٹس‘ وٹامن سی اور معدنیات کا بہترین ذریعہ ہے‘ اسی لیے یہ کروڑوں لوگوں کی خوراک کا اہم حصہ ہے۔ ہم روٹی اور سالن کھاتے ہیں لیکن یورپ کے لوگوں کا دو وقت کا کھانا زیادہ تر اُبلے ہوئے آلوؤں پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس بارے میں تحقیق کرنا پڑے گی کہ مسلسل آلو کھانا متوازن خوراک کہلائے گی یا نہیں۔یہ ایک ایسی سبزی ہے جو ہر گھر میں پائی جاتی ہے اور ہر قسم کی سبزیوں کا حصہ بن کر لذت میں اضافہ کرتی ہے۔ بینگن‘ مٹر‘ پالک‘ گوبھی‘ شملہ مرچ‘ گوشت‘ انڈا غرض کون سی سبزی ہے اور کون سی کھانے کے طور پر استعمال ہونے والی چیز ہے جس میں آلو استعمال نہ ہوتے ہوں۔ یہ کہنا بھی شاید غلط نہ ہو گا کہ پاکستان میں آلو سب سے زیادہ سموسوں میں استعمال ہوتے ہیں۔ میرے خیال میں اگر آلو کو سبزیوں کا بے تاج بادشاہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ عالمی سطح پر اگر کسی سبزی کو عوامی مقبولیت کا ایوارڈ مل سکتا ہے تو یقینا آلو پہلے نمبر پر آئے گا۔ گویا آلو سبزیوں کی دنیا کا وہ حصہ ہے جو ہر پارٹی میں بلا دعوت پہنچ جاتا ہے اور سب سے زیادہ پسند بھی کیا جاتا ہے۔ اگر کچھ دوست سیاستدان برا نہ منائیں تو میں آلو کو ہر حکومت کا حصہ بن جانے والی شخصیتوں سے تشبیہ دینا چاہوں گا۔ یہ بھی ہر سالن میں گھس جاتا ہے۔ آلو کی سب سے بڑی خوبی اس کی برداشت ہے۔ اسے بھون لیں‘ ابال لیں‘ تل لیں یا کرش کر لیں یہ کبھی شکایت نہیں کرتا بلکہ اسی روپ میں ڈھل جاتا ہے جس روپ میں کوئی اسے کھانا پسند کرتا ہے۔ فرنچ فرائز کی شکل میں آلو بچوں کی پسندیدہ خوراک ہے۔ چپس کی صورت میں یہ سینما یا گھر میں فلم دیکھنے والوں کا ساتھی ہے کہ فلم بھی دیکھتے جاؤ اور چپس کے مزے بھی لیتے جاؤ۔ آلو کے پراٹھوں کا ناشتہ تو ہم سب نے کر رکھا ہے بلکہ مجھے یاد ہے کالج کے زمانے میں لیٹ نائٹ پڑھتے ہوئے جب اکتا جاتے تو اپنی اپنی موٹر سائیکل نکالتے اور رات کے دو بجے لاہور میں مزنگ چونگی پہنچ جاتے تھے جہاں کے آلو کے پراٹھے بہت مشہور ہیں اور یقین جانیں مزا آ جاتا تھا۔ یہ پراٹھے اب بھی اسی طرح ساری رات دستیاب ہوتے ہیں۔ کبھی لاہور آنا ہو تو آلو کے یہ پراٹھے ضرور کھائیے گا۔لوگ اکثر کہتے ہیں کہ آلو موٹا کرتا ہے مگر سبزی پکی ہو تو پلیٹ میں سب سے پہلے آلو ہی تلاش کرتے ہیں۔ یہ بالکل ویسا ہی ہے جیسے کوئی کہے کہ مجھے میٹھا پسند نہیں ہے اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے مٹھائی کی پوری پلیٹ صاف کر دے۔ کسی دن اگر دنیا سے آلو غائب ہو جائے تو تصور کیجیے کیا ہو گا؟ سموسے اداس ہو جائیں گے‘ چپس کی فیکٹریاں بند ہو جائیں گی اور پراٹھے اپنی شناخت کھو بیٹھیں گے۔ ریستورانوں کے مینو آدھے رہ جائیں گے اور بچوں کی خوشی بھی کم ہو جائے گی۔ آلو گوشت کا سالن آ جائے تو ہم سب سے پہلے آلو کا کچومر نکال کر شوربہ گاڑھا کرتے ہیں۔دنیا بھر میں آلو کی سالانہ پیداوار کم و بیش 39کروڑ ٹن ہے۔ Food and Agriculture Organization کے 2024ء کے اعداد و شمار کے مطابق عالمی پیداوار 390.4ملین ٹن رہی۔ سب سے زیادہ آلو پیدا کرنے والے ممالک میں چین تقریباً 94ملین ٹن‘ بھارت تقریباً 54ملین ٹن‘ یوکرین تقریباً 21ملین ٹن‘ امریکہ تقریباً 19ملین ٹن‘ روس 18ملین ٹن آلو ہر سال پیدا کرتا ہے۔ پاکستان بھی دنیا کے بڑے آلو پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے اور 2024ء میں اس کی پیداوار تقریباً 8.4ملین ٹن رہی۔ جدید زرعی ٹیکنالوجی‘ بہتر بیج اور مناسب آبپاشی آلو کی پیداوار بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ آلو سے چپس‘ فرائز اور دیگر غذائی مصنوعات تیار کی جاتی ہیں جس کی وجہ سے اس کی معاشی کے ساتھ ساتھ صنعتی اہمیت بھی بہت زیادہ ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ آلو کی عالمی طلب میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اب جبکہ دنیا غذائی قلت کے خطرے سے دوچار ہے تو آلو جیسی فصلوں کی پیداوار تیزی سے بڑھا کر اس خطرے سے نمٹا جا سکتا ہے۔ آج کے آلوؤں کے عالمی دن کا اس سے بڑا پیغام اور کیا ہو سکتا ہے۔آخر میں مشتاق احمد یوسفی کا آلو کے بارے میں بیان یاد آ رہا ہے: ہم نے چمک کر پوچھا &#39;&#39;اب کیا بات ہے؟‘‘ کہنے لگا &#39;&#39;کچھ نہیں‘ منیجر صاب ہنس رہے تھے‘ بولتے تھے کمرہ نمبر ایک کے ہاتھ بٹیر لگ گئی ہے!‘‘ ہم نے طنزاً اٹیچڈ تنور کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا &#39;&#39;تمہارے ہوٹل ہذا میں اور کون سا من و سلویٰ اترتا ہے؟‘‘ بولا &#39;&#39;حرام گوشت کے علاوہ دنیا بھر کی ڈش ملتی ہے‘ جو چاہیں آرڈر کریں جناب! آلو مٹر‘ آلو گوبھی‘ آلو میتھی‘ آلو گوشت‘ آلو مچھی‘ آلو بریانی‘ اور خدا تمہارا بھلا کرے آلو کوفتہ‘ آلو بڑیا‘ آلو سموسہ‘ آلو کا رائتہ‘ آلو کا بھرتا‘ آلو کیماں (قیمہ)‘‘ ہم نے روک کر پوچھا &#39;&#39;اور سویٹ ڈش؟‘‘ بولا &#39;&#39;آلو کی کھیر‘‘۔ ہم نے کہا &#39;&#39;بھلے آدمی! تم نے تو آلو کا پہاڑہ سنا دیا۔ تمہارے ہوٹل میں کوئی ایسی ڈش بھی ہے جس میں آلو کا نام نہ آئے۔ فاتحانہ تبسم کے ساتھ فرمایا &#39;&#39;کیوں نہیں! پوٹیٹو کٹلٹ! حاضر کروں جناب؟‘‘آلوؤں کے عالمی دن کے موقع پر آلوؤں کو اس سے زیادہ کیا خراجِ تحسین پیش کیا جا سکتا ہے؟</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_58350786.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بلوچستان اگلا ہدف ہو گا؟