<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>کاروباری اعتماد میں کمی(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-03/11243</link><pubDate>Wed, 03 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-03/11243</guid><description>اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے بزنس کانفیڈنس انڈیکس کے مطابق 2026ء کی دوسری سہ ماہی کے دوران کاروباری اعتماد میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔اس اشاریے کے مطابق صرف تین ماہ کے دوران مجموعی کاروباری اعتماد 22فیصد سے کم ہو کر 13 فیصد پر آگیا۔ رپورٹ کے مطابق 70 سے 80 فیصد کاروباری ادارے یا تو نئی سرمایہ کاری کے فیصلے مؤخر کر رہے ہیں یا ان پر نظرثانی کرنے پر مجبور ہیں۔ سرمایہ کاری کے رجحانات میں یہ جمود معیشت کے مستقبل کیلئے خطرناک اشارہ ہے۔ کاروباری اعتماد میں کمی کی بنیادی وجوہات میں مہنگائی میں اضافہ‘ ایندھن کی قیمتوں کا دباؤ‘ مشرقِ وسطیٰ کی جغرافیائی کشیدگی کے اثرات‘ سپلائی چین میں رکاوٹیں اور پالیسیوں کا عدم تسلسل شامل ہیں۔ ان عوامل نے نہ صرف کاروباری لاگت کو بڑھایا ہے بلکہ مستقبل کی منصوبہ بندی کو بھی غیر یقینی بنا دیا ہے۔

کاروباری اعتماد میں اس کمی کے اثرات معیشت کے ہر شعبے پر مرتب ہوں گے۔ جب سرمایہ کاری رک جائے گی تو پیداوار اور روزگار کے مواقع میں کمی اور حکومتی آمدنی میں دباؤ جیسے مسائل شدت اختیار کریں گے۔ اگر بروقت اصلاحی اقدامات نہ کیے گئے تو نہ صرف سرمایہ کاری کا بحران مزید گہرا ہوگا بلکہ اس کے اثرات طویل المدتی اور دیرپا بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔ ضروری ہے کہ حکومت فوری طور پر اعتماد سازی کے اقدامات کرے تاکہ معیشت کو استحکام اور کاروباری ماحول کو نئی زندگی فراہم کی جا سکے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>المناک ٹریفک حادثات(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-03/11242</link><pubDate>Wed, 03 Jun 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-06-03/11242</guid><description>پنجاب ایمرجنسی سروسز ڈپارٹمنٹ کے مطابق گزشتہ ماہ صوبے میں 43ہزار سے زائد ٹریفک حادثات میں 434افراد جاں بحق اور 23ہزار سے زائد زخمی ہوئے۔ یعنی ہر روز ٹریفک حادثات میں اوسطاً 14افراد جاں بحق اور 740سے زائد زخمی ہوئے۔ بڑھتے ٹریفک حادثات ایک سنگین المیہ بن چکے ہیں۔ ایشین ٹرانسپورٹ آبزرویٹری کے مطابق پاکستان میں اوسطاً ہر 19منٹ میں ایک شخص ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہو رہا ہے۔ عوام کی کثیر تعداد کا ہر روز حادثات کا شکار ہونا یقینا نظام میں خرابیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔سگنلز کی خلاف ورزی‘ تیز رفتاری‘ غلط اوور ٹیکنگ اور بغیر ہیلمٹ یا سیٹ بیلٹ کے غیر محتاط ڈرائیونگ کو معمولی خلاف ورزی سمجھا جاتا ہے اور یہی غیر ذمہ دارانہ رویہ حادثات کا سبب بنتاہے۔ اگلے روز اسلام آباد میں دو ریس لگاتی گاڑیوں نے آٹھ افراد کو کچل دیا۔

ضروری ہے کہ ایسے سنگین واقعات کے ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کر کے دوسروں کیلئے مثال بنایا جائے۔ اگرچہ حالیہ مہینوں میں حکومت نے ٹریفک قوانین پر عملدرآمد یقینی بنانے کیلئے جرمانوں اور سزاؤں میں اضافے جیسے اقدامات کیے ہیں لیکن پھر بھی صورتحال میں کوئی بہتری دکھائی نہیں دیتی۔ اس ضمن میں سخت قانون سازی کیساتھ ساتھ عوامی شعور بیدار کرنا بھی ناگزیر ہے تاکہ انسانی جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>