<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>علاقائی استحکام کی امیدِ نو(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-28/11671</link><pubDate>Wed, 28 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-28/11671</guid><description>مکہ دفاعی معاہدے کے رکن ممالک کا دورۂ تہران اور ایران کی سربراہی میں چار ملکی اجلاس مشرقِ وسطیٰ اور مسلم دنیا کے تناظر میں بڑی اہم پیش رفت ہے‘ جس کے علاقائی امن و استحکام پر طویل مدتی اثرات مرتب ہونے کی امیدہے۔ پاکستان‘ سعودی عرب‘ ایران اور ترکیہ کے عسکری و انٹیلی جنس سربراہان کی تہران میں اس بیٹھک نے باہمی مکالمے اور اشتراکِ عمل سے خطے کے دیرینہ اور پیچیدہ مسائل کا حل نکالنے کا موقع پیدا کیا ہے۔ یہ تاریخی اقدام ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب خلیج کا پورا خطہ جنگ اور اس کے پھیلائو کے خدشات کی زد میں ہے۔ ایسے میں خطے کی چار بڑی طاقتوں کا ایک میز پر بیٹھ کر مستقبل کا لائحہ عمل طے کرنا ایک نئے تزویراتی دور کے آغاز کا اعلان ہے۔ مذکورہ اجلاس کے بعد مشترکہ اعلامیہ میں امن وسلامتی پر تعاون بڑھانے اور مذاکرات کے عمل کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا جو مسلم ممالک کے بڑھتے باہمی تعاون اور علاقائی سکیورٹی کے شعبے میں خود انحصاری کے ہدف کی غمازی کرتا ہے۔ مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ شرکا نے چاروں علاقائی ممالک کے درمیان تعاون‘ بشمول خطے میں امن اور سکیورٹی کو مزید مضبوظ بنانے کیلئے ڈائیلاگ کا سلسلہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے جبکہ سعودی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق پاکستان‘ ترکیہ اور سعودی عرب کے نمائندوں کا دورۂ تہران موجودہ بحران کے فریقین کے درمیان کشیدگی کم کرنے کیلئے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے رکن ممالک کی جاری کوششوں کا حصہ ہے۔

بلاشبہ یہ دورہ مسلم دنیا کے اندرونی خلفشار کو ختم کرنے‘ غلط فہمیاں دور کرنے اور باہمی اتحاد کو مضبوط بنانے کی ایک بڑی کوشش ہے جس کے مثبت نتائج کی توقع کی جاتی ہے۔ اس غیر معمولی سفارتی مشن کے پیچھے پاکستان کی عسکری اور تزویراتی بصیرت کارفرما ہے اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی دانشمندانہ تجویز پر ہی سہ ملکی اتحاد کے اعلیٰ وفد نے تہران کا دورہ کیا۔ فیلڈ مارشل کی اس اہم تجویزکو نہ صرف ریاض اور انقرہ نے قبول کیا بلکہ تہران نے بھی اس کا کھلے دل سے خیرمقدم کیا جو عالمی سطح پر پاکستان کے سفارتی مقام و مرتبے اور عسکری ساکھ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔اس طرح پاکستان نے ثابت کردیا کہ وہ خطے میں پائیدار امن اور مسلم دنیا میں ہم آہنگی کیلئے قائدانہ کردار ادا کرتے ہوئے نہ صرف ایران امریکہ کشیدگی کے خاتمے کیلئے متحرک ہے بلکہ ایران اور سعودی عرب میں فاصلوں کو کم کرنے کیلئے بھی مخلصانہ کوششوں میں مصروف ہے۔ مسلم دنیا میں کشیدگی کے خاتمے اور باہمی قربت اور اعتماد کیلئے پاکستان کی یہ کوششیں بے مثال اور غیر معمولی ہیں۔ پاکستان نے ثابت کیا ہے کہ یہ مسلم ممالک کے درمیان اتحاد‘ مفاہمت اور بھائی چارے کا سب سے بڑا علمبردار ہے۔ اب تک مشرقِ وسطیٰ سمیت اس خطے کی سکیورٹی کا دارومدار مغربی طاقتوں خصوصاً امریکہ کے سپرد رہا ہے مگر حالیہ عدم استحکام اور عسکری کشیدگی کے بڑھتے واقعات نے یہ ثابت کیا ہے کہ مسلم دنیا کیلئے اپنے سکیورٹی فیصلے خود کرنے کا وقت آ گیا ہے۔
بدقسمتی سے ماضی میں مسلم ممالک کچھ غلط فہمیوں‘ کچھ غلطیوں اور بہت حد تک اغیار کے پروپیگنڈا کی وجہ سے ایک دوسرے پہ عدم اعتماد کا شکار رہے‘ جس کا فائدہ ہمیشہ بیرونی دشمنوں نے اٹھایا۔ تہران اجلاس نے عدم اعتماد کی برف کو پگھلانے کا کام شروع کیا ہے۔ آج وقت کا سب سے بڑا تقاضا یہی ہے کہ مسلم ممالک اپنے اختلافات اور تنازعات سے نکلیں کیونکہ اب یہ ان کی سلامتی کا معاملہ ہے۔ مسلم امہ کی قوت اندرونی جھگڑوں میں الجھنے کے بجائے مشترکہ دشمنوں اور انکے مذموم عزائم کے خلاف استعمال ہونی چاہیے۔ تہران اجلاس نے اتحادِ مسلم کی جو شمع روشن کی ہے اب یہ ان ملکوں کی قیادت پر ہے کہ وہ اس مثبت فضا اور مفاہمت کے ماحول کو ترقی دیں تاکہ مسلم دنیا امن‘ ترقی اور خوشحالی کے نئے اور روشن دور میں داخل ہو سکے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ٹیکس چھوٹ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-28/11670</link><pubDate>Wed, 28 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-28/11670</guid><description>وفاقی وزارتِ خزانہ کی جانب سے قومی اسمبلی میں پیش کردہ تفصیلات کے مطابق حکومت نے گزشتہ پانچ سالوں کے دوران مختلف طبقات کو 11ہزار ارب روپے سے زائد کی ٹیکس چھوٹ دی ۔ یہ اعداد و شمار ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب حکومت ہر سال ٹیکس وصولی کے اہداف میں اضافہ کرتے ہوئے پہلے سے ٹیکس نیٹ میں شامل افراد پر مزید بوجھ ڈال رہی ہے۔ صرف مالی سال 2024-25ء میں سیلز ٹیکس کی مد میں 1274 ارب روپے‘ کسٹم ڈیوٹی میں 499 ارب اور انکم ٹیکس کی مد میں  تقریباً 580 ارب روپے کی چھوٹ دی گئی۔ ٹیکس رعایتیں اگر کسی واضح معاشی یا عوامی ضرورت کے تحت محدود مدت اور قابلِ پیمائش فوائد کے ساتھ دی جائیں تو ان کا جواز موجود ہو سکتا ہے لیکن جب اربوں روپے کی چھوٹ کے باوجود یہ واضح نہ ہو کہ اس سے معیشت‘ سرمایہ کاری‘ روزگار یا عام شہری کو کتنا فائدہ پہنچا تو ایسی رعایتوں پر نظرثانی ناگزیر ہو جاتی ہے۔

ٹیکس چھوٹ کے علاوہ ملک کے غیر منصفانہ ٹیکس نظام کی سب سے بڑی خامی محدود ٹیکس نیٹ ہے۔ محصولات بڑھانے کیلئے پہلے سے ٹیکس نیٹ میں شامل افراد اور دستاویزی کاروباروں پر مزید ٹیکس عائد کرنا آسان راستہ ضرور ہے‘ مگر یہ منصفانہ اور پائیدار حل نہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ بلاجواز ٹیکس چھوٹ ختم کرے‘ موجودہ رعایتوں کا شفاف جائزہ لے اور قابلِ ٹیکس آمدن رکھنے والے تمام طبقات کو ٹیکس نیٹ میں لائے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>گیس بحران(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-28/11669</link><pubDate>Wed, 28 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-28/11669</guid><description>ملک میں ایل پی جی کا بحران ہر گزرتے دن کیساتھ سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ پہلے عوام پٹرولیم مصنوعات کی بلند قیمتوں کی وجہ سے پریشان تھے‘ اب کھانا پکانے کا ایندھن بھی ان کی قوتِ خرید سے باہر ہو چکا ہے۔ خبروں کے مطابق لاہور میں ایل پی جی کے نرخ 650 سے 700 روپے فی کلو تک پہنچ چکے ہیں جبکہ دور دراز علاقوں میں نرخ اس سے بھی زیادہ ہیں۔ اس بحران کے دوران حکومت کی جانب سے سردیوں میں گھریلو صارفین کو روزانہ صرف آٹھ گھنٹے گیس فراہمی کے عندیے نے عوامی مشکلات میں اضافے کے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ سردیوں کی ضروریات کا بروقت تخمینہ لگائے اور ملکی ضروریات کے مطابق گیس کی دستیابی یقینی بنائے۔ رسد میں مشکلات اپنی جگہ مگر پیشگی منصوبہ بندی اور مؤثر انتظامات کے ذریعے عوام کو ممکنہ بحران سے بچانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

