<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>پٹرولیم پالیسی اور سٹرٹیجک ذخائر(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-29/11404</link><pubDate>Wed, 29 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-29/11404</guid><description>وزیراعظم شہباز شریف کی صدارت میں گزشتہ روز کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے اجلاس میں کیا جانے والا یہ فیصلہ خوش آئند ہے کہ ملک میں پٹرولیم کے سٹرٹیجک ذخائر میں اضافہ کیا جائے گا۔ بڑھتی ہوئی آبادی‘ صنعتی ضروریات‘ درآمدی ایندھن پر انحصار اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ ملکی معیشت کو دباؤ میں رکھتے ہیں۔ رواں برس امریکہ ایران جنگ اور آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافے اور رسد کی مشکلات کے پیشِ نظر ایک بار پھر ملک میں تیل کے محفوظ ذخائر میں اضافے کی ضرورت کا احساس ہو رہا ہے۔ پاکستان کی آبادی اندازاً 25 کروڑ سے زائد ہے مگر اس حساب سے ملک میں تیل کے محفوظ ذخائر ناکافی ہیں اور اس کمی کا نتیجہ یہ ہے کہ بین الاقوامی مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ ہمیں زیادہ متاثر کرتے ہیں۔ فی الحال آئل مارکیٹنگ کمپنیاں 20 دن کیلئے سٹاک رکھتی ہیں مگر اسے سٹرٹیجک ذخائر نہیں کہا جا سکتا‘ یہ تجارتی ذخائر ہیں جیسے کوئی دکاندار اپنے ہاں مال کا ایک مختصر ذخیرہ رکھتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ کم از کم دو ماہ کی کھپت کے مساوی تیل کے سٹرٹیجک ذخائر رکھے جائیں۔

اس شعبے میں تیل پیدا کرنیوالے ممالک اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا اشتراک اور سرمایہ کاری کے کافی امکانات ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کی توانائی سے مالا مال ریاستوں کیساتھ ملکِ عزیز کے مضبوط تعلقات پاکستان کیلئے توانائی کے شعبے میں ان ممالک سے سرمایہ کاری اور تعاون میں بڑی آسانی پیدا کر سکتے ہیں۔ چند برس قبل سعودی ولی عہد جب پاکستان کے دورے پر آئے تو انہوں نے گوادر میں ریفائنری لگانے کا اعلان کیا تھا اور آٹھ سے دس ارب ڈالر لاگت کی ریفائنری کے معاہدے پر دستخط بھی ہوئے تھے‘ تاہم اس معاہدے پر اسکے بعد کوئی پیشرفت نظر نہیں آئی۔ اب جبکہ حکومت نے آئل ریفائننگ پالیسی 2023ء میں ترامیم کر کے براؤن فیلڈ ریفائننگ پالیسی کی منظوری دے دی ہے تو ملک میں اس شعبے میں سرمایہ کاری کے نئے امکانات کے تناظر میں ماضی کے ان معاہدوں اور یادداشتوں کی گرد جھاڑنے کا وقت آ گیا ہے۔ اس نئی ریفائننگ پالیسی کے تحت ملک کی موجودہ پانچوں آئل ریفائنریوں کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا جس پر تقریباً چھ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ اس سرمایہ کاری سے نہ صرف ریفائنریوں کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوگا بلکہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے معیاری اور ماحول دوست ایندھن بھی تیار کیا جا سکے گا۔ اس طرح پٹرول کی یومیہ پیداوار میں تقریباً 72 اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی پیداوار میں 39 فیصد اضافہ متوقع ہے۔ مقامی پیداوار میں اضافے سے اس ایندھن کی درآمد میں کمی اور اس پر خرچ ہو نیوالے زرِمبادلہ کی بچت ہو گی۔ اس پالیسی کا ایک اہم پہلو یورو فائیو معیار کے مطابق ایندھن کی تیاری ہے۔
کم سلفر والے یہ ایندھن فضائی آلودگی میں کمی کاسبب بنیں گے۔ اب ضروری یہ ہے کہ صرف پالیسی پر اکتفا نہ کیا جائے بلکہ اس پر بروقت اور مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کے اقدامات بھی کیے جائیں۔ ماضی میں کئی اہم منصوبے پالیسیوں کی تبدیلی اور سست فیصلہ سازی کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہو کر اپنے مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔ نئی پٹرولیم پالیسی کے حوالے سے حکومت کو چاہیے کہ تمام متعلقہ شعبوں کے درمیان مؤثر ہم آہنگی پیدا کی جائے‘ سرمایہ کاری کیلئے بھر پور اقدامات کیے جائیں اور منصوبوں کی تکمیل کیلئے واضح ٹائم لائن مقرر کی جائے۔ توانائی کا محفوظ اور مستحکم نظام کسی بھی ملک کی معاشی ترقی کی بنیاد ہوتا ہے۔ اگر ملک میں ریفائنریوں کو جدید بنا لیا جائے‘ خام تیل کے سٹریٹجک ذخائرتعمیر کر لیے جائیں اور صاف ایندھن کی پیداوار کو فروغ دیا جائے تو یہ نہ صرف توانائی کے بحران پر قابو پانے میں مددگار ہوگا بلکہ ملک کو مستقبل میں عالمی معاشی اور جغرافیائی سیاسی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے بھی زیادہ مضبوط بنائے گا۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پاسپورٹ درجہ بندی(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-29/11403</link><pubDate>Wed, 29 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-29/11403</guid><description>ہینلے پاسپورٹ انڈیکس کے مطابق پاکستانی پاسپورٹ عالمی درجہ بندی میں ایک درجہ مزیدتنزلی کے بعد 101ویں نمبر پر آ گیا ہے اور دنیا کا چوتھا کمزور ترین پاسپورٹ قرار پایا ہے۔ پاکستان سے نیچے عراق‘ شام اور افغانستان ہیں جبکہ خانہ جنگی اور سیاسی عدم استحکام کا شکار یمن‘ صومالیہ‘ سوڈان اور لیبیا جیسے ممالک بھی اس فہرست میں پاکستان سے بہتر مقام پر ہیں ہیں۔ 2006ء میں پاکستانی پاسپورٹ 79ویں نمبر پر تھا مگر بیس برسوں میں اس کی درجہ بندی میں تقریباً 22درجے کی تنزلی ہو چکی ہے۔ اس تنزلی کی متعدد وجوہات ہیں۔ غیر قانونی امیگریشن‘ ویزا شرائط کی خلاف ورزی‘ انسانی سمگلنگ کے نیٹ ورکس‘ جعلی پاسپورٹ اور دیگر جعلی دستاویزات کے استعمال کی وجہ سے کئی ممالک پاکستانی شہریوں کے بارے میں زیادہ محتاط ہو چکے ہیں۔

جب کسی ملک میں جعلی سفری دستاویزات استعمال ہوتی ہیں تو متعلقہ ملک صرف ایک فرد پر نہیں بلکہ پورے نظام کی ساکھ پر سوال اٹھاتا ہے جس کے نتیجے میں ویزا پالیسی مزید سخت ہو جاتی ہے اور اس کا نقصان تمام پاکستانی شہریوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ اس صورتحال سے نکلنے کے لیے سفری دستاویزات کے نظام کو شفاف بنانا‘ جعل سازی میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی‘ انسانی سمگلنگ کے نیٹ ورکس کا خاتمہ‘ مؤثر سرحدی نگرانی‘ ویزا قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت اقدامات اور دنیا کے مختلف ممالک کے ساتھ سفارتی روابط کو مزید مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سائبر حملے(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-29/11402</link><pubDate>Wed, 29 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-29/11402</guid><description>نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم کے مطابق رواں برس ملکی اداروں پر 400 سے زائد سائبر حملے ہوئے مگر بروقت کارروائی سے تمام حملے ناکام بنا دیے گئے۔بلاشبہ یہ اطمینان بخش بات ہے کہ ملکی ادارے فوری ردِعمل کی صلاحیت رکھتے ہیں مگر اس پر  تشویش بھی ہے کہ سائبر خطرات میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ بالخصوص بھارت کی ریاستی سرپرستی میں ہونیوالی سائبر سرگرمیوں کے تناظر میں سائبر دفاع کو روایتی دفاع جتنی اہمیت دینا ناگزیر ہو چکا ہے۔ اس سلسلے میں نیشنل سائبر سکیورٹی اتھارٹی کے قیام اور تمام سرکاری اداروں میں سائبر سکیورٹی معیارات کے نفاذ‘ درآمدی سافٹ ویئر اور ہارڈویئر کی سکیورٹی جانچ اور مصنوعی ذہانت کے محفوظ استعمال کیلئے قانون سازی کی ضرورت ہے۔

