<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>علاقائی تجارت اور جیو پولیٹکل چیلنجز(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-29/11674</link><pubDate>Thu, 29 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-29/11674</guid><description>سٹیٹ بینک آف پاکستان کے رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی سے متعلق جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق نو علاقائی ممالک کے ساتھ پاکستان کا تجارتی خسارہ 26.6 فیصد اضافے کے ساتھ 4 ارب 97 کروڑ ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ گزشتہ سال کی اسی مدت (جولائی تا ستمبر) میں یہ خسارہ 3 ارب 93 کروڑ ڈالر تھا۔ محض ایک سال کے عرصے میں تجارتی توازن کا اس حد تک بگڑ جانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ علاقائی منڈیوں میں پاکستان کی گرفت کمزور ہو رہی ہے۔ اس صورتحال کی سب سے بڑی وجہ ملکی برآمدات میں ہونے والی کمی ہے۔ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں علاقائی ممالک کو برآمدات 944 ملین ڈالر رہیں جو گزشتہ سال ایک ارب دس لاکھ ڈالر تھیں۔ ایسے وقت میں جب ملک کو زرِمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم رکھنے کا چیلنج درپیش ہے‘ علاقائی منڈیوں سے حاصل ہونے والے ریونیو میں کمی معیشت کیلئے ایک خطرے کی گھنٹی ہے۔ اگر اس کے محرکات پر غور کیا جائے تو متعدد وجوہات سامنے آتی ہیں۔ علاقائی تجارت میں گراوٹ کی ایک بڑی وجہ جیو پولیٹکل حالات ہیں۔ پاکستان کے اپنے پڑوسیوں کیساتھ تعلقات اتار چڑھاؤ کا شکار ہیں‘ جس کا براہِ راست اثر ملکی تجارت پر بھی پڑ رہا ہے۔

افغانستان کے ساتھ سرحدوں کی بندش کے باعث افغانستان کو ہونے والی برآمدات میں 88 فیصد سے زائد کمی آئی ہے۔ اسی طرح بھارت کے ساتھ تجارتی روابط طویل عرصے سے تعطل کا شکار ہیں۔ بنگلہ دیش اور سری لنکا جیسے جنوبی ایشیائی ممالک کے ساتھ بھی تجارتی حجم گراوٹ کا شکار ہے۔ اس وقت جنوبی ایشیا کی علاقائی تنظیم سارک اور آزادانہ تجارت کا معاہدہ ’سافٹا‘ علاقائی ممالک کی باہمی چپقلش کی وجہ سے مکمل طور پر غیر فعال ہیں جس کے باعث یہ پورا خطہ دنیا کے سب سے کم مربوط خطوں میں شمار ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں بلاکس کی سیاست اور علاقائی کشیدگی کے باوجود تمام ممالک اپنے معاشی مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔ چین اور امریکہ یا چین اور بھارت کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں جہاں شدید سیاسی و نظریاتی اختلافات کے باوجود سالانہ سینکڑوں ارب ڈالر کی باہمی تجارت ہوتی ہے۔ پاکستان کو بھی  اپنی خارجہ اور معاشی پالیسیوں کو جیو اکنامکس میں ڈھالنا چاہیے۔ ہم تو اب تک اپنے دوست ملکوں کے ساتھ بھی تجارت کو صحیح طرح فروغ نہیں دے سکے ہیں۔ مثلاً چین پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے لیکن باہمی تجارت کا توازن یکطرفہ طور پر چین کے حق میں جھکا ہوا ہے۔ پہلی سہ ماہی کے دوران چین کیساتھ تجارتی خسارے میں 858 ملین ڈالر کا اضافہ ہوا۔
اگرچہ چین سے خام مال اور صنعتی مشینری کی درآمد ملکی مینوفیکچرنگ کیلئے ضروری سمجھی جاتی ہے لیکن پاکستانی مصنوعات کا چین کی وسیع مارکیٹ میں جگہ نہ بنا پانا ہماری برآمدی پالیسیوں اور مصنوعات کے معیار پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اس سلسلے میں کثیر جہتی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔ پاکستانی مصنوعات بالخصوص زراعت‘ ٹیکسٹائل اور حلال فوڈز تھوڑی سے تگ ودو سے چین کی مارکیٹ میں اپنی جگہ بنا سکتی ہیں۔ اسی طرح افغانستان اور وسط ایشیائی ممالک کیساتھ تجارتی راستوں کو سیاسی تنازعات سے الگ رکھا جائے اور بارڈر مینجمنٹ کو جدید اور ڈیجیٹل خطوط پر استوار کیا جائے تو پاکستان اپنی جغرافیائی لوکیشن کے عین مطابق‘ وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا میں ایک پُل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ آج سمندری راستوں کے غیر محفوظ ہونے کے خدشات زمینی تجارت اور ریلوے نیٹ ورکس سے جڑے باہمی روابط کی اہمیت کو دوبارہ اجاگر کر رہے ہیں۔ پاکستان کا معاشی مستقبل بھی علاقائی روابط سے جڑا ہے۔
حکومت کو علاقائی ممالک کیساتھ بڑھتے تجارتی خسارے کو ایک تنبیہ سمجھنا چاہیے اور جغرافیائی تنازعات کے معاشی مضمرات کو کم سے کم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اسی طور پاکستان اپنے محل وقوع کا حقیقی معاشی فائدہ اٹھا کر ایک مستحکم معیشت کے روپ میں ابھر سکتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>فضائی آلودگی(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-29/11673</link><pubDate>Thu, 29 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-29/11673</guid><description>حکومت پنجاب کے آفیشل اے کیو آئی ڈیش بورڈ کے مطابق28اکتوبر کی صبح لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس 401 پوائنٹس تھا۔ فضائی آلودگی پر قابو پانے کے دعوؤں کے باوجود لاہور سمیت بڑے شہروں میں ہوا کے معیار میں نمایاں بہتری دکھائی نہیں دیتی۔ صوبائی محکمہ ماحولیات کی جانب سے گزشتہ ہفتے سے لاہور میں اینٹی سموگ گنز کو دوبارہ فعال کیا گیا ہے‘ مگر ان مشینوں کے ذریعے محض کچھ دیر کے لیے ہی ہوا میں گرد و غبار کم کیا جا سکتا ہے۔ جب تک آلودگی کے اصل اسباب پر قابو نہیں پایا جاتا‘ فضا مستقل طور پر صاف نہیں ہو سکتی۔ شہروں میں فضائی آلودگی کی سب سے بڑی وجہ بے ہنگم ٹریفک ہے۔ ماحولیاتی ماہرین کے مطابق لاہور میں پھیلنے والی آلودگی کا تقریباً 83فیصد حصہ گاڑیوں کے دھویں سے پیدا ہوتا ہے۔

پٹرول اور ڈیزل پر چلنے والی پرانی گاڑیاں‘ موٹر سائیکلیں اور رکشے فضا میں کاربن اور دیگر نقصان دہ ذرات خارج کرتے ہیں۔ اگرچہ حکومت کی جانب سے فضائی آلودگی میں کمی اور ٹریفک کا بوجھ کم کرنے کے لیے شہر میں کچھ روٹس پر الیکٹرک بسیں چلائی گئی ہیں مگر اس کا دائرہ کار بڑھانے کی ضرورت ہے۔ لاہور سمیت ملک کے دیگر شہروں کو فضائی آلودگی سے پاک کرنے کے لیے جز وقتی کارروائیوں سے بات نہیں بنے گی۔ ضروری ہے کہ حکومت ایک دیرپا ماحولیاتی حکمتِ عملی اپنائے جس میں کلین انرجی‘ الیکٹرک ٹرانسپورٹ‘ شجرکاری اور منظم شہری منصوبہ بندی کو بنیادی ترجیح حاصل ہو۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>فری لانس معیشت(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-29/11672</link><pubDate>Thu, 29 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-29/11672</guid><description>سٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعدادو شمار کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران پاکستانی فری لانسرز نے تقریباً 55کروڑ ڈالر کی سروسز فراہم کیں‘ جبکہ گزشتہ سال کی اسی مدت میں 37کروڑ73لاکھ ڈالر کی سروسز فراہم کی تھیں۔ یہ اضافہ معیشت اور روزگار کے حوالے سے بڑی پیشرفت ہے۔ فری لانسرز عالمی سطح پر سافٹ ویئر و ویب ڈویلپمنٹ‘ موبائل ایپس‘ گرافک ڈیزائننگ‘ وڈیو ایڈیٹنگ‘ مواد نویسی اور ورچوئل اسسٹنٹ سمیت متعدد خدمات فراہم کر رہے ہیں۔ فری لانسنگ اربوں ڈالر کی عالمی صنعت بن چکی ہے اور ترقی پذیر ممالک کے ہنرمند اور باصلاحیت افراد کے لیے اس میں بے پناہ مواقع ہیں۔ پاکستانی نوجوان بھی اس صنعت میں اپنا مقام بنانے میں کامیاب ہو چکے ہیں اور پاکستان فری لانسنگ ممالک میں سرفہرست ممالک میں آتا ہے۔

