<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>گرینڈ ڈائیلاگ کی ضرورت(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-22/11475</link><pubDate>Sat, 22 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-22/11475</guid><description>بلوچستان نیشنل ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ بلوچستان کو درپیش مسائل کا حل ڈائیلاگ کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔ اس میں دو رائے نہیں کہ بلوچستان کا مسئلہ محض امن وامان کا مسئلہ نہیں یہ سیاسی‘ معاشی‘ انتظامی اور سماجی محرومیوں کا ملغوبہ ہے۔ اس لیے پائیدار امن کیلئے مکالمہ‘ سیاسی مفاہمت اور ترقی بہترین لائحہ عمل ہو سکتی ہے۔ اس تناظر میں وزیراعظم اور چیف آف ڈیفنس فورسز کی بلوچستان کی اہم شخصیات اور سیاسی قیادت سے ہونے والی ملاقات بہت اہمیت کی حامل ہے۔ اس دوران چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ بلوچستان اور پاکستان کا حال اور مستقبل ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے اور ہمیشہ جڑا رہے گا۔ بلوچستان پاکستان کا جغرافیائی طور پر سب سے بڑا اور قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ ہے جس کی اہمیت غیر معمولی ہے‘ مگر یہ باعثِ تشویش امر ہے کہ یہ صوبہ ترقی میں باقی تینوں وفاقی اکائیوں سے پیچھے ہے۔ بلوچستان کے کئی علاقوں میں بنیادی سہولتوں‘ تعلیم‘ صحت‘ روزگار اور معاشی مواقع کی کمی ایک تلخ حقیقت ہے۔ بلوچستان میں بدامنی کے پیچھے ان محرومیوں کا بڑا کردار ہے۔ طویل عرصے تک جاری رہنے والی محرومی‘ سیاسی بے اعتمادی اور ترقی کے فقدان سے نوجوانوں میں مایوسی پیدا ہوتی ہے جسے ملک دشمن عناصر اپنے ناپاک عزائم کیلئے استعمال کرتے ہیں۔

اس لیے شدت پسندی کے خلاف کارروائیوں کے ساتھ ان بنیادی وجوہات کا ازالہ کرنا بھی ضروری ہو گا جو انتہا پسندی کیلئے سازگار ماحول پیدا کرتی ہیں۔ یہ خوش آئند بات ہے کہ حکومت میں اعلیٰ سطح پر اس صورتحال کا احساس کیا جا رہا ہے کہ بلوچستان کے مسائل صرف طاقت سے حل نہیں کیے جا سکتے۔ ریاست کو جہاں مسلح گروہوں کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے وہیں ناراض سیاسی اور سماجی طبقات سے بات چیت کے دروازے بھی کھلے رکھنے چاہئیں۔ ماضی میں بھی بلوچستان کے مسئلے کے حل کیلئے سیاسی ڈائیلاگ‘ گرینڈ جرگے اور قومی سطح پر مفاہمت کی تجاویز سامنے آتی رہی ہیں مگر عملی پیش رفت محدود رہی۔ اب ایسے اقدامات ہونے چاہئیں جو پائیدار امن کی نوید ثابت ہوں۔ ناراض دھڑے‘ قبائلی عمائدین اور وہ نوجوان جو تشدد کے بجائے سیاسی راستہ اختیار کرنا چاہتے ہیں انہیں قومی دھارے میں آنے کا موقع ملنا چاہیے‘ مگر اس کے ساتھ بلوچستان میں پسماندگی کا خاتمہ از بس ناگزیر ہے۔ یاد رہے کہ چند قبائلی سرداروں یا سیاسی وڈیروں کو نواز دینے سے بلوچستان کے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ بلوچستان میں ترقی کے مساوی اور نتیجہ خیز مواقع فراہم کرنے اور پائیدار امن کیلئے ضروری ہے کہ ریاست اور بلوچستان کے عوام میں فاصلے کم ہوں اور ریاست بلوچ عوام کے دل کی آواز کو بلا واسطہ سنے اور ان کی ضروریات کا احساس کرے۔ تعلیم‘ صحت‘ صاف پانی‘ سڑکیں‘ بجلی‘ روزگار اور مقامی معیشت میں سرمایہ کاری محض ترقیاتی منصوبے نہیں بلکہ امن کی سرمایہ کاری ہیں۔
بلوچ نوجوانوں کو تعلیم وتربیت اور روزگار کے مواقع سے آراستہ اور جدید وسائل سے بہرہ ور کرنا ہو گا۔ پائیدار امن کے قیام کی یہ ایک ایسی صورت ہے جس میں دشمن کے ارادے نقب نہیں لگا سکتے۔ قدرتی وسائل سے حاصل ہونے والے فوائد میں مقامی آبادی کا منصفانہ حصہ اور فیصلہ سازی میں شمولیت ضروری ہے تاکہ پاکستان کے دشمن ان کی محرومیوں کا استحصال نہ کر سکیں۔ بلوچستان کے مسئلے کے پائیدار حل کیلئے ریاستی رِٹ‘ سیاسی مکالمہ‘ معاشی انصاف‘ آئینی حقوق اور مقامی شمولیت کی اشد ضرورت ہے۔ اگر حکومت ’گرینڈ ڈائیلاگ‘ کے تصور کو مستقل‘ سنجیدہ اور نتیجہ خیز سیاسی عمل میں تبدیل کر سکے تو یہ بلوچستان ہی نہیں ملک بھر کیلئے بڑی مستحسن بات ہو گی کیونکہ بلوچستان کا امن پاکستان کا امن ہے اور بلوچستان کی خوشحالی پاکستان کی خوشحالی۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>معاشی چیلنجز(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-22/11474</link><pubDate>Sat, 22 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-22/11474</guid><description>سٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے مہینے (جولائی) میں ملک کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 32کروڑ آٹھ لاکھ ڈالر رہا۔دوسری جانب براہِ راست بیرونی سرمایہ کاری بھی مسلسل تنزلی کا شکار ہے۔رواں مالی سال کے پہلے مہینے میں بیرونی سرمایہ کاری 17کروڑ 86لاکھ ڈالر رہی‘ جبکہ جولائی 2025ء میں یہ 22کروڑ35لاکھ ڈالر تھی‘ یعنی سرمایہ کاری میں سالانہ بنیاد پر تقریباً 20 فیصد کمی آئی۔ کرنٹ اکاؤنٹ کو سرپلس میں تبدیل کرنے اور زرِمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے کیلئے حکومت کو برآمدات کے فروغ کو اپنی معاشی پالیسی کا محور بنانا ہو گا جبکہ سرمایہ کاری میں اضافے کیلئے حکومت کو پالیسیوں کا تسلسل‘ سادہ ٹیکس نظام‘ کاروباری لاگت میں کمی‘ سستی توانائی کی فراہمی‘ منافع اور سرمایہ واپس لے جانے میں آسانی‘ معاہدوں کا مؤثر نفاذ اور سرکاری اداروں میں اصلاحات کے ذریعے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنا ہو گا۔

برآمدات میں اضافے کیلئے صنعتی شعبے کو سستی اور بلاتعطل توانائی‘ کسانوں کو سستے اور معیاری زرعی مداخل اور برآمد کنندگان کو مناسب سہولتوں کی فراہمی‘ نئی منڈیوں تک رسائی اور ویلیو ایڈیشن پر توجہ ضروری ہے۔ صرف ترسیلاتِ زر یا قرضوں کے ذریعے بیرونی کھاتے کو مستقل بنیادوں پر متوازن نہیں رکھا جا سکتا۔ پائیدار معاشی استحکام کیلئے برآمدی آمدنی‘ بیرونی سرمایہ کاری اور پیداواری صلاحیت میں بیک وقت اضافہ ضروری ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مزید مہنگائی(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-22/11473</link><pubDate>Sat, 22 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-22/11473</guid><description>وفاقی ادارۂ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ہفتے کے دوران 23 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہونے سے ہفتہ وار مہنگائی کی شرح 9.66فیصد تک پہنچ گئی۔ رپورٹ کے مطابق پیاز کی قیمت میں سالانہ بنیادوں پر 132فیصد‘ ٹماٹر 93‘ آٹا 62‘ ایل پی جی 51‘ ڈیزل 33‘ پٹرول 27 اور بجلی کی قیمت میں تقریباً 23فیصد اضافہ ہوا جبکہ دال چنا‘ لہسن‘ چائے‘ دودھ اور بعض دوسری ضروری اشیا کی قیمتیں بھی بڑھیں۔ اشیائے ضروریہ‘ پٹرولیم مصنوعات‘ بجلی اور گیس کے نرخوں میں مسلسل اضافے نے عوام کا جینا محال کر رکھا ہے۔ توانائی مہنگی ہوتی ہے تو اس کے اثرات صرف بجلی یا ایندھن کے بل تک محدود نہیں رہتے بلکہ نقل و حمل‘ زراعت‘ صنعت‘ تجارت اور بالآخر ہر شے کی پیداواری اور ترسیلی لاگت بڑھ جاتی ہے۔

