<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>طالبان، دہشت گردی اور پاکستان کا حقِ دفاع(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-04/11330</link><pubDate>Sat, 04 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-04/11330</guid><description>امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف دفاع کے حق میں پاکستان کے اقدامات کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ایک بیان کے مطابق پاکستان کے عوام نے دہشت گردی سے بہت نقصان اٹھایا ہے اور واشنگٹن دہشت گرد حملوں کے خلاف پاکستان کی جانب سے دفاعی اقدامات کی تائید کرتا ہے۔ افغانستان کی جانب سے دہشت گردی کے خطرات ملک میں امن وامان کا سب سے بڑا خطرہ ثابت ہو رہے ہیں۔ افغانستان پاکستان میں دہشت گردی اور تخریب کاری کے حوالے سے کوئی نیا خطرہ نہیں۔ ماضی میں اشرف غنی اور حامد کرزئی کے ادوار میں بھی کابل کی جانب سے ایسے اقدامات کیے گئے جن سے پاکستان کی سلامتی کیلئے براہ راست خطرات نے جنم لیا یا ان میں اضافہ ہوا۔ اس سلسلے میں بھارتی قونصل خانوں کی پاکستان کی سرحد کے قریب واقع افغان شہروں میں مشکوک مصروفیات تشویش کا سبب رہی ہیں۔مگر پاکستان میں یہ امید تھی کہ افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد صورتحال میں مثبت تبدیلی آئے گی؛ چنانچہ اگست2021 ء میں جب طالبان کابل پر قابض ہوئے تو پاکستان پُر امید تھا کہ افغانستان استحکام اور پڑوسی ممالک کیساتھ بہتر تعلقات قائم کرے گا۔ لیکن یہ امیدیں جلد ہی دم توڑنے لگیں۔

مایوسی کی پہلی وجہ افغانستان کی جیلوں سے ان دہشت گرد عناصر کی رہائی تھی جنہیں سابق افغان حکومتوں یا غیر ملکی افواج نے حراست میں لے کر جیلوں میں ڈالا تھا۔ افغان طالبان کی جانب سے دہشت گردوں کی اعانت کا یہ پہلا ثبوت کابل پر ان کے کنٹرول کیساتھ ہی سامنے آ گیا۔ ایسے مزید شواہد سامنے آنے میں بھی زیادہ وقت نہیں لگا۔  پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے سدباب کی تجاویز اور مطالبات کے باوجود افغان طالبان ٹس سے مس نہیں ہوئے۔ پاکستان کی جانب سے اکابر علما کے وفود طالبان کو قائل کرنے کیلئے کابل کے دورے پر گئے مگر طالبان کے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور ملکِ عزیز میں دہشت گردی کے واقعات معمول بن گئے۔ افغانستان میں طالبان کی واپسی نے قبائلی پٹی کے علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف پاکستان کے اقدامات کو بھی بے اثر کر دیا۔ پاکستان کی جانب سے کارروائیوں سے بھاگ کر جو عناصر افغانستان میں جا چھپے تھے انہیں وہاں سرکاری حمایت اور پشت پناہی حاصل ہوئی تو وہ پاکستا ن میں زیادہ کھل کر حملے کرنے کے قابل ہو گئے۔ خیبر پختونخوا‘ خاص طور پر اس کے جنوبی اضلاع جو وزیرستان کے علاقوں سے متصل ہیں اس دوران دہشت گردی کے مسلسل حملوں کی زد پر ہیں۔
ان واقعات میں افغانستان کی اعانت کے کئی شواہد موجود ہیں۔ کئی بار دہشت گردی میں ملوث عناصر گرفتار ہوئے یا مارے گئے اور ان کی شناخت افغانستان کے شہری کے طور پر ہوئی‘ علاوہ ازیں دہشت گردی کے اکثر واقعات میں استعمال ہونے والا اسلحہ افغانستان سے لایا گیا تھا۔ ان میں سے بہت سے واقعات میں وہ ہتھیار اور آلات کے استعمال ہونے کی تصدیق ہوئی جو غیر ملکی افواج یا سابق افغان سکیورٹی فورسز کے استعمال میں تھے تاہم اگست 2021ء میں جو غدر مچا اس کے بعد یہ اسلحہ بھی دہشت گردوں کی پہنچ میں آ گیا۔ پاکستان کی سلامتی کیلئے ان بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کیلئے پاکستان کی جانب سے سفارتی اقدامات سے آغاز کیا گیا مگر افسوسناک طور پر اس کا تسلی بخش نتیجہ برآمد نہیں ہوا اور شکایات کا ازالہ اور معقول طرزِ عمل اختیار کرنے کے بجائے طالبان کی سرحدی فورسز کی جانب سے پاکستان پر بلااشتعال فائرنگ اور بدامنی پیدا کرنے کے بعد پاکستان کو اپنے دفاع میں مناسب اور ضروری اقدامات کا جواز حاصل ہوا‘ جس کی توثیق اقوام متحدہ کے چارٹر کا آرٹیکل 51 بھی کرتا ہے۔ امریکی دفتر خارجہ کے بیان میں پاکستان کے اسی حق کی تائید کی گئی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>المناک بس حادثہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-04/11329</link><pubDate>Sat, 04 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-04/11329</guid><description>گزشتہ روز کوئٹہ سے پشاور جانے والی بس بلوچستان کے علاقہ دانہ سر کی ایک گہری کھائی میں گرنے سے 40 مسافر جاں بحق اور آٹھ زخمی ہو گئے۔ پولیس کے مطابق یہ حادثہ بریک فیل ہونے کے باعث پیش آیا۔ بلوچستان‘ شمالی علاقہ جات‘ آزاد کشمیر اور مغربی سرحدی علاقوں کے دشوار گزار راستوں پر روزانہ لاکھوں افراد سفر کرتے ہیں۔ ان سنگلاخ راستوں پر گاڑی چلانا انتہائی ذمہ داری‘ مہارت اور غیرمعمولی احتیاط کا متقاضی ہے مگر افسوس کہ دانستہ یا غیر دانستہ طور پر ایسی غفلتیں سرزد ہوتی رہتی ہیں جو آئے روز قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کا باعث بنتی ہیں۔ طویل اور دشوار گزار سفری راستوں پر گاڑی کا مکمل طور پر فٹ ہونا اور اس کا وقفے وقفے سے فنی معائنہ کرانا ناگزیر ہے تاکہ مسلسل سفر کے دوران پیدا ہونے والی تکنیکی خرابیوں کو بروقت دور کرکے کسی ممکنہ سانحے سے بچا جا سکے۔

ایک ذمہ دار اور تجربہ کار ڈرائیور ان تقاضوں کو ہمیشہ پیشِ نظر رکھتا ہے لیکن ناتجربہ کار یا لاپروا ڈرائیور نہ صرف اپنی بلکہ مسافروں کی جانوں کو بھی شدید خطرے سے دوچار کر دیتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دشوار گزار اور طویل روٹس پر چلنے والی ہر گاڑی کو روانگی سے قبل مکمل تکنیکی جانچ کے عمل سے گزارا جائے جبکہ دورانِ سفر بھی بریکوں‘ ٹائروں اور دیگر اہم پرزہ جات کا معائنہ یقینی بنایا جائے۔ اسی طرح وہ ٹرانسپورٹ کمپنیاں اور گاڑیوں کے مالکان بھی قانون کی گرفت سے محفوظ نہیں رہنے چاہئیں جو فنی معیار پر پوری نہ اترنے والی گاڑیاں سڑکوں پر اتارتے ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>اشیائے ضروریہ کی مہنگائی(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-04/11328</link><pubDate>Sat, 04 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-07-04/11328</guid><description>عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں چار ماہ کی کم ترین سطح پر آنے کے بعد امید کی جا رہی تھی کہ عوام کو ریلیف ملے گا۔ اگرچہ اس تناظر میں حکومت کی طرف سے پٹرولیم مصنوعات اور ایل پی جی کی قیمتوں میں کمی کی گئی لیکن اسکے اثرات روزمرہ استعمال کی اشیا پر منتقل نہیں ہوئے۔ وفاقی ادارۂ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق دو جولائی کو ختم ہونے والے کاروباری ہفتے کے دوران 23 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جبکہ مہنگائی کی شرح 13.52 فیصد ریکارڈ ہوئی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق سالانہ بنیادوں پر سب سے زیادہ مہنگی ہونیوالی اشیا میں ٹماٹر سرفہرست ہے جس کی قیمت میں سالانہ بنیادوں پر 240 فیصد اضافہ ہوا جبکہ پیاز‘ آلو‘ انڈے‘ آٹا‘ دودھ‘ دہی‘ چاول اور مختلف اقسام کی دالوں کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ یہ تمام وہ بنیادی اشیائے خورونوش ہیں جن کے بغیر ایک عام گھرانے کا گزارا ممکن نہیں۔