اس سے جہاں ملک کو زرمبادلہ میں آمدنی حاصل ہو رہی ہے وہیں نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ فری لانسنگ کے شعبے میں ساکھ کو بہتر بنانے اور ملکی آمدنی کو بڑھانے کیلئے جہاں آئی ٹی کی جدید مہارتوں کی تربیت میں اضافہ ضروری ہے وہیں انٹر نیٹ کی رسائی کو بھی بہتر بنانا ہو گا۔ سست انٹرنیٹ اور آئے روز کی خرابیاں اور بندشیں فری لانسنگ معیشت کیلئے بڑی رکاوٹ ہیں۔ حکومت کو یہ رکاوٹی دور کرنے کی طرف بھی توجہ دینی چاہیے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>’’یہ بھی وہی ہے‘‘(محمد اظہارالحق)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-10-29/52928/77942461</link><pubDate>Thu, 29 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-10-29/52928/77942461</guid><description>میں نے اسے ایک سیرگاہ میں دیکھا! وہ سیر کر رہا تھا۔ چند قدم پیچھے اس کا گارڈ چل رہا تھا! سیرگاہ میں اور بھی لوگ تھے۔ وہ جہاں سے گزرتا‘ لوگ ناک سکیڑ لیتے۔ کیا وقت تھا جب خلقِ خدا اسے نجات دہندہ سمجھ بیٹھی تھی۔ کیا زمانہ تھا جب لوگ اسے مسیحا کے طور پر دیکھتے تھے۔ پھر اس کا اصلی چہرہ سامنے آیا تو ساری امیدیں‘ ساری عقیدتیں‘ ساری خوش گمانیاں ہوا میں یوں تحلیل ہوئیں جیسے دھوپ نکلنے پر گھاس کے پتوں سے شبنم غائب ہو تی ہے! اصلیت واضح  ہوئی تو اُسی خلقِ خدا نے کہا &#39;&#39;یہ بھی وہی ہے‘‘!تین عورتیں رات کے وقت گھر کے اُس کمرے میں بیٹھی تھیں جو گلی کے ساتھ تھا۔ دِیا جل رہا تھا۔ وہ کشیدہ کاری میں مصروف تھیں! اُس سمے بادشاہ بھی بھیس بدل کر‘ وہاں سے گزر رہا تھا۔ دروازے کی درزوں سے روشنی چھن چھن کر باہر آ رہی تھی۔ بادشاہ کو تجسس ہوا۔ وہ درز سے آنکھ لگا کر کھڑا ہو گیا۔ اب وہ دیکھ رہا تھا اور سُن بھی رہا تھا۔ ایک عورت نے دوسری عورتوں سے کہا &#39;&#39;گیا کہ گیا‘‘! دوسری عورت بولی &#39;&#39;اس میں وہ جو نہیں ہے‘‘۔ اب تیسری بولی &#39;&#39;وہ ہوتا تو جاتا ہی کیوں!‘‘۔ بادشاہ کو یہ باتیں عجیب لگیں اور خطرناک بھی! تاریخ کے ہر دور میں اہلِ اقتدار کو ہر طرف سے سازشوں کی بُو آتی ہے۔ کسی کی گفتگو ہو یا نقل و حرکت‘ انہیں یوں لگتا ہے کہ ان کے اقتدار کو خطرہ ہے۔ عدم تحفظ کا احساس حکمرانوں کو نفسیاتی مریض بنا دیتا ہے۔ وہ دھونس اور دھاندلی پر اتر آتے ہیں۔ جس سے (حقیقی یا خیالی) خطرہ محسوس ہو اسے قتل کرا دیتے ہیں یا زنداں میں محبوس کر دیتے ہیں! اس بادشاہ کو بھی یہ لگا کہ ہو نہ ہو اس پُراسرار گفتگو کا ایک ہی مطلب ہے کہ یہ عورتیں اس کی حکومت کے خلاف سازش کر رہی ہیں۔ اس نے تینوں عورتوں کو دوسرے دن صبح صبح دربار میں بلا لیا اور پوچھا کہ یہ جو باتیں تم کر رہی تھیں &#39;&#39;گیا کہ گیا‘‘ اور &#39;&#39;اس میں وہ جو نہیں ہے‘‘ اور &#39;&#39;وہ ہوتا تو جاتا ہی کیوں‘‘ تو ان باتوں سے تمہاری کیا مراد ہے؟ تینوں عورتوں نے بادشاہ کو دیکھا‘ پھر ایک دوسرے کو دیکھا اور مسکرائیں۔ ایک نے کہا &#39;&#39;یہ بھی وہی ہے‘‘۔ دوسری نے کہا &#39;&#39;مگر اس کے وہ تو  نہیں ہیں‘‘۔ تیسری نے کہا &#39;&#39;اس کے بغیر بھی ہوتے ہیں!‘‘۔ آپس کی اس گفتگو کے بعد وہ پھر بادشاہ کی طرف دیکھ کر مسکرائیں اور اس کے بعد اعتماد اور بے خوفی کے ساتھ کھڑی رہیں! تازہ ترین گفتگو سن کر بادشاہ کا شک یقین میں بدل گیا کہ یہ اس کی دشمن ہیں اور ضرور کوئی بڑا خطرہ پیش آنے والا ہے۔ اب اس نے عورتوں کو دھمکی دی کہ سب کچھ صاف صاف بتاؤ ورنہ تینوں کے سر قلم کر دیے جائیں گے! یہ سن کر تینوں عورتوں میں جو سب سے بڑی تھی‘ اس نے بادشاہ کو مخاطب کیا اور بتایا کہ جب انہوں نے کہا &#39;&#39;گیا کہ گیا‘‘ تو اس کا مطلب تھا کہ دِیا بس بجھا ہی بجھا! دوسری نے کہا &#39;&#39;اس میں وہ جو نہیں ہے‘‘ تو اس کا مطلب ہے کہ اس میں تیل جو نہیں ہے! آخر میں کہا گیا &#39;&#39;وہ ہوتا تو جاتا ہی کیوں‘‘ تو اس کا مطلب ہے کہ تیل اس میں ہوتا تو بجھتا ہی کیوں؟ بادشاہ حیران ہوا اور ساتھ ہی بے یقینی اور خوف کی دلدل میں مزید دھنس گیا۔ پھر بادشاہ نے پوچھا: یہاں دربار میں آکر تم نے مجھے دیکھا اور کہا &#39;&#39;یہ بھی وہی ہے‘‘ اور پھر اس کے بعد بھی پُراسرار فقرے بولے‘ ان کامطلب کیا تھا؟ عورتوں نے بتایا کہ جب ان میں سے ایک نے بادشاہ کی بات سن کر کہا کہ &#39;&#39;یہ بھی وہی ہے‘‘ تو اس کا مطلب تھا یہ بھی بَیل ہی ہے۔ دوسری عورت نے کہا &#39;&#39;اس کے وہ تو نہیں ہیں‘‘ تو اس کا مطلب تھا کہ اس کے سینگ نہیں ہیں تو بیل کس طرح ہو سکتا ہے۔ تیسری عورت نے کہا تھا &#39;&#39;اس کے بغیر بھی ہوتے ہیں‘‘۔ یعنی سینگوں کے بغیر بھی بیل ہوتے ہیں۔المیہ یہ ہے کہ جن سابق حکمرانوں یا سابق طاقتور منصب داروں سے خلقِ خدا نفرت کرتی ہے‘ ان میں اتنی عقل ہی نہیں ہوتی کہ نفرت کا احساس کر سکیں! یہ لوگ بے حس ہوتے ہیں اور برخود غلط بھی! جنرل نیازی آخر وقت تک خود کو ہیرو سمجھتا رہا۔ روایت ہے کہ جب یحییٰ خان نے لوگوں کے نعرے سنے تو پوچھنے لگا لوگ آخر اسے کیوں ناپسند کرتے ہیں؟ مارچ 2013ء میں پرویز مشرف کراچی کے ہوائی اڈے پر اترے تو ان کا خیال تھا کہ لاکھوں لوگ استقبال کریں گے مگر چند سو سے زیادہ نہ تھے۔ زمینی حقیقتوں سے لاعلمی اور اپنے آپ کو بہت کچھ سمجھنا ان &#39;&#39;سابقون‘‘ کو غلط فہمی میں مبتلا کر دیتا ہے۔ چند مرحوم جرنیلوں کی اولاد کو بھی کوئی اندازہ نہیں کہ یہ مرحومین کیا کیا ظلم کر کے گئے ہیں‘ انہوں نے کس طرح دہشت گردی کے بیج بوئے جن کا کڑوا زہریلا پھل آج قوم گلے سے اتار رہی ہے۔ ایک کا دور کس طرح مشرقی پاکستان کی افسوسناک علیحدگی پر منتج ہوا۔ ایک اور نے کس طرح سیاسی جماعتوں کے خلاف سازشیں کیں اور فیصلے کیے کہ فلاں جماعت کو حکومت میں نہیں آنے دینا۔ جب بھی ان کی برسیاں آتی ہیں‘ ان کی اولاد اخباروں میں ان کے کارنامے گنواتی ہے اور ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہے کہ یہ نجات دہندہ تھے۔ مسیحا تھے۔ مصلح تھے۔ محسن تھے۔ خدا ان جرنیوں کی اولاد کو لمبی زندگیاں عطا کرے‘ اپنے اپنے والد کی محبت انہیں زمینی حقیقتوں کو قبول نہیں کرنے دیتی۔ ان سے زیادہ اخلاقی جرأت تو ایک سیاستدان کے فرزند‘خواجہ آصف نے دکھائی کہ سرِ عام قوم سے معافی کا طلبگار ہوا۔ آج کے حکمران بھی زمینی حقیقتوں سے دور ہیں اور یہ دوری لاکھوں نوری برسوں پر مشتمل ہے۔ دونوں حکمران خاندانوں کو علم ہے نہ احساس کہ ان کے پرستانی‘ طلسمی اور ناقابلِ یقین معیارِ زندگی سے عوام کس درجہ متنفر ہیں۔ انہیں یہ بھی کوئی نہیں بتاتا کہ ان کا طرزِ زندگی جتنا شاہانہ ہو گا‘ عوام اتنا ہی ان سے دور ہوں گے۔ عمران خان کی حد سے بڑھی ہوئی مقبولیت کی ایک بڑی وجہ حکمران خاندانوں کی پُرتعیش‘ پُرآسائش اور جَیٹ سَیٹ طرزِ زندگی بھی ہے۔ عمران خان اپنے دورِ اقتدار میں ہیلی کاپٹر سے دفتر آتے جاتے رہے۔ یہ یقینا غلط تھا۔ مگر اس غلطی کا بارہ ارب کے جہاز کی خریداری سے کیا موازنہ ہے اور آئے دن سپیشل جہازوں سے سنگاپور‘ دبئی‘ لندن‘ جنیوا جانے سے کیا مقابلہ ہے! جب آپ اپنے بچوں کی شادیوں پر اتنی نمائش‘ اتنا اسراف اور اتنی تبذیر کریں گے تو غریب عوام کا دل تو جلے گا اور یہ امید شکنی‘ یہ درماندگی‘ یہ بے چارگی انہیں عمران خان کی طرف دھکیلے گی!سیر کرنے والے سابق بطلِ جلیل کو بھی یحییٰ خان‘ جنرل نیازی اور پرویز مشرف کی طرح بالکل اندازہ نہیں ہو گا کہ لوگ باگ اسے دیکھ کر ناک سکوڑتے ہیں۔ انہیں بہت کچھ یاد آ جاتا ہے۔ ان کی آنکھوں کے سامنے بہت سے گزشتہ مناظر فلم کی طرح چلنے لگتے ہیں۔ اگر ان حضرات کو یہ معلوم ہو یا اس کا احساس ہو تو وہ شاید باہر ہی نہ نکلیں۔ مگر اپنا محاسبہ کرنا دنیا کے مشکل ترین کاموں میں سے ہے۔ ہاں ایک بات یقینی ہے! مستقبل ہمیں بے شمار مرتبہ یہ کہنے کا موقع دے گا کہ &#39;&#39;یہ بھی وہی ہے‘‘! اور ہم جب بھی پکار اٹھیں گے کہ &#39;&#39;یہ تو وہی ہے‘‘ ہم ناامیدی کی دلدل میں پہلے سے زیادہ دھنسیں گے!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_57182973.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کاسٹیلو ڈی ساؤ ژورژے سے مکالمہ(خالد مسعود خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-10-29/52929/50383966</link><pubDate>Thu, 29 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-10-29/52929/50383966</guid><description>برادرِ عزیز رسول بخش رئیس نے چند روز قبل چھپنے والے اپنے کالم میں فراڈیے تعلیمی مشیروں پر روشنی ڈالی تھی جو طلبہ کو بیرونِ ملک کی نامور جامعات میں داخلے کے سلسلے میں جھوٹ اور فراڈ سے کام چلاتے ہوئے نہ صرف اپنے کلائنٹ کا مالی استحصال کرتے بلکہ ان کے پورے گھرانے کی امیدوں سے کھیلنے کا باعث بنتے ہیں۔ اسی قسم کے مشیروں کی ایک اور قسم بھی ہے جو تعلیمی اداروں میں داخلے کیلئے مشاورت کے بجائے یورپی و دیگر خوشحال ملکوں کی شہریت کے حصول کیلئے اپنی خدمات پیش کرتے ہیں۔ ان مشاورتی خدمات میں بیرونِ ملک منافع بخش سرمایہ کاری جیسی اضافی سہولتیں بھی شامل ہوتی ہیں۔ آج کل پرتگال کی شہریت کا حصول بذریعہ سرمایہ کاری بڑے زوروں پر ہے۔ تعلیمی مشیروں کی مانند اس کام میں بھی دونمبر قسم کے ایسے فراڈیے لوگ ملوث تھے جن کا نہ کوئی معقول ذاتی پس منظر ہوتا تھا اور نہ ہی اس سلسلے میں مناسب تعلیم یا تجربہ ہوتا تھا۔ وہ بس ضرورت مندوں کا اپنی چرب زبانی اور مہارت سے اعتماد اور پیسہ حاصل کر لیتے تھے۔ مگر اب حالات بدل گئے ہیں۔ اب لوٹنے والے بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ اور شاندار سماجی پس منظر رکھتے ہیں اور لٹنے والے بھی اسی پائے کے ہیں۔ راوی بیان کرتا ہے کہ جہاں پرتگال کی شہریت حاصل کرنے والوں میں بیورو کریٹ‘ سیاستدان‘ کاروباری حضرات‘ ہمہ قسم کے سرکاری افسران اور انتہائی دولتمند اور اعلیٰ سماجی حیثیت کے لوگ شامل ہیں وہیں ان کو لوٹنے والے بھی کوئی کم نہیں۔ اس سلسلے میں عثمان بزدار کے دور میں ٹرانسفروں‘ پوسٹنگوں اور دیگر کام کرانے کیلئے ہر قسم کی سہولت کاری کے عوض بے تحاشا مال پانی بنا کر پرتگال سٹک جانے والے ایک سابقہ اعلیٰ بیورو کریٹ نے اپنے ماضی کے کارناموں اور شہرت کے طفیل اپنے حاضر سروس بیورو کریٹ بھائی بندوں کو پرتگال میں سرمایہ کاری کے ذریعے شہریت حاصل کرنے کے سنہری جال پھیلا کر پھنسایا اور ان کے سامنے اس یورپی ملک میں سرمایہ کاری کے عوض نہایت ہی خوشنما منافع کی منظر کشی کر کے ان کی ساری ناجائز کالی آمدنی پرتگال منگوا لی اور فرضی جائیدادیں خرید کر اس سرمایہ کاری کے عوض ایسا ہوشربا منافع بتایا کہ ڈبل شاہ بھی سنتا تو بوکھلا جاتا۔ منافع کی یہ صورتحال دیکھتے ہوئے ان اعلیٰ تعلیم یافتہ بیورو کریٹس نے‘ جو خود روزانہ سو بندوں کو چونا لگاتے تھے‘ اس سابقہ بیورو کریٹ کے مارکیٹنگ منیجر کا فریضہ سرانجام دیتے ہوئے اپنے دوسرے ساتھیوں کو اس سرمایہ کاری پر اکسایا۔ شنید ہے کہ اب یہ لوگ پھس پھس کر کے تنہائی میں روتے ہیں اور زیر لب اپنے اس سینئر بیوروکریٹ پر تبرا کرتے ہیں مگر نہ کھل کر رو سکتے اور نہ ہی بآوازِ بلند اسے گالیاں دے سکتے ہیں کہ اس سرمایہ کاری میں ڈوبنے والی رقم کا کیا بتائیں کہ کہاں سے آئی اور کیسے کمائی؟ قارئین! پرتگال کے ذکر میں یہ بات ضمنی طور پر یاد آ گئی تو سوچا آپ کو بھی معلومات فراہم کر کے اپنا پیٹ ہلکا کر لوں۔ فرانس کے بعد مغرب میں بحرِ اوقیانوس تک یورپ کا جو حصہ نکلا ہوا ہے وہ سپین اور پرتگال پر مشتمل ہے۔ جغرافیہ کی زبان میں اسے جزیرہ نما آئیبریا یا آئیبیرین پیننسولا کہتے ہیں۔ یہ وہ علاقہ ہے جسے مسلمانوں نے فتح کیا‘ تب یہ سارا علاقہ مختلف ریاستوں میں بٹا ہوا تھا‘ تاہم ان تمام ریاستوں میں پرتگال نام کا کوئی ملک تب موجود نہیں تھا۔ مسلم حکمرانی کے دور میں موجودہ پرتگال کے جنوبی اور وسطی علاقوں کو بالعموم اندلس کے مغربی حصے‘ یعنی غربِ اندلس کہا جاتا تھا۔ پرتگال کی تشکیل مسلمانوں کے چلے جانے کے بعد میں ہوئی‘ تب تک یہ علاقہ سپین ہی سمجھا جاتا تھا۔ سپین میں مسلمانوں کی آمد اور فتوحات کی شروعات 711ء میں طارق بن زیاد کے جبرالٹر کے راستے سپین میں داخلے سے ہوئی۔ موجودہ پرتگال کے حوالے سے اگر بات کی جائے تو سپین پر طارق بن زیاد کے حملے کے اگلے ہی سال مسلمانوں کی فتوحات کا دائرہ ان علاقوں تک پھیل گیا جو آج پرتگال کہلاتا ہے۔ لزبن‘ سلوس‘ مرٹولا اور بیجا وغیرہ میں آج بھی مسلم طرزِ تعمیر کی عمارتوں کے آثار ان علاقوں میں مسلمانوں کے ماضی کی نشانی کے طور پر موجود ہیں۔ موجودہ پرتگال کے علاقوں سے مسلم اقتدار کا خاتمہ سپین سے مسلمانوں کے اخراج سے کہیں پہلے عمل میں آ گیا اس لیے یہاں مسلم اقتدار کے آثار سپین کی نسبت بہت کم ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہاں ان آثار کو مٹانے کیلئے خصوصی طرزِ عمل اپنایا گیا ہو۔ گو کہ سپین میں مسلمانوں کی طاقت کی مرکز اور محور خلافتِ قرطبہ کا خاتمہ تو 1031ء میں ہوا تاہم اس پر مسیحیوں کا قبضہ خلافت کے خاتمے کے 205سال بعد تقریباً 1236ء میں ہوا۔ اس دوران مسلمانوں کی چھوٹی چھوٹی طائفہ ریاستیں سقوطِ قرطبہ کے بعد بھی کسی نہ کسی صورت میں اپنا وجود برقرار رکھنے میں کامیاب رہیں لیکن ان کی آپسی نااتفاقی‘ ارد گرد کی مسیحی ریاستوں لیون اور قشتالیہ کی مشترکہ فوجی چڑھائی اور شمالی افریقہ سے مرابطین اور موحدین کی کاوشوں کے باوجود اندلس کی مسلم ریاستوں کی باہمی نااتفاقی کا یہ نتیجہ نکلا کہ 2 جنوری 1492ء کو آخری مسلم ریاست غرناطہ پر مسیحیوں کا قبضہ ہوا اور 781سال بعد اندلس میں مسلم اقتدار کا مکمل خاتمہ ہو گیا۔ لوگ اندلس میں مسلم حکمرانی کے خاتمے کا سارا ملبہ اُس وقت کے مسلم حاکموں کی بے عملی اور نااتفاقی پر ڈالتے ہیں لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ہر طرف سے مسیحی ریاستوں کے درمیان گھری ہوئی ان مسلم ریاستوں اور ان کے بعض حکمرانوں نے مزاحمت کی ایسی بے مثال تاریخ رقم کی جو حیران کن ہے۔ 