تاہم ریاستی اقدامات کیساتھ نجی شعبے اور عام صارفین کی ذمہ داری بھی کم نہیں۔ زیادہ تر سائبر حملے کمزور پاس ورڈ‘ فشنگ ای میلز‘ غیر محفوظ سافٹ ویئر اور انسانی غفلت سے کامیاب ہوتے ہیں۔ اسلئے ہر ادارے کو دہری تصدیق‘ بروقت سافٹ ویئر اَپ ڈیٹس‘ ملازمین کی باقاعدہ تربیت اور مشکوک فائلوں سے اجتناب کی لازمی پالیسی بنانی چاہیے۔ شہریوں کو بھی مضبوط پاس ورڈ استعمال کرنے‘ غیر معروف لنکس پر کلک نہ کرنے‘ ذاتی معلومات شیئر کرنے میں احتیاط برتنے اور صرف مستند ایپلی کیشنز استعمال کرنے کی عادت اپنانا ہو گی۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>رُت بدلی تو دیکھیں گے(ایاز امیر)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-07-29/52381/44611931</link><pubDate>Wed, 29 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2026-07-29/52381/44611931</guid><description>فی الحال انتظار ہی سہی۔ اور کریں بھی کیا۔ جب بھی انسان ارادہ باندھے تو دیکھنا چاہیے کہ متبادل کیا ہے۔ نظر تو یہی آ رہا ہے کہ پرانی عادت سے مجبور صبح اخبارات کا جائزہ لیں حالانکہ مولا کا کرنا کیا ہے کہ اخبارات میں پڑھنے کو کچھ رہا ہی نہیں۔ فلٹر صرف انٹرنیٹ کی تصویروں پر ہی نہیں لگے ہوتے اور جگہوں پر بھی موجود ہیں۔ یاد پڑتا ہے اخبارات کے مطالعے پر اچھی خاصی دیر لگا کرتی تھی‘ اب بس ایک نظر دوڑائی‘ سرخیاں دیکھیں اور اخبار کو پرے کر دیا۔ انٹرنیٹ کی البتہ یہ بات ہے کہ جہاں گمراہی کے پہلو بہت ہیں اور انسان اگر چاہے تو سارا دن فضولیات میں غرق ہوتا جائے لیکن ساتھ ہی اچھائیاں بھی بہت ہیں۔ تاریخ کا کون سا پہلو ہے جس کے بارے میں انٹرنیٹ پر مواد نہ مل جائے۔ داد دینی پڑتی ہے اُن لوگوں کو جو تحقیق بھری چیزیں پیش کرتے ہیں۔ یہ بھی پرانی عادت ہے ہماری کہ کسی اچھی ڈاکیومنٹری کو دیکھ لیتے ہیں۔ فریڈرک دی گریٹ آف پروشیا‘ نپولین‘ بِسمارک‘ پہلی جنگ عظیم‘ ہٹلر‘ جنگ عظیم دوم‘ لینن‘ سٹالن‘ نام لیتے لیتے تھک جائیں گے۔ ان سب پہ انٹرنیٹ پر ایسی ایسی شاندار تحقیق ہے کہ ایسے مطالعے میں انسان گم ہو جائے۔سفر پر نکلتے نہیں ہیں پر سوچتے ضرور ہیں۔ یہ ساون کا مہینہ ختم ہو اور پھر بھادوں بھی بیت جائے تو اس دفعہ جنوب کی طرف یاترا کرنا چاہیے۔ سکھر جائیں وہاں ایک دو روز پڑاؤ لگے اور پھر سیہون اور بھٹ شاہ حاضری دیں۔ کیسا اچھا وقت گزرے۔ بہت عرصہ ہوا جو ان دو مقامات پر حاضری دی۔ اب وقت آ چکا ہے کہ دوبارہ دی جائے۔ کوئٹہ کا اکثر خیال ذہن میں آتا ہے۔ ظاہر ہے اندرونِ صوبہ نہ گھوم سکیں گے لیکن کچھ روز کوئٹہ ہی قیام ہو جائے۔ معلوم ہو اہے کہ کوئٹہ پریس کلب میں قیام کرنے کا اچھا بندوبست ہے۔ منت ترلا کریں گے‘ جگہ مل ہی جائے گی۔ لوگوں سے مل لیں گے‘ حالات اور موسم کا کچھ اندازہ ہو جائے گا۔ ویتنام اور افغانستان کی جنگیں ہوں تو مغربی دنیا کے کتنے ہی صحافی وہاں پہنچ جایا کرتے تھے۔ ویتنام کی جنگ میں تو امریکی میڈیا پر کم ہی قدغنیں تھیں۔ بڑی اچھی رپورٹنگ اُن سالوں میں وہاں سے ہوئی۔ افغانستان کی جنگ تک امریکی سمجھ گئے تھے کہ میڈیا کو آزاد چھوڑنا گھاٹے کا سودا ہے۔ لہٰذا افغانستان جنگ میں میڈیا کو کھلے عام نہیں چھوڑا گیا۔ یعنی رپورٹنگ پر کچھ نہ کچھ کنٹرول آ گیا تھا لیکن پھر بھی صحافی کابل میں تو بیٹھے تھے اور وہاں سے روزانہ رپورٹیں فائل کرتے تھے۔ ہماری صورتحال ذرا مختلف ہے۔ کے پی اور بلوچستان کے حساس علاقوں میں جانا صحافیوں کے لیے اتنا آسان نہیں۔ آسان کیا تقریباً ناممکن ہے۔ لیکن اور کہیں نہ گئے صرف کوئٹہ میں ہی قیام ہو کچھ تو موسم کو جانا جا سکتا ہے۔ بس ہمت باندھنے کی بات ہے اور ہمت خود سے ہی آنی ہے کسی اور نے تو بھرنی نہیں۔ دیکھتے ہیں پھر کب شیرِ میدان بنتے ہیں۔کشمیر نسبتاً قریب ہے‘ ان دنوں وہاں نہیں گئے۔ بڑی بات البتہ یہ ہے کہ جانے کی کوشش بھی نہیں کی۔ کسی نہ کسی طریقے سے راولا کوٹ تو جایا جا سکتا تھا۔ سڑکوں پر ناکے ہوں پہاڑوں کا راستہ تو اپنایا جا سکتا ہے۔ لیکن سچ پوچھئے کاہلی طبیعت کا حصہ بن چکی ہے۔ غازی تو ہم ہیں لیکن صوفوں اور چارپائیوں کے‘ چارپائیاں بھی ایسی جہاں گاؤ تکیے دستیاب ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے اکثر سفر خیالی رہتے ہیں۔ وہ کیا تھی برمکیوں کی دعوت جس کا دستر خوان خیالات کی دنیا میں ہی سجایا گیا تھا۔ ہمارے کارواں خوابوں کی دنیا میں ہی آراستہ ہوتے ہیں۔خاصی عجیب بات ہے کہ روس میں کمیونزم کا جنازہ نکل گیا۔ سوویت یونین کئی حصوں میں بٹ گیا۔ روس کی وہ طاقت نہ رہی جو سٹالن اور بعد میں سرد جنگ کے زمانے میں ہوا کرتی تھی۔ لیکن اس سارے زوال کے باوجود لینن کا نام زندہ ہے۔ روسی حکومت لینن کا نام نہیں لیتی لیکن چین‘ ویتنام اور شمالی کوریا میں آج بھی لینن کو انقلاب کا دیوتا مانا جاتا ہے۔ کال مارکس کے نام کے ساتھ ہی لینن کا نام آتا ہے۔ مارکس نے تو فلسفہ دیا تھا‘ تاریخ کی تشریح کی تھی لیکن لینن نے بتایا تھا کہ انقلاب کو بروئے کار کیسے لانا ہے‘ کہ کیسے ایک انقلابی جماعت کو بننا چاہیے اور پھر اقتدار حاصل کرنے کے حوالے سے اُسے کیا کرنا چاہیے۔ اس حوالے سے لکھا بھی اور جو اس حوالے سے ان کی کتابیں ہیں شہرہ آفاق ہیں۔ اور پھر اپنے ہی دیے گئے نسخے پر انقلاب لا کر دکھایا۔فروری 1917ء میں زار نکولس دوم سبکدوش ہوا اور ایک قائم مقام حکومت معرضِ وجود میں آئی۔ لینن تب سوئٹزر لینڈ میں بیٹھا تھا۔ پیٹرو گریڈ میں موجود تمام انقلابیوں نے سمجھا بشمول لینن کی اپنی پارٹی کے لیڈروں نے کہ فی الحال جو کچھ ہوا ہے کافی ہے۔ جرمنوں کی مہیا کی ہوئی ایک ٹرین پر لینن سفر کرتے ہیں اور بالآخر پیٹرو گریڈ پہنچتے ہیں۔ ریلوے سٹیشن پر رات کا وقت تھا‘ لوگ آئے ہوئے تھے لینن کا استقبال کرنے۔ لیڈروں نے تقریریں تیار کی ہوئی تھیں۔ ٹرین سے اترتے ہی ایک آرمرڈ کار پر لینن چڑھتا ہے اور بغیر کسی تمہید کے قائم مقام حکومت کی دھجیاں اڑاتا ہے‘ فورا ًجنگ بندی کا کہتا ہے اور نعرہ دیتا ہے امن‘ زمین اور روٹی۔ پلیٹ فارم پر جمع لیڈر دم بخود ہو جاتے ہیں لیکن ورکر اور موجود فوجی پُرجوش نعرے لگانے لگتے ہیں۔ پوری سینٹرل کمیٹی لینن کے مؤقف کو سمجھ نہیں سکتی اور اس کی مخالفت کرتی ہے۔ لیکن متعدد نشستوں کے بعد لینن کی لائن کے وہ قائل ہو جاتے ہیں۔ اتنا بیان کرنے کا مقصد یہ بتانا ہے کہ انٹرنیٹ پر بہت ہی شاندار ڈاکیومنٹریاں لینن پر موجود ہیں۔ انقلاب یہاں کس نے لانا ہے اور ہم نے تو کہا کہ غازی ہیں تو گفتار کے لیکن سن اور دیکھ کر آگاہی تو ہو جائے گی۔کبھی خیال جاتا ہے کھیتی باڑی کریں۔ بھگوال جو ہمارا گاؤں ہے وہاں جانا ہوتا ہے تو کم ازکم ایک شام کیلئے کاشتکار ہو جاتے ہیں۔ سوچ کی حد تک مال مویشی کے مالک بن بیٹھتے ہیں۔ چکوال واپسی ہوتی ہے تو خیالات کہیں اور گھوم جاتے ہیں۔ مستقل مزاجی کا مطلب پوچھنا ہو تو کوئی ہم سے پوچھے۔ پھر کسی شام ماحول بنے تو خیال آتا ہے کہ مشہور پرفارمر مہک ملک کا قیام سرگودھا میں ہی تو ہے۔ چکوال سے اتنا دور نہیں‘ وہاں کبھی جایا جائے۔ راستہ پوچھ ہی لیں گے‘ طریقۂ ملاقات بھی معلوم ہو جائے گا۔ پر ایسے خیالات اُسی زمرے میں آتے ہیں جس کے بارے میں وہ لافانی الفاظ کہے گئے کہ چھوڑو رات کی باتیں‘ رات گئی بات گئی۔لاہور جانا تقریباً چھوٹ گیا ہے۔ پہلے کچھ نہ کچھ مصرف ہوا کرتا تھا اب نہیں رہا۔ ویسے بھی ہمارا لاہو رخاصا مختصر سا ہے‘ زمزمہ توپ سے لے کر اُس سرائے تک جہاں اکثر قیام ہوتا ہے۔ باقی لاہور سے ہماری اتنی جانکاری کبھی رہی نہیں۔ گلبرگ جانے کیلئے ذہنی کوشش کرنی پڑتی ہے۔ اُس سے آگے جو وسیع سوسائٹیوں کے علاقے ہیں سچ پوچھئے وہاں کبھی جانے کا دل نہیں کیا۔ جس دوست کا پوچھیں اُس کا قیام وہاں ہو چکا ہے لیکن وہ دور کے علاقے لگتے ہیں۔ اتنا سفر طے نہیں ہوتا۔ پرانے لاہور بھی کیا جائیں‘ فوڈ سٹریٹوں کو دیکھ کر ویسے دل اچاٹ ہو جاتا ہے۔ اور جہاں تک سردار ہیرا سنگھ کے نام سے منسوب علاقہ ہے اُس کی ویرانی اب مسلمہ ہو چکی ہے۔ پائے کھانے تو وہاں ہم نے جانا نہیں۔پھر سیہون ہی رہ جاتا ہے اور ہماری انتظار کی گھڑیاں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_80573045.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ڈپٹی کمشنر ہی آذربائیجان سے واپس لا دیں(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-07-29/52382/11183965</link><pubDate>Wed, 29 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-07-29/52382/11183965</guid><description>قوم اب کرپشن کو کرپشن نہیں سمجھتی۔ اب سب سیاسی جماعتوں نے اپنے ورکرز کو سمجھا دیا ہے کہ کرپشن کے سوال پر آپ نے گھبرانا نہیں بلکہ سوال کرنے والے کے گلے پڑ جانا ہے کہ آپ کا اس کرپشن سے کیا لینا دینا‘ ہم جانیں اور جن پر الزام ہے وہ جانیں‘ آپ کیوں بیگانی شادی میں دیوانے بن رہے ہیں۔ یہ رویہ حال ہی میں دیکھنے کو ملا جب ہمارے دوست ٹی وی اینکر شہزاد اقبال نے رانا ثناء اللہ سے ان کے اس الزام پر سوال کیا کہ اُن کے بقول سندھ میں پیپلز پارٹی نے تین ہزار ارب کی کرپشن کی اور سارا پیسہ دبئی بھیجا گیا ہے۔ رانا ثناء اللہ اُلٹا شہزاد اقبال پر ناراض ہو گئے کہ آپ کا اس معاملے سے کیا لینا دینا۔ انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ مقتدرہ کے کہنے پر آپ لوگ یہ باتیں کرتے ہیں۔ لیکن یہ الزام میڈیا نے نہیں لگایا کہ سندھ کی ترقی کیلئے وفاقی حکومت کی طرف سے این ایف سی کے نام پر دیا گیا پیسہ دبئی پہنچ گیا ہے۔ یہ الزام آزاد کشمیر میں الیکشن سے ایک دو روز قبل وفاقی حکومت کے اس ذمہ دار وزیر نے لگایا ہے جو ملک کا وزیرِ داخلہ اور صوبائی وزیرِ قانون بھی رہ چکا ہے اور اب بھی ایک اہم عہدے پر فائز ہے۔ تو کیا عوام اور میڈیا کو یہ نہیں پوچھنا چاہیے کہ اگر تین ہزار ارب کی کرپشن ہوئی ہے تو وہ پیسہ کس کا تھا‘ وہ ملک سے باہر کیسے بھیجا گیا؟ رانا صاحب جن تین ہزار ارب روپے کی بات کر رہے ہیں‘ وہ دس ارب ڈالر سے زائد بنتے ہیں۔ اگر آپ کو یاد ہو تو کچھ ماہ پہلے وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے انکشاف کیا تھا کہ ملک سے تقریباً سو ارب ڈالر باہر نکل گیا ہے۔ باہر نکلنے سے ان کی مراد منی لانڈرنگ تھی۔  اس ملک میں ایک کام آرام سے ہو رہا ہے اور کرنے والے حکومتی عہدیدار ہیں‘ چاہے وہ سیاستدان ہوں یا بیورو کریسی۔ ایک  طرف قرضوں کی شکل میں ڈالر ملک میں آ رہے ہیں تو دوسری طرف سیاستدان‘ بیورو کریسی اور دیگر طبقات وہ ڈالر روپے کے عوض مارکیٹ سے خرید کر مبینہ طور پر بیرونِ ملک بھیج رہے ہیں۔ جس سو ارب ڈالر کی بات وزیر داخلہ محسن نقوی نے کی وہ ملک کی تین چار سال کی ترسیلاتِ زر کے برابر بنتے ہیں‘ یا یوں کہہ لیں کہ تین سال کی برآمدات کے برابر۔اس وقت ملک پر تقریباً 150 ارب ڈالر کا بیرونی قرض ہے۔ مقامی بینکوں کا قرض تقریباً 82 ہزار ارب روپے ہے‘ جس پر اس سال تقریباً آٹھ ہزار ارب روپے سود ادا کرنا ہے جبکہ کُل حکومتی آمدنی کا تخمینہ تقریباً 16 ہزار ارب روپے لگایا گیا ہے۔ 16 ہزار ارب میں سے آٹھ ہزار ارب سود میں جائے گا اور جو ڈالر برآمدات‘ زرِمبادلہ یا قرض کی شکل میں آ رہے ہیں‘ وہ ہمارے اعلیٰ طبقات‘ مبینہ کرپشن سے اکٹھے کیے گئے پیسے سے خرید کر باہر بھیج دیں گے۔ پھر خواجہ آصف بتاتے ہیں کہ بیورو کریٹس بیرونِ ملک جائیدادیں خرید رہے ہیں۔ جو پوچھتے ہیں کہ قرضہ کہاں گیا اور کہاں خرچ ہوا‘ وہ تسلی رکھیں کہ قرض خرچ تو ہوا ہے لیکن صرف فائلوں میں‘ یا پھر اگر ایک ارب روپے کا منصوبہ تھا تو اسے پانچ ارب روپے کا دکھایا گیا اور ٹھیکیداروں کے ساتھ مل کر بقیہ کھا پی گئے یا ان کے ڈالر خرید کر باہر بھیجوا دیے گئے۔ ابھی پچھلے دنوں قومی اسمبلی کی ایک قائمہ کمیٹی کا اجلاس تھا جس کی صدارت کراچی سے ایم این اے سید حفیظ الدین کر رہے تھے۔ اس اجلاس میں انکشاف ہوا کہ سندھ کے ایک منصوبے سے تین ڈپٹی کمشنرز اربوں روپے ہڑپ کر بیرونِ ملک چلے گئے ہیں۔ یہ فنڈز انہیں حیدرآباد سکھر موٹر وے کی زمین کی خریداری کیلئے دیے گئے تھے۔ وہ باری باری یہ پیسہ کھاتے رہے۔ اس وقت ایک مفرور ڈپٹی کمشنر آذربائیجان میں مزے کی زندگی گزار رہا ہے۔ آذربائیجان پاکستان کا دوست ملک ہے۔ کسی ادارے نے زحمت نہیں کی کہ وہ آذربائیجان حکومت کو درخواست کر کے مفرور ڈی سی کو واپس لائے‘ پیسے ریکور کرائے اور اسے سزا دلائے۔ وہی بات کہ یہ کام کون کرے گا اور کیوں کرے گا۔ اگر رانا ثنا اللہ کی بات مان لی جائے تو پھر ہر دوسرا افسر یا سیاستدان یہی کام کر رہا ہے اور اگر وہ ڈپٹی کمشنر کو آذربائیجان سے واپس لاتے ہیں تو کل کو یہ نیا ٹرینڈ شروع ہو گا کہ ہر کرپٹ مفرور ہو جائے گا‘ پھر اسے بھی یونہی واپس لایا جائے گا۔ ویسے حیرانی ہوتی ہے کہ کچھ عرصہ قبل تک شہباز شریف الیکشن میں تقریریں کرتے تھے کہ وہ آصف زرداری کا پیٹ پھاڑ کر لوٹی ہوئی رقم واپس لائیں گے‘ انہیں لاڑکانہ کی سڑکوں پر گھسیٹیں گے۔وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کے والد میاں فاروق نواز شریف کے دوسرے دور میں اٹارنی جنرل تھے۔ انہوں نے سوئس حکومت کو خط لکھا تھا کہ پاکستان سے لوٹے تقریباً ساٹھ ملین ڈالر جو جنیوا کے بینکوں میں ہیں انہیں حکومتِ پاکستان کو واپس کیا جائے۔ اس کیلئے احتساب بیورو کے چیئرمین سیف الرحمن نے جنیوا میں باقاعدہ وکیل ہائر کیے تھے۔ عالمی مخبروں کو بھی دستاویزات کی فراہمی کیلئے لاکھوں ڈالر کی ادائیگی کی گئی تھی۔ بعد ازاں اٹارنی جنرل جسٹس (ر) قیوم نے سوئس حکومت کو ایک خط لکھا کہ ہم اپنے دعوے سے دستبردار ہو رہے ہیں کہ وہ ساٹھ ملین ڈالر پاکستان کے ہیں۔ اس کیس پر ہی افتخار چودھری نے بعد میں خط نہ لکھنے پر وزیراعظم گیلانی کو گھر بھیجا تھا۔ نواز شریف کے دور میں جب بینظیر بھٹو کے وارثوں نے سوئٹزر لینڈ میں ان کی شہادت کے بعد یہ رقم کلیم کی تب بھی نواز شریف نے جنیوا میں وکیل کرایا تھا۔ اسی طرح بینظیر بھٹو کے دوسرے دورِ حکومت میں رحمان ملک‘ جو ڈائریکٹر ایف آئی اے تھے‘ نے نواز شریف کے لندن فلیٹس کی انکوائری کرائی۔ پہلی دفعہ نواز شریف خاندان کا ان فلیٹس سے تعلق اس رپورٹ میں سامنے آیا تھا جس میں ان فلیٹس کی تصاویر بھی تھیں۔ اب بدلتے حالات میں شہباز شریف کو انہی زرداری صاحب نے وزیراعظم بنوایا جن کا پیٹ پھاڑ کر انہوں نے پیسہ ریکور کرانا تھا۔ اور شہباز شریف نے انہی زرداری صاحب کو صدر بنوایا جنہیں انہوں نے لاڑکانہ میں گھسیٹنا تھا۔ میں کبھی کبھی حیران ہوتا ہوں کہ سیاست کے نام پر اتنا صبر اور حوصلہ کہاں سے آ جاتا ہے کہ گالیاں کھا کر بھی بدمزہ نہیں ہوتے۔ جو دن رات آپ پر تبرا پڑھتے ہیں‘ اگلے دن آپ ان کے ساتھ ہی مسکراتے ہوئے فوٹو کھنچواتے ہیں اور اسے اپنی سیاسی بُردباری اور بصیرت کا نام دیتے ہیں۔ہمارے دوست میجر (ر) عامر اکثر اپنے صحافی دوستوں کے بارے میں کہتے ہیں کہ بدلحاظی کا نام انہوں نے پروفیشنلزم رکھا ہوا ہے۔ جہاں یہ بدلحاظ ہو جاتے ہیں وہاں کہیں گے کہ کیا کریں یہ ہمارا پروفیشن ہے۔ لگتا ہے کہ ہمارے سیاستدانوں نے بھی یہی کچھ اپنا رکھا ہے۔ جب کوئی الیکشن قریب آئے گا تو ایک دوسرے پر دنیا بھر کے الزامات لگائیں گے‘ کچھ سچے کچھ جھوٹے‘ اور الیکشن کے بعد ایک دوسرے کو کرپٹ کہنے والے مل بیٹھ کر عہدے بانٹ رہے ہوں گے۔ ایک دوسرے کو ووٹ ڈال کر صدر اور وزیراعظم بنا رہے ہوں گے۔ اگر کوئی اینکر تین ہزار ارب کی کرپشن کا سوال پوچھ لے تو الٹا اس پر ہی ناراض ہو جائیں گے کہ آپ کا اس معاملے سے کیا لینا دینا۔ چلیں مان لیتے ہیں کہ میڈیا یا عوام کا تین ہزار ارب کی کرپشن سے کچھ لینا دینا نہیں یہ نواز لیگ اور پیپلز پارٹی کا ذاتی مسئلہ ہے لیکن کم از کم اُس ڈی سی کو تو آذربائیجان سے واپس لایا جا سکتا ہے جو سندھ کے منصوبے سے اربوں روپے لوٹ کر وہاں مفرور ہے۔ یا یہ بھی سیاستدانوں‘ حکمرانوں اور بیورو کریسی کا ذاتی مسئلہ ہے ‘ ہم عوام اس بیگانی شادی میں دیوانے کی طرح ناچنے کی کوشش نہ کریں؟</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>جامعات میں ا ضافہ، سکولوں میں کمی(شاہد صدیقی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-siddiqui/2026-07-29/52383/57521898</link><pubDate>Wed, 29 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/shahid-siddiqui/2026-07-29/52383/57521898</guid><description>اکنامک سروے 2025-26ء کا بغور مطالعہ پاکستان کی تعلیمی حکمتِ عملی میں ایک حیران کن تضاد سامنے لاتا ہے۔ ایک طرف حکومت جامعات کی مسلسل بڑھتی ہوئی تعداد کو اپنی کامیابی کے طور پر پیش کر رہی ہے تو دوسری طرف اسی سرکاری دستاویز میں یہ اطلاع بھی دی گئی ہے کہ ملک میں پرائمری اور مڈل سکولوں کی تعداد کم ہو رہی ہے اور ہزاروں سکول اب بھی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ یہ صورتحال ایک بنیادی سوال کو جنم دیتی ہے: کیا پاکستان کی تعلیمی ترجیحات ان بنیادوں سے دور ہوتی جا رہی ہیں جن پر ایک مضبوط تعلیمی نظام استوار ہوتا ہے؟اکنامک سروے کے مطابق اس وقت ملک میں 278جامعات ہیں جن میں 163سرکاری اور 115نجی ہیں۔ قیامِ پاکستان کے وقت پورے ملک میں صرف دو جامعات تھیں۔ بظاہر یہ اعلیٰ تعلیم کے میدان میں ایک قابلِ ذکر پیش رفت دکھائی دیتی ہے لیکن جب سروے میں دوسرے اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے تو ایک مختلف اور تکلیف دہ تصویر سامنے آتی ہے۔ ملک میں پرائمری اور مڈل سکولوں کی تعداد مسلسل کم ہو رہی ہے۔ 2022-23ء میں سرکاری شعبے میں پرائمری سکول ایک لاکھ 68 ہزار 241 تھے‘ جو 2023-24ء میں کم ہو کر ایک لاکھ 58 ہزار 713 ہو گئے جبکہ 2024-25ء میں ان کی تعدادمزید کم ہو کر ایک لاکھ 54 ہزار 964 رہ گئی۔ مڈل سکول بھی اسی رجحان کا شکار ہیں۔ ان کی تعداد 51 ہزار 33 سے کم ہو کر 43 ہزار 931 رہ گئی ہے۔ صرف دو برسوں میں پاکستان میں تیرہ ہزار سے زائد سرکاری پرائمری اور سات ہزار سے زیادہ مڈل سکول ختم ہو گئے جبکہ اسی عرصے میں جامعات کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہا۔یہ صورتحال اُس وقت مزید تشویشناک ہو جاتی ہے جب دوسرے اعداد و شمار کو بھی ساتھ ملا کر دیکھا جائے۔ ایک طرف پرائمری سکول کم ہو رہے ہیں‘ دوسری طرف پرائمری سطح پر داخلوں کی تعداد 2 کروڑ 46 لاکھ سے بڑھ کر 2 کروڑ 57 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔ لیکن پرائمری اساتذہ کی تعداد پانچ لاکھ چھ ہزار انیس سے کم ہو کرچار لاکھ 31 ہزار 492 رہ گئی ہے۔ اس کا واضح مطلب ہے کہ کلاسیں مزید بھری ہوں گی‘ اساتذہ پر بوجھ بڑھے گا اور تدریسی معیار متاثر ہوگا۔ اگرچہ سروے اس نتیجے کو خود بیان نہیں کرتا لیکن اعداد و شمار آپ اپنی کہانی سنا رہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سروے سکولوں کی تعداد میں کمی کی کوئی وضاحت پیش نہیں کرتا۔ کیا یہ سکول دوسرے اداروں میں ضم کر دیے گئے؟ کیا پرائمری سکولوں کو مڈل اور مڈل سکولوں کو ہائی سکول کا درجہ دیا گیا؟ یا پھر کم داخلوں کی وجہ سے انہیں بند کر دیا گیا؟ ممکن ہے ان میں سے کوئی یا یہ تمام وجوہ درست ہوں لیکن اصل مسئلہ یہ نہیں بلکہ یہ ہے کہ حکومت کی سب سے اہم سالانہ تعلیمی رپورٹ اس بارے میں مکمل خاموش ہے۔ جب تک اس کمی کی وجوہات واضح نہ کی جائیں‘ یہ جاننا ممکن نہیں کہ یہ صرف انتظامی تبدیلی ہے یا واقعی سکولوں کے نظام میں سکڑاؤ آ رہا ہے۔اگر سکولوں کی تعداد سے آگے بڑھ کر ان کی حالت دیکھی جائے تو صورتحال مزید تکلیف دہ ہو جاتی ہے۔ ملک بھر کے 65 فیصد سرکاری سکولوں میں بجلی دستیاب ہے‘ جبکہ بلوچستان میں یہ شرح 21 فیصد ہے۔ پینے کے صاف پانی کی سہولت قومی سطح پر 76 فیصد سکولوں میں موجود ہے‘ مگر بلوچستان میں صرف 29 فیصد سکول اس سہولت کے حامل ہیں۔ ہزاروں سکول اب بھی بیت الخلا اور چاردیواری جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ یہ معمولی خامیاں نہیں بلکہ وہ بنیادی شرائط ہیں جن پر بچوں کی محفوظ‘ صحتمند اور مؤثر تعلیم کا انحصار ہوتا ہے۔ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ جامعات کا قیام غیر ضروری ہے۔ پاکستان نوجوان آبادی والا ملک ہے جہاں اعلیٰ تعلیم کی طلب بڑھ رہی ہے۔ نئی جامعات کی ضرورت بھی ہے اور ان کا قیام خوش آئند بھی۔ اصل سوال ترجیحات کے توازن کا ہے۔ کوئی بھی جامعہ ایسے طلبہ کو عملی زندگی میں زیادہ کامیاب نہیں بنا سکتی جو کمزور سکولوں سے تعلیم حاصل کر کے آئے ہوں۔ اگر سرمایہ کاری اور توجہ کا زیادہ حصہ اعلیٰ تعلیم کی طرف منتقل ہو جائے اور بنیادی تعلیم اور سکول کا نظام کمزور ہوتا جائے تو پورا تعلیمی ڈھانچہ عدم توازن کا شکار ہو جاتا ہے۔ 2002ء میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کے قیام کے بعد پاکستان میں جامعات کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوا‘ خصوصاً نجی شعبے میں۔ لیکن صرف جامعات کی تعداد بڑھانا تعلیمی ترقی کی ضمانت نہیں۔ اصل سوالات تعلیمی معیار‘ فارغ التحصیل طلبہ کے روزگار کے حصول‘ تحقیقی پیداوار‘ اساتذہ کی استعداد اور جامعات کے نظام سے متعلق ہیں۔ اکنامک سروے ان اہم پہلوؤں پر تقریباً خاموش ہے۔نئی جامعات کے چارٹر دینے کے عمل پر بھی وقتاً فوقتاً سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ ضابطے کے مطابق کسی نئی جامعہ کے قیام سے پہلے جامع فزیبلٹی سٹڈی‘ تدریسی صلاحیت اور دیگر ضروری تقاضوں کا جائزہ لیا جانا چاہیے لیکن میڈیا میں متعدد مرتبہ ایسی اطلاعات آتی رہی ہیں کہ بعض جامعات کو ناکافی انفراسٹرکچر‘ محدود تدریسی وسائل اور غیر مکمل منصوبہ بندی کے باوجود چارٹر دے دیے گئے۔ اگر یہ اطلاعات درست ہیں تو اس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ حکومتی سطح پر تعلیمی معیار سے زیادہ سیاسی مصلحتیں فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہیں۔ جامعات کی جغرافیائی تقسیم بھی کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔ نئی جامعات کا بڑا حصہ پنجاب‘ سندھ اور وفاقی دارالحکومت میں قائم ہوا جبکہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے وہ علاقے جہاں تعلیمی پسماندگی سب سے زیادہ ہے‘ نسبتاً نظر انداز رہے۔ یہی وہ خطے ہیں جہاں شرحِ خواندگی سب سے کم ہے اور معیاری سکولوں تک رسائی بھی محدود ہے۔ اگر منصوبہ بندی حقیقی ضرورت کی بنیاد پر ہوتی تو سرکاری سرمایہ کاری کا رخ پہلے ان علاقوں کی طرف ہونا چاہیے تھا۔پاکستان کے مجموعی تعلیمی اشاریے بھی اسی تشویش کو تقویت دیتے ہیں۔ اکنامک سروے کے مطابق متوقع تعلیمی مدت صرف 7.9سال ہے جبکہ اوسط تعلیمی مدت محض 4.3سال‘ جو جنوبی ایشیا میں کم ترین شرحوں میں شمار ہوتی ہے۔ شرحِ خواندگی اگرچہ 63 فیصد تک پہنچ چکی ہے لیکن صوبائی‘ صنفی اور دیہی و شہری تفاوت اب بھی نمایاں ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کا اصل تعلیمی چیلنج صرف جامعات کی تعداد بڑھانا نہیں بلکہ سکول کے نظام کو مضبوط بنانا ہے۔اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان کو مزید جامعات بنانی چاہئیں یا نہیں۔ یقینا بنانی چاہئیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا اعلیٰ تعلیم کی توسیع نے سکول کی تعلیم کی مضبوطی کو پس منظر میں دھکیل دیا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ جامعات طلبہ کو ڈگریاں دیتی ہیں لیکن طلبہ کی اصل بنیاد سکول بناتے ہیں۔ یہ عدم توازن صرف عمارتوں تک محدود نہیں بلکہ تعلیمی معیار پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ اگر طلبہ کمزورسکولوں‘ کھچا کھچ بھری ہوئی کلاسوں اور بنیادی سہولتوں سے محروم ماحول سے گزر کر جامعات تک پہنچیں گے تو صرف جامعات کی تعداد بڑھانے سے بہتر تعلیم حاصل نہیں ہو سکتی۔ اس صورت میں ڈگریاں تو بڑھ سکتی ہیں لیکن سیکھنے کا معیار نہیں۔پاکستان کو ایک زیادہ متوازن تعلیمی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔ نئی جامعات کے قیام کے فیصلے شفاف فزیبلٹی سٹڈیز‘ علاقائی ضروریات اور سخت تعلیمی معیارات کی بنیاد پر ہونے چاہئیں نہ کہ سیاسی مصلحتوں پر۔ اسی کے ساتھ پرائمری اور مڈل سکولوں کے تحفظ‘ نئے سکولوں کے قیام‘ اہل اساتذہ کی بھرتی‘ بنیادی سہولتوں کی فراہمی اور ہر بچے کیلئے محفوظ اور سازگار تعلیمی ماحول کو قومی ترجیح بنایا جانا چاہیے۔جامعات کسی بھی ملک کی ترقی کیلئے ناگزیر ہیں لیکن وہ سکولوں کے بنیادی اور مضبوط نظام کا متبادل نہیں بن سکتیں۔ کاش ہم دنیا کے کامیاب تعلیمی تجربات سے سیکھ سکیں جہاں دنیا کے بہترین تعلیمی نظام پہلے مضبوط سکول بناتے ہیں‘ پھر عالمی معیار کی جامعات وجود میں آتی ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_21538475.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کشمیر پر بھارتی ہٹ دھرمی(سلمان غنی)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/salman-ghani/2026-07-29/52384/42472247</link><pubDate>Wed, 29 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/salman-ghani/2026-07-29/52384/42472247</guid><description>کشمیر کو جنوبی ایشیا کا نیوکلیئر فلیش پوائنٹ کہا جاتا ہے کیونکہ اس تنازع کے حل کے بغیر نہ تو پاک بھارت تعلقات معمول پر آ سکتے ہیں اور نہ ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی ضمانت دی جا سکتی ہے۔ مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے اقوام متحدہ کی قراردادیں ہی وہ بنیاد ہیں جن کے تحت آگے بڑھا جا سکتا ہے‘ اسی لیے دنیا بھر کے کشمیری خصوصاً مقبوضہ کشمیر کے عوام ان قراردادوں کے مطابق اپنے حقِ خودارادیت کے حصول کیلئے سرگرم ہیں اور اس کیلئے اَنگنت قربانیاں دے چکے ہیں۔عالمی قوانین بھی پاکستان اور بھارت کے مابین تنازع کے حل کیلئے باہمی مذاکرات پر زور دیتے ہیں مگر بھارت اپنی ضد اور ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ اب بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے یہ کہہ کر کہ پاکستان سے بات چیت صرف پاکستان کے زیرانتظام کشمیر پر ہو گی‘ ایک بار پھر روایتی بدنیتی کا مظاہرہ کیا ہے۔ موصوف کا یہ بھی کہنا تھا کہ بھارتی حکومت نے اپنی مسلح افواج کو ہر خطرے کا فیصلہ کن جواب دینے کیلئے کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔ بھارتی وزیر دفاع کا یہ بیان اسی انتہا پسندانہ طرزِ عمل کا تسلسل ہے جس کا اظہار بھارتی قیادت مسلسل کرتی چلی آ رہی ہے۔ اس طرزِ عمل کا جواب پاکستان کی افواج پہلے بھی بھرپور انداز میں دے چکی ہیں اور دنیا کو باور کرا چکی ہیں کہ پاکستان اگرچہ رقبے میں بھارت سے چھوٹا ہے لیکن بھارتی جارحیت کا مؤثر جواب دینا جانتا ہے۔ جہاں تک کشمیر پر بھارتی مؤقف کا تعلق ہے تو وہ سراسر حقائق کے منافی اور اشتعال انگیز ہے۔ اس پر دفترِ خارجہ واضح کر چکا ہے کہ بھارتی وزیر دفاع کا بیان نہ صرف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود جموں و کشمیر تنازع کے حقائق کو مسخ کرتا بلکہ یہ علاقائی اور بین الاقوامی امن و سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی بھارتی پالیسی کا عکاس بھی ہے۔پاکستان کا یہ مؤقف اصولی اور حقیقت پسندانہ ہے تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ بھارتی قیادت جس نے کشمیریوں کے حقِ خودارادیت سے متعلق قراردادوں کو تسلیم کرتے ہوئے ان پر دستخط کیے تھے‘ وقت گزرنے کے ساتھ اپنے وعدوں سے منحرف ہو گئی اور اب آزاد کشمیر کو بھی متنازع بنانے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ اصل مسئلہ کشمیر کو پس پشت ڈالا جا سکے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا مسئلہ کشمیر کو نظرانداز کیا جا سکتا ہے؟ کیا تقسیمِ ہند کے نامکمل ایجنڈے سے دستبرداری اختیار کی جا سکتی ہے؟ کیا پاکستان اس معاملے پر کسی سمجھوتے کی پوزیشن میں ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ بھارت کی جانب سے آزاد کشمیر پر بات چیت کی شرط اس کی داخلی بے چینی کی علامت ہے۔ خصوصاً 10 مئی 2025ء کے بعد سے بھارتی قیادت شدید نفسیاتی دباؤ کا شکار دکھائی دیتی ہے اور اسے عالمی سطح پر اپنی ساکھ کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ کرنے کی فکر لاحق ہے۔ اس کے باوجود ہمیں مسئلہ کشمیر پر کسی قسم کی خاموشی اختیار نہیں کرنی چاہیے۔ حکومت اور ریاست ہر اہم بین الاقوامی فورم پر اپنا اصولی مؤقف پیش کر رہی ہیں مگر جب سامنے ایسا حریف ہو جس کی بدنیتی اور ہٹ دھرمی کسی سے پوشیدہ نہ ہو تو مزید فعال سفارتکاری ناگزیر ہو جاتی ہے۔ آج پاکستان کو سفارتی محاذ پر نمایاں پذیرائی حاصل ہوئی ہے اور دنیا میں اسکی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔ ایسے حالات میں کشمیر کاز کے منصفانہ حل کیلئے مؤثر آواز بلند کی جانی چاہیے۔ اطلاعات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کے دورۂ چین کے دوران چینی قیادت نے بھی اس امر پر زور دیا کہ موجودہ حالات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مسئلہ کشمیر پر پیش رفت ہونی چاہیے۔ چین ہمیشہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق پاکستانی مؤقف کی حمایت کرتا آیا ہے اسلئے اس کا یہ مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔بھارت اس وقت پریشان ضرور ہے لیکن اپنی شاطرانہ چالوں سے باز نہیں آ رہا۔ مقبوضہ کشمیر کا چپہ چپہ اس کے خلاف مزاحمت کی گواہی دیتا ہے۔ لاکھوں بھارتی فوجیوں کی موجودگی کے باوجود کشمیریوں کی آزادی کی خواہش کم نہیں ہوئی۔ خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد بھی ان کے جذبات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور بھارتی افواج طاقت کے ذریعے اس آواز کو دبانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ دوسری جانب آزاد کشمیر میں خودمختار کشمیر کے نعروں کے پیچھے بھارتی ایجنڈے کی واضح موجودگی محسوس ہوتی ہے۔ کشمیر کا مسئلہ زمین کے حصول کا نہیں بلکہ کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کا مسئلہ ہے۔ انہیں تقسیمِ ہند کے فارمولے‘ بھارت کے وعدوں‘ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور عالمی قوانین کے مطابق اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق ملنا چاہیے۔ کشمیر نہ کبھی بھارت کا اٹوٹ انگ تھا اور نہ ہی اب ہے۔ لائن آف کنٹرول کبھی بھی بین الاقوامی سرحد نہیں رہی۔ کشمیر ایک عالمی تنازع ہے جس کے فریق پاکستان‘ بھارت اور کشمیری عوام ہیں جبکہ عالمی برادری بھی اس معاملے میں اپنی ذمہ داری سے لاتعلق نہیں رہ سکتی۔ اس مسئلے کا دوطرفہ حل ممکن نہیں‘ مؤثر حل وہی ہوگا جو کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہو۔ یہ جنوبی ایشیا کا سب سے بڑا سیاسی مسئلہ ہے جس کا حل مذاکرات ہی سے نکل سکتا ہے لیکن بھارت اسی لیے مذاکرات سے گریز کرتا ہے کہ اس کے پاس اس معاملے پر مضبوط سیاسی جواز موجود نہیں۔ اس کے برعکس پاکستان کی ہر حکومت نے بھارت سے بنیادی تنازعات حل کرنے کیلئے مذاکرات کی پیشکش کی مگر بھارتی حکومت خصوصاً نریندر مودی کے دورِ حکومت میں دونوں ممالک کے درمیان عملاً تعطل برقرار ہے۔ پاکستان نے امریکی صدر ٹرمپ کی ثالثی کی تجویز بھی پیش کی لیکن بھارت اس پر بھی آمادہ نہ ہوا۔ اگر بھارت یہ سمجھتا ہے کہ ضد اور طاقت کے ذریعے کشمیر پر اپنا تسلط ہمیشہ برقرار رکھ سکے گا تو یہ اس کی خوش فہمی ہے۔ کشمیر صرف زمین کا تنازع نہیں بلکہ سوا کروڑ سے زائد کشمیریوں کی آزادی اور مستقبل کا مسئلہ ہے۔ انہیں ہمیشہ غلام بنا کر نہیں رکھا جا سکتا۔پاکستان اس مسئلے کا صرف ایک بنیادی فریق ہی نہیں بلکہ کشمیریوں کا وکیل بھی ہے۔ کشمیری عوام کی پاکستان سے وابستگی کسی سے پوشیدہ نہیں‘ اس لیے پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ ان کا مقدمہ دنیا کے سامنے بھرپور انداز میں پیش کرے۔ مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کرے اور عالمی برادری کو اس کی ذمہ داریوں کا احساس دلائے۔ اس مقصد کیلئے پاکستانی سفارت خانوں کو مزید متحرک کرنے کی ضرورت ہے تاکہ بھارت کے مکروہ کردار کو مؤثر انداز میں بے نقاب کیا جا سکے۔ بدقسمتی سے کشمیری عوام خصوصاً نئی نسل‘ مایوسی اور بے یقینی کا شکار ہے۔ یہی وہ وقت ہے جب پاکستان کو اپنی کشمیر پالیسی کی تشکیلِ نو کرتے ہوئے اسے کشمیری عوام کی امنگوں سے ہم آہنگ بنانا چاہیے۔ بھارت جب مذاکرات کو آزاد کشمیر سے مشروط کرتا ہے تو اس کے مذموم عزائم کو عالمی سطح پر بے نقاب کرنا ضروری ہے۔ دنیا کو یہ بھی یاد دلانا چاہیے کہ اگر سوڈان‘ مشرقی تیمور اور اریٹیریا کے عوام کو حقِ خودارادیت دیا جا سکتا ہے تو کشمیری اس حق سے کیوں محروم رہیں۔ کشمیر کو کسی صورت پسِ پشت نہیں ڈالا جا سکتا۔ آج پاکستان کی سفارتی تنہائی بڑی حد تک ختم ہو چکی ہے اور اہم عالمی طاقتیں مختلف علاقائی تنازعات میں اس کے کردار کو تسلیم کر رہی ہیں۔ اگر پاکستان دیگر بین الاقوامی معاملات میں مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے تو کشمیر تو اس کا اپنا مسئلہ ہے جو تقسیمِ ہند کا نامکمل ایجنڈا بھی ہے۔ پاکستان کے پاس اس معاملے پر مضبوط قانونی‘ اخلاقی اور سیاسی مقدمہ موجود ہے جسے بھرپور انداز میں دنیا کے سامنے اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ سلگتا ہوا کشمیر بھارت کی ایک بڑی کمزوری ہے۔ اسے بخوبی علم ہے کہ کشمیریوں کی آزادی اس کیلئے دور رس نتائج کی حامل ہو گی‘ اسی لیے وہ ہر ممکن طریقے سے اس مسئلے کو دبائے رکھنا چاہتا ہے۔ لیکن بھارت کی خواہشات سے قطع نظر پاکستان کو کشمیر جیسے بنیادی اور عالمی مسئلے پر مؤثر‘ مسلسل اور نتیجہ خیز سفارتی پیش رفت جاری رکھنی چاہیے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/230_37874475.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>انتخاب کا پہلا مرحلہ،نیا امتحان(محمد حسن رضا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-hasan-raza/2026-07-29/52385/88906084</link><pubDate>Wed, 29 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-hasan-raza/2026-07-29/52385/88906084</guid><description>انتخابات جمہوریت کا حسن ضرور ہوتے ہیں مگر کسی بھی معاشرے کی اصل کہانی انتخابی نتائج سے نہیں بلکہ ان نتائج کے بعد لکھی جاتی ہے۔ جلسوں کی رونق‘ نعروں کی گونج‘ مخالفین پر تنقید‘ وعدوں کی بارش اور کامیابی کے دعوے چند دنوں میں ماضی بن جاتے ہیں۔ پھر ایک خاموش صبح آتی ہے جب بیلٹ بکس بند ہو چکے ہوتے ہیں‘ حتمی فیصلے سامنے آ چکے ہوتے ہیں اور اقتدار کی ذمہ داری منتخب نمائندوں کے کندھوں پر آ جاتی ہے۔ وہیں سے سیاست ختم اور حکمرانی شروع ہوتی ہے۔آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات بھی اب اسی مرحلے میں داخل ہو چکے۔ مسلم لیگ (ن) اپنی کامیابی کو عوامی اعتماد کا مظہر قرار دے رہی جبکہ پیپلز پارٹی نے متعدد حلقوں میں مبینہ دھاندلی‘ انتظامی بے ضابطگیوں‘ سرکاری وسائل کے استعمال اور سیاسی ترغیبات کے الزامات عائد کیے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں عوامی مینڈیٹ کا فیصلہ قرار دے رہی ہے۔ ایسے میں متعلقہ آئینی اور انتخابی اداروں پر لازم ہے کہ ہر اعتراض کا شفاف اور غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے کیونکہ جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے سے نہیں بلکہ انتخابی عمل پر تمام فریقوں کے اعتماد سے مضبوط ہوتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ آزاد کشمیر کے انتخابات کا پہلا مرحلہ ہی متنازع بنتا دکھائی دے رہا ہے۔ پیپلز پارٹی کی جانب سے شدید تحفظات سامنے آئے ہیں جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے ردِعمل نے سیاسی ماحول کو مزید کشیدہ بنا دیا ہے۔ اگر پہلے مرحلے سے متعلق اعتراضات کا بروقت‘ شفاف اور غیر جانبدارانہ ازالہ نہ کیا گیا تو خدشہ ہے کہ انتخابی عمل کا دوسرا مرحلہ بھی تنازعات اور بداعتمادی کی زد میں آ سکتا ہے۔ یہی وہ صورتحال ہے جس سے انتخابی اداروں کو ہر قیمت پر بچنا ہوگا تاکہ انتخابی عمل کی ساکھ برقرار رہے۔ اس الیکشن میں مسلم لیگ (ن) نے اپنی پوری سیاسی اور تنظیمی قوت میدان میں اتاری۔ نواز شریف نے انتخابی مہم کی قیادت کی‘ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے مسلسل عوامی رابطہ مہم چلائی جبکہ سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے انتخابی حکمت عملی اور میڈیا کے محاذ کو مربوط انداز میں آگے بڑھایا۔ دوسری جانب بلاول بھٹو زرداری نے بھی بھرپور انتخابی مہم چلائی اور دونوں بڑی جماعتوں کے درمیان سخت سیاسی مقابلہ دیکھنے میں آیا۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا انتخابات کا مقصد صرف اقتدار کا حصول ہے یا ریاستی ترجیحات کا تعین بھی؟ یہی وہ سوال ہے جو الیکشن کے بعد بھی زندہ رہتا ہے۔آزاد کشمیر قدرتی حسن‘ زرخیز زمین‘ سیاحتی مقامات‘ پن بجلی اور مضبوط اوور سیز کمیونٹی جیسے بے شمار وسائل سے مالا مال ہے۔ اس کے باوجود اگر نوجوان روزگار کیلئے ہجرت پر مجبور ہوں‘ سیاحت اپنی معاشی صلاحیت سے محروم ہو اور تعلیم و صحت مطلوبہ معیار تک نہ پہنچ سکیں تو مسئلہ وسائل کا نہیں بلکہ حکمرانی اور ترجیحات کا ہے۔ اس لیے نئی حکومت کے سامنے سڑکیں بنانے سے پہلے ادارے مضبوط کرنا سب سے بڑا امتحان ہے۔ تعلیم‘ صحت‘ سیاحت‘ ماحولیات‘ بلدیاتی نظام اور نوجوانوں کی مہارت کو ترقی کی بنیاد بنانا ہوگا‘ ورنہ انتخابی کامیابی محض ایک سیاسی واقعہ بن کر رہ جائے گی۔ آزاد کشمیر کی معیشت کی سب سے بڑی امید سیاحت ہے مگر سیاحت صرف خوبصورت مناظر کا نام نہیں بلکہ محفوظ سڑکوں‘ جدید ریسکیو سروس‘ معیاری رہائش‘ تربیت یافتہ گائیڈز‘ ٹریفک نظم اور ماحول دوست منصوبہ بندی کا بھی تقاضا کرتی ہے۔ نیلم‘ لیپہ‘ شاردہ‘ کیل‘ پیر چناسی‘ باغ اور راولا کوٹ عالمی سیاحتی مراکز بن سکتے ہیں اگر منصوبہ بندی عالمی معیار کی ہو۔ اوور سیز کشمیری بھی اس خطے کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ اگر حکومت انہیں واضح سرمایہ کاری پالیسی دے تو ان کا سرمایہ سیاحت‘ آئی ٹی‘ زراعت‘ صنعت اور فنی تعلیم میں نئی معاشی سرگرمیوں کو جنم دے سکتا ہے۔ تعلیم میں اصل سرمایہ جدید نصاب‘ معیاری اساتذہ‘ تحقیق اور ڈیجیٹل مہارت ہے جبکہ صحت کے شعبے میں ٹیلی میڈیسن‘ جدید ضلعی ہسپتال‘ فعال بنیادی مراکز صحت اور مؤثر ایمرجنسی نظام ناگزیر ہیں۔ آج کا ووٹر پہلے سے کہیں زیادہ باشعور ہے۔ وہ نعروں سے زیادہ کارکردگی کا جائزہ لیتا ہے‘ اور آج کے ڈیجیٹل دور میں ہر وعدہ عوامی احتساب کا حصہ بن جاتا ہے۔ مسلم لیگ (ن) نے اس الیکشن میں اپنی سیاسی اور تنظیمی صلاحیت کا بھرپور مظاہرہ کیا ہے مگر پہلے مرحلے میں کامیابی کیساتھ ذمہ داری بھی بڑھ گئی ہے۔ عوام اب تقاریر نہیں بلکہ نتائج دیکھنا چاہتے ہیں۔ انہیں ایسی حکمرانی درکار ہے جو اداروں کو مضبوط اور انصاف کو یقینی بنائے‘ نوجوانوں کیلئے مواقع پیدا کرے اور عوامی اعتماد کو مزید مستحکم کرے۔ قوموں کی ترقی آخرکار جلسوں کی تعداد یا انتخابی اکثریت سے نہیں بلکہ اس بات سے ناپی جاتی ہے کہ ایک بچہ کس معیار کے سکول میں پڑھتا ہے‘ ایک مریض کو علاج کتنی آسانی سے ملتا ہے‘ ایک نوجوان کو روزگار کے کتنے مواقع میسر ہیں اور ایک شہری کو قانون پر کتنا اعتماد ہے۔ آزاد کشمیر کے عوام نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔ اب اصل فیصلہ نئی حکومت نے کرنا ہے کہ وہ اس مینڈیٹ کو ایک مخصوص مدت تک اقتدار کی لذت سمجھتی ہے یا آنیوالی نسلوں کے مستقبل کی امانت۔ اگر ترجیح اداروں کی مضبوطی‘ تعلیم وصحت‘ سیاحت‘ معیشت‘ شفافیت اور قانون کی حکمرانی کو دی گئی تو یہ انتخاب ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے لیکن اگر سیاست پھر صرف اگلے الیکشن تک محدود رہی تو تاریخ ایک اور ضائع ہونے والے موقع کا نوحہ ہی لکھ پائے گی۔ اقتدار حاصل کرنا ہر سیاستدان کیلئے کامیابی کی ایک علامت ہو سکتا ہے مگر تاریخ صرف انہی حکمرانوں کو یاد رکھتی ہے جو وعدوں کو پالیسی میں اور عوام کے اعتماد کو قومی ترقی میں بدل دیتے ہیں۔ یہی آزاد کشمیر کی نئی قیادت کا اصل امتحان ہو گا۔آزاد کشمیر میں ترقی کے سفر کو پائیدار بنانے کیلئے صرف بڑے ترقیاتی منصوبے ہی کافی نہیں ہوں گے بلکہ گڈ گورننس کو بھی ریاستی پالیسی کا بنیادی ستون بنانا ہوگا۔ جدید دنیا میں کامیاب حکومتیں وہی سمجھی جاتی ہیں جو فیصلوں میں شفافیت‘ وسائل کی منصفانہ تقسیم‘ ڈیجیٹل گورننس‘ احتساب اور عوامی شرکت کو یقینی بناتی ہیں۔ سرکاری اداروں کی کارکردگی کو جدید ٹیکنالوجی سے جوڑنا‘ خدمات کی آن لائن فراہمی‘ شکایات کے فوری ازالے کا مؤثر نظام اور مالی معاملات میں شفافیت نہ صرف عوامی اعتماد میں اضافہ کرتے بلکہ سرمایہ کاری کیلئے بھی سازگار ماحول پیدا کرتے ہیں۔ اسی طرح نوجوان آبادی کو ترقی کے مرکزی دھارے میں شامل کرنا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ آزاد کشمیر کے ہزاروں نوجوان اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود روزگار کے مناسب مواقع سے محروم ہیں۔ اگر حکومت فنی تعلیم‘ ڈیجیٹل سکلز‘ آئی ٹی پارکس‘ فری لانسنگ‘ چھوٹے کاروباروں کیلئے آسان قرضوں اور کاروباری معاونت کے منصوبوں پر توجہ دے تو نوجوان روزگار تلاش کرنے والے نہیں بلکہ روزگار پیدا کرنے والے بن سکتے ہیں۔ ماحولیاتی تحفظ بھی نئی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پہاڑی علاقوں میں زیادہ شدت سے محسوس کیے جا رہے ہیں۔ بے ہنگم تعمیرات‘ جنگلات کی کٹائی‘ لینڈ سلائیڈنگ اور آبی وسائل پر بڑھتا ہوا دباؤ مستقبل کیلئے سنجیدہ خطرات پیدا کر سکتا ہے۔ اس لیے ترقیاتی منصوبوں میں ماحول دوست پالیسیوں‘ جنگلات کے تحفظ‘ جدید ویسٹ مینجمنٹ اور قدرتی وسائل کے ذمہ دارانہ استعمال کو لازمی حصہ بنایا جانا چاہیے۔ آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں انتخابی نتائج کے حوالے سے جاری احتجاج کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اختلافِ رائے جمہوریت کا فطری حصہ ہے مگر اس کا پائیدار حل آئینی طریقہ کار‘ برداشت اور بامعنی مذاکرات میں پوشیدہ ہے۔ تمام سیاسی جماعتوں‘ اداروں اور متعلقہ حکام کو چاہیے کہ عوامی تحفظات کو سنجیدگی سے سنیں‘ شفاف تحقیقات کے ذریعے حقائق سامنے لائیں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو سیاسی کشیدگی میں اضافے کا باعث بنیں۔ جمہوریت کی اصل کامیابی مخالفین کو شکست دینے میں نہیں بلکہ اختلافات کو آئین‘ قانون اور مکالمے کے ذریعے حل کرنے میں ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/229_33941343.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>غم سے نجات(علامہ ابتسام الہٰی ظہیر )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-07-29/52386/70433488</link><pubDate>Wed, 29 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-07-29/52386/70433488</guid><description>پوری انسانیت جس نکتے پر مجتمع ہے وہ غم اور پریشانیوں سے نجات حاصل کر کے ایک پُرامن زندگی گزارنا ہے۔ بہت سے لوگ اس حوالے سے اپنی بساط اور صلاحیتوں کے مطابق کوشاں رہتے ہیں لیکن اس کے باوجود غم اور پریشانیوں سے نجات حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو پاتے۔ بہت سے ذہین اور باصلاحیت لوگ اس حد تک غمگین اور دکھی رہتے ہیں کہ رات کو سونے کیلئے سکون آور ادویات کا استعمال کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود پُرسکون اور راحت بھری نیند سے محروم رہتے ہیں۔ بہت سے لوگوں کو کسی حادثے‘ تکلیف‘ بیماری یا نقصان کی وجہ سے غم کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ اس کے بالمقابل بہت سے ایسے لوگ بھی ہیں جو کسی نقصان‘ بیماری اور حادثے کے بغیر ہی نفسیاتی مشکلات کا شکار رہتے ہیں۔ بہت سے لوگ مختلف ماہرین نفسیات اور ذہنی بیماریوں کے معالجین سے رجوع کرتے اور ان کی ہدایات پر عمل کرنے کی کوششیں کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود ان کو امن اور سکو ن حاصل نہیں ہوتا۔ کتاب و سنت نے اس حوالے سے نہایت مؤثر انداز میں رہنمائی کی اور غم سے نجات کے بہت سے طریقے بتلائے ہیں‘ جن میں سے چند اہم درج ذیل ہیں:1۔ دعا: اگر انسان اللہ تبارک وتعالیٰ کی بارگاہ میں آ کر دعا کرے تو اللہ تبارک وتعالیٰ اس کے غموں کو دور فرماتے ہیں۔ سورۃ النمل کی آیت: 62 میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: &#39;&#39;بے کس کی پکار کو جب کہ وہ پکارے، کون قبول کر کے سختی کو دور کر دیتا ہے؟ اور تمہیں زمین کا خلیفہ بناتا ہے، کیا اللہ کے ساتھ اور معبود ہے؟ تم بہت کم نصیحت و عبرت حاصل کرتے ہو‘‘۔ اسی طرح اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۃ البقرہ کی آیت: 186 میں ارشاد فرمایا: &#39;&#39;جب میرے بندے میرے بارے میں آپ سے سوال کریں تو آپ کہہ دیں کہ میں بہت ہی قریب ہوں، ہر پکارنے والے کی پکار کو جب بھی وہ مجھے پکارے قبول کرتا ہوں، اس لیے لوگوں کو بھی چاہیے وہ میری بات مان لیں اور مجھ پر ایمان رکھیں، یہی ان کی بھلائی کا باعث ہے‘‘۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید میں حضرت یونس علیہ السلام کے واقعے کو بیان کیا کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کے غم کو دور کیا اور اس بات کو واضح کیا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ایسے ہی اہلِ ایمان کے غموں کو بھی دور فرماتے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الانبیاء کی آیات: 87 تا 88 میں اس واقعے کو کچھ یوں بیان فرماتے ہیں: &#39;&#39;مچھلی والے (یونس علیہ السلام) کو یاد کرو! جبکہ وہ غصہ سے چل دیا اور خیال کیا کہ ہم اسے نہ پکڑ سکیں گے۔ بالآخر وہ اندھیروں کے اندر سے پکار اٹھا کہ الٰہی تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تُو پاک ہے، بیشک میں ظالموں میں ہو گیا۔ تو ہم نے اس کی پکار سن لی اور اسے غم سے نجات دے دی اور ہم ایمان والوں کو اسی طرح بچا لیا کرتے ہیں‘‘۔ اسی طرح اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۃ الانبیاء ہی میں حضرت ایوب علیہ السلام کی ایک تکلیف دہ بیماری کے خاتمے کا ذکر کیا اور اس کو اپنے بندوں کیلئے ایک نصیحت قرار دیا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الانبیاء کی آیات: 83 تا 84 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;ایوب کی اس حالت کو یاد کرو جبکہ اس نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ مجھے یہ بیماری لگ گئی ہے اور تُو رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ تو ہم نے اس کی سن لی اور جو دکھ انہیں تھا اسے دور کر دیا اور اس کو اہل و عیال عطا فرمائے بلکہ ان کے ساتھ ویسے ہی اور‘ اپنی خاص مہربانی سے تاکہ سچے بندوں کیلئے سببِ نصیحت ہو‘‘۔2۔ ذکرِ الٰہی: جب انسان مشکلات‘ مصائب‘ تکالیف اور پریشانیوں کے دوران کثر ت سے اللہ کا ذکر کرتا ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ اس کی مشکلات کو دور فرما دیتے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الاحزاب کی آیات: 41 تا 43 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;مسلمانو! اللہ کا ذکر بہت زیادہ کرو۔ اور صبح شام اس کی پاکیزگی بیان کرو۔ وہی ہے جو تم پر اپنی رحمتیں بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے (تمہارے لیے دعائے رحمت کرتے ہیں) تاکہ وہ تمہیں اندھیروں سے اجالے کی طرف لے جائے اور اللہ مومنوں پر بہت ہی مہربان ہے‘‘۔3۔ تقویٰ: جب انسان اللہ تبارک وتعالیٰ کی خشیت کی وجہ سے اپنے آپ کو گناہوں سے روک لیتا ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ اس کی تنگیوں کو دور فرما دیتے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الطلاق کی آیت: 2 میں فرماتے ہیں: &#39;&#39;اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے (مصیبت سے) چھٹکارے کی شکل نکال دیتا ہے‘‘۔4۔ توکل: جو شخص اللہ تبارک وتعالیٰ پر بھروسہ کرتا ہے اللہ اس کیلئے کافی ہو جاتا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الطلاق کی آیت: 3 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;اور جو شخص اللہ پر توکل کرے گا اللہ اسے کافی ہوگا، اللہ اپنا کام پورا کر کے ہی رہے گا، اللہ نے ہر چیز کا ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے‘‘۔ امام ابن قیم نے اپنی کتاب زاد المعاد میں توکل‘ دعا‘ ذکر اور روحانی اسباب کے علاج پر تفصیل سے گفتگو کی ہے۔ ان کے کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ &#39;&#39;دل کا اللہ پر مکمل اعتماد‘ سچا توکل‘ اس کی طرف رجوع اور اس سے مدد طلب کرنا ایسے اسباب ہیں جن سے بہت سی بیماریاں دور ہو جاتی ہیں بلکہ بعض اوقات ان کا اثر ظاہری دوائوں سے بھی بڑھ جاتا ہے‘‘۔ امام ابن قیمؒ نے یہاں مادی علاج کی نفی نہیں کی بلکہ توکل کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔5۔ صبر: انسان زندگی بھر مشکلات کا شکار رہتا ہے۔ ان سے نجات حاصل کرنے کیلئے صبر کی بھی غیر معمولی اہمیت ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ صبر کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے سورۃ البقرہ کی آیات: 155 تا 157 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;اور ہم کسی نہ کسی طرح تمہاری آزمائش ضرور کریں گے‘ دشمن کے ڈر سے‘ بھوک پیاس سے‘ مال و جان اور پھلوں کی کمی سے اور ان صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجیے۔ جنہیں جب کبھی کوئی مصیبت آتی ہے تو کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہم تو خود اللہ کی ملکیت ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ ان پر ان کے رب کی نوازشیں اور رحمتیں ہیں اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں‘‘۔6۔ انفاق فی سبیل اللہ: جب انسان اللہ تبارک وتعالیٰ کے راستے میں اپنے مال کو صبح و شام‘ خفیہ اور اعلانیہ طور پر خرچ کرتا ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ اس کے غم اور خوف کو دور فرما دیتے ہیں۔ سورۃ البقرہ کی آیت: 274 میں ارشاد ہوا: &#39;&#39;جو لوگ اپنے مالوں کو رات دن چھپے کھلے خرچ کرتے ہیں ان کے لیے ان کے رب کے پاس اجر ہے اور نہ انہیں خوف ہے اور نہ غم‘‘۔ 7۔ توبہ: انسان کی زندگی میں آنے والی بہت سی مشکلات کا تعلق اس کے گناہوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الشوریٰ کی آیت: 30 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;تمہیں جو کچھ مصیبتیں پہنچتی ہیں وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کے کرتوت کا بدلہ ہے اور وہ تو (تمہارے) بہت سے گناہ معاف کر دیتا ہے‘‘۔ اسی طرح اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الروم کی آیت: 41 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;خشکی اور تری میں لوگوں کی بداعمالیوں کے باعث فساد پھیل گیا‘‘۔ جب انسان اللہ تبارک وتعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کا طلبگار ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی سب خطائوں کو معاف فرما دیتے ہیں۔ سورۃ الزمر کی آیت: 53 میں ارشاد ہوا: &#39;&#39;(میری جانب سے) کہہ دو کہ اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے تم اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو جائو، بالیقین اللہ سارے گناہوں کو بخش دیتا ہے‘‘۔ اسی طرح اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۃ الفرقان میں بتلایا کہ شرک‘ قتل اور زنا کے مرتکبین کو سنگین عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا مگر ساتھ ہی فرمایا: مگر جو توبہ کرے گا اللہ تعالیٰ کبیرہ گناہوں پر کی جانے والی اس توبہ پر گناہوں کو معاف ہی نہیں فرماتے بلکہ گناہوں کو نیکیوں کے ساتھ تبدیل کر دیتے ہیں۔اگر مذکورہ بالا تدابیر کو اختیار کر لیا جائے تو اللہ تبارک وتعالیٰ انسانوں کے جملہ غم دور کر دیتے ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ تمام انسانوں کے غموں کو دور فرما کر انہیں امن و سکون والی زندگی عطا فرما دے، آمین!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_19740082.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>