<?xml version="1.0" ?>
											 <rss version="2.0">
											 <channel>
											 <title>Roznama Dunya | RSS</title>
											 <link>https://dunya.com.pk</link>
											 <description>Roznama Dunya</description>
											 <language>en-us</language>	
											<item><title>عالمی تنازعات اور معاشی چیلنجز(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-26/11665</link><pubDate>Mon, 26 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-26/11665</guid><description>وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ عالمی تنازعات کے اثرات کے نتیجے میں مہنگائی بڑھ سکتی ہے۔  وزیر خزانہ کے خدشات عالمی حالات کے معاشی اثرات سے خبردار کرتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے اثرات دنیا بھر کی معیشتوں پر مرتب ہو رہے ہیں۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کیلئے یہ صورتحال زیادہ تشویش کا باعث ہے کیونکہ توانائی کے ایک بڑے حصے اور صنعتی خام مال کیلئے درآمدات پر انحصار ہے اور علاقائی کشیدگی‘ بے یقینی اور بحری گزرگاہوں کی بندش عالمی منڈیوں میں قیمتوں پر اثرانداز ہو رہی ہے۔ وزیر خزانہ کا یہ کہنا کہ عالمی چیلنجز کے باوجود پاکستان میں معاشی بہتری کا سفر جاری ہے‘ اپنی جگہ اہم ہے لیکن معاشی استحکام کی کامیابی کو اسی وقت تسلیم کیا جا سکتا ہے جب اس کے ثمرات عام آدمی تک پہنچیں۔ معاشی اشاریوں میں بہتری‘ زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ‘ مالیاتی نظم وضبط اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی کے دعوے خوش آئند ہیں مگر عوام کیلئے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اس پیشرفت سے ان کی روزمرہ زندگی میں کیا تبدیلی آئی ہے۔

اگر بجلی‘ گیس‘ پٹرول‘ آٹا‘ چینی‘ گھی‘ ادویات اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتیں مسلسل بڑھتی چلی جائیں تو معاشی بہتری کا احساس محدود ہو کر رہ جاتا ہے۔ عالمی تنازعات کئی طرح سے مہنگائی میں اضافے کا سبب بنتے ہیں مگر صرف اسی صورتحال کو مہنگائی کی واحد وجہ قرار دینا بھی مناسب نہیں۔ معاشی پالیسیوں‘ ٹیکسوں کے نظام‘ ذخیرہ اندوزی‘ ناجائز منافع خوری اور منڈیوں میں کارٹلائزیشن کا بھی قیمتوں پر اثر پڑتا ہے؛ چنانچہ صرف بیرونی عوامل کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے حکومت کو اندرونی مسائل پر بھی نظر رکھنی چاہیے۔ اگر عالمی منڈی میں کسی شے کی قیمت بڑھتی ہے تو اس کے اثرات کا جائزہ لینا ضروری ہے لیکن جہاں قیمتوں میں بلاجواز اضافہ یا مصنوعی قلت پیدا کی جائے وہاں مؤثر نگرانی اور قانون پر عملدرآمد ناگزیر ہے۔ توانائی کیلئے ہمارا کلیدی انحصار درآمدی وسائل پر ہے تاہم مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال نے اس انتخاب کی حساسیت کو واضح کر دیا ہے۔ اگرچہ اس سال بھر میں ملک میں پٹرول‘ ڈیزل کا بحران پیدا نہیں ہوا‘ کہیں بھی صارفین کو اس کیلئے لائنوں میں نہیں لگنا پڑا اور نہ ہی پٹرول‘ ڈیزل کی راشننگ کی نوبت آئی‘ تاہم عالمی اثرات نے درآمدی وسائل کی قیمتوں اور مہنگائی میں جو اضافہ کیا‘ وہ اپنی جگہ موجود ہے۔
ان حالات سے یہ سیکھنے کی ضرورت ہے کہ توانائی کی ضروریات میں ملکی وسائل اور ماحول دوست ری نیو ایبل انرجی کا حصہ بڑھایا جائے۔ یہی حکمت عملی خوراک اور دیگر اشیائے ضروریہ کی پیداوار میں اپنانے کی ضرورت ہے۔ زرعی پیداوار میں اضافہ‘ قابلِ تجدید توانائی کا فروغ‘ صنعتی پیداواری صلاحیت میں بہتری اور برآمدات میں اضافہ ایسے اقدامات ہیں جو پاکستان کو بیرونی معاشی جھٹکوں سے محفوظ بنانے میں مدد دے سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ یہ بھی یقینی بنانا ہو گا کہ عالمی بحرانوں کا بوجھ کم آمدنی والے طبقات پر غیر متناسب انداز میں نہ پڑے۔ مہنگائی کے دباؤ میں یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور‘ محدود تنخواہوںوالے ملازمین‘ چھوٹے کاروباری افراد اور بیروزگار سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ ان طبقات کیلئے  مالی معاونت حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ حکومت کی پٹرول سبسڈی سکیم نے ایک عمدہ مثال قائم کی ہے جس سے‘ بقول وزیر پٹرولیم‘ نوے لاکھ سے زائد افراد فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
عالمی تنازعات اور ان کے اثرات ہمارے اختیار میں نہیں لیکن ان سے نمٹنے کی تیاری‘ وسائل کا مؤثر استعمال اور بروقت فیصلے حکومت کی ذمہ داری ہیں۔وزیر خزانہ کا مہنگائی کے ممکنہ خطرے کی نشاندہی کرنا ایک اہم تنبیہ ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس تنبیہ کو مؤثر معاشی حکمت عملی میں تبدیل کیا جائے تاکہ عالمی بحران کے اثرات کم سے کم ہوں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>کرکٹ: چار سالہ انتظار کا خاتمہ(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-26/11664</link><pubDate>Mon, 26 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-26/11664</guid><description>پاکستانی کرکٹ ٹیم نے سہ ملکی سیریز کے فائنل میں جگہ بنا کر اپنے مداحوں کو طویل عرصے بعد بڑی خوشی کا موقع فراہم کیا ہے۔ گزشتہ روز لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں انگلینڈ کے خلاف کھیلے گئے میچ میں 242 رنز کے ہدف کے تعاقب میں‘ جب محض 154 رنز پر پاکستان کی نو وکٹیں گر چکی تھیں اور شکست بالکل سامنے نظر آ رہی تھی‘ ایسے مایوس کن لمحات میں آخری وکٹ کیلئے 89 رنز کی ریکارڈ اور ناقابل شکست شراکت داری نے انگلینڈ کے جبروں سے جیت چھین لی۔ شاداب خان نے پانچ چھکوں اور 13 چوکوں کی مدد سے شاندار سنچری سکور کی۔ یہ کامیابی اس لحاظ سے بھی اہمیت کی حامل ہے کہ پاکستانی ٹیم چار سال کے طویل انتظار کے بعد کسی کثیر القومی ٹورنامنٹ یا سیریز کے فائنل میں پہنچی ہے۔

آخری مرتبہ نومبر 2022ء میں آسٹریلیا میں کھیلے گئے ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کے فائنل میں پاکستان اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہوا تھا‘ اس کے بعد سے ملکی ٹیم مسلسل اتار چڑھاؤ اور خراب پرفامنس کا شکار رہی اور اکثر بڑے ایونٹس کے پہلے مرحلے میں ہی باہر ہو جاتی رہی۔ تاہم گزشتہ روز کے سنسنی خیز میچ اور یادگار فتح نے ٹیم کے عروج کے دنوں کی یاد کو تازہ کر دیا ہے۔ اب پاکستان 31 اکتوبر کو سری لنکا کے خلاف فائنل کا بڑا معرکہ کھیلے گا۔ بلاشبہ یہ کامیابی پاکستانی کرکٹ کیلئے ایک نئی صبح کی مانند ہے جس نے ہوم گراؤنڈ پر قومی ٹیم کودوبارہ ایک مضبوط قوت کے طور پر لا کھڑا کیا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>ایل پی جی، مستقل ریگولیٹری میکانزم(اداریہ)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-26/11663</link><pubDate>Mon, 26 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/editorial/2026-10-26/11663</guid><description>ملک میں گیس کے شدید بحران کے دوران عمان سے سات ہزار میٹرک ٹن سے زائد ایل پی جی کے دو جہازوں کی آمد یقینا ایک مثبت پیش رفت ہے‘ جس سے گیس کی دستیابی میں بہتری اور قیمتوں میں کمی کی امید پیدا ہوئی ہے۔ حالیہ دنوں میں پاک ایران سرحد کی عارضی بندش کے باعث مارکیٹ میں جو صورتحال دیکھنے کو ملی وہ ہمارے سپلائی چین اور ریگولیٹری نظام کی کمزوریوں کو عیاں کرنے کیلئے کافی ہے۔ مصنوعی قلت کا فائدہ اٹھا کر منافع خوروں نے ایل پی جی کی قیمتوں کو سرکاری قیمت یعنی 280 روپے فی کلو سے دو گنا سے بھی زیادہ بڑھا کر 600 روپے فی کلو تک پہنچا دیا۔ وقت آ گیا ہے کہ اب اس حقیقت کو تسلیم کیا جائے کہ ایل پی جی کوئی ہنگامی بندوبست نہیں رہی‘ بلکہ قدرتی گیس کی مسلسل گرتی ہوئی پیداوار کے باعث یہ ایک مستقل اور بنیادی ضرورت بن چکی ہے لہٰذا اسے مارکیٹ کے اتار چڑھائو پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔

حکومت کو فوری طور پر ایک مربوط‘ فعال اور طویل مدتی ریگولیٹری میکانزم تشکیل دینا چاہیے جس کے تحت ایل پی جی کی درآمد‘ ذخیرہ اندوزی اور مقامی سطح پر تقسیم کو منظم کیا جائے۔ اس میکانزم کا بنیادی مقصد یہ ہو کہ ایک طرف شہریوں کو سرکاری نرخوں پر گیس کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور دوسری طرف ری فلنگ سٹیشنز پر سیفٹی اقدامات کا نفاذ اور قیمتوں کی چیکنگ کو سہل بنایا جائے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/newweb/images/editorial.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>فرنگی قمار خانہ اور ہند کا میکدہ(خورشید ندیم )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-10-26/52910/93873647</link><pubDate>Mon, 26 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2026-10-26/52910/93873647</guid><description>علامہ اقبال نے فرمایاتھا:جہانِ نو ہو رہا ہے پیدا‘ وہ عالم پیر مر رہا ہے جسے فرنگی مقامروں نے بنا دیا ہے قمار خانہاقبال نے یہ پیش گوئی کم وبیش سو برس پہلے کی تھی۔ فرنگی جواریوں کا قائم کردہ یہ نظام کئی سو سال برقرار رہا۔ معلوم ہوتا ہے اب اس پر بڑھاپے کے آثار ہیں۔ دکھائی دے رہا ہے کہ عالمِ پیر مر رہا ہے۔ مگر کیا جہانِ نو بھی پیدا ہو رہا ہے؟خلا تو نہیں رہے گا کہ یہ قانونِ فطرت کے خلاف ہے۔ نیا جہاں پیدا ہونا ہے۔ یہ جہانِ نو مگر کیسا ہو گا؟ اس سوال کا جواب کم از کم ہمارے پاس نہیں۔ اگر اس پر کوئی بات ہو رہی ہے تو وہ مغربی &#39;جوا خانوں‘ ہی میں ہو رہی ہے۔ چین کے جوا خانے بھی آباد ہیں۔ اقبال کو جہاں سے امید تھی‘ وہاں کے مے خانے‘ ان کے اپنے خیال میں تین سو سال سے بند تھے۔ انہوں نے یہاں کے ساقی سے توقع باندھی تھی کہ اس کا فیض عام ہو۔ میرا خیال ہے یہ کام کسی حد تک ہوا۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی‘ مونا وحید الدین خاں اور جاوید احمد صاحب غامدی نے ہند کے اس مے خانے کے بند کواڑوں کو کھولنے کی کوشش کی مگر فیض صرف مولانا مودودی کا عام ہوا۔ اس کے نتیجے میں جہانِ نو تو پیدا نہیں ہوا‘ جو کچھ پیدا ہوا‘ اس میں ہمارے درد کا درماں نہیں تھا۔ ان کے لیے اجر‘ ان کے رب کے پاس یقینا محفوظ ہو گا۔ ہم مگر ابھی تک جہانِ نو کے متلاشی ہیں۔میں اپنی بات کو سماج کی سیاسی تشکیل تک محدود رکھتا ہوں۔ فرنگی مقامروں یا سرمایہ دارانہ نظام نے جو سیاسی بندوبست متعارف  کرایا‘ گزشتہ صدی میں وہی مثالی قرار پایا۔ جمہوریت‘ سیکولرازم‘ قومی ریاست‘ کھلی منڈی کی معیشت‘ بنیادی انسانی حقوق کا احترام۔ یہی اس کے اجزائے ترکیبی تھے۔ یہ کامیابی سے چلتا رہا۔ مسلم معاشرے اس بارے میں تذبذب کا شکار رہے۔ کہیں بادشاہت پر اصرار ہوا‘ کہیں پاپائیت نے اپنے پنجے گاڑے رکھے۔ سب سے عجیب معاملہ پاکستان کا رہا۔ قومی ریاست اور اسلامی ریاست‘ جمہوریت اور نسلی و لسانی عصبیتیں‘ سرمایہ داری اور جاگیرداری‘ سول اقتدار اور عسکری بالا دستی... فکر و عمل کے ہرمیدان میں ایک کشمکش برپا رہی۔ ہماری نظری شناخت واضح ہو سکی اور نہ عملاً ہم کوئی سیاسی نظام بنا سکے۔ ہند کے اس میخانے میں اب  صرف ٹوٹے ہوئے پیمانوں کا ڈھیر ہے۔فرنگی قمار خانے کے بارے میں آج علامہ اقبال کی پیش گوئی پوری ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ جمہوریت کی کوکھ سے پاپولزم جنم لے چکا۔ جمہوریت کی نسل برباد ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ ابراہم لنکن اور صدر جیفرسن کی جانشینی ٹرمپ کے ہاتھ میں ہے۔ مذہب کے وجود کو  بھی دیس نکالا نہیں دیا جا سکا۔ سیاسی جماعتیں اس طرح فعال نہیں رہیں جیسے پہلے تھیں۔ بائیں بازو کی باسی کڑی میں بھی کہیں کہیں ابال آ رہا ہے۔ ایک خلفشار ہے جو سماجی اضطراب کا باعث بن رہا ہے۔ اس کے اثرات ہم پر بھی پڑ رہے ہیں مگر باندازِ دیگر۔ہم جمہوریت کی بات تو کرتے رہے مگر جمہوری کلچر کو اپنا نہیں سکے۔ صرف سیاست کی بات کریں تو سیاسی جماعتیں جمہوریت کو  مستحکم کرتی ہیں۔ نظریاتی سیاست کے دور میں کسی حد تک سیاسی جماعتیں موجود رہیں۔ اس سے جمہوری عمل بھی کچھ آگے بڑھا۔ آج سیاسی جماعتوں کا وجود باقی نہیں ہے۔ سول سوسائٹی کے نام پر این جی اوز وجود میں آئیں‘ سماجی ادارے منظم نہیں ہو سکے۔ روایتی سماجی ادارے؛ جیسے مدرسہ اور خانقاہ‘ اپنے کردار سے منحرف ہو گئے۔ اسلامی ریاست اور قومی ریاست کی کشمکش بھی کسی نتیجے تک نہیں پہنچ سکی۔ جب فرنگی قمار خانوں میں کاروبار اپنے عروج پر تھا‘ ہم اس مارکیٹ سے کچھ خرید سکے نہ بیچ سکے۔ کم لوگوں کو اس  کا ادراک ہو سکا کہ دنیا میں کیا ہو رہا ہے۔ اقبال کو اندازہ تھا کہ جلوۂ فرنگ اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے تھے۔ مولانا مودودی کو بھی اس کا احساس تھا۔ سیاسی راہنماؤں میں بھٹو صاحب بھی سمجھ رہے تھے کہ دنیا کی سیاست کس کشمکش کا شکار ہے۔ انہوں نے اس میں رہتے ہوئے‘ خود کو رفتارِ عالم سے ہم آہنگ بنانے کی کوشش کی اور &#39;اسلامی سوشلزم‘ لے آئے۔ سماج کا ایک حصہ کسی حد تک یکسو ہوا  مگر اس سوشلزم کو ان کی جاگیردارانہ سوچ اور فسطائی طرزِ سیاست لے ڈوبا۔ مولانا مودودی کے فکری &#39;شجرہ طیبہ‘ پر کچھ ایسے پیوند لگے کہ اس کے پھل کا ذائقہ ہی تبدیل ہو گیا۔ ہمارا انتشاراپنے عروج پر ہے۔ سیاست دم توڑ چکی کہ نہ کوئی نظریہ ہے نہ سیاسی جماعت۔فرنگی تو ارتقا سے گزر رہا ہے۔ وہ ایک عہد سے دوسرے عہد میں داخل ہو رہا ہے۔ اس کا ارتقا فطری ہے۔ ہمارا معاملہ تو یہ ہے کہ ہم پٹرول کی قیمت کی طرح‘ ہر روز اپنی سمت تبدیل کرتے ہیں۔ جس نظام میں زندہ ہیں‘ اس کی عدم شناخت کو ہم نے ہائبرڈ نظام کا نام دے کر قابلِ قبول بنایا ہے۔ یہ نظام چل سکتا تھا اگر اس میں توازن قائم رکھا جاتا۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس کا جھکاؤ ایک خاص طرف ہے۔ سکیورٹی سٹیٹ ماڈل پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ ہائبرڈ ہو نے کا مطلب یہ ہے کہ اس میں دونوں نظاموں کی برکات شامل ہو جائیں۔ موجودہ حالات میں یہی ایک قابلِ عمل ماڈل تھا مگر شاید یہ نظام کسی شعوری کوشش کے نتیجے میں نہیں اپنایا گیا۔ شاید یہ حالات کے جبر کا نتیجہ ہے۔سماج کا معاملہ یہ ہے کہ وہ جامد نہیں ہو سکتا۔ وہ ریاست کا پابند نہیں۔ ریاست کا کردار یہ ہے کہ وہ سماج کی سیاست کو منظم کر دے  اور فطری سیاسی وسماجی عمل میں کوئی رکاوٹ نہ پیدا ہونے دے۔ اس کے لیے اربابِ اقتدار کی فکری یکسوئی لازم ہے۔ انہیں ایک طرف سماجی رجحانات کا علم ہو اور دوسری طرف انہیں یہ مہارت حاصل ہو کہ وہ ان رجحانات کو ایک سمت دے سکیں۔ اس سے عوام میں اعتماد پیدا ہوتا ہے اور سماج کسی اضطراب سے محفوظ رہتا ہے۔ اگر یہ احساس غالب ہو کہ ریاست کی حکمتِ عملی عوامی پسند ناپسند سے بے نیاز ہے تو پھر ریاست اور عوام میں وہ تعلق قائم نہیں ہوتا جو استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔آج تمام سماجی ادارے موجود ہیں۔ مسجد بھی ہے اور مکتب بھی۔ خانقاہ بھی ہے اور مدرسہ بھی۔ خاندان موجود ہے اور محلہ داری بھی۔ میڈیا بھی ہے اور بیٹھک بھی۔ یہ سب کچھ مگر آپس میں ہم آہنگ ہے نہ ریاست کی پالیسی کے ساتھ۔ سب کچھ کے ہوتے ہوئے بھی ہم اس خوف میں ہیں کہ ہماری سیاسی ہیئت وہ نہیں ہے جو ہونی چاہیے۔ وہی منظر ہے جسے منیر نیازی نے شاعرانہ کمال کے ساتھ بیان کیا ہے:وہم یہ تجھ کو عجب ہے اے جمالِ کم نماجیسے سب کچھ ہو مگر تُو دید کے قابل نہ ہوریاست کا کام سماج کو اس وہم سے نکالنا ہے۔ اسے یہ احساس دلانا ہے کہ وہ قابلِ دید ہے۔ اس کیلئے اس ہائبرڈ نظام میں عوامی شرکت کو یقینی بنانا ہے۔ یہ معیشت کا معاملہ ہو یا سالمیت کا‘ اسے پارلیمان میں زیرِ بحث آنا چاہیے۔ مکہ معاہدہ ایک بڑی پیش رفت ہے۔ بدر معاہدہ بھی بہت اہم ہے۔ سماج مگر ان کی برکات سے بے خبر ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کوئی سیاسی جماعت ایسی موجود نہیں جو اسے عوام تک لے جائے۔ قابلِ تشویش بات یہ ہے کہ وہ قومیں سماجی سطح پر متحرک ہیں جو ان معاہدوں کے بارے شکوک وشبہات پیدا کر رہی ہیں۔ ہائبرڈ سسٹم کا فریقِ ثانی‘ جو عوام کی نمائندگی کرتا ہے‘ اس کا فعال ہونا ضروری ہے۔ یہ اسی وقت ہو پائے گا جب معاملات کو کسی ایک فکری وعملی ضابطے میں ڈھالا جائے گا۔ اس فریق کے پاس مگر عوام کے ساتھ رابطے کا کوئی فورم موجود نہیں۔  فرنگی تو اپنے حالات سنوار لے گا۔ وہ عالمِ پیر سے جہانِ نو پیدا کر سکتا ہے۔ اصل مسئلہ ہمارا ہے۔ ہمارا کیا بنے گا؟</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_39119914.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>پھیلتی شورش(رسول بخش رئیس)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-10-26/52911/64875080</link><pubDate>Mon, 26 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/rasul-bakhsh-rais/2026-10-26/52911/64875080</guid><description>گزشتہ صدی کے تقریباً سب اہم مفکروں اور فلسفیوں نے کالجوں اور جامعات میں زیر تعلیم طالب علموں کی سیاسی اہمیت کو اپنے انقلابی نظریات میں اہمیت دی نہ انہیں اس قابل سمجھا کہ وہ بھی تحریکیں چلا سکتے ہیں۔ ان کے ذہنوں میں مزدور‘ کسان اور پسے ہوئے طبقات اور ان کی انقلابی تحریکیں تھیں۔ مارکس اور ان کے فلسفے سے جڑے سب دانشوروں نے صرف مزدور کے ہاتھ میں انقلاب کی شمع اور پوری سماجی طاقت کی تلوار تھما دی کہ صنعتی انقلاب سے پیدا شدہ یہ نیا طبقہ سرمایہ دارانہ نظام کے لیے قبریں  کھودے گا۔ گزشتہ صدی کے نصف کے بعد جب مارکسی نظریے سے وابستہ خواتین و حضرات نے دیکھا کہ مغرب کے صنعتی معاشرے کا مزدور سرمایہ دارانہ نظام سے فیض یاب ہو کر اس کا حصہ بن چکا ہے تو پھر وہ ادھر اُدھر کی تاویلیں گھڑنے لگے۔ حقیقت میں کارل مارکس نے جس صنعتی معاشرے میں آنکھ کھولی‘ اس کا مشاہدہ کیا اور سرمایہ داری کے بارے میں لکھا‘ اس کا اطلاق اکیسویں صدی کے صنعتی معاشرے پر نہیں ہو سکتا تھا۔ مارکسی فکر سے انقلاب تو روس اور چین میں آئے۔ مارکس اگر زندہ ہوتا تو کبھی ان انقلابوں کی تائید نہ کرتا۔ شواہد موجود ہیں کہ اپنی زندگی میں انہوں نے روسی اشتراکیوں کو صنعتی معاشرہ بننے تک انتظار کا مشورہ دیا تھا۔ بہرحال مارکسیت کوئی جامد نوعیت کا نظریہ تو نہ تھا کہ لینن اور مائوزے تنگ اس میں قومی اور عالمی تناظر میں ترامیم و اضافہ نہ کرتے۔ سب کے نزدیک نوجوان طالب علموں کی اہمیت صرف اتنی تھی کہ وہ تحریکوں میں نظریاتی کارکنوں کا کردار ادا کرتے۔گزشتہ صدی کی ساٹھ کی دہائی میں جب امریکہ نے سرمایہ دارانہ نظام کو دنیا کے ہر خطے میں تحفظ دینے کی غرض سے ویتنام کی جنگ میں چھلانگ لگا دی اور ملک میں لام بندی کا حکم جاری کیا تو نوجوانوں نے عَلمِ بغاوت بلند کردیا۔ وہاں ہتھیار تو حکومت کے خلاف نہیں اٹھا سکتے تھے‘ انہوں نے نظام سے بغاوت کا اظہار اس سے لاتعلقی کی صورت میں کیا۔ کامیاب اور خوشحال زندگی کے روایتی تصورات کو انہوں نے ایسا جھنجھوڑا کہ انہیں بے جا ن کر دیا۔ اس کے ساتھ غالب سیاسی طبقے کی سیاسی جائزیت‘ ان کی ثقافت‘ نظریات اور اخلاقیات پر کھلم کھلا تنقید ہونے لگی۔ مظاہرے‘ جلوس اور مزاحمتی ادب‘ موسیقی اور سماجی رویے اس دور میں شدت پکڑ گئے۔ لاطینی امریکہ میں کیوبا میں انقلاب کے بعد وہاں دیگر ممالک میں بھی چی گویرا اور دوسرے انقلابیوں نے نوجوانوں کا خون گرمایا۔ نوجوانوں کی وہ تحریک عالمی جہت اختیار کر چکی تھی جس سے ہم بھی اُس دور میں کالج سٹوڈنٹ ہونے کے ناتے بے حد  متاثر ہوئے تھے۔ چی گویرا کی ایک ستارے والی کالی ٹوپی اور مائو کیپ ہمارے ہاں بھی انقلابیوں کا امتیازی نشان تھیں۔ امریکہ  کی &#39;&#39;کائونٹر کلچر‘‘ تحریک نے پرانی دنیا کے نوجوانوں کو ایک نیا سماجی اور نظریاتی شعور دیا۔ وہ ایوب خان کا دور تھا‘ جب ہم بطور طالب علم دوسرے سال میں تھے اور ترقی کی دہائی کے عنوان سے‘ اس کی تعریف میں ایوب حکومت نے ملک کے ہر حصے‘ شہروں اور یہاں تک کہ کالجوں میں بھی مذاکرے اور جلسے منعقد کرائے۔ کچھ کا تو یہ درویش عینی شاہد ہے۔ خیر یہ ایک لمبی کہانی ہے کہ ہمارے ملک میں وہ تحریک پہلے کہاں اور کس نے شروع کی۔ مجھے تو اتنا یاد ہے کہ کوئی اعلان کرتا تھاکہ کل جلوس نکلے گا اور ہم کتابیں ہاسٹل کے کمرے میں رکھ کر اُس میں شامل ہو جاتے تھے۔ ایوب خان کے خلاف تمام سیاسی جماعتیں خاموش اور دبکی بیٹھی تھیں۔ ذوالفقار علی بھٹو صاحب بھی اقتدار سے نکالے جانے کے بعد باہر کے ملکوں کی ہوا کھا رہے تھے؛ اگرچہ لوگوں سے مشاورت کر رہے تھے  کہ آگے کیا کرنا ہے۔ اس دوران بھی ہماری تحریک چل رہی تھی اور اس کی شدت اتنی تھی کہ تعلیمی ادارے بند ہونے لگے۔ ایک مفکر جس کا ذکر پہلے بھی کسی مضمون میں کر چکا ہوں‘ ہربرٹ مارکوزے تھا جو کئی امریکی جامعات میں پڑھا چکا تھا۔ اس نے امریکہ اور دیگر ملکوں میں پھیلتی نوجوان طالب علموں کی بغاوت کے بارے میں کہا تھا کہ وہ تحریکیں چلا کر معاشرے کے جمود کو توڑ سکتے ہیں اور غالب طبقات کی سیاست کو چیلنج کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ مگر اُن کا کردار معاشرے کو متحرک کرکے سیاست میں ہلچل پیدا کرنا اور مقتدر جماعتوں کو کمزور یا حکومتوں سے فارغ کرنا ہے۔ مارکوزے کا یہ نظریہ دیگر کئی فلسفوں کے ساتھ میرے پیش نظر رہا ہے۔ کئی بار دیکھا ہے کہ تحریک تو نوجوان طلبہ نے چلائی‘ لاٹھیاں ڈنڈے بھی انہوں نے کھائے‘ مگر اقتدارکے دستر خوان پر  دوسرے لوگ بیٹھ گئے۔ ہماری تحریک نے ایوب خان کو کمزور‘ بلکہ اقتدار سے رخصت کر دیا مگر اقتدار پر یحییٰ خان قابض ہو گئے اور سیاسی فائدہ ذوالفقار علی بھٹو اور شیخ مجیب نے اٹھایا۔ طالب علم رہنمائوں نے بھی سیاسی جماعتوں میں جگہ بنائی اور ان کا حصہ بن گئے۔ اس کے بعد پھر ہمارے ملک کے طلبہ نہ سیاست سے جدا کوئی حیثیت بنا سکے‘ نہ کوئی تحریک چلا سکے۔ سب سیاسی جماعتوں نے ابھرتے ہوئے متحرک نوجوانوں کو اپنی اپنی سیاسی نرسریاں بنانے اور بوقت ضرورت انہیں سڑکوں اور جلسوں میں لانے کے لیے استعمال کیا۔ ان کی وحدت تو ہمارے زمانے میں قائم تھی لیکن اب وہ پارہ پارہ ہوکر لسانی‘ مسلکی اور مختلف سیاسی جماعتوں کی گماشتہ گیری میں تبدیل ہو چکی ہے۔آج کل اسی طرح کی طالب علموں کی تحریکیں یورپ کے تقریباً نو ممالک میں سرگرم ہیں۔ فرانس‘ اٹلی‘ بلجیم‘ پولینڈ‘ جرمنی اور سپین کی حکومتیں اُن کے نشانے پر ہیں۔ سپین نے تو مجبور ہو کر اگلے ماہ نئے انتخابات کا اعلان کر دیا ہے۔ وجوہات میں مہنگائی‘ یوکرین اور ایران جنگوں کے معاشی اثرات اور حکمرانوں کی غلط منصوبہ بندی اور ترجیحات شامل ہیں‘ جن میں تعلیم پر کم اخراجات اور معیار کا زوال سرفہرست ہیں۔ ستر سال پہلے چلنے والی تحریک کی طرح‘ یورپ میں اب غالب طبقات کی نیندیں حرام ہو چکی ہیں۔ ہمار ے خطے میں بنگلہ دیش اور نیپال میں تو طالب علموں نے انقلاب برپا کر دیے اور وہاں نئی حکومتیں قائم ہو گئیں۔ آج کل بھارت میں وزیراعظم نریندر مودی اور ان کی جماعت کے نظریات اور سیاست کے خلاف کاکروچ جنتا پارٹی سڑکوں پر ہے۔ اس نے بنیادیں  تو کھوکھلی کر دی ہیں دیکھیں ہندوتوا کے برج کب گرتے ہیں۔ ایک مرتبہ پھر عالمی سطح پر نوجوان اپنے اپنے ملکوں کے نظام سے لاتعلقی اور عدم اطمینان کے ساتھ مزاحمت کرتے نظر آ رہے ہیں۔ ویسے تمام نظام علیحدہ نہیں‘ ایک ہی نظام کا حصہ ہیں‘ اور اس کی غالب اکثریت بھی اپنے اندر شدید نظریاتی اور سیاسی تقسیم کا شکار ہے۔ عالمی سطح پر اُس کی طاقت کے گھمنڈ کو ایران نے آبنائے ہرمز میں کئی بار ڈبکیاں تو دی ہیں‘ دیکھیں آگے کا نقشہ کیا بنتا ہے۔ طالب علم تحریک چلاکر سیاسی راستہ ہموار کرتے ہیں تو دوسرے شہسوار اپنے اپنے گھوڑوں پر آ کر میدان سنبھال لیتے ہیں اور نوجوان اچھے مستقبل کے خواب آنکھوں میں بسائے پھر نئے فاتحین کی  طرف دیکھنا شروع کر دیتے ہیں۔ ہمارے ہاں تو ایسے مسائل ہیں نہ کوئی تحریک۔ ایک بات ضرور ہے کہ اگر سڑکیں اور شاہراہیں بند ہو جائیں تو سنا ہے کہ کچھ لوگ جنگلوں اور پہاڑوں کی طرف چلے جاتے ہیں‘ اورباقی ہمارے ساتھ دعائوں میں مشغول رہتے ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_33241568.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>سیاسی حالات، قیمتی معدنیات اور معدنیات کمیشن(کنور دلشاد)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/kunwar-mohammad-dilshad/2026-10-26/52912/57445718</link><pubDate>Mon, 26 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/kunwar-mohammad-dilshad/2026-10-26/52912/57445718</guid><description>خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد تحریک انصاف مختلف طبقات میں بٹی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ ایک حلقہ عمران خان کے ہارڈ فینز پر مشتمل ہے جس کے لیے شخصیت پرستی ہی سیاست ہے۔ دوسرا طبقہ بیرونِ ملک بیٹھ کر &#39;مزاحمت‘ کا بیانیہ چلا رہا ہے۔ تیسرا طبقہ سوشل میڈیا وارفیئر کو ہی سیاسی جدوجہد کا متبادل سمجھتا ہے۔ چوتھا طبقہ روایتی سیاستدانوں کا وہ گروہ ہے جو ہومیو پیتھک سیاست سے باہر نکلنے کا حوصلہ نہیں رکھتا۔ پانچواں طبقہ وہ ہے جو اپنے کاروباری مفادات کے تحفظ میں مصروف ہے جبکہ چھٹا وہ پُراسرار طبقہ ہے جو بیک وقت طاقت کے مختلف مراکز سے رابطے رکھ کر اپنے لیے راستے کھلے رکھنا چاہتا ہے۔ اس پارٹی کا اصل بحران یہ ہے کہ جماعت کے اندر مزاحمت کرنے والے بھی ہیں‘ مفادات بچانے والے بھی‘ سوشل میڈیا کے سیاسی بھی اور سیاسی راستہ نکالنے والے بھی مگر ان سب کے درمیان مشترکہ حکمت عملی کا فقدان ہے۔ ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ سے پہلے‘ جب مذاکرات ناکامی سے دوچار ہوئے تو اطلاعات کے مطابق‘ بیرسٹر گوہر علی خان نے محسن نقوی سے رابطہ کیا اور ایمرجنسی کو مؤخر کرنے کی درخواست کی۔ ایک موقع پر محسن نقوی نے کہا کہ ٹھیک ہے آپ کوشش کر کے دیکھ لیں۔ ایمرجنسی لگنے سے پہلے‘ بیرسٹر گوہر پشاور گئے لیکن سہیل آفریدی نے کہا کہ وہ اپنے ڈرافٹ سے ایک انچ بھی ہٹنے کو تیار نہیں۔ بعد ازاں جب محسن نقوی نے بیرسٹر گوہر علی خان سے پوچھا کہ کوئی پیشرفت ہوئی ہے؟ تو اس پر بیرسٹر گوہر نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی ان کی بات سننے کو تیار نہیں۔ اس کے اگلے ہی دن یعنی 11 اکتوبر کو صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ ہو گیا اور 14 اکتوبر کو آئین کے آرٹیکل 234 اور 236 کے تحت پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے ان صدارتی اقدامات کی منظوری اور آرٹیکل 245 کے تحت افواج کی تعیناتی کی منظوری کی توثیق کر دی گئی۔ تحریک انصاف اس وقت بھی منقسم ہے‘ لہٰذا حتمی فیصلہ کرنے کی کسی میں صلاحیت نہیں۔ ابھی تک لانگ مارچ کی ناکامی کی وجوہات جاننے کیلئے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بنانے کا فیصلہ نہیں ہو سکا اور پارٹی کے کور کمیٹی اجلاس میں بعض ارکان نے سہیل آفریدی کو اس ناکامی کا ذمہ دار ٹھہرایا جبکہ کچھ ارکان اس ناکامی کا ملبہ ایک دوسرے پر ڈالتے رہے۔ دوسری جانب سندھ میں ایک نیا تنازع پیدا ہوتا نظر آرہا ہے۔ سندھی مہاجرین‘ ان کے حامی ارکانِ اسمبلی اور بعض قانون دانوں کا ماننا ہے کہ متروکہ ٹرسٹ صرف مندروں اور گوردواروں سے متعلق ہے۔ دراصل ذوالفقار علی بھٹو نے ایک آرڈیننس جاری کیا تھا جس کے مطابق متروکہ زمین کے وسائل مہاجروں کے سوا کسی دوسرے مقصد میں استعمال نہیں ہو سکتے۔ بعد ازاں اس آرڈیننس کو 1975ء میں Evacuee Trust Properties Act کی شکل دی گئی۔ بھٹو نے اس ایکٹ کے ذریعے یہ لازمی قرار دیا کہ ان املاک (ٹرسٹ پول) کو کسی صورت نجی مالکان کو نہیں بیچا جائے گا بلکہ ان کی آمدنی کو صرف اقلیتی برادریوں کے مذہبی مقامات کی نگہداشت اور ان کی فلاح وبہبود پر خرچ کیا جائے گا۔ نیز اس قانون کے تحت متروکہ وقف املاک سے متعلق تنازعات پر سول عدالتوں کا دائرہ اختیار ختم کر کے بورڈ کے چیئرمین کو حتمی فیصلے کا اختیار دیا گیا۔ اب اس پروجیکٹ پر بعض سابق وفاقی بیورو کریٹ بڑی تندہی سے کام کر رہے ہیں اور توقع کی جا رہی ہے کہ سندھ سے قومی اسمبلی کے بعض ممبران عنقریب ایک پرائیویٹ بل &#39;&#39;رفیوجی ایویکیویٹ ٹرسٹ‘‘ کے نام سے پیش کرنا چاہتے ہیں‘ جس سے صوبے میں ایک نئی قانونی بحث شروع ہونے کا امکان ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ غیر مسلموں کے مذہبی مقامات کیلئے وقف کی گئی جائیدادوں کی طرح مہاجرین کے نام پر جو اثاثے تھے‘ وہ مہاجروں کا ہی استحقاق ہیں۔ اس پروجیکٹ کو آگے بڑھانے کیلئے برطانیہ کی انڈین لائبریری سے بھی دستاویزات حاصل کی جا رہی ہیں۔ جلد عالمی قوانین کی روشنی میں مہاجرین کیلئے وقف بورڈ کی تشکیل کا بل پیش کیا جائے گا۔ وقف ٹرسٹ کے حوالے سے نیا بل سامنے آنے پر ہی دیگر تفصیلات سے پردہ اٹھایا جائے گا۔ قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر بٹ نے حکومت کے کرپشن کیسز پر کام کرنے کا انکشاف کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نیب کی یہ پالیسی نہیں کہ ان معاملات کی تشہیر کی جائے۔ دراصل خیبر پختونحوا میں سنگین صورتحال کے پیش نظر ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ ہونے کے بعد ملک میں رشوت کی آلودگی‘ ترقیاتی فنڈز میں گڑبڑ اور صوبوں کی ناقص کارکردگی کے پیش نظر نیب نے بعض حکومتی ارکان کو گرفت میں لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس حوالے سے جلد بڑی پیشرفت سامنے آ سکتی ہے۔اس وقت خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع میں عالمی معیار کی معدنیات کے ذخائر پر ملک بھر میں نئی بحث کا آغاز ہو چکا ہے۔ قدرت نے پاکستان کو ایسی معدنیات کی دولت سے نواز رکھا ہے جن سے کماحقہ فائدہ اٹھانے سے ملک کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ ان ذخائر تک رسائی کے لیے حکومت کے پاس چونکہ وسائل کی کمی ہے لہٰذا بین الاقوامی کمپنیوں کی معاونت سے ہی ایسے قیمتی ذخائر حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ حجاز کا خطہ بھی بیرونی ممالک کی تکنیکی صلاحیتوں سے ہی تیل کی دولت سے مالا مال ہوا تھا۔ پاکستان کو بھی بین الاقوامی کمپنیوںسے ان ذخائر کو نکالنے کے معاہدات کرنے چاہئیں۔ اٹھارہویں ترمیم میں معدنیات جیسا اہم شعبہ صوبوں کی تحویل میں دے دیا گیا تھا‘ لہٰذا وفاقی حکومت کو معدنیات سے استفادہ کیلئے صوبوں کی رضامندی حاصل کرنا آئینی ضرورت ہے۔ اب وفاقی حکومت کو ایسی قانون سازی کرنا ہو گی جس کی بدولت ایسی واضح پالیسی مرتب کی جا سکے کہ ان معدنیات سے پاکستان کے عوام کو براہ راست فائدہ پہنچے اور سعودی عرب‘ قطر اور متحدہ عرب امارات کی طرز پر پاکستان کے عوام تک بھی ان معدنی وسائل کے بھرپور ثمرات پہنچیں۔ یہ خبریں بھی گردش کر رہی ہیں کہ خیبر پختونخوا کے بعض اضلاع میں یورینیم بھی کافی مقدار ملنے کا امکان ہے۔ یورینیم کے حوالے سے بعض منفی خبروں کی وجہ سے عوام میں تشویش بھی پائی جاتی ہے۔ اس حوالے سے پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کو باقاعدہ وضاحت جاری کرنی چاہیے۔ ایسے حساس معاملات میں اصولی طور پر اٹامک انرجی کمیشن کو ہی یہ ذمہ داری سونپی جانی چاہیے۔ جیسے1980ء سے 1984ء کے دوران میں ڈیرہ غازی خان سے یورینیم نکالنے کیلئے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی سربراہی میں ان کی ٹیم نے جانفشانی سے کام کیا تھا۔ پاکستان معدنیات سے بھرپور خطہ ہے۔جون 1947ء میں جب تقسیم ہند کی دستاویزات تیار ہو رہی تھیں تو وائسرائے ہند لارڈ مائونٹ بیٹن نے طنزیہ طور پر قائداعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ آپ کو ایسا ملک دیا جا رہا ہے جس میں پہاڑوں کے سوا کچھ نہیں۔ اس پر قائداعظم نے تاریخی جملہ کہا تھا کہ قدرت نے ان پہاڑوں کے درمیان ایسی قیمتی دھاتوں کے ذخائر چھپا رکھے ہیں جن کی دریافت سے پاکستان اس خطے کا ایک خوشحال اور اہم ملک بن جائے گا۔ قائداعظم کی پیش گوئی اب پوری ہوتی نظر آ رہی ہے۔ وفاقی حکومت کو چاہیے کہ معدنی وسائل کے حوالے سے ایسا بااختیار معدنی کمیشن تشکیل دے جو صوبوں کی معدنیات کی دولت کو قومی تصرف میں لانے میں آسانی پیدا کرے۔ سیاسی جماعتوں کو ایسے حساس معاملات کے بارے میں معاندانہ رویہ اختیار کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ 1960ء کی دہائی میں صدر ایوب خان کے دور میں پلاننگ کمیشن نے ان ذخائر کا پتا چلا لیا تھا لیکن وسائل کی کمی اور بین الاقوامی حالات کے پیش نظر ان منصوبوں کو ملتوی کر دیا گیا تھا۔ اب قدرت نے بیش قیمت معدنیات اور گوادر جیسی بندرگاہ کا تحفہ دے کر پاکستان کو معاشی طور پر خودکفیل بننے کے لیے ایک سنہری موقع عطا کیا ہے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_15667905.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>قطر تجارت‘ آٹو پالیسی اور وزیراعظم ہائوسنگ سکیم(میاں عمران احمد)</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/mian-imran-ahmad/2026-10-26/52913/42120443</link><pubDate>Mon, 26 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/mian-imran-ahmad/2026-10-26/52913/42120443</guid><description>پاکستان نے جی سی سی کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے پر دستخط‘ قطری منڈی تک رسائی میں اضافے‘ پاکستانی گوشت کی برآمدات پر پابندیاں ختم کرنے اور زراعت و خوراک کے شعبوں میں سرمایہ کاری کا مطالبہ کیا ہے۔ مالی سال 2024-25ء میں پاکستان کی قطر کو برآمدات تقریباً 11 کروڑ 66 لاکھ 70 ہزار ڈالر تھیں جو مالی سال 2023-24ء کے تقریباً 16 کروڑ 35 لاکھ 40 ہزار ڈالر کے مقابلے میں 28.65 فیصد کم تھیں۔ اس کے برعکس‘ قطر سے پاکستان کی درآمدات تقریباً تین ارب 49 کروڑ 90 لاکھ ڈالر رہیں‘ جو مالی سال 2023-24ء کے تقریباً 3 ارب 34 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں 4.54 فیصد زیادہ تھیں۔ اس طرح مالی سال 2024-25ء میں پاکستان اور قطر کے درمیان اشیا کی تجارت کا خسارہ تقریباً تین ارب 38 کروڑ 23 لاکھ ڈالر تھا۔ پاکستان کی قطر کو برآمدات میں کمی اور درآمدات میں اضافے کے باعث دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی عدم توازن مزید بڑھا ہے۔ اب پاکستان اور قطر کے مابین تجارتی تعلقات کو نئی سمت دینے کی کوشش ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب پاکستان کو برآمدات بڑھانے‘ تجارتی خسارہ کم کرنے اور غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل کرنے  کی ضرورت ہے۔ یہ مذاکرات دو ملکوں کے مابین تجارت بڑھانے کے لیے اہم موقع ثابت ہو سکتا ہے۔ ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان اور قطر کی کمپنی حساد فوڈ کے درمیان پاکستانی چاول کی فراہمی کیلئے حکومتی سطح پر معاہدے کی  تجویز خاص اہمیت رکھتی ہے۔ یہ تجویز وفاقی کابینہ کی منظوری کیلئے پیش کی جا چکی ہے۔ اس معاہدے کو حتمی شکل دے دی جاتی ہے تو پاکستانی برآمد کنندگان کو مستقل خریدار مل سکتا ہے اور چاول کی فروخت کو طویل مدتی بنیادوں پر منظم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس کے علاوہ ہڈی سمیت گوشت کی برآمدات پر عائد پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے اور متعلقہ قطری حکام کو جانوروں کی صحت اور خوراک کے تحفظ سے متعلق تکنیکی دستاویزات فراہم کی گئی ہیں۔ پاکستان پہلے ہی قطر کو گائے‘ بھیڑ اور بکرے کا گوشت فروخت کر رہا ہے۔پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی‘ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں اور مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی نے سٹیٹ بینک آف پاکستان کے لیے مشکل صورتحال پیدا کر دی ہے۔ ایک طرف شرحِ سود بڑھانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے تو دوسری طرف کاروباری حلقے چاہتے ہیں کہ قرض سستا ہو تاکہ سرمایہ کاری‘ پیداوار اور روزگار میں اضافہ ہو سکے۔ 26 اکتوبر 2026ء کو مانیٹری پالیسی کمیٹی کے ہونے والے اجلاس سے پہلے یہ بحث اہم ہو گئی ہے کہ شرحِ سود میں مزید اضافہ مہنگائی کو قابو کرنے میں کتنا مؤثر ہو گا اور اس کی معاشی ترقی کو کیا قیمت ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔ پاکستان شماریات بیورو کے مطابق ستمبر 2026ء میں سالانہ بنیاد پر سی پی آئی میں اضافہ 10.26 فیصد تھا جبکہ اگست میں یہ شرح تقریباً 11.15 فیصد تھی۔ جولائی سے ستمبر 2026ء تک اوسط مہنگائی 10.2 فیصد تھی جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی سہ ماہی میں یہ 4.3 فیصد تھی۔ اس کا مطلب ہے کہ مہنگائی کی رفتار گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ اگرچہ ستمبر میں اگست کے مقابلے میں سالانہ شرح کچھ کم ہوئی ہے۔ اس وقت سٹیٹ بینک کی پالیسی شرحِ سود 11.5 فیصد ہے۔ سٹیٹ بینک اسے 50 سے 100 بیسس پوائنٹس تک بڑھا سکتا ہے۔ سٹیٹ بینک نے اپریل میں شرح سود میں ایک فیصد اضافہ کرکے اسے 11.5 فیصد کیا تھا جس کے بعد جون‘ جولائی‘ اگست اور ستمبر میں اسے برقرار رکھا گیا۔ آئی ایم ایف نے عالمی اقتصادی رپورٹ میں دنیا بھر میں مہنگائی کی شرح 2026ء میں 4.7 فیصد اور 2027ء میں 4.1 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ سمیت مختلف خطوں میں تنازعات اور تجارتی  کشیدگی سے عالمی معیشت کے لیے خطرات پیدا ہو رہے ہیں۔ پاکستان جیسی درآمدی توانائی پر انحصار کرنے والی معیشت کے لیے یہ صورتحال زیادہ اہم ہے کیونکہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ نہ صرف درآمدی بل بڑھاتا ہے بلکہ روپے‘ بیرونی ادائیگیوں  اور اندرونِ ملک قیمتوں پر بھی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ادھر تین ماہ گزر گئے لیکن نئی آٹو پالیسی نافذ نہیں ہو سکی۔ اربوں ڈالرز کی انڈسٹری بغیر کسی واضع پالیسی کے چل رہی ہے۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ آٹو پالیسی بنانا ملکی بجٹ سے بھی زیادہ مشکل کام ہے۔ بجٹ ہر سال مقررہ وقت سے دو تین دن اوپر نیچے کے وقفے کے بعد پیش ہو جاتا ہے لیکن آٹو پالیسی 100 دن گزرنے کے بعد بھی نظر نہیں آئی۔ اب ایک نیا ڈرافٹ سامنے آیا ہے جو پچھلے تین ماہ میں شاید تیسرا یا چوتھا ڈرافٹ ہے۔ اس ڈرافٹ کے مطابق آٹو پالیسی2026-31ء کے تحت پٹرول گاڑیوں کی قیمتوں میں آٹھ سے 10 فیصد‘ ہائبرڈ گاڑیوں میں تقریباً 9 فیصد اور پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیوں میں 20 فیصد سے زائد کمی کا امکان ہے۔ جبکہ بعض الیکٹرک گاڑیاں 22 فیصد تک بھی سستی ہو سکتی ہیں۔ لیکن یہ سوال ابھی تک باقی ہے کہ گاڑیوں کے سستے ہونے کا کیا مطلب ہے۔ کیا پرانی آٹو پالیسی جو کہ 30 جون تک لاگو تھی‘ کے مقابلے میں گاڑیوں کی قیمت کم ہو گی یا 30 جون کے بعد جو نئے ٹیکسز لگے ان کے مقابلے میں گاڑیاں سستی ہوں گی؟ مثال کے طور پر پلگ ان ہائبرڈ گاڑیوں پر 30 جون تک 8.5 فیصد ٹیکس تھا جو 30 جون کے بعد 25 فیصد ہو گیا۔ پھر اگلے ڈرافٹ میں یہ تقریباً 19 فیصد ہو گیا اور اب نئے ڈرافٹ میں یہ تقریباً 9 فیصد تجویز کیا گیا ہے۔ اگر یہ لاگو ہو جائے تب بھی پی ایچ ای کی قیمت 30 جون کے مقابلے میں زیادہ ہی رہے گی‘ کم نہیں ہو گی۔ آٹو پارٹس پر درآمدی ٹیرف میں کمی اور مکمل تیار گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی درآمدات سے پاکستان کے تقریباً 1200 مقامی آٹو پارٹس مینوفیکچررز کے کاروبار کو نقصان پہنچنے کا خدشہ بڑھ سکتا ہے۔پاکستان میں اپنا گھر خریدنا یا تعمیر کرنا مڈل کلاس اور کم آمدن والے طبقے کے لیے ایک بڑا خواب بن چکا ہے۔ حکومت نے وزیراعظم کی ہاؤسنگ سکیم کے تحت آسان شرائط پر قرض فراہم کرنے اور اس مقصد کے لیے سہولتیں دینے کی کئی مرتبہ کوشش کی ہے لیکن عملی طور پر بہت سے درخواست گزاروں کو اب بھی قرض حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ اصل مسئلہ صرف قرض کی شرائط نہیں بلکہ ان شرائط پر عمل درآمد‘ بینکوں کی جانچ پڑتال اور جائیداد کے کاغذات کی تکمیل بھی ہے۔ اکتوبر 2026ء میں جائیداد کے کاغذات کی تعداد بھی کم کرکے پانچ کر دی گئی تاکہ درخواست گزاروں کو بار بار مختلف دستاویزات جمع نہ کرانا پڑیں۔ اس کے باوجود قرضوں کی منظوری اور رقم کی ادائیگی کے درمیان بڑا فرق موجود ہے۔ 9  اکتوبر تک کے اعداد وشمار کے مطابق ایک لاکھ 91 ہزار 900 درخواستیں موصول ہوئیں‘ جن میں سے 75 ہزار 200 منظور ہوئیں‘ 94 ہزار 300 پر کام جاری تھا اور صرف 14 ہزار درخواست گزاروں کو قرض کی رقم ادا کی گئی۔ یعنی موصول ہونے والی درخواستوں میں صرف 7.3 فیصد درخواست گزاروں کو رقم مل سکی۔ تقریباً 75 ہزار 200 درخواست گزاروں کے لیے 448 ارب روپے کے قرض منظور کیے گئے جبکہ سرکاری پورٹل پر قرض کی تقسیم کی رقم تقریباً 80.6 ارب روپے درج ہے۔ یعنی  تقریباً 18 فیصد رقم ہی تقسیم ہوئی۔ مسئلے کی سنگینی کا اندازہ اس حقیقت سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بتایا گیا کہ پاکستان میں رہائشی قرضے جی ڈی پی کا صرف 0.3 فیصد اور نجی شعبے کو فراہم کیے جانے والے قرضوں کا 0.56 فیصد ہیں۔ وزیراعظم کی ہاوسنگ سکیم کا فائدہ عام آدمی تک پہنچانے کے لیے ضروری ہے کہ بینکوں پر مانیٹرنگ کے نظام کو مزید مؤثر کیا جائے۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/212_71532147.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>بے عزت شہری، بے وقعت کاغذ(سعود عثمانی )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-10-26/52914/52342165</link><pubDate>Mon, 26 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/saud-usmani/2026-10-26/52914/52342165</guid><description>کیا کبھی تصور کیا تھا کہ بیچ بازار میں کھڑے ہو کر‘ سرکاری افسران اپنے نچلے عملے اور پٹواریوں کے ساتھ کہیں گے کہ کسی جائیداد کی رجسٹری کوئی چیز نہیں ہوتی‘ یہ ایک بے وقعت کاغذ ہے۔ میں ان کے الفاظ دہرائوں؟ &#39;&#39;رجسٹریاں تو بن جاتی ہیں‘ ہو جاتی ہیں‘ ان کا کیا ہے‘‘۔ ایک لمحے کے لیے تو اس بات پر یقین ہی نہیں آتا کہ کوئی پٹواری‘ کوئی اسسٹنٹ کمشنر اور محکمہ مال کا کوئی عہدیدار سب کے سامنے یہ بات کہہ سکتا ہے کہ ان کا اپنا جاری کردہ سرکاری کاغذ‘ تمام دستخطوں اور تمام مہروں کے ساتھ‘ تمام ٹیکس اور سرکاری فیسیں جمع کروانے کے بعد‘ اور دفتروں کے بے شمار چکروں اور ہزار ذلتوں کے بعد‘ مشکل سے حاصل کیا ہوا کاغذ‘ بے وقعت اور بے فائدہ ہے! اس میں درج پیمائشیں بیکار اور ناقابل اعتبار ہیں۔ اس میں موجود ملکیتی حقوق کچھ ثابت نہیں کرتے۔ لیکن یہ بات حرف بحرف سچ ہے اور میں اس کا عینی گواہ ہوں۔ آپ نے کبھی کسی دکان‘ کسی جائیداد‘ کسی گھر کی رجسٹری ضرور کرائی ہو گی۔ آپ کو اندازہ ہو گا کہ ایک جائیداد جسے آپ نے خون پسینے کی محنت سے ایک ایک پیسہ جوڑ کر خریدا ہے‘ اس کا حقِ ملکیت کا کاغذ آسانی سے حاصل کرنا آپ کا ہر لحاظ سے حق ہے۔ اس سے پہلے آپ فرد بیعانہ‘ فرد بیع‘ عکس شجرہ‘ اسٹامپ‘ ٹیکس وغیرہ سب کارروائیوں کو پورا کرکے رجسٹری کا حق مانگتے ہیں۔ یہ حق کیسے ملتا ہے؟ مجھے یقین ہے کہ 99 فیصد پاکستانیوں نے کسی دقت‘ کسی مسئلے کے بغیر خود سرکاری دفتروں سے یہ حق کبھی حاصل نہیں کیا ہوگا۔ محکمہ مال کے ہوتے ہوئے یہ آسانی ہو بھی کیسے سکتی ہے؟ کمر توڑ دینے والے سارے ٹیکسوں کی رقم جیب میں لے کر پھرتے رہیں تو بھی یہ آسانی ملنے والی نہیں۔ اگر یہ آسان ہو جائے تو پھر پٹواریوں اور ایکسائز کے عملے کی جیبیں کیسے گرم ہوں۔ اسٹامپ فروشوں کے کاروبار کیسے چلیں۔ آپ جوتے گھستے رہیے‘ آپ کا کام نہیں ہوگا۔ سو اس کا راستہ یہی ہے کہ آپ بینکوں میں سرکاری ٹیکس جمع کرائیں اور رسیدیں لے کر کسی سٹامپ فروش کے پاس حاضری دیں۔ وہ بتائے گا کہ فلاں محکمے میں اتنا چائے پانی دینا ہے اور فلاں میں اتنا۔ اس چائے پانی کا سرکاری ٹیکسوں سے کوئی تعلق نہیں۔ مجتنی قیمتی جائیداد اتنا زیادہ نرخ۔ سرکاری ٹیکس بھر کر اب اسٹامپ فروش کے سامنے جیب خالی کرنی ہے۔ نہیں کریںگے تو جائیداد کا حقِ ملکیت کیسے ملے گا؟ چنانچہ لوگ چپ چاپ اس نظام کے ہاتھوں لٹتے اور ہر تکلیف سہتے ہیں۔ بے شمار چکروں کے بعد بالآخر وہ کاغذ آپ کے ہاتھ میں آتا ہے جسے رجسٹری کہتے ہیں اور جو یہ ثابت کرتا ہے کہ زمین کے اس ٹکڑے پر جس کی پیمائش اتنی ہے‘ فلاں شخص کا یا فلاں فلاں افرادکا بلا شرکت غیرے حقِ ملکیت ہے۔ یہ کاغذ کا ٹکڑا جس میں آپ کی جان اٹکی ہوئی تھی‘ بالآخر آپ کے ہاتھ میں آتا ہے تو آپ کو لگتا ہے کہ ساری عمر کی محنت وصول ہو گئی۔ آپ اس کیلئے دربدر کی ذلتیں بھی بھول جاتے ہیں۔ آپ خوش ہوتے ہیں کہ اب آپ کے ہاتھ میں رجسٹری ہے اور کوئی اس زمین کے ٹکڑے سے بے دخل نہیں کر سکتا۔ اس لیے کہ حکومت نے محکمہ مال‘ ایکسائز‘ ریونیو‘ پٹواری‘ گرداور سب سے تصدیق کے بعد اس کاغذ پر اور اس کے مندرجات پر‘ اس کی پیمائشوں پر دستخط ثبت کر دیے ہیں‘ مہریں لگا دی ہیں۔ کسی جائیداد کی رجسٹری ہی وہ بنیادی کاغذ ہے جس سے آپ تحفظ حاصل کرتے ہیں۔ یہ کرایہ نامہ نہیں ہے کہ کوئی آپ کو اس جائیداد سے نکال دے گا‘ یہ معاہدہ نہیں ہے کہ کوئی اسے منسوخ کر دے گا۔ یہ رجسٹری ہے۔ آپ کا سب سے اہم ملکیتی ثبوت۔اور پھر ایک دن آپ بیچ بازار میں یہ کاغذ لے کر اسسٹنٹ کمشنر‘ پٹواری‘ وغیرہ کے سامنے کھڑے ہوتے ہیںاور انہیں بتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ میرا حقِ ملکیت ہے۔ زمین کے اس ٹکڑے کی پیمائش اتنی ہے۔ کوئی حکومت‘ کوئی محکمہ اور کوئی فرد میری مرضی کے بغیر اس ٹکڑے کو یا اس میں سے کچھ حصے کو نہیں لے سکتا۔ جواب میں جو کچھ آپ کو سننے کو ملتا ہے‘ اس پر آپ کو یقین نہیں آتا۔ وہ کاغذ دیکھے بغیر کہتے ہیں &#39;&#39;رجسٹریاں تو بن جاتی ہیں‘ ہوجاتی ہیں‘ ان کا کیا ہے‘‘۔ یہ سب سرکاری عہدیداران مل کر آپ کو بتاتے ہیں کہ رجسٹری کوئی چیز نہیں ہوتی‘ یہ کچھ ثابت نہیں کرتی۔ نہ ملکیت‘ نہ پیمائش۔ وہ واحد کاغذ جس پر آپ کا دارو مدار ہے اس کے بارے میں کاغذ جاری کرنے والے‘ دستخط کرنے والے‘ مہریں لگانے والے کس ڈھٹائی سے کہتے ہیں کہ رجسٹریاں تو بن جاتی ہیں‘ یہ کوئی چیز نہیں ہوتیں۔لاہور کو تاریخی حیثیت میں بحال کرنے کا کام جاری ہے۔ یہ بہت اچھا کام ہے اور میں اس کی تحسین کرتا آیا ہوں۔ سرکلر روڈ‘ انارکلی‘ نیلا گنبد‘ پرانے شہر کے کئی اور علاقے‘ سب اس بحالی کے کام کے دائرے میں ہیں۔ غیر سرکاری اور سرکاری ادارے سب اس کام میں شریک ہیں۔ ان سرکاری اداروں میں سٹی گورنمنٹ بھی ہے۔ کوئی شک نہیں کہ بے حد و بے حساب تجاوزات سے سبھی شہری تنگ ہیں اور اگر تجاوزات گرائی جاتی ہیں تو اس کی تحسین کرنی چاہیے۔ سرکلر روڈ‘ نیلا گنبد اور انارکلی وغیرہ کے علاقوں میں اس کام کے سلسلے میں دکانداروں اور سرکاری عملے کے لوگوں کی کئی میٹنگ ہوتی رہی ہیں۔ ان میں سے کچھ میں شریک ہونے کا موقع مجھے بھی ملا ہے‘ اور اس کام کے اعتراف کے ساتھ جو کچھ میرے مشاہدے میں آیا‘ وہ نہایت افسوسناک اور تکلیف دہ ہے۔ کچھ دکانیں یا مکانات جو عملے کی نظر میں تجاوزات ہیں‘ ان سے سب سے پہلے ملکیتی کاغذات مانگے جاتے ہیں۔ بہت سے لوگوں کے پاس رجسٹری یا کوئی اور ملکیتی کاغذ نہیں ہوتا‘ سو عملے کا کام آسان ہو جاتا ہے۔ فوراً کہہ دیا جاتا ہے کہ یا ثبوت دیں یا جگہ خالی کریں۔ اس کے بعد وہ لوگ ہیں جو اپنے جائز اور تصدیق شدہ ملکیتی ثبوت پیش کر دیتے ہیں‘ جیسے رجسٹری وغیرہ۔ ان پر ساری تفصیلات اور پیمائشیں درج ہوتی ہیں‘ جن کی تصدیق خود سرکاری اداروں نے کی ہوئی ہوتی ہے۔ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ چونکہ یہ کاغذات سرکاری عملے کی منشا کے خلاف جاتے ہیں‘ اس لیے وہ انہیں بھی ماننے سے انکار کر دیتے ہیں۔ &#39;&#39;رجسٹریوں کا کیا ہے؟ رجسٹریاں تو بن جاتی ہیں‘‘۔ جائیداد کے ایک مالک نے کہا: اگر رجسٹری کوئی ثبوت ہے ہی نہیں‘ تو انہیں جاری کرنے کی کیا ضرورت ہے‘ اس پر بھاری ٹیکس وصول کرنے کا کیا جواز ہے۔ اس نے بہت جائز بات کہی کہ اگر رجسٹری کوئی ثبوت نہیں ہوتا‘ یہ بے وقعت کاغذ ہے تو آپ یہ بات مجھے لکھ کر دے دیں۔ اب پٹواری اور سرکاری عملے کے پاس کوئی جواب نہیں تھا‘ سوائے ڈھٹائی سے اپنی بات دہرانے کے۔ باقی معاملات تو بعد میں‘ پہلے اس مسئلے کا فیصلہ کیا جانا ضروری ہے کہ رجسٹری کی کوئی وقعت یا حیثیت ہے یا نہیں؟ اس کی پیمائشوں کا کوئی اعتبار ہے کہ نہیں؟ اگر نہیں تو اس بے وقعت کاغذ پر اتنے ٹیکس کیوں لیے جاتے ہیں‘ اور اس کے لیے اتنا ذلیل کیوں کیا جاتا ہے۔ اگر اس کا غذ کی کوئی حیثیت ہے تو سرکاری عملے کو یہ کہنے کا حق کس نے دیا ہے کہ ہم رجسٹریوں کو اور ان کے مندرجات کو نہیں مانتے۔ اگر رجسٹری کوئی اہم کاغذ نہیں تو کوئی پاکستانی شہری اپنا حق ملکیت کس طرح ثابت کرے؟ اربابِ مسند و اختیار! ذرا سنیے اور دیکھیے کہ ملک کے کروڑوں شہری تو پہلے بھی قابلِ عزت نہیں تھے‘ اب ان کے کاغذات بھی اچانک بے وقعت اور بے حیثیت کیوں ہو گئے ہیں۔</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_81278520.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item><item><title>گھریلو ناچاقیوں کا خاتمہ(علامہ ابتسام الہٰی ظہیر )</title><link>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-10-26/52915/97556670</link><pubDate>Mon, 26 Oct 2026 08:10:00 +0500</pubDate><guid>https://dunya.com.pk/index.php/author/allama-ibtisam-elahi-zaheer/2026-10-26/52915/97556670</guid><description>دنیا کے دیگر عصری معاشروں کی طرح پاکستان میں بھی شرحِ طلاق میں بتدریج اضافہ ہوا ہے۔ حالیہ سالوں کے دوران خواتین کی کثیر تعداد طلاق اور علیحدگی کے لیے عدالتوں سے رجوع کرتی نظر آئی ہے۔ نکاح اور شادی کا مقصد ایک ایسے گھرانے کی بنیاد رکھنا ہوتا ہے جس میں مرد و زن ایک دوسرے کی رفاقت میں خوشی اور سکون حاصل کریں لیکن بدقسمتی سے آج کل بہت سے نکاح اور شادیاں طلاق پر منتج ہوتے ہیں جبکہ بہت سے گھروں میں معاملات علیحدگی تک تو نہیں پہنچتے لیکن گھریلو ناچاقیاں اپنے عروج پر رہتی ہیں۔ اس کشمکش کی وجہ سے میاں بیوی کے علاوہ اولاد کو بھی بہت سے نفسیاتی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان مسائل کے تدارک اور خاتمے کیلئے بعض اہم باتوں پر توجہ دینا ضروری ہے:1۔ مرد و زن کے حقوق: اللہ تبارک وتعالیٰ نے نکاح کے بعد جہاں مردوں کے حقوق رکھے وہیں عورتوں کے بھی حقوق مقرر کیے ہیں۔ اگر اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیا جائے تو بہت سے اختلافات اور بگاڑ کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔ بیوی کو نہ تو شوہر کو اپنے سے کمتر سمجھنا چاہیے اور نہ ہی شوہر کو بیوی کو اپنے سے کمتر سمجھنا چاہیے۔ دونوں کو اپنے اپنے حصے کی ذمہ داریوں کو اچھی طرح نبھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ البقرہ کی آیت: 228 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;اور عورتوں کے بھی ویسے ہی حقوق ہیں جیسے ان پر مردوں کے ہیں‘ اچھائی کے ساتھ۔ ہاں مردوں کو عورتوں پر فضلیت ہے اور اللہ غالب ہے حکمت والا ہے‘‘۔2۔ ایک دوسرے کی تضحیک اور طعن وتشنیع سے گریز: ایک اچھے گھریلو ماحول کیلئے باہمی احترام نہایت ضروری ہے۔ بلاسبب ایک دوسرے کی تضحیک کرنا اور طعنہ زنی کسی بھی طور پر درست نہیں ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الحجرات میں مرد و زن کو ایک دوسرے کا استہزا نہ کرنے کا عمومی حکم دیتے ہیں جس کا گھریلو زندگی میں اطلاق بالاولیٰ ہونا چاہیے۔ سورۃ الحجرات کی آیت: 11 میں ارشاد ہوا: &#39;&#39;اے ایمان والو! مرد دوسرے مردوں کا مذاق نہ اڑائیں‘ ممکن ہے کہ یہ ان سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں عورتوں کا مذاق اڑائیں‘ ممکن ہے یہ ان سے بہتر ہوں‘ اور آپس میں ایک دوسرے کو عیب نہ لگائو اور نہ کسی کو برے لقب دو‘ ایمان کے بعد فسق برا کام ہے‘ اور جو توبہ نہ کریں وہی ظالم لوگ ہیں‘‘۔ اگر گھر میں ایک دوسرے کے احترام کو یقینی بنایا جائے اور طعنہ زنی سے گریز کیا جائے تو بہت سے گھریلو اختلافات کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔3۔ بلاتحقیق کسی بات پر یقین نہ کرنا: اگر انسان کسی فاسق فاجر کی کہی ہوئی بات پر بلا تحقیق یقین کرے گا تو وہ کسی دوسرے شخص کے ساتھ دشمنی پر آمادہ وتیار ہو سکتا ہے۔ اس لیے مسلمانوں کو اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ انہیں بلا تحقیق فاسق و فاجر شخص کی لائی ہوئی خبر کو تسلیم نہیں کرنا چاہیے۔ اس حوالے سے اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الحجرات کی آیت: 6 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;مومنو! اگر کوئی بدکردار تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو خوب تحقیق کر لیا کرو (مبادا) کہ کسی قوم کو نادانی سے نقصان پہنچا دو‘ پھر تم کو اپنے کیے پر نادم ہونا پڑے‘‘۔ اس عمومی اصول کا اطلاق گھریلو زندگی میں بھی ہونا چاہیے۔ گھریلو زندگی میں کئی مرتبہ شوہر اور بیوی بلا تحقیق سنی سنائی بات کو سن کر ایک دوسرے کی مخالفت پر آمادہ وتیار ہو جاتے ہیں جو کسی بھی طور پر درست نہیں ہے۔ اگر ہر بات کے بارے میں تحقیق کر لی جائے تو بہت سے گھریلو تنازعات پر قابو پایا جا سکتا ہے۔4۔ بدگمانی سے اجتناب: کئی مرتبہ شوہر بیوی کی کسی بات یا عمل کی وجہ سے بدگمانی کا شکار ہو جاتا ہے۔ اسی طرح کئی مرتبہ بیوی اپنے شوہر کے کسی رویے کی وجہ سے بدگمانی کا شکار ہو جاتی ہے۔ لیکن اگر معاملے کی اچھی طرح چھان بین کی جائے تو نفسِ واقعہ یا حقیقت اس بدگمانی کے بالکل برعکس نکلتی ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الحجرات کی آیت: 12 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;اے ایمان والو! بہت گمان کرنے سے احتراز کرو کہ بعض گمان گناہ ہیں‘ اور ایک دوسرے کے حال کا تجسس نہ کیا کرو اور نہ کوئی کسی کی غیبت کرے‘ کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرے گا کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے؟ اس سے تو تم ضرور نفرت کرو گے۔ (تو غیبت نہ کرو) اور اللہ کا خوف رکھو‘ بیشک اللہ توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے‘‘۔5۔ ایک دوسرے کے احسانات کا اعتراف: مرد و زن کو ایک دوسرے کے احسانات کا اعتراف کرنا چاہیے اور ایک دوسرے کی نیکیوں کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ البقرہ کی آیت: 237 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;اور آپس کی فضیلت اور بزرگی کو فراموش نہ کرو، یقینا اللہ تمہارے اعمال کو دیکھ رہا ہے‘‘۔6۔ ناشکری: ناشکری نہایت قبیح عمل ہے جو انسان کی آخرت کو برباد کر دیتا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کے حبیبﷺ نے بھی اس فعل شنیع کی شدید مذمت فرمائی ہے۔ اس حوالے سے صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا &#39;&#39;مجھے دوزخ دکھلائی گئی تو اس میں زیادہ تر (وہ) عورتیں تھیں جو کفر کرتی ہیں۔ پوچھا گیا: کیا وہ اللہ کے ساتھ کفر کرتی ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا کہ خاوند کی ناشکری کرتی ہیں‘ اور احسان کی ناشکری کرتی ہیں۔ اگر تم عمر بھر ان میں سے کسی کے ساتھ احسان کرتے رہو‘ پھر تمہاری طرف سے کبھی کوئی ان کے خیال میں ناگواری کی بات ہو جائے تو فوراً کہہ اٹھے گی کہ میں نے کبھی بھی تجھ سے کوئی بھلائی نہیں دیکھی‘‘۔ اس حدیث پاک سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو ایک دوسرے کی نیکیوں کو فراموش نہیں کرنا چاہیے اور زندگی کے نشیب و فراز کے دوران کسی وجہ سے پیدا ہونے والی تلخی پر منہ سے ناشکری کے الفاظ نہیں نکالنے چاہئیں۔7۔ غصے پر قابو پانا: انسان کو کئی مرتبہ کسی معاملے پر غصہ آ جاتا ہے لیکن اس پر قابو پانا یقینا ایک بہترین صفت ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۂ آلِ عمران کی آیت: 134 میں ارشاد فرماتے ہیں: &#39;&#39;جو لوگ آسانی میں سختی کے موقع پر بھی اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں‘ غصہ پینے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے ہیں‘ اللہ ان نیکوکاروں سے محبت کرتا ہے‘‘۔ اس آیت مبارکہ پر عمل کرتے ہوئے شوہر اور بیوی کو ایک دوسرے کی خامیوں کو نظر انداز کر دینا چاہیے۔8۔ نرمی اختیار کرنا: گھریلو معاملات میں مرد و زن کو ایک دوسرے کے ساتھ نرمی اختیار کرنی چاہیے اور توقعات کے پورے نہ ہونے پر ایک دوسرے سے دوری اختیار کرنے کے بجائے ایک دوسرے کی مجبوریوں کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ احادیثِ مبارکہ میں نرمی کی بڑی تحسین کی گئی ہے۔ اس حوالے سے مسند احمد میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبیﷺ نے ارشاد فرمایا &#39;&#39;اے عائشہ! نرمی سے کام لیا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ جب کسی گھرانے کے لوگوں سے خیر کا ارادہ فرماتا ہے تو نرمی کے دروازے کی طرف ان کی رہنمائی کر دیتا ہے‘‘۔ صحیح مسلم میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ہی سے روایت ہے کہ رسول کریمﷺ نے فرمایا &#39;&#39;نرمی جس چیز میں بھی ہوتی ہے اس کو زینت بخش دیتی ہے اور جس چیز سے بھی نرمی نکال دی جاتی ہے اسے بدصورت کر دیتی ہے‘‘۔9۔ ایثار اور قربانی: ایثار اور قربانی خیر خواہی کی علامات ہیں۔ جب انسان ایک دوسرے کیلئے قربانی دینے کا ارادہ کر لیتے ہیں تو اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف سے ان کے معاملات میں آسانی پیدا ہو جاتی ہے۔اگر مذکورہ بالا تدابیر پر عمل کر لیا جائے تو بہت سی گھریلو ناچاقیوں کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ہمارے گھروں میں اتفاق و اتحاد پیدا فرمائے اور تمام گھروں کو امن وسکون اور محبت کا گہوارہ بنا دے‘ آمین!</description><enclosure url="https://dunya.com.pk/news/authors/sharing_image/_19740082.jpg" type="audio/mpeg" length="4889"/></item></channel></rss>