29 جون 1236ء کو قشتالیہ کے مسیحی حکمران فرڈیننڈ سوم نے کئی ماہ کے محاصرے اور گورنر امیر ابن ہود کی مزاحمت کے بعد قرطبہ پر قبضہ کر لیا‘ جبکہ اس سے محض 140کلومیٹر پر واقع غرناطہ پر قشتالیہ کی ملکہ ازابیلا اول اور اراغون کے حاکم فرڈیننڈ دوم کا مشترکہ لشکر پورے 256 سال بعد اس آخری مسلم ریاست پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو سکا۔ چاروں طرف سے امڈتے ہوئے مسیحی لشکروں کے سامنے چھوٹی چھوٹی اور بکھری ہوئی ریاستیں بھلا اس سے زیادہ اور کیا مزاحمت کرتیں؟ اندلس یعنی مسلم سپین پر مسلم حکمرانی کا عرصہ پرتگال کے علاقوں کی نسبت زیادہ طویل ہے۔ موجودہ پرتگال کی فتح کا آغاز 712ء میں ہوا اور 716ء تک یعنی محض چار سال میں یہاں کے بیشتر علاقوں پر مسلمانوں نے قبضہ کر لیا۔ ان مفتوحہ علاقوں پر دوبارہ مسیحی قبضے کا سلسلہ صرف ڈیڑھ سو سال بعد شروع ہو گیا۔ 868ء میں پورٹو پر مسیحی افواج کے قبضے سے Reconquista کا آغاز ہوا۔ 1143ء میں پرتگال ایک الگ مملکت کے طور پر وجود میں آیا اور چار سال بعد 1147ء میں پرتگال کے پہلے بادشاہ الفانسو ہنریکوئیس کی قیادت میں مسیحیوں نے لزبن پر دوبارہ قبضہ کر لیا۔ 1249ء میں Algarve پر قبضے کے ساتھ ہی پرتگال مسلم حکمرانی سے آزاد ہو گیا۔ دسمبر 1496ء میں پرتگال کے حاکم مانوئل اول نے مسلمانوں کے پرتگال سے چلے جانے یا مذہب تبدیل کر کے دوبارہ مسیحی ہو جانے کا فرمان جاری کیا۔ اس حکم پر ایک سال کے اندر اندر عملدرآمد ہوا اور پرتگال سے مسلمانوں کا مکمل خاتمہ ہو گیا۔ شام ہونے سے قبل ہم تینوں لزبن شہر کے مرکزی چوک میں موجود تھے‘ جب شہر کے وسط میں موجود اونچی پہاڑی کے اوپر واقع لزبن کا قلعہ جسے &#39;&#39;کاسٹیلو ڈی ساؤ ژورژے‘‘ کہتے ہیں‘ کی دیواریں روشن ہوئیں۔ کبھی یہ قلعہ شہر کی حفاظت کا فریضہ سر انجام دینے کے ساتھ ساتھ مسلم حکمرانوں کی رہائش گاہ بھی تھا۔ تب قلعے کے مرکزی برج &#39;&#39;ٹورے ڈی میناجیم‘‘ نے نیچے جھک کر میرے کان میں سرگوشی کی: مسافر! کل ادھر آنا میں تمہیں کئی کہانیاں سناؤں گا۔ میں نے کہا میں کل آؤں تو ضرور مگر مجھے دکھی کر دینے والی افسردہ کہانیوں سے اب کوئی دلچسپی نہیں۔ میں ایسی کہانیوں سے اپنی جان چھڑوانے کیلئے ہی تو تمہارے پاس آیا ہوں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90500073.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>دانشور اور ایک نیم سیاسی نیم انقلابی کارکن(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-10-29/52930/33528250</link><pubDate>Thu, 29 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-10-29/52930/33528250</guid><description>لوگ اسے دانشور کہتے ہیں۔ دانش سے اس کا راہ و رسم کتنا ہے‘ اس سے قطع نظر‘ اس کی عمومی شہرت یہی ہے۔ کچھ ایسے بھی ہیں جو اس کے لیے یہ لفظ طنزاً استعمال کرتے ہیں۔ اس بحث کو یہیں چھوڑتے ہوئے ہم آگے بڑھتے ہیں کہ میں آپ کو جو قصہ سنانے لگا ہوں‘ اس کا اس کی دانش ورانہ عرفی حیثیت سے زیادہ تعلق نہیں ہے۔ ایک بار &#39;دانش ور‘ کا ایک نوجوان سے ٹاکرا ہو گیا۔ وہ اپنے سیاسی راہنما کو مرشد کہتا تھا۔ اُس کے لیے عرفِ عام میں ایک اسمِ صفت مستعمل ہے۔ دانشور نے قصہ بیان کرتے وقت‘ اس کے استعمال سے گریز کیا‘ اس لیے میں بھی گریز کر رہا ہوں۔ ہوا یوں کہ دانشور چائے کی طلب میں ایک ریستوران میں جا بیٹھا۔ ابھی اس نے چائے کا آرڈر دیا ہی تھا کہ ایک نوجوان پاس آ کر کھڑا ہو گیا۔  دانشور نے اس کی طرف دیکھا تو پہلی نظر میں شناسائی کے آثار دکھائی نہیں دیے۔ اس سے پہلے کہ وہ اپنی یادداشت پر مزید زور ڈالتا‘ نوجوان بولا: &#39;&#39;تم آفتاب بیلی ہو؟‘‘ آفتاب بیلی اس دانشور کا اصل نام نہیں ہے۔ میں نے اسے بدل دیا ہے کہ نام کا افشا شاید مناسب نہ ہو۔ ویسے بھی نام میں کیا رکھا ہے۔ مدعا تو قصہ سنانا ہے۔ &#39;&#39;...جی‘‘۔ دانشور نے جواب دیا۔ &#39;&#39;تم کب تک اپنے آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے جھوٹ لکھتے رہو گے؟ تم کیسے دانشور ہو جو مظلوم کو تلقین کرتے ہو کہ وہ ظلم سہتا رہے اور ظالم کے خلاف تمہارے قلم سے ایک لفظ نہیں نکلتا۔ تمہیں تو شرم سے ڈوب مرنا چاہیے‘‘۔ دانشور اس اچانک حملے کے لیے تیار نہیں تھا۔ اسے سنبھلنے میں کچھ وقت لگا۔ اس طرزِ تخاطب پر اسے غصہ تو بہت آیا لیکن  وہ پی گیا۔ اس میں ایک کمزوری تھی۔ وہ گالی دے سکتا تھا نہ کسی سے اس لہجے میں مخاطب ہونے کا ہنر جانتا تھا۔ وہ اتنا ہی کہہ سکا: &#39;&#39;آپ کو جو کہنا ہے بیٹھ کر‘ اطمینان سے‘ اخلاق کے دائرے میں کہیں‘‘۔ &#39;&#39;یہ چال بازی رہنے دو۔ میں تمہارے مصنوعی اور نمائشی اخلاق کو جانتا ہوں۔ تم دو ٹکے کے بکاؤ لکھاری ہو‘ تمہارا اخلاق سے کیا تعلق؟ تم اگر یزید کے دور میں ہوتے تو اس کے ساتھی ہوتے اورسیدنا حسینؓ کو بھی یہی کہتے کہ ظلم کے سامنے سر جھکا دیں‘‘۔دانشور اس دوران میں سنبھل چکا تھا اور یہ بھی جان چکا تھا کہ یہ مکالمے کا کوئی محل ہے نہ اس کا کوئی امکان۔ اب مسئلہ یہ تھا کہ یہ ایک عوامی جگہ تھی۔ نوجوان اونچی آواز میں بولا تو پاس بیٹھے لوگوں کی توجہ بھی اس میز کی طرف مرتکز ہو گئی۔ دانشور کے پاس یہی راستہ تھا کہ وہ بات بگڑنے نہ دے کہ اس کی طبیعت جھگڑالو نہیں تھی۔ وہ سرِ بازار کسی کی توہین نہیں کر سکتا تھا۔ توہین سہنا بھی اس کے لیے آسان نہیں تھا۔ اس نے اس کیفیت سے نکلنے کے لیے نوجوان کو باتوں میں لگانا چاہا۔ اُس نے نوجوان کی طرف سوال اچھال دیا: &#39;&#39;آپ کے خیال میں مجھے کیا لکھنا چاہیے؟‘‘۔ &#39;&#39;تمہیں حق کا ساتھ دینا چاہیے۔ تمہیں ان لوگوں کے خلاف لکھنا چاہیے جنہوں نے الیکشن میں دھاندلی کروائی۔ ہمارے لیڈر کے خلاف جھوٹے مقدمات بنائے۔ جو غیر آئینی طور پر اقتدار پر قابض ہیں۔ لیکن تم کیسے لکھو گے۔ تم تو بکے ہوئے ہو...‘‘&#39;&#39;آپ شاید میرے کالم دھیان سے نہیں پڑھ سکے۔ میں ہمیشہ سیاسی عصبیت کی بات کرتا ہوں۔ میں نے کئی بار لکھا ہے کہ جس گروہ یا فرد کو سیاسی عصبیت حاصل ہو جائے‘ اس کے خلاف قانون کا استعمال مؤثر نہیں ہوتا۔ میں سیاسی آزادیوں کی بات بھی کرتا ہوں۔ میں نے اس پر بھی تنقید کی ہے کہ تاریخ نے جس کے مقدر میں کوئی کارنامہ لکھا ہے‘ اس کے بیان میں بخل نہیں کرنا چاہیے۔ یہ مضحکہ  خیز ہے کہ نشریاتی اداروں میں کرکٹ کی تاریخ بیان ہو اور اس آدمی کا ذکر نہ ہو جس کی قیادت میں پاکستانی ٹیم نے یہ کارنامہ سر انجام دیا...‘‘۔ &#39;&#39;یہ تمہاری منافقت ہے۔ برسرِ اقتدار گروہ جو...‘‘ نوجوان نے دانشور کی بات کاٹتے ہوئے‘ مزید بلند آواز سے اور سخت تر الفاظ میں اپنی بات دہرائی۔دانشور کو پہلے ہی اندازہ تھاکہ گفتگو کا اس پیرائے میں جاری رہنا بے نتیجہ ہے۔ اس نے موضوع کو ایک اور رخ دینا چاہا: &#39;&#39;مجھے فریقِ ثانی سے جو کہنا چاہیے‘ اس سے ہم صرفِ نظر کرتے ہیں۔ میں برسبیلِ تذکرہ مان لیتا ہوں کہ میں نے برسرِ اقتدار گروہ سے وہ کچھ نہیں کہا جو کہنا چاہیے تھا۔ میں اس موضوع پر بھی کوئی بات نہیں کرتا کہ آپ کی جماعت اور لیڈر کے بارے میں میری ایک رائے ہے جس کے اظہار کا مجھے حق حاصل‘ جس طرح آپ کو ایک رائے رکھنے کا حق ہے۔ مجھے یہ بتائیے کہ آپ کے خیال میں مجھے آپ کی پارٹی کو کیا مشورہ دینا چاہیے؟ میرا مشورہ تو یہ ہے کہ وہ سیاسی حرکیات کو سمجھیں اور اپنے لیے راستہ نکالیں۔ سیاست اور میدانِ جنگ میں تفریق کریں۔ سیاسی مؤقف اور سیاسی حکمتِ عملی کے فرق کو جانیں۔ جو میسر ہے‘ اس کو محفوظ کرتے ہوئے‘ مزید کے حصول کی کوشش کریں۔ اپنے راہنماؤں اور کارکنوں کے جان و مال کو خطرات میں نہ ڈالیں۔ اگر یہ مشورہ درست نہیں تو پھر آپ بتائیں کہ اگر کوئی اس پارٹی کا خیر خواہ ہو گا تو اسے کیا مشورہ دینا چاہیے؟‘‘۔ &#39;&#39;آ پ اپنا مشورہ رہنے دیں۔ آپ چوروں کا ساتھ دیں۔ آپ چاہتے ہیں ہمارا لیڈر نواز شریف بن جائے۔ یہ کبھی نہیں ہو سکتا۔ وہ میدان میں ڈٹ کر کھڑا ہے اور کھڑا رہے گا۔ گیدڑ کی سو سال کی زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی بہتر ہے۔ سیدنا حسینؓ آج بھی زندہ ہیں اور یزید سے تو مولانا اللہ وسایا صاحب نے بھی اعلانِ برأت کردیا ہے‘‘۔ دانشور نے دیکھا کہ ریستوران میں موجود لوگ اس مکالمے کو سن رہے ہیں۔ ان کے چہرے بتا رہے تھے کہ وہ نوجوان کے &#39;دلائل‘ سے متاثر ہیں۔ اس کی دانش کا چراغ نہیں جل رہا۔ اس وقت اقتدار کی سیاست اور معرکہ حق وباطل کے فرق پر کوئی بات کرنا عبث تھا کہ کسی کو ان سنجیدہ مباحث سے دلچسپی نہیں تھی۔ اُس نے محسوس کیا کہ اگر یہ مناظرہ جاری رہا تو زبان ہی نہیں‘ ہاتھ بھی چل سکتے ہیں۔ اسے یہ معلوم تھا کہ ان ہاتھوں میں‘ اس کا ہاتھ شامل نہیں ہو گا کہ اسے زبان چلانا آتا ہے نہ ہاتھ۔ اس کی عافیت اسی میں ہے کہ مکالمے کو کوئی حسین موڑ دے کر ختم کر دیا جائے۔&#39;&#39;آپ سے مل کر خوشی ہوئی۔ حق کے ساتھ آپ کی وابستگی قابلِ رشک ہے۔ مجھے کہیں پہنچنا ہے‘ اس لیے اجازت چاہتا ہوں۔ امید ہے پھر ملاقات ہو گی‘‘۔ دانشور نے چائے کے بل کے لیے ویٹر کو بلایا۔ وہ چائے جو پڑے پڑے ٹھنڈی ہو چکی تھی اور اب اس کے کسی کام کی نہیں تھی۔ اس نے بل ادا کیا اور ریستوران سے باہر نکل آیا۔ اس نے دیکھا کہ نوجوان کے چہرے پر ایک فاتحانہ مسکراہٹ تھی۔ اس نے سوچا &#39;&#39;جو گروہ دوست دشمن میں تمیز نہ کر سکے‘ اسے کوئی مشورہ دینا کیا دانش کی علامت ہے؟ کیا وہ ایک جعلی دانشور ہے؟‘‘۔ اچانک ایک گاڑی کے ہارن کی تیز آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی اور وہ چونک اٹھا۔ وہ خیالات کے سفر میں چلتے چلتے سڑک کے بیچ پہنچ چکا تھا۔ اس نے خود کو سنبھالا اور سڑک سے اتر کر فٹ پاتھ پر چلنے لگا۔ پیدل چلنے والے کے لیے یہی مناسب ہے۔ وہ پاؤں سے پیدل ہو یا عقل سے! سواری کے بغیر سڑک کے بیچ چلنا باعثِ ہلاکت ہے اور سفینہ عقل کے بغیر شاہراہِ سیاست پر چلنے کا انجام بھی ہلاکت ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>جین زی اور استبدادی حکمرانی(عمران یعقوب خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-10-29/52931/67989681</link><pubDate>Thu, 29 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-10-29/52931/67989681</guid><description>سربیا میں طلبہ کی قیادت میں چلنے والی احتجاجی تحریک نے طویل عرصے سے اقتدار میں موجود رہنما الیگزینڈر ووچک کو انتخابات میں شکست دے دی ہے۔ دو سال سے جاری حکومت مخالف احتجاج کے بعد کامیابی پر ملک بھر میں ہزاروں افراد نے جشن منایا‘ تاہم نئی قیادت کو اب حکومت بنانے‘ بدعنوانی ختم کرنے اور معیشت کو سنبھالنے جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ اس تحریک کا آغاز 2024ء میں شمالی شہر نووی ساد کے ریلوے سٹیشن کی چھت کا حصہ گرنے سے 16 افراد کی ہلاکت کے بعد ہوا تھا۔ طلبہ نے واقعہ کے ذمہ داروں کے احتساب اور بدعنوانی کے خاتمے کا مطالبہ کیا تھا‘ حکومت کی جانب سے جس پر توجہ نہ دینے کے نتیجے میں وہ احتجاج ملک گیر تحریک میں تبدیل ہو گیا تھا۔جنریشن زی ان لوگوں کو کہا جاتا ہے جو 1997ء اور 2012ء کے درمیانی عرصے میں پیدا ہوئے۔ ان کی عمریں اب 14 سے 29 سال کے درمیان ہو چکی ہیں۔ یہ وہ نوجوان نسل ہے جو انٹرنیٹ‘ سمارٹ فونوں اور سوشل میڈیا کے ارتقائی دور میں پلی بڑھی اس لیے وہ چیزوں کو پچھلی نسلوں کی نسبت زیادہ سمجھتی اور جانتی ہے اور اس نسل کی نظروں سے کچھ بھی اوجھل نہیں رہ سکتا‘ لہٰذا ان کے سامنے جھوٹ نہیں بولا جا سکتا‘ ان کو طفل تسلیاں نہیں دی جا سکتیں‘ جھوٹے وعدے نہیں کیے جا سکتے اور حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش نہیں کیا جا سکتا۔ یہ نسل جانتی ہے کہ حقائق کیا ہیں اور جھوٹ کیا ہے۔ یہ جنریشن اس وقت کی سب سے زیادہ طاقتور جنریشن ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ حالیہ برسوں میں اس نسل نے دنیا کے مختلف خطوں بالخصوص جنوبی ایشیا میں پرانی‘ روایتی اور کہنہ طرز ہائے حکومت کے خلاف طاقتور سیاسی اور سماجی انقلابات برپا کیے ہیں۔افریقہ اور جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا میں نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی کم و بیش ڈیڑھ ارب افراد پر مشتمل ہے جو علاقائی آبادی کا 60 فیصد بنتا ہے۔ یہ نسل ان ممالک میں سماجی تبدیلی کو آگے بڑھا رہی ہے جہاں کرپشن پر مبنی اور ناکام پالیسیوں کا سامنا ہے۔ نئی نسل کیلئے آگے بڑھنے کے کم مواقع‘ زیادہ ترقی یافتہ ممالک کی طرف سرمائے کے بہائو کا غیر متناسب پھیلائو‘ قرضوں کا مسلسل بڑھتا ہوا بوجھ‘ بدلتی اور سکڑتی ہوئی جاب مارکیٹ اس نسل کے خوابوں کو ڈرائونے خوابوں میں تبدیل کر رہی ہے اور یہ بات اس نسل کیلئے قابلِ قبول نہیں۔ جین زی انٹرنیٹ سنسرشپ‘ بدعنوان حکومتوں اور ملازمتوں کے مواقع کی کمی کی وجہ سے بھی مشتعل ہو رہی ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی‘ روزگار کی کمی اور کم آمدنی نوجوانوں کیلئے مشکلات پیدا کر رہی ہیں۔ بہت سے نوجوان تعلیم حاصل کرنے کے باوجود اچھی ملازمت حاصل نہیں کر پاتے۔ نوجوان بدعنوانی‘ ناانصافی اور غیر مؤثر حکومتی نظام سے نالاں ہیں۔ وہ شفافیت‘ جمہوریت اور جواب دہی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ معیاری تعلیم کی کمی‘ تعلیمی اخراجات میں اضافہ اور محدود مواقع بھی نوجوانوں میں بے چینی پیدا کرتے ہیں۔ جین زی سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی رائے کا اظہار کرتی ہے اور پابندیوں‘ سنسرشپ اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف آواز اٹھاتی ہے۔ طبقاتی فرق‘ امتیازی سلوک اور انسانی حقوق کی پامالی بھی احتجاج کی اہم وجوہات ہیں۔ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نوجوانوں کو مسائل سے آگاہ کرتے اور منظم ہونے میں مدد دیتے ہیں۔ جنریشن زی کی سب سے بڑی کامیابی انتخابات کو پُرامن سیاسی انقلاب میں بدلنا اور روایتی حکمرانوں کو چیلنج کرنا ہے۔ حالیہ برسوں میں دنیا بھر کے مختلف ممالک میں نوجوانوں نے نہ صرف احتجاجی تحریکوں کی قیادت کی بلکہ بیلٹ باکس یعنی ووٹنگ کے ذریعے اقتدار کے ڈھانچے کو بھی تبدیل کر دیا۔ اس کی ایک مثال کالم کے آغاز میں سربیا کی دی گئی ہے۔ یہ اس جنریشن کی تازہ ترین کامیابی ہے۔