مہنگائی سے نمٹنے کی ذمہ داری صرف منافع خوری‘ ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی قلت کے خلاف کارروائیوں تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ یہ اقدامات اپنی جگہ مگر دیرپا حل کیلئے پیداوار اور پیداواری صلاحیت بڑھانا‘ زرعی اجناس کی سپلائی چین بہتر بنانا‘ درآمدی انحصار کم کرنا‘ توانائی کی لاگت گھٹانا اور ٹیکس و ڈیوٹی کے ایسے ڈھانچے پر نظرثانی ضروری ہے جو اشیائے ضروریہ کی قیمت بڑھانے کا باعث بنتا ہے۔ اس کے ساتھ روزگار کے مواقع اور کمزور معاشی سکت کے حامل طبقات کی آمدن بڑھانے پر بھی توجہ مرکوز کرنا ہو گی۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>لیڈر؛ دیوتا یا انسان(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-08-22/52526/31297040</link><pubDate>Sat, 22 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-08-22/52526/31297040</guid><description>انسان کے بارے میں جو بات غالب نے کہی‘ وہی درست ہے۔کیوں گردشِ مدام سے گھبرا نہ جائے دلانسان ہوں پیالہ و ساغر نہیں ہوں میںیہ عامی ہو یا لیڈر‘ حالات سے اثر قبول کرتا ہے۔ اسے سردی لگتی ہے اور گرمی بھی۔ بہادر ہو گا تو اس کی شکایت نہیں کرے گا۔ وہ صابر ہو گا۔ صبر کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آدمی موسمی اثرات سے بے نیاز ہو جائے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ اس کے جسم اور جاں پر اس کے اثرات مرتب نہ ہوں۔ پیغمبر جو انسانوں میں سے خدا کی مشیت کے سب سے بڑے راز دار ہوتے ہیں‘ ان کی آنکھوں میں نمی اتر آتی ہے جب کوئی پیارا جدا ہو۔ سیدنا یعقوب علیہ السلام کا گریہ تو اب مذہبی نہیں‘ غیر مذہبی ادب میں بھی استعارہ بن چکا ہے۔عام انسانوں کا مزاج مگر یہ ہے کہ وہ جب کسی کی پوجا شروع کر دیں یا کسی کی عقیدت میں مبتلا ہو جائیں تو اسے مافوق البشر ثابت کرنے پر تل جاتے ہیں۔ ان میں اپنی عقیدت سے ایسے اوصاف پیدا کر دیتے ہیں جو انہیں انسانی دائرے سے نکال کر مابعد الطبیعیاتی دائرے میں لا کھڑا کر دیتے ہیں۔ وہ اسے دیوتا سمجھنے لگتے ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ کوئی انسان دیوتا نہیں ہوتا۔ یہ انسان ہیں جو انہیں یہ منصب عطا کرتے ہیں۔ دیکھیے حمایت علی شاعر نے ایک ثلاثی میں کیسے یہ مضمون باندھا ہے: یہ ایک پتھر ہے جو راستے میں پڑا ہوا ہےاسے محبت تراش لے تو یہی صنم ہےاسے عقیدت نواز دے تو یہی خدا ہےعمران خان انسان ہیں۔ انہوں نے ایک آسودہ زندگی گزاری ہے۔ تاہم ایک کھلاڑی ہونے کے ناتے وہ عام آدمی کی نسبت سردی گرمی برداشت کرنے کی زیادہ صلاحیت رکھتے ہیں۔ کھلاڑیوں کو ہم دیکھتے ہیں کہ تپتی دھوپ میں میدان میں کھڑے ہوتے ہیں‘ جو عام آدمی کے لیے شاید ممکن نہ ہو۔ تاہم کھلاڑی کی بھی اپنی حدود ہیں۔ ہم کرکٹ گراؤنڈ میں دیکھتے ہیں کہ کھلاڑی چہرے پر رنگ برنگی کریم لگا لیتے ہیں۔ یہ خود کو دھوپ کی حدت سے بچانے کی کوشش ہوتی ہے۔ کھلاڑی کی جلد بھی دھوپ سے اثر قبول کرتی ہے۔ عمران خان صاحب کی بھی تحدیدات ہیں۔ وہ بھی سردی گرمی کے اثرات محسوس کرتے ہیں۔ اپنوں کی جدائی‘ تنہائی‘ بے بسی اور لاچاری‘ یہ سب عوامل اثر ڈالتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں اگر ان کا جسم یا ان کی روح احتجاج کرتی ہے تو اس پر خوش نہیں ہونا چاہیے۔ اس کا تعلق انسان کے مجرم یا معصوم ہونے سے بھی نہیں۔ جو انسان ہوگا‘ وہ سردی گرمی کے احساس سے عاری نہیں ہو گا۔ اس کا جسم اس کی گواہی دے گا اور اس کی نفسیات بھی۔قید تنہائی ایک سزا ہے۔ ابوالکلام آزاد جیسے چند ہی ہوتے ہیں جو تنہائی کو عیاشی سمجھتے ہیں۔ انسان دوسرے انسانوں کو دیکھنا اور ان سے ہم کلام ہونا چاہتا ہے۔ تنہائی کے غیر معمولی اثرات انسانی نفسیات پر مرتب ہوتے ہیں۔ ہم نفسوں سے محرومی اور دوری شخصیت کو برباد کر دیتی ہے۔ اس بات کو ریاست بھی محسوس کرتی ہے اور مذہب بھی۔ اس وجہ سے ہمارے ہاں قیدیوں کے بارے میں یہ قانون بنایا گیا ہے کہ ان کو اپنے زوج سے ملنے کی اجازت ہو اور ریاست اس کی سہولت فراہم کرے۔ سزا اس لیے نہیں ہوتی کہ انسان مریض بن جائے۔ وہ اس لیے ہوتی ہے کہ اس میں بہتری آئے۔عمران خان کے بارے میں عوام افراط وتفریط میں مبتلا ہیں۔ بہت سے لوگ انہیں &#39;دیوتا‘ سمجھتے ہیں۔ وہی ہیں جو ڈٹ کے کھڑا ہیں‘ کپتان کا نعرہ بلند کرتے ہیں۔ ہر سیاسی ڈیل کو رد کرتے ہیں اور ان کی طرف ایسی ہر بات کا انتساب قبول نہیں کرتے جو انسانی جذبات سے تعلق رکھتی ہے۔ جس سے ان کا عام انسان ہونا ثابت ہوتا ہے۔ &#39;دیوتا‘ ابتدا میں اپنی اس شہرت سے خوش ہوتا ہے لیکن جلد ہی ایسا وقت آ جاتا ہے کہ اس کے انسانی جذبات اس کو بے چین کرتے ہیں۔ اسے گرمی کی شدت ستاتی ہے۔ اسے سردی بھی لگتی ہے۔ دیوتا کا یہ خود تراشیدہ سراپا تقاضا کرتا ہے کہ وہ سردی کا اظہار کرے نہ گرمی کا۔ اب اس کے وجود کے اندر انسان اور دیوتا کی کشمکش شروع ہو جاتی ہے۔ یہ اگر زیادہ عرصہ جاری رہے تو انسان کو ذہنی مریض بنا دیتی ہے۔مخالفین کا معاملہ بھی اسی طرح غیر فطری ہوتا ہے۔ اگر لیڈر انسان بن کر سوچے تو وہ اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اگر وہ بیوی بچوں سے محبت کا اظہار کرے‘ اگر وہ جیل کی تنہائیوں سے نجات حاصل کرنا چاہے تو وہ اسے استہزا کا موضوع بنا لیتے ہیں۔ اس کے انسانی جذبات کی توہین کرتے اور اسے کمزور ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ دوسری طرف‘ اگر ان کا اپنا لیڈر ایسی حرکت کا مرتکب ہو تو اس کی تاویل کرتے ہیں‘ اس کا دفاع کرتے ہیں۔ اگر وہ ذہنی کیفیت سے نکل کر اس معاملے کو سمجھیں تو انہیں اندازہ ہو کہ ان کا لیڈر ہو یا کسی اور کا‘ وہ ہے تو انسان۔ اسے کسی عزیز کے مرنے کا دکھ ہو تا ہے۔ اس میں بھی بچوں سے ملنے کی خواہش ہوتی ہے۔ وہ بھی آزاد فضاؤں میں جینا چاہتا ہے۔ اگر اس معاملے کو انسانی بنیادوں پر دیکھا جائے تو شاید ہمارے رویوں میں وہ افراط وتفریط پیدا نہ ہو جس کا ہم مظاہرہ کر رہے ہیں۔اگر اس حوالے سے کوئی بات اہم ہے تو وہ کسی اصول پر سمجھوتا نہ کرنا ہے۔ آزادی اور بچوں سے ملنے کے لیے اگر اسے کسی اصول کی قربانی دینا پڑے تو وہ آزادی کو کھونا تو گوارا کرے مگر بے اصولی کو قبول نہ کرے۔ اس باب میں سیدنا یوسف علیہ السلام کی مثال ہمارے سامنے ہے‘ جو آزادی پر جیل کی تنہائیوں کو ترجیح دیتے ہیں۔ رہا یہ اقتدار کا کھیل تو یہ انسانوں کے مابین کھیلا جاتا ہے۔ وہ انسان جو نہ دیوتا ہیں اور نہ ہی اصول کی کوئی جنگ لڑ رہے ہیں۔ جس نے اصول کی لڑائی لڑنی ہوتی ہے‘ وہ اقتدار کی کشمکش میں فریق نہیں بنتا۔ پاکستان کی تاریخ اس سے بھری ہے۔ مذہبی جماعتوں نے اقتدار کی سیاست کی تو ہم نے انہیں اسمبلی کی نشستوں پر لین دین کرتے دیکھا۔ کچھ دے اور کچھ لے کو بطور اصول اپناتے ہوئے دیکھا۔ ریاستی اداروں اور قوتوں سے سازباز کرتے دیکھا۔ اس میں کوئی استثنا پاکستان کی سیاست میں موجود نہیں۔ اقتدار کی سیاست‘ رخصت کی سیاست ہے‘ عزیمت کی نہیں۔ بعض نرگسیت زدہ لوگوں کو جب ہم کھڑا دیکھتے ہیں تو اس کی وجہ اصول نہیں‘ ان کی فطری ساخت ہے۔ یہ انا کی جنگ ہوتی ہے جسے یہ دکھاوے کے لیے اصول کی جنگ بنا دیتے ہیں۔اگر لوگ سیاسی جماعتوں کے قائدین کو دیوتا سمجھنے کے بجائے‘ انسان مان لیں تو انہیں اندازہ ہو جائے کہ ان سے منسوب کتنی کہانیاں محض افسانے ہیں۔ یہ سب ڈیل کرتے ہیں اور اقتدار کی سیاست میں یہ کوئی معیوب بات نہیں۔ یہ بیمار ہوتے ہیں اور انہیں علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر یہ جیل میں علاج کے لیے حکومت سے اپیل کرتے ہیں تو یہ بات انسانی وقار سے متصادم نہیں۔ حکومتوں کو بھی چاہیے کہ وہ انسانی جذبات اور سیاست کو الگ رکھیں۔ عمران خان کو علاج کی ضرورت ہے تو ان کا علاج ہونا چاہیے۔ اس بات کا تعلق سیاست سے نہیں‘ اخلاقیات سے ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بہ مرگ بگیر تا بہ تب راضی شود(خالد مسعود خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-08-22/52527/92821365</link><pubDate>Sat, 22 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-08-22/52527/92821365</guid><description>میں لاہور میں اپنے ایک دوست کے پاس بیٹھا ہوا تھا‘ نام لکھنا مناسب نہیں۔ دوستوں کے ساتھ بات کرتے ہوئے میں بہرحال اب اس بات کا دھیان رکھتا ہوں کہ ایک کالم کی قیمت پر دوستی قربان نہیں ہونی چاہیے۔ میرا یہ دوست سیاستدان ہے اور پاکستان کی موجودہ عام سیاسی لاٹ میں آپ اسے غنیمت کہہ سکتے ہیں۔ اپنی پارٹی کے ساتھ وفادار ہے‘ اپنے لیڈر کا بھی دم بھرتا ہے لیکن تقلید کے اس درجے سے بہرحال محروم ہے جو آپ کو اپنے لیڈر‘ سیاسی پارٹی اور اپنے خود ساختہ نظریے سے غیر مشروط وفاداری عطا کرتا ہے۔میں نے پوچھا کہ کیا حکومت جا رہی ہے؟ اس دوست نے مجھے دیکھا اور مسکرایا۔ میں نے تھوڑی مزید وضاحت‘ اور وضاحت سے زیادہ اپنے سوال کا پس منظر بیان کرتے ہوئے اپنے دوست سے کہا کہ آج کل دو معاملات میڈیا‘ خواہ وہ پرنٹ میڈیا ہو‘ سوشل میڈیا ہو یا الیکٹرانک میڈیا ہو‘ پر بڑی شدت سے گردش کر رہے ہیں۔ ان میں ایک معاملہ نئے اور نسبتاً چھوٹے انتظامی یونٹس سے متعلق ہے اور دوسرا یہ کہ ناقص کارکردگی کی وجہ سے حکومت جا رہی ہے۔ اب وہ دوست زیادہ کھل کر مسکرایا اور کہنے لگا: خالد! ایک بات بالکل ایمانداری سے بتاؤ کہ فی الوقت ملک میں حکومت کس کی ہے؟ میں نے کسی تؤقف کے بغیر کہا کہ اس کا جواب وہی ہے جو آپ کے دل و دماغ میں ہے۔ جو بظاہر حکمران دکھائی دیتے ہیں وہ ہاتھی کے دانت ہیں اور ہاتھی کے دانتوں کے بارے میں کہاوت مجھے بھی معلوم ہے اور آپ کو بھی۔ وہ دوست کہنے لگا: اگر یہ بات ہے تو اب اپنا سوال مجھ سے دوبارہ پوچھیں‘ کیا حکومت جا رہی ہے؟ میرے پاس نہ سوال تھا اور نہ ہی کوئی جواب۔وہ دوست کہنے لگا: آپ یہ پوچھ سکتے ہیں کہ شہباز شریف اینڈ کمپنی جا رہی ہے یا نہیں جا رہی۔ اس سے سوال نہ صرف واضح ہو جائے گا بلکہ منطقی طور پر درست بھی ہو جائے گا۔ میں نے کہا: چلیں‘ میں اپنے سوال میں ترمیم کر لیتا ہوں‘ تو اب بتائیں! شہباز شریف اینڈ کمپنی جا رہی ہے؟ تو اس نے کہا: میرے خیال میں تو ایسا کوئی امکان نہیں۔ اس وقت خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے بعد جو انتظامی یونٹ فی الوقت سب سے بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے‘ وہ آزاد جموں وکشمیر ہے۔ اگر منتظمین کو اسلام آباد سے مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو رخصت کرنا ہے اور اس سے جان چھڑوانی ہے تو وہ کشمیر کے حالیہ الیکشن میں مسلم لیگ (ن) پر کیسے اعتبار اور اعتماد کر رہے ہیں؟ میں آپ سے یہ نہیں کہوں گا کہ آپ مجھے یہ بتائیں کہ اگر یہ سیٹ اَپ لپیٹ دیا جاتا ہے تو اس کا متبادل کیا ہو گا۔ یہ بعد کی بات ہے۔ یہ سوال تب پیدا ہوتا ہے جب میں آپ کی اس بات سے اتفاق کروں کہ واقعتاً یہ سیٹ اَپ جا رہا ہے تو پھر متبادل کی بات ہو گی۔ فی الوقت میں آپ کو صرف یہ باور کرانا چاہتا ہوں کہ ہر دو فریق ایک دوسرے سے نہ صرف انتہائی مطمئن ہیں بلکہ فی الوقت کوئی ایسا معاملہ بھی درمیان میں دکھائی نہیں دے رہا جس پر کسی قسم کا اختلاف موجود ہو یا پیدا ہونے کا امکان ہو۔ انگریزی میں ایسی صورتحال کے لیے &#39;میرج آف کنوینینس‘ کا لفظ استعمال ہوتا ہے اور اس صورتحال میں میاں بیوی جب تک باہمی مفادات اور تعلقات کی ہم آہنگی برقرار رہے‘ خوشگوار عائلی زندگی گزارتے ہیں۔ فی الوقت یہی صورتحال ہے۔ منتظمین کو جس قسم کے لوگوں پر مشتمل سرکار درکار تھی‘ وہ میسر و موجود ہے۔ ایسی صورتحال میں شہباز شریف اینڈ کمپنی کو رخصت کرنے کی بھلا کیا ضرورت ہے؟میرے خیال میں‘ جو ممکن ہے غلط ہی ہو‘ یہ سارا کھڑاک دراصل زرداری صاحب اور بلاول کیلئے کھڑا کیا گیا ہے۔ جس طرح جن کی جان طوطے میں ہوتی ہے‘ اسی طرح سندھ سرکار کی جان کراچی میں ہے۔ کراچی پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کیلئے سونے کی چڑیا سے بڑھ کر ہے۔ اور صرف سندھ ہی کیا‘ پورے پاکستان کی محاصل سے منسلک بیشتر آمدنی کراچی سے جڑی ہوئی ہے۔ اگر اس سیٹ اَپ کی رخصتی پر دوسرے متبادل سے مراد پیپلز پارٹی ہے تو میرا دل و دماغ اس چیز کو تسلیم ہی نہیں کرتا۔ اس کی کچھ وجوہات منطقی ہیں اور کچھ واقعاتی۔ منطقی وجہ تو یہ ہے کہ زرداری صاحب صدر ہیں‘ بلاول وزیراعظم نہیں بن سکتا اور بلاول کے ہوتے ہوئے پیپلز پارٹی میں سے کوئی وزیراعظم نہیں بن سکتا‘ لہٰذا اس اس باب کو تو اس منطق کے تحت بند کرنے کے باوجود صورتحال یہ ہے کہ بلاول‘ ایک انگریزی کا لفظ ہے Desperate ہونا‘ وہ اس قدر ڈیسپریٹ ہیں کہ آزاد جموں وکشمیر کے الیکشن میں دھاندلی کو بنیاد بناتے ہوئے نہ صرف اس سارے حکومتی سیٹ اَپ کو جعلی حکومت اور فراڈ مینڈیٹ قرار دیتے رہے ہیں‘ بلکہ فارم 47 پر طنز کے تیر چلاتے ہوئے اسے جاری کرنیوالوں کے جی بھر کر لتے لیتے رہے۔ فارم 47 پر اعتراض دراصل موجودہ حکمرانوں پر نہیں بلکہ اس کے لانے والوں پر ہے۔ ظاہر ہے جو الیکشن لڑ رہا ہے وہ تو یہ فارم جاری نہیں کر سکتا تھا۔ فارم جہاں سے جاری ہوئے‘ بلاول کا سارا غصہ اس طرف تھا۔ وہ فارم 47 کے حوالے سے موجودہ حکمران پارٹی یعنی (ن) لیگ کو مطعون کرتے ہوئے شہباز شریف کی حکومت کو تو اسی شہرہ آفاق فارم کا نتیجہ قرار دیتے رہے تاہم اس پِٹ سیاپے میں وہ پیپلز پارٹی کو اس سارے بکھیڑے سے علیحدہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ وہ جس حکومت کو فارم 47 کی پیداوار کہہ رہے تھے‘ اسی فارم 47 کے نتیجے میں اسمبلیوں میں پہنچنے والے ارکان کی بنیاد پر ان کے والد صاحب پاکستان کی صدارت کا لطف اٹھا رہے ہیں‘ انہی بنیادوں پر جناب یوسف رضا گیلانی چیئرمین سینیٹ کے باعزت منصب پر متمکن ہیں‘ تین عدد گورنر صاحبان پیپلز پارٹی کے کوٹے پر گورنری کا لطف اٹھا رہے ہیں۔ اور بلوچستان کی حکومت کے بارے میں کیا کہوں؟ سب کو علم ہے کہ بلوچستان میں الیکشن کس طرح ہوئے اور الیکشن کو کس طرح گھمایا گیا‘ کس طرح نتائج آئے اور کس طرح پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہوئی۔ ایک صوبائی حکومت‘ تین گورنر‘ چیئرمین سینیٹ اور صدارت کے مزے لوٹنے کے باوجود پیپلز پارٹی فارم47 اور اس سارے نظام سے خود کو بری الذمہ‘ پاک صاف اور حاجی ثنااللہ کے طور پر پیش کر رہی ہے۔وہ دوست کہنے لگا: اٹھارہویں ترمیم کے بعد مرکزی حکومت کے پاس بہت سے معاملات کو چلانے کے لیے پیسے ہی نہیں ہیں۔ اب ان بہت سے معاملات کی تفصیل نہ پوچھنا۔ سندھ کے حکمران سندھ کی تقسیم کسی صورت میں بھی قبول نہیں کریں گے۔ مقتدرہ کے پاس کراچی کو علیحدہ صوبہ بنانے کے بجائے کراچی کو وفاق کے سپرد کرنے کا متبادل موجود ہے۔ میرے خیال میں یہ سارا کام اسی منصوبے کی تکمیل کا ابتدائی فریم ورک ہے اور آنے والے دنوں میں اسی ڈھانچے کو سامنے رکھتے ہوئے معاملات کا رخ متعین کیا جائے گا۔جس وقت اٹھارہویں ترمیم ہو رہی تھی‘ اس وقت سب لوگ اپنی اپنی پاؤ ڈیڑھ پاؤ کی بوٹی کے لیے پورا بکرا ذبح کرنے پر تلے ہوئے تھے۔ انہیں اب جا کر احساس ہو رہا ہے کہ یہ ہم نے کیا کر دیا۔ لیکن تیر کمان سے نکل چکا ہے۔ اب اس غلطی کو سدھارنے کیلئے نئی صف بندیوں کے امکان کے ساتھ اٹھائیسویں ترمیم کا ڈھول بجایا جائے گا‘ خدا نہ کرے کہ یہ نئی خرابیوں کا پیش خیمہ ہو۔ یہ سارا رولا رپّا دراصل موت دکھا کر بخار قبول کرنے والا معاملہ ہے۔ ہمارا اردو والا محاورہ دراصل ایک فارسی محاورے سے اخذ کردہ ہے &#39;&#39;بہ مرگ بگیر تا بہ تب راضی شود‘‘ یعنی: اسے موت کا خوف دلاؤ تاکہ وہ بخار پر راضی ہو جائے۔ اس ملک میں ہم جیسوں کو گزشتہ کئی عشروں سے موت دکھا کر بخار قبول کروانے کا عمل پوری آب وتاب اور کامیابی سے جاری وساری ہے اور اس کے ختم ہونے کے امکانات ابھی دور دور تک دکھائی نہیں دے رہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90500073.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ڈاکٹر خورشید رضوی کا اعزاز(ڈاکٹر حسین احمد پراچہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-08-22/52528/78070462</link><pubDate>Sat, 22 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-08-22/52528/78070462</guid><description>جی سی یونیورسٹی لاہور کے پروفیسر ایمریطس ڈاکٹر سید خورشید حسن رضوی دنیائے علم و ادب کی ممتاز اور نمایاں ترین شخصیت ہیں۔ ان کی علمی و ادبی اور تحقیقی و تنقیدی خدمات کے اعتراف کے طور پر 14 اگست 2026ء کو اعلان کیا گیا کہ انہیں پاکستان کا دوسرا سب سے بڑا سول اعزاز ہلالِ امتیاز ایوانِ صدر میں 23 مارچ 2027ء کو عطا کیا جائے گا۔ یقینا یہ دل خوش کن خبر جہاں اردو داں حلقوں اور ان کے احباب کیلئے باعثِ صد مسرت و انبساط ہے‘ وہاں یہ مژدۂ جانفزا دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ڈاکٹر صاحب کے لاکھوں شاگردوں کیلئے بھی بے حد خوشی کا باعث ہے۔ ان دنوں ڈاکٹر خورشید رضوی انگلستان کے شہر پول میں اپنے بیٹے کے پاس مقیم ہیں۔ وہاں استاذِ محترم کو مبارکباد پیش کرنے کیلئے فون کیا تو انہوں نے خوشی کا اظہار کیا۔ ایوارڈ کے بارے میں کہنے لگے کہ یہ اللہ کا فضل‘ میری والدہ کی دعاؤں اور اساتذہ کرام کی محنت و شفقت کا نتیجہ ہے۔ قومی سطح پر میری خدمات کا اعتراف یقینا میرے لیے ایک بہت بڑا اعزاز ہے جس کیلئے میں اپنے وطن کا ممنون و متشکر ہوں۔ ڈاکٹر خورشید رضوی کو 2008ء میں ان کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف کے طور پر ستارۂ امتیاز ملا تو اس وقت ان کی والدہ محترمہ حیات تھیں‘ یہ ایوارڈ دیکھ کر انہیں بے پایاں مسرت ہوئی۔ انہوں نے ایک بار پھر اپنے ہاتھ سے خورشید رضوی صاحب کو یہ ایوارڈ پہنایا تھا۔ڈاکٹر خورشید رضوی ایک ایسے عبقری ہیں جن کی ذات میں کئی متنوع رنگ کمال و اتمام کے ساتھ یکجا ہو گئے ہیں۔ وہ عربی زبان و ادب کے استاد ہی نہیں حقیقی معنوں میں عربی دان ہیں۔ ان کی عربی دانی کے بڑے بڑے عرب اساتذہ اور سکالرز معترف و مدّاح ہیں۔ عربی زبان میں ہی انہوں نے پی ایچ ڈی بھی کی ہے۔ ان کے مقالے کو ایک وقیع تحقیقی دستاویز کی حیثیت حاصل ہے جس کے عرب سکالرز حوالے دیتے ہیں۔ اردو ان کی مادری زبان ہے‘ تاہم اس زبان کے ادب کا انہوں نے ایک طالب علم کی حیثیت سے مطالعہ کیا ہے۔ فارسی سے انہیں عشق کی حد تک لگاؤ ہے۔ مولانا روم‘ شیخ سعدی‘ـ حافظ شیرازی‘ غالب اور اقبال کے فارسی کلام کے کئی حصے انہیں ازبر ہیں۔ فارسی زبان کی باریکیوں کے گہرے رمز شناس ہیں۔ ڈاکٹر خورشید رضوی اردو زبان کے صفِ اوّل کے شعرا میں نمایاں ترین مقام رکھتے ہیں۔ ان کے چھ سات شعری مجموعے &#39;&#39;یکجا‘‘ کے نام سے ان کی کلیات میں جمع کر دیے گئے ہیں۔شعر کی طرح ڈاکٹر رضوی صاحب کی نثر بھی قاری کے دل میں جا بستی ہے۔ ان کی دلآویز نثر قاری کے دل و دماغ پر یوں اثر انداز ہوتی ہے کہ اس کے سامنے سوچ کے کئی دریچے وا ہو جاتے ہیں۔ خورشید رضوی صاحب کو اللہ نے مثالی حافظہ عطا کیا ہے۔ جو چیز ایک بار ان کی آنکھ کے کیمرے کے سامنے سے گزر گئی گویا وہ ہمیشہ کیلئے حسنِ ترتیب کے ساتھ ان کے حافظے میں محفوظ ہو گئی۔ یوں تو خورشید رضوی صاحب کی ہر تصنیف و تالیف ایک دوسرے سے بڑھ کر ہے مگر &#39;&#39;عربی ادب قبل از اسلام‘‘ کے بارے میں ان کا تحقیقی و ادبی کام منفرد و ممتاز ہے۔ خورشید رضوی صاحب تو اوائلِ جوانی میں عربی ادب پر کم از کم دس جلدیں اردو میں لکھنا چاہتے تھے۔ مگر جب پہلی ہی جلد پر چھ سات سالہ محنتِ شاقہ صرف ہو گئی تب انہیں محسوس ہوا کہ یہ پتھر ان کے اندازے سے کہیں زیادہ بھاری ہے۔ یوں تو یہ ایک لائف لانگ ورک ہے مگر میری معلومات کے مطابق ان دو جلدوں کی تحقیق و ترتیب و تحریر پر کم از کم انہوں نے دو عشروں تک جم کر کام کیا ہے۔ میر تقی میر نے کہا تھا:خشک سیروں تن شاعر کا لہو ہوتا ہےتب نظر آتی ہے اک مصرعۂ تر کی صورتعربی زبان کے تحقیقی ادبی کام کو ایک ایسی شگفتہ اور رواں دواں اردو نثر میں ڈھالنا کہ قاری کو محسوس ہو کہ وہ کوئی کڑوی کسیلی تحقیقی تصنیف نہیں بلکہ ایک دلچسپ ناول پڑھ رہا ہے‘ کوئی آسان کام نہ تھا۔ یہ کمال جہاں ڈاکٹر رضوی صاحب کی طرزِ نگارش کا ہے وہاں عربی شاعری قبل از اسلام کے نوع بہ نوع شعری مضامین کا بھی ہے۔ صحرائی زندگی اور مظاہرِ فطرت کی عکاسی کرتی ہوئی عربی شاعری اردو داں طبقے کیلئے تازہ ہوا کا جھونکا ہے۔ اردو داں طبقے کی صدیوں سے یہ خواہش رہی ہے کہ وہ اس عربی شاعری کی لذت سے آشنا ہو سکے جس کا چہار دانگِ عالم میں چرچا ہے۔ اس کیلئے مختلف ادوار میں بعض اردو داں عربی زبان کے سکالرز نے کوشش کی مگر سچی بات ہے کہ بات بنی نہیں۔ ڈاکٹر خورشید رضوی کی تحریر کردہ &#39;&#39;عربی ادب قبل از اسلام‘‘ کی دونوں جلدیں سات سات سو صفحات پر مشتمل ہیں۔ پہلی جلد میں عرب قوم کے اوصاف اور عربی زبان کی حیثیت‘ جزیرۃ العرب کے خدوخال وغیرہ بیان کیے گئے ہیں۔ عربی مبین میں نازل ہونے والا قرآن پاک عربی زبان و ادب کا عظیم ترین اور اعلیٰ ترین شاہکار ہے۔ رسولِ خداﷺ کی زبانِ صدق و صفا کے علاوہ خود قرآن اپنی حقانیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ عام عربی شعر و ادب کا جو جتنا شناور ہوتا ہے وہ قرآن کے خوبصورت اور دل نشین اسلوبِ بیان کا اتنا ہی مدّاح ہوتا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فہمِ دین کی اساس فراہم کرنے کیلئے عربی شاعری کی تعلیم پر زور دیا ہے۔ڈاکٹر خورشید رضوی نے اردو داں طبقے کو عربی ادب کی لذت سے آشنا کرنے کیلئے زندگی بھر کی ریاضت کے بعد دو جلدیں تحریر کر دی ہیں۔ خورشید رضوی صاحب نے خوبصورت عربی ادب پاروں کو اردوئے مبین میں ڈھال کر پیش کیا ہے۔ قدیم عربوں کی شاعری میں فطری سادگی اور برجستگی‘ صحراؤں کی وسعت اور پہاڑوں کی صلابت ملتی ہے۔ انکے اسلوب کا جاہ و جلال بظاہر ہیبت‘ حیرت اور عظمت کی کیفیات پیدا کرتا ہے۔ الفاظ کا دروبست‘ تراکیب کا شکوہ اور آہنگ کا زیروبم نہایت اثر انگیز ہے۔ ڈاکٹر خورشید رضوی نے اپنی تصنیف &#39;&#39;عربی زبان قبل از اسلام‘‘ میں اسلام سے پہلے خانہ کعبہ پر لٹکائے جانیوالے عربی قصائد‘ المعروف سبعِ معلقات‘ کے شاندار نمونے عربی اور اردو میں پیش کیے ہیں۔ ان تراجم کو پڑھ کر قاری کو معلوم ہوتا ہے کہ عربی کتنی عظیم زبان ہے اور اس میں شعر و ادب کا کیسا کیسا سرمایہ موجود ہے۔ امراؤ القیس کا معلقہ‘ عربی شاعری قبل از اسلام کا بہترین نمونہ ہے۔ یہاں ہم امراؤالقیس کے قصیدے کی بس ایک جھلک ہی آپ کو دکھا سکتے ہیں۔ اسکے قصیدے میں حسینوں کے تذکرے کے بعد چند اشعار طولِ شبِ فراق کے مضمون کے ہیں‘ جن میں رات کی بھرپور انگڑائی‘ امڈئی ہوئی ظلمت اور ستاروں کے گویا ساکت و جامد ہونے کا بیان بڑی خوبصورت تشبیہات اور استعاروں کے ذریعے پیش کیا گیا ہے۔ ذرا ملاحظہ کیجیے: کتنی ہی راتیں گزری ہیں؍ سمندر کی موج کی طرح؍ تاریک و ہمہ گیر‘ جنہوں نے؍ مجھے آزمانے کیلئے؍ طرح طرح کے غموں کے ساتھ؍ اپنے دبیز پردے مجھ پر تان دیےڈاکٹر خورشید رضوی کی ایک اور نمایاں ترین حیثیت ان کا استاد ہونا ہے۔ وہ تقریباً 64 برس سے طلبہ کو زیورِ تعلیم و تربیت سے آراستہ کر رہے ہیں۔ پہلے وہ 1960ء کی دہائی سے 1980ء کی دہائی تک 23 برس تک گورنمنٹ کالج سرگودھا اور اب کئی دہائیوں سے جی سی یونیورسٹی لاہور کے ماتھے کا جھومر ہیں۔ گورنمنٹ کالج سرگودھا سے ہی ایک شاگرد کی حیثیت سے مجھے ان کی شفقت اور توجہ حاصل ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ میں اب تک عربی کا عالمِ اجل بن چکا ہوتا مگر عربی میں دسترس پیدا کرنا ہمت والوں کا کام ہے۔ کہنے کو تو وہ گورنمنٹ کالج سرگودھا میں عربی کے پروفیسر تھے مگر سارا شہر ہی ان کی عظمت اور ادبی و شعری مقام و مرتبے کا گرویدہ تھا بلکہ اب تک ہے:گونجتا ہے تیری آوازوں کا جادو آج بھیڈاکٹر خورشید رضوی کو قریب سے جاننے والوں کو علم ہے کہ وہ ایوارڈوں‘ عہدوں اور پوسٹوں سے بہت ماورا ہیں۔ خدا انہیں سلامت رکھے۔ آمین!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_70033906.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>جو چاہے ان کا حسن کرشمہ ساز کرے(افتخار احمد سندھو)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/iktakhar-ahmed-sandhu/2026-08-22/52529/73306407</link><pubDate>Sat, 22 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/iktakhar-ahmed-sandhu/2026-08-22/52529/73306407</guid><description>کئی دن سے سوشل میڈیا پر میرے سامنے دو تصاویر گردش کر رہی ہیں۔ ایک تصویر میں قائداعظم اور لارڈ ماؤنٹ بیٹن بگھی میں بیٹھ کر کسی تقریب میں شرکت کے لیے آ رہے ہیں اور دوسری تصویر میں حالیہ 14 اگست کو جشن یوم آزادی کے موقع پر گریڈ 20 کے دو اعلیٰ بیورو کریٹس جہاں پناہ چیف کمشنر اسلام آباد سہیل اشرف اور آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی صدرِ مملکت کی بگھی پر بیٹھ کر سلامی لینے کیلئے پریڈ گراؤنڈ تشریف لا رہے ہیں۔ دوسری تصویر ہمارے سسٹم کا منہ چڑا رہی ہے اور ہمارے پبلک سرونٹ افسر شاہی بن کر سرعام ملک و قوم کا مذاق اُڑا رہے ہیں۔یاد رہے سٹیٹ پروٹوکول اور قانون کے مطابق سرکاری تقریبات میں صرف صدرِ مملکت بگھی میں بیٹھ کر سلامی لے سکتے ہیں۔ حتیٰ کہ وزیراعظم اور وفاقی وزیر بھی سرکاری تقریبات میں بگھی پر بیٹھنے کا استحقاق نہیں رکھتے۔ مگر کیا کہنے گریڈ 20 کے ان دو چہیتے افسران کے‘ جنہوں نے سارے پروٹوکول کو جوتے کی نوک پر رکھا اور سرکاری تقریب میں بگھی پر بیٹھ کر پریڈ گراؤنڈ میں 14اگست کی سلامی لی۔ حد تو یہ ہے کہ صداتی باڈی گارڈ جن کا کام اس طرح کی تقریبات میں صدارتی قافلے کو پروٹوکول دینا ہوتا ہے‘ وہ بھی ان افسران کی اس بگھی کے آگے آگے چل رہے تھے۔ یعنی بگھی بھی صدارتی محل سے بلوائی گئی اور اس کے ساتھ ساتھ صدرِ مملکت کیلئے مخصوص باڈی گارڈز بھی بگھی کے ساتھ بلوائے گئے۔ یہ سب کچھ کیسے ہوا‘ کس نے کروایا‘ کیونکر ہوا‘ کوئی پوچھنے والا نہیں۔ مولانا حسرت موہانی نے ٹھیک ہی کہا تھا:نگاہِ یار جسے آشنائے راز کرےوہ اپنی خوبیٔ قسمت پہ کیوں نہ ناز کرےخرد کا نام جنوں پڑ گیا‘ جنوں کا خردجو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرےقوم کو بتایا جا رہا ہے کہ جو ہمارا دل کرے گا وہی کریں گے۔ کوئی روک سکتا ہے تو روک کر دکھائے۔ جب امسال 14 اگست کو جشن یوم آزادی کے موقع پر میں نے اپنے آپ اور اپنے کچھ دوستوں سے پوچھا کہ کیا واقعی ہم آزاد ہیں تو کئی دوست بہت ناراض ہوئے کہ آپ یہ کیا بات کر رہے ہیں۔ اب آپ بتائیں دنیا میں کہیں یہ ممکن ہے کہ گریڈ 20 کے دو افسر صدرِ مملکت کی بگھی لے کر‘ صدرِ پاکستان کے گارڈز لے کر ساری قوم کے سامنے سسٹم کا مذاق اڑائیں؟ قومیں ایسے ہی تباہ نہیں ہوئیں۔ اب وزارتِ داخلہ کی طرف سے وضاحت کی گئی کہ صدرِ مملکت اور وزیراعظم میٹنگ میں مصروف تھے‘ یعنی وہ 14 اگست کی پریڈ کیلئے ٹائم نہیں نکال پا رہے تھے تو انہوں نے سوچا کہ ان دو گریڈ بیس کے افسران سے کہتے ہیں کہ صدرِ مملکت کی بگھی میں بیٹھ کر پریڈ سے سلامی لے لیں۔ صدرِ مملکت اور وزیراعظم پاکستان کہاں مصروف تھے؟ ایسی کیا مصروفیت تھی کہ جشن یوم آزادی کی قومی تقریب چھوڑنا پڑ گئی؟ اللہ پاکستان پر رحم کرے!جب یہ دو افسر شاہی صدارتی بگھی میں بیٹھ کر سلامی لے رہے تھے تو ٹھیک اس وقت جنوبی پنجاب میں ایک رکشہ نہر میں گرنے سے پندرہ افراد جاں بحق ہوگئے اور ان کی لاشیں نہیں مل رہی تھیں۔ ان تقریبات کا خناس تو ہمارے ذہنوں میں اس وقت چڑھنا چاہیے جب ہم نے انگریزوں کے جانے کے بعد اس ملک کا نظام بہتر کر لیا ہو۔ کیا ہم نے ریلوے کے نظام میں کوئی بہتری کی ہے؟ کیا ہم نے کوئی قابلِ ستائش اصلاحات کر کے اپنے ملک میں عدالتی نظام کا قبلہ درست کیا ہے؟ کیا ہم نے اپنا ریونیو نظام شفاف بنایا ہے؟ کیا ہم نے امن وامان یقینی بنایا ہے؟ کیا ہم نے تعلیم اور صحت کے نظام میں ترقی کیلئے کوئی گراں قدر پیش رفت کی ہے؟ کیا ہم نے صنعت کے میدان کوئی جھنڈے گاڑے ہیں؟ تو پتا چلتا ہے کہ ہم کوئی مثالی ترقی نہیں کر سکے؛ البتہ ہمارے مقتدر طبقات نے ضرور ترقی کی ہے بلکہ دن دگنی رات چوگنی ترقی کی ہے۔ ان کی پانچوں گھی میں اور سر کڑاہی میں ہے۔ عوام غریب سے غریب تر اور یہ طبقات روز بروز امیر سے امیر تر ہو رہے ہیں۔ یہ طبقات ایک دوسرے کے مفادات کا تحفظ بھی ہر حال میں کرتے ہیں اور انجمن ستائشِ باہمی بن کر ایک دوسرے کی معاونت کر رہے ہیں۔ ان طبقات نے مل جل کر اس ملک کے وسائل کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ کر اپنی تجوریاں بھر لی ہیں۔ یہ ملکی وسائل اور عوامی ٹیکس کی لوٹ مار کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے اور یہ سلسلہ قیام پاکستان سے جاری ہے۔ میں اسی لیے کہتا ہوں کہ یہی طبقات قیام پاکستان کے بینی فشری ہیں اور ان کی دوسری اور تیسری نسل آج بھی ملکی وسائل پر ہاتھ صاف کر رہی ہے اور عوام کا استحصال بدستور جاری ہے۔79 سال قبل نومولود پاکستان کے حوالے سے قائداعظم نے فرمایا تھا کہ ملک میں وسائل کی کمی نہیں ہے‘ پاکستان وسائل کی دولت سے مالا مال ہے۔ ریاست کی بنیاد رکھی جا چکی ہے‘ بس اب آپ نے جس قدر تیزی سے ممکن ہو اس ملک کی تعمیر وترقی میں اپنا حصہ ڈالنا ہے اور اسے آگے لے کر جانا ہے۔ کیا آپ کو نہیں لگتا کہ 79‘ 80 سال بعد بھی ہم ایسی ہی باتیں کر رہے ہیں کہ ملکی معیشت پٹڑی پر چڑھ رہی ہے‘ معاشی اشاریے پہلے سے بہتر ہو رہے ہیں۔ حکومت کی معاشی پالیسیوں کی وجہ سے ملک دیوالیہ ہونے سے بچ گیا ہے۔ پٹرول کی قیمت نہ بڑھاتے تو ملکی معیشت سنبھل نہ پاتی۔ پچھلے پانچ چھ سال سے تو قوم کو ڈرا دھمکاکر رکھا گیا ہے کہ اگر یہ نہ کرتے‘ وہ نہ کرتے تو خدا نخواستہ ملک دیوالیہ ہو جاتا۔ دراصل پاکستان کے مقتدر طبقات نے اپنی کرشمہ سازیوں سے اس ملک کو آگے بڑھنے نہیں دیا۔ یہ طبقات بدمست ہاتھی بن کر نظام کو گھاس کی طرح روند رہے ہیں اور ہماری بیورو کریسی نے اس حوالے سے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ ملک کی معاشی بدحالی میں انہوں نے بھرپور حصہ ڈالا ہے۔ جن کو عوام کا خادم بننا تھا وہ افسر شاہی بن کر عوام کو اپنے دفتروں کے باہر شدید گرمی میں گھنٹوں انتظار کراتے ہیں۔ خود یخ بستہ کمروں میں بیٹھے عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے موج میلہ کر رہے ہوتے ہیں اور سائلین کو بتایا جاتا ہے کہ صاحب میٹنگ میں مصروف ہیں۔ آج بھی پاکستان سیاسی اور معاشی بحران سے دوچار ہے۔ اب آپ بتائیں کہ اسّی سال بعد بھی ہمارا ملک اور ہم کہاں کھڑے ہیں۔ مجھے تو لگتا ہے کہ جہاں سے چلے تھے وہیں کھڑے ہیں۔ انور مسعود نے اپنی پنجابی نظم &#39;&#39;کوفتہ‘‘ میں اس کی خوب نقشہ کشی کی ہے۔بوٹی لئی تے ٹوکے دے نال قیمہ قیمہ کیتی محنت کر کے اس قیمے دی فیر بنائی بوٹیفیر بنایا قیمہ اس دا رکھ کے دنداں تھلے شاوا بلّے بھئی بلّےمیں اے سالن کھاواں نالے ہساں دھیما دھیمابوٹی قیمہ‘ قیمہ بوٹی‘ مڑ بوٹی دا قیمہکوفتے ورگا لگا مینوں سارا سفر اساڈاپانی دے وچ پینڈا کچھیا کھا کھا لمے غوطےجیہڑی تھاں توں ٹرے ساں انورؔ اوتھے ای آن کھلوتے</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/228_40817243.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بڑا افسر‘ اچھا افسانہ نگار(نسیم احمد باجوہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/naseem-ahmed-bajwa/2026-08-22/52530/82281515</link><pubDate>Sat, 22 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/naseem-ahmed-bajwa/2026-08-22/52530/82281515</guid><description>سرخی میں موجود خوبیوں کو جمع کیا جائے تو جواب نکلتا ہے کہ قدرت اللہ شہاب۔ عجیب وغریب اتحادِ ثلاثہ یوں بنا کہ اشفاق احمدممتاز مفتی کو صوفی مانتے تھے اور ممتاز مفتی بڑی سنجیدگی اور (پنجابی محاورے کے مطابق) پکے منہ سے کہتے تھے کہ یہ شخص (قدرت اللہ شہاب) جو اعلیٰ افسر کے بھیس میں پھرتا ہے‘ اصل میں ولی اللہ ہے۔ انتظار حسین نے اپنی کتاب (ملاقاتیں) میں ممتاز مفتی سے گفتگو کا خلاصہ لکھا ہے۔ اعتبار نہیں آتا کہ ایک شخص جس کی ساری زندگی ایک گلے سڑے‘ عوام دشمن نظام کا پرزہ بن کر گزری‘ ممتاز مفتی اس کی تعریف کا دفاع کرنے اور انتظار حسین کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ممتاز مفتی جیسا بڑا ادیب اُس کے بارے میں جو کچھ کہتا ہے اس میں کچھ نہ کچھ سچائی تو ضرور ہو گی۔ مجھے یہ ماننے میں تامل ہے کہ ممتاز مفتی نے یہ سب کہا۔ ناقدین نے تو یہ تک کہا کہ ممتاز مفتی ایک بڑے سرکاری افسر سے قربت کا فائدہ اُٹھانے کا فن جانتے تھے مگر میں یہ سمجھنے سے بھی قاصر ہوں کہ اشفاق احمد نے &#39;ذکرِ شہاب‘ اور ان کی اہلیہ بانو قدسیہ (جو خود بھی بلند پایہ ادیبہ تھیں) نے &#39;مردِ ابریشم‘ لکھ کر ادب کی کون سی خدمت کی ہے۔قدرت اللہ شہاب نے شہاب نامہ کے نام سے اپنی سوانح عمری لکھی تو اس میں مافوق الفطرت باتوں کا اس طرح ذکر کیا کہ آپ کو ان کی حقانیت پر شک گزرتا ہے۔ کچھ لوگ یہ پڑھ کر یقینا متاثر بھی ہو جاتے ہوں گے۔ کالم نگار اپنی نوے سالہ زندگی میں ہزاروں افراد سے ملا ہوگا‘ ہزاروں کتابیں پڑھی ہوں گی‘ گزشتہ 75 برس سے اخبارات سے تعلق قائم ہے مگر میں نے آج تک کسی اور شخص کے بارے میں یہ نہیں پڑھا اور نہ ہی سنا کہ اس کے گھر میں عالمِ غیب سے پرچیاں گرتی ہیں جن میں مختلف ہدایات دی گئی ہوتی ہیں۔ بہرحال یہ شہاب پر اللہ تعالیٰ کا انعام تھا کہ انہیں ایک بے حد نیک صفت‘ پڑھی لکھی اور خوش اخلاق بیوی (عفت کی صورت میں) عنایت کی گئی۔1966-67ء میں مجھے کچھ فراغت ملی تو حنیف رامے صاحب سے قریبی تعلق استوار ہوا۔ یہ دور کئی فائدوں سے بھرپورتھا۔ ہفت روزہ &#39;&#39;نصرت‘‘ (جو پیپلز پارٹی کا دماغ تھا) کی ادارتی ٹیم میں شمولیت‘ ڈاکٹر مبشر حسن اور راجہ منور احمد جیسے ذہین افراد سے تعارف‘ پروفیسر اشفاق علی خان (بلند پایہ دانشور‘ نظامِ کہن پر کڑی تنقید کرنے والے کالم نگار اور سینٹرل ٹریننگ کالج کے پرنسپل) کے ہاں ہم خیال دوستوں کے غیر رسمی اجلاس میں ہر ماہ شرکت۔ قدرت اللہ شہاب بھی اس محفل میں اکثر شریک ہوتے تھے اور ہمیشہ عفت کے ساتھ آتے۔ پہلے تو میں انہیں صدر ایوب کے پرنسپل سیکرٹری اور دستِ راست کے طور پر جانتا تھا۔ یہیں میں نے اُنہیں پہلی اور آخری بار قریب سے دیکھا۔ وہ زیادہ تر خاموش رہتے تھے۔ انتظار حسین کے الفاظ میں &#39;&#39;وہ رعب داب والے افسر نہیں لگتے بلکہ افسر ہی نہیں لگتے۔ بات یہ ہے کہ سی ایس پی کی چال ڈھال اور خو بو اور ہی ہوتی ہے۔ کم از کم شہاب کی چال ڈھال ان کے افسر ہونے کی چغلی نہیں کھاتی۔ باتوں میں وہ طنطنہ بھی نہیں۔ جب سٹیج پر آکر تقریر کرتے تو اس وقت بھی افسرانہ بلند آہنگی سے نہیں بولتے۔ کم اور آہستہ بولتے اور ادیبوں کو نصیحت بھی نہیں کرتے۔ اگرچہ 1958ء کے بعد ایک ایسا زمانہ ضرور آیا جب اُنہوں نے لکھ لکھ کر لمبے خطبے دیے اور ادیبوں کو نصیحتیں کیں مگر وہ زمانہ جلد ہی گزر گیا‘‘۔شہاب صاحب کے دامن پر کرپشن کا تو کوئی داغ نہیں مگر ایک داغ ضرور ہے اور وہ ہے رائٹرز گلڈ بنانا۔ چند بڑے شاعروں‘ جن میں جوش ملیح آبادی اور ن م راشد کے علاوہ چوٹی کے نقاد محمد حسن عسکری کا نام آتا ہے‘ پاکستان کا ہر ادیب اس جال میں پھنس گیا۔ بظاہر اس کا مقصد ادیبوں کی فلاح وبہبود تھا مگر درپردہ منصوبہ شاید یہ تھا کہ آمریت کی حمایت کیلئے ادیبوں اور شاعروں کو میدانِ عمل میں اتارا جائے۔ شہاب صاحب اپنے دفاع میں کہتے تھے کہ انہیں تین بڑے ادیبوں؛ بابائے اردو مولوی عبدالحق‘ شاہد احمد دہلوی اور جمیل الدین عالی نے یہ راہ دکھائی تھی۔ اچھا ہوا کہ شہاب کی زندگی میں ہی سرکاری سرپرستی میں بنی اس انجمن کا شیرازہ بکھر گیا۔ احمد بشیر نے اپنی سوانح &#39;&#39;دل بھٹکے گا‘‘ میں قدرت اللہ شہاب سے اپنی گفتگو کا متن 12 صفحات پر درج کیا ہے۔ اسے پڑھ کر شہاب کے افسرانہ پہلو اور دفتری اندازِ کار کے بارے میں فرسٹ ہینڈ معلومات حاصل ہوتی ہیں اور ہمارے ملک کی انتظامیہ کاچہرہ سامنے آتا ہے۔ شہاب صاحب اوائل زندگی میں عام لوگوں سے بہتر انسان ہوں گے‘ مگر لگتا ہے کہ سول سروس کے اعلیٰ عہدوں پر فائز ہو کر وہ بھی رواجی افسر بن گئے۔ ہر کہ در کان نمک رفت نمک شد( جو چیز نمک کی کان میں گئی نمک ہوگئی)۔ اب شہاب کی زندگی کا جائزہ لیتے ہیں۔ وہ 26 فروری 1917ء گلگت میں پیدا ہوئے۔ اُنہوں نے ہمیں یہ نہیں بتایا کہ اُن کے والدین‘ جو اصلاً پنجابی تھے‘ گلگت کب اور کیسے پہنچے۔ 69 برس کی عمر میں 24 جولائی 1986ء کو ان کا انتقال ہوا۔ اُن کی بیوی کوئی بارہ سال قبل‘ 1974 میں برطانیہ کے ایک خوبصورت اور تاریخی شہر Canterbury میں وفات پا چکی تھیں اور وہیں ایک قبرستان میں دفن ہیں۔ شہاب کے والد کا نام عبداللہ تھا‘ جو مشرقی پنجاب (موجودہ ہریانہ) کے ضلع انبالہ کے چمکور صاحب گائوں کے رہنے والے تھے۔ اُن کا تعلق ارائیں قبیلے سے تھا۔ اُنہوں نے علی گڑھ یونیورسٹی کے اینگلو اورینٹل کالج میں تعلیم پائی ۔ شہاب ریاست جموں و کشمیر سے انڈین سول سروس کا امتحان دینے والے اور پاس کرنے والے پہلے (اور شاید آخری) مسلمان اُمیدوار تھے۔ ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات ہونے کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہو سکتا ہے کہ شہاب نے سولہ برس کی عمر میں مضمون نگاری کے عالمی مقابلے میں اوّل انعام حاصل کیا جو اُنہیں ریڈرز ڈائجسٹ کی طرف سے ملا۔ وہ آمرانہ خصلت والے پاکستان کے تین صدور غلام محمد‘ اسکندر مرزا اور ایوب خان کے پرنسپل سیکرٹری رہے۔ اس کے بعد انہیں ہالینڈ میں پاکستان کا سفیر بنا کر بھیج دیا گیا۔ 1971ء میں وہ لندن میں تھے تو وہیں سے اپنا استعفیٰ بھیج دیا اور اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو سے وابستہ ہو گئے۔ وسط اگست میں برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں نے (گزشتہ نصف صدی کی) تاریخ کا سب سے بڑا جلوس نکالا جس کا مقصد مشرقی پاکستان میں آپریشن کی حمایت کرنا تھا۔ اس مظاہرے کی قیادت کرنے والوں میں شہاب بھی شامل تھے۔ شہاب نے پانچ بہت اچھی کتابیں لکھیں۔ (1) شہاب نامہ‘ یہ اُن کی سوانح عمری ہے مگر اس کے آخری باب میں اُنہوں نے کئی مافوق الفطرت باتیں لکھی ہیں۔ (2) یا خدا‘ یہ کمال کا افسانہ ہے جو تقسیم ہند پر لکھا گیا۔ (3) ماں جی‘ یہ اُردو ادب کا شاہکار خاکہ ہے۔ (4) سرخ فیتہ‘ یہ بیورو کریٹک کلچر پر چھوٹے چھوٹے افسانے ہیں۔ (5) نفسانے‘ اس میں انسانی نفسیات‘ معاشرتی رویوں اور عام زندگی کے مختلف پہلوؤں کو کہانیوں کی شکل میں پیش کیا گیا ہے۔ پاکستان کے محکمہ ڈاک نے شہاب صاحب کے اعزاز میں 23 مارچ 2013ء کو ایک یادگاری ٹکٹ جاری کیا جو ایک مستحسن قدم تھا۔ کتنا اچھا ہوتا کہ شہاب صاحب اعلیٰ سول سروس کا ایک اچھا افسر ہونے کے ساتھ ایک اچھے ادیب ہونے پر ہی اکتفا کرتے اور خود نوشت میں نائنٹی جیسے مابعد الطبیعیاتی کردار کا ڈھونگ نہ رچاتے۔ ممتاز مفتی بھی کم قصوروار نہیں کہ اُنہوں نے اپنی خود نوشت الکھ نگری لکھی تو اُس کے پیش لفظ میں شہاب کے روحانی درجے کی تصدیق کی۔ البتہ یہ نہیں بتایا کہ ان کی اس راز تک رسائی کس طرح ہوئی۔ ہمارا معاشرہ جو پہلے ہی توہمات کی دلدل میں پھنسا ہوا ہے‘ اس میں آپ اگر سرسید اور اقبال کے نقش قدم پر چل کر لوگوں کو عقل ودانش نہیں سکھا سکتے تو توہمات کی تاریکی میں اضافہ کرنا کسی طور مستحسن نہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_32258580.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>خصائصِ نبوت…(2)(مفتی منیب الرحمٰن )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-08-22/52531/29226614</link><pubDate>Sat, 22 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-08-22/52531/29226614</guid><description>نبی کی قوتِ شامہ کے حوالے سے حافظ ابن حجر لکھتے ہیں: &#39;&#39;نبی کی قوتِ شامہ بہت قوی ہوتی ہے‘ جیسا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کی قمیص کے متعلق حضرت یعقوب علیہ السلام کا واقعہ قرآنِ کریم میں ہے‘‘ (فتح الباری‘ ج: 12‘ ص: 366)۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے کہا: &#39;&#39;میری قمیص لے جائو اور میرے والد کے چہرے پر ڈالو تو ان کی بینائی بحال ہو جائے گی‘‘ (یوسف: 93)۔ قافلہ وہ قمیص لے کر روانہ ہوا تو حضرت یعقوب علیہ السلام نے فرمایا: &#39;&#39;بیشک میں یوسف کی خوشبو پاتا ہوں‘‘(یوسف: 94)۔ حضرت یعقوب نے حضرت یوسف علیہما السلام کی قمیص کی خوشبو کئی دن کی مسافت سے سونگھ لی۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ نبی کی قوتِ شامہ عام انسانوں کی قوتِ شامہ سے اعلیٰ اور ممتاز ہوتی ہے۔نبی کی قوتِ ذائقہ کا عالَم یہ ہے کہ جب نبی کریمﷺ نے گوشت کا ایک ٹکرا چکھا تو فرمایا: اس میں زہر ملا ہوا ہے (بخاری: 3169)۔ ایک خاتون نے آپﷺ کوکھانے پر بلایا‘ آپ نے لقمہ زبان پررکھتے ہی فرمایا: یہ کسی ایسی بکری کا گوشت ہے جسے اُس کے مالک کی اجازت کے بغیر ذبح کیا گیا ہے۔ آپﷺ نے لقمہ نوش نہ فرمایا۔ بات صحیح تھی‘ کیونکہ اُسے مالک کی اجازت کے بغیر اُس کی بیوی سے حاصل کیا گیا تھا (مسنداحمد: 14785)۔ شیخ بدر عالم میرٹھی لکھتے ہیں: &#39;&#39;تلخ وشیریں میں تمیز تو عام بشر کی زبانیں بھی کر لیتی ہیں‘ مگر نبی ورسول وہ ہوتے ہیں جن کی زبان حرام وحلال میں تمیز کرتی ہے‘‘ (ترجمان السنۃ‘ ج: 3‘ ص: 243)۔نبی کریمﷺکے لعاب دہن کی برکتوں اور خصوصیات کے واقعات بے شمار ہیں۔ غزوہ خندق کے موقع پر آپﷺ نے ہنڈیا اور آٹے میں اپنا لعاب دہن ڈالا‘ اس کی برکت سے چند آدمیوں کا کھانا ایک ہزار لوگوں نے کھایا‘ سالن میں کوئی کمی ہوئی اور نہ روٹیوں میں‘ ہنڈیا میں سالن بدستور ابل رہا تھا اور آٹے سے روٹیاں اسی طرح پک رہی تھیں (بخاری ملخصاً:4102)۔ حدیبیہ کے خالی کنویں میں آپﷺ نے اپنا لعابِ دہن ڈالا تو وہ پانی سے لبریز ہوگیا (بخاری:4151)۔ حضرت علیؓ کی آنکھوں میں لگایا تو آنکھوں کی تمام تکلیف دور ہو گئی (بخاری: 2941)۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے سانپ کے ڈسے جانے کی جگہ آپﷺ نے لعابِ دہن لگایا تو زہر کا اثر زائل ہو گیا۔باطنی حواس و دیگر قویٰ کے اعتبار سے انبیائے کرام کے امتیاز کی بابت امام رازی فرماتے ہیں: &#39;&#39;ایک باطنی حسّ حافظہ ہے‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: &#39;&#39;عنقریب ہم آپ کو پڑھائیں گے‘ پس آپ نہیں بھولیں گے‘‘ (الاعلیٰ: 6)۔ اور ایک قوتِ ذکا ہے۔ حضرت علیؓ فرماتے ہیں: &#39;&#39;مجھے نبی کریمﷺ نے علم کے ایک ہزار باب سکھائے ہیں اور میں نے ہر باب سے ہزار باب مستنبط کیے ہیں‘‘۔ پس جب ایک صحابی اور امام الاولیاء کی ذکا (Intellegence) کا یہ عالَم ہے تو امام الانبیاءﷺ کی ذکا کا کیا حال ہو گا۔امام رازی فرماتے ہیں: قوتِ محرکہ کے اعتبار سے انبیائے کرام کے امتیازکی مثال نبیﷺ کی معراج ہے اور حضرات عیسیٰ‘ ادریس اور الیاس علیہم السلام کا آسمانوں پر زندہ اُٹھایا جانا ہے اور حضرت سلیمان علیہ السلام کے ایک صحابی کے بارے میں فرمایا: &#39;&#39;جس کے پاس کتاب کا علم تھا‘ اُس نے کہا: میں آپ کے پاس اُس (تختِ بلقیس) کو آپ کی پلک جھپکنے سے پہلے لے آئوں گا‘‘ (النمل: 40)۔ (تفسیرکبیر‘ ج: 8‘ ص: 200) مفسرین نے لکھا ہے: سلیمان علیہ السلام کے اس صحابی کا نام آصف بن برخیا تھا۔ہمارے نزدیک ہر نبی اور رسول محترم ہے‘ مکرّم ہے‘ معزَز و مُوَقَّر اور ذی شان ہے‘ لیکن خود رسولوں کے مابین فضیلت کے اعتبار سے درجہ بندی موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: &#39;&#39;یہ رسول ہیں‘ ہم نے ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت عطا فرمائی‘‘ (البقرہ: 253)۔ پس ہمارے آقا ومولیٰ‘ سیدالمرسلین‘ رحمۃ للعالمین‘ خاتم النّبیین سیدنا محمد رسول اللہﷺ کے خصائص اور فضائل بے شمار ہیں‘ ان کی تفصیلات آیاتِ قرآنی اور احادیثِ مبارکہ میں مذکور ہیں۔ حدیث پاک میں ہے: رسول اللہﷺ نے فرمایا: &#39;&#39;مجھے تمام انبیائے کرام پر بعض چیزوں میں فضیلت عطا فرمائی گئی: (1) مجھے &#39;&#39;جامع کلمات‘‘ عطا کیے گئے ہیں‘ (2) اللہ نے میری شخصیت کو رُعب دار اور ذی وجاہت بنایا کہ ایک ماہ کی مسافت سے (دشمن پر) میرارعب طاری ہو جاتا ہے‘ (3) میرے (اور میری امت) کیلئے اموالِ غنیمت (اور صدقات) کو حلال کر دیا گیا ہے‘ مجھ سے پہلے کسی نبی (اور ان کی امت)کیلئے غنیمت (اور صدقات) حلال نہیں تھے‘ (4) میرے لیے روئے زمین کو مسجد بنا دیا گیا اور پاکیزہ قرار دیا گیا (بشرطیکہ اس پر کوئی ظاہری نجاست نہ ہو)‘ پس میرا جو بھی امتی نماز کا وقت پائے‘ وہ جہاں کہیں بھی ہو قبلہ رُو ہو کر نماز پڑھ لے‘ (5) ماضی میں نبی ایک خاص قوم کی طرف بھیجا جاتا‘ مجھے اللہ تعالیٰ نے سارے عالَمِ انسانیت اور ساری مخلوق کی طرف مبعوث فرمایا۔ (صحیح مسلم: 521 کے الفاظ ہیں: &#39;&#39;مجھے ہر گورے اور کالے کی طرف نبی بنا کر مبعوث کیا گیا ہے‘‘) (6) مجھے شفاعت کا اذن عطا کیا گیا ہے جو مجھ سے پہلے کسی کو عطا نہیں کیا گیا (اس سے مراد شفاعتِ کُبریٰ ہے)‘ (7) مجھ پر نبوت کے سلسلے کو ختم کر دیا گیا ہے‘ یعنی میں &#39;خاتم النّبیین‘ ہوں‘ (8) دریں اثنا کہ میں سویا ہوا تھا‘ مجھے زمین کے خزانوں کی کنجیاں دی گئیں اور میرے ہاتھ میں رکھ دی گئیں‘‘۔ یہ خصائص ہم نے صحیح البخاری: 335‘ 2977 اورصحیح مسلم: 521‘ 523 کی احادیثِ مبارکہ کو یکجا کر کے اور مکررات کو حذف کر کے لکھے ہیں اور تحت اللفظ نہیں‘ بلکہ تشریحی ترجمہ کیا ہے۔ علامہ غلام رسول سعیدی نے نعمۃ الباری شرح صحیح بخاری‘ ج:1‘ ص: 849 میں لکھا ہے: &#39;&#39;امام محمد بن ابراہیم نیشاپوری نے مختلف روایات کے حوالے سے آپﷺ کے پچاسی خصائص لکھے ہیں‘ ان میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے‘‘۔ &#39;&#39;جامع کلمہ‘‘ اُسے کہتے ہیں کہ ایک جملے میں معانی کے سمندر کو سمو دیا جائے‘ اسی کو اردو محاورے میں &#39;&#39;دریا کو کوزے میں بند کرنا‘‘ کہتے ہیں۔ محدثینِ کرام نے اس کی متعدد مثالیں بیان کی ہیں جن کی تفصیل کا یہاں موقع نہیں ہے۔ ان مِن جملہ خصوصیات میں سے ایک &#39;&#39;رسالتِ عامّہ‘‘ ہے‘ یعنی آپﷺ کی نبوت ورسالت تمام عالم انسانیت‘ جنّات وملائک حتیٰ کہ انبیائے کرام و رُسلِ عظام علیہم السلام اور جمیع انواعِ مخلوق کو شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: (1) &#39;&#39;(اے رسولِ مکرم!) کہہ دیجیے: لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں‘‘ (الاعراف: 158) (2) &#39;&#39;اور ہم نے آپ کو (قیامت تک کے) تمام لوگوں کے لیے جنت کی بشارت دینے والا اور جہنم سے ڈرانے والا بناکر بھیجا ہے‘ لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ (سبا: 28) (3) &#39;&#39;نہایت بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے (مکرم) بندے پر قرآن نازل کیا تاکہ وہ تمام جہانوں کے لیے (عذاب سے) ڈرانے والے ہوں‘‘ (الفرقان: 1) (4) &#39;&#39;اور (اے نبی مکرم!) ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے فقط رحمت بنا کر بھیجا ہے‘‘ (الانبیاء: 107)۔ الغرض قرآنِ کریم کی متعدد آیاتِ کریمہ اور احادیثِ مبارکہ اس پر دلالت کرتی ہیں کہ آپﷺ کی نبوت قیامت تک پورے عالَمِ انسانیت کیلئے حتیٰ کہ جنات وملائک اور دیگر انواعِ مخلوق پر بھی محیط ہے۔آپﷺ کی ایک منفرد وممتاز خصوصیت یہ ہے کہ آپﷺ کی رضا آپ کے خالق ومالک اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کو مطلوب ومحبوب ہے۔ قرآنِ کریم میں فرمایا: &#39;&#39;اور عنقریب آپ کا رب آپ کو اتنا عطا فرمائے گا کہ آپ راضی ہو جائیں گے‘‘ (الضحیٰ: 5)۔ (جاری)</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_61172381.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>