حکومت کو چاہیے کہ ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کا خاتمہ یقینی بنائے۔ اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ سب سے اہم مسئلہ عوام کی قوتِ خرید ہے۔ اس کیلئے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا‘ مزدوروں‘ کم آمدنی والے ملازمین اور نجی شعبے کے کارکنوں کی اجرتوں میں مناسب اضافہ ناگزیر ہے۔ مہنگائی میں کمی کے حکومتی دعوے تبھی سچ ثابت ہوں گے جب ہر گھر کے باورچی خانے میں ریلیف محسوس ہو گا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ہائبرڈ نظام اور اسلام(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-07-04/52231/65920838</link><pubDate>Sat, 04 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-07-04/52231/65920838</guid><description>دو دن پہلے ایک سینئر بیورو کریٹ سے ملاقات ہوئی۔ وہ ایک نیک نام اور پڑھے لکھے آدمی ہیں۔ علیک سلیک کے بعد‘ بیٹھنے کے لیے ابھی نشست پوری طرح سنبھالی نہیں تھی کہ مسکراتے ہوئے سوال کیا: &#39;&#39;کیا اسلام میں &#39;ہائبرڈ سسٹم‘ کا تصور موجود ہے؟‘ اس سوال کا پہلا جواب ایک دو طرفہ قہقہہ تھا۔ اس سوال نے اگلے دس منٹ کے لیے گفتگو کا بہانہ فراہم کر دیا۔یہ اتفاق ہے کہ اس ملاقات سے چند دن پہلے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں &#39;اسلام کا فلسفہ سیاست‘ کے زیرِ عنوان شائع ہو نے والی ایک کتاب پر مکالمہ تھا۔ یہ ایک ایرانی عالم کی کتاب ہے‘ ڈاکٹر حسنین نادر صاحب نے جس کا اردو میں ترجمہ کیا ہے۔ اس کتاب میں بھی نظامِ سیاست پر تفصیلی بات ہوئی۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ جن معاملات کو عقلِ عام کی مدد سے حل کیا جا سکتا ہے‘ جو اپنی جگہ عطیہ خداوندی ہے‘ ہم کوئی دینی نص تلاش کر تے ہیں۔ ہم یہ فراموش کر دیتے ہیں کہ اللہ نے پیغمبروں کی معرفت اپنی ہدایت سے نوازنے کے ساتھ‘ ہمیں عقلِ سلیم سے بھی نوازا ہے۔ پیغمبر بھی اسی عقل کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں مخاطب بناتے ہیں۔ جب شخصی مفاد کی بات ہو تو ہم اس نعمت سے خوب فائدہ اٹھاتے ہیں مگر جہاں ریاست اور سماج کو کوئی مسئلہ زیرِ بحث آتا ہے‘ ہم چاہتے ہیں کہ دین سے کو ئی جواب ملے۔دلچسپ بات ہے کہ اس طرح کے سوالات‘ ہمارا حکمران طبقہ ہمیشہ اٹھاتا رہا ہے۔ تجربہ یہ بتاتا ہے کہ مقصد منشائے خداوندی دریافت کرنا نہیں‘ مذہبی متون سے اپنے اقتدار کے لیے جواز تلاش کرنا ہے۔ جنرل ضیاالحق مرحوم نے علما سے دریافت کیا کہ کیا اسلام میں سیاسی جماعتوں کی گنجائش ہے؟ جن علما کی رائے نفی میں تھی‘ جنرل صاحب نے انہیں قریب کر لیا۔ مولانا وصی مظہر ندوی بھی ان میں شامل تھے۔ انہوں نے ایک کتاب لکھ کر بتایا کہ اسلام میں سیاسی جماعتوں کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ مولانا‘ ضیا عہد میں وزیر مذہبی امور تھے۔ جنرل صاحب کو علما سے جو سوال پوچھنا چاہیے تھا‘ وہ کچھ اور تھا۔ اصل سوال یہ تھا کہ کیا اسلام میں مارشل لاء کے لیے کوئی گنجائش موجود ہے؟ یہاں حکمران طبقہ اسلام نافذ کرتا ہے تو جمعہ کی چھٹی کا اعلان کر دیتا ہے۔ اسلام کی اس خدمت پر شور برپا ہو جاتا ہے اور عوام خوش ہو جاتے ہیں۔ حکمران طبقہ کبھی ان اصل ذمہ داریوں کی بات نہیں کرتا جو عوام کے جان ومال کے تحفظ کے لیے اس پر عائد ہوتی ہیں اور جن کے لیے کل اسے خدا کے حضور میں جواب دینا ہے۔کچھ ایسا ہی معاملہ اس ہائبرڈ نظام کے بارے میں بھی ہے۔ دلچسپ بات یہ کہ بیسویں صدی میں جن مسلمان اہلِ علم نے اسلام کے &#39;سیاسی نظام‘ کو موضو ع بنایا ہے‘ انہوں نے بھی ایک ہائبرڈ نظام ہی تجویز کیا ہے۔ اس باب میں اہلِ سنت میں سب سے بڑا نام مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کا ہے ا ور اہلِ تشیع میں روح اللہ خمینی صاحب کا۔ مولانا مودودی کے نزدیک یہ تھیو کریسی اور جمہوریت کا مرقع ہے۔ اسے وہ &#39;تھیو ڈیمو کریسی‘ کہتے ہیں۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ حکم تو اللہ کا ہے لیکن اسے وہ لوگ نافذ کریں گے جو عوام کے منتخب کردہ ہوں گے۔ یہ وہی بات ہے جو &#39;قراردادِ مقاصد‘ میں کہی گئی ہے اور پاکستان کا آئین اسی پر مبنی ہے۔ خمینی صاحب کا تصور یہ ہے کہ اقتدار مامور من اللہ امام کا حق ہے۔ بارہویں امام کی غیبت میں یہ حق نائب امام استعمال کرے گا جسے مجتہدین اور علما کی ایک مجلس منتخب کرے گی۔ گویا وہ بیک وقت خدا کا نمائندہ ہے اور عوام کا بھی۔ ایران کا آئین اسی تصور پر مبنی ہے۔یہ بحث جس نہج پر آگے بڑھی ہے‘ اس سے یہ بات مستحکم ہوتی دکھائی دیتی ہے کہ نظام اہم نہیں ہے‘ نتائج اہم ہیں۔ سیاسی نظام کی صورت کچھ بھی ہو‘ اسے عوام کے جان ومال کے تحفظ کے لیے ہونا چاہیے۔ اگر وہ نتائج نہیں دیتا تو اس کی ہیئت سے قطع نظر‘ وہ قابلِ قبول نہیں ہے۔ یہ تو واضح ہے کہ اسلام سے پوچھ کر اگر کوئی نظام بنایا جائے گا تو اس میں حکمران کے لیے لازم ہے کہ وہ مشاورت کے اصول پر منتخب کیا گیا ہو۔ یہ مشاورت عوام سے ہو نہ کہ خواص سے۔ تاہم اگر عوام کے مشورے سے قائم کی ہوئی حکومت عوام کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہے تو محض اس وجہ سے حکمران خدا کی جوابدہی سے بچ نہیں سکیں گے کہ انہیں عوام نے منتخب کیا تھا۔ تاہم یہ سوال اپنی جگہ باقی ہے کہ اگر کوئی فرد غیر آئینی طریقے سے یا ناجائز ذرائع استعمال کر کے حکمران بنا ہو‘ کیا اس وجہ سے اس کا اقتدار جائز سمجھا جائے گا کہ اس نے بطور حکمران اچھے کام کیے؟اگر مقدمہ یہ ہے کہ طریقہ انتخاب اہم نہیں ہے‘ نتائج اہم ہیں تو پھر یہ سوال اپنی اہمیت کھو دیتا ہے کہ حکمران کس طرح برسرِ اقتدار آیا ہے۔ اور اگر طریقہ انتخاب اہم ہے تو پھر نتائج غیر اہم ہو جائیں گے۔ ہائبرڈ نظام کے بارے میں بھی یہی سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کا آئین کیا اس کی اجازت دیتا ہے؟ بظاہر جو نظام رائج ہے وہ ہائبرڈ نہیں ہے‘ یہ آئینی ہے۔ آئینی نظام تو پارلیمانی ہے۔ تاہم عملی صورتِ حال اس سے مختلف ہے۔ ہائبرڈ نظام کو اگر اسلام کی نظر سے دیکھا جائے تو اس کا بنیادی مطالعہ صرف یہ ہو گا کہ کیا یہ نظام عوام کی رائے سے قائم ہوا ہے؟ اسلام کو دلچسپی نظام کی صورت سے نہیں‘ اس کے قیام کی اساس سے ہے۔مسلم تاریخ یہ ہے کہ حکومت کی اخلاقی وشرعی حیثیت پر بحثوں کے باوجود اسے بالفعل حکومت مان کر اس سے معاملہ کیا گیا۔ فقہا نے اس کی اخلاقی حیثیت پر سوال اٹھایا لیکن برسرِ اقتدار گروہ کو حکمران ماننے سے انکار نہیں کیا۔ یہ حکمران بھی خود کو زمین پر &#39;ظل اللہ‘ یعنی اللہ کا سایہ ہی سمجھتے رہے اور جمعہ کے خطبے میں ان کا نام لیا جاتا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عباسیہ کے دور کا خطبہ آج تک ہماری مساجد میں پڑھا جاتا ہے۔ گویا انہوں نے بھی ایک طرح سے ہائبرڈ نظام ہی قائم کیا۔ ایک طرف خود کو اللہ کا سایہ قرار دیا اور دوسری طرف موروثیت کو اختیار کیا۔ اس وقت بھی ملوکیت اور جمہویت یا پاپائیت اور جمہوریت پر مبنی ہائبرڈ نظام ہی قائم ہیں۔ ہمارے ہاں بھی بالفعل ہائبرڈ نظام ہی چل رہا ہے اور اسے بالفعل مان لیا گیا ہے۔اہلِ علم کی ذمہ داری یہ ہے کہ حکومت کی اخلاقی اور شرعی حیثیت کے بارے میں عوام کو متوجہ کرتے رہیں۔ بایں ہمہ معاشرے کو انتشار اور بدامنی سے بھی محفوظ رکھیں۔ ایک ناجائز حکومت کے خلاف بغاوت کا شر‘ اکثر اس حکومت کے وجود سے پیدا ہونے والے شر سے سنگین تر ہوتا ہے۔ آج کا ہائبرڈ نظام بھی پاکستان کے استحکام کا باعث بنا ہے۔ اس کی آئینی حیثیت پر بحث ہوتی رہی گی اور اس کو بہتر بنانے کی ضرورت پر بھی بات ہونی چاہیے‘ لیکن اس استحکام کو نقصان پہنچائے بغیر۔ ہمارے فقہا کا طریقہ یہی رہا۔ انہوں نے اپنے عہد کے سیاسی نظام پر تنقید کی لیکن عوام کو اس کے خلاف نہیں اکسایا۔ وہ جانتے تھے کہ اس سے عوام کے جان ومال محفوظ نہیں رہ سکیں گے۔ آج کے مصلحین کے لیے اس میں یہ سبق ہے کہ وہ بالفعل اس ہائبرڈ نظام کو قبول کریں لیکن اس کے بارے میں‘ ان کی رائے اگر منفی ہے تو اس کو پُرامن طریقوں سے عوام تک پہنچائیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>تحفظِ حیات جنگلی(خالد مسعود خان)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-07-04/52232/46605192</link><pubDate>Sat, 04 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khalid-masood-khan/2026-07-04/52232/46605192</guid><description>اس کم علم مسافر کے ایک خام تجزیے کے مطابق جدید انسانی تاریخ میں روئے ارض پر اگر جانوروں کے بدترین قتل عام کی فہرست مرتب کی جائے تو اس میں امریکی بائسن (Bison) جسے امریکہ میں بفلو بھی کہا جاتا ہے‘ پہلے نمبر پر ہوگا۔ امریکہ میں گوروں کے آنے سے پہلے یعنی سیٹلرز کی آمد سے قبل امریکہ کے جنگلوں‘ ویرانوں‘ چراگاہوں‘ سرسبز میدانوں‘ نیم پہاڑی علاقوں اور گھاس زاروں میں‘ غرض موجودہ امریکہ کی پچاس ریاستوں میں سے کم از کم تیس ریاستوں کے علاوہ میکسیکو اور کینیڈا میں بائسن کے ہزاروں ریوڑ آزادانہ گھومتے تھے۔ یہ شمالی امریکہ کی سرزمین پر سب سے زیادہ تعداد میں پایا جانے والا جانور تھا۔ ان کی تعداد کے بارے میں مختلف آراء ہیں جو تین کروڑ سے چھ کروڑ جنگلی بائسن‘ جسے اُردو میں ارنا بھینسا کہا جاتا ہے‘ کی امریکی سرزمین پر موجودگی بتاتے ہیں۔ مقامی امریکی اور ارنا بھینسے ایک دوسرے کے ساتھ اس سرزمین پر صدیوں سے بقائے باہمی کے اصول کے مطابق زندگی گزار رہے تھے۔ مقامی باشندے یقینا ان کا شکار کرتے تھے لیکن ان کا شکار صرف اور صرف ضرورت کے مطابق ہوتا تھا۔ جس تعداد میں وہ اپنے قدیم روایتی ہتھیاروں سے اس جانور کا شکار کرتے تھے قدرت کا نظام اس باہمی نسبت کو برقرار رکھتا تھا۔ شکار ہونے والے ارنا بھینسوں کی تعداد دنیا میں نئے آنے والے ارنا بھینسوں کی تعداد سے کم تھی‘ لہٰذا اس جانور کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا تھا۔ ہم ارنا بھینسوں کی 1800ء میں تخمینہ شدہ تعداد کے کم ترین اعداد کو درست مان لیں تب بھی یہ تعداد تین کروڑ ارنا بھینسوں کی یقینی موجودگی کی دلالت کرتی ہے۔ ارنا بھینسے اور مقامی امریکی جنہیں ہم لوگ ریڈ انڈینز کے نام سے جانتے ہیں‘ اس سرزمین پر شکار اور شکاری ہونے کے باوجود اس طرح زندگی گزار رہے تھے کہ ماحولیاتی نظام اوپر تلے ہوئے نہایت عمدہ توازن کے ساتھ چل رہا تھا۔ اس سرزمین پر ایک آئیڈیل ایکو سسٹم اپنی معراج پر تھا۔پھر سال 1500ء میں یورپ سے مہاجرین کے آنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ خدا جانے یہ مہاجرین تھے یا پناہ گزین تھے تاہم توسیع پسندانہ عزائم کے مالک ان یورپی نوواردوں نے اس سرزمین پر بھی وہی کچھ شروع کر دیا جو اُن کا خاصہ تھا۔ بارود سے ناآشنا مقامی باشندوں کیلئے اپنے روایتی ہتھیاروں یعنی تیر کمانوں کے ساتھ بندوقوں کا مقابلہ ممکن نہ تھا (دیگر ہتھکنڈے علیحدہ داستان ہے‘ فی الحال ارنا بھینسوں کے نسل کشی کا موضوع زیر نظر ہے) ان سیٹلرز نے اپنی بندوقوں کے زور پر مقامی باشندوں اور ارنا بھینسوں کا یکساں قتلِ عام کیا۔ 1830ء سے قبل کے تخمینوں کی کم سے کم تعداد کے مطابق تین کروڑ سے زائد ارنا بھینسے محض سات عشروں کے دوران اس بیدردی سے شکار کیے گئے کہ 1889ء میں ان کی تعدا د محض 541 رہ گئی‘ جی ہاں صرف 541۔ صرف 59 سالوں میں یہ جانور تین کروڑ میں سے صرف 540باقی رہ جانے کے بعد اس قتلِ عام کی تفصیل میں جانے کی اور اس کی جزئیات بتانے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی۔ یہ اعداد و شمار تمام کہانی خود بیان کرتے ہیں۔ارنا بھینسوں کا یہ قتل عام ان کے گوشت سے زیادہ ان کی کھالوں کی تجارت‘ محض شکار اور امریکن ریلوے جس کا آغاز 1862ء میں Pacific Railway Acts سے شروع ہوا‘ کی تعمیر و توسیع کے لیے جنگلوں اور میدانوں کو صاف کیا گیا۔ اس صفائی کے دوران ارنا بھینسوں کی بھی صفائی کر دی گئی۔ 1830ء میں شروع ہونے والے اس قتل عام کے نتیجے میں 1890ء تک جنگلی ارنا بھینسے تقریباً ختم ہو گئے۔ تین کروڑ کی تعداد کو سامنے رکھیں تو 541کوئی معنی ہی نہیں رکھتے۔ چند سو ارنا بھینسے لوگوں کی نجی جاگیروں اور باڑوں میں موجود تھے تاہم پالتو اور جنگلی ارنا بھینسوں کی کل تعداد بھی ایک ہزار سے زیادہ نہ تھی۔1903 ء میں بائسن کنزرویشن پروگرام کا آغاز کیا گیا اور امریکن بائسن سوسائٹی قائم ہوئی۔ شکار کی روک تھام کے قوانین وضع کیے گئے۔قوانین تو ہمارے یہاں بھی موجود ہیں‘ اصل مسئلہ قانون کے نفاذ کا ہے جو بہرحال ہمارے یہاں کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ تاہم امریکہ میں ارنا بھینسوں کے تحفظ کیلئے کیے جانے والے اقدامات پر سختی سے عمل کیا گیا اور اسے ایک انگریزی کے لفظ &#39;&#39;لیٹر اینڈ سپرٹ‘‘ کے مطابق لاگو کیا گیا۔ 1916ء میں نیشنل پارک سروس کے تحت محفوظ علاقے قائم کیے گئے اور ان میں نجی باڑوں میں موجود ارنا بھینسوں کو چھوڑا گیا۔ 2020ء تک انکی تعداد پانچ لاکھ تک پہنچ چکی تھی جن میں زیادہ تعداد نجی رینچوں میں پروان چڑھ رہی ہے‘ تاہم اب بھی ارنا بھینسے شمالی ریاستوں کے سبزہ زاروں میں دکھائی دیتے ہیں۔ قدرتی ماحول میں ان کی سب سے بڑی تعداد 9000 مربع کلو میٹر پر مشتمل تین امریکی ریاستوں‘ وائی اومنگ‘ اڈاہو اور مونٹانا میں پھیلے ہوئے 1872ء میں قائم ہونے والے دنیا کے پہلے Yellowstone نیشنل پارک میں ہے۔ 1902ء میں یہاں 24 ارنا بھینسے باقی بچے تھے اور تازہ ترین شماریات کے مطابق یہاں 5300 سے زائد بھینسے ہیں جو جنگلی ارنا بھینسوں کا امریکہ میں سب سے بڑا ریوڑ اور جنگلی حیات کے تحفظ کی دنیا میں کامیاب ترین مثال سمجھی جاتی ہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ امریکہ میں ساڑھے تین کروڑ سے زیادہ تو صرف سفید دم والے ہرن ہی ہیں۔ اگر میں 1800ء میں امریکی حیاتِ جنگلی کی صورت حال کا موازنہ سیٹلرز کے آنے کے بعد اندھادھند شکار کے نتیجے میں 1890ء سے 1910ء کے درمیان زندہ بچ جانے والے جنگلی جانوروں سے کروں تو سفید دم والے ہرنوں کی تعداد چارکروڑ سے کم ہو کر تین لاکھ رہ گئی‘ ارنا بھینسوں کی تعداد تین کروڑ سے کم رہ کر 451 رہ گئی۔ ایلک ایک کروڑ سے چالیس ہزار رہ گئے۔ پرونگ ہارن ہرن ساڑھے تین کروڑ سے کم ہو کر تیرہ ہزار رہ گئے۔ موس سات لاکھ کے بجائے ایک لاکھ باقی بچے۔ اب سفید دم والے ہرنوں کی تعداد ساڑھے تین کروڑ‘ ارنا بھینسوں کی تعداد پانچ لاکھ‘ ایلک دس لاکھ‘ پرونگ ہارن ہرن اور موس دس دس لاکھ سے زیادہ ہیں۔ یہ بحالی اس لیے ممکن ہوئی کہ امریکہ میں شکار پر پابندی لگانے کے بجائے لائسنس‘ کوٹے‘ مخصوص موسم‘ نر اور مادہ جانوروں کے درمیان تخصیص کی بنیاد پر شکار کے لائسنسوں کا اجرااور حیاتِ جنگلی کے تحفظ کے نظام پر مکمل عملدرآمد تھا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ امریکہ میں بے تحاشا شکار کے باوجود قابلِ شکار جانوروں اور پرندوں کی تعداد کم ہونے کے باوجود بڑھ کیسے رہی ہے ؟ جواب یہ ہے کہ امریکہ میں شکار کا نظام سائنسی بنیادوں پر چلایا جاتا ہے۔ ہر سال جنگلی حیات کے ماہرین جانوروں کی آبادی کا اندازہ لگاتے ہیں‘ پھر اسی حساب سے ہر ریاست شکار کے لائسنس اور کوٹے جاری کرتی ہے تاکہ آبادی میں کمی نہ آئے بلکہ وہ مستحکم رہے یا بڑھے۔ پاکستان میں محکمہ شکار بھی اور شکار کے قوانین بھی موجود ہیں۔ تحفظ حیات جنگلی کا ادارہ بھی ہے اور ان کے تحفظ کے ضوابط بھی ہیں ہیں مگر ان سب کے باوجود غیر قانونی شکار عام ہے اور کچھ جانور ناپید ہو چکے ہیں جبکہ باقی بچے ہوئے معدومی کے سفر پر رواں ہیں۔ مقامی جانور تو رہے ایک طرف ہر سال سائبیریا سے آنے والے مہاجر پرندے بھی اپنا صدیوں پرانا روٹ‘ فلائی وے نمبر چار جو پاکستان سے گزرتا ہے‘ آہستہ آہستہ چھوڑ رہے ہیں۔ اس کی کئی وجوہات ہیں جن پر پھر سہی۔ فی الحال تو دیکھنا ہے کہ دنیا بھر میں جانوروں کے تحفظ اور ان کی بحالی اور حیاتِ نو کے سلسلے میں کیا شاندار نتائج حاصل ہو رہے ہیں اور ہمارے جانور کس بری طرح معدومی کی طرف رواں ہیں۔ قوانین میں خامیوں اور ان پر پوری طرح عملدرآمد میں ناکامی نے صورتحال کو بدترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔ بھارت میں گزشتہ دس سال کے دوران صرف جنگلی شیروں کی تعداد دو گنا ہو چکی ہے اور ایک سینگ والے گینڈوں کی تعداد گزشتہ پچاس سال میں دو سو سے تین ہزار تک پہنچ چکی ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_90500073.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پنجاب اسمبلی میں متنازع بل(ڈاکٹر حسین احمد پراچہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-07-04/52233/11724244</link><pubDate>Sat, 04 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2026-07-04/52233/11724244</guid><description>تاریخ عالم تو دور کی بات‘ ہمارے حکمران اپنی قومی تاریخ سے بھی کوئی سبق حاصل نہیں کرتے۔ ہماری 78سالہ قومی تاریخ کا ناقابلِ فراموش سبق یہی ہے کہ بسا اوقات ہمارے اہلِ اقتدار نے اپنے اقتدار کو دوام دینے کے لیے جو قوانین بنائے تھے وہ خود بھی انہی کی زد میں آ گئے۔ ہمارے سیاستدان جب محرومِ اقتدار ہوتے ہیں تو ان سے بڑا بنیادی انسانی حقوق اور آزادیٔ تحریر وتقریر کا علمبردار کوئی اور نہیں ہوتا مگر جب وہ برسر اقتدار آ جاتے ہیں تو پھر وہ شہری آزادیوں پر قدغن لگانے اور اختلافی نقطۂ نظر پیش کرنے والوں کی زبانوں پر تالے لگانے اور تنقیدی سطور سپردِ قلم کرنے والے ہاتھوں کو قلم کرنے کی نت نئی تدبیریں سوچنے لگتے ہیں۔ یہ کام اسمبلیوں میں اس شان سے ہو رہا ہے کہ فاضل ارکانِ اسمبلی کو یہ تک نہیں بتایا جاتا کہ جس قانون سازی کے لیے انہیں ہاتھ کھڑے کرنے ہیں وہ قانون ہے کیا؟ 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کس طرح پاس ہوئیں؟ اپوزیشن نے کچھ واویلا کیا اور مولانا فضل الرحمن نے کچھ مفاہمت پسندانہ تجاویز پیش کیں اور اللہ اللہ خیر سلا۔ حکومتی پیش کردہ مطلوبہ ترامیم کو حکومتی واتحادی ووٹوں کی اکثریت سے منظور کروا لیا گیا۔ ایسا ہی ایک بل پنجاب اسمبلی سے پاس کرانے اور &#39;&#39;حزبِ اختلاف‘‘ کا قصہ ہمیشہ کے لیے پاک کرنے اور چین کی بانسری بجانے کی کوشش کی گئی مگر صد آفرین پنجاب اسمبلی کے اپوزیشن ارکان‘ بعض حکومتی ممبران اور سب سے بڑھ کر سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان کی ہمت پر کہ جنہوں نے ایسی دستور شکن قانون سازی کا راستہ قانون کے ذریعے ہی روکا اور اپنی پارٹی کے ساتھ حقیقی خیر خواہی کا ثبوت دیا۔اب ذرا تفصیل سے دیکھتے ہیں کہ یہ بل کیا تھا جسے قانون کا جامہ پہنانے کی کوشش کی گئی۔ اس بل کو Punjab Control of Habitual Offenders and Anti-Social Behaviour Bill, 2026 کا نام دیا گیا ہے۔ اردو میں اس کا ترجمہ یوں ہے: &#39;&#39;پنجاب میں عادی مجرموں اور خلافِ معاشرہ رویے کا بل‘‘۔ اس بل کے مطابق ضلعی ایڈمنسٹریشن کو یہ اختیار دینے کی تجویز تھی کہ وہ اپنی ہی قائم کردہ ضلعی انٹیلی جنس ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق جسے چاہے اسے &#39;&#39;عادی مجرم اور اینٹی سوشل‘‘ قرار دے ڈالے۔ کسی عدالتی فیصلے کے بغیر ضلعی انتظامیہ کی مزاجی صوابدید پر اتنا بڑا فیصلہ صادر کرنے کا اختیار سونپنے اور پہلے سے موجود طرح طرح کے قوانین کی موجودگی میں ایک اور خطرناک اضافہ کرنے کی کوشش کیوں کی گئی؟ ظاہر ہے انتظامیہ اُسے ہی اپنی پاکٹ انٹیلی جنس کی بنا پر &#39;&#39;اینٹی سوشل‘‘ قرار دے گی جس کے بارے میں اوپر سے احکامات آئیں گے۔ گویا صوبائی مزاجِ شاہی جس سیاستدان سے نالاں ہوگا اس کے رویے کو خلافِ معاشرہ قرار دیدے گا۔ زیر نظر قانون سازی کی مزید تفصیلات سے پہلے اس ردِعمل کی ایک جھلک پیش کرنا ضروری ہے جو سٹینڈنگ کمیٹی کی سطح پر بل کی خواندگی کے دوران ہی سامنے آ گیا۔اس مجوزہ قانون سازی پر نہ صرف اپوزیشن بلکہ حکومتی ارکانِ اسمبلی‘ سپیکر پنجاب اسمبلی‘ وکلا‘ دانشوروں اور صحافیوں نے سخت تنقید کی۔ سپیکر پنجاب اسمبلی نے تو نجی محفلوں میں اس قانون کو استعماری دور کے خوفناک قوانین جیسا قرار دیا۔ اسمبلی فلور پر سپیکر صاحب نے اُن کے علم میں لائے بغیر بل کو اسمبلی میں پیش کرنے کو قانون کی خلاف ورزی قرار دیا۔ میں اگرچہ اُن معنوں میں ایک باخبر صحافی نہیں ہوں کہ جو اپنے تحقیقی یا خصوصی ذرائع سے اندر کی خبر لے آتے ہیں تاہم اس بل کا ایک پس منظر یہ بھی ہے کہ ماہِ جون میں پنجاب اسمبلی کے سپیکر نے کمیٹی برائے قانونی اصلاحات کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پنجاب کے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کی پرفارمنس کا جائزہ لینے کے دوران ماورائے عدالت ہلاکتوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔  سوشل میڈیا پر حکومت کے &#39;&#39;یس باس گروپ‘‘ نے سپیکر کے طرزِعمل کو حکومت کے انتظامی نظام اور وزیراعلیٰ کے اختیارات میں مداخلت کرنے اور ان کے مدمقابل آنے کا تاثر دیا۔ ہمارے حکمرانوں اور سیاستدانوں کو علم ہونا چاہیے کہ جمہوری ملکوں میں حقیقی اختیارات اسمبلیوں کی کمیٹیوں کے پاس ہی ہوتے ہیں اور یہ ملک یا صوبے کے منتظم اعلیٰ تک کو طلب کرنے کا قانونی استحقاق رکھتی ہیں۔ اس پس منظر میں بدھ کے روز وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان کی ایک ملاقات ہوئی تاکہ باہمی مس انڈر سٹینڈنگ کا خاتمہ ہو سکے۔ باخبر ذرائع کے مطابق سپیکر پنجاب نے وزیراعلیٰ کے سامنے دونوں اختلافی معاملات کی وضاحت کی۔ انہوں نے مجوزہ قانون کے بارے ارکانِ اسمبلی کے عمومی تحفظات اور اپنا قانونی و دستوری نقطۂ نظر پیش کیا۔ انہوں نے اپنی رائے کو صوبے اور پارٹی کے لیے خیر خواہی قرار دیا۔ ملاقات کے آخر میں طرفین نے ایک دوسرے کے لیے خوشگوار الفاظ اور تاثرات کا اظہار کیا۔ سپیکر پنجاب اسمبلی نے اس تاثر کی نفی کی جو اُن کے مخالفین کی طرف سے پھیلایا گیا کہ وہ پنجاب اسمبلی میں کوئی متوازی انتظامی نظام چلانے کی کوشش کر رہے تھے۔مجوزہ قانون میں ضلعی انتظامیہ کو دیے گئے لامحدود اختیارات کے مطابق وہ &#39;&#39;عادی مجرموں‘‘ اور &#39;&#39;خلافِ معاشرہ رویہ‘‘ رکھنے والوں کے بینک اکاؤنٹ منجمد کرنے‘ اُن کی جائیداد ضبط کرنے‘ موبائل فون بند کرنے‘ سوشل میڈیا اکاؤنٹس معطل کرنے اور ان کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے الیکٹرانک مانیٹرنگ اپنانے کا طریقہ کار شامل تھا۔ اپوزیشن نے ان اقدامات کو شہریوں کے بنیادی دستوری حقوق‘ پرائیویسی‘ آزادیٔ تحریر و تقریر کو کچلنے کے مترادف قرار دیا۔ حکومتی ارکانِ اسمبلی نے بھی اس قانون کو بنیادی انسانی حقوق سے سخت متصادم گردانا ہے۔ سٹیٹ کرافٹ کے قدیم و جدید اصولوں کے مطابق کسی بھی حکمران کی مقبولیت اور اس کے اقتدار کے استحکام کے لیے عدل و انصاف کا بول بالا‘ اختیارات میں عدم ارتکاز‘ رعب و دبدبہ سے گریز‘ قانون کی حکمرانی‘ معاشی خوش حالی اور صحت و تعلیم پر خصوصی توجہ ضروری ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ مجوزہ قانونی بل پڑھتے ہوئے مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آ رہا تھا۔ ایک شخص &#39;&#39;عادی مجرم‘‘ ہے یا اس کا رویہ &#39;&#39;خلافِ معاشرہ‘‘ ہے‘ اس کا فیصلہ کون کرے گا؟ اس کا فیصلہ کوئی عدالت نہیں کرے گی بلکہ ضلعی انتظامیہ کرے گی اور اسے وہ ناقابلِ تصور سزا دینے کی مجاز ہوگی جس سزا کا اختیار اسلامی جمہوریہ پاکستان کا دستور سپریم کورٹ آف پاکستان کو بھی نہیں دیتا۔ قارئین جانتے ہیں کہ یہ درویش عرب دنیا کی آمریتوں کو اکثر نشانۂ تنقید بناتا رہتا ہے۔ عرب لیگ پر تحقیقی مقالہ لکھنے کی بنا پر عرب ممالک کے قوانین اکثر میری نظر سے گزرتے رہتے ہیں مگر میرے علم میں نہیں کہ کسی عرب ملک کے دستور یا قوانین میں محض انتظامیہ کی صوابدید پر کسی شہری کے بینک اکاؤنٹس‘ جائیداد اور عزت و آبرو سے محروم کیا جا سکتا ہو۔ پھر پنجاب حکومت نے کسی شہری کو یوں کرش کرنے کا &#39;&#39;ویژن‘‘ کہاں سے اخذ کیا یا یہ ہولناک قانون سازی اُس کے اپنے ذہن کی کرشمہ سازی تھی۔ یہ خاکسار اہلِ پاکستان کی بالعموم اور اہلِ پنجاب کی بالخصوص نمائندگی کرتے ہوئے اپوزیشن اور حکومتی ارکانِ پنجاب اسمبلی اور خصوصاً سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان کا تہِ دل سے شکریہ ادا کرتا ہے کہ جنہوں نے قوم کو اس ہولناک قانون سازی سے بچا لیا۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_70033906.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>عدالتی نظام کی اصلاحات(افتخار احمد سندھو)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/iktakhar-ahmed-sandhu/2026-07-04/52234/11550727</link><pubDate>Sat, 04 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/iktakhar-ahmed-sandhu/2026-07-04/52234/11550727</guid><description>کہتے ہیں ایک طوطے اور طوطی کا گزر ایک ویرانے سے ہوا۔ ویرانی دیکھ کر طوطی نے طوطے سے پوچھا: یہ گاؤں اس قدر ویران کیوں ہے؟ طوطے نے جواب دیا کہ لگتا ہے یہاں سے کسی الو کا گزر ہوا جس کی نحوست سے پورا گاؤں ویران ہو چکا ہے۔ جس وقت طوطا اور طوطی یہ باتیں کر رہے تھے‘ اتفاق سے ایک الو واقعی وہاں موجود تھا جس نے یہ ساری گفتگو سن لی۔ وہ الو بولا: تم لوگ گاؤں میں مسافر لگتے ہو‘ آج رات میرے پاس ٹھہرو‘ کھانا کھاؤ‘ کل چلے جانا۔ الو کی دعوت کو دونوں نے ٹھکرانا مناسب نہ سمجھا اور وہاں ر ک گئے۔ صبح جب اظہارِ تشکر کے بعد دونوں چلنے لگے تو الو نے طوطی کو روک لیا کہ تم کہاں جا رہی ہو۔ طوطی بولی: میں طوطے کے ساتھ جا رہی ہوں‘ مجھے اس کے ساتھ ہی جانا ہے۔ الو نے کہا کہ مگر تم تو طوطی نہیں‘ میری بیوی ہو‘ تم یہاں ہی رہو گی‘ اس لیے طوطے کے ساتھ جانے کی ضد نہ کرو۔ یہ بات سن کرطوطا بہت بگڑا اور کہنے لگا: یہ تم کیا کہہ رہے ہو‘ اپنے آپ کو دیکھو اپنی شکل دیکھو‘ رنگ دیکھو‘ پھر طوطی کو اپنی بیوی کہو۔ ہم دونوں کو پریشان نہ کرو اور یہاں سے جانے دو۔ معاملہ بگڑنے لگا تو الو نے تجویز پیش کی کہ آپس میں جھگڑنے کے بجائے ہم دونوں قاضی کے پاس چلتے ہیں اور قاضی کا فیصلہ دونوں فریقوں کو قبول کرنا ہو گا۔ یہ تجویز سن کر طوطا مان گیا۔ دونوں طوطی کے ہمراہ قاضی کی عدالت میں پیش ہوئے اور اپنا مقدمہ پیش کیا۔ الو اور طوطے کی داستان سن کر قاضی نے فیصلہ سنایا کہ طوطا اپنے مقدمے کے حق میں معقول شواہد پیش نہیں کر سکا اور بادی النظر میں الو کا مؤقف درست معلوم ہوتا ہے۔ اس بے انصافی پر طوطا بہت تلملایا مگر قاضی کا فیصلہ اسے ماننا پڑا اور طوطی کو چھوڑ کرطوطے نے اپنی راہ لی۔ طوطا ابھی زیادہ دور نہیں گیا تھا کہ الو نے اُسے آواز دے کر روکا اور کہا کہ اپنی طوطی کو بھی لیتے جائو جو تمہاری بیوی ہے۔ طوطا حیران ہو کر بولا کہ عدالت اسے میری نہیں تمہاری بیوی قرار دے چکی ہے۔ الو نے بڑی نرمی کہا کہ نہیں بھائی! یہ طوطی ہے‘ یہ میری نہیں تمہاری بیوی ہے اور تم کو مبارک ہو‘ میں تو آپ کو صرف یہ بتانا چاہتا تھا کہ بستیاں اور گاؤں الو ویران نہیں کرتے‘ بستیوں میں ویرانی تب ڈیرے ڈالتی ہے جب ان بستیوں سے انصاف اُٹھ جاتا ہے اور بے انصافی کا دور دورہ ہوتا ہے۔دوسری جنگ عظیم کے دوران جب لندن پر بمباری کی جا رہی تھی اور وزیراعظم ونسٹن چرچل کو ہلاکتوں اور معاشی نقصانات کے بارے میں بریفنگ دی گئی تو چرچل نے پوچھا: کیا عدالتیں کام کر رہی ہیں؟ اور جب اسے بتایا گیا کہ ججز انصاف فراہم کر رہے ہیں تو چرچل نے کہا: خدا کا شکر ہے! عدالتیں کام کر رہی ہیں تو کچھ نہیں ہو گا۔ مگر ہمارے ہاں عدالتی نظام طویل عرصے سے چیلنجز اور مسائل کی آماجگاہ بنا ہوا ہے۔ انصاف میں تاخیر‘ مقدمات کا انبار‘ عدالتی وسائل کی کمی‘ عوامی اعتماد اور شفافیت کے مسائل ایسے عوامل ہیں جو نہ صرف عام شہریوں کی زندگی کو متاثر کرتے ہیں بلکہ نظام انصاف پر بھی سوالیہ نشان کھڑے کرتے ہیں۔ ملک کے سیاسی‘ معاشی اور سماجی حالات کو دیکھتے ہوئے ہر باشعور شہری اس نظام کی اصلاح چاہتا ہے‘ لیکن اس کے لیے جو طریقہ کار تجویز کیا جاتا ہے وہ اکثر جزوی اور سطحی ہوتا ہے۔ کسی بھی ملک اور معاشرے کی ترقی اور خوشحالی کیلئے انصاف کی بروقت فراہمی جزو لاینفک ہے۔ قانون کا ایک ادنیٰ طالبعلم ہونے کے ناتے دورۂ کینیڈا کے دوران معروف قانون دان عاطف سہیل بٹ اور ماہر قانون جہانزیب صاحب سے کئی ملاقاتیں ہوئیں اور عدالتی نظام پر سیر حاصل گفتگو ہوئی۔ عاطف سہیل بٹ نے سپریم کورٹ سمیت پاکستان کی عدالتوں میں بیس سال تک قانو ن کی پریکٹس کی۔ اب وہ تقریباً سات آٹھ سال سے کینیڈا میں وکالت کر رہے ہیں۔ جہانزیب صاحب بھی وکالت کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں‘ پنجاب میں ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل بھی رہے اور آج کل کینیڈا مقیم ہیں۔ عدالتی نظام کے حوالے سے میرا نقطہ نظر یہ تھا کہ اس نظام کی اصلاح کسی طرح بھی ممکن نہیں‘ ہمیں اس کی جگہ ایک نیا نظام لانا چاہیے۔ میرے قانون دان دوستوں نے میری بہت سی باتوں سے اتفاق کیا۔ ان کی گفتگو کا لب لباب یہ تھا کہ پاکستانی عدلیہ کو متعدد اہم مسائل کا سامنا ہے جن میں مقدمات کا بیک لاگ‘ غیر ضروری تاخیر‘ بدعنوانی اور کارکردگی میں کمی شامل ہیں‘ جس نے عدالتی نظام اور عوام کے اعتماد کو نقصان پہنچایا ہے‘ اس لیے اس کی اصلاح ضروری ہے۔ بقول شاعر:ظلم بچے جَن رہا ہے کوچہ و بازار میں ؍ عدل کو بھی صاحبِ اولاد ہونا چاہیےدونوں دوستوں کا کہنا تھا کہ پاکستانی عدالتوں میں انصاف کی تاخیر کے اسباب کا بنظر عمیق جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کی بنیادی وجوہات میں لاکھوں مقدمات کا بیک لاگ‘ تقرریوں میں جانبداری‘ عدالتی افسران کی نااہلی‘ بدعنوانی‘ فرسودہ اور پرانے قوانین‘ وکلا اور عدالتوں کی طرف سے بار بار التوا‘ قابل ججوں کی کمی‘ عملی خامیاں‘ تحقیقات میں تاخیر اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ناقص تعاون شامل ہے۔ لاء اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان سے حاصل کردہ اعداد وشمار کے مطابق سپریم کورٹ سمیت پاکستان کی عدالتوں میں تقریباً 23 لاکھ 62 ہزار مقدمات زیر التوا ہیں۔ تازہ اعداد وشمار کے مطابق ضلعی عدلیہ میں زیرِ التوامقدمات کی تعداد 20 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ عدالتی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے مجوزہ اصلاحات میں ججوں کیلئے لازمی تربیت‘ میرٹ کی بنیاد پر تقرر اور آزاد عدالتی کمیٹیاں‘ کارکردگی کی درجہ بندی اور عوامی شفافیت کے ذریعے بڑھتی ہوئی جوابدہی‘ ججوں کی ترقیوں اور مراعات کو کارکردگی سے منسلک کرنا‘ جدید ٹیکنالوجی کا انضمام‘ ڈیجیٹل کیس مینجمنٹ اور ای فائلنگ سسٹم شامل ہیں۔ مقدمات کے ریکارڈ اور فیصلوں کیلئے مرکزی ڈیجیٹل ذرائع تک مفت رسائی‘ الیکٹرانک فائلنگ اور آن لائن کیس مانیٹرنگ‘ وڈیو کانفرنسنگ کی حوصلہ افزائی‘ مصنوعی ذہانت کے ٹولز اور مصنوعی ذہانت پر مبنی قانونی تحقیق‘ آئی ٹی انفراسٹرکچر اور سٹاف کی تربیت ناگزیر ہے۔بلاشبہ عدالتی پروسیجر کو آسان بنانے‘ آن لائن ادائیگی ممکن بنانے اور نظام انصاف میں شفافیت بڑھانے کیلئے ٹیکنالوجی کا استعمال وقت کی اہم ضرورت ہے۔ جرمانے اور ضمانت کیلئے آن لائن ادائیگی‘ فوری تصدیق اور شناخت فراہم کی جائے۔ نیز اپیلٹ کے عمل میں سادگی لانا ہو گی‘ شکایات سنبھالنے اور عدالتی عملے کی بدانتظامیوں کی تحقیقات کیلئے خودمختار عدالتی محتسب آفس قائم کرنا ہو گا۔ جرمانے بڑھا کر نظام انصاف کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ اس سے جرائم کی روک تھام ہو سکتی ہے۔ زیادہ جرمانے چھوٹے جرائم کو روکنے اور قوانین کی پاسداری کو فروغ دیتے ہیں۔ مالی ذمہ داری ملزمان کو قانون کا احترام کرنے پر مجبور کرتی ہے اور جمع کیے گئے جرمانے کمیونٹی کی ترقی اور بحالی کیلئے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔عدلیہ کی کارکردگی کو بہتر بنانے کیلئے قانونی اور انضباطی اصلاحات کی بھی اشد ضرورت ہے۔ پرانے قوانین جیسے کہ سی پی سی‘ سپیسفک ریلیف ایکٹ (1877ء)‘ ٹرانسفر آف پراپرٹی ایکٹ‘ پری ایمپشن ایکٹ‘ رجسٹریشن ایکٹ خاص طور پر قانون شہادت کی فوری اصلاح کی ضرورت ہے کیونکہ عدالتوں میں چند سو روپوں میں جھوٹا گواہ مل جاتا ہے۔ علاوہ ازیں میڈی ایشن اور ثالثی کیلئے مراعات میں اضافہ کرنا ہو گا۔ عدالتی بجٹ میں اضافہ کرنے کی ہرگز ضرورت نہیں کیونکہ ججوں کی تنخواہیں اور مراعات پہلے ہی ضرورت سے زیادہ ہیں۔ تاہم وکلااور عدالتی افسران کیلئے انضباطی کارروائیاں اور جوابدہی کے اقدامات کرنا ہوں گے۔ مقدمات میں غیر ضروری اور بار بار التوا‘ ہڑتالیں اور دیگر تاخیری حربوں کو روکنے کیلئے جرمانے عائد کرنا ہوں گے۔ سول مقدمات کے جلد فیصلوں کیلئے وقت کی حد طے کرنے والا قانون بنانا ہوگا تاکہ دادے کا کیس پوتے تک نہ پہنچے بلکہ دادا اپنی زندگی میں ہی اس کا فیصلہ سن لے۔ یہ میرے قانون دان دوستوں کی رائے تھی لیکن مجھے ایسا ہوتا دکھائی نہیں دیتا کیونکہ ہمارا عدالتی نظام اسلامی ہے اور نہ انگریزی‘ بلکہ دونوں کا ملغوبہ ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/228_40817243.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>جغرافیہ کی اُستادکا تاریخی کردار(نسیم احمد باجوہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/naseem-ahmed-bajwa/2026-07-04/52235/63753902</link><pubDate>Sat, 04 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/naseem-ahmed-bajwa/2026-07-04/52235/63753902</guid><description> پچاس کی دہائی میں سب سے اہم عرب رہنما اور مصر کے صدر کرنل جمال عبدالناصر نے اپنی سوانح حیات لکھی تو کتاب کا معیار کافی پست تھا مگر اس میں ایک جملہ بڑا کمال کا اور فکر انگیز تھا اور وہ تھا &#39;&#39;مصری تاریخ کو ایک ہیرو کی تلاش تھی اور یہ محض اتفاق ہے کہ تاریخ نے مجھے ہیرو کا کردار ادا کرنے کیلئے چن لیا‘‘۔ 1930ء کی دہائی میں ہندوستانی مسلمانوں کی عصری تاریخ ایک ہیرو کو ڈھونڈ رہی تھی۔ سارے ہندوستان میں ان خوبیوں کا مالک (جو ہیرو کا کردار ادا کرسکتا) نہ ملا تو تاریخی جبر لندن سے ایک بڑے کامیاب بیرسٹر کو واپس ہندوستان لے آیا اور یوں محمد علی جناح کو قائداعظم بنا دیا۔ میں دو تین مثالوں پر اکتفا کروں گا ورنہ ساری انسانی تاریخ ایسے کرداروں سے بھری پڑی ہے جو تاریخی ضرورت پوری کرنے کیلئے سیاسی افق پر ابھرے۔ساٹھ کی دہائی میں جنرل ایوب خان کی دس سالہ آمریت کا ستارہ غروب ہونے لگا تو ہماری تاریخ نے کروٹ لی اور ایک نئے ہیرو کی ڈھنڈیا پڑی اور وہ ہیرو تھے ذوالفقار علی بھٹو‘ جن کو خود نہ خبر تھی اور نہ احساس کہ پاکستانی تاریخ نے انہیں عہد ساز کردار ادا کرنے کیلئے چن لیا ہے۔خود بھٹو  صاحب کو یقین نہ تھا کہ وہ 1970ء کے انتخابات میں مغربی پاکستان میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرلیں گے اور اقتدار کا ہما ان کے سر پر بیٹھنے والا ہے۔ بھٹو صاحب کے ایوب خان سے راستے جدا ہوئے تو وہ ایک عرصہ یوسفِ بے کارواں کی طرح سیاسی ویرانے میں بھٹکتے پھرے۔ میاں ممتاز دولتانہ کی (کونسل) مسلم لیگ سے لے کر ولی خان کی نیشنل عوامی پارٹی میں شمولیت کی  کوشش میں ناکام ہوئے تو انہیں ڈاکٹر مبشر حسن کے گھر کا وہ سرسبز لان نظرآیا جس میں ان کی پارٹی کی کلی کھل کر پھول بنی۔ ان کی پارٹی کے ایک قطرے (اور وہ بھی تصوراتی) سے ایک جاندار اور چھا جانے والی سیاسی جماعت بننے کے عمل میں جن لوگوں نے کلیدی کردار ادا کیا ان میں ڈاکٹر کنیز فاطمہ یوسف سرفہرست تھیں۔لاہور میں جو تین افراد پیپلز پارٹی کے معرضِ وجود میں آنے سے پہلے عوام دوست اور ترقی پسند سیاست میں سرگرم تھے وہ تھے ڈاکٹر مبشر حسن‘ شیخ محمد رشید اور محمد حنیف رامے ۔ اُن دنوں حنیف رامے صاحب سندر داس روڈ (ایچیسن کالج کی عقبی سڑک) پر اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ راجہ غالب احمد اور مسز غالب کے ساتھ ایک گھرانہ بن کر رہتے تھے۔ مجھے وہ شام اچھی طرح یاد ہے جب میں رامے صاحب اور غالب صاحب کے ساتھ بیٹھا اس فکر میں سرگرداں تھا کہ ہماری تاریخ نے جس شخص کو ہیرو کا کردار ادا کرنے کیلئے چنا ہے وہ ماسوائے بھٹو صاحب کے اور کوئی نہیں ہو سکتا۔ بدقسمتی سے ہماری ان سے کوئی شناسائی نہیں اور رسائی کا کوئی ذریعہ نظر نہیں آتا۔کریں تو کیا کریں؟ ہم تینوں خاموش بیٹھے کبھی ایک دوسرے کو دیکھتے تھے اور کبھی بے بسی کے عالم میں چھت کو گھورتے تھے۔ افلاک سے ہمارے نالوں کا جواب آنے میں دیر نہ لگی۔ رامے صاحب کی اہلیہ (شاہین) چائے کی ٹرالی لے کر کمرہ میں داخل ہوئیں تو انہوں نے یہ منظر دیکھ کر پوچھا کہ آپ سب کیا سوچ رہے ہیں؟ ہم نے انہیں اپنا مسئلہ بتایا تو وہ مسکراتے ہوئے بولیں کہ میں آپ کا مسئلہ حل کر سکتی ہوں۔ ہم نے بے تابی سے پوچھا کہ وہ کس طرح؟ انہوں نے کہا کہ وہ جب گرلز کالج کوئٹہ میں پڑھتی  تھیں تو وہاں جغرافیہ کے مضمون کی ایک پروفیسر تھیں‘ جو آج کل گرلز کالج راولپنڈی کی پرنسپل ہیں اور بھٹو صاحب سے ان کا اتنا اچھا رابطہ ہے کہ وہ آپ کو ان سے ملوا دیں گی۔ یہ خاتون تھیں ڈاکٹر کنیز فاطمہ یوسف۔ اب پہلا مرحلہ تو یہ تھا کہ ہم ڈاکٹر کنیز فاطمہ سے ملیں اور اپنا نقشہ (چاہے وہ کتنا دھندلا ہو) ان کے سامنے رکھیں۔ یہ کام مسٹر اور مسز رامے نے اپنے ذمہ لیا۔ وہ پنڈی گئے اور کنیز فاطمہ صاحبہ سے ملے۔ ملاقات بڑی اچھی اور حوصلہ افزا رہی۔ رامے صاحب نے ہمیں واپس آکر جو رپورٹ دی اس میں انہوں نے یہ بھی بتایا کہ کنیز فاطمہ صاحبہ نے ایک شخص کو ان سے ملوایاجس کا نام خورشید حسن میر تھا۔ وہ راولپنڈی میں ایک وکیل ہے اور کنیز فاطمہ صاحبہ کا ہم خیال ہونے کی وجہ سے ان کا قابلِ اعتماد ساتھی ہے۔ چند دن ہی گزرے ہوں گے کہ خورشید حسن میر نے کسی نہ کسی طرح ہم تک یہ خوشخبری پہنچا دی کہ ڈاکٹر صاحب نے ہمارا بھٹو صاحب سے دوستانہ تعارف کرانے کا وعدہ پورا کر دیا ہے۔  بھٹو صاحب اتنے سال ایوب خان کے ساتھ رہ چکے تھے کہ وہ اپنی سیاسی جماعت بنانے اور عوامی حمایت کے بل بوتے پر اقتدار حاصل کرنے کے بارے میں شدید تحفظات رکھتے تھے۔ ڈاکٹر صاحبہ کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے بھٹوصاحب کو جمہوری راستے پر چلتے ہوئے سیاسی میدان میں اترنے پر آمادہ کر لیا۔ڈاکٹر صاحبہ ایک متوسط گھرانے میں لاہور میں 1923ء میں پیدا ہوئیں اور یکم دسمبر 2018ء کو خاموشی سے اس دنیا سے چلی گئیں۔ وہ کوئٹہ‘ فیصل آباد اور راولپنڈی میں خواتین کے کالجوں کی پرنسپل رہیں۔ راولپنڈی کے اصغر مال کالج میں شعبۂ جغرافیہ قائم کیا۔ پنجاب یونیورسٹی میں جغرافیہ کی پروفیسر ڈاکٹر مریم الٰہی اُن کی ہمعصر تھیں۔ یہ دونوں 22 لڑکیوں کے اس گروپ میں شامل تھیں جنہوں نے 1947ء میں مہاجرین کے کیمپ میں رضا کارانہ کام کیا ۔ ڈاکٹر صاحبہ نے 1941ء میں میٹرک کا امتحان پاس کیا اور اسلامیہ کالج کوپر روڈ لاہور میں داخل ہوئیں۔ ڈاکٹر صاحبہ نے جغرافیہ میں ایم اے کیا۔ انہوں نے 1948ء سے1956ء تک ملتان اور لاہور میں خواتین کے کالجوں میں پڑھایا۔ 1956ء میں انہیں فُل برائٹ سکالرشپ ملا اور وہ امریکہ کی کلاک یونیورسٹی میں اعلیٰ تعلیم کیلئے داخل ہوئیں اور تحقیقی مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ بھٹو صاحب برسرِ اقتدار آئے تو اُنہوں نے (غالباً ڈاکٹرصاحبہ کی سفارش پر) خورشید حسن میر کو اپنی کابینہ میں شامل کیا اور ڈاکٹر صاحبہ کو اسلام آباد میں قائداعظم یونیورسٹی کا وائس چانسلر بنا دیا۔ ڈاکٹر صاحبہ شروع دن سے پاکستان پر امریکہ کی بالادستی کی مخالف تھیں۔ یہی وجہ تھی کہ وہ ایوب خان کی نہ صرف دفاعی بلکہ زندگی کے ہر شعبہ میں امریکہ کی اطاعت اور فرمانبر داری کی پالیسی کی کڑی نقاد تھیں۔ اپریل 1979ء میں بھٹو صاحب کو ایک متنازع اور ناقابلِ دفاع عدالتی فیصلے کے ذریعے سزائے موت دی گئی تو ڈاکٹر صاحبہ نے وائس چانسلر کے عہدے سے استعفیٰ دیا اور لندن چلی گئیں جہاں انہوں نے جلا وطنی کے چھ برس گزا رے۔ ڈاکٹر صاحبہ نے زندگی بھر شادی کی اور نہ ہی کوئی کتاب لکھی۔ انہوں نے اپنے ورثہ میں کچھ نہ چھوڑا۔ ڈاکٹر صاحبہ کا مضمون جغرافیہ اور جغرافیائی معیشت تھا۔ انہوں نے (امریکی دبائو کے تحت) پاکستان اور بھارت کے مابین 1960ء میں طے پانے والے سندھ طاس معاہدے کے بارے میں بھی ایک لفظ نہ کہا۔ ایک اور بات بھی کرنا چاہتا ہوں‘ گر آپ اس کے مزاحیہ پہلو سے محظوظ ہوں تو مناسب رہے گا۔ ڈاکٹر صاحب کی چھوٹی بہن (شمیم)بلیک برن میں رہتی تھیں اور ایک خوشحال ڈاکٹر کی بیوی تھیں۔ شمیم صاحبہ کو بی بی سی کی اردو نشریات کی سربراہی کا خبط تھا جس میں اس مضمون نگار کی بی بی سی سے وابستگی حائل تھی۔ وہ نجانے میرے خلاف اپنی بڑی بہن کو کیا کہتی رہتی تھیں کہ ڈاکٹر صاحبہ میرے ساتھ برسوں ناراض رہیں۔ میں بلیک برن سے نقل مکانی کر کے لندن کے مضافات میں رہنے لگا تو میری نشریاتی ذمہ داری کی اسامی خالی ہو گئی اور اچھا ہوا کہ طویل انتظار کے بعد وہ موصوفہ کو مل گئی تو ڈاکٹر صاحبہ کا غصہ ٹھنڈا ہوا۔ آپ نے دیکھاکہ کس طرح بظاہر بڑے لوگ بھی معمولی باتوں پر خوش یا ناراض ہو جایا کرتے ہیں۔ </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_32258580.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ہزاروں لغزشیں حائل ہیں لب تک جام آنے میں …(2)(مفتی منیب الرحمٰن )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-07-04/52236/71860930</link><pubDate>Sat, 04 Jul 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-munib-ur-rehman/2026-07-04/52236/71860930</guid><description>(10) امریکہ عہد کرتا ہے کہ اس مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرنے کے فوراً بعد اور عائد کردہ پابندیوں کے خاتمے تک امریکی وزارتِ خزانہ ایرانی خام تیل‘ پٹرولیم مصنوعات‘ ذیلی پیداوار اور تمام متعلقہ خدمات کی برآمد کیلئے پابندیوں سے چھوٹ کا اجازت نامہ جاری کرے گا۔ اس میں بینکوں کے ذریعے رقوم کی منتقلی‘ انشورنس اور نقل وحمل وغیرہ سب شامل ہیں۔(11)امریکہ عہد کرتا ہے کہ وہ اس مفاہمتی یادداشت کے نفاذ کے بعد ایران کی منجمد رقوم اور اثاثوں پر سے پابندیاں اٹھا کر استعمال کیلئے دستیاب کرے گا‘ فریقین مکالمے کے دوران ان رقوم کی واگزاری کیلئے باہمی اتفاقِ رائے سے طریقۂ کار طے کریں گے‘ یہ رقوم خواہ بدستور اصل اکائونٹ میں جمع ہوں یا کہیں منتقل کر دی گئی ہوں‘ ایران کا مرکزی بینک جس کو نامزد کرے گا‘ اس کو ادائیگی کیلئے مکمل طور پر دستیاب ہوں گی‘ امریکہ عہد کرتا ہے کہ تمام ضروری اجازت نامے اور منظوریاں حسبِ ضرورت جاری کرے گا۔ (12) فریقین اس بات پر متفق ہیں کہ اس مفاہمتی یادداشت اور اس کے نتیجے میں حتمی معاہدے کے کامیابی کے ساتھ نفاذ کیلئے ایک انتظامی طریقۂ کار وضع کریں گے۔ (13) مفاہمتی یادداشت پر دستخط اوراس کے پیراگراف 1‘ 4‘ 5‘ 10 اور 11 میں درج اقدامات کے مسلسل نفاذ کیلئے فریقین حتمی اور جامع معاہدے اور دوسرے پیراگرافوں کیلئے مکالمہ شروع کریں گے۔ (14) حتمی معاہدے کی توثیق اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے ذریعے کی جائے گی اور فریقین اس کے پابند ہوں گے۔