<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>سانحہ پمز کے ذمہ داران…؟(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-29/11492</link><pubDate>Sat, 29 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-29/11492</guid><description>وفاقی دارالحکومت کے پمز ہسپتال میں بدھ کی صبح آتشزدگی کے دلخراش سانحے کے اسباب اور ذمہ داروں کا تیسرے روز بھی تعین نہیں ہو سکا۔ وزیراعظم کی جانب سے اعلیٰ سطح تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جسے 48گھنٹے میں رپورٹ جمع کروانی تھی مگر جمعہ کی شام تک کمیٹی کی رپورٹ سامنے نہیں آئی۔ تاہم قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت نے ہسپتال کے عملے اور انتظامیہ کے جوابات پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے اور واقعے کے وقت ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹروں اور سٹاف کو معطل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ قائمہ کمیٹی کی جانب سے وفاقی وزیر صحت کو بھی اخلاقی طور پر مستعفی ہونے کا مشورہ دیا گیا ۔ گزشتہ روز سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے مصطفی کمال نے خود کو احتساب کیلئے پیش کیا۔ اخلاقی طور پر ہر وہ عہدیدار جو وفاقی دارالحکومت کے اس بدقسمت ہسپتال کے انتظامات اور فیصلہ سازی میں شامل تھا اسے اپنے عہدے سے رضا کارانہ علیحدگی اختیار کرنی چاہیے اور وفاقی حکومت کو یقینی بنانا چاہیے کہ اس نہایت دلخراش وقوعے کی تحقیقات کسی اندرونی یا بیرونی مداخلت سے متاثر نہ ہوں۔

حیرت ہے کہ مذکورہ ہسپتال کے سب سے اہم انتظامی عہدیدار تاحال اسی عہدے پر متمکن ہیں اور عہدہ چھوڑنے کے عوامی مطالبے کو  درخور اعتنا نہیں سمجھ رہے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کے چیئرمین کے یہ الفاظ مزید تشویش کا باعث ہیں کہ پہلے کہا گیا آگ ایئر کنڈیشنر سے لگی جبکہ پتا چلا ہے ایئر کنڈیشنر تو کام ہی نہیں کر رہا تھا۔ قائمہ کمیٹی کے چیئرمین کے بیان سے اُن خدشات کا احساس کیا جا سکتا ہے جو ممکنہ طور پر اس المناک سانحے کے اسباب اور ذمہ داران کے اخفا کا سبب بن سکتے ہیں۔ جب انکوائری غیر جانبدار اور بااثر کمیٹی کے بجائے حادثے کا سبب بنے والے ادارے کے اپنے لوگ یا وہ لوگ جو اس سے کسی طرح منسلک ہیں‘ کریں گے تو انکوائری کی شفافیت پر سوال اٹھیں گے‘ اور اس بات کا شدید خدشہ ہے کہ یہ رویہ حادثے کے اسباب کو سمجھنے اور مستقبل میں ان کا ازالہ کرنے میں کوتاہی کا سبب بن سکتا ہے۔ ملکِ عزیز کے سرکاری ہسپتالوں میں اس قسم کے المناک واقعات کا یہ پہلا واقعہ نہیں‘ پچھلے چند برسوں میں ایسے کئی واقعات ہوئے جن میں اسی طرح نوزائیدہ بچوں کی نرسریاں متاثر ہوئیں اور نونہال لقمہ اجل بن گئے۔ اس بھیانک سلسلے کو روکنا صرف اسی صورت ممکن ہے جب اس بھیانک وقوعے کے ذمہ داروں کو مثالی سزائیں دی جائیں۔ صرف انکوائری کمیٹیاں بنا دینا کافی نہیں‘ ایسی کمیٹیوں کو نتیجہ خیز بھی ہونا چاہیے اور ان سوالوں کے جواب ملنے چاہئیں جو اس وقت پاکستان کے ہر شہری کی نوکِ زبان پر ہیں‘ کہ یہ افسوسناک واقعہ کیسے ہوا؟ اسے روکنے کے بندوبست کیوں نہیں ہوئے؟
گزشتہ روز پارلیمان میں خطاب کے دوران ایک رکن نے بڑی پتے کی بات کی کہ ہمارا مسئلہ مالی وسائل نہیں گورننس ہے۔ آئے روز ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں جو ہمارے نظام میں مضمر خرابی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ مالی وسائل یقینا بہت اہم ہیں مگر یہ احساسِ ذمہ داری اور جوابدہی  کا متبادل نہیں ہو سکتے۔ ہمارے سرکاری اداروں کے نظام میں مالی وسائل کی قلت بھی مسائل کی وجہ ہو گی مگر ذمہ داری کا احساس اور جوابدہی کا ڈر اگر ہو تو مالی وسائل کی کمی کے باوجود ایسے انتظامات ہو سکتے ہیں جو بدترین سانحات سے بچا سکیں۔ پمز کا بھیا نک وقوعہ یہ سوال چھوڑ گیا ہے کہ ہمارا نظام اس المیے سے کچھ عبرت پکڑے گا یا حادثہ کہہ کر ان معصوموں کی چیخوں کو بھی دبا دینے کی کوشش کی جائے گی؟ جناب مصطفی کمال جو بدستور وفاقی وزارتِ صحت کا قلمدان رکھتے ہیں‘ گزشتہ روز قومی اسمبلی میں بتا رہے تھے کہ روزانہ 1300 بچے موت کا شکار ہوتے ہیں‘ یقینا حکومت کو اس تشویشناک صورت پر بھی توجہ دینا ہو گی‘ مگر یہ سانحہ پمز پر اٹھنے والے سوالات کا جواب نہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بجلی کا بحران(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-29/11491</link><pubDate>Sat, 29 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-29/11491</guid><description>ملک میں بجلی کا شارٹ فال چار ہزار میگاواٹ سے تجاوز کرنے کے باعث مختلف علاقوں میں طویل غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ دن کے وقت تقریباً سات ہزار میگا واٹ سولر پیداوار بجلی کے شارٹ فال کو کسی حد تک کم کر دیتی ہے مگر سورج ڈھلتے ہی بجلی کی قلت بڑھ جاتی ہے اور رات کے اوقات میں صارفین کو طویل اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا عذاب جھیلنا پڑتا ہے۔ ملک میں بجلی کا یہ بحران آخرکب تک جاری رہے گا؟ ماضی قریب میں بجلی بحران کا پائیدار حل نکالنے کے بجائے سارا زور انسٹالڈ کپیسٹی بڑھانے پر رہا ہے۔ ملک میں بجلی کی نصب شدہ صلاحیت 49 ہزار میگاواٹ سے زیادہ ہے جبکہ طلب اسکا نصف بھی نہیں۔ ایسے میں چار ہزار میگاواٹ کا شارٹ فال توانائی سیکٹر کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

لوڈشیڈنگ کی بڑی وجہ عالمی انرجی بحران بتائی جا رہی ہے‘ جس کے سبب اکثر پلانٹس اپنی صلاحیت سے کم بجلی پیدا کر رہے ہیں‘ تاہم حکومت کو اس مسئلے کا پائیدار حل نکالنا چاہیے اور شارٹ فال کا سبب بننے والے عوامل کا بلاتاخیر تدارک یقینی بنانا چاہیے۔ مستقل حل کیلئے ملک کو درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرتے ہوئے آبی‘ شمسی اور ہوا سے پیدا ہونے والی بجلی کی پیداوار بڑھا کر اسے قومی گرڈ کیساتھ بہتر انداز میں مربوط کرنا چاہیے۔ سولرائزیشن کو مسئلہ سمجھنے کے بجائے توانائی پالیسی کا کارآمد حصہ بنانا چاہیے اور بیٹری سٹوریج‘ جدید گرڈ اور ڈیمانڈ مینجمنٹ کے ذریعے دن کی اضافی شمسی بجلی کو رات میں استعمال کرنے کی حکمت عملی وضع کرنی چاہیے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مہنگائی میں اضافہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-29/11490</link><pubDate>Sat, 29 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-08-29/11490</guid><description>وفاقی ادارۂ شماریات کے مطابق 27 اگست کو ختم ہونے والے کاروباری ہفتے کے دوران 20 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جبکہ ہفتہ وار مہنگائی کی شرح 9.04 فیصد رہی۔ رپورٹ کے مطابق اس دوران آٹا‘ ڈبل روٹی‘ سرخ مرچ‘ پیاز‘ ٹماٹر‘ ایل پی جی‘ ڈیزل‘ پٹرول اور بجلی جیسی اشیا اور سروسز کی قیمتوں میں اضافہ ہوا‘ جو براہِ راست عام آدمی کے بجٹ کو متاثر کرتی ہیں۔  نئے مالی سال کے آغاز سے اب تک صرف ایک ہفتے میں مہنگائی کی شرح میں معمولی کمی ہوئی جبکہ باقی تمام ہفتوں میں مہنگائی میں اضافے کا رجحان برقرار رہا ہے۔ اس کی وجہ ذخیرہ اندوزی یا ناجائز منافع خوری نہیں بلکہ پیداواری لاگت‘ بجلی و گیس کے نرخ‘ نقل و حمل کے اخراجات‘ ٹیکسوں کا بوجھ‘ کمزور سپلائی چین اور مارکیٹ میں مسابقت کی کمی ہے۔

اگرچہ مارکیٹ کی نگرانی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف مؤثر کارروائی اپنی جگہ ضروری ہے مگر اس کے ساتھ اشیائے خورونوش کی پیداوار‘ ذخیرہ اور ترسیل کا نظام بہتر بنانا‘ کسان اور صارف کے درمیان غیر ضروری درمیانی منافع کو کم کرنا اور ضروری اشیا کی سپلائی میں رکاوٹوں کا فوری ازالہ بھی ناگزیر ہے۔ مہنگائی کا مقابلہ محض بازار میں ڈنڈا چلانے سے ممکن نہیں بلکہ اس کیلئے پیداوار بڑھانے‘ لاگت کم کرنے‘ روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور عوام کی قوتِ خرید بحال کرنے جیسے اقدامات پر بھی توجہ ضروری ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>قیامت ناگزیر ہے(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-08-29/52562/23269172</link><pubDate>Sat, 29 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-08-29/52562/23269172</guid><description>حادثات کا ہجوم ہے‘ جس نے گھیر رکھا ہے۔ ہری پور کی آیت نور پر ہونے والا ظلم دل میں ترازو ہو گیا ہے۔ اسلام آباد کے ہسپتال میں آگ میں پگھلتے گلاب ہیں کہ ذہن ان کے علاوہ کسی کے بارے میں سوچنے پر آمادہ نہیں۔ پھر نیپال میں آنے والا طوفان ہے۔ لمحوں میں ہستی کھیلتی بستیاں دلدل میں بدل گئیں۔ عمارتیں اور پل یوں اُڑ رہے تھے کہ جیسے روئی کے گالے۔ایک مدت ہوئی قلم کی باگ عقل و خرد کے حوالے کیے۔ ہمیشہ تجزیہ مطلوب رہا ہے کہ سماج کو اس کی ضرورت ہے۔ جذبات نے قلم سے لپٹنا چاہا تو انہیں نظر انداز کیا اور جھٹک دیا۔ آدمی مگر کبھی کبھی بے بس ہو جاتا ہے۔ جذبات کچھ اس طرح اُمڈ آتے  ہیں کہ ان کی طرف متوجہ ہونا پڑتا ہے۔ پھر اقبال بھی سرگوشی کرتے ہیں:اچھا ہے دل کے ساتھ رہے پاسبانِ عقللیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دےآیت نور انسانی وحشت اور درندگی کا شکار ہو گئی۔ اس کی ایک تصویر نے پریشان کر رکھا ہے۔ باپ کے کندھوں پر سوار اس کی معصوم آنکھوں میں عجیب سا سکون ہے۔ باپ کے چہرے پر کھلی مسکراہٹ بتا رہی ہے کہ کیسے اس کا وجود گھر کی رونق ہے۔  وہ بتاتا ہے کہ وہ صبح کام کیلئے گھر سے نکلتا تھا تو وہ سو رہی ہوتی تھی۔ شام کو لوٹتا تو دہلیز پر کھڑی باپ کی منتظر ہوتی۔ وہ اکلوتی اولاد ظلم کی بھینٹ چڑھ گئی۔ اگر وہ زندہ رہ جاتی ہے تو بھی عمر بھر اسے چین نصیب ہوتا نہ ماں باپ کو۔ چین تو اب بھی نہیں ملے گا۔ ایک زخم ہے جو شاید ہی بھر سکے۔اسلام آباد کی وہ معصوم کلیاں جو بِن کھیلے مرجھا گئیں انہیں کوئی کیسے بھول سکتا ہے۔ ان معصوموں کی کیفیت کو تو میں نہیں جانتا لیکن یہ ضرور بتا سکتا ہوں کہ ان کے والدین پر کیا گزری ہو گی۔ بہن بھائی‘ قریبی اعزہ کس کرب میں مبتلا ہوں گے۔ ہم جیسوں کا ان سے کوئی خونی رشتہ نہیں تھا لیکن لگتا ہے کہ ایک تیر جگر کے پار ہو گیا۔ تجزیہ ہوتا رہے گا۔ ذمہ داروں کا تعین بھی شاید ہو جائے۔ اس امکان کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا کہ مجرم پکڑے جائیں اور سزا بھی ہو جائے۔ یہ سب کچھ مگر اس دکھ کی تلافی نہیں کر سکتے جن سے ان بچوں کے والدین گزر رہے ہیں۔ میں چشمِ تصور سے وہ منظر دیکھنا چاہتا ہوں تو تصور کی آنکھ بھی دھندلا جاتی ہے۔ اس کو یارا نہیں کہ یہ منظر دیکھ اور دکھا سکے۔اور اب نیپال... ایسے واقعات انسانی تاریخ میں کبھی کبھی ہوتے ہیں۔ انسانی بستیاں الٹ گئیں اور پلک جھپکنے کی دیر تھی کہ سارا منظر بدل گیا۔ بڑی بڑی عمارتیں خس و خاشاک کی طرح اُڑ گئیں۔ یہ طوفان کہاں سے اٹھا؟ پانی آسمان سے برسا یا زمین نے اگل دیا؟ زلزلہ آیا یا پہاڑ اپنی جگہ سے ہٹ گئے؟ ابھی تک کوئی کچھ نہیں جانتا۔ نیپال کے ساتھ تبت میں بھی یہی ہوا۔ علاقے کے بڑے بوڑھے بتا رہے ہیں کہ طوفان پہلے بھی آتے رہے مگر ایسے مناظر انہوں نے نہیں دیکھے۔ سب  نقصان پر افسردہ ہیں۔ انسانی جانوں کے زیاں پر آزردہ ہیں۔ کتنے ہیں جو مفقود الخبر ہیں۔ ان کے بارے میں یہ توقع کم ہے کہ کوئی اچھی خبر آئے گی۔ کیا یہ بستیاں دوبارہ آباد ہو سکیں گی؟ کیا نیپال جیسا ملک اتنے وسائل رکھتا ہے کہ اس نقصان کے اثرات سے بچنے کا سامان کر سکے؟ کیا عالمی برادری مدد کو پہنچے گی؟ شاید یہ سب کچھ ہو جائے مگر سوال یہ ہے کہ وہ مرد‘ وہ خواتین‘ وہ بچے جو اس حادثے کی نذر ہو گئے‘ ان کو کوئی واپس لا سکے گا؟ آیت نور‘ اسلام آباد کے بچے‘ نیپال کے طوفان میں مرنے والے... کیا ان کیلئے زندگی ختم ہو گئی؟ کیا یہ کوئی کھیل تھا جو ختم ہو گیا؟ان سوالات کا جواب صرف مذہب کے پاس ہے۔ یہ سب قیامت کے وجود کی گواہی دے رہے ہیں۔ یہ بتا رہے ہیں کہ ایک دنیا ایسی ضرور ہونی چاہیے جہاں آیت نور کے زخموں کا مداوا ہو۔ جہاں اسلام آباد کے بچوں کو ایک اچھا مستقبل ملے۔ ان کے والدین ان کو کھلکھلاتا دیکھیں۔ یہاں صدمہ سہنے والے بے گناہ اجر پائیں اور گناہ گاروں کو سزا ملے۔ جو آخرت اور دوسری زندگی پر یقین رکھتا ہے اس کیلئے یہ خوشخبری ہے۔ عالم کے پروردگار نے اس کا وعدہ کر رکھا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ اس دنیا میں لوگوں کو آزمائے گا۔ خوف سے‘ بھوک سے‘ مال اور جان کے ضیاع سے۔ جو اس آزمائش میں پورا اتریں گے ان کیلئے خوشخبری ہے۔ یہ وہ ہیں جو آزمائش میں صرف ایک بات کہتے ہیں: لاریب‘ ہم اللہ ہی کے ہیں اور ہمیں (ایک دن) اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے۔اس دنیا کا نظام اپنے وجود میں خلا رکھتا ہے۔ اسے ایک دوسری دنیا ہی سے بھرا جا سکتا ہے۔ یہاں حادثات کا دروازہ بند  نہیں ہو سکتا۔ غیر مرئی قوت کی مداخلت کے علاوہ انسانی غلطیوں سے ہونے والے حادثات اتنے زیادہ ہیں کہ ان کی تلافی ایک ایسی زندگی کے بغیر ممکن نہیں جو ایسے حادثات کے امکانات سے پاک ہو۔ زلزلے سے بچاؤ کی تدابیر سے نقصانات کو  کم تو کیا جا سکتا ہے‘ ختم نہیں۔ ترقی یافتہ دنیا بھی حادثات سے پوری طرح محفوظ نہیں۔ اسی طرح وبائیں ہیں جن کا دروازہ بند نہیں ہو سکا۔ بیماریاں ہیں کہ ختم نہیں ہو رہیں۔ انسانی کاوش سے ہم ایک خلا کو دور کرتے ہیں تو نیا خلا پیدا ہو جاتا ہے۔ دکھائی یہ دیتا ہے کہ یہ سلسلہ ختم ہونے والا نہیں۔ حادثات سے پاک دنیا کی خواہش تو کی جا سکتی ہے‘ ایسی دنیا تخلیق نہیں کی جا سکتی۔ اس کیلئے ہمیں اسی طاقت کی طرف رجوع کر نا ہو گا جس نے یہ دنیا بنائی اور پھر اس میں موجود خلا کی نشاندہی کرتے ہوئے اُس دنیا کے برپا ہونے کی نوید بھی سنائی جس میں وہ خلا نہیں ہوں گے جو یہاں ہیں۔ اُس کا کہنا یہ بھی ہے کہ ہم دنیا میں جو حادثات دیکھتے ہیں‘ یہ در اصل اس بات کی یاد دہانی ہے کہ قیامت شدنی ہے۔ اگر ہم موت کو زندگی کا اختتام مان لیں تو پھر سوائے پچھتاوے کے ہمارے دامن میں کچھ نہیں بچتا۔ آیت نور کے والدین کا دکھ صرف اس یقین دہانی سے ختم ہو سکتا ہے کہ ایک دنیا ایسی ہو گی جس میں آیت نور اس درندگی سے پوری طرح محفوظ ہو گی جو اس دنیا میں اُس نے دیکھی۔ ہم اسلام آباد میں مرجھا جانے والے پھولوں کے والدین کو اسی وقت مطمئن کر سکتے ہیں جب ان سے ایک ایسی دنیا کا وعدہ ہو جن میں وہ اپنے بچوں کو ہنستا کھیلتا دیکھیں گے۔ نیپال میں جو کچھ ہوا اس کو بھی کسی عدالت میں پیش کیا جائے گا جہاں کسی کی حق تلفی نہ ہو گی۔ہم انسان ہیں۔ دنیا کے دکھ درد کو محسوس کرتے ہیں۔ ان سے مفر نہیں مگر ہمیں یہ اطمینان ہے کہ اس کائنات کا نظام ایک ایسی ہستی کے ہاتھ میں ہے جو حکیم ہے۔ جو دلوں کے بھید جانتی ہے۔ جو آخری درجے میں انصاف کرنے والی ہے۔ اگر ہم اس دنیا کی زندگی کو اس کی بڑی سکیم کو سامنے رکھتے ہوئے سمجھ سکیں تو ان واقعات کو ایک حد تک سمجھ سکتے ہیں۔ آخرت کے بغیر البتہ ان کی کوئی توجیہ ممکن نہیں۔ پھر صرف پچھتاوا ہے اور اَن گنت سوالات ہیں جن کا کوئی جواب ہمارے پاس نہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>The Vulture and the Little Girl(خالد مسعود خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-08-29/52563/30155144</link><pubDate>Sat, 29 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-08-29/52563/30155144</guid><description>یہ تصویر مجھے گزشتہ کئی سال میں بارہا یاد آئی ہے۔ آپ یوں سمجھیں کہ یہ تصویر میری یادداشت کی پکچر گیلری میں فریم ہو کر آویزاں ہے۔ یہ تصویرجب بھی یاد آتی ہے دل میں ایک عجیب سی کسک‘ درد‘ ملال اور افسوس کا تاثر چھوڑتی ہے۔ یہ تصویر ایک فاقہ زدہ نحیف ونزار افریقی بچی کی ہے جو انتہائی ناکافی خوراک‘ بھوک اور قحط کی وجہ سے ہڈیوں کا ایسا ڈھانچہ بن چکی ہے جس پر صرف کھال منڈھی ہوئی ہے۔ یہ بچی خشک‘ بے آب و گیاہ اور پانی سے محرومی کے باعث جگہ جگہ سے چٹخی ہوئی زمین پر اپنے چاروں ہاتھوں پاؤں پر رینگ رہی ہے۔ اس بچی کے گلے میں سفید رنگ کی روایتی افریقی مالا ہے اور اس کے پیچھے ایک گدھ آ رہا ہے۔ وہ منتظر ہے کہ اس بچی کی جان نکلے اور وہ اسے اپنی خوراک بنا لے۔ قارئین! میں ایک چھوٹی سی تصحیح کر دوں‘ اس تصویر کے ساتھ تب جو کیپشن آیا تھا‘ اس میں اسے Girl یعنی لڑکی ہی لکھا گیا تھا‘ تاہم 2011ء میں ایک ہسپانوی اخبار نے تحقیق کی تو معلوم ہوا وہ لڑکی نہیں لڑکا تھا‘ جس کا نام کونگ نیونگ تھا اور وہ فیڈنگ سنٹر تک پہنچ کر زندہ بچ گیا تھا۔ یہ لڑکا بعد ازاں 2007ء میں بخار کے باعث وفات پا گیا۔میں یہ سمجھتا ہوں کہ دنیا کو قحط کی تباہ کاریوں سے آگاہ کرنے کیلئے کسی ایک تحریر‘ کتاب‘ گفتگو‘ اجلاس یا کسی بڑی سے بڑی کانفرنس نے بھی شاید اتنا متاثر نہیں کیا ہوگا جتنا اثر اس ایک تصویر نے ڈالا ہے۔ یہ تصویر ایک افریقی فوٹو جرنلسٹ کیون کارٹر نے مارچ 1993ء میں سوڈان کے علاقے ایود (Ayud) جو آج کل جنوبی سوڈان کا حصہ ہے‘ میں کھینچی تھی۔ اس علاقے میں تب اقوام متحدہ اور دنیا بھر سے آنے والے دیگر کئی امدادی ادارے قحط زدہ لوگوں کو خوراک فراہم کر رہے تھے۔ افریقی فوٹو جرنلسٹ کیون کارٹر نے تب تین دیگر فوٹو جرنلسٹ ساتھیوں گریگ مارینووچ‘ ژاؤسلوا اور کین اوسٹربروک کے ہمراہ بینگ بینگ کلب نامی ایک گروپ سا بنا رکھا تھا۔ یہ گروپ 1990ء کی دہائی کے آغاز میں جنوبی افریقہ میں ہونے والی ہولناک نسلی اور سیاسی تشدد کی تصاویر دنیا تک پہنچا کر عالمی شہرت حاصل کر چکا تھا۔ چار افراد پر مشتمل یہ گروپ افریقہ میں ہونے والی کئی قسم کی تباہ کاریوں کے بارے میں تصویریں کھینچ کر دنیا بھر کو افریقہ میں ہونے والے انسانی المیے سے آگاہ کرتا رہتا تھا۔ 1993ء میں وہ اپنے ساتھی ژاؤ سلوا (João Silva) کے ہمراہ افریقہ میں قحط سے پیدا ہونے والے انسانی المیے کو تصاویر کے ذریعے دنیا بھر میں اجاگر کرنے کیلئے فوٹوگرافی کی غرض سے سوڈان گیا ہوا تھا۔ اپنے اس دورے کے دوران کیون کارٹر سوڈان کے علاقے ایود میں تھا جب اس نے یہ منظر دیکھا اور اپنے کیمرے میں محفوظ کر لیا۔ قحط کی اس کوریج کے بعد کارٹر واپس جنوبی افریقہ آ گیا۔ اسی دوران اخبار‘ دی نیو یارک ٹائمز سوڈان کے ہولناک قحط پر اپنی خبر کو پُراثر بنانے کیلئے کسی ایسی تصویر کی تلاش میں تھا جو اس انسانی المیے کی بھرپور عکاسی کر سکے۔ ایسی تصویر جو اس پورے منظرنامے کو دنیا کے سامنے پیش کر سکے۔ کارٹر کے ساتھی گریگ مارینووچ نے نیویارک ٹائمز کے فوٹو ایڈیٹرز کو اس تصویر کے بارے میں بتایا۔ اخبار کی انتظامیہ نے یہ تصویر حاصل کی اور مورخہ 26 مارچ 1993ء کو یہ تصویر ایک تفصیلی خبر کے ساتھ اپنے صفحہ تین پر شائع کر دی۔ تصویر کا چھپنا تھا کہ دنیا بھر میں اس پر ایک تہلکہ سا مچ گیا۔ اس سارے ہنگام میں ایک سوال تھا جو اس خبر کے باقی تمام مندرجات پر فوقیت لے گیا۔ ہزاروں لوگوں نے اخبار کو بذریعہ خط‘ ٹیلی فون اور فیکس صرف ایک ہی سوال پوچھا کہ اس بچے کا کیا بنا؟ یہ سوال اتنی زیادہ تعداد میں آیا کہ بالآخر اخبار کو اس سلسلے میں چند روز بعد ایک خصوصی ایڈیٹر نوٹ شائع کرنا پڑا جس میں اخبار نے بتایا کہ فوٹوگرافر کے مطابق اس نے گدھ کو بھگا دیا تھا اور بچہ اتنا سنبھل گیا تھا کہ وہ اُٹھ کر دوبارہ فیڈنگ سنٹر کی طرف چلنے لگ گیا تھا۔ تاہم وہ یہ بتانے سے قاصر تھا کہ بچہ اس امدادی خوراک کے مرکز تک پہنچ سکا یا نہیں۔ اس تصویر نے جہاں دنیا بھر میں قحط کے بارے میں ہمدردی‘ شعور اور آگاہی دی وہیں یہ سوال بھی پیدا کیا کہ فوٹوگرافر نے محض تصویر لینے پر ہی اکتفا کیوں کیا‘ اس نے بچے کی مدد کیوں نہیں کی؟ لوگوں کا کہنا تھا کہ فوٹوگرافر نے ایک مرتے ہوئے بچے کو بچانے کے بجائے اس سارے منظر کی تصویر کھینچنے کو ترجیح دی جس کے ذریعے وہ شہرت سمیٹ سکتا تھا۔ اس کیلئے شہرت کا باعث بننے والی متوقع تصویر ایک بھوک سے مرتے ہوئے بچے کی زندگی سے زیادہ اہم تھی۔ اس فوٹوگرافر نے اپنا مقصد حاصل کیا اور وہاں سے روانہ ہو گیا۔ ایک امریکی اخبار نے تو فوٹوگرافر کیون کارٹر کو وہاں موجود دوسرے گدھ سے تشبیہ دی۔بعد میں کیون کارٹر کے ساتھی ژاؤ سلوا نے بتایا کہ یہ تصویر کھینچنے کے بعد کیون کارٹر بہت اداس‘ مضطرب اور رنج و ملال کے زیر اثر تھا۔ اس نے ایک درخت کے نیچے جاکر سگریٹ سلگائی اور کافی رویا۔ کیون نے بعد ازاں وضاحت کی کہ وہ ایک صحافتی مشن پر تھا اور اقوام متحدہ کے امدادی ادارے کی جانب سے تمام صحافیوں کو واضح ہدایت تھی کہ وہ اپنے پیشہ ورانہ کام کے دوران قحط سے متاثرہ کسی شخص سے جسمانی طور پر قریب آنے یا چھونے کی کوشش نہ کریں۔ قحط کے دوران پھیلی ہوئی کئی متعدی بیماریاں انہیں نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ ویسے بھی کسی فوٹو گرافر کیلئے یہ ممکن نہیں کہ ایسی حالت میں مبتلا ہزاروں لاکھوں لوگوں کو اٹھا کر امدادی مرکزوں تک پہنچائے۔1994ء میں کیون کارٹر کی اس تصویر کو دنیائے صحافت میں فوٹوگرافی کا سب سے بڑا معتبر اور مشہور ایوارڈ &#39;&#39;پلٹزر پرائز‘‘ دیا گیا۔ یہ کسی فوٹوگرافر کیلئے کامیابی‘ شہرت اور پیشہ ورانہ اکنالجمنٹ کی انتہا ہوتی ہے۔ لیکن اس انعام سے زیادہ وہ سوال کارٹر کا پیچھا کر رہا تھا کہ اس نے فوٹو کھینچنے کو بچے کی جان بچانے پر کیوں ترجیح دی۔ خانہ جنگی‘ قحط‘ بھوک اور جنگ کی تباہ کاریوں کے باعث حساس ہو جانے والے کیون کارٹر کو پلٹزر پرائز ملنے کے بعد انعام یافتہ تصویر کے بارے میں اٹھنے والے سوالات نے مزید ڈپریشن میں مبتلا کر دیا۔ پلٹزر پرائز ملنے کے محض ساڑھے تین ماہ بعد‘ مورخہ 27 جولائی 1994ء کو کیون کارٹر نے اپنے گاڑی کے سائلنسر کے ساتھ ایک پائپ لگا کر اسے گاڑی کے اندر کیا اور گاڑی میں بیٹھ کر اس کے دروازے بند کر لیے۔ گاڑی میں جمع ہونے والی کاربن مونو آکسائیڈ نے اس کی جان لے لی‘ تب کارٹر کی عمر محض 33 برس تھی۔اس نے اپنے آخری خط میں لکھا &#39;&#39;مجھے واقعی‘ واقعی افسوس ہے۔ زندگی کا درد خوشی پر اس حد تک غالب آ گیا ہے کہ خوشی کا وجود ہی نہیں رہا۔ میں قتلوں‘ لاشوں‘ غصے اور درد کی ان واضح یادوں سے ستایا جاتا ہوں... بھوکے یا زخمی بچوں کی‘ جنونی مسلح لوگوں کی‘ اکثر پولیس کی‘ قاتل جلادوں کی...‘‘ گزشتہ کئی روز سے مجھے یہ تصویر یاد آ رہی ہے۔ حقیقت میں زندہ بچ جانے والے ایک بچے کی جان چلی جانے کے شبہے میں کیون کارٹر نے اپنی جان لے لی۔ بہرحال بچہ تو بچ گیا لیکن فوٹوگرافر نہ بچ سکا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ فوٹوگرافر کا ضمیر زندہ تھا۔ ادھر ہمارے ملک میں کچھ بھی ہو جائے‘ کسی کا ضمیر بہرحال نہیں جاگتا۔ جان دینا تو رہا ایک طرف‘ یہاں کوئی استعفیٰ تک نہیں دیتا۔ جون 2024ء میں ساہیوال ٹیچنگ ہسپتال میں آگ‘ بدانتظامی اور غفلت سے 11 بچے اور اب گزشتہ دنوں پمز میں 14 معصوموں کی جان چلی گئی‘ لیکن نہ کسی نے پہلے استعفیٰ دیا ہے اور اب ہی کوئی استعفیٰ دے گا۔ ہمارے ہاں ضمیر جاگنے کی نہ کوئی روایت ہے اور نہ ہی کوئی رواج ہے۔ یہاں صاحبِ ضمیر کوئی نہیں جبکہ گدھ ہر طرف بکھرے پڑے ہیں۔ اس معاملے پر مٹی ڈالنے کیلئے حسبِ معمول دو چار معطلیاں ہوں گی‘ آگے راوی چین لکھتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90500073.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>آگ میں پھول(ڈاکٹر حسین احمد پراچہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-08-29/52564/55039156</link><pubDate>Sat, 29 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-08-29/52564/55039156</guid><description>آگ میں پھول‘ بن کھلے پھول بلکہ نودیدہ کلیاں آنکھ کھولے بغیر شعلوں کی لپیٹ میں آ کر جل کر راکھ ہو گئیں۔ بعض سانحات اتنے دل فگار اور غمناک ہوتے ہیں کہ انکا تصور اور تذکرہ بھی دل کو تڑپا دیتا ہے۔ پمز ہسپتال اسلام آباد میں چند گھنٹوں یا ایک ڈیڑھ دن کے بچے ہسپتال کے عملے کی بدترین غفلت کی بنا پر آگ کی لپیٹ میں آ گئے۔ 14زندہ جل جانے والوں میں سے ہر بچہ ایک خواب تھا‘ مستقبل کا سنہرا سپنا‘ ماں کی آنکھ کا تارا اور باپ کا راج دلارا۔ ان بچوں کی پیدائش میں ان کی مائوں نے نجانے کتنے دکھ جھیلے‘ کتنے مصائب برداشت کیے اور اکثر کو تو آپریشن کی اذیت سے بھی گزرنا پڑا۔ پھر یکایک ان کو معلوم ہوا کہ اپنی جان سے پیاری جس مخلوق کی وہ حفاظت کر رہی تھیں‘ وہ آگ میں زندہ جل گئی۔ سوچئے اُن پر کیا قیامت گزری ہو گی۔اسلام آباد میں پمز ہسپتال اور حکومت کے احوال کو قریب سے جاننے والے چند دوستوں سے رابطہ کیا۔ ان مستند اہلِ خبر نے جو کچھ بتایا‘ سنایا وہ آپ کے سامنے پیش کر دیتے ہیں۔ بعض چشم دید دوستوں نے بتایا ہے کہ اپنے نومولود بچوں کا انتظار کرتی‘ ہسپتال کے بیڈز پر پڑی تصویرِ غم بنی ماؤں کی حالت دیکھی نہیں جاتی۔ جہاں تک ہمارے وزرا کا تعلق ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ دھڑکتے دل والے انسان نہیں‘ کوئی روبوٹ ہیں۔ وہ جذبات سے بالکل عاری ہیں۔ طلال چودھری ایک خوش پوشاک شخص ہیں مگر شدتِ احساس سے شاید نابلد۔ واقعہ کوئی ہو اس پر حسبِ حال افسوس و ہمدردی کرنے کے بجائے رٹا رٹایا بیان دیں گے &#39;&#39;یہ ایک حادثہ تھا‘ تحقیقات ہو رہی ہیں‘ حقیقت حال سامنے آ جائے گی‘‘۔ وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال طلاقتِ لسانی رکھتے ہیں‘ ہمارا خیال تھا کہ اس سانحے پر وہ اخلاقی جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مستعفی ہو جائیں گے مگر اُنکا سارا زورِ بیان اس بات پر صرف ہو رہا ہے کہ یہ حادثہ تھا‘ حقائق سامنے آ جائیں گے۔ انہیں تو چاہیے تھا کہ اچھی مثال قائم کرتے اور سب سے پہلے مستعفی ہوتے۔ اب ہم پمز ہسپتال کے احوال آپ کے سامنے پیش کر تے ہیں پھر آپ فیصلہ کر لیں کہ یہ حادثہ تھا‘ سانحہ تھا یا شدید غفلت‘ نااہلی اور بے حسی کا بدترین نمونہ تھا۔ قابل اجمیری نے دو مختصر مصرعوں میں ایسے &#39;&#39;حادثوں‘‘ کی ساری روداد بیان کر دی ہے:وقت کرتا ہے پرورش برسوں ؍ حادثہ ایک دم نہیں ہوتاواقفانِ حال کا کہنا یہ ہے کہ پمز ہسپتال بدنظمی‘ بے ترتیبی‘ کرپشن اور سفارشی بھرتیوں کی آماجگاہ بن چکا ہے۔ وہاں مطلوبہ معیار کے مطابق کوئی کام نہیں ہو رہا۔ فارمیسی سمیت بڑے بڑے کاموں کے ٹھیکے لین دین کے بغیر نہیں ہوتے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ وزیر اعظم پمز ہسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کو جوابدہ ٹھہراتے مگر اس کے بجائے انہوں نے سیکرٹری ہیلتھ کو معطل کر نا ضروری سمجھا۔ سیکرٹری صحت کا کام تو بروقت ہسپتال کو فنڈز مہیا کرنا ہے اور مبینہ طور پر وہ یہ کام بخوبی کر رہے تھے۔ 1980ء میں تعمیر ہونے والے پمز ہسپتال کیلئے جاپان نے کافی فنڈز دیے تھے۔ نومولود بچوں کی نرسری پہلے فرسٹ فلور پر تھی‘ بعد ازاں اسے تیسرے فلور پر منتقل کر دیا گیا۔ ہم نے ملک کے اندر اور باہر ہسپتالوں کے ایمرجنسی اور نرسری میں کام کرنے والے ڈاکٹروں اور منتظمین سے پوچھا ہے کہ کیا نومولود بچوں کی نرسری میں اُن کی دیکھ بھال کیلئے کوئی ڈاکٹر‘ نرس نہیں ہوتے اور کیا نرسری کو باہر سے تالا لگا کر گارڈ یا اٹینڈنٹ ڈیوٹی سے غائب ہوجاتے ہیں؟ سب کا یہ جواب تھا کہ ایسا ہونا ناممکن اور ناقابلِ تصور ہے۔ ان حالات میں جب نرسری میں آگ بھڑکی تو وہاں کوئی دیکھنے والا ہی نہیں تھا۔ اگر کوئی ہوتا تو فوری طور پر اے سی کا سوئچ بند کر دیتا پھر شاید اتنا بھاری نقصان نہ ہوتا۔ ایک خاتون نے جب دوسرے وارڈوں تک آگ کے لپکتے ہوئے شعلے دیکھے تو دیوانہ وار نرسری کی طرف بھاگی اس وقت تک نرسری کا تالا توڑا جا چکا تھا۔ وہ برق رفتاری سے اپنے بھتیجے کو اٹھا لائی اور اسے سینے سے لگائے ہوئے اپنی بھابھی کو دوسرے وارڈ سے لے کر تیسری منزل سے دوڑتی ہوئی نیچے پہنچی تو ہسپتال کا اندرونی مرکزی دروازہ بند تھا۔ اس کے علاوہ ایمرجنسی راستے بھی بند تھے۔ ادھر جب خاصی تاخیر کے بعد ریسکیو کی گاڑیاں پمز ہسپتال پہنچیں تو ہسپتال کا بیرونی گیٹ بند تھا۔ بدنظمی در بدنظمی انتہا کو پہنچی ہوئی تھی۔ دروازوں اور گیٹ کو بند کرنے کی کیا منطق تھی؟ ٹریفک پولیس نے گیٹ کھلوایا تو وہاں کھڑے گارڈزکو معلوم ہی نہ تھا کہ آگ کہاں لگی ہے۔ لہٰذا فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کو پہلے کسی اور وارڈ کی طرف بھیج دیا گیا۔ یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ پمز ہسپتال کے پاس فائر سیفٹی کا این او سی ہی نہیں ہے۔ یہی حال اسلام آباد کے پولی کلینک کا ہے۔ ہسپتال کی رپورٹوں اور دیگر ذرائع سے حاصل کی گئی معلومات کے مطابق جائے حادثہ پر آگ بجھانے کیلئے فائر بریگیڈ کی گاڑیاں گھنٹوں بعد پہنچیں‘ اور ہسپتال کے اندر جو آگ بجھانے کے سلنڈر تھے اُن میں سے اکثر ناکارہ تھے۔ وہاں کسی کے پاس آگ بجھانے کی کوئی ٹریننگ بھی نہ تھی۔ قواعد وضوابط کے مطابق ہسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سے لے کر وارڈ بوائے تک‘ سب کو یہ بنیادی تربیت دی جانی چاہیے۔ اچھے ہسپتالوں میں سال میں کئی مرتبہ ایمرجنسی ایگزٹ کی مشقیں ہوتی ہیں مگر پمز میں کم از کم ایک دہائی سے ایسی کوئی مشق کبھی دیکھنے میں نہیں آئی۔ نجی اداروں میں تو بالعموم ایمرجنسی پروگرام کے بارے میں غفلت برتی جاتی ہے مگر بڑے سرکاری ہسپتالوں میں بھی ایسے سانحات ہوتے رہتے ہیں۔ 8جون 2024ء کو ساہیوال کے ہسپتال کی نرسری میں آگ لگنے سے گیارہ بچے جل گئے تھے۔ کئی دوسرے شہروں کے سرکاری ہسپتالوں میں آئے روز اس طرح کے سانحات ہوتے رہتے ہیں مگر وفاقی دارالحکومت میں موجود محض دو سرکاری ہسپتالوں کی حالتِ زار ملک کے نظامِ صحت کی حالت زار کی تصویر دکھا رہی ہے۔پمز ہسپتال کے اس دلخراش سانحے نے نہ صرف داخلی نااہلیت بلکہ سارے سسٹم کو ایکسپوز کر دیا ہے۔ تقریباً ایک ماہ قبل وزیر داخلہ محسن نقوی نے واشگاف الفاظ میں اعلان کیا تھا کہ موجودہ سسٹم ناکام ہو چکا ہے۔ پمز ہسپتال کا سانحہ اس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ وزیراعظم اس پر براہِ راست جوابدہ ہیں۔ کیا انہیں معلوم نہیں کہ اسلام آباد کے بڑے سرکاری ہسپتال کا کیا حال ہے۔جوائنٹ کمیشن انٹرنیشنل (JCI) عالمی سطح پر ہسپتالوں کے معیار کو متعین کرنے کا سب سے زیادہ قابلِ اعتماد ادارہ ہے۔ دنیا بھر کی حکومتیں اور پرائیویٹ ہسپتال اس ادارے کی رپورٹوں کو مستند مانتے ہیں۔ وہ ہسپتال کی عمومی اور بطورِ خاص کچن کی صفائی ستھرائی اور آگ وغیرہ کی ایمرجنسی کیلئے مخصوص عملے ہی کو نہیں بلکہ سارے ڈاکٹروں‘ نرسوں اور دیگر سٹاف کو چیک کرتے ہیں کہ اُن کے پاس ایمرجنسی ڈیلنگ اور آگ بجھانے کی تربیت ہے یا نہیں۔ JCI کی گزشتہ کئی برسوں کی رپورٹوں کے مطابق پاکستان کا ایک بھی سرکاری ہسپتال اُن کے مطلوبہ معیار پر پورا نہیں اترتا۔ اُن کے معیار پر صرف تین‘ آغا خان ہسپتال کراچی‘ شفا انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد اور شوکت خانم ہسپتال لاہور کام کر رہے ہیں۔ یہ تینوں پرائیویٹ ہسپتال ہیں۔ 2026ء کی تازہ رپورٹ کے مطابق PKLI لاہور‘ جو سرکاری ہسپتال ہے‘ کے بعض شعبے JCI کے مطلوبہ معیار پر پورا اترے ہیں۔ملک کے اکثر سول ادارے زبانِ حال سے بدعنوانی‘ بدنظمی‘ بے ترتیبی اور اقربا پروری کی داستان سناتے ملیں گے۔ ریٹائرڈ سیکرٹری داخلہ کی سربراہی میں بنی انکوائری کمیٹی پر کافی انگلیاں اٹھائی جا رہی ہیں۔ البتہ ممبر قومی اسمبلی مہیش کمار ملانی کی سربراہی میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت نے جمعرات کے روز ہسپتال کا دورہ کیا۔ توقع ہے کہ اُن کی رپورٹ زیادہ قابلِ اعتماد ہو گی۔ پمز ہسپتال میں عملے کی مبینہ غفلت سے آگ میں جل جانے والے نوزائیدہ پھولوں کی ماؤں کے زخموں کا مداوا کوئی مرہم نہیں کر سکتا۔ تاہم اُن کی دلجوئی کیلئے حکومت غمزدہ والدین کیلئے معاوضے کا اعلان کرے۔ </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_70033906.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>حسرت ان غنچوں پہ جو بن کھلے مرجھا گئے(افتخار احمد سندھو)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/iktakhar-ahmed-sandhu/2026-08-29/52565/45480018</link><pubDate>Sat, 29 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/iktakhar-ahmed-sandhu/2026-08-29/52565/45480018</guid><description>دوچار روز قبل وفاقی دارالحکومت کے پمزہسپتال میں انتظامیہ کی نااہلی کے باعث 14نومولوداورمعصوم بچے نرسری وارڈ میں آگ لگنے سے جھلس کر جاں بحق ہو گئے۔ اللہ پاک مرحوم بچوں کے والدین کو صبر دے اور ان کو یہ المناک صدمہ برداشت کرنے کی توفیق اور ہمت دے۔ اس افسوسناک حادثے پر ہر دردِ دل رکھنے والا دکھی ہے‘ اس لیے اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ بقول شیخ ابراہیم ذوق:پھول تو دو دن بہارِ جاں فزا دکھلا گئےحسرت اُن غنچوں پہ ہے جو بن کھلے مرجھا گئےہمیں اللہ کا شکر بھی ادا کرنا چاہیے کہ خدانخواستہ اگر اس طرح کی آتشزدگی کا واقعہ ایک ہفتہ قبل سابق وزیراعظم کے طبی معائنے کے وقت پیش آ جاتا تو یہ آگ جنگل کی آگ کی طرح پورے ملک میں پھیل جاتی۔ پمز ہسپتال کے حادثے پر اتمام حجت کیلئے وزیراعظم وفاقی سیکرٹری صحت کو معطل کرکے اپنا اخلاقی فرض ادا کرنے کی ناکام کوشش کرنے کے بعد چلتے بنے ہیں۔ عنایت اللہ مرحوم نے بالکل ٹھیک کہا تھا:حادثے سے بڑا سانحہ یہ ہوا؍ لوگ ٹھہرے نہیں حادثہ دیکھ کرمجھے تو آج تک اس بات کی سمجھ نہیں آ سکی کہ ہمارے ان بیوروکریٹس کے پاس کون سی گیدڑ سنگھی ہے کہ یہ ہرفن مولا بن جاتے ہیں۔ جس کو جب چاہا محکمہ صحت کا سیکرٹری بنا دیا اور چند ماہ و سال کے بعد صنعت و تجارت کا محکمہ دان کر دیا۔ تھوڑا وقت گزرنے کے بعد یہی صاحب سیکرٹری مواصلات اور پھر یہی صاحب بہادر سیکرٹری خزانہ بنا دیے جاتے ہیں۔ اور بوقتِ ضرورت محکمہ تعلیم بھی ان کے سپرد کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کی جاتی‘ اس لیے کہ ہر فن مولا جو ٹھہرے۔ فلم انڈسٹری میں عنایت حسین بھٹی کو ہر فن مولا کہا اور سمجھا جاتا تھا کیونکہ وہ گلوکار کیساتھ ساتھ صداکار‘ اور ہدایتکار بھی تھے۔ اس کے بعد فلمساز بھی ٹھہرے اور یہ تمام خدا داد صلاحیتیں ان میں بدرجہ اتم موجود تھیں۔ لیکن سی ایس ایس کرنے والا ہر بیوروکریٹ ہر فن مولا کیسے بن جاتا ہے‘ یہ بات میری سمجھ سے بالا تر ہے۔ایک صاحب کے تین بیٹے تھے‘ ایک ٹانگ سے معذور تھا‘ دوسرا پڑھنے لکھنے میں نکما‘ تیسرے کی بینائی کمزور تھی۔ ایک اس کا ایک پرانا دوست اس سے ملنے آیا اور بچوں کے بارے میں دریافت کیا تو اس نے بتایا اللہ کا بڑا فضل و کرم ہے‘ تینوں بچے اچھا کما اور کھا رہے ہیں۔ معذور لڑکا آج کل قومی ہاکی ٹیم کا کپتان ہے‘ کمزور بینائی والا رویتِ ہلال کمیٹی میں چاند دیکھنے کیلئے بھرتی ہو گیا ہے اور جو پڑھنے لکھنے میں نکما تھا وہ پروفیسر بن چکا ہے۔ یہی حال ہمارے ہاں وزرا کا ہے‘ جس کا پڑھائی لکھائی سے کچھ لینا دینا نہیں ہوتا اس کو وزارتِ تعلیم کے ساتھ ہائر ایجوکیشن کا قلمدان تھما دیا جاتا ہے۔ اور جس آدمی کا شعبۂ صحت سے کچھ لینا دینا نہیں ہوتا اس کو وزیر صحت بنا دیا جاتا ہے۔ مصطفی کمال کی &#39;&#39;روشن‘‘ مثال ہمارے سامنے ہے۔ انہوں نے مستعفی ہوئے بغیر خود کو احتساب کیلئے پیش کر دیا ہے۔ واہ !کیا کہنے! بقول راحت اندوری: جدھر سے گزرو دھواں بچھا دو، جہاں بھی پہنچو دھمال کر دو؍ تمہیں سیاست نے حق دیا ہے، ہری زمینوں کو لال کر دو؍ اپیل بھی تم، دلیل بھی تم، گواہ بھی تم، وکیل بھی تم؍ جسے بھی چاہو حرام کہہ دو، جسے بھی چاہو حلال کر دومصطفی کمال کے پیشرو پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے وزیر صحت عبدالقادر پٹیل کی دلیل ہمارے سامنے ہے۔ کہتے ہیں: &#39;&#39;میرے دور میں آئی سی یو کے ایئرکنڈیشنر خراب ہوئے تو میں 15منٹ میں بھاگ کر پمز ہسپتال پہنچ گیا اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز کو لے جا کر اس گرمی میں وہیں بٹھایا جہاں مریض پڑے بلک رہے تھے کہ تم بھی یہیں بیٹھو جب تک اے سی سسٹم ٹھیک نہیں ہوتا‘ دو گھنٹے میں سب ٹھیک ہو گیا تھا‘‘۔ اس کو کہتے ہیں نہلے پہ دھلا۔ جبکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ اپنے سسٹم کو ٹھیک کریں تاکہ کسی وزیر اور سیکرٹری کو ہسپتال جانا ہی نہ پڑے۔ ہسپتال کی انتظامیہ میں ایمرجنسی سمیت ہر قسم کی صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت ہونا ضروری ہے۔ میرا یہ مشورہ ہے کہ تمام ایم ایس صاحبان اور فیلڈ آفیسرز کے دفاتر میں اے سی ہونا ہی نہیں چاہیے تاکہ یہ راؤنڈ لگاتے رہا کریں۔ بدقسمتی سے اے سی ان کو دفتر سے باہر نکلنے ہی نہیں دیتا۔ پمز ہسپتال کی نرسری میں آتشزدگی سے 14نومولود بچوں کی ہلاکت نے سرکاری ہسپتالوں میں حفاظتی انتظامات اور فائر سیفٹی کے نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں‘ لیکن اس واقعہ کے بعد جیسا کہ حکومت نے ہمیشہ کی طرح تحقیقات پر مٹی ڈالنے کیلئے انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی اور وفاقی سیکرٹری صحت اسلم غوری کو معطل کر دیا ہے اور آخر میں انکوائری کی زد میں چھوٹے ملازمین آجائیں گے۔ سابقہ روایات میں بھی حکومت کا یہی وتیرہ رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس سے پہلے بھی انکوائری کمیٹیاں قائم کی گئی تھیں۔ جون 2024ء میں ساہیوال ٹیچنگ ہسپتال میں آگ لگنے سے 11بچوں کی ہلاکت کی تحقیقات کی گئی تھیں۔ کیا ایسے واقعات کی خامیوں کو دور کیا گیا؟ آج کل بھی ڈی ایچ کیو ہسپتال ساہیوال کی ایک وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہے جہاں نرسری وارڈ میں 30 بچوں کی گنجائش ہے اور 184بچے داخل ہیں‘ اور خدانخواستہ کسی وقت بھی کوئی حادثہ پیش آ سکتا ہے۔جب بھی کسی حادثے کی کمیٹی بنتی ہے تو بزرگ سیاستدان چودھری شجاعت حسین سے منسوب یہ الفاظ یاد آتے ہیں کہ مٹی پاؤ کیونکہ جب بھی کوئی کمیٹی بنتی ہے تو کمیٹیوں کو سونپی گئی انکوائریاں یاد آ جاتی ہیں۔ اور پھر سب واقعات پر مٹی ڈالنے کیلئے کمیٹی در کمیٹی اور سب کمیٹیاں بھی بنا دی جاتی ہیں۔ اپریل 1988ء میں راولپنڈی اور اسلام آباد کے سنگم پر اوجڑی کیمپ میں اسلحہ ڈپو میں ہونے والے دھماکوں کے بعد بھی تحقیقاتی کمیٹیاں تشکیل دی گئی تھیں۔ دسمبر 2014ء میں سانحہ آرمی پبلک سکول پشاور پر دہشت گردانہ حملے کے بعد حقائق کا جائزہ لینے اور ذمہ داروں کا تعین کرنے کیلئے عدلیہ اور حکومت کی سطح پر کمیشن قائم کیے گئے۔ مئی 2020ء میں کراچی کی ماڈل کالونی میں پی آئی اے کا طیارہ گر کر تباہ ہونے کے واقعے کی تحقیقات کیلئے وزارتِ دفاع اور ایوی ایشن ڈویژن کی جانب سے تحقیقاتی بورڈ اور انکوائری کمیٹی بنائی گئی۔ جنوری 2022ء میں مری میں شدید برفباری کے دوران گاڑیوں میں پھنس کر جاں بحق ہونے والے افراد کے واقعے کی تحقیقات کیلئے حکومتِ پنجاب نے ایک اعلیٰ سطح کی انکوائری کمیٹی تشکیل دی تھی۔ اس کے علاوہ 17 جون 2014ء سانحہ ماڈل ٹاؤن کی انکوائری کیلئے بھی جوڈیشل کمیشن قائم کیا گیا تھا۔ اسی طرح جنوری 2019ء کو ساہیوال کے قریب جی ٹی روڈ پر محکمہ انسدادِ دہشت گردی کی فائرنگ سے ایک خاندان کے چار افراد جاں بحق ہو گئے اور حکومت نے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دے دی۔ سانحات‘ حادثات اور واقعات پر مٹی ڈالنے کیلئے اور بھی بہت سی انکوائری کمیٹیاں اور کمیشن تشکیل دیے گئے اور آج تک جو نتائج سامنے آئے ہیں‘ وہ سب کو معلوم ہیں۔جب کسی ملک اور معاشرے سے احتساب اور جوابدہی ختم ہو جائے تو ایسے سانحات کوئی انہونی بات نہیں۔ ہم دنیا کے تنازعات حل کروا رہے ہیں اور اپنے ملک میں جگہ جگہ آگ لگی ہوئی ہے۔ دو صوبوں میں دہشت گردی ہے  اور باقی دو صوبوں میں جرائم پیشہ افراد متحرک ہیں۔ سیاست‘ معیشت‘ معاشرت‘ عدالت‘ صحافت ہر چیز تباہ ہو چکی ہے۔ اور یہ سب کچھ ہماری اشرافیہ میں شامل طبقات کا کیا دھرا ہے اور نقصان ملک و قوم اور عوام کا ہو رہا ہے۔ ان لوگوں کے تو وارے نیارے ہیں کیونکہ یہ طبقات ایک دوسرے کے معاون اور دست و بازو بنے ہوئے ہیں‘ ان طبقات نے اسی‘ نوے فیصد وسائل اور ذرائع پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ جب تک یہ اقتدار پر قابض ہیں ملک ترقی کیسے کرے؟ کیونکہ ان لوگوں کو اپنے مفادات کے سوا کسی چیز کی پروا نہیں۔ صرف اللہ ہی ہے جو اس ملک و قوم کے حال پر رحم کرے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/228_40817243.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پھولوں کی راکھ(آصف عفان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/asif-afan-/2026-08-29/52566/57683749</link><pubDate>Sat, 29 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/asif-afan-/2026-08-29/52566/57683749</guid><description>بخت کی سیاہی نسلوں میں اس طرح پھیلتی چلی جا رہی ہے کہ جینا محال اور مرنا لازم ہو چلا ہے۔ شہرِ اقتدار کی ایک معروف علاج گاہ موت کی وادی کا منظر پیش کر رہی ہے۔ ہر طرف فلک شگاف چیخیں ہیں‘ اوربال نوچتی اور سر پیٹتی مائیں۔ ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پر دل دہلا دینے والے مناظر دیکھنے کے بعد اعصاب شل اور کلیجہ پھٹا جا رہا ہے۔ 14 نومولود پھولوں کی لاشیں لواحقین کو دینے کے لیے ان کی راکھ اکٹھی کی گئی‘ اُف خدایا! ایسی ناگہانی اور قیامت خیز گھڑیاں عوام کا مستقل مقدر کیوں بنتی چلی جا رہی ہیں؟ یہ آگ ماڑے اور بے کس مریضوں کے وارڈ میں ہی کیوں لگتی ہے؟ کسی وی آئی پی وارڈ یا کمرے میں نہیں۔ وی آئی پیز کے کمروں میں آکسیجن کی فراہمی کیوں بند نہیں ہوتی؟ ہسپتال کے انتظامی بابوؤں کے دفاتر میں آگ کا داخلہ کیوں بند ہے؟ شارٹ سرکٹ اور کمپریسر کی خرابی ان کے کمروں میں کیوں نہیں ہوتی؟ زندگی کی تلاش میں ہسپتال آنے والے ہی لاشے کیوں واپس لے جاتے ہیں؟ اپنے لختِ جگر کو بچانے کی کوشش میں کسی ماں کی ٹانگ ٹوٹ گئی تو کسی کے بال اور ہاتھ جھلس گئے لیکن توجہ طلب امر یہ ہے کہ ہسپتال کے سٹاف میں کسی کو خراش تک نہیں آئی؛ یعنی انتظامیہ بچوں کو بچانے کے لیے کسی قسم کی کوشش یا کارروائی سے یکسر گریزاں رہی۔ وزیراعظم نے ہسپتال کے سربراہ کے بجائے سیکرٹری ہیلتھ کی بَلی دے کر گورننس کا نیا بہروپ متعارف کرایا ہے۔ ہمارے ہاں بڑوں کو بچانے کے لیے چھوٹوں کی بَلی کی بدعت ہمیشہ سے عام رہی ہے‘ لیکن اس بار وزیراعظم نے احساسِ عوام کے تحت پمز میں انسانی المیے کے براہِ راست ذمہ دار کے بجائے بڑے صاحب کی قربانی دے ڈالی۔ اس سانحہ پر حکمرانوں اور بابوؤں کے فوٹو سیشنز اور آنیوں جانیوں کے علاوہ توجیہات اور وضاحتیں دیکھ کر جہاں کراہت محسوس ہو رہی ہے وہاں ان کی ڈھٹائی اور بے حسی کا ماتم بھی بنتا ہے۔ گھنٹوں اور دنوں کی زندگی پا کر شعلوں کی نذر ہونے والے معصوم بچوں کی روحیں بھی یقینا بارگاہِ الٰہی میں فریاد کرتی ہوں گی کہ اے پروردگار! ہمیں تو دنیا کا چند روزہ اذیتناک پھیرا بہت مہنگا پڑا۔ گڈ گورننس کے ڈھونگی فیصلہ سازوں کی نیت اور ارادوں سمیت دلوں کے بھید بھاؤ آئے روز کھل رہے ہیں‘ آئیے حالیہ چند برسوں میں بچوں کے ہسپتالوں میں رونما ہونے والے سانحات پر نظر ڈالتے ہیں جو حکومتی دعوؤں اور دلفریب وعدوں کا اصل چہرہ دکھانے کے لیے کافی ہیں: ٭سروسز ہسپتال لاہور: نرسری میں آتشزدگی کی وجہ سے سات قیمتی جانیں لقمۂ اجل بن گئیں (جون 2012ء) ۔جب آگ لگی اس وقت نرسری میں پچیس بچے موجود تھے۔ ریسکیو حکام کے مطابق آگ ایئرکنڈیشننگ یونٹ میں شارٹ سرکٹ کی وجہ سے لگی اور قریب پڑے گدے نے آگ پکڑ لی اور اس طرح پورے وارڈ میں پھیل گئی۔٭ چلڈرن ہسپتال لاہور کے آؤٹ ڈور ڈپارٹمنٹ کی تیسری منزل پر موجود فارمیسی میں آگ لگنے سے فارمیسی مکمل طور پر جل کر راکھ بن گئی اور وہاں موجود لاکھوں روپے مالیت کی ادویات بھی جل گئیں (جون 2022ء)۔ واقعے کے بعد محکمہ صحت پنجاب نے سپیشل سیکرٹری ہیلتھ کی سربراہی میں چھ رکنی انکوائری کمیٹی بنائی جس کو ہسپتال میں لگے فائر الارم اور فائر فائٹنگ سسٹم کی تحقیقات کا کام سونپا گیا۔٭ڈی ایچ کیو ہسپتال نارووال میں دوسری منزل پر موجود چلڈرن وارڈ میں آگ لگنے سے 40 بچے اور پانچ خواتین کو ہنگامی طور پر بحفاظت باہر نکال لیا گیا۔ (ستمبر 2022ء)۔ کمرے میں موجود پانچ نوزائیدہ بچے اور ان کی مائیں دھوئیں سے متاثر ہوئے تاہم ڈسٹرک ہیلتھ اتھارٹی نے جانی نقصان نہ ہونے پر اطمینان کا اظہار کیا۔ ٭ چلڈرن ہسپتال لاہور میں پیڈیاٹرک نرسری میں آگ لگی‘ ایک نومولود جاں بحق جبکہ ایک بچہ جھلس کر زخمی ہوا(مئی 2023ء)۔ اطلاعات کے مطابق نرسری میں شارٹ سرکٹ یا طبی آلات میں خرابی کی وجہ سے آگ لگی‘ جس نے دیکھتے ہی دیکھتے وارڈ کو لپیٹ میں لے لیا۔٭ ساہیوال ٹیچنگ ہسپتال میں بچوں کے وارڈ میں شارٹ سرکٹ کے باعث آگ لگنے سے 11بچے جاں بحق ہو گئے (جون 2024ء)۔ انکوائری رپورٹ میں ذمہ دار ٹھہرائے جانے والے ڈاکٹروں کو گرفتاری کے کچھ ہی دیر بعد رہا کر دیا گیا۔٭ ڈی ایچ کیو ہسپتال پاکپتن میں آکسیجن کی کمی اور انتظامی لاپروائی کے سبب 20 شیر خوار بچوں کی المناک موت ہوئی (جون 2025ء)۔ سنگین انتظامی کوتاہی پر ڈپٹی کمشنر کو عہدے سے ہٹا دیا گیا۔٭ پمز میٹرنٹی نرسری وارڈ اسلام آباد کی تیسری منزل پر ایئر کنڈیشننگ کمپریسر پھٹنے سے نرسری میں 14 نو مولود بچے جھلس کر جاں بحق ہو گئے (اگست 2026ء)۔اسی طرح کبھی ادویات کے ری ایکشن سے مریضوں کی بینائی جاتی رہی تو کہیں مریض جان سے جاتے رہے۔ یہ ماتمی صورتحال سالہا سال سے کبھی حکمرانی کا طرۂ امتیاز رہی ہے تو کبھی سرکاری بابوؤں کی ملی بھگت اور پالیسیوں کا نتیجہ۔ سانحۂ پمز کی متاثرہ چند ماؤں نے تو یہ الزامات بھی لگا ڈالے ہیں کہ آتشزدگی کے دوران نرسری کے دروازے اور ہنگامی راستے مقفل کر کے بچے غائب کر دیے گئے‘ ہمیں کیا معلوم کہ ہمارا بچہ اغوا ہوا ہے یا جَل گیا ہے۔ اسی طرح لاشوں کے لیے بھٹکتے ماں باپ کی غمگساری اور یکجہتی کے لیے کسی حکومتی شخصیت نے زحمت گوارا کرنے کے بجائے پولیس اور انتظامیہ کو معاملہ رفع دفع کرنے کا ٹاسک دے ڈالا۔ پولیس اپنے روایتی ہتھکنڈے استعمال کرتی رہی جبکہ انتظامی افسران کی بے سروپا وضاحتیں اس دردناک المیے کو مزید معنی خیز بنانے کا باعث بنیں۔ سانحہ رونما ہونے کے بعد وزیراعظم نے رٹے رٹائے روایتی جملے دہرائے اور ایک ایسے ریٹائرڈ سرکاری بابو کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی جو خود بھی جوابدہی اور کڑے سوالات کی زد میں ہیں۔ آتشزدگی سے نمٹنے کے لیے غیرمناسب اور ناکافی انتظامات کا بھید تو پہلے ہی کھل چکا جبکہ کسی انتظامی سٹاف کا زخمی نہ ہونا بھی معاملے کی سادگی سے متصادم ہے۔ ماضی بعید اور قریب میں ایسے سانحات تواتر سے رونما ہوتے چلے آرہے ہیں لیکن سزا صرف متاثرہ خاندانوں کو ہی ملتی آئی ہے۔ سبھی چھوٹے بڑے سرکاری بابوؤں سمیت وزیر اور مشیروں کو کمال مہارت سے محفوظ راستہ دیا جاتا رہا ہے۔ وقت کی گرد میں یہ سانحہ بھی جلد یا بدیر دب جائے گا۔ البتہ آئندہ کسی نئے المیے کے بعد بطور حوالہ یاد کرنے میں کوئی مضائقہ ہرگز نہیں۔ اس کی انکوائری رپورٹ ماضی کی تمام رپورٹوں کی طرح فائلوں کے اسی شہر خموشاں میں دفن کر دی جائے گی جہاں ایسے بیشتر المیوں اور سانحات کی رپورٹیں دفن ہیں۔ حکومتی ایوانوں میں بے حسی کا سناٹا ہے تو انتظامی دفاتر میں روایتی بے نیازی بدستور جاری ہے۔ جن گھروں میں اولاد کی پیدائش پر خوشیاں منائی اور مٹھائیاں بانٹی جا رہی تھیں آج وہاں صفِ ماتم بچھی ہوئی ہے۔ حکومتی اور انتظامی امور معمول کے مطابق چل رہے ہیں۔ تعزیتی پیغامات جاری کر کے حقِ حکمرانی ادا کیا جا رہا ہے۔رائج معیار کے تناظر میں پھولوں کو راکھ بنانے کی کیمیا گری پر پمز کے انتظامی بابوؤں سمیت ذمہ دار عملے کیلئے سول ایوارڈ تو بنتا ہے۔ حالات یونہی بدتر سے بدترین ہوتے رہے تو وہ وقت بھی دور نہیں کہ مملکتِ خداداد میں پیدا ہونے والے بچے اپنی ماؤں سے التجا کرتے نظر آئیں گے کہ: قتلِ طفلاں کی منادی ہو چکی ہے شہر میںماں مجھے بھی مثلِ موسیٰ تُو بہا دے نہر میں</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_65560900.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>خصائصِ نبوت …(3)(مفتی منیب الرحمٰن )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-08-29/52567/50000532</link><pubDate>Sat, 29 Aug 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-08-29/52567/50000532</guid><description>اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: &#39;&#39;پس آپ اُن کی باتوں پر صبر کیجیے اور طلوع وغروبِ آفتاب سے پہلے اپنے رب کی حمد کے ساتھ اُس کی تسبیح پڑھتے رہیے اور رات کے بعض اوقات اور دن کے بعض حصوں میں بھی تسبیح پڑھیے تاکہ آپ راضی ہو جائیں‘‘ (طہٰ: 130)۔ مفسرینِ کرام نے بتایا: اس آیۂ مبارکہ میں حمد وتسبیح سے مراد نمازیں ہیں‘ کیونکہ بعض اوقات جز بول کر کُل مراد لیا جاتا ہے اور ظاہر ہے کہ حمد وتسبیحات نماز کا حصہ ہیں‘ نیز اس میں نمازوں کے اوقات کی طرف بھی اشارہ ہے۔ درحقیقت عبادت تو رضائے معبود کیلئے ہوتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیبِ مکرمﷺ کو ان کلمات کے ساتھ اعزاز عطا فرمایا: آپ اس لیے حمد کے ساتھ تسبیحات پڑھیں‘ نمازیں ادا کریں تاکہ آپ راضی ہو جائیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ رضائے الٰہی اور رضائے مصطفیﷺ دو جدا چیزیں نہیں ہیں‘ بلکہ ایک ہی حقیقتِ کاملہ کا نام ہے۔ اللہ کی رضا میں مصطفی کی رضا اور مصطفی کی رضا میں اللہ کی رضا شامل ہے۔ یہ ایک ہی آئینے کے دو رُخ‘ ایک ہی حقیقت کے دو پَرتو اور ایک ہی تجلی کے دو عکس ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ کی بندگی اور رضا کا مدار رضائے مصطفی اور اطاعتِ الٰہی کا ذریعہ اطاعتِ رسول قرار پایا‘ تو پھر نیکی وہی ہے جو آپﷺ کی ذات سے منسوب ہو اور آپ کی ادائوں سے جانی جائے اور آپ کی سیرت میں ڈھل جائے‘ اس کے سوا نیکی کا ہر مَن پسند معیار فریبِ نفس‘ عُجبِ نفس‘ انا پرستی اور حق سے انحراف ہے۔ حدیث میں ہے: &#39;&#39;حضرت انسؓ بن مالک بیان کرتے ہیں: تین افراد ازواجِ مطہرات کے حجرات کی طرف آئے‘ وہ آپﷺ کی عبادت کے معمولات کے بارے میں سوال کرنے لگے‘ پس جب امہات المؤمنین نے انہیں آپﷺ کے معمولات بتا دیے تو انہوں نے ان کو کم سمجھا اور کہا: &#39;&#39;کہاں ہم اور کہاں نبیﷺ! (یعنی ہمیں اس سے زیادہ عبادت کرنی چاہیے)‘ آپﷺ کو تو اللہ تعالیٰ نے قطعی اور کُلِّی مغفرت کی سند عطا کر رکھی ہے‘‘۔ پس ان میں سے ایک نے کہا: &#39;&#39;اب میں ہمیشہ ساری رات نوافل پڑھا کروں گا‘‘ دوسرے نے کہا: &#39;&#39;اب میں ہمیشہ (نفلی) روزے رکھوں گا اور روزہ کبھی نہیں چھوڑوں گا‘‘ تیسرے نے کہا: &#39;&#39;میں عورتوں سے لاتعلق رہوں گا اور کبھی شادی نہیں کروں گا (تاکہ ہمہ وقت عبادت میں مشغول رہوں)‘‘۔ دریں اثنا رسول اللہﷺ اُن کی طرف تشریف لائے اور (ان کی باتوں کا حوالہ دے کر) فرمایا: تم لوگوں نے یہ یہ باتیں کی ہیں‘ سنو! واللہ! مجھ سے بڑھ کر نہ کسی کے دل میں خشیتِ الٰہی ہے اور نہ مجھ سے کوئی بڑا متقی ہے‘ لیکن (میرا معمول یہ ہے کہ) میں کبھی (نفلی) روزے رکھتا ہوں اور کبھی چھوڑ بھی دیتا ہوں‘ رات کا کچھ حصہ نوافل پڑھتا ہوں اور کچھ وقت کیلئے سو بھی جاتا ہوں اور میں نے عورتوں سے نکاح بھی کر رکھے ہیں (اور ان کے حقوق بھی ادا کرتا ہوں)‘ (یہی میرا شِعار بندگی ہے)‘ سو جو میری سنت سے اعراض کرے (اور خودساختہ معیارِ تقویٰ اختیار کرے)‘ وہ مجھ سے نہیں ہے‘‘ (بخاری: 5063)۔ مقامِ غور ہے کہ یہ تنبیہ یا وعید گناہگاروں کیلئے نہیں ہے‘ بلکہ اُن کیلئے ہے جو اپنی دانست میں سنتِ مصطفیﷺ سے ہٹ کر مَن پسند معیارِ تقویٰ اختیار کرنا چاہتے تھے تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: &#39;&#39;تقویٰ فقط میری سنت کے اتباع کا نام ہے‘ اس سے اعراض کا نام نہیں ہے‘‘۔حدیث مبارک میں ہے: &#39;&#39;ملائکہ نبیﷺ کے پاس آئے اور آپ اس وقت سو رہے تھے۔ آپﷺ کے بارے میں مکالمہ کرتے ہوئے بعض نے کہا: &#39;&#39;یہ سو رہے ہیں اور بعض نے کہا: بیشک آنکھ سو رہی ہے اور دل بیدار ہے‘‘۔ پھر بعض نے کہا: &#39;&#39;تمہارے اس صاحب کیلئے ایک مثال ہے‘ سو وہ مثال بیان کرو‘ تو دوسروں نے کہا: ان کی مثال اُس شخص کی سی ہے‘ جس نے ایک گھر بنایا اور اس میں دعوت طعام کا اہتمام کیا اور لوگوں کو اس دعوت کی طرف بلایا‘ پس بعض نے اس دعوت کو قبول کیا‘ گھر میں داخل ہوئے اور طعام تناول کیا اور بعض نے داعی کی پکار پر لبیک نہ کہا‘ وہ گھر میں داخل نہ ہوئے اور دعوتِ طعام سے محروم رہے۔ پھر انہوں نے کہا: اس کی تاویل بیان کرو تاکہ سمجھ میں آئے تو بعض نے کہا: &#39;&#39;بیشک وہ سو رہے ہیں اور بعض نے کہا: بیشک آنکھ سو رہی ہے اور دل بیدار ہے اور بعض نے کہا: یہ گھر جنت ہے اور اس کی طرف دعوت دینے والے محمدﷺ ہیں‘ سو جس نے محمدﷺ کی اطاعت کی تو اس نے (درحقیقت) اللہ کی اطاعت کی اور جس نے محمدﷺ کی نافرمانی کی تو اس نے (درحقیقت) اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی اور محمدﷺ لوگوں کے درمیان حق وباطل کی کسوٹی ہیں‘‘ (مختصر صحیح الامام البخاری: 2698)۔ یہ اس آیت کی تشریح ہے: &#39;&#39;جس نے رسول کی اطاعت کی تو اس نے (درحقیقت) اللہ کی اطاعت کی‘‘ (النسآء: 80)۔ اللہ تعالیٰ کا ارشادہے: &#39;&#39;(موسیٰ علیہ السلام نے دعا کی: پروردگار!) اور ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی لکھ دیجیے اور آخرت میں بھی‘ بیشک ہم نے تیری طرف رجوع کیا‘ فرمایا: میں جسے چاہوں اپنا عذاب دوں اور میری رحمت ہر چیز پر محیط ہے ۔ پس عنقریب میں (دنیا وآخرت کی بھلائی) اُن کیلئے لکھ دوں گا جو تقویٰ اختیار کریں گے‘ زکوٰۃ دیں گے اور ہماری آیات پر ایمان لائیں گے‘ یہ وہ لوگ ہیں جو اُس عظیم رسول نبیِ اُمّی کی پیروی کریں گے جن کا ذکر وہ اپنے پاس تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں‘ وہ انہیں نیکی کا حکم دیں گے اور برائی سے روکیں گے‘ وہ اُن کیلئے پاک چیزوں کو حلال اور ناپاک چیزوں کو حرام قرار دیں گے اور وہ بوجھ اور گلے کے طوق جو اُن پر مسلّط ہیں‘ اتار دیں گے‘ پس جو لوگ جو اُن پر ایمان لائیں اور اُنکی تعظیم و نصرت کریں اور اُس نور (قرآنِ کریم) کی پیروی کریں جو اُن کیساتھ اتارا گیا ہے‘ (درحقیقت) وہی لوگ فلاح یافتہ ہیں‘‘ (الاعراف: 156 تا 157)۔علامہ محمود آلوسی اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں: &#39;&#39;حضرت عبداللہؓ بن عباس بیان کرتے ہیں: دنیا اور آخرت کی بھلائی کی دعا تو موسیٰ علیہ السلام نے اپنی امت کیلئے کی تھی‘ لیکن اللہ تعالیٰ نے وہ سیدنا محمد رسول اللہﷺ پر ایمان لانے والوں اور آپ کے پیروکاروں کیلئے مقدر فرما دی۔ ایک روایت میں ہے: &#39;&#39;جو کچھ موسیٰ علیہ السلام نے اپنی امت کیلئے مانگا تھا‘ اللہ تعالیٰ نے بن مانگے امتِ محمد رسول اللہﷺ کیلئے مقدر فرما دیا‘‘ (روح المعانی‘ ج: 5‘ ص: 73)۔ علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں: &#39;&#39;اس آیت میں دنیا کی بھلائی سے مراد یہ ہے کہ دنیا میں شرعی احکام آسان ہوں‘ کیونکہ بنی اسرائیل پر احکام بہت دشوار تھے اور آخرت کی بھلائی یہ ہے کہ کم عمل پر زیادہ اجر عطا کیا جائے‘‘۔ چنانچہ قرآن وحدیث میں ایک نیکی پر دس گنا‘ سات سو گنا‘ چودہ سو گنا اجر کی نوید سنائی گئی ہے اور پھر یہاں تک فرما دیا: &#39;&#39;صبر کرنے والوں کو اُن کا اجر بے حساب عطا کیا جائے گا‘‘ (الزمر: 10)‘ نیز فرمایا: &#39;&#39;کافروں کیلئے دنیا کی زندگی مزین کر دی گئی ہے اور وہ ایمان والوں کا مذاق اڑاتے ہیں اور پرہیزگار لوگ قیامت کے دن اُن (کافروں) سے سربلند ہوں گے اور اللہ جسے چاہے بے حساب عطا فرماتا ہے‘‘ (البقرہ: 212)۔ الاعراف: 157 میں اللہ تعالیٰ نے صراحت کے ساتھ اپنے رسولِ مکرّمﷺ کو چیزوں کے حلال وحرام قرار دینے کا اختیار عطا کیا ہے‘ اسی کو ہماری فقہی زبان میں &#39;&#39;تَشْرِیْع‘‘ کہتے ہیں‘ یعنی آپﷺ شارعِ مُجاز ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے احکامِ شرعیہ کو قرآن تک محدود نہیں فرمایا بلکہ صاحبِ قرآن کو بھی اس کا اختیار دیا ہے اور آپﷺ کا کسی بات کو شرعی حکم کا درجہ دینا دراصل اللہ ہی کا دیا ہوا اختیار ہے؛ چنانچہ جب حضرت عبداللہؓ بن مسعود نے بعض ممنوع باتوں کا ذکر فرمایا تو ایک عورت نے ان سے کہا: میں نے پورا قرآن پڑھا ہے جو کچھ آپ کہہ رہے ہیں وہ تو قرآن میں نہیں ہے‘ انہوں نے فرمایا: اگر تم نے پورا قرآن پڑھا ہوتا تو یہ سوال تمہارے ذہن میں پیدا نہ ہوتا‘ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: &#39;&#39;اور جوکچھ تمہیں رسول دیں‘ اُسے لے لو اور جس سے روکیں اس سے باز آ جائو‘‘ (الحشر: 7)‘ یعنی رسول کا حکم اللہ ہی کا حکم ہے‘‘ (بخاری: 4886‘ خلاصہ)۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_61172381.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>