جین زی کئی ممالک میں کامیابیاں حاصل کر چکی ہے۔ ستمبر 2025ء میں نوجوانوں کے احتجاج کے نتیجے میں نیپال کے وزیر اعظم کے پی شرما اولی مستعفی ہوئے۔ مارچ 2026ء کے انتخابات میں روایتی سیاسی جماعتوں کو بڑا دھچکا لگا اور بالین شاہ کی قیادت میں نئی سیاسی قوت اقتدار میں آئی۔ یہ تبدیلی جین زی تحریک کے سیاسی اثرات کی نمایاں مثال ہے تاہم بدعنوانی کے خاتمے اور معاشی بہتری کا اصل امتحان ابھی باقی ہے۔بنگلہ دیش میں طلبہ کی کوٹہ مخالف تحریک وسیع عوامی احتجاج میں تبدیل ہوئی‘ جس کے نتیجے میں 5 اگست 2024ء کو شیخ حسینہ کی حکومت ختم ہوئی اور انہیں بنگلہ دیش سے فرار ہو کر بھارت میں پناہ لینا پڑی۔ امسال فروری کے انتخابات میں سابق سیاسی نظام سے وابستہ جماعت بی این پی نے اکثریت حاصل کی جبکہ طلبہ کی قائم کردہ نیشنل سٹیزن پارٹی کو محدود کامیابی ملی‘ اس لیے حکومت گرانے کا مقصد پورا ہوا مگر مکمل نظام کی تبدیلی ابھی غیر یقینی ہے۔ نئی حکومت اگر عوام اور طلبا کی امیدوں پر پورا نہ اتری تو جنریشن زی کے ایک بار پھر متحرک ہو جانے کے اندیشے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ٹھیک ایک سال پہلے ستمبر‘ اکتوبر 2025ء میں مڈغاسکر میں پانی‘ بجلی اور حکومتی کارکردگی کے مسائل پر نوجوانوں کے احتجاج کے بعد صدر اینڈری راجویلینا کو ملک چھوڑنا پڑا اور فوج نے اقتدار سنبھال لیا۔ یہ ایک بڑی سیاسی تبدیلی تھی لیکن فوجی اقتدار سنبھالنے کی وجہ سے اسے پوری یا جمہوری کامیابی قرار دینا قبل از وقت ہے۔کینیا کی کل آبادی کا 33.4 فیصد نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ کینیا کی 75 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر افراد پر مبنی ہے۔ کینیا میں نوجوانوں کے احتجاج نے حکومت کو متنازع فنانس بل واپس لینے پر مجبور کر دیا تھا۔ کابینہ میں بھی تبدیلیاں ہوئیں لیکن صدر اقتدار میں رہے اور بنیادی اصلاحات محدود رہیں۔ یہ پالیسی کی سطح پر کامیابی تھی‘ مکمل سیاسی تبدیلی نہیں۔ لیکن آئندہ ہونے والے کینیا کے عام انتخابات کے نتائج پر جنریشن زی کے احتجاجی اثرات واضح ہونے کی گہری توقع کی جا رہی ہے۔ انڈونیشیا میں احتجاج کے بعد حکومت نے ارکانِ پارلیمان کے بعض الائونسز اور مراعات میں تبدیلیوں کا اعلان کیا لیکن سیاسی نظام میں بنیادی تبدیلی نہیں آئی۔ مراکش میں جین زی تحریک نے بے روزگاری‘ صحت اور تعلیم کے مسائل پر حکومت کو دبائو میں ڈالا۔ حکومت نے عوامی خدمات اور نوجوانوں کیلئے اقدامات کا اعلان کیا۔ اگر تحریک منظم رہے اور وعدوں پر عمل درآمد کی نگرانی کرے تو کامیابی کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ فلپائن میں بدعنوانی‘ سرکاری اخراجات اور عوامی جواب دہی کے خلاف نوجوانوں کا دبائو سیاسی اصلاحات کو آگے بڑھا سکتا ہے لیکن مستقل تبدیلی کیلئے احتجاج کو قانونی اور انتخابی عمل سے جوڑنا ضروری ہو گا۔ پیرو میں سیاسی عدم استحکام اور حکمرانوں سے عوامی ناراضی اصلاحات کا موقع پیدا کر سکتی ہے تاہم صرف حکومت یا صدر کی تبدیلی کافی نہیں‘ اداروں کی مضبوطی اور بدعنوانی کے خلاف مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔سب سے بڑھ کر بھارت میں مخصوص مسائل پر جنریشن زی کے احتجاجوں کی کامیابی کے امکانات روشن تر ہیں۔ امتحانی پرچوں کے افشا‘ بے روزگاری اور تعلیمی بدعنوانی کے خلاف نوجوانوں کی مہم نے وزیر تعلیم کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا تھا اور اب باری ووٹر لسٹوں میں ردوبدل کرنے والی بھارتی عدلیہ کی ہے۔ دیکھیں کیا وقوع پذیر ہوتا ہے۔ جین زی کے احتجاج دراصل بہتر مستقبل‘ انصاف‘ روزگار اور بنیادی حقوق کی خواہش کی عکاسی کرتے ہیں۔ حکومتوں کو چاہیے کہ وہ نوجوانوں کے مسائل سنیں اور ان کے حل کیلئے موثر اقدامات کریں۔ بصورت دیگر شدید احتجاج کیلئے تیار رہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_58350786.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>معشوق شہر(سعود عثمانی )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-10-29/52932/71349837</link><pubDate>Thu, 29 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-10-29/52932/71349837</guid><description>ساپانجا جھیل کے اطراف ہم تین لوگ گاڑی میں چکراتے پھر رہے تھے۔ ایک طرف جھیل اور دوسری طرف پہاڑی ندیوں کے سیلاب نظر آتے تھے۔ ہمیں ایک راستے کی تلاش تھی۔ کوئی راستہ جو ہمیں اس علاقے سے نکال کر سیلاب سے محفوظ بڑی سڑک تک لے جائے۔ کافی دیر کے بعد ایک راستہ مل ہی گیا اور ہم اس سڑک پر آ گئے جو سیدھے معشوقیے جاتی تھی۔کیسا خوبصورت نام ہے نا معشوقیے! عربی‘ فارسی‘ ترکی اور اردو میں ایک ہی معنوں میں مستعمل۔ محبوب‘ پیار کے لائق‘ دل میں بسا ہوا۔ محبوب جو کوئی فرد بھی ہو سکتا ہے اور کوئی مقام‘ کوئی شہر بھی۔ مجھے یہ نام اپنی طرف کھینچتا تھا۔ جب میں نے ساپانجا جھیل جانے اور اس علاقے میں چار دن ٹھہرنے کا ارادہ کیا تو اس کے اطراف کی جستجو بھی ہوئی۔ نئے نئے نام سامنے آنے لگے۔ کئی نام تو اس روداد میں پہلے لکھ چکا ہوں۔ ایک نیا نام کرتے پے بھی تھا۔ ترکی میں کرتے پے کا مطلب ہے وہ بلند مقام جہاں برف گرتی ہو یا موجود ہو۔ اسی کے قریب ایک اور نام نے میری توجہ اپنی طرف کروا لی۔ ترکی حروف میں لکھا تھا Masukiye۔ شروع میں پڑھنے میں دقت ہوئی لیکن بالآخر سمجھ آ گیا کہ یہ معشوقیے ہے۔ شاعر ہو اور معشوق سے دور رہے‘ کیسے ہو سکتا ہے! میں نے پڑھا کہ یہاں جنگل‘ پہاڑ‘ دریا‘ آبشاریں سب یکجا ہیں تو میرا شوق بڑھ گیا۔ پھر اس جگہ کی تصویروں نے مجھے اسیر کر لیا اور میں نے ترکی روانہ ہونے سے پہلے پاکستان ہی سے ایک ہوٹل کی بکنگ کرا لی تھی۔ معشوقیے شہر نزدیک آتا گیا اور میرا تجسس بڑھتا گیا۔ کچھ دیر بعد ایک نیشنل پارک کا بورڈ آیا۔ یعنی یہ علاقہ ترکی کے نیشنل پارک میں آتا تھا اور یہاں قدرتی حسن اور ماحول کو بعینہٖ برقرار رکھنے کے قواعد لاگو ہوتے تھے۔ تھوڑا آگے بڑھے تو شہر کا مرکزی حصہ شروع ہو گیا جس میں دکانیں‘ بازار (ترکی میں پازار)‘ مسجد وغیرہ تھے۔ لیکن ہمیں اس میدانی جگہ سے اوپر پہاڑوں کی طرف جانا تھا۔ ہمارا ہوٹل شہر سے کچھ اوپر پہاڑی ڈھلانوں پر تھا۔ دونوں طرف بلند پہاڑی درخت تھے جن کے رنگ بارش کے بعد اور نکھر آئے تھے۔ گرد غبار‘ مٹی اور آلودگی کا نشان بھی نہیں تھا۔ ناشپاتی کے درخت جابجا تھے جن پر سبز ناشپاتیاں پیلی ہو رہی تھیں۔ سیب کے درختوں پر سیبوں کے گال سرخ ہو چلے تھے۔ یہ بارش سے بھیگی ہوئی بل کھاتی خوبصورت سڑک تھی جو چڑھائی چڑھتے ہوئے ہر موڑ پر ایک نیا منظر سامنے لاتی تھی۔ شہر پیچھے رہ گیا تھا اور ایک دو کلومیٹر کے بعد سامنے سڑک دو حصوں میں تقسیم ہوتی دکھائی دی۔ بائیں طرف ایک موڑ کاٹ کر سڑک پہاڑ پر مزید اوپر چڑھتی تھی۔ دائیں طرف ایک چھوٹی سڑک جاتی تھی اور اس سڑک پر لکڑی کے تنوں سے ایک دروازہ سا بنا ہوا تھا‘ جیسے کسی شہر میں داخل ہونے کا دروازہ ہوتا ہے۔ اس دروازے کے اوپر ترکی حروف میں لکھا ہوا تھا: وادیٔ الا بالِک میں خوش آمدید۔ ہمیں اسی طرف جانا تھا۔ بالِک ترکی میں مچھلی کو کہتے ہیں۔ الا بالِک یعنی ٹرائوٹ مچھلی۔ یہ ٹرائوٹ مچھلی کی وادی تھی جہاں ہوٹل اور ریسٹورنٹ وغیرہ تازہ ٹرائوٹ مچھلی کیلئے مشہور تھے۔ ہم اس سڑک پر مڑے اور دائیں بائیں بورڈ پڑھتے ہوئے آگے بڑھتے گئے۔ پانچ منٹ کے بعد دائیں طرف میرے ہوٹل کا بورڈ نظر آیا جس پر ترکی میں لکھا ہوا تھا: یزی جیلر ہوٹل۔ Yazicilar Otel۔ یزی جیلر کا مطلب ہے لکھنے والا‘ یعنی مصنف‘ خطاط وغیرہ۔ ایک لکھنے والے کے قیام کیلئے اس سے بہتر جگہ کون سی ہو سکتی تھی۔ ہم ایک چھوٹی سے پُلی سے گزر کر ایک بڑے سے پارکنگ ایریا میں داخل ہوئے۔ یہ بالکل پہاڑ کے دامن میں بنا ہوا ایک ہوٹل تھا۔ اس پارکنگ ایریا سے کئی طرف راستے نکلتے تھے۔ ایک چھوٹی سی نیم پختہ پگڈنڈی پہاڑ پر چڑھتی تھی۔ ایک راستہ پارکنگ کی بغل سے نیچے وادی کی طرف جاتا تھا جس کے کونے پر ایک سووینیئرز کی دکان تھی۔ قدرے بائیں طرف‘ سامنے ہوٹل کی بلڈنگ درختوں کے بیچ سے جھانک کر ہمیں دیکھ رہی تھی۔ جنگل‘ پہاڑ‘ ہریالی‘ سکون۔ قریب ہی کہیں بہتے پانی کی آواز۔ اس جگہ کی خوبصورتی مبہوت کن تھی۔ ہم کچھ پتھریلی سیڑھیاں چڑھے اور بل کھاتے راستے سے گزر کر عمارت میں داخل ہوئے۔ ایک بہت بڑے ڈائننگ ہال کے ایک گوشے میں استقبالیہ تھا‘ لیکن اس کی طرف نظر بعد میں جاتی تھی۔ لکڑی کے بنے ہوئے اس ہال کی چھت کم وبیش تیس فٹ بلند تھی۔ بڑے بڑے لکڑی کے شہتیروں نے دو طرفہ ڈھلانی چھت اپنے کندھوں پر سنبھالی ہوئی تھی۔ چھت کی ڈھلوانیں بتاتی تھیں کہ یہاں سردی میں برف گرا کرتی ہے۔ ایک طرف بڑا سا آتشدان تھا جس میں لکڑی کے کندے پڑے ہوئے تھے۔ میں نے چشمِ تصور میں وہ منظر دیکھا جہاں اس ہال سے باہر برف گرتی تھی اور عنابی چائے کی چسکیاں لیتے مسافر آتشدان پر ہاتھ تاپتے تھے۔ یہ ہال پرانے ترک طرزِ تعمیر کا ایک خوبصورت نمونہ تھا جس کی آرائش بہت ذوق کے ساتھ کی گئی تھی۔ میں نے استقبالیہ پر اپنا پاسپورٹ دیا لیکن کمرہ دیکھنے سے پہلے میری فرمائش وہ دریا یا ندی دیکھنے کی تھی جس کی تصویریں میں پہلے دیکھ چکا تھا۔ ایک ترک لڑکا ہمیں ہال سے باہر اس کھلے ٹیرس پر لے گیا جہاں لمبے اونچے درختوں کے نیچے‘ لکڑی کی میزیں اور کرسیاں بڑی تعداد میں رکھی تھیں۔ پانی کا شور یہاں تیز تھا۔ ہم ٹیرس کے کنارے پر لگی ریلنگ کی طرف بڑھے۔ کنارے پر لگی میزوں کرسیوں کے درمیان راستہ بنایا اور اب ہم ایک تیز‘ پُرشور‘ گونجتے دریا سے آٹھ دس فٹ اوپر کھڑے تھے۔ یہ دریائے آئگر تھا۔ آئگر ترکی میں طاقتور گھوڑے کو کہتے ہیں۔ اس سرکش منہ زور دریا کو جوان تنومند گھوڑے stallion سے بالکل ٹھیک تشبیہ دی گئی تھی۔ دریائے آئگر کنارے صبح یہاں ناشتہ لگایا جاتا تھا۔ پانی اور ہوا کے شور کے باوجود یہاں سکوت اور سکون تھا۔ ہم نے چاروں طرف کا جائزہ لیا۔ خدایا! اتنا حسن‘ اتنا وافر حسن۔ تیری زمین کتنی خوبصورت ہے۔ حسن یہاں درختوں سے چھن چھن کر زمین پر گرتا تھا۔ دریا سے اٹھ کر ہمارا خیر مقدم کرتا تھا۔ ہلکی رم جھم میں ہمیں بھگوتا تھا‘ اور خوشبودار بھیگی ہوا کے جھونکوں میں ہمارے کپڑوں کے آر پار ہوتا تھا۔ اکثر ایسا ہوتا نہیں کہ تصویر یا وڈیو میں جو دکھایا گیا ہو‘ وہ اصل میں بھی ویسا ہو۔ لیکن ہوٹل والوں نے کوئی مبالغہ نہیں کیا تھا۔ یہ جگہ اصل میں بھی ویسی تھی جیسی کیمرے نے دکھائی تھی۔ یہاں تصویر‘ تصور اور حقیقت سب یکجان ہو جاتے تھے۔ ایسی خوبصورت جگہ پر تین دن گزارنا تو ایک خواب تھا اور میں اسی خواب سے گزر رہا تھا۔تیسری منزل پر موجود کمرے میں تمام ضروری تمام سہولتیں موجود تھیں۔ ایک دریچہ نیچے دریا کی طرف کھلتا تھا۔ یہاں سے پہاڑ سے اترتا شور مچاتا جھاگ اڑاتا دریا ہر وقت سامنے تھا۔ سامان رکھ کر میں پھر نیچے ڈائننگ ہال میں آ گیا کہ ڈاکٹر محمود اور ڈاکٹر خلیل وہیں میرا انتظار کرتے تھے۔ یہ جگہ خود ان دوستوں کو بھی بہت پسند آئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے گھرانے کیساتھ بھی یہاں ضرور آئیں گے۔ انہیں سکاریا واپس جانا تھا لیکن دو بجے دوپہر سب کو بھوک لگی ہوئی تھی۔ میں نے اصرار کرکے انہیں کھانے کیلئے روک لیا۔ اس ہوٹل میں اب میں میزبان تھا اور ترک میزبان میرے مہمان۔ اس وادیٔ الا بالک میں سب سے خاص چیز یہاں کی ٹرائوٹ مچھلی تھی‘ سو اسی کا آرڈر دیا گیا۔ لکڑی کی دہکتے توے والی قاب یعنی ہاٹ پلیٹ میز پر رکھی گئی تو پکتی مچھلی کی سنسناتی‘ چھن چھن کرتی آوازوں اور گوشت کی مہک نے بھوک مزید بڑھا دی۔ مرچ مسالے کے بغیر مچھلی کا تصور ہمارے یہاں نہیں ہے لیکن سچ یہ ہے کہ بے مرچ مسالا ایسا ذائقہ میں نے کہیں اور نہیں چکھا۔ یہ شاید پہلے ابالی جاتی ہے۔ لیکن کچھ اور بھی طریقہ ہے جو اسے مزیدار بناتا ہے۔ اب ترکی کھانے پاکستان میں بھی کئی جگہ ملتے ہیں لیکن میرے علم میں اس طرح کی ڈش یہاں نہیں ہے۔ البتہ ترکی میٹھا کنافے پاکستان میں بھی اب ملتا ہے۔ سو اس دن کھانے کے بعد کنافے نے بھی ہماری شکم سیری میں اپنا پورا حصہ ڈالا۔ ترک دوستوں کے جانے کے بعد اب میں تھا‘ وادیٔ الا بالک تھی اور دریائے آئگر۔ ہم تینوں کو تین دن ایک ساتھ گزارنے تھے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_81278520.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>اخلاص ولِلّٰہیّت… (1)(مفتی منیب الرحمٰن )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-10-29/52933/31055077</link><pubDate>Thu, 29 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-10-29/52933/31055077</guid><description>امام راغب اصفہانی لکھتے ہیں: اخلاص کے معنی ہیں: &#39;&#39;کسی چیز کو (ہر قسم کی میل اورکھوٹ سے) پاک کر دینا۔ &#39;&#39;خالص‘‘ صافی کے ہم معنی ہے‘ لیکن خالص اُسے کہتے ہیں کہ اگر اس میں کوئی کھوٹ تھی تو اُسے دور کر دیا گیا ہو اور صافی اُسے کہتے ہیں: جو اصلاً پاک ہو‘‘ (المفردات‘ ص: 292)۔علامہ ابن منظور افریقی لکھتے ہیں: &#39;&#39;خلوص اور خلاص کے معنی ہیں: اگر اُس میں کوئی چیز مل گئی ہو تو اُس سے پاک کر دینا اور لِلّٰہیت یا دین میں اخلاص کے معنی ہیں: &#39;دین کو اللہ تعالیٰ کیلئے خاص کر دینا‘ اور &#39;اَخْلَصَ الشَّیْئَ‘ کے معنی ہیں: کسی چیز کوچُن لینا اور پسندیدہ قرار دینا‘۔ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو سجدہ نہ کرنے کے سبب ابلیس کو جنت سے نکال دیا‘ اُسے دھتکار دیا اور روزِ قیامت تک اپنی لعنت کا سزاوار قرار دیا تو شیطان نے کہا: &#39;&#39;اے پروردگار! مجھے روزِ قیامت تک مہلت دیجیے‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: &#39;&#39;بے شک تو اُس دن تک جس کا وقت (ہمیں) معلوم ہے‘ مہلت پانے والوں میں سے ہے‘ اُس نے کہا: پس تیری عزت کی قسم! میں ضرور اِن سب (بنی آدم) کو گمراہ کروں گا‘ سوائے اُن کے جو اُن میں سے تیرے چنیدہ بندے ہیں‘‘ (ص: 79 تا 83)۔ ثعلب نے کہا: مُخلِصین وہ ہیں جو عبادت کو اللہ تعالیٰ کیلئے خالص کر دیں اور مُخلَصین وہ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ خود خالص فرما دے اور وہ اس کے پسندیدہ وچنیدہ بندے ہوتے ہیں۔ عبادت میں اخلاص کے معنی ہیں: رِیا سے پاک ہونا‘‘ (لسان العرب‘ ج: 7‘ ص: 26)۔