<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>نئے صوبے، وقت کا ناگزیر تقاضا(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-22/11653</link><pubDate>Thu, 22 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-22/11653</guid><description>اسلام آباد میں ’’پاکستان کی انتظامی تشکیلِ نو اور نئے صوبوں کا قیام‘‘ کے عنوان سے منعقدہ قومی مباحثے میں ملک کی سیاسی قیادت اورآئینی و قانونی ماہرین نے ملک کے فرسودہ ہو چکے انتظامی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور بڑھتی ہوئی آبادی کے پیشِ نظر ملک میں انتظامی یونٹس کی تعداد میں اضافے کو ایک ناگزیر ضرورت قرار دیا ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ایک حقیقت پسندانہ نکتہ اٹھایا کہ انتظامی مسائل کو حل کرنے کیلئے ہی بلوچستان میں ڈویژنوں کی تعداد آٹھ سے بڑھا کر 12کی گئی ہے۔ اگر ہم ماضی کا جائزہ لیں تو 1973ء میں آئین کی تشکیل کے وقت پنجاب کے اضلاع 19 تھے جو اَب بڑھ کر 41 ہو چکے ہیں۔ سندھ کے 11 اضلاع بڑھ کر 30 ہو چکے ہیں۔ خیبر پختونخوا کے 10 اضلاع اب 36 (بشمول فاٹا ) جبکہ بلوچستان کے چھ اضلاع تقریباً 40ہو چکے ہیں۔ یہ ضلعی تقسیم اس بات کو تقویت دیتی ہے کہ تمام صوبے اور ان کی قیادتیں اس بات پہ یقین رکھتی ہیں کہ آبادی ایک خاص حد سے زیادہ ہو جانے پر انتظامی تقسیم ناگزیر ہو جاتی ہے۔ جب صوبے اپنی انتظامی استعداد بڑھانے کیلئے ایک ضلع کو تین سے چار اضلاع میں تقسیم کر سکتے ہیں‘ اور کرتے آئے ہیں تو پھر نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر ہچکچاہٹ کیوں؟

سابق وفاقی وزیر اسد عمر نے پاکستان میں عوامی نمائندگی کے سنگین بحران کی طرف اشارہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ 25کروڑ آبادی کیلئے محض 859 نمائندے (ایوانِ زیریں اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان) ہیں۔ اگر ہم دیگر جمہوری ملکوں کی روایات پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ دنیا بھر میں جمہوریت کا حسن بلدیاتی اداروں کی مضبوطی سے جڑا ہوا ہے۔ بلدیاتی نمائندگی میں فرانس دنیا میں سب سے آگے ہے‘ جہاں مقامی کونسلوں میں اوسطاً 118 شہریوں پر ایک کونسلر ہوتا ہے۔ آسٹریا میں اوسطاً 209 افراد اور سویڈن میں 256 افراد پر ایک منتخب کونسلر ہوتا ہے۔ اگر برطانیہ کی بات کی جائے تو وہاں اوسطاً 2600 اور امریکہ میں اوسطاً 1500 سے 2500 شہریوں کے مسائل کے حل کیلئے ایک مقامی منتخب نمائندہ ہوتا ہے۔ ان ممالک میں بلدیاتی ادارے ہی سکولوں سے لے کر ہسپتالوں اور صفائی سے لے کر پولیس تک کے نظام کا فیصلہ کرتے ہیں۔ اس کے برعکس پاکستان کی صورتحال یہ ہے کہ یہاں سب سے بڑے صوبے (پنجاب) میں بلدیاتی نظام گزشتہ پانچ سال سے معطل ہے اور انتظامی مسائل ہیں کہ مسلسل بڑھتے جا رہے ہیں۔ دور دراز کے علاقوں میں رہنے والے شہریوں کو اپنے بنیادی حقوق اور بسا اوقات معمولی مسائل کے حل کیلئے بھی سینکڑوں میل دور صوبائی دارالحکومتوں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔
اگر انتظامی اکائیوں یعنی اضلاع‘ ڈویژنز اور صوبوں کی تعداد میں اضافہ کر دیا جائے‘ اور بلدیاتی اداروں کو ان کی روح کے مطابق فعال اور مؤثر بنایا جائے تو نہ صرف اختیارات اور وسائل نچلی سطح پر منتقل ہوں گے بلکہ اس سے پبلک سروس ڈلیوری کا معیار بھی بہتر ہوگا اور بیورو کریٹک رکاوٹیں دور ہو جائیں گی۔ پاکستان کے آئین میں نئے صوبے بنانے کا طریقہ کار موجود ہے۔ یہ تاثر سراسر گمراہ کن ہے کہ نئی انتظامی ترتیب صوبوں کو تقسیم کرنے کے مترادف ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نئے صوبے بنانے سے عوامی سہولتوں کی فراہمی میں بہتری آئے گی اور عام آدمی کی زندگی میں مثبت تبدیلی آنے سے ریاست سے اس کا رشتہ مزید مضبوط ہو گا۔ ہر گزرتا دن اس پہ مہرِ تصدیق ثبت کر رہا ہے کہ پاکستان کی 26 کروڑ آبادی اب محض چار صوبوں کیساتھ نہیں چل سکتی۔ وقت آ گیا ہے کہ سیاسی مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ کر نئے انتظامی یونٹس کے قیام اور بلدیاتی اداروں کی مؤثر بحالی کیلئے کام کیا جائے تاکہ جمہوریت کا ثمر حقیقتاً عوام کی دہلیز تک پہنچ سکے۔ وسائل کی منصفانہ تقسیم اور عوامی مسائل کے مؤثر حل کیلئے نئے صوبوں کے قیام کے سوا اب کوئی چارہ نہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بدر دفاعی معاہدہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-22/11652</link><pubDate>Thu, 22 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-22/11652</guid><description>پاکستان‘ ترکیہ‘ قطر اور انڈونیشیا نے دوحہ میں ’’بدر مفاہمتی یادداشت‘‘ پر دستخط کیے ہیں‘ اس معاہدے کا مقصد چاروں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون بڑھانا‘ مشترکہ طور پر دفاعی ساز و سامان تیار کرنا اور جدید فوجی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔ اس معاہدے میں شامل چاروں ممالک کی دفاعی صلاحیتیں ایک دوسرے سے مختلف ہیں اور یہی فرق اس تعاون کو اہم بناتا ہے۔ ترکیہ نے ڈرونز‘ جنگی جہازوں‘ بکتر بند گاڑیوں اور دفاعی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں نمایاں ترقی کی ہے۔ پاکستان کے پاس دفاعی ساز و سامان تیار کرنے‘ فوجی تربیت اور مختلف نوعیت کے دفاعی منصوبوں کا گراں قدر تجربہ موجود ہے۔ قطر کے پاس سرمایہ کاری کیلئے مالی وسائل دستیاب ہیں جبکہ انڈونیشیا ترکیہ کے ساتھ مل کر ٹیکنالوجی کی منتقلی کے ذریعے مقامی دفاعی پیداوار بڑھا رہا ہے۔ اگر یہ ممالک اپنی صلاحیتوں کو یکجا کریں تو سب کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

پاکستان کیلئے اس معاہدے کا سب سے اہم فائدہ جدید ٹیکنالوجی تک رسائی اور دفاعی صنعت کی ترقی ہو سکتا ہے۔ مشترکہ منصوبوں کے ذریعے پاکستان کو نئے دفاعی نظام تیار کرنے‘ مقامی پیداوار بڑھانے اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں اپنے تجربے کو بہتر بنانے کا موقع مل سکتا ہے۔ اس سے دفاعی ساز و سامان کی درآمدات پر انحصار کم کرنے اور برآمدات بڑھانے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ اس لیے پاکستان کو اس معاہدے سے زیادہ سے زیادہ عملی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>المناک بس حادثہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-22/11651</link><pubDate>Thu, 22 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-22/11651</guid><description>گزشتہ روز کراچی سے ڈیرہ غازی خان جانے والی ایک بس راجن پور کے قریب تیز رفتاری کے باعث حادثے کا شکار ہو گئی‘ جس کے نتیجے میں 10افراد جاں بحق اور تقریباً 40زخمی ہو گئے۔ بس ڈرائیور صرف اپنی جان کا ذمہ دار نہیں ہوتا بلکہ اس کے ہاتھ میں درجنوں افراد کی زندگیاں ہوتی ہیں‘ اسکے باوجود بعض ڈرائیور تیز رفتاری‘ لاپروائی اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی سے گریز نہیں کرتے۔ انہیں یہ سمجھنا چاہیے کہ چند منٹ پہلے منزل پر پہنچنے سے زیادہ اہم مسافروں کو بحفاظت ان کی منزل تک پہنچانا ہے۔ اس ضمن میں اُن ٹرانسپورٹ کمپنیوں کو بھی بری الذمہ قرار نہیں دیا جا سکتاجن کی ترجیح مسافروں کو محفوظ سفر فراہم کرنے کے بجائے کم وقت میں زیادہ چکر مکمل کرنا ہوتی ہے۔