چونکہ امریکہ کی طرف سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی اور ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد یہاں سے تجارتی جہازوں کی آزادانہ آمد ورفت موقوف ہو گئی تھی‘ اس لیے یہ صورتحال پوری دنیا کیلئے پریشانی کا سبب بنی‘ پٹرول کی قیمتیں تیزی سے بڑھنے لگیں اور دنیا کے بیشتر ممالک پر اس کے اثر ات مرتب ہونے لگے حتیٰ کہ امریکہ میں بھی تیل کی قیمتیں بڑھنے لگیں۔ ہم بارہا لکھ چکے ہیں کہ امریکی صدر ٹرمپ ناقابلِ پیش گوئی اور ناقابلِ اعتماد شخص ثابت ہوئے ہیں‘ مزید یہ کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر آتشیں بیانات جاری کرتے ہیں اور ان کے بیانات بدلتے بھی رہتے ہیں۔ عام طور پر قوموں کے درمیان مذاکرات کی تکمیل تک بیان بازی سے گریز کیا جاتا ہے تاکہ بیرونی ماحول سے متاثر ہوئے بغیر معاملات طے ہو سکیں لیکن یہاں اس کے برعکس ہو رہا ہے۔ امریکی صدر روزانہ کی بنیاد پر اشتعال انگیز بیانات جاری کرتے ہیں‘ پھر ایرانی پاسدارانِ انقلاب اور قیادت بھی اینٹ کا جواب پتھر سے دینے پر کاربند رہے ہیں‘ اس لیے اصلاحِ احوال کیلئے جو اعتماد کی فضا درکار ہوتی ہے‘ وہ یہاں موجود نہیں ہے۔ ایران کو بھی چاہیے کہ خلیجی ممالک کے ساتھ بامعنی رابطے کا کوئی طریقۂ کار وضع کرے تاکہ بے اعتمادی کی فضا ختم ہو۔ مسلم ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا جتنی بہتر ہو گی‘ اتنا ہی اسرائیل کا نفوذ کم ہوگا۔ ایرانی قیادت کے ذہن میں بجا طور پر یہ اندیشہ موجود ہے کہ امریکہ قابلِ اعتماد نہیں ہے‘ نیز اسرائیل کبھی نہیں چاہے گا کہ ایران امریکہ اور خلیجی ممالک کے درمیان بہتر فضا پیدا ہو۔ پس وقتاً فوقتاً رونما ہونے والے تنازعات کے فوری حل کیلئے کوئی میکانزم بھی موجود ہونا چاہیے‘ جیسا کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ اگر کوئی شکایت ہو تو ہم سے براہِ راست رابطہ قائم کریں‘ سو کوئی ہاٹ لائن ضرور ہونی چاہیے۔لبنان کی صورتحال اور لبنان میں اسرائیل کی دراندازی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے اور ایران نے اسے اپنی بقا کے ساتھ جوڑا ہوا ہے‘ اس کا بھی کوئی دیرپا حل تلاش کرنا ناگزیر ہے ۔ ایران کیلئے کیا اچھا ہے اور کیا برا‘ اس کا فیصلہ وہی کر سکتے ہیں اور ہر فیصلے‘ اقدام اور پالیسی کی ایک قیمت ہوتی ہے جو ادا کرنا پڑتی ہے۔ ایران امریکہ تکنیکی مذاکرات کے بارے میں متضاد اطلاعات آتی رہتی ہیں‘ لگتا ہے کہ ثالث بھی مسلسل مصروفِ عمل ہیں ۔ اس دوران 25 جون کو بحرین میں امریکی وزیرِ خارجہ کے ساتھ خلیجی ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس بھی منعقد ہوا ہے‘ اعلامیے کے مطابق اس اجلاس کی صدارت بحرین کے وزیر خارجہ نے کی‘ جبکہ خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل بھی موجود تھے۔ اعلامیے کے مطابق امریکی وزیر خارجہ نے خلیجی ممالک کی سلامتی کے ساتھ امریکہ کی مستحکم وابستگی کا یقین دلاتے ہوئے کہا: ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدہ خطے کے حالات کو تبدیل کر سکتا ہے‘ خاص طور پر امن‘ سلامتی اور معاشی ترقی کے مواقع پیدا ہوں گے‘ لبنان اور آبنائے ہرمزسمیت علاقائی تنازعات کے حل اور دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کیلئے سفارتی کوششوں پر زور دیا گیا ہے۔ سرِ دست پسِ پردہ مذاکرات بھی جاری ہیں‘ فریقین ایک دوسرے پر حملے بھی کر رہے ہیں اور تسلسل کے ساتھ جارحانہ بیانات بھی جاری ہیں‘ پس اس سلسلے کو پایۂ تکمیل تک پہنچانا تنی ہوئی رسی پر چلنے کے مترادف ہے۔ ایران کو امریکہ پر اعتماد بھی نہیں ہے‘ ایران میں پاسدارانِ انقلاب سمیت ایک مؤثر طبقہ موجود ہے جو سمجھتا ہے کہ امریکہ کی نیت صحیح نہیں ہے‘ گزشتہ ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے اس پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا‘ لہٰذا امریکہ کے سارے اقدامات اور یقین دہانیاں از سرِ نو حملے کی تیاریوں کیلئے ہیں۔ امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں کے وسط مدتی انتخابات بھی 3 نومبر کو منعقد ہونے والے ہیں۔ شاید ایرانیوں کے ذہن میں یہ اندیشہ بھی ہو کہ وسط مدتی انتخابات کے بعد اگر کانگریس میں ٹرمپ کی بالادستی برقرار رہتی ہے تو وہ کوئی انتہائی اقدام بھی کر سکتا ہے۔ مسئلے کی جڑ یہ ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم اور اُن کی حکومت میں شامل انتہا پسند طبقات کو ایران امریکہ معاہدہ کسی صورت پسند نہیں ہے‘ پس وہ اسے ناکام بنانے کی ہر تدبیر کریں گے۔ عربی کا مقولہ ہے: &#39;&#39;گھر والا اپنے معاملات کو دوسروں کے بہ نسبت بہتر جانتا ہے‘‘۔ یہی اصول ایران پر بھی صادق آتا ہے‘ لیکن ہمارے نزدیک اگر ایران اس معاہدے کو کسی طرح تکمیل تک پہنچا سکے تو اسے بھی مناسب مہلت مل جائے گی‘ پابندیاں اٹھ جائیں گی‘ منجمد اثاثے واگزار ہو جائیں گے‘ معاہدے کے مطابق اُسے اپنی تعمیرِ نَو کیلئے تین سو ارب ڈالر مل سکتے ہیں‘ وہ اپنا تیل عالمی مارکیٹ میں فروخت کر سکے گا‘ اسے اپنی اقتصادی بحالی کیلئے وسائل بھی دستیاب ہوں گے‘ تباہ شدہ ڈھانچے کی تعمیرِ نو کے ساتھ ساتھ مستقبل کی ممکنہ جنگ کیلئے تیاری بھی کر سکے گا۔ اسے اپنی فضائیہ کو بھی نئے سرے سے کھڑا کرنا ہے اور تباہ شدہ بحری قوت کو بھی بحال کرنا ہے‘ الغرض اُسے بھی وقت اور وسائل درکار ہیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ایران نے اپنے رہبر کا انتقام لینے کے عزم کا اظہار بھی کیا ہے۔اسلام نے جنگ سے پیٹھ پھیرنے کو کبیرہ گناہ قرار دیا ہے‘ مگر حکمتِ عملی کے تحت پوزیشن بدلنے کی گنجائش بھی رکھی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: &#39;&#39;اور اے ایمان والو! جب کافروں کے لشکر سے تمہارا مقابلہ ہو تو اُن سے پیٹھ نہ پھیرو اور جو جنگ کے دن پیٹھ پھیرے گا تو وہ اللہ کے غضب کا نشانہ بنا اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے‘ ماسوا اس کے کہ وہ کسی جنگی حکمتِ عملی کے تحت یا اپنے کسی فوجی دستے کو کمک پہنچانے کے لیے پیچھے ہٹا ہو (تو وہ اس وعید سے مستثنیٰ ہے)‘‘ (الانفال: 16)۔ مناسب تیاری کیلئے اپنی افرادی قوت‘ حربی وسائل اور اثاثوں کو بچانا بھی جنگی حکمتِ عملی کا حصہ ہوتا ہے‘ نیز مناسب تیاری کے بغیر اپنے لوگوں کو اندھا دھند جنگ میں جھونکنا بھی دانشمندی نہیں ہے۔ بعض صحابہ کے نزدیک صلحِ حدیبیہ کی شرائط بظاہر مسلمانوں کے حق میں نہیں تھیں‘ اس کے باوجود رسول اللہﷺ نے دینی مصلحت کے تحت ایک فیصلہ کیا اور پھر اسی کے بطن سے فتحِ مکہ کا تاریخی افتخار مسلمانوں کو نصیب ہوا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: &#39;&#39;بیشک اللہ نے اپنے رسول کے خواب کو سچا کردکھایا تو ان شاء اللہ تم ضرور بالضرور اپنے سروں کے بالوں کو منڈاتے ہوئے یا بال تراشتے ہوئے بے خوف ہو کر مسجدِ حرام میں داخل ہو گے‘ پس اللہ کے علم میں تھا جو تم نہیں جانتے تھے‘ سو اس نے اس سے پہلے ایک قریبی فتح (صلح حدیبیہ) مقدر کر دی‘‘ (الفتح: 27)۔ </description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_61172381.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>