<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>خلیج فارس میں ابھرتی نئی کشیدگی(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-10/11348</link><pubDate>Fri, 10 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-10/11348</guid><description>ایران اور امریکہ کے مابین دوبارہ بڑھتی کشیدگی نے ایک بار پھر خطے سمیت پوری دنیا کو شدید تشویش اور عدم استحکام کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ نئے امریکی حملوں اور ایران کی جانب سے اردن‘ بحرین اور کویت میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کے عمل نے نہ صرف علاقائی امن کو داؤ پر لگا دیا ہے بلکہ عالمی معاشی استحکام کیلئے بھی خطرے کی گھنٹیاں بجا دی ہیں۔ یہ نئی جھڑپیں ایسے موقع پر ہوئی ہیں جب ایران میں سابق رہبر اعلیٰ سید علی خامنہ ای کی آخری رسومات جاری تھیں۔ ایران اور امریکہ کے تعلقات کی تاریخ میں سرد جنگ‘ پابندیاں اور پراکسی جنگیں نمایاں رہی ہیں۔ تاہم گزشتہ ماہ اسلام آباد ایم او یو اور بعد ازاں لیک لوسرن مذاکرات میں دونوں ممالک میں پائیدار امن معاہدے کیلئے ساٹھ روزہ فریم ورک پر اتفاق ہوا تھا اور طے پایا تھا کہ کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنے کیلئے ہاٹ لائن اور ڈی کانفلکشن سیل کا قیام عمل میں لایا جائے گا تاکہ مسائل کو فوری مؤثر انداز میں حل کیا جاسکے اور مذاکراتی عمل ہموار انداز میں آگے بڑھ سکے۔

دونوں ممالک کے نمائندوں میں تکنیکی مذاکرات کیلئے اگلے چند دنوں میں اسلام آباد میں نشست کی امید بھی کی جا رہی تھی تاہم کشیدگی کا دوبارہ ابھرنا اس بات کا اظہار ہے کہ شاید دونوں ملکوں میں موجود مخصوص طبقات دیرپا امن کی راہ میں حائل اور کشیدگی کو فروغ دینے کی پالیسی کے قائل ہیں۔ پاکستان‘ چین اور قطر سمیت متعدد ملکوں نے دونوں ممالک سے کشیدگی ختم کرنے اور معاہدے کے تحت مذاکرات کی طرف لوٹنے کا مطالبہ کیا ہے۔ جب بھی خلیج فارس اور مشرقِ وسطیٰ کے خطے میں کشیدگی پیدا ہوتی ہے تو اس کا براہِ راست اثر توانائی کی قیمتوں پر پڑتا ہے کیونکہ یہ خطہ نہ صرف تیل و گیس کی پیداوار کا سب سے بڑا ذریعہ ہے بلکہ عالمی توانائی ترسیل کا بڑا حصہ یہیں سے گزرتا ہے۔ دنیا اس وقت پہلے ہی متعدد معاشی چیلنجوں‘ مہنگائی اور سپلائی چین میں تعطل کے مسائل سے نبرد آزما ہے۔ ایسے میں خلیج فارس اور آبنائے ہرمز جیسے اہم تجارتی راستوں‘ جہاں سے روزانہ لاکھوں بیرل خام تیل اور کھربوں ڈالر کا عالمی تجارتی سامان گزرتا ہے‘ میں جاری تصادم پوری دنیا کے لیے ایک ڈرائونے خواب کی مانند ہے۔ خطے میں مسلسل تنائو اور مستقل کشیدگی انسانی معاشروں کی نفسیات پر ایک بوجھ ثابت ہو رہی اور معیشت اور ترقی کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔ پائیدار اور مستقل امن کا واحد راستہ یہی ہے کہ باہمی معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر ان کی روح کے مطابق عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
مسائل کو پائیدار حل کی طرف لانے کے بجائے طاقت کا جارحانہ استعمال نہ صرف سفارتی کوششوں کو ملیا میٹ کر دیتا ہے بلکہ انتہا پسند عناصر کو سر اٹھانے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔ دنیا کب تک کشیدگی اور عارضی امن وقفوں کے بیچ جھولتی رہے گی؟ امریکہ اور ایران‘ دونوں کو سمجھنا ہوگا کہ معاہدوں پر عملدرآمد کوئی کمزوری نہیں بلکہ دانشمندی اور عالمی ذمہ داری کا ثبوت ہے۔ جب تک بین الاقوامی معاہدوں کو تقدس فراہم نہیں کیا جائے گا تب تک امن قائم کرنے کی ہر کوشش رائیگاں جائے گی۔ تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ جنگیں کبھی مسائل کا حل نہیں ہوتیں بلکہ وہ نئے اور کہیں زیادہ پیچیدہ مسائل کو جنم دیتی ہیں۔ پہلی اور دوسری عالمی جنگ سے معاصر جنگوں تک‘ ہر جگہ طاقت کے استعمال‘ بے گناہ جانوں کے ضیاع اور کھربوں ڈالر کے زیاں کے بعد بالآخر مذاکرات کی میز پر ہی بیٹھنا پڑا۔ ایران اور امریکہ کے معاملے میں بھی یہی اصول لاگو ہوتا ہے۔ مذاکرات اور امن معاہدے کے علاوہ کوئی بھی دوسرا حل پائیدار اور پُرامن ثابت نہیں ہو سکتا۔ طاقت اور بارود کی زبان سے شاید کوئی عارضی برتری مل جائے مگر دِلوں میں نفرت اور انتقام کی آگ اس سے مزید بھڑکے گی۔ مل بیٹھ کر بات چیت کرنا‘ ایک دوسرے کے تحفظات کو سننا اور لچک کا مظاہرہ کرنا ہی وہ راستہ ہے جو اس خطے کو تباہی سے بچا سکتا اور دنیا میں استحکام یقینی بنا سکتا ہے۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مقامی حکومتیں، مسائل کے حل کی بنیاد(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-10/11347</link><pubDate>Fri, 10 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-10/11347</guid><description>وفاقی وزیر صحت کا یہ کہنا بجا ہے کہ وفاقی دارالحکومت اور صوبوں میں شعبۂ صحت کے بیشتر بنیادی مسائل صرف ایک مضبوط مقامی حکومت کا نظام ہی مؤثر انداز میں حل کر سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ معاملہ صرف صحت تک محدود نہیں بلکہ صاف پانی‘ صفائی‘ تعلیم‘ ماحولیاتی تحفظ اور دیگر روزمرہ عوامی خدمات بھی اسی وقت بہتر انداز میں انجام دی جا سکتی ہیں جب اختیارات اور وسائل نچلی سطح تک منتقل کیے جائیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نے مقامی حکومتوں کو مضبوط بنا کر شہری سہولتوں اور ترقی کے نظام کو مستحکم کیا ہے‘ مگرپاکستان میں مقامی حکومتوں کو ہمیشہ سیاسی مصلحتوں کا شکار بنایا گیا ہے۔

وفاقی دارالحکومت اور آبادی کے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں آخری مقامی حکومتیں فروری 2021ء میں تحلیل ہوئی تھیں مگر تقریباً ساڑھے پانچ برس گزرنے کے باوجود وہاں نئے بلدیاتی انتخابات نہیں ہو سکے۔ نتیجتاً مقامی نوعیت کے بے شمار مسائل براہِ راست بیورو کریسی کے سپرد ہیں‘ جو نہ صرف پہلے ہی بے پناہ انتظامی ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے بلکہ مقامی ضروریات سے اتنی واقف بھی نہیں ہوتی جتنے منتخب نمائندے ہوتے ہیں۔ ملک میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی‘ بے ہنگم شہری پھیلاؤ اور بنیادی سہولتوں پر بڑھتا ہوا دباؤ اس امر کا متقاضی ہے کہ مقامی حکومتوں کے نظام کو مزید مؤخر کرنے کے بجائے اسے مضبوط‘ بااختیار اور مالی طور پر خودمختار بنایا جائے۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ورکرز کا تحفظ اور شفافیت ناگزیر(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-10/11346</link><pubDate>Fri, 10 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-10/11346</guid><description>دسمبر 2024ء میں ستھرا پنجاب منصوبہ اس عزم کے ساتھ شروع کیا گیا تھا کہ صوبے کے ہر شہر‘ قصبے اور گاؤں میں صفائی کا جدید اور مؤثر نظام قائم کیا جائے۔عوام کو صاف ستھرا ماحول فراہم کرنے کی یہ کوشش بلاشبہ حکومت کی ایک اہم اقدام ہے مگر اس منصوبے پر کام کرنے والی بعض ٹھیکیدار کمپنیوں کی مبینہ بدعنوانیوں اور ورکرز کے استحصال کی شکایات کا معاملہ فوری توجہ کا متقاضی ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے مختلف اضلاع سے یہ شکایات مسلسل سامنے آ رہی ہیں کہ متعدد ورکرز کو نہ تو بروقت تنخواہیں مل رہی ہیں اور نہ ہی مکمل ادائیگی کی جا رہی ہے۔