سو اخلاص توحید ہے اور رِیا اس کی ضد‘ جسے رسول اللہﷺ نے شرکِ اصغر سے تعبیر فرمایا ہے۔ فرمایا: &#39;مجھے تمہارے بارے میں جس چیز کا سب سے زیادہ اندیشہ ہے وہ &#39;شرکِ اصغر‘ ہے‘ صحابۂ کرام نے عرض کیا: یا رسول اللہﷺ! شرکِ اصغر کیا ہے‘ آپﷺ نے فرمایا: ریا! اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ریاکاروں کی بابت فرماتا ہے: &#39;&#39;جب لوگوں کو اُن کے اعمال کا بدلہ دے دیا جائے گا (تو ریاکاروں سے کہا جائے گا:) تم اپنی جزا لینے کے لیے اُن لوگوں کے پاس جائو جن کیلئے تم (عبادات میں) ریاکاری کرتے تھے‘ ذرا دیکھو تو کیا تم اُن کے پاس کوئی جزا پاتے ہو‘‘ (مسند احمد: 23630)علامہ کفوی نے کہا: &#39;&#39;اخلاص، قلب‘ قول اور عمل (تینوں )کی پاکیزگی کا نام ہے‘‘۔ چنانچہ جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی مرضِ وفات میں شدت آ گئی اور انہیں اپنے جانشین کی فکر لاحق ہوئی تو انہوں نے حضرت عبدالرحمنؓ بن عوف کو بلایا اور پوچھا: عمر بن خطاب کے بارے میں مجھے رائے دو‘ انہوں نے کہا: آپ مجھ سے بہتر جانتے ہیں‘ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے کہا: پھر بھی اپنی رائے تو دو‘ انہوں نے کہا: بخدا! آپ کی میرے بارے میں جو رائے ہے‘ عمر اُس سے افضل ہیں (یعنی مجھ سے افضل ہیں)‘ پھر انہوں نے حضرت عثمانؓ کو بلایا اور کہا: عمر کے بارے میں مجھے رائے دو‘ تو انہوں نے کہا: آپ اُن کے بارے میں ہم سے بہتر جانتے ہیں‘ پھر انہوں نے حضرت علیؓ کو بلایا اور اُن سے بھی وہی بات کہی‘ پھر حضرت علیؓ نے فرمایا: بخدا! میرے علم کے مطابق اُن کا باطن اُن کے ظاہر سے اچھا ہے اور جماعتِ صحابہ کے درمیان اُن جیسا کوئی اور نہیں ہے۔ (سیرت حلبیہ‘ ج: 3‘ ص: 514)۔ پس اللہ کے چنیدہ بندے (یعنی عبادِ مُخلَصین) وہ ہیں کہ جن کی فکر‘ گفتار اور کردار یکساں ہو اور ان میں کوئی دو رنگی یا سہ رنگی یا تضاد بالکل نہ ہو۔ علامہ مناوی نے کہا: اخلاص یہ ہے کہ رب کی رضا مقصود ہو‘ بندوں کی خوشی یا ناخوشی پر مدار نہ ہو اور ایک قول کے مطابق اخلاص اس حقیقت کا نام ہے کہ (خرابی تو دور کی بات ہے) عمل خرابی کی تہمت اور الزام سے بھی پاک ہو۔ پس اخلاص کی حقیقت یہ ہے کہ ماسِوی اللہ سے بے نیاز ہو جائے اور دین میں اخلاص یہ ہے کہ یہود میں جو ذاتِ باری تعالیٰ سے تشبیہ اور نصاریٰ میں عقیدۂ تثلیث تھا‘ اُس سے بری ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: &#39;&#39;کہہ دیجیے: میرے رب نے مجھے انصاف کا حکم دیا ہے اور یہ کہ ہر نماز کے وقت اپنا رُخِ (بندگی) درست سمت میں رکھو اور دین کو اللہ کیلئے خالص رکھتے ہوئے اُس کی عبادت کرو‘‘ (الاعراف: 29)۔ پس اخلاص کو آلودہ کرنے والی چیز رِیا ہے۔ حضرت فُضیل بن عِیاض نے کہا: &#39;&#39;اگر کوئی گناہ کو لوگوں کے خوف سے ترک کرتا ہے تو یہ بھی ریا ہے اور اگر لوگوں کے دکھاوے کیلئے نیک عمل کرتا ہے تو یہ شرکِ اصغر ہے‘ سو ریا اور شرک سے دین کو پاک کر دینا اخلاص ہے‘‘۔علامہ سید شریف جرجانی نے کہا: &#39;&#39;صِدق اور اخلاص میں فرق یہ ہے کہ صدق اصل ہے اور اخلاص اُس کی فرع اور تابع‘ دوسرا فرق یہ ہے کہ صدق کا تعلق عمل میں داخل ہونے سے پہلے نیت کے ساتھ ہے اور اخلاص کا تعلق عمل میں داخل ہونے کے ساتھ ہے‘‘ (التعریفات‘ ص: 8)۔ اس کی تائید رسول اللہﷺ کے اس فرمان سے ہوتی ہے: &#39;&#39;مومن کی نیت اُس کے عمل سے بہتر ہے (کیونکہ نیت قلبی کیفیت کا نام ہے اور نیت اچھی ہو یا بری‘ اُس میں ریا کا دخل نہیں ہوتا‘ جبکہ عمل میں ریاکا شائبہ رہتا ہے) اور منافق کا عمل اُس کی نیت سے بہتر ہے اور ہر کوئی اپنی نیت کے مطابق عمل کرتا ہے‘ پس جب مومن عملِ (صالح) کرتا ہے تو اُس کے قلب میں ایک نور ہوتا ہے‘‘ (حلیۃ الاولیاء‘ ج: 3‘ ص: 255)۔ کیونکہ منافق کی نیت کا فاسد ہونا تو یقینی بات ہے جبکہ بعض اوقات دنیاوی منافع یافریب دہی کیلئے وہ پُرکشش انداز میں عملِ خیر کر سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: (1) &#39;&#39;بیشک ہم نے (اس) کتاب کو آپ کی طرف حق کے ساتھ نازل کیا ہے‘ سو دین کواللہ کیلئے خالص رکھتے ہوئے اُس کی عبادت کیجیے‘ سنو! دین تو خالص اللہ کیلئے ہے اور جن لوگوں نے اللہ کے سوا کارساز بنارکھے ہیں (وہ کہتے ہیں:) ہم تو اِن بتوں کی عبادت صرف اس لیے کرتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ کے قریب کر دیں‘ بیشک وہ جن امور میں اختلاف کرتے ہیں‘ اُن کے بارے میں اللہ فیصلہ فرما دے گا‘‘ (الزمر: 2 تا 3)۔ (2) &#39;&#39;کہہ دیجیے! مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں دین کو اللہ کیلئے خالص کرتے ہوئے اس کی عبادت کروں اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سب سے پہلا مسلمان بنوں‘‘ (الزمر: 11 تا 12)۔ اس میں رسول اللہﷺ کو اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا: آپﷺ اپنی امت کو یہ بتا دیں کہ میں عالَمِ انسانیت کے ان رہنمائوں میں سے نہیں ہوں جو کہتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ ہیں‘ یعنی ان کے قول وفعل میں تضاد ہوتا ہے‘ بلکہ امت سے تو روزانہ پانچ اوقات کی نماز کا مطالبہ ہوا مگر آپﷺ پر ایک روایت کے مطابق‘ تہجد کی نماز بھی فرض تھی اور سورۂ مزمل میں بتایا کہ آپﷺ کی راتیں قیام میں گزرتیں۔ جہاں تک آپﷺ کے &#39;&#39;اوّل المسلمین‘‘ بننے کے حکم کا تعلق ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اعلانِ نبوت کے بعد عالَم ظاہر میں آپ &#39;&#39;اول المسلمین‘‘ ہیں کیونکہ آپ &#39;&#39;مومن‘‘ بھی ہیں اور &#39;&#39;مُؤْمَنْ بِہٖ‘‘ بھی (یعنی جس پر ایمان لایا جائے) جبکہ صحابۂ کرام بعد میں مرحلہ بہ مرحلہ اسلام میں داخل ہوئے‘ ورنہ ابتدائے آفرینش یعنی عالَم ارواح میں بھی آپﷺ نہ صرف &#39;&#39;اول المومنین والمسلمین‘‘ تھے‘ بلکہ &#39;&#39;اول الانبیاء والمرسلین‘‘ اور &#39;&#39;امام الانبیاء‘‘ علیہم السلام بھی تھے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: &#39;&#39;اور انہیں صرف اسی بات کا حکم دیا گیا ہے کہ وہ ہر طرف سے یکسو ہو کر دین کو اللہ کیلئے خالص کرتے ہوئے اس کی عبادت کریں‘‘ (البینہ: 5)۔ سو ایمان واعمال اور ظاہر وباطن کا اصل جوہر‘ حُسن اور مرتبۂ کمال اخلاص ہے۔ چنانچہ حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں: &#39;&#39;بیشک اللہ تعالیٰ تمہاری (ظاہری) صورتوں اور اموال کو نہیں دیکھتا بلکہ وہ تمہارے دلوں (کی کیفیات) اور تمہارے اعمال کو دیکھتا ہے‘‘ ( مسلم: 2564)۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: &#39;&#39;اعمال (پر جزا) کا مدار نیّت پر ہے اور ہر شخص کیلئے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی‘ سو جس نے اللہ اور اس کے رسول (کی رضا) کیلئے ہجرت کی تو اس کی ہجرت اسی مقصد کیلئے شمار ہوگی اور جس کی ہجرت دنیا (کی منفعت) پانے کیلئے یا کسی عورت سے نکاح کیلئے ہے تو اس کی ہجرت (عند اللہ) اسی کیلئے شمار ہو گی‘‘ (بخاری: 1)۔ (جاری)</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_61172381.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>