(محمد عبداللہ حمید گل)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-abdullah-hameed-gull/2026-05-31/52037/46621092</link><pubDate>Sun, 31 May 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-abdullah-hameed-gull/2026-05-31/52037/46621092</guid><description>24مئی کو بلوچستان کو ایک بار پھر خون میں نہلا دیا گیا۔ عید الاضحی سے قبل معصوم لوگ اپنے پیاروں کو ملنے اپنے گھروں کو جا رہے تھے کہ فتنہ الہندوستان نے کوئٹہ میں شٹل ٹرین پر خود کش حملہ کر دیا جس میں خواتین‘ بچوں اور بزرگوں کی ایک بڑی تعداد شہید ہوئی۔ ان شہدا میں فرنٹیئر کور کے پانچ جوان بھی شامل تھے جنہوں نے فرض کی ادائیگی کے دوران وطن پر اپنی جان نچھاور کر دی۔ یہ جو دہشت گرد بے گناہ خواتین‘ بچوں‘ بزرگوں کو بم دھماکوں کا نشانہ بنا رہے ہیں ان کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ان سے کوئی پوچھے کہ کیا آزادی کی جنگ خواتین اور بچوں کو قتل کر کے لڑی جاتی ہے؟ یہ فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد نہ انسان ہیں‘ نہ ہی سچے بلوچ اور نہ ہی ان کا اسلام سے کوئی تعلق ہے۔ جن لوگوں کو یہ مار رہے ہیں وہ نہتے مسافر بزرگ‘ بچے اور خواتین ہیں۔ ان کا جرم کیا تھا؟ یہ بلوچستان کے وسائل لوٹ رہے تھے نہ ہی بی ایل اے کے خلاف لڑ رہے تھے پھر انہیں کیوں قتل کیا گیا؟ سوال یہ ہے کہ اس حملے کا ماسٹر مائنڈ کون ہے؟ خودکش حملے میں ملوث ایک دہشت گرد کا تعلق مسنگ پرسنز سے ہے جس کی تصویر کو بلوچ یکجہتی کمیٹی نے لاپتہ افراد میں شامل کر رکھا تھا تا کہ ریاست کے جبر کے بیانیے کو تشکیل دیا جا سکے۔ بی ایل اے خود ساختہ مظلومیت کے بیانیے کا استعمال کرتے ہوئے بلوچستان کی نمائندگی کا دعویٰ کرتی اور عام لوگوں کا خون بہاتی ہے۔دنیا بھر میں دہشت گرد تنظیمیں اپنے وجود‘ فنڈنگ اور جرائم کو جائز ثابت کرنے کے لیے خود کو کسی قوم یا نسل کا نمائندہ ظاہر کرتی ہیں۔ بی ایل اے بھی خود کو بلوچ قوم کا نمائندہ قرار دیتی ہے کیونکہ اس کے کچھ ارکان بلوچ خاندانوں میں پیدا ہوئے۔ لیکن کسی خاص نسل سے تعلق رکھنے کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی مسلح یا دہشت گرد پوری قوم کا نمائندہ ہے۔ بی ایل اے کے دہشت گرد نسلی طور پر بلوچ ہو سکتے ہیں مگر ان کا ایجنڈا اور طریقہ کار بلوچ عوام کی اکثریت نے منتخب نہیں کیا کیونکہ نمائندگی عوامی تائید اور شعوری رضا مندی سے ملتی ہے‘ کیا بلوچ عوام نے کبھی ریفرنڈم یا جرگے کے ذریعے بی ایل اے کو اختیار دیا ہے کہ وہ چند ہزار مسلح افراد کو دو کروڑ بلوچ عوام پر مسلط کر دیں؟ کیا بلوچ عوام نے انہیں مزدوروں‘ تاجروں اور مسافروں کو قتل کرنے کا کہا ہے؟ ہرگز نہیں! بلوچ عوام ملک کے آئین کے تحت انتخابات میں حصہ لیتے ہیں‘ ووٹ کاسٹ کرتے ہیں اور پارلیمنٹ کا حصہ بنتے ہیں۔ انہیں بی ایل اے غدار قرار دے کر قتل کرتی ہے۔ اسی طرح بی ایل اے تشدد کے ذریعے بلوچ عوام کی اکثریتی سیاسی رائے کو مسترد کرتی ہے۔ بی ایل اے ان محب وطن بلوچ رہنماؤں‘ قبائلی عمائدین اور سیاسی رہنماؤں کو نشانہ بناتی ہے جو آئینی دائرے میں رہتے ہوئے بلوچ حقوق کی بات کرتے ہیں۔ ماضی میں بھی بی ایل اے نے کوئٹہ‘ مستونگ اور تربت جیسے علاقوں میں عوامی مقامات‘ بسوں اور ریلوے سٹیشنوں پر حملوں کی ذمہ داری قبول کی‘ جن سے بے شمار بلوچ خاندان متاثر ہوئے اور تباہ ہو گئے۔ بلوچستان پولیس لیویز اور فرنٹیئر کور میں بڑی تعداد بلوچ نوجوانوں کی ہے۔ بی ایل اے نے سینکڑوں بلوچ اہلکاروں کو ڈیوٹی کے دوران یا چھٹی پر گھر جاتے ہوئے نشانہ بنایا۔ جو تنظیم اپنے لوگوں کے حقوق کے لیے جدوجہد کرتی ہے وہ اپنی حکمت عملی بیرونی ممالک اور خفیہ ایجنسیوں کی فنڈنگ اور ہدایات پر نہیں بناتی۔گوادر پورٹ اور سی پیک جیسے منصوبوں پر حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ بی ایل اے کا مقصد بلوچ عوام کی خوشحالی نہیں بلکہ بلوچستان کی معیشت اور ترقی کو نقصان پہنچانا ہے۔ بی ایل اے کی دہشت گردی کا سب سے بڑا شکار غریب لوگ بنتے ہیں‘ مزدور اور چھوٹے تاجر جو پنجاب‘ سندھ اور دیگر علاقوں سے آ کر بلوچستان کی معیشت میں کردار ادا کر رہے ہیں۔ بی ایل اے جان بوجھ کر بلوچستان کے ترقیاتی ڈھانچے کو نیست و نابود کر رہی ہے‘ گیس پائپ لائنیں اڑانا‘ بجلی کے ٹاور تباہ کرنا اور سول انفراسٹرکچر کی تباہی اسی مذموم سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ کیونکہ جب شہری تعمیر و ترقی کا ڈھانچہ تباہ کر دیا جائے اور صنعتیں بھی نہ لگیں تو بلوچ نوجوان بے روزگار رہیں گے۔ بی ایل اے چاہتی ہے کہ بلوچ محرومی اور غربت میں مبتلا رہیں تاکہ مایوسی انہیں شدت پسندی کی طرف دھکیلتی رہے۔ اگر بلوچستان میں دہشت گردی ختم ہو جائے تو سرمایہ کار آئیں گے‘ جدید تعمیرات ہوں گی‘ ہسپتال اور سکول بنیں گے۔ گوادر ایک نیا دبئی بن سکتا ہے اور مقامی آبادی خوشحال ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر بلوچستان کی تعمیر کے لیے آنے والوں کو ہی قتل کر دیا جائے‘ خودکش حملوں میں مار دیا جائے تو پھر کون سکول‘ ہسپتال اور کالج بنائے گا؟حال ہی میں خودکش حملہ آور بلال شاہوانی کا نام بی وائی سی کے لاپتہ افراد کی فرست میں درج تھا۔ یہی دہشت گرد لاپتہ فرد بعد میں کوئٹہ دھماکے میں معصوم شہریوں کا قاتل نکلا۔ ایک رپورٹ کے مطابق چند ماہ قبل دہشت گرد بلال کے والد نے اس سے لاتعلقی کا اعلان کیا تھا۔ اس کے باوجود کچھ بلوچ دہشت گردوں کی ہمدردی میں آوازیں اٹھاتے ہیں اور ان سے مذاکرات کی بات کرتے ہیں۔ انہیں بتایا جائے کہ یہ حقوق کی آزادی کی جدو جہد نہیں بلکہ کھلی دہشت گردی ہے۔ یہ دہشت گرد تھے‘ ہیں اور رہیں گے۔اس میں بھی کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ وطنِ عزیز میں ہونے والی دہشت گردی میں بیرونی ہاتھ ملوث ہے۔ 2000ء میں ایک خلیجی عرب ریاست نے بی ایل اے کی مالی معاونت کی۔ بی ایل اے کا سٹار لنک اور ٹیلی کمیونی کیشن کا سامان بھی اسی ملک سے سمگل کیا جاتا ہے۔ چا بہار بندرگاہ کو پاکستان مخالف دہشت گرد گروہوں تک اسلحہ پہنچانے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا اور یہی جگہ بھارتی خفیہ ایجنٹ کلبھوشن یادو کی سرگرمیوں کا مرکز بھی رہی۔ حالیہ سفارتی و عسکری کامیابیوں کے تناظر میں خودکش حملوں میں بھارت‘ افغانستان اور اسرائیل کا گٹھ جوڑ بے نقاب ہو چکا ہے اور مقامی حلقے اب بھی ان دہشت گردوں سے ہمدردی رکھتے اور انہیں پناہ دیتے ہیں۔ حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایسی وڈیوز گردش کر رہی ہیں جن میں بلوچ خواتین کو بلوچستان کے ایک پہاڑی علاقے میں‘ جو افغان سرحد کے قریب واقع ہے‘ اسلحہ کی تربیت لیتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ وہ اسرائیلی طرز کی وردیاں پہنے جدید ہتھیار استعمال کر رہی ہیں۔ ان خواتین‘ جن میں ماہ رنگ بلوچ‘ سمی بلوچ اور بیبو بلوچ شامل ہیں‘ کو بلوچستان میں حقوق اور محرومی کے بیانیے کے پسِ پردہ موجود اصل چہرے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر اس دہشت گردی کا سد باب کیسے ہو گا؟ ضروری ہے کہ ایسا قانون بنایا جائے جس کے تحت دہشت گردی یا اس کی معاونت میں ملوث افراد کے اثاثے اور بینک اکاؤنٹس ضبط کر لیے جائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر دہشت گردی کی حمایت یا تشہیر کرنے والوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔ فتنہ الخوارج ایک منظم دہشت گرد نیٹ ورک ہے جو مذہب کا استعمال کر کے تشدد‘ خوف اور انتشار پھیلا رہا ہے۔ ان گروہوں نے سکولوں‘ ہسپتالوں‘ سڑکوں اور سول انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا تاکہ ریاست کو غیرمستحکم کیا جا سکے۔ پیغام پاکستان کے تحت 1800 سے زائد علما نے ان دہشت گرد گروہوں کے نظریات اور کارروائیوں کو غیر اسلامی قرار دیا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ بلوچستان کو بیرونی طاقتوں اور جغرافیائی سیاسی کھیلوں کا میدان نہ بننے دیا جائے۔ یہ قومی اتحاد اور پاکستا نیوں کی بیداری کا وقت ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_62843609.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>