دوسری جانب اینٹی کرپشن کی تحقیقات میں بعض ٹھیکیدار کمپنیوں کے خلاف جعلی ملازمین‘ فرضی ویسٹ سائٹس‘ کنٹینرز اور دیگر ریکارڈ کے ذریعے سرکاری فنڈز میں مبینہ خوردبرد جیسے سنگین الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔ کرپٹ عناصر نہ صرف قومی خزانے کو نقصان پہنچا رہے بلکہ ایک اہم عوامی منصوبے کی ساکھ کو بھی متاثر کر رہے ہیں۔ نہ صرف ورکرز کی بروقت اور مکمل تنخواہ کی ادائیگی‘ قانونی حقوق کا تحفظ اور باوقار روزگار ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے بلکہ تمام متعلقہ کمپنیوں کا جامع آڈٹ‘ ڈیجیٹل ریکارڈ کی آزادانہ جانچ‘ تنخواہوں کی شفاف ادائیگی کا مؤثر نظام اور بدعنوان عناصر کیخلاف بلاامتیاز کارروائی بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>نیلا، سرخ یا سبز؟(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-07-10/52267/78924004</link><pubDate>Fri, 10 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-07-10/52267/78924004</guid><description>خیبر پختونخوا اسمبلی میں پاس ہونے والے حالیہ بل پر بہت بات ہو رہی ہے جہاں ارکانِ اسمبلی نے اپنے لیے غیر معمولی مراعات کی خود ہی منظوری دی ہے۔ پی ٹی آئی والے دوست زیادہ پریشان ہیں کیونکہ ان کی پارٹی کے قیام اور مقبولیت کی ایک بڑی وجہ ان مراعات کے خلاف آواز بلند کرنا رہی ہے۔ ملکی سیاستدانوں اور روایتی سیاسی گھرانوں نے جس طرح سیاسی قوت کو اپنی عیاشیوں اور مراعات کیلئے استعمال کیا‘ اس کے خلاف عمران خان ایک توانا آواز بن کر ابھرے تھے اور وہ ہر قسم کے پروٹوکول کے خلاف تھے۔ یوں انہیں عوام میں پذیرائی ملنا شروع ہوئی‘ بلکہ عمران خان کا یہ بیانیہ بہت مقبول ہوا کہ ان کے پاس تو اللہ کا دیا سب کچھ ہے‘ وہ تو پاکستانی عوام کیلئے خوار ہو رہے ہیں۔ وہ چاہتے تو لندن میں پُرتعیش زندگی گزار سکتے تھے لیکن وہ پاکستان میں عام آدمی کیلئے خود کو مشکلات میں ڈال رہے ہیں۔ شاید عمران خان کو لگا کہ اگر وہ ان ایلیٹ طبقات کے خلاف کھڑے ہو جائیں جن کا وہ ساری عمر حصہ رہے ہیں‘ تو سیاست میں ان کے نمایاں ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔ عام آدمی اپنے مسائل کا ذمہ دار ہمیشہ اپنے سے اونچے طبقات کو سمجھتا ہے۔ یہ الگ کہانی ہے کہ اگر نچلا طبقہ کسی طرح ترقی کر کے اُس طبقے میں شامل ہو جائے تو پھر اُسی غریب طبقے سے شکایات پیدا ہونا شروع ہو جاتی ہیں جہاں سے نکل کر وہ خود اوپر آیا ہوتا ہے۔ یہ محض طبقات کی لڑائی ہے کہ کون کہاں کھڑا ہے اور کہاں جانا چاہتا ہے۔ خیر‘ یہ طویل بحث ہے اور اسے کسی اور وقت کیلئے اٹھا رکھتے ہیں۔اب عمران خان کی پارٹی‘ جو اپنے تئیں سارا وقت مراعات کے خلاف لڑتی رہی‘ وہ خود اب اپنی مراعات کیلئے ایسے قوانین لا رہی ہے جنہیں پڑھ کر سب حیران ہیں بلکہ پی ٹی آئی کے حامی تو پریشان بھی ہیں۔ پی ٹی آئی کے حامیوں کی پریشانی اور حیرانی جائز ہے کہ وہ اس طرح کی قانون سازی سے اخلاقی طور پر خود کو اپنے مخالفین سے کمزور پاتے ہیں۔ اس طرح وہ پیپلز پارٹی یا مسلم لیگ (ن) کو برا بھلا نہیں کہہ سکتے اور نہ یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ وہ جس پارٹی یا لیڈر کے پیچھے کھڑے ہیں‘ وہ سب سے بہتر ہے۔ خود کو غلط سمجھنا بہت مشکل کام ہے‘ لہٰذا بہت سارے سیاسی کارکن‘ خواہ کسی بھی پارٹی کے ہوں‘ خود کو تسلی دیے رکھتے ہیں کہ اگر ہمارا لیڈر اچھا نہیں نکلا تو کیا ہوا‘ دوسروں کے لیڈر کون سے فرشتے ہیں۔ لہٰذا وہ اس قسم کے مقابلے میں اپنے پہلوان کو ہی بہتر سمجھتے ہیں۔ وہی بات کہ لٹیرا میری مرضی کا ہونا چاہیے‘ پھر وہ جہاں چاہے لوٹ مار مچائے۔ماضی میں عمران خان ایک ایک کر کے اُن تمام سیاسی اور اخلاقی برتریوں سے محروم ہوتے چلے گئے جو انہیں دوسروں پر حاصل تھیں اور جن کی بنیاد پر ان کا ووٹ بینک بڑھا تھا اور پھر اسی کے سہارے وہ وزیراعظم بن گئے۔ اگر دیکھا جائے تو خیبر پختونخوا اسمبلی میں مراعات بل سے پہلے بھی بہت سارے ایسے کام ہو چکے ہیں جن کے بعد پی ٹی آئی دیگر جماعتوں کے برابر جا کھڑی ہوئی۔ اگرچہ یہ پارٹی ان تمام تر خامیوں کے باوجود اب بھی عوام میں زیادہ مقبول ہے‘ تاہم اس کی الگ وجوہات ہیں۔ البتہ یہ طے ہے کہ اخلاقی بنیاد سب کھو چکے ہیں۔ اگرچہ پیپلز پارٹی یا (ن) لیگ کا حامی کہے گا کہ ہمارے سیاسی دیوتاؤں نے کبھی نیک نام یا فرشتہ ہونے کا دعویٰ نہیں کیا جیسے عمران خان کے حامی کرتے رہے ہیں۔ نہ انہوں نے کبھی معاشرتی‘ مالی یا سیاسی قدروں کو بہتر کرنے کا نعرہ لگایا۔ وہ اچھے بُرے جیسے بھی تھے‘ ویسے ہی خود کو عوام کے سامنے پیش کرتے رہے اور اس پر انہیں یوٹرن کا طعنہ بھی نہیں دیا جا سکتا‘ جیسے عمران خان کو دیا جاتا ہے۔ دوسری طرف عمران خان کے ووٹ بینک یا مقبولیت کو بھی مراعات بل سے کوئی فرق نہیں پڑے گا‘ کیونکہ ہمارے سیاسی شعور میں ایسی چیزوں کو مقبولیت یا ووٹ بینک کی راہ میں حائل نہیں ہونے دیا جاتا۔ ہمارے دوست امجد صدیق نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ شیئر کی کہ تصور کریں کہ یہی بل اگر سندھ یا پنجاب اسمبلی میں منظور ہوا ہوتا تو کیا قیامت آتی کہ جس دن کوئی رکن اسمبلی اجلاس میں شریک ہے‘ وہ اس دن عدالت میں پیشی سے چھٹی کر سکتا ہے یا یہ کہ الزامات کو پہلے سپیکر دیکھے گا‘ یا یہ کہ ارکان اور ان کے خاندان کو عمر بھر بلیو پاسپورٹ ملے گا۔ اس کے علاوہ بھی مراعات کی لمبی فہرست ہے۔ٹی وی پروگرام میں بات ہو رہی تھی کہ اس وقت پورے ملک میں پارلیمنٹ سے صوبائی اسمبلیوں تک‘ ارکان کی کل تعداد گیارہ سو کے قریب ہے۔ وہ ملک کے اُن گیارہ‘ بارہ کروڑ لوگوں سے ووٹ لے کر یہاں پہنچتے ہیں جن کے پاس سبز پاسپورٹ ہیں۔ لیکن پارلیمنٹ پہنچ کر انہیں سبز پاسپورٹ بُرا لگنا شروع ہو جاتا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے پاسپورٹ کا رنگ تبدیل کیا جائے کیونکہ اکثر انہیں اور ان کے بچوں کو دنیا بھر کے ایئر پورٹس پر سبز پاسپورٹ کی وجہ سے روک لیا جاتا ہے یا پوچھ گچھ ہوتی ہے۔ اس پوچھ گچھ سے بچنے کا ایک ہی حل انہیں سمجھ میں آیا کہ پاسپورٹ کا رنگ ہی بدل ڈالو۔ اب ان کے پاسپورٹس دو طرح کے ہیں۔ ایک ڈپلومیٹک اور دوسرا سرکاری پاسپورٹ۔ یوں سبز‘ سرخ اور نیلے رنگ کے پاسپورٹس میں سے وہ جلد از جلد سبز رنگ سے جان چھڑانا چاہتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ اپنے بیوی بچوں کی بھی‘ تاکہ انہیں دنیا بھر کے کسی ایئرپورٹ پر سبز پاسپورٹ کی وجہ سے کوئی مسئلہ نہ ہو‘ جو عام پاکستانیوں کے ساتھ ہوتا رہتا ہے۔ان ڈپلومیٹک پاسپورٹس کے اور بھی بہت سے فوائد ہیں جو سبز پاسپورٹ والے سوچ بھی نہیں سکتے۔ اکثر آپ نے یہ خبر پڑھی ہو گی کہ فلاں ملک نے پاکستانیوں کو بغیر ویزے آنے کی اجازت دے دی‘ یا ایئرپورٹ پر ہی آن آرائیول ویزا مل جائے گا۔ پورا ملک یہ سوچ کر جھوم اٹھتا ہے کہ شاید پچیس کروڑ پاکستانیوں کو یہ سہولت مل گئی۔ ایسی خبروں کے بعد مجھے اکثر دوستوں کے پیغامات ملتے ہیں کہ کہاں کہاں وہ بغیر ویزے کے جا سکتے ہیں۔ دراصل یہ سہولت صرف اُن پاکستانیوں کو حاصل ہوتی ہے جن کے پاس سرکاری یا سفارتی پاسپورٹس ہوتے ہیں۔ اس وقت دنیا کے تقریباً چالیس سے پچاس ملکوں کے ساتھ پاکستان کے ویزا فری انٹری کے معاہدے ہیں‘ جن کی نوعیت مختلف ہے لیکن یہ طے ہے کہ یہ سہولت صرف سرکاری اور سفارتی پاسپورٹ پر ہے۔ اندازہ کریں کہ جن پچاس ملکوں میں جانے کے لیے آپ کو بے شمار شرائط پوری کرنا پڑتی ہیں اور اکثر ویزا کے بجائے انکار ملتا ہے‘ وہاں ان اراکین اور ان کے خاندان کے افراد کو ایئرپورٹ پر اترتے ہی ویزا مل جائے گا۔ اس سے بڑھ کر‘ جب آپ سبز رنگ کے بجائے سرخ یا بلیو پاسپورٹ پکڑے جہاز پر سوار ہوتے یا کسی ملکی یا غیر ملکی ایئرپورٹ پر اترتے ہیں تو آپ کی ٹور ہی کچھ اور ہوتی ہے۔ پھر کوئی آپ کو مشکوک نظروں سے نہیں دیکھتا کہ اس کے ہاتھ میں عام پاسپورٹ ہے‘ اسے چیک تو کریں کہیں کوئی گڑبڑ تو نہیں۔ ایئرپورٹس پر قانون نافذ کرنے والے اداروں یا نگرانی کرنے والوں کی پاکستان کے سبز پاسپورٹ سے اچھی شناسائی ہے۔ ہمارے سرخ اور بلیو پاسپورٹ کا علم نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہی وہ محرک ہے جس کی وجہ سے ارکانِ اسمبلی اب تاحیات سفارتی پاسپورٹ چاہتے ہیں‘ اور صرف اپنے لیے نہیں بلکہ اگر ایک ایم این اے یا ایم پی اے کے دس پندرہ بچے ہیں (کچھ کے ہیں بھی)‘ تو ان سب کو بھی سفارتی پاسپورٹ ملے گا۔اندازہ کریں کہ جن پچیس کروڑ سبز پاسپورٹ والوں سے ووٹ لے کر یہ گیارہ سو ارکان پارلیمنٹ میں پہنچتے ہیں‘ ایوان میں پہنچتے ہی وہ پہلا کام یہ کرتے ہیں کہ اپنے پاسپورٹ کا رنگ باقیوں سے علیحدہ کرا لیں‘ کہیں سے نہ لگے کہ ہم ان جیسے پاکستانی ہیں۔ یعنی دوسرے الفاظ میں وہ عام لوگوں سے کہنا چاہتے ہیں: ساڈے نیڑے نہ لگنا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>شناختوں کا جھگڑا(رسول بخش رئیس)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-07-10/52268/72263174</link><pubDate>Fri, 10 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-07-10/52268/72263174</guid><description>یہ ایسا معاملہ ہے جو تاریخ میں کبھی ختم ہوا ہے اور نہ ہو گا۔ اس لیے کچھ غالب گروہ ہر معاشرے میں دوسروں کی شناخت کو مٹا کر اپنی من پسند کو ان کے سر تھوپنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ گزشتہ ہفتے کئی درجن بڑے اور چھوٹے وفاقی وزیروں‘ مشیروں اور خصوصی معاونین کی فوج ظفر موج کے ایک اہم وزیر صاحب نے جوشِ حب الوطنی میں سرشار ہو کر فرمایا کہ پورے ملک کی صرف ایک ہی شناخت ہو۔ خواہشوں‘ خوابوں اور ایسے فرموداتِ عالیہ پر کوئی پابندی نہیں مگر ایک ملک‘ ایک قوم‘ ایک ریاست اور ایک شناخت کا تصور کسی وزارت کا زور لے کر تو پیدا نہیں کیے جا سکتے۔ ہم ایک ملک‘ قوم اور ریاست ہیں لیکن سماجی طور پر ہم مختلف شناختیں رکھتے ہیں۔ یہ شناختیں کبھی متصام تھیں نہ اب ہیں۔ شناخت کو ایک پیاز کی صورت میں دیکھ سکتے ہیں۔ اسے چھیلیں تو تہ در تہ اس کے رنگ نکلیں گے جو ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں۔ ہمارے اس تاریخی خطے کی‘ جہاں اب ہمارا ملک ہے‘ ہزاروں سال کی طویل تاریخ ہے۔ یہاں کئی مذاہب‘ کئی تہذیبیں‘ کئی سلطنتیں‘ کئی زبانیں اور رسم و رواج آبادیوں‘ شہروں اور دیہات کی زندگیوں کا حصہ رہے ہیں۔ کاش ہم مصر‘ ایران‘ یونان اور دیگر ریاستوں کی طرح اپنی قومی شناخت کے بیانیے کی بنیاد وادیٔ سندھ کی تہذیبوں پر رکھتے۔ انہیں ہم قوسِ قزح کے رنگ خیال کرکے اپنی ثقافتی رنگا رنگی پر فخر کرتے تو واحد شناخت تلاش کرنے کی سعی لاحاصل سے خلاصی حاصل کر سکتے تھے۔ کئی ایسے دوست اور احباب ہیں‘ اور ہوں گے جو اس نقطۂ نظر سے اختلاف کریں گے مگر اب دنیا میں کوئی بھی ایسا ملک نہیں جہاں ہم کہہ سکیں کہ ثقافتیں اور شناختیں مختلف زبانوں‘ رنگ و نسل اور قومیتی پس منظر سے جڑی ہوئی نہ ہوں۔ امریکہ بھی ہماری طرح ایک قوم ہے مگر وہاں ایسے میلے بھی اس درویش نے دیکھے ہیں جنہیں وہ اُس مخصوص علاقے کی قوم کے نام سے یاد کرتے ہیں۔شناختی عمل نہ کبھی منجمد اور ساکت ہوتا ہے اور نہ ہی اس کی کوئی ایک سمت ہوتی ہے۔ مادی حالات‘ شہری آبادیوں کے پھیلاؤ اور صنعتی ترقی کے ساتھ یہ تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ یعنی یہ ایک متحرک عمل ہے جو تاریخی طور پر بنتا اور بگڑتا‘ اور تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ اپنے ملک کی تاریخ میں ان حالات کے پیشِ نظر اور تحریک پاکستان کے نظریے کی روشنی میں اوائل کے برسوں میں کچھ ثقافتی دانشوروں نے علاقائی زبانوں اور ان کے ساتھ وابستہ ثقافتی رنگوں کو کناروں پر رکھنے اور قومی زبان اور اس کے ساتھ منسلک شناختی رجحان کو مختلف ذرائع سے پروان چڑھانے کی کوشش کی۔ ضرورت تو یہ تھی کہ ثقافتوں اور زبانوں کے قیمتی خزانے اور ان کے تاریخی ورثے کو پرانے اور نئے تہذیبی رنگ میں سمونے کی کوشش کی جاتی۔ مزید کچھ کہہ نہیں سکتے کہ مقصد ان پرانی بحثوں اوردقیانوسی خیالات کو ابھارنا نہیں بلکہ شناخت کو انفرادی‘ گروہی اور اجتماعی آزادیوں کے نام پر آزاد چھوڑنے کی درخواست ہے۔ اسی آزادی یا آزادیوں سے قومی شناخت کی تشکیل ایک بتدریج فطری عمل سے طے پاتی ہے۔ ایک واقعہ نہیں‘ کئی واقعات ہیں جب لوگوں نے کہا کہ آخر ہم کیوں ایک قوم نہیں بن سکے‘ اور یہ کہ ہماری کوئی قومی شناخت کیوں نہیں۔ یہ سوال بازاروں اور تھڑوں پر تو اٹھائے گئے مگر ایک دفعہ حیرانی اس بات پر ہوئی جب ایک صحافی نے اپنے شو میں میرے لیے سب سے بڑا سوال یہ اٹھایا۔ میرے نزدیک یہ سوال غیر متعلق اور لایعنی ہے۔ آخر کیوں ہمارے وزیر باتدبیر کی طرح لوگ یہ فرض کر لیتے ہیں کہ ہماری کوئی قومی شناخت نہیں‘ اور ہم ایک قوم نہیں۔ انہیں ہم داخلی یا موضوعی مسائل کہتے ہیں۔ حقیقت کی معروضی زندگی سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔ جس طرح ایک آدمی کہتا ہے کہ ہم ایک قوم نہیں‘ دوسرا بھی کہہ سکتا ہے کہ ہم ایک قوم ہیں۔ ان معاملات کو حقائق کی روشنی میں کبھی بھی حل نہیں کر سکتے۔ اس لیے ہماری گزارش ہے کہ ایسی بحثوں اور لڑائیوں میں پڑنے کی ضرورت ہی نہیں۔ یہ نظری مباحث ہیں جو بالا خانوں میں ہی اچھے لگتے ہیں۔دوسرا بڑا سوال یہ آتا ہے کہ اگر ہم ایک قوم ہیں تو پھر زبانیں مختلف کیوں بولتے ہیں؟ یہ سوال تھا جو آزادی کے ساتھ ‘ شروع کے برسوں میں ابھرا تھا۔ جواب سادہ اور مختصر تھا کہ ہم پرانی تہذیبوں اور ثقافتوں کے وارث ہیں اور اب ایک نئی ریاستی شکل میں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ایک زبان کا مسئلہ بھی اس دور کی روح اور یورپی ریاستوں کی تاریخی ترویج کے حوالے سے غیر اہم نہیں تھا۔ کئی چیزیں ایسی ہیں جو ریاستیں خاموشی سے تعلیم‘ ثقافتی پالیسی اور معاشی عمل کے ذریعے قومی ہم آہنگی بڑھانے کیلئے کرتی ہیں۔ وہ ہماری ریاست ضرورت سے کہیں زیادہ کرتی آئی ہے۔ غلط یا صحیح‘ یہ آپ پر منحصر ہے مگر اردو زبان آج عملی‘ فکری اور ثقافتی طور پر قومی زبان کے طور پر قبول کی جا چکی ہے۔ پنجاب میں تو اب اسے کچھ لوگ مادری زبان بھی کہتے ہیں۔ میرا مؤقف البتہ کچھ مختلف ہے۔ قومی زبان کے ساتھ علاقائی زبانوں اور ثقافتوں کو بھی ترقی نہیں تو سانس لینے کی اجازت تو ملنی چاہیے۔ہماری علاقائی زبانیں کچھ تو پہاڑی سلسلوں کی دھند میں معدوم ہو رہی ہیں تو دوسروں کو اپنے بولنے والوں کی تعداد کم سے کم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ پنجابی زبان کو سب سے زیادہ خطرہ لاحق ہے‘ اور یہ کسی اور نہیں پڑھے لکھے پنجابیوں کے درمیانی طبقے کی طرف سے ہے جو بچوں کے ساتھ اپنی زبان میں بات کرنا تقریباً ترک کر چکے ہیں۔ بلکہ اگر بچے گلی محلے سے پنجابی کے کچھ الفاظ سیکھ کر بولیں بھی تو انہیں ٹوکتے ہیں۔ یہ سب کچھ تھوڑی بہت تحقیق کی بنیاد پر کہہ رہا ہوں۔ مشرقی پنجاب والوں نے بھی پنجابی کے ساتھ وہی سلوک کیا ہے جو ہمارے اپنے پنجاب میں بڑھتا ہوا رجحان ہے۔ وہاں بچوں کے ساتھ وہ ہندی زبان میں بات کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہ طویل دکھ بھری داستان ہے کہ آخر ایسا کیوں ہے‘ اور اس کا اس مضمون میں احاطہ کرنا ناممکن ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ شناخت کا مسئلہ اب تک سیاسی حقوق‘ وسائل تک رسائی اور طاقت میں حصہ داری کیلئے کئی شناختی تحریکوں کی صورت ہمارے سامنے ہے۔ پرانے نظریات دم توڑ چکے ہیں‘ مسائل کی سیاست کا وجود ہی نہیں رہا‘ اور نہ کبھی تھا۔ فقط سیاسی‘ ثقافتی اور سیاسی طور پر متحرک لوگ مقامی زبان اور ثقافت کی انفرادیت پر زور دے کر مظلومیت کے خیمے میں مورچہ بند ہورہے ہیں۔ پنجاب میں سرائیکی‘ کے پی میں ہزارہ‘ کراچی میں مہاجر اور بلوچستان میں بلوچ ایک عرصہ سے جداگانہ ثقافت اور زبان کو قومیت پرستی کی علامت کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔ یہ ان کا حق ہے کہ جو شناخت وہ اپنے لیے منتخب کریں‘ اس میں ان سے جھگڑا کرنے کی ضرورت نہیں۔ ہم تہذیبی اور تاریخی طور پر ایک کثیر ثقافتی اورکثیر لسانی ملک ہیں۔ باقی اگلی نسلوں میں ہم کیا ہوں گے‘ اور کیا بنیں گے‘ یہ ان پر چھوڑ دیں۔ تاریخ کا دھارا انہیں خود مشترکہ مفاد کی بنیاد پر جوڑ دے گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_33241568.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ایران اور امریکہ میں دوبارہ جھڑپیں(ڈاکٹر رشید احمد خاں)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr-rasheed-ahmad-khan/2026-07-10/52269/92596500</link><pubDate>Fri, 10 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr-rasheed-ahmad-khan/2026-07-10/52269/92596500</guid><description>18 جون کو جب ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدے کے فریم ورک (ایم او یو) پر دونوں ملکوں کے سربراہان اور ثالثوں کے دستخط ہوئے تو اسی وقت اس پر عمل درآمد کے بارے میں تحفظات کا اظہار کیا جا رہا تھا کیونکہ یہ فریم ورک کئی لحاظ سے نامکمل اور خامیوں سے بھرا پڑا تھا۔ سب سے اہم خرابی یہ تھی کہ اس فریم ورک معاہدے میں اسرائیل کو شامل نہیں کیا گیا تھا۔ اس نے نہ صرف اسے مسترد کر دیا بلکہ لبنان اور غزہ میں وہ جارحیت کا مسلسل ارتکاب کر رہا تھا۔ اس کے باوجود امید تھی کہ مشکلات کے باوجود فریم ورک کو ایک حتمی معاہدے میں تبدیل کرنے کیلئے مذاکرات کا سلسلہ جاری رہے گا۔ لیکن گزشتہ دنوں فریم ورک کی دفعات کے بالکل برعکس امریکہ کی طرف سے ایران کی عسکری تنصیبات پر جو بمباری کی گئی ہے‘ اس نے اس فریم ورک معاہدے کے مستقبل کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔تازہ ترین حملوں میں امریکہ کی سینٹرل کمانڈ کے مطابق امریکہ نے ایران کے 80 سے زائد فوجی ٹھکانوں اور اہم تزویراتی مقامات کو نشانہ بنایا۔ برطانوی اخبار &#39;گارجین‘ کے مطابق 18 جون کے بعد امریکہ کی طرف سے جنگ بندی کی جو خلاف ورزیاں ہوئیں‘ ان میں آٹھ اور نو جولائی کو کی جانے والی خلاف ورزی شدید ترین تھی اور امریکہ نے اپنے حملوں کو صرف آبنائے ہرمز کے ساتھ ایرانی ساحل پر موجود فوجی تنصیبات تک محدود نہیں رکھا بلکہ اس بار امریکہ کی بمباری کا دائرہ بہت وسیع تھا۔ اس دفعہ امریکہ نے ایران کی بندرگاہ بندر عباس کے علاوہ چابہار اور بوشہر کو بھی نشانہ بنایا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے اپنے بیان کے مطابق نوجولائی کو پو پھٹنے سے پہلے امریکی بمباری میں جن فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ان میں ایران کا ایئر ڈیفنس سسٹم‘ کمانڈ اینڈ کنٹرول نیٹ ورک‘ ساحل پر نصب ریڈار‘ بحری جہازوں کو نشانہ بنانے والے میزائل اڈے اور ایران کے انقلابی گارڈز کے استعمال میں آنے والی ساٹھ سے زیادہ کشتیاں بھی شامل ہیں۔ ایرانی ذرائع کے مطابق امریکہ کے تازہ ترین حملوں میں ایران کے آٹھ فوجی شہید ہوئے۔ اس کے علاوہ سینٹرل کمانڈ کے اعلان میں ایران کے شمالی علاقوں میں ایک ریلوے پل کو بھی تباہ کیا گیا ہے۔صدر ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ایران کے کسی حملے کے جواب میں امریکہ 20 گنا تباہ کن حملہ کرے گا۔ جمعرات کو شدید اور وسیع حملے صدر ٹرمپ کی اس دھمکی کو عملی جامہ پہنانے کیلئے کیے گئے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان بداعتمادی کی ایک وسیع خلیج پہلے ہی حائل تھی۔ آبنائے ہرمز میں جہازرانی کے مسئلے پر لڑائی نے دونوں ملکوں کے درمیان پائیدار امن کے قیام کے امکانات کو بہت کم کر دیا ہے۔ اگرچہ ایران اور امریکہ دونوں میں سے کسی نے بھی مذاکراتی عمل سے علیحدگی کا اعلان نہیں کیا لیکن آبنائے ہرمز کے علاوہ فریم ورک معاہدے کی دیگر خلاف ورزیوں کی موجودگی میں مذاکراتی عمل بار بار تعطل کا شکار ہوتا رہے گا۔ اس سے حتمی معاہدے کی جانب پیشرفت کی رفتار اور بھی سست ہو جائے گی جبکہ صدر ٹرمپ مزید انتظار نہیں کر سکتے کیونکہ نومبر میں کانگریس کے مڈٹرم انتخابات کے موقع پر وہ اپنی کامیابی کا مظاہرہ کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن اب لگ بھگ پورے یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ یہ مقصد 60دن کی مقررہ مدت میں پورا نہیں ہو سکتا۔صدر ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کے ذریعے کمرشل جہازوں اور تیل بردار ٹینکروں کی آزادانہ آمدورفت کے راستے میں رکاوٹ ڈال رہا ہے اور مسقط اور عمان کی سمندری حدود میں سے گزرنے پر ایران اب تک پانچ بحری جہازوں اور آئل ٹینکروں کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنا چکا ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ ایم او یو‘ جس پر صدر ٹرمپ نے بھی دستخط کیے ہیں‘ نے 18جون کے بعد 60 دنوں کیلئے آبنائے ہرمز میں سے بحفاظت کمرشل بحری جہازوں اور آئل ٹینکروں کو گزرنے کی ذمہ داری ایران کو سونپ رکھی ہے اور اس ذمہ داری میں بحری بارودی سرنگوں اور دیگر رکاوٹوں کو صاف کرنا بھی شامل ہے۔ اس شق کے مطابق ایران نے جہازوں کی آمدورفت کیلئے اپنے علاقائی سمندری حدود میں سے ایک راستہ متعین کر رکھا ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ اس راستے کو چھوڑ کر دوسرے متبادل راستے سے جہازوں کا گزرنا ایم او یو کی خلاف ورزی ہے اور ایران کو ایسے جہازوں کے خلاف کارروائی کرنے کا حق حاصل ہے۔ لیکن آبنائے ہرمز کے علاوہ ایران کو امریکہ سے ایم او یو کی خلاف ورزیوں کی اور بھی شکایتیں ہیں۔ مثلاً ایم او یو کے مطابق جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہے جن میں لبنان بھی شامل ہے لیکن اسرائیل کے حزب اللہ کے ٹھکانوں پر حملے جاری ہیں۔ تہران کا الزام ہے کہ واشنگٹن ایم او یو کی واضح شقوں کے باوجود اسرائیل کے حملوں کو روکنے میں ناکام رہا ہے۔ ایم او یو کے مطابق جنگ بندی کے بعد فریقین نہ صرف ایک دوسرے پر حملہ نہیں کریں گے بلکہ طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی سے بھی اجتناب کریں گے مگر 18جون کے بعد صدر ٹرمپ ایران کو مقررہ مدت (60 دن) کے اندر &#39;&#39;ڈیل‘‘ کرنے میں ناکامی پر سنگین نتائج اور پہلے سے کہیں زیادہ حملوں کی دھمکیاں دیتے چلے آ رہے ہیں۔ ایران نے اس پر امریکہ سے متعدد بار احتجاج بھی کیا ہے اور متنبہ کیا کہ ایران دھمکیوں اور خوف و ہراس کی فضا میں مذاکرات جاری نہیں رکھ سکتا۔ایم او یو کی ایک شق یہ بھی ہے کہ اس پر دستخط ہوتے ہی امریکہ ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کر دے گا‘ اپنے بحری جنگی جہاز ایران کے قریب پانیوں سے دور ہٹا لے گا اور 60 دنوں کی مدت کے دوران مشرقِ وسطیٰ اور اس کے قرب و جوار میں فوجی قوت میں اضافہ بھی نہیں کرے گا۔ مگر امریکہ کی طرف سے حال ہی میں اپنے ایک بحری بیڑے میں دو ہزار میرینز کا اضافہ کیا گیا ہے۔ ایم او یو  کے مطابق اس کے نافذ العمل ہوتے ہی ایران کے منجمد اثاثوں اور ڈالرز کی رقوم کا مسئلہ جلدی حل کیا جائے گا‘ لیکن امریکہ کی طرف سے ایران کے منجمد اثاثوں اور ضبط شدہ رقوم کی ایران کو واپسی پر لیت و لعل سے کام لیا جا رہا ہے۔ ایران کے مطابق امریکہ نے ایم او یو کی دفعات کے باوجود ایران پر سے تجارتی پابندیاں ختم نہیں کیں بلکہ ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے قطری اور سعودی ٹینکروں پر حملوں کے بعد امریکہ نے ایران کے تیل کو بین الاقوامی منڈی میں فروخت کرنے پر پابندی لگا دی ہے۔اس سے خلیج فارس کی صورتحال‘ جو پہلے ہی تشویشناک تھی‘ شدید خطرناک صورت اختیار کر گئی ہے اور خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ 18جون کو طے پانے والا معاہدہ کہیں ناکام نہ ہو جائے۔ اسی خدشے کو مزید تقویت اس امر سے پہنچتی ہے کہ اسے ناکام بنانے والے عناصر دونوں جانب موجود ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم تو اس فریم ورک معاہدے کو ناکام بنانے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہاہے‘ امریکہ میں صدر ٹرمپ کی اپنی ریپبلکن پارٹی کے بعض بااثر ارکان اس کے خلاف ہیں۔ ایران میں بھی سخت گیر حلقے ایم او یو کے مخالف ہیں‘ حالانکہ ایران امریکہ کے مابین طے پا نے والے ایم او یو کو وسیع پیمانے پر بین الاقوامی پذیرائی حاصل ہوئی ہے اور اس کو خوش آمدید کہنے والوں میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس‘ روس اور چین کے صدور‘ یورپی یونین‘ مشرقِ وسطیٰ اور خلیج فارس کے تمام ممالک شامل ہیں۔ اس کے باوجود اگر یہ تاریخی فریم ورک معاہدہ‘ جس کے بارے میں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا تھا کہ اس پر عمل کرنا مشکل تو ضرور ہے مگر ناممکن نہیں‘ ناکام ہو جائے تو بڑی بدقسمتی ہو گی۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90264263.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کیا پاک بھارت جنگ ٹل گئی؟ … (2)(سعود عثمانی )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-07-10/52270/56066775</link><pubDate>Fri, 10 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-07-10/52270/56066775</guid><description>بھارت کے ایک بڑی معیشت ہونے میں کوئی شک نہیں۔ اس کا جغرافیہ‘ آبادی اور معاشی وسائل اسے بڑا ملک بناتے ہیں۔ اس لیے مئی 2025ء کی پاک بھارت جنگ نے بھارت پر جو معاشی دباؤ ڈالا‘ اس سے معیشت پر زیادہ اثر تو نہیں پڑا لیکن ایئر لائنز پر معاشی دباؤ‘ سرمایہ کاروں کا خوف‘ سٹاک مارکیٹ میں ہلچل وغیرہ بہرحال ایسے عوامل تھے جن سے معلوم ہوتا تھا کہ اگر یہ جنگ زیادہ طویل ہوئی تو متعدد اقتصادی معاملات بہت گمبھیر ہو جائیں گے۔ سب سے اہم فضائی سفر کے مسائل تھے۔ اپریل 2025ء میں پہلگام حملے کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی کے تناظر میں دونوں ملکوں کی وفضائی حدود ایک دوسرے کے رجسٹرڈ‘ آپریٹڈ اور لیز پر لیے گئے طیاروں کیلئے بند کر دی گئیں۔ بعد ازاں متعدد مرتبہ نوٹم جاری کرکے اس پابندی میں توسیع کی جاتی رہی۔ اس اقدام نے سب سے زیادہ اثر بھارت کی بین الاقوامی فضائی کمپنیوں خصوصاً ایئر انڈیا اور انڈیگو پر ڈالا کیونکہ ان کی یورپ‘ شمالی امریکہ اور وسطی ایشیا جانے والی پروازیں برسوں سے پاکستانی فضائی حدود استعمال کرتی آ رہی تھیں۔ پاکستانی فضائی حدود بند ہونے کے بعد دہلی‘ ممبئی اور امرتسر سے یورپ اور شمالی امریکہ جانے والی پروازوں کو بحیرۂ عرب‘ خلیجی ممالک یا وسطی ایشیا کے طویل راستے اختیار کرنا پڑے۔ اس سے کئی پروازوں کے دورانیے میں ایک سے تین گھنٹے تک کا اضافہ ہوا۔ کچھ انتہائی طویل روٹس پر ایئر انڈیا کو ویانا یا کوپن ہیگن جیسے ہوائی اڈوں پر ایندھن بھرنے کے لیے رکنا پڑا‘ جس سے سفر مزید طویل اور مہنگا ہو گیا۔ لمبے سفر نے صرف کمپنیوں کے اخراجات ہی نہیں بڑھائے بلکہ مسافروں کو بھی متاثر کیا۔ زیادہ سفر کا مطلب ٹکٹوں کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ‘ کنکشن فلائٹس چھوٹ جانے کا خطرہ‘ عملے کے اوقاتِ کار میں اضافہ‘ جہازوں کی روزانہ دستیابی میں کمی کیونکہ ایک جہاز اب پہلے کی نسبت کم چکر لگا سکتا ہے۔ اس بحران کے دوران بھارت کے شمالی اور مغربی حصوں کے متعدد ہوائی اڈے عارضی طور پر بند کیے گئے‘ سینکڑوں پروازیں منسوخ ہوئیں اور ہزاروں مسافروں کے سفری منصوبے متاثر ہوئے۔ اگرچہ یہ اثرات مستقل نہیں تھے لیکن انہوں نے یہ واضح کر دیا کہ جدید معیشت میں فضائی رابطوں کی اہمیت کتنی زیادہ ہے۔ مزید کئی ضمنی اثرات تھے۔ سب سے زیادہ نقصان ایئر انڈیا کو ہوا۔ بھارت کی قومی فضائی کمپنی ایئر انڈیا نے بھارتی وزارتِ شہری ہوا بازی کو لکھے گئے ایک خط میں اندازہ لگایا کہ اگر پاکستانی فضائی حدود ایک سال تک بند رہیں تو کمپنی کو تقریباً 50 ارب بھارتی روپے (591 ملین امریکی ڈالر) کا اضافی مالی بوجھ برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس میں اضافی ایندھن‘ پرواز کا اضافی وقت‘ اضافی عملہ‘ جہازوں کی دیکھ بھال اور آپریشنل اخراجات شامل تھے۔ کمپنی نے حکومت سے مالی معاونت یا سبسڈی کی بھی درخواست کی۔ اس کی تفصیلات بین الاقوامی میڈیا نے بھی رپورٹ میں شائع کیں۔ ایئر انڈیا کے چیف ایگزیکٹونے جون 2025ء میں کہا تھا کہ اگر فضائی پابندی طویل عرصہ برقرار رہی تو اس کے مالی اثرات انتہائی نمایاں ہوں گے کیونکہ ایئر انڈیا کے زیادہ تر طویل فاصلے کے روٹس اسی فضائی راستے سے گزرتے ہیں۔ یہ عوامل بھارتی فضائی صنعت پر منفی اثرات ڈالتے رہے۔ یہ دباؤ بہت زیادہ تھا‘ چنانچہ بھارتی حکومت نے وزارتِ شہری ہوا بازی کو ہدایت دی کہ فضائی کمپنیوں کے نقصانات کا جائزہ لیا جائے۔ سرکاری سطح پر مختلف تجاویز زیر غور آئیں‘ تاہم کوئی فوری حل سامنے نہیں آیا۔فضائی حدود کی بندش کے اثرات صرف ایئر لائنز تک محدود نہیں رہے۔ طویل فضائی راستوں کی وجہ سے ایندھن کی کھپت‘ جہازوں کی دیکھ بھال‘ انشورنس‘ عملے کے اضافی اخراجات اور شیڈول میں تاخیر نے بھارتی فضائی شعبے کے مجموعی اخراجات میں اضافہ کیا۔ اس کا اثر سیاحت‘ کاروباری سفر اور بین الاقوامی تجارت پر بھی پڑا کیونکہ یورپ اور شمالی امریکہ کے ساتھ فضائی روابط نسبتاً مہنگے اور کم مؤثر ہو گئے۔ صرف ایئر انڈیا ہی نہیں بلکہ دیگر بھارتی فضائی کمپنیوں کو بھی اپنے روٹس تبدیل کرنا پڑے۔ وسطی ایشیا جانے والی بعض پروازوں کے دورانیے میں تین گھنٹے یا اس سے زیادہ اضافہ ہوا جبکہ شمالی امریکہ جانے والی کئی پروازوں کو ایندھن بھرنے کے لیے یورپی ہوائی اڈوں پر رکنا پڑا۔ اس سے جہازوں کی دستیابی کم ہوئی اور آپریشنل منصوبہ بندی مزید پیچیدہ ہو گئی۔ بھارتی حکومت کے سامنے ایک اہم سوال یہ تھا کہ آیا نجی اور سرکاری فضائی کمپنیوں کو مالی امداد دی جائے یا نہیں۔ ایئر انڈیا نے وزارتِ شہری ہوا بازی کو باضابطہ طور پر تجویز دی کہ اگر فضائی بندش جاری رہتی ہے تو حکومت سبسڈی یا کسی مالی معاونت کا نظام وضع کرے۔ بھارت پر اس جنگی صورتحال کا یہ تنہا معاشی دباؤ نہیں تھا۔ بھارت کی معیشت دنیا کی بڑی معیشتوں میں شمار ہوتی آئی ہے اور نئی دہلی کی اولین ترجیح معاشی ترقی‘ غیر ملکی سرمایہ کاری‘ سیمی کنڈکٹر صنعت‘ مینوفیکچرنگ اور عالمی سپلائی چین میں اپنا کردار بڑھانا ہے۔ بھارتی حکومت جانتی ہے کہ ایک طویل جنگ اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری‘ مالیاتی منڈیوں اور برآمدات پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔ جنگ کا ماحول سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل کرتا ہے‘ فضائی آمدو رفت اور تجارت کو متاثر کرتا اور مالیاتی منڈیوں میں بے یقینی پیدا کرتا ہے۔ ایران امریکہ جنگ سے بھارتی سٹاک مارکیٹ میں اتار چڑھائو اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ سرمایہ کار کشیدگی میں کمی کو معاشی استحکام کے لیے ضروری سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اگرچہ بھارت جنگی ماحول برقرار رکھے ہوئے ہے لیکن مکمل جنگ اس کی معاشی حکمت عملی سے مطابقت نہیں رکھتی۔ میں تو سمجھتا ہوں کہ مکمل جنگ بھارت کی حکمت عملی تھی بھی نہیں۔ وہ ایک ایسی جھڑپ یا محدود جنگ چاہتا تھا جس میں بھارت کو غالب دکھایا جا سکے‘ انتخابی فائدے حاصل کیے جا سکیں‘ دنیا کو بھارت کی طاقت دکھائی جا سکے اور معاشی بحران میں مبتلا ہوئے پاکستان کو خوفزدہ کیا جا سکے۔ مئی 2025ء کی جنگ کے یہی مقاصد تھے۔ لیکن انتخابی فائدوں کے سوا ان مقاصد میں بھارت کو بہت بری طرح ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا‘ بلکہ بہت سی جگہوں سے اس کا بھرم چاک ہو گیا ہے اور یہ جنگ بھارت کے لیے بہت نقصان دہ ثابت ہوئی۔یہ سوال بہرحال اب بھی باقی ہے کہ کیا ایک بڑی اور مکمل پاک بھارت جنگ کا خطرہ ختم ہو چکا؟ میرے خیال میں ایک بڑی جنگ کا خطرہ 1998ء میں اسی وقت ختم ہو گیا تھا جب پاکستان ایٹمی طاقت بنا تھا۔ ایٹمی طاقت ہی دشمن کو جارحیت سے روکنے کا سب سے بڑا سبب ہے۔ ایٹمی طاقت نہ ہو تو پھر ملکوں کا حال عراق‘ شام‘  لیبیا اور لبنان جیسا ہو جاتا ہے۔ پاکستان غزہ نہیں ہے کہ دنیا اس کی تباہی کا تماشا دیکھتی رہے۔ تین بڑی عالمی طاقتوں میں سے دو یعنی روس اور چین اسی خطے میں ہیں اور وہ کبھی نہیں چاہیں گے کہ پاک بھارت جنگ جوہری خطرے کی لکیر تک پہنچے۔ یقینا پاکستان اور بھارت بھی کبھی نہیں چاہیں گے کہ اس لکیر تک کشیدگی بڑھے۔ لیکن اس کے نیچے جھڑپیں اور داؤ پیچ چلتے رہیں گے۔ پانی پر جنگ کا خطرہ مئی 2025ء کے بعد سے زیادہ بڑھ گیا ہے۔ میرا خیال ہے کہ بھارت زبانی بیانات اور دھمکیوں سے زیادہ کوئی عملی اقدام نہیں کرے گا لیکن اگر ایسا ہوا تو دونوں ملک دوبارہ جنگ کی دہلیز پر کھڑے ہوں گے۔ اسی طرح ایک مضبوط معاشی طاقت والا پاکستان بھارت کیلئے ایک بڑا خطرہ ہو گا‘ وہ ہر قیمت پر اسے روکنے کی کوششیں کرے گا‘ جو اس وقت بھی جاری ہیں۔ مکمل جنگ کا خطرہ بہت کم ہے لیکن جو خطرات ختم نہیں ہوئے ان میں کشمیر میں کوئی بڑا حملہ‘ لائن آف کنٹرول پر شدید جھڑپیں‘ آبی خصوصاً سندھ طاس معاہدے کا تنازع‘ بھارت میں اندرونی سیاسی دباؤ کے باعث سخت گیر قومی مؤقف جیسے خطرات بدستور موجود ہیں۔ اگر اس میں غلط عسکری اندازے بھی شامل ہو جائیں تو ایک محدود اور وقتی جنگ دوبارہ چھڑ سکتی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_81278520.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کہاں آن پھنسے ہیں؟(آصف عفان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/asif-afan-/2026-07-10/52271/97689035</link><pubDate>Fri, 10 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/asif-afan-/2026-07-10/52271/97689035</guid><description>عیش و آرام اور ٹھاٹ باٹ کے شاہانہ شب و روز سکون کے بجائے بے چینی کا باعث بننے لگے اور محل کا ماحول بھی مصنوعی محسوس ہوا تو طبیعت اکثر بوجھل رہنے لگی۔ دل گھبرایا تو ایک دن شہزادے نے گاڑی تیار کرنے کا حکم دیا اور بیٹھتے ہی رتھ بان سے کہا کہ شہر کی طرف چلو۔ شہزادے پر راج محل سے قدم باہر نکالنے پر صریحاً پابندی کے باوجود رتھ بان انکار کی جرأت نہ کر سکا۔ شہر پہنچے تو بازار میں ایک انتہائی ضعیف بوڑھا نظر آیا جس کی کمر جھکی ہوئی تھی‘ بال سفید اور جسم ہڈیوں کا ڈھانچہ بن کر رہ گیا تھا۔ دو قدم چلنا بھی محال تھا۔ کچھ آگے بڑھا تو ایک بیمار دکھائی دیا جو شاید کوڑھ کے مرض میں مبتلا تھا‘ اس کی قابلِ رحم اور تکلیف دہ حالت نے شہزادے کے ہوش اڑا دیے۔ سواری آگے بڑھی تو ایک مجمع کے آگے چار آدمی ایک میت کاندھوں پر اٹھائے لے جا رہے تھے۔ مجمع میں شریک سبھی سوگوار تھے اور بیشتر زار و قطار رو رہے تھے۔ شہزادے نے دریافت کیا کہ کاندھے پر لادے کپڑے سے ڈھکا‘ یہ کیا لیے جا رہے ہیں اور یہ سب باجماعت کیوں رو رہے ہیں؟ رتھ بان نے عرض کیا حضور! کوئی مر گیا ہے‘ اس کی لاش آخری رسومات کے لیے لے جا رہے ہیں اور رونے والے سب مرنے والے کے عزیز و اقارب اور اہلِ خانہ ہیں۔ شہزادے نے ابھی تک موت کا نام نہیں سنا تھا‘ متحیر ہو کر سوال کیا: یہ مرنا کیا ہوتا ہے‘ اور اس پر رونے کی کیا وجہ ہے؟ رتھ بان نے پھر عرض کیا کہ جناب جو پیدا ہوتا ہے اس نے ایک دن مرنا بھی ہوتا ہے۔ مرنے کے بعد غمزدہ اہلِ خانہ اور رشتہ دار اسے ہمیشہ کے لیے چھوڑ آتے ہیں اور مرنے والا اکیلا اُس جہان میں واپس چلا جاتا ہے جہاں سے وہ آیا تھا۔ شہزادے کے لیے سبھی مناظر پریشان کن تھے اور دل پر ضرب کی طرح لگے۔ بے اختیار سوچنے لگا کہ جب اس دنیا کو ایک دن چھوڑنا ہی ہے تو دنیا والوں سے محبت کرنا ہی بے کار ہے۔ اسی دوران ایک جوگی سامنے سے آتا دکھائی دیا جو عمررسیدہ ہونے کے باوجود چست تھا‘ آنکھوں سے بجلیاں کوندتی تھیں اور چہرہ پُرنور تھا۔ شہزادے نے سوال کیا کہ اس آدمی پر بیماری اور بڑھاپے کا اثر کیوں نہیں ہوتا؟ رتھ بان نے جواب دیا: حضور! یہ فقیر ہے‘ یہ ترکِ دنیا کر چکا ہے‘ لہٰذا اسے موت کا غم ہے نہ بیماری کا دکھ‘ یہ مرتے دم تک ایسے ہی خوش اور بے نیاز رہے گا۔ سواری آگے بڑھی تو ایک ندی نظر آئی‘ شہزادہ رتھ سے اترا‘ غسل کیا تو یہ خیال اس کے دماغ میں پختہ ہو چکا تھا کہ &#39;&#39;دنیا دکھوں کا گھر ہے‘‘۔ کئی گھنٹے خود کلامی اور غور و فکر میں مصروف رہا‘ دن ڈھلنے کو آیا تو واپسی کے لیے بوجھل اور اداس دل کے ساتھ سواری میں بیٹھا ہی تھا کہ راج محل سے قاصد بھاگا بھاگا آیا اور خوشخبری سنائی کہ فرزندِ ارجمند پیدا ہوا ہے۔ شہزادہ خود سے مخاطب ہوا &#39;&#39;یہ ایک نئی اور مضبوط زنجیر ہے جو مجھے توڑنا پڑے گی‘‘۔ جب محل کے قریب پہنچا تو ہر طرف مبارک سلامت کی دھوم تھی‘ جشن کا سماں تھا۔ ایک داسی نے مبارکباد کا گیت گایا تو دل پر پہلے سے چوٹ کھائے شہزادے نے اپنے گلے سے بیش قیمت موتیوں کا ہار اتار کر اس کے گلے میں ڈال دیا۔ شہزادے کی اس عنایت پر محل میں موجود سبھی ٹھٹک کر رہ گئے کہ اس پر اتنی نظرِ عنایت کیوں؟ مگر کون سوچ سکتا تھا کہ شہزادے کا گلے سے ہار اتارنا ترکِ دنیا کا اعلان تھا۔ رعایا نے خوشیاں منائیں‘ شہر میں چراغاں ہوا‘ راج محل میں رقص و سرود کی محفلیں منعقد ہوئیں۔ شہزادہ بھی بزمِ طرب میں شریک ہوا اور رات گئے تک گانا سنتا رہا۔ جب محفل برخاست ہوئی تو شہزادے نے سوچا کہ قلعے کے سبھی محافظ مست اور بے خبر ہیں‘ فرار ہونے کا اس سے بہتر موقع اور کیا ہو گا۔ رتھ بان کو بلایا اور سواری تیار کرنے کا حکم دیا اور دبے پاؤں بیوی کی خواب گاہ میں گیا تو دیکھا وہ اپنے نومولود بچے پر ہاتھ رکھے بے خبر سو رہی تھی۔ شہزادے نے اپنا گھر بار‘ بیوی بچہ اور سلطنت چھوڑ دی اور سچ کی تلاش میں جنگل کا رخ کر لیا۔ کئی برسوں کی سخت ریاضت اور گیان کے بعد وہ شہزادہ &#39;&#39;گوتم بدھ‘‘ کہلایا۔اس طویل تمہید کا مقصد گوتم بدھ کی کہانی سنانا ہرگز نہیں بلکہ یہ باور کرانا مقصود ہے کہ کوئی راج محل‘ عیش و عشرت‘ محبوب بیوی اور لختِ جگر کو چھوڑ کر محض اس لیے جنگل میں نکل جاتا ہے کہ وہ عوام کی پریشان حالی اور دکھوں کے مناظر کی تاب نہ لا سکا جبکہ ہمارے ہاں عوام کی خستہ حالی اور پریشاں حالات ہی حکمرانی کا اصل حسن ہیں۔ ووٹ کی سیاہی عوام کے بختوں پر اس طرح مَلی گئی ہے کہ سیاہ بختی مقدر بنتی چلی جا رہی ہے۔ حکمرانی کے روپ بہروپ سے لے کر دہرے قوانین اور معیار نے سبھی بھید بھاؤ سمیت دلوں کے کھوٹ کھول ڈالے ہیں۔ باریاں لگا کر حکمرانی کرنے والے عوام کو نسل در نسل ذلت‘ دھتکار اور پھٹکار سے دوچار کیے ہوئے ہیں۔ جوں جوں عوام کی حالت خستہ ہوتی چلی جا رہی ہے توں توں حکمران اشرافیہ کے دھن دولت اور مال و اسباب کے ڈھیر کوہِ ہمالیہ بنتے چلے جا رہے ہیں۔ کوئی لختِ جگر کی بے گور و کفن لاش تدفین کے لیے اٹھائے پھر رہا ہے تو کوئی اپنی بیوی اور بیٹی کے گٹر میں بہہ جانے کی دہائی دینے پر دَھر لیا جاتا ہے اور لاشوں کی گواہی کے بعد قید و بند اور چھترول سے خلاصی ہوتی ہے۔ وطن کی محبت میں آنے والا اوورسیز پاکستانی خاندان اپنی لختِ جگر ہانیہ کو منوں مٹی تلے دفنا کر عجیب کشمکش کا شکار ہے۔ بچ جانے والوں کو لے کر واپس آسٹریلیا چلے جائیں یا معصوم بیٹی کے جسم کو گولیوں سے چھلنی کرنے والے قانون کے رکھوالوں کو سزا دلانے کے لیے سسٹم کی بھول بھلیوں میں بھٹک جائیں۔ گوتم بدھ تو ایک بوڑھے‘ ایک بیمار اور ایک جنازہ کو دیکھ کر ہوش گنوا بیٹھے۔ ہمارے ہاں ماورائے عدالت مارے جانے والوں کی لاشوں کی انبار لگانے والے ہر سوال پر لاجواب ہیں۔ ابھی تو معصوم ہانیہ کے قاتلوں کو ایس او پیز اور قانونی تقاضوں کی ڈھال فراہم کرنے میں مصروف تھے کہ غیرملکی خواتین کے ساتھ ہونے والی بھیانک واردات نے مشکلات سے دوچار کر ڈالا ہے۔ گویا: کہاں آن پھنسے ہیں۔ نوجوان ڈار اپنے خاندان کے لیے سبکی اور جگ ہنسائی کا باعث بن چکا جبکہ دفاعی بیانیہ ساز بھی اس بار ناکام اور بے بس دکھائی دیتے ہیں۔ ایف آئی آر کا متن ملزمان کی تربیت کے سبھی پول کھول چکا لیکن دہرا معیار ملزمان کے لیے بدستور ڈھال بنا ہوا ہے۔ رسمی کارروائی کے لیے سی سی ڈی کو مراسلہ ارسال کیا گیا ہے کہ وہ مذکورہ کیس کی تفتیش کرنا پسند فرمائیں گے؟ اس کا جواب تاحال نامعلوم اور بدستور معمہ ہے۔ تعجب ہے! ماڑے ملزمان کے لیے نہ کوئی چٹھی‘ نہ کوئی مراسلہ‘ ادھر جرم کا ارتکاب ہوا اُدھر بندہ ہاف فرائی یا فُل فرائی لیکن قبیلۂ اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے ملزمان کی باری آئی تو محکمہ دائیں بائیں جھانکتا پھر رہا ہے۔ چٹھیاں لکھی جا رہی ہیں‘ رائے طلب کی جا رہی ہے۔ اگر یہی ایف آئی آر کسی ماڑے ملزم سے منسوب ہوتی تو اب تک اس کا قصہ تمام ہو چکا ہوتا۔ شاعر نے کہا تھا:ظلم بچے جَن رہا ہے کوچہ و بازار میں عدل کو بھی صاحبِ اولاد ہونا چاہیےدعا ہے کہ خدا سسٹم کا بانجھ پن دور فرمائے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_65560900.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سفارش اور شفاعت(امیر حمزہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ameer-hamza/2026-07-10/52272/73754807</link><pubDate>Fri, 10 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ameer-hamza/2026-07-10/52272/73754807</guid><description>اللہ کے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام جب عراق سے ہجرت کر کے فلسطین کی جانب چلے تو آپ علیہ السلام کے ہمراہ آپ کی زوجہ محترمہ حضرت سارہ اور بھتیجے حضرت لوط علیہ السلام بھی تھے۔ فلسطین پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط علیہ السلام کو بھی نبوت سے سرفراز فرمایا؛ چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت لوط علیہ السلام کو سدوم کے لوگوں کی جانب بھیجا تاکہ وہاں کے لوگوں کو اسلام کی دعوت دی جائے۔ حضرت لوط حضرت ابراہیم علیہما السلام کی نگرانی میں اپنے فرائضِ نبوت انجام دے رہے تھے۔ یہ قوم بُت پرستانہ عقائد کیساتھ ساتھ اخلاقی طور پر بھی نہایت پستی کا شکار تھی اور ہم جنس پرست تھی۔ جب یہ بار بار سمجھانے پر بھی باز نہ آئے اور حضرت لوط علیہ السلام کی جان کے درپے ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے اس قوم کو سزا دینے کیلئے فرشتے بھیجے۔ وہ فرشتے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے تاکہ اپنے آنے کے مقصد سے انہیں آگاہ کر سکیں اور انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک بشارت بھی سنائیں۔ جب وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس انسانی شکل میں پہنچے تو انہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو سلام کیا۔ جناب ابراہیم علیہ السلام نے جوابی سلام کیا۔ اب حضرت ابراہیم علیہ السلام اٹھے اور کچھ دیر بعد بھنا ہوا ثابت بچھڑا لا کر مہمانوں کے سامنے رکھ دیا۔ یہ اعلیٰ ترین مہمان نوازی تھی کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پوچھے بغیر بھنا ہوا بچھڑا مہمانوں کے سامنے رکھ دیا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس گائیوں اور بھیڑ بکریوں کا ریوڑ تھا۔ شام کا شہر حلب‘ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کچھ عرصہ یہاں بھی گزارا ہے۔ یہاں آپ کا ٹھکانہ ایسے ٹیلے پر تھا جہاں تجارتی قافلے گزرتے ہوئے کچھ دیر ٹھہرتے تھے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام ان قافلے والوں کی ضیافت کرتے اور انہیں خوب دودھ پلاتے‘ جس کی وجہ سے اس شہر کا نام &#39;حلب‘ پڑ گیا۔ عربی میں حلب کا معنی دودھ ہے۔فرشتوں نے جب اپنے ہاتھ بھنے ہوئے بچھڑے کی جانب نہیں بڑھائے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام پریشان ہو گئے کہ یہ اجنبی مسافر کھانا کیوں نہیں کھا رہے۔ انہیں خوف محسوس ہوا کہ ان کے ارادے کچھ اچھے نہیں لگتے۔ فرشتے یہ پریشانی بھانپ کر عرض گزار ہوئے کہ ہم اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں اور آپ علیہ السلام کو ایک بیٹے‘ حضرت اسحاق علیہ السلام کی خوشخبری دینے آئے ہیں۔ مزید خوشخبری یہ ہے کہ آپ کو ایک پوتا بھی ملے گا جس کا نام یعقوب ہوگا (اور یہ دونوں نبی ہوں گے)۔ اس سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دل کی گھبراہٹ ختم ہو گئی کہ یہ تو فرشتے ہیں اور خوشخبری لے کر آئے ہیں۔ پھر انہوں نے بتایا کہ وہ سدوم کی بدکار قوم کو عذاب سے دو چار کرنے آئے ہیں۔ اس خبر سے حضرت ابراہیم علیہ السلام پریشان ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں اپنے حبیبﷺ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے رویے سے متعلق اس طرح آگاہ فرمایا: &#39;&#39;وہ (ابراہیم علیہ السلام) لوط کی قوم کے بارے میں ہم سے بحث (جھگڑا) کرنے لگ گیا‘‘ (ہود: 74)۔ لوگو! ذرا غور کرو۔ اللہ کے فرشتوں سے بحث یا جھگڑا دراصل اللہ تعالیٰ کے آگے یہ التجا‘ یہ سفارش ہے کہ اس گنہگار قوم کو مزید مہلت ملنی چاہیے تاکہ یہ عذاب سے بچ جائیں‘ ہدایت پر آ جائیں اور جہنم کا ایندھن نہ بنیں۔ اگلی ہی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کی تین صفات کا تذکرہ کیا کہ ابراہیم علیہ السلام &#39;&#39;حلیم‘‘ یعنی بے پناہ حوصلے والے تھے‘ یعنی ان کا جھگڑا فرشتوں کے ساتھ تھا کہ ابھی مزید حوصلے سے کام لیا جائے‘ اس قوم کو مزید برداشت کیا جائے۔ دوسری صفت &#39;&#39;اَوَّاہٌ‘‘ ہے یعنی انتہائی نرم دل۔ کسی پر تکلیف کو دیکھ اور سن کر اللہ کی جناب میں گریہ و زاری کرنے والے۔ تیسری صفت &#39;&#39;مُنیب‘‘ ہے کہ بار بار اللہ کی بارگاہ میں (نئے نئے الفاظ اور انداز سے) رجوع (اور درگزر کی درخواست) کرنے والے تھے۔ اے وارثانِ منبرِ مصطفی! ہم ذرا اپنا حوصلہ اور برداشت دیکھیں کہ کلمہ پڑھنے والوں پر بھی کس طرح فتوے لگاتے ہیں۔ زبان کس قدر دراز کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا نام نہاد مبلغین کی مغلظات سے بھرا پڑا ہے۔ آئیے اب بنو اسرائیل کی جانب مبعوث آخری رسول حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور بنو اسماعیل سے ختم المرسلین‘ رحمتِ دو عالم حضرت محمد کریمﷺ کے حوصلوں اور برداشت کے بے کنار سمندر کی موجیں ملاحظہ کرتے ہیں۔سورۃ المائدہ کے آخر پر اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کا نقشہ کھینچا ہے۔ تمام انسانیت موجود ہے‘ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اُمت کا مقدمہ زیر سماعت ہے۔ اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے مخاطب ہوتے ہیں: &#39;&#39;اے مریم کے بیٹے عیسیٰ! کیا آپ نے اپنی امت کو اس کام پر لگایا تھا کہ اللہ کو چھوڑ کر مجھے اور میری ماں کو معبود بنا لو؟‘‘۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس طرح اپنی صفائی پیش کریں گے: میرے لیے تو ایسی بات لائق ہی نہیں‘ میں تو ان لوگوں کو ہمیشہ توحید کی دعوت دیتا رہا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی گواہی کے بعد جب امت کے لوگوں پر فردِ جرم عائد ہونے لگے گی کہ جنہوں نے حضرت عیسیٰ کو اللہ کا بیٹا قرار دیا تھا‘ تب عیسیٰ علیہ السلام اپنی اُمت کے گمراہ اور گنہگار لوگوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کریں گے اور بارگاہِ الٰہی میں عرض گزار ہوں گے: &#39;&#39;اے اللہ کریم! آپ اگر ان کو سزا دیں تو یہ بندے تو آپ ہی کے ہیں اور اگر آپ ان کو معاف فرما دیں تو آپ غالب بھی ہیں اور حکمت والے بھی‘‘۔ (المائدہ: 118)قارئین کرام! ختم المرسلینﷺ تو تمام اولادِ آدم کے سردار ہیں۔ تمام جہانوں کے باسیوں کیلئے سراسر رحمت ہیں۔ حضرت ابوذر غفاریؓ بتاتے ہیں کہ اللہ کے رسولﷺ نے (درج بالا) آیت پڑھنا شروع کی تو فجر تک آپﷺ یہی آیت تلاوت فرماتے رہے‘‘ (سنن نسائی‘ سندہٗ حسن)۔ مصنف ابن ابی شیبہ کی روایت میں مزید اضافہ یوں ہے کہ حضرت ابوذر غفاریؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضورﷺ سے رات بھر تلاوت کے بارے میں پوچھا تو آپﷺ نے فرمایا &#39;&#39;اس آیت کو میں نے بار بار پڑھا۔ اللہ تعالیٰ سے شفاعت کی درخواست کی۔ اللہ تعالیٰ نے میری درخواست قبول فرما لی لہٰذا میری امت میں سے ہر وہ شخص‘ جو اللہ کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہیں بنائے گا‘ اس کو میری شفاعت فائدہ دے گی‘‘۔ صحیح بخاری اور حدیث کی دیگر کتب میں ہے کہ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا: قیامت کا دن ہوگا‘ ساری انسانیت ایک میدان میں جمع ہو گی‘ سورج انتہائی قریب ہو گا‘ لوگ اپنے اپنے پسینوں میں شرابور ہوں گے‘ گھبراہٹ کی وجہ سے پریشان حال ہوں گے‘ آخرکار آپس میں کہیں گے: آئو! اپنے باپ آدم علیہ السلام کے پاس چلیں کہ وہ ہماری سفارش کریں کہ اس دن کی سختی اور گھبراہٹ سے ہماری جان چھوٹ جائے۔ وہ آدم علیہ السلام کے پاس جائیں گے تو وہ اپنے عذر کی بنا پر معذرت کرتے ہوئے انکار کر دیں گے‘ اسی طرح لوگ باری باری حضرت ابراہیم‘ حضرت موسیٰ‘ حضرت عیسیٰ علیہم السلام کے پاس جائیں گے اور پھر حضرت محمد کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوں گے۔ فرمایا: جب لوگ میرے پاس آئیں گے تو میں اللہ کی بارگاہ میں (مقامِ شفاعت) پر سجدے میں چلا جائوں گیا۔ اللہ تعالیٰ کی ایسی حمد بیان کروں گا کہ اس سے پہلے کبھی نہ کی ہو گی۔ اللہ تعالیٰ راضی ہو کر خطاب فرمائیں گے: میرے حبیب! سر اٹھائیے‘ آج جو مانگو گے عطا ہوگا۔ جو سفارش کرو گے قبول ہوگی۔قارئین کرام! لوگوں کا حق مارنے والے‘ قتل کرنے والے‘ فساد اور دہشتگردی سے بے گناہوں کو شہید کرنے والے‘ زمین غصب کرنے والے جب تک اہلِ حق کو ان کا حق نہ دے لیں‘ تب تک ان کی جان نہیں چھوٹے گی۔ آئیے ملک کے اندر برداشت کا کلچر پیدا کریں‘ مکالمے کی بات کریں‘ ایک دوسرے پر فتوے نہ لگائیں‘ سب مسلمانوں کو دعائوں میں شامل کریں۔ وہ جو ہم سب کے امن کیلئے جانیں قربان کر رہے ہیں‘ ان شہدا اور وارثانِ شہدا کو بھی اپنی دعائوں میں یاد رکھیں۔ پاک وطن شاد آباد رہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_68712266.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>