دوسری جانب ایل پی جی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کو صرف درآمدی مشکلات یا رسد میں کمی کا نتیجہ قرار دے کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ حکومت کو چاہیے کہ پیداوار اور درآمد سے لے کر ڈسٹری بیوشن پلانٹس‘ ہول سیل اور ریٹیل فروخت تک پوری سپلائی چین کی نگرانی کرے۔ محض فلنگ سٹیشز پر چھاپے مارنا کافی نہیں؛ اصل توجہ ان عناصر پر ہونی چاہیے جو رسد اور قیمتوں پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>تہران اجلاس کوئی چھوٹا واقعہ نہیں(ایاز امیر)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-10-28/52922/38060900</link><pubDate>Wed, 28 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-10-28/52922/38060900</guid><description>موجودہ حالات میں کون کہہ سکتا تھا کہ ایک اعلیٰ سطح کا سعودی وفد تہران جائے گا۔ لیکن ایسا ہوا ہے‘ مکہ دفاعی معاہدے کے تینوں ممالک کے نمائندے تہران گئے اور ایران کے چوٹی کے لیڈروں سے بات چیت ہوئی۔ کوئی ڈرامائی اعلان نہیں ہوا لیکن ایسی میٹنگ کا انعقاد ہی ایک معنی رکھتا ہے۔ایک تو اس سے راستہ کھلتا ہے سعودیوں اور حوثیوں کے درمیان کچھ بات طے ہونے کا۔ ابھی تک تو ان میں کوئی خاطر خواہ رابطہ ہی نہیں تھا۔ بس دونوں اطراف حملے ہو رہے تھے اور الاؤ زیادہ بھڑک رہا تھا۔ اب کوئی نئی راہ کھل سکتی ہے۔ فی الحال سب سے بڑا مسئلہ تو یہ ہے کہ حوثی سعودی عرب پر حملے بند کریں اور سعودی عرب اپنے فضائی حملے یمن پر بند کرے۔ ساتھ ہی جو یمن کا فضائی محاصرہ ہے اُسے سعودی عرب ختم کرے۔ اور یہ اب کوئی بڑی بات نہیں رہی کیونکہ انصار اللہ سے لڑائی کے بعد بہت سی حقیقتیں سعودی عرب پر عیاں ہو چکی ہیں۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے دیکھ لیا ہے کہ حوثیوں کو ہرایا نہیں جا سکتا۔ حوثی صلاحیتیں بھی سامنے آ گئی ہیں۔ سعودی عرب کے ایئر پورٹ اور تیل تنصیبات حوثی میزائل اور ڈرون حملوں کی زد میں ہیں۔ ایک قسم کی سبکی بھی سعودی عرب کی ہوئی ہے۔ مزید اس راستے پر چلنا نقصان مول لینے کے مترادف ہے۔ اسی میں اب دانش ہے کہ یہ جنگ ختم ہو اور تہران میٹنگ اس میں ایک پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔دوم‘ یہ میٹنگ اس سوچ کو تقویت دیتی ہے کہ مغربی ایشیا میں تحفظ کا ایک نیا سٹرکچر تعمیر کیا جائے۔ جو اَب تک تحفظ کا نظام چلا آ رہا تھا وہ امریکہ کے گرد گھومتا تھا۔ امریکہ ہی تیل پیدا کرنے والے عرب بادشاہتوں کے تحفظ کا ضامن تھا۔ وہ تصور تو اس جنگ میں پاش پاش ہو گیا۔ امریکہ اپنے فوجی اڈے نہیں بچا سکا تو اُس نے کسی اور کو کیا بچانا تھا۔ مزید یہ کہ جب سعودی شہزادہ محمدبن سلمان نے صدر ٹرمپ سے حوثیوں کے خلاف حملوں کی درخواست کی تو ٹرمپ نے ٹکا سا جواب دیا۔ سعودی نظروں میں پاکستان کو ایک بڑا کریڈٹ یہ جاتا ہے کہ فوجی مدد کی اپیل کی گئی اور پاکستان کی طرف سے کسی پس و پیش کے بغیر بھاری فوجی ڈپلائمنٹ کر دی گئی۔ پرانے تحفظ کے نظام کے تحت ایسی ڈپلائمنٹ تو امریکہ کو کرنی چاہیے تھی لیکن مشکل وقت میں پاکستان کام آیا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان اس پوزیشن میں رہا کہ سعودی عرب کو کچھ کہہ سکے اور سعودی عرب اُس کی بات سنے۔ یہ باہمی اعتماد کی فضا نہ ہوتی تو سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان جو کہ ولی عہد محمد بن سلمان کے بھائی ہیں‘ تہران نہ جاتے۔ کسی کو اچھا لگے یا برا‘ تہران میٹنگ کا بڑا کریڈٹ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو جاتا ہے۔ و ہی تہران سے رابطے میں رہے اور جو پچھلی بار گئے کتنے تبصرے ہوئے کہ جنر ل محسن رضائی کے ساتھ ملاقات میں یہ آگے بڑھے اور وہ اپنی جگہ کھڑے رہے۔ ایسی باتیں بس باتیں ہی رہیں‘ اگر واقعی کوئی سرد مہری پاکستان اور ایران میں پیدا ہو ئی ہوتی تو یہ تہران میٹنگ نہیں ہونی تھی۔اتنا ماننا پڑے گا کہ اس سارے عرصے میں پاکستان کی سفارتی کارکردگی نہایت ہی عمدہ رہی ہے۔ امریکہ اور چین سے تعلقات تو ہیں ہی لیکن سعودی عرب سے مراسم قائم رکھنا اور ایران سے بھی رابطوں میں رہنا یہ کوئی چھوٹی بات نہیں۔ اسی وجہ سے جو بھی سفارتی کام ہو رہا ہے اُس میں پاکستان ایک اہم پوزیشن رکھتا ہے۔فیلڈ مارشل کے کردار نے پاکستان کی داخلی صورتحال مزید واضح کر دی ہے۔ ہائبرڈ یا ملا جلا نظام کی اصطلاح تو پاکستان کی داخلی صورتحال کے بارے میں استعمال کی جاتی تھی‘ لیکن ہائبرڈ والی بات بہت مدہم ہوتی جا رہی ہے اور اب سب پر واضح ہے کہ تمام اہم فیصلہ سازی کا سہرا فیلڈ مارشل کے سر ہے۔جس قسم کی سویلین حکومت ہے اُس کی پوزیشن بہت ہی ثانوی ہوتی جا رہی ہے۔ چاہے امریکی ہوں‘ ایرانی یا سعودی سب کو معلوم ہے کہ فیصلے کس نے کرنے ہیں۔ اور اسی انداز سے ہر کوئی پاکستان سے رابطہ رکھتا ہے۔اس ساری صورتحال سے یہ عندیہ بھی ملتا ہے کہ یہ جو باتیں نئے نظام یا نئے ایڈمنسٹریٹو یونٹوں کی ہو رہی ہیں یہ جلد ہی کسی نتیجے پر پہنچ جائیں گی۔ یعنی جو نظر آ رہا ہے اُس کی آئینی یا قانونی شکل بننے میں کوئی زیادہ دیر نہیں رہی۔ نئے یونٹ یا نئے صوبے بنیں گے اور صدارتی نظام والا قصہ بھی مکمل ہو جائے گا۔ یہ موجودہ صورتحال کا منطقی انجام ہو گا۔ یہ ہوتا ہے تو جو دو بڑی پارٹیاں اس نظام کا حصہ ہیں اُن کی حیثیت نے لازماً متاثر ہونا ہے۔ پنجاب کی صوبیداری کی شکل بدلے گی تو موجودہ صوبیداروں پر اثر تو پڑے گا۔ موجودہ طمطراق اس شکل میں نہیں رہ سکے گا۔ دیگر کیا ہوتا ہے اُس کے بارے میں نہیں کہہ سکتے لیکن ایک نئے دور میں پاکستان جانے والا ہے۔ جو کچھ سنا جا رہا ہے ان باتوں سے یہی اشارے ملتے ہیں۔بیرونی واقعات کا دیکھیں پاکستان کی داخلی صورتحال پر کیا اثر پڑا ہے۔ پچھلے سال مئی میں ہندوستان نے پاکستان پر میزائل حملے کیے اور اُس چار روزہ جنگ کے نتیجے میں افواجِ پاکستان اور خود فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے قد کاٹھ میں بہت اضافہ ہوا۔ ہندوستانی جہاز گرے تو افواجِ پاکستان کی ستائش بنتی تھی۔ اور اب جب سے ایران جنگ شروع ہوئی سفارتی لحاظ سے پاکستان کے قدم آگے رہے۔ جس میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ پر اسلام آباد میں دستخط ہوئے وہ قائم نہ رہ سکا لیکن بات چیت کیلئے امریکی اور ایرانی مندوب پاکستان تو آئے۔ اُس کے بعد بھی جب جنگ کے شعلے پھر بھڑکے تو پاکستان نے اپنا ثالثی کردار جاری رکھا۔ اسی اثنا میں مکہ دفاعی معاہدے پر دستخط ہوئے اور اب تہران کی میٹنگ ہوئی ہے جس میں حیران کن طور پر سعودی نمائندے شامل ہوئے۔ ان بہت سی چیزوں کا کریڈٹ تو پھر پاکستان اور فیلڈ مارشل کو جاتا ہے۔تحریک طالبان پاکستان کی طرف سے دہشت گردی کا سلسلہ جاری ہے لیکن افغانستان کے بارے میں گومگو کی صورتحال تو ختم ہوئی۔ یہ طالبان حکومت کی منتیں کرنا کہ وہ ٹی ٹی پی پر اثر انداز ہو تاکہ حملوں کا سلسلہ بند ہو یہ پالیسی تو ختم ہوئی۔ افغان بارڈر بند ہے‘ تجارت نہیں ہو رہی اور اس سے بہت نقصان ہو رہا ہے لیکن پالیسی کی کلیرِٹی (clarity) تو ہے کہ ٹی ٹی پی کے سامنے لچک نہیں دکھانی۔ افغانوں کا پاکستان سے انخلا بڑا فیصلہ تھا۔ ہم میں بہت سے لوگ سمجھتے تھے کہ افغانوں کو نکالنا آسان کام نہ ہو گا۔ لیکن فیصلہ کیونکہ فوج کا تھا تو ہو گیا۔ ایک اور مسئلہ ٹی ایل پی کا تھا۔ اُس تنظیم کے رویے ریاستِ پاکستان کیلئے دردِسر بنے ہوئے تھے۔ لیکن جب سے اُس کے خلاف ایکشن ہوا اب کوئی پوچھتا بھی نہیں کہ اُس کی قیادت کہاں اور کس حال میں ہے۔اس ساری صورتحال میں پاکستانی جمہوریت اور آئین و قانون کا کیا بنا‘ وہ ایک الگ داستان ہے۔ پاکستانی جمہوریت کا وہی حال ہے جو پاکستانی میڈیا کا ہے‘ کچھ ہے اور بہت کچھ نہیں ہے۔ کوئی واضح پابندیاں نہیں لیکن سب جان چکے ہیں کہ کس سیدھی لائن پر چلنا ہے اور کون سی لائنیں کراس نہیں کرنیں۔ یعنی پاکستانی قوم ایک تربیت کی درسگاہ سے گزری ہے اور بہت سی نئی چیزیں اور تصورات لوگ سمجھ رہے ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_80573045.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>وزیروں کی مٹر گشت(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-10-28/52923/24053569</link><pubDate>Wed, 28 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-10-28/52923/24053569</guid><description>33 سالہ صحافتی کیریئر میں بہت حکمرانوں اور بیورو کریٹس سے واسطہ پڑا۔ بعض سے بہت متاثر ہوا تو بعض سے مل کر دوبارہ ملنے کی خواہش پیدا نہ ہوئی۔ آج کل بیورو کریسی کی حالت دیکھتا ہوں تو یقین نہیں آتا کہ سروس کا معیار اتنا نیچے بھی گرسکتا ہے۔ پھر سوچتا ہوں کہ شاید یہی نظامِ قدرت ہے کہ ہر چیز کی ایک طبعی عمر ہوتی ہے‘ جہاں پہنچ کر وہ ختم ہو جاتی ہے۔ شاید انسانوں کے معیار اور قابلیت بھی دھیرے دھیرے ختم ہوتے چلے جاتے ہیں اور ایک دن سب کچھ زمین بوس ہو جاتا ہے‘ جسے ہم زوال کا نام دیتے ہیں۔ اگر آپ سلطنتوں کے زوال کو پڑھیں تو آخری سالوں میں یہی نظر آتا ہے کہ ہر چیز زوال پذیر ہوتی ہے۔ کل ہی کچھ دوستوں سے بات ہورہی تھی کہ صرف اُن بڑے کاروباری گروپس کی ایمپائر آگے چلتی رہی جن کی دوسری‘ تیسری نسل قابل نکلی۔ میں نے تفصیل پوچھی تو ایک دوست نے چند جاننے والے کاروباریوں کی کہانیاں سنائیں کہ انہوں نے اتنی دولت کما لی کہ نئی نسلوں کو کاروبار میں دلچسپی ہی نہیں رہی اور اب بزرگوں کو ڈر ہے کہ ان کے بعد ان کا خاندان کیا کرے گا؟ ایک کاروباری شخص کا بتایا کہ اس کا پوتا اس کے ساتھ کاروبار میں ہے اور وہ دادا سے بہتر کام سنبھال رہا ہے۔ بادشاہوں کی سلطنتیں بھی اسی اصول پر چلتی رہی ہیں۔ ہندوستان میں مغلوں کی سلطنت کو دوام بخشا تو وہ بابر یا ہمایوں نہیں بلکہ جلال الدین اکبر تھا جس نے پچاس سال سے زائد ہندوستان پر حکومت کی اور مغل سلطنت کو واقعی ایک سلطنت بنایا۔ اکبر مغل حکمران بابر کا پوتا اور ہمایوں کا بیٹا تھا۔ بابر نے سلطنت کی بنیاد رکھی تو ہمایوں باپ کے ورثے کو سنبھال نہیں سکا اور شیر شاہ سوری کے ہاتھوں شکست کھا کر کئی برس ایران میں بیٹھا زخم چاٹتا رہا۔ اگرچہ ہمایوں نے شیر شاہ سوری کے مرنے کے بعد دوبارہ ہندوستان تو حاصل کر لیا لیکن افیم کا نشہ اسے لے بیٹھا۔ یہ اکبر ہی تھا جو بارہ برس کی عمر میں بادشاہ بنا اور باپ کے برعکس اس نے انتہائی ذمہ داری سے حکومت کی۔ یہ سب باتیں اگرچہ عجیب لگیں گی کہ پاکستانی بیورو کریسی کے زوال کو کہاں سے کہاں جا کر ملایا لیکن انفرادی سطح سے لے کر سلطنتوں تک‘ قدرت کا ایک ہی اصول چلتا ہے۔اس سے پہلے میں پارلیمنٹ کے زوال پر بات کروں مجھے یاد آیا آج جب بیورو کریٹس بقول خواجہ آصف‘ پرتگال میں جائیدادیں خرید رہے ہیں یا محمود خان اچکزئی کے بقول 32 ہزار بیورو کریٹس بیرونِ ملک شہریتیں لے چکے ہیں‘ تو کچھ ایسے بھی تھے جو اپنے وقت میں حکمرانوں کے سامنے نہیں جھکے‘ چاہے جو بھی نتائج ہوں۔ اس سلسلے میں دو واقعات کا ذکر کروں گا۔ یہ واقعہ سابق سیکرٹری فنانس غفور مرزا نے سنایا تھا۔ وہ ہمارے دوست ڈاکٹر ظفر الطاف کے ہاں لنچ پر آتے تو اکثر اپنے دور کی بڑی کہانیاں سناتے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ این ایچ اے میں ممبر فنانس تھے تو اس وقت ایکسپریس مری زیر تعمیر تھی۔ این ایچ اے پر وزیراعظم ہائوس سے دبائو تھا کہ فلاں کو کنٹریکٹ دیا جائے۔ مرزا صاحب نے انکار کر دیا۔ ایک دن انہیں وزیراعظم ہائوس بلایا گیا جہاں بینظیر بھٹو نے ان سے ملاقات کی۔ وہاں زرداری صاحب بھی موجود تھے۔ بینظیر بھٹو نے پوچھا تو سب تفصیلات بتا دیں کہ یہ کنٹریکٹ فلاں پارٹی کو کیوں نہیں مل سکتا۔ بینظیر بھٹو سنتی رہیں مگر زرداری صاحب ناخوش دکھائی دیے۔ غفور مرزا جانے لگے تو وزیراعظم بینظیر نے کہا کہ میں نے آپ کی بات سن لی ہے‘ آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں‘ وہی کریں جو درست ہے۔ ایسے ہی فیڈرل سیکرٹری زراعت ڈاکٹر ظفر الطاف کا واقعہ مجھے متعلقہ وزیریوسف تالپور نے سنایا تھا۔ ایک کنٹریکٹ کیلئے وزیراعظم ہائوس سے دبائو تھا۔ ڈاکٹر ظفر الطاف ایک دبنگ افسر تھے‘ انہوں نے انکار کیا۔ کہا گیا کہ آپ کو ہٹا دیں گے۔ بولے: بطور سیکرٹری زراعت مستقبل میں اپنے وزیر اور وزیراعظم کو مقدمات سے بچانا میری ذمہ داری ہے۔ ایک دفعہ ڈاکٹر صاحب سے پوچھا کہ انہوں نے بطور وفاقی سیکرٹری بینظیر بھٹو سے نواز شریف اور مشرف تک سب کے ساتھ کام کیا‘ دوبارہ موقع ملے تو کس کے ساتھ کام کریں گے۔ بولے: بینظیر بھٹو کے ساتھ۔ آپ ان سے جتنا بھی اختلاف کرتے‘ وہ آپ کو عہدے سے نہیں ہٹاتی تھیں۔ مشرف اور نواز شریف سے اختلاف کیا تو نہ صرف عہدے سے ہٹایا بلکہ مقدمے بھی بنائے۔ شہباز شریف نے بطور وزیراعلیٰ ان کے گھر چھاپے مروائے‘ جس کا انہیں عمر بھر افسوس رہا۔ حالانکہ ان کے والد چودھری الطاف کا برسوں پرانا تعلق تھا اور وہ اتفاق فائونڈری کے وکیل بھی رہے تھے‘ مگر اس کا بھی خیال نہ رکھا گیا۔ اب کہاں ایسے افسر جو حکمرانوں کو غلط کام پر انکار کرسکیں! اب سب نے سوچ لیا ہے کہ کمانا اس ملک سے ہے اور جائیدادیں پرتگال وغیرہ میں خریدنی ہیں اور شہریت بھی باہر کی لینی ہے۔ ڈاکٹر ظفر الطاف پر مشرف نے کیس بنایا تو وہ روم میں تھے۔ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ طارق سعید ہارون نے فون کیا کہ واپس مت آنا! گرفتار ہو جائو گے۔ کہا: پہلے تو کچھ دن بعد آتا اب کل ہی آرہا ہوں۔ اپنے ملک کی جیل میں مرنا بہت بہتر ہے۔ وہ واپس آئے اور تمام مقدمات کا سامنا کیا۔ دوسری طرف حکومت اور حکمرانوں کے زوال کو دیکھنا ہو تو پارلیمنٹ کے اجلاس دیکھ لیں۔ آج کل دونوں ایوانوں کا اجلاس جاری ہے مگر لگتا ہے کہ اب ملک میں کوئی ایشو اہم نہیں‘ اب پارلیمان میں کسی موضوع پر کیا بات کی جائے ‘لہٰذا سب کرسیاں خالی پڑی ہیں۔  میں 2002ء سے پارلیمنٹ کی رپورٹنگ کررہا ہوں۔ ان برسوں میں اگر کوئی پارلیمنٹ اچھے طریقے سے اپنے کام میں مصروف نظر آئی تو وہ 2002-07ء والی پارلیمنٹ تھی جب پرویز مشرف صدر اور آرمی چیف تھے اور میر ظفر اللہ جمالی‘ چودھری شجاعت حسین اور شوکت عزیز وزیراعظم تھے۔ مجھے یاد نہیں پڑتا کوئی ممبر یا صحافی اُن دنوں کوئی اجلاس مس کرتے ہوں۔ آپ پوچھیں گے کہ میں ایک آمر کے دور کی پارلیمنٹ کی تعریف کیوں کررہا ہوں‘ کیا مجھے سیاسی وزرائے اعظم اور ان کی پارلیمنٹ اچھی نہیں لگتی یا میرا مزاج غیرجمہوری ہے؟ یقینا یہ بہت اہم سوال ہے مگر میں آج بھی اگر موازنہ کروں تو وہی پارلیمنٹ سب سے زیادہ ایکٹو اور بہتر محسوس ہوتی ہے۔ مزے کی بات ہے کہ پبلک اکائونٹس کمیٹی بھی مشرف دور میں پہلی دفعہ میڈیا کیلئے اوپن کی گئی جو اپنے دور کی بہت بڑی بات تھی کیونکہ اس سے قبل تمام سیاسی ادوار میں پبلک اکائونٹس کمیٹی کے اجلاس بند کمرے میں ہوتے تھے۔ اس کمیٹی کا چیئرمین اور ارکان‘ سب قومی اسمبلی کے ارکان ہوتے تھے اور وہ بند کمروں میں آڈٹ رپورٹس کو ڈسکس اور فیصلے کیا کرتے تھے۔ کسی کو اجازت نہ تھی کہ یہ سب سن یا دیکھ سکے کہ عوام کے ٹیکس کے اربوں روپے حکمران اور بیورو کریٹس کیسے اور کہاں خرچ کررہے ہیں اور کون اس لوٹ مار میں ملوث ہے۔ یوں اندر کھاتے بند کمروں میں سب کچھ سیٹل کر لیا جاتا اور کچھ بھی میڈیا میں رپورٹ نہ ہوتا تھا۔ مشرف نے ہی میڈیا کو اوپن کیا اور تب کمیٹی کے ارکان سابق سیکرٹریز اور ٹیکنو کریٹ تھے۔ انہوں نے کیا کمال طریقے سے یہ کمیٹی چلائی۔ اب موجودہ پی اے سی کمیٹی کا ایک سال سے چیئرمین ہی نہیں ہے۔ ایک تھکاوٹ ہے جو پارلیمنٹ پر طاری ہے۔مشرف کی پارلیمنٹ اس لیے ایکٹو تھی کہ وہ بحران کے دن تھے۔ بینظیر بھٹو اور نواز شریف بیرونِ ملک تھے لہٰذا وہ مشرف پر دبائو بڑھانے کیلئے پارلیمنٹ کو ایکٹو کیے ہوئے تھے۔ پھر پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ کی واپسی ہوئی اور جب نواز شریف وزیراعظم بنے تو وہ ایوان کا راستہ بھول گئے۔ شہباز شریف بھی ایک سال کے بعد پارلیمنٹ آئے۔ یہ سب صرف مارشل لاء ادوار میں جمہوریت پسند بنتے ہیں۔ جس دن اقتدار مل گیا‘ اس دن پارلیمنٹ سے دلچسپی ختم اور ٹھنڈ پروگرام! جیسے آج کل ایوان میں چل رہا ہے۔ کرسیاں خالی پڑی ہیں۔ وزیر وقفہ سوالات میں اپنی ذمہ داری پارلیمانی سیکرٹریز کے ذمے لگا کر بقول نوید قمر‘ خود مٹر گشت میں مصروف ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>راولپنڈی کے قدیم چائے خانے… (3)(شاہد صدیقی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-siddiqui/2026-10-28/52924/77124426</link><pubDate>Wed, 28 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-siddiqui/2026-10-28/52924/77124426</guid><description>کالج روڈ پر چائے خانوں کی ایک کہکشاں تھی۔ جس میں ایک ستارہ سب سے زیادہ روشن تھا‘ سب سے الگ‘ سب سے جدا! جس کی نرم سجل چاندنی ہماری زندگیوں میں رچ بس گئی تھی۔ اس روشن ستارے کا نام زمزم ہوٹل تھا۔ میرے لیے زمزم ہوٹل کو بیان کرنا بہت مشکل ہے۔ یہ محبت اور وارفتگی کی ایک ایسی کیفیت تھی‘ جسے صرف محسوس کیا جا سکتا تھا۔ یہ اُن خوش رنگ دنوں کا بیان ہے جب میں گورڈن کالج سے ایم اے انگلش کر رہا تھا۔ گورڈن کالج محض ایک عام تعلیمی ادارہ نہیں تھا‘ ایک تہذیب اور ایک روایت کا نام تھا۔ کھیل‘ ڈرامے اور مباحثے یہاں کی زندگی کا ایک اہم حصہ تھے۔ طلبہ اور اساتذہ کا تعلق صرف کلاس روم تک محدود نہیں تھا۔ ہم ایم اے کے طلبہ کالج کے پروفیسرز میس کے باہر لان میں اساتذہ کے ساتھ علمی مکالموں کا حصہ ہوتے۔ کالج کے پروفیسرز میس کے قریب ہی گورڈن کالج کا عقبی گیٹ تھا‘ اس سے باہر نکلیں تو کالج روڈ کی طلسماتی دنیا ہماری منتظر ہوتی۔عقبی گیٹ سے باہر نکل کر بائیں طرف چلنا شروع کریں تو ساتھ ہی ایک برگد کا درخت تھا۔ اس قدیم اور گھنے برگد کے نیچے لکڑی کی کرسیاں اور میز رکھے ہوتے۔ یہ ایک طرح سے زمزم ہوٹل کا صحن تھا۔ ہوٹل کے اندر داخل ہوں تو ایک مستطیل کمرہ ہمارے سامنے ہوتا۔ دروازے کے قریب‘ بائیں طرف ہوٹل کا مالک بٹ بیٹھا ہوتا۔ پھر ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے اس کا بیٹا تنویر بٹ اپنے والد کی جگہ بیٹھنے لگا۔ ہم جب بھی زمزم ہوٹل جاتے خوب رونق ہوتی۔ اندر جگہ نہ ملتی تو ہم باہر بچھی ہوئی کرسیوں پر بیٹھ جاتے۔ یہاں کی چائے کا اپنا ذائقہ تھا۔ کبھی کبھار ہماری فرمائش پر تنویر بٹ خاص مہربانی کرتا اور چائے کی سطح پر بالائی کی تہہ جما دیتا۔ زمزم ہوٹل کی ایک خاص بات یہ تھی کہ یہاں چائے کانچ کے چھوٹے چھوٹے گلاسوں میں دی جاتی تھی۔ زمزم ہوٹل گورڈن کالج کے طلبہ کا خاص ٹھکانا تھا۔ ستر اور اسّی کی دہائی کا گورڈن کالج کا ہر طالب علم زمزم ہو ٹل کی یاد اپنے سینے سے لگائے پھرتا ہے اور جب بھی وہ کالج کے دنوں کو یاد کرتا ہے‘ زمزم ہوٹل اس کی یادوں کی چلمن سے جھانکنے لگتا ہے۔یہ وہ زمانہ تھا جب ہر کالج میں سٹوڈنٹس یونین ہوتی تھی اور طلبہ سیاسی حوالوں سے مختلف گروپس میں بٹے ہوئے تھے۔ بہت سے سیاستدانوں نے انہی طلبہ تنظیموں سے اپنے سفر کا آغاز کیا۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ گورڈن کالج میں ایک ہی وقت میں‘ ایک ہی کلاس میں پرویز رشید‘ شیخ رشید‘ پرویز خٹک اور مہتاب عباسی شامل تھے۔ بعد میں پرویز رشید مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر بنے۔ شیخ رشید نے اپنی جماعت عوامی مسلم لیگ بنائی۔ متعدد بار قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور کئی اہم وفاقی وزارتوں پر فائز رہے۔ اسی طرح مہتاب عباسی اور پرویز خٹک دونوں مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کی طرف سے خیبر پختونخوا کی وزارتِ اعلیٰ کے منصب تک پہنچے۔ ایسے سیاسی ماحول میں طلبہ مختلف گروپس اور ٹولیوں میں زمزم ہوٹل پر بیٹھتے لیکن مکالمے کا ماحول بھی رہتا۔ ان دنوں سوشلزم اور اسلامی سوشلزم کی اصطلاحات عام تھیں اور ہوٹل میں اکثر یہ بحث ہوتی کہ ایشیا سبز ہے یا سرخ۔ ایک بار تو بڑی دلچسپ صورتحال پیدا ہوئی جب ایسا ہی ایک مباحثہ مولانا فتح محمد اور پرویز رشید کے مابین ہوا۔ مولانا فتح محمد جماعت اسلامی راولپنڈی کے امیر تھے اور ان کی رہائش کالج روڈ پر‘ زمزم ہوٹل کے قریب ہی تھی۔ ایک روز مولانا فتح محمد صاحب زمزم ہوٹل آئے تو پرویز رشید کے ساتھ اسلام اور سوشلزم پر گفتگو شروع ہو گئی۔ پرویز رشید ان دنوں نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن (NSF) کے چیئرمین اور سوشلزم کے پرچارک تھے۔ چائے کی میز پر دونوں میں پُرجوش مکالمہ ہوا‘ اور خاص بات یہ ہے کہ دونوں طرف سے ادب اور احترام کی حدیں قائم رہیں۔ زمزم ہوٹل میں سیاست کے علاوہ شعر و ادب کی محفلیں بھی جمتی تھیں۔ نئی آنے والی کتابوں کا تذکرہ ہوتا۔ نادرِ روزگار اشعار پر بحثیں ہوتیں۔ مجھے یاد ہے ایک بار یہ شعر موضوع بحث بن گیا: بہت نزدیک آتے جا رہے ہو ؍ بچھڑنے کا ارادہ کر لیا کیاگورڈن کالج کے پروفیسر وحید مرزا کا اصرار تھا کہ یہ شعر عدیم ہاشمی کا ہے کیونکہ یہ شعر عدیم ہاشمی نے خود پروفیسر وحید مرزا کو سنایا تھا اور یہ ان کی ایک غزل کا حصہ ہے‘ جس کا مطلع ہے: برہنہ ہو گئے ہیں زخم کیا کیا؍ سویرا شامِ غم کا ہو گیا کیا۔ کچھ دوستوں کا خیال تھا کہ یہ شعرجون ایلیا کا ہے‘ جو جون کے کلام میں معمولی فرق سے کچھ یوں موجود ہے:بہت نزدیک آتی جا رہی ہو؍ بچھڑنے کا ارادہ کر لیا ہے کیایہ شعر جون ایلیا کی جس غزل کا حصہ ہے اس کا مطلع ہے: بہت دل کو کشادہ کر لیا کیا؍ زمانے بھر سے وعدہ کر لیا کیاکافی بحث ومباحثے کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ دونوں فریق درست کہتے ہیں۔ یہ شعر واقعی عدیم ہاشمی اور جون ایلیا‘ دونوں کے کلام کا حصہ ہے۔ زمزم ہوٹل کے ایک کمرے کے ڈھابہ نما ریستوران پر کیسے کیسے لوگ نہیں آتے تھے۔ ان میں طلبہ اور اساتذہ کی کوئی تمیز نہیں تھی۔ یہاں میں نے گورڈن کالج کے پرنسپل خواجہ مسعود‘ آفتاب اقبال شمیم‘ نصراللہ ملک‘ سجاد حیدر ملک‘ توصیف تبسم اور سجاد شیخ جیسے اساتذہ کو بھی دیکھا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ان محفلوں سے ہم نے بہت کچھ سیکھا۔ زمزم ہوٹل کی ایک خاص بات یہ تھی کہ ہم یہاں اپنی فرمائش پر اپنی پسند کے گیت بھی سن سکتے تھے۔ وہ گرامو فون ریکارڈز کا زمانہ تھا۔ ہم ایک پرچی پر اپنا پسندیدہ گیت لکھ کر تنویر بٹ کو دے دیتے‘ جس کے پاس ایک طرف گراموفون ریکارڈز اور دوسری طرف ہماری فرمائشی پرچیوں کا ڈھیر ہوتا۔ تنویر بٹ کی جادوئی انگلیاں جیسے ریکارڈز کو پہچانتی تھیں‘ وہ پرچی پر لکھا کوئی بھی فرمائشی گیت پڑھتا تو اس کی انگلیاں ریکارڈز کے ڈھیر پر تھرتھراتیں اور چشمِ زدن میں مظلوبہ ریکارڈ اس کے ہاتھ میں ہوتا۔ کیسے کیسے گیت تھے جو ہم نے برگدکے بوڑھے درخت کے نیچے بچھی لکڑی کی کرسیوں پر چائے پیتے ہوئے سنے۔ دلچسپ بات یہ کہ زمزم ہوٹل سے کچھ ہی فاصلے پر بلراج ساہنی اور بھیشم ساہنی کا گھر تھا۔ ایک بھائی نے اداکاری اور دوسرے نے ادب کے شعبے میں نام کمایا۔ بلراج ساہنی کے گھر سے ذرا فاصلے پر مسجد کیلیاں والی گلی میں نامور گیت کار آنند بخشی کا گھر تھا‘ جنہوں نے بالی وُڈ کیلئے ساڑھے تین ہزار سے زیادہ گیت لکھے۔ اسی گرد ونوا ح میں ایک اور معروف گیت کار شیلندر کا گھر تھا‘ جنہوں نے فلموں کے کتنے ہی خوبصورت گیت لکھے۔ کسی نے ایک بار معروف گیت نگار اور فلم ساز گلزار سے ان کے پسندیدہ گیت نگار کا پوچھا تو گلزار نے شیلندر کا نام لیا۔ شیلندر بھی راولپنڈی کے انہی گلی کوچوں میں پیدا ہوا تھا۔جب ہم زمزم ہوٹل پر بیٹھتے اور آنند بخشی اور شیلندرکے گیت سنتے تو عجیب اپنائیت کا احساس ہوتا۔ پھر میرا کالج کا زمانہ ختم ہوا اور میں راولپنڈی سے دور چلا گیا۔ تب ایک دن جب میں لاہور میں اپنے آفس میں بیٹھا تھا مجھے راولپنڈی سے یارِ عزیز شاہد مسعود کا ٹیلیفون آیا جس نے خبر سنائی کہ ہمارا دیرینہ ٹھکانا زمزم ہوٹل ہمیشہ کیلئے ختم ہو گیا ہے۔ یہ خبر سن کر مجھے یوں لگا جیسے میرے اندر کوئی چیز ٹوٹ گئی ہو۔ ٹیلیفون بند کر کے میں نے آنکھیں بند کر لیں اور کرسی پر ڈھیر ہو گیا۔ چشمِ تصور مجھے کالج روڈ لے گئی۔ کیا دیکھتا ہوں‘ برگد کے بوڑھے درخت کے نیچے بچھی کرسیوں پر بیٹھا میں دوستوں کے ہمراہ چائے پی رہا ہوں اور تنویر بٹ نے ہماری فرمائش پر شیلندر کا گیت چلایا ہے: &#39;&#39;عجیب داستاں ہے یہ کہاں شروع کہاں ختم‘‘۔ میں اپنی آنکھیں سختی سے بھینچ لیتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ یہ منظر کبھی ختم نہ ہو۔ (ختم)</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_21538475.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>اتحادِ اُمہ کی اہم پیش رفت(سلمان غنی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/salman-ghani/2026-10-28/52925/22233716</link><pubDate>Wed, 28 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/salman-ghani/2026-10-28/52925/22233716</guid><description>تہران میں منعقدہ ایران‘ پاکستان‘ ترکیہ اور سعودی عرب کے اجلاس میں امن و سلامتی پر تعاون جاری رکھنے کے اعلان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اتحادِ اُمہ کیلئے پاکستان کی کوششیں بارآور رہی ہیں۔ یہ اعلان اعتماد سازی اور مذاکراتی عمل کا آغاز ہے اور اس کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ ایران اور مکہ دفاعی معاہدے کے رکن ممالک علاقائی امن و سلامتی اور استحکام کیلئے سرگرم ہیں۔ تاہم اس پیش رفت کی عملی اہمیت کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آنے والے دنوں میں یہ چار ملکی مذاکرات کس حد تک نتیجہ خیز ثابت ہوتے ہیں۔عالمی و علاقائی میڈیا اس اجلاس کواس کی ٹائمنگ کے حوالے سے اہم قرار دیتے ہوئے یہ کہتا نظر آ رہا ہے کہ مسلم اُمہ میں باہمی تنازعات کو تصادم کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی تحریک موجود ہے۔ اس ضمن میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کردار اہم ہے‘ جنہوں نے چند روز قبل تہران کا دورہ کیا تھا اور ایرانی قیادت سے سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کے تناظر میں کردار ادا کرنے کی اپیل کی گئی تھی۔ اب سعودی عرب کی قیادت کا تہران جا کر باہمی تنازعات اور غلط فہمیوں کے ازالے کی کوشش کرنا بھی پاکستان کی سفارتی کاوشوں کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ اس ضمن میں ابتدائی مشاورتی اجلاس میں امن اور سلامتی کیلئے تعاون جاری رکھنے اور علاقائی استحکام کیلئے مشترکہ کوششوں پر اتفاق ایک مثبت پیش رفت ہے۔ تاہم کسی نئے سکیورٹی معاہدے‘ سعودی عرب اور حوثیوں کی جنگی کیفیت کے خاتمے یا امریکہ اور ایران کے بحران پر مفاہمت کا اعلان نہیں ہوا‘ اس کے باوجود مذاکرات جاری رکھنے کا فیصلہ اعتماد سازی کیلئے اہم ہے۔اس اجلاس کی اہمیت سمجھنے کیلئے علاقائی صورتحال کا جائزہ بھی ضروری ہے۔ سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں نے مکہ دفاعی اتحاد کیلئے بڑا چیلنج پیدا کیا ہے کیونکہ اتحاد کی بنیادی شرائط کے مطابق کسی ایک رکن پر حملے کو تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ایران نے بھی سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت کی تھی اور بعد ازاں ثالثی کی پیشکش کی تاہم متعلقہ فریقوں کی جانب سے کوئی مثبت جواب سامنے نہیں آیا۔ خبروں کے مطابق حالیہ دورۂ ایران میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایرانی قیادت کو سعودی عرب پر حملوں کے حوالے سے پاکستان کی تشویش سے آگاہ کیا اور باور کرایا کہ سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی خطے میں نئے خطرات پیدا کر سکتی ہے۔ پاکستان نے براہِ راست حوثیوں کے خلاف ردِعمل دینے کے بجائے سفارتی کوششوں کو ترجیح دی۔ پاکستان کی جانب سے ہی مکہ دفاعی اتحاد کے ارکان کو تہران میں بیٹھ کر تنازعات کے حل اور سعودی عرب سے متعلق صورتحال پر غور کرنے کی تجویز دی گئی۔ اس اجلاس میں ایران کے علاقائی خدشات اور سعودی عرب سے متعلق تشویش کو سنجیدگی سے سنا گیا۔ اگر تہران ان معاملات پر قابلِ عمل مفاہمت پیدا کرنے میں کامیاب ہوتا ہے تو کشیدگی میں کمی کی راہ نکل سکتی ہے کیونکہ ایک جانب سعودی عرب کو حوثیوں کے حملوں کا سامنا ہے تو دوسری جانب ایران کو امریکہ کی طرف سے دوبارہ جنگ مسلط کیے جانے کے خدشات لاحق ہیں۔ عالمی امور کے ماہرین کے مطابق ان چیلنجز کا حل باہمی تعاون سے نکالا جا سکتا ہے‘ جس میں پاکستان مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔ پاکستان سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ ایران سے اچھے تعلقات کو بھی اہمیت دیتا ہے جبکہ ایرانی قیادت پاکستان کے سفارتی اور ثالثی کردار کو سراہتی رہی ہے۔ تہران اجلاس کی اصل کامیابی اس بات میں ہوگی کہ رکن ممالک سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کی روک تھام کیلئے قابلِ عمل لائحہ عمل پر متفق ہوں‘ جس میں ایران کا کردار اہم ہو سکتا ہے۔ عام تاثر یہ ہے کہ حوثیوں پر ایران کا اثر و رسوخ آج بھی کارگر ثابت ہو سکتا ہے۔ اس ضمن میں ایران مثبت کردار ادا کرکے خطے کے دیگر مسلم ممالک خصوصاً مکہ دفاعی اتحاد کے ارکان کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر بنا سکتا ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایک انٹرویو میں مستقبل میں ایران کے مکہ دفاعی معاہدے کا حصہ بننے کی خواہش کا اظہار بھی کیا تھا‘ جس میں انہوں نے مکہ دفاعی اتحاد کو علاقائی امن و سلامتی اور بحرانوں کے حل کا ذریعہ قرار دیا۔ پاکستان کیلئے یہ اجلاس اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ وہ ایک طرف سعودی عرب کی سلامتی کے تحفظ کا عزم ظاہر کرتا ہے تو دوسری طرف ایران کے ساتھ تعلقات اور علاقائی امن کے تقاضوں کو بھی اہمیت دیتا ہے۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ ایران حوثیوں پر اپنے اثر و رسوخ کو کشیدگی کم کرنے کیلئے کس حد تک استعمال کرنے پر آمادہ ہے۔ حوثیوں کی اپنی قیادت‘ سیاسی ترجیحات اور علاقائی عزائم بھی ہیں‘ اس لیے انہیں مکمل طور پر ایران کے تابع قرار دینا بھی درست نہیں ہوگا‘ اگرچہ ایران ان پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اگر ایران سعودی عرب کے خلاف حوثی حملوں میں کمی لانے کیلئے سنجیدہ کوشش کرتا ہے تو اس کا کردار مزید اہم ہوجائے گا۔ لہٰذا تہران اجلاس کا اصل امتحان ایران کے بیانات نہیں بلکہ اس کے بعد حوثیوں کے رویے میں آنے والی قابلِ تصدیق تبدیلی ہے۔اس اجلاس کے اثرات سعودی عرب اور ایران کے تعلقات کے علاوہ مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن‘ مسلم ممالک کے اتحاد اور علاقائی سلامتی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ اگر سعودی عرب اور ایران مشترکہ راستے پر آگے بڑھنے اور تنازعات کے سیاسی حل پر تیار ہو جاتے ہیں تو پاکستان سمیت دیگر مسلم ممالک کیلئے بھی سفارتی گنجائش پیدا ہوگی۔ تاہم موجودہ علاقائی صورتحال اور خطرات کے پیشِ نظر فوری اور نتیجہ خیز کامیابی کی توقع قبل از وقت ہوگی۔ اصل کامیابی اس وقت سامنے آئے گی جب حوثیوں کے حملوں میں کمی‘ ان کے تحفظات کے ازالے‘ سعودی عرب کی سلامتی کیلئے قابلِ اعتماد یقین دہانیوں اور ایران و سعودی عرب کے درمیان مکالمے کے حوالے سے ٹھوس پیش رفت ہوگی۔مذکورہ اجلاس کے بعد اگلا اجلاس زیادہ اہم ہو سکتا ہے‘ اور جتنی جلدی اگلا اجلاس ممکن ہو گا اتنی ہی جلدی اس میں بڑا بریک تھرو سامنے آ پائے گا۔پاکستان کی سفارتی کوششوں کو عالمِ عرب اور ایران میں بھی سراہا جا رہا ہے۔ ویسے بھی موجودہ حالات میں کوئی بھی ملک جارحیت اور جنگوں کے ذریعے اپنے مذموم مقاصد حاصل نہیں کر سکتا۔ اس کی واضح مثال مئی 2025ء کی پاک بھارت ہے‘ جس میں پاکستان نے بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا تھا ‘ تو ایران بھی اسرائیل اور امریکہ کے خلاف ڈٹا ہوا ہے۔ اگر تہران اجلاس مثبت نتائج کا باعث بنتا ہے تو یہ اسرائیل کیلئے بھی ایک پیغام ہوگا۔ اجلاس کی ٹائمنگ اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ ایسے وقت میں ہوا جب اسرائیل میں عام انتخابات ہو نے والے تھے اورنیتن یاہو کو ان انتخابات میں مشکلات کا سامنا تھا۔ چار اہم مسلم ممالک کی قیادت کا ایک جگہ بیٹھنا اسرائیل کیلئے واضح پیغام ہے۔ اگر ایران اور سعودی عرب علاقائی امن و استحکام کیلئے اہم پیشرفت کرتے اور باہمی غلط فہمیوں کے ازالے کے ساتھ مل کر چلنے کا عزم ظاہر کرتے ہیں تو مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیلی عزائم کیلئے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔خطے کے ممالک میں یہ سوچ بھی زور پکڑ رہی ہے کہ اپنی سلامتی کیلئے بیرونی طاقتوں پر انحصار کرنے کے بجائے علاقائی تعاون کو فروغ دیا جائے تاکہ ہنگامی صورتحال میں ایک دوسرے کی مدد کی جا سکے اور جارحیت کا مقابلہ کیا جا سکے۔ اس تناظر میں سعودی عرب‘ ترکیہ اور پاکستان کے درمیان مکہ دفاعی معاہدہ اہمیت رکھتا ہے جبکہ ایران‘ قطر‘ عمان اور مصر کی اس میں دلچسپی بھی غیر معمولی قرار دی جا رہی ہے۔ ایران کی جانب سے اس اتحاد میں شمولیت کی خواہش کا اظہار بھی اسی تناظر میں اہم ہے۔ باہمی اختلافات کے باوجود مسلم ممالک میں تعاون کی یہ تحریک زور پکڑ رہی ہے اور اس ضمن میں پاکستان کے کردار کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اس حوالے سے طے شدہ حکمتِ عملی پر کاربند ہیں جس کی ایک اہم پیش رفت تہران اجلاس کی صورت میں سامنے آئی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/230_37874475.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پہاڑوں کا خزانہ، عوام کا خالی دامن(محمد حسن رضا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-hasan-raza/2026-10-28/52926/52420883</link><pubDate>Wed, 28 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-hasan-raza/2026-10-28/52926/52420883</guid><description>ابنِ خلدون نے اپنے شہرۂ آفاق &#39;&#39;مقدمہ‘‘ میں لکھا تھا کہ ظلم معاشرے اور تہذیب و تمدن کی تباہی کا پیش خیمہ ہے۔ خیبر پختونخوا کے معدنی وسائل کی بحث بھی اسی تناظر میں دیکھی جانی چاہیے۔ جس سرزمین سے معدنی دولت نکلے‘ وہاں کے باشندوں کو اس کا حساب تک نہ ملے تو یہ معاملہ محض معاشیات کا نہیں انصاف کا بن جاتا ہے۔ خیبر پختونخوا کے پہاڑ کسی حکومت کی ذاتی جاگیر‘ کسی سیاسی جماعت کا انتخابی چندہ یا کسی ادارے کی غیرمشروط ملکیت نہیں۔ قومی وسائل کی شفاف نگرانی ہی قومی مفادات کے تحفظ کی بنیاد ہے۔سرکاری اعدادوشمار کے مطابق قیام پاکستان سے 2010ء تک خیبرپختونخوا میں معدنی لائسنسوں کی تعداد 482تھی‘ جو 2020ء تک 1762‘ فروری 2024ء تک 3962 اور اب 4917 بتائی گئی ہے۔ ان میں 4133 آباد اور 784ضم شدہ اضلاع سے متعلق ہیں جبکہ 500 سے زائد نئی درخواستیں زیرِ غور ہیں۔ یہ اضافہ ابتدائی تعداد سے دس گنا زیادہ ہے‘ اس لیے لائسنسوں کا مکمل ریکارڈ سامنے آنا چاہیے۔ واضح کیا جائے کہ یہ مجموعی اجرا ہے یا فعال لائسنس‘ اس میں تجدید شدہ ٹائٹلز شامل ہیں یا نہیں اور قبائلی اضلاع کے انضمام سے کیا تبدیلیاں آئیں۔ پھر اصل امتحان شروع ہونا چاہیے‘ کس کو کتنی زمین ملی‘ اہلیت کیا تھی‘ مقابلہ کیسے ہوا‘ واجبات کتنے تھے اور وصولیاں کتنی ہوئیں؟ سیاسی وابستگیوں پر شور مچانا آسان ہے؛ اصل فائدہ اٹھانے والوں کے نام‘ کمپنیوں کی ملکیت اور فیصلہ کرنے والوں کے دستخط سامنے رکھنا مشکل ہے۔ احتساب کرنا ہے تو یہی مشکل کام کیجیے۔سابق صوبائی وزیر خیبرپختونخوا عارف احمدزئی کے مطابق لائسنسوں میں اضافے سے معاشی سرگرمیاں بڑھیں اور معدنی آمدنی 70کروڑ سے 14 ارب روپے تک پہنچی۔ وہ شفاف طریقۂ کار کا دفاع کرتے ہوئے چار بڑے لائسنسوں میں صرف ایف ڈبلیو او کے لائسنس کو فعال بتاتے ہیں۔ دوسری طرف خواجہ آصف ایف ڈبلیو او کو 2015ء میں بویا کے مقام پر صرف ایک لائسنس ملنے کا ذکر کرتے ہیں۔ لیکن لائسنسوں کی تعداد کیساتھ ان کی معاشی مالیت کا حساب بھی ضروری ہے کیونکہ ایک بڑی تانبے کی کان کی قدر سینکڑوں چھوٹی لیزوں سے مختلف ہوسکتی ہے۔ شمالی وزیرستان کا محمد خیل کاپر منصوبہ اسی لیے اہم ہے۔ ایف ڈبلیو او کی ویب سائٹ اسے پاکستان کا دوسرا بڑا کاپر مائننگ آپریشن قرار دیتی ہے جو 2019ء سے فعال ہے۔ تقریباً 30 مربع کلومیٹر پر پھیلے اس منصوبے میں کھلی کان اور روزانہ 1500 ٹن معدنی مواد پراسیس کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ رپورٹ میں 15 جولائی 2016ء کو بیس سالہ مائننگ لیز اور پانچ اپریل 2017ء کو اس وقت کی فاٹا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کیساتھ مشترکہ منصوبے کے معاہدے کا ذکر ہے۔ اصل لیز اور معاہدہ جاری کرکے انکی مدت اور شرائط واضح کی جائیں۔بزنس ریکارڈر کی 12 اگست 2023ء کی رپورٹ کے مطابق اقتصادی رابطہ کمیٹی نے 10.7 ارب روپے کے اس منصوبے کو مخصوص ایکسپورٹ پراسیسنگ زون کا درجہ دیا۔ اس میں محمد خیل کی 30مربع کلومیٹر مائننگ لیز‘ ایم ایل 30 اور منظر خیل کی 101 مربع کلومیٹر ایکسپلوریشن لیز‘ ای ایل 101 شامل تھیں۔ عمل درآمد کرنے والی ڈیگن ایکسپلوریشن ورکس کو ایف ڈبلیو او کی ذیلی کمپنی بتایا گیا۔ رپورٹ میں منافع کی تقسیم ڈیگن کیلئے 50 فیصد‘ منرلز ڈویلپمنٹ ڈپارٹمنٹ کیلئے 10 فیصد‘ کمیشن کیلئے 18 فیصد اور سماجی ذمہ داری کے فنڈ کیلئے 22 فیصد درج ہے۔ اب بتایا جائے کہ قابلِ تقسیم منافع کتنا تھا‘ اخراجات کس نے جانچے‘ ادائیگیاں کب ہوئیں‘ کمیشن کی حیثیت اور مستحقین کون ہیں اور سماجی فنڈ سے  کتنے منصوبے مکمل ہوئے۔ اسمبلی دستاویز سے منسوب اعداد کے مطابق اس منصوبے سے 2016ء سے 2024ء تک نو لاکھ 52ہزار میٹرک ٹن معدنی پیداوار ہوئی جبکہ رائلٹی‘ کرایوں اور مشترکہ منصوبے کی مد میں 18کروڑ 98لاکھ 3ہزار روپے وصول ہوئے۔ متعلقہ حکام بتائیں کہ یہ واجبات کس مدت کے تھے۔ خیبرپختونخوا کے ممبر صوبائی اسمبلی نثار باز خان کے دعوے کے مطابق اس منصوبے کی پانچ فیصد رائلٹی تقریباً 34.5 ارب روپے بنتی تھی لیکن ادائیگی صرف 16 کروڑ 90 لاکھ روپے ہوئی۔ ایک رپورٹ میں اس منصوبے کی پیداوارنو لاکھ 87 ہزارٹن بتائی گئی ہے‘ جو اسمبلی دستاویز کے عدد سے مختلف ہے۔ اس اختلاف کی وضاحت ضروری ہے۔ 34.5 ارب روپے کو ثابت شدہ خوردبرد کہنا قبل از وقت ہوگا مگر اتنے بڑے دعوے کو نظرانداز بھی نہیں کیا جاسکتا۔ اگر یہ رقم واقعی پانچ فیصد رائلٹی ہے تو متعلقہ مالیت 690 ارب روپے بنتی ہے؛ اس تخمینے کی دستاویزی بنیاد سامنے آنی چاہیے۔سوال یہ ہے کہ عوام کو اپنے وسائل کی آمدنی جاننے کیلئے عدالت کیوں جانا پڑے؟ حکومت اور منصوبہ چلانے والے خود تفصیلات جاری کیوں نہیں کرتے؟مولانا فضل الرحمن معدنی وسائل پر اختیار کے خدشات اٹھاتے ہیں تو ان سے بھی دستاویزات اور اپنی سیاسی کارکردگی کا حساب مانگا جانا چاہیے۔ انہوں نے شفافیت کیلئے کونسا ریکارڈ طلب کیا‘ کونسا معاملہ متعلقہ فورم پر اٹھایا اور کس معاہدے کی خلاف ورزی ثابت کی؟ اب اس مسئلے پر ایک اور کمیٹی کے اعلان سے کام نہیں چلے گا۔ ایک آزاد مالی اور تکنیکی آڈٹ کان سے فروخت اور وصولی تک پورا حساب جانچے۔ جہاں کم قیمت ظاہر کرنے‘ غیر قانونی کان کنی‘ واجبات روکنے یا ملی بھگت کے شواہد ملیں‘ وہاں رقم وصول کرکے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔خیبر پختونخوا کے معدنی وسائل‘ سیاسی اثرورسوخ اور کاروباری مفادات کے مبینہ گٹھ جوڑ سے متعلق مزید سنگین الزامات بھی سامنے آئے ہیں جن کی تصدیق کیلئے سرکاری ریکارڈ‘ مالیاتی دستاویزات اور آزادانہ تحقیقات ضروری ہیں۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایک خان اور بعدازاں ان کے صاحبزادے کان کنی کے کاروبار سے منسلک رہے اور مبینہ طور پر صوبائی حکمران جماعت کے اہم عہدیداروں کے مالی سہولت کار یا کاروباری فرنٹ مین کے طور پر کام کرتے رہے۔ ان کے کاروباری اور خاندانی روابط اٹک‘ ٹیکسلا‘ ترنول‘ پتھر گڑھ‘ خانپور اور افغانستان تک پھیلے ہونے کا دعویٰ ہے۔ذرائع خاندان کا تعلق افغانستان کے صوبہ ہرات سے بتاتے ہیں اور الزام ہے کہ خاندان کے بعض افراد نے نادرا سے پاکستانی شناختی کارڈ حاصل کیے‘ جبکہ کچھ افراد کو پرانے شناختی ریکارڈ کی عدم موجودگی کے باعث افغانستان واپس بھی بھیجا گیا۔ خاندان کے افراد ترنول‘ راولپنڈی اور پتھر گڑھ میں مشینری کے کاروبار سے وابستہ بتائے گئے۔ بھتیجے کے افغانستان واپسی کے بعد پاکستانی ویزے پر ٹیکسلا آنے‘ ایک رشتہ دار کی اراضی کی نگرانی کرنے اور اٹک میں سکیورٹی آپریشن کے بعد خاندان کو خانپور‘ ضلع ہری پور منتقل کرنے کے دعوے بھی ہیں۔ ان سب دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔ الزام ہے کہ خانپور‘ ضلع ہری پور میں 99 سالہ معدنی لیز غیر معمولی کم نرخوں پر دی گئی اور اعلیٰ حکام نے سہولت کاری کی۔ پارٹی عہدیداروں کی جانب سے ایک فیکٹری سے اس کی زمین کے نیچے کان کنی جاری رکھنے میں سہولت مانگنے کا دعویٰ بھی ہے۔ رپورٹ میں خان مذکور اور ساتھیوں پر سیاسی شخصیات کو مالی معاونت دینے اور سیاسی سرگرمیوں کیلئے روزانہ 70 سے 80 لاکھ روپے فراہم کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ زمین‘ لیز اور مالی دعوؤں کی تصدیق ضروری ہے۔ افغانستان سے خاندانی تعلق‘ وہاں جائیداد یا کاروبار‘ یا کسی جماعت کو قانونی مالی معاونت دینا بذاتِ خود جرم نہیں۔ اصل سوال لیز کے قانونی اختیار و شرائط‘ حقیقی مستفیدین‘ کمپنیوں کی ملکیت و آمدن‘ دھماکا خیز مواد کے ضوابط اور سیاسی اثرورسوخ کے ممکنہ نجی استعمال کا ہے۔ یہ شواہد تحقیقاتی اداروں اور عدالتوں کے سامنے لائے جائیں اور نامزد افراد کو جواب دینے کا موقع ملنا چاہیے۔ کیونکہ صوبے کے معدنی وسائل کسی حکومت‘ جماعت‘ سیاستدان یا کاروباری شخصیت کی ذاتی ملکیت نہیں‘ عوام کی اجتماعی امانت ہیں اور اس امانت کے ایک ایک معاہدے‘ ایک ایک روپے اور ایک ایک قانونی اجازت نامے کا حساب ہونا چاہیے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/229_33941343.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کاروبار کے شرعی اصول(علامہ ابتسام الہٰی ظہیر )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-10-28/52927/18484298</link><pubDate>Wed, 28 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-10-28/52927/18484298</guid><description>اسلام میں کاروباری دیانت کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے اور ناجائز ذرائع آمدنی کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کو کاروباری بے اعتدالیاں سخت ناپسند ہیں۔ حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کے لوگوں پر عذاب آنے کی بڑی وجہ یہی تھی کہ وہ کاروباری معاملات میں من مانیاں کیا کرتے تھے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کے واقعے کو قرآن مجید کے مختلف مقامات پر بیان کیا۔ سورۂ ہود کی آیات: 84 تا 86 میں اللہ تبارک وتعالیٰ اس واقعہ کو کچھ یوں بیان فرماتے ہیں: &#39;&#39;اور ہم نے مدین والوں کی طرف ان کے بھائی شعیب کو بھیجا‘ اس نے کہا: اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں اور تم ناپ تول میں بھی کمی نہ کرو‘ میں تو تمہیں آسودہ حال دیکھ رہا ہوں اور مجھے تم پر گھیرنے والے دن کے عذاب کا خوف (بھی) ہے۔ اے میری قوم! ناپ تول انصاف کے ساتھ پوری پوری کرو‘ لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دو اور زمین میں فساد اور خرابی نہ مچائو۔ اللہ کا حلال کیا ہوا جو بچ رہے تمہارے لیے بہت ہی بہتر ہے اگر تم ایمان والے ہو‘‘۔ جب مدین کے لوگوں نے حضرت شعیب علیہ السلام کی نصیحت کو تسلیم نہ کیا تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان پر ایک چنگھاڑ کو مسلط کرکے قصۂ پارینہ بنا دیا۔ کتاب وسنت میں کاروبار کے حوالے سے جن چیزوں کی اہمیت پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے‘ وہ درج ذیل ہیں:1۔ پورا تولنا اور پورا ماپنا: کتاب اللہ میں پورا تولنے اور پورا ماپنے کی اہمیت کو بہت زیادہ اجاگر کیا گیا ہے۔ قرآنِ مجید میں مختلف مقامات پر اللہ تبارک وتعالیٰ نے ناجائز ذرائع آمدن کی شدید مذمت کی ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ المطففین کی آیات: 1 تا 3 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;بڑی خرابی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کی۔ کہ جب لوگوں سے ناپ کر لیتے ہیں تو پورا پورا لیتے ہیں۔ اور جب انہیں ناپ کر یا تول کر دیتے ہیں تو کم دیتے ہیں‘‘۔ سورۃ الانعام کی آیت: 152 میں اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;اور ناپ تول پورا پورا کرو‘‘۔ اسی طرح سورۂ بنی اسرائیل کی آیت: 35 میں ارشاد ہوا: &#39;&#39;اور جب ناپنے لگو تو بھرپور پیمانے سے ناپو اور سیدھی ترازو سے تولا کرو۔ یہی بہتر ہے اور انجام کے لحاظ سے بھی بہت اچھا ہے‘‘۔2۔ دھوکا دہی اور باطل طریقوں سے دوسروں کا مال ہڑپ کرنے سے اجتناب: شریعتِ اسلامیہ نے مسلمانوں کو اس بات کا پابند بنایا ہے کہ وہ دوسرے کے مال کو دھوکا دہی سے ہڑپ کرنے سے اجتناب کریں۔ اس حوالے سے سورۃ النساء کی آیت: 29 میں اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;اے ایمان والو! اپنے آپس کے مال ناجائز طریقہ سے مت کھائو مگر یہ کہ تمہاری آپس کی رضامندی سے ہو خرید وفروخت‘ اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو یقینا اللہ تم پر نہایت مہربان ہے‘‘۔3۔ ملاوٹ کرنے سے اجتناب: اسلام میں ملاوٹ کرنے سے اجتناب کا حکم دیا گیا ہے۔ جو چیز دکھائی جائے اسی چیز کو بیچنا چاہیے۔ اس حوالے سے صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ غلے کی ایک ڈھیری کے پاس سے گزرے‘ آپﷺ نے اپنا ہاتھ اس میں داخل کیا تو آپ کی انگلیوں نے نمی محسوس کی۔ آپﷺ نے فرمایا &#39;&#39;غلے کے مالک! یہ کیا ہے؟‘‘ اس نے عرض کی: اے اللہ کے رسولﷺ! اس پر بارش پڑ گئی تھی۔ آپﷺ نے فرمایا &#39;&#39;تو تم نے اس (بھیگے ہوئے غلے) کو اوپر کیوں نہ رکھا تاکہ لوگ اسے دیکھ لیتے؟ جس نے دھوکا کیا وہ مجھ سے نہیں‘‘۔ (یعنی ان لوگوں میں سے نہیں جنہیں میرے ساتھ وابستہ ہونے کا شرف حاصل ہے)۔4۔ ظلم کی کمائی سے اجتناب: اسلام میں ظلم کی کمائی سے اجتناب کا حکم دیا گیا ہے۔ بعض لوگ یتیموں کا مال ظلم سے کھا جاتے ہیں جس پر شدید وعید سنائی گئی ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ النساء کی آیت: 10 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;جو لوگ ناحق ظلم سے یتیموں کا مال کھا جاتے ہیں‘ وہ اپنے پیٹ میں آگ ہی بھر رہے ہیں اور عنقریب وہ دوزخ میں جائیں گے‘‘۔5۔ سود کی کمائی سے اجتناب: اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآنِ مجید کے بہت سے مقامات پر سود کی کمائی کی مذمت کی ہے اور اہلِ ایمان کو اس کمائی سے اجتناب کرنے کا حکم دیا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ البقرہ کی آیات: 278 تا 279 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور جو سود باقی رہ گیا ہے وہ چھوڑ دو‘ اگر تم سچ مچ ایمان والے ہو۔ اور اگر ایسا نہیں کرتے تو اللہ سے اور اس کے رسول سے لڑنے کے لیے تیار ہو جائو‘‘۔6۔ قحبہ گری کی کمائی سے اجتناب: بعض لوگ عورتوں کو بے حیائی میں دھکیل کر ان کی کمائی کھاتے ہیں۔ یہ لوگ درحقیقت انتہائی قبیح عمل میں مبتلا ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ایسے لوگوں کی سخت مذمت کی ہے اور جو عورتیں مجبوری میں اپنا جسم بیچیں‘ ان کیلئے معافی کا اعلان بھی فرمایا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ النور کی آیت: 33 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;تمہاری جو لونڈیاں پاک دامن رہنا چاہتی ہیں انہیں دنیا کی زندگی کے فائدے کی غرض سے بدکاری پر مجبور نہ کرو اور جو انہیں مجبور کردے تو اللہ ان پر جبر کے بعد بخشش دینے والا اور مہربانی کرنے والا ہے‘‘7۔ گداگری سے اجتناب: انسان کو محنت سے مال کمانے کی جستجو کرنی چاہیے اور اس حوالے سے کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے گریز کرنا چاہیے۔ صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا &#39;&#39;وہ شخص جو لکڑی کا گٹھا اپنی پیٹھ پر لاد کر لائے اُس سے بہتر ہے جو کسی کے سامنے ہاتھ پھیلائے‘ چاہے وہ اسے کچھ دے یا نہ دے‘‘۔ اس حدیثِ پاک سے معلوم ہوتا ہے کہ رزق کمانے کی کوشش کرنا کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بدرجہا بہتر ہے‘ اس لیے کہ اس سے انسان کی عزت‘ آبرو اور وقار برقرار رہتا ہے۔8۔ سچائی کا اہتمام: انسان جب کسی کو کوئی چیز بیچے تو اس میں سچائی کا اہتمام کرنا چاہیے اور مبالغہ آرائی سے کام لینے کے بجائے اشیا کے عیوب کو واضح کرنا چاہیے۔ اس حوالے سے صحیح بخاری میں حضرت حکیم بن حزامؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا &#39;&#39;خرید و فروخت کرنے والوں کو اختیار ہے جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں (کہ بیع فسخ کر دیں یا برقرار رکھیں) یا اگر دونوں نے سچائی اختیار کی اور ہر بات کھول کھول کر بیان کی تو ان کی خرید و فروخت میں برکت ہو گی۔ اور اگر انہوں نے کچھ چھپا رکھا یا جھوٹ بولا تو ان کے خرید و فروخت کی برکت ختم کر دی جائے گی‘‘۔9۔ وعدے کی پابندی: بعض لوگ وعدے کی اہمیت کو فراموش کر دیتے ہیں اور وعدے کو فقط دوسروں کو ٹالنے کیلئے استعمال کرتے ہیں جبکہ کاروبار میں وعدے کی پابندی کرنادیگر امور میں وعدے کی پابندی کرنے کی طرح ہی خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ اس حوالے سے اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۂ بنی اسرائیل کی آیت: 34 میں ارشاد فرمایا: &#39;&#39;اور وعدے پورے کرو کیونکہ قول وقرار کی باز پرس ہونے والی ہے‘‘۔10۔ قسم کھانے سے اجتناب: کاروبار میں کثرت سے قسم کھانا کسی بھی طور پر اچھا عمل نہیں ہے۔ قسم کھانے سے اگرچہ مال تو بک جاتا ہے لیکن مال سے برکت سے ختم کر دی جاتی ہے۔ اس حوالے سے صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ میں نے خود نبی کریمﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ &#39;&#39;(سامان بیچتے وقت دکاندار کے) قسم کھانے سے سامان تو جلدی بک جاتا ہے لیکن وہ قسم برکت کو مٹا دینے والی ہوتی ہے‘‘۔اگر مذکورہ بالا اصول و ضوابط پر عمل کر لیا جائے تو انسان کے کاروبار میں اللہ کا فضل اور رحمت شامل ہو جاتی ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں اسلام کے کاروباری اصولوں پر عمل کرنے کی توفیق دے اور ہم سب کے رزق میں برکت عطا فرمائے‘ آمین!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_19740082.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>