اس دباؤ میں ڈرائیور رفتار کی مقررہ حد اور حفاظتی تقاضوں کو نظر انداز کرتے ہیں۔ ٹرانسپورٹ کمپنیوں کو اس سوچ سے باہر نکلنا ہو گا۔ علاوہ ازیں لانگ روٹس پر ڈرائیور کی تھکن بھی حادثات کا سبب بنتی ہے۔ مسلسل کئی گھنٹے گاڑی چلانے سے توجہ متاثر ہوتی ہے اور بروقت فیصلہ کرنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے۔ اس لیے ٹرانسپورٹ کمپنیوں کو طویل روٹس پر متبادل ڈرائیوروں کا بندوبست بھی کرنا چاہیے۔ حادثات کے بعد افسوس کرنے کے بجائے اصل ضرورت ایسے مؤثر اقدامات کی ہے جو قیمتی انسانی جانوں کو ضائع ہونے سے بچا سکیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کیا پاکستان ’’دورِ قمر‘‘ سے گزر رہا ہے؟(محمد اظہارالحق)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-10-22/52886/99217835</link><pubDate>Thu, 22 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2026-10-22/52886/99217835</guid><description>وہ جسے حافظ شیرازی &#39;&#39;دورِ قمر‘‘ کہتے ہیں‘ کیا آج کل پاکستان اسی &#39;&#39;دورِ قمر‘‘ سے گزر رہا ہے؟پہلے یہ سن لیجیے کہ حافظ شیرازی‘ جن کے دیوان کو قسّام ازل نے وہ شہرتِ دوام بخشی جو شاید ہی کسی اور شعری مجموعے کو ملی ہو، &#39;&#39;دورِ قمر‘‘ کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ وہ فرماتے ہیں کہ یہ کیسا شور و غوغا ہے جو میں دیکھ رہا ہوں‘ اُفق تا اُفق فتنہ اور شر نظر آرہا ہے۔ آرزو یہ ہے کہ اچھے دن آئیں مگر پہلے سے بھی بدتر آ رہے ہیں۔ حالت یہ ہے کہ احمقوں کو شربت دیے جا رہے ہیں اور دانا خونِ جگر پی رہے ہیں۔ بہترین گھوڑا کاٹھی کی وجہ سے زخمی ہو گیا ہے۔ دوسری طرف گدھے کے گلے میں قیمتی ہار ڈالے گئے ہیں۔ بیٹیاں ماؤں سے لڑائیاں کر رہی ہیں اور بیٹے باپ کا بُرا سوچ رہے ہیں۔ بھائی بھائی کے ساتھ رحم سے نہیں پیش آ رہا اور باپ بیٹے کے ساتھ شفقت نہیں کر رہا۔ یہ ہے وہ صورتحال جو حافظ نے بیان کی ہے اور اسے &#39;&#39;دورِ قمر‘‘ سے منسوب کیا ہے۔ &#39;&#39;دورِ قمر‘‘ کیا ہے؟ اس کی تشریح جو سکالرز نے کی ہے اس کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ اس سے مراد زمانہ بھی ہے اور گردشِ روزگار بھی! کچھ نے کہا ہے کہ اجرامِ فلکی کے اپنے اپنے دور ہیں جو ایک ایک ہزار سال پر مشتمل ہیں اور ہم اب چاند کے دور (دورِ قمر) میں رہ رہے ہیں! اور چاند کا یہ دور فتنوں پر مشتمل ہے۔ بہر طور یہ طے ہے کہ &#39;&#39;دورِ قمر‘‘ فتنوں‘ جھگڑوں‘ زبوں حالی‘ مسائل اور مشکلات کا گڑھ ہے۔آج کے پاکستان کو دیکھیے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان اپنے &#39;&#39;دورِ قمر‘‘ سے گزر رہا ہے۔ ہر نیا دن پہلے سے بد تر آرہا ہے۔ خاندانی سطح پر دیکھیے تو بھائی بھائی کو عدالتوں میں گھسیٹ رہا ہے۔ قتل کر رہا ہے۔ قطع کلامی عام ہے۔ نوجوان لڑکیاں &#39;&#39;میری اپنی زندگی‘‘ کے فارمولے کو اپنا رہی ہیں اور ماں باپ کو‘ خاندان کو‘ خاندانی اقدار کو جوتے کی نوک پر لکھ رہی ہیں۔ باپ گھر میں داخل ہو تو فرزند آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا۔ مائیں سوشل میڈیا میں ڈوبی ہوئی ہیں اور جان چھڑانے کیلئے معصوم بچوں کو سکرین کے نشے پر لگا رہی ہیں۔ اجتماعی سطح پر دیکھیے تو ہم بطور ِقوم ذلت کی اتھاہ گہرائیوں میں گر چکے ہیں۔ کہیں  فاقے ہیں تو کہیں دعوتوں میں تیس تیس‘ چالیس چالیس پکوان پیش کیے جا رہے ہیں۔ عوام ہوشربا گرانی کا شکار ہیں اور حکمران انہی عوام کے ٹیکسوں سے ایسی عیاشانہ زندگی گزار رہے ہیں جس کا جمہوری‘ ترقی یافتہ ملکوں کے سربراہ سوچ بھی نہیں سکتے۔ جس سیاسی جماعت کی حکومت ہے اس کے قائد ہر روز لندن کے لیے پا بہ رکاب ہیں۔ زندگی ان کے لیے پکنک ہے۔ آپ اندازہ لگائیے کہ اس ملک کا دارالحکومت ایک گریڈ بیس کے افسر کے رحم و کرم پر ہے۔ کوئی میئر ہے نہ انتخابات۔ کوئی سٹی کونسل ہے نہ اپوزیشن! جو کمشنر ہے وہی ترقیاتی ادارے کا سربراہ بھی ہے۔ اس سے ملاقات کرنا تو دور کی بات ہے‘ بات تک کوئی نہیں کر سکتا۔ آدھے شہر کے درخت اور جنگلات اس کے پیشرو نے کٹوا دیے۔ جو رہ گئے تھے وہ موجودہ حاکم کٹوا رہا ہے۔ کوئی چوں بھی نہیں کر رہا ‘نہ کر سکتا ہے۔ اسلام آباد سے باہر رہنے والوں کو ان دنوں اسلام آباد آنے سے پہلے سو بار سوچ لینا چاہیے۔ پورا شہر کُھدا پڑا ہے۔ جہاں ضرورت نہیں وہاں بھی کھدائی کر کے کچھ نہ کچھ نیا بنانے کا چکر چل رہا ہے۔ کسی مارکیٹ میں جائیں تو وہاں کی پارکنگ اکھیڑی اور ادھیڑی ہوئی ملتی ہے۔ جگہ جگہ کھدائیوں سے گرد کی دبیز چادر نے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے! گھمنڈ اور خود پسندی کا یہ عالم ہے کہ چودہ بچوں کے مرنے پر بھی والیٔ شہر سوٹ اور ٹائی میں ملبوس آتا ہے۔امن و امان کی ریٹنگ صفر سے نیچے ہی سمجھیے۔ دو صوبے مکمل افرا تفری‘ بدنظمی‘ ابتری اور آشوب کا شکار ہیں۔ بلوچستان عملی طور پر باقی ملک سے لاتعلق نظر آتا ہے۔ کیا آپ صوبے کے اندر سفر کر سکتے ہیں؟ نہیں! رہے باقی صوبے تو وہاں جرائم سکہ رائج الوقت بن چکے ہیں۔ کسی دن کا اخبار اٹھا کر دیکھ لیجیے۔ ڈاکے‘ اغوا‘ چوریاں عام ہیں۔ گاڑیاں‘ موٹر سائیکل‘ زیورات سب کچھ لوٹا جا رہا ہے۔ دوسری طرف پولیس فورس پر اربوں روپے خرچ ہو رہے ہیں۔ افسروں کی مراعات کا کوئی کنارہ نہیں۔ ان کے محلات پر چوبیس گھنٹے پولیس کے جوانوں کے پہرے ہیں۔ نوکر شاہی عوام کے سامنے شاہی بگھیوں سے اترتی ہے۔ عین اسلام آباد میں‘ ایف بی آر کی ناک کے عین نیچے‘ شہر کا سب سے بڑا ماہرِ امراضِ چشم‘ مریضوں سے ایک ایک آپریشن کے لاکھوں روپے لیتا ہے مگر صرف اور صرف کیش کی صورت میں! کریڈٹ کارڈ لیتا ہے نہ چیک۔ یہاں تک کہ آن لائن بھی رقم ٹرانسفر کرنے کی اجازت نہیں! نوٹوں کی گٹھڑی سر پر اٹھائیے اور موتیے کا آپریشن کرائیے۔دہشت گردی کا جن بوتل سے نکلا ہے تو بوتل میں واپس جا ہی نہیں رہا۔ جوان اور افسر روزانہ کی بنیاد پر شہید ہو رہے ہیں‘ اور ہوئے جا رہے ہیں۔ بچے یتیم ہو رہے ہیں‘ خواتین بیوہ ہو رہی ہیں۔ جو علاج کار گر نہیں ہو رہا‘ اسے ہی جاری رکھا جا رہا ہے۔ کوئی اَنت نہیں نظر آ رہا! عالمی بساط پر ہم اس سلسلے میں کچھ بھی نہیں کر پا رہے۔ پیچیدہ مرض کے لیے پینا ڈول دیے جا رہے ہیں۔ پارلیمنٹ کو قومی مسائل سے کوئی غرض نہیں۔ سب کچھ اس سے باہر باہر ہی ہو رہا ہے۔ ایسے میں معزز ارکانِ پارلیمنٹ  کو کچھ تو کرنا ہے۔ آخر وقت تو کاٹنا ہے۔ بیکار مباش کچھ کیا کر۔ چنانچہ ارکانِ پارلیمنٹ اپنی مراعات زیادہ کرنے اور کرانے میں لگے ہوئے ہیں! اپنا موازنہ سول بیورو کریسی سے کرتے ہیں اور صرف سول بیورو کریسی سے ہی کرتے ہیں۔ ایک ایک اجلاس کروڑوں میں پڑتا ہے۔ قائمہ کمیٹیوں کے اجلاس اٹینڈ کرنے کے معاوضے الگ۔ کیفے ٹیریا ارزاں ترین! یومیہ الاؤنس الگ۔ علاج یہاں نہیں تو باہر سے کرا آئیے۔ مشہورِ عالم کتاب Gulliver&#39;s Travels کے مصنف جونا تھن سوئفٹ نے اس علامتی ناول میں اپنے زمانے کی پارلیمنٹ کا مذاق اڑایا تھا کہ اور تو کام کوئی نہیں‘ بس اس پر بحث کرتے رہتے ہیں کہ انڈہ کس طرف سے توڑا جائے! شاید چراغ حسن حسرت نے تجویز کیا تھا کہ کرنے کو کچھ نہ ہو تو پورچ یا صحن میں گملوں کی ترتیب بار بار بدلیے! قومی ریلوے‘ قومی ایئر لائن اور سٹیل مل کا ماتم تو عرصے سے ہو رہا ہے۔ سوائے چند ایئر لائنوں کے‘ باقی تمام ہمارے ملک سے پرہیز کر رہی ہیں۔ جیسے ہم اچھوت ہوں! کرنسی ہماری دمڑیوں اور دھجیوں جیسی ہے۔ افغانستان کے &#39;&#39;افغانی‘‘ سے بھی کمتر! جس ملک میں جائیں ہمیں بھکاری‘ چور اور نوسر باز سمجھا جاتا ہے۔ دوست ممالک بھی آنکھیں ماتھے پر رکھ لیتے ہیں!آپ کا کیا خیال ہے؟ مجھے تو لگتا ہے کہ ہم &#39;&#39;دورِ قمر‘‘ سے گزر رہے ہیں۔ مستقبل قریب میں تو کیا مستقبل بعیدمیں بھی تبدیلی کے آثار نظر نہیں آ رہے۔ صرف ایک چیز کا یقینی علم ہے کہ دونوں خاندان باری باری ہم پر حکومت کریں گے۔ ہمارے مستقبل کے حکمران کچھ تو یہیں ہیں‘ کچھ لندن سے آئیں گے مگر ابھی نہیں! جب ان کی باری آئے گی تو سپیشل جہاز سے آ جائیں گے! ہماری سیاسی جماعتوں کے ارکان سفید ریش اور سفید سر ہو جائیں گے۔ بڑھاپے کی شدت سے چلنا محال ہو جائے گا۔ مگر حکمران خاندانوں کی تیسری چوتھی نسل کے سامنے بھی سر جھکا کر‘ ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوں گے!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_57182973.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مشعال یوسفزئی کی بڑی بغاوت(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-10-22/52887/80556317</link><pubDate>Thu, 22 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-10-22/52887/80556317</guid><description>پی ٹی آئی کی سینیٹر مشعال یوسفزئی نے بڑے کم وقت میں پارٹی کے اندر اپنی جگہ بنائی ہے۔ انہوں نے جس طرح خود کو سیاسی کلچر کے ساتھ ایڈجسٹ کیا ہے وہ یقینا حیران کن ہے۔ یہاں برسوں گزر جاتے ہیں لیکن آپ سیاسی طور پر وہ سفر طے نہیں کر سکتے جو مشعال نے بہت کم وقت میں طے کیا ہے۔ جب آپ نوجوان ہو کر کسی پارٹی میں اوپر آتے ہیں تو پارٹی کے اندر آپ کو بہت ساری مشکلات اور حسد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اکثر لوگ دوسروں کو اپنے سے آگے نکلتا دیکھ کر برداشت نہیں کر پاتے‘ لہٰذا سب مل کر اسے گرانے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک کامیاب شخص کے دشمنوں کی تعداد بڑھتی چلی جاتی ہے۔ تاہم مشعال یوسفزئی اس حوالے سے خوش قسمت رہی ہیں کہ ایک تو انہیں اچھا بریک تھرو ملا‘ جب سپریم کورٹ میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پوچھا کہ عمران خان کا وکیل کون ہے؟ وہاں شاید کوئی پارٹی کا بڑا وکیل موجود نہ تھا‘ اس پر ایک نوجوان پشتون وکیل لڑکی آگے بڑھی اور بڑے اعتماد سے کہا کہ میں خان صاحب کی وکیل ہوں۔ اس وقت یہ سب کچھ لائیو چل رہا تھا‘ لہٰذا ان کے اس اعتماد نے سب کو متاثر کیا اور یوں وہ راتوں رات پورے ملک میں بالعموم اور پی ٹی آئی میں بالخصوص مشہور ہو گئیں۔ اُن دنوں قاضی فائز عیسیٰ کی کورٹ سے بڑے بڑے وکیل ان کی ڈانٹ ڈپٹ یا سختی کی وجہ سے گریز کرتے تھے۔ وہ سب کے سامنے وکیلوں کی جو عزت افزائی کرتے تھے‘ وہ پوری قوم لائیو دیکھتی تھی۔ اکثر بڑے بڑے وکیلوں کی قابلیت کا پردہ اس طرح چاک ہوا۔ لیکن مشعال یوسفزئی نے اعتماد کے ساتھ قاضی فائز عیسیٰ کا سامنا کیا اور یوں پی ٹی آئی کی وکلا ٹیم کا حصہ بن گئیں۔ انہیں اس وقت بڑا بریک تھرو ملا جب بشریٰ بیگم نے شاید ان کا اعتماد اور قابلیت دیکھتے ہوئے انہیں اپنا ترجمان مقرر کیا اور اس طرح پارٹی میں ان کی اہمیت اور مقام یکدم اوپر چلا گیا۔ دوسری طرف دشمنوں اور مخالفوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا چلا گیا۔ اسی دوران علیمہ خان نے عمران خان اور بشریٰ بیگم کے جیل جانے سے پیدا ہونے والے خلا کر پُر کرنے کی کوشش کی اور اور خود کو فرنٹ پر لائیں۔ دھیرے دھیرے انہوں نے کامیابی سے پارٹی لیڈرشپ کو یہ باور کرا دیا کہ پارٹی اب وہ چلائیں گی‘ چاہے سامنے بیرسٹر گوہر ہوں یا علی امین گنڈاپور‘ سب ان کو جوابدہ ہوں گے۔ پارٹی کا سوشل میڈیا سیل بھی علیمہ خان کے قابو میں آگیا۔ مجھے یاد ہے کہ جب عارف علوی صدرِ پاکستان تھے اور الیکشن کی تاریخ کا معاملہ سپریم کورٹ میں چل رہا تھا اس وقت علیمہ خان نے میڈیا کے سامنے صدر علوی کی کلاس لی کہ انہوں نے الیکشن کی تاریخ پر سٹینڈ کیوں نہیں لیا۔ اس دوران علیمہ خان نے پارٹی کے اندر عہدیداروں کی تقرریوں یا ان کی معزولی میں بھی کردار ادا کرنا شروع کر دیا۔ علیمہ خان کی یہ خوبی ہے کہ وہ جو سوچتی ہیں‘ کیمرے کے سامنے وہی کہہ دیتی ہیں چاہے کسی کو برا لگے یا اچھا۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ سیاسی مزاج کی نہیں‘ لہٰذا بولنے سے پہلے فلٹر نہیں لگاتیں اور کھری کھری باتیں کہہ دیتی ہیں۔ لیکن اس کا پارٹی کو نقصان ہوا اور پارٹی کے اندر تقسیم گہری ہوتی چلی گئی۔دوسری طرف سلمان اکرم راجہ کو پارٹی کے جنرل سیکرٹری کا عہدہ ملا تو باقی بڑے وکیل دور ہونا شروع ہو گئے کیونکہ وکیلوں کی اپنی سیاست ہوتی ہے۔ سلمان اکرم راجہ قابل مگر سخت مزاج کے وکیل ہیں۔ انہیں کسی نے پارٹی کے اندر زیادہ سیریس نہیں لیا‘ لہٰذا بیرسٹر گوہر‘ علیمہ خان اور سلمان اکرم راجہ میں تلخیاں بڑھنے لگیں۔ اس دوران پی ٹی آئی پنجاب اور پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے درمیان بھی فاصلے بڑھنے لگے اور دونوں کیمپ کی ایک دوسرے کے ساتھ بول چال بند ہو گئی اور پھر میڈیا کے ذریعے فائر ورک شروع ہوا۔ پہلے شیر افضل مروت کو ٹارگٹ کیا گیا‘ انہوں نے سخت ردِعمل دیا تو بات بڑھتی چلی گئی۔ پھر علی امین گنڈاپور نشانہ بنے۔ خیبر پختونخوا کے ایم این ایز علیمہ خان اور سلمان اکرم راجہ کی اتھارٹی کو ماننے کو تیار نہ تھے‘ شاید یہی وجہ ہے  کہ کچھ دن پہلے جنید اکبر نے بھی علیمہ خان کے چند ریمارکس پر سخت ردِعمل دیا۔ اگرچہ علی محمد خان نے ظرف کا مظاہرہ کیا اور جب سپریم کورٹ کے سامنے میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہیں مائیک کے آگے سے ہٹایا گیا تو وہ خاموشی سے سائیڈ پر ہو گئے اور کوئی بات نہیں کی۔ لیکن یہ لڑائی اُس وقت کافی بڑھ گئی جب علیمہ خان نے مشعال یوسفزئی پر کچھ تنقید کی اور مشعال یوسفزئی نے جوابی فائر کھول دیا۔ بشریٰ بی بی نے مشعال یوسفزئی کو علیمہ خان کے سامنے کھڑا کیا تھا۔ مسئلہ اس وقت بڑھا جب شیر افضل مروت اور دیگر نے علیمہ خان کے بیٹے کو دی گئی سرکاری رعایتوں پر سوال اٹھایا۔ علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کی لڑائی بڑھتی گئی اور بشریٰ بی بی کیمپ کو اس وقت بڑی کامیابی ملی جب جیل سے عمران خان نے مشعال یوسفزئی کو سینیٹ کا ٹکٹ دینے کا اعلان کیا‘ جو اُن کے حاسدین اور مخالفین پر ایک بم بن کر گرا۔ جب علیمہ خان کو میڈیا نے یہ بتایا تو ان کا ردِعمل دیکھنے کے لائق تھا۔ مشعال یوسفزئی کو ایک بات کا علم ہے کہ پارٹی میں سب سے زیادہ اہمیت بشریٰ بی بی کی ہے لہٰذا وہ پارٹی کے دیگر لوگوں کی خوشامد میں وقت ضائع نہیں کرتیں۔ سیاسی طور پر مشعال یوسفزئی یہ سمجھتی ہیں کہ عمران خان کو ہر صورت باہر آنا چاہیے اور اس کیلئے انہیں سیاسی راستہ لینا ہوگا اور &#39;کچھ لو اور کچھ دو‘ پر چلنا ہوگا۔ اب انہوں نے کھل کر کہا ہے کہ اگر عمران خان کی عدالتوں کے ذریعے باعزت رہائی ہو جائے تو پی ٹی آئی نئے صوبوں کی ترمیم میں ووٹ ڈالنے پر تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیشک دو ہزار صوبے بنا لیں۔ یہ بہت بڑی بات ہے جو مشعال یوسفزئی نے کہی ہے کہ اگر عمران خان کو باعزت راستہ دے کر رہا کیا جاتا ہے توپی ٹی آئی اس کیلئے تیار ہے۔ انہوں نے محمود خان اچکزئی کے پُرسرار کردار پر بھی سنگین سوالات اٹھائے کہ انہوں نے پی ٹی آئی کا ساتھ اس طرح نہیں دیا جیسے دینا چاہیے تھا‘ یا جس کیلئے عمران خان نے انہیں اپوزیشن لیڈر بنایا تھا۔ مشعال یوسفزئی کی اچکزئی اور دیگر پارٹی لیڈروں کے خلاف دھواں دھار گفتگو نے پی ٹی آئی کے حامیوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ خصوصاً اچکزئی اور سہیل آفریدی کے کردار پر کئی سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ بیرسٹر گوہر نے مشعال یوسفزئی کو ڈسپلن کی خلاف ورزی پر شوکاز نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ میں نے اس پر ٹویٹ کیا کہ میں حیران ہوں کہ سینیٹر مشعال یوسفزئی نے کون سی غلط بات کی ہے۔ لانگ مارچ میں جو بلنڈرز مارے گئے‘ محض ان کو ہائی لائٹ کیا ہے۔ نوٹس تو اچکزئی کو جاری ہونا چاہیے تھا کہ انہوں نے کیسے پی ٹی آئی سے اچانک علیحدگی اختیار کر لی اور مذاکرات کا بائیکاٹ کر کے حکومت کی مدد کرتے ہوئے گورنر راج کی راہ ہموار کی‘ اُلٹا اس سینیٹر کو نوٹس جاری ہو رہا ہے جس نے اچکزئی کے سیاسی قد کے رعب میں آئے بغیر‘ اُس معصوم بچے کی طرح سوالات کیے جس نے بادشاہ سلامت کے خوف‘ رعب اور دبدبے کی پروا کیے بغیر بادشاہ کو دیکھ کر کہا تھا کہ وہ تو ننگا ہے۔ کیا بیرسٹر گوہر نے اچکزئی سے پوچھا کہ ان کا اس سارے معاملے میں کیا کردار رہا اور انہوں نے کیسے ہر اہم موقع پر پی ٹی آئی کو نیچے کھینچا۔ وزیراعظم سے مذاکرات سے انکار‘ حکومت پی ٹی آئی مذاکرات میں بیٹھنے سے انکار‘ لانگ مارچ کی منسوخی کے مطالبے کو ماننے سے انکار‘ لانگ مارچ میں شرکت سے انکار۔ مشعال یوسفزئی نے ان سب باتوں پر سوالات اٹھائے تو اسے نوٹس جاری کر دیا۔ بہرحال نتیجہ جو بھی ہو‘ مشعال یوسفزئی نے بہت کم وقت میں وہ سیاسی سفر طے کر لیا ہے جو باقی برسوں میں بھی طے نہیں کر پاتے۔ شاید ان کی سیاسی &#39;&#39;باغیانہ‘‘ گفتگو ہی پارٹی کو اپنی لائن بدلنے اور عمران خان کی رہائی کا کوئی موقع نکالنے کا سبب بنے۔ لیکن سوال وہی ہے‘ کیا عمران خان کا جیل کی سلاخوں کے پیچھے رہنا بیرسٹر گوہر اور اچکزئی کو زیادہ سُوٹ کرتا ہے؟</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>فوری انصاف یا ماورائے عدالت انصاف؟(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-10-22/52888/90125403</link><pubDate>Thu, 22 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-10-22/52888/90125403</guid><description>ایک یتیم کو جب بے دردی کے ساتھ کچل ڈالا گیا تو شدید درد‘ غصے اور غم نے پورے سماج کو اپنی گرفت میں لے لیا۔ ہر کوئی ایک ہی مطالبہ کر رہا تھا: شام سے پہلے مجرم کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے۔ اسی طرح کے جذبات اُس وقت بھی پیدا ہوئے جب لائبہ نے ایک نوسر باز کے ہاتھوں لٹنے کے بعد‘ خودکشی کر لی۔ سب کی خواہش تھی کہ ایسے سفاک مجرم کو سزا ملنی چاہیے اور بلاتاخیر ملنی چاہیے۔ دو تین ہفتے پہلے‘ پشاور میں لوگ ایک گھر میں گھس گئے اور ایک شادی شدہ خاتون کو بے آبرو کر دیا۔ چوبیس گھنٹے نہیں گزرے کہ یہ مجرم بھی پولیس مقابلے میں مارے گئے۔ ایک اور مظلوم خاندان کو انصاف مل گیا۔ اگر ہماری یادداشت ساتھ دے تو ماضی میں اَن گنت واقعات ہوئے جب ایسی خواہشیں پیدا ہوئیں اور فوری انصاف کا مطالبہ کیا گیا۔ اب معلوم ہوا کہ کم از کم‘ لائبہ اور وسیم عباس کے &#39;مجرم‘ اپنے انجام کو پہنچ چکے۔ کیا ہم یہی چاہتے تھے؟ کیا فوری انصاف سے ہماری مراد یہی تھی؟اس فوری انصاف کی نوعیت کو بھی جان لینا چاہیے تاکہ ہمیں ان سوالات کے جوابات بہ آسانی مل سکیں۔ ایک واقعہ ہوا‘ چند شواہد بھی سامنے آ گئے جن سے معلوم ہو گیا کہ کون جرم میں ملوث ہے۔ جیسے سی سی ٹی وی فوٹیج! پولیس نے &#39;مجرموں‘ کو پکڑ لیا۔ معاملہ عدالت تک پہنچنے سے پہلے یا بعد‘ پولیس نے اپنے طور پر مجرموں کی سزا دے ڈالی۔ یہ ماورائے عدالت سزا ہے۔ سزا کا فیصلہ عدالت نے نہیں سنایا۔ کسی عدالت کے سامنے شواہد پیش ہوئے نہ ملزم کو صفائی کا موقع ملا۔ یہ فیصلہ پولیس نے اپنے طور پر کیا۔ کیوں کیا؟ منطق یہ ہے کہ ایسے مجرم عدالتوں سے کم ہی سزا پاتے ہیں۔ انہیں وکیل میسر آ جاتے ہیں جو قانون کی دفعات کو اس طرح استعمال کرتے ہیں کہ معاملہ مشتبہ ہو جاتا ہے۔ قانون یہ کہتا ہے کہ شک کا فائدہ ملزم کو دیا جائے۔ اس  طرح قانونی باریکیوں سے فائدہ اٹھا کر‘ اکثر مجرم بچ جاتے ہیں۔ مشاہدہ یہ ہے کہ قانون کی ان کمزوریوں سے‘ بااثر لوگ سب سے زیادہ مستفید ہوتے ہیں۔ وہ مہنگا وکیل لے سکتے ہیں اور اس باب میں کچھ اور ناگفتہ باتیں بھی ہوتی ہیں جن کا تعلق عمومی اخلاقیات سے ہے‘ جیسے رشوت۔جب مجرم دندناتے پھرتے ہیں اور قانون ان کو گرفت میں نہیں لیتا تو معاشرے میں بے چینی پیدا ہوتی ہے۔ اس سے عدالتی اور حکومتی نظام سے عوام کا اعتماد اٹھنے لگتا ہے۔ ہمارا حکومتی نظم تقسیمِ اختیار کے اصول پر قائم ہے۔ انتظامیہ اور عدلیہ میں اختیارات منقسم ہیں۔ پولیس انتظامیہ کا حصہ ہے۔ عدالت کو شکایت ہوتی ہے کہ پولیس مقدمہ صحیح خطوط پر نہیں اٹھاتی۔ اس میں ایسے خلا ہوتے ہیں جن کا فائدہ مجرم کو پہنچتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ پولیس‘ مبینہ طور پر‘ ایف آئی آر لکھتے وقت رشوت لے لیتی ہے۔ پولیس کو یہی شکایت عدالت سے ہے۔ وجہ جو بھی ہو‘ عمومی مشاہدہ یہی ہے کہ مجرم کو سزا نہیں ملتی اور اس سے سماج میں اضطراب پیدا ہوتا ہے۔ لوگ ریاست وحکومت سے مایوس ہو کر معاملہ اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں۔ خود ہی عدالت بن جاتے ہیں اور حکومت بھی۔ گویا جس جواز کے تحت پولیس ماورائے عدالت سزا دیتی ہے‘ عوام بھی اسی دلیل کی بنیاد پر اپنے مجرموں کو سزا دیتے ہیں۔اس کی ایک مثال مذہبی الزامات ہیں۔ لوگ گمان کرتے ہیں کہ ایسے مجرموں کے خلاف کارروائی نہیں ہو تی جن پر توہینِ مذہب کا الزام ہوتا ہے‘ حکومت مغرب یا لبرل طبقے کے دباؤ میں آ جاتی ہے‘ اس لیے وہ قانون ہاتھ میں لے لیتے ہیں۔ اس کے پیچھے مذہبی تعبیرات بھی کارفرما ہیں لیکن عمومی دلیل قانون کے غیر مؤثر نفاذ ہی کی ہے۔ گویا عوام اور پولیس‘ دونوں جب ماورائے عدالت سزا دیتے ہیں تو وجہ ایک ہی ہے۔ یہ وجہ عدالتی نظام پر عدم اعتماد ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر عوام یہ  حرکت کریں تو قابلِ تعزیر۔ پولیس کرے تو کیوں قابلِ سزا نہیں؟ سب جانتے ہیں کہ &#39;فرار کی کوشش‘ ایک ایسا دعویٰ ہے جس پر اعتبار کرنا مشکل ہے۔ اہم تر سوال یہ ہے کہ اگر پولیس یا عوام کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ خود ہی عدالت اور حکومت کا کردار ادا کریں تو کیا اس کے بعد وہ نظام قائم رہ سکتا ہے‘ جو اس وقت رائج ہے؟ کیا اس کے بعد قانون کا وجود بے معنی نہیں ہو جائے گا؟اس تمام بحث کو جب ہم مختلف زاویوں سے دیکھتے ہیں تو تان عدالتی نظام پر ٹوٹتی ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ ہجوم یا پولیس کو اگر سزا کے نفاذ کا حق دے دیا جائے تو اس کا ناگزیر نتیجہ لاقانونیت ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ عدالتی نظام اتنا غیر مؤثر ہو چکا ہے کہ اس سے کسی کو انصاف کی کوئی امید نہیں۔ یہ صورتحال ہمیں انارکی کے طرف لے جا رہی ہے۔ جب حکومتی نظام کے ایک اہم ستون‘ انتظامیہ کو عدالتی نظام پر اعتماد نہیں تو عام آد می کو کیسے ہو گا؟ عدالتی نظام کے غیر مؤثر ہونے کے  اپنے اسباب ہیں۔ ایک سبب سماج کی اخلاقی حالت ہے۔ جہاں سچے گواہ میسر نہ ہوں وہاں عدالتیں کبھی درست نتیجے تک نہیں پہنچ سکتیں۔ ان سب عوامل سے ہم چند نتائج اخذ کرتے ہیں جو معاملہ فہمی اور اصلاحِ احوال کے باب میں ہماری راہنمائی کر سکتے ہیں۔1۔ یہ پولیس ہو یا عوام‘ کسی کو یہ حق نہیں دیا جا سکتا کہ وہ ماورائے عدالت‘ کسی کو مجرم قرار دے اور پھر خود ہی سزا بھی نافذ کرے۔ اس کا ناگزیر نتیجہ انارکی ہے۔2۔ عدالتی نظام پر عوام کے اعتماد کی بحالی ہماری اولین ضرورت ہے۔ یہ مقدمہ غلط ثابت ہو چکا کہ جج حضرات کی تنخواہیں بڑھانے سے عدالتی نظام بہتر ہو جائے گا‘ بدعنوانی ختم ہو جائے گی اور لوگوں کو فوری انصاف ملے گا۔ اس وقت ججوں کی تنخواہیں اور مراعات دوسرے شعبوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں۔ اس کے باوجود‘ عوام تو ایک طرف‘ خود انتظامیہ ا ور حکومت کو اس پر اعتماد نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ معاملہ کم تنخواہ کا نہیں‘ کوئی اور ہے اور یہ اخلاقی ہے۔ معاشی سے زیادہ‘ عدلیہ کی اخلاقی حالت کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔3۔ ہمارے قوانین میں بھی سقم ہیں۔ مثال کے طور پر قتل کے مقدمات میں مقتول کے ورثا سے صلح کے معاملے میں ریاست کا کوئی کردار نہیں۔ اس سے ثروت مند مجرم ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اسی طرح واقعاتی شہادت کو بھی حدود کے معاملات میں قبول نہیں کیا جاتا۔ پھر صدرِ مملکت کو سزا کی معافی کا اختیار دیا گیا ہے۔ نور مقدم کے قاتل کو عدالتِ عظمیٰ سزا سنا چکی۔ نظرِ ثانی کی اپیل مسترد ہو چکی۔ اب معاملہ ایوانِ صدر میں لٹکا ہوا ہے۔ اس وقت بین الاقوامی دباؤ بھی ہے کہ آپ کسی کو موت کی سزا نہ دیں۔ اس معاملے کو بھی حل کرنے کی ضرورت ہے۔4۔ عدالتیں فیصلوں میں غیر معمولی تاخیر کرتی ہیں۔ اس تاخیر میں وکلا کا کردار بھی کم نہیں۔ ایسے قوانین اب ناگزیر ہیں جو عدالتوں اور وکلا کو پابند کریں کہ ایک مخصوص مدت میں فیصلہ سنایا جائے۔ہمارے عدالتی اور انتظامی نظام کو اس وقت اصلاح کی اشد ضرورت ہے۔ اُن پر عوام کا اعتماد قائم ہونا چاہیے۔ حکومت یا ریاست‘ اگر ان کی اصلاح کے بجائے‘ پولیس اور دوسرے ریاستی اداروں کو یہ چھوٹ دے دے گی کہ وہ ماورائے عدالت فیصلے کریں تو پھر ملک میں انارکی پھیلے گی۔ لائبہ اور وسیم عباس کے مجرموں کو سزا ملنی چاہیے تھی‘ مگر ماورائے عدالت نہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>غزہ کے بچوں کا نوالہ کس نے چھینا؟(عمران یعقوب خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-10-22/52889/54986485</link><pubDate>Thu, 22 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/imran-yaqub-khan/2026-10-22/52889/54986485</guid><description>غزہ کی ہواؤں میں بارود کی بُو ابھی باقی ہے۔ کبھی زندگی کے رازدان رہنے والے لیکن اب کھنڈرات بن چکے مکانات کے درمیان حیات کی باقیات تلاش کرتے لوگ ابھی اپنے پیاروں کا قتلِ عام نہیں بھولے ہیں۔ ماں کے سینوں سے لگے بچے اب بھی خوف کے عالم میں چونک کر اٹھتے ہیں جیسے کہیں کوئی گولہ پھٹا ہو‘ جیسے کہیں کوئی میزائل گرا ہو۔ باپ اب بھی فکرمند ہیں کہ زندگی کی نئی شروعات کہاں سے کریں۔ نوجوان اس اندیشے میں گرفتار رہتے ہیں کہ پتا نہیں کہاں سے اسرائیلی فوج کا فائر کردہ کوئی راکٹ‘ گولہ‘ میزائل یا ڈرون آ جائے اور ان کی زندگی کا پتا کاٹ دے۔ غزہ میں زندگی ابھی سنبھلی نہیں ہے‘ ایسے میں اس خبر نے دل چیر کے رکھ دیا ہے کہ فنڈز نہ ہونے کی وجہ سے غزہ کے پہلے سے بھوک سے بلکتے انسانوں کے لیے خوراک کی امداد کم کر دی گئی ہے۔ کیا اب ان بچوں کے حصے کی روٹی ختم ہو جائے گی؟19اکتوبر 2026ء کو اقوام متحدہ کے عالمی ادارۂ خوراک نے اعلان کیا کہ مالی وسائل کی کمی کے باعث غزہ میں پانچ لاکھ افراد خوراک کی امداد سے محروم ہو جائیں گے۔ امداد پانے والوں کی تعداد 16لاکھ سے گھٹ کر 11لاکھ رہ جائے گی‘ جبکہ راشن بھی نصف کر دیا گیا ہے۔ گرم یعنی تازہ کھانوں کی روزانہ فراہمی ڈھائی لاکھ سے کم کر کے ڈیڑھ لاکھ افراد تک محدود کر دی گئی ہے۔ یہ اعداد نہیں پانچ لاکھ انسانوں کی زندگیوں پر لٹکتی موت کی تلواریں ہیں۔ذرا غزہ کی ایک ماں کا تصور کیجیے جس کے گھر کی چھت نہیں‘ باورچی خانے میں چولہا نہیں‘ الماری میں آٹا نہیں۔ اس کی گود میں بچہ ہے جو دودھ مانگتا ہے‘ مگر ماں کے پاس اسے دینے کے لیے کچھ نہیں۔ وہ بچے کو سینے سے لگاتی ہے‘ اس کے بالوں کو سہلاتی ہے اور پھر اس سے نظریں چراتے ہوئے جھوٹ بولتی ہے کہ بیٹا تھوڑی دیر صبر کرو‘ کھانا آ جائے گا۔ پہلے شاید اسے کہیں نہ کہیں سے کچھ امداد مل جانے کی توقع تھی لیکن اب وہ اپنے بچوں کو جھوٹا دلاسا دینے کے بھی قابل نہیں رہے گی۔ غزہ کے عوام کو امداد کے جس تھیلے کا انتظار رہتا تھا‘ اس کا راستہ فنڈز کی کمی نے روک لیا ہے۔غزہ میں شدید اسرائیلی گولہ باری‘ میزائل باری اور ڈرون باری سے ہونے والی تباہی کا اندازہ ان اعداد و شمار سے لگایا جا سکتا ہے جو اقوام متحدہ‘ عالمی بینک اور یورپی یونین جیسے معتبر اداروں کی جانب سے جاری کیے گئے ہیں۔ اکتوبر 2023ء سے اکتوبر 2025ء تک جاری رہنے والی اس یک طرفہ جنگ میں 71 ہزار سے زیادہ فلسطینی شہید اور ایک لاکھ 71 ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے۔ اس عرصے میں تقریباً 19لاکھ فلسطینی بے گھر ہوئے‘ جن میں بہت سے لوگ بار بار نقل مکانی پر مجبور ہیں۔ غزہ میں تین لاکھ 71 ہزار سے زیادہ رہائشی یونٹ تباہ یا متاثر ہوئے‘ نصف سے زیادہ ہسپتال غیر فعال ہیں اور تقریباً تمام سکول تباہ یا متاثر ہو چکے ہیں۔ بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والا نقصان 35.2 ارب ڈالر اور معاشی و سماجی نقصانات 22.7 ارب ڈالر کے لگ بھگ ہیں۔ تعمیر نو کیلئے اگلی ایک دہائی میں 71.4ارب ڈالر درکار ہوں گے۔ غزہ کی معیشت 84فیصد سکڑ چکی ہے۔ آبادی کا 80 فیصد سے زیادہ حصہ بیروزگاری کا سامنا کر رہا ہے جبکہ عالمی ادارۂ خوراک کے مطابق 14 لاکھ افراد شدید غذائی عدم تحفظ کے بحران یا اس سے بھی بدتر صورتحال میں ہیں۔ ان میں دو لاکھ افراد ایسے ہنگامی حالات میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں فوری خوراک کی امداد بھوک سے ہونے والی اموات روکنے کیلئے ضروری ہے۔ ذرا سوچئے‘ ایسے میں خوراک کی رسد میں کمی کیا نتائج لائے گی۔ 14لاکھ افراد‘ یعنی غزہ کی آبادی کا 67 فیصد حصہ شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہے۔ تقریباً دو لاکھ افراد ہنگامی حالات سے دوچار ہیں‘ جہاں بھوک سے ہونے والی اموات کو روکنے کیلئے فوری غذائی امداد کی ضرورت ہے۔ ہر پانچ میں سے صرف ایک بچہ ہی متنوع اور متوازن غذا حاصل کر پاتا ہے۔ صحت‘ پانی‘ نکاسی آب اور حفظانِ صحت کی سہولتوں تک رسائی بھی محدود ہے۔ غزہ میں 80 فیصد سے زیادہ لوگ بیروزگار ہیں‘ جس کی وجہ سے بہت سے خاندان تازہ پیداوار یا پروٹین سے بھرپور غذائیں خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے‘ چاہے وہ دستیاب ہی کیوں نہ ہوں۔غزہ کے لیے خوراک کی کمی کا مطلب محض مہنگائی اور بھوک میں اضافہ نہیں بلکہ اس کا مطلب ہے کہ ماں اپنے حصے کی روٹی بچے کو دے گی‘ باپ بھوک چھپانے کے لیے پانی پی کر سو جائے گا‘ کمزور بچے غذائی قلت کا شکار ہوں گے‘ حاملہ خواتین کی صحت مزید خطرے میں پڑے گی اور بیمار افراد کی بحالی مشکل ہو جائے گی۔ سردیوں کی آمد کا سوچیں تو مزید سنگین خدشات سر اٹھانے لگتے ہیں۔ خوراک کی کمی کے ساتھ صاف پانی‘ نکاسی آب‘ ادویات اور مناسب رہائش کی قلت جیسے مسائل بھی بڑھ جائیں گے۔ خوراک کے لیے فنڈز نہیں ہیں‘ صاف پانی‘ رہائش اور بیماریوں کا علاج تو اس کے بعد کے معاملات ہیں۔یہ کسی ایک خاندان کا المیہ نہیں ایک پوری نسل کے مستقبل کا سوال ہے۔ عالمی برادری کو اب بیانات سے آگے بڑھنا ہو گا۔ ضروری ہے کہ امدادی اداروں کے لیے فوری اور قابلِ اعتماد مالی وسائل فراہم کیے جائیں۔ غزہ کے بچے کسی کے سیاسی اختلافات کے ذمہ دار نہیں۔ انہیں جنگ‘ بے گھری اور بھوک کی سزا نہیں ملنی چاہیے۔ اگر دنیا آج وسائل کی کمی کا عذر بنا کر خاموش رہی تو تاریخ پوچھے گی کہ جب انسان بھوک سے لڑ رہا تھا‘ تب انسانیت کہاں تھی؟ غزہ کے بچوں کو روٹی دیجیے‘ ان کی ماؤں کو امید دیجیے‘ ان کے باپوں کو جینے کا حوصلہ دیجیے کیونکہ بھوک سے بلکتے بچے کی فریاد کسی ایک قوم کی نہیں‘ پوری انسانیت کی آزمائش ہے۔ورلڈ فوڈ پروگرام کو 2026ء میں اپنے فلسطین آپریشنز کے لیے گزشتہ برسوں کے مقابلے میں نصف سے بھی کم فنڈنگ ملی ہے۔ ادارے کو غزہ اور مغربی کنارے میں اگلے چھ ماہ (اکتوبر 2026ء سے مارچ 2027ء تک) اپنے اہم آپریشنز جاری رکھنے کے لیے فوری طور پر 450 ملین امریکی ڈالر کی ضرورت ہے۔ کیا عالمی برادری اپنے بھاری اخراجات میں سے ساڑھے چار سو ملین ڈالر نکال سکے گی یا فلسطینی عوام کو بلکتا اور مرتا دیکھتی رہے گی؟اس کے ساتھ ساتھ ضروری ہو چکا کہ ورلڈ فوڈ پروگرام کے سالانہ فنڈز میں اضافے کے لیے اقدامات کیے جائیں تاکہ جب ضرورت پڑے تو کچھ فنڈز سرپلس پڑے ہوں اور عالمی ادارے کو اس مقصد کے لیے بڑے ممالک کے سامنے بار بار دستِ طلب دراز نہ کرنا پڑے۔ اس سے بھی زیادہ ضروری یہ ہے کہ غزہ کی بحالی اور وہاں کے عوام کو اپنے قدموں پر کھڑا کرنے کے لیے دنیا کے بڑے ممالک نے جو منصوبہ بندی کی تھی اس پر عملدرآمد تیز کیا جائے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ستمبر 2025ء میں بین الاقوامی تعلقات اور سفارتی کوششوں کے تحت غزہ میں جنگ بندی اور مستقل امن کے لیے 20نکاتی غزہ امن منصوبہ پیش کیا تھا۔ اس منصوبے میں فوری جنگ بندی‘ یرغمالیوں کی رہائی‘ علاقے کی تعمیر نو شامل ہے۔ بین الاقوامی اور علاقائی نگرانی میں عبوری نظامِ حکومت اور غزہ کی تباہ شدہ عمارتوں کی بحالی بھی پلان کے نکات میں شامل تھی۔ منصوبے میں مبہم اصطلاحات کے تحت مستقبل میں فلسطینی ریاست کے قیام کا اشارہ دیا گیا تھا۔ کیا اس منصوبے پر عملدرآمد غزہ میں خوراک کے ممکنہ بحران کو ٹالنے کا سبب بن سکتا ہے؟ ایسا ممکن ہے تو پھر اس پلان کو متشکل کرنے کے کام کا آغاز ہونا چاہیے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_58350786.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بیٹیاں لاپتا‘ ریڈ لائن لاپتا(محمد حسن رضا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-hasan-raza/2026-10-22/52890/35726459</link><pubDate>Thu, 22 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-hasan-raza/2026-10-22/52890/35726459</guid><description>ذرا تصور کیجیے‘ ایک ماں رات کے دو بجے اپنی بیٹی کے بستر پر ہاتھ رکھتی ہے۔ بستر خالی ہے۔ بیٹی موجود نہیں۔ وہ تکیہ سینے سے لگاتی ہے‘ بیٹی کے کپڑے سونگھتی ہے‘ دروازے کی آہٹ پر چونک اٹھتی ہے۔ ہر گزرتی گاڑی کی آواز پر اسے لگتا ہے شاید اس کی بچی واپس آ گئی۔ صبح ہوتی ہے‘ باپ درخواست لے کر تھانے پہنچتا ہے‘ ماں ایک اور دن امید اور خوف کے درمیان گزار دیتی ہے۔ شام ڈھلتی ہے تو گھر میں سب کچھ موجود ہوتا ہے‘ سوائے اس بیٹی کے جس کی ہنسی سے گھر آباد تھا۔ یہ کسی مخصوص خاندان کا بیان کردہ واقعہ نہیں‘ اُن بے شمار گھروں کے کرب کی تصویر ہے جہاں کسی اپنے کی گمشدگی نے زندگی روک رکھی ہے۔ اب اس منظر کے سامنے حکومت کے دعوے رکھیے۔ وزیراعلیٰ کی ریڈ لائن رکھیے۔ سیف پنجاب کے نعرے رکھیے‘ اربوں روپے کی ٹیکنالوجی رکھیے اور خود فیصلہ کیجیے کہ اس ماں کو کس اعلان سے تسلی ملے گی؟ جس صوبے میں ایک ماں اپنی بیٹی کے زندہ ہونے کی خبر کو ترس جائے‘ وہاں حکمرانوں کی کامیابیوں کے دعووں کا نہیں‘ ان کے ضمیر کا احتساب ہونا چاہیے۔ روسی ادیب دوستوفسکی کے ناول &#39;&#39;برادرز کرامازوف‘‘ میں معصوم بچے کی اذیت انسانی اخلاقیات کے سامنے ایک سوال رکھتی ہے کہ ایسی خوشحالی کی کیا حیثیت جس کی قیمت بے گناہ بچوں کے آنسو ہوں؟ آج کے حکمران بھی اس سوال سے نہیں بچ سکتے۔ منصوبے شاندار ہوں‘ بجٹ اربوں کا ہو‘ کیمرے جدید ہوں‘ چاہے سکیورٹی کیلئے ہوں یا دوروں کی کوریج کو خوبصورت بنانے کیلئے‘ لیکن کسی لاپتا بچی کی ماں انصاف مانگتے مانگتے بوڑھی ہو جائے تو ترقی کے تمام دعوے بے معنی محسوس ہوتے ہیں۔ حکمرانی کا اصل امتحان یہ ہے کہ عام شہری کتنا محفوظ ہے‘ یہ بڑے دعوئوں‘ اعلانات اور الفاظ کے گورکھ دھندوں میں نہیں‘ یا صرف چکاچوند میں نہیں۔لاہور ہائیکورٹ میں چیف جسٹس عالیہ نیلم صاحبہ کے روبرو عدالتی کارروائی نے پنجاب میں بچیوں کے تحفظ کا معاملہ ایک مرتبہ پھر اُٹھا دیا۔ کارروائی کی سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس نے آئی جی پنجاب سے پوچھا کہ صوبے میں بچیوں کے اغوا کے کتنے مقدمات ہیں؟ آئی جی نے بتایا: 500 سے زائد کیسز ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ 500 کا نمبر بہت بڑا ہے۔ جب پولیس کے انتظامی اقدامات کے بارے میں پوچھا گیا تو آئی جی نے کمیٹیوں کی تشکیل کا بتایا۔ چیف جسٹس کا جواب تھا کہ کمیٹیاں بنائی تھیں تو یہ حالت ہے؟ یہ جملہ پنجاب کے انتظامی نظام کیلئے سوال ہے۔ کمیٹیاں‘ محکمے‘ افسران اور وسائل موجود ہیں مگر نتائج کا حساب کون دے گا؟ ان مقدمات میں کتنی بچیاں بازیاب ہو چکیں؟ کتنے مقدمات زیر تفتیش ہیں اور کتنے حل طلب ہیں؟ حکومت کو مکمل تفصیلات پیش کرنی چاہئیں۔ اسی کارروائی میں دو سال سے لاپتا ایک 16سالہ لڑکی کی بازیابی کا معاملہ سامنے آیا۔ پولیس نے لڑکی بازیاب کروا کر عدالت میں پیش کی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہائیکورٹ کے نوٹس کے بعد پولیس حرکت میں آئی۔ سوال یہ ہے کہ جو کوشش عدالتی نوٹس کے بعد ہوئی‘ وہ پہلے کیوں نہ ہو سکی؟ ایک بچی کی بازیابی خوش آئند ہے مگر انتظار میں گزرنے والے دو سال کا حساب بھی ضروری ہے۔ کیا ہر خاندان کو اپنی بچی کی تلاش کیلئے ہائیکورٹ پہنچنا ہوگا؟ چیف جسٹس نے آئی جی سے یہ بھی پوچھا کہ کیا آپ نے کبھی سوچا کہ جن والدین کی بچیاں غائب ہیں‘ ان پر کیا گزرتی ہو گی؟ انہوں نے خواتین کے مقدمات میں پولیس کی لاپروائی اور گمشدہ لڑکیوں کے بارے میں قائم کیے جانے والے مفروضوں پر تشویش ظاہر کی۔ یہی ہمارے تفتیشی نظام کا ایک تکلیف دہ پہلو ہے۔ لڑکی غائب ہو تو بعض اوقات تلاش سے پہلے قیاس آرائیاں شروع ہو جاتی ہیں۔ بالغ خاتون کی آزادانہ مرضی اور قانونی حقوق اپنی جگہ‘ مگر قیاس آرائی کبھی تفتیش کا متبادل نہیں ہو سکتی۔ نابالغ بچی کی سلامتی کے معاملے میں ریاست کی ذمہ داری کہیں زیادہ ہے۔ پولیس کا کام کردار پر فیصلہ سنانا نہیں‘ حقائق معلوم کرنا اور تحفظ فراہم کرنا ہے۔ اب پنجاب پولیس کے رواں سال کے اعدادو شمار کو دیکھیے‘ جس میں انکشاف ہوا کہ یکم جنوری سے 31 اگست تک مجموعی طور پر اغوا کے 22 ہزار 650 مقدمات درج ہوئے جبکہ اغوا برائے تاوان کے 28 مقدمات الگ کیٹیگری میں ظاہر کیے گئے ہیں۔ اسی عرصے میں زیادتی کے 3776 اور اجتماعی زیادتی کے 600 مقدمات رجسٹرڈ ہوئے۔ یہ تو وہ واقعات ہیں جو پولیس کے ریکارڈ تک پہنچ گئے۔ نجانے کتنے متاثرین خوف‘ بدنامی‘ دھمکیوں یا معاشرتی دباؤ کے باعث شکایت درج نہیں کروا سکے ہوں گے۔ حکومت کو سمجھنا ہو گا کہ پولیس اصلاحات کا اصل امتحان نئی گاڑیاں‘ وردیاں اور عمارتیں نہیں بلکہ شہری کی شکایت کا فوری اندراج اور غیر جانبدار تفتیش ہے۔ پولیس کے ریکارڈ میں کڈنیپنگ اور ابڈکشن کے 22 ہزار 650 مقدمات میں سے 16 ہزار 98 منسوخ ظاہر کیے گئے‘ یعنی تقریباً 71 فیصد۔ مزید 3531 زیر تفتیش‘ 2845 کے چالان جمع اور 176 اَن ٹریسڈ یعنی پولیس کو پتا ہی کچھ نہیں۔ سوال یہ ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں مقدمات کن بنیادوں پر منسوخ ہوئے؟ کتنے متاثرین بحفاظت واپس آئے؟ کتنی شکایات غلط ثابت ہوئیں؟کتنے مقدمات شواہد کی کمی کے باعث ختم ہوئے؟ کتنی منسوخیوں کو مجاز عدالت نے منظور کیا؟ فراہم کردہ چارٹس میں منسوخی کی وجوہات درج نہیں۔ ہر منسوخی کو غلط قرار نہیں دیا جا سکتا لیکن اتنی بڑی تعداد کی شفاف وضاحت ضرور ہونی چاہیے۔ زیادتی کے 3776 مقدمات میں سے 632 اور اجتماعی زیادتی کے 600 مقدمات میں سے 70 منسوخ ظاہر ہوئے۔ ان کی وجوہات بھی واضح ہونی چاہئیں۔ حکومت کو مقدمات کے اندراج سے لے کر عدالتی انجام تک مکمل تفصیلات سامنے لانی چاہئیں۔ محض اعداد وشمار جاری کرنا کارکردگی نہیں‘ ان کے پیچھے موجود انسانی تکلیف اور انصاف کی صورتحال جاننا اصل ذمہ داری ہے۔ اور حکومت کو تمام ڈیٹا پبلک کرنا چاہیے۔ پنجاب میں پولیس‘ جدید سیفٹی کیمرے‘ چائلڈ پروٹیکشن کے ادارے اور خصوصی کمیٹیاں موجود ہیں‘ پھر طویل عرصے سے زیر التوا مقدمات کی نگرانی کون کرتا ہے؟ کیا وزیراعلیٰ آفس ہر ضلع سے رپورٹ لیتا ہے؟ اگر لیتا ہے تو نتائج کیا ہیں؟ کیا کسی افسر کو ثابت شدہ غفلت پر جوابدہ بنایا گیا؟ صرف اجلاسوں اور ہدایات سے متاثرہ خاندانوں کو انصاف نہیں ملتا۔ کیمرے یقینا جرائم کی روک تھام اور تفتیش میں مدد دے سکتے ہیں‘ لیکن ٹیکنالوجی خود انصاف نہیں ہوتی۔ کیمرہ تصویر محفوظ کر سکتا ہے مگر تفتیش‘ گرفتاری‘ فرانزک شواہد اور عدالت میں مقدمہ ثابت کرنا اداروں کی ذمہ داری ہے۔ جس ماں کو اپنی بچی کی تلاش کیلئے بار بار تھانے جانا پڑے‘ اسے کیمروں کی تعداد سے کیا تسلی ملے گی؟ سیف پنجاب وہ نہیں جہاں ہر چوراہے پر کیمرہ ہو‘ سیف پنجاب وہ ہے جہاں کیمروں کی مدد سے ہر بچی‘ بچے اور ہر شخص کے تحفظ کیلئے ریاست بروقت حرکت میں آئے۔ حکومتی کارکردگی کی پیمائش منصوبوں کی افتتاحی تختیوں سے نہیں شہریوں کی سلامتی سے ہونی چاہیے۔ یہ بنیادی انسانی حقوق کا معاملہ بھی ہے۔ آئین پاکستان کا آرٹیکل 9 زندگی اور آزادی‘ آرٹیکل 14 انسانی وقار اور آرٹیکل 25 مساوات کے تحفظ کا اصول بیان کرتا ہے۔ بچوں کا تحفظ ریاست کی قانونی ذمہ داری ہے۔ حکمرانوں سے سوال ہے کہ آپ کے پاس حکومت ہے‘ پولیس ہے‘ اختیار ہے‘ وسائل ہیں اور فیصلے کرنے کی طاقت ہے۔ اس ماں کے پاس صرف انتظار ہے۔ اقتدار کی اصل آزمائش یہی ہے کہ طاقت رکھنے والے‘ طاقت سے محروم شہری کیلئے کیا کرتے ہیں۔ جس دن ایک لاپتا بچی کی ماں آپ سے پوچھے: میری بیٹی کہاں ہے؟ تو کیا حکومت کے پاس جواب ہوگا‘ یا اسے پھر یہی سننے کو ملے گا کہ خواتین اور بچے ہماری ریڈ لائن ہیں؟ جس ریڈ لائن کے باوجود ایک ماں برسوں اپنی بیٹی کی خبر کو ترسے‘ اس ریڈ لائن کی حفاظت کا حساب مانگنا پوری قوم کا حق ہے۔ کیونکہ بیٹیاں لاپتا ہوں تو ریاست کو ان کی تلاش میں ہمہ وقت موجود ہونا چاہیے‘ اس کی ریڈ لائن لاپتا نہیں ہونی چاہیے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/229_33941343.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پاکستان کا انکم ٹیکس کا نظام(مفتی منیب الرحمٰن )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-10-22/52891/29974246</link><pubDate>Thu, 22 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-10-22/52891/29974246</guid><description>ہمارے ٹیکس نظام کی بنیادی خرابی یہ ہے کہ بڑے سرمایہ داروں سے حکومت براہِ راست پورا ٹیکس وصول نہیں کر پاتی کیونکہ بالعموم حکمرانوں کا تعلق بھی اسی طبقے سے ہوتا ہے‘ اس لیے سب سے پہلے وہ اپنے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں‘ جبکہ بالواسطہ ٹیکسوں کا سارا بوجھ غریب عوام پر پڑتا ہے۔ پاکستان کا انکم ٹیکس کا نظام ساری دنیا سے منفرد ہے‘ یہاں بعض علاقوں کو انکم ٹیکس سے استثنا دے دیا جاتا ہے‘ مثلاً ماضی میں خیبر پختونخوا کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں یعنی سوات‘ اپر دیر‘ لوئر دیر‘ اپر اور لوئر چترال‘ بونیر‘ شانگلہ اور مالاکنڈ کو انکم ٹیکس سے استثنا دیا گیا تھا‘ جنہیں &#39;پاٹا‘ کہا جاتا ہے‘ جو موجودہ مالی سال سے واپس لے لیا گیا ہے‘ مگر صوبائی حکومت کی طرف سے اب بھی اس استثنا کو بحال کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ ماضی میں شمالی اور جنوبی وزیرستان‘ خیبر‘ کرم‘ باجوڑ‘ مہمند اور اورکزئی کی ایجنسیوں کو &#39;فاٹا‘ کہا جاتا تھا‘ انہیں 2018ء میں پچیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے خیبر پختونخوا میں ضم کر دیا گیا تھا۔ ان ضم شدہ اضلاع کو انضمام سے پہلے بھی انکم ٹیکس سے استثنا حاصل تھا اور اب بھی ہے۔ یہ اصول سمجھ سے بالاتر ہے اور ہماری دانست میں دنیا میں کہیں اور انکم ٹیکس سے ایسے علاقائی استثنا کی مثالیں موجود نہیں ہیں۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ بعض جگہ آزاد تجارتی یا صنعتی خطے بنائے جاتے ہیں اور انہیں بعض ٹیکسوں سے مکمل یا جزوی استثنا دیا جاتا ہے تاکہ اُن پسماندہ علاقوں میں صنعتیں اور کاروباری ادارے قائم ہوں‘ مقامی لوگوں کو روزگار ملے اور لوگوں کو خطِ غربت سے نکالا جائے۔ بعض مقامات پر ایسی صنعتوں کیلئے ٹیکس کا جزوی یا کلی استثنا رکھا جاتا ہے کہ جن میں برآمدی مصنوعات تیار ہوتی ہوں تاکہ اس سے لوگوں کو روزگار بھی ملے اور ملک کو زرِمبادلہ بھی حاصل ہو۔ اگرچہ ہمارے ہاں اس سے بھی ناجائز فائدہ اٹھایا جاتا ہے‘ مثلاً: قبائلی علاقے میں علامتی طور پر کوئی صنعت قائم کر دی جاتی ہے اور اس کی مہریں لگا کر بندوبستی علاقوں میں قائم صنعتوں پر نوکر شاہی سے مل کر ٹیکس کی چھوٹ حاصل کی جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ انکم ٹیکس کسی علاقے یا وہاں کی زمین پر عائد نہیں ہوتا‘ بلکہ افراد کی سالانہ آمدنی پر عائد کیا جاتا ہے‘ مثلاً: کراچی میں لانڈھی‘ کورنگی‘ اورنگی ٹائون‘ لیاری اور کیماڑی ٹائون وغیرہ دوسرے علاقوں کے مقابلے میں نسبتاً پسماندہ سمجھے جاتے ہیں‘ لیکن ان علاقوں میں بھی بڑے بڑے ارب پتی تھوک فروش اور ذخیرہ اندوز ہوتے ہیں۔ بعض علاقوں میں گھریلو صنعتیں بھی قائم ہوتی ہیں‘ لہٰذا کراچی میں بحیثیتِ مجموعی پسماندگی کی بنیاد پر کسی علاقے کو انکم ٹیکس سے استثنا حاصل نہیں ہے۔ اسی طرح خیبر پختونخوا میں وفاق یا صوبے کے زیرِ اہتمام ضم شدہ قبائلی اضلاع میں یقینا خطِ غربت سے نیچے آنے والے طبقات کی تعداد زیادہ ہو گی‘ لیکن انہی علاقوں میں ایسے کاروباری حضرات اور رُؤسا بھی بستے ہیں جو کروڑوں کی گاڑیوں میں گھومتے پھرتے ہیں‘ اُن کے پاکستان کے بڑے شہروں میں عالیشان بنگلے بھی ہیں‘ تو وہ بھی کسی علاقے کیلئے حاصل انکم ٹیکس استثنا سے فائدہ اٹھانے میں دریغ نہیں کرتے ۔ ہماری نظر میں یہ شرعاً اور قانوناً درست نہیں ہے۔انکم ٹیکس کے حوالے سے صرف تنخواہ دار طبقہ ہی ایسا مظلوم طبقہ ہے کہ جن سے پورا ٹیکس وصول کیا جاتا ہے‘ کیونکہ اُن کی ساری آمدنی قانونی اور دستاویزی ہوتی ہے‘ اس لیے ان سے تنخواہ کی وصولی سے پہلے ہی براہِ راست انکم ٹیکس کاٹ لیا جاتا ہے۔ لیکن ارب کھرب پتی لوگوں کے پاس اپنی آمدنی چھپانے اور انکم ٹیکس بچانے کے ہزاروں حربے ہوتے ہیں‘ اس میں محکمۂ ٹیکس کے عملے کا تعاون بھی اُنہیں حاصل ہوتا ہے‘ کیونکہ وہ بھی &#39;برکات‘ میں حصہ دار ہوتے ہیں۔ یہی صورتحال جاگیردار طبقے کی ہے کہ زرعی آمدنی پر انکم ٹیکس کی بات کی جائے تو وہ واویلا مچانا شروع کر دیتے ہیں کہ کھاد مہنگی ہے‘ ٹیوب ویل اور ٹریکٹر وغیرہ چلانے کیلئے ایندھن مہنگا ہے‘ آبیانہ اس کے علاوہ ہے‘ لہٰذا زرعی آمدنی کو ٹیکس سے چھوٹ دی جائے۔ حالانکہ ٹیکس تو تمام مصارف کو نکالنے کے بعد &#39;صافی آمدنی‘ پر ہوتا ہے۔ لیکن چونکہ ہمارے قانون ساز اداروں میں جاگیرداروں اور دولتمندوں کا غلبہ ہے‘ اس لیے وہ قوانین ہی ایسے بناتے ہیں کہ انہیں مکمل تحفظ حاصل ہو ۔حتیٰ کہ جب مالاکنڈ سوات ڈویژن کو کے پی میں ضم کیا گیا اور ان علاقوں پر انکم ٹیکس عائد کرنے کی بات کی گئی تو اُس وقت کے امیر جماعت اسلامی اورصوبائی وزیرِ خزانہ جناب سراج الحق نے بھی اس کی مخالفت کی‘ حالانکہ دینی سیاسی جماعت کے سربراہ کو تو عدل وانصاف پر مبنی بات کرنی چاہیے۔ مگر سیاسی رہنما اپنے حلقۂ انتخاب کے عوام کو خوش کرنے کیلئے بعض اوقات انصاف کے اصولوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔شریعت کی رو سے حلال آمدن اور قانونی آمدن میں فرق ہوتا ہے۔ حلال سے مراد وہ آمدنی ہے جو اصل کے اعتبار سے حلال ہو اور حلال ذرائع سے کمائی جائے‘ جیسے تاجروں‘ صنعتکاروں‘ جاگیرداروں اور کاروباری لوگوں کی مختلف ذرائع سے آمدنی۔ لیکن قانوناً آمدنی کو&#39; زرِ سفید‘ اور &#39;زرِ سیاہ‘ میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ پس جس آمدنی پر عائد پورا ٹیکس شفاف طریقے سے ادا کر دیا گیا ہو‘ وہ &#39;زرِ سفید‘ ہے اور جس آمدنی پر عائد ٹیکس شفاف طریقے سے ادا نہ کیا گیا ہو‘ وہ کمائی کے اعتبار سے حلال ہونے کے باوجود قانونی اعتبار سے &#39;زرِ سیاہ‘ ہے۔ اب رہا یہ سوال کہ جب کسی شخص نے حلال ذرائع سے مال کمایا ہو تو اُسے جرم کیوں سمجھا جاتا ہے‘ اس کی بابت ایک حدیث پاک میں ہے: رسول اللہﷺ نے فرمایا: &#39;&#39;یہ بات مومن کے شایانِ شان نہیں کہ وہ اپنے آپ کو ذلّت سے دوچار کرے‘ صحابۂ کرام نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! کوئی اپنے آپ کو ذلّت سے کیونکر دوچار کرے گا‘ آپﷺ نے فرمایا: یوں کہ وہ اپنے آپ کو ایسی آزمائش میں ڈال دیتا ہے کہ جس سے (باعزت طور پر) وہ نکلنے کی طاقت نہیں رکھتا‘‘ (ترمذی: 2254)۔ پس لازم ہے کہ وہ اپنی عزت کا تحفظ کرے اور اسے دائو پر نہ لگائے۔ پس مسلمانوں پر لازم ہے کہ ملک کے وہ تمام قوانین جن کا تعلق شہری سہولتوں یا سول اور فوجداری قوانین سے ہے جو شریعت سے متصادم نہیں ہیں‘ اُن کی پابندی کریں تاکہ ان کی عزت وآبرو محفوظ رہے اور اسی ذیل میں انکم ٹیکس کے قوانین بھی آتے ہیں۔ہمارے ہاں اہلِ ثروت بعض خیراتی اور رفاہی اداروں کو خوشدلی سے بھاری رقوم بھی دے دیتے ہیں‘ لیکن انکم ٹیکس پوری دیانتداری اور ذمہ داری سے ادا نہیں کرتے اور اس کیلئے وہ یہ عذرِ لنگ اختیار کرتے ہیں کہ جہاں لوگ حکومت کو پورا ٹیکس دیتے ہیں‘ وہاں حکومتیں انہیں سہولتیں بھی فراہم کرتی ہیں‘ تعلیم وصحت کے انتظامات کرتی ہیں اور جب وہ کمانے کے قابل نہ رہیں تو اُن کی کفالت بھی کرتی ہیں‘ جبکہ ہمارے ہاں ایسا نہیں ہے۔ مزید یہ کہ فرض کریں: ایک شخص کا انکم ٹیکس ساڑھے نو لاکھ روپے بنتا ہے اور وہ دس لاکھ روپے ٹیکس دے دیتا ہے کہ چلو ہمارے ملک کے خزانے ہی میں جائے گا اور عوام کی فلاح وبہبود پر خرچ ہو گا‘ لیکن انکم ٹیکس کے عملے کو ان لوگوں کی دیانت وامانت پر اعتماد نہیں ہوتا اور وہ سب کو ایک لاٹھی سے ہانکتے ہیں اور مشتبہ سمجھتے ہیں کہ اگر اس نے دس لاکھ روپے ٹیکس دیا ہے تو لازماً اس کا ٹیکس اس سے دو تین گنا زائد بنتا ہوگا۔ لہٰذا وہ پیچیدہ قوانین کا سہارا لے کر ٹیکس دہندگان کو اتنا پریشان کرتے ہیں کہ وہ اپنی عزت بچانے کیلئے رشوت دینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ الغرض آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ جب عوام حکمرانوں اور حکومت کے نظام میں بدعنوانی اور کرپشن کی ہوشربا داستانیں سنتے اور پڑھتے ہیں اور انہیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب لوگ قانون کی گرفت سے بچ جاتے ہیں‘ تو وہ مزاحیہ شاعر دلاور فگارکے مشورے پر عمل کرتے ہیں: &#39;حاکمِ رشوت ستاں فکرِ گرفتاری نہ کر؍ کر رہائی کی کوئی آسان صورت‘ چھوٹ جا ٭میں بتاؤں تجھ کو‘ تدبیرِ رہائی مجھ سے پوچھ؍ لے کے رشوت پھنس گیا ہے‘ دے کے رشوت چھوٹ جا‘۔ تو پھر وہ ٹیکس سے گریز کے حیلے تلاش کرتے ہیں۔ </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_61172381.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>