زکوٰۃ کے موثر نظام سے غربت میں کمی ممکن ، قانت خلیل اللہ

زکوٰۃ کے موثر نظام سے غربت میں کمی ممکن ، قانت خلیل اللہ

پاکستان کے بجٹ کا بڑا حصہ قرضوں پر سود کی ادائیگی میں صرف ہو جاتا ہےملکی معیشت کی پائیدار ترقی سود کے خاتمے میں پنہاں ہے ، نصراللہ چودھری

کراچی (این این آئی) کے یو جے دستور کے زیرِ اہتمام کراچی پریس کلب میں ’’سودی معیشت کے خاتمے ‘‘کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ماہرِ معیشت قانت خلیل اللہ نے کہا کہ اسلام نے زکوٰۃ کا مکمل نظام دیا ہے اور سود سے پاک معاشی نظام اور مؤثر زکوٰۃ و ٹیکس اصلاحات ہی پائیدار معاشی استحکام کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے بجٹ کا بڑا حصہ قرضوں پر سود کی ادائیگی میں صرف ہو جاتا ہے ، جبکہ حکومت ہر ماہ تقریباً 500 ارب روپے سود کی مد میں ادا کرتی ہے ، جس کا بوجھ بالآخر عوام پر منتقل ہوتا ہے ۔قانت خلیل اللہ نے کہا کہ حکومت کو ٹیکس نظام میں موثر اصلاحات کرنا ہوں گی اور زکوٰۃ کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہوگا تاکہ غربت میں کمی لائی جا سکے ۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی معاشی اصولوں پر عمل درآمد سے بجٹ خسارے ، مہنگائی اور دیگر معاشی مسائل پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے ۔تقریب کے دوران ڈاکٹر یوسف القرضاوی کی آراء کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قرآنِ مجید میں زکوٰ? کے مصارف واضح طور پر بیان کیے گئے ہیں اور دولت کی گردش صرف امیر طبقے تک محدود نہیں رہنی چاہیے ۔ تقریب سے کے یو جے دستور کے صدر نصراللہ چودھری نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملکی معیشت کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کا واحد مؤثر حل سود کے خاتمے میں ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں