<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>مشرقِ وسطیٰ کا سنگین ہوتا بحران(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-24/11132</link><pubDate>Fri, 24 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-24/11132</guid><description>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز میں امریکی بحری کارروائیوں کو تین گنا بڑھانے اور اس اہم بحری گزرگاہ کی ناکہ مزید سخت کرنے کے اعلان نے عالمی توانائی بحران کو مزید شدت کی طرف دھکیل دیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے امریکی بحریہ کو نہ صرف خطے میں اپنی موجودگی بڑھانے بلکہ مشکوک سرگرمیوں کے خلاف فوری سخت اقدامات کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔ اگرچہ ماہرین امریکہ کی ناکہ بندی کو ایران پر ایک کاری معاشی ضرب قرار دے رہے ہیں تاکہ اسے مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے لیکن اس اقدام کے نتیجے میں عالمی توانائی کا بحران مزید سنگین ہونے کا خدشہ ہے۔ امریکہ کے اس فیصلے کیساتھ ہی بین الاقوامی سطح پر تشویش کی ایک لہر دوڑ گئی اور توانائی کی عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ دوسری جانب گزشتہ روز ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے پہلی بار ٹول فیس وصول کر کے یہ رقم سینٹرل بینک آف ایران کے اکاؤنٹ میں جمع کرانے کا دعویٰ کیا ہے۔دنیا کے بڑے تجارتی راستوں میں سے ایک‘ آبنائے ہرمز کی دو طرفہ بندش عالمی معیشت کی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہو رہی ہے۔

کھلے سمندروں میں کارگوجہازوں پر حملوں کی نئی جارحانہ حکمتِ عملی دنیا کو ایک ایسے نئے بحران کی طرف دھکیل رہی ہے جس کے اثرات کئی دہائیوں تک محسوس کیے جائیں گے اور یہ اقدام عالمی امن کیلئے ایک سنگین خطرہ بن کر سامنے آیا ہے۔ آبنائے ہرمز کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دنیا میں تیل کی کل رسد کا تقریباً 21 فیصد اس راستے سے گزرتا ہے۔ روزانہ دو کروڑ بیرل سے زائد پٹرولیم مصنوعات اس تنگ آبنائے سے گزر کر عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہیں۔ یہ گزرگاہ خلیجی ممالک کیلئے بھی لائف لائن کی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر دو طرفہ ناکہ بندی سے یہ راستہ بند ہو جاتا ہے تو رسد کی کمی کے سبب عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہو جائے گا۔ محض تیل ہی نہیں‘ یہ خطہ عالمی سطح پر مائع گیس اور کھاد کی ترسیل کا بھی مرکز ہے۔ اکثر ممالک میں خوراک کی فراہمی اور زرعی شعبہ اس خطے سے فراہم ہونیوالی کھاد پر منحصر ہے‘ لہٰذا اس راستے کی بندش سے عالمی غذائی تحفظ کے مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ خلیج عمان اور خلیج فارس کے پانیوں پر قبضے کی جنگ نے عالمی برادری کو اس موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں ایک غلط فیصلہ پوری انسانیت کو توانائی اور خوراک کے بدترین بحران میں مبتلا کر سکتا ہے۔ ان حالات میں امید کی کرن ایران کا یہ اعلان ہے کہ انصاف‘ وقار اور دانشمندی کی بنیاد پر مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے۔ پاکستانی حکومت بھی مذاکراتی سلسلے کو بحال کرنے کے حوالے سے پُرامید ہے اور مسئلے کا سفارتی حل نکالنے کیلئے دل و جان سے کوشاں ہے۔
ایران کا یہ مؤقف کہ کسی بھی حل تک پہنچنے کیلئے ضروری ہے کہ مذاکرات کا عمل برابری کی سطح پر ہو نہ کہ دھمکیوں کے سائے میں‘اس بات کا مظہر ہے کہ اگر عالمی طاقتیں سنجیدگی دکھائیں تو اب بھی تصادم کو ٹالا جا سکتا ہے۔ موجودہ صورتحال کا تقاضا ہے کہ فریقین جارحانہ حکمت عملی کے بجائے دانشمندی اور تدبر سے کام لیں اور مذاکرات کی میز پر مسئلے کا پُرامن حل تلاش کریں۔ عالمی بساط پہ انا‘ ضد اور ہٹ دھرمی کی قیمت ملکوں اور قوموں کو اجتماعی طور پر ادا کرنا پڑتی ہے لہٰذا فریقین کو سمجھنا ہو گا کہ لچک کا مطلب کمزوری نہیں بلکہ دانشمندی ہوتا ہے‘ جس کا مقصد کروڑوں انسانوں کو معاشی تنگدستی اور جنگ کی ہولناکیوں سے بچانا ہوتا ہے۔ اس حوالے سے بین الاقوامی برادری کو یکجا ہو کر فریقین کو ایک ایسے فریم ورک پر لانے کی کوشش کرنی چاہیے جہاں سکیورٹی خدشات کا ازالہ اور معاشی مفادات کا تحفظ ممکن ہو سکے۔ طاقت کے استعمال کے بجائے سفارتکاری کو فوقیت دے کر عالمی معیشت کے تحفظ اور خطے کے استحکام کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سرمایہ کاری میں کمی(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-24/11131</link><pubDate>Fri, 24 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-24/11131</guid><description>وفاقی وزارتِ منصوبہ بندی کی ماہانہ ترقیاتی رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی نو ماہ کے دوران براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں سالانہ بنیادوں پر 33.4 فیصد سے زائد کمی واقع ہوئی ہے اور یہ گھٹ کر ایک ارب 19کروڑ ڈالر تک محدود ہو گئی ہے۔ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں یہ سرمایہ کاری تقریباً ایک ارب 79کروڑ ڈالر کے لگ بھگ تھی۔ یہ کمی ایک بڑے معاشی رجحان کی عکاسی کرتی ہے جس کے اثرات روزگار‘ صنعتی پیداوار اور مجموعی اقتصادی نمو پر براہِ راست مرتب ہوتے ہیں۔ اس کمی کی بنیادی وجوہات میں مہنگی توانائی‘ پیچیدہ دفتری طریقہ کار‘ سرکاری معاملات میں غیر معمولی تاخیر اور پالیسیوں میں غیر یقینی کی صورتحال شامل ہیں۔

جب ایک سرمایہ کار کو اپنے منصوبے کی منظوری اور عملی آغاز کیلئے طویل اور پیچیدہ مراحل سے گزرنا پڑے تو وہ اپنا سرمایہ محفوظ اور مستحکم معیشتوں کی طرف منتقل کرنے کو ترجیح دیتا ہے۔ اسی طرح مہنگی توانائی کے باعث صنعتی پیداوار کے اخراجات میں مسلسل اضافہ سرمایہ کاری کے منافع کو کم کر دیتا ہے‘ جس سے سرمایہ کار متبادل مارکیٹوں کی طرف رخ کرنے لگتے ہیں۔ موجودہ علاقائی اور عالمی حالات کے تناظر میں توانائی کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ ان حالات میں حکومت کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ ایک جامع اور طویل مدتی معاشی پالیسی وضع کرے جو سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کر سکے۔ اس کیلئے توانائی کی قیمتوں میں استحکام‘ بیوروکریٹک اصلاحات اور امن و امان کی بہتری ناگزیر ہے۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>موسمیاتی بحران اور پیشگی وارننگ سسٹم(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-24/11130</link><pubDate>Fri, 24 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-04-24/11130</guid><description> وزیراعظم کی زیر صدارت مون سون کی پیشگی تیاریوں کا جائزہ لینے کیلئے منعقدہ اجلاس میں گلگت بلتستان میں گلوف سے بچاؤ کیلئے نصب پیشگی وارننگ سسٹم کے مکمل طور پر فعال نہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ موسمیاتی ماہرین کی جانب سے رواں برس معمول سے زیادہ درجہ حرارت کے باعث گلگت بلتستان میں  گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے اور سیلابی صورتحال پیدا ہونے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ گزشتہ برس بھی گلیشیر پھٹنے‘ لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات اور سیلابی ریلوں نے ملک کے بالائی علاقوں میں کافی تباہی مچائی تھی۔ اس پس منظر میں یہ سوال اور بھی اہم ہو جاتا ہے کہ آخر ایک سال گزرنے کے باوجود پیشگی وارننگ سسٹم مکمل طور پر فعال کیوں نہیں ہو سکا؟موسمیاتی بحران سے نمٹنے کیلئے پیشگی اقدامات ناگزیر ہیں۔

خاص طور پر گلگت بلتستان اور دیگر پہاڑی علاقوں میں جہاں فلیش فلڈنگ اچانک اور شدید شکل اختیار کر سکتی ہے‘ بروقت وارننگ اور محفوظ مقامات کی جانب منتقلی ہی نقصانات کو کم کرنے کا واحد مؤثر طریقہ ہے۔ ایک مؤثر‘ مربوط اور ڈیجیٹل طور پر فعال پیشگی وارننگ نظام ہی انسانی جانوں کے تحفظ میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتا ہے۔لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ سیلاب کے خدشے سے دوچار علاقوں میں پیشگی وارننگ سسٹم کی فوری فعالیت کو یقینی بنائے‘ علاوہ ازیں اس کی مستقل نگرانی اور اَپ گریڈیشن کا نظام بھی وضع کرے۔
 </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>امریکہ ایران کی لڑائی میں…(رؤف کلاسرا)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-04-24/51822/18315867</link><pubDate>Fri, 24 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rauf-klasra/2026-04-24/51822/18315867</guid><description>مجھے ایران کے اسلام آباد میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ کیلئے نہ آنے کی خبر پر ہرگز حیرانی نہیں ہوئی۔ ایک دلچسپ بات بتاؤں کہ جب جنگ بندی ہوئی اور اسلام آباد میں گیارہ اپریل کو مذاکرات کا پہلا راؤنڈ ہونا تھا تو میں نے نو اپریل کو اپنے پروگرام میں کہا تھا کہ میرے خیال میں ابھی ان دونوں ملکوں کے درمیان بریک تھرو نہیں ہو گا۔ وجہ بھی بتائی تھی کہ ان دونوں ملکوں کی دشمنی بہت پرانی ہے اور اب اس میں 40سے زائد ایرانی لیڈروں کے علاوہ تین ہزار شہریوں بالخصوص 168سکول کی بچیوں کا لہو بھی شامل ہو چکا ہے۔ لہٰذا ایران کیلئے اتنی جلدی امریکہ سے ہاتھ ملانا یا اس کی ساری شرائط ماننا آسان نہیں ہو گا۔ اسی طرح امریکہ کیلئے بھی پہلی ملاقات میں سب فاصلہ طے کر لینا مشکل ہو گا۔ دونوں ملکوں کو خود پر بہت زعم اور غرور ہے جو انہیں اتنی آسانی سے ڈیل نہیں کرنے دے گا۔امریکہ سمجھتا ہے کہ وہ دنیا کی واحد سپر پاور ہے۔ وہ اکلوتا شیر ہے جو دنیا میں جہاں چاہے انڈے دے یا بچے دے۔ وہ دنیا کے مختلف ملکوں کو تباہ و برباد کرنے کی لمبی تاریخ رکھتا ہے۔ اسے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ان ملکوں میں عوام پر کیا گزری۔ امریکیوں کے نزدیک اپنے مفادات اہم ہیں‘ جس کیلئے وہ کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ ان سے پوری دنیا ڈرتی ہے تو ایران کو بھی ڈرنا چاہیے۔ دوسری طرف ایرانی قوم ہے جسے اپنی پانچ ہزار سالہ تاریخ پر بہت فخر‘ بلکہ غرور ہے۔ افغانوں کی طرح وہ بھی یہی سمجھتے ہیں کہ انہیں شکست نہیں دی جا سکتی۔ وہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ‘ جس کی تاریخ صرف پانچ‘ چھ سو سال پرانی ہے‘ وہ بھلا کیسے پانچ ہزار سال پرانی تہذیب کو ختم کرنے کی دھمکی دے سکتا ہے۔ ایرانی دنیا کو اپنی قوم کی بہادری‘ مزاحمت اور سروائیول کی کہانیاں سناتے ہیں۔ صدر ٹرمپ ایک دھمکی دیتے ہیں تو ایرانی جواباً دو دھمکیاں دیتے ہیں۔ ان دھمکیوں میں پوری دنیا قیدی بن کر رہ گئی ہے۔ اگر ان حالات میں دونوں ملکوں میں فوری ڈیل ہو جاتی تو شدید حیرانی ہوتی کہ اچانک اسلام آباد میں ایسا کیا ہوا کہ اتنی خوفناک جنگ کے بعد دونوں ملکوں کی قیادت نے صلح کر لی۔ شاید ایران میں اس پر زیادہ سوالات اٹھتے کہ جنہوں نے ہمارے آیت اللہ علی خامنہ ای‘ ہماری لیڈر شپ‘ بچوں اور خواتین کو شہید کیا‘ آپ ان سے وہ مذاکرات کر کے آ گئے جس پر امریکہ خوش ہے۔ ایرانی قیادت اگر ایرانیوں کا فائدہ دیکھ کر ڈیل کرے گی تو بھی ایرانی قوم جلدی راضی نہیں ہو گی۔ لہٰذا میری رائے تھی کہ پہلی دفعہ مذاکرات کامیاب نہیں ہوں گے۔ اور ایسا ہی ہوا۔اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ میرے پاس کوئی بہت بڑی خبر یا سکُوپ تھا۔ یہ محض میرا اُس صورتحال پہ تجزیہ تھا۔ جب آپ کو انسانی تاریخ کے مطالعے کا شوق ہو‘ روزانہ عالمی اخبارات‘ جرائد اور قومی اخبارات کو غور سے پڑھتے ہوں اور بڑے بڑے لیڈروں کو فالو کر کے انہیں پڑھتے اور سنتے ہوں تو آپ کے اندر بھی تجزیے کی صلاحیت پیدا ہونے لگتی ہے کہ حالات اب کیا رخ اختیار کریں گے۔ لہٰذا یہ محض میرا تجزیہ تھا۔ اب جب دوبارہ مذاکرات ہونے لگے تو میری پروگرام میزبان نے پوچھا کہ اب کی دفعہ کیا تجزیہ ہے‘ مذاکرات کامیاب ہوں گے یا نہیں؟ میں نے کہا کہ اب کی دفعہ حالات دیکھتے ہوئے میرا تجزیہ کچھ مختلف ہے۔ اب کی دفعہ جو مذاکرات ہوں گے وہ اُس وقت ہوں گے جب فریقین پہلے ہی سے سب کچھ طے کر لیں گے۔ اس کے بغیر بات چیت نہیں ہو گی۔ پہلے بیک ڈور چینلز کے ذریعے متنازع معاملات کو حل کیا جائے گا اور پھر فریقین اسلام آباد میں صرف ہاتھ ملانے اور دستخط کرنے کیلئے ملیں گے۔ لہٰذا دوسرا راؤنڈ بہت اہم ہے اور اب کی دفعہ اسے پہلے راؤنڈ کی طرح جلد بازی میں ضائع نہیں کیا جائے گا۔ پھر کہوں گا یہ صرف تجزیہ ہے‘ کوئی اندرونی خبر نہیں۔ جب آپ دونوں ملکوں کا پس منظر اور تاریخ جانتے ہوں تو پھر یہ سب کچھ سمجھ میں آ جاتا ہے۔دوسری طرف ایران کا اسلام آباد نہ آنا شاید اچھا سفارتی اشارہ نہیں ہے۔ یا تو آپ پہلے دن ہی مذاکرات سے انکاری ہو جاتے اور پہلے راؤنڈ میں بھی شرکت نہ کرتے کہ ہمارے امریکہ کے ساتھ ایسے شدید مسائل ہیں کہ ہم ان سے ہاتھ ملانا تو دور کی بات‘ ان کے ساتھ ایک میز پر بیٹھ بھی نہیں سکتے۔ لیکن جب آپ مذاکرات کی میز پر آ جاتے ہیں اور آپ کے دوست آپ کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں تو پھر دوستوں کا بھی کچھ لحاظ رکھنا ہوتا ہے۔ پاکستان نے جس طرح ایران کی مدد کی‘ میرا نہیں خیال دنیا میں کوئی اور ملک اتنا کھل کر سامنے آیا ہے۔ ایران کا سب کو علم ہے کہ وہ بھارت کے زیادہ قریب رہا‘ لیکن اسرائیلی اور امریکی حملوں کے بعد جو رویہ بھارت نے اختیار کیے رکھا وہ ایرانیوں سے زیادہ بھارتی شہریوں کیلئے حیران کن ہے کہ ایرانی لیڈرشپ پر قاتلانہ حملوں کی نہ صرف مذمت نہیں کی گئی بلکہ ایران سے تعزیت بھی نہیں کی گئی۔ نہ ہی مودی نے امریکی یا اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی‘ بلکہ ایران پر حملے سے دو دن پہلے نریندر مودی نیتن یاہو کو گلے لگا کر فادر لینڈ‘ مدر لینڈ کی باتیں کر رہے تھے اور دو دن بعد پوری ایرانی قیادت ختم کر دی گئی۔اب انڈین ٹی وی چینلز پر ایرانی صحافی‘ یونیورسٹی پروفیسرز اور دیگر دانشور صبح وشام نظر آتے ہیں۔ انڈین چینلز ان سے پہلا سوال ہی پاکستان کے خلاف زہریلے انداز میں کرتے ہیں۔ اب تک میں نے کسی ایرانی صحافی‘ دانشور یا حکام کو ان چینلز پر یہ کہتے نہیں سنا کہ آپ لوگ کس منہ سے یہ بات کر رہے ہیں کہ آپ کے اور ہمارے اتنے قریبی تعلقات تھے بلکہ پاکستان سے بھی زیادہ‘ لیکن آپ اتنی جرأت نہیں کر سکے کہ ایران پر حملوں کی مذمت ہی کر دیتے یا آیت اللہ علی خامنہ ای اور دیگر جانی نقصانات پر تعزیت ہی کر لیتے۔ آج وہ پاکستان کے بارے میں زہر اگل رہے ہیں‘ جو پچھلے سال جون میں بھی ایران کے ساتھ کھڑا تھا اور اب کی دفعہ بھی امریکہ کو ایران کا بڑا نقصان کرنے سے روک کر اسے میز پر لایا ہے۔ مان لیا کہ اسلام آباد کا ماضی میں جھکاؤ امریکہ کی طرف رہا ہے‘ لیکن یہ کوئی راز کی بات نہیں۔ پاکستان کے اعلیٰ سطحی وفد نے ایران میں تین دن گزارے‘ ایران کو اخلاقی طور پر ہی مذاکرات میں شرکت کرنا چاہیے تھی۔ بھلے وہ امریکی ڈیمانڈ نہ مانتے‘ لیکن اسلام آباد مذاکرات کیلئے آنا چاہیے تھا۔اسلام آباد آ کر امریکیوں سے مل کر کسی معاہدے سے انکار کر دیتے اور وہیں یہ شرط رکھتے کہ پہلے ناکہ بندی ختم کریں۔ یہ بات ایران کو اسلام آباد میں کرنی چاہیے تھی۔ اگر پاکستان امریکہ کے قریب رہا ہے تو اس قربت کا فائدہ ایران کو ہوا کہ اسے مزید بربادی سے بچایا گیا‘ جو شاید اسرائیل کا ایجنڈا تھا۔ ایران کو پاکستان کی ساکھ امریکیوں کے سامنے مزید مضبوط کرنے کی ضرورت تھی تاکہ وہ ان کیلئے مزید رعایتیں حاصل کر سکتا۔ جب ایران اسلام آباد آنے سے انکار کرے گا تو اس سے پاکستان کا امریکیوں پر تاثر تو متاثر ہو گا ہی‘ زیادہ نقصان خود ایران کو ہو گا۔ ایران کو پاکستان بلکہ اس سے بڑھ کر اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے اسلام آباد آنا چاہیے تھا۔ یہ ضد کہ پہلے سمندری محاصرہ ختم کرائیں‘ پھر اسلام آباد آئیں گے تو نہ آنے سے کیا یہ محاصرہ ختم ہو گیا؟ میں شرطیہ کہتا ہوں کہ اگر ایران 21اپریل کو اسلام آباد آ جاتا تو ان مذاکرات میں جے ڈی وینس یہ محاصرہ ضرور ختم کرا دیتے تاکہ بات حتمی مرحلے میں داخل ہو جاتی۔ کیا کریں‘ امریکہ اور ایران‘ دونوں کا زعم‘ ضد‘ انا‘ تکبر اور غرور پوری دنیا کو لے بیٹھے ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90440378.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بقا کا پہلا سبق(رسول بخش رئیس)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-04-24/51823/14106848</link><pubDate>Fri, 24 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-04-24/51823/14106848</guid><description>انارکی کا اردو میں متبادل تلاش کرنے کی کوشش کی تو انگریزی کے اس مختصر لفظ کا ترجمہ طوائف الملوکی ملا۔ دوسرے معنی نراج اور فوضیت نظر آئے جو غیر معروف ہیں اور کبھی کسی عبارت میں آج تک نہیں پڑھے۔ افراتفری اور لاقانونیت البتہ بہتر طور پر انارکی کے تصور کی تشریح کرتے ہیں۔ عالمی سطح پر اب انارکی کا راج ہے۔ آپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ ایسا کب نہ تھا۔ جدید ریاستوں کے قیام سے پہلے سلطنتوں کے دور میں وہ ایک دوسرے کے ساتھ امن میں تب رہتیں جب ان میں طاقت کا توازن ہوتا۔ جنگوں کی تیاری جاری رہتی اور جونہی کوئی قریب یا دور کی سلطنت کمزور دکھائی دیتی تو کوئی بادشاہ اسے فتح کرنے کے لیے نکل پڑتا۔ مقصد کمزوروں کی لوٹ مار اور انہیں اپنے تابع رکھنے کے علاوہ کوئی اور نہ تھا۔ دور دور سے آ کر باہر کے حملہ آوروں کے لیے وسائل کے اعتبار سے امیر مگر فوجی استعداد میں کمزور معاشروں پر حکومت قائم کرنا قابلِ فخر بات تھی۔ قرونِ وسطیٰ کی کلیسائی سلطنت جب یورپ میں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئی تو اس کی جگہ جاگیرداری سلطنتوں نے لینا شروع کی جو آپس میں وسائل‘ آبادی اور علاقہ گیری کے لیے تقریباً ایک سال تک جنگیں کرتی رہیں۔ مذہب‘ فرقہ اور قومیت بھی باہمی تفریق اور لڑائیوں میں اہم عناصر تھے۔ ہمارے خطوں میں تین بڑی سلطنتیں مغل‘ ایرانی اور عثمانی تھیں۔ ان کے حکمران کہنے کو ایک مذہب سے تعلق رکھتے تھے مگر موقع ملتے ہی ایک دوسرے کے خلاف عسکری قوت استعمال کرتے ہوئے بھاری تاوان کا مطالبہ کرتے۔پوری انسانی تاریخ انارکی کی کیفیت کی گواہی دیتی ہے جو کسی ایک مخصوص طبقے‘ خطے‘ مذہب اور تہذیب تک محدود نہ تھی۔ انارکی میں اپنا وجود قائم رکھنے کا صرف ایک ہی منطقی طریقہ ہے۔ وہ اپنے معروضی حالات کے مطابق طاقت کا حصول اور اپنا دفاع ہے۔ اگر ایسا کرنا حالات کے جبر کے سامنے ممکن نہ رہے‘ شکست کا منہ دیکھنا پڑ جائے تو غلامی کے سوا پرانے دور اور معاشروں میں کوئی راستہ نہ تھا۔ سامراجیت کی پوری تاریخ بھی مغرب میں جدید ریاستوں کے قیام کے بعد عالمی سطح پر انارکی کی ایک مثال ہے۔ طاقتوروں کے خلاف نہ کوئی قانون تھا اور نہ ہی کوئی ایسا ادارہ جو لاقانونیت کو روک سکے‘ جیسا کہ قومی ریاست۔ آج کل کی جدید ریاستیں سلطنتوں کے خاتمے کے بعد وجود میں آئیں۔ مغرب میں بہت پہلے‘ تقریباً سولہویں صدی میں ایسا ہوا مگر ہماری جیسی مملکتیں سامراجیت کے خاتمے کے بعد وجود میں آئیں۔ جدید ریاستوں کے قیام کے چند اصول وضع ہوئے جو اَب بھی کمزور ریاستیں اپنے خلاف جارحیت کے مقابلے میں دلائل کے طور پر استعمال کرتی ہیں‘ جو کہ قومی اقتدارِ اعلیٰ‘ داخلی خود مختاری‘ اپنے قدرتی وسائل پر کنٹرول اور اپنے داخلی نظام میں دوسروں کی عدم مداخلت ہیں۔ یہ سب اقوام متحدہ کے منشور میں ہے‘ اور اس سے پہلے لیگ آف نیشنز کے اقرار نامے میں شامل تھا۔ اس کا مقصد تو یہ تھا کہ ہر قوم اپنی ریاست کی حدود کے اندر اپنے قومی عزائم‘ استحکام‘ امن و سلامتی‘ ترقی اور خوشحالی کے خوابوں کی تعبیر میں خود مختار ہو۔ ریاستیں جب ایک دوسرے کے ساتھ تجارتی‘ ثقافتی اور سیاسی رابطے بڑھائیں گی‘ معاشرے ایک دوسرے کو قریب سے دیکھیں گے تو ان میں ہم آہنگی پیدا ہو گی‘ نفرتیں ختم ہوں گی اور افہام و تفہیم کی روشنی پھوٹے گی۔ یہ سب مفروضے ہیں جو لفظوں کی ساخت میں آنکھوں میں تراوت اور کانوں میں رس گھولتے ہیں۔ دنیا کے معروضی حالات نے کمروں میں بیٹھے امن پسند فلاسفروں کے خیالات کی ترجمانی کبھی نہیں کی اور نہ کریں گے۔ طاقت اور طاقتور ریاستوں اور ریاستوں کے اندر حکمرانوں کی اپنی منطق رہی ہے۔ ہمارا ذاتی نظریاتی جھکاؤ تو امن پسندوں کی طرف رہا ہے اور ہمیشہ رہے گا‘ اس امید کے ساتھ کہ قانون کی حکمرانی ہی ایک اچھا معاشرہ ترتیب دے گی۔ یہ صرف دلیل اور فلسفہ تک محدود خواہش نہیں بلکہ اگر آپ جدید دور کی ترقی یافتہ اور ترقی کی منازل طے کرتی کسی بھی مشرقی اور مغربی ریاست کو دیکھیں تو قانون کی حکمرانی کو ایک لازمی جزو کے طور پر دیکھیں گے۔ منصوبہ بندی‘ وسائل کی فراہمی اور صنعت کاری سے لے کر عام تعلیم اور سائنسی ترقی سب راستے قانون کی بالا دستی سے کھلتے ہیں۔ایک صدی قبل عالمی جنگ کے بعد امن پسندوں نے جنگوں کے آئندہ تدارک کے لیے عالمی سطح پر قانون کی راہ دکھائی‘ عالمی ادارے بنانے کی تجاویز رکھیں اور تجارت پر پابندی ختم کر کے اسے آزاد کرنے کی ترغیب دی۔ مقصد یہ تھا کہ اگر قومیں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون اور باہمی انحصار کے رشتوں میں جڑ جائیں تو امن اور سلامتی کا عالمی ماحول پیدا ہو گا۔ یہ مفروضہ آج بھی پُرکشش ہے مگر جب قومیت پرستی اور ہٹلر جیسے مغرور آمروں نے طاقت کے زور پر دوسروں کو زیر کرنا شروع کیا تو سب مفروضے بڑھتی ہوئی فوجی طاقت کے سامنے دم توڑ گئے۔ طاقت کا مقابلہ پھر طاقت سے ہوا۔ پرانے یورپی طاقتور دوسری عالمی جنگ کے بعد اپنی سامراجی سلطنتوں کو ان کے حال پر چھوڑ کر واپس اپنے قومی حصار میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے تو نئی طاقتور ریاستیں ابھر کر سامنے آئیں۔ سوویت یونین اور امریکہ جو جرمنی اور جاپان کے خلاف جنگ میں ایک دوسرے کے حلیف تھے اور نظریاتی اختلاف کو جنگ نے پیچھے دھکیل دیا مگر جب دونوں فتح یاب ہوئے تو وہ پھر کھل کر آمنے سامنے آگئے اور سرد جنگ کا نیا دور شروع ہوا جس میں ہم نے بھی اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔ بالائی سطح پر طاقت کا توازن جوہری ہتھیاروں نے پیدا کیا مگر وہ صرف ایک دوسرے سے براہِ راست جنگ کرنے سے بچنا تھا۔ پراکسی جنگ جاری رہی اور دونوں بڑی طاقتوں نے کسی قانون کی پروا کیے بغیر اپنی جارحیت اور توسیع پسندی جاری رکھی۔ مقصد یہ تھا کہ ایران‘ لبنان کے خلاف جنگ اور غزہ میں تاریخ کی گھناؤنی نسل کشی کا تاریخ کے تناظر میں ذکر ہو جائے تاکہ بنیادی بات ہمیں سمجھ آ سکے۔ دنیا طاقت کے نظام کا کھیل ہے۔ اگر آپ کے پاس یہ کرنسی نہیں اور آپ کو معروضی حالات یعنی ارد گرد کے جغرافیہ اور ماحول اور ہمسایوں کی طاقت اور عزائم کا ادراک نہیں تو آپ پھر کسی برے وقت کا انتظار کر رہے ہیں۔ ایران کی جنگ سے پہلے افغانستان‘ لیبیا‘ عراق‘ شام‘ یمن اور سوڈان تک نظر دوڑائیں تو آپ کو احساس ہو گا کہ فوجی قوت ہی ریاستی وجود کی بنیادی ضمانت ہے۔ باقی باتیں نظریاتی تو بہت ہیں جو فلسفوں کی حد تک پُرکشش ہیں مگر انارکی کے عالمی ماحول میں ایک کمزور دلیل کے علاوہ ان کی کوئی اہمیت نہیں۔ ایک اور اہم بات بہرحال ذہن میں رکھیں کہ فوجی طاقت کے ذرائع اور وسائل کبھی بھی محض عسکری قوت پر منحصر نہیں ہوتے۔ قومی ہم آہنگی‘ صنعتی ترقی‘ قدرتی وسائل کا بامعنی استعمال اور سیاسی استحکام انتہائی اہم عوامل ہیں جو عسکری طاقت میں اثر اور دوام پیدا کرتے ہیں۔ روس کی یوکرین کے خلاف جنگ‘ جو اَب پانچویں سال میں داخل ہو چکی ہے‘ اور اسرائیل اور امریکہ کی گزشتہ سال سے لے کر اب تک کی جنگوں نے عالمی انارکی کے رجحان کو تقویت دی ہے۔ گزشتہ سال ہمارے جغرافیہ کے لحاظ سے بڑے مگر سوچ کے اعتبار سے کوتاہ نظر ہمسایے نے بھی ماحول تبدیل ہوتا دیکھ کر آزمائشی وار کیا تھا۔ اگر ہم تیار نہ ہوتے اور اسے لینے کے دینے نہ پڑتے تو آج ہمارا عالمی سطح پر جو مقام‘ عزت و احترام اور کردار ہے وہ نہ ہوتا۔ کاش کہ مشرقِ وسطیٰ کی ریاستیں عالمی انارکی‘ اس کی تاریخ اور اثرات کو اپنی تزویراتی سوچ میں سمو سکتیں اور طاقت کا توازن باہمی تعاون سے پیدا کرتیں تو انسانی المیہ اور تباہی جو ہم دیکھ رہے ہیں‘ ان کا مقدر نہ ہوتے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_33241568.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>اولڈ پلے بُک۔ نیا زمانہ(بابر اعوان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/babar-awan/2026-04-24/51824/60734191</link><pubDate>Fri, 24 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/babar-awan/2026-04-24/51824/60734191</guid><description>بنیادی طور پر یہ فرانسیسی زبان اور کلچر کا تصور ہے لیکن چپکا ہوا پاکستان سے ہے: &#39;&#39;Deja Vu‘‘۔ اس کے لغوی معنی ہیں پہلے سے دیکھا ہوا یا پہلے سے تجربہ شدہ۔ اسے ایک ایسی عجیب و غریب کیفیت بھی سمجھا جاتا ہے جیسے جب بھی کوئی نیا تجربہ یا صورتحال سامنے آئے تو ذہن آپ کو ڈی ریل کرے اور کہے کہ اس لمحے کو تم پہلے بھی دیکھ چکے ہو‘ حالانکہ یہ سراسر فریب ہے۔ انگریزی میں اسے تین مختلف تھیوریز میں بیان کیا گیا ہے۔ پہلی تھیوری Memory Glitch کہلاتی ہے۔ جس کا آسان مطلب یہ ہے کہ انسانی ذہن میں موجود طویل مدتی میموری فولڈر نئے حالات کو بھی ماضی سے جوڑ رہا ہے۔ دوسرے دو تصورات یہ ہیں۔ Split Perception‘ یعنی گزرے ہوئے تجربے کو پھر سے دہرانا۔ تیسری تھیوری بہت دلچسپ ہے۔ اس کے مطابق Deja Vuکو Neural Misfire کہتے ہیں‘ جس سے مراد ٹائمنگ کی چھوٹی سی ایسی غلطی جس کی وجہ سے انسانی دماغ کے مختلف حصے خواب کو حقیقت بنا کر دکھائیں۔ ایسی حقیقت جو اصل میں کوئی وجود نہیں رکھتی۔ ہماری ریاست میں پچھلے آٹھ عشروں سے Deja Vu ایک  Spiralتجربہ بن چکا ہے۔ آپ اسے ہمارے ریاستی نظام کی اولڈ پلے بُک کا نام دے سکتے ہیں۔اگر آپ لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد 1953ء سے واقعات کا جائزہ لینا شروع کریں تو آپ کو پاکستان کی گورننس کی اولڈ پلے بُک کو ہر زمانے میں عوام کو Deja Vu دکھاتا ہوا پائیں گے۔ وہ بھی بڑی ڈھٹائی کے ساتھ مسلسل اور ہر نئے زمانے میں اولڈ پلے بُک کے عین مطابق۔ آئیے ذرا اس خواب کا تعاقب کریں۔بار بار Distractionکو قومی مسائل کا حل سمجھنا: جنرل اسکندر مرزا نے مشرقی پاکستان کے لوگوں کی رائے کو دبانے کے لیے پچھلی صدی میں 50ویں عشرے کے اندر مشرقی پاکستان میں غداری کی فیکٹری لگائی‘ جس میں بھارت نے ہمارے اندرونی معاملات میں مداخلت کر دی۔ اس  Deja Vuکی وجہ سے ملک کو ناقابلِ تلافی نقصان کے راستے پر لڑھکا دیا گیا‘ نتیجہ ہم سب جانتے ہیں۔ اس وقت اہالیانِ بنگال کے اصل مطالبات تین تھے‘ ایک یہ کہ ڈھاکہ میں بھی پاکستان سیکرٹریٹ قائم کیا جائے۔ ڈھاکہ میں بھی سٹیٹ بینک بنایا جائے اور تیسرا یہ کہ مشرقی پاکستان میں موجود فوج کو ایسٹ پاکستان رائفلز (EPR) کا نام دینے کے بجائے دونوں بازوؤں میں عساکر کو ایک ہی نام سے پکارا جائے۔ ڈھاکہ میں زرعی ترقیاتی بینک‘ انڈسٹریل ڈویلپمنٹ بینک اور اس طرح کے دوسرے قومی ادارے قائم کیے جائیں تاکہ مشرقی بازو ترقی کی دوڑ میں کمزور نہ رہ جائے۔ باشعور بنگالیوں نے Distractکیا ہونا تھا‘ ان کے مسائل بڑھتے گئے اور ساتھ ساتھ پورے مشرقی بنگال میں غصہ بھی اس سے زیادہ رفتار سے بڑھتا چلا گیا۔ہمارے لیے پہلا تاریخی سبق یہ ہے کہ لوگوں کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کے لیے ایک آدھ بار تو دھوکا دیا جا سکتا ہے لیکن بار بار ہرگز نہیں۔ اس وقت بھی پاکستان اور پاکستانی دونوں ناک تک مسائل کی دلدل میں دھنسے ہوئے ہیں مگر اصل مسائل کی طرف توجہ کسی کی نہیں۔ ایسی صور تحال کو سیاسی Deja Vuکہنا ٹائم بم کہنے سے بہتر ہے۔ عالمی تنازعات میں مثبت رول سے کس کو انکار ہے‘ مگر ساتھ ساتھ یہ بھی ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ عالمی سیاسیات میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر کس کو اعتبار ہے؟عوامی مسائل کے حل کے لیے ساتویں بحری بیڑے کا انتظار؟ جیو پولیٹکل ٹینشن اپنی جگہ‘ اگر ہم تاریخ کو اپنا رہنما مان لیں تو ایوب خان کے زمانے میں ہم کولڈ وار میں امریکہ کے فرنٹ لائنر تھے۔ ضیا کے مارشل لاء میں ہم اینٹی سوویت جہاد کے نام پر افغان وار میں امریکہ کی بیک بون رہے۔ یہ بھی تاریخی حقیقت ہے کہ نائن الیون کے بعد پرویز مشرف امریکہ کے لیے کامیاب اتحادی نہیں بلکہ Indispensableٹھہرے۔ ان تینوں ڈکٹیٹر شپس کا کل عرصہ ساڑھے اکتیس سال بنتا ہے۔ افراد کو چھوڑیں قوم اور ملک کی بات کریں۔ ہم نے امریکہ کی خدمت سے قوم کی خدمت تک کا سفر کیوں نہیں طے کیا؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان تینوں ادوار میں آلۂ کار ہم تھے اور مفاد امریکہ کا تھا۔ امریکہ نے پاکستان کے حوالے سے ہمیشہ شارٹ ٹرم گین پالیسی رکھی ہے۔ امریکہ پر اس بھاری انحصار کے نتیجے میں ریاست میں سٹرکچرل عدم توازن پیدا ہو گیا۔ اسی کے نتیجے میں نجی لشکر اور نو گو ایریاز نے جنم لیا۔ صرف اس ایک وجہ سے ہم نے پراکسی جنگوں میں 80 ہزار سے ایک لاکھ پاکستانیوں کو قربان کیا۔ اگر یہ پالیسی کامیاب تھی تو پھر پاکستان پائیدار ترقی کے دور میں کیوں داخل نہیں ہو سکا۔ جس طرح صرف اشتہاری مہم کسی کو لیڈر نہیں بنا سکتی‘ اگر ایسا ہوتا تو دانت مانجھنے والا پاؤڈر اور 99 فیصد جراثیم مارنے والا صابن دونوں لیڈر ہوتے۔ہمارا قومی سفر آٹھ عشروں کے بعد بھی اسی Deja Vuمیں غوطہ خوری کر رہا ہے۔ دنیا کی ساری اقوام اور تمام ملکوں نے اسی معاشی اصول کو لانگ ٹرم کامیابی کا زینہ بنایا۔ ہماری پالیسی کبھی کچھ شیوخ و شاہ کے لیے اور کبھی مغربی طاقتوں کے مفاد اور ریلیف کے درمیان خوار ہونے پر مبنی ہے۔ باقی ساری دنیا کامیابی کے لیے پہلے ڈپلومیسی کا جال بچھاتی ہے‘ پھر ادارہ جاتی تھنک ٹینکس کے ذریعے قومی مقاصد اور ترجیحات کا تعین کرتی ہے۔ پھر ریاست کا نفع نقصان دیکھ کر پوزیشن لیتی ہے ۔ ہم پہلے فیصلہ کرتے ہیں پھر اس کے بعد فیصلے پر سوچنا شروع کرتے ہیں‘ اور باقی عمر اس پر پچھتانے کا وعدہ کر کے اپنے آپ سے مکر جاتے ہیں۔اس میں کیا شبہ ہے کہ ایران ہمارا پڑوسی ملک ہے‘ اس کے خلاف جنگ کا ٹالنا بڑے ثواب کا کام ہے مگر عام آدمی یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ بجلی‘ گیس‘ تیل‘ چولہا‘ دال روٹی اور 25کروڑ لوگ‘ ان جیسی بنیادی ضروریاتِ زندگی پہ توجہ کون دے گا؟ جب بھی خطے میں گریٹ گیم کے بڑے پلیئر آئے ہماری چوائس ہمیشہ امریکہ سے امریکہ تک محدود رہی۔ خلیج بنگال میں ساتویں بحری بیڑے کے داخلے کی خبروں کو نکال کر پڑھ لیں۔ تب سے اب تک ہم بیل آؤٹ پیکیج کے لیے کسی نہ کسی ساتویں بحری بیڑے کی آمد کی خوشی منا رہے ہوتے ہیں۔ چاہے وہ آئی ایم ایف کا بیڑا ہو‘ ورلڈ بینک کا‘ ایشیائی ترقیاتی بینک کا یا ورلڈ اکنامک فورم کا۔ کسی زمانے میں پنجاب کی ریہتل میں غریب بہاری برسی کھٹن جاتے تھے۔ اب یہ کام سال کے بارہ مہینے چلتا ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ جو ہیرا بارہ برس کی عمر میں مزدوری پر نکلا تھا‘ مزید 24 سال بعد واپس آیا تو اس کی کل کمائی کندھے پر کھیس اور ہاتھ میں گاجرتھی۔ حکمرانوں کی مستقل مزاجی کو داد دینا پڑتی ہے۔ وہی اولڈ پلے کا باب نمبر  129 صفحہ نمبر 420 اور ترکیب نمبر 9۔ نیا زمانہ دنیا بھر کو نئے انداز سکھا رہا ہے‘ لیکن ہمارا فنِ حکمرانی تبدیلی کے نیو ورلڈ آرڈر پر بھی تنِ تنہا اولڈ پلے بُک پر ڈٹا ہوا ہے۔حکمرانی کب کرے گا جملہ امکانات پر؟بند کب باندھے گا آخر قُلزمِ لمحات پردامنِ ہستی سے کب تک لوگ جھاڑے جائیں گے؟مقبروں میں کب تک آخر چاند گاڑے جائیں گے؟</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_42786259.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>مشرقِ وسطیٰ کا بدلتا منظر نامہ اور پاکستان(کنور دلشاد)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/kunwar-mohammad-dilshad/2026-04-24/51825/15838542</link><pubDate>Fri, 24 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/kunwar-mohammad-dilshad/2026-04-24/51825/15838542</guid><description>مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خلیج عمان میں امریکی ناکہ بندی کے حالات میں سابق سعودی سفیر ڈاکٹر علی عواض العسیری کا ایک اہم بیان سامنے آیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کو کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا۔ سابق سعودی سفیر نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب کا رشتہ محض سفارتی نہیں بلکہ عقیدت اور خون کا رشتہ ہے۔ ڈاکٹر علی عواض کا پاکستان کے ساتھ عقیدت و احترام پر مبنی تعلق رہا ہے۔ شہباز شریف جب پنجاب کے وزیراعلیٰ تھے تب انہوں نے سعودی سفیر کی اعلیٰ خدمات کے اعتراف میں رائیونڈ روڈ کے مقابل ایک اہم شاہراہ کو ان کے نام سے منسوب کیا تھا۔ سعودی سفیر کا کہنا تھا کہ پاکستان ہر ممکن طریقے سے سعودی عرب کی حفاظت کرے گا۔ سابق سفیر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب خلیج میں جنگ کے سائے گہرے ہو رہے ہیں۔ علاقائی توازن کے تناظر میں پاکستان کی عسکری قوت اور ایٹمی صلاحیت سعودی عرب کے لیے ایک ایسی سکیورٹی گارنٹی ہے جس کے سامنے کوئی بھی جارح ملک ٹھہر نہیں سکتا۔ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت بھی بارہا واضح کر چکی ہے کہ پاکستان کی ایٹمی اور عسکری طاقت سعودی عرب کے دفاع کی سب سے مضبوط ڈھال ہے۔گزشتہ برس معرکۂ حق کے بعد اسلام آباد حقیقی معنوں میں مشرقِ وسطیٰ کی قیادت سنبھالنے کے قریب پہنچ چکا ہے اور اب یہاں کی فضاؤں میں ایک نئی تاریخ رقم ہوتی دکھائی دے رہی ہے جس کے نتیجے میں پاکستان اس خطے کی قیادت کی پوزیشن میں آ سکتا ہے۔ شنید ہے کہ آئندہ چند دنوں میں پاکستان ایک بار پھر ایران‘ امریکہ مذاکرات کی میزبانی کر سکتا ہے۔ تاہم اس بار معمول کے مذاکرات نہیں ہوں گے۔ ذرائع کے مطابق اس بار اسلام آباد میں دنیا کی اہم ترین اور طاقتور عالمی شخصیات کی آمد متوقع ہے‘ جن کی پاکستان آمد ملک کے مستقبل کو ایک نئے دور میں داخل کر سکتی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ‘ ایرانی صدر مسعود پزشکیان‘ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان‘ ترک صدر رجب طیب اردوان‘ مصری قیادت اور یورپی رہنمائوں سمیت سب کی نظریں اس وقت اسلام آباد پر ٹکی ہوئی ہیں۔ گزشتہ دنوں وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب کا ایک ہنگامی دورہ کیا جبکہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے تین روزہ تہران کا دورہ کیا۔ پاکستان کا ایک اعلیٰ سطحی وفد چین کی قیادت کو اعتماد میں لینے کے لیے بیجنگ سے مسلسل رابطے میں ہے۔ ان حالات میں پاکستان بین الاقوامی منظرنامے میں ایک نئے پاور سینٹر کے طور پر ابھرتا دکھائی دے رہا ہے۔بین الاقوامی سطح پر امریکہ ایران امن مذاکرات کے بیچ ایک اہم پیش رفت پس منظر میں چلی گئی۔ جب دنیا بھر کی نظریں جنگ بندی کی میعاد کے خاتمے اور مذاکرات کے امکانات پر مرکوز تھیں‘ اس دوران چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے شمالی کوریا کا دورہ کیا جہاں ان کی ملاقات صدر کِم جونگ اُن سے ہوئی۔ مقتدر حلقے اس پیشرفت کو امریکہ ایران کشیدگی کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں‘ کیونکہ بدلتے علاقائی حالات کے تناظر میں تائیوان کا مسئلہ غیر معمولی اہمیت اختیار کر سکتا ہے۔ تائیوان کی سٹرٹیجک اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دنیا میں استعمال ہونے والی جدید الیکٹرانک چپس کی بڑی پیداوار اسی خطے سے جڑی ہوئی ہے۔ ایک عام گھڑی اور کیلکولیٹر سے لے کر جدید ترین جنگی جہازوں‘ میزائلوں اور بحری جہازوں تک ہر جگہ استعمال ہونے والی چپس کی بڑی تعداد تائیوان میں تیار کی جاتی ہے۔ تائیوان اور امریکہ کے تعلقات نہایت گہرے ہیں۔ عسکری امور کے ماہرین کے مطابق اگر ایران کے ساتھ امریکہ کی جنگ طویل ہوتی ہے تو ان حالا ت میں امریکہ کے لیے تائیوان کا دفاع مشکل ہو سکتا ہے کیونکہ اس کے جنگی وسائل مشرقِ وسطیٰ میں الجھ جائیں گے اور تائیوان کے دفاع یا چین کے مقابلے کے لیے امریکی قوت میں کمی ہو سکتی ہے۔ اسی تناظر میں ایک پیشرفت یہ بھی سامنے آئی ہے کہ لگ بھگ ایک دہائی کے بعد تائیوان کی اپوزیشن کے نمائندوں نے حال ہی میں چینی قیادت سے چین میں ملاقات کی ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اب تائیوان کی داخلی سیاست میں تبدیلیاں رونما ہو سکتی ہیں اور چین نواز قوتیں اقتدار میں آ سکتی ہیں۔ ایسی صورت میں امریکہ ممکنہ طور پر ردعمل دے گا اور خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔ یہاں شمالی کوریا کا کردار بھی اہم ہو گا‘ جو کسی نہ کسی سطح پر امریکہ کو ایک نئے محاذ میں الجھانے کی کوشش کر سکتا ہے۔ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا کہ اگر امریکی اثر ورسوخ کمزور پڑتا ہے تو تائیوان ہانگ کانگ کی طرز پر چین کے ساتھ ضم ہو سکتا ہے‘ جس کے عالمی اثرات نہایت گہرے ہوں گے۔تائیوان کی ٹیکنالوجی سے جہاں دنیا بھر کے ممالک مستفید ہو رہے ہیں‘ وہیں اس کا انتخابی نظام بھی مضبوط بنیادوں پر قائم ہے۔ تائیوان کے چیف الیکشن کمشنر نے پاکستان کے انتخابی نظام میں مؤثر اصلاحات کی پیشکش کی تھی اور بطور وفاقی سیکرٹری الیکشن کمیشن آف پاکستان وہ مجھ سے رابطے میں رہتے تھے۔ انہوں نے مجھے تائیوان آنے کی دعوت بھی دی‘ مگر چونکہ پاکستان اور تائیوان کے مابین سفارتی تعلقات موجود نہیں اس لیے الیکشن کمیشن نے اس پیشکش کو قبول نہیں کیا۔ تائیوان سے ہونے والی خط وکتابت کا ریکارڈ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے آرکائیوز میں موجود ہو گا۔اگر داخلی سیاست کی بات کی جائے تو حکومت اپنے دو سال مکمل کر چکی ہے اور اب تیسرا سال شروع ہو چکا ہے‘ جو ایک نازک مرحلہ ہے۔ حالات کے پیشِ نظر قومی حکومت کے قیام کے امکانات بڑھتے جا رہے ہیں۔ حالیہ برسوں میں سیاست کے دروازے محدود رہے جبکہ عدلیہ‘ میڈیا‘ بیورو کریسی اور دیگر آئینی اداروں کی کارکردگی مثالی نہیں رہی۔ پنجاب اور وفاق کی قیادت کے درمیان فاصلے کی باتیں بھی گردش میں ہیں جبکہ حکمران جماعت کے اہم رہنما حمزہ شہباز کی سرگرمیاں بھی بڑھ رہی ہیں۔ اسی طرح پرویز الٰہی‘ جہانگیر خان ترین اور چودھری نثار علی خاں کے دوبارہ متحرک ہونے کے امکانات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ کابینہ کے چند بااثر ارکان علیحدگی کے امکانات پر غور کر رہے ہیں‘ جس سے قومی حکومت کا تاثر مزید مضبوط ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ اگرچہ اس وقت حکومت کو خلیجی بحران کے سبب ایک دبائو کا سامنا ہے مگر امکان یہ ہے کہ آئندہ چند ہفتوں میں یہ بحران کم ہو سکتا ہے۔ امریکہ ایران مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت پوری طرح فعال اور سرگرم ہے۔ صدر ٹرمپ بھی پاکستان کے ثالثی کردار کو مؤثر دیکھنا چاہتے ہیں۔مذاکرات سے قبل امریکہ کی جانب سے ایران کو پُرامن جوہری مقاصد کے لیے 30 ارب ڈالر کی پیشکش اور سعودی عرب‘ متحدہ عرب امارات اور قطر جیسے خلیجی ممالک پر مشتمل ایک کنسورشیم کی تجویز سامنے آئی ہے‘ تاہم اس خبر کی حقانیت پر سوالیہ نشان ہے۔ عالمی طاقتوں کی نظریں اس وقت ممکنہ پیش رفت پر مرکوز ہیں‘ جہاں ہر قدم غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے اور کسی بھی مثبت نتیجے کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ گوادر پورٹ پر سعودی عرب کی دس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری اور سلطنتِ عمان کی جانب سے حالیہ سفارتی و معاشی تعاون کی یقین دہانی جیو پالیٹکس میں ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتی ہے۔ حاصلِ کلام یہ ہے کہ گوادر اب عالمی گیم چینجر بنتا جا رہا ہے۔ عمان اور سعودی عرب کی شراکت اس امر کی دلیل ہے کہ مستقبل کی معاشی شاہراہیں گوادر سے ہو کر گزریں گی۔ اگر پاکستان اس موقع سے مؤثر فائدہ اٹھانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ قدم خطے کی تقدیر بدلنے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_15667905.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پیٹرو ڈالر کا مستقبل(اسد طاہر جپہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/asad-tahir-jappa-/2026-04-24/51826/55906079</link><pubDate>Fri, 24 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/asad-tahir-jappa-/2026-04-24/51826/55906079</guid><description>پیٹرو ڈالر کی اصطلاح سے یہ تاثر ملتا ہے کہ جیسے یہ کسی کرنسی کا نام ہے۔ دراصل یہ کوئی کرنسی نوٹ نہیں بلکہ ایک پورا نظام ہے جس کی ابتدا اکتوبر 1973ء میں عرب اور اسرائیل کے درمیان ہونے والی جنگ میں اُس وقت ہوئی جب سعودی عرب سمیت تیل پیدا کرنے والے دیگر خلیجی ممالک (OPEC) نے امریکہ اور یورپ کو تیل کی ترسیل روک دی کیونکہ وہ اسرائیل کی حمایت کر رہے تھے۔ عرب ممالک نے پہلی مرتبہ تیل کو بطور ہتھیار استعمال کیا جس کے نتیجے میں صرف تین مہینے میں خام تیل کی قیمت میں چار گنا اضافہ ہوا جو تین ڈالر سے بڑھ کر 12 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔ اس بحرانی صورتحال کے باعث امریکہ میں تیل کی شدید قلت پیدا ہو گئی اور پٹرول پمپس پر گاڑیوں کی لمبی لائنیں لگ گئیں۔ اسے 1973ء میں جنم لینے والے تیل کے بدترین بحران کے نام سے جانا جاتا ہے۔اس شدید بحران سے نمٹنے کے لیے اور آئندہ اس طرح کی ناخوشگوار صورتحال سے بچنے کے لیے امریکہ نے عرب ممالک کی تیل پر اجارہ داری کو ختم کرنے کی ٹھان لی۔ جولائی 1974ء میں امریکہ کے وزیر خارجہ ہنری کسنجر نے خفیہ طور پر سعودی عرب کا دورہ کیا جس کے نتیجے میں شاہ فیصل سے ایک خفیہ معاہدہ طے پایا جس کی چار بنیادی شرائط تھیں۔ اول‘ سعودی عرب سارا تیل صرف امریکی ڈالر میں بیچے گا جس کے عوض امریکہ سعودی شاہی خاندان کو فوجی تحفظ دے گا۔ دوم‘ تیل بیچ کر جو ڈالر ملیں گے سعودی عرب انہیں دوبارہ امریکی ٹریژری بانڈز میں لگائے گا اور امریکہ سعودی عرب کو جدید ہتھیار اور فوجی تربیت دے گا۔ سوم‘ سعودی عرب تیل پیدا کرنے والے دوسرے ممالک کو بھی ڈالر میں تیل بیچنے پر راضی کرے گا جس کے نتیجے میں امریکہ سعودی عرب کو ایران اور اسرائیل سے تحفظ فراہم کرے گا۔ چہارم‘ سعودی عرب تیل کی قیمت ڈالر میں طے کرے گا اور سعودیہ میں امریکی کمپنیوں کو ٹھیکے دے گا۔یوں اس معاہدے کے تحت سعودی عرب کی کوششوں سے 1975ء تک پورا OPEC راضی ہو گیا کہ تیل کی قیمت صرف ڈالر میں طے پائے گی۔ اس طرح عراق‘ ایران اور ونیزویلا سب نے ہاں کر دی۔ یوں امریکی ڈالر تیل کی کرنسی بن گیا۔ اس اعتبار سے پیٹرو ڈالر نے 1973ء کے بحران کے نتیجے میں جنم لیا اور امریکہ نے خلیجی ممالک سے تیل کا ہتھیار اپنے قبضے میں لے کر اسے امریکی ہتھیار میں تبدیل کر دیا۔ پوری دنیا میں تیل کی خرید و فروخت ڈالر میں ہونے لگی جس کے باعث ڈالر کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہونا لازمی امر ٹھہرا۔ خود سعودی عرب سمیت تمام تیل پیدا کرنے والے ممالک ڈالر کے محتاج ہو گئے اور اس طرح عالمی تجارت میں ڈالر مضبوط ترین کرنسی بن گیا۔ پیٹرو ڈالر کا یہ نظام 1944ء میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک پر مشتمل دو عالمی معاشی اداروں کے قیام کے بعد ڈالر کی مضبوطی کے لیے اٹھایا جانے والا دوسرا بڑا اقدام تھا جس کے نتیجے میں عالمی معاشی اور تجارتی مراکز میں امریکی ڈالر کی اجارہ داری قائم ہو گئی۔ اسی معاہدے کے تحت عرب ممالک نے تیل سے حاصل ہونے والی آمدن کے خطیر حصہ سے امریکی معیشت میں سرمایہ کاری کی جو امریکی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی ثابت ہوئی۔ مزید برآں ان پانچ دہائیوں میں امریکہ نے تیل کی ترسیل کے عوض سعودی عرب اور خلیجی ممالک کو ایک طرف نوٹ چھاپ کر ادائیگیاں کیں اور دوسری طرف اربوں ڈالرز کا دفاعی ساز و سامان بیچ کر خوب منافع کمایا۔ یہ معاہدہ پچاس سال کی مدت کے لیے طے پایا تھا جس کی تجدید دونوں ممالک کی باہمی رضا مندی سے کی جا سکتی تھی۔ 9 جون 2024ء کو 50 سالہ یہ دفاعی معاہدہ ختم ہو گیا مگر مبینہ طور پر سعودی عرب نے ابھی تک اس کی تجدید نہیں کی۔ اسی لیے 2024ء کے بعد &#39;&#39;پیٹرو یوآن‘‘ کی باتیں شروع ہو گئیں۔ دوسری طرف 28 فروری 2026ء سے شروع ہونے والی ایران‘ اسرائیل اور امریکہ جنگ نے پہلی بار اس 50سالہ نظام کو کھلے عام چیلنج کیا جب ایران نے آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول قائم کر کے یہ اعلان کر دیا کہ وہاں سے صرف وہی جہاز گزرے گا جو امریکی ڈالر کے بجائے یوآن یا کرپٹو کرنسی میں ادائیگی کرے گا۔ یوں 50سال تک پوری آب وتاب سے چلنے والے پیٹرو ڈالر کے نظام کو پہلی بار چیلنج کیا گیا ہے اور اب اس کی بنیادیں ہل رہی ہیں۔اب یہاں پر یہ اہم سوال سر اٹھانے لگا ہے کہ کیا واقعی پیٹرو ڈالر کا سنہری دور ختم ہونے والا ہے؟ چند روز قبل معروف امریکی جریدے وال سٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات نے امریکہ کو باقاعدہ خبردار کیا ہے کہ اگر علاقائی کشیدگی کے باعث ڈالر کی قلت پیدا ہوئی تو وہ تیل کی فروخت اور دیگر مالیاتی لین دین کے لیے چینی یوآن سمیت متبادل کرنسیوں کا استعمال کر سکتا ہے۔ عالمی سیاست اور معیشت کے ماہرین اس خبر پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ اماراتی حکام ڈالر کی لیکویڈیٹی متاثر ہونے کی صورت میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھیں گے اور اس طرح عالمی تجارت میں چینی یوآن کا کردار بڑھتا ہوا نظر آتا ہے۔ چونکہ چین دنیا میں تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے‘ اور اب یوآن کو ڈالر کے مدمقابل لانے کی تیاریاں تیز دکھائی دے رہی ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صرف معاشی مجبوری نہیں بلکہ امریکہ کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ خلیجی ممالک اب اپنی معاشی پالیسیوں میں مکمل طور پر آزاد ہونا چاہتے ہیں۔ اگرچہ ابھی تک پالیسی باقاعدہ تبدیل نہیں کی گئی لیکن متحدہ عرب امارات کا یہ مؤقف اس امر کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ عالمی منڈی اب صرف ایک کرنسی کے سہارے نہیں چلے گی۔ اگر یہ جنگ طویل عرصے تک جاری رہی اور آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول قائم رہا تو ممکن ہے کہ یہ فیصلہ حقیقت میں بدل جائے‘ جو گزشتہ پانچ دہائیوں سے جاری پیٹرو ڈالر کے نظام کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتا ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ توقعات کے برعکس اور جنگ کے باوجود امریکی ٹریژری بانڈز اور ڈالر اب بھی دنیا کی سب سے محفوظ پناہ گاہ ہیں۔ اگرچہ ایک طرف امریکہ کا قومی قرضہ 38 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے تو دوسری طرف ایران نے جنگ کے دوران اعلان کیا ہے کہ جو ملک ایران کے خلاف ہے وہ اس کے ساتھ اس کی کرنسی میں تجارت نہیں کرے گا جس کے نتیجے میں جنوبی افریقہ‘ برازیل اور انڈونیشیا سب مقامی کرنسی میں تجارت کو فروغ دے رہے ہیں جس سے پیٹرو ڈالر مزید کمزور ہو سکتا ہے۔ ہاں البتہ اگر جنگ جلد ختم ہو جائے اور امریکہ سعودی عرب سے نئے دفاعی معاہدے کر لے تو تیل کی تجارت کا بڑا حجم ڈالر میں رہے گا۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ یوآن‘ درہم اور ڈیجیٹل کرنسی بھی عالمی تجارت میں شریک ہوں گے۔ ڈالر بادشاہ رہے گا مگر شاید اکیلا نہیں۔ بلاشبہ ایران اسرائیل جنگ نے پیٹرو ڈالر پر کاری ضرب لگائی ہے۔ 1974ء میں جو نظام سعودی تیل کے کنوؤں سے نکلا تھا‘ 2026ء میں وہ آبنائے ہرمز میں ڈوب رہا ہے۔ ادھر آئی ایم ایف کے اقتصادی ماہرین کا انداز ہے کہ 2030ء تک تیل کی تجارت کا کم و بیش تیس فیصد حصہ ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ یوں اگلے 10 سال میں دنیا &#39;&#39;پیٹرو ڈالر‘‘ سے &#39;&#39;پیٹرو ڈیجیٹل ‘‘ کے دور میں داخل ہو سکتی ہے۔ ڈالر رہے گا لیکن وہ اکیلا بادشاہ نہیں ہوگا۔ تیل کی قیمت ڈالر کے ساتھ ساتھ یوآن‘ درہم اور شاید بڈیجیٹل کرنسی میں بھی طے ہو۔ تاریخ میں کرنسیاں اسی طرح بتدریج مرتی ہیں‘ اچانک نہیں۔ یہ امر واضح ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ پیٹرو ڈالر کے زوال کا نقطۂ آغاز بن سکتی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_34710710.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>صلح کی گود میں امن(امیر حمزہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/ameer-hamza/2026-04-24/51827/59845667</link><pubDate>Fri, 24 Apr 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/ameer-hamza/2026-04-24/51827/59845667</guid><description>اللہ تعالیٰ کے پانچ صفاتی نام ایسے ہیں جو قرآن مجید میں تسلسل کے ساتھ مذکور ہوئے ہیں۔ ذاتی نام یعنی اسم اعظم اللہ کے بعد پہلا نام &#39;&#39;الملک‘‘ یعنی کائنات کا بادشاہ ہے۔ دوسرا &#39;&#39;القدوس‘‘ ہے‘ جس کا معنی انتہائی پاک ہے‘ کہ جس کی پاکیزگی میں کوئی عیب نہ ہو۔ تیسرا &#39;&#39;السلام‘‘ ہے یعنی جس سے ہر ایک کو سلامتی ملتی ہے۔ چوتھا &#39;&#39;المؤمن‘‘ جس سے ہر ایک کو امن ملے۔ پانچواں صفاتی نام &#39;&#39;المھیمن‘‘ ہے یعنی اللہ تعالیٰ ہر ایک پر نگران ہے۔ ان پانچوں صفاتی ناموں کو تسلسل کے ساتھ سلیس اردو میں بیان کیا جائے تو مطلب یوں واضح ہوگا کہ اللہ تعالیٰ ایسی عظیم ذات ہے کہ وہ حکمران ہے تو اس کی حکمرانی میں انتہائی پاکیزگی ہے۔ اس سے ہر مخلوق کو سلامتی ملتی ہے۔ ہر ایک کو جان‘ مال‘ عزت وآبرو کا تحفظ ملتا ہے۔ وہ اپنے بندوں پر پوری پوری نگرانی کر رہا ہے کہ کون ہے جو اپنی نگرانی میں اپنے زیرِ نگیں لوگوں پر ایسی حکمرانی کرتا ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی صفات کی جلوہ گری دکھائی دیتی ہو۔ وہ حکمرانی انتہائی مبارک ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی مندرجہ بالا پانچ صفات کی جھلکیاں دکھائی دیں۔خلیجی علاقے میں جنگ کو امن میں تبدیل کرنے کیلئے ہمارے وزیراعظم جناب شہبازشریف دن رات اڑانیں بھر رہے ہیں اور ہمارے فیلڈ مارشل محترم سید عاصم منیر کبھی ایک ملک تو کبھی کسی دوسرے ملک کا دورہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ رات کو وہ اپنے اللہ سے امن کی التجا کرتے‘ قرآن پڑھتے اور پاک وطن کی سرزمین کی سلامتی کیلئے فیلڈ میں دکھائی دیتے ہیں۔ وزیراعظم اگر سعودی عرب میں ہوتے ہیں تو فیلڈ مارشل ایران کا دورہ کرتے ہیں۔ اس بھاگ دوڑ اور محنت کا اللہ تعالیٰ نے نتیجہ یہ نکالا کہ صدر ٹرمپ نے جنگ بندی کی مدت میں مزید اضافہ کر دیا اور کہا کہ ایران کے لیڈر اور نمائندے جب تک متفقہ تجاویز تک نہیں پہنچتے‘ ہم ایران پر حملہ روکے رکھیں گے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ میں یہ فیصلہ فیلڈ مارشل اور وزیراعظم پاکستان کی درخواست پر کر رہا ہوں۔ ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ ہم بحیرۂ عرب میں محاصرہ برقرار رکھیں گے۔ دوسری طرف ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ اس اقدام کو جنگ کا اعلان سمجھتا ہے۔ یوں امن اور جنگ کے مابین کشمکش جاری ہے۔ فیلڈ میں فیلڈ مارشل صاحب کی بھاگ دوڑ جاری ہے۔ اللہ تعالیٰ کے حضور دعا ہے کہ جمعہ کے دن کی بابرکت گھڑیوں میں صلح کا گولڈن چانس امن کے دامن کو تھامتا ہوا دکھائی دے۔آبنائے ہرمز کے دامن میں قشم نامی جزیرہ کی مٹی اور پہاڑ دیکھنے کے لائق ہیں۔ یہ مٹی اور پہاڑ سرخ ہیں۔ آسمان سے جب اس سرخ زمین کا مالک بارش برساتا ہے تو منظر اس طرح کا بنتا ہے جیسے سرخ خون کے ندی نالے آبنائے ہرمز میں خون شامل کر رہے ہیں۔ مجھے تو یہ سمجھ آتی ہے کہ انسانوں کے خالق نے انسانوں کو سمجھایا ہے کہ کہیں اپنا خون اس آبنائے میں بہانا نہ شروع کر دینا۔ سنبھل کر چلنا‘ صلح وصفائی سے رہنے کا نام ہی انسانیت ہے۔ جن کا یہ علاقہ ہے‘ ان سے دستور کے مطابق حاصل کرنا ہی انسانیت کی عظمت ہے۔ اسی عظمت کا جھنڈا تھامے پاک وطن سارے جہاں میں پورے قد کاٹھ سے کھڑا ہے۔ صلح کا پرچم تھامنے والے کو اِدھر اُدھر کی دلفگار باتیں بھی سننا پڑتی ہیں مگر امن کے سچے علمبردار ان باتوں کی پروا نہیں کیا کرتے۔ قشم جزیرے کے لوگ سرخ مٹی سے ایک تکنیک سے ایسا آئل اور ملیدہ بناتے ہیں کہ سرخ تیل کو روٹی پر ڈالا جاتا ہے تو یہ سرخ روٹی اسی طرح قوت بخش بن جاتی ہے جس طرح دیسی گھی سے روٹی قوت بخش بن جاتی ہے۔ اس میں انسانیت کے نام پیغام ہے کہ روٹی کی خاطر انسانیت کا خون مت بہائو‘ نجانے خون بہنے سے دنیا بھر کی انسانیت کے کتنے لاکھوں‘ کروڑوں چولہے بجھ جائیں۔ شہباز شریف اور فیلڈ مارشل کو مبارکباد کہ وہ انسانی چولہوں کو امن کی توانائی سے روشن رکھنے کی بھرپور جدوجہد کر رہے ہیں۔حضورﷺ کی عمر مبارک جب چھ برس تھی تو حضورﷺ کی والدہ محترمہ حضرت آمنہ اپنے اللہ کے پاس تشریف لے گئیں۔ تب آنحضورﷺ کے دادا محترم عبدالمطلب اس پرورش کے ذمہ دار قرار پائے۔ گھر میں ماں کا جو پیار تھا وہ جناب عبدالمطلب کی ایک بہو سے ملتا تھا‘ جن کا اسم گرامی فاطمہ بنت اسدؓ تھا۔ یہ جناب ابوطالب کی اہلیہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی والدہ محترمہ تھیں۔ رشتے میں حضورﷺ کی چچی ماں تھیں۔ ان کے مبارک ہاتھوں کی پکی ہوئی روٹی کے لقمے حضورﷺ کے مبارک منہ میں نوالہ بنا کرتے تھے۔ جب حضور کریمﷺ نے نبوت کا اعلان فرمایا تو حضرت فاطمہ بنت اسدؓ نے اسلام کو سینے سے لگا لیا۔ اللہ کے رسولﷺ نے ہجرت فرمائی تو فاطمہ بنت اسدؓ بھی مہاجر صحابیہ بن گئیں۔ جب مدینہ منورہ کی سرزمین پر اپنے اللہ سے ملاقات کو تشریف لے گئیں تو اللہ کے رسولﷺ نے ہچکیاں لیتے ہوئے ان کی وفات پر آنسو بہائے۔ جن ہاتھوں سے روٹی پکتی تھی اور لقمہ بن کر حضورﷺ کے شکم مبارک میں اترتی تھی‘ ان ہاتھوں کی شفقت اب آنسو بن کر حضورﷺ کے گلابی رخساروں پر بہہ رہی تھی۔ حضورﷺ نے فیصلہ فرمایا کہ بقیع کے قبرستان میں مادرِ رسول کی قبر مبارک کی کھدائی ہو گی تو حضرت ابوبکر صدیقؓ کے ہاتھوں سے ہو گی‘ حضرت عمرؓ اور دیگر جلیل القدر صحابہ کرام کے مبارک ہاتھوں سے ہو گی۔ جی ہاں! حضورﷺ کی چچی‘ جو رسول اللہﷺ کے لیے والدہ کی طرح تھیں‘ وہ سب صحابہ کی والدہ ہیں‘ ساری امت کی والدہ محترمہ ہیں۔جب لحد سے مٹی نکالنے کا موقع آیا تو حضورﷺ خود قبر میں اترے اور مٹی نکالنے لگے۔ حتیٰ کہ حضورﷺ نے ساری مٹی نکال کر قبر کی لحد مبارک کو اس طرح درست اور شفاف کیا کہ خود اس لحد میں لیٹ کر جائزہ لیا۔ یہ واحد قبر مبارک ہے جس میں حضورﷺ خود لیٹے۔ جی ہاں! حضورﷺ نے ساری زندگی اپنی چچی ماں کی خدمت کی۔ آخری خدمت یہ تھی کہ قبر میں لحد کو سنوارا۔ اپنے کرتے مبارک کا کفن عطا کیا اور فرمایا: اس کُرتے کی (برکت کی) وجہ سے اللہ تعالیٰ چچی محترمہ کو جنت کا کرتا زیب تن کرائے گا۔ جی ہاں! وہ قبر کس قدر مبارک اور نورانی ہو گی کہ جسے صحابہ کرامؓ کے ہاتھوں نے بنایا اور آخر پر لحد کو حضورﷺ نے خود سنوارا۔ اس کا ذرہ ذرہ آفتاب ہو گا تو پھر اس کے نورانی جلوئوں کی جلالت وجمال کا کیا عالم ہو گا!لوگو! اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیبﷺ کو بیٹی عطا فرمائی تو حضورﷺ نے اپنی چوتھی‘ سب سے چھوٹی اور سب سے لاڈلی بیٹی کا نام اپنی چچی ماں کے نام پر فاطمہ رکھا۔ سیدہ فاطمہ بتول الزہرا رضی اللہ عنہا نے جوانی میں قدم رکھا تو اب یہ فاطمہ بنت اسدؓ کی بہو بن گئیں۔ قارئین کرام! زمانہ آگے بڑھتا ہے‘ حضرت عمر فاروقؓ کا دور آتا ہے۔ ایران فتح ہوتا ہے تو ایرانی بادشاہ یزدگرد کی تین شاہ زادیاں مدینہ منورہ پہنچتی ہیں۔ ان تینوں بہنوں میں جو بہن ہر لحاظ سے ممتاز تھیں‘ وہ حضرت شہربانو تھیں۔ ان کی شادی حضرت امام حسینؓ سے ہو جاتی ہے‘ جو جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں۔ باقی دو کی شادی حضرت عبدالرحمنؓ اور حضرت عبداللہؓ سے ہوئی‘ جو بالترتیب حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کے بیٹے تھے۔ حضرت شہر بانو کی قبر مبارک ایران میں ہے۔ یہ حیدرِ کرارؓ اور سیدہ فاطمہ بتولؓ کی بہو ہیں۔ جی ہاں! بتانا یہ چاہتا ہوں کہ ہمارے فیلڈ مارشل صاحب سید ہیں‘ جو بلادِ عرب سے بھی نسبت رکھتے ہیں اور ایران سے بھی۔ اسی لیے تو کوشاں ہیں کہ صلح کا جو گولڈن چانس ہے‘ اس کی پرورش امن کی گود میں ہو‘ جس کا نام ہے اسلام آباد!